{"title": "1919 کی ایک بات", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "یزید", "year": "1951", "text_ur": "یہ 1919ء کی بات ہے بھائی جان، جب رولٹ ایکٹ کے خلاف سارے پنجاب میں ایجی ٹیشن ہورہی تھی۔ میں امرتسر کی بات کر رہا ہوں۔ سر مائیکل اوڈوائر نے ڈیفنس آف انڈیا رولز کے تحت گاندھی جی کا داخلہ پنجاب میں بند کر دیا تھا۔ وہ ادھر آرہے تھے کہ پلول کے مقام پر ان کو روک لیا گیا اور گرفتار کر کے واپس بمبئی بھیج دیا گیا۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں بھائی جان! اگر انگریز یہ غلطی نہ کرتا تو جلیاں والا باغ کا حادثہ اس کی حکمرانی کی سیاہ تاریخ میں ایسے خونیں ورق کا اضافہ کبھی نہ کرتا۔\n\nکیا مسلمان، کیا ہندو، کیا سکھ، سب کے دل میں گاندھی جی کی بے حد عزت تھی۔ سب انھیں مہاتما مانتے تھے۔ جب ان کی گرفتاری کی خبر لاہور پہنچی تو سارا کاروبار ایک دم بند ہوگیا۔ یہاں سے امرتسر والوں کو معلوم ہوا، چنانچہ یوں چٹکیوں میں مکمل ہڑتال ہوگئی۔\n\nکہتے ہیں کہ نو اپریل کی شام کو ڈاکٹر ستیہ پال اور ڈاکٹر کچلو کی جلا وطنی کے احکام ڈپٹی کمشنر کو مل گئے تھے۔ وہ ان کی تعمیل کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس لیے کہ اس کے خیال کے مطابق امرتسر میں کسی ہیجان خیز بات کا خطرہ نہیں تھا۔ لوگ پرامن طریقے پر احتجاجی جلسے وغیرہ کرتے تھے۔ جن سے تشدد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میں اپنی آنکھوں دیکھا حال بیان کرتا ہوں۔ نوکو رام نومی تھی۔ جلوس نکلا مگر مجال ہے جو کسی نے حکام کی مرضی کے خلاف ایک قدم اٹھایا ہو، لیکن بھائی جان سرمائیکل عجب اوندھی کھوپڑی کا انسان تھا۔ اس نے ڈپٹی کمشنر کی ایک نہ سنی۔ اس پر بس یہی خوف سوار تھا کہ یہ لیڈر مہاتما گاندھی کے اشارے پر سامراج کا تختہ الٹنے کے در پے ہیں، اور جو ہڑتالیں ہو رہی ہیں اور جلسے منعقد ہوتے ہیں ان کے پس پردہ یہی سازش کام کر رہی ہے۔\n\nڈاکٹر کچلو اور ڈاکٹر ستیہ پال کی جلا وطنی کی خبر آناً فاناً شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ دل ہر شخص کا مکدر تھا۔ ہر وقت دھڑکا سا لگا رہتا تھا کہ کوئی بہت بڑا حادثہ برپا ہونے والا ہے، لیکن بھائی جان جوش بہت زیادہ تھا۔ کاروبار بند تھے۔ شہر قبرستان بنا ہوا تھا، پر اس قبرستان کی خاموشی میں بھی ایک شور تھا۔ جب ڈاکٹرکچلو اور ستیہ پال کی گرفتاری کی خبر آئی تو لوگ ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے ہوئے کہ مل کر ڈپٹی کمشنر بہادر کے پاس جائیں اور اپنے محبوب لیڈروں کی جلا وطنی کے احکام منسوخ کرانے کی درخواست کریں۔ مگر وہ زمانہ بھائی جان درخواستیں سننے کا نہیں تھا۔ سرمائیکل جیسا فرعون حاکمِ اعلیٰ تھا۔ اس نے درخواست سننا تو کجا، لوگوں کے اس اجتماع ہی کو غیر قانونی قرار دیا۔\n\nامرتسر۔۔۔ وہ امرتسر جو کبھی آزادی کی تحریک کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ جس کے سینے پر جلیاں والا باغ جیسا قابل فخرزخم تھا۔ آج کس حالت میں ہے۔۔۔؟ لیکن چھوڑیئے اس قصے کو۔ دل کو بہت دکھ ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس مقدس شہر میں جو کچھ آج سے پانچ برس پہلے ہوا اس کے ذمہ دار بھی انگریز ہیں۔ ہوگا بھائی جان، پر سچ پوچھئے تو اس لہو میں جو وہاں بہاہے ہمارے اپنے ہی ہاتھ رنگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ خیر۔۔۔!\n\nڈپٹی کمشنر صاحب کا بنگلہ سول لائنز میں تھا۔ ہر بڑا افسر اور ہر بڑا ٹوڈی شہر کے اس الگ تھلگ حصے میں رہتا تھا۔۔۔ آپ نے امرتسر دیکھا ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ شہر اور سول لائنز کو ملانے والا ایک پل ہے جس پر سے گزر کر آدمی ٹھنڈی سڑک پر پہنچتا ہے۔ جہاں حاکموں نے اپنے لیے یہ ارضی جنت بنائی ہوئی تھی۔\n\nہجوم جب ہال دروازے کے قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ پل پرگھڑ سوار گوروں کا پہرہ ہے۔ ہجوم بالکل نہ رکا اور بڑھتا گیا۔ بھائی جان میں اس میں شامل تھا۔ جوش کتنا تھا، میں بیان نہیں کر سکتا، لیکن سب نہتے تھے۔ کسی کے پاس ایک معمولی چھڑی تک بھی نہیں تھی۔ اصل میں وہ تو صرف اس غرض سے نکلے تھے کہ اجتماعی طور پر اپنی آواز حاکم شہر تک پہنچائیں اور اس سےدرخواست کریں کہ ڈاکٹر کچلو اور ڈاکٹر ستیہ پال کو غیرمشروط طور پر رہا کردے۔ ہجوم پل کی طرف بڑھتا رہا۔ لوگ قریب پہنچے تو گوروں نے فائر شروع کردیے۔ اس سے بھگدڑ مچ گئی۔ وہ گنتی میں صرف بیس پچیس تھے اور ہجوم سیکڑوں پر مشتمل تھا، لیکن بھائی گولی کی دہشت بہت ہوتی ہے۔ ایسی افراتفری پھیلی کہ الاماں۔ کچھ گولیوں سے گھائل ہوئے اور کچھ بھگدڑ میں زخمی ہوئے۔\n\nدائیں ہاتھ کو گندا نالا تھا۔ دھکا لگا تو میں اس میں گر پڑا۔ گولیاں چلنی بند ہوئیں تو میں نے اٹھ کر دیکھا، ہجوم تتر بتر ہو چکا تھا۔ زخمی سڑک پر پڑے تھے اور پل پر گورے کھڑے ہنس رہے تھے۔ بھائی جان مجھے قطعاً یاد نہیں کہ اس وقت میری دماغی حالت کس قسم کی تھی۔ میرا خیال ہے کہ میرے ہوش و حواس پوری طرح سلامت نہیں تھے۔ گندے نالے میں گرتے وقت تو قطعاً مجھے ہوش نہیں تھا۔ جب باہر نکلا تو جو حادثہ وقوع پذیر ہوا تھا، اس کے خدوخال آہستہ آہستہ دماغ میں ابھرنے شروع ہوئے۔\n\nدور شور کی آواز سنائی دے رہی تھی جیسے بہت سے لوگ غصے میں چیخ چلا رہے ہیں۔ میں گندا نالا عبور کرکے ظاہرا پیر کے تکیے سے ہوتا ہوا ہال دروازے کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ تیس چالیس نوجوان جوش میں بھرے پتھر اٹھا اٹھا کر دروازے کے گھڑیال پر مار رہے ہیں۔ اس کا شیشہ ٹوٹ کر سڑک پرگرا تو ایک لڑکے نے باقیوں سے کہا، ’’چلو۔۔۔ ملکہ کا بت توڑیں!‘‘\n\nدوسرے نے کہا، ’’نہیں یار۔۔۔ کوتوالی کو آگ لگائیں!‘‘\n\nتیسرے نے کہا، ’’اور سارے بینکوں کو بھی!‘‘\n\nچوتھے نے ان کو روکا، ’’ٹھہرو۔۔۔ اس سے کیا فائدہ۔۔۔ چلو پل پر ان لوگوں کو ماریں۔‘‘\n\nمیں نے اس کو پہچان لیا۔ یہ تھیلا کنجر تھا۔۔۔ نام محمد طفیل تھا مگر تھیلا کنجر کے نام سے مشہور تھا۔ اس لیے کہ ایک طوائف کے بطن سے تھا۔ بڑا آوارہ گرد تھا۔ چھوٹی عمر ہی میں اس کو جوئے اور شراب نوشی کی لت پڑ گئی تھی۔ اس کی دو بہنیں شمشاد اور الماس اپنے وقت کی حسین ترین طوائفیں تھیں۔ شمشاد کا گلا بہت اچھا تھا۔ اس کا مجرا سننے کے لیے رئیس بڑی دور دور سے آتے تھے۔ دونوں اپنے بھائی کی کرتوتوں سے بہت نالاں تھیں۔ شہر میں مشہور تھا کہ انھوں نے ایک قسم کا اس کو عاق کر رکھا ہے۔ پھر بھی وہ کسی نہ کسی حیلے اپنی ضروریات کے لیے ان سے کچھ نہ کچھ وصول کر ہی لیتا تھا۔ ویسے وہ بہت خوش پوش رہتا تھا۔ اچھا کھاتا تھا، اچھا پیتا تھا۔ بڑا نفاست پسند تھا۔ بذلہ سنجی اور لطیفہ گوئی مزاج میں کوٹ کوٹ کے بھری تھی۔ میراثیوں اور بھانڈوں کے سوقیانہ پن سے بہت دور رہتا تھا۔ لمبا قد، بھرے بھرے ہاتھ پاؤں، مضبوط کسرتی بدن۔ ناک نقشے کا بھی خاصا تھا۔\n\nپرجوش لڑکوں نے اس کی بات نہ سنی اور ملکہ کے بت کی طرف چلنے لگے۔ اس نے پھر ان سے کہا، ’’میں نے کہا مت ضائع کرو اپنا جوش، ادھر آؤ میرے ساتھ۔۔۔ چلو ان کو ماریں جنہوں نے ہمارے بے قصور آدمیوں کی جان لی ہے اور انھیں زخمی کیا ہے۔۔۔ خدا کی قسم ہم سب مل کر ان کی گردن مروڑ سکتے ہیں۔۔۔ چلو!‘‘\n\nکچھ روانہ ہو چکے تھے۔ باقی رک گئے۔ تھیلا پل کی طرف بڑھا تو اس کے پیچھے چلنے لگے۔ میں نے سوچا کہ ماؤں کے یہ لال بیکار موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ فوارے کے پاس دبکا کھڑا تھا۔ وہیں میں نے تھیلے کو آواز دی اور کہا، ’’مت جاؤ یار۔۔۔ کیوں اپنی اور ان کی جان کے پیچھے پڑے ہو۔‘‘ تھیلے نے یہ سن کر ایک عجیب سا قہقہہ بلند کیا اور مجھ سے کہا، ’’ تھیلا صرف یہ بتانے چلا ہے کہ وہ گولیوں سے ڈرنے والا نہیں۔‘‘ پھر وہ اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوا، ’’ تم ڈرتے ہو تو واپس جا سکتے ہو۔‘‘\n\nایسے موقعوں پر بڑھے ہوئے قدم الٹے کیسے ہوسکتے ہیں۔ اور پھر وہ بھی اس وقت جب لیڈر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آگے آگے جا رہا ہو۔ تھیلے نے قدم تیز کیے تو اس کے ساتھیوں کو بھی کرنے پڑے۔ ہال دروازے سے پل کا فاصلہ کچھ زیادہ نہیں۔۔۔ ہوگاکوئی ساٹھ ستر گز کے قریب۔۔۔ تھیلا سب سے آگے آگے تھا۔ جہاں سے پل کا دو رویہ متوازی جنگلہ شروع ہوتا ہے، وہاں سے پندرہ بیس قدم کے فاصلے پر دو گھڑ سوار گورے کھڑے تھے۔ تھیلا نعرے لگاتا جب جنگلے کے آغاز کے پاس پہنچا تو فائر ہوا۔ میں سمجھا کہ وہ گر پڑا ہے۔۔۔ لیکن دیکھا کہ وہ اسی طرح۔۔۔ زندہ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے باقی ساتھی ڈر کے بھاگ اٹھے ہیں۔ مڑ کر اس نے پیچھے دیکھا اور چلایا، ’’بھاگو نہیں۔۔۔ آؤ!‘‘\n\nاس کا منہ میری طرف تھا کہ ایک اور فائر ہوا۔ پلٹ کر اس نے گوروں کی طرف دیکھا اور پیٹھ پر ہاتھ پھیرا۔۔۔ بھائی جان نظر تو مجھے کچھ نہیں آنا چاہیے تھا، مگر میں نے دیکھا کہ اس کی سفید بوسکی کی قمیص پر لال لال دھبے تھے۔۔۔ وہ اورتیزی سے بڑھا، جیسے زخمی شیر۔۔۔ ایک اور فائر ہوا۔ وہ لڑکھڑایا مگر ایک دم قدم مضبوط کرکے وہ گھڑ سوار گورے پر لپکا اور چشم زدن میں جانے کیا ہوا۔۔۔ گھوڑے کی پیٹھ خالی تھی۔ گورا زمین پر تھا اور تھیلا اس کے اوپر۔۔۔ دوسرے گورے نے جو قریب تھا اور پہلے بوکھلا گیا تھا، بِدکتے ہوئے گھوڑے کو روکا اور دھڑا دھڑ فائر شروع کردیے۔۔۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا مجھے معلوم نہیں۔ میں وہاں فوارے کے پاس بے ہوش ہو کر گر پڑا۔\n\nبھائی جان جب مجھے ہوش آیا تو میں اپنے گھر میں تھا۔ چند پہچان کے آدمی مجھے وہاں سے اٹھا لائے تھے۔ ان کی زبانی معلوم ہوا کہ پل پر سے گولیاں کھا کر ہجوم مشتعل ہو گیا تھا۔ نتیجہ اس اشتعال کا یہ ہوا کہ ملکہ کے بت کو توڑنے کی کوشش کی گئی۔ ٹاؤن ہال اور تین بنکوں کو آگ لگی اور پانچ یا چھ گورے مارے گئے۔ خوب لوٹ مچی۔\n\nلوٹ کھسوٹ کا انگریز افسروں کو اتنا خیال نہیں تھا۔ پانچ یا چھ یورپین ہلاک ہوئے تھے اس کا بدلہ لینے کے لیے چنانچہ، جلیاں والا باغ کا خونیں حادثہ رونما ہوا۔ ڈپٹی کمشنر بہادر نے شہر کی باگ ڈور جنرل ڈائر کے سپرد کردی۔ چنانچہ جنرل صاحب نے بارہ اپریل کو فوجیوں کے ساتھ شہر کے مختلف بازاروں میں مارچ کیا اور درجنوں بے گناہ آدمی گرفتار کیے۔ تیرہ کو جلیاں والا باغ میں جلسہ ہوا۔ قریب قریب پچیس ہزار کا مجمع تھا۔ شام کے قریب جنرل ڈائر مسلح گورکھوں اور سکھوں کے ساتھ وہاں پہنچا اور نہتے آدمیوں پر گولیوں کی بارش شروع کردی۔\n\nاس وقت تو کسی کو نقصانِ جان کا ٹھیک اندازہ نہیں تھا۔ بعد میں جب تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ ایک ہزار ہلاک ہوئے ہیں اور تین یا چار ہزار کے قریب زخمی۔۔۔ لیکن میں تھیلے کی بات کررہا تھا۔۔۔ بھائی جان آنکھوں دیکھی آپ کو بتا چکا ہوں۔۔۔ بے عیب ذات خدا کی ہے۔ مرحوم میں چاروں عیب شرعی تھے۔ ایک پیشہ ور طوائف کے بطن سے تھا مگر جیالا تھا۔۔۔ میں اب یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس ملعون گورے کی پہلی گولی بھی اس کے لگی تھی۔ آواز سن کر اس نے جب پلٹ کر اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا تھا، اور انھیں حوصلہ دلایا تھا جوش کی حالت میں اس کو معلوم نہیں ہوا تھا کہ اس کی چھاتی میں گرم گرم سیسہ اتر چکا ہے۔ دوسری گولی اس کی پیٹھ میں لگی۔ تیسری پھر سینے میں۔۔۔ میں نے دیکھا نہیں، پر سنا ہے جب تھیلے کی لاش گورے سے جدا کی گئی تو اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن میں اس بری طرح پیوست تھے کہ علیحدہ نہیں ہوتے تھے۔۔۔ گورا جہنم واصل ہو چکا تھا۔\n\nدوسرے روز جب تھیلے کی لاش کفن دفن کے لیے اس کے گھر والوں کے سپرد کی گئی تو اس کا بدن گولیوں سے چھلنی ہو رہا تھا۔۔۔ دوسرے گورے نے تو اپنا پورا پستول اس پر خالی کردیا تھا۔۔۔ میرا خیال ہے اس وقت مرحوم کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔ اس شیطان کے بچے نے صرف اس کے مردہ جسم پر چاند ماری کی تھی۔\n\nکہتے ہیں جب تھیلے کی لاش محلے میں پہنچی تو کہرام مچ گیا۔ اپنی برادری میں وہ اتنا مقبول نہیں تھا، لیکن اس کی قیمہ قیمہ لاش دیکھ کرسب دہاڑیں مار مار کررونے لگے۔ اس کی بہنیں شمشاد اور الماس تو بے ہوش ہوگئیں۔ جب جنازہ اٹھا تو ان دونوں نے ایسے بین کیے کہ سننے والے لہو کے آنسو روتے رہے۔\n\nبھائی جان، میں نے کہیں پڑھا تھا کہ فرانس کے انقلاب میں پہلی گولی وہاں کی ایک ٹکھیائی کے لگی تھی۔ مرحوم محمد طفیل ایک طوائف کا لڑکا تھا۔ انقلاب کی اس جدوجہد میں اس کے جو پہلی گولی لگی تھی دسویں تھی یا پچاسویں، اس کے متعلق کسی نے بھی تحقیق نہیں کی۔ شاید اس لیے کہ سوسائٹی میں اس غریب کا کوئی رتبہ نہیں تھا۔ میں تو سمجھتا ہوں پنجاب کے اس خونیں غسل میں نہانے والوں کی فہرست میں تھیلے کنجر کا نام و نشان تک بھی نہیں ہوگا۔۔۔ اور یہ بھی کوئی پتہ نہیں کہ ایسی کوئی فہرست تیار بھی ہوئی تھی۔\n\nسخت ہنگامی دن تھے۔ فوجی حکومت کا دور دورہ تھا۔ وہ دیو جسے مارشل لاء کہتے ہیں۔ شہر کے گلی گلی کوچے کوچے میں ڈکارتا پھرتا تھا۔ بہت افراتفری کے عالم میں اس غریب کوجلدی جلدی یوں دفن کیا گیا جیسے اس کی موت اس کے سوگوار عزیزوں کا ایک سنگین جرم تھی جس کے نشانات وہ مٹا دینا چاہتے تھے۔\n\nبس بھائی جان تھیلا مر گیا۔ تھیلا دفنا دیا گیا اور۔۔۔ اور۔‘‘ یہ کہہ کر میرا ہم سفر پہلی مرتبہ کچھ کہتے کہتے رکا اور خاموش ہوگیا۔ ٹرین دندناتی ہوئی جارہی تھی۔ پٹریوں کی کھٹا کھٹ نے یہ کہنا شروع کردیا، ’’تھیلا مر گیا۔۔۔ تھیلا دفنا دیا گیا۔۔۔ تھیلا مر گیا۔۔۔ تھیلا دفنا دیا گیا۔‘‘ اس مرنے اور دفنانے کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں تھا، جیسے وہ اُدھرمرا اور اِدھر دفنا دیا گیا۔ اور کھٹ کھٹ کے ساتھ ان الفاظ کی ہم آہنگی کچھ اس قدر جذبات سے عاری تھی کہ مجھے اپنے دماغ سے ان دونوں کو جدا کرنا پڑا۔ چنانچہ میں نے اپنے ہم سفر سے کہا، ’’آپ کچھ اور بھی سنانے والے تھے؟‘‘\n\nچونک کر اس نے میری طرف دیکھا۔ ’’جی ہاں۔۔۔ اس داستان کا ایک افسوسناک حصہ باقی ہے۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا، ’’کیا؟‘‘\n\nاس نے کہنا شروع کیا، ’’میں آپ سےعرض کر چکا ہوں کہ تھیلے کی دو بہنیں تھیں۔ شمشاد اور الماس۔ بہت خوبصورت تھیں۔ شمشاد لمبی تھی۔ پتلے پتلے نقش، غلافی آنکھیں، ٹھمری بہت خوب گاتی تھی۔ سنا ہے خاں صاحب فتح علی خاں سےتعلیم لیتی رہی تھی۔ دوسری الماس تھی۔ اس کے گلے میں سُر نہیں تھا، لیکن بتاوے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی۔ مجرا کرتی تھی تو ایسا لگتا تھا کہ اس کا انگ انگ بول رہا ہے۔ ہر بھاؤ میں ایک گھات ہوتی تھی۔۔۔ آنکھوں میں وہ جادو تھا جو ہر ایک کےسر پر چڑھ کے بولتا تھا۔‘‘\n\nمیرے ہم سفر نے تعریف و توصیف میں کچھ ضرورت سے زیادہ وقت لیا۔ مگر میں نے ٹوکنا مناسب نہ سمجھا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ خود اس لمبے چکر سے نکلا اور داستان کے افسوسناک حصے کی طرف آیا، ’’ قصہ یہ ہے بھائی جان کہ ان آفت کی پرکالہ دو بہنوں کے حسن و جمال کا ذکر کسی خوشامدی نے فوجی افسروں سے کردیا۔۔۔ بلوے میں ایک میم۔۔۔ کیا نام تھا اس چڑیل کا۔۔۔؟ مس۔۔۔ مس شروڈ ماری گئی تھی۔۔۔ طے یہ ہوا کہ ان کو بلوایا جائے اور۔۔۔ اور۔۔۔ جی بھر کے انتقام لیا جائے۔۔۔ آپ سمجھ گئے نا بھائی جان؟‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’جی ہاں!‘‘\n\nمیرے ہم سفرنے ایک آہ بھری، ’’ ایسے نازک معاملوں میں طوائفیں اور کسبیاں بھی اپنی مائیں بہنیں ہوتی ہیں۔۔۔ مگر بھائی جان یہ ملک اپنی عزت و ناموس کو میرا خیال ہے پہچانتا ہی نہیں۔ جب اوپر سے علاقے کے تھانیدار کو آرڈر ملا تو وہ فوراً تیار ہوگیا۔ چنانچہ وہ خود شمشاد اور الماس کے مکان پر گیا اور کہا کہ صاحب لوگوں نے یاد کیا ہے۔ وہ تمہارا مجرا سننا چاہتے ہیں۔۔۔ بھائی کی قبر کی مٹی بھی ابھی تک خشک نہیں ہوئی تھی۔ اللہ کو پیارا ہوئے اس غریب کو صرف دو دن ہوئے تھے کہ یہ حاضری کا حکم صادر ہوا کہ آؤ ہمارے حضور ناچو۔۔۔ اذیت کا اس سے بڑھ کرپراذیت طریقہ کیا ہوسکتا ہے۔۔۔؟ مستبعد تمسخر کی ایسی مثال میرا خیال ہے شاید ہی کوئی اور مل سکے۔۔۔ کیا حکم دینے والوں کو اتنا خیال بھی نہ آیا کہ طوائف بھی غیرت مند ہوتی ہے۔۔۔؟ ہو سکتی ہے۔۔۔ کیوں نہیں ہوسکتی؟‘‘ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا، لیکن مخاطب وہ مجھ سے تھا۔\n\nمیں نے کہا، ’’ہو سکتی ہے!‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔‘‘ تھیلا آخر ان کا بھائی تھا۔ اس نے کسی قمار خانے کی لڑائی بھڑائی میں اپنی جان نہیں دی تھی۔ وہ شراب پی کر دنگا فساد کرتے ہوئے ہلاک نہیں ہوا تھا۔ اس نے وطن کی راہ میں بڑے بہادرانہ طریقے پر شہادت کا جام پیا تھا۔ وہ ایک طوائف کے بطن سے تھا۔ لیکن وہ طوائف ماں تھی اور شمشاد اور الماس اسی کی بیٹیاں تھیں اور یہ تھیلے کی بہنیں تھیں۔۔۔ طوائفیں بعد میں تھیں۔۔۔ اور وہ تھیلے کی لاش دیکھ کر بے ہوش ہوگئی تھیں۔ جب اس کا جنازہ اٹھا تھا تو انھوں نے ایسے بین کیے تھے کہ سن کر آدمی لہو روتا تھا۔۔۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا ’’وہ گئیں؟‘‘\n\nمیرے ہم سفر نے اس کا جواب تھوڑے وقفے کے بعد افسردگی سے دیا، ’’جی ہاں۔۔۔ جی ہاں گئیں۔۔۔ خوب سج بن کر۔‘‘ ایک دم اس کی افسردگی تیکھا پن اختیار کر گئی، ’’سولہ سنگار کرکے اپنے بلانے والوں کے پاس گئیں۔۔۔ کہتے ہیں کہ خوب محفل جمی۔۔۔ دونوں بہنوں نے اپنے جوہر دکھائے۔۔۔ زرق برق پشوازوں میں ملبوس وہ کوہ قاف کی پریاں معلوم ہوتی تھیں۔۔۔ شراب کے دور چلتے رہے اور وہ ناچتی گاتی رہیں۔۔۔ یہ دونوں دور چلتے رہے۔۔۔ اور کہتے ہیں کہ۔۔۔ رات کے دو بجے ایک بڑے افسر کے اشارے پر محفل برخواست ہوئی۔۔۔‘‘ میرا ہم سفر کچھ دیر خاموش رہاپھروہ اٹھ کھڑا ہوااور باہر بھاگتے ہوئے درختوں کو دیکھنے لگا۔\n\nپہیوں اور پٹریوں کی آہنی گڑگڑاہٹ کی تال پراس کے آخری دو لفظ ناچنے لگے، ’’برخواست ہوئی۔۔۔ برخواست ہوئی۔‘‘ میں نے اپنے دماغ میں انھیں، آہنی گڑگڑاہٹ سے نوچ کر علیحدہ کرتے ہوئے اس سے پوچھا، ’’پھر کیا ہوا؟‘‘\n\nبھاگتے ہوئے درختوں اور کھمبوں سے نظریں ہٹا کر اس نے بڑے مضبوط لہجےمیں کہا، ’’انھوں نے اپنی زرق برق پشوازیں نوچ ڈالیں اور الف ننگی ہوگئیں اور کہنے لگیں۔۔۔ لو دیکھ لو۔۔۔ ہم تھیلے کی بہنیں ہیں۔۔۔ اس شہید کی جس کے خوبصورت جسم کو تم نے صرف اس لیے اپنی گولیوں سے چھلنی چھلنی کیا تھا کہ اس میں وطن سے محبت کرنے والی روح تھی۔ ہم اسی کی خوبصورت بہنیں ہیں۔۔۔ آؤ، اپنی شہوت کے گرم گرم لوہے سے ہمارا خوشبوؤں میں بسا ہوا جسم داغدار کرو۔ مگر ایسا کرنے سے پہلے صرف ہمیں ایک بار اپنے منہ پر تھوک لینے دو۔۔۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔ کچھ اس طرح کہ اور نہیں بولے گا۔ میں نے فوراً ہی پوچھا، ’’پھر کیا ہوا؟‘‘\n\nاس کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے، ’’ان کو۔۔۔ ان کو گولی سے اڑا دیا گیا۔‘‘\n\nمیں نے کچھ نہ کہا۔ گاڑی آہستہ ہوکر اسٹیشن پر رکی تو اس نے قلی بلا کر اپنا اسباب اٹھوایا۔ جب جانے لگا تومیں نے اس سے کہا، ’’آپ نے جو داستان سنائی، اس کا انجام مجھے آپ کا خود ساختہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘\n\nایک دم چونک کر اس نے میری طرف دیکھا، ’’یہ آپ نے کیسے جانا؟‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’آپ کےلہجے میں ایک ناقابل بیان کرب تھا۔‘‘\n\nمیرے ہم سفرنے اپنےحلق کی تلخی تھوک کے ساتھ نگلتے ہوئے کہا، ’’جی ہاں۔۔۔ ان حرام۔۔۔‘‘ وہ گالی دیتے دیتے رک گیا۔ انھوں نے اپنے شہید بھائی کے نام پر بٹا لگا دیا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پلیٹ فارم پر اتر گیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/1919_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئے\nشوق کلام و ذوق تماشا لیے ہوئے\n\nدل لے کے خود کو رہتے ہیں کیا کیا لیے ہوئے\nشیشے وہی تو ہیں مری دنیا لیے ہوئے\n\nمحرومیوں پہ دل کی مٹا جا رہا ہوں میں\nہے خاک تیرا نقش کف پا لیے ہوئے\n\nتاریکی فضا کا شکایت گزار ہوں\nسینے میں آفتاب سویدا لیے ہوئے\n\nپہلے مرے سہارے پہ تھا کار و بار زیست\nاب میں ہوں زندگی کا سہارا لیے ہوئے\n\nجی چاہتا ہے عمر محبت نہ ختم ہو\nمر جائیے کسی کی تمنا لیے ہوئے\n\nاپنا وقار عشق کبھی آزما کے دیکھ\nہوگی جبین حسن بھی سجدا لیے ہوئے\n\nخوش ہوں کہ جیسے گود میں ہے لعل شب چراغ\nدامن میں اپنے لالۂ صحرا لیے ہوئے\n\nنعش رواں ہوں زیست ہے میری فریب زیست\nپھرتا ہوں زندگی کا جنازہ لیے ہوئے\n\nجوش جنوں میں عالم وارفتگی نہ پوچھ\nصحرا سے ہم گزر گئے صحرا لیے ہوئے\n\nسر ان کے آستاں پہ جو پہنچے تو ہو یقیں\nسودا لیے ہوئے ہے کہ سجدا لیے ہوئے\n\nہم طور پر گئے بھی تو اس شان سے گئے\nموسیٰ کھڑے رہے ید بیضا لیے ہوئے\n\nاے حسن میرے حال میں تو بھی شریک ہو\nدونوں جہاں کا بار ہوں تنہا لیے ہوئے\n\nبے پردہ بے تعین و بے نام دیکھ اسے\nوہ تو ہے صرف نام کا پردا لیے ہوئے\n\nسیمابؔ قدرداں ہیں مرے خان جانسٹھ\nحاضر ہوا ہوں فکر کا ہدیا لیے ہوئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "آ تیری گلی میں مر گئے ہم", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آ تیری گلی میں مر گئے ہم\nمنظور جو تھا سو کر گئے ہم\n\nتجھ بن گلشن میں گر گئے ہم\nجوں شبنم چشم تر گئے ہم\n\nپاتے نہیں آپ کو کہیں یاں\nحیران ہیں کس کے گھر گئے ہم\n\nاس آئینہ رو کے ہو مقابل\nمعلوم نہیں کدھر گئے ہم\n\nگو بزم میں ہم سے وہ نہ بولا\nباتیں آنکھوں میں کر گئے ہم\n\nتجھ عشق میں دل تو کیا کہ ظالم\nجی سے اپنے گزر گئے ہم\n\nشب کو اس زلف کی گلی میں\nلینے دل کی خبر گئے ہم\n\nگنجائش مو بھی واں نہ پائی\nدل پر دل تھا جدھر گئے ہم\n\nجوں شمع اس انجمن سے بیدارؔ\nلے داغ دل و جگر گئے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں\nمہلت ہمیں بسان شرر کم بہت ہے یاں\n\nیک لحظہ سینہ کوبی سے فرصت ہمیں نہیں\nیعنی کہ دل کے جانے کا ماتم بہت ہے یاں\n\nحاصل ہے کیا سواے ترائی کے دہر میں\nاٹھ آسماں تلے سے کہ شبنم بہت ہے یاں\n\nمائل بہ غیر ہونا تجھ ابرو کا عیب ہے\nتھی زور یہ کماں ولے خم چم بہت ہے یاں\n\nہم رہروان راہ فنا دیر رہ چکے\nوقفہ بسان صبح کوئی دم بہت ہے یاں\n\nاس بت کدے میں معنی کا کس سے کریں سوال\nآدم نہیں ہے صورت آدم بہت ہے یاں\n\nعالم میں لوگ ملنے کی گوں اب نہیں رہے\nہر چند ایسا ویسا تو عالم بہت ہے یاں\n\nویسا چمن سے سادہ نکلتا نہیں کوئی\nرنگینی ایک اور خم و چم بہت ہے یاں\n\nاعجاز عیسوی سے نہیں بحث عشق میں\nتیری ہی بات جان مجسم بہت ہے یاں\n\nمیرے ہلاک کرنے کا غم ہے عبث تمہیں\nتم شاد زندگانی کرو غم بہت ہے یاں\n\nدل مت لگا رخ عرق آلود یار سے\nآئینے کو اٹھا کہ زمیں نم بہت ہے یاں\n\nشاید کہ کام صبح تک اپنا کھنچے نہ میرؔ\nاحوال آج شام سے درہم بہت ہے یاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%85_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "آ جائے اگر حکم فلک سے ناظمؔ", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آ جائے اگر حکم فلک سے ناظمؔ\nاس حکم کو ہم سنیں ملک سے ناظمؔ\nہے اس کو مخالفت مئے ناب کے ساتھ\nکھولیں گے نہ ہم روزہ نمک سے ناظمؔ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AD%DA%A9%D9%85_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B8%D9%85%D8%94"} {"title": "آ کدھر ہے تو ساقیٔ مخمور", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آ کدھر ہے تو ساقیٔ مخمور\nبھر کے دے جام بادۂ انگور\n\nکوئی جام شراب ایسا پلا\nجس سے شادی کرے دل رنجور\n\nرنج گیتی سے دل مکدر ہے\nبھر کے دے مے سے ساغر بلور\n\nآج یوم ظفر دوشہرا ہے\nطالب عیش ہے دل جمہور\n\nمار کر دیو‌ بد کو لنکا سے\nرام آئے مظفر و منصور\n\nرام و سیتا اودھ میں جب آئے\nدل کوشلیا ہوا مسرور\n\nتخت لنکا دیا ویبھیشن کو\nجب ہوا قتل راون‌ مقہور\n\nدل سمترا کا بھی ہوا خورسند\nدیکھا لچھمن کا جب رخ پر نور\n\nکاش دشرتھ بھی زندہ ہوتے آج\nتھا نہ ایشور کو یہ مگر منظور\n\nدوستوں کو یہ دن مبارک ہو\nہو مبارک انہیں یہ عیش و سرور\n\nسال پوچھے اگر کوئی کہہ دو\nآج مارا ہے راون مغرور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D9%94_%D9%85%D8%AE%D9%85%D9%88%D8%B1"} {"title": "آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے\nطاقت بیداد انتظار نہیں ہے\n\nدیتے ہیں جنت حیات دہر کے بدلے\nنشہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے\n\nگریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو\nہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے\n\nہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطر\nخاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے\n\nدل سے اٹھا لطف جلوہ ہائے معانی\nغیر گل آئینۂ بہار نہیں ہے\n\nقتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے\nوائے اگر عہد استوار نہیں ہے\n\nتو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔ\nتیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "آ کہ ہستی بے لب و بے گوش ہے تیرے بغیر", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آ کہ ہستی بے لب و بے گوش ہے تیرے بغیر\nکائنات اک محشر خاموش ہے تیرے بغیر\n\nآ کہ پھر دل میں نہیں اٹھتی کوئی موج نشاط\nسرد پانی بادۂ سر جوش ہے تیرے بغیر\n\nنیند آ آ کر اچٹ جاتی ہے تیری یاد میں\nتار بستر نشتر آغوش ہے تیرے بغیر\n\nجلوۂ ہر روز جو ہر صبح کی قسمت میں تھا\nاب وہ اک دھندلا سا خواب دوش ہے تیرے بغیر\n\nزندگی تجھ سے عبارت تھی مگر جب تو نہیں\nزندگی کا اپنی کس کو ہوش ہے تیرے بغیر\n\nآ کہ موضوع غزل کو ڈھونڈھتی ہے ہر نگاہ\nنغمۂ مطرب بلائے گوش ہے تیرے بغیر\n\nکیا خبر سیمابؔ کب گھبرا کے دے دے اپنی جان\nضبط گو اب تک تحمل کوش ہے تیرے بغیر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D9%88_%D8%A8%DB%92_%DA%AF%D9%88%D8%B4_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%BA%DB%8C%D8%B1"} {"title": "آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھری", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھری\nآج کیا ندی بہی الٹی ہوا الٹی پھری\n\nآتے آتے لب پر آہ نارسا الٹی پھری\nوہ بھی میرا ہی دبانے کو گلا الٹی پھری\n\nمڑ کے دیکھا اس نے اور وار ابرووں کا چل گیا\nاک چھری سیدھی پھری اور اک ذرا الٹی پھری\n\nلا سکا نظارۂ رخسار روشن کی نہ تاب\nجا کے آئینہ پہ چہرہ کی ضیا الٹی پھری\n\nراست بازوں ہی کو پیسا آسماں نے رات دن\nوائے قسمت جب پھری یہ آسیا الٹی پھری\n\nجو بڑا بول ایک دن بولے تھے پیش آیا وہی\nگنبد گردوں سے ٹکرا کر صدا الٹی پھری\n\nرزق کھا کر غیر کی قسمت کا زنبور عسل\nتو نے دیکھا حلق تک جا کر غذا الٹی پھری\n\nتو ستائش گر ہے اس کا جو ہے تیرا مدح خواں\nیہ تو اے مشفق ضمیر مرحبا الٹی پھری\n\nجس پر آئی تھی طبیعت کی اسی نے کچھ نہ قدر\nجنس دل مانند جنس ناروا الٹی پھری\n\nیا تو کشی ڈوبتی تھی یا چلی ساحل سے دور\nوائے ناکامی پھری بھی تو ہوا الٹی پھری\n\nگرنے والا ہے کسی دشمن پہ کیا تیر شہاب\nآسماں تک جا کے کیوں آہ رسا الٹی پھری\n\nجی گیا میں اس کے آ جانے سے دشمن مر گیا\nدیکھ کر عیسیٰ کو بالیں پر قضا الٹی پھری\n\nمر گیا بے موت میں آخر اجل بھی دور ہے\nکوچۂ قاتل کا بتلا کر پتا الٹی پھری\n\nہجر کی شب مجھ کو الٹی سانس لیتے دیکھ کر\nایک ہی دم میں وہاں جا کر صبا الٹی پھری\n\nہے مرا ویرانۂ غم نظمؔ ایسا ہولناک\nموج سیل آئی تو لے کر بوریا الٹی پھری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%AA%DA%A9_%DA%A9%D8%B4%D8%AA%DB%8C%D9%94_%D9%85%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%8C"} {"title": "آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے\nجتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرے\n\nایسی دہشت تھی فضاؤں میں کھلے پانی کی\nآنکھ جھپکی بھی نہیں ہاتھ سے پتوار گرے\n\nمجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں\nجس طرح سایۂ دیوار پہ دیوار گرے\n\nتیرگی چھوڑ گئے دل میں اجالے کے خطوط\nیہ ستارے مرے گھر ٹوٹ کے بے کار گرے\n\nکیا ہوا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی تھی\nکیوں مجھے ڈھال بنانے کو یہ چھتنار گرے\n\nدیکھ کر اپنے در و بام لرز جاتا ہوں\nمرے ہم سایے میں جب بھی کوئی دیوار گرے\n\nوقت کی ڈور خدا جانے کہاں سے ٹوٹے\nکس گھڑی سر پہ یہ لٹکی ہوئی تلوار گرے\n\nہم سے ٹکرا گئی خود بڑھ کے اندھیرے کی چٹان\nہم سنبھل کر جو بہت چلتے تھے ناچار گرے\n\nکیا کہوں دیدۂ تر یہ تو مرا چہرہ ہے\nسنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے\n\nہاتھ آیا نہیں کچھ رات کی دلدل کے سوا\nہائے کس موڑ پہ خوابوں کے پرستار گرے\n\nوہ تجلی کی شعاعیں تھیں کہ جلتے ہوئے پر\nآئنے ٹوٹ گئے آئنہ بردار گرے\n\nدیکھتے کیوں ہو شکیبؔ اتنی بلندی کی طرف\nنہ اٹھایا کرو سر کو کہ یہ دستار گرے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B5%D8%AD%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D8%B1%DB%92"} {"title": "آ گئی سر پر قضا لو سارا ساماں رہ گیا", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آ گئی سر پر قضا لو سارا ساماں رہ گیا\nاے فلک کیا کیا ہمارے دل میں ارماں رہ گیا\n\nباغباں ہے چار دن کی باغ عالم میں بہار\nپھول سب مرجھا گئے خالی بیاباں رہ گیا\n\nاتنا احساں اور کر للہ اے دست جنوں\nباقی گردن میں فقط تار گریباں رہ گیا\n\nیاد آئی جب تمہارے روپ روشن کی چمک\nمیں سراسر صورت آئینہ حیراں رہ گیا\n\nلے چلے دو پھول بھی اس باغ عالم سے نہ ہم\nوقت رحلت حیف ہے خالی ہی داماں رہ گیا\n\nمر گئے ہم پر نہ آئے تم خبر کو اے صنم\nحوصلہ اب دل کا دل ہی میں مری جاں رہ گیا\n\nناتوانی نے دکھایا زور اپنا اے رساؔ\nصورت نقش قدم میں بس نمایاں رہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%D9%84%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آ گئے پھر ترے ارمان مٹانے ہم کو", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آ گئے پھر ترے ارمان مٹانے ہم کو\nدل سے پہلے یہ لگا دیں گے ٹھکانے ہم کو\n\nسر اٹھانے نہ دیا حشر کے دن بھی ظالم\nکچھ ترے خوف نے کچھ اپنی وفا نے ہم کو\n\nکچھ تو ہے ذکر سے دشمن کے جو شرماتے ہیں\nوہم میں ڈال دیا ان کی حیا نے ہم کو\n\nظلم کا شوق بھی ہے شرم بھی ہے خوف بھی ہے\nخواب میں چھپ کے وہ آتے ہیں ستانے ہم کو\n\nچار داغوں پہ نہ احسان جتاؤ اتنا\nکون سے بخش دیئے تم نے خزانے ہم کو\n\nبات کرنے کی کہاں وصل میں فرصت بیخودؔ\nوہ تو دیتے ہی نہیں ہوش میں آنے ہم کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%85%D9%B9%D8%A7%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھے", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھے\nکو بہ کو در در لیے پھرتی ہے رسوائی مجھے\n\nکام عاشق کو کسی کی عیب بینی سے نہیں\nحسن بینی کو خدا نے دی ہے بینائی مجھے\n\nجور سہتا ہوں بتوں کے ناتوانی کے سبب\nدل اٹھا لوں اس قدر کب ہے توانائی مجھے\n\nجس طرح آتا ہے پیری میں جوانی کا خیال\nوصل کی شب یاد روز ہجر میں آئی مجھے\n\nگنتی ایک اک نام کی ہر گور میں مردے ہیں دفن\nبعد مردن بھی ہوئی دشوار تنہائی مجھے\n\nمثل ساغر بزم عالم میں میں کب خنداں ہوا\nکس لیے دیتا ہے گردش چرخ مینائی مجھے\n\nعین دانائی ہے ناسخؔ عشق میں دیوانگی\nآپ سودائی ہیں جو کہتے ہیں سودائی مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DB%81%D8%B1%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "آ گیا دل جو کہیں اور ہی صورت ہوگی", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آ گیا دل جو کہیں اور ہی صورت ہوگی\nلوگ دیکھیں گے تماشا جو محبت ہوگی\n\nدل لگی ترک محبت نہیں تقصیر معاف\nہوتے ہوتے مرے قابو میں طبیعت ہوگی\n\nان کے آنے کی خبر سن کے تو یہ حال ہوا\nجب وہ آئیں گے تو پھر کیا مری حالت ہوگی\n\nٹکڑے کر ڈالے کوئی اس کے تو میں بھی خوش ہوں\nدل نہ ہوگا نہ مری جان محبت ہوگی\n\nوہ چھپایا کریں اس بات سے کیا ہوتا ہے\nآپ سر چڑھ کے پکارے گی جو الفت ہوگی\n\nیہ نہ فرماؤ شب ہجر کٹے گی کیوں کر\nتم کو کیا کام جو ہوگی مری حالت ہوگی\n\nمار ڈالا مجھے بے موت بڑا کام کیا\nخوب تعریف تری اے شب فرقت ہوگی\n\nاے دل زار مزہ دیکھ لیا الفت کا\nہم نہ کہتے تھے کہ اس کام میں ذلت ہوگی\n\nیہ بھی کچھ بات ہے پھر وصل نہ ہو اے جوہرؔ\nرنج راحت سے ہوا رنج سے راحت ہوگی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C"} {"title": "آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا\nہائے اے پیر مغاں کیا ہوگا\n\nباغ جنت میں سماں کیا ہوگا\nتو نہیں جب تو وہاں کیا ہوگا\n\nخوش وہ ہوتا ہے مرے نالوں سے\nاور انداز فغاں کیا ہوگا\n\nدور کی راہ ہے ساماں ہیں بڑے\nاتنی مہلت ہے کہاں کیا ہوگا\n\nدیکھ لو رنگ پریدہ کو مرے\nدل جلے گا تو دھواں کیا ہوگا\n\nہوگا بس ایک نگہ میں جو تمام\nوہ بہ حسرت نگراں کیا ہوگا\n\nہم نے مانا کہ ملا ملک جہاں\nنہ رہے ہم تو جہاں کیا ہوگا\n\nمر کے جب خاک میں ملنا ٹھہرا\nپھر یہ تربت کا نشاں کیا ہوگا\n\nجس طرح دل ہوا ٹکڑے از خود\nچاک اس طرح کتاں کیا ہوگا\n\nیا ترا ذکر ہے یا نام ترا\nاور پھر ورد زباں کیا ہوگا\n\nعشق سے باز نہ آنا حیدرؔ\nراز ہونے دے عیاں کیا ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B1%D9%85%D8%B6%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "آؤ اب مل کے گلستاں کو گلستاں کر دیں", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آؤ اب مل کے گلستاں کو گلستاں کر دیں\nہر گل و لالہ کو رقصاں و غزل خواں کر دیں\n\nعقل ہے فتنۂ بیدار سلا دیں اس کو\nعشق کی جنس گراں مایہ کو ارزاں کر دیں\n\nدست وحشت میں یہ اپنا ہی گریباں کب تک\nختم اب سلسلۂ چاک گریباں کر دیں\n\nخون آدم پہ کوئی حرف نہ آنے پائے\nجنہیں انساں نہیں کہتے انہیں انساں کر دیں\n\nدامن خاک پہ یہ خون کے چھینٹے کب تک\nانہیں چھینٹوں کو بہشت گل و ریحاں کر دیں\n\nماہ و انجم بھی ہوں شرمندۂ تنویر مجازؔ\nدشت ظلمات میں اک ایسا چراغاں کر دیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A4_%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D9%84_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آؤ بیٹھو ہنسو مزا ہو", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آؤ بیٹھو ہنسو مزا ہو\nکچھ تو فرماؤ کیوں خفا ہو\n\nلو شمع کی بجھنے کو ہے اے گل\nمحفل میں نہ کوئی دل جلا ہو\n\nدل کا دکھنا اسی سے کہیے\nجو درد کی قدر جانتا ہو\n\nشیشہ تلووں میں چبھ نہ جائے\nٹھکراتے ہو دل کو کج کلاہو\n\nبہکی بہکی ہوں اس کی باتیں\nساقی ساقی پکارتا ہو\n\nاجلی اجلی سی چاندنی میں\nگورا گورا بدن کھلا ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A4_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D9%88_%DB%81%D9%86%D8%B3%D9%88_%D9%85%D8%B2%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "آؤ بے پردہ تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسم", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آؤ بے پردہ تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسم\nہم نہ چھیڑیں گے ہمیں زلف پریشاں کی قسم\n\nچاک داماں کی قسم چاک گریباں کی قسم\nہنسنے والے تجھے اس حال پریشاں کی قسم\n\nمیرے ارمان سے واقف نہیں شرمائیں گے آپ\nآپ کیوں کھاتے ہیں ناحق مرے ارماں کی قسم\n\nنیند آئے نہ کبھی تجھ سے بچھڑ کر ظالم\nاپنی آنکھوں کی قسم تیرے شبستاں کی قسم\n\nلب جاناں پہ فدا عارض جاناں کے نثار\nشام رنگیں کی قسم صبح درخشاں کی قسم\n\nآج تک صبح وطن یاد ہے ہم کو اخترؔ\nدرد ہجراں کی قسم شام غریباں کی قسم", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A4_%D8%A8%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D9%BE%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85"} {"title": "آؤ حسن یار کی باتیں کریں", "poet_page": "مصنف:چراغ حسن حسرت", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "آؤ حسن یار کی باتیں کریں\nزلف کی رخسار کی باتیں کریں\n\nزلف عنبر بار کے قصے سنائیں\nطرۂ طرار کی باتیں کریں\n\nپھول برسائیں بساط عیش پر\nروز وصل یار کی باتیں کریں\n\nنقد جاں لے کر چلیں اس بزم میں\nمصر کے بازار کی باتیں کریں\n\nان کے کوچے میں جو گزری ہے کہیں\nسایۂ دیوار کی باتیں کریں\n\nآخری ساعت شب رخصت کی ہے\nآؤ اب تو پیار کی باتیں کریں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A4_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آؤ پھر گرمی دیار عشق میں پیدا کریں", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آؤ پھر گرمی دیار عشق میں پیدا کریں\nطور کی مٹی سے تخلیق ید بیضا کریں\n\nحسن میں ہو عشق کی بو عشق میں ہو رنگ حسن\nپھر مرتب رنگ و بوئے نو سے اک دنیا کریں\n\nجتنے نغمے ہو چکے ہیں گم فضائے دہر میں\nان کو پھر آواز دیں اک ساز میں یکجا کریں\n\nمل چکے ہیں خاک میں جو ٹوٹ کر پھولوں کے جام\nان کو دست شاخ میں پھر ساغر و مینا کریں\n\nزندگی دو دن کی اس پر یہ جہاں ایجادیاں\nاہتمام اتنا کریں سیمابؔ اور پھر کیا کریں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A4_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے\nکرنا سلوک خوب ہے اہل نیاز سے\n\nپھرتے ہو کیا درختوں کے سائے میں دور دور\nکر لو موافقت کسو بے برگ و ساز سے\n\nہجراں میں اس کے زندگی کرنا بھلا نہ تھا\nکوتاہی جو نہ ہووے یہ عمر دراز سے\n\nمانند سبحہ عقدے نہ دل کے کبھو کھلے\nجی اپنا کیوں کہ اچٹے نہ روزے نماز سے\n\nکرتا ہے چھید چھید ہمارا جگر تمام\nوہ دیکھنا ترا مژۂ نیم باز سے\n\nدل پر ہو اختیار تو ہرگز نہ کریے عشق\nپرہیز کریے اس مرض جاں گداز سے\n\nآگے بچھا کے نطع کو لاتے تھے تیغ و طشت\nکرتے تھے یعنی خون تو اک امتیاز سے\n\nمانع ہوں کیوں کہ گریۂ خونیں کے عشق میں\nہے ربط خاص چشم کو افشائے راز سے\n\nشاید شراب خانے میں شب کو رہے تھے میرؔ\nکھیلے تھا ایک مغبچہ مہر نماز سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A4_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92"} {"title": "آؤ کچھ شغل کریں بیٹھے ہیں عریاں اتنے", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آؤ کچھ شغل کریں بیٹھے ہیں عریاں اتنے\nپھاڑیں سینہ ہی گو ہاتھ آئے گریباں اتنے\n\nآہ کوئی جو اسے آن کے سمجھاتا ہو\nدیکھتے ہیں کھڑے ہندو و مسلماں اتنے\n\nسچ کہہ اے باد صبا ہے کسی گل پر یہ بہار\nتو نے دیکھے ہیں زمانے کے گلستاں اتنے\n\nشور محشر کا رہے کیوں نہ ترے کوچہ میں\nجس جگہ ہوویں اکٹھے دل نالاں اتنے\n\nہم سے واماندوں کو اللہ نباہے تو نبھیں\nتن سو یہ خستہ و درپیش بیاباں اتنے\n\nدم بھی کچھ چیز ہے جب چوک گیا بات تمام\nکون سی زیست پہ تو کرتا ہے ساماں اتنے\n\nتجھ کو قائمؔ رکھے اللہ بہت سا اے امیر\nمجتمع سائے میں ہیں جس کے سخنداں اتنے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A4_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B4%D8%BA%D9%84_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%92"} {"title": "آئنہ خانہ کریں گے دل ناکام کو ہم", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئنہ خانہ کریں گے دل ناکام کو ہم\nپھیریں گے اپنی طرف روئے دل آرام کو ہم\n\nشام سے صبح تلک دور شراب آخر ہے\nروتے ہیں دیکھ کے خنداں دہن جام کو ہم\n\nیاد رکھنے کی جگہ ہے یہ طلسم حیرت\nصبح کو دیکھتے ہی بھول گئے شام کو ہم\n\nآنکھ وہ فتنۂ دوراں کسے دکھلاتا ہے\nشعبدہ جانتے ہیں گردش ایام کو ہم\n\nفتنہ انگیزی بھی چھپتی ہے کہیں پردے میں\nسنتے ہیں گبر و مسلماں سے ترے نام کو ہم\n\nخون قاصد تو وہ سفاک سمجھتا ہے حلال\nکسی غماز سے بھجوائیں گے پیغام کو ہم\n\nپاؤں پکڑے ہیں زمیں نے یہ ترے کوچہ کی\nرہ صد سالہ سمجھتے ہیں اب اک گام کو ہم\n\nدیدۂ یار کہیں کیا اسے کیف مے میں\nبھون کر روز گزک کرتے ہیں بادام کو ہم\n\nبیزۂ خط سے ہوئی اس کی کدورت دہ چند\nاب صفائی کے لیے ڈھونڈیں گے حجام کو ہم\n\nیہی تحصیل محبت کا ہے عالم تا حال\nپختہ کرتے ہیں ہنوز آرزوئے خام کو ہم\n\nلطف حاصل ہو جو زلفوں میں گرفتاری کا\nمول لیں دل کی اسیری کے لیے دام کو ہم\n\nکوچۂ یار میں اپنا جو گزر ہوتا ہے\nنگراں رہتے ہیں حسرت سے در و بام کو ہم\n\nحسن سے عشق کی خاطر ہے خدا نے بھیجا\nکرتے ہیں آتشؔ اسے آئے ہیں جس کام کو ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85"} {"title": "آئنہ دیکھ کے کہتا ہے یہ دلبر میرا", "poet_page": "مصنف:وفا لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نغمۂ ہزار (1911)", "year": "1911", "text_ur": "آئنہ دیکھ کے کہتا ہے یہ دلبر میرا\nماہ کنعاں بھی نہیں حسن میں ہمسر میرا\n\nدل قاتل سے پس قتل بھی نکلا نہ بخار\nلاشہ تشہیر کیا کر کے جدا سر میرا\n\nیار پھر جاتا ہے آ کر مرے دروازے سے\nمجھ سے برگشتہ ہے کس درجہ مقدر میرا\n\nراہ گم کردہ وہ خود پھرتا ہے اک مدت سے\nکوئے الفت میں خضر خاک ہو رہبر میرا\n\nنہیں معلوم کہ قاصد پہ مرے کیا گزری\nآج قابو میں نہیں ہے دل مضطر میرا\n\nمیکدے پر مرا قبضہ ہو میں وہ مے کش ہوں\nشیشہ میرا ہے سبو میرا ہے ساغر میرا\n\nکیوں لگا رہنے دیا اے مرے قاتل تسمہ\nایک ہی وار میں کرنا تھا جدا سر میرا\n\nآئیے آئیے دکھلائیے صورت اپنی\nدم شب ہجر میں آیا ہے لبوں پر میرا\n\nقتل ہوتے ہوئے جی بھر کے انہیں دیکھ لیا\nحوصلہ آج تو نکلا تہ خنجر میرا\n\nاے وفاؔ تھی جو تمنا مجھے پا بوسی کی\nپائے قاتل پہ گرا ہو کے جدا سر میرا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا\nچہرۂ شاہد مقصود عیاں ہے کہ جو تھا\n\nعشق گل میں وہی بلبل کا فغاں ہے کہ جو تھا\nپرتو مہ سے وہی حال کتاں ہے کہ جو تھا\n\nعالم حسن خدا داد بتاں ہے کہ جو تھا\nناز و انداز بلائے دل و جاں ہے کہ جو تھا\n\nراہ میں تیری شب و روز بسر کرتا ہوں\nوہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا\n\nروز کرتے ہیں شب ہجر کو بیداری میں\nاپنی آنکھوں میں سبک خواب گراں ہے کہ جو تھا\n\nایک عالم میں ہو ہر چند مسیحا مشہور\nنام بیمار سے تم کو خفقاں ہے کہ جو تھا\n\nدولت عشق کا گنجینہ وہی سینہ ہے\nداغ دل زخم جگر مہر و نشاں ہے کہ جو تھا\n\nناز و انداز و ادا سے تمہیں شرم آنے لگی\nعارضی حسن کا عالم وہ کہاں ہے کہ جو تھا\n\nجاں کی تسکیں کے لئے حالت دل کہتے ہیں\nبے یقینی کا تری ہم کو گماں ہے کہ جو تھا\n\nاثر منزل مقصود نہیں دنیا میں\nراہ میں قافلۂ ریگ رواں ہے کہ جو تھا\n\nدہن اس روئے کتابی میں ہے پر نا پیدا\nاسم اعظم وہی قرآں میں نہاں ہے کہ جو تھا\n\nکعبۂ مد نظر قبلہ نما ہے تا حال\nکوئے جاناں کی طرف دل نگراں ہے کہ جو تھا\n\nکوہ و صحرا و گلستاں میں پھرا کرتا ہے\nمتلاشی وہ ترا آب رواں ہے کہ جو تھا\n\nسوزش دل سے تسلسل ہے وہی آہوں کا\nعود کے جلنے سے مجمر میں دھواں ہے کہ جو تھا\n\nرات کٹ جاتی ہے باتیں وہی سنتے سنتے\nشمع محفل صنم چرب زباں ہے کہ جو تھا\n\nپائے خم مستوں کے ہو حق کا جو عالم ہے سو ہے\nسر منبر وہی واعظ کا بیاں ہے کہ جو تھا\n\nکون سے دن نئی قبریں نہیں اس میں بنتیں\nیہ خرابہ وہی عبرت کا مکاں ہے کہ جو تھا\n\nبے خبر شوق سے میرے نہیں وہ نور نگاہ\nقاصد اشک شب و روز وہاں ہے کہ جو تھا\n\nلیلۃ القدر کنایہ نہ شب وصل سے ہو\nاس کا افسانہ میان رمضاں ہے کہ جو تھا\n\nدین و دنیا کا طلب گار ہنوز آتشؔ ہے\nیہ گدا سائل نقد دو جہاں ہے کہ جو تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%82_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%D9%86%D8%B8%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "آئنہ ہے یہ جہاں اس میں جمال اپنا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئنہ ہے یہ جہاں اس میں جمال اپنا ہے\nصورت غیر کہاں ہے یہ خیال اپنا ہے\n\nبس کہ ہوں ہیچ مداں اس پہ میں کرتا ہوں گھمنڈ\nبے کمالی میں مجھے اپنی کمال اپنا ہے\n\nنالہ و آہ ہے یا گریہ و زاری ہے یہاں\nپوچھتے کیا ہو جو کچھ ہجر میں حال اپنا ہے\n\nطالب اک بوسے کا ہوں دیتے ہو کیا صاف جواب\nکچھ بہت بھی نہیں تھوڑا ہی سوال اپنا ہے\n\nہے برا یا بھلا جو کچھ کہ ہے تیرا ہے حضورؔ\nاس کے تئیں گھر سے مت اپنے تو نکال اپنا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "آئی اے گلعذار کیا کہنا", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئی اے گلعذار کیا کہنا\nخوب آئی بہار کیا کہنا\n\nمہندی مل کر ہے چوٹ مرجاں پر\nہاتھ لالہ نگار کیا کہنا\n\nمجھ سے عاشق کے اور یوں نفریں\nواہ شاباش یار کیا کہنا\n\nبرق بھی درکنار رہ جائے\nہاں دل بے قرار کیا کہنا\n\nلاکھ بار امتحان عشق کیا\nنہ کہا ایک بار کیا کہنا\n\nبحث گریہ میں ابر بول گیا\nدیدۂ اشک بار کیا کہنا\n\nمیں تو روتا ہوں آپ ہنستے ہیں\nیہی ہوتا ہے یار کیا کہنا\n\nسختیٔ عشق جھیل لے اے دل\nواہ رے بردبار کیا کہنا\n\nمر گئے ہم مگر نہ رحم آیا\nوہی تیور ہیں یار کیا کہنا\n\nخار خار غم دل پر درد\nچیخ کر اے ہزار کیا کہنا\n\nکہہ تو للکار لیں رقیبوں کو\nبات رکھ لی نگار کیا کہنا\n\nجوش الفت میں اور ضبط اے دل\nجبر پر اختیار کیا کہنا\n\nیوں تو جو گل ہے خوب ہے لیکن\nتیرا اے گلعذار کیا کہنا\n\nاے صباؔ دعویٔ انا الحق ہے\nخوب سوچے ہو یار کیا کہنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DB%92_%DA%AF%D9%84%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "آئی بہار دور ہو ساقی شراب کا", "poet_page": "مصنف:نسیم میسوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئی بہار دور ہو ساقی شراب کا\nدریا بہا دے بزم میں اشک کباب کا\n\nاس آفتاب رخ پہ نظر اپنی پڑتے ہی\nشبنم کی طرح اڑ گیا پردہ حجاب کا\n\nکس بے وفا پہ مرتا ہے کیا کیجیے اسے\nگھر اور ہو کہیں دل خانہ خراب کا\n\nکرنے تو دو سوال کریں ہیں تو کیا\nعاشق ہوں میں بھی اک بت خانہ خراب کا\n\nہر دم وہ مجھ کو دیکھ کے ابرو چڑھاتے ہیں\nپیاسا ہے خنجر ان کا مرے خون ناب کا\n\nقدموں کو چومتا اے صنم آتے جاتے میں\nکیوں سنگ میں بنا نہیں تیری جناب کا\n\nصدمے فراق یار کے کیا کم ہیں اے نسیمؔ\nمحشر میں مجھ کو خوف نہیں کچھ حساب کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "آئی بہار شورش طفلاں کو کیا ہوا", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئی بہار شورش طفلاں کو کیا ہوا\nاہل جنوں کدھر گئے یاراں کو کیا ہوا\n\nغنچے لہو میں تر نظر آتے ہیں تہہ بہ تہہ\nاس رشک گل کو دیکھ گلستاں کو کیا ہوا\n\nیاقوت لب ترا ہوا کیوں خط سے جرم وار\nظالم یہ رشک لعل بدخشاں کو کیا ہوا\n\nاس جامہ زیب غنچہ دہن کو چمن میں دیکھ\nحیراں ہوں میں کہ گل کے گریباں کو کیا ہوا\n\nآنے سے تیرے خط کے یہ کیوں دل گرفتہ ہے\nبتلا کہ تیری زلف پریشاں کو کیا ہوا\n\nکیوں گرد باد سے یہ اڑاتا ہے سر پہ خاک\nہوں میں تو جائے قیس بیاباں کو کیا ہوا\n\nروتے ہی تیرے غم میں گزرتی ہے اس کی عمر\nپوچھا کبھی نہ تو نے کہ تاباںؔ کو کیا ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%D9%88%D8%B1%D8%B4_%D8%B7%D9%81%D9%84%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "آئی سحر قریب تو میں نے پڑھی غزل", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئی سحر قریب تو میں نے پڑھی غزل\nجانے لگے ستاروں کے بجتے ہوئے کنول\n\nبے تاب ہے جنوں کہ غزل خوانیاں کروں\nخاموش ہے خرد کہ نہیں بات کا محل\n\nکیسے دیے جلائے غم روزگار نے\nکچھ اور جگمگائے غم یار کے محل\n\nاب ترک دوستی ہی تقاضا ہے وقت کا\nاے یار چارہ ساز مری آگ میں نہ جل\n\nاے التفات یار مجھے سوچنے تو دے\nمرنے کا ہے مقام یا جینے کا ہے محل\n\nہم رند خاک و خوں میں اٹے ہاتھ بھی کٹے\nنکلے نہ اے بہار ترے گیسوؤں کے بل", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D9%BE%DA%91%DA%BE%DB%8C_%D8%BA%D8%B2%D9%84"} {"title": "آئی عید و دل میں نہیں کچھ ہوائے عید", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئی عید و دل میں نہیں کچھ ہوائے عید\nاے کاش میرے پاس تو آتا بجائے عید\n\nقربان سو طرح سے کیا تجھ پر آپ کو\nتو بھی کبھو تو جان نہ آیا بجائے عید\n\nجتنے ہیں جامہ زیب جہاں میں سبھوں کے بیچ\nسجتی ہے تیرے بر میں سراپا قبائے عید", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%DB%8C%D8%AF"} {"title": "آئی نہ کبھو رسم تلطف تم کو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آئی نہ کبھو رسم تلطف تم کو\nکرتے نہ سنا ہم پہ تاسف تم کو\nمرتے ہیں ہم اور منھ چھپاتے ہو تم\nہم سے اب تک بھی ہے تکلف تم کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%D8%B1%D8%B3%D9%85_%D8%AA%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "آئی ہے شب قتل حسین ابن علی کی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "آئی ہے شب قتل حسین ابن علی کی\nرخصت ہے سحر عترت والاے نبی کی\nکٹ جائے گی سب آل رسول عربی کی\nبرہم ہی ہوئی جان لو صحبت یہ کبھی کی\n\nجب اس شہ مظلوم سے تلوار چلے گی\nگرد اٹھ کے سوے چرخ ستمگار چلے گی\nپاؤں کے تلے سے زمیں یک بار چلے گی\nاٹھ جائے گی تہ انس و ملک جن و پری کی\n\nلیکن جو مقدر ہے شہ دین کا ہونا\nآزار دلی کھینچنا اس جان کو کھونا\nاحباب جو ہیں ان کو قیامت تئیں رونا\nکس طرح ظفر ہووے نہ اس قوم دنی کی\n\nبے ڈول نظر آتی ہیں اعدا کی نگاہیں\nہے جاے تعجب جو مروت کو نباہیں\nغالب ہے کہ یہ خوبی شبیر نہ چاہیں\nسن لیجو کہ ان لوگوں نے سادات کشی کی\n\nہووے گا نمودار سحر کا جو ستارہ\nہوگا تبھی سے شام کے لوگوں کا گذارا\nمیداں میں نکل صاف یہ شہ جائے گا مارا\nساتھ اس کے اجل آئے گی یک بار سبھی کی\n\nہرگز نہ ملے گا کسو کو ایک دم آب\nکیا خرد و کلاں پیاس سے ہوجائیں گے بے تاب\nتڑپیں گے پڑے خاک میں کیا کیا گہر ناب\nدریا پہ یہ آفت پڑے گی تشنہ لبی کی\n\nاکبر کے تڑپنے کے تئیں دیکھے گا مظلوم\nمرنا کرے گا گود میں اصغر کا بھی معلوم\nسن لیوے گا قاسم کی ہلاکی کی پڑی دھوم\nلے جائے گا سب مرتے ہوئے جی ہی میں جی کی\n\nگذرے گی جو کچھ سر کے اپر سب وہ سہے گا\nبیٹوں میں بھتیجوں میں کوئی کم ہی رہے گا\nجو وارثی کر باپ کی اک بات کہے گا\nاوقات نے دیکھوگے بہت اس سے کمی کی\n\nبرپا کریں گے حشر عجب خیموں میں جاکر\nلے جائیں گے پھر سر کے تئیں نیزہ چڑھا کر\nلاویں گے بلا اک حرم شاہ میں آکر\nدلجوئی نہ عابد کی تسلی نہ کسی کی\n\nچھینیں گے ردائیں سر سکان حرم سے\nکچھ کہہ نہ سکے گا کوئی واں فرط الم سے\nدرگوش سکینہ کا اتاریں گے ستم سے\nدلداری کرے گا نہ کوئی باپ موئی کی\n\nمحجوب نہ ہوگا کوئی شبیر کے رو سے\nہوگا وہ پڑا خاک میں آلودہ لہو سے\nکیا زین عبا آنکھ ملاوے گا کسو سے\nکچھ چشم کسو سے نہ جسے دادرسی کی\n\nجس جا کہ پڑا خاک میں ہوگا وہ تن پاک\nہووے گی کھڑی مویہ کناں زینب غمناک\nکلثوم اڑاوے گی کھڑی ہوکے بہت خاک\nپرسش نہ کرے گا کوئی اس خاک ملی کی\n\nاصغر کے لیے بانو المناک پھرے گی\nآنکھوں سے لہو روتی جگرچاک پھرے گی\nفریادکناں منھ پہ ملے خاک پھرے گی\nسننے کے نہیں بات کو اس جان جلی کی\n\nپاس احمد مختار کا کرنے کے نہیں کچھ\nرو حیدر کرار کا کرنے کے نہیں کچھ\nغم عابد بیمار کا کرنے کے نہیں کچھ\nکیا دیکھیو اس قوم نے دنیاطلبی کی\n\nبے صرفہ چلے آویں گے غارت کے بہانے\nلے جائیں گے لوگوں کے تئیں پاؤں چلانے\nدیکھوگے کہ اس جمع سراپاے جفا نے\nوارث کے موئے پر بھی جفا میں نہ کمی کی\n\nخوش ہوویں گے دیکھیں گے اسیروں کو جو مغموم\nدم لینے نہ دیویں گے جو ہو ماتم مظلوم\nانصاف کروگے تو تمھیں ہووے گا معلوم\nان بدگہروں نے کوئی بھی بات بھلی کی\n\nالقصہ وے سب شام کی جانب کو چلیں گے\nدل اور جگر آتش کربت سے جلیں گے\nکم فرصتی وقت سے ٹک دم بھی نہ لیں گے\nسن لیجو کہ عابد نے بلا رنج کشی کی\n\nیک چند جدا جا کے وہ رنجور رہے گا\nبے گور و کفن یہ تن پرنور رہے گا\nہر جاے بہم میرؔ یہ مذکور رہے گا\nکیا سمجھے تھے وے لوگ جو یہ بے ادبی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D9%82%D8%AA%D9%84_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86_%D8%A7%D8%A8%D9%86_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "آئینہ تمہارے نقش پا کا", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئینہ تمہارے نقش پا کا\nخورشید کو دے سبق جلا کا\n\nاو وصل میں منہ چھپانے والے\nیہ بھی کوئی وقت ہے حیا کا\n\nجب آنکھ کھلی تو بے خودوں سے\nپردہ تھا جمال خود نما کا\n\nدل اور وہ بت زہے مقدر\nظلم اور یہ دل غضب خدا کا\n\nجا بیٹھے ہیں مجھ سے دور اٹھ کر\nکیا پاس کیا ہے التجا کا\n\nبولے وہ حسنؔ کا خون مل کر\nکیا شوخ ہے رنگ اس حنا کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "آئینہ جو ہاتھ اس کے نے تا دیر لیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آئینہ جو ہاتھ اس کے نے تا دیر لیا\nاس دیر سے خجلت نے ہمیں گھیر لیا\nجب ہم نے کہا کیا یہی عاشق ہے میاں\nیہ سنتے ہی آئینے سے منہ پھیر لیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آئینہ خود نمائی ان کو سکھا رہا ہے", "poet_page": "مصنف:رسا رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئینہ خود نمائی ان کو سکھا رہا ہے\nکیا قہر کر رہا ہے کیا ظلم ڈھا رہا ہے\n\nآنسو بہا رہا ہے وہ سوز دل پہ میرے\nخود ہی لگا کے ظالم خود ہی بجھا رہا ہے\n\nان کو تو ہم نے چاہا وہ یوں ستا رہے ہیں\nاے چرخ کینہ پرور تو کیوں ستا رہا ہے\n\nآزردہ غیر سے ہیں لیتا ہوں میں بلائیں\nروٹھے ہیں وہ کسی سے کوئی منا رہا ہے\n\nکوچے میں ان بتوں نے رہنے دیا نہ شاید\nسنتے ہیں اب رساؔ بھی کعبے کو جا رہا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے\nصاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا\n\nقاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے\nاس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا\n\nضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا\nاک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا\n\nاے وائے غفلت نگۂ شوق ورنہ یاں\nہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا\n\nدرس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے\nوہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا\n\nہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار\nپروانۂ تجلی شمع ظہور تھا\n\nشاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کر\nپیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا\n\nجنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر\nجوہر سواد جلوۂ مژگان حور تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%B3%D8%A7_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "آئینہ دیکھتے ہی وہ دیوانہ ہو گیا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئینہ دیکھتے ہی وہ دیوانہ ہو گیا\nدیکھا کسے کہ شمع سے پروانہ ہو گیا\n\nگل کر کے شمع سوئے تھے ہم نامراد آج\nروشن کسی کے آنے سے کاشانہ ہو گیا\n\nدیوانہ قیس پہلے ہمیں چھیڑتا رہا\nپھر رفتہ رفتہ نجد میں یارانہ ہو گیا\n\nکافی نہ مہر خم کو ہوئے لک ہائے‌ ابر\nاب اس قدر وسیع یہ خم خانہ ہو گیا\n\nحاصل بہ اختصاص ہے اس دل کو یہ شرف\nکعبہ بنا کبھی کبھی بت خانہ ہو گیا\n\nلائے چرا کے بہر پرستش بتوں کو گھر\nویران چار روز میں بت خانہ ہو گیا\n\nمنہ چوم لوں یہ کس نے کہا مجھ کو دیکھ کر\nدیوانہ تھا ہی اور بھی دیوانہ ہو گیا\n\nتوڑی تھی جس سے توبہ کسی نے ہزار بار\nافسوس نذر توبہ وہ پیمانہ ہو گیا\n\nمے توبہ بن کے آئی تھی لب تک کہ اے ریاضؔ\nلبریز اپنی عمر کا پیمانہ ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آئینہ دیکھنا", "poet_page": "مصنف:سورج نرائن مہر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آئنہ دیکھنے کا شوق ہے وہ\nاس کا ہر شخص مبتلا دیکھا\nسامنے آئنے کے بن ٹھن کر\nہم نے احباب کو کھڑا دیکھا\nکوئی موچھوں پہ تاؤ دیتا ہے\nکوئی ڈاڑھی سنوارتا دیکھا\nکوئی کپڑوں کو صاف کرتا ہے\nکوئی منہ دیکھتا ہوا دیکھا\nشانہ ہے یا برش ہے یا رومال\nہاتھ خالی نہ ایک کا دیکھا\nشوق ہے عام جامہ زیبی کا\nجس کو دیکھا ہے خود نما دیکھا\nدیکھا سب نے ہی اپنا جسم و لباس\nلیک یہ طرفہ ماجرا دیکھا\nدیکھنے سے کبھی نہیں سیری\nروز گو چہرہ بارہا دیکھا\nاپنی صورت کے سب ہیں شیدائی\nسب کو اپنا فریفتہ دیکھا\nصورت ظاہری مگر اے دوست\nجس نے دیکھی ہے اس نے کیا دیکھا\nدیکھنے والا اس کو کہتے ہیں\nجس نے باطن بھی برملا دیکھا\nدل کا آئینہ پاس ہے سب کے\nصاف ایسا کم آئنا دیکھا\nمجھ سے پوچھو تو وہ ہے نیک نصیب\nجس نے یہ آئنہ ذرا دیکھا\nصورت حال ہے خبر پائی\nاور اپنا برا بھلا دیکھا\nنطق و اطوار دین اور ایماں\nسب کو جیسے ہیں برملا دیکھا\nاور پھر لے کے سعی کا رومال\nنقص جو جو کہ جا بہ جا دیکھا\nاس کی اس طرح سے صفائی کی\nکہ نہ آنکھوں نے پھر ذرا دیکھا\nیہ ہے آئینہ دیکھنا اے دوست\nدیکھا اس طرح تو بجا دیکھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "آئینہ کبھی قابل دیدار نہ ہووے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئینہ کبھی قابل دیدار نہ ہووے\nگر خاک کے ساتھ اس کو سروکار نہ ہووے\n\nکیا خاک کہو اس میں تجلی ہو نمایاں\nخورشید کا جو ذرہ پرستار نہ ہووے\n\nگر مہر نہ ہو داغ کے الفت کی گواہی\nمنظور مرے درد کا طومار نہ ہووے\n\nدل خواب کی غفلت سے مبادا کہیں چونکے\nیہ فتنۂ خوابیدہ ہی بیدار نہ ہووے\n\nعشق اہل وفا بیچ اسے قدر ہے کیا خاک\nوہ دل کہ جو گرد رہ دل دار نہ ہووے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92"} {"title": "آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے\nایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے\n\nحسرت نے لا رکھا تری بزم خیال میں\nگلدستۂ نگاہ سویدا کہیں جسے\n\nپھونکا ہے کس نے گوش محبت میں اے خدا\nافسون انتظار تمنا کہیں جسے\n\nسر پر ہجوم درد غریبی سے ڈالیے\nوہ ایک مشت خاک کہ صحرا کہیں جسے\n\nہے چشم تر میں حسرت دیدار سے نہاں\nشوق عناں گسیختہ دریا کہیں جسے\n\nدرکار ہے شگفتن گل ہائے عیش کو\nصبح بہار پنبۂ مینا کہیں جسے\n\nغالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے\nایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے\n\nیا رب ہمیں تو خواب میں بھی مت دکھائیو\nیہ محشر خیال کہ دنیا کہیں جسے\n\nہے انتظار سے شرر آباد رستخیز\nمژگان کوہکن رگ خارا کہیں جسے\n\nکس فرصت وصال پہ ہے گل کو عندلیب\nزخم فراق خندۂ بیجا کہیں جسے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%DB%92"} {"title": "آئینہ کے عکس سے گل سا بدن میلا ہوا", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئینہ کے عکس سے گل سا بدن میلا ہوا\nصبح کے پرتو سے رنگ یاسمن میلا ہوا\n\nہوگیا نام کدورت بھی لطافت کے خلاف\nعطر مٹی کا لگایا پیرہن میلا ہوا\n\nہوگیا بٹنا غبار راہ جسم صاف پر\nرنگ نکھرا اور بھی جتنا بدن میلا ہوا\n\nمل گئی پوشاک لے جاتی ہیں جو زمیں مانگ کر\nحلۂ جنت ہوا جو پیرہن میلا ہوا\n\nصاف اے عریانئ وحشت کہے دیتا ہوں میں\nپوست کھینچوں گا اگر میرا بدن میلا ہوا\n\nخاکساری سے ہوئے جز و زمیں ہم بعد مرگ\nخاک کا پردا بنا ایسا کفن میلا ہوا\n\nمل گجے کپڑے پسینے میں معطر ہوگئے\nعطر میں دھویا گیا جو پیرہن میلا ہوا\n\nبعد مردن بھی تکلف سے کدورت دل میں ہے\nصحبت کافور سے اپنا بدن میلا ہوا\n\nہوگیا مسی کا دھوکا صاف اہل دید کو\nدود قلیاں سے لب غنچہ دہن میلا ہوا\n\nطبع رنگیں کو مکدر سرد آہوں نے کیا\nدو نسیم صبح سے رنگ چمن میلا ہوا\n\nشیشۂ ساعت کی کیفیت دکھائی یار نے\nدل میں جب اس کے غبار ٓیا بدن میلا ہوا\n\nکیا تری تلوار بھی مجھ سے غبار آلود تھی\nخون دل کا رنگ کیوں اے تیغ زن میلا ہوا\n\nہوگئی بے حس غبار آمد صیاد سے\nخاک تودا لوگ سمجھے جوہرن میلا ہوا\n\nکیا کدورت لائیں جس پے نمک کی گرمیاں\nشمع کافوری سے رنگ انجمن میلا ہوا\n\nشاعروں میں گفتگو آئی کدورت کی بہم\nصاف کہتا ہوں کہ اب رنگ سخن میلا ہوا\n\nکیا لطافت ہے کہ غلطی میں مکدر ہوگیا\nمنہ لگاتے ہی ترا رنگ دہن میلا ہوا\n\nسالک راہ بتاں آخر کو پتھر ہوگئے\nہوگیا بہاری جو رخت برہمن میلا ہوا\n\nوصل کی شب باتوں باتوں میں مکدر ہو گئی\nگفتگوئے بوسہ سے رنگ دہن میلا ہوا\n\nخاک میں مل کر نہ چھوڑا بوسۂ دیوار یار\nبن گیا روزن اگر رنگ دہن میلا ہوا\n\nکوچۂ گیسو میں کس کی خاک اوڑالائی صبا\nاے پری موباف جعد پرشکن میلا ہوا\n\nصاف گوئی سے غبار آئینہ میں آیا منیرؔ\nمیری باتوں سے دل اہل سخن میلا ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D8%B3%D8%A7_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا\nطور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز کا\n\nپایہ بہت کیا بلند اس نے حریم ناز کا\nتا نا پہنچ سکے غبار رہ گزر نیاز کا\n\nخستگیٔ کلیم نے نکتہ عجب سمجھا دیا\nورنہ حریف میں بھی تھا اس مژۂ دراز کا\n\nدیر ملا تھا راہ میں کعبے کو ہم نکل گئے\nجذبۂ شوق میں دماغ کس کو ہو امتیاز کا\n\nبندگی اور صاحبی اصل میں دونوں ایک ہیں\nجس کا غلام ایاز ہے وہ ہے غلام ایاز کا\n\nگو تہی نصیب نے دور رکھا تو کیا ہوا\nبندۂ خانہ زاد ہوں اس کے قد دراز کا\n\nشوق ترا ہے موجزن ذوق ترا بہانہ جو\nکھول نہ دیں بھرم کہیں پرد گیان راز کا\n\nمستیٔ بے خودی سے یاں آنکھ کھلی نہ حشر تک\nیعنی یہی جواب تھا نرگس نیم باز کا\n\nآہ و فغاں کے ساتھ ساتھ چھا گئی ایک بے خودی\nقطع زباں ضرور تھا شمع زباں دراز کا\n\nخاک میں مل گئے ولے آنکھ اٹھی نہ شرم سے\nہم سے ہوا نہ حق ادا اس کی نگاہ ناز کا\n\nمطرب خلد کیا سنائے وحشت خستہ کیا سنے\nمعتقد قدیم ہے زمزمہ حجاز کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%82_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%D9%BE%D8%B0%DB%8C%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "آئینۂ دل میں کچھ اگر ہے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئینۂ دل میں کچھ اگر ہے\nتیرا ہی جمال جلوہ گر ہے\n\nہم مر گئے تیری جستجو میں\nبے رحم کہاں ہے تو کدھر ہے\n\nرہبر نہیں چاہتی رہ عشق\nواں شوق ہی اپنا راہ بر ہے\n\nکیوں مارے ہے لاف حج اکبر\nاپنے کئے پر بھی کچھ نظر ہے\n\nکعبے سی جگہ پہنچ پھر آیا\nتو حاجی نہیں ہے گیدی خر ہے\n\nاس در ہی کی آرزو میں ؔجوشش\nیہ مشت غبار در بہ در ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%82_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "آئینۂ عبرت ہے مرا دل بھی جگر بھی", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئینۂ عبرت ہے مرا دل بھی جگر بھی\nاک درد کی تصویر ادھر بھی ہے ادھر بھی\n\nکیا تم سے شکایت مجھے قسمت سے گلہ ہے\nپھرتا ہے مقدر تو پلٹتی ہے نظر بھی\n\nاس کو بھی نکال اے دل پر داغ کے گلچیں\nکانٹا ہے مرے پہلوئے خالی میں جگر بھی\n\nبس نالۂ دل بس مجھے امید نہیں ہے\nمنہ دیکھنے والوں میں ہے ظالم کے اثر بھی\n\nملنے سے بھی ان کے نہوی دل کو تسلی\nوصلت کی مسرت بھی رہی صبح کا ڈر بھی\n\nتھامے ہیں کلیجا وہ مرے دل کو دکھا کے\nاک تیر کی تاثیر ادھر بھی ہے ادھر بھی\n\nہوش اڑتے ہیں گم گشتگیٔ اہل عدم سے\nاس دشت‌‌ سیہ روز میں عنقا ہے خبر بھی\n\nپس کر ترے ہاتھوں کی حنا جب سے ہوا دل\nاک خون کا چلو نظر آتا ہے جگر بھی\n\nٹکڑے تھا کلیجا مرا خود جور فلک سے\nپہلو سے گئی چھان کے دل ان کی نظر بھی\n\nتنہائی فرقت میں کوئی پاس نہ ٹھہرا\nرخصت ہوا آخر کو دعاؤں سے اثر بھی\n\nہر خوف سے پہلو کا بچانا نہیں اچھا\nاے امن طلب حشر میں کام آئے گا ڈر بھی\n\nکیا زخم دل امید رکھے اس سے کہ جس نے\nدیکھا نہ کبھی چاک گریبان سحر بھی\n\nروداد ہے کیا شہر خموشاں کی الٰہی\nاس باب میں خاموش ہیں ارباب خبر بھی\n\nتصویر بنا دیجیے مجھ کو کسی صورت\nلے جائیے پہلو سے مرا دل بھی جگر بھی\n\nسد حادثۂ دہر کی ٹوٹی نہ اجل سے\nجاتی نہیں ان تک مرے مرنے کی خبر بھی\n\nیہ حکم محبت ہے کہ دل اس پہ فدا ہے\nثاقبؔ جسے دیکھا نہ کبھی ایک نظر بھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%A8%D8%B1%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "آئیں گے گر انہیں غیرت ہوگی", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئیں گے گر انہیں غیرت ہوگی\nوہ نہ آئے تو قیامت ہوگی\n\nحشر میں کون سنے گا فریاد\nسد رہ حد سماعت ہوگی\n\nننگ نظارہ ہے ہم چشمۂ عام\nہم نہ دیکھیں گے جو رویت ہوگی\n\nیک طرف ہو کے رہیں گے یک رنگ\nہم کو اعراف سے نفرت ہوگی\n\nشکوہ ہے دین وفا میں احداث\nمجھ سے کاہے کو یہ بدعت ہوگی\n\nہیں قیامت میں تامل کیا کیا\nوصل کی کون سی ساعت ہوگی\n\nریگ ہوں چاہیے دریائے شراب\nمیکدے پر نہ قناعت ہوگی\n\nہے شب وصل دو عالم گیسو\nوہ جبیں صبح شہادت ہوگی\n\nبحر رحمت ہے دو عالم کو محیط\nمیرے مشرب کی سی وسعت ہوگی\n\nمے سے آلودہ ہوا دامن حسن\nمتہم خون کی تہمت ہوگی\n\nکھینچتا تھا کوئی ان کا دامن\nخاک میں وصل کی حسرت ہوگی\n\nراس ہے چارۂ بالمثل مجھے\nقید سے اور بھی وحشت ہوگی\n\nشعلہ رو پڑھتے ہیں کلمہ تیرا\nشمع انگشت شہادت ہوگی\n\nغیر کی آگ میں جلنے نہ دیا\nحسن کی سی کسے غیرت ہوگی\n\nواشدہ غنچۂ خاطر مت مانگ\nمنتشر بوئے محبت ہوگی\n\nزہر لگتی ہے انہیں میری حیات\nکیوں کہ منظور شہادت ہوگی\n\nکھا گئے نرگس شہلا کا فریب\nکہ ان آنکھوں میں مروت ہوگی\n\nتیری زلفوں نے چڑھائے چلے\nدل کی اس کوچہ میں تربت ہوگی\n\nبن گئے سات جہنم تہ خاک\nکس کے پہلو میں یہ حدت ہوگی\n\nکہیں سر پھوڑ کے مر رہیے بیاںؔ\nاک جہاں سے تو فراغت ہوگی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C"} {"title": "آئیے جلوۂ دیدار کے دکھلانے کو", "poet_page": "مصنف:وحید الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئیے جلوۂ دیدار کے دکھلانے کو\nپھونک دے برق تجلی مرے کاشانے کو\n\nدیکھیے کون سی جا یار کا ملتا ہے پتہ\nکوئی کعبے کو چلا ہے کوئی بت خانے کو\n\nتیری فرقت میں تصور ہے یہ بے دردی کا\nخواب ہم جانتے ہیں نیند کے آ جانے کو\n\nبعد میرے جو ہوا دشت میں مجنوں کا گزر\nرو دیا دیکھ کے خالی مرے ویرانے کو\n\nکام آ جاتی ہے ہم بزمی بھی روشن دل کی\nشمع ہم رنگ بنا لیتی ہے پروانے کو\n\nآج پھر شہر کے کوچے نظر آتے ہیں اداس\nکس طرف لے گئی وحشت ترے دیوانے کو\n\nاے جنوں تنگ ہوئی وسعت صحرا تجھ سے\nاب کہاں جائے طبیعت کوئی بہلانے کو\n\nگل پہ بلبل تھا کہیں شمع پہ پروانہ تھا\nہم نے ہر رنگ میں دیکھا ترے پروانے کو\n\nوا شد دل نہ ہوئی غنچۂ خاطر نہ کھلا\nکون سے باغ میں آئے تھے ہوا کھانے کو\n\nمیں نے جب وادئ غربت میں قدم رکھا تھا\nدور تک یاد وطن آئی تھی سمجھانے کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88"} {"title": "آئے بھی تو وہ منہ کو چھپائے مرے آگے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئے بھی تو وہ منہ کو چھپائے مرے آگے\nاس طرح سے آئے کہ نہ آئے مرے آگے\n\nبجھتے ہوئے دیکھوں گا نہ میں دل کی لگی کو\nکوئی نہ کبھی شمع بجھائے مرے آگے\n\nتیور یہی کہتے تھے کہ یہ نام ہے میرا\nلکھ کر کئی حرف اس نے مٹائے مرے آگے\n\nبچھڑے ہوئے معشوق ملیں سب کو الٰہی\nتنہا کوئی جنت میں نہ جائے مرے آگے\n\nکچھ داغؔ کا مذکور جو آیا تو وہ بولے\nآئے تھے برا حال بنائے مرے آگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92"} {"title": "آئے کیا تیرا تصور دھیان میں", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئے کیا تیرا تصور دھیان میں\nکچھ سے کچھ ہے آن ہی کی آن میں\n\nیاں اشارات غلط پر زندگی\nواں ادا ہے اور ہی سامان میں\n\nتیغ قاتل ہے رگ گردن مری\nآب پیکاں دم تن بے جان میں\n\nیا تو قاتل ہو گیا رحم آشنا\nیا پڑے ہوں گے کہیں میدان میں\n\nاشک اپنے پھر پھرا کر ہر طرف\nآئے آخر تیرے ہی دامان میں\n\nہائے کیسے کیسے وارستہ مزاج\nسرنگوں دم بند ہیں زندان میں\n\nکعبہ آنکھوں میں سماتا ہی نہیں\nکیا بتوں نے کہہ دیا کچھ کان میں\n\nآنکھ کے اٹھتے ہی اٹھتے کچھ نہ تھا\nہم چلے ارمان ہی ارمان میں\n\nدیر و کعبہ پر نہیں موقوف کچھ\nاور ہی کچھ شان ہے ہر شان میں\n\nگریۂ صد سری اور ہم کم حوصلہ\nکشتی اپنی آ گئی طوفان میں\n\nجنت و دوزخ سے کیا امید و بیم\nحسرتیں سی حسرتیں ہیں جان میں\n\nخود پرستی اور اسلام آفریں\nکعبۂ عاشق ہے کفرستان میں\n\nاے قلقؔ کل تک گدائے دیر تھے\nآج دعوے ہو گئے ایمان میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آئے ہو تو یہ حجاب کیا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئے ہو تو یہ حجاب کیا ہے\nمنہ کھول دو نقاب کیا ہے\n\nسینے میں ٹھہرتا ہی نہیں دل\nیارب اسے اضطراب کیا ہے\n\nکل تیغ نکال مجھ سے بولا\nتو دیکھ تو اس کی آب کیا ہے\n\nمعلوم نہیں کہ اپنا دیواں\nہے مرثیہ یا کتاب کیا ہے\n\nجو مر گئے مارے لطف ہی کے\nپھر ان پہ میاں عتاب کیا ہے\n\nاوروں سے تو ہے یہ بے حجابی\nمجھ سے ہی تجھے حجاب کیا ہے\n\nاے مصحفیؔ اٹھ یہ دھوپ آئی\nاتنا بھی دوانے خواب کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "آئے ہیں بادہ نوش بڑی آن بان پر", "poet_page": "مصنف:پیر شیر محمد عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > کرشمۂ عشق (1922)", "year": "1922", "text_ur": "آئے ہیں بادہ نوش بڑی آن بان پر\nمیلہ لگا ہے پیر مغاں کی دکان پر\n\nساقی عطا ہو اب مجھے ساغر شراب کا\nچھائی ہوئی ہے کیسی گھٹا آسمان پر\n\nروتے ہیں تیرے عشق میں اے رشک ماہ جب\nکرتے ہیں لوگ خندہ ہماری فغان پر\n\nپیدا ہوا اثر نہ کبھی میری آہ میں\nکھایا نہ اس نے رحم کبھی بے زبان پر\n\nاے کاش یہ نصیب کریں اتنی یاوری\nپہنچوں کبھی میں شب کو تمہارے مکان پر\n\nکس شان سے وہ آج گئے ہیں عدو کے گھر\nمجھ سے بگڑ کے پہنچے ہیں وہ آسمان پر\n\nاللہ شب فراق میں وہ آہ و زاریاں\nہر وقت صدمے کیسے ہیں مجھ نیم جان پر\n\nلکھا جو خط شوق انہیں میں نے ہجر میں\nرونے لگے رقیب بھی میرے بیان پر\n\nیا رب ترے ہی فضل کا امیدوار ہوں\nکھاتا نہیں ہے رحم کوئی ناتوان پر\n\nہر دم ترے فراق میں پھرتا ہوں سو بہ سو\nلاکھوں بلائیں آتی ہیں عاجزؔ کی جان پر", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D9%86%D9%88%D8%B4_%D8%A8%DA%91%DB%8C_%D8%A2%D9%86_%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "آئے ہیں فاتحہ کو وہ گیسو سنوار کے", "poet_page": "مصنف:نشتر چھپروی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نشتر (1930)", "year": "1930", "text_ur": "آئے ہیں فاتحہ کو وہ گیسو سنوار کے\nچمکے نصیب آج ہمارے مزار کے\n\nدیکھو کرشمے رحمت پروردگار کے\nکیا آڑے آئی حشر میں مجھ شرمسار کے\n\nتصویر بن گئے ہیں وہ ذکر وصال پر\nقربان جائیے نگۂ شرمسار کے\n\nرونے لگے وہ دیکھ کے حال زبوں مرا\nاحسان مجھ پہ ہیں ستم روزگار کے\n\nتسکین خاک بادۂ کوثر سے ہو انہیں\nجن کو مزے ہوں یاد مے خوش گوار کے\n\nکہتے نہ تھے کہ آپ تغافل نہ کیجئے\nاب کیوں گلے ہیں نالۂ بے اختیار کے\n\nسونے دے شور حشر ذرا چین سے ہمیں\nجاگے ہوئے بہت ہیں شب انتظار کے\n\nہشیار کر دیا کسی غفلت شعار کو\nممنون ہم ہیں نالۂ بے اختیار کے\n\nصیاد بال و پر مرے اب کاٹتا ہے کیوں\nدن تو گزر چکے ہیں ستم گر بہار کے\n\nجھنجھلا کے بول اٹھے کہ لے رکھ تو اپنا دل\nجھگڑے مجھے پسند نہیں بار بار کے\n\nآئینہ لے کے زلف گرہ گیر دیکھ لیں\nپوچھیں سبب نہ آپ مرے انتشار کے\n\nسرگرم سیر وہ ہیں ادھر لالہ زار میں\nلالے ادھر پڑے ہیں دل داغدار کے\n\nشامت سوار ہو نہ کہیں تجھ پہ واعظا\nیوں پیچھے تو پڑا ہے جو ہر بادہ خوار کے\n\nبے اختیار پہلوئے دشمن سے وہ اٹھے\nتھے شعبدے یہ نالۂ بے اختیار کے\n\nنشترؔ تمہارا ضبط فغاں بے سبب نہیں\nعاشق ضرور تم ہو کسی پردہ دار کے", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D9%88%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%D8%B3%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92"} {"title": "آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آج", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آج\nشاید بگڑ گئی ہے کچھ اس بے وفا سے آج\n\nواشد ہوئی نہ دل کو فقیروں کے بھی ملے\nکھلتی نہیں گرہ یہ کسو کی دعا سے آج\n\nجینے میں اختیار نہیں ورنہ ہم نشیں\nہم چاہتے ہیں موت تو اپنی خدا سے آج\n\nساقی ٹک ایک موسم گل کی طرف بھی دیکھ\nٹپکا پڑے ہے رنگ چمن میں ہوا سے آج\n\nتھا جی میں اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے میرؔ\nپر کچھ کہا گیا نہ غم دل حیا سے آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میں\nپیشانی پر ہے قشقہ زنار ہے کمر میں\n\nنازک بدن ہے کتنا وہ شوخ چشم دلبر\nجان اس کے تن کے آگے آتی نہیں نظر میں\n\nسینے میں تیر اس کے ٹوٹے ہیں بے نہایت\nسوراخ پڑ گئے ہیں سارے مرے جگر میں\n\nآئندہ شام کو ہم رویا کڑھا کریں گے\nمطلق اثر نہ دیکھا نالیدن سحر میں\n\nبے سدھ پڑا رہوں ہوں اس مست ناز بن میں\nآتا ہے ہوش مجھ کو اب تو پہر پہر میں\n\nسیرت سے گفتگو ہے کیا معتبر ہے صورت\nہے ایک سوکھی لکڑی جو بو نہ ہو اگر میں\n\nہمسایۂ مغاں میں مدت سے ہوں چنانچہ\nاک شیرہ خانے کی ہے دیوار میرے گھر میں\n\nاب صبح و شام شاید گریے پہ رنگ آوے\nرہتا ہے کچھ جھمکتا خوناب چشم تر میں\n\nعالم میں آب و گل کے کیونکر نباہ ہوگا\nاسباب گر پڑا ہے سارا مرا سفر میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آئے ہیں ہم جہاں میں غم لے کر", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئے ہیں ہم جہاں میں غم لے کر\nدل پر خوں و چشم نم لے کر\n\nساغر مے کہاں ہے اے گردوں\nکیا کریں تیرا جام جم لے کر\n\nوعدہ اقسام کر چکا تو خلاف\nاب کے چھوڑوں گا میں قسم لے کر\n\nاس کی محفل سے کب اٹھے گا رقیب\nیہ سعادت بھرے قدم لے کر\n\nتر و خشک جہاں پہ قانع رہ\nدست دوراں سے بیش و کم لے کر\n\nسر سے مارا کریں پڑے اپنے\nگو شہاں طبل اور علم لے کر\n\nراہ میں تیری ضعف سے حسرتؔ\nچلے ہر ہر قدم میں دم لے کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D9%85_%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "آب حیات جا کے کسو نے پیا تو کیا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آب حیات جا کے کسو نے پیا تو کیا\nمانند خضر جگ میں اکیلا جیا تو کیا\n\nشیریں لباں سیں سنگ دلوں کو اثر نہیں\nفرہاد کام کوہ کنی کا کیا تو کیا\n\nجلنا لگن میں شمع صفت سخت کام ہے\nپروانہ جوں شتاب عبث جی دیا تو کیا\n\nناسور کی صفت ہے نہ ہوگا کبھو وہ بند\nجراح زخم عشق کوں آ کر سیا تو کیا\n\nمحتاجگی سوں مجھ کوں نہیں ایک دم فراغ\nحق نے جہاں میں نام کوں حاتمؔ کیا تو کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%B3%D9%88_%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آب حیات/اشرف علی خاں فغاں", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "فغاں تخلص اشرف خاں نام (گجرأت احمد آباد کے سادات عظام کے خاندان سے تھے، سودا کے دیوان پر جو دیباچہ ہے وہ انھیں کا لکھا ہوا ہے۔ خود شاعر تھے اور زین العابدین آشنا ان کا بیٹا بھی شاعر تھا۔ بعض حالات لطف خاں موصوف کے سودا کے حال میں لکھے گئے۔)، احمد شاہ بادشاہ کے کوکہ تھے، بدلہ سنجی و لطیفہ گوئی کا یہ عالم تھا کہ زبان سے پھلجڑی کی طرح پھول جھڑتے تھے اس لئے ظریف الملک کوکہ خاں خطاب تھا اگرچہ شاعری پیشہ نہ تھے، مگر شعر کا مزہ ایسی بُری بلا ہے کہ اس کے چٹخارے کے سامنے سارے بے مزہ ہو جاتے ہیں، چنانچہ وہ ایسے ہی صاحب کمالوں میں ہیں، ابتدائے عمر میں شعر گوئی کا شوق پیدا ہوا، طبیعت ایسی مناسب واقع ہوئی تھی کہ جبھی سے اس کام میں نام پیدا کیا، مصحفی نے اپنے تذکرہ میں قزلباش خاں امید کا شاگرد لکھا ہے۔ مگر اُن کی اُردو ابھی سُن چکے، شاید فارسی میں اصلاح لی ہو، گلزار ابراہیمی میں لکھا ہے کہ ندیم کے شاگرد تھے اور خود بھی جا بجا کہتے ہیں :\n\nہر چند اب ندیم کا شاگرد ہے فغاں\n\nدو دن کے بعد دیکھیو اُستاد ہو گیا\n\nدشتِ جنوں میں کیوں نہ پھروں میں برہنہ پا\n\nاب تو فغاں ندیم مرا رہ نما ہوا\n\nالغرض جب احمد شاہ درانی کے حملوں نے ہندوستان کو تہ و بالا کر دیا، اور دِلی میں دربار کا طور بے طور دیکھا تو مرشد آباد میں ایرج خاں اُس کے چچا کا ستارہ عروج پر تھا۔ اِن سے ملنے گئے اور وہاں سے علاقہ اودھ میں پہنچے، اس زمانہ میں دِلی کا آدمی کہیں جاتا تھا تو ایسا سمجھتے تھے گویا پیر زادے آئے بلکہ اس کی نشست و برخاست کو سلیقہ اور امتیاز کا دستور العمل سمجھتے تھے۔ اس وقت شاہِ اودھ بھی نواب وزیر ہی کہلاتے تھے۔ نواب شجاع الدولہ مرحوم حاکم اودھ ان کے ساتھ بہت تعظیم سے پیش آئے اور اعزاز و اکرام کے ساتھ رکھا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ نازک مزاج بہت تھا اور زمانہ بھی ایسا تھا کہ ایسے مزاجوں کی نزاکتیں پیش آ جاتی تھیں، چنانچہ ایک دن اختلاط میں ان کا کپڑا نواب کے ہاتھ سے جل گیا، یہ رنجیدہ ہو کر عظیم آباد چلے گئے، وہاں جا کر اس سے زیادہ عزت پائی اور راجہ شتاب رائے کی سرکار میں اختیار اور اقتدار حاصل کیا۔ راجہ صاحب بھی علاوہ خاندانی بزرگی کے اِن کے کمال ذاتی اور شیریں کلامی اور علم مجلسی کے سبب سے نہایت عزیز رکھتے تھے، چنانچہ وہیں رہے اور باقی عمر خوشحالی میں بسر کر کے دنیا سے انتقال کیا۔\n\nان کے کمال کی سند اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی کہ مرزا رفیع جیسے صاحبِ کمال اکثر ان کے اشعار مزے لے لے پڑھا کرتے اور بہت تعریف کیا کرتے تھے۔ حقیقت میں مرزا کا خود بھی یہی انداز تھا، کیونکہ ان کے کلام میں ہندی کے محاورے نے فارسیت کے ساتھ نئے لطف سے پختگی پائی ہے، اور ہر خیال کو لطافت اور چونچلے کے ساتھ ادا کرتے ہیں، ان کے جس ویران سے میری آنکھیں روشن ہوئیں، میرے استاد ظاہر و باطن شیخ ابراہیم ذوق کے لڑکپن کا لکھا ہوا تھا، اگرچہ فغاں کیزبان اُسی زمانے کی زبان ہے، مگر فنِ شاعری کے اعتبار سے نہایت باصول اور برجستہ ہے اور الفاظ کی بندش ان کی مشق پر گواہی دیتی ہے، مقدار میں دیوان درد سے کچھ بڑا تھا، مگر فقط غزلوں کا دیوان ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طبیعت ایشیا کی شاعری کے لئے نہایت مناسب تھی، ان کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ تیزی اور طراری کو اُن کے مزاج سے وہ لگاؤ تھا جو باردت اور حرارت کو، لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی میں ایسی تھی جیسے تلوار میں جوہر۔\n\nایک دن راجہ صاحب کے دربار میں غزل پڑھی جس کا قافیہ تھا لالیاں اور جالیاں، سب سخن فہموں نے بہت تعریف کی، راجہ صاحب کی صحبت میں جگنو میاں ایک مسخرے تھے، ان کی زبان سے نکلا کہ نواب صاحب سب قافیے آپ نے باندھے مگر تالیاں رہ گئیں، اُنھوں نے ٹال دیا اور کچھ جواب نہ دیا، راجہ صاحب نے خود فرمایا کہ نواب صاحب! سُنتے ہو جگنو میاں کیا کہتے ہیں ؟ اُنھوں نے کہا کہ مہاراج اس قافیہ کو مبتذل سمجھ کر چھوڑ دیا تھا اور حضور فرمائیں تو اب بھی ہو سکتا ہے، مہاراج نے کہا کہ ہاں کچھ کہنا تو چاہیے۔ انھوں نے اِسی وقت پڑھا :\n\nجگنو میاں کی دُم جو چمکتی ہے رات کو\n\nسب دیکھ دیکھ اس کو بجاتے ہیں تالیاں\n\nتمام دربار چمک اُٹھا اور میاں جگنو مدھم ہو کر رہ گئے۔\n\nافسوس یہ ہے کہ اس قسم کے لطائف بڑھتے بڑھتے ان سے اور راجہ صاحب سے بھی شکر رنجی ہو گئی، اس کی بنیاد یہ ہوئی کہ احمد شاہ دُرانی نے جو سلطنت پر حملے کئے، ایک دن اس کی دست درازی اور بے اعتدالیوں کا ذکر ہو رہا تھا، خدا جانے طنز سے یا سادہ مزاجی سے راجہ صاحب نے کہا کہ نواب صاحب ! ملکہ زمانی کو احمد شاہ درانی کیوں کر لے گیا، انھیں بات ناگوار ہوئی، افسردہ ہو کر بولے کہ مہاراج جس طرح سیتا جی کو راون لے گیا تھا، اسی طرح وہ لے گیا۔ اُسی دن سے دربار میں جانا چھوڑ دیا۔\n\nاُن کی لیاقت اور حُسنِ تدبیر کو اس بات سے قیاس کر سکتے ہیں کہ حکام فرنگ سے اس عالم میں اس طرح رسائی پیدا کی کہ باقی عمر فارغ البالی اور خوشحالی میں گزاری، ۱۱۸۶ ہجری میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔\n\nمبتلائے عشق کو اے ہمدماں شادی کہاں\n\nآ گئے اب تو گرفتاری میں آزادی کہاں\n\nکوہ میں مسکن کبھی ہے اور کبھی صحرا کے بیچ\n\nخانہ الفت ہو ویراں ہم کو آبادی کہاں\n\nایک میں تو قتل سے خوش ہوں و لیکن مجھ سوا\n\nپیش جاوے گی مرے قاتل یہ جلادی کہاں\n\nکاش آ جاوے قیامت اور کہے دیوانِ حشر\n\nوہ فغاں جو ہے گریباں چاک فریادی کہاں\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nخط دیجئیو چھپا کے ملے وہ اگر کہیں\n\nلینا نہ میرے نام کو اے نامہ بر کہیں\n\nبادِ صبا توں عقدہ کشا اس کی ہو جیو\n\nمجھ سا گرفتہ دل اگر آوے نظر کہیں\n\nاتنا وفور خوش نہیں آتا ہے اشک کا\n\nعالم کو مت ڈبوئیو اے چشمِ تر کہیں\n\nمیری طرف سے خاطرِ صیاد جمع ہے\n\nکیا اُڑ سکے گا طائرِ بے بال و پَر کہیں\n\nتیری گلی میں خاک بھی چھانی کہ دل ملے\n\nایسا ہی گم ہوا کہ نہ آیا نظر کہیں\n\nرونا جہاں تلک تھا میری جان رو چکا\n\nمطلق نہیں ہے چشم میں نم کا اثر کہیں\n\nباور اگر تجھے نہیں آتا تو دیکھ لے\n\nآنسو کہیں ڈھلک گئے لختِ جگر کہیں\n\nایذا فغاں کے حق میں یہاں تک روا نہیں\n\nظالم یہ کیا ستم ہے خدا سے بھی ڈر کہیں\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nبے فائدہ ہے آرزوئے سیم و زر فغاں\n\nکس زندگی کے واسطے یہ دردِ سر فغاں\n\nجلتے ہیں اس گلی میں فرشتے کے پر فغاں\n\nکیونکر پھرے وہاں سے ترا نامہ بر فغاں\n\nبوئے کبابِ سوختہ آتی ہے خاک سے\n\nدامن سے کیا گرا کوئی لختِ جگر فغاں\n\nیاں تک تو گرم ہے مرے خورشید رو کا حُسن\n\nدیکھے اگر کوئی تو نہ ٹھہرے نظر فغاں\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nکہتے ہیں فصلِ گل تو چمن سے گزر گئی\n\nاے عندلیب تو نہ قفس بیچ مر گئی\n\nشکوہ تو کیوں کرے ہے مرے اشکِ سُرخ کا\n\nتیری کب آستیں مرے لوہو سے بھر گئی\n\nاتنا کہاں رفیق بصارت ہے چشم کی\n\nدل بھی ادھر گیا مری جیدھر نظر گئی\n\nتنہا اگر میں یار کو پاؤں تو یوں کہوں\n\nانصاف کو نہ چھوڑ مروت اگر گئی\n\nآخر فغاں وہی ہے اُسے کیوں بھلا دیا\n\nوہ کیا ہوئے تپاک وہ الفت کدھر گئی\n\nمجھ سے جو پوچھتے ہو تو ہر حال سکر ہے\n\nیوں بھی گزر گئی مری ووں بھی گزر گئی\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nمفت سودا ہے ارے یار کہاں جاتا ہے\n\nآ مرے دل کی خریدار کہاں جاتا ہے\n\nکچ کلہ تیغ بکف چین برابر و بے باک\n\nیا الٰہی یہ ستمگار کہاں جاتا ہے\n\nلئے جاتی ہے اجل جانِ فغاں کو اے یار\n\nلیجئو تیرا گرفتار کہاں جاتا ہے\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nصنم بنا تو خدائی کا مجھ کو کیا نہ ہوا\n\nہزار شکر کہ تو بُت ہوا خدا نہ ہوا\n\nکباب ہو گیا آخر کو کچھ بُرا نہ ہوا\n\nعجب یہ دل ہے جلا تو بھی بے مزہ نہ ہوا\n\nشگفتگی سے ہے غنچہ کے تئیں پریشانی\n\nبھلا ہوا کبھی کافر تو مجھ سے وا نہ ہوا\n\nمواد میں جیا آخر کو نیم بسمل جو\n\nغضب ہوا مرے قاتل کا مدعا نہ ہوا\n\nنپٹ ہوا ہوں فضیحت بہت ہوا ہوں خراب\n\nتری طفیل اے خانہ خراب کیسا نہ ہوا\n\nطرف سے اپنی تو نیکی میں ہے مرا صاحب\n\nمری بلا سے فغاں کا اگر بھلا نہ ہوا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nکھا پیچ و تاب مجھکو ڈسیں اب وہ کالیاں\n\nظالم اسی لئے تین نے زلفیں تھیں پالیاں\n\nتنہا نہ در کو دیکھ کے گرتے ہیں اشکِ چشم\n\nسوراخ دل میں کرتی ہیں کانوں کی بالیاں\n\nدیکھا کہ یہ تو چھوڑ ناممکن نہیں مجھے\n\nچلنے لگا وہ شوخ مراتب یہ چالیاں\n\nہر بات بیچ روٹھنا، ہر دم میں ناخوشی\n\nہر آن ودکھنا مجھے ہر وقت گالیاں\n\nایذا ہر ایک طرح سیں دینا غرض مجھے\n\nکچھ بس نہ چل سکا تو یہ طرحیں نکالیاں\n\nہم نے شبِ فراق میں سُنتا ہے اے فغاں\n\nکیا خاک سو کے حسرتیں دل کی نکالیاں\n\nیہ تھا خیال خواب میں ہے گا یہ روزِ وصل\n\nآنکھیں جو کھل گئیں وہی راتیں ہیں کالیاں", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%A7%D8%B4%D8%B1%D9%81_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%DA%BA_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA"} {"title": "آب حیات/تمہید شیخ امام بخش ناسخ کے حال کی​", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "مشہور ہے گرچہ افترائے اعمام\nپر کرتے نہیں غور خواص اور عوام\n\nوارث ہونا دلیل فرزندی ہے\nمیراث نہ پا سکا کبھی کوئی غلام\n\nکہتے رہے اعمام عداوت سے غلام\nمیراث پدر پائی مگر میں نے تمام\n\nاس دعویٰ باطل سے ستمگاروں کو\nحاصل یہ ہوا کر گئے مجھ کو بدنام​\n\nکی خدا نے جو یہ زبان عطا\nہے بلا شک عطیہ عظمٰے\n\nاس سے ہے مختلف مزوں کی تمیز\nاس سے پاتے ہیں لذّتِ ہر چیز\n\nکوئی کڑوی ہے کوئی ہے میٹھی\nکوئی نمکین، کوئی کھٹ مِٹھی\n\nکوئی اچھی ہے کوئی زشت و زبوں\nمزے سب چیزوں کے ہیں گونا گوں\n\nسب مزوں سے زبان واقف ہے\nنہیں اسرار کی یہ کاشف ہے\n\nجو نہ ہو یہ تو کچھ نہ ہو معلوم\nنہ ہو کوئی مزا کبھی مفہوم\n\nاور بھی ہوتے ہیں زبان سے کام\nہے ممد وقت بلع آب و طعام\n\nاس سے احکام بہر دنداں ہے\nقوتِ تام بہر دنداں ہے​\n\nمیری انکھوں نے تجھے دیکھ کے وہ کچھ دیکھا\nکہ زبانِ مژہ پر شکوہ ہے بینائی کا\n\nکھل گیا ہمپر عناصر جب ہوئے بے اعتدال\nرابطہ واجب سے ممکن دوست دشمن میں نہیں\n\nکی خدا نے کافروں پر اے صنم جنت حرام\nدرد کس کی آنکھ پڑتی تیرے ہوتے حُور پر\n\nکوئے جاناں میں ہوں پر محروم ہوں دیدار سے\nپائے خفتہ کندہ زن ہیں دیدہ بیدار پر\n\nوہ آفتاب نہ ہو کس طرح سے لیے سایہ\nہوا نہ سر سے کبھی سایہ سحاب جُدا​\n\nبے خطر یوں ہاتھ دوڑاتا ہوں زلفِ یار پر\nدوڑتا تھا جسطرح ثعبان موسٰے مار پر\n\nتو وہ خورشید ہے اُلٹے جو گلستاں میں نقاب\nچہرہ گل میں تلّون ہووہیں حِربا کا\n\nبرنگِ گل جگر ہوتا ہے ٹکڑے سیر گلشن میں\nہوا ہے تیغ غم بے یار نظارہ سپر غم کا\n\nآگے مجھ کامل کے ناقص ہے کمالِ مدّعی\nدرمیاں ہے فرق اسّد راج اور اعجاز کا\n\nمِل گیا ہے عشق کا آزار قسمت سے مجھے\nہوں جو عیسٰی بھی ارادہ ہو نہ استعلاج کا\n\nانڈا کھٹک کے نکلی ہے باہر تو کیا ہوا\nبلبل کو جسم بیضئہ فولاد ہو گیا\n\nناسخؔ تمام رجس تناسخ سے پاک ہے\nوہ شمع ہو گیا تو وہ پروانہ ہو گیا\n\nقمر ہی کیا ترے آگے محاق میں آیا\nکہ آفتاب ھی تو احتراق میں آیا\n\nسوئے کعبہ تیرے عاشق سجدہ کرتے ہیں کوئی\nتیرے ابرو کی طرف قبلہ محّول ہو گیا\n\nباعثِ کریہ ہوئی فرقت میں مجھ کو مے کشی\nساقیا اشکوں سے مے کا استحالہ ہو گیا\n\nبڑا اکال ہے ناسخؔ غمِ عالم فراہم کر\nارادہ ہے اگر اے چرخ اس کی مہمانی کا\n\nنہ باطل خشک زاہد ہے نہ عاطل رند تر دامن\nخدا نے اپنی حکمت سے کیا ہے خشک و تر پیدا\n\nکسی حالت میں مجھے ہوش سے کچھ کام نہیں\nچڑھ گئے انجرے نشہ کے جو سودا ترا\n\nآغازِ خط میں اژدر فرعون ہے جو زلف\nافسونِ خطِ مار ہی افسانہ ہو گیا\n\nغیر کوثر کسی دریا کا میں سیّاح نہیں\nبیشئہ شیر خدا بن کہیں سیّاح نہیں\n\nہے ہوس ہم سے ملے یار کرے غیر کو ترک\nمطلب اپنا وہ ہے جو قابل انجاح نہیں​\n\nظلم طولِ شب فرقت کے تطاول نے کہا\nدادرس کوئی بجز خالق الاصباح نہیں\n\nروشنائی سے ہوئی روشنیِ خلوتِ فکر\nجزم قلم اور مری بزم میں مصباح نہیں\n\nبال توڑے تری زلفوں کے نہ بیدردی سے\nحس مرے ہاتھ کی مانند ہوگر شانہ میں​\n\nناک رگڑے ہر گھڑی کیونکر نہ اسکے سامنے\nبدلے نتھنی کے سلیماں کی ہے خاتم ناک میں\n\nرنگ لالہ میں اگر ہے تو نہیں نام کو بُو\nیاسمن میں ترے پنڈے سی ہے بو رنگ نہیں\n\nساقی بغیر مے یہ لہو تھوکتا نہیں\nمنھ سے شراب وصل نکلتی ہے ہجر میں\n\nکیا ہی حسد ہے فلک جس نے کہ نوبت پائی\nدم میں مانندِ ھباب اس نے نقارہ توڑا​\n\nتو بھی اغوشِ تصّور سے جدا ہوتا نہیں\nاے صنم جس طرح دُور اک دم خدا ہوتا نہیں\n\nبحر وحدت میں ہوں میں، گو سر گیا مثلِ حباب\nچوب کیا تلوار سے پانی جدا ہوتا نہیں​\n\nنشہ عرفاں نہیں جبتک دلاہے قیل و قال\nتا نہ ہو لبریز ساغر بے صدا ہوتا نہیں\n\nاسرار نہاں آتے ہیں سینہ سے زباں پر\nاب سدِّ سکندر کروں تعمیر گلے میں\n\nہے یہ وہ راہ کہ تا عرش پہنچتا ہے بشر\nدل میں دروازہ ہے اس گنبدِ مینائی کا\n\nعارفوں کو ہر در و دیوار ادب آموز ہے\nمانع گردن کشی ہے انحنا محراب کا\n\nمظہر وہ بُت ہے نور خدا کے ظہور کا\nنقشِ قدم سے سنگ کو رُتبہ ہے در کا\n\nمسی آلودہ لب پر رنگِ پاں ہے\nتماشا ہے تہِ آتش دھواں ہے\n\nمسی آلودہ برلب رنگ پان است\nتماشا کن تہِ آتش دخاں است\n(بیدلؔ)\n\nناتوانی سے گراں سُرمہ ہے چشم یار کو\nجسطرح ہو رات بھاری مردمِ بیمار کو\n(شیخ صاحب)\n\nگویند کہ شب بر سر بیمار گراں است\nگر سرمہ بچشم تو گراں است ازاں است\n(ناصر علی)\n\nسیہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے\nکہ تاریکی میں سایہ بھی جدا ہوتا ہے انساں سے\n\nکسی اُستاد کا شعر فارسی میں ہے۔\n\nبروز بیکسی کس نیست غیر از سایہ یار من\nمگر آنہم ندارد طاقتِ شبہائے تارِ من\n\nفرق ہے شاہ و گدا میں قول شاعر سے یہی\nشیرِ قالیں اور ہے شیر نیستاں اور ہے\n(ناسخؔ)\n\nبوریا جائے من دجائے تونگر قالیں\nشیر قالیں دگر و شیر نیستاں دگر است\n(حزیں)​\n\nحرص سے زاہد یہ کہتا ہے جو گر جائیں گے دانت\nکیا کشادہ بہر رزق اپنا وہاں ہو جائے گا\n\nدیکھیو ناسخؔ سر شیخ معمر کی طرف\nکیا کلس مسواک کا ہے گنبدِ دستار کا​\n\nسوداؔ کی غزل ہے، جرس ہوسے اگر ہوسے – قفس ہووے اگر ہووے\n\nاُس کا شعر دیکھو کہ وہ اسی بات کو کس چوچلے سے کہتا ہے۔\n\nنہیں شایان زیب گنبدِ دستار کچھ زاہد\nمگر مسواک ہی اسپر کلس ہوسے اگر ہووے\n(سوداؔ)\n\nزاہد ابکی رمضان میں میں پڑھوں خاک نماز\nسوئے قبلہ توخنا زیر کھڑے رہتے ہیں\n(ناسخؔ)\n\nواہ کیا پیر مغاں کا ہے تصرف مے کشو\nمحتسب کا اب سخن تکیہ ہے مُل مل ہو گیا\n\nعابد و زاہد چلے جاتے ہیں پیتا ہے شراب\nاب تو ناسخؔ زور رندلا اُبالی ہو گیا\n\nاہل تزوید سے اس درجہ ہے نفرت مجھ کو\nکہ مجھے قافیہ زور ہے کچھ کام نہیں​\n\nشہسواری کا جو اس چاند کے ٹکڑے کو ہے شوق\nچاندنی نام ہے شبدیز کی اندھیاری کا​\n\nاےخط اس کےگورے گالوں پر یہ تو نے کیا کیا\nچاندنی راتیں یکایک ہو گئیں اندھیاں ریاں\n\nاللہ رے روشنی مرے سینہ کے داغ کی\nاندھیاری رات میں نہیں حاجت چراغ کی\n\nنام سنتا ہوں جو میں گور کی اندھیاری کا\nدل دھڑکتا ہے جدائی کی شبِ تار نہ ہو\n\nپہ|اور|پر||پر کو وجوباً اختیار کیا|\nرکھا||رکھا|میں|رکھا|ایضاً\nتلک|اور|تک|میں|تک|\"\nبٹھانا||پنھانا|میں|بیٹھانا - پہنانا|\"\nکبھو|اور|کبھی|میں|کبھی|\"\nایجاد اور کلام||مذکّر||(بعض مؤنث کہتے ہیں) |\"\nطرز||مؤنث||مذکّر بولتے ہیں|\nصُلح ہو گئی||||صلح ہو گئی|\n\nپونچھتا اشک اگر گوشہ داماں ہوتا\nچاک کرتا میں جنوں میں جو گریباں ہوتا\n\nمال ملتا جو فلک سے ضرر جاں ہوتا\nسر نہ ہوتا جو میسّر مجھے ساماں ہوتا\n\nمنھ کو دامن سے چھپا کر جو وہ رقصاں ہوتا\nشعلہ حُسن چراغِ تہِ داماں ہوتا\n\nاپنے ہونٹوں سے جو اک بار لگا لتا وہ\nہے یقیں ساغرِ مے چشمہ حیواں ہوتا\n\nاُسترا منھ پہ جو پھرنے نہیں دیتا ہے بجا\nمحو دیں دار سے کیونکر خط قراں ہوتا\n\nنازک ایسا ہے وہ کافر وہیں ہوتا بدمست\nگذر اس کا جو کبھی زیر مغیلاں ہوتا\n\nسنگِ چقماق بھی بنتا تو مرا ضبط یہ ہے\nنہ مری قبر کا پتّھر شرر افشاں ہوتا\n\nہوں وہ وحشی کہ اگر دشت میں پھرتا شب کو\nآگے مشعلچی وہی غول بیاباں ہوتا\n\nنگہتِ کاکلِ پیچاں سے جو دیتے تشبیہ\nعطر مجموعے کا ہر جزو پریشاں ہوتا\n\nکی مکافاتِ شب وصل خدا نے ورنہ\nکس لئے مجھ پر عذابِ شب ہجراں ہوتا\n\nاپنی صورت کا وہ دیوانہ نہ ہوتا تو کیوں\nپاؤں میں سلسلہ گیسوئے پیچاں ہوتا\n\nایک دم یار کو بوسوں سے نہ ملتی فرصت\nگر دہن دیدہ عالم سے نہ پنہاں ہوتا\n\nکیسی پریاں؟ شہِ جنات کو بھی آٹھ پہر\nہے یہ حسرت کہ سگِ کوچہ جاناں ہوتا\n\nخوں رُلاتا وہیں ناسور بنا کر گردوں\nزخم بھی گر مرے تن پر کبھی خنداں ہوتا\n\nاب اجل ایک دن آخر تجھے آنا ہے ولے\nآج آتی شب فرقت میں تو احساں ہوتا\n\nکون ہے جو نہیں مرتا ہے تری قامت پر\nکیوں نہ ہر سروِ چمن قالب بیجاں ہوتا\n\nکیا قوی ہے یہ دلیل اس کی پریزادی کی\nربف انسان سے کرتا جو وہ انساں ہوتا\n\nاے بتو! ہوتی اگر مہر و محبت تم میں\nکوئی کافر بھی نہ واللہ مسلماں ہوتا\n\nحسرتِ دل نہیں دیتا ہے نکلنے ناسخؔ\nہاتھ شل ہوتے میسّر جو گریباں ہوتا\n۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔\n\nدم بلبل اسیر کا تن سے نکل گیا\nجھونکا نسیم کا جو ہیں سَن سے نِکل گیا\n\nلایا وہ ساتھ غیر کو میرے جنازہ پر\nشعلہ سا ایک جیبِ کفن سے نکل گیا\n\nساقی بغیر شب جو پیا آب آتشیں\nشعلہ وہ بن کے میرے دہن سے نکل گیا\n\nاب کی بہار میں یہ ہوا جوش اے جنوں\nسارا لہو ہمارے بدن سے نکل گیا\n\nاس رشکِ گل کے جاتے ہی بس آ گئی خزاں\nہر گل بھی ساتھ بو کے چمن سے نکل گیا\n\nاہلِ زمیں نے کیا سِتم نو کیا کوئ؟\nنالہ جو آسمانِ کہن سے نکل گیا\n\nسنسان مثل وادی غربت ہے لکھنؤ\nشاید کہ ناسخؔ آج وطن سے نکل گیا\n۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔\n\nواعظا مسجد سے اب جاتے ہیں میخانے کو ہم\nپھینک کر ظرفِ وضو لیتے ہیں پیمانے کو ہم​\n\nکیا مگس بیٹھے بھلا اس شعلہ رُو کے جسم پر\nاپنے داغوں سے جلا دیتے ہیں پروانے کو ہم\n\nتیرے آگے کہتے ہیں گل کھولکر بازوئے برگ\nگلشنِ عالم سے ہیں تیار اڑ جانے کو ہم\n\nکون کرتا ہے بتوں کے آگے سجدہ زاہدا\nسر کو دے دے مار کر توڑینگے بتخانے کو ہم\n\nجب غزالوں کی نظر آ جاتی ہیں چشم سیاہ\nدشت میں کرتے ہیں یاد اپنے سیہ خانے کو ہم\n\nبوسہ خال زنخداں سے شفا ہو گی ہمیں\nکیا کریں گے اے طبیب اس تیرے بہلانے کو ہم\n\nباندھتے ہیں اپنے دلمیں زلفِ جاناں کا خیال\nاس طرح زنجیر پہناتے ہیں دیوانے کو ہم\n\nپنجہ وحشت سے ہوتا ہے گریباں تار تار\nدیکھتے ہیں کاکلِ جاناں میں جب شانے کو ہم\n\nعقل کھو دی تھی جو اے ناسخؔ جنونِ عشق نے\nآشنا سمجھا کئے اک عمر بیگانے کو ہم\n۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔\n\nچوٹ دل کو جو لگے آہِ رسا پیدا ہو\nصدمہ شیشہ کو جو پہونچے تو صدا پیدا ہو\n\nکشتہ تیغ جدائی ہوں یقیں ہے مجھ کو\nعضو سے عضو قیامت بھی جدا پیدا ہو\n\nہم ہیں بیمارِ محبت یہ دُعا مانگتے ہیں\nمثل اکسیر نہ دُنیا میں دوا پیدا ہو\n\nکہہ رہا ہے جرسِ قلب بآوازِ بلند\nگم ہو رہبر تو ابھی راہِ خدا پیدا ہو\n\nکس کو پہنچا نہیں اے جان ترا فیضِ قدم\nسنگ پر کیوں نہ نشانِ کفِ پا پیدا ہو\n\nمل گیا خاک میں پس پس کے حسینوں پر میں\nقبر پر بوئیں کوئی چیز حنا پیدا ہو\n\nاشک تھم جائیں جو فرقت میں تو آہیں نکلیں\nخشک ہو جائے جو پانی تو ہوا پیدا ہو\n\nیاں کچھ اسباب کے ہم بندے ہی محتاج نہیں\nنہ زباں ہو تو کہاں نامِ خدا پیدا ہو\n\nگل تجھے دیکھ کے گلشن میں کہیں عمر دراز\nشاخ کے بدلے وہیں دست دعا پیدا ہو\n\nبوسہ مانگا جو دہن کا تو وہ کیا کہنے لگے\nتو بھی مانند دہن اب کہیں نا پیدا ہو\n\nنہ سرِ زلف ہلاہل بے درازی تیری\nرشتہ طول اہل کا بھی سرا پیدا ہو\n\nکس طرح سچ ہے نہ خورشید کو رجعت ہو جائے\nتجھ سا آفاق میں جب ماہِ لقا پیدا ہو\n\nکیا مبارک ہے مرا دشتِ جنوں اے ناسخؔ\nبیضہ بوم بھی ٹوٹے تو ہما پیدا ہو\n۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔\n\nجو اس پری سے شبِ وصل میں رکاوت ہو\nمجھے بھی ایک جنارہ ہو یا چھپر کھٹ ہو\n\nمحالِ خواب لحد سے ہے گرچہ بیداری\nمیں چونک اٹھوں اگر اسکے قدم کی آہٹ ہو\n\nنہ میرے پاؤں ہوں زنجیر کے کبھی شاکی\nجو اُسکے کاکلِ پیچاں کی ہاتھ میں لٹ ہو\n\nکبود رنگ ہے مسّی کا تیرے ہونٹھ ہیں لال\nملیں جو دونوں تو پیدا نہ کیوں اُداہٹ ہو\n\nمجال کیا کہ ترے گھر میں پاؤں میں رکھوں\nیہ آرزو ہے مرا سر ہو تیری چوکھٹ ہو\n\nہجوم رکھتے ہیں جانبازیاں ترے آگے\nجواریوں کا دوالی کو جیسے جمگھٹ ہو\n\nلپٹ کے یار سے سوتا ہوں مانگتا ہوں دُعا\nتمام عمر بسر یارب ایک کروٹ ہو\n\nنسیم آہ کے جھوکے سے کھول دوں دم میں\nبھڑا ہوا ترے دروازے کا اگر پٹ ہو\n\nجلاؤ غیروں کو مجھ سے جو گرمیاں کرتے\nتمہارے کوچے میں تیار ایک مرگھٹ ہو\n\nنہ لگ چلوں میں یہی اپنے دلمیں ٹھانی ہے\nتِری طرف سے ہزار اے پری لگاوٹ ہو\n\nوہ منھ چھپاتے ہیں جبتک حجاب سے شبِ وصل\nعذارِ صبح سے شب کا نہ دور گھونگھٹ ہو\n\nتری بلائیں مری طرح وہ بھی لیتا ہے\nنہ کیونکر آگ میں اسپند کی یہ چٹ پٹ ہو\n\nمیں جاں بلب ہوں گلا کاٹو یا گلے سے لگو\nجو اس میں آپ کو منظور ہو سو جھٹ پٹ ہو\n\nکرے وہ ذکرِ خدا اے صنم بھلا کس وقت\nجسے کہ آٹھ پہر تیرے نام کی رٹ ہو\n\nجو دل کو دیتے ہو ناسخؔ تو کچھ سمجھ کر دو\nکہیں یہ مفت میں دیکھو نہ مال تلپٹ ہو\n\nخاک میں مل جائیے ایسا اکھاڑہ چاہیے\nلڑکے کُشتی دیو ہستی کو پچھاڑا چاہیے\n\nوہ سہی قد کر کے ورزش خوب زوروں پر چڑھا\nکہہ رہا ہے سرو کو جڑ سے اکھاڑا چاہیے\n\nکیوں نہ روئیں پھوٹ کر ہم قصر جاناں کے تلے\nدیدہ تر اپنے دریا میں کڑاڑا چاہیے\n\nاور تختوں کی ہماری قبر میں حاجت نہیں\nخانہ محبوب کا کوئی کواڑا چاہیے\n(دلّی والے کواڑ کہتے ہیں)\n\nہے شبِ مہتاب فرقت میں تقاضائے جنوں\nچادرِ محبوب کو بھی آج پھاڑا چاہیے\n\nانتہائے لاغری سے جب نظر آیا نہ میں\nہنس کے وہ کہنے لگے بستر کو جھاڑا چاہیے\n\nکر چکی ہے تیری رفتار ایک عالم کو خراب\nشہرِ خاموشاں کو بھی چل کر اُجاڑا چاہیے\n\nمنھ بنائے کیوں ہے قاتل پاس ہے تیغ نگاہ\nباغ میں ہنستے ہیں گل تو منھ بگاڑا چاہیے\n\nکوئی سیدھی بات صاحب کی نظر آتی نہیں\nآپ کی پوشاک کو کپڑا بھی آڑا چاہیے\n\nتنگ اس وحشت کدہ میں ہوں میں اے جوشِ جنوں\nعرش کی سقف محّدب کو لتاڑا چاہیے\n\nآنسوؤں سے ہجر میں برسات رکھیے سال بھر\nہم کو گرمی چاہیے ہرگز نہ جاڑا چاہیے\n\nآج اس محبوب کے دل کو مسخّر کیجیے\nعرشِ اعظم پر نشاں نالے کا گاڑا چاہیے\n\nمر گیا ہوں حسرتِ نظارہ ابرو میں مَیں\nعین کعبہ میں مرے لاشے کو گاڑا چاہیے\n\nمحتسب کو ہو گیا آسیب جو توڑا ہے خم\nجوتیوں سے مے کشو جن آج جھاڑا چاہیے\n\nجلد رنگ اے دیدہ خونبار اب تاز نِگاہ\nہے محّرم اس پری پیکر کو ناڑا چاہیے\n\nلڑتے ہیں پریوں سے کشتی پہلوانِ عشق میں\nہم کو ناسخؔ راکپ اندر کا اکھاڑا چاہیے​", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%D8%AF_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D8%AE%D8%B4_%D9%86%D8%A7%D8%B3%D8%AE_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C%E2%80%8B"} {"title": "آب حیات/تیسرا دور/تمہید", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "اس مشاعرہ میں اُن صاحبِ کمالوں کی آمد آمد ہے جس کے پا انداز میں فصاحت آنکھیں بچھاتی ہے اور بلاغت قدموں میں لوٹے جاتی ہے، زبانِ اُردو ابتداء میں کچا سونا تھی، اِن بزرگوں نے اُسے اکثر کدورتوں سے پاک صاف کیا اور ایسا بنا دیا جس سے ہزاروں ضروری کام اور آرائشوں کے سامان حسینوں کے زیور بلکہ بادشاہوں کے تاج و افسر تیار ہوتے ہیں اگرچہ بہت سے مرصع کار، مینا نگار پیچھے آئے، مگر اِس فخر کا نولکھا ہار انھیں بزرگوں کے گلے میں رہا۔ جب یہ صاحبِ کمال چمن کلام میں آئے تو اپنے بزرگوں کی چمن بندی کی سیر کی، فصاحت کے پھول کو دیکھا کہ قدرتی بہار میں حُسنِ خداداد کا جوبن دکھا رہا ہے۔ چونکہ انھیں بھی ناموری کا تمغہ لینا تھا، اس لئے بڑوں سے بڑھ کر قدم مارنے چاہے۔ یہ گرد و پیش کے میدانوں میں بہت دوڑے، سب پھول کام میں آئے ہوئے تھے، جب سامنے کچھ نہ پایا تو ناچار اپنی عمارتوں کو اونچا اٹھایا، تم دیکھنا وہ بلندی کے مضمون نہ لائیں گے۔ آسماں سے تارے اُتاریں گے، قدر دانوں سے فقط داد نہ لیں گے، پرستش لیں گے، لیکن وہ پرستش کہ سامری کی طرح عارضی نہ ہو، اُن کے کمال کا دامن قیامت کے دامن سے بندھا پاؤ گے، یہ اپنی صنعت میں کچھ کچھ تکلف بھی کریں گے۔ مگر ایسا جیسے گلاب کے پھول پر شبنم یا تصویر پر آئینہ، اِن کا تکلف بھی اصلی لطافت پر کچھ لطف زیادہ کرے گا، اصل کی کوبی پر پردہ نہ ہو گا، تم میر صاحب اور خواجہ میر درد کو دیکھو گے کہ اثر میں ڈوبے ہوں گے، سودا کا کلام باوجود بلندی مضمون اور چستی بندش کے تاثیر کا طلسم ہو گا۔\n\nاتنی بات کا افسوس ہے کہ اس ترقی میں طبیعت کی بلند پروازی سے اوپر کی طرف رُخ کیا، کاش آگے قدم بڑھاتے تا کہ حُسن و عشق کے محدود صحن سے نکل جاتے اور اِن میدانوں میں گھوڑے دوڑاتے کہ نہ ان کی وسعت کی انتہا ہے نہ عجائب و لطائف کا شمار ہے، اس بات کو نہ بھولنا چاہیے کہ خان آرزو کی فیضِ صحبت نے ان نوجوانوں کے کمال کو اس طرح پرورش کیا جس طرح دایہ اپنے دامن میں ہونہار بچوں کو پالتی (دیکھو صفحہ نمبر) ہے۔ میں نے طبقہ دوم اور سوم کے اکثر استادوں کے حال مجمل طور پر حواشی میں لکھ دیئے ہیں اور اکثر کے نام و کلام سے یہ جام خالی ہے، حقیقت میں اُن سبکو اُردو کی اصلاح کا حق حاصل ہے، لیکن اپنے اُستادوں اور بزرگوں سے یہی سُنا کہ مرزا جانجاناں، سودا، میر، خواجہ میر درد چار شخص تھے جنھوں نے زبان اُردو کو خراد اُتارا ہے۔\n\nہمارے زبان دانوں کا قول ہے کہ ۶۰ برس کے بعد ہر زبان میں ایک واضح فرق پیدا ہو جاتا ہے، طبقہ سوم کے اشخاص جو حقیقت میں عمارت اُردو کے معمار ہیں انھوں نے بہت سے الفاظ پُرانے سمجھ کر چھوڑ دیئے، اور بہت سی فارسی کی ترکیبیں جو مصری کی ڈلیوں کی طرح دودھ کے ساتھ منہ میں آتی تھیں انھیں گھُلایا، پھر بھی بہ نسبت حال کے بہت سی باتیں اُن کے کلام میں ایسی تھیں کہ اب متروک ہیں، چنانچہ فارسیت کی ترکیبوں کے اشعار دیباچہ میں لکھے گئے۔ (دیکھو صفحہ)\n\nلیکن پُرانے الفاظ جو اب متروک ہیں ان کی مثال کے چند اشعار میر اور مرزا اور خواجہ میر درد کے کلام سے لکھتا ہوں پھر بھی انصاف سے نہیں گزرا جاتا، ان میں اپنی اپنی جگہ ایک ایک لفظ ایسا جڑا ہوا ہے، جسے اٹھانا مشکل ہے۔\n\nہوتا تھا مجلس آرا گر غیر کا تو مجھ کو\n\nمانند شمع مجلس کاہے کو تیں جلایا\n\nنقاش دیکھ تو میں کیا نقش یار کھینچا\n\nاس شوخ کم نما کا نِت انتظار کھینچا\n\nدیر و حرم میں کیونکہ قدم رکھ سکے گا میر\n\nایدھر تو اس سے بُت پھرا ادھر خدا پھرا\n\nٹک بھی نہ مڑ کے میری طرف تو نے کی نگاہ\n\nایک عمر تیرے پیچھے میں ظالم لگا پھرا\n\nگل و آئینہ کیا؟ خورشید و مہ کیا\n\nجدھر دیکھا تدھر تیرا ہی رو تھا\n\nفقیرانہ آئے صدا کر چلے\n\nمیاں خوش رہو ہم دُعا کر چلے\n\nرسم قلمرو عشق مت پوچھ تو کہ ناحق\n\nایکوں کی کھال کھینچی ایکوں کا وار کھینچا\n\nلوہو لگتا ہے ٹپکنے جو پلک ماروں ہوں\n\nاب تو یہ رنگ ہی اس دیدہ اشک افشاں کا\n\nکیونکر تمھاری بات کرے کوئی اعتبار\n\nظاہر میں کیا کہو ہو سخن زیر لب ہے کیا\n\nسیمیں تنوں کا ملنا چاہے ہے کچھ تمول\n\nشاہد پرستیوں کا ہم پاس زر کہاں ہے\n\nتابمقدور انتظار کیا\n\nدل نے اب زور بے قرار کیا\n\nخونِ جگر ہو بہنے لاگا\n\nپلکوں ہی پر رہنے لاگا\n\nپی پی کے اپنا لوہو رہیں گو کہ ہم ضعیف\n\nجُوں رینگتی نہیں ہے انھوں کے تو کان پر\n\nکیفیتیں ہزار ہیں اس کام جاں کے بیچ\n\nدیتے ہیں لوگ جان تو ایک ایک آن پر\n\nتازہ جھمک تھی شب کو تاروں میں آسمان کی\n\nاِس آسیا کو شاید پھر ہے کنہو نے ہارا\n\nزمانہ نے مجھ جرعہ کش کو ندان\n\nکیا خاک و خشت سر خم کیا\n\nدِل لے کے میری جان کا دشمن ہوا ندان\n\nجس بیوفا سے اپنے تئیں پیار ہو گیا\n\nگہے خونِ جگر گہ اشک گاہے لختِ دل یارو\n\nکسی نے بھی کہیں دیکھا ہے یہ بستار رونے کا\n\nکہا تھا میں نہ دیکھو غیر کی اور\n\nسو اُس نے آنکھ مجھ سے ہی چھپائی\n\nآنکھوں نے میر صاحب قبلہ سِتم کیا\n\nحضرت بُکا کیا نہ کرو رات کے تئیں\n\nباہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا\n\nلے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا\n\nہز ذرہ خاک تیری گلی کی ہے بے قرار\n\nیاں کونسا ستم زدہ ماٹی میں رُل گیا\n\nآتشِ تیر جدائی سے یکایک اس بن\n\nیوں جلا دِل کہ تنک جی بھی جلایا نہ گیا\n\nرہے خیال تنک ہم بھی رُو سیاہوں کا\n\nلگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا\n\nہو اس سے جہاں سیاہ تد بھی\n\nنالہ میں مرے اثر نہ ہو گا\n\nمت رنج کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد\n\nدل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا\n\nبس طبیب اُٹھ جا مرے بالیں سے مت دے دردِ سر\n\nکامِ جاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا؟\n\nدل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے\n\nیہ نگر سو ۱۰۰ مرتبہ لوٹا گیا\n\nحیف دے اُن کنے اس وقت میں پہنچا جس وقت\n\nاُن کنے حال اشاروں سے بتایا نہ گیا\n\nلگوائے پتھرے اور پُرا بھی کہا کئے\n\nتم نے حقوق دوستی کے سب ادا کئے\n\nایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں\n\nمیر کو تم عبث اُداس کیا\n\nا س عہد میں استمراری جمع مؤنث میں دونوں فعل جمع لاتے تھے، مثلاً عورتیں آئیاں تھیں اور گاتیاں تھیں، اب پہلے فعل کو واحد لاتے ہیں، مثلاً عورتیں آتی تھیں اور گاتی بجاتی تھیں۔\n\nبارہو وعدوں کی راتیں آئیاں\n\nطالعوں نے صبح کر دکھلائیاں\n\nجنوں میرے کی باتیں دشتِ گلشن میں جہاں چلیاں\n\nنہ چوبِ گِل نے دم مارا نہ چھڑیاں پرند کی ہلیاں\n\nاس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ہلنا بالفتح بولتے تھے، چنانچہ سودا بھی ایک غزل میں کہتے ہیں جس کا قافیہ ردیف ہے چلتے دیکھا، نکلتے دیکھا :\n\nتیغ تیرے کا سدا شُکر ادا کرتے ہیں\n\nلبوں کو زخم کے دن رات میں بنتے دیکھا\n\nاسی طرح اکثر اشعار مرزا رفیع کے ہیں باوجود محاورہ قدیمانہ، آج کل کے ہزار محاورے اِن پر قربان ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں :\n\nآ خدا کے واسطے اس بانکپن سے درگزر\n\nکل میں سودا یوں کہا دامان کھگریار کا\n\nبیوفائی کیا کہوں دل ساتھ تجھ کو محبوب کی\n\nتیری نسبت تو میاں بلبل سے گل نے خوب کی\n\nجسکے دلکو تری زلفوں سے یہاں لاگ لگے\n\nاس کی آنکھوں میں جو رسی بھی ہو تو ناگ لگے\n\nتجھ عشق میں پیارے وہ زیرِ چوب گل ہیں\n\nنے پھول کی کسی نے جن کو چھڑی لگائی\n\nخبر شتاب لے سودا کے حال کی پیارے\n\nنہیں ہے وقت مری جان یہ تامل کا\n\nنجانے حال کس ساقی کو یاد آتا ہے شیشہ کا\n\nکہ لے لے ہچکیاں جیوڑا نکل جاتا ہے شیشہ کا\n\nنہ جانے یاد کر روتا ہے کس کے دلکے صدمہ کو\n\nکہیں ٹکڑا جو سودا کو نظر آتا ہے شیشہ کا\n\nبیہودہ اس قدر نہیں آتا ہے کم نا\n\nمکھ پر خط آ چکا نہ کرو صبح و شام ناز\n\nعالم کو مار رکھا ہے تیں با قد و وتا\n\nزاہد یہ کاٹ ہے تری تیغِ دونیم کا\n\nسوداؔ کہے تھا یار سے ایک مو نہیں غرض\n\nاودھر کھلی جو زلف ادھر دل بکھر چلا\n\nسوداؔ نکل نہ گھر سے کہ اب تجھ کو ڈھونڈتے\n\nلڑکے پھریں ہیں پتھروں سے دامن بھرے ہوئے\n\nتسلی اس دوا نے کی نہ ہو جھولی کے پتھروں سے\n\nاگر سوداؔ کو چھیڑا ہے تو لڑکو مول لو پھڑیاں\n\nنگر آباد ہیں بَسے، ہیں گانوں\n\nتجھ بِن اُجڑے پڑے ہیں اپنے بھاؤں\n\nقیس و فرہاد کا نہیں کچھ ذکر\n\nابے تو سودا کا باجتا ہے ناؤں\n\nجاتے ہیں لوگ قافلے کے پیش و پس چلے\n\nہے یہ عجب سَرا کہ جہاں آئے بَس چلے\n\nاس غزل میں قفس چلے اور بس چلے قافیہ ہے، اسی میں کہتے ہیں۔\n\nصیاد اب تو کر دے قفس سے ہمیں رِہا\n\nظالم پھڑک پھڑک کے پر و بال گھس چلے\n\n(پنجاب میں اب تک گھسنا بالفتح بولتے ہیں )\n\nصبا سے ہر گھڑی مجھ کو لہو کی باس آتی ہے\n\nچمن میں آہ گلچیں نے یہ کس بلبل کا دل توڑا\n\nموجب مری رنجش کا جو پوچھے ہے تو اے جان\n\nموندوں گا نہ میں کھول کے جوں غنچہ دہاں کو\n\nداغ تجھ عشق کا جھمکے ہے مرے دل کے بیچ\n\nمہر ذرہ میں درخشاں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nوے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں\n\nاب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں\n\nبل بے ساقی تیری بے پروائیاں\n\nجانیں مشتاقوں کی لب تک آئیاں\n\nاِسی طرح ہندی صفت میں اب جمع نہیں لاتے :\n\nملائم ہو گئیں دل پریت کی ساعتیں کڑیاں\n\nیہ انکھیاں کیوں مرے جی کے گلے کی ہار ہو پڑیاں\n\nچیز کیا ہوں جو کریں قتل وہ انکھیاں مجھ کو\n\nپھر گئے دیکھ کے منھ خنجرِ براں مجھ کو\n\nخیال اِن انکھڑیوں کا چھوڑ مت مرنے کے بعد اب بھی\n\nولا آیا جو تو اس میکدہ میں جام لیتا تھا\n\nناتوانی بھی عجب شے ہے کہ گلشن میں نسیم\n\nنت لئے پھرتی ہے دوش اوپر برنگ بُو مجھے\n\nفارسی کی جمع کو اس وقت سب فصحا عموماً بولتے تھے، اب بغیر حالت صفت یا اضافت کے نہیں بولتے، سودا کہتے ہیں :\n\nسودا غزل چمن میں تو ایسی ہی کہہ کے لا\n\nگل پھاڑیں سن کے جیب کو دیں بلبلاں صدا\n\nہاتھ سے جاتا رہا دِل\n\nدیکھ محبوباں کی چال\n\nاور ایک جگہ کہتے ہیں :\n\nیا الہی میں کہوں کسی سیتی اپنا احوال\n\nزلف خوباں کی ہوئی ہے مرے جی کو جنجال\n\nخوباں اور محبوباں مرزا کی زبان پر بہت چڑھے ہوئے ہیں۔\n\nاور خواجہ میر درد علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :\n\nپرورش غم کی ترے یاں تئیں تو کی دیکھا\n\nکوئی بھی داغ تھا سینہ میں کہ ناسور نہ تھا\n\nتو کب تئیں مجھ سات مری جان ملے گا\n\nایسا بھی کبھی ہو گا کہ پھر آن ملے گا\n\nگو نالہ نارسا ہو نہ ہو آہ میں اثر\n\nمیں نے تو درگزر نہ کی جو مجھ سے ہو سکا\n\nساتی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر\n\nلب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا\n\nاے آنسو نہ آوے، کچھ دل کی بات منھ پر\n\nلڑکے ہو تم کہیں مت افشائے راز کرنا\n\nہم جانتے نہیں ہیں اے درد کیا ہے کعبہ\n\nجیدھر ملے وہ ابرو اودھر نماز کرنا\n\nکہا میں مرا حال تم تک بھی پہنچا\n\nکہا تب اچٹتا سا کچھ میں سُنا تھا\n\nمرے دل کو جو ہر دم تو بھلا اتنا ٹٹولے ہے\n\nتصور کے سوا تیرے بتا تو اس میں کیا نکلا؟\n\nجائیے کس واسطے اے درد میخانے کے بیچ\n\nاور ہی ہستی ہے اپنے دل کے پیمانے کے بیچ\n\nسو (۱۰۰) بار دیکھیاں ہیں تیری بے وفائیاں\n\nتس پر بھی نت غرور ہے دل میں گناہ کا\n\nجگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہو گا\n\nکہ نہ ہنستے ہی رو دیا ہو گا\n\nدرد کے ملنے سے اے یار بُرا کیوں مانے\n\nاس کو کچھ اور سِوا دید کے منظور نہ تھا\n\nاے شانہ تو نہ ہو جو دشمن ہمارے جی کا\n\nکہیں دیکھیو نہ ہووے زلفوں کا بال بیکا\n\nاگر تجھ کو چلنا ہے چل ساتھ میرے\n\nیہ کب تک تو باتیں بناتا رہے گا\n\nبعد مدت کے درد کل مجھ سے\n\nمِل گیا راہ میں وہ غنچہ دہن\n\nمیری اس کی جو لڑ گئی نظریں\n\nہو گئے آنکھوں میں ہی دود و بچن\n\nاِن کے عہد میں زبان میں کچھ کچھ اصلاح ہو گئی۔ مگر رسم الخط میں بہت کچھ بزرگوں کی میراث باقی تھی، ایک مجموعہ میرے ہاتھ آیا کہ 1170؁ھ کی تحریر ہے۔ وہ کسی فہمیدہ شخص نے بڑے شوق سے لکھا ہے، اس میں میر سوزؔ، تاباںؔ، فغاںؔ، سوداؔ، خواجہ میر دردؔ، انعام اللہ خاںؔ، خواجہ آبروؔ، میر محمد باقر حزیںؔ، میر کمال الدین شاعرؔ، خواجہ احسن اللہ خاں بیانؔ، قائم الدین قائمؔ کے دیوانوں کی انتخاب غزلیں ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس عہد میں کو علامت مفعول کوں لکھا جاتا ہے۔ چنانچہ شاہ آبروؔ اور کمال الدین شاعرؔ وغیرہ نے جن غزلوں میں کو ردیف ہے اُنھیں ردیف ن ہی میں لکھا ہے۔ متاخرین نے ن کو دُور کیا۔ مگر معلوم ہوتا ہے واؤ معروف ہی بولتے تھے، چنانچہ میر اثر نے کہ خواجہ میر دردؔ کے بھائی تھے، ایک بے ردیف غزل میں مو، رد، قافیہ رکھا ہے اور کو، استفہامیہ باندھا ہے۔ مرزا رفیع نے بھی ایک جگہ ایسا کہا ہے، ان کی ایک غزل ہے، قفس کو، جرس کو، نفس کو، اس کا مقطع یہ ہے :\n\nترغیب نہ کر سیرِ چمن کی ہمیں سوداؔ\n\nہر چند ہوا خوب ہے واں لیک ہوس کو\n\nایک غزل ہے ابرو نہیں، گیسو نہیں، اس میں کہتے ہیں :\n\nخطِ سبز اُس کی سیہ، کچھ رد ہوا میرا سفید\n\nخواہش ترکِ نیا زد و ناز دونوں کو نہیں\n\nسُن کے ترکِ عشق میرا ہنس کے کہتا ہے وہ شوخ\n\nنیل بگڑا ہے کہیں یارو یقیں مجھ کو نہیں\n\nالفاظ مفصلہ ذیل کی رسم الخط اس عہد میں اس طرح تھی :\n\nتو۔۔۔ توں\n\nمجھے۔۔۔ مجھ سیں\n\nاُس نے۔۔۔ اُنے\n\nتجھ۔۔۔ تجھ کوں\n\nسے۔۔۔ سیں\n\nتو نے۔۔۔ تو نیں\n\nجس نے۔۔۔ جِنے\n\nکسے۔۔۔ کسو\n\nاس سے۔۔۔ اس سین\n\nجوں۔۔۔ جیوں\n\nجی۔۔۔ جیو\n\nاشعار مذکورہ بالا جو کہ حقیقت میں ایک محاورہ مرحوم کے نقشِ مزار ہیں، میں نہیں جانتا کہ نئے ہونہار یا اگلے وقتوں کی جو یادگار باقی ہیں انھیں پڑھ کر کہاں تک خیالات کو وسعت دیں گے۔ مجھے اس لکھنے سے فقط یہی مطلب نہیں کہ اس عہد تک زبان پر اس قدر قدامت کا اثر باقی تھا بلکہ ایک بڑی بات کا افسوس ظاہر کرنا منظور ہے وہ یہ ہے کہ سوداؔ کی ۷۵ برس کی اپنی عمر اور تخمیناً ۵۵، ۶۰ برس ان کی شاعری کی عمر، میرؔ کی ۱۰۰ برس کی عمر، شاعری کی ۸۰، ۸۵ برس کی عمر اور اس بات سے کسی کو انکار نہ ہو گا کہ جو زبان دلی کی اُن کے اوائل کلام میں تھی وہی اوسط میں نہ تھی، پھر وہی اواخر میں نہ تھی، یقیناً تینوں زبانوں میں ظاہر اور واضح امتیاز ہوئے ہوں گے مگر چونکہ رسمِ ملک نے دیوانوں کی ترکیب حروفِ تہجی پر رکھی ہے، اس لئے آج ہم معلوم نہیں کر سکتے کہ ان کے عہدوں میں وقت بوقت ملکی زبانوں میں کیا کیا انقلاب ہوئے یا مختلف وقتوں میں خود اُن کی طبیعت کے میلان اور زورِ کلام کے اُتار چڑھاؤ کس کس درجہ پر تھے۔\n\nاس اندھیرے میں فقط دو شاعر ہمارے لئے چراغ رکھ گئے ہیں کہ حسب تفصیل ذیل چند قسموں میں اپنے کلام کو تقسیم کیا :\n\nاوائلِ عمر\n\nعہدِ جوانی\n\nسن کہولۃ\n\nپیرانہ سالی\n\n(۱) امیر خسرو : تحفتہ الصغر، غرۃ الکمال، وسط الحیٰوۃ، بقیہ نقیۃ\n\n(۲) جامیؔ : فاتحۃ الشباب، واسطتہ العقد، خاتمتہ الحیٰوۃ\n\nخیر یہ سمجھ لو کہ جن الفاظ پر ہم لوگوں کے بہت کان کھڑے ہوتے ہیں، یہی اُن کے اوائلِ عمر یا جوانی کے کلام ہیں، منشی احمدؔ حسن خاں صاحب میر تقی مرحوم کے شاگرد رشید تھے۔ اِن کی زبانی ڈپٹی کلب حسین خاں صاحب مرحوم فرماتے تھے کہ اکثر الفاظ جو میر صاحب پہلے دوسرے دیوان میں کہہ گئے ہیں وہ چوتھے پانچویں میں نہیں ہیں، جو دوسرے تیسرے میں ہیں وہ پانچویں چھٹے میں نہیں۔ بہر حال اخیر عمر میں ان کی زبان کا اندازہ ہو گا جو کہ سید انشاؔء، مصحفیؔ، جرأت کی زبان ہے۔ واللہ اعلم بحقیقتۃ الحال۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%B1/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%D8%AF"} {"title": "آب حیات/تیسرا دور/خاتمہ", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "رات آخر ہو گئی مگر جلسہ جما ہوا ہے اور وہ سماں بندھ رہا ہے کہ دل سے صدا آتی ہے :\n\nیا الہٰی تا قیامت برنیاید آفتاب​\n\nاس مشاعرہ کے شعراء کا کچھ شمار نہیں، خدا جانے یہ کتنے ہیں، اور آسماں پر تارے کتنے ہیں۔ سننے والے ایسے مشتاق کہ شمع پر شمع پانی ہوتی ہے، مگر ان کے شوق کا شعلہ دھیما نہیں ہوتا۔ یہی آواز چلی آتی ہے :\n\nساقیا یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ\n\nجب تلک بس چل سکے ساغر چلے​\n\nآزاد بھولتے ہو؟ دلوں کی نبض کس نے پائی ہے؟ جانتے نہیں کہ دفعتہً اکتا جاتے ہیں۔ پھر ایسے گھبرا جاتے ہیں کہ ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں۔ بس اب باقی داستان فردا شب۔ اے لو صبح ہو گئی، طول کلام ملتوی کرو۔\n\nعزیزو مست سخن ہوو یا کہ سوتے ہو\n\nاُٹھو اُٹھو کہ بس اب سر پہ آفتاب آیا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-***********-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%B1/%D8%AE%D8%A7%D8%AA%D9%85%DB%81"} {"title": "آب حیات/خواجہ حیدر علی آتش", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "اک نے نواکے لڑکے پہ مرتے ہیں شیخ جی\nعاشق ہوئے ہیں واہ عجب لنڈمنڈ پر\n\nبہار گلستاں کی ہے آمد آمد\nخوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے​\n\nخوش پھرتے ہیں، چاہیے۔\n\nلعب بازی کی حسرت نہ رہے اے آتش\nمیرے اللہ نے بازیچہ، تن مجھ کو دیا\n\nبھلا دیکھیں تو گو بازی میں سبقت کون کرتا ہے\nاِدھر ہم بھی ہیں تو سن پر اُدھر تم بھی ہو تو سن پر\n\nابروئے یار کا ہے سر میں جنھوں کے سودا\nرقص وہ لوگ کیا کرتے ہیں تلواروں پر\n\nنہیں غم تیغ ابروئے صنم سے قتل ہونے کا\nشہادت بھی بمنزل فتح کے ہے مرد غازی کو\n\nسودائی جان کر تری چشم سیاہ کا\nڈھیلے لگاتے ہیں مجھے دیدے غزال کے​\n\nقدرت حق ہے صباحت سے تماشا ہے وہ رُخ\nخالِ مشکیں دل فرعون یدبیضا ہے وہ رُخ​\n\nکانپتا ہے آہ سے میری رقیت روسیاہ\nاژدہا فرعون کو موسٰے کا عصا معلوم ہو\n\nچکھ کے یاقوتی لب کو تری بیخود ہوئے ہم\nنشہ معجوں میں مئے ہوش ربا کا نکا\n\nحال مستقبل نجومی اس سے کرتے ہیں بیاں\nزائچہ بھی نقل ہے پیشانی تحریر کا\n\nجو کہ قسمت میں لکھا ہے جان ہوویگا وہی\nپھر عبث کاہے کو طالع آزمائی کیجیے\n\nرات بھر آنکھوں کو اس امید پر رکھتا ہوں بند\nخواب میں شاید کہ دیکھوں طالع بیدار کو\n(آتشؔ)\n\nبند آنکھیں کئے رہتا ہوں پڑا\nخواب میں آئےنظر تا کوئی\n(جراتؔ)\n\nدولت عشق کا گنجینہ وہی سینہ ہے\nداغ دل زخم جگر مہر و نشاں ہے کہ جو تھا\n(آتشؔ)\n\nگوہر مخزن اسرار ہما نست کہ بود\nحصہ مہربداں مہر و نشانست کہ بود\n(خواجہ حافظؔ)\n\nآنکھیں نہیں ہیں چہرہ پہ تیرے فقیر کے\nدو ٹھیکرے ہیں بھیک کے دیدار کے لئے\n(میرؔ صاحب)\n\nکاسہ چشم لے کے جوں نرگس\nہم نے دیدار کی گدائی کی​\n\nرفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم چاہیے\nعالم ارواح سے صحبت کوئی دم چاہیے\n\nرہگذر میں دفن کرنا اے عزیزاں تم مجھے\nشاید آ جائے کسی کے مرا مدفن زیر پا\n\nبھاگو نہ مجھ کو دیکھ کے بے اختیار دور\nاے کو دکاں ابھی تو ہے فصل بہار دور\n\nکیا نفاق انگیز ہمہنباں ہوائے دہر ہے\nنیند اڑ جاتی ہے سننے سے جو نفیر خواب کو\n\nروز و شب رویا میں آتشؔ رفتگاں کی یاد میں\nعمر بھر آنکھیں نہ بھولیں صورت احباب کو\n\nعہد طفلی میں بھی تھا میں بسکہ سودائی مزاج\nبیڑیاں منت کی بھی پہنیں تو میں نے بھاریاں\n\nاے خط اس کے گورے گالوں پر یہ تو نے کیا کیا\nچاندنی راتیں یکایک ہو گئیں اندھیاریاں​\n\nسن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا\nکہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا\n\nکیا کیا الجھتا ہے تیری زلفوں کے تار سے\nبخیہ طلب ہے سینہ صد چاک شانہ کیا\n\nزیر زمیں سے آتا ہے جو گل سوز بکف\nقاعدوں نے راستہ میں لٹایا خزانہ کیا\n\nاڑتا ہے شوقِ راحت منزل سے اسپ عمر\nمہمیز کس کو کہتے ہیں اور تازیانہ کیا\n\nزینہ صبا کو ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاک\nبام بلند یار کا ہے آستانہ کیا\n\nچاروں طرف سے صورت جاناں ہو جلوہ گر\nدل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا\n\nصیاد اسیرِ دام رگ گل ہے عندلیب\nدکھلا رہا ہے چھپ کے اسے آب و دانہ کیا\n\nطبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال\nہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا\n\nآتی ہے کس طرح سے مری قبض روح کو\nدیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا\n\nہوتا ہے زر و سن کے جو نا مرد مدعی\nرستم کی داستاں ہے ہمارا فسانہ کیا\n\nبے یار ساز گار نہ ہو گا وہ گوش کو\nمطرب ہمیں سناتا ہے اپنا ترانہ کیا\n\nصیاد گل غدار دکھاتا ہے سیرِ باغ\nبلبل قفس میں یاد کرے آشیانہ کیا\n\nترچھی نظر سے طائرِ دل ہو چکا شکار\nجب تیر کج پڑے گا اڑے گا نشانہ کیا\n\nبیتاب ہے کمال ہمارا دل حزیں\nمہماں، سرائے جسم کا ہو گا ردانہ کیا\n\nیاں مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ نہ دے\nآتشؔ غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا\n\n(غزل لاجواب ہے مگر مقطع میں جو کیا کیا پہلو رکھا ہے اس کی جگہ یہ نہیں۔ انصاف اس کا میر انیسؔ مرحوم کے خاندان کی زبان پر ہے۔)\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nخانہ خراب نالوں کی بل بے شرارتیں\nبہتی ہیں پانی ہو ہو کے سنگیں عمارتیں\n\nسر کونسا ہے جس میں کہ سودا ترا نہیں\nہوتی ہیں تیرے نقش قدم کی زیارتیں\n\nخانہ ہے گنجفہ کا ہر اک قصرِ شہر عشق\nگھر گھر میں بادشاہیاں گھر گھر وزارتیں\n\nدیدار یار برق تجّلیٰ سے کم نہیں\nبند آنکھیں ہوں گی دینگی دعائیں بصارتیں\n\nآنکھوں میں اپنی دولت بیدار ہیں وہ خواب\nہوتی ہیں تیرے وصل کی جن میں بشارتیں\n\nکہتے ہیں مادر و پدر مہرباں کو بد\nکرتے ہیں وہ جو ارض و سما کی حقارتیں\n\nگویا زبان ہو تو کرے شکر آدمی\nسمجھے جو تو، تو کرتے ہیں یہ گنگ اشارتیں\n\nزیر زمیں بھی یاد ہیں ہفت آسماں کے ظلم\nبھولا نہیں میں سنگ دلوں کی شرارتیں\n\nخضر و مسیح کاٹتے ہیں رشک سے گلا\nتو بھی تو کر شہیدوں کی اپنے زیارتیں\n\nعالم کو لوٹ کھایا ہے اک پیٹ کے لئے\nاس غار میں گئی ہیں ہزاروں ہی غارتیں\n\nباقی رہے گا نام ہمارا نشاں کے ساتھ\nاپنی بھی چند بیتیں ہیں اپنی عمارتیں\n\nاہل جہاں کا حال ہے کیا ہم سے کیا کہیں\nبدگوئیاں ہیں پیچھے تو منھ پر اشارتیں\n\nنقش و نگار حسنِ بتاں کا نہ کھا فریب\nمطلب سے خالی جان لے تو یہ عبارتیں\n\nعاشق ہیں، ہم کو مدنطر کرئے یا رہے\nکعبہ کے حاجیوں کو مبارک، زیارتیں\n\nایسی خلاف ہم سے ہوئی ہے ہوائے دہر\nکافور کھائیے تو ہوں پیدا حرارتیں\n\nآتش یہ شش جہت ہے مگر کوچہ یار کا\nچاروں طرف سے ہوتی ہیں ہم پر اشارتیں\n*-*-*-*-*-*-*\n\nباغباں انصاف پر بلبل سے آیا چاہیے\nپنیحنی اس کو زر گل کی پنہایا چاہیے\n\nپاں بھی کھاؤ جمائی ہے جو مسّی کی دھڑی\nشام تو دیکھی شفق کو بھی دکھایا چاہیے\n\nآئینے میں خطِ نورس کا نظارہ کیجیے\nآہوانِ چشم کو ریحاں چرایا چاہیے\n\nبوسہ اس لب کا ہے قوت بخش روحِ ناتواں\nایسی یاقوتی میسر ہو تو کھایا چاہیے\n\nعشق میں حد ادب سے آگے رہتا ہے قدم\nشاخ گلبن پر سے بلبل کو اڑایا چاہیے\n\nدیکھئے کرتا ہے کیونکر یار سے گستاخیاں\nشوق کے بھی حوصلے کو آزمایا چاہیے\n\nہو گیا ہے ایک مدت سے دِل نالاں خموش\nباغ میں چل کر اسے بلبل سنایا چاہیے\n\nفصل گل ہے چار دن ساقی تکلف ہے ضرور\nپر جواہر کے بط مے کو لگایا چاہیے\n\nفرش گل بلبل کی نیت سے بچھایا چاہیے\nشمع پروانوں کی خاطر سے جلایا چاہیے\n\nخم میں جوش مے سے مجھ کو یہ صدا ہے آ رہی\nظرفِ مستی ہو تو کیفیت اٹھایا چاہیے\n\nحال دل کچھ کچھ کہا میں نے تو بولا سن کے یار\nبس عبارت ہو چی مطلب پہ آیا چاہیے\n\nشیر سے خالی نہیں رہتا نیستاں زنہیار\nبوریائے فقر بچّھا چھوڑ جایا چاہیے\n\nرنگ زرد و چشم تر سے کیجیے دعوائے عشق\nدو گواہ حال اس قضیے کے لایا چاہیے\n\nرام ہوتے ہی نہیں وحشی مزاجی ہے سو ہے\nان سیہ چشموں کو چوپہرہ جگایا چاہیے\n\nدیکھ کر خلوت سرائے یار کہتے ہیں فقیر\nعود کی مانند یاں دھونی رمانا چاہیے\n\nخاطر آتشؔ سے کہیے چند جزو شعر اور بھی\nبے نشاں کا نام باقی چھوڑ جایا چاہیے\n۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔\n\nفریبِ حسن سے گبرو مسلماں کا چلن بگڑا\nخدا کی یاد بھولا شیخ بت سے برہمن بگڑا\n\nقائے گل کو پھاڑا جب مرا گل پیرہن بگڑا\nبن آئی کچھ نہ غنچے سے جو وہ غنچہ دہن بگڑا\n\nنہیں بے وجہ ہنسنا اس قدر زخم شہیداں کا\nتری تلوار کا منھ کچھ نہ کچھ اے تیغزن بگڑا\n\nتکلف کیا جو کھوئی جان شیریں پھوڑ کر سر کو\nجو غیرت تھی تو پھر خسرو سے ہوتا کوہکن بگڑا\n\nکسی چشم سیہ کا جب ہوا ثابت میں دیوانہ\nتو مجھ سے مست ہاتھی کی طرح جنگلی ہرن بگڑا\n\nاثر اکسیر کا من قدم سے تیرے پایا ہے\nجذامی خاک رہ مل کر بناتے ہیں بدن بگڑا\n\nتری تقلید سے کبک دری نے ٹھوکریں کھائیں\nچلا جب جانور انساں کی چال اس کا چلن بگڑا\n\nزوال حسن کھلواتا ہے میوے کی قسم مجھ سے\nلگایا داغ خط نے آن کر سیب ذقن بگڑا\n\nرخ سادہ نہیں اس شوخ کا نقش عداوت ہے\nنظر آتے ہی آپس میں ہر اہل انجمن بگڑا\n\nوہ بد خو طفل اشک اے چشم تر ہیں دیکھنا اک دن\nگھروندے کی طرح سے گنبد چرخ کہن بگڑا\n\nصف مژگاں کی جنبش کا کیا اقبال نے کشتہ\nشہدون کے ہوئے سالار جب ہم سے تمن بگڑا\n\nکسی کی جب کوئی تقلید کرتا ہے میں روتا ہوں\nہنسا گل کی طرح غنچہ جہاں اس کا دہن بگڑا\n\nکمال دوستی اندیشہ دشمن نہیں رکھتا\nکسی بھونرے سے کس دن کوئی رشک یاسمن بگڑا\n\nرہی نفرت ہمیشہ داغ عریانی کو پھاہے سے\nہوا جب قطع جامہ پر ہمارے پیرہن بگڑا\n\nرگڑوائیں یہ مجھ سے ایڑیاں غربت میں وحشت نے\nہوا مسدود رستہ جادہ راہ وطن بگڑا\n\nکہا بلبل نے جو توڑا گل سوسن کو گلچیں نے\nالہٰی خیر کیجو نیلِ رخسار چمن بگڑا\n\nارادہ میرے کھانے کا نہ اے زاغ و زغن کیجیو\nوہ کشتہ ہوں جسے سونگھے سے کتوں کا بدن بگڑا\n\nامانت کی طرح رکھا زمین نے روز محشر تک\nنہ اک مو کم ہوا اپنا نہ اک تار کفن بگڑا\n\nجہاں خالی نہیں رہتا کبھی ایذا و ہندی سے\nہوانا سورنو پیدا اگر زخم کہن بگڑا\n\nتونگر تھا بنی تھی جب تک اس محبوب عالم سے\nمیں مفلس ہو گیا جس روز سے وہ سیمتن بگڑا\n\nلگے منھ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب\nزبان بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا\n\nبناوٹ کیف مے سے کھل گئی اس شوخ کی آتشؔ\nلگا کر منھ سے پیمانے کو وہ پیماں شکن بگڑا\n۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%AC%DB%81_%D8%AD%DB%8C%D8%AF%D8%B1_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D8%A2%D8%AA%D8%B4"} {"title": "آب حیات/خواجہ میر درد", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "جگ میں آ کر اِدھر اُدھر دیکھا\nتو ہی آیا نظر جدھر دیکھا\n\nجان سے ہو گئے بدن خالی\nجس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا\n\nنالہ فریاد آہ اور زاری\nآپ سے ہو سکا سو، کر دیکھا\n\nاُن لبوں نے نہ کی مسیحائی\nہم نے سو (۱۰۰) سو (۱۰۰) طرح سے مر دیکھا\n\nزور عاشق مزاج ہے کوئی\nدردؔ کو قصہ مختصر دیکھا​\n\nہم نے کِس رات نالہ سر نہ کیا\nپر اُسے آہ کچھ اثر نہ کیا\n\nسب کے یاں تم ہوئے کرم فرما\nاس طرف کو کبھی گذر نہ کیا\n\nدیکھنے کو رہے ترستے ہم\nنہ کیا رحم تو نے پر نہ کیا\n\nتجھ سے ظالم کے پاس میں آیا\nجان کا میں نے کچھ خطر نہ کیا\n\nکیوں بھویں تانتے ہو بندہ نواز\nسینہ کس وقت میں سپر نہ کیا\n\nکتنے بندوں کو جان سے کھویا\nکچھ خدا کا بھی تو نے ڈر نہ کیا\n\nآپ سے ہم گذر گئے کب کے\nکیا ہے ظاہر میں گو سفر نہ کیا\n\nکون سا دل ہے جس میں خانہ خراب\nخانہ آباد تو نے گھر نہ کیا\n\nسب کے جوہر نظر میں آئے دردؔ\nبے ہنر تو نے کچھ ہنر نہ کیا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nقتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا\nپر ترے عہد کے آگے تو یہ دستور نہ تھا\n\nرات مجلس میں ترے حُسن کے شعلہ کے حضور\nشمع کے منھ پہ جو دیکھا تو کہیں نُور نہ تھا\n\nذکر میرا ہی وہ کرتا تھا صریحاً لیکن\nمیں نے پوچھا تو کہا خیر یہ مذکور نہ تھا\n\nباوجودیکہ پَر و بال نہ تھے آدم کے\nوہاں پہنچا کہ فرشتے کا بھی مقدور نہ تھا\n\nپرورش غم کی ترے یہاں تئیں تو کی دیکھا\nکوئی بھی داغ تھا سینہ میں کہ ناسور نہ تھا\n\nمحتسب آج تو میخانہ میں تیرے ہاتھوں\nدل نہ تھا کوئی کہ شیشہ کی طرح چور نہ تھا\n\nدردؔ کے ملنے سے اے یار برا کیوں مانے\nاس کو کچھ اور سوا دید کے منظور نہ تھا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nجگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہو گا\nکہ نہ ہنسنے میں رو دیا ہو گا​\n\nاُس نے قصداً بھی میرے نالہ کو\nنہ سُنا ہو گا، گر سُنا ہو گا\n\nدیکھئے غم سے اب کے جی میرا\nنہ بچے گا، بچے گا کیا ہو گا\n\nدل زمانہ کے ہاتھ سے سالم\nکوئی ہو گا کہ رہ گیا ہو گا\n\nحال مجھ غمزدے کا جس تس نے\nجب سُنا ہو گا رو دیا ہو گا\n\nدل کے پھر زخم تازہ ہوتے ہیں\nکہیں غنچہ کوئی کِھلا ہو گا\n\nیک بیک نام لے اُٹھا میرا\nجی میں کیا اُس کے آ گیا ہو گا\n\nمیرے نالوں پہ کوئی دنیا میں\nبِن کئے آہ کم رہا ہو گا\n\nلیکن اس کو اثر خدا جانے\nنہ ہوا ہو گا، یا ہوا ہو گا\n\nقتل سے میرے وہ جو باز رہا\nکسی بدخواہ نے کہا ہو گا\n\nدل بھی اے درد قطرہ خوں تھا\nآنسوؤں میں کہیں گِرا ہو گا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nمرا جی ہے جب تک تری جستجو ہے\nزباں جب تلک ہے یہی گفتگو ہے\n\nخدا جانے کیا ہو گا انجام اس کا\nمیں بے صبر اتنا ہوں وہ تند خو ہے\n\nتمنا ہے تیری اگر ہے تمنا\nتری آرزو ہے اگر آرزو ہے\n\nکیا سیر سب ہم نے گلزار دُنیا\nگل دوستی میں عجب رنگ و بُو ہے\n\nکسو کو کسو طرح عزت ہے جگ میں\nمجھے اپنے رونے سے ہی آبرو ہے\n\nغنیمت ہے یہ دید و ادید یاراں\nجہاں مُند ہو گئی آنکھ میں ہوں نہ تو ہے\n\nنظر میرے دل کی پڑی دردؔ کس پر\nجدھر دیکھتا ہوں وہی روبرو ہے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*​\n\nتہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے\nجس لئے آئے تھے سو ہم کر چلے\n\nزندگی ہے یا کوئی طوفان ہے\nہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے\n\nکیا ہمیں کام ان گلوں سے اے صبا\nایک دم آئے اِدھر اُودھر چلے\n\nدوستو دیکھا تماشا یاں کا بس\nتم رہو اب ہم تو اپنے گھر چلے\n\nآہ بس مت جی جلا تب جانئے\nجب ترا افسوں کوئی اس پر چلے\n\nشمع کی مانند ہم اس بزم میں\nچشم تر آئے تھے دامن تر چلے\n\nڈھونڈھتے ہیں آپ سے اسکو پرے\nشیخ صاحب چھوڑ گھر باہر چلے\n\nہم نہ جانے پائے باہر آپ سے\nوہ ہی آڑے آ گیا جیدھر چلے\n\nہم جہاں میں آئے تھے تنہا ولے\nساتھ اپنے آپ اُسے لیکر چلے\n\nجوں شرر ہے ہستی بے بود یاں\nبارے ہم بھی اپنی باری بھر چلے\n\nساقیا یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ\nجب تلک بس چل سکے ساغر چلے\n\nدردؔ کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب\nکس طرف سے آئے تھے کیدھر چلے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nہے غلط گماں گر گمان میں کچھ ہے\nتجھ سِوا بھی جہان میں کچھ ہے\n\nدل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے\nآن میں کچھ ہے آن میں کچھ ہے\n\nبے خبر تیغ یار کہتی ہے\nباقی اس نیم جان میں کچھ ہے\n\nاس دنوں کچھ عجب ہے دل کا حال\nدیکھا کچھ ہے دھیان میں کچھ ہے\n\nدردؔ تو جو کرے ہے جی کا زیاں\nفائدہ اس زیان میں کچھ ہے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*​\n\nگلیم بخت سیہ سیایہ دار رکھتے ہیں\nیہی بساط میں ہم خاکسار رکھتے ہیں\n\nبسانِ کاغذ آتش زدہ مرے گلرو\nترے جلے بُھنے اور ہی بہار رکھتے ہیں\n\nیہ کس نے ہم سے کیا وعدہ ہم آغوشی\nکہ مثلِ بحر سرا سرکنار رکھتے ہیں\n\nہمیشہ فتح نصیبی ہمیں نصیب رہی\nجو کچھ کہ اپچی ہے جی میں سو مار رکھتے ہیں\n\nبلا ہے نشہ دُنیا کہ تاقیامت آہ\nسب اہل قبر اسی کا خمار رکھتے ہیں\n\nجہاں کے باغ سے ہم دل سوا نہ پھل پایا\nفقط یہی ثمر داغ دار رکھتے ہیں\n\nاگرچہ دختر زر کے ہے محتسب در پے\nجو ہو، سو ہو پر اسے اب تو باز رکھتے ہیں\n\nہر ایک شعلہ غمِ عشق ہم سے روشن ہے\nکہ بے قراری کو ہم برقرار رکھتے ہیں\n\nہمارے پاس ہے کیا جو کریں فدا تجھ پر\nمگر یہ زندگی مستعار رکھتے ہیں\n\nفلک سمجھ تو سہی ہم سے اور گلو گیری\nیہ ایک جیب ہے سو تار تار رکھتے ہیں\n\nبتوں کے جور اُٹھائے ہزارہا ہم نے\nجو اس پہ بھی نہ ملیں اختیار رکھتے ہیں\n\nبھری ہے آ کے جنھوں نے ہوائے آزادی\nحباب دار کُلہ بھی اتار رکھتے ہیں\n\nنہ برق ہیں، نہ شرر ہم نہ شعلہ نے سیماب\nوہ کچھ ہیں پر، کہ سدا اضطرار رکھتے ہیں\n\nجنھوں کے دلمیں جگہ کی ہے نقش عبرت نے\nسدا نظر میں وہ لوحِ مزار رکھتے ہیں\n\nہر ایک سنگ میں ہے شوخی بتاں پنہاں\nخنک یہ سب ہیں پہ دلمیں شرار رکھتے ہیں\n\nوہ زندگی کی طرح ایک دم نہیں رہتا\nاگرچہ دردؔ اُسے ہم ہزار رکھتے ہیں\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nہر ایک سنگ میں ہے شوخی بُتاں پنہاں\nخنک یہ سب ہیں پہ دلمیں شرار رکھتے ہیں\n\nوہ زندگی کی طرح ایک دم نہیں رہتا\nاگرچہ دردؔ اُسے ہم ہزار رکھتے ہیں\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nپیدا کرے ہر چند تقدس بندہ\nمشکل ہے کہ حرص سے ہو دل برکندہ\n\nجنت میں بھی اکل و شرب سے نہیں (*) ہے نجات\nدوزخ کا بہشت میں بھی ہو گا دھندہ", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%AC%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D8%AF"} {"title": "آب حیات/دوسرا دور/تمہید", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "دوسرا دور شروع ہوتا ہے، اس فصل میں زبان کے حسن قدرتی کے لئے موسم بہار ہے، یہ وقت ہے کہ مضامین کے پھول گلشنِ فصاحت میں اپنے قدرتی جوبن دکھا رہے ہیں، حُسنِ قدرتی کی شے ہے ؟ ایک لطفِ خداداد ہے، جس میں بناؤ سنگار کا نام بھی آ جائے تو تکلف کا داغ سمجھ کر سات سات پانی سے دھوئیں، ان کا گلزار نیچر کی گلکاری ہے، صنعت کی دستکاری یہاں آ کر قلم لگائے تو ہاتھ کاٹے جائیں۔ اس میں تو کلام نہیں کہ یہ با کمال بھی ایک ہی شہد کی مکھی ہیں، اور معلوم ہوتا ہے کہ دریائے محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں مگر اس خوبی کا وصف کسی زبان سے ادا نہیں ہوتا کہ جو کچھ دل میں ہوتا ہے جوں کا توں ادا کر دیتے ہیں۔ خیالی رنگوں کے طوطے مینا نہیں بناتے، ہاں طوطی و بلبل کی طرح صاف زبان اور قدرتی الحان لائے ہیں۔ انھوں نے اپنے نغموں میں گٹگری، اپچ، پلٹی، تان کسی گویے سے لے کر نہیں ڈالی، تم دیکھنا بے تکلف بولی اور سیدھی سادی باتوں سے جو کچھ دل میں آئے گا بے ساختہ کہہ دیں گے کہ سامنے تصویر کھڑی کر دیں گے اور جب تک سننے والے سنیں گے کلیجے پکڑ کر رہ جائیں گے، اس کا سبب کیا؟ وہی بے ساختہ پن جس کے سادہ پن پر ہزار بانکپن قربان ہوتے ہیں۔ مصرعہ :\n\n\"ہے حُسن وہی جس میں بے ساختہ پن نکلے \"\n\nان کی اصلاح نے بہت سے لفظ ولی کے عہد کے نکال ڈالے مگر پھر بھی بھلہ رے اور گھیرے گھیرے اور مرے ہے بجائے مرتا ہے اور دوانہ بجائے دیوانہ اور میاں اور فقط جان کا لفظ بجائے معشوق موجود ہے، متاخرین اس کی جگہ جانِ جاں، یا جانا، یا یار، یا دوست، یا دلبر وغیرہ وغیرہ بولنے لگے، مگر موہن دورِ دوم میں نہ رہا۔ ہجن رہا اور بِل گیا، یعنی جل گیا، یعنی صدقہ گیا اور من بجائے دل بھی ہے۔\n\nسید انشاء ایک جگہ بعض الفاظِ مذکورہ کا ذکر کر کے لکھتے ہیں، کہ اس عہد کی گفتگو میں اس قسم کے الفاظ شرفا بولتے تھے۔ پروٹھا بجائے پراٹھا، اور دھیرا بجائے آہستہ یا متوقف، اُور یعنی طرف، اور بھیچک بمعنی حیران (یہ دو لفظ سودا نے بھی باندھے ہیں ) اور تکوں بجائے کوں کویا اپنے تئیں کی اور جانے ہارا بجائے جانے والا، اور فرمائتا ہے بجائے فرماتا ہے اور جائتا ہے بجائے جاتا ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%B1/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%D8%AF"} {"title": "آب حیات/دوسرا دور/خاتمہ", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "دوسرے دَور کے شعراء رخصت ہوتے ہیں، سبحان اللہ اس بڑھاپے پر ایسے زندہ دل، اس کمال پر ایسے بے تکلف سادہ مزاج :\n\nکیا خوب آدمی تھے خدا مغفرت کرے\n\nنہ استعاروں کے پیچ، نہ تشبیہوں کی رنگا رنگی، اپنے خیالات کو کیسی صاف صاف زبان اور سیدھے سیدھے محاورہ میں کہہ گئے کہ آج تک جو سُنتا ہے سَر دھُنتا ہے۔ اُن کا کلام قال نہ تھا حال تھا۔ جو خیال شعر میں باندھتے تھے، اس کا عالم اُن کے دل و جان پر چھا جاتا تھا، یہی سبب ہے کہ جس شعر کو دیکھو تاثیر میں ڈوبا ہوا ہے۔ اسی کو آج اہلِ فرنگ ڈھونڈھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہر شے کی اصلی حالت دکھانی چاہیے۔ مگر حالت کون دکھائے، کہ اپنی حالت بگڑی ہوئی ہے :\n\nصحبتِ گل ہے فقط بلبل سے کیا بگڑی ہوئی\n\nآج کل سارے چمن کی ہے ہوا بگڑی ہوئی\n\nآدمی کہتے ہیں جس کو ایک پُتلا کل کا ہے\n\nپھر کہاں کل اس کو جب کل ہو ذرا بگڑی ہوئی\n\nدل شکستوں کا سخن ہووے نہ کیونکر درست\n\nساز بگڑے ہے تو نکلے ہے صدا بگڑی ہوئی", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%B1/%D8%AE%D8%A7%D8%AA%D9%85%DB%81"} {"title": "آب حیات/دیباچہ", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "آزاد ہندی نہاد کے بزرگ فارسی کو اپنی تیغِ زبان کا جوہر جانتے تھے۔ تخمیناً سو برس سے کل خاندان کی زبان اُردو ہے۔ بزرگوں سے لے کر آج تک زبانوں کی تحقیقات میں کمال سرگرمی اور جستجو رہی، اب چند سال سے معلوم ہوتا ہے اس ملک کی زبان ترقی کے قدم برابر آگے بڑھا رہی ہے، یہاں تک کہ علمی زبانوں کے عمل میں دخل پیدا کر لیا اور عنقریب بارگاہِ علم میں کسی درجہ خاص کیکرسی پر جلوس کیا چاہتی ہے۔ ایک دن اسی خیال میں تھا اور دیکھ رہا تھا کہ کس طرح اس نے ظہور پکڑا، کس طرح قدم بقدم آگے بڑھی، کس طرح عہد بعہد اس درجہ تک پہنچی۔ تعجب ہوا کہ ایک بچہ شاہجہانی بازار میں پھرتا ملے، شعراء اُسے اٹھا لیں اور ملکِ سخن میں پال کر پرورش کریں۔ انجام کو یہاں تک نوبت پہنچے کہ وہی ملک کی تصنیف و تالیف پر قابض ہو جائے۔\nاس حالت میں اس کے عہد بعہد کی تبدیلیاں اور ہر عہد میں اس کے با کمالوں کی حالتیں نظر آئیں جس کی وقت بوقت کی تربیت اور اصلاح نے اس بچہ کی اُنگلی پکڑ کے قدم قدم آگے بڑھایا اور رفتہ رفتہ اس درجہ تک پہنچایا کہ جو آج حاصل ہے۔ صاف نظر آیا کہ ہر عہد میں وہ جُدا جُدا رنگ بدل رہا ہے اور اس کے با کمال تربیت کرنے والے وقت بوقت ترکیب اور الفاظ سے اس کے رفتار و اطوار میں اصلاحیں کر رہے ہیں۔ چنانچہ اس لحاظ سے پانچ جلسے سامنے آئے کہ مسلسل اور متواتر قائم ہوئے اور برخاست ہوئے۔ ایک نے دوسرے کو رخصت کیا اور اپنا رنگ نیا جمایا۔ یہاں تک کہ پانچویں جلسہ کا بھی دور آیا جو کہ اب پیشِ نظر موجود ہے۔ ہر ایک جلسہ میں صدر نشین اور ارکانِ انجمن نظر آئے کہ جن میں عہد بعہد کے بزرگوں کی رفتار و گفتار وضع لباس جُدا جُدا ہے مگر اصلاح کے قلم سے کسی کا ہاتھ خالی نہیں اور اس کام کو ہر ایک اپنا فرض سمجھے ہوئے ہے۔ باوجود اس کے اہلِ مجلس بھی شوق کے دامن پھیلائے ہیں اور قبول کے ہاتھ سینوں پر رکھے ہیں۔ زبان مذکور کی ہر ہر جلسہ میں نئی صورت نظر آئی۔ کبھی بچہ، کبھی لڑکا، کبھی نوجوان، مگر یہ معلوم ہوا کہ دیکھتا ہے تو انھیں کی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور بولتا ہے تو انھیں کی زبان سے بولتا ہے۔\nغرضیکہ اس زبان کے رنگ میں اُن کے رفتار گفتار اوضاع، اطوار بلکہ اُس زمانے کے سارے چال چلن پیشِ نظر تھے جس میں اُنہوں نے زندگی بسر کی اور کیا کیا سبب ہوئے کہ اس طرح بسر کی۔ اِن کے جلسوں کے ماجرے اور حریفوں کے وہ معرکے جہاں طبیعتوں نے تکلف کے پردے اُٹھا کر اپنے اصلی جوہر دکھا دیئے۔ ان کے دلوں کی آزادیاں، وقتوں کی مجبوریاں، مزاجوں کی شوخیاں، طبیعتوں کی تیزیاں، کہیں گرمیاں، کہیں نرمیاں، کچھ خوش مزاجیاں، کچھ بے دماغیاں، غرض یہ سب باتیں میری آنکھوں میں اس طرح عبرت کا سُرمہ دیتی تھیں گویا وہی زمانہ اور وہی اہلِ زمانہ موجود ہیں۔\nچونکہ میں نے بلکہ میری زبان نے ایسے ہی اشخاص کی خدمتوں میں پرورش پائی تھی، اس لئے ان خیالات میں دل کی شگفتگی کا ایک عالم تھا کہ جس کی کیفیت کو کسی بیان کی طاقت اور قلم کی زبان ادا نہیں کر سکتی لیکن ساتھ ہی افسوس آیا کہ جن جوہریوں کے ذریعے سے یہ جواہرات مجھ تک پہنچے وہ تو خاک میں مل گئے۔ جو لوگ باقی ہیں وہ بجھے چراغوں کی طرح ایسے ویرانوں میں پڑے ہیں کہ ان کے روشن کرنے کی یا اُن سے روشنی لینے کی کسی کو پروا نہیں۔ پس یہ باتیں کہ حقیقت میں اثبات ان کے جوہر کمالات کے ہیں۔ اگر اسی طرح زبانوں کے حوالے رہیں تو چند روز میں صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی اور حقیقت میں یہ حالات نہ مٹیں گے بلکہ بزرگانِ موصوف دنیا میں فقط نام کے شاعر رہ جائیں گے جن کے ساتھ کوئی بیان نہ ہو گا جو ہمارے بعد آنے والوں کے دلوں پر یقین کا اثر پیدا کر سکے۔ ہر چند کلام اُن کے کمال کی یادگار موجود ہیں۔ مگر فقط دیوان جو بکتے پھرتے ہیں بغیر اُن کے تفصیلی حالات کے، اس مقصود کا حق پورا پورا نہیں ادا کر سکتے۔ نہ اُس زمانہ کا عالم اس زمانہ میں دکھا سکتے ہیں اور یہ نہ ہوا تو کچھ بھی نہ ہوا۔\nسودا اور میر وغیرہ بزرگانِ سلف کی جو عظمت ہمارے دلوں میں ہے وہ آج کل کے لوگوں کے دلوں میں نہیں۔ سبب پوچھیے تو جواب فقط یہی ہے کہ جس طرح ان کے کلاموں کو ان کے حالات اور وقتوں کی واردات نے خلعت اور لباس بن کر ہمارے سامنے جلوہ دیا ہے اس سے ارباب زمانہ کے دیدہ و دل بے خبر ہیں حق پوچھو تو انہی اوصاف سے سودا سودا، اور میر تقی میر صاحب ہیں ورنہ جس کا جی چاہے یہی تخلص رکھ دیکھے۔ خالی سودا ہے تو جنون ہے اور نرا میر ہے تو گنجفہ کا ایک پتا۔\nمیرے دوستو زندگی کے معنی کھانا، پینا، چلنا، پھرنا، سو رہنا اور منہ سے بولے جانا نہیں ہے۔ زندگی کے معنی یہ ہیں کہ صفات خاص کے ساتھ نام کو شہرتِ عام ہو اور اُسے بقائے دوام ہو۔ اب انصاف کرو کہ یہ تھوڑے افسوس کا موقع ہے کہ ہمارے بزرگ خوبیاں بہم پہنچائیں۔ انھیں بقائے دوام کے سامان ہاتھ آئیں اور اسی پر نام کی زندگی سے محروم ہیں۔ بزرگ بھی وہ بزرگ کہ جن کی کوششوں سے ہماری ملکی اور کتابی زبان کا لفظ لفظ اور حرف حرف گرانبارِ احسان ہو۔ اِن کے کاموں کا اس گمنامی کے ساتھ صفحہ ہستی سے مٹنا بڑے حیف کی بات ہے۔ جس مرنے پر اُن کے اہل و عیال روئے وہ مرنا نہ تھا۔ مرنا حقیقت میں ان باتوں کا مٹنا ہے جس سے اِن کے کمال مر جائیں گے اور یہ مرنا حقیقت میں سخت غمناک حادثہ ہے۔\nایسے بزرگانِ با کمال کے رویے اور رفتاروں کا دیکھنا اُنھیں ہماری آنکھوں کے سامنے زندہ کر دکھاتا ہے اور ہمیں بھی دنیا کے پیچیدہ رستوں میں چلنا سکھاتا ہے اور بتاتا ہے کہ کیونکر ہم بھی اپنی زندگی کو اتنا طولانی اور ایسا گراں بہا بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ نئے تعلیم یافتہ جن کے دماغوں میں انگریزی لالٹینوں سے روشنی پہنچتی ہے، وہ ہمارے تذکروں کے اس نقص پر حرف رکھتے ہیں کہہ ان سے نہ کسی شاعری کی زندگی کی سرگزشت کا حال معلوم ہوتا ہے نہ اس کی طبیعت اور عادت و اطوار کا حال کھلتا ہے نہ اس کے کلام کی خوبی۔ اور صحت و سقم کی کیفیت کھلتی ہے۔ نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے معاصروں میں اور اس کے کلام میں کن کن باتوں میں کیا نسبت تھی۔ انتہا یہ ہے کہ سالِ ولادت اور سالِ وفات تک بھی نہیں کھُلتا۔ اگرچہ اعتراض ان کا کچھ اصلیت سے خالی نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی معلومات زیادہ تر خاندانوں اور خاندانی با کمالوں اور ان کے صحبت یافتہ لوگوں میں ہوتی ہیں، وہ لوگ کچھ تو انقلاب زمانہ سے دل شکستہ ہو کر تصنیف سے ہاتھ کھینچ بیٹھے۔ کچھ یہ کہ علم اور اُس کے تصنیفات کے انداز روز بروز کے تجربہ سے رستے بدلتے ہیں، عربی فارسی میں اس ترقی اور اصلاح کے رستے سالہا سال سے مسدود ہو گئے۔ انگریزی زبان ترقی اور اصلاح کا طلسمات ہے مگر خاندانی لوگوں نے اول اول اس کا پڑھانا اولاد کے لیے عیب سمجھا اور ہماری قدیمی تصنیفوں ککا ڈھنگ ایسا واقع ہوا تھا کہ وہ لوگ ایسی وارداتوں کو کتابوں میں لکھنا کچھ بات نہ سمجھتے تھے۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو زبانی جمع خرچ سمجھ کر دوستانہ صحبتوں کی نقل مجلس جانتے تھے۔ اس لئے وہ ان رستوں سے اور ان کے فوائد سے آگاہ نہ ہوئے اور یہ اُنھیں کیا خبر تھی کہ زمانہ کا ورق اُلٹ جائے ے گا۔ پُرانے گھرانے تباہ ہو جائیں گے۔ ان کی اولاد ایسی جاہل رہے گی کہ اسے اپنے گھر کی باتوں کی بھی خبر نہ رہے گی۔ ا ور اگر کوئی بات ان حالات میں سے بیان کرے گا تو لوگ اُس سے سند مانگیں گے۔ غرض خیالات مذکورہ بالا نے مجھ پر واجب کیا کہ جو حالات ان بزرگوں کے معلوم ہیں یا مختلف تذکروں میں متفرق مذکور ہیں۔۔ انھیں جمع کر کے ایک جگہ لکھوں اور جہاں تک ممکن ہو اس طرح لکھوں کہ ان کی زندگی کی بولتی چالتی، چلتی پھرتی تصویریں سامنے آن کھڑی ہون اور انھیں حیاتِ جاوداں حاصل ہوں۔ الحمد للہ کہ چند روز میں جس قدر پریشاں خیالات تھے بہ ترتیب جمع ہو گئے اسی واسطے اس مجموعہ کا نام آبِ حیات رکھا اور زبان اُردو کی عہد بعہد کی تبدیلی کے لحاظ سے پانچ دور پر تقسیم کیا اس طرح کہ ہر ایک دور اپنے عہد کی زبان بلکہ اس زمانے کی شان دکھاتا ہے۔ خدا کی درگاہ میں دُعا ہے کہ بزرگوں کے ناموں اور کلاموں کی برکت سے مجھے اور میرے کلام کو بھی قبول عام اور بقائے دوام نصیب ہو۔\n\nآمین یا رب العالمین۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%AF%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%86%DB%81"} {"title": "آب حیات/زبان اردو کی تاریخ", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "اتنی بات ہر شخص جانتا ہے کہ ہمارے اُردو زبان برج بھاشا سے نکلی ہے اور \"برج بھاشا\" خاص ہندوستانی زبان ہے۔ لیکن وہ ایسی زبان نہیں کہ دنیا کے پردے پر ہندوستان کے ساتھ آئی ہو۔ اس کی عمر آٹھ سو برس سے زیادہ نہیں ہے اور برج کا سبزہ زار اس کا وطن ہے۔ تم خیال کرو گے کہ شاید اس میراثِ قدیمی کی سند سنسکرت کے پاس ہو گی اور وہ ایسا بیج ہو گا کہ یہیں پھوٹا ہو گا اور یہیں پَھلا پھولا ہو گا۔ لیکن نہیں، ابھی سراغ آگے چلتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ہندوستان اگرچہ بے ہمتی اور آرام طلبی کے سبب سے بدنام رہا۔ مگر باوجود اس کے مہذب قوموں کی آنکھوں میں ہمیشہ کھُپا رہا ہے۔ چنانچہ اس کی سرسبزی اور زرخیزی اور اعتدال نے بلائے جان ہو کر ہمیشہ اُسے غیر قوموں کی گھڑ دوڑ کا میدان بنائے رکھا ہے۔ پس دانائے فرنگ کہ ہر بات کا پتہ پتال تک نکالنے والے ہیں۔ اُنھوں نے زبانوں اور قدیمی نشانوں سے ثابت کیا ہے کہ یہاں کے ے اصلی باشندے ے اور لوگ تھے۔ ایک زبردست قوم نے آ کر آہستہ آہستہ ملک پر قبضہ کر لیا۔ یہ فتحیاب غالباً جیحوں سیحوں کے میدانوں سے اُٹھ کر اور ہمارے شمالی پہاڑ اُلٹ کر اس ملک میں آئے ہوں گے۔۔ اس زمانہ کے گیت اور پُرانی نشانیاں دیکھ کر یہ بھی معلوم کیا ہے کہ وہ لوگ دل کے بہادر، ہمت کے پُورے، صورت کے وجیہ، رنگ کے گورے ہوں گے، اور اس زمانہ کی حیثیت کے بموجب تعلیم یافتہ بھی ہوں گے۔ موقع کا مقام اور سبز زمین دیکھ کر یہیں زمین گیر ہوئے۔ اس قوم کا نام ایرین تھا اور عجب نہیں کہ ان کی زبان وہ ہو جو اپنے اصل سے کچھ کچھ بدل کر اب سنسکرت کہلاتی ہے۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہندوستان میں آ کر راجہ مہاراجہ کا خطاب لیا۔ ایران میں تاجِ کیانی پر درفش کا دیانی لہرایا۔ اپنے مذہب کا نادر طریقہ لے کر چین کو نگارخانہ بنایا۔ یونان کا طبقہ حکمت سے الگ جمایا، روما کی عالمگیر سلطنت کی بنیاد ڈالی، اندلس پہنچ کر چاندی نکالی۔ یورپ سے خبر آئی کہ کہیں دریا سے مچھلیاں نکالتے نکالتے گوہرِ سلطنت پائے، کہیں پہاڑوں سے دھات کھودتے کھودتے لعلِ بے بہا نکال لائے، تب اصلی رہنے والے کون تھے۔ اور اُن کی زبان کیا تھی؟ قیاس سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پنجاب میں اب قطعہ قطعہ کی زبان کہیں کچھ کچھ اور کہیں بالکل اختلاف رکھتی ہے اور یہی حال اور اضلاعِ ہند میں ہے، اسی طرح اس عہد میں بھی اختلاف ہو گا اور اس عہد کی نامی زبانیں وہ ہوں گی جن کی نشانی تامل، اوڑیا اور تلنگو وغیرہ اضلاعِ دکن اور مشرق میں اب تک یادگار موجود ہیں، بلکہ اس حالت میں بھی ان کی شاعری اور انشا پردازی کہتی ہے کہ یہ گٹھلی کسی لذیذ میوہ کی ہے اور سنسکرت سے انہیں لگاؤ تک نہیں۔\n\nفتحیابوں نے ہندوکش کے پہاڑ اتر کر پہلے ت پنجاب ہی میں ڈیرے ڈالے ہوں گے۔ پھر جوں جوں بڑھتے گئے ہوں گے، اصلی باشندے کچھ تو لڑتے مرتے دائیں بائیں جنگلوں کی گود اور پہاڑوں کے دامن میں گھستے گئے ہوں گے، کچھ بھاگے ہوں گے وہ دکن اور مشرق کو ہٹتے گے ہوں گے۔ کچھ فتح یابوں کی غلامی اور خدمتگاری میں کام آئے ہوں گے اور وہی شودر کہلائے ہوں گے۔ چنانچہ اب تک بھی اُن کی صورتیں کہے دیتی ہیں کہ یہ کسی اور بدن کی ہڈی ہیں۔\n\nمدت دراز تک ایرین بھائیوں کے کاروبار ہندوستانی بھائیوں کے ساتھ ملے جُلے رہے ہوں گے۔ یہی سبب ہے کہ ایران کی تاریخ قدیم مہ آباد اور اُس کے زمانہ کی تقسیم برہما کے زمانے سے اور اُس کے رسوم و قواعد سے مطابقت دکھاتی ہے اور چاروں برنوں کا برابر پتہ لگتا ہے۔۔ یہاں بدھ نے انھیں توڑا۔ وہاں زرتشت کے مذہب نے اُسے جلا کر خاک کیا۔ مگر ہندوؤں نے بدھ کے بعد پھر اپنے حال کو سنبھال لیا، ایرانی اپنی بدحالی نہ نہ سنبھال سکے۔\n\nچار برنوں کی تقسیم اور ان کا الگ تھلگ رہنا دُور کے دیکھنے والوں کو غرور کے لباس میں نظر آیا مگر حق پوچھو تو یہ کچھ بُری بات نہ تھی۔ اسی کی برکت ہے کہ آج تک چاروں سلسلے صاف الگ الگ چلے آتے ہیں جو ہندو ہو گا، ماں باپ دونوں کی طرف سے خالص ہو گا اور برابر اپنی قوم کا پتہ بتا سکے گا، جو دوغلا ہو گا اُس کا سلسلہ الگ ہو جائے گا۔ اگر یہ قیدیں اس سختی کے ساتھ نہ ہوتیں تو تمام نسلیں خلط ملط ہو جاتیں۔ نجیب الطرفین آدمی چاہتے تو ڈھونڈھے سے نہ ملتا۔۔ فتح یابیوں کی ان سخت قیدوں نے آپس کی بندشوں میں عجیب طرح کے پھندے ڈالے۔ چنانچہ سب نسلوں کی حفاظت کا پورا بندوبست کر چکے تو خیال ہوا کہ شودروں کے ساتھ آٹھ پہر بات چیت، رہنے سہنے اور لین دین کرنے میں بزرگوں کی زبان دوغلی ہو جائے گی۔ اس واسطے کہا کہہ ہماری زبان زبان الٰہی ہے اور الٰہی عہد سے اسی طرح چلی آئی ہے۔ چنانچہ اس کے قواعد اور اصول باندھے۔ اور ایسے جانچ کر باندھے جن میں نقطہ کا فرق نہیں آ سکتا۔ اس کی پاکیزگی نے غیر لفظ کو اپنے دامن پر ناپاک دھبا سمجھا اور سوا برہمن کے دوسرے کی زبان بلکہ کان تک گزرنا بھی ناجائز ہوا۔ اس سخت قانون نے بڑا فائدہ یہ دیا کہ زبان ہمیشہ اپنی اصلیت اور بزرگوں کی یادگار کا خالص نمونہ نمایاں کرتی رہے گی برخلاف ایرانی بھائیوں کے اُن کے پاس زبانی بھی سند نہ رہی۔\n\nاسی بنیاد پر فتح یابوں کی بلند نظری نے اس کا نام سنسکرت رکھا (سن مکمل اور کرت بنائے ہوئے کو کہتے ہیں۔ سنسکرت مہذبوں کی بنائی ہوئی تھی۔ پراکرت کے معنی ہیں جو طبیعت سے نکلے، پس پراکرتیں وہ زبانیں ہیں جو طبیعت (نیچر) نے اپنی اپنی زمین میں پیدا کر دیں۔) جس کے معنی آراستہ پیراستہ، متقی، منزہ، مصفا، مقدس جو چاہو سمجھ لو، ان کے قواعدِ زبان بھی ایسے مقدس ہوئے کہ بزرگانِ دین ہی اُسے پڑھائیں تو پڑھائیں بلکہ اس طرح پکار کر پڑھنا بھی گناہ ہوا کہ شودر کے کان میں آواز پڑے۔ اس زبان کا نام دیوبانی ہوا یعنی زبانِ الٰہی۔ زبان شاہی دید کے سنہ ترتیب جس سے اس عہد کی زبان کا پتہ لگے، ۱۴ سو برس سنہ عیسوی خیال کرتے ہیں۔ اس وقت ان فتح یابوں کی باتیں اس ملک اور ملک والوں کے ساتھ ایسی سمجھ لو۔ جیسے ہندوستان میں پہلے پہلے مسلمانوں کی حالتیں اُن کے سنسکرت زبان کے مخرج اور تلفظ یہاں کے لوگوں میں آ کر کچھ اور ہو گئے ہوں گے۔ اس لئے گھروں اور بازاروں میں باتیں کرنے کو قطعہ قطعہ میں پراکرت زبانیں خودبخود پیدا ہو گئی ہوں گی۔ جیسے اسلام کے بعد اُردو، چنانچہ! گدی (پالی)، سورسینی، مہاراشٹری وغیرہ قدیمی پراکرتیں اب بھی اپنی قدامت کا پتہ بتاتی ہیں۔ ان کی سیاہی میں سینکڑوں لفظ سنسکرت کے چمکتے نظر آتے ہیں۔ مگر بگڑے ہوئے ہیں۔ دیکھا! پراکرت کے معنی ہیں طبیعت اور جو طبیعت سے نکلے چنانچہ ہیم چند لغاتِ سنسکرت کا جامع بھی یہی کہتا ہے۔ اس کے علاوہ سنسکرت مہذب اور مقدس اور پراکرت غیر مہذب لوگوں کو کہتے ہیں۔ پس ایسی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ فہمیدہ لوگ تھے۔ ہر بات کو خوب سمجھتے تھے اور جو کچھ اُنہوں نے کیا ہے سمجھ کر کیا ہے۔\n\nراجہ بھوج کے عہد کی ناستک پستکیں کہتی ہیں کہ ان عہدوں میں علمی، کتابی اور درباری زبان تو سنسکرت تھی۔ مگر چونکہ معاملہ خاص و عام سے پڑتا ہے، اس لئے گفتگو میں پنڈتوں کو بھی پراکرت ہی بولنی پڑتی تھی۔ پراکرت صاف سنسکرت کی بیٹی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس میں ہزاروں لفظ سنسکرت کے ہیں اور ویسے ہی قاعدے صرف و نحو کے بھی ہیں۔\n\nسنسکرت کی اتنی حفاظت ہوئی پھر بھی منوسمرتی دیدوں کی ترتیب سے کئی سو برس بعد لکھی گئی تھی۔ اس میں اور دید کی زبان میں صاف فرق ہے اور اب اور بھی زیادہ ہو گیا، لیکن چونکہ سلطنت اور معتبر تصانیف پر مذہب کا چوکیدار بیٹھا تھا، اس لئے نقصان کا بہت خطرہ نہ تھا کہ دفعتہً ۵۴۳ برس قبل عیسوی میں بُدھ مذہب کے بانی شاک منی پیدا ہوئے۔ وہ مگدھ دیس اُٹھے تھے۔ اس لئے وہیں کے پراکرت میں وعظ شروع کیا۔ کیونکہ زیادہ تر کام عوام سے تھا۔ عورت مرد سے لے کر بچے اور بوڑھے تک سمجھتے تھے، یہی اُس دیس کی زبان تھی۔ ان کی آتش زبانی سے مذہب مذکور ایسا پھیلنا شروع ہوا جیسے بَن میں آگ لگے۔ دیکھتے دیکھتے دھرم حکومت، رسم و رواج، دین آئین سب کو جلا کر خاک کر دیا، اور مگدھ دیس کی پراکرت کل دربار اور کل دفتروں کی زبان ہو گئی۔ اقبال کی یاوری نے علوم و فنون میں بھی ایسی ترقی دی کہ تھوڑے ہی دنوں میں عجیب و غریب کتابیں تصنیف ہو کر اسی زبان میں علوم کے کتب خانے سج گئے اور فنون کے کارخانے جاری ہو گئے، کہیں کہیں کونے گوشے میں جہاں کے راجہ دید کو مانتے رہے، وہاں ویدوں کا اثر رہا۔ باقی راج دربار اور علمی سرکار سب ماگدھی ہی ماگدھی ہو گئی۔ ان کے حوصلے وسیع ہو کر دعوے بڑھے اور بآواز بلند کہہ دیا کہ ابتدائے عالم سے تمام زبانوں کی اصل ماگدی ہے۔ برہمن اور کل انسان بات کرنے کے لائق بھی نہ تھے۔ اصل میں ان کی بھی اور قادر مطلق بودھ کی زبان یہی ہے۔ اس کی صرف و نحو کی کتابیں بھی تصنیف ہوئی، خدا کی قدرت دیکھو! جو لونڈی تھی، وہ رانی بن بیٹھی اور رانی منھ چھپا کر کونے میں بیٹھ گئی۔\n\nزمانے نے اپنی عادت کے بموجب (تخمیناً ۱۵ سو برس بعد) بودھ مذہب کو بھی رخصت کیا، اور اس کے ساتھ اس کی زبان بھی رخصت ہوئی۔ شنکر چارج کی برکت سے برہمنوں کا ستارہ ڈوبا ہوا پھر اُبھر کو چمکا اور سنسکرت کی آب و تاب بھی شروع ہوئی۔ راجہ بکرماجیت کے عہد میں جو روشنی اس کی فصاحت نے پائی، آج تک لوگوں کی آنکھوں کا اُجالا ہے، اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ دربار سلطنت اور اعلیٰ درجہ کے لوگوں کو سنسکرت بولنا اعتبار و افتخار کی سند تھا۔ اور پراکرت عوام کی زبان تھی، کیونکہ اس عہد میں کالی داس ملک الشعراء نے شکنتلا کا ناٹک لکھا ہے۔ سبھا میں دیکھ لو بادشاہ، اُمراء اور پنڈت سنسکرت بول رہے ہیں، کوئی عام آدمی کچھ کہتا ہے تو پراکرت میں کہتا ہے۔\n\nگیارھویں صدی عیسوی سے پہلے راجہ بھرت کے عہد میں برج کے قطعہ کی وہ زبان تھی، جسے ہم آج کی برج بھاشا کی اصل کہہ سکتے ہیں، اس وقت بھی ہر قطعہ میں اپنی اپنی بولی عام لوگوں کی حاجت روائی کرتی تھی اور سنسکرت تصنیفات اور خواص کی زبانوں کے لئے باعثِ برکت تھی کہ دفعتہً زمانہ کے شعبدہ باز نے ایک اور رنگ بدلا۔ یعنی اسلام کا قدم ہندوستان میں آیا۔ اس نے پھر ملک و مذہب کو نیا انقلاب دیا اور اسی وقت سے زبان کا اثر زبان پر دوڑنا شروع ہوا۔\n\nسنسکرت اور اصل فارس یعنی ژندواستا کی زبان ایرین کے رشتہ سے ایک دادا کی اولاد ہیں، مگر زمانہ کے اتفاق دیکھو کہ خدا جانے کہ سو برس یا کہ ہزار برس کی بچھڑی ہوئی بہنیں اس حالت سے آ کر ملی ہیں کہ ایک دوسرے کی شکل نہیں پہچان سکتیں۔\n\nہندوستانی بہن کی کہانی تو سُن چکے۔ اب ایرانی بہن کی داستان بھی سن لو کہ اس پر وہاں کیا گزری۔ اول تو یہی قیاس کرو کہ اس ملک نے جو ایران نام پایا شاید وہ ایرین ہی کی برکت ہو، پھر یہ بھی کچھ تھوڑے تعجب کا مقام نہیں کہ جس طرح ہندوستانی بہن پر وقت بوقت بودھ وغیرہ کے حادثے گزرے، اسی طرح اس پر بھی وہاں انقلاب پڑتے رہے۔ باوجود اس کے اب تک ہزاروں لفظ فارسی اور سنسکرت کے صاف ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔\n\nایرانی بہن جب اس ملک میں جا کر بسی ہو گی، اول تو مدت تک اُن کے مذہب رسم و رواج اور زبان جیسے تھے ویسے ہی رہے ہوں گے۔ مگر اس زمانہ کی کوئی تصنیف ہاتھ نہیں آئی، کچھ ٹوٹا پھوٹا پتا ملتا ہے تو زرتشت کے وقت سے ملتا ہے جسے آج تخمیناً ۲۴ سو برس ہوئے اس نورانی موجّد نے شعلہ آتش کے پردہ میں توحید کے مسئلہ کو رواج دیا، مذہب مذکور نے سلطنت کے بازوؤں سے زور پکڑا اور ایران سے نکل کر دو سو برس کے قریب اطراف و جوانب کو دباتا رہا یہاں تک کہ یونان سے سکندر طوفان کی طرح اُٹھا اور ایشیا کے امن کو تہ و بالا کر دیا۔ جو مصیبت بودھ کے ہاتھ سے بید شاستر پر پڑی تھی، وہاں وہی مصیبت ژنداستا پر آئی۔ چنانچہ جس آگ نے زرتشت اور جاماسپ متبرک ہاتھوں سے آتش خانوں کو روشن کیا تھا جس کے آگے گشاسپ نے تاج اُتار کر رکھا، جس کی درگاہ میں اسفند یار نے گرز اور تلوار چڑھائی۔ وہ یونان کے آب شمشیر سے بجھائی گئی، اور آتش خانے راکھ ہو کر اُڑ گئے، افسوس یہ ہے کہ ژند و پاژند کے ورق ورق برباد کئے گئے اور ہزاروں کتابیں فلسفہ الٰہی اور علوم و فنون کی تھیں کہ نابود ہو گئیں، جبکہ یونانیوں نے ملک پر غلبہ پایا تو زبان نے زبانوں پر بھی زور دکھایا ہو گا۔ تھوڑے ہی دنوں میں پارتھیا والوں کا عمل دخل ہو گیا، وہ ایران جسے ہزاروں برس سے ملک گیری کے نشان سلامی اُتارتے تھے اور تہذیب و شائستگی اُس کے دربار میں سر جھکاتے تھے۔ پانچ سو برس تک ظفر یابوں کے قبضہ میں دبا رہا، اور ژند کی کتب مقدسہ ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر فنا کی گئیں۔\n\n۲۰۰ عیسوی میں پھر تنِ بے جان میں سانس آیا۔ اور ساسانیوں کی تلواروں میں قدیمی اقبال نے چمک دکھائی، ان بادشاہوں نے ملک و مملکت کی قدامت کے ساتھ بُجھتے ہوئے مذہب کو بھی روشن کیا۔ گرے ہوئے آتش خانوں کو پھر اُٹھایا اور جہاں جہاں سے پھٹے پُرانے اوراقِ پریشاں ہاتھ آئے، بہم پہنچائے۔ اُن ہی کی کوششوں کی کمائی تھی جو پھر ساڑھے چار سو برس بعد علم اسلام کے قربان ہوئی۔ اس معاملہ میں ہمیں نیک نیت پارسیوں کا شکریہ نہ بھولنا چاہیے، کیونکہ باوجود تباہی اور خانہ بربادی کے جو پُرانا کاغذ کسی با اعتقاد کے ہاتھ آیا وہ جان کے ساتھ ایمان کو بھی لیتا آیا۔ بندر سورت، گجرأت وغیرہ ملکوں میں آج تک اسی نور سے آتش خانے روشن ہیں، جو کچھ ان کے پاس ہے وہ اُن تصنیفات کا بقیہ ہے جو ساسانیوں کے عہد میں ہوئی، کتبِ مذکورہ و دونوں زبانوں کا لفظی اتفاق ہی نہیں ثابت کرتیں بلکہ اُن کے اتحاد و اعتقاد پر بھی شہادت دیتی ہیں جو چار برن ہندوؤں میں، وہی ایران میں تھے، اجرام آسمانی کی عظمت واجب تھی، حیوانات بے آزار کا مارنا گناہِ عظیم تھا، تناسخ کا مسئلہ دونوں میں یکساں تھا، آتش، آب، خاک، باد، ابر، بجلی، گرج، ہوا، وغیرہ وغیرہ اشیاء کے لئے ایک ایک دیوتا مانا ہوا تھا، جس کے اظہار عظمت کے لئے خاص خاص طریقے تھے۔ یاد الٰہی کے زمزمے تھے، جس کو وہ اپنی اصطلاح میں گاتھا کہتے تھے، یہ وہی لفظ ہے جس کے نام پر یہاں گیتا کتاب ہے۔ کیوں کہ اس میں بھی یادِ الٰہی کے گیت ہیں۔ فارسی مروجہ کے چند الفاظ تمثیلاً لکھتا ہوں کہ سنسکرت سے ملتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں :\n\nفارسی سنسکرت فارسی سنسکرت\n\nپدر پتر برادر بھراتر\n\nپور پُتر دختر دوہتر\n\nمادر ماتر انگشت انگشٹ\n\nزانو جانو پا پاؤ\n\nبار بھار بیم بھئے\n\nبوم بھوم خاشاک کُشیا\n\nاسپ اشو کر کھر\n\nایرانی بہن پر ایران میں پہلے اسلام کے ہاتھ سے وہ صدمہ گزرا تھا جو کہ یہاں دو سو برس کے بعد گزرا اور اس سے اس کی حیثیت بالکل بدل گئی تھی۔ بہر حال یہاں دو ایسی حالت کے ساتھ پہنچی کہ عربی اور ترکی الفاظ اور بہت سی ترکیبی تبدیلیوں کے سبب سے اس کی صورت نہ پہچانی جاتی تھی، یہاں جو مسلمان آئے وہ آپس میں وہی رائج الوقت فارسی بولتے تھے اور ہندوؤں سے ہندی کے الفاظ مِلا جُلا کر گزارہ کر لیتے تھے۔\n\nاِدھر سنسکرت تو دیوبانی یعنی زبانِ آسمانی تھی، اس میں ملکشوں کو دخل کہاں ؟ البتہ برج بھاشا نے اس بِن بلائے مہمان کو جگہ دی۔ دھرم وان ہندو سالہا سال تک میکش بھاشا سمجھ کر غیر زبان سے متنفر رہے، مگر زبان کا قانون دھرم اور حکومت کے قانون سے بھی سخت ہے کیونکہ اسے گھڑی گھڑی اور پَل پَل کی ضرورتیں مدد دیتی ہیں جو کسی طرح بند نہیں ہوتیں۔ غرض آٹھ پہر ایک جگہ کا رہنا سہنا لین دین کرنا تھا۔ لفظوں کے بولے بغیر گزارہ نہ کر سکے، دو قوموں کے ارتباط پر ایسا اختلاط ضرور ہوتا ہے اور اس کے کئی سبب ہیں، اول تو یہ کہ اکثر نئی چیزیں ایسی آئی ہیں جو اپنے نام اپنے ساتھ لائی ہیں (۲) اکثر معانی ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں انہی کی زبان میں کہیں تو ایک لفظ میں ادا ہو جاتے ہیں۔ ترجمہ کریں تو ایک فقرہ بنتا ہے۔ پھر بھی وہ نہ مزہ آتا ہے، نہ مطلب کا حق ادا ہوتا ہے۔ اس صورت میں گویا قانونِ زبان اور آئینِ بیان مجبور کرتا ہے کہ یہاں وہی لفظ بولنا چاہیے، دوسرا لفظ بولنا جائز نہیں، (۳) جو لوگ اکثر غیر ملکوں میں سفر کرتے ہیں وہ اس لطف کو جانتے ہیں کہ جب دو غیر زبان والے ایک جگہ رہتے سہتے ہیں تو کبھی کام کاج کی شدتِ مصروفیت میں، کبھی اُس عالم میں ضروری بات جلدی کہہ دینے کی غرض سے کبھی آسانی سے مطلب سمجھانے کو ایک دوسرے کے لفظ خواہ مخواہ اس طرح بول جانے پڑتے ہیں کہ بے اس کے گزارہ نہیں ہوتا۔ (۴) پھر جب ایک رہ کر شیر و شکر ہوتے ہیں تو اکثر پیار اور محبت سے کبھی آپس کی دل لگی کے لئے ایک دوسرے کے لفظ بول کر جی خوش ہوتا ہے، جس طرح دوست کو دوست پیارا ہوتا ہے، اسی طرح اس کے لفظ بھی پیارے معلوم ہوتے ہیں۔ یا یوں سمجھو کہ جس طرح وطن دار اپنے مہمانوں کے رہنے کو جگہ دیتے ہیں، اسی طرح ان کی زبان مہمان لفظوں کو جگہ دیتی ہے۔ (۵) بڑی بات یہ ہے کہ فتح یابوں کے اقبال کی چمک اِن کی بات بات کو بلکہ لباس، دستار، رفتار، گفتار کو بھی ایسی آب و تاب سے جلوہ دیتی ہے کہ وہی سب کی آنکھوں میں بھلے معلوم ہوتے ہیں اور لوگ اسے فقط اِختیاری ہی نہیں کرتے بلکہ اُس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ پھر اس میں بہت سے فوائد بھی عقلی دلائل سے پیدا کرتے ہیں۔\n\nاُس زمانہ کی عہد بعہد کی ہندی تصنیفیں آج نہیں ملتیں، جن سے وقت بوقت اس کی تبدیلیوں کا حال معلوم ہو۔ البتہ جب 1193 عیسوی میں شہاب الدین غوری نے رائے پتھورا پر فتح پائی تو چند کوئی ایک نامی شاعر نے پرتھی راج راسا لکھا۔ اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ زبانِ مذکور نے کتنا جلد عربی، فارسی کے اثر کو قبول کر لیا۔ ہر صفحہ میں کئی کئی لفظ نظر آتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت میں یہاں کی بھاشا بھی کچھ اور بھاشا تھی، میں نمونہ تصنیف مذکور کا دکھاتا ہوں۔\n\nयच उठि महल प्रिधौराज मंगि चारीइनिवाजीव ५६ पत्र परवरदिगार पैगाम रदबखाई करीमकैवारसुरतान जलालदिन जायासुरितानस चलइउपाबामूसल मानदनिदान भौम दतिइतनौ कंडेरकडन खायो पातिशाह सैतान परवरेदैवरों दीवान कंड या जादवनिवैरमंकजा खलक आलम चलोई खोदले मजुवाजई हजरति खुदायमेश चास मरदां मैलसिध वासवाड़ सांई देव चादर उचाई।\n\nइतने मुलक की फरमान पेस कलकविलास केलास रोईधंधारगधार। ५२ पत्र पावजाखि प्रियोराज दाईंदौनि कुलितामंकरी सलाम सिंदिवारमरी चंगुलि सुलितानं॥\n\n(حاشیہ : اسلام نے آتے ہی اختلاط الفاظ کی بنیاد ڈال دی تھی۔)\n\nیہ اگرچہ مختلف جگہ کے ٹکڑے ہیں، مطلب ان کا اسل کتاب دیکھنے سے کھُلتا ہے مگر حرف شناس آدمی بھی جان سکتا ہے کہ یہ لفظ عربی فارسی کے اس میں موجود ہیں۔ محل، پروردگار، پگام (پیغام)، کریم، سرطان (یعنی سلطان) بات شاہ (بادشاہ) دیوان، خلک (خلق) عالم، حجرت (حضرت) ملک، پھرمان (فرمان)، سلام۔\n\nترجمہ اور تصنیف کے تجربہ کار جانتے ہیں کہ ان کی عبارت میں کسی زبان کا اصل لفظ جو اپنا مطلب بتا جاتا ہے، سطر سطر بھر عبارت میں ترجمہ کریں تو بھی وہ بات حاصل نہیں ہوتی جو مجموعہ خیالات کا اور اِس کے صفات و لوازمات کا اُس ایک لفظ سے سُننے والے کے سامنے آئینہ ہو جاتا ہے وہ ہمارے سطر بھر سے پُورا نہیں ہوتا۔ مثلاً چند کوی اپنی نظم میں سلطان کی جگہ اگر راجہ بلکہ مہاراجہ لکھ دیتا تو بھی جو صفات اور اس کے لوازمات نیک یا بد، رحم یا عدل، زور یا ظلم یہ الفاظ اُس کی نظم میں دکھا رہا ہے، وہ بات راجہ مہاراجہ سے ممکن نہیں، اسی طرح لفظ سلام کہ اِس کے مطلب کا حق خواہ ڈنڈوت خواہ پرنام کوئی لفظ ادا نہیں کر سکتا۔ نظیر اس کی آج انگریزی کے سینکڑوں لفظ ہیں۔ اگر ترجمہ کریں تو سطروں میں بھی مطلب پورا نہیں ہو سکتا، مثلاً ایک ہندستانی شخص اپنے دوست سے کہتا ہے۔ \"لاٹ صاحب چھ بجے اسٹیشن پر پہنچیں گے۔ پروگرام کے بموجب شہر کی سیر کریں گے۔ ۵ بجے آنا، وہیں چل کر تماشا دیکھیں گے، اب خواہ صحیح خواہ بگڑے، مگر جو اصلی لفظ آپ نے اپنے معنی سننے والے کو سمجھا رہے ہیں، کئی کئی سطروں میں ترجمہ کئے جائیں تو بھی حقِ مطلب بجا نہ لا سکیں گے، آخر پندرہ صدی عیسوی میں سکندر لودھی کا زمانہ تھا، اتنا ہوا کہ اول کایستھ فارسی پڑھ کر شاہی دفتر میں داخل ہوئے اور اب ان لفظوں کو اُن کی زبانوں پرانے کا زیادہ موقع ملا، رفتہ رفتہ اکبر کے عہد سے کہ مسلمان شیر و شکر ہو گئے۔ یہ نوبت ہوئی کہ اِدھر بادشاہ اور اس کے اعلیٰ درجہ کے اہل دربار نے جبہ و دستار کے ساتھ داڑھیوں کو خدا حافظ کہا، اور جامے پہن کر کھڑکی دار پگڑیاں باندھ بیٹھے، اِدھر ہندو شرفا بلکہ راجہ مہاراجہ ایرانی لباس پہننے اور فارسی بول کر فخر کرنے لگے، بلکہ مرزا کے خطاب کو بڑے شوق سے لینے لگے۔\n\nاب جس قدر ممکن ہے عہد بعہد کی زبانوں کے نمونے دکھاتا ہوں۔ امیر خسرو جو کہ 725ھ (1325 ء) میں فوت ہوئے، ان کی ایک غزل نظم اُردو کی تاریخ میں دیکھو، جس کا پہلا مصرعہ ہے \"زحال سکین مکن تغافل درائے نیناں بنائے بتیاں \" الخ اس سے تمہیں کچھ کچھ حال اُس وقت کی زبان کا بھی معلوم ہو گا۔ خالق باری بھی انہیں کی مخلوقات فکر سے ہے، باریک ہیں اشخاص اس سے بھی بہت سے الفاظ اور فقرے دیکھ کر یہ نکتے سمجھ سکتے ہیں :\n\nبیا بر اور آؤ رے بھائی\n\nبنشیں ماور بیٹھ ری مائی\n\nایک مجرب نسخہ آنکھوں کا دوہروں کی بحر میں کہتے ہیں :\n\nلودھ پھٹکری مردہ سنگ\n\nہلدی زیرہ ایک ایک ٹنگ\n\nافیون چنا بھر مرچیں چار\n\nاُرد برابر تھوتھا ڈار\n\nپوست کے پانی پوٹلی کرے\n\nترت پیر نینوں کی ہرے\n\nنظم اُردو کی تاریخ میں اِن کی عمدہ پہلیاں، مکرنیاں، دوسخنے، انمل میں نے لکھ دیئے ہیں، انہیں دیکھو اور خیال کرو کہ بحریں دوہروں کی ہیں مگر فارسیت کس قدر اپنا زور دکھا رہی ہے۔\n\nہندو شاعروں کے دوہرے برج بھاشا میں ہیں مگر عہد بعہد کی زبان کا پتہ بتاتے ہیں، چنانچہ سکندر لودھی کے زمانے میں کبیر شاعر بنارس کے رہنے والے عِلم میں اَن پڑھ تھے، گرو رامانند کے چیلے ہو کر ایسے ہوئے کہ خود کبیر پنتھیوں کا مت نکالا۔ تصنیفات اگر جمع ہوں تو کئی جلدیں ہوں، اُن کے دوہروں میں فارسی عربی کے لفظوں کو دیکھو :\n\nدین گر ایودُنی سے دُنی نہ آئیو ہاتھ\n\nپیر کہاڑی ماریو گا پھل اپنے ہاتھ\n\nکبیر سریر سرائے ہے کیوں سئے سکھ چین\n\nکوچ نگارا سانس کا باجت ہے دن رین\n\nگرو نانک صاحب کی تصنیفات بہت کچھ ہے، اگرچہ خاص قطعہ پنجاب کی زبان ہے مگر جس بہتات سے ان کے کلام میں عربی فارسی کے لفظ ہیں اتنے کسی کے کلام میں نہیں اور چونکہ ۹۰۰ عیسوی کے بعد فوت ہوئے، تو اس سے چار سو برس پہلے کی پنجابی کا نمونہ بھی معلوم ہو سکتا ہے۔ دوہرا :\n\nسانس مانس سب جیو تمہارا\n\nتو ہے کھرا پیارا\n\nنانک شاعر ایو کہت ہے\n\nسچے پروردگارا\n\nبلکہ اکثر چیزیں وظیفہ عبادت کے طور پر ہیں۔ ان میں بھی الفاظِ مذکورہ اسی کثرت سے نظر آتے ہیں۔ جپ جی کے دو فقرے دیکھو :\n\nوارن جاؤں اَن ایک بار\n\nتو سدا سلامت جی نرنکار\n\nمسلمان بھی اس زمانہ میں یہاں کی زبان سے محبت رکھتے تھے، چنانچہ سولھویں صدی عیسوی شیر شاہی عہد میں ملک محمد جائسی ایک شاعر ہوا۔ اس نے پدماوت کی داستان نظم کی۔ اس سے عہد مذکور کی زبان ہی نہیں معلوم ہوتی، بلکہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان اس ملک میں رہ کر یہاں کی زبان کو کس پیار سے بولنے لگے تھے، اس کی بحر بھی ہندی رکھی ہے، اور ورق کے ورق اُلٹتے چلے جاؤ، فارسی عربی کی لفظ نہیں ملتا۔ مطلب اس کا آج مسلمان بلکہ ہندو بھی نہیں سمجھتا، کتابِ مذکور چھپ گئی ہے اور ہر جگہ مل سکتی ہے، اس لئے نمونہ نہیں لکھتا۔\n\nہمایوں نے جب گجرأت دکن پر فوج کشی کی تو سلطان بہادر وہاں کا بادشاہ تھا اور جاپانیر کا قلعہ بڑا مستحکم تھا کہ سلطان خود بھی وہاں رہتا تھا اور تمام خزائن و دفائن وہیں رکھتا تھا۔ محاصرے کے وقت رومی خاں میر آتش (باوجودیکہ کمال معتبر اور مصاحبِ منظور نظر سلطان کا تھا) ہمایوں سے مل گیا، اور قلعہ (تمام نصائس اموال اور خزائن بے حساب سمیت) ہمایوں کے قبضہ میں آیا۔ سلطان بہادر کے پاس ایک طوطا تھا کہ آدمی کی طرح باتیں کرتا تھا اور سمجھ کر بات کا جواب دیتا تھا، سلطان اُسے ایسا چاہتا تھا کہ سونے کے پنجرے میں رکھتا تھا اور ایک دم جدا نہ کرتا تھا، وہ بھی لوٹ میں آیا۔ جب دربار میں لائے، رومی خان بھی موجود تھا، طوطے نے دیکھ کر پہچانا اور کہا۔ \"پھٹ پاپی رومی خاں نمک حرام۔\" سب کو تعجب ہوا اور ہمایوں نے کہا، رومی خاں چکنم کہ جانور است ورنہ زبانش می بریدم۔ اُس نے شرما کر آنکھیں نیچی کر لیں۔ غرض اس نقل سے یہ ہے کہ اس وقت بھی لوگوں کی زبان پر عربی فارسی کے لفظ چڑھے ہوئے تھے، جب ہی طوطے کی زبان سے نمک حرام کا لفظ نکلا، جانور جو سُنتا ہو گا وہی بولتا ہو گا۔\n\nسترھویں صدی عیسوی میں بابا تلسی داس برہمن ضلع باندہ کے رہنے والے کہ پنڈت بھی تھے، شاعر بھی تھے، فقیر بھی تھے، اُنہوں نے رامائن کو بھاشا میں اس طرح ترجمہ کیا کہ وہ لاثانی کتاب مطبوعِ خاص و عام ہوئی، ان کے دہروں میں بہت اور کتابِ مذکور میں کہیں کہیں لفظ فارسی عربی کے موجود ہیں۔ دُہرا رامائن :\n\nسنکارے سیوک سکل چلے سوامی رکھ پائے\n\nگھر تر وتر و بن و پاگ و بر ڈیرو دیو لگائے\n\nگھر بسواس بچن ہٹ بولے\n\nکتنی بھنگ کلہ بھی کھولے\n\nرام اینک گریب نواجے\n\nلوگ بید بربرو براجے\n\nگنی گریب گرام نرناگر\n\nپنڈت موٹے ملیں اوجاگر\n\nمایا کو مایا ملے کر کر لمبے ہاتھ\n\nتلسی داس گریب کو کوئی نہ پوچھے بات\n\nانہی دنوں میں سور داس جی نے سری کرشن جی کے ذکر سے اپنے کلام کو مقبول خاص و عام کیا۔ اِن کی تصنیف میں شاید کوئی شعر ہو گا، کہ فارسی عربی لفظ سے خالی ہو گا۔\n\nمایا دھام دھن ونتا\n\nباندھیوں ہوں اس ساج (یعنی ساز)\n\nسنت سبھی جانت ہوں\n\nتو نہ آئیو باج (یعنی باز نہ آیا)\n\nکھیت بہت کاہے تم تانے\n\nسبن سنی آواج (یعنی آواز)\n\nدیو نہ جات پار اُتر آئے\n\nچاہت چڑھیں جہاج (یعنی جہاز)\n\nلیجے پار اُتار سور کوں\n\nمہاراج برج راج\n\nتئیں کرت کہت پربھو تم سوں\n\nسدا غریب نواج (غریب نواز)\n\nخیال کرو کہ جب یہ بزرگانِ مذہب اپنے دُہروں میں فارسی لفظ بول جاتے تھے تو گفتگو میں عام ہندو لوگ کیا اس سے کچھ زیادہ نہ بولتے ہوں گے۔\n\nاخیر میں حسن و خوبی برج بھاشا کی راجہ جے سنگھ سوانی کی قدردانی سے ظاہر ہوئی، انہوں نے ایک ایک اشرفی دہرہ کوئی اور گنوان پنڈتوں کو انعام دے کر دہلی اور نواحِ دہلی میں شوق پھیلایا۔\n\nاس عہد میں مسلمانوں کی زبان کا کیا حال ہو گا؟ ظاہر ہے کہ کئی سو برس سے اسلام آیا تھا، جن کے باپ دادا کئی کئی پشت یہیں کی خاک سے اُٹھے اور یہیں پیوند زمین ہوئے، انھیں آپس کے رشتوں اور معاملات کے سررشتوں سے ضرور یہاں کی زبان یعنی برج بھاشا بولنی ہوتی ہو گی، تازہ ولایت، آدھی اپنی آدھی ان کی ملا کر ٹوٹی پھوٹی بولتے ہوں گے، اِن زبانوں کی کوئی نثر تصنیف نہیں۔ وہی امیر خسرو کی ایک غزل اور پہیلیاں اور مکرنیاں اور گیت پتہ بتاتے ہیں کہ ۷۰۰ھ میں یہاں کے مسلمان خاصی بھاشا بولتے ہوں گے بلکہ یہی کلام یہ بھی خبر دیتے ہیں کہ مسلمان بھی اب یہیں کی زبان کو اپنی زبان سمجھنے لگے تھے۔ اور اُس زبان کو کس شوق اور محبت سے بولتے تھے، شاید بہ نسبت ہندوؤں کے فارسی عربی لفظ اُن کی زبان پر زیادہ آ جاتے ہوں گے اور جتنا یہاں رہنا سہنا اور استقلال زیادہ ہوتا گیا اتنا ہی روز بروز فارسی ترکی نے ضعف اور یہاں کی زبانوں نے زور پکڑا ہو گا۔ رفتہ رفتہ شاہجہاں کے زمانے میں کہ اقبال تیموری کا آفتاب عین اوج پر تھا، شہر اور شہر پناہ تعمیر ہو کر نئی دلی دارالخلافہ ہوئی۔ بادشاہ اور ارکانِ دولت زیادہ تر وہاں رہنے لگے۔ اہلِ سیف، اہلِ قلم، اہلِ حرفہ اور تجار وغیرہ ملک ملک اور شہر شہر کے آدمی ایک جگہ جمع ہوئے۔ ترکی میں اُردو بازار لشکر کو کہتے ہیں، اُردوئے شاہی اور دربار میں ملے جُلے الفاظ زیادہ بولتے تھے، وہاں کی بولی کا نام اُردو ہو گیا۔ اسے فقط شاہجہاں کا اقبال کہنا چاہیے کہ یہ زبان خاص و عام میں اس کے اُردو کی طرف منسوب مشہور ہو گئی، ورنہ جو نظم و نثر کی مثالیں بیان ہوئیں، اِن سے خیال کو وسعت دے کر کہہ سکتے ہو کہ جس وقت سے مسلمانوں کا قدم ہندوستان میں آیا ہو گا، اُسی وقت سے اُن کی زبان نے یہاں کی زبان پر اثر شروع کر دیا ہو گا۔ چند کوی کا کلام مل گیا، اس میں الفاظ موجود ہیں۔ محمود کے وقت کی نظم یا نثر مل جائے تو اس میں بھی ضرور ہوں گے۔\n\nبیان ہائے مذکورہ سے یہ بھی ثابت ہوا جو کچھ اس میں ہوا کسی تحریک یا ارادہ سے نہیں ہوا بلکہ زبانِ مذکور کی طبیعت ایسی ملنسار واقع ہوئی ہے کہ ہر زبان سے مِل جُل جاتی ہے۔ سنسکرت آئی اس سے مل گئی، عربی فارسی آئی اُسے بسم اللہ کہہ کر خیر مقدم کہا۔ اب انگریزی الفاظ کو اس طرح جگہ دے رہی ہے گویا اُس کے انتظار میں بیٹھی تھی۔\n\nاِسی زبان کو ریختہ بھی کہتے ہیں (پہلے شعر اُردو کو ریختہ کہتے تھے۔ میر غفر غینی کی تقریر میں دیکھو ، مرزا رفیع فرماتے ہیں :\n\nمصرعہ : شعر بے معنی سے تو بہتر ہے کہنا ریختہ\n\nکیوں کہ مختلف زبانوں نے اسے ریختہ کیا ہے۔\n\nجیسے دیوار کو اینٹ، مٹی، چونا، سفیدی وغیرہ پختہ کرتے ہیں، یا یہ کہ ریختہ کے معنی ہیں گری پڑی، پریشان چیز، چونکہ اس میں الفاظ پریشاں جمع ہیں، اس لئے اسے ریختہ کہتے ہیں، یہی سبب ہے کہ اس میں عربی، فارسی، ترکی وغیرہ کئی زبانوں کے الفاظ شامل ہیں۔ اور اب انگریزی بھی داخل ہوتی جاتی ہے اور ایک وقت ہو گا کہ عربی، فارسی کی طرح انگریزی زبان قابض ہو جائے گی، چنانچہ میں ایک نواب زادے کی گفتگو لکھتا ہوں جس کی پرورش اور تعلیم گھریلو ہے یعنی نہ عربی فارسی کی لفاظی نے اس پر رنگ چڑھایا ہے، نہ انگریزی نے روغن پھیرا ہے۔ فقط دوستانہ بے تکلفانہ باتیں ہیں۔ \"بڑے آکا کی پنشن لینے کل کچہری گیا تھا، ڈپٹی صاحب کے کمرے کے آگے کچھ قرقی کا مال نیلام ہو رہا تھا، کمریاں کوٹ اور واسکٹیں نئی تھیں، کنٹر اور گلاس بھی ولایتی تھے۔ کرسیاں، میزیں، چقیں باریک خوشرنگ تھیں۔ میں نے کہا چلو کوئی ڈھب کی چیز ہو تو لے لیں۔ منجھلے آکا بولے، جانے بھی دو، جس مال نے مالک سے وفا نہ کی، ہم سے کیا وفا کرے گا۔ آتے وہئے ریل اسٹیشن کے پاس دیکھتا ہوں کھبے مرزا جان چلے آتے ہیں۔ شکرم ٹھہرا کر بڑی تپاک سے ملے۔ بڑھاپے نے بچارے کا رنگ روپ سب کھو دیا، وہ شکل ہی نہیں وہ صورت ہی نہیں، کیسے گورے چٹے سجیلے جوان تھے۔ لوگ تصویریں اُترواتے تھے، میں نے کہا میاں ! ہم نے تو جانا تھا تم دکھن سے خوب چاک و چوبند سُرخ سفید ہو کر آؤ گے تم تو سوکھ کر قاق ہو گئے، غضب کیا اگلا جوبن بھی گنوا آئے۔ ٹھنڈا سانس بھر کے بولے ہائے جوانی۔\n\nفارسی عربی کے الفاظ تو ظاہر ہیں، مگر خیال کیجیے کہ قرق، چق، قاق آکا ترکی ہیں۔ میز (میز دری زبان میں ترجمہ ٹیبل کا ہے مگر اُردو کو یہ فارسی مروجہ سے نہیں ملا صاحب لوگوں سے پہنچا ہے۔) نامعلوم، نیلام پرتگالی ہے، کمرا اطالی ہے، ڈپٹی، ریل، اسٹیشن، کوٹ، واسکٹ، کنٹر، گلاس انگریزی ہیں۔ چٹا، کھمبا پنجابی ہے، مگر اتنا ہے کہ ہم چٹا بغیر گورے کے اور اسی طرح چنگا بغیر بھلے کے نہیں بولتے، وہ اکیلا ہی بولتے ہیں۔ کھمبا پنجابی میں عام ہے۔ خاص صفت کے ساتھ بولتے ہیں۔ بھانڈا پھوڑنا اُردو میں کسی بات یا راز کھول دینے کو کہتے ہیں۔ پنجابی میں باسن کو بھانڈا ہی کہتے ہیں۔ گلا گھونٹنا اُردو میں بولتے ہیں۔ پنجابی میں کھینچ کر باندھنے کو یا مضبوط پکڑنے کو کہتے ہیں۔ مثلاً گھُٹ کر باندھو یا گھُٹ کر پکڑو۔ بھنا، بَھنانا توڑنا اور تڑوانا ہے، اور اسی سبب سے پنجابی میں روپیہ کے لئے بھنانا کہتے ہیں، اُردو میں پہلے معنی متروک ہو گئے، دوسرے معنی رہے، وہ بھی ’‘ کو مدکر کے کہ جاؤ روپے کے ٹکے بھُنا لاؤ، اور اس اصلیت کا سُراغ یوں لگا کہ فارسی میں روپے کے لئے خوردہ کودن بولتے ہیں اور اُردو میں بھی کہتے ہیں، صُبح کو روپیہ خوردہ کیا تھا، دوپہر کو دیکھو تو برکت! یعنی سب پیسے اُٹھ گئے۔\n\nکسوٹی،گھسنا مترادف فرسودن اُردو میں بالکسر ہے، پنجابی میں اس طرح بولتے ہیں کہ کاف مفتوح معلوم ہوتا ہے اور \"ہ\" کا تلفظ عجیب ہے کہ اِن ہی کے لہجہ کے لئے خاص ہے، بہرحال اس سے کس وٹی (گھِسنے کی بَٹیا) معیار کا نام ہوا، اُردو میں یہی لفظ کسوٹی ہو گیا۔\n\nرُوپ، سجیلا، جوبن، گنوایا، برج بھاشا ہے، اِن کے علاوہ روزمرہ کی باتوں پر خیال کرو، یوسف، ہارون، موسیٰ، عیسیٰ وغیرہ عبرانی ہیں، کیمیا، فیلسوف، اصطرلاب یونانی ہیں، اُرد یعنی ماش تامل ہے، ننھا یعنی خورد گجرأتی ہے، بڑا جو کڑاہی میں تلتے ہیں، تنگو ہے، گدام ملایا کی زبان ہے، تمباکو امریکہ کا لفظ ہے، یورپ کے رستہ ہو کر اکبر کے عہد میں یہاں پہنچا۔\n\nاُردو میں اس وقت نثر کی کوئی کتاب نہ لکھی گئی، جس سے سلسلہ ان تبدیلیوں کا معلوم ہو۔ میر جعفر زٹل کے کلام کو محمد شاہی بلکہ اس سے پہلے زمانہ کا نمونہ کہتا، مگر زٹل کا اعتبار کیا؟ البتہ محمد شاہ کے عہد میں ۱۱۴۵ھ میں فضلی تخلص کے ایک بزرگ نے وہ مجلس لکھی، اس کے دیباچہ میں سبب تالیف لکھتے ہیں، اور غالباً یہی نثر اُردو کی پہلی تصنیف ہے۔ پھر دل میں گزرا کہ ایسے کام کو عقل چاہیے، کامل اور مدد کسو طرف کی ہوئے شامل کیوں کہ بے تائیدِ صمدی اور بے مدد جنابِ احدی، یہ مشکل صورت پذیر نہ ہووے6 اور گوہر مراد رشتہ امید میں نہ آوے، لہذا کوئی اس صنعت کا نہیں ہوا۔ مخترع اور اب تک ترجمہ فارسی بعبارتِ ہندی نثر نہیں ہوا، مستمع۔ پس اس اندیشہ عمیق سے غوطا کھایا اور بیابانِ تامل و تدبیر میں سرگشتہ ہوا لیکن راہ مقصود کی نہ پائی، ناگاہ نسیم عنایت الٰہی دل افگار پُر اہتزاز میں آئی، یہ بات آئینہ خاطر میں منھ دکھلائی۔\n\nمیر کی مثنوی شعلہ عشق کو بھی مرزا رفیع نے نثر میں لکھا ہے۔ افسوس کہ اس وقت موجود نہیں۔ اس کا انداز بالکل یہی ہے کہ چند فقرے سودا کے ایک دیباچہ سے نقل کرتا ہوں جو کلیات میں موجود ہیں۔\n\nنثر مرزا رفیع : ضمیر منیر پر آئینہ دارانِ معنی کے مبرہن کو محض عنایت حق تعالیٰ کی ہے جو طوطی ناطقہ شیریں سخن ہو، پس یہ چند مصرع کہ از قبیل ریختہ در ریختہ، خامہ دو زبان اپنی سے صفحہ کاغذ پر تحریر پائے، لازم ہے کہ تحویلِ سخن سامعہ سنجان روزگار کروں، تا زبانی اِن اشخاص کی ہمیشہ مور و تحسین و آفرین رہوں۔ ؂\n\nقیمتِ در قدر شناسا ہی سے پہنچے ہے بہم\n\nورنہ دنیا میں خذف بھی نہیں گوہر سے کم\n\nمضمون سینہ میں بیش از مرغِ اسیر نہیں کہ ہو بیچ قفس کے، جس وقت زبان پر آیا، فریاد بلبل ہے واسطے گوش داد رس کے، غرض جس اہل سخن کا دُر منصفی زینتِ لب ہے، سر رشتہ حسنِ معانی کا اس کلام کے اس سے انصاف طلب ہے، اگر حق تعالیٰ نے صبح کاغذ سفید کی مانند شام سیاہ کرنے کو یہ خاکسار خلق کیا ہے، تو ہر انسان کے فانوسِ دماغ میں چراغِ ہوش دیا ہے۔ چاہیے کہ دیکھ کر نکتہ چینی کرے ورنہ گزند زہر آلود سے بے اجل کاہے کو مرے۔\"\n\nاس تصنیف سے تخمیناً ۳۰ برس کے بعد جبکہ میر انشاء اللہ خاں اور مرزا جانجاناں مظہر کی دلی میں ملاقات ہوئی ہے، اس گفتگو کے چند فقرے بھی قابلِ غور ہیں۔ سید انشاء مرزا جانجاناں سے فرماتے ہیں۔\n\nسید انشاء فرماتے ہیں\n\nابتدائے سِن صبا سے تا اوائلِ ریعان، اور اوائل ریعان سے الی الآن اشتیاقِ مالا یطاقِ تقبیل عتبہ نہ سجدے تھا کہ سلکِ تحریر و تقریر میں منظم ہو سکے لہذا بے واسطہ و وسیلہ حاضر ہوا ہوں۔\n\nمرزا صاحب جواب میں فرماتے ہیں\n\nاپنے تئیں کون بھی بدرِ طفلی سے ہی ایسے اشخاص کے ساتھ موانست اور مجالست رہا کی ہے۔\n\nلیکن میر غفر غینی کے نام سے ایک گفتگو سید انشاء نے دریائے لطافت میں لِکھی ہے اسے پڑھ کر تعجب آتا ہے کہ اس صاحبِ کمال نے یہ زبان کس فصاحت کے قالب میں ڈھالی تھی کہ ان عبارتوں میں اور اس میں زمین آسمان کا فرق ہے، شاید مرزا جانجاناں اور سودا وغیرہ بزرگوں کی تحریر کچھ اور ہو گی، تقریر کا انداز اور ہو گا۔\n\nبہرحال اس وقت تک انشاء پردازی اور ترقی اور وسعتِ زبانِ اُردو کی فقط شعراء کی زبان پر تھی، جن کی تصنیفات غزلیں عاشقانہ اور قصیدے مدحیہ ہوتے تھے اور غرض ان سے فقط اتنی تھی کہ اُمراء و اہلِ دل سے انعام لے کر گزارہ کریں یا تفریح طبع یا یہ کہ ہم چشموں میں تحسین و آفرین کا فخر حاصل کریں، وہ بھی فقط نظم میں نثر کے حال پر کسی کو اصلا توجہ نہ تھی، کیونکہ کاروائی مطالبِ ضروری کی سب فارسی میں ہوتی تھی مگر خدا کی قدرت دیکھو، تھوڑے عرصے میں کئی قدرتی سامان جمع ہو گئے اور سب سے مقدم سبب اس کی عام فہمی تھی کہ ہر شخص سمجھتا تھا، اس لئے لکھنے والوں کو اسی میں داد واہ لینے کا شوق ہوا۔ میر محمد حسین تحسین نے چہار درویش کا قصہ اُردو میں لکھ کر نو طرز مرصع نام رکھا، شجاع الدولہ کے عہد میں تصنیف شروع ہوئی، ۱۷۹۷ء (۱۲۱۳ھ) نواب آصف الدولہ کے عہد میں ختم ہوئی۔\n\nادھر تو یہ چونچال لڑکا شعرا ء کے جلسوں اور اُمراء کے درباروں میں اپنے بچپنے کی شوخیوں میں سب کے دل بہلا رہا تھا، اُدھر دانائے فرنگ جو کلکتہ میں فورٹ ولیم کے قلعہ پر دُوربین لگائے بیٹھا تھا، اُس نے دیکھا، نظرباز تاڑ گیا، کہ لڑکا ہونہار ہے، مگر تربیت چاہتا ہے، تجویز ہوئی کہ جس ملک پر حکمرانی کرتے ہیں، اُس کی زبان سیکھنی واجب ہے، چنانچہ ۱۷۹۹ ء (۱۲۱۴ھ) میں میر شیر علی افسوس نے باغ اُردو اور ۱۸۰۵ ء (۱۲۴۰ھ) میں آرائش محفل لکھی۔ میر امن دہلوی نے ۱۸۰۲ ء (۱۲۱۷ھ) میں باغ و بہار آراستہ کیا۔\n\n انہی دنوں میں اخلاق محسنی کا ترجمہ لکھا۔ ساتھ ہی جان گلگرسٹ صاحب نے انگریزی میں قواعد اُردو لکھی۔ 1802 عیسوی (۱۲۱۸ھ) میں شری للوجی لال کوی نے پریم ساگر (پریم ساگر 1860 میں بھاشا ہوئی) لکھی، اور بیتال پچیسی (بیتال پچیسی 1805 عیسوی میں مظہر علی دلا نے اُردو میں لکھی) جو محمد شاہ کے زمانہ میں سنسکرت سے برج بھاشا میں آئی تھی، اب عام فہم اُردو ہو کر ناگری میں لکھی گئی، لیکن اس نقارہ فخر کی آواز کو کوئی دبا نہیں سکتا، کہ میر انشاء اللہ خان پہلے شخص ہیں جنہوں نے ۱۸۰۷ء (۱۳۲۲ھ) میں دریائے لطافت لکھ کر ایجاد کی ٹہنی میں ظرافت کے پھول کھلائے۔\n\nعجیب لطف یہ ہے کہ زبانِ اُردو کی عام فہمی دیکھ کر مذہب نے بھی اپنی برکت کا ہاتھ اُس کے سر پر رکھا یعنی 1807ء (1322ھ)میں مولوی شاہ عبد القادر صاحب نے قرآن شریف کا ترجمہ اُردو میں کیا، بعد اس کے مولوی اسمٰعیل صاحب نے بعض رسالے عام اہلِ اسلام کی فہمائش کے لئے اُردو میں لکھے۔\n\n1835 عیسوی سے دفاترِ سرکاری بھی اُردو ہونے شروع ہوئے۔ چند سال کے بعد کُل دفتروں میں اُردو زبان ہو گئی، اسی سنہ میں اخباروں کو آزادی حاصل ہوئی۔ ۱۸۳۶ عیسوی میں اُردو کا اخبار دلی میں جاری ہوا، اور یہ اس زبان میں پہلا اخبار تھا کہ میرے والد مرحوم کے قلم سے نکلا۔\n\nغرض اپنی آسانی کے وصف سے اور اس لحاظ سے کہ ملکی زبانی یہی ہے، دفتری زبان بھی یہی ٹھہری۔ اُردو نے آہستہ آہستہ فارسی کو پیچھے ہٹانا اور اپنا قدم آگے بڑھانا شروع کیا، تب سرکار نے مناسب سمجھا کہ اس ملک کے لوگوں کو ان ہی کی زبان میں انگریزی علوم و فنون سکھائے جائیں۔ چنانچہ 1842 عیسوی سے دلی میں سوسائٹی قائم ہو کر ترجمے ہونے لگے اور ضرورت علمی الفاظ بہم پہنچانے لگی، خیال کرو کہ جس زبان کی فقط اتنی بنیاد ہو وہ زبان کیا اور اُس کی وسعت کا میدان کیا، البتہ اب امید کر سکتے ہیں کہ شاید یہ بھی ایک دن علمی زبانوں کے سلسلہ میں کوئی درجہ پا جائے۔\n\nاُردو اس قدر جلد جلد رنگ بدل رہی ہے کہ ایک مصنف اگر خود اپنی ایک سنہ کی تصنیف کو دوسرے سنہ کی تصنیف سے مقابلہ کرے تو زبان میں فرق نظر آئے گا۔ باوجود اس کے اب تک بھی اس قابل نہیں کہ ہر قسم کے مضمون خاطر خواہ ادا کر سکے یا ہر علم کی کتاب کو بے تکلف ترجمہ کر دے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اکثر علوم اور ہزاروں مسائل علمی ممالکِ فرنگ میں ایسے نکلے ہیں کہ زمانہ سلف میں بالکل نہ تھے، اس واسطے عربی، فارسی، سنسکرت، بھاشا وغیرہ جو کہ اُردو کے بزرگ ہیں، اُن کے خزانہ میں اس کے ادائے مطلب کے لئے الفاظ نہیں اور اس میں ہم اُردو بچاری کے افلاس پر چنداں تعجب نہیں کر سکتے۔ خصوصاً جب کہ ہندو مسلمان اپنے اپنے بزرگوں کی میراث کو بھی ہاتھ سے کھوئے بیٹھے ہوں۔\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nبرج بھاشا پر عربی اور فارسی زبانوں نے کیا کیا اثر کئے ؟\n\nجب دو صاحبِ زبان قومیں باہم ملتی ہیں تو ایک کے رنگ و رُوپ کا دوسرے پر ضرور سایہ پڑتا ہے، اگرچہ اس کے اثر، گفتگو، لباس، خوراک، نشست، برخاست مختلف رسوم میں بھی ہوتے ہیں، لیکن چونکہ مجھے اس مقام پر زبان سے غرض ہے، اس لئے اسی میں گفتگو کرتا ہوں، ظاہر ہے کہ جب ایک قوم دوسرے قوم میں آتی ہے، تو اپنے ملک کی صدہا چیزیں ایسی لاتی ہے کہ جو یہاں نہیں تھیں، اشیائے مذکورہ کبھی ضروری اور کبھی ایسی باعثِ آرام ہوتی ہیں، کہ اُنھیں استعمال میں لینا ضروریات زندگی سے نظر آتا ہے، اس لئے یہ لوگ انھیں غنیمت سمجھ کر لیتے ہیں اور بخوشی کام میں لاتے ہیں، ان اشیاء میں سے بہتیری چیزیں تو نام اپنے ساتھ لاتی ہیں اور بہتیری نئی ترکیب سے، یا ادل بدل کر یہاں نیا نام پاتی ہیں اور یہ پہلا اثر دوسری زبان کا ہے، اس کے علاوہ جب یہ دونوں ایک جگہ رہ سہ کر شیر و شکر ہوتی ہیں تو ایک زبان میں دوسری زبان کے لفظ گھل مِل جاتے ہیں۔\n\nجب مہمان و میزبان ایک دوسرے کی زبان سمجھنے لگتے ہیں تو ایک خوشنما اور مفید تبدیلی کے لئے رستہ پیدا ہوتا ہے، کیوں کہ اگرچہ طبعِ انسانی کے اتحاد سے سب کے خیالات متفق یا قریب قریب ہوں مگر اندازِ بیان سب کا جُدا جُدا ہے، اور طبیعت ہمیشہ نئے انداز کو پسند کرتی ہے۔ اس لئے ادائے مطلب میں ایک دوسرے کے اندازِ بیان سے بھی فائدہ اُٹھاتے ہیں، پھر نئی نئی تشبیہیں، لطیف استعارے لے کر اپنی پُرانی تشبیہوں اور مستعمل استعاروں کا رنگ بدلتے ہیں اور جس قدر زبان میں طاقت ہے، ایک دوسرے کے خیالات اور نئی طرز کو لے کر اپنی زبان میں نیا مزہ پیدا کرتے ہیں۔\n\nیہ انقلاب حقیقت میں وقت بوقت ہر ایک زبان پر گزرتا ہے، چنانچہ قومِ عرب نے جو ایک زمانہ میں رُوم، یونان اور ہسپانیہ وغیرہ سے خلط ملط ہوئی تھی، ہزاروں لفظ علمی اور غیر علمی وہاں سے لئے، اسی طرح فارسی زبان عربی و ترکی وغیرہ الفاظ سے مالا مال نظر آتی ہے، انگریزی کے باب میں مجھے کچھ کہنا زیبا نہیں، کیونکہ اب روشن ضمیر انگریزی خوان بہت ہیں، اور مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، مگر اتنا کہنا کافی ہے کہ جس طرح ایک مہذب سلطنت کو تمام ضروریاتِ سلطنت کے کارخانے اور ملکی سامان کی ضرورت ہے، اسی طرح سب قسم کے الفاظ اور تمام ادائے خیالات کے انداز انگریزی زبان میں موجود ہیں۔\n\nاب مجھے اپنی زبان میں گفتگو کرنی چاہیے لیکن اتنا یاد دلانا واجب ہے کہ اُردو کہاں سے نکلی ہے اور کیوں کر نکلی ہے ؟ اُردو زبان اول لین دین، نشست برخاست کی ضرورتوں کے لئے پیدا ہو گئی، ہندوؤں کے ساتھ ہندی مسلمان جو اکثر ایرانیوں یا ترکستانیوں کی اولاد تھے، ہندوستان کو وطن اور اس زبان کو اپنی زبان سمجھنے لگے، یہ بھی ظاہر ہے کہ جس طرح زمین بے روئیدگی کے نہیں رہ سکتی، اسی طرح کوئی زبان بے شاعری کے نہیں رہ سکتی۔ محمد شاہی دَور تھا اور عیش و عشرت کی بہار تھی، ان شرفا کو خیال آیا ہو گا کہ جس طرح ہمارے بزرگ اپنی فارس کی انشاء پردازی میں گلزار کھلاتے تھے، اب ہماری زبان یہی ہے، ہم بھی کچھ اس میں رنگ دکھائیں، چنانچہ وہی فارس کے خاکے اُردو میں اُتار کر غزل خوانیاں شروع کر دیں اور قصیدے کہنے لگے، اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جو کچھ قوتِ بیان یا لفظوں کی تراش، یا ترکیبوں کی خوبصورتی یا تشبیہ اور استعاروں کی رنگینی غرض اول جو کچھ نصیب ہوا، شعرائے اُردو کی بدولت ہوا اور یہی سبب ہے کہ جو کچھ سامان ایک ملکی اور ٹکسالی زبان کے لئے درکار ہوتے ہیں، اُس سے یہ زبان مفلس رہی، کیوں کہ اِس عہد میں علوم و فنون، تاریخ، فلسفہ، ریاضی وغیرہ کا چرچا عام ہوتا تو اس کے لئے بھی الفاظ ہو جاتے، جن جن باتوں کا چرچا تھا، انہی سامانوں کے الفاظ اور خیالات پیدا ہوئے، ہاں یہ کہنا ضرور چاہیے کہ جو کچھ ہوا تھا، اپنے رنگ پر خوب ہوا تھا۔\n\nاب ہمیں پھر مطلب پر آنا چاہیے کہ بھاشا نے اُردو کے کپڑے پہننے کے لئے فارسی سے کیا کیا لیا۔\n\n۱) ان چیزوں کے نام لئے جو عرب اور فارس سے آئیں اور اپنے نام اپنے ساتھ لائیں، مثلاً لباس میں فرغل، کُرتہ، قبا، چوغا، آستین، گریبان، پائجامہ، ازار، عمامہ، رومال، شال، دوشالہ، تکیہ، گاؤ تکیہ، برقع، پوستین، وغیرہ۔\n\nکھانے کے ذیل میں : دسترخوان، چپاتی، شیرمال، باقرخانی، پلاؤ، زردہ، مزعفر، قلیہ، قورمہ، متنجن، فرنی، ماقوتی، حریرہ، حریسہ، لوز، مربے، اچار، فالودہ، گلاب، بید مشک، کوان، طبق، رکابی، طشتری، کفگیر، چمچہ، سینی، کشتی، چائے، جوش وغیرہ۔\n\nمتفرقات میں : حمام، کیسہ، صابون، شیشہ، شمع، شمعدان، فانوس، گلگیر، تنور، رفیدہ، مشک، نماز، روزہ، عید، شب برات، قاضی، ساقی، حقہ، نیچہ، چلم، تفنگ، بندوق، تختہ زد، گنجفہ اور اُن کی اصطلاحیں، یہ سب چیزیں اپنے نام ساتھ لے کر آئیں، بہت سی چیزیں آئیں کہ بھاشا میں اُن کے لئے نام نہیں، سنسکرت کی کتابوں میں ہوں گے، پستہ، بادام، منقے، شہتوت، بیدانہ، خوبانی، انجیر، سیب، بہی، ناشپاتی، انار وغیرہ،\n\n۲) بہت سے عربی فارسی کے لفظ کثرتِ استعمال سے اس طرح جگہ پکڑ بیٹھے ہیں کہ اب اُن کی جگہ کوئی سنسکرت یا قدیمی بھاشا کا لفظ ڈھونڈھ کر لانا پڑتا ہے۔ مگر اس میں یا تو مطلب اصلی فوت ہو جاتا ہے، یا زبان ایسی مشکل ہو جاتی ہے کہ عوام تو کیا خواص ہنود کی سمجھ میں نہیں آتی، مثلاً دلّال، فراش، مزدور، وکیل، جلاد، صراف، مسخرا، نصیحت، لحاف، توشک، چادر، صورت، شکل، چہرہ، طبیعت، مزاج، برف، فاختہ، قمری، کبوتر، بلبل، طوطا، پر، دوات، قلم، سیاہی، جلاب، رقعہ، عینک، صندوق، کرسی، تخت، لگام رکاب، زین، تنگ، پوزی، فعل، کوتل، عقیدہ، وفا، جہاز، مستول، بادبان، تہمت، درہ، پردہ، دالان، تہ خانہ، تنخواہ، ملاح، تازہ، غلط، صحیح، رسد، سرباری، کاریگر، ترازو، شطرنج کے باب میں تعجب ہے کہ خاص ہندو کا ایجاد ہے، مگر عرب اور فارس سے جو پھر کر آئی تو سب اجزاء کے نام اور اصطلاحیں بدل آئی۔\n\n(حاشیہ : بہت سی چیزیں ہندی کی ہیں مگر اپنے نام کھو بیٹھیں۔)\n\nسینکڑوں لفظ عربی، فارسی کے یہاں آئے، مگر ہوا موافق نہ آئی، اس لیے مزاج اور صورت بگڑ گئی۔ مثلاً مرغا وغیرہ،\n\nصرف میں فارسی نے ہندی پر کیا اثر کیا\n\nصرف۔ میں فارسی سے کچھ نہیں لیا۔ خود اتنا کیا کہ دن علامت جمع ہندی کو عربی فارسی لفظوں پر بھی لگا لیا، مثلاً آدمیوں، انسانوں، درختوں، میوؤں۔\n\nاسمِ فاعل : فارسی عربی کے بے شمار لئے اور ان میں شطرنج باز کے قیاس پر چوپڑ باز اور وفادار کے قیاس پر ظرفاً سمجھ دار سمجھ ناک بھی بول دیتے تھے۔ باغبان کے قیاس پر گاڑی بان، ہاتھی بان، بہلبان، مگر بان اور دان حقیقت میں ایک ہیں کیونکہ اصل میں دونوں زبانیں ایک دادا کی اولاد ہیں، اس کی تحقیق جیسی کہ چاہیے فارسی لکچروں میں لکھی ہے۔\n\nاسمِ ظرف : قلمدان وغیرہ کے قیاس پر خاصدان، پاندان، ناگردان، پیک دان، مودیخانہ، پیخانہ۔\n\nبابِ حروف کا بھی یہی حال ہے، مثلاً حرف، تشبیہ کوئی نہیں لیا، مگر چنانچہ اور چونکہ موجود ہیں اور اس طرح آتے ہیں کہ ترجمہ کے لئے ہندی حرف معلوم ہی نہیں ہوتا۔\n\nحرفِ شرط میں اگر، اور اس سے اگرچہ بھی لیا۔\n\nواؤ عاطفہ : سمیت، معطوف اور معطوف علیہ، اُردو عبارت میں لے لئے مثلاً آب و ہوا، شب و روز، صبح و شام، زور و شور۔\n\nحرفِ استثنا میں سے مگر اور عربی کے لفظ سوا، ماسوا، الا، والانہ، لیکن و لیکن لے لئے۔ اپنے حرفوں کو گم کر دیا۔\n\nحروفِ نفی نا اور بنا کی جگہ نہ اور نے، آ گئے\n\nحروفِ ایجاب رہے مگر ادب کی جگہ میں، سب بچن وغیرہ کی جگہ بجا، درست، واقعی، حق، بے شک، برحق، بہ سر و چشم، آ گئے، اصل زبان کے لفظ نہ رہے۔\n\nحروفِ تاکید کی جگہ ہرگز، زنہار، ضرور، البتہ آ گئے۔ اصلی لفظ گم ہو گئے۔\n\nحروفِ تردید کی جگہ با، خواہ ہیں، اصل گم۔\n\nحروفِ تمنا میں سے کوئی حرف نہیں۔ کاش فارسی کا لفظ ہے۔\n\nحروفِ ترقی میں بل تو نہیں بولتے، بلکہ اپنے موقع پر آتا ہے۔\n\nاسم کی بحث میں اسمائے اشارہ میں سے کچھ نہیں لیا، مگر ازانجاکہ، باآنکہ، باآینکہ، مرکب ہو کر بہت آتے ہیں۔\n\nموصولات میں سے کچھ نہیں لیا، مگر کاف بیانیہ اس طرح آنے لگا کہ بے اس کے کلام ہی بے مزہ ہو جاتا ہے۔ کیسا، ایسا، جیسا کی جگہ کس طرح وغیرہ کس وضع وغیرہ، کتنا، اتنا، جتنا کی جگہ کس قدر وغیرہ بولنے لگے۔\n\nیائے نسبت کی ترکیبوں میں فارسی عمومی کے بموجب نسبتی الفاظ بولنے لگے چنانچہ دلی وال کی جگہ دہلوی بولتے ہیں۔ اسی طرح اور الفاظ ہیں اور عورتوں میں شیخانی، سیدانی، اُستانی وغیرہ وغیرہ۔\n\nباوجودیکہ ہندی کے مصدر موجود تھے، مگر صدہا مصادر مرکبہ بنا لئے مثلاً مانا اب کہتے ہیں، ہر چند سمجھایا، اُس نے منظور نہ کیا، کسی عنوان قبول نہ کیا یعنی نہ مانا۔\n\nمُکرنا : اب کہتے ہیں، پہلے قبول دیا تھا پھر انکار کر گیا یعنی مُکر گیا۔\n\nسوچنا : اب کہتے ہیں ہر چند فکر کرتا ہوں، عقل کام نہیں کرتی۔\n\nپچتانا : اپنے کئے پر بہت پشیمان ہوا، مگر اب کیا ہو سکتا ہے یعنی پچتانا۔ اسی طرح خوش ہونا، غصے ہونا، خفا ہونا، تنگ ہونا، دق ہونا، غمگین ہونا، تماشہ دیکھنا، سیر کرنا، انتظار کرنا، راہ دیکھنا، یہاں تک کہ بہتیرے مصدروں کی اصل ہندی گم ہو گئی، اس سے بڑھ کر یہ عربی فارسی کے مصدر یا مشتقات لے کر ہندی کا اشتقاق کر لیا۔\n\nگزشتن سے گزرنا، اور اس کے افعال محاورہ ہے کہ گئی گزری بات کا اب کیا کہنا۔\n\nفرمودن سے فرمانا، اور اس کے بہت سے افعال۔\n\nقبول سے قبولنا محاورہ ہے، بڑا عادی چور تھا، ہرگز نہ قبولا۔\n\nبدل سے بدلنا اور اس کے بہت سے افعال محاورہ ہے، کہ اَدلے کا بدلہ ہے صاحب۔\n\nبخشیدن سے بخشنا\n\nنواختن یا نوازس سے نوازنا۔\n\nکاہلی سے کہلانا، میاں مجبور ایک قدیمی شاعر تھے۔ اُستاد مرحوم اُن کی باتیں کیا کرتے تھے کہ بڈھے دیرینہ سال تھے، مکتب پڑھایا کرتے تھے، ایک دفعہ مشاعرہ میں غزل پڑھی، دیکھا کس خوبصورتی سے فعل مشتق بٹھایا ہے۔ شعر\n\nباتیں دیکھ زمانہ کی، جی بات سے بھی کُمھلاتا ہے\n\nخاطر سے سب یاروں کی مجبور غزل کیا لاتا ہے\n\nنحو میں ترکیب اضافی، ترکیب توصیفی، کہیں مبتدا، کہیں کبر ہو کر تمام ہندی پر چھا گئی۔ اس میں پہلا فائدہ یہ ہوا کہ اختصار کے لحاظ سے لفظوں کا پھیلاؤ کم ہو گیا۔\n\nدوسرے جمع موصوف ہوا تو اسم صفت موصوف کو بھی اس کے لئے جمع لاتے تھے، اب واحد لاتے ہیں۔ شعر\n\nملائم ہو گئیں دل پر بَرہ کی ساعتیں کڑیاں\n\nپہر کٹنے لگے اُن بِن نہ کٹتیں جن بنا گھڑیاں\n\nاب گھڑی ساعتیں بولتے ہیں۔\n\n تیسرے صیغہ مضارع بمعنی حال، سودا\n\nنالہ سینے سے کرے عزمِ سفر آخر شب\nراہ رو چلنے پہ باندھے ہے کم آخر شب\n\nچوتھے یہ کہ اقسام اضافت میں تشبیہ اور استعارے کے رنگ سے سیدھی سادی زبان رنگین ہو گئی۔ چنانچہ بھاشا میں کہنا ہو تو کہیں گے، راج کنور کے دل کے کنول کی کملاہٹ دربار کے لوگوں سے نہ دیکھی گئی، اُردو میں کہیں گے، شہزادہ کے غنچہ دل کی کُملاہٹ اہل دربار سے نہ دیکھی گئی۔\n\nولی وغیرہ متقدمین کے کلاموں میں ایسی ترکیبیں بہت ہیں، بلکہ آدھے آدھے اور سارے سارے مصرع فارسی کے ہیں۔ مگر کچھ اور طرح سے علیٰ ہذا القیاس بھاشا کے الفاظ اور ترکیبیں بھی زیادہ ہیں اور اس طرح ہیں کہ آج لوگوں کو فصیح نہیں معلوم ہوتیں، اس کی مثال ایسی ہے گویا دودھ میں مٹھاس ملائی مگر وہ ابھی اچھی طرح گھُلی نہیں۔ ایک گھونٹ خاصا میٹھا، ایک بالکل پھیکا ہے، پھر ایک مصری کی ڈلی دانت تلے آ گئی، ہاں اب گھُل مل کر وہ مرتبہ حاصل ہوا جسے شیر و شکر کہتے ہیں۔ بعض اشخاص یہ بھی کہتے ہیں کہ خالی بھاشا میں کچھ مزہ نہیں، اُردو خواہ مخواہ طبیعت کو بھلی معلوم ہوتی ہے مگر میری عقل دونوں باتوں میں حیران ہے، کیونکہ جب کوئی کہے آج ایک شخص آیا تھا، یا یہ کہیں کہ ایک منش آیا تھا، تو دونوں یکساں ہیں، کیوں کر کہوں کہ منش مخالف طبع ہے۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہم بچپن سے \"شخص\" سنتے ہیں، اس لئے ہمیں منش یا مانس نامانوس معلوم ہوتا ہے، اسی طرح اور الفاظ جن کی تعداد شمار سے باہر ہو گئی ہے۔\n\nاس سے زیادہ تعجب یہ ہے کہ بہت سے لفظ خود متروک ہیں، مگر دوسرے لفظ سے ترکیب پا کر ایسے ہو جاتے ہیں کہ فصحا کے محاورہ میں جان ڈالتے ہیں، مثلاً یہی مانس کہ اکیلا محاورہ میں نہیں مگر سب بولتے ہیں کہ احمد ظاہر میں تو بھلا مانس معلوم ہوتا ہے باطن کی خبر نہیں۔\n\nبندھو! بھاشا میں بھائی یا دوست کو کہتے ہیں۔ اب محاورہ میں بھائی بند کہتے ہیں۔ نہ فقط بندھو، نہ بھائی بندھو اور ان استعمالوں کی ترجیح کے لئے دلیل کسی کے پاس نہیں جو کچھ جس زمانہ میں رواج ہو گیا وہی فصیح ہو گیا۔ ایک زمانہ آئے گا، ہمارے محاورہ کو لوگ بے محاورہ کہہ کر ہنسیں گے۔\n\nاگرچہ یہ بات بغیر تمثیل دیکھنے کے بھی ہر شخص کے خیال میں نقش ہے کہ سنسکرت اور برج بھاشا کی مٹی سے اُردو کا پُتلا بنا ہے، باقی اور زبانوں کے الفاظ نے خط و خال کا کام کیا ہے مگر میں چند لفظ مثالاً لکھتا ہوں، دیکھو سنسکرت الفاظ جب اُردو میں آئے تو اُن کی اصلیت نے انقلابِ زمانہ کے ساتھ کیوں کو صورت بدلی ہے۔\n\nچُورن – سنسکرت ہے یعنی آٹا۔ بھاشا میں چون کہتے ہیں، اُردو میں چُورن پسی ہوئی دوا کو کہتے ہیں، اور کُٹی ہوئی چیز کے نیچے جو باریک اجزا رہ جائیں وہ چُورا ہے۔\n\nپشٹ – سنسکرت ہے۔ برج بھاشا میں پسان اسی سے ہے، پسنہاری اُردو میں پیٹھی پسی ہوئی دال کے لئے خاص ہو گئی اور پیسنا مصدر ہو گیا۔\n\nاٹ – جسے برج بھاشا اور اُردو دونوں میں آٹا کہتے ہیں۔\n\nوارتا، یا درت اُردو میں بات ہو گئی۔\n\nچتردھر – اُردو میں چودھری ہو گیا۔\n\nچندر، چاندری، سنسکرت ہے، اُردو میں چاند اور چاندنی ہو گیا۔\n\n(گڈھ) گڑھ، گھر یعنی خانہ، اور کیا عجب ہے، کہ فارسی میں کد یا کدہ بھی یہی ہو۔\n\nہست – ہاتھ ہے۔\n\nہستی کا ہاتھی ہو گیا۔\n\nبازو – سنسکرت ہے، بھاشا، باور، اُردو بادل یعنی ابر ہو گیا۔\n\nدَل – ایک ایک چیز کے دو دو ٹکڑے کرنے کو کہتے ہیں، بھاشا اور اُردو میں دال خاص غلہ کے لئے اور دَلنا مصدر نکل آیا۔\n\nکشیر دودھ، بھاشا، کھیر، یا چھیر اُردو میں دودھ چاول سے تیار ہوتی ہے۔\n\nدُگدھ سنسکرت ہے، بھاشا دُددھ ہوا، اب اُردو میں دودھ کہتے ہیں۔\n\nماش یا ماکھ، ماس، اُردو میں مہینا ہو گیا۔\n\nگانڈا، اُردو میں گنا ہو گیا مگر گنڈیری میں ڈال باقی رہی، بہت سے الفاظ ہیں کہ عربی فارسی نے اُردو کو دیئے، اُردو نے کہیں تو لفظوں میں کچھ تصرف کیا، معنی وہی رکھے، کہیں لفظوں کو سلامت رکھا، معنی کچھ سے کچھ کر لئے، مثلاً :\n\nفیلسوف – یونانی لفظ ہے، بمعنی محب الحکمت، جسے عربی میں حکیم اور انگریزی میں ڈاکٹر یا فلوزفر کہتے ہیں، مگر اُردو والے دغا باز اور مکار کو کہتے ہیں اور فیلسوفی مکاری۔\n\nابا – اما – اب اور اُم سے نکلے ہیں۔\n\nخصم – عربی میں بمعنی مقابل یا دشمن ہے مگر اُردو میں خاوند بمقابل جورو کے ہے جس سے زیادہ کوئی دنیا میں عزیز نہیں۔\n\nتماشا – سَیر، عربی میں فقط بمعنی رفتار ہے، اُردو میں کہتے ہیں، چلو باغ کی سیر دیکھ آئیں عجب تماشا ہے۔\n\nاخلاص – عربی میں خالص کرنے کو کہتے ہیں، اُردو والے پیار، اخلاص محبت ایک معنوں میں بولتے ہیں۔\n\nخیرات۔ عربی لفظ ہے، یعنی نیکیاں، اُردو میں خیرات دو، صدقہ اُتار دو۔\n\nتکرار۔ عربی میں دوبارہ کہنے یا کام کرنے کو کہتے ہیں، اُردو میں نزاع یا جھگڑے کو کہتے ہیں۔\n\nطوفان۔ عربی لفظ ہے۔ فارسی میں کسی شے کی حالتِ افراط کو کہتے ہیں، اُردو میں بمعنی تہمت بھی آتا ہے۔\n\nخفیف۔ عربی میں ہلکی شے کو کہتے ہیں، ہندی میں کہتے ہیں، وہ مجھ سے ذرا ملے تو سہی دیکھو کیسا خفیف کرتا ہوں یعنی شرمندہ۔\n\nمصالح۔ جمع مصلحت، یا صلح کا مخفف ہے، اُردو میں گرم مصالح وغیرہ اور سامانِ عمارت کو بھی مصالح کہتے ہیں۔\n\nخاطر۔ عربی فارسی میں دل یا خیال کے موقع پر بولتے ہیں، اُردو میں کہتے ہیں کہ بھلا ایک گھونٹ تو ہماری خاطر سے بھی لو یا ان کی بڑی خاطر کی۔\n\nدستوری۔ جن معنوں میں یہاں بولتے ہیں، یہ یہیں کا ایجاد ہے۔ پنجابی میں جھونگا کہتے ہیں۔\n\nروزگار۔ فارسی میں زمانہ کو کہتے ہیں، ہندی میں روزگار نوکری ہے۔\n\nرومال۔ جن معنوں میں یہاں بولتے ہیں یہ یہیں کا ایجاد ہے، فارسی میں روپاک یا دست پاک ہے۔\n\nخیر و صَلاح۔ عوام الناس خیرسَلا کہتے ہیں یعنی صحت و سلامت۔\n\nرسَد۔ اگرچہ فارسی لفظ معلوم ہوتا ہے مگر اہلِ فارس ان معنوں میں نہیں بولتے۔\n\nبہت الفاظ اس طرح لئے کہ معنوں کے ساتھ اُن کی صورت بھی بدل دی، اگرچہ ان میں سے عوام الناس بولتے ہیں، مگر بعض الفاظ خواص کی زبانوں تک بھی پہنچ گئے، مثلاً :\n\nاروادہ۔ کہ اسل آروابہ تھا\n\nپجادہ۔ پزداہ پزیدن سے\n\nشردا۔ شوربا، یا شورابہ\n\nٹاٹ بافی۔ تاربافی\n\nکھیسا۔ کیسہ\n\nزری کونا۔ زری کُہنہ\n\nکہگل۔ کاہ گل\n\nتارتلا۔ تارطلا یعنی زری کہنہ\n\nہمام دستہ۔ ہاون دستہ\n\nتانے۔ تشنے۔ طعن و تشنیع\n\nبجاز۔ بزاز\n\nبَک بَک جھِک جھِک۔ زق زق، بق بق\n\nقبور۔ قربوس\n\nتوبہ تنسوہا۔ توبتہً نصوحا\n\nدسپناہ۔ دست پناہ، یہیں کی فارسی ہے\n\nتاشہ پ تاسہ اور تاسک فارسی لفظ ہے۔\n\nمردار سنگ۔ مردہ سنگ\n\nسہ بندی۔ سپہ بندی، نو نگہداشت فوج\n\nگدڑی۔ گذری\n\nغرفِش۔ غُرش\n\nافراتفری۔ یعنی افراط و تفریط۔ اصل میں نہایت بہتات، اور نہایت کمی کے معنی ہیں، اب کہتے ہیں عجب افراتفری پڑ رہی ہے، یعنی ہلچل پڑ رہی ہے۔\n\nقلانچ۔ قلاش۔ یا قلانچ، ترکی میں دونوں ہاتھوں کے درمیان کی وسعت کو کہتے ہیں۔ اسی طرح کپڑا ناپنے کا پیمانہ ہے، یہاں خرگوش یا ہرن وغیرہ جانور دوڑتے ہیں تو کہیں گے کہ قلانچیں بھرتے پھرتے ہیں۔ ذوق شعر :\n\nوحشی کو دیکھا ہم نے اُس آہو نگاہ کے\n\nجنگل میں بھر رہا ہے قلانچیں ہرن کیساتھ\n\nآکا۔ ترکی میں بڑے بھائی کو کہتے ہیں، یہاں آکا، یار دوست کو بولتے ہیں۔ اس میں کچھ بانکپن کو بھی دخل ہے۔\n\nقیورق۔ ترکی میں شے محفوظ کو کہتے ہیں، یہاں جو شے حاکم کی ضبطی میں آئے، اسے قرق کہتے ہیں۔\n\nمشاطہ۔ مُشط عربی میں کنگھی کو کہتے ہیں، فارسی میں مشاطہ اُس عورت کو کہتے ہیں جو عورتوں کو بناؤ سِنگار کروائے، جیسے ہندوستان میں نائن، اُردو میں مشاطہ بضم اول، اور تخفیف ثانی اُس عورت کو کہتے ہیں جو زن و مرد کی نسبت تلاش کرے اور شادی کروائے۔\n\nمرغا۔ فارسی میں مرغ، فقط پرندہ ہے۔ اُردو میں مُرغا، خروس مرغی، ماکیان کو کہتے ہیں اور ان کے ہاں ہر جمعہ کو مرغوں کی پالی بندھتی ہے۔\n\nچغ۔ یا چق، ترکی میں باریک پردہ کو کہتے ہیں۔\n\nکتا۔ ترکی میں بڑے کو کہتے ہیں، یہاں کٹا موٹے کو کہتے ہیں۔ ہٹا کٹا محاورہ ہے۔\n\nنظر۔ بالتحریک ہے مگر جمع اس کی بسکونِ اوسط ہی بولتے ہیں۔ وزیر شعر\n\nترچھی نظروں سے نہ دیکھو عاشق دلگیر کو\n\nکیسے تیر انداز ہو سیدھا تو کر لو تیر کو\n\nخط۔ مشدد ہے، مگر اب کہتے ہیں، آج کل خطوں میں آداب و القاب کا دستور ہی نہیں رہا، کسی اُستاد کا شعر ہے :\n\nصاف تھا جب تک کہ خط تب تک جواب صاف تھا\n\nاب تو خط آنے لگا شاید کہ خط آنے لگا\n\nغم۔ بھی عربی میں مشدد ہے۔ فارسی اور اُردو میں بالتخفیف بولتے ہیں۔\n\nطرح۔ عربی میں بالتسکین ہے۔ اُردو کے اہل محاورہ اور شاعر بھی بالتحریک باندھتے ہیں۔\n\nمحل۔ با تشدید ہے مگر کہتے ہیں، کل بھولی بھٹیاری کے محلوں پر بسند ہے۔ بھولی بھٹیاری کو کوئی بو علی بختیاری کا مخفف و مبدل کہتا ہے، کوئی کہتا ہے بھول بھئی کا۔\n\nبجے منڈل۔ بدیع منزل کا مخفف و مبدل ہے۔ دلی کے باہر شاہانِ قدیم کی تعمیرات سے ایک مشہور عمارت ہے۔\n\nمرزا حس کو پیار سے مرزا حسنو کہتے ہیں، اور یہاں س ساکن ہی بولنا فصیح ہے۔\n\nکلمہ۔ لام کی زیر سے ہے۔ محاورہ میں بہ سکون لام بھی بولتے ہیں اور وہی بھلا معلوم ہوتا ہے۔ جرأت نے کیا خوب کہا ہے :\n\nکلمہ بھرے ترا، جسے دیکھے تو بھر نظر\n\nکافر اثر ہے یہ تری کافر نگاہ کا\n\nنشاہ۔ اہل محاورہ اسے بھی نَشَا کہتے ہیں، ذوق نے کیا خوب کہا ہے :\n\nجتنے نشے ہیں یاں، روشِ نشہ شراب\n\nہو جاتے بدمزہ ہیں جو بڑھ جاتے حد سے ہیں\n\nکھُلا نشے میں جو پگڑی کا پیچ اس کا میر\n\nسمندِ ناز کو اک اور تازیانہ ہوا\n\nاس طرح سینکڑوں لفظ ہیں جن کی تفصیل بے فائدہ طویل ہے۔\n\nانگریزی زبان بھی اپنی عملداری بڑھاتی چلی آتی ہے۔ ہندو، مسلمان بھائیوں کو اس دن کا انتظار چاہیے کہ عربی، فارسی کے لفظ جو اب تک ہمارے تمھارے باپ دادا بولتے رہے، آیندہ ان کی جگہ اس کثرت سے انگریزی لفظ نظر آئیں گے کہ عربی، فارسی کے لفظ خود جگہ چھوڑ چھوڑ بھاگ جائیں گے، چند لفظ ایسے بھی دکھانے چاہئیں جو مختلف ممالک یورپ کے ہیں اور اب ہماری زبان میں اس طرح پیوند پا گئے ہیں کہ جوڑ تک نہیں معلوم ہوتا۔ مثلاً :\n\nکمرا۔ اطالی ہے۔\n\nاسٹام۔ سٹمپ انگریزی ہے۔\n\nنیلام۔ پُرتگالی ہے، وہ لیلام کہتے ہیں۔\n\nبِسکُٹ۔ بِسکٹ انگریزی ہے۔\n\nپادری۔ زبان لاطینی سے آیا ہے۔\n\nپنشن۔ انگریزی ہے۔\n\nلالٹین۔ لین ٹرین انگریزی ہے۔\n\nبوتام۔ بوتان فرنچ ہے۔\n\nپستول۔ پسٹل انگریزی ہے۔\n\nبٹن۔ بٹن انگریزی ہے۔\n\nفرانیل۔ یا فلالین، فلنیل انگریزی ہے۔\n\nبگی۔ انگریزی ہے۔\n\nبابنٹ۔ بابی نٹ، ایک جالی کی قسم کا کپڑا۔\n\nگلاس۔ انگریزی میں عام شیشہ ہے۔\n\nبوتل۔ باٹل انگریزی ہے۔\n\nمیم۔ میڈم انگریزی ہے۔\n\nدرجن۔ ڈزن انگریزی ہے۔\n\nاَردَلی۔ آرڈرلی۔\n\nاِسی طرح اسٹیشن، ٹکٹ، ریل، پولیس وغیرہ صدہا لفظ ہیں کہ خاص و عام سے بڑھ کر عورتوں کی زبان تک پہنچ گئے ہیں۔ اور جو الفاظ دفتروں اور کچہریوں اور صاحب لوگوں کے ملازم بولتے ہیں، اگر سب لکھے جائیں تو ایک ڈکشنری بن جائے۔\n\nہر زبان کے فصحا کا قاعدہ ہے کہ اپنی زبان میں تصرفات لطیف سے کچھ ایجاد کر کے نئے الفاظ اور اصطلاحیں پیدا کرتے ہیں، ہماری اُردو بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں رہی۔ ان اصطلاحوں کی بنیاد اگرچہ اتفاقی پڑتی ہے، مگر اُن لوگوں کی طبیعت سے ہوتی ہے جو علم کے ساتھ فکرِ عالی، طبیعتِ براق، ذہنِ پُر ایجاد اور ایجاد دلپذیر رکھتے ہیں، اُنھی کے کلام کا خاص و عام کے دلوں میں بھی اثر ہوتا ہے کہ بات سب کے دلوں کو بھی بھلی لگتی ہے اور اُسے اختیار کر لیتے ہیں۔ مثلاً :\n\n گھوڑے کا رنگ جسے ہندوستان میں سُرنگ اور پنجابی میں چنبا یا ککا کہتے ہیں، فارسی میں اسے کرنگ کہتے ہیں۔ چونکہ بھاشا میں ک علامت بدی اور س علامت خوبی ہے، اس لئے اکبر نے اِس کا نام سُرنگ رکھا۔\n\nگھوڑے کی اندھیری کا نام اُجیالی رکھا کہ نیک شگون ہے۔\n\nخاک روب کو حلال خور کا خطاب بھی اسی ذرہ نواز بادشاہ کا بخشا ہوا ہے۔ جہانگیر کی رنگیلی طبیعت نے شراب کا نام رام رنگی رکھا اور اس فارس کے شعراء نے اشعار میں بھی باندھا، طلب آملی :\n\nنہ ایم مُنکرِ صہبا و لیک می گویم\n\nکہ رام رنگیِ مانشہ دگر وارد\n\nسنگترہ کو اس کی خوبی و خوش رنگی کے سبب سے محمد شاہ نے رنگترہ کہا، بلبل ہندوستان کا نام گُلدم رکھا۔\n\nہار کے لفظ کو بد شگون سمجھ کر پھُلمال کہوایا۔\n\nشاہ عالم نے سرخاب کو بھی گُلسِرہ کہا، مگر اِس نے رواج نہ پایا۔\n\nنواب سعادت علی خان مرحوم نے ملائی کا نام بلائی رکھا کہ لکھنؤ میں عام اور دلی وغیرہ میں کم رائج ہے، مذاقِ سلیم دونوں کے لطف میں امتیاز کر سکتا ہے۔\n\nبھاشا کی ساخت کو دیکھو کہ ہر ایک زبان کے ملاپ کے لئے کیسی ملنسار طبیعت رکھتی ہے، نظم و نثر پر غور سے نظر کرو، اس نے اپنے مہمان کے لئے فقط لفظوں ہی میں جگہ خالی نہیں کی بلکہ بہت سے الفاظ و خیالات جو کہ ملکی خصوصیت عربی فارسی سے رکھتے تھے وہ بھی لے لئے، چنانچہ بہادری کا میدان رستم و سام کو دیا، حالانکہ یہاں وہ بھیم اور ارجن کا تھا، سودا کہتے ہیں :إ\n\nرستم رہا زمین پہ نہ سام رہ گیا\n\nمَردوں کا آسماں کے تلے نام رہ گیا\n\nرستم سے بھلا کہہ تو سر تیغ تلے دھر دے\n\nپیارے یہ ہمیں سے ہو ہرکارے و مرمردے\n\nحُسن و جمال کے شبستان میں لیلیٰ و شیریں آ گئیں، اور جب وہ آئیں تو رانجھے کی جگہ مجنوں و فرہاد کیوں کر نہ آتے۔ مجنوں و فرہاد کی آنکھوں سے گنگا، جمنا تو بہہ نہیں سکیں، مجبوراً جیحوں، سحیوں ہندوستان میں آ گئے، ہمانچل اور بندھیا چل کو چھوڑ کر کوہِ بیستون، قصر شیریں، کوہِ الوند سے سر پھوڑتے ہیں، مگر جب کوئی خوش طبع چاہتا ہے تو یہیں کے پھولوں سے بھی یہاں کا مکان سجا دیتا ہے اور وہ عجیب بہار دیتے ہیں۔\n\nایک زبان کے محاورہ کو دوسری زبان میں ترجمہ کرنا جائز نہیں، مگر ان دونوں زبانوں میں ایسا اتحاد ہو گیا کہ یہ فرق بھی اُٹھ گیا اور اپنے کارآمد خیالوں کے ادا کرنے کے لئے دل پذیر اور دلکش اور پسندیدہ محاورات جو فارسی میں دیکھے اُنھیں کبھی بجنسہ اور کبھی ترجمہ کر کے لیا۔مثلاً آمدن اور بسر آمدن میں اس کا ترجمہ لفظی ڈھونڈیں تو نہیں ہے، مگر اہلِ زبان نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ تضمین کر لیا اور سودا نے کہا،\n\nاس دل کی تفِ آہ سے کب شعلہ بر آئے\n\nبجلی کو دمِ سرد سے جس کے حذر آئے\n\nافعی کو یہ طاقت ہے کہ اس سے بسر آئے\n\nوہ زُلفِ سیاہ اپنی اگر لہر پر آئے\n\nدرآمدن، یعنی گھس آنا۔ سودا :\n\nیاں تک نہ دل آزارِ خلائق ہو کہ کوکئی\n\nمَل کر لہو منھ سے صفِ محشر میں در آئے\n\nعرق عرق شدن، آب شدن، ذوق :\n\nآگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانی\n\nجب یہ عاسی عرقِ شرم میں تر جائیں گے\n\n حرف آمدن اور دل خوں شدن۔ ذوق\n\nحرف آئے مجھ پہ دیکھیے کِس کِس کے نام سے\n\nاس درد سے عقیق کا دل خوں یمن ہیں ہے\n\nسید انشاء : مصرعہ\n\nلب وہ کہ لعل کے بھی نگینہ پر حرف ہے\n\nچشمک زدن۔ ذوق\n\nلب پر ترے پسینہ کی بوند اے عقیق لب\n\nچشمک زنی کرے ہے سہیلِ یمن کے ساتھ\n\nپیمانہ پُر کردن۔ مار ڈالنا۔ سودا :\n\nساقی چمن میں چھوڑ کے مجھ کو کدھر چلا\n\nپیمانہ میری عمر کا ظالم تو بَھر چلا\n\nدامن افشاندہ برخاستن۔ بیزار ہو کر اُٹھ کھڑے ہونا۔ سودا :\n\nکیا اس چمن میں آن کے لے جائے گا کوئی\n\nدامن تو میرے سامنے گل جھاڑ کر چلا\n\nاز جامہ بیروں شدن۔ سودا\n\nنکلا پڑے ہے جامہ سے کچھ ان دنوں رقیب\n\nتھوڑے ہی دم دلاسے میں اتنا اُبھر چلا\n\nذوق :\n\nکب صبا آئے ترے کوچہ سے اے یار کہ میں\n\nجوں حبابِ لبِ جو جامہ سے باہر نہ ہوا\n\nفلکش خبر ندارد۔ یہ محاورہ بھی اہل ہند کا نہیں کیوں کہ یہاں اکاس ہے، فلک نہیں ہے۔ اہل ہند اس کا مضمون کیوں باندھتے مگر سودا کہتے ہیں :\n\nتجھ رُخ میں ہے جو لطف ملک کو خبر نہیں\n\nخورشید کیا ہے اس کے فلک کو خبر نہیں\n\nدل از دست رفتن۔ بے اختیار ہونا، سودا کا مصرعہ ہے :\n\nہاتھ سے جاتا رہا دل، دیکھ محبوباں کی چال\n\nدل داون۔ عاشق ہونا، ظفر :\n\nدل دے کے تم کو جان پہ اپنی بُری بنی\n\nشیریں کلامی آپ کی میٹھی چھُری بنی\n\nمیر صاحب : مصرعہ\n\nایسا نہ ہو دل دادہ کوئی جاں سے گزر جائے\n\nاز جان گزشتن۔ جان پر کھیل جانا، ظفر کا مصرعہ ہے :\n\nوہاں جائے وہی جو جان سے جائے گزر پہلے\n\nاز سر چیزے گزشتن۔ دست بردار ہونا۔ سید اِنشاء :\n\nخدا کے واسطے گزرا میں ایسے جینے سے\n\nذوق علیہ الرحمۃ\n\nپہنچیں گے رہ گزرِ یار تلک کیوں کر ہم\n\nپہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں گے\n\nآصف الدولہ\n\nتو اپنے شیوہ جور و جفا سے مت گزرے\n\nتری بَلا سے مِرا دَم رہے رہے نہ رہے\n\nسفید شدن پوست کشیدن بھی فارسی کا محاورہ ہے جس کا ترجمہ انھوں نے کر لیا ہے۔ اُردو میں کھال کھینچنا۔ سودا :\n\nچاہے تجھ چشم کے آگے جو ہو بادام سفید\n\nکھینچ کر پوست کرے گردشِ ایام سفید\n\nنہ کمروارند نہ دہن وارند۔ یہ حقیقت میں لفظی ترجمہ فارسی محاورہ کا ہے کہ نہ کمر ہے نہ دہن ہے۔\n\nبھا گئی کون سی وہ چیز بتوں کی ہم کو\n\nنہ کمر رکھتے ہیں ظالم نہ دہن رکھتے ہیں\n\nبعض جگہ اصل اصطلاح فارسی کی لے کر اس پر اپنے شعر کی بنیاد قائم کی ہے۔ مثلاً\n\nتَر دامن۔ اصطلاحِ فارسی میں پُر گناہ ہے، دیکھو اُسی بنیاد پر کیا مضمون پیدا کیا ہے :\n\nتَر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو\n\nدامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں\n\nذوق ۔ مصرعہ :\n\nکہ میری تر دامنی کے آگے عرق عرق پاک دامنی ہے\n\nچراغِ سحری۔ بیمار جاں بلب :\n\nٹک میر جگر سوختہ کی جلد خبر لے\n\nکیا یار بھروسا ہے چراغِ سحری کا\n\nاور دیکھو اُردو فارسی دو محاوروں کو کس خوبصورتی سے ترکیب دیا ہے :\n\nآشیانہ میں میر بلبل کے\n\nآتشِ گل سے رات پھول پڑا\n\n(دلی والوں کا محاورہ ہے۔ اگر رات کو کہیں آگ لگتی تھی تو اصلی لفظوں میں تعبیر کرنا بد شگونی سمجھتے تھے۔ کنایتہً ادا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھنا کہیں پھول پڑا ہے۔)\n\nپنبہ دہن۔ یعنی کم گو۔ زبان دراز، بے ادب پر گو، اُستاد مرحوم نے ساقی نامہ میں کہا :\n\nشیشہ مے کی یہ دراز زباں\n\nاُس پہ ہے یہ سِتم کہ پنبہ وہاں\n\nشیشہ کے منھ میں عرق یا شربت وغیرہ نکلتے وقت جو دھار بندھتی ہے، اُسے اصطلاح فارسی میں زبانِ شیشہ کہتے ہیں۔\n\nآتش زیر پا، بیقرار، موئے آتش دیدہ، جسے آگ کی سینک پہنچی ہو۔\n\nبسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیر پا\n\nموئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا\n\nمُردنِ چراغ۔ کشتنِ چراغ، چراغ کے بُجھنے اور بُجھانے کو کہتے ہیں۔ اسی سے\n\nچراغِ مردہ۔ دیکھا ذوق مرحوم نے کس لطف سے جان ڈالی ہے :\n\nشمعِ مردہ کے لئے ہے دمِ عیسے آتش\n\nسوزشِ عشق سے زندہ ہوں محبت کے قتیل\n\nداغِ دل فسردہ پہ پھاہا نہیں، نہ ہو\n\nکام اس چراغِ مردہ کو کیا ہے کفن کے ساتھ\n\nکمر کوہ اور دامن کوہ سے بھی دیکھو کیا مضمون نکالا ہے، ذوق علیہ الرحمۃ :\n\nحاضر ہیں جلو میں ترے وحشی کے ہزاروں\nباندھے ہوئے کُہسار بھی دامن کو مکر سے\n\nگردنِ مینا۔ آتش نے کیا خوب مضمون نکالا ہے۔\n\nہر شب شبِ برات ہے ہر روز روزِ عید\nسوتا ہوں ہاتھ گردنِ مینا میں ڈال کر\n\nدستِ سبو۔ خواجہ وزیر نے کس خوبصورتی سے اس کا ترجمہ کیا ہے :\n\nہوں وہ میکش گر نہ آیا مے کدہ میں ایک دن\nہر سُبو نے ہاتھ پھیلائے دُعا کے واسطے\n\nسوسنِ دہ زبان۔ فارسی والوں کا خیال ہے، میر وزیر علی صبا کہتے ہیں :\n\nکھولا بہار نے جو کتب خانہ چمن\nسوسن نے دس ورق کا رسالہ اُٹھا لیا\n\nسرو کو آزاد۔ فارسی والوں نے کہا تھا کہ بہار و خزاں، اور ثمر اور بے ثمری کی قید سے آزاد ہے، ذوق مرحوم اس بنیاد پر فرماتے ہیں :\n\nپابزنجیر آبِ جو کی موج میں سب سرو ہیں\nکیسی آزادی کہ یاں یہ حامل ہے آزاد کا\n\nقافلہ نگہت گُل۔ سید انشاء نے خوب ترجمہ کیا :\n\nجو ٹھنڈے ٹھنڈے چلی ہے اے آہ\nچھانو تاروں کی چل نِکل تو\n\nگلوں کی نگہت کا قافلہ بھی\nچمن سے ہے لاد پھاند نکلا\n\nآسمان و زمین کے قلابے ملانے بھی ایجاد اہل اُردو کا ہے۔ ذوق :\n\nقلابے آسمان و زمیں کے نہ تو مِلا\nاُس بت سے کوئی ملنے کی ناصح بتا صلاح\n\nطوفان باندھنا بھی انہی کا ایجاد ہے، ہندی میں نہ تھا۔\n\nبعض فارسی کے محاورے یا اُن کے ترجمے ایسے تھے کہ میر و مرزا وغیرہ اُستادوں نے لئے مگر متاخرین نے چھوڑ دیے، چنانچہ فارسی کا محاورہ ہے :\n\nترآمدن۔ یعنی شرمندہ شدن، میر صاحب کہتے ہیں :\n\nکھلنے میں ترے منھ کی کلی پھاڑے گریباں\nآگے ترے رخسار کے گل برگ تر آوے\n\nتو گوئی۔ میر حسن اس کا ترجمہ فرماتے ہیں۔ مصرعہ :\n\nکہے تو کہ خوشبوئیوں کے پہاڑ\n\nایک اور موقع پر کہتے ہیں۔ مصرعہ :\n\nکہے تو کہ دریا تھا اک نُور کا\n\nمیر صاحب :\n\nاب کوفت سے ہجراں کی جہاں دل پہ رکھا ہاتھ\nجو درد و اَلم تھا سو کہے تھا کہ یہیں تھا\n\nنمود کردن۔ بمعنی ظہور کردن بھی فارسی کا محاورہ تھا۔\n\nنمود کر کے وہیں بحرِ غم میں بیٹھ گیا\nکہے تو میر بھی اک بلبلہ تھا پانی کا\n\nحیف آنا۔ یا حیف کسانیکہ، میر صاحب :\n\nحیف وے جن کے وہ اس وقت پہنچا جس وقت\nان کنے حال اشاروں سے بتایا نہ گیا\n\nاب اگر کہیں گے تو یہ کہیں گے کہ حیف ہے اُن لوگوں کے حال پر جن کے پاس تو گیا اور وہ بیچارے اشارے سے بھی حال نہ کہہ سکے، کنے، ہندے ہے، مگر اب متروک ہے۔\n\nبے تہی، یعنی کم مائگی، میر صاحب کا شعر ہے :\n\nاس زمانہ کی تری سے لہر بحر اگلی نہیں\nبے تہی کرنے لگے دریا دلوں کے حوصلے\n\nخوشم نمے آید۔ مجھے بھلا نہیں لگتا۔ میر صاحب فرماتے ہیں :\n\nناکامیِ صد حسرت خوش لگتی نہیں ورنہ\nاب جی سے گزر جانا کچھ کام نہیں رکھتا\n\nخوشا بحال کسانیکہ۔ میر صاحب فرماتے ہیں :\n\nاحوالِ خوش اُنھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے\nافسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا\n\nداغ ایں حسرت ام میر صاحب کہتے ہیں :\n\nداغ ہوں رشکِ محبت سے کہ اتنا بیتاب\nکس کی تسکیں کے لئے گھر سے تو باہر نکلا\n\nمیر صاحب کہتے ہیں :\n\nاے تو کہ یاں سے عاقتِ کار جائے گا\nغافل نہ رہ کہ قافلہ یک بار جائے گا\n\nایک قصیدہ مدحیہ کے مطلع ثانی میں سودا کہتے ہیں :\n\nاے تو کہ کارِ جن و بشر تجھ سے ہے رواں\nتیری وہ ذات جس سے دو عالم ہے کامراں\n\nفارسی میں بیامر کا صیغہ شعر کے اول میں لاتے ہیں اور وہ بہت مزا دیتا ہے :\n\nبیا کہ گریہ من آن قدر زمیں نگزاشت\nکہ درفراق تو خاکے بسر تواں کردن\n\nعرفی :\n\nبیا کہ باولم آں مے کند پریشانی\nکہ غمزہ تو نکردہ است با مسلمانی\n\nمیاں رنگین اس کا ترجمہ کرتے ہیں :\n\nآ تجھ بغیر مملکتِ دل اُجاڑ ہے\nچھاتی پہ رات ہجر کی کالا پہاڑ ہے\n\nدستے دریں کار دارد یعنی وہ اس کام میں واقفیت یا مہارت رکھتا ہے۔ سودا :\n\nکون ایسا ہے جسے دست ہے دل سازی میں\nشیشہ ٹوٹے تو کریں لاکھ ہنر سے پیوند\n\nاو دہن ایں کار ندارد۔ سودا نے کہا :\n\nنہیں ہے بحث کا طوطی ترا دہن مجھ سے\nسخن تو دیکھ ہے رنگیں ترا چمن مجھ سے\n\n گوش کرون۔ سُننا، سودا نے ترجمہ کیا : یہ سنگ ریزہ ہوا ہے دُرِ عدن مجھ سے\n\nکب اس کو گوش کرے تھا جہاں میں اہلِ کمال\nیہ سنگ ریزہ ہوا ہے دُرِ عدن مجھ سے\n\nبُوکردن، سُونگھنا، سودا نے ترجمہ کیا :\n\nدیکھوں نہ کبھی گل کو ترے مُنھ کے میں ہوتے\nسنبل کے سوزِ زلف تری بُو نہ کروں میں\n\nاور میر صاحب نے اس سے بڑھ کر کہا :\n\nگل کو محبوب ہم قیاس کیا\nفرق نِکلا بہت جو باس کیسا\n\nخوابم بُرد یا خوابم در بود۔ یعنی مجھے نیند آ گئی، جرأت :\n\nکل واں سے آتے ہی جو ہمیں خواب لے گیا\nدیکھا تو پھر وہیں دلِ بے تاب لے گیا\n\nہندی کا محاورہ نیند آتی ہے، خواب کا لے جانا محاورہ نہیں۔\n\nزنجیر کرون، قید کرنا۔ سید انشاء :\n\nسودا زد و دل ہے تو یہ تدبیر کرینگے\nاِس زُلفِ گرہ گیر سے زنجیر کرینگے\n\nخاک برسر کردن۔ سودا نے ترجمہ کر دیا :\n\nتو ہی کچھ اپنے سر پر نہ یاں خاک کر گئی\nشبنم بھی اس چمن سے صبا چشم تر گئی\n\nہندی میں سر پر خاک ڈالنی کہتے ہیں۔\n\nاس سے بڑھ کر یہ کہ بعض رسمیں اور ٹوٹکے جو ایران اور توران میں ہوتے تھے اس کے اشارے اُردو میں کرنے لگے۔ سودا :\n\nدوانہ اِن لٹوں کا ہوں قسم ہے روحِ مجنوں کی\nنہ مارو مجھ کو چوبِ گل بغیر اربید کی چھڑیاں\n\nمیر اور سودا کے حال میں ان مطالب کی توضیح کی ہے۔\n\nداغِ جنوں۔ اُستاد مرحوم عالمِ طفولیت کی ایک غزل میں فرماتے ہیں :\n\nدیوانہ ہوں تیرا مجھے کیا کام کہ لوں گل\nزیبائش سر کو ہے مرے داغ جنوں گل\n\nاور میر صاحب مثنوی میں کہتے ہیں :\n\nسرتاپا آشفتہ دماغی\nداغِ جنوں دے جس پہ چراغی\n\nولایت میں رسم ہے کہ قلعہ کے محاصرہ میں یا ایک لشکر ہے دوسرے لشکر میں جب قاصد کا پہنچنا ممکن نہیں ہوتا تو خط کا پرزہ تیر میں باندھ کر پھینکتے ہیں، چنانچہ میر و سودا نے اُسے اُردو میں باندھا ہے :\n\nنامہ جو وہاں سے آئے ہے سو تیر میں باندھا\nکیا دیجئے جواب اجل کے پیام کا مہر\n\nنہ تھا پیکاں پہ کیا جوہر جو نامہ تیر پر لکھا\nاشارہ قتل کا قائل نے کس تقصیر پر لکھا سودا\n\nاگرچہ اِن باتوں پر فصاحت کے اُصولِ عامہ کے بموجب بہت اعتراض ہوئے مگر احتراز نہ ہوئے کیوں کہ بولنے والوں کی نسلیں اور اصلیں اور گھر اور گھرانے فارسی سے شیر و شکر ہو رہے تھے۔ جتنا اِس کا دخل زیاد ہوتا تھا، اُتنا ہی مزہ زیادہ ہوتا تھا اور آج دیکھتے ہیں تو اور ہی رنگ ہے۔ ہمارے قادر الکلام انشا پرداز ترجمے کر کے انگریزی کے خیالوں کے چربے اُتارتے ہیں اور ایسا ہی چاہیے، جہاں اچھا پھول دیکھا چُن لیا، اور دستار نہیں تو کوٹ میں زیبِ گریباں کر لیا۔ ہمارے انشاء پردازوں نے جب دیکھا کہ فارسی والوں نے اپنی قادر سخنی کے زور یا ظرافتِ طبع کے شور سے عربی ترکیبوں کا استعمال کیا تو اُنھوں نے بھی اپنے پیارے ملک کی زبان کو اِس نمک سے بے لُطف نہ چھوڑا۔ سودا فرماتے ہیں :\n\nجیسے کہتا ہے کوئی ہو ترا صفا صفا\n\nسید رضی خاں رضی مرحوم نے کیا خوب کہا ہے :\n\nتری وہ مثل ہے کہ اے رضی\nنہ اِل الذَی نہ اُل الَذی\n\nدونوں زبانوں کے بابِ تشبیہات میں ایک نکتہ کہے بغیر مجھ سے آگے نہیں بڑھا جاتا۔ یعنی مختلف افرادِ انسان کے طبائع پر غور کرو کہ ہزاروں کوس پر پڑے ہوں اور مختلف طبیعت کے ملکوں میں ہوں، لیکن چونکہ طبیعتِ انسانی متحد ہے اس لئے دیکھو ان کے خیالات کس قدر ملتے جلتے ہوتے ہیں، چنانچہ یہاں بالوں کی تعریف میں ناگوں کے لہرانے اور بھونروں کے اُڑنے سے تشبیہ دیتے تھے۔ فارسی میں زلف کی تشبیہ سانپ کے ساتھ آئی ہے، اس لئے اُردو میں سانپ ہے مگر بھونرے اُڑ گئے۔ اور اس کی جگہ مشک، بنفشہ، سنبل، ریحان آ گئے، جو کبھی یہاں دیکھے بھی نہیں مگر عرب کا سادہ مزاج فصیح اپنی نیچر کا حق ادا کرتا ہے، اور زلف کو کوئلے سے تشبیہ دیتا ہے۔ سانولی رنگت کی تعریف میں شام برن اور میکھ برن کہتے تھے۔ اُس سے کھُلتا رنگ ہوتا تو چنبک برفی کہتے تھے، اب سمن رنگ اور سیم رنگ کے الفاظ حُسن کو بہار دیتے ہیں مگر چندرمکھ اور ماہ رُخ مشترک ہے۔\n\nآنکھ کی تعریف میں یہاں مرگ کی آنکھ اور کنول کے پھول اور ممولہ کی اچپلاہٹ سے تشبیہ دیتے تھے، اُردو میں آہو چشم رہے مگر ممولے ہوا ہو گئے اور کنول کی جگہ ساغرِ لبریز اور نرگسِ شہلا آ گئی۔ جو کسی نے یہاں دیکھی بھی نہ تھی بلکہ ترک چشم شمشیرِ نگاہ سے قتل کرنے لگے۔\n\nرفتار کے لئے بھاشا میں ہتنی اور ہنس کی چال ضرب المثل ہے، اب ہنس کے ساتھ ہاتھی بھی اُڑ گیا، فقط کبکِ دری، شورِ محشر اور فتنہ قیامت نے آفت برپا کر رکھی ہے۔\n\nبھاشا میں ناک کی تشبیہ طوطے کی ناک سے تھی، اب زنبق کی کلی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ آتس کا شعر ہے :\n\nتوڑنے والے گلِ زنبق کے ہیں\n\nکانٹے والے چمن کی ناک کے\n\nفارسی والوں نے کمر کی نزاکت میں بڑی باریکیاں نکالی ہیں مگر سنسکرت نے بھی اپنی جگہ مبالغہ میں کچھ کمی نہیں کی۔ چنانچہ آنکھوں کی تعریف میں ایک شاعر نے کہا،\n\nگوشے ان کے کانوں سے جا ملے تھے\n\nپہلے یہاں ہوا یا ابر یا ہنس کو قاصد کہتے تھے، اُنھوں نے نسیم اور صبا کو قاصد رکھا۔\n\nبلکہ نالہ ؤ آہ اور اشک سے بھی پیغام رسانی کا کام لیا، اُستاد مرحوم کا شعر ہے :\n\nنالہ ہے اُن سے بیاں دردِ جدائی کرتا\n\nکام قاصد کا ہے یہ تیر ہوائی کرتا\n\nظفر گر نہیں ہے کوئی نامہ بر\n\nتم آنسو ہی اپنا روانہ کرو\n\n(ظفر)\n\nقاصدِ اشک آ کے خبر کر گیا\n\nقتل کوئی دل کا نگر کر گیا\n\n(سودا)\n\nفارسی والے طفلِ اشک باندھتے تھے، اُنھوں نے بھی اسے لڑکا بنایا اور دیکھو اُستاد مرحوم نے اس کے لئے دامن کیا خوب تیار کیا ہے :\n\nطفلِ اشک ایسا گرا دامانِ مژگاں چھوڑ کر\n\nاور ظفر نے کہا :\n\nکیا ہی شریر لڑکے یہ اوپر تلے کے ہیں\n\nاور معروف نے کہا ہے :\n\nابھی سے نامِ خدا کرنے قاصدی نکلا\n\nیہ طفلِ اشک بڑا پاؤں کا بلی نکلا\n\nبیان کیا کروں اشک کی ابتری کا\n\nیہ لڑکا بد اطوار پیدا ہوا ہے\n\nیہ سمجھنا کہ فارسی ہندی میں تصرف حاکمانہ کرتی رہی، نہیں اُسے بھی یہاں کے الفاظ لئے بغیر چارہ نہیں ہوا، چنانچہ جو الفاظ فارسی اور سنسکرت کے اصلیت میں متفق ہیں، اِن سے قطع نظر کر کے کہتا ہوں کہ سلاطین چغتائیہ کے دفتروں میں صدہا لفظ ہندی کے تھے جو کہ فارسی عبارتوں میں بے تکلف مستعمل ہوتے تھے، اور اب بھی عہدِ مذکور کی تاریخوں میں موجود ہیں۔\n\nمثلاً جھروکہ روشن اور پھول کٹارہ اور کھپوہ مرصع جہانگیر بادشاہ اپنی توزک میں لکھتا ہے، کہ میرا بھائی شاہ مراد کوہستان فتح پور سیکری میں پیدا ہوا تھا، اسی واسطے میرے والد اسے پہاڑی راجہ کہا کرتے تھے۔ اور آرام بانو بیگم میری چھوٹی بہن کو بہت پیار کرتے تھے، اور اکثر مجھ سے کہتے تھے کہ \"بابا یجہت خاطرِ من ناز او برداشتہ، بے ادبی و شوخی ہاوے اور ابگز رانی۔\" اسی کتاب میں معلوم ہوتا ہے کہ شہجہاں بچپن میں اکبر کو شاہ بابا اور جہانگیر کو شاہ بھائی کہا کرتا تھا۔\n\nاِسی طرح شعراء نے اپنے تصرفات رنگیں کے ساتھ اشعار فارسی کو رونق دی ہے۔ امیر خسرو سو (۱۰۰) برس پہلے کہتے ہیں :\n\nبنشستہ چوں در پالکی نہ چرخ کہار آمدہ\n\nقِرآن السعدین میں کہتے ہیں :\n\nخاں کرہ جھجوئے کشور کشا\n\nکز لبِ شاہاں کرہ دارد بیا\n\nاور دہلی کی یاد میں ایک جگہ کہتے ہیں :\n\nاے دہلی والے بتانِ سادہ\n\nپگ بستہ وہ چیرہ کج نہادہ\n\nسرآں دو چشم گردم کہ چوں ہندوان رہزن\n\nہمہ را بنوکِ مژگاں زدہ بر جگر کتارہ\n\nدر چاشت گہ از شبنم گل گرد فشانست\n\nآں باد کہ در ہند اگر آید جگر آید\n\n(عرفی)\n\nسیر گشتم ز کجرئے ایام\n\nہوسِ سیم و زر نمے دارم\n\n(عرفی)\n\nسپہر از سر افرازیش در حساب\n\nزچوکھنڈیش سایہ بر آفتاب\n\n(ظہوری)\n\nچوکھنڈی شکوہش اگر سایہ افگند\n\nفیلِ سپہر شانہ بدوز و بہ زیر بار\n\n(اشرف)\n\nشوخ سوسن رابگو دل میر باید قشقہ ات\n\nذات رجپوت است ترسم دست برجمدھر کند\n\n(عفرا)\n\nپان خوردہ بمن وادہ اگال آں بُتِ ہندی\n\nایں بوسہ بہ پیغام چہ رنگیں مزہ دارد\n\n(خسرو)\n\nشود چہرہ زرد خورشید آل\n\nدہندش اگر نازنیناں اُگال\n\n(ظہوری)\n\nاور سہ نثر میں بادشاہ کے لئے کیا خوب کہا ہے :\n\n\"باز جگت گردی عالم بر خود گرفتہ\"\n\n(حاشیہ : فارسی کے استعاروں اور تشبیہوں نے آ کر کیسا زبان کا رنگ بدل دیا۔)\n\nبیان مذکورہ بالا سے تمھیں اجمالاً معلوم ہو گیا ہو گا کہ اُردو کا درخت اگرچہ سنسکرت اور بھاشا کی زمین میں اُگا مگر فارسی کی ہوا میں سرسبز ہوا ہے، البتہ مشکل یہ ہوئی کہ بیدل اور ناصر علی کا زمانہ قریب گزر چکا تھا اور اُن کے معتقد باقی تھے، وہ استعارہ اور تشبیہ کے لُطف سے مست تھے، اس واسطے گویا اُردو بھاشا میں استعارہ و تشبیہ کا رنگ بھی آیا اور بہت تیزی سے آیا، یہ رنگ اسی قدر آتا کہ جتنا چہرہ پر اُبٹنے کا رنگ آنکھوں میں سُرمہ، تو خوش نمائی اور بینائی دونوں کو مفید تھا۔ مگر افسوس کہ اس کی شدت نے ہماری قوت بیان کی آنکھوں کو سخت نقصان پہنچایا اور زبان کو خیالی باتوں سے فقط توہمات کا سوانگ بنا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بھاشا اور اُردو میں زمین و آسمان کا\n\nفرق ہو گیا، چاہتا ہوں کہ دونوں کے نمونے آمنے سامنے رکھ کر ان کے فرق دکھاؤں، مگر اس سے پہلے دو تین باتیں خیال رکھنی چاہئیں، اول تو شاعرانہ اُردو کا نوجوان جس نے فارسی کے دودھ سے پرورش پائی، اُس کی طبیعت میں بہت سے بلند خیالات اور مبالغہ مضامین کے ساتھ وہ حالات اور ملکی رسمیں اور تاریخی اشارے آ گئے، جو فارس اور ترکستان سے خاص تعلق رکھتے تھے اور بھاشا کے طبعی مخالف تھے، ساتھ اس کے فارسی کی نزاکت اور لطافتِ طبعی کے سبب سے اُردو کے خیالات اکثر پیچیدہ ہو گئے کہ بچپن سے ہمارے کانوں میں پڑتے اور ذہنوں میں جمتے چلے آتے ہیں، اس لئے ہمیں مشکل نہیں معلوم ہوتے، اَن پڑھ، انجان یا غیر زبان والا سنتا ہے تو مُنھ دیکھتا رہ جاتا ہے، کہ یہ کیا کہا، اس لئے اُردو پڑھنے والے کو واجب ہے کہ فارسی کی انشاء پردازی سے ضرور آگہی رکھتا ہو۔\n\nفارسی اور اُردو کی انشاء پردازی میں جو دشواری ہے، اور ہندی کی انشا ہیں آسانی ہے، اس میں ایک باریک نکتہ غور کے لائق ہے وہ یہ کہ بھاشا زبان جس شے کا بیان کرتی ہے اس کی کیفیت ہمیں ان خط و خال سے سمجھاتی ہے جو خاص اسی سے کے دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے یا چھُونے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس بیان میں اگرچہ مبالغہ کے زور یا جوش و خروش کے دھوم دھام نہیں ہوتی ہے، مگر سننے والے کو جو اصل شے کے دیکھنے سے مزہ آتا ہے وہ سُننے سے آ جاتا ہے، برخلاف شعرائے فارس کے کہ یہ جس شے کا ذکر کرتے ہیں، صاف اُسی کی بُرائی بھلائی نہیں دکھا دیتے، بلکہ اِس کے مشابہ ایک اور سے جسے ہم نے اپنی جگہ اچھا یا بُرا سمجھا ہو، اس کے لوازمات کو شے اول پر لگا کر ان کا بیان کرتے ہیں، مثلاً بھول کہ نزاکت رنگ اور خوشبو میں معشوق سے مشابہ ہے، جب گرمی کی شدت میں معشوق کے حُسن کا انداز دکھانا ہو تو کہیں گے کہ مارے گرمی کے پھول کے رُخساروں سے شبنم کا پسینہ ٹپکنے لگا اور اسی رنگ میں شاعر کہتا ہے۔ خواجہ وزیر :\n\nہوں وہ بلبل جو کرے ذبح خفا تو ہو کر\n\nروح میری گلِ عارض میں رہے بُو ہو کر\n\nیہ تشبیہیں اور استعارے اگر پاس کے ہوں، اور آنکھوں کے سامنے ہوں تو کلام میں نہایت لطافت اور نزاکت پیدا ہوتی ہے، لیکن جب دور جا پڑیں اور بہت باریک پڑ جائیں تو دقت ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ہمارے نازک خیال کسی بادشاہ کے اقبال اور عقل کے لئے اس قدر تعریف پر قناعت نہیں کرتے کہ وہ اقبال میں سکندر یونانی اور عقل میں ارسطوئے ثانی ہے، بلکہ بجائے اس کے کہتے ہیں کہ اگر اس کا ہمائے عقل، اوجِ اقبال سے سایہ ڈالے تو ہر شخص کشورِ دانش و دولت کا سکندر اور ارسطو ہو جائے۔ بلکہ اگر اس کے سینہ میں دلائلِ عقلی کا دریا جوش مارے تو طبقہ یونان کو غرق کر دے، اول تو ہما کی یہ صفت خود ایک بے بنیاد فرض ہے اور وہ بھی اسی ملک کے ساتھ خاص ہے۔ اس پر اقبال کا ایک فلک الافلاک تیار کرنا اور اس پر نقطہ اوج کا دریافت کرنا دیکھئے۔ وہاں ان کے فرضی ہما کا جانا دیکھئے، پھر زمین پر اس خیالی آسمان کے نیچے ایک تدبیر کا یونان بسانا دیکھئے، پھر اس فرضی ہما کی برکت کا اس قدر عام کر دینا دیکھئے جس سے دنیا کا جاہل اس خیالی یونان میں جا کر ارسطو ہو جائے۔\n\nدوسرے فقرے میں اول تو علمائے ہند نے تنور سے طوفان کا نکلنا مانا ہی نہیں ہے۔ اس پر طبقہ یونان کا اپنے فلسفہ کی تہمت میں تباہ ہونا وغیرہ وغیرہ ایسی باتیں اور روایتیں ہیں کہ اگرچہ ہمارے معمولی خیالات ہوں، مگر غیر قوم بلکہ ہمارے بھی عام لوگ اس سے بے خبر ہیں۔ اس لئے بے سمجھیں گے اور جب بات کو زبان سے کہہ کر سمجھانے کی نوبت آئی تو لطفِ زبان کہا اور یہ نہیں تو تاثیر کجا! مزہ وہی ہے کہ آدھی بات کہی، آدھی منھ میں ہے اور سننے والا پھڑک اُٹھا۔ تار بجا اور راگ پوچھا، اِن خیالی رنگینوں اور فرضی لطافتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو باتیں بدیہی ہیں اور محسوسات میں عیاں ہیں، ہماری تشبیہوں اور استعاروں کے پیچ در پیچ خیالوں میں آ کر وہ بھی عالمِ تصور میں جا پڑتی ہیں کیونکہ خیالات کے ادا کرنے میں ہم اول اشیائے بیجان کو جاندار بلکہ اکثر انسان فرض کرتے ہیں، بعد اس کے جانداروں اور عاقلوں کے لئے جو باتیں مناسبِ حال ہیں ان بے جانوں پر لگا کر ایسے ایسے خیالات پیدا کرتے ہیں جو اکثر ملکِ عرب یا فارس یا ترکستان کے ساتھ قومی یا مذہبی خصوصیت رکھتے ہیں۔\n\nمثلاً رات کو اہلِ محبت کے جلسہ میں اول تو ساقی (ساقی عربی لفظ ہے اور ایسا ہے کہ جس کے لئے ہندی لفظ ہے ہی نہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ اس ملک میں ساقی اور جام کی رسم نہیں تھی۔ اس لئے اس کے خیالات بھی نہیں تھے۔) کا آنا واجب ہے، پھر معشوق بجائے ایک نازنیں عورت کے پریزاد لڑکا ہے، اُس کی پیشانی اور رخسارہ سے نورِ صبح روشن ہے۔ مگر زلف کی شام بھی برابر مشک افشاں ہے، صراحی کبھی سرکشی کرتی ہے، اسی لئے جگر خون ہو کر ٹپکتا ہے، کبھی جھکتی ہے، اور خندہ قلقل سے ہنستی ہے، کبھی وہی قلقل حق حق ہو کر یادِ الٰہی میں صرف ہوتی ہے مگر پیالہ اپنے کھلے منھ سے ہنستا ہے اور اس کے آگے دامن پھیلاتا ہے فلک تیر حوادث کا ترکش، کمانِ کہکشاں لگائے کھڑا ہے مگر عاشق کی تیرِ آہ اِس کے سینہ کے پار جاتا ہے، پھر زحل منحوسی کی آنکھ نہیں پھوٹتی کہ عاشق کی صبحِ مراد روشن ہو، یہاں کی محفل میں شمع (شمع عربی میں بمعنی موم ہے، پھر موم بتی کو کہنے لگے، فارس میں آ کر چربی کی بھی بننے لگی مگر نام شمع ہی رہا۔ ہند میں چربی ناپاک ہے۔ اس لئے نہ شمع تھی نہ اس کا نام۔ مرغِ سحر کے ذبح کا مضمون بھی وہیں کا ہے۔) برقع فانوس میں تاجِ زر سر پر رکھے کھڑی ہے، اس لئے پروانہ کا آنا بھی واجب ہے، وہ عاشقِ زار آتے ہی جل کر خاک ہو جاتا ہے۔ چراغ کو ہنساتے ہیں اور شمع کو عاشق کے غم میں رُلاتے ہیں۔ وہ با وفا عشق کے تپ میں سراپا جلتی ہے، اس کی چربی گھُل گھُل کر بہتی ہے، مگر پائے استقامت اُس کا نہیں ٹلتا، یہاں تک کہ سفیدہ سحری کبھی آ کر کافور دیتا ہے، اور کبھی طباشیر، شمع کا دل اس لئے بھی گداز ہے کہ شبِ زندگی کا دامن بہت چھوٹا ہے۔ لیکن صبح دونوں کے ماتم میں گریباں چاک کرتی ہے۔ عاشق بادہ خوار کے لئے مرغِ سحر بڑا موذی ہے، اس کے ذبح کو ہمیشہ تیغ زبان تیز رہتی ہے۔ بادِ سحر قاصدِ خجستہ گام ہے کہ پیغام یار کا بہت جلد لاتا اور لے جاتا ہے، اسی عالم میں آفتاب کبھی تو پنجہ شعاع سے آنکھ ملتا سر برہنہ حجرہ مشرق سے نکلتا ہے، ککبھی فلک کے سبزہ گھوڑے پر سوار کِرن کا تاجِ زرنگار سر پر چمکاتا شفق کا پھریرا اُڑاتا آتا ہے، کیونکہ اپنے حریف شاہِ انجم کی فوج کو پریشان کر کے فتحیاب آیا ہے۔\n\nان ہی بنیادوں پر جب گلزار کا شگفتگی یا باغ کی بہا ر دکھانی ہو تو ایسے خیالات میں دکھائیں گے کہ شاہدِ گل کے کان میں قاصدِ صبا کچھ ایسا افسوں پھونک گیا، کہ وہ مارے ہنسی کے فرشِ سبزہ پر لوٹ گیا۔ طفلِ غنچہ مُسکرا کر اپنے عاشق بلبلِ شیدا کا دل لُبھاتا ہے۔ کبھی خزاں کا غارت گر آتا ہے، تو گل اپنا جام اور غنچہ اپنی صراحی لے کر روانہ ہو جاتا ہے، اسی طرح ہمارے باغ میں بہار خود ایک معشوق ہے، اس کا چہرہ چمن ہے، گل رخسار ہیں، سنبل بال ہیں، بنفشہ زلف ہے، نرگس آنکھیں ہیں، وغیرہ وغیرہ۔\n\nپھر بہار موسمِ جوانی ہے، درخت جوانانِ چمن ہیں کہ عروسانِ گلشن سے گلے مل مل کر خوش ہوتے ہیں۔ شاخیں انگڑائیاں لیتی ہیں، تاکِ سیہ مست پڑا اینڈتا ہے۔ اطفالِ نبات دایہ بہار کی گود میں پرورش پاتے ہیں، خضرِ سبزہ کی برکت سے نسیمِ سحری مردہ ہزار سالہ دمِ عیسوی کا کام دیتی ہے، مگر بلبلِ زار عشقِ شاہدِ گل میں اُداس ہے۔ آبِ رواں عمرِ گزراں ہے، اس کی کوج کی تلوار سے دل کٹتے جاتے ہیں۔ سرو کے عکس کا اژدھا نگلے جاتا ہے، شبنم کے آنسو جاری ہیں، بلبل کبھی خوش ہے کہ گُل اس کا پیارا پاس ہنس رہا ہے کبھی افسردہ ہے کہ خزاں کا خوں ریز جھونکا اِن سب کو قتل کرے گا یا اس کے دشمن یعنی گلچیں و صیاد اسے یہاں سے نکالیں گے۔ سرو یا شمشاد کے عشق میں قمری کا گیروا لباس ہے۔ اس کے نالہ کا آرہ دلوں کو چیرتا ہے، کبھی عاشق زار بھی وہیں آ نکلتا ہے۔ وہ بجائے اپنے معشوق کے حسرت و غم سے ہمکنار ہے، روتا ہے اور قاصدِ صبا کو پیغام دیتا ہے کہ میرے تغافل شعار کو ذرا میرے حال کی خبر کر دینا۔\n\nبیانِ مذکورہ بالا سے معلوم ہوا ہو گا کہ ان میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو خاص فارس اور ترکستان کے ملکوں سے طبعی اور ذاتی تعلق رکھتی ہیں، اس کے علاوہ بعض خیالات میں اکثر اُن داستانوں یا قصوں کے اشارے بھی آ گئے ہیں، جو خاص ملک فارس سے علاقہ رکھتے تھے، مثلاً بجائے عورت کے لڑکوں کا عشق، ان کے خط کی تعریف، شمشاد، نرگس، سنبل، بنفشہ، موئے کمر، قدِ سرو وغیرہ کی تشبیہیں، لیلی، شیریں، شمع، گل، سرو وغیرہ کا حُسن، مجنوں، فرہاد، بُلبلِ، قمری، پروانہ کا عشق، فانوس کا برقع، غازہ اور گلگونہ، مانی و بہزاد کی مصوری، رستم و اسفندیار کی بہادری، زحل کی نحوست، سہیلِ یمن کی رنگ افشانی، مشاہیر فارس و یونان اور عرب کے قصے، راہِ ہفت خوان، کوہِ الوند، کوہِ بے ستون، جوئے شیر، قصرِ شیریں، جیحوں، ہیحوں وغیرہ وغیرہ، ہر چند سب معاملات عرب اور فارس سے متعلق ہیں، مگر اُردو میں بہت سے خیالات انہی کی بنیاد پر نظم و نثر میں پیدا ہوتے ہیں۔\n\nتعجب ہے کہ اِن خیالوں نے اور وہاں کی تشبیہوں نے اِس قدر زور پکڑا کہ ان کے مشابہ جو یہاں کی باتیں تھیں اُنھیں بالکل مٹا دیا، البتہ سودا اور سید انشاء کے کلام میں کہیں کہیں ہیں اور وہ اپنے موقع پر نہایت لطف دیتی ہیں۔\n\nغرض کہ اب ہماری انشاء پردازی ایک پُرانی یادداشت ان تشبیہوں اور استعاروں کی ہے کہ صدہا سال سے ہمارے بزرگوں کو دستمال ہو کر ہم تک میراث پہنچی ہے۔\n\nہمارے متاخرین کو معنی آفرینی کی آرزو ہوئی تو بڑا کمال یہ ہے کہ کبھی صفت بعد صفت، کبھی استعارہ در استعارہ سے اسے اور تنگ و تاریک کیا۔ جس سے ہوا تو یہ ہوا کہ بہت غور کے بعد فقط ایک وہمی نزاکت اور فرضی لطافت پیدا ہو گئی کہ جسے محالات کا مجموعہ کہنا چاہیے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ بجائے اس کے کلام اِن کا خاص و عام کے دلوں پر تاثیر کرے، وہ مخصوص لوگوں کی طبع آزمائی کے لئے ایک دقیق معمہ اور عوام کے لئے ایک عجیب گورکھ دھندا تیار ہو گیا، اور جواب اُن کا یہ ہے کہ کوئی سمجھے تو سمجھے، جو نہ سمجھے وہ اپنی جہالت کے حوالے۔\n\nاب اس کے مقابلے میں دیکھو، بھاشا کا انشاء پرداز برسات میں اپنا باغ کیونکر لگاتا ہے، درختوں کے جھنڈ چھائے ہیں، گھن کے پتے ہیں، اِن کی گہری گہری چھاؤں ہے، جامن کی ٹہنیاں آم کے پتوں میں کھچڑی ہو رہی ہیں، کھرنی کی ٹہنیاں فالسے کے درخت پر پھیلی ہوئی ہیں، چاندنی کی بیل کمرک کے درخت پر لپٹی ہے، عشق پیچہ ککروندہ پر چڑھا جاتا ہے، اِس کی ٹہنیاں لٹکتی ہیں، جیسے سانپ لہرا رہے ہیں، پھولوں کے گچھے پڑی جھُوم رہے ہیں، میوے دانے زمین کو چوم رہے ہیں، نیم کے پتوں کی سبزی اور پھولوں کی سفیدی بہار پر ہے، ام کے بور میں اِس کے پھولوں کی مہک آتی ہے، بھینی بھینی بُو جی کو بھاتی ہے، جب درختوں کی ٹہنیاں ہلتی ہیں، مولسری کے پھولوں کا مینھ برستا ہے، پھل پھلاری کی بوچھاڑ ہو جاتی ہے، دھیمی دھیمی ہوا اُن کی بُو باس میں بسی ہوئی روشوں پر چلتی ہے، ٹہنیاں ایسی ہلتی ہیں جیسے کوئی جوبن کی متوالی اٹکھیلیاں کرتی چلی جاتی ہے، کسی ٹہنی میں بھونرے کی آواز، کسی میں مکھیوں کی بھنبھناہٹ الگ ہی سماں باندھ رہی ہے۔ پرند درختوں پر بول رہے ہیں اور کلول کر رہے ہیں۔ حوض میں چادر اِس زور سے گرتی ہے کہ کان پری آواز نہیں سُنائی دیتی، اس سے چھوٹی چھوٹی نالیوں میں پانی لہراتا جاتا ہے، تو عجب بہار دیتا ہے، درختوں سے جانور اُترتے ہیں، نہاتے جاتے ہیں، آپس میں لڑتے جاتے ہیں، پروں کو پھڑپھڑاتے ہیں اور اُڑ جاتے ہیں، پرند زمین پر چوکڑیاں بھرتے پھرتے ہیں، ایک طرف سے کوئل کی کوک ایک طرف سے کوکلے کی آواز، اسی جمگھٹ میں عاشق مصیبت زدہ بھی کہیں اکیلا بیٹھا جی بہلا رہا ہے اور اپنی جُدائی کے دُکھ کو مزے لے کر اُٹھاتا ہے۔\n\nبرسات کا سماں باندھتے ہیں تو کہتے ہیں، سامنے سے کالی گھٹا جھوم کر اٹھی، دھُواں دھار ہے، بجلی کوندتی چلی آتی ہے، سیاہی میں سارس اور بگلوں کی سفید سفید قطاریں بہاریں دکھا رہی ہیں، جب بادل کڑکتا ہے اور بجلی چمکتی ہے تو کبھی پرندے دبک کر ٹہنیوں میں چھُپ جاتے ہیں، کبھی دیواروں سے لگ جاتے ہیں، مور جُدا جھنکارتے ہیں، پپیہے الگ پکارتے ہیں، محبت کا متوالا چنبیلی کے جھرمٹ میں آتا ہے تو ٹھنڈی ہوا لہک کر پھوار بھی پڑنے لگتی ہے، مست ہو کر وہیں بیٹھ جاتا ہے اور شعر پڑھنے لگتا ہے۔\n\nجب ایک شہر کی خوبی بیان کرتے ہیں، شام ہونے ایک مقام پر پہنچا دیکھتا ہے کہ پہاڑیاں ہری بھری ہیں، اردگرد سرسبز میدانوں میں بسے ہوئے گاؤں آباد ہیں، پہاڑ کے نیچے ایک دریا میں نِرمل جل بہہ رہا ہے، جیسے موتی کی آب بیچوں بیچ میں شہر آباد، جب اس کے اُونچے اُونچے مکانوں اور برجیوں کا عکس پڑتا ہے تو پانی میں کلیاں جگ مگ جگ مگ کرتی ہیں، اور دوسرا شہر آباد نظر آتا ہے، لب دریا کے پیڑ بوٹوں اور زمین کی سبزی کو برسات نے ہرا کیا ہے کہ دو دھیلن گایوں اور بکریوں کا چارہ ہو جائے۔\n\nجب اُداسی اور پریشانی کا عالم دکھاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آدھی رات اِدھر آدھی رات اُدھر، جنگل سنسان، اندھیر بیابان، مرگھٹ میں دُور دُور تک راکھ کے ڈھیر، جلے ہوئے لکڑ پڑے، کہیں کہیں چتا میں آگ چمکتی ہے، بھُوتوں پریتوں کی ڈراؤنی صورتیں اور بھیانک مورتیں ہیں، کوئی تاڑ سا قد، لال لال دیدے پھاڑے لمبے لمبے دانت نکالے گلے میں کھوپڑیوں کی مالا ڈالے ہنس رہا ہے، کوئی ایک ہاتھی کو بغل میں مارے بھاگا جاتا ہے کوئی ایک کالا ناگ ککڑی کی طرح کھڑا چبا رہا ہے۔ پیچھے غل ہوتا چلا آتا ہے کہ لیجیو، ماریو، جانے نہ پائے، دم بھر میں یہ بھوت پریت غائب ہوتے ہیں، غل شور تھمتا ہے، پھر مرگھٹ کا میدان سنسان ہے، پتے ہوا سے کھڑکتے ہیں، ہوا کا سناٹا، پانی کا شور، اُلو کی ہوک، گیدڑوں کا بولنا اور کتوں کا رونا، یہ ایسی وحشت ہے کہ پہلے ڈر بھی بھول جاتے ہیں۔\n\nدیکھو یہ دونوں باغ آمنے سامنے لگے ہیں ؟ تم نے مقابلہ کیا؟ دونوں کے رنگ ڈھنگ میں کیا فرق ہے ؟ بھاشا کا شاعر فصیح استعارہ کی طرف بھول کر بھی قدم نہیں رکھتا۔ جو جو لُطف آنکھوں سے دیکھتا ہے اور جن خوش آوازیوں کو سنتا ہے یا خوشبوؤں کو سونگھتا ہے انہی کو اپنی میٹھی زبان سے بے تکلف بے مبالغہ صاف صاف کہہ دیتا ہے۔\n\nلیکن یہ نہ سمجھنا کہ ہندوستان میں مبالغہ کا زور تھا ہی نہیں، سنسکرت کا انشاء پرداز ذرا بگڑ جائے تو زمین کے ماتھے پر پہاڑ تیوری کے بل ہو جائیں اور دہانِ غار پتھروں سے دانت پیسنے لگیں۔ ان مضامین کو دیکھ کر اول ہمیں وہ عام قاعدہ یاد آتا ہے کہ ہر ملک کی انشا پردازی، اپنے جغرافیے اور سر زمین کی صورتِ حال کی تصویر بلکہ رسم و رواج اور لوگوں کی طبیعتوں کا آئینہ ہے، سبب اس کا یہ ہے کہ جو کچھ شاعر یا انشا پرداز کے پیشِ نظر ہوتا ہے وہی اس کی تشبیہوں اور استعاروں کا سامان ہوتا ہے۔\n\nمعلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ایران، خراسان اور توران کی زمین میں بہار کا موسم دلوں کو شگفتہ کرتا ہے، یہاں برسات کا موسم دلوں میں ذوق و شوق پیدا کرتا ہے، وہاں بہار میں بُلبل ہزار داستان ہے، یہاں کوئل اور پپیہا ہے، برج بھاشا کے انشاء پرداز برسات کے لُطف اور اِس کی کیفیتیں بہت خوب دکھاتے ہیں، جہانگیر نے توزک میں سچ کہا ہے کہ ہندوستان کی برسات ہماری فصل بہار ہے، اور کوئل یہاں کی بُلبل ہے۔ اس موسم میں عجب لطف سے بولتی ہے، اور مستیاں کرتی ہے، بہار کے موسم کا کچھ لطف یہاں ہے تو بسنت رُت کا سماں ہے، جس میں ہولی کے رنگ اُڑتے ہیں، پچکاریاں چھٹتی ہیں، گلال کے قمقمے جلتے ہیں۔ وہ باتیں نہیں جو فارسی والے بہار کے سمے کرتے ہیں۔\n\nبہرحال ہمیں اپنے بزرگوں کی اس صنعت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ ہندی بھاشا میں جو اضافت کی طوالت کا کے کی سے ادا ہوتی، وہ فارسی کی اضافت میں آ کر مختصر ہو گئی، اس کے علاوہ استعارہ و تشبیہ جو بھاشا میں شاید اس سبب سے کم لاتے تھے کہ وہ کتاب یا انشا پردازی کی زبان نہ تھی، یا اس سبب سے کہ برابر کاکا اور کے کے آنے سے کلام بدمزہ ہو جاتا تھا، اسی طرح بہت تشبیہ میں بھی لفظوں کے بڑھاوے سے کلام مرتبہ فصاحت سے گِر جاتا، اب انھوں نے فارسی کو اس میں داخل کر کے استعارہ و تشبیہ سے مرصع کر دیا۔ جس سے وہ خیالوں کی نزاکت اور ترکیب کی پختگی اور زور کلا اور تیزی و طراری میں بھاشا سے آگے بڑھ گئی، اور بہت سے نئے الفاظ اور نئی ترکیبوں نے زبان میں وسعت بھی پیدا کی۔\n\nاس فخر کے ساتھ یہ افسوس پھر بھی دل سے نہیں بھولتا، کہ انھوں نے ایک قدرتی پھول کو جو اپنی خوشبو سے مہکتا اور رنگ سے لہکتا تھا، مفت ہاتھ سے پھینک دیا، وہ کیا ہے ؟ کلام کا اثر، اور اظہار اصلیت ہمارے نازک خیال اور باریک بین لوگ استعاروں اور تشبیہوں کی رنگینی اور مناسبت لفظی کے ذوق شوق میں خیال سے خیال پیدا کرنے لگے، اور اصلی مطالب کے ادا کرنے میں بے پروا ہو گئے۔ انجام اس کا یہ ہوا کہ زبان کا ڈھنگ بدل گیا اور نوبت یہ ہوئی کہ اگر کوشش کریں تو فارسی کی طرح پنج رقعہ اور مینا بازار، یا فسانہ عجائب لکھ سکتے ہیں، لیکن ایک ملکی معاملہ یا اس طرح نہیں بیان کر سکتے، جس سے معلوم ہوتا جائے کہ واقعہ مذکور کیونکر ہوا اور کیونکر اختتام کو پہنچا، اور اس سے پڑھنے والے کو ثابت ہو جائے کہ روئداد وقت کی اور صورت حال معاملہ کی ایسی ہو رہی تھی کہ جو کچھ ہوا اسی طرح ہو سکتا تھا، دوسری صورت ممکن نہ تھی اور یہ تو ناممکن ہے، ایک فلسفہ یا حکمت اخلاق کا خیال رکھیں جس کی صفائی کلام لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف لگائے اور اس کے دلائل جو حُسنِ بیان کے پردہ میں برابر جلوہ دیتے جاتے ہیں، وہ دلوں سے تصدیق کے اقرار لیتے جائیں اور جس بات سے روکنا یا جس کا جھوکنا منظور ہو، اُس میں پوری پوری اطاعت سُننے والوں سے لے سکیں۔ یہ قباحت فقط نازک خیالی نے پیدا کی۔ استعارہ و تشبیہ کے انداز اور مترادف فقرے، تکیہ کلام کی طرح ہماری زبانِ قلم پر چڑھ گئے، بے شک ہمارے متقدمین اس کی رنگینی اور نزاکت کو دیکھ کر بھولے مگر یہ نہ سمجھے کہ یہ خیالی رنگ ہمارے اسلی جوہر کو خاک میں ملانے والا ہے، یہی سبب ہے کہ آج انگریزی ڈھنگ پر لکھنے میں یا ان کے مضامین کا پورا پورا ترجمہ کرنے میں ہم بہت قاصر ہیں، نہیں ہماری اصلی انشاء پردازی اس رستہ میں قاصر ہے۔\n\nانگریزی تحریر کے عام اُصول یہ ہیں کہ جس شے کا حال یا دل کا خیال لکھیئے تو اُسے اس طرح اَدا کیجیے کہ خود وہ حالت گزرنے سے یا اس کے مشاہدہ کرنے سے جو خوشی یا غم غصہ یا رحم یا خوف یا جوش دل پر طاری ہوتا ہے بعینہ وہی عالم اور وہی سماں دل پر چھا دیوے۔\n\nبے شک ہماری طرزِ بیاں اور چُست بندش اور قافیوں کے مسلسل کھٹکوں سے کانوں کو اچھی طرح خبر کرتی ہے۔ اپنے رنگین الفاظ اور نازک مضمونوں سے خیال میں شوخی کا لُطف پیدا کرتی ہے، ساتھ اس کے مبالغہ کلام اور عبارت کی دھوم دھام سے زمین و آسمان کو تہ و بالا کر دیتی ہے، مگر اصل مقصود یعنی دلی اثر یا اظہارِ واقفیت ڈھونڈو تو ذرا نہیں، چند مضمون ہیں کہ ہماری زبانوں پر بہت رواں ہیں مگر حقیقت میں ہم ان میں بھی ناکام ہیں، مثلاً ہم اگر کسی کے حُسن کی تعریف کرتے ہیں، تو رشکِ حور اور غیرتِ پری پر قناعت نہ کر کے اُسے ایک پُتلا ناممکنات و محالات کا بنا دیتے ہیں، مگر کسی حسین کا حُسنِ خداداد خود ایک عالم ہے کہ جو کچھ آنکھوں سے دیکھ کر دلوں پر گزر جاتی ہے، دل ہی جانتے ہیں، بس اسی کو اس طرح کیوں ادا نہیں کر دیتے کہ سننے والے بھی کلیجہ پکڑ کے رہ جائیں۔\n\nایک بلونت جوان کی تعریف کریں گے تو رستم، تہمتن، اسفندیار، روئیں تین، شیر بیشۂ وغا، نہنگ قلزم ہیجا، وغیرہ وغیرہ لکھ کر صفحے سیاہ کر دیں گے لیکن اس کی بلند گردن، بھرے ہوئے ڈنڑ، چوڑا سینہ، بازوؤں کی گلاوٹ، پتلی کمر، غرض خوشنما بدن اور موزوں ڈیل ڈول بھی ایک انداز رکھتا ہے، اس کی اپنی دلاوری اور ذاتی بہادری بھی آخر کچھ نہ کچھ ہے، جس کے کارناموں نے اُسے اپنے عہد میں ممتاز کر رکھا ہے، اسی کو ایک وضع سے کیوں نہیں ادا کر دیتے، جسے سُن کر مُردار خیالوں میں اکٹر تکڑ اور کمھلائے ہوئے دلوں میں اُمنگ پیدا ہو جائے۔\n\nایک چمن کی تعریف سے کبھی فلک کے سبز باغ اور گلشنِ انجم کے دل پر داغ دیں گے، کبھی اُسے فردوسِ بریں اور جنات روئے زمین بنائیں گے بلکہ ایک ایک پھُول اور ایک ایک پتے کی تعریف میں رنگ رنگ سے ورق سیاہ کر دیں گے۔ اس کی اس کی ہریاول کا لہلہانا، پھولوں کا چہچہانا، میٹھی میٹھی خوشبوؤں کا آنا، آبِ رواں کا لہرانا، موزوں درختوں، گلزاروں کے تختوں کی بہار، ہوا کی مہک اور طوطی کی چہک، پپیہے کی کوک، کوئل کی ہوک جو کہ روحانی تفریح کے ساتھ انسان کے دل پر اثر کرتی ہے، اس کا بیان اس طرح نہیں کرتے جس کے پڑھنے سے آنکھوں میں سماں چھا جائے۔ میدانِ جنگ ہو تو زمین کے طبقوں کو اُڑا کر آسمان میں تلپٹ کر دیتے ہیں اور خون کے دریا ملکوں سے ملکوں میں بہا دیتے ہیں، مگر اپنے موقع پر وہ تاثیر جس سے ایک بہادر کی بہادری دیکھ کر دلوں میں قوم کی ہمدردی اور رفیق پر جاں نثار کرنے کا ولولہ پیدا ہو نہیں ہے۔\n\nدوسرے کوچہ میں آ کر علم کی تعریف پر اترتے ہیں تو اس کی برکت سے پیر پیغمبر، ملائک فرشتہ بنا دیتے ہیں، کاش اس کے عوض میں چند ظاہر کھُلے کھُلے فائدے بیان کر دیں جس سے ہر شخص کے دل میں اس کا شوق پیدا ہو اور عالم جاہل سمجھ جائے کہ اگر بے علم رہوں گا تو خواری و ذلت کی زندگی سے دین و دنیا دونوں خراب ہوں گے۔ ہماری تصنیفات میں اس کا کچھ ذکر ہی نہیں، اور افسوس کہ اب تک بھی ہم نے اس پر توجہ نہیں کی (انگریزی میں بہت خیالات اور مضامین ایسے ہیں کہ ہماری زبان نہیں ادا کر سکتی، یعنی جو لطف اِن کا انگریزی زبان میں ہے وہ اُردو میں پورا ادا نہیں ہو سکتا، جو کہ درحقیقت میں زبان کی نا طاقتی کا نتیجہ ہے اور یہ اہلِ زبان کے لیے نہایت شرم کا مقام ہے۔\n\nاگر شائستہ قوموں کی انشاء پردازی سوال کرے کہ اُردو کی انشاء کیوں اس حالت میں مبتلا رہی؟ تو حاضر جوابی فوراً بول اُٹھے گی کہ قوم کی انشاء پردازی بموجب اس کی حالت کے ہوتی ہے اور خیالات اس کے بموجب حالات ملک اور تربیت ملکی کے ہوتے ہیں، جیسی ہندوستان کی تعلیم و شائستگی تھی، اور بادشاہوں اور امیروں کی قدردانی تھی ویسی ہی انشا پردازی رہی اور خاتمہ کلام اس فقرہ پر ہو گا کہ کوئی پرند اپنے بازوؤں سے بڑھ کر پَر نہیں مار سکتا، اس کے بازو فارسی، سنسکرت، بھاشا وغیرہ تھے۔ پھر اُردو بیچاری انگلینڈ یا روم یا یونان کے محلوں پر کیونکر جا بیٹھتی۔ مگر حقیقت میں عقدہ اس سوال کا ایک اور گرہ میں بند ہے وہ یہ ہے کہ ہر ایک شے کی ترقی کسی ملک میں اسی قدر زیادہ ہوتی ہے، جس قدر شے مذکور کو سلطنت سے تعلق ہوتا ہے، یورپ کے ملکوں میں قدیم سے دستور ہے کہ سلطنت کے اندرونی اور بیرونی زور قوم کی ذاتی اور علمی لیاقتوں پر منحصر ہوتے تھے اور سلطنت کے کل انتظام اور اُس کے سب قسم کے کاروبار، انہی کے شمول اور انہی کی عرق ریز تدبیروں سے قرار پاتے تھے، یہ بھی ظاہر ہے کہ ان کی تجویزوں کی بنیاد علمی اور عقلی اور تاریخی تجربہ کے زوروں پر قائم ہوتی تھی، پھر لیاقتِ منحصر بھی سینکڑوں ہی میں منحصر نہیں بلکہ ہزاروں میں پھیلی ہوئی تھی، اس میں جہاں اور مہماتِ سلطنت ہیں وہاں ایک یہ بھی تھا کہ ہر امر تنقیح طلب جلسہ عام کے اتفاق رائے سے وابستہ تھا تحریروں اور تقریروں کے موقع پر جب ایک شخص جلسہ عام میں استادہ ہو کر کوئی مطلب ادا کرتا تھا تو اِدھر کی دنیا اُدھر ہو جاتی تھی، پھر جب طرفِ ثانی اس کے مقابلہ میں جواب ترکی بر ترکی دیتا تھا تو مشرق کے آفتاب کو مغرب سے طلوع کر دیتا تھا اور اب تک بھی فقط تقریروں اور تحریروں کے زور سے ہزاروں لاکھوں آدمیوں کو متفق کر کے ایک رائے سے دوسری رائے پر پھیر لیتے ہیں، خیال کرنا چاہیے کہ ان کے بیان میں کیسی طاقت اور زبان میں کیا کیا زور ہوں گے، برخلاف ہندوستان کے یہاں کی زبان میں اگر ہوئے تو ایک بادشاہ کی خوش اقبالی میں چند شعراء کے دیوان ہوئے جو فقط تفریح طبع اور دل لگی کا سامان ہے، کجا زمین، کجا آسمان، نہ وہ جوہر پیدا ہوا نہ کسی نے اس کے پیدا کرنے کا ارادہ کیا باوجود اس کے اُردو کی خوش اقبالی اور خوش رواجی قابلِ رشک ہے، کیونکہ اس کی اصل تو برج بھاشا ہے جو اپنی بہارِ جوانی میں فقط ایک ضلع میں لین دین کی زبان تھی، خود اُردو دلی سے نکلی۔ جس کا چراغ دلی کی بادشاہت کے ساتھ گل ہونا چاہیے تھا، پھر بھی اگر بیچوں بیچ ہندوستان میں کھڑے ہو کر آوازیں دیں کہ ان ملک کی زبان کیا ہے تو جواب یہی سنیں گے کہ اُردو اس کے ایک کنارے مثلاً پشاور سے چلو تو اول افغانی، اٹک اُترے تو پوٹھواری کچھ اور ہی کہتے ہیں، جہلم تک داہنے پر کشمیر پکار رہا ہے کہ یوروَلا، یوروَلا، یعنی اِدھر آؤ، بائیں پر، ملتان کہتا ہے کہ کتھے گھنیا، یعنی کہاں چلے، آگے بڑھے تو وہ بولی ہے کہ پنجابی خاص اسی کو کہتے ہیں، اس کے بائیں پر پہاڑی ایسی زبان ہے کہ تحریر و تقریر سب سے الگ ہے۔ ستلج اُتریں تو پنجابیت کی کمی سے لوگوں کی وضع و لباس میں بھی فرق شروع ہوتا ہے، دلّی پہنچے تو اور ہی سماں بندھا ہوا ہے، میرٹھ سے بڑھے تو علی گڑھ میں بھاشا سے مِلا جُلا پورب کا انداز شروع ہو گیا۔ کانپور، لکھنؤ سے الہ آباد تک یہی عالم ہے، جنوب کو ہٹیں تو مارواڑی ہو کر گجرأتی اور دکھنی ہو جاتی ہے، پھر ادھر آئے تو آگے بنگالہ ہے اور کلکتہ پہونچ کر تو عالم گونا گوں خلقِ خدا اور ملکِ خدا ہے، جس کا امتیاز حدِ انداز سے باہر ہے، میرے دوستو تم جانتے ہو کہ ہر شے کی اصلیت اور حُسن و قبح کے واسطے ایک مقام ایسا ہوتا ہے جیسے سِکہ کے لئے ٹکسال، کیا سبب ہے کہ ابتداء میں زبان کے لئے دِلی ٹکسال تھی؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ دارالخلافہ تھی، دربار ہی میں خاندانی اُمراء اور امیر زادے خود صاحب علم ہوتے تھے، اِن کی مجلسیں اہلِ علم اور اہلِ کمال کا مجمع ہوتی تھیں جن کی برکت سے طبیعتیں گویا ہر شے کے سلیقے اور شائستگی اور لطافت و ظرافت کا قالب ہوتی تھیں، اسی واسطے گفتگو، لباس، ادب، آداب نشست، برخاست بلکہ بات بات ایسی سنجیدہ اور پسندیدہ ہوتی تھی کہ خواہ مخواہ سب کے دل قبول کرتے تھے۔ ہر شے کے لئے ہمیشہ نئی نئی تراش اور نئی نئی اصلاحیں اور ایجاد و اختراع وہاں سے ہوتے تھے اور چونکہ دارالخلافہ میں شہر شہر کا آدمی موجود تھا، اس لئے وہ دل پذیر ایجاد اور اصلاحیں ہر شہر میں جلد عام ہو جاتی تھیں چنانچہ بہادر شاہ سے پہلے دلی ہر بات کے لئے سند رہی، اور انہی صفتوں سے لکھنؤ نے بھی سندِ افتخار حاصل کی۔ لکھنؤ کو دیکھ کر سمجھ لو کہ دل پسند ایجادوں اور رنگین باتوں کا ایجاد ہونا کسی شہر کے اینٹ پتھر کی تاثیر نہیں ہے جہاں شائستہ اور رنگین مزاج لوگ جمع ہو گے اور دلپذیر باتوں کے سامان موجود ہوں گے، وہیں سے دو پھول کھلنے لگیں گے، چنانچہ وہی دلی کے لوگ اور اُن کی اولاد تھی کہ جب تباہی سلطنت اور آبادی لکھنؤ کے سبب سے وہاں پہنچے تو چند روز میں وہی ہی تراشیں وہاں سے نکلنے لگیں، لکھنؤ دارالسلطنت ہو گیا اور اس کے ضمن میں زبان بھی دلی کی اطاعت سے آزاد ہو گئی۔ اس آزادی کی ناسخ، آتش، ضمیر، خلیق وغیرہ اہلِ کمال نے بنیاد ڈالی اور انیس، دبیر، رند، خواجہ وزیر اور سرور نے خاتمہ کر دیا، اُنھوں نے زبان کو ترقی دی، مگر اکثر اُن میں ایسے ہوئے کہ جنگل کے صاف کرنے کو اُٹھے تھے مگر اس میں دریا کا دہانہ لا ڈالا، یعنی صفائی زبان کی جگہ لغات کی بوچھاڑ کر دی۔ یہاں تک کہ لکھنؤ کا ورق بھی زمانہ نے اُلٹ دیا، اب آفتاب ہماری ملکہ آفاق کا نشان ہے جسے حکم نہیں کہ ان کی قلمرو کے خط سے باہر حرکت کر سکے، ڈاکوں اور ریل گاڑیوں نے پورب سے پچھم تک دوڑ کر بھانت بھانت کا جانور ایک پنجرے میں بند کر دیا، دلی برباد، لکھنؤ ویران، دونوں کے سندی اشخاص کچھ پیوندِ زمین ہو گئے کچھ دربدر خاک بسر اب جیسے اور شہر ویسے ہی لکھنؤ جیسے چھاؤنیوں کے بازار ویسی ہی دلی بلکہ اس سے بھی بدتر کوئی شہر ایسا نہیں رہا، جس کے لئے لوگوں کی زبان عموماً سند کے قابل ہو، کیونکہ شہر میں ایسے چیدہ اور برگزیدہ اشخاص جن سے کہ وہ شہر قابل سند ہو صرف گنتی کے لوگ ہوتے ہیں، اور وہ زمانہ کی صدہا سالہ محنتوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، اُن میں سے بہت مر گئے کوئی بڈھا جیسے خزاں کا مارا پتہ کسی درخت پر باقی ہے، اس بڈھے کی آواز کمیٹیوں کے غل اور اخبار کے نقار خانوں میں سُنائی بھی نہیں دیتی، پس اب اگر دلی کی زبان کو سندی سمجھیں تو وہاں کے ہر شخص کی زبان کیونکر سندی ہو سکتی ہے، ہوا کا رُخ اور دریا کا بہاؤ نہ کسی کے اختیار میں ہے نہ کسی کو معلوم ہے کہ کدھر پھرے گا، اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ اب زبان کیا رنگ بدلے گی، ہم بھی جہاِز بے ناخدا ہیں، توکل بخدا کر بیٹھے ہیں، زمانہ کے انقلابوں کو رنگِ چمن کی تبدیلی سمجھ کر دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں، آزاد :\n\nقسمت میں جو لکھا تھا سو دیکھا ہے اب تلک\n\nاور آگے دیکھیے ابھی کیا کیا ہیں دیکھتے\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"} {"title": "آب حیات/سراج الدین علی خان آرزو", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "خانِ آرزو کو زبانِ اُردو پر وہی دعویٰ پہنچتا ہے جو کہ ارسطو کو فلسفہ و منطق پر ہے۔ جب تک کہ کل منطقی ارسطو کے عیال کہلائیں گے تب تک اہلِ اُردو خانِ آرزو کے عیال کہلاتے رہیں گے، ان کا دلچسپ حال قابلِ تحریر تھا، لیکن چونکہ فارسی تصنیفات کی مہموں نے اُنھیں کوئی دیوان اُردو میں نہ لکھنے دیا، اس لئے یہاں اُن کے باب میں اس قدر لکھنا کافی ہے کہ خان آرزو وہی شخص ہیں جن کے دامنِ تربیت میں ایسے شائستہ فرزند تربیت پا کر اُٹھے جو زبانِ اُردو کے اصلاح دینے والے کہلائے۔ اور جس شاعری کی بنیاد جگت اور ذومعنی لفظوں پر تھی اسے کھینچ کر فارسی کی طرز اور ادائے مطالب پر لے آئے، یعنی مرزا جان جاناں مظہر، مرزا رفیع، میر تقی میر، خواجہ میر درد، وغیرہ۔\n\nخان آرزو اُردو کے شاعر نہ تھے نہ اُس زمانہ میں اُسے کچھ کمال سمجھتے تھے، البتہ بعض متفرق اشعار کہے تھے، وہ زمانہ کی گردشوں سے اس طرح گھِس پس کر اُڑ گئے کہ آج کل کے لوگوں کو خبر بھی نہیں، میرے دیوانے دل نے جو اُستادوں کی زبان سے لے کر سینہ میں امانت رکھے وہ کاغذ سپرد کرتا ہوں۔ یقین ہے کہ یہ امانتدار ضائع نہ کرے گا۔ خان موصوف نے ۱۱۶۵ھ میں رحلت کی، اصل وطن اُن کے بزرگوں کا اکبر آباد ہے، مگر یہ دلی سے خاص دل لگی رہتے تھے، چنانچہ لکھنؤ میں انتقال کیا، ہڈیوں کی خاک دلی میں آ کر زمین کا پیوند ہوئی۔\n\nآتا ہے ہر سحر اُٹھ تیری برابری کو\n\nکیا دن لگے ہیں دیکھو خورشید خاوری کو\n\nاِس تند خو صنم سے جب سے لگا ہوں سننے\n\nہر کوئی مانتا ہے میری دلاوری کو\n\nتجھ زلف میں لٹک نہ رہے دل تو کیا کرے\n\nبیکار ہے اٹک نہ رہے دل تو کیا کرے\n\nرکھے سیپارہ دل کھول آگے عندلیبوں کے\n\nچمن میں آج گویا پھول ہیں تیرے شہیدوں کے\n\nکھول کر بندِ قبا کو ملکِ دل غارت کیا\n\nکیا حصارِ قلب دلبر نے کھلے بندوں کیا\n\nاس زلفِ (۱) سیاہ فام کی کیا دھوم پڑی ہے\n\nآئینہ کے گلشن میں گتا جھوم پڑی ہے\n\n(۱) سودا نے اپنے تذکرہ میں اس شعر کو خان آرزو کے نام سے اس طرح لکھا ہے اور میر انشاءاللہ خان نے اپنے دریائے لطافت میں قزلباش خاں امید کے نام پر اسی شعر کو اس طرح لکھا ہے :\n\nاز زلف سیاہ تو بدل دوم پری ہے\n\nدر خانہ آئینہ گتا جوم پڑی ہے\n\nاور بعض تذکروں میں اسی شعر کو میر سوز فطرت کے نام سے لکھا ہے۔ واللہ اعلم۔\n\nدریائے اشک اپنا جب سر بہ اوج مارے\n\nطوفان نوح بیٹھا گوشہ میں موج مارے\n\nمرے شوخِ خراباتی کی کیفیت نہ کچھ پوچھو\n\nبہارِ حُسن کو دی آب اُس نے جب چرس کھینچا\n\nمغاں مجھ مست بن پھر خندہ قلقل نہ ہووے گا\n\nمئے گلگوں کا شیشہ ہچکیاں لے لے کے روئے گا\n\nباوجودیکہ عزتِ خاندان اور نفسِ کمالات کی حیثیت سے خان موصوف کو امرا و غربا سب معزز و محترم سمجھتے اور علم و فضل کے اعتبار سے قاضی القضات کا عہدہ دربارِ شاہی سے حاصل کیا مگر مزاج کی شگفتگی اور طبیعت کی ظرافت نے دماغ میں خود پسندی اور تمکنت کی بو نہیں آنے دی تھی، چنانچہ لطیفہ شاگردوں میں ایک نوجوان بچپن سے حاضر رہتا تھا، حُسنِ اتفاق یہ کہ چہرہ اُس کا نمکِ حسن سے نمکین تھا، وہ کسی سبب سے چند روز نہ آیا، ایک دن یہ کہیں سرِ راہ بیٹھے تھے کہ وہ اِدھر سے گزرا۔ انھوں نے بلایا، شاید اسے ضروری کام تھا کہ وہ عذر کر کے چلا، انھوں نے پھر روکا اور بلا کر یہ شعر پڑھا کہ لطافتِ طبع سے اسی وقت شبنم کی طرح ٹپکا تھا :\n\nیہ ناز یہ غرور لڑکپن میں تو نہ تھا\n\nکیا تم جوان ہو کے بڑے آدمی ہوئے\n\nایک دن کہیں مشاعرہ تھا، ایک جانب چند فہمیدہ اور سخن شناس بیٹھے شعر و سخن سے دماغ تر و تازہ کر رہے تھے، ایک شخص نے خان موصوف کی تعریف کی اور اُس میں بہت مبالغہ کیا۔ حکیم اصلح الدین خاں صاحب مُسکرائے اور کہا کہ :\n\nآرزو خوب است!\n\nاینقدرہا خوب نیست\n\nسب ہنسے اور خود خاں صاحب دیر تک اس مصرعہِ لطیف کی داد دیتے رہے :\n\nپیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ\n\nافسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%AC_%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%D9%86_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88"} {"title": "آب حیات/سید انشاء اللہ خاں", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "وہ فاضل زمانہ ہو تم جامع علوم\nتحصیل صرف و نحو سے جنکی مچی ہے دھوم\n\nرمل و ریاضی حکمت و ہیئت جفر نجوم\nمنطق بیان معانی کہیں سب زمیں کو چوم\n\nتیری زباں کے آگے نہ دہقاں کا ہل چلے\n\nاِک دو غزل کے کہنے سے بن بیٹھے ایسے طاق\nدیوان شاعروں کی نظر سے رہے بہ طاق\n\nناصر علی نظیری کی طاقت ہوئی ہے طاق\nہر چند ابھی نہ آئی ہے فہمید جفت و طاق\n\nٹنگری تلے سے عرفی و قدسی نکل چلے\n\nتھا روز فکر میں کہ کہوں معنی و مثال\nتجنیس و ہم رعایت لفظی و ہم خیال\n\nفرق رجز رمل نہ لیا میں نے گو سنبھال\nنادانی کا مرے نہ ہو دانا کو احتمال\n\nگو تم بقدر فکر یہی کر عمل چلے\n\nنزدیک اپنے آپ کو کتنا ہی سمجھو دُسر\nپر خوب جانتے ہیں مجھے جو ہیں ذی شعور\n\nوہ بحر کونسی نہیں ہے جس پہ یاں عبور\nکب میری شاعری میں پڑے شبہ سے قصور\n\nبن کر قمل (جوں) نکالنے کو تم خلل چلے\n\nموزونی و معانی میں پایا نہ تم نے فرق\nتبدیل بحر سے ہوئے بحر خوشی میں غرق\n\nروشن ہے مثل نہر یہ از غرب تابہ شرق\nشہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق\n\nوہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے​\n\nکم ظرفی سے تمھیں تو یہی آئی ہے اُمنگ\nکیجیے نمود و خلق میں اب کرسخن کی جنگ\n\nاپنے تئیں تو بحثنے آتا ہے یار ننگ\nاتنا بھی رکھے حوصلہ فوارہ ساں نہ تنگ\n\nچلو ہی بھر جو پانی میں گز بھر اچھل چلے\n\nکیوں جنگ گفتگو کو تم اٹھ دوڑے اس قماش\nکرتے جو بھاری پانچہ ہوتا نہ پردہ فاش\n\nپر سمجھیں کب یہ بات جو کندے ہوں ناتراش\nتیغ زباں کو میان میں رکھتے تم اپنے کاش\n\nناحق جو تم ازار سے باہر نکل چلے​\n\nمجلس میں چکے چاہیے جھگڑا شعراء کا\nایسے ہی کسی صاحب توقیر کے آگے\n\nیہ بھی کوئی دانش ہے کہ پہنچے یہ قضایا\nاکبر تئیں یا شاہ جہانگیر کے آگے​\n\nمرزا عظیم بیگ نے کہا بابا میں نے اپنی عرض حال میں اپنے اُستاد کے ایک شعر پر قناعت کی ہے کہ ابھی تضمین ہو گیا۔\n\nعظیم اب گو ہمیشہ سے ہے یہ شعر کہنا شعار اپنا\nطرف ہر ایک سے ہو بحث کرنا نہیں ہے کچھ افتخار اپنا\n\nکئی سکھن باز گھنڈ گو یوں ہو نہ ہو اعتبار اپنا\nجنھوں کی نظروں میں ہم سبک ہیں دیا انہی کو وقار اپنا\n\nعجب طرح کی ہوئی فراغت گدھوں پہ ڈالا جو بار اپنا​\n\nدریائے مواج کےآگے گھاس پھوس کی کیا حقیقت تھی۔ سیَّد انشاء غزل فخریہ کہہ کر لائے تھے۔ وہ پڑھی جس کا ہر شعر دلوں پر توپ کے گولہ کا کام کرتا تھا۔\n\nاِک طفلِ دبستاں ہے فلاطوں مرے آگے\nکیا منھ ہے ارسطو جو کرے چوں مرے آگے\n\nکیا مال بھلا قصر فریدوں مرے آگے\nکانپے ہے پڑا گنبدگردوں مرے آگے\n\nمرغانِ اولی اجنحہ مانند کبوتر!\nکرتے ہیں سدا عجز سے غوں غوں مرے آگے\n\nمنھ دیکھو تو نقارچی پیلِ فلک بھی\nنقارے بجا کر کہے دوں دوں مرے آگے\n\nہوں وہ جبروتی کہ گردہِ حکماء سب\nچڑیوں کی طرح کرتے ہیں چوں چوں مرے آگے\n\nبولے ہے یہی خامہ کہ کس کس کو میں باندھوں\nبادل سے چلے آتے ہیں مضموں مرے آگے\n\nمُجرے کو مرے خسرو پرویز ہو حاضر\nشیریں بھی کہے آ گے بلا لوں مرے آگے\n\nکیا آ کے ڈراوے مجھے زلفِ شب یلدا\nہے دیو سفید سحری جوں مرے آگے\n\nوہ مارِ فلک کاہکشاں نام ہے جس کا\nکیا دخل جو بل کھا کے کرے فوں مرے آگے\n\nخبر انتقال میر انشاء\nدلِ غم دیدہ تا نشاط شنفت\n\nسال تاریخِ اُو زجان اجل\nعرفی وقت بود انشاء گفت\n(۱۲۳۳ھ)​\n\nتو اے نسیم سحر گہ زجانب انشاء\nبرو بخدمت حاجب علی شیرازی\n\nسلام شوق رساں و بگو بعجز و نیاز\nکہ مے ہنر و بکمالِ تو ہر قدر نازی\n\nبلے زنفخہ روح القدس مدد داری\nازاں مسیح زمان و سراسر اعجازی\n\nہمائے عالمِ قدسی سہیم تو عنقاست\nچو طائرانِ بہشت بریں خوش آوازی\n\nقصیدہ و غزل فی البدیہہ ات دیدم\nعلّو مرتبہ داری بلند پروازی !\n\nکسے بہ پیش تو دیگرچہ لافِ شعر زند\nبفکر سعدی شیراز را تو انبازی\n\nبسان رستم دستانی اے نکو کردار\nبہ ہر طرف کہ کنی قصدِ رخش مے تازی\n\nہنوز قید نہ داری چوسرد آزادی\nبہر کجاکہ دلت مے کشد سر افرازی\n\nتو سر بمہر و ہمچو نہ نامہ شاہاں!\nاگرچہ فقرہ مخصوصِ مطلب زاری\n\nبایں جریمہ کہ حاضرِ بخمت نشدم\nتوقع اینکہ زچشم خودم نیندازی\n\nبدون حکمِ وزیر المملک اے آغا\nچساں کنم حرکت نوکری ست یا بازی\n\nنماز و روزہ معاف است عذر اگر باشد\nبگو برائے چہ دیگر بشکوہ پردازی\n\nبعید نیست پے سیر اگر نجانہ من\nقدم گذاری و گاہے ز لطف بنوازی​\n\nعربی میں بھی وہ خاموش نہ تھے، چنانچہ یہ قطعے نمونہ دکھاتے ہیں۔\n\nسَکَت ُ الحبیب متانۃً\nبقئ التلذذُ سَارِیَا\n\nجُلسائۃ یستحسِنُون\nوَیَزعمُونَ محا کِیَا\n\nربّ علیٰ رَحمَتِک الوافیہ\nاسئلک الصحۃ والعافیہ\n\nانت مخیثُ الفقرا ھب لنا\nعافیۃُ کافیۃ شافیہ​\n\nعربی فقرے اس خوبصورتی سے تضمین کرتے ہیں جیسے انگوٹھی پر نگینہ، چنانچہ سر دیوان غزل کا مطلع ہے :\n\nضما برب کریم یاں وہ ہر ایک تیرا ہے مبتلا\nکہ اگر آلستُ بِرَبکّمُ تو کہے تو کہدیں ابھی بلٰی\n\nاے عشق مجھے شاہد اصلی دکھا\nقعہ خذ بیدی وفقک اللہ تعالٰی\n\nمجھے کیا ملائک عرش سے مجھے عشق تیرا ہے ایخدا\nبہت انکو لکھوں تو السّٰلام علی ان اتبع الھدی\n\nبھاتا ہے یہ بھوک پیاس سب کچھ سہنا\nاور روزوں میں انتظارِ مغرب رہنا\n\nآپس میں سحر گہی کی چہلیں اور پھر\nبا الصُّو، غَدا توَیتُ اُن کا کہنا​\n\nآرام و نشاط و عیش کردند ہجوم\nایجاب و قبول جملگی شد معلوم!\n\nبا دختر رز پیر مغاں عقدم بست\nقَد قُلت قِبَلتُ بالصّدّاق المعلوم\n\nمیں کوچہ عشق کی جو کرتا ہوں سیر\nآرام میں اور اس میں تو ذاتی ہے بیر\n\nہرگام مری زباں پہ ہے جاری انشاء\nربّ یسّر ہے اور تمّمِ بالخیر​\n\nشکار نامہ\n\nاینکہ کنوں مے گذ رد در شمار\nبست فزوں از ود صد و یک ہزار\n\nساختہ در خامہ انشاء وطن\nچند ہزار آہوئے مشک ختن\n\nیہ کہ کنوں صید مضامین کنم\nبارگئ ناطقہ را زیں کنم\n\nدر تمہید کلام\n\nاز مدد شیر خدائے و دود\nصورتِ عنقائے طرب پرکشود\n\nذہن و ذکا رقص چو طاؤس کرد\nمست شدہ آہوئے صحرا نورد\n\nطائر اقبال بہ نشو و نما\nفصلِ گل و باد بہاری و زید\n\nدر تعریف حضور پر نور\n\nاشرف خیل و ز رائے زماں\nناظم ملک ہمسر ہندوستاں\n\nصفدر و منصور و سخی و شجاع\nبست کمر از پئے قتل سباع\n\nتاختہ از خانہ بعزمِ شکار\nکرد برد برج اسدؔ جاں نثار\n\nدر تعیریف خیمہ و خرگاہ نوبت و نقارہ و مایغلق بذالِکَ\n\nتا کہ بر و خیمہ زریں طناب\nآمدہ در برج حملِ آفتاب\n\nگشت ز نقارہ صدائے بلند\nز ندہ بماں ز ندہ بماض بےگزند\n\nدزُ و ہلِ نقرہ بر آمد بجوش\nتابتواں، تابتواں، ہاں خروش\n\nحلّت صید است در آئین من\nدین من و دین من و دین من\n\nداشدہ زیں ساں دہنِ کرّنا!\nبا دیدہ بادیدہ بادُعا\n\nدشمنِ ایں خانہ جگر خوں بود\nدوں بود و دوں بود و دوں بود\n\nعیش بروں از حد و اندازہ شد\nرسم کہن از سر نو تازہ شد\n\nغلغلہ کوس بہ کیواں رسید\nآب شدہ زہرہ و یوسفید\n\nکوہ چو غرّ یدن پیلش شنید\nصورتِ خرطوم دے از دو روید\n\nگفت بروں آمدہ از زیر ابر\nصور سرافیل پے صید بیر\n\nوقت ہما نست کہ سیمرغ قاف\nبگذر و از قِلّہ لاف و گذاف\n\nآنچہ ند یدست فریدوں نجواب\nجملہ مہیاست و را در رکاب\n\nچونکہ بد ید ایں ہمہ عزم و شکوہ\nلرزہ بر افتاد بر اندام کوہ\n\nتاریخ\n\nفوج ظفر موج بایں عزّ و جاہ\nگر در سا نید چو برادجِ ماہ\n\nشو کتش انشاء بخط زر نوشت\nفقرہ تاریخ مظفر نوشت\n\nتعریف اسپ\n\nخود چو بر اسپِ عربی برنشست\nآمدہ بر فوج غزالاں شکست\n\nاسب چہ اسپ اشہبِ باد صبا\nاسپ مگوشہ رخ گلگوں قبا\n\nاسپ بایں شوخی دل چسپ کو\nحور بگو اسبِ مگو، اسپ کو\n\nاسپ مداں لمعہ شرق است ایں\nاسپ کجا چشمک برق است ایں\n\nپیش ردِ جودتِ طبع سلیم\nگام نہد بر برد دوشِ نسیم\n\nزیب دہ کوہ و بیابانِ نجد\nقیس اگر بنگر و آید بہ وجد\n\nسیرتِ لیلٰی رسدش در خیال\nباہمہ چالاکی و حُسن و جمال\n\nبیندش از نادر کشورستاں\nوصف کند باہمہ ایرانیاں​\n\nعلم --- گیان\nنسبت ثبوتہ --- مان لینا\nعلم حصول --- پر دھیان\nنسبت سلبی --- پورا توڑ\nعلم حضوری --- آپ گیان\nبدیہی --- پرگھٹ\nقصور --- دھیان\nنظری --- گپت\nتصدیق --- جون کا توں\nتسلسل --- الجھا سُوت\nموضوع --- بول\nدور --- ہیر پھیر\nمحمول --- بھرپور\nمطابقت --- ٹھیک ٹھیک\nرابطہ --- جوڑ\nتضمنی --- کہسر\nنسبت --- ملاپ\nالتزامی --- اوپری لگاؤ\nقضیہ --- بات\n\nلیا گر عقل نے منھ میں دل بیتاب کا گٹکا\nتو جوگی جی دھرا رہ جائیگا سیماب کا گٹکا\n\nصنم خانہ میں جب دیکھا بہت و ناقوس کا جوڑا\nلگا ٹھاکر کے آگے ناچنے طاؤس کا جوڑا\n\nلے پارے سے جو ہڑتال کر کے راکھ کا جوڑا\nتو نابنے سُرجی اگلیں کوئی نّوے لاکھ کا جوڑا\n\nنہیں کچھ بھید سے خالی یہ تلسی داس جی صاحب\nلگایا ہے جو اک بھونرے سے تمنے آنکھ کا جوڑا\n\nلپٹکر کرشن جی سے رادھکا ہنسکر لگیں کہنے\nملا ہے چاند سے اے لو اندھیرے ماگھ کا جوڑا\n\nیہ سچ سمجھو کہ انشاء ہے جگت سیٹھ اس زمانہ کا\nنہیں شعر و سخن میں کوئی اس کے راکھ کا جوڑا\n\nاے عشق اجی آؤ مہاراجوں کے راجہ ڈنڈوت ہے تم کو!\nکر بیٹھے ہو تم لاکھوں کروڑوں ہے کے سر چٹ اک آن میں چٹ پٹ\n\nیہ جو مہنت بیٹھے ہیں رادھا کے کنڈ پر\nاوتار بن کے گرتے ہیں پریوں کے جھنڈ پر\n\nہے نور بصر مردمک دیدہ میں پنہاں مانند کنہیا\nسو اشک کے قطروں سے پڑا کھیلے ہے جھرمٹ اور انکھیں ہیں پنگھٹ\n\nدل ستم زدہ بیتابیوں نے لوٹ لیا\nہمارے قبلہ کو وہابیوں نے لوٹ لیا\n\nسُنایا رات کو قصہ جو ہیر رانجھے کا\nتو اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا\n\nیوں چلے مژگاں سے اشک خونفشاں کی میدنی\nجیسے بہرائچ چلے بالے میاں کی میدنی\n\nاور مقطع کی اکڑ تکڑ دیکھنے کے قابل ہے۔\n\nرسّمانہ دیکھ انشاء کو قشوں شاہ میں\nسب یہ کہتے ہیں کہ آئی سیستاں کی میدنی\n\nپھبن، اکڑ، چھب، نگاہ، سج دھج، جمال و طرز خرام آٹھوں\nنہ ہوویں اس بُت کے گر پجاری تو کیوں ہو میلے کا نام آٹھوں​\n\nقصیدہ در تہنیت جشن\n\nبگیاں پھولوں کی تیار کرائے بوئے سمن\nکہ ہوا کھانے کو نکلیں گے جوانانِ چمن\n\nعالم اطفال نباتات پہ ہو گا کچھ اور\nگورے کالے سبھی بیٹھیں گے نئے کپڑے پہن\n\nکوئی شبنم سے چھڑک بالوں پہ اپنے پوڈر\nکُرسی ناز پہ جلوہ کی دکھا دے گا پھبن\n\nشاخِ نازک سے کوئی ہاتھ میں لیکر اک گیت\nہو الگ سب سے نکالے گا نرالا جو بن\n\nنسترن بھی نئی صورت کا دکھا دیگا رنگ\nکوچ پر ناز کی جب پاؤں رکھے گا بن ٹھن\n\nاپنے گیلاس شگوفہ بھی کریں گے حاضر\nآ کے جب غنچہ گل کھولیں گے بوتل کے دہن\n\nاہلِ نظارہ کی آنکھوں میں نظر آویں گے\nباغ میں نرگش شہلا کے ہوائے چتون\n\nاور ہی جلوے نگاہوں کے لگیں گے دینے\nاودی بانات کی کُرسی سے شکوہِ سوسن\n\nپتے مِل مِل کے بجاویں گے فرنگی طنبور\nلالہ لاویگا سلامی کو بنا کر پلٹن\n\nکھینچ کر تار رگِ ابر بہاری سے کئی\nخود نسیم سحر آوے گی بجاتی ارگن !\n\nاپنی سنگینیں چمکتی ہوئی دکھلا دیں گے\nآ پرے گی جو کہیں نہر پہ سورج کی کرن\n\nنے نوازی کے لئے کھول کر اپنی منقار\nآ کے دکھلا دے گی بلبل بھی جو ہے اس کا فن\n\nاردلی کے جو گراں ڈیل ہیں سب ہونگے جمع\nآن کر اپنا بگل پھونکے گا جب سکھدرشن\n\nآئیگا نذر کو شیشہ کی گھڑی لے کے حباب\nیاسمیں پتوں کی سپنیں میں چلے گی بن ٹھن\n\nنکہت آوے گی نِکل کھول کلی کا کمرا\nساتھ ہوئیگی نزاکت بھی جو ہے اسکی بہن\n\nحوض صندوق فرنگی سے مشابہ ہونگے\nاس میں ہوویں گے پریزاد بھی سب عکس فگن​\n\nایک جگہ گھوڑے کی تعریف میں کہتے ہیں۔\n\nہے اس آفت کا سبک سیر کہ راکب اسکا\nحاضری کھائے جو کلکتہ تو لنڈن میں ٹفن​\n\nاجناس کی فرد پہ اجنا کیسا؟\nیاں ابرِ لغات کا گرجنا کیسا؟\n\nگو ہوں اجنا کے معنے جو چیز اُگے\nلیکن یہ نئی اُپچ اپجنا کیسا؟​\n\nترخیم کے قاعدے سے سجنا لکھیئے\nاور لفظ خر و جنا کو خجنا لکھیئے\n\nگر ہم کو اجی نہ لکھئے ہووے لکھنا\nتو کر کے مرخم اس کو اجنا لکھئے\n\nاجناس کے بدلے لکھئے اجنا کیا خوب\nقاموس کی رعد کا گرجنا کیا خوب\n\nازروئے لغت نئی اپج کی لی ہے\nاس تان کے بیج کا اپجنا کیا خوب​\n\nپوربی لہجہ میں\n\nاجناس کا موقعن میں اجنا آیا\nسلمائے علوم کا یہ سجنا آیا\n\nاجنا چیزیست کاں برویدز زمیں\nیہ تخم لغت کا لوُ اپجنا آیا\n\nکمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں\nبہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں\n\nنہ چھیڑ اے نکہت بادِ بہاری راہ لگ اپنی\nتجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں\n\nتصّور عرش پر ہے اور سر ہے پائے ساقی پر\nغرض کچھ زور دھن میں اس گھڑی میخوار بیٹھے ہیں\n\nبسان نقشِ پائے رہرواں کوئے تمنّا میں\nنہیں اتھنے کی طاقت کیا کریں لاچار بیٹھے ہیں\n\nیہ اپنی چال ہے افتادگی سے اب کہ پہروں تک\nنظر آیا جہاں سے سایہ دیوار بیٹھے ہیں\n\nکہاں صبر و تحمل آہ ننگ و نام کیا شے ہے\nمیاں رو پیٹ کر ان سب کو ہم بیکار بیٹھے ہیں\n\nبھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشاء\nغنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں\n\nجھڑکی سہی ادا سہی چین جبیں سہی\nیہ سب سہی پر ایک نہیں کی نہیں سہی\n\nمرنا مرا جو چاہے تو لگ جا گلے سے ٹک\nاٹکا ہے دم مرا یہ دم واپسیں سہی\n\nگر نازنین کے کہنے سے مانا بُرا ہو کچھ\nمیری طرف تو دیکھیے میں نازنین سہی\n\nآگے بڑھے جو جاتے ہو کیوں کون ہے یہاں\nجو بات ہم کو کہنی ہے تم سے نہیں سہی\n\nمنظور دوستی جو تمھیں ہے ہر ایک سے\nاچھا تو کیا مضائقہ انشاء سے کیں سہی\n*-*-*-*-*\n\nیہ نہیں برق اک فرنگی ہے\nرعد و باراں قشون جنگی ہے\n\nکوئی دُنیا سے کیا بھلا مانگے\nوہ تو بے چاری آپ ننگی ہے\n\nواہ دلّی کی مسجد جامع\nجس میں براق فرش سنگی ہے\n\nحوسلہ ہے فراخ رندوں کا\nخرچ کی پر بہت سی تنگی ہے\n\nلگ گئے عیب سارے اس کے ساتھ\nیوں کہا جس کر مردِ بنگی ہے\n\nڈر و وھشت کی دھوم دھام سے تم\nوہ تو اک دیونی و بنگی ہے\n\nجوگی جی صاحب آپ کی بھی واہ\nدھرم مورت عجب کو ڈھنگی ہے\n\nآپ ہی آپ ہے پکار اُٹھتا\nدل بھی جیسے گھڑی فرنگی ہے\n\nچشم بد دُور شیخ جی صاحب\nکیا ازار آپ کی اوٹنگی ہے\n\nشیخ سعدیِ وقت ہے اِنشاء\nتو ابوبکر سعدِ زنگی ہے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nخیال کیجئے کیا آج کام میں نے کیا\nجب ان نے دی مجھے گلای سلام میں نے کیا\n\nکہا یہ صبر نے دل سےکہ لو خدا حافظ\nکہ حق بندگی اپنا تمام میں نے کیا\n\nجنوں یہ آپ کی دولت ہوئی نصیب مجھے\nکہ ننگ و نام کر چھوڑا یہ نام میں نے کیا\n\nلگا یہ کہنے کہ خیر، اختلاط کی کوبی\nحوالے یار کے خالی جو جام میں نے کیا\n\nجھڑک کے کہنے لگے لگ چلے بہت اب تم\nکبھی جو بُھول کے ان سے کلام میں نے کیا\n\nکیا زبانی دل کر بیاں، کہ کہتا ہے\nصنم کو اپنے غرض اب تو رام میں نے کیا\n\nکہیں نہ مانیو، بہتان ہے یہ سب اِس پر\nہنسی کے واسطے یہ اتہام میں نے کیا\n\nتمہارے واسطے تم اپنے دل میں غور کرو\nکبھی کسی سے نہ ہو جو مدام میں نے کیا\n\nمقیم کعبہ دل جب ہوا تو زاہد کو\nروانہ جانب بیت الحرام میں نے کیا\n\nمزا یہ دیکھیے گا شیخ جی رُکے اُلٹے\nجو ان کا بزم میں کل اِحترام میں نے کیا\n\nعجب طرح کے مزے چاندنی میں دیکھ رات\nقرار جا کے جر برپشتِ بام میں نے کیا\n\nہوس یہ رہ گئی صاحب نے پر کبھی نہ کہا\nکہ آج سے تجھے انشاء غلام میں نے کیا\n\nدیوار پھاندنے میں دیکھو گے کام میرا\nجب دھم سے آ کہوں گا صاحب سلام میرا\n\nہمسایہ آپ کے میں لیتا ہوں اک حویلی\nاس شہر میں ہو اگر چندے مقام میرا\n\nجو کچھ کہ عرض کی ہے سو کر دکھاؤنگا میں\nواہی نہ آپ سمجھیں یونہی کلام میرا\n\nاچھا مجھے ستاؤ جتنا کہ چاہو میں بھی\nسمجھوں گا گر ہے انشاء اللہ نام میرا\n\nمیں غش ہوا کہا جو ساقی نے مجھ سے ہنسکر\nیہ سبز جام تیرا اور سُرخ جام میرا\n\nپوچھا کِسی نے مجھ کو اُن سے کہ کون ہے یہ\nتو بولے ہنس کے یہ بھی ہے اِک غلام میرا\n\nمحشر کی تشنگی سے کیا خوف سیّد انشاء\nکوثر کا جام دے گا مجھ کو امام میرا\n*-*-*-*-*-*-*-*\n\nہیں زور حُسن سے وہ نہایت گھمنڈ پر\nنامِ خدا نگاہ پڑے کیوں نہ ڈنڈ پر\n\nتعویذ لعل ہی کے نہ پھریئے گھمنڈ پر\nاک نیلا ڈورا باندھیے اس گورے ڈنڈ پر\n\nیا رب سدا سہاگ کی مہندی رچا کرے\nپتے نچیں۔ رہے آفت ارنڈ پر\n\nدو تین دن تو ہو چکے اب پھر چلو وہیں\nفیروز شہ کی لاٹھ کے اس چوتھے کھنڈ پر\n\nوہ پہلوان سادہ لب جو پہ ڈنڈ پیل\nبولا کہ کوئی غش ہو تو ایسے بھنڈ پر\n\nگلبرگ تر سمجھ کے لگا بیٹھی ایک چونچ\nبلبل ہمارے زخم جگر کے کھرنڈ پر\n\nانشاءؔ بدل کے قافیئے رکھ چھیڑ چھاڑ کے\nچڑھ بیٹھ ایک اور بچھڑے اکنڈ پر\n*-*-*-*-*-*-*-*\n\nیہ جو مہنت بیٹھے ہیں رادھا کے کنڈ پر\nاوتار بن کے گرتے ہیں پریوں کے جھنڈ پر\n\nاے موسمِ خزاں لگے آنے کو تیرے آگ\nبلبل اداس بیٹھی ہے اک سوکھے ٹنڈ پر\n\nشیو کے گلے سے پاربتّی جی لپٹ گئیں\nکیا ہی بہار آج ہے برہما کے رنڈ پر\n\nراجہ جی ایک جوگی کے چیلے پہ غش ہیں آپ\nعاشق ہوئے ہیں واہ عجب لنڈ منڈ پر\n\nانشاء نے سن کے قصّہ فرہاد یوں کہا\nکرتا ہے عشق چوٹ تو ایسے ہی منڈ پر\n\nجو چاہے تو مجھ سے ہنسوڑے کی خیر\nتو یوں دیکھ اس گھوڑے جوڑے کی خیر\n\nکداوے نشہ کے مرے رخش کو\nمیاں ساقی اس سلفے کوڑے کی خیر\n\nدکھائی مجھے سیر باغِ ارم\nالٰہی ہو اس سبزہ گھوڑے کی خیر\n\nہنسایا جو میں نے تو بولے نہیں\nنظر آتی کچھ اس نگوڑے کی خیر\n\nلگا بیٹھ انشاء کو ٹھوکر تو ایک\nارے اپنے سونے کے توڑے کی خیر\n\nکو صُولت اسکندر و کُو حشمتِ دارا\nاے صاحب فطرت\n\nپڑھ فَاعتَبرُو بَاُولِی الاَبصَار کا آیا\nتاہو تجھے عبرت\n\nمستانہ جو میں نے قدح بھنگ چڑھایا\nدر عالمِ وحشت\n\nتب خجر پکارا کہ ھنیاً و مَرّیاً\nاب دیکھ حلاوت\n\nہے جی میں فقیروں کی طرح کھینچ لنگوٹا\nاور باندھ کے ہمّت​\n\nجا کنج خرابات میں ٹک گھونٹیے سبزا\nیوں کیجیے عبادت\n\nاے حضرتِ عشق آئیے سائیں اجی مولا\nیاں کیجیے عنایت\n\nمرشد مرے مالک مرے ہادی مرے داتا\nدیجیے مجھے نعمت\n\nماتھے پہ مرے خطِ الفت اللہ کا کھینچو\nسونپو مجھے بستر\n\nتم مونڈگر ہ پیر، یہ بندہ ہوا چیلا\nجی سے کرے خدمت\n\nمیں خاک نشیں ہو گاگر دہِ فقراء سے\nکیا سمجھے ہو مجھ کو\n\nرومال چھڑی لیکے جو ٹک کھینچوں ادا\nدکھلاؤں کرامت\n\nگر سیر کناں دیر میں جا نکلوں تو بولوں\nناقوس کو سُن کر\n\nہاں برہمن بتکدہ عشق است صدارا\nہے تجھ سے بھی الفت\n\nخوش رہتے ہیں چار ابرو کی بتلا کے صفائی\nمانند قلندر\n\nنہ ہم کو غم و زد نہ اندیشہ کالا\nہے خوب فراغت\n\nدرویش بلا نوش بلا چٹ ہیں میاں دوست\nپینک میں جو آویں\n\nافعی کو سہل کر کریں افیون کا گھولا\nہیں ایسے ہی آفت\n\nگاڑھے ہیں ہم اس سے بھی کہ خشکے کو ہلا کر\nللکارے تھا یوہیں\n\nدیتا ہوں ہلا کنگرہ عرش معّلٰی\nرکھتا ہوں یہ طاقت\n\nآزادوں کے لہجہ میں غزل تو نے سُنائی\nاز بہر تفنن\n\nاب اپنی تو بولی کے کچھ اشعار کہہ انشاء\nہو جس میں ظرافت\n\nہے نام خدا دا چھڑے کچھ زور تماشا\nیہ آپ کی رنگت\n\nگات ایسی عضب قہر پھبن اور جھمکڑا\nاللہ کی قدرت\n\nمیں نے جو کہا ہوں میں ترا عاشق شیدا\nاے کانِ ملاحت\n\nفرمانے لگے ہنّس کے سُنو اور تماشا\nیہ شکل یہ صورت\n\nالحاد و تصوف میں جو تھا فرق بہم یاں\nاصلا نہ رہا کچھ\n\nپردہ جو تعین کو محبت نے اٹھایا !\nکثرت ہوئی وحدت\n\nتاثیر ہے کیا خاک میں اس نجد کی کہدے\nتو مجھ کو تو بارے\n\nہر پھر کے جو آ نکلے ہے یاں ناقہ لیلٰی اے جذب محبت\n\nکعبہ کا کروں طوف کہ بت خانہ کو جاؤں\nکیا حکم ہے مجھ کو\n\nارشاد مرے حق میں بھی کچھ ہووے گا آیا\nاے پیر طریقت\n\nہوں پرتوِ روح القدس اس عہد میں میں بھی\nعیسیٰ کی طرح سے\n\nیوں چاہیے بے ساختہ رہبانِ کلیسا\nمیری کرے بیعت\n\nآئے جو مرے گھر میں وہ شب راہ کرم سے\nمیں مونددی کنڈی\n\nمنھ پھیر لگے کہنے تعجب سے کہ یہ کیا؟\nایں تیری یہ طاقت\n\nلوٹا کریں اس طور مزے غیر ہمیشہ\nٹک سوچو تو دل میں\n\nترسا کرے ہر وقت یہ بندہ ہی تمہارا\nاللہ کی قدرت\n\nدیوار چمن پھاند کے پہنچے جو ہم اُن تک\nاک تاک کی اوجھل\n\nترسا ہوں یہ فرمانے لگے کوٹ کے ماتھا\nاے وائے فضیحت\n\nخورشید چھپا شام ہوئی شیخ جی صاحب\nاب دیکھتے کیا ہو\n\nچڑیوں نے لیا آ کے درختوں پہ بسیرا\nچوں چوں کرو حضرت\n\nبے برق کی زنجیر کو ٹک سونڈ میں اپنی\nاے ابر کے ہاتھی\n\nسیندورا لگا ماتھے پہ اس رنگ شفق کا\nباعظمت و شوکت\n\nچل آٹھوں کے میلے کی ذرا دید کریں ہم\nہے سیر کی جاگہ\n\nسم بیٹھ چڑھا یاروں کے پھر میل رکددا\nمت رعت کی سن دھت\n\nشب محفل ہولی میں جو وارد ہوا زاہد\nرندوں نے لپٹ کر\n\nداڑھی کو دیا اس کی لگا بذر فطونا\nاور بجنے لگی گت\n\nتب مغبچے کہنے لگے ٹک پر بلونا چو\nرکھ ناک پر اُنگلی\n\nاور آئے جی آئے سے بُرا مانے سو بھڑوا\nہے موسمِ عشرت\n\nکشمیری معلم کو جو اک طفل نے ناگہ\nانگور کے دانے\n\nلا کر دیئے اور اُن سے کہا کھایئے میوا\nہے قسم ولایت\n\nلہجہ میں تکشمر کے مقطع ہو یہ بولے\nشاگرد سے اپنے\n\nچل سامنے سے میرے اتار کر ینیں لے جا\nنیمیں نہیں لذّت\n\nمیسیاتھ انگر ناک ہے بر رو جیسے تجھ کو\nسو کوڑی کے دس ہیں\n\nبابا یہ تاکیا ہے چھٹا زانت ہے اس کا\nکانا نہ لیے مت\n\nاب اور ردیف اور قوانی میں غزل پرھ\nلیکن اسی ڈھب سے\n\nتا شاعروں کے آگے ہو اس بزم میں انشاء\nظاہر تری شوکت\n\nلینے جو بلائیں لگے ہم آپ کی چٹ پٹ\nتو بول اٹھے جھٹ\n\nچل جا اے رے واؤ زیر رو سے پرے ہٹ\nہے یہ بھی بناوٹ\n\nاِن آنکھوں کو میں حلقہ زنجیر کرونگا\nایسا ہی بلا ہوں\n\nچھوڑوں ہوں کوئی اپ کے دروازہ کی چوکھٹ\nجب تک نہ کھلے پٹ\n\nمر جائے لہو چھانٹ نہ گونگا ہو وہ کیونکر\nجو شخص کہ دیکھے\n\nسُرخی تری آنکھوں کی اور ابرو کی کھچاوٹ\nسرمہ کی گھلاوٹ\n\nہے معدنِ انوار آلہی دلِ عاشق\nسوچو تو عزیزو\n\nاس چھوٹی سی جاگہ میں یہ وسعت یہ سماوٹ\nاللہ رے جمگھٹ\n\nکیا پھبتی ہے اے نامِ خدا چھڑے آہا\nہونٹوں پہ تمہارے\n\nاک بوسہ کے صدمے سے دھواں دھار نلاہٹ\nمسی کی ادواہٹ\n\nمیں روپ بدل اور ہی چپکے سے جو پہنچا\nبیٹھے تھے جہاں وہ\n\nسُن کہنے لگے میرے دبے پاؤں کی آہٹ\nہے ایک تو نٹ کھٹ\n\nتھی گرم یہ کچھ مجلس مے رات کہ ساقی\nسب کہتے تھے زاہد\n\nہے توبہ شکن آج صراحی کی غٹاغٹ\nبھلّہ رے جماوٹ\n\nاے وائے رے بالیدگی اور چنپئی رنگت\nیہ گات یہ سج دھج\n\nاور جامہ شبنم کی وہ چولی کی پھساوٹ\nبازو کی گلاوٹ\n\nمت چھیڑو مجھے دیکھو ابھی کہنے لگو گے\nاچھا کیا تم نے\n\nچولی مری ٹکڑے ہوئی دامن بھی گیا پھٹ\nلگ جائے گی یہ رٹ\n\nہے نور بصر مردمک دیدہ میں پنہاں\nیوں جیسے کنہیا\n\nسو اشک کے قطروں سے پڑا کھیلے ہے جھرمٹ\nاور آنکھیں ہیں پنگھٹ\n\nاے عشق اجی آؤ مہاراجوں کے راجہ\nڈنڈوٹ ہے تم کو\n\nکر بیٹھے ہو تم لاکھوں کروڑوں ہی کے سرچٹ\nاک آن میں جھٹ پٹ\n\nپھرتا ہے سماں آنکھوں میں اب تک وہی انشاء\nہے ظالم ارے کیوں\n\nباہم وہ لپٹ سونے میں آ جانی رکاوٹ\nوہ پیار کی کروٹ\n\nوہ سیج بھری پھولوں کی مخمل کے وہ تکیئے\nکمخواب کی پوشش\n\nپردے وہ تمامی کے وہ سونے کا چھپرکھٹ\nاور اس کی سجاوٹ\n\nہے یہ اس مہ جبین کی تصویر\nیا کسی حُورِ عین کی تصویر\n\nبن گئی دُودِ آہِ مجنوں میں\nایک محمل نشین کی تصویر\n\nاپنے داغ جگر میں سُوجھی ہے\nمجھ کو اس نازنین کی تصویر\n\nدیکھ لے اس کی چین پیشانی\nہے یہ خاقان چین کی تصویر\n\nنظر آتی ہے اشک انشاء میں\nجبرئیلِ امین کی تصویر\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nمل گئے سینے سے سینے پھر یہ کیسا اضطراب\nمر مٹے پر بھی گیا اپنے نہ دل کا اضطراب\n\nکیوں پڑی تھلکیں نہ آنکھیں آنسوؤں کے بوجھ سے\nہے دلِ صد پارہ کو سیماب کا سا اضطراب\n\nروح کا یہ حال ہے یاں قافلہ سے پڑ کے دُور\nکر رہی ہو جس طرح محمل میں لیلےٰ اضطراب\n\nپوچھتے کیا ہو کہ تیرے دل میں کیا ہے مجھے سے پوچھ\nاور کیا یاں خاک ہو گی جوش ہے یا اضطراب\n\nدم لگا گھٹنے اجی میں کیا کہوں کل رات کو\nتم نہ آئے تو کیا یاں جی کیا کیا اضطراب\n\nکیا غضب تھا پھاند کر دیوار آدھی رات کو\nدھم سے میرا کودنا اور وہ تمہارا اضطراب\n\nتھا وہ دھڑکا پر مزے کیساتھ صدقے اسکے جی\nپھر کرے اپنے نصیب اللہ ویسا اضطراب\n\nاسکی چاہت میں جوانی اپنی جو تھی چل بسی\nہے پر ابتک جی کو اک جیسے کا تیسا اضطراب\n\nپیر و مرشد کا یہ مصرع حسب حال انشاء کے ہے\nمر مٹے پر بھی گیا اپنے نہ دل کا اضطراب\n\nپگڑی تو نہیں ہے یہ فراسیس کی ٹوپی\nیاں وقت سلام اُترے ہے ابلیس کی ٹوپی\n\nہے شیخ کے سر ایسی ہے تلبیس کی ٹوپی\nجس سے کہ پڑی کانپے ہے ابلیس کی ٹوپی\n\nدیتے ہیں کلہ اپنے مریدوں کو جا صوفی\nکہتے ہیں یہی تھی سر جرجیس کی ٹوپی\n\nسو چکٹی ہوئی ہے یہ مُتعفِّن کہ جہاں میں\nایسی تو نہ ہو گی کِسی سائیس کی ٹوپی\n\nہُد ہُد کو کوشی تب ہوئی جس دم نظر آئی\nہاتھوں میں سلیمان کے بلقیس کی ٹوپی\n\nکل سوزنِ عیسیٰ میں پر و خطّ شعاعی\nخورشید نے سی حضرتِ ادریس کی ٹوپی\n\nکیوں واسطے جراب کے میری نہ ہو حاضر\nغلماں کی اور حورِ فراویس کی ٹوپی\n\nپریوں کے گھروں میں وہی چوری کے مزے لیں\nجن پاس ہو جنّوں کی جواسیس کی ٹوپی\n\nممکن ہو تو دھر دیجیے بنا کر ترے سر پر\nزربفت مہ و زہرہ و برجیس کی ٹوپی\n\nانگریز کے اقبال کی ہے ایسی ہی رسّی\nآویختہ ہے جس میں فراسیس کی ٹوپی\n\nانشاء مرے آغا کی سلامی کو جھکے ہے\nسکانِ سرا پردہ تقدیس کی ٹوپی\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nمجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب اُلٹا\nکہ پڑا ہے آج خم میں قدحِ شراب اُلٹا\n\nعجب الٹے ملک کے ہیں اجی آپ بھی کہ تم سے\nکبھی بات کی جو سیدھی تو ملا جواب اُلٹا\n\nچلے تھے حرم کو رہ میں ہوے اک صنم کے عاشق\nنہ ہوا ثواب حاصل یہ مِلا عذاب اُلٹا\n\nیہ شبِ گذشتہ دیکھا وہ خفا سے کچھ ہیں گویا\nکہیں حق کرے کہ ہووے یہ ہمارا خواب اُلٹا\n\nابھی جھڑ لگا دے بارش کوئی مست بھر کے نعرہ\nجو زمیں پہ پھینک مارے قدحِ شراب اُلٹا\n\nیہ عجیب ماجرا ہے کہ بروز عید قرباں\nوہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا\n\nہوئے وعدہ پر جو جھوٹے تو نہیں ملاتے تیور\nاے لو دیکھا کچھ تماشا یہ سنو عتاب اُلٹا\n\nکھڑے چُپ ہو دیکھتے کیا مرے دل اُجڑ گئے کو\nوہ گنہ تو کہدو جس سے یہ دہِ خراب اُلٹا\n\nغزل اور قافیوں میں نہ کہے سو کیونکہ انشاءؔ\nکہ ہوا نے خود بخود آورقِ کتاب اُلٹا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nمجھے چھیڑنے کو ساقی نے دیا جو جام اُلٹا\nتو کیا بہک کے میں نے اسے اک سلام اُلٹا\n\nسحر ایک ماش پھینکا جو مجھے دکھا کے اُن نے\nتو اشارہ میں نے تاڑا کہ ہے لفظ شام اُلٹا\n\nیہ بلا دھواں نشہ ہے مجھے اس گھڑی تو ساقی\nکہ نظر پڑے ہے سارا در و صحن و بام اُلٹا\n\nبڑھوں اس گلی سے کیونکر کہ وہاں تو میرے دلکو\nکوئی کھینچتا ہے ایسا کہ پڑے ہے گام اُلٹا\n\nدرمیکدہ سے آئی مہک ایسی ہی مزے کی\nکہ پچھاڑ کھا گرا واں دل تشنہ کام اُلٹا\n\nنہیں اب جو دیتے بوسہ تو سلام کیوں لیا تھا\nمجھے اپ پھیر دیجیے وہ مرا سلام اُلٹا\n\nلگے کہنے اب مولّع تجھے ہم کہا کریں گے\nکہیں ان کے گھر سے بڑھکر جو پھرا غلام اُلٹا\n\nمجھے کیوں نہ مار ڈالے تری زلف الٹ کے کافر\nکہ سکھا رکھا ہے تو نے اسے لفظ رام اُلٹا\n\nنرے سیدھے سادے ہم تو بھلے آدمی ہیں یارو\nہمیں کج جو سمجھے سو خود ولدالحرام اُلٹا\n\nتو جو باتوں میں رکے گا تو یہ جانونگا کہ سمجھا\nمرے جان و دل کے مالک نے مرا کلام اُلٹا\n\nفقط اس لفافہ پر ہے کہ خط آشنا کو پہنچے\nتو لکھا ہے اس نے انشاء یہ ترا ہی نام اُلٹا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nپر تو سے چاندنی کے ہے صحنِ باغ ٹھنڈا\nپھولوں کی سیج پر آ کر دے چراغ ٹھنڈا\n\nشفقت سے ہاتھ تو دھر ٹک میرے دل پہ تا ہو\nیہ آگ سا دہکتا سینہ کا داغ ٹھنڈا\n\nمے کی صراحی ایسی لا برق میں لگا کر\nجس کے دھوئیں سے ساقی ہووے دماغ ٹھنڈا\n\nتجنیس جس دنی کی ہو جوشِ چشم یارو\nہم نے مدام پایا اس کا اوجاغ ٹھنڈا​\n\nہیں ایک شخص لاتے خس کی شراب انشاء\nدھو دھا گلاب سے تو کر رکھ ایاغ ٹھنڈا", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D9%86%D8%B4%D8%A7%D8%A1_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%AE%D8%A7%DA%BA"} {"title": "آب حیات/سید محمد میر سوز", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "سرِ دیوان پر اپنے جو بسم اللہ میں لکھتا\nبجائے مدِ بسم اللہ مدِ آہ میں لکھتا\n\nمحو کو تیرے نہیں ہے کچھ خیال خوب و زشت\nایک ہے اسکو ہوائے دوزخ و باغ بہشت\n\nحاجیو! طوفِ دل مستاں کرو تو کچھ ملے\nورنہ کعبہ میں دھرا کیا ہے بغیر از سنگ و خشت\n\nناصحا گر یار ہے ہم سے خفا تو تجھ کو کیا\nچین پیشانی ہی ہے اسکی ہماری سرنوشت\n\nسوزؔ نے دامن جو ہیں پکڑا تو ووہیں چھین کر\nکہنے لاگا، ان دنوں کچھ زور چل نکلا ہے ہشت\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nبھلہ رہے عشق تیری شوکت و شان\nبھائی میرے تو اڑ گئے اوسان\n\nایک ڈر تھا کہ جی بچے نہ بچے\nدوسرے غم نے کھائی میری جان\n\nبس غم یار ایک دن دو دن\nاس سے زیادہ نہ ہو جیو مہمان\n\nنہ کہ بیٹھے ہو پاؤں پھیلا کر\nاپنے گھر جاؤ خانہ آبادان\n\nعارضی حُسن پر نہ ہو مغرور\nمیرے پیارے یہ گو ہے یہ میداں\n\nپھرہے نے زلف و خال زیر زلف\nچارون تو بھی کھیل لے چوگاں\n\nاور تو اور کہہ کے دو (۲) باتیں\nسوز کہلایا صاحب دیوان\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nمرا جان جاتا ہے یارو بچا لو\nکلیجہ میں کانٹا گڑا ہے نکالو\n\nنہ بھائی، مجھے زندگانی نہ بھائی\nمجھے مار ڈالو، مجھے مار ڈالو\n\nخدا کے لئے میرے وے ہمنشینو\nوہ بانکا جو جاتا ہے اس کو بلا لو\n\nاگر وہ خفا ہو کے کچھ گالیاں دے\nتو دم کھا رہو کچھ نہ بولو نہ چالو\n\nنہ آوے اگر وہ امھارے کہے سے\nتو منت کرو دھیرے دھیرے منا لو\n\nکہو ایک بندہ تمھارا مرے ہے\nاسے جان کندن سے چل کر بچا لو\n\nجلوں کی بُری آہ ہوتی ہے پیارے\nتم اس سوز کی اپنے حق میں دعا لو\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nہواؤں کو میں کہتا کہتا دِوانا\nپر اس بے خبر نے کہا کچھ نہ مانا\n\nکوئی دم تو بیٹھے رہو پاس میرے\nمیاں میں بھی چلتا ہوں ٹک رہ کے جانا\n\nمجھے تو تمھاری خوشی چاہیئے ہے\nتمھیں گو ہو منظور میرا کڑھانا\n\nگیا ایک دن اس کے کوچے میں ناگاہ\n\nلگا کہنے چل بھاگ رے پھر نہ آنا\n\nکہاں ڈھونڈوں ہے ہے کدھر جاؤں یا رب\nکہیں جاں کا پاتا نہیں ہوں ٹھکانا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nکہوں کس سے حکایت آشنا کی\nسنو صاحب یہ باتیں ہیں خدا کی\n\nدُعا دی تو لگا کہنے کہ در ہو\nسُنی میں نے دُعا تیری دعا کی\n\nکہا میں نے کہ کچھ خاطر میں ہو گا\nتمھارے ساتھ جو میں نے وفا کی\n\nگریباں میں ذرا منھ ڈال دیکھیو\nکہ تم نے اس وفا پر ہم سے کیا کی\n\nتو کہتا ہے کہ بس بس جونچ کر بند\nوفا لایا ہے، دت تیری وفا کی\n\nعدم سے زندگی لائی تھی بہلا\nکہ دنیا جائے ہے اچھی فضا کی\n\nجنازہ دیکھتے ہی سُن ہوا دل\nکہ ہے ظالم! دغا کی رے دغا کی\n\nتجھے اے سوزؔ کیا مشکل بنی ہے\nجو ڈھونڈھے ہے سفارش اغنیا کی\n\nکوئی مشکل نہیں رہتی ہے مشکل\nمحبت ہے اگر مشکل کُشا کی\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nدل کے ہاتھوں بہت خراب ہوا\nجل گیا مل گیا کباب ہوا\n\nاشک آنکھوں سے پل نہیں تھمتا\nکیا بلا دل ہے دل میں آب ہوا\n\nجن کو نت دیکھتے تھے اب ان کو\nدیکھنا بھی خیال و خواب ہوا\n\nیار اغیار ہو گیا ہیہات\nکیا زمانے کا انقلاب ہوا\n\nسارا دیوانِ زندگی دیکھا\nایک مصرعہ نہ انتخاب ہوا\n\nسوزؔ بے ہوش گیا جب سے\nتیری صحبت سے باریاب ہوا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nعاشق ہوا، اسیر ہوا مبتلا ہوا\nکیا جانئے کہ دیکھتے ہی دل کو کیا ہوا\n\nسر مشق ظلم تو نے کیا مجھ کو واہ واہ\nتقصیر یہ ہوئی کہ ترا آشنا ہوا\n\nدل تھا بساط میں سو کوئی اسکو لے گیا\nاب کیا کروں گا اے میرے اللہ کیا ہوا\n\nپاتا نہیں سراغ کروں کس طرف تلاش\nدیوانہ دل کدھر کو گیا آہ کیا ہوا\n\nسنتے ہی سوز کی خبر مرگ خوش ہوا\nکہنے لگا کہ پنڈ تو چھوٹا بھلا ہوا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nآج اس راہ سے دل رُبا گذرا\nجی پہ کیا جانیے کہ کیا گذرا\n\nآہ ظالم نے کچھ نہ مانی بات\nمیں تو اپنا سا جی چلا گذرا\n\nاب تو آیاز بس خدا کو مان\nپچھلا شکوہ تھا سو گیا گذرا\n\nرات کو نیند ہے نہ دن کو چین\nایسے جینے سے اے خدا گذرا\n\nسوزؔ کے قتل پر کمر مت باندھ\nایسا جانا ہے کیا گیا گذرا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nیار گر صاحبِ وفا ہوتا\nکیوں میاں جان! کیا مزا ہوتا\n\nضبط سےمیرے تھم رہا ہے سر شک\nورنہ اب تک تو بہہ گیا ہوتا\n\nجان کے کیا کروں بیان احسان\nیہ نہ ہوتا تو مر گیا ہوتا\n\nروٹھنا تب تجھے مناسب تھا\nجو تجھے میں نے کچھ کہا ہوتا\n\nہاں میاں! جانتا تو میری قدر\nجو کہیں تیرا دل لگا ہوتا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nبلبل کہیں نہ جائیو زنہار دیکھنا\nاپنے ہی من میں پھولے گی گلزار دیکھنا\n\nنازک ہے دل نہ ٹھیس لگانا اسے کہیں\nغم سے بھرا ہے اے مرے غمخوار دیکھنا\n\nشکوہ عبث ہے یار کے جوروں کا ہر گھڑی\nغیروں کے ساتھ شوق سے دیدار دیکھنا\n\nسوداؔ کی بات بھول گئی سُوز تجھ کو حیف\nجو کچھ خدا دکھا دے سو لاچار دیکھنا\n\nکچھ کہا تو قاصد آتا ہے وہ ماہ\nاَلحَمدُ للہ اَلحَمدُ للہ\n\nجھوٹے کے منہ میں آگے کہوں کیا\nاستغفر اللہ استغفر اللہ\n\nیار آتا ہے ترے یار کی ایسی تیسی\nآزماتا ہے ترے پیار کی ایسی تیسی\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D8%B2"} {"title": "آب حیات/شاہ حاتم", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "دستور دنیا کا یہ ہے کہ بیٹا باپ کے نام سے اور شاگرد اپنے نامی اُستاد کے نشان سے روشناس ہوتا ہے مگر اس حاتم کو نصیبے کا بھی حاتم کہنا چاہیے جو اِس نام سے نشان دیا جائے کہ وہ اُستاد سودا کا تھا، خوشا نصیب اُس باپ کے جس کی نسل کمال سے وہ فرزند پیدا ہوا کہ خانوادہ کمال کے لئے باعثِ فخر شمار کیا جائے ان کا تخلص حاتم اور شیخ ظہور الدین نام تھا، والد کا نام فتح الدین تھا، خود کہا کرتے کہ ظہور میرے تولد کی تاریخ ہے، رہنے والے خاص شاہجہاں آباد کے تھے۔ یہ معلوم نہیں کہ بزرگ ان کے کہاں سے آئے، کسی تذکرہ سے ان کی علمیت تحصیلی کا حال معلوم نہیں ہوتا ہے نہ کچھ اُن کے کلام سے ثابت ہوتا ہے مگر اس قدر استعداد ضرور رکھتے تھے کہ اُن کی انشاء پردازی میں خلل نہیں آنے دیتی، اور یہ جوہر اس عہد کے شریف خاندانوں کے لئے عام تھا، اصل حال یہ ہے کہ بعد عالمگیر کے جب اولاد میں کشا کشی ہوئی اور سلطنت تباہ ہو گئی تو جو شرفاء منصب دار عہدہ دار تھے، روز کے فسادوں سے دل شکستہ ہو گئے، خصوصاً جبکہ اُدھر مرہٹہ نے ادھر سکھ نے زور پکڑا اور قیامِ سلطنت کی طرف سے بالکل مایوس ہوئے تو اکثروں نے نوکری چھوڑ کر بسبب بے علمی کے مختلف حرفے اور پیشے اختیار کر لئے اور بعض لوگ باوجودیکہ صاحبِ علم تھے مگر دُنیا سے دل برداشتہ ہو کر چھوڑ ہی بیٹھے۔\n\nشاہ حاتم پہلے ہی سپاہی پیشہ تھے، عمدۃ الملک امیر خاں کی مصاحبت میں عزت اور فارغ البالی بلکہ عیش و عشرت سے بسر کرتے تھے اور چونکہ محمد شاہی دَور تھا اِس لئے آئین زمانہ کے بموجب جو جو اِس وقت کے نوجوانوں کے شوق تھے سب پورے کرتے تھے، دلی میں قدم شریف کے پاس میر بادل علی شاہ کا تکیہ ایسے رند مشرب لوگوں کا ٹھکانا تھا، یہ بھی وہیں جایا کرتے تھے، چنانچہ فقیر کی صحبت نے ایسا اثر کیا کہ انھی کے مرید ہو گئے، رفتہ رفتہ سب گناہوں سے توبہ کی بلکہ دانہ کی گردش نے دنیا کے تعلقات سے بھی توبہ کروا دی، توکل پر گزارہ کیا اور فقط ایک رومال اور ایک پتلی سی چھڑی جو کہ ہندوستان کے فقرائے آزاد منش کا تمغہ ہے، وہ پاس رہ گئی۔\n\nشاہ موصوف باوجودیکہ نہایت مہذب اور متین تھے اور عمر میں بھی سن رسیدہ ہو گئے تھے، مگر بہت خوش مزاج اور نہایت خلیق اور ظریف تھے۔\n\nفقیری اختیار کر لی تھی مگر بانکوں (لفظ بانکہ اگرچہ آج کل ہر ایک شخص بولتا ہے مگر اس کی اصلیت سے بہت کم لوگ واقف ہیں، یہ دلی میں ایک خاص فرقہ تھا، چنانچہ سید انشاء اللہ خاں مرحوم ایک مقام پر ان کی تصویر کھینچتے ہیں، بانکہ، بانکہ بادر شہرے باشند، خواہ در دہلی خواہ در بلادِ دکن، خواہ در بلادِ بنگار، خواہ در شہرہائے پنجاب ہمہ را یک وضع و یک لباس می باشد، کج ادا کج راہ رفتن و خودرا بسیار دیدن، دہر مؤنث را مذکر ادا کردن شعارِ ایشاں است، چنانچہ ہمارے بکری را ہمارا بکرا گویند، مثل افغاناں در شہر دستار و زلف و خلیل دا وچہ گفتن ایشاں مبدل نمی شود۔) کی طرح دوپٹہ سر پر ٹیڑھا ہی باندھتے تھے، راج گھاٹ کے رستہ میں قلعہ کے نیچے شاہ تسلیم (شاہ تسلیم ایک نیک مرد فقیر تھے اور خود شاعر تھے۔ چونکہ ان کا تکیہ بھی ایک دلکشا اور با فضا مقام پر تھا اس لئے اکثر شعر و سخن کے شائق تھی صبح شام وہاں جا کر بیٹھا کرتے تھے، سعادت یار خان رنگین، محمد امان نثار جن کا ذکر میر کے حال میں ہے اور اکثر شعراء حاتم کے شاگرد تھے۔) کا تکیہ تھا، وہاں کچھ چمن تھے، کچھ درختوں کا سایہ تھا، سامنے فضا کا میدان تھا، شام کو روز وہاں جا کر بیٹھا کرتے تھے اور چند احباب اور شاگردوں کے ساتھ شعر و سخن کا چرچا رکھتے تھے، چنانچہ ۵۰ برس تک اس معمول کو نباہ دیا، گرمی، جاڑا، برسات، آندھی آئے، مینھ ائے، وہاں کی نشست قضا نہ ہوتی تھی، اہلِ دہلی کے قدیمی بزرگوں کا دستور تھا کہ جو بات ایک دفعہ اختیار کر لیتے تھے، پھر اُسے مرتے دم تک نباہ دیتے تھے اور اسے وضعداری یا پاس وضع کہتے تھے، یہ ایک قانون تھا کہ آئین شریعت کے برابر پہلو مارتا ہوا جاتا تھا۔ ایسی پابندیاں بعض معاملات میں استقلال بن کر ملک اور اہلِ ملک کے لئے قابل فخر ہوتی ہیں اور بعض جزئیات میں تکلیف بیجا ہو کر خاندانوں اور گھرانوں کو بلکہ عام ہو کر ملک کو برباد کر دیتی ہیں۔\n\nشیخ غلام ہمدانی مصحفی اپنے تذکرہ میں اِن کی شاعری کی ابتدا یہ لکھتے ہیں کہ سنہ ۳ محمد شاہی عہد میں دلی کا دیوان دکن سے دہلی میں آیا۔ اس زمانہ کے حال بموجب وہی غنیمت تھا، اس واسطے خاص و عام میں اس کا بہت چرچا ہوا۔\n\nشاہ حاتم کی طبیعت ِ موزوں نے بھی جوش مارا، شعر کہنا شروع کیا اور ہمت و لیاقت سے اُسے انتہا کو پہنچایا، پہلے رمز تخلص کرتے تھے پھر حاتم ہو گئے۔یہ پہلے شعرائے طبقہ اول کے منتخب شاعروں میں تھے، اس وقت بھی زبان ان کی فصیح اور کلام بے تکلف تھا، مگر پھر طبقہ دوم میں داخل ہو گئے، کلیات اِن کا بہت بڑا ہے جو اکثر زبانِ قدیم کی غزل اور قصائد اور رباعیات و مثنوی وغیرہ پر مشتمل ہے، کتبخانہ ہائے قدیم لکھنؤ اور دہلی میں دیکھا، وہ شاہ آبرو اور ناجی کی طرز میں ہے لیکن آخر عمر میں کلیات مذکور سے خود انتخاب کر کے ایک چھوٹا سا دیوان مرتب کیا، اس کا نام \"دیوان زادہ\" رکھا کیونکہ پہلے دیوان سے پیدا ہوا تھا، وہ صاحبزادہ بھی پانچ ہزار سے زیادہ کا مال بغل میں دبائے بیٹھا ہے، بہر حال یہ کارنامہ ان کا استحقاق پیدا کرتا ہے، کہ طبقہ دوم سے نکال کر طبقہ سوم کی اولیت کا طرہ ان کی زیب دستار کیا جائے یا اس کا ایک رکنِ اعظم قرار دیا جائے، اُنھوں نے دیوان زادہ پر ایک دیباچہ بہت مفید لکھا ہے۔ خلاصہ اُس کا یہ ہے \"خوشہ چینِ خرمنِ سخنوارانِ عالم، بصورتِ محتاج و بمعنی حاتم کہ از 1139ھ تا 1169ھ کہ چہل سال باشد، عمر دریں فن صرف کردہ در شعر فارسی پیر و مرزا صائب و در ریختہ ولی را استادمے واند، اول کسیکہ دریں فن دیوانِ ترتیب نمودہ اور بود فقیر دیوان قدیم پیش از نادر شاہی در بلادِ ہند مشہور دارد بعد ترتیب آں تا امروز کہ سنہ 3 عزیز الدین عالمگیر ثانی باشد، ہر رطب و یا بس کہ از زبانِ این بے زباں برآمدہ، داخل دیوانِ قدیم نمودہ کلیات مرتب ساختہ، از ہر ردیف دو سہ غزلے دا زہر غزل دوسہ بیتے ورائے مناقب و مرثیہ و چند مخمس و مثنوی از دیوانِ قدیم نیز داخل نمودہ بہ دیوان زادہ مخاطب ساختہ و سرخی غزلیات بسہ قسم منقسم ساختہ یکے طرحی، دوم فرمائشی سوم جوابی، تا تفریقِ آں معلوم گردو، و معاصران فقیر، شاہ مبارک آبرو، و شرف الدین مضمون و مرزا جان جاناں مظہر و شیخ احسن اللہ احسن و میر شاکر ناجی و غلام مصطفے، یکرنگ است و لفظ در، و برواز و الفاظ و افعال دیگر کہ در دیوان قدیم خود تقید دارو، ور نیولا از دہ دو از دہ سال اکثر الفاظ را از نظر انداختہ و الفاظ عربی و فارسی کہ قریب الفہم و کثیر الاستعمال باشند و روزمرہ دہلی کہ میرزایانِ ہند و فصیحانِ رند، در محاورہ آرند منظور دارد\" پھر ایک جگہ کہتے ہیں زبانِ ہندی بھاکا را موقوف کردہ محض روزمرہ کہ عام فہم و خاص پسند باشد اکتیار نمود، وشمہ ازاں الفاظ کہ تقید دارد، بہ بیان مے آرد، چنانچہ عربی و فارسی مثلاً راتسبی و صحیح را صحی و بیگانہ رابگانہ و یوانہ را دوانہ و مانند آن، یا متحرک را ساکن را متحرک، مَرض را مرض و نیز الفاظِ ہندی مثل نین، و جگ دست وغیرہ و لفظ مرا، و میرا، و ازیں قبیل کہ براں قباحت لازم آید، یا بجائے سی ستی، اُدھر را، اودھر، و کدھررا، کیدھر کہ زیادتی حرف باشد، یا بجائے پر، پہ یا، یہاں را، یاں، و، وہاں را واں، کہ در مخرج تنگ بود، یا قافیہ، را، با، ڑا، ہندی، مثل گھوڑا و بورا، دھڑ و سر، و مانند آں، مگر ہائے ہنوز را بدل کردن با الف کہ از عام تا خاص محاورہ دارند، بندہ دریں امر متابعت جمہور مجبوراست، چنانچہ بندہ رابندا، و پردہ را پردہ و انچہ ازیں قبیل باشد دایں قاعدہ را تاکہ شرح و ہد، مختصر کہ لفظے غیر فصیح انشاء اللہ نخواہد بود۔\n\nمضمون ان کے صاف عاشقانہ و عارفانہ ہیں، شعر آپس کی باتیں اور زبان شُستہ و رُفتہ ہے لیکن لفظ اَب، اور یہاں وغیرہ زائد اکثر ہوتے ہیں، غرض اسی دیوان کے دیباچہ میں اپنے شاگردوں کی ذیل میں ۴۵ آدمیوں کے نام درج کرتے ہیں، انھی میں مرزا رفیع بھی ہیں، میاں ہدایت (اُردو کے ایک فصیح اور باکمال شاعر تھے، خواجہ میر درد کے ہمعصر تھے اور ان سے بھی اصلاح لیتے تھے، چنانچہ انہی کا شعر ہے :\n\nہدایت کہا ریختہ جب سے ہم نے\n\nرواج اُٹھ گیا ہند سے فارسی کا\n\nسودا کے ذکر میں ایک لطیفہ اِن کے حال سے متعلق ہے (دیکھو صفحہ) کی زبانی ہدایت ہے کہ شاہ حاتم جب سودا کی غزل کو اصلاح دیتے تھے تو اکثر یہ اشعار پڑھا کرتے تھے :\n\nاز ادب صائب خموشم ورنہ در ہردا دیئے\n\nرتبہ شاگردیِ من نیست اُستادِ مرا\n\nاور احباب سے کہتے تھے کہ یہ شعر صائب نے میری اُستادی اور مرزا رفیع کی شاگردی کے حق میں کہا ہے، لکھنؤ سے مرزا کے قصیدے اور غزلیں آتیں تو آپ دوستوں کو پڑھ پڑھ کر سُناتے اور خوش ہوتے۔\n\nسعادت یار خاں رنگین ان کے شاگرد اپنی مجالسِ رنگیں میں لکھتے ہیں کہ تیسرے پہر کو بھی اکثر شاہ صاحب کے پاس شاہ تسلیم کے تکیہ میں حاضر ہوا کرتا تھا، ایک دن میاں محمد امان نثار، لالہ مکند رائے فارغ، مِروہے اکبر علی اکبر وغیرہ، چند شاگرد خدمت میں موجود تھے اور میری نومشقی کے دن تھے کہ حسبِ معمول وہاں حاضر ہوا۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ آج رات کو مطلع کہا ہے :\n\nسَر کو پٹکا ہے کبھو، سینہ کبھو کوٹا ہے\n\nرات ہم ہجر کی دوست سے مزا لوٹا ہے\n\nمیاں رنگین لکھتے ہیں، ابتدا سے میرے مزاج میں چالاکی بہت تھی اور شعور کم تھا، اپنی نادانی سے گستاخانہ بول اٹھا کہ اگر مصرع ثانی میں اس طرح ارشاد ہو تو اچھا ہے :\n\nسر کو پٹکا ہے کبھو، سینہ کبھو کوٹا ہے\n\nہم نے شب ہجر کی دوست سے مزا لوٹا ہے\n\nشاہ صاحب بہت خوش ہوئے، میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور فرمایا آفریں، آفریں، ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات، انشاء اللہ تمھاری طبیعت بہت ترقی کرے گی، مشق نہ چھوڑنا، ان کی دوستوں میں سے ایک شخص بولے کہ صاحبزادے اُستاد کے سامنے یہ گستاخی زیبا نہ تھی، حضرت نے پھر فرمایا کہ مضائقہ کیا ہے، واللہ میں اسی طرح لکھوں گا۔ بعد اس کے یہ قطعہ پڑھا :\n\nمن و آں سادہ دل کہ عیب مرا\n\nہمچو آئینہ روبرد گوید\n\nنہ چو شانہ بصد زبان و دو رُو\n\nپس سر رفتہ مو بمو گوید\n\nاس میں شک نہیں کہ یہ نیک نیتی اور دریا دلی شاہ حاتم کی قابلِ رشک ہے کیونکہ شعراء میں اپنے لئے خود پسندی اور دوسرے کے لئے ناتواں بینی ایک ایسی عادت ہے کہ اگر اُسے قدرتی عیب کہیں تو کچھ مبالغہ نہیں۔ بلکہ شاگردوں کو استادوں سے دست و گریباں ہوتے دیکھا تو اکثر اِسی فن میں دیکھا، یہ وصف یا اس فرشتہ سیرت میں پایا، یا مرزا محمد علی ماہر میں کہ مرزا محمد افصل سرخوش کے اُستاد تھے۔\n\nنقل :- مرزا محمد علی ماہر عہدِ عالمگیر میں ایک مشاق اور مسلم الثبوت شاعر اپنے زمانہ کے تھے اور مرزا سر خوش اس نے قدیمی شاگرد تھے، مگر طبع مناسب اور کثرتِ مشق سے یہ بھی درجہ کمال کو پہنچ گئے، مرزا ماہر اکثر فرمائش کر کے اِن سے شعر کہوایا کرتے تھے اور یہ سعادت سمجھ کر کہہ دیا کرتے تھے، سرخوش لکھتے ہیں کہ انھوں نے ایک مثنوی بہاریہ تحفتہ العراقین کے ڈھنگ میں لکھی تھی، چنانچہ مطلع میں نے کہہ کر دیا کہ :\n\nاے برسر نامہ گل زملامت\n\nبارانِ بہار شیخ جامت\n\nاور میرے ساقی نامہ کے لئے اُنھوں نے مطلع کہہ دیا :\n\nبود نامہ نشہ بخش ادا\n\nکہ بر سر کشد جامِ حمدِ خدا\n\nپھر لکھتے ہیں کہ ایک شب قطب الدین مائل کے ہاں شعراء کا جلسہ تھا۔ چاندنی رات تھی، سب مہتابی پر بیٹھے تھے، مجھ سے شعر کی فرمائش کی، میں نے اسی دن مطلع کہا تھا وہ پڑھا :\n\nکے توانم دید زاہد جامِ صہبا بشکند\n\nمے پرور نگم حبابے گر یہ دریا بشکند\n\nسب نے تعریف کی اور آدھی رات تک اس کے مصرعے لوگوں کی زبان پر تھے، حکیم محمد کاظم صاحب تخلص کہ اپنے تئیں مسیح البیان بھی کہتے تھے، بار بار یہ شعر\n\nپڑھتے تھے اور کہتے تھے کہ خدا کی قدرت، ہندوستان میں ایک شخص پیدا ہو، اور فارس کی زبان میں ایسے شعر کہے، دوسرے دن دانشمند خاں کے مکان پر جلسہ ہوا، وہاں میں نہ تھا مگر مرزا ماہر موجود تھے۔ سب نے پھر اس مطلع کا ذکر کیا اور کہا کہ تمھارا شاگرد کتنا خوش فکر نکلا ہے، اُس کے شعر کی کیفیت میں عجب لطف سے کل رات کٹی، آفرین ہے آپ کی محنت پر خوب تربیت کیا، انھوں نے کہا کہ وہ میرے شاگرد نہیں، باہم اتحاد ہے، وہ مجھے شعر دکھاتے ہیں، میں انھیں شعر دکھاتا ہوں۔ حکیم نے کہا، سرخوش سے بارہا گفتگو آئی وہ باصرار کہتے تھے کہ میں شاگرد ہوں۔ ماہر نے کہا کہ بزرگ زادہ ہے جو چاہا کہہ دیا، مجھے اُس کی اُستادی کی لیاقت کب سے ہے، دوسرے دن میں خدمت میں حاضر ہوا، فرمایا کہ تم نے اپنے تئیں میرا شاگرد کیوں کہا۔ مجھے تو فخر ہے کہ تم جیسا میرا شاگرد ہو، مگر دنیا میں ایسے بلند فکر لوگ بھی ہیں کہ وہ مجھ کو اور میرے شعر کو خاطر میں نہیں لاتے، اُن کی نظر میں میرے شاگرد کی کیا قدر و منزلت ہو گی۔ شعراء خدا کے شاگرد ہیں۔ ان کو کسی کی شاگردی کی پرواہ نہیں، شاہ حاتم کا ایک دیوان فارسی میں بھی ہے مگر بہت مختصر میں نے دیکھا وہ 1179ھ کا خود اُن کے قلم کا لکھا ہوا تھا۔ غزل 90 صفحے، رباعی و فرد وغیرہ ۶۵ صفحے، ولادت ان کی 1111ہجری ہے اور ۹۶ برس کی عمر میں ماہ رمضان 1207ھ میں دہلی میں فوت ہوئے اور وہیں دلی دروازہ کے باہر دفن ہوئے۔ مگر مصحفی نے تذکرہ فارسی میں لکھا ہے کہ ۱۱۹۶ھ میں فوت ہوئے اور ۸۳ برس کی عمر پائی۔\n\nیار کا مجھ کو اس سبب سے ڈر ہے\n\nشوخ ظالم ہے اور سِتمگر ہے\n\nدیکھ سرو چمن ترے قدکوں\n\nخجل ہے پا بگل ہے بے بر ہے\n\nحق میں عاشق کے تجھ لباں کا بچن\n\nقند ہے نیشکر ہے، شکر ہے\n\nکیوں کہ سب سے تجھے چھپا نہ رکھوں\n\nجان ہے دل ہے دل کا انتر ہے\n\nمارنے کو رقیب کے حاتم\n\nشیر ہے، ببر ہے، دھنتر ہے\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nیہاں طالعوں سے ملتا ہے پیارا\n\nعبث دیکھے ہے زاہد استخارا\n\nمیں پایا ہوں ولے تجھ چشم کا بھید\n\nنہ مانگوں کا کبھی ان کا اشارا\n\nنہالِ دوستی کو کاٹ ڈالا\n\nدکھا کر شوخ نے اَبرو کا آرا\n\nلیا اس گلبدن کا ہم نے بوسہ\n\nتو کیا چوما رقیبوں نے ہمارا\n\nکئی عالم کئے ہیں قتل اِن نے\n\nکرے کیا ایکلا حاتم بچارا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nچھپا نہیں جا بجا حاضر ہے پیارا\n\nکہاں وہ چشم؟ جو ماریں نظارا\n\nجدا نہیں سب ستی تحقیق کر دیکھ\n\nملا ہے سب سے اور سب سے ہے نیارا\n\nمسافر اُٹھ تجھے چلنا ہے منزل\n\nبجے ہے کوچ کا ہر دم نقارا\n\nمثالِ بحر موجیں مارتا ہے\n\nکیا ہے جس نے اِس جگ سوں کنارا\n\nسیانے خلق سے یوں بھاگتے ہیں\n\nکہ جوں آتش ستی بھاگے ہے پیارا\n\nسمجھ کر دیکھ سب جگ سیکھ ماہی\n\nکہاں ہے گا سکندر کاں (کہاں ) ہے دارا\n\nکہیں ہیں اہلِ عرفاں اس کو جیتا\n\nجو مر کر عشق میں دنیا سوں ہارا\n\nصفا کر دل کے آئینہ کو حاتم\n\nدیکھا چاہے سجن گر آشکارا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nجب سُنا موتی نے تجھ دانداں کے موتی کا بہا\n\nآب میں شرمندگی سوں ڈوب جوں پانی بہا\n\nمردماں کو دیکھ کر بسمل ترے کوچہ کے بیچ\n\nڈر گیا اور چشم سے آنسو کے چاہے خونبہا\n\nاب تمھارے سُرخ ہم نے تاڑ کر پوچھا تھا مول\n\nجوہری کہنے لگے یہ لعل ہے گا بے بہا\n\nحاتم اُس بے مہر نے مچھی نہ دی اس غم ستی\n\nجا کنارے بیٹھ کر اس غم ستی دریا بہا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nآبِ حیات جا کے کسو نے پیا تو کیا\n\nمانند خضر جگ میں اکیلا جیا تو کیا\n\nشیریں لباں سوں سنگ دلوں کو اثر نہیں\n\nفرہاد کام کوہ کنی کا کیا تو کیا\n\nجلنا لگن میں شمع صفت سخت کام ہے\n\nپروانہ یوں شتاب عبث جی دیا تو کیا\n\nناسور کی صفت ہے نہ ہو گا کبھی وہ بند\n\nجراح زخم عشق کا آ کر سیا تو کیا\n\nمحتاجگی سوں مجھ کو نہیں ایک دم فراغ\n\nحق نے جہاں میں نام کو حاتم کیا تو کیا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nخال اُس کے نے دل لیا میرا\n\nتِل میں اِن نے لہو پیا میرا\n\nجان بے درد کو ملا کیوں تھا\n\nآگے آیا مرے کیا میرا\n\nاُس کے کوچہ میں مجھ کو پھرتا دیکھ\n\nرشک کھاتی ہے آسیا میرا\n\nنہیں شمع و چراغ کی حاجت\n\nدل ہے مجھ بزم کا دیا میرا\n\nزندگی درد سر ہوئی حاتم\n\nکب ملے گا مجھے پیا میرا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nکاملوں کا یہ سخن مدت سوں مجھ کو یاد ہے\n\nجگ میں بے محبوب جینا زندگی برباد ہے\n\nبندگی سوں سرو قد اک قدم باہر نہیں\n\nسرو گلشن بیچ کہتے ہیں مگر آزاد ہے\n\nبے مدد زلفوں کے اس کے حُسن نے قیدی کیا\n\nصید دل بے دام کرنا صنعتِ استاد ہے\n\nخلق کہتی ہے بڑا تھا عاشقی میں کوہ کن\n\nتجھ لبِ شیریں کی حسرت میں ہر اک فرہاد ہے\n\nدل نہاں پھرتا ہے حاتم کا نجف اشرف کے بیچ\n\nگو وطن ظاہر میں اس کا شاہجہاں آباد ہے\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nاے خرد مندو مبارک ہو تمھیں فرزانگی\n\nہم ہوں اور صحرا ہو اور وحشت ہو اور دیوانگی\n\nبے مروت، بے وفا، بے دید اے ناآشنا\n\nآشناؤں سے نہ کر بے رحمی اور بیگانگی\n\nملکِ دل آباد کیوں کرتا ہے حاتم کا خراب\n\nاے مری بستی خوش آتی ہے تجھے ویرانگی\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D8%AA%D9%85"} {"title": "آب حیات/شاہ مبارک آبرو", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "آبرو تخلص، مشہور شاہِ مبارک اصلی نام نجم الدین تھا، شاہ محمد غوث گوالیاری کی اولاد میں تھے، باوجودیکہ بڈھے شاعر اور پُرانے مشاق تھے مگر خانِ آرزو کو اپنا کلام دکھا لیتے تھے، دیکھو اس زمانہ کے لوگ کیسے منصف اور طالبِ کمال تھے۔ یہ اپنے زمانہ میں مسلم الثبوت شاعر زبانِ ریختہ کے اور صاحبِ ایجاد نظم اُردو کے شمار ہوتے تھے، وہ ایسا زمانہ تھا کہ اخلاص کو وسواس، اور دھڑ کو سر کا، قافیہ باندھ دیتے تھے اور عیب نہ سمجھتے تھے، ردیف کی کچھ ضرورت نہ تھی، البتہ کلام کی بنیاد ایہام اور ذو معنین لفظوں پر ہوتی تھی، اور محاورہ کو ہرگز ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ وہ ایک آنکھ سے معذور تھے، اِن کی اور مرزا جان جانان مظہر کی خوب خوب چشمکیں ہوتی تھیں، بلکہ ان میں آنکھ کا بھی اشارہ ہو جاتا تھا، چنانچہ مرزا صاحب نے کہا :\n\nآبرو کی آنکھ میں اک گانٹھ ہے\n\nآبرو سب شاعرو ں کی۔۔۔۔۔ ہے\n\nشاہ آبرو نے کہا ہے :\n\nکیا کروں حق کے کئے کو، کور میری چشم ہے\n\nآبرو جگ میں رہے تو جانِ جاناں پشم ہے\n\nشاہ کمال بخاری اس زمانہ میں ایک بزرگ شخص تھے۔ اُن کے بیٹے پیر مکھن تھے۔ اور پاکباز تخلص کرتے تھے، شاہ مبارک کو اُن سے محبت تھی، چنانچہ اکثر شعروں میں اِن کا نام یا کچھ اشارہ ضرور کرتے تھے، دیکھا کیا مزے کا سجع کہا ہے :\n\nعالم ہمہ دوغ است و محمد مکھن\n\nاِن کی علمی استعداد کا حال معلوم نہیں، کلام سے ایسا تراوش ہوتا ہے کہ صرف و نحو عربی کی جانتے تھے اور مسائل علمی سے بے خبر نہ تھے۔\n\nاِن کے شعر جب تک پیر مکھن پاکباز کے کلام سے چپڑے نہ جائیں تب تک مزہ نہ دیں گے، اس لئے پہلے ایک شعر اِن کا ہی لکھتا ہوں، اس زمانہ کے خیالات پر خیال کرو :\n\nمجھے رنج و الم گھیرے ہے نت میرے میاں صاحب\n\nخبر لیتے نہیں کیسے ہو تم؟ میرے میاں صاحب\n\nآیا ہے صبح نیند سے اُٹھ رسمسا ہوا\n\nجامہ گلے میں رات کا پھولوں میں بسا ہوا\n\nکم مت گنو یہ بخت سیاہوں کا رنگ زرد\n\nسونا وہ ہے کہ ہووے کسوٹی کسا ہوا\n\nانداز سیں زیادہ نپٹ ناز خوش نہیں\n\nجو خال اپنے حد سے بڑھا سو مسا ہوا\n\nقامت کا سبھ جگت منیں بالا ہوا ہے نام\n\nقد اس قدر بلند تمھارا رسا ہوا\n\nدل یوں ڈرے ہے زلف کا مارا بہونک سیں\n\nرسّی سیں اژدہا کا ڈرے جوں ڈسا ہوا\n\nاے آبرو اول تو سمجھ پیچ عشق کا\n\nپھر زلف سے نِکل نہ سکے دل پھنسا ہوا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nپلنگ کوں چھوڑ خالی گروسیں اٹھ گئے سجن میتا\n\nچتر کاری لگے کھانے ہمن کو گھر ہوا چیتا\n\nلگائی بینوا کی طرح سیں جب وہ چھڑی تم نے\n\nتج اوروں کو لیا ہے ہاتھ اپنے ایک تو میتا\n\nجُدائی کے زمانہ کی سجن کیا زیادتی کہیے\n\nکہ اس ظالم کی جو ہم پر گھڑی گزری سو جگ بیتا\n\nلگا دل یار سیں تب اس کو کیا کام آبرو ہم سیں\n\nکہ زخمی عشق کا پھر مانگ کر پانی نہیں پیتا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nنین سیں نین جب ملائے گیا\n\nدل کے اندر مرے سمائے گیا\n\nنگہِ گرم سیں مرے دل میں\n\nخوش نین آگ سی لگائے گیا\n\nتیرے چلنے کی سن خبر عاشق\n\nیہی کہتا ہوا کہ ہائے گیا\n\nسہو کر بولتا تھا مجھ سیتی\n\nبوجھ کر بات کو چھپائے گیا\n\nآبرو ہجر نہ بیچ مرتا تھا\n\nمُکھ دکھا کر اُسے جلائے گیا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nیہ رسم ظالمی کی، دستور ہے کہاں کا\n\nدل چھین کر ہمارا دشمن ہوا ہے جاں کا\n\nہر یک نگہ میں ہم سے کرنے لگے ہو نوکیں\n\nکچھ یوں تری آنکھوں نے پکڑا ہے طور بانکا\n\nتجھ راہ میں ہوا ہے اب تو رقیب کتا\n\nبُو پائے کر ہمارے آ باندھتا ہے ناں کا\n\nخندوں کے طور گویا دیوارِ قہقہا ہے\n\nپھر کر پھرے نہ لڑکا جو اس طرف کو جھانکا\n\nرستم دَہَل کے دل میں ڈالے انجھو سو پانی\n\nدیکھے اگر بھواں کی تلوار کا جھماکا\n\nفاسق کے دل پہ ڈالی جب نفسِ بد نے بَرکی\n\nرجواڑے کی گلی کا تب جا غبار پھانکا\n\nسب عاشقوں میں ہم کوں مژدہ ہے آبرو کا\n\nہے قصد گر تمہارے دل بیچ امتحاں کا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nمت قہر سینی ہاتھ میں لے دل ہمارے کوں\n\nجلتا ہے کیوں پکڑتا ہے ظالم انگارے کوں\n\nٹک باغ میں شتاب چلو اے بہارِ حُسن\n\nگل چشم ہو رہا ہے تمہارے نظارے کوں\n\nمرتا ہوں ٹک رہی ہے رمق آدرس دکھا\n\nجا کر کہو ہمارے طرف سے پیارے کوں\n\nمیں آ پڑا ہوں عشق کے ظالم بھنور کے بیچ\n\nتختہ اوپر چلا دتے ہیں جی کے آئے کوں\n\nاپنا جمال آبرو کوں ٹک دکھاؤ آج\n\nمدت سے آرزو ہے درس کی بچائے کوں\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nرستم اس مرد کی کھاتا ہے قسم زوروں کی\n\nتاب لاوے جو عشق کے جھک جھوروں کی\n\nقدردان حُسن کے کہتے ہیں اُسے دل مُردہ\n\nسانورے چھوڑ کے جو چاہ کرے گوروں کی\n\nگانٹھ کاٹی ہے مرے دل کی تری انکھیاں نے\n\nدو پلک نئیں یہ کترنی ہے مگر چوروں کی\n\nلبِ شیریں پہ سریجن کے نہیں خطِ سیاہ\n\nڈار چھوٹی ہے مٹھائی پہ شکر خوروں کی\n\nچَلکیں سورج منیں جو خط شعاع کے شعلے\n\nدیکھ آنکھوں منیں یہ لال جھک ڈوروں کی\n\nقادری جبکہ سجی برمیں سجن بونٹہ وار\n\nعقل چکر میں گئی دیکھ کے چھب موروں کی\n\nآبرو کوں نہیں کم ظرف کی صحبت کا داغ\n\nکس کو برداشت ہے ہر وقت کے نکتوروں کی\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nافسوس ہے کہ مجکوں وہ یار بھول جاوے\n\nوہ شوق، وہ محبت، وہ پیار بھول جاوے\n\nرستم تیرے آنکھوں کے ہوئے اگر مقابل\n\nانکھیوں کو دیکھ تیری تلوار بھول جاوے\n\nعارض کے آئینہ پر تمنا کے سبز خط ہے\n\nطوطی اگر جو دیکھے گلزار بھول جاوے\n\nکیا شیخ و کیا برہمن جب عاشقی میں آویں\n\nتسبی کرے فراموش نہ نار بھول جاوے\n\nیوں آبرو بنا دے دل میں ہزار باتاں\n\nجب تیرے آگے آوے گفتار بھول جاوے\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nپانی پت (۱) آج چھوڑ جو گنور تم چلے\n\nتو راہ بیچ جائیو جاناں سنبھال کے\n\nکنجی اُس کی زبانِ شیریں ہے\n\nدل مرا قفل ہے بتاشے (۲) کا\n\n(۱) پانی پت، گنور سنبھالکہ قصبوں کے نام ہیں۔ سنبھالکے کی پُرانی سرائے اب بھی قائم ہے۔ اگلے وقتوں میں یہاں قافلہ لٹتا تھا اور رہزنی اس کی مشہور تھی اور اب بھی استحکام اور وسعت میں ہمیشہ سے ضرب المثل ہے۔\n\n(۲) چھوٹا سا قفل، مقدار میں بتاشے کے برابر اس سے کچھ بڑا ہوتا ہے۔ بتاشے کا قفل کہلاتا تھا۔\n\nتم نے بجاؤ نے کو جب ہاتھ بیچ نَے لی\n\nمجنوں ہو گئے سب یہ اس طرح کے نَے لی\n\nسجا ہے نرگسی بوٹے کا جامہ\n\nکرے کیونکر نہ مجھ سے چشم پوشی\n\nآبرو کے قتل کو حاضر ہوئے کس کر کمر\n\nخون کرنے کو چلے عاشق کو تہمت باندھ کر\n\nوہ بھواں سے لگے ہیں جس کے نین\n\nوہ کہاتا ہے حاجی الحرمین\n\nعزت ہے جوہری کی، جو قیمتی ہو جوہر\n\nہے آبرو ہمن کو، جگ میں سخن ہمارا\n\nجہاں اس خو کی گرمی تھی نہ تھی واں آگ کو عزت\n\nمقابل اس کے ہو جاتی تو آتش لکڑیاں کھاتی\n\nاسی انداز میں حافظ عبد الرحمن خاں احسان نے ایک شعر کہا ہے، اور کیا خوب کہا ہے :\n\nدختِ رز سے کہا میخانے میں شب رندوں نے\n\nآج تو خوب ہی ختکے تری سوکن کو لگے\n\nیعنی بھنگڑ خانے میں بھنگڑوں نے خوب سبزیاں بھونٹیں اور طرے اُڑائے۔ تم بھی یاروں پر نظرِ عنایت کرو۔\n\nمبارک نام تیرے آبرو کا کیوں نہ ہو جگ میں\n\nاثر ہے یو ترے دیدار کی ٖفرخندہ حالی کا\n\nنالہ ہمارے دل کا، غم کو گواہ بس ہے\n\nاپنے تئیں شہادت انگشت آہ بس ہے\n\nتمھارے لوگ کہتے ہیں کمر ہے\n\nکہاں ہے، کسطرح کی ہے، کدھر ہے ؟\n\nتخلص آبرو برجا ہے میرا\n\nہمیشہ اشکِ غم سے چشم تر ہے\n\nاس ناتواں کی حالت واں جا کہے ہے اڑ کر\n\nمیرا یہ رنگِ رُو ہے گویا مکھی کبوتر\n\nمیاں خفا ہیں فقیروں کے حال پر\n\nآتا ہے اُن کو جوش جمالی کمال (۱) پر\n\n(۱) جلالی اور جمالی دو قسم کے اسمائے الٰہی ہیں اور شیخ کمال بخاری ان کے دادا کا نام ہے۔\n\nپھرتے تھے دشت دشت دوانے کدھر گئے\n\nوے عاشقی کے ہائے زمانے کدھر گئے\n\nخدمتگار خاں بادشاہی خواجہ سرا تھا اور سرکار شاہی میں بڑا صاحبِ اختیار تھا۔ اکثر بادشاہی نوکر اس کی سخت گیری اور بد مزاجی سے دق رہتے تھے، اُنھیں بھی اس سے کام پڑتا تھا، کبھی آسانی سے مطلب نکل آتا تھا کبھی دشواری سے، چنانچہ ایک موقعہ پر یہ شعر کہا :\n\nیاروں خدمتگار خاں خو جوں کے بیچ\n\nہے تو مستثنیٰ و لیکن منقطع\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9_%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88"} {"title": "آب حیات/شاہ نصیر", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "زیب تن گرچہ ہے گل پیرہن سرخ ترا\nلیکن انجام یہ ہو گا کفن سرخ ترا\n\nمجکو کہتا ہے وہ نکلا ہے شفق میں یہ ہلال\nیا نمودار ہے زخم کہن سرخ ترا\n\nدسترس پاؤں تک اس شوخ کے تجکو ہی یہاں\nکیونکہ رتبہ نہ ہو اے گلبدن سرخ ترا\n\nشیشہ بادہ گلرنگ ٹپک دے ساقی\nجامہ سبزمیں دیکھے جو تن سرخ ترا\n\nآستین سے یہ لگا کہنے وہ تلوار کو پونچھ\nبن گیا سورج یم خون شکن سرخ ترا\n\nرنگ نیلم ہی نہیں رنگ مسی کی یہ نمود\nلب بھی ہے غیرت لعل یمن سرخ ترا\n\nسچ بتا تو مجھے سوفار خد تگ قاتل\nلہو کس کس کا ہیے گا دہن سرخ ترا\n\nخاک باہم ہو شرارت سے ہم آغوش نصیرؔ\nصاف ہے شعلہ آتش بدن سرخ ترا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nخال پشت لب شیریں ہے عسل کی مکھّی\nروح فرہاد لپٹ بن کے جبل کی مکھّی\n\nسنگ و خشت در و دیوار افتادہ کو نہ دیکھ\nہاتھ ملتی ہے پتھوڑا کے محل کی مکھّی\n\nبن گیا ہوں میں خیال کمر یاء میں بور\nنہ ترے زور کی طاقت ہے نہ بل کی مکھّی\n\nتیرہ بختاں ازل کا کبھی دیکھا نہ فروغ\nشب کو جگنو کی طرح اڑ کے نہ جھلکی مکھّی\n\nبیٹھنے سے ترے ہم سمجھے لب یار کر قند\nبات مشکل تھی مگر تو لے یہ حل کی مکھّی\n\nان کو کیا کام توکل سے جو بن جاتے ہیں\nقاب بریانی پہ ہر اہل دول کی مکھّی\n\nہو گیا ہے یہ تری چشم کا بیمار نحیف\nنہ اڑا سکتا ہے منھ کہ نہ بغل کی مکھّی​\n\nریس پروانہ جانسوز کی کرتی تو ہے، پر\nنگہ شمع میں ہو جائے گی ہلکی مکھّی\n\nصنعت لعبت چیں دیکھ دلا جو کر تو\nدیکھنی گر تجھے منظور ہے کل کی مکھّی\n\nدلربا قہرفسوں ساز ہیں بنگالہ کے\nآدمی کو وہ بناتے ہیں عسل کی مکھّی\n\nسخن اپنا جو شکر ریز معانی ہے نصیرؔ\nہے ردیف اس لئے اس شعر و غزل کی مکھّی\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nسدا ہے اس آہ و چشم تر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں\nنکل کے دیکھو ٹک اپنے گھر سے، فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nوہ شعلہ رو ہے سوار تو سن اور اسکا تو سن عرق فشاں ہے\nعجب ہے ایک سیر دوپہر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nہنسے ہے کوٹھے پہ یوسف اپنا میں زیر دیوار رو رہا ہوں\nعزیز دیکھو مری نظر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nپتنگ کیوں کر نہ ہووے حیران کہ شمع سب کو دکھا رہی ہے\nبچشم گریان و تاج زر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nنہا کے افشاں چنو جبیں پر نچوڑو زلفوں کو بعد اس کے\nدکھاؤ عاشق کو اس ہنر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nکہاں ہے جوں شعلہ شاخ پر گل کدھر ہے فصل بہار شبنم\nنیا ہے اعجاز طرفہ ترسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nکرو نہ دریا پہ مے کشی تم ادھر کو آؤ تو میں دکھاؤں\nسر شک و ہر نالہ جگر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں​\n\nکدھر کو جاؤں نکل کے یارب کہ گرم و سرد زمانہ مجھ کو\nدکھائے ہے شام تک سحر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nوہ تیغ کھینچے ہوئے ہے سر پر میں سر جھکائے ہوں اشک ریزاں\nدکھاؤں اے دل تجھے کدھر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nغضب ہے چیں بر جبیں وہ کیا بدن سے ٹپکے بھی ہے پسینہ\nعیاں ہے یارو نئے ہنر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nنصیر لکھی ہے کیا غزل یہ کہ دل تڑپتا ہے سن کے جس کو\nبندھے ہے کب یوں کسی بشر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nنہاں ہے کب چشم ہر بشر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\nہے اس نگہ سے اس اشک تر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nدکھا کے تم شہ نشیں پہ جلوہ جو دیکھو فوارہ کا تماشا\nتو یہ صدا آئے بام و در سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nوہ مہروش پشت فیل پر ہے اور اس کی خرطوم آب افشاں\nعجب ہے تشبیہ جلوہ گر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nوہ طفل ترسا جبیں پہ قشقہ جو کھینچ سورج کو دیوے پانی\nتو کیوں نہ دل دیکھنے کو ترسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nدوپٹہ سر پر ہے بادلے کا گلاب پاس اس کے ہاتھ میں ہے\nنہ کیونکر چمکے نہ کیونکر برسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nتو اپنی پگڑی پہ رکھ کے طرہ جو کھیلے پچکاریوں سے ہولی​\nعیاں ہو نیرنگی دگر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nوہاں وہ غرفہ میں تاب رخ ہے یہاں یہ ابر مژہ پہ نم ہے\nیہ حسن الفت کے ہے ثمر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nعجب ہے کچھ ماجرا یہ ساقی کہ غل مچایا ہے میکشوں نے\nمدام یاں دیکھ ابر ترسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nوہ شوخ جھرنے کی سیر کر کے پھسلنے پتھر پر جا کے بیٹھا\nپکاری خلقت ادھر ادھر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n\nنصیر صد آفریں ہے تجھ کو کہ اہل معنی پکارتے ہیں\nعجب ہے مضمون تازہ تر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nلو لگ رہی ہے جس سے وہ شمع رو نہ آیا\nبل بے تری شرارت یانتک کبھو نہ آیا\n\nہو اس دہن سے روکش سیلی صبا کی کھائی\nغنچہ کے آہ منھ سے کس دن لہو نہ آیا\n\nدنداں دکھا کے مت ہنس اے بخیہ گریباں\nچاک جگر کا ہم کو طور رفو نہ آیا\n\nکیا جانے یہ گیا تھا کس منھ سے روکشی کو\nآئینہ واں ہے لیکر خاک آبرو نہ آیا\n\nبرگشتہ بخت ہم وہ اس دور میں ساقی\nلب تک کبھو ہمارے جام و سبو نہ آیا\n\nموج سرشک سے ہے رونق قبائے تن کی\nکیونکر کہوں کہ اسکو کار رفو نہ آیا\n\nآخر کو کہکشاں ہے یکسر وہ مانگ نکلی\nاس باب میں ہماری فرق ایک مو نہ آیا\n\nکشتی دل تو دائم موج خطر میں ڈوبی\nچیں بر جبیں ہو کس دن وہ روبرو نہ آیا\n\nکیونکر یہ ہاتھ اپنا پہنچے گا تا گریباں\nدست خیال جس کے دامن کو چھو نہ آیا\n\nاپنی بھی بعد مجنوں یارو ہوا بندھی ہے\nلے گرد باد خیمہ کب کو بکو نہ آیا​\n\nنا محرموں سے تم نے کھلوائے بند محرم\nمیں تو بھی آہ لے کر کچھ آرزو نہ آیا\n\nہر دم نصیرؔ رہ تو امید وار رحمت\nتیری زباں پہ کس دن لَا تَقنَطُوا نہ آیا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nاے اشک رواں ساتھ لے آہ جگری کو\nعاشق کہیں بے فوج علم اٹھ نہیں سکتا\n\nسقف فلک کہنہ میں کیا خاک لگاؤں\nاے صعف دل اس آہ کا تھم اٹھ نہیں سکتا\n\nسِر معرکہ عشق میں آساں نہیں دینا\nگاڑے ہے جہاں شمع قدم اٹھ نہیں سکتا\n\nہے جنبش مژگاں کا کسی کی جو تصور\nدِل سے خلش خار الم اٹھ نہیں سکتا\n\nدل پر ہے مرے خیمہ ہر آبلہ استاد\nکیا کیجئے کہ یہ لشکر غم اٹھ نہیں سکتا\n\nہر جا متجلّی ہے وہی پردہ غفلت\nاے معتکف دیر و حرم اٹھ نہیں سکتا\n\nیوں اشک زمین پر ہیں کہ منزل کو پہنچ کر\nجوں قافلہ ملک عدم اٹھ نہیں سکتا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nشب کو کیونکر تجھ کو ہے پھبتا سر پر طرہ ہار گلے میں\nجوں پرویں دہالہ مہ تھا سر پر طرہ ہار گلے میں\n\nرونق سریاں داغ جنوں ہے اشک مسلسل زیب گلو ہے\nچاہیے تجھ کو غیرت لیلا سر پر طرہ ہار گلے میں\n\nشعلہ کہاں آنسو ہیں کدھر شب شمع رکھی تھی محض میں\nتاج اور زر اور موتیوں کا سا سر پر طرہ ہار گلے میں\n\nبال پریشاں ہیں کاکل کے پیچ گلے میں پگڑی کے\nیوں رکھتا ہے وہ متوالا سر پر طرہ ہار گلے میں​\n\nحق میں ہے میرے طائروں کے باز کا چنگل دام کا حلقا\nاے بت کافر مجھ کو دکھلا سر پر طرہ ہار گلے میں\n\nشملے اور تسبیح کے بدلے شیخ جی صاحب رکھنے لگے ہیں\nکیونکہ نہ دیکھیں رند تماشا سر پر طرہ ہار گلے میں\n\nرشک چمن تو سیر کرے گا جبکہ کنار حوض و لب جو\nفوارہ اور پھول رکھے گا سر پر طرہ ہار گلے میں\n\nعکس شعاع جہر نہیں یہ بیل چنبیلی لپٹی ہے\nسرو چمن نے کیا ہے پیدا سر پر طرہ ہار گلے میں\n\nکیفیت کیا ہو بن ساقی سوئے چمن طاؤس اور قمری\nابر و ہوا میں رکھیں تنہا سر پر طرہ ہار گلے میں\n\nہے یہ تمنا میرے جی میں یوں تجھے دیکھوں بادہ کشتی میں\nہاتھ میں ساغر بر میں مینا سر پر طرہ ہار گلے میں\n\nاور بدل کے ردیف و قوانی لکھئے غزل اس بحر میں جلدی\nتم نے نصیرؔ اب خوب نبھایا سر پر طرہ ہار گلے میں\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nوقت نماز ان کا قامت گاہ خدنگ و گاہ کمال\nبن جاتے ہیں اہل عبادت گاہ خدنگ و گاہ کمال\n\nمرد جوانی میں تو ہے سیدھا پیری میں جھک جاتا ہے\nقوت و ضعف کی ہے یہ علامت گاہ خدنگ و گاہ کمال\n\nبادہ کشی کے سکھلاتے ہیں کیا ہی قرینے ساون بھادوں​\nکیفیت کے ہم نےجو دیکھا دو ہیں مہینے ساون بھادوں\n\nچھوٹتے ہیں فوارہ مژگان روز و شب ان آنکھوں سے\nیوں نہ برستے دیکھے ہوں گے مل کے کسی نے ساون بھادوں\n\nٹانکنے کو پھرتی ہے بجلی اس میں گوٹ تمامی کی\nدامن ابر کے ٹکڑوں کو جب لگتے ہیں سینے ساون بھادوں\n\nبھولے دم کی آمد و شد ہم یاد کر اس جھولے کی پینگیں\nسوجھے ہے بے یار نہ دیں گے آہ یہ جینے ساون بھادوں\n\nکیونکہ نہ یہ دریائے تگرگ اے بادہ پرستو برسائیں\nکان گہر چھٹ زر کے رکھتے ہیں گنجینے ساون بھادوں\n\nکان جواہر کیونکہ نہ سمجھے کھیت کو دہقان اولوں سے\nبرساتے ہیں موتیوں میں ہیرے کے نگینے ساون بھادوں\n\nابرسیہ میں دیکھی تھی بگلوں کی قطار اس شکل سے ہم نے\nیاد دلائے پھر کے ترے دنداں مسّی نے ساون بھادوں​", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%B1"} {"title": "آب حیات/شیخ شرف الدین مضمون", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "مضمون تخلص، شیخ شرف الدین نام، شیخ فرید الدین شکر گنج کی اولاد میں تھے۔ جاجمئو علاقہ اکبر آباد وطن اصلی تھا۔ دلی میں آ رہے تھے۔ اصل پیشہ سپاہ گری تھا۔ تباہی سلطنت سے ہتھیار کھول کر مضمون باندھنے پر قناعت کی اور زینت المساجد میں ایسے بیٹھے کہ مر کر اُٹھے، اس عالم میں بھی ایک خوش مزاج، با اخلاق، یار باش آدمی تھے، دورِ اول کے استادوں میں شمار ہوتے تھے اور انہی کا انداز تھا کیونکہ رواج یہی تھا اور خاص و عام اسی کو پسند کرتے تھے۔\n\nاس زمانہ کے لوگ کسی قدر منصف اور بے تکلف تھے، باوجودیکہ مضمون سن رسیدہ تھے، اور خان آرزو سے عمر میں بڑے تھے، مگر انھیں غزل دکھاتے اور اصلاح لیتے تھے، نزلہ سے دانت ٹوٹ گئے تھے، اس لئے خان موصوف اُنھیں شاعرِ بیدانہ کہتے تھے۔\n\nمرزا رفیع نے بھی اِن کا عہد پایا تھا، چنانچہ جب انتقال ہوا تو مرزا نے غزل کہی جس کا مطلع و مقطع بھی لکھتا ہوں۔\n\nلئے مے اُٹھ گیا ساقی، مرا بھی پر ہو پیمانہ\n\nالہٰی کس طرح دیکھوں میں اِن آنکھوں سے میخانہ\n\nبنائیں اُٹھ گئیں یارو غزل کے خوب کہنے کی\n\nگیا مضمون دنیا سے رہا سودا سو مستانہ\n\nاور اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس صاحبِ کمال نے زمانہ کے دل میں کیا اثر پیدا کیا تھا۔\n\nہائے ولی خدا تجھے بہشت نصیب کرے، کیسے کیسے لوگ تیری خاک سے اُٹھے اور خاک میں مل گئے، استاد مرحوم نے ایک دن فرمایا کہ شیخ مضمون کے زمانہ میں کوئی امیر باہر سے محل میں آئے اور پلنگ پر لیٹ گئے، ایک بڑھیا ماما نئی نوکر ہوئی تھی وہ حقہ بھر کر لائی اور سامنے رکھا، نواب صاحب کی زبان پر اُس وقت مضمون کا یہ شعر تھا :\n\nہم نے کیا کیا نہ ترے عشق میں محبوب کیا\n\nصبر ایوب کیا، گریہ یعقوب کیا\n\nماما سُن کر بولی، الٰہی تیری امان، اس گھر میں تو آپ ہی پیغمبری وقت پڑ رہا ہے، بیچارے نوکروں پر کیا گزرے گی۔ چلو بابا یہاں سے۔ (دلی میں غریب مفلس فقیر کسی سے سوال کیا کرتے تھے تو کہا کرتے تھے عیالدار ہیں مفلس ہیں، ہم پہ پیغمبری وقت پڑا ہے۔ لللہ کچھ دو اور اصل اس کی یہ تھی کہ جس پر سخت مصیبت پڑتی ہے وہ زیادہ خدا کا پیارا ہوتا ہے اور چونکہ پیغمبر سب سے زیادہ خدا کے پیارے ہیں اس لئے ان پر زیادہ مصیبتیں پڑتی ہیں۔ جو مصیبتیں پیغمبروں پر پڑی ہیں وہ دوسرے پر نہیں پڑیں۔ رفتہ رفتہ پیغمبری وقت اور پیغمبری مصیبت کے معنی سخت مصیبت کے ہو گئے۔ دیکھو ایسی ایسی باتیں اس زمانہ میں کس قدر عام تھیں کہ بڑھیا اور مامائیں اُن سے نکتے اور لطیفے پیدا کرتی تھیں۔ اب اللہ اللہ ہے۔)\n\nتعجب یہ ہے کہ اس مضمون کو مخلص کاشی نے بھی باندھا ہے :\n\nدر فراقِ توچہا اے بُتِ خبوب کنم\n\nصبر ایوب کنم گریہ یعقوب کنم\n\nکرے ہے دار کو کامل بھی سرتاج\n\nہوا منصور سے نکتہ یہ حل آج\n\n(حل اور علاج میں صنعت تجنیس مرکب رکھی ہے۔)\n\nخط آ گیا ہے اس کے، مری ہے سفید ریش\n\nکرتا ہے اب تلک بھی وہ ملنے میں شام صبح\n\nکریں کیوں نہ شکر لبوں کو مرید\n\nکہ دادا ہمارا ہے بابا فرید\n\n(شادی کی ریت رسموں میں بابا فرید کا پڑا، عورتوں کی شرع کا ایک واجب مسئلہ ہے، مزا یہ ہے کہ اس میں شکر ہی ہو اور مٹھائی جائز نہیں۔)\n\nہنسی تیری پیارے پھلجڑی ہے\n\nیہی غنچہ کے دل میں گلجھڑی ہے\n\nمیکدہ میں گر سراپا فعلِ نامعقول ہے\n\nمدرسہ دیکھا تو واں بھی فاعل و مفعول ہے\n\nتیرِ مژگاں برستے ہیں مجھ پر\n\nآبِ پیکاں کا اس طرف ہے نڈھال", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%B4%D8%B1%D9%81_%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D9%85%D8%B6%D9%85%D9%88%D9%86"} {"title": "آب حیات/شیخ غلام ہمدانی مصحفی", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "دیکھا نہ میں نے ہند میں جب خشکہ پیشاوری\nلینے برنج اے مصحفیؔ روح اپنی پیشاور گئی\n\nنہ کیونکہ سیر کرے شہر دو کے سینوں میں\nجو خال چشم کہ برسوں رہا ہو مینوں میں\n\nکیوں نہ دل نظارگی کا جائے لوٹ\nلکھنؤ میں حُسن کی بندھتی ہے پوٹ\n\nتختہ آبِ چمن کیوں نہ نظر آئے سپاٹ\nیاد آئے مجھے جس دم وہ نگنبور کا گھاٹ​\n\nبعض جگہ اپنے وطن کا محاورہ یاد آ جاتا ہے اور کہہ دیتے ہیں۔\n\nتیغ نے اس کی کلیجا کھا لیا\nاس نے آتے ہی مجھے منگوا لیا\n\nچمن میں چل کے کر اے مصحفی تو نالہ و آہ\nجو جی چلا ہو ترا امتحان بلبل کو\n\nنہ میں صحرا میں نہ گلشن میں نکل جاؤں گا\nخوگر شہر ہوں یا خاک میں رل جاؤں گا​\n\nانھیں عادت تھی اکثر جگہ معاصرین پر چوٹ کر جاتے ہیں۔ چنانچہ کہا ہے۔\n\nکچھ میں جرات نہیں ہوں مصحفی سحر بیاں\nمیر و مرزا سےلڑانے یہ غزل جاؤں گا\n\nاور تو ثانی کوئی اس کا نہیں\nمصحفی کا ہے قتیل البتہ چوٹ​\n\nچالیس برس کا ہی ہے چالیس کے لائق\nتھا مرد معّمر کہیں دس بیس کے لائق\n\nاے وائے کہ پچیس سے اب پانچ ہیں اپنے\nہم بھی تھے کنہی روزوں میں پچیس کے لائق\n\nاستاد کا کرتے ہیں امیر اب کے مقرر\nہوتا ہے جو درماہہ کہ سائیس کے لائق\n\nچارہ کے لگانے سے ہوا دو کا اضافہ\nپھر وہ نہ جلے جی میں کہ ہو تیس کے لائق​\n\nزہرہ کی جو آئی کفِ ہاروت میں انگلی\nکی رشک نے جادیدہ ماروت میں اُنگلی\n\nبن دودھ انگوٹھے کیطرح چوسے ہے کودک\nرکھتی ہے تصرف عجب اک قوت میں اُنگلی\n\nغرفہ کے ترے حال پہ ازبہرِ تاسف\nہر موج سے تھی کل دہن حوت میں اُنگلی\n\nمہندی کے یہ چھّلے نہیں پوروں پہ بنائے\nہے اُسکی ہر اک حلقہ یاقوت میں اُنگلی\n\n-----------------------------\n\nناچی ہے تری عالمِ لاجوت میں اُنگلی\n\nشہتوت ہے یا صانع عالم نے لگا دی\nشیریں کی یہ شاخ شجر توت میں اُنگلی\n\n-----------------------------\n\nحائک کی گرفتار ہوں جوں سوت میں اُنگلی\n\nتھا مصحفیؔ مائل گریہ کہ پس از مرگ\nتھی اسکی دھری چشم پہ تابوت میں اُنگلی\n\nاسی طرح میں سیّد انشاء کی غزل کا مطلع تھا۔\n\nدیکھ اس کی پڑی خاتمِ یاقوت میں اُنگلی\nہاروت نے کی دیدہ ماروت میں اُنگلی\n\nمُدت سے ہوں میں سر خوش صہبائے شاعری\nناداں ہے جسکو مجھ سے ہے دعوائے شاعری\n\nمیں لکھنؤ میں زمزمہ سبحانِ شعر کو\nبرسوں دکھا چکا ہوں تماشائے شاعری\n\nبھپتا نہیں ہے بزم امیرانِ دہر میں\nشاعر کو میرے سامنے غوغائے شاعری\n\nاک طرفہ خر سے کام پڑا ہے مجھے کہ ہائے\nسمجھے ہے اپ کو وہ مسیحائے شاعری\n\nہے شاعروں کی اب کے زمانے کی یہ مواش\nپھرتے ہیں بیچتے ہوئے کالائے شاعری\n\nلیتا نہیں جو مول کوئی مفت بھی اسے\nخفّت اٹھا کے آتے ہیں گھر وائے شاعری\n\nاے مصحفیؔ زگوشہ خلوت بروں خرام\nخالی ست از برائے تو خود جائے شاعری\n\nہر سفلہ رازبان و بیان تو کہ رسد\nآرے توئی فغانی و بابائے شاعری\n\nمجنوں منم چراد گرے رنج مے برد\nدر حصَّہ من آمدہ لیلائے شاعری​\n\nسر مشک کا ہے تیرا تو کافور کی گردن\nنے موے پری ایسے نہ یہ حور کی گردن\n\nمچھلی نہیں ساعد میں ترے بلکہ نہاں ہے\nدو ہاتھ میں ماہی سقنقور کی گردن\n\nیوں مرغ دل اس زلف کے پھندے میں پھنسا ہے\nجوں رشتہ صیاد میں عصفور کی گردن\n\nدل کیوں کہ پری حور کا پھر اس پہ نہ پھیلے\nصانع نے بنائی تری بلّور کی گردن\n\nاک ہاتھ میں گردن ہو صراحی کی مزا ہے\nاور دوسرے میں ساقی مخمور کی گردن\n\nہر چند میں جھک جھک کے کئے سیکڑوں مجرے\nپر خم نہ ہوئی اس بتِ مغرور کی گردن\n\nکیا جانئے کیا حال ہوا صبح کو اُس کا\nڈھلکی ہوئی تھی شب ترے رنجور کی گردن\n\nیوں زُلف کے حلقے میں پھنسا مصحفی اے وائے\nجوں طوق میں ہووے کسی مجبُور کی گردن​\n\nسیّد انشاء کی غزل جواب میں\n\nتوڑ دوں گا خم بادہ انگور کی گردن\nرکھ دوں گا وہاں کاٹ کے اک حور کی گردن\n\nخود دار کی بن شکل الفہائے اناالحق\nنت چاہتے ہیں اک نئی منصور کی گردن\n\nکیوں ساقی خورشید جبیں کیا ہی نشے ہوں\nسب یونہی چڑھا جاؤں مے نور کی گردن\n\nاچھلی ہوئی ورزش سے تری ڈنڈ پہ مچھلی\nہے نامِ خدا جیسے شقنقور کی گردن\n\nتھا شخص جو گردن زدنی اس سے یہ بولے\nاب دیجیے جو دینی ہے منظور کی گردن\n\nآئینہ کی گر سیر کرے شیخ تو دیکھے\nسرخرس کا منھ خوک کا لنگور کی گردن\n\nیوں پنجہ مژگاں میں پڑا ہے یہ مرا دل\nجوں چنگلِ شہباز میں عصفور کی گردن\n\nتب عالم مستی کا مزا ہے کہ پڑی ہو\nگردن پہ مری اس بت مخمور کی گردن\n\nبیٹھا ہو جہاں پاس سلیماں کے آصف\nواں کیوں نہ جھکے قیصر و فغفور کی گردن\n\nبھینچے ہے بغل اپنی میں اس زور سے جو عشق\nتو توڑنے پر ہے کسی مجبُور کی گردن\n\nاے مست یہ کیا قہر ہے خشتِ سرخم سے\nکیوں تو نے صراحی کی بھلا چور کی گردن\n\nمحفل میں تری شمع بنی موم کی مریم\nپگھلی پڑی ہے اسکی وہ کافور کی گردن\n\nاے دیو سفید سحری کاش تو توڑے\nاک مُکّے سے خور کے شبِ دیجور کی گردن\n\nجب کشتہ الفت کو اٹھایا تو الم سے\nبس ہل گئی اُس قاتل مغرور کی گردن\n\nبیساختہ بولا کہ ارے ہتھ تو ٹک دو\nڈھلکے نہ مرے عاشق مغفور کی گردن\n\nحاسد تو ہے کیا چیز کرے قصد جو انشاء\nتو توڑ دے جھٹ بلعم باعور کی گردن​\n\nقطعہ در ہجو مشتملبر بر اعتراضات\n\nسُن لیجئے گوشِ دل سے مرے مشفقا یہ عرض\nمانند بید غصّہ سے مت تھر تھرائیے\n\nبلّور گو درست ہو، لیکن ضرور کیا\nخواہی نخواہی اس کو غزل میں کھپائیے\n\nدستور و نور و طور یہ ہیں قافیے بہت\nاس میں جو چاہیے تو قصیدہ سنائیے\n\nیہ تو غضب ہے کہیے غزل آٹھ بیت کی\nاور اس میں روپ ایسے انوکھے دکھائیے\n\nکیا لطف ہے کہ گردن کافور باندھ کر\nمردے کی باس زندوں کو لا کر سنگھائیے\n\nیوں خاطر شریف میں گزرا کہ بزم میں\nکچلا ہوا شریقہ غزل کو بنائیے\n\nایسے نجس کثیف قوافی سے نظم میں\nدندان ریختہ پہ پھپھوندی جمائیے​\n\nبخرے میں آپ ہی کے یہ آئی ہے شاعری\nبس منھ ہی منھ میں رکھئے اسے مت سرائیے\n\nگردن کا دخل کیا ہے سقنقور میں بھلا\nسانڈے کی طرح آپ نہ گردن ہلائیے\n\nمشفق کڑی کمان کو کرڑی نہ بولئے\nچّلا کے مفت تیر ملامت نہ کھائیے\n\nاردو کی بولی ہے یہ بھلا کھائیے قسم\nاس بات پر اب آپ ہی مصحف اٹھائیے\n\nاستاد گرچہ ٹھہرے ہیں صاحب یوہیں سہی\nلیکن ڈھکی ہیی رکھئے بس اس کو چھپائیے\n\nجھٹ لکھئے روپ رام کٹارا کو ایک خط\nبھّلو کی مہر سے سند اس کی منگائیے\n\nاپنی کمک کے واسطے جا بھرت پور میں\nرنجیت سنگھ جاٹ کو ہمراہ لائیے\n\nیا گرد و پیش کے قصباتی جو لوگ ہیں\nاک پلوا باندھئے انھیں جلدی بلائیے\n\nمخلص کا التماس پذیرا ہو سوچ کر\nکہنے سے ایسے ریختہ کے باز آئیے\n\nسرکار کی یہاں نہیں گلنے کی دال کچھ\nروٹی جو کھانی ہووے تو پنجاب جائیے\n\nستلج بیاس راوی و جہلم کی سیر کر\nچناب والے لوگوں کو یہ کچھ سنائیے\n\nخشکا گدھے کو دیجیے لوزینہ گاؤ کو\nواں جا کے بین بھینس کے آگے بجائیے\n\nاس رمز کا یہاں شنوا کون ہے بھلا\nاب بھیرویں کا پٹہ کوئی آپ گائیے​\n\nقطعہ جواب شیخ مصحفیِ کیطرف سے\n\nاے آنکہ معارض ہو مری تیغ زباں سے\nتو نے سپر غدر میں مستور کی گردن\n\nہے آدم کاکی کہ بنا خاک کا پتلا\nگر نور کا سر ہووے تو ہو نور کی گردن\n\nمیں لفظ سقنقور مجرد نہیں دیکھا\nایجاد ہے تیرا یہ شقنقور کی گردن\n\nلنگور کو شاعر تو نہ باندھے گا غزل میں\nکس واسطے باندھے کوئی لنگور کی گردن\n\nگردن تو صراحی کے لئے وضے ہے نادان\nبے جا ہے خم بادہ انگور کی گردن\n\nاس سے بھی میں گزرا غلطی اور یہ سنیئے\nباندھے ہے کوئی خوشہ انگور کی گردن\n\nکافور سے مطلگ ہے مرا اس کی سفیدی\nٹھنڈی تو میں باندھی نہیں کافور کی گردن\n\nیہ لفظ مشدّد بھی درست آیا ہے تجھ سے\nخم ہوتی ہے کوئی مری بلّور کی گردن\n\nاتنی نہ تمیز آئی تجھے ربط بھی کچھ ہے\nہر قافیہ میں تو نے جو منظور کی گردن\n\nیوں سینکڑوں گردن تو گیا باندھ تو کیا ہے\nسُوجھی نہ تجھے حیف کہ مزدور کی گردن\n\nجو گردنیں میں باندھی ہیں لا تجھ کو دکھا دوں\nتو مجھ دکھا دے شبِ دیجور کی گردن\n\nگردن کے تئیں چاہیے اک شکل کشیدہ\nخم کر کے سمجھ ٹک سرِ مغرور کی گردن\n\nمضمون تو میرا ہی ہے گو اور طرح سے\nباندھے تو گماں اپنے میں رنجور کی گردن\n\nگر قافیہ پیمائی ہی منظور تھی تجھ کو\nتو باندھی نہ کس واسطے مقدور کی گردن\n\nلاکھوں ہی معانی کو کیا قتل پر افسوس\nسوجھی نہ تجھے دشنہ و ساطور کی گردن\n\nمنصف ہو تو پھر نام لے دعوی کا ہرگز\nیہ بوجھ اٹھا سکتی نہیں مور کی گردن\n\nمنظور ہی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو باللہ\nباندھی نہ گر اب خانہ زنبور کی گردن\n\nٹوٹے ہوئے نیچے کی طرح میرے قلم سے\nجاتی ہے پچک شاعر مغرور کی گردن\n\nانصاف تو کر دل میں کہ اک تیغ میں کیسے\nمیں کاٹ دی دعوے کی ترے زور کی گردن\n\nکھڑاگ پہ گایا پہ ترے ہاتھ نہ آئی\nافسوس کہ اس تان پر طنبور کی گردن\n\nسوجھا نہ تجھے ورنہ بناتا تو اسی دم\nناسور کی پتی کو بھی ناسور کی گردن\n\nانصاف کیا اس کا میں اب شہہ کے حوالے\nجھکتی ہے جہاں مار سے لے مور کی گردن\n\nوہ شاہِ سلیماں کہ اگر تیغ عدالت\nٹک کھینچیں تو دو ہوں وہیں فغفور کی گردن\n\nجس سر پہ ٹک اپنا وہ رکھے دستِ نوازش\nاُس سر کے لئے تکیہ ہو پھر حور کی گردن\n\nاس در کا جو سجدہ انھیں منظور نہ ہوتا\nملٹی نہ فرشتوں کو کبھی نور کی گردن\n\nاے مصحفیؔ خامش سخن طول نہ کھچ جائے\nسیاں کو نہ ہی بہتر سرِ پُرشور کی گردن​\n\nقصِیدہ در معذرت اتہام انشاءؔ بجناب مرشد زادہ شہزادہ مرزا سلیمان شکوہ بہادر\n\nقسم بذات خدائے کہ ہے سمیع و بصیر\nکہ مجھ سے حضرتِ شہ میں ہوئی نہیں تقصیر\n\nسوائے اسکے کہ حال اپنا کچھ کیا تھا میں عرض\nسو وہ بطور شکایت تھی اند کے تقریر\n\nگر اس سے خاطر اقدس پہ کچھ ملال آیا\nاور اس گنہ سے ہوا بندہ واجب التغدیر\n\nعوض روپوں کے ملیں مجھ کو گالیاں لاکھوں\nعوض دو شالہ کے خلعت بشکل نقش حریر\n\nسلف میں تھا کوئی شاعر نواز ایسا کب؟\nجو ہے تو شاہ سلیمان شکوہ عرش سریر\n\nمزاج میں یہ صفائی کہ کر لیا باور\nکسی کے حق میں کسی نے جو کچھ کہ کی تقریر\n\nمصاحب ایسے اگر کچھ کسی سے لغزش ہو\nتو اس کے رفع کی ہرگز نہ کر سکیں تدبیر\n\nوگر کریں تو پھر ایسی کہ نارِ طیش و غضب\nمزاج شاہ میں ہو مشتعل بصد تشویر\n\nسوتابِ ذرہ کہاں! نورِ آفتاب کہاں\nکہاں وہ سطوت شاہی کہاں غرور فقیر\n\nمقابلہ جو برابر کا ہو تو کچھ کہیے\nکہاں و بہقی و دیبا کہاں پلاس و حصیر\n\nمیں ایک فقیر غریب الوطن مسافر نام\nرہے ہے آٹھ پرہ جس کو قوت کی تدبیر\n\nمرا دہن ہے کہ مدح حضور اقدس کو\nاُلٹ کے پھیر بحرفِ ذمیمہ دوں تفسیر\n\nیہ افترا ہے بنایا ہوا سب انشاءؔ کا\nکہ بزم و رزم میں ہے پائے تخت کا وہ مشیر\n\nمزاج شاہ ہو یوں منحرف تو مجھ کو بھی\nیہ چاہیے کہ کروں شکوہ اسکا پیش وزیر\n\nاگر وزیر بھی بولے نہ کچھ خدا لگتی\nتو جاؤں پیش محمد کہ ہے بشیر و نذیر\n\nشفیعِ روزِ جزا پادشاہ اَداد نے\nنہ کردہ جرم پہ جس نے نہیں لکھی تقدیر\n\nکہوں یہ اس سے کہ اے جرم بخش پُر گنہاں\nتری غلامی میں آیا ہے داد خواہ فقیر\n\nخطا ہو میری جو پہلے تو کر اسیر مجھے\nوگر عدو کی پنہا اس کو طوق اور زنجیر\n\nاگرچہ بازی انشائے بے حمیت کو\nرہا خموش سمجھ کر میں بازی تقدیر\n\nولے غضب ہے بڑا یہ کہ اب وہ چاہے ہے\nخیال میں بھی نہ کھینچوں میں ہجو کی تصویر\n\nسو میں ملک نہیں ایسا بشر ہوں تا کے چند\nکہے سے اس کے کروں گا نہ ماجرا تحریر\n\nکیا میں فرض کہ میں آپ اس سے درگزرا\nپھرے گا مجھ کوئی گرم و منتظر کا ضمیر\n\nاور ان پہ بھی جو کیا میں نے تازیانہ منع\nتو ہو سکے ہے کوئی ان کی وضع کی تدبیر\n\nہزار شہدوں میں بیٹھیں ہزار جا پہ ملیں\nپھریں ہمیشہ نئے جمع ساتھ اپنے کثیر\n\nنہ مانیں تیغ سیاست، نہ قہر سلطانی\nنہ سمجھیں قتل کا وعدہ نہ ضربت شمشیر\n\nمزاج ان کا ٹھٹول اس قدر پڑا ہے کہ وہ\nہنسی سمجھتے ہیں اس بات کو نہ جرم کبیر\n\nپھر اس پہ یہ بھی ہے یعنی کہ اس مقام کے بیچ\nجو ہووے منشی تو کچھ نثر میں کرے تسطیر\n\nفکیف جن کو خدا نے کیا ہو موزوں طبع\nاور اپنے فضل سے بخشی ہو شعر میں توقیر\n\nیہ کوئی بات ہے سو سن کے وہ خموش رہیں\nہوا ہے مصلحتًہ گو کہ تصفیریہ اخیر\n\nمگر یہ بات میں مانی کہ سوانگ کا بانی\nاگر میں ہوں تو مجھے دیجیے بدترین تعزیر\n\nمیں آپ فاقہ کش اتنا مجھے کہاں مقدور\nکہ فکر اور کروں کچھ بغیر آشِ سیر\n\nمرے حواس پریشاں بایں پریشانی\nہو جیسے لشکر بشکستہ کی خراب میسیر\n\nگر اس پہ صلح کی ٹھہری رہے تو صلح سہی\nاگر ہو پھیر شرارت یشرہوں میں بھی شریر\n\nجو اب ایک کے یاں دس ہیں اور دس کے سو ۱۰۰\nنگاہ کرتے تھے اوّل بایں قلیل و کثیر\n\nحصول یہ ہے کہ جب کوتوال تک قضیا\nگیا ہو از پے تہدید شاعران شریر\n\nتو کوتوال ہی بس ان سے اب سمجھ لے گا\nیہ دمبدم کی شکایت کی ہے عبث تحریر\n\nیہ وہ مثل ہے کہ جس طرح سارے شہر کے بیچ\nبلند قامتی اپنی سے مہتم ہو بعیر\n\nسو مُہتم مجھے ناداں نے ہجو شہ سے کیا\nقباحت اس کی جو شہ سمجھے اس کو دے تعزیر\n\nولے مزاج مقدس جو لااُبالی ہے\nنہیں خیال میں آتا خیال حرف حقیر\n\nجو کچھ ہوا سو ہوا مصحفیؔ بس اب چپ رہ\nزیادہ کر نہ صداقت کا ماجرا تحریر\n\nخدا پہ چھوڑ دے اس بات کو وہ مالک ہے\nکرے جو چاہے، جو چاہا کیا بہ حکم قدیر\n\nبعضوں کا گماں یہ ہے کہ ہم اہل زباں ہیں\nدلّی نہیں دیکھی ہے زباں داں یہ کہاں ہیں\n\nپھر تسپہ ستم اور یہ دیکھو کہ عروضی\nکہتے ہیں سدا آپکو اور لاف زناں ہیں\n\nسیفی کے رسالہ پہ بنا انکی ہے ساری\nسو اس کے بھی گھر بیٹھے وہ آپ ہی نگراں ہیں\n\nاک ڈیڑھ ورق پڑھ کے وہ جامی کا رسالہ\nکرتے ہیں گھمنڈ اپنا کہ ہم قافیہ داں ہیں\n\nنہ (۹) حرف جو وہ قافیہ کے لکھتے ہیں اس میں\nدانا جو انھیں سُنتے ہیں یہ کہتے ہیں ہاں ہیں\n\nتعقید سے واقف نہ تنافر سے ہیں آگاہ\nنہ (۹) حرف یہی قافیہ کے در و زباں ہیں\n\nکرتے ہیں کبھی ذکر وہ ایطائے خفی کا\nایطائے جلی سے کبھی پھر حرف زناں ہیں\n\nاوّل تو ہے کیا شعر میں ان باتوں سے حاصل\nبالفرض جو کچھ ہو بھی تو یہ سب پہ عیاں ہیں\n\nحاصل ہے زمانہ میں جنھیں نظم طبیعی\nنطم ان کی کے اشعار بہ از آبِ روا ں ہیں\n\nپرواہ انھیں کب ہے ردیف اور روی کی\nکب قافیہ کی قید میں اتش نفساں ہیں\n\nمجھ کو تو عروض آتی ہے نہ قافیہ چنداں\nاک شعر سے گرویدہ مرے پیرو جواں ہیں\n\nمصحفی کس زندگانی پر بھلا میں شاد ہوں\nیاد ہے مرگِ قتیلؔ و مردن انشاؔ مجھے\n\nکیا کیا فساد کیا کیا شور و شر ہوئے\nکیسے کیسے خاکے ڈرے انجام یہ کہ خاک\n\nشیخ مصحفی کا قصیدہ نعت میں\n\nحنا سے ہے یہ تری سُرخ اے نگار انگشت\nکہ ہو نہ پنجہ مرجاں کہ نینہار انگشت\n\nضعیف اتنا ہوا ہوں کہ میرے ہاتھوں میں\nنہیں یہ پنجہ طاقت سے بھلہ دار انگشت\n\nہلال و بدر ہوں یک جا عرق فشانی کو\nرکھے جبیں پہ جو تو کر کے تابدار انگشت\n\nفراق ہو کراں سے میں یہ ہوا باریک\nکہ ہو گئیں مری سوزن صفت ہزار انگشت\n\nزبسکہ زشت ہے دنیا میں ہاتھ پھیلانا\nرکھے ہے سمٹی ہوئی اپنی پشت خار انگشت\n\nوہ جب لگائے ہے فندق تو دیکھ دیکھ مجھے\nرکھے ہے منھ میں تاسف کی روزگار انگشت\n\nشمار داغ سے کب اتنی مجھ کو فرصت ہے\nکہ رکھ سکوں بسر و چشم اشکبار انگشت​\n\nچند شعر کے بعد گریز کرتے ہیں۔\n\nبیان ضرور ہے اب دست و تیغ کا اسکی\nنکل گئی سپرِ مہ سے جس کی پار انگشت\n\nمحمد صلی اللہ علیہ وسلم عربی معجزوں کا جس کے کبھی\nنہ کر سکے فلکِ پیر کا شمار انگشت\n\nچمن میں اسکی رسالت کا جب کچھ آئے ہے ذکر\nعلم کرے ہے شہادت کی شاخسار انگشت\n\nوظیفہ جس کا پرھے ہے یہ دانہ شبنم\nدعا میں جس کی کھولے ہوئے چنار انگشت\n\nاگر ہو مہرہ گہوارہ سنگ فرش اس کا\nنہ چوسے اپنی کبھی طفل شیر خوار انگشت\n\nاٹھا دے گر کفِ افسوس ملنے کی وہ رسم\nنہ ہووے پھر کبھی انگشت سے دو چار انگشت\n\nکرے جو وصف وہ اس تاج انبیا کے رقم\nقلم کی جوں نے نرگس ہو تاجدار انگشت\n\nغزلیات\n\nدن جوانی کے گئے موسمِ پیری آیا\nآبرو خواب ہے اب وقت حقیری آیا\n\nتابہ و طاقت رہے کیا خاک کے اعضا کے تئیں\nحاکمِ ضعف سے فرمان تغیری آیا\n\nسبق نالہ تو بلبل نے پڑھا مجھ سے ولے\nنہ اُسے قاعدہ تازہ صفیری آیا\n\nشاعری پر کبھی اپنی جو گئی اپنی نظر\nدضمیر اپنے میں اس وقت ضمیری آیا\n\nدرد پڑھنے جو اٹھا صبح کو سب سے پہلے\nمکتبِ عشق میں ہونے کو وہ میری آیا\n\nاسکے در پر میں گیا سوانگ بنائے تو کہا\nچل بے چل دور ہو کیا لے کے فقیری آیا\n\nپوچھ مت معرکہ عشق کا ہنگامہ کہ واں\nقیس مارا گیا وامق باسیری آیا\n\nاے سلیماں ہو مبارک تجھے یہ شاہی تخت\nتیرا آصف بھی بسامان وزیری آیا\n\nچشم کم سے نہ نظر مصحفی خستہ پہ کر\nوہ اگر آیا تو مجلس میں نظیری ایا​\n\nغزل مذکورہ ذیل سید انشاء کی غزل پر ہے۔\n\nپیری سے ہو گیا یوں اس دل کا داغ ٹھنڈا\nجس طرح صبح ہوتے کر دیں چراغ ٹھنڈا\n\nسیر گرم سیر گلشن کیا خاک ہوں کہ اپنا\nنزلہ سے ہو رہا ہے آپ ہی دماغ ٹھنڈا\n\nبلبل کے گرم نالے جب سے سنے ہیں اس نے\nدیوار گلستاں پر بولے ہے زاغ ٹھنڈا\n\nکیا کیا خوشامدی نِت پنکھا لگے ہلانے\nکشتی سے جب ہوا وہ کر کے فراغ ٹھنڈا\n\nصرصر سے کم نہیں کچھ وہ تیغ تیز جس نے\nلاکھوں کا کر دیا ہے دم میں چراغ ٹھنڈا\n\nکشمیری ٹولے میں ہم جاتے تھے روز لیکن\nجی آج ٹک ہوا ہے کر کے سراغ ٹھنڈا\n\nگرمی کی رُت ہے ساقی اور اشک بلبلوں نے\nچھڑکاؤ سے کیا ہے سب صحن باغ ٹھنڈا\n\nایسے میں اک صراحی شورے لگی منگا کر\nلبریز کر کے مجھ کو بھر دے ایاغ ٹھنڈا\n\nکیا ہم ٹکڑ گدا ہیں جو مصحفیؔ یہ سوچیں\nہے گرم اس کا چولھا اس کا اجاغ ٹھنڈا​\n\nغزل مستزاد\n\nخوشبوئی سے جن کی ہو خجل عمبر سارا\nہم مشک کی نگہت\n\nبال اُلجھے ہوئے ہیں وکہ ریشم کا ہے لچّھا\nاللہ ری نزاکت\n\nپاؤں میں کفک اور لگے ہاتھوں میں مہندی\nاز خونِ مُحبّان​\n\nچہرہ وہ پری کہئے جسے نُور کا بقعہ\nرنگ آگ کی صورت\n\nتلوار لئے ابروئے کج قتل پہ مائل\nلب خون کے پیاسے\n\nپھولوں کی چھڑی ہاتھ میں اور کان میں بالا\nچتون میں شرارت\n\nمسّی کی دھڑی اک تو جمی ہونٹوں پہ کافر\nاور ترشی سے پونچھے\n\nپھر تس پہ ستم ان کا وہ پائوں کا مکھوڑا\nجوں خون کی ہو رنگت\n\nپاؤں میں انی دار پڑی کفش زری کی\nدل جس سے ہو زخمی\n\nاور سر پر شرارت سے بندھا بالوں کا جوڑا\nسچ دھج سو اک آفت\n\nخونخوار نگہ عربدہ جو آپ سو کیفی\nسرشار نشہ میں\n\nاک ہاتھ میں ساغر تو پھر اک ہاتھ میں مینا\nمستوں کی سی حالت\n\nآیا مرے گھروی مرے دروازہ پہ دستک\nمیں گھر سے نکل کر\n\nدیکھوں تو سرِ کوچہ اک آشوب ہے پیدا\nآئی ہے قیامت\n\nتب میں نے کہا اس سے کہ اے مایہ خوبی\nکیا جی میں یہ ایا\n\nاس وقت جو آیا تو مرے پاس اکیلا\nسمجھا نہ قباحت\n\nتو سُن کے لگا کہنے کہ اے مصحفیؔ سُن بات\nگھر سے مرے مجھ کو\n\nلایا ہے ترا جاذبہ ہی کھینچ کے اِس جا\nتھی کس کو یہ قدرت\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nسر شام اس نے منھ سے جو رُخِ نقاب اُلٹا\nنہ غروب ہونے پایا وہیں آفتاب اُلٹا\n\nجو کسی نے دیکھنے کو اسے لا کے دی مصّور\nنہ حیا کے مارے اُس نے ورقِ کتاب اُلٹا\n\nمیں حساب بوسہ جی میں کہیں اپنے کر رہا تھا\nوہ لگا مجھے سے کرنے طلب اور حساب اُلٹا\n\nمہ چاردہ کا عالم میں دکھاؤں گا فلک کو\nاگر اس نے پردہ منھ سے شبِ ماہتاب اُلٹا​\n\nجو خفا ہوا میں جی میں کسی بات پر شبِ وصل\nسحر اٹھ کے میرے آگے وہی اُسنے خواب اُلٹا\n\nبسوال بوسہ اُسنے مجھے روک کے دی جو گالی\nمیں ادب کے مارے اُسکو نہ دیا جواب اُلٹا\n\nکہیں چشم مہر اس پر تو نہ پڑ گئی ہو یارب\nجو نکلتے صبح گھر سے وہ پھرا شتاب اُلٹا\n\nمیں ہوا ہوں جس پر عاشق یہ شنگرف ماجرا ہے\nکہ مرے عوض لگا ہے اُسے اضطراب اُلٹا\n\nکسی مست کی لگی ہے مگر اس کے سر کو ٹھوکر\nجو پڑا ہے میکدہ میں یہ خمِ شراب اُلٹا\n\nیہ مقامِ آفریں ہے کہ بزور مصحفیؔ نے\nانہی قافیوں کو پھر بھی بصد آب و تاب اُلٹا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nجو پھرا کے اس نے منھ کو بقضا نقاب اُلٹا\nاِدھر آسمان اُلٹا اُدھر آفتاب اُلٹا\n\nنہ قفس میں ایسے مجھ کو تو اسیر کیجو صیاد\nکہ گھڑی گھڑی وہ ہووے دمِ اضطراب اُلٹا\n\nمرے حال پر مغاں نے یہ کرم کیا کہ سُن سُن\nمرے پی کے سر پہ رکھا قدح شراب اُلٹا\n\nترا تشنہ لب جہاں سے جو گیا لحد پہ اسکی\nپس مرگ بھی کسی نے نہ سبوئے آب اُلٹا\n\nمری آہ نے جو کھولی بعبوق آہ کی برق\nوہیں برق رعد لے علم سحاب اُلٹا\n\nجو خیال میں کسو کے شبِ ہجر سو گیا ہو\nنہ ہو صبح کو آلہی کبھی اس کا خواب اُلٹا\n\nمرے دم الٹنے کی جو خبر اسکو دی کسی نے\nوہیں نیم رہ سے قاصد بصد اضطراب اُلٹا\n\nجو علی کا حکم نافذ نہ فلک پہ تھا تو پھر کیوں\nبگہ غروب آیا نکل آفتاب اُلٹا\n\nاب اسی میں توسہِ غزلہ جو کہے تو کام بھی ہے\nنہیں مصحفی مزا کیا جو دور و کتاب اُلٹا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nیہ دم اسکے وقت رخصت بصد اضطراب اُلٹا\nکہ بسوئے دل مژہ سے وہیں خونِ ناب اُلٹا\n\nسر لوح اسکی صورت کہیں لکھ گیا تھا مانی\nاُسے دیکھ کر نہ میں نے ورق کتاب اُلٹا\n\nمیں عجب یہ رسم دیکھی مجھے روزِ عید قربان\nوہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا\n\nیہ عجب ہے مری قسمت کہ جو دل کسی کو دوں میں\nوہ مرے ہی سر سے مارے اسے کر خراب اُلٹا\n\nیہ نقاب پوش قاتل کوئی زور ہے کہ جس نے\nکئے خون سینکڑوں اور نہ ذرا نقاب اُلٹا\n\nجو بوقت غسل اپنا وہ پھرالے واں سے منھ کو\nتو پھراتے ہی منھ اُسکے لگے بہنے آب اُلٹا\n\nمیں لکھا ہے خط تو قاصد پہ یہ ہو گا مجھ پہ احساں\nانھیں پاؤں پھر کے تو آ جو ملے جواب اُلٹا\n\nترے آگے مہرتاباں ہے زمیں پہ سر بسجدہ\nیہ ورق ہے گنجفہ کا نہیں آفتاب اُلٹا\n\nنہیں جائے شکوہ اس سے ہمیں مصحفیؔ ہمیشہ\nکہ زمانہ کا رہا ہے یوہیں انقلاب اُلٹا​\n\nغزل ہائے مرقومہ ذیل پر شاہ نصیر کی بھی غزل دیکھو۔\n\nصاف چولی سے عیاں ہے بدن سُرخ ترا\nنہیں چُھپتا تہِ شبنم چمن سُرخ ترا\n\nیہی عالم ہے اگر اس کا تو دکھلا دے گا\nبارشِ خوں کا سماں پیرہن سُرخ ترا\n\nوائے ناکامی کہ عاشق کو ترے موت آئی\nقابل بوسہ ہوا جب دہن سُرخ ترا\n\nتا کمر خون شہیدوں کے بہے گلیوں میں\nجب سے پاجامہ بنا گلبدن سُرخ ترا\n\nخون سے آلودہ ہو آتا ہے تو اے اشک سفید\nنام ہم کیوں نہ رکھیں یاسمن سُرخ ترا\n\nآتشِ تیز میں ٹھہرا ہے کہیں یوں بھی سپند\nکہہ رہا ہے یہی خالِ ذقن سُرخ ترا\n\nمصحفی خوش ہو کہ مانگے گا ترے قاتل سے\nخوں بہا روز قیامت کفن سُرخ ترا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nکیسہ مالی سے ہوا گل بدن سُرخ ترا\nطالب آب نہ ہو کیوں چمنِ سُرخ ترا\n\nیہی پوشاک کا ہے رنگ تو اے گل ہو گا\nتشنہ خون چمن پیرہن سُرخ ترا\n\nکیوں نہ ہو مردہ ہوس زندہ بنے جب اے شوخ\nپان سے بیربُہیٹّی دہن سُرخ ترا\n\nمجھ سے انکار ستم فائدہ اے گرگ فلک\nواں ہے بچہ خوری پر دہن سُرخ ترا\n\nکاش اے کشتہ تو محشر میں اُٹھے ہو کے فقیر\nگیروا مٹی میں ہووے کفن سُرخ ترا\n\nلب پان کوردہ کی اس گل کے جو سرخی دیکھی\nرنگ اڑ جائے گا اے ناردن سُرخ ترا\n\nسر پہ تابش میں تو رکھے تو دِل عاشق میں\nآگ بھڑکائے نہ کیوں بادزن سُرخ ترا\n\nمصحفیؔ چاہیے کیا اس کو دلیلِ قاطع\nسبز ہے خود بہ تخلص سخن سُرخ ترا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nاک تو تھا آتشِ سوزاں بدن سُرخ ترا\nشعلہ بر شعلہ ہوا پیرہن سُرخ ترا\n\nپان کھانے کی ادا یہ ہے تو ایک عالم ہے\nخوں رُلا دے گا مری جاں دہن سُرخ ترا\n\nگوئے خورشید شفق رنگ کو دیتا ہے فشار\nپنجہ رشک سے سیب ذقن سُرخ ترا\n\nشمع گلگوں غمِ پروانہ میں خوں اتنا نہ رو\nطشتِ آتش تو بنا ہے لگن سُرخ ترا\n\nسُرخ عیار سے تو کم نہیں اے دُردِ حنا\nکفِ رنگین بتاں ہے دہن سُرخ ترا\n\nیوہیں اے کشتہ جو آیا تو صفِ محشر میں\nآگ دیوے گا لگا واں کفن سُرخ ترا\n\nتو اگر ناقہ آہو ہے تو عقدہ زلف\nہے وہ رخسارہ رنگیں ختن سُرخ ترا\n\nاُسکے موباف سے بھی شانہ نے شب پوچھا تھا\nدام شب رنگ ہے کیوں اے رسن سُرخ ترا\n\nہر پری چہرہ ہے پوشیدہ لباس گلگوں\nمیں تو دیوانہ ہوں اے انجمن سُرخ ترا\n\nمصحفیؔ زخم ہے تیشہ کا ترے ہر مُو پر\nنام ہم کیوں نہ رکھیں کوہکن سُرخ ترا\n*-*-*-*-*\n\nرنگ پان سے جو ہوا گل دہن سُرخ ترا\nمر گئی دیکھ کے بلبل دہن سُرخ ترا\n\nپان کھا کر جو مسی زیب کئے تو نے دو لب\nبن گیا مزرع سنبل دہن سُرخ ترا\n\nسُرخ تو تھا ہی ولے اور ہوا گلناری\nپی گئے اے گل قدح مُل دہن سُرخ ترا\n\nتب ہو عاشق کی شب وصل تسلی اے گُل\nمصرفِ بوسہ ہو جب گل دہن سُرخ ترا\n\nغنچہ ساں وا نہ ہوا عالمِ مے نوشی میں\nسُن کے شیشہ کی بھی قلقل دہن سُرخ ترا\n\nشانہ کرتے جو سرِ جعد تو دانتوں میں رکھے\nہو نہ خونخوارہ کاکل دہن سُرخ ترا\n\nتیغ مریخ پہ چھٹتی ہے ہوائی اب تک\nکہیں دیکھا تھا سرِ پل دہن سُرخ ترا\n\nمصحفیؔ تو نے زبس گل کے لئے ہیں بوسے\nرشک سے دیکھے ہے بلبل دہنِ سُرخ ترا\n*-*-*-*-*-*-*-*\n\nجو گستاخانہ کچھ اس سے میں بولا\nتو بس ابرو نے تیغا دو ہیں تولا\n\nچُنے عاشق نہ کیوں اُسکے ممولے\nکہ چشم شوخ ہے اس کی ممولا\n\nجزاک اللہ بنایا تو نے صیّاد\nقفس میں ازپئے بلبل ہنڈولا\n\nنہ مارے دست و پا تا اس کا بسمل\nآلہی مار جاوے اس کو جھولا\n\nلب اس گل کے ہیں جام بادہ لعل\nمسی نے اُن میں آ کر زہر گھولا\n\nیہ وہ گلشن ہے جس میں غم کے مارے\nتبسّم سے کلی نے مجھ نہ کھولا\n\nمری پتلی نے اشک خیرہ سر کو\nبنایا ہے ہتھیلی کا پھپھولا\n\nکہیں ملتے ہیں ایسے مصحفیؔ یار\nنہ آوے دل کے مرنے کا ممولا​\n\nآتش کی غزل کو بھی دیکھنا۔\n\nنگاہِ لطف کے کرتے ہی رنگ انجمن بگڑا\nمحبت میں تری ہم سے ہر اک اہل وطن بگڑا​\n\nکچھ اسکی وضع بگڑی کچھ ہے وہ پیمان شکن بگڑا\nیہ سج دھج ہے تو دیکھو کے زمانہ کا چلن بگڑا\n\nخدا کہتا تھا روزِ محشر میں تجھ سے سمجھ لوں گو\nترے تیشہ سے گر شیریں کا نقش اے کوہکن بگڑا\n\nمیں سمجھا گریہ سے تاثیر اُس دم سمع مجلس کی\nیہ موتی اشک کا جاتے ہوئے جب تا لگن بگڑا\n\nجو چنگ نالہ کو ہن نے اُڑایا ہجر کی شب میں\nکہیں گے سب کہ تیرا کھیل اب چرخ کہن بگڑا\n\nجسے سب بانکے اور ٹیڑھے کریں تھے دور سے مُجرا\nوہی رستہ میں آخر ہم سے کر کے بانکپن بگڑا\n\nتری مژگاں کی راوت چڑھ گئی جب انپہ لڑنے کو\nپڑی پونہ کے اندر کھلبلی سارا دکن بگڑا\n\nبُری صورت سے رہنا ننگ ہے دنیا میں انساں کو\nوہ گڑ جاتا ہے خود جیتا جو کوڑھی کا بدن بگڑا\n\nہمیشہ شعر کہنا کام تھا والا نژادوں کا\nسفیہوں نے دیا ہے دخل جب سے بس یہ فن بگڑا\n\nمکان تنگ میں پائی نہ جا کلکِ تخیل نے\nبنا سب خال و خط مانی سے اسکا پر دہن بگڑا\n\nنہیں تقصیر کچھ درزی کی اس میں مصحفیؔ ہر گز\nہماری نادرستی سے بدن کی پیرہن بگڑا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nدُعا دینے سے میرے شب وہ ترکِ تیغ زن بگڑا\nسپاہی زادوں کا بھی دیکھوں ہوں میں کچھ چلن بگڑا\n\nسخن سیدھی طرح اور وضع سادی بے مسی دانداں\nبھلا کتنا لگے ہے مجھ کو اسکا سادہ پن بگڑا\n\nکیا تاراج یوں پیری نے حُسن نوجوانی کو\nبوقتِ صبح آرائش کا ہووے جوں چمن بگڑا\n\nسوئی جس کو لگائی زید کی معشوقہ نے اپنی\nسبھی سنوری وہی مجنوں کا بس اک پیرہن بگڑا\n\nکمال حسن خالق نے دیا ہے اس پریزد کو\nنہ چتون کج ہوئی اسکی نہ گاتے میں دہن بگڑا\n\nیہ تصویر میں عجب نواب نے کوٹھی میں بنوائیں\nکسی کی ہے پھری ٹھوڑی کسی کا ہے دہن بگڑا\n\nنہ مارے حق کسی کو کر کے مفلس وائے رسوائی\nجہاں کو تہ ہوا کپڑا کفن کا وہ کفن بگڑا\n\nرواج اُس نے نہ پایا بسکہ عہدِ زلف مشکیں میں\nدھرا نافہ میں جو برسوں رہا مشک ختن بگڑا\n\nعجائب اور غرائب باتیں اب سننے میں آئی ہیں\nخم نیلی ترا شاید کہ اے چرخِ کہن بگڑا\n\nخلل انداز جو لکنت ہوئی اسکی فصاحت میں\nزباں پر اس بُتِ الکن کی آیا جو سخن بگڑا\n\nہمیں تکلیف نظم شعر کی دینے سے کیا حاصل\nزمانہ ہم سے ان رعزوں ہے یاران وطن بگڑا\n\nبہ ہمت جس سے شکلِ کافر شیریں بنائی تھی\nاُسی تیشہ سے پھر آخر کو کار کوہکن بگڑا\n\nرہی اے مصحفیؔ تا صبح اسکی اُس پہ جھنجھلاہٹ\nبنانے میں جو مشاطہ سے شب حال ذقن بگڑا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nنہ گیا کوئی عدم کو دلِ شاداں لے کر\nیاں سے کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لیکر\n\nجی ہی جی بیج بہت شاد ہوا کرتی ہیں\nتیری عارض کی بلائیں تیری مژگاں لیکر\n\nکیا خطا مجھ سے ہوئی رات کہ اس کافر کا\nمیں نے خود چھوڑ دیا ہاتھ میں داماں لیکر\n\nباغ وہ دشتِ جنوں تھا کہ کبھی جس میں سے\nلالہ و گل گئے ثابت نہ گریباں لیکر\n\nطُرفہ سوجھی یہ جنوں کو ترے دیوانے کی\nراہ میں پھینک دیئے خار مغیلاں لیکر\n\nزلف و رخسار کا عالم ہے غضب ہے اسکے\nشاد ہو کیوں نہ دل گبرو مسلماں لیکر\n\nپردہ خاک میں سُو سُو رہے جا کر افسوس\nپردہ رخسار پہ کیا کیا مہ تاباں لیکر\n\nابر کی طرح سے کر دیویں گے عالم کو نہال\nہم جدھر جاویں گے یہ دیدہ گریاں لیکر\n\nپھر گئی سوئے اسیرانِ قفس بادِ صبا\nخبر آمدِ ایّام بہاراں لے کر\n\nدوستی تھی مجھے ہر اک سے گئے تا در قبر\nدوش پر نعش مری گبرو مسلماں لیکر\n\nرنج پہ رنج جو دینے کی ہے خو قاتل کو\nساتھ آیا ہے بہم تیغ و نمکداں لیکر\n\nمصحفیؔ گوشہ عزلت کو سمجھ تخت شہی\nکیا کرے گا تو عبث ملک سلیماں لیکر\n\nیار بن باغ سے ہم آتے ہیں دُکھ پائے ہوئے\nاشک آنکھوں میں بھرے ہاتھ میں گل کھائے ہوئے\n\nآنکھ سیدھی نہیں کرتا کہ مقابل ہو نگاہ\nآرسی ناز سے وہ دیکھے ہے شرمائے ہوئے\n\nکس کے آنے کی خبر ہے جو چمن میں گلچیں\nجوں صبا چار طرف پھرتے ہیں گھبرائے ہوئے\n\nہم تو ترسے ہیں صنم اک نگہِ دُور کو بھی\nبخت انکے ہیں جو ہر دم تیرے ہمسائے ہوئے\n\nحُسن خجلت زدہ کیا ر نگ دکھاتا ہے نئے\nآرسی بھی اسے اب دیکھے ہے للچائے ہوئے\n\nاس کے کوچہ سے جو اُٹھ آتے ہیں ہم دیوانے\nپھر انھیں پاؤں چلے جاتے ہیں بورائے ہوئے\n\nمصحفیؔ کیونکہ عناں گیر ہو اس کا جوں برق\nتو سنِ ناز کو جب جائے وہ چمکائے ہوئے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nخامش ہیں ارسطو و فلاطوں مرے آگے\nدعویٰ نہیں کرتا کوئی موزوں مرے آگے\n\nدانش پہ گھمنڈ اپنی جو کرتا ہے بشدّت\nواللہ کہ وہ شخص ہے مجنوں مرے آگے\n\nلاتا نہیں خاطر میں سخن بیہودہ گو کا\nاعجاز مسیحا بھی ہے افسوں مرے آگے\n\nدشوار ہے رتبہ کو پیمبر کے پہنچنا\nہے موسیٰ عمران بھی ہاروں مرے آگے\n\nباندھے ہوئے ہاتھوں کو بامید اجابت\nرہتے ہیں کھڑے سیکڑوں مضموں مرے آگے\n\nجب موج پہ آ جائے ہے دریائے طبیعت\nقطرے سے بھی کم ٹھہرے ہے جیجوں مرے آگے\n\nبدبینی پہ آؤں تو سبھی اہل صفا کے\nہو جاویں شبہ سب درِ مکنوں مرے آگے\n\nاُستاد ہوں میں مصحفیؔ حکمت کے بھی فن میں\nہے کودکِ نو درس فلاطوں مرے آگے\n*-*-*-*-*\n\nہے جام طرب ساغرِ پُرخوں مرے آگے\nساقی تو دلانا سے گلگوں مرے آگے\n\nٹک لب کے ہلا دینے میں حسان عجم کا\nہو جاوے ہے احوال وگرگوں مرے آگے\n\nسمجھوں ہوں اسے مہرہ بازیچہ طفلاں\nکس کام کا ہے گنبد گردوں مرے آگے\n\nجب تیزی پہ آتا ہے مرا تو سنِ خامہ\nبنجاویں ہیں تب کوہ بھی ہاموں مرے آگے\n\nمیں گوز سمجھتا ہوں سدا اسکی صدا کو\nگو بول اُٹھے ادھی کی چوں چوں مرے آگے\n\nسب خوشہ ربا ہیں مرے خرمن کے جہاں میں\nکیا شعر پڑھے گا کوئی موزوں مرے آگے\n\nقدرت ہے خدا کی کہ ہوئے آج وہ شاعر\nطفلی میں جو کل کرتے تھے غاں غوں مرے آگے\n\nموسیٰ کا عصا مصحفیؔ ہے کامہ مرا بھی\nگو خصم بنے اسودِ افیوں مرے آگے", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%85%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%B5%D8%AD%D9%81%DB%8C"} {"title": "آب حیات/شیخ قلند بخش جرات", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "برقع کو اٹھا چہرہ سے وہ بت اگر آئے\nاللہ کی قدرت کا تماشا نظر آئے\n(میر)\n\nاس دل کو تفِ آہ سے کب شعلہ بر آئے\nبجلی کو دم سرد سے جس کے حذر آئے\n(سودا)\n\nہر گز نہ مرادِ دل معشوق بر آئے\nیا رب نہ شبِ وصل کے پیچھے سحر آئے\n(مصحفی)\n\nاس پردہ نشیں سے کوئی کس طرح بر آئے\nجو خواب میں بھی آئے تو منھ ڈہانک کر آئے\n(جرات)\n\nناقص کا صفا کیش سے مطلب نہ بر آئے\nجو کور ہو عینک سے اُسے کیا نظر آئے\n(ذوق)\n\nفردوس میں ذکر اس لبِ شیریں کا گر آئے\nپانی دہن چشمہ کوثر میں بھر آئے\n(بعالم جوانی)\n\nاب کر کے فراموش تو ناشاد کرو گے\nپر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کرو گے\n(میر)\n\nجس روز کسی اور پہ بیداد کرو گے\nیہ یاد رہے ہم کو بہت یاد کرو گے\n(سودا)\n\nہے کس کا جگر جس پہ یہ بیداد کرو گے\nلو ہم تمھیں دل دیتے ہیں کیا یاد کرو گے\n(جرات)\n\nمدعی مجھ کو کھڑے صاف بُرا کہتے ہیں\nچپکے تم سنتے ہو بیٹھے اسے کیا کہتے ہیں\n(میر)\n\nتو نے سودا کے تئیں قتل کیا کہتے ہیں\nیہ اگر سچ ہے تو ظالم اسے کیا کہتے ہیں\n(سودا)\n\nآئینہ رُخ کو ترے اہل صفا کہتے ہیں\nاسپہ دل اٹکے ہے میرا اسے کیا کہتے ہیں\n(جراءت)​\n\nکہہ دیکھ تو رستم سے سر تیغ تلے دھر دے\nپیار سے یہ ہمیں سے ہو ہرکارے و ہزمردے\n(سودا)\n\nپہلا مصرع یاد نہیں دوسرا حاضر ہے\nہر شہرے و ہر رسمے، ہرکارے و ہر مردے\n(جرات)\n\nہمارے آگے ترا جب کسی نے نام لیا\nدل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا\n(میر)\n\nچمن میں صبح جو اس جنگ جو کا نام لیا\nصبا نے تیغ کا موج رواں سے کام لیا\n(سودا)\n\nپاس جا بیٹھا جو میں کل اک ترے ہمنام کے\nرہ گیا بس نام سنتے ہی کلیجہ تھام کے\n(جرات)\n\nچمن میں گل نے جو کل دعویٰ جمال کیا\nجمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا\n(میر)\n\nبرابری کا تری گل نے جب خیال کیا\nصبا نے مار تھپیڑے منھ اس کا لال کیا\n(سوداؔ)\n\nجو تیغ یار نے کوں ریزی کا خیال کیا\nتو عاشقوں نے بھی منھ اسکا خوب لال کیا\n(جرات)​\n\nلگ جا گلے سے بات اب اے نازنیں نہیں\nہے ہے خدا کے واسطے مت کر نہیں نہیں\n\nکیا رک کے وہ کہے ہے جو ٹک اس سے لگ چلوں\nبس بس پرے ہو شوق یہ اپنے تئیں نہیں\n\nپہلو میں کیا کہیں جگر و دل کا کیا ہے رنگ\nکس روز اشکِ کونی سے تر آستیں نہیں\n\nفرصت جو پا کے کہنے کبھو درد دل سو ہائے\nوہ بدگماں کہے ہے کہ ہم کو یقیں نہیں\n\nآتش سی پُھک رہی ہے مرے تن بدن میں آہ\nجب سے کہ روبرو وہ رُخ آتشیں نہیں\n\nاُس بن جہان کچھ نظر آتا ہے اور ہی\nگویا وہ آسمان نہیں، وہ زمیں نہیں\n\nکیا جانے کیا وہ اس میں ہے لوٹے ہے جسپہ دل\nیوں اور کیا جہاں میں کوئی حسیں نہیں\n\nسنتا ہے کون کس سے کہوں درد بے کسی\nہمدم نہیں ہے کوئی مرا ہم نشیں نہیں\n\nہر چند یہ لطف شب ماہ سیر باغ\nاندھیر پر یہی ہے کہ وہ مہ جبیں نہیں\n\nآنکھوں کی راہ نکلے ہے کیا حسرتوں سے جی\nوہ روبرو جو اپنے دمِ واپسیں نہیں\n\nطوفانِ گریہ کیا کہیں کس وقت ہم نشیں\nموج سر شک، تا فلک ہفتمیں نہیں\n\nحیرت ہے مجکو کیونکہ وہ جرات ہے چین سے\nجس بن قرار جی کو ہمارے کہیں نہیں\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nامشب کسی کاکل کی حکایات ہے واللہ\nکیا رات ہے، کیا رات ہے، کیا رات ہے واللہ\n\nدل چھین لیا اس نے کہا دستِ حنائی\nکیا بات ہے، کیا بات ہے، کیا بات ہے واللہ\n\nعالم ہے جوانی کا جو اُبھرا ہوا سینہ\nکیا گات ہے، کیا گات ہے، کیا گات ہے واللہ\n\nدشنام کا پایا جو مزہ اس کے لبوں سے\nصلٰوت ہے، صلٰوت ہے، صلٰوت ہے واللہ\n\nجراءتؔ کی غزل جس نے سُنی اس نے کہا واہ\nکیا بات ہے، کیا بات ہے، کیا بات ہے واللہ\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*​\n\nطرح مشاعرہ کی مستزاد ہے، مصحفی اور سید انشاء نے بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ہر ایک کے حال میں دیکھ کر مقابلہ کرو، انھوں نے سراپا باندھا ہے۔\n\nجادو ہے نگہ، چھب ہے غضب، قہر ہے مکھڑا\nاور قد ہے قیامت\n\nغارت گر دیں وہ بت کافر ہے سراپا\nاللہ کی قدرت\n\nاٹھکھیلی ہے رفتار میں، گفتار کی کیا بات\nہر بات جگت ہے\n\nاور رنگِ رخ یار ہے گویا کہ بَھبُھوکا\nپھر تس پہ ملاحت\n\nہیں بال یہ بکھرے ہوئے مکھڑے دھواں دھار\nجوں دود بہ شعلہ\n\nحُسنِ بُتِ کافر ہے خدائی کا جھمکڑا\nٹک دیکھیو صورت\n\nابرو فنِ خونریزی میں اس کے ہیں غضب طاق\nشمشیر برہنہ\n\nآنکھوں کا یہ عالم ہے کہ آنکھوں سے نہ دیکھا\nافسوں ے اشارت\n\nکان ایسے کہ کانوں سے سُنے ویسے نہ ابتک\nنے آنکھوں سے دیکھے\n\nبالے کے تصور میں مجھے گھیرے ہے گویا\nاک حلقہ حیرت\n\nبینی یہ خوش اسلوب کہ نتھنوں کی پھڑک دیکھ\nتڑپے ہے دو عالم\n\nہے اس کو لب یار کے بوسہ کی تمنا\nارمان ہے حسرت\n\nدانتوں کی صفا کیا کہوں موتی کی لڑی ہے\nلب لعل کے ٹکڑے\n\nمِسّی ہے بلا تسپہ رکھے پان کا بیڑا\nسو شوخی کی رنگت\n\nدل خون کرے وہ دستِ حنا بستہ پھر اسمیں\nسمرن کی پھبن ہائے\n\nہے وضع تو سادی سی پہ کیا کیا نہیں پیدا\nشوخی و شرارت\n\nاس اُبھرے ہوئے گات کی کیا بات جسے دیکھ\nسب ہاتھ ملے ہیں\n\nاور ہائے رے ہر بات میں گردن کا وہ ڈورا\nہے دامِ محبت\n\nگلشن میں پھرے ٹک تو وہیں آتشِ گل کی\nگرمی سے عرق آئے\n\nہر گام پہ چلنے میں کمر کھائے ہے لچکا\nاللہ رے نزاکت\n\nہیں قہر سریں گول وہ اور ہائے کہوں کیا\nرانوں کی گدازی\n\nفرق اس میں نہیں فرق سے لے تا بہ کفِ پا\nہے طرفہ لطافت\n\nہے عشوہ و انداز و ادا ناز و کرشمہ\nاور گرمی و شوخی\n\nہر عضو پہ آنکھ اٹکے وہ کافر ہے سراپا\nایک موہنی مورت\n\nبُھولے سے جو ہم نام لیں تو رک کے کہے یوں\nاس نام کو کم لو\n\nپھر اس میں جو رک جائیے تو جھٹ سے یہ کہنا\nبس دیکھ لی چاہت\n\nجراءت یہ غزل گرچہ کہی ایسی ہے تو نے\nہے خوب سراپا\n\nپر کہہ کے وہ اشعار کر اب اس کو دو غزلہ\nہو جس سے کہ وحشت\n\nجز بےکسی و یاس نہیں ہے کوئی جس جا\nہے اپنی وہ تربت\n\nافسوس کرے کون بجز دستِ تمنا\nہوں کشتہ حیرت\n\nجو میں نے کہا اس سے دکھا مجھ کو رُخ اپنا\nبس دے نہ اذّیت\n\nتو کیا کہوں کس شکل سے جھنجھلا کے وہ بولا\nتو دیکھے گا صورت\n\nیہ راہ تکی اس کی کہ بس چھا گئی اک بار\nآنکھوں میں سپیدی\n\nپیمان گسل آیا نہ وہ دے وعدہ فردا\nتا صبح قیامت\n\nسودائے محبت جو نہیں ہے تجھے اے دل\nتو پھر مجھے بتلا\n\nکیوں چاک کئے اپنے گریباں کو ہے پھرتا\nآنکھوں پہ ہے وحشت\n\nسو بار زباں گرچہ مری کٹ گئی جوں شمع\nاور پھر ہوئی پیدا\n\nپر محفل قاتل میں مرے منھ سے نہ نکلا\nیک حرف شکایت\n\nاب گھر میں بلانے سے اگر آتی ہیں سو سوچ\nبدنام سمجھ کر\n\nآواز ہی تو در پہ مجھے آ کے سُنا جا\nازراہ مروّت\n\nآلودہ ہوا خون سے دلا دامن قاتل\nبسمل ہو جو تڑپا\n\nافسوس صد افسوس کہ یہ تو نے کیا کیا؟\nاے ننگِ محبت\n\nجو ولولہ شوق سے ہو مضطر وہ بیتاب\nنکلا ہی پڑے دل\n\nکیا قہر ہے، کیا ظلم ہے مھبوب گر اس کا\nہو صاحب عصمت\n\nکیا خاک رہیں چین سے بیچینی کے مارے\nبس ہے یہ پریکھا\n\nہم ہو گئے جس کے وہ ہوا ہائے نہ اپنا\nکیا کیجیئے قسمت\n\nچپ ان دنوں رہتا ہے جو وہ صورتِ تصویر\nکچھ اور ہے خفقان\n\nلگ جائے پھر اس سے مرے کیوں دل کو نہ دھڑکن\nہے موجب حیرت\n\nدل دے کے عجب ہم تو مصیبت میں پھنسے ہیں\nاک پردہ نشین کو\n\nنے جانے کا گھر اس کے ہے مقدور ہمارا\nنے رہنے کی طاقت\n\nیا مجھ کو بلاتا تھا وہ یا آئے تھا مجھ پاس\nصحبت کی تھی گرمی\n\nاب اس کو خدا جانے دیا کس نے یہ بھڑکا\nجو ایسی ہے نفرت\n\nلے نام مرا کوئی تو دے سینکڑوں دشنام\nگِن گِن کے وہ قاتل\n\nبے رحمی و بے دردی سے پروا ہو نہ اصلا\nسُن مرگ کی حالت\n\nآنا مرا سُن در پہ کہیں گھر سے چلا جائے\nدیکھوں تو نہ دیکھے\n\nاور کوئی سفارش جو کرے میری تو کیا کیا\nکھینچے وہ ندامت\n\nگر خواب میں دیکھے مجھے تو چونک اتھے اور\nپھر موندے نہ آنکھیں\n\nآواز جو میری سی سُنے تو وہیں گھبرا\nکھانے لگے دہشت\n\nافسوس کہ گردوں نے عجب رنگ دکھایا\nنقشہ ہی وہ بدلا\n\nلے جان مری! خانہ تن سے تو نِکل جا\nہو جائے فراغت\n\nکس منھ سے کروں عشوہ گری اسکی بیاں میں\nاللہ رےادائیں\n\nمل بیٹھے ہیں ہم اور وہ قسمت سے جو یا جا\nطرفہ ہوئی صحبت\n\nبیتاب ہو لگ چلنے کا جو میں کیا عزم\nدے بیٹھے وہ گالی\n\nکچھ اور کیا قصد تو ناز سے بولا\nبل بے تری جراتؔ\n\nاجل گر اپنی خیال جمال یار میں آئے\nتو پھر بجائے فرشتہ پری مزار میں آئے\n\nبھلا پھر اسکے اٹھانے میں کیوں نہ دیر لگے\nکسی کی موت کسی کے جو انتظار میں آئے\n\nبیک کرشمہ جو بے اختیار کر ڈالے\nوہ عشوہ ساز کسی کے کب اختیار میں آئے\n\nپس از فنا جو ترے دل جلے کی خاک اڑے\nتو مضطرب سا دھواں اک نظر غیار میں آئے\n\nخراب کیونکہ نہ ہو شہر دل کی آبادی\nہمیشہ لوٹنے والے ہی اس دیار میں آئے\n\nفغاں پھر اس کی ہو لبریز یاس کیونکہ نہ آہ\nبہ زیر دام جو مرغِ چمن بہار میں آئے\n\nبلائیں لے لے جو ہونے لگوں نثار تو بس\nکہے ہے ہنس کے وہ ایسے جی اب پیار میں آئے\n\nنہ پوچھ مجھ سے وہ عالم کہ صبح نیند سے اُٹھ\nجب انکھڑیوں کو وہ ملتے ہوئے خمار میں آئے\n\nنہ کیونکہ حد سے فزوں تر ہو رتبہ گریا\nکہ اب تو حضرتِ دل چشم اشکبار میں آئے\n\nٹلیں نہ واں سے اگر ہم کو گالیاں لاکھوں\nوہ دینے غیرتِ گل ایک کیا ہزار میں آئے۔\n\nمگر نہ کہیے کہ مضطر ہو تو نہ کیونکہ بھلا\nوہ دوڑ دوڑ تمھارے نہ رہگزار میں آئے\n\nاٹھے جہان سے جراءت اٹھا کے درد فراق\nالہٰی موت بھی آئے تو وصل یار میں آئے\n(کس دھوم دھام کی غزل تھی مگر \"آئے\" کہیں واحد ہے کہیں جمع ہو گیا ہے۔)\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nیاد آتا ہے تو کیا پھرتا ہوں گھبرایا ہوا\nچنپئی رنگ اس کا اور جوبن وہ گدرایا ہوا\n\nبات ہی اول تو وہ کرتا نہیں مجھ سے کبھی\nاور جو بولے بھی ہے کچھ منھ سے تو شرمایا ہوا\n\nجا کے پھر آؤں نہ جاؤں اس گلی میں دوڑ دوڑ\nپر کروں کیا میں نہیں پھرتا ہے دل آیا ہوا\n\nبے سبب جو مجھ سے ہے وہ شعلہ خو سر گرم جنگ\nمیں تو ہوں حیراں کہ یہ کس کا ہے بھڑکایا ہوا\n\nوہ کرے عزم سفر تو کیجیئے دنیا سے کوچ\nہے ارادہ دل میں مُدّت سے یہ ٹھہرایا ہوا\n\nنوکِ مژگاں پر دل مژمردہ ہے یوں سرنگوں\nشاخ پر جھک آے ہے جوں پھول مرجھایا ہوا\n\nجاؤں جاؤں کیا لگایا ہے اجی بیٹھے رہو\nہوں میں اپنی زیست سے آگے ہی اکتایا ہوا\n\nتیری دُوری سے یہ حالت ہو گئی اپنی کہ آہ\nعنقریب مرگ ہر ایک اپنا ہمسایا ہوا\n\nکیا کہیں اب عشق کیا کیا ہم سے کرتا ہے سلوک\nدل پہ بیتابی کا اک پُتلا ہے بٹھلایا ہوا\n\nہے قلق سے دل کی یہ حالت مری اب تو کہ میں\nچار سو پھرتا ہوں اپنے گھر میں گھبرایا ہوا\n\nحکم بارِ مجلس اب جرات کو بھی ہو جائے جی\nیہ بچارا کب سے دروازہ پہ ہے آیا ہوا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nنہ جواب لے کے قاصد جو پھر اشتاب اُلٹا\nمیں زمیں پہ ہاتھ مارا بصد اضطراب اُلٹا\n\nدمِ وصل اس نے رخ سے جو نہ ٹک نقاب اُلٹا\nہمیں لگ گیا دم اُسدم بصد اضطراب اُلٹا\n\nترے دَور میں ہو میکش کوئی کیا فلک کہ تیری\nوہ ہے شکل جوں دھرا ہو قدح شراب اُلٹا\n\nیہ وفا کی میں نے تسپر مجھے کہتے بے وفا ہو\nمری بندگی ہے صاحب یہ ملا خطاب اُلٹا\n\nمرے بخت ہیں وہ روکش کہ وہ دے جو وعدہ شب\nتو پہنچ کے تا بہ مغرب پھرے آفتاب اُلٹا\n\nکسی نسخہ میں پڑھے تھا وہ مقام دل نوازی\nمجھے آتے جو ہی دیکھا ورقِ کتاب اُلٹا\n\nوہ بہا کے کاسہ سر میرے خوں مین شکل کشی\nکہے ہے کہ دیکھو نِکلا یہ موا حباب اُلٹا\n\nمرے دل نے داغ کھایا جو یہ بوئے سوختہ سے\nیہ جلا بس ایک پہلو نہ کیا کباب اُلٹا\n\nغزل اور پڑھ تو جراءتؔ کہ گیا جو یاں سے گھر کو\nتو کلام سُنتے تیرا میں پھرا شتاب اُلٹا\n\nمیں تڑپ کے سنگِ تربت بصد اضطراب اُلٹا\nمری قبر پر وہ آ کر جو پھرا شتاب اُلٹا\n\nمرے سو سوال سنکر وہ رہا خموش بیٹھا\nنہیں یہ بھی کہنے کی جا کہ ملا جواب اُلٹا\n\nجو رکھے ہے بخت واژوں وہ ٹنی سے مل ہو مفلس\nکہ رہے یہ آب دریا قدح حباب اُلٹا\n\nشب وصل یہ قلق تھا پہ وہ سو گیا تو منھ سے\nنہ ذرہ بھی میں (*) دوپٹہ زرہِ حجاب اُلٹا\n(* دیکھو یہاں بھی علامتِ فاعلیت ہے محذوف ہے اور یہ پرانا جوہر ہے۔)\n\nہمیں ہے خیال اسکا کہ جو آیا خواب میں وہ\nتو زباں پہ اسکی ڈر سے نہ وہ ہمنے خواب اُلٹا\n\nاسی در تک آؤنگا میں کہ نہیں ہے دل کہے میں\nپجھے پھیرتے عبث ہو زرہِ عتاب اُلٹا\n\nطلب اس سے کل جو مے کی تو بھرا ہوا زمن پر\nمجھے شوخ نے دکھا کر قدحِ شراب اُلٹا\n\nجو کنار مقصد اپنی لگے بہہ کے ناؤ گاہے\nتو ہوا تھپڑ مارے لگے بہنے آب اُلٹا\n\nکسی تذکرہ میں پڑھنے مرے شعر جو لگا وہ\nتو ہوا نے ودں ہی جراءتؔ ورق کتاب اُلٹا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nاس ڈھب سے کیا کیجیئے ملاقات کہیں اور\nدن کو تو ملو ہم سے رہو رات کہیں اور\n\nکیا بات کوئی اس بُتِ عیّار کی سمجھے\nبولے ہے جو ہم سے تو اشارات کہیں اور\n\nاس ابر میں پاؤں میں کہاں دختر رز کو\nرہتی ہے مدام ابتو وہ بدذات کہیں اور\n\nجس رنگ مری چشم سے برے ہے پڑا خوں\nاس رنگ کی دیکھی نہیں برسات کہیں اور\n\nگھر اُس کو بلا نذر کیا دل تو وہ جراءتؔ\nبولا کہ یہ بس کیجئے مدارات کہیں اور\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nجب یہ سنتے ہیں کہ ہمسایہ میں آپ آئے ہوئے\nکیا در و بام پہ ہم پھرتے ہیں گھبرائے ہوئے\n\nآپ سے میں تو نہ جاؤں پر کروں کیا کہ وہیں\nدل بیتاب لئے جائے ہے دوڑائے ہوئے\n\nگھر میں بے یار ہے شکل اپنی یہ دل کے ہمراہ\nدہ گنہگار ہوں جوں قید میں بٹھلائے ہوئے\n\nآئے جب دست بقبضہ ہو تو پھر دیر ہے کیا\nسر تسلیم کو ہم بیٹھے ہیں نہڑائے ہوئے\n\nآج بھی اس کے جو آنے کہ نہ ٹھہری تو بس آہ\nہم وہ کر بیٹھیں گے جو دلمیں ہیں ٹھہرائے ہوئے\n\nپیرہن چاک ترے در پہ جو کل کرتا تھا\nآج لوگ اس کو لئے جاتے ہیں کفنائے ہوئے\n\nمُردنی بھر گئی منھ پر مرے جن کی خاطر\nرنگ و رو کیا وہ پڑے پھرتے ہیں چمکائے ہوئے\n\nابر تصویر کی مانند ہم اس محفل میں\nرد نہیں سکتے پہ آنکھوں میں ہیں اشک آئے ہوئے\n\nلوگ گر ہم سے یہ کہتے ہیں کہ چلتے ہو جی واں\nاپنے بیگانے سب اس بزم میں ہیں آئے ہوئے\n\nدل میں تب سوچ کے اس بات کو رو دیتے ہیں\nکیا کہیں اُن سے کہ ہیں ہم تو نکلوائے ہوئے\n\nکر کے موزوں انھیں جراءتؔ غزل اک اور بھی پڑھ\nدل میں جو تازہ مضامین ہوں ٹھہرائے ہوئے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nخوف کچھ کھاتے ہی بیدار ہم اے وائے ہوئے\nشب کو تم خواب میں پھر آئے تو گھبرائے ہوئے\n\nبے خودی پر نہ ہماری متحیر ہو کوئی\nآئیں کیا آپ میں جی ہم ہیں کہیں آئے ہوئے\n\nرنگ اور اسمیں نظر آئے ہے کچھ حضرتِ دل\nاشک سُرخ آنکھوں میں پھرتے ہو چمکائے ہوئے\n\nرشک کی جا ہے غرض شہر خموشاں بھی کہ واں\nسوتے کیا چین سے ہم پاؤں کو پھیلائے ہوئے\n\nدیکھو شوخی کہ کوچے میں دِل عاشق کو\nکیسی اٹکھیلی سے جاتا ہے وہ ٹھکرائے ہوئے\n\nجوشِ وحشت سے گریبان کو کر چاک ہم آہ\nسُرخ آنکھیں کئے کیا بیٹھے ہیں جھنجھلائے ہوئے\n\nجام دیتے نہیں مجھ کو جو دمِ بادہ کشی\nیہ تو فرماؤ کہ تم کس کے ہو بہکائے ہوئے\n\nحسرت اے ہم نفساں سیر چمن مفت گئی\nنخل بستاں سے قفس ہیں کئی لٹکائے ہوئے\n\nدور چھوڑا ہمیں گلشن سے یہ رونے کی ہے جا\nکہ سزاوارِ اسیری بھی نہ ہم ہائے ہوئے\n\nدم رخصت کہے جراءتؔ کوئی اس کافر سے\nاک مسلمان کو کیوں جاتے ہو تڑپائے ہوئے", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D9%82%D9%84%D9%86%D8%AF_%D8%A8%D8%AE%D8%B4_%D8%AC%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "آب حیات/غزلہائے تاباں", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "نہیں ہے دوست اپنا یار اپنا مہرباں اپنا\nسُناؤں کس کو غم اپنا الم اپنا بیاں اپنا\n\nبہت چاہا کہ آوے یار یا اس دل کو صبر آوے\nنہ یار آیا نہ صبر آیا دیا جی میں نداں اپنا\n\nقفس میں تڑپے ہے یہ عندلیباں سخت بے بس ہیں\nنہ گلشن دیکھ سکتے ہیں نہ یہ اب آشیاں اپنا\n\nمجھے آتا ہے رونا ایسی تنہائی پہ اے تاباںؔ\nنہ یار اپنا، نہ دل اپنا، نہ تن اپنا نہ جاں اپنا\n\nرہتا ہوں خاک و خوں میں سدا لوٹتا ہوا\nمیرے غریب دل کو الٰہی یہ کیا ہوا؟\n\nمیں اپنے دل کو غنچہ تصویر کی طرح\nیارب کبھو خوشی سے نہ دیکھا کھلا ہوا\n\nناصح عبث نصیحت بیہودہ تو نہ کر\nممکن نہیں کہ چھوٹ سکے دل لگا ہوا\n\nہم بے کسی پہ اپنی نہ رو دیں تو کیا کریں\nدل سا رفیق ہائے ہمارا جُدا ہوا\n\nجفا سے اپنی پشیماں نہ ہو، ہوا سو ہوا\nتری بلا سے مرے جی پہ جو ہوا سو ہوا\n\nسبب جو میری شہادت کا یار سے پوچھا\nکہا کہ اب تو اسے گاڑ دو ہوا سو ہوا\n\nیہ دردِ عشق میرا نہیں علاج طبیب\nہزار میری دوائیں کرو ہوا سو ہوا​\n\nبھلے بُرے کی تری عشق میں اُڑا دی شرم\nہمارے حق میں کوئی کچھ کہو ہوا سو ہوا\n\nنہ پائی خاک بھی تاباں کی ہم نے پھر ظالم\nوہ ایک دم ی ترے روبرو ہوا سو ہوا\n\nسُن فصلِ گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیں\nکیا بلبلوں نے دیکھ دھومیں مچائیاں ہیں\n\nبیمار ہے، زمیں سے اُٹھتی نہیں عصا بِن\nنرگس کو تم نے شاید آنکھیں دکھائیں ہیں\n\nآئینہ روبرو رکھ اور اپنی چھب دکھانا\nکیا خود پسندیاں ہیں کیا خود نمائیاں ہیں\n\nدیکھے سے آئینہ بھی حیران ہے ترا رُو\nچہرہ کے بیچ تیرے کیا کیا صفائیاں ہیں\n\nخورشید گر کہوں میں تو جان ہے وہ پیلا\nجو مہہ کہوں ترا رُو اُس پر تو جھائیاں ہیں\n\nجب پان کھا کے پیارا گلشن میں جا ہنسا ہے\nبے اختیار کلیاں تب کھل کھلائیاں ہیں\n\nکہتے تھے ہم کسی سے تم بِن نہیں ملیں گے\nاب کس کے ساتھ پیارے وے دلربئیاں ہیں\n\nعاشق سے گرم ملنا پھر بات بھی نہ کہنا\nکیا بے مروتی ہے کیا بے وفائیاں ہیں\n\nافسوس اے صنم تم ایسے ہوئے ہو ابتر\nملتے تو غیر سے جا ہم سے روکھائیاں ہیں\n\nقسمت میں دیکھیں کیا ہے جیتے رہیں کہ مر جائیں\nقاتل سے ہم نے یارو آنکھیں لڑائیاں ہیں\n\nاب مہرباں ہوا ہے تاباںؔ ترا ستمگر\nآہیں تری کسی نے شاید سُنائیاں ہیں", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%BA%D8%B2%D9%84%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA"} {"title": "آب حیات/غلام مصطفیٰ خان یکرنگ", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "یکرنگ تخلص، غلام مصطفیٰ خاں نام، قدیمی تذکروں میں انھیں طبقہ اول کے شاعروں میں لکھا ہے، مگر یہ لوگ با انصاف ہوتے تھے اور ہر کام کے حُسن و قبح کو خوب سمجھتے تھے۔ اُس لئے باوجود کہن سالی اور کہنہ مشاقی کے آخر میں اپنا کلام مرزا جانجاناں مظہر کو بھی دکھاتے تھے، لیکن جو کلام ان کا موجود ہے، بزرگوں سے سنا اور تذکروں میں بھی دیکھا بڑے مشاق تھے اور اپنے وقت میں سب اُنھیں خوش فکر اور با کمال مانتے تھے اور لُطف یہ ہے کہ تخلص کی طرح عالم آشنائی میں یک رنگ دیکتا تھے۔\n\nیکرنگ پاس اور سجن کچھ بساط\n\nرکھتا ہوں میں دو نین کہو تو نذر کروں\n\nزبانِ شکوہ ہے مہدی کی ہر بات\n\nکہ خوباں نے لگائے ہیں مجھ ہات\n\nاس زلف کا یہ دل ہے گرفتار بال بال\n\nیکرنگ کے سخن میں خلاف ایک مُو نہیں\n\nجو کوئی توڑتا ہے غنچہ گل\n\nدلِ بُلبل شکستہ کرتا ہے\n\nیکرنگ نے تلاش کیا ہے بہت ولے\n\nمظہر سا اس جہاں میں کوئی میرزا نہیں\n\nپارسائی اور جوانی کیوں کہ ہو\n\nایک جاگہ آگ پانی کیونکر ہو\n\nنہ کہو یہ کہ یار جاتا ہے\n\nدل سے صبر و قرار جاتا ہے\n\nگر خبر لینی ہو تو لے صیاد\n\nہاتھ سے یہ شکار جاتا ہے\n\nمرزا جان جاناں کی اُستادی اور اپنی شاگردی کا اشارہ ہے :\n\nجس کے دردِ دل میں کچھ تاثیر ہے\n\nگر جواں بھی ہے تو میرا پیر ہے\n\nلگے ہیں خوب کانوں میں بتوں کے\n\nسخن یکرنگ کے گویا گہر ہیں\n\nاس کو مت جانو میاں اوروں کی طرح\n\nمصطفیٰ خاں آشنا یکرنگ ہے\n\nجدائی سے تری اے صندلی رنگ\n\nمجھے یہ زندگانی درد سر ہے\n\nخدا جانے اِن باتوں کو سُن کر ہمارے شائستہ زمانہ کے لوگ کیا کہیں گے کچھ تو پرواہ بھی نہ کریں گے اور کچھ واہیات کہہ کر کتاب بند کر دیں گے مگر تم ان باتوں کو ہزل نہ سمجھو، ایک پل کی پل آنکھیں بند کر لو اور تصور کی آنکھیں کھول دو، دیکھو وہی محمد شاہی عہد کے کہن سال درباری لباس پہنے بیٹھے ہیں اور باوجود اس متانت و معقولیت کے مُسکرا مسکرا کر آپس میں اشعار پڑہتے ہیں اور مزے لیتے ہیں۔ کیا اُن نورانی صورتوں پر پیار نہ آئے گا، کلام کی تاثیر بیٹھنے دے گی، محبت کا جوش اُن کے ہاتھ نہ چوم لے گا۔\n\nوہ صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں\n\nاب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں\n\nمیرے دوستو! غور کے قابل تو یہ بات ہے کہ آج جو تمھارے سامنے ان کے کلام کا حال ہے کل اوروں کے سامنے یہی تمھارے کلام کا حال ہوتا ہے۔ ایک وقت میں جو بات مطبوعِ خلائق ہو یہ ضرور نہیں کہ دوسرے وقت بھی ہو، خیال کرو انھی بزرگوں کے جلسہ میں آج ہم اپنی وضع اور لباس سے جائیں اور اپنا کلام پڑھیں تو وہ سنجیدہ اور برگزیدہ لوگ کیا کہیں گے۔ ایک دوسرے کو دیکھیں گے اور مسکرائیں گے، گویا سفلہ اور چھچھورا سمجھیں گے، ان بزرگوں کو کوئی بات ناپسند ہوتی تو اتنا ہی اشارہ کافی ہوتا تھا۔ اس خیال کی تصدیق اور اُس زمانہ کی وضع و لباس دکھانے کو دریائے لطافت کی ایک عبارت نقل کرتا ہوں، سید انشاء جن کی کوئی بات ظرافت سے خالی نہیں، ایک اپنے عہد کے بڈھے میر صاحب کی تقریر ایک کسبی کے ساتھ لکھتے ہیں، یہ دونوں دلی کے رہنے والے ہیں اور لکھنؤ میں باتیں کر رہے ہیں۔\n\nبی نورن کہتی ہیں\n\nاجی آؤ میر صاحب، تم عید کا چاند ہو گئے، دلی میں آتے تھے دوپہر رات تک بیٹھتے تھے اور ریختے پڑھتے تھے، لکھنؤ میں تمھیں کیا ہو گیا کہ کبھی صورت بھی نہیں دکھاتے، اب کے کربلا میں کتنا میں نے ڈھونڈا، کہیں تمھارا اثر آثار معلوم نہ ہوا۔ ایسا نہ کیجئو، کہیں آٹھوں (آٹھوں کا میلہ لکھنؤ میں بڑی دھوم دھام کا ہوتا ہے۔) میں نہ چلو، تمھیں علی کی قسم آٹھوں میں مقرر چلیو۔\n\nاب جس رنگ سے سید انشاء میر صاحب موصوف کی تصویر کھینچتے ہیں اسے ملاحظہ فرمائیے اور اتنا خیال اور بھی رہے کہ یہ پیر دیرینہ سال، ایک زمانہ کے خوش طبع رنگین مزاج شخص تھے، کوئی ثقہ متقی پرہیزگار نہ تھے، باوجود اس کے تازہ اوضاع و اطوار اور نئی رفتار و گفتار پر کیا خیالات رکھتے تھے۔\n\nبیان صورت میر موصوف اینکہ، سیاہ رنگ، کوتاہ قد، فربہ گردن، دراز گوش، بندشِ دستار بطورِ بعض کند سازانِ کہنہ، رنگش سبز یا اگرئی، والا اکثر سفید، گاہے گل سرخ ہم در گوشہ دستار مے زنند، دجامہ مصطلح ہندوستان (نہ جامعہ لغوی) دَر برمبارک بسیار پاکیزہ مے باشد، چوں لباس باریک را ازیں جہت کہ برائے زناں مقرر است نمے پوشند۔ ختِ پوشاکی ملا زمانِ شریف ایشاں اکثر گندہ است لیکن قیمتی دونیم روپیہ رایک تھان تمام دریک جامہ صرف مے شود، چولی زیر پستاں، بالائے آں دوپٹہ پشتولیہ، دامن برزمین جاروب می کشندد سی ہم پر دندانِ مبارک ہیمالندد پاپوس از سقرلاطِ زر و دریاق وسط آں ستارہ اڑتا ہائے طلائی، حالانکہ ہیَیت معلوم شد طرز کلام با کسبی پاید سنید، میر صاحب فرماتے ہیں۔\n\nاجی بی نورن! یہ کیا بات فرماتی ہو، تم اپنے جیوڑے کی چین ہو، پر کیا کہیں جب سے دلی چھوڑی ہے، کچھ جی افسردہ ہو گیا ہے اور شعر پڑھنے کو جو کہو، تو کچھ لطف اس میں بھی نہیں رہا کہ مجھ سے سنئے، ریختے میں استاد میاں ولی ہوئے، اُن پر توجہ شاہ گلشن صاحب کی تھی پھر میاں آبرو، میاں ناجی اور میاں حاتم پھر سب سے بہتر مرزا رفیع السودا اور میر تقی صاحب، پھر حضرت خواجہ میر درد صاحب برواللہ مرقدہٗ جو میرے بھی اُستاد تھے، وہ لوگ تو سب مر گئے اور ان کی قدر کرنے والے بھی جاں بحق تسلیم ہوئے، اب لکھنؤ کے جیسے چھوکرے ہیں ویسے ہی شاعر ہیں اور دلی میں بھی ایسا ہی کچھ چرچا ہے، تخم تاثیر صحبت اثر، سبحان اللہ، یہ کون میاں جرأت بڑے شاعر، پوچھو تو تمھارا کام کس دن شعر کہنا تھا اور رضا بہادر کا کون سا کلام ہے اور دوسرے میاں مصحفی کہ مطلق شعور نہیں رکھتے، اگر پوچھئے کہ ضَرب زید عُمراً کی ترکیب تو ذرا بیان کرو تو اپنے شاگردوں کو ہمراہ لے کر لڑنے آتے ہیں اور میاں حسرت کو دیکھو اپنا عرق بادیان اور شربت انارین چھوڑ کے شاعری میں آ کے قدم رکھا ہے، اور میر انشاء اللہ خاں بچارے میر ماشاء اللہ خاں کے بیٹے آگے پریزاد تھے، ہم بھی گھورنے کو جاتے تھے اب چند روز سے شاعر بن گئے، مرزا مظہر جان جاناں صاحب کے روز مرہ کو نام رکھتے ہیں اور سب سے زیادہ ایک اور سنئیے کہ سعادت یار طہماسپ کا بیٹا، انوری ریختہ آپ کو جانتا ہے۔ رنگین تخلص ہے، ایک قصہ کہا ہے اس مثنوی کا نام دلپذیر رکھا تھا، رنڈیوں کی بولی اس میں باندھی ہے میر حسن پر زہر کھایا ہے، ہر چند اس مرحوم کو بھی کچھ شعور نہ تھا، بدر منیر کی مثنوی نہیں کہی، گویا سانڈے کا تیل بیچتے ہیں، بھلا اس کو شعر کیونکر کہیے، سارے لوگ دِلی کے لکھنؤ کے رنڈی سے لے کر مرد تک پڑھتے ہیں :\n\nچلی واں سے دامن اٹھاتی ہوئی\n\nکڑے کو کڑے سے بجاتی ہوئی\n\nسو اس بچارے رنگین نے بھی اسی طور پر قصہ کہا ہے، کوئی پوچھے کہ بھائی تیرا باپ رسالدار مسلم لیکن بچارا برچھی بھالے کا ہلانے والا تیغے کا چلانے والا تھا، تو ایسا قابل کہاں سے ہوا اور شہد پن جو بہت مزاج میں رنڈی بازی سے آ گیا ہے تو ریختہ کے تئیں چھوڑ کر ایک ریختی ایجاد کی ہے، اس واسطے کہ بھلے آدمیوں کی بہو بیٹیاں پڑھ کر مشتاق ہوں اور ان کے ساتھ اپنا منھ کالا کریں، بھلا یہ کلام کیا ہے :\n\nذرا گھر کو رنگیں کے تحقیق کر لو\n\nیہاں سے ہے کے پیسے ڈولی کہارو\n\nمرد ہو کہتا ہے : مصرعہ \"کہیں ایسا نہ ہو کم بخت میں ماری جاؤں \" اور ایک کتاب بنائی ہے اس میں رنڈیوں کی بولی لکھی ہے، جس میں اوپر والیاں، چیلیں، اوپر والا، چاند، اُجلی دھوبن وغیرہ وغیرہ۔ ان بزرگوں کو خیال کرو کہ مصحفی اور سید انشاء اور جرأت کو اپنی جگہ پر یہ کچھ کہتے تھے، پھر ہم اپنی بولی اور اپنی تراش اور ایجادوں کی قبولیت دوام کا سرٹیفکیٹ دے کر کس طرح نازاں ہوں جو نئی امت ہمارے بعد آئے گی وہ خدا جانے کیا کچھ میں میکھ نکالے گی، خیر اپنے اپنے وقت پر یوں ہی ہو رہا ہے اور یوں ہی ہوتا رہے گا۔\n\nخاتمہ\n\nپہلا دور برخاست ہوتا ہے، اِن مبارک صدر نشینوں کو شکریہ کے ساتھ رخصت کرنا چاہیے کہ مبارک جانشینوں کے لئے جگہ خالی کر کے اُٹھے، ایجاد کے بانی اور اصلاح کے مالک تھے، ملک کی زبان میں جو کچھ کیا اچھا کیا جو کام باقی ہے اچھے نکتہ پردازیوں کے لئے چھوڑ چلے ہیں، ہر مکان جلسہ کے بعد درہم برہم معلوم ہوتا ہے مگر یہ اس طرح سجا کر چلے ہیں کہ جو اِن کے بعد آئیں گے، آرائش و زیبائش کے انداز سوچ سوچ کر پیدا کریں گے، اب زیادہ گفتگو کا موقع نہیں کہ دور دوم کو زیب دینے والے آن پہنچے۔\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85_%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%8C%D9%B0_%D8%AE%D8%A7%D9%86_%DB%8C%DA%A9%D8%B1%D9%86%DA%AF"} {"title": "آب حیات/فہرست مطالب", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "1) تاریخ زبانِ اُردو\n\n2) برج بھاشا پر جب فارسی نے دخل پایا تو کیا کیا اثر کئے اور آیندہ کیا اُمید ہے۔\n\n3) تاریخ نظم اُردو\n\n4) آب حیات کا پہلا دور : جس میں ولی اور ان کے قریب العصر با کمال جلسہ جمائے بیٹھے ہیں۔\n\n5) آبِ حیات کا دوسرا دور : شاہ حاتم، خان آرزو، فغاں\n\n6) آبِ حیات کا تیسرا دور : مرزا مظہر جانجاناں، میر سوز، میر تقی میر، مرزا رفیع سودا\n\n7) آبِ حیات کا چوتھا دور : مصحفی، سید انشاء، جرأت\n\n8) آبِ حیات کا پانچواں دور : ناسخ، آتش، شاہ نصیر، مومن، ذوق، غالب\n\n9) آبِ حیات کا خاتمہ\n\nبندہ آزاد محمد حسین\nعفی اللہ عنہ", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%81%DB%81%D8%B1%D8%B3%D8%AA_%D9%85%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8"} {"title": "آب حیات/محمد احسن احسن", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "احسن تخلص، محمد حسن نام، یہ بھی انہی لوگوں کے ہم عصر و ہم زبان ہیں۔ چنانچہ ایک غزل اور دو شعر اُن کے ہاتھ آئے وہی لکھے جاتے ہیں :\n\nصبا کہیو اگر جاوے ہے تو اُس شوخ دلبرسوں\n\nکہ کر کر قول پرسوں کا گیا برسوں (۱) آوے برسوں\n\n(۱) یعنی بغل سے گیا برسوں گزر گئے۔)\n\nعجب نئیں ابر گر جلتوں کو جل کر جلاوے گا\n\nکیا ہے یار میرے برسوں کہتا ہے کہ میں برسوں\n\nیو قاصد وعدہ کرتا ہے جو پرسوں کا کہ پھر آوے\n\nکبوتر پھر نہیں آتا گلی اس کی سیتی برسوں\n\nترس تجھ کو نہیں اے شوخ اتنی کیا ہے ترسائی\n\nترے دیدار کو میں دیدہ ترسوں کھڑا ترسوں\n\nترے تل سوں مجھے نت بیٹھ کا سودا ہے اے ظالم\n\nعجب نئیں ہے اگر تو تیل نکساوے مرے سَرسوں\n\nزلف تیری معطر ہے عطر فتنے سینتی ظالم\n\nالٰہی آبرو رکھیو پڑا ہے کام ابتر سوں\n\nغزل اس طرح سے کہنی بھی احسن تجھ سوں بن آوے\n\nجواب اب آبرو کب کہہ سکے مضمون بہتر سوں\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nلام نستعلیق کا ہے اُس بُتِ خوش خط کی زُلف\n\nہم تو کافر ہوں، اگر بندے نہ ہوں اسلام کے\n\nیہی مضمونِ خط ہے احسن اللہ\n\nکہ حُسنِ خوبرو یاں عارضی ہے\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nنازک بدن پہ اپنے کرتے ہو تم جو غرہ\n\nموسیٰ کمر نے تجھ کو فرعون سا بنایا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D9%86"} {"title": "آب حیات/محمد شاکر ناجی", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "ناجی تخلص، سید محمد شاکر نام، شرافت اور سعادت کے ساتھ کمالِ شاعری سے اپنے زمانہ میں نامور تھے، اہلِ سخن نے انھیں طبقہ اول کے ارکان میں تسلیم کیا ہے۔ عمدۃ الملک امیر خاں جو محمد شاہی دربار کے رکنِ اعظم تھے، یہ اُن کے نعمت خانہ کے داروغہ تھے، شاہ مبارک آبرو نے جہاں اُن کے کمال کی تعریف کی ہے، وہاں اس امر کا بھی اشارہ کیا ہے :\n\nسخن سنجاں میں ہے گا آبرو آج\n\nنہیں شیریں زباں شاکر سریکا\n\nمگر تیز مزاج اور شوخ طبع بہت تھے، راہ چلتے سے اُلجھتے تھے اور جس کے گرد ہوتے تھے اُسے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا تھا۔\n\nزلف کے حلقہ میں دیکھا جب سے دانہ خال کا\n\nمرغ دل عاشق کا تب سے صید ہے اس جال کا\n\nگندمی چہرہ کو اپنے زلف میں پنہاں نہ کر\n\nہندواں سن کر مبادا شور ڈالیں کال کا\n\nبینواؤں سے نہ مل اے مو کمر مت پیچ کھا\n\nمونڈ سر لڑکوں کو کرتے ہیں وہ اپنا بال کا\n\nمہر کی بیجا ہے چرخ بے مروت سے اُمید\n\nپیر زالوں سے نہیں احسان کر اک بال کا\n\nایک دم ناجی کے تئیں آ کر جلا لے پیار سے\n\nجاں بلب ہوں اے سجن یہ وقت نئیں اہمال کا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nنہ تھا آزردہ دل کنعاں سے یوسف\n\nڈرا تھا خواب میں اخواں سے یوسف\n\nنہ ہوتا راہ میں گلبانگ شہرت\n\nجو روتا راہ میں خاراں سے یوسف\n\nکوئیں میں جا پڑا یعقوب کا دِل\n\nچلا جب نالہ و افغاں سے یوسف\n\nزلیخا نے بہائے شیر کے نیل\n\nجو رویا درد کے انجھواں سے یوسف\n\nجو ناجی ڈر نہ ہوتا معصیت کا\n\nنہ گردن پھیرتا فرماں سے یوسف\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nدیکھ موہن تری کمر کی طرف\n\nپھر گیا مانی اپنے گھر کی طرف\n\nجن نے دیکھے ترے لبِ شیریں\n\nنظر اُن کی نہیں شکر کی طرف\n\nہے محال ان کا دام میں آنا\n\nدل ہے ان سب بتاں کا زر کی طرف\n\nتیرے رخسار کی صفائی دیکھ\n\nچشمِ دانا نہیں ہُنر کی طرف\n\nحشر میں پاک باز ہے ناجی\n\nبد عمل جائیں گے سفر کی طرف\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nاے صبا کہہ بہار کی باتیں\n\nاُس بتِ گلعذار کی باتیں\n\nکس پہ چھوڑے نگاہ کا شہباز\n\nکیا کرے ہے شکار کی باتیں\n\nچھوڑتے کب ہیں نقد دل کو صنم\n\nجب یہ کرتے ہیں پیار کی باتیں\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nمعشوق مل کر آپ سے گر دلبری کرے\n\nگر دیو ہو تو چاہیے آدم گری کرے\n\nشیشہ اسی کے آگے بجا ہے کہ رُخ ستی\n\nپیالے کو جب لے ہاتھ میں رشکِ پری کرے\n\nاِس قد سے جب چمن میں خراماں ہو تو اے جاں\n\nشمشاد و سرو آگے تری چاکری کرے\n\nدشمن ہے دیں کا خالِ سیہ مُکھ اوپر ترے\n\nہندو سے کیا عجب ہے اگر کافری کرے\n\nناجی جو کوئی صاف کرے دل کا آئینہ\n\nوہ عاشقی کے ملک میں اسکندری کرے\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nکفن ہے سبز ترے گیسوؤں کے ماروں کا\n\nمکانِ غم ہے ترے در کے بے قراروں کا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nرکھے اس لالچی لڑکے کو کب تنک بہلا\n\nچلی جاتی ہے فرمائش کبھی یہ لا، کبھی وہ لا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nموزوں قد اس کا چشم کی میزاں میں جب تُلا\n\nطوبیٰ تب اُس سے ایک قدم اد کسا ہوا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nاگر ہو وہ بُت ہندو کبھی اشنان کو ننگا\n\nبھنور میں دیکھ کر جمنا اُسے غوطہ میں جا گنگا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nدیکھ ہم صحبت کی دولت سے نہ رکھ چشمِ اُمید\n\nلب صدف کے تر نہیں ہر چند گوہر میں ہے آب\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nبہا سستا ہو یا مہنگا نہیں موقوف غلے پر\n\nیہ سب خرمن اسی کے ہیں خدا ہے جس کے پلے پر\n\nانگوٹھی لعل کی کرتی قیامت، آج گر ہوتی\n\nجنھوں کی آن پہنچی، لڑ موئے وہ ایک چھلے پر\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nروئے روشن کی جو کوئی یاد میں مشغول ہے\n\nمہر اس کے روبرو سورج مکھی کا پھول ہے\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nنہ ٹوکو یار کو کہ خط رکھاتا یا منڈاتا ہے\n\nمرے نشہ کی خاطر لطف سے سبزی بناتا ہے\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nجہاں دل بند ہو ناصح وہاں آوے خلل کرنے\n\nرقیب نا ولد ناجی گویا لڑکوں کا بابا ہے\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nنادری چڑھائی اور محمد شاہی لشکر کی تباہی میں خود شامل تھے۔ اس وقت دربار دہلی کا رنگ، شرفا کی خواری، پاجیوں کی گرم بازاری اور اس پر ہندوستانیوں کی آرام طلبی اور ناز پروری کو ایک طولانی مخمس میں دکھایا ہے۔ افسوس ہے کہ اس وقت دو ہند اس کے ہاتھ آئے۔\n\nلڑے ہوئے تھے دس بیس اُن کو بیتے تھے\n\nدُعا کے زور سے دائی دوا کے جیتے تھے\n\nشرابیں گھر کی نکالیں مزے سے پیتے تھے\n\nنگاہ و نقش میں ظاہر گویا کہ جیتے تھے\n\nگلے میں،نسئیاں بازو اوپر طلا – کرنال\n\nقضا سے بچ گیا مرنا نہیں تو ٹھانا تھا\n\nکہ میں نشان کے ہاتھی اوپر نشانہ تھا\n\nنہ پانی پینے کو پایا وہاں نہ کھانا تھا\n\nمل تھے دھان جو لشکر تمام چھانا تھا\n\nنہ ظرف و مطبخ و دکاں نہ غلہ نہ بقال", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%B4%D8%A7%DA%A9%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D8%AC%DB%8C"} {"title": "آب حیات/مرزا جانِ جاناں مظہر", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "اگرچہ نظم کے جوش و خروش اور کثرتِ کلام کے لحاظ سے میرؔ اور سوداؔ کے ساتھ نام لیتے ہوئے تامل ہوتا ہے لیکن چونکہ صانع قدرت نے طبیعت کی لطافت اور اصلی نفاست اور ہر بات میں انداز کی خوبی اور خوب صورتی اُن کے مزاج میں رکھی تھی اور زمانہ بھی سب کا ایک تھا، اس کے علاوہ پُرانے تذکرہ نویس لکھتے ہیں بلکہ بزرگوں کی زبان سے بھی یہی سُنا کہ زبان کی اصلاح اور اندازِ سخن اور طرز کے ایجاد میں انھیں ویسا ہی حق ہے جیسا کہ سوداؔ اور میرؔ کو، اسی واسطے ان کا حال بھی اس سلسلہ میں لکھنا واجب ہے، ان کے والد عالمگیر کے دربار میں صاحبِ منصب تھے، نسب اِن کا باپ کی طرف سے محمد ابن حنیفہ سے ملتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ کے بیٹے تھے، ماں بیجاپور کے شریف گھرانہ سے تھیں، دادا بھی دربارِ شاہی میں صاحبِ منصب تھے، دادی اسد خاں وزیر عالمگیر کی خالہ زاد بہن تھیں۔ پردادا سے اکبر بادشاہ کی بیٹی منسوب ہوئی تھیں۔ اِن رشتوں سے تیموری خاندان کے نواسے تھے، 1111؁ھ میں جبکہ عالمگیر دکن پر فوج لئے پڑا تھا، ان کے والد نوکری چھوڑ کر دلی کو پھرے، یہ کالا باغ علاقہ مالوہ میں 11 رمضان کو جمعہ کے دن پیدا ہوئے۔ عالمگیر کو خبر ہوئی، آئینِ سلطنت تھا کہ امراء کے ہاں اولاد ہو تو حضور میں عرض کریں، بادشاہ خود نام رکھیں یا پیش کئے ہوئے ناموں میں سے پسند کر دیں، کسی کو خود بھی بیٹا یا بیٹی کر لیتے۔ یہ امور طرفین کے دلوں میں اتحاد اور محبت پیدا کرتے تھے، اِن کے لئے ایک وقت پر سندِ ترقی ہوتے تھے اور بادشاہوں کو ان سے وفاداری اور جاں نثاری کی امیدیں ہوتی تھیں، شادی بھی اجازت سے ہوتی تھی، کبھی ماں باپ کی تجویز کو پسند کرتے تھے، کبھی خود تجویز کر دیتے تھے۔ غرض عالمگیر نے کہا کہ بیٹا باپ کی جان ہوتا ہے، باپ مرزا جان ہے، اس کا نام ہم نے جانِ جاناں رکھا، پھر اگرچہ باپ نے شمس الدین نام رکھا، مگر عالمگیری نام کے سامنے نہ چمکا (تذکرہ گلزارِ ابراہیمی میں لکھا ہے کہ ان کا وطن اکبر آباد تھا دلی میں آ رہے تھے۔) مظہر تخلص انھوں نے آپ کیا کہ جان جاناں کے ساتھ مشہور چلا آتا ہے، مرزا جان بھی شاعر تھے اور جانی تخلص کرتے تھے۔\n\n۱۶ برس کی عمر تھی کہ باپ مر گئے، اسی وقت سے مشتِ خاک کو بزرگوں کے گوشہ دامن میں باندھ دیا۔ ۳۰ برس کی عمر تک مدرسوں اور خانقاہوں میں جھاڑو دی، اور جو دن بہارِ زندگی کے پھول ہوتے ہیں انھیں بزرگوں کے روضوں پر چڑھا دیا۔ اس عہد میں تصوف کے خیالات اَبر کی طرح ہندوستان پر چھائے ہوئے تھے، چنانچہ قطع نظر کمالِ شاعری کے ہزارہا مسلمان بلکہ ہندو بھی اُن کے مرید تھے اور دل سے اعتقاد رکھتے تھے۔ اُن کے باب میں بہت سے لطائف ایسے مشہور ہیں کہ اگر آج کسی میں پائے جائیں تو زمانہ کے لوگ اچھا نہ سمجھیں، لیکن وہ ایک زمانہ تھا کہ صفاتِ مذکورہ داخلِ فضائل تھیں، کچھ تو اس اعتقاد سے کہ مصرعہ : \"خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔\" اور کچھ اس وجہ سے کہ اگر ایک لطیف اور شفاف سطح پر کوئی داغ ہو اور وہ ایک عمدہ نظر گاہ میں جلوہ گر ہو تو وہاں وہ دھبہ بدنما نہیں بلکہ گلکاری معلوم ہوتا ہے، اور جسے بُرا معلوم ہو وہ خوش عقیدہ نہیں، میں روسیاہ بزرگوں کی ہر بات کو چشمِ عقیدت کا سُرمہ سمجھتا ہوں، مگر مقتضائے زمانہ پر نظر کر کے نمونہ پر اکتفا کرنا چاہیے۔\n\nوہ خود بیان کرتے تھے کہ حسنِ صورت اور لطف معنی کا عشق ابتداء سے میرے دل میں تھا، چھوٹے سن میں بھی مصرعے موزوں زبان سے نکلتے تھے۔ شیر خوارگی کے عالم میں حُسن کی طرف اس قدر میلان تھا کہ بدصورت کو گود میں نہ جاتا تھا، کوئی خوب صورت لیتا تھا تو ہمک کر جاتا تھا، اس پھر اس سے لیتے تھے تو بمشکل آتا تھا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%85%D8%B1%D8%B2%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%B8%DB%81%D8%B1"} {"title": "آب حیات/مرزا فاخر مکین", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "جانؔ :\nکہا طبیب نے احوال دیکھ کر میرا\nکہ سخت جان ہے سودا کا آہ کیا کیجیئے​\n\nدیدؔ :\nبتاں کا دید میں کرتا ہوں شیخ جسدن سے\nحلال تب سے ہے مے موبمو مرے دل پر​\n\nمیرؔ :\nکریں شمار بہم دل کے یاد داغوں کا\nتو آ کہ سیر کریں آج دل کے باغوں کا​\n\nمیرؔ :\nہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا\nموسٰے نہیں جو سیر کروں کوہ طور کا​\n\nبسکہ پونچھوں ہوں میں اپنی چشم خوں آلود کو\nجامہ کا ہر ایک تختہ سیر ہے گلزار کا​\n\nہمارے آگے ترا جب کسی نے نام لیا\nدلِ ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا\n(میر)\n\nقسم جو کھائیے تو طالع زلیخا کی\nعزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا\n(میر)\n\nچمن میں صبح جو اس جنگ جو کا نام لیا\nصبا نے تیغ کا موجِ رواں سے کام لیا\n(سودا)\n\nکمال بندگی عشق ہے خداوندی\nکہ ایک زن نے مہ مصر سا غلام لیا\n(سودا)\n\nگِلا میں جس سے کروں تیری بیوفائی کا\nجہاں میں نام نہ لے پھر وہ آشنائی کا\n(میر)\n\nگلا لکھوں میں اگر تیری بے وفائی کا\nلہو میں غرق سفینہ ہو آشنائی کا\n(سودا)\n\nدکھاؤں گا تجھے زاہد اس آفتِ دیں کو\nخلل دماغ میں تیرے ہے پارسائی کا\n(سودا)\n\nچمن میں گل نے جو کل دعوئے جمال کیا\nجمالِ یار نے منھ اس کا خوب لال کیا\n(میر)\n\nبرابری کا تری گل نے جب خیال کیا\nصبا نے مار طمانچہ منھ اس کا لال کیا\n(سودا)\n\nدل پہنچا ہلاکت کو بہت کھینچ کسا لا\nلے یار مرے سلمہ اللہ تعالٰے\n\nایک محروم چلے میر ہمیں دُنیا سے\nورنہ عالم کو زمانے نے دیا کیا کیا کچھ\n(میر)\n\nسوداؔ جہاں میں آ کے کوئی کچھ نہ لے گیا\nجاتا ہوں ایک میں دلِ پر آرزو لئے\n(سوداؔ)\n\nرات ساری تو کٹی سنتے پریشاں گوئی\nمیرؔ جی کوئی گھڑی تم بھی تو آرام کرو\n(میرؔ)\n\nسوداؔ تری فریاد سے آنکھوں میں کٹی رات\nاب آئی سحر ہونے کو ٹک تو کہیں مر بھی\n(سودا)\n\nہوتی نہیں ہے صبح نہ آتی ہے مجھ کو نیند\nجس کو پکارتا ہوں وہ کہتا ہے مر کہیں\n(سودا)​\n\nکفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لئے\nحُسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا\n\nہوا ہے جب کفر ثابت ہے وہ تمنوائے مسلمانی\nنہ ٹوٹے شیخ سے زنار تسبیح سلیمانی\n\nمت رنج کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد\nدل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا\n\nکعبہ اگرچہ ٹوٹا تو کیا جائے غم ہے شیخ\nیہ قصرِ دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا\n\nنہ بُھول اے آرسی گر یار کو تجھ سے محبت ہے\nنہیں ہے اعتبار اسکا یہ منھ دیکھے کی الفت ہے\n\nبگولے سے جسے آسیب اور صرصر سے زحمت ہے\nہماری خاک یوں برباد ہوائے ابر رحمت ہے​\n\nغیر کے پاس یہ اپنا ہی گماں ہے کہ نہیں\nجلوہ گر یاد مرا ورنہ کہاں ہے کہ نہیں\n\nدل کے پرزوں کو بغل بیچ لئے پھرتا ہوں\nکچھ علاج انکا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں\n\nمہر ہر ذرہ میں مجھ کو ہی نظر آتا ہے\nتم بھی ٹک دیکھو تو صاحب نظراں ہے کہ نہیں\n\nجرم ہے اس کی جفا کا کہ وفا کی تقصیر\nکوئی تو بولو میاں منھ میں زباں ہے کہ نہیں\n\nپاس ناموس مجھے عشق کا ہے اے بلبل\nورنہ یاں کون سا انداز فغاں ہے کہ نہیں\n\nآگے شمشیر تمھاری کے بھلا یہ گردن\nمُو سے باریک تراے خوش کمراں ہے کہ نہیں\n\nپوچھا سودا سے میں اک روز کہ اے آوارہ\nتیرے رہنے کا معین بھی مکاں ہے کہ نہیں\n\nیک بیک ہو کے برآشفتہ لگا وہ کہنے\nکچھ تجھے عقل سے بہرہ بھی میاں ہے کہ نہیں\n\nدیکھا میں قصر فریدوں کے اوپر اک شخص\nحلقہ زن ہو کے پکارا کوئی یاں ہے کہ نہیں\n\nسینہ میں ہوا نالہ و پہلو میں دل آتش\nدھڑکے ہے پڑا دل کہ نہ ہو مشتعل آتش\n\nاشک آتش و خوں آتش و ہرلختِ دل آتش\nآتش پہ برستی ہے پڑی متسل آتش​\n\nیک لحظہ طرف ہو کے مرے دیدہ دل سے\nنادم تو سمندر ہے سدا منفعل آتش\n\nیاقوت نہیں ہے وہ ترے لعل سے اے شوخ\nجا ڈوب موئی آگ میں ہو کر خجل آتش\n\nداغ آج سے رکھتا نہیں ان سنگدلوں کا\nمُدت سے ہوئی ہے مری چھاتی پہ سل آتش\n\nدل عشق کے شعلہ سے جو بھڑکا تو رہا کیا\nاے جان نکل جا کہ لگی متصل آتش\n\nاے قطرہ مے لے اڑی سوداؔ کو جگہ سے\nبارود کے تودے کو ہے بس ایک تل آتش\n------------------------------------------------------------\n\nدیں شیخ و برہمن نے کیا یار فراموش\nیہ سبحہ فراموش وہ زنار فراموش\n\nدیکھا جو حرم کو تو نہیں دیر کی وسعت\nاس گھر کی فضا کر گیا معمار فراموش\n\nبھولے نہ کبھی دل سے مرا مصرع جانکاہ\nنالہ نہ کرے مرغ گرفتار فراموش\n\nدل سے نہ گئی آہ ہوس سیر چمن کی\nاور ہم نے کیا رخنہ دیوار فراموش\n\nیا نالہ ہی کر منع تو، یا گر یہ کو ناصح\nدو چیز نہ عاشق سے ہو یکبار فراموش\n\nبُھولا پھروں ہوں آپ کو ایک عمر سے لیکن\nتجھ کو نہ کیا دل سے میں زنہار فراموش\n\nدل درد سے کس طرح مرا خالی ہو سوداؔ\nوہ ناشنوا حرف میں گفتار فراموش\n------------------------------------------------------------\n\nجو گذری مجھے پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا\nبلا کشان محبت پہ جو ہوا سو ہوا\n\nمبادا ہو کوئی ظالم نرا گریباں گیر\nمرے لہو کو تو دہن سے دھو ہوا سو ہوا\n\nپہنچ چکا ہے سر زخم دل تلک یارو\nکوئی سیُو کوئی مرہم کرد ہوا سو ہوا\n\nکہے ہے سُن کے میری سرگذشت وہ بیرحم\nیہ کون ذکر ہے جانے بھی دو ہوا سو ہوا\n\nخدا کے واسطے آ درگذر گنہ سے مرے\nنہ ہو گا پھر کبھو اے تندخو ہوا سو ہوا​\n\nیہ کون حال ہے احوال دل پہ اے آنکھو\nنہ پھوٹ پھوٹ کے اتنا بہو ہوا سو ہوا\n\nدیا اسے دل و دیں اب یہ جان ہے سوداؔ\nپھر آگے دیکھئے جو ہو، سو ہو، ہوا سو ہوا\n------------------------------------------------------------\n\nناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں\nتڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں\n\nکیونکر نہ چاک چاک گریبانِ دل کروں\nدیکھوں جو تیری زلف کو میں دست شانے میں\n\nزینت دلیل مفلسی ہے ٹک کماں کو دیکھ\nنقش و نگار چھٹ نہیں کچھ اسکے خانے میں\n\nاے مرغِ دل سمجھ کے تو چشم طمع کو کھول\nتو نے سنا ہے دام جسے، ہے وہ دانے میں\n\nچلے میں کھینچ کھینچ کیا قد کو جوں کماں\nتیر مراد پر نہ بٹھایا نشانے میں\n\nپایا ہر ایک بات میں اپنے میں یوں تجھے\nمعنی کو جس طرح سخن عاشقانے میں\n\nدستِ گرہ کشا کو نہ تزئین کرے فلک\nمہندی بندھی نہ دیکھی میں انگشت شانے میں\n\nہمسا تجھے تو ایک ہمیں تجھ سے ہیں کئی\nجا دیکھ لے تو آپ کو آئینہ خانے میں\n\nسوداؔ خدا کے واسطے کر قصہ مختصر\nاپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میں\n------------------------------------------------------------\n\nافعی کو یہ طاقت ہے کہ اس سے بسر آوے\nوہ زلف سیہ اپنی اگر لہر پر آوے\n\nاصداف میں اس مہر کی پہچان اگر آوے\nہر ذرہ میں کچھ اور ہی جھمکا نظر آوے\n\nمجھ چشم سے اب اشک نہیں آنیکا ناصح\nآوے بھی غمِ دل سے تو لخت جگر آوے\n\nپھرتا ہوں ترے واسطے میں دربدر اے یار\nتجھ سے نہ ہوا یہ کہ کبھی میرے گھر آوے\n\nگویا دل عاشق بھی ہے اک فیل سیہ مست\nرُکتا نہیں روکے سے کسے کے جدھر آوے\n\nکہہ کہہ کے دُکھ اپنا میں کیا مغز کو خالی\nاتنا نہ ہوا سُن کے تری چشم بھر آوے​\n\nشیشہ نہ کہے راز مرے دل کا تو اے جام\nسرگوشی سے اس کی نہ تری چشم بھر آوے\n\nکیا ہو جو قفس تک مرے اب صحنِ چمن سے\nوہ برگ لئے گل کے نسیم سحر آوے\n\nسب کام نکلتے ہیں فلک تجھ سے و لیکن\nمیرے دل ناشاد کی امید بر آوے\n\nجب پھونکتے ناقوس صنم خانہ دل شیخ\nکعبہ کا ترے وجد میں دیوار و در آوے\n\nنامے کا جواب آنا تو معلوم ہے اے کاش\nقاصد کے بد و نیک کی مجھ تک خبر آوے\n\nمیں بھی ہوں ضعیف اسقدر اے مورکہ وہ آپ\nگذرے مرے سر سے جو تیرے تا کمر آوے\n\nسب سے کہے دیتا ہوں یہ کہہ دیں کہ پھر انا\nبالیں پہ مرے شور قیام اگر آوے\n\nدیتا ہے کوئی مرغ دل اس شوخ کو سوداؔ\nکیا قہر کیا تو نے غضب تیرے پر آوے\n\nاب لے تو گیا ہے پر اسے دیکھیو ناداں\nپل میں نہ اڑاتا وہ اگر بال و پر آوے\n\nخوبوں میں دلدہی کی روش کم بہت ہے یاں\nخواہان جاں جو چاہو تو عالم بہت ہے یاں\n\nغافل نہ رہ تو اہل تواضع کے حال سے\nتیغ و کماں کی طرح خم و چم بہت ہے یاں\n\nچشم ہوس اٹھا لے تماشے سے جوں حباب\nنادیدنی کا دید بس اک دم بہت ہے یاں\n\nخونِ جگر بآدم دلو زینہ ہے لگاؤ\nصورت معاش خلق کی برہم بہت ہے یاں\n\nآنکھوں میں دوں اس آئینہ رو کو جگہ ولے\nٹپکا کرے ہے بسکہ یہ گھر نم بہت ہے یاں\n\nکہتا ہے حال ماضی و مستقبل ایک ایک\nجامِ جہاں نما تو نہیں، جم بہت ہے یاں\n\nدیکھا جو باغ دہر تو مانند صبح و گل\nکم فرصتی ملاپ کی باہم بہت ہے یاں\n\nآیا ہوں تازہ دیں بحرم شیخُنا مجھے\nپوجن نماز سے بھی مقدم بہت ہے یاں\n\nسودا کر اس سے دل کی تسلی کے واسطے\nگوشہ سے چشم کے نگہ کم بہت ہے یاں​\n\nعداوت سے تمہاری کچھ اگر ہوسے تو میں جانوں\nبھلا تم زہر دے دیکھو اثر ہووے تو میں جانوں\n\nنہ اندیشہ کرو پیارے کہ شب ہے وصل کی تھوڑی\nتم اپنی زلف کو کھولو سحر ہووے تو میں جانوں\n\nہمارے تم سے جو عہد وفا ہوں انکو تم جانو\nمرے پیماں میں کچھ نوعِ دگر ہووے تو میں جانوں\n\nذرا تم مارِ کاکل کو مرے لب سے لگا دیکھو\nہزاروں سانپ کاٹیں پھر اثر ہووے تو میں جانوں\n\nخوباں سے جو دل ملا کرے گا\nڈرتا ہوں یہی کہ کیا کرے گا\n\nآوے بھی مسیحا مرے بالیں پہ تو کیا ہو\nبیمار یہ ایسا تو نہیں جو کو شفا ہو\n\nجور و جفا پہ یار کی دل مت نگاہ کر\nاپنی طرف سے ہووے جہاں تک نباہ کر\n\nخاک و خوں میں صورتیں کیا کیا نہ ملیاں دیکھیاں\nاے فلک باتیں تری کوئی نہ بھلیاں دیکھیاں\n\nآہ میں اپنی اثر ڈھونڈے ہے اے مجذوبؔ تو\nبید مجنوں کی نہ شاخیں ہم نے پھلیاں دیکھیاں\n\nبس اب تیرے تاثیر اے آہ دیکھی\nنہ آیا وہ کافر بہت راہ دیکھی\n\nخاموش جو اتنا ہوں مجھے گنگ نہ سمجھو\nاک عرض تمنا ہے کہ آ لب پہ آڑی ہے\n\nچاہوں مدد کسے سے نہ اغیار کے لئے\nمیں بھی تو یار! کم نہیں دو چار کے لئے​\n\nطوبےٰ تلے میں بیٹھ کے روؤں گا بار بار\nجنت میں تیرے سایہ دیوار کے لئے\n\nہے درد سر ہی بلبل آزاد کی صفیر\nموزوں ہے نالہ مرغِ گرفتار کے لئے​\n\nاے میر سمجھیو مت مجذوب کو اوروں سا\nہے وہ خلفِ سودا اور اہل ہنر بھی ہے\n\nاشک آنکھ میں ہو عشق سے تا دلمیں غم رہے\nیہ گھر ہے وہ خراب کہ آتش میں نم رہے\n\nنکلے اگر قفس سے تو خاموش ہم صفیر\nصیاد نے سنایا ترانہ تو ہم رہے", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%85%D8%B1%D8%B2%D8%A7_%D9%81%D8%A7%D8%AE%D8%B1_%D9%85%DA%A9%DB%8C%D9%86"} {"title": "آب حیات/مرزا محمد رفیع سودا", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "سودا تخلص مرزا محمد رفیع نام، شہر دہلی کو اُن کےکمال سے فخر ہے، باپ مرزا محمد شفیع میرزایانِ کابل سے تھے، بزرگوں کا پیشہ سپاہ گری تھی، مرزا شفیع بطریقِ تجارت واردِ ہندوستان ہوئے۔ ہند کی خاکِ دامنگیر نے ایسے قدم پکڑے کہ یہیں رہے۔ بعض کا قول ہے کہ باپ کی سوداگری سوداؔ کے لئے وجہِ تخلص ہوئی لیکن بات یہ ہے کہ ایشیا کے شاعر ہر ملک میں عشق کا دم بھرتے ہیں اور سوداؔ اور دیوانگی عشق کے ہمزاد ہیں۔ اس لئے وہ بھی اِن لوگوں کے لئے باعثِ فخر ہے۔ چنانچہ اس لحاظ سے سوداؔ تخلص کیا اور سوداگری کی بدولت ایہام کی صنعت حصہ میں آئی۔\n\nسوداؔ ۱۱۲۵ء میں پیدا ہوئے، دہلی میں پرورش اور تربیت پائی، کابلی دروازہ کے علاقہ میں ان کا گھر تھا، ایک بڑے پھاٹک میں نشست رہتی تھی، شیخ ابراہیم ذوقؔ علیہ الرحمتہ اکثر ادھر ٹہلتے ہوئے جا نکلتے تھے۔ میں ہمرکاب ہوتا تھا۔ مرزا کے وقت کے حالات اور مقامات کے ذکر کر کے قدرتِ خدا کو یاد کیا کرتے تھے۔\n\nسوداؔ بموجب رسم زمانہ کے اول سلیمان قلی خاں داور کے پھر شاہ حاتم کے شاگرد ہوئے۔ شاہ موصوف نے بھی اپنے دیوان کے دیباچہ میں جو شاگردوں کی فہرست لکھی ہے اُس میں مرزا کا نام اس طرح لکھا ہے۔ جس سے فخر کی خوشبو آتی ہے۔ خوشا نصیب اِس اُستاد کے جس کی گود میں ایسا شاگرد پَل کر بڑا ہوا، خان آرزو کے شاگرد نہ تھے مگر ان کی صحبت سے بہت فائدے حاصل کئے۔ چنانچہ پہلے فارسی شعر کہا کرتے تھے۔ خان آرزو نے کہا کہ مرزا فارسی اب تمھاری زبان مادری نہیں، اس میں ایسے نہین ہو سکتے کہ تمھارا اہل زبان کے مقابل میں قابلِ تعریف ہو۔ طبع موزوں ہے۔ شعر سے نہایت مناسبت رکھتی ہے، تم اُردو کہا کرو تو یکتائے زمانے ہو گے۔ مرزا بھی سمجھ گئے اور دیرینہ سال اُستاد کی نصیحت پر عمل کیا۔ غرض طبیعت کی مناسبت اور مشق کی کثرت سے دلی جیسے شہر میں ان کی اُستادی نے خاص و عام سے اقرار لیا کہ ان کے سامنے ہی ان کی غزلیں گھر گھر اور کوچہ و بازار میں خاص و عام کی زبانوں پر جاری تھیں۔\n\n(مراز محمد زمان عرف سلیمان قلی خاں کے دادا اصفہان سے آئے تھے، یہ دلی میں پیدا ہوئے۔ نواب موسوی خاں کے ساتھ اعزاز سے زندگی بسر کرتے تھے۔ تین سو روپیہ مہینہ پاتے تھے اور شعر کہہ کہہ کر دل خوش کرتے۔ دیکھو مصحفی کا شعرائے فارسی کا تذکرہ۔)\n\nجب کلام کا شہرہ عالمگیر ہوا تو شاہ عالم بادشاہ اپنا کلام اصلاح کے لئے دینے لگے اور فرمائشیں کرنے لگے، ایک دن کسی غزل کے لیے تقاضا کیا۔ اُنھوں نے عذر بیان کیا، حضور نے فرمایا، بھئی مرزا کَے غزلیں روز کہہ لیتے ہو؟ مرزا نے کہا، پیر و مرشد جب طبیعت لگ جاتی ہے دو چار شعر کہہ لیتا ہوں۔ حضور نے فرمایا بھئی ہم تو پائخانہ میں بیٹھے بیٹھے چار غزلیں کہہ لیتے ہیں۔ ہاتھ باندھ کر عرض کی حضور، ویسی بُو بھی آتی ہے۔ یہ کہہ کر چلے آئے۔ بادشاہ نے پھر کئی دفعہ بلا بھیجا اور کہا کہ ہماری غزلیں بناؤ۔ ہم تمھیں ملک الشعراء کر دیں گے، یہ نہ گئے اور کہا کہ حضور کی ملک الشعرائی سے کیا ہوتا ہے۔ کرے گا تو میرا کلام ملک الشعراء کریگا اور پھر ایک بڑا مخمس شہرِ آشوب لکھا :\n\nکہا میں آج یہ سودا سے کیوں ہے ڈانواں ڈول​\n\nبے درد ظاہر بین کہتے ہیں کہ بادشاہ اور دربارِ بادشاہ کی ہجو کی ہے۔ غور دیکھو تو ملک کی دل سوزی میں اپنے وطن کا مرثیہ کہا ہے۔\n\nمرزا دل شکستہ ہو کر گھر میں بیٹھ رہے۔ قدردان موجود تھے۔ کچھ پرواہ نہ ہوئی۔ اِن میں اکثر روسا اور امراء خصوصاً مہربان خاں اور بسنت خاں ہیں جن کی تعریف میں قصیدہ کہا ہے۔\n\nکل حرص نام شخصے سودا پہ مہربان ہو\n\nبولا نصیب تیرے سب دولت جہاں ہو​\n\nحرص کی زبانی دنیا کی دولت اور نعمتوں کا ذکر کر کے خود کہتے ہیں کہ\n\nاے حرص جو کچھ کہا ہے تو نے یہ تجھ کو سب مبارک\n\nمیں اور میرے سر پر میرا بسنت خاں ہو​\n\nاِن لوگوں کی بدولت ایسی فارغ البالی سے گزرتی تھی کہ ان کے کلام کا شہرہ جب نواب شجاع الدولہ نے لکھنؤ میں سُنا تو کمالِ اشتیاق سے برادرِ من مشفق مہربان من لکھ کر خط مع سفر خرچ بھیجا اور طلب کیا، انھیں دلی کا چھوڑنا گوارہ نہ ہوا۔ جواب میں فقط اس رباعی پر حُسنِ معذرت کو ختم کیا :\n\nسودا پے دنیا تو بہر سو کب تک؟\n\nآوارہ ازیں کوچہ بآں کو کب تک؟\n\nحاصل یہی اس سے نہ کہ دنیا ہووے\n\nبالفرض ہوا یوں بھی تو پھر تو کب تک؟​\n\nکئی برس کے بعد وہ قدردان مر گئے، زمانے بدل گئے، سودا بہت گھبرائے۔ اس عہد میں ایسے تباہ زدوں کے لئے دہ ٹھکانے تھے، لکھنؤ یا حیدر آباد۔ لکھنؤ پاس تھا اور فیض و سخاوت کی گنگا بہہ رہی تھی، اس لئے جو دلی سے نکلتا تھا اِدھر ہی رُخ کرتا تھا اور اتنا کچھ پاتا تھا کہ پھر دوسری طرف خیال نہ جاتا تھا۔ اس وقت حاکم بلکہ وہاں کے محکوم بھی جویائے کمال تھے۔ نُقطے کو کتاب کے مولوں خریدتے تھے۔\n\nغرض ۶۰ یا ۶۶ برس کی عمر میں دلی سے نکل کر چند روز فرخ آباد میں نواب بنگش کے پاس رہے۔ اُن کی تعریف میں بھی کئی قصیدے موجود ہیں۔ وہاں سے ۱۱۸۵ھ میں لکھنؤ پہنچے۔ نواب شجاع الدولہ کی ملازمت حاصل کی، وہ بہت اعزاز سے ملے اور ان کے آنے پر کمال خورسندی ظاہر کی۔ لیکن یا تو بے تکلفی سے یا طنز سے اتنا کہا کہ مرزا وہ رُباعی تمھاری اب تک میرے دل پر نقش ہے، اور اسی کو مکرر پڑھا۔ اُنھیں اپنے حال پر بڑا رنج ہوا اور بپاسِ وضعداری پھر دربار نہ گئے، یہاں تک کہ شجاع الدولہ مر گئےا ور آصف الدولہ مسند نشین ہوئے۔\n\nلکھنؤ میں مرزا فاخر مکیںؔ زبانِ فارسی کے مشہور شاعر تھے، ان سے اور مرزا رفیع سے بگڑی اور جھگڑے نے ایسا طول کھینچا کہ نواب آصف الدولہ کے دربار تک نوبت پہنچی (عنقریب اس کا حال بہ تفصیل بیان کیا جائے گا) انجام یہ ہوا کہ علاوہ انعام و اکرام کے چھ ہزار روپیہ سالانہ وظیفہ ہو گیا اور نواب نہایت شفقت کی نظر فرمانے لگے۔ اکثر حرم سرا میں خاصہ پر بیٹھے ہوتے اور مرزا کی اطلاع ہوتی، فوراً باہر نکل آتے، شعر سُن کر خوش ہوتے اور اُنھیں انعام سے خوش کرتے تھے۔\n\nجب تک مرزا زندہ رہےنواب مغفرت مآب اور اہلِ لکھنؤ کی قدردانی سے ہر طرح فارغ البال رہے۔ تقریباً ستر برس کی عمر میں ۱۱۹۵ھ میں وہیں دُنیا سے (فخر الدین نے تاریخ کہی : \"بولے منصف دُور کر پائے عناد – شاعرانِ ہند کا سرور گیا\" ۱۱۹۵ھ مصحفی نے کہا کہ \"دوا لجاوآں سخنِ دلفریب او۔ ۱۱۹۵ھ، میر قمر الدین منت نے کہا \"بگفت گوہر معنی یتیم شد ہی ۱۱۹۵ھ) انتقال کیا، شاہ حاتم زندہ تھے، سُن کر بہت روئے اور کہا کہ افسوس ہمارا پہلوانِ سخن مر گیا۔\n\nحکیم قدرت اللہ خاں قاسم فرماتے ہیں کہ اواخر عمر میں مرزا نے دلی چھوڑی۔ تذکرہ دل کشا میں ہے کہ ۶۶ برس کی عمر میں مر گئے۔ تعجب ہے کہ مجموعہ سخن جو لکھنؤ میں لکھا گیا ہے اس میں ہے کہ مرزا عالمِ شباب میں وارد لکھنؤ ہوئے۔ غرض چونکہ شجاع الدولہ ۱۱۸۸ھ میں فوت ہوئے تو مرزا نے کم و بیش ۷۰ برس کی عمر پائی۔\n\nان کے بعد کمال بھی خاندان سے نیست و نابود ہو گیا۔ راقم آثم ۱۸۵۸ء میں لکھنؤ گیا۔ بڑی تلاش کے ایک شخص ملے کہ ان کے نواسے کہلاتے تھے، بیچارے پڑھے لکھے بھی نہ تھے اور نہایت آشفتہ حال تھے۔ سچ ہے :\n\nمیراث پدر خواہی علمِ پدر آموز\n\nبندہ عشق شدی ترکِ نسب کن جامی\n\nکاندریں راہ فلاں ابنِ فلاں چیزے نیست​\n\nان کا کلیات ہر جگہ مل سکتا ہے اور قدر و منزلت کی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے۔ حکیم سید اصلح الدین خاں نے ترتیب دیا تھا اور اس پر دیباچہ بھی لکھا تھا۔ تھوڑی دیر کے لئے پُرانے محاوروں سے قطعِ نظر کر کے دیکھیں تو سرتاپا نظم اور افشائے اُردو کا دستور العمل ہے، اول قصائد اُردو بزرگانِ دین کی مدح میں اور اہل و دل کی تعریف میں اسی طرح چند قصائد فارسی ۲۴ مثنویاں ہیں۔ بہت سی حکایتیں اور لطائف منظوم ہیں۔ ایک مختصر دیوان فارسی کا تمام و کمال دیوان ریختہ جس میں بہت سی لاجواب غزلیں اور مطلع، رباعیاں، مستزاد، قطعات، تاریخیں، پہلیاں، واسوخت، ترجیع بند، مخمس سب کچھ کہا ہے اور ہر قسم کی نظم میں ہجوئیں ہیں، جو ان کے مخالفوں کے دل و جگر کو کبھی خون اور کبھی کباب کرتی ہیں۔ ایک تذکرہ شعرائے اُردو کا ہے اور وہ نایاب ہے۔\n\nغزلیں اُردو میں پہلے سے بھی لوگ کہہ رہے تھے۔ مگر دوسرے طبقہ تک اگر شعراء نےکچھ مدح میں کہا ہے تو ایسا ہے کہ اُسے قصیدہ نہیں کہہ سکتے، پس اول قصائد کا کہنا اور پھر دھوم دھام سے اعلٰی درجہ فصاحت و بلاغت پر پہنچانا اِن کا فخر ہے، وہ اس میدان میں فارسی کے نامی شہسواروں کے ساتھ عناں در عناں ہی نہیں گئے، بلکہ اکثر میدانوں میں آگے نکل گئے، ان کے کلام کا زور شور انوریؔ اور خاقانیؔ کو دباتا ہے اور نزاکتِ مضمون میں عرجی و ظہوری کو شرماتا ہے۔\n\nمثنویاں ۲۴ ہیں اور اکثر حکایتیں اور لطائف وغیرہ ہیں۔ وہ سب نظم اور فصاحتِ کلام کے اعتبار سے اِن کا جوہر طبعی ظاہر کرتی ہیں۔ مگر عاشقانہ مثنویاں ان کے مرتبہ کے لائق نہیں۔ میر حسن مرحوم تو کیا، میر صاحب کے شعلہ عشق اور دریائے عشق کو بھی نہیں پہنچیں۔ فارسی کے مختصر دیوان میں سب ردیفیں پوری ہیں، زورِ طبع اور اُصولِ شاعرانہ سب قائم ہیں، صائب کا انداز ہے مگر تجربہ کار جانتے ہیں کہ ایک زبان کی مشق اور مزاولت دوسری زبان کے اعلٰے درجہ کمال پر پہنچنے میں سنگ راہ ہوتی ہیں، چنانچہ شیخ مصحفی نے اپنے تذکرہ میں لکھا ہے \"آخر آخر خیال شعر فارسی ہم پیدا گرد۔ مگر از فہم و عقلش ایں امر بعید بود کہ کرد، غرض غزلہائے فارسی خود نیز کہ در لکھنؤ گفتہ بقید ردیف ترتیب دادہ داخل دیوانِ ریختہ نمودہ و ایں ایجادِ اوست۔\" دیوانِ ریختہ (وقت کی زبان سے قطع نظر کر کے) باعتبار جوہر کلام کے سرتاپا مرصع ہے، بہت سی غزلیں دلچسپ اور دلپسند بحروں میں ہیں کہ اس وقت تک اُردو میں نہیں آئی تھیں۔ زمینیں سنگلاخ ہیں اور ردیف قافیتے بہت مشکل ہیں۔ جس پہلو سے اُنھیں جما دیا ہے ایسے جمے ہیں کہ دوسرے پہلو سے کوئی ہٹائے تو تمھیں معلوم ہو۔\n\nگرمی کلام کے ساتھ ظرافت جو اُن کی زبان سے ٹپکتی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ بڑھاپے تک شوخیِ طفلانہ ان کے مزاج میں اُمنگ دکھاتی تھی۔ مگر ہجوؤں کا مجموعہ جو کلیات میں ہے، اس کا ورق ورق ہنسنے والوں کے لئے زعفرانِ زار کشمیر کی کیاریاں ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طبیعت کی شگفتگی اور زندہ دلی کسی طرح کے فکر و تردد کو پاس نہ آنے دیتی تھی۔ گرمی اور مزاج کی تیزی بجلی کا حکم رکھتی تھی اور اس شدت کے ساتھ کہ نہ کوئی انعام اسے بجھا سکتا تھا نہ کوئی خطرہ اسے دبا سکتا تھا۔ نتیجہ اس کا یہ تھا کہ ذرا سی ناراضی میں بے اختیار ہو جاتے تھے، کچھ اور بس نہ چلتا تھا، جھٹ ایک ہجو کا طومار تیار کر دیتے تھے۔\n\nغنچہ نام اِن کا ایک غلام تھا، ہر وقت خدمت میں حاضر رہتا تھا اور ساتھ قلمدان لئے پھرتا تھا، جب کسی پر بگڑتے تو فوراً پکارتے \"ارے غنچہ لا تو قلمدان، ذرا میں اس کی خبر تو لوں، یہ مجھے سمجھا کیا ہے۔\" پھر شرم کی انکھیں بند اور بیحیائی کا منھ کھول کر وہ بے نقط سُناتے تھے کہ شیطان بھی امان مانگے۔\n\nعربی اور فارسی دو ذخیرہ وار اُردو کے ہیں، انکے خزانے میں ہجووں کے تھیلے بھرے ہیں، مگر اسوقت تک اُردو کے شاعر صرف ایک دو شعروں میں دل کا غبار نکال لیتے تھے۔ یہ طرزِ خاص کہ جس سے ہجو ایک موٹا ٹہنا اس باغِ شاعری کا ہو گئی، انہی کی خوبیاں ہیں، عالم، جاہل، فقیر، امیر، نیک، بد، کسی کی ڈاڑھی انکے ہاتھ سے نہیں بچی۔ اس طرح پیچھے پڑتے تھے کہ انسان جان سے بیزار ہو جاتا تھا مگر میرضاحک فدوی، مکین، بقا (بقا تخلص، بقاء اللہ خاں نام، اکبر آباد وطن تھا، دہلی میں پیدا ہوئے تھے، لکھنؤ میں جا رہے۔ حافظ لطف اللہ خوشنویس کے بیٹے تھے اور مرزا اور میر صاحب کے معاصر تھے۔ شاہ حاتم سے ریختہ کی اصلاح لی تھی اور فارسی میں مرزا فاخر کے شاگرد تھے۔ طبیعت فنِ شعر کے لئے نہایت مناسب تھی۔ اردو زبان صاف، ایک مطلع ان کا اہل سخن کے جلسوں میں ضرب المثل چلا آتا ہے، لاجواب ہے۔ دیکھو صفحہ ۳۶۲، میرؔ اور سودا دونوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں :\n\nمیر و مرزا کی شعر خوانی نے\n\nبسکہ عالم میں دھوم ڈالی تھی\n\nکھول دیوان دونوں صاحب کے\n\nاے بقاؔ ہم نے جب زیارت کی\n\nکچھ نہ پایا سوائے اس کے سخن\n\nایک تو تو کہے ہے اک ہی ہی​\n\nوغیرہ اہلِ کمال نے بھی چھوڑا نہیں، ان کا کہا انھیں کے دامن میں ڈالا ہے، البتہ حُسنِ قبول اور شہرتِ عام ایک نعمت ہے کہ وہ کسی کے اختیار میں نہیں انھیں خدا نے دی، وہ محروم رہے۔ مرزا نے جو کچھ کہا بچے بچے کی زبان پر ہے۔ انھوں نے جو کہا وہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ انھیں میں سے ایک شعر ہے کہ فدوی (فدوی اصل میں ہندو تھے، مکند رام نام تھا، مسلمان ہو گئے تھے۔ پنجاب وطن تھا، علم کم مگر طبیعت مناسب تھی، شعر اُردو کہتے تھے، صابر علی شاہ کے شاگرد تھے اور فقیرانہ وضع سے زندگی بسر کرتے تھے۔ مشاعرہ میں جاتے تو کبھی بیٹھتے کبھی کھڑے ہی کھڑے غزل پڑھتے اور چلے جاتے تھے۔ جب انھوں نے احمد شاہ کی تعریف میں قصیدہ کہا تو بادشاہ نے ہزار روپیہ نقد اور گھوڑا اور تلوار انعام دی۔ ان کا بھی دماغ بلند ہوا، اور دعوےٰ ملک الشعراء کا کرنے لگے۔ کچھ مرزا پر اعتراض کئے (بقیہ صفحہ 190 پر) کی طبع موزوں سے مرزا صاحب کی شان میں واقع ہوا ہے۔\n\nکچھ کٹ گئی ہے پیتی کچھ کٹ گیا ہے ڈورا\n\nدُم داب سامنے سے وہ اُڑ چلا لٹورا​\n\nبھڑوا ہے، مسخرا ہے سودا اسے ہوا ہے​\n\nمرزا نے جو راجہ نرپت سنگھ کے ہاتھی کی ہجو میں مثنوی کہی ہے۔ اس کے جواب میں بھی کسی نہ مثنوی لکھی ہے اور خوب لکھی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں :\n\nتم اپنے فیلِ معنی کو نکالو\n\nمرے ہاتھی سے دو ٹکر لڑا لو​\n\nسید انشاء نے لکھا ہے کہ دو ٹکریں چاہیے۔ یہ سید صاحب کی سینہ زوری ہے۔\n\nہجوؤں میں ایک ساقی نامہ ہے جس میں فوتی شاعری کی ہجو ہے۔ اصل میں قیام الدین (یہ صاحبِ کمال چاند پور کے رہنے والے تھے مگر فنِ شعر میں کامل تھے۔ اِن کا دیوان ہر گز میرؔ و مرزاؔ کے دیوان نے نیچے نہیں رکھ سکتے، مگر کیا کیجیے کہ قبولِ عام اور کچھ شے ہے شہرت نہ پائی۔ یہ اول شاہ ہدایت کے شاگرد ہوئے۔ اِن سے ایسی بگڑی کہ ۔۔۔۔ کہی، تعجب یہ ہے کہ شاہ موصوف باوجویکہ حد سے زیادہ خاکساری طبیعت میں رکھتے تھے مگر اُنھوں نے بھی ایک قطعہ ان کے حق میں کہا۔ پھر خواجہ میر دردؔ کے شاگرد ہوئے، ان کے حق میں بھی کہہ سُن کر الگ ہوئے، پھر مرزا کی خدمت میں آئے اور اُن سے پھر ملے۔ مرزا تو مرزا تھے اُنھوں نے سیدھا کیا۔)قائمؔ کی ہجو میں تھا، وہ بزرگ باوجود شاگردی کے مرزا سے منحرف ہو گئے تھے۔ جب یہ ساقی نامہ لکھا گیا تو گھبرائے اور آ کر خطا معاف کروائی۔ مرزا نے اُن کا نام نکال دیا۔\n\n(بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۸۹) اِس پر مرزا نے اُلو اور بنیے کی ہجو کہی۔ انجام کو طرفین کی ہجوئیں حد سے گزر گئیں۔ فدوی نواب ضابطہ خاں کے ہاں نوکر بھی ہو گئے تھے اور اخیر کو انھیں بھی لکھنؤ جانا پڑا۔ ان کا دیوان نہایت دلچسپ ہے اور ہر غزل کا خاتمہ پیغمبر صاحب کی نعت یا کسی اور امام کی مدح پر کرتے ہیں۔ زلیخا کا ترجمہ بھی نواب صاحب موصوف کی فرمائش سے نظم کیا ہے۔ گلزارِ ابراہیمی میں لکھا ہے کہ ایک برخود غلط آدمی تھا، مرزا کے مقابلہ کے لئے فرخ آباد میں آیا اور ذلت اٹھا کر گیا۔)\n\nاور فوقی ایک فرضی شخص کا نام ڈال دیا۔\n\nمرثیے اور سلام بھی بہت کہے ہیں، اس زمانہ میں مسدس کی رسم کم تھی۔ اکثر مرثیے چو مصرع ہیں مگر مرثیہ گوئی کی آج کی ترقی دیکھ کر اِن کا ذکر کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ شاید انہی مرثیوں کو دیکھ کر اگلے وقتوں میں مثل مشہور ہوئی تھی کہ بگڑا شاعر مرثیہ گو اور بگڑا گویا مرثیہ خوان۔ حق یہ ہے کہ مرثیہ کا شاعر گویا ایک مصیبت زدہ ہوتا ہے کہ اپنا دُکھڑا روتا ہے، جب کسی کا کوئی مر جاتا ہے تو غم و اندوہ کے عالم میں جو بے چارہ کی زبان سے نکلتا ہے سو کہتا ہے اس پر کون بے درد ہے جو اعتراض کرے۔ وہاں صحت و غلطی اور صنائع و بدائع کو کیا ڈھونڈھنا۔ یہ لوگ فقط اعتقاد مذہبی کو مد نظر رکھ کر مرثیے و سلام کہتے تھے، اس لئے قواعدِ شعری کی احتیاط کم کرتے تھے اور کوئی اس پر گرفت بھی نہ کرتا، پھر بھی مرزا کی تیغ زباں جب اپنی اصالت دکھاتی ہے تو دلوں میں چُھریاں ہی مار جاتی ہے۔ ایک مطلع ہے :\n\nیارو سنو تو خالق اکبر کے واسطے\n\nانصاف سے جو اب دو حیدر کیواسطے\n\nوہ بوسہ گہ بنی تھی پیمبر کے واسطے\n\nیا ظالموں کے برش خنجر کے واسطے​\n\nباوجود عیوب مذکورہ بالا کے جہاں کوئی حالت اور روائداد دکھاتے ہیں، پتھر کا دل ہو تو پانی ہوتا ہے اور وہ ضرور آج کل کے مرثیہ گویوں کو دیکھنی چاہیے کیونکہ یہ لوگ اپنے زورِ کمال میں آ کر اس کوچہ سے نکل گئے ہیں (لطف یہ ہے کہ اس زمانہ کے لوگ سودا کے مرثیوں کو کہتے تھے کہ ان میں مرثیت نہیں، شاعری ہے اور سوداؔ خود بھی ان کی بے انصافی سے نالاں ہیں۔)\n\nواسوخت، مخمس، ترجیح بند، مستزاد، قطعہ، رباعیاں، پہیلیاں وغیرہ اپنی اپنی طرز میں لاجواب ہے۔ خصوصاً تاریخیں بے کم و کاست ایسی برمحل و برجستہ واقع ہوئی ہیں کہ ان کےعدم شہرت کا تعجب ہے۔ غض جو کچھ کہا ہے اسے اعلٰے درجہ کمال پر پہنچایا ہے، مرزا کی زبان کا حال نظم میں تو سب کو معلوم ہے کہ کبھی دودھ سے کبھی شربت، مبر نثر میں بڑی مشکل ہوتی ہے۔ فقط مصری کی ڈلیاں چبانی پڑتی ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ نثر اُردو ہے مگر مرزا بیدل کی نثر فارسی معلوم ہوتی ہے۔ کتابِ مذکور اس وقت موجود نہیں لیکن ایک دیباچہ میں اُنھوں نے تھوڑی سی نثر بھی لکھی ہے۔ اس سے افسانہ مذکور کا انداز معلوم ہو سکتا ہے۔ دیکھو صفحہ ۳۴۔\n\nکل اہلِ سخن کا اتفاق ہے کہ مرزا اس فن میں استاد مسلم الثبوت تھے۔ وہ ایسی طبیعت لے کر آئے تھے جو شعر اور فنِ انشاء ہی کے واسطے پیدا ہوئی تھی۔ میرؔ صاحب نے بھی اُنھیں پورا شاعر مانا ہے۔ ان کا کلام کہتا ہے کہ دل کا کنول ہر وقت کھلا رہتا تھا، اس پر سب رنگوں میں ہم رنگ اور ہر رنگ میں اپنی ترنگ، جب دیکھو طبیعت شورش سے بھری اور جوش و خروش سے لبریز، نظم کی ہر فرع میں طبع آزمائی کی ہے اور رُکے نہیں۔ چند صفتیں خاص ہیں، جن سے کلام اُن کا جملہ شعراء سے ممتاز معلوم ہوتا ہے۔ اول یہ کہ زبان پر حاکمانہ قدرت رکھتے ہیں۔ کلام زورِ مضمون کی نزاکت سے ایسا دست و گریبان ہے، جیسے آگ کے شعلہ میں گرمی اور روشنی، بندش کی چُستی اور ترکیب کی درستی سے لفظوں کو اس دردبست کے ساتھ پہلو بہ پہلو جڑتے ہیں، گویا ولایتی طپنچہ کی چانپیں چڑھی ہوئی ہیں اور یہ خاص اُن کا حصہ ہے۔ چنانچہ جب اُن کے شعر میں سے کچھ بھول جائیں تو جب تک وہی لفظ وہاں نہ رکھے جائیں شعر مزا ہی نہیں دیتا، خیالات نازک اور مضامین تازہ باندھتے ہیں مگر اس باریک نقاشی پر اُن کی فصاحت آئینہ کا کام دیتی ہے تشبیہ اور استعارے ان کے ہاں ہیں مگر اسی قدر کہ جتنا کھانے میں نمک یا گلاب کے پھول پر رنگ، رنگینی کے پردہ میں مطلب اسلی کو گم نہیں ہونے دیتے۔\n\nاِن کی طبیعت ایک ڈھنگ کی پابند نہ تھی۔ نئے نئے خیال اور چٹختے قافیئے جس پہلو سے جمتے دیکھتے تھے جما دیتے تھے، اور وہی ان کا پہلو ہوتا تھا کہ خواہ مخواہ سننے والوں کو بھلے معلوم ہوتے تھے۔ یا ان کی خوبی تھی کہ جو بات اس سے نکلتی تھی اس کا انداز نیا معلوم ہوتا تھا، زبان کے ہمعصر استاد خود اقرار کرتے تھے کہ جو باتیں ہم کاوش اور تلاش سے پیدا کرتے ہیں وہ اس شخص کے پیش پا اُفتادہ ہیں۔\n\nجن اشخاص نے زبان اُردو کو پاک صاف کیا ہے مرزا کا اُن میں پہلا نمبر ہے۔ اُنھوں نے فارسی محاوروں کو بھاشا میں کھپا کر ایسا ایک کیا ہے، جیسے علم کیمیا کا ماہر ایک مادہ کو دوسرے مادہ میں جذب کر دیتا ہے اور تیسرا مادہ پیدا کر دیتا ہے کہ کسی تیزاب سے اُس کا جوڑ کھل نہیں سکتا۔ انھوں نے ہندی زبان کو فارسی محاوروں اور استعاروں سے نہایت زور بخشا، اکثر ان میں سے رواج پا گئے، اکثر آگے نہ چلے۔\n\nانھیں کا زورِ طبع تھا، جس کی نزاکت سے دو زبانیں ترتیب پا کر تیسری زبان پیدا ہو گئی، اور اُسے ایسی قبولیت عام حاصل ہوئی کہ آیندہ کے لئے وہی ہندوستان کی زبان ٹھہری، جس نے حکام کے درباروں اور علوم کے خزانوں پر قبضہ کیا۔ اسی کی بدولت ہماری زبان فصاحت اور انشاء پردازی کا تمغہ لے کے شائستہ زبانوں کے دربار میں عزت کی کُرسی پائے گی۔ اہل ہند کو ہمیشہ ان کی عظمت کے سامنے ادب اور ممنونی کا سر جھکانا چاہیے۔ ایسی طبیعتیں کہاں پیدا ہوتی ہیں کہ پسند عام کی نبض شناس ہوں، اور وہی باتیں نکالیں، جن پر قبول عام رجوع کر کے سالہا سال کے لئے رواج کا قبالہ لکھ دے۔\n\nہر زبان کے اہلِ کمال کی عادت ہے کہ غیر زبان کے بعض الفاظ میں اپنے محاورہ کا کچھ نہ کچھ تصرف کر لیتے ہیں، اس میں کسی موقع پر قادر الکلامی کا زور دکھانا ہوتا ہے، کسی موقع پر محاورہ عام کی پابندی ہوتی ہے، بے خبر کہہ دیتا ہے کہ غلطی کی، مرزا نے بھی کہیں کہیں ایسے تصرف کئے ہیں، چنانچہ ایک جگہ کہتے ہیں :\n\nجیسے کہتا ہے کوئی ہو ترا صفًا صفًا​\n\nایک غزل میں کہتے ہیں :\n\nلب و لہجہ ترا سا ہے گا کب خوبانِ عالم میں\n\nغلط الزام ہے جگ یں کہ سب مصری کی ڈلیاں ہیں\n\nکل تو مست اس کیفیت سے تھا کہ آتے دیر سے\n\nنظر بھر جو مدرسہ دیکھا سو وہ میخانہ تھا\n\nساق سیمیں کو ترے دیکھ کے گوری گوری\n\nشمع مجلس میں ہوئی جاتی ہے تھوڑی تھوڑی\n\nاپنے کعبہ کی بزرگی شیخ جو چاہے سو کر\n\nاز روئے تاریخ تو بیش از صنم خانہ نہیں​\n\nفارسی محاورہ کو دیکھنا چاہیے کہ کس خوبصورتی سے بول گئے ہیں :\n\nہے مجھے فیضِ سخن اِس کی ہی مداحی کا\n\nذات پر جس کی میرہن کنہ عزوجل\n\nبہت ہر ایک سے ٹکرا کے چلے تھے، کالا\n\nہو گیا دیکھ کے وہ زلفِ سیہ فام سفید\n\nخیال ان انکھڑیونکا چھوڑ مت مرنیکے بعد از بھی\n\nدلا آیا جو تو اس میکدہ میں جام لیتا جا​\n\nسوداؔ کہتا ہے نہ خوباں سے مِل اتنا\n\nتو اپنا غریب عاجز دل بیچنے والا\n\nعاشق بھی نامراد ہیں پر اس قدر لپ پ،\n\nدل کو گنوا بیٹھ رہے صبر کر کے ہم​\n\nیہاں ردیف میں تصرف کیا ہے کہ ے حذف ہو گئی ہے۔ اسی طرح عاجز میں ع، حکیم کی ہجو میں کہتے ہیں :\n\nلکھ دیا مجنوں کو شیر شتر\n\nکہہ دیا مستسقی سے جا فصد کر\n\nایک کہانی میں لکھتے ہیں :\n\nقضا کار وہ دائیِ نامدار\n\nہوئی دردِ قولنج سے بے قرار​\n\nمرزا اکثر ہندی کے مضمون اور الفاظ نہایت خفیف طور پر تضمین کر زبان ہند کی اصلیت کا حق ادا کرتے تھے، اس لطف میں یہ اور سید انشاء شامل ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں :\n\nترکش الینڈ سینہ عالم کا چھان مارا\n\nمژگاں نے تیرے پیارے ارجن کا بان مارا\n\nمحبت ۔۔۔ کروں بھیج بل کی تعریف کیا یارو\n\nستم پربت ہو تو اس کو اُٹھا لیتا ہے جوں رائی\n\nنہیں ہے گھر کوئی ایسا جہاں اسکو نہ دیکھا ہو\n\nکنھیا سے نہیں کچھ کم صنم میرا وہ ہرجائی\n\nساون کے بادلوں کی طرح سے بھرے ہوئے\n\nیہ نین ہیں کہ جن سے یہ جنگل ہرے ہوئے\n\nبوندی کے جمدھرں سے بھڑتے ہیں ہم وگر\n\nلڑکے مجھ آنسوؤں کے غضب منکرے ہوئے\n\nاے دل یہ کس سے بگڑی کہ آتی ہے فوجِ اشک\n\nلختِ جگر کی لاش کو آگے دھرے ہوئے​\n\n(ہندوستان کا قدیم دستور ہے کہ جب سپہ سالار لڑائی میں مارا جاتا تھا تو اس کی لاش کو آگے لے کر تمام فوج کے ساتھ دھاوا کر دیتے تھے۔ سر مہند پر جب دُرانی سے فوج شاہی کی لڑائی ہوئی اور نواب قمر الدین خاں مارے گئے تو میر منوان کے بیٹے نے یہی کیا اور فتحیاب ہوا۔)\n\nمرزا کود الفاظ تراشتے تھے اور اس خوب صورتی سے تراشتے تھے کہ مقبول خاص و عام ہوتے تھے۔ آصف الدولہ مرحوم کی تعریف میں ایک قصیدہ کہا ہے۔ چند شعر اس کے لکھتا ہوں، مضامین ہندی کے ساتھ الفاظ کی خوبصورت تراش کا لطف دیکھو :\n\nتیرے سایہ تلے ہے تو وہ مہنت\n\nپشہ کر جائے دیو دود سے لڑ نت\n\nنام سُن، پیل کوہ پیکر کے\n\nبہہ چلیں جوئے شیر ہو کر ونت\n\nسحر صولت کے سامنے تیرے\n\nسامری بھول جائے اپنی پڑھنت\n\nتیری ہیبت سے یہ فلک کے تلے\n\nکانپتی ہے، زمیں کے بیچ گڑنت\n\nتکلے کی طرح بَل نکل جاوے\n\nتیرے آگے جو وہ کڑے اکڑنت\n\nدیکھ میداں میں اس کو روزِ نبرد\n\nمنھ پہ راون کے پھول جائے بسنت\n\nتگتگِ پا اگر سُنے تیرے\n\nداب کر دُم کِھسک چلے ہنونت\n\nآوے بالفرض سامنے تیرے\n\nروز بیجا کے سوریا ساونت\n\nتن کا اِن کے زرہ میں ہو یوں حال\n\nمرغ کی مام میں ہو جو پھڑکنت​\n\nاسی طرح باقی اشعار ہیں، مُرغ کی پھڑکنت، جل کر بھسمنت،تیر کی کمان کی سرکنت، زمین میں کھدنت، گھوڑے کی کڑکنت اور ڈپنت، جَودَنت (مقابل) دبکنت (ڈر کر دبکنا) رویاہ شیر کو سمجھتی ہے کیا پشمنت، نچنت (بیفکر) روپیوں کی بکھرنت، تاروں کی چھٹکنت، لپٹنت (لپٹنا)، پڑھنت (پڑھنا) کھٹنت (کھٹنا) عام شعرائے ہند و ایران کی طرح سب تصنیفات ایک کلیات میں ہیں، اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ کون سا کلام کس وقت کا ہے، اور طبیعت نے وقت بوقت کس طرف میل کیا ہے، خصوصاً یہ کہ زبان میں کب کب کیا کیا اصلاح کی ہے یہ اتفاقی موقع میرؔ صاحب کو ہاتھ آیا کہ چھ دیوان الگ الگ لکھ گئے۔ تبقدین اور متاخرین کے کلاموں کے مقابلے کروانے والے کہتے ہیں کہ ان کے دفتر تصنیفات میں ردی بھی ہے اور وہ بہت ہے۔ چنانچہ جس طرح میرؔ صاحب کے کلام میں بہتر (۷۲) نشتر بتاتے ہیں، ان کے زبردست کلام میں سے بہتر (۷۲) خنجر تیار کرتے ہیں۔ اس رائے میں مجھے بھی شامل ہونا پڑتا ہے کہ بے شک جو کلام آج کی طرف کے موافق ہے وہ ایسے مرتبہ عالی پر ہے جہاں ہمارے تعریف کی پرواز نہیں پہنچ سکتی اور دل کی پوچھو تو جن اشعار کو پُرانے محاوروں کے جرم میں ردی کرتے ہیں، آج کے ہزار محاورے اُن پر قربان، سُن لیجیے :\n\nگر کیجیے انصاف تو کی روز وفا میں\n\nخط آتے ہی سب ٹل گئے اب آپ ہیں یا میں\n\nتم جن کی ثنا کرتے ہو کیا بات ہے اِن کی\n\nلیکن ٹک ادھر دیکھیو اے یار بھلا میں\n\nکیفیتِ چشم اُس کی مجھے یاد ہے سوداؔ\n\nساغر کو مرے ہاتھ سے لیجیو کہ چلا میں​\n\nاُستاد مرحوم کہا کرتے تھے کہ جب سودا کے سامنے کوئی یہ شعر پڑھ دیتا تھا یا اپنی ہی زبان پر آ جاتا تو وجد کیا کرتے تھے اور مزے لیتے تھے، اسی انداز کا ایک شعر نظیری کا یاد آ گیا، اگرچہ فارسی ہے مگر جی نہیں چاہتا کہ دوستوں کو لطف سے محروم رکھوں :\n\nبوئے یارِ من ازیں سُست وفامی آید\n\nگلم از دست بگیرید کہ از کارشدم​\n\nبہارِ سخن کے گلچینو! وہ ایک زمانہ تھا کہ ہندی بھاشا کی زمین میں جہاں دوہروں کا سبزہ خودرَو اُگا ہوا تھا وہاں نظم فارسی کی تخم ریزی ہوئی تھی، اسی وقت فارسی بحروں میں شعر کہنا اور ادھر کے محاورات کو ادھر لینا اور فارسی مضامین کو ہندی لباس پہنانا ہی بڑا کمال تھا، اس صاحبِ ایجاد نے اپنے زورِ طبع اور قوتِ زبان سے صنعتوں اور فارسی کی ترکیبوں اور اچھوتے مضمونوں کو اس میں ترتیب دیا۔ اور وہ خوبی پیدا کی کہ ایہام اور تجنیس وغیرہ صنائع لفظی جو ہندی دوہروں کی بنیاد تھی، اُسے لوگ بھول گئے، ایسے زمانے کے کلام میں رطب دیابس ہو تو تعجب کیا، ہم اس الزام کا بُرا نہیں مانتے۔\n\nاس وقت زمینِ سخن میں ایک ہی آفت تو نہ تھی، اِدھر تو مشکلات مذکورہ، ادھر پُرانے لفظوں کا ایک جنگل، جس کا کاٹنا کٹھن، پس کچھ اشخاص آئے کہ چند کیاریاں تراش کر تخم ریزی کر گئے۔ ان کے بعد والوں نے جنگل کو کاٹا، درختوں کو چھانٹا، چمن بندی کو پھیلایا، جو ان کے پیچھے آئے، اُنھوں نے روش، خیاباں، داربست گلکاری نہال گلبن سے باغ سجایا، غرض عہد بعہد اصلاحیں ہوتی رہیں اور آیندہ ہوتی رہیں گی۔ جس زبان کو آج ہم تکمیلِ جاودانی کا ہار پہنائے خوش بیٹھے ہیں، کیا یہ ہمیشہ ایسی ہی رہے گی؟ کبھی نہیں، ہم کس منھ سے اپنی زبان کا فخر کر سکتے ہیں، کیا دورِ گذشتہ کا سماں بھول گئے، ذرا پھر کر دیکھو تو ان بزرگانِ متقدمین کا مجمع نظر آئے گا کہ محمد شاہی دربار کی کھڑکی دار پگڑیاں باندھے ہیں، پچاس پچاس گز گھیر کے جامے پہنے بیٹھے ہیں، وہاں اپنے کلام لے کر آؤ، جس زبان کو تم نئی تراش اور ایجاد و اختراع کا خلعت پہناتے ہو کیا وہ اُسے تسلیم کریں گے؟ نہیں ہرگز نہیں، ہماری وضع کو سفلہ اور گفتگو کو چھچھورا سمجھ کر منھ پھیر لیں گے، پھر ذرا سامنے دُوربین لگاؤ، دیکھو اُن تعلیم یافتہ لوگوں کو لین ڈوری آ چکی ہے جو آئے گا ہم پر ہنستا چلا جائے گا۔\n\nیہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں جانور\n\nاپنی اپنی بولیاں سب بول کر اُڑ جائیں گے​\n\nمرزا قتیل چار شربت میں فرماتے ہیں، مرزا محمد رفیع سوداؔ در ریختہ پایہ مُلا ظہوری دارد و غیر ازئیکہ زبانِ ہر دو باہر تخالف دارد فرقے نتواں کرد\" مرزا قتیل مرحوم صاحب کمال شخص تھے، مجھ بے کمال نے اِن کی تصنیفات سے بہت فائدے حاصل کئے ہیں، مگر ظہوری کی کیا غزلیں کیا قصائد دونوں استعاروں اور تشبیہوں کے پھندوں سے الجھا ہوا ریشم ہیں، سوداؔ کی مشابہت ہے تو انوریؔ سے ہے کہ محاورہ اور زبان کا حاکم اور قصیدہ اور ہجو جا بادشاہ ہے۔\n\nیہ بات بھی لکھنے کے قابل ہے کہ تصوف جو ایشیا کی شاعری کی مرغوب نعمت ہے، اس میں مرزا پھیکے ہیں۔ وہ حصہ خواجہ میر دردؔ کا ہے۔\n\nکہتے ہیں کہ مرزا قصیدہ کے بادشاہ ہیں، مگر غزل میں میر تقی کے برابر سوز و گداز نہیں، یہ بات کچھ اصلیت رکھتی ہے بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے بھی اس بات کے چرچے تھے چنانچہ خود کہتے ہیں :\n\nلوگ کہتے ہیں کہ سوداؔ کا قصیدہ ہے خوب\n\nاُن کی خدمت میں لئے میں یہ غزل جاؤنگا​\n\nیعنی دیکھو تو سہی غزل کچھ کم ہے۔\n\nقدرت اللہ خاں قاسمؔ بھی اپنے تذکرہ میں فرماتے ہیں \"زعم بعضے آنکہ سرآمدِ شعرائے فصاحت آقا مرزا محمد رفیع سودا اور غزل گوئی بوئے رسیدہ اماحق آفست کہ :\n\nہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است\n\nمرزا دریائیست بیکراں، و میر نہرست​\n\nعظیم الشان، درمعلوماتِ قواعد میر رابرتری ست و درقوتِ شاعری مرزا رابرمیرؔ سروری، اصل حقیقت یہ ہے کہ قصیدہ، غزل، مثنوی وغیرہ اقسامِ شعر میں ہر کوچہ کی راہ جدا جدا ہے، جس طرح قصیدہ کے لئے شکوہِ الفاظ اور بلندی مضامین، چستی ترکیب وغیرہ لوازمات ہیں، اسی طرح غزل کے لئے عاشق و معشوق کے خیالات عشقیہ صاف صاف نرم نرم، گویا وہی دونوں بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ اس کے ادائے مضامین کے الفاظ بھی اور ہیں اور اس کی بحریں بھی خاص ہیں۔ میر صاحب کی طبیعت قدرتی درد خیز اور دل حسرت انگیز تھا کہ غزل کی جان ہے۔ اس لئے ان کی غزلیں ہی ہیں اور خاص خاص بحور و قوافی میں ہیں۔ مرزا کہ طبیعت ہمہ رنگ اور ہمہ گیر، ذہن براق اور زبان مشاق رکھتے تھے، تو سنِ فکر اِن کا منھ زور گھوڑے کی طرح جس طرف جاتا تھا رُک نہ سکتا تھا، کوئی بحر اور کوئی قافیہ ان کے ہاتھ آئے تغزلی کی خصوصیت نہیں رہتی تھی۔ جس برجستہ مضمون میں بندھ جائے باندھ لیتے تھے، بے شک اِن کی غزلوں کے بھی اکثر شعر چستی اور درستی میں قصیدہ کا رنگ دکھاتے ہیں۔\n\nایک دن لکھنؤ میں میرؔ اور مرزا کے کلام پر دو شخصوں نے تکرار میں طول کھینچا۔ دونوں خواجہ باسط کے مرید تھے۔ انھیں کے پاس گئے اور عرض کی کہ اپ فرمائیں۔ اُنھوں نے کہا کہ دونوں صاحب کمال ہیں مگر فرق اتنا ہے کہ میر صاحب کا کلام آہ ہے اور مرزا صاحب کا کلام واہ ہے۔ مثال میں میر صاحب کا شعر پڑھا :\n\nسرھانے میرؔ کے آہستہ بولو\n\nابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے​\n\nپھر مرزا کا شعر پڑھا :\n\nسودا کے جو بالیں پہ ہوا شورِ قیامت\n\nخدام ادب بولے ابھی آنکھ لگی ہے\n\nلطیفہ در لطیفہ – ان میں سے ایک شخص جو مرزا کے طرفدار تھے وہ مرزا کے پاس بھی آئے اور سارا ماجرا بیان کیا، مرزا بھی میر صاحب کے شعر سُن کر مُسکرائے اور کہا شعر تو میرؔ کا ہے مگر داد خواہی ان کی دوا کی معلوم ہوتی ہے۔\n\nرسالہ عبرہ الغافلین طبعِ شاعر کے لئے سیڑھی کا کام دیتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا فقط طبعی شاعر نہ تھے بلکہ اس فن کے اصول و فروغ میں ماہر تھے۔ اِس کی فارسی عبارت بھی زباں دانی کے ساتھ ان کی شگفتگی اور شوخیِ طبع کا نمونہ ہے، اس کی تالیف ایک افسانہ ہے اور قابل سننے کے ہے، اس زمانہ میں اشرف علی نامی ایک شریف خاندانی شخص تھے۔ اُنھوں نے فارسی کے تذکروں اور اُستادوں کے دیوانوں میں سے ۱۵ برس کی محنت میں ایک انتخاب مرتب کیا اور تصحیح کے لئے مرزا فاخر مکیںؔ کے پاس لے گئے کہ ان دونوں فارسی کے شاعروں میں نامور وہی تھے۔ انھوں نے کچھ انکار، کچھ اقرار، بہت سے تکرار کے بعد انتخاب مذکور کو رکھا اور دیکھنا شروع کیا۔ مگر جابجا اُستادوں کے اشعار کو کہیں بے معنی سمجھ کر کاٹ ڈالا، کہیں تیغِ اصلاح سے زخمی کر دیا۔ اشرف علی خاں کو جب یہ حال معلوم ہوا تو گئے اور بہت سے قیل و قال کے بعد انتخابِ مذکور لے آئے، کتاب اصلاحوں سے چھلنی ہو گئی تھی۔ اس لئے بہت رنج ہوا۔ اسی عالم میں مرزا کے پاس لا کر سارا حال بیان کیا اور انصاف طلب ہوئے۔ ساتھ اس کے یہ بھی کہ آپ اسے درست کر دیجیے۔\n\nانھوں نے کہا کہ مجھے فارسی زبان کی مشق نہیں، اُردو میں جو چند لفظ جوڑ لیتا ہوں، خدا جانے دلوں میں کیونکر قبولیت کا خلعت پا لیا ہے۔ مرزا فاخر مکیں فارسی داں اور فارسی کے صاحبِ کمال ہیں۔ انھوں نے جو کچھ کیا ہو گا سمجھ کر کیا ہو گا۔ آپ کو اصلاح منظور ہے تو شیخ علی حزیںؔ مرحوم کے شاگرد شیخ آیت اللہ ثناؔ، میر شمس الدین فقیر کے شاگرد مرزا بھچو ذرہؔ تخلص موجود ہیں، حکیم بو علی خاں ہاتف بنگالہ میں، نظام الدین صانعؔ بلگرامی فرخ آباد میں، شاہ نور العین واقفؔ شاہجہاں آباد میں ہیں۔ یہ اُن لوگوں کے کام ہیں۔\n\nجب مرزا نے اِن نامور فارسی دانوں کے نام لئے تو اشرف علی خاں نے کہا کہ ان لوگوں کو تو مرزا فاخر خاطر میں بھی نہیں لاتے، غرضیکہ ان کے اصرار سے مرزا نے انتخاب مذکور کو رکھ لیا، دیکھا تو معلوم ہوا کہ جو جو باکمال سلف سے آجتک مسلم الثبوت چلے آتے ہیں اُن کے اشعار تمام زخمی تڑپتے ہیں۔ یہ حال دیکھ کر مرزا کو بھی رنج ہوا۔ بموجب صورتِ حال کے رسالہ عبرت الغافلین لکھا اور مرزا فاخر کی غلط فہمیوں کو اصول انشاء پردازی کے بموجب کماحقہ ظاہر کیا۔ ساتھ ان کے دیوان پر نظر ڈال کر اس کی غلط فہمیاں بھی بیان کیں اور جہاں ہو سکا اصلاح مناسب دی۔\n\nمرزا فاخر کو بھی خبر ہوئی، بہت گھبرائے اور چاہا کہ زبانی پیاموں سے ان داغوں کو دھوئیں، چنانچہ بقاء اللہ خاں بقاؔ کو گفتگو کے لئے بھیجا، وہ مرزا فاخر کے شاگرد تھے، بڑے مشاق اور باخبر شاعر تھے، مرزا اور ان سے خوب خوب گفتگوئیں رہیں، اور مرزا فاخر کے بعض اشعار جن کے اعتراضوں کی خبر اُڑتے اُڑتے اِن تک بھی پہنچ گئی تھی، ان پر رد و قدح بھی ہوئی، چنانچہ ایک شعر ان کا تھا :\n\n​گرفتہ بود دریں بزم چوں قدح دلِ من\n\nشگفتہ روئی صہبا شگفتہ کرد مرا​\n\nمرزا کو اعتراض تھا کہ قدح کو گرفتہ دل کہنا بیجا ہے، اہلِ انشاء نے ہمیشہ قدح کو کھلے پھولوں سے تشبیہ دی ہے یا ہنسی سے کہ اُسے بھی شگفتگی لازم ہے۔ بقاؔ نے جواب میں شاگردی کا پسینہ بہت بہایا اور اخیر کو باذل کا ایک شعر بھی سند میں لائے :\n\nچہ نشاط بادہ بخشد بمنِ خراب بے تو\n\nیہ دلِ گرفتہ ماند قدحِ شراب بے تو​\n\nمرزا رفیع سُن کر بہت ہنسے اور کہا کہ اپنے استاد سے کہنا کہ استادوں کے شعروں کو دیکھا کرو تو سمجھا بھی کرو، یہ شعر تو میرے اعتراض کی تائید کرتا ہے، یعنی باوجودیکہ پیالہ ہنسی اور شگفتگی میں ضرب المثل ہے اور پیالہ شراب سامانِ نشاط ہے مگر وہ بھی دلِ افسردہ کا حکم رکھتا ہے۔\n\nعرض جب یہ تدبیر پیش نہ گئی تو مرزا فاخر نے اور راہ لی، شاگرد لکھنؤ میں بہت تھے، خصوصاً شیخ زادے کہ ایک زمانہ میں وہی ملکِ اودھ کے حاکم بنے ہوئے تھے اور سینہ زوری اور سرشوری کے بخار ابھی تک دماغوں سے گئے نہ تھے۔ ایک دن سودا تو بے خبر گھر میں بیٹھے تھے وہ بلوہ کر کے چڑھ آئے۔ مرزا کے پیٹ پر چُھری رکھ دی اور کہا کہ جو کچھ تم نے کہا ہے وہ سب واپس لو اور ہمارے استاد کے سامنے چل کر فیصلہ کرو، مرزا کو مضامین کے گل پھول اور باتوں کے طوطے مینا تو بہت بنانے آتے تھے، مگر یہ مضمون ہی نیا تھا، سب باتیں بھول گئے۔ بچارنے نے جُزدان غلام کو دیا، خود میانے میں بیٹھے اور ان کے ساتھ ہوئے۔ گرووہ لشکر شیطان تھا۔ یہ بیچ میں تھے، چوک میں پہنچے تو اُنھوں نے چاہا کہ یہاں انھیں بے عزت کیجیے، کچھ تکرار کر کے پھر جھگڑنے لگے، مگر جسے خدا عزت دے، اُسے کون بے عزت کر سکتا ہے، اتفاقاً سعادت علی خاں کی سواری آ نکلی، مجمع دیکھ کر ٹھہر گئے اور حال دریافت کر کے سوداؔ کو اپنے ساتھ ہاتھی پر بٹھا کر لے گئے۔ آصف الدولہ حرم سرا میں دستر خوان پر تھے۔ سعادت علی خاں اندر گئے اور کہا بھائی صاحب بڑا غضب ہے آپ کی حکومت میں! اور شہر میں یہ قیامت۔ آصف الدولہ نے کہا کیوں بھئی خیر باشد، انھوں نے کہا کہ مرزا رفیع، جس کو باوا جان نے برادر من، مشفق مہربان کہہ کر خط لکھا، آرزوئیں کر کے بلایا اور وہ نہ آیا، آج وہ یہاں موجود ہے اور اس حالت میں ہے کہ اگر اس وقت میں نہ پہونچتا تو شہر کے بدمعاشوں نے اِس بیچارے کو بے حرمت کر ڈالا تھا اور پھر سارا ماجرا بیان کیا۔\n\nآصف الدولہ فرشتہ خصال گھبرا کر بولے کہ بھئی مرزا فاخر نے ایسا کیا تو مرزا کر کیا گویا ہم کو بے عزت کیا۔ باوا جان نے انھیں بھائی لکھا تو وہ ہمارے چچا ہوئے۔ سعادت علی خاں نے کہا کہ اس میں کیا شبہ ہے! اُسی وقت باہر نکل آئے۔ سارا حال سُنا، بہت غصہ ہوئے اور حکم دیا کہ شیخ زادوں کا محلہ کا محلہ اکھڑوا کر پھینک دو اور شہر سے نکلوا دو۔ مرزا فاخر کو جس حال میں ہو اسی حال سے حاضر کرو۔ سوداؔ کی نیک نیتی دیکھنی چاہیے، ہاتھ باندھ کر عرض کی کہ جناب عالی! ہم لوگوں کی لڑائی کاغذ قلم کے میدان میں آپ ہی فیصل ہو جاتی ہے، حضور اس میں مداخلت نہ فرمائیں، غلام کی بدنامی ہے۔ جتنی مدد حضور کے اقبال سے پہنچی ہے وہی کافی ہے۔ غرض مرزا رفیع باعزازو اکرام وہاں سے رخصت ہوئے، نواب نے احتیاطاً سپاہی ساتھ کر دیئے۔\n\nحریفوں کو جب یہ راز کھلا تو امرائے دربار کے پاس دوڑے، صلاح ٹھہری کہ معاملہ روپیہ یا جاگیر کا نہیں، تم سب مرزا فاخر کو ساتھ لے کر مرزا رفیع کے پاس چلے جاؤ اور خطا معاف کروا لو۔ دوسرے دن آصف الدولہ نے سردربار مرزا فاخر کو بھی بلایا اور کہا تمھاری طرف سے بہت نازیبا حرکت ہوئی۔ اگر شعر کے مردِ میدان ہو تو اب روبرو سوداؔ کے ہجو کہو۔ مرزا فاخر نے کہا \"ایں ازمانمے آید\"، آصف الدولہ نے بگڑ کر کہا درست، ایں از شمانمے آید، ایں مے آید کہ شیاطین خود را برسرِ میرزائے بےچارہ فرستاوند از خانہ ببارش کشیدند و مے خواستند آبرویش بخاک ریزند، پھر سوداؔ کی طرف اشارہ کیا، یہاں کیا دیر تھی، فی البدیہہ رباعی پڑھی :\n\nتو فخرِ خراسانی وفا ساقط ازد\n\nگوہر بدہاں داری وفا ساقط ازد\n\nروزان و شباں زحق تعالٰی خواہم\n\nمرکب و بدت، خدا و با ساقط ازد​\n\nیہ جھگڑا تو رفع دفع ہوا مگر دُور دُور سے ہجوؤں میں چوٹیں چلتی رہیں۔ لطف یہ ہے کہ مرزا فاخر کی کہی ہوئی ہجوئیں کوئی جانتا بھی نہیں۔ سودا نے جو کچھ اُن کے حق میں کہا وہ ہزاروں کی زبان پر ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%85%D8%B1%D8%B2%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%B1%D9%81%DB%8C%D8%B9_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7"} {"title": "آب حیات/ملک الشعراء خاقانی ہند شیخ ابراہیم ذوق", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "مزا انگور کا ہے رنگترے میں\nعسل زنبور کا ہے رنگترے میں\n\nہیں اثماء ہلالی اس کی پھانکیں\nیہ مضموں دور کا ہے رنگترے میں\n\nنہیں ہے اس کی پھانکوں میں یہ زیرا\nیہ لشکر مور کا ہے رنگترے میں\n\nہے گلگونِ مجسم یا بھرا خون\nکسی مہجور کا ہے رنگترے میں\n\nمزاج اب جس کا صفراوی ہے اے شوقؔ\nدل اس رنجور کا ہے رنگترے میں\n*-*-*-*-*-*-*\n\nلکھا ہوا ہے تھا یہ اس مہ جبیں کے پردے پر\nنہیں ہے کوئی اب ایسا زمیں کے پردے پر\n\nکزلکِ مژگاں چشم ستمگر آ کے جگر میں کُھوپ چلی\nآہ کی ہمدم ساتھ ادھر سے جنگ کو اپنے دھوپ چلی\n\nوعدہ کیا تھا شام کا مجھسے شوقؔ جنہوں نے کل دن کا\nآج وہ آئے پاس مرے جب ڈیڑھ پہر کی توپ چلی\n\nفاقے مست عدوے بد ایسا ہی چھٹی کا راجا ہے\nنانی جس کی آئی چھٹی میں دھوم سے لیکر گھی کھچڑی\n\nشیخ بگھارے شیخی اپنی مفت کے لقمے کھاتا ہے\nدودھ ملیدا کھاتے ہیں یا مست قلندر گھی کھچڑی​\n\nرکھتا بہر قدم ہے وہ یہ ہوش نقشِ پا\nہو خاکِ عاشقاں نہ ہم آغوش نقشِ پا\n\nاُفتادگاں کو بے سرو ساماں نہ جانیو\nدامانِ خاک ہوتا ہے روپوشِ نقشِ پا\n\nاعجاز پا سے تیرے عجب کیا کہ راہ میں\nبول اُٹھے منھ سے ہر لب خاموش نقشِ پا\n\nاس رو گذر میں کس کو ہوئی فرصت مقام\nبیٹھے ہے نقش و پا یہ سر دوس نقشِ پا\n\nجسمِ نزار خاک نشینان کوئے عشق\nیوں ہے زمیں پہ جیسے تن و توشِ نقشِ پا\n\nفیض برہنہ پائی مجنوں سے دشت میں\nہر آبلہ بنے ہے دُرِ گوشِ نقشِ پا​\n\nپابوس درکنار کہ اپنی تو خاک بھی\nپہونچی نہ ذوقؔ اس کے بہ آغوشِ نقشِ پا​\n\nجو تیری مدح میں میں چونچ اپنی وا کر دوں\nتو رشک باغ ارم اپنا گھونسلا کر دوں\n\nجو آ کے ریز کرے میرے آگے مسیقار\nتو ایسے کان مردزدوں کہ بے سرا کر دوں\n\nجو سرکشی کرے آگے مرے ہُما آ کر\nتو اس کے نوچ کے پر شکل نیولا کر دوں\n\nمیں کھانے والا ہوں نعمت کا اور میرے لئے\nفلک کہے ہے مقرر میں یا برا کر دوں​\n\nجز ترے شاہنشہا کہہ کس کے آگے روئیے\nکس کو کہیے جا کے یہ غم کو ہمارے کھوئیے\n\nتجھ کو ہے حق نے کیا ملک سخن کا شہسوار\nہیں بجا کرنے سمند طبع کویاں پوئیے\n\nحیف آتا ہے کہ فن شعر میں کیوں کھوئی عمر\nکاش کہ ہم سیکھتے اس سے بنانے بورئیے\n\nسنگلاخ ایسی زمیں ہے سوچ اے دل تاکجا\nفکر کیجیے صرف اس میں اور پتھر ڈھوئیے\n\nرشتہ عمر شہنشاہ جہاں ہووے دراز\nیا خدا کھلتے رہیں دنیا میں جب تک سوئیے\n\nدیدے اس کو بھی زمیں تھوڑی کہ بن گھر گھونسلے\nمارتا پھرتا ترا ہدہد ہے ٹاپک ٹوئیے​\n\nجہاں میں آج دیبی سنگھ تو راجوں کا راجہ ہے\nخدا کا فضل ہے جو قلعہ میں تو آ براجا ہے\n\nسلیماں نے ہے تیرے ہاتھ میں دی رزق کی کنجی\nتو سرداروں کا سردار اور مہاراجوں کا راجا ہے\n\nشکم اہل جہاں کے سب ہیں شکرانہ بجا لاتے\nدمامہ تیرا جا کر گنبد گردوں پہ باجا ہے\n\nکسی کو دے نہ دے تنخواہ تو مختار ہے اس کا\nمگر ہدہد کو دیدے کیوں؟ یہی ہدہد کا کھاجا ہے​\n\nہدہد کا مذاق ہے نرالا سب سے\nانداز ہے اک نیا نکالا سب سے\n\nسر دفترِ لشکر سلیماں ہے یہ\nاڑتا بھی ہے دیکھو بالا بالا سب سے\n\nراست آئینوں کو نفرت ہے کج آئینوں سے\nتیر نکلا جو کمان سے تو گریزاں نکلا\n\nآشیاں سے جو غزل پڑھنے کو ھدھدؔ آیا\nخل پڑا پیشرو ملک سلیماں نکلا​\n\nجسے کہتے ہیں ہدہدؔ وہ تو نر شیروں کا دادا ہے\nمقابل تیرے کیا ہو تو تو اک جرہ کی مادہ ہے\n\nگر اب کے بازڑی میداں میں آئی سامنے میرے\nتو دُم میں پَر نہ چھوڑوں گا یہی میرا ارادہ ہے\n\nمقرر باز جو اپنا تخلص ہے کیا تو نے\nہوا معلوم یہ اس سے کہ گھر تیرا کشادہ ہے\n\nادب اے بے ادب ابتک نہیں تجھ کو خبر اس کی\nکہ ہدہد سب جہاں کے طائروں کا پیرزادہ ہے​\n\nجون آیا ہے بدل اب کی عدو کوّے کی\nاس کی ہے پاؤں سے تا سر وہی خو کوّے کی\n\nوہی کاں کاں وہی کیں کیں وہی ٹاں ٹاں اسکی\nبات چھوڑی نہیں ہاں اک سرمو کوّے کی\n\nپہلے جانا تھا یہی سب نے کہ کوّا ہو گا\nپھر یہ معلوم کیا، ہے یہ سو کوّے کی\n\nبن کے کوا جو یہ آیا ہے تو اے ہدہد شاہ\nدم کتر دینے کو کچھ کم نہیں تو کوّے کی​\n\nیا تو افسر مرا شاہا نہ بنایا ہوتا\nیا مرا تاج گدایا نہ بنایا ہوتا\n\nورنہ ایسا جو بنایا نہ بنایا ہوتا\n\nنشہ عشق کا گر ذوقؔ دیا تھا مجھکو\nعمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا\n\nدل کو میرے خم و خمخانہ بنایا ہوتا\n\nاس خرد نے مجھے سرگشہ و حیران کیا\nکیوں خرد مند بنایا نہ بنایا ہوتا\n\nتو نے اپنا مجھے دیوانہ بنایا ہوتا\n\nروز معمورہ دنیا میں خرابی ہے ظفر\nایسی بستی سے تو ویرانہ بنایا ہوتا\n\nبلکہ بہتر تو یہی تھا نہ بنایا ہوتا​\n\nلے ترے من چلے کا سودا ہے کھٹا اور میٹھا\n\nکنجڑے کی سی باٹ ہے دنیا جنس ہے ساری اکٹھی\nمیٹھی چاہے میٹھی لے لے، کھٹی چاہے کھٹی\n\nلے ترے من چلے کا سودا ہے کھٹا اور میٹھا\n\nروپ رنگ پر پھول نہ دل میں دیکھ عقل کے بیری\nاوپر میٹھی، نیچے کھٹی، انبوا کی سی کیری\n\nلے ترے من چلے کا سودا ہے کھٹا اور میٹھا​\n\nکچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا\n\nمحتاج خرا باقی یا پاک نمازی ہے\nکچھ کر نہ نظر اس پر، واں نکتہ نوازی ہے\n\nکچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا\n\nدنیا کے کیا کرتا ہے سینکڑوں تو دھندے\nپر کام خدارا بھی کر لے کوئی یاں بندے\n\nکچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا\n\nجو رب نے دیا تجھ کو تو نام پہ رب کے دے\nگریاں رو دیا تو نے، واں دیویگا کیا بندے\n\nکچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا\n\nدیوے گا اسی کو تو وہ جس کو ہے دلواتا\nپر ہے یہ ظفر تجھ کو آواز سنا جاتا\n\nکچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا\n\nدنیا ہے سرا اسمیں تو بیٹھا مسافر ہے\nاور جانتا ہے یاں سے جانا تجھے آخر ہے\n\nکچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا​\n\nمرے سینہ سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا\nوہاں زخم سے خون دہو کے حرف آرزو نکلا\n\nمرا گھر تیرا منزل گاہ ہو ایسے کہاں طالع\nخدا جانے کدھر کا چاند آج اے ماہرو نکلا\n\nپھر اگر آسمان تو شوق میں تیرے ہی سرگرداں\nاگر خورشید نکلا تیرا گرم جستجو نکلا\n\nمئے عشرت طلب کرتے تھے ناحق آسماں سے ہم\nکہ آخر جب اسے دیکھا فقط کالی سبو نکلا\n\nترے آتے ہی آتے کام آخر ہو گیا میرا\nرہی حسرت کہ دم میرا نہ تیرے روبرو نکلا\n\nکہیں تجھکو نہ پایا گرچہ ہم نے اک جہاں ڈھونڈا\nپھر آخر دل ہی میں دیکھا بغل ہی میں تو نکلا\n\nخجل اپنے گناہوں سے ہوں میں یانتک کہ جب رویا\nتو جو آنسو مری آنکھوں سے نکلا سرخرو نکلا\n\nگھسے سب ناخن تدبیر اور ٹوٹا سر سوزن\nمگر تھا دل میں جو کانٹا نہ وہ ہرگز کبھو نکلا\n\nاسے عیار پایا یار سمجھے ذوقؔ ہم جس کو\nجسے یاں دوست اپنا ہم نے جانا وہ عدو نہ نکلا\n*-*-*-*-*-*\n\nلکھے اسے خط میں کہ ستم اٹھ نہیں سکتا\nپر ضعف سے ہاتھوں میں قلم اٹھ نہیں سکتا\n\nبیمار ترا صورت تصویر نہالی\nکیا اٹھے سر بستر غم اٹھ نہیں سکتا\n\nآتی ہے صدائے جرس ناقہ لیلٰے\nپر حیف کہ مجنوں کا قدم اٹھ نہیں سکتا\n\nجوں دانہ روئیدہ تہ خاک ہمارا\nسر زیر گرانبار الم اٹھ نہیں سکتا\n\nہر داغ معاصی مرا اس دامن تر سے\nجوں حرف سر کاغذ نم اٹھ نہیں سکتا\n\nاتنا ہوں تری تیغ کا شرمندہ احسان\nسر میرا ترے سر کی قسم اٹھ نہیں سکتا\n\nپردہ در کعبہ سے اٹھانا تو ہے آسان\nپر پردہ رخسار صنم اٹھ نہیں سکتا\n\nکیوں اتنا گرانبار ہے جو رکت سفر بھی\nاے راہرو ملک عدم اٹھ نہیں سکتا\n\nدنیا کا زر و مال کیا جمع تو کیا ذوقؔ\nکچھ فائدہ بے دستِ کرم اٹھ نہیں سکتا\n*-*-*-*-*-*-*​\n\nاس پر شاہ نصیر مرحوم کی غزل بھی دیکھو۔\n\nالہٰی کس بے گنہ کو مارا سمجھ کے قاتل نے کشتنی ہے\nکہ آج کوچہ میں اسکے شور باَیِّ ذَنب قَتَلتَّنِی ہے​\n\nزمین پر نور قمر کے گرنے سے صاف اظہار روشنی ہے\nکہ جو ہیں روشن ضمیر ان کو فروغ ان کی فروتنی ہے\n\nغم جدائی میں تیرے ظالم، کہوں میں کیا مجھ پہ کیا بنی ہے\nجگر گذازی ہے سینہ کادی ہے، دلخراش ہے، جانکنی ہے\n\nبشر جو اس تیرہ خاکدان میں پڑا یہ اس کی فروتنی ہے\nوگرنہ قندیل عرش میں بھی اسی کے جلوہ کی روشنی ہے\n\nہوئے ہیں اس اپنی سادگی سے ہم آشنا جنگ و آشتی سے\nاگر نہ ہو یہ تو پھر کسی سے نہ دوستی ہے نہ دشمنی ہے\n\nکوئی ہے کافر، کوئی مسلمان، جدا ہر اک کی ہے راہ ایمان\nجو اس کے نزدیک رہبری ہے وہ اسکے نزدیک رہزنی ہے\n\nہوئے ہیں تر گریہ ندامت سے اسقدر آستین و دامن\nکہ میری تر دامنی کے آگے عرق عرق پاکدامنی ہے\n\nنہیں ہے قانع کو خواہش زر، وہ مفلسی میں بھی ہے توانگر\nجہاں میں مانند کیمیاگر ہمیشہ محتاج دل غنی ہے\n\nلگا نہ اس بت کدہ میں تو دل، یہ ہے طلسم شکست غافل\nکہ کوئی کیسا ہی خوش شمائل صنم ہے آخر شکستنی ہے\n\nتکلفِ منزلِ محبت نہ کر چلا چل تو بے تکلف\nکہ جابجا خار زار وحشت سے زیرپا فرشِ سوزنی ہے\n\nخدنگ مژگان سے ذوقؔ اسکے دل اپنا سینہ سپر ہے جب سے​\nمثال آئینہ سخت جانی سے سینہ دیوار آہنی ہے\n*-*-*-*-*-*-*\n\nدریائے اشک چشم سے جس آن بہہ گیا\nسن لیجیو کہ عرش کا ایوان بہہ گیا\n\nبل بے گداز عشق کا خون ہو کے دل کیساتھ\nسینہ سے تیرے تیر کا پیکان بہہ گیا\n\nزاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں\nکیا ڈیڑھ چلو پانی سے ایمان بہہ گیا\n\nہے موج بحر عشق وہ طوفاں کہ الحفیظ\nبیچارہ مشت خاک تھا انسان بہہ گیا\n\nدریائے عشق میں دم تحریر حال و دل\nکشتی کی طرح میرا قلمدان بہہ گیا\n\nیہ روئے پھوٹ پھوٹ کے پاؤنکے آبلے\nنالہ سا ایک سوئے بیاباں بہہ گیا\n\nتھا تو بہا میں بیش پر اس لب کے سامنے\nسب مول تیرا لعل بدخشاں بہہ گیا\n\nکشتی سوار عمر ہے بحر فنا میں جسم\nجس دم بہا کے لے گیا طوفان بہہ گیا\n\nپنجاب میں بھی وہ نہ رہی آب و تاب حسن\nاے ذوقؔ پانی اب تو وہ ملتان بہہ گیا\n*-*-*-*-*-*-*-*\n\nپاک رکھ اپنا وہاں ذکر خدائے پاک سے\nکم نہیں ہرگز زباں منھ میں ترے مسواک سے\n\nجب بنی تیر حوادث کی کماں افلاک سے\nخاک کا تو وہ بنا انسان کی مشت خاک سے\n\nجس طرح دیکھے قفس سے باغ کو مرغ اسیر\nجھانکتا ہے یوں تجھے دل سینہ صدر چاک سے\n\nتیرے صد نیم جاں کی جاں نکلتی ہی نہیں\nباندھ رکھا ہے اسے بھی تو نے کیا فتراک سے\n\nمجھ کو دوزخ، رشک جنت ہو اگر میرے لئے\nواں بھی آتش ہو کسی کے روئے آتشاک سے\n\nآفتاب حشر ہے یارب کہ نکلا گرم گرم\nکوئی آنسو دل جلوں کے دیدہ نمناک سے\n\nچشم بے پردہ کو ہو کس طرح نظارہ نصیب\nجبکہ وہ پردہ نشیں پردہ کرے ادراک سے\n\nبیت ساقی نامہ کی لکھو کوئی جائے دعا\nمے پرستوں کے کفن پر چوب کلک تاک سے\n\nعیب ذاتی کو کوئی کہتا ہے حسن عارضی\nزیب بداندام کو ہو ذوقؔ کیا پوشاک سے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nجینا ہمیں اصلا نظر اپنا نہیں آتا\nگر آج بھی وہ رشک مسیحا نہیں آتا\n\nمذکور تری بزم میں کس کا نہیں آتا\nپر ذکر ہمارا نہیں آتا نہیں آتا\n\nدیتا دل مضطر کو تری کچھ تو نشانی\nپر خط بھی ترے ہاتھ کا لکھا نہیں آتا\n\nکیا جانے اسے وہم ہے کیا میری طرف سے\nجو خواب میں بھی رات کو تنہا نہیں آتا\n\nآیا ہے دم آنکھوں میں دم حسرتِ دیدار\nپر لب پہ کبھی حرف تمنا نہیں آتا\n\nکس دم نہیں ہوتا قلق ہجر ہے مجھ کو\nکس وقت میرے منھ کو کلیجا نہیں آتا\n\nمیں جاتا جہاں سے ہوں تو آتا نہیں یانتک\nکافر تجھے کچھ خوف خدا کا نہیں آتا\n\nہم رونے پہ آ جائیں تو دریا ہی بہائیں\nشبنم کی طرح سے ہمیں رونا نہیں آتا\n\nہستی سے زیادہ ہے کچھ آرام عدم میں\nجو جاتا ہے یاں سے وہ دوبارہ نہیں آتا\n\nآنا ہے تو آ جا کہ کوکئی دم کی ہے فرصت\nپھر دیکھئے آتا بھی ہے دم یا نہیں آتا\n\nغافل ہے بہار چمن عمر جوانی\nکر سیر کہ موسم یہ دوبارہ نہیں آتا\n\nساتھ ان کے ہیں ہم سایہ کی مانند ولیکن\nاس پر بھی جدا ہیں کہ لپٹنا نہیں آتا\n\nدنیا ہے وہ صیاد کہ سب دام میں اسکے\nآ جاتے ہیں لیکن کوئی دانا نہیں آتا\n\nدل مانگنا مفت اور پھر اس پہ تقاضا\nکچھ قرض تو بندہ پہ تمہارا نہیں آتا\n\nبجا ہے ولا اس کے نہ انے کی شکایت\nکیا کیجئے گا فرمائیے اچھا نہیں آتا\n\nجاتی رہے زلفوں کی لٹک دل سے ہمارے\nافسوس کچھ ایسا ہمیں لٹکا نہیں آتا\n\nجو کوچہ قاتل میں گیا پھر وہ نہ آیا\nکیا جانے مزا کیا ہے کہ جینا نہیں آتا\n\nآئے تو کہاں جائے، نہ تا جی سے کوئی جائے\nجبتک اسے غصہ نہیں آتا نہیں آتا\n\nقسمت سے ہی لاچار ہوں اے ذوقؔ وگرنہ\nسب فن میں ہوں میں طاق مجھے کیا نہیں آتا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nمزے یہ دل کیلئے تھے نہ تھے زبان کیلئے\nسو ہم نے دل میں مزے سوزش نہاں کیلئے\n\nنہیں ثبات بلندی عز و شان کیلئے\nکہ ساتھ اوج کے پستی ہے آسمان کیلئے\n\nہزار لفط ہیں جو ہر ستم میں جان کیلئے\nستم شریک ہوا کون آسمان کیلئے\n\nفروغ عشق سے ہے روشنی جہاں کیلئے\nیہی چراغ ہے اس تیرہ خاکدان کیلئے\n\nصبا جو آئے خس و خار گلستان کیلئے\nقفس میں کیونکہ نہ پھڑکے دل آشیاں کیلئے\n\nدم عروج ہے کیا فکر نردبان کے لئے\nکمند آہ تو ہے بام آسمان کیلئے\n\nسدا تپش پہ تپش ہے دل تپاں کیلئے\nہمیشہ غم پہ ہے غم جان ناتواں کیلئے\n\nحجر کے چومنے ہی پر ہو حج کعبہ اگر\nتو بوسے ہم نے بھی اس سنگ آستان کیلئے\n\nنہ چھوڑ تو کسی عالم میں راستی کہ یہ شے\nعصا ہے پیر کو اور سیف ہے جواں کیلئے\n\nجو پاس مہر و محبت یہاں کہیں بکتا\nتو ہم بھی لیتے کسی اپنے مہربان کیلئے\n\nخلش سے عشق کی ہے خار پیرہن تن زار\nہمیشہ اس ترے مجنونِ ناتواں کیلئے\n\nتپش سے عشق کی یہ حال ہے مرا گویا\nبجائے مغز ہے رباب استخواں کیلئے\n\nمرے مزار پہ کس وجہ سے نہ برسے نور\nکہ جان دی ترے روئے عرق فشاں کیلئے\n\nالہٰی کان میں کیا اس صنم نے پھونکدیا\nکہ ہاتھ رکھتے ہیں کانوں پہ سب اذاں کیلئے\n\nنہیں ہے خانہ بدوشوں کو حاجت ساماں\nاثاثہ چاہیے کیا خانہ کمال کے لئے\n\nنہ دل رہا نہ جگر دونوں جل کے خاک ہوئے\nرہا ہے سینہ میں کیا چشم خونفشان کیلئے\n\nنہ لوح گور پہ ستوں کے ہو نہ ہو تعویذ\nجو ہو تو خشت خم مےکوئی نشان کیلئے\n\nاگر امید نہ ہمسایہ ہو تو خانہ یاس\nبہشت ہے ہمیں آرام جاوداں کیلئے\n\nوہ مول لیتے ہیں جسدم کوئی نئی تلوار\nلگاتے پہلے مجھی پر ہیں امتحان کیلئے\n\nصریح چشم سخن گو تری کہے نہ کہے\nجواب صاف ہے پر طاقت و تواں کیلئے\n\nرہے ہے ہول کہ برہم نہ ہو مزاج کہیں\nبجا ہے ہول دل انکے مزاج داں کیلئے\n\nشال نے ہے مرا جب تلک کہ دم میں دم\nفغاں ہے میرے لئے اور میں فغاں کیلئے\n\nبلند ہووے اگر کوئی میرا شعلہ آہ\nتو ایک اور ہو خورشید آسمان کے لئے\n\nچلیں ہیں دیر کو مدت میں خانقاہ سے ہم\nشکست توبہ لئے ارمغان مغاں کیلئے\n\nوبال دوش ہے اس ناتواں کو سر لیکن\nلگا رکھا ہے ترے خنجر وسناں کیلئے\n\nبیان درد محبت جو ہو تو کیوں کر ہو\nزباں نہ دل کیلئے ہے نہ دل زباں کیلئے\n\nاشارہ چشم کا تیرے یکایک اے قاتل\nہوا بہانہ مری مرگ ناگہاں کے لئے\n\nبنایا آدمی کو ذوقؔ ایک جزو ضعیف\nاور اس ضعیف سے کل کام دو جہاں کے لئے​", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%85%D9%84%DA%A9_%D8%A7%D9%84%D8%B4%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%A1_%D8%AE%D8%A7%D9%82%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%86%D8%AF_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%D9%85_%D8%B0%D9%88%D9%82"} {"title": "آب حیات/مومن خاں صاحب مومن", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "موئے نہ عشق میں جب تک وہ مہرباں نہ ہوا\nبلائے جاں ہے وہ دل جو بلائے جاں نہ ہوا\n\nمحو مجھ سا دمِ نظارہ جاناں ہو گا\nآئینہ آئینہ دیکھے گا تو حیراں ہو گا\n\nکیا رم نہ کرو گے اگر ابرام نہ ہو گا\nالزام سے حاصل بجز الزام نہ ہو گا\n\nروز جزا جو قاتلِ دل جو خطاب تھا\nمیرا سوال ہی مرے خوں کا جواب تھا\n\nپسِ شکستن خم زجر محتسب معقول\nگناہگار نے سمجھا گناہگار مجھے\n\nنقد جاں تھا نہ سزائے دیت عاشق صد حیف\nخون فرہاد سرِ گردن فرہاد مجھے​\n\nگر وہاں ہے یہ خموشی اثر افغاں ہو گا\nحشر میں کون مرے حال کو پرساں ہو گا\n\nیعنی فغانے کہ اثرش خموشی است۔\n\nبیمار اجل چارہ کو گر حضرت عیسیٰ\nاچھا نہ کریں گے تو کچھ اچھا نہ کریں گے\n\nیعنی۔ بیارے کہ چارہ اش اجل است\n\nوفائے غیرت شکر جفا نے کام کیا\nکہ اب ہوس سے بھی اعدائے بوالہوس گزرے\n\nستم اے شور بختی میری ہڈی کیوں ہما کھاتا\nسگ لیلٰی ادا کو گر نہ ظالم بدمزہ لگتی​\n\nغیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا\nمیری طرف بھی غمزہ غماز دیکھنا\n\nاڑتے ہی رنگ رُخ مرا نظروں سے تھا نہاں\nاس مرغ پر شکستہ کی پرواز دیکھنا\n\nدشنام یار طبع حزیں پر گراں نہیں\nاے ہم نفس نزاکت آواز دیکھنا\n\nدیکھ اپنا حال ذرا منجم ہوا رقیب\nتھا ساز گار طالع ناساز دیکھنا\n\nبدکام کا مآل برا ہے جزا کے دن\nحال سپر تفرقہ انداز دیکھنا\n\nمت رکھیو گرد تارک عشاق پر قدم\nپامال ہو نے جائے سر افراز دیکھنا\n\nکشتہ ہوں اس کی چشم فسونگر کا اے مسیح\nکرنا سمجھ کے دعوئے اعجاز دیکھنا\n\nمیری نگاہ خیرہ دکھاتے ہیں غیر کو\nبے طاقتی پہ سرزشِ ناز دیکھنا\n\nترک صنم بھی کم نہیں سوز جحیم سے\nمومنؔ غمِ مآل کا آغاز دیکھنا\n*-*-*-*-*\n\nاشک و اژد نہ اثر باعثِ صد جوش ہوا\nہچکیوں سے میں یہ سمجھا کہ فراموش ہوا\n\nجلوہ افروزی رخ کے لئے مے نوش ہوا\nمیں کبھی آپ میں آیا تو وہ بے ہوش ہوا\n\nکیا یہ پیغامبرِ غیر ہے، اے مرغِ چمن\nخندہ زن باد بہاری سے وہ گلگوش ہوا\n\nہے یہ غم گور میں رنج شب اجل سے فزوں\nکہ وہ مہ رو مرے ماتم میں سیہ پوش ہوا\n\nمجھ پہ شمشیر نگہ خود بخود آ پڑتی ہے\nعاجز احوالِ زبوں سے وہ ستم کوش ہوا​\n\nآفریں دل میں رہی خنجر دشمن کے سبب\nاپنے قاتل سے خفا تھا کہ میں خاموش ہوا\n\nدرد شانہ سے ترا محو نزاکت خوش ہے\nکہ میں ہمدوش ہوں گر غیر بھی ہمدوش ہوا\n\nوہ ہے خالی تو یہ خالی یہ بھری تو وہ بھری\nکاسئہ عمر عدد حلقہ آغوش ہوا\n\nتو نے جو قہر خدا یاد دلایا مومنؔ\nشکوہ جور بتاں دل سے فراموش ہوا\n*-*-*-*-*-*\n\nگئے وہ خواب سے اٹھ غیر کے گھر آخر شب\nاپنے نالہ نے دکھایا یہ اثر آخر شب\n\nصبح دم وصل کا وعدہ تھا یہ حسرت دیکھو\nمر گئے ہم دم آغاز سحر آخر شب\n\nشعلہ آہ فلک رتبہ کا اعجاز تو دیکھ\nاول ماہ میں چاند آئے نظر آخر شب\n\nسوز دل سے گئی جاں بخت چمکنے کے قریب\nکرتے ہیں موسم گرما میں سفر آخر شب\n\nملتے ہو غیر سے بے پردہ تم انکار کے بعد\nجلوہ خورشید کا سا تھا کچھ ادھر آخر شب\n\nصبح دم آنے کو وہ تھا کہ گواہی دیدے\nرجعت قہقہری چرخ و قمر آخر شب\n\nغیر نکلا ترے گھر سے گئی اس وہم میں جاں\nغل ہوئے چور کے اس کوچے میں گر آخر شب\n\nدی تسلی تو وہ ایسی کہ تسلی نہ ہوئی\nخواب میں تو مرے آئے وہ مگر آخر شب\n\nمو سفیدی کے قریب اور ہے غفلت مومنؔ\nنیند آتی ہے بہ آرام دِگر آخر شب\n*-*-*-*-*-*-*-*\n\nآنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو\nہے بوالہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو\n\nاس بت کے لئے میں ہوس حور سے گزرا\nاس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو\n\nچشمک مری وحشت ہے یہ کیا حضرت ناصح\nطرز نگہِ چشم فسوں ساز تو دیکھو\n\nاربابِ ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلے\nکم طالعےِ عاشق جانباز تو دیکھو​\n\nمجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ\nبدنامی عشاق کا اعزاز تو دیکھو\n\nمحفل میں تم اغیار کے دزدیدہ نظر سے\nمنظور ہے پنہاں نہ رہے ساز تو دیکھو\n\nاس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک\nشعلہ سا چمک جائے ہے آواز تو دیکھو\n\nدیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسو\nاس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو\n\nجنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سے\nجورِ اجل تفرقہ پرواز تو دیکھو\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nدفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہونگے\nفلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہونگے\n\nناوک انداز جدہر دیدہ جاناں ہونگے\nنیم بسمل کئی ہوں گے کئی بیجاں ہونگے\n\nتاب نظارہ نہیں آئینہ کیا دیکھنے دوں\nاور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہونگے\n\nتو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے\nہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہونگے\n\nناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہم\nلاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہونگے\n\nکر کے زخمی مجھے نادم ہوں یہ ممکن ہی نہیں\nگر وہ ہوں گے بھی تو بے وقت پشماں ہونگے\n\nایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس\nایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہونگے\n\nہم نکالیں گے سن اے موج صبا بل تیرے\nاس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہونگے\n\nصبر یا رب مری وحشت کا پڑے گا کہ نہیں\nچارہ فرما بھی کبھی قیدی زنداں ہونگے\n\nمنت حضرت عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھی\nزندگی کے لئے شرمندہ احساں ہونگے\n\nتیرے دل تفتہ کی تربت پہ عدو جھوٹا ہے\nگُل نہ ہوں گے شرر آتش سوزاں ہونگے\n\nغور سے دیکھتے ہیں طوف کو آہوئے حرم\nکیا کہیں اس کے سگِ کوچہ کے قرباں ہونگے\n\nداغ دل نکلیں گے تربت سے مری جوں لالہ\nیہ وہ اخگر نہیں جو خاک میں پنہاں ہونگے​\n\nچاک پردے سے یہ غمزے ہیں تو اے پردہ نشیں\nایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہونگے\n\nپھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہو گی\nپھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہونگے\n\nسنگ اور ہاتھ وہی وہ ہی سر و داغ جنوں\nوہی ہم ہوں گے وہی دشت و بیاباں ہونگے\n\nعمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ\nآخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہونگے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nخوشی نہ ہو مجھے کیونکر قضا کے آنے کی\nخبر ہے لاش پہ اس بیوفا کے آنے کی\n\nہے ایک خلق کا خوں سر پہ اشک خوں کے مرے\nسکھائی طرز اُسے دامن اٹھا کے آنے کی\n\nسمجھ کے اور ہی کچھ مر چلا میں اے ناصح\nکہا جو تو نے نہیں جاں جا کے آنے کی\n\nامید سرمہ میں تکتے ہیں راہ دیدہ زخم\nشمیم سلسہ مشکا کے آنے کی\n\nچلی ہے جان، نہیں تو کوئی نکالو راہ\nتم اپنے پاس تک اس مبتلا کے آنے کی\n\nنہ آئے کیوں دلِ مرغ چمن کہ سیکھ گئی\nبہار وضع ترے مسکرا کے آنے کی\n\nمشام غیر میں پہنچی ہے نگہت گل و داغ\nیہ بے سبب نہیں بندی ہوا کے آنے کی\n\nجو بے حجاب نہ ہو گی تو جان جائے گی\nکہ راہ دیکھی ہے اس نے حیا کے آنے کی\n\nپھر اب کے لا ترے قربان جاؤں جذبہ دل\nگئے ہیں یاں سے وہ سوگند کھا کے آنے کی\n\nخیالِ زلف میں خود رفتگی نے قہر کیا\nامید تھی مجھے کیا کیا بلا کے آنے کی\n\nکروں میں وعدہ خلافی کا شکوہ کس کس سے\nاجل بھی رہ گئی ظالم سُنا کے آنے کی\n\nکہاں ہے ناقہ ترے کان بجتے ہیں مجنوں\nقسم ہے مجھ کو صدائے درا کے آنے کی\n\nمرے جنازہ پہ آنے کا ہے ارادہ تو آ\nکہ دیر اٹھانے میں کیا ہے صبا کے آنے کی\n\nمجھے یہ ڈر ہے کہ مومنؔ کہیں نہ کہتا ہو\nمری تسلی کو روز جزا کے آنے کی​\n\nاز بس جنوں جدائی گل پیرہن سے ہے\nدل چاک چاک نغمہ مرغِ چمن سے ہے\n\nسرگرم مدحِ غیر دمِ شعلہ زن سے ہے\nدوزخ کو کیا جلن مرے دل کی جلن سے ہے\n\nروز جزا نہ دے جو مرے قتل کا جواب\nوہم سخن رقیب کو اس کم سخن سے ہے\n\nیاد آ گیا زبس کوئی مہروے مہروش\nامید داغ تازہ سپہر کہن سے ہے\n\nکچھ بھی کیا نہ یار کی سنگیں دلی کا پاس\nسب کاوش رقیب دل کوہکن سے ہے\n\nان کو گمان ہے گلہ چین زلف کا\nخوشبو دہانِ زخم جو مشک ختن سے ہے\n\nمیں کیا کہ مرگ غیر پہ دامانِ تر نہ ہو\nوہ اشک ریز خندہ چاک کفن سے ہے\n\nکیونکر نجات آتش ہجراں سے ہو کہ مرگ\nآئی تو دور ہی تب و تاب بدن سے ہے\n\nخود رفتگی میں چین وہ پایا کہ کیا کہوں\nغربت جو مجھ سے پوچھو تو بہتر وطن سے ہے\n\nرشک پری کہے سے عدو کے یہ وحشتیں\nنفرت بلا تمھیں مرے دیوانہ پن سے ہے\n\nداغ جنوں کو دیتے ہیں گل سے زبس مثال\nمیں کیا کہ عندلیب کو وحشت چمن سے ہے\n\nکیوں یار نوحہ زن ہیں کہاں مرگ مجھکو تو\nلب بستگی تصورِ بوس دہن سے ہے\n\nکیا کیا جواب شکوہ میں باتیں بنا گیا\nلو اب بھی دل درست اسی دلشکن سے ہے\n\nاپنا شریک بھی نہ گوارا کرے بتو\nمومنؔ کو ضد یہ کیسی ید برہمن سے ہے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nدعا بلا تھی شب غم سکون جاں کے لئے\nسخن بہا نہ ہوا مرگ ناگہاں کے لئے\n\nنہ پائے یار کے بوسے نہ آستاں کے لئے\nعبث میں خاک ہوا میں آسماں کے لئے\n\nخلاف وعدہ فردا کی ہم کو تاب کہاں\nامید یکشیہ ہے پاس جاوداں کے لئے\n\nسنیں نہ آپ تو ہم بوالہوس سے حال کہیں\nکہ سخت چاہیے دل اپنے راز داں کے لئے​\n\nحجاب چرخ بلا ہے ہوا کرے بیتاب\nفغاں اثر کے لئے اور اثر فغاں کے لئے\n\nہے اعتماد مرے بخت خفتہ پر کیا کیا\nوگرنہ خواب کہاں چشم پاسباں کے لئے\n\nمزا یہ شکوے میں آیا کے بے مزا ہوئے وہ\nمیں تلخ کام رہا لذت زباں کے لئے\n\nکیا ہے دل کے عوض جان دے رقیب تو دوں\nمیں اور آپ کی سوداگری زباں کے لئے\n\nوہ لعل روح فزا دے کہاں تلک بوسے\nکہ جو ہے کم ہے یہاں شوق جانفشاں کے لئے\n\nملے رقیب سے وہ جب سے وصال ہوا\nدریغ جان گئی ایسے بدگماں کے لئے\n\nکہاں وہ عیش اسیری کہاں وہ دام قفس\nہے بیم برق بلا روز آشیاں کے لئے\n\nجنونِ عشق ازل کیوں نہ خاک اڑائیں کہ ہم\nجہاں میں آئے ہیں ویرانی جہاں کے لئے\n\nبھلا ہوا کہ وفا آزما ستم سے ہوئے\nہمیں بھی دینی تھی جاں اسکے امتحاں کے لئے\n\nزواں فزائی سحر حلال مومنؔ ہے\nرہا نہ معجزہ باقی لب بتاں کے لئے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86_%D8%AE%D8%A7%DA%BA_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86"} {"title": "آب حیات/مِرزا سَلامَت علی دبیر", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "خاندانی شاعر (تذکرہ سراپا سخن میں لکھا ہے کہ اُن کے والد مرزا آغا جان کاغذ فروش تھے، پھر ایک جگہ اس کتاب میں لکھتے ہیں دبیر ولد غلام حسین متعلقان مرزا آغا جان کاغذ فروش سے ہیں مصنف موصوف کو شوق ہے کہ ہر شخص کے باب میں کچھ نہ کچھ نکتہ طنز نکال لیتے ہیں، اسی لئے خاندان کے باب میں نہ یقین ہے نہ شک۔) نہ تھے۔ لڑکپن میں مرثیہ پڑھتے تھے۔ اس شوق نے منبر کی سیڑھی سے مرثیہ گوئی کے عرش الکمال پر پہونچا دیا، میر مظفر حسین صگیر کے شاگرد ہوئے اور جو کچھ اُستاد سے پایا اُسے بہت بلند اور روشن کر کے دکھایا۔ تمام عمر کسی اتفاقی سبب سے کوئی غزل یا شعر کہا ہو ورنہ مرثیہ گوئی کے فن کو لیا اور اس درجہ تک پہونچا دیا جس کے آگے ترقی کا راستہ بند ہو گیا۔ ابتدا سے اس شغل کو زاد آخرت کا سامان سمجھا، اور نیک نیتی سے اس کا ثمرہ لیا۔ طبیعت بھی ایسی گداز پائی تھی جو کہ اس فن کے لئے نہایت موزوں اور مناسب تھی، ان کی سلامت روی، پرہیز گاری، مسافر نوازی اور سخاوت نے صفتِ کمال کو زیادہ تر رونق دی تھی۔\n\nشاگردانِ الہٰی کی طبیعت بھی جذبہ الہٰی کا شوق رکھتی ہے۔ بچپن سے دل چونچال تھا، ابردائے مشق میں کسی لفظ پر اُستاد کی اصلاح پسند نہ آئی۔ شیخ ناسخ زندہ تھے، مگر بوڑھے ہو گئے تھے۔ ان کے پاس چلے گئے، وہ اس وقت گھر کے صحن میں مونڈھے بچھائے جلسہ جمائے بیٹھے تھے۔ انھوں نے عرض کی کہ حضرت! اس شعر میں میں نے تو یہ کہا ہے اور اُستاد نے یہ اصلاح دی ہے، انھوں نے فرمایا کہ اُستاد نے ٹھیک اصلاح دی ہے۔ انھوں نے پھر کہا کہ حضرت کتابوں میں تو اس طرح آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، جو تمھارے اُستاد نے بنایا ہے وہی درست ہے۔ انھوں نے پھر عرض کی کہ حضرت آپ کتاب کو ملاحظہ تو فرمائیں، شیخ صاحب نے جھنجھلا کر کہا ارے تو کتاب کو کیا جائے! ہمارے سامنے کتاب کا نام لیتا ہے! ہم کتابیں دیکھتے دیکھتے خود کتاب بن گئے ہیں۔ ایسے غصّے ہوئے کہ لکڑی سامنے رکھی تھی وہ لیکر اُٹھے، یہ بھاگے، انھیں بھی ایسا جوش تھا کہ دروازہ تک ان کا تعاقب کیا۔\n\nلکھنؤ کے لڑانے اور چمکانے والے غضب تھے۔ آخر مرزا کا عالم شباب تھا اور کمال بھی عین شباب پر تھا کہ جوانی کا بڑھاپے سے معرکہ ہوا، نواب شرف الدولہ میر ضمیر کے بڑی قدردان تھے، اُن سے ہزاروں روپے کے سلوک کرتے تھے، ابتدا میں اُن کے سبب سے اور پھر مرزا کے جوہر کمال کے باعث سے اُن کی بھی قدردانی کرتے تھے۔ ان کی مجلس میں اول مرزا، بعد اُن کے میر ضمیر پڑھا کرتے تھے۔\n\nایک موقع پر مرزا نے ایک مرثیہ لکھا، جس کا مطلع ہے۔\n\nع \"دستِ خدا کا قوتِ بازو حسین ہے\"​\n\nمیر ضمیرؔ کے سامنے جب اصلاح کے لئے پیش کیا تو انھیں اس کے نئےخیالات اور طرز بیان اور ترتیب مضامین پسند آئی۔ اسے توجہ سے بنایا اور اسی اثناء میں نواب کے ہاں ایک مجلس ہونے والی تھی۔ رشید شاگرد سے کہا کہ بھئی اس مرثیہ کو ہم اس مجلس میں پڑھیں گے۔ تعطیم کر کے تسلیم بجا لائے اور مرثیہ انھیں کو دے دیا۔\n\nگھر میں آئے تو بعض احباب سے حال بیان کیا، مسودہ پاس تھا، وہ بھی سنایا، کچھ تو یاروں کا چمکانا، کچھ اس سبب سے کہ ذوق و شوق کے پھول ہمیشہ شبنم تعریف کے پیاسے ہیں اور نواب کو خبر پہونچ گئی تھی۔ ادھر کے اشاروں میں انعام کی ہوا آئی، غرض انجام یہ ہوا کہ اُستاد مرثیہ صاف کر کے لے گئے کہ وہی پڑھیں گے۔\n\nبموجب معمول کے اول مرزا صاحب منبر پر گئے اور وہی مرثیہ پڑھا۔ بڑی تعریفیں ہوئیں اور مرثیہ خوب سرسبز ہوا۔ اُستاد کہ ہمیشہ شاگرد کے پڑھنے پر باغ باغ ہوا کرتے تھے اور تعریفیں کر کے دل بڑھاتے تھے، اب خاموش بیٹھے ہیں، کچھ غصّہ، کچھ بیوفائی زمانہ کا خیال، کچھ اپنی محنتوں کا افسوس اور فکر یہ کہ اب میں پڑھوں گا، اور اس سے بڑھ کر کیا پڑھوں گا، جس میں اُستادی کا رتبہ بڑھے نہیں تو اپنے درجہ سے گرے بھی تو نہیں۔ غرض ان کے بعد یہ پڑھے اور کمال کی دستار صحیح و سلامت لے کر منبر سے اُترے، لیکن اس دن سے دل پھر گیا۔ یار لوگوں نے شاگرد کو نقطہ مقابل کر کے بجائے خود اُستاد بنایا، اور وہی صورت ہو گئی کہ ایک مجلس میں دونوں کا اجتماع موقوف ہو گیا، زمانے نے اپنے قاعدہ کے بموجب چند روز مقابلوں سے شاگرد کا دل بڑھایا اور آخر بڑھاپے کی سفارش سے اُستاد کو آرام کی اجازت دی، وہ اپنے حریف میر خلیق کے سامنے گوشہ عزلت کا مقابلہ کرنے لگے اور یہاں میر انیسؔ اور مرزا دبیرؔ کے معرکے گرم ہو گئے۔\n\nدونوں کےکمال نے سخن شناسوں کے ہجوم کو دو حصوں میں بانٹ لیا۔ آدھے انیسئے ہو گئے، آدھے دبیریئے، ان کے کلام میں محاکمہ کرنے کا لطف جب ہے کہ ہر اُستاد کے ۴، ۴، ۵، ۵، سو مرثیے بجائے خود پڑھو اور پھر مجلسوں میں سُن کر دیکھو کہ ہر ایک کا کلام اہل مجلس پر کس قدر کامیاب یا ناکام رہا، بے اس کے مزہ نہیں، میں اس نکتہ پر میر انیسؔ صاحب صفائی، لطف زبان، چاشنی محاورہ، خوبی بندش، حسن اسلوب مناسبت مقام، طرز ادا اور سلسلہ کی ترتیب میں جواب نہیں رکھتے اور یہی رعایتیں ان کی کم گوئی کا سبب تھیں، مرزا دبیر صاحب شوکت الفاظ، مضامین کی آمد اس میں جابجا غم انگیز اشارے، درد خیز کنائے، المناک اور دل گداز انداز جو مرثیہ کی غرض اصلی ہے۔ ان وصفوں میں بادشاہ تھے۔ یہ اعتراض حریفوں کا درست ہے کہ بعض ضعیف روائتیں اور دل خراش مضامین ایسے نظم ہو گئے ہیں جو مناسب نہ تھے، لیکن انسان کی طبیعت ایسی واقع ہوئی ہے کہ جب ایک مقصود کو مدنظر رکھ کر اس پر متوجہ ہوتا ہے تو اور پہلوؤں کا خیال بہت کم رہتا ہے، انھیں ایسی مجلسوں میں پڑھنا ہوتا تھا، جہاں ہزارہا آدمی دوست دشمن جمع ہوتا تھا، تعریف کی بنیاد گریہ و بکا اور لطف سخن اور ایجاد مضامین پر ہوتی تھی۔ کمال یہ تھا کہ سب کو رُلانا اور سب کے منھ سے تحسین کا نکالنا، اس شوق کے ضزبے اور فکر ایجاد کی محویت میں جو قلم سے نکالا جائے، تعجب نہیں نکتہ چینی ایک چھوٹی سی بات ہے، جہاں چاہا دو حرف لکھ دیئے، جب انسان تمام عمر اس میں کھپا دے، تب معلوم ہوتا ہے کہ کتنا کہا اور کیسا کہا۔ ایجاد و اخترع کے لفظ پر ایک لطیفہ یاد آیا کہ اصولِ فن سے متعلق ہے۔ اہل ذوق کے ملاحظہ کے لئے لکھتا ہوں۔\n\nآتشی لطیفہ : مرزا دبیر کی جوانی تھی اور شاعری بھی عین جوانی پر تھی کہ ایک دھوم دھام کا مرثیہ لکھا، اس کا نمودار تمہید سے چہرہ باندھا، رزمیہ و بزمیہ مضامین پر خوب زور طبع دکھایا، تازہ ایجاد یہ کیا کہ لشکر شام سے ایک بہادر پہلوان تیار کر کے میدان میں لائے، اس کی ہیبت ناک صورت بدمہورت آمد کی آن بان، اس کے اسلحہ جنگ ان کے خلاف قیاس مقاویر وزن سے طوفان باندھے، پہلے اس سے کہ یہ مرثیہ پڑھا جائے، شہر میں شہرہ ہو گیا، ایک مجلس قرار پائی، اس میں علاوہ معمولی سامعین کے سخن فہم اور اہل کمال اشخاص کو خاص طور پر بھی اطلاع دی گئی۔ روز معہود پرہجوم خاص و عام ہوا، طلب کی تحریکیں اس اسلوب سے ہوئی تھیں کہ خواجہ آتش باوجود پیری و آزاری کے تشریف لائے، مرثیہ شروع ہوا، سب لوگ بموجب عادت کے تعریفوں کے غل مچاتے رہے، گریہ و بکا بھی خوب ہوا، خواجہ صاحب خاموش سر جھکائے دو زانو بیٹھے جھومتے رہے، مرزا صاحب مرثیہ پڑھ کر منبر سے اُترے، جب دلوں کے جوش دھیمے ہوئے تو خواجہ صاحب کے پاس جا بیٹھے اور کہا کہ حضرت جو کچھ میں نے عرض کیا آپ نے سُنا، فرمایا، ہوں، بھئی سُنا، انھیں اتنی بات پر قناعت کب تھی؟ پھر کہا، آپ کے سامنے پڑھنا گستاخی ہے لیکن آپ نے ملاحظہ فرمایا، انھوں نے فرمایا بھئی سُنا تو سہی مگر میں سوچتا یہ ہوں کہ یہ مرثیہ تھا یا لندھورین (ملک لندھور کی خلاف عقل طاقتیں اور فوق العادت گاؤزوریاں، امیر حمزہ کے قصہ کی شان و شکوہ اس طرح بڑھاتی ہیں کہ رستم و اسفند یار شاہناموں کے صفحوں میں منھ چھپا لیتے ہیں۔) سعدان کی داستان تھی (واہ رے اُستاد کامل اتنے سے فقرہ میں عمر بھر کے لئے اصلاح دے گیا)۔\n\nمرزا صاحب نے ۲۹ محرم ۱۲۹۲ھ کو ۷۲ برس کی عمر میں انتقال کیا۔ اس مدت میں کم سے کم ۳ ہزار مرثیہ لکھا ہو گا، سلاموں، نوحوں اور رباعیوں کا کچھ شمار نہیں، ایک مرثیہ بے نقط لکھا ہے جس کا مطلع ہے۔ ع :\n\nہم طالعِ ہما مرا وہم رسا ہوا​\n\nاس میں اپنا تخلص بجائے دبیر کے عطارد لکھا ہے، اور کچھ شک نہیں کہ اُن کے ساتھ ہندوستان میں مرثیہ گوئی کا خاتمہ ہو گیا، نہ اب ویسا زمانہ آئے گا اور نہ ویسے صاحبِ کمال پیدا ہوں گے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%85%D9%90%D8%B1%D8%B2%D8%A7_%D8%B3%D9%8E%D9%84%D8%A7%D9%85%D9%8E%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1"} {"title": "آب حیات/مِیر بَبر علی انیس", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "لکھنؤ میں تعلیم و تربیت (مولوی حیدر علی صاحب منتہی الکلام انہی کے محلہ میں رہتے تھے اور پڑھایا کرتے تھے۔ میر انیسؔ مرحوم فرماتے تھے کہ ابتدائی کتابیں میں نے انھیں سے پڑھی تھیں۔) پائی اور ضروریاتِ فن سے آگاہی حاصل کی۔ اپنے خاندانی کمال میں باپ کے شاگرد تھے۔ اور جس طرح عمر میں دونوں بھائیوں سے بڑے تھے، اسی طرح کمال میں بھی فائق تھے، ابتدا میں اُنھیں بھی غزل کا شوق تھا، ایک موقع پر کہیں مشاعرہ میں گئے اور غزل پڑھی، وہاں بڑی تعریف ہوئی۔ شفیق باپ خبر سُن کر دل میں باغ باغ ہوا، مگرہونہار فرزند سے پوچھا کہ کل رات کو کہاں گئے تھے؟ انھوں نے حال بیان کیا، غزل سنی، اور فرمایا کہ بھائی! اب اس غزل کو سلام کرو اور اس شغل میں زور طبع کو صرف کرو جو دین و دنیا کا سرمایہ ہے، سعادت مند بیٹے نے اُسی دن سے اُدھر سے قطع نظر کی۔ غزل مذکور کی طرح میں سلام لکھا، دنیا کو چھوڑ کر دین کے دائرہ میں آ گئے اور تمام عمر اسی میں صرف کر دی۔نیک نیتی کی برکت نے اسی میں دین بھی دیا اور دنیا بھی۔ اس وقت تک یہ اور ان کے ہم عصر اپنے اُستادوں کی اطاعت کو اطاعت سمجھتے تھے، سلام، مرثیے، نوحے، رباعیاں کہتے تھے اور مرثیہ کی مقدار ۳۵، ۴۰ اور ۵۰ بند تک تھی۔\n\nزمانہ کی خاصیت طبعی ہے کہ جب نباتات پرانے ہو جاتے ہیں تو اُنھیں نکال کر پھینک دیتا ہے اور نئے پودے لگاتا ہے۔ میر ضمیرؔ اور میر خلیقؔ کو بڑھاپے کے پلنگ پر بٹھایا، میر انیسؔ کو باپ کی جگہ منبر پر ترقی دی، ادھر سے مرزا دبیر اُن کے مقابلے کے لئے نکلے، یہ خاندانی شاعر نہ تھے، مگر ضمیرؔ کے شاگرد رشید تھے، جب دونوں نوجوان میدان مجالس میں جولانیاں کرنے لگے تو فن مذکور کی ترقی کے بادل گرجتے اور برستے اُٹھے اور نئے اختراع اور ایجادوں کے مینھ برسنے لگے۔ بڑی بات یہ تھی کہ بادشاہ سے لے کر امراء اور غرباء تک شیعہ مذہب رکھتے تھے۔ نوجوانوں کے کمال کو خوش اعتقاد قدردان ملے، وہ بزرگوں کے شمار سے زیادہ اور وزن میں بہت بھاری تھے۔ کلام نے وہ قدر پیدا کی کہ اس سے زیادہ بہشت ہی میں ہو تو ہو! قدردانی بھی فقط زبانی تعریف اور تعظیم و تکریم میں ختم نہ ہو جاتی تھی بلکہ نقد و جسن کے گراں بہا انعام تحائف اور نذرانوں کے رنگ میں پیش ہوتے تھے، ان ترغیبوں کی بدولت فکروں کی پرواز اور ذہنوں کی رسائی سے اُمید زیادہ بڑھ گئی۔ دونوں باکمالوں نے ثابت کر دیا کہ حقیقی اور تحقیقی شاعر ہم ہیں۔ اور ہم ہیں کہ ہر رنگ کے مضمون، ہر قسم کے خیال، ہر ایک حال کا اپنے الفاظ کے جوڑ بند سے ایسا طلسم باندھ دیتے ہیں کہ چاہیں رُلا دیں چاہیں ہنسا دیں، چاہیں تو حیرت کی مورت بنا دیں۔\n\nیہ دعوے بالکل درست تھے۔ کیونکہ مشاہدہ ان کی تصدیق کو ہر وقت حاضر رہتا تھا۔ دلیل کی حاجت نہ تھی، سکندر نامہ جس کی تعریف میں لوگوں کے لب خشک ہیں۔ اس میں چند میدان جنگ ہیں۔ رزم زنگبار، جنگ دارا، جنگ روس، جنگ فور، جنگ فغور، اسی طرح بزم کی چند تمہیدیں اور جشن میں شاہنامہ کے ۶۰ ہزار شعر فردوسی کی عمر بھر کی کمائی ہیں۔ انھوں نے ایجاد مضامین کے دریا بہا دیئے، ایک مقرری مضمون کو سیکڑوں نہیں ہزاروں رنگ سے ادا کیا۔ ہر مرثیہ کا چہرہ نیا، آمد نئی، رزم جدا، بزم جدا اور ہر میدان میں مضمون اچھوتا۔ تلوار نئی، نیزہ نیا، گھوڑا نیا، انداز نیا، مقابلہ نیا، اور اس پر کیا منحصر ہے، صبح کا عالم دیکھو تو سبحان اللہ، رات کی رخصت، سیاہی کا پھٹنا، نور کا ظہور، آفتاب کا طلوع، مرغزار کی بہار، شام ہے تو شام غریباں کی اُداسی، کبھی رات کا سنّاٹا، کبھی تاروں کی چھاؤں کو چاندنی اور اور اندھیرے کے ساتھ رنگ رنگ سے دکھایا ہے، غرض جس حالت کو لیا ہے، اس سماں باندھ دیا ہے، آمد مضامین کی بھی انتہا نہ رہی، جن مرثیوں کے بند ۴۰، ۵۰ سے زیادہ نہ ہوتے تھے وہ ایک سو پچاس (۱۵۰) سے گزر کر دو سو (۲۰۰) سے بھی نکل گئے۔ میر صاحب مرحوم نے کم سے کم دس ہزار مرثیہ ضرور کہا ہو گا اور سلاموں کا کیا شمار ہے، رباعیاں تو باتیں تھیں۔\n\nدونوں اُستادوں کے ساتھ طرفداروں کے دو (۲) جتھے ہو گئے، ایک انیسئے کہلاتے تھے، ایک دبیرئیے، اگرچہ ان کے فضول فقروں اور اعتراضوں نے بے جا تکراریں اور جھگڑے پیدا کئے، مگر بہ نسبت نقصان کے فائدہ زیادہ ہوا، کیونکہ بے حد تعریفوں نے دونوں اُستادوں کے فکروں کو شوق ایجاد اور مشق پرواز میں عرش سے بھی اونچا اُچھالدیا۔ دونوں امتیں جو اپنے دعووں پر دلیلیں پیش کرتی تھیں، کوئی وزن میں زیادہ ہوتی تھیں، کوئی مساحت میں۔ اس لئے یک طرفی فیصلہ نہ ہوتا تھا۔\n\nانیسی اُمّت : اپنے سخن آفریں کی صفائی کلام، حسن بیان اور لطف محاورہ پیش کر کے نظیر کی طلبگار ہوتی تھی۔\n\nدبیری اُمّت : شوکتِ الفاظ، بلند پروازی اور تازگئی مضامین کو مقابلہ میں حاضر کرتی تھی۔\n\nانیسی اُمت کہتی تھی کہ جسے تم فخر کا سرمایہ سمجھتے ہو، یہ باتیں دربارِ فصاحب میں نامقبول ہو کر خارج ہو چکی ہیں کہ فقط کوہ کندن اور کاہ برآوردن ہے۔ دبیری اُمت کہتی تھی کہ تم اسے دشواری کہتے ہو، یہ علم کے جوہر ہیں، اسے بلاغت کہتے ہیں۔ تمھارے سخن آفریں کے بازؤں میں علم کی طاقت ہو، تو پہاڑوں کو چیرے اور یہ جواہر نکالے۔ انیسؔ کے کلام میں ہے کیا؟ فقط زبانی باتوں کا جمع خرچ ہے۔\n\nانیسی اُمّت اس بات پر چمک اُٹھتی تھی اور کہتی تھی کہ کون سا خیال تمھارے سخن آفریں کا ہے جو ہمارے معنی آفریں کے ہاں نہیں؟ نہیں جانتے! جسے باتوں کا جمع خرچ کہتے ہو، یہ صفائی کلام اور قدرت بیان کی خوبی ہے! اسے سہل ممتنع کہتے ہیں، یہ جوہر خداداد ہے، کتابیں پڑھنے اور کاغذ سیاہ کرنے سے نہیں آتا۔\n\nدبیرئیے اس تقریر کو سن کر کسی مرثیہ کی تمہید یا میدان کی آمد یا رجز خوانی کے بند پڑھنے شروع کر دیتے، جن میں اکثر آیتوں یا حدیثوں کے فقرے تضمین ہوتے تھے۔\n\nانیسئے کہتے تھے۔ اس سے کس کافر کو انکار ہے مگر اتنا ہی پڑھیے گا، آگے نہ بڑھئے گا، دوسرے مطلب کی طرف انتقال کیجیے گا تو سلسلہ میں ربط بھی نصیب نہ ہو گا۔ حضرت! فقط لفاظی کی دھوم دھام سے کچھ نہیں ہوتا، ادائے مطلب اصل شے ہے، اس پر گفتگو کیجیے گا تو پوری بات بھی نہ ہو سکے گی۔ یہ قادر الکلام باکمالوں کا کام ہے جن کو اس فن کے اصول بزرگوں سے سینہ بہ سینہ ہیں۔ وہی اس کام کو جانتے ہیں۔\n\nدبیرئیے اس کے جواب میں اپنے سخن آفریں کی آمد طبیعت مضامین کا وفور لفظوں کی بہتات دکھاتے تھے اور جا و بےجا کہتے جاتے تھے کہ دیکھیے کیا محاورہ ہے! دیکھیے صاف بول چال ہے، ساتھ اس کے یہ بھی کہتے تھے کہ کس کا منھ ہے، جو رات کو بیٹھے اور سو (۱۰۰) بند کہہ کر اُٹھے؟ برس دن تک خامہ فرسائی کی اور محرم پر ۱۰، ۱۵ مرثیے لکھ کر تیار کئے تو کیا کئے، وہ بھی دو اور بھائیوں کے مشورے ملا کر اور مباحثوں کے پسینے بہا کر۔\n\nانیسئے کہتے تھے درست ہے جو رات بھر میں سو (۱۰۰) بند کہتے ہیں، وہ بے ربط اور بے اصول ہی ہوتے ہیں اور جب ادائے مطلب پر آتے ہیں تو اتنے بھی نہیں رہتے، ساتھ اس کے بعض مصرع بھی پڑھ دیتے تھے جن پر بے محاورہ ہونے کا اعتراض ہوتا تھا یا تشبیہیں ناقص ہوتی تھیں یا استعارے بے ڈھنگے ہوتے تھے۔\n\nاعتراضوں کی ردّ و بدل یہاں تک ہوتی تھی کہ دبیرئیے کہتے تھے کہ جو قبولیت خدا نے ہمارے سخن آفریں کو عطا کی ہے، کب کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ جس مجلس میں ان کا کلام پڑھا گیا، کہرام ہو گیا، کیسے غم انگیز اور درہ خیز مضامین ہیں، اِن کے لفظوں کو دیکھو، اعتقاد کے آب حیات میں ڈوبے ہوئے ہیں۔\n\nانیسئے کہتے تھے، وہ کیا پڑھیں گے، ان کی آواز تو دیکھئے اور انھیں مرثیہ پڑھنا تو آتا ہی نہیں، غرض جھگڑالو دعویداروں کو کوئی تقریر خاموش نہ کر سکتی تھی، البتہ مجبوری کہ دونوں کے گلے تھکا کر آوازیں بند کر دیتی تھی اور منصفی بیچ میں آ کر کہتی تھی، دونوں اچھے، دونوں اچھے، کبھی کہتی وہ آفتاب ہیں، یہ ماہ، کبھی یہ آفتاب وہ ماہ!\n\nلکھنؤ کے بے فکرے بڑانے میں کمال رکھتے تھے اور تماشے کے عاشق، دبیرؔ تو غیر تھے، بھائی کو بھائی سے لڑا دیا۔ مدت تک بگڑی رہی۔ میر انیسؔ کے پاس آتے تو کہتے، حضور جب تک اصلاحی مرثیئے میں پڑھے جائیں جس دن آپ کا بِن دیکھا مرثیہ پرھا، قلعی کھل جائے گی۔\n\nدوسرے بھائی سے کہتے، حضور عمر کی بزرگی اور شے ہے، لطف زبان اور شے ہے۔ یہ نعمت آپ کا حصّہ ہے۔\n\nالغرض یہ پاک روحیں جن کی بدولت ہماری نظم کو قوت اور زبان کو وسعت حاصل ہوئی، صلہ ان کا سخن آفرین حقیقی عطا کرے۔ ہمارے شکریہ کی کیا بساط ہے، لیکن یہ بات جتانے کے قابل ہے کہ اقلیم سخن میں جو دائرہ اِن کے زیر قلم تھا، ان کے جوش طبع میں اس کا بہت سا حصّہ سخن آرائی اور رزم بزم نے دبا لیا، مرثیت کا میدان بہت تنگ رہ گیا اور افسوس کہ اصل مدعا ان کا وہی تھا جسے آپ کھو بیٹھے۔\n\nجب تک لکھنؤ آباد رہا، جب کسی اور شہر میں جانے کا ذکر ہوتا تو دونوں صاحب یہی فرماتے تھے کہ اس کلام کو اسی شہر کے لوگ سمجھ سکتے ہیں۔ اور کوئی اس کی قدر کیا جانے گا اور ہماری زبان کے لطف کو کیا سمجھے گا، لیکن تباہی لکھنؤ کے بعد اول ۱۸۵۸ء میں مرزا دبیر صاحب مرشد آباد بلائے گئے، وہ گئے اور ہمیشہ الہ آباد اور بنارس میں جاتے رہے۔ میر انیسؔ مرحوم اول ۱۸۵۹ء اور پھر ۱۸۶۰ء میں نواب قاسم علیخاں کی طلب اور اصرار سے عظیم آباد بھی جاتے رہے، پھر ۱۸۷۱؁ ء میں جب کہ ارسطو جاہ غفراں پناہ کے خلف الرشید مولوی سید شریف حسین خاں صاحب حیدر آباد میں تھے، تو ان کی تحریک سے نواب تہور جنگ بہادر نے میر انیسؔ کو طلب فرمایا، اب بھی ان کی پابندی وضع انھیں نکلنے نہ دیتی تھی، مگر مولوی صاحب موصوف کے کہنے کو بھی تھے، کہیں سے آم آئے چونکہ عمدہ تھے، مولوی صاحب ممدوح نے طاسوں میں پانی بھروا کر رکھ دیئے اور سب صاحبوں کو متوجہ فرمایا۔ ایک حکیم صاحب اسی جلسہ میں حرارت کی شکایت کر رہے تھے مگر شریک چاشنی ہوئے۔ کسی بزرگ نے کہا، حکیم صاحب! آپ تو ابھی علالت کی شکایت فرماتے تھے، حکیم صاحب تو بغلیں جھانکنے لگے۔ میر انیس نے فرمایا۔ فعل الحکیم لا یخلو عن الحکمۃ۔\n\nجس طرح ان کا کلام لاجواب دیکھتے ہو، اسی طرح اُن کا پرھنا بھی بے مثال ہی تھا، ان کی آواز، ان کا قد و قامت، ان کی صورت کا انداز، غرض ہر شے اِس کام کے لئے تھیک اور موزوں واقع ہوئی تھی۔ ان کا اور ان کے بھائیوں کا بھی قاعدہ تھا کہ ایک بڑا آئینہ سامنے رکھ کر خلوت میں بیٹھتے تھے اور مرثیہ پڑھنے کی مشق کرتے تھے، وضع، حرکات سکنات اور بات بات کو دیکھتے تھے اور آپ اس کی موزونی اور ناموزونی کی اصلاح دیتے تھے، ذوقؔ :\n\nبنا کے آئینہ دیکھے ہے پہلے آئینہ گر\n\nسبز در اپنے بھی عیب و ہنر کو دیکھتے ہیں\n\nیہ بات درست ہے کہ مرزا دبیرؔ کے پڑھنے میں وہ خوش ادائی نہ تھی لیکن حُسن قبول اور فیض تاثیر خدا نے دیا تھا ان کا مرثیہ کوئی اور بھی پڑھتا تھا تو اکثر رونے رُلانے میں کامیاب ہوتا تھا کہ یہی اس کام کی علت غائی ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%85%D9%90%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%D9%8E%D8%A8%D8%B1_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%B3"} {"title": "آب حیات/میر حسن", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "چوں حسن آں بلبل خوش داستاں\nروز ازیں گلزارِ رنگ و بو بتافت\n\nبسکہ شیریں بود نطقش مصحفی\nشاعرِ شیریں بیاں تاریخ یافت\n۱۴۱۱ ھ\n\nجو چاہے آپ کو تو اُسے کیا نہ چاہیے\nانصاف کر تو چاہیے پھر یا نہ چاہیے\n\nمجھ ایسا تجھ کو چاہے نہ چاہے عجب نہیں\nتجھ سا جو چاہے مجھ کو تو پھر کیا نہ چاہیے\n\nکس کو سنا کے کہتے ہو میں چاہتا نہیں\nاب کیوں جی ہم برے ہوئے اچھا نہ چاہیے\n\nگر پاس تیرے بیٹھوں تو معذور رکھ مجھے\nجس جا پہ شمع ہوئے تو پروانہ چاہیے\n\nعیش و وصال و صحبت یاراں فراغ دل\nاِسی ایک جان کے لئے کیا کیا نہ چاہیے\n\nدیتے ہو تم دکھائی جو ہمراہ غیر کے\nاس طرح سے غرض تمھیں دیکھا نہ چاہیے\n\nاب جیسے اک حسنؔ سے ہنسے تھے تو ہنس لئے\nپر اس طرح ہر ایک سے ٹھٹھا نہ چاہیے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nیہ طرفہ ترکہ تیرے سنبھلتی نہیں زباں\nاور تیرے سامنے مری چلتی نہیں زباں\n\nمیرا تو دل جلا تری باتوں سے شمع رُو\nتو بھی تو دیکھ کیا تری چلتی نہیں زباں\n\nکل عہد کچھ کیا تھا، دیا قول آج کچھ\nپھر کہیو تو کہ میری بدلتی نہیں زباں\n\nسرگرم سوزِ عشق رہے ہے یہ مثل شمع\nتن گھل گیا ہے اور پگھلتی نہیں زباں\n\nسو سو طرح سے کرتا ہوں تقریر میں حسنؔ\nعہدہ سے حال دل کے نکلتی نہیں زباں\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nوہ جب تک کہ زلفیں سنورا کیا\nکھڑا اس پہ میں جان وارا کیا\n\nابھی دل کو لے کر گیا میرے آہ\nوہ چلتا رہا میں پکارا کیا\n\nقمارِ محبت میں بازی سدا\nوہ جیتا کیا اور میں ہارا کیا\n\nکیا قتل اور جان بخشی بھی کی\nحسن اس نے احسان دوبارا کیا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%D9%86"} {"title": "آب حیات/میر ضاحک", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "میر مرحوم کو سوداؔ کے دیوان میں بہت مداخلت ہے اور انکے سلسلہ اولاد میں بھی ایسے عالی رتبہ باکمال پیدا ہوئے کہ خود صاحب طرز کہلائے۔ اس لئے ابتداء سے دل چاہتا تھا کہ اس خانوادہ سیادت کا سلسلہ لکھوں، مگر پھول نہ ہاتھ آئے جو لڑی پُروتا۔ اسی واسطے طبع اول میں مقصر با، بے درد، بے انصاف اصول فن سے بے خبر ہیں۔ کیا جانیں انھیں اپنے مضامین اخباروں میں چمکانے کے لئے روشنائی ہاتھ آئی۔ جہاں اور شکائتیں چھاپیں، ان میں ایک نمبر شمار یہ بھی بڑھایا۔ راقم آثم نے اطراف مشرقی اور خاص لکھنؤ میں بھی احباب کو لکھا، کہیں سے آواز نہ آئی، البتہ مولوی غلام محمد خاں تپشؔ نے اس شفقت کے ساتھ جواب یاس دیا کہ دل مشقت تلاش سے رہا ہو گیا۔ اب کہ طبع ثانی کا موقع ہے۔ آرزوئے قدیم پھر دل میں لہرائی، ناچار برسوں کے سُوکھے مرجھائے پھول جو دل افسردہ کے طاق میں پڑے تھے، انہی کا سہرہ بنا کر ساداتِ عظام کے روضوں پر چڑھاتا ہوں اور جس ابتدا تک دست آگاہی نے رسائی کی وہاں سے شروع کرتا ہوں۔\n\nمیر ضاحک مرحوم کا نام سید غلام حسین تھا۔ ان کے بزرگ ہرات سے آ کر پرانی دلی میں آباد ہوئے (صاحب تذکرہ گلزار ابراہیمی میر حسن مرحوم کے حال میں لکھتے ہیں کہ دلی میں بہجل مسجد کے پاس رہتے تھے اور حکیم قدرت اللہ خاں قاسم فرماتے ہیں کہ میر مرحوم کی ولادت محلہ سید واڑہ میں ہوئی کہ پرانی دلی میں ایک محلہ تھا۔) خاندان سیادت ان کا سَنَدی تھی۔ امامی ہردی کی اولاد میں تھے، اور شاعری بھی گھرانے میں میراث چلی آتی تھی۔ میر موصوف نہایت خوش طبع شگفتہ مزاج، خندہ جبیں ہنسنے اور ہنسانے والے تھے۔ اسی واسطے یہ تخلص اختیار کیا تھا، وضع اور لباس قدمائے دہلی کا پورا نمونہ تھا۔ سر پر سبز عمامہ بوضع عرب، بڑے گھیر کا پاجامہ یا جُبہ کہ وہ بھی اکثر سبز ہوتا تھا، گلے میں خاک پاک کا کنغھا، داہنے ہاتھ میں ایک چوڑی، اس میں کچھ کچھ دعائیں کندہ، چھنگلی بلکہ اور انگلیوں میں بھی کئی انگوٹھیاں، داڑھی کو مہندی لگاتے تھے۔ بہت بڑی نہ تھی، مگر ریش بچہ منڈاتے تھے۔ کبھی کبھی ہاتھوں میں بھی مہندی ملتے تھے۔\n\nمیانہ قد، رنگ گورا۔\n\nدیوان : دیوان اب تک نظر سے نہیں گذرا، جس پر کچھ رائے ظاہر کی جائے۔ خواص میں جو کچھ شہرت ہے، ان ہجوؤں کی بدولت ہے جو سوداؔ نے ان کے حق میں کہیں۔ سلطنت کی تباہی نے ان سے بھی دلی چھڑوائی اور فیض آباد کو آباد کیا۔\n\nسوداؔ نے جو ان کے حق میں گستاخی کی ہے۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ اول کسی موقع پر انھوں نے سودا کے حق میں کچھ فرمایا، سوداؔ ان کے پاس گئے اور کہا کہ اپ بزرگ میں خورد، آپ سید، میں آپ کے جد کا غلام، عاصی اس قابل نہیں کہ آپ اس کے حق میں کچھ ارشاد فرمائیں، ایسا نہ کیجیے کہ مجھ گنہگار کے منہ سے کچھ نکل جائے۔ اور قیامت کے دن آپ کے جد کے سامنے روسیاہ ہوں۔ تلامیذ الہٰی کے دماغ عالی ہوتے ہیں۔ ان کی زبان سے نکلا کہ نہیں بھئی یہ شاعری ہے، اس میں خوردی و بزرگی کیا، سودا آئیں تو کہا جائیں، پھر جو کچھ انھوں نے کہا، خدا نہ سنوائے، یہ بھی بزرگوں سے سُنا کہ مرزا نے جو کچھ ان کی جناب میں یاوہ گوئی کی ہے، میر موصوف نے اس سے زیادہ خراب و خوار کیا تھا۔ لیکن وہ کلام عجیب طرح سے فنا ہوا۔\n\nمیر حسن مرحوم ان کے صاحبزادے سودا کے شاگرد تھے۔ میر ضاحک کا انتقال ہوا تو سوداؔ فاتحہ کے لئے گئے اور دیوان اپنا ساتھ لیتے گئے۔ بعد رسم عزا پُرسی کے اپنی یاوہ گوئی پر جو کہ اس مرحوم کے حق میں کی تھی۔ بہت سے عذر ککئے اور کہا کہ سید مرحوم نے دنیا سے انتقال فرمایا، تم فرزند ہو جو کچھ اس روسیاہ سے گستاخی ہوئی معاف کرو۔ بعد اس کے نوکر سے دیوان منگا کر جو ہجوئیں ان کی کہی تھیں سب چاک کر ڈالیں۔ میر حسن نے بمقتضائے علو حوصلہ و سعادت مندی اسی وقت دیوان باپ کا گھر سے منگایا اور جو ہجوئیں ان کی تھیں وہ پھاڑ ڈالیں۔ لیکن چونکہ سودا کی تصنیف قلم سے نکلتے ہی بچہ بچہ کی زبان پر پھیل جاتی تھی، اس لئے سب قائم رہیں۔ ان کا کلام کہ اسی مجلد کے اندر تھا مفقود ہو گیا۔ سودا کے دیوان میں میر ضاحک مرحوم کی یہ ہجو جب دیکھتا تھا :\n\nمصرعہ : یا رب یہ دعا مانگتا ہے تجھ سے سکندر​\n\nتو حیران ہوتا تھا کہ سکندر کا یہاں کیا کام؟ میر مہدی حسن فراغؔ کو خدا مغفرت کرے (میر مہدی حسن فراغؔ ایک کہن سال شخص سید انشاء کے خاندان سے تھے۔ میاں بیتاب کے شاگرد تھے۔ فارسی کی استعداد اچھی تھی اور اردو شعر بھی کہتے تھے اور رموز سخن کے ماہر تھے۔ ناسخ و آتش کے مشاعرے اچھی طرح دیکھے تھے اور عملائے لکھنؤ کی صحبتوں میں بیٹھے تھے۔ انکے بزرگ اور وہ ہمیشہ سرکاروں میں داروغہ رہے تھے اس لئے قدیمی حالات اور خاندانی معاملات سے واقف تھے۔ بادشاہ بیگم یعنی نصیر الدین حیدر کی والدہ اور ثریا جاہ چندی گڈھ میں تھے۔ جب ھی یہ اور انکے بھائی انکے ہاں داروغہ تھے اور مرزا سکندر شکوہ کی سرکار میں بھی داروغہ رہے تھے، میاں بحر کے قدیمی دوست اور ہم مشق تھے۔) انھوں نے بیان کیا کہ ایک دن حسب معمول مرزا سلیمان شکوہ کے ہاں پائیں باغ میں تخت بچھے تھے، صاحب عالم خود مسند پر بیٹھے تھے، شرفاء و شعراء کا مجمع تھا۔ مرزا رفیع اور میاں سکندر مرثیہ گو بھی موجود تھے کہ مرزا صاحب تشریف لائے۔ ان کی پرانی وضع اور لباس پر کہ ان دنوں بھی انگشت نما تھی، صاحب عالم مسکرائے، میر صاحب آ کر بیٹھے، مزاج پرسی ہوئی۔ حقہ سامنے آیا۔ اتفاقاً صاحب عالم نے مرزا رفیع سے کہا کہ کچھ ارشاد فرمائیے (دونوں صاحبوں کے معاملات تو انھیں معلوم ہی تھے۔ خدا جانے چھیڑ منظور تھی (یا اتفاقاً زبان سے نکلا) سوداؔ نے کہا کہ میں نے تو ان دنوں میں کچھ کہا نہیں، میاں سکندر کی طرف اشارہ کیا کہ انھوں نے ایک مخمس کہا ہے، صاحب عالم نے فرمایا۔ کیا؟ سوداؔ نے پہلا ہی بند پڑھا تھا کہ میر ضاحکؔ مرحوم اٹھ کر میاں سکندر سے دست و گریبان ہو گئے۔ سکندر بچارے حیران کہ نہ واسطہ نہ سبب، یہ کیا آفت آ گئی۔ سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ دونوں صاحبان کو الگ کیا۔ اور سوداؔ کو دیکھیے تو کنارے کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ (یہ شان نزول ہے اس مخمس کی)۔\n\nہر چند چاہا کہ ان کے جلسے اور باہمی گفتگوؤں کے لطائف و ظرائف معلوم ہوں۔ کچھ نہ ہو تو چند غزلیں ہی پوری مل جائیں، کوئی کوشش کارگر نہ ہوئی۔ جب ان کے چراغ خاندان سید خورشید علی نفیس شواع توجہ سے دریغ فرمائیں تو غیروں سے کیا امید ہو۔ انھوں نے آزاد خاکسار کو آب حیات کی رو سے شاداب نہ کیا۔\n\nتشنہ بودم زدم تیغ جو آبم دادند\n\nدز جواب لب لعل تو جوابم دادند​\n\nتاریخ وفات بھی نہ معلوم ہوئی۔ ممکن نہیں کہ باکمال صاحزادہ نے تاریخ نہ کہی ہو مگر آزاد کو کون بتائے۔ صاحب تذکرہ گلزار ابراہیمی ۱۱۹۶ھ میں کہتے ہیں کہ فیض آباد میں ہیں اور دارستگی سے گزران کرتے ہیں۔\n\nجس تذکرہ میں دیکھا ایک ہی شعر ان کا درج پایا :\n\nکیا دیجئے اصلاح خدائی کو وگرنہ\n\nکافی تھا ترا حُسن اگر ماہ نہ ہوتا\n\n​", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D8%B6%D8%A7%D8%AD%DA%A9"} {"title": "آب حیات/میر عبدالحی تاباں", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "ان کے عہد میں میر عبدالحیی تاباں تخلص ایک شریف زادہ حُسن و کوبی میں اس قدر شہرہ آفاق تھا کہ خاص و عام اس کو یوسف ثانی کہتے تھے، گوری رنگت پر کالے کالے کپڑے بہت زیب دیتے تھے، اس لئے ہمیشہ سیاہ پوش رہتا تھا۔ اس کے حُسن کی یہاں تک شہرت پھیلی کہ بادشاہ کو بھی دیکھنے کا اشتیاق ہوا۔ معلوم ہوا کہ مکان حبش خاں کے پھاٹک میں ہے اور وہ بڑا دروازہ جو کوچہ مذکور سے بازار لاہوری دروازہ میں نکلتا ہے، اس کے کوٹھے پر نشست ہے۔ زمانہ کی تاثیر اور وقت کے خیالات کو دیکھنا چاہیے کہ بادشاہ خود سوار ہو کر اس راہ سے نکلے، انھیں بھی خبر ہو گئی تھی، بنے سنورے اور بازار کی طرف موڈھا بچھا کر آ بیٹھے۔ بادشاہ جب اس مقام پر پہنچے تو اس لئے ٹھہرنے کا ایک بہانہ ہو وہاں آب حیات (شاہانِ دہلی کے کاروبار کے لئے الفاظ خاص مستعمل تھے، مثلاً پانی کو آب حیات، کھانے کو خاصہ، سونے کو سکھ فرمانا، شہزادوں کا پانی آبِ خاصہ اور اسی طرح ہزاروں اصلاحی الفاظ تھے۔) مانگا، اور پانی پی کر دیکھتے ہوئے چلے گئے، الغرض تاباں خود صاحبِ دیوان تھے، شاہ حاتم اور میر محمد علی حشمت کے شاگرد تھے اور مرزا صاحب کے مُرید تھے، مرزا صاحب بھی چشمِ محبت اور نگاہِ شفقت سے دیکھتے تھے چنانچہ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ مرزا صاحب بیٹھے ہیں اور اُن کی صحبت میں کہ جہاں کبھی وعظ و ارشاد اور کبھی نظم و اشعار کا جلسہ رہتا تھا :- تاباںؔ بھی حاضر ہیں اور با ادب اپنے مرشد کی خدمت میں بیٹھے ہیں۔ حضرت اگرچہ محفل ارشاد کے آداب سے گرمجوشی ظاہر نہ کرتے تھے، مگر معلوم ہوتا تھا کہ دیکھتے ہیں اور مارے خوشی کے باغ باغ ہوئے جاتے ہیں، تاباںؔ بھی مزاج داں تھے، اشعار اور لطائف نمکین کہتے، حضرت سُن سُن کر خوش ہوتے، کوئی بات سب کے سامنے کہنی خلافِ ادب ہوتی تو جو اہلِ عقیدت میں ادب کا طریقہ ہے اسی طرح دست بستہ عرض کرتے کہ کچھ اور بھی عرض کیا چاہتا ہوں، حضرت مسکرا کر اجازت دیتے، وہ کان کے پاس منھ لے جاتے اور چند کلمے چپکے چپکے ایسے گستاخانہ کہتے کہ سوا اس پیارے عزیز کے کوئی نہیں کہہ سکتا۔ جسے بزرگوں کی محبت نے گستاخ کیا ہو، پس حضرت مسکراتے اور فرماتے کہ درست ہے پھر وہ اسی قسم کی کچھ اور باتیں کہتے، پھر آپ فرماتے کہ یہ بالکل درست ہے۔ جب تاباں اپنی جگہ پر آ بیٹھتے تو حضرت خود کہتے کہ ایک بات کا تمھیں خیال نہیں رہا۔ تاباں پھر کان کے پاس منھ لے جاتے، اُس وقت سے بھی تیز تر کوئی لطیفہ آپ اپنے حق میں کہتے (ان باتوں پر اور خصوصاً اِن کے شعر پر تہذیب آنکھ دکھاتی مگر کیا کیجیے ایشیا کی شاعری کہتی ہے کہ یہ میری صفائی زبان اور طراری کا نمک ہے۔ پس یہ رُخ اگر خصوصیت زبان کو نہ ظاہر کرے تو اپنے فرض میں قاصر ہے یا بے خبر ہے۔) اور اپنے پیارے عزیز کی ہم زبانی کا لُطف حاصل کرتے۔نہایت افسوس ہے کہ وہ پھول اپنی بہار میں لہلہاتا گر پڑا (ہائے میری دلی تیری جو بات ہے جہاں سے نرالی ہے ) جب اس یوسف ثانی نے عین جوانی میں دلوں پر داغ دیا تو تمام شہر نے اس کا سوگ رکھا۔ میر تقی میر نے بھی اپنی ایک غزل کے مقطع میں کہا ہے :\n\nداغ ہے تاباں علیہ الرحمہ کا چھاتی پہ میرؔ\n\nہو نجات اس کو بچارا ہم سے بھی تھا آشنا\n\nمرزا صاحب کی تحصیل عالمانہ نہ تھی مگر علمِ حدیث کو با اصول پڑھا تھا۔ حنفی مذہب کے ساتھ نقشبندی طریقہ کے پابند تھے اور احکامِ شریعت کو صدق دل سے ادا کرتے تھے اور صناع و اطوار اور ادب آداب نہایت سنجیدہ اور برجستہ تھے کہ جو شخص ان کی صحبت میں بیٹھتا تھا ہوشیار ہو کر بیٹھتا تھا، لطافت مزاج اور سلامتی طبع کی نقلیں ایسی ہیں کہ آج سُن کر تعجب آتا ہے، خلافِ وضع اور بے اسلوب حالت کو دیکھ نہ سکتے تھے۔\n\nنقل : ایک دن درزی ٹوپی سی کر لایا، اس کی تراش ٹیڑھی تھی۔ اس وقت دوسری ٹوپی موجود نہ تھی، اس لئے اسی کو پہنا مگر سر میں درد ہونے لگا۔\n\nنقل : جس چارپائی میں کان ہو اس پر بیٹھا نہ جاتا تھا۔ گھبرا کر اُٹھ کھڑے ہوتے تھے، چنانچہ دلی دروازہ کے پاس ایک دن ہوادار میں سوار چلے جاتے تھے۔ راہ میں ایک بنیئے کی چارپائی کے کان پر نظر جا پڑی۔ وہیں ٹھہر گئے اور جب تک اس کا کان نہ نکلوایا آگے نہ بڑھے۔\n\nنقل : ایک دن نواب صاحب کہ اِن کے خاندان کے مرید تھے ملاقات کو آئے اور خود صراحی لے کر پانی پیا، اتفاقاً آبخورا جو رکھا تو ٹیڑھا، مرزا کا مزاج اس قدر برہم ہوا کہ ہرگز ضبط نہ ہو سکا اور بگڑ کر کہا، عجب بے وقوف احمق تھا جس نے تمھیں نواب بنا دیا، آبخورا بھی صراحی پر رکھنا نہیں آتا۔\n\nمولوی غلام یحییٰ فاضل جلیل، جنھوں نے میر زاہد پر حاشیہ لکھا ہے، کہ بہدایت غیبی مرزا ے مُرید ہونے کو دلی میں آئے، ان کی ڈاڑھی بہت بڑی اور گھن کی تھی، جمعہ کے دن جامع مسجد میں ملے اور ارادہ ظاہر کیا، مرزا نے ان کی صورت کو غور سے دیکھا اور کہا کہ اگر مجھ سے آپ بیعت کیا چاہتے ہیں تو پہلے ڈاڑھی ترشوا کر صورت بھلے آدمیوں کی بنائیے پھر تشریف لائیے۔ اللہُ جَمیلٌ و یُحِبُ الجَلٌ و یُحِبُ الجَمَال۔ بھلا یہ ریچھ کی صورت مجھ کو اچھی نہیں معلوم ہوتی تو خدا کو کب پسند آئے گی۔ ملا متشرع آدمی تھے، گھر میں بیٹھ رہے، تین دن تک برابر خواب میں دیکھا کہ بغیر مرزا کے تمھارا عقدہ دل نہ کھلے گا، آخر بیچارے نے ڈاڑھی حجام کے سپرد کی اور جیسا خشخاشی خط مرزا صاحب کا تھا ویسا ہی رکھ کر مریدوں میں داخل ہوئے۔\n\nاسی لطافت مزاج اور نزاکت طبع کا نتیجہ ہے کہ زبان کی طرف توجہ کی اور اسے تراشا کہ جو شعر پہلے گزرے تھے، انھیں پیچھے ہی چھوڑ کر اپنے عہد کا طبقہ الگ کر دیا اور اہل زبان کو نیا نمونہ تراش کر دیا، جس سے پرانا رستہ ایہام گوئی کا زمین شعر سے مٹ گیا۔ ان کے کلام میں مضامین عاشقانہ عجب تڑپ دکھاتے ہیں اور یہ مقامِ تعجب نہیں، کیوں کہ وہ قدرتی عاشق مزاج تھے، اوروں کے کلام میں یہ مضامین خیال ہیں، ان کے اصل حال (افسوس ہے اہل وطن کے خیالات پر جنھوں نے ایسی ایسی لطافت طبع کی باتیں دیکھ کر ازروئے اعتقاد آخر میں ایک طرہ اور بڑھایا یعنی قاتل ہم جوانے صبیح و ملیح بود کہ بدستش جان سپروند یا شاید ایسا ہی، عالم الغیب خدا ہے۔) زبان ان کی نہایت صاف و شستہ و شفاف ہے، اس وقت کے محاورہ کی کیفیت کچھ ان کے اشعار سے اور کچھ اُس گفتگو سے معلوم ہو گی جو ایک دفعہ بر وقتِ ملاقات ان سے اور سید انشاء سے ہوئی، چنانچہ اصل عبارت دریائے لطافت سے نقل کی جاتی ہے۔\n\nسید انشاء اللہ خاں اور مرزا جانجاناں مظہرؔ کی ملاقات\n\nدرزمانیکہ راقم مذنب ہمراہ والد مرحوم مغفور وارد دار الخلافہ بود، ازبسکہ آوازہ فصحاحت و بلاغت جناب فیض مآب مرزا جانجاناں مظہرؔ علیہ الرحمتہ گوش راقم را مقرر خود داشت دل بادیدہ مستعد سکیزہ شد کہ چرا از دیدارِ مرزا صاحب خودرا ایں ہمہ محروم مے پسندی و مرا از لذتِ جاودانی و عیش روحانی کہ در کلامِ معجز نظام آنحضرت است، باز میداری چار و ناچار خط تراش واوہ جامہ ململ ڈھاکہ پوشیدہ و ستارِ سُرخ، برسرگزاشتم و دیگر لباس ہم ازیں قبیل و از سلاح انچہ باخود گرفتم کٹار بسیار خو بے بود کہ بکمرزدہ بودم، بایں ہئیت بسواری فیل روانہ خدمت سراپا افادت ایشاں شدم، چوں بالائے بام کہ کیول رام بانیہ متصل جامع مسجد ساختہ پیش کش مرزا صاحب کردہ بود برآمدم، دیدم کہ جناب معری الیہ با پیرہن و کلاہِ سفید دو دوپٹہ ناشپاتی رنگ بصورت سموسہ بردوش گزاشتہ نشستہ اندبکمالِ ادب سلامے برایشاں کردم، از فرطِ عنایت و کثرتِ مکارمِ اخلاق کہ شیوہ ستودہ بزرگانِ خدا پرست است بجواب سلام ملتفت شدہ برخاستند دوسرِایں بے لیاقت رادر کنار گرفتہ بہ پہلوئے خود جا داوند۔ (اس صحبت میں جو گفتگو ہوئی صفحہ میں لکھی گئی ہے۔) مرزا صاحب کا ایک دیوان فارسی ہے کہ خود ۶۰ برس کی عمر ۱۱۷۰ھ میں بیس (۲۰) ہزار شعر میں سے ایک ہزار شعر انتخاب کیا تھا۔ اسی واسطے اکثر غزلیں ناتمام اور بے ترتیب ہیں، اس کو انتہائی درجہ کی منصفی اور سلامتی طبع سمجھنا چاہیے ورنہ اپنے اشعار کہ اولادِ معنوی ہوتے ہیں، کس کا جگر ہے کہ اپنے ہاتھ سے کاٹے، فارسی بھی بہت شُستہ ہے اور مضامینِ عاشقانہ ایک انداز کے ساتھ بندھے ہیں۔\n\nمراچہ جرم کہ ہر نالہ ام رموز دنی\n\nغلط کنند عزیزاں بمصرعہ اُستاد\n\nاُردو میں بھی پورا دیوان نہیں، غزلیں اور اشعار ہیں جو سوداؔ اور میرؔ کی زبان ہے وہی اُن کی زبان ہے لیکن سوداؔ بھلا کسے خاطر میں لاتے تھے، چنانچہ سب آداب اور رعایتوں کو بالائے طاق رکھ کر فرماتے ہیں :\n\nمظہرؔ کا شعر فارسی اور ریختہ کے بیچ\n\nسوداؔ یقین جان کہ روڑا ہے باٹ کا\n\nآگاہِ فارسی تو کہیں اِس کو ریختہ\n\nواقف جو ریختہ کے ذرا ہووے ٹھاٹھ کا\n\nسُن کر وہ یہ کہے کہ نہیں ریختہ ہے یہ\n\nاور ریختہ بھی ہے تو فیروز شہ (فیروز شاہ) کی لاٹھ کا\n\nالقصہ اس کا حال یہی ہے جو سچ کہوں\n\nکتا ہے دھوبی کا کہ نہ گھر کا نہ گھاٹ کا\n\n(نقطہ اس میں یہ ہے کہ مرزا صاحب نے ایک دھوبن گھر میں ڈال لی تھی)\n\nخریطہ جواہر : ایک مختصر انتخاب اساتذہ فارس کے اشعار کا ہے کہ اپنی پسند کے بموجب لکھے گئے تھے، وہ حقیقت میں خریطہ جواہر ہے۔\n\nجب (اکثر حالات اور سال تاریخ وغیرہ معمولات مظہری سے لیے گئے۔) کہ صحرائے فنا میں ۷۹ منزلیں عمر کی طے کر ۸۰ میں قدم رکھا تو دل کو آگاہی ہونے لگی کہ اب روح کا مسافر بدن کا بوجھ پھینکا چاہتا ہے، چنانچہ خود اکثر تحریروں اور تقریروں میں صاف صاف اظہار کرتے تھے۔\n\nایک معتقد کا بیٹا حسن اعتقاد سے غزل لے کر آیا کہ شاد ہو اور اصلاح لے۔ انھوں نے کہا کہ اصلاح کے ہوش و حواس کسے ہیں اب عالم کچھ اور ہے۔ عرض کی کہ میں بطور تبرک سعادت حاصل کرنی چاہتے ہوں، فرمایا کہ اس وقت ایک شعر خیال میں آیا ہے، اسی کو تبرک اور اسی کو اصلاح سمجھ لو۔\n\nلوگ کہتے ہیں مر گیا مظہرؔ\n\nفی الحقیقت میں گھر گیا مظہرؔ\n\nغرض ساتویں محرم کی تھی کہ رات کے وقت ایک شخص مٹھائی کی ٹوکری ہاتھ میں لئے آیا، دروازہ بند تھا، آواز دی اور ظاہر کیا کہ مُرید ہوں، نذر لے کر آیا ہوں۔ وہ باہر نکلے تو قرابین (استاد مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ گاڑے کا نشان ہم نے بھی دیکھا ہے۔ کیول رام کے کوٹھے پر ڈیوڑھی کی دیوار میں اب تک موجود تھا۔) ماری کہ گولی سینہ کے پار ہو گئی، وہ بھاگ گیا۔ مگر انھیں زخم کاری آیا، تین دن تک زندہ رہے۔ اس عالمِ اضطراب میں لوٹتے تھے اور اپنا ہی شعر پڑھتے تھے۔\n\nبنا کردند خوش رسمے بخون و خاک غلطیاں\n\nخدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را\n\nیہ تین دن نہایت استقلال اور ثابت قدمی سے گزارے بلکہ جب شاہ عالم بادشاہ کو خبر پہنچی تو بعد تحقیقات کے کہلا بھیجا کہ قاتل نہیں ملتا، نشان بتائیے تو ہم اسے سزا دیں۔ جواب میں کہا کہ فقیر کشتہ راہِ خدا ہیں اور مردہ کا مارنا قتل نہیں۔\n\nقاتل ملے تو آپ سزا نہ دیں، یہاں بھیج دیں، آخر دسویں کو شام کے وقت دنیا سے انتقال کیا، بہت لوگوں نے تاریخیں کہیں، مگر درجہ اول پر میر قمر الدین منتؔ کی تاریخ ہے جس کا مادہ خاص الفاظِ حدیث ہیں اور اتفاق یہ کہ موزوں ہیں عاش حمیدا، مات شھیدًا۔ اِس قتل کا سبب دلی کے خاص و عام میں مشہور تھا کہ بموجب رسم کے ساتویں کو علم اُٹھے تھے یہ سرِ راہ اپنے بالا خانہ پر خاص خاص مریدوں کو لئے بیٹھے تھے جیسا کہ عوام جہلا کی عادت ہے شاید طرفین سے کچھ کچھ طعن و تعریض ہوئے ہوں، وہ کسی جاہل کو ناگوار ہوئے اُن میں کوئی سنگ دل قول و خال نام سخت جاہل تھا، اُس نے یہ حرکت کی، لیکن حکیم قدرت اللہ قاسمؔ اپنے تذکرہ میں فرماتے ہیں کہ مرزا صاحب اپنے کلام میں اکثر اشعار حضرت علی کی مدح میں کہا کرتے تھے، اس پر بگڑ کر کسی سُنی نے یہ حرکت کی۔\n\nنہ کرمظہرِ باطاعتے و رفت بخاک\n\nنجات خود بہ تو لائے بوتراب گذاشت\n\n(عجب مشکل ہے حکیم صاحب بھی ایک خوش اعتقاد سنت جماعت تھے۔ وہ کہتے ہیں سُنی نے مارا، لوگ کہتے ہیں شیعہ نے مارا۔ خیر شیعہ سُنی آپس میں سمجھ لیں۔ میرا کام اتنا ہی تھا جو کچھ پایا کاغذ کے حوالہ کیا۔)\n\nجد مرحوم ایک اُردو کا شعر اُن کے نام سے پڑھا کرتے تھے۔\n\nہوں تو سُنی پہ علی کا صدق دل سے ہوں غُلام\n\nخواہ ایرانی کہو تم خواہ تورانی مجھے\n\nدلی میں پتلی قبر کے پاس گھر ہی میں دفن کر دیا تھا کہ اب خانقاہ کہلاتی ہے۔ قبر پر انہی کا شعر لکھا ہے :\n\nبلوحِ تُربت من یافتند از غیب تحریر ہے\n\nکہ ایں مقتول راجز بیگناہی نیست تقصیرے\n\nتاریخ مرزا رفیع سودا نے بھی کہی :\n\nمرزا کا ہوا جو قاتل ایک مرتدِ شوم\n\nاور اِن کی ہوئی خبر شہادت کی عموم\n\nتاریخ ازروئے، درد، یہ سن کے کہی\n\nسوداؔ نے کہ ہائے جانِ جاناں (۱۱۹۵) مظلوم\n\nاس لکھنے سے مجھے اظہار اس امر کا منظور ہے کہ ہجو ہمارے نظم کی ایک خاردار شاخ ہے جس کے پھل سے پھول تک بے لطفی بھری ہے اور اپنی زمین اور دہقان دونوں کی کثافتِ طبع پر دلالت کرتی ہے۔ چنانچہ اس میں بھی مرزا رفیع مرحوم سب سے زیادہ بدنام ہیں، لیکن حق یہ ہے کہ ان کی زبان سے جو کچھ نکلتا تھا باعث اُس کا یا فقط شوخی طبع یا کوئی عارضی جوش ناراضی کا ہوتا تھا اور مادہ کثافت فقط اتنا ہوتا تھا کہ جب الفاظ کاغذ پر آ جاتے تھے تو دل صاف ہو جاتا تھا۔ (دیکھو سوداؔ کے حال میں ان کا اور مرزا فاخر یکینؔ کا جھگڑا صفحہ اور سید انشاء کے حال میں مشاعرہ دلی کا معرکہ۔) چنانچہ تاریخ مذکور کے الفاظ دل کی صفائی کا حال ظاہر کرتے ہیں۔ ہمارا زمانہ ایسے مہذب اور شائستہ لوگوں سے آراستہ ہے کہ لفظ ہجو کو گالی سمجھتے ہیں مگر دلوں کا مالک اللہ ہے۔\n\nاِن کے شاگردوں میں میر محمد باقر حزیں، بساون لال بیدارؔ، کواجہ احسن اللہ خاں بیانؔ، انعام اللہ خاں یقینؔ، مشہور صاحبِ دیوان اور اچھے شاعر ہوئے، ان کی غزلیں تمام و کمال نہ ملیں، جو کچھ سرِ دست حاضر تھا درج کیا۔\n\nچلی اب گل کے ہاتھوں سے لُٹا کر کارواں اپنا\n\nنہ چھوڑا ہائے بلبل نے چمن میں کچھ نشاں اپنا\n\nیہ حسرت رہ گئی کیا کیا مزے کی زندگی کٹتی\n\nاگر ہوتا چمن اپنا، گل اپنا، باغباں اپنا\n\nالم سے یاں تلک روئیں کہ آخر ہو گئیں رسوا\n\nڈبایا ہائے آنکھوں نے مژہ کا خاندان اپنا\n\nرقیباں کی نہ کچھ تقصیر ثابت ہے نہ خوباں کی\n\nمجھے ناحق ستاتا ہے یہ عشقِ بدگماں اپنا\n\nمرا جی جلتا ہے اِس بلبلِ بیکس کی غُربت پر\n\nکہ جن نے آسرے پر گل کے چھوڑا آشیاں اپنا\n\nجو تو نے کی سو دشمن بھی نہیں دشمن سے کرتا ہے\n\nغلط تھا جانتے تھے تجھ کو جو ہم مہرباں اپنا\n\nکوئی آزردہ کرتا ہے سجن اپنے کو ہے ظالم\n\nکہ دولت خواہ اپنا مظہر اپنا جانجاں اپنا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nگرچہ الطاف کے قابل یہ دلِ زار نہ تھا\n\nلیکن اِس جور و جفا کا بھی سزا وار نہ تھا\n\nلوگ کہتے ہیں ہوا مظہرِ بے کس افسوس\n\nکیا ہوا اس کو وہ اتنا بھی تو بیمار نہ تھا\n\nجواں مارا گیا خوباں کے بدلے میرزا مظہرؔ\n\nبھلا تھا یا بُرا تھا، زور کچھ تھا خوب کام آیا\n\nہم نے کی ہے توبہ اور دھومیں مچاتی ہے بہار\n\nہائے بس چلتا نہیں کیا مفت جاتی ہے بہار\n\nلالہ و گل نے ہماری خاک پر ڈالا ہے شور\n\nکیا قیامت ہے موؤں کو بھی ستاتی ہے بہار\n\nشاخ گل ہلتی نہیں یہ بلبلوں کو باغ میں\n\nہاتھ اپنے کے اشارہ سے بلاتی ہے بہار\n\nہم گرفتاروں کو اب کیا کام ہے گلشن سے لیک\n\nجی نکل جاتا ہے جب سُنتے ہیں آتی ہے بہار\n\nیہ دل کب عشق کے قابل رہا ہے\n\nکہاں اِس کو دماغ و دل رہا ہے\n\nخدا کے واسطے اِس کو نہ ٹوکو\n\nیہی اک شہر میں قاتل رہا ہے\n\nنہیں آتا اسے تکیہ پہ آرام\n\nیہ سر پاؤں سے تیرے ہل رہا ہے\n\nاگر ملئے تو خفت ہی دگر دوری قیامت ہے\n\nغرض نازک دماغوں کو محبت سخت آفت ہے\n\nکوئی لیوے دل اپنے کی خبر یا دلبر اپنے کی\n\nکسی کا یار جب عاشق کہیں ہو کیا قیامت ہے\n\nتوفیق دے کہ شور سے اک دم تو چپ رہے\n\nآخر مرا یہ دل ہے الٰہی جرس نہیں\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D8%AD%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA"} {"title": "آب حیات/میر محمد تقی میر", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "برقع کو اٹھا چہرہ سے وہ بُت اگر آوے\nاللہ کی قدرت کا تماشہ نظر آوے\n\nاے ناقہ لیلٰے دو قدم راہ غلط کر\nمجنوں ز خود رفتہ کبھو راہ پر آوے\n\nٹک بعد مرے میرے طرفداروں کنے تو\nبھیجو کوئی ظالم کہ تسلی تو کر آوے\n\nکیا ظرف ہے گردون تنک حوصلہ کا جو\nآشوبِ فغاں کے مرے عہدے سے بر آوے\n\nممکن نہیں آرام دے بیتابی جگر کی\nجب تک نہ پلک پر کوئی ٹکڑا نظر آوے\n\nمت ممتحن باغ ہواے غیرتِ گلزار\nگل کیاکہ جسے آگے ترے بات کر آوے\n\nکھلنے میں ترے منھ کی کلی پھاڑے گریباں\nہلنے میں ترے ہونٹوں کے گلبرگ تر آوے\n\nہم آپ سے جاتے رہے ہیں ذوق خبر میں\nاے جانِ بلب آمدہ رہ تا خبر آوے\n\nکہتے ہیں ترے کوچہ سے میر آنے کہے ہے\nجب جانئے وہ خانہ خراب اپنے گھر آوے\n\nہے جی میں غزل در غزل اے طبع یہ کہیے\nشاید کہ نظیری کے بھی عہدے سے بر آوے\n\nجب نام ترا لیجئے تب چشم بھر آوے\nاِس زندگی کرنے کوکہاں سے جگر آوے\n\nتلوار کا بھی مارا خدا رکھے ہے ظالم\nیہ تو ہو کوئی گورِ غریباں میں در آوے\n\nمے خانہ وہ منظر ہے کہ ہر صبح جہاں شیخ\nدیوار پہ خورشید کا مستی سے سر آوے\n\nکیا جانیں وہ مرغان گرفتار چمن کو\nجن تک کہ بصد ناز نسیم سحر آوے\n\nتو صبح قدم رنگہ کرے ٹک تو ہے ورنہ\nکس واسطے عاشق کی شب غم بسر آوے\n\nہر سو تسلیم رکھے صید حرم میں\nوہ صید فگن تیغ بکف تا کدھر (*) آوے\n\n* امیر خسرو کا شعر ہے :\nہمہ آہواں صحرا سر خود نہادہ برکف\nبامیدایں کہ روزے بہ شکار خواہی آمد\n\nدیواروں سے سر مارتے پھرنے کا گیا وقت\nاب تو ہی مگر آپ کبھو در سے در آوے\n\nواعظ نہیں کیفیتِ مے خانہ سے آگاہ\nیک جرعہ بدل ورنہ یہ مندیل دھر آوے\n\nصناع ہیں سب خوا رازانجملہ ہوں میں بھی\nہے عیب بڑا اس میں جسے کچھ ہنر آوے\n\nاے وہ کہ تو بیٹھا ہے سرِ راہ پہ زنہار\nکہیو جو کبھو میرؔ بلاکش ادھر آوے\n\nمت دشتِ مھبت میں قدم رکھ کہ خضر کو\nہر گام پہ اس رہ میں سفر سے حذر آوے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nکوفت سے جان لب پہ آئی ہے\nہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے\n\nلکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر\nشوق نے بات کیا بڑھائی ہے\n\nآرزو اس بلند و بالا کی\nکیا بلا میرے سر پہ لائی ہے\n\nدیدنی ہے شکستگی دل کی\nکیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے\n\nہے تصنع کہ لعل ہیں وہ لب\nیعنی اک بات سی بنائی ہے\n\nدل سے نزدیک اور اتنا دُور\nکسے اس کو کچھ آسنائی ہے\n\nبے ستون کیا ہے کوہ کن کیسا\nعشق کی زور آزمائی ہے\n\nجس مرض میں کہ جان جاتی ہے\nدلبروں ہی کی وہ جدائی ہے\n\nیاں ہوئے خاک سے برابر ہم\nواں وہی ناز خود نمائی ہے\n\nایسا ہوتا ہے زندہ جاوید\nرفتہ یار تھا جب آئی ہے\n\nمرگِ مجنوں سے عقل گم ہے میرؔ\nکیا دوانے نے موت پائی ہے\n\nکعبے میں جاں بلب تھے ہم دوری بتاں سے\nآئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے یاں سے\n\nتصویر کے سے طائر خاموش رہتے ہیں ہم\nجی کچھ اچٹ گیا ہے اب نالہ و فغاں سے\n\nجب کوندتی ہے بجلی تب جانب گلستاں\nرکھتی ہے چھیڑ میری خاشاک آشیاں سے\n\nکیا خوبی اسکے منہ کی اے غنچے نقل کرئیے\nتُو تُو نہ بول ظالم بو آتی ہے وہاں سے\n\nآنکھوں ہی میں رہے ہو دل سے نہیں گئے ہو\nحیران ہوں یہ شوخی آئی تمھیں کہاں سے\n\nسبزانِ باغ سارے دیکھے ہوئے ہیں اپنے\nدلچسپ کاہے کو ہیں اس بیوفا جواں سے\n\nکی شِست و شو بدن کی جسدن بہت سی انے\nدھوئے ہیں ہاتھ میں نے اسدن سے اپنی جاں سے\n\nخاموشی ہی میں ہم نے دیکھی ہے مصلحت اب\nہر اک سے حال دل کا مدت کہا زباں سے\n\nاتنی بھی بدمزاجی ہر لحظہ میرؔ تم کو\nالجھاؤ ہے زمیں سے جھگڑا ہے آسماں سے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nاے نوکیلے یہ تھی کہاں کی ادا\nکھب گئی جی میں تیری بانکی ادا\n\nجادو کرتے ہیں اک نگاہ کے بیچ\nہائے رے چشم دلبراں کی ادا\n\nبات کہنے میں گالیاں دے ہے\nسنتے ہو میرے بدزباں کی ادا\n\nدل چلے جائے ہیں خرام کے ساتھ\nدیکھی چلنے میں ان بتاں کی ادا\n\nخاک میں مل کے میر ہم سمجھے\nبے ادائی تھی آسماں کی ادا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*​\n\nمیر سوزؔ مرحوم نے بھی یہ مضمون خوب باندھا ہے۔\n\nدعوی کیا تھا گل نے اس رخ سے رنگ و بو کا\nماریں صبا نے دھو لیں شبنم نے منہ پہ تھوکا​\n\nسخن مشتاق ہے عالم ہمارا\nبہت عالم کرے گا غم ہمارا\n\nپڑھیں گے شعر رو رو لوگ بیٹھے\nرہے گا دیر تک ماتم ہمارا\n\nنہیں ہے مرجعِ آدم اگر خاک\nکدھر جاتا ہے قد خم ہمارا\n\nزمین و آسماں زیر و زبر ہیں\nنہیں کم حشر سے اودھم ہمارا\n\nکسو کے بال و پر ہم دیکھتے میرؔ\nہوا ہے کام دل برہم ہمارا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nجان (*) اپنا جو ہم نے مارا تھا\nکچھ ہمارا اسی میں وارا تھا\n* اس زمانے میں اکثر استاد جان کو مذکر باندھتے تھے۔\n\nکون لیتا تھا نام مجنوں کا\nجب کہ عہد جنوں ہمارا تھا\n\nکوہ و فرہاد سے کہیں آگے\nسر مرا اور سنگ خارا تھا\n\nہم تو تھے محو دوستی اُس کے\nگو کہ دشمن جہاں ہمارا تھا\n\nلطف سے پوچھتا تھا ہر کوئی\nجب تلک لطف کچھ ہمارا تھا\n\nآستاں کی کسو کے خاک ہوا\nآسماں کا بھی کیا ستارا تھا\n\nپاؤں چھاتی پہ میرے رکھ چلنا\nیاں کبھی اس کا یوں گذرا تھا\n\nموسم گل میں ہم نہ چھوٹے حیف\nگشت تھا دید تھا نظارا تھا\n\nاس کے ابرو جو ٹک جھکے اِیدھر\nقتل کا تیغ سے اشارا تھا\n\nعشق بازی میں کیا موئے ہیں میرؔ\nآگے ہی جی انھوں نے مارا تھا\n\nآیا ہے ابر جب کا قبلہ سے تیرا تیرا\nمستی کے ذوق میں ہیں آنکھیں بہت سی خیرا\n\nخبلت سے ان لبوں کی پانی ہو یہ چلے ہیں\nقند و نبات کا بھی نکلا ہے خوب شیرا\n\nمجنوں نے حوسلے سے دیوانگی نہیں کی\nجاگہ سے اپنی جانا اپنا نہیں وطیرا\n\nاس راہزن سے ملکر دل کیونکہ کھو نہ بیٹھیں\nانداز و ناز اُچکے غمزہ اٹھائی گیرا\n\nکیا کم ہے ہولناکی صحرائے عاشقی کی\nشعروں کو اس جگہ پر ہوتا ہے قشعریرا\n\nآئینہ کو بھی دیکھو پر ٹک ادھر بھی دیکھو\nحیران چشم عاشق دمکے ہے جیسے ہیرا\n\nنیت پہ سب بنا ہے یا مسجد اک پڑی تھی\nپیر مغاں موا سو اس کا بنا خطیرا\n\nہمراہ خوں تلک ہو ٹک پاؤں کے چھوئے سے\nایسا گناہ مجھ سے وہ کیا ہوا کبیرا\n\nغیرت سے میر صاحب سب جذب ہو گئے تھے\nنکلا نہ بوند لوہو سینہ جو ان کا چیرا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nمت صبح و شام تو پئے ایذائے میر ہو\nایسا نہ ہو کہ کام ہی اس کا اخیر ہو\n\nہو کوئی بادشاہ، کوئی یاں وزیر ہو\nاپنی بلا سے بیٹھ رہے جب فقیر ہو\n\nجنت کی منٹ انکے دماغوں سے کب اٹھے\nخاک راہ اس کی جن کے کفن کا عبیر ہو\n\nکیا (*) لو آب و تاب سے ہو بیٹھیں کار عشق\nسُوکھے جگر کا خوں تو رواں جوئے شیر ہو\n\n* یہ اور کئی شعر مندرجہ ان کے دیوانوں میں دیکھے اس طرح لکھے تھے اس لیے حرف بحرف لکھے گئے۔\n\nچھاتی قفس میں داغ سے ہو کیوں نہ رشک باغ\nجوش بہار تھا کہ ہم آئے اسیر ہو\n\nیاں برگ گل اڑاتے ہیں پرکالہ جگر\nجا عندلیب تو نہ مری ہمصفیر ہو\n\nاس کے خیال خط میں کسے یاں دماغ حرف\nکرتی ہے بے مزہ جو قلم کی ضریر ہو\n\nزنہار اپنی آنکھ میں آتا نہیں وہ صید\nپھوٹا دو سار جس کے جگر کا نہ تیر ہو\n\nہوتے ہیں میکدے کے جواں شیخ جی بُرے\nپھر درگذر یہ کرتے نہیں گو کہ پیر ہو\n\nکس طرح آہ خاکِ مذلت سے میں اُٹھوں\nافتادہ تر جو مجھ سے مرا دستگیر ہو\n\nحد سے زیادہ جور و ستم خوش نما نہیں\nایسا سلوک کر کہ تدارک پذیر ہو\n\nدم بھر نہ ٹھہرے دل میں نہ آنکھوں میں ایک پل\nاتنے سے قد پہ تم بھی قیامت شریر ہو\n\nایسا ہی اس کے گھر کو بھی آباد دیکھیو\nجس خانماں خراب کا یہ دل مشیر ہو\n\nتسکین دل کیواسطے ہم کم ب۔۔۔ کے پاس\nانصاف کرئیے کب تئیں مخلص حقیر ہو\n\nاک وقت خاص حق میں مرے کچھ دعا کرو\nتم بھی تو میر صاحب قبلہ فقیر ہو\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nدلِ پُر خوں کی اک گلابی سے\nعمر بھر ہم رہے شرابی سے\n\nجی ڈھہا جائے ہے سحر سے آج\nرات گزرے گی کس خرابی سے\n\nکھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے\nاس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے\n\nبرقع اٹھتے ہی چاند سے نکلا\nداغ ہوں اس کی بے حجابی سے\n\nکام تھے عشق میں بہت پر میرؔ\nہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nدل عجب شہر تھا خیالوں کا\nلوٹا مارا ہے حسن والوں کا\n\nجی کو جنجال دل کو ہے الجھاؤ\nیار کے حلقہ حلقہ بالوں کا\n\nموئے دلبر سے مشک بو ہے نسیم\nحال خوش اس کے خستہ حالوں کا\n\nنہ کہا کچھ نہ آ پھر نہ ملا (اس مصرعے میں کچھ گڑبڑ لگتی ہے)\nکیاجواب ان مرے سوالوں کا\n\nدم نہ لے اس کی زلفوں کا مارا\nمیرؔ کاٹا جئے نہ کالوں کا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nہے غزل میرؔ یہ شفائی کی\nہم نے بھی طبع آزمائی کی\n\nاُس کے ایفائے عہد تک نہ جئے\nعمر نے ہم سے بے وفائی کی\n\nوصل کے دن کی آرزو ہی رہی\nشب نہ آخر ہوئی جدائی کی\n\nاسی تقریب اس گلی میں رہے\nمنتیں ہیں شکستہ پائی کی\n\nدل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر\nآہ نے آہ نارسائی کی\n\nکاسئہ چشم لے کے جوں نرگس (*)\nہم نے دیدار کی گدائی کی\n*************************************\n* آتش نے بھی خوب کہا ہے :\n\nآنکھیں نہیں ہیں چہرہ پہ تیرے فقیر کے\nدو ٹھیکرے ہیں بھیک کے دیدار کے لئے\n****************************************\n\nزور و زر کچھ نہ تھا تو بارے میرؔ\nکس بھروسے پہ آشنائی کی\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nہو گئی شہر شہر رسوائی\nاے مری موت تو بھلی آئی\n\nیک بیاباں برنگ صورت جرس\nمجھ پہ ہے بے کسی و تنہائی\n\nنہ کھنچے تجھ سے ایک جانقاش\nاس کی تصویر وہ ہے ہرجائی\n\nسر رکھوں اس کے پاؤں پر لیکن\nدستِ قدرت یہ میں کہاں پائی\n\nمیرؔ جب سے گیا ہے دل تب سے\nمیں تو کچھ ہو گیا ہوں سودائی​\n\nاہلی شیرازی کے شعر پر مصرع لگا کر مثلث کا ایجاد اپنی زبان میں دکھاتے ہیں :\n\nکل تک تو فرینبدہ ملاقات تھی پہلی​\n\nامروز یقیں شد کہ نداری سراہلی\nبیچارہ زلفِ تو بدل داشت گمای\n\nکیا کہوں میں عاشق و معشوق کا راز و نیاز\n\nناقہ را میرا ند لیلٰے سوئے خلوت گاہ ناز\nسارباں درد رہ حدی میخواند و مجنوں میگریست​\n\nایک مثلث سید انشاء کا یاد آ گیا۔ کیا خوب مصرع لگایا ہے۔\n\nاگرچہ سینکڑوں اس جا پہ تھے کھڑے زن و مرد\n\nنشد قتیل ولیکن کہ یک کس از سر درد\nسرے بہ نعش من خستہ جاں بجنببا ند​\n\nمربع پانچویں دیوان سے\n\nجوائے قاصد وہ پوچھے میرؔ بھی ایدھر کو چلتا تھا\nتو کہیو جب چلا تھا میں تب اسکا دم نکلتا تھا\n\nسماں افسوس بیتابی سے تھا کل قتل میں میرے\nتڑپتا تھا ادھر میں یار اودھر ہاتھ ملتا تھا​\n\nمربع فارسی پر\n\nسکندر ہے نہ دارا ہے نہ کسرا ہے نہ قیصر ہے\nیہ بیت المال ملک بیوفا بے وارثا گھر ہے\n\nنہ در جانم، ہوا باقی نہ اندر دل ہوس ماندہ\nبیا ساقی کہ ایں ویرانہ از بسیار کس ماندہ", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%AA%D9%82%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1"} {"title": "آب حیات/میر مستحسن، خلیق", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "میر حسن کے صاحبزادے، حُسنِ اخلاق اور اوصاف کی بزرگی میں بزرگوں کے فرزند رشید تھے، متانت، سلامت روی اور مسکینی ان کی سیادت کے لئے محضر شہادت دیتے تھے۔ فیض آباد اور لکھنؤ میں تعلیم و تربیت پائی تھی، 16 برس کی عمر مشقِ سخن شروع کی اور خلق حسن کی مناسبت سے خلیقؔ تخلص اختیار کیا۔ ابتدا میں غزلیں بہت کہتے تھے اور والد بزرگوار سے اصلاح لیتے تھے۔ جب شیخ مصحفیؔ لکھنؤ میں پہونچے تو میر حسنؔ ان دنوں بدر منیر لکھ رہے تھے، اور میر خلیق کی آمد کا یہ عالم کہ مارے غزلوں کے دم نہ لیتے تھے، شفیق باپ کو اپنے فکر سے فرصت نہ دیتے تھے۔ بیٹے کو ساتھ لے گئے اپنی کم فرصتی کا حال بیان کیا اور اصلاح کے لئے شیخ موصوف کے سپرد کر دیا، ہونہار جوان کی جوان طبیعت نے رنگ نکالا تھا کہ قدردانی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور نیشا پوری خاندان میں پندرہ روپیہ مہینے کا نوکر رکھوا دیا۔ انہی دنوں میں مرزا تقی ترقی (مرزا تقی ترقی خاندان مذکور میں ایک عالی ہمت امیر تھے اور سرکار اودھ میں جاگیردار تھے۔) نے چاہا کہ فیض آباد میں شعر و سخن کا چریا ہو۔ مشاعرہ قائم کیا اور خواجہ حیدر علی آتش کو لکھنؤ سے بلایا، تجویز یہ تھی کہ انھیں وہیں رکھیں۔ پہلے ہی جلسہ میں جو میر خلیقؔ نے غزل پڑھی۔ اُس کا مطلع تھا۔\n\nرشکِ آئینہ ہے اس رشکِ قمر کا پہلو\n\nصاف ادھر سے نظر آتا ہے اُدھر کا پہلو​\n\nآتش نے اپنی غزل پھاڑ ڈالی اور کہا کہ جب ایسا شخص یہاں موجود ہے تو میری کیا ضرورت ہے۔\n\nمیر خلیقؔ نازک خیالیوں میں ذہن لڑا رہے تھے کہ باپ کی موت نے شیشہ پر پتھر مارا، عیال کا بوجھ پہاڑ ہو کر سر پر گرا، جس نے آمد کے چشمے خاک ریز کر دیئے۔ مگر ہمّت کی پیشانی پر ذرا بل نہ آیا۔ اکثر فیض آباد میں رہتے تھے، لکھنؤ آتے تھے تو پیر بخارا میں ٹھہرا کرتے تھے۔ پر گوئی کا یہ حال تھا کہ مثلاً ایک لڑکا آیا۔ اس نے کہا میر صاحب! آٹھوں کا میلہ ہے ہم جائیں گے ایک غزل کہہ دیجیے۔ اچھا بھئی کہہ دیں گے، میر صاحب! میلہ تو کل ہے، ہم کل جائیں گے ابھی کہہ دیجیے۔ اسی وقت غزل لکھ دی، اس نے کہا، یاد بھی کرا دیجیے۔ میر صاحب اسے یاد کروا رہے ہیں، اُن دنوں میں غزلیں بِکا کرتی تھیں۔ میاں مصحفیؔ تک اپنا کلام بیچتے تھے، یہ بھی غزلیں کہہ کر فروخت کرتے تھے۔\n\nایک دن ایک خریدار آیا اور اپنا تخلص ڈلوا کر شیخ ناسخؔ کے پاس پہونچا کہ اصلاح دے دیجیے۔ شیخ صاحب نے غزل پڑھ کر اس کی طرف دیکھا اور بگڑ کر کہا، ابے تیرا منھ ہے جو یہ غزل کہے گا، ہم زبان پہچانتے ہیں۔ یہ وہی پیر بخارا والا ہے۔\n\nمیر خلیقؔ صاحبِ دیوان تھے۔ مگر اُسے رواج نہیں دیا۔ نقد سخن اور سرمایہ مضامین جو بزرگوں ے ورثہ پہونچا تھا اُسے زاد آخرت میں صرف کیا اور ہمیشہ مرثیے کہتے رہے، اسی میں نام اور زمانہ کا کام چلتا رہا۔\n\nآپ ہی کہتے تھے اور آپ ہی مجلسوں میں پڑہتے تھے۔ قدر دان آنکھوں سے لگا لگا کر لے جاتے تھے۔\n\nسید انشاء دریائے لطافت میں جہاں شرفائے دہلی کے رسوم و رواج بیان کرتے ہیں، وہاں کہتے ہیں کہ مرثیہ خوانی کے پیشہ کو لوگ کم نظر سے دیکھتے ہیں۔اور غور سے دیکھو تو اب بھی یہی حال ہے۔ مرثیہ گوئی کی یہ صورت رہی کہ سوداؔ اور میرؔ کے زمانے میں میاں سکندرؔ، میاں گداؔ، میاں مسکینؔ، افسردہؔ وغیرہ مرثیے کہتے تھے، تصنیفات مذکورہ کو دیکھو تو فقط تبرک ہیں، کیونکہ اِن بزرگوں کو نظم مذکور سے فقط گریہ و بکا اور حصولِ ثواب مقصود تھا، اور اس میں شک نہیں کہ وہ نیک نیت لوگ حُسنِ تاثیر سے اپنے مقصد میں کامیاب تھے، شاعری اور صنائع انشاء پردازی سے کچھ غرض نہ تھی۔ میر خلیقؔ اور اس عہد کے چند اشخاص تھے، جنھوں نے کدورت ہائے مذکورہ کو دھو کر مرثیوں کو ایسا چمکا دیا کہ جس نظر سے اساتذہ شعراء کے کلام دیکھے جاتے تھے، اسی نظر سے لوگ انھیں بھی دیکھنے لگے اور پہلے مرثیے سُوز میں پڑھے جاتے تھے۔ پھر تحت لفظ بھی پڑہنے لگے۔\n\nمرثیہ گو اور مرثیہ خوانی کے میدان میں جو ہوا بدلی وہ میر خلیقؔ کے زمانہ سے بدلی۔ پہلے اکثر جو مصرع ہوتے تھے، ہر چار مصرعے کے بعد قافیہ وہ انداز موقوف ہوا، ایک سلام غزل کے انداز میں اور مرثیہ کے لئے مسّدس کا طریقہ آئین ہو گیا، وہ سوز اور تحت لفظ دونوں طرح سے پڑھا جاتا تھا، اور جو کچھ اَوّل مشتزاد کے اُصول پر کہتے تھے وہ نوحہ کہلاتا تھا، اُسے سوز ہی میں پڑہتے تھے اور یہی طریقہ اب تک جاری ہے، میرموصوف اور ان کے بعض ہم عہد سلام یا مرثیے وغیرہ کہتے تھے، ان میں مصائب اور ماجرائے شہادت ساتھ اس کے فضائل اور معجزات کی روائتیں اس سلاست اور سادگی اور صفائی کے ساتھ نظم کرتے تھے کہ واقعات کی صورت سامنے تصویر ہو جاتی تھی اور دل کا درد آنکھوں سے آنسو ہو کر ٹپک پڑتا۔\n\nاس زمانہ میں میر ضمیر ایک مرثیہ گو اور مرثیہ خواں تھے کہ طبع شعر کے ساتھ عربی، فارسی وغیرہ علوم رسمی میں استعداد کامل رکھتے تھے، اور نہایت متقی و پرہیز گار شخص تھے، تعجب یہ ہے کہ ساتھ اس کے طبیعت میں شوخی اور ظرافت بھی اتنی رکھتے تھے گویا سوداؔ کی روح نے حلول کیا۔ انھوں نے بھی اپنی دنیا کو آخرت کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا اور غزل وغیرہ سے دست بردار ہو گئے تھے، لوگوں نے ان دونوں بزرگوں کو نقطہ مقابل کر کے تعریفیں شروع کر دیں۔ طبیعتیں ایک دوسرے کی چوٹ پر زور آزمائی کر کے نئے نئے ایجاد پیدا کرنے لگیں۔\n\nمرثیہ اس وقت تک 30 سے 45 حد، 50 بند تک ہوتا تھا، میر ضمیر مرحوم نے ایک مرثیہ لکھا۔ مصرعہ : \"کس نور کی مجلس میں مری جلوہ گری ہے\" اس میں شہزاد علی اکبر کی شہادت کا بیان ہے، پہلے ایک تمہید سے مرثیہ کا چہرہ باندھا پھر سراپا لکھا۔ پھر میدانِ جنگ کا نقشہ دکھایا اور بیان شہادت پر خاتمہ کر دیا چونکہ پہلا ایجاد تھا۔ اس لئے تعریف کی آوازیں دُور دُور تک پہنچیں، تمام شہر میں شہرہ ہو گیا، اور اطراف سے طلب میں فرمائشیں آئیں۔ یہ ایجاد مرثیہ گوئی کے عالم میں انقلاب تھا کہ پہلی روش متروک ہو گئی، باوجودیکہ انھوں نے مقطع میں کہہ دیا تھا۔\n\nدس میں کہوں سو (۱۰۰) میں کہوں یہ درد ہے میرا\n\nاس طرز میں جو کہوے سو شاگرد ہے میرا​\n\nپھر بھی سب اس کی پیروی کرنے لگے، یہاں تک پہلے امانت نے پھر اور شاعروں نے واسوخت میں سراپا کو داخل کیا۔\n\nعہد مذکور میں چار مرثیہ گو نامی تھے۔ میر ضمیر، میر خلیقؔ، میاں دلگیر (میاں دلگیر شیخ ناسخ کے شاگرد تھے، مرزا فصیح میاں دلگر سے اور شیخ ناسخ سے)، میاں فصیح، میاں دلگیر کی زبان میں لکنت تھی، اس لئے مرثیہ خوانی نہ کرتے تھے، تصنیف میں بھی انھوں نے مرثیت کے دائرہ سے قدم نہیں بڑھایا۔ مرزا فصیحؔ حج و زیارات کو گئے اور وہیں سکونت پذیر ہوئے۔ میر ضمیرؔ اور میر خلیقؔ کے لئے میدان خالی رہا کہ جولانیاں دکھائیں دُنیا کے تماشائی جنہیں تیر طبیعتوں کے اڑانے میں مزا آتا ہے، دونوں اُستادوں کو تعریفیں کر کے لڑاتے تھے اور دل بہلاتے تھے اور اس سے اُن کے ذہن کو کمال کی ورزش اور اپنے دلوں کو چاشنی ذوق کی لذت دیتے تھے۔\n\nاظہار کمال میں دونوں اُستادوں کی رفتار الگ الگ تھی۔ کیونکہ میر ضمیرؔ استعداد علمی اور زور طبع کے بازوؤں سے بہت بلند پرواز کرتے تھے اور پورے اترتے تھے۔ میر خلیقؔ مرثیت کے کوچہ سے اتفاقاً ہی قدم آگے بڑھاتے تھے، وہ مضمون آفرینی کی ہوس کم کرتے تھے اور ہمیشہ محاورہ اور لطف زبان کو خیالات درد انگیز کے ساتھ ترکیب دے کر مطلب حاصل کرتے تھے، اور یہ جوہر اس آئینہ کا کافی اور خاندانی وصف تھا، ان کا کلام بہ نسبت سبحان اللہ واہ واہ کے نالہ و آہ کا زیادہ طلبگار تھا، لڑنے والے ہر وقت اپنے کام میں مصروف تھے۔ مگر دونوں صاحب اخلاق اور سلامت روی کے قانون داں تھے، کبھی ایک جلسہ میں جمع نہ ہوتے تھے۔\n\nآخر ایک شوقین نیک نیت نے روپیہ کے زور اور حکمت عملی کی مدد سے قانون کو توڑا، وہ بھی فقط ایک دفعہ، صورت یہ کہ نواب شرف الدولہ مرحوم نےھ اپنے مکان پر مجلس قرار دے کر سب خاص و عام کو اطلاع دی اور مجلس سے ایک دن پہلے میر ضمیرؔ مرحوم کے مکان پر گئے۔ گفتگوئے معمولی کے بعد پانچسو روپیہ کا توڑا سامنے رکھ دیا۔ اور کہا کہ \"کل مجلس ہے مرثیہ آپ پڑھیے گا۔\" بعد اس کے میر خلیقؔ کے ہاں گئے، اُن سے بھی وہی مضمون ادا کیا اور ایک دوسرے کے حال سے آگاہ نہ کیا۔ لکھنؤ شہر میں روز معین پر ہزاروں آدمی جمع ہوئے، ایک بچے کے بعد میر ضمیر منبر پر تشریف لے گئے اور مرثیہ پڑھنا شروع کیا، ان کا پڑھنا سبحان اللہ، مرثیہ نظم اور اس پر نثر کے چاشیے، کبھی رُلاتے تھے اور کبھی تحسین و آفرین کا غل مچواتے تھے کہ میر خلیقؔ بھی پہونچے اور حالت موجودہ دیکھ کر حیران رہ گئے اور دل میں کہا کہ آج کی شرم بھی خدا کے ہاتھ ہے۔ میر ضمیرؔ نے جب انھیں دیکھا تو زیادہ پھیلے اور مرثیہ کو اتنا طول دیا کہ آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر تحسین بلکہ وقت میں گنجائش بھی نہ چھوڑی، آفتاب یوں ہی سا جھلکتا رہ گیا۔\n\nوہ ابھی منبر سے اُترے ہی تھے کہ چوبدار ان کے پاس آیا اور کہا کہ نواب صاحب فرماتے ہیں، آپ بھی حاضرین کو داخل حسنات فرمائیں۔ اس وقت ان کے طرفداروں کی بالکل صلاح نہ تھی۔ مگر یہ توکّل بخدا کھڑے ہوئے اور منبر پر جا کر بیٹھے، چند ساعت توقف کیا۔ آنکھیں بند کئے خاموش بیٹھے رہے، ان کی گوری رنگت، جسم نحیف و ناتواں نہیں معلوم ہوتا تھا کہ بدن میں لہو کی بوند ہے یا نہیں۔ جب انھوں نے رباعی پڑھی تو اہل مجلس کو پوری آواز بھی نہیں سنائی دی۔ مرثیے کے چند بند بھی اس حالت میں گزر گئے۔ دفعتہً باکمال نے رنگ بدلا اور اس کے ساتھ ہی محفل کا بھی رنگ بدلا، آہوں کا دھواں ابر کی طرح چھا گیا اور نالہ و زاری نے آنسو برسانے شروع کئے۔ 15، 20 بند پڑھے تھے کہ ایک کو دوسرے کا ہوش نہ رہا، 25 یا 40 بند پڑھ کر اُتر آئے۔ اہل مجلس اکثر ایسی حالت میں تھے کہ جب آنکھ اُٹھا کر دیکھا تو منبر خالی تھا۔ نہ معلوم ہوا کہ میر خلیقؔ صاحب کس وقت منبر سے اُتر آئے۔ دونوں کے کمال پر صاد ہوا اور طرفین کے طرفدار سرخرو گھروں کو پھرے۔\n\nروایت مندرجہ بالا میر مہدی حسن فراغؔ کی زبانی سنی تھی لیکن میر علی حسنؔ اشکؔ تخلص کہ میر عماد خوشنویس کی اولاد میں ہیں، خود ناسخؔ کے شاگرد اور صاحب دیوان ہیں۔ ان کے والد جنتیؔ تخلص فقط مرثیہ کہتے تھے اور میاں دلگیرؔ کے شاگرد تھے۔ میر اشک اب بھی حیدر آباد میں بزمرہ منصب داران ملازم ہیں، ان کی زبانی مولوی شریف حسین خاں صاحب نے بیان کیا کہ لکھنؤ میں ایک غریب خوش اعتقاد شخص بڑے شوق سے مجلس کیا کرتا تھا اور اسی ریایت سے ہر ایک نامی مرثیہ خواں اور لکھنؤ کے خاص و عام اس کے ہاں حاضر ہوتے تھے۔ یہ معرکہ اس کے مکان پر ہوا تھا، اور میر ضمیرؔ کے اشارے سے ہوا تھا۔ میر اشک فرماتے تھے کہ میر خلیق نے اپنے والد کے بعد چند روز بہت سختی سے زندگی بسر کی۔ عیال فیض آباد میں تھے، آصف الّدولہ لکھنؤ میں ان کے سبب سے تمام اُمراء یہیں رہنے لگے۔ میر موصوف لکھنؤ میں آتے تھے، سال بھر میں تین چار سو روپے حاصل کر کے لیجاتے تھے اور پرورش عیال میں صرف کرتے تھے، صورت حال یہ تھی کہ مرثیوں کا جزدان بغل میں لے لیا اور لکھنؤ چلے آئے، یہاں ایک ٹوٹی پھوٹی عمارت خالی پڑی رہتی تھی۔ اس میں آ کر اترتے تھے۔ ایک دفعہ وہ آئے، بستر رکھ کر آگ سلگائی تھی، آٹا گوندھ رہے تھے کہ شخص مذکور ہاتھ جوڑ کر سامنے آ کھڑا ہوا۔ اور کہا کہ حضور! مجلس تیار ہے۔ میری خوش نصیبی سے آپکا تشریف لانا ہوا ہے چلکر مرثیہ پڑھ دیجیے۔ یہ اسی وقت اُٹھ کھڑے ہوئے اور ہاتھ دھو جزدان لے اس کے ساتھ ہو لئے، وہاں جا کر دیکھا تو میر ضمیرؔ ،منبر پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہیں یہ واقع ہوا اور اسی دن سے میر خلیقؔ نے مرثیہ خوانی میں شہرت پائی۔\n\nمیر خلیقؔ کے کلام کا اندازہ اور خوبی محاورہ اور لطف زبان یہی سمجھ لو جو آج میر انیسؔ کے مرثیوں میں دیکھتے ہو، فرق اتنا ہے کہ ان کے ہاں مرثیت اور صورت حال کا بیان درد انگیز تھا۔ ان کے مرثیوں میں تمہیدیں اور سامان اور سخن پردازی بہت بڑھی ہوئی ہے۔\n\nاُن کے ادائے کلام اور پڑھنے کی خوبی دیکھنے اور سننے کے قابل تھی۔ اعضا کی حرکت سے بالکل کام نہ لیتے تھے۔ فقط نشست کا انداز اور آنکھ کی گردش تھی۔ اسی میں سب کچھ ختم کر دیتے تھے، میر انیسؔ مرحوم کو بھی میں نے پڑھتے ہوئے دیکھا کہیں اتفاقاً ہی ہاتھ اُٹھ جاتا تھا، یا گردن کی ایک جنبش یا آنکھ کی گردش تھی کہ کام کر جاتی تھی، ورنہ کلام ہی سارےمطالب کے حق پورے پورے ادا کر دیتا تھا۔\n\nمیر خلیقؔ نے اپنے بڑھاپے کے سبب سے، اخیر عمر میں مرثیہ پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ شعراء شاگردان الہی ہیں، ان کی طبیعت میں غیر اور جوش اوروں سے بہت زیادہ بلند ہوتا ہے، میر انیسؔ کی مرثیہ خوانی مشرق سے طلوع ہونے لگی تھی، جب کوئی آ کر تعریف کرتا کہ آج فلاں مجلس میں کیا خوب پڑھے ہیں، یا فلاں نواب کے ہاں تمام مجلس کو لٹا دیا، تو انھیں خوش نہ آتا تھا، کئی دفعہ ایسا ہوا کہ اسی عالم ناتوانی میں منبر پر جا بیٹھے، اور مرثیہ پڑھا، اس سے مطلب یہ تھا کہ اس گئی گزری حالت میں بھی ہمیں درماندہ نہ سمجھنا۔\n\nمیر خلیق صاحب نے پیرانہ سالی کی تکلیف اُٹھا کر دُنیا سے انتقال کیا۔ میں ان دنوں خورد سال تھا۔ مگر اچھی طرح یاد ہے، جب ان کا کلام دلّی میں پہنچا وہ سالِ اخیر کی تصنیف تھا۔\n\nمجرائی طبع کند ہے، لطفِ بیاں گیا\n\nدنداں گئے کہ جوہرِ تیغ زباں گیا​\n\nایک دو شعر ضعف پیری کی شکایت میں اور بھی تھے اور مقطع تھا۔\n\nگزری بہار عمر خلیقؔ اب کہیں گے سب\n\nباغ جہاں سے بلبلِ ہندوستاں گیا​\n\nاخیر عمر میں ضعف کے سبب سے مرثیہ نہ پڑھتے تھے، لیکن قدرتی شاعر کی زبان کب بند رہتی ہے، بی بی کے مرنے سے گھر کا دروازہ بند کر دیا تھا، تین صاحبزادے تھے، انیسؔ، مونسؔ، اُنس، میر خلیق ہمیشہ دورہ میں رہتے تنھے۔ دس دس، پندرہ پندرہ دن ہر ایک کے ہاں بسر کر دیتے تھے کہیں جاتے آتے بھی نہ تھے۔ پلنگ پر بیٹھے رہتے تھے اور لکھے جاتے تھے، کوئی شگفتہ زمین خیال میں آئی، اس میں سلام کہنے لگے، دل لگ گیا تو پورا کیا، نہیں تو چند شعر کہے اور چھوڑ دیئے، کوئی تمہید سو بھی، مرثیہ کا چہرہ باندھا، جتنا ہوا اُتناہوا، جو رہ گیا، کوئی روایت نظم کرنی شروع کر دی۔ گھوڑے کا مضمون خیال میں آیا وہی کہتے چلے گئے، کبھی طبیعت لڑ گئی تلوار کی تعریف کرنے لگے، وغیرہ وغیرہ، یہ بھی قاعدہ تھا کہ جو کچھ جس کے گھرمیں کہتے تھے وہ اسی کے گھر چھوڑ کر پہلے آتے تھے، یہ سرمایہ میر انیسؔ کے پاس سب سے زیادہ رہا کہ ان کے گھر میں زیادہ رہتے تھے کیونکہ ان کی بی بی کھانوں اور آرام و آسائش کے سامانوں سے اپنے ضعیف العمر بزرگ کو بہت اچھی طرح رکھتی تھیں۔\n\nان کی بلکہ ان کے گھرانے کی زبان محاورہ کے لحاظ سے سب کے نزدیک سندھی تھی، شیخ ناسخؔ کی منصفی اور حق پرستی پر رحمت و آفریں کے سہرے چڑھائیے، اپنے شاگردوں کو کہا کرتے تھے کہ بھئی زبان سیکھنی ہے تو میر خلیقؔ کے ہاں جایا کرو، اور اس کے علاوہ بھی اُن کے کمال کو فروغ دیتے رہتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ تینوں بیٹے ہونہار ہیں۔ دیکھنا خوب ہوں گے، میر خلیقؔ محاورے کے اس قدر پابند تھے کہ ان کے محضر کمال پر بجائے مُہر کے بعض لوگوں نے کم علمی کا داغ لگایا۔ انھوں نے شہزادہ علی اصغر کے حال میں ایک جگہ لکھا کہ عالم بے آبی میں پیاس کی شدّت سے غش آ گیا، آنکھ کھولی تو مادر مقدسہ نے، مصرعہ \"لیلاف پڑھی اور اسے دودھ پلایا\" حریف آٹھ پہر تاک میں تھے، کسی نے یہ مصرع ناسخؔ کے سامنے جا کر پڑھا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، یوں کہا ہو گا۔ مصرعہ \"پڑھ پڑھ کے لایلاف اُسے دودھ پلایا۔\"\n\nمیر انیسؔ فرماتے تھے کہ والد میرے گھر میں تشریف رکھتے تھے۔ میں ایک مرثیہ میں وہ روایت نظم کر رہا تھا کہ جناب امام حسین علیہ السلام عالمِ طفولیت میں سواری کے لئے ضد کر رہے تھے، جناب آنحضرت تشریف لائے اور فرطِ شفقت سے خود جھک گئے کہ آؤ سوار ہو جاؤ۔ تاکہ پیارے نواسے کا دل آزردہ نہ ہو، اس موقع پر ٹیپ کا دوسرا مصرعہ کہہ لیا تھا۔ اچھا سوار ہو جیئے ہم اونٹ بنتے ہیں۔ پہلے مصرعہ کے لئے اُلٹ پلٹ کرتا تھا، جیسا کہ دل چاہتا تھا ویسا برجستہ نہ بیٹھتا تھا، والد نے مجھے غور میں غرق دیکھ کر پوچھا، کیا سوچ رہے ہو؟ میں نے مضمون بیان کیا اور مصرعے جو خیال میں آئے تھے پڑھے، فرمایا یہ مصرع لگا دو (ذرا زبان کی لطافت تو دیکھو)۔\n\nجب آپ روٹھتے ہیں تو مشکل سے منتے ہیں\n\nاچھا سوار ہو جئے ہم اُونٹ بنتے ہیں​\n\nافسوس کہ ان کی کوئی پوری غزل ہاتھ نہ آئی، دو شعر یاد ہیں وہی لکھ دیتا ہوں۔\n\nاشک جو چشم خوں فشاں سے گرا\n\nتھا ستارہ کہ آسماں سے گرا\n\nہنس دیا یار نے جو رات خلیقؔ\n\nکھا کے ٹھوکر اس آستاں سے گرا", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%AD%D8%B3%D9%86%D8%8C_%D8%AE%D9%84%DB%8C%D9%82"} {"title": "آب حیات/نجم الدولہ دبیر الملک مرزا اسد اللہ خاں غالب", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "ہیں مچھلیاں بھووں کی چیں پر شکن کے اندر\nاُلٹی ہے بہتی گنگا مچھلی بھون کے اندر\n\nدنیائے منقلب کا اُلٹا ہے کارخانہ\nہے مہر شمع و اژدں، اس انجمن کے اندر\n\nمیں وہ ہوں نخل جوئے سلسبیل دریائی\nہے میری کشتی گل نارجیل دریائی\n\nمجھے اُترتی ہے گرداب آسماں سے وحی\nہے راہبر خضر جبرئیل دریائی\n\nمیں کالا پانی پڑا ناپتا ہوں روز و شب\nزمیں کا گز ہے مرا کلکِ میں دریائی\n\nبنا ہے کنگرہ خارد، ملک دشت حصار\nمرا ہے آبلہ بُرجِ فصیل دریائی\n\nہے آبشاری کی مضمونِ آبدار کو دہت\nہمارا خامہ ہے خرطوم فیل دریائی\n\nجہاز ہے مرا اک تار لنگرِ دم پر\nمرے عمل میں ہے جر ثقیل دریائی\n\nمیں اپنے کوچ کی ہوں موج میں بہا جاتا\nحباب دار ہوں کوسِ رحیل دریائی\n\nہماری موج تلاطم سے آشنائی ہے\nیہ آب شور ہے دیتا رفیل دریائی\n\nہے اوجِ مردمکِ دیدہ، مردم آبی\nنکال دیدہ تر سے سبیل دریائی\n\nوھشت مجھے زنجیر پہناتی ہی تھی اکثر\nطفلی میں بھی ہنسلی مری جاتی ہی تھی اکثر\n\nجب تھا زرگل کیسئہ غنچہ کی گرد میں\nبلبل پڑی گلچھّرے اڑاتی ہی تھی اکثر\n\nدم کا جو دمدمہ یہ باندھے خیال اپنا\nبے پل صراط اتریں، یہ ہے کمال اپنا\n\nطفلی ہی سے ہے مجھ کو وحشت سرا سے الفت\nسم میں گڑا ہوا ہے آہو کے نال اپنا\n\nکسب شہادت اپنا ہے یاد کس کو قاتل\nسانچے میں تیغ کے سر لیتے ہیں ڈہال اپنا\n\nبھارتا ہے جوش عشقِ شیریں و شونمیں رونا\nہے آب شور گریہ آب زلال اپنا\n\nچیچک کے آبلوں کی میں باگ موڑتا ہوں\n-----------------------------------\n\nقطعہ\n\nہے جو صاحب کے کفِ دست پہ یہ چکنی ڈلی\nزیب دیتا ہے اُسے جس قدر اچھا کہیے\n\nخامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا کہیے\nناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے\n\nاخترِ سوختہ قیس سے نسبت دیجیے\nخالِ مشکینِ رُخِ دلکش لیلےٰ کہیے\n\nحجر الاسود و دیوارِ حرم کیجئے فرض\nنافہ آہوئے بیابان ختن کا کہیے\n\nصومعہ میں اسے ٹھہرائیے گر مُہرِ نماز\nمیکدہ میں اسے خشتِ خم صہبا کہیے\n\nمسی آلودہ سرانگشت حسینان لکھیئے\nسر پستانِ پریزاد سے مانا کہیے\n\nاپنے حضرت کے کفِ دست کو دل کیجئے فرض\nاور اس چکنی سپاری کو سویدا کہیے​\n\nسہرا\n\nخوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا\nباندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا\n\nکیا ہی اس چاند سے مکھڑے پہ بھلا لگتا ہے\nہے ترے حسنِ دل افروز کا زیور سہرا\n\nسر پر چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرف کلاہ\nمجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا لمبر سہرا\n\nناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہونگے موتی\nورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا\n\nسات دریا کے فراہم کئے ہوں گے موتی\nتب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا\n\nرُخ پہ دولھا کے جو گرمی سے پسینہ ٹپکا\nہے رگ ابر گہر بار سراسر سہرا\n\nیہ بھی اک بے ادبی تھی قبا سے بڑھجائے\nرہ گیا آن کے دامن کے برابر سہرا\n\nجی میں اترائیں نہ موتی کہ ہمیں ہیں اک چیز\nچاہیے پھولوں کا بھی ایک مقرر سہرا\n\nجبکہ اپنے میں سماویں خوشی کے مارے\nگوندھے پھولوں کا بھلا پھر کوئی کیونکر سہرا\n\nرُخِ روشن کی دمگ گوہر غلطاں کی چمک\nکیوں نہ دکھلائے فروغِ مہ و اختر سہرا\n\nتار ریشم کا نہیں ہے یہ رگِ ابر بہار\nلائے گا تاب گرانباری گوہر سہرا\n\nہم سخن فہم ہیں غالبؔ کے طرفدار نہیں\nدیکھیں اس سہرے سے کہدے کوئی بہتر سہرا​\n\nسہرا\n\nاے جواں بخت مبارک تجھے سر پر سہرا\nآج ہے یمن و سعادت کا ترے سر سہرا\n\nآج وہ دن ہے کہ لائے درِ انجم سے فلک\nکشتی زر میں مہِ نو کی لگا کر سہرا\n\nیہ کہے صلّ علیٰ وہ کہے سبحان اللہ\nدیکھے مکھڑے پہ جو تیرے مہ و اختر سہرا\n\nتا بنی اور بنے میں رہے اخلاص بہم\nگوندھیے سورۃ اخلاص کو پڑھ کر سہرا\n\nدھوم ہے گلشن آفاق میں اس سہریکی\nگائیں مرغانِ نواسنج نہ کیونکر سہرا\n\nروئے فرخ پہ جو ہیں تیرے برستے انوار\nتار بارش سے بنا ایک سراسر سہرا\n\nتابشِ حُسن سے مانند شعاعِ خورشید\nرُخِ پر نور پہ ہے تیرے منّور سہرا\n\nایک کو ایک پہ تزئیں ہے دمِ آرائش\nسر پر دستار ہے دستار کے اوپر سہرا\n\nاک گہر بھی نہیں صد کان گہر میں چھوڑا\nتیرا بنوایا ہے لے لے کے جو گوہر سہرا\n\nپھرتی خوشبو سے ہے اتراتی ہوئی باد بہار\nاللہ اللہ رے پھولوں کا معطر سہرا\n\nسر پہ طرّہ ہے مزین تو گلے میں بدّھی\nکنگنا ہاتھ میں زیبا ہے تو منھ پر سہرا\n\nرونمائی میں تجھے دے مہِ خورشید فلک\nکھول دے رُخ کو جو تو منھ سے اٹھا کر سہرا\n\nکثرتِ تار نظر سے ہے تماشائیوں کے\nدمِ نظارہ ترے روئے نکو پر سہرا\n\nدرِّ خوش آب مضامیں سے بنا کر لایا\nواسطے تیرے ترا ذوقؔ شناگر سہرا\n\nجس کو دعوئے ہے سخن کا یہ سنا دے اس کو\nدیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا​\n\nقطعہ در معذرت\n\nمنظور ہے گزارشِ احوالِ واقعی\nاپنا بیانِ حُسنِ طبیعت نہیں مجھے\n\nسو (۱۰۰) برس سے ہے پیشہ آبا سپہگری\nکچھ شاعری زریعہ عزت نہیں مجھے\n\nآزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل\nہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے\n\nکیا کم ہے یہ شرف کہ ظفر کا غلام ہوں\nمانا کہ جاہ و منصت و ثروت نہیں مجھے\n\nاُستاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیال\nیہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے\n\nجامِ جہاں نما ہے شہنشاہ کا ضمیر\nسوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے\n\nمیں کون ہوں اور ریختہ، ہاں اس سے مُدّعا\nجز انبساط خاطِر حضرت نہیں مجھے\n\nسہرا لکھا گیا زرہِ امتشالِ امر\nدیکھا کہ چارہ غیر اطاعت نہیں مجھے\n\nمقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات\nمقصود اس سے قطعِ محبت نہیں مجھے\n\nروئے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ\nسودا نہیں، جنوں نہیں، وحشت نہیں مجھے\n\nصادق ہوں اپنے قول کا غالبؔ خدا گواہ\nکہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے​\n\nتاریخ فوت\n\nمنکہ ہاشم کہ جاوداں ہاشم\nچوں نظیری نماند طالب مُرد\n\nدر بپر سند در کدا میں سال\nمرد غالب، بگو کہ غالب مُرد​\n\nشمار سجہ مرغوب بت مشکل پسند آیا\nتماشائے بیک کف برون صد دل پسند آیا\n\nبہ فیض بیدلی نومیدیٰ جاوید آساں ہے\nکشائش کو ہمار عقدہ مشکل پسند آیا\n\nہوائے سبز گل آئینہ بے مہری قاتل\nکہ انداز بخوں غلطیدنِ بسمل پسند آیا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nدہر میں نقش وفا وجہ تسلّی نہ ہوا\nہے یہ وہ لفظ کہ شرمندہ معنی نہ ہوا\n\nسبزہ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا\nیہ زمرد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا\n\nمیں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں\nوہ ستمگرمرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا\n\nدل گزرگاہ خیال مے و ساغر ہی سہی\nگر نفس جادہ سر منزلِ تقویٰ نہ ہوا\n\nہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی\nگوش منت کش گلبانگ تسلی نہ ہوا\n\nکس سے محرومی قسمت کی شکایت کیجیے\nہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا\n\nمر گیا صدمہ یک جنبش لب سے غالبؔ\nناتوانی سے ھریف دمِ عیسٰے نہ ہوا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nکل کے لئے کر آج نہ خست شراب میں\nیہ سوئے ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں\n\nہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند\nگستاخیِ فرشتہ ہماری جناب میں\n\nجان کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماع\nگر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں\n\nرو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھئے تھمے\nنے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں\n\nاتنا ہی مجھکو اپنی حقیقت سے بعد ہے\nجتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں\n\nاصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے\nحیران ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں\n\nہے مشتمل نمود صور پر وجود سحر\nیاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں\n\nشرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی\nہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یوں حجاب میں\n\nآرائش جمال سے فارغ نہیں ہنوز\nپیش نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں\n\nہیں غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود\nہیں خراب میں ہنوز جو جاگےہیں خواب میں\n\nغالبؔ ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست\nمشغول حق ہوں بندگیِ بوتراب میں\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nآہ کو چاہیے اِک عمر اثر ہونے تک\nکون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک\n\nدامِ ہر حلقہ میں ہے حلقہ صد کام نہنگ\nدیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک\n\nعاشقی صبر طلب، اور تمنا بیتاب\nدل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک\n\nہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن\nخاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک\n\nپرتوِ خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم\nمیں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک\n\nیک نظر بیش نہیں فرصتِ ہستی غافل\nگرمی بزم ہے اک رقصِ شرر ہونے تک\n\nغم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج\nشمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nیہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا\nاگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا\n\nترے وعدہ پہ جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا\nکہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا\n\nتری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا\nکبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا\n\nکوئی میرے دل سے پوچھے تری تیر نیمکش کو\nیہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا\n\nیہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح\nکوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا\n\nرگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا\nجسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا\n\nکہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بُری بلا ہے\nمجھے بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا\n\nغم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے\nغمِ عشق گر نہ ہوتا غمِ روزگار ہوتا\n\nہوئے مر کے ہم جو رُسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا\nنہ کبھی جنازہ اُٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا\n\nاُسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا\nجو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دوچار ہوتا\n\nیہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ\nتجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nدرد منت کشِ دوا نہ ہوا\nمیں نہ اچھا ہوا بُرا نہ ہوا\n\nجمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو\nاک تماشا ہوا گِلا نہ ہوا\n\nہم کہاں قسمت آزمانے جائیں\nتو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا\n\nکتنے شیریں ہے تیرے لب کہ رقیب\nگالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا\n\nہے خبر گم اُن کے آنے کی\nآج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا\n\nکیا وہ نمرود کی خدائی تھی\nبندگی میں مرا بھلا نہ ہوا\n\nجان دی، دی ہوئی اسی کی تھی\nحق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا\n\nزخم گر دب گیا لہو نہ تھما\nکام گر رک گیا روا نہ ہوا\n\nرہزنی ہے کہ دل ستانی ہے\nلے کے دل دلستاں روا نہ ہوا\n\nکچھ تو کہئے کہ لوگ کہتے ہیں\nآج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nکوئی اُمید بر نہیں آتی\nکوئی صورت نظر نہیں آتی\n\nموت کا ایک دن معین ہے\nنیند کیوں رات بھر نہیں آتی\n\nآگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی\nاب کسی بات پر نہیں آتی\n\nجانتا ہوں ثواب طاعت و زہد\nپر طبیعت ادھر نہیں آتی\n\nہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں\nورنہ کیا بات کر نہیں آتی\n\nکیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں\nمیری آواز گھر نہیں آتی\n\nداغ دل گر نظر نہیں آتا\nبو بھی اے چارہ گر نہیں آتی\n\nہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی\nکچھ ہماری خبر نہیں آتی\n\nمرتے ہیں آرزو می مرنے کی\nموت آتی ہے پر نہیں آتی\n\nکعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ\nشرم تم کو مگر نہیں آتی\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nحسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے\nاس سے میرا مہ خورشید جمال اچھا ہے\n\nبوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ\nجی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے\n\nاور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا\nجام جم سے یہ مرا جام سفال اچھا ہے\n\nبے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے\nوہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے\n\nانکے دیکھے سے جو آ جاتی ہے مجھ پر رونق\nوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے\n\nدیکھئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض\nاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے\n\nہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا\nجس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے\n\nقطرہ دریا میں جو ملجائے تو دریا ہو جائے\nکام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے\n\nخظر سلطان کو رکھے خالق اکبر سرسبز\nشاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے\n\nہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن\nدل کے بہلانے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nمنظور تھی یہ شکل تجلٰے کو نور کی\nقسمت کُھلی ترے قد و رُخ کے ظہور کی\n\nاک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں\nپڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حُور کی\n\nواعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو\nکیا بات ہے تمھاری شرابِ طہور کی\n\nلڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل کہ کیوں اُٹھا\nگویا ابھی سُنی نہیں آواز صُور کی\n\nآمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج\nاُڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی\n\nگو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں\nکعبہ سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی\n\nکیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب\nآؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی\n\nگرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر\nکی جس سے بات اُسنے شکایت ضرور کی\n\nغالبؔ گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں\nحج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nنوید امن ہے بیداد دوست جاں کیلئے\nرہے نہ طرز ستم کوئی آسماں کیلئے\n\nبلا سے گر مژہ یار تشنہ خوں ہے\nرکھوں کچھ اپنی بھی مژگاں خونفشاں کیلئے\n\nوہ مردہ ہم میں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر\nنہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کیلئے\n\nرہا بلا میں بھی میں مبتلائے آفت رشک\nبلائے ضان ہے ادا تیری اک جہاں کیلئے\n\nفلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں\nدراز دستی قاتل کے امتحاں کیلئے\n\nسنال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر\nکرے قفس میں فراہم خس آشیاں کیلئے\n\nگدا سمجھ وہ چپ تھا مری جو شامت آئے\nاُٹھا اور اُٹھ کے قدم میں نے پاسباں کیلئے\n\nبقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل\nکچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کیلئے\n\nدیا ہے خلق کو بھی تا اُسے نظر نہ لگے\nبنا ہے عیش تجمل حسین خاں کیلئے\n\nزباں پہ بارِ خدایا یہ کس کا نام آیا\nکہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کیلئے\n\nنصیر دولت و دیں اور معیں ملت و ملک\nبنا ہے چرخِ بریں جس کی آستاں کیلئے\n\nزمانہ عہد میں اُس کی ہے محوِ آرائش\nبنیں گے اور ستارے اب آسماں کیلئے\n\nورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے\nسفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کیلئے\n\nادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا\nصلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کیلئے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%86%D8%AC%D9%85_%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%88%D9%84%DB%81_%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%84%DA%A9_%D9%85%D8%B1%D8%B2%D8%A7_%D8%A7%D8%B3%D8%AF_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%AE%D8%A7%DA%BA_%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%A8"} {"title": "آب حیات/نظم اردو کی تاریخ", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "فلاسفہ یونان کہتے ہیں شعر خیالی باتیں ہیں، جن کو واقعیت اور اصلیت سے تعلق نہیں، قدرتی موجودات یا اس کے واقعات کو دیکھ کر جو خیالات شاعر کے دل میں پیدا ہوتے ہیں وہ اپنے مطلب کے موقع پر موزوں کر دیتا ہے، اس خیال کو سچ کی پابندی نہیں ہوتی، جب صبح کا نور و ظہور دیکھتا ہے تو کبھی کہتا ہے دیگِ مشرق سے دُود اُبلنے لگا، کبھی کہتا ہے دریائے سیماب موج مارنے لگا، کوئی مشرق سے کافور اُڑاتا آتا ہے، صبح طباشیر بکھیرتی آتی ہے، یا مثلاً سورج نکلا اور کرن ابھی اس میں نہیں پیدا ہوئے، وہ کہتا ہے، سنہری گیند ہوا میں اُچھالی ہے، صبح طلائی تھال سر پر دھرے آتی ہے، کبھی مُرغانِ سحر کا غل اور عالمِ نور کا جلوہ آفتاب کی چمک دمک اور شعاعوں کا خیال کر کے صبح کی دھوم دکھاتا ہے اور کہتا ہے بادشاہِ مشرق سبزک فلک پر سوار، تاجِ مرصع سر پر رکھے کرن کا نیزہ لئے مشرق سے نمودار ہوا، شام کو شفق کی بہار دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ مغرب کے چپرکھٹ میں آرام کیا اور شنگرفی چادر تان کر سو رہا، کبھی کہتا ہے جام فلک خون سے چھلک رہا ہے، نہیں مغرب کے ایوان میں آگ لگ گئی، تاروں بھری رات میں چاند کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے، لاجوردی چادر میں ستارے ٹنکے ہوئے ہیں۔ دریائے نیل میں نور کا جہاز چلا جاتا ہے اور روپہلی مچھلیاں تیرتی پھرتی ہیں، غرض ایسی باتیں ہیں کہ نہایت لطف دیتی ہیں، مگر اصلیت سے اُنھیں کچھ بھی غرض نہیں ہے، باوجود اس کے صنعت گاہِ عالم میں نظم ایک عجیب صنعت صنائع الٰہی سے ہے، اسے دیکھ کر عقل حیران ہوتی ہے کہ اول ایک مضمون کو ایک سطر میں لکھتے اور نثر میں پڑھتے ہیں، پھر اسی مضمون کو فقط لفظوں کے پس و پیش کے ساتھ لکھ کر دیکھتے ہیں تو کچھ اور ہی عالم ہو جاتا ہے بلکہ اس میں چید کیفیتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔\n\n۱ – وہ وصفِ خاص ہے کہ جسے سب موزونیت کہتے ہیں۔\n\n۲ – کلام میں زور زیادہ ہو جاتا ہے اور مضمون میں ایسی تیزی آ جاتی ہے کہ اثر کا نشتر دل پر کھٹکتا ہے۔\n\n۳ – سیدھی سادی بات میں ایسا لطف پیدا ہو جاتا ہے کہ سب پڑھتے ہیں اور مزے لیتے ہیں۔ تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب خوشی یا غم و غصہ یا کسی کے ذوق و شوق کا خیال دل میں جوش مارتا ہے اور وہ قوتِ بیان سے ٹکر کھاتا ہے تو زبان سے خود بخود موزوں کلام نکلتا ہے جیسے پتھر اور لوہے کے ٹکرانے آگ نکلتی ہے اسی واسطے شاعر وہی ہے جس کی طبیعت میں یہ صنعتِ خداداد ہو، قدرتی شاعر اگرچہ ارادہ کر کے شعر کہنے کو خاص وقت میں بیٹھتا ہے مگر حقیقت میں اِس کا دل اور خیالات ہر وقت اپنے کام میں لگے رہتے ہیں، قدرت کے کارخانے میں جو چیز اس کے حواس میں محسوس ہوتی ہے اور اُس سے کچھ اثر اس کی طبیعت اُٹھاتی ہے وہ ہر شخص کو نصیب نہیں، خواہ لطف و شگفتگی ہو، خواہ آزردگی یا بیزاری، یہ ضرور ہے کہ جو کیفیت وہ آپ اُٹھاتا ہے اس کے لئے ڈھونڈتا رہتا ہے کہ کیسے لفظ ہوں اور کس طرح انھیں ترکیب دوں تا کہ جو کیفیت اس کے دیکھنے سے میرے دل پر طاری ہے وہی کیفیت سننے والوں کے دل پر چھا جائے اور وہ بات کہوں کہ دل پر اثر کر جائے۔\n\nشاعر کبھی ایک حجرہ میں تنہا بیٹھتا ہے، کبھی سب سے الگ اکیلا پھرتا ہے کبھی کسی درخت کے سایہ میں تنہا نظر آتا ہے اور اسی میں خوش ہوتا ہے، وہ کیسی ہی خستہ حالی میں ہو مگر مزاج کا بادشاہ اور دل کا حاتم ہوتا ہے، بادشاہ کے پاس فوج و سپاہ، دفتر و دربار اور ملک داری کے سب کارخانے اور سامان موجود ہیں، اس کے پاس کچھ نہیں، مگر الفاظ اور معانی سے وہی سامان بلکہ اس سے ہزاروں درجے زیادہ تیار کر کے دیکھا دیتا ہے، بادشاہ سالہا سال کِن کِن خطرناک معرکوں سے ملک یا خزانہ جمع کرتا ہے، یہ جسے چاہتا ہے گھر بیٹھے دے دیتا ہے اور خود پرواہ نہیں کرتا۔ بادشاہ کو ایک ولایت فتح کر کے وہ خوشی حاصل نہیں ہوتی جو اُسے ایک لفظ کے ملنے سے ہوتی ہے جو اپنی جگہ پر موزوں سجا ہوا ہو، اور حق یہ ہے کہ اُسے ملک کی پروا بھی نہیں۔\n\nاس بات میں جو کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ یہ ہے کہ شیخ ابراہیم ذوق جس مکان میں بیٹھتے تھے تنگ و تاریک تھا، گرمی میں دل دق ہو جاتا تھا، بعض قدیمی احباب کبھی جاتے تو گھبراتے اور کہتے کہ مکان بدلو، گھڑی بھر بھی بیٹھنے کے قابل نہیں۔ تم کیونکر دن رات یہیں کاٹتے ہو؟ وہ ہوں ہاں کرتے اور چپکے ہو رہتے، کبھی مسکراتے، کبھی جو غزل کہتے ہوتے اُسے دیکھنے لگتے، کبھی اُن کا منہ دیکھتے، خدا نے مکانات، باغ، آرام و آسائش کے سب سامان دیئے تھے مگر وہ وہیں بیٹھے رہے اور ایسے بیٹھے کہ مر کر اُٹھے، اچھا ان کے قصائد اور غزلیں دیکھ لو، کسی بادشاہ کی سلطنت میں اس شان و شکوہ اور دھوم دھام کے سامان موجود ہیں ؟ گویا سلطنت کا سامان سب انھی کا مال تھے کہ جس طرح چاہتے تھے اپنے کام میں لاتے تھے۔ جب وہ اپنے کلام کو پڑھتے تھے تو بادشاہ کو جو مالکِ سلطنت ہوتا تھا کچھ اُن سے زیادہ خوشی نہ ہوتی ہو گی۔ کیونکہ اُسے ان کا فکر بھی رہتا ہے، انھیں پرواہ بھی نہیں تھی۔\n\nجس طرح کوئی زمین اپنی قابلیت کے موافق بے کچھ نہ کچھ روئیدگی کے نہیں رہ سکتی اس طرح کوئی زبان اپنے اہل زبان کی حیثیت بموجب نظم سے خالی نہیں رہ سکتی۔ ہر روئیدگی کی رنگینی اور شادابی اپنی سر زمین کی خاصیت ظاہر کرتی ہے۔\n\nزبانوں کے سلسلہ میں ہر ایک نظم اپنی زبان اور اہلِ زبان کی شائستگی اور تہذیب علمی کے ساتھ لطافتِ طبع کے درجے دکھاتی ہے۔\n\nزبانِ اُردو کے ظہور پر خیال کریں اور اس کی تصنیفات پر نگاہ کریں تو اس میں نثر سے پہلے نظم نظر آئے گی اور یہ عجیب بات ہے کہ ایک بچہ پہلے شعر کہے پھر باتیں کرنی سیکھے، ہاں نظم جوشِ طبع تھا، اس لئے پہلے نکل پڑا، نثر شائستگی کے بوجھ سے گرانبار تھی، اپنی ضرورت کے وقت ظہور کیا، نثر اُردو کی تصنیف 1145 ھ سے پہلے نظر نہیں آتی، البتہ نظم کی حقیقت زبانی حکایتوں اور کتابی روایتوں کی خاک چھان کر بہہ نکلتی ہے کہ جب برج بھاشا نے اپنی وسعتِ اخلاق سے عربی فارسی الفاظ کے مہمانوں کو جگہ دی تو طبیعتوں میں اس قدر روئیدگی نے بھی زور کیا، لیکن وہ صدہا سال تک دوہروں کے رنگ میں ظہور کرتی رہی یعنی فارس کی بحریں اور فارسی کے خیالات نہ آتے تھے۔\n\nامیر خسرو نے کہ جن کی طبیعت اختراع میں اعلیٰ درجہ صنعت و ایجاد کا رکھتی تھی۔ ملکِ سخن میں برج بھاشا کی ترکیب سے ایک طلسم خانہ انشا پردازی کا کھولا۔\n\nخالق باری جس کا اختصار آج تک بچوں کا وظیفہ ہے کئی بڑی بڑی جلدوں میں تھی، اس میں فارسی کی بحروں نے اول اثر کیا اور اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کون کون سے الفاظ مستعمل تھے، جو اب متروک ہیں، اس کے علاوہ بہت سی پہلیاں عجیب و غریب لطافتوں سے ادا کی ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فارسی کے نمک نے ہندی کے ذائقہ میں کیا لطف پیدا کیا ہے۔ مکرنی، انمل، دوسخنے وغیرہ خاص ان کے آئینہ کا جوہر ہے، ہر ایک کی مثال لکھتا ہوں کیونکہ ان سے بھی اس وقت کی زبان کا کچھ نہ کچھ پتا لگتا ہے۔\n\nنبولی کی پہیلی\n\nتِرور سے اک تریا اُتری اس نے بہت رُجھایا\n\nباپ کا اس کے نام پوچھا آدھا نام بتایا\n\nآدھا نام پتا پر پیارا بوجھ پہیلی موری\n\nامیر خسرو یوں کہیں اپنے نام نبولی\n\nآئینہ کی پہیلی\n\nفارسی بولی آئینہ\n\nترکی سوجی پائی نا\n\nہندی بولتے آرسی آئے\n\nمُنھ دیکھو جو اسے بتائے\n\nناخن کی پہیلی\n\nبیسیوں کا سَر کاٹ لیا\n\nنا مارا نہ خون کیا\n\nلال کی پہیلی\n\nاندھا گونگا بہرا بولے گونگا آپ کہائے\n\nدیکھ سفیدی ہوت انگارا گونگے سے بھڑ جائے\n\nبانس کا مندر واہ کا باشا، باشے کا وہ کھا جا\n\nسنگ ملے تو سر پر راکھیں واہ کورا اور اجا\n\nسی سی کر کے نام بتایا، تا میں بیٹھا ایک\n\nاُلٹا سیدھا ہر پھر دیکھو وہی ایک کا ایک\n\nبھید پہیلی میں کہی تو سُن لے میرے لال\n\nعربی، ہندی، فارسی تینوں کرو خیال\n\n دلی بلکہ ہندوستان کے اکثر شہروں میں رسم ہے کہ عام عورتیں برسات کی بہار میں گھم گڑواتی ہیں، درخت ہو تو اس میں جھولا ڈلواتی ہیں، مل مل کر جھولتی ہیں اور گیت گا کر جی خوش کرتی ہیں، ان میں شاید کوئی عورت ہو جو یہ گیت نہ گاتی ہو۔\n\nجو پیا آون کہہ گئے اجھوں نہ آئے سوامی ہو\n\nاے ہو آون کہہ گئے، وغیرہ۔ وغیرہ۔\n\nیہ گیت بھی انہی امیر خسرو کا ہے اور بروا راگ میں لَے بھی انہی کی رکھی ہے، واہ کیا زبانیں تھیں کہ جو کچھ ان سے نکل گیا، عالم کو بھایا، گویا زمانے کے دل پر نقش ہو گیا۔ بنانے والوں نے ہزاروں گیت بنائے اور گانے والوں نے گائے، آج ہوئے، کل بھول گئے، چھ سو برس گزرے یہ آج تک ہیں اور ہر برسات میں ویسا ہی رنگ دے جاتے ہیں۔ اس حسنِ قبول کو خداداد نہ کہیے تو کیا کہیے۔\n\nبڑی بڑی عورتوں کے گانے کے لئے تو ویسے گیت تھے، چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کو پیا اور سوامی کی یاد میں اس طرح گانا مناسب نہ تھا، لیکن دل کی امنگ تو وہ بھی رکھتی تھیں، اُنھیں بھی فصل بہار کی منافی تھی، ان کے لئے اور گیت رکھے تھے۔ چنانچہ ایک لڑکی گویا سُسرال میں ہے، برسات کی رُت آئی وہ جھولتی ہے اور ماں کی یاد میں گاتی ہے :\n\nاماں میرے باوا جو بھیجو جی کہ ساون آیا - یعنی مجھے آ کر لے جائے\n\nبیٹی تیرا باوا تو بڈھا ری کہ ساون آیا - یعنی وہ کیونکر آ سکتا ہے۔\n\nاماں میرے بھائی کو بھیجو جی کہ ساون آیا\n\nبیٹی تیرا بھائی تو بالا ری کہ ساون آیا - یعنی بچہ اکیلا اتنی دور کیوں کر آئے\n\nاماں میرے ماموں کو بھیجو ری کہ ساون آیا - یعنی اس کے لئے تو وہ دونوں عذر نہیں\n\nبیٹی تیرا ماموں تو بانکا ری کہ ساون آیا - بھلا وہ کب میری سنے گا\n\nذرا غور کر کے دیکھو، باوجود علم و فضل اور اعلیٰ درجہ خیالات شاعرانہ کے جب یہ لوگ پستی کی طرف جھکتے تھے تو ایسے تہہ کو پہنچتے تھے کہ زمین کی ریت تک نکال لاتے تھے۔ ان الفاظ و خیالات پر نظر کرو، کیسے نیچر میں ڈوبے ہوئے ہیں، عورتوں اور لڑکیوں کے فطری خیالات اور دلوں کے ارمانوں کو کیا اصلی طور سے ظاہر کرتے ہیں، مکرنیوں کا انھیں موجد کہنا چاہیے۔\n\nمرنی – 1\n\nسگری رین موہے سنگ جاگا\n\nبھور بھئی تب بچھڑن لاگا\n\nاس کے بچھڑے پھاٹت ہیا\n\nاے سکھی ساجن نا سکھی دیا\n\nمکرنی – 2\n\nسرب سلونا سب گن نیکا\n\nوابن سب جگ لاگے پھیکا\n\nوا کے سر پر ہووے کون\n\nاے سکھی ساجن نا سکھی لُون\n\nمکرنی – 3\n\nوہ آوے تب شادی ہوئے\n\nاس بن دوجا اور نہ کوئے\n\nمیٹھے لاگے وا کے بول\n\nاے سکھی ساجن، نا سکھی ڈھول\n\nایک کنوئیں پر چار پنہاریاں پانی بھر رہی تھیں۔ امیر خسرو کو رستہ چلتے چلتے پیاس لگی، کنویں پر جا کر ایک سے پانی مانگا، اُن میں سے ایک انھیں پہچانتی تھی، اس نے اوروں سے کہا کہ دیکھو خسرو یہی ہے۔ انھوں نے پوچھا کیا تو خسرو ہے جس کے سب گیت گاتے ہیں اور پہیلیاں اور مکرنیاں انمل سنتے ہیں، انھوں نے کہا، ہاں۔ اس پر ایک ان میں سے بولی کہ مجھے کھیر کی بات کہہ دے، دوسری نے چرخہ کا نام لیا، تیسری نے ڈھول، چوتھی نے کتے کا، اُنھوں نے کہا کہ مارے پیاس کے دم نکلا جاتا ہے پہلے پانی تو پلا دو، وہ بولیں، جب تک ہماری بات نہ کہہ دے گا نہ پلائیں گی۔ اُنھوں نے جھٹ کہا۔\n\nکھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا\n\nآیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا\n\nلا پانی پلا\n\nاِسی طرح کبھی کبھی ڈھکوسلا کہا کرتے تھے کہ وہ بھی انھیں کا ایجاد ہے۔\n\nبھادوں پکی پیپلی، چو چو پڑی کپاس\n\nبی مہترانی دل پکاؤ گی یا ننگا ہی سو رہوں\n\nدو سخنے\n\nگوشت کیوں نہ کھایا، ڈوم کیوں نہ گایا\n\nگلا نہ تھا\n\nانار کیوں نہ چکھا، وزیر کیوں نہ رکھا\n\nدانا نہ تھا\n\nدو سخنے\n\nسود ا اگر راچہ مے باید، بوچے کو کیا چاہیے\n\nدوکان\n\nتشنہ راچہ مے باید، ملاپ کو کیا چاہیے\n\nچاہ\n\nفارسی اُردو\n\nشکار بچہ مے باید کرد، قوت مغز کو کیا چاہیے\n\nبادام\n\nموسیقی میں ان کی طبیعت ایک بین تھی کہ بِن بجائے پڑی بکتی تھی، اس لئے دُہرپت کی جگہ قول و قلبانہ بنا کر بہت سے راگ ایجاد کئے کہ ان میں سے اکثر گیت اُن کے آج تک ہندوستان کی زن و مرد کی زبان پر ہیں، بہار راگ اور بسنت کے میلہ نے اِنہی کی طبیعت سے رنگ پڑا ہے، بین کو مختصر کر کے ستار بھی انہی نے نکالا ہے۔\n\nلطیفہ :- سلطان جی صاحب کے ہاں ایک سیاح فقیر مہمان آئے، رات کو دسترخوان پر بیٹھے، کھانے کے بعد باتیں شروع ہوئیں، سیاح نے ایسے دفتر کھولے کہ بہت رات گئی ختم ہی نہ ہوں، سلطان جی صاحب نے کچھ انگڑائیاں کچھ جمائیاں بھی لیں، وہ سادہ لوح کسی طرح بھی نہ سمجھے، سلطان جی صاحب مہمان کی دل شکنی سمجھ کر کچھ نہ کہہ سکے۔ مجبور بیٹھے رہے، امیر خسرو بھی موجود تھے مگر بول نہ سکتے تھے کہ آدھی رات کی نوبت بجی۔ اس وقت سلطان جی نے کہا کہ خسرو یہ کیا بجا؟ عرض کی آدھی رات کی نوبت ہے، پوچھا اس میں کیا آواز آتی ہے ؟ اُنھوں نے کہا، سمجھ میں تو ایسا آتا ہے :-\n\nنان کہ خوردی خانہ برد، نان کہ خوردی خانہ برد، خانہ برد خانہ برد، نان کہ خوردی خانہ برد، نہ کہ بدستِ تو کردم خانہ گرد، خانہ بروخانہ برد،\n\nحرف حرف کی حرکت و سکون پر خیال کرو، ایک ایک چوٹ کو کیا پورا پورا ادا کر رہے ہیں، اور نہ بدست تو کردم خانہ گرد کو دیکھو، اس نے کیا کام کیا۔\n\nنقل : ایک دن کسی کوچہ میں سے گزر ہوا، دھُنیا ایک دوکان میں روئی دھُنک رہا تھا، کسی نے کہا کہ جس دھُنیئے کو دیکھو ایک ہی انداز پر روئی دھُنکتا ہے۔ سب ایک ہی اُستاد کے شاگرد ہیں، کوئی بولا کہ قدرتی اُستاد نے سب کو ایک ہی انداز پر سکھایا ہے، آپ نے کہا کہ سکھایا ہے اور ایک حرکت میں بھی تال کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ کوئی بولا کہ لفظوں میں کیونکر لا سکیں۔ فرمایا :\n\nدر پئے جاناں جاں ہم رفت، جاں ہم رفت، جاں ہم رفت، رفت رفت جاں ہم رفت، ایں ہم رفت و آں ہم رفت، آنہم فرت آنہم رفت، اینہم آنہم اینہم آنہم رفت، رفتن، رفتن، رفتن، دہ ذہ، رفتن دہ، رف، رفتن دہ۔\n\nنقل : محلہ کے سرے پر ایک بڑھیا ساقن کی دکان تھی۔ چمو (بکسر اول، واو مجہول) اس کا نام تھا۔\n\nشہر کے بیہودہ لوگ وہاں بھنگ چرس پیا کرتے تھے، جب یہ دربار سے پھر کر آتے یا تفریحاً گھر سے نکلتے تو وہ بھی سلام کرتی، کبھی کبھی حقہ بھر کر سامنے لے کھڑی ہوتی۔ یہ بھی اس کی دلشکنی کا خیال کر کے دو گھونٹ لے لیا کرتے،، ایک دن اُس نے کہا بلائیں لوں، ہزاروں غزلیں، گیت، راگنی بناتے ہو، کتابیں لکھتے ہو، کوئی چیز لونڈی کے نام پر بھی بنا دو، انھوں نے کہا بی چمو بہت اچھا، کئی دن کے بعد اُس نے پھر کہا کہ بھٹیاری کے لڑکے لئے خالق باری لکھ دی۔ ذرا لونڈی کے نام پر بھی لکھ دو گے تو کیا ہو گا۔ آپ کے صدقے سے ہمارا نام بھی رہ جائے گا۔ اس کے بار بار کہنے سے ایک دن خیال آ گیا۔ کہا لو بھی چمو سنو (بادشاہ کے ہاں اُس زمانہ میں چوپہری نوبت بجا کرتی تھی) :\n\nاوروں کی چوپہری باجے چمو کی اٹھ پہری\n\nباہر کا کوئی آئے ناہیں آئیں سارے شہری\n\nصاف صفوف کر آ گئے راکھے جس میں ناہیں تُوسل\n\nاوروں کے جہاں سینک سماوے چمو کے وہاں موسل\n\nیعنی یہ بادشاہوں سے بھی بڑی ہیں۔ جنگلی گنواروں کا کام نہیں۔ سفید پوش آتے ہیں۔ پیالہ بھنگ صاف مصفیٰ حاضر کرتی ہے جس میں تس تِنکا نہ ہو۔ بھنگڑ فخریہ کہا کرتے ہیں کہ وہ ایسی بھنگ پیتا ہے کہ جس میں گاڑھے پن کے سبب سے سینہ تک کھڑی رہے، آپ مبالغہ کرتے ہیں کہ وہ ایسی بھنگ بناتی ہیں کہ جس میں موسل کھڑا رہے۔ خیر ان کی بدولت چمو کا نام بھی رہ گیا۔\n\nحق پوچھو تو جس طرح ہر جاندار کی عمر ہے اسی طرح کتاب کی بھی عمر ہے مثلاً شاہنامہ کو ۹ سو برس ہوئے۔ سکندر نامہ کو ۷ سو برس سمجھو۔ گلستاں بوستاں کو ۶ سو برس کہو۔ زلیخا کی عمر قریب ۳ سو کے ہوئی مگر اب تک سب جوان ہیں، اُردو میں باغ و بہار، بدر منیر وغیرہ جوان ہیں، فسانہ عجائب جاں بلب ہو گیا۔ بہت کتابیں اول شہرت پاتی ہیں پھر گمنام ہو جاتی ہیں، یہ گویا بچے ہی تھے کہ مر گئے۔ بہتیری تصنیف ہوئی ہیں اور چھپتی ہیں، مگر کوئی نہیں پوچھتا یہ بچے مرے ہوئے پیدا ہوئے ہیں، بعض کتابوں کی عمریں میعاد معلوم پر ٹھہری ہوئی ہیں، وہ مدارس سرکاری کی تصنیفیں ہیں کیونکہ جب تک تعلیم میں داخل ہیں تب تک چھپتی ہیں اور خواہ مخواہ بکتی ہیں۔ لوگ پڑھتے ہیں۔ جب تعلیم سے خارج ہو گئیں مر گئیں کوئی آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔\n\nقبولِ خاطر و لطفِ سخن خداداد است\n\nخدا یہ نعمت نصیب کرے\n\nغرض اس جوشِ طبع اور ہنگامہ ایجاد میں ایک تازہ ایجاد ہوا جس میں ہمارے لئے تین باتیں قابلِ لحاظ ہیں :-\n\n۱) مضامین عاشقانہ سے وہ سلسلہ اشعار کا ہمارے ہاتھ آیا جسے غزل کہتے ہیں۔ وہی قافیے یا ردیف اور قافیے دونوں کی پابندی، اسی طرح اول مطلع یا کئی مطلع، پھر چند شعر، اخیر میں مقطع اور اس میں تخلص۔\n\n۲) عروضِ فارسی نے پہلا قدم ہندوستان میں رکھا۔\n\n۳) فارسی اور بھاشا کو نون مرچ کی طرح اِس انداز سے ملایا ہے کہ زبان پر چٹخارا دیتی ہے۔ اس میں یہ بات سب سے زیادہ قابلِ لحاظ ہے کہ اُنھوں نے بنیاد عشق کی عورت ہی کی طرف سے قائم کی تھی جو کہ خاصہ نظم ہندی کا ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس تعشق کا انقلاب کس وقت ہوا؟\n\nغزل مذکور یہ ہے :\n\nزحالِ مسکیں مکن تغافل، درائے نیناں بنائے بتیاں\n\nکہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں، نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں\n\nشانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چو عمر کوتاہ\n\nسکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں، تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں\n\nیکایک از دل دوچشم جادو بصد فریبم ببُرد تسکیں\n\nکِسے پڑی ہے جو جا سُناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں\n\nچو شمع سوزاں چوذرہ حیراں ز مہرآں مہ بگشتم آخر\n\nنہ نیند نیناں، نہ انگ چینا، نہ آپ آویں نہ بھیجیں پتیاں\n\nبحق روزِ وصال دلبر کہ دادِ مارا فریب خرد\n\nسپیت منکے درائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کے کھتیاں\n\nابتدائے ایجاد میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ زمانہ مبتدیوں کا اصلاح دینے والا ہے پھر تراشیں دے کر اعلیٰ درجہ خوبی و خوش اسلوبی پر پہنچا لیتا ہے مگر اس وقت اس طرف کسی اور نے ایسی توجہ نہ کی جس سے اس طرز کا رواج جاری ہو جاتا البتہ ملک محمد جائسی نے مثنوی پدماوت کے علاوہ دوہرے اور گیت بھی لکھے۔ اور وہ ایسے اعلیٰ رتبہ کے ہیں کہ ڈاکٹر گلگرسٹ صاحب کی تصنیف میں نہایت مدد کرتے ہیں، تعجب یہ ہے کہ فارسی کی بحروں میں کوئی شعر اس کا نہیں۔ دکن میں ایک سعدی گذرے ہیں، اُن کا فقط اتنا حال معلوم ہے کہ اپنے تئیں ہندوستان کا سعدی شیرازی سمجھتے تھے، اور تعجب ہے کہ مرزا رفیع سودا نے اپنے تذکرہ میں اُن کے اشعار مندرجہ ذیل کو شیخ سعدی شیرازی ہی کے نام پر لکھا ہے۔\n\nقشقہ چو دیدم بر رخت گفتم کہ یہ کاویت ہے\n\nگفتا کہ در ہو باد رہے اس شہر کی یہ ریت ہے\n\nہمنا نمہن کو دل دیا، تم دل لیا اور دُکھ دیا\n\nہم یہ کیا تم وہ کیا، ایسی بھلی یہ پیت ہے\n\nسعدی کہ کفتہ ریختہ، در ریختہ، دُر ریختہ\n\nشیر و شکر ہم ریختہ، ہم ریختہ ہم گیت ہے\n\nکبیر اور تلسی داس وغیرہ کے دوہرے عالم میں زبان زد ہیں مگر وہ فقط اتنی سند کے لئے کارآمد ہیں کہ اس عہد میں فارسی الفاظ کا دخل ہندوؤں کی زبانوں پر بھی ہو گیا تھا، اُنھیں اس نظم سے علاقہ نہیں جو فارسی سے آ کر اُردو کے لباس میں ظاہر ہوئی اور ملکی مالک کو بے دخل کر کے گوشہ میں بٹھا دیا۔\n\nحامد کوئ شخص ہوئے ہیں، اِن کا زمانہ معلوم نہیں، کہتے ہیں کہ حامد باری انھیں کی تصنیف ہے، اُن کی فقط سات شعر کی ایک غزل دیکھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید کوئی پنجابی بزرگ ہیں۔ اس میں سے مطلع پر قناعت کرتا ہوں :\n\nعزمِ سفر چوں کر دی ساجن نینوں نیند نہ آئی جی\n\nقدرِ وصالت ندا نستم تم بن برہ ستائی جی\n\nاگر یہی شعر ہیں تو جب سے اب تک بے شمار شاعر پنجاب میں نکل آئیں گے۔ یہاں کی شاعری اب تک انھیں بتیوں میں جاری ہے، لیکن یہ شاعر اور ان کی شاعری وہ نہیں ہے جس سے ہم بحث کرتے ہیں۔ احمد گجرأتی ہم عہد و ہم وطن دلی کے ہیں، وہ فرماتے ہیں :\n\nگر بیضہ زاغے کسے درز یہ سیمرغے نہد\n\nاز اصل خود ناید بروں آخر گلیلا ہوئے پر\n\nگر طفلکے بازی گرے خوانندہ و عالم شود\n\nاصلیکہ وارد کے رود آخر زنبورا ہوئے پر\n\nگر بچہ شیرے کسے باشیر روبہ پرورد\n\nمروی کہ وارد کے رد و آخر بگیلا ہوئے پر\n\nسیوا ایک مصنف دکن میں گزرا ہے، جس نے روضۃ الشہداء کا دکنی زبان میں ترجمہ کیا، مرثیے اس کے اب وہاں کے امام باڑوں میں پڑھے جاتے ہیں اور گمان غالب ہے کہ اس طرح کے شاعر اِن عہدوں میں بہت ہوں گے مگر ایسی شاعری کو علمی شاعری نہیں کہہ سکتے۔\n\nنواز نام ایک مصنف نے فرخ سیر کے عہد میں شکنتلا کا ترجمہ بھاشا میں لکھا، اس عہد میں نظمِ اُردو کے صنف کا یہی سبب ہو گا کہ جو ذی استعداد اُردو کے اہلِ زبان ہوتے تھے وہ اُردو کی شاعری کو فخر نہ سمجھتے تھے۔ کچھ کہنا ہوتا تو فارسی میں کہتے تھے۔ البتہ عوام الناس موزوں طبع دل کی ہوس پوری کرنے کو جو منھ میں آتا تھا کہتے جاتے تھے، جو اہلِ ولایت شاعر ہوتے تھے، وہ فارسی شعر کہتے۔ اُردو اُنھیں آتی نہ تھی، کہتے تو ایسا معلوم ہوتا تھا گویا تمسخر کرتے ہیں، چنانچہ مرزا معز موسوی خاں فطرت کہ زبدہ شعرائے ایران اور عمدہ شعرائے عالمگیری سے تھے اور بعد اُن کے قزلباش خاں امید کے متفرق اشعار دیکھے، معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ اُس وقت ٹوٹی پھوٹی زبان تھی اسے پورا ادا نہ کر سکتے، چنانچہ فرماتے تھے :\n\nاز زلفِ سیاہ تو بدل دوم پری ہے\n\nدر خانہ آئینہ کتا جوم پری ہے\n\nقزلباش نہاں اُمید باوجودیکہ فارسی میں بڑے نامور ہیں اور اہل ہند کے ساتھ اُن کے جلسوں کی گرمجوشیاں بھی مشہور ہیں مگر اُردو میں جو اظہارِ کمال کیا ہے وہ یہ ہے :\n\nبامن کی بیٹی آج مری انکھ موں پری\n\nغصہ کیا و گالی دیا اور دگر لری\n\nاس بات میں سب کا اتفاق ہے کہ نظم موجودہ نے دکن سے ظہور کیا، چنانچہ میر تقی میر نے بھی ایک غزل میں شاعرانہ انداز سے اشارہ کیا ہے :\n\nخوگر نہیں کچھ یوں ہی ہم ریختہ گوئی کے\n\nمعشوق جو تھا اپنا باشندہ دکن کا تھا\n\nاور قائم ان کے ہم عصر نے صاف کہہ دیا ہے :\n\nقائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ\n\nاک بات لچر سی بزبانِ دکنی تھی\n\nبہرحال عالمگیر کے عہد میں دلی نے اس نظم کا چراغ روشن کیا جو محمد شاہ کے عہد میں آسمان پر ستارہ ہو کر چمکا اور شاہ عالم کے عہد میں آفتاب (آفتاب شاہ عالم بادشاہ کا تخلص تھا۔ وہ خود بڑا مشاق شاعر ہے جس کے چار دیوان اُردو میں موجود ہیں ) ہو کر اوج پر آیا۔\n\nنظم اُردو کے آغاز میں یہ امر قابل اظہار ہے کہ سنسکرت میں ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنی ہیں۔ اسی واسطے نظمِ اُردو اور برج بھاشا دونوں کی بنیاد ذومعنی الفاظ اور ایہام پر ہوتی تھی، فارسی میں یہ صنعت ہے گر کم، اُردو میں پہلے پہلے شعر کی بنا اسی پر رکھی گئی اور دورِ اول کے شعراء میں برابر وہی قانون جاری رہا اور اس عہد کے چند اشعار بھی نمونہ کے طور پر لکھتا ہوں :\n\nلام نستعلیق کا ہے اُس بُتِ خوش خط کی زُلف\n\nہم تو کافر ہوں اگر بندے نہ ہوں اسلام کے\n\nکیوں نہ ہو ہم سے وہ سجن باغی\n\nقد ہو جس کا نہال کی مانند\n\nتو جو دریا کے پار جلتا ہے\n\nدل مرا وار وار جاتا ہے\n\nتم دیکھو یا نہ دیکھو ہم کو سلام کرنا\n\nیہ تو قدیم ہی سے سر پر ہمارے \"کر\" ہے\n\n(کر ہندی میں محصول کو سنسکرت میں ہاتھ کو کہتے ہیں، سَر کے بالوں کی جڑوں میں جو خشکی ہو جائے اسے بھی کہتے ہیں۔)\n\nنہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا دیوے\n\nکہ آخر بدنما لگتا ہے دیکھو چاند کو گہنا\n\nسج دکھا بانکی نہیں چھوڑے گا میرا نقد دل\n\nآج وہ افغاں پسر آتا یہی ہے دل میں ٹھان\n\nنہ دیوے لے کے دل وہ جعدہ مشکیں\n\nاگرباور نہیں تو مانگ دیکھو\n\nشاہِ حاتم نے بڑی کوشش کر کے اِن رنگ آمیزیوں سے اُردو کو پاک کیا، چنانچہ اُن کے حال میں معلوم ہو گا۔\n\nسودا کے عہد میں بھی اس مادہ فاسد کا بقیہ چلا آتا تھا، چنانچہ اُنھوں نے بھی اک قصیدہ میں اُن بزرگوں کی شکایت کی ہے جن کے شمار میں سے ایک شعر یہ ہے :\n\nمونہو پرورشِ شانہ تو پھر ہے موسل\n\nرام پور کی ہو کٹاری تو کہیں سیتا پھل\n\nمگر لطف یہ ہے کہ خود بھی موقع پاتے تھے تو کہیں نہ کہیں کہہ جاتے تھے، چنانچہ فرمایا ہے :\n\nحکاک کا پسر بھی مسیحا سے کم نہیں\n\nفیروزہ ہوئے مژدہ تو دیتا ہے وہ جِلا\n\nاگرچہ وہ انداز پہلے کی نسبت بالکل نہیں رہے پھر بھی جس قدر ہیں وہ ایسے زبان پر چڑھے ہوئے ہیں کہ جن مضامین کے اَدا کرنے کی ہمیں آج کل ضرورت پڑتی ہے اس کے لئے خلل انداز ہوتے ہیں، یہ بات بھی بھولنی نہ چاہیے کہ جس طرح ایک نوجوان مرغ اپنے پَر جھاڑ کر نئے پر نکالتا ہے، اسی طرح ہماری زبان بھی اپنے الفاظ کو بدلتی چلی آتی ہے، چنانچہ بہت سے الفاظ ہیں، جن کا دور بدور شعراء کے کلام میں اشارہ کیا گیا ہے۔\n\nیہ اظہار قابلِ افسوس ہے کہ ہماری شاعری چند معمولی مطالب کے پھندوں میں پھنس گئی ہے، یعنی مضامینِ عاشقانہ، مے خواری، مستانہ، بے گل و گلزار و ہمی رنگ و بُو کا پیدا کرنا، ہجر کی مصیبت کا رونا، وصلِ موہوم پر خوش ہونا، دنیا سے بیزاری، اسی میں فلک کی جفا کاری اور غضب یہ ہے کہ اگر کوئی اصلی ماجرا بیان کرنا چاہتے ہیں تو بھی خیالی استعاروں میں ادا کرتے ہیں، نتیجہ جس کا یہ کہ کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ میرے دوستو ! دیکھتا ہوں کہ علوم و فنون کا عجائب خانہ کھلا ہے اور ہر قوم اپنے اپنے فنِ انشاء کی دستکاریاں بھی سجائے ہوئے ہے۔ کیا نظر نہیں آتا، ہماری زبان کس درجہ پر کھڑی ہے ؟ ہاں صاف نظر آتا ہے کہ پا انداز میں پڑی ہے۔\n\nہمارے بزرگوں میں سے دلی میں اول مرزا رفیع سودا پھر شیخ ابراہیم ذوق نے زبان کی پاکیزگی، الفاظ کی شستگی اور ترکیب کی چستی سے کلام میں خوب زور پیدا کیا، میر تقی میر اور خواجہ میر درد نے زار حالی افسردہ دلی، دنیا سے بیزاری کے مضامین کو خوب ادا کیا۔ غالب نے بعض مواقع پر ان کی عمدہ پیروی کی مگر معنی آفرینی کے عاشق تھے اور زیادہ تر توجہ اُن کی فارسی پر رہی، اس لئے اُردو میں غالباً صاف اشعار کی تعداد سو (۱۰۰) دو سو (۲۰۰) شعر سے آگے نہ نکلی۔ جرأت نے عاشق و معشوق کے معاملات اور دونوں کے دلی خیالات کو نہایت خوبی اور شوخی سے بیان کیا۔ مومن خان نے باوجود مشکل پسندی کے پیروی کی۔ لکھنؤ میں شیخ امام بخش ناسخ اور خواجہ حیدر علی آتش، رند، صبا، وزیر وغیرہ نے شاعری کا حق ادا کیا مگر پھر خیال کرو کہ فقط زبانی طوطا مینا بنانے سے حاصِل کیا؟ جو شاعری ہمارا ہر قسم کا مطلب اور ہمارے دل کا ہر ایک ارمان پورا نہ نکال سکے گویا ایک ٹوٹا قلم ہے جس سے پورا حرف نہ نکل سکے۔ دارالخلافہ دہلی جو کہ انشاء اور اُردو شاعری کے لئے دارالضرب تھا، وہاں ذوق اور غالب نے رسمی شاعری پر خاتمہ کیا، لکھنؤ میں ناسخ اور آتش سے شروع ہو کر رند، وزیر، صبا تک سلسلہ جاری رہا، ایک زمانہ میں مثل مشہور تھی کہ بگڑا شاعر مرثیہ گو، اور بگڑا گویا مرثیہ خوان، لیکن لکھنؤ میں ان دونوں شاخوں کے صاحبِ کمال بھی ایسے ہوئے کہ اصولوں کو رونق دے دی، اسی اعتبار سے کہہ سکتے ہیں کہ میر انیس اور مرزا دبیر خاتمہ شعرائے اُردو کا ہیں اور چونکہ اِس فن کے صاحبِ کمال کا پیدا ہونا نہایت درجہ کی آسودگی اور زمانہ کی قدردانی اور متعدد سامانوں پر منحصر ہے اور اب زمانہ کا رنگ اس کے برخلاف ہے، اس لئے ہندوستان کو اس شاعری کی ترقی اور ایسے شعراء کے پیدا ہونے سے بالکل مایوس ہو جانا چاہیے، البتہ کوئی نیا فیشن نکلے، پھر اُس میں خدا جانے کیا کیا کمال ہوں، اور کون کون اہلِ کمال ہوں۔\n\nخاتمہ کلام میں عقل کے نجومی سے سوال ہوا کہ اس شاعری کا ستارہ جو نحوستِ زوال میں آ گیا ہے، کبھی اوجِ اقبال پر بھی طلوع کرے گا یا نہیں ؟ جواب ملا کہ نہیں۔ پوچھا گیا کہ سبب؟ جواب ملا کہ حکامِ وقت کی یہ زبان نہیں، نہ اُن کے کارآمد ہے۔ اسی لئے وہ اس کے قدردان نہیں نہ وہ اسے جانتے ہیں، نہ ان کے جاننے کو کچھ فخر جانتے ہیں، وہاں سے ہمارے شعراء کو جھوٹے خوشامدی کا خطاب ملا ہوا ہے۔ اچھا یا قسمت یا نصیب، جس لوگوں کے کلام ہماری زبان کے لئے سند سمجھے جانے تھے، اُن کی تو یہ عزت ہوئی، اب اس نیم جان مُردہ کے رونے والے چند بڈھے رہے جن کی درد ناک آوازیں کبھی کبھی آہِ سرد کے سُروں میں بلند ہو کر سینوں میں رہ جاتی ہیں، کبھی وہ دل آسودہ ہوتے ہیں تو ایک مشاعرہ کر کے مل بیٹھتے ہیں اور آپس ہی میں ایک دوسرے کی تعریفیں کر کے جی خوش کر لیتے ہیں، شاعر غریب اپنے بزرگوں کی قبریں قائم رکھنے کو اتنی ہی تعریف پر قناعت کر لیں مگر پیٹ کو کیا کریں ؟ یہ دوزخ تو بہت سی تعریف سے بھی نہیں بھرتا۔\n\nپھر سوال ہوا کہ کوئی ایسی تدبیر ہے، جس سے اس کے دن پھریں، اور پھر ہماری نظم کا باغ لہلہاتا نظر آئے، جواب ملا کہ ہاں۔ ہمت و تدبیر کو خدا نے بڑی برکت دی ہے۔ صورت یہی ہے کہ ایشیا میں ایسے کمالوں کی رونق حکام کی توجہ سے ہوتی ہے۔ شاعروں کو چاہیے کہ اُسے حاکموں کے کارآمد یا اُن کی پسند کے قابل بنائیں۔ ایسا کریں گے تو شعر کہنے والوں کو کچھ فائدہ ہو گا، اور جس قدر فائدہ ہو گا، اُسی قدر چرچا زیادہ ہو گا۔ اسی قدر ذہن فکر و جودت کریں گے اور دلچسپ ایجاد اور خوش نما اختراع کر نکالیں گے، اسی کو ترقی کہتے ہیں۔\n\nیہ تو تم نے دیکھ لیا کہ اُردو میں جو سرمایہ انشاء پردازی کا ہے، فارسی کی بدولت ہے، قدمائے فارس ہر قسم کے مضامین سے لطف اُٹھاتے تھے، متاخرین فقط غزل میں منحصر ہو گئے۔ ذی استعداد قصیدے بھی کہتے رہے، اُردو والوں نے بھی آسان کام سمجھ کر اور عوام پسندی کو غرض ٹھہرا کر حُسن و عشق وغیرہ کے مضامین کو لیا اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جو کچھ کیا، بہت خوب کیا، لیکن وہ مضمون اس قدر مستعمل ہو گئے کہ سُنتے سُنتے کان تھک گئے ہیں، وہی مقرری باتیں ہیں، کہیں ہم لفظوں کو پس و پیش کرتے ہیں کہیں ادل بدل کرتے ہیں اور کہے جاتے ہیں، گویا کھائے ہوئے بلکہ اوروں کے چبائے ہوئے نوالے ہیں، اُنھیں کو چباتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں، خیال کرو اس میں کیا مزہ رہا، حسن و عشق سبحان اللہ، بہت خوب، لیکن تابہ کے ؟ حور ہو یا پری، گلے کا ہار ہو جائے تو اجیرن ہو جاتی ہے۔ حُسن و عشق سے کہاں تک جی نہ گھبرائے اور اب تو وہ بھی سو برس کی بڑھیا ہو گئی۔\n\nایک دشواری یہ بھی ہے کہ اِن خیالات کے ادا کرنے کے لئے ہمارے بزرگ الفاظ اور معانی اور استعاروں اور تشبیہوں کے ذخیرے تیار کر گئے ہیں اور وہ اس قدر رواں ہو گئے ہیں کہ ہر شخص تھوڑے فکر سے کچھ نہ کچھ کر لیتا ہے اور اگر خیال نظم کرنا چاہے تو ویسا سامان نہیں، البتہ ذی استعداد مشاق چاہیں تو کر بھی سکتے ہیں، لیکن کم بخت حسن و عشق کے مضمون، اُس کے خط و خال اور بہار و گلزار کے الفاظ ان کی زبان و وہاں میں رچے ہوئے ہیں۔ اگر کچھ کہنا چاہیں تو اول اُسے بھلائیں پھر اُس کے مناسب مقام ویسے ہی نرالے استعارے، نئی تشبیہیں، انوکھی ترکیبیں اور لفظوں کی عمدہ تراشیں پیدا کریں، اور بڑی عرق ریزی اور جانکاہی کا کام ہے، بے ہمتی جو ہماری قوم پر حاکمِ باختیار بنی ہوئی ہے اسے اس سے زیادہ روکنے کا موقع کہاں مل سکتا ہے۔\n\nاس اتفاقی معاملہ نے اور تو جو کیا سو کیا، بڑی قباحت یہ پیدا کی کہ اربابِ زمانہ نے متفق اللفظ کہہ دیا کہ اُردو نظم مضامینِ عاشقانہ ہی کہہ سکتی ہے۔ اسے ہر ایک مضمون کے ادا کرنے کی طاقت اور لیاقت بالکل نہیں اور یہ ایک بڑا داغ ہے جو ہماری قومی زبان کے دامن پر لگا ہے، سوچتا ہوں کہ اُسے کون دھوئے اور کیوں کر دھوئے، ہاں یہ کام ہمارے نوجوانوں کا ہے جو کشورِ علم میں مشرقی اور مغربی دونوں دریاؤں کے کناروں پر قابض ہو گئے ہیں۔ اُن کی ہمت آبیاری کرے گی، دونوں کناروں سے پانی لائے گی اور اس داغ کو دھوئے گی، بلکہ قوم کے دامن کو موتیوں سے بھر دے گی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%86%D8%B8%D9%85_%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"} {"title": "آب حیات/پانچواں دور/تمہید", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "دیکھنا! وہ لالٹینیں جگمگانے لگیں۔ اٹھو اٹھو استقبال کر کے لاؤ۔ اس مشاعرہ میں وہ بزرگ آتے ہیں جن کے دیدار ہماری آنکھوں کا سُرمہ ہوئے، اس میں دو قسم کے باکمال نظر آئیں گے، ایک وہ کہ جنھوں نے اپنے بزرگوں کی پیروی کر دین آئین سمجھا۔ یہ اُن کے باغوں میں پھریں گے۔ پرانی شاخیں زرد پتے کاٹیں بھاٹیں گے۔ اور نئے رنگ نئے ڈھنگ کے گلدستے بنا بنا کر گلدانوں سے طاق و ایوان سجائیں گے۔ دوسرے وہ عالی دماغ جو فکر کے دخان سے ایجاد کی ہوائیں اڑائیں گے، اور برج آتشبازی کی طرح اس سے رتبہ عالی پائیں گے۔ انھوں نے اس ہوا سے بڑے بڑے کام لئے۔ مگر یہ غضب کیا کہ گرد و پیش جو وسعت بے انتہا پڑی تھی اس میں سے کسی جانب میں نہ گئے۔ بالاخانوں میں سے بالا بالا اڑ گئے چنانچہ تم دیکھو گے کہ بعض بلند پرواز ایسے اوج پر جائیں گے جہاں آفتاب تارا ہو جائے گا۔ اور بعض ایسے اڑیں گے کہ اڑ ہی جائیں گے۔ وہ اپنے آئین کا نام خیال بندی اور نازک خیالی رکھیں گے۔ مگر حق یہ ہے کہ شاعری انکی ساھری اور خود اپنے وقت کے سامری ہوں گے۔ ساتھ اسکے صاحبِ اقبال ایسے ہوں گے کہ انھیں پرستش کرنے والے بھی ایسے ہی ہاتھ آئیں گے۔ ان بزرگوں کی نازک خیالی میں کچھ کلام نہیں لیکن اتنا ہے کہ اب تک مضمون کا پھول اپنے حسن خداداد کے جوبن سے فصاحت کے چمن میں لہلہاتا تھا۔ یہ اس کی پنکھڑیاں لیں گے اور اُن پر موقلم سے ایسی نقاشی کریں گے کہ بے عینک کے نہ دکھائی دے گی۔ اس خیال بندی میں یہ صاحب کمال اس قدرتی لطافت کی بھی پروا نہ کریں گے جسے تم حسنِ خداداد سمجھتے ہو، کیوں کہ ان کی صنعت بے اس کے اپنا رنگ نہیں دکھا سکتی۔\n\nپہلے بزرگ گرد و پیش کے باغوں کا پتّا پتّا کام میں لا چکے تھے۔ اب نئے پھول کہاں سے لاتے، آگے جانے کی سڑک نہ تھی اور سڑک نکالنے کے سامان نہ تھے۔ ناچار اِس طرح اُستادی کا نقارہ بجایا۔ اور ہمعصروں میں تاج افتخار پایا۔ یہ آخری دور کی مصیبت کچھ ہماری ہی زبان پر نہیں پڑی۔ فارسی کے متقدمین کو اسکے متاخرین سے مطابق کر لو۔ شعرائے جاہلیت کا متاخرین عرب سے مقابلہ کرو۔ انگریزی اگرچہ میں نہی ں جانتا۔ مگر اتنا جانتا ہوں کہ اس کے متاخرین بھی اس درد سے نالاں ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ زبان جب تک عالمِ طفولیت میں رہتی ہے تبھی تک شیر و شربت کے پیالے لنڈھاتی ہے۔ جب پختہ سال ہوتی ہے تو خوشبو عرق اس میں ملاتی ہے۔ تکلف کے عطر ڈھونڈھ کر لاتی ہے پھر سادگی اور شیریں ادائی تو خاک میں مل جاتی ہے۔ ہاں دواؤں کے پیالے ہوتے ہیں۔ جس کا جی چاہے پیا کرے۔\n\nاِس موقع پر یہ کہنا واجب ہے کہ ان سے پہلے جو صاحب کمال لکھنؤ میں تھے وہ دلی کے خانہ برباد تھے۔ وہ یا ان کی اولادیں اس وقت تک دلّی کو اپنا وطن سمجھتے تھے اور اہل لکھنؤ ان کی تقلید کو فخر سمجھتے تھے نہ کہ عیب۔ کیوں کہ وہاں اب تک کوئی صاحب کمال اس درجہ کا پیدا نہ ہوا تھا، اب وہ زمانہ آتا ہے کہ انھیں خود صاحب زبانی کا دعویٰ ہو گا اور زیبا ہو گا۔ اور جب ان کے اور دلی کے محاورہ میں اختلاف ہو گا تو اپنے محاورے کی فصاحت اور دلّی کے اہل انصاف بھی تسلیم کریں گے۔ بلکہ انہی کے بعض بعض نکتوں کو دلّی کے اہل انصاف بھی تسلیم کریں۔ ان بزرگوں نے بہت قدیمی الفاظ چھوڑ دیئے۔ جن کی کچھ تفصیل چوتھے دیباچہ میں لکھی گئی اور اب جو زبان دلّی اور لکھنؤ میں بولی جاتی ہے وہ گویا انہی کی زبان ہے۔ البتہ شیخ ناسخؔ کے دیوان میں ایک جگہ زور کا لفظ بہت کے معنوں میں دیکھا گیا۔ شاید یہ ابتاد کا کلام ہو۔\n\nعابد و زاہد چلے آتے ہیں پینا ہے شراب\n\nاب تو ناسخؔ زور رندِ لا اُبالی ہو گیا​\n\nاساتذہ دہلی کے کلام میں آئے ہے، اور جائے ہے، اکثر ہے مگر اخیر کی غزلوں میں انھوں نے بھی بچاؤ کیا ہے۔\n\nشاہ نصیر مرحوم سن رسیدہ شخص تھے، آغاز شاعری کا کفارہ جراءت اور سید انشا سے مِلا ہوا تھا اور انجام کی سرحد ناسخؔ، آتشؔ اور ذوقؔ میں واقع ہوئی تھی، اس لئے ابتدائی غزلوں میں کہیں کہیں ٹک بول جاتے ہیں اور جس طرح جمع مؤنث کے فعلوں کو الف نون کے ساتھ چوتھے طبقہ میں بے تکلف بولتے تھے۔ اِن کی ابتدائی غزلوں میں کہیں کہیں ہے، چنانچہ میر کی غزل مطلع ہے۔\n\nجفائیں دیکھ لیاں بیوفائیاں دیکھیں\n\nبھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں\n\nکبھی نہ اُس رُخ روشن پہ جھائیاں دیکھیں\n\nگھٹائیں چاند پہ سو بار آئیاں دیکھیں​\n\nاسی طرح موصوف جمع ہو اور صفت لفظ ہندی ہو تو اب موصوف کی مطابقت کے لیے صفت کو جمع بولنا خلاف فصاحت سمجھتے ہیں، مگر خواجہ صاحب فرماتے ہیں :-\n\nعہد طفلی میں بھی تھا میں بسکہ سودائی مزاج\n\nبیڑیاں منّت کی بھی پہنی تو میں نے بھاریاں", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%B1/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%D8%AF"} {"title": "آب حیات/پہلا دور/تمہید", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "نظم اُردو کے عالم کا پہلا نوروز ہے، نفسِ ناطقہ کی روح یعنی شاعری عالمِ وجود میں آئی تھی مگر بچوں کی نیند پڑی سوتی تھی۔ ولی نے آ کر ایسی میٹھی آواز سے غزلخوانی شروع کی ہے کہ اس بچے نے ایک انگڑائی لے کر کروٹ لی، اور اثر اس کا درجہ حرارت برقی رو کی طرح ہر دل میں دوڑ گیا۔ گھر گھر شاعری کا چرچا ہے، جس امیر اور جس شریف کو دیکھو، شعر کی سوچ میں غرق بیٹھا ہے، ان بزرگوں کی باتیں تو ان کے شعروں سے بھی سُن سکتے ہو، مگر حیران ہوں کہ صورت کیوں کر دکھا دوں۔ اول تو حرفوں میں تصویر کھینچنی مشکل، اس پر میں زبان کا اپاہج، اس رنگ کے الفاظ کہاں سے لاؤں جو ایسے لوگوں کی جیتی جاگتی بولتی چالتی تصویر کھینچ دکھاؤں کہ ادب کی آنکھ ان کی متانت پر نظر نہیں اُٹھا سکتی، دیکھو جلسہ مشاعرہ کا امرا و شرفا سے آراستہ ہے۔ معقول معقول بڈھے اور جوان برابر لمبے لمبے جامے، موٹی موٹی پگڑیاں باندھے بیٹھے ہیں، کوئی کٹاری باندھے ہے، کوئی سیف لگائے، بعض وہ کہن سال ہیں کہ جن کے بڑھاپے کو سفید داڑھی نے نورانی کیا ہے۔ بعض ایسے ہیں کہ عالمِ جوانی میں اتفاقاً داڑھی کو رخصت کیا تھا۔ اب کیوں کر رکھیں کہ وضعداری کا قانون ٹوٹتا ہے، اس پر خوش مزاجی کا یہ عالم ہے کہ ان کے بڑھاپے کی زندہ دلی سے آج نوجوان کی جوانی پانی پانی ہوتی ہے، ان شوخیوں سے اُنھیں کچھ اور مطلب نہیں، مگر یہ کہ اپنے اوپر آپ ہنسیں، اوروں کو خوش کریں۔\n\nاِس دَور میں ولی تو مجلس کی شمع ہیں اور اہلِ مجلس دِلی اور دکن کے شریف و نجیب فصیح زبان ہیں کہ جو کچھ دیکھتے ہیں، اسی روشنی سے دیکھتے ہیں، ان کی زبان ایک ہی سمجھنی چاہیے مگر ولی نے اپنے کلام میں ایہام اور الفاظِ ذو معنی سے اتنا کام نہیں لیا، خدا جانے ان کے قریب العہد بزرگوں کو پھر اس قدر شوق اس کا کیونکر ہو گیا، شاید دوہروں کا انداز جو ہندوستان کی زبان کا سبزہ خود رَو تھا، اُس نے اپنا رنگ دیا، اگرچہ ولی کے بعد دِلی میں سینکڑوں صاحبِ طبع دیوان بنانے پر کمربستہ ہو گئے مگر میں اس مشاعرہ میں چند ایسے بزرگوں کو لاتا ہوں جن کے ناموں پر اس وقت کے معرکوں میں استادی کا چتر شاہی سایہ کئے تھا اور غالباً اس زبان کا نمونہ شعر کا انداز دکھانے کو اس قدر کافی ہے کہ ان بزرگوں کے کلام میں تکلف نہیں۔ جو کچھ سامنے آنکھوں کے دیکھتے ہیں اور اس سے دل میں جو خیالات گزرتے ہیں وہی زبان سے کہہ دیتے ہیں، ایچ پیچ کے خیال، دور دور کی تشبیہیں، نازک استعارے نہیں بولتے، اسی واسطے اشعار بھی صاف اور بے تکلف ہیں، اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ ہر ایک زبان اور اُس کی شاعری جب تک عالمِ طفولیت میں ہوتی ہے، تب تک بے تکلف، عام فہم اور اکثر حسبِ حال ہوتی ہے۔ اسی واسطے لطف انگیز ہوتی ہے، اس میں شک نہیں کہ اُن کے محاورات قدیمی اور مضمون بھی اکثر سبک اور مبتذل ہوں گے مگر کلام کی سادگی اور بے تکلفی ایسی دل کو بھلی لگتی ہے جیسے ایک حُسن خداداد ہو کہ اُس کی قدرتی خوبی ہزاروں بناؤ سنگار کا کام کر رہی ہے۔ میں خود نہیں کہتا، فلاسفہ سلف کا قول سنتا ہوں کہ ہر شے اپنی مختلف کیفیتوں میں خوبصورتی اور بدصورتی کا ایک عالم رکھتی ہے۔ پس انسان وہی ہے کہ جس پیرایہ میں خوبصورتی جوبن دکھائے، یہ اس سے کیفیت اٹھائے نہ کہ فقط حسینوں کے زلف و رخسار میں پریشان رہے، خوش نظر اُسے نہیں کہتے کہ فقط گل و گلزار ہی پر دیوانہ پھرے، نہیں ! ایک گھاس کی پتی بلکہ سڈول کانٹا خوشنما ہو تو اُس کی نوک جھوک پر بھی پھول ہی کی طرح لوٹ جائے۔\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nشمس ولی اللہ\n\nیہ نظم اُردو کی نسل کا آدم جب ملکِ عدم سے چلا تو اس کے سر پر اولیت کا تاج رکھا گیا، جس میں وقت کے محاورہ نے اپنے جواہرات خرچ کئے اور مضامین کی رائج الوقت دستکاری سے مینا کاری کی، جب کشورِ وجود میں پہنچا تو ایوانِ مشاعرہ کے صدر میں اس کا تخت سجایا گیا، شہرتِ عام نے جو اِس کے بقائے نام کا ایوان بنایا ہے اس کی بلندی اور مضبوطی کو ذرا دیکھو، اور جو کتبے لکھے ہیں اُنھیں پڑھو، دنیا تین سو برس دور نکل آئی ہے مگر وہ آج تک سامنے نظر آتے ہیں اور صاف پڑھے جاتے ہیں، اُس زمانہ تک اُردو میں متفرق شعر ہوتے تھے، ولی اللہ کی برکت نے اُسے وہ زور بخشا کہ آج کی شاعری نظمِ فارسی سے ایک قدم پیچھے نہیں، تمام بحریں فارسی کی اُردو میں لائے، شعر کو غزل اور غزل کو قافیہ ردیف سے سجایا۔ ردیف دار دیوان بنایا، ساتھ اس کے رُباعی، قطعہ، مخمس اور مثنوی کا راستہ بھی نکالا۔ انھیں ہندوستان کی نظم میں وہی رتبہ ہے جو انگریزی کی نظم میں چاسر شاعر (چاسر 1348 ء میں پیدا ہوا اور 1402 ء میں مر گیا۔ اُس وقت یہاں تغلقیہ خاندان کا دَور ہو گا۔) کو اور فارسی میں رودکی (رودکی فارسی کا پہلا شاعر ہے، تیسرے اور چوتھی صدی ہجری کے درمیان تھا اور سلاطین سامانیہ کے دربار میں قدردانہ کے بے انتہا انعام حاصل کرتا تھا۔) کو اور عربی میں مہلل کو، وہ کسی کے شاگرد نہ تھے، اور یہ ثبوت ہے فصیح عرب کے قول کا کہ الشعرا ء قلاہ سید الرحمٰن اسی کو رانائے فرنگ کہتا ہے کہ شاعر اپنی شاعری ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے، ایسے وقت میں کہ ہماری زبان زور بیان میں ایک طفل نوری کی تھی جو انگلی کے سہارے سے بڑھی۔ اُردو زبان اس وقت سوائے ہندی دہروں اور بھاشا کے مضامین کے اور کسی قابل نہ تھی، انھوں نے اس میں فارسی ترکیبیں اور فارسی مضامین کو بھی داخل کیا۔ (دیکھو تذکرہ حکیم قدرت اللہ خاں قاسم، مگر تعجب ہے کہ میر تقی نے اپنے تذکرہ میں اورنگ آباد لکھا ہے۔) ولی احمد آباد گجرأت کے رہنے والے تھے اور شاہ وجیہہ الدین کے مشہور خاندان میں سے تھے، ان کی علمی تحصیل کا حال ہماری لاعلمی کے اندھیرے میں ہے، کیونکہ اس عہد کی خاندانی تعلیم اور بزرگوں کی صحبتوں میں ایک تاثیر تھی کہ تھوڑی نوشت و خواند کی لیاقت بھی استعداد کا پردہ نہ کھُلنے دیتی تھی، چنانچہ اُن کے اشعار سے معلوم ہو گا کہ وہ قواعد عروض کی طرح زبانِ عربی سے ناواقف تھے، پھر بھی کلام کہتا ہے کہ فارسیت کی استعداد درست تھی، ان کی انشا پردازی اور شاعری کی دلیل اس سے زیادہ کیا ہو گی کہ ایک زبان کا دوسری زبان سے ایسا جوڑ لگایا ہے کہ آج تک زمانے نے کئی پلٹے کھائے ہیں مگر پیوندنین جنبش نہیں آتی۔ علم میں درجہ فضیلت نہ رکھتے تھے مگر کہتے ہیں :\n\nایک دل نہیں آرزو سے خالی\n\nہر جا ہے محال اگر سنا رہے\n\nیہ سیر کتاب کا شوق اور علماء کی صحبت کی برکت ہے۔ ولی کی طبیعت میں بعد پردازی بھی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اگرچہ سودا کی طرح کسی سے دست و گریباں نہیں ہوئے مگر اپنے ہمعصروں پر چوٹیں کی ہیں، چنانچہ ناصر علی سرہندی کے معاملہ سے ظاہر ہے۔\n\nاگرچہ ایشیا کے شاعروں کا پہلا عنصر مضمون عاشقانہ ہے مگر جس شوخی سے اخلاق کی شوخی ظاہر ہو اس کا ثبوت ان کے کلام سے نہیں ہوتا، بلکہ برخلاف اس کے صلاحیت اور متانت اُن کا جوہر طبعی تھا۔ اُن کے پاس سیاحی اور تجربہ کو توشہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس عہد میں تھوڑا سفر بھی بڑی سیاحی کی قیمت رکھتا تھا، اس میں یہ اپنے وطن سے ابو المعالی کے ساتھ دلی میں آئے۔ یہاں شاہ سعد اللہ گلشن (شیخ سعد اللہ گلشن اچھے شاعروں میں تھے اور مرزا بیدل کے معاصر تھے۔ دو شعر فارسی کے ان سے بھی :\n\nگشتم شہید تیغ تغافل کشید نت\n\nجانم زدست بُرد غزالانہ دیدنت\n\nبدقت می تواں فہمید معنی ہائے نازِ اُو\n\nکو شرحِ حکمت العین است مژگانِ درازِ او)\n\nکے مرید ہوئے۔ شاید اُن سے شعر میں اصلاح لی ہو مگر دیوان (دیکھو تذکرۂ فائق۔ کہ خاص شعرائے دکن کے حال میں ہے اور وہیں تصنیف ہوا ہے۔) کی ترتیب فارسی کے طور پر یقیناً ان کے اشارہ سے کی۔ ان کا دیوان اس عہد کے مشاعروں کی بولتی تصویر ہے کیوں کہ اگر آج دریافت کرنا چاہیں کہ اس وقت کے امراء و شرفاء کی کیا زبان تھی؟ تو اس کیفیت کو وہ دیوان ولی کے اور کوئی نہیں بتا سکتا۔ انھی کے دیوان سے ہم اس وقت اور آج کی زبان کے فرق کو بخوبی نکال سکتے ہیں۔\n\nسوں اور سین بجائے سے\n\nکوں بہ داد معُرف بجائے کو\n\nہمن کوں بجائے ہم کو\n\nجگ منے بجائے دنیا میں\n\nبرمنے بجائے بر میں فارسی کا ترجمہ ہے۔\n\nپیراہنے در بر تجھ لب کی صفتہ بجائے تیرے لب کی صفتہ\n\nتمن یعنی طرح یا مثل\n\nجگ یعنی جہاں، دُنیا\n\nبچن یعنی کلام\n\nنِت یعنی ہمیشہ\n\nمُکھ یعنی منھ\n\nتسبی یعنی تسبیح\n\nسہی یعنی صحیح\n\nبگانہ یعنی بیگانہ\n\nمَرض یعنی مَروض\n\nبھیتر بجائے اندر\n\nمجھ کو بجائے میرا\n\nموہن، ترنجن، پی، پیتم بجائے معشوق\n\nہنجھواں بجائے آنسو کی جمع\n\nبھواں پلکاں بجائے بھویں، پلکیں\n\nنین بجائے آنکھ\n\nدہن بجائے دَہن\n\nمِرا بجائے میرا\n\nہوہ بجائے یہ\n\nبعض قافیے مثلاً :\n\nگھوڑا، موڑا، گورا\n\nدھڑ، سر\n\nگھوڑی، گوری\n\nاکثر غزلیں بے ردیف ہیں۔\n\nچونکہ نظم فارسی کی روح اسی وقت اُردو کے قالب میں آئی تھی، اسی واسطے ہندی لفظوں کے ساتھ فارسی کی ترکیبیں اور دَر اور بَر بلکہ بعض جگہ افعالِ فارسی بھی دیکھنے میں کھٹکتے ہیں، وہ خود دکنی تھے، اس لئے اُن کے کلام میں بعض بعض الفاظ دکنی بھی ہوتے ہیں۔\n\nآج اس وقت کی زبان کو سُن کر ہمارے اکثر ہمعصر ہنستے ہیں، لیکن یہ ہنسی کا موقع نہیں، حوادث گاہ عالم میں ایسا ہی ہوا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے گا، آج تم اُن کی زبان پر ہنستے ہو، کل ایسے لوگ آئیں گے کہ وہ تمہاری زبان پر ہنسیں گے۔ اس انجمن غفلت کے ممبر اگر تھوڑی دیر کے لئے عقل دُوربین کو صدرِ انجمن کر لیں تو یہ اس تدبیر کے سوچنے کا موقع ہے کہ آج ہم کیونکر اپنے کلام کو ایسا کریں جس سے ہماری زبان کچھ مدت تک زیادہ مطبوع خلائق رہے۔ اگرچہ سامنے ہمارے اندھیرا ہے لیکن پیچھے پھر کر دیکھنا چاہیے اور خیال کرنا چاہیے کہ زبان نے جو ترقی کی ہے تو کن اصول پر اور کس جانب میں قدم رکھتی گئی ہے۔ آؤ ہم بھی آج کے کاروبار اور اُس کے آیندہ حالات کو خیال کریں اور اسی انداز پر قدم ڈالیں، شاید ہمارے کلام کی عمر میں کچھ برس زیادہ ہو جائیں۔\n\nشاعرِ قدرت کے دیوان میں ایک سے ایک مضمون نیا ہے، مگر لطیفہ یہ بھی کچھ کم نہیں کہ شاعری کا چراغ تو دکن میں روشن ہو اور ستارے اُس ک دلی کے اُفق سے طلوع ہوا کریں، اس عہد کی حالت اور بھاشا زبان کو خیال کرتا ہوں تو سوچتا رہ جاتا ہوں کہ یہ صاحبِ کمال زبانِ اُردو اور انشائے ہندی میں کیوں کر ایک نئی صنعت کا نمونہ دے گیا اور اپنے پیچھے آنے والوں کے واسطے ایک نئی سڑک کی داغ بیل ڈالتا گیا۔ کیا اُس معلوم تھا کہ اس طرح یہ سڑک ہموار ہو گی، اس پر دکانیں تعمیر ہوں گی، لالٹینوں کی روشنی ہو گی، اہلِ سلیقہ دوکاندار جواہر فروشی کریں گے۔\n\nاُردوئے معلیٰ اس کا خطاب ہو گا، افسوس یہ ہے کہ ہماری زبان کے مؤرخ اور ہمارے شعراء کے تذکرہ نویسوں نے اس کے دلی اور خدا رسیدہ ثابت کرنے میں تو بڑی عرق ریزی، لیکن ایسے حال نہ لکھے جس سے اُس کے ذاتی خصائل و حالات مثلاً دنیا داری یا گوشہ گیری، اقامت یا سیاحی، راہِ علم و عمل کی نشیب و فراز منزلیں یا اُس کی صحبتوں کی مزہ مزہ کی کیفیتیں معلوم ہوں بلکہ برخلاف اس کے سنہ ولادت اور سالِ فوت تک بھی نہ بتایا۔ اتنا ثابت ہے کہ اِن کی ابتدائے عہد شاید عالمگیر کا آخر زمانہ ہو گا اور وہ مع اپنے دیوان کے زمانہ محمد شاہی میں دلی پہنچے۔\n\nقاعدہ ہے کہ جب دولت کی بہتات اور عیش و نشاط میں کچھ نیکی پر خیالات آتے ہیں تو صوفیانہ لباس میں ظاہر ہوا کرتے ہیں، اس وقت محمد شاہی اُمراء نے در و دیوار کو دولت سے مست کر رکھا تھا، جس سے کہ تصوف کے خیالات عام ہو رہے تھے، دوسرے ولی خود فقر کے خاندان عالی سے تھے اور فقیری ہی کے دیکھنے والے بھی تھے۔ تیسرے زبانِ اُردو کے والدین یعنی بھاشا اور فارسی بھی صوفی ہیں، ان جذبوں نے اُنھیں تصوفِ شاعرانہ میں ڈالا اور دل کی اُمنگ نے پیش قدمی کا تمغہ حاصل کرنے کو اس کام پر آمادہ کیا جو سلف سے اس وقت تک کسی کو نہ سوجھا تھا وہ یہی کہ فارسی کے قدم بقدم چلیں اور پورا دیوان مرتب کریں۔ چنانچہ ان کے پیر کا اشارہ اس کی تائید کرتا ہے۔\n\nغرض جب ان کا دیوان دلی میں پہنچا تو اشتیاق نے ادب کے ہاتھوں پر لیا۔ قدردانی نے غور کی آنکھوں سے دیکھا، لذت نے زبان سے پڑھا، گیت موقوف ہو گئے، قوال معرفت کی محفلوں میں انھیں کی غزلیں گانے بجانے لگے۔\n\nاربابِ نشاط یاروں کو سُنانے لگے، جو طبیعت موزوں رکھتے تھے، انھیں دیوان بنانے بنانے کا شوق ہوا۔\n\nاگرچہ اس اعتبار سے یہ نہایت خوشی کا موقع ہے کہ عمدہ جوہرِ انسانیت پسندیدہ لباس پہن کر ہماری زبان میں آیا، مگر اس کوتاہی کا افسوس ہے کہ ملکی فائدہ اس سے نہ ہوا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی علمی یا آئینی رستہ سے نہیں آیا، بلکہ فقیرانہ شوق یا تفریح کی ہَوا سے اُڑ کر آ گیا تھا، کاش شاہنامہ کے ڈھنگ سے آتا کہ محمد شاہی عیاشی اور عیش پرستی کا خون بہاتا اور اہلِ ملک کو پھر تیموری اور بابری میدانوں میں لا ڈالتا یا تہذیب و شائستگی سے اکبری عہد کو پھر زندہ کر دیتا۔\n\nباوجودیکہ اِس کی زبان آج کل متروک ہے مگر دیوان اب تک ہر جگہ ملتا اور بِکتا ہے، یہاں تک کہ پیرس اور لندن میں چھپ گیا ہے، اس میں علاوہ ردیف دار غزلوں کے رُباعیاں، قطعے، دو تین مخمس، قصیدے، ایک مثنوی مختصر معرکہ کربلا کے حال ہیں، ایک شہر صورت کے ذکر میں ہے، واسوخت اُس وقت میں نہ تھا۔ اس ایجاد کا فخر میر صاحب کے لئے چھوڑ گئے۔ بادشاہ یا کسی امیر کی تعریف بھی نہیں، شاید خواجہ میر داد کی طرح تعریف کرنی عیب سمجھتے تھے، لیکن کبھی کبھی خواجہ حافظ کی طرح بادشاہِ وقت کے نام سے اپنے شعر کو شان و شکوہ دیتے تھے، چنانچہ دلی کی تصنیفات میں سے ایک غزل میں کہتے ہیں :\n\nدل ولی کا لے لیا دلی نے چھین\n\nجا کہو کوئی محمد شاہ سوں\n\nرسالہ نور المعروف تصوف میں بھی لکھا ہے۔ اُس میں کہتے ہیں کہ میں محمد نور الدین صدیقی سہروردی کے مریدوں کا خاکِ پا ہوں اور شاہ سعد اللہ گلشن کا شاگرد، مگر یہ نہیں لکھا کہ کس امر میں، لطیفہ، ولی نے اپنے جوش ریختہ گوئی میں ناصر علی سر ہندی کو کہ علی تخلص کرتے تھے، یہ شعر لکھا :\n\nاُچھل کر جا پڑے جوں مصرع برق\n\nاگر مطلع لکھوں ناصر علی کوں\n\nناصر علی نے جواب میں لکھا :\n\nباعجاز سخن گر اوڑ چلے وہ\n\nولی ہر گز نہ پہنچے گا علی کوں\n\n(دیکھو تذکرہ فائق، مگر شعر مذکور عزیز دکنی کے دیوان میں درج ہے، شاید ناصر علی پر اسے یہ چوٹ بُری لگی، اسلئے جواب میں یہ شعر کہہ دیا، لوگوں میں ناصر علی کے نام سے مشہور ہو گیا۔)\n\nاب ان کے کلام سے اس وقت کی زبان کا نمونہ دکھانا ضرور ہے، لیکن ہمارے تذکرہ نویسوں کا دستور ہے کہ جب شاعر کا حال لکھتے ہیں تو اس کے اشعار انتخاب کر کے لکھتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ فیضانِ سخن رائگاں نہیں جاتا۔ نظیر کے بعض شعر ایسے ہیں کہ میر سے پہلو مارتے ہیں۔ پس اگر نظری کا ذکر لکھ کر اُس کے چند شعر منتخب لکھ دیئے تو ناواقف سوائے اس کے کہ نظری کا میر کا ہم پلہ شاعر سمجھے اور کیا تصور کر سکتا ہے۔ بڑی قباحت اس میں یہ ہے کہ شاعرِ مذکور میں اور ہم میں سالہا سال کے عرصے حائل ہیں۔ پس ان شعروں سے ان کی اصلیت، قابلیت اور طبیعت کی کیفیت کھلنی مشکل ہو جاتی ہے۔ میں ان کے دیوان سے نیک نیتی کے ساتھ چند غزلیں پوری کی پوری لکھ دوں گا تا کہ اصلیت حال ظاہر ہو جائے، ہاں اگر کسی کی پوری غزلیں ہاتھ نہ آئیں تو مجبوری ہے۔\n\nتجھ لب کی صفت لعلِ بدخشاں سے کہوں گا\n\nجادو ہیں تیرے نین غزالاں سے کہوں گا\n\nدی حق نے تجھے بادشہی حُسن نگر کی\n\nیہ کشورِ ایراں میں سلیماں سے کہوں گا\n\nزخمی کیا ہے مجھ تری پلکوں کی اَنی نے\n\nیہ زخم ترا خنجرِ بھالاں سے کہوں گا\n\nبے صبر نہ ہو اے ولی اس درد سے ہر گاہ\n\nجلدی سے ترے درد کی درماں سے کہوں گا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nدیکھنا ہر صُبح تجھ رُخسار کا\n\nہے مطالع مطلعِ انوار کا\n\nیاد کرنا ہر گھڑی تجھ یار کا\n\nہے وظیفہ مجھ دلِ بیمار کا\n\nآرزوئے چشمہ کوثر نہیں\n\nتشنہ لب ہوں شربتِ دیدار کا\n\nعاقبت ہووے گا کیا معلوم نئیں\n\nدل ہوا ہے مبتلا دیدار کا\n\nبُلبل و پروانہ کرنا دل کے تئیں\n\nکام تھا تجھ چہرہ گلنار کا\n\nکیا کہے تعریف دل ہے بے نظیر\n\nحرف حرف اس مخزنِ اسرار کا\n\nگر ہوا ہے طالبِ آزادگی\n\nبندہ مت ہو سبحہ و زنار کا\n\nاے ولی ہونا سریجن پر نثار\n\nمدعا ہے چشم گوہر بار کا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nبے وفائی نہ کر خدا سوں ڈر\n\nجگ ہنسائی نہ کر خدا سوں ڈر\n\nہے جُدائی میں زندگی مشکل\n\nآ جدائی نہ کر خدا سوں ڈر\n\nاس سوں جو آشنائی ڈر کر ہے\n\nآشنائی نہ کر خدا سوں ڈر\n\nآرسی دیکھ کر نہ ہو مغرور\n\nخود نمائی نہ کر خدا سوں ڈر\n\nاے ولی غیر آستانہ یار\n\nجبہ سائی نہ کر خدا سوں ڈر\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nجب صنم کو خیالِ باغ ہوا\n\nطالبِ نشہ فراغ ہوا\n\nفوجِ عشاق دیکھ ہر جانب\n\nنازنیں صاحب دماغ ہوا\n\nپان سین تجھ لباں کے سُرخ ہوا\n\nجگرِ لالہ داغ داغ ہوا\n\nدلِ عشاق کیوں نہ ہو روشن\n\nجب خیالِ صنم چراغ ہوا\n\nاے ولی گلبدن کو باغ میں دیکھ\n\nدلِ صد برگ باغ باغ ہوا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nجس وقت اے سریجن تو بے حجاب ہو گا\n\nہر ذرہ تجھ جھلک سوں چوں آفتاب ہو گا\n\nمت جا چمن سوں لالہ بُلبل پر مت ستم کر\n\nگرمی سوں تجھ نگہ کی گلگل گلاب ہو گا\n\nمت آئینہ کو دکھلا اپنا جمالِ روشن\n\nتجھ مجھ کی تب دیکھے آئینہ آب ہو گا\n\nنِکلا ہے وہ ستم گر تیغِ ادا کوں لے کر\n\nسینے پہ عاشقاں کے اب فتحیاب ہو گا\n\nرکھتا ہے کیوں جفا کو مجھ پر روا اے ظالم\n\nمحشر میں تجھ سیں آخر میرا حساب ہو گا\n\nمجھ کو ہوا ہے معلوم اے مست جامِ خونیں\n\nتجھ انکھڑیاں کے دیکھے عالم خراب ہو گا\n\nہاتف نے یوں دیا ہے مجھ کو ولی بشارت\n\nاس کی گلی میں جا تو مقصد شتاب ہو گا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\nتخت جس بے خانماں کا دشت ویرانی ہوا\n\nسر اوپر اس کے مکولا تاجِ سلطانی ہوا\n\nتجھ حسنِ عالمتاب کا جو عاشق و شیدا ہوا\n\nہر خوبرو کے حُسن کے جلوہ سوں بے پردا ہوا\n\nسینہ میں اب محشر تلک کونین کو بسرائے وہ\n\nتجھ نین کے جو جام سوں مے پی کے متوالا ہوا\n\nپایا ہے جگ میں اے ولی وہ لیلیٰ مقصود کون\n\nجو عشق کے بازار میں مجنوں نمن رسوا ہوا\n\nلیا ہے جب سوں موہن نے طریقہ خود نمائی کا\n\nچڑھا ہے آرسی پر تب سے رنگ حیرت فزائی کا\n\nکیونکر کرے آلودۂ زرجگ منے صیدِ مراد\n\nہے علم اوپر معطل صورتِ شیرِ طلا\n\nبوالہوس رکھتے ہیں دائم فکر رنگِ عاشقاں\n\nہے مہوس کی سدا سینہ میں تدبیرِ طلا\n\nبو کنارے مکھ پہ تیرے اے زلیخا وش نہیں\n\nسورہ یوسف کے لکھا گرد تحریر طلا\n\nہوا ہے سیر ما مشتاق بیتابی سوں من میرا\n\nچمن سوں آج آیا ہے مگر گل پیرہن میرا\n\nخمارِ ہجر نے جس کے دیا ہے دردِ دل مجھ کوں\n\nرکھو نشہ نمن انکھیاں میں گروہ مست ناز آوے\n\nعجب نین گر گلاں دوڑیں پکڑ کر صورتِ قمری\n\nادا سوں جب چمن بھیتر وہ سردِ سرفراز آوے\n\nتا حشر رہے بوئے گلاب اُس کے عرق سے\n\nجس بر منے یک بار وہ گل پیرہن آوے\n\nسایہ ہو مرا سبز برنگِ پر طوطی\n\nگر خواب میں وہ نو خطِ شیریں بچن آوے\n\nکھینچیں اَپن اَنکھیاں منے جوں کحل جواہر\n\nعشاق کے گر ہاتھ وہ خاک چرن آوے\n\nہر گز سخنِ سخت کو لاوے نہ زبان پر\n\nجس دہن میں یکبار وہ نازک بدن آوے\n\nیہ تل تجھ مجھ کے کعبہ میں مجھے اسود دِستا\n\nزنخداں میں ترے مجھ چاہِ زمزم کا اثر دِستا\n\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*\n\n(دِستا (دکھائی دیتا ہے ) یعنی نظر آتا ہے یا معلوم ہوتا ہے اور یہ ساری غزل اسی ردیف میں ہے۔)", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D9%BE%DB%81%D9%84%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%B1/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%D8%AF"} {"title": "آب حیات/چوتھا دور/تمہید", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "او دامن اٹھا کے جانے والے\nٹک ہم کو بھی خاک سے اٹھا لے\n\nتربت پہ میری پائے حجائی نہ رکھ میاں\nکر رحم اب تو قبر میں آتش فشاں نہ ہو\n\nشب ہجر صحرائے طلمت سے نکلی\nمیں جب آنکھ کھولی بہت رات نکلی\n\nتو اے مصحفیؔ اب تو گرمِ سخن ہو\nشب آئین دراز اور بہت رات نکلی\n\nدل مرے سوگ میں مت کر تو برادر میلا\nیاں سمجھ جاتے ہیں ہوتا ہے جو تیور میلا\n\nلے لطفِ سیر شب ماہ ان حسینوں میں\nجنھوں کے رہتی ہے افشاں چنی جبینوں میں\n\nانھوں کو صاحبِ خرمن سبھی سمجھتے ہیں\nجو مصحفیؔ کے ہیں کہلاتے کوشہ چینوں میں\n*-*-*-*-*-*\n\nباغباں ہے مجھے کیا کام ترے گلشن سے\nہرتے پھرتے کبھی ایدھر بھی میں آ جاتا ہوں\n\nہوں تو گٹھری پون کی مثلِ حباب\nلیکن آب و ہوا کے ہاتھ میں ہوں\n\nتم جو پوچھو ہو سدا حال رقیباں ہم سے\nیہ ہنسی خوب نہیں اے گل خنداں ہم سے\n\nحیران سی نگاہیں رہ جاتیاں ہیں تیری\nکیا آنکھیں آرسی سے شرط بتاں ہیں تیری\n\nاِس گل کی باغ میں جو حنا نے چلائی (*) بات\nغنچہ نے مسکرا کے کہا ہم نے پائی بات\n\n* بات چلائی وہی امروہہ والی بات ہے۔\n\nشہرت بزیر آساں رکھتی تھی حاتم کی سخا\nاسکا نہیں ملتا نشاں کیا جائے وہ کیدھر گئی\n\nتن کے نشیمن سے سفر دشوار اسے آیا نظر\nسو بار جانِ مضطرب ایدھر گئی اودھر گئی\n\nناسور داغ سینہ کو ماءالحیات اپنا سمجھ\nتن خاک کا پھر ڈھیر ہے کجلا جو یہ اخگر گئی\n\nگویا زمیں کربلا تھی قتل گاہِ عاشقاں\nجو بدلی آئی اس طرف یاراں بچشم تر گئی\n\nبکھیر دے جو وہ زلفوں کو اپنے مکھڑے پر\nتو مارے شرم کے آئی ہوئی گھٹا پھر جائے​\n\nمصحفیؔ نظم غزل میں ہے یہ کس کا مقدور\nجو جو طرزیں کہ ہم ایجاد کیا کرتے ہیں\n\nنرگس نے گل کی دید کو آنکھیں جو کھولیاں\nکچھ جی میں جو سمجھ گئیں کلیاں نہ بولیاں\n\nمیں ہی جانوں ہوں جو کچھ مجھ سے ادائیں کی ہیں\nتیری آنکھوں نے جفائیں سی جفائیں کی ہیں\n\nکیا روٹھ گیا مجھ سے مرا یار الہٰی\nکیوں آنکھ ملاتا وہ نہیں کچھ تو سبب ہے\n\nنہ ترے حسن کے دن اور نہ بہاریں وہ رہیں\nنہ وہ جالی نہ وہ محرم نہ ازاریں وہ رہیں\n\nمنھ نہ کھولے کبھی گھر آ کے مرے حوروں نے\nجب تلک بیٹھی رہیں رونٹ ہی مارے وہ رہیں\n\nتیرے بن ہم نے نہ دیکھا کبھی پریوں کیطرف\nگو خط و خال کو نت اپنے سنوارے وہ رہیں\n\nدم شماری ہے اب انجام ریاکاری شیخ\nنہ وہ تسبیح کے دانے نہ شماریں وہ رہیں\n\nمل گئے خاک میں کیا کیا نہ دفینانِ بزرگ\nنہ وہ لوحیں نہ محجر نہ مزاریں وہ رہیں\n\nاے خوشا حال انھوں کا کہ جو کوچہ میں ترے\nخاک پنڈے پہ ملے بیٹھے ہیں آسن مارے​\n\nاور سید انشاء اللہ خاں کہتے ہیں :\n\nدشتِ جنوں میں اے وائے ویلا\nسونے نہ پائے ٹک پاؤں پھیلا\n\nانکھڑیاں سُرخ ہو گئیں جب سے\nدیکھ لیجیئے کمال بوسر کا\n\nٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا\nتسپر یہ غضب پوچھتے ہو نام ہمارا\n\nایک چھوڑا و زندہ جان تو نے\nٹھور رکھا سبھوں کو ہاں تو نے\n\nبھلّہ رہے یہ دماغ سمجھا ہے\nآپ کو شاغ زعفراں تو نے\n\nجو ہاتھ اپنے سبزہ کا گھوڑا لگا\nتو سلفے کا اور اس پر کوڑا لگا\n\nاجی چشمِ بددور نامِ خدا\nتمھیں کیا بھلا سُرخ جوڑا لگا\n\nچہرہ مریض غم کا ترے زرد ہے سو ہے\nعیسٰے کنے دوا نہ رہی درد ہے سو ہے\n\nنکل کے وادی وحشت سے دیکھ اے مجنوں\nکہ زور دھوم سے آتا ہے ناقہ لیلٰے\n\nہے نام خدا دا چھڑے کچھ اور تماشا\nیہ آپ کی رنگت\n\nگات ایسی غضب قہر بھبن اور جھمکڑا\nاللہ کی قدرت​\n\nاور جراتؔ کہتے ہیں :\n\nنالہ موزوں سے مصرع آہ کا چسپاں ہوا\nزُور یہ مطلع مرا سرِد فتر دیوان ہوا\n\nجنھوں کے نامے پہنچتے ہیں یار تک دن رات\nانھیں کا کاش کہ جرات بھی نامہ بر ہوتا\n\nوہ ایک تو ہے بھبھوکا سا تسپہ اے جراتؔ\nاکٹر تکڑ ہے قیامت ہے بانکپن کی سی\n\nدیکھنا ٹک یاد ہیں ہم کو بھی کیا عیاریاں\nتیری خاطر کرتے ہیں غیروں کی خاطر داریاں\n\nبہہ گیا جوں شمع تن سارا اگر اچھا ہوا\nنت کے رونے سے چھٹی اے چشم تر اچھا ہوا\n\nسبھی انعام نت پاتے ہیں اے شیریں دہن تجھ سے\nکبھی تو ایک بوسہ سے ہمارا منھ بھی میٹھا کر\n\nخبر اس کو نہیں کرتا کوئی\nکہ میاں مفت ہے مرتا کوئی\n\nکسی گل کے لئے تم آپ گل ہو گل نہ کھاؤ جی\nابھی ننھا کلیجہ ہے نہ داغ اسکو لگاؤ جی\n\nآتش عشق کو سینے میں عبث بھڑکایا\nاب کہو کھینچوں ہوں میں آہِ سرر بار کہ تو\n\nکل واقف کار اپنے سے کہتا تھا وہ یہ بات\nجراءت کے جو گھر رات کو مہمان گئے ہم\n\nکیا جانئے کم بخت نے کیا ہم پہ کیا سحر\nجو بات نہ تھی ماننے کی مان گئے ہم\n\nتم اور کسی شہر چلے ہو تو بس اپنے\nعالم ہی وہ نظروں میں نہیں سارے نگر کا\n\nیا ہم ہی نہیں ہیں یا نہیں غیر\nاودھر کو جو تو نظر کرے گا\n\nہر دم جو اپنے سامنے وہ گلوزار ہے\nجیدھر کو آنکھ اٹھاتے ہیں باغ و بہار ہے\n\nکھینچ کر آہ جو میں ہاتھ جگر پر رکھا\nدامن اس نے بھی اٹھا دیدہ تر پر رکھا\n\nتھی مری شکل کل اُس بن یہ گلستان کے بیچ\nجیے بیٹھے خفقانی کوئی زندان کے بیچ\n\nلے چلے غیر کو گھر اپنے بلا سین سے تم\nانکھڑیوں سے کبھی یوں ہم کو اشارہ نہ ہوا\n\nجس پہ نت تیغ کھچے اور سدا جور رہے\nتو ہی انصاف کر اب کیونکہ نہ وہ ٹھور رہے\n\nجراتؔ یہ غزل سُن کے بہ تغئیر قوانی\nتکلیف سخن گوئی کی دی پھیر کسی نے\n\nاس غزل میں اک غزل تو اور جراتؔ پڑھ سُنا\nزور ہی لذّت ہمیں تو دی ترے اشعار نے\n\nیار کا آستان پایا ہے\nزور دل نے مکان پایا ہے\n*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%DA%86%D9%88%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%B1/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%D8%AF"} {"title": "آب حیات/چوتھا دور/خاتمہ", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > ناول > آب حیات", "year": null, "text_ur": "اے فلک نہ یہ جلسہ برہم ہونے کے قابل تھا، نہ آج رات کا سماں صبح ہونے کے قابل تھا۔ پھر ایسے لوگ کہاں! اور ایسے زمانے کہاں! سیّد انشاء اور جراءت جیسے زندہ دل شوخ طبع باکمال کہاں سے آئیں گے۔ شیخ مصحفیؔ جیسے مشاق کیوں کر زندہ ہو جائیں گے۔ اور آئیں تو ایسے قدرداں کہاں! اچھے لوگ تھے کہ اچھا زمانہ پایا، اور اچھی گزار گئے۔ وہ جوش و خروش، وہ شوخیاں وہ چہنیں اب کہاں؟\n\nگیا حُسن کوبان دل خواہ کا\n\nہمیشہ رہے نام اللہ کا​\n\nمیرا دل خدا جانے کس مٹی کا بنا ہے۔ کسی کی جدائی کا نام لیا یہ پگھل گیا، کسی عزیز کا ذکر کیا اس سے خون ٹپک پڑا اور سخت جانی دیکھو کہ نہ پانی ہو کر بہہ جاتا ہے نہ خاک ہو کر رہ جاتا ہے۔ تماشا یہ ہے کہ کتنے کتنے صدمے اٹھا چکا ہے، پھر بھی ہر داغ نیا ہی صدمہ دیتا ہے، مگر انصاف کرو۔ وہ عزیز بھی تو دیکھو، کیسے تھے اور کون تھے۔ عالم کے عزیز تھے۔ اور دل کے عزیز تھے۔ اپنی باتوں سے عزیز تھے۔ آزاد! بس رونا دھونا موقوف، اب آنسو پونچھ ڈالو، ادب کی آنکھیں کھولو اور سامنے نگاہ کرو۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%DA%86%D9%88%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%B1/%D8%AE%D8%A7%D8%AA%D9%85%DB%81"} {"title": "آب حیواں نہیں گوارا ہم کو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آب حیواں نہیں گوارا ہم کو\nکس گھاٹ محبت نے اتارا ہم کو\nدریا دریا تھا شوق بوسہ لیکن\nجاں بخش لب یار نے مارا ہم کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہے\nفصل گل جاتی ہے سامان بہار اٹھتا ہے\n\nشیخ بھی مضطرب الحال پہنچ جاتا ہے\nجانب مے کدہ جب ابر بہار اٹھتا ہے\n\nمرحبا بار امانت کے اٹھانے والے\nکیا کلیجہ ہے تمہارا کہ یہ بار اٹھتا ہے\n\nخار صحرائے محبت کی کھٹک کیا کہیے\nجب قدم اٹھتا ہے اپنا سر خار اٹھتا ہے\n\nدود آہ دل سوزاں ہے مبارکؔ اپنا\nجو دھواں شمع سے بالین مزار اٹھتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "آباد غم و درد سے ویرانہ ہے اس کا", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آباد غم و درد سے ویرانہ ہے اس کا\nٹوٹا ہوا جو دل ہے وہ کاشانہ ہے اس کا\n\nجس دل میں کہ ہے شوق وہ پیمانہ ہے اس کا\nجس آنکھ میں ہے کیف وہ مے خانہ ہے اس کا\n\nجب دیکھیے کہتا ہے وہی ذکر سناؤ\nمعلوم ہوا شوق بھی دیوانہ ہے اس کا\n\nبے ہوش اگر میں ہوں تو باہوش کہاں ہے\nجو خلق ہے اس دہر میں دیوانہ ہے اس کا\n\nدن رات ہے یہ مسکن انوار تصور\nسینہ جسے کہتے ہیں پری خانہ ہے اس کا\n\nجوبن کی صفائی سے پھسلتی ہیں نگاہیں\nپڑتی ہے جدھر آنکھ پری خانہ ہے اس کا\n\nاے دل ہوس وصل سے مشتاق ہیں محروم\nجاں اول دیدار میں بیگانہ ہے اس کا\n\nجو سینہ روشن ہے وہ ہے منزل الفت\nجو دل صفت شمع ہے پروانہ ہے اس کا\n\nکہتے ہیں جسے حسن وہ ہے شمع جہاں تاب\nکہتے ہیں جسے عشق وہ پروانہ ہے اس کا\n\nجب فصل گل آتی ہے صدا دیتی ہے وحشت\nزنجیر کا گل نالۂ مستانہ ہے اس کا\n\nدیکھا تو سفر روح کو ہوتا ہے اسی سے\nکہتے ہیں جسے موت وہ پروانہ ہے اس کا\n\nگوہر سے فزوں دیدۂ عاشق کے ہیں آنسو\nدامن میں ہے معشوق کے جو دانہ ہے اس کا\n\nکچھ رتبہ عاشق سے بھی اے جاں ہو خبردار\nسامان کئی روز سے شاہانہ ہے اس کا\n\nمنہ عاشق صادق کے نہ چڑھ واعظ مکار\nہر حال میں جو حال ہے رندانہ ہے اس کا\n\nآگاہ نہیں قصۂ منصور سے اے دل\nدشمن ہوں زن و مرد وہ یارانہ ہے اس کا\n\nکیا پوچھتے ہو حال نسیمؔ جگر افگار\nدیکھا جسے خوش وضع وہ دیوانہ ہے اس کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%BA%D9%85_%D9%88_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "آبرو الفت میں اگر چاہئے", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آبرو الفت میں اگر چاہئے\nرکھنی سدا چشم کو تر چاہئے\n\nدل تو تجھے دے ہی چکے جان بھی\nلیجئے حاضر ہے اگر چاہئے\n\nیار ملے یا نہ ملے صبح و شام\nکوچۂ جاناں میں گزر چاہئے\n\nنام بھی نم کا نہ رہا چشم میں\nاب تو گریے لخت جگر چاہئے\n\nتیر نگہ وہ ہے کہ جس تیر کے\nسامنے ہونے کو جگر چاہئے\n\nاب کی بچے جی تو کسو کے تئیں\nپھر نہ کہیں بار دگر چاہئے\n\nدل بھی جواہر ہے ولیکن حضور\nاس کے پرکھنے کو نظر چاہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آبرو کیا خاک اُس گُل کی۔ کہ گلشن میں نہیں\nہے گریبان ننگِ پیراہن جو دامن میں نہیں\n\nضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیں\nرنگ ہو کر اڑ گیا، جو خوں کہ دامن میں نہیں\n\nہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہِ آفتاب\nذرّے اُس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں\n\nکیا کہوں تاریکیِ زندانِ غم اندھیر ہے\nپنبہ نورِ صبح سے کم جس کے روزن میں‌ نہیں\n\nرونقِ ہستی ہے عشقِ خانہ ویراں ساز سے\nانجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں\n\nزخم سِلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعن\nغیر سمجھا ہے کہ لذّت زخمِ سوزن میں نہیں\n\nبس کہ ہیں ہم اک بہارِ ناز کے مارے ہوئے\nجلوۂ گُل کے سِوا گرد اپنے مدفن میں نہیں\n\nقطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کا\nخُوں بھی ذوقِ درد سے، فارغ مرے تن میں نہیں\n\nلے گئی ساقی کی نخوت قلزم آشامی مری\nموجِ مے کی آج رگ، مینا کی گردن میں نہیں\n\nہو فشارِ ضعف میں کیا نا توانی کی نمود؟\nقد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں\n\nتھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدر\nبے تکلّف، ہوں وہ مشتِ خس کہ گلخن میں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آبلہ خار سر مژگاں نے پھوڑا سانپ کا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آبلہ خار سر مژگاں نے پھوڑا سانپ کا\nسیلیٔ زلف رسا نے کلا توڑا سانپ\n\nپنجۂ دنداں تری کنگھی نے موڑا سانپ کا\nکر کے گیسوئے کلائی ہاتھ توڑا سانپ کا\n\nکودکی سی میرے سر پر عشق گیسو ہے سوار\nچوب کی بدلی بناتا تھا میں گھوڑا سانپ کا\n\nبار فرعونی پہ تیری زلف اگر باندھے کمر\nاژدر موسی کے توسن پر ہو کوڑا سانپ کا\n\nمیں ہوں وہ رنجور گیسو عکس اگر میرا پڑے\nمہرۂ ہر استخواں بن جائے پھوڑا سانپ کا\n\nجب سیہ بوتل سے مے ریزی ہوئی دور فراق\nمیں یہ سمجھا زہر ساقی نے نچوڑا سانپ کا\n\nہے قدم اس کا ہوا پر پاؤں اس کا خاک پر\nزلف کے مشکی کو کب پاتا ہے گھوڑا سانپ کا\n\nعاشق زلف سیہ کو اس طرح تعزیر دو\nسانپ کی رسی بناؤ اور کوڑا سانپ کا\n\nزلف کج رفتار کی کب چال چل سکتا ہے وہ\nایسی ٹھوکر کھائے سر بن جائے روڑا سانپ کا\n\nایک دن ہو جائے گا روشن سیہ کاری کا حال\nدونوں بغلوں میں جریدے ہیں کہ جوڑا سانپ کا\n\nجانتا ہوں میں ترے راس و ذنب کو اے فلک\nمیرے ڈسنے کے لیے پالا ہے جوڑا سانپ کا\n\nکیا تعجب حسن جاناں سے اگر پوچھے گزند\nخال میں بچھو کا جوڑا زلفیں جوڑا سانپ کا\n\nسانپ کے کاٹے کی لہر آئے جو وصف زلف میں\nبحرؔ نے پھر تو کوئی مضموں نہ چھوڑا سانپ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8%D9%84%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D8%B1_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%86%D9%BE_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "آبلے پاؤں کے کیا تو نے ہمارے توڑے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آبلے پاؤں کے کیا تو نے ہمارے توڑے\nخار صحرائے جنوں عرش کے تارے توڑے\n\nذقن و رخ میں نہ جاسوسوں سے باقی رکھی\nثمر گل چمن حسن کے سارے توڑے\n\nسلسلہ اپنی گرفتاری کا کب قطع ہوا\nپہنی پازیب انہوں نے جو اتارے توڑے\n\nمست مجھ سا بھی کوئی نشہ کا ہوگا نہ حریص\nپی کے مے جام کے دانتوں سے کنارے توڑے\n\nشربت وصل ہے تنقید کی خاطر موجود\nتپ ہجر آ کے بدن کو نہ ہمارے توڑے\n\nختم دزدیدہ نگہ پر ہے تری طراری\nدل نہیں توڑے احبا کے پٹارے توڑے\n\nآ گیا وہ شجر حسن نظر جب ہم کو\nبوسہ لے کر لب شیریں کے چھوارے توڑے\n\nعشق بے درد سے کرنے کو کہا تھا کس نے\nسر کو ٹکرا کے نہ دل درد کے مارے توڑے\n\nکنج عزلت میں بٹھایا ہے خدا نے آتشؔ\nاب جو تم یاں سے ہلے پاؤں تمہارے توڑے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%A8%D9%84%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D9%88%DA%91%DB%92"} {"title": "آتا ہوں جب اس گلی سے سو سو خواری کھینچ کر", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آتا ہوں جب اس گلی سے سو سو خواری کھینچ کر\nپھر وہیں لے جائے مجھ کو بے قراری کھینچ کر\n\nپہنچا ہے اب تو نہایت کو ہمارا حال زار\nلا اسے جس تس طرح تاثیر زاری کھینچ کر\n\nکوہ غم رکھتی ہے دل پر اس خرام ناز سے\nخجلت رفتار کبک کوہساری کھینچ کر\n\nکس کے شور عشق سے یوں روتا رہتا ہے سدا\nنالہ و فریاد یہ ابر بہاری کھینچ کر\n\nباندھوں ہوں وارستگی کا دل میں اپنے جب خیال\nباندھ لے جائیں ہمیں زلفیں تمہاری کھینچ کر\n\nکل جو تو گھر سے نہ نکلا اٹھ گیا کر کے دعا\nصبح سے تا شام میں کیا انتظاری کھینچ کر\n\nگالیاں دے مار لے یا قتل کر مختار ہے\nلائی اب تو یاں مجھے بے اختیاری کھینچ کر\n\nساقیا پیہم پلا دے مجھ کو مالا مال جام\nآیا ہوں یاں میں عذاب ہوشیاری کھینچ کر\n\nحسرتؔ اس کی بزم کے جانے سے رکھ مجھ کو معاف\nمفت میں روئے گا واں سے شرمساری کھینچ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%88_%D8%B3%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "آتا ہے کس انداز سے ٹک ناز تو دیکھو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آتا ہے کس انداز سے ٹک ناز تو دیکھو\nکس دھج سے قدم پڑتا ہے انداز تو دیکھو\n\nطاؤس پری جلوہ کو ٹھکرا کے چلے ہے\nانداز خرام بت طناز تو دیکھو\n\nیک جنبش لب اس کی نے لاکھوں کو جلایا\nعیسیٰ کو یہ قدرت تھی تم اعجاز تو دیکھو\n\nکرتا ہوں میں دزدیدہ نظر گر کبھی اس پر\nنظروں میں پرکھ لے ہے نظر باز تو دیکھو\n\nمیں کنگرۂ عرش سے پر مار کے گزرا\nاللہ رے رسائی مری پرواز تو دیکھو\n\nاے وائے کہ اس سعی پر اپنی کبھی اس سے\nسازش نہ ہوئی طالع ناساز تو دیکھو\n\nکیا بولنے میں اس بت کافر کی ادا ہے\nشیریں سخنی اک طرف آواز تو دیکھو\n\nابتر ہے یہ دیواں تو میاں مصحفیؔ سارا\nانجام کی کیا کہتے ہو آغاز تو دیکھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D9%B9%DA%A9_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "آتا ہے یہی جی میں فریاد کروں روؤں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آتا ہے یہی جی میں فریاد کروں روؤں\nرونے ہی سے ٹک اپنا دل شاد کروں روؤں\n\nکس واسطے بیٹھا ہے چپ اتنا تو اے ہم دم\nکیا میں ہی کوئی نوحہ بنیاد کروں روؤں\n\nیوں دل میں گزرتا ہے جا کر کسی صحرا میں\nخاطر کو ٹک اک غم سے آزاد کروں روؤں\n\nاس واسطے فرقت میں جیتا مجھے رکھا ہے\nیعنی میں تری صورت جب یاد کروں روؤں\n\nاے مصحفیؔ آتا ہے یہ دل میں کہ اب میں بھی\nرونے میں تجھے اپنا استاد کروں روؤں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%AC%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B1%D9%88%D8%A4%DA%BA"} {"title": "آتش بازی ہے جیسے شغل اطفال", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آتش بازی ہے جیسے شغل اطفال\nہے سوز جگر کا بھی اسی طور کا حال\nتھا موجد عشق بھی قیامت کوئی\nلڑکوں کے لیے گیا ہے کیا کھیل نکال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D8%BA%D9%84_%D8%A7%D8%B7%D9%81%D8%A7%D9%84"} {"title": "آتش باغ ایسی بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہوا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آتش باغ ایسے بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہوا\nکوچۂ گل سے دھواں ہو کر نکلتی ہے ہوا\n\nسوز وحشت میں دھویں کی شکل کاہش ہے مجھے\nمیں ہوا کھاتا نہیں مجھ کو نگلتی ہے ہوا\n\nدم اگر نکلا بدن سے پھر بڑی تسکین ہے\nخاک پتھر ہو کے جمتی ہے جو ٹلتی ہے ہوا\n\nگریۂ عشاق سے کیچڑ ہے ایسے جا بجا\nتھام کر دیوار و در گلیوں میں چلتی ہے ہوا\n\nجا بجا مجھ کو لیے پھرتی ہے دنیا کی ہوس\nبیٹھ جاتا ہے بگولا جب نکلتی ہے ہوا\n\nگلشن عالم کی نیرنگی سے ہوتا ہے یقیں\nپھر شگوفہ پھولتا ہے پھر بدلتی ہے ہوا\n\nہیں بھی آہیں تو منہ سے باہر آتا ہے جگر\nذرے کو روزن سے اکثر لے نکلتی ہے ہوا\n\nنازکی میں شاخ گل ہے سرو بالا یار کا\nجھونکے لیتا ہے جو آہستہ بھی چلتی ہے ہوا\n\nخاک اڑتی ہی جو اس کے پاؤں سے گل گشت میں\nپھولوں کے منہ پر بجائے غازہ ملتی ہے ہوا\n\nدیکھیے چل کر ذرا کیفیت جوش بہار\nجھومتے ہیں پیڑ گر گر کر سنبھلتی ہے ہوا\n\nنارسائی دیکھنا اڑتا ہے جب میرا غبار\nیار کے کوٹھے کے کانس سے پھسلتی ہے ہوا\n\nگرمیوں میں سیر گلزاروں کی بھاتی ہے مجھے\nہر قدم پر پنکھیا پھولوں کی جھلتی ہے ہوا\n\nخار کہتے ہیں اٹھا کر انگلیاں گل کی طرف\nپھول جاتے ہیں وہ کیسا جن کو پھلتی ہے ہوا\n\nسرو قرطاس مقرض ہوں میں اس گلزار میں\nخاک میں پانی ملاتا ہے مسلتی ہے ہوا\n\nبحرؔ پنکھا ہاتھ سے رکھ دو نہایت زار ہوں\nموج دریا کی طرح مجھ کو کچلتی ہے ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DA%91%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "آتش باغ ایسے بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہوا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آتش باغ ایسے بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہوا\nکوچۂ گل سے دھواں ہو کر نکلتی ہے ہوا\n\nسوز وحشت میں دھویں کی شکل کاہش ہے مجھے\nمیں ہوا کھاتا نہیں مجھ کو نگلتی ہے ہوا\n\nدم اگر نکلا بدن سے پھر بڑی تسکین ہے\nخاک پتھر ہو کے جمتی ہے جو ٹلتی ہے ہوا\n\nگریۂ عشاق سے کیچڑ ہے ایسے جا بجا\nتھام کر دیوار و در گلیوں میں چلتی ہے ہوا\n\nجا بجا مجھ کو لیے پھرتی ہے دنیا کی ہوس\nبیٹھ جاتا ہے بگولا جب نکلتی ہے ہوا\n\nگلشن عالم کی نیرنگی سے ہوتا ہے یقیں\nپھر شگوفہ پھولتا ہے پھر بدلتی ہے ہوا\n\nہیں بھی آہیں تو منہ سے باہر آتا ہے جگر\nذرے کو روزن سے اکثر لے نکلتی ہے ہوا\n\nنازکی میں شاخ گل ہے سرو بالا یار کا\nجھونکے لیتا ہے جو آہستہ بھی چلتی ہے ہوا\n\nخاک اڑتی ہی جو اس کے پاؤں سے گل گشت میں\nپھولوں کے منہ پر بجائے غازہ ملتی ہے ہوا\n\nدیکھیے چل کر ذرا کیفیت جوش بہار\nجھومتے ہیں پیڑ گر گر کر سنبھلتی ہے ہوا\n\nنارسائی دیکھنا اڑتا ہے جب میرا غبار\nیار کے کوٹھے کے کانس سے پھسلتی ہے ہوا\n\nگرمیوں میں سیر گلزاروں کی بھاتی ہے مجھے\nہر قدم پر پنکھیا پھولوں کی جھلتی ہے ہوا\n\nخار کہتے ہیں اٹھا کر انگلیاں گل کی طرف\nپھول جاتے ہیں وہ کیسا جن کو پھلتی ہے ہوا\n\nسرو قرطاس مقرض ہوں میں اس گلزار میں\nخاک میں پانی ملاتا ہے مسلتی ہے ہوا\n\nبحرؔ پنکھا ہاتھ سے رکھ دو نہایت زار ہوں\nموج دریا کی طرح مجھ کو کچلتی ہے ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DA%91%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "آتش تب نے کی ہے تاب شروع", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آتش تب نے کی ہے تاب شروع\nتو بھی کر دیدۂ پر آب شروع\n\nکیوں نہ ابتر ہو آنسوؤں سے چشم\nکی ہے لڑکوں نے یہ کتاب شروع\n\nشب میں چاہا کروں کچھ اس سے سوال\nبن سنے ہی کیا جواب شروع\n\nسرفۂ خشک بھی ہے اک حیلہ\nکرنی زاہد کو تھی شراب شروع\n\nنام سنتے ہی اس کا بس قائمؔ\nپھر کیا تو نے اضطراب شروع", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D8%AA%D8%A8_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%B4%D8%B1%D9%88%D8%B9"} {"title": "آتش حسن سے اک آب ہے رخساروں میں", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آتش حسن سے اک آب ہے رخساروں میں\nاے تری شان کہ پانی بھی ہے انگاروں میں\n\nدم نکل جائے گا رخصت کا ابھی نام نہ لو\nتم جو اٹھے تو بٹھا دوں گا عزاداروں میں\n\nجا کے اب نار جہنم کی خبر لے زاہد\nندیاں بہہ گئیں اشکوں کی گنہ گاروں میں\n\nنوبتیں نالۂ رخصت کا پتا دیتی ہیں\nماتم عشق کی آواز ہے نقاروں میں\n\nمجھ کو اس درد کی تھوڑی سی کسک ہے درکار\nجو دوا بن کے بٹا ہے ترے بیماروں میں\n\nبے طلب اس نے دکھایا رخ روشن مضطرؔ\nنام موسیٰ کا نہیں اس کے طلب گاروں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D8%A2%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آتش خاموش", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سر چشمۂ اخلاق وفا کیش و وفا کوش\nاے مشرق اشراق صفا ابر خطا پوش\nیوں تیرے دل صاف میں اشراق محبت\nجس طرح کہ لو صبح کو دے در نیا گوش\nمیں کون ہوں اک دل ہوں جسے ضبط نے مارا\nکر دے گی فنا مجھ کو مری کوشش خاموش\nوہ دل ہوں عبارت جو ہے نظم ابدی سے\nاک خون کا نقطہ ہوں میں پر معنی و پرجوش\nجبریل مرے ساتھ رہے روز ازل سے\nمیخانۂ عرفاں میں شب و روز قدح نوش\nکچھ منہ سے نکل جائیں نہ سمجھی ہوئی باتیں\nرہنے دو مجھے مجلس مے میں یونہی مدہوش\nسرسبز ہوں ظاہر میں مگر اے دل خوں گرم\nجس طرح حنا میں ہے نہاں آتش خاموش\nدل پر یہ ستم کیوں نہ ہو ہم جنس پہ تاثیر\nکعبہ اسی غم میں نظر آتا ہے سیہ پوش\nایوب نہیں ہوں کوئی معصوم نہیں ہوں\nتا چند مظالم پہ رہوں ساکت و خموش\nہیں جتنے اقارب وہ اقارب سے ہیں بد تر\nاحباب ہیں وہ خود غرض و زود فراموش\nدل صاف نہیں سب ہیں سخن ساز و سخن چیں\nیہ مہر تو ہے زہر اگر نیش میں ہو نوش\nکہتے ہیں جسے دوست وہ اس دور میں عنقا\nسمجھے ہیں جسے مہر وہ اس عہد میں روپوش\nکس دور میں آئے ہیں ہم اے مجلس ساقی\nجب رند خرابات نشیں ہو گئے مدہوش\nدل کیا مری آنکھوں کا ہے ٹوٹا ہوا سوتا\nطوفان اٹھا دیں گے یہی چشمۂ خس پوش\nٹھوکر سے جلاتا ہوں مضامین کہن کو\nہے فتنۂ محشر مری اتری ہوئی پاپوش\nہم سنگ جواہر کبھی پتھر نہیں ہوتا\nہر چند تراشے کوئی صناع صفا کوش\nگو مجھ کو خدا داد طبیعت نے سنوارا\nمجرم ہوں اگر ہوں کبھی احسان فراموش\nترکش میں مرے تیر بہت کم ہیں مگر ہیں\nایسے کہ اڑا دیں قدر انداز کے جو ہوش\nپندار خودی ہے عزیز ان کو تو ہمیں کیا\nہم عشق کے بندے ہیں وفا کیش و وفا کوش", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D8%AE%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4"} {"title": "آتش عشق بلا آگ لگائے نہ بنے", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آتش عشق بلا آگ لگائے نہ بنے\nاور ہم اس کو بجھائیں تو بجھائے نہ بنے\n\nرنگ رخ اڑنے پہ آج جائے تو روکے نہ رکے\nلاکھ وہ راز چھپائیں تو چھپائے نہ بنے\n\nکیا مزہ ہو نہ رہے یاد جو انداز جفا\nمیں کہوں بھی کہ ستاؤ تو ستائے نہ بنے\n\nخود وفا ہے مری شاہد کہ وفادار ہوں میں\nلاکھ تم دل سے بھلاؤ تو بھلائے نہ بنے\n\nدل کے ہر ذرہ میں ہے سوز محبت کی نمود\nخاک میں ان کو ملاؤں تو ملائے نہ بنے\n\nراہ الفت نے کچھ ایسی مری صورت بدلی\nدامن دشت چھپائے تو چھپائے نہ بنے\n\nدل کو اب تاب تلافی و مداوا ابھی نہیں\nچارہ گر آئے تو احسان اٹھائے نہ بنے\n\nکوئی خاکہ مری تصویر کا کھینچے تو سہی\nکھنچ بھی جائے کوئی نقشہ تو مٹائے نہ بنے\n\nموت قابو کی نہیں اور نہ ٹھکانا اس کا\nکوئی وقت اس پہ بھی آئے کہ بنائے نہ بنے\n\nایسے ڈھب سے ہو گلا ان کی ستم کا اے شوقؔ\nبات کچھ چاہیں بنانی تو بنائے نہ بنے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D8%A2%DA%AF_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%DB%92"} {"title": "آتش عشق سوں جو جلتا ہے", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آتش عشق سوں جو جلتا ہے\nوہ سدا مثل شمع گلتا ہے\n\nتھام کیوں کر سکوں وفور سرشک\nبحر دل غم ستی ابلتا ہے\n\nبحر دل میں ہے گرچہ گوہر اشک\nصدف چشم سوں نکلتا ہے\n\nروز بد کوئی رفیق نیں کس کا\nسایہ وقت زوال ڈھلتا ہے\n\nجب سوں روشن ہے مجھ سخن کا شمع\nرشک سیتیں سراجؔ جلتا ہے\n\nشعر داؤدؔ کا مثال خار\nحاسدوں کے جگر میں سلتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AC%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "آتش غم میں بس کہ جلتے ہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آتش غم میں بس کہ جلتے ہیں\nشمع ساں استخواں پگھلتے ہیں\n\nوہی دشت اور وہی گریباں چاک\nجب تلک ہاتھ پانو چلتے ہیں\n\nدیکھ تیری صفائے صورت کو\nآئینے منہ سے خاک ملتے ہیں\n\nجوشش اشک ہے وہ آنکھوں میں\nجیسے اس سے کنویں ابلتے ہیں\n\nدیکھ عارض کو تیرے گلشن میں\nسیکڑوں رنگ گل بدلتے ہیں\n\nشوخ چشمی بتاں کی مجھ سے نہ پوچھ\nکہ یہ نظروں میں دل کو چھلتے ہیں\n\nدیکھیو شیخ جی کی چال کو ٹک\nاب کوئی دم میں یہ پھسلتے ہیں\n\nبن لیے کام دل کا اس کو سے\nمصحفیؔ ہم کوئی نکلتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B3_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آتش پارے/ انقلاب پسند", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "آتش پارے", "year": "1936", "text_ur": "میری اور سلیم کی دوستی کو پانچ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس زمانے میں ہم نے ایک ہی سکول سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا، ایک ہی کالج میں داخل ہوئے اور ایک ہی ساتھ ایف اے کے امتحان میں شامل ہو کر فیل ہوئے۔ پھر پرانا کالج چھوڑ کر ایک نئے کالج میں داخل ہوئے۔۔۔۔۔اس سال میں تو پاس ہو گیا مگر سلیم سوئے قسمت سے پھر فیل ہو گیا۔\n\nسلیم کی دوبارہ نا کامیابی سے لوگ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ وہ آوارہ مزاج اور نالائق ہے۔۔۔۔۔۔یہ بالکل افترا ہے۔ سلیم کا بغلی دوست ہونے کی حیثیت سے میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ سلیم کا دماغ بہت روشن ہے۔ اگر وہ پڑھائی کی طرف ذرا بھی توجہ دیتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ صوبہ بھر میں اول نہ رہتا۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نے پڑھائی کی طرف کیوں توجہ نہ دی؟\n\nجہاں تک میرا ذہن کام دیتا ہے مجھے اسکی تمام تر وجہ وہ خیالات معلوم ہوتے ہیں جو ایک عرصے سے اسکے دل و دماغ پر آہستہ آہستہ چھا رہے تھے۔\n\nدسویں جماعت اور کالج میں داخل ہوتے وقت سلیم کا دماغ ان تمام الجھنوں سے آزاد تھا جس نے اسے ان دنوں پاگل خانے کی چاردیواری میں مقید کر رکھا ہے۔ ایام کالج میں وہ دیگر طلبہ کی طرح ہر کھیل کود میں حصہ لیا کرتا تھا۔ سب لڑکوں میں ہردلعزیز تھا مگر یکایک اسکے والد کی ناگہانی موت نے اس کے متبسم چہرے پر غم کی نقاب اوڑھا دی۔۔۔۔۔۔اب کھیل کود کی جگہ غور و فکر نے لے لی۔\n\nوہ کیا خیالات تھے، جو سلیم کے مضطرب دماغ میں پیدا ہوئے؟ یہ مجھے معلوم نہیں۔ سلیم کی نفسیات کا مطالعہ کرنا بہت اہم کام ہے۔ اسکے علاوہ وہ خود اپنی دلی آواز سے ناآشنا تھا۔ اس نے کئی مرتبہ گفتگو کرتے وقت یا یونہی سیر کرتے ہوئے اچانک میرا بازو پکڑ کر کہا ہے۔ \"عباس جی چاہتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\"\n\n\"ہاں، ہاں، کیا جی چاہتا ہے\" میں نے اسکی طرف تمام توجہ مبذول کر کے پوچھا ہے۔ مگر میرے اس استفسار پر اس کے چہرے کی غیر معمولی تبدیلی اور گلے میں سانس کے تصادم نے صاف طور پر ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے دلی مدعا کو خود نہ پہچانتے ہوئے الفاظ میں ظاہر نہیں کر سکتا۔\n\nوہ شخص جو اپنے احساسات کو کسی شکل میں پیش کر کے دوسرے ذہن پر منتقل کر سکتا ہے وہ دراصل اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی قدرت کا مالک ہے۔ اور وہ شخص جو محسوس کرتا ہے مگر اپنے احساس کو خود آپ اچھی طرح نہیں سمجھتا اور پھر اس اضطراب کو بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اس شخص کے مترادف ہے جو اپنے حلق میں ٹھنسی ہوئی چیر کو باہر نکالنے کی کوشش کر رہا ہے مگر وہ گلے سے نیچے اترتی جا رہی ہو۔۔۔۔۔۔یہ ایک ذہنی عذاب ہے جس کی تفصیل لفظوں میں نہیں آ سکتی۔\n\nسلیم شروع ہی سے اپنی آواز سے نا آشنا رہا ہے اور ہوتا بھی کیونکر جب اسکے سینے میں خیالات کا ایک ہجوم چھایا رہتا تھا اور بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ وہ بیٹھا بیٹھا اٹھ کھڑا ہوا ہے اور کمرے میں چکر لگا کر لمبے لمبے سانس بھرنے شروع کر دیے۔۔۔۔۔غالباً وہ اپنے اندرونی انتشار سے تنگ آ کر ان خیالات کو جو اسکے سینے میں بھاپ کے مانند چکر لگا رہے ہوتے، سانسوں کے ذریعے باہر نکالنے کا کوشاں ہوا کرتا تھا۔ اضطراب کے انہی تکلیف دہ لمحات میں اس نے اکثر اوقات مجھ سے مخاطب ہو کر کہا ہے۔ \"عباس، یہ خاکی کشتی کسی روز تند موجوں کی تاب نہ لا کر چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔مجھے اندیشہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\"\n\nوہ اپنے اندیشے کو پوری طرح بیان نہیں کر سکتا تھا۔\n\nسلیم کسی متوقع حادثے کا منتظر ضرور تھا مگر اسے یہ معلوم نہ تھا کہ وہ حادثہ کس شکل میں پردۂ ظہور پر نمودار ہو گا۔۔۔۔۔اسکی نگاہیں ایک عرصے سے دھندلے خیالات کی صورت میں ایک موہوم سایہ دیکھ رہی تھیں جو اسکی طرف بڑھتا چلا آ رہا تھا، مگر وہ یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ اس تاریک شکل کے پردے میں کیا نہاں ہے۔\n\nمیں نے سلیم کی نفسیات سمجھنے کی بہت کوشش کی ہے، مگر مجھے اسکی منقلب عادات کے ہوتے ہوئے کبھی معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کن گہرائیوں میں غوطہ زن ہے۔ اور اس دنیا میں رہ کر اپنے مستقبل کے لیے کیا کرنا چاہتا ہے جبکہ اپنے والد کے انتقال کے بعد وہ ہر قسم کے سرمائے سے محروم کر دیا گیا تھا۔\n\nمیں ایک عرصے سے سلیم کو منقلب ہوتے دیکھ رہا تھا اسکی عادات دن بدن بدل رہی تھیں۔۔۔۔۔کل کا کھلنڈرا لڑکا، میرا ہم جماعت ایک مفکر میں تبدیل ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تبدیلی میرے لئے سخت باعثِ حیرت تھی۔\n\nکچھ عرصے سے سلیم کی طبعیت پر ایک غیر معمولی سکون چھا گیا تھا۔ جب دیکھو اپنے گھر میں خاموش بیٹھا ہوا ہے اور اپنے بھاری سر کو گھٹنوں میں تھامے کچھ سوچ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ کیا سوچ رہا ہوتا، یہ میری طرح خود اسے بھی معلوم نہ تھا۔ ان لمحات میں میں نے اسے اکثر اوقات اپنی گرم آنکھوں پر دوات کا آہنی ڈھکنا یا گلاس کا بیرونی حصہ پھیرتے دیکھا ہے۔۔۔۔۔۔شاید وہ اس عمل سے اپنی آنکھوں کی حرارت کم کرنا چاہتا تھا۔\n\nسلیم نے کالج چھوڑتے ہی غیر ملکی مصنفوں کی بھاری بھر کم تصانیف کا مطالعہ شروع کر دیا تھا۔ شروع شروع میں مجھے اسکی میز پر ایک کتاب نظر آئی۔ پھر آہستہ آہستہ اس الماری میں جس میں شطرنج، تاش اور اسی قسم کی دیگر کھیلیں رکھا کرتا تھا، کتابیں ہی کتابیں نظر آنے لگیں۔۔۔۔۔اسکے علاوہ وہ کئی کئی دنوں تک گھر سے کہیں باہر چلا جایا کرتا تھا۔\n\nجہاں تک میرا خیال ہے سلیم کی طبیعت کا غیر معمولی سکون ان کتابوں کے انتھک مطالعہ کا نتیجہ تھا جنہیں اس نے بڑے قرینے سے الماری میں سجا رکھا تھا۔\n\nسلیم کا عزیز ترین دوست ہونے کی حیثیت میں، میں اس کی طبیعت کے غیر معمولی سکون سے سخت پریشان تھا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ یہ سکون کسی وحشت خیز طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ اسکے علاوہ مجھے سلیم کی صحت کا بھی بہت خیال تھا۔ وہ پہلے ہی بہت کمزور جثے کا واقع ہوا تھا، اس پر اس نے خواہ مخواہ اپنے آپ کو خدا معلوم کن کن الجھنوں میں پھنسا لیا تھا۔ سلیم کی عمر بمشکل بیس سال کی ہو گی مگر اسکی آنکھوں کے نیچے شب بیداری کی وجہ سے سیاہ حلقے پڑ گئے تھے۔ پیشانی جو اس سے قبل بالکل ہموار تھی اب اس پر کئی شکن پڑے رہتے تھے۔۔۔۔۔جو اسکی ذہنی پریشانی کو ظاہر کرتے تھے۔ چہرہ جو کچھ عرصہ پہلے بہت شگفتہ ہوا کرتا تھا اب اس پر ناک اور لب کے درمیان گہری لکیریں پڑ گئی تھیں جنہوں نے سلیم کو قبل از وقت معمر بنا دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس غیر معمولی تبدیلی کو میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوتے دیکھا ہے۔ جو مجھے ایک شعبدے سے کم معلوم نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔یہ کیا کم تعجب کی بات ہے کہ میری عمر کا لڑکا میری نظروں کے سامنے بوڑھا ہو جائے۔\n\nسلیم پاگل خانے میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر اسکے یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ وہ سڑی اور دیوانہ ہے۔ اسے غالباً اس بنا پر پاگل خانے بھیجا گیا ہے کہ وہ بازاروں میں بلند بانگ تقریریں کرتا ہے۔ راہ گزروں کو پکڑ پکڑ کر انہیں زندگی کے مشکل مسائل بتا کر جواب طلب کرتا ہے اور امراء کے حریر پوش بچوں کا لباس اتار کر ننگے بچوں کو پہنا دیتا ہے۔۔۔۔۔۔ممکن ہے یہ حرکات ڈاکٹروں کے نزدیک دیوانگی کی علامتیں ہوں مگر میں تیقن کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ سلیم پاگل نہیں ہے بلکہ وہ لوگ جنہوں نے اسے امنِ عامہ میں خلل ڈالنے والا تصور کرتے ہوئے آہنی سلاخوں کے پنجرے میں قید کر دیا ہے کسی دیوانے حیوان سے کم نہیں ہیں۔\n\nاگر وہ اپنی غیر مربوط تقریر کے ذریعے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانا چاہتا ہے تو کیا انکا فرض نہیں ہے کہ وہ اسکے ہر لفظ کو غور سے سنیں؟\n\nاگر وہ راہ گزاروں کے ساتھ فلسفۂ حیات پر تبادلۂ خیالات کرنا چاہتا ہے تو کیا اسکے معنی یہ لئے جائینگے کہ اسکا وجود مجلسی دائرہ کے لیے نقصان دہ ہے؟ کیا زندگی کے حقیقی معانی سے باخبر ہونا ہر انسان کا فرض نہیں ہے؟\n\nاگر وہ متمول اشخاص کے بچوں کا لباس اتار کر غربا کے برہنہ بچوں کا تن ڈھانپتا ہے تو کیا یہ عمل ان افراد کو انکے فرائض سے آگاہ نہیں کرتا جو فلک بوس عمارتوں میں دوسرے لوگوں کے بل بوتے پر آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں؟ کیا ننگوں کی ستر پوشی کرنا ایسا فعل ہے کہ اسے دیوانگی پر محمول کیا جائے؟\n\nسلیم ہرگز پاگل نہیں ہے مگر مجھے یہ تسلیم ہے کہ اسکے افکار نے اسے بیخود ضرور بنا رکھا ہے۔ دراصل وہ دنیا کو کچھ پیغام دینا چاہتا ہے مگر دے نہیں سکتا۔ ایک کم سن بچے کی طرح وہ تتلا تتلا کر اپنے قلبی احساسات بیان کرنا چاہتا ہے مگر الفاظ اسکی زبان پر آتے ہی بکھر جاتے ہیں۔\n\nوہ اس سے قبل ذہنی اذیت میں مبتلا تھا مگر اب اسے اور اذیت میں ڈال دیا گیا ہے۔ وہ پہلے ہی سے اپنے افکار کی الجھنوں میں گرفتار ہے اور اب اسے زندان نما کوٹھڑی میں قید کر دیا گیا ہے۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے؟\n\nمیں نے آج تک سلیم کی کوئی بھی ایسی حرکت نہیں دیکھی جس سے میں یہ نتیجہ نکال سکوں کہ وہ دیوانہ ہے ہاں البتہ کچھ عرصے سے میں اسکے ذہنی انقلابات کا مشاہدہ ضرور کرتا رہا ہوں۔\n\nشروع شروع میں جب میں نے اسکے کمرے کے تمام فرنیچر کو اپنی اپنی جگہ سے ہٹا ہوا پایا تو میں نے اس تبدیلی کی طرف خاص توجہ نہ دی، دراصل میں نے اس وقت خیال کیا کہ شاید سلیم نے فرنیچر کی موجودہ جگہ کو زیادہ موزوں خیال کیا ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ میری نظروں کو جو کرسیوں اور میزوں کو کئی سالوں سے ایک جگہ دیکھنے کی عادی تھیں وہ غیر متوقع تبدیلی بہت بھلی معلم ہوئی۔\n\nاس واقعے کے چند روز بعد جب میں کالج سے فارغ ہو کر سلیم کے کمرے میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ فلمی ممثلوں کی دو تصاویر جو ایک عرصے سے کمرے کی دیواروں پر آویزاں تھیں اور جنہیں میں نے اور سلیم نے بہت مشکل کے بعد فراہم کیا تھا باہر ٹوکری میں پھٹی پڑی ہیں اور انکی جگہ انہی چوکھٹوں میں مختلف مصنفوں کی تصویریں لٹک رہی ہیں۔۔۔۔۔۔چونکہ میں خود ان تصاویر کا اتنا مشاق نہ تھا اس لئے مجھے سلیم کا یہ انتخاب بہت پسند آیا چنانچہ ہم اس روز دیر تک ان تصویروں کے متعلق گفتگو بھی کرتے رہے۔\n\nجہاں تک مجھے یاد ہے اس واقعہ کے بعد سلیم کے کمرے میں ایک ماہ تک کوئی خاص قابلِ ذکر تبدیلی واقع نہیں ہوئی مگر اس عرصے کے بعد میں نے ایک روز اچانک کمرے میں بڑا سا تخت پڑا پایا جس پر سلیم نے کپڑا بچھا کر کتابیں چن رکھی تھیں اور آپ قریب ہی زمین پر ایک تکیہ کا سہارا لیے کچھ لکھنے میں مصروف تھا۔ میں یہ دیکھ کر سخت متعجب ہوا اور کمرے میں داخل ہوتے ہی سلیم سے یہ سوال کیا۔ کیوں میاں، اس تخت کے کیا معانی؟\n\nسلیم،جیسا کہ اسکی عادت تھی، مسکرایا اور کہنے لگا۔ \"کرسیوں پر روزانہ بیٹھتے بیٹھتے طبیعت اکتا گئی ہے، اب یہ فرش والا سلسلہ ہی رہے گا۔\"\n\nبات معقول تھی، میں چپ رہا۔ واقعی روزانہ ایک ہی چیز کا استعمال کرتے کرتے طبیعت ضرور اچاٹ ہو جایا کرتی ہے مگر جب پندرہ بیس روز کے بعد میں نے وہ تخت مع تکیئے کے غائب پایا تو میرے تعجب کی کوئی انتہا نہ رہی اور مجھے شبہ سا ہوا کہ کہیں میرا دوست واقعی خبطی تو نہیں ہو گیا ہے۔\n\nسلیم سخت گرم مزاج واقع ہوا ہے۔ اسکے علاوہ اسکے وزنی افکار نے اسے معمول سے زیادہ چڑچڑا بنا رکھا ہے۔ اس لئے میں عموماً اس سے ایسے سوالات نہیں کیا کرتا جو اسکے دماغی توازن کو درہم برہم کر دیں یا جس سے وہ خواہ مخواہ کھج جائے۔\n\nفرنیچر کی تبدیلی، تصویروں کا انقلاب، تخت کی آمد اور پھر اسکا غائب ہو جانا واقعی کسی حد تک تعجب خیز ضرور ہیں اور واجب تھا کہ میں نے ان امور کی وجہ دریافت کرتا مگر چونکہ مجھے سلیم کو آزردہ خاطر کرنا اور اسکے کام میں دخل دینا منظور نہ تھا اس لیے میں خاموش رہا۔\n\nٹھوڑے عرصے کے بعد سلیم کے کمرے میں ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی تبدیلی دیکھنا میرا معمول ہو گیا۔۔۔۔اگر آج کمرے میں تخت موجود ہے تو ہفتے کے بعد وہاں سے اٹھا دیا گیا ہے۔ اسکے دو روز بعد وہ میز جو کچھ عرصہ پہلے کمرے کے دائیں طرف پڑی تھی، رات رات میں وہاں سے اٹھا کر دوسری طرف رکھ دی گئی ہے۔ انگھیٹی پر رکھی ہوئی تصاویر کے زاویے بدلے جا رہے ہیں۔ کپڑے لٹکانے کی کھونٹیاں ایک جگہ سے اکھیڑ کر دوسری جگہ پر جڑ دی گئی ہیں۔ کرسیوں کے رخ تبدیل کئے گئے ہیں، گویا کمرے کی ہر شے سے ایک قسم کی قواعد کرائی جاتی تھی۔\n\nایک روز جب میں نے کمرے کے تمام فرنیچر کو مخالف رخ میں پایا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے سلیم سے دریافت کر ہی لیا۔ \"سلیم میں ایک عرصے سے اس کمرے کو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے دیکھ رہا ہوں، آخر بتاؤ تو سہی یہ تمھارا کوئی نیا فلسفہ ہے؟\"\n\n\"تم جانتے نہیں ہو، میں انقلاب پسند ہوں۔\" سلیم نے جواب دیا۔\n\nیہ سن کر میں اور بھی متعجب ہوا۔ اگر سلیم نے یہ الفاظ اپنی حسبِ معمول مسکراہٹ کے ساتھ کہے ہوتے تو میں یقینی طور پر یہ خیال کرتا کہ وہ صرف مذاق کر رہا ہے مگر یہ جواب دیتے وقت اسکا چہرہ اس امر کا شاہد تھا کہ وہ سنجیدہ ہے اور میرے سوال کا جواب وہ انہی الفاظ میں دینا چاہتا ہے۔ لیکن پھر بھی میں تذبذب کی حالت میں تھا، چنانچہ میں نے اس سے کہا۔ \"مذاق کر رہے ہو یار؟\"\n\n\"تمھاری قسم بہت بڑا انقلاب پسند۔\" یہ کہتے ہوئے وہ کھل کھلا کر ہنس پڑا۔\n\nمجھے یاد ہے کہ اسکے بعد اس نے ایسی گفتگو شروع کی تھی۔ مگر ہم دونوں کسی اور موضوع پر اظہارِ خیالات کرنے لگ گئے تھے۔۔۔۔۔یہ سلیم کی عادت ہے کہ وہ بہت سی باتوں کو دلچسپ گفتگو کے پردے میں چھپا لیا کرتا ہے۔\n\nان دنوں جب کبھی میں سلیم کے جواب پر غور کرتا ہوں تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ سلیم درحقیقت انقلاب پسند واقع ہوا ہے۔ اسکے یہ معنی نہیں کہ وہ کسی سلطنت کا تختہ الٹنے کے درپے ہے یا دیگر انقلاب پسندوں کی طرح چوراہوں میں بمب پھینک کر دہشت پھیلانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکی نظریں اپنے کمرے میں پڑی ہوئی اشیاء کو ایک ہی جگہ پر نہ دیکھ سکتی تھیں۔ ممکن ہے میرا یہ قیافہ کسی حد تک غلط ہو، مگر میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اسکی جستجو کسی ایسے انقلاب کی طرف رجوع کرتی ہے، جسکے آثار اسکے کمرے کی روزانہ تبدیلیوں سے ظاہر ہیں۔\n\nبادی النظر میں کمرے کی اشیاء کو روز الٹ پلٹ کرتے رہنا نیم دیوانگی کے مترادف ہے۔ لیکن اگر سلیم کی ان بے معنی حرکات کا عمیق مطالعہ کیا جائے تو یہ امر روشن ہو جائیگا کہ ان کے پسِ پردہ ایک ایسی قوت کام کر رہی تھی جس سے وہ خود ناآشنا تھا۔۔۔۔۔۔اسی قوت نے جسے میں ذہنی تعصب کا نام دیتا ہوں، سلیم کے دماغ میں تلاطم بپا کر دیا۔ اور اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اس طوفان کی تاب نہ لا کر از خود رفتہ ہو گیا، اور پاگل خانے کی چار دیواری میں قید کر دیا گیا۔\n\nپاگل خانے جانے سے کچھ روز پہلے سلیم مجھے اچانک شہر کے ایک ہوٹل میں چائے پیتا ہوا ملا۔ میں اور وہ دونوں ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ گئے۔ اس لیے کہ میں اس سے کچھ گفتگو کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اپنے بازار کے چند دکانداروں سے سنا تھا کہ اب سلیم ہوٹلوں میں پاگلوں کی طرح تقریریں کرتا ہے۔ میں یہ چاہتا تھا کہ اسے سے فوراً مل کر اسے اس قسم کی حرکات کرنے سے منع کر دوں۔ اسکے علاوہ یہ اندیشہ تھا کہ شاید وہ کہیں سچ مچ خبط الحواس ہی نہ ہو گیا ہو۔ چونکہ میں اس سے فوراً ہی بات کرنا چاہتا تھا، اس لیے میں نے ہوٹل ہی میں گفتگو کرنا مناسب سمجھا۔\n\nکرسی پر بیٹھتے وقت میں غور سے سلیم کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ مجھے اسطرح گھورتے دیکھ کر سخت متعجب ہوا۔ وہ کہنے لگا۔۔۔۔۔ \"شاید میں سلیم نہیں ہوں۔\"\n\nآواز میں کس قدر درد تھا۔ گو یہ جملہ آپ کی نظروں میں بالکل سادہ معلوم ہو مگر خدا گواہ ہے میری آنکھیں بے اختیار نمناک ہو گئیں۔ \"شاید میں سلیم نہیں ہوں۔\"۔۔۔۔۔۔گویا وہ ہر وقت اس بات کا متوقع تھا کہ کسی روز اسکا بہترین دوست بھی اسے نہ پہچان سکے گا۔ شاید اسے معلوم تھا کہ وہ بہت حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔\n\nمیں نے ضبط سے کام لیا، اور اپنے آنسوؤں کو رومال میں چھپا کر اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔\n\n\"سلیم میں نے سنا ہے کہ تم نے میرے لاہور جانے کے بعد یہاں بازاروں میں تقریریں کرنی شروع کر دی ہیں، جانتے بھی ہو، اب تمھیں شہر کا بچہ بچہ پاگل کے نام سے پکارتا ہے۔\"\n\n\"پاگل، شہر کا بچہ بچہ مجھے پاگل کے نام سے پکارتا ہے۔۔۔۔۔۔پاگل۔۔۔۔۔۔۔ہاں عباس، میں پاگل ہوں۔۔۔۔۔۔۔پاگل۔۔۔۔۔دیوانہ ۔۔۔۔۔۔۔خرد باختہ۔۔۔۔۔۔۔۔لوگ مجھے دیوانہ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔معلوم ہے کیوں؟\"\n\nیہاں تک کہہ کر وہ میری طرف سر تا پا استفہام بن کر دیکھنے لگا۔ مگر میری طرف سے کوئی جواب نہ پا کر وہ دوبارہ گویا ہوا۔\n\n\"اس لئے کہ میں انہیں غریبوں کے ننگے بچے دکھلا دکھلا کر یہ پوچھتا ہوں کہ اس بڑھتی ہوئی غربت کا کیا علاج ہو سکتا ہے؟ وہ مجھے کوئی جواب نہیں دے سکتے، اس لئے وہ مجھے پاگل تصور کرتے ہیں۔۔۔۔۔آہ اگر مجھے صرف یہ معلوم ہو کہ ظلمت کے اس زمانے میں روشنی کی ایک شعاع کیونکر فراہم کی جا سکتی ہے۔ ہزاروں غریب بچوں کا تاریک مستقبل کیونکر منور بنایا جا سکتا ہے۔\"\n\n\"وہ مجھے پاگل کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔وہ جن کی نبضِ حیات دوسروں کے خون کی مرہونِ منت ہے۔ وہ جن کا فردوس غرباء کے جہنم کی مستعار اینٹوں سے استوار کیا گیا ہے، وہ جن کے سازِ عشرت کے ہر تار کے ساتھ بیواؤں کی آہیں، یتیموں کی عریانی، لا وارث بچوں کی صدائے گریہ لپٹی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کہَیں، مگر ایک زمانہ آنے والا ہے جب یہی پروردۂ غربت اپنے دلوں کے مشترکہ لہو میں انگلیاں ڈبو ڈبو کر ان لوگوں کی پیشانیوں پر اپنی لعنتیں لکھیں گے۔۔۔۔وہ وقت نزدیک ہے جب ارضی جنت کے دروازے ہر شخص کے لیے وا ہونگے۔\"\n\n\"میں پوچھتا ہوں کہ اگر میں آرام میں ہوں تو کیا وجہ ہے کہ تم تکلیف کی زندگی بسر کرو؟۔۔۔۔۔۔کیا یہی انسانیت ہے کہ میں کارخانے کا مالک ہوتے ہوئے ہر شب ایک نئی رقاصہ کا ناچ دیکھتا ہوں، ہر روز کلب میں سینکڑوں روپے قمار بازی کی نذر کر دیتا ہوں، اور اپنی نکمی سے نکمی خواہش پر بے دریغ روپیہ بہا کر اپنا دل خوش کرتا ہوں، اور میرے مزدورں کو ایک وقت کی روٹی نصیب نہیں ہوتی۔ انکے بچے مٹی کے ایک کھلونے کے لیے ترستے ہیں۔۔۔۔۔پھر لطف یہ ہے کہ میں مہذب ہوں، میری ہر جگہ عزت کی جاتی ہے اور وہ لوگ جن کا پسینہ میرے لئے گوہر تیار کرتا ہے، مجلسی دائرے میں حقارت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ میں خود ان سے نفرت کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔تم ہی بتاؤ، کیا یہ دونوں ظالم و مظلوم اپنے فرائض سے ناآشنا ہیں؟\"\n\n\"میں ان دونوں کو انکے فرائض سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں، مگر کسطرح کروں؟۔۔۔۔۔۔یہ مجھے معلوم نہیں۔\"\n\nسلیم نے اس قدر کہہ کر ہانپتے ہوئے ٹھنڈی چائے کا ایک گھونٹ بھرا اور میری طرف دیکھے بغیر پھر بولنا شروع کر دیا۔\n\n\"میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔مجھے ایک وکیل سمجھو، بغیر کسی امید کے، جو اس چیز کی وکالت کر رہا ہے، جو بالکل گم ہو چکی ہے۔۔۔۔۔۔میں ایک دبی ہوئی آواز ہوں۔۔۔۔۔انسانیت ایک منہ ہے اور میں ایک چیخ۔ میں اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں مگر وہ میرے خیالات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔۔۔۔۔میں بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں مگر اسی لئے کچھ کہہ نہیں سکتا کہ مجھے بہت کچھ کہنا ہے، میں اپنا پیغام کہاں سے شروع کروں، یہ مجھے معلوم نہیں۔ میں اپنی آواز کے بکھرے ہوئے ٹکڑے فراہم کرتا ہوں۔ ذہنی اذیت کے دھندلے غبار میں سے چند خیالات تمہید کے طور پر پیش کرنے کی سعی کرتا ہوں۔ اپنے احساسات کی عمیق گہرائیوں سے چند احساس سطح پر لاتا ہوں کہ دوسرے اذہان پر منتقل کر سکوں مگر میری آواز کے ٹکڑے پھر منتشر ہو جاتے ہیں، خیالات پھر تاریکی میں روپوش ہو جاتے ہیں۔ احساسات پھر غوطہ لگا جاتے ہیں، میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔\"\n\n\"جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ میرے خیالات منتشر ہونے کے بعد پھر جمع ہو رہے ہیں تو جہاں کہیں میری قوتِ گویائی کام دیتی ہے میں شہر کے رؤسا سے مخاطب ہو کر یہ کہنے لگ جاتا ہوں:۔\n\n\"مرمریں محلات کے مکینو، تم اس وسیع کائنات میں صرف سورج کی روشنی دیکھتے ہو، مگر یقین جانو اسکے سائے بھی ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔تم مجھے سلیم کے نام سے جانتے ہو، یہ غلطی ہے۔۔۔۔۔۔میں وہ کپکپی ہوں جو ایک کنواری لڑکی کے جسم پر طاری ہوتی ہے جب وہ غربت سے تنگ آ کر پہلی دفعہ ایوانِ گناہ کی طرف قدم بڑھانے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔آؤ ہم سب کانپیں۔\"\n\n\"تم ہنستے ہو، مگر تمھیں مجھے ضرور سننا ہو گا، میں ایک غوطہ خور ہوں۔ قدرت نے مجھے تاریک سمندر کی گہرائیوں میں ڈبو دیا کہ میں کچھ ڈھونڈ کر لاؤں۔۔۔۔۔۔میں ایک بے بہا موتی لایا ہوں، وہ سچائی ہے، اس تلاش میں میں نے غربت دیکھی ہے، گرسنگی برداشت کی ہے۔ لوگوں کی نفرت سے دوچار ہوا ہوں۔ جاڑے میں غریبوں کی رگوں میں خون کو منجمد ہوتے دیکھا ہے، نوجوان لڑکیوں کو عشرت کدوں کی زینت بڑھاتے دیکھا ہے۔ اس لیے کہ وہ مجبور تھیں۔۔۔۔۔اب میں یہی کچھ تمھارے منہ پر قے کر دینا چاہتا ہوں کہ تمھیں تصویرِ زندگی کا تاریک پہلو نظر آ جائے۔\"\n\n\"انسانیت ایک دل ہے، ہر شخص کے پہلو میں ایک ہی قسم کا دل موجود ہے۔ اگر تمھارے بوٹ غریب مزدوروں کے ننگے سینوں پر ٹھوکریں لگاتے ہیں، اگر تم اپنے شہوانی جذبات کی بھڑکتی ہوئی آگ کسی ہمسایہ نادار لڑکی کی عصمت دری سے ٹھنڈی کرتے ہو، اگر تمھاری غفلت سے ہزار ہا یتیم بچے گہوارۂ جہالت میں پل کر جیلوں کو آباد کرتے ہیں، اگر تمھارا دل کاجل کے مانند سیاہ ہے، تو یہ تمھارا قصور نہیں۔ ایوانِ معاشرت ہی کچھ ایسے ڈھب پر استوار کیا گیا ہے کہ اسکی ہر چھت اپنی ہمسایہ چھت کو دبائے ہوئے ہے، ہر اینٹ دوسری اینٹ کو۔\"\n\n\"جانتے ہو موجودہ نظام کے کیا معنی ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہ لوگوں کے سینوں کو جہالت کدہ بنائے، انسانی تعزز کی کشتی ہوا و ہوس کی موجوں میں بہا دے۔ جوان لڑکیوں کی عصمت چھین کر انہیں ایوانِ تجارت میں کھلے بندوں حسن فروشی پر مجبور کر دے۔ غریبوں کا خون چوس چوس کر انہیں جلی ہوئی راکھ کے مانند قبر کی مٹی میں یکساں کر دے۔۔۔۔۔۔کیا اسی کو تم تہذیب کا نام دیتے ہو۔۔۔۔۔۔۔بھیانک قصابی، تاریک شیطنت۔\"\n\n\"آہ، اگر تم صرف وہ دیکھ سکو جسکا میں نے مشاہدہ کیا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو قبر نما جھونپڑوں میں زندگی کے سانس پورے کر رہے ہیں۔ تمھاری نظروں کے سامنے ایسے افراد موجود ہیں جو موت کے منہ میں جی رہے ہیں۔ ایسی لڑکیاں ہیں جو بارہ سال کی عمر میں عصمت فروشی شروع کرتی ہیں اور بیس سال کی عمر میں قبر کی سردی سے لپٹ جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔مگر تم۔۔۔۔۔۔۔ہاں تم، جو اپنے لباس کی تراش کے متعلق گھنٹوں غور کرتے رہتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے بلکہ الٹا غریبوں سے چھین کر امراء کی دولتوں میں اضافہ کرتے ہو، مزدور سے لیکر کاہل کے حوالے کر دیتے ہو۔ گوڈری پہنے انسان کا لباس اتار کر حریر پوش کے سپرد کر دیتے ہو۔\"\n\n\"تم غرباء کے غیر مختتم مصائب پر ہنستے ہو۔ مگر تمھیں یہ معلوم نہیں کہ اگر درخت کا نچلا حصہ لاغر و مردہ ہو رہا ہے تو کسی روز وہ بالائی حصے کے بوجھ کو برداشت نہ کرتے ہوئے گر پڑے گا۔\"\n\nیہاں تک بول کر سلیم خاموش ہو گیا اور ٹھنڈی چائے کو آہستہ آہستہ پینے لگا۔\n\nتقریر کے دوران میں سحرزدہ آدمی کی طرح چپ چاپ بیٹھا اس کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ جو بارش کی طرح برس رہے تھے، بغور سنتا رہا۔ میں سخت حیران تھا کہ وہ سلیم جو آج سے کچھ عرصہ پہلے بالکل خاموش ہوا کرتا تھا، اتنی طویل تقریر کیونکر جاری رکھ سکا ہے، اسکے خیالات کس قدر حق پر مبنی ہیں اور آواز میں کتنا اثر تھا۔ میں اسکی تقریر کے متعلق سوچ رہا تھا کہ وہ پھر بولا۔\n\n\"خاندان کے خاندان شہر کے یہ نہنگ نگل جاتے ہیں، عوام کے اخلاق قوانین سے مسخ کئے جاتے ہیں۔ لوگوں کے زخم جرمانوں سے کریدے جاتے ہیں۔ ٹیکسوں کے ذریعے دامنِ غربت کترا جاتا ہے۔ تباہ شدہ ذہنیت جہالت کی تاریکی سیاہ بنا دیتی ہے۔ ہر طرف حالتِ نزع کے سانس کی لرزاں آوازیں، عریانی، گناہ اور فریب ہے۔ مگر دعویٰ یہ ہے کہ عوام امن کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔۔۔۔۔کیا اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ہماری آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھی جا رہی ہے۔ ہمارے کانوں سے پگھلا ہوا سیسہ اتارا جا رہا ہے۔ ہمارے جسم مصائب کے کوڑے سے بے حس بنائے جا رہے ہیں، کہ ہم نہ دیکھ سکیں، نہ سن سکیں اور نہ محسوس کر سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔انسان جنہیں بلندیوں پر پرواز کرنا تھا کیا اسکے بال و پر نوچ کر اسے زمین پر رینگنے کے لیے مجبور نہیں کیا جا رہا؟۔۔۔۔۔۔کیا امراء کی نظر فریب عمارتیں مزدوروں کے گوشت پوست سے تیار نہیں کی جاتیں؟۔۔۔۔۔۔کیا عوام کے مکتوبِ حیات پر جرائم کی مہر ثبت نہیں کی جاتی؟ کیا مجلسی بدن کی رگوں میں بدی کا خون موجزن نہیں ہے؟ کیا جمہور کی زندگی کشمکشِ پیہم، ان تھک محنت اور قوتِ برداشت کا مرکب نہیں ہے؟ بتاؤ، بتاؤ، بتاتے کیوں نہیں؟\"\n\n\"درست ہے۔\" میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔\n\n\"تو پھر اسکا علاج کرنا تمھارا فرض ہے۔۔۔۔۔۔کیا تم کوئی طریقہ نہیں بتا سکتے کہ اس انسانی تذلیل کو کیونکر روکا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔مگر آہ، تمھیں معلوم نہیں، مجھے خود معلوم نہیں۔\"\n\nٹھوڑی دیر کے بعد وہ میرا ہاتھ پکڑ کر راز دارانہ لہجے میں یوں کہنے لگا۔ \"عباس، عوام سخت تکلیف برداشت کر رہے ہیں، بعض اوقات جب کبھی میں کسی سوختہ حال انسان کے سینے سے آہ بلند ہوتے دیکھتا ہوں تو مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں شہر نہ جل جائے۔۔۔۔۔۔۔اچھا اب میں جاتا ہوں، تم لاہور واپس کب جا رہے ہو؟\"\n\nیہ کہہ کر وہ اٹھا اور ٹوپی سنبھال کر باہر چلنے لگا۔\n\n\"ٹھہرو میں بھی تمھارے ساتھ چلتا ہوں، کہاں جاؤ گے اب؟\" اسے یک لخت کہیں جانے کے لیے تیار دیکھ کر میں نے اسے فوراً ہی کہا۔\n\n\"مگر میں اکیلا ہی جانا چاہتا ہوں، کسی باغ میں جاؤں گا۔\"\n\nمیں خاموش ہو گیا اور وہ ہوٹل سے نکل کر بازار کے ہجوم میں گم ہو گیا۔ اس گفتگو کے چوتھے روز مجھے لاہور میں اطلاع ملی کہ سلیم نے میرے جانے کے بعد بازاروں میں دیوانہ وار شور برپا کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس لیے اسے پاگل خانے میں داخل کر دیا گیا ہے۔\n\n24 مارچ 1935ء\n\nاشاعتِ اولیں:۔ \"علیگڑھ میگزین\"", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%92/_%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF"} {"title": "آتش پارے/ تماشا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "آتش پارے", "year": "1936", "text_ur": "دو تین روز سے طیارے سیاہ عقابوں کی طرح پر پھیلائے خاموش فضا میں منڈلا رہے تھے جیسے وہ کسی شکار کی جستجو میں ہوں۔ سرخ آندھیاں وقتاً فوقتاً کسی آنیوالے خونی حادثہ کا پیغام لا رہی تھیں۔ سنسان بازاروں میں مسلح پولیس کی گشت ایک عجیب ہولناک سماں پیش کر رہی تھی۔ وہ بازار جو صبح سے کچھ عرصہ پہلے لوگوں کے ہجوم سے پر ہوا کرتے تھے اب کسی نہ معلوم خوف کی وجہ سے سُونے پڑے تھے۔۔۔۔۔۔۔شہر کی فضا پر ایک پر اسرار خاموشی مسلط تھی۔ بھیانک خوف راج کر رہا تھا۔\n\nخالد گھر کی خاموش و پر سکون فضا سے سہما ہوا اپنے والد کے قریب بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔\n\n\"ابا، آپ مجھے سکول کیوں نہیں جانے دیتے؟\"\n\n\"بیٹا، آج سکول میں چھٹی ہے۔\"\n\n\"ماسٹر صاحب نے تو ہمیں بتایا ہی نہیں۔ وہ تو کل کہہ رہے تھے کہ جو لڑکا آج سکول کا کام ختم کر کے اپنی کاپی نہ دکھائے گا، اسے سخت سزا دی جائیگی۔\"\n\n\"وہ اطلاع دینی بھول گئے ہونگے۔\"\n\n\"آپ کے دفتر میں بھی چھٹی ہے۔\"\n\n\"ہاں ہمارا دفتر بھی آج بند ہے۔\"\n\n\"چلو اچھا ہوا۔۔۔۔۔۔۔آج میں آپ سے کوئی اچھی سی کہانی سنوں گا۔\"\n\nیہ باتیں ہو رہی تھیں کہ تین چار طیارے چیختے ہوئے انکے سر پر سے گزر گئے۔ خالد انکو دیکھ کر بہت خوفزدہ ہوا، وہ تین چار روز سے ان طیاروں کی پرواز کو بغور دیکھ رہا تھا مگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا تھا۔ وہ حیران تھا کہ یہ جہاز سارا دن دھوپ میں کیوں چکر لگاتے رہتے ہیں۔ وہ انکی روزانہ نقل و حرکت سے تنگ آ کر بولا۔\n\n\"ابا، مجھے ان جہازوں سے سخت خوف معلوم ہو رہا ہے۔ آپ انکے چلانے والوں سے کہدیں کہ وہ ہمارے گھر پر سے نہ گزرا کریں۔\"\n\n\"خوف۔۔۔۔۔کہیں پاگل تو نہیں ہو گئے خالد۔\"\n\n\"ابا، یہ جہاز بہت خوفناک ہیں۔ آپ نہیں جانتے یہ کسی نہ کسی روز ہمارے گھر پر گولہ پھینک دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔کل صبح ماما امی جان سے کہہ رہی تھی کہ ان جہاز والوں کے پاس بہت سے گولے ہیں۔ اگر انہوں نے اس قسم کی کوئی شرارت کی تو یاد رکھیں میرے پاس بھی ایک بندوق ہے۔۔۔۔۔۔۔وہی جو آپ نے پچھلی عید پر مجھے دی تھی۔\"\n\nخالد کا باپ اپنے لڑکے کی غیر معمولی جسارت پر ہنسا۔ \"ماما تو پاگل ہے، میں اس سے دریافت کرونگا کہ وہ گھر میں ایسی باتیں کیوں کیا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اطمینان رکھو، وہ ایسی بات ہر گز نہیں کرینگے۔\"\n\nاپنے والد سے رخصت ہو کر خالد اپنے کمرے میں چلا گیا اور ہوائی بندوق نکال کر نشانہ لگانے کی مشق کرنے لگا تا کہ اس روز جب ہوائی جہاز والے گولے پھینکیں تو اسکا نشانہ خطا نہ جائے اور وہ پوری طرح انتقام لے سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاش انتقام کا یہی ننھا جذبہ ہر شخص میں تقسیم ہو جائے۔\n\nاسی عرصہ میں جبکہ ایک ننھا سا بچہ اپنے انتقام لینے کی فکر میں ڈوبا ہوا طرح طرح کے منصوبے باندھ رہا تھا، گھر کے دوسرے حصے میں خالد کا باپ اپنی بیوی کے پاس بیٹھا ہوا ماما کو ہدایت کر رہا تھا کہ وہ آئندہ گھر میں اس قسم کی کوئی بات نہ کرے جس سے خالد کو دہشت ہو۔\n\nماما اور بیوی کو اسی قسم کی مزید ہدایات دیکر وہ ابھی بڑے دروازے سے باہر جا رہا تھا کہ خادم ایک دہشتناک خبر لایا کہ شہر کے لوگ بادشاہ کے منع کرنے پر بھی شام کے قریب ایک عام جلسہ کرنے والے ہیں اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ کوئی نہ کوئی واقع ضرور پیش آ کر رہے گا۔\n\nخالد کا باپ یہ خبر سن کر بہت خوفزدہ ہوا، اب اسے یقین ہو گیا کہ فضا کا غیر معمولی سکون، طیاروں کی پرواز، بازاروں میں مسلح پولیس کی گشت، لوگوں کے چہروں پر اداسی کا عالم اور خوفناک آندھیوں کی آمد کسی خوفناک حادثہ کی پیش خیمہ تھے۔\n\nوہ حادثہ کس نوعیت کا ہو گا؟۔۔۔۔۔۔۔۔یہ خالد کے باپ کی طرح کسی کو بھی معلوم نہ تھا مگر پھر بھی سارا شہر کسی نامعلوم خوف میں لپٹا ہوا تھا۔\n\nباہر جانے کے خیال کو ملتوی کر کے خالد کا باپ ابھی کپڑے تبدیل کرنے بھی نہ پایا تھا کہ طیاروں کا شور بلند ہوا وہ سہم گیا۔ اسے ایسا معلوم ہوا جیسے سینکڑوں انسان ہم آہنگ آواز میں درد کی شدت سے کراہ رہے ہیں۔\n\nخالد طیاروں کا شور و غل سن کر اپنی ہوائی بندوق سنبھالتا ہوا کمرے سے باہر دوڑا آیا اور انہیں غور سے دیکھنے لگا تا کہ وہ جس وقت گولہ پھینکنے لگیں تو وہ اپنی بندوق کی مدد سے انہیں نیچے گرا دے۔ اس وقت چھ سال کے بچے کے چہرے پر آہنی ارادہ و استقلال کے آثار نمایاں تھے جو کم حقیقت بندوق کا کھلونا ہاتھ میں تھامے ایک جری سپاہی کو شرمندہ کر رہا تھا۔ معلوم ہوتا تھ کہ وہ آج اس چیز کو جو اسے عرصے سے خوفزدہ کر رہی تھی، مٹانے پر تلا ہوا ہے۔\n\nخالد کے دیکھتے دیکھتے ایک جہاز سے کچھ چیز گری جو کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کے مشابہ تھی۔ گرتے ہی یہ ٹکڑے ہوا میں پتنگوں کی طرح اڑنے لگے، ان میں سے چند خالد کے مکان کی بالائی چھت پر بھی گرے۔\n\nخالد بھاگا ہوا اوپر گیا اور وہ کاغذ اٹھا لایا۔\n\n\"ابا جی، ماما سچ مچ جھوٹ بک رہی تھی۔ جہاز والوں نے تو گولوں کی بجائے یہ کاغذ پھینکے ہیں۔\"\n\nخالد کے باپ نے وہ کاغذ لیکر پڑھنا شروع کیا تو رنگ زرد ہو گیا، ہونیوالے حادثے کی تصویر اب اسے عیاں طور پر نظر آنے لگی۔ اس اشتہار میں صاف لکھا تھا کہ بادشاہ کسی جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اگر اسکی مرضی کے خلاف کوئی جلسہ کیا گیا تو نتائج کی ذمہ دار خود رعایا ہو گی۔\n\nاپنے والد کو اشتہار پڑھنے کے بعد اس قدر حیران و پریشان دیکھ کر خالد نے گھبراتے ہوئے کہا۔ \"اس کاغذ میں یہ تو نہیں لکھا کہ وہ ہمارے گھر پر گولے پھینکیں گے؟\"\n\n\"خالد اس وقت تم جاؤ، جاؤ اپنی بندوق کے ساتھ کھیلو۔\"\n\n\"مگر اس پر لکھا کیا ہے۔\"\n\n\"لکھا ہے کہ آج شام کو ایک تماشا ہو گا۔\" خالد کے باپ نے گفتگو کو مزید طول دینے کے خوف سے جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔\n\n\"تماشا ہو گا، پھر تو ہم بھی چلیں گے نا۔\"\n\n\"کیا کہا۔\"\n\n\"کیا اس تماشے میں آپ مجھے نہ لے چلیں گے؟\"\n\n\"لے چلیں گے، اب جاؤ جا کر کھیلو۔\"\n\n\"کہاں کھیلوں؟ بازار میں آپ جانے نہیں دیتے، ماما مجھ سے کھیلتی نہیں، میرا ہم جماعت طفیل بھی تو آج کل یہاں نہیں آتا، اب میں کھیلوں تو کس سے کھیلوں؟۔۔۔۔۔۔۔شام کے وقت تماشا دیکھنے تو ضرور چلیں گے نا؟\"\n\nکسی جواب کا انتظار کئے بغیر خالد کمرے سے باہر چلا گیا اور مختلف کمروں میں آوارہ پھرتا ہوا اپنے والد کی نشست گاہ میں پہنچا، جس کی کھڑکیاں بازار کی طرف کھلتی تھیں۔ کھڑکی کے قریب بیٹھ کر وہ بازار کی طرف جھانکنے لگا۔\n\nکیا دیکھتا ہے کہ بازار میں دکانیں تو بند ہیں مگر آمد و رفت جاری ہے۔ لوگ جلسے میں شریک ہونے کے لئے جا رہے تھے۔ وہ سخت حیران تھا کہ دو تین روز سے دکانیں کیوں بند رہتی ہیں، اس مسئلہ کے حل کے لئے اس نے اپنے ننھے دماغ پر بہتیرا زور دیا مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔\n\nبہت غور و فکر کرنے کے بعد اس نے یہ سوچا کہ لوگوں نے اس تماشا دیکھنے کی خاطر، جس کے اشتہار جہاز بانٹ رہے تھے، دکانیں بند کر رکھی ہیں۔ اب اس نے خیال کیا کہ وہ کوئی نہایت ہی دلچسپ تماشا ہو گا جس کے لیئے تمام بازار بند ہیں۔ اس خیال نے خالد کو سخت بے چین کر دیا اور وہ اس وقت کا نہایت بیقراری سے انتظار کرنے لگا جب اس کا ابا اسے تماشا دکھلانے کو لے چلے۔\n\nوقت گزرتا گیا، وہ خونی گھڑی قریب تر آتی گئی۔\n\nسہ پہر کا وقت تھا، خالد اسکا باپ اور والدہ صحن میں خاموش بیٹھے ایک دوسرے کی طرف خاموش نگاہوں سے تک رہے تھے، ہوا سسکیاں بھرتی ہوئی چل رہی تھی۔\n\nتڑ۔ تڑ۔ تڑ۔ تڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\n\nیہ آواز سنتے ہی خالد کے باپ کے چہرے کا رنگ کاغذ کی طرح سفید ہو گیا، زبان سے بمشکل اس قدر کہہ سکا۔ \"۔۔۔۔۔۔گولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔\"\n\nخالد کی ماں فرطِ خوف سے ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکال سکی، گولی کا نام سنتے ہی اسے ایسا معلوم ہوا جیسے خود اسکی چھاتی سے گولی اتر رہی ہے۔\n\nخالد اس آواز کو سنتے ہی اپنے والد کی انگلی پکڑ کر کہنے لگا۔ \"ابا جی چلیں، تماشا تو شروع ہو گیا ہے۔\"\n\n\"کونسا تماشا؟\" خالد کے باپ نے اپنے خوف کو چھپاتے ہوئے کہا۔\n\n\"وہی تماشا جس کے اشتہار آج صبح بانٹ رہے تھے، کھیل شروع ہو گیا ہے، تبھی تو اتنے پٹاخوں کی آواز سنائی دے رہی ہے۔\"\n\n\"ابھی بہت وقت باقی ہے، تم شور مت کرو، خدا کے لیئے اب جاؤ، ماما کے پاس جا کر کھیلو۔\"\n\nخالد یہ سنتے ہی باورچی خانے کی طرف گیا مگر وہاں ماما کو نہ پا کر اپنے والد کی نشست گاہ میں چلا گیا اور کھڑکی سے بازار کی طرف دیکھنے لگا۔\n\nبازار آمد و رفت بند ہو جانے کی وجہ سے سائیں سائیں کر رہا تھا، دور فاصلے سے کتوں کی دردناک چیخیں سنائی دے رہی تھیں، چند لمحات کے بعد ان چیخوں میں انسان کی دردناک آواز بھی شامل ہو گئی۔\n\nخالد کسی کو کراہتے سن کر بہت حیران ہوا، ابھی وہ اس آواز کی جستجو کے لیئے کوشش ہی کر رہا تھا کہ چوک میں اسے ایک لڑکا دکھائی دیا، جو چیختا چلاتا بھاگتا چلا آ رہا تھا۔\n\nخالد کے گھر کے عین مقابل وہ لڑکا لڑکھڑا کر گرا اور گرتے ہی بیہوش ہو گیا، اسکی پنڈلی پر ایک گہرا زخم تھا جس سے فواروں خون نکل رہا تھا۔\n\nیہ سماں دیکھ کر خالد بہت خوفزدہ ہوا، بھاگ کر اپنے والد کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ \"ابا، ابا، بازار میں ایک لڑکا گر پڑا ہے، اسکی ٹانگ سے بہت خون نکل رہا ہے۔\"\n\nیہ سنتے ہی خالد کا باپ کھڑکی کی طرف گیا اور دیکھا کہ واقعی ایک نوجوان لڑکا بازار میں اوندھے منہ پڑا ہے۔\n\nبادشاہ کے خوف سے اسے جرأت نہ ہوئی کہ وہ اس لڑکے کو سڑک پر سے اٹھا کر سامنے والی دکان کے پٹڑے پر لٹا دے۔ بے ساز و برگ افراد کو اٹھانے کے لیئے حکومت کے اربابِ حل و عقد نے آہنی گاڑیاں مہیا کر رکھی ہیں۔ مگر اس معصوم بچے کی نعش جو انہی کے تیغِ ستم کا شکار تھی، وہ ننھا پودا جو انہی کے ہاتھوں مسلا گیا تھا، وہ کونپل جو کھلنے سے پہلے انہی کی عطا کردہ بادِ سموم سے جھلس گئی تھی، کسی کے دل کی راحت جو انہی کے جور و استبداد نے چھین لی تھی، اب انہی کی تیار کردہ سڑک پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ۔ موت بھیانک ہے مگر ظلم اس سے کہیں زیادہ خوفناک اور بھیانک ہے۔\n\n\"ابا اس لڑکے کو کسی نے پیٹا ہے؟\"\n\nخالد کا باپ اثبات میں سر ہلاتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔\n\nجب خالد اکیلا کمرے میں رہ گیا تو سوچنے لگا کہ اس لڑکے کو اتنے بڑے زخم سے کتنی تکلیف ہوئی ہو گی جبکہ ایک دفعہ اسے قلم تراش کی نوک چبھنے سے تمام رات نیند نہ آئی تھی اور اسکا باپ اور ماں تمام رات اسکے سرہانے بیٹھے رہے تھے۔ اس خیال کے آتے ہی اسے ایسا معلوم ہونے لگا کہ وہ زخم خود اسکی پنڈلی میں ہے اور اس میں شدت کا درد ہے۔۔۔۔۔۔یکلخت وہ رونے لگا۔\n\nاسکے رونے کی آواز سن کر اسکی والدہ دوڑی دوڑی آئی اور اسے گود میں لے کر پوچھنے لگی۔ \"میرے بچے رو کیوں رہے ہو؟\"\n\n\"امی اس لڑکے کو کسی نے مارا ہے؟\"\n\n\"شرارت کی ہو گی اس نے۔\"\n\nخالد کی والدہ اپنے خاوند کی زبانی زخمی لڑکے کی داستان سن چکی تھی۔\n\n\"مگر سکول میں تو شرارت کرنے پر چھڑی سے سزا دیتے ہیں، لہو تو نہیں نکالتے۔\" خالد نے روتے ہوئے اپنی والدہ سے کہا۔\n\n\"چھڑی زور سے لگ گئی ہو گی۔\"\n\n\"تو پھر کیا اس لڑکے کا والد سکول میں جا کر اس استاد پر خفا نہ ہو گا جس نے اسکے لڑکے کو اس قدر مارا ہے۔ ایک روز ماسٹر صاحب نے میرے کان کھینچ کر سرخ کر دیئے تھے تو ابا جی نے ہیڈ ماسٹر کے پاس جا کر شکایت کی تھی نا۔\"\n\n\"اس لڑکے کا ماسٹر بہت بڑا آدمی ہے۔\"\n\n\"اللہ میاں سے بھی بڑا؟\"\n\n\"نہیں ان سے چھوٹا ہے۔\"\n\n\"تو پھر وہ اللہ میاں کے پاس شکایت کرے گا۔\"\n\n\"خالد اب دیر ہو گئی ہے، چلو سوئیں۔\"\n\n\"اللہ میاں میں دعا کرتا ہوں کہ تو اس ماسٹر کو جس نے اس لڑکے کو پیٹا ہے اچھی طرح سزا دے اور اس چھڑی کو چھین لے جسکے استعمال سے خون نکل آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے پہاڑے یاد نہیں کئے، اس لئے مجھے بھی ڈر ہے کہ کہیں وہی چھڑی میرے استاد کے ہاتھ نہ آ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر تم نے میری باتیں نہ مانیں تو پھر میں بھی تم سے نہ بولوں گا۔\"\n\nسوتے وقت خالد دل میں دعا مانگ رہا تھا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%92/_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7"} {"title": "آتش پارے/ جی آیا صاحب", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "آتش پارے", "year": "1936", "text_ur": "باورچی خانے کی دھندلی فضا میں بجلی کا ایک اندھا قمقمہ چراغِ گور کی مانند اپنی سرخ روشنی پھیلا رہا تھا۔ دھوئیں سے اٹی ہوئی دیواریں ہیبتناک دیووں کی طرح انگڑائیاں لیتی ہوئی معلوم ہو رہی تھیں۔ چبوترے پر بنی ہوئی انگیٹھیوں میں آگ کی آخری چنگاریاں ابھر ابھر کر اپنی موت کا ماتم کر رہی تھیں۔ ایک برقی چولھے پر رکھی ہوئی کیتلی کا پانی نہ معلوم کس چیز پر خاموش ہنسی ہنس رہا تھا۔ دور کونے میں، پانی کے نل کے پاس ایک چھوٹی عمر کا لڑکا بیٹھا برتن صاف کرنے میں مشغول تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ انسپکٹر صاحب کا نوکر تھا۔\n\nبرتن صاف کرتے وقت یہ لڑکا کچھ گنگنا رہا تھا، یہ الفاظ ایسے تھے جو اسکی زباں سے بغیر کوشش کے نکل رہے تھے۔\n\n\"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔\"\n\nابھی برتنوں کو راکھ سے صاف کرنے کے بعد انہیں پانی سے دھو کر قرینے سے رکھنا بھی تھا، اور یہ کام جلدی سے نہ ہو سکتا تھا۔ لڑکے کی آنکھیں نیند سے بند ہوئی جا رہی تھیں۔ سر سخت بھاری ہو رہا تھا مگر کام کئے بغیر آرام، یہ کیونکر ممکن تھا۔\n\nبرقی چولھا بدستور ایک شور کے ساتھ نیلے شعلوں کو اپنے حلق سے اگل رہا تھا۔ کیتلی کا پانی اسی انداز میں کھل کھلا کر ہنس رہا تھا۔\n\nدفعتاً لڑکے نے نیند کے ناقابلِ مغلوب حملے کو محسوس کرتے ہوئے اپنے جسم کو ایک جنبش دی اور \"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب\" گنگناتا ہوا پھر کام میں مشغول ہو گیا۔\n\nدیوار گیروں پر چنے ہوئے برتن اس لڑکے کو ایک غیر مختتم ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے تھے۔ پانی کے نل سے روزانہ ایک ہی واقعہ دیکھ قطروں کی صورت میں آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔ بجلی کا قمقمہ حیرت سے اس لڑکے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کمرے کی فضا سسکیاں بھرتی ہوئی معلوم ہو رہی تھی۔\n\n\"قاسم ۔۔۔۔۔۔۔ قاسم\"\n\n\"جی آیا صاحب\" لڑکا جو انہی الفاظ کی گردان کر رہا تھا۔ بھاگا ہوا اپنے آقا کے پاس گیا۔\n\nانسپکٹر صاحب نے کمبل سے منہ نکالا، اور لڑکے پر خفا ہوتے ہوئے کہا۔ \"بیوقوف کے بچے، آج پھر یہاں صراحی اور گلاس رکھنا بھول گیا ہے۔\"\n\n\"ابھی لایا صاحب ۔۔۔۔۔۔ ابھی لایا صاحب۔\"\n\nکمرے میں صراحی اور گلاس رکھنے کے بعد وہ ابھی برتن صاف کرنے کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ پھر اسے کمرے سے آواز آئی۔\n\n\"قاسم ۔۔۔۔۔۔۔ قاسم\"\n\n\"جی آیا صاحب\" قاسم بھاگتا ہوا اپنے آقا کے پاس گیا۔\n\n\"بمبئی کا پانی کس قدر خراب ہے۔ جاؤ پارسی کے ہوٹل سے سوڈا لیکر آؤ۔ بس بھاگے ہوئے جاؤ، سخت پیاس لگ رہی ہے۔\"\n\nقاسم بھاگا ہوا گیا اور پارسی کے ہوٹل سے جو گھر سے قریباً نصف میل کے فاصلے پر واقع تھا، سوڈے کی بوتل لے آیا اور اپنے آقا کو گلاس میں ڈال کر دی۔\n\n\"اب تم جاؤ، مگر اس وقت تک کیا کر رہے ہو، برتن صاف نہیں ہوئے کیا؟\"\n\n\"ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔\"\n\n\"اور ہاں، برتن صاف کرنے کے بعد میرے سیاہ بوٹ کو پالش کر دینا مگر دیکھنا احتیاط رہے، چمڑے پر کوئی خراش نہ آئے، ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔\"\n\nقاسم کو \"ورنہ\" کے بعد کا جملہ بخوبی معلوم تھا۔ \"بہت اچھا صاحب\" کہتے ہوئے وہ باورچی خانہ میں واپس چلا گیا، اور برتن صاف کرنا شروع کر دیے۔\n\nاب نیند اسکی آنکھوں میں سمٹی چلی آ رہی تھی۔ پلکیں آپس میں ملی جا رہی تھیں، سر میں سیسہ اتر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ صاحب کے بوٹ ابھی پالش کرنے ہیں۔ قاسم نے اپنے سر کو زور سے جنبش دی، اور وہی راگ الاپنا شروع کر دیا۔\n\n\"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بوٹ ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔\"\n\nمگر نیند کا طوفان ہزار بند باندھنے پر بھی نہ رکا۔ اب اسے محسوس ہونے لگا کہ نیند ضرور غلبہ پا کر رہے گی۔ لیکن ابھی برتنوں کو دھو کر انہیں اپنی اپنی جگہ پر رکھنا باقی تھا۔ اس وقت ایک عجیب خیال اسکے دماغ میں آیا۔ \"بھاڑ میں جائیں برتن، اور چولھے میں جائیں بوٹ۔۔۔۔کیوں نہ تھوڑی دیر اسی جگہ پر سو جاؤں، اور پھر چند لمحات آرام کرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\"\n\nاس خیال کو باغیانہ تصور کرتے ہوئے قاسم نے ترک کر دیا اور برتنوں پر جلدی جلدی راکھ ملنا شروع کر دی۔\n\nتھوڑی دیر کے بعد جب نیند پھر غالب آئی تو اسکے جی میں آیا کہ ابلتا ہوا پانی اپنے سر پر انڈیل لے اور اسطرح اس غیر مرئی طاقت سے جو اسکے کام میں حارج ہو رہی تھی، نجات پائے، مگر اتنا حوصلہ نہ پڑا۔\n\nبصد مشکل منہ پر پانی کے چھینٹے مار مار کر اس نے برتنوں کو بالآخر صاف کر ہی لیا۔ یہ کام کرنے کے بعد اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ اب وہ آرام سے سو سکتا تھا۔ اور نیند۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نیند، جس کے لیے اسکی آنکھیں اور دماغ شدت سے انتظار کر رہے تھے، اب بالکل نزدیک تھی۔\n\nباورچی خانے کی روشنی گل کرنے کے بعد قاسم نے باہر برآمدے میں اپنا بستر بچھایا اور لیٹ گیا۔ اور اس سے پہلے کہ نیند اسے اپنے آرام دہ بازوؤں میں تھام لے، اسکے کان \"بوٹ، بوٹ\" کی آوازوں سے گونج اٹھے۔\n\n\"بہت اچھا صاحب، ابھی پالش کرتا ہوں\" بڑبڑاتا ہوا قاسم بستر سے اٹھا۔ جیسے اسکے آقا نے ابھی بوٹ روغن کرنے کے لیے حکم دیا ہے۔\n\nابھی قاسم بوٹ کا ایک پیر بھی اچھی طرح پالش کرنے نہ پایا تھا کہ نیند کے غلبے نے اسے وہیں پر سلا دیا۔\n\nسورج کی خونیں کرنیں اس مکان کے شیشوں سے نمودار ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔۔قاسم کی کتابِ حیات میں ایک اور پُر از مشقت باب کا اضافہ ہو گیا۔\n\nصبح جب انسپکٹر صاحب نے اپنا نوکر باہر برآمدے میں بوٹوں کے پاس سویا ہوا دیکھا تو اسے ٹھوکر مار کر جگاتے ہوئے کہا۔ \"یہ سور کی طرح یہاں بیہوش پڑا ہے اور مجھے خیال تھا کہ اس نے بوٹ صاف کر لئے ہونگے۔۔۔۔۔۔۔نمک حرام۔۔۔۔۔۔۔ابے قاسم۔\"\n\n\"جی آیا صاحب۔\"\n\nقاسم کے منہ سے اتنا ہی نکلا تھا کہ اس نے اپنے ہاتھ میں بوٹ صاف کرنے کا برش دیکھا۔ فوراً ہی اس معاملے کو سمجھتے ہوئے اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔\n\n\"میں سو گیا تھا صاحب، مگر۔۔۔۔۔مگر بوٹ ابھی پالش ہو جاتے ہیں صاحب۔۔۔۔۔۔۔\"\n\nیہ کہتے ہوئے اس نے جلدی جلدی بوٹ کو برش سے رگڑنا شروع کر دیا۔\n\nبوٹ پالش کرنے کے بعد اس نے اپنا بستر تہہ کیا اور اسے اوپر کے کمرے میں رکھنے چلا گیا۔\n\n\"قاسم\"\n\n\"جی آیا صاحب\"\n\nقاسم بھاگا ہوا نیچے آیا اور اپنے آقا کے پاس کھڑا ہو گیا۔\n\n\"دیکھو، آج ہمارے یہاں مہمان آئینگے۔ اس لئے باورچی خانے کے تمام برتن اچھی طرح صاف کر رکھنا۔۔۔۔۔۔فرش بھی دھلا ہوا ہونا چاہیئے، اسکے علاوہ تمھیں ملاقاتی کمرے کی تصویروں، میزوں اور کرسیوں کو بھی صاف کرنا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔سمجھے، مگر خیال رہے میری میز پر ایک تیز دھار چاقو پڑا ہوا ہے، اسے مت چھیڑنا۔ میں اب دفتر جا رہا ہوں مگر یہ کام دو گھنٹے سے پہلے ہو جانا چاہیئے۔\"\n\n\"بہت بہتر صاحب\"\n\nانسپکٹر صاحب دفتر چلے گئے۔ قاسم باورچی خانہ صاف کرنے میں مشغول ہو گیا۔\n\nڈیڑھ گھنٹے کی انتھک محنت کے بعد اس نے باورچی خانے کے تمام کام کو ختم کر دیا۔ اور ہاتھ پاؤں صاف کرنے کے بعد جھاڑن لیکر ملاقاتی کمرے میں چلا گیا۔\n\nوہ ابھی کرسیوں کو جھاڑن سے صاف کر رہا تھا کہ اسکے تھکے ہوئے دماغ میں ایک تصویر سی کھچ گئی۔ کیا دیکھتا ہے کہ اسکے گرد و پیش برتن ہی برتن پڑے ہیں اور پاس ہی راکھ کا ایک ڈھیر لگ رہا ہے۔ ہوا زوروں پر چل رہی ہے جس سے وہ راکھ اڑ اڑ کر فضا کو خاکستری بنا رہی ہے۔ یکا یک اس ظلمت میں ایک سرخ آفتاب نمودار ہوا جس کی کرنیں خون آشام برچھیوں کی طرح ہر برتن کے سینے میں گھس گئیں۔ زمین خون سے شرابور ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔فضا خوشی کے قہقہوں سے معمور ہو گئی۔\n\nقاسم یہ منظر دیکھ کر گھبرا گیا اور اس وحشت ناک خواب سے بیدار ہو کر \"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب\" کہتا ہوا پھر اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔\n\nتھوڑی دیر کے بعد اسکی آنکھوں کے سامنے ایک اور منظر رقص کرنے لگا۔ اب اسکے سامنے چھوٹے چھوٹے لڑکے آپس میں کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔ دفعتاً آندھی چلنا شروع ہوئی، جسکے ساتھ ہی ایک بدنما اور بھیانک دیو نمودار ہوا، جو ان سب لڑکوں کو نگل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔قاسم نے خیال کیا کہ وہ دیو اسکے آقا کے ہم شکل تھا۔ گو قد و قامت کے لحاظ سے وہ اس سے کہیں بڑا تھا۔ اب اس دیو نے زور زور سے ڈکارنا شروع کیا۔۔۔۔۔قاسم سر سے پیر تک لرز گیا۔\n\nابھی تمام کمرہ صاف کرنا تھا اور وقت بہت کم رہ گیا تھا۔ چنانچہ قاسم نے جلدی جلدی کرسیوں پر جھاڑن مارنا شروع کر دیا۔ ابھی وہ کرسیوں کا کام ختم کرنے کے بعد میز صاف کرنے جا رہا تھا کہ اسے یکا یک خیال آیا۔ \"آج مہمان آ رہے ہیں۔ خدا معلوم کتنے برتن صاف کرنے پڑیں گے اور یہ نیند کمبخت ستا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے تو کچھ بھی نہ ہو سکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\"\n\nیہ سوچتے وقت وہ میز پر رکھی ہوئی چیزوں کو پونچھ رہا تھا کہ اچانک اسے قلمدان کے پاس ایک کھلا ہوا چاقو نظر آیا۔۔۔۔۔وہی چاقو جسکے متعلق اسکے آقا نے کہا تھا کہ بہت تیز ہے۔\n\nچاقو کا دیکھنا تھا کہ اسکی زبان پر یہ لفظ خود بخود جاری ہو گئے۔ \"چاقو۔۔۔۔۔۔تیز دھار چاقو۔۔۔۔۔۔یہی تمھاری مصیبت کو ختم کر سکتا ہے۔\"\n\nکچھ اور سوچے بغیر قاسم نے تیز دھار چاقو اٹھا اپنی انگلی پر پھیر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب وہ شام کے وقت برتن صاف کرنے کی زحمت سے بہت دور تھا۔ اور نیند۔۔۔۔۔۔۔پیاری، پیاری نیند اب اسے بآسانی نصیب ہو سکتی تھی۔\n\nانگلی سے خون کی سرخ دھار بہہ رہی تھی۔۔۔۔۔سامنے والی دوات کی سرخ روشنائی سے کہیں چمکیلی۔ قاسم اس خون کی دھار کو مسرت بھری آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور منہ میں یہ گنگنا رہا تھا۔ \"نیند، نیند۔۔۔۔۔۔پیاری نیند۔\"\n\nتھوڑی دیر کے بعد وہ بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا جو زنان خانے میں بیٹھی سلائی کر رہی تھی۔ اور اپنی زخمی انگلی دکھا کر کہنے لگا۔ \"دیکھئے بی بی جی۔۔۔۔۔۔\"\n\n\"ارے قاسم یہ تو نے کیا کیا؟۔۔۔۔۔۔۔کمبخت صاحب کے چاقو کو چھیڑا ہو گا تو نے۔\"\n\n\"بی بی جی۔۔۔۔۔بس میز صاف کر رہا تھا اور اس نے کاٹ کھایا۔\" قاسم ہنس پڑا۔\n\n\"ابے سور اب ہنستا ہے، ادھر آ، میں اس پر کپڑا باندھ دوں۔ مگر اب بتا تو سہی، آج یہ برتن تیرا باپ صاف کرے گا؟\"\n\nقاسم اپنی فتح پر زیرِ لب مسکرا رہا تھا۔\n\nانگلی پر پٹی بندھوا کر قاسم پھر کمرے میں آ گیا اور میز پر پڑے ہوئے خون کے دھبے صاف کرنے کے بعد خوشی خوشی اپنا کام ختم کر دیا۔\n\n\"اب اس نمک حرام باورچی کو برتن صاف کرنے ہونگے۔۔۔۔۔۔ضرور صاف کرنے ہونگے۔۔۔۔۔کیوں میاں مٹھو۔\" قاسم نے انتہائی مسرت میں کھڑکی میں لٹکے ہوئے طوطے سے دریافت کیا۔\n\nشام کے وقت مہمان آئے اور چلے گئے۔ باورچی خانے میں صاف کرنے والے برتنوں کا ایک طومار سا لگ گیا۔ انسپکٹر صاحب قاسم کی زخمی انگلی دیکھ کر بہت برسے۔ اور جی کھول کر گالیاں دیں، مگر اسے مجبور نہ کر سکے، شاید اس لیئے کہ ایک بار انکی اپنی انگلی میں قلم تراش کی نوک چبھ جانے سے بہت درد محسوس ہوا تھا۔\n\nآقا کی خفگی آنے والی مسرت نے بھلا دی اور قاسم کودتا پھاندتا ہوا اپنے بستر میں جا لیٹا۔ تین چار روز تک وہ برتن صاف کرنے کی زحمت سے بچا رہا، مگر اسکے بعد انگلی کا زخم بھر آیا۔۔۔۔۔۔اب پھر وہی مصیبت نمودار ہو گئی۔\n\n\"قاسم، صاحب کی جرابیں اور قمیص دھو ڈالو۔\"\n\n\"بہت اچھا بی بی جی۔\"\n\n\"قاسم اس کمرے کا فرش کتنا بدنما ہو رہا ہے۔ پانی لا کر ابھی صاف کرو، دیکھنا کوئی داغ دھبہ باقی نہ رہے۔\"\n\n\"بہت اچھا صاحب\"\n\n\"قاسم شیشے کے گلاس کتنے چکنے ہو رہے ہیں۔ انہیں نمک سے صاف کر دو۔\"\n\n\"جی اچھا صاحب\"\n\n\"قاسم طوطے کا پنجرہ کس قدر غلیظ ہو رہا ہے، اسے صاف کیوں نہیں کرتے۔\"\n\n\"ابھی کرتا ہوں بی بی جی\"\n\n\"قاسم ابھی خاکروب آتا ہے، تم پانی ڈالتے جانا، وہ سیڑھیوں کو دھو ڈالے گا۔\"\n\n\"بہت اچھا صاحب\"\n\n\"قاسم ذرا بھاگ کر ایک آنے کا دہی تو لے آنا۔\"\n\n\"ابھی چلا بی بی جی۔\"\n\nپانچ چھ روز اسی قسم کے احکام سننے میں گزر گئے۔ قاسم کام کی زیادتی اور آرام کے قحط سے تنگ آگیا۔ ہر روز اسے نصف شب تک کام کرنا پڑتا اور پھر علی الصباح چار بجے کے قریب بیدار ہو کر ناشتے کے لیے چائے تیار کرنی پڑتی۔ یہ کام قاسم کی عمر کے لڑکے کے لیے بہت زیادہ تھا۔\n\nایک روز انسپکٹر صاحب کی میز صاف کرتے وقت اسکے ہاتھ خود بخود چاقو کی طرف بڑھے، اور ایک لمحے کے بعد اسکی انگلی سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔انسپکٹر صاحب اور انکی بیوی قاسم کی یہ حرکت دیکھ کر بہت خفا ہوئے۔ چنانچہ سزا کی صورت میں اسے شام کا کھانا نہ دیا گیا، مگر وہ اپنی ایجاد کردہ ترکیب کی خوشی میں مگن تھا۔۔۔۔۔۔۔ایک وقت روٹی نہ ملی۔ انگلی پر معمولی سا زخم آگیا مگر برتنوں کا انبار صاف کرنے سے نجات مل گئی۔۔۔۔۔۔یہ سودا کچھ برا نہ تھا۔\n\nچند دنوں کے بعد اسکی انگلی کا زخم ٹھیک ہو گیا، اب پھر کام کی وہی بھر مار شروع تھی۔ پندرہ بیس روز گدھوں کی سی مشقت میں گزر گئے۔ اس عرصے میں قاسم نے بارہا ارادہ کیا کہ چاقو سے پھر اپنی انگلی زخمی کر لے۔ مگر اب میز پر سے وہ چاقو اٹھا لیا گیا اور باورچی خانے والی چھری کند تھی۔\n\nایک روز باورچی بیمار پڑ گیا اب اسے ہر وقت باورچی خانے میں موجود رہنا پڑتا، کبھی مرچیں پیستا، کبھی آٹا گوندھتا، کبھی کوئلوں کو جلا دیتا۔ غرض صبح سے لیکر آدھی رات تک اسکے کانوں میں \"ابے قاسم یہ کر، ابے قاسم وہ کر\" کی صدا گونجتی رہتی۔\n\nباورچی دو روز تک نہ آیا۔۔۔۔۔۔قاسم کی ننھی جان اور ہمت جواب دے گئی، مگر سوائے کام کے اور چارہ ہی کیا تھا۔\n\nایک روز اسکے آقا نے اسے الماری صاف کرنے کو کہا۔ جس میں ادویات کی شیشیاں اور مختلف چیزیں پڑی ہوئی تھیں۔ الماری صاف کرتے وقت اسے ڈاڑھی مونڈنے کا ایک بلیڈ نظر آیا۔ بلیڈ کو پکڑتے ہی اس نے اپنی انگلی پر پھیر لیا۔ دھار تھی بہت تیز اور باریک، انگلی میں دور تک چلی گئی، جس سے بہت بڑا زخم بن گیا۔\n\nقاسم نے بہت کوشش کی کہ خون نکلنا بند ہو جائے مگر زخم کا منہ بڑا تھا، وہ نہ تھما۔۔۔۔۔۔۔سیروں خون پانی کی طرح بہہ گیا۔ یہ دیکھ کر قاسم کا رنگ کاغذ کی مانند سپید ہو گیا۔ بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا۔\n\n\"بی بی جی میری انگلی میں صاحب کا استرا لگ گیا ہے۔\"\n\nجب انسپکٹر صاحب کی بیوی نے قاسم کی انگلی کو تیسری مرتبہ زخمی دیکھا، فوراً معاملے کو سمجھ گئی۔ چپ چاپ اٹھی اور کپڑا نکال کر اسکی انگلی پر باندھ دیا اور کہا۔ \"قاسم، اب تم ہمارے گھر میں نہیں رہ سکتے۔\"\n\n\"وہ کیوں بی بی جی\"\n\n\"یہ صاحب سے دریافت کرنا\"\n\nصاحب کا نام سنتے ہی قاسم کا رنگ اور بھی سپید ہو گیا۔\n\nچار بجے کے قریب انسپکٹر صاحب دفتر سے گھر آئے اور اپنی بیوی سے قاسم کی نئی حرکت سن کر اسے فوراً اپنے پاس بلایا۔\n\n\"کیوں میاں، یہ انگلی کو ہر روز زخمی کرنے کے کیا معنی ہیں؟\"\n\nقاسم خاموش کھڑا رہا۔\n\n\"تم نوکر یہ سمجھتے ہو کہ ہم لوگ اندھے ہیں اور ہمیں بار بار دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اپنا بستر بوریا دبا کر ناک کی سیدھ میں یہاں سے بھاگ جاؤ، ہمیں تمھارے جیسے نوکروں کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔سمجھے۔\"\n\n\"مگر۔۔۔۔۔۔۔مگر صاحب\"\n\n\"صاحب کا بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔بھاگ جا یہاں سے، تیری بقایا تنخواہ کا ایک پیسہ بھی نہیں دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔اب میں اور کچھ نہیں سننا چاہتا۔\"\n\nقاسم روتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔ طوطے کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔ طوطے نے بھی خاموشی میں اس سے کچھ کہا اور اپنا بستر لیکر وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔ مگر دفعتاً کچھ خیال آیا اور بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا اور درد انگیز آواز میں اتنا کہہ کر \"سلام بی بی جی۔۔۔۔۔۔میں ہمیشہ کے لیے آپ سے رخصت ہو رہا ہوں\" وہاں سے رخصت ہو گیا۔\n\nخیراتی ہسپتال میں ایک نوخیز لڑکا درد کی شدت سے لوہے کے پلنگ پر کروٹیں بدل رہا ہے۔ پاس ہی دو ڈاکٹر بیٹھے ہیں۔\n\nان میں سے ایک ڈاکٹر اپنے ساتھی سے مخاطب ہوا۔ \"زخم خطرناک صورت اختیار کر گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔\"\n\n\"بہت بہتر۔\"\n\nیہ کہتے ہوئے دوسرے ڈاکٹر نے اپنی نوٹ بُک میں اس مریض کا نام درج کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ایک چوبی تختے پر جو چارپائی کے سرہانے لٹکا ہوا تھا، مندرجہ ذیل الفاظ لکھے تھے۔\n\nنام: محمد قاسم ولد عبدالرحمٰن (مرحوم)\n\nعمر: دس سال", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%92/_%D8%AC%DB%8C_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8"} {"title": "آتش پارے/ خونی تھوک", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "آتش پارے", "year": "1936", "text_ur": "گاڑی آنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔\n\nمسافروں کے گروہ کے گروہ پلیٹ فارم کے سنگین سینے کو روندتے ہوئے ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ پھل بیچنے والی گاڑیاں ربڑ ٹائر پہیوں پر خاموشی سے تَیر رہی تھیں۔ بجلی کے سینکڑوں قمقمے اپنی نہ جھپکنے والی آنکھوں سے ایک دوسرے کو ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے تھے۔ برقی پنکھے سرد آہوں کی صورت میں اپنی ہوا پلیٹ فارم کی گدلی فضا میں بکھیر رہے تھے۔ دور ریل کی پٹری کے پہلو میں ایک لیمپ اپنی سرخ نگاہوں سے مسافروں کی آمد و رفت کا بغور مشاہدہ کر رہا تھا۔۔۔۔۔پلیٹ فارم کی فضا سگریٹ کے تند دھوئیں اور مسافروں کے شور میں لپٹی ہوئی تھی۔\n\nپلیٹ فارم پر ہر ایک شخص اپنی اپنی دھن میں مست تھا۔ تین چار بنچ پر بیٹھے اپنی ہونے والی سیر کا تذکرہ کر رہے تھے۔ ایک گھڑی کے نیچے خدا معلوم کن خیالات میں غرق زیرِ لب گنگنا رہا تھا۔ دور کونے میں نیا بیاہا ہوا جوڑا ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔ خاوند اپنی بیوی کو کچھ کھانے کے لیے کہہ رہا تھا۔ وہ شرما کر مسکرا دیتی تھی، پلیٹ فارم کے دوسرے سرے پر ایک نوجوان قلیوں کے ساتھ لڑکھڑا کر چل رہا تھا، جو اسکی بہن کا تابوت اٹھائے ہوئے تھے۔ پانچ چھ فوجی گورے ہاتھ میں چھڑیاں لئے اور سیٹی بجاتے ہوئے ریفرشمنٹ روم سے شراب پی کر نکل رہے تھے۔ بک سٹال پر چند مسافر اپنا وقت ٹالنے کی خاطر یونہی کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے میں مشغول تھے۔ بہت سے قلی سرخ وردیاں پہنے گاڑی کی روشنی کا امید بھری نگاہوں سے انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔ریفرشمنٹ روم کے اندر ایک صاحب انگریزی لباس زیب تن کئے سگار کا دھواں اڑا کر وقت کاٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔\n\n\"قلیوں کی زندگی گدھوں سے بھی بدتر ہے۔\"\n\n\"مگر میاں کیا کریں آخر پیٹ کہاں سے پالیں؟\"\n\n\"ایک قلی دن بھر میں کتنا کما لیتا ہو گا؟\"\n\n\"یہی آٹھ دس آنے۔۔۔۔۔۔۔۔\"\n\n\"یعنی صرف جینے کا سہارا۔۔۔۔۔۔اور اگر بال بچے ہوں تو اپنا پیٹ کاٹ کر ان کا منہ بھریں۔ جب ان لوگوں کی تاریک زندگی کا خیال ایک دفعہ بھی میرے دماغ میں آ جائے تو پہروں سوچتا رہتا ہوں کہ آیا ان کی مصیبت ہماری نام نہاد تہذیب پر بدنما داغ نہیں ہے؟\"\n\nدو دوست پلیٹ فارم پر ٹہلتے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔\n\nخالد اپنے دوست کی گفتگو سن کر قدرے متعجب ہوا اور مسکرا کر کہنے لگا۔ \"کیوں میاں یہ لینن کب سے بنے تم؟۔۔۔۔۔۔تہذیب کس بلا کا نام ہے۔۔۔۔۔۔انسانیت کے سرد لوہے پر جما ہؤا زنگ۔۔۔۔۔۔جانے دو ایسی باتوں کو، جانتے ہو میں پہلے ہی سے اپنے حواس کھوئے بیٹھا ہوں۔\"\n\n\"خالد، سچ کہہ رہے ہو۔ یہ باتیں واقعی دماغ کو درہم برہم کر دیتی ہیں۔ دو روز ہوئے اخبار میں ایک خبر پڑھی کہ پندرہ مزدور کارخانے میں آگ لگ جانے کی وجہ سے جلے ہوئے کاغذ کے مانند راکھ ہو گئے۔ کارخانہ بیمہ شدہ تھا، مالک کو روپیہ مل گیا۔ مگر پندرہ عورتیں بیوہ بن گئیں اور خدا معلوم کتنے بچے یتیم ہو گئے۔ کل تین نمبر پلیٹ فارم پر ایک خاکروب کام کرتے کرتے گاڑی تلے آ کر مرگیا۔ کسی نے آنسو تک نہ بہایا۔۔۔۔۔۔جب سے یہ واقع دیکھا ہے، طبیعت سخت مغموم ہے۔ یقین جانو، حلق سے روٹی کا لقمہ نیچے نہیں اترتا، جب دیکھو اس خاکروب کی خون میں لتھڑی ہوئی لاش آنکھیں باہر نکالے میری طرف گھور رہی ہے۔۔۔۔۔۔مجھے اس کے گھر ضرور جانا چاہئے، شاید میں اس کے بچوں کی کچھ مدد کر سکوں۔\"\n\nخالد مسکرایا اور اپنے دوست کا ہاتھ دبا کر کہنے لگا۔ \"جاؤ۔۔۔۔۔۔پندرہ مزدوروں کی بیکس بیویوں کی بھی مدد کرو، یہ ایک نیک اور مبارک جذبہ ہے مگر اس کے ساتھ ہی شہر سے کچھ فاصلے پر چند ایسے لوگ بھی آباد ہیں، جنھیں ایک وقت کے لیے سوکھی روٹی کا نصف ٹکڑا بھی میسر نہیں۔ گلیوں میں ایسے بچے بھی ہیں جن کے سروں پر کوئی پیار دینے والا نہیں، ایسی سینکڑوں عورتیں موجود ہیں جن کا حسن غربت کے کیچڑ میں گل سڑ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بتاؤ تم کس کس کی مدد کرو گے؟ ان پھیلے ہوئے ہاتھوں میں سے کس کس کی مٹھی بھرو گے؟۔۔۔۔۔۔۔۔ہزاروں ننگے جسموں میں سے کتنوں کی ستر پوشی کرو گے؟\"\n\n\"آہ، درست کہتے ہو خالد۔۔۔۔درست کہتے ہو، مگر بتاؤ اس تاریک آندھی کو کس طرح روکا جا سکتا ہے؟ اپنے ہم جنس افراد کو ذلت کی زندگی بسر کرتے دیکھنا، ننگے سینوں پر چمکتے ہوئے بوٹوں کی ٹھوکریں کھاتے دیکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔سخت بھیانک خواب ہے۔\"\n\n\"واقعات کی رفتار کا نتیجہ دیکھنے کا انتظار کرو، یہ لوگ اپنی طاقت کے باوجود اس طوفان کو نہیں روکتے۔ خود اعتمادی نے انہیں برداشت کرنا سکھا دیا ہے۔۔۔۔۔چنگاریوں کو شعلوں میں تبدیل کرنا آسان ہے مگر چنگاری کا پیدا کرنا بہت مشکل ہے۔۔۔۔۔بہرحال تمھیں امید رکھنی چاہئے شاید تمھاری زندگی میں ہی مصائب کے یہ بادل دور ہو جائیں۔\"\n\n\"میں یہ سہانا وقت دیکھنے کے لیے اپنی زندگی کے بقایا سال نذر کرنے کو تیار ہوں۔\"\n\n\"کاش یہی خیال باقی لوگوں کے دلوں میں بھی موجود ہوتا۔۔۔۔۔مگر یار گاڑی آج کچھ دیر سے آتی معلوم ہوتی ہے۔ دیکھو نا پٹڑی پر روشنی کا نام و نشان تک نظر نہیں آتا۔\"\n\nخالد کا ساتھی کسی گہری فکر میں غوطہ زن تھا۔ اس لیے اس نے اپنے دوست کے آخری الفاظ بالکل نہ سنے۔ اور اگر سنے تو کچھ اور خیال کر کے کہنے لگا۔ \"واقعی یہ خیال پیدا کرنا چائیے اور اگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔\"\n\n\"چھوڑو میاں اب اس فلسفے کو۔۔۔۔۔کچھ پتا بھی ہے، گاڑی کب آنے والی ہے؟\" خالد نے اپنے دوست کو بازو سے پکڑتے ہوئے کہا۔\n\n\"گاڑی۔۔۔۔۔۔\" اور پھر سامنے والی گھڑی کی طرف نگاہ اٹھا کر بولا۔ \"نو بج کر پچیس منٹ، بس دس منٹ تک آ جائے گی۔۔۔۔۔یعنی دس منٹ کے بعد ہمارا دوست ہمارے پاس ہو گا۔۔۔۔۔۔ذرا خیال تو کرو، میں وحید کی آمد کو اس دردناک گفتگو کی وجہ سے بالکل بھول چکا تھا۔\"\n\nیہ کہتے ہوئے خالد کے دوست نے جیب سے سگریٹ نکال کر سلگانا شروع کیا۔\n\nپلیٹ فارم پر لوگوں کا ہجوم تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ مسافر بڑی سرعت سے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ قلی اسباب کے ڈھیروں کے پاس خاموش کھڑے گاڑی کے منتظر تھے کہ جلد اپنے کام سے فارغ ہو کر ایک آنہ حاصل کر سکیں۔ خوانچہ والے دوسرے پلیٹ فارموں سے جمع ہو کر اپنی اپنی اپنی مخصوص صدا بلند کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فضا، گاڑیوں کی گڑگڑاہٹ، مختلف انجنوں کی پھپ پھپ، خوانچہ والوں کی صداؤں، مسافروں کی باہم گفتگو کے شور اور قلیوں کی بھدی آوازوں سے معمور تھی۔۔۔۔۔۔برقی پنکھے بدستور سرد آہیں بھر رہے تھے۔\n\nریفرشمنٹ روم کے اندر بیٹھے ہوئے مسافر نے جو ابھی تک سگار کو دانتوں میں دبائے کش کھینچ رہا تھا، اپنی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کی طرف بڑی بے پروائی کے انداز میں دیکھا، اور بازو کو جھٹکا دے کر مرمریں میز پر سہارا دیتے ہوئے بلند آواز میں بولا۔\n\n\"بوائے۔\"\n\nٹھوڑی دیر خادم کا انتظار کرنے کے بعد وہ پھر چیخا۔\n\n\"بوائے۔۔۔۔۔۔بوائے۔\" اور پھر آہستہ بڑبڑاتے ہوئے۔ \"نمک حرام\"\n\n\"جی آیا حضور۔\" دوسرے کمرے میں سے کسی کی آواز آئی، اور ساتھ ہی سپید لباس پہنے ہوئے ایک خادم بھاگ کر اس مسافر کے قریب مودب کھڑا ہو گیا۔\n\n\"حضور۔\"\n\n\"ہم نے تمھیں دو دفعہ آواز دی۔ سوئے رہتے ہو تم لوگ شاید۔\"\n\n\"حضور میں نے سنا نہیں، ورنہ کیا مجال ہے کہ غلام حاضر نہ ہوتا۔\"\n\nغلام کا لفظ سن کر مسافر کا غصہ فرو ہو گیا۔\n\n\"دیکھو درجہ اول کے مسافروں سے یہ بے رخی اچھی نہیں، ہم تمھارے بڑے صاحب کے بھی کان کھینچ سکتا ہے، سمجھے؟\"\n\n\"جی ہاں۔\"\n\n\"ایجنٹ کے، وہ ہمارا دوست ہے۔۔۔۔۔۔خیر، دیکھو تم ویٹنگ روم میں جاؤ اور ہمارے قلی سے کہو کہ وہ صاحب کا تمام اسباب پلیٹ فارم پر لے جائے۔ گاڑی آنے میں صرف پانچ منٹ باقی ہیں۔\"\n\n\"بہت اچھا حضور۔\"\n\n\"اور ہاں، ہمارا بل دوسرے آدمی کے ہاتھ بھجوا دو۔\"\n\n\"بہت اچھا صاحب\"\n\n\"دیکھو، بل میں پانچسو پچپن نمبر سگریٹ کے ایک ڈبے کے دام بھی شامل کر لینا۔۔۔۔۔۔پانچسو پچپن نمبر کا ڈبہ خیال رہے۔\"\n\n\"بل اور ڈبہ گاڑی میں لے کر حاضر ہو جاؤں گا، وقت تھوڑا ہے۔\"\n\n\"جو مرضی میں آئے کرنا، مگر اب تم جاؤ اور جلدی ہمارے قلی کو اسباب نکالنے کے لیے کہہ دو۔\"\n\nمسافر نے یہ کہہ کر ایک انگڑائی لی اور میز پر پڑے ہوئے شراب کے گلاس میں سے آخری گھونٹ ایک ہی جرعے میں ختم کر دیئے۔ گیلے ہونٹ ایک بے داغ ریشمی رومال سے صاف کرنے کے بعد وہ اٹھا اور آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھا۔\n\nصاحب کو دروازے کی طرف بڑھتے دیکھ کر ایک خادم نے جلدی سے دروازہ کھول دیا، مسافر بڑی رعونت سے ٹہلتا ٹہلتا پلیٹ فارم کی بھیڑ میں گم ہو گیا۔\n\nدور ریل کی آہنی پٹڑیوں کے درمیان خیرہ کن روشنی کا ایک دھبہ نظر آ رہا تھا جو آہستہ آہستہ آس پاس کی تاریکی کو چیرتا ہوا بڑھ رہا تھا۔\n\nٹھوڑی دیر کے بعد یہ دھبہ روشنی کی ایک لانبی دھار میں تبدیل ہو گیا اور دفعتاً انجن کی چوندھیا دینے والی روشنی ایک لمحے کے لیے پلیٹ فارم کے قمقموں کو اندھا بناتے ہوئے گل ہو گئی۔ ساتھ ہی کچھ عرصہ کے لیے انجن کے آہنی پہیوں کی بھاری گڑگڑاہٹ تلے پلیٹ فارم کا شور دب کر رہ گیا۔۔۔ایک چیخ کے ساتھ گاڑی سٹیشن کے سنگین چبوترے کے پہلو میں کھڑی ہو گئی۔\n\nپلیٹ فارم کا دبا ہوا شور انجن کی گڑگڑاہٹ سے آزاد ہو کر ایک نئی تازگی سے بلند ہوا۔ مسافروں کی دوڑ دھوپ، بچوں کے رونے کی آواز، قلیوں کی بھاگ دوڑ، اسباب نکالنے کا شور، ٹھیلوں کی کھڑکھڑاہٹ، خوانچہ والوں کی بلند صدائیں، شنٹ کرتے ہوئے انجن کی دلخراش چیخیں اور بھاپ نکلنے کی شاں شاں، پلیٹ فارم کی آہنی چھت تلے فضا میں ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے تیر رہی تھیں۔\n\n\"خالد۔۔۔۔۔۔وحید کو تم نے دیکھا کسی ڈبے میں۔\"\n\n\"نہیں تو\"\n\n\"خدا جانے اس گاڑی سے آیا بھی ہے یا نہیں۔\"\n\n\"تار میں تو اسی گاڑی کا ذکر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ارے، وہ ڈبے میں کون ہے۔۔۔۔وحید۔\"\n\n\"ہاں، ہاں، وحید۔\"\n\nدونوں دوست بھاگتے ہوئے اس ڈبے کی طرف بڑھے جس میں سے وحید اپنا اسباب اتروا رہا تھا۔\n\nریفرشمنٹ روم والا مسافر تیزی سے فرسٹ کلاس کمپارٹمنٹ کی طرف بڑھا۔ باہر دروازے کے ساتھ لگے ہوئے کاغذ کو ایک نظر دیکھنے کے بعد دروازہ کھول کر ڈبے کے اندر داخل ہو گیا اور پیتل کی سلاخ تھام کر قلی اور اپنے اسباب کا انتظار کرنے لگا۔\n\nقلی اسباب سے لدا ہوا گاڑی کے ڈبوں کی طرف دیکھ دیکھ کر دوڑا چلا آ رہا تھا۔ مسافر نے اسے جھلا کر بلند آواز میں پکارا۔\n\n\"ابے اندھے، ادھر آ\"\n\nقلی نے مسافر کی آواز پہچان کر ادھر ادھر نگاہ دوڑائی مگر بھیڑ میں خود مسافر کو نہ دیکھ سکا، وہ ابھی اسی پریشانی کی حالت میں ہی تھا کہ ایک اور آواز آئی۔\n\n\"کیوں۔ نظر نہیں آ رہا کیا؟ ادھر، ادھر۔۔۔۔۔ناک کی سیدھ۔\"\n\nقلی نے مسافر کو دیکھ لیا اور اسباب لیکر اسکے ڈبے کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔\n\n\"صاحب، ایک طرف ہٹ جائیے میں اسباب اندر رکھ دوں\"\n\n\"ہاں رکھو\" دروازے کے ساتھ ایک گدے دار نشست پر بیٹھتے ہوئے بولا۔ \"مگر اتنا عرصہ سوئے رہے تھے کیا؟ خانسامے نے تمھیں یہ نہیں کہا تھا کہ صاحب کا سامان اٹھا کر گاڑی آتے ہی فوراً ڈبے میں رکھ دینا؟\"\n\n\"مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ کس ڈبے میں سوار ہونگے\" قلی نے ایک بھاری ٹرنک اٹھا کر بالائی نشست پر رکھتے ہوئے کہا۔\n\n\"یہ ڈبہ ہمارا ریزرو کرایا ہوا ہے، باہر چٹ پر نام بھی لکھا ہوا ہے۔\"\n\n\"آپ نے پہلے یہ کہا ہوتا تو ہرگز یہ دیر نہ ہوتی\"۔۔۔۔۔ایک، دو، تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آٹھ۔۔۔اور دس، قلی نے اسباب کی مختلف اشیا گننا شروع کر دیں۔\n\nسامان قرینے سے رکھنے کے بعد قلی نے اپنے اطمینان کے لیے ایک بار رکھی ہوئی چیزوں پر نگاہ ڈالی اور ڈبے سے نیچے پلیٹ فارم پر اتر گیا۔\n\n\"صاحب، اپنا سامان پورا کر لیجئے\"\n\nمسافر نے بڑی بے پروائی سے اپنی جیب سے ایک نفیس بٹوہ نکالا اور ابھی کھول کر مزدوری ادا کرنے والا ہی تھا کہ اسے کچھ یاد آیا۔\n\n\"ہماری چھڑی کہاں ہے؟\"\n\n\"چھڑی؟۔۔۔۔۔۔۔ چھڑی تو آپ کے پاس ہی تھی۔\"\n\n\"میرے پاس، بکتا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔وہیں چھوڑ آیا ہو گا تو\"\n\n\"چھڑی آپ کے پاس تھی۔۔۔۔۔مگر صاحب اس سخت کلامی سے پیش آنا درست نہیں، جب میں نے کوئی خطا ہی نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\"\n\nقلی کی زبان سے اس قسم کے الفاظ سن کر مسافر آگ بھبھوکا ہو گیا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر دروازے کے پاس کھڑا ہو کر چلانے لگا۔\n\n\"سخت کلامی سے پیش آنا درست نہیں۔۔۔۔۔۔۔کسی نواب کا صاحبزادہ ہے۔۔۔۔۔جتنے کی چھڑی ہے اتنی تو تیری قیمت بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔چھڑی لیکر آتا ہے یا نہیں؟۔۔۔۔۔۔چور کہیں کا۔\"\n\nچور کے لفظ نے قلی کے دل میں ایک طوفان برپا کر دیا، اسکے جی میں آئی کہ اس مسافر کو ٹانگ سے پکڑ کر نیچے کھینچ لے اور اسے اس اکڑ فوں کا مزا چکھا دے۔ مگر طبیعت پر قابو پا کر خاموش ہو گیا اور نرمی سے کہنے لگا۔\n\n\"آپ کو ضرور غلط فہمی ہوئی ہے، چھڑی آپ نے کہیں رکھ دی ہو گی، مجھے بتائیے میں وہاں سے پتا لے آؤں۔\"\n\n\"گویا میں بیوقوف ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔میں کہہ رہا ہوں، چھڑی لیکر آؤ ورنہ ساری شیخی کرکری کر دوں گا۔\"\n\nقلی ابھی کچھ جواب دینے ہی لگا تھا کہ اسے چند قدم کے فاصلے پر خانساماں نظر آیا جو ہاتھ میں سگریٹ کا ڈبہ اور چھڑی پکڑے چلا آ رہا تھا۔\n\n\"چھڑی خانساماں لیکر آ رہا ہے اور آپ خواہ مخواہ مجھ پر برس رہے ہیں۔\"\n\n\"بکو نہیں اب۔۔۔۔۔۔۔کتے کی طرح چلائے جا رہا ہے۔\"\n\nیہ سن کر قلی غصے سے بھرا ہوا مسافر کی طرف بڑھا۔ مسافر نے پورے زور سے اسکے بڑھے ہوئے سینے میں نوکیلے بوٹ سے ٹھوکر لگائی۔ ٹھوکر کھاتے ہی قلی چکراتا ہوا سنگین فرش پر گر کر بیہوش ہو گیا۔\n\nقلی کو گرتے دیکھ کر بہت سے لوگ اسکے اردگرد جمع ہو گئیے۔\n\n\"بیچارے کو بہت سخت چوٹ آئی ہے۔\"\n\n\"یہ لوگ بہانہ بھی کیا کرتے ہیں۔\"\n\n\"منہ سے شاید خون بھی نکل رہا ہے۔\"\n\n\"معاملہ کیا ہے؟\"\n\n\"اس آدمی نے اسے بوٹ سے ٹھوکر لگائی ہے۔\"\n\n\"کہیں مر نہ جائے بیچارہ۔\"\n\n\"کوئی دوڑ کر پانی کا ایک گلاس تو لائے۔\"\n\n\"بھئی ایک طرف ہٹ کر کھڑے رہو، ہوا تو آنے دو۔\"\n\nقلی کے گرد جمع ہوتے ہوئے لوگ آپس میں طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد خالد اور اسکا دوست بھیڑ چیر کر گرے ہوئے مزدور کے قریب پہنچے۔ خالد نے اسکے سر کو اپنے گھٹنوں پر اٹھا لیا اور اخبار سے ہوا دینا شروع کر دی۔ پھر اپنے دوست سے مخاطب ہو کر بولا۔\n\n\"مسعود، وحید سے کہہ دو کہ ہم اب اسے گھر پر ہی مل سکیں گے۔۔۔۔اور ہاں ذرا اس ظالم کو تو دیکھنا، کہاں ہے۔۔۔۔گاڑی چلنے والی ہے، کہیں وہ چلا نہ جائے۔\"\n\nیہ سنتے ہی لوگ اس مسافر کے ڈبے کے پاس جمع ہو گئے جو کھڑکی کے پاس بیٹھا کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اخبار پڑھنے کی بے سود کوشش کر رہا تھا۔\n\nمسعود اپنے دوست وحید سے رخصت لیکر اس مسافر کی طرف بڑھا اور کھڑکی کے قریب جا کر نہایت شائستگی سے کہا۔\n\n\"آپ یہاں اخبار بینی میں مصروف ہیں اور وہ بیچارہ بیہوش پڑا ہے۔\"\n\n\"پھر میں کیا کروں؟\"\n\n\"چلئے اور کم از کم اسکی حالت کو ملاحظہ تو کیجیئے۔\"\n\n\"کمبخت نے میرے سفر کا تمام لطف غارت کر دیا ہے۔\" اور پھر دروازے سے باہر نکلتے ہوئے۔ \"چلئے صاحب۔۔۔۔۔۔یہ مصیبت بھی دیکھنا تھی۔\"\n\nخالد بیہوش قلی کا سر تھامے اسے پانی پلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ لوگ جھکے ہوئے خالد اور قلی کے چہروں کی طرف بغور دیکھ رہے تھے۔\n\n\"خالد، آپ تشریف لے آئے ہیں۔\" مسعود نے مسافر کو آگے بڑھنے کو کہا۔\n\n\"ہاں، جناب۔۔۔۔۔یہ ہے آپ کے ظلم کا شکار۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی ڈاکٹر کو ہی بلوا لیا ہوتا آپ نے؟\" مسعود نے مسافر سے کہا۔\n\nمسافر، قلی کے زرد چہرہ اور لوگوں کا گروہ دیکھ کر بہت خوفزدہ ہوا اور گھبراتے ہوئے جیب سے اپنا بٹوہ نکالا۔\n\nمسافر ابھی بٹوہ نکال رہا تھا کہ قلی کا جسم متحرک ہوا اور اس نے اپنی آنکھیں کھول کر ہجوم کی طرف پریشان نگاہوں سے دیکھنا شروع کیا۔\n\n\"یہ نوٹ آپ اسے میری طرف سے دے دیجیئے گا۔ میں چلتا ہوں گاڑی کا وقت ہو گیا ہے۔\" مسافر نے مسعود کے ہاتھ میں دس روپے کا ایک نوٹ پکڑاتے ہوئے انگریزی میں کہا، اور پھر قلی کو ہوش میں آتے دیکھ کر اس سے مخاطب ہوا۔ \"ہم نے اس غلطی کی قیمت ادا کر دی ہے۔\"\n\nقلی یہ سن کر تڑپا، منہ سے خون کی ایک دھار بہہ نکلی، بڑی کوشش سے اس نے یہ چند الفاظ اپنی زخمی چھاتی پر زور دے کر نکالے۔\n\n\"میں بھی انگریزی زبان جانتا ہوں۔ دس روپے۔ ایک انسان کی جان کی قیمت۔ میرے پاس بھی کچھ ہے۔ جو۔\"\n\nباقی الفاظ اسکے خون بھرے منہ میں بلبلے بن کر رہ گئے، مسافر قلی کی یہ حالت دیکھ کر اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اسکا ہاتھ دبا کر کہنے لگا۔\n\n\"میں زیادہ بھی دے سکتا ہوں۔\"\n\nقلی نے بڑی تکلیف سے مسافر کی طرف رخ پھیرا اور منہ سے خون کے بلبلے نکالتے ہوئے کہا۔\n\n\"میرے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔بھی۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\"\n\nیہ کہتے ہوئے اس نے مسافر کے منہ پر تھوک دیا، تڑپا اور پلیٹ فارم کی آہنی چھت کی طرف مظلوم نگاہوں سے دیکھتا ہوا خالد کی گود میں سرد ہو گیا۔۔۔۔۔۔مسافر کا منہ خونی تھوک سے رنگا ہوا تھا۔\n\nخالد اور مسعود نے لاش دوسرے آدمیوں کے حوالہ کر کے مسافر کو پکڑ کر پولیس کے سپرد کر دیا۔\n\nمسافر کا مقدمہ دو مہینے تک متواتر عدالت میں چلتا رہا۔\n\nآخر فیصلہ سنا دیا گیا، فاضل جج نے ملزم کو معمولی جرمانہ کرنے کے بعد بری کر دیا۔ فیصلے میں یہ لکھا تھا کہ قلی کی موت اچانک تلی پھٹ جانے سے واقع ہوئی ہے۔\n\nفیصلہ سناتے وقت خالد اور مسعود بھی موجود تھے۔ ملزم انکی طرف دیکھ کر مسکرایا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔\n\n\"قانون کا قفل صرف طلائی چابی سے کھل سکتا ہے۔\"\n\n\"مگر ایسی چابی ٹوٹ بھی جایا کرتی ہے۔\"\n\nخالد اور اسکا دوست باہر برآمدے میں باہم گفتگو کر رہے تھے۔\n\nاشاعتِ اولیں۔ \"ساقی\"", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%92/_%D8%AE%D9%88%D9%86%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%A9"} {"title": "آتش پارے/ دیوانہ شاعر", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "آتش پارے", "year": "1936", "text_ur": "(اگر مقدس حق دنیا کی متجسس نگاہوں سے اوجھل کر دیا جائے تو رحمت ہو اس دیوانے پر جو انسانی دماغ پر سنہرا خواب طاری کر دے۔ حکیم گورکی)\n\nمیں آہوں کا بیوپاری ہوں\nلہو کی شاعری میرا کام ہے\nچمن کی ماندہ ہواؤ\nاپنے دامن سمیٹ لو کہ\nمیرے آتشیں گیت\nدبے ہوئے سینوں میں ایک تلاطم برپا کرنے والے ہیں\n\nیہ بیباک نغمہ درد کی طرح اٹھا اور باغ کی فضا میں چند لمحے تھرتھرا کر ڈوب گیا۔ آواز میں ایک قسم کی دیوانگی تھی۔۔۔۔۔۔ناقابلِ بیان۔ میرے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی، میں نے آواز کی جستجو میں ادھر ادھر نگاہیں اٹھائیں۔ سامنے چبوترے کے قریب گھاس کے تختے پر چند بچے اپنی ماماؤں کے ساتھ کھیل کود میں محو تھے، پاس ہی دو تین گنوار بیٹھے تھے۔ بائیں طرف نیم کے درختوں کے نیچے مالی زمین کھودنے میں مصروف تھا۔ میں ابھی اسی جستجو میں ہی تھا کہ وہی درد میں ڈوبی ہوئی آواز پھر بلند ہوئی۔\n\nمیں ان لاشوں کا گیت گاتا ہوں\nجن کی سردی دسمبر مستعار لیتا ہے\nمیرے سینے سے نکلی ہوئی آہ\nوہ لُو ہے جو جون کے مہینے میں چلتی ہے\nمیں آہوں کا بیوپاری ہوں\nلہو کی شاعری میرا کام ہے\n\nآواز کنوئیں کے عقب سے آ رہی تھی، مجھ پر ایک رقت سے طاری ہو گئی، میں ایسا محسوس کرنے لگا کہ سرد اور گرم لہریں بیک وقت میرے جسم سے لپٹ رہی ہیں۔ اس خیال نے مجھے کسی قدر خوفزدہ کر دیا کہ آواز اس کنوئیں کے قریب سے بلند ہو رہی ہے جس میں آج سے کچھ سال پہلے لاشوں کا ایک انبار لگا ہوا تھا۔ اس خیال کے ساتھ ہی میرے دماغ میں جلیانوالہ باغ کے خونی حادثے کی ایک تصویر کھچ گئی۔ تھوڑی دیر کے لئے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ باغ کی فضا گولیوں کی سنسناہٹ اور بھاگتے ہوئے لوگوں کی چیخ پکار سے گونج رہی ہے۔ میں لرز گیا، اپنے کاندھوں کو زور سے جھٹکا دیکر اور اس عمل سے اپنے خوف کو دور کرتے ہوئے میں اٹھا اور کنوئیں کا رخ کیا۔\n\nسارے باغ پر ایک پر اسرار خاموشی چھائی ہوئی تھی، میرے قدموں کے نیچے خشک پتوں کی سر سراہٹ سوکھی ہوئی ہڈیوں کے ٹوٹنے کی آواز پیدا کر رہی تھی۔ کوشش کے باوجود میں اپنے دل سے وہ نا معلوم خوف دور نہ کر سکا جو اس آواز نے پیدا کر دیا تھا۔ ہر قدم مجھے یہی معلوم ہوتا تھا کہ گھاس کے سبز بستر پر بے شمار لاشیں پڑی ہوئی ہیں جن کی بوسیدہ ہڈیاں میرے پاؤں کے نیچے ٹوٹ رہی ہیں۔ یکایک میں نے اپنے قدم تیز کئے اور دھڑکتے ہوئے دل سے اس چبوترے پر بیٹھ گیا جو کنوئیں کے ارد گرد بنا ہوا تھا۔\n\nمیرے دماغ میں بار بار یہ عجیب سا شعر گونج رہا تھا۔\n\nمیں آہوں کا بیوپاری ہوں\nلہو کی شاعری میرا کام ہے\n\nکنوئیں کے قریب کوئی متنفس موجود نہ تھا۔ میرے سامنے چھوٹے پھاٹک کی ساتھ والی دیوار پر گولیوں کے نشان تھے جن پر چوکور جالی منڈھی ہوئی تھی۔ میں ان نشانوں کو بیسیوں مرتبہ دیکھ چکا تھا مگر اب وہ دو نشان جو میری نگاہوں کے عین بالمقابل تھے دو خونیں آنکھیں معلوم ہو رہے تھے، جو دور۔۔۔۔۔۔۔بہت دور کسی غیر مرئی چیز کو ٹکٹکی لگائے دیکھ رہی ہوں۔ بلا ارادہ میری نگاہیں ان دو چشم نما سوراخوں پر جم کر رہ گئیں۔ میں انکی طرف مختلف خیالات میں کھویا ہوا خدا معلوم کتنے عرصے تک دیکھتا رہا کہ دفعتاً پاس والی روش پر کسی کے بھاری قدموں کی چاپ نے مجھے اس خواب سے بیدار کر دیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا، گلاب کی جھاڑیوں سے ایک دراز قد آدمی سر جھکائے میری طرف بڑھ رہا تھا، اسکے دونوں ہاتھ اسکے بڑے کوٹ کی جیبوں میں ٹھنسے ہوئے تھے، چلتے ہوئے وہ زیرِ لب کچھ گنگنا رہا تھا۔ کنوئیں کے قریب پہنچ کر وہ یکایک ٹھٹکا اور گردن اٹھا کر میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔\n\n\"میں پانی پیوں گا۔\"\n\nمیں فوراً چبوترے پر سے اٹھا اور پمپ کا ہینڈل ہلاتے ہوئے اس اجنبی سے کہا۔\n\n\"آئیے۔\"\n\nاچھی طرح پانی پی چکنے کے بعد اس نے اپنے کوٹ کی میلی آستین سے منہ پونچھا اور واپس چلنے کو ہی تھا کہ میں نے دھڑکتے ہوئے دل سے دریافت کیا۔\n\n\"کیا ابھی ابھی آپ ہی گا رہے تھے؟\"\n\n\"ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔مگر آپ کیوں دریافت کر رہے ہیں؟\" یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا سر پھر اٹھایا، اسکی آنکھیں جن میں سرخ ڈورے غیر معمولی طور پر نمایاں تھے، میری قلبی واردات کا جائزہ لیتی ہوئی معلوم ہو رہی تھیں۔ میں گھبرا گیا۔\n\n\"آپ ایسے گیت نہ گایا کریں۔۔۔۔۔۔۔یہ سخت خوفناک ہیں۔\"\n\n\"خوفناک۔۔۔۔۔۔۔نہیں، انہیں ہیبت ناک ہونا چاہیئے جبکہ میرے راگ کے ہر سُر میں رستے ہوئے زخموں کی جلن اور رکی ہوئی آہوں کی تپش معمور ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ میرے شعلوں کی زبانیں آپ کی برفائی ہوئی روح کو اچھی طرح چاٹ نہیں سکیں۔\" اس نے اپنی نوکیلی ٹھوڑی کو انگلیوں سے کھجلاتے ہوئے کہا۔ یہ الفاظ اس شور کے مشابہ تھے جو برف کے ڈھیلے میں تپتی ہوئی سلاخ گزارنے سے پیدا ہوتا ہے۔\n\n\"آپ مجھے ڈرا رہے ہیں۔\"\n\nمیرے یہ کہنے سے اس مردِ عجیب کے حلق سے ایک قہقہہ نما شور بلند ہوا۔ \"ہا، ہا، ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ ڈر رہے ہیں۔ کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ آپ اس وقت اس منڈیر پر کھڑے ہیں جو آج سے کچھ عرصہ پہلے بے گناہ انسانوں کے خون سے لتھڑی ہوئی تھی، یہ حقیقت میری گفتگو سے زیادہ وحشت خیز ہے۔\"\n\nیہ سن کر میرے قدم ڈگمگا گئے، میں واقعی خونیں منڈیر پر کھڑا تھا۔ مجھے خوفزدہ دیکھ کر وہ پھر بولا۔\n\n\"تھرائی ہوئی رگوں سے بہا ہوا لہو کبھی فنا نہیں ہوتا۔ اس خاک کے ذرے ذرے میں مجھے سرخ بوندیں تڑپتی نظر آ رہی ہیں، آؤ تم بھی دیکھو۔\"\n\nیہ کہتے ہوئے اس نے اپنی نظریں زمین پر گاڑ دیں۔ میں کنوئیں پر سے نیچے اتر آیا اور اسکے پاس کھڑا ہو گیا۔ میرا دل دھک دھک کر رہا تھا، دفعتاً اس نے اپنا ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا اور بڑے دھیمے لہجے میں کہا۔ \"مگر تم اسے نہیں سمجھ سکو گے۔۔۔۔۔۔یہ بہت مشکل ہے۔\"\n\nمیں اسکا مطلب بخوبی سمجھ رہا تھا، وہ غالباً مجھے اس خونی حادثے کی یاد دلا رہا تھا جو آج سے سولہ سال قبل اس باغ میں واقع ہوا تھا۔ اس حادثے کے وقت میری عمر قریباً پانچ سال کی تھی اس لئے میرے دماغ میں اسکے بہت دھندلے نقوش باقی تھے لیکن مجھے اتنا ضرور معلوم تھا کہ اس باغ میں عوام کے ایک جلسے پر گولیاں برسائی گئی تھیں جسکا نتیجہ قریباً دو ہزار اموات تھیں۔ میرے دل میں ان لوگوں کا بہت احترام تھا جنہوں نے اپنی مادرِ وطن اور جذبۂ آزادی کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دی تھیں بس اس احترام کے علاوہ میرے دل میں اس حادثے کے متعلق اور کوئی خاص جذبہ نہ تھا مگر آج اس مردِ عجیب کی گفتگو نے میرے سینے میں ایک ہیجان سا برپا کر دیا، میں ایسا محسوس کرنے لگا کہ گولیاں تڑ تڑ برس رہی ہیں اور بہت سے لوگ وحشت کے مارے ادھر ادھر بھاگتے ہوئے ایک دوسرے پر گر کر مر رہے ہیں۔ اس اثر کے تحت میں چلا اٹھا۔\n\n\"میں سمجھتا ہوں، میں سب کچھ سمجھتا ہوں۔ موت بھیانک ہے مگر ظلم اس سے کہیں خوفناک اور بھیانک ہے۔\"\n\nیہ کہتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے سب کچھ کہہ ڈالا ہے اور میرا سینہ بالکل خالی رہ گیا ہے، مجھ پر ایک مردنی سی چھا گئی۔ غیر ارادی طور پر میں نے اس شخص کے کوٹ کو پکڑ لیا اور تھرائی ہوئی آواز میں کہا۔\n\n\"آپ کون ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔آپ کون ہیں؟\"\n\n\"آہوں کا بیوپاری۔۔۔۔۔۔۔ایک دیوانہ شاعر۔\"\n\n\"آہوں کا بیوپاری۔۔۔۔۔۔۔ایک دیوانہ شاعر۔\" اس کے الفاظ زیرِ لب گنگناتے ہوئے میں کنوئیں کے چبوترے پر بیٹھ گیا۔ اس وقت میرے دماغ میں اس دیوانے شاعر کا گیت گونج رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا، سامنے سپیدے کے دو درخت ہیبت ناک دیووں کی طرح انگڑائیاں لے رہے تھے، پاس ہی چنبیلی اور گلاب کی خار دار جھاڑیوں میں ہوا آہیں بکھیر رہی تھی۔ دیوانہ شاعر خاموش کھڑا سامنے والی دیوار کی ایک کھڑکی پر نگاہیں جمائے ہوئے تھا۔ شام کے خاکستری دھندلکے میں وہ ایک سایہ سا معلوم ہو رہا تھا۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ اپنے خشک بالوں کو انگلیوں سے کنگھی کرتے ہوئے گنگنایا۔\n\n\"آہ یہ سب کچھ خوفناک حقیقت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کسی صحرا میں جنگلی انسان کے پیروں کے نشانات کی طرح خوفناک۔\"\n\n\"کیا کہا۔\"\n\nمیں ان الفاظ کو اچھی طرح سن نہ سکا تھا جو اس نے منہ ہی منہ میں ادا کئے تھے۔\n\n\"کچھ بھی نہیں۔\" یہ کہتے ہوئے وہ میرے پاس آ کر چبوترے پر بیٹھ گیا۔\n\n\"آپ گنگنا رہے تھے۔\"\n\nاس پر اس نے اپنی آنکھیں ایک عجیب انداز میں سکیڑیں اور ہاتھوں کو آپس میں زور زور سے ملتے ہوئے کہا۔ \"سینے میں قید کئے ہوئے الفاظ باہر نکلنے کے لئے مضطرب ہوتے ہیں۔ اپنے آپ سے بولنا اس الوہیت سے گفتگو کرنا ہے جو ہمارے دل کی پہنائیوں میں مستور ہوتی ہے۔\" پھر ساتھ ہی گفتگو کا رخ بدلتے ہوئے کہا۔ \"کیا آپ نے اس کھڑکی کو دیکھا ہے؟\"\n\nاس نے اپنی انگلی اس کھڑکی کی طرف اٹھائی جسے وہ چند لمحہ پہلے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔ میں نے اس جانب دیکھا، چھوٹی سی کھڑکی تھی جو سامنے دیوار کی خستہ اینٹوں میں سوئی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔\n\n\"یہ کھڑکی جسکا ایک ڈنڈا نیچے لٹک رہا ہے؟\" میں نے اس سے کہا۔\n\n\"ہاں، یہی جسکا ایک ڈنڈا نیچے لٹک رہا ہے۔ کیا تم اِس پر اُس معصوم لڑکی کے خون کے چھینٹے نہیں دیکھ رہے ہو جس کو صرف اس لئے ہلاک کیا گیا تھا کہ ترکشِ استبداد کو اپنے تیروں کی قوتِ پرواز کا امتحان لینا تھا۔۔۔۔۔۔۔میرے عزیز، تمھاری اس بہن کا خون ضرور رنگ لائے گا۔ میرے گیتوں کے زیر و بم میں اس کم سن روح کی پھڑپھڑاہٹ اور اس کی دلدوز چیخیں ہیں، یہ سکون کے دامن کو تار تار کر دیں گے۔ ایک ہنگامہ ہو گا، سینۂ گیتی شق ہو جائے گا۔ میری بے لگام آواز بلند سے بلند تر ہوتی جائے گی۔۔۔۔۔۔پھر کیا ہو گا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر کیا ہو گا؟۔۔۔۔۔۔۔۔یہ مجھے معلوم نہیں۔۔۔۔۔۔آؤ دیکھو اس سینے میں کتنی زبردست آگ سلگ رہی ہے۔\"\n\nیہ کہتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور اسے کوٹ کے اندر لے جا کر اپنے سینے پر رکھ دیا۔ اسکے ہاتھوں کی طرح اسکا سینہ بھی غیر معمولی طور پر گرم تھا۔ اس وقت اسکی آنکھوں کے ڈورے بہت ابھرے ہوئے تھے۔ میں نے اپنا ہاتھ ہٹا لیا اور کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔\n\n\"آپ علیل ہیں، کیا میں آپ کو گھر چھوڑ آؤں؟\"\n\n\"نہیں میرے عزیز میں علیل نہیں ہوں۔\" اس نے زور سے اپنے سر کو ہلایا۔ \"یہ انتقام ہے جو میرے اندر گرم سانس لے رہا ہے۔ میں اس دبی ہوئی آگ کو اپنے گیتوں کے دامن سے ہوا دے رہا ہوں کہ یہ شعلوں میں تبدیل ہو جائے۔\"\n\n\"یہ درست ہے مگر آپ کی طبیعت واقعتہً خراب ہے، آپ کے ہاتھ بہت گرم ہیں، اس سردی میں آپ کو زیادہ بخار ہو جانے کا اندیشہ ہے۔\"\n\nاسکے ہاتھوں کی غیر معمولی گرمی اور آنکھوں میں ابھرے ہوئے سرخ ڈورے صاف طور پر ظاہر کر رہے تھے کہ اسے کافی بخار ہے۔\n\nاس نے میرے کہنے کی کوئی پروا نہ کی اور جیبوں میں ہاتھ ٹھونس کر میری طرف بڑے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔\n\n\"یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ لکڑی جلے اور دھواں نہ دے۔ میرے عزیز ان آنکھوں نے ایسا سماں دیکھا ہے کہ انہیں ابل کر باہر نکل آنا چاہیئے تھا۔ کیا کہہ رہے تھے کہ میں علیل ہوں۔۔۔۔۔۔ہا، ہا، ہا۔۔۔۔۔۔۔علالت، کاش کہ سب لوگ میری طرح علیل ہوتے، جائیے آپ ایسے نازک مزاج میری آہوں کے خریدار نہیں ہو سکتے۔\"\n\n\"مگر۔۔۔۔۔۔۔۔\"\n\n\"مگر وگر کچھ نہیں۔\" وہ دفعتہً جوش میں چلانے لگا۔ \"انسانیت کے بازار میں صرف تم لوگ باقی رہ گئے ہو جو کھوکھلے قہقہوں اور پھیکے تبسموں کے خریدار ہو۔ ایک زمانے سے تمھارے مظلوم بھائیوں اور بہنوں کی فلک شگاف چیخیں تمھارے کانوں سے ٹکرا رہی ہیں مگر تمھاری خوابیدہ سماعت میں ارتعاش پیدا نہیں ہوا۔ آؤ اپنی روحوں کو میری آہوں کی آنچ دو، یہ انہیں حساس بنا دے گی۔\"\n\nمیں اسکی گفتگو کو غور سے سن رہا تھا، میں حیران تھا کہ وہ چاہتا کیا ہے اور اسکے خیالات اس قدر پریشان و مضطرب کیوں ہیں۔ بیشتر اوقات میں نے خیال کیا کہ شاید وہ پاگل ہے۔ اسکی گفتگو با معنی ضرور تھی مگر لہجے میں ایک عجیب قسم کی دیوانگی تھی۔ اسکی عمر یہی کوئی پچیس تیس برس کے قریب ہو گی، ڈاڑھی کے بال جو ایک عرصے سے مونڈے نہ گئے تھے کچھ اس انداز میں اس کے چہرے پر اگے ہوئے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کسی خشک روٹی پر بہت سی چیونٹیاں چمٹی ہوئی ہیں۔ گال اندر کو پچکے ہوئے تھے، ماتھا باہر کی طرف ابھرا ہوا، ناک نوکیلی، آنکھیں بڑی جن سے وحشت ٹپکتی تھی، سر پر خشک اور خاک آلود بالوں کا ایک ہجوم۔ بڑے سے بھورے کوٹ میں وہ واقعی شاعر معلوم ہو رہا تھا، ایک دیوانہ شاعر، جیسا کہ اس نے خود اس نام سے اپنے آپ کو متعارف کرایا تھا۔\n\nمیں نے اکثر اوقات اخباروں میں ایک جماعت کا حال پڑھا تھا، اس جماعت کے خیالات دیوانے شاعر کے خیالات سے بہت حد تک ملتے جلتے تھے، میں نے خیال کیا کہ شاید وہ بھی اسی جماعت کا رکن ہے۔\n\n\"آپ انقلابی معلوم ہوتے ہیں۔\"\n\nاس پر وہ کھل کھلا کر ہنس پڑا۔ \"آپ نے یہ بہت بڑا انکشاف کیا ہے، میاں میں تو کوٹھوں کی چھتوں پر چڑھ چڑھ کر پکارتا ہوں، میں انقلابی ہوں، میں انقلابی ہوں، مجھے روک لے جس سے بن پڑتا ہے، آپ نے واقعی بہت بڑا انکشاف کیا ہے۔\"\n\nیہ کہہ کر ہنستے ہوئے وہ اچانک سنجیدہ ہو گیا۔\n\n\"سکول کے ایک طالب علم کی طرح انقلاب کے حقیقی معانی سے تم بھی نا آشنا ہو۔ انقلابی وہ ہے جو ہر نا انصافی اور ہر غلطی پر چلا اٹھے، انقلابی وہ ہے جب سب زمینوں سب آسمانوں سب زبانوں اور سب وقتوں کا ایک مجسم گیت ہو۔ انقلابی، سماج کے قصاب خانے کی ایک بیمار اور فاقوں مری بھیڑ نہیں، وہ ایک مزدور ہے تنو مند جو اپنے آہنی ہتھوڑے کی ایک ضرب سے ہی ارضی جنت کے دروازے وا کر سکتا ہے۔ میرے عزیز، یہ منطق، خوابوں اور نظریوں کا زمانہ نہیں، انقلاب ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ یہ یہاں پر موجود ہے، اسکی لہریں بڑھ رہی ہیں، کون ہے جو اب اس کو روک سکتا ہے یہ بند باندھنے پر نہ رک سکیں گی۔\"\n\nاسکا ہر لفظ ہتھوڑے کی اس ضرب کی مانند تھا جو سرخ لوہے پر پڑ کر اسکی شکل تبدیل کر رہا ہو۔ میں نے محسوس کیا کہ میری روح کسی غیر مرئی چیز کو سجدہ کر رہی ہے۔\n\nشام کی تاریکی بتدریج بڑھ رہی تھی، نیم کے درخت کپکپا رہے تھے، میرے سینے میں ایک نیا جہان آباد ہو رہا تھا۔ اچانک میرے دل سے کچھ الفاظ اٹھے اور لبوں سے باہر نکل گئے۔\n\n\"اگر انقلاب یہی ہے تو میں بھی انقلابی ہوں۔\"\n\nشاعر نے اپنا سر اٹھایا اور میرے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔\n\n\"تو پھر اپنے خون کو کسی طشتری میں نکال کر رکھ چھوڑو کہ ہمیں آزادی کے کھیت کے لیے اس سرخ کھاد کی بہت ضرورت محسوس ہو گی، آہ وہ وقت کس قدر خوشگوار ہو گا جب میری آہوں کی زردی تبسم کا رنگ اختیار کر لے گی۔\"\n\nیہ کہہ کر وہ کنوئیں کی منڈیر سے اٹھا اور میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیکر کہنے لگا۔ \"اس دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو حال سے مطمئن ہیں اگر تمھیں اپنی روح کی بالیدگی منظور ہے تو ایسے لوگوں سے ہمیشہ دور رہنے کی سعی کرنا، انکا احساس پتھرا گیا ہے۔ مستقبل کے جاں بخش مناظر انکی نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا اب میں چلتا ہوں۔\"\n\nاس نے بڑے پیار سے میرا ہاتھ دبایا اور پیشتر اسکے کہ میں اس سے کوئی اور بات کرتا وہ لمبے قدم اٹھاتا ہوا جھاڑیوں کے جھنڈ میں غائب ہو گیا۔\n\nباغ کی فضا پر خاموشی طاری تھی، میں سر جھکائے ہوئے خدا معلوم کتنا عرصہ اپنے خیالات میں غرق رہا کہ اچانک اس شاعر کی آواز 'رات کی رانی' کی دلنواز خوشبو میں گھلی ہوئی میرے کانوں تک پہنچی۔ وہ باغ کے دوسرے گوشے میں گا رہا تھا۔\n\nزمین ستاروں کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی ہے\nاٹھو اور ان نگینوں کو اسکے ننگے سینے پر جڑ دو\nڈھاؤ، کھودو، چیرو، مارو\nنئی دنیا کے معمارو، کیا تمھارے بازوؤں میں قوت نہیں ہے؟\nمیں آہوں کا بیوپاری ہوں\nلہو کی شاعری میرا کام ہے\n\nگیت ختم ہونے پر میں باغ میں کتنے عرصے تک بیٹھا رہا یہ مجھے قطعاً یاد نہیں۔ والدہ کا بیان ہے کہ میں اس روز گھر بہت دیر سے آیا تھا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%92/_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1"} {"title": "آتش پارے/ طاقت کا امتحان", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "آتش پارے", "year": "1936", "text_ur": "\"کھیل خوب تھا، کاش تم بھی وہاں موجود ہوتے۔\"\n\n\"مجھے کل کچھ ضروری کام تھا مگر اس کھیل میں کونسی چیز ایسی قابلِ دید تھی جس کی تم اتنی تعریف کر رہے ہو؟\"\n\n\"ایک صاحب نے چند جسمانی ورزشوں کے کرتب دکھلائے کہ ہوش گم ہو گیا۔\"\n\n\"مثلاً۔\"\n\n\"مثلاً کلائی پر ایک انچ موٹی آہنی سلاخ کو خم دینا۔\"\n\n\"یہ آجکل بچے بھی کر سکتے ہیں۔\"\n\n\"چھاتی پر چکی کا پتھر رکھوا کر آہنی ہتھوڑوں سے پاش پاش کرانا۔\"\n\n\"میں نے ایسے بیسیوں شخص دیکھے ہیں۔\"\n\n\"مگر وہ وزن جو اس نے دو ہاتھوں سے اٹھا کر ایک تنکے کی طرح پرے پھینک دیا کسی اور شخص کی بات نہیں، یہ تمھیں بھی ماننا پڑے گا۔\"\n\n\"بھلے آدمی یہ کونسا اہم کام ہے، وزن کتنا تھا آخر۔\"\n\n\"کوئی چار من کے قریب ہو گا، کیوں؟\"\n\n\"اتنا وزن تو شہر کا فاقہ زدہ مزدور گھنٹوں پشت پر اٹھائے رہتا ہے۔\"\n\n\"بالکل غلط۔\"\n\n\"وہ کیوں؟\"\n\n\"غلیظ ٹکڑوں پر پلے ہوئے مزدور میں اتنی قوت نہیں ہو سکتی۔ طاقت کے لئے اچھی غذا کا ہونا لازم ہے۔ شہر کا مزدور۔۔۔۔۔۔۔کسیی باتیں کر رہے ہو۔\"\n\n\"غذا والے معاملے کے متعلق میں تم سے متفق ہوں مگر یہ حقیقت ہے۔ یہاں ایسے بہتیرے مزدور ہیں جو دو پیسے کی خاطر چار من بلکہ اس سے کچھ زیادہ وزن اٹھا کر تمھارے گھر کی دوسری منزل پر چھوڑ آ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔کہو تو اسے ثابت کر دوں؟\"\n\nیہ گفتگو دو نوجوان طلبہ میں ہو رہی تھی جو ایک پر تکلف کمرے کی گدی دار کرسیوں پر بیٹھے سگریٹ کا دھواں اڑا رہے تھے۔\n\n\"میں اسے ہر گز نہیں مان سکتا اور باور آئے بھی کس طرح۔۔۔۔۔۔قاسم چوب فروش کے مزدور ہی کو لو۔ کمبخت سے ایک من لکڑیاں بھی تو اٹھائی نہیں جاتیں۔ ہزاروں میں ایک ایسا طاقتور ہو تو اچنبھا نہیں ہے۔\"\n\n\"چھوڑو یار اس قصے کو، بھاڑ میں جائیں یہ سب مزدور اور چولھے میں جائے انکی طاقت۔ سناؤ آج تاش کی بازی لگ رہی ہے؟\"\n\n\"تاش کی بازیاں تو لگتی ہیں رہیں گی، پہلے اس بحث کا فیصلہ ہونا چاہیئے۔\"\n\nسامنے والی دیوار پر آویزاں کلاک ہر روز اسی قسم کی لا یعنی گفتگوؤں سے تنگ آ کر برابر اپنی ٹک ٹک کئے جا رہا تھا۔ سگریٹ کا دھواں انکے منہ سے آزاد ہو کر بڑی بے پروائی سے چکر لگاتا ہوا کھڑکی کے راستے باہر نکل رہا تھا۔ دیواروں پر لٹکی ہوئی تصاویر کے چہروں پر بے فکری و بے اعتنائی کی جھلکیاں نظر آتی تھیں۔ کمرے کا فرنیچر سالہا سال سے ایک ہی جگہ پر جما ہوا کسی تغیر سے نا امید ہو کر بے حس پڑا سوتا تھا۔ آتشدان کے طاق پر رکھا ہوا کسی یونانی مفکر کا مجسمہ اپنی سنگین نگاہوں سے آدم کے ان دو فرزندوں کی بے معنی گفتگو سن کر تعجب سے اپنا سر کھجلا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔کمرے کی فضا ان بھدی اور فضول باتوں سے کثیف ہو رہی تھی۔\n\nتھوڑی دیر تک دونوں دوست تاش کی مختلف کھیلوں، برج کے اصولوں اور روپیہ جیتنے کے طریقوں پر اظہارِ خیالات کرتے رہے۔ دفعتاً ان میں وہ جسے مزدور کی طاقت کے متعلق پورا یقین تھا اپنے دوست سے مخاطب ہوا۔\n\n\"باہر بازار میں لوہے کا جو گارڈر پڑا ہے وہ تمھارے خیال میں کتنا وزن رکھتا ہو گا۔\"\n\n\"پھر وہی بحث۔\"\n\n\"تم بتاؤ تو سہی\"\n\n\"پانچ چھ من کے قریب ہو گا۔\"\n\n\"یہ وزن تو تمھاری نظر میں کافی ہے نا؟\"\n\n\"یعنی تمھارا یہ مطلب ہے کہ لوہے کی یہ بھاری بھر کم لاٹھ تمھارا مزدور پہلوان اٹھائے گا۔۔۔۔۔۔گدھے والی گاڑی ضرور ہو گی اسکے ساتھ۔\"\n\n\"یہاں کے مزدور بھی گدھوں سے کیا کم ہیں۔ گیہوں کی دو تین بوریاں اٹھانا تو انکے نزدیک معمولی کام ہے۔۔۔۔۔۔۔مگر تمھیں کیا پتہ ہو سکتا ہے۔ کہو تو، تمھارے کل والے کھیل سے کہیں حیرت انگیز اور بہت سستے داموں ایک نیا تماشا دکھاؤں۔\"\n\n\"اگر تمھارا مزدور لوہے کا وہ وزنی ٹکڑا اٹھائے گا تو میں تیار ہوں۔\"\n\n\"تمھاری آنکھوں کے سامنے اور بغیر کسی چالاکی کے۔\"\n\nدونوں دوست اپنے اپنے سگریٹ کی خاکدان میں گردن دبا کر اٹھے اور باہر بازار کی طرف مزدور کی طاقت کا امتحان کرنے چل دیئے۔ کمرے کی تمام اشیاء کسی گہری فکر میں غرق ہو گئیں، جیسے انہیں کسی غیر معمولی حادثے کا خوف ہو، کلاک اپنی انگلیوں پر کسی متعینہ وقت کی گھڑیاں شمار کرنے لگا۔ دیواروں پر آویزاں تصویریں حیرت میں ایک دوسرے کا منہ تکنے لگیں۔۔۔۔۔۔۔کمرے کی فضا خاموش آہیں بھرنے لگ گئی۔\n\nلوہے کا وہ بھاری بھر کم ٹکڑا لاش کا سا سرد اور کسی وحشتناک خواب کی طرح تاریک، بازار کے ایک کونے میں بھیانک دیو کی مانند اکڑا ہوا تھا۔ دونوں دوست لوہے کے اس ٹکڑے کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور کسی مزدور کا انتظار کرنے لگے۔\n\nبازار بارش کی وجہ سے کیچڑ میں لت پت تھا، جو راہگزروں کے جوتوں کے ساتھ اچھل اچھل کر انکا مضحکہ اڑا رہی تھی۔ یوں معلوم ہوتا گویا وہ اپنے روندنے والوں سے کہہ رہی ہے کہ وہ اسی آب و گِل کی تخلیق ہیں جسے وہ اس وقت پاؤں سے گوندھ رہے ہیں۔ مگر وہ اس حقیقت سے غافل اپنے دنیاوی کام دھندوں کی دھن میں مصروف کیچڑ کے سینے کو مسلتے ہوئے ادھر ادھر جلد جلد قدم اٹھاتے ہوئے جا رہے تھے۔\n\nکچھ دکاندار اپنے گاہکوں کے ساتھ سودا کرنے طے کرنے میں مصروف تھے اور کچھ سجی ہوئی دکانوں میں تکیہ لگائے اپنے حریف ہم پیشہ دکانداروں کی طرف حاسدانہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے اور اس وقت کے منتظر تھے کہ کوئی گاہک وہاں سے ہٹے اور وہ اسے کم قیمت کا جھانسا دیکر گھٹیا مال فروخت کر دیں۔\n\nان منیاری کی دکانوں کے ساتھ ہی ایک دوا فروش اپنے مریض گاہکوں کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بازار میں سب لوگ اپنے اپنے خیال میں مست تھے اور یہ دو دوست کسی دنیاوی فکر سے بے پروا ایک ایسے مزدور کی راہ دیکھ رہے تھے جو انکی دلچسپی کا سامان مہیا کر سکے۔\n\nدُور بازار کے آخری سرے پر ایک مزدور کمر کے گرد رسی لپیٹے اور پشت پر ٹاٹ کا ایک موٹا سا ٹکڑا لٹکائے کیچڑ کی طرف معنی خیز نگاہوں سے دیکھتا ہوا چلا آ رہا تھا۔\n\nنانبائی کی دکان کے قریب پہنچ کر وہ دفعتاً ٹھٹکا، سالن کی دیگچیوں اور تنور سے تازہ نکلی ہوئی روٹیوں نے اسکے پیٹ میں نوکدار خنجروں کا کام کیا۔\n\nمزدور نے اپنی پھٹی ہوئی جیب کی طرف نگاہ کی اور گرسنہ دانتوں سے اپنے خشک لبوں کو کاٹ کر خاموش رہ گیا، سرد آہ بھری اور اسی رفتار سے چلنا شروع کر دیا۔ چلتے وقت اسکے کان بڑی بے صبری سے کسی کی دل خوش کن آواز \"مزدور\" کا انتظار کر رہے تھے مگر اس کے دل میں نہ معلوم کیا کیا خیالات چکر لگا رہے تھے۔\n\n\"دو تین دن سے روٹی بمشکل نصیب ہوئی ہے اب چار بجنے کو آئے ہیں مگر ایک کوڑی تک نہیں ملی۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاش آج صرف ایک روٹی کے لئے ہی کچھ نصیب ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔بھیک؟۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔نہیں خدا کارساز ہے۔\"\n\nاس نے بھوک سے تنگ آ کر بھیک مانگنے کا خیال کیا مگر اسے ایک مزدور کی شان کے خلاف سمجھتے ہوئے خدا کا دامن تھام لیا اور اس خیال سے مطمئن ہو کر جلدی جلدی اس بازار کو طے کرنے لگا، اس خیال سے کہ شاید دوسرے بازار میں اسے کچھ نصیب ہو جائے۔\n\nدونوں دوستوں نے بیک وقت ایک مزدور کو تیزی سے اپنی طرف قدم بڑھاتے دیکھا، مزدور دبلا پتلا نہ تھا چنانچہ انہوں نے فوراً آواز دی۔\n\n\"مزدور۔\"\n\nیہ سنتے ہی گویا مزدور کے سوکھے دھانوں میں پانی مل گیا، بھاگا ہوا آیا اور نہایت ادب سے پوچھنے لگا۔\n\n\"جی حضور۔\"\n\n\"دیکھو، لوہے کا یہ ٹکڑا اٹھا کر ہمارے ساتھ چلو، کتنے پیسے لو گے؟\"\n\nمزدور نے جھک کر لوہے کے بھاری بھر کم ٹکڑے کی طرف دیکھا اور دیکھتے ہی اسکی آنکھوں کی وہ چمک جو \"مزدور\" کا لفظ سن کر پیدا ہوئی تھی، غائب ہو گئی۔\n\nوزن بلا شک و شبہ زیادہ تھا مگر روٹی کے قحط اور پیٹ پوجا کے لئے سامان پیدا کرنے کا سوال اس سے کہیں وزنی تھا۔\n\nمزدور نے ایک بار پھر اس آہنی لاٹھ کی طرف دیکھا اور دل میں عزم کرنے کے بعد کہ وہ اسے ضرور اٹھائے گا، ان سے بولا۔\n\n\"جو حضور فرمائیں۔\"\n\n\"یعنی تم یہ وزن اکیلے اٹھا لو گے؟\" ان دو لڑکوں میں سے اس نے مزدور کی طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا جو کل شب جسمانی کرتب دیکھ کر آیا تھا۔\n\n\"بولو کیا لو گے؟ یہ وزن بھلا کہاں سے زیادہ ہوا؟\" دوسرے نے بات کا رخ پلٹ دیا۔\n\n\"کہاں تک جانا ہو گا حضور۔\"\n\n\"بہت قریب، دوسرے بازار کے نکڑ تک۔\"\n\n\"وزن زیادہ ہے، آپ تین آنے دیدیجئے۔\"\n\n\"تین آنے۔\"\n\n\"جی ہاں، تین آنے کچھ زیادہ تو نہیں ہیں۔\"\n\n\"دو آنے مناسب ہے بھئی۔\"\n\nدو آنے۔۔۔۔۔۔۔آٹھ پیسے، یعنی دو وقت کے لئے سامانِ خورد و نوش، یہ سوچتے ہی مزدور راضی ہو گیا۔ اس نے اپنی کمر سے رسی اتاری اور اسے لوہے کے ٹکڑے کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا، دو تین جھٹکوں کے بعد وہ آہنی سلاخ اسکی کمر پر تھی۔\n\nگو وزن واقعی ناقابلِ برداشت تھا مگر تھوڑے عرصے کے بعد ملنے والی روٹی نے مزدور کے جسم میں عارضی طور پر ایک غیر معمولی طاقت پیدا کر دی تھی، اب ان کاندھوں میں جو بھوک کی وجہ سے مردہ ہو رہے تھے، روٹی کا نام سن کر طاقت عود کر آئی۔\n\nگرسنہ انسان بڑی سے بڑی مشقت فراموش کر دیتا ہے، جب اسے اپنے پیٹ کے لئے کچھ سامان نظر آتا ہے۔\n\n\"آئیے۔\" مزدور نے بڑی ہمت سے کام لیتے ہوئے کہا۔\n\nدونوں دوستوں نے ایک دوسرے کی طرف نگاہیں اٹھائیں اور زیرِ لب مسکرا دیئے، وہ بہت مسرور تھے۔\n\n\"چلو، مگر ذرا جلدی قدم بڑھاؤ، ہمیں کچھ اور بھی کام کرنا ہے۔\"\n\nمزدور ان دو لڑکوں کے پیچھے ہو لیا، وہ اس حقیقت سے بے خبر تھا کہ موت اسکے کاندھوں پر سوار ہے۔\n\n\"کیوں میاں، کہاں ہے وہ تمھارا کل والا سینڈو؟\"\n\n\"کمال کر دیا ہے اس مزدور نے، واقعی سخت تعجب ہے۔\"\n\n\"تعجب؟ اگر کہو تو اس لوہے کے ٹکڑے کو تمھارے گھر کی بالائی چھت پر رکھوا دوں۔\"\n\n\"مگر سوال ہے کہ ہم لوگ اچھی غذا ملنے پر بھی اتنے طاقتور نہیں ہیں۔\"\n\n\"ہماری غذا تو کتابوں اور دیگر علمی چیزوں کی نذر ہو جاتی ہے۔ انھیں اس قسم کی سر دردی سے کیا تعلق؟ بے فکری، کھانا اور سو جانا۔\"\n\n\"واقعی درست ہے۔\"\n\nلڑکے مزدور پر لدے ہوئے بوجھ اور اسکی خمیدہ کمر سے غافل آپس میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔\n\nوہاں سے سو قدم کے فاصلے پر مزدور کی قضا کیلے کے چھلکے میں چھپی ہوئی اپنے شکار کا انتظار کر رہی تھی۔ گو مزدور کیچڑ میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا تھا مگر تقدیر کے آگے تدبیر کی ایک بھی پیش نہ چلی۔ اسکا قدم چھلکے پر پڑا، پھسلا اور چشم زدن میں لوہے کی اس بھاری لاٹھ نے اسے کیچڑ میں پیوست کر دیا۔\n\nمزدور نے مترحم نگاہوں سے کیچڑ اور لوہے کے سرد ٹکڑے کی طرف دیکھا، تڑپا اور ہمیشہ کے لیئے بھوک کی گرفت سے آزاد ہو گیا۔\n\nدھماکے کی آواز سن کر دونوں لڑکوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، مزدور کا سر آہنی سلاخ کے نیچے کچلا ہوا تھا، آنکھیں باہر نکلی ہوئی نہ معلوم کس سمت ٹکٹکی لگائے دیکھ رہی تھیں۔ خون کی ایک موٹی سی تہہ کیچڑ کے ساتھ ہم آغوش ہو رہی تھی۔\n\n\"چلو آؤ چلیں، ہمیں خواہ مخواہ اس حادثے کا گواہ بننا پڑے گا۔\"\n\n\"میں پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ یہ وزن اس سے نہیں اٹھایا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔لالچ۔\"\n\nیہ کہتے ہوئے دونوں لڑکے مزدور کی لاش کے گرد جمع ہوتی ہوئی بھیڑ کو کاٹتے ہوئے اپنے گھر روانہ ہو گئے۔\n\nسامنے والی دکان پر ایک بڑی توند والا شخص ٹیلیفون کا چونگا ہاتھ میں لئے غالباً گندم کا بھاؤ طے کرنے والا تھا کہ اس نے مزدور کو موت کا شکار ہوتے دیکھا اور اس حادثے کو منحوس خیال کرتے ہوئے بڑبڑا کر ٹیلیفون کا سلسلۂ گفتگو منقطع کر لیا۔\n\n\"کمبخت کو مرنا بھی تھا تو میری دکان کے سامنے۔۔۔۔۔۔۔۔بھلا ان لوگوں کو اس قدر وزن اٹھانے پر کون مجبور کرتا ہے۔\"\n\nتھوڑی دیر کے بعد اسپتال کی آہنی گاڑی آئی اور مزدور کی لاش اٹھا کر عملِ جراحی کے لیئے ڈاکٹروں کے سپرد کر دی۔\n\nدھندلے آسمان پر ابر کے ایک ٹکڑے نے مزدور کے خون کو کیچڑ میں ملتے ہوئے دیکھا، اسکی آنکھوں میں آنسو چھلک پڑے۔۔۔۔۔۔۔ان آنسوؤں نے سڑک کے سینے پر اس خون کے دھبوں کو دھو دیا۔\n\nآہنی لاٹھ ابھی تک بازار کے ایک کنارے پڑی ہوئی ہے، مزدور کے خون کا صرف ایک قطرہ باقی ہے جو دیوار کے ساتھ چمٹا ہوا نہ معلوم کس چیز کا اپنی خونیں آنکھوں سے انتظار کر رہا ہے۔ ٭٭٭\n\n5 جنوری 1935ء\n\nاشاعتِ اول۔ ہفتہ وار \"خلق\" اشاعتِ ثانی۔ \"عالمگیر\"", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%92/_%D8%B7%D8%A7%D9%82%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%86"} {"title": "آتش پارے/ ماہی گیر", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "آتش پارے", "year": "1936", "text_ur": "(فرانسیسی شاعر وکٹر ہیوگو کی ایک نظم کے تاثرات)\n\nسمندر رو رہا تھا۔\n\nمقید لہریں پتھریلے ساحل کے ساتھ ٹکرا ٹکرا کر آہ و زاری کر رہی تھیں۔ دور۔۔۔۔۔۔پانی کی رقصاں سطح پر چند کشتیاں اپنے دھندلے اور کمزور بادبانوں کے سہارے بے پناہ سردی سے ٹھٹھری ہوئی کانپ رہی تھیں۔ آسمان کی نیلی قبا میں چاند کھل کھلا کر ہنس رہا تھا۔ ستاروں کا کھیت اپنے پورے جوبن میں لہلہا رہا تھا۔۔۔۔۔۔فضا سمندر کے نمکین پانی کی تیز بو میں بسی ہوئی تھی۔\n\nساحل سے کچھ فاصلے پر چند شکستہ جھونپڑیاں خاموش زبان میں ایک دوسرے سے اپنی خستہ حالی کا تذکرہ کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔یہ ماہی گیروں کے سر چھپانے کی جگہ تھی۔\n\nایک جھونپڑی کا دروازہ کھلا تھا جس میں چاند کی آوارہ شعاعیں زمین پر رینگ رینگ کر اسکی کاجل ایسی فضا کو نیم روشن کر رہی تھیں۔ اس اندھی روشنی میں دیوار پر ماہی گیر کا جال نظر آ رہا تھا اور ایک چوبی تختے پر چند تھالیاں جھلملا رہی تھیں۔\n\nجھونپڑی کے کونے میں ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی، تاریک چادروں میں ملبوس اندھیرے میں سر نکالے ہوئے تھی۔ اس کے پہلو میں پھٹے ہوئے ٹاٹ پر پانچ بچے محوِ خواب تھے۔۔۔۔۔۔۔ننھی روحوں کا ایک گھونسلا جو خوابوں سے تھر تھرا رہا تھا۔ پاس ہی انکی ماں نہ معلوم کن خیالات میں مستغرق گھٹنوں کے بل بیٹھی گنگنا رہی تھی۔\n\nیکایک وہ لہروں کا شور سن کر چونکی۔۔۔۔بوڑھا سمندر کسی آنیوالے خطرے سے آگاہ، سیاہ چٹانوں، تند ہواؤں اور نصف شب کی تاریکی کو مخاطب کر کے گلا پھاڑ پھاڑ کر چلا رہا تھا۔ وہ اٹھی اور بچوں کے پاس جا کر ہر ایک کی پیشانی پر اپنے سرد لبوں سے بوسہ دیا اور وہیں ٹاٹ کے ایک کونے میں بیٹھ کر دعا مانگنے لگی۔ لہروں کے شور میں یہ الفاظ بخوبی سنائی دے رہے تھے۔\n\n\"اے خدا۔۔۔۔۔اے بیکسوں اور غریبوں کے خدا، ان بچوں کا واحد سہارا، رات کا کفن اوڑھے سمندر کی لہروں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔موت کے عمیق گڑھے پر پاؤں لٹکائے ہے۔۔۔۔۔۔صرف انکی خاطر وہ ہر روز اس دیو کے ساتھ کُشتی لڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اے خدا تو اسکی جان حفاظت میں رکھیو۔۔۔۔۔۔۔آہ، اگر یہ صرف نوجوان ہوتے، اگر یہ صرف اپنے والد کی مدد کر سکتے۔\"\n\nیہ کہکر خدا معلوم اسے کیا خیال آیا کہ وہ سر سے پیر تک کانپ گئی۔ اور ٹھنڈی آہ بھر کر تھرتھراتی ہوئی آواز میں کہنے لگی۔ \"بڑے ہو کر انکا بھی یہی شغل ہو گا، پھر مجھے چھ جانوں کا خدشہ لاحق رہے گا۔۔۔۔۔۔۔آہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ غربت، غربت۔\"\n\nیہ کہتے ہوئے وہ اپنی غربت اور تنگ دامانی کے خیالات میں غرق ہو گئی۔ دفعتاً وہ اس اندھیرے خواب سے بیدار ہوئی اور اسکے دماغ میں ہوٹلوں کی دیو قامت عمارتیں اور امراء کے راحت کدوں کی تصویریں کھچ گئیں۔ ان عمارتوں کی دلفریب راحتوں اور امراء کی تعیش پرستیوں کا خیال آتے ہی اسکے دل پر ایک دھند سی چھا گئی۔ کلیجے پر کسی غیر مرئی ہاتھ کی گرفت محسوس کر کے وہ جلدی سے اٹھی اور دروازے سے تاریکی میں آوارہ نظروں سے دیکھنا شروع کیا۔\n\nاسکی یہ حرکت خیالات کی آمد کو نہ روک سکی۔ وہ سخت حیران تھی کہ لوگ امیر اور غریب کیوں ہوتے ہیں جبکہ ہر انسان ایک ہی طرح ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سوال کے حل کے لیے اس نے اپنے دماغ پر بہت زور دیا مگر کوئی خاطر خواہ جواب نہ مل سکا۔ ایک اور چیز جو اسے پریشان کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ جب اسکا خاوند اپنی جان پر کھیل کر سمندر کی گود سے مچھلیاں چھین کر لاتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ مارکیٹ کا مالک بغیر محنت کئے ہر روز سینکڑوں روپے پیدا کر لیتا ہے۔ اسے یہ بات خاص طور پر عجیب سی معلوم ہوئی کہ محنت تو کریں ماہی گیر اور نفع ہو مارکیٹ کے مالک کو۔ رات بھر اسکا خاوند اپنا خون پسینہ ایک کر دے اور صبح کے وقت آدھی کمائی اسکی بڑی توند میں چلی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان تمام سوالوں کا کچھ جواب نہ پا کر وہ ہنس پڑی اور بلند آواز میں کہنے لگی۔\n\n\"مجھ کم عقل کو بھلا کیا معلوم۔ یہ سب کچھ خدا جانتا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔\"\n\nاسکے بعد وہ کچھ کہنے والی تھی کہ کانپ اٹھی۔ \"اے خدا میں گنہگار ہوں، تو جو کرتا ہے، بہتر کرتا ہے۔۔۔۔۔ایسا خیال کرنا کفر ہے۔\"\n\nیہ کہتی ہوئی وہ خاموشی سے اپنے بچوں کے پاس آ کر بیٹھ گئی اور انکے معصوم چہروں کی طرف دیکھکر بے اختیار رونا شروع کر دیا۔\n\nباہر آسمان پر کالے بادل مہیب ڈائنوں کی صورت میں اپنے سیاہ بال پریشان کئے چکر کاٹ رہے تھے۔ کبھی کبھی اگر کوئی بادل کا ٹکڑا چاند کے درخشاں رخسار پر اپنی سیاہی مل دیتا تو فضا پر قبر کی تاریکی چھا جاتی۔ سمندر کی سیمیں لہریں گہرے رنگ کی چادر اوڑھ لیتیں اور کشتیوں کے مستولوں پر ٹمٹماتی ہوئی روشنیاں اس اچانک تبدیلی کو دیکھ کر آنکھیں جھپکنا شروع کر دیتیں۔\n\nماہی گیر کی بیوی نے اپنے میلے آنچل سے آنسو خشک کئے اور دروازے کے پاس کھڑی ہو کر دیکھنے لگی کہ آیا دن طلوع ہوا ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس کا خاوند طلوع کی پہلی کرن کے ساتھ ہی گھر واپس آ جایا کرتا تھا مگر صبح کا ایک سانس بھی بیدار نہ ہوا تھا۔ سمندر کی تاریک سطح پر روشنی کی ایک دھاری بھی نظر نہ آ رہی تھی۔ بارش کاجل کی طرح تمام فضا پر برس رہی تھی۔\n\nوہ بہت دیر تک دروازے کے پاس کھڑی اپنے خاوند کے خیال میں مستغرق رہی۔ جو اس بارش میں سمندر کی تند موجوں کے مقابلے میں لکڑی کے ایک معمولی تختے اور کمزور بادبان سے مسلح تھا۔ وہ ابھی اسکی عافیت کے لیے دعا مانگ رہی تھی کہ یکایک اس کی نگاہیں اندھیرے میں ایک شکستہ جھونپڑی کی طرف اٹھیں، جو تاروں سے محروم آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے لرز رہی تھی۔\n\nاس جھونپڑی میں روشنی کا نام تک نہ تھا۔ کمزور دروازہ کسی نا معلوم خوف کی وجہ سے کانپ رہا تھا۔ تنکوں کی چھت ہوا کے دباؤ تلے دوہری ہو رہی تھی۔\n\n\"آہ، خدا معلوم بیچاری بیوہ کا کیا حال ہے۔۔۔۔۔۔اسے کئی روز سے بخار آ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔\" ماہی گیر کی بیوی زیرِ لب بڑبڑائی اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ شاید کسی روز وہ بھی اپنے خاوند سے محروم ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔کانپ اٹھی۔\n\nوہ شکستہ جھونپڑی ایک بیوہ کی تھی جو اپنے دو کم سن بچوں سمیت روٹی کے قحط میں موت کی گھڑیاں کاٹ رہی تھی۔ مصیبت کی چچلتی ہوئی دھوپ میں اس پر کوئی سایہ کرنے والا نہ تھا۔ رہا سہا سہارا دو ننھے بچے تھے جو ابھی مشکل سے چل پھر سکتے تھے۔\n\nماہی گیر کی بیوی کے دل میں ہمدردی کا جذبہ امڈا۔ بارش کے بچاؤ کے لیے سر پر ٹاٹ کا ایک ٹکڑا رکھ کر اور ایک اندھی لالٹین روشن کرنے کے بعد وہ جھونپڑی کے پاس پہنچی اور دھڑکتے ہوئے دل سے دروازے پر دستک دی۔۔۔۔۔۔لہروں کا شور اور تیز ہواؤں کی چیخ پکار اس دستک کا جواب تھے، وہ کانپی اور خیال کیا کہ شاید اسکی اچھی ہمسائی گہری نیند سو رہی ہے۔\n\nاس نے ایک بار پھر آواز دی، دروازہ کھٹکھٹایا مگر جواب پھر خاموشی تھا۔۔۔۔۔۔کوئی صدا، کوئی جواب اس جھونپڑی کے بوسیدہ لبوں سے نمودار نہ ہوا۔ یکایک دروازہ، جیسے اس بے جان چیز نے رحم کی لہر محسوس کی، متحرک ہوا اور کھل گیا۔\n\nماہی گیر کی بیوی جھونپڑی کے اندر داخل ہوئی اور اس خاموش قبر کو اپنی اندھی لالٹین سے روشن کر دیا، جس میں لہروں کے شور کے سوا مکمل سکوت طاری تھا۔ پتلی چھت سے بارش کے قطرے بڑے بڑے آنسوؤں کی صورت میں سیاہ زمین کو تر کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔فضا میں ایک مہیب خوف سانس لے رہا تھا۔\n\nماہی گیر کی بیوی اس خوفناک سماں کو دیکھ کر جو جھونپڑی میں سمٹا ہوا تھا سر تا پا ارتعاش بن کر رہ گئی۔ آنکھوں میں گرم گرم آنسو چھلکے اور بے اختیار اچھل کر بارش کے ٹپکے ہوئے قطروں کے ساتھ ہم آغوش ہو گئے۔ اس نے ایک سرد آہ بھری اور دردناک آواز میں کہنے لگی۔\n\n\"آہ۔۔۔۔۔تو ان بوسوں کا جو جسم کو راحت بخشتے ہیں، ماں کی محبت، گیت، تبسم، ہنسی اور ناچ کا ایک ہی انجام ہے۔۔۔۔۔۔۔یعنی قبر۔۔۔۔۔۔۔آہ میرے خدا۔\"\n\nاسکے سامنے پھوس کے بستر پر بیوہ کی سرد لاش اکڑی ہوئی تھی اور اسکے پہلو میں دو بچے محو خواب تھے۔ لاش کے سینے میں ایک آہ کچھ کہنے کو رکی ہوئی تھی۔ اسکی پتھرائی ہوئی آنکھیں جھونپڑی کی خستہ چھت کو چیر کر تاریک آسمان کی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھ رہی تھیں، جیسے انہیں کچھ پیغام دینا ہے۔\n\nماہی گیر کی بیوی اس وحشت خیز منظر کو دیکھ کر چلا اٹھی۔ تھوڑی دیر دیوانہ وار ادھر ادھر گھومی۔ یکایک اسکی نمناک آنکھوں میں ایک چمک پیدا ہوئی، اور اس نے لپک کر لاش کے پہلو سے کچھ چیز اٹھا کر اپنی چادر میں لپیٹ لی اور اس دار الخطر سے لڑکھڑاتی ہوئی اپنی جھونپڑی میں چلی آئی۔\n\nچہرے کے بدلے ہوئے رنگ اور لرزاں ہاتھوں سے اس نے اپنی جھولی کو میلے بستر پر خالی کر دیا اور اس پر پھٹی ہوئی چادر ڈال دی۔ تھوڑی دیر بیوہ سے چھینی ہوئی چیز کی طرف دیکھ کر وہ اپنے بچوں کے پاس زمین پر بیٹھ گئی۔\n\nمطلع سمندر کے افق پر سپید ہو رہا تھا۔ سورج کی دھندلی شعاعیں تاریکی کا تعاقب کر رہی تھیں۔ ماہی گیر کی بیوی بیٹھی اپنے احساسِ جرم کے شکستہ تار چھیڑ رہی تھی۔ ان غیر مربوط الفاظ کے ساتھ کن سُری لہریں اپنی مغموم تانیں چھیڑ رہی تھیں۔\n\n\"آہ میں نے بہت برا کیا۔ اب اگر وہ مجھے مارے تو مجھے کوئی شکایت نہ ہو گی۔۔۔۔۔یہ بھی عجیب ہے کہ میں اس سے خائف ہوں جس سے محبت کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔کیا واپس چھوڑ آؤں۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔شاید وہ مجھے معاف کر دے۔\"\n\nوہ اسی قسم کے خیالات میں غلطاں و پیچاں بیٹھی ہوئی تھی کہ ہوا کے زور سے دروازہ ہلا۔ یہ دیکھ کر اس کا کلیجہ دھک سے رہ گیا، وہ اٹھی اور کسی کو نہ پا کر وہیں متفکر بیٹھ گئی۔\n\n\"ابھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔بیچارہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے ان بچوں کے لیے کتنی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ اکیلے آدمی کو سات پیٹ پالنے پڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔مگر یہ شور کیا ہے؟\"\n\nیہ آواز چیختی ہوئی ہوا کی تھی جو جھونپڑی کے ساتھ رگڑ کر گزر رہی تھی۔\n\n\"اسکے قدموں کی چاپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ نہیں ہوا ہے۔\" یہ کہہ کر وہ پھر اپنے اندرونی غم میں ڈوب گئی۔ اب اسکے کانوں میں ہواؤں اور لہروں کا شور مفقود ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔سینے میں خیالات کے تصادم کا کیا کم شور تھا۔\n\nآبی جانور ساحل کے آس پاس چلا رہے تھے۔ پانی میں گھسے ہوئے سنگریزے ایک دوسرے سے ٹکرا کر کھنکھنا رہے تھے۔ کشتی کے چپوؤں کی آواز صبح کی خاموش فضا کو مرتعش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ماہی گیر کی بیوی کشتی کی آمد سے بے خبر اپنے خیالات میں کھوئی ہوئی تھی۔\n\nدفعتاً دروازہ ایک شور کے ساتھ کھلا۔۔۔۔۔۔صبح کی دھندلی شعاعیں جھونپڑی میں تیرتی ہوئی داخل ہوئیں، ساتھ ہی ماہی گیر کاندھوں پر ایک بڑا سا جال ڈالے دہلیز پر نمودار ہوا۔\n\nاسکے کپڑے رات کی بارش اور سمندر کے نمکین پانی سے شرابور ہو رہے تھے۔ آنکھیں شب بیداری کی وجہ سے اندر کو دھنسی ہوئی تھیں۔ جسم سردی اور غیر معمولی مشقت سے اکڑا ہوا تھا۔\n\n\"نسیم کے ابا، تم ہو۔\" ماہی گیر کی بیوی چونک اٹھی اور عاشقانہ بیتابی سے اپنے خاوند کو چھاتی سے لگا لیا۔\n\n\"ہاں میں ہوں پیاری\"\n\nیہ کہتے ہوئے ماہی گیر کے کشادہ مگر مغموم چہرے پر مسرت کی ایک دھندلی روشنی چھا گئی۔ وہ مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔بیوی کی محبت نے اسکے دل سے رات کی کلفت کا خیال محو کر دیا۔\n\n\"موسم کیسا تھا؟\" بیوی نے محبت بھرے لہجے میں دریافت کیا۔\n\n\"تُند\"\n\n\"مچھلیاں ہاتھ آئیں؟\"\n\n\"بہت کم۔۔۔۔۔آج رات تو سمندر قزاقوں کے گروہ کی مانند تھا۔\"\n\nیہ سن کر اسکی بیوی کے چہرے پر مردنی چھا گئی۔ ماہی گیر نے اسے مغموم دیکھا اور مسکرا کر بولا۔\n\n\"تو میرے پہلو میں ہے۔۔۔۔۔۔میرا دل خوش ہے۔\"\n\n\"ہوا تو بہت تیز ہو گی؟\"\n\n\"بہت تیز، معلوم ہو رہا تھا کہ دنیا کہ تمام شیطان مل کر اپنے منحوس پر پھڑ پھڑا رہے ہیں۔ جال ٹوٹ گیا۔ رسیاں کٹ گئیں اور کشتی کا منہ بھی ٹوٹتے ٹوٹتے بچا۔\" پھر اس گفتگو کا رخ بدلتے ہوئے بولا۔ \"مگر تم شب بھر کیا کرتی رہی ہو پیاری؟\"\n\nبیوی کسی چیز کا خیال کر کے کانپی اور لرزاں آواز میں جواب دیا۔ \"میں۔۔۔۔۔۔آہ کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔سیتی پروتی رہی، تمھاری راہ تکتی رہی۔۔۔۔۔۔۔لہریں بجلی کی طرح کڑک رہی تھیں، مجھے سخت ڈر لگ رہا تھا۔\"\n\n\"ڈر۔۔۔۔۔۔ہم لوگوں کو ڈر کس بات کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\"\n\n\"اور ہاں، ہماری ہمسایہ بیوہ مر گئی ہے۔\" بیوی نے اپنے خاوند کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔\n\nماہی گیر نے یہ دردناک خبر سنی مگر اسے کچھ تعجب نہ ہوا۔ شاید اس لیے کہ وہ ہر گھڑی اس عورت کی موت کی خبر سننے کا متوقع تھا۔ اس نے آہ بھری اور صرف اتنا کہا۔ \"بیچاری سدھار گئی ہے۔\"\n\n\"ہاں اور دو بچے چھوڑ گئی ہے جو لاش کے پہلو میں لیٹے ہوئے ہیں۔\"\n\nیہ سن کر ماہی گیر کا جسم زور سے کانپا اور اسکی صورت سنجیدہ و متفکر ہو گئی۔ ایک کونے میں اپنی اونی ٹوپی، جو پانی سے بھیگ رہی تھی، پھینک کر سر کھجلایا اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اپنے آپ سے بولا۔\n\n\"پانچ بچے تھے، اب سات ہو گئے ہیں۔۔۔۔۔۔اس سے پیشتر ہی اس تُند موسم میں ہمیں دو وقت کا کھانا نصیب نہیں ہوتا تھا۔ اب مگر خیر۔۔۔۔یہ میرا قصور نہیں۔ اس قسم کے حوادث بہت گہرے معانی رکھتے ہیں۔\"\n\nوہ کچھ عرصے تک اسی طرح اپنا سر گھٹنوں میں دبائے سوچتا رہا۔ اسے یہ سمجھ نہ آتا تھا کہ خدا نے ان بچوں سے جو اسکی مٹھی کے برابر بھی نہیں ہیں، ماں کیوں چھین لی ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان بچوں سے جو نہ کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی چیز کی خواہش ہی کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔اسکا دماغ ان سوالوں کا کوئی حل نہ پیش کر سکا۔ وہ بڑبڑاتا ہوا اٹھا۔\n\n\"شاید ایسی چیزوں کو ایک پڑھا لکھا ہی سمجھ سکتا ہے۔\" اور پھر اپنی بیوی سے مخاطب ہو کر بولا۔ \"پیاری جاؤ انہیں یہاں لے آؤ۔ وہ کس قدر وحشت زدہ ہونگے اگر وہ صبح اپنی ماں کی لاش کے پاس بیدار ہوئے۔۔۔۔۔۔۔انکی ماں کی روح سخت بے قرار ہو گی، جاؤ انھیں ابھی لیکر آؤ۔\"\n\nیہ کہہ کر وہ سوچنے لگا کہ وہ ان بچوں کو اپنی اولاد کی طرح پالے گا۔ وہ بڑے ہو کر اسکے گھٹنوں پر چڑھنا سیکھ جائینگے۔ خدا ان اجنبیوں کو جھونپڑی میں دیکھ کر بہت خوش ہو گا اور انھیں زیادہ کھانے کو عطا کرے گا۔\n\n\"تمھیں فکر نہیں کرنی چاہیئے پیاری۔۔۔۔۔۔۔میں زیادہ محنت سے کام کروں گا۔\" اور پھر اپنی بیوی کو چارپائی کی طرف روانہ ہوتے دیکھ کر بلند آواز میں کہنے لگا۔ \"مگر تم سوچ کیا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔اس دھیمی چال سے نہیں چلنا چاہئے تمھیں۔\"\n\nماہی گیر کی بیوی نے چارپائی کے پاس پہنچ کر چادر کو الٹ دیا۔\n\n\"وہ تو یہ ہیں۔\"\n\nدو بچے صبح کی طرح مسکرا رہے تھے۔\n\nیکم فروری 1935ء", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%92/_%D9%85%D8%A7%DB%81%DB%8C_%DA%AF%DB%8C%D8%B1"} {"title": "آتش پارے/ پیش لفظ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "آتش پارے", "year": "1936", "text_ur": "یہ افسانے دبی ہوئی چنگاریاں ہیں، ان کو شعلوں میں تبدیل کرنا پڑھنے والوں کا کام ہے۔\n\nامرتسر 5 جنوری 1936ء\n\nسعادت حسن من", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%92/_%D9%BE%DB%8C%D8%B4_%D9%84%D9%81%D8%B8"} {"title": "آتش پارے/ چوری", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "آتش پارے", "year": "1936", "text_ur": "\"بابا جی کوئی کہانی سنائیے۔\" سکول کے تین چار لڑکے الاؤ کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور اس بوڑھے آدمی سے جو ٹاٹ پر بیٹھا اپنے استخوانی ہاتھ آگ تاپنے کی خاطر الاؤ کی طرف بڑھائے ہوئے تھا، کہنے لگے۔\n\nمردِ معمر نے جو غالباً کسی گہری سوچ میں غرق تھا، اپنا بھاری سر اٹھایا جو گردن کی لاغری کی وجہ سے نیچے کو جھکا ہوا تھا۔\n\n\"کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں خود ایک کہانی ہوں، مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\"\n\nاس کے بعد کے الفاظ اس نے اپنے پوپلے منہ میں ہی بڑبڑائے، شاید وہ اس جملہ کو لڑکوں کے سامنے ادا کرنا نہیں چاہتا تھا جنکی سمجھ اس قابل نہ تھی کہ وہ اس قسم کے فلسفیانہ نکات حل کر سکیں۔\n\nلکڑی کے ٹکڑے ایک شور کے ساتھ جل جل کر الاؤ کے آتشیں شکم کو پر کر رہے تھے۔ شعلوں کی عنابی روشنی لڑکوں کے معصوم چہروں پر ایک عجیب انداز میں رقص کر رہی تھی۔ ننھی ننھی چنگاریاں سپید راکھ کی نقاب الٹ الٹ کر حیرت میں سر بلند شعلوں کا منہ تک رہی تھیں۔ درختوں کے خشک پتے بڑی دلیری سے آگ کا مقابلہ کرتے ہوئے اس شعلہ افشاں قبر میں ہمیشہ کے لئے کود رہے تھے۔ سرد ہوا کے جھونکے کوٹھڑی کی گرم فضا کا استقبال کرتے ہوئے اسکے ساتھ بڑی گرمجوشی سے بغلگیر ہو رہے تھے، کونے میں مٹی کا ایک دیا اپنی کمزور روشنی پر آنسو بہا رہا تھا۔\n\n\"کہانی۔۔۔۔۔۔ہر روز کہانی، کل سناؤں گا۔\" بوڑھے آدمی نے الاؤ کی روشنی میں سے لڑکوں کی طرف نگاہیں اٹھا کر کہا۔\n\nلڑکوں کے تمتمائے ہوئے چہروں پر افسردگی چھا گئی، نا امیدی کے عالم میں وہ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے گویا وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں کہہ رہے تھے، آج رات کہانی سنے بغیر سونا ہو گا۔\n\nیکایک ان میں سے ایک لڑکا جو دوسروں کی نسبت بہت ہوشیار اور ذہین معلوم ہوتا تھا، الاؤ کے قریب تر سرک کر بلند آواز میں بولا۔\n\n\"مگر کل آپ نے وعدہ کیا تھا اور وعدہ خلافی کرنا درست نہیں ہے، کیا آپ کو کل والے حامد کا انجام یاد نہیں جو ہمیشہ اپنا کہا بھول جاتا تھا۔\"\n\n\"درست۔۔۔۔۔میں بھول گیا تھا۔\" بوڑھے آدمی نے یہ کہتے ہوئے اپنا سر جھکا لیا جیسے وہ اپنی بھول پر نادم ہے۔ تھوڑی دیر بعد وہ اس دلیر لڑکے کی جرأت کا خیال کر کے مسکرایا۔ \"میرے بچے مجھ سے غلطی ہو گئی ہے معاف کر دو، مگر میں کونسی کہانی سناؤں، ٹھہرو مجھے یاد کر لینے دو۔\" یہ کہتے ہوئے وہ سر جھکا کر گہری سوچ میں غرق ہو گیا۔\n\nاسے جن اور پریوں کی لا یعنی داستانوں سے سخت نفرت تھی، وہ بچوں کی وہی کہانیاں سنایا کرتا تھا جو انکے دل و دماغ کی اصلاح کر سکیں۔ اسے بہت سے فضول قصے یاد تھے جو اس نے اپنے ایامِ طفلی میں سنے تھے یا کتابوں سے پڑھے تھے مگر اس وقت وہ اپنے بربطِ پیری کے بوسیدہ تار چھیڑ رہا تھا کہ شاید ان میں کوئی خوابیدہ راگ جاگ اٹھے۔\n\nلڑکے بابا جی کو خاموش دیکھ کر آپس میں آہستہ آہستہ گفتگو کر رہے تھے، غالباً وہ کسی لڑکے کا ذکر کر رہے تھے جسے کتاب چرانے پر بید کی سزا ملی تھی۔ باتوں باتوں میں ان میں سے کسی نے بلند آواز میں کہا۔\n\n\"ماسٹر جی کے لڑکے نے بھی تو میری کتاب چرا لی تھی مگر اسے سزا وزا نہ ملی تھی۔\"\n\n\"کتاب چرا لی تھی۔\" ان چار لفظوں نے جو پوری آواز میں ادا کئے گئے تھے، بوڑھے کی خفتہ یاد میں ایک واقعے کو جگا دیا۔ اس نے اپنا سپید سر اٹھایا اور اپنی آنکھوں کے سامنے اس فراموش کردہ داستان کو انگڑائیاں لیتے ہوئے پایا۔ ایک لمحے کے لیئے اسکی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی مگر ساتھ ہی وہیں غرق ہو گئی۔۔۔۔۔۔اضطراب کی حالت میں اس نے اپنے نحیف جسم کو جنبش دے کر الاؤ کے قریب کیا۔ اسکے چہرے کے تغیر و تبدل سے صاف طور پر عیاں تھا کہ وہ کسی واقعے کو دوبارہ یاد کر کے بہت تکلیف محسوس کر رہا ہے۔\n\nالاؤ کی روشنی بدستور لڑکوں کے چہروں پر ناچ رہی تھی۔۔۔۔۔دیا اسی طرح اپنے جلے نصیبوں کو رو رہا تھا۔ کوٹھڑی کے باہر رات سیاہ زلفیں بکھیرے روشنی کی طرف اپنی تاریک آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی تھی۔ لڑکے آپس میں سکول کی باتیں کرنے میں مشغول تھے، چھت جھک کر انکی معصوم باتوں کو کان لگا کر سن رہی تھی۔\n\nدفعتاً بوڑھے نے آخر ارادہ کرتے ہوئے کہا۔ \"بچو، آج میں اپنی کہانی سناؤں گا۔\"\n\nلڑکے فوراً اپنی گفتگو چھوڑ کر ہمہ تن گوش ہو گئے۔ الاؤ کی چیختی ہوئی لکڑیاں ایک شور کے ساتھ اپنی جگہ پر ابھر کر خاموش ہو گئیں۔۔۔۔۔۔ایک لمحے کے لیئے فضا پر مکمل سکوت طاری رہا۔\n\n\"اپنی کہانی سنائیں گے؟\" ایک لڑکے نے خوش ہو کر کہا۔ باقی سرک کر آگ کے قریب خاموشی سے بیٹھ گئے۔\n\n\"ہاں، اپنی کہانی۔\" یہ کہہ کر بوڑھے آدمی نے اپنی جھکی ہوئی گھنی بھوؤں میں سے کوٹھڑی کے باہر تاریکی میں دیکھنا شروع کیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر لڑکوں سے مخاطب ہوا۔ \"میں آج تمھیں اپنی پہلی چوری کی داستان سناؤں گا۔\"\n\nلڑکے حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے، انہیں در اصل یہ وہم و گمان بھی نہ تھا کہ بابا جی کسی زمانے میں چوری بھی کرتے رہے ہیں۔ بابا جی جو ہر وقت انہیں برے کاموں سے بچنے کے لیئے نصیحت کیا کرتے ہیں۔\n\nلڑکا جو ان سب میں دلیر تھا اپنی حیرانی نہ چھپا سکا۔ \"مگر کیا آپ نے واقعی چوری کا ارتکاب کیا تھا؟\"\n\n\"واقعی\"\n\n\"آپ اس وقت کونسی جماعت میں پڑھا کرتے تھے؟\"\n\n\"نویں میں\"\n\nیہ سن کر لڑکے کی حیرت اور بھی بڑھ گئی، اسے اپنے بھائی کا خیال آیا جو نویں جماعت میں تعلیم پا رہا تھا، وہ اس سے عمر میں دوگنا تھا۔ اسکی تعلیم اس سے کہیں زیادہ تھی، وہ انگریزی کی کئی کتابیں پڑھا ہوا تھا اور اسے ہر وقت نصیحتیں کیا کرتا تھا۔ پھر یہ کیونکر ممکن تھا کہ اس عمر کا لڑکا اور اچھا پڑھا لکھا لڑکا چوری کرے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی عقل اس معمے کو نہ حل کر سکی، چنانچہ اس نے پھر سوال کیا۔\n\n\"آپ نے چوری کیوں کی؟\"\n\nیہ مشکل سوال دیکھ کر بوڑھا تھوڑی دیر کے لیئے بہت گھبرایا، آخر وہ اسکا کیا جواب دے سکتا تھا کہ فلاں کام اس نے کیوں کیا؟ بظاہر اسکا جواب یہی ہو سکتا تھا \"اس لیئے کہ اس وقت دماغ میں یہی خیال آیا۔\"\n\nبوڑھے نے دل میں یہی جواب سوچا مگر اس سے مطمئن نہ ہو کر یہی بہتر خیال کیا کہ تمام داستان من و عن بیان کر دی جائے، اس لیئے کہ وہ بذاتِ خود اس سوال کا سب سے آسان جواب ہے۔\n\n\"اسکا جواب میری کہانی ہے جو تمھیں سنانے والا ہوں۔\"\n\n\"سنائیے۔\"\n\nلڑکے اس بوڑھے آدمی کی چوری کا حال سننے کے لیئے اپنی اپنی جگہ پر جم کر بیٹھ گئے، جو الاؤ کے سامنے اپنے سپید بالوں کو انگلیوں سے کنگھی کر رہا تھا اور جسے وہ ایک بہت بڑا آدمی خیال کرتے تھے۔\n\nمردِ معمر کچھ عرصے تک خاموش اپنے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا پھر اس بھولے ہوئے واقعے کے تمام منتشر ٹکڑے فراہم کر کے بولا۔\n\n\"ہر شخص خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا، اپنی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسی حرکت ضرور کرتا ہے جس پر وہ تمام عمر نادم رہتا ہے۔ میری زندگی میں سب سے برا فعل ایک کتاب کی چوری ہے۔\"\n\nیہاں تک پہنچ کر وہ رک گیا، اسکی آنکھیں جو ہمیشہ ایک ناقابلِ انداز میں چمکتی رہتی تھیں، دھندلی پڑ گئیں۔ اسکے چہرے کی تبدیلی سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے زبردست ذہنی تکلیف کا سامنا کر رہا ہے۔ چند لمحات کے توقف کے بعد وہ پھر گویا ہوا۔\n\n\"سب سے مکروہ فعل کتاب کی چوری ہے جو میں نے ایک کتب فروش کی دکان سے چرائی۔ یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب میں نویں جماعت میں تعلیم پا رہا تھا۔ قدرتی طور پر جیسا کہ اب تمھیں کہانی سننے کا شوق ہے، مجھے افسانے یا ناول پڑھنے کا شوق تھا۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں خبط تھا۔ دوستوں سے مانگ کر یا خود خرید کر میں ہر ہفتے ایک نہ ایک کتاب ضرور مطالعہ کیا کرتا تھا۔ وہ کتابیں عموماً عشق و محبت کی بے معنی داستانیں یا فضول جاسوسی قصے ہوا کرتے تھے۔\n\nیہ کتابیں میں ہمیشہ چھپ چھپ کر پڑھا کرتا تھا، میرے والدین کو میری اس حرکت کی کوئی خبر نہ تھی، اگر انہیں معلوم ہوتا تو وہ مجھے ہر گز ایسا نہ کرنے دیتے، اس لیئے کہ اس قسم کی کتابیں سکول کے لڑکے کے لیئے بہت نقصان دہ ہوتی ہیں۔ میں انکے مہلک نقصان سے غافل تھا، چنانچہ مجھے اسکا نتیجہ بھگتنا پڑا۔۔۔۔۔۔۔میں نے چوری کی اور پکڑا گیا۔\"\n\n\"آپ پکڑے گئے؟\" ایک لڑکے نے حیرت زدہ ہو کر کہا۔\n\n\"ہاں پکڑا گیا۔۔۔۔۔۔چونکہ میرے والدین اس واقعے سے بالکل بے خبر تھے۔ یہ عادت پکتے پکتے میری طبیعت بن گئی۔ اب مجھے ہر روز ایک کتاب یعنی ناول کی ضرورت لاحق ہونے لگی۔ گھر سے جتنے پیسے ملتے میں انہیں جوڑ جوڑ کر بازار سے افسانوں کی کتابیں خریدنے میں صرف کر دیتا۔ سکول کی پڑھائی سے رفتہ رفتہ مجھے نفرت ہونے لگی۔ پس ہر وقت میرے دل میں یہی خیال سمایا رہتا کہ فلاں کتاب جو فلاں ناول نویس کی لکھی ہوئی ہے ضرور پڑھنی چاہیئے، یا فلاں کتب فروش کے پاس نئی ناولوں کا ایک ذخیرہ موجود ہے وہ ایک نظر ضرور دیکھنا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔شوق کی یہ انتہا دوسرے معنوں میں دیوانگی ہے۔ اس حالت میں انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کرنے والا ہے یا کیا کر رہا ہے۔ اس وقت وہ ایک بے عقل بچے کی مانند ہوتا ہے جو اپنی طبیعت خوش کرنے یا شوق پورا کرنے کے لیئے جلتی ہوئی آگ میں ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ اسے یہ پتا نہیں ہوتا کہ وہ چمکنے والی شے جسے وہ پکڑ رہا ہے اسکا ہاتھ جلا دے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک یہی حالت میری تھی۔ فرق اتنا ہے کہ بچہ شعور سے محروم ہوتا ہے اس لیئے وہ بغیر سمجھے بوجھے بری سے بری حرکت کر بیٹھتا ہے مگر میں نے عقل کا مالک ہوتے ہوئے چوری ایسے مکروہ جرم کا ارتکاب کیا۔ یہ آنکھوں کی موجودگی میں میرے اندھے ہونے کی دلیل ہے۔ میں ہر گز ایسا کام نہ کرتا اگر میری عادت مجھے مجبور نہ کرتی۔\n\nہر انسان کے دماغ میں شیطان موجود ہوتا ہے جو وقتاً فوقتاً اسے برے سے برے کام کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ شیطان مجھ پر اس وقت غالب آیا جب کہ سوچنے کے لیئے بہت کم وقت تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر۔\"\n\nلڑکے خاموشی سے بوڑھے کے ہلتے ہوئے لبوں کی طرف نگاہیں گاڑے اسکی داستان کو سن رہے تھے۔ داستان کا تسلسل اس وقت ٹوٹتے دیکھ کر جب کہ اصل مقصد بیان کیا جانے والا تھا وہ بڑی بیقراری سے بقایا تفصیل کا انتظار کرنے لگے۔\n\n\"مسعود بیٹا، یہ سامنے والا دروازہ تو بند کر دینا، سرد ہوا آ رہی ہے۔\" بوڑھے نے اپنا کمبل گھٹنوں پر ڈالتے ہوئے کہا۔\n\nمسعود \"اچھا بابا جی\" کہہ کر اٹھا اور کوٹھڑی کا دروازہ بند کرنے کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔\n\n\"ہاں تو ایک دن جب کہ والد گھر سے باہر تھے۔\" بوڑھے نے اپنی داستان سنانا شروع کر دی۔ \"مجھے بھی کوئی خاص کام نہ تھا اور وہ کتاب جو میں ان دنوں پڑھ رہا تھا قریب الاختتام تھی، اس لیئے میرے جی میں آئی کہ چلو فلاں کتب فروش تک ہو آئیں جسکے پاس بہت سی جاسوسی ناولیں پڑی ہوئی تھیں۔\n\nمیری جیب میں اس وقت کچھ پیسے موجود تھے جو ایک معمولی ناول کے دام ادا کرنے کے لیئے کافی تھے چنانچہ میں گھر سے سیدھا اس کتب فروش کی دکان پر گیا۔ یوں تو اس دکان پر ہر وقت بہت اچھی اچھی ناولیں موجود رہتی تھیں مگر اس دن خاص طور پر بالکل نئی کتابوں کا ایک ڈھیر باہر تختے پر رکھا ہوا تھا۔ ان کتابوں کے رنگ برنگے سر ورق دیکھ کر میری طبیعت میں ایک ہیجان سا برپا ہو گیا۔ دل میں یہ خواہش گدگدانے لگی کہ وہ تمام میری ملکیت بن جائیں۔\n\nمیں دکاندار سے اجازت لیکر ان کتابوں کو ایک نظر دیکھنے میں مشغول ہو گیا۔ ہر کتاب کے شوخ سر ورق پر اس قسم کی کوئی نہ کوئی عبارت لکھی ہوئی تھی۔\n\n\"یہ نا ممکن ہے کہ اس کا مطالعہ آپ پر سنسنی نہ طاری کر دے۔\"\n\n\"مصورِ اسرار کا لاثانی شاہکار۔\"\n\n\"تمثیل، ہیجان، رومان۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب یکجا\"\n\nاس قسم کی عبارتیں اشتیاق بڑھانے کے لیئے کافی تھیں مگر میں نے کوئی خاص توجہ نہ دی اس لیئے کہ میری نظروں سے اکثر ایسے الفاظ گزر چکے تھے۔ گو اسکے ساتھ ہی مجھے یہ خواہش ضرور تھی کہ میں ان کتابوں کا مالک بن جاؤں۔ خیر میں تھوڑا عرصہ کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھتا رہا۔ اس وقت میرے دل میں چوری کرنے کا خیال مطلقاً نہ تھا بلکہ میں نے خریدنے کے لیئے ایک کم قیمت کی ناول چن کر علیحدہ کر رکھی تھی۔\n\nتھوڑی دیر کے بعد دل میں یہ ارادہ کر کے کہ میں دوسرے ہفتے ان ناولوں کو دوبارہ دیکھنے آؤنگا، میں نے اپنی انتخاب کردہ کتاب اٹھائی، کتاب کا اٹھانا تھا کہ میری نگاہیں ایک مجلد ناول پر گڑ گئیں۔ سر ورق کے ایک کونے پر میرے محبوب ناولسٹ کا نام سرخ لفظوں میں چھپا ہوا تھا، اسکے ذرا اوپر کتاب کا نام تھا۔\n\n\"منتقم شعاعیں۔۔۔۔۔۔۔کسطرح ایک دیوانے ڈاکٹر نے لندن کو تباہ کرنے کا ارادہ کیا۔\"\n\nیہ سطور پڑھتے ہی میرے اشتیاق میں ایک قسم کی طغیانی آ گئی۔ کتاب کا وہی مصنف، جس نے اس سے پیشتر مجھ پر راتوں کی نیند حرام کر رکھی تھی۔ ناول کو دیکھتے ہی میرے دماغ میں خیالات کا ایک گروہ داخل ہو گیا۔\n\n\"منتقم شعاعیں۔۔۔۔۔۔۔دیوانے ڈاکٹر کی ایجاد۔۔۔۔۔۔۔۔کیسا دلچسپ افسانہ ہو گا۔\n\nلندن تباہ کرنے کا ارادہ۔۔۔۔۔۔۔یہ کسطرح ہو سکتا ہے؟\n\nاس مصنف نے فلاں فلاں کتابیں کتنی سنسنی خیز لکھی ہیں۔\n\nیہ کتاب ضرور ان سے بہتر ہو گی۔\"\n\nمیں خاموش اس کتاب کی طرف دیکھ رہا تھا اور یہ خیالات یکے بعد دیگرے میرے کانوں میں شور برپا کر رہے تھے۔ میں نے اس کتاب کو اٹھایا اور کھول کر دیکھا تو پہلے ورق پر یہ عبارت نظر آئی۔\n\n\"مصنف اس کتاب کو اپنی بہترین تصنیف قرار دیتا ہے۔\"\n\nان الفاظ نے میرے اشتیاق کی آگ میں ایندھن کا کام دیا۔ دفعتاً میرے دماغ کے خدا معلوم کس گوشے سے ایک خیال کود پڑا وہ یہ کہ میں اس کتاب کو اپنے کوٹ میں چھپا کر لے جاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری آنکھیں بے اختیار کتب فروش کی طرف مڑیں جو ایک کاغذ پر کچھ لکھنے میں مشغول تھا۔ دکان کی دوسری طرف دو نوجوان کھڑے میری طرح کتابیں دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔میں سر سے پیر تک لرز گیا۔\"\n\nیہ کہتے ہوئے بوڑھے کا نحیف جسم اس واقعے کی یاد سے کانپا، تھوڑی دیر خاموش رہ کر اس نے پھر اپنی داستان شروع کر دی۔\n\n\"ایک لحظے کے لئے میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ چوری کرنا بہت برا کام ہے مگر ضمیر کی یہ آواز سر ورق پر بنی ہوئی لانبی لانبی شعاعوں میں غرق ہو گئی۔ میرا دماغ 'منتقم شعاعیں' 'منتقم شعاعیں' کی گردان کر رہا تھا۔ میں نے ادھر ادھر جھانکا اور جھٹ سے وہ کتاب کوٹ کے اندر بغل میں دبا لی۔۔۔۔۔۔یہ کرتے ہوئے میرے دونوں ہاتھ اور ٹانگیں بڑے زور سے کانپ رہے تھے۔\n\nاس حالت پر قابو پا کر میں کتب فروش کے قریب گیا اور اس کتاب کے دام ادا کر دیئے جو میں نے پہلے منتخب کی تھی۔ قیمت لیتے وقت اور روپے میں سے باقی پیسے واپس کرنے میں اس نے غیر معمولی تاخیر لگا دی۔ اسکے علاوہ وہ میری طرف اس وقت عجیب نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جس سے میری طبیعت سخت پریشان ہو رہی تھی۔ جی یہی چاہتا تھا کہ سب کچھ چھوڑ کر وہاں سے بھاگ نکلوں۔\n\nاس دوران میں میں نے کئی بار اس جگہ پر جو کتاب کی وجہ سے ابھری ہوئی تھی، نگاہ ڈالی۔۔۔۔۔۔اور شاید اسے چھپانے کی بے سود کوشش بھی کی۔ میری ان عجیب حرکتوں کو دیکھ کر اسے شک ضرور ہوا اس لیئے کہ وہ بار بار کچھ کہنے کی کوشش کر کے پھر خاموش ہو جاتا تھا۔\n\nمیں نے باقی پیسے جلدی سے پکڑے اور وہاں سے چل دیا۔ دو سو قدم کے فاصلے پر میں نے کسی کی آواز سنی، مڑ کر دیکھا تو کتب فروش ننگے پاؤں چلا آ رہا تھا اور مجھے ٹھہرنے کے لیئے کہہ رہا تھا، یہ دیکھتے ہی میں نے اندھا دھند بھاگنا شروع کر دیا۔\n\nمجھے معلوم نہ تھا کہ میں کدھر بھاگ رہا ہوں، اسکے علاوہ میں اپنے گھر کی جانب رخ کئے ہوئے نہ تھا بلکہ میں شروع ہی سے اس طرف بھاگ رہا تھا جدھر بازار کا اختتام تھا، اس غلطی کا مجھے اس وقت احساس ہوا جب دو تین آدمیوں نے مجھے پکڑ لیا۔\"\n\nبوڑھا اتنا کہہ کر اضطراب کی حالت میں اپنی خشک زبان لبوں پر پھیرنے لگا، کچھ توقف کے بعد وہ ایک لڑکے سے مخاطب ہوا۔ \"مسعود، پانی کا ایک گھونٹ تو پلوانا۔\"\n\nمسعود خاموشی سے اٹھا اور کوٹھڑی کے ایک کونے میں پڑے ہوئے گھڑے سے گلاس میں پانی انڈیل کر لے آیا۔ بوڑھے نے گلاس کو پکڑتے ہی منہ سے لگا لیا اور ایک ہی گھونٹ میں سارا پانی پی لیا۔ \"ہاں میں کیا بیان کر رہا تھا؟\" بوڑھے نے خالی گلاس کو زمین پر رکھتے ہوئے کہا۔\n\n\"آپ بھاگے جا رہے تھے۔\" ایک لڑکے نے جواب دیا۔\n\n\"میرے پیچھے کتب فروش چور، چور کی آواز بلند کرتا ہوا بھاگا چلا آ رہا تھا، جب میں نے دو تین آدمیوں کو اپنے قریب پہنچتے ہوئے دیکھا تو میرے ہوش ٹھکانے نہ رہے۔ جیل کی آہنی سلاخیں، پولیس اور عدالت کی تصویریں ایک ایک کر کے میری آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگیں۔ بے عزتی کا خیال آتے ہی میری پیشانی عرق آلود ہو گئی، میں لڑکھڑایا اور گر پڑا، اٹھنا چاہا تو ٹانگوں نے جواب دے دیا۔ اس وقت میرے دماغ کی عجیب حالت تھی، ایک تند دھواں سا میرے سینے میں کروٹیں لے رہا تھا۔ آنکھیں فرطِ خوف سے ابل رہی تھیں اور کانوں میں ایک زبردست شور برپا تھا جیسے بہت سے لوگ آہنی چادروں کو ہتھوڑوں سے کوٹ رہے ہیں، میں ابھی اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ کتب فروش اور اسکے ہمراہ دو تین آدمیوں نے مجھے پکڑ لیا، اس وقت میری کیا حالت تھی، اسکا بیان کرنا بہت دشوار ہے، سینکڑوں خیالات پتھروں کی طرح میرے دماغ کے ساتھ ٹکرا ٹکرا کر مختلف قسم کی آوازیں پیدا کر رہے تھے۔ جب انہوں نے مجھے پکڑا تو ایسا معلوم ہوا کہ آہنی پنجرے نے میرے دل کو پکڑ کر مسل ڈالا ہے، میں بالکل خاموش تھا اور وہ مجھے دکان کی طرف کشاں کشاں لے جا رہے تھے۔\n\nجیل خانے کی کوٹھڑی یا عدالت کا دروازہ دیکھنا یقینی تھا، یہ خیال کرتے ہوئے میرے ضمیر نے مجھ پر لعنت ملامت کرنا شروع کر دی۔ چونکہ اب جو ہونا تھا، ہو چکا تھا اور میرے پاس اپنے ضمیر کو جواب دینے کے لیئے کوئی الفاظ موجود نہ تھے، میری گرم آنکھوں میں آنسو اتر آئے اور میں نے بے اختیار رونا شروع کر دیا۔\"\n\nیہ کہتے ہوئے بوڑھے کی دھندلی آنکھیں نمناک ہو گئیں۔\n\n\"کتب فروش نے مجھے پولیس کے حوالے نہ کیا، اپنی کتاب لے لی اور ٹھوڑی دیر نصیحت کرنے کے بعد چھوڑ دیا۔\" بوڑھے نے اپنے آنسو کمبل سے خشک کرتے ہوئے کہا۔ \"خدا اس کو جزائے خیر دے، میں عدالت کے دروازے سے تو بچ گیا مگر اس واقعے کی والد اور سکول کے لڑکوں کو خبر ہو گئی، والد مجھ پر سخت خفا ہوئے اور ہر ممکن طریقے سے مجھے اس مکروہ فعل پر شرم دلانے کے بعد معاف کر دیا۔\n\nدو تین روز مجھے اس ندامت میں بخار آتا رہا، اسکے بعد جب میں نے دیکھا کہ میرا دل کسی کروٹ آرام نہیں لیتا اور مجھ میں اتنی قوت نہیں کہ میں لوگوں کے سامنے اپنی نگاہیں اٹھا سکوں تو میں شہر چھوڑ کر وہاں سے ہمیشہ کے لیئے روپوش ہو گیا۔ اس وقت سے لیکر اب تک میں نے مختلف شہروں کی خاک چھانی ہے، ہزاروں مصائب برداشت کئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔صرف اس کتاب کی چوری کی وجہ سے، جو مجھے تا دمِ مرگ نادم و شرمسار رکھے گی۔\n\nاس آوارہ گردی کے دوران میں میں نے اور بھی بہت سی چوریاں کیں، ڈاکے ڈالے اور ہمیشہ پکڑا گیا، مگر میں ان پر نادم نہیں ہوں، مجھے فخر ہے۔\"\n\nیہ کہتے ہوئے بوڑھے کی دھندلی آنکھوں میں پھر پہلی سی چمک نمودار ہو گئی اور اس نے الاؤ کے شعلوں کو ٹکٹکی لگا کر دیکھنا شروع کر دیا۔\n\n\"ہاں، مجھے فخر ہے۔\" یہ الفاظ اس نے ٹھوڑے توقف کے بعد دوبارہ کہے۔\n\nآگ کا ایک شعلہ نہ معلوم کیوں بلند ہوا اور ایک لمحہ فضا میں تھر تھرا کر پھر الاؤ کی آغوش میں سو گیا۔ بوڑھے نے شعلے کی جرأت دیکھی اور مسکرا دیا، پھر لڑکوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔\n\n\"کہانی ختم ہو گئی ہے، اب تم جاؤ، تمھارے والدین انتظار کرتے ہونگے۔\"\n\n\"مگر آپ کو اپنی دوسری چوریوں پر فخر کیوں ہے؟\" مسعود نے سوال کیا۔\n\n\"آہ، فخر کیوں ہے؟\" بوڑھا مسکرایا۔ \"اس لئے کہ وہ چوریاں نہیں تھیں، اپنی سرقہ شدہ چیزوں کو دوبارہ حاصل کرنا چوری نہیں میرے عزیز، بڑے ہو کر تمھیں اچھی طرح معلوم ہو جائے گا۔\"\n\n\"میں سمجھا نہیں۔\"\n\n\"ہر وہ چیز جو تم سے چرا لی گئی ہو، تمھیں حق حاصل ہے کہ اسے ہر ممکن طریقے سے اپنے قبضے میں لے آؤ، مگر یاد رہے تمھاری یہ کوشش کامیاب ہونی چاہیئے ورنہ ایسا کرتے ہوئے پکڑے جانا اور اذیتیں اٹھانا عبث ہے۔\"\n\nلڑکے اٹھے اور بابا جی کو شب بخیر کہتے ہوئے کوٹھڑی کے دروازے سے باہر چلے گئے، بوڑھے کی نگاہیں انکو تاریکی میں گم ہوتے دیکھ رہی تھیں، تھوڑی دیر اسی طرح دیکھنے کے بعد وہ اٹھا اور کوٹھڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے بولا۔\n\n\"آہ، اگر بڑے ہو کر وہ صرف کھوئی ہوئی چیزیں واپس لے سکیں۔\"\n\nبوڑھے کو خدا معلوم ان لڑکوں سے کیا امید تھی۔\n\n(اشاعتِ اولیں \"ساقی\")", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%92/_%DA%86%D9%88%D8%B1%DB%8C"} {"title": "آتی تھی پہلے دل سے کبھی بو کباب کی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آتی تھی پہلے دل سے کبھی بو کباب کی\nروشن ہے اب تو سینے میں بھٹی شراب کی\n\nاتنا عتاب سرخ ہے رنگت نقاب کی\nتار نقاب ہیں کہ نگاہیں عتاب کی\n\nدیکھے کوئی جھلک نہ رخ لا جواب کی\nستر ہزار پردوں میں ٹھہری حجاب کی\n\nکیوں حشر میں ہو فکر عذاب و ثواب کی\nصحبت ہے یہ بھی ایک شراب و کباب کی\n\nکہتے ہیں وعدہ رات کو ہوگا وفا ضرور\nاللہ جلد شام ہو روز حساب کی\n\nبجلی وہ چیز ہی نہیں جس سے حسیں ڈریں\nکچھ درد کی چمک ہے جھلک اضطراب کی\n\nوہ شام و صبح صدقے ہو جن پر بہار گل\nچن چن کے ساتھ لائے ہیں راتیں شباب کی\n\nجنت کے خواب دیکھ کے آتی ہیں ہم کو یاد\nرندانہ صحبتیں وہ کباب و شراب کی\n\nآئینہ دیکھتے ہیں مجھے دیکھ دیکھ کر\nیہ داد مل رہی ہے مرے انتخاب کی\n\nلے اپنے سر وبال نہ اوروں کا حشر میں\nبار گنہ اٹھائے نہ میزاں حساب کی\n\nاے طور سوز برق سمجھتے ہیں ہم تجھے\nتجھ میں تو شوخیاں ہیں کسی کے حجاب کی\n\nدعوے ہے ہمسری کا سر کج کلاہ سے\nاے دست موج اتار لے ٹوپی حباب کی\n\nبجلی گرائیں طور پر آواز ہی سے وہ\nٹھہرے کبھی تو ہم سے سوال و جواب کی\n\nپھر بھی تو کچھ ثبات کو اس کے ضرر نہیں\nالٹی رواں ہے بحر میں کشتی حباب کی\n\nمے سے کہیں سوا ہے پس توبہ مے کشو\nآ جائے دور ہی سے کہیں بو شراب کی\n\nسو حشر نذر گوشۂ داماں ہیں ہر نفس\nاے شوق دید حد ہی نہیں اضطراب کی\n\nتلخی کا نزع کی تو کچھ احساس ہو سکے\nاتنی تو میرے منہ میں ہو تلخی شراب کی\n\nتم کیا ہو ہم نے قلقل مینا سے واعظو\nباتیں بہت سنی ہیں عذاب و ثواب کی\n\nدور مے کہن کا اثر ہے یہ اے ریاضؔ\nہے آج بھی جوان طبیعت جناب کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%D9%88_%DA%A9%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "آتے آتے طرف میرے مڑ کے پھر کیدھر چلے", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آتے آتے طرف میرے مڑ کے پھر کیدھر چلے\nجان صاحب! بن تمہارے کھا کے غم ہم مر چلے\n\nسجدے دے ناگھسنیاں کرتے ہیں تم سنتے نہیں\nجو نہ کرنی تھی سماجت وہ بھی کر اکثر چلے\n\nآدمی سے بت کہائے اب خدائی کا ہے عزم\nٹک کرو انصاف اپنی حد سے تم باہر چلے\n\nدیکھ لیویں گے گزارے کے تئیں اب اور جا\nدیکھا بھاری پتھر اس کو چوم سر سے دھر چلے\n\nعاشقوں نے نام تیرا لے کیا قالب تہی\nمرتے مرتے بھی تو تیرا ہی یہ سب دم بھر چلے\n\nبزم میں تم کھل رہے تھے بیٹھے دیکھ ہم کو رک گئے\nگر یوں ہی راضی ہو لو جی اٹھ ہم اپنے گھر چلے\n\nکس کے آئے کس سے رنگ رلیاں کیا پیار اور چاہ\nعشق کی بدنامی پیارے رکھ کے مجھ اوپر چلے\n\nخضر کو شاباش اکتایا نہ اب تک اور ہم\nزندگانی ایک دم بھر کی بھی کر دوبھر چلے\n\nآہ و افغاں تو ہمارا کر رہا ہے زور شور\nجوں بگولا یا ہو آندھی یا کوئی صرصر چلے\n\nدیکھیں کس کی آہ کا اس پر اثر ہو اظفریؔ\nہم تو بھر مقدور، کر کتنا ہی شور و شر چلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%85%DA%91_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی\nرہ جاؤں سن نہ کیونکر یہ تو بری سنائی\n\nمجنوں و کوہ کن کے سنتے تھے یار قصے\nجب تک کہانی ہم نے اپنی نہ تھی سنائی\n\nشکوہ کیا جو ہم نے گالی کا آج اس سے\nشکوے کے ساتھ اس نے اک اور بھی سنائی\n\nکچھ کہہ رہا ہے ناصح کیا جانے کیا کہے گا\nدیتا نہیں مجھے تو اے بے خودی سنائی\n\nکہنے نہ پائے اس سے ساری حقیقت اک دن\nآدھی کبھی سنائی آدھی کبھی سنائی\n\nصورت دکھائے اپنی دیکھیں وہ کس طرح سے\nآواز بھی نہ ہم کو جس نے کبھی سنائی\n\nقیمت میں جنس دل کی مانگا جو ذوقؔ بوسہ\nکیا کیا نہ اس نے ہم کو کھوٹی کھری سنائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "آثار زوال", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آبا کو زمین و ملک پر اطمینان\nاولاد کو سستی یہ قناعت کا گمان\nبچے آوارہ اور بے کار جوان\nہیں ایسے گھرانے کوئی دن کے مہمان", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%D8%B2%D9%88%D8%A7%D9%84"} {"title": "آج", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کار فرما پھر مرا ذوق غزل خوانی ہے آج\nپھر نفس کا ساز گرم شعلہ افشانی ہے آج\n\nپھر نگاہ شوق کی گرمی ہے اور روئے نگار\nپھر عرق آلود اک کافر کی پیشانی ہے آج\n\nپھر مرے لب پر قصیدے ہیں لب و رخسار کے\nپھر کسی چہرے پہ تابانی سی تابانی ہے آج\n\nحسن اس درجہ نشاط حسن میں ڈوبا ہوا\nانکھڑیاں بے خود شمیم زلف دیوانی ہے آج\n\nلرزش لب میں شراب‌ و شعر کا طوفان ہے\nجنبش مژگاں میں افسون غزل خوانی ہے آج\n\nوہ نفس کی زمزمہ سنجی نظر کی گفتگو\nسینۂ معصوم میں اک طرفہ طغیانی ہے آج\n\nیاں بایں عالم غرور یوسفیت بھی نہیں\nواں زلیخائی بہ عزم چاکدامانی ہے آج\n\nواں اشارے ہیں بہک جانا ہی عیش ہوش ہے\nہوش میں رہنا یقیناً سخت نادانی ہے آج\n\nکش مکش سی کش مکش میں ہے مذاق عاشقی\nکامراں سی کامراں ہر سعئ امکانی ہے آج\n\nحسن کے چہرے پہ ہے نور صداقت کی دمک\nعشق کے سر پر کلاہ فخر انسانی ہے آج\n\nشوق سے موقع شناسی کی توقع بھی غلط\nمیں نے ان کی شکل بھی مشکل سے پہچانی ہے آج", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC"} {"title": "آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے\nپھر مری جان گرفتار بلا ہوتی ہے\n\nشوق پابوسیٔ جاناں مجھے باقی ہے ہنوز\nگھاس جو اگتی ہے تربت پہ حنا ہوتی ہے\n\nپھر کسی کام کا باقی نہیں رہتا انساں\nسچ تو یہ ہے کہ محبت بھی بلا ہوتی ہے\n\nجو زمیں کوچۂ قاتل میں نکلتی ہے نئی\nوقف وہ بہر مزار شہدا ہوتی ہے\n\nجس نے دیکھی ہو وہ چتون کوئی اس سے پوچھے\nجان کیوں کر ہدف تیر قضا ہوتی ہے\n\nنزع کا وقت برا وقت ہے خالق کی پناہ\nہے وہ ساعت کہ قیامت سے سوا ہوتی ہے\n\nروح تو ایک طرف ہوتی ہے رخصت تن سے\nآرزو ایک طرف دل سے جدا ہوتی ہے\n\nخود سمجھتا ہوں کہ رونے سے بھلا کیا حاصل\nپر کروں کیا یوں ہی تسکین ذرا ہوتی ہے\n\nروندتے پھرتے ہیں وہ مجمع اغیار کے ساتھ\nخوب توقیر مزار شہدا ہوتی ہے\n\nمرغ بسمل کی طرح لوٹ گیا دل میرا\nنگہ ناز کی تاثیر بھی کیا ہوتی ہے\n\nنالہ کر لینے دیں للّٰلہ نہ چھیڑیں احباب\nضبط کرتا ہوں تو تکلیف سوا ہوتی ہے\n\nجسم تو خاک میں مل جاتے ہوئے دیکھتے ہیں\nروح کیا جانے کدھر جاتی ہے کیا ہوتی ہے\n\nہوں فریب ستم یار کا قائل اکبرؔ\nمرتے مرتے نہ کھلا یہ کہ جفا ہوتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D8%B4_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "آج آپ مرے حال پہ کرتے ہیں تأسف", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج آپ مرے حال پہ کرتے ہیں تأسف\nاشفاق عنایات کرم مہر تلطف\n\nاے گریہ پس قافلہ دل نام ہے اک یار\nیہ خستہ بھی نبھ جائے جو یک دم ہو توقف\n\nہے ڈول تو نالہ کا وہی دل بھی وہی لیک\nتاثیر نہ اب اس میں ہے نہ اس میں تصرف\n\nصوفی ہے وہ بے علم ہو جو ہستی سے اپنی\nکس کام پڑھا تو نے جو یوں علم تصوف\n\nخاموشی بھی کچھ طرفہ لطیفہ ہے کہ قائمؔ\nکرنا پڑے جس میں نہ تصنع نہ تکلف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%A2%D9%BE_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%A3%D8%B3%D9%81"} {"title": "آج انکار نہ فرمائیے آپ", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج انکار نہ فرمائیے آپ\nشب کی شب گھر مرے رہ جائیے آپ\n\nجائیے گھر کو نہ گھبرائیے آپ\nہم نہ مر جائیں گے بس جائیے آپ\n\nکھول دو شوق سے بند انگیا کے\nلیٹ کر ساتھ نہ شرمائیے آپ\n\nآتے ہی کہتے ہو میں جاؤں گا\nمیں بھی آنے کا نہیں جائیے آپ\n\nڈھونڈھتے پھریے اگر لے کے چراغ\nمجھ سا عاشق جو کہیں پائیے آپ\n\nعمر بھر تو نہ قدم رنجہ کیا\nآئیے اب تو نہ ترسائیے آپ\n\nجان مشتاق لبوں پر آئی\nکچھ وصیت ہے وہ سن جائیے آپ\n\nدل سمجھتا نہیں مجھ سے ناصح\nآپ سے سمجھے تو سمجھایئے آپ\n\nسایہ ساں شوق میں افتاں خیزاں\nساتھ رہتا ہوں جدھر جائیے آپ\n\nمیں دکھاؤں جو جنوں کی ہے صفت\nشان بے رحمی کی دکھلائیے آپ\n\nٹکڑے ٹکڑے میں گریباں کے کروں\nپرزے پرزے مرے آڑائیے آپ\n\nشاد ہو روح اگر بعد فنا\nشمع و گل گور پہ بھجوائیے آپ\n\nجان صدقے کروں کیا مال ہے جان\nکاٹ دوں سر کو جو فرمائیے آپ\n\nمنہ پہ منہ رکھا تو بولے کیا خوب\nپہلے منہ اپنا تو بنوایئے آپ\n\nغیر کٹنے لگیں بندھ جائے ہوا\nمجھ سے تکل اگر اڑوائیے آپ\n\nنام تک لوں نہ کبھی ہوں وہ بشر\nاب اگر حور بھی بن جائیے آپ\n\nہاتھ سے رندؔ کو کھوتے ہو عبث\nکہیں ایسا نہ ہو پچھتائیے آپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "آج اور کل", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "وہ کل کے غم و عیش پہ کچھ حق نہیں رکھتا\nجو آج خود افروز و جگر سوز نہیں ہے\nوہ قوم نہیں لائقِ ہنگامۂ فردا\nجس قوم کی تقدیر میں امروز نہیں ہے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%84"} {"title": "آج اپنے دل سے پھر الجھا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:محمد صادق ضیا", "kind": "poetry", "section": "غزل > صبح مشرق (1938)", "year": "1938", "text_ur": "آج اپنے دل سے پھر الجھا ہوں میں\nمدعا یہ ہے کہ دیکھوں کیا ہوں میں\n\nروکنا اے مادیت کے حجاب\nخود بخود افشا ہوا جاتا ہوں میں\n\nہے مری آنکھوں میں کیف بے خودی\nخواب دوشیں سے ابھی جاگا ہوں میں\n\nچاندنی راتوں میں جب اٹھتی ہے موج\nنور بن کر چاند میں بہتا ہوں میں\n\nکس قدر رنگین ہے میرا مزاج\nصبح کے پھولوں کا گہوارہ ہوں میں\n\nگلستاں میں چھیڑ کر غنچوں کے ساز\nخود بخود اک گیت گا لیتا ہوں میں\n\nجادۂ ہستی ہے اک راہ غلط\nیہ کہاں گم ہو کے آ پہونچا ہوں میں\n\nدور تک کوئی نہیں ہے ہم خیال\nایسے خواب آباد میں تنہا ہوں میں\n\nکاروان زندگی آگے گیا\nپر غبار اک صبح کا تارا ہوں میں\n\nتنگ ہے مجھ پر فضائے کائنات\nذرے کی آغوش میں صحرا ہوں میں\n\nزندگی کی بجھ گئیں شمعیں ضیاؔ\nتیرگیٔ شب کا پروانہ ہوں میں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آج بدلی ہے ہوا ساقی پلا جام شراب", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج بدلی ہے ہوا ساقی پلا جام شراب\nبرس کالی وعدہ جاتے ہیں برس کالے سحاب\n\nآرسی سوں اب شراب ناب کھینچا چاہئے\nنیند سوں اٹھ یار نے دیکھا ہے چشم نیم خواب\n\nصاف دل ہو گر ہے تجھ کوں خواہش ترک ہوا\nآب آئینہ اوپر آتا نہیں ہرگز حباب\n\nصورت مہتاب رو ظاہر ہے میرے اشک سوں\nجلوہ گر جیوں آب دریا میں ہے عکس ماہتاب\n\nہر کتاب صحبت رنگیں کے معنی دیکھ کر\nفرد تنہائی کے مضموں کوں کیا ہوں انتخاب\n\nصاحب معنی کیا ہے حق مجھے روز بنا\nپوستیں جامہ ہے میرے بر منے مثل کتاب\n\nخیمۂ گل باغ میں برپا ہے اے داؤدؔ آج\nتن رہی ہے دیکھ کیا آواز بلبل کی طناب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%BE%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "آج بھی", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میں ہوں مجازؔ آج بھی زمزمہ سنج و نغمہ خواں\nشاعر محفل وفا مطرب بزم دلبراں\n\nآج بھی خار زار غم خلد بریں مرے لیے\nآج بھی رہ گذار عشق میرے لیے ہے کہکشاں\n\nآج بھی گا رہا ہوں میں ساز جنوں لیے ہوئے\nسوز نہاں سے آج بھی روح تپاں ہے دل‌ تپاں\n\nآج بھی زندگی مری غرق شراب تند و تیز\nآج بھی ہاتھ میں مرے جام شراب ارغواں\n\nآج بھی ہے رچی ہوئی آج بھی ہے بسی ہوئی\nمیرے نفس میں خلد کی نزہت و نکہت جواں\n\nآج بھی نکتہ چیں ہوں میں خلوتیان خاص کا\nخلوتیان خاص کا آج بھی ہوں مزاج داں\n\nآج بھی اشک خوں مرا قشقہ جبین ناز کا\nآج بھی خاک دل مری سرمۂ چشم گل رخاں\n\nآج بھی دل کو ہے مرے دولت آگہی نصیب\nآج بھی ہے نظر مری ارض و سماں کی رازداں\n\nآج بھی ہے جنوں مرا دیر و حرم پہ خندہ زن\nآج بھی مجھ سے بد حواس دیر و حرم کے پاسباں\n\nآج بھی ساز سے مرے گرمئ بزم سرکشی\nآج بھی آتش سخن شعلہ فشاں شرر فشاں\n\nآج بھی ہے لکھی ہوئی سرخ حروف میں مجازؔ\nدفتر شہر یار میں میرے جنوں کی داستاں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "آج بے آپ ہو گئے ہم بھی", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج بے آپ ہو گئے ہم بھی\nآپ کو پا کے کھو گئے ہم بھی\n\nدانے کم تھے دکھوں کی سمرن میں\nتھوڑے موتی پرو گئے ہم بھی\n\nدیر سے تھے وہ جس کے گھیرے میں\nاسی جھرمٹ میں کھو گئے ہم بھی\n\nجا کے ڈھونڈا کہاں کہاں نہ تمہیں\nجب نہ پایا تو کھو گئے ہم بھی\n\nنام جینے کا جاگنا رکھ کر\nآج بے نیند سو گئے ہم بھی\n\nروئیں گے گر تو جگ ہنسائی ہو\nکرتے کیا چپ سے ہو گئے ہم بھی\n\nہائے رے آرزوؔ کی بے آسی\nآپ بے بس تھے رو گئے ہم بھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%A8%DB%92_%D8%A2%D9%BE_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "آج تو ہمدم عزم ہے یہ کچھ ہم بھی رسمی کام کریں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج تو ہمدم عزم ہے یہ کچھ ہم بھی رسمی کام کریں\nکلک اٹھا کر یار کو اپنے نامۂ شوق ارقام کریں\n\nخوبی سے القاب لکھیں آداب بھی خوش آئینی سے\nبعد اس کے ہم تحریر مفصل فرقت کے آلام کریں\n\nیا خود آوے آپ ادھر یا جلد بلاوے ہم کو وہاں\nاس مطلب کے لکھنے کو بھی خوب سا سرانجام کریں\n\nحسن زیادہ آن مؤثر ناز کی شوخی ہو وہ چند\nایسے کتنے حرف لکھیں اور نائے کو اشمام کریں\n\nسن کر وہ ہنس کر یوں بولا یہ تو تمہیں ہے فکر عبث\nعقل جنہیں ہے وہ تو ہرگز اب نہ خیال خام کریں\n\nکام یقیناً ہے وہی اچھا جو کہ ہو اپنے موقع سے\nبات کہیں یا نامہ لکھیں یارو صبح سے شام کریں\n\nاس میں بھلا کیا حاصل ہوگا سوچ تو دیکھو میاں نظیرؔ\nوہ تو خفا ہو پھینک دے خط اور لوگ تمہیں بد نام کریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85%D8%AF%D9%85_%D8%B9%D8%B2%D9%85_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%D8%B3%D9%85%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آج تک دل کی آرزو ہے وہی", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج تک دل کی آرزو ہے وہی\nپھول مرجھا گیا ہے بو ہے وہی\n\nسو بہاریں جہاں میں آئی گئیں\nمایۂ صد بہار تو ہے وہی\n\nجو ہو پوری وہ آرزو ہی نہیں\nجو نہ پوری ہو آرزو ہے وہی\n\nمان لیتا ہوں تیرے وعدے کو\nبھول جاتا ہوں میں کہ تو ہے وہی\n\nتجھ سے سو بار مل چکے لیکن\nتجھ سے ملنے کی آرزو ہے وہی\n\nصبر آ جائے اس کی کیا امید\nمیں وہی، دل وہی ہے، تو ہے وہی\n\nہو گئی ہے بہار میں کچھ اور\nورنہ ساغر وہی سبو ہے وہی\n\nعمر گزری تلاش میں لیکن\nگرمیٔ ہائے جستجو ہے وہی\n\nمے کدہ کا جلیلؔ رنگ نہ پوچھ\nرقص جام و خم و سبو ہے وہی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%AA%DA%A9_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81%DB%8C"} {"title": "آج جی میں ہے کہ کھل کر مے پرستی کیجئے", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج جی میں ہے کہ کھل کر مے پرستی کیجئے\nخوب سی مے پیجئے اور دیر مستی کیجئے\n\nزہد خشک آخر کہاں تک مایۂ تر دامنی\nغرق لائے مے بھی چندے رخت ہستی کیجئے\n\nتنگ تر ہے دست حاجت سے دل ابنائے دہر\nکس کے آگے ظاہر اپنی تنگ دستی کیجئے\n\nدرپئے ویرانئ دل ہے جو بستا ہے یہاں\nکس طرح یارب اس اوجڑ گھر کو بستی کیجئے\n\nلب پہ فوارے کے جاری ہے یہ مصرع دم بہ دم\nدے اگر خالق بلندی میل پستی کیجئے\n\nمفت تک دوں ہوں میں دل تس پر کوئی لیتا نہیں\nہاں مگر اس سے بھی کچھ یہ جنس سستی کیجئے\n\nٹک گریباں آج پھٹ کر دھجئیں ہو لے تو پھر\nچاک پر سینے کے قائمؔ پیش دستی کیجئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%AC%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "آج خوں ہو کے ٹپک پڑنے کے نزدیک ہے دل", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج خوں ہو کے ٹپک پڑنے کے نزدیک ہے دل\nنوک نشتر ہو تو ہاں قابل تحریک ہے دل\n\nاے فلک تجھ کو قسم ہے مری اس کو نہ بجھا\nکہ غریبوں کو چراغ شب تاریک ہے دل\n\nورم داغ کئی سامنے رکھ کر اس کے\nعشق بولا یہ اٹھا لے تری تملیک ہے دل\n\nمجھ کو حیرت ہے کہ کی عمر بسر اس نے کہاں\nاس جہالت پہ تو نے ترک نہ تاجیک ہے دل\n\nکمر یار کے مذکور کو جانے دے میاں\nتو قدم اس میں نہ رکھ راہ یہ باریک ہے دل\n\nجامۂ داغ کو ملبوس کر اپنا دن رات\nکیونکہ یہ جامہ ترے قد پہ نپٹ ٹھیک ہے دل\n\nمصحفیؔ اک تو میں ہوں دست خوش دیدۂ شوخ\nتس پہ دن رات مرے درپئے تضحیک ہے دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D9%B9%D9%BE%DA%A9_%D9%BE%DA%91%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%B2%D8%AF%DB%8C%DA%A9_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84"} {"title": "آج دستا ہے حال کچھ کا کچھ", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج دستا ہے حال کچھ کا کچھ\nکیوں نہ گزرے خیال کچھ کا کچھ\n\nدل بے دل کوں آج کرتی ہے\nشوخ چنچل کی چال کچھ کا کچھ\n\nمجکو لگتا ہے اے پری پیکر\nآج تیرا جمال کچھ کا کچھ\n\nاثر بادۂ جوانی ہے\nکر گیا ہوں سوال کچھ کا کچھ\n\nاے ولیؔ دل کوں آج کرتی ہے\nبوئے باغ وصال کچھ کا کچھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%AF%D8%B3%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE"} {"title": "آج دل بر کے نام کو رٹ رٹ", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج دل بر کے نام کو رٹ رٹ\nرو دیا لا علاج ہو پٹ پٹ\n\nظلم سے تیرے دل مرا کھٹ کھٹ\nپارہ پارہ ہوا جگر پھٹ پھٹ\n\nاے میاں دیکھ تجھ کمر میں تیغ\nٹکڑے ٹکڑے جگر ہوا کٹ کٹ\n\nمو سے باریک تر ہوا ہوں ضعیف\nتیری زلفوں کی دیکھ کر لٹ لٹ\n\nہاتھ دکھلا کے جی نکال لیا\nیہ کلا دیکھ کر گئے نٹ نٹ\n\nسیلی بازوں کے ہاتھ سے حاتمؔ\nدل ترا مفت میں گیا بٹ بٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D9%B9_%D8%B1%D9%B9"} {"title": "آج دل بیقرار ہے کیا ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج دل بیقرار ہے کیا ہے\nدرد ہے انتظار ہے کیا ہے\n\nجس سے جلتا ہے دل جگر وہ آہ\nشعلہ ہے یا شرار ہے کیا ہے\n\nیہ جو کھٹکے ہے دل میں کانٹا سا\nمژہ ہے نوک خار ہے کیا ہے\n\nچشم بد دور تیری آنکھوں میں\nنشہ ہے یا خمار ہے کیا ہے\n\nمیرے ہی نام سے خدا جانے\nننگ ہے اس کو عار ہے کیا ہے\n\nجس نے مارا ہے دام دل پہ مرے\nخط ہے یا زلف یار ہے کیا ہے\n\nکیوں گریبان تیرا آج حسنؔ\nاس طرح تار تار ہے کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%8C%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "آج دل بے قرار ہے میرا", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج دل بے قرار ہے میرا\nکس کے پہلو میں یار ہے میرا\n\nکیوں نہ عشاق پر ہوؤں منصور\nجوں سپند آہ دار ہے میرا\n\nبے قرار اس کا ہوں گا حشر میں بھی\nیہی اس سے قرار ہے میرا\n\nرنگ زرد اور سرشک سرخ تو دیکھ\nکیا خزاں میں بہار ہے میرا\n\nمیرے قاتل کے کف حنائی نہیں\nمشت خوں یادگار ہے میرا\n\nکھول کر قبر دیکھ مشق جنوں\nکہ کفن تار تار ہے میرا\n\nآتے جاتے مگر تو ٹھکراوے\nتیرے در پر مزار ہے میرا\n\nآنکھ موندے ہے میری خاک سے بھی\nیاں تک اس کو غبار ہے میرا\n\nجیتے رہو کیوں ہوئے رقیب کے ہار\nیہی سینے میں خار ہے میرا\n\nتیرے کوچے کے سگ کی پا بوسی\nباعث افتخار ہے میرا\n\nبندۂ یار عزلتؔ مرحوم\nنقش لوح مزار ہے میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "آج رنگ ہے اے مہا رنگ ہے ری", "poet_page": "مصنف:امیر خسرو", "kind": "poetry", "section": "کلام", "year": null, "text_ur": "آج رنگ ہے اے مہا رنگ ہے ری\nمیرے محبوب کے گھر رنگ ہے ری\n\nموہے پیر پایو نجام الدین اولیا\nنجام الدین اولیا علاء الدین اولیا\nعلاء الدین اولیا فرید الدین اولیا\nفرید الدین اولیا قطب الدین اولیا\nقطب الدین اولیا معین الدین اولیا\nمعین الدین اولیا محی الدین اولیا\nآ محی الدین اولیا محی الدین اولیا\n\nوہ تو جہاں دیکھو مورے سنگ ہے ری\nارے اے ری سکھی ری\nوہ تو جہاں دیکھو مورو بر سنگ ہے ری\nموہے پیر پایو نجام الدین اولیا\nآہے آہے آہے وا\nمنہ مانگے بر سنگ ہے ری\nوہ تو منہ مانگے بر سنگ ہے ری\n\nنجام الدین اولیا جگ اجیارو\nجگ اجیارو جگت اجیارو\nوہ تو منہ مانگے بر سنگ ہے ری\nمیں پیر پایو نجام الدین اولیا\nگنج شکرؔ مورے سنگ ہے ری\nمیں تو ایسو رنگ اور نہیں دیکھیو سکھی ری\nمیں تو ایسی رنگ دیس بدیس میں ڈھونڈ پھری ہوں\nدیس بدیس میں\nآہے آہے آہے وا\nاے تورا رنگ من بھایو نجام الدین\nمنہ مانگے بر سنگ ہے ری\n\nسجن ملوارا اس آنگن ما\nسجن سجن تن سجن ملاو را\nاس آنگن میں اس آنگن میں\nارے اس آنگن میں وہ تو اس آنگن میں\nارے وہ تو جہاں دیکھو مورے سنگ ہے ری\nآج رنگ ہے اے مہا رنگ ہے ری\n\nاے تورا رنگ من بھایو نجام الدین\nمیں تو تورا رنگ من بھایو نجام الدین\nمنہ مانگے بر سنگ ہے ری\nمیں تو ایسو رنگ اور نہیں دیکھی سکھی ری\nاے محبوب الٰہی میں تو ایسو رنگ اور نہیں دیکھی\nدیس بدیس میں ڈھونڈ پھری ہوں\nآج رنگ ہے اے مہا رنگ ہے ری\nمیرے محبوب کے گھر رنگ ہے ری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%A7_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DB%81%DB%92_%D8%B1%DB%8C"} {"title": "آج سر سبز کوہ و صحرا ہے", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج سر سبز کوہ و صحرا ہے\nہر طرف سیر ہے تماشا ہے\n\nچہرۂ یار و قامت زیبا\nگل رنگین و سرو رعنا ہے\n\nمعنی حسن و معنی خوبی\nصورت یار سوں ہویدا ہے\n\nدم جاں بخش نو خطاں مج کوں\nچشمۂ خضر ہے مسیحا ہے\n\nکمر نازک و دہان صنم\nفکر باریک ہے معما ہے\n\nمو بہ مو اس کوں ہے پریشانی\nزلف مشکیں کا جس کوں سودا ہے\n\nکیا حقیقت ہے تجھ تواضع کی\nیو تلطف ہے یا مداوا ہے\n\nسبب دل ربائی عاشق\nمہر ہے لطف ہے دلاسا ہے\n\nجوں ولیؔ رات دن ہے محو خیال\nجس کوں تجھ وصل کی تمنا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%B3%D8%B1_%D8%B3%D8%A8%D8%B2_%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%88_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "آج سنتے ہیں کہ میرے گھر وہ یار آنے کو ہے", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج سنتے ہیں کہ میرے گھر وہ یار آنے کو ہے\nاپنے قابو میں دل بے اختیار آنے کو ہے\n\nبلبلیں ہیں نغمہ زن پھولا ہوا ہے باغباں\nباغ میں کھلتی ہیں کلیاں کیا بہار آنے کو ہے\n\nدیکھتا ہوں چشم نرگس آج شرمائی ہوئی\nکیا تمہاری دید کا امیدوار آنے کو ہے\n\nمثل تصویر خیالی مرغ بستاں ہیں خموش\nباغباں گلشن میں کوئی دل فگار آنے کو ہے\n\nاے جمیلہؔ فصل گل آئی چلا صحرا کو میں\nمیہماں بن کر مرے تلووں میں خار آنے کو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%B3%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%88%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے\nظلم کی چاند پہ زہراؔ کی گھٹا چھائی ہے\nاس طرف لشکرِ اعدا میں صف آرائی ہے\nیاں نہ بیٹا نہ بھتیجا نہ کوئی بھائی ہے\nبرچھیاں کھاتے چلے جاتے ہیں تلواروں میں\nمار لو پیاسے کو ہے شور ستمگاروں میں\n\nزخمی بازو ہیں کمرخم ہے بدن میں نہیں تاب\nڈگمگاتے ہیں نکل جاتی ہے قدموں سے رکاب\nپیاس کا غلبہ ہے لب خشک ہیں آنکھیں ہیں پر آب\nتیغ سے دیتے ہیں ہر وار کا اعدا کو جواب\nشدتِ ضعف میں جس جا پہ ٹھہر جاتے ہیں\nسیکڑوں تیر ستم تن سے گذر جاتے ہیں\n\nگیسو آلودۂ خوں لپٹے ہیں رخساروں سے\nشانے کٹ کٹ کے لٹک آئے ہیں تلواروں سے\nتیرہ پیوست ہیں خوں بہتا ہے سوفاروں سے\nلاکھ آفت میں ہے اک جان دل آزاروں سے\nفکر ہے سجدۂ معبود ہیں سر دینے کی\nدار سے تیغوں کے فرصت نہیں، دم لینے کی\n\nخون سے تر پیچ عمامے کے ہیں سر زخمی ہے\nہے جبیں چاند سی پر نور مگر زخمی ہے\nسینہ سب برچھیوں سے تا بہ کمر زخمی ہے\nتیرِ بیداد سے دل زخمی، جگر زخمی ہے\nضربِ شمشیر سے بیکار ہیں بازو دونوں\nظلم کے تیروں سے مجروح ہیں پہلو دونوں\n\nبرچھی آ کر کوئی پہلو میں لگا جاتا ہے\nمارتا ہے کوئی نیزہ تو غش آجاتا ہے\nبڑھتے ہیں زخمِ بدن، زور گھٹا جاتا ہے\nبند آنکھیں ہیں، سرِ پاک جھکا جاتا ہے\nگردِ زہراؔ و علیؔ گریہ کناں پھرتے ہیں\nغل ہے گھوڑے سے امام دو جہاں گرتے ہیں\n\nگرتے ہیں قطرۂ خوں زخمِ جبیں سے پیہم\nدستِ مجروح سے کھنچ سکتے نہیں تیرِ ستم\nفکر ہے بخششِ امت کی کچھ اپنا نہیں غم\nکرتے ہیں شکرِ خدا خشک زباں سے ہر دم\nہے عبا تیروں سے غرباں قبا گلگوں ہے\nہونٹ یا وقت سے زخمی ہیں دہن پر خوں ہے\n\nزیں سے ہوتا ہے جدا دوشِ محمد کا مکیں\nچمنِ فاطمہ کا سرو ہے مائل بہ زمیں\nبرچھیاں گرد ہیں اور بیچ میں ہیں سرورِ دیں\nہے یہ نزدیک گرے مہرِ نبوت کا نگیں\nپاؤں ہر بار رکابوں سے نکل جاتے ہیں\nیا علیؔ کہتی ہے زینبؔ تو سنبھل جاتے ہیں\n\nلاکھ تلواریں ہیں اورایک تنِ اطہر ہے\nایک مظلوم ہے اور ظالموں کا لشکر ہے\nسیکڑوں خنجرِ فولاد ہیں اور اک سر ہے\nنہ کوئی یار، نہ ہمدم، نہ کوئی یاور ہے\nباگ گھوڑے کی لٹکتی ہے، اٹھا سکتے نہیں\nسامنے اہلِ حرم روتے ہیں، جا سکتے ہیں\n\nکوئی سید کا نہیں آہ، بچانے والا\nحربے لاکھوں ہیں، اور اک زخم اٹھانے والا\nپیاس میں کوئی نہیں، پانی پلانے والا\nسنبھلے کس طرح بھلا، برچھیاں کھانے والا\nچرخ سے آگ برستی ہے زمیں جلتی ہے\nمارے گرمی کے زباں خشک ہے، لُو چلتی ہے\n\nکہیں دم لینے کو سایہ نہیں، ہے وقت زوال\nاینٹھی جاتی ہے زباں پیاس کی شدت ہے کمال\nکبھی زینبؔ کا ہے غم گاہ سکینہؔ کا خیال\nدن جو ڈھلتا ہے تو حضرت ہوئے جاتے ہیں نڈھال\nمثلِ خورشید، بدن ضعف سے تھراتا ہے\nنیر برجِ امامت پہ زوال آتا ہے\n\nکہتے ہیں ظالموں سے، خشک زباں دکھلا کر\nبہرِ حق پانی کا، اک جام پلادو لا کر\nاہلِ کیں کہتے ہیں یہ تیغِ ستم چمکا کر\nآبِ شمشیر پیو برچھیوں کے پھل کھا کر\nیہ سخن سن کے بھی غصہ نہیں فرماتے ہیں\nیاس سے سوئے فلک دیکھ کے رہ جاتے ہیں\n\nعرض کرتے ہیں یہ خالق سے کہ اے لبِ غفور!\nتو ہے عالم کہ نہیں کچھ ترے بندے کا قصور\nکرتے ہیں یہ مجھے بے جرم و خطا تیغوں سے چور\nہاتھ امت پہ اٹھانا نہیں مجھ کو منظور\nجانتے ہیں کہ محمدؔ کا نواسا ہوں میں\nپانی دیتے نہیں دو روز کا پیاسا ہوں میں\n\nتو نے بچپن سے مرے ناز اٹھائے یارب\nوہ عنایت کیا جو تجھ سے کیا میں نے طلب\nتیرا محبوب بنا عید کو میرا مرکب\nروزہ رکھا تو چھپا مہر نمایاں ہوئی شب\nبھوک میں خلد کا کھانا مجھے امداد کیا\nبھیج کر ہرنی کا بچہ مرا دل شاد کیا\n\nاب اگر ہے یہ تری مصلحت اے ربِّ قدیر\nہو رواں حلق پہ اس پیاسے کے آبِ شمشیر\nمیرے مولا بہ سر و چشم ہے حاضر شبیر\nحکمِ حاکم میں یہ طاقت ہے کروں میں تاخیر\nجلد گردن پہ رواں، خنجرِ برّآں ہووے\nاے خوشا وہ، جو تری راہ میں قرباں ہووے\n\nغم نہیں کچھ مجھے گو بیکس و بے یار ہوں میں\nزیرِ شمشیر گلا رکھنے کو تیار ہوں میں\nتو مددگار ہے، مختار ہے لاچار ہوں میں\nوقتِ مشکل ہے، عنایت کا طلبگار ہوں میں\nتیرے سجدے میں یہ سر تن سے جدا ہو جاوے\nعہدِ طفلی کا جو وعدہ ہے، وفا ہو جاوے\n\nسختیاں مرگ کی کر اپنے کرم سے آساں\nلب پہ تکبیر ہو، جب خلق پہ خنجر ہو رواں\nدل میں ہو یاد تری، بند ہو جس وقت زباں\nدم بھروں تیرا ہی تن سے جو نکلنے لگے جاں\nبعدِ چہلم جو مجھے قبر میسر ہووے\nزخمی تن پر نہ فشار اے مرے داور ہووے\n\nرحم کر رحم کر شرمندہ ہوں اے یارِ خدا\nبندگی کا ترے جو حق تھا ادا ہو نہ سکا\nخوفِ محشر سے، بدن کانپتا ہے، سرتاپا\nہوگی اعمال کی پرسش تو، کہوں گا میں کیا؟\nکوئی تحفہ ترے لائق نہیں پاتا ہے حسینؔ\nہاتھ خالی ترے دربار میں آتا ہے حسینؔ\n\nتقویت دل کو کرم سے ہے ترے یا رحماں\nنہیں مایوس کہ رحمت ہے تری بے پایاں\nمشکلیں بندوں کی کر دیتا ہے دم میں آساں\nشکر الطاف و عنایات میں قاصر ہے زباں\nعاصیوں سے بھی محبت نہیں کم کرتا ہے\nجرم وہ کرتے ہیں تو لطف و کرم کرتا ہے\n\nمیں تری راہ میں مظلومی سے ہوتا ہوں فدا\nتو ہے آگاہ کہ دو دن کا ہوں بھوکا پیاسا\nچاہتا ہوں میں یہی، اپنی شہادت کا صلا\nمغفرت امتِ عاصی کی ہو اے بارِ خدا\nہے گوارا مجھے جو کچھ کہ اذیت ہووے\nان کو دنیا میں بھی عقبیٰ میں بھی راحت ہووے\n\nعرض کرتے تھے یہ خالق سے شۂ بندہ نواز\nیک بیک عالمِ بالا سے یہ آئی آواز\nاے مرے شیر کے فرزند، نبی کے دمساز\nتجھ سے ہم خوش ہیں پذیرا ہے ترا عجر و نیاز\nمرد ہے عاشقِ کامل ہے، وفادار ہے تو\nجو کہا وہ ہی کیا صادق الاقرار ہے تو\n\nتو بھی مقبول ہے اور تیری عبادت بھی قبول\nیہ اطاعت بھی ہے مقبول، یہ طاعت بھی قبول\nعاجزی بھی تری مقبول، شہادت بھی قبول\nتیری خاطر سے ہمیں بخششِ امت بھی قبول\nہم نے خیل شہدا کا تجھے سردار کیا\nامتِ احمد مختار کا مختار کیا\n\nدوست داروں کا ترے گلشنِ جنت ہے مقام\nتاابد سایۂ طوبیٰ میں کریں گے آرام\nہوں گے محشور ترے ساتھ عزادار تمام\nتجھ کو جو روئیں گے آنچ ان پہ ہے دوزخ کی حرام\nغم نہ کھا! اہلِ جہاں تیرے محب سارے ہیں\nتو ہے پیارا، ترے پیارے میں بھی ہمیں پیارے ہیں\n\nہوں گے ہر رنج سے، محفوظ ترے تعزیہ دار\nسختیِٔ مرگ نہ ان کو ہے، نہ ایذائے فشار\nدمِ مردن نظر آوے گا علیؔ کا دیدار\nقبر سے گلشنِ فردوس کی دیکھیں گے بہار\nدار دنیا ہی میں ہیں جو سو انہیں ایذا ہے\nآنکھیں جب بند ہوئیں پھر، درِ جنت وا ہے\n\nتجھ سا عابد نہ ہوا ہے، نہ کوئی ہووے گا\nتیر کھا کھا کے کسی نے بھی ہے یوں شکر کیا\nطاعتِ خلق سے اک سجدہ ہے افضل تیرا\nعرشِ اعظم پہ، ملائک تری کرتے ہیں ثنا\nسارا گھر میری محبت میں، فنا تو نے کیا\nبندگی کا تھا جو کچھ حق وہ ادا تو نے کیا\n\nحشر تک روئے گا مظلومی پہ تیری عالم\nتیرا ماتم نہیں ہووے گا جہاں میں کبھی کم\nروضۂ پاک کو تیرے یہ شرف بخشیں گے ہم\nآئیں گے جس کی زیارت کو ملک ہو کے بہم\nیہ زمیں عرش سے رتبے میں سوا ہووے گی\nخاک تربت کی تری خاکِ شفا ہووے گی\n\nیہ صدا سن کے ہوئے شاد شۂ ہر دوسرا\nآ گئی از سرِ نو جسم میں طاقت گویا\nجھک کے سجدے کی طرف عجز سے رو کر یہ کہا\nمیرے مولا میں تری بندہ نوازی کے فدا\nکیوں نہ ممتاز ہو وہ تو جسے رتبہ بخشے\nاس کفِ خاک کو کیا رتبۂ اعلیٰ بخشے\n\nابھی مولا نے سرِ عجز اٹھایا نہ تھا آہ\nنیزہ اک چھاتی پہ مارا جو کسی نے ناگاہ\nغش میں گرنے لگے گھوڑے سے امامِ ذی جاہ\nآئی خاتونِ قیامت کی صدا بسم اللہ\nتھامنے آئے علیؔ خلد سے گھبرائے ہوئے\nدوڑے محبوبِ خدا ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے\n\nاک جفا کیش نے پھر پہلو پہ نیزہ مارا\nچھد گیا توڑ کے چھاتی کو کلیجہ سارا\nپشتِ تازی پہ، سنبھلنے کا نہ پایا یارا\nگر پڑا خاک پہ، وہ عرشِ خدا کا تارا\nگرد آلود قبائے شۂ پرنور ہوئی\nریت زخموں کے لیے مرہم کافور ہوئی\n\nخاک و خوں میں جو تڑپتے تھے ، شہنشاہِ زمن\nگل کے مانند کھلے جاتے تھے سب زخمِ بدن\nطلبِ آب میں کھولے ہوئے تھے خشک دہن\nگرد کھینچے ہوئے تلواریں کھڑے تھے دشمن\nغمِ ناموس بھی تھا، پیاس کی بھی شدت تھی\nپھر سکینہؔ کو نہ دیکھ آئے یہی حسرت تھی\n\nکان میں آتی تھی زینبؔ کے صدائے جاںکاہ\nدل تڑپ جاتا تھا کرتے تھے عجب درد سے آہ\nراہ روکے ہوئے خیمے کی، کھڑے تھے گمراہ\nنیم وا چشم سے کرتے تھے سوئے خیمہ نگہ\nتنِ زخمی پہ جو پیکانِ ستم گڑتے تھے\nخاک سے اٹھتے تھے اور کانپ کے گر پڑتے تھے\n\nکہتا تھا فوج میں سب سے عمر بد اختر\nکھنچے کیوں تیغوں کو ہاتھوں میں کھڑے ہو ششدر\nریگِ تفتیدہ پہ ہے غش میں، علیؔ کا دلبر\nجاؤ کیا دیر ہے ، کاٹو شۂ مظلوم کا سر\nتیغ سے فاطمہؔ زہرا کا گلا چاک کرو\nجلد ہاں خاتمۂ پنجتن پاک کرو\n\nایسے مظلوم کا، سر کاٹنا کیا ہے دشوار\nجس کا کوئی بھی مددگار، نہ ہمدرد، نہ یار\nعورتیں ہیں کئی خیمے میں غریب و ناچار\nمر چکے پہلے ہی جو خون کے تھے دعویدار\nخوں بہا بھی نہ کوئی مانگنے کو آوے گا\nاک پسر ہے سو وہ بیمار ہے مرجاوے گا\n\nکانپ کر کہتے تھے سب ہم سے نہ ہوگا یہ ستم\nذبح فرزندِ محمدؔ کو نہیں کرنے کے ہم\nایسے مظلوم کی چھاتی پہ جو رکھے گا قدم\nپاؤں جل جائے گا تھرائے گا عرشِ اعظم\nپیٹتے قبر سے محبوب خدا آویں گے\nبخدا فاطمہ کی آہ سے جل جاویں گے\n\nکون بے کس کو بھلا ذبح کرے بے تقصیر\nپھرتا ہے کوئی پیاسے کے گلے پر شمشیر؟\nگو کہ بے کس ہے پہ آساں نہیں، قتلِ شبیرؔ\nحشر میں ہوئیں گے محبوبِ خدا دامن گیر\nتو سمجھتا ہے کہ اس کا کوئی خوں خواہ نہیں\nبنتِ احمدؔ نہیں، حیدر نہیں، اللہ نہیں\n\nتھا جو دمساز عمر ابن نمیر اظلم\nبڑھ کے تیغ اس نے سرِ شاہ پہ ماری اس دم\nتا جبیں ہو گیا مجروح سرِ شاہِ امم\nتھام کر سر کو پکارے یہ امامِ عالم\nنہ میسر تجھے اس ہاتھ سے کھانا ہووے\nتو تہی دست جہنم کو روانہ ہووے\n\nچاہا ظالم نے کہ پھر شۂ پہ کرے تیغ کا وار\nدیکھا انگشت بدنداں ہیں رسولؐ مختار\nخشک اس وقت ہوئے دستِ ستمگر اک بار\nہاتھ سے تیغ گری خوف سے بھاگا، خوں خوار\nیاں سرِ پاک سے حضرت کے لہو جاری تھا\nخم سوئے قبلہ تھے، بند آنکھیں تھیں غش طاری تھا\n\nجب تڑپنے کی بھی طاقت نہ رہی سرور کو\nغل ہوا یہ کہ غش آیا، خلفِ حیدر کو\nفوج سے شمر بڑھا کھینچے ہوئے خنجر کو\nسب سے کہتا تھا کہ اب کاٹو سرِ سرور کو\nخلفِ احمدِ مختار کا قاتل ہوں میں\nکام میرا ہے، اسی کام کے قابل ہوں میں\n\nمجھ کو حیدرؔ سے غرض ہے نہ محمدؔ سے ہے کام\nرو دیں محبوبِ خدا ہووے خوشی حاکمِ شام\nدولتِ فاطمہؔ لے جاؤں میں پاؤں انعام\nروح حیدرؔ کی ہو بے چین، مجھے ہو آرام\nمنہ نہ میں دولتِ دنیا سے کبھی پھیروں گا\nآج زہراؔ کے کلیجے پہ چھری پھیروں گا\n\nتیز کرتا ہوا خنجر کو گیا شہ کے قریں\nآسماں ہل گیا تھرا گئی مقتل کی زمیں\nرو رو چلانے لگی زینبِؔ ناشادِ حزیں\nغش میں بھی گھیرے ہیں، ہے ہے مرے بھائی کو لعیں\nرحم زہراؔ کے پسر پر نہیں کھاتا کوئی\nخاک سے بھی نہیں زخمی کو اٹھاتا کوئی\n\nکس سے فریاد کروں، جا کے میں دکھیا ہے ہے\nنہ محمدؔ ہیں نہ حیدرؔ ہیں نہ زہرا ہے ہے\nلاکھ دشمن ہیں مرا بھائی ہے تنہا ہے ہے\nتیغوں سے کٹتا ہے، زہراؔ کا کلیجا ہے ہے\nسروِ گلزارِ رسالت کو قلم کرتے ہیں\nہائے سید پہ، مسافر پہ ستم کرتے ہیں\n\nگرد زینب کے تھا ناموس پیمبر کا ہجوم\nبانو روتی تھی، کھڑی پیٹتی تھی سر، کلثوم\nکہتی تھی دیکھ کے میداں کو سکینہ معصوم\nاے پھوپھی! نرغۂ اعدا میں ہیں شاہِ مظلوم\nجاؤں گی اب میں ٹھہرنے کی نہیں آپ کے پاس\nشمرؔ خنجر لیے جاتا ہے ، مرے باپ کے پاس\n\nباپ کے پاس سے ، جا کر اسے سرکاؤں گی\nجوڑ کر ہاتھوں کو منت سے میں سمجھاؤں گی\nاپنے بابا کی میں چھاتی سے لپٹ جاؤں گی\nخیمے تک ان کو سنبھالے ہوئے لے آؤں گی\nبھوکے پیاسے، مرے بابا کو نہ مارے کوئی\nان کے بدلے، مرا سر تن سے اتارے کوئی\n\nکتنا روکا اسے بانو نے پہ ہرگز نہ رکی\nچھوٹے سے ہاتھون سے سر پیٹتی میداں کو چلی\nپیچھے سر کھولے ہوئے خیمے سے زینبؔ نکلی\nپہونچی رن میں تو سکینہؔ یہ عمر سے بولی\nاو لعیں حیدرِؔ کرار کی پوتی ہوں میں\nرحم کر! مجھ پہ کہ بِن باپ کی ہوتی ہوں میں\n\nدیکھ غربت کو مری کر مرے بچپن پہ نظر\nباپ مارا گیا میرا تو جیوں گی کیوں کر؟\nسر پہ آوے گی یتیمی تو میں جاؤں گی کدھر؟\nمیں تو ہوں باپ کی شیدا مرا عاشق ہے پدر\nباپ بن ایک دم آرام نہ آوے گا مجھے\nکون پھر رات کو چھاتی پہ سلاوے گا مجھے\n\nہنسلیاں اپنی گلے سے تجھے دیتی ہوں اتار\nلے مرے کان کا دُر، پر مرے بابا کو نہ مار\nہاتھوں کو جوڑتی ہوں میں ترے آگے ناچار\nمنع کردے کوئی بیکس کو نہ مارے تلوار\nگھر میں جو کچھ زر و زیور ہے، وہ لادوں گی میں\nجان بابا کی بچے گی تو دعا دوں گی میں\n\nبھیڑ میں مجھ کو نظر آتے نہیں بابا جاں\nاتنا کہہ دے کہ سرک جائیں یہ سب بے ایماں\nگرد پھر پھر کے، میں ہوں اپنے پدر کے قرباں\nجا کے دیکھوں گی، بدن پر ہیں لگے زخم کہاں\nدمِ آخر تو بھلا کام میں آؤں ان کے\nاپنے کرتے سے لہو منہ کا چھڑاؤں ان کے\n\nکتنا کہتی رہی وہ بنتِ شۂ عرشِ جناب\nاس ستمگر نے دیا کچھ نہ سکینہؔ کو جواب\nپیٹ کر سر کہا زینبؔ نے کہ او خانہ خراب\nتجھ کو آتا نہیں کچھ روحِ پیمر سے حجاب\nظلم مت کر اسد اللہ کی جائی ہوں میں\nننگے سر پردے سے باہر نکل آئی ہوں میں\n\nمیری اماں کا ہے مشہور جہاں میں پردا\nبعدِ رحلت بھی جنازہ نہ کسی نے دیکھا\nاس کی بیٹی ہوں، ترے ظلم سے ، یہ وقت پڑا\nسر برہنہ ہوں، گریباں بھی ہے کرتے کا پھٹا\nمنہ کو اللہ و پیمبر سے چھپاتا ہے تو\nمیں تو فریادی ہوں، اور آنکھ چراتا ہے تو\n\nمارا جاتا ہے ترے سامنے زہراؔ کا پسر\nدیکھتا ہے تو یہ تلواریں ہیں پڑتی کس پر\nتیر کس کو لگے غربال ہوا کس کا جگر\nذبحِ کرنے کو کسے کھینچے ہے ظالم خنجر\nدلِ زہرا، جگر شیرِ خدا، کٹتا ہے\nظلم سے تیرے، محمدؔ کا گلا کٹتا ہے\n\nقتل مظلوم کو کیوں کرتا ہے، بے جرم و گناہ\nاب تلک میں نے بہت صبر کیا ہے واللہ\nدل جلی ہوں میں ابھی سینے سے کھینچوں گر آہ\nتو بی جل جائے، تری فوج بھی ہو خاک سیاہ\nبد دعا دوں میں تو نازل ابھی آفت ہووے\nسر کے بالوں کو جو کھولوں تو قیامت ہووے\n\nغش میں حضرت نے سنے جبکہ یہ زینبؔ کے سخن\nکھول کر دیدۂ پرخوں کو اٹھائی گردن\nدیکھا سر ننگے کھڑی روتی ہیں مقتل میں بہن\nبنتِ زہراؔ کو پکارے یہ شہنشاہِ زمن\nکیا کیا تم نے کہ پردے سے کھلے سر نکلیں\nجیتے جی میرے سر پردے سے باہر نکلیں\n\nکس کو سمجھاتی ہو، کوئی نہ سنے گا فریاد\nباز آئے گا نہیں، قتل سے میرے جلاد\nجتنا تم پیٹتی ہو، اور لعیں ہوتے ہیں شاد\nحشر کے روز خدا دیوے گا اس خون کی داد\nشوق مرنے کا ہے، سر تن سے جدا ہونے دو\nجاؤ گھر میں، مجھے امت پہ فدا ہونے دو\n\nگود میں میری سکینہؔ کو اٹھاؤ ہمشیر\nکوئی اصغر کی طرح مار نہ بیٹھے اسے تیر\nپھر یہ بیٹی کو پکارے ترے صدقے شبیرؔ\nتو بھی جا ساتھ پھوپھی جان کے اب اے دلگیر\nوقتِ طاعت ہے ذرا یادِ خدا کر لیویں\nہم بھی اب آتے ہیں، سجدے کو ادا کر لیویں\n\nکہہ کے یہ غش ہوئے پھر رن میں شہنشاہ امم\nشمرِ اظلم نے رکھا، سینۂ اقدس پہ قدم\nجگرِ فاطمہؔ زہرا پہ چلی تیغِ دو دم\nآگے زینبؔ کے ہوئے ذبح حسینؔ آہ ستم\nپیٹ کر بنت شہنشاہِ زمن رونے لگی\nباپ کو بیٹی، برادر کو بہن رونے لگی\n\nفتح کا فوج مخالف میں بجا نقارا\nغل ہوا قتل ہوا شیر خدا کا پیارا\nبس انیسؔ اب نہیں گویائی کا مجھ کو یارا\nغم سے خوں ہو گیا سینہ میں کلیجا سارا\nکس سے اس درد و مصیبت کا بیاں ہوتا ہے\nآنکھیں روتی ہیں قلم روتا ہے دل روتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%B4%D8%A8%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%90_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "آج صیاد نے بھولے سے چمن دکھلایا", "poet_page": "مصنف:نسیم میسوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج صیاد نے بھولے سے چمن دکھلایا\nمیری تقدیر نے پھر مجھ کو وطن دکھلایا\n\nعین مستی میں جو وہ شوخ ہوا سر کہ جبیں\nیہ اڑے ہوش کہ نشے نے ہرن دکھلایا\n\nجھٹ پٹا وقت ہوا موت کا ساماں شب وصل\nسحر ہجر کا مردوں نے کفن دکھلایا\n\nچاند کو دیکھتے ہیں لوٹتے انگاروں پر\nتم نے کیوں کبک دری کو یہ چلن دکھلایا\n\nآئے واللہ دل حیران میں کیا کچھ ارماں\nاس نے آئینے کو تن تن کے جو تن دکھلایا\n\nمرتے جیتے ہی رہے ہم تو اجی دم دم میں\nنہ کمر اس نے دکھائی نہ دہن دکھلایا\n\nیاد میں پھول سے گالوں کے سنبھالا دل کو\nکبھی نسریں تو کبھی اس کو سمن دکھلایا\n\nپھر ترا شور تبسم جو نمک ریز ہوا\nپھر مرا تازہ مجھے زخم کہن دکھلایا\n\nکل جو تھا وعدۂ وصل آج وہ فردا نکلا\nدن قیامت کا تو اے وعدہ شکن دکھلایا\n\nکیوں نہ میں خار بنوں چشم رقیباں میں نسیمؔ\nپھول سے گال مجھے غنچہ دہن دکھلایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D8%B5%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آج قابو میں یہ مزاج نہیں", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج قابو میں یہ مزاج نہیں\nبے خودی کا کوئی علاج نہیں\n\nوقت آخر ہے میرا جاؤ طبیب\nاب دوا کی تو احتیاج نہیں\n\nعہد میں میرے شاہ خوباں کے\nستم و ظلم کا رواج نہیں\n\nمجھ کو دکھلا دو روئے غوث خدا\nاور کوئی مرا علاج نہیں\n\nکم نہیں فقر بادشاہی سے\nکچھ تمنائے تخت و تاج نہیں\n\nشاہ خوباں کے واسطے ہرگز\nغیر از دل کوئی خراج نہیں\n\nہفت اقلیم نذر شہ کرتے\nاے جمیلہؔ ہمارا راج نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آج مہندی لگائے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "آج مہندی لگائے بیٹھے ہیں\nخوب وہ رنگ لائے بیٹھے ہیں\n\nمیرے آتے ہی ہو گئے برہم\nکچھ کسی کے سکھائے بیٹھے ہیں\n\nتیغ کھینچی ہے قتل پر میرے\nہاتھ مجھ سے اٹھائے بیٹھے ہیں\n\nمیں شکایت جفا کی کرتا ہوں\nچپکے وہ سر جھکائے بیٹھے ہیں\n\nدم چرائے ہوئے پڑے ہیں ہم\nوہ جو بالیں پہ آئے بیٹھے ہیں\n\nامتحاں کو کہا تو بولے وہ\nہم تمہیں آزمائے بیٹھے ہیں\n\nکس کو نظروں سے آج اتاریں گے\nکیوں وہ تیوری چڑھائے بیٹھے ہیں\n\nدیکھیے کب وہ شمع رو آئے\nشام سے لو لگائے بیٹھے ہیں\n\nٹالنا وصل کا جو ہے منظور\nخود سے خود منہ تھوتھائے بیٹھے ہیں\n\nسادہ پن میں ہزار جوبن ہے\nبال کھولے نہائے بیٹھے ہیں\n\nکون پہلو سے اٹھ گیا انجمؔ\nآپ کیوں دل دبائے بیٹھے ہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D9%85%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر\nکل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر\nسینۂ افلاک سے اُٹھتی ہے آہِ سوز ناک\nمردِ حق ہوتا ہے جب مرعوبِ سُلطان و امیر\nکہہ رہا ہے داستاں بیدردیِ ایّام کی\nکوہ کے دامن میں وہ غم خانۂ دہقانِ پیر\nآہ! یہ قومِ نجیب و چرب دست و تر دماغ\nہے کہاں روزِ مکافات اے خُدائے دیر گیر؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%88%D9%85_%D9%88_%D9%85%D8%AC%D8%A8%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%B1"} {"title": "آج پلکوں کو جاتے ہیں آنسو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج پلکوں کو جاتے ہیں آنسو\nالٹی گنگا بہاتے ہیں آنسو\n\nآتش دل تو خاک بجھتی ہے\nاور جی کو جلاتے ہیں آنسو\n\nخون دل کم ہوا مگر جو مرے\nآج تھم تھم کے آتے ہیں آنسو\n\nجب تلک دیدہ گریہ ساماں ہو\nدل میں کیا جوش کھاتے ہیں آنسو\n\nگوکھرو پر تمہاری انگیا کے\nکس کے یہ لہر کھاتے ہیں آنسو\n\nتیری پازیب کے جو ہیں موتی\nان سے آنکھیں لڑاتے ہیں آنسو\n\nشمع کی طرح اک لگن میں مرے\nمصحفیؔ کب سماتے ہیں آنسو\n\nفکر کر ان کی ورنہ مجلس میں\nابھی طوفاں لاتے ہیں آنسو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D9%BE%D9%84%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88"} {"title": "آج پھر اس گلی میں جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:سید امیر حسن بدر", "kind": "poetry", "section": "غزل > خمخانۂ بدر (1928)", "year": "1928", "text_ur": "آج پھر اس گلی میں جاتے ہیں\nاپنی قسمت کو آزماتے ہیں\n\nلب شیریں سے دیتے ہیں دشنام\nشہد میں زہر وہ ملاتے ہیں\n\nکیجئے وار تیغ ابرو کا\nسر تسلیم ہم جھکاتے ہیں\n\nعشق میں ہو گئے ہیں ہم مزدور\nناز محبوبوں کے اٹھاتے ہیں\n\nمجھ کو گھائل جو ان کو کرنا ہے\nزہر میں تیغ کو بجھاتے ہیں\n\nوہ برس پڑتے ہیں اگر مجھ پر\nمیرے دل کی لگی بجھاتے ہیں\n\nزلف چھو لی جو میں نے وہ بولے\nتم سے گستاخ مار کھاتے ہیں\n\nہجر میں کیا کہیں غذا کیا ہے\nغم جاں کاہ روز کھاتے ہیں\n\nمجھ سے رونق ہے ان کی محفل کی\nشمع ساں مجھ کو وہ جلاتے ہیں\n\nبعد مردن یہ ان کی دل سوزی\nشمع لے کر لحد پہ آتے ہیں\n\nترک عشق بتاں کیا اے بدرؔ\nاب مدینہ کو ہم تو جاتے ہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آج کل بے قرار ہیں ہم بھی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج کل بے قرار ہیں ہم بھی\nبیٹھ جا چلنے ہار ہیں ہم بھی\n\nآن میں کچھ ہیں آن میں کچھ ہیں\nتحفۂ روزگار ہیں ہم بھی\n\nمنا گریہ نہ کر تو اے ناصح\nاس میں بے اختیار ہیں ہم بھی\n\nدرپئے جان ہے قراول مرگ\nکسو کے تو شکار ہیں ہم بھی\n\nنالے کریو سمجھ کے اے بلبل\nباغ میں یک کنار ہیں ہم بھی\n\nمدعی کو شراب ہم کو زہر\nعاقبت دوست دار ہیں ہم بھی\n\nمضطرب گریہ ناک ہے یہ گل\nبرق ابر بہار ہیں ہم بھی\n\nگر زخود رفتہ ہیں ترے نزدیک\nاپنے تو یادگار ہیں ہم بھی\n\nمیرؔ نام اک جواں سنا ہوگا\nاسی عاشق کے یار ہیں ہم بھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "آج کی رات", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دیکھنا جذب محبت کا اثر آج کی رات\nمیرے شانے پہ ہے اس شوخ کا سر آج کی رات\n\nاور کیا چاہئے اب اے دل مجروح تجھے\nاس نے دیکھا تو بہ انداز دگر آج کی رات\n\nپھول کیا خار بھی ہیں آج گلستاں بہ کنار\nسنگریزے ہیں نگاہوں میں گہر آج کی رات\n\nمحو گلگشت ہے یہ کون مرے دوش بدوش\nکہکشاں بن گئی ہر راہ گزر آج کی رات\n\nپھوٹ نکلا در و دیوار سے سیلاب نشاط\nاللہ اللہ مرا کیف نظر آج کی رات\n\nشبنمستان تجلی کا فسوں کیا کہیے\nچاند نے پھینک دیا رخت سفر آج کی رات\n\nنور ہی نور ہے کس سمت اٹھاؤں آنکھیں\nحسن ہی حسن ہے تا حد نظر آج کی رات\n\nقصر گیتی میں امنڈ آیا ہے طوفان حیات\nموت لرزاں ہے پس پردۂ در آج کی رات\n\nاللہ اللہ وہ پیشانیٔ سیمیں کا جمال\nرہ گئی جم کے ستاروں کی نظر آج کی رات\n\nعارض گرم پہ وہ رنگ شفق کی لہریں\nوہ مری شوخ نگاہی کا اثر آج کی رات\n\nنرگس ناز میں وہ نیند کا ہلکا سا خمار\nوہ مرے نغمۂ شیریں کا اثر آج کی رات\n\nنغمہ و مے کا یہ طوفان طرب کیا کہیے\nگھر مرا بن گیا خیامؔ کا گھر آج کی رات\n\nمیری ہر سانس پہ وہ ان کی توجہ کیا خوب\nمیری ہر بات پہ وہ جنبش سر آج کی رات\n\nوہ تبسم ہی تبسم کا جمال پیہم\nوہ محبت ہی محبت کی نظر آج کی رات\n\nاف وہ وارفتگئ شوق میں اک وہم لطیف\nکپکپائے ہوئے ہونٹوں پہ نظر آج کی رات\n\nمذہب عشق میں جائز ہے یقیناً جائز\nچوم لوں میں لب لعلیں بھی اگر آج کی رات\n\nاپنی رفعت پہ جو نازاں ہیں تو نازاں ہی رہیں\nکہہ دو انجم سے کہ دیکھیں نہ ادھر آج کی رات\n\nان کے الطاف کا اتنا ہی فسوں کافی ہے\nکم ہے پہلے سے بہت درد جگر آج کی رات", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "آج کیا حال ہے یا رب سر محفل میرا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج کیا حال ہے یا رب سر محفل میرا\nکہ نکالے لیے جاتا ہے کوئی دل میرا\n\nسوز غم دیکھ نہ برباد ہو حاصل میرا\nدل کی تصویر ہے ہر آئینۂ دل میرا\n\nصبح تک ہجر میں کیا جانیے کیا ہوتا ہے\nشام ہی سے مرے قابو میں نہیں دل میرا\n\nمل گئی عشق میں ایذا طلبی سے راحت\nغم ہے اب جان مری درد ہے اب دل میرا\n\nپایا جاتا ہے تری شوخیٔ رفتار کا رنگ\nکاش پہلو میں دھڑکتا ہی رہے دل میرا\n\nہائے اس مرد کی قسمت جو ہوا دل کا شریک\nہائے اس دل کا مقدر جو بنا دل میرا\n\nکچھ کھٹکتا تو ہے پہلو میں مرے رہ رہ کر\nاب خدا جانے تری یاد ہے یا دل میرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8_%D8%B3%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "آج گلشن میں کس کا پرتو ہے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج گلشن میں کس کا پرتو ہے\nہر کلی گل کی شمع کی لو ہے\n\nخضر ہر چند پہنچے آب حیات\nزندگی جیسے پانی کی رو ہے\n\nپیسے ہے اس کو آسیائے فلک\nجس کے پاس ایک مشت بھی جو ہے\n\nغیر سے لینا امتحان وفا\nیہ جفا مجھ پر از سر نو ہے\n\nہے کدھر وہ غزال جس کے لیے\nرات دن مجھ کو یہ تگ و دو ہے\n\nہے یہ ؔجوشش وفا سرشتوں میں\nتو جو کہتا ہے بے وفا تو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "آج ہی کیا آگ ہے، سرگرمِ کیں تو کب نہ تھا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج ہی کیا آگ ہے، سرگرمِ کیں تو کب نہ تھا\nشمع ساں مجبورِ خوئے آتشیں تو کب نہ تھا\n\nآج ہی دعویٰ ہے کیا تجھ کو بتانِ دہر سے\nغیرتِ غلمان و رشکِ حورِ عیں تو کب نہ تھا\n\nآج ہی ہر بات پر بے وجہ کیا رکتا ہے تو\nاے ستم گر! برسرِ پرخاش و کیں تو کب نہ تھا\n\nآج ہی تیری جگہ کچھ سینہ و دل میں نہیں\nمثلِ تیرِ غمزہ ظالم! دل نشیں تو کب نہ تھا\n\nآج ہی کیا شرم و شوخی کو ملایا ہے بہم\nغیر سے بے باک، مجھ سے شرمگیں تو کب نہ تھا\n\nآج ہی کیا ہے فلک پر شکوۂ فریادِ خلق\nاے ستم گر! آفتِ روئے زمیں تو کب نہ تھا\n\nآج ہی کیا دشمنوں سے قتل کی تدبیر ہے\nاے جفا جو! در پئے جانِ حزیں تو کب نہ تھا\n\nآج ہی باتیں بنانی یاں کے آنے میں نہیں\nحیلہ گر تو کب نہ تھا، عذر آفریں تو کب نہ تھا\n\nآج ہی اٹھ کر یہاں سے کیا عدو کے گھر گیا\nمہر وش شب کو کہیں، دن کو کہیں تو کب نہ تھا\n\nآج ہی ٹیکہ لگانے سے لگے کیا چار چاند\nبے تکلف، بے تکلف مہ جبیں تو کب نہ تھا\n\nآج ہی کچھ سوزِ ہجراں سے نہیں پروانہ وار\nشیفتہ بے تابِ روئے آتشیں تو کب نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%DA%AF_%DB%81%DB%92%D8%8C_%D8%B3%D8%B1%DA%AF%D8%B1%D9%85%D9%90_%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے\nراگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہے\n\nدل دوانہ ہو گیا ہے دیکھ یہ صبح بہار\nرسمسا پھولوں بسا آیا انکھوں میں نیند ہے\n\nشیر عاشق آج کے دن کیوں رقیباں پے نہ ہوں\nیار پایا ہے بغل میں خانۂ خورشید ہے\n\nغم کے پیچھو راست کہتے ہیں کہ شادی ہووے ہے\nحضرت رمضاں گئے تشریف لے اب عید ہے\n\nعید کے دن رووتا ہے ہجر سیں رمضان کے\nبے نصیب اس شیخ کی دیکھو عجب فہمید ہے\n\nسلک اس کی نظم کا کیوں کر نہ ہووے قیمتی\nآبروؔ کا شعر جو دیکھا سو مروارید ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AC_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%DB%81%DB%92"} {"title": "آخر دل کی پرانی لگن کر کے ہی رہے گی فقیر ہمیں", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آخر دل کی پرانی لگن کر کے ہی رہے گی فقیر ہمیں\nہر رت آتے جاتے پائے ایک ہی شے کا اسیر ہمیں\n\nدھوم مچائے بہار کبھی اور پات ہرے کبھی پیلے ہوں\nہر نیرنگیٔ قدرت دیکھے یکساں ہی دلگیر ہمیں\n\nکیا کیا پکاریں سسکتی دیکھیں لفظوں کے زندانوں میں\nچپ ہی کی تلقین کرے ہے غیرت مند ضمیر ہمیں\n\nجن کی ہلکی گہری تلخی خون میں رچ رچ جاتی ہے\nجزو حیات بنانے پڑے ہیں وہ اشعار میرؔ ہمیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%84%DA%AF%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماری", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماری\nبن بن کے بگڑنے لگی تقدیر ہماری\n\nیہ عشق کے ہاتھوں ہوئی توقیر ہماری\nبازاروں میں بکنے لگی تصویر ہماری\n\nاس طرح کے دن رات دکھاتی ہے کرشمے\nتقدیر پس پردۂ تدبیر ہماری\n\nجلدی نہ کرو دھار ہے خنجر پہ ابھی تو\nہو لینے دو ثابت کوئی تقصیر ہماری\n\nکچھ خون کی چھینٹیں کہیں اشکوں کی نمی ہے\nجاتی ہے عجب شان سے تحریر ہماری\n\nہر سمت دہک اٹھتی ہے اک آگ جہاں میں\nلو دیتی ہے جب رات کو زنجیر ہماری\n\nبس ڈال لو چہرے پہ نقاب اپنے خدارا\nبے ربط ہوئی جاتی ہے تقریر ہماری\n\nیہ کہتے ہی بس مر گیا ناکام محبت\nتم بھی نہ ہمارے ہوئے تقدیر ہماری\n\nعالمؔ فلک تفرقہ پرداز کا ڈر ہے\nبنتے ہی بگڑ جائے نہ تقدیر ہماری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DA%86%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "آخر کار چلے تیر کی رفتار قدم", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آخر کار چلے تیر کی رفتار قدم\nغیر منزل نہ پڑے راہ میں زنہار قدم\n\nاٹھ گئے وصل کی شب پیشتر از یار قدم\nآگے ہم عمر رواں سے بھی چلے چار قدم\n\nکوئے مقصود سے یوں رکھتی ہے غفلت مجھے دور\nجیسے سو جانے سے ہو جاتے ہیں بیکار قدم\n\nاہل عالم میں ہوں میں زندوں میں مردوں کی طرح\nبڑھ چلیں لاکھ مگر ساتھ ہیں دو چار قدم\n\nایک مدت سے رہ کعبہ میں آوارہ ہیں\nکیا خدا کا مجھے دکھلائیں گے دیدار قدم\n\nجوش وحشت میں بھی میں چڑھ کے نہ اس پر دوڑا\nلے گئے حسرت خار سر دیوار قدم\n\nصورت برگ خزاں جھڑتے ہیں ہر گام گناہ\nجب اٹھاتے ہیں تری راہ میں زوار قدم\n\nاے جنوں کوہ و بیابان بھی دکھلا مجھ کو\nرہیں پستی و بلندی سے خبردار قدم\n\nکوچہ گردی یہ شب و روز کی بے وجہ نہیں\nایڑیاں رگڑیں گے کس کے پس دیوار قدم\n\nجادۂ راہ محبت کو خط مسطر جان\nسر کے بل مثل قدم چل جو ہوں بیکار قدم\n\nخاک بھی ہوں تو ہوں خاک در اس کا آتشؔ\nجس کے تھے دوش پیمبر کے سزا وار قدم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%82%D8%AF%D9%85"} {"title": "آخر کو راہ عشق میں ہم سر کے بل گئے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آخر کو راہ عشق میں ہم سر کے بل گئے\nمشکل میں ہاتھ پاؤں ہمارے نکل گئے\n\nکس کس کو یاد کر کے کوئی روئے اے فلک\nآنکھوں کے آگے لاکھ زمانے بدل گئے\n\nعشاق لکھنؤ کی کشش دیکھ اے مسیح\nلندن کے خوب رو بھی فرنگی محل گئے\n\nاپنا سراغ پوچھتے پھرتے ہیں موت سے\nآفت زدوں کے ہجر میں نقشے بدل گئے\n\nبدلو ردیف اور پڑھو شعر اے منیرؔ\nکیا فائدہ جو اس کے قوافی بدل گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "آخر کو عشق کفر سے ایمان ہو گیا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آخر کو عشق کفر سے ایمان ہو گیا\nمیں بت پرستیوں سے مسلمان ہو گیا\n\nمے تو حلال ہے جو پئے ڈھب سے بادہ نوش\nمیں توبہ کر کے اور پشیمان ہو گیا\n\nرندان بے ریا کی ہے صحبت کسے نصیب\nزاہد بھی ہم میں بیٹھ کے انسان ہو گیا\n\nاس غنچے میں سمائی ہے وحشت برنگ بو\nدل کتنی تنگیوں پہ بیابان ہو گیا\n\nلو اے بتو سنو کہ وہ داغؔ صنم پرست\nمسجد میں جا کے آج مسلمان ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آخر یہ حسن چھپ نہ سکے گا نقاب میں", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آخر یہ حسن چھپ نہ سکے گا نقاب میں\nشرماؤ گے تمہیں نہ کرو ضد حجاب میں\n\nپامال شوخیوں میں کرو تم زمین کو\nڈالوں فلک پے زلزلہ میں اضطراب میں\n\nروشن ہے آفتاب کی نسبت چراغ سے\nنسبت وہی ہے آپ میں اور آفتاب میں\n\nدل کی گرہ نہ وا ہوئی درد شب وصال\nگزری تمام بست و کشاد نقاب میں\n\nجاں میں نے نامہ بر کے قدم پر نثار کی\nتھا پیش پا فتادہ یہ مضموں جواب میں\n\nہنس ہنس کے برق کو تو ذرا کیجے بے قرار\nرو رو کے ابر کو میں ڈبوتا ہوں آب میں\n\nواعظ سے ڈر گئے کہ نہ شامل ہوئے ہم آج\nترتیب محفل مے و چنگ و رباب میں\n\nساقی ادھر تو دیکھ کہ ہم دیر‌ مست ہیں\nکچھ مستی‌ٔ نگہ بھی ملا دے شراب میں\n\nداخل نہ دشمنوں میں نہ احباب میں شمار\nمد فضول ہوں میں تمہارے حساب میں\n\nکس کس کے جور اٹھائیں گے آگے کو دیکھیے\nدشمن ہے چرخ پیر زمان شباب میں\n\nپیغامبر اشارۂ ابرو سے مر گیا\nپھر جی اٹھے گا لب بھی ہلا دو جواب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%86%DA%BE%D9%BE_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آخری بار ملو", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دل\nراکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریں\nچاک وعدہ نہ سلے زخم تمنا نہ کھلے\nسانس ہموار رہے شمع کی لو تک نہ ہلے\nباتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آ کر گن جائیں\nآنکھ اٹھائے کوئی امید تو آنکھیں چھن جائیں\n\nاس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیں\nجس سے اک اور ملاقات کی صورت نکلے\nاب نہ ہیجان و جنوں کا نہ حکایات کا وقت\nاب نہ تجدید وفا کا نہ شکایات کا وقت\nلٹ گئی شہر حوادث میں متاع الفاظ\nاب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوحہ کہیے\nآج تک تم سے رگ جاں کے کئی رشتے تھے\nکل سے جو ہوگا اسے کون سا رشتہ کہیے\n\nپھر نہ دہکیں گے کبھی عارض و رخسار ملو\nماتمی ہیں دم رخصت در و دیوار ملو\nپھر نہ ہم ہوں گے نہ اقرار نہ انکار ملو\nآخری بار ملو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D9%84%D9%88"} {"title": "آدم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "طلسمِ بُود و عدم، جس کا نام ہے آدم\nخدا کا راز ہے، قادر نہیں ہے جس پہ سخن\nزمانہ صبحِ ازل سے رہا ہے محوِ سفر\nمگر یہ اس کی تگ و دَو سے ہو سکا نہ کُہن\nاگر نہ ہو تجھے اُلجھن تو کھول کر کہہ دوں\n’وجُودِ حضرتِ انساں نہ رُوح ہے نہ بدن،!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AF%D9%85"} {"title": "آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا\nکچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دل بنا\n\nسرگرم نالہ ان دنوں میں بھی ہوں عندلیب\nمت آشیاں چمن میں مرے متصل بنا\n\nجب تیشہ کوہ کن نے لیا ہاتھ تب یہ عشق\nبولا کہ اپنی چھاتی پہ دھرنے کو سل بنا\n\nجس تیرگی سے روز ہے عشاق کا سیاہ\nشاید اسی سے چہرۂ خوباں پہ تل بنا\n\nلب زندگی میں کب ملے اس لب سے اے کلال\nساغر ہماری خاک کو متھ کرکے گل بنا\n\nاپنا ہنر دکھاویں گے ہم تجھ کو شیشہ گر\nٹوٹا ہوا کسی کا اگر ہم سے دل بنا\n\nسن سن کے عرض حال مرا یار نے کہا\nسوداؔ نہ باتیں بیٹھ کے یاں متصل بنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AF%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D8%B9%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84_%D8%A8%D9%86%D8%A7"} {"title": "آدم کا ضمیر اس کی حقیقت پہ ہے شاہد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "آدم کا ضمیر اس کی حقیقت پہ ہے شاہد\nمشکل نہیں اے سالکِ رہ! عِلم فقیری\nفولاد کہاں رہتا ہے شمشیر کے لائق\nپیدا ہو اگر اس کی طبیعت میں حریری\nخود دار نہ ہو فقر تو ہے قہرِ الٰہی\nہو صاحبِ غیرت تو ہے تمہیدِ امیری\nافرنگ ز خود بے خبرت کرد وگرنہ\nاے بندۂ مومن! تو بشیری، تو نذیری!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AF%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%B6%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%D9%BE%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%A7%DB%81%D8%AF"} {"title": "آدم کو عجب خدا نے رتبہ بخشا", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آدم کو عجب خدا نے رتبہ بخشا\nادنیٰ کے لیے مقام اعلیٰ بخشا\nعقل و ہنر و تمیز و جان و ایماں\nاس ایک کف خاک کو کیا کیا بخشا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AF%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%92_%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81_%D8%A8%D8%AE%D8%B4%D8%A7"} {"title": "آدم کو یہ تحفہ یہ ہدیہ نہ ملا", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آدم کو یہ تحفہ یہ ہدیہ نہ ملا\nایسا تو کسی بشر کو پایا نہ ملا\nاللہ ری لطافت تن پاک رسول\nڈھونڈا کیا آفتاب سایہ نہ ملا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AF%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D8%AD%D9%81%DB%81_%DB%8C%DB%81_%DB%81%D8%AF%DB%8C%DB%81_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "آدمی", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مجھ کو محصور کیا ہے مری آگاہی نے\nمیں نہ آفاق کا پابند نہ دیواروں کا\nمیں نہ شبنم کا پرستار نہ انگاروں کا\nنہ خلاؤں کا طلب گار نہ سیاروں کا\n\nزندگی دھوپ کا میدان بنی بیٹھی ہے\nاپنا سایہ بھی گریزاں، ترا داماں بھی خفا\nرات کا روپ بھی بے زار، چراغاں بھی خفا\nصبح حیراں بھی خفا، شام حریفاں بھی خفا\n\nخود کو دیکھا ہے تو اس شکل سے خوف آتا ہے\nایک مبہم سی صدا گنبد افلاک میں ہے\nتار بے مایہ کسی دامن صد چاک میں ہے\nایک چھوٹی سی کرن مہر کے ادراک میں ہے\nجاگ اے روح کی عظمت کہ مری خاک میں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C"} {"title": "آدمی آدمی سے ملتا ہے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آدمی آدمی سے ملتا ہے\nدل مگر کم کسی سے ملتا ہے\n\nبھول جاتا ہوں میں ستم اس کے\nوہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے\n\nآج کیا بات ہے کہ پھولوں کا\nرنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے\n\nسلسلہ فتنۂ قیامت کا\nتیری خوش قامتی سے ملتا ہے\n\nمل کے بھی جو کبھی نہیں ملتا\nٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے\n\nکاروبار جہاں سنورتے ہیں\nہوش جب بے خودی سے ملتا ہے\n\nروح کو بھی مزا محبت کا\nدل کی ہم سائیگی سے ملتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C_%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "آدمی آدمی سے ملتے ہیں", "poet_page": "مصنف:راغب بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آدمی آدمی سے ملتے ہیں\nآپ بھی کیا کسی سے ملتے ہیں\n\nیہ حسیں جس کسی سے ملتے ہیں\nجانتا ہے مجھی سے ملتے ہیں\n\nہم سے فرقت نصیب کیا جانیں\nجو مزے زندگی سے ملتے ہیں\n\nکیا بتائیں جنوں میں کیا کیا لطف\nہم کو ان کی ہنسی سے ملتے ہیں\n\nکیا کہیں جب وہ ملتے ہیں تنہا\nان سے ہم کس خوشی سے ملتے ہیں\n\nاس کی صورت کو پھر کوئی دیکھے\nجس سے وہ بے رخی سے ملتے ہیں\n\nان کی رخصت کے وقت ہم ان سے\nہائے کس بیکسی سے ملتے ہیں\n\nلاکھ غم زندگی ہے خود یعنی\nلاکھ غم زندگی سے ملتے ہیں\n\nاپنے مذہب میں ہے نفاق حرام\nجس سے ملتے ہیں جی سے ملتے ہیں\n\nسخن داغؔ کے مرے راغبؔ\nسخن شوقؔ ہی سے ملتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C_%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آدمی نامہ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nاور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nزردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nنعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئے\nمنکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرے\nکیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیے\nحتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سے\nخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nفرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کا\nشداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدا\nنمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملا\nیہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیا\nیاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nکل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہور\nشیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زور\nاور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nمسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں\nبنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواں\nپڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاں\nاور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاں\nجو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nیاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمی\nاور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمی\nپگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمی\nچلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمی\nاور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nچلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مال\nاور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈال\nیاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جال\nسچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لال\nاور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nیاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہ\nقاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہ\nتاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہ\nدوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہ\nاور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nیاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار بار\nاور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوار\nحقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مار\nکاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہار\nاور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nبیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگا\nاور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچا\nکہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لا\nکس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنا\nاور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمی\nطبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجا\nگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجا\nرنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگا\nاور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزا\nجو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nیاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہا\nاور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیا\nکالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں توا\nگورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سا\nبد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nاک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیں\nروپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیں\nجھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیں\nکم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیں\nاور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nحیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہے\nاور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہے\nہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہے\nدیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہے\nفولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nمرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیار\nنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوار\nکلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزار\nسب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروبار\nاور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمی\nاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیر\nیہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیر\nیاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیر\nاچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔ\nاور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81"} {"title": "آدھ گھنٹہ علامہ شبلی کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:مہدی افادی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "فاضل عصر پروفیسر کی تالیف جدید یعنی مولانا رومؒ کی لائف، جس کے لئے مدت سے آنکھیں فرش راہ تھیں، گھونگھٹ سے باہر آئی اور اس طرح کہ، ’’عروس جمیل و لباس حریر۔‘‘\n\nیورپ میں جہاں مذاق حسن پرستی، یعنی ایک طرح کے تناسب اجزا کی رعایت قریب قریب ہر شخص کا خمیر ہو رہی ہے۔ جہاں شائقین کی نگاہیں کہربائی روشنی میں جیتی جاگتی، ’’زہرہ ہائے شب‘‘ کے مقیاس الشباب اور اس کے برہنہ حصہ افقی کے جائزہ کے لئے وقف رہتی ہیں، ایک سنجیدہ طبقہ ایسا بھی ہے جو کتابوں کو علمی حرم کی حیثیت سے دیکھتا ہے اور ان کا دلدادہ ہے۔ اس کے خیال میں کسی کتب خانہ کا ایک گوشہ جہاں اس کی منظور نظر نازنینوں کا جھرمٹ ہو، اور جو ہمیشہ اس کی فرصت اور مرضی کی منتظر رہتی ہوں، اس شاہی محل سے کہیں بڑھ کر ہے جس کے لوازم عیش صرف دور سے دیکھنے کی چیز ہیں۔\n\nبہرحال ایک ایسا گروہ موجود ہے جو علمی دنیا میں درجہ استغراق رکھتا ہے اور زمانہ کے سردو گرم سے قطعاً بے پروا ہے۔ اس کا دائرہ مخصوص خود ایک دنیا ہے جہاں ایسے سامانوں کی کمی نہیں جن سے قوت احساس ہر طرح کی لذت و انبساط حاصل کرتی رہتی ہے، اسی طبقہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی نفاست اس حد تک بڑھی ہوئی ہے کہ وہ معمولی مطبوعات کو پسند نہیں کرتے اور چیدہ چیدہ کتابوں کے خاص خاص ایڈیشن چھپوائے جاتے ہیں۔ حال میں ’رباعیات عمرخیام‘ کا ایک ایڈیشن اسی اصول پر ایک جماعت محدود یعنی صرف دو سو صاحبوں کے لئے چھاپا گیا ہے، جس کی اشاعت صرف ممبروں تک محدود ہے اور جس کا ایک قیمتی نسخہ خوش نصیبی سے آج کل میرے مطالعہ میں ہے۔\n\nہندوستان میں اس قسم کے معزز شواہد کی اولیت کا فخر صرف ’نامی پریس‘ کانپور کو حاصل ہے۔ جس کا ذکر ایک دفعہ آچکا ہے، اسی طرح طبقہ اعلیٰ کے مصنفین میں علامہ شبلی کی تصنیفات کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کا بہتر سے بہتر ایڈیشن جو کسی نفیس پسند کے خیال میں آ سکتا ہے، اکثر لائق حصول ہوتا ہے۔ موجودہ کتاب کی جلد خاصہ میرے دعویٰ کے ثبوت میں ہے اور میرا خیال ہے ملک میں آج تک اس سے بہتر ایڈیشن کسی کتاب کا شائع نہیں ہوا۔ قاعدہ ہے لفافہ اچھا ہے توملفوف کو اس سے کہیں زیادہ اچھا ہونا چاہئے۔ اور گو میں اس وقت جو کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ صرف تازہ وارد یعنی ’تقریظ مثنوی‘ کے خیرمقدم کی حیثیت سے ایک فوری جوش کا اظہار ہوگا۔ تنقید یعنی مولانا رومؒ کے ساتھ علامہ شبلی پر قلم اٹھانا فرصت و لیاقت کا کام ہے جسے ملک کے فاضل تر اصحاب کے لئے چھوڑتا ہوں، اس میں میرا پردہ رہا جاتا ہے اور ساتھ ہی سرسری طورپر کچھ نہ کچھ کہہ جاؤں گا جس میں ذمہ داری ہاتھ دھوکر پیچھے نہیں پڑے گی۔\n\n’’سوانح روم‘‘ علامہ شبلی کی تالیفات میں (بشمول دیوان فارسی ) سلسلہ میں دسویں جلد ہے۔ موضوع سخن اوراس لحاظ سے کہ انہوں نے اپنے ملکہ راسخہ یعنی فطری قوت تصنیف سے آج تک وہی کام لیا جو ان کے دل و دماغ کا اچھے سے اچھا مصرف ہو سکتا تھا۔ ملک کے مصنفین میں یہ سرفہرست تو تھے ہی، میں دیکھتا ہوں اب بہت آگے نکل جاتے ہیں۔ انہوں نے فلسفہ تاریخ کو اس لحاظ سے کہ وقت کی چیز ہے، اپنا خاص فن قرار دیا اور ترتیباً جس پیمانہ پر یہ اظہار خیال کرتے رہے وہ ایک منحرف بھی تسلیم کرےگا کہ ان کی قوتوں کا صحیح سے صحیح استعمال تھا، جو خیال میں آ سکتا ہے۔ ملک کے اچھے لکھنے والوں میں بعض ایک طرح کے دھوبی ہیں یعنی وہ فرمائش سے کچھ نہیں کرتے۔ اچھی سے اچھی تجویز پیش کیجئے لیکن اس لئے لائق التفات نہیں ہوگی کہ وہ ان کے صاف و شفاف دماغ کی گونج نہیں ہے، تاہم وقت آگے چل کر بتائےگا کہ جن دماغوں میں اقتضائے وقت کی غایت اور صحیح قوت فیصلہ نہیں ہے، ان کے نتائج فکر ایک طرح کی وقتی اور خود رو پیداوار ہیں جن کی شادابی صرف ایک موسمی چیز ہے۔\n\nلیکن علامہ شبلی سے ہم کو اس قسم کی شکایت نہیں۔ یہ خودبلا بار تہدید فرمائش جو کچھ کرتے رہتے ہیں وہ ہماری توقعات اور استحقاق سے کہیں زیادہ ہے ان کی مستقل تصنیفات جن کی تعدا داوپر بتائی گئی۱۳۔۲۷ صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔ حالتو ں کا موازنہ آج کل کے عوائد الرسمیہ (ایٹی کٹ ) کے مطابق خلاف شائستگی سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ تنقید ایک ضروری عنصر ہے لیکن میں اس وقت ان کو ان کے دائرہ کے دوسرے خلاقین نسخے سے ٹکرانا نہیں چاہتا، صرف یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ جس طرح یہ اپنے حلقہ میں غالباً سب سے کم عمر مصنف ہیں، ادبی حیثیت سے یہ نسبتاً اتنے بڑھے ہوئے ہیں۔ اس دماغی فوقیت کا راز صرف یہ ہے کہ خوش نصیب شبلی نے اپنی ذہنی اور اکتسابی قوتوں کی رعایت سے جو وسیع موضوع بحث اختیار کیا وہ بلا استثناء اوروں کے دسترس سے باہر تھا، اس سے زیادہ وہ موزونیت لائق رشک ہے جو قواماً ان کے ہر حصہ تصنیف کا ایک خاصہ ہوتی ہے۔\n\nاسلامی تاریخ، فلسفہ اور عقائد کے متعلق جس قدر مواد یہ یکجا کر سکے، قدیم تاریخ کا گو یا نچوڑ ہے، جس سے ایک حد تک تاریخ عربی لٹریچر کی ترتیب ممکن ہے۔ اسلامی تاریخ کے متعلق ایک زمانہ میں یورپ نے جس قدر متعصبانہ رائے قائم کی تھی اب رفتہ رفتہ وہ ان سے دستبردار ہوتا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں جو ہر قسم کی دماغی ترقیات کا دور ہے، واقعات کا ایک خاص معیار صداقت قائم ہو گیا ہے۔ ہر واقعہ کی جانچ اجتماعی، اخلاقی، سیاسی حیثیت سے کی جاتی ہے، چنانچہ یورپ کے علمائے مشرقین کی توجہ سے جدید سلسلہ اکتشافات میں اسلام کے متعلق ایک نیا لٹریچر پیدا ہو گیا ہے جس میں ہمدردانہ التفات کے ساتھ ایک طرح کی سنجیدگی اور بلند نظری پائی جاتی ہے، تاہم ان علماء کے خیالات بیشتر حصہ نظرثانی چاہتا ہے۔\n\nمیں مثالاً محققین یورپ کے سرخیل یعنی ’’وان کریمر‘‘ کا ذکر کروں گا جس نے ایک رسالہ مختصر الموضوع میں یہ دکھایا ہے کہ اسلام اپنی ترکیب وساخت کے لئے کن کن مذاہب کا ممنون ہے۔ ناظرین عنقریب مفصل اقتباسات دیکھیں گے جس سے اندازہ ہوسکے گا کہ فاضل مورخ نے عمداً استخراج نتائج میں کہاں تک بے پروائی سے کام لیا ہے۔ بہرحال باوصف اس حسن ظن کے جو آج کل کی جماعت مستشرقین کی طرف سے پیدا ہوتا جاتا ہے، اس قسم کی مثالیں کم نہیں ہیں جن میں مغربی علماء کی اجتہادی لغزشیں اب بھی محسوس ہوتی ہیں۔\n\nلیکن پروفیسر شبلی نے جیسا کہ پہلے کسی موقع پر دکھایا گیا ہے ہم کو غیروں سے قریب قریب بے نیاز کر دیا ہے۔ یہ جس طرح قدیم تاریخ و لٹریچر کے جامع ہیں، آج کل کے فلسفیانہ انتقادات اورنکتہ سنجیوں سے آشنا ہی نہیں بلکہ یہ مذاق ان میں اس قدرر چاہو ہے کہ ان کے طے کردہ مسائل جو دنیا کے سامنے پیش کئے گئے ہیں، اس حد تک کامل ہیں کہ میرا خیال ہے زمانہ آئندہ بلکہ بعید آئندہ میں بھی غالباً ان پر کوئی معتدبہ اضافہ نہ ہو سکےگا۔ اسی طرح ان کے اجتہادات کا (جن کو تاریخی الہامات کہنا زیادہ تر موزوں ہوگا ) کوئی حصہ صدیوں بعد بھی متروک ہونے کے لائق نہیں ہوگا۔ اس سے زیاہ شبلی کے غیرفانی ہونے کا ثبوت کیا ہوگا؟\n\nیہ لکھ رہا ہوں اور میری نظر ان کی بہترین تالیف یعنی الکلام کے دونوں حصوں پر ہے اور میں بلاخوف تردید یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر موجودہ نسل کے لئے دماغی اور عقلی ترقی کے ساتھ اخلاقی تکمیل کی بھی ضرورت ہے تو ہم کو ’’الکلام‘‘ کے ہوتے کسی کتاب کی، جو حضرات جدید علم کلام کی ضرورت کا احساس رکھتے ہیں، وہ دیکھیں گے کہ فاضل پروفیسر نے ایک طرف تو بڑے میاں یعنی مذہب کی پگڑی نہیں اتاری اور ساتھ ہی یورپ کے نوخیز چلتے پر زوں یعنی فلسفہ اور سائنس کے سامنے تیرہ سو برس کے بوڑھے سے ہاتھ نہیں جڑوائے بلکہ دونوں میں مصافحہ کرا دیا۔\n\nیہ معتدل روش جو اس علمی نزاع میں اختیار کی گئی ہے، وہ شبلی ہی کا حصہ تھا جو نئے پرانے خیال والوں کے متفق علیہ پیشوائے علمی ہیں۔ ان کی ثقاہت نے جہاں مذہب کی حق تلفی نہیں ہونے دی،سائنس و فلسفہ کی مغائرت بھی دور کردی اور ان کو مذہب کا دست و بازو بنا دیا۔ آئندہ زمانہ میں جب ہماری عقلی ترقیات کا شباب ہوگا، شبلی کو اپنے مساعی جمیلہ کی پوری داد ملے گی۔ تاہم آج کل کا تعلیم یافتہ طبقہ جو عموماً مذہب سے بے پروا ہورہا ہے، مذہب فطری یعنی حکیمانہ اسلام سے دستبردار نہ ہو سکےگا۔ معقول و منقول کی تطبیق کی غایت اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے جو شبلی کی درد سری کا بجائے خود ایک قیمتی صلہ ہے۔\n\nخدا جانے میں رومیں کہاں سے کہاں نکل گیا لیکن یہ قصور انشا پردازی نہیں ہے، بلکہ پروفیسر شبلی اس کے ذمہ دار ہیں۔ ناممکن ہے کہ ان کی ذات کے ساتھ ان کی صفات غالب یعنی جزئیات متعلق سامنے نہ آجائیں۔ اس لئے ان بے ربط خیالات کا اعادہ کچھ ناگزیر سا تھا۔ مختصر یہ کہ جہاں ان کی مؤرخانہ عظمت قطعی الثبوت ہے، ایک خاص امر جس کی طرف ناظرین کو اس وقت متوجہ کرنا منظور ہے، یہ ہے کہ ’’عربی کا یہ فاضل پروفیسر نہایت سخت عجمی ہے۔‘‘ توبہ! کیا کہہ گیا؟ ہاں تو یہ وصف اضافی ان کی عربیت میں اس قدر دب دبا گیا ہے کہ بہتیروں کو یہ بات معلوم نہیں ہوگی کہ دنیا کی سب سے شیریں زبان یعنی فارسی شبلی کی خاص زبان ہے۔ ان کو جس حد تک صحیح مذاق سخن ہے اس کا اندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو خود اہل زبان ہیں یا کم سے کم ذوق سلیم رکھتے ہیں۔\n\nہندیوں کی متعارف فارسی ’’بابوانگلش‘‘ کی طرح ایک بالکل جداگانہ چیز ہے جو قریب قریب یہاں سے رخصت ہوچکی ہے اورجس سے میں یہاں کوئی غرض رکھنی نہیں چاہتا۔ میری غرض پروفیسر براؤن کی فارسی سے ہے جو اس قوم کی زندہ یادگار ہے جو بلحاظ گزشتہ عظمت و ترقیات دنیا کی قدیم متمدن اقوام میں خاص تاریخی وقعت رکھتی ہے۔ انگلستان مستشرقانہ مشاغل کے لحاظ سے یورپ کے اور ممالک سے بہت پیچھے ہے۔ تاہم وہاں ایک جماعت موجود ہے جو السنہ مشرقی میں اہل زبان کی سی مہارت رکھتی ہے۔ حال میں پروفیسر براؤن نے ادبی حیثیت سے ’’تاریخ العجم‘‘ لکھی ہے جس کی دو مبسوط اور ضخیم جلدیں اس وقت تک شائع ہو چکی ہیں۔ ’’دور اخمانیان‘‘ یعنی فارسی قدیم کے ساتھ اس نے ’’ساسانیوں‘‘ کے عہد کے لٹریچر یعنی زبان پہلوی کا پورا مرقع کھینچا ہے، جو تمام وکمال گویا ’’زرتشتی‘‘ لٹریچر ہے۔\n\nاس نے نہایت قدیم کتبوں اور تاریخی اسناد سے اس عہد کی علمی معلومات بہم پہنچائی ہیں جس کی یادگار پارسیوں کا صحیفہ غیبی یعنی ’’اوستا‘‘ ہے۔ جس کی تفسیر پہلوی اور شرح الشرح ’’ژند باژند‘‘ ہیں۔ عجمیوں کی ایام جاہلیت کی تاریخ کے بعد جو نہایت عسیرالحصول ماخذوں سے مرتب کی گئی ہے۔ تیسرے دور میں فاتحین اسلام کے تصرفات یعنی عربی کی آمیزش نے زبان پر جو اثر ڈالا ہے، ان جزئیات کی تفصیل کے ساتھ ارتقائی حیثیت سے یہ دکھایا ہے کہ فارسی جدید کس طرح عالم وجود میں آئی، اسی طرح مسلمانوں کی مفصل دماغی تاریخ لکھی ہے اور اس کو متعدد دور میں تقسیم کیا ہے۔ جدت یہ ہے کہ ساتھ ہی ساتھ عجمی عنصر کو الگ کر کے دکھایا گیا ہے۔\n\nپہلی مقدمہ کی حیثیت سے ہے، دوسری میں، جو ابھی شائع ہوئی ہے فردوسی سے لے کر سعدی کے وقت کی لٹریری سرگزشت ہے، جس میں مختلف عہد کے لٹریچر کے ساتھ لگے لپٹے واقعات پر بھی نظر ڈالی گئی ہے جو کسی حیثیت سے تاریخی وقعت رکھتی ہیں۔ پھیلاؤ غضب کا ہے، لکھنے والا سب کچھ سمیٹتا گیا ہے۔ لٹریچر کی تاریخ تواس سے پہلے بھی لکھی گئی ہے لیکن مسلمانوں کی دماغی تاریخ پر قلم اٹھانا، ان اصلی ماخذوں کی چھان بین کے بعد، جو یورپ کی عظیم الشان لائبریریوں میں لائق حصول ہیں، پروفیسر براؤن کا حصہ تھا۔ یہ نمونہ جس کی نظیر انگریزی کے سوا مغربی لٹریچر میں بھی موجود نہیں ہے اپنی ندرت اور دلچسپی کے لحاظ سے ہر طرح پیروی کے لائق ہے۔ لیکن شبلی کے سوا آج ملک میں اسلامی لٹریچر کے متعلق کون اس قسم کی وسیع لٹریری تحقیقات کا ساتھ دے سکتا ہے؟\n\nموجودہ دور میں پروفیسر آزاد کا نام نامی ہمیشہ عزت کے ساتھ یاد رکھنے کے لائق ہے۔ شبلی کے دائرہ میں یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی تحقیقات کی تکمیل ایران میں جاکر کی۔ ان کا ایک بے نظیر رسالہ سخندان پارس (شائع ) ہو چکا ہے۔ لیکن نہایت افسوس ہے کہ دنیا آزاد کے سرمایہ زندگی یعنی جامع اللغات فارسی سے محروم رہ گئی۔ جس کی ترتیب ان کی عمر کا اصلی کارنامہ تھی۔ آزاد کی نکتہ آفرینیاں جن پر خود اہل ایران کو تعجب و رشک ہوتا تھا، تمام علمی دنیا کو حیرت میں ڈال دیتیں، لیکن ملک کی بدنصیبی ہے ایک زبردست ماہر السنہ جیتے جی ہمارے ہاتھ سے جاتا رہا۔ معلوم نہیں اس کے خزائن علمی کا ضروری حصہ اب کہاں تک لائق حصول ہے۔ اسی طرح تذکرۂ شعرائے فارسی میں خدا جانے فرمانروائے سخن نے کیا کچھ لکھا ہوگا لیکن ان دونوں تالیفات کے متعلق کہیں سے کوئی آواز نہیں آئی۔ دارالاشاعت پنجاب نے ایک حد تک حق رفاقت ادا کیا لیکن اب مدت سے بالکل ساکت ہے۔\n\nجس طرح فارسی کے صحیح ادبی مذاق کا بہت بڑا حصہ آزاد کو ملا تھا، شبلی پر مع شئے زائد اس کا خاتمہ ہو جائےگا۔ اس کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ میں دیوان شبلی کو استشہاداً پیش کرنا چاہتا ہوں۔ شستہ، رفتہ کلام کی برجستگی اپنا مرتبہ آپ بتائےگی۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ سچے جذبات میں ڈوبا ہوا شاعر خالص اہل زبان ہے جس کوہند کی ہوا تک نہیں لگی۔ اساتذہ کے ہزاروں اشعار کا نوک زبان اورروزمرہ اورمحاورات کا ناخنوں میں ہونا اضافی امور ہیں۔ جن کو شبلی کی بلند پائگی کے ثبوت میں پیش کرنا ایک مبتدیانہ فعل ہوگا۔ ان کا اصلی فن کچھ اورہے۔ ’’شعرالعجم‘‘ جو آج کل یہ لکھ رہے ہیں، ان کے مذاق سخن کی اصلی جولان گاہ ہوگی جس میں فارسی شاعری کی محققانہ تاریخ اور فلسفہ شاعری کے دقیق رموز پر مفصل بحث ہوگی، جس سے معلوم ہوگا کہ فارسی شاعری کی ابتداء ً کیا حالت تھی، پھر اس نے کیا صورت اختیار کی، کیا کیا تغیرات اور اضافے ہوئے اور اب کس لباس میں جلوہ گر ہے۔\n\nشاعری جیسا کہ عربوں کا خیال تھا صرف کلام موزوں نہیں ہے۔ شعرائے عجم کے خیال کے مطابق صرف تخیل یعنی ایک طرح کے مقدمات موہومہ کی ترتیب کا نام ہے بلکہ جیسا کہ علامہ شبلی نے خود ایک موقع پر تصریح فرمائی ہے، جو چیز مدرکات انسانی میں ہمارے جذبات واحساسات کو برانگیختہ کر سکتی ہے اور ایک خاص طرح کی موزونیت کے ساتھ مصوری اور موسیقی کی جامع ہے، آج اسی پر شاعری کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ یہ بحث نہایت دلچسپ ہے، جسے شبلی جو فطری شاعر ہیں، من حیث الفن اچھی طرح سمجھائیں گے۔ ہم کو معلوم ہے کہ یورپ کے دو زبردست مستشرق آج کل تاریخ فارسی لٹریچر لکھ رہے ہیں۔ جن میں سے پروفیسر براؤن کی بے نظیر کتاب کے دو حصے، جن کا ذکر آ چکا ہے، شائع ہو چکے ہیں۔ دوسرے صاحب ڈاکٹر ڈینی سن راس ہیں ان کی فارسیت کا بھی لوہا مانا جاتا ہے۔\n\nمستشرقین یورپ کی ایک خاص طرح کی وسیع النظری میں کلام نہیں۔ یعنی اصول ارتقا نے تحقیقات کے راستے اس قدر صاف کردیے ہیں کہ ہر شے کے مدارج اور طبقات ترتیبی کی کڑیاں ملتی جاتی ہیں۔ لٹریچر بھی اس کلیہ سے مستثنیٰ نہیں۔ تاہم مذاق سخن میں جو ایک ذوقی چیز ہے ان فلسفیانہ اکتشافات سے کوئی مدد نہیں مل سکتی۔ شبلی جو کچھ لکھیں گے آشنائے فن ہوکر لکھیں گے۔ اس لئے ان کی تصنیف موعود (شعر العجم ) میرا خیال ہے معاصرانہ تالیفات سے، جو حسن اتفاق سے ساتھ ساتھ لکھی جا رہی ہیں، بالموازنہ فائق رہے گی۔ بہرحال فارسی شاعری سے پروفیسر شبلی کو جو طبعی مناسبت ہے اور آئندہ جس حد تک یہ کھل کر داد سخن دے سکیں گے اس کی نسبت ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔\n\nمیں سردست سوانح مولانا رومؒ کو پیش کرتا ہوں جس میں مثنوی پر مفصل تقریظ کی گئی ہے اور جو شبلی کی طرف سے فارسی لٹریچر کے سلسلہ کی گویا پہلی قسط ہے۔ مثنوی فارسی کی ان چار کتابوں میں ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ مقبول ہوئیں۔ لیکن وہ عموماً ایک تصوف کی کتاب سمجھی جاتی ہے جس کی نسبت عام خیال ہے کہ تمثیلی زبان میں وہ اسرار نہاں بیان کئے گئے ہیں جوصوفیوں میں سینہ بہ سینہ چلے آتے ہیں۔ شبلی نے بالکل ایک جدید حیثیت سے اس مثنوی پر نظر ڈالی ہے یعنی ان کا دعویٰ ہے کہ تصوف یعنی فلسفہ باطنی کے سوا کلام و عقائد کی یہ بہترین تصنیف ہے جو اسلامی لٹریچر کی طرف سے پیش کی جا سکتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ تقریظ میں اس قدر شواہد بہم پہنچائے گئے ہیں کہ دعویٰ آپ اپنی دلیل ہو رہا ہے۔\n\nعقائد و کلام کے جس قدر اہم مسائل ہیں، ایک ایک کرکے متفرق عنوانوں کے تحت میں لائے گئے ہیں، اوران پر حکیمانہ استدلال کے ساتھ فاضل مؤلف نے دکھایا ہے کہ یہ تمام مسائل مثنوی سے ماخوذ ہیں۔ ایک ایسی کتاب میں جو سیکڑوں برس پہلے لکھی گئی، اس قسم کے نکات و معارف کا موجود ہونا، جن کا اکتشاف جدید سائنس صدیوں کے مسلسل مطالعہ فطرت اور ارتقائے عقلی کے کرسکا، کہاں تک اس کی معجزبیانی ثابت کرتا ہے۔\n\nشبلی نے ایک طرف کوئی ایسی بات نہیں پیدا کی جس کی طرف خود مولانا رومؒ کا ذہن منتقل نہ ہوا ہو۔ اور ساتھ ہی ان مسائل کو جو مذہبی فلسفہ کی حیثیت سے مثنوی کے اعضائے رئیسہ میں تحلیل کرکے اس طرح دکھا دیا کہ ان کی صحت کا اذعان غالب ہو جاتا ہے اور یہی مسائل فلسفہ کی واقفیت کی اخیر سرحد ہے۔ ان کے مقابلہ میں علامہ نذیراحمد کہاں تک ہم کو اپنے ساتھ رکھ سکیں گے، جب وہ بیسویں صدی کی ایک جدید تالیف میں دعائے صحت خانہ کی تلقین فرماتے ہیں۔ حالانکہ زائچہ کے ساتھ صحت خانہ کا اصلی مصداق بھی باقی نہیں رہا۔ اب ان کی جگہ صاف ستھرے غسل خانوں نے لے رکھی ہے۔\n\nیہ امر بھی توجہ کے لائق ہے کہ فاضل پروفیسر نے تقریظ مثنوی میں جو نئے نئے عنوان قائم کئے ہیں اورجن کی طرف بہتوں کا ذہن اس سے پہلے منتقل نہیں ہوا ہوگا، وہ زیادہ تر ایسے ہیں جن پر اس سے (پہلے ) شبلی کی قوت صرف ہو چکی ہے۔ یعنی الکلام والغزالی میں تفصیل سے ان کا ذکر آ چکا ہے۔ کسی ایسے موضوع پر، جس پر ایک دفعہ زور طبیعت صرف ہو چکا ہے ہو، دوبارہ اس طرح بچ بچ کر قلم اٹھانا کہ کہیں سے تکرار اور اعاد ہ نہ معلوم ہو بلکہ اصلیت کے زورکے ساتھ ہر عنوان اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل اچھوتا ہو، کمال انشا پردازی کی دلیل ہے۔ فاضل شبلی نے مثنوی کی خصوصیات کو تفصیل کے ساتھ دکھایا ہے اورمختلف پہلوؤں سے اس پر نظر ڈالی ہے جس میں تخصیص کے ساتھ لائق ذکر مثنوی کا طرز استدلال اور طریقہ افہام یعنی مولانا نے فطرت کے سلسلہ سے استدلال کیا ہے جو بالکل جدید سائنس کے مطابق ہے۔\n\nمثنوی میں فرضی روایات و حکایات کے ضمن میں، جن میں صرف نتائج سے غرض رکھی گئی ہے، اخلاقی مسائل کی تلقین کا جو طریقہ مدت سے چلا آتا تھا پروفیسر شبلی نے دکھایا ہے کہ مولانا نے اس کو کمال کے مرتبہ تک پہنچا دیا اور چونکہ استدلال میں تمام تر قیاس تمثیلی سے کام لیا گیا ہے، اس لئے مسئلہ زیر بحث کی واقفیت دل میں بیٹھ جاتی ہے یعنی تشبیہات وتمثیلات کے پیرایہ میں اس قسم کے قرائن پیش کئے جاتے ہیں جن سے خیال پیدا ہوتاہے کہ اس واقعہ کی جو صورت بیان کی گئی ہے، زیادہ تر قرین عقل ہے۔ جس سے ایک خاص طرح کی وجدانی کیفیت دل میں پیدا ہوجاتی ہے جو استقرار منطقی سے نہیں ہوسکتی اور جس کو تصوف کی اصلطلاح میں ہم اطمینان ذوقی کہہ سکتے ہیں۔\n\nمختصر یہ کہ مثنوی معنوی میں عارف رومؒ نے جس طرح داد سخن دی ہے اس پر تنقیداً کچھ رائے زنی کرنا میرا منصب نہیں۔ میں تو صرف تقریظ پر تقریظ کرنی چاہتا ہوں یعنی مجھے صرف یہ دکھانا ہے کہ شبلی نے انتقادی حیثیت سے کہاں تک اپنے فرائض سے سبکدوشی حاصل کی۔ اس کے لئے جو کچھ عرض کیا گیا اس کے ساتھ بس اتنا کہنا کافی ہے کہ ’’آفتاب آمد دلیل آفتاب۔‘‘ کتاب کو ایک نظر دیکھ لیجئے، وہ اپنا درجہ آپ بتائے گی لیکن آخر میں اتنا کہنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ الہیات کے ضمن میں توحید، نبوت، معجزہ، جبر و قدر، روح، معاد وغیرہ وغیرہ پر جن سلجھے ہوئے اور پاکیزہ خیالات کا اظہار کیا گیا ہے اورموجودات عالم یعنی مادیات اور مجردات کی نازک تفریق اور اس پر منطقی اور فلسفیانہ تفریعات جس لطافت سے کی گئی ہیں، انتقاد کی جان ہیں۔ ہمارے ہاں ردیات تو بہت ہیں لیکن اس طرح علوم قدیمہ وجدیدہ کو ترکیب دے کر کسی نے ست یعنی جوہر نہیں نکالا ہے، صرف فاضل پروفیسر کا حصہ تھا۔\n\nتصوف جیسا کہ اکثر وں کا خیال ہے ایک طرح کا ’’خبط متعارف‘‘ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ علامہ شبلی نے تصریح فرمائی ہے، دراصل تصحیح خیال کا نام ہے، جو اخلاق کی طرح فلسفہ کی ایک مستقل شاخ ہے لیکن جس طرح توکل کا مصداق ایک طرح کی گداگری ہو رہا ہے، تصوف کی صورت بھی اتنی بگڑ گئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پیٹ کا ایک مشغلہ رہ گیا ہے، لیکن شبلی نے تصوف پر علمی حیثیت سے نگاہ ڈالی ہے جس سے ہم یہ سمجھ سکے کہ ذوقی اوروجدانی کیفیت کے ساتھ اس میں ادبی پہلو بھی موجود ہے۔ یہ بات ذرا دل لگی یعنی اس گروہ کے مذاق سے ملتی جلتی چیز ہے جو اس کوچہ سے نابلد ہے۔\n\nتصوف کی مفصل تاریخ اور اس کے لفظی اشتقاق و اطلاق کی بحث جس کے متعلق علمائے یورپ اب بھی غلطی کر رہے ہیں ’’الغزالی‘‘ میں مستقل عنوان سے آ چکی ہے، ناظرین اسے اٹھاکر پھر ایک نظر دیکھ لیں۔ تقریظ مثنوی میں جو کچھ لکھا گیا ہے اختصار کے ساتھ ہے لیکن ’’شریعت‘‘ کے ساتھ ’’طریقت‘‘ و ’’حقیقت‘‘ سے جو پردہ اٹھایا گیا ہے اور حدود اقلیدس کی طرح ان اصطلاحات کی جس قدر جامع ومانع تعریف کی گئی ہے وہ بجائے خود ایک چیز ہے اور ضرورت ہے کہ ان کے اطلاقات معناً ہماری روزانہ زندگی کا ایک جزو بن جائیں۔\n\nمیرا خیال ہے اب مجھے کچھ اور کہنا نہیں ہے۔ ہاں ایک بات رہ گئی۔ کتاب کے ختم کر لینے کے بعد جو خیال ہوتا ہے کہ مولانا رومؒ کے کلام کا جس قدر استقصا کیا گیا ہے کچھ اس سے زیاہ ہونا تھا لیکن میری رائے اس لئے لائق وثوق نہیں ہے کہ میں چونکہ شبلی کے عالمانہ لٹریچر کا دلدادہ ہوں۔ پہلی بار پڑھتے وقت نظم کا حصہ چھوڑتا گیا تھا یہ اضطراری حرکت اوروں نے بھی کی ہوگی۔ یورپ کے مذاق کے مطابق پوری مثنوی یا اس کے حصہ غالب کو ضمیمہ کی حیثیت سے کتاب کا جزو ہونا تھا۔ لیکن ملک کا ادبی مذاق اس قدر گرا ہوا ہے کہ یہ خیال مشکل سے توجہ کے لائق ہے۔ اس کے سوا تنقیدی حیثیت سے کلام کے جن اجزا پر ریویو کی ضرورت تھی، ہر قسم کے نمونے لے لئے گئے ہیں اور بیاگرافر کا صرف اتنا ہی فرض تھا۔\n\nآخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ لٹریچر کا لطف اور اس کی دلچسپیاں انسان کی اخلاقی اور ادبی ترقی کی ممد ہوتی ہیں۔ ہم علامہ شبلی کے ممنون ہیں کہ ہم کو جلد جلد ان کے دماغی اکتشافات سے مستفید ہونے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ اور ہماری دلی خواہش ہے کہ موجودہ کتاب ان کی تصنیفات موعود کا صرف پیش رو ہوگی۔\n\nآج کل کی کاروباری زندگی میں جب ہم کو مشرقی لٹریچر کی طرف توجہ کرنے کی بالکل فرصت نہیں ہے، صرف یہی ایک طریقہ ہے کہ عربی فارسی لٹریچر کے بہترین اجزا عالمانہ تنقید و تقریظ کے ساتھ نئی نسل کے سامنے پیش کئے جائیں۔ اس طرح لٹریچر کا وہ حصہ جو جاننے کے لائق ہے، ہمیشہ کے لئے محفوظ رہ جائےگا۔ ملک میں ناقص لٹریچر کی مقدار اس قدر بڑھ رہی ہے کہ ضرورت ہے جوہرات کنکر پتھر سے علیحدہ کر لئے جائیں۔ حکماءنے انتخاب کے کچھ قاعدے بتائے ہیں جن میں ’’لارڈ بیکن‘‘ کا خیال بہت ہی چبھتا ہوا ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’بعض کتابیں صرف چکھنے کے لائق ہیں، کچھ نگلنے کے اور تھوڑی ایسی ہیں جو چبانے اور ہضم کرنے کی ہیں۔‘‘ شررؔ کے ناول پہلی شق میں ہیں۔ دن رات میں پندرہ منٹ محض ذائقہ علمی کے لئے۔ نگلنے کے لائق وہ تصنیفات ہیں جو کم سے کم ایک دفعہ پڑھی جائیں۔ (نام نہیں لوں گا، ادب مانع ہے) مگر چبانے اور ہضم کرنے کے لائق مجموعہ غیرفانی یعنی ’’تالیفات شبلی‘‘ ہیں جن میں مولانا رومؒ کی لائف ترتیباً آخر ہے لیکن بہ لحاظ اوصاف کسی سے پیچھے نہیں ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AF%DA%BE_%DA%AF%DA%BE%D9%86%D9%B9%DB%81_%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%81_%D8%B4%D8%A8%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "آدھا مزہ وصال کا پائے ہوئے تو ہوں", "poet_page": "مصنف:بوم میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آدھا مزہ وصال کا پائے ہوئے تو ہوں\nننگا گلے سے تم کو لگائے ہوئے تو ہوں\n\nگو لاکھ میں فراق میں کمزور ہو گیا\nالفت کا بوجھ سر پر اٹھائے ہوئے تو ہوں\n\nپورا پتا نہیں ہے کہ جاتے ہو کس جگہ\nکچھ کچھ تمہارے بھید کو پائے ہوئے تو ہوں\n\nتم پھر بھی کہہ رہے ہو کہ تسکیں نہیں ہوئی\nحالانکہ سارا زور لگائے ہوئے تو ہوں\n\nیہ کیا کہا کہ جان بچاتا ہے قتل سے\nنطفہ حرام سر کو جھکائے ہوئے تو ہوں\n\nدشمن کی چاپلوسی سے کچھ فائدہ نہیں\nسالے کو بےوقوف بنائے ہوئے تو ہوں\n\nکچھ کچھ وہ میرے قابو میں آئے ہوئے تو ہیں\nکچھ کچھ میں ان کو داب میں لائے ہوئے تو ہوں\n\nمانا کہ بومؔ بزم سخن میں مزہ نہیں\nتھوڑا سا پھر بھی رنگ جمائے ہوئے تو ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%AF%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D8%B2%DB%81_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "آراستگی بڑی جلا ہے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آراستگی بڑی جلا ہے\nپتھر کی بغل میں آئنہ ہے\n\nمجھ کو یہی آپ سے گلا ہے\nپوچھا نہ کبھی کہ حال کیا ہے\n\nاللہ رے حسن کی لگاوٹ\nداؤد رقیب اور یا ہے\n\nکھوٹے ہیں طلائی رنگ والے\nاس سونے کو بارہا کسا ہے\n\nبالوں کے گھٹا تلے ہیں جھالے\nمینہ موتیوں کا برس رہا ہے\n\nتقدیر میں آگ لگی گئی ہے\nعالم سے جگر جلا بھنا ہے\n\nپیری میں ہے حرف زندگی پر\nجو قد خمیدہ ہے وہ لا ہے\n\nپیتے ہیں شراب ما بدولت\nساقی بط مے نہیں ہما ہے\n\nمیں دوڑ رہا ہوں اس کے پیچھے\nجو سائے سے اپنے بھاگتا ہے\n\nبیمار ہوں خوب صورتوں کا\nحسن یوسف مری دوا ہے\n\nباریک کمر ہے کیا ہی اس کی\nتلوار میں بال آ گیا ہے\n\nبھوؤں پر جو دوپٹے کا ہے لچکا\nپٹھا تلوار پر چرا ہے\n\nکمرے کا کھلا ہے در سر راہ\nمعشوق بغل میں ہے یہ کیا ہے\n\nکیوں ہوتے ہو بحرؔ طشت از بام\nچلمن چھوڑوا دو سامنا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%DA%AF%DB%8C_%D8%A8%DA%91%DB%8C_%D8%AC%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص\nآسودہ زیر خاک نہیں آشنائے حرص\n\nممکن نہیں ہے یہ کہ بھرے کاسۂ طمع\nدن میں کروڑ گھر جو پھرا دے گدائے حرص\n\nانساں نہ ہوں ذلیل زمانے کے ہاتھ سے\nذلت کسی کو کوئی نہ دیوے سوائے حرص\n\nکر منہ کو ٹک بسوے قناعت یہ حرف مان\nرہتی ہے لاکھ طرح کی آفت قفائے حرص\n\nناداں تلاش طرۂ زر سے تو باز آ\nجوں شمع یہ نہ ہو کہ ترا سر کٹائے حرص\n\nاپنے سوا کسی کو نہ پایا حریف حیف\nکی قطع روزگار نے ہم پر قبائے حرص\n\nسوداؔ بسر ہو خوبی سے اوقات ہر طرح\nپر درمیاں نہ ہووے بشرطیکہ پائے حرص", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AD%D8%B1%D8%B5"} {"title": "آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیں", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیں\nسب دوست ہیں اپنے مطلب کے دنیا میں کسی کا کوئی نہیں\n\nگلگشت میں دامن منہ پہ نہ لو نرگس سے حیا کیا ہے تم کو\nاس آنکھ سے پردہ کرتے ہو جس آنکھ میں پردا کوئی نہیں\n\nجو باغ تھا کل پھولوں سے بھرا اٹکھیلیوں سے چلتی تھی صبا\nاب سنبل و گل کا ذکر تو کیا خاک اڑتی ہے اس جا کوئی نہیں\n\nکل جن کو اندھیرے سے تھا حذر رہتا تھا چراغاں پیش نظر\nاک شمع جلا دے تربت پر جز داغ اب اتنا کوئی نہیں\n\nجب بند ہوئیں آنکھیں تو کھلا دو روز کا تھا سارا جھگڑا\nتخت اس کا نہ اب ہے تاج اس کا اسکندر و دارا کوئی نہیں\n\nقتال جہاں معشوق جو تھے سونے پڑے ہیں مرقد ان کے\nیا مرنے والے لاکھوں تھے یا رونے والا کوئی نہیں\n\nاے آرزوؔ اب تک اتنا پتا چلتا ہے تری بربادی کا\nجس سے نہ بگولے ہوں پیدا اس طرح کا صحرا کوئی نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آرزو بھی تو کر نہیں آتی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آرزو بھی تو کر نہیں آتی\nدل میں ہے ہونٹھ پر نہیں آتی\n\nوصل کی رات کے سوا کوئی شام\nساتھ لے کر سحر نہیں آتی\n\nچلی جاتی ہے ان کے گھر مری نیند\nجا کے پھر رات بھر نہیں آتی\n\nوہ مجھے کوستے ہیں او تاثیر\nعرش سے تو اتر نہیں آتی\n\nپہلے آتی تھی اے قفس والو\nاب صبا بھی ادھر نہیں آتی\n\nچپ کھڑے ہیں وہ پیش داور حشر\nبھولے ہیں بات کر نہیں آتی\n\nکبھی آ جاتی تھی مقدر پر\nاب ہنسی ہونٹھ پر نہیں آتی\n\nارے واعظ ڈرا نہ تو اتنا\nکیا اسے درگزر نہیں آتی\n\nجب تک آئے نہ کوئی چاند سی شکل\nشب مہ میرے گھر نہیں آتی\n\nحشر کے دن بھی داغ دامن میں\nشرم اے چشم تر نہیں آتی\n\nکمر ان کی بہت ہی نازک ہے\nزلف بھی تا کمر نہیں آتی\n\nغم ہیں راہ جنوں میں اہل جنوں\nہیں مگر کچھ خبر نہیں آتی\n\nآپ کو اپنی آرسی کے سوا\nاچھی صورت نظر نہیں آتی\n\nشرم آتی ہے دل میں سو سو بار\nتوبہ لب پر مگر نہیں آتی\n\nوائے قسمت کہ بیکسی بھی ریاضؔ\nاب مری قبر پر نہیں آتی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C"} {"title": "آرزو دل میں بنائے ہوئے گھر ہے بھی تو کیا", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آرزو دل میں بنائے ہوئے گھر ہے بھی تو کیا\nاس سے کچھ کام بھی نکلے یہ اگر ہے بھی تو کیا\n\nنہ وہ پوچھے نہ دوا دے نہ وہ دیکھے نہ وہ آئے\nدرد دل ہے بھی تو کیا درد جگر ہے بھی تو کیا\n\nآپ سے مجھ کو محبت جو نہیں ہے نہ سہی\nاور بقول آپ کے ہونے کو اگر ہے بھی تو کیا\n\nدیر ہی کیا ہے حسینوں کی نگاہیں پھرتے\nمجھ پہ دو دن کو عنایت کی نظر ہے بھی تو کیا\n\nصبح تک کون جئے گا شب تنہائی میں\nدل ناداں تجھے امید سحر ہے بھی تو کیا\n\nمیں بدستور جلوں گا یہ نہ ہوگی مضطرؔ\nمیری ساتھی شب غم شمع سحر ہے بھی تو کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا\nکیا بتاؤں کہ مرے دل میں ہیں ارماں کیا کیا\n\nغم عزیزوں کا حسینوں کی جدائی دیکھی\nدیکھیں دکھلائے ابھی گردش دوراں کیا کیا\n\nان کی خوشبو ہے فضاؤں میں پریشاں ہر سو\nناز کرتی ہے ہوائے چمنستاں کیا کیا\n\nدشت غربت میں رلاتے ہیں ہمیں یاد آ کر\nاے وطن تیرے گل و سنبل و ریحاں کیا کیا\n\nاب وہ باتیں نہ وہ راتیں نہ ملاقاتیں ہیں\nمحفلیں خواب کی صورت ہوئیں ویراں کیا کیا\n\nہے بہار گل و لالہ مرے اشکوں کی نمود\nمیری آنکھوں نے کھلائے ہیں گلستاں کیا کیا\n\nہے کرم ان کے ستم کا کہ کرم بھی ہے ستم\nشکوے سن سن کے وہ ہوتے ہیں پشیماں کیا کیا\n\nگیسو بکھرے ہیں مرے دوش پہ کیسے کیسے\nمیری آنکھوں میں ہیں آباد شبستاں کیا کیا\n\nوقت امداد ہے اے ہمت گستاخی شوق\nشوق انگیز ہیں ان کے لب خنداں کیا کیا\n\nسیر گل بھی ہے ہمیں باعث وحشت اخترؔ\nان کی الفت میں ہوئے چاک گریباں کیا کیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آرزو پہ جفا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:احمد شاہ خاں شبنم", "kind": "poetry", "section": "غزل > گلدستۂ لطافت (1936)", "year": "1936", "text_ur": "آرزو پہ جفا کرے کوئی\nپھر خفا ہو خدا کرے کوئی\n\nیہ بھی انصاف ہے کوئی اے چرخ\nروئیں ہم اور ہنسا کرے کوئی\n\nبات پوری کبھی سنی ہی نہیں\nمدعا عرض کیا کرے کوئی\n\nخاک میں مل گیا میں آخر کار\nاور جور و جفا کرے کوئی\n\nجب تمہیں یوں جواب دے دو صاف\nکس سے پھر التجا کرے کوئی\n\nچھم سے آ جائے میرے پہلو میں\nشب فرقت خدا کرے کوئی\n\nکہہ رہی ہیں کسی کی شوخ آنکھیں\nکیوں کسی سے حیا کرے کوئی\n\nیہ تو کہتے ہو دل کو سمجھاؤ\nدل نہ سمجھے تو کیا کرے کوئی\n\nسب حسیں بے وفا ہیں اے شبنمؔ\nکیا کسی سے وفا کرے کوئی", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "آرزو ہے میں رکھوں تیرے قدم پر گر جبیں", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آرزو ہے میں رکھوں تیرے قدم پر گر جبیں\nتو اٹھاوے ناز سے ظالم لگا ٹھوکر جبیں\n\nاپنے گھر میں تو بہت پٹکا پہ کچھ حاصل نہیں\nاب کے جی میں ہے تری چوکھٹ پہ روؤں دھر جبیں\n\nجیسی پیشانی تری ہے اے مرے خورشید رو\nچاند کی ہے روشنی میں اس سے کب بہتر جبیں\n\nشیخ آ جلوہ خدا کا میکدے میں ہے مرے\nکیوں رگڑتا ہے عبث کعبہ کے تو در پر جبیں\n\nکیا کروں تیرے قدم تک تو نہیں ہے دسترس\nنقش پا ہی پر ترے ملتا ہوں میں اکثر جبیں\n\nشیخ گر شیطان سے صورت نہیں ملتی تری\nبس بتا داغی ہوئی ہے کس طرح یکسر جبیں\n\nہے کسی کی بھی تری سے اوندھی پیشانی بھلا\nدیکھ تو اے شوخ اپنی آئنہ لے کر جبیں\n\nآ کے جن ہاتھوں سے ملتا تھا ترے تلووں کے تئیں\nپیٹتا ہوں اب انہیں ہاتھوں سے میں اکثر جبیں\n\nبوجھ کر نقش قدم کو تیرے محراب دعا\nمانگتا ہوں میں مراد دل کو رکھ اس پر جبیں\n\nچاند کا مکھڑا ہے یا آئینہ یا مصحف کا لوح\nیا تری ہے اے مرے رشک مہ و اختر جبیں\n\nصاف دل تاباںؔ مکدر ہی کبھو ہوتا نہیں\nآئینہ کی ہے گی روشن دیکھ لے یکسر جبیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%82%D8%AF%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آرزو ہے وفا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آرزو ہے وفا کرے کوئی\nجی نہ چاہے تو کیا کرے کوئی\n\nگر مرض ہو دوا کرے کوئی\nمرنے والے کا کیا کرے کوئی\n\nکوستے ہیں جلے ہوئے کیا کیا\nاپنے حق میں دعا کرے کوئی\n\nان سے سب اپنی اپنی کہتے ہیں\nمیرا مطلب ادا کرے کوئی\n\nچاہ سے آپ کو تو نفرت ہے\nمجھ کو چاہے خدا کرے کوئی\n\nاس گلے کو گلہ نہیں کہتے\nگر مزے کا گلا کرے کوئی\n\nیہ ملی داد رنج فرقت کی\nاور دل کا کہا کرے کوئی\n\nتم سراپا ہو صورت تصویر\nتم سے پھر بات کیا کرے کوئی\n\nکہتے ہیں ہم نہیں خدائے کریم\nکیوں ہماری خطا کرے کوئی\n\nجس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں\nایسی جنت کو کیا کرے کوئی\n\nاس جفا پر تمہیں تمنا ہے\nکہ مری التجا کرے کوئی\n\nمنہ لگاتے ہی داغؔ اترایا\nلطف ہے پھر جفا کرے کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DB%81%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں\nتو بھی ہم دل کو مار رکھتے ہیں\n\nبرق کم حوصلہ ہے ہم بھی تو\nدل کو بے قرار رکھتے ہیں\n\nغیر ہی مورد عنایت ہے\nہم بھی تو تم سے پیار رکھتے ہیں\n\nنہ نگہ نے پیام نے وعدہ\nنام کو ہم بھی یار رکھتے ہیں\n\nہم سے خوش زمزمہ کہاں یوں تو\nلب و لہجہ ہزار رکھتے ہیں\n\nچوٹٹے دل کے ہیں بتاں مشہور\nبس یہی اعتبار رکھتے ہیں\n\nپھر بھی کرتے ہیں میرؔ صاحب عشق\nہیں جواں اختیار رکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آریوں کی پہلی آمد ہندوستان میں", "poet_page": "مصنف:وحید الدین سلیم", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وہ دیکھ کہ موجیں رقص کناں ہیں سطح زمیں پر گنگا کی\nنو وارد آریہ حیرت میں ہیں دیکھ کے شان اس دریا کی\nگنگوتری سے آتی ہے چلی اٹھکھیلیاں کرتی دھار اس کی\nآزادی ہے تیور سے عیاں متوالی ہے رفتار اس کی\n\nاتر کی طرف جب اٹھتی ہے اس قافلۂ مغرب کی نظر\nپڑتی ہوئی کرنیں سورج کی ہیں دیکھتے برف کے تودوں پر\nہر قلۂ کوہ ہمالیہ پر عظمت کے ہیں بادل چھائے ہوئے\nسینوں کو ہیں تانے دیو کھڑے امبر سے سروں کو ملائے\n\nبرگد کے درختوں سے جنگل پھیلے ہیں پہاڑ کے دامن میں\nشاخیں ہیں جو ان کی سایہ فگن ظلمت کا سماں ہے ہر بن میں\nپھرتے ہیں وہ فیل مست یہاں ہے دیو کا جن کے قد پہ گماں\nیہ کالی گھٹا جب دوڑتی ہے آتا ہے نظر ہیبت کا سماں\n\nہیں رنگ برنگ کے پھول کھلے زینت ہے چمن کے شباب ان کا\nکھولا ہے نسیم سحر نے ابھی کس شان سے بند نقاب ان کا\nآتے ہیں مسافر ہند میں جو خیبر کے دروں سے اتر کے ابھی\nدیکھے تھے انہوں نے لالہ و گل پامیر کی وادی میں نہ کبھی\n\nطائر بھی یہاں پیدا ہیں کیے قدرت نے عجب گل رنگ و حسیں\nگر زمزمے ان کی روشنی سن لیں یاد آئے انہیں فردوس بریں\nاندر کے اکھاڑے کی پریاں گاتی ہیں جو دلکش راگنیاں\nیہ لوچ سروں میں ان کے نہیں یہ سوز گلوں میں ان کے کہاں\n\nسورج کی چمکتی ہوئی کرنیں ہیں چھیڑتی ٹھنڈی ہواؤں کو\nبھر دیتی ہیں نور و حرارت سے باغوں کو اور ان کی فضاؤں کو\nسوتی ہوئی سوتیں چشموں کی اٹھتی ہیں سب آنکھیں مل مل کر\nدھاریں ہیں جو برف کے پانی کی آتی ہیں پہاڑوں سے چل کر\n\nاے آریوں قدم رکھو ان حسن بھرے گلزاروں میں\nجنت کے مزے لوٹو گے سدا اس پاک زمیں کی بہاروں میں\nتم گنگ و جمن کے کناروں پر شہر اپنے نئے آباد کرو\nگا گا کے بھجن کر کر کے ہون ہو جاؤ مگن دل شاد کرو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B1%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C_%D8%A2%D9%85%D8%AF_%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آزاد اس سے ہیں کہ بیاباں ہی کیوں نہ ہو", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آزاد اس سے ہیں کہ بیاباں ہی کیوں نہ ہو\nپھاڑیں گے جیب گوشۂ زنداں ہی کیوں نہ ہو\n\nہو شغل کوئی جی کے بہلنے کے واسطے\nراحت فزا ہے نالہ و فغاں ہی کیوں نہ ہو\n\nسودائے زلف یار سے باز آئیں گے نہ ہم\nمجموعۂ حواس پریشاں ہی کیوں نہ ہو\n\nاحسان تیر یار ادا ہو سکے گا کیا\nجان اپنی نذر لذت پیکاں ہی کیوں نہ ہو\n\nجیتے رہیں گے وعدۂ صبر آزما پہ ہم\nعمر اپنی مثل وقت گریزاں ہی کیوں نہ ہو\n\nوحشتؔ رکیں نہ ہاتھ سر حشر دیکھنا\nاس فتنہ خو کا گوشۂ داماں ہی کیوں نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "آزاد کی رگ سخت ہے مانندِ رگِ سنگ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "آزاد کی رگ سخت ہے مانندِ رگِ سنگ\nمحکوم کی رگ نرم ہے مانندِ رگِ تاک\nمحکوم کا دل مُردہ و افسردہ و نومید\nآزاد کا دل زندہ و پُرسوز و طرب ناک\nآزاد کی دولت دلِ روشن، نفسِ گرم\nمحکوم کا سرمایہ فقط دیدۂ نم ناک\nمحکوم ہے بیگانۂ اخلاص و مروّت\nہر چند کہ منطق کی دلیلوں میں ہے چالاک\nممکن نہیں محکوم ہو آزاد کا ہمدوش\nوہ بندۂ افلاک ہے، یہ خواجۂ افلاک", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%DA%AF_%D8%B3%D8%AE%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%86%D8%AF%D9%90_%D8%B1%DA%AF%D9%90_%D8%B3%D9%86%DA%AF"} {"title": "آزادئ خیال کی وسعت کو دیکھیے", "poet_page": "مصنف:احقر جھانسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آزادئ خیال کی وسعت کو دیکھیے\nرہ کر زمیں پہ کرتے ہیں بات آسماں سے ہم\n\nجینے کی کچھ خوشی ہے نہ مرنے کا کوئی خوف\nآزاد اس طرح ہوئے ہر دو جہاں سے ہم\n\nغالب ہے دل پہ جوش و ذوق سخن مرے\nدرجہ میں کم نہیں کسی آتش‌ زباں سے ہم\n\nستر برس کی عمر جوانوں سے بڑھ کے جوش\nاس راز کو چھپائے ہیں اہل جہاں سے ہم\n\nاحباب نکتہ سنج سخنداں چلے گئے\nاحقرؔ ہیں اب لگے فقط ہندوستاں سے ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%D8%A6_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%D8%B3%D8%B9%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92"} {"title": "آزادی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہے کس کی یہ جُرأت کہ مسلمان کو ٹوکے\nحُریّتِ افکار کی نعمت ہے خدا داد\nچاہے تو کرے کعبے کو آتش کدۂ پارس\nچاہے تو کرے اس میں فرنگی صَنم آباد\nقُرآن کو بازیچۂ تاویل بنا کر\nچاہے تو خود اک تازہ شریعت کرے ایجاد\nہے مملکتِ ہند میں اک طُرفہ تماشا\nاسلام ہے محبوس، مسلمان ہے آزاد!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C"} {"title": "آزادی رائے", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ہم اپنے اس آرٹیکل کو ایک بڑے لائق اور قابل زمانہ حال کے فیلسوف کی تحریر سے اخذ کرتے ہیں۔ رائے کی آزادی ایک ایسی چیز ہے کہ ہر ایک انسان اس پر پورا پورا حق رکھتا ہے۔ فرض کرو کہ تمام آدمی بجز ایک شخص کے کسی بات پر متفق الرائے ہیں، مگر صرف وہی ایک شخص ان کے بر خلاف رائے رکھتا ہے تو ان تمام آدمیوں کو اس ایک شخص کی رائے کو غلط ٹھہرانے کے لیے اس سے زیادہ کچھ استحقاق نہیں ہے جتنا کہ اس ایک شخص کو ان تمام آدمیوں کی رائے کے غلط ثابت کرنے کا (اگر وہ ثابت کر سکے) استحقاق حاصل ہے۔\n\nکوئی وجہ اس بات کی نہیں ہے کہ پانچ آدمیوں کو تو بمقابلہ پانچ آدمیوں کی رایوں کے غلط ٹھہرانے کا استحقاق ہو اور ایک آدمی کو بمقابل نو آدمیوں کے یہ استحقاق نہ ہو۔ رائے کی غلطی آدمیوں کی تعداد کی کمی بیشی پر منحصر نہیں ہے، بلکہ قوت استدلال پر منحصر ہے۔ جیسے کہ یہ بات ممکن ہے کہ نو آدمیوں کی رائے بمقابلہ ایک شخص کے صحیح ہو ویسے یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص کی رائے بمقابل نو کے صحیح ہو۔\n\nرایوں کا بند رہنا خواہ بسبب کسی مذہبی خوف کے اور خواہ بسبب اندیشہ برادری وقوم کے اور خواہ بدنامی کے ڈر سے اور یا گورنمنٹ کے ظلم سے نہایت ہی بری چیز ہے۔ اگر رائے اس قسم کی کوئی چیز ہوتی جس کی قدر و قیمت صرف اس رائے والے کی ذات ہی سے متعلق اور اسی میں محصور ہوتی تو رایوں کے بند رہنے سے ایک خاص شخص یا معدودے چند کا نقصان متصور ہوتا مگر رایوں کے بند رہنے سے تمام انسانوں کی حق تلفی ہوتی ہے اور کل انسانوں کو نقصان پہنچتا ہے اور نہ صرف موجودہ انسانوں کو، بلکہ ان کو بھی جو آئندہ پیدا ہوں گے۔\n\nاگر چہ رسم و رواج بھی اس کے بر خلاف رایوں کے اظہار کے لئے ایک بہت قوی مزاحم کا رگنا جاتا ہے، لیکن مذہبی خیالات مخالف مذہب رائے کے اظہار اور مشتہر ہونے کے لیے نہایت اقوی مزاحم کار ہوتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے کہ اس مخالف رائے کا ظاہر ہونا ان کو نا پسند ہو اہے، بلکہ اسی کے ساتھ جوش مذہبی امنڈ آتا ہے اور عقل سلیم نہیں رکھتا اور اس حالت میں ان سے ایسے افعال و اقوال سرزد ہوتے ہیں جو ان ہی کے مذہب کو جس کے وہ طرف دار ہیں مضرت پہنچاتے ہیں۔ وہ خود اس بات کے باعث ہوتے ہیں کہ بسبب پوشیدہ رہنے ان اعتراضوں کے ان ہی کے مذہب کے لوگ ان کے حل پر متوجہ نہ ہوں اور مخالفوں کے اعتراض بلا تحقیق کیے بلا دفع کیے باقی رہ جاویں۔\n\nوہ خود اس بات کے باعث ہوتے ہیں کہ ان کی آئندہ نسلیں بسبب نا تحقیق باقی رہ جانے ان اعتراضوں کے جس وقت ان اعتراضوں سے واقف ہوں، اسی وقت مذہب سے منحرف ہو جاویں، وہ خود اس بات کے باعث ہوتے ہیں کہ وہ اپنی نادانی سے تمام دنیا پر گویا یہ بات ظاہر کرتے ہیں کہ اس مذہب کے جس کے وہ پیرو ہیں، مخالفوں کے اعتراضوں سے سے نہایت ہی اندیشہ ہے۔ اگر انہی کے مذہب کا کوئی شخص بغرض حصول اغراض مذکورہ ان کو پھیلانا چاہے تو خود اس کو معترض کی جگہ تصور کرتے ہیں اور اپنی نادانی سے دوست کو دشمن قرار دیتے ہیں۔\n\nکیا عمدہ رائے اس فیلسوف کی ہے کہ ’’کسی رائے کے حامیوں کا اس رائے کے بر خلاف رائے کے مشتہر ہونے میں مزاحمت کرنے سے خود ان حامیوں کابہ نسبت ان کے مخالفوں کے زیادہ تر نقصان ہے، اس لیے کہ اگر وہ رائے صحیح و درست ہو تو اس کی مزاحمت سے غلطی کے بدلے صحیح بات حاصل کرنے کا موقع ان کے ہاتھ سے جاتا ہے اور اگر وہ غلط ہے تو اس بات کا موقع باقی نہیں رہتا کہ غلطی اور صحت کے مقابلے سے جو صحت کو زیادہ استحکام اور اس کی سچائی زیادہ تر دلوں پر مؤثر ہوتی ہے اور اس کی روشنی دلوں میں بیٹھ جاتی ہے، اس نتیجے کو حاصل کریں جو فی الحقیقت نہایت عمدہ فائدہ ہے۔‘‘\n\nکچھ شبہ نہیں ہے کہ عموما ًمخالف اور موافق رایوں کا پھیلنا اور منتشر ہونا، خواہ وہ دینی معاملے سے علاقہ رکھتی ہو ں یا دنیوی معاملے سے، نہایت ہی عمدہ اور مفید ہے۔ دونوں قسم کی رایوں پر جد ا جدا غور کرنے کا موقع ملتا ہے کہ ان میں سے کون سی بہتر ہے یا ان دونوں کی تائید ایسے دلائل سے ہوتی ہے جو جداگانہ ہر ایک کے مناسب ہیں۔ ہم کو اس بات کا کبھی یقین کامل نہیں ہو سکتا کہ جس رائے کی مزاحمت میں پابند رہنے میں ہم کوشش کرتے ہیں وہ غلط ہی ہے اور اگر یقین بھی ہو کہ وہ غلط ہے تو بھی اس کی مزاحمت اور اس کا انسداد برائی سے خالی نہیں۔\n\nفرض کرو کہ جس رائے کا بند کرنا ہم چاہتے ہیں حقیقت میں وہ رائے صحیح و درست ہے اور جو لوگ اس کا انسداد چاہتے ہیں وہ اس کی درستی اور صحت سے منکر ہیں، مگر غور کرنا چاہیے کہ وہ لوگ، یعنی اس رائے کے بند کرنے والے ایسے نہیں ہے جن سے غلطی اور خطا ہونی ممکن نہ ہو توا ن کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ وہ اس خاص معاملے کو تمام انسانوں کے لیے خود فیصل کریں اور شخصوں کو اپنی رائے کام میں لانے سے محروم کردیں۔ کسی مخالف رائے کی سماعت سے اس وجہ سے ا نکار کرنا کہ ہم کواس کے غلط ہونے کا یقین ہے، گویا یہ کہنا ہے کہ ہمار ایقین یقین کامل کا رتبہ رکھتا ہے اور اس پر بحث و گفتگو کی ممانعت کرنا انبیاء سے بھی بڑھ کر اپنا رتبہ ٹھہرانا ہے اور اپنے تئیں ایسا سمجھنا ہے کہ ہم سے سہو و خطا کا ہونا نا ممکن ہے۔\n\nانسانوں کی سمجھ پر بڑا افسوس ہے کہ جس قدر وہ اپنے خیال و قیاس میں اپنے سے اس مشہور مقولے کی سند پر کہ ’’الانسان مرکب من الخطاء والنسیان‘‘ سہو و خطا کا ہونا ممکن سمجھتے ہیں اس قدر اپنی رایوں اور اپنی باتوں کے عمل در آمد میں نہیں سمجھتے۔ ان کی عملی باتوں سے اس کی قدر و منزلت نہایت ہی خفیف معلوم ہوتی ہے، گو خیال میں اس کی کیسی ہی قدر و منزلت سمجھتے ہوں۔ اگر چہ سب اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم سے سہو و خطا ہونی ممکن ہے۔ مگر بہت ہی کم آدمی ایسے ہوں گے جو اس کا خیال رکھنا اور ازروئے عمل کے بھی اس کی احتیاط کرنا ضرور سمجھتے ہوں اور عملی طور پر اس بات کو تسلیم کرتے ہوں کہ جس رائے کی صحت کا ان کو خوب یقین ہے شاید وہ ا سی سہو و خطا کی مثال ہو جس کا ہونا وہ اپنے سے ممکن سمجھتے ہیں۔\n\nجو لوگ کہ دولت و منصب اور حکومت یا علم کے سبب غیر محدود تعظیم و ادب کے عادی ہوتے ہیں، وہ تمام معاملات میں اپنی رایوں کے صحیح ہونے پر یقین کامل رکھتے ہیں اور اپنے میں سہو و خطا ہونے کا احتمال بھی نہیں کرتے اور جو لوگ ان سے کسی قدر زیادہ خوش نصیب ہیں، یعنی وہ کبھی کبھی اپنی رایوں پر اعتراض اور حجت تکرار ہوتے سنتے ہیں اور کچھ کچھ اس بات کے عادی ہوتے ہیں کہ جب غلطی پر ہوں تو منتنبہ ہونے پر اس کو چھوڑ دیں اور درست بات مان لیں، اگر چہ ان کو اپنی ہر ایک رائے کی درستی پر یقین کامل تو نہیں ہوتا، مگر ان رایوں کی درستی پر ضرور یقین ہوتا ہے جن کو وہ لوگ جو ان کے ارد گرد رہتے ہیں یا ایسے لوگ جن کی بات کو نہایت ادب و تعظیم کے قابل سمجھتے ہیں ان رایوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے کہ جو شخص جس قدر اپنی ذاتی رائے پر اعتماد نہیں رکھتا وہ شخص اسی قدر دنیا کی رائے پر عموما زیادہ تر اعتماد رکھتا ہے جس کو بعضی اصطلاحوں میں جمہور کی رائے یا جمہور کا مذہب کہا جاتا ہے۔\n\nمگر یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ایسے لوگوں کے نزدیک دنیا سے یا جمہور سے وہ چند اشخاص معدود مراد ہوتے ہیں جن سے وہ اعتقاد رکھتا ہے یا جن سے وہ ملتا جلتا ہے، مثلا اس کے دوستوں یا ہم راویوں کا فریق یا اس کی ذات برادری کے لوگ یا اس کے درجے و رتبے کے لوگ۔ پس اس کے نزدیک تمام دنیا اور جمہور کے معنی انہی میں ختم ہو جاتے ہیں اور اس لیے وہ شخص اس رائے کو دنیا کی یا جمہور کی رائے سمجھ کر اس کی درستی پر زیادہ تر یقین کرتا ہے۔ اس ہیئت مجموعی رائے کا جو اعتماد اور یقین اس کو زیادہ ہوتا ہے اور ذرا بھی اس میں لغزش نہیں آتی، اس کا سبب یہ ہی ہوتا ہے کہ وہ اس بات سے واقف نہیں ہوتا کہ اس کے زمانے سے پہلے اور زمانوں کے، اور ملکوں کے، اور فرقوں کے، اور مذہبوں کے لوگ اس میں کیا رائے رکھتے تھے اور اب بھی اور ملکوں اور فرقوں اور مذہبوں کے لوگ کیا رائے رکھتے ہیں۔\n\nایسے شخص کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ اس بات کی جواب دہی کو کہ در حقیقت وہ راہ راست پر چلتا ہے اپنی فرضی دنیا یا جمہور کے ذمے ڈالتا ہے۔ پس جو کچھ اس کی رائے یا اس کا حال ہو، کچھ بھی اعتبار اور یقین کے لائق نہیں ہے، اس لیے جن وجوہات سے وہ شخص بسبب مسلمان خاندان میں پیدا ہونے اس وقت بڑا مقدس مسلمان ہے۔ انہیں وجوہات سے اگر وہ عیسائی خاندان یا ملک یا بت پرست خاندان یا ملک میں پیدا ہوتا تو وہ بھلا چنگا عیسائی یا بت پرست ہوتا۔ وہ مطلق اس بات کا خیال نہیں کرتا کہ جس طرح کسی خاص شخص کا خطا میں پڑنا ممکن ہے اسی طرح اس کی فرضی دنیا اور خیالی جمہور کی تو کیا حقیقت ہے۔ زمانے کے زمانے کا اور اس سے بھی بہت بڑ ی دنیا کا خطا میں پڑنا ممکن ہے۔ تاریخ سے اور علوم موجودہ سے بخوبی ظاہر ہے کہ ہر زمانے میں ایسی ایسی رائیں قائم ہوئیں اور مسلم قرار پائیں جو اس کے بعد کے زمانے میں صرف غلط ہی نہیں بلکہ سراسر لغو و مہمل سمجھی گئیں اور یقینا ًاس زمانے میں بھی بہت سی ایسی رائیں مروج ہوں گی جو کسی آئندہ زمانہ میں اسی طرح مردود اور نا معقول ٹھہریں گی جیسے کہ بہت سی رائیں جو اگلے زمانے میں عام طور پر مروج تھیں اور اب مردود ہو گئی ہیں۔\n\nاس تقریر پر اعتراض ہو سکتا ہے کہ جو لوگ مخالف رائے کو غلط اور مضر سمجھ کر اس کی مزاحمت کرتے ہیں، اس سے ان کا مطلب اس بات کا دعویٰ کرنا کہ وہ غلطی سے آزاد و بری ہیں، نہیں ہوتا، بلکہ اس سے اس فرض کا ادا کرنا مقصود ہوتاہے جو ان پر با وصف قابل سہو و خطا ہونے کے اپنے ایمان اور اپنے یقین کے مطابق عمل کرنے کا ہے۔ اگر لوگ اس وجہ سے اپنی رایوں کے موافق کاربند نہ ہوں کہ شاید وہ غلط ہوں تو کوئی شخص اپنا کوئی کام بھی نہیں کر سکتا۔ لوگوں کا یہ فرض ہے کہ حتی المقدور اپنی نہایت درست رائیں قائم کریں اور بغور ان کو قرار دیں اور جب ان کی درستی کا بخوبی یقین ہو جاوے تو اس کے مخالف رایوں کے بند کرنے اور مزاحمت کرنے میں کوشش کریں۔\n\nآدمیوں کو اپنی استعداد و قابلیت کو نہایت عمدہ طور سے برتنا چاہیے۔ یقین کامل کسی امر میں نہیں ہو سکتا، مگر ایسا یقین ہو سکتا ہے جو انسان کے مطالب کے لیے کافی ہو۔ انسان اپنی کار روائی کے لیے اپنی رائے کو درست و صحیح سمجھ سکتے ہیں اور ان کو ایسا ہی سمجھنا چاہیے۔ اور وہ اس سے زیادہ اور کوئی بات اس صورت میں اختیا ر نہیں کرتے جب کہ وہ خراب آدمیوں کو ممانعت کرتے ہیں کہ ایسی رایوں کے شایع کرنے سے جو ان کے نزدیک فاسد اور مضر ہیں، لوگوں کو خراب یا بد اخلاق یا بد مذہب نہ کریں۔\n\nمگر مخالف رائے کے بند کرنے میں صر ف اتنا ہی نہیں ہوتا کہ انہوں نے اپنے تئیں قابل سہو و خطا سمجھ کر اپنے ایمان اور اپنے یقین کے موافق عمل کیا ہے، بلکہ اس سے بہت زیادہ کیا جاتا ہے۔ اس بات میں کہ ایک رائے کو اس وجہ سے صحیح سمجھا جاوے کہ اس پر اعتراض و حجت کرنے کا ہر طرح پر لوگوں کو موقع دیا گیا اورا س کی تردید نہ ہو سکی اور اس بات میں کہ ایک رائے کو اس وجہ سے مان لیا گیا کہ اس کی تردید کی کسی کو اجازت نہیں ہوئی، زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ پس مخالف رایوں کی مزاحمت کرنے والے اپنی رائے کو اس وجہ سے صحیح نہیں سمجھتے کہ اس کی تردید نہیں ہو سکی، بلکہ اس لیے صحیح ٹھہراتے ہیں کہ اس کی تردید کی اجازت نہیں ہوئی، حالانکہ جس شرط سے ہم بطور جائز اپنی رائے عمل در آمد ہونے کے لیے درست قرار دے سکتے ہیں وہ صرف یہی ہے کہ لوگوں کو اس بات کی کامل آزادی ہو کہ وہ اس رائے کے بر خلا ف کہیں اور اس کو غلط ثابت کریں۔\n\nاس کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہے کہ انسان جس کے قوائے عقلی اور قویٰ کامل نہیں ہیں، اپنے آپ کو راہ راست ہونے کا یقین کر سکے۔ اہل مذاہب جو صرف اپنے معتقد فیہ کی پیروی ہی راہ راست سمجھتے ہیں، جب تک کہ وہ بھی اس بات پر مباحثے اور اظہار رائے کی اجازت نہ دیں کہ جس طرح پر ان کا عمل در آمد اور چال چلن یا اعتقاد اور خیال ہے وہ صحیح طور سے ان کے معتقد فیہ کی پیروی ہے یا نہیں، اس وقت تک وہ بھی اپنے آپ کو راہ راست پر ہونے کا یقین نہیں کر سکتے۔\n\nانسان کی پچھلی حالتوں کو موجودہ حالتوں سے مقابلہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانے میں انسانوں کا یہ حال ہے کہ سو میں ایک ہی شخص اس قابل ہوتا ہے کہ کسی دقیق معاملے پر رائے دے اور ننانوے شخص اس میں رائے دینے کی لیاقت نہیں رکھتے، مگر اس ایک آدمی کی رائے کی عمدگی بھی صرف اضافی ہوئی ہے، اس لیے کہ اگلے زمانے کے لوگوں میں اکثر آدمی جو سمجھ بوجھ اور لیاقت میں مشہور تھے ایسی رائیں رکھتے تھے کہ جن کی غلطی اب بخوبی روشن ہو چکی ہے۔ بہت سی ایسی باتیں ان کو پسندیدہ اور ان کے عمل در آمد تھیں جن کو اب کوئی بھی ٹھیک اور درست نہیں سمجھتا اور ا س سے ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں میں ہمیشہ معقول رایوں اور پسندیدہ رایوں کو غلبہ رہتا ہے، مگر اس کا سبب بجز انسان کی عقل و فہم کی ایک عمدہ صفت کے جو نہایت ہی پسندیدہ ہے اور کوئی نہیں۔ اور وہ صفت یہ ہے کہ انسان کی غلطیاں اصلاح کی صلاحیت رکھتی ہیں، یعنی انسان اپنی غلطیوں کو مباحثے اور تجربے کے ذریعے سے درست کر لینے کی قابلیت رکھتا ہے۔\n\nپس انسان کی رائے کی بتمامہ قوت اور قدر و منزلت کا حصر اس ایک بات پر ہے کہ جب وہ غلط ہو تو صحیح کی جا سکتی ہے، مگر اس پر اعتماد اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب کہ ا س کے صحیح کرنے کے ذریعے ہمیشہ برتاؤ میں رکھے جاویں۔ خیال کرنا چاہیے کہ جس آدمی کی رائے حقیقت میں اعتماد کے قابل ہے اس کی و ہ رائے اس قدر و منزلت کو کس وجہ سے پہنچی ہے؟ اسی وجہ سے پہنچی ہے کہ اس نے ہمیشہ اپنی طبیعت پر اس بات کو گوارا رکھا ہے کہ اس کی رائے پر نکتہ چینیاں کی جاویں اور اس نے اپنا طریقہ یہ ٹھہرایا ہے کہ اپنے مخالف کی رائے کو ٹھنڈے دل سے سننا اور اس میں جو کچھ درست اور واجب تھا، اس سے مستفید ہونا اور جو کچھ اس میں غلط اور نا واجب تھا اس کو سمجھ لینا اور موقع پر اس غلطی سے اوروں کو بھی آگا ہ کر دینا۔ ایسا شخص گویا اس بات کو عملی طور پر تسلیم کرتا ہے کہ جس طریقے سے انسان کسی معاملے کے کل مدارج کو جان سکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس کی بابت ہر قسم کی رائے کے لوگوں کی گفتگو کو سنے اور جن جن طریقوں سے ہر سمجھ اور طریقے اور طبیعت کے آدمی اس معاملے پر نظر کریں ان سب طریقوں کو سوچے اور سمجھے۔\n\nکسی دانا آدمی نے اپنی دانائی بجز اس طریقے کے اور کسی طرح پر حاصل نہیں کی۔\n\nانسان کی عقل و فہم کا خاصہ یہی ہے کہ وہ اس طور کے سوا اور کسی طور سے مہذب اور معقول ہو ہی نہیں سکتی اور صرف اس بات کی مستقل عادت کے سوا کہ اپنی رائے کو اوروں کی رایوں سے مقابلہ کرکے اس کی اصلاح و تکمیل کیا کرے اور کوئی بات اس پر اعتما د کرنے کی وجہ متصور نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ اس صور ت میں اس شخص نے لوگوں کی ان تمام باتوں کو جو اس کے بر خلا ف کہہ سکتے تھے بخوبی سنا اور تمام معترضوں کے سامنے اپنی رائے کو ڈالا اور بعوض اس کے کہ مشکلاتوں اور اعتراضوں کو چھپاوے خود اس نے جستجو کی اور ہر طرف سے جو کچھ روشنی پہنچی اس کو بند نہیں کیا۔ تو ایسا شخص البتہ اس بات کے خیال کرنے کا استحقاق رکھتا ہے کہ میری رائے ایسے شخص یا اشخاص سے جنہوں نے اپنی رائے کو اس طرح پر پختہ نہیں کیا بہتر و فائق ہے۔\n\nجس شخص کو اپنی رائے پر کسی قدر بھروسہ کرنے کی خواہش ہو یا یہ خواہش رکھتا ہو کہ عام لوگ بھی اس کو تسلیم کریں اس کا طریقہ بجز اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ وہ اپنی رائے کو عام مباحثے اور ہر قسم کے لوگوں کو اعتراض کے لیے حاضر کرے۔ اگر نیوٹن صاحب کی حکمت اور ہیئت اور مسئلہ ثقل پر اعتراض اور حجت کرنے کی اجازت نہ ہو تی تو دنیا اس کی صحت اور صداقت پر ایسا پختہ یقین نہ کر سکتی جیسا کہ اب کرتی ہے۔ کیا کچھ مخالفت ہے جو لوگوں نے اس دانا حکیم کے ساتھ نہیں کی اور کون سی مذہبی لعن و طعن ہے جو اس سچے اور سچی رائے رکھنے والے حکیم کو نہیں دی گئی، مگر غور کرنا چاہیے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ یہ ہوا کہ آج تمام دنیا، کیا دانا اور کیا نادان، کیا حکیم اور کیا متعصب، اہل مذہب سب اسی کو تسلیم کرتے ہیں اور اسی کو سچ جانتے ہیں اور مذہبی عقائد سے بھی زیادہ اس کی سچائی دلوں میں بیٹھی ہے۔\n\nبغیر آزادی رائے کے کسی چیز کی سچائی جہاں تک کہ اس کی سچائی دریافت ہونی ممکن ہے، دریافت نہیں ہو سکتی۔ جن اعتقادوں کو ہم نہایت جائز و درست سمجھتے ہیں ان کے جو از و درستی کی اور کوئی سند اور بنیاد بجز اس کے نہیں ہو سکتی کہ تمام دنیا کو اختیار دیا جاوے کہ وہ ان کو بے بنیاد ثابت کریں۔ اگر وہ لوگ ایسا قصد نہ کریں یا کریں اور کامیاب نہ ہوں تو بھی ہم ان پر یقین کامل رکھنے کے مجاز نہیں ہے، البتہ ایسی اجازت دینے سے ہم نے ایک ایسا نہایت عمدہ ثبوت ان کی صحت کا حاصل کیا ہے جو انسانوں کی عقل کی حالت موجودہ سے ممکن تھا۔\n\nکیونکہ ایسی حالت میں ہم نے کسی ایسی بات سے غفلت نہیں کی جس سے صحیح صحیح بات ہم تک نہ پہنچ سکتی ہو اور اگر امر مذکور پر مباحثے کی اجازت جاری رہے تو ہم امید کر سکتے ہیں کہ اگر کوئی بات اس سے بہتر اور سچ اور صحیح ہے تو وہ ا س وقت ہم کو حاصل ہو جاوے گی جب کہ انسانوں میں عقل و فہم اس کے دریافت کرنے کے قابل ہوگی اور اس اثناء میں ہم اس بات کا یقین کر سکتے ہیں کہ ہم راستی اور اور صداقت کے اس قدر قریب پہنچ گئے ہیں جس قدر کہ ہمارے زمانے میں ممکن تھا۔ غرضیکہ ایک خطاوار وجود جس کو انسان کہتے ہیں، اگر کسی امر کی نسبت کسی قدر یقین حاصل کر سکتا ہے تو اس کا یہی طریقہ ہے جو بیان ہو ا اور مسلمانی مذہب کا جو ایک مشہور مسئلہ ہے کہ الحق یعلو ولا یعلیٰ، یہ اس کی ایک ادنیٰ تفسیر ہے۔\n\nمگر ایک بہت بڑا دھوکہ ہے جو انسانوں کو اور بعض دفعہ نیک گورنمنٹوں کو بھی آزادی رائے کے بند کرنے پر مائل کرتا ہے اور وہ مسئلہ سود مندی کا ہے جس کو غلط اور جھوٹا نام مصلحت عام کا دیا گیا ہے۔ وللہ درّ من قال۔ بر عکس نہند نام زنگی کافور اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ کسی رائے یا مسئلے یا عقیدے کی سچائی اور صحت پر بحث کرنے سے اس لیے ممانعت کی جاتی ہے کہ گو وہ فی نفسہ کیسا ہی ہو، مگر اس سے عام لوگوں کا پابند رہنا نہایت مفید اور باعث صلاح و فلاح عام لوگوں کا ہے اور فی زمانہ ہندوستان میں اور خصوصا ًمسلمانوں میں یہ رائے بکثرت رائج ہے، بلکہ اس گناہ کے کام کو ایک نیک کام تصور کیا جاتا ہے۔ اس رائے کا نتیجہ یہ ہے کہ مباحثے اور رایوں کی آزادی کا بند کرنا اس مسئلے یا عقیدے کی صحت سچائی پر منحصر نہیں ہے، بلکہ زیادہ تر مفید عام ہونے پر منحصر ہے۔\n\nمگر افسوس ہے کہ ایسی رائے رکھنے والے یہ نہیں سمجھتے کہ وہی دعوائے سابق، یعنی اپنے آپ کو ناقابل ناقابل سہو و خطا سمجھنے کا جس سے انہوں نے توبہ کی تھی، پھر پھر اکر قائم ہوجاتا ہے۔ صرف اتنا فرق ہوتا ہے کہ پہلے وہ دعویٰ ایک بات پر تھا اب وہی دعویٰ دوسری بات پر ہے، یعنی پہلے اس اصل مسئلے یا عقیدے کے سچ ہونے پر تھا اور اب اس کے مفید عام ہونے پر ہے، حالانکہ یہ بات بھی کہ وہ مسئلہ یا عقیدہ مفید عام ہے اسی قدر بحث ومباحثے کی محتاج ہے جس قدر کہ وہ اصل مسئلہ یا عقیدہ محتاج ہے۔\n\nایسی رائے رکھنے والے اس غلطی پر ایک اور دوسری غلطی یہ کرتے ہیں جب کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے صرف اس کی اصلیت اور سچائی پر بحث کی ممانعت کی ہے، اس کے مفید عام ہونے کی بحث پر ممانعت نہیں کی اور یہ نہیں سمجھتے کہ رائے کی صداقت خود اس کے مفید عام ہونے کا ایک جزو ہے۔ ممکن نہیں کہ ہم کسی رائے کے مفید عام ہونے پر بغیر اس کی صحت اور سچائی ثابت کیے بحث کر سکیں۔ اگر ہم یہ بات جاننی چاہتے ہیں کی آیا فلاں بات لوگوں کے حق میں مفید ہے یا نہیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ اس بات پر توجہ نہ کریں کہ آیا وہ بات سچ اور صحیح و درست بھی ہے یا نہیں۔ ادنیٰ اور اعلیٰ سب اس بات کو قبول کریں گے کہ کوئی رائے یا مسئلہ یا اعتقاد جو صداقت اور راستی کے بر خلاف ہے در اصل کسی کے لیے مفید نہیں ہو سکتا۔\n\nیہ تمام مباحثۃ جو ہم نے کیا، ایسی صورت سے متعلق تھا کہ رائے مروجہ اور تسلیم شدہ کو ہم نے غلط اور اس کے برخلاف رائے کو جس کا بند رکھنا لوگ چاہتے تھے، صحیح و درست فرض کیا تھا۔ اب اس کے بر خلاف شک کو اختیا ر کرتے ہیں، یعنی یہ فرض کرتے ہیں کہ رائے مروجہ اور تسلیم شدہ صحیح ہے اور اس کے بخلاف رائے کو جس کا بند کرنا چاہتے ہیں غلط اور نا درست ہے اور اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اس غلط رائے کا بند کرنا خالی برائی اور نقصان سے نہیں۔\n\nہر ایک شخص کو گو اس کی رائے کیسی ہی زبردست اور مضبوط ہو اور وہ کیسی ہی مشکل اور نا رضامندی سے اپنی رائے کے غلط ہونے کے امکان کو تسلیم کرے، یہ بات خوب یاد رکھنی چاہیے کہ اگر اس رائے پر بخوبی تمام اور نہایت بے باکی سے بے دھڑک مباحثہ نہیں ہو سکتا تو وہ ایک مردہ اور مردار رائے قرار دی جاوےگی نہ ایک زندہ اور سچی حقیقت، اور وہ کبھی ایسی حق اور سچ بات قرار نہیں پا سکتی جس کا اثر ہمیشہ لوگوں کی طبیعتوں پر رہے۔\n\nگذشتہ اور حال کے زمانے کی تاریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعضی دفعہ ظالم گورنمنٹوں نے بھی نہایت سچی اور صحیح بات کے رواج پر کوشش کی، الا ان کے ظلم نے اس پر آزادی سے مباحثہ کی اجازت نہیں دی اور بہت سی ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ نیک اور تربیت یافتہ گورنمنٹ نے نہایت سچی اور صحیح بات کا رواج دینا چاہا اور لوگوں نے یا تو اس خیال سے کہ ہمارے مباحثے اور دلائل کو اس رائے میں کچھ مداخلت نہیں ہے یا کوئی التفات نہیں کرتا، از خود مباحثے کو نہیں اٹھایا یا اپنے وہمی خوف سے یا اراکین گورنمنٹ کی بد مزاجی کے ڈر سے یا ان کی خلاف رائے کے کوئی بات نہ کہنی مصلحت وقت سمجھ کر یا یہ خیال کر کر کہ گورنمنٹ کے یا کسی کے برخلاف بحث کرنا خیر خواہی نہیں ہے، مباحثہ ترک کر دیا تو اس کا نتیجہ بجز اس کے اور کچھ نہیں ہوا کہ س تجویز نے کسی کے دلوں میں مطلق اثر نہیں کیا اور ایک مردہ رائے سے زیادہ اور کچھ رتبہ لوگوں کے دلوں میں نہیں پایا۔\n\nیہ بات کہ سچی اور درست بات بے مباحثہ و دلیل کے بھی طبیعتوں میں بیٹھ جاتی ہے اور گھر کر لیتی ہے، ایک خوش آیند مگر غلط آواز ہے۔ دنیا کو دیکھو کہ گروہ کے گروہ ایک دوسرے کی متناقض رائے پر جمے ہوئے ہیں اور وہ متناقض رائیں ان کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہیں۔ پھر کیا وہ دونوں متناقض رائیں سچی اور صحیح ہیں؟ ہاں اس میں کچھ شک نہیں کہ بہت سی باتیں بے سمجھے اور بغیر دلیل کے اور بغیر مباحثے کے لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتی ہیں، مگر ان کا صحیح و درست ہونا ضرو ری نہیں۔ سچ میں کوئی ایسی اعجازی کرامات نہیں ہے کہ وہ از خود دلوں میں بیٹھ جاوے۔ اس میں جو کچھ کرامات ہیں وہ صرف اسی قدر ہے کہ مباحثے کا اس کو خوف نہیں۔\n\nسچ رائے بھی اگر بلا دلیل و مباحثہ دل میں گھر کر لے تو وہ سچی رائے نہیں کہلاوے گی، بلکہ تعصب اور جہل مرکب اس کا مناسب نام ہوگا، مگر ایسا طریقہ حق اور سچ بات کے قبول کرنے کا ایک ذی عقل مخلوق کے لیے، جیسا کہ انسان ہے شایان نہیں اور نہ یہ طریقہ راستی و حق کے پہچاننے کا ہے، بلکہ حق بات جو اس طرح پر قبول کی جاتی ہے وہ ایک خیال فاسد و باطل ہے اور جن باتوں کو حق فرض کر لیا ہے ان کا اتفاقیہ قبول کر لینا ہے۔\n\nنہایت سچ اور بالکل سچ تو یہ بات ہے کہ جس شخص نے جو رائے یا مذہب اختیار کیا ہے وہی شخص اس کا جواب دہ ہے۔ اس رائے کے موجد یا اس مذہب کے پیشوا اور معلم اور مجتہد کچھ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں، مگر مسلمانوں نے اس آفتا ب سے بھی زیادہ روشن مسئلے سے آنکھ بند کر لی ہے اور رومن کیتھولک، یعنی بت پرست عیسائیوں کا مسئلہ اختیار کیا ہے۔ رومن کیتھولک مذہب میں ان لوگوں کے جو اس مذہب پر ایمان رکھتے ہیں دو فرقے قرار دیے گئے ہیں، ایک تو وہ جو اس مذہب کے مسائل کو بعد دلیل و ثبوت کے قبو ل کرنے کے مجاز ہیں اور دوسرے وہ جن کو صرف اعتماد اور بھروسے، یعنی تقلید سے ان کو قبول کر لینا چاہیے۔ اسی قاعدے کی پیروی سے مسلمانوں نے بھی اپنے مذہب میں دو فریق قائم کیے ہیں ایک وہ جنہوں نے مسئلہ مسلمہ کو بعد ثبوت و تحقیقات اور اقامت دلیل تسلیم کیا ہے اور ان کا نام باختلاف درجات مجتہد مطلق اور مجتہد فی المذہب اور مرجع قرار دیا ہے۔\n\nدوسرا وہ جن کو بے سمجھے بوجھے آنکھ بند کر کر ان کی پیروی کرنی چاہیے اور ان کا نام مقلد اور اس فعل کا نام تقلید قرا ر دیا ہے اور اس سبب سے مخالف رائے کی مزاحمت مسلمانوں میں بہت زیادہ پھیل گئی ہے اور وہ اس کی نسبت ایک نہایت عمدہ، مگر ابلہ فریب تقریر کرتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ تمام انسانوں کو ان تمام باتوں کا جاننا نہ ضرور ہے اور نہ ممکن ہے جن کو بڑے بڑے حکیم یا اہل معرفت اور عالم علوم دین جانتے اور سمجھتے ہیں اور نہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہر ایک عام آدمی ایک ذکی اور دانشمند مخالف کی تمام غلط بیانیوں کو جانے اور ان کو غلط ثابت کرے یا تردید کرنے اور غلط ثابت کرنے کے قابل ہو بلکہ صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ ان کے جواب دینے کے لائق ہمیشہ کوئی نہ کوئی موجود ہو ں گے جن کی بدولت مخالف کی کوئی بات بھی بلا تردید باقی نہ رہی ہوگی۔\n\nپس سیدھی سادی عقل کے آدمیوں کے لیے یہی کافی ہے کہ ان باتوں کی اصلیت سکھلا دی جاوے اور باقی وجوہات کی بابت وہ اوروں کی سند پر بھروسا کریں اور جب کہ وہ خود اس بات سے واقف ہیں کہ ہم ان تمام مشکلات کے رفع دفع کرنے کے واسطے کافی علم اور پوری لیاقت نہیں رکھتے ہیں تو اس بات کا یقین کرکر مطمئن ہو سکتے ہیں کہ جو جو مشکلات اور اعتراض برپا کئے گئے ہیں وہ لوگ ان سب کا جواب دے چکے ہیں یا آئندہ دیں گے جو بڑے بڑے عالم ہیں۔\n\nاس تقریر کو تسلیم کرنے کے بعد رائے کی آزادی اور مخالف رائے کی مزاحمت سے جو نقصان ہیں اس میں کچھ نقصان لازم نہیں آتا، کیونکہ اس تقریر کے بموجب بھی یہ بات قرا ر پاتی ہے کہ آدمیوں کو اس بات کا معقول یقین ہونا چاہئے کہ تمام اعتراضو ں کا جواب حسب اطمینان دیا گیا ہے اور یہ یقین جب ہی ہوسکتا ہے جب کہ اس پر بحث و مباحثہ کرنے کی آزادی ہو اور مخالفوں کو اجازت ہو کہ تمام اپنی وجوہات کو جو اس کے مخالف رکھتے ہیں بیان کریں اور اس مسئلے کو غلط ثابت کرنے میں کوئی کوشش باقی نہ چھوڑیں۔\n\nاگر تقلید کی گرم بازاری کا جیسے کہ آج کل ہے اور آزادانہ مباحثے کی مزاحمت و عدم موجودگی کا اور بد اثر در صورتیکہ تسلیم شدہ مسئلے یا قرار دادہ رائیں صحیح ہوں، اسی قدر ہوتا کہ ان مسئلے یا ان رایوں کی اس قدر و منزلت میں کہ ان سے نہایت عمدہ اثر لوگوں کی خصلتوں پر ہوتا ہے کچھ نقصان ہے، مگر یہ بات نہیں ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر نقصان ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مباحثہ اور آزادی رائے کی عدم موجودگی میں صرف مسئلے یا رایوں کی وجوہات ہی کو لوگ نہیں بھو ل جاتے، بلکہ اکثر اس مسئلے یا رائے کے معنی اور مقصود کو بھی بھول جاتے ہیں، چنانچہ جن لفظوں میں وہ مسئلہ یا رائے بیان کی گئی ہے، ان سے کسی رائے یا خیال کا قائم کرنا تک موقوف ہوجاتا ہے یا جو جو باتیں ان لفظوں سے ابتداء میں مراد رکھی گئی تھیں ان میں بہت تھوڑی ہی معلوم رہ جاتی ہیں اور بعوض اس کے کہ اس مسئلے یا رائے کا اعتقاد ہر دم تر و تازہ اور زندہ، یعنی مؤثر رہے، اس کے صرف چندا دھورے کلمے حافظے کی بدولت باقی رہ جاتے ہیں اور اگر اس کی مراد اور معنی بھی کچھ باقی رہتے ہیں تو صرف ان کا پوست ہی پوست باقی رہتا ہے اور مغز و اصلیت نا بود ہو جاتی ہے۔ اب ذرا انصاف سے سے مسلمانوں کو اپنا حال دیکھنا چاہیے کہ تمام علوم معقول و منقول میں اس مزاحمت رائے یا تقلید کی بدولت ان کا در حقیقت ایسا ہی حا ل ہوگیا ہے یا نہیں۔\n\nاس زمانے تک جس قدر کہ انسانوں کو تمام مذہبی عقائد اور اخلاقی امور اور علمی مسائل میں تجربہ ہوا ہے اس سے امور بالا کی صحت ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ کسی مذہب یا علم یا رائے کے موجد تھے ان کے زمانے میں اور ان کے خاص مریدوں یا شاگردوں کے دلوں میں تو وہ عقائد یا مسائل طرح طرح کے معنوں اور مرادوں اور خوبیوں سے بھر پور تھے اور کا سبب یہی تھا کہ ان میں اور ان کے مخالف رائے والوں میں اس غرض سے بحث و حجت رہتی تھی کہ ایک کو دوسرے کے عقیدے اور مسئلے پر غلبہ اور فوقیت حاصل ہو، مگر جب ا س کو کامیابی ہوئی اور بہت لوگوں نے اس کو مان لیا اور بحث اور حجت بند ہو گئی تو اس کی ترقی بھی ٹھہر گئی اور وہ اثر جو دلوں میں تھا اس میں بھی جان، یعنی حرکت اور جنبش نہیں رہی۔\n\nایسی حالت میں خود اس کے حامیوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ مثل سابق کے اپنے مخالفوں کے مقابلے پر آمادہ نہیں رہتے اور جیسے کہ اس مسئلے یا عقیدے کی پہلے حفاظت کرتے تھے ویسی اب نہیں کرتے۔ بلکہ نہایت جھوٹے غرور، بے جا استغناء سے سکون اختیار کرتے ہیں اور حتی الامکان اس عقیدے اور مسئلے کے بر خلاف کوئی دلیل نہیں سنتے اور اپنے گروہ کے لوگوں کو بھی کفر کے فتووں کے ڈراوے سے جہنم میں جانے کی جھوٹی دہشت دکھانے سے سننے سے اور اس پر بحث کرنے سے جہاں تک ہو سکتا ہے باز رکھتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ کہیں علموں کی روشنی جو آفتاب کی روشنی کی طرح پھیلتی ہے اوار اعتراضوں کی ہوا اگر وہ صحیح ہوں تو کیا ان کے روکے رک سکتی ہے اور جب یہ نوبت پہنچ جاتی ہے تو اس عقیدے یا مسئلے کا جن کو ان کے پیشواؤوں نے نہایت محنتوں سے قائم کیا تھا زوال شروع ہوتا ہے۔\n\nاس وقت تمام معلم اور مقدس لوگ جو ا س کمبخت زمانے کے پیشوا گنے جاتے ہیں اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ معتقدوں کے دلوں میں ان عقیدوں کا جن کو انہوں نے برائے نام قبول کیا ہے کچھ بھی اثر نہیں پاتے اور باوجود یکہ وہ ظاہر میں ان عقیدوں اور مسئلوں کو قبول کرتے ہیں، مگر ان کا یسا اثر کہ ان کے معتقدوں کا چال چلن اور اخلاق اور عادات اور معاشرت بھی ان عقیدوں اور مسئلوں کے مطابق ہو مطلق نہیں پاتے، مگر افسوس اور نہایت افسوس کہ وہ معلم اور مقدس لوگ اتنا خیال نہیں فرماتے کہ یہ حال جو ہوا ہے جس کی وہ شکایت کرتے ہیں انہیں کی عنایت و مہربانی کا تو نتیجہ ہے۔ اب میں صاف کہتا ہوں اور نہایت بے دھڑک کہتا ہوں کہ یہ جو کچھ میں نے بیان کیا اس زمانے کے مسلمانوں کے حال ٹھیک ٹھیک آئینہ ہے۔\n\nاب اس کے بر خلاف حالت کا خیال کرو، یعنی جب کہ آزادی رائے کی قائم رہتی ہے جس کے ساتھ مباحثے کا بھی قائم رہنا لازم و ملزوم ہوتا ہے اور ہر ایک حامی کسی عقیدے یا علمی مسئلے کا اپنے عقیدے یا مسئلے کی وجوہ کو قائم اور غالب رہنے پر بحث کرتا ہے تو اس وقت عام لوگ بھی اور سست عقیدے والے بھی اس بات کو خوب جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ہم کس بات پر لڑ بھڑ رہے ہیں اورہمارے عقیدے اور مسئلے میں اور دوسروں عقیدے اور مسئلے میں کیا تفاوت ہے اور ایسی حالت میں ہزاروں ایسے آدمی پائے جاویں گے جنہوں نے اس عقیدے یا مسئلے کے اصول کو بخوبی خیال کیا ہوگا اور ہر ڈھنگ و طریقے سے اس کو خوب سمجھ لیا ہوگا اور اس کے عمدہ عمدہ پہلؤوں کو بخوبی جانچ اور تول لیا ہوگا اور ان کے اخلاق اور ان کی عادت و خصلت پر اس کا ایسا پورا پورا اثر ہوگا کہ جیسا کہ ایسے شخص کی طبیعت پر ہونا ممکن ہے، جس میں وہ عقیدہ یا مسئلہ بخوبی رچ بس گیا ہو۔\n\nمگر جب کہ وہ عقیدہ ایک موروثی اعتقاد ہو جاتا ہے اور لوگ باپ دادا یا استاد پیر کی رسم متبرک کے طور پر قبو ل کرتے ہیں تو وہ تصدیق قلبی نہیں ہوتی، طبیعت کا میلان اس عقیدے یا مسئلے کے بھلا دینے پر ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ عقیدہ یا مسئلہ انسان کے باطن سے بے تعلق ہو جاتا ہے اور صرف اوپر ہی اوپر رہ جاتا ہے اور تمام اخلاق و عادات اس کے بر خلاف ہوتے ہیں اور ایسے حالات پیش آتے ہیں جیسے کہ اس زمانے میں اکثر پیش ہوتے رہتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا کہ وہ عقیدہ یا مسئلہ طبیعت کے باہر ہی باہر ایسے خراب اور کانٹے دار پوست کی مانند لپٹا ہوا ہے جس کے سبب وہ باتیں ظہور میں نہیں آئیں جو انسان کے عمدہ عمدہ اوصاف درونی سے تعلق رکھتی ہیں، بلکہ اس سے اس قسم کی قوت ظاہر ہوتی ہے جیسے کانٹے دار تھور کے درخت کی باڑ سے ہوتی ہے کہ و ہ نہ خود اس گھیری ہوئی زمین کو کچھ فائدہ دیتا ہے اور نہ اوروں کو گل پھول لے جا کاکر اس میں لگانے دیتا ہے اور بجز اس کے کہ دل کی زمین کو ہمیشہ خالی اور ویران اور بیکار پڑا رہنے دے اور کچھ نہیں کرتا۔\n\nجو بات بیان ہوئی اس کی صحت ہر ایک مذہب والا اپنے حال پر غور کرنے سے بخوبی جان سکتا ہے۔ ہر ایک مذہب والا اپنے میں کسی نہ کسی کتاب کو مقدس سمجھتا ہے اور بطور قانون مذہب کے تسلیم کرتا ہے، مگر باایں ہمہ یہ بات کہنی کھچ مبالغہ نہیں کہ شاید ہزاروں میں ایک اپنی چال چلن کی جانچ اور اس کے برے یا بھلے ہونے کی آزمائش اس مقدس تسلیم شدہ قانون کے بموجب کرتا ہو، بلکہ جس چیز کی سند اور پابند ی پر وہ کام کرتے ہیں وہ صرف اپنی قوم یا فرقے یا مذہبی گروہ کا رسم و رواج ہوتا ہے نہ اور کچھ۔\n\nپس حقیقت میں یہ حال ہوتا ہے کہ ایک طرف تو وہ اخلاقی مسائل کامجموعہ ہوتا ہے جس کی نسبت وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان کی زندگی کے عمل در آمد کے لیے خدا نے بنایا ہے اور دوسری طرف اس رسم و رواج اور معتقد رایوں کا مجموعہ ہوتا ہے جو اس قوم یا فرقے یا گروہ میں مروج ہوتی ہیں اور بعض کچھ مطابق اور بعض بالکل بر خلاف اور مذہب پر اعتقاد رکھنے والے اس پہلے مجموعے کی زبانی تصدیق تو بلاشبہ کرتے ہیں، الا اصلی اطاعت اور رفاقت اور پابندی اس پچھلے مجموعے کی کرتے ہیں جس پر روز مرہ ان کا عمل ہوتا ہے اور جس کا ترک کرنا یا اس کے برخلاف کوئی کام کرنا نہایت ننگ و عار جانتے ہیں۔ پس یہ بے قدری جو اس پہلے مجموعے کے مسائل کی ہوگئی جس کو وہ خدا کا بتایا ہوا جانتے تھے اسی بات سے ہوگئی کہ اس کے مسائل اور اصولوں پر مباحثہ بند ہوگیا۔ اور اس سبب سے انسان کے باطن سے بے تعلق ہو گیا اور بجائے زندہ عقیدے کے صرف بطور عقیدے کے لوگوں کے خیال میں رہ گیا۔\n\nاس تقریر پر جو نہایت بڑا اور نہایت سخت اعتراض وارد ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ صحیح اور درست علم یا تجربہ حاصل کرنے کے لیے کیا یہ بات ضرور ہے کہ کبھی رایوں اتفاق نہ ہو، بلکہ ضرور ہے کہ چند آدمی غلطی پر مصر رہیں، تاکہ مباحثہ قائم رہے اور اور لوگ اس کی بدولت حق بات حاصل کر سکیں؟ کیا دنیا میں غلطیوں کا موجود رہنا صحیح رایوں کے حاصل کرنے کے لیے لابد ہے؟ جب کہ کسی عقیدے یا علمی مسئلے کو عموماً تسلیم کر لیا جاوے تو کیا اس کی حقیقت بدل جاتی ہے اور اس کی تاثیر جاتی رہتی ہے اور کیا کسی مسئلے یا عقیدے کا اس وقت تک اثر نہیں ہوتا یا لوگ اس کو بخوبی نہیں سمجھتے جب تک کہ کوئی اس پر شبہ نہ کرتا رہے؟ جب کہ انسان کسی حق بات کو بالاتفاق قبول کر لیتے ہیں تو کیا اس کی حقانیت معدوم ہو جاتی ہے؟ اب تک یہ خیال کیا گیا کہ علم اور عقل کی ترقی کا عمدہ مقصد اور اعلی نتیجہ یہ ہے کہ تمام انسان اچھی اچھی اور عمدہ باتوں میں متفق الرائے ہوویں اور وہ اتفاق رائے روز بروز زیادہ بڑھتا جاوے، پھر کیا علم اور عقل اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک کہ اس کا مقصد اور اس کا نتیجہ حاصل نہ ہو؟ یہ تو سنا گیا تھا کہ ہر بات کا کمال اس کے مقصد اور نتیجے کا حاصل ہونا ہے، مگر یہ نہیں سنا تھا کہ مقصد اور نتیجے کا حاصل ہونا ہی اس کا زوال ہے۔\n\nمگر میرا مقصد یہ نہیں ہے جو اس اعتراض میں بیان ہوا۔ میں قبول کرتا ہوں کہ بلاشبہ جس قدر انسانوں کی ترقی اور تہذیب ہوگی اسی قدر مختلف فیہ رائیں اور مسئلے اور عقیدے گھٹتے جاویں گے، بلکہ آدمیوں کی بہبود اور بھلائی کا اندازہ بالتخصیص انہیں حقائق کی تعداد اور مقدار سے ہو سکتا ہے جو غیر متنازعہ فیہ یا حقائق محققہ کے مرتبے کو پہونچ جاتی ہیں اور اس کے استحکام کے لیے انسانوں کی رایوں کا اجماع اور اتفاق ضروری شرطوں میں سے ہے اور وہ اجماع اور اتفاق جیسا کہ غلط رائے پر ہونا نہایت مضر ہے ویسا ہی صحیح رائے ہونا نہایت مفید ہے، مگر جب کہ ہم کو غلط رایوں پر بھی اجماع اور اتفاق ہوجانے کا اندیشہ ہے تو ہم کو اس سے بچنے کی فکر و تدبیر سے غافل نہیں رہنا چاہیے اور وہ تدبیر یہی ہے کہ آزادی رائے اور مباحثہ جاری رہے۔ اگر اس تدبیر کے قائم رہنے کا بسبب عموما ًتسلیم ہوجانے اس مسئلے یا عقیدے کے موقع نہ رہے تو ہم کو اس کی جگہ کوئی اور تدبیر کرنا چاہیے۔ سقراط نے اسی تدبیر کے لیے فرضی مباحثے کا طریقہ ایجاد کیا تھا، جس کو افلاطون نے نہایت خوبی سے اپنے سوال و جواب میں بیان کیا ہے۔\n\nمگر افسوس اور ہزار افسوس کہ اس زمانے کے مسلمانوں نے بجائے اس کے کہ اس تدبیر کے قائم رکھنے کا کوئی طریقہ ایجاد کریں ان تدبیروں کو بھی ضائع کر دیا جو سابق میں ایجاد ہوئی تھیں۔ مسلمانوں میں ہر ایک علم کی تحصیل کا مدت سے یہ حال رہ گیا ہے کہ سب کے سب کیا قصہ اور کہانی کی کتابوں کو اور کیا تاریخ اور واقعات گزشتہ کے روزنامچوں کو اور کیا ٹوٹے پھوٹے اگلے زمانے کے جغرافیے کو اور کیا لولی لنجی انسان کے بدن کی تشریح کو اور کیا دقیانوسی بطلیموسی ہیئت اور قدیم ریاضی کو اور کیا انسانوں کے اجتہادیات مسائل دینی کو جس کو علم فقہ کہا جاتا ہے اور کیا علم حدیث اور تفسیر کو اس ارادے سے مطلق نہیں پڑھتے کہ ہم کو اس کی اصلیت اور حقیقت معلوم ہو، بلکہ صرف یہ ارادہ ہوتا ہے کہ جو کچھ اس کتاب میں لکھا ہے خواہ، غلط خواہ صحیح، وہ ہم جان لیں۔\n\nاگر مباحثہ کیا جاوے تو نہ اس بات پر کہ وہ اصول جو اس کتاب میں لکھے ہیں صحیح ہیں یا غلط، بلکہ اس بات پر کہ اس کتاب میں یہی بات لکھی ہے یا نہیں۔ اس طریقے اور عادت نے آزادی رائے کو کھو دیا اور اس سپر کو جس سے غلطی میں پڑنے سے حفاظت تھی، توڑ دیا۔ ان کے تمام علم و فضل غارت ہو گئے۔ ان کے باپ دادا کی کمائی جس سے توقع تھی کہ ان کی اولاد فائدہ اٹھائے گی سب ڈوب گئی۔ اب جو بڑے بڑے عالم فقیہ اور دانا رہ گئے ہیں ان کا یہ حال ہے کہ کسی چیز کی حقیقت سے کیا مسائل علمی اور کیا عقاید مذہبی میں کچھ بھی واقفیت نہیں رکھتے۔ جس شخص سے کسی بات کی حقیقت پوچھو اگر وہ بڑا ہی عالم ہے تو بجز اس کے کہ فلاں شخص نے یہ لکھا ہے اور کچھ نہیں بتا سکتا۔ تمام علوم کا مزہ اور تمام عقیدوں کا اثر دل سے جاتا رہا۔ پس آزادی رائے کے قائم نہ رہنے کے یہ عمدہ اثر ہیں جن کو ہم آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔\n\nآزادی رائے کے غیر مفید ہونے کے ثبوت میں یہ بات اکثر پیش کی جاتی ہے کہ آزادی رائے سے جس شخص کے ساتھ مباحثہ لازم و ملزوم ہے کسی رائے کے حق یا سچ ہونے کا فیصلہ ممکن نہیں، بلکہ ہر ایک فریق کو اپنی اپنی رائے پر اور زیادہ پختگی اوراصرار ہو جاتا ہے۔ میں بھی اس بات کا اقرار کرتا ہوں اور اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ درحقیقت تمام رایوں کا یہ خاصہ ہے کہ وہ خاص خاص فرقوں کی رائیں ہو جاتی ہیں۔ بحث و مباحثے کی کمال آزادی سے بھی اس کا کچھ تدارک نہیں ہو سکتا، بلکہ اس سے اور زیادتی ہوتی جاتی ہے اور حق کی یہ کیفیت ہو جاتی ہے کہ بعوض اس کے کہ لوگ اس کو سمجھیں اور بوجھیں، اس وجہ سے اس کو نہیں سوچتے سمجھتے، بلکہ بے سوچے اور سمجھے نہایت زور شور سے رد کرتے ہیں کہ وہ ایسے لوگوں کا قول ہے جن کو وہ اپنا مخالف جانتے ہیں یا ان سے نفرت رکھتے ہیں۔\n\nمگر یہ بھی خوب جان لینا چاہیے کہ آپس میں رایوں کے اختلاف اور مباحثے سے انہی متعصب گروہوں کو جن کے باہم بحث ہوتی ہے، چنداں فائدہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کا عمدہ اور مفید اثر ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اس کے دیکھنے سننے والے ہیں اور جن کی طبیعتوں میں وہ جذبہ و رارت اور خود غرضی اور طرف داری نہیں ہوتی جیسے کہ ان مخالف فرقوں کے حامیوں میں ہوتی ہے۔ اور جبکہ رفتہ رفتہ ان متعصبوں کی بھی حرارت کم ہو جاتی ہے، تو جو حق بات ہے وہ اس کے صحیح ہونے کا اقرار اپنے دل میں یا اپنے خاص دوستوں میں چپکے چپکے کرنے لگتے، گو کہ علانیہ کبھی اس کا اقرار نہ کریں۔\n\nسچ بات پر سخت سے سخت نزاع کا ہونا کچھ برائی یا نقصان کی بات نہیں، بلکہ اس کا انسداد بہت بڑے نقصان کی بات ہے، جب کہ لوگ طرفین کے دلائل سننے پر مجبور ہوتے ہیں، تو ہمیشہ انصاف کی امید ہوتی ہے، مگر جب کہ وہ صرف ایک طرفہ بات سنتے ہیں ہیں تواس صورت میں غلطیاں سختی پکڑ کر تعصب بن جاتی ہیں اور سچ میں بھی سچ کا اثر اس لیے نہیں رہتا کہ اس میں مبالغہ ہوتے ہوتے وہ خود ایک جھوٹ بن جاتا ہے۔ انصاف کی قوت جو انسان میں ہے وہ اسی وقت بخوبی کام میں آتی ہے کہ ہر معاملے کے دونوں پہلوؤں کے حامی اور معاون تصفیے کے وقت رو برو موجود ہوں۔ اور وہ دونوں ایسے زبردست ہوں اپنے اپنے دلائل اور وجوہات کی سماعت پر لوگوں کو گویا مجبور کر دیں۔ اور سوائے اس کے اور کوئی صورت حق کے حاصل کرنے کی نہیں ہے۔\n\nرائے کی آزادی پر ایک او ر چیز جس کو لوگ سند کہتے ہیں، کبھی مزاحمت پہنچاتی ہے۔ یہ اکثر ہوتا ہے کہ بحث کرنے والے اپنی اپنی تقریر کی تائید میں کسی مشہور شخص کے قول کی سند لاتے ہیں، حالانکہ کسی شخص کی سند پر اپنی رائے کو منحصر رکھنا خود آزادئی رائے کے بر خلاف چلنا ہے اگر ہم کسی کے قول کو صحیح اور سچ سمجھتے ہیں تو اس کے قول کو پیش کرنا کچھ مفید نہیں ہے۔ بلکہ ہم کو وہ دلیلیں پیش کرنی چاہئیں جن سے اس قول کو ہم نے صحیح مانا ہے۔ اگر سقراط و بقراط نے کوئی ایسی بات کہی ہے جو در حقیقت صحیح نہیں ہے تو ان کے کہنے سے صحیح نہیں ہو جانے کی اور اگر کسی جاہل نے کوئی صحیح بات کہی ہے تو و ہ اس لیے کہ کسی جاہل نے کہی ہے غلط نہیں ہو جائےگی۔ کیا عمدہ مسئلہ ہے جس پر ہر انسان کو عمل کرنا چاہئے، مگر افسوس کہ اس پر نہایت کم عمل ہوتا ہے اور وہ مسئلہ یہ ہے۔ فانظر الی ما قال ولا تنظر الی من قال، وللہ در من قال۔\n\nمرد باید کہ گیرد اندر گوش\nدر نوشت است پند بر دیوار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "آزادیِ افکار", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "جو دُونیِ فطرت سے نہیں لائقِ پرواز\nاُس مُرغکِ بیچارہ کا انجام ہے اُفتاد\nہر سینہ نشیمن نہیں جبریلِ امیں کا\nہر فکر نہیں طائرِ فردوس کا صیّاد\nاُس قوم میں ہے شوخیِ اندیشہ خطرناک\nجس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد\nگو فکرِ خدا داد سے روشن ہے زمانہ\nآزادیِ افکار ہے اِبلیس کی ایجاد", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D9%90_%D8%A7%D9%81%DA%A9%D8%A7%D8%B1"} {"title": "آزادیِ شمشیر کے اعلان پر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "سوچا بھی ہے اے مردِ مسلماں کبھی تُو نے\nکیا چیز ہے فولاد کی شمشیرِ جگردار\nاُس بیت کا یہ مصرعِ اوّل ہے کہ جس میں\nپوشیدہ چلے آتے ہیں توحید کے اسرار\nہے فکر مجھے مصرعِ ثانی کی زیادہ\nاللہ کرے تجھ کو عطا فقر کی تلوار\nقبضے میں یہ تلوار بھی آجائے تو مومن\nیا خالدِؓ جانباز ہے یا حیدرؓ کرار", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D9%90_%D8%B4%D9%85%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "آزادیِ فکر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "آزادیِ افکار سے ہے اُن کی تباہی\nرکھتے نہیں جو فکر و تدبّر کا سلیقہ\nہو فکر اگر خام تو آزادیِ افکار\nانسان کو حیوان بنانے کا طریقہ!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D9%90_%D9%81%DA%A9%D8%B1"} {"title": "آزادیِ نسواں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اس بحث کا کچھ فیصلہ مَیں کر نہیں سکتا\nگو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے، وہ قند\nکیا فائدہ، کچھ کہہ کے بنوں اَور بھی معتوب\nپہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند\nاس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش\nمجبور ہیں، معذور ہیں، مردانِ خِرد مند\nکیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ\nآزادیِ نِسواں کہ زمرّد کا گُلوبند!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D9%90_%D9%86%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA"} {"title": "آزردہ ہو گیا وہ خریدار بے سبب", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آزردہ ہو گیا وہ خریدار بے سبب\nدل بیچ کر ہوا میں گنہ گار بے سبب\n\nمیں نے تو اس سے آنکھ لڑائی نہیں کبھی\nابرو نے مجھ پہ کھینچی ہے تلوار بے سبب\n\nمیں نے بلائیں بھی نہیں لیں زلف یار کی\nمیں ہو گیا بلائے گرفتار بے سبب\n\nبوسہ کبھی لیا نہیں گل سے عذار کا\nکیوں دل کے آبلے میں چبھا خار بے سبب\n\nکیوں اٹھ کھڑے ہوئے وہ بھلا میں نے کیا کہا\nپہلو میں بیٹھ کر ہوئے بیزار بے سبب\n\nپوچھے تو کوئی کیا مرے تقصیر کیا گناہ\nکرتا ہے کیوں ستم وہ ستم گار بے سبب\n\nاک رات بھی ہنسا نہیں اس شمع رو سے میں\nآنسو مرے گلے کے ہوئے ہار بے سبب\n\nکس دن دو چار نرگسی آنکھوں سے میں ہوا\nاس عشق نے کیا مجھے بیمار بے سبب\n\nجو ان کی بات ہے وہ لڑکپن کے ساتھ ہے\nاقرار بے جہت ہے تو انکار بے سبب\n\nپھاہا جگہ کی داغ کا شاید سرک گیا\nیہ چشم تر نہیں ہے شرر بار بے سبب\n\nدکھلا کی یہ بہار شگوفہ پھولائیں گے\nاوڑھا نہیں دوشالۂ گلنار بے سبب\n\nنکلے تھے مجھ پر آج وہ تلوار باندھ کر\nرہ گیر کشتہ ہو گئے دو چار بے سبب\n\nآمد نہیں کسی کی تو کیوں جاگتے ہو بحرؔ\nرہتا ہے شب کو کوئی بھی بیدار بے سبب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B2%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D8%B3%D8%A8%D8%A8"} {"title": "آزمایا ہے مدام آپ کو بس بس اجی بس", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آزمایا ہے مدام آپ کو بس بس اجی بس\nدونوں ہاتھوں سے سلام آپ کو بس بس اجی بس\n\nآپ کی بندہ نوازی ہے جہاں میں مشہور\nجانتا ہے یہ غلام آپ کو بس بس اجی بس\n\nمنہ نہ کھلوایئے میرا یوں ہی رہنے دیجے\nیاد بھی ہے وہ کلام آپ کو بس بس اجی بس\n\nہم نے کل دیکھ لیا دیکھ لیا دیکھ لیا\nکہیں جاتے سر شام آپ کو بس بس اجی بس\n\nپیجیے خون جگر اپنا جناب زاہد\nبادہ و ساغر و جام آپ کو بس بس اجی بس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B2%D9%85%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AF%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%B3_%D8%A8%D8%B3_%D8%A7%D8%AC%DB%8C_%D8%A8%D8%B3"} {"title": "آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازی", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازی\nمعلوم ہوئی راہ محبت کی درازی\n\nکچھ لطف و نظر لازم و ملزوم نہیں ہیں\nاک یہ بھی تمنا کی نہ ہو شعبدہ بازی\n\nدل خوب سمجھتا ہے ترے حرف کرم کو\nہر چند وہ اردو ہے نہ ترکی ہے نہ تازی\n\nقائم ہے نہ وہ حسن رخ یار کا عالم\nباقی ہے نہ وہ شوق کی ہنگامہ نوازی\n\nاے عشق تری فتح بہرحال ہے ثابت\nمر کر بھی شہیدان محبت ہوئے غازی\n\nکر جلد ہمیں ختم کہیں اے غم جاناں\nکام آئے گی کس روز تری سینہ گدازی\n\nمعلوم ہے دنیا کو یہ حسرتؔ کی حقیقت\nخلوت میں وہ مے خوار ہے جلوت میں نمازی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B3%DB%81%D9%84_%D9%85%D8%AC%D8%A7%D8%B2%DB%8C"} {"title": "آساں نہیں ہے تنہا در اس کا باز کرنا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آساں نہیں ہے تنہا در اس کا باز کرنا\nلازم ہے پاسباں سے اب ہم کو ساز کرنا\n\nگر ہم مشیر ہوتے اللہ کے تو کہتے\nیعنی وصال کی شب یا رب دراز کرنا\n\nاس کا سلام مجھ سے اب کیا ہے گردش رو\nطفلی میں میں سکھایا جس کو نماز کرنا\n\nازبسکہ خون دل کا کھاتا ہے جوش ہر دم\nمشکل ہوا ہے ہم کو اخفائے راز کرنا\n\nبایک نیاز اس سے کیونکر کوئی بر آوے\nآتا ہو سو طرح سے جس کو کہ ناز کرنا\n\nکرتے ہیں چوٹ آخر یہ آہوان بدمست\nآنکھوں سے اس کی اے دل ٹک احتراز کرنا\n\nاے آہ اس کے دل میں تاثیر ہو تو جانوں\nہے ورنہ کام کتنا پتھر گداز کرنا\n\nہووے گی صبح روشن اک دم میں وصل کی شب\nبند قبا کو اپنے ظالم نہ باز کرنا\n\nاے مصحفیؔ ہیں دو چیز اب یادگار دوراں\nاس سے تو ناز کرنا مجھ سے نیاز کرنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%D8%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7"} {"title": "آستیں میں سانپ اک پلتا رہا", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آستیں میں سانپ اک پلتا رہا\nہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہا\n\nآپ تو اک بات کہہ کر چل دیے\nرات بھر بستر مرا جلتا رہا\n\nایک غم سے کتنے غم پیدا ہوئے\nدل ہمارا پھولتا پھلتا رہا\n\nزندگی کی آس بھی کیا آس ہے\nموج دریا پر دیا جلتا رہا\n\nاک نظر تنکا بنی کچھ اس طرح\nدیر تک آنکھیں کوئی ملتا رہا\n\nیہ نشاں کیسے ہیں باقیؔ دیکھنا\nکون دل کی راکھ پر چلتا رہا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B3%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D9%86%D9%BE_%D8%A7%DA%A9_%D9%BE%D9%84%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "آسماں تک جو نالہ پہنچا ہے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آسماں تک جو نالہ پہنچا ہے\nدل کی گہرائیوں سے نکلا ہے\n\nمیری نظروں میں حشر بھی کیا ہے\nمیں نے ان کا جلال دیکھا ہے\n\nجلوۂ طور خواب موسیٰ ہے\nکس نے دیکھا ہے کس کو دیکھا ہے\n\nہائے انجام اس سفینے کا\nناخدا نے جسے ڈبویا ہے\n\nآہ کیا دل میں اب لہو بھی نہیں\nآج اشکوں کا رنگ پھیکا ہے\n\nجب بھی آنکھیں ملیں ان آنکھوں سے\nدل نے دل کا مزاج پوچھا ہے\n\nوہ جوانی کہ تھی حریف طرب\nآج برباد جام و صہبا ہے\n\nکون اٹھ کر چلا مقابل سے\nجس طرف دیکھیے اندھیرا ہے\n\nپھر مری آنکھ ہو گئی نمناک\nپھر کسی نے مزاج پوچھا ہے\n\nسچ تو یہ ہے مجازؔ کی دنیا\nحسن اور عشق کے سوا کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D8%AC%D9%88_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "آسماں زرد تھا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے کلی تجھ کو ہمارا بھی خیال آ ہی گیا\nہم تو مایوس ہوئے بیٹھے تھے صحراؤں میں\nاب ترا روپ بھی دھندلا سا چلا تھا دل میں\nتو بھی اک یاد سی تھی جملہ حسیناؤں میں\nتہہ بہ تہہ گرد سے آلود تھا دن کا دامن\nرات کا نام نہ آتا تھا تمناؤں میں\n\nرقص شبنم کی پرستار نگاہوں کے لیے\nدھوپ کے ابر تھے خورشید کی بوچھاریں تھیں\nآسماں زرد تھا جیسے کوئی یرقاں کا مریض\nجس کے تکیے کے لیے ریت کی دستاریں تھیں\nدل بھرا رہتا تھا جلتے ہوئے چھالے کی طرح\nروح کے واسطے دیواریں ہی دیواریں تھیں\n\nکوئی آواز نہ آتی تھی بہ جز صوت مہیب\nکوئی نغمہ نہ تھا چیلوں کے ترنم کے سوا\nسارا انداز تھا پھیلے ہوئے دریاؤں کا\nریگ صحرا کے سمندر میں تلاطم کے سوا\nخشک پتوں کا نمک ریت کے ذروں کی مٹھاس\nہونٹ سب ذائقے رکھتے تھے ترنم کے سوا\n\nکب تک اس دل کی لگن راس نہ آتی آخر\nمسکراتا ہوا گردوں پہ ہلال آ ہی گیا\nاپنے دیوانوں کو سینے سے لگانے کے لیے\nاک غزل پیکر و افسانہ جمال آ ہی گیا\nاے فلک تو نے ہمیں خاک سے آخر کو چنا\nاے کلی تجھ کو ہمارا بھی خیال آ ہی گیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B2%D8%B1%D8%AF_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "آسماں پر ہے دماغ اس کا خود آرائی کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:رادھے شیام رستوگی احقر", "kind": "poetry", "section": "غزل > نقشہاے رنگ رنگ (1929)", "year": "1929", "text_ur": "آسماں پر ہے دماغ اس کا خود آرائی کے ساتھ\nماہ کو تولے گا شاید اپنی رعنائی کے ساتھ\n\nسیر کر عالم کی غافل دیدنی ہے یہ طلسم\nلطف ہے ان دونوں آنکھوں کا تو بینائی کے ساتھ\n\nدل کہیں ہے جاں کہیں ہے میں کہیں آنکھیں کہیں\nدوستی اچھی نہیں محبوب ہرجائی کے ساتھ\n\nاس میں ذکر یار ہے اس میں خیال یار ہے\nاپنی خاموشی بھی ہم پلہ ہے گویائی کے ساتھ\n\nعہد پیری میں وہ عالم نوجوانی کا کہاں\nولولے جاتے رہے ساری توانائی کے ساتھ\n\nدیدۂ آہو کہاں وہ انکھڑیاں کالی کہاں\nکیا مقابل کیجیے شہری کو صحرائی کے ساتھ\n\nدل نہیں گرگ بغل ہے ضبط سے خوں کر اسے\nکار دشمن کرتے ہیں اے دوست دانائی کے ساتھ\n\nایک بوسہ پر گریباں گیر اے ناداں نہ ہو\nتیری رسوائی بھی ہے عاشق کی رسوائی کے ساتھ\n\nدل تو دیوانہ ہے احقرؔ تو بھی دیوانہ نہ ہو\nکوئی سودائی بنا کرتا ہے سودائی کے ساتھ", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "آشنا جو مزہ کا ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آشنا جو مزہ کا ہوتا ہے\nاپنے حق میں وہ کانٹے بوتا ہے\n\nشیخ جی ایک روز مجھ کو اثرؔ\nلگے کہنے عبث تو روتا ہے\n\nان بتوں کے لئے خدا نہ کرے\nدین و دل یوں کوئی بھی کھوتا ہے\n\nنہ تجھے دن کو چین ہے اک آن\nایک دم رات کو نہ سوتا ہے\n\nمیں کہا خوب سن کے اے ناداں\nجا مشیخت کو کیوں ڈبوتا ہے\n\nتو ہے ملاں تری بلا جانے\nعاشقی میں جو کچھ کہ ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B2%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "آشنا کب ہو ہے یہ ذکر دل شاد کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آشنا کب ہو ہے یہ ذکر دل شاد کے ساتھ\nلب کو نسبت ہے مرے زمزمۂ داد کے ساتھ\n\nبس کہ ہے چشم مروت سے بھرا گریہ زار\nپڑا پھرتا ہے مرے نالہ و فریاد کے ساتھ\n\nیاد اس لطف حضوری کا کریں کیا حاصل\nآ پڑا کام فقط اب تو تری یاد کے ساتھ\n\nظلم ہے حق میں ہمارے ترا اب ترک ستم\nدل کو ہے انس سا اک اس تری بیداد کے ساتھ\n\nزلف و کاکل سے قوی حسن کا بازو ہے مدام\nقفس و دام رہے جیسے کہ صیاد کے ساتھ\n\nخون ناحق رہا پرویز کی گردن پہ ولے\nلطف شیریں نے ستم یہ کیا فرہاد کے ساتھ\n\nراستی سے بھلا اتنا بھی گزرنا کیا ہے\nنسبت اس قد کو نہ دو سرو کے شمشاد کے ساتھ\n\nدست و پا کر کے میں گم نکلا دبے پاؤں کیا\nملا وہ طفل مجھے رات جو استاد کے ساتھ\n\nحسرتؔ اتنا جو تو مائل ہے گرفتاری کا\nکچھ عداوت ہے تجھے خاطر آزاد کے ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%A8_%DB%81%D9%88_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "آشنا کوئی باوفا نہ ملا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آشنا کوئی باوفا نہ ملا\nکشتئ دل کا ناخدا نہ ملا\n\nجائے مرہم نمک چھڑکنا تھا\nزخم کھانے کا کچھ مزا نہ ملا\n\nاس کے کوچے میں ایسے بھولے ہم\nگھر کے جانے کا راستہ نہ ملا\n\nدل دیا جس کو رنج ہے پایا\nکوئی دل دار باوفا نہ ملا\n\nزندگی تلخ ہو گئی اپنی\nتجھ سے ملنے کا کچھ مزا نہ ملا\n\nدیکھ لی ہم نے دوستی تیری\nہم سے اب آنکھ بے وفا نہ ملا\n\nکچھ اجارہ نہیں بنے نہ بنے\nکیا شکایت ہے دل ملا نہ ملا\n\nآسماں پر دماغ یار رہا\nکبھی جھک کر وہ مہ لقا نہ ملا\n\nبوسۂ لب کی تم سے کیا امید\nایک بیڑا بھی پان کا نہ ملا\n\nڈھونڈھتی ہیں کنشت میں جا کر\nشیخ کعبے میں تو خدا نہ ملا\n\nایک اک کو پلائے دو دو جام\nدرد بھی ہم کو ساقیا نہ ملا\n\nنقل کب اصل کی مقابل ہے\nاس کے چہرے سے آ بنا نہ ملا\n\nنظر آئی جو وہ دہن تو کہوں\nمجھ کو عنقا کا آشیانہ ملا\n\nجن کو تکیہ تھا اپنی مسند پر\nان کو دیکھا کہ بوریا نہ ملا\n\nبحرؔ نکلے تھے ڈھونڈھنے اس کو\nایسے کھوئے گئے پتا نہ ملا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کا\nکچھ زباں سے کہے کوئی یہ دہن ہے کس کا\n\nپیشتر حشر سے ہوتی ہے قیامت برپا\nجو چلن چلتے ہیں خوش قد یہ چلن ہے کس کا\n\nدست قدرت نے بنایا ہے تجھے اے محبوب\nایسا ڈھالا ہوا سانچے میں بدن ہے کس کا\n\nکس طرح تم سے نہ مانگیں تمہیں انصاف کرو\nبوسہ لینے کا سزا وار دہن ہے کس کا\n\nشادیٔ مرگ سے پھولا میں سمانے کا نہیں\nگور کہتے ہیں کسے نام کفن ہے کس کا\n\nدہن تنگ ہے موہوم یقیں ہے کس کو\nکمر یار ہے معدوم یہ ظن ہے کس کا\n\nمفسدے جو کہ ہوں اس چشم سیہ سے کم ہیں\nفتنہ پردازی جسے کہتے ہیں فن ہے کس کا\n\nایک عالم کو ترے عشق میں سکتا ہوگا\nصاف آئینہ سے شفاف بدن ہے کس کا\n\nحسن سے دل تو لگا عشق کا بیمار تو ہو\nپھر یہ عناب لب و سیب ذقن ہے کس کا\n\nگلشن حسن سے بہتر کوئی گل زار نہیں\nسنبل اس طرح کا پر پیچ و شکن ہے کس کا\n\nباغ عالم کا ہر اک گل ہے خدا کی قدرت\nباغباں کون ہے اس کا یہ چمن ہے کس کا\n\nخاک میں اس کو ملاؤں اسے برباد کروں\nجان کس کی ہے مری جان یہ تن ہے کس کا\n\nسرو سا قد ہے نہیں مد نظر کا میرے\nگل سا رخ کس کا ہے غنچہ سا دہن ہے کس کا\n\nکیوں نہ بے ساختہ بندے ہوں دل و جاں سے نثار\nقدرت اللہ کی بے ساختہ پن ہے کس کا\n\nآج ہی چھوٹے جو چھٹتا یہ خرابہ کل ہو\nہم غریبوں کو ہے کیا غم یہ وطن ہے کس کا\n\nیار کو تم سے محبت نہیں اے آتشؔ\nخط میں القاب یہ پھر مشفق من ہے کس کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DA%AF%D9%88%D8%B4_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے\nباوفا تھے تم تو آخر بے وفا کیوں ہو گئے\n\nاور بھی رہتے ابھی کچھ دن نظر کے سامنے\nدیکھتے ہی دیکھتے ہم سے خفا کیوں ہو گئے\n\nان وفاداری کے وعدوں کو الٰہی کیا ہوا\nوہ وفائیں کرنے والے بے وفا کیوں ہو گئے\n\nکس طرح دل سے بھلا بیٹھے ہماری یاد کو\nاس طرح پردیس جا کر بے وفا کیوں ہو گئے\n\nتم تو کہتے تھے کہ ہم تجھ کو نہ بھولیں گے کبھی\nبھول کر ہم کو تغافل آشنا کیوں ہو گئے\n\nہم تمہارا درد دل سن سن کے ہنستے تھے کبھی\nآج روتے ہیں کہ یوں درد آشنا کیوں ہو گئے\n\nچاند کے ٹکڑے بھی نظروں میں سما سکتے نہیں\nکیا بتائیں ہم ترے در کے گدا کیوں ہو گئے\n\nیہ جوانی یہ گھٹائیں یہ ہوائیں یہ بہار\nحضرت اخترؔ ابھی سے پارسا کیوں ہو گئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "آشنائی بزور نہیں ہوتی", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آشنائی بزور نہیں ہوتی\nمت کرو شر و شور نہیں ہوتی\n\nدوستی جو کہ بے طمع ہو ہے\nزر اگر دو کرور نہیں ہوتی\n\nایک مرتا ہوں تس پے تو مت مر\nگور پر اور گور نہیں ہوتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%B2%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C"} {"title": "آشوب حسن کی بھی کوئی داستاں رہے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آشوب حسن کی بھی کوئی داستاں رہے\nمٹنے کو یوں مٹیں کہ ابد تک نشاں رہے\n\nطوف حرم میں یا سر کوئے بتاں رہے\nاک برق اضطراب رہے ہم جہاں رہے\n\nان کی تجلیوں کا بھی کوئی نشاں رہے\nہر ذرہ میری خاک کا آتش بجاں رہے\n\nکیا کیا ہیں درد عشق کی فتنہ طرازیاں\nہم التفات خاص سے بھی بدگماں رہے\n\nمیرے سرشک خوں میں ہے رنگینئ حیات\nیا رب فضائے حسن ابد تک جواں رہے\n\nمیں رازدار حسن ہوں تم رازدار عشق\nلیکن یہ امتیاز بھی کیوں درمیاں رہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B4%D9%88%D8%A8_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "آصف الدولہ کا امام باڑہ لکھنؤ", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آصف الدولۂ مرحوم کی تعمیر کہن\nجس کی صنعت کا نہیں صفحۂ ہستی پہ جواب\nدیکھ سیاح اسے رات کے سناٹے میں\nمنہ سے اپنے مہ کامل نے جب الٹی ہو نقاب\nدر و دیوار نظر آتے ہیں کیا صاف و سبک\nسحر کرتی ہے نگاہوں پہ ضیائے مہتاب\nیہی ہوتا ہے گماں خاک سے مس اس کو نہیں\nہے سنبھالے ہوئے دامن میں ہوائے شاداب\nیک بہ یک دیدۂ حیراں کو یہ شک ہوتا ہے\nڈھل کے سانچے میں زمیں پر اتر آیا ہے سحاب\nبے خودی کہتی ہے آیا یہ فضا میں کیوں کر\nکسی استاد مصور کا ہے یہ جلوۂ خواب\nاک عجب منظر دلگیر نظر آتا ہے\nدور سے عالم تصویر نظر آتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B5%D9%81_%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%88%D9%84%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D8%A7%DA%91%DB%81_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A4"} {"title": "آصف جہاں کی بہو", "poet_page": "مصنف:رشید جہاں", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "آصف جہاں کے شوہر ایک بہت پیسہ والے ڈپٹی کلکٹر تھے اور ان کا اکلوتا لڑکا نور الحسن کئی بچوں کے مرنے کے بعد جیا تھا۔ سب ہی کا لاڈلا تھا۔ ایسے کنبہ میں تو کوئی ایسا نہ تھا جو خوشی سے اپنی بیٹی نور الحسن کو نہ دے دیتا، لیکن آصف جہاں کی آرزو تھی کہ کبریٰ کی لڑکی اپنے بچے کے لئے لائیں۔ وہ ایک حق پرست بیوی تھیں۔ کبریٰ کی لڑکی اس لئے لینا چاہتی تھیں کہ کبریٰ ان کی چھوٹی نند بھی تھیں اور سگی بھاوج بھی۔ اپنی انہیں دور اندیوی ں کی وجہ سے تو وہ خاندان میں ہر دلعزیز تھیں۔ اگر نور الحسن کی منگنی میکہ میں کرتی تھیں تو سسرال والے منہ بناتے اور جو سسرال میں کرتیں تو میکہ والے رنجیدہ ہوتے۔ اب اگر کبریٰ کی لڑکی ہوتی تو سسرال اور میکے دونوں خوش رہتے۔\n\nویسے تو کبریٰ بیگم کے ماشاء اللہ ہر سال سوا سال کے پیچھے بچہ ہوتا تھا اور پچیس سال کی عمر میں پانچ بیٹوں کی اماں تھیں۔ سارے کنبے میں ان کی خوش قسمتی ضرب المثل تھی۔’’خدا نصیبا کرے تو کبریٰ کاسا، جب دیکھو لڑکا ہی گود میں دیکھو اور بیٹی تو بوا خدا دشمن کو بھی نہ دے۔‘‘\n\nجب کبریٰ کے ہاں ایک اور لڑکا ہوتا ساری دنیا رشک کرتی۔ ہاں اگر رنج کسی کوہوتا تھا تو وہ آصف جہاں تھیں۔ گو وہ کبریٰ بیگم کی صحت یابی سے خوش ضرور ہوتی تھیں۔ آخر کو جنّا اور مرنا برابر ہی ہے، لیکن پھر بھی جب کبریٰ بیگم کے لڑکا ہوا ، آصف جہاں روئیں۔ ’’اس میں کسی کا کیا قصور ہے میری قسمت ہی خراب ہے۔ نو بچوں میں ایک نور الحسن کا منہ دیکھا ہے اور اس کے لئے بھی میری تمنا پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ جدھر دیکھو بیٹیاں ہی بیٹیاں بھری پڑی ہیں۔ بر تک نہیں جڑتے لیکن میرے بچے کے لئے اللہ میاں دلہن ہی نہیں بھیجتے۔‘‘\n\nکبریٰ بیگم تین دن سے درد زہ میں مبتلا تھیں۔ خاندانی بڑھیا دائی بیٹھی ہوئی تھی، گھر بڑی بوڑھیوں، بہنوں، بھاوجوں، دیورانیوں، جٹھانیوں، نندوں اور ان کے بچوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس غضب کا شور مچا ہوا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ شادی کا گھر معلوم ہو رہا تھا۔ عورتوں میں آپس میں صلاحیں ہو رہی تھیں کہ ڈاکٹرنی کو بلایا جائے یا نہیں۔ درد پر درد تو چلے آ رہے ہیں اور بچہ ہے کہ کھسکنے کا نام نہیں لیتا۔ ’’بچے سبھی کے ہوتے ہیں لیکن بوا ایسا بچہ نہ دیکھا نہ سنا۔‘‘ صدقہ کا بکرا، غریبوں کو اناج، تعویذ، گنڈے، غرضیکہ ہر چیز ہو رہی تھی لیکن بچہ ٹس سے مس نہ ہوتا تھا۔ ادھر کبریٰ بیگم دردوں کی تکلیف سے نڈھال ہو رہی تھیں۔ ادھر باہر تخت پر آصف جہاں جائے نماز پر بیٹھی ہاتھ پھیلائے خدا سے دعا مانگ رہی تھیں۔ اے رب العالمین! کبریٰ کے چھوٹے چھوٹے بچوں پر رحم کر اور اس کو اس مصیبت سے چھٹی دے، اے میرے مولا! اس دفعہ میری سن لے اور کبریٰ کی گود میں میری بہو بھیج دے۔ اے پروردگار! پانچ بار تیرے حضور سے مایوس لوٹی ہوں اس دفعہ میری مراد۔۔۔ آصف جہاں دعائیں مانگتی جاتی تھیں۔ ان کے چہرے سے خدا کے رحم کی توقع پوری طور سے ٹپک رہی تھی۔\n\nکبریٰ بیگم کے کراہنے اور چیخنے کی آوازیں برابر آصف جہاں کے کان میں چلی آ رہی تھیں۔ ’’ہائے آپا! اچھی میری بھابی جان، اب کے نہیں بچوں گی، اللہ، اللہ ، میرے حال پر رحم کر، میری، ہائے میری‘‘\n\n’’اے ہے کبریٰ ایسی بد فالیں منہ سے نہ نکالو‘‘\n\n’’پانی، ہائے پانی‘‘\n\n’’گل شبو، اری او گل شبو کہاں مرگئی، اری کم بخت کٹورا تو دیکھ خالی پڑا ہے۔‘‘ ایک رشتہ دار اندر سے چیخیں۔\n\nتھوڑی دیر بعد کبریٰ بیگم کی چیخیں اور بڑھ گئیں اور ساتھ ساتھ اور عورتوں کی آوازیں بھی آنے لگیں۔ شابش ہے، شابش ہے، لگاؤ زور، اور زور، بس، اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا اور یہ چند سیکنڈ جو گزرے تو انہیں برسوں کے برابر معلوم ہوئے۔ پھر ایک بچے کی ہیاؤ ہیاؤ رونے کی آواز سن کر انہوں نے چین کا سانس لیا اور اپنی دعا اس طرح ختم کی۔ ’’اے میرے مالک لڑکا ہو یا لڑکی، یہ تو میری قسمت ہے لیکن شکر ہے تیرا کہ تونے کبریٰ کی جان بچائی۔‘‘ یہ کہہ کر سجدے میں گر پڑیں ۔ ابھی اٹھنے نہ پائی تھیں کہ ایک چھوکری بھاگتی ہوئی آئی۔ ’’لڑکی ہے لڑکی، بیگم صاحب دلہن مبارک۔‘‘\n\nسجدے ہی سے آصف جہاں کی باچھیں کھل گئیں۔ جلدی سے سر اونچا کرکے انگیا میں سے بٹوا نکالا اور ایک روپیہ چھوکری کے ہاتھ پر رکھ کر خوش خوش زچہ خانہ کی طرف بڑھیں۔ اس کمرے میں پہلے ہی سے عورتوں کی کافی بھیڑ تھی۔ آصف جہاں کے گھستے ہی ایک بیوی بولیں۔ ’’ابھی آنول نہیں گری ہے۔‘‘\n\nزچہ کے پلنگ پر سرہانے کی طرف کبریٰ کی پھوپھی اور بڑی بہن، ایک بھاوج بیٹھی تھیں اور پائنتی کی طرف دائی اپنے پاؤں کبریٰ کی رانوں سے اڑائے بیٹھی تھی۔ بھاوج اٹھ کر عورتوں کے برابر کھڑی ہوگئیں اور اپنی جگہ آصف جہاں کے لئے پلنگ پر چھوڑ دی۔\n\n’’بھابی جان کبریٰ نے اس دفعہ بڑی تکلیف اٹھائی لیکن آپ کی قسمت سے اب کے لڑکی ہوئی ہے۔ ماں کی تو جان پر بن گئی تھی۔ ‘‘ کبریٰ کی بہن نے آصف جہاں کو مخاطب کر کے کہا۔\n\n’’تمہاری سب کی دعا خدا نے سن لی۔ میں تو اس دفعہ بھی بے آس ہو چکی تھی، یہی اچھا ہوا کہ اللہ نے اپنا فضل کر دیا اور میم کی نوبت نہ آئی۔‘‘\n\n’’بس بیوی کچھ نہ پوچھو۔ تم بیویاں تو چھوٹ موٹ ہاتھ پاؤں پھلا دیتی ہو۔ بچہ تو جبھی ہوگا جب اللہ کا حکم ہوگا۔ میم آکر کیا بنا لیتی۔ الٹے سیدھے اوزار ڈالنے شروع کر دیتی۔ ذرا دیر ہوئی تو کہنے لگتی ہو۔ میم کو بلواؤ، میم کو بلواؤ۔ جب یہ اجڑی میمیں نہ تھیں تو کیا کوئی عورت بچہ ہی نہ جنتی تھی۔ ‘‘ دائی نے جلے ہوئے لہجہ میں زور زور سے بڑبڑانا شروع کیا۔\n\n’’اے ہے دیر کی بھی انتہا ہوتی ہے۔ دو راتیں اور تین دن گزر گئے، راتوں درد میں تڑپیں اور تم کو یہ بھی پتہ نہ تھا کہ بچہ کب ہوگا؟ کیا ہم نے بچے نہیں جنے کیا ہم نہیں جانتے؟‘‘ کبریٰ کی بہن عائشہ بیگم نے جواب دیا۔\n\n’’اچھا اب باتیں تو بنا چکیں، یہ بتاؤ آنول کب گرے گی؟‘‘\n\n’’بیوی موت زیست خدا کے ہاتھ ہے۔ وقت کی کسی کو خبر نہیں ہے، بچہ ہو گیا ابھی ڈنڈی میں جان ہے، اسے دیکھو کیسی پھڑک رہی ہے۔‘‘ دائی ایک ہاتھ سے جو چاندی کی میلی کچیلی انگوٹھیو، چوڑیوں سے بھرا ہوا تھا، آنول کی ڈنڈی پکڑے ہوئے تھی اور دوسرے ہاتھ سے میلا صاف کر رہی تھی، عائشہ بیگم زچہ کا پیٹ نہایت زور سے دبائے ہوئے تھیں۔ یہ اپنے پیٹ پکڑنے کے لئے کنبہ بھر میں مشہور تھیں۔\n\n’’دلہن درد آیا؟‘‘ دائی نے زچہ سے پوچھا۔\n\n’’نہیں‘‘ کبریٰ نے ایک نحیف اور کمزور آواز میں جواب دیا۔\n\n’’ڈنڈی کی پھڑک تو اب بہت کم رہ گئی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر دائی نے ڈنڈی کو پاؤں کے انگوٹھے اور الٹے ہاتھ سے پکڑ کر سیدھے ہاتھ سے اس کو سوتنا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ بالکل سفید بے جان ہو نے لگی۔\n\n’’اے ہے مسیتن ابھی سے نال نہ کاٹ دینا، ابھی تو آنول نہیں گری ہے۔‘‘ کھڑی ہوئی جماعت میں سے ایک نے کہا۔\n\n’’اے بیوی کل کی بچی ہو، میرے ہاتھ کی پیدا، اب مجھی کو پڑھانے لگیں۔ میرا چونڈا کیا دھوپ میں سفید ہوا ہے۔ بڑی بیگم خدا کی قسم یہ لڑکیاں اچھے خاصے بھلے آدمی کو الو بنا لیتی ہیں میں ایسی پاگل ہوں کہ نال آنول گرنے سے پہلے کاٹ دوں گی۔‘‘\n\nمسیتن آنول سوتتی رہی اور دوسری عورتیں اپنے اپنے قصے بیان کرنے لگیں کہ ان کی اپنی دفعہ کیا ہوا تھا اور محلہ یا ان کے سسرال میں کون دائی آتی ہے اور فلانی زچہ بچہ کے پیدا ہوتے ہی مر گئی اور آنول اندر کی اندر رہ گئی۔\n\n’’عاشق حسین کی دلہن کا کیا ہوا۔ آنول نہ گری۔ شام ہوگئی۔ دائی نے بہتیری کوشش کی۔ آخر کو ہار کر اس نے بھی کہہ دیا کہ آنول تو کلیجہ میں چپک کر رہ گئی ہے، اب میرے بس کی نہیں، بے چاری کو ہسپتال لے گئے۔ وہاں میموں نے نکالی لیکن بواسنا ہے کہ کلیجہ بھی ساتھ ہی نکل آیا۔ تین دن میں مر گئی۔ دو چھوٹے چھوٹے بچے۔‘‘\n\n’’میری نند کی آنول بھی ڈاکٹرنی نے آن کر نکالی۔ بیمار تو وہ بہت ہوئیں لیکن بچ گئیں۔‘‘\n\nدائی، ڈاکٹرنیوں، میموں کے نام سن کر خاموش نہ رہ سکی، ایک دم جھنجھلا کر بولی ’’کسی کی ایسی زبان ہو، یہ وخت ایسی بدفالیں نکالنے کا ہے، میم، ڈاکٹرنی کوئی بات ہی نہیں، ارے ذرا دیکھو تو بڑی بیگم۔‘‘\n\n’’اے ہاں سچ تو ہے، قیصر اس وقت تو کوئی اور ذکر چھیڑو۔‘‘ بڑی بیگم نے کہا\n’’ارے ہاں‘‘ دائی نے کھج کر کہا ’’عائشہ بیوی دباؤ بھینچ کر پیٹ کو! وہ آنول آ رہی ہے! عائشہ بیگم جو پیٹ کو پہلے ہی روز سے دبائے تھیں مٹھیاں آدھی کھڑی ہو کر پورا دم لگا کر بہن کا پیٹ بھینچنے لگیں۔ زچہ تڑپ گئی اور چیخ پڑی۔ ہے ہے آپا خدا کے لئے بس کرو۔ میرا تو دم نکلا۔!\n\n’’اے بس لو چھٹی ہوئی۔‘‘\n\nدائی نے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا۔ ’’اے لو بڑی بیگم دیکھ لو، پوری ہے پوری پھر بعد میں نہ کہہ دینا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے آنول آصف جہاں کی طرف بڑھائی اور پھر جتنی عورتیں تھیں سب نے باری باری دیکھی اور اپنی رائے کا اظہار کیا۔\n\n’’اے ہے بیوی! ابھی سے پیٹ ڈھیلا نہ کرو، خون بہت نکل رہا ہے ذرا کس کے پکڑے رہو!‘‘ دائی نے کہا۔\n\nعائشہ نے بھر پور زور لگا دیا۔\n\n’’نال کاٹ لوں، اتنے میں خون رک جائے گا۔‘‘ یہ کہہ کر پھر پاؤں کے انگوٹھے سے ڈنڈی پکڑی اور اس کو پھر زور زور سے سوتنا شروع کیا۔ پھر ایک کچے ڈور سے جو پاس ہی پلنگ پر بڑی دیر سے پڑا تھا۔ نال باندھ کر پھر ادھر ادھر نگاہ پھرا کر ایک زنگیایا ہوا چاقو نیچے سے اٹھا کر نال کاٹ دی۔ آنول کونڈے میں ڈالی۔ گودڑ زچہ کے نیچے سے نکل کر اس کو صاف کیا، خون اب بھی زیادہ مقدار میں جاری تھا۔ مسیتن اب ایک فاتحانہ انداز سے پلنگ سے اتریں۔ کھڑے ہو کر ایک انگڑائی۔ ’’اے ہے بڑی بیگم تم ہٹ جاؤ تم سے یہ نہیں اٹھیں گی۔ صابرہ بیوی تم اور قیصرہ آ جاؤ۔‘‘ صابرہ اور قیصرہ نے نیچے ہاتھ ڈالا اور زچہ کی ہائے وائے کی پرواہ نہ کر کے اس کی کمر کو کوئی آٹھ انچ اونچا اٹھا لیا اور مسیتن نے ایک چھ گز لمبی پٹی کو زچہ کے پیڑو پر ادھر سے ادھر لپیٹنا شروع کیا۔ خون اب کچھ کم ہو گیا تھا لیکن کبریٰ اب ایک دھلے ہوئے کپڑے کی مانند سفید اور دھجی کی طرح لاغر ہو چکی تھیں۔ بچہ ہو گیا۔ آنول گر گئی۔ اب اللہ اپنا فضل کرے گا تو طاقت بھی آ جائے گی۔\n\nاب آصف جہاں بچی کی طرح متوجہ ہوئیں اور لڑکی کا منہ دیکھا اور بولیں۔\n\n’’سانولی ہے!‘‘\n\n’’اے شکر کرو، بھائی جان کہ تمہارے نصیب سے لڑکی ہی ہو گئی۔‘‘\n\n’’اے اس کا کیا ذکر ہے اگر کانی بھی ہوتی تو کیا میں چھوڑ دیتی، اے مسیتن اب بچی کو نہلاؤ گی یا نہیں!‘‘\n\nمسیتن نے بچی کو نہلایا اور آصف جہاں کے اصرار پر لڑکی کو ان کو دینے سے انکار کر دیا۔ ’’بیوی بڑی منتوں کی ہے، میں یوں نہ دوں گی۔ میرا حق پہلے دو۔‘‘\n’’اے لو، یہ کون سا نیا دستور تم نے نکالا ہے جو تمہارا حق ہے وہ میں پہلے ہی آنول کے کونڈے میں ڈال چکی۔‘‘\n\nمستین دانٹ پھاڑ کر بولیں۔ ’’اللہ قسم، اچھا کیا ہے!‘‘\n\n’’پانچ روپیہ ہیں اور کیا ہوتے؟‘‘\n\n’’خدا کی قسم بڑی بیگم، پانچ روپیہ تو میں ہرگز نہیں لوں گی۔‘‘\n\n’’اے کچھ دیوانی ہوئی ہو مسیتن۔ لوگ تو کونڈے میں منگنی کا ٹکا ڈالتے ہیں۔ یہ کوئی نیگ کا وقت ہے۔جب بیاہ ہوگا تو لینا۔‘‘\n\n’’ہاں بیوی ٹھیک کہتی ہو! میں ان کےبیاہ تک تو ضرور بیٹھی رہوں گی۔ تم بیویاں چاہے لاکھ اٹھا دو لیکن حقداروں کو دیتے ہوئے ہمیشہ قانون چھانٹتی ہو، بھنگن لے لے گل شبو لے لے، جس کا دل چاہے لےلے، میں تو بیوی یہ پانچ روپیہ ہرگز نہ لوں گی۔‘‘\n\nمسیتن ان کی خاندانی دائی تھی۔ سب اس کے ہاتھوں کے پیدا تھے۔ لڑ جھگڑ لیتی تھی۔ آصف جہاں نے بٹوہ کھول کر دو روپیہ اور ڈال دیئے۔ مسیتن جس کو پانچ کی اور امید تھی۔ دو لے کر کچھ زیادہ خوش تو نہ ہوئی۔ ہاں سب دھو کر اپنے بٹوے میں رکھ لئے، پھر جتنی بیویاں وہاں موجود تھیں، سب نے کچھ نہ کچھ مستین کو دیا۔ کسی نے اٹھنی کسی نے روپیہ۔ مسیتن نے کونڈا اٹھا کر کبریٰ بیگم سے کہا۔ ’’دلہن خدا کی قسم یہ بیٹی بیٹوں سے زیادہ منتوں مرادوں کی ہے، خدا کی قسم سونے کے کڑے لئے بغیر میں نہ مانوں گی۔‘‘\n\n’’اے واہ کبریٰ نے کس دن لڑکی کی منت مانی تھی جو لینا ہے بھابی جان سے لو، جنہوں نے بہو کے لئے منتیں مانی تھیں، ہم تو وہی دیں گے جو اور بیٹوں کی پیدائش پر تم کو ملتا ہے۔‘‘ عائشہ بیگم نے مسیتن کو جواب دیا۔\n\n’’سن رہی ہو بڑی بیگم‘‘ مسیتن نے آصف جہاں کو مخاطب کیا۔\n\n’’اے اب تم جاؤ نہ ہاتھ منہ دھو، پان وان کھاؤ، تمہیں تو بس لاؤ، لاؤ کی پڑی رہتی ہے۔‘‘ عائشہ بیگم نے تڑخ کر مسیتن سے کہا۔\n\nعائشہ بیگم بہت طرار تھیں۔ بہن سے فارغ ہو کر انہوں نے ڈو منیوں کو بلا بھیجا۔ گھر میں شور و غل کی پہلے ہی کیا کمی تھی، اب تو ڈھول اور گانےنے ایک کہرام مچا دیا۔ چھیڑ چھاڑ شور وغل میں زچہ کے آرام و نیند کا کسی کو بھی خیال نہ تھا، سب عورتیں آصف جہاں اور آپس میں ایک دوسرے کو چھیڑتی رہیں۔ ڈومنیوں سے زچہ گیریاں، سہاگ گالیاں سب کچھ گوایا۔ زچہ خانے کی نقلیں ڈومنیاں پیٹ پھلا پھلا کر کر رہی تھیں۔ ’’اے جی کون سا لاگا؟‘‘ ایک جو میاں بنی تھی سوال کرتی تھی اور بیوی ’’ساتواں لاگا یا آٹھواں لاگا۔‘‘ میں جواب دیتی تھی۔ کنواری لڑکیاں جو بچہ کے پیدائش تک ایک دوسرے دالان میں جمع کر دی گئیں تھیں۔ اب آزادی سے سارے گھر میں آ جا سکتی تھیں۔ بیویوں کا تو کہنا ہی کیا۔ اکثر لڑکے بھی دیوان خانے میں آ کر جمع ہو گئے تھے۔ 12 سال کے دولہا صاحب بھی انہیں بچوں کے جھرمٹ میں سے پیچھے آدھے دبکے بیٹھے سب سن رہے تھے کہ ان پر ان کی ایک رشتہ کی بہن کی نگاہ پڑی۔ انہوں نے لپک کر انہیں پکڑ لیا۔ ’’لو دیکھو دولہا صاحب بھی خیر سے بیٹھے سن رہے ہیں۔‘‘ ایک قہقہہ پڑا۔ دولہا صاحب نے گرفت چھڑانے کے لئے بہت ہاتھ پاؤں مارے۔\n\n’’چھوڑ دیجئے باجی، چھوڑ دیجئے ہمیں‘‘ جب وہ ڈیوڑھی کی طرف بھاگنے لگے تو باجی ان کے پیچھے زور سے چلائیں۔\n\n’’اے کیسے دولہا ہو ذرا اندر چل کر تو دیکھو کیسی چاند سی دلہن ہے؟‘‘", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%B5%D9%81_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D9%88"} {"title": "آغا حشر کاشمیری", "poet_page": "مصنف:محمد صادق ضیا", "kind": "poetry", "section": "نظم > صبح مشرق (1938)", "year": "1938", "text_ur": "بزم عالم میں وہ کیفیات رنگ و بو نہیں\nرونق ایوان گیتی آج شاید تو نہیں\nآہ کیا تو پر سکوں ہے قبر کی آغوش میں\nچین کیونکر آ گیا اس محشر خاموش میں\nسرمدی نغمات سے اب دل کو تڑپائے گا کون\nاب ستارے آسماں سے توڑ کر لائے گا کون\nمجلسی لعنت پر اب تنقید فرمائے گا کون\nاور اسے رنگین پیرائے میں سمجھائے گا کون\nآہ اب کس سے سنیں گے آتشیں نغمات ہم\nآہ اب کس سے کہیں گے اپنے احساسات ہم\nہند کی دوشیزہ دیوی کو دیا سادہ لباس\nتیرے ہی پر کیف نغموں نے بجھائی دل کی پیاس\nمغربی تہذیب میں ڈوبا ہوا تھا ہر جواں\nمشرقی اطوار سے بیزار تھا ہندوستاں\nتو نے اپنے دل کی چنگاری سے بھڑکائی وہ آگ\nنغمۂ مشرق سے دب کر رہ گیا مغرب کا راگ\nساز تیرا آتشیں آواز طوفانی تری\nحشر تک یاد آئے گی وہ حشر سامانی تری", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%BA%D8%A7_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "آغاز آفرینش میں باغ عالم کا کیا رنگ تھا اور رفتہ رفتہ کیا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "سیر کرنے والے گلشنِ حال کے اور دوربین لگانے والے ماضی و استقبال کے، روایت کرتے ہیں کہ جب زمانہ کے پیراہن پر گناہ کا داغ نہ لگا تھا اور دنیا کا دامن بدی کے غبار سے پاک تھا تو تمام اولاد آدم مسرت عام اور بے فکری مدام کے عالم میں بسر کرتے تھے۔ ملک ملک فراغ تھا اور خسرو آرام رحم دل فرشتہ مقام گویا ان کا بادشاہ تھا۔ وہ نہ رعیت سے خدمت چاہتا تھا، نہ کسی سے خراج باج مانگتا تھا۔ اس کی اطاعت و فرمانبرداری اس میں ہوا ہوجاتی تھی کہ آرام کے بندے قدرتی گلزاروں میں گلگشت کرتے تھے۔ ہری ہری سبزہ کی کیاریوں میں لوٹتے تھے، آب حیات کے دریاؤں میں نہاتے تھے۔ ہمیشہ وقت صبح کا اورسدا موسم بہار کا رہتا تھا۔ نہ گرمی میں تہہ خانے سجانے پڑتے، نہ سردی میں آتش خانے روشن کرتے، قدرتی سامان اور اپنے جسموں کی قوتیں ایسی موافق پڑی تھیں کہ جاڑے کی سختی ہو یا ہوا کی گرمی، معلوم ہی نہ ہوتی تھی۔ ٹھنڈے اور میٹھے پانی نہروں میں بہتے تھے۔ چشمے پر لوگ جھکتے اور منہ لگا کر پانی پیتے تھے۔ وہ شربت سے سوا مزا اور دودھ سے زیادہ قوت دیتے تھے۔ جسمانی طاقت قوت ہاضمہ کے ساتھ رفیق تھی۔ بھوک نے ان کی اپنی ہی زبان میں ذائقہ پیدا کیا تھا کہ سیدھے سادے کھانے اور جنگلوں کی پیداواریں رنگارنگ نعمتوں کے مزے دیتے تھے۔ آب وہوا قدرتی غذائیں تیار کرکے زمین کے دسترخوان پر چن دیتی تھی۔ وہ ہزار مقوی اور مفرح کھانوں کے کام دیتی تھی۔ صبا و نسیم کی شمیم میں ہوائی خوشبوؤں کے عطر مہک رہے تھے۔ بلبلوں کے چہچہے، خوش آواز جانوروں کے زمزمے سنتے تھے، خوبصورت خوبصورت چرند پرند آس پاس کلیل کرتے پھرتے تھے۔ جا بجا درختوں کے جھرمٹ تھے، انہی کے سایہ میں سب چین سے زندگی بسر کرتے تھے۔ یہ عیش آرام کے قدرتی سامان اس بہتات سے تھے کہ ایک شخص کی فراوانی سے دوسرے کے لئے کمی نہ ہوتی تھی اور کسی طرح ایک سے دوسرے کو رنج نہ پہنچتا تھا، سب کی طبیعتیں خوشی سے مالا مال اور دل فارغ البال تھے۔ دیکھو اب انسان کی نیت میں فرق آتا ہے اور کیا جلد اس کی سزا پاتا ہے۔ اتفاقا ًایک میدان وسیع میں تختہ پھولوں کا کھلا کہ اس سے عالم مہک گیا، مگر بو اس کی گرم اور تیز تھی۔ تاثیر یہ ہوئی کہ لوگوں کی طبیعتیں بدل گئیں، اور ہر ایک کے دل میں خود بخود یہ کھٹک پیدا ہوئی کہ سامان عیش وآرام کا جو کچھ ہے میرے ہی کام آئے اور کے پاس نہ جائے۔ اس غرض سے اس گلزار میں گلگشت کے بہانے کبھی تو فریب کے جاسوس اور کبھی سینہ زوری کے شیاطین آکر چالاکیاں دکھانے لگے۔ پھر تو چندروز کے بعد کھلم کھلا ان کی ذریات یعنی غارت، تاراج، لوٹ مار آن پہنچی اور ڈاکے مارنے لگی۔ جب راحت و آرام کے سامان یوں پیدا ہونے لگے تو رفتہ رفتہ غرور، خودپسندی، حسد نے اس باغ میں آکر قیام کر دیا۔ ان کے اثر صحبت سے لوگ بہت خراب ہو گئے کیونکہ وہ اپنے ساتھ دولت کا پیمانہ لائے۔ پہلے تو خدائی کے کارخانے فارغ البالی کے آئین اور آزادی کے قانون کے بموجب کھلے ہوئے تھے یعنی عیش وافر اور سامان فراواں جو کچھ درکار ہو، موجود تھا۔ اوراسی بے احتیاجی کو لوگ تو نگری کہتے تھے۔ پھریہ سمجھنے لگے کہ اگر ہمارے پاس ہرشئے ضرورت سے زیادہ ہو، اور ہمیں اس کی حاجت بھی ہو یا نہ ہو، لیکن تو نگر ہم جبھی ہوں گے جب کہ ہمسایہ ہمارا محتاج ہو۔ ہرچند اس بے چارے ضرورت کے مارے کو خرچوں کے کثرت اور ضرورتوں کی شدت سے زیادہ سامان لینا پڑا ہو۔ مگر انہیں جب ہمسایے خوشحال نظر آتے تھے تو جل جاتے تھے اور اپنے تئیں محتاج خیال کرتے تھے۔ جہاں لوٹ مار اورغارت و تاراج کا قدم آئے، وہاں احتیاج و افلاس نہ ہو تو کیا ہو۔ اس بدنیتی کی سزایہ ہوئی کہ احتیاج اور افلاس نے بزرگانہ لباس پہنا اور ایک پیرزادے بن کر آئے۔ حضرت انسان کہ طمع خام کے خمیر تھے، خسرو آرام کی عقیدت کو چھوڑ کر ان کی طرف رجوع ہوئے۔ چنانچہ سب ان کے مرید اور معتقد ہو گئے اور ہر شخص اپنے تئیں حاجت مند ظاہر کرکے فخر کرنے لگا۔ مقام افسوس یہ ہے کہ اس بدنیت نحس قدم کے آنے سے ملک فراغ کا رنگ بالکل بدل گیا، یعنی انواع و اقسام کی حاجتوں نے لوگوں کو آن گھیرا۔ سال میں چار موسم ہو گئے۔ زمین بنجر ہو گئی، میوے کم ہونے لگے، ساگ پات اور موٹی قسم کے نباتات پر گزران ٹھہری۔ خزاں کے موسم میں کچھ برے بھلے اناج بھی پیدا ہونے لگے لیکن جاڑے نے بالکل لاچار کر دیا، کبھی کبھی قحط سالی کا ٹڈی دل چڑھ آتا۔ اسی لشکر میں وبا اور امراض غول کے غول بیماریاں اپنے ساتھ لے کر آتے اور تمام ملک میں پھیل جاتے۔ غرض عالم میں ایسا تہلکہ پڑا کہ اگر ملک فراغ کے انتظام میں نئی اصلاح نہ کی جاتی تو ایک قلم برباد ہو جاتا۔ سب دکھ تو سہہ سکتے تھے، مگر قحط کی مصیبت غضب تھی۔ چوں کہ یہ ساری نحوستیں احتیاج اور افلاس کی نحوست سے نصیب ہوئی تھیں۔ اس لئے سب اپنے کئے پر پچھتائے۔ اب پچھتانے سے کیا حاصل ہے، ہاں ہمت کرو اورمحنت پر کمر باندھو۔ عالم کا رنگ بے رنگ دیکھ کر تدبیر اور مشورہ دو۔ تجربہ کار دنیا سے کنارہ کش ہو گئے تھے، اور ایک سیب کے درخت میں جھولا ڈالے الگ باغ میں جھولا کرتے تھے، البتہ جوصاحب ضرورت ان کے پاس جاتا، اسے صلاح مناسب بتا دیا کرتے تھے۔ یہ سب مل کر ان کے پاس گئے کہ برائے خدا کوئی ایسی راہ نکالئے جس سے احتیاج و افلاس کی بلا سے بندگان خدا کو نجات ہو۔ وہ بہت خفا ہوئے اور کہا کہ اپنے کئے کا علاج نہیں۔ خسرو آرام ایک فرشتہ سیرت بادشاہ تھا۔ تم نے اس کا حق شکر نہ ادا کیا اور اس آفت کو اپنے ہاتھوں سر پر لیا۔ یہ افلاس ایسی بری بلا ہے کہ انسان کو بے کس اور بے بس کر دیتی ہے۔ مانگے تانگے کے سوا خود اس کا کچھ پیشہ نہیں۔ دیکھو، اسی نے ملک فراغ کو کیسا تباہ کر دیا ہے کہ دلوں کے باغ ہرے بھرے ویران ہوئے جاتے ہیں۔ اب اس کے نکلنے کی کوئی صورت سمجھ میں نہیں آتی۔ مگر یہ کہ ہم نے سنا ہے، احتیاج و افلاس کا ایک بیٹا بھی ہے جس کا نام محنت پسند خردمند ہے۔ اس کا رنگ ڈھنگ کچھ اور ہے کیونکہ اس نے امید کا دودھ پیا ہے۔ ہنرمندی نے اسے پالا ہے۔ کمال کا شاگرد ہے۔ ہو سکے تو جاکر اس کی خدمت کرو۔ اگرچہ اسی کا فرزند رہے لیکن اول تو سلطنت کا مقدمہ درمیان ہے۔ دوسرے ماں کے دودھ کا زور اس کے بازوؤں میں ہے۔ استاد کی پھرتی اور چالاکی طبیعت میں ہے۔ شاید کچھ کر گزرے۔ تدبیر اور مشورہ کا سب نے شکریہ ادا کیا اور سیدھے محنت پسند خردمند کے سراغ پر آئے۔ دامن کوہ میں دیکھا کہ ایک جوان قوی ہیکل کھڑا ہے۔ چہرہ اس کا ہوا سے جھریا ہوا، دھوپ سے تمتمایا ہوا، مشقت کی ریاضت سے بدن اینٹھا ہوا، پسلیاں ابھری ہوئی، ایک ہاتھ میں کچھ کھیتی کا سامان، ایک ہاتھ میں معماری کے اوزار لئے ہانپ رہا ہے اور ایسا معلوم ہوا کہ ابھی ایک برج کی عمارت کی بنیاد ڈالی ہے۔ سب نے جھک کر سلام کیا اور ساری داستان اپنی مصیبت کی سنائی۔ 1وہ انہیں دیکھتے ہی ہنسا اور ایک قہقہہ مار کر پکارا کہ آؤ انسانو، نادانو! آرام کے بندو! عیش کے پابندو! آؤ آؤ، آج سے تم ہمارے سپرد ہوئے۔ اب تمہاری خوشی کی امیداور بچاؤ کی راہ اگر ہے تو ہمارے ہاتھ ہے۔ خسرو آرام ایک کمزور، کام چور، بے ہمت، کم حوصلہ، بھول ابھالا، سب کے منہ کانوالہ تھا۔ نہ تمہیں سنبھال سکا، نہ مصیبت سے نکال سکا۔ بیماری اور قحط سالی کاایک ریلا بھی نہ ٹال سکا۔ پہلے ہی حملے میں تمہیں چھوڑ دیا اور ایسا بھاگا کہ پھر مڑکر نہ دیکھا۔ سلطنت کو ہاتھ سے کھویا اور تم کو منجدھار میں ڈبویا۔ آج سے تم ہماری خدمت میں حاضر رہو۔ ہماری آواز پر آیا کرو، ہم تمہیں ایسی ایسی تدبیریں سکھائیں گے کہ جس سے یہ شوریت زمین کی دور ہوجائےگی۔ ہوا کی شدت اعتدال پائے گی۔ گرمی سے سردی کی خوراک نکل آئے گی۔ہم تمہارے لئے پانی سے مچھلیاں، ہوا سے پرندے، جنگل سے چرندے نکالیں گے۔ زمین کا پیٹ چاک کر ڈالیں گے اور پہاڑوں کی انتڑیاں تک نکالیں گے۔ ایسے ایسے دھات اور جواہرات دیں گے کہ تمہارے خزانوں کے لئے دولت ہو، ہاتھوں میں طاقت ہو، اور بدن کی حفاظت ہو۔ زبردست حیوانوں کے شکار کروگے اور ان کے آزاروں سے محفوظ رہوگے۔ جنگل کے جنگل کاٹ ڈالوگے۔ پہاڑ کے پہاڑ اکھاڑوگے۔ تم دیکھنا میں زمانہ کو وابستہ تدبیر اور تمام عالم کواپنے ڈھب پر تسخیر کرلوں گا۔ غرض ان باتوں سے سب کے دلوں کو لبھا لیا۔ وہ بھی سمجھے کہ محنت پسند خردمند بنی آدم کا خیر خواہ ہمارا دلی دوست ہے۔ ہاتھ جوڑ جوڑاس کے پاؤں پر گرے۔ ہمت اورتحمل اس کے پہلو میں کھڑے تھے، اسی وقت انہیں جماعت مذکور پر افسر کر دیا۔ اے حضرت انسان! قدرتی گلزاروں کی بہار تو دیکھ چکے اب اپنی دستکاریوں کی گل کاری دیکھو۔ الغرض ہمت اورتحمل ان سب کو جنگلوں اور پہاڑوں میں لے گئے۔ کانوں کا کھودنا، اتار چڑھاؤ ہموار کرنا، تالابوں سے پانی سینچنا، دریاؤں کی دھاروں کارخ پھیرنا، سب سکھایا۔ لوگوں کے دلوں پر اس کی بات کا ایسا اثر ہواتھا کہ سب دفعتاً کمریں باندھ، آنکھیں بند کر، دیمک کی طرح روئے زمین کو لپٹ گئے۔ عالم صورت چند روز میں رنگ نکال لایا، مگر نئے ڈھنگ سے یعنی ساری زمین شہر، قصبوں اور گاؤں سے بھر گئی۔ کھیت اناج سے اور باغ میوؤں سے مالا مال ہو گئے۔ شہروں میں بازار لگ گئے، عمارتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، گھر آباد ہوگئے۔ جدھر دیکھو، ڈالیوں اور گلزاریوں میں میوے دھرے، دسترخوان گھروں میں سجے، ذخیرے غلوں سے بھرے، کیا گھر، کیا باہر، اس کے سوا کچھ نظر ہی نہ آتا تھا۔ غرض محبت پسند خردمند نے اس فرماں بردار رعیت کی بدولت یہ کامیابیاں اور فتوحات نمایاں حاصل کرکے سلطان محنت پسند کا لقب حاصل کیا اور جابجا ملک اور شہر قائم کرکے اپنی سلطنت جمائی۔ اے محنت کشو! محنت کی بھی ایک مدت ہے۔ آخر ایسا تھکوگے کہ گر پڑوگے۔ سلطان محنت پسند اپنے ملک میں ہمیشہ دورہ کرتا رہتا تھا۔ اتفاقاً اس کی سواری ایک کوہستان میں گزری، وہاں میوؤں کی بہتات، پانی کے چشمے جیسے آب حیات، ہرے ہرے سبزے، درختوں کے سایے، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں، خوبصورت خوبصورت جانور کلیل کر رہے تھے۔ یہ جگہ بہت بھائی۔ چاہا کہ کوئی دم ٹھہرے اور دم لے۔ اتفاقاً وہاں ایسی ایک قوم سے سامنا ہو گیا، جن کی کثرت وانبوہ کا کچھ ٹھکانا نہ تھا، مگر سب کے سب ضعف و ناطاقتی سے زمین میں بچھے جاتے تھے۔ ان میں تھکن اور سستی کی وبا پھیلی ہوئی تھی اور ناتوانی پر سردار تھی۔ صورت اس کی یہ کہ آنکھیں بیٹھی ہوئی، چہرہ مرجھایا ہوا، رنگ زرد، منہ پر جھریاں پڑی، کمر جھکی، گوشت بدن کا خشک، ہڈیاں نکلی ہوئی۔ غرض دیکھا کہ سب ہانپتے کانپتے، روتے بسورتے، آہ آہ کرتے چلے آتے ہیں، ان کی آوازیں ہی سن سن کر، لوگوں کے دل مردہ اور جی افسردہ ہوئے جاتے تھے۔ تحمل اورہمت کو جوں ہی ان کی صورت نظر آئی، دفعتاً غش کھاکر گر پڑے۔ اس جنگل کی ہوا میں عجیب تاثیر تھی کہ بھلے چنگے آدمیوں کے جی چھوٹ جاتے تھے اور حوصلے پست ہوئے جاتے تھے۔ سب کے ہتھیار اور اوزار ہاتھوں سے چھٹ پڑے۔ بہتیرا دلوں کو سنبھالتے تھے، مگر دل قابومیں نہ آتے تھے۔ اس حال کو دیکھ کر سب کی عقلیں جاتی رہیں اور پھر نئے سرے سے اپنے حال پر افسوس کرنے لگے کہ ملک فراغ کو کیوں چھوڑا اور خسرو آرام کی طاعت سے کیوں منہ موڑا۔ آپس میں صلاح کی کہ ا ب کیا کرنا چاہئے۔ آخر مصلحت یہ ٹھہری کہ چلو پھر اپنے قدیمی بادشاہ خسرو آرام کی خدمت میں چل کر سلام کرو اور باقی زندگی جس طرح ہو اس کی اطاعت میں بسر کر دو۔ جو آسائش کے قدرتی سامان تھے، وہ اپنے ہاتھوں کھوئے، اب محنت کے بنائے ہوئے سامانوں سے آرام چاہتے ہو۔ نہ ہوگا! نہ ہوگا! خسروآرام بھی دنیا کے پردے سے اٹھ نہ گیا تھا۔ ایک پل میں اس کے پاس جاپہنچے۔ عذر تقصیرمیں عرض کیا کہ جو کچھ ہم نے محنت کی مدد سے حاصل کیاہے، وہ سب نذر ہے۔ ہمیں حضور اطاعت میں قبول فرمائیں۔ یہاں خسرو آرام نے بھی اب دربار کا آئین کچھ اور کر دیا تھا۔ تکلف، آرائش، بناؤ سنگار، عیش، آرام بہت سے لوگ رکن دربار ہو گئے تھے۔ قدرتی سبزہ زار اور خدائی مرغزاروں کو چھوڑ کر محلوں میں جا بیٹھا تھا۔ بالاخانوں اور دیوان خانوں میں رہتا تھا۔ خانہ باغوں کی روشوں پر گلگشت کرتا تھا۔ جاڑوں میں نرم نرم بستروں اور گرم گرم مکانوں میں سوتا تھا۔ گرمیوں میں تکلف کے تہہ خانوں میں بیٹھتا اور بناوٹ کے فوارے سامنے چھٹکا کرتے۔ باوجود اس کے کوئی نعمت مزانہ دیتی تھی اور کوئی غذا انگ نہ لگتی تھی۔ سب کچھ موجود تھا مگر خاطرخواہ خوشی ایک بات سے بھی حاصل نہ ہوتی تھی۔ غرض ملک فراغ میں جو اس کے انتظام اور آزادی کالطف تھا، وہ نہ رہا تھا کیونکہ سلطان محنت پسند کے زیرحکم رہ کرلوگ خالی بیٹھنے سے بھی گھبراتے تھے اور جسے خوشحالی اورفارغ البالی کہتے ہیں، وہ کسی طرح حاصل نہ ہوتی تھی۔ آرام کے بندو! دیکھو، بہت آرام بہت سی خرابیاں پیدا کرتا ہے۔ آرام شاہ کے وزیراعظم عیش اور نشاط دو شخص ہوئے تھے، مگر عیش نے دغاکی، کیوں کہ مرض ایک بڑا غنیم سلطنت کا تھا۔ وہ مدت سے ملک آرام کے درپے تھا۔ چنانچہ مرض نے عیش سے سازش کی اور ایک رات یکایک قلعہ جسم پر کمند ڈال کر شبستان شاہی میں آن پہنچا۔ جب مرض آیا تو آرام کجا۔ آرام نے دشمن کو بلائے ناگہانی کی طرح سر پر دیکھا، گھبرا گیا اور ناچار ہو کر بھاگنا پڑا۔ ان دونوں نمک حراموں نے سلطنت پر قبضہ کر لیا اورعیش و نشاط کی بدولت تمام عالم اجسام امراض اور بیماریوں میں مبتلا ہو گیا۔ مرض کے سوا کئی اندرونی مفسد اور بھی سلطنت کے بدخواہ تھے۔ چنانچہ ایک سیری 2 تھی اور دوسرے اکتاہٹ، وہ بھی ملک کے دعوے سے ملکہ بننا چاہتی تھیں، دیکھنے کو بڑا سا پیٹ بہت پھولا تھا، لیکن حقیقت میں کچھ نہیں، فقط پھوس کا پولا تھا۔ انہیں کوئی چیز مزاہی نہ دیتی تھی اور ہمیشہ ہر چیز سے دل بے زار اور دل بھرا رہتا تھا۔ ان کی مصاحب ایک بد دماغی، دوسری بےزاری تھی کہ آٹھ پہر منہ بنائے، تیوری چڑھائے، الگ کرسی پر بیٹھی رہتی تھیں۔ جو نعمت انہیں ملتی، شکریہ کا حق خفگی اور بد مزاجی کے ہاتھوں ادا ہوتا۔ ملکہ مذکور کی نگاہ میں یہ تاثیر تھی کہ ایک نظر میں ساری دنیا کی نعمتیں خاک میں مل جاتی تھیں۔ کیسی ہی سہاؤنی خوشبوئیں، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں، ہرے ہرے سبزہ زار بہار پر ہوتے، مگر جب اس کے سامنے آتے سب مٹی ہو جاتے۔ اس سے آرام کا لطف زندگی بالکل نہ رہا اور اس کے سبب سے رعایا کا بھی جی بے زار ہونا شروع ہوا۔ رفتہ رفتہ سب ہمراہی آرام شاہ سے کنارہ کش ہو گئے۔ بعض بے مروت تو عیش سے گھل مل گئے۔ اورعیش نے بھی وعدہ کیا کہ میرے پاس دو حکیم ہیں، جن کی پانی کی بوند، تیزاب اور خاک کی چٹکی اکسیر ہے۔ سیری کی خاک اڑ جائےگی۔ ہر ایک چیز مزا دینے لگے گی۔ اور ہر ایک بات کا لطف آئےگا۔ ان حکیموں کا نام حرص اور ہوس ہے۔ یہ سن کر بہت لوگ توعیش کے پھسلاوے میں آ کر حرص کے پیچ میں پھنس گئے اور جو عاقبت اندیش داناتھے وہ پھر تدبیر اور مشورہ کے پاس پہنچے۔ سارے دکھ سنائے اور جو جو مصیبتیں گزری تھیں، سب داستان بیان کی۔ انہوں نے بہت افسوس کیا اور کہا کہ خسرو آرام کی بدولت تم نے بہت آرام کئے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ کسی کام کے نہ رہے۔ محنت سے اس کا تدارک کیا، اس کی تمہیں برداشت نہ ہوئی اور ضعف وناتوانی سے فریاد کرنے لگے۔ عیش و نشاط سے تفریح کا بندوست کیا۔ اس سے بہت لطف اٹھائے۔ مگر انہوں نے یہ سلوک کیا کہ امراض کے حوالے کر دیا اور آپ الگ ہو گئے، جس سے سب کی زندگی کا مزا جاتا رہا۔ ہم تمہارے معاملہ میں حیران ہیں کہ کیا کریں۔ سب نے بہت منت اور التجا کی۔ آخر ان دونوں کو ساتھ لے کر پھر سلطان محنت پسند کے پاس گئے اور خسرو آرام کی طرف سے پیغام سلام دوستانہ پہنچا کر صلع کی تدبیر کی۔ محنت کش ہزارہمت کرےگی مگر کوئی نہ کوئی دشمن اس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ جس طرح خسروآرام سیری کے ہاتھ سے عاجزآ گیاتھا اسی طرح سلطان محنت پسندکاہلی کے ہاتھ سے تنگ تھے۔ کیونکہ وہ ہمیشہ ان کی سرحد پر گھات لگائے بیٹھی رہتی تھی۔ چنانچہ دونوں نے مصلحت اسی میں دیکھی کہ باہم اتفاق کر لیں۔ حق یہ ہے کہ آرام کا بھی محنت بغیر نہیں۔ اب ذرا محنت کالطف دیکھو۔ غرض تدبیر اور مشورہ کی صلاح سے دونوں نے متفق ہوکر ملک فراغ اور کشور راحت کو باہم تقسیم کر لیا۔ محنت پسند خردمند کو دن کی سلطنت ملی، اور خسرو آرام کو رات کی۔ دونوں سلطنتوں میں عہدنامہ ہوکر بنیادِ محنت کے استحکام کے لئے بندوبست ہونے لگے۔ چند روز بعد مشورہ کی وکالت سے یہ تجویز ٹھہری کہ خسرو آرام کی شادی سلطان محنت پسند کے خاندان میں ہو جائے۔ محنت پسند نے کہا کہ آپ کے اہل دربار میں بعض اشخاص سلطنت کے خلاف مصلحت ہیں۔ اس واسطے جب تک آپ انہیں خارج نہ کریں گے مجھے یہ امر منظور نہیں۔ خسرو آرام نے کہا کہ جس کوتم کہو، اسی وقت جلا وطن کر دوں۔ چنانچہ مشورہ وغیرہ مشیروں کی صلاح سے راحت، تکلف، بناؤ سنگار وغیرہ سب نکالے گئے۔ ایک دن رسم شادی کہ وہ بھی سیدھی سادی تھی، سرانجام ہو گئی اور دونوں سرکاروں کا انتظام ایک ہو گیا۔ جب آرام محنت دونوں اعتدال سے ہوں توکیوں صحت حاصل نہ ہو۔ اتفاق کو خدا نے بڑی برکت دی ہے۔ چند روز کے بعد خسرو آرام کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام صحت شاہ رکھا گیا۔ بڑی خوشیاں ہوئیں۔ دونوں طرف رسوم مبارک بادی کی ادا ہوئیں۔ گہنگاران سلطنت یعنی نشاط اور عیش کی خطائیں بھی اس خداداد خوشی کے شکرانہ میں معاف ہوئیں، مگر اس شرط پر کہ بے طلب سامنے نہ آنے پائیں، نہ بے تقریب بلائے جائیں۔ غرض صحت شہزادہ بی بی سلامت خاتون کا دودھ پیتا تھا۔ خواجہ پرہیزاسے پرورش کرتے تھے۔ ان ہی کی تعلیم و تربیت میں بڑا ہوا۔ چونکہ دوگھروں میں ایک چراغ تھا، خسرو آرام اور سلطان محنت پسند دونوں آنکھوں کا نور سمجھتے تھے۔ صحت شہزادہ بھی دونوں بزرگوں کی برابر اطاعت اور دونوں سلطنتوں کی برابر رعایت کرتا تھا۔ اتفاق کی برکت سے خدا نے دونوں گھر روشن اورسلطنت آباد کی اور خدا کے بندوں کو بھی آئے دن کی مصیبت سے نجات دی۔ حاشیے(۱) کیسی ہی نعمت ہو، جب برابر ملے جائے تو آخر دل سیر ہو جاتا ہے۔ (۲) اس عمارت سے گویا وہی کاروبار مراد ہیں۔ انہی میں آئندہ یہ لوگ گزران کرکے اپنی قسمت کا لکھا پورا کریں گے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2_%D8%A2%D9%81%D8%B1%DB%8C%D9%86%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B1%D9%81%D8%AA%DB%81_%D8%B1%D9%81%D8%AA%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آغاز عشق عمر کا انجام ہو گیا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آغاز عشق عمر کا انجام ہو گیا\nناکامیوں کے غم میں مرا کام ہو گیا\n\nتم روز و شب جو دست بدست عدو پھرے\nمیں پائمال گردش ایام ہو گیا\n\nمیرا نشاں مٹا تو مٹا پر یہ رشک ہے\nورد زبان خلق ترا نام ہو گیا\n\nدل چاک چاک نغمۂ ناقوس نے کیا\nسب پارہ پارہ جامۂ احرام ہو گیا\n\nاب اور ڈھونڈئیے کوئی جولاں گہہ جنوں\nصحرا بقدر وسعت یک گام ہو گیا\n\nدل پیچ سے نہ طرۂ پر خم کے چھٹ سکا\nبالا روی سے مرغ تہ دام ہو گیا\n\nاور اپنے حق میں طعن تغافل غضب ہوا\nغیروں سے ملتفت بت خودکام ہو گیا\n\nتاثیر جذبہ کیا ہو کہ دل اضطراب میں\nتسکیں پذیر بوسہ بہ پیغام ہو گیا\n\nکیا اب بھی مجھ پہ فرض نہیں دوستیٔ کفر\nوہ ضد سے میری دشمن اسلام ہو گیا\n\nاللہ رے بوسۂ لب مے گوں کی آرزو\nمیں خاک ہو کے درد تہ جام ہو گیا\n\nاب تک بھی ہے نظر طرف بام ماہ وش\nمیں گرچہ آفتاب لب بام ہو گیا\n\nاب حرف نا سزا میں بھی ان کو دریغ ہے\nکیوں مجھ کو ذوق لذت دشنام ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آغاز محبت میں برسوں یوں ضبط سے ہم نے کام لیا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آغاز محبت میں برسوں یوں ضبط سے ہم نے کام لیا\nجب ہوک کلیجے میں اٹھی تو ہاتھوں سے دل تھام لیا\n\nاس رشک کے ہاتھوں ایک نہ اک ہر روز ہی داغ اٹھاتے رہے\nہم چوٹ جگر پر کھا بیٹھے جب غیر نے تیرا نام لیا\n\nآنکھیں وہ جھکیں ملتے ملتے رہے ہوش و خرد جاتے جاتے\nکچھ شرم نے ان کو روک لیا کچھ ضبط نے ہم کو تھام لیا\n\nانسان کی تھی یہ تاب و تواں جو بار محبت اٹھا سکتا\nاک یہ بھی ہے احسان ترا کیا اس سے تو نے کام لیا\n\nصحرا میں ٹھنڈے وقت ہمیں یاد آئی جو اس کی جلوہ گری\nکچھ ایسی ہوئی وحشت دل کو دم جا کے زیر بام لیا\n\nاور اس کے سوا کچھ کہہ نہ سکے پوچھا جو کسی نے حال ہے کیا\nآنکھوں سے آنسو بہنے لگے ہاتھوں سے کلیجا تھام لیا\n\nلوٹا تری دونوں آنکھوں نے پایا جو مرے دل کو تنہا\nجو ایک نے صبر شکیب لیا تو ایک نے چین آرام لیا\n\nاب تک تو خبر لی اس نے مری جس وقت کوئی افتاد پڑی\nجب ٹھوکریں کھا کر گرنے لگا ہاتھ اس نے لپک کر تھام لیا\n\nہم لائیں کہاں سے وہ آنکھیں جو تم کو پشیماں دیکھ سکیں\nاب کیسی ندامت جب ہم نے سب اپنے سر الزام لیا\n\nمحرومیٔ قسمت کیا کہئے احسان کیا کب ساقی نے\nپیمانۂ عمر چھلک ہی گیا جب ہاتھ میں اپنے جام لیا\n\nموزوں جو ہوئے جذبات دل جب شعر حفیظؔ پڑھا ہم نے\nسنتے ہی دونوں ہاتھوں سے سامع نے کلیجہ تھام لیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B6%D8%A8%D8%B7_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آغاز ہوا ہے الفت کا اب دیکھیے کیا کیا ہونا ہے", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آغاز ہوا ہے الفت کا اب دیکھیے کیا کیا ہونا ہے\nیا ساری عمر کی راحت ہے یا ساری عمر کا رونا ہے\n\nشاید تھا بیاض شب میں کہیں اکسیر کا نسخہ بھی کوئی\nاے صبح یہ تیری جھولی ہے یا دنیا بھر کا سونا ہے\n\nتدبیر کے ہاتھوں سے گویا تقدیر کا پردہ اٹھتا ہے\nیا کچھ بھی نہیں یا سب کچھ ہے یا مٹی ہے یا سونا ہے\n\nٹوٹے جو یہ بند حیات کہیں اس شور و شر سے نجات ملے\nمانا کہ وہ دنیا اے افسرؔ صرف ایک لحد کا کونا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "آغاز ہے کچھ ترا نہ انجام ترا", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آغاز ہے کچھ طرح نہ انجام ترا\nبندوں پہ ہمیشہ لطف ہے عام ترا\nمندر میں ہے ہر خدا ہے تو مسجد میں\nجپتے ہیں شیخ و برہمن نام ترا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D8%B1%D8%A7"} {"title": "آغوش احتیاط میں رکھ لوں جگر کہیں", "poet_page": "مصنف:راج بہادر سکسینہ اوجؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل > تصویر خیال (1933)", "year": "1933", "text_ur": "آغوش احتیاط میں رکھ لوں جگر کہیں\nڈرتا ہوں لے اڑے نہ کسی کی نظر کہیں\n\nغربت میں اجنبی کا بھی ہوتا ہے گھر کہیں\nدن بھر کہیں گزاریے یا رات بھر کہیں\n\nاغیار ہوں کہیں بت شوریدہ سر کہیں\nسب کچھ ہو آہ میں تو ہو اپنی اثر کہیں\n\nیوں اف نہ باغ دہر میں بربادی ہو کوئی\nبلبل کا آشیاں ہے کہیں بال و پر کہیں\n\nمیں آج اپنی آہ کا کرتا ہوں امتحاں\nہوں آسماں زمین نہ زیر و زبر کہیں\n\nقید قفس میں حسرت پرواز کیوں رہے\nصیاد جو اڑا دے مرے بال و پر کہیں\n\nرہتی ہے ان کی یاد مرے دل میں ہر گھڑی\nاوجؔ ان کے دل میں کاش ہو میرا بھی گھر کہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%BA%D9%88%D8%B4_%D8%A7%D8%AD%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آغوش تصور میں جب میں نے اسے مسکا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آغوش تصور میں جب میں نے اسے مسکا\nلب ہائے مبارک سے اک شور تھا \"بس بس\" کا\n\nسو بار حریر اس کا مسکا نگہ گل سے\nشبنم سے کب اے بلبل پیراہن گل مسکا\n\nاس تن کو نہیں طاقت شبنم کے تلبس سے\nاے دست ہوس اس پر تو قصد نہ کر مس کا\n\nملتی ہے پری آنکھیں اور حور جبیں سا ہے\nہے نقش جہاں یارو اس پائے مقدس کا\n\nتر رکھیو سدا یارب تو اس مژۂ تر کو\nہم عطر لگاتے ہیں گرمی میں اسی خس کا\n\nاس گریۂ خونیں کی دولت سے نظیرؔ اپنے\nاب کلبۂ احزاں میں کل فرش ہے اطلس کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%BA%D9%88%D8%B4_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B3%DA%A9%D8%A7"} {"title": "آغوش میں جو جلوہ گر اک نازنیں ہوا", "poet_page": "مصنف:امانت لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آغوش میں جو جلوہ گر اک نازنیں ہوا\nانگشتری بنا مرا تن وہ نگیں ہوا\n\nرونق فزا لحد پہ جو وہ مہ جبیں ہوا\nگنبد ہماری قبر کا چرخ بریں ہوا\n\nکندہ جہاں میں کوئی نہ ایسا نگیں ہوا\nجیسا کہ تیرا نام مرے دل نشیں ہوا\n\nروشن ہوا یہ مجھ پہ کہ فانوس میں ہے شمع\nہاتھ اس کا جلوہ گر جو تہ آستیں ہوا\n\nرکھتا ہے خاک پر وہ قدم جب کہ ناز سے\nکہتا ہے آسمان نہ کیوں میں زمیں ہوا\n\nروشن شباب میں جو ہوئی شمع روئے یار\nدود چراغ حسن خط عنبریں ہوا\n\nیا رب گرا عدو پہ امانتؔ کے تو وہ برق\nدو ٹکڑے جس سے شہپر روح الامیں ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D8%BA%D9%88%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D8%A7%D8%B2%D9%86%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "آفاق سے استاد یگانہ اٹھا", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آفاق سے استاد یگانہ اٹھا\nمضموں کے جواہر کا خزانہ اٹھا\nانصاف کا نوحہ ہے یہ بالائے زمیں\nسرتاج فصیحان زمانہ اٹھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AF_%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھا", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھا\nگھبرا کے جو دم آج نکل جائے تو اچھا\n\nاو جان حزیں جانا ہے اک دن تجھے آخر\nاب جائے تو بہتر ہے کہ کل جائے تو اچھا\n\nجھکوا دیا سر ضعف نے قاتل کے قدم پر\nتلوار اگر اس کی اگل جائے تو اچھا\n\nبہتر نہیں ہے صورت جاناں کا تصور\nدل اور کسی شے سے بہل جائے تو اچھا\n\nاک سل ہے کلیجے پہ نہیں روح بدن میں\nچھاتی کا پہاڑ آہ پہ ٹل جائے تو اچھا\n\nدیوانہ عبث شہر کی گلیوں میں ہے برباد\nمجنوں کسی جنگل کو نکل جائے تو اچھا\n\nاو آتش دل پھونک دے تن اشک بہا دے\nبہہ جائے تو بہتر ہے یہ جل جائے تو اچھا\n\nہر مرتبہ ڈسنے کے ارادہ میں ہے وہ زلف\nاژدر یہ اگر مجھ کو نگل جائے تو اچھا\n\nپھر رکنا ہے دشوار یہ جب آئی تو آئی\nایسے میں طبیعت جو سنبھل جائے تو اچھا\n\nتابوت مرا تھم کے اٹھاؤ مرے یارو\nوہ بھی کف افسوس جو مل جائے تو اچھا\n\nاے رندؔ ملو یار سے یا ہاتھ اٹھاؤ\nجھگڑا چکے ہر شب کا خلل جائے تو اچھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D8%B4%D8%A8_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%B9%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7"} {"title": "آفتاب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اے آفتاب! رُوح و روانِ جہاں ہے تُو\nشیرازہ بندِ دفترِ کون و مکاں ہے تُو\n\nباعث ہے تُو وجود و عدم کی نمود کا\nہے سبز تیرے دم سے چمن ہست و بود کا\n\nقائم یہ عُنصروں کا تماشا تجھی سے ہے\nہر شے میں زندگی کا تقاضا تجھی سے ہے\n\nہر شے کو تیری جلوہ گری سے ثبات ہے\nتیرا یہ سوز و ساز سراپا حیات ہے\n\nوہ آفتاب جس سے زمانے میں نور ہے\nدل ہے، خرد ہے، روحِ رواں ہے، شعور ہے\n\nاے آفتاب! ہم کو ضیائے شعور دے\nچشمِ خرد کو اپنی تجلّی سے نور دے\n\nہے محفلِ وجود کا ساماں طراز تُو\nیزدانِ ساکنانِ نشیب و فراز تُو\n\nتیرا کمال ہستیِ ہر جاندار میں\nتیری نمود سلسلۂ کوہسار میں\n\nہر چیز کی حیات کا پروردگار تُو\nزائیدگانِ نُور کا ہے تاجدار تُو\n\nنے ابتدا کوئی نہ کوئی انتہا تری\nآزادِ قیدِ اوّل و آخر ضیا تری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8"} {"title": "آفتاب آئے چمک کر جو سر جام شراب", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آفتاب آئے چمک کر جو سر جام شراب\nرند سمجھیں کہ ہے صادق سحر‌ جام شراب\n\nسب کے ہاتھوں پہ تھا شب بھر سفر جام شراب\nہر خط دست بنا رہ گزر جام شراب\n\nدختر رز پہ گریں مست پتنگوں کی طرح\nشمع محفل ہو یہ لخت جگر جام شراب\n\nتھام لے دست سبو آئے جو چلنے میں لچک\nخط بغداد ہو موئے کمر جام شراب\n\nطور سینا کا گماں ہو خم مے پر سب کو\nاس طرح ہوش اڑاؤ اثر جام شراب\n\nساغر مے میں نہیں پرتو خال ساقی\nہے کف دختر رز میں سپر جام شراب\n\nخاک مے خانہ کی بن جاتی قیامت پس کر\nہر قدم پر جو لچکتی کمر جام شراب\n\nآج مے نوشوں کا مجمع ہے کہاں اے ساقی\nکون سی بزم میں ہے شور و شر جام شراب\n\nجتنے مے خوار ہیں ساقی سے گلے ملتے ہیں\nسحر عید بنی ہے خبر جام شراب\n\nشیشۂ مے سے اڑا کاگ کبوتر کی طرح\nنامہ پہنچانے چلا نامہ بر جام شراب\n\nموج صہبا پہ گرا سپنۂ مینا اڑ کر\nہے مرے سامنے تیغ و سپر جام شراب\n\nمے پلاتا ہے اگر ڈھانپ لے سینہ ساقی\nتیرے جوبن کو لگے گی نظر جام شراب\n\nآفتاب آ کے سکھاتا ہے چلن شب بھر کا\nرات کو ہوتا ہے اکثر گزر‌ جام شراب\n\nدست ساقی میں رہے دست قدح کش میں رہے\nگردن شیشۂ صہبا کمر جام شراب\n\nمست کرتے ہیں دو عالم کو یہی دو خود مست\nلذت نغمۂ مطرب اثر جام شراب\n\nکیا غضب ہے کہ ترا ہونٹھ نہ چوسے مائلؔ\nاور ہو تیرے لبوں تک گزر جام شراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%86%D9%85%DA%A9_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "آفتاب اب نہیں نکلنے کا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آفتاب اب نہیں نکلنے کا\nدور آیا شراب ڈھلنے کا\n\nسانپ کہتے ہیں زلف کو شاعر\nکام کرتے ہیں منہ کچلنے کا\n\nلاکھ ہم چکنی چپڑی بات کریں\nان کا دل اب نہیں پھسلنے کا\n\nصفت لب میں شعر کہتے ہیں\nاب ارادہ ہے لعل اگلنے کا\n\nکوٹتے ہیں جو اپنا ہم سینہ\nہے عوض چھاتیاں مسلنے کا\n\nکیوں نہ ہر طرز میں ہو بات نئی\nپاں ہے قابو زباں بدلنے کا\n\nایک بوسے کی بھی جمائے اب\nقصد ہے ان کو مسی ملنے کا\n\nنخل ماتم کے سائے میں نہ ٹھہر\nہے مسافر جو قصد چلنے کا\n\nچشم پوشی سے طفل اشک اپنا\nڈھنگ سیکھا ہے اب مچلنے کا\n\nحفظ تیر نگہ ہے عین خطا\nنہیں پیغام موت ٹلنے کا\n\nہم بھی کھیلا کریں گے جان پر اب\nشغل اچھا ہے دل بہلنے کا\n\nمہرؔ حربا سے دوستی تا چند\nغم نہیں رنگ کے بدلنے کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "آفتاب نے شبم سے کیا کہا؟", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "آخر چمن سے نگہت گل کر گئی سفر\nخانہ بدوش کو نہیں الفت وطن کے ساتھ\n\nجب صبح کے وقت شبنم آفتاب کے سلام کے لئے حاضر ہوئی تو آفتاب نے کہا، کیوں ری ہرجائی، ہری چُگ تو رات بھر عالم سفلی کی سیر کرتی ہے، اور نئے نئے تماشے دیکھتی ہے، مگر کبھی اپنے پھوٹے منہ سے ہمیں کوئی قصہ نہیں سناتی۔\n\nشبنم، ہاتھی پھرے گاؤں گاؤں، جس کا ہاتھی اس کا ناؤں۔ کہیں جاؤں، کہیں آؤں، کہلاتی آپ کی لونڈی ہوں۔ بھلا، مجھے یہ تاب و طاقت ہے کہ حضور نیچے کی دنیا کا حال پوچھیں اور میں اس کے بیان کرنے میں اغماض کروں؟ سنئے جہاں پناہ! رات یہ آپ کی کنیز سیر کرتے کرتے آگرہ جانکلی۔ اور نواب دارا جنگ آسماں کلاہ کے زنانہ محل میں داخل ہو گئی۔ یہ نواب جلال الدین اکبر شہنشاہ ہندوستان کے درباری امیر ہیں۔ نواب صاحب کی محل سرا میں ایک چمن لگا ہوا ہے۔ چمن میں قسم قسم کے چھوٹے بڑے درخت ہیں۔ مگر مجھے کیلے کی اُتّوکٹی ہوئی سوزنی پسند آئی۔ میں اس پر چپکے سے جا لیٹی۔ کوئی رات کے گیارہ بجے اس چمن کے پاس چار پانچ لونڈیوں نے اپنے اپنے پلنگ بچھا اس پر لیٹ گئیں۔ انسان کا قاعدہ ہے کہ بے بولے اس سے رہا نہیں جاتا۔ ان لونڈیوں میں جو بات چیت ہوئی، وہ بہت دلچسپ تھی۔\n\nچنپا، سچ کہنا بوا شام برن اس بچی کو کیا ہوا تھا۔ ہائے میرے اللہ! گھڑی بھر میں بکس کر رہ گئی۔ کمبخت کھیلتی مالتی آغا مینا کی طرح باتیں ملکاتی اڑ گئی۔\n\nشام برن، بہن نیک قدم! ذرا بوا چنپا کی باتیں سن رہی ہو کیا کہہ رہی ہیں۔ آٹے کے ساتھ گھن پسوانا چاہتی ہیں۔ کہیں جو کسی نے جالگایا کہ بڑی بیگم آپ کی صاحب زادی گل آرا بیگم کے مرنے کا حال شام برن چھوکری اس طرح کہہ رہی تھی تو بھلا بڑی بیگم میرا چونڈا بے مونڈے چھوڑیں گی؟\n\nانجم، اجی چونڈا منڈا کر چھٹکارا ہو جائے تو سستے چھٹے۔ نواب صاحب کے کان میں پڑ گئی تو ناک چوٹی کترواکر تھوتھے تیروں سے اڑا دیں گے۔ بس اس ذکر کو چھوڑو۔ بڑوں نے کہا ہے کہ دیوار بھی کان رکھتی ہے۔\n\nچنپا، اس وقت تو ہمارے چاروں طرف کوئی دیوار نہیں ہے۔ ہم تو محل کے بیچوں بیچ میں چمن کے پاس اپنے اپنے پلنگ پر لیٹے ہیں۔ بیگم صاحب اور نواب صاحب کوٹھے پر آرام کر رہے ہیں۔ نوکریں، چاکریں، ماما، اصیلیں ادھر ادھر ہیں۔ سننے والے ہوں نہ ہوں، ہمارے تمہارے فرشتے ہوں، مگر فرشتوں کا یہ دستور نہیں کہ ہماری تمہاری لگائی بجھائی کریں۔ اگر تم گل آرا بیگم کے مرنے کی حقیقت کہہ دوگی تو ہرج کیا ہے؟\n\nشام برن، چنپاتو تو جھاڑ کا کانٹا بن کے لپٹ گئی۔ اری نادان اس بچی کا نام لینے سے میرا دل دھڑکتا ہے۔ سات برس کی ہوکے آٹھویں میں پڑی تھی، جو موت نے اس کی منڈیا مروڑ لی۔ ہائے اس ناشاد نامراد کا اس طرح جان دینا سارے شہر کو برا لگا۔ سنا ہے، جس وقت بادشاہ سلامت نے یہ خبر سنی تو بے اختیار رونے لگے اور فرمایا، افسوس کن ارمانوں اور منتوں سے دارا جنگ کے گھر میں یہ لڑکی پیدا ہوئی تھی۔ مگر کیا خبر تھی کہ وہ آناً فاناً چٹ پٹ ہو جائےگی۔ خیر تم کان لگا کر سنو۔ چیخ چیخ کر یہ قصہ میں نہیں کہوں گی۔\n\nبات یہ تھی کہ ایک دن نواب صاحب ہوا دار میں سوار قلعہ سے گھر کو آ رہے تھے۔ بازار میں انہیں ایک پندرہ سولہ برس کا لڑکا ملا۔ اس نے سلام کر کے ترکی زبان میں کہا، میں طالب علم ہوں اور توران سے آپ کے ملک میں پڑھنے آیا ہوں، مگر میرے کھانے پینے کا بندوبست نہیں ہے۔ اگر آپ خدا راہ پر میرے کھانے کا انتظام کر دیں تو میری انتڑیاں آپ کو دعا دیں گی اور آپ کربڑا ثواب ملےگا۔ نواب صاحب خود تو رانی ہیں۔ اس لئے نواب صاحب کو اس لڑکے کی بات چیت بہت پسند آئی۔ اشارے سے کہا تم ہماری سواری کے ساتھ چلے آؤ۔ جب زنانی ڈیوڑھی کے پاس ٓئے تو فرمایا، لڑکے میاں تم ڈیوڑھی پر حاضر رہو۔ اور اندر آکر بڑی بیگم سے فرمایا، ایک تورانی طالب علم بہت کم عمر اور بڑا گیگلا ہے۔ میں اسے ساتھ لایا ہوں۔ اسے خاصہ کا کھانا بھجوادو۔ اور میں نے اس سے کہہ دیا ہے وہ روز ڈیوڑھی پر کھانا آ کر لے جایا کرےگا۔ تم خود اس اس مسافر بیکس کے کھانے کا خیال رکھنا۔ ان لونڈیوں اور پیر بخش دربان کے بھروسہ پر نہ چھوڑ دینا۔\n\nبیگم نے کہا بہت اچھا۔ لڑکا آنے جانے اور کھانا لے جانے لگا اور اس معاملہ کو کوئی چھ مہینے گزر گئے۔ گل آرا بیگم کی عمر ہی کیا تھا۔ وہ کھیلتے کھیلتے ڈیوڑھی میں پیر بخش دربان کے پاس چلی جایا کرتی تھیں۔ دو چار بار ایسا بھی ہوا کہ گل آرا بیگم نے اس تورانی بچہ کو اور اس نے گل آرا بیگم کو دیکھا۔ آج آٹھ دن ہوئے۔ گل آرا بیگم نے ڈیوڑھی میں سے آکر بڑی بیگم سے کہا، اماں جان تورانی لڑکا کھڑا ہے۔ اس کا کھانا بھجوا دیجئے۔ بڑی بیگم کو صاحب زادی کا یہ کہنا اچھا نہ لگا۔ انہوں نے میرے ہاتھ لڑکے کے لئے کھانا بھجوایا اور مجھ سے کہا، اس لڑکے سے کہہ دینا تمہارا زنانی ڈیوڑھی پر آنا مناسب نہیں ہے۔ گھر بیٹھے تمہیں کھانا پہنچ جایا کرےگا۔ اب تم محل کے دروازہ پر نہ آنا۔ میں تورانی بچہ کو کھانا دے اور بیگم کی کہن اس سے کہہ کر چلی آئی، اور اس کا کھانا پیر بخش اس کے پاس مسجد میں پہنچانے لگا۔\n\nپرسوں گل آرا بیگم نے بڑی بیگم سے کہا، اماں جان لڑکا جو کھانا لینے آیا کرتا تھا، کیا بات ہے کئی دن سے نہیں آیا۔ بڑی بیگم نے سیدھے سبھاؤ فرمایا۔ بیٹیٗ وہ لڑکا مر گیا۔ گل آرا نے کہا، امان جان آپ یوں ہی فرماتی ہیں، یا وہ لڑکا سچ مچ مر گیا۔ بڑی بیگم نے کہا، نہیں بیٹی میں یونہی نہیں کہتی ہوں۔ وہ لڑکا دراصل مر گیا۔ گل آرا بیگم نے پھر کوئی بات نہ دیکھی اور سیدھی اندر کے دالان میں جا اپنی چاندی کی پلنگڑی پر لیٹ گئی، اور دوشالہ اوڑھ لیا۔ بڑی بیگم نے فرمایا، خیرتو ہے۔ بیگی تم اس وقت پلنگڑی پر جاکر کیوں لیٹی ہو۔ گل آرا بیگم نے کہا اماں جان میں پلنگڑی پر مرنے کے لئے لیٹی ہوں۔ بڑی بیگم نے کہا، اوئی نوج دشمنوں بیری۔ سات قرآن درمیان تم کیا کہہ رہی ہو؟\n\nگل آرا بیگم، اماں جان میں سچ کہتی ہوں، جب وہ لڑکا مر گیا تو میں جی کر کیا کروں گی۔ اس بات کے ساتھ ہی گل آرا نے ایک ہچکی لی اور اس کا دم آخر ہو گیا۔ بڑی بیگم نے ایک چیخ ماری اور ان کی چیخ کے ساتھ سارا محل اکٹھا ہو گیا۔ نواب صاحب دوڑے آئے۔ بادشاہی حکیم بلائے گئے، اور انہوں نے اس کو دیکھ بھال کر کہا، اس معصومہ کے دل کو کوئی صدمہ پہنچا، جس نے اس کی روح کو تحلیل کر دیا۔ نہ اسے سکتہ ہے نہ جمود ہے۔ یہ تو میت ہے۔ گورستان میں لے جائیے۔\n\nمحل میں کہرام مچ گیا۔ قیامت برپا ہو گئی۔ اس محبت کو خدا دنیا سے غارت کرے۔ بھلا کوئی سمجھدار ہوشیار ہو تو اس پر الزام بھی لگایا جائے۔ یہ تو منہ بند کلیوں کے گلے گھونٹتی ہے۔ اٹھتے پودوں کو تلوؤں سے مل ڈالتی ہے۔ نرم نرم کونپلوں کو توڑ مروڑ کر پھینک دیتی ہے۔ یہ ساری آفت کنگھی اور آئینہ نے ڈھائی ہے۔ بھلا کہئے جب مشاطۂ زلف میں عطرحنا ڈالے اور اس کو بنائے سنوارے تو قیس و فرہاد کا کیا قصور ہے؟ پتھر کا انسان ہو تو جیتا نہ بچے۔\n\nمکھڑا یہ غضب زلفِ سیہ فام یہ کافر\nکیا خاک جئے کوئی، شب ایسی سحر ایسی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%92_%D8%B4%D8%A8%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D8%9F"} {"title": "آفتابِ صبح", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "شورشِ میخانۂ انساں سے بالاتر ہے تو\nزینتِ بزمِ فلک ہو جس سے وہ ساغر ہے تو\nہو دُرِ گوشِ عروسِ صبح وہ گوہر ہے تو\nجس پہ سیمائے اُفق نازاں ہو وہ زیور ہے تو\nصفحۂ ایّام سے داغِ مدادِ شب مِٹا\nآسماں سے نقشِ باطل کی طرح کوکب مٹا\n\nحُسن تیرا جب ہُوا بامِ فلک سے جلوہ گر\nآنکھ سے اُڑتا ہے یک دم خواب کی مے کا اثر\nنور سے معمور ہو جاتا ہے دامانِ نظر\nکھولتی ہے چشمِ ظاہر کو ضیا تیری مگر\nڈھُونڈتی ہیں جس کو آنکھیں وہ تماشا چاہیے\nچشمِ باطن جس سے کھُل جائے وہ جلوا چاہیے\n\nشوقِ آزادی کے دنیا میں نہ نِکلے حوصلے\nزندگی بھر قید زنجیرِ تعلّق میں رہے\nزیر و بالا ایک ہیں تیری نگاہوں کے لیے\nآرزو ہے کچھ اسی چشمِ تماشا کی مجھے\nآنکھ میری اور کے غم میں سرشک آباد ہو\nامتیازِ ملّت و آئِیں سے دل آزاد ہو\n\nبستۂ رنگِ خصوصیّت نہ ہو میری زباں\nنوعِ انساں قوم ہو میری، وطن میرا جہاں\nدیدۂ باطن پہ رازِ نظمِ قدرت ہو عیاں\nہو شناسائے فلک شمعِ تخیّل کا دھُواں\nعقدۂ اضداد کی کاوش نہ تڑپائے مجھے\nحُسنِ عشق انگیز ہر شے میں نظر آئے مجھے\n\nصدمہ آ جائے ہوا سے گُل کی پتّی کو اگر\nاشک بن کر میری آنکھوں سے ٹپک جائے اثر\nدل میں ہو سوزِ محبت کا وہ چھوٹا سا شرر\nنور سے جس کے مِلے رازِ حقیقت کی خبر\nشاہدِ قُدرت کا آئینہ ہو، دل میرا نہ ہو\nسر میں جُز ہمدردیِ انساں کوئی سودا نہ ہو\n\nتُو اگر زحمت کشِ ہنگامۂ عالم نہیں\nیہ فضیلت کا نشاں اے نیّرِ اعظم نہیں\nاپنے حُسنِ عالم آرا سے جو تُو محرَم نہیں\nہمسرِ یک ذرّۂ خاکِ درِ آدم نہیں\nنورِ مسجودِ مَلک گرمِ تماشا ہی رہا\nاور تُو منّت پذیرِ صبحِ فردا ہی رہا\n\nآرزو نورِ حقیقت کی ہمارے دل میں ہے\nلیلیِ ذوقِ طلب کا گھر اسی محمل میں ہے\nکس قدر لذّت کشودِ عقدۂ مشکل میں ہے\nلُطفِ صد حاصل ہماری سعیِ بے حاصل میں ہے\nدردِ استفہام سے واقف ترا پہلو نہیں\nجستجوئے رازِ قُدرت کا شناسا تو نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D9%90_%D8%B5%D8%A8%D8%AD"} {"title": "آلام روزگار کو آساں بنا دیا", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آلام روزگار کو آساں بنا دیا\nجو غم ہوا اسے غم جاناں بنا دیا\n\nمیں کامیاب دید بھی محروم دید بھی\nجلووں کے اژدہام نے حیراں بنا دیا\n\nیوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئی\nیوں لب کشا ہوئے کہ گلستاں بنا دیا\n\nکچھ شورشوں کی نذر ہوا خون عاشقاں\nکچھ جم کے رہ گیا اسے حرماں بنا دیا\n\nاے شیخ وہ بسیط حقیقت ہے کفر کی\nکچھ قید رسم نے جسے ایماں بنا دیا\n\nکچھ آگ دی ہوس میں تو تعمیر عشق کی\nجب خاک کر دیا اسے عرفاں بنا دیا\n\nکیا کیا قیود دہر میں ہیں اہل ہوش کے\nایسی فضائے صاف کو زنداں بنا دیا\n\nاک برق تھی ضمیر میں فطرت کے موجزن\nآج اس کو حسن و عشق کا ساماں بنا دیا\n\nمجبورئ حیات میں راز حیات ہے\nزنداں کو میں نے روزن زنداں بنا دیا\n\nوہ شورشیں نظام جہاں جن کے دم سے ہے\nجب مختصر کیا انہیں انساں بنا دیا\n\nہم اس نگاہ ناز کو سمجھے تھے نیشتر\nتم نے تو مسکرا کے رگ جاں بنا دیا\n\nبلبل بہ آہ و نالہ و گل مست رنگ و بو\nمجھ کو شہید رسم گلستاں بنا دیا\n\nکہتے ہیں اک فریب مسلسل ہے زندگی\nاس کو بھی وقف حسرت و حرماں بنا دیا\n\nعالم سے بے خبر بھی ہوں عالم میں بھی ہوں میں\nساقی نے اس مقام کو آساں بنا دیا\n\nاس حسن کاروبار کو مستوں سے پوچھئے\nجس کو فریب ہوش نے عصیاں بنا دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B1%D9%88%D8%B2%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آلودہ خیالات میں تیرے ہوں مدام", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آلودہ خیالات میں تیرے ہوں مدام\nطاعت سے غرض نہ کچھ عبادت سے کام\nہر لحظہ ہوس بوسے کی ہر دم بس بس\nالفت کے تقاضے کو نہ کچھ صبح نہ شام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%84%D9%88%D8%AF%DB%81_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AF%D8%A7%D9%85"} {"title": "آم", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ابا جب بازار سے آئے\nآتے آتے آم بھی لائے\nجتنے ہرے تھے سب کچے تھے\nپکے ہوئے تھے نرم رسیلے\nکچے تو تھے سخت اور کھٹے\nدو دو آم دئے تھے ہم کو\nدو آپا کو دو آدم کو\nمیرے آم بہت میٹھے تھے\nآدم کے بالکل کھٹے تھے\nآم کے نام نہ جانے کیا تھے\nطوطا پری نیلم تھے کیا تھے\nآم کی نظم امین حزیںؔ کی\nپڑھ کے منہ میں آیا پانی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%85"} {"title": "آم نامہ", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئے\nاس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجئے\nایسا ضرور ہو کہ انہیں رکھ کے کھا سکوں\nپختہ اگرچہ بیس تو دس خام بھیجئے\nمعلوم ہی ہے آپ کو بندے کا ایڈریس\nسیدھے الہ آباد مرے نام بھیجئے\nایسا نہ ہو کہ آپ یہ لکھیں جواب میں\nتعمیل ہوگی پہلے مگر دام بھیجئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%85_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81"} {"title": "آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے\nصبح سے جشن کا غل شام کے بازار میں ہے\nصحبتِ عیشِ طرب مجلس غدار میں ہے\nشور و فریاد و بکا عترتِ اظہار میں ہے\nنوبتیں بجتی ہیں دشمن تو خوشی ہوتے ہیں\nفاطمہؔ پیٹتی ہیں، شیرِ خداروتے ہیں\n\nآگے آگے تو ہیں سجادؔ جھکائے گردن\nپاؤں بیڑی میں، گلا طوق میں گردن میں رسن\nمثلِ خورشیدِ فلک شرم سے لرزاں ہے بدن\nچاک ہے غم میں گریبانِ قبا تا دامن\nبیٹھ جاتے ہیں تو جھنجھلا کے اٹھاتے ہیں لعیں\nبوڑیاں نیزوں کی، شانوں میں چھپاتے ہیں لعیں\n\nپنڈلیاں سوجی ہیں، اور طوق سے چھلتا ہے گلا\nسخت ایذا میں ہے ، فرزند شۂ کرب و بلا\nخار تلووں میں ہیں، مقتل سے جو پیدل ہے چلا\nدھجیاں پاؤں میں باندھے ہے، وہ نازوں کا پلا\nاس کی مظلومی پہ بیتاب حرم ہوتے ہیں\nدیدۂ حلقۂ زنجیر لہو روتے ہیں\n\nپیچھے بیمار کے ہے قافلۂ اہلِ حرم\nچپ ہیں تصویر سے گویا کہ کسی میں نہیں دم\nدخترِ فاطمہؔ زہرا کا عجب ہے عالم\nتھرتھری جسم میں ہے اٹھ نہیں سکتے ہیں قدم\nرو کے فرماتی ہیں کس گوشے میں جائے زینبؔ\nہاتھ کھل جائیں تو منہ اپنا چھپائے زینبؔ\n\nکبھی سجادؔ سے کہتی ہیں، بہ آہ و زاری\nمجھ کو دربار کی آفت سے بچاؤ داری\nکر کے زاری وہ بیاں کرتا ہے وہ آزاری\nصبر فرماؤ جو مرضیِٔ جنابِ باری\nکم نہ کچھ مرتبۂ آلِ عبا ہوئے گا\nعاصیوں کا اسی پردہ میں بھلا ہوئے گا\n\nگردنیں بارہ اسیروں کی ہیں اور ایک رسن\nجس طرح ہوتے ہیں گلدستے ہیں گلہائے چمن\nرشتہ دارانِ علیؔ سب ہیں گرفتارِ محن\nشرم کے مارے موئی جاتی ہے اک شب کی دلہن\nدم بدم ساس بھی سر پیٹتی ہے ساتھ اس کے\nابھی کنگنا نہ کھلا تھا کہ بندھے ہاتھ اس کے\n\nہے اس رسی میں ننہا سا سکینہ کا گلو\nدم گھٹا جاتا ہے آنکھوں سے رواں ہیں آنسو\nچاک کرتے کا گریباں ہے، پریشاں گیسو\nسوجے تو گال ہیں کانوں سے ٹپکتا ہے لہو\nآہ ہر گام پہ سینے سے نکل جاتی ہے\nجب گھرکتے ہیں ستمگر تو دہل جاتے ہے\n\nماں سے کرتی ہے اشارہ وہ گرفتارِ ستم\nرسی کھلوا دو نہیں گھٹ کے نکل جائے گا دم\nرو کے وہ کہتی ہے مجبور ہوں میں کشتۂ غم\nہائے بچی تری قسمت میں تھا یہ درد و الم\nصدقے امّاں یہ گرہ عقد کشا کھولے گا\nبی بی اس عقدۂ مشکل کو خدا کھولے گا\n\nماں سے رو رو کے وہ نادان یہ کرتی ہے بیاں\nکس کا دربار ہے، اس حال سے جاتی ہو کہاں\nیہ تو کہہ دو کہیں بابا بھی ملیں گے اماں\nکئی دن گذرے ہیں وہ ہیں مری آنکھوں سے نہاں\nبھول جائے گایہ سب دکھ جو انہیں پاؤں گی\nدوڑ کر چاند سی چھاتی سے لپٹ جاؤں گی\n\nکہیں دربار میں اماں وہ اگر مجھ کو ملے\nدیکھنا کرتی ہوں کیسے شۂ والا سے گلے\nوہ خبر لیویں نہ گردن مری رسی سے چلے\nاس کو یوں بھولتے ہیں باپ سے بچہ جو پلے\nوجہ کیا کون سی تفصیر پہ منہ موڑا ہے؟\nسیلیاں کھانے کو اعدا میں مجھے چھوڑا ہے\n\nکان زخمی ہوئے اور لی نہ خبر واہ رے پیار\nخوب بھولے مجھے بابا کی محبت کے نثار\nدن میں چھاتی سے لگاتے تھے مجھے سو سو بار\nمجھ پہ یہ ظلم ہیں آیا انہیں کس طرح قرار\nمنہ دکھاتے نہیں شفقت سے بلانا کیسا\nخواب میں آئے نہ چھاتی پہ سلانا کیا\n\nروتے تھے سن کے سکینہؔ کا بیاں سارے امیر\nہر قدم پر تھا یہی شور کہ ہے ہے شبیر\nاس طرف ہوتی تھی آرائشِ دربارِ شریر\nتخت پر آپ تھا اور کرسیوں پر سارے امیر\nاک طرف لوٹ کا سب زیور و زر رکھا تھا\nاور تلے فاطمہ کے لعل کا سر رکھا تھا\n\nنذریں ہاتھوں پہ لیے آتے تھے سب درباری\nپڑھتے تھے تہنیت فتح کو باری باری\nجمع دربار میں تھی، شہر کی خلفت ساری\nیاں تو تھا جشن کا غل، اور ادھر تھی زاری\nاس طرف تو دف و نے کی صدا آتی تھی\nاور اس سمت سے ہے ہے کی صدا آتی تھی\n\nدم بدم تخت سے اٹھ اٹھ کے یہ کہتا تھا شریر\nقیدی کیوں جلد نہیں آتے ہیں کیا ہے تاخیر\nبڑھ کے کرتے تھے خبردار یہ اُس دم تقریر\nضعف سے پاؤں کو تھم تھم کے اٹھاتے ہیں اسیر\nمارے دہشت کے لہو ان کا گھٹا جاتا ہے\nہر قدم ایک ضعیفہ کو غش آجاتا ہے\n\nبولا وہ کون سی عورت ہے وہ محبوسِ ستم\nعرض کی اس نے کہ ہمشیرِ شہنشاہِ امم\nباپ جس کا ہے علیؔ پشت و پناہِ عالم\nجس کی ماں فاطمہؔ ہے فخر جناب مریم\nہے جو سلطانِ عرب اس کی نواسی ہے وہ\nکلمہ گو جس کے ہیں سب اس کی نواسی ہے وہ\n\nہے وہی حضرتِ جعفرؔ کی بہو سینہ فگار\nوہی زینبؔ ہے جو شبیرؔ کی تھی عاشقِ زار\nلاش شہ پر، وہی اُشتر سے گری تھی کئی بار\nبعد مرنے کے بھی ہے بھائی بہن میں وہی پیار\nقافلہ یوں تو سبھی شام و سحر روتا ہے\nپر وہ روتی ہے تو شبیر کا سر روتا ہے\n\nبولا وہ کیا ہے پھر اوروں کے نہ آنے کا سبب\nعرض کی ایک ہی رسی میں ہیں جکڑے ہوئے سب\nخاک پہ گرتی ہے جب بنتِ شہنشاہِ عرب\nشور ہوتا ہے اسیروں میں کہ ہے ہے زینبؔ\nہوش میں آن کے، بھائی کو وہ جب روتی ہے\nدیر تک قیدیوں میں سینہ زنی ہوتی ہے\n\nانہیں رانڈوں مین ہے اک دخترِ فرزند نبی\nخوگرِ سینۂ دلبند، رسولِ عربی\nآفتِ فاقہ کشی، بے پدری تشنہ لبی\nدم بہ دم لب پہ یہ ہے این ابی این ابی\nچھاتیاں پھٹتی ہیں اس درد سے وہ روتی ہے\nشمرؔ جب آنکھ دکھاتا ہے تو چپ ہوتی ہے\n\nذکرِ یہ تھا کہ وہ قیدی سرِ دربار آئے\nسب پکارے کہ وہ حاکم کے گنہگار آئے\nآگے روتے ہوئے سجادِؔ دل افگار آئے\nسر برہنہ حرم احمد مختار آئے\nصاف خورشید سی شکلیں جو نظر آتی ہے\nآنکھیں سب ظالموں کی بند ہوئی جاتی ہے\n\nگو کہ اس روز تھیں سیدانیاں کھولے ہوئے بال\nمنہ چھپانے کو کسی پاس نہ تھا اک رومال\nبیٹیوں کا اسد اللہ کی، اللہ رے جلال\nآنکھ اٹھا کر کوئی دیکھے، یہ کسی کی تھی مجال\nجلوۂ رشنیِ طور نظر آتا تھا\nکچھ نہ آنکھوں کو بجز نور نظر آتا ہے\n\nپردۂ چشم سے باہر نہ نکلتی تھی نظر\nایک سے پوچھتا تھا ایک کہ قیدی ہیں کدھر؟\nبیٹیاں فاطمہؔ زہرا کی جو تھیں ننگے سر\nدست حیدرؔ تھا تماشائیوں کی آنکھوں پر\nتھا جو منظورِ خدا آلِ عبا کا پردہ\nفاطمہؔ روکتی تھی، اپنی ردا کا پردہ\n\nکہا ظالم نے کہ ہاں قیدیوں کو لاؤ قریب\nحکم یہ سنتے ہی دوڑے گئے دو چار نقیب\nشرم کے مارے ہوا، بیبیوں کا حال عجب\nاپنا سر پیٹ کے بانو نے کہا وائے نصیب\nکھینچ کر سب کو ستمگار جو لے جانے لگے\nحضرتِ زینب و کلثوم کو غش آنے لگے\n\nتخت کے سامنے روتے ہوئے آئے جو اسیر\nدیکھ کر سیدِ سجادؔ کو بولا وہ شریر\nسرکشی کر کے نہ سربر ہوئے مجھ سے شبپر\nشکر کرتا ہوں کہ خالق نے کیا تم کو حقیر\nبیٹھنے کا کہیں دنیا میں سہارا نہ رہا\nپنجتن اٹھ گئے اب زور تمہارا نہ رہا\n\nہاں کہو آج حمایت کو پیمبر ہیں کہاں؟\nکیا ہوئے ابنِ علیؔ حیدر صفدر ہیں کہاں؟\nقید میں ان کی بہو آتی ہے شبّر ہیں کہاں؟\nننگے سر زینبِ دلگیر ہے سرور ہیں کہاں؟\nذبح خنجر سے ہوا جو وہ پدر کس کا ہے؟\nاک ذرا غور سے دیکھو تو یہ سر کس کا ہے؟\n\nکس کے ناموس لٹے کس کا ہوا گھر تاراج؟\nکون بے سر ہوا، اور کون ہوا صاحبِ تاج؟\nایک چادر کے لیے کس کی بہن ہے محتاج؟\nکون کمزور ہے، اور کون زبردست ہے آج؟\nخلق میں کس کے لیے مرتبۂ عالی ہے؟\nکس کا اقبال ہے، اور کس کی بد اقبالی ہے؟\n\nنہر پر بازوئے شبیرؔ کو مارا کس نے؟\nجنگ میں اکبرؔ دلگیر کو مارا کس نے؟\nتیر سے اصغرِؔ بے شیر کو مارا کس نے؟\nشاہ سے صاحبِ شمشیر کو مارا کس نے؟\nفوج بے سر ہوئی سلطانِ حجازی نہ رہے\nجن کی تلوار کا شہرہ تھا وہ غازی نہ رہے\n\nسن کے یہ آگیا بنتِ شہ مرداں کو جلال\nتھرتھرا کر کہا کیا بکتا ہے او بد اقبال\nصاحبِ عزت و توقیر محمد کی ہے آل\nکبھی ہم لوگوں کی عزت پہ نہ آئے گا زوال\nہم کو بے قدر جو سمجھا تو خطا کرتا ہے\nدیکھ مصحف میں خدا کس کی ثنا کرتا ہے\n\nہاں بتا آیۂ تطہیر کسے آیا ہے؟\nدوست اپنا کسے اللہ نے فرمایا ہے؟\nہل اتیٰ کس کے لیے روح امیں لایا ہے؟\nکس نے معراج کا دنیا میں شرف پایا ہے؟\nقرب ایسا کسے اللہ کی درگاہ میں ہے؟\nفرقِ قوسین بتا کس میں اور اللہ میں ہے؟\n\nزور اپنا کسے اللہ نے امداد کیا؟\nخانۂ کفر کو کس شیر نے برباد کیا؟\nحق نے قرآن کے سورۃ میں کسے یاد کیا؟\nکس کو اکملت لکم دینکم ارشاد کیا؟\nکس سے ہر جنگ میں عاجز صفِ کفار آئی؟\nبدر میں کس کے لیے عرش سے تلوار آئی؟\n\nآلِ احمد کو حقارت سے نہ دیکھ او مقہور\nسب پہ روشن ہے کہ ہم لوگ ہیں اللہ کے نور\nمار کر سبطِ پیمبر کو یہ نخوت یہ غرور\nخیر ہم دور نہ تو دور نہ محشر ہے دور\nحق کا دریائے غضب جوش میں جب آئے گا\nباندھنا ہاتھ کا سادات کے کھل جائے گا\n\nفخر کیونکر نہ کرے تو کہ یہ ہے فخر کی جا\nتو نے اللہ کے محبوب کا کاٹا ہے گلا\nہو گئے سرخ لہو میں حسنِ سبز قبا\nفاطمہؔ ذبح ہوئی، شیر خدا قتل ہوا\nآگ دی خیمہ کو اور زیور و زر لوٹ لیا\nجس کے درباں تھے ملک، تو نے وہ گھر لوٹ لیا\n\nترے ناموس تو ہیں پردہ نشیں او اظلم\nبال بکھرائے کھڑے ہیں، ترے دربار میں ہم\nہائے بے پردہ ہے بانوئے امامِ عالم\nہے سکینہؔ پہ وہ ظلم اور یہ کبراؔ پہ ستم\nننگے سر قید میں اک رات کی بیاہی آئی\nتجھ کو شادی ہوئی اور ہم پہ تباہی آئی\n\nکیے زینبؔ نے فصاحت سے یہ جس وقت کلام\nکانپے سینوں میں جگر رونے لگے لوگ تمام\nتخت کے نیچے دھرا تھا جو سرِ پاکِ امام\nمتوجہ ہوا شرما کے ادھر حاکمِ شام\nاور ان ظلم رسیدوں پہ جفا کرنے لگا\nلبِ فرزند پیمبر پہ چھری دھرنے لگا\n\nکھول کر چوب سے لب ہائے شہنشاہِ عرب\nکہتا تھا پارۂ یاقوت سے بہتر ہیں لب\nدرِ دنداں ہیں یہ تاباں کہ خجل ہیں کوکب\nپیٹ کر سینے کو زینبؔ نے کہا ہائے غضب\nنہ محمدؔ سے نہ حیدرؔ سے حیا کرتا ہے\nقطع ہو جائے ترا ہاتھ، یہ کیا کرتا ہے\n\nاس چھڑی کو مرے بھائی کے لبوں سے سرکا\nبوسے لیتے تھے انہیں ہونٹوں کے محبوب خدا\nبہر امت انہیں ہونٹوں سے دعا کی ہے سدا\nانہیں دانتوں پہ گہر کرتی تھی صدقے زہراؔ\nتجھ کو پیارے نہیں گو، ہم کو تو پیارے ہیں یہ\nعرش تک جن کا ہے شہرہ وہ ستارے ہیں یہ\n\nیہ ستم بھائی پہ کن آنکھوں سے دیکھے ہمشیر\nارے ظالم سرِ بے تن کی بھلا کیا تفصیر\nیہ چھڑی ہائے غضب اور لبِ پاک شبیرؔ\nنہ ستا مجھ کو میں ہوں بنتِ شۂ خیبر گیر\nان کھلے بالوں کو اب ہاتھوں پہ دھرتی ہوں میں\nلے شکایت تری اللہ سے کرتی ہوں میں\n\nکہہ کے یہ غیظ میں آئی جو علیؔ کی جائی\nآسماں آ گئے جنبش میں زمیں تھرائی\nسر شبیر سے ناگاہ صدا یہ آئی\nتھام لے غصے کو زینبؔ ترے صدقے بھائی\nنہ تلاطم میں کہیں قہر الٰہی آ جائے\nکہیں امت کی نہ کشتی پہ تباہی آ جائے\n\nتم تو آگاہ ہو، شبیر نے جو دکھ پائے\nپر نہیں حرف شکایت کے ، زباں پر لائے\nسر کو نیوڑا لیا جب ذبح کو قاتل آئے\nہم نے امت کے لیے چھاتی پہ نیزے کھائے\nاتنی سی بات پہ مصروفِ بکا ہوتی ہو\nتم چھڑی ہونٹوں پہ رکھنے سے خفا ہوتی ہو\n\nبرچھیاں کھانے سے کیا اس میں کچھ ایذا ہے پڑی\nچپ رہے تن پہ جو تلوار یہ تلوار پڑی\nجانے دو رکھی تو رکھی مرے ہونٹوں پہ چھڑی\nاے بہن یہ بھی گذر جائے گی آفت کی گھڑی\nچپ ہیں جو ہم پہ ستم راہِ خدا میں ہوگا\nاس کا انصاف تو دربارِ خدا میں ہوگا\n\nسرِ شبیر نے زینبؔ سے جو یہ کی تقریر\nآ کے غصے میں لگا کانپنے وہ حاکم بے پیر\nشمرؔ سے بولا کہ بس اس کی یہی ہے تعزیر\nسب کو لے جا کے تو کر سخت خرابے میں اسیر\nبس انیسؔ اب جگر و قلب پھنکا جاتا ہے\nحال زنداں کا نہیں منہ سے کہاجاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%85%D8%AF_%D8%A2%D9%85%D8%AF_%D8%AD%D8%B1%D9%85%D9%90_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "آمد تصور بت بیداد گر کی ہے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آمد تصور بت بیداد گر کی ہے\nدل کی بھی لوٹ خانہ خرابی جگر کی ہے\n\nتقدیر کی کجی ہو کہ ٹیڑھا ہو آسماں\nیہ سب عنایت آپ کی ترچھی نظر کی ہے\n\nاک بار تیر مار کے اب تک خبر نہ لی\nیا رب نگاہ مست یہ کس بے خبر کی ہے\n\nیہ رنگ و بو کہاں گل تر کو نصیب تھا\nاتری ہوئی قبا کسی رشک قمر کی ہے\n\nپھر بھی کبھی نگاہ کرم ہوگی اس طرف\nامید آج تک اسی پہلی نظر کی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%85%D8%AF_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست\nدودِ شمعِ کشتہ تھا شاید خطِ رخسارِ دوست\n\nاے دلِ ناعاقبت اندیش! ضبطِ شوق کر\nکون لا سکتا ہے تابِ جلوۂ دیدارِ دوست\n\nخانہ ویراں سازیِ حیرت! تماشا کیجیے\nصورتِ نقشِ قدم ہوں رَفتۂ رفتارِ دوست\n\nعشق میں بیدادِ رشکِ غیر نے مارا مجھے\nکُشتۂ دشمن ہوں آخر، گرچہ تھا بیمارِ دوست\n\nچشمِ ما روشن، کہ اس بے درد کا دل شاد ہے\nدیدۂ پر خوں ہمارا ساغرِ سرشارِ دوست\n\nغیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں\nبے تکلّف دوست ہو جیسے کوئی غم خوارِ دوست\n\nتاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلک\nمجھ کو دیتا ہے پیامِ وعدۂ دیدارِ دوست\n\nجب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعفِ دماغ\nسَر کرے ہے وہ حدیثِ زلفِ عنبر بارِ دوست\n\nچپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگر\nہنس کے کرتا ہے بیانِ شوخیِ گفتارِ دوست\n\nمہربانی ہائے دشمن کی شکایت کیجیے\nیا بیاں کیجے سپاسِ لذّتِ آزارِ دوست\n\nیہ غزل اپنی، مجھے جی سے پسند آتی ہے آپ\nہے ردیف شعر میں غالبؔ! ز بس تکرارِ دوست", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%85%D8%AF_%D8%AE%D8%B7_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D8%AF_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA"} {"title": "آمد سیلاب طوفان صداۓ آب ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آمد سیلاب طوفان صداۓ آب ہے\nنقش پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے\n\nبزم مے وحشت کدہ ہے کس کی چشم مست کا\nشیشے میں نبض پری پنہاں ہے موج بادہ سے\n\nدیکھتا ہوں وحشت شوق خروش آمادہ سے\nفال رسوائی سرشک سر بہ صحرا دادہ سے\n\nدام گر سبزے میں پنہاں کیجیے طاؤس ہو\nجوش نیرنگ بہار عرض صحرا دادہ سے\n\nخیمۂ لیلےٰ سیاہ و خانۂ مجنوں خراب\nجوش ویرانی ہے عشق داغ بیروں دادہ سے\n\nبزم ہستی وہ تماشا ہے کہ جس کو ہم اسدؔ\nدیکھتے ہیں چشم از خواب عدم نکشادہ سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%85%D8%AF_%D8%B3%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%A8_%D8%B7%D9%88%D9%81%D8%A7%D9%86_%D8%B5%D8%AF%D8%A7%DB%93_%D8%A2%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "آمدنی اور خرچ", "poet_page": "مصنف:حاجی لق لق", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "کرایہ مکاں کا ادا کرنے جاؤں\nکہ بزاز و خیاط کا بل چکاؤں\n\nدوا لاؤں یا ڈاکٹر کو بلاؤں\nکہ میں ٹیکس والوں سے پیچھا چھڑاؤں\n\nخدارا بتاؤ کہاں بھاگ جاؤں\nمیں اس ڈیڑھ آنے میں کیا کیا بناؤں\n\nبہت بڑھ گیا ہے مکاں کا کرایہ\nادھر نل کے آب رواں کا کرایہ\n\nبقایا ہے ‘برق تپاں’ کا کرایہ\nزمیں پر ہے اب آسماں کا کرایہ\n\nہے بچوں کی فیس اور چندہ ضروری\nکتب کاپیوں کا پلندہ ضروری\n\nشکم پروری کا ہے دھندہ ضروری\nیہ آدم کی ایجاد بندہ ضروری\n\nبلا کے مصارف ہیں کیا تاب لاؤں\nمیں اس ڈیڑھ آنے میں کیا کیا بناؤں\n\nعزیزوں کی امداد مہماں نوازی\nغریبوں کو خیرات احساں طرازی\n\nخوراک اور پوشاک میں دنیا سازی\nادھر فلم کا شوق اور ادھر عشق بازی\n\nضروری یہاں سگریٹ اور پان بھی ہے\nعدالت میں جانے کا امکان بھی ہے\n\nہے بھنگی بھی دھوبی بھی دربان بھی ہے\nاور اک ساڑی والے کی دوکان بھی ہے\n\nکہاں جاؤں کس کس سے پیچھا چھڑاؤں\nمیں اس ڈیڑھ آنے میں کیا کیا بناؤں\n\nہیں میلے بھی اسلامی تہوار بھی ہیں\nہم ایسے مواقع پہ خوددار بھی ہیں\n\nبہت خرچ کرنے کو تیار بھی ہیں\nبلا سے جو بے برگ و بے بار بھی ہیں\n\nکسے داستان مصارف سناؤں\nمیں اس ڈیڑھ آنے میں کیا کیا بناؤں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%85%D8%AF%D9%86%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AE%D8%B1%DA%86"} {"title": "آن رکھتا ہے عجب یار کا لڑ کر چلنا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آن رکھتا ہے عجب یار کا لڑ کر چلنا\nہر قدم ناز کے غصے میں اکڑ کر چلنا\n\nجتنے بن بن کے نکلتے ہیں صنم نام خدا\nسب میں بھاتا ہے مجھے اس کا بگڑ کر چلنا\n\nناتوانی کا بھلا ہو جو ہوا مجھ کو نصیب\nاس کی دیوار کی اینٹوں کو رگڑ کر چلنا\n\nاس کی کاکل ہے بری مان کہا اے افعی\nدیکھیو اس سے تو کاندھا نہ رگڑ کر چلنا\n\nچلتے چلتے نہ خلش کر فلک دوں سے نظیرؔ\nفائدہ کیا ہے کمینے سے جھگڑ کر چلنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%84%DA%91_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%D9%84%D9%86%D8%A7"} {"title": "آن کر غم کدۂ دہر میں جو بیٹھے ہم", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آن کر غم کدۂ دہر میں جو بیٹھے ہم\nشمع ساں اپنے تئیں آپ ہی رو بیٹھے ہم\n\nعشق کے ہاتھ سے کشتیٔ شکستہ کی طرح\nآپ اپنے تئیں رو رو کے ڈبو بیٹھے ہم\n\nگر یہی تیرے اشارے ہیں تو مجلس سے تری\nکوئی نہ کوئی آ کے اٹھا دیوے گا گو بیٹھے ہم\n\nتم جو اٹھنے کو ہوئے تھے تو چلے تھے ہم بھی\nاب جو یوں آپ کی مرضی ہے تو لو بیٹھے ہم\n\nسینہ خالی نہیں ہوتا ہے نہ تھمتے ہیں اشک\nکب سے روتے ہیں دل خوں شدہ کو بیٹھے ہم\n\nغیر کہتے ہیں کہ ہم بیٹھنے دیویں گے نہ یاں\nاب تو اس ضد سے جو کچھ ہووے سو ہو بیٹھے ہم\n\nاشک آنکھوں سے تو معدوم ہوئے تھے کد کے\nہاتھ اب گریۂ خونی سے بھی دھو بیٹھے ہم\n\nاور تو کچھ نہیں یاں اتنا خفا ہوتے ہو کیوں\nکیا ہوا آپ کے نزدیک جو ہو بیٹھے ہم\n\nآرزو دل کی بر آئی نہ حسنؔ وصل میں اور\nلذت ہجر کو بھی مفت میں کھو بیٹھے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D8%AF%DB%82_%D8%AF%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "آنا بھی آنے والے کا افسانہ ہو گیا", "poet_page": "مصنف:انوری جہاں بیگم حجاب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنا بھی آنے والے کا افسانہ ہو گیا\nدشمن کے کہنے سننے سے کیا کیا نہ ہو گیا\n\nکیا فیضیاب صحبت رندانہ ہو گیا\nدم بھر میں شیخ ساقیٔ مے خانہ ہو گیا\n\nسنتے ہیں بند پھر در مے خانہ ہو گیا\nدور ایاغ و شغل مل افسانہ ہو گیا\n\nملنے کے بعد بیٹھ رہا پھیر کر نگاہ\nظالم یگانہ ہوتے ہی بیگانہ ہو گیا\n\nاپنوں سے بھی زیادہ جو پایا نیاز مند\nوہ بے نیاز اور بھی بیگانہ ہو گیا\n\nنا آشنا رہا تو یگانہ بنا رہا\nہوتے ہی آشنا کوئی بیگانہ ہو گیا\n\nمانا کہ مدعی سے کوئی مدعا نہ تھا\nپھر کیا سبب تھا ترک جو یارانہ ہو گیا\n\nکس طرح اپنی خانہ خرابی عیاں کرے\nوہ دل جو پردے والوں کا کاشانہ ہو گیا\n\nآنے کا وعدہ کر کے وہ ہنستے ہوئے چلے\nمعلوم ابھی سے لطف قدیمانہ ہو گیا\n\nجان اس دلاوری سے ترے منچلے نے دی\nمقتل میں شور ہمت مردانہ ہو گیا\n\nپھر بھی سوال وصل کا موقع نہیں ملا\nسو بار گو کلام کلیمانہ ہو گیا\n\nوہ دل جلا تھا میں کہ تری شمع حسن پر\nجل کر نثار صورت پروانہ ہو گیا\n\nمجنوں جو بن گیا کسی لیلیٰ ادا کا میں\nپھر کیا تھا نجد خود مرا ویرانہ ہو گیا\n\nگیسو بنائے جائیے آپ اپنے شوق سے\nہو جانے دیجئے جو میں دیوانہ ہو گیا\n\nپی لی حجابؔ ہاتھ ہی سے آج میں نے مے\nچلو مرا مرے لئے پیمانہ ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آنا ہے یوں محال تو اک شب بہ خواب آ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنا ہے یوں محال تو اک شب بہ خواب آ\nمجھ تک خدا کے واسطے ظالم شتاب آ\n\nدیتا ہوں نامہ میں تجھے اس شرط پر ابھی\nقاصد تو اس کے پاس سے لے کر جواب آ\n\nایسا ہی عزم ہے تجھے گر کوئے یار کا\nچلتا ہوں میں بھی اے دل پر اضطراب آ\n\nیہ خستہ چشم وا ہے ترے انتظار میں\nاے صبح منہ دکھا کہیں اے آفتاب آ\n\nتا یہ شب فراق کی دیجور دور ہو\nاے رشک ماہ گھر میں مرے بے نقاب آ\n\nآب رواں و سبزہ و روئے نگار ہے\nساقی شتاب ایسے میں لے کر شراب آ\n\nروئیں گلے سے لگ کے بہم خوب کوئی دم\nکیا دیکھتا ہے اے دل بے صبر و تاب آ\n\nبحر جہاں میں دیر شد آمد روا نہیں\nمانند قطرہ جا تو برنگ حباب آ\n\nقربانی آج در پہ ترے کرنی ہے مجھے\nلے کر کے تیغ تو بھی برائے ثواب آ\n\nشاید وہ تجھ کو دیکھ کے غم کھائے مصحفیؔ\nتو اس کے سامنے تو بہ چشم پر آب آ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DA%A9_%D8%B4%D8%A8_%D8%A8%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%A2"} {"title": "آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا\nدل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملا\n\nہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہے\nاپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا\n\nآواز کو تو کون سمجھتا کہ دور دور\nخاموشیوں کا درد شناسا نہیں ملا\n\nقدموں کو شوق آبلہ پائی تو مل گیا\nلیکن بہ ظرف وسعت صحرا نہیں ملا\n\nکنعاں میں بھی نصیب ہوئی خود دریدگی\nچاک قبا کو دست زلیخا نہیں ملا\n\nمہر و وفا کے دشت نوردو جواب دو\nتم کو بھی وہ غزال ملا یا نہیں ملا\n\nکچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی\nمضبوط کشتیوں کو کنارا نہیں ملا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%8C_%DA%86%D9%84%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%86%D9%82%D8%B4_%DA%A9%D9%81_%D9%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "آنسو", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میرے پہلو میں جو بہہ نکلے تمہارے آنسو\nبن گئے شام محبت کے ستارے آنسو\n\nدیکھ سکتا ہے بھلا کون یہ پارے آنسو\nمیری آنکھوں میں نہ آ جائیں تمہارے آنسو\n\nشمع کا عکس جھلکتا ہے جو ہر آنسو میں\nبن گئے بھیگی ہوئی رات کے تارے آنسو\n\nمینہ کی بوندوں کی طرح ہو گئے سستے کیوں آج\nموتیوں سے کہیں مہنگے تھے تمہارے آنسو\n\nصاف اقرار محبت ہو زباں سے کیوں کر\nآنکھ میں آ گئے یوں شرم کے مارے آنسو\n\nہجر ابھی دور ہے میں پاس ہوں اے جان وفا\nکیوں ہوئے جاتے ہیں بے چین تمہارے آنسو\n\nصبح دم دیکھ نہ لے کوئی یہ بھیگا آنچل\nمیری چغلی کہیں کھا دیں نہ تمہارے آنسو\n\nاپنے دامان و گریباں کو میں کیوں پیش کروں\nہیں مرے عشق کا انعام تمہارے آنسو\n\nدم رخصت ہے قریب اے غم فرقت خوش ہو\nکرنے والے ہیں جدائی کے اشارے آنسو\n\nصدقے اس جان محبت کے میں اخترؔ جس کے\nرات بھر بہتے رہے شوق کے مارے آنسو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88"} {"title": "آنسو تھمے جو رخ پہ وہ گیسو بکھر گیا", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنسو تھمے جو رخ پہ وہ گیسو بکھر گیا\nملتے ہی دونوں وقت کے دریا ٹھہر گیا\n\nاچھا ہوا شباب کا عالم گزر گیا\nاک جن چڑھا ہوا مرے سر سے اتر گیا\n\nیار آ کے خواب میں مجھے شرمندہ کر گیا\nکیا سخت جان تھا کہ نہ فرقت میں مر گیا\n\nعشاق کم سنی سے وہ کم سن حباب وار\nجوبن نے جب کچوں کو ابھارا ابھر گیا\n\nاے ہم سفیر بال فشانی کا ذکر کیا\nتولا جو بازوؤں کو پروں کو کتر گیا\n\nلوح مزار بھی جو بنائی وہ سنگ دل\nپتھر کی سل تراش کے چھاتی پہ دھر گیا\n\nمرنے پہ قبر بھی جو کھدی مہر کی طرح\nمیں بے نشان مثل نگیں نام کر گیا\n\nبگڑا بناؤ کر کے جو وہ بت رقیب سے\nفضل خدا سے کام ہمارا سنور گیا\n\nکیا آبدارئ دم خنجر بیاں کروں\nپانی کا گھونٹ تھا کہ گلے سے اتر گیا\n\nسنتے ہیں جان ہجر میں عرشؔ حزیں نے دی\nبھوکا وصال یار کا کچھ کھا کے مر گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%D8%AA%DA%BE%D9%85%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D8%AE_%D9%BE%DB%81_%D9%88%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%D8%A8%DA%A9%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیں", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیں\nدریا تیری رحمت کے یہ لہرائے ہوئے ہیں\n\nاللہ ری حیاء حشر میں اللہ کے آگے\nہم سب کے گناہوں پہ وہ شرمائے ہوئے ہیں\n\nمیں نے چمن خلد کے پھولوں کو بھی دیکھا\nسب آگے ترے چہرے کے مرجھائے ہوئے ہیں\n\nبھاتا نہیں کوئی ، نظر آتا نہیں کوئی\nدل میں وہی آنکھوں میں وہی چھائے ہوئے ہیں\n\nروشن ہوئے دل پر تو رخسار نبی سے\nیہ ذرے اسی مہر کے چمکائے ہوئے ہیں\n\nشاہوں سے وہیں کیا جو گدا ہیں ترے در کے\nیہ اے شاہ خوباں تری شہ پائے ہوئے ہیں\n\nآئے ہیں جو وہ بے خودی ءِ شوق کو سن کر\nاس وقت امیر آپ میں ہم آئے ہوئے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آنسوؤں سے خون کے اجزا بدلتے جائیں گے", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنسوؤں سے خون کے اجزا بدلتے جائیں گے\nدل کے سب ارمان آنکھوں سے نکلتے جائیں گے\n\nاک قیامت ہے عبارت وعدۂ دیدار کی\nدن گزرتے جائیں گے معنی بدلتے جائیں گے\n\nہر نفس ہے شمع غم کا شعلہ میں جو کچھ کہوں\nمثل پروانہ مرے الفاظ جلتے جائیں گے\n\nہے دگر گوں حال دل قاصد ہمیں بھی ساتھ لے\nجابجا خط کی عبارت ہم بدلتے جائیں گے\n\nعشق کی وادی میں ناطقؔ گر کے مرنا ہے ضرور\nہر قدم پر کب تک آخر ہم سنبھلتے جائیں گے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88%D8%A4%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AC%D8%B2%D8%A7_%D8%A8%D8%AF%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "آنکھ ابر بہاری سے لڑی رہتی ہے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آنکھ ابر بہاری سے لڑی رہتی ہے\nاشکوں کی ردا منہ پہ پڑی رہتی ہے\nدونوں آنکھیں ہیں میری ساون بھادوں\nیاں سارے برس ایک جھڑی رہتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%84%DA%91%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "آنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہے\nجان کشتی قضا سے لڑتی ہے\n\nشعلہ بھڑکے نہ کیوں کہ محفل میں\nشمع تجھ بن ہوا سے لڑتی ہے\n\nقسمت اس بت سے جا لڑی اپنی\nدیکھو احمق خدا سے لڑتی ہے\n\nشور قلقل یہ کیوں ہے دختر رز\nکیا کسی پارسا سے لڑتی ہے\n\nنہیں مژگاں کی دو صفیں گویا\nاک بلا اک بلا سے لڑتی ہے\n\nنگۂ ناز اس کی عاشق سے\nچھوٹ کس کس ادا سے لڑتی ہے\n\nتیرے بیمار کے سر بالیں\nموت کیا کیا شفا سے لڑتی ہے\n\nزال دنیا نے صلح کی کس دن\nیہ لڑاکا سدا سے لڑتی ہے\n\nواہ کیا کیا طبیعت اپنی بھی\nعشق میں ابتدا سے لڑتی ہے\n\nدیکھ اس چشم مست کی شوخی\nجب کسی پارسا سے لڑتی ہے\n\nتیری شمشیر خوں کے چھینٹوں سے\nچھینٹے آب بقا سے لڑتی ہے\n\nسچ ہے الحرب خدعۃ اے ذوقؔ\nنگہ اس کی دغا سے لڑتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%B1%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%84%DA%91%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "آنکھ اٹھائی نہیں وہ سامنے سو بار ہوئے", "poet_page": "مصنف:مفتی صدر الدین خان آزردہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھ اٹھائی نہیں وہ سامنے سو بار ہوئے\nہجر میں ایسے فرامش گر دیدار ہوئے\n\nکامل اس فرقۂ زہاد میں اٹھا نہ کوئی\nکچھ ہوئے تو یہی رندان قدح خوار ہوئے\n\nنہ اٹھی بیٹھ کے خاک اپنی ترے کوچے میں\nہم نہ یاں دوش ہوا کے بھی کبھی یار ہوئے\n\nصبح لے آئنہ اس بت کو دکھایا ہم نے\nرات اغیار سے ملنے کے جو انکار ہوئے\n\nکچھ تعجب نہیں گر اب کے فلک ٹوٹ پڑے\nآج نالے جو کوئی اور بھی دو چار ہوئے\n\nمصر میں آج تجھے دیکھ کے پچھتائے ہیں\nسادہ لوحی سے جو یوسف کے خریدار ہوئے\n\nمبتذل میں ہی تو ہوں آپ جو کہیے سچ ہے\nرات جھگڑے تو مجھی پر سر بازار ہوئے\n\nیہ ہیں آزردہؔ جو کہتے ہوئے شیاً اللہ\nآج دریوزہ گر خانۂ خمار ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹ", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹ\nبچ گئی آنکھ دل پہ آئی چوٹ\n\nدرد دل کی انہیں خبر کیا ہو\nجانتا کون ہے پرائی چوٹ\n\nآئی تنہا نہ خانۂ دل میں\nدرد کو اپنے ساتھ لائی چوٹ\n\nتیغ تھی ہاتھ میں نہ خنجر تھا\nاس نے کیا جانے کیا لگائی چوٹ\n\nیوں نہ قاتل کو جب یقیں آیا\nہم نے دل کھول کر دکھائی چوٹ\n\nاور کیا کرتے ہم بلا کش غم\nجو پڑی دل پہ وہ اٹھائی چوٹ\n\nکہیں چھپتی بھی ہے لگی دل کی\nلاکھ فانیؔ نے گو چھپائی چوٹ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%86%D9%88%D9%B9"} {"title": "آنکھ جب ساقی پہ ڈالی جائے گی", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھ جب ساقی پہ ڈالی جائے گی\nپھر طبیعت کیا سنبھالی جائے گی\n\nچٹکیاں لینے کی وہ کرتے ہیں مشق\nشوخیوں میں جان ڈالی جائے گی\n\nکیوں پریشاں کر رہی ہے باغ میں\nبوئے گل تجھ سے صبا لی جائے گی\n\nہم ادھر ہیں سامنے ہے آئنہ\nآنکھ کس کس پر نکالی جائے گی\n\nپھول کیسے مر مٹوں کی قبر پر\nخاک بھی تم سے نہ ڈالی جائے گی\n\nدیکھنے ہی کو ہے بس ساقی کی آنکھ\nمے نہ اس ساغر میں ڈالی جائے گی\n\nدم نکل جائے گا حسرت سے مرا\nتیغ قاتل کی جو خالی جائے گی\n\nدل اگر ٹوٹا تو پھر بیکار ہے\nزلف بگڑے گی بنا لی جائے گی\n\nکیوں گلے ملتی نہیں وہ تیغ ناز\nعید کیا اب کی بھی خالی جائے گی\n\nکوئی کہتا ہے کہ صفدرؔ یہ غزل\nنور کے سانچے میں ڈھالی جائے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%BE%DB%81_%DA%88%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "آنکھ دکھلانے لگا ہے وہ فسوں ساز مجھے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھ دکھلانے لگا ہے وہ فسوں ساز مجھے\nکہیں اب خاک نہ چھنوائے یہ انداز مجھے\n\nکیسے حیراں تھے تم آئینے میں جب آنکھ لڑی\nآج تک یاد ہے اس عشق کا آغاز مجھے\n\nسامنے آ نہیں سکتے کہ حجاب آتا ہے\nپردۂ دل سے سناتے ہیں وہ آواز مجھے\n\nتیلیاں توڑ کے نکلے سب اسیران قفس\nمگر اب تک نہ ملی رخصت پرواز مجھے\n\nپر کتر دے ارے صیاد چھری پھیرنا کیا\nمار ڈالے گی یوں ہی حسرت پرواز مجھے\n\nزیر دیوار صنم قبر میں سوتا ہوں فلک\nکیوں نہ ہو طالع بیدار پر اب ناز مجھے\n\nبے دھڑک آئے نہ زنداں میں نسیم وحشت\nمست کر دیتی ہے زنجیر کی آواز مجھے\n\nپردۂ ہجر وہی ہستئ موہوم تھی یاسؔ\nسچ ہے پہلے نہیں معلوم تھا یہ راز مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%81%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "آنکھ سے دل میں آنے والا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھ سے دل میں آنے والا\nدل سے نہیں اب جانے والا\n\nگھر کو پھونک کے جانے والا\nپھر کے نہیں ہے آنے والا\n\nدوست تو ہے نادان ہے لیکن\nبے سمجھے سمجھانے والا\n\nآنسو پونچھ کے ہنس دیتا ہے\nآگ میں آگ لگانے والا\n\nہے جو کوئی تو دھیان اسی کا\nآنے والا جانے والا\n\nحسن کی بستی میں ہے یارو\nکوئی ترس بھی کھانے والا\n\nڈال رہا ہے کام میں مشکل\nمشکل میں کام آنے والا\n\nدی تھی تسلی یہ کس دل سے\nچپ نہ ہوا چلانے والا\n\nخواب کے پردے میں آتا ہے\nسوتا پا کے جگانے والا\n\nاک دن پردہ خود الٹے گا\nچھپ چھپ کے ترسانے والا\n\nآرزوؔ ان کے آگے ہے چپ کیوں\nتم سا باتیں بنانے والا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا\nمیرا دامن آج دامان ثریا ہو گیا\n\nاس کے جی میں کیا یہ آئی یہ اسے کیا ہو گیا\nخود چھپا عالم سے اور خود عالم آرا ہو گیا\n\nبندۂ معنیٰ کہاں صورت کا بندا ہو گیا\nسوچتا ہوں مجھ کو کیا ہونا تھا میں کیا ہو گیا\n\nپھر تصور نے بڑھا دی نالۂ موزوں کی لے\nپھر سواد فکر سے اک شعر پیدا ہو گیا\n\nاب کہاں مایوسیوں میں جھلکیاں امید کی\nوہ بھی کیا دن تھے کہ تیرا غم گوارا ہو گیا\n\nجان دے دی میں نے تنگ آ کر وفور درد سے\nآج منشائے جفائے دوست پورا ہو گیا\n\nبرہمن کہتا تھا برہم شیخ بول اٹھا احد\nحرف کے اک پھیر سے دونوں میں جھگڑا ہو گیا\n\nوحدت و کثرت کے جلوے خلقت انساں میں دیکھ\nایک ذرہ اس قدر پھیلا کہ دنیا ہو گیا\n\nبربریت کی جہاں میں گرم بازاری ہوئی\nآدمیت کی رگوں میں خون ٹھنڈا ہو گیا\n\nآشیاں بننے نہ پایا تھا کہ بجلی گر پڑی\nباغ ابھی بسنے نہ پایا تھا کہ صحرا ہو گیا\n\nآ گیا سیلاب بالیں تک وفور گریہ سے\nرحم کر یا رب کہ پانی سر سے اونچا ہو گیا\n\nاتفاق وقت تھا اپنا فروغ آشیاں\nجب کوئی جگنو چمک اٹھا اجالا ہو گیا\n\nدل کھنچا جتنا قفس میں آشیانے کی طرف\nدور اتنا ہی قفس سے آشیانا ہو گیا\n\nہم مسافر تھے ہمارا مستقر کوئی نہ تھا\nرات جب آئی جہاں آئی بسیرا ہو گیا\n\nہو گئے رخصت رئیسؔ و عالؔی و واصفؔ نثارؔ\nرفتہ رفتہ آگرہ سیمابؔ سونا ہو گیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%B9%D9%BE%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آنکھ سے پردہ نہ کر پردے کا گھر یہ بھی تو ہے", "poet_page": "مصنف:چندو لعل بہادر شادان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھ سے پردہ نہ کر پردے کا گھر یہ بھی تو ہے\nتو تو دیکھے ہم نہ دیکھیں طرفہ تر یہ بھی تو ہے\n\nبھول کر دیکھا تجھے آنکھوں میں ہے تیری شبیہ\nدیکھتا ہی کیوں ادھر پیش نظر یہ بھی تو ہے\n\nچھپ کے اس کو دیکھنا چاہیں تو دیکھیں کس طرح\nدیکھتے دیکھے نہ کوئی ہم کو ڈر یہ بھی تو ہے\n\nیوں صنم ہم سے صفائی کہ نہیں کرتے کلام\nبات کرنے میں تمہارے اک ہنر یہ بھی تو ہے\n\nہے بہت مشتاق شاداںؔ کب ادھر آئے گا تو\nاس طرف آ جا کہ تیری رہ گزر یہ بھی تو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہے\nیہ میسر ہو تو پھر کیوں کوئی ناشاد رہے\n\nاس زمانے میں خموشی سے نکلتا نہیں کام\nنالہ پر شور ہو اور زوروں پہ فریاد رہے\n\nدرد کا کچھ تو ہو احساس دل انساں میں\nسخت ناشاد ہے دائم جو یہاں شاد رہے\n\nاے ترے دام محبت کے دل و جاں صدقے\nشکر ہے قید علائق سے ہم آزاد رہے\n\nنالہ ایسا ہو کہ ہو اس پہ گمان نغمہ\nرہے اس طرح اگر شکوۂ بیداد رہے\n\nہر طرف دام بچھائے ہیں ہوس نے کیا کیا\nکیا یہ ممکن ہے یہاں کوئی دل آزاد رہے\n\nجب یہ عالم ہو کہ منڈلاتی ہو ہر سمت کو برق\nکیوں کوئی نوحہ گر خرمن برباد رہے\n\nاب تصور میں کہاں شکل تمنا وحشتؔ\nجس کو مدت سے نہ دیکھا ہو وہ کیا یاد رہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "آنکھ پڑتی ہے کہیں پاؤں کہیں پڑتا ہے", "poet_page": "مصنف:محمد علی تشنہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھ پڑتی ہے کہیں پاؤں کہیں پڑتا ہے\nسب کی ہے تم کو خبر اپنی خبر کچھ بھی نہیں\n\nشمع ہے گل بھی ہے بلبل بھی ہے پروانہ بھی\nرات کی رات یہ سب کچھ ہے سحر کچھ بھی نہیں\n\nحشر کی دھوم ہے سب کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے\nفتنہ ہے اک تری ٹھوکر کا مگر کچھ بھی نہیں\n\nنیستی کی ہے مجھے کوچۂ ہستی میں تلاش\nسیر کرتا ہوں ادھر کی کہ جدھر کچھ بھی نہیں\n\nلا مکاں میں بھی تو اک جلوہ نظر آتا ہے\nبے کسی میں تو ادھر ہوں کہ جدھر کچھ بھی نہیں\n\nایک آنسو بھی اثر جب نہ کرے اے تشنہؔ\nفائدہ رونے سے اب دیدۂ تر کچھ بھی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%BE%DA%91%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%91%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "آنکھ پڑتے ہی نہ تھا نام شکیبائی کا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھ پڑتے ہی نہ تھا نام شکیبائی کا\nدر مے خانہ تھا نقشہ تری انگڑائی کا\n\nماسوا اس کے نہیں جس کا کوئی اور شریک\nکون بتلائے گا عالم مری تنہائی کا\n\nپاک دامانیٔ یوسف تھی زلیخا کی سزا\nراستہ چاک سے پیدا ہوا رسوائی کا\n\nسختیاں ہمت دل ہو تو بدل جاتی ہیں\nموت اک کھیل ہے لیکن ترے شیدائی کا\n\nہم کو ان مے کدۂ دہر سے امید نہیں\nساغر الٹا ہوا ہے گنبد بینائی کا\n\nتار ملبوس میں تھی یا خط تقدیر میں تھی\nحال کھلتا نہیں یعقوب کی بینائی کا\n\nآنے دے نیند تو سب سوئیں مگر اے توبہ\nنالۂ‌ عشق کا اس پر شب تنہائی کا\n\nدل نازک متحمل نہیں غم ہو کہ سرور\nپھول مقتول ہے خود اپنی ہی رعنائی کا\n\nنہ ہوا وصل تمنا نہ گھٹی وحشت دل\nکیا نتیجہ تھا مری بادیہ پیمائی کا\n\nوہ نہ آئیں سر بالیں کہ میں بچنے کا نہیں\nدم نہ ٹوٹے مرے ساتھ ان کی مسیحائی کا\n\nآئنہ جس میں سدا ڈوب کے ابھرا کیا حسن\nایک ٹھہرا ہوا پانی ہے خود آرائی کا\n\nساتھ دینے کا تو احسان ہے مجھ پر لیکن\nشمع نے نام ڈبویا مری تنہائی کا\n\nحسن کے ہاتھ بندھے تو وہ ذرا دیر سہی\nمجھ پر احساں تری آئی ہوئی انگڑائی کا\n\nاس کے سننے کے لئے جمع ہوا ہے محشر\nرہ گیا تھا جو فسانہ مری رسوائی کا\n\nشوق پا بوسیٔ محبوب تھا ورنہ ثاقبؔ\nسنگ در پر کوئی موقع تھا جبیں سائی کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%BE%DA%91%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%B4%DA%A9%DB%8C%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو\nہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو\n\nاس بت کے لیے میں ہوس حور سے گزرا\nاس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو\n\nچشمک مری وحشت پہ ہے کیا حضرت ناصح\nطرز نگہ چشم فسوں ساز تو دیکھو\n\nارباب ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلے\nکم طالعی عاشق جاں باز تو دیکھو\n\nمجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ\nبدنامیٔ عشاق کا اعزاز تو دیکھو\n\nمحفل میں تم اغیار کو دز دیدہ نظر سے\nمنظور ہے پنہاں نہ رہے راز تو دیکھو\n\nاس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک\nشعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو\n\nدیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسو\nاس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو\n\nجنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سے\nجور اجل تفرقہ پرداز تو دیکھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%D9%B9%D9%BE%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "آنکھوں سے خون اپنے یہ کہتا نہیں نہ جائے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھوں سے خون اپنے یہ کہتا نہیں نہ جائے\nپر ساتھ اس کے لپٹا ہوا دل کہیں نہ جائے\n\nاتنی تو چاہئے تجھے پاس شکستہ دل\nجو آوے تیرے یاں سو وہ اندوہگیں نہ جائے\n\nصبر و قرار و ہوش و خرد سب کے سب یہ جائیں\nپر داغ عشق سینہ سے اے ہم نشیں نہ جائے\n\nدیر و حرم میں جا کے جو چاہے پھر آ سکے\nپر آوے جو گلی میں تری وہ کہیں نہ جائے\n\nہم گریہ ناک ہیں یہ سدا سے ہے عیب پوش\nآنکھوں سے دور اپنے کہیں آستیں نہ جائے\n\nہے پارۂ عقیق جگر دیکھیو کہیں\nاے چشم تیرے ہاتھ سے ایسا نگیں نہ جائے\n\nنکلے نہ جان تن سے حسنؔ کی تو تب تلک\nجب تک تو اس کے سر پہ دم واپسیں نہ جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%88%D9%86_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئے\nخوابیدہ زندگی تھی جگا کر چلے گئے\n\nحسن ازل کی شان دکھا کر چلے گئے\nاک واقعہ سا یاد دلا کر چلے گئے\n\nچہرے تک آستین وہ لا کر چلے گئے\nکیا راز تھا کہ جس کو چھپا کر چلے گئے\n\nرگ رگ میں اس طرح وہ سما کر چلے گئے\nجیسے مجھی کو مجھ سے چرا کر چلے گئے\n\nمیری حیات عشق کو دے کر جنون شوق\nمجھ کو تمام ہوش بنا کر چلے گئے\n\nسمجھا کے پستیاں مرے اوج کمال کی\nاپنی بلندیاں وہ دکھا کر چلے گئے\n\nاپنے فروغ حسن کی دکھلا کے وسعتیں\nمیرے حدود شوق بڑھا کر چلے گئے\n\nہر شے کو میری خاطر ناشاد کے لیے\nآئینۂ جمال بنا کر چلے گئے\n\nآئے تھے دل کی پیاس بجھانے کے واسطے\nاک آگ سی وہ اور لگا کر چلے گئے\n\nآئے تھے چشم شوق کی حسرت نکالنے\nسر تا قدم نگاہ بنا کر چلے گئے\n\nاب کاروبار عشق سے فرصت مجھے کہاں\nکونین کا وہ درد بڑھا کر چلے گئے\n\nشکر کرم کے ساتھ یہ شکوہ بھی ہو قبول\nاپنا سا کیوں نہ مجھ کو بنا کر چلے گئے\n\nلب تھرتھرا کے رہ گئے لیکن وہ اے جگرؔ\nجاتے ہوئے نگاہ ملا کر چلے گئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "آنکھوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں عیاں ہو کر", "poet_page": "مصنف:فرحت کانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں عیاں ہو کر\nدل ہی میں نہ رہ جاؤ آنکھوں سے نہاں ہو کر\n\nہاں لب پہ بھی آ جاؤ انداز بیاں ہو کر\nآنکھوں میں بھی آ جاؤ اب دل کی زباں ہو کر\n\nکھل جاؤ کبھی مجھ سے مل جاؤ کبھی مجھ کو\nرہتے ہو مرے دل میں الفت کا گماں ہو کر\n\nہے شیخ کا یہ عالم اللہ رے بدمستی\nآنکھوں ہی سے ظاہر ہے آیا ہے جہاں ہو کر\n\nبدنامی و بربادی انجام محبت ہیں\nدنیا میں رہا فرحتؔ رسوائے جہاں ہو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "آنکھوں میں مروت تری اے یار کہاں ہے", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھوں میں مروت تری اے یار کہاں ہے\nپوچھا نہ کبھو مجھ کو وہ بیمار کہاں ہے\n\nنو خط تو ہزاروں ہیں گلستان جہاں میں\nہے صاف تو یوں تجھ سا نمودار کہاں ہے\n\nآرام مجھے سایۂ طوبیٰ میں نہیں ہے\nبتلاؤ کہ وہ سایۂ دیوار کہاں ہے\n\nلاؤ تو لہو آج پیوں دختر رز کا\nاے محتسبو دیکھو وہ مردار کہاں ہے\n\nفرقت میں اس ابرو کی گلا کاٹوں گا اپنا\nمیاں دیجو اسے دم مری تلوار کہاں ہے\n\nجن سے کہ ہو مربوط وہی تم کو ہے میمون\nانسان کی صحبت تمہیں درکار کہاں ہے\n\nدیکھوں جو تجھے خواب میں میں اے مہ کنعاں\nایسا تو مرا طالع بیدار کہاں ہے\n\nسنتے ہی اس آواز کی کچھ ہو گئی وحشت\nدیکھو تو وہ زنجیر کی جھنکار کہاں ہے\n\nدن چھینے وو جب دیکھیو غارت گری اس کی\nتب سوچیو خورشید کی دستار کہاں ہے\n\nاس دن کے ہوں صدقے کہ تو کھینچے ہوے تلوار\nیہ پوچھتا آوے وہ گنہ گار کہاں ہے\n\nہنستے تو ہو تم مجھ پہ ولیکن کوئی دن کو\nروؤگے کہ وہ میرا گرفتار کہاں ہے\n\nاے غم مجھے یاں اہل تعیش نے ہے گھیرا\nاس بھیڑ میں تو اے مرے غم خوار کہاں ہے\n\nجب تک کہ وہ جھانکے تھا ادھر مہر سے ہم تو\nواقف ہی نہ تھے مہر پر انوار کہاں ہے\n\nاس مہ کے سرکتے ہی یہ اندھیر ہے احساںؔ\nمعلوم نہیں رخنۂ دیوار کہاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D9%88%D8%AA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "آنکھوں میں مری پھرتی ہے تصویر کسی کی", "poet_page": "مصنف:مردان صفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مردان صفی (1914)", "year": "1914", "text_ur": "آنکھوں میں مری پھرتی ہے تصویر کسی کی\nتصویر میں ہوں میری ہے تصویر کسی کی\n\nبت اپنے ہی کو کہتے ہیں سب اہل تصوف\nتصویر بتاں ہوتی ہے تصویر کسی کی\n\nہے پیش و عقب دل کے مرے اور چپ و راست\nہر لحظہ میاں پھرتی ہے تصویر کسی کی\n\nہستی ہے کہیں اور نہ بستی ہے کسی کی\nدیکھا تو یہی ہستی ہے تصویر کسی کی\n\nتصویر مری میرے مصور کی ہے مرداںؔ\nہر دم یہ صدا دیتی ہے تصویر کسی کی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "آنکھوں میں ہیں حقیر جس تس کے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھوں میں ہیں حقیر جس تس کے\nنظروں سے گر گئے ہیں ہم کس کے\n\nدل کا ہمدم علاج مت کر اب\nزخم مرہم پذیر ہیں اس کے\n\nکون آتا ہے ایسا ہوش ربا\nصبر و طاقت یہاں سے کیوں کھسکے\n\nدیکھتی ہے یہ کس کی آنکھوں کو\nکیوں کھلے ہیں یہ چشم نرگس کے\n\nبس کہیں تھک بھی آسیائے فلک\nہو چکے سرمہ ہم تو اب پس کے\n\nجی سے رہتے ہیں اپنے اس پہ نثار\nدل سے ہوتے ہیں دوست ہم جس کے\n\nگو نہیں اب کبھی تو اے پیارے\nہم بھی تھے یار تیری مجلس کے\n\nتو تو خوش ہے کہ تیرے کوچہ میں\nایک تڑپا کرے اور اک سسکے\n\nمر گئے پر بھی یہ حسنؔ نہ مندے\nمنتظر چشم تھے ترے کس کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D8%B3_%D8%AA%D8%B3_%DA%A9%DB%92"} {"title": "آنکھوں پر آہ یاس کا پردہ سا پڑ گیا", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھوں پر آہ یاس کا پردہ سا پڑ گیا\nدنیا اجڑ گئی کہ مرا دل اجڑ گیا\n\nاللہ کیسا تفرقہ مرنے سے پڑ گیا\nمیں ایک ساتھ سارے جہاں سے بچھڑ گیا\n\nاب سوز دل کے ناز اٹھائے نہ جائیں گے\nآنسو جہاں گرا وہیں ناسور پڑ گیا\n\nمرنا پڑا کسے ترے ذوق گناہ سے\nاے دل خبر بھی ہے کوئی غیرت سے گڑ گیا\n\nآنکھوں میں اب تو اور بھی پھرتا ہے آشیاں\nہاں سن لیا بہار کا خیمہ اکھڑ گیا\n\nوقت وداع دل پہ کچھ ایسی گزر گئی\nاب تک خبر نہیں کہ میں کس سے بچھڑ گیا\n\nوہ کون اور چیز ہے عاشق کا دل نہیں\nجس دل میں بن کے نقش تمنا بگڑ گیا\n\nقدرت نے ہاتھ چوم لئے اس کے وجد میں\nجو نقش کائنات پر آئینہ جڑ گیا\n\nدنیا کراہنے کی صدا بن کے رہ گئی\nمیں دل کو مرتے دیکھ کے آفت میں پڑ گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%B3%D8%A7_%D9%BE%DA%91_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہے", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہے\nکالی جادو جگا رہی ہے\n\nزنجیر جو کھڑکھڑا رہی ہے\nوحشت کیا غل مچا رہی ہے\n\nلیلیٰ خاکہ اڑا رہی ہے\nمجنوں کو ہوا بتا رہی ہے\n\nزلفیں وہ پری ہلا رہی ہے\nدیوانوں کی شامت آ رہی ہے\n\nپامال خرام ہو چکے دفن\nپسنے کو بس اب حنا رہی ہے\n\nہیں چال سے ان کی زندہ درگور\nمردوں پہ قیامت آ رہی ہے\n\nدل نے الفت سے زک اٹھائی\nآنکھوں دیکھا رلا رہی ہے\n\nگویا ہونے دے بے زبانی\nکیوں میرا گلا دبا رہی ہے\n\nآغاؔ صاحب گلی میں ان کی\nاک حور تمہیں بلا رہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%A2_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا\nآیا جو میرے سامنے میرا غرور تھا\n\nتاریک مثل آہ جو آنکھوں کا نور تھا\nکیا صبح ہی سے شام بلا کا ظہور تھا\n\nوہ تھے نہ مجھ سے دور نہ میں ان سے دور تھا\nآتا نہ تھا نظر تو نظر کا قصور تھا\n\nہر وقت اک خمار تھا ہر دم سرور تھا\nبوتل بغل میں تھی کہ دل ناصبور تھا\n\nکوئی تو دردمند دل ناصبور تھا\nمانا کہ تم نہ تھے کوئی تم سا ضرور تھا\n\nلگتے ہی ٹھیس ٹوٹ گیا ساز آرزو\nملتے ہی آنکھ شیشۂ دل چور چور تھا\n\nایسا کہاں بہار میں رنگینیوں کا جوش\nشامل کسی کا خون تمنا ضرور تھا\n\nساقی کی چشم مست کا کیا کیجیے بیان\nاتنا سرور تھا کہ مجھے بھی سرور تھا\n\nپلٹی جو راستے ہی سے اے آہ نامراد\nیہ تو بتا کہ باب اثر کتنی دور تھا\n\nجس دل کو تم نے لطف سے اپنا بنا لیا\nاس دل میں اک چھپا ہوا نشتر ضرور تھا\n\nاس چشم مے فروش سے کوئی نہ بچ سکا\nسب کو بقدر حوصلۂ دل سرور تھا\n\nدیکھا تھا کل جگرؔ کو سر راہ مے کدہ\nاس درجہ پی گیا تھا کہ نشے میں چور تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "آنکھوں کا خدا ہی ہے یہ آنسو کی ہے گر موج", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھوں کا خدا ہی ہے یہ آنسو کی ہے گر موج\nکشتی بچے کیوں کر جو رہے آٹھ پہر موج\n\nاے بحر نہ تو اتنا امنڈ چل مرے آگے\nرو رو کے ڈبا دوں گا کبھی آ گئی گر موج\n\nپہنچا نہیں گر تیرا قدم تا لب دریا\nساحل سے پٹک سر کو ہے کیوں خاک بہ سر موج\n\nگر عالم آب اس کا کمیں گاہ نہیں ہے\nکیوں طائر بسمل کی طرح مارے ہے پر موج\n\nاٹھتے نہیں ساحل کی مثال اپنے مکاں سے\nدریا کی طرح مارتے ہیں اپنے ہی گھر موج\n\nکیا پوچھتے ہو اشک کے دریا کا تلاطم\nجاتی ہے نظر جس طرف آتی ہے نظر موج\n\nگر نہیں ہے حضورؔ اوس کو ہوس دید کی اس کے\nکیوں کھولے حبابوں سے ہے یوں دیدۂ تر موج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D9%88%D8%AC"} {"title": "آنکھوں کو انتظار سے گرویدہ کر چلے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھوں کو انتظار سے گرویدہ کر چلے\nتم یہ تو خوب کارِ پسندیدہ کر چلے\n\nمایوس دل کو پھر سے وہ شوریدہ کر چلے\nبیدار سارے فتنہ و خوابیدہ کر چلے\n\nاظہار التفات کے پردے میں اور بھی\nوہ عقدہ ہائے شوق کو پیچیدہ کر چلے\n\nہم بے خودوں سے چھپ نہ سکا راز آرزو\nسب اُن سے عرضِ حال دل و دیدہ کر چلے\n\nتسکینِ اضطراب کو آئے تھے وہ مگر\nبے تابیوں کی روح کو بالیدہ کر چلے\n\nیہ طرفہ ماجرا ہے کہ حسرت سے مل کے وہ\nکچھ جان و دل کو اور بھی شوریدہ کر چلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "آنکھوں کو سوجھتا ہی نہیں کچھ سوائے دوست", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "آنکھوں کو سوجھتا ہی نہیں کچھ سوائے دوست\nکانوں میں آ رہی ہے برابر صدائے دوست\n\nکیسی وفا ستم سے بھی اس نے اٹھائے ہاتھ\nرہ رہ کے یاد اب آتی ہے طرز جفائے دوست\n\nسینے میں داغ ہائے محبت کی ہے بہار\nپھولا ہے خوب یہ چمن دل کشائے دوست\n\nدل میں مرے جگر میں مرے آنکھ میں مری\nہر جا ہے دوست اور نہیں ملتی ہے جائے دوست\n\nمدت سے پاؤں توڑے ہوئے بیٹھے تھے شرفؔ\nآخر اڑا کے لے ہی چلی اب ہوائے دوست", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%88%D8%AC%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA"} {"title": "آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوں\nیا عشق کی پکڑ کر گردن مروڑ ڈالوں\n\nیک قطرہ خوں بغل میں ہے دل مری سو اس کو\nپلکوں سے تیری خاطر کیوں کر نچوڑ ڈالوں\n\nوہ آہوئے رمیدہ مل جائے تیرہ شب گر\nکتا بنوں شکاری اس کو بھنبھوڑ ڈالوں\n\nخیاط نے قضا کے جامہ سیا جو میرا\nآیا نہ جی میں اتنا کیا اس میں جوڑ ڈالوں\n\nوہ سنگ دل ہوا ہے اک سنگ دل پہ عاشق\nآتا ہے جی میں سر کو پتھروں سے پھوڑ ڈالوں\n\nبیٹھا ہوں خالی آخر اے آنسوؤ کروں کیا\nدو چار گوکھرو ہی لاؤ نہ موڑ ڈالوں\n\nتقصیر مصحفیؔ کی ہووے معاف صاحب\nفرماؤ تو تمہارے لا اس کو گوڑ ڈالوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D9%88%DA%91_%DA%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88%DA%91_%DA%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA"} {"title": "آنکھیں", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سرکنڈوں کے پیچھے", "year": "1955", "text_ur": "اس کے سارے جسم میں مجھے اس کی آنکھیں بہت پسند تھیں۔یہ آنکھیں بالکل ایسی ہی تھیں جیسے اندھیری رات میں موٹر کارکی ہیڈ لائیٹس ،جن کو آدمی سب سے پہلے دیکھتا ہے۔ آپ یہ نہ سمجھیے گا کہ وہ بہت خوبصورت آنکھیں تھیں۔ ہرگز نہیں۔ میں خوبصورتی اور بدصورتی میں تمیز کرسکتا ہوں۔ لیکن معاف کیجیے گا، ان آنکھوں کے معاملے میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ وہ خوبصورت نہیں تھیں۔ لیکن اس کے باوجود ان میں بے پناہ کشش تھی۔\n\nمیری اور ان آنکھوں کی ملاقات ایک ہسپتال میں ہوئی۔ میں اس ہسپتال کا نام آپ کو بتانا نہیں چاہتا، اس لیے کہ اس سے میرے اس افسانے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔بس آپ یہی سمجھ لیجیے کہ ایک ہسپتال تھا، جس میں میرا ایک عزیز آپریشن کرانے کے بعد اپنی زندگی کے آخری سانس لے رہا تھا۔یوں تو میں تیمار داری کا قائل نہیں، مریضوں کے پاس جا کر ان کو دم دلاسہ دینا بھی مجھے نہیں آتا لیکن اپنی بیوی کے پیہم اصرار پر مجھے جانا پڑتا کہ میں اپنے مرنے والے عزیز کو اپنے خلوص اور محبت کا ثبوت دے سکوں۔یقین مانیے کہ مجھے سخت کوفت ہورہی تھی۔ ہسپتال کے نام ہی سے مجھے نفرت ہے، معلوم نہیں کیوں۔ شاید اس لیے کہ ایک بار بمبئی میں اپنی بوڑھی ہمسائی کو جس کی کلائی میں موچ آگئی تھی، مجھے جے جے ہسپتال میں لے جانا پڑا تھا۔ وہاں کیوژوالٹی ڈیپارٹمنٹ میں مجھے کم از کم ڈھائی گھنٹے انتظار کرنا پڑا تھا۔ وہاں میں جس آدمی سے بھی ملا، لوہے کے مانند سرد اور بے حس تھا۔\n\nمیں ان آنکھوں کا ذکر کررہا تھا جو مجھے بے حد پسند تھیں۔پسند کا معاملہ انفرادی حیثیت رکھتا ہے۔ بہت ممکن ہے اگر آپ یہ آنکھیں دیکھتے تو آپ کے دل و دماغ میں کوئی رد عمل پیدا نہ ہوتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ سے اگر ان کے بارے میں کوئی رائے طلب کی جاتی تو آپ کہہ دیتے،’’نہایت واہیات آنکھیں ہیں۔‘‘ لیکن جب میں نے اس لڑکی کو دیکھا تو سب سے پہلے مجھے اس کی آنکھوں نے اپنی طرف متوجہ کیا۔\n\nوہ برقع پہنے ہوئے تھی، مگر نقاب اٹھا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں دوا کی بوتل تھی اور وہ جنرل وارڈ کے برآمدے میں ایک چھوٹے سے لڑکے کے ساتھ چلی آرہی تھی۔میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں جو بڑی تھیں، نہ چھوٹی، سیاہ تھیں نہ بھوری، نیلی تھیں نہ سبز، ایک عجیب قسم کی چمک پیدا ہوئی۔ میرے قدم رک گئے۔ وہ بھی ٹھہر گئی۔ اس نے اپنے ساتھی لڑکے کا ہاتھ پکڑا اور بوکھلائی ہوئی آواز میں کہا،’’تم سے چلا نہیں جاتا!‘‘ لڑکے نے اپنی کلائی چھڑائی اور تیزی سے کہا،’’چل تو رہا ہوں،تو تو اندھی ہے!‘‘\n\nمیں نے یہ سنا تو اس لڑکی کی آنکھوں کی طرف دوبارہ دیکھا۔ اس کے سارے وجود میں صرف اس کی آنکھیں ہی تھیں جو پسند آئی تھیں۔\n\nمیں آگے بڑھا اور اس کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے مجھے پلکیں نہ جھپکنے والی آنکھوں سے دیکھا اور پوچھا،’’ایکسرے کہاں لیا جاتا ہے؟‘‘ اتفاق کی بات ہے کہ ان دنوں ایکسرے ڈیپارٹمنٹ میں میرا ایک دوست کام کررہا تھا، اور میں اسی سے ملنے کے لیے آیا تھا۔ میں نے اس لڑکی سے کہا،’’آؤ، میں تمہیں وہاں لے چلتا ہوں، میں بھی ادھر ہی جارہا ہوں۔‘‘\n\nلڑکی نے اپنے ساتھی لڑکے کا ہاتھ پکڑا اور میرے ساتھ چل پڑی۔ میں نے ڈاکٹر صادق کا پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ ایکسرے لینے میں مصروف ہیں۔\n\nدروازہ بند تھا اور باہر مریضوں کی بھیڑ لگی تھی۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے تیز و تند آواز آئی،’’کون ہے۔۔۔ دروازہ موت ٹھوکو!‘‘ لیکن میں نے پھر دستک دی۔ دروازہ کھلا اور ڈاکٹر صادق مجھے گالی دیتے دیتے رہ گئے،’’اوہ تم ہو!‘‘\n\n’’ہاں بھئی۔۔۔میں تم سے ملنے آیا تھا۔ دفتر میں گیا تو معلوم ہوا کہ تم یہاں ہو۔‘‘\n\n’’آجاؤ اندر۔‘‘ میں نے لڑکی کی طرف دیکھا اور اس سے کہا،’’آؤ۔۔۔ لیکن لڑکے کو باہر ہی رہنے دو!‘‘ ڈاکٹر صادق نے ہولے سے مجھ سے پوچھا،’’کون ہے یہ؟‘‘ میں نے جواب دیا،’’معلوم نہیں کون ہے۔۔۔ ایکسرے ڈیپارٹمنٹ کا پوچھ رہی تھی۔ میں نے کہا چلو، میں لیے چلتا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر صادق نے دروازہ اور زیادہ کھول دیا۔ میں اور وہ لڑکی اندر داخل ہوگئے۔\n\nچار پانچ مریض تھے۔ ڈاکٹر صادق نے جلدی جلدی ان کی سکریننگ کی اور انھیں رخصت کیا۔ اس کے بعد کمرے میں ہم صرف دو رہ گئے۔ میں اور وہ لڑکی۔ڈاکٹر صادق نے مجھ سے پوچھا،’’انھیں کیا بیماری ہے؟‘‘ میں نے اس لڑکی سے پوچھا،’’کیا بیماری ہے تمہیں۔۔۔ ایکسرے کے لیے تم سے کس ڈاکٹر نے کہا تھا؟‘‘ اندھیرے کمرے میں لڑکی نے میری طرف دیکھا اور جواب دیا،’’ مجھے معلوم نہیں کیا بیماری ہے۔۔۔ ہمارے محلے میں ایک ڈاکٹر ہے، اس نے کہا تھا کہ ایکسرے لو۔‘‘ ڈاکٹر صادق نے اس سے کہا کہ مشین کی طرف آئے۔ وہ آگے بڑھی تو بڑے زور کے ساتھ اس سے ٹکرا گئی۔ ڈاکٹر نے تیز لہجے میں اس سے کہا،’’کیا تمہیں سجھائی نہیں دیتا۔‘‘ لڑکی خاموش رہی۔ ڈاکٹر نے اس کا برقع اتارا اور اسکرین کے پیچھے کھڑا کردیا۔ پھر اس نے سوئچ اون کیا۔ میں نے شیشے میں دیکھا تو مجھے اس کی پسلیاں نظر آئیں۔ اس کا دل بھی ایک کونے میں کالے سے دھبے کی صورت میں دھڑک رہا تھا۔\n\nڈاکٹر صادق پانچ چھ منٹ تک اس کی پسلیوں اور ہڈیوں کو دیکھتا رہا۔ اس کے بعد اس نے سوئچ اوف کردیا اور روشنی کرکے مجھ سے مخاطب ہوا،’’چھاتی بالکل صاف ہے۔‘‘ لڑکی نے معلوم نہیں کیا سمجھا کہ اپنی چھاتیوں پر جو کافی بڑی بڑی تھیں، دوپٹے کو درست کیا اور برقع ڈھونڈنے لگی۔برقع ایک کونے میں میز پر پڑا تھا۔ میں نے بڑھ کر اسے اٹھایا اور اسکے حوالے کردیا۔ ڈاکٹر صادق نے رپورٹ لکھی اور اس سے پوچھا،’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ لڑکی نے برقع اوڑھتے ہوئے جواب دیا،’’جی میرا نام۔۔۔ میرا نام حنیفہ ہے۔‘‘\n\n’’حنیفہ!‘‘ ڈاکٹر صادق نے اس کا نام پرچی پر لکھا اور اس کو دے دی۔’’جاؤ، یہ اپنے ڈاکٹر کو دکھا دینا۔‘‘ لڑکی نے پرچی لی اور قمیص کے اندر اپنی انگیا میں اڑس لی۔جب وہ باہر نکلی تو میں غیر ارادی طور پر اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ لیکن مجھے اس کا پوری طرح احساس تھا کہ ڈاکٹر صادق نے مجھے شک کی نظروں سے دیکھا تھا۔ اسے جہاں تک میں سمجھتا ہوں، اس بات کا یقین تھا کہ اس لڑکی سے میرا تعلق ہے، حالانکہ جیسا آپ جانتے ہیں، ایسا کوئی معاملہ نہیں تھا۔۔۔ سوائے اس کے کہ مجھے اس کی آنکھیں پسند آگئی تھیں۔\n\nمیں اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ اس نے اپنے ساتھی لڑکے کی انگلی پکڑی ہوئی تھی۔ جب وہ تانگوں کے اڈے پر پہنچے تو میں نے حنیفہ سے پوچھا،’’تمہیں کہاں جانا ہے؟‘‘ اس نے ایک گلی کا نام لیا تو میں نے اس سے جھوٹ موٹ کہا،’’مجھے بھی ادھر ہی جانا ہے۔۔۔ میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑدوں گا۔‘‘ میں نے جب اس کا ہاتھ پکڑ کر تانگے میں بٹھایا تو مجھے محسوس ہوا کہ میری آنکھیں ایکس ریز کا شیشہ بن گئی ہیں۔ مجھے اس کا گوشت پوست دکھائی نہیں دیتا تھا۔۔۔ صرف ڈھانچہ نظر آتا تھا۔۔۔ لیکن اس کی آنکھیں۔۔۔ وہ بالکل ثابت و سالم تھیں، جن میں بے پناہ کشش تھی۔میرا جی چاہتا تھا کہ اس کے ساتھ بیٹھوں لیکن یہ سوچ کر کہ کوئی دیکھ لے گا، میں نے اس کے ساتھی لڑکے کو اس کے ساتھ بٹھا دیا اور آپ اگلی نشست پر بیٹھ گیا۔\n\n’’میں۔۔۔میں سعادت حسن منٹو ہوں۔‘‘\n\n’’من ٹو۔۔۔ یہ من ٹو کیا ہوا؟‘‘\n\n’’ کشمیریوں کی ایک ذات ہے۔‘‘\n\n’’ہم بھی کشمیری ہیں۔‘‘\n\n’’اچھا!‘‘\n\n’’ ہم کنگ وائیس ہیں۔‘‘\n\nمیں نے مڑ کر اس سے کہا، ’’یہ تو بہت اونچی ذات ہے۔‘‘\n\nوہ مسکرائی اور اس کی آنکھیں اور زیادہ پرکشش ہوگئیں۔\n\nمیں نے اپنی زندگی میں بے شمار خوبصورت آنکھیں دیکھی تھیں۔ لیکن وہ آنکھیں جو حنیفہ کے چہرے پر تھیں، بے حد پرکشش تھیں۔ معلوم نہیں ان میں کیا چیز تھی جو کشش کا باعث تھی۔ میں اس سے پیشتر عرض کرچکا ہوں کہ وہ قطعاً خوبصورت نہیں تھیں، لیکن اس کے باوجود میرے دل میں کھب رہی تھیں۔میں نے جسارت سے کام لیا اور اس کے بالوں کی ایک لٹ کو جو اس کے ماتھے پر لٹک کر اس کی ایک آنکھ کو ڈھانپ رہی تھی، انگلی سے اٹھایا اور اسکے سر پر چسپاں کردی۔ اس نے برا نہ مانا۔میں نے اور جسارت کی اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس پر بھی اس نے کوئی مزاحمت نہ کی اور اپنے ساتھی لڑکے سے مخاطب ہوئی،’’تم میرا ہاتھ کیوں دبا رہے ہو؟‘‘ میں نے فوراً اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور لڑکے سے پوچھا،’’تمہارا مکان کہاں ہے؟‘‘ لڑکے نے ہاتھ کا اشارہ کیا،’’اس بازار میں!‘‘\n\nتانگے نے ادھر کا رخ کیا، بازار میں بہت بھیڑ تھی، ٹریفک بھی معمول سے زیادہ ۔تانگہ رک رک کر چل رہا تھا۔ سڑک میں چونکہ گڑھے تھے، اس لیے زور کے دھچکے لگ رہے تھے، بار بار اس کا سر میرے کندھوں سے ٹکراتا تھا اور میرا جی چاہتا تھا کہ اسے اپنے زانو پر رکھ لوں اور اس کی آنکھیں دیکھتا رہوں۔تھوڑی دیر کے بعد ان کا گھر آگیا۔ لڑکے نے تانگے والے سے رکنے کے لیے کہا۔ جب تانگہ رکا تو وہ نیچے اترا۔ حنیفہ بیٹھی رہی۔ میں نے اس سے کہا،’’تمہارا گھر آگیا ہے!‘‘ حنیفہ نے مڑ کر میری طرف عجیب و غریب آنکھوں سے دیکھا،’’بدرو کہاں ہے؟‘‘ میں نے اس سے پوچھا،’’کون بدرو؟‘‘\n\n’’وہ لڑکا جو میرے ساتھ تھا۔‘‘ میں نے لڑکے کی طرف دیکھا جو تانگے کے پاس ہی تھا،’’یہ کھڑا تو ہے!‘‘\n\n’’اچھا۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے بدرو سے کہا،’’بدرو! مجھے اتار تو دو۔‘‘ بدرو نے اس کا ہاتھ پکڑا اور بڑی مشکل سے نیچے اتارا۔ میں سخت متحیر تھا۔ پچھلی نشست پر جاتے ہوئے میں نے اس لڑکے سے پوچھا،’’کیا بات ہے، یہ خود نہیں اتر سکتیں؟‘‘ بدرو نے جواب دیا،’’ جی نہیں۔۔۔ ان کی آنکھیں خراب ہیں۔۔۔ دکھائی نہیں دیتا۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آنکھیں خدا نے بخشی ہیں رونے کے واسطے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھیں خدا نے بخشی ہیں رونے کے واسطے\nدو کشتیاں ملی ہیں ڈبونے کے واسطے\n\nعریاں چلوں میں قبر میں سونے کے واسطے\nکافی ہے مجھ کو پوست بچھونے کے واسطے\n\nکشتوں کے کھیت میں جو حضور آج ہنس پڑے\nموتی کے دانے مل گئے بونے کے واسطے\n\nنیند اڑ گئی ہے رنگ طلائی کی یاد میں\nپارس کا سرمہ چاہیئے سونے کے واسطے\n\nافسوں سے سامری کو جلاتے ہیں وصل میں\nجادو جگا رہے ہیں وہ ٹونے کے واسطے\n\nتڑپا میں خاک پر تو کیا چرخ نے کرم\nبجلی گرائی میرے بچھونے کے واسطے\n\nخوابیدگان خاک ہیں گریاں مزار پر\nسوتوں کی آنکھیں کھل گئیں رونے کے واسطے\n\nیہ گھل کے مر گیا ہوں کہ میرا کفن تمام\nجالا بنا ہے قبر کے کونے کے واسطے\n\nجینا ہے سب کو موت ہے تصویر کی طرح\nنقشے جمے ہوئے ہیں نہ ہونے کے واسطے\n\nسنگیں دلی سے چمپئی رنگوں کی ہے چمک\nسنگ مہک ضرور ہے سونے کے واسطے\n\nگویا زبان ہوں دہن روزگار میں\nکیا کیا مزے ملے مجھے کھونے کے واسطے\n\nنقش نگیں مہر مرا نقش آب ہے\nپیدا ہوا ہوں نام ڈبونے کے واسطے\n\nدانتوں کے عشق میں ہے یے اغراق لاغری\nدوڑا ہوں موتیوں کے پرونے کے واسطے\n\nچکی لگی ہے بوسۂ حسن ملیح کی\nزخموں کے منہ کھلی ہیں سلونے کے واسطے\n\nمیلا ہے فرش پر تو مہ آج مے کشو\nلاؤ شراب چاندنی دھونے کے واسطے\n\nشاید کریں گے چشمۂ خورشید میں وہ غسل\nشبنم چلی ہے پانی سمونے کے واسطے\n\nاس حسن پر نمک میں عجب ہے نمود خط\nدیکھا ہجوم مور سلونے کے واسطے\n\nقاروں کا بھی خزانہ لٹا دیجئے منیرؔ\nممسک کا مال لوٹیے کھونے کے واسطے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%AE%D8%B4%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92"} {"title": "آنکھیں دکھائیں غیر کو میری خطا کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:انور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھیں دکھائیں غیر کو میری خطا کے ساتھ\nمطلب ادا وہ کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ\n\nشوخی نگہ کے ساتھ تغافل جفا کے ساتھ\nعشاق پر ہجوم بلا ہے بلا کے ساتھ\n\nآخر ہوا نہ ضبط شب وصل مدعی\nنالہ نکل گیا مری لب سے دعا کے ساتھ\n\nتیرے ستم سے مجھ کو ملا منصب کلیم\nاک وجہ گفتگو نکل آئی خدا کے ساتھ\n\nتیرا حجاب اٹھتے ہی آیہ وہ ناگہاں\nدشمن کے پاؤں کھل گئے بند قبا کے ساتھ\n\nمیں کیا کہ دشمنوں کی بھی قسمت الٹ گئی\nترچھی ادائیں اور تیری بانکی ادا کے ساتھ\n\nراہ طلب میں شوق کی منظور ہے نمود\nمٹتے قدم قدم پہ چلے رہنما کے ساتھ\n\nیا رب غلط ہو فہم کج اندیش کا گماں\nکچھ کہہ رہا ہے ان سے عدو التجا کے ساتھ\n\nدیتے نہیں کسی کو پتہ اپنے حال کا\nبیگانہ بن کے چلتے ہیں ہر آشنا کے ساتھ\n\nمے بے طلب ملی تو ہوئی یار کی طلب\nبندوں کے ناز بھی ہیں نرالے خدا کے ساتھ\n\nجوش قلق میں دیکھیے کیا مانگتا ہوں میں\nیاروں کے دم نکلتے ہیں میری دعا کے ساتھ\n\nگھر سے مجھے نکالتے رہئے پر اس طرح\nگہ مدعی کے ساتھ گہے مدعا کے ساتھ\n\nکیوں شوق میں گرائیے ساتھ اپنے شان عشق\nاغماض بھی ضرور ہے کچھ التجا کے ساتھ\n\nکہتا ہوں یہ نصیب نہ دشمن کو ہو فراق\nآ میں وہ کہتے جاتے ہیں میری دعا کے ساتھ\n\nلیلیٰ کا نام زندہ ہے اب تک جہاں میں\nتم بھی نباہ دو کسی اہل وفا کے ساتھ\n\nپھرتے ہی اس کی آنکھ کے وابستہ تر ہوا\nمیں دل کے ساتھ دل نگہ فتنہ زا کے ساتھ\n\nہم عالم خیال میں کچھ بھی نہ خوش ہوئے\nہے رشک غیر یاد لب جاں فضا کے ساتھ\n\nاب تو بڑا خیال تیری رنجشوں کا ہے\nمحشر میں دیکھ لیں گے خدا کی خدا کے ساتھ\n\nکہتا ہے ڈر کے ہاتھ وفا سے اٹھا لیا\nدشمن کی بات بن گئی میری دعا کے ساتھ\n\nآتا ہے بوئے دوست میں کافر بسا ہوا\nقاصد بھی اک رقیب ہے اپنا صبا کے ساتھ\n\nکیا ڈھونڈھتے ہو دہر میں انورؔ جمال دوست\nچندے پھرو چلو کسی مرد خدا کے ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AE%D8%B7%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے\nارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے\n\nخاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتے\nسچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے\n\nکس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصل\nتم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے\n\nپروانوں نے فانوس کو دیکھا تو یہ بولے\nکیوں ہم کو جلاتے ہو کہ جلنے نہیں دیتے\n\nحیران ہوں کس طرح کروں عرض تمنا\nدشمن کو تو پہلو سے وہ ٹلنے نہیں دیتے\n\nدل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت\nہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے\n\nگرمئ محبت میں وہ ہیں آہ سے مانع\nپنکھا نفس سرد کا جھلنے نہیں دیتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D9%84%D9%88%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92"} {"title": "آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا\nہے حسرت پابوس نکل جائے تو اچھا\n\nجو چشم کہ بے نم ہو وہ ہو کور تو بہتر\nجو دل کہ ہو بے داغ وہ جل جائے تو اچھا\n\nبیمار محبت نے لیا تیرے سنبھالا\nلیکن وہ سنبھالے سے سنبھل جائے تو اچھا\n\nہو تجھ سے عیادت جو نہ بیمار کی اپنے\nلینے کو خبر اس کی اجل جائے تو اچھا\n\nکھینچے دل انساں کو نہ وہ زلف سیہ فام\nاژدر کوئی گر اس کو نگل جائے تو اچھا\n\nتاثیر محبت عجب اک حب کا عمل ہے\nلیکن یہ عمل یار پہ چل جائے تو اچھا\n\nدل گر کے نظر سے تری اٹھنے کا نہیں پھر\nیہ گرنے سے پہلے ہی سنبھل جائے تو اچھا\n\nفرقت میں تری تار نفس سینے میں میرے\nکانٹا سا کھٹکتا ہے نکل جائے تو اچھا\n\nاے گریہ نہ رکھ میرے تن خشک کو غرقاب\nلکڑی کی طرح پانی میں گل جائے تو اچھا\n\nہاں کچھ تو ہو حاصل ثمر نخل محبت\nیہ سینہ پھپھولوں سے جو پھل جائے تو اچھا\n\nوہ صبح کو آئے تو کروں باتوں میں دوپہر\nاور چاہوں کہ دن تھوڑا سا ڈھل جائے تو اچھا\n\nڈھل جائے جو دن بھی تو اسی طرح کروں شام\nاور چاہوں کہ گر آج سے کل جائے تو اچھا\n\nجب کل ہو تو پھر وہ ہی کہوں کل کی طرح سے\nگر آج کا دن بھی یوں ہی ٹل جائے تو اچھا\n\nالقصہ نہیں چاہتا میں جائے وہ یاں سے\nدل اس کا یہیں گرچہ بہل جائے تو اچھا\n\nہے قطع رہ عشق میں اے ذوقؔ ادب شرط\nجوں شمع تو اب سر ہی کے بل جائے تو اچھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D9%84%D9%88%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7"} {"title": "آنکھیں ہیں جوش اشک سے پنگھٹ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنکھیں ہیں جوش اشک سے پنگھٹ\nاشک پھرتے ہیں ان میں جیسے رہٹ\n\nمیں نہ سمجھا تھا خوب تیرے تئیں\nہے تو مطرب پسر بڑا نٹ کھٹ\n\nپی گئے ہم صراحیٔ مے کو\nدست ساقی سے لیتے ہی غٹ غٹ\n\nتیرا تیر نگہ ہے وہ کافر\nمنہ سے اک دم جدا تو کر گھونگٹ\n\nسمجھے تھے مار آپ دیکھی تھی\nآئینے میں کسی کی زلف کی لٹ\n\nجس کو کہتے ہیں عرصۂ ہستی\nتوسن عمر کی ہے اک سرپٹ\n\nمصحفیؔ اس کے رخ پہ خط آیا\nگئے وے دن گئی وہ رت ہی پلٹ\n\nجم کے بیٹھے نہ تھا جہاں کوئی\nرات دن اب رہے ہے واں جمگھٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%86%DA%AF%DA%BE%D9%B9"} {"title": "آنے اٹک اٹک کے لگی سانس رات سے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "آنے اٹک اٹک کے لگی سانس رات سے\nاب ہے امید صرف خدا ہی کی ذات سے\n\nساقی ہوائے سرد کو تو سرسری نہ جان\nکیفیت اس کی پوچھ نبات نبات سے\n\nاپنا صنم وہ قہر ہے اے برہمن کہ گر\nدیکھے منات کو تو گرا دیوے لات سے\n\nکل سے تو اختلاط میں تازہ ہے اختراع\nرکنے لگی ہیں آپ مری بات بات سے\n\nپیش آئیے بشفقت و لطف اس سے شیخ جی\nنبت العنب کو جانئے اپنے نبات سے\n\nحاصل کیا جو ہم نے قدم‌ بوس پیر دیر\nآئی صدائے عشق در سومنات سے\n\nہیں واجب الوجود کے انوار عشق میں\nاس کی صفات ذات نہیں ممکنات سے\n\nاشعار طبع زاد مری سن کے شوخ وہ\nکہنے لگا کہ فائدہ اس مہملات سے\n\nمطلق ملا کے آنکھ ادھر دیکھتے نہیں\nآتے نظر ہو آج بھی کم التفات سے\n\nانشاؔ نے آ لگا ہی لیا تم کو بات میں\nظالم وہ چوکتا ہے کوئی اپنی گھات سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%A9_%D8%A7%D9%B9%DA%A9_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%B3_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "آنے دو اپنے پاس مجھ کو", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنے دو اپنے پاس مجھ کو\nکرنا ہے کچھ التماس مجھ کو\n\nتیرے یہ جور کب سہوں میں\nگر عشق کا ہو نہ پاس مجھ کو\n\nدو طفل مزاج شیشہ دل میں\nکس طرح نہ ہو ہراس مجھ کو\n\nلگتا ہے نہ گھر میں دل نہ باہر\nکس نے یہ کیا اداس مجھ کو\n\nکیا حال کہوں کہ دیکھ اس کو\nرہتے ہی نہیں حواس مجھ کو\n\nاے نکہت گل پری ہی رہ تو\nآنا ہے اسی کے پاس مجھ کو\n\nمنہ پھیرا بھی نہ اس طرف سے\nٹک ہونے دے روشناس مجھ کو\n\nاٹھ جاؤں گا ایک دن خفا ہو\nیہاں تک نہ کرو اداس مجھ کو\n\nگر ہیں یہی جور اس کے بیدارؔ\nبچنے کی نہیں ہے آس مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں\nاب عہد وفا ٹوٹا کہ رہا تم اور کہیں ہم اور کہیں\n\nبے آپ خوشی سے ایک ادھر کچھ کھویا ہوا سا ایک ادھر\nظاہر میں بہم باطن میں جدا تم اور کہیں ہم اور کہیں\n\nآئے تو خوشامد سے آئے بیٹھے تو مروت سے بیٹھے\nملنا ہی یہ کیا جب دل نہ ملا تم اور کہیں ہم اور کہیں\n\nوعدہ بھی کیا تو کی نہ وفا آتا ہے تمہیں چرکوں میں مزا\nچھوڑو بھی یہ ضد لطف اس میں ہے کیا تم اور کہیں ہم اور کہیں\n\nبرگشتہ نصیب کا یوں ہونا سونا بھی تو اک کروٹ سونا\nکب تک یہ جدائی کا رونا تم اور کہیں ہم اور کہیں\n\nدل ملنے پہ بھی پہلو نہ ملا دشمن تو بغل ہی میں ہے چھپا\nقاتل ہے محبت کی یہ حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں\n\nیکسوئی دل مرغوب ہمیں بربادئ دل مطلوب تمہیں\nاس ضد کا ہے اور انجام ہی کیا تم اور کہیں ہم اور کہیں\n\nدل سے ہے اگر قائم رشتہ تو دور و قریب کی بحث ہی کیا\nہے یہ بھی نگاہوں کا دھوکا تم اور کہیں ہم اور کہیں\n\nسن رکھو قبل عہد وفا قول آرزوئے شیدائی کا\nجنت بھی ہے دوزخ گر یہ ہوا تم اور کہیں ہم اور کہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DA%BE%D8%AC%DA%BE%DA%A9_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آنے کو نظر میں مری سو فتنہ گر آئے", "poet_page": "مصنف:رسا رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آنے کو نظر میں مری سو فتنہ گر آئے\nتجھ سا نظر آیا ہے نہ تجھ سا نظر آئے\n\nکھل جائے بھرم ضبط محبت کا نہ ان پر\nڈرتا ہوں کہیں آنکھ میں آنسو نہ بھر آئے\n\nمے خانے پہ کیا ابر ہے چھایا ہوا یارب\nجلوے تری رحمت کے یہاں بھی نظر آئے\n\nکرتا ہوں دعائیں تو یہ آتی ہیں ندائیں\nتو ہو کسی قابل تو دعا میں اثر آئے\n\nکرتا ہے وہی دل میں رساؔ کے جو ٹھنی ہے\nسمجھانے کو سمجھاتے ہیں سب اپنے پرائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D9%88_%D9%81%D8%AA%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "آوارہ", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارا پھروں\nجگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارا پھروں\nغیر کی بستی ہے کب تک در بہ در مارا پھروں\nاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں\n\nجھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی\nرات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی\nمیرے سینے پر مگر رکھی ہوئی شمشیر سی\nاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں\n\nیہ روپہلی چھاؤں یہ آکاش پر تاروں کا جال\nجیسے صوفی کا تصور جیسے عاشق کا خیال\nآہ لیکن کون جانے کون سمجھے جی کا حال\nاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں\n\nپھر وہ ٹوٹا اک ستارہ پھر وہ چھوٹی پھلجڑی\nجانے کس کی گود میں آئی یہ موتی کی لڑی\nہوک سی سینے میں اٹھی چوٹ سی دل پر پڑی\nاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں\n\nرات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ مے خانے میں چل\nپھر کسی شہناز لالہ رخ کے کاشانے میں چل\nیہ نہیں ممکن تو پھر اے دوست ویرانے میں چل\nاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں\n\nہر طرف بکھری ہوئی رنگینیاں رعنائیاں\nہر قدم پر عشرتیں لیتی ہوئی انگڑائیاں\nبڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رسوائیاں\nاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں\n\nراستے میں رک کے دم لے لوں مری عادت نہیں\nلوٹ کر واپس چلا جاؤں مری فطرت نہیں\nاور کوئی ہم نوا مل جائے یہ قسمت نہیں\nاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں\n\nمنتظر ہے ایک طوفان بلا میرے لیے\nاب بھی جانے کتنے دروازے ہیں وا میرے لیے\nپر مصیبت ہے مرا عہد وفا میرے لیے\nاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں\n\nجی میں آتا ہے کہ اب عہد وفا بھی توڑ دوں\nان کو پا سکتا ہوں میں یہ آسرا بھی توڑ دوں\nہاں مناسب ہے یہ زنجیر ہوا بھی توڑ دوں\nاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں\n\nاک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتاب\nجیسے ملا کا عمامہ جیسے بنیے کی کتاب\nجیسے مفلس کی جوانی جیسے بیوہ کا شباب\nاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں\n\nدل میں اک شعلہ بھڑک اٹھا ہے آخر کیا کروں\nمیرا پیمانہ چھلک اٹھا ہے آخر کیا کروں\nزخم سینے کا مہک اٹھا ہے آخر کیا کروں\nاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں\n\nجی میں آتا ہے یہ مردہ چاند تارے نوچ لوں\nاس کنارے نوچ لوں اور اس کنارے نوچ لوں\nایک دو کا ذکر کیا سارے کے سارے نوچ لوں\nاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں\n\nمفلسی اور یہ مظاہر ہیں نظر کے سامنے\nسیکڑوں سلطان جابر ہیں نظر کے سامنے\nسیکڑوں چنگیز و نادر ہیں نظر کے سامنے\nاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں\n\nلے کے اک چنگیز کے ہاتھوں سے خنجر توڑ دوں\nتاج پر اس کے دمکتا ہے جو پتھر توڑ دوں\nکوئی توڑے یا نہ توڑے میں ہی بڑھ کر توڑ دوں\nاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں\n\nبڑھ کے اس اندر سبھا کا ساز و ساماں پھونک دوں\nاس کا گلشن پھونک دوں اس کا شبستاں پھونک دوں\nتخت سلطاں کیا میں سارا قصر سلطاں پھونک دوں\nاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%81"} {"title": "آوارۂ حرص در بہ در پھرتا ہے", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آوارۂ حرص در بہ در پھرتا ہے\nہم سنگ فلاخن پئے زر پھرتا ہے\nکچھ ہاتھ بجز کلوخ آنے کا نہیں\nکم بخت فضول گرد سر پھرتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%82_%D8%AD%D8%B1%D8%B5_%D8%AF%D8%B1_%D8%A8%DB%81_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "آواز کے سائے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "خبر نہیں تم کہاں ہو یارو\n\nہماری افتاد روز و شب کی\nتمہیں خبر مل سکی، کہ تم بھی\nرہین دست خزاں ہو یارو\nدنوں میں تفریق مٹ چکی ہے\nکہ وقت سے خوش گماں ہو یارو\nابھی لڑکپن کے حوصلے ہیں\nکہ بے سر و سائباں ہو یارو\n\nہماری افتاد روز و شب میں\nنہ جانے کتنی ہی بار اب تک\nدھنک بنی اور بکھر چکی ہے\nعروس شب اپنی خلوتوں سے\nسحر کو محروم کر چکی ہے\n\nدہکتے صحرا میں دھوپ کھا کر\nشفق کی رنگت اتر چکی ہے\nبہار کا تعزیہ اٹھائے\nنگار یک شب گزر چکی ہے\n\nامید نو روز ہے کہ تم بھی\nبہار کے نوحہ خواں ہو یارو\n\nتمہاری یادوں کے قافلے کا\nتھکا ہوا اجنبی مسافر\nہر اک کو آواز دے رہا ہے\nخفا ہو یا بے زباں ہو یارو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "آوازِ غیب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "آتی ہے دمِ صبح صدا عرشِ بریں سے\nکھویا گیا کس طرح ترا جوہرِ ادراک!\nکس طرح ہُوا کُند ترا نشترِ تحقیق\nہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروںکے جگر چاک\nتُو ظاہر و باطن کی خلافت کا سزاوار\nکیا شُعلہ بھی ہوتا ہے غلامِ خس و خاشاک\nمِہر و مہ و انجم نہیں محکوم ترے کیوں\nکیوں تیری نگاہوں سے لرزتے نہیں افلاک\nاب تک ہے رواں گرچہ لہُو تیری رگوں میں\nنے گرمیِ افکار، نہ اندیشۂ بے باک\nروشن تو وہ ہوتی ہے، جہاں بیں نہیں ہوتی\nجس آنکھ کے پردوں میں نہیں ہے نگَہِ پاک\nباقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری\nاے کُشتۂ سُلطانی و مُلّائی و پیری!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2%D9%90_%D8%BA%DB%8C%D8%A8"} {"title": "آوے خزاں چمن کی طرف گر میں رو کروں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آوے خزاں چمن کی طرف گر میں رو کروں\nغنچہ کرے گلوں کو صبا گر میں بو کروں\n\nآزردہ اس چمن میں ہوں مانند برگ خشک\nچھیڑے جو ٹک نسیم مجھے سو غلو کروں\n\nآنکھوں سے جائے اشک گریں گل چمن چمن\nمنظور گریہ گر میں ترا رنگ و بو کروں\n\nآیا ہوں پارہ دوزئی دل سے نپٹ بتنگ\nایسے پھٹے ہوئے کو میں کب تک رفو کروں\n\nکیا آرزو کہ خاک میں اپنی ملیں نہ یاں\nکس رو سے اب فلک سے میں کچھ آرزو کروں\n\nکہتا ہے آئنہ کہ ہے تجھ سا ہی ایک اور\nباور نہیں تو لا میں ترے روبرو کروں\n\nسارے ہی اس چمن سے ہوا خواہ اٹھ گئے\nروؤں گلوں کو یا میں غم رنگ و بو کروں\n\nقائمؔ یہ جی میں ہے کہ تقید سے شیخ کی\nاب کے جو میں نماز کروں بے وضو کروں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%88%DB%92_%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد\nابھریں گے عشق دل سے ترے راز میرے بعد\n\nجینا مرا تو تجھ کو غنیمت ہے نا سمجھ\nکھینچے گا کون پھر یہ ترے ناز میرے بعد\n\nشمع مزار اور یہ سوز جگر مرا\nہر شب کریں گے زندگی ناساز میرے بعد\n\nحسرت ہے اس کے دیکھنے کی دل میں بے قیاس\nاغلب کہ میری آنکھیں رہیں باز میرے بعد\n\nکرتا ہوں میں جو نالے سرانجام باغ میں\nمنہ دیکھو پھر کریں گے ہم آواز میرے بعد\n\nبن گل موا ہی میں تو پہ تو جا کے لوٹیو\nصحن چمن میں اے پر پرواز میرے بعد\n\nبیٹھا ہوں میرؔ مرنے کو اپنے میں مستعد\nپیدا نہ ہوں گے مجھ سے بھی جانباز میرے بعد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%88%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "آٹھوں کا میلہ", "poet_page": "مصنف:رتن ناتھ سرشار", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(انتخاب از فسانہ آزاد)\n\nوہاں سے جو میاں آزاد تیر کی طرح رواں ہوئے تو راہ میں دیکھا کہ کئی مسافر لدے پھندے جا رہے ہیں۔ کیوں بھئی، اس وقت کہاں؟ لکھنؤ! لکھنؤ؟ یہ کیوں؟ کیوں کیا۔ آٹھوں کا میلہ ہے یا نہیں۔ اس دھوم دھڑکے کا میلہ دیکھا نہ سنا۔ ہاں تو اب ہم بھی چلتے ہیں۔ محرم الحرام اور بہار بسنت کے تو خوب مزے اڑائے، اب چلئے یہ میلہ بھی دیکھ لیں۔ کیا جانیں، پھر ہاتھی چھوٹے گھوڑا چھوٹے۔ یہ کہہ کرمیاں آزاد بھی لکھنؤ چلے۔ نور کے تڑکے داخل۔ سبحان اللہ کیا صبح ہے! عارفان حق پرست کے دل کی طرح نورانی اور باطن میں اہل تصوف کے مثل مہبط فیض ربانی۔ جدھر دیکھو تجلی اور نور۔ جدھر جاؤ لطف اور سرور۔ سلطان خاوری کے تاج زریں کی چمک اشعہ زرنگار سے ذروں کی جھلک نمودار۔ در و دیوار سے آیہ ’’و جلعنا الشمس ضیاء‘‘ آشکار۔ شنبہ کا دن جس کی شان میں فصحا نے کہا ہے (کہ مکتب خانہ ہا را روز بازار از دست و اطفال دبستان سبق آموز او الف ابجد زبانان ست و نقطہ اولیں پرکار دوراں۔)دیکھتے کیا ہیں کہ صبح ہی سے میلے کا رنگ جما ہے۔ نخل بہار کی نشو و نما ہے۔ غٹ کے غٹ، ٹھٹ کے ٹھٹ، شہدے لقے، ٹورے بچے، گرہ کٹ، جیب کترے، چرسیے، مدکیے، گنجرے، بھنگیرے، شریف و نجیب، زیرک و لبیب سب جوق جوق امنڈے آتے ہیں۔ تامدان، ہوادار، رہوار، باد رفتار، فینس زر نگار، ٹٹو گھوڑا سب خراماں خراماں پو قدمے آتے ہیں۔ بگھی پر بگھی ٹوٹی پرتی ہے۔ رنگیلوں چھیل چھبیلوں کی بن آئی۔ گاڑی بوٹی چڑھائی۔ بن ٹھن کے چھیلابن کے میلہ دیکھنے چلے۔ بالوں میں حنا کا تیل چھوڑے، کیچل لیٹ کا دھانی رومال اوڑھے، دو انگل مانگ کھولے، بانڈی سے پٹی جمائے گھڑی لگائے، داڑھی چڑھائے، گلے میں گلوبند دل فریب، شربتی کا انگرکھا تن کا زیب۔ پاؤں میں مخملی جوتی کاشانی سوتی، قہقہے اڑاتے آنکھیں لڑاتے جا رہے ہیں۔ ادھر ادھر نظارہ بازی کر کے مسکرا رہے ہیں۔ فینس پر ماہ روٹھسے سے بیٹھی ہیں مگر بند، ہٹو بچو کا شور بلند، ساقیوں کا بازار گرم۔کسی نے دوکش پئے ٹکا ہتھیایا، ساقیوں کی دکانیں دھواں دھار، تنبولیوں کے بیڑے مزیدار، کان میلے کی سرگوشی، حجام کی رونمائی، برف والے کی سرد مہری، سنکرنوں کی ہانک، آنب کے مجے کی کمرکھ ہیں۔ کابل کامیوہ، رس بھری، تاج گلابیاں، شہتوت، بوٹ لوہرے بھرے بوٹ۔ کسی طرف سرمہ مسی شیشہ کنگھی دیاسلائی کی ڈبیا ہے۔ بخشی بھولا ناتھ کا باغ میلے کا چشم و چراغ ہے۔ ٹکٹ رائے کا تالاب ہزاروں میں انتخاب لاکھوں کی لاجواب ہے جو سلسبیل کوثر کو شرمائے، تسنیم دیکھے تو پانی پانی ہو جائے، عجیب لطف و سماں ہے۔ ہزارہا تماشائی تالاب کے ارد گرد بستر جمائے کوئی دری، کوئی زین پوش بچھائے بیٹھا میلہ دیکھ رہا ہے۔ کوئی جہانیاں جہاں گشت چکر لگا رہا ہے۔ کوئی ہوا کھاتا ہے، کوئی فینس پر ایک جوان رعنا ڈھوہ کا ڈھوہ پچیس برس کا سن چلنے پھرنے کے دن لدا ہوا جا رہا ہے۔ کوئی ٹٹو کو ٹخ ٹخ کرتا آ رہا ہے۔امراء کے لڑکے زیور سے گوندنی کی طرح لدے مٹھائی خریدنے میں مصروف ہیں مگر خدمت گار دیکھ بھال رہا ہے کہ کوئی دست چالاک ہاتھوں ہاتھ پاؤں کے گھونگھرو نہ اڑا لے۔ عورتیں الگ زیور سے متجلی گھونگھٹ کاڑھے دبکی چلی جاتی ہیں کہ کوئی چوہے دتیاں نہ موس لے جائے۔ تخت رواں آتے ہیں۔ شعبدہ باز سوانگ لاتے ہیں۔ کوئی دہکتا انگارا کھا گیا۔ کوئی لوہے کے چنے کر کر کے چبا گیا۔ برہمن ڈول لئے گشت لگاتے ہیں۔ سقے اور بھشتی کٹورے کھنکھناتے ہیں۔ سہ پہر تک خوب جمگھٹا رہا۔ چراغ روشن ہوئے اور یار لوگ کھسکے۔ کسی نے مٹی کا ببوا لیا کسی نے روئی کا لنگور۔ اتنے میں ایک ریلا آیا تو کھلونے چکنا چور۔ ایک نے غل مچایا کہ وہ ہاتھی آیا۔ بھیڑ چھٹ گئی اور دراتے ہوئے چلے گئے مگر بڑے دل اپنی جگہ سے نہ ٹلے۔ شربتی کا انگرکھا چاہے ان گاؤ زوریوں میں چر سے نکل جائے مگر ممکن کیا کہ ہل جائے۔ اس بھیڑ۔بھاڑ میں پولس کا انتظام خوب رہا۔ چوٹٹے اچکے جاکر پچھتائے بھلے مانس مزے سے گھر آئے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%B9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D9%84%DB%81"} {"title": "آپ آئے تو خیال دل ناشاد آیا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ آئے تو خیال دل ناشاد آیا\nآپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا\n\nعرش سے آج اثر تا لب فریاد آیا\nایک ہی آہ میں کافر کو خدا یاد آیا\n\nجور کے ساتھ تیرا لطف بھی کچھ یاد آیا\nہونٹ پر بن کے ہنسی شکوۂ بیداد آیا\n\nآج شب میں کوئی سو بار تو بجلی چمکی\nآج دن میں کوئی سو بار تو صیاد آیا\n\nمیرے دل میں عجب انداز سے آیا ناوک\nمیں یہ سمجھا کوئی معشوق پری زاد آیا\n\nکیا کہا پھر تو کہو بھول گئے ہم کس کو\nصدقے اس کے جو تمہیں بھول کے یوں یاد آیا\n\nفتنۂ حشر نے بھی اٹھ کے بلائیں لے لیں\nعجب انداز سے میرا ستم ایجاد آیا\n\nسن سے جھونکا کوئی آیا جو ترا باد بہار\nچونک اٹھے مرغ چمن ناوک صیاد آیا\n\nارے قاتل ابھی بہہ جائے گا پانی ہو کر\nسامنے میرے اگر خنجر فولاد آیا\n\nیہی گلشن کی ہوا ہے یہی گلشن کی بہار\nکبھی صیاد کبھی ناوک بیداد آیا\n\nنظر آتی ہیں کہیں ایسی بھی کافر شکلیں\nدیکھ کر حسن خداداد خدا یاد آیا\n\nپاس سے نیم نگہ دور سے مژگان دراز\nچبھنے والے نئے نشتر لئے فصاد آیا\n\nنہ سنا ہم نے کبھی باغ میں آئی ہے بہار\nجو سنا بھی تو سنا ہم نے کہ صیاد آیا\n\nکیوں نگاہیں یہ گڑھی ہیں شکن دامن پر\nصدقے انداز حیا کے تجھے دل یاد آیا\n\nآشیاں برق کو سونپا مجھے آئی جو ترنگ\nاور میں اڑ کے ادھر تا کف صیاد آیا\n\nاثر آیا بھی تو جیسے کوئی فریادی ہو\nہاتھ میں تھامے ہوئے دامن فریاد آیا\n\nدست ماتم لئے بیٹھی رہی شیریں اپنے\nتیشہ اچھا کہ ترے کام تو فرہاد آیا\n\nایسی ضد ہے تو انہیں کون منائے یا رب\nوہ یہ مچلے ہیں کہ کوئی مجھے کیوں یاد آیا\n\nلئے خنجر کی روانی تھی ہر اک موج خرام\nآج مقتل میں نئی شان سے جلاد آیا\n\nمیں جو پہنچا تو لئے اٹھ کے بگولوں نے قدم\nنجد میں دھوم مچی قیس کا استاد آیا\n\nبڑھ کے لے حلقۂ آغوش میں اے دست جنوں\nبیڑیاں کاٹنے کس لطف سے حداد آیا\n\nڈر کے صحرائے بلا سے جو پکارا میں نے\nقیس نے دی مجھے آواز کہ فرہاد آیا\n\nصدقے ہونٹوں کے جنہیں ناز مسیحائی ہے\nصدقے باتوں کے جنہیں شیوۂ جلاد آیا\n\nدے اٹھیں خون رگیں نام جو نشتر کا لیا\nرنگ ایسا مری تصویر میں بہزاد آیا\n\nطفل اشک آ کے مری گود میں مچلے جو ریاضؔ\nدل مرحوم مجھے آج بہت یاد آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آپ آئے تھے یاں جفا کے لئے", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "آپ آئے تھے یاں جفا کے لئے\nجائیے بھی کہیں خدا کے لئے\n\nدل دیا تھا تمہیں جفا کے لئے\nہوش میں آئیے خدا کے لئے\n\nتیرے بازار دہر میں گردوں\nہم بھی آئے ہیں اک قبا کے لئے\n\nپاؤں ہیں کوچۂ توکل میں\nہاتھ اٹھتے نہیں دعا کے لئے\n\nآ کبھی تو مرے قفس کی طرف\nاے نسیم چمن خدا کے لئے\n\nہے تہ خاک فرش خاک لگا\nشاہ کے واسطے گدا کے لئے\n\nدم پھڑکتا ہے طوف کعبہ پر\nدل تڑپتا ہے کربلا کے لئے\n\nسر اٹھائے ہیں خار و دشت جنوں\nمنتہیؔ سے برہنہ پا کے لئے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92"} {"title": "آپ اپنا روئے زیبا دیکھیے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ اپنا روئے زیبا دیکھیے\nیا مجھے محو تماشا دیکھیے\n\nشوق کو ہنگامہ آرا دیکھیے\nکاروبار حسرت افزا دیکھیے\n\nرنگ گلزار تمنا دیکھیے\nدل کشی ہائے تماشا دیکھیے\n\nحسن ہے سو رنگ میں تحسیں طلب\nدیدۂ حیراں سے کیا کیا دیکھیے\n\nبزم میں اس بے مروت کی مجھے\nدیکھنا پڑتا ہے کیا کیا دیکھیے\n\nحسرت آنکھوں میں ہے لب خاموش ہیں\nشیوۂ عرض تمنا دیکھیے\n\nہائے رے ذوق تماشائے جمال\nخود تماشا ہوں تماشا دیکھیے\n\nآپ نے پھر کر نہ دیکھا اس طرف\nہو گیا خون تمنا دیکھیے\n\nاٹھتی ہیں نظریں مری کس شوق سے\nمجھ کو ہنگام تماشا دیکھیے\n\nحسرتوں کا ہائے رے دل میں ہجوم\nآرزوؤں کا نتیجہ دیکھیے\n\nسجدے کو بیتاب ہوتی ہیں جبیں\nشوخئ نقش کف پا دیکھیے\n\nمیں ہوں اس ساقی کا دیوانہ جسے\nدیکھیے جب مست صہبا دیکھیے\n\nخاک میں کس دن ملاتی ہے مجھے\nاس سے ملنے کی تمنا دیکھیے\n\nکہتے ہیں کر لیں گے اس کافر کو رام\nحضرت وحشتؔ کا دعویٰ دیکھیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B2%DB%8C%D8%A8%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92"} {"title": "آپ اپنی بے وفائی دیکھیے", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ اپنی بے وفائی دیکھیے\nہم سے اور ایسی برائی دیکھیے\n\nبات پھر ہم سے بنائی دیکھیے\nپھر وہی تقریر آئی دیکھیے\n\nآئنہ اس بت کو دکھلا کر کہا\nاور صورت ہاتھ آئی دیکھیے\n\nعرش کی زنجیر پر طرہ ہوا\nنالۂ دل کی رسائی دیکھیے\n\nہم اسیران طلسم خاک ہیں\nکیا ہوا وقت رہائی دیکھیے\n\nمار ڈالا منہ چھپا کر آپ نے\nموت کس پردے میں آئی دیکھیے\n\nآمد آمد موسم گل کی ہوئے\nپھر طبیعت گد گدائی دیکھیے\n\nداغ دل تارا ہے چشم مہر کا\nعشق کی جلوہ نمائی دیکھیے\n\nمیری جانب یوں نظر کرنا نہ تھا\nآپ نے بجلی گرائی دیکھیے\n\nپھینکیے ہاتھوں سے پھولوں کی چھڑی\nمیری گل خوردہ کلائی دیکھیے\n\nچشم پوشی اس قدر اچھی نہیں\nاب تو جان آنکھوں میں آئی دیکھیے\n\nایک دن رو رو کے طوفاں لائیں گے\nاس قدر ناآشنائی دیکھیے\n\nواہ رے سرمہ لگانا آپ کا\nشاخ نرگس ہے سلائی دیکھیے\n\nصاف ہے آئینۂ اسکندری\nاس مری دل کی صفائی دیکھیے\n\nدیر ہوتی ہے ہماری قتل میں\nیہ نہیں اچھی جھکائی دیکھیے\n\nلائیے پلوائیے جام شراب\nدیکھیے بدلے وہ آئی دیکھیے\n\nمر گئے لیکن نہ راز دل کھلا\nآہ بھی لب تک نہ آئی دیکھیے\n\nوہ نہ آنا تھا نہ آئے اے صباؔ\nرفتہ رفتہ موت آئی دیکھیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92"} {"title": "آپ جن کے قریب ہوتے ہیں", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ جن کے قریب ہوتے ہیں\nوہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں\n\nجب طبیعت کسی پر آتی ہے\nموت کے دن قریب ہوتے ہیں\n\nمجھ سے ملنا پھر آپ کا ملنا\nآپ کس کو نصیب ہوتے ہیں\n\nظلم سہہ کر جو اف نہیں کرتے\nان کے دل بھی عجیب ہوتے ہیں\n\nعشق میں اور کچھ نہیں ملتا\nسیکڑوں غم نصیب ہوتے ہیں\n\nنوحؔ کی قدر کوئی کیا جانے\nکہیں ایسے ادیب ہوتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%D8%AC%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آپ جو کچھ قرار کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ جو کچھ قرار کرتے ہیں\nکہئے ہم اعتبار کرتے ہیں\n\nیہ کہ یاں میں ہوں وائے ان کا حال\nمجھ پہ جو افتخار کرتے ہیں\n\nپر فرشتے کے اس جگہ جل جائیں\nجس طرف ہم گزار کرتے ہیں\n\nگو کہن دام ہیں ہم اے صیاد\nلیک عنقا شکار کرتے ہیں\n\nسی تو لینے دو جیب ناصح کو\nاب کی ہم تار تار کرتے ہیں\n\nدل کی دل جانے ہم تو اپنا کام\nاب کے کھیوے میں پار کرتے ہیں\n\nگر رہا ہے رواق وہم غافل\nفکر نقش و نگار کرتے ہیں\n\nسر گیا نامہ بر کا واں اے وائے\nیاں قدم ہم شمار کرتے ہیں\n\nدل تہی کیا کرے ہے تیں پہلو\nہم تو آپ ہی کنار کرتے ہیں\n\nچلئے قائم کہ رفتگاں اپنا\nدیر سے انتظار کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آپ دل جا کر جو زخمی ہو تو مژگاں کیا کرے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ دل جا کر جو زخمی ہو تو مژگاں کیا کرے\nکوئی رکھ دے پاؤں خود خار مغیلاں کیا کرے\n\nرات دن ہے صنعت حق کس طرح بدلیں صنم\nروئے زیبا کیا کرے زلف پریشاں کیا کرے\n\nروح گھبرا کے چلی دیکھا جو ہم کو مضطرب\nمیزباں ہو جب پریشاں رہ کے مہماں کیا کرے\n\nدم نہیں تن سے نکلتا کٹ چکا بالکل گلا\nسخت جانی کو ہماری تیغ جاناں کیا کرے\n\nتیرہ بختی سے ہے شکوہ مفلسی سے ہے گلہ\nروشنی ممکن نہیں شام غریباں کیا کرے\n\nزخم دل گہرا بہت ہے کس طرح ٹانکا لگے\nیاں رفو کی جا نہیں تار گریباں کیا کرے\n\nاپنی وحشت سے ہے شکوہ دوسرے سے کیا گلہ\nہم سے جب بیٹھا نہ جائے کوئے جاناں کیا کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%B2%D8%AE%D9%85%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "آپ دل کھول کر بیداد پہ بیداد کریں", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ دل کھول کر بیداد پہ بیداد کریں\nاور ہم ضبط سے لیں کام نہ فریاد کریں\n\nحشر میں اس کی نظر ہو گئی نیچی ہم سے\nہو سکے جن سے وہ اب شکوۂ جلاد کریں\n\nکچھ تو فرمائیے انصاف اگر ہے کوئی چیز\nآپ کو دل سے بھلائیں تو کسے یاد کریں\n\nدل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں سینے میں\nایک مظلوم کی اب آپ کچھ امداد کریں\n\nآج اک قبر پہ عالمؔ یہ لکھا دیکھا تھا\nساکن گلشن ہستی نہ مجھے یاد کریں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D9%BE%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آپ سے آپ عیاں شاہد معنی ہوگا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ سے آپ عیاں شاہد معنی ہوگا\nایک دن گردش افلاک سے یہ بھی ہوگا\n\nآنکھیں بنوایئے پہلے ذرا اے حضرت قیس\nکیا انہیں آنکھوں سے نظارۂ لیلی ہوگا\n\nشوق میں دامن یوسف کے اڑیں گے ٹکڑے\nدست گستاخ سے کیا دور ہے یہ بھی ہوگا\n\nلاکھوں اس حسن پہ مر جائیں گے دیکھادیکھی\nکوئی غش ہوگا کوئی محو تجلی ہوگا\n\nحسن ذاتی بھی چھپائے سے کہیں چھپتا ہے\nسات پردوں سے عیاں شاہد معنی ہوگا\n\nہوش اڑیں گے جو زمانے کی ہوا بگڑے گی\nچار ہی دن میں خزاں گلشن ہستی ہوگا\n\nاور امڈے گا دل زار جہاں تک چھیڑو\nیہ بھی کیا کوئی خزانہ ہے کہ خالی ہوگا\n\nدل دھڑکنے لگا پھر صبح جدائی آئی\nپھر وہی درد وہی پہلوئے خالی ہوگا\n\nیہ تو فرمائیے کیا ہم میں رہے گا باقی\nدل اگر درد محبت سے بھی خالی ہوگا\n\nایک چلو سے بھی کیا یاسؔ رہوگے محروم\nبزم مے ہے تو کوئی صاحب دل بھی ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%BE_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B4%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "آپ سے شرح آرزو تو کریں", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ سے شرح آرزو تو کریں\nآپ تکلیف گفتگو تو کریں\n\nوہ یہیں ہیں جو وہ کہیں بھی نہیں\nآئیے دل میں جستجو تو کریں\n\nاہل دنیا مجھے سمجھ لیں گے\nدل کسی دن ذرا لہو تو کریں\n\nرنگ و بو کیا ہے یہ تو سمجھا دو\nسیر دنیائے رنگ و بو تو کریں\n\nتم سے ملنے کی آرزو ہی سہی\nتم سے ملنے کی آرزو تو کریں\n\nوہ ادھر رخ ادھر ہے میت کا\nلوگ فانیؔ کو قبلہ رو تو کریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D8%AD_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آپ میں کیونکر رہے کوئی یہ ساماں دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ میں کیونکر رہے کوئی یہ ساماں دیکھ کر\nشمع عصمت کو بھری محفل میں عریاں دیکھ کر\n\nدل کو بہلاتے ہو کیا کیا آرزوئے خام سے\nامر نا ممکن میں گویا رنگ امکاں دیکھ کر\n\nکیا عجب ہے بھول جائیں اہل دل اپنا بھی درد\nحسن مستانہ کو آخر میں پشیماں دیکھ کر\n\nڈھونڈتے پھرتے ہو اب ٹوٹے ہوئے دل میں پناہ\nدرد سے خالی دل گبر و مسلماں دیکھ کر\n\nدل جلا کر وادئ غربت کو روشن کر چلے\nخوب سوجھی جلوۂ شام غریباں دیکھ کر\n\nامتیاز صورت و معنی سے بیگانہ ہوا\nآئنے کو آئنہ حیراں کو حیراں دیکھ کر\n\nپیرہن میں کیا سما سکتا حباب جاں بلب\nہستئ موہوم کا خواب پریشاں دیکھ کر\n\nصبر کرنا سخت مشکل ہے تڑپنا سہل ہے\nاپنے بس کا کام کر لیتا ہوں آساں دیکھ کر\n\nاور کیا ہوتی یگانہؔ درد عصیاں کی دوا\nکیا غزل یاد آئی واللہ فرد عصیاں دیکھ کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی\nاڑ گئی مفت میں ہنسی دل کی\n\nخو ہے از بس کہ عاشقی دل کی\nغم سے وابستہ ہے خوشی دل کی\n\nیاد ہر حال میں رہے وہ مجھے\nالغرض بات رہ گئی دل کی\n\nمل چکی ہم کو ان سے داد وفا\nجو نہیں جانتے لگی دل کی\n\nچین سے محو خواب ناز میں وہ\nبیکلی ہم نے دیکھ لی دل کی\n\nہمہ تن صرف ہوشیارئ عشق\nکچھ عجب شے ہے بے خودی دل کی\n\nان سے کچھ تو ملا وہ غم ہی سہی\nآبرو کچھ تو رہ گئی دل کی\n\nمر مٹے ہم نہ ہو سکی پوری\nآرزو تم سے ایک بھی دل کی\n\nوہ جو بگڑے رقیب سے حسرتؔ\nاور بھی بات بن گئی دل کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%D9%86%DB%92_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "آپ وہ سب کی جان لیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ وہ سب کی جان لیتے ہیں\nموت کو مفت سان لینے ہیں\n\nدل بھلا عاشقوں کے پاس کہاں\nآپ ہی چھین چھان لیتے ہیں\n\nکیا کہوں کون جان لیتا ہے\nوہ مرے مہربان لیتے ہیں\n\nمیکدے کے قریب ہم واعظ\nتیری ضد سے مکان لیتے ہیں\n\nاب تو یہ حال ہے نسیمؔ ان کا\nجو میں کہنا ہوں مان لیتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آپ کا اعتبار کون کرے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ کا اعتبار کون کرے\nروز کا انتظار کون کرے\n\nذکر مہر و وفا تو ہم کرتے\nپر تمہیں شرمسار کون کرے\n\nہو جو اس چشم مست سے بے خود\nپھر اسے ہوشیار کون کرے\n\nتم تو ہو جان اک زمانے کی\nجان تم پر نثار کون کرے\n\nآفت روزگار جب تم ہو\nشکوۂ روزگار کون کرے\n\nاپنی تسبیح رہنے دے زاہد\nدانہ دانہ شمار کون کرے\n\nہجر میں زہر کھا کے مر جاؤں\nموت کا انتظار کون کرے\n\nآنکھ ہے ترک زلف ہے صیاد\nدیکھیں دل کا شکار کون کرے\n\nوعدہ کرتے نہیں یہ کہتے ہیں\nتجھ کو امیدوار کون کرے\n\nداغؔ کی شکل دیکھ کر بولے\nایسی صورت کو پیار کون کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "آپ کو اس نے اب تراشا ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ کو اس نے اب تراشا ہے\nقہر ہے ظلم ہے تماشا ہے\n\nاس کو لیتے بغل میں ڈرتا ہوں\nنازکی میں وہ شیشہ باشا ہے\n\nکیوں کہوں اپنے سیم تن کا حال\nگاہ تولہ ہے گاہ ماشا ہے\n\nترے کوچہ سے اٹھ نہیں سکتا\nکس وفا کشتہ کا یہ لاشہ ہے\n\nگر فرشتہ بھی ہو حسنؔ تو وہاں\nگالی اور جھڑکی بے تحاشا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "آپ کو بھول کے میں یاد خدا کرتا ہوں", "poet_page": "مصنف:یاسین علی خاں مرکز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مرکز (1926)", "year": "1926", "text_ur": "آپ کو بھول کے میں یاد خدا کرتا ہوں\nخود انا کہتا ہوں موجود بقاء کرتا ہوں\n\nکفر و اسلام کا موجد ہوا بندہ ہو کر\nپھر وہ میں کون ہوں جو خود ہوں کہا کرتا ہوں\n\nعلم اعداد سے ہوتا ہے حجاب اکبر\nایک ہر حال میں ہوں کل میں رہا کرتا ہوں\n\nہوں بصارت میں نہاں عذر ہے بینائی کا\nروز روشن میں ہی خود آپ رہا کرتا ہوں\n\nبے سمجھ نام خدا کا وہ لیا کرتے ہیں\nپوچھتا ہوں تو یہ کہتے ہیں سنا کرتا ہوں\n\nجسم خاکی نہ سمجھ یار کا بس جلوہ ہے\nیاد اور بھول سے میں دل کو ضیا کرتا ہوں\n\nمیں سمجھتا ہوں خدا آپ کو بندہ بن کر\nہاں اسی شان کا مرکزؔ ہوں کہا کرتا ہوں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "آپ کی گر مہربانی ہو چکی", "poet_page": "مصنف:مرزا شوقؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ کی گر مہربانی ہو چکی\nتو ہماری زندگانی ہو چکی\n\nبیٹھ کر اٹھے نہ کوئے یار سے\nانتہائے ناتوانی ہو چکی\n\nہنس دیا رونے پہ وہ اے چشم تر\nآبرو اشکوں کی پانی ہو چکی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%DB%8C"} {"title": "آپ کیا ایک ستم گار بنے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا مائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ کیا ایک ستم گار بنے بیٹھے ہیں\nغیر بھی تو مرے غم خوار بنے بیٹھے ہیں\n\nواعظوں کی بھی یہ توقیر ہے اللہ اللہ\nپاسبان در خمار بنے بیٹھے ہیں\n\nچشم ہے آب رواں سینے میں داغوں کی بہار\nہم بھی اک تختہ گل زار بنے بیٹھے ہیں\n\nپوچھتے ہیں وہ مجھی سے یہ غضب تو دیکھو\nآپ بھی طالب دیدار بنے بیٹھے ہیں\n\nدل ربائی کے یہ انداز غضب ہیں تیرے\nکہ ہوس پیشہ خریدار بنے بیٹھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D9%86%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرے\nیہ تو فرمائیے کیا زلف نے کچھ کان بھرے\n\nجان سے جائے اگر آپ کو چاہے کوئی\nدم نکل جائے جو دم آپ کا انسان بھرے\n\nلیے پھرتے ہیں ہم اپنے جگر و دل دونوں\nایک میں درد بھرے ایک میں ارمان بھرے\n\nدامن دشت نے آنسو بھی نہ پوچھے افسوس\nمیں نے رو رو کے لہو سیکڑوں میدان بھرے\n\nتیغ قاتل کو گلے سے جو لگایا مضطرؔ\nکھنچ کے بولی کہ بڑے آئے تم ارمان بھرے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D8%B5%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%92"} {"title": "آپ کے محرم اسرار تھے اغیار کہ ہم", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ کے محرم اسرار تھے اغیار کہ ہم\nدل غم ناک کے تم رہتے تھے غم خوار کہ ہم\n\nشکوہ آلود نصیحت نہیں اچھی ناصح\nآپ ہیں کشتۂ بیداد ستم گار کہ ہم\n\nحشر اگر کہوے مددگار ہمارا ہے کون\nبول اٹھے صاف ترا فتنۂ رفتار کہ ہم\n\nآپ کی شان کا سامان کہاں سے آیا\nیوسف حسن کے تھے آپ خریدار کہ ہم\n\nہم برا غیر سے ملنے کو سمجھتے تھے کہ تم\nاپنے مطلب کے ہیں اغیار طلب گار کہ ہم\n\nہائے بے رحمیٔ دلدار سے بے قدری جان\nزیست سے آپ ہماری ہوئے بیزار کہ ہم\n\nجانتے ہم ہیں برا ربط جتانے کو کہ غیر\nہوں گے مشہور ہوس ناک ترے یار کہ ہم\n\nقتل کیا ہو کوئی خنجر میں نہیں طرز نگاہ\nداد اے عشق ہے جلاد گنہ گار کہ ہم\n\nنہ محبت کی خبر اس کو نہ ہم کو اس کی\nسادگی کہہ تو سہی یار ہے عیار کہ ہم\n\nروز و شب میرے پھرانے کو پھرے جاتا ہے\nچرخ ہے گردش بے کار سے ناچار کہ ہم\n\nہو کے پامال ٹھکانے سے لگی خاک اپنی\nتو ہے آشفتہ سر کوچہ و بازار کہ ہم\n\nان کو تم چاہتے ہو آپ کو ہم چاہتے ہیں\nلائق رحم ہیں فرمائیے اغیار کہ ہم\n\nاے قلقؔ پاؤں زمیں پر نہیں رکھتا مغرور\nچرخ ہے خاک در حیدر کرار کہ ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%85"} {"title": "آپ کے پہلو میں دشمن سو چکا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ کے پہلو میں دشمن سو چکا\nجائیے ہونا تھا جو کچھ ہو چکا\n\nہنستی ہے تقدیر ہنس لے ان کے ساتھ\nدل مجھے میں اپنے دل کو رو چکا\n\nہاتھ رکھا میں نے سوتے میں کہاں\nبولے وہ جھنجھلا کے اب میں سو چکا\n\nحشر میں آنا تھا پہلے سے ہمیں\nہم کب آئے جب تماشا ہو چکا\n\nخار اس دل نے مجھے کیا کیا دیے\nمیرے حق میں یہ بھی کانٹے ہو چکا\n\nاب جو گھٹتا ہے گھٹے طوفان اشک\nاپنی قسمت کا لکھا میں دھو چکا\n\nبک گیا عمامہ ہو کر رہن مے\nبوجھ اترا سر سے جھگڑا تو چکا\n\nتوبہ کی عصیاں سے اب پوچھے گا کون\nجمع کی تھی جتنی دولت کھو چکا\n\nآفتاب حشر کب چمکا ریاضؔ\nداغ مے دامن سے جب میں دھو چکا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%D8%B3%D9%88_%DA%86%DA%A9%D8%A7"} {"title": "آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب\nپھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلب\n\nآرزو میرے دل کی بر آئے\nسب کا پورا کرے خدا مطلب\n\nکر نہ مجھ کو سبک رقیبوں میں\nیوں ہنسی میں نہ تو اڑا مطلب\n\nرک گئی بات تا زباں آ کر\nدل کا دل ہی میں رہ گیا مطلب\n\nضد ہی ضد شیخ و برہمن کی تھی\nورنہ دونوں کا ایک تھا مطلب\n\nمیری اک بات میں ہیں سو پہلو\nاور سب کا جدا جدا مطلب\n\nغیر کی اور اس قدر تعریف\nہم سمجھتے ہیں آپ کا مطلب\n\nاگلی باتوں کا ذکر جانے دو\nآج اس تذکرے سے کیا مطلب\n\nخوش ہو نافہم بھی سمجھ کے حفیظؔ\nصاف ایسا ہو شعر کا مطلب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8"} {"title": "آپ ہیں بے گناہ کیا کہنا", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آپ ہیں بے گناہ کیا کہنا\nکیا صفائی ہے واہ کیا کہنا\n\nاس سے حال تباہ کیا کہنا\nجو کہے سن کے واہ کیا کہنا\n\nحشر میں یہ انہیں نئی سوجھی\nبن گئے داد خواہ کیا کہنا\n\nعذر کرنا ستم کے بعد تمہیں\nخوب آتا ہے واہ کیا کہنا\n\nتم نہ روکو نگاہ کو اپنی\nہم کریں ضبط آہ کیا کہنا\n\nتجھ سے اچھے کہاں زمانے میں\nواہ اے رشک ماہ کیا کہنا\n\nغیر پر لطف خاص کا اظہار\nمجھ سے ٹیڑھی نگاہ کیا کہنا\n\nغیر سے مانگ کر ثبوت وفا\nبن گئے خود گواہ کیا کہنا\n\nدل بھی لے کر نہیں یقین وفا\nہے ابھی اشتباہ کیا کہنا\n\nبلبے چتون تری معاذ اللہ\nاف رے ٹیڑھی نگاہ کیا کہنا\n\nان گنوں پر نجات کی امید\nبیخودؔ رو سیاہ کیا کہنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "آپ ہیں محو حسن و رعنائی", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آپ ہیں محو حسن و رعنائی\nہم کو اپنا کیا ہے سودائی\nدیکھ راز و نیاز کو ساقی\nخود تماشا و خود تماشائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%D9%BE_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%88_%D8%B1%D8%B9%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "آگ اس کی پھُونک دیتی ہے برنا و پیر کو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "آگ اس کی پھُونک دیتی ہے برنا و پیر کو\nلاکھوں میں ایک بھی ہو اگر صاحبِ یقیں\nہوتا ہے کوہ و دشت میں پیدا کبھی کبھی\nوہ مرد جس کا فقر خزف کو کرے نگِیں\nتُو اپنی سرنوِشت اب اپنے قلم سے لِکھ\nخالی رکھی ہے خامۂ حق نے تری جبیں\nیہ نیلگوں فضا جسے کہتے ہیں آسماں\nہِمّت ہو پَرکُشا تو حقیقت میں کچھ نہیں\nبالائے سر رہا تو ہے نام اس کا آسماں\nزیرِ پَر آگیا تو یہی آسماں، زمیں!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DA%AF_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D9%8F%D9%88%D9%86%DA%A9_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D9%88"} {"title": "آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا\nآنسو چو اس نے پونچھے شب اور ہاتھ پھل گیا\n\nپھوڑا تھا دل نہ تھا یہ موے پر خلل گیا\nجب ٹھیس سانس کی لگی دم ہی نکل گیا\n\nکیا روؤں خیرہ چشمی بخت سیاہ کو\nواں شغل سرمہ ہے ابھی یاں سیل ڈھل گیا\n\nکی مجھ کو ہاتھ ملنے کی تعلیم ورنہ کیوں\nغیروں کو آگے بزم میں وہ عطر مل گیا\n\nاس کوچے کی ہوا تھی کہ میری ہی آہ تھی\nکوئی تو دل کی آگ پہ پنکھا سا جھل گیا\n\nجوں خفتگان خاک ہے اپنی فتادگی\nآیا جو زلزلہ کبھی کروٹ بدل گیا\n\nاس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل\nمیں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا\n\nکچھ جی گرا پڑے تھا پر اب تو نے ناز سے\nمجھ کو گرا دیا تو مرا جی سنبھل گیا\n\nمل جائے گر یہ خاک میں اس نے وہاں کی خاک\nگل کی تھی کیوں کہ پاؤں وہ نازک پھسل گیا\n\nبت خانے سے نہ کعبے کو تکلیف دے مجھے\nمومنؔ بس اب معاف کہ یاں جی بہل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DA%AF_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DA%AF%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آگ لگا دی پہلے گلوں نے باغ میں وہ شادابی کی", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آگ لگا دی پہلے گلوں نے باغ میں وہ شادابی کی\nآئی خزاں گل زار میں جب گلبرگ سے گلخن تابی کی\n\nکنج لحد میں مجھ کو سلا کے پوچھتے ہیں وہ لوگوں سے\nنیند انہیں اب آ گئی کیوں کر کیا ہوئی جو بد خوابی کی\n\nسوچ میں ہیں کچھ پاس نہیں کس طرح عدم تک پہنچیں گے\nآ کے سفر درپیش ہوا ہے فکر ہے بے اسبابی کی\n\nابر ہے گریاں کس کے لیے ملبوس سیہ ہے کیوں اس کا\nسوگ نشیں کس کا ہے فلک کیا وجہ عبائے آبی کی\n\nزیر محل اس شوخ کے جا کے پاؤں جو ہم نے پھیلائے\nشرم و حیا نے اٹھنے نہ دی چلمن جو چھٹی مہتابی کی\n\nدل کا ٹھکانا کیا میں بتاؤں حال نہ اس کا کچھ پوچھو\nدور کرو ہوگا وہ کہیں گلیوں میں اور سعی ہر بابی کی\n\nدل نہ ہوا پہلے جو بسمل لوٹنے سے کیا مطلب تھا\nدھوم تھی جب خوش باشیوں کی اب شہرت ہے بیتابی کی\n\nشمعوں کا آخر حال یہ پہونچا صبر پڑا پروانوں کا\nکوے اٹھا کے لے گئے دن کو پائی سزا سرتابی کی\n\nغنچے خجل ہیں ذکر سے اس کے تنگ دہن ہے ایسا اس کا\nنام ہوا عنقائے زمانہ دھوم اڑی نایابی کی\n\nبجرے لگائے لوگوں نے لا کے ان کے بر آمد ہونے کو\nاشکوں نے میرے راہ وفا میں آج تو وہ سیلابی کی\n\nخط نہیں پڑتا میرے گلے پر تشنۂ حسرت مرتا ہوں\nتیغ تری بے آب ہوئی تھیں آرزوئیں خوش آبی کی\n\nرحم ہے لازم تجھ کو بھی گلچیں دل نہ دکھا تو بلبل کا\nنکہت گل نے اس سے کشش کی تاب نہ تھی بیتابی کی\n\nنزع میں یارب خندہ جبیں ہوں روح جو نکلے خوش نکلے\nپیش نظر آئیں جو فرشتے صورت ہو اعرابی کی\n\nکلغی کی جا پر تاج میں رکھ لے ذوق رہے پا بوسی کا\nپائے اگر بلقیس کہیں تصویر تری گرگابی کی\n\nپڑھ کے وظیفہ عشق کا اس کے تم جو تڑپ کے روتے ہو\nروح نہ ہو تحلیل شرفؔ حسرت سے کسی وہابی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DA%AF_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D8%AF%DB%8C_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%DA%AF%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "آگ پر رشک سے میں چاک گریباں لوٹا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آگ پر رشک سے میں چاک گریباں لوٹا\nخاک پر وقت خرام اس کا جو داماں لوٹا\n\nدل کو از بسکہ جو لاگ ابرائے خم دار سے تھی\nدم شمشیر کو میں دیکھ کے عریاں لوٹا\n\nحق بجانب ہے جو موسیّ کو نہ ہو تاب جمال\nتجھ کو نادیدہ دل گبر مسلماں لوٹا\n\nعید قرباں جو قریب آئی تو کچھ دل میں سمجھ\nپاون پر آکے مرے حاجب زنداں لوٹا\n\nمرغ بسلم کی طرح تڑپے ہزاروں دل زار\nہنستے ہنستے جو کبھی وہ گل خنداں لوٹا\n\nمیں نے آتش جو کیا نالہ در جاناں پر\nدونوں ہاتھوں سے جگر تھام کے درباں لوٹا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DA%AF_%D9%BE%D8%B1_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%84%D9%88%D9%B9%D8%A7"} {"title": "آگ کے درمیان سے نکلا", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آگ کے درمیان سے نکلا\nمیں بھی کس امتحان سے نکلا\n\nپھر ہوا سے سلگ اٹھے پتے\nپھر دھواں گلستان سے نکلا\n\nجب بھی نکلا ستارۂ امید\nکہر کے درمیان سے نکلا\n\nچاندنی جھانکتی ہے گلیوں میں\nکوئی سایہ مکان سے نکلا\n\nایک شعلہ پھر اک دھویں کی لکیر\nاور کیا خاکدان سے نکلا\n\nچاند جس آسمان میں ڈوبا\nکب اسی آسمان سے نکلا\n\nیہ گہر جس کو آفتاب کہیں\nکس اندھیرے کی کان سے نکلا\n\nشکر ہے اس نے بے وفائی کی\nمیں کڑے امتحان سے نکلا\n\nلوگ دشمن ہوئے اسی کے شکیبؔ\nکام جس مہربان سے نکلا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DA%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں", "poet_page": "مصنف:حیرت الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں\nسامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں\n\nآ جائیں رعب غیر میں ہم وہ بشر نہیں\nکچھ آپ کی طرح ہمیں لوگوں کا ڈر نہیں\n\nاک تو شب فراق کے صدمے ہیں جاں گداز\nاندھیر اس پہ یہ ہے کہ ہوتی سحر نہیں\n\nکیا کہئے اس طرح کے تلون مزاج کو\nوعدے کا ہے یہ حال ادھر ہاں ادھر نہیں\n\nرکھتے قدم جو وادئ الفت میں بے دھڑک\nحیرتؔ سوا تمہارے کسی کا جگر نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%85%D9%88%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%B4%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آگاہی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "نظر سپہر پہ رکھتا ہے جو ستارہ شناس\nنہیں ہے اپنی خودی کے مقام سے آگاہ\nخودی کو جس نے فلک سے بلند تر دیکھا\nوہی ہے مملکتِ صبح و شام سے آگاہ\nوہی نگاہ کے ناخُوب و خُوب سے محرم\nوہی ہے دل کے حلال و حرام سے آگاہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%8C"} {"title": "آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہم", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہم\nسب کچھ کہا مگر نہ کھلے راز داں سے ہم\n\nاب بھاگتے ہیں سایۂ عشق بتاں سے ہم\nکچھ دل سے ہیں ڈرے ہوئے کچھ آسماں سے ہم\n\nہنستے ہیں اس کے گریۂ بے اختیار پر\nبھولے ہیں بات کہہ کے کوئی راز داں سے ہم\n\nاب شوق سے بگڑ کے ہی باتیں کیا کرو\nکچھ پا گئے ہیں آپ کے طرز بیاں سے ہم\n\nجنت میں تو نہیں اگر یہ زخم تیغ عشق\nبدلیں گے تجھ کو زندگیٔ جاوداں سے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DA%AF%DB%92_%D8%A8%DA%91%DA%BE%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%82%D8%B5%DB%82_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "آگے جمال یار کے معذور ہو گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آگے جمال یار کے معذور ہو گیا\nگل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیا\n\nاک چشم منتظر ہے کہ دیکھے ہے کب سے راہ\nجوں زخم تیری دوری میں ناسور ہو گیا\n\nقسمت تو دیکھ شیخ کو جب لہر آئی تب\nدروازہ شیرہ خانے کا معمور ہو گیا\n\nپہنچا قریب مرگ کے وہ صید ناقبول\nجو تیری صید گاہ سے ٹک دور ہو گیا\n\nدیکھا یہ ناؤ نوش کہ نیش فراق سے\nسینہ تمام خانۂ زنبور ہو گیا\n\nاس ماہ چاردہ کا چھپے عشق کیونکے آہ\nاب تو تمام شہر میں مشہور ہو گیا\n\nشاید کسو کے دل کو لگی اس گلی میں چوٹ\nمیری بغل میں شیشۂ دل چور ہو گیا\n\nلاشہ مرا تسلی نہ زیر زمیں ہوا\nجب تک نہ آن کر وہ سر گور ہو گیا\n\nدیکھا جو میں نے یار تو وہ میرؔ ہی نہیں\nتیرے غم فراق میں رنجور ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DA%AF%DB%92_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B9%D8%B0%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آگے کچھ اس کے ذکر دل زار مت کرو", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آگے کچھ اس کے ذکر دل زار مت کرو\nسب خیریت ہے اس سے کچھ اظہار مت کرو\n\nجانے دو جو نصیب میں ہونا تھا سو ہوا\nیارو خدا کے واسطے تکرار مت کرو\n\nآئینہ لے کے پہلے تنک سج تو دیکھ لو\nملنے کا غیر کے ابھی انکار مت کرو\n\nسر چڑھ رہا ہے کال یوں ہی عاشقوں کے یاں\nپٹی سے تم یہ بال نمودار مت کرو\n\nاے آہ و نالہ چھپ کے میں آیا ہوں اس جگہ\nعالم کو شور کر کے خبردار مت کرو\n\nاپنی بساط میں تو یہی جنس دل ہے یاں\nگو اب پسند اس کو خریدار مت کرو\n\nپیارے کمر کہاں ہے تمہارے یوں ہی بہ ظن\nسن کر کسی سے جھوٹ پر اصرار مت کرو\n\nقائمؔ وہ تب کہے تھا شب احوال خلق دیکھ\nمجھ سا تو حق کسی کو طرحدار مت کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DA%AF%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "آگے کیا تم سا جہاں میں کوئی محبوب نہ تھا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آگے کیا تم سا جہاں میں کوئی محبوب نہ تھا\nکیا تمہیں خوب بنے اور کوئی خوب نہ تھا\n\nان دنوں ہم سے جو وحشی کی طرح بھڑکو ہو\nیہ تو ملنے کا تمہارے کبھو اسلوب نہ تھا\n\nنامہ بر دل کی تسلی کے لیے بھیجوں ہوں\nورنہ احوال مرا قابل مکتوب نہ تھا\n\nطاقت اب طاق ہوئی صبر و شکیبائی کی\nکب تلک صبر کرے دل مرا ایوب نہ تھا\n\nغلبۂ عشق نے حاتمؔ کو پچھاڑا آخر\nزور میں اپنے وہ اتنا بھی تو مغلوب نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DA%AF%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھی\nدیوانگی کسو کی بھی زنجیر پا نہ تھی\n\nبیگانہ سا لگے ہے چمن اب خزاں میں ہائے\nایسی گئی بہار مگر آشنا نہ تھی\n\nکب تھا یہ شور نوحہ ترا عشق جب نہ تھا\nدل تھا ہمارا آگے تو ماتم سرا نہ تھی\n\nوہ اور کوئی ہوگی سحر جب ہوئی قبول\nشرمندۂ اثر تو ہماری دعا نہ تھی\n\nآگے بھی تیرے عشق سے کھینچے تھے درد و رنج\nلیکن ہماری جان پر ایسی بلا نہ تھی\n\nدیکھے دیار حسن کے میں کارواں بہت\nلیکن کسو کے پاس متاع وفا نہ تھی\n\nآئی پری سی پردۂ مینا سے جام تک\nآنکھوں میں تیری دختر رز کیا حیا نہ تھی\n\nاس وقت سے کیا ہے مجھے تو چراغ وقف\nمخلوق جب جہاں میں نسیم و صبا نہ تھی\n\nپژمردہ اس قدر ہیں کہ ہے شبہ ہم کو میرؔ\nتن میں ہمارے جان کبھو تھی بھی یا نہ تھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "آں سے ظالم کا امتحاں اور میں", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آں سے ظالم کا امتحاں اور میں\nیہ ستم تیرے آسماں اور میں\n\nکبھی کہتا ہوں اب وہ آتے ہیں\nکبھی کہتا ہوں وہ کہاں اور میں\n\nبے قراری دلا رہی ہے یاد\nہائے وہ تیری شوخیاں اور میں\n\nنہیں سنتا کوئی کسی کی جہاں\nغم ہجراں کی داستاں اور میں\n\nآخر آ ہی گئی فغاں لب پر\nضبط راز غم نہاں اور میں\n\nچرخ بھولا ہوا ہے کیا گردش\nیار کے گھر میں میہماں اور میں\n\nکچھ کہے جاؤ کچھ سنے جاؤ\nتم سے دو چار بد گماں اور میں\n\nوہ گلی اور رات بھر پھرنا\nدور باش نگہ یاں اور میں\n\nفکر دشواریٔ مطالب میں\nایک بیچارہ راز داں اور میں\n\nآئنے ورنہ دیکھ لیجئے گا\nہر جگہ آپ کا بیاں اور میں\n\nپوچھ سالکؔ نہ میرا گھر مجھ سے\nرات دن ہے در بتاں اور میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آں عزمِ بلند آور آں سوزِ جگر آور", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "آں عزمِ بلند آور آں سوزِ جگر آور\nشمشیرِ پدر خواہی بازوے پدر آور", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DA%BA_%D8%B9%D8%B2%D9%85%D9%90_%D8%A8%D9%84%D9%86%D8%AF_%D8%A2%D9%88%D8%B1_%D8%A2%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%B2%D9%90_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%A2%D9%88%D8%B1"} {"title": "آہ اب تک تو بے اثر نہ ہوئی", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ اب تک تو بے اثر نہ ہوئی\nکچھ تمہیں کو مری خبر نہ ہوئی\n\nشام سے فکر صبح کیا شب ہجر\nمر رہیں گے اگر سحر نہ ہوئی\n\nکس سے دل کا سراغ پائیں گے ہم\nتو ہی اے آرزو اگر نہ ہوئی\n\nخلق سمجھی مجھی کو دیوانہ\nچارہ فرمائے چارہ گر نہ ہوئی\n\nکچھ نظر کہہ گئی زباں نہ کھلی\nبات ان سے ہوئی مگر نہ ہوئی\n\nشکوہ کیا ان سے خون ناحق کا\nزندگی تھی ہوئی بسر نہ ہوئی\n\nحشر کا دن بھی ڈھل گیا فانیؔ\nدل کی روداد مختصر نہ ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "آہ اور اشک ہی سدا ہے یاں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ اور اشک ہی سدا ہے یاں\nروز برسات کی ہوا ہے یاں\n\nجس جگہ ہو زمین تفتہ سمجھ\nکہ کوئی دل جلا گڑا ہے یاں\n\nگو کدورت سے وہ نہ دیوے رو\nآرسی کی طرح صفا ہے یاں\n\nہر گھڑی دیکھتے جو ہو ایدھر\nایسا کہ تم نے آ نکلا ہے یاں\n\nرند مفلس جگر میں آہ نہیں\nجان محزوں ہے اور کیا ہے یاں\n\nکیسے کیسے مکان ہیں ستھرے\nاک ازاں جملہ کربلا ہے یاں\n\nاک سسکتا ہے ایک مرتا ہے\nہر طرف ظلم ہو رہا ہے یاں\n\nصد تمنا شہید ہیں یکجا\nسینہ کوبی ہے تعزیہ ہے یاں\n\nدیدنی ہے غرض یہ صحبت شوخ\nروز و شب طرفہ ماجرا ہے یاں\n\nخانۂ عاشقاں ہے جاے خوب\nجائے رونے کی جا بہ جا ہے یاں\n\nکوہ و صحرا بھی کر نہ جائے باش\nآج تک کوئی بھی رہا ہے یاں\n\nہے خبر شرط میرؔ سنتا ہے\nتجھ سے آگے یہ کچھ ہوا ہے یاں\n\nموت مجنوں کو بھی یہیں آئی\nکوہ کن کل ہی مر گیا ہے یاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "آہ اے یار کیا کروں تجھ بن", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ اے یار کیا کروں تجھ بن\nنالۂ زار کیا کروں تجھ بن\n\nایک دم بھی نہیں قرار مجھے\nاے ستم گار کیا کروں تجھ بن\n\nہوں تری چشم مست کا مشتاق\nجام سرشار کیا کروں تجھ بن\n\nگو بہار آئی باغ میں لیکن\nسیر گلزار کیا کروں تجھ بن\n\nدل ہے بیتاب چشم ہے بے خواب\nجان بیدارؔ کیا کروں تجھ بن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D9%86"} {"title": "آہ بیمار کارگر نہ ہوئی", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ بیمار کارگر نہ ہوئی\nچرخ کانپا مگر سحر نہ ہوئی\n\nصبح محشر ہوئی شب تاریک\nصورت یار جلوہ گر نہ ہوئی\n\nشب امید کٹ گئی لیکن\nزندگی اپنی مختصر نہ ہوئی\n\nدور سے آج ان کو دیکھ لیا\nدل کو تسکیں ہوئی مگر نہ ہوئی\n\nآنکھوں آنکھوں میں لے لیا وعدہ\nکانوں کان ایک کو خبر نہ ہوئی\n\nاف ری چشم عتاب اف رے جلال\nبرق سوزاں ہوئی نظر نہ ہوئی\n\nفکر انجام و حسرت آغاز\nدو گھڑی چین سے بسر نہ ہوئی\n\nکھلنے والا نہیں در توبہ\nفکر انجام وقت پر نہ ہوئی\n\nایسا رونا بھی کوئی رونا ہے\nآستین آنسوؤں سے تر نہ ہوئی\n\nہٹ کے بالیں سے لوگ روتے ہیں\nجیسے بیمار کو خبر نہ ہوئی\n\nلٹ گیا سارا کارواں عدم\nایک کو ایک کی خبر نہ ہوئی\n\nنیم جاں چھوڑ کر چلا قاتل\nنگہ یاسؔ کارگر نہ ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "آہ جس وقت سر اٹھاتی ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ جس وقت سر اٹھاتی ہے\nعرش پر برچھیاں چلاتی ہے\n\nناز بردار لب ہے جاں جب سے\nتیرے خط کی خبر کو پاتی ہے\n\nاے شب ہجر راست کہہ تجھ کو\nبات کچھ صبح کی بھی آتی ہے\n\nچشم بددور چشم تر اے میرؔ\nآنکھیں طوفان کو دکھاتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%D8%AC%D8%B3_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B3%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "آہ جو دل سے نکالی جائے گی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ جو دل سے نکالی جائے گی\nکیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی\n\nاس نزاکت پر یہ شمشیر جفا\nآپ سے کیوں کر سنبھالی جائے گی\n\nکیا غم دنیا کا ڈر مجھ رند کو\nاور اک بوتل چڑھا لی جائے گی\n\nشیخ کی دعوت میں مے کا کام کیا\nاحتیاطاً کچھ منگا لی جائے گی\n\nیاد ابرو میں ہے اکبرؔ محو یوں\nکب تری یہ کج خیالی جائے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "آہ دیکھی تھی میں جس گھر میں پری کی صورت", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ دیکھی تھی میں جس گھر میں پری کی صورت\nاب نظر آئے ہے واں نوحہ گری کی صورت\n\nنہ وہ انداز نہ آواز نہ عشوہ نہ ادا\nیک بہ یک مٹ گئی یوں جلوہ گری کی صورت\n\nاب خیال اس کا وہاں آنکھوں میں پھرتا ہے مری\nکوئی پھرتا تھا جہاں کبک دری کی صورت\n\nاس کے جانے سے مرا دل ہے مرے سینے میں\nدم کا مہمان چراغ سحری کی صورت\n\nنے خبر اس کو مری پہنچے ہے نے اس کی مجھے\nبندھ گئی ہے عجب اک بے خبری کی صورت\n\nنام لوں کس کا کہ اک گل کے لیے جاتے ہیں\nاشک آنکھوں سے عقیق جگری کی صورت\n\nمصحفیؔ ہے یہی اب سوچ کہ دیکھیں تو فلک\nپھر بھی دکھلائے گا یار سفری کی صورت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا\nاس باؤ نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا\n\nسمجھی نہ باد صبح کہ آ کر اٹھا دیا\nاس فتنۂ زمانہ کو ناحق جگا دیا\n\nپوشیدہ راز عشق چلا جائے تھا سو آج\nبے طاقتی نے دل کی وہ پردہ اٹھا دیا\n\nاس موج خیز دہر میں ہم کو قضا نے آہ\nپانی کے بلبلے کی طرح سے مٹا دیا\n\nتھی لاگ اس کی تیغ کو ہم سے سو عشق نے\nدونوں کو معرکے میں گلے سے ملا دیا\n\nسب شور ما و من کو لیے سر میں مر گئے\nیاروں کو اس فسانے نے آخر سلا دیا\n\nآوارگان عشق کا پوچھا جو میں نشاں\nمشت غبار لے کے صبا نے اڑا دیا\n\nاجزا بدن کے جتنے تھے پانی ہو بہہ گئے\nآخر گداز عشق نے ہم کو بہا دیا\n\nکیا کچھ نہ تھا ازل میں نہ تالا جو تھے درست\nہم کو دل شکستہ قضا نے دلا دیا\n\nگویا محاسبہ مجھے دینا تھا عشق کا\nاس طور دل سی چیز کو میں نے لگا دیا\n\nمدت رہے گی یاد ترے چہرے کی جھلک\nجلوے کو جس نے ماہ کے جی سے بھلا دیا\n\nہم نے تو سادگی سے کیا جی کا بھی زیاں\nدل جو دیا تھا سو تو دیا سر جدا دیا\n\nبوئی کباب سوختہ آئی دماغ میں\nشاید جگر بھی آتش غم نے جلا دیا\n\nتکلیف درد دل کی عبث ہم نشیں نے کی\nدرد سخن نے میرے سبھوں کو رلا دیا\n\nان نے تو تیغ کھینچی تھی پر جی چلا کے میرؔ\nہم نے بھی ایک دم میں تماشا دکھا دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%B2%D8%B4_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%B9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آہ سے یا آہ کی تاثیر سے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ سے یا آہ کی تاثیر سے\nجی بہل جاتا کسی تدبیر سے\n\nاب سے غم سہنے کی عادت ہی سہی\nصلح کر لیں لاؤ چرخ پیر سے\n\nجبر کو کیونکر نہ سمجھوں اختیار\nتم نے باندھا ہے مجھے زنجیر سے\n\nکام اب اس تدبیر پر ہے منحصر\nواسطہ جس کو نہ ہو تقدیر سے\n\nاس نگاہ ناز کا اللہ رے فیض\nنسبتیں ہیں زخم دل کو تیر سے\n\nہوشیار او شوخ بے پروا خرام\nبچ کے میری خاک دامن گیر سے\n\nعشق فانیؔ اس پہ اپنی یہ بساط\nکھیلتی ہیں بجلیاں تصویر سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%AB%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "آہ شب نالۂ سحر لے کر", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ شب نالۂ سحر لے کر\nنکلے ہم توشۂ سفر لے کر\n\nشغل ہے نالہ کچھ مراد نہیں\nکیا کروں اے فلک اثر لے کر\n\nتیری محفل کا یار کیا کہنا\nہم بھی نکلے ہیں چشم تر لے کر\n\nآپ میں نے دیا دل اس بت کو\nجھک گئی شاخ خود ثمر لے کر\n\nتھا قفس کا خیال دامن گیر\nاڑ سکے ہم نہ بال و پر لے کر\n\nوحشتؔ اس بزم میں رہے تھے رات\nصبح نکلے ہیں درد سر لے کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%D8%B4%D8%A8_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "آہ ملتے ہی پھر جدائی کی", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ ملتے ہی پھر جدائی کی\nواہ کیا خوب آشنائی کی\n\nنہ گئی تیری سرکشی ظالم\nہم نے ہر چند جبہ سائی کی\n\nدل نہیں اپنے اختیار میں آج\nکیا مگر تو نے آشنائی کی\n\nدر پہ اے یار تیرے آ پہنچے\nتپش دل نے رہنمائی کی\n\nقابل سجدہ تو ہی ہے اے بت\nسیر کی ہم نے سب خدائی کی\n\nجو مقید ہیں تیری الفت کے\nآرزو کب انہیں رہائی کی\n\nجی میں بیدارؔ کھپ گئی میرے\nخندق اس پنجۂ حنائی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "آہ میں بے قرار کس کا ہوں", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ میں بے قرار کس کا ہوں\nکشتۂ انتظار کس کا ہوں\n\nتیر سا دل میں کچھ کھٹکتا ہے\nدیکھیو میں شکار کس کا ہوں\n\nدل ہے یا میں ہوں میں ہوں یا دل ہے\nاور اب ہم کنار کس کا ہوں\n\nچین آتا نہیں مجھے یارو\nدل پر اضطرار کس کا ہوں\n\nچاک ہے مثل گل تمام بدن\nیا رب اتنا فگار کس کا ہوں\n\nسوزؔ میں جو کہا کہاں تھا یار\nبولا چل بے میں یار کس کا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "آہ میں کچھ نظر آئی نہ اثر کی صورت", "poet_page": "مصنف:منشی شیو پرشاد وہبی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وہبی (1870)", "year": "1870", "text_ur": "آہ میں کچھ نظر آئی نہ اثر کی صورت\nیہ وہ ہے نخل کہ دیکھی نہ ثمر کی صورت\n\nاپنی آغوش میں وہ ماہ لقا شام سے ہے\nیا الٰہی نظر آئے نہ سحر کی صورت\n\nجوش آیا نہ مرے دل کی طرح سے اس کو\nابر برسا نہ کبھی دیدۂ تر کی صورت\n\nکر دیا ہے غم فرقت نے مجھے زار ایسا\nگم ہوں نظروں سے مگر ان کی کمر کی صورت\n\nسرخ رو میں جو ہوا نقد شہادت پا کر\nرو سیہ ہو گئے اغیار سپر کی صورت\n\nپھر فرشتے نہ کبھی حور کی صورت دیکھیں\nدیکھ پائیں جو مرے رشک قمر کی صورت\n\nپھولنے پھلنے کی امید تھی وہبیؔ اک دن\nکر دیا عشق نے اب خشک شجر کی صورت", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "آہ و نالہ نے کچھ اثر نہ کیا", "poet_page": "مصنف:رادھے شیام رستوگی احقر", "kind": "poetry", "section": "غزل > نقشہاے رنگ رنگ (1929)", "year": "1929", "text_ur": "آہ و نالہ نے کچھ اثر نہ کیا\nہجر کی شام کو سحر نہ کیا\n\nتلخئ صبر خوش گوار ہوئی\nزہر نے بھی مجھے اثر نہ کیا\n\nسر کو پھوڑا جو کوہ کن نے تو کیا\nعشق میں کس نے نذر سر نہ کیا\n\nکون سی ایسی آفت آئی جب\nآسماں نے مجھے سپر نہ کیا\n\nکانپتا ہے وہ دل غضب سے ترے\nجس نے اے بت خدا کا ڈر نہ کیا\n\nجس نے دیکھا وہ روئے آتش ناک\nپھر گماں اسے نے برق پر نہ کیا\n\nکوچ اپنا بھی ہو گیا احقرؔ\nغم و اندوہ نے سفر نہ کیا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%D9%88_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "آہ وہ شعلہ ہے جو جی کو بجھا کے اٹھے", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ وہ شعلہ ہے جو جی کو بجھا کے اٹھے\nدرد وہ فتنہ ہے جو دل کو بٹھا کے اٹھے\n\nآپ کی یاد میں ہم اے صنم غفلت کیش\nایسے بیٹھے کہ قیامت ہی اٹھا کے اٹھے\n\nایک دزدیدہ نظر سے مرا دل چھین کے واہ\nتم کدھر کو مری جاں آنکھ بچا کے اٹھے\n\nعرصۂ حشر تک اک لگ گیا تانتا ان کا\nمردے قبروں سے جو تیرے شہدا کے اٹھے\n\nرمضاں کیونکہ برس بھر کو سمجھ بیٹھیں ہم\nآئے دن کے بھی کسی سے یہ کڑاکے اٹھے\n\nدل نشیں رحمت حق جب سے ہوئی ہے کیفیؔ\nدغدغے دل سے مرے روز جزا کے اٹھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92"} {"title": "آہ کب لب پر نہیں ہے داغ کب دل میں نہیں", "poet_page": "مصنف:مظفر علی اسیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ کب لب پر نہیں ہے داغ کب دل میں نہیں\nکون سی شب ہے کہ گرمی اپنی محفل میں نہیں\n\nبزم کی کثرت سے اندیشہ مرے دل میں نہیں\nدل میں اس کی ہے جگہ میرے جو محفل میں نہیں\n\nپنجۂ مژگان تر نے یہ اڑائیں دھجیاں\nتار باقی ایک بھی دامان ساحل میں نہیں\n\nخون ناحق کا ہمارے داغ مٹنے کا نہیں\nتیغ میں ہوگا اگر دامان قاتل میں نہیں\n\nپردہ دار چہرۂ یوسف نہیں ہے ہر نقاب\nحسن لیلیٰ جلوہ گر ہر ایک محفل میں نہیں\n\nنجد کا صحرا عجب صحرائے وحشت خیز ہے\nقیس کیا لیلیٰ کو بھی آرام منزل میں نہیں\n\nجس طرف جی چاہے گا میرا نکل جاؤں گا میں\nسیکڑوں دروازے ہیں حلقے سلاسل میں نہیں\n\nحد سے باہر پاؤں جو رکھتا ہے ہوتا ہے خراب\nگھر میں جو راحت مسافر کو ہے منزل میں نہیں\n\nڈوبتے جاتے ہیں کیوں کر لوگ حیرت ہے مجھے\nقد آدم آب بحر تیغ قاتل میں نہیں\n\nہو گیا دہشت سے ایسا بسملوں کا خون خشک\nایک بھی دھبا لہو کا تیغ قاتل میں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%DA%A9%D8%A8_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آہ کرنا دل حزیں نہ کہیں", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ کرنا دل حزیں نہ کہیں\nآگ لگ جائے گی کہیں نہ کہیں\n\nمرے دل سے نکل کے دنیا میں\nچین سے حسرتیں رہیں نہ کہیں\n\nبے حجابی نگاہ الفت کی\nدیکھے وہ شرمگیں کہیں نہ کہیں\n\nآ گئے لب پہ دل نشیں نالے\nجا ہی پہنچیں گے اب کہیں نہ کہیں\n\nہم سمجھتے ہیں حضرت بیخودؔ\nچوٹ کھا آئے ہو کہیں نہ کہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%AD%D8%B2%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "آہ کو جو کہوں برائی کی", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ کو جو کہوں برائی کی\nبخت نے کون سی رسائی کی\n\nمہرباں وہ ہوئے تو حیراں ہوں\nان سے کیا میں نے بے وفائی کی\n\nاس کے رفع گمان بد کے لئے\nمدتوں ہم نے پارسائی کی\n\nضعف میں سر ہلا نہ بالیں سے\nگو بہت طاقت آزمائی کی\n\nسب سے بیگانہ ہم رہے عارفؔ\nدوستی کی نہ آشنائی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک\nکون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک\n\nدام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ\nدیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک\n\nعاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب\nدل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک\n\nتا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر\nسات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہوتے تک\n\nہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن\nخاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک\n\nپرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم\nمیں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک\n\nیک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافل\nگرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہوتے تک\n\nغم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج\nشمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "آہ کے تیں دل حیران و خفا کو سونپا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ کے تیں دل حیران و خفا کو سونپا\nمیں نے یہ غنچۂ تصویر صبا کو سونپا\n\nتیرے کوچے میں مری خاک بھی پامال ہوئی\nتھا وہ بے درد مجھے جن نے وفا کو سونپا\n\nاب تو جاتا ہی ہے کعبے کو تو بت خانے سے\nجلد پھر پہنچیو اے میرؔ خدا کو سونپا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%88%D9%86%D9%BE%D8%A7"} {"title": "آہ ہم راز کون ہے اپنا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہ ہم راز کون ہے اپنا\nبخت ناساز کون ہے اپنا\n\nکس کے کہلائیں ہم کہ تیرے سوا\nبت طناز کون ہے اپنا\n\nبات کہہ دے ہے وہ تہ دل کی\nایسا غماز کون ہے اپنا\n\nلے اڑتے تو ہی گر نہ ہم کو تو پھر\nشوق پرواز کون ہے اپنا\n\nوصل ہوتا نہیں، نہیں معلوم\nخلل انداز کون ہے اپنا\n\nبولا دیکھ آئنہ وہ حیرت سے\nچہرہ پرداز کون ہے اپنا\n\nگو کہ آنکھیں لڑائیں ہم اس سے\nیاں نظر باز کون ہے اپنا\n\nشب فرقت میں جز دم قلیاں\nیار دم ساز کون ہے اپنا\n\nبے نیازی کرے جو تو ہی تو پھر\nاے ہمہ ناز کون ہے اپنا\n\nمصحفیؔ ہم ہیں اور تنہائی\nسچ ہے انباز کون ہے اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "آہنگ نو", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے جوانان وطن روح جواں ہے تو اٹھو\nآنکھ اس محشر نو کی نگراں ہے تو اٹھو\nخوف بے حرمتی و فکر زیاں ہے تو اٹھو\nپاس ناموس نگاران جہاں ہے تو اٹھو\nاٹھو نقارۂ افلاک بجا دو اٹھ کر\nایک سوئے ہوئے عالم کو جگا دو اٹھ کر\n\nایک اک سمت سے شبخون کی تیاری ہے\nلطف کا وعدہ ہے اور مشق جفا کاری ہے\nمحفل زیست پہ فرمان قضا جاری ہے\nشہر تو شہر ہے گاؤں پہ بھی بمباری ہے\nیہ فضا میں جو گرجتے ہوئے طیارے ہیں\nبرسر دوش ہوا موت کے ہرکارے ہیں\n\nاس طرف ہاتھوں میں شمشیریں ہی شمشیریں ہیں\nاس طرف ذہن میں تدبیریں ہی تدبیریں ہیں\nظلم پر ظلم ہیں تعزیروں پہ تعزیریں ہیں\nسر پہ تلوار ہے اور پاؤں میں زنجیریں ہیں\nایک ہو ایک کہ ہنگامۂ محشر ہے یہی\nعرصۂ زیست کا ہنگامۂ اکبر ہے یہی\n\nاپنی سرحد پہ جو اغیار چلے آتے ہیں\nشعلہ افشاں و شرر بار چلے آتے ہیں\nخون پیتے ہوئے سرشار چلے آتے ہیں\nتم جو اٹھ جاؤ تو بے کار چلے آتے ہیں\nخوں جو بہہ نکلا ہے اس خوں میں بہا دو ان کو\nان کی کھودی ہوئی خندق میں گرا دو ان کو\n\nرنگ گلہائے گلستان وطن تم سے ہے\nسورش نعرۂ رندان وطن تم سے ہے\nنشۂ نرگس خوبان وطن تم سے ہے\nعفت ماہ جبینان وطن تم سے ہے\nتم ہو غیرت کے امیں تم ہو شرافت کے امیں\nاور یہ خطرے میں ہیں احساس تمہیں ہے کہ نہیں\n\nیہ درندے یہ شرافت کے پرانے دشمن\nتم کہ ہو حامل آداب و روایات کہن\nجادہ پیما کے لیے خضر ہو تم یہ رہزن\nتم ہو خرمن کے نگہبان یہ برق خرمن\nخطۂ پاک میں زنہار نہ آنے پائیں\nآ ہی جائیں جو یہ زندہ تو نہ جانے پائیں\n\nمرد و زن پیر و جواں ان کے مظالم کے شکار\nخون معصوم میں ڈوبی ہوئی ان کی تلوار\nیہ قیامت کے ہوس ناک غضب کے خوں خار\nان کے عصیاں کی نہ حد ہے نہ جرائم کا شمار\nیہ ترحم سے نہ دیکھیں گے کسی کی جانب\nان کی توپوں کے دہن کر دو انہی کی جانب\n\nیہ تو ہیں فتنۂ بیدار دبا دو ان کو\nیہ مٹا دیں گے تمدن کو مٹا دو ان کو\nپھونک دو ان کو جھلس دو کہ جلا دو ان کو\nشان شایان وطن ہو یہ بتا دو ان کو\nیاد ہے تم کو کن اسلاف کی تم یادیں ہو\nتم تو خالد کے پسر بھیم کی اولادیں ہو\n\nتم تو تنہا بھی نہیں ہو کئی دم ساز بھی ہیں\nروس کے مرد بھی ہیں چین کے جاں باز بھی ہیں\nکچھ نہ کچھ ساتھ فرنگی کے فسوں ساز بھی ہیں\nاور ہم جیسے بہت زمزمہ پرداز بھی ہیں\nدور انسان کے سر سے یہ مصیبت کر دو\nآگ دوزخ کی بجھا دو اسے جنت کر دو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81%D9%86%DA%AF_%D9%86%D9%88"} {"title": "آہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائے", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائے\nغل رعد کا نالوں کی زبانی ہو جائے\nاشکوں سے جھڑی لگے وہ شہ کے غم کی\nساون کی گھٹا شرم سے پانی ہو جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D9%81%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "آہوں سے مرے گھر میں ہوا گرم رہے گی", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہوں سے مرے گھر میں ہوا گرم رہے گی\nمیں جاؤں گا تو بھی مری جا گرم رہے گی\n\nبھرتے ہی رہیں گے نفس سرد ہزاروں\nجب تک کہ تری آن و ادا گرم رہے گی\n\nجلنا مرے تب دل کا لگے گا یہ ٹھکانے\nصحبت تری جب مجھ سے سدا گرم رہے گی\n\nچوٹی میں دل سوختہ کو گوندھ کے پیارے\nمت پھیک قفا پر کہ قفا گرم رہے گی\n\nبلبل نہ مجھے دیجیو تو نالے کی تکلیف\nورنہ اثر اس کے سے صبا گرم رہے گی\n\nجب تک نہیں تو دختر رز ہی کو رکھوں گا\nکچھ تو یہ بغل میری بھلا گرم رہے گی\n\nعشاق کو ترغیب محبت ہی کرے گا\nجب تک ہے حسنؔ بزم وفا گرم رہے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "آہوں سے ہوں گے گنبد ہفت آسماں خراب", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آہوں سے ہوں گے گنبد ہفت آسماں خراب\nکس کس مکان کو نہ کرے گا دھواں خراب\n\nمر کر بھی اپنے ساتھ رہیں ہرزہ گردیاں\nہے مشت خاک صورت ریگ رواں خراب\n\nقامت وہ ہے کہ جس سے قیامت ہے آشکار\nنقشہ وہ ہے کہ جس سے ہے نقش جہاں خراب\n\nتاب و تواں کو جسم میں یوں ڈھونڈھتی ہے روح\nجیسے غبار راہ پس کارواں خراب\n\nناساز ہو مزاج تو باتوں میں کیا مزا\nبیمار کی طرح ہے زبان و دہاں خراب\n\nزیور زوال حسن میں پہنا تو کیا بہار\nپتے سنہرے صورت برگ خزاں خراب\n\nقطمیر سے کروں گا سگ یار کا گلا\nمرقد کے غار میں جو ہوئیں ہڈیاں خراب\n\nاے بحرؔ تجھ کو ڈھونڈ پھرے شش جہت میں ہم\nتیرا پتا کہیں بھی ہے او خانماں خراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DA%AF%D9%86%D8%A8%D8%AF_%DB%81%D9%81%D8%AA_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "آیا جو موسم گل تو یہ حساب ہوگا", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آیا جو موسم گل تو یہ حساب ہوگا\nہم ہوں گے یار ہوگا جام شراب ہوگا\n\nنالوں سے اپنی اک دن وہ انقلاب ہوگا\nدم بھر میں آسماں کا عالم خراب ہوگا\n\nدکھلائیں گے تجھے ہم داغ جگر کا عالم\nمنہ اس طرف کبھی تو اے آفتاب ہوگا\n\nاے زاہد ریائی دیکھی نماز تیری\nنیت اگر یہی ہے تو کیا ثواب ہوگا\n\nوہ رد خلق ہوں میں گر ڈوب کر مروں گا\nمردہ مرا وبال دوش حباب ہوگا\n\nوہ مست ہیں ادھر تو رکھتے نہیں ہیں ساغر\nمغرب سے ہاں نمایاں جب آفتاب ہوگا\n\nاے زود رنج تجھ پر جو لوگ جان دیں گے\nرہ رہ کے تربتوں میں ان پر عذاب ہوگا\n\nخون سیاوش اک دن دکھلائے گا خرابی\nاس ظلم کا عوض اے افراسیاب ہوگا\n\nتو نقد دل کو لے کر مکرا تو ہی ٹھہر جا\nروز حساب میرے تیرے حساب ہوگا\n\nاللہ رے ان کا غصہ اتنا نہیں سمجھتے\nکیوں کر کوئی جئے گا جب یوں عتاب ہوگا\n\nداغ جگر کو لے کر جائیں گے ہم جو اے دل\nجنت میں حوریوں کو رہنا عذاب ہوگا\n\nکیا سیر ہوگی وہ مہ لایا اگر حرارا\nچہرہ جو تمتمایا تو آفتاب ہوگا\n\nوہ رند ہوں میں زاہد آنے دے حشر کا دن\nاس روز بھی یہ بندہ مست شراب ہوگا\n\nبرسات ہے بہاریں ساقیٔ برق وش کو\nچھایا ہوا چمن پر کیسا سحاب ہوگا\n\nاے مہروش تو کیوں کر پردے میں چھپ سکے گا\nابر تنک کی صورت منہ پر نقاب ہوگا\n\nاے چرخ پیر اب تو یہ حال ہے ستم کا\nکیا ہوگا جن دنوں میں تیرا شباب ہوگا\n\nاے مغبچوں تمہارا بایاں قدم میں لونگا\nزاہد کا گر عمامہ رہن شراب ہوگا\n\nدھوئے گا اپنے تلوے وہ بت جو سنگ پاسی\nشیریں کا بے ستوں پر نقشہ خراب ہوگا\n\nزلفوں کا عشق کیوں کر ان سے بیاں کروں گا\nحال دل پریشاں گونگے کا خواب ہوگا\n\nسر کشتگی میں میرا کیا ساتھ دے سکے گا\nاے آسماں ٹھہر جا نا حق خراب ہوگا\n\nفرقت میں ضبط نالہ ہم سے نہ ہو سکے گا\nقابو میں دل نہ ہوگا جب اضطراب ہوگا\n\nلکھے کی کیا خبر تھی یہ کون جانتا تھا\nلیلہ کے ساتھ پڑھ کر مجنوں خراب ہوگا\n\nایمان تم صباؔ کا اس وقت دیکھ لینا\nآنکھوں میں دم لبوں پر یا بو تراب ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85_%DA%AF%D9%84_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "آیا محرم غمگیں رہا کر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "آیا محرم غمگیں رہا کر\nابن علی کا ماتم رکھا کر\nشیون جہاں ہو رو روز جاکر\nآخر نبیؐ کے منھ سے حیا کر\n\nصرف خزاں ہے باغ امامت\nاچھی نہیں کچھ یاں کی علامت\nہر گل کے سر پر ہے اک قیامت\nپیراہن اپنا تو بھی قبا کر\n\nکھنچ جا علی کی اولاد کی اور\nنزدیک سب کے ہے یہ طرف زور\nسن کربلا کا ہنگامہ و شور\nغم سے کماں ساں ہر دم نوا کر\n\nمٹی میں بوٹے اٹنے لگے ہیں\nاشجار سارے کٹنے لگے ہیں\nگل پھول جو ہیں چھٹنے لگے ہیں\nجوں ابر تو بھی رو دل لگا کر\n\nشبیر و احمد نانا نواسا\nجس کی نہ خاطر نے کچھ دلاسا\nہفتم سے رکھا اس کو پیاسا\nآخر موا وہ گردن کٹا کر\n\nبابا نہ تھا جو چھاتی لگاتا\nبھائی نہ تھا جو ہمت بندھاتا\nبیٹا نہ تھا جو لاشیں اٹھاتا\nمرنا بنا سو بیکس ہو آکر\n\nپتھر جگر تھا اس شیشہ جاں کا\nدیکھا اجڑنا ووں خانماں کا\nمرنا اٹھایا بیٹے جواں کا\nکیا کیا گیا آہ سختی اٹھا کر\n\nنانا کی امت برگشتہ ساری\nرکھتا تو کس سے امیدواری\nعابد رہا ہے تس کو نزاری\nگھر سونپ جاتا کس کو بلا کر\n\nالقصہ آنکھیں اس کی مندیں جب\nخیموں میں محشر برپا ہوئی تب\nفریاد و افغاں کرنے لگے سب\nمویہ کناں تھے مو سر کے وا کر\n\nاس حال میں آ خیمہ جلایا\nاسباب ظاہر لوٹا لٹایا\nاس گھر کا ماتم یوں کر اٹھایا\nیک جا کیے سب میداں میں لاکر\n\nوہ ناتوانی زین العبا کی\nوہ دھوم گھر پر جور و جفا کی\nبے صرفہ اشیا کیا کیا لٹا کی\nتس پر ستم یہ اس کو دکھا کر\n\nوے دست کجیاں وہ کج پلاسی\nاہل حرم کی وہ بے لباسی\nپھر ظالموں کی ناحق شناسی\nسینے جلائے باتیں سنا کر\n\nسمجھے نہ کچھ ہم اے چرخ جاہل\nویسے گلے کو شمشیر قاتل\nبھائی کو اس کے زہر ہلاہل\nبیٹے کو لایا یوں تو بندھا کر\n\nناموس اس کے بے سیرتوں میں\nدولت سرا وہ بے دولتوں میں\nوے اہل غیرت بے غیرتوں میں\nکیسا رہا تو آنکھیں چھپا کر\n\nاکبر جواں کو ہاتھوں سے کھویا\nاصغر پیاسا گودی میں سویا\nآنکھیں نہ اس دم تیری تھیں گویا\nجس دم گیا وہ خوں میں نہا کر\n\nنو نیزہ پانی گو چڑھ رہا تھا\nلشکر تو اس کا پیاسا موا تھا\nانصاف ظالم یہ آہ کیا تھا\nنیزہ چڑھایا سر پھر جدا کر\n\nخاک سیہ سے ہو یوں برابر\nوہ شہ جو سب سے رتبے میں برتر\nطالع جو اس کے کسریٰ و قیصر\nخادم سکے ہو یا ہووے چاکر\n\nعابد کو آزار اور ناتوانی\nپھر اس کو مطلق دانہ نہ پانی\nنے کوئی غم خوار نے یار جانی\nکس سے کہے ٹک میری دوا کر\n\nبھائی کو دیکھے رو رو سکینہ\nجن کی نظر سے جل جائے سینہ\nپھر ڈر سے ان کے جن کو تھا کینہ\nرہ جائیں آنکھیں دونوں ملا کر\n\nقاسم کی شادی ویسے رچائی\nلوہو سے مہندی بھر کر لگائی\nجوں شمع دلہن روتی بنائی\nآخر موا وہ چھاتی جلا کر\n\nجو پردگی تھے بے پردہ آئے\nخرگاہ خیمے سارے جلائے\nبیٹے بھتیجے سب وو کٹائے\nکیا کیا گیا وہ آزار پا کر\n\nدیکھا ترا ڈھب سب سے نرالا\nروکش علی کا کس کو نکالا\nکرلے حکومت اس کا حوالہ\nلیجے ریاست اس سے چھنا کر\n\nگھر کی علی کے ویسی خرابی\nاہل ستم کی وہ کامیابی\nکر فکر غافل اپنی شتابی\nکس کو بگاڑا کس کو بنا کر\n\nمدت تلک کی ہرزہ درائی\nشہرت ہوئی پر ذلت اٹھائی\nبس میرؔ کب تک پیری بھی آئی\nاب مرثیہ ہی اکثر کہا کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%BA%D9%85%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھے\nاب تم ملے تو کچھ نہیں اپنی خبر مجھے\n\nدل لے کے مجھ سے دیتے ہو داغ جگر مجھے\nیہ بات بھولنے کی نہیں عمر بھر مجھے\n\nہر سو دکھائی دیتے ہیں وہ جلوہ گر مجھے\nکیا کیا فریب دیتی ہے میری نظر مجھے\n\nملتی نہیں ہے لذت درد جگر مجھے\nبھولی ہوئی نہ ہو نگہ فتنہ گر مجھے\n\nڈالا ہے بے خودی نے عجب راہ پر مجھے\nآنکھیں ہیں اور کچھ نہیں آتا نظر مجھے\n\nکرنا ہے آج حضرت ناصح سے سامنا\nمل جائے دو گھڑی کو تمہاری نظر مجھے\n\nمستانہ کر رہا ہوں رہ عاشقی کو طے\nلے جائے جذب شوق مرا اب جدھر مجھے\n\nڈرتا ہوں جلوۂ رخ جاناں کو دیکھ کر\nاپنا بنا نہ لے کہیں میری نظر مجھے\n\nیکساں ہے حسن و عشق کی سر مستیوں کا رنگ\nان کی خبر انہیں ہے نہ میری خبر مجھے\n\nمرنا ہے ان کے پاؤں پہ رکھ کر سر نیاز\nکرنا ہے آج قصۂ غم مختصر مجھے\n\nسینے سے دل عزیز ہے دل سے ہو تم عزیز\nسب سے مگر عزیز ہے تیری نظر مجھے\n\nمیں دور ہوں تو روئے سخن مجھ سے کس لیے\nتم پاس ہو تو کیوں نہیں آتے نظر مجھے\n\nکیا جانئے قفس میں رہے کیا معاملہ\nاب تک تو ہیں عزیز مرے بال و پر مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%B3_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "آیا نہ راہ پر وہ ستم گر کسی طرح", "poet_page": "مصنف:احمد شاہ خاں شبنم", "kind": "poetry", "section": "غزل > گلدستۂ لطافت (1936)", "year": "1936", "text_ur": "آیا نہ راہ پر وہ ستم گر کسی طرح\nسیدھا ہوا نہ اپنا مقدر کسی طرح\n\nسر پھوڑیے کہ کھینچیے نالے فراق میں\nہوگا نہ وصل یار میسر کسی طرح\n\nقاتل نے کوششیں تو ہزاروں ہی کیں مگر\nنکلا نہ دم مرا تہ خنجر کسی طرح\n\nبدلا لیں ان بتوں سے ستم کا تو خوب ہو\nسن لے ہماری داور محشر کسی طرح\n\nوحشت نے لاکھ لاکھ ابھارا ہمیں مگر\nچھوڑا نہ ہم نے کوچۂ دلبر کسی طرح\n\nمنت بھی کی خوشامدیں بھی کیں ہزار بار\nآیا نہ میرے گھر وہ ستم گر کسی طرح\n\nشبنمؔ وہی ہے اس کی کچاوٹ ابھی تلک\nبدلے نہ ہم نے یار کے تیور کسی طرح", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "آیا نہیں جو کر کر اقرار ہنستے ہنستے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آیا نہیں جو کر کر اقرار ہنستے ہنستے\nجل دے گیا ہے شاید عیار ہنستے ہنستے\n\nاتنا نہ ہنس دل اس سے ایسا نہ ہو کہ چنچل\nلڑنے کو تجھ سے ہووے تیار ہنستے ہنستے\n\nلے کر صریح دل کو وہ گل عذار یارو\nظاہر کرے ہے کیا کیا انکار ہنستے ہنستے\n\nہنس ہنس کے چھیڑ اس کو زنہار تو نہ اے دل\nہوگا گلے کا تیرے یہ ہار ہنستے ہنستے\n\nہنسنے کی آن دکھلا لیتا ہے دل کو گل رو\nکرتا ہے شوخ یارو بے کار ہنستے ہنستے\n\nجھنجھلا کے حال دل کا کہنا نہیں روا ہے\nلائق یہاں تو کرنا انکار ہنستے ہنستے\n\nدستار سرخ سج کر طرہ زری کا رکھ کر\nآیا جو دل کو لینے دل دار ہنستے ہنستے\n\nآنکھیں لڑا کے اس نے ہنس کر نگہ کی ایسی\nجو لے گیا دل آخر خونخوار ہنستے ہنستے\n\nآیا ہے دیکھنے کو تیرے نظیرؔ اے گل\nدکھلا دے ٹک تو اس کو دیدار ہنستے ہنستے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%86%D8%B3%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%86%D8%B3%D8%AA%DB%92"} {"title": "آیا پیا شراب کا پیالا پیا ہوا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آیا پیا شراب کا پیالا پیا ہوا\nدل کے دیے کی جوت سیں کاجل دیا ہوا\n\nآیا ہے میرے قتل پہ درپیش بے طرح\nآیا ہے مجھ کوں پیش وو اپنا کیا ہوا\n\nمارا ہوا ہے خضر محبت کی تیغ کا\nآب حیات شوق سیں تیرے جیا ہوا\n\nبیٹھا ہے تخت شوق پہ جو ہو کے بے ریا\nوو پادشاہ بارگہہ کبریا ہوا\n\nنکلا ہے دل جلا کے مجھ آنکھوں سے طفل اشک\nاس شوخ بے جگر کا دیکھو کیا ہیا ہوا\n\nدل لے گیا ہے مجھ کوں دے امید دل دہی\nظالم کبھی تو لائے گا میرا لیا ہوا\n\nنہیں جب سیں پاس شاہد گلگوں قبا سراجؔ\nجی پر ہے تنگ جسم کا جامہ سیا ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "آیا ہوں میں جانب عدم ہستی سے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "آیا ہوں میں جانب عدم ہستی سے\nپیدا ہے بلند پائے گی پستی سے\nعجز اپنا بہ زور کر رہا ہوں ثابت\nمجبور ہوا ہوں میں زبردستی سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A8_%D8%B9%D8%AF%D9%85_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%B3%DB%92"} {"title": "آیا ہے خیال بے وفائی", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آیا ہے خیال بے وفائی\nکیوں جی وہی گفتگو پھر آئی\n\nاو بت نہ سنے گا کوئی میری\nکیا تیری ہی ہو گئی خدائی\n\nروکو روکو زبان روکو\nدینے نہ لگو کہیں دہائی\n\nصحرا میں ہوئی گہر فشانی\nکام آئی مری برہنہ پائی\n\nچاہا لیکن نہ بچ سکے ہم\nآخر تیغ نگاہ کھائی\n\nتوڑا کانٹوں نے آبلوں کو\nبرباد ہوئی مری کمائی\n\nبوسہ ہم آج مانگتے ہیں\nکرتے ہیں قسمت آزمائی\n\nتوبہ شکنی شباب میں کر\nکب تک اے جان پارسائی\n\nکاٹا دن تو تڑپ تڑپ کر\nآفت کی رات سر پر آئی\n\nرخصت ہے نسیمؔ جلد دیکھو\nکر لو گر ہو سکے بھلائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "آیا ہے صبح نیند سوں اٹھ رسمسا ہوا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آیا ہے صبح نیند سوں اٹھ رسمسا ہوا\nجامہ گلے میں رات کے پھولوں بسا ہوا\n\nکم مت گنو یہ بخت سیاہوں کا رنگ زرد\nسونا وہی جو ہووے کسوٹی کسا ہوا\n\nانداز سیں زیادہ نپٹ ناز خوش نہیں\nجو خال حد سے زیادہ بڑھا سو مسا ہوا\n\nقامت کا سب جگت منیں بالا ہوا ہے نام\nقد اس قدر بلند تمہارا رسا ہوا\n\nزاہد کے قد خم کوں مصور نے جب لکھا\nتب کلک ہاتھ بیچ جو تھا سو عصا ہوا\n\nدل یوں ڈرے ہے زلف کا مارا وہ پھونک سیں\nرسی سیں اژدہے کا ڈرے جوں ڈسا ہوا\n\nاے آبروؔ اول سیں سمجھ پیچ عشق کا\nپھر زلف سیں نکل نہ سکے دل پھنسا ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%AF_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%D8%B1%D8%B3%D9%85%D8%B3%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "آیا ہے مگر عشق میں دل دار ہمارا", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "آیا ہے مگر عشق میں دل دار ہمارا\nہر تن میں ہوا جان ہر اک جسم کا نیارا\n\nبے مثل اس کے حسن کو کہتے ہیں دو عالم\nدستا ہے ہر اک خلق کو اپنے سوں پیارا\n\nمن کان نہ ہو یار کے درسن کو نہ جانے\nآیا نہیں کوئی پھر کے جہاں بیچ دوبارا\n\nاس شمع درخشاں کو اپس ساتھ تو لے جا\nور نہیں تو قبر بیچ ہے ظلمات اندھارا\n\nکرنے میں جمع زر کے گنواتا ہے عمر کیوں\nآخر کو نکل جائے گا سب چھوڑ ضرارا\n\nفرزند و عزیزان سکل خویش قبیلہ\nدنیا ہے دغاباز نہیں کوئی تمہارا\n\nبے حد ہے علیمؔ عشق کے تعلیم کا طومار\nپایا نہیں کوئی عشق کے دریا کا کنارا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "آیا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اتار بھی", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آیا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اتار بھی\nپستی سے ہم کنار ملے کوہسار بھی\n\nآخر کو تھک کے بیٹھ گئی اک مقام پر\nکچھ دور میرے ساتھ چلی رہ گزار بھی\n\nدل کیوں دھڑکنے لگتا ہے ابھرے جو کوئی چاپ\nاب تو نہیں کسی کا مجھے انتظار بھی\n\nجب بھی سکوت شام میں آیا ترا خیال\nکچھ دیر کو ٹھہر سا گیا آبشار بھی\n\nکچھ ہو گیا ہے دھوپ سے خاکستری بدن\nکچھ جم گیا ہے راہ کا مجھ پر غبار بھی\n\nاس فاصلوں کے دشت میں رہبر وہی بنے\nجس کی نگاہ دیکھ لے صدیوں کے پار بھی\n\nاے دوست پہلے قرب کا نشہ عجیب تھا\nمیں سن سکا نہ اپنے بدن کی پکار بھی\n\nرستہ بھی واپسی کا کہیں بن میں کھو گیا\nاوجھل ہوئی نگاہ سے ہرنوں کی ڈار بھی\n\nکیوں رو رہے ہو راہ کے اندھے چراغ کو\nکیا بجھ گیا ہوا سے لہو کا شرار بھی\n\nکچھ عقل بھی ہے باعث توقیر اے شکیبؔ\nکچھ آ گئے ہیں بالوں میں چاندی کے تار بھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%B1_%DA%86%DA%91%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "اب آؤ سرود غم سنائیں", "poet_page": "مصنف:ہوش بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب آؤ سرود غم سنائیں\nسوتی ہوئی روح کو جگائیں\n\nاجزائے حیات منتشر ہیں\nآئین حیات کیا بنائیں\n\nہو جاؤں میں زندگی سے بیزار\nاتنا بھی نہ آپ آزمائیں\n\nبجھنے کو ہے شمع زندگانی\nکیا آپ کو حال دل سنائیں\n\nمیں خوگر درد ہو چلا ہوں\nاچھا ہے کہ آپ اب نہ آئیں\n\nعشرت کے فریب کھانے والے\nجینا ہے اگر تو غم اٹھائیں\n\nمجبور یقین وعدہ ہوں میں\nاے ہوشؔ وہ آئیں یا نہ آئیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%A4_%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%AF_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اب آئے ہو صدا سن کر گجر کی", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب آئے ہو صدا سن کر گجر کی\nکہو جی شب کہاں تم نے بسر کی\n\nسحر کو دفن کر کے جائیے گا\nمصیبت اور ہے اک رات بھر کی\n\nقفس میں بند کرنا تھا جو تقدیر\nندامت کیوں مجھے دی بال و پر کی\n\nگزر جائے گی جو گزرے گی ہم پر\nچلو جی راہ لو تم اپنے گھر کی\n\nابھی تو جان لے لے اے غم عشق\nمصیبت کون اٹھائے عمر بھر کی\n\nخدا کے واسطے یارو سنبھالو\nکہ پھر شدت ہوئی درد جگر کی\n\nترشح آنسوؤں کا ہو رہا ہے\nگھٹا امڈی ہوئی ہے چشم تر کی\n\nنہ بولیں گے تمہارے خوف سے ہم\nہلائیں گے مگر زنجیر در کی\n\nنہ آنا تم اجازت مانگنے کو\nنہ دکھلانا ہمیں صورت سفر کی\n\nکوئی دم کا بکھیڑا رہ گیا ہے\nجگر تک برچھیاں پہنچیں نظر کی\n\nہمیں فصاد کا منہ دیکھنا ہے\nاٹھانی ہے مصیبت نیشتر کی\n\nحباب آسا ہے لطف زندگانی\nحقیقت کچھ نہیں ہوتی بشر کی\n\nنسیمؔ اب دل کتاں کی طرح ہے چاک\nمحبت میں کسی رشک قمر کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%B5%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں\nنہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں\n\nجو بے اختیاری یہی ہے تو قاصد\nہمیں آ کے اس کے قدم دیکھتے ہیں\n\nگہے داغ رہتا ہے دل گا جگر خوں\nان آنکھوں سے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں\n\nاگر جان آنکھوں میں اس بن ہے تو ہم\nابھی اور بھی کوئی دم دیکھتے ہیں\n\nلکھیں حال کیا اس کو حیرت سے ہم تو\nگہے کاغذ و گہہ قلم دیکھتے ہیں\n\nوفا پیشگی قیس تک تھی بھی کچھ کچھ\nاب اس طور کے لوگ کم دیکھتے ہیں\n\nکہاں تک بھلا روؤ گے میرؔ صاحب\nاب آنکھوں کے گرد اک ورم دیکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%85_%D8%A8%DB%81_%D8%AF%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اب آپ رہ دل جو کشادہ نہیں رکھتے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب آپ رہ دل جو کشادہ نہیں رکھتے\nہم بھی سفر جاں کا ارادہ نہیں رکھتے\n\nپینا ہو تو اک جرعۂ زہراب بہت ہے\nہم تشنہ دہن تہمت بادہ نہیں رکھتے\n\nاشکوں سے چراغاں ہے شب زیست سو وہ بھی\nکوتاہی مژگاں سے زیادہ نہیں رکھتے\n\nیہ گرد رہ شوق ہی جم جائے بدن پر\nرسوا ہیں کہ ہم کوئی لبادہ نہیں رکھتے\n\nہر گام پہ جگنو سا چمکتا ہے جو دل میں\nہم اس کے سوا مشعل جادہ نہیں رکھتے\n\nسرخی نہیں پھولوں کی تو زخموں کی شفق ہے\nدامان طلب ہم کبھی سادہ نہیں رکھتے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D9%BE_%D8%B1%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92"} {"title": "اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میں", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میں\nمیں جب پہنچا تو کوئی بھی نہ تھا میدان محشر میں\n\nالٰہی نہر رحمت بہہ رہی ہے اس میں ڈلوا دے\nگنہ گاروں کے عصیاں باندھ کر دامان محشر میں\n\nکھلے گیسو تو دیدار خدا بھی ہو گیا مشکل\nقیامت کا اندھیرا چھا گیا میدان محشر میں\n\nشریک کثرت مخلوق تو کیوں ہو گیا یا رب\nتری وحدت کا پردہ کیا ہوا میدان محشر میں\n\nقیامت تو ہماری تھی ہم آپس میں نبٹ لیتے\nکوئی پوچھے خدا کیوں آ گیا میدان محشر میں\n\nکسی کا آبلہ پا قبر سے یہ پوچھتا اٹھا\nکہیں تھوڑے بہت کانٹے بھی ہیں میدان محشر میں\n\nالٰہی درد کے قصے بہت ہیں وقت تھوڑا ہے\nشب فرقت کا دامن باندھ دے دامان محشر میں\n\nنہ اٹھتے کشتگان ناز ہرگز اپنی تربت سے\nتری آواز شامل ہو گئی تھی صور محشر میں\n\nتہہ مدفن مجھے رہتے زمانہ ہو گیا مضطرؔ\nکچھ ایسی نیند سویا ہوں کہ اب جاگوں گا محشر میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DB%8C_%D9%85%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اب اس سے کیا تمہیں تھا یا امیدوار نہ تھا", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب اس سے کیا تمہیں تھا یا امیدوار نہ تھا\nتمہارے وصل کا تم سے تو خواست گار نہ تھا\n\nشراب پیتے ہی وہ کھل گئے وہ کھل کھیلے\nشب وصال میں کچھ لطف انتظار نہ تھا\n\nنہ جھپکی جب شب وعدہ پلک تو ہم سمجھے\nیہ کوئی اور بلا تھی یہ انتظار نہ تھا\n\nوہ تیر آپ کے ترکش میں کون سا نکلا\nجو بے چلے بھی ہمارے جگر کے پار نہ تھا\n\nوہ مر گیا ہے تو کیا ہے ہمیں بھی مرنا ہے\nخدا گواہ ہے بیخودؔ وہ شراب خوار نہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اب اشک تو کہاں ہے جو چاہوں ٹپک پڑے", "poet_page": "مصنف:ظہور اللہ بدایونی نوا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب اشک تو کہاں ہے جو چاہوں ٹپک پڑے\nآنکھوں سے وقت گریہ مگر خوں ٹپک پڑے\n\nپہنچی جو ٹک جھلک ترے رانوں کی گوش تک\nخجلت سے آب ہو در مکنوں ٹپک پڑے\n\nطغیاں سرشک کا تو یہاں تک ہے چشم سے\nاک قطرہ آب کا ہو تو جیجوں ٹپک پڑے\n\nڈوبا ہے بحر شعر میں ایسا نواؔ کہ اب\nدے طبع کو فشار تو مضموں ٹپک پڑے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%B9%D9%BE%DA%A9_%D9%BE%DA%91%DB%92"} {"title": "اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیا\nکہ منہ سے نام لیا دل میں تو اتر آیا\n\nبہت دنوں پہ مری چشم میں نظر آیا\nاے اشک خیر تو ہے، تو کدھر کدھر آیا\n\nہزار شکر کہ اس دل میں تو نظر آیا\nیہ نقشہ صفحۂ خالی پہ جلد اتر آیا\n\nبشر حباب کی صورت ہمیں نظر آیا\nبھری جو قطرہ کے اندر ہوا ابھر آیا\n\nزباں پہ آتا ہے نالہ بھی سو کرشموں سے\nکہاں سے آپ کے انداز کا اثر آیا\n\nعدم میں عیش ہے چلتا ہوں میں بھی لے اے دل\nجہاں میں جتنے مصیبت کے دن تھے بھر آیا\n\nلکھے کو روئیے اب تابہ حشر تربت میں\nکہ میرے مرنے پہ خط لے کے نامہ بر آیا\n\nپڑا ہے شب سے یوں ہی اب تلک نہ لی کروٹ\nدل ستم زدہ اس کی گلی سے مر آیا\n\nہزار شکر خدا کا یہی غنیمت ہے\nنہ خیر آیا مرے دل کو اور شر آیا\n\nریا تو دل میں تھی ماتھے پہ اب ہے اس کا نشاں\nکہاں کا داغ کہاں دفعتاً ابھر آیا\n\nمقیم دل ہے ڈنواں ڈول رہ کے اب ایماں\nبتوں کے قہر سے چھوٹا خدا کے گھر آیا\n\nہمارے پائے طلب نے بڑی مہم سر کی\nکہ کٹ کے سامنے قاتل کے اپنا سر آیا\n\nشراب پی کے میں پہنچا فلک پہ اے ساقی\nکہاں سے ان کئی قطروں میں یہ اثر آیا\n\nوہ چاہے بد کہے قاصد بتوں کو یا مجھ کو\nحرم میں چین سے ایمان جا کے دھر آیا\n\nلحد میں شانہ ہلا کر یہ موت کہتی ہے\nلے اب تو چونک مسافر کہ اپنے گھر آیا\n\nہزار شکر ہوا آفتاب حشر طلوع\nبڑی تو لاج رہی یہ کہ تو نظر آیا\n\nگواہیاں ہوئیں اعضا کی حشر میں مقبول\nوہ پاک ہو گئے الزام میرے سر آیا\n\nہجوم غم نے سکھانے کی لاکھ کوشش کی\nہمیں تو آہ بھی کرنا نہ عمر بھر آیا\n\nجو چند دن میں ہوئے ذی کمال کون ہیں شادؔ\nہمیں تو شعر کا کہنا نہ عمر بھر آیا\n\nاسی کو شعر سمجھتے ہیں شادؔ اہل مذاق\nادھر پڑھا کہ دلوں میں ادھر اتر آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اب انہیں اپنی اداؤں سے حجاب آتا ہے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب انہیں اپنی اداؤں سے حجاب آتا ہے\nچشم بد دور دلہن بن کے شباب آتا ہے\n\nہجر میں بھی مجھے امداد اجل ہے درکار\nمیری تربت پہ نہ آ تجھ سے حجاب آتا ہے\n\nدید آخر ہے الٹ دیجیے چہرے سے نقاب\nآج مشتاق کے چہرے پہ نقاب آتا ہے\n\nکس طرف جوش کرم تیری نگاہیں اٹھیں\nکون محشر میں سزاوار عتاب آتا ہے\n\nموت کی نیند بھی اب چین سے سونا معلوم\nکہ جنازے پہ وہ غارت گر خواب آتا ہے\n\nدل کو اس طرح ٹھہر جانے کی عادت تو نہ تھی\nکیوں اجل کیا مرے نامے کا جواب آتا ہے\n\nجلوۂ رنگ ہے نیرنگ تقاضائے نگاہ\nکوئی مجبور تماشائے سراب آتا ہے\n\nہو گیا خون ترے ہجر میں دل کا شاید\nاب تصور بھی ترا نقش بر آب آتا ہے\n\nملتی جلتی ہے مری عمر دو روزہ فانیؔ\nجی بھر آتا ہے اگر ذکر حباب آتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اب اور زمین و آسماں پیدا ہو", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اب اور زمین و آسماں پیدا ہو\nقدرت سے نیا اک جہاں پیدا ہو\nاس واسطے یہ دعائیں کرتا ہوں رشیدؔ\nشاید مرا کوئی قدرداں پیدا ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86_%D9%88_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "اب اور کہنے کی ضرورت نہیں", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بغیر اجازت", "year": "1955", "text_ur": "یہ دنیا بھی عجیب و غریب ہے۔۔۔ خاص کر آج کا زمانہ۔۔۔ قانون کو جس طرح فریب دیا جاتا ہے ،اس کے متعلق شاید آپ کو زیادہ علم نہ ہو۔ آج کل قانون ایک بے معنی چیز بن کر رہ گیا ہے ۔ ادھر کوئی نیا قانون بنتا ہے، ادھر یار لوگ اس کا توڑ سوچ لیتے ہیں، اس کے علاوہ اپنے بچاؤ کی کئی صورتیں پیدا کر لیتے ہیں۔\n\nکسی اخبار پر آفت آنی ہو تو آیا کرے، اس کا مالک محفوظ و مامون رہے گا، اس لیے کہ پرنٹ لائن میں کسی قصائی یا دھوبی کا نام بحیثیت پرنٹر پبلشر اور ایڈیٹر کے درج ہوگا۔ اگر اخبار میں کوئی ایسی تحریر چھپ گئی جس پر گورنمنٹ کو اعتراض ہو تو اصل مالک کے بجائے وہ دھوبی یا قصائی گرفت میں آ جائے گا۔ اس کو جرمانہ ہوگا یا قید۔ جرمانہ تو ظاہر ہے اخبار کا مالک ادا کر دے گا، مگر قید تو وہ ادا نہیں کرسکتا۔ لیکن ان دو پارٹیوں کے درمیان اس قسم کا معاہدہ ہوتا ہے کہ اگر قید ہوئی تو وہ اس کے گھر اتنے روپے ماہوار پہنچا دیا کرے گا۔ ایسے معاہدے میں خلاف ورزی بہت کم ہوتی ہے۔\n\nجو لوگ ناجائز طور پر شراب بیچتے ہیں، ان کے پاس دو تین آدمی ایسے ضرور موجود ہوتے ہیں جن کا صرف یہ کام ہے کہ اگر پولیس چھاپہ مارے تو وہ گرفتار ہو جائیں اور چند ماہ کی قید کاٹ کر واپس آ جائیں، اس کا معاوضہ ان کو معقول مل جاتا ہے۔\n\nچھاپہ مارنے والے بھی پہلے ہی سے مطلع کر دیتے ہیں کہ ہم آرہے ہیں،تم اپنا انتظام کر لو۔۔۔چنانچہ فوراً انتظام کر لیا جاتا ہے، یعنی مالک غائب غلہ ہو جاتا ہے اور وہ کرائے کے آدمی گرفتار ہو جاتے ہیں۔۔۔ یہ بھی ایک قسم کی ملازمت ہے لیکن دنیا میں جتنی ملازمتیں ہیں کچھ اسی قسم کی ہوتی ہیں۔\n\nمیں جب امین پہلوان سے ملا تو وہ تین مہینے کی قید کاٹ کر واپس آیا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا،’’امین!اس دفعہ کیسے جیل میں گئے ؟‘‘\n\nامین مسکرایا، ’’اپنے کاروبار کے سلسلے میں۔ ‘‘\n\n’’ کیا کاروبار تھا؟ ‘‘\n\n’’ جو رہا، وہی ہے۔‘‘\n\n’’ بھئی بتاؤ تو۔۔۔‘‘\n\n’’بتانے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں مگر خواہ مخواہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔‘‘\n\nمیں نے تھوڑے سے توقف کے بعد اس سے کہا، ’’امین !تمہیں آئے دن جیل میں جانا کیا پسند ہے ؟‘‘\n\nامین پہلوان مسکرایا، ’’جناب۔۔۔ پسند اور نا پسند کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ لوگ مجھے پہلوان کہتے ہیں، حالانکہ میں نے آج تک اکھاڑے کی شکل نہیں دیکھی۔۔۔ اَن پڑھ ہوں۔۔۔ کوئی اور ہنر بھی مجھے نہیں آتا۔۔۔ بس، جیل جانا آتا ہے ۔ وہاں میں خوش رہتا ہوں۔۔۔ مجھے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔۔۔ آپ ہر روز دفتر جاتے ہیں۔۔۔ کیا وہ جیل نہیں۔۔۔ ‘‘\n\nمیں لاجواب ہوگیا، ’’تم ٹھیک کہتے ہوامین، لیکن دفتر جانے والوں کا معاملہ دوسرا ہے۔۔۔لوگ انہیں بری نگاہوں سے نہیں دیکھتے۔‘‘\n\n’’کیوں نہیں دیکھتے؟ ضلع کچہری کے جتنے منشی اور کلرک ہیں،انہیں کون اچھی نظر سے دیکھتا ہے۔۔۔ رشوتیں لیتے ہیں۔۔۔ جھوٹ بولتے ہیں اور پرلے درجے کے مکار ہوتے ہیں۔ مجھ میں ایسا کوئی عیب نہیں۔۔۔ میں اپنی روزی بڑی ایمان داری سے کماتا ہوں۔‘‘\n\nمیں نے اس سے پوچھا، ’’کس طرح ؟‘‘\n\nاس نے جواب دیا، ’’اس طرح کہ اگر کسی کا کام کرتا ہوں اور قید کاٹتا ہوں، جیل میں محنت مشقت کرتا ہوں اور بعد میں اس شخص سے جس کی خاطر میں نے سزا بھگتی تھی ،مجھے دو تین سو روپیہ ملتا ہے تو یہ میرا معاوضہ ہے، اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔۔۔ میں رشوت تو نہیں لیتا۔۔۔۔ حلال کی کمائی کھاتا ہوں۔ لوگ مجھے غنڈا سمجھتے ہیں۔۔۔ بڑا خطرناک غنڈا۔۔۔ لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ میں نے آج تک کسی کے تھپڑ بھی نہیں مارا۔ میری لائن بالکل الگ ہے ۔‘‘\n\nاس کی لائن واقعی دوسروں سے الگ تھی۔۔۔ مجھے حیرت تھی کہ تین چار مرتبہ قید کاٹنے کے باوجود اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ وہ بڑا سنجیدہ مگر گنوار قسم کا آدمی تھا جس کو کسی کی پروا نہیں تھی۔ قید کاٹنے کے بعد جب بھی آتا تو اس کا وزن کم از کم دس پاؤنڈ زیادہ ہوتا۔\n\nایک دن میں نے اس سے پوچھا، ’’امین! کیا وہاں کا کھانا تمہیں راس آتا ہے؟‘‘\n\nاس نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا، ’’کھانا کیسا بھی ہو، اس کو راس کرنا آدمی کا اپنا کام ہے ۔۔۔مجھے دال سے نفرت تھی، لیکن جب پہلی مرتبہ مجھے وہاں کنکروں بھری دال دی گئی اور ریت ملی روٹی تو میں نے کہا۔۔۔ امین یار۔۔۔ یہ سب سے اچھا کھانا ہے، کھا،ڈنڑ پیل اور خدا کا شکر بجا لا۔ چنانچہ میں ایک دو روز ہی میں عادی ہوگیا۔۔۔ مشقت کرتا، کھانا کھاتا اور یوں محسوس کرتا جیسے میں نے گنجے کے ہوٹل سے پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہے۔‘‘\n\nمیں نے ایک دن اس سے پوچھا، ’’تم نے کبھی کسی عورت سے بھی محبت کی ہے؟‘‘\n\nاس نے اپنے دونوں کان پکڑے، ’’خدا بچائے اس محبت سے،مجھے صرف اپنی ماں سے محبت ہے۔‘‘\n\nمیں نے اس سے پوچھا، ’’تمہاری ماں زندہ ہے؟‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ خدا کے فضل و کرم سے۔۔۔ بہت بوڑھی ہے، لیکن آپ کی دعا سے اس کا سایہ میرے سر پر دیر تک قائم رہے گا اور وہ تو ہر وقت میرے لیے دعائیں مانگتی رہتی ہے کہ خدا مجھے نیکی کی ہدایت کرے۔‘‘\n\nمیں نے اس سے کہا، ’’خدا تمہاری ماں کو سلامت رکھے! پر میں نے یہ پوچھا تھا کہ تمہیں کسی عورت سے محبت ہوئی یا نہیں دیکھو، جھوٹ نہیں بولنا۔ ‘‘\n\nامین پہلوان نے بڑے تیز لہجے میں کہا،’’میں نے اپنی زندگی میں آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا۔۔۔میں نے کسی عورت سے محبت نہیں کی ۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا، ’’کیوں؟ ‘‘\n\nاس نے جواب دیا، ’’اس لیے کہ مجھے اس سے دلچسپی ہی نہیں ۔‘‘\n\nمیں خاموش ہو رہا۔\n\nتیسرے روز اس کی ماں پر فالج گرا اور وہ راہئ ملکِ عدم ہوئی۔ امین پہلوان کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا۔ وہ سوگوار ،مغموم اور دل شکستہ بیٹھا تھا کہ شہر کے ایک رئیس کی طرف سے اسے بلاوا آیا ۔ وہ اپنی عزیز ماں کی میّت چھوڑ کر اس کے پاس گیا اور اس سے پوچھا،کیوں میاں صاحب، آپ نے مجھے کیوں بلایا ہے؟‘‘\n\nمیاں صاحب نے کہا،’’تمہیں کیوں بلایا جاتا ہے۔۔۔ایک خاص کام ہے۔ ‘‘\n\nامین نے جس کے دل و دماغ میں اپنی ماں کا کفن دفن تیر رہا تھا،پوچھا،’’حضور یہ خاص کام کیا ہے؟‘‘\n\nمیاں صاحب نے سگریٹ سلگایا، ’’بلیک مارکیٹ کا قصہ ہے ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آج میرے گودام پر چھاپہ مارا جائے گا، سو میں نے سوچا کہ امین پہلوان بہترین آدمی ہے جو اسے نمٹا سکتا ہے۔‘‘\n\nامین نے بڑے مغموم اور زخمی انداز میں کہا،’’آپ فرمائیے، میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟‘‘\n\n’’ بھئی، خدمت و دمت کی بات تم مت کرو۔۔۔بس صرف اتنی سی بات ہے کہ جب چھاپہ پڑے تو گودام کے مالک تم ہوگے۔ گرفتار ہو جاؤ گے ۔ زیادہ سے زیادہ جرمانہ پانچ ہزار روپے ہوگا اور ایک دو برس کی قید! ‘‘\n\n’’ مجھے کیا ملے گا؟‘‘\n\n’’ جب وہاں سے رہا ہو کر آؤ گے تو معاملہ طے کر لیا جائے گا۔‘‘\n\nامین نے میاں صاحب سے کہا، ’’حضور،یہ بہت دور کی بات ہے، جرمانہ تو آپ ادا کر دیں گے،لیکن قید تو مجھے کاٹنی پڑے گی۔ آپ باقاعدہ سودا کریں۔‘‘\n\nمیاں صاحب مسکرائے، ’’تم سے آج تک میں نے کبھی وعدہ خلافی کی ہے۔۔۔پچھلی دفعہ میں نے تم سے کام لیا اور تم کو تین مہینے کی قید ہوئی،تو کیا میں نے جیل خانے میں ہر قسم کی سہولت بہم نہ پہنچائی ۔ تم نے باہر آکر مجھ سے کہا کہ تمہیں وہاں کوئی تکلیف نہیں تھی۔اگر تم کچھ عرصے کے لیےجیل چلے گئے تو وہاں تمہیں ہر آسائش ہوگی۔‘‘\n\nامین نے کہا، ’’جی۔۔۔ یہ سب درست ہے۔۔۔لیکن ۔‘‘\n\n’’ لیکن کیا؟‘‘\n\nامین کی آنکھوں میں آنسو آگئے، ’’میاں صاحب! میری ماں مر گئی ہے ۔‘‘\n\n’’ کب؟‘‘\n\n’’ آج صبح ‘‘\n\nمیاں صاحب نے افسوس کا اظہار کیا، ’’کفنا دفنا دیا ہوگا۔‘‘ امین کی آنکھوں میں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے، ’’میاں صاحب ابھی تو کچھ بھی نہیں ہوسکا۔۔۔میرے پاس تو افیم کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔‘‘\n\nمیاں صاحب نے چند لمحات حالات پر غور کیا اور امین سے کہا، ’’تو ایسا کرو۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ تجہیز و تکفین کا بندوبست میں ابھی کیے دیتا ہوں۔۔۔ تمہیں کسی قسم کا تردد نہیں کرنا چاہیے۔۔۔ تم گودام پر جاؤ اور اپنی ڈیوٹی سنبھالو۔‘‘\n\nامین نے اپنی میلی قمیص کی آستین سے آنسو پونچھے، ’’لیکن میاں صاحب میں۔۔۔ میں اپنی ماں کے جنازے کو کندھا بھی نہ دوں!‘‘\n\nمیاں صاحب نے فلسفیانہ انداز میں کہا، ’’یہ سب رسمی چیزیں ہیں، مرحومہ کو دفنانا ہے، سو یہ کام بڑی اچھی طرح سے ہو جائے گا، تمہیں جنازے کے ساتھ جانے کی کیا ضرورت ہے۔ تمہارے ساتھ جانے سے مرحومہ کو کیا راحت پہنچے گی۔۔۔ وہ تو بے چاری اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہے ۔۔۔اس کے جنازے کے ساتھ کوئی بھی جائے۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ اصل میں تم لوگ جاہل ہو۔۔۔ میں اگر مر جاؤں تو مجھے کیا معلوم ہے کہ میرے جنازے میں کس کس عزیز اور دوست نے شرکت کی تھی۔ مجھے اگر جلا بھی دیا جائے تو کیا فرق پڑتا ہے ۔ میری لاش کو چیلوں اور گِدھوں کے حوالے کر دیا جائے تو مجھے اس کی کیا خبر ہوگی۔ تم زیادہ جذباتی نہ ہو، دنیا میں سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ اپنی ذات کے متعلق سوچا جائے۔۔۔ میں پوچھتا ہوں،تمہاری کمائی کے ذرائع کیا ہیں؟‘‘\n\nامین سوچنے لگا۔ چند لمحات اپنی بساط کے مطابق غور کرنے کے بعد اس نے جواب دیا، ’’حضور! میری کمائی کے ذرائع آپ کو معلوم ہیں ، مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں۔‘‘\n\n’’ میں نے اس لیے پوچھا تھا کہ تمہیں میرا کام کرنے میں کیا حیل و حجت ہے۔ میں تمہاری ماں کی تجہیز و تکفین کا ابھی بندو بست کیے دیتا ہوں اور جب تم جیل سے واپس آؤ گے تو۔۔۔‘‘\n\nامین پہلوان نے بڑے بینڈے انداز میں پوچھا، ’’تو آپ میرا بھی بندو بست کر دیں گے؟‘‘\n\nمیاں صاحب بوکھلا گئے، ’’تم کیسی باتیں کرتے ہو امین پہلوان!‘‘\n\nامین پہلوان نے ذرا درشت لہجے میں کہا، ’’امین پہلوان کی ایسی کی تیسی۔ آپ یہ بتائیے کہ مجھے کتنے روپے ملیں گے۔۔۔میں ایک ہزار سے کم نہیں لوں گا۔‘‘\n\n’’ ایک ہزار تو بہت زیادہ ہیں۔‘‘\n\nامین نے کہا، ’’زیادہ ہے یا کم۔۔۔میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔ میں جب قید کاٹ کر آؤں گا تو اپنی ماں کی قبر پختہ بناؤں گا، سنگِ مر مر کی۔۔۔وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہے۔‘‘\n\nمیاں صاحب نے اس سے کہا،’’اچھا بھئی ،ایک ہزار ہی لے لینا۔ ‘‘امین نے میاں صاحب سے کہا، ’’تو لائیے اتنے روپے دیجئے کہ میں کفن دفن کا انتظام کر لوں۔۔۔ اس کے بعد میں آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہو جاؤں گا۔‘‘\n\nمیاں صاحب نے اپنی جیب سے بٹوا نکالا، ’’لیکن تمہارا کیا بھروسا ہے؟ ‘‘\n\nامین کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کو کسی نے ماں بہن کی گالی دی ہے، ’’میاں صاحب! آپ مجھے بے ایمان سمجھتے ہیں۔۔۔ بے ایمان آپ ہیں۔۔۔اس لیے کہ اپنے فعلوں کا بوجھ میرے سر پر ڈال رہے ہیں۔‘‘\n\nمیاں صاحب موقع شناس تھے۔ انہوں نے سمجھا کہ امین بگڑ گیا ہے ،چنانچہ انہوں نے فوراً اپنی چرب زبانی سے رام کرنے کی کوشش کی لیکن امین پر کوئی اثر نہ ہوا۔\n\nجب وہ گھر پہنچا تو دیکھا کہ غسّال اس کی ماں کو آخری غسل دے چکے ہیں۔ کفن بھی پہنایا جا چکا ہے۔۔۔ امین بہت متحیر ہوا کہ اس پر یہ مہربانی کس نے کی ہے۔۔۔میاں صاحب نے۔۔۔ لیکن وہ تو سودا کرنا چاہتے تھے۔\n\nاس نے ایک آدمی سے جو تابوت کو سجانے کیلیے پھول گوندھ رہا تھا ،پوچھا، ’’یہ کس آدمی نے اتنا اہتمام کیا ہے ؟‘‘\n\nپھول والے نے جواب دیا، ’’حضور! آپ کی بیوی نے۔‘‘\n\nامین چکرا گیا۔۔۔ وہ اپنے شدید تعجب کا مظاہرہ کرتا مگر خاموش رہا۔ پھول والے سے صرف اتنا پوچھا، ’’کہاں ہیں وہ؟‘‘\n\nپھول والے نے جواب دیا، ’’جی اندر ہیں۔۔۔ آپ کا انتظار کررہی تھیں۔۔۔‘‘\n\nامین اندر گیا۔۔۔ تو دیکھا کہ ایک نوجوان، خوبصورت لڑکی اس کی چارپائی پر بیٹھی ہے۔\n\nامین نے اس سے پوچھا، ’’آپ کون ہیں۔۔۔ یہاں کیوں آئی ہیں؟‘‘\n\nاس لڑکی نے جواب دیا، ’’میں آپ کی بیوی ہوں،یہاں کیوں آئی ہوں ،یہ آپ کا عجیب و غریب سوال ہے۔‘‘\n\nامین نے اس سے پوچھا، ’’میری بیوی تو کوئی بھی نہیں۔ بتاؤ تم کون ہو۔‘‘\n\nلڑکی مسکرائی، ’’میں۔۔۔ میاں۔۔۔ دین کی بیٹی ہوں۔۔۔ ان سے جو آپ کی گفتگو ہوئی،میں نے سب سنی۔۔۔ اور۔۔۔ اور ۔۔۔‘‘\n\nامین نے کہا، ’’اب اور کہنے کی ضرورت نہیں۔۔۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اب اپنا حال ہم انہیں تحریر کر چکے", "poet_page": "مصنف:انور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب اپنا حال ہم انہیں تحریر کر چکے\nخامہ سپرد کاتب تقدیر کر چکے\n\nکہتے ہیں تم وصال کی تدبیر کر چکے\nگویا ہمارے حق میں وہ تقدیر کر چکے\n\nتدبیر کو حوالۂ تقدیر کر چکے\nہم بے زباں بھی یار سے تقریر کر چکے\n\nدل خار خار خندۂ چشم اثر ہے اب\nدل گرم صرف نالۂ شب گیر کر چکے\n\nمرتا ہوں یوں کہ بستۂ فتراک کیوں نہیں\nمیں ہوں وہی کہ تم جسے نخچیر کر چکے\n\nہم جان کیوں نہ دیں دم گفتار بار بار\nپر دیکھتے ہیں یہ کہ وہ تقریر کر چکے\n\nباہر ہے ضبط شرم سے آشفتگی مری\nتم بھی اسیر زلف گرہ گیر کر چکے\n\nوقت پیام وصل وہ کہتے ہیں ہو چکا\nشاید عدو سے وصل کی تحریر کر چکے\n\nبس انتظار‌ صبح قیامت نہیں قبول\nہم اب تو عزم نالۂ شب گیر کر چکے\n\nکچھ مزد رنج بازوئے قاتل نہیں کہ دل\nنذر ادائے برش شمشیر کر چکے\n\nکھلتا نہیں یہ عقدہ کہ ہو بیٹھے شاد کیوں\nکس کو اسیر زلف گرہ گیر کر چکے\n\nکہئے کہ شان عشق میں کیا ہو گئی کمی\nگو آپ خوب سی مری تحقیر کر چکے\n\nدل ہے یہاں دو نیم قصور تپش معاف\nتم بھی نگاہ بزم کو شمشیر کر چکے\n\nکھلتا ہے اور نالہ سرائی سے دل مرا\nنالہ یہ بیں تو ان پہ بھی تاثیر کر چکے\n\nصورت چھپائیے کسی صورت پرست سے\nہم دل میں نقش آپ کی تصویر کر چکے\n\nدامن کشاں چلے ہیں مری خاک پر سے وہ\nبرباد کرنے کی مری تدبیر کر چکے\n\nکچھ حشر خیزی شب غم انتظار مرگ\nکچھ دور ظلم وقت کی تاخیر کر چکے\n\nگوتم نے اس کو رکھ کے نظر میں گرا دیا\nلیکن عدو کی عزت و توقیر کر چکے\n\nتا چرخ ہیں اڑائے پھرے مجھ کو ضعف میں\nنالے کہاں کہاں مجھے تشہیر کر چکے\n\nہے وہاں نگہ نگہ کو سر‌ دلبری مگر\nدل کو میرے وہ قسمت صد تیر کر چکے\n\nکہئے کہ زور‌ بازوئے میں کدھر گیا\nسو بار غیر آپ کی تقصیر کر چکے\n\nپہلے جبیں حوالۂ تقدیر کر چکے\n\nدل مصر ہے کہ کارکنان قضا اے\nسامان صد شکستیں تعمیر کر چکے\n\nچن چن کے بے گنہ کو وہ لاتے ہیں زیر‌ تیغ\nہم جب سے اس امید پہ تقصیر کر چکے\n\nآخر تو بعد اس کے ہے یاس سے امید\nجو کچھ ہم اپنی آہ کی تاثیر کر چکے\n\nاب کیا کہیں کہ قول وفا دے چکے انہیں\nپہلے ہی قطع دامن تقریر کر چکے\n\nاب کیا رہا لپیٹ میں دامن سے آپ کے\nمٹی ہم اپنی آپ جو توقیر کر چکے\n\nہے چشم دجلہ باز تو کیا ہم کو چشم زیست\nکاشانہ روئے آب پہ تعمیر کر چکے\n\nکیوں التجائے قتل سے کیجیے انہیں ستنگ\nجب وقت آ گیا تو وہ تاخیر کر چکے\n\nہم کس سے شکر و مدح قبول دعا کریں\nلب قسمت شکایت تاثیر کر چکے\n\nاب منہ سے بولتی کوئی تصویر آپ کی\nجاں اپنی ہم حوالۂ تقدیر کر چکے\n\nاس لب پہ امتحاں کے لئے مر مٹے ہیں ہم\nجینے سے پہلے مرنے کی تدبیر کر چکے\n\nہوتا ہے وہ ہی یہاں کہ جو منظور ہے وہاں\nانورؔ ہم آزمائش تقدیر کر چکے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%DA%A9%DB%92"} {"title": "اب ایک درد بھی دل میں نظر نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب ایک درد بھی دل میں نظر نہیں آتا\nکسی کے کام کوئی عمر بھر نہیں آتا\n\nیہ دل بھی دوست فراموش کم نہیں تجھ سے\nکہ مدتوں نہیں آتا جدھر نہیں آتا\n\nنہ سوئیں دن کو وہ راتوں کو جاگتے ہیں ضرور\nنہیں تو آنکھ میں اتنا اثر نہیں آتا\n\nانہیں کی بات ہیں جو میں نے یاد کر لی ہیں\nمگر وہ ان کی زباں کا اثر نہیں آتا\n\nمراقبے میں ہے کیا کیا مشاہدہ اے شیخ\nبغیر اس کے نظر میں اثر نہیں آتا\n\nعدم کے نام سے ہر ایک کیوں رہے بشاش\nہر ایک شخص کو لطف سفر نہیں آتا\n\nعلاج اور مرض میں نہ تھی کوئی نسبت\nہمارے سامنے اب چارہ گر نہیں آتا\n\nگھٹی ہی جاتی ہیں ہر روز قوتیں دل کی\nمیں اس کے صدقے جو ارمان بر نہیں آتا\n\nدعا کے ڈھنگ ہی احباب کو نہیں آتے\nغلط ہے یہ کہ دعا میں اثر نہیں آتا\n\nوہ درد مول کہ ہو رات دن کی نیند حرام\nتو دیکھ آہ میں کیسا اثر نہیں آتا\n\nاسی نے کہہ دیا اچھا ہوا کہ وہ کیا ہے\nمری سمجھ میں تو یہ عمر بھر نہیں آتا\n\nصفیؔ کو شاعری آتی ہے وہ بھی کچھ یوں ہی\nاسے بس اور تو کوئی ہنر نہیں آتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اب اے بے درد کیا اس کے لئے ارشاد ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب اے بے درد کیا اس کے لئے ارشاد ہوتا ہے\nپھر اپنی خاک سے پیدا دل برباد ہوتا ہے\n\nتصور جب انیس خاطر ناشاد ہوتا ہے\nجہان دل تری تصویر سے آباد ہوتا ہے\n\nاسیران وفا گھبرائیں کیوں تجویز زنداں سے\nیہیں تو امتحان فطرت آزاد ہوتا ہے\n\nجگہ ملتی نہیں جس کو شب غم محشر دل میں\nوہ ہنگامہ لب خاموش میں آباد ہوتا ہے\n\nبہار آئی ہے استقبال کرنے باب زنداں تک\nنہیں معلوم سیمابؔ آج کون آزاد ہوتا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%B1%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا\nزندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا\n\nمژدہ اے روح تجھے عشق سا دم ساز آیا\nنکبت فقر گئی شاہ سرافراز آیا\n\nپاس اپنے جو نیا کوئی فسوں ساز آیا\nہو رہے اس کے ہمیں یاد ترا ناز آیا\n\nپیتے پیتے تری اک عمر کٹی اس پر بھی\nپینے والے تجھے پینے کا نہ انداز آیا\n\nدل ہو یا روح و جگر کان کھڑے سب کے ہوئے\nعشق آیا کہ کوئی مفسدہ پرداز آیا\n\nلے رہا ہے در مے خانہ پہ سن گن واعظ\nرندو ہشیار کہ اک مفسدہ پرداز آیا\n\nدل مجبور پہ اس طرح سے پہنچی وہ نگاہ\nجیسے عصفور پہ پر تول کے شہباز آیا\n\nکیوں ہے خاموش دلا کس سے یہ سرگوشی ہے\nموت آئی کہ ترے واسطے ہم راز آیا\n\nدیکھ لو اشک تواتر کو نہ پوچھو مرا حال\nچپ رہو چپ رہو اس بزم میں غماز آیا\n\nاس خرابے میں تو ہم دونوں ہیں یکساں ساقی\nہم کو پینے تجھے دینے کا نہ انداز آیا\n\nنالہ آتا نہیں کن رس ہے فقط اے بلبل\nمرد سیاح ہوں سن کر تری آواز آیا\n\nدل جو گھبرائے قفس میں تو ذرا پر کھولوں\nزور اتنا بھی نہ اے حسرت پرواز آیا\n\nدیکھیے نالۂ دل جا کے لگائے کس سے\nجس کا کھٹکا تھا وہی مفسدہ پرداز آیا\n\nمدعی بستہ زباں کیوں نہ ہو سن کر مرے شعر\nکیا چلے سحر کی جب صاحب اعجاز آیا\n\nرند پھیلائے ہیں چلو کو تکلف کیسا\nساقیا ڈھال بھی دے جام خدا ساز آیا\n\nنہ گیا پر نہ گیا شمع کا رونا کسی حال\nگو کہ پروانۂ مرحوم سا دم ساز آیا\n\nایک چپکی میں گلو تم نے نکالے سب کام\nغمزہ آیا نہ کرشمہ نہ تمہیں ناز آیا\n\nدھیان رہ رہ کے ادھر کا مجھے دلواتا ہے\nدم نہ آیا مرے تن میں کوئی دم ساز آیا\n\nکس طرح موت کو سمجھوں نہ حیات ابدی\nآپ آئے کہ کوئی صاحب اعجاز آیا\n\nبے انیسؔ اب چمن نظم ہے ویراں اے شادؔ\nہائے ایسا نہ کوئی زمزمہ پرداز آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%DA%A9_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اب تجھ سے پھرا یہ دل ناکام ہمارا", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب تجھ سے پھرا یہ دل ناکام ہمارا\nاس کوچے میں کم ہی رہے گا کام ہمارا\n\nہے سخت مرے درپئے جاں تیرا غم ہجر\nجاناں سے کہے جا کوئی پیغام ہمارا\n\nجاگیر میں ہے غیر کی وہ بوسۂ لب گو\nقائم رہے یہ منصب دشنام ہمارا\n\nہونے نہیں پاتے یہ مرے دیدۂ تر خشک\nدولت سے تری تر ہے سدا جام ہمارا\n\nدو دن میں کسی کام کا رہنے کا نہیں تو\nکچھ تجھ سے نکل لے کبھی تو کام ہمارا\n\nاک روز ملا عالم مستی میں جو ہم سے\nتنہا بت بدمست مے آشام ہمارا\n\nشمشیر علم کر کے لگا کہنے رکھوں ٹھور\nبدنام تو کرتا پھرے ہے نام ہمارا\n\nایام کے ہر ذکر سے اور فکر سے فارغ\nیا عشق ہے ورد سحر و شام ہمارا\n\nہوتا نہ فریبندۂ دل کاش کے حسرتؔ\nآغاز میں یہ عشق بد انجام ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "اب تلک حق نہیں پچھانے واہ واہ", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "اب تلک حق نہیں پچھانے واہ واہ\nجان کو اپنی نہ جانے واہ واہ\n\nتم جو کرتے ہو فرض روزہ نماز\nمحض عالم کو دکھانے واہ واہ\n\nمفت کھوئی عمر دانے گھانس میں\nپھر کہاتے ہو سیانے واہ واہ\n\nمال و زر فرزند کی رکھ کر طلب\nہو رہے حق سوں اگھانے واہ واہ\n\nحق کی خلقت میں مگر پیدا ہوئے\nتم محض کھانے پکانے واہ واہ\n\nکھوپڑی الٹی اندھی کے ہاتھ سوں\nاینٹھ چلتے ہو اتانے واہ واہ\n\nہیں یگانے اقرباں خویشاں ستی\nآپ اپنے سوں بیگانے واہ واہ\n\nپوچھتے ہیں سب نفع نقصان کو\nسر دیے پیسا کمانے واہ واہ\n\nعاشقاں کو بولتے ہیں اے علیمؔ\nخلق دنیا کے دوانے واہ واہ", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%D8%AD%D9%82_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%86%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%DB%81_%D9%88%D8%A7%DB%81"} {"title": "اب تو زندہ ہوئے ہیں ہم مر کے", "poet_page": "مصنف:قمر ہلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل > بیاض عاشقان (1916)", "year": "1916", "text_ur": "اب تو زندہ ہوئے ہیں ہم مر کے\nآئیے دیکھ لیں نظر بھر کے\n\nساغر موت دے مجھے بھر کے\nان کے وعدے ہیں روز محشر کے\n\nیاد آتی ہیں یار کی آنکھیں\nساقیا جام دے مجھے بھر کے\n\nزندہ رہتے ہیں یا کہ مرتے ہیں\nمنتظر ہیں وصال دلبر کے\n\nنامہ بر کا پتہ نہیں شاید\nکاٹ ڈالے ہوں پر کبوتر کے\n\nایک ہی وار میں تمام کیا\nصدقے ہو جاؤں تیرے خنجر کے\n\nصبح رخ پر پڑی ہے گیسوئے شب\nاب ہیں مہمان ہم بھی شب بھر کے\n\nبحر دل ہو گیا ہے طوفاں میں\nاڑ گئے ہوش دیدۂ تر کے\n\nنقش پا بن کے اے قمرؔ رہنا\nپیر و مرشد کے اور پیمبر کے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%92"} {"title": "اب تو لب سے نہ جائے گا آگے", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب تو لب سے نہ جائے گا آگے\nنالے کا زور شور تھا آگے\n\nدشت الفت میں رہنما کیسا\nمیں نے رہبر کو دھر لیا آگے\n\nدشت الفت ہے گرچہ دور ولے\nدل سے کہتا ہوں یہ رہا آگے\n\nبے وفائی اگر نہ کرتی عمر\nہم دکھاتے تمہیں وفا آگے\n\nوہ خوشامد ہی میں گئے گھبرا\nمجھ کو کہنا تھا مدعا آگے\n\nدیکھنا جو نہ تھا سو دیکھ لیا\nدیکھیے دیکھتے ہیں کیا آگے\n\nعشق میں دے کے جاں ہوئی یہ خبر\nآ گیا کچھ دیا لیا آگے\n\nصبر و ہوش و خرد گئے دل سے\nمیری آنکھوں کے گھر لٹا آگے\n\nمرگ عاشق کی سن کے سب روداد\nپوچھتے ہیں کہ کیا ہوا آگے\n\nسالکؔ اور مے کشی خدا کی پناہ\nکس قدر تھا یہ پارسا آگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D9%84%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%A2%DA%AF%DB%92"} {"title": "اب تو نہیں آسرا کسی کا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب تو نہیں آسرا کسی کا\nاللہ ہے اپنی بیکسی کا\n\nاو آنکھ بدل کے جانے والے\nکچھ دھیان کسی کی عاجزی کا\n\nبیمار کو دیجئے تسلی\nیہ وقت نہیں جلی کٹی کا\n\nآپس میں ہوئی جو بد گمانی\nمشکل ہے نباہ دوستی کا\n\nبالیں سے کوئی اٹھا یہ کہہ کر\nانجام بخیر ہو کسی کا\n\nغم کا بھی قیام کچھ نہ ٹھہرا\nرونا کیا روئیے خوشی کا\n\nپہونچا ہی دیا کسی گلی تک\nاللہ رے زور بے خودی کا\n\nآخر کو شراب رنگ لائی\nچھپتا نہیں راز مے کشی کا\n\nاندھیرا حفیظؔ ہو رہا ہے\nبجھتا ہے چراغ زندگی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B3%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اب تو نے گل نہ گلستاں ہے یاد", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب تو نے گل نہ گلستاں ہے یاد\nاسی مکھڑے کی ہر زماں ہے یاد\n\nہم نشیں کہہ لے قصۂ مجنوں\nہم کو بھی دل کی داستاں ہے یاد\n\nغنچہ کاٹے تھا جس کو دیکھ کے لب\nکیوں صبا تجھ کو وہ وہاں ہے یاد\n\nمستقل مرغ دل جو تڑپے ہے\nکس کی سینے میں پرفشاں ہے یاد\n\nسبق گریہ اشک کو کیا دوں\nآپ ہی اس طفل کو رواں ہے یاد\n\nگل سے کیا مختلط ہوں اے بلبل\nمجھ کو وہ آفت خزاں ہے یاد\n\nآہ اے چرخ پیر، قائمؔ نام\nیاں جو رہتا تھا اک جواں ہے یاد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے\nمر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے\n\nتم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کی\nتو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے\n\nخالی اے چارہ گرو ہوں گے بہت مرہم داں\nپر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں گے\n\nپہنچیں گے رہ گزر یار تلک کیوں کر ہم\nپہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں گے\n\nشعلۂ آہ کو بجلی کی طرح چمکاؤں\nپر مجھے ڈر ہے کہ وہ دیکھ کے ڈر جائیں گے\n\nہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ پر\nبلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مکر جائیں گے\n\nآگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانی\nجب یہ عاصی عرق شرم سے تر جائیں گے\n\nنہیں پائے گا نشاں کوئی ہمارا ہرگز\nہم جہاں سے روش تیر نظر جائیں گے\n\nسامنے چشم گہر بار کے کہہ دو دریا\nچڑھ کے گر آئے تو نظروں سے اتر جائیں گے\n\nلائے جو مست ہیں تربت پہ گلابی آنکھیں\nاور اگر کچھ نہیں دو پھول تو دھر جائیں گے\n\nرخ روشن سے نقاب اپنے الٹ دیکھو تم\nمہر و ماہ نظروں سے یاروں کی اتر جائیں گے\n\nہم بھی دیکھیں گے کوئی اہل نظر ہے کہ نہیں\nیاں سے جب ہم روش تیر نظر جائیں گے\n\nذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا\nان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیں", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیں\nیعنی مجھے امید کا بھی آسرا نہیں\n\nکب ہم سے بے دلوں پہ نگاہ جفا نہیں\nہم خوب جانتے ہیں کہ تو بے وفا نہیں\n\nاے رشک پردہ سوز شکایت کی جا نہیں\nوہ بزم ناز ہے دل بے مدعا نہیں\n\nدکھلائے پھر خدا نہ وہ مایوسیوں کے دن\nہوتا تھا یہ خیال کہ ہے یا خدا نہیں\n\nاللہ رے بے نیازیٔ آسودگان خواب\nاس قرب پر کسی سے کوئی بولتا نہیں\n\nآتی ہے ذرے ذرے سے آواز بازگشت\nپھر بھی یہ کہہ رہا ہے ابھی کچھ کہا نہیں\n\nوہ خود بھی دفن ہو گئی اہل وفا کے ساتھ\nبے کار ڈھونڈھتا ہے جہاں میں وفا نہیں\n\nہے جلوہ ریز بزم تصور جمال یار\nاے شوق دید اب یہ تغافل روا نہیں\n\nصدقے ترے کرم کے نہ دے زحمت سوال\nکشکول ہے فقیر کا دست دعا نہیں\n\nمحرومیوں سے ذوق ہے مجبوریوں سے عشق\nمیں کامیاب ہوں یہ مرا مدعا نہیں\n\nوہ دید ہائے شوق کہ دیکھیں ترا جمال\nکس کا بہشت کچھ بھی انہیں دیکھتا نہیں\n\nکیوں اس کے چومتے ہی نہ معراج ہو نصیب\nبیخودؔ خدا کا ہاتھ ہے دست دعا نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D8%AC%D9%88%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس\nدرد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا\n\nعشق جب تک نہ کر چکے رسوا\nآدمی کام کا نہیں ہوتا\n\nٹوٹ پڑتا ہے دفعتاً جو عشق\nبیشتر دیر پا نہیں ہوتا\n\nوہ بھی ہوتا ہے ایک وقت کہ جب\nماسوا ماسوا نہیں ہوتا\n\nہائے کیا ہو گیا طبیعت کو\nغم بھی راحت فزا نہیں ہوتا\n\nدل ہمارا ہے یا تمہارا ہے\nہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوتا\n\nجس پہ تیری نظر نہیں ہوتی\nاس کی جانب خدا نہیں ہوتا\n\nمیں کہ بے زار عمر بھر کے لیے\nدل کہ دم بھر جدا نہیں ہوتا\n\nوہ ہمارے قریب ہوتے ہیں\nجب ہمارا پتا نہیں ہوتا\n\nدل کو کیا کیا سکون ہوتا ہے\nجب کوئی آسرا نہیں ہوتا\n\nہو کے اک بار سامنا ان سے\nپھر کبھی سامنا نہیں ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3"} {"title": "اب تک جو کہیں ہماری قسمت نہ لڑی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اب تک جو کہیں ہماری قسمت نہ لڑی\nناحق تجھے ہم نشیں ہے فکر اس کی پڑی\nانگریز کے ملک میں لڑائی کیسی\nیہ ہند ہے یہاں خوش انتظامی ہے بڑی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D9%86%DB%81_%D9%84%DA%91%DB%8C"} {"title": "اب تک مرے احوال سے واں بے خبری ہے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب تک مرے احوال سے واں بے خبری ہے\nاے نالۂ جاں سوز یہ کیا بے اثری ہے\n\nیاں تک تو رسا قوت بے بال و پری ہے\nپہوچوں ہوں وہاں تیری جہاں جلوہ گری ہے\n\nفولاد دلاں چھیریو زنہار نہ مجھ کو\nچھانی مری جوں سلگ شراروں سے بھری ہے\n\nہو جاوے ہے اس کی صف مژگاں سے مقابل\nاس دل کو مرے دیکھیو کیا بے جگری ہے\n\nکس باغ سے آتی ہے بتا مجھ کو کہ پھر آج\nکچھ اور ہی بو تجھ میں نسیم سحری ہے\n\nتیرا ہی طلب گار ہے دل دونوں جہاں میں\nنے حور کا جویا ہے نے مشتاق پری ہے\n\nہے اور ہی کچھ آب و ہوا شہر عدم کی\nہر شخص جو بیدارؔ ادھر کو سفری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اب جو اک حسرت جوانی ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب جو اک حسرت جوانی ہے\nعمر رفتہ کی یہ نشانی ہے\n\nرشک یوسف ہے آہ وقت عزیز\nعمر اک بار کاروانی ہے\n\nگریہ ہر وقت کا نہیں بے ہیچ\nدل میں کوئی غم نہانی ہے\n\nہم قفس زاد قیدی ہیں ورنہ\nتا چمن ایک پرفشانی ہے\n\nاس کی شمشیر تیز ہے ہمدم\nمر رہیں گے جو زندگانی ہے\n\nغم و رنج و الم نکو یاں سے\nسب تمہاری ہی مہربانی ہے\n\nخاک تھی موجزن جہاں میں اور\nہم کو دھوکا یہ تھا کہ پانی ہے\n\nیاں ہوئے میرؔ تم برابر خاک\nواں وہی ناز و سرگرانی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%DA%A9_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اب جی حدود سود و زیاں سے گزر گیا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب جی حدود سود و زیاں سے گزر گیا\nاچھا وہی رہا جو جوانی میں مر گیا\n\nپلکوں پہ آ کے رک سی گئی تھی ہر ایک موج\nکل رو لیے تو آنکھ سے دریا اتر گیا\n\nتجھ سے تو دل کے پاس ملاقات ہو گئی\nمیں خود کو ڈھونڈنے کے لیے در بہ در گیا\n\nشام وطن کچھ اپنے شہیدوں کا ذکر کر\nجن کے لہو سے صبح کا چہرہ نکھر گیا\n\nآخر بہار کو تو جو کرنا تھا کر گئی\nالزام احتیاط گریباں کے سر گیا\n\nزنجیر ماتمی ہے تم اے عاقلان شہر\nاب کس کو پوچھتے ہو دوانہ تو مر گیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AC%DB%8C_%D8%AD%D8%AF%D9%88%D8%AF_%D8%B3%D9%88%D8%AF_%D9%88_%D8%B2%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ\nکیا پوچھتے ہو الحمدللہ\n\nمر جاؤ کوئی پروا نہیں ہے\nکتنا ہے مغرور اللہ اللہ\n\nپیر مغاں سے بے اعتقادی\nاستغفر اللہ استغفر اللہ\n\nکہتے ہیں اس کے تو منہ لگے گا\nہو یوں ہی یا رب جوں ہے یہ افواہ\n\nحضرت سے اس کی جانا کہاں ہے\nاب مر رہے گا یاں بندہ درگاہ\n\nسب عقل کھوئے ہے راہ محبت\nہو خضر دل میں کیسا ہی گمراہ\n\nمجرم ہوئے ہم دل دے کے ورنہ\nکس کو کسو سے ہوتی نہیں چاہ\n\nکیا کیا نہ ریجھیں تم نے پچائیں\nاچھا رجھایا اے مہرباں آہ\n\nگزرے ہے دیکھیں کیوں کر ہماری\nاس بے وفا سے نے رسم نے راہ\n\nتھی خواہش دل رکھنا حمائل\nگردن میں اس کی ہر گاہ و بیگاہ\n\nاس پر کہ تھا وہ شہ رگ سے اقرب\nہرگز نہ پہنچا یہ دست کوتاہ\n\nہے ماسوا کیا جو میرؔ کہیے\nآگاہ سارے اس سے ہیں آگاہ\n\nجلوے ہیں اس کے شانیں ہیں اس کی\nکیا روز کیا خور کیا رات کیا ماہ\n\nظاہر کہ باطن اول کہ آخر\nاللہ اللہ اللہ اللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81"} {"title": "اب خاک تو کیا ہے دل کو جلا جلا کر", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب خاک تو کیا ہے دل کو جلا جلا کر\nکرتے ہو اتنی باتیں کیوں تم بنا بنا کر\n\nعاشق کے گھر کی تم نے بنیاد کو بٹھایا\nغیروں کو پاس اپنے ہر دم بٹھا بٹھا کر\n\nیہ بھی کوئی ستم ہے یہ بھی کوئی کرم ہے\nغیروں پہ لطف کرنا ہم کو دکھا دکھا کر\n\nاے بت نہ مجھ کو ہرگز کوچے سے اب اٹھانا\nآیا ہوں یاں تلک میں ظالم خدا خدا کر\n\nدیتا ہوں میں ادھر جی اپنا تڑپ تڑپ کر\nدیکھے ہے وہ ادھر کو آنکھیں چرا چرا کر\n\nکوئی آشنا نہیں ہے ایسا کہ با وفا ہو\nکہتے ہو تم یہ باتیں ہم کو سنا سنا کر\n\nجلتا تھا سینہ میرا اے شمع تس پہ تو نے\nدونی لگائی آتش آنسو بہا بہا کر\n\nاک ہی نگاہ کر کر سینے سے لے گیا وہ\nہر چند دل کو رکھا ہم نے چھپا چھپا کر\n\nجرأت نے آخر اپنے جی کو بھی اب گنوایا\nان بے مروتوں سے دل کو لگا لگا کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "اب خواب سے چونک وقت بیداری ہے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اب خواب سے چونک وقت بیداری ہے\nلے زاد سفر کوچ کی تیاری ہے\nمر مر کے پہنچتے ہیں مسافر واں تک\nیہ قبر کی منزل بھی غضب کی بھاری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D9%88%D9%86%DA%A9_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اب دشمن جاں ہی کلفت غم ساقی", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اب دشمن جاں ہی کلفت غم ساقی\nفریاد لبوں پر آ گیا دم ساقی\nکیا دور نہ ہوگی یہ مری تشنہ لبی\nمیرے مولا میرے مکرم ساقی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "اب دل میں تیرے تیر کا پیکاں نہیں رہا", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب دل میں تیرے تیر کا پیکاں نہیں رہا\nکیونکر جیوں کہ زیست کا ساماں نہیں رہا\n\nگردوں کی سمت دیکھ کے رخصت ہوا مریض\nجب کوئی اس کے حال کا پرساں نہیں رہا\n\nتاروں نے کر دیا تری وحشت کا راز فاش\nاے رات تیرا حسن بھی پنہاں نہیں رہا\n\nمجھ پر تو تیری آنکھ نے پھر کر غضب کیا\nمیں لطف گیر گردش دوراں نہیں رہا\n\nفصل بہار کی مری وحشت نے دی خبر\nاب دل سنبھالنا مجھے آساں نہیں رہا\n\nاے یاس تو نے آ کے سہارا دیا مجھے\nجب کوئی میرے حال کا پرساں نہیں رہا\n\nپچھلے پہر شکست کی آواز آئی ہے\nٹوٹا ہے دل کہ ضبط کا امکاں نہیں رہا\n\nاب دل میں تیرے تیر کے پیکاں کی یاد ہے\nگو دل میں تیرے تیر کا پیکاں نہیں رہا\n\nہنستے ہیں پھول زخم پہ دشمن ہے باغباں\nگلشن میں جی بہلنے کا ساماں نہیں رہا\n\nجو درد تو نے جس کو دیا واہ رے اثر\nاس درد کا جہان میں درماں نہیں رہا\n\nوحشت بھری نگاہ نے ویران کر دیا\nاب کیا کروں وہ رنگ گلستاں نہیں رہا\n\nحسرت نے بے کسی میں کفن بن کے ڈھک لیا\nاب لاشہ مجھ غریب کا عریاں نہیں رہا\n\nافسرؔ مشاعروں میں ہے کیوں میری جستجو\nمیں تو مشاعروں میں غزل خواں نہیں رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "اب دل کو ہم نے بندۂ جاناں بنا دیا", "poet_page": "مصنف:اقبال سہیل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب دل کو ہم نے بندۂ جاناں بنا دیا\nاک کافر ازل کو مسلماں بنا دیا\n\nدشواریوں کو عشق نے آساں بنا دیا\nغم کو سرور درد کو درماں بنا دیا\n\nاس جاں فزا عتاب کے قربان جائیے\nابرو کی ہر شکن کو رگ جاں بنا دیا\n\nبرق جمال یار یہ جلوہ ہے یا حجاب\nچشم ادا شناس کو حیراں بنا دیا\n\nاے ذوق جستجو تری ہمت پہ آفریں\nمنزل کو ہر قدم پہ گریزاں بنا دیا\n\nاٹھی تھی بحر حسن سے اک موج بے قرار\nفطرت نے اس کو پیکر انساں بنا دیا\n\nاے سوز ناتمام کہاں جائے اب خلیلؑ\nآتش کدے کو بھی تو گلستاں بنا دیا\n\nوارفتگان شوق کو کیا دیر کیا حرم\nجس در پہ دی صدا در جاناں بنا دیا\n\nآنسو کی کیا بساط مگر جوش عشق نے\nقطرے کو موج موج کو طوفاں بنا دیا\n\nکیا ایک میں ہی میں ہوں اس آئینہ خانہ میں\nمجھ کو تو کشف راز نے حیراں بنا دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اب دماغ و دل میں وہ قوت نہیں وہ دل نہیں", "poet_page": "مصنف:مہاراجہ سر کشن پرشاد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب دماغ و دل میں وہ قوت نہیں وہ دل نہیں\nشادؔ اب اشعار میرے در خور محفل نہیں\n\nتو مرے اشک ندامت کی حقیقت کچھ نہ پوچھ\nاس کا ہر قطرہ وہ دریا ہے جہاں ساحل نہیں\n\nگھر خدا کا تھا مگر بت اس میں آ کر بس گئے\nاب مرقع ہے حسینوں کا ہمارا دل نہیں\n\nنکتہ چیں ہو میری رندانہ روش پر کیوں کوئی\nمیں کوئی زاہد نہیں واعظ نہیں عاقل نہیں\n\nپردہ داری کرتی ہے در پردہ لیلیٰ عشق کی\nجذبۂ دل قیس کا ہے پردۂ محمل نہیں\n\nانقلاب دہر سے الٹا زمانے کا ورق\nاہل محمل وہ نہیں وہ رونق محفل نہیں\n\nہند میں چلنے لگی ہے اب ہوائے انقلاب\nشادؔ سچ ہے یہ جگہ رہنے کے اب قابل نہیں\n\nساغر مے پیش کر کے شیخ کہلاتا ہوں میں\nہدیۂ احقر ہے یہ گو آپ کے قابل نہیں\n\nحق میں اب عاشق کے دیکھیں فیصلہ ہوتا ہے کیا\nعشق کا دعویٰ حضور حسن تو باطل نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA_%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%82%D9%88%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اب دیکھیں پھر ہم اے ہمدم کس روز منہ اِس کا دیکھیں گے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب دیکھیں پھر ہم اے ہمدم کس روز منہ اِس کا دیکھیں گے\nوُہ زلف وُہ تِل وہ خال وُہ خد وُہ رنگ وُہ نقشہ دیکھیں گے\n\nجب پاس صنم کہ بیٹھیں گے خوش ہو کہ اس کہ لطف سے ہم\nوُہ بزم وُہ خط وُہ عیش وُہ مے وُہ جام وُہ مینا دیکھیں گے\n\nمسرور بہت دِل ہووے گا خُوش جی بھی ہوگا کیا کیا جب\nوُہ ناز وہ دھج وُہ آن وُہ سج وُہ زیب وُہ بالا دیکھیں گے\n\nوُہ کاجل چنچل آنکھوں کا وُہ مہندی نازک ہاتھوں کی\nوُہ پان وُہ لب وُہ حُسن وُہ چھب وُہ گوش وُہ بالا دیکھیں گے\n\nہے جُو جُو خواہش دِل میں نظیرؔ آوے گا ادھر محبوب تُو ہم\nوُہ ربط و دہن وُہ چین وُہ سکھ وُہ سیر وُہ چرچا دیکھیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%A7%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%AF%D9%85_%DA%A9%D8%B3_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%90%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "اب زندگی میں ہوش کا امکان تو گیا", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب زندگی میں ہوش کا امکان تو گیا\nلیکن تری نگاہ کو پہچان تو گیا\n\nاب بھی ہے یہ خیال کسی طرح دیکھ لوں\nمانا کہ دل سے چاہ کا ارمان تو گیا\n\nمانوس غم ہی بن کے رہیں کیوں نہ دہر میں\nحاصل کبھی خوشی ہو یہ امکان تو گیا\n\nاے کاش بے خودی کا بھی انجام دیکھ لوں\nدل کی طرح سے ہوش کا امکان تو گیا\n\nاچھا ہوا کہ وعدہ سے انکار کر دیا\nہر وقت کا یہ ہاتھ میں قرآن تو گیا\n\nاس بت کی اے منیرؔ نگاہوں میں سحر تھا\nگو جان بچ گئی مگر ایمان تو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%B4_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اب زیر قدم لحد کا باب آ پہنچا", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اب زیر قدم لحد کا باب آ پہنچا\nہشیار ہو جلد وقت خواب آ پہنچا\nپیری کی بھی دوپہر ڈھلی آہ انیسؔ\nہنگام غروب آفتاب آ پہنچا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D9%82%D8%AF%D9%85_%D9%84%D8%AD%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%A2_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7"} {"title": "اب شہر کی گلیوں میں جو ہم ہوتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اب شہر کی گلیوں میں جو ہم ہوتے ہیں\nمنھ خون جگر سے دم بدم دھوتے ہیں\nیعنی کہ ہر اک جاے پہ جوں ابر بہار\nعالم عالم جہاں جہاں روتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اب صوم و صلوٰۃ سے بھی جی ہے بیزار", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اب صوم و صلوٰۃ سے بھی جی ہے بیزار\nاب ورد وظائف سے کیا استغفار\nعقدے نہ کھلے دل کے بسان تسبیح\nاسماے الٰہی بھی پڑھے سو سو بار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%B5%D9%88%D9%85_%D9%88_%D8%B5%D9%84%D9%88%D9%B0%DB%83_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D8%B1"} {"title": "اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی\nاس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی\n\nان درس گہوں میں وہ آیا نہ نظر ہم کو\nکیا نقل کروں خوبی اس چہرہ کتابی کی\n\nبھنتے ہیں دل اک جانب سکتے ہیں جگر یکسو\nہے مجلس مشتاقاں دکان کبابی کی\n\nتلخ اس لب میگوں سے سب سنتے ہیں کس خاطر\nتہہ دار نہیں ہوتی گفتار شرابی کی\n\nیک بو کشی بلبل ہے موجب صد مستی\nپر زور ہے کیا دارو غنچے کی گلابی کی\n\nاب سوز محبت سے سارے جو پھپھولے ہیں\nہے شکل مرے دل کی سب شیشہ حبابی کی\n\nنش مردہ مرے منہ سے یاں حرف نہیں نکلا\nجو بات کہ میں نے کی سو میرؔ حسابی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%B6%D8%B9%D9%81_%D8%B3%DB%92_%DA%88%DA%BE%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "اب عشق تماشا مجھے دکھلائے ہے کچھ اور", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب عشق تماشا مجھے دکھلائے ہے کچھ اور\nکہتا ہوں کچھ اور منہ سے نکل جائے ہے کچھ اور\n\nناصح کی حماقت تو ذرا دیکھیو یارو\nسمجھا ہوں میں کچھ اور مجھے سمجھائے ہے کچھ اور\n\nکیا دیدۂ خوں بار سے نسبت ہے کہ یہ ابر\nبرسائے ہے کچھ اور وہ برسائے کچھ اور\n\nرونے دے، ہنسا مجھ کو نہ ہمدم کہ تجھے اب\nکچھ اور ہی بھاتا ہے مجھے بھائے ہے کچھ اور\n\nپیغام بر آیا ہے یہ اوسان گنوائے\nپوچھوں ہوں میں کچھ اور مجھے بتلائے ہے کچھ اور\n\nجرأتؔ کی طرح میرے حواس اب نہیں بر جا\nکہتا ہوں کچھ اور منہ سے نکل جائے ہے کچھ اور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "اب غیر سے بھی تیری ملاقات رہ گئی", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب غیر سے بھی تیری ملاقات رہ گئی\nسچ ہے کہ وقت جاتا رہا بات رہ گئی\n\nتیری صفات سے نہ رہا کام کچھ مجھے\nبس تیری صرف دوستی بالذات رہ گئی\n\nکہنے لگا وہ حال مرا سن کے رات کو\nسب قصے جا چکے یہ خرافات رہ گئی\n\nدن انتظار کا تو کٹا جس طرح کٹا\nلیکن کسو طرح نہ کٹی رات رہ گئی\n\nبس نقد جاں ہی صرف اثرؔ نے کیا نثار\nغم کی ترے سب اور مدارات رہ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "اب قوم کی جو رسم ہے سو اول جلول", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اب قوم کی جو رسم ہے سو اول جلول\nفاسد ہوئے قاعدے تو بگڑے معمول\nہے عید مہذب نہ محرم معقول\nہنسنا محمود ہے نہ رونا مقبول", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D9%82%D9%88%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D8%B3%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%88_%D8%A7%D9%88%D9%84_%D8%AC%D9%84%D9%88%D9%84"} {"title": "اب لب پہ وہ ہنگامۂ فریاد نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب لب پہ وہ ہنگامۂ فریاد نہیں ہے\nاللہ رے تری یاد کہ کچھ یاد نہیں ہے\n\nآتی ہے صبا سوئے لحد ان کی گلی سے\nشاید مری مٹی ابھی برباد نہیں ہے\n\nاللہ بچائے اثر ضبط سے ان کو\nبیداد تو ہے شکوۂ بیداد نہیں ہے\n\nاپنی ہی بدولت ہے نشیمن کی خرابی\nمنت کش بے دردئ صیاد نہیں ہے\n\nآمادۂ فریاد رسی ہے وہ ستم گر\nفریاد کہ اب طاقت فریاد نہیں ہے\n\nدنیا میں دیار دل فانیؔ کے سوا ہائے\nکوئی بھی وہ بستی ہے جو آباد نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%DB%81_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%85%DB%82_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "اب مجھ کو گلے لگاؤ صاحب", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب مجھ کو گلے لگاؤ صاحب\nیک شب کہیں تم بھی آؤ صاحب\n\nروٹھا ہوں جو تم سے میں تو مجھ کو\nآ کر کے تمہیں مناؤ صاحب\n\nبیٹھے رہو میرے سامنے تم\nاز بہر خدا نہ جاؤ صاحب\n\nکچھ خوب نہیں یہ کج ادائی\nہر لحظہ نہ بھوں چڑھاؤ صاحب\n\nرکھتے نہیں پردہ غیر سے تم\nجھوٹی قسمیں نہ کھاؤ صاحب\n\nدر گزرے ہم ایسی زندگی سے\nاتنا بھی نہ جی جلاؤ صاحب\n\nیا غیر کی چاہ بھول جاؤ\nیا دل سے ہمیں بھلاؤ صاحب\n\nتم وقت کے اپنے ہو مسیحا\nمردے کے تئیں جلاؤ صاحب\n\nمیاں مصحفیؔ یار آ ملے گا\nاتنا بھی نہ تلملاؤ صاحب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%D9%84%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A4_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8"} {"title": "اب مرنا ہے اپنے خوشی ہے جینے سے بے زاری ہے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب مرنا ہے اپنے خوشی ہے جینے سے بے زاری ہے\nعشق میں ایسے ہلکے ہوئے ہیں جان بدن کو بھاری ہے\n\nشکوے کی چرچا ہوتی ہے چپکے ہی رہنا بہتر ہے\nدل کو جلانا دل سوزی ہے یہ غم دنیا غم خواری ہے\n\nکس کا وعدہ کون آتا ہے چین سے سوتا ہوگا وہ\nرات بہت آئی ہے اے دل اب ناحق بیداری ہے\n\nداؤ تھا اپنا جب وہ ہم سے چوپڑ سیکھنے آتے تھے\nاب کچھ چال نہیں بن آتی جیت کے بازی ہاری ہے\n\nلٹتے دیکھا غش میں دیکھا مرتے بھی دیکھا اس نے مجھے\nاتنا نہ پوچھا کون ہے یہ اس شخص کو کیا بیماری ہے\n\nہجر ستم ہے کلفت و غم ہے کس سے کہیے حال اپنا\nدن کو پڑے رہنا منہ ڈھانکے رات کو گریہ و زاری ہے\n\nاٹھو کپڑے بدلو چلو کیا بیٹھے ہو بحرؔ اداس اداس\nسیر کے دن ہیں پھول کھلے ہیں جوش پہ فصل بہاری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D8%B1%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%B2%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اب میرؔ جی تو اچھے زندیق ہی بن بیٹھے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب میرؔ جی تو اچھے زندیق ہی بن بیٹھے\nپیشانی پہ دے قشقہ زنار پہن بیٹھے\n\nآزردہ دل الفت ہم چپکے ہی بہتر ہیں\nسب رو اٹھے گی مجلس جو کر کے سخن بیٹھے\n\nعریان پھریں کب تک اے کاش کہیں آ کر\nتا گرد بیاباں کی بالائے بدن بیٹھے\n\nپیکان خدنگ اس کا یوں سینے کے اودھر ہے\nجوں مار سیہ کوئی کاڑھے ہوئے پھن بیٹھے\n\nجز خط کے خیال اس کے کچھ کام نہیں ہم کو\nسبزی پیے ہم اکثر رہتے ہیں مگن بیٹھے\n\nشمشیر ستم اس کی اب گو کا چلے ہر دم\nشوریدہ سر اپنے سے ہم باندھ کفن بیٹھے\n\nبس ہو تو ادھر اودھر یوں پھرنے نہ دیں تجھ کو\nناچار ترے ہم یہ دیکھیں ہیں چلن بیٹھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%AC%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%8C%D9%82_%DB%81%DB%8C_%D8%A8%D9%86_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92"} {"title": "اب میری دوگانا کو مرا دھیان ہے کیا خاک", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "ریختی", "year": null, "text_ur": "اب میری دوگانا کو مرا دھیان ہے کیا خاک\nانسان کی انا اسے پہچان ہے کیا خاک\n\nملتی نہیں وہ مجھ کو تمہیں اب تو بتا دو\nاس بات میں اس کا اجی نقصان ہے کیا خاک\n\nہیں یاد بہانے تو اسے ایسے بہت سے\nآنے کو یہاں چاہیئے سامان ہے کیا خاک\n\nالفت مری اس کی تو ہوئی ہے کئی دن سے\nدل کا مرے نکلا کوئی ارمان ہے کیا خاک\n\nرنگیںؔ سے جو پیغام سلام اس نے کیا ہے\nسوچو تو ذرا جی میں وہ انسان ہے کیا خاک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AF%D9%88%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%DA%A9"} {"title": "اب نہ حسرت نہ پاس ہے دل میں", "poet_page": "مصنف:نادر کاکوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب نہ حسرت نہ پاس ہے دل میں\nکوئی بھی اس مکان میں نہ رہا\n\nکیا شکایت جو کٹ گئے گاہک\nمال ہی جب دکان میں نہ رہا\n\nمر کے رہنا پڑا اب اس میں آہ\nجیتے جی جس مکان میں نہ رہا\n\nنادرؔ افسوس قدر دان سخن\nایک ہندوستان میں نہ رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اب نہ وہ ہم ہیں نہ وہ پیار کی صورت تیری", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب نہ وہ ہم ہیں نہ وہ پیار کی صورت تیری\nنہ وہ حالت ہے ہماری نہ وہ حالت تیری\n\nدیکھ لی دیکھ لی بس ہم نے طبیعت تیری\nہو نہ دشمن کے بھی دشمن کو محبت تیری\n\nکیا غرض اس سے ہو دشمن پہ عنایت تیری\nہم تو جیتے ہیں فقط دیکھ کے صورت تیری\n\nیہ بھی آ جاتی ہے جب دیکھ لی صورت تیری\nسچ ہے الفت نہیں منہ دیکھے کی الفت تیری\n\nترک الفت ہی نہیں قطع تعلق بھی کیا\nپھر بھی جاتی نہیں ظالم یہ محبت تیری\n\nدخل ہوگا نہ کبھی جس میں گنہ گاروں کا\nہوگی اے واعظ کج فہم وہ جنت تیری\n\nچاہنے والوں کا ہنگامہ کسی دن ہوگا\nایک دن تجھ کو رلائے گا یہ صورت تیری\n\nیہ تڑپ یہ تری فریاد یہ حسرت اے دل\nکاش آ جائے مری جان پہ آفت تیری\n\nپہلے کچھ اور ہی تیور تھے یہ تیور تیرے\nپہلے کچھ اور ہی صورت تھی یہ صورت تیری\n\nدیکھنے والوں کی اک بھیڑ رہا کرتی تھی\nاف رے وہ حسن ترا ہائے وہ صورت تیری\n\nاس پہ حیرت ہے بڑی مجھ کو تعجب ہے بہت\nغیر پھر غیر کے دل میں ہو محبت تیری\n\nآدمی کی تجھے پہچان نہیں اے ظالم\nہم تو کرتے ہیں ترے منہ پہ شکایت تیری\n\nتجھ کو دلبر جو بنایا تو بنایا ہم نے\nورنہ معلوم ہے دنیا کو حقیقت تیری\n\nجان دے دی نہ اگر میں نے تو کچھ بھی نہ کیا\nآپ کہتے ہی رہیں کیا ہے حقیقت تیری\n\nچین آتا ہی نہ تھا تجھ کو حسینوں کے بغیر\nاے صفیؔ کیا ہوئی اگلی وہ طبیعت تیری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "اب نہیں سینے میں میرے جائے داغ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب نہیں سینے میں میرے جائے داغ\nسوز دل سے داغ ہے بالائے داغ\n\nدل جلا آنکھیں جلیں جی جل گیا\nعشق نے کیا کیا ہمیں دکھلائے داغ\n\nدل جگر جل کر ہوئے ہیں دونوں ایک\nدرمیاں آیا ہے جب سے پائے داغ\n\nمنفعل ہیں لالہ و شمع و چراغ\nہم نے بھی کیا عاشقی میں کھائے داغ\n\nوہ نہیں اب میرؔ جو چھاتی جلے\nکھا گیا سارے جگر کو ہائے داغ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%BA"} {"title": "اب وقت سرور و فرحت اندوزی ہے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اب وقت سرور او فرحت اندوزی ہے\nہر دل مصروف جشن نو روزی ہے\nہے آج سے دور شاہی شاہ نجف\nیہ رنگ بہار فتح و فیروزی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D9%81%D8%B1%D8%AD%D8%AA_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B2%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اب وقت عزیز کو تو یوں کھوؤگے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اب وقت عزیز کو تو یوں کھوؤگے\nپر سوچ کے غفلت کے تئیں روؤگے\nکیا خواب گراں پہ میل روز و شب ہے\nجاگو ٹک میرؔ پھر بہت سوؤگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%A4%DA%AF%DB%92"} {"title": "اب وہ اگلا سا التفات نہیں", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب وہ اگلا سا التفات نہیں\nجس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں\n\nمجھ کو تم سے اعتماد وفا\nتم کو مجھ سے پر التفات نہیں\n\nرنج کیا کیا ہیں ایک جان کے ساتھ\nزندگی موت ہے حیات نہیں\n\nیوں ہی گزرے تو سہل ہے لیکن\nفرصت غم کو بھی ثبات نہیں\n\nکوئی دل سوز ہو تو کیجے بیاں\nسرسری دل کی واردات نہیں\n\nذرہ ذرہ ہے مظہر خورشید\nجاگ اے آنکھ دن ہے رات نہیں\n\nقیس ہو کوہ کن ہو یا حالیؔ\nعاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D8%A7%DA%AF%D9%84%D8%A7_%D8%B3%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D8%AA%D9%81%D8%A7%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اب وہ گلی جائے خطر ہو گئی", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب وہ گلی جائے خطر ہو گئی\nحال سے لوگوں کو خبر ہو گئی\n\nوصل کی شب کیا کہوں کیوں کر کٹی\nبات نہ کی تھی کہ سحر ہو گئی\n\nدیکھیں گے اے ضبط یہ دعوے ترے\nرات جدائی کی اگر ہو گئی\n\nحضرت ناصح نے کہی بات جو\nہم اثر درد جگر ہو گئی\n\nمیں نہ ہوا غیر ہوئے مستفیض\nتیری نظر تھی وہ جدھر ہو گئی\n\nیاد کسی کی مجھے پھر ان دنوں\nجوش زن دیدۂ تر ہو گئی\n\nکس کی ہم آغوشی کا تھا عزم جو\nزلف تری طوق کمر ہو گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D8%B7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "اب وہ یہ کہہ رہے ہیں مری مان جائیے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب وہ یہ کہہ رہے ہیں مری مان جائیے\nاللہ تیری شان کے قربان جائیے\n\nبگڑے ہوئے مزاج کو پہچان جائیے\nسیدھی طرح نہ مانئے گا مان جائیے\n\nکس کا ہے خوف روکنے والا ہی کون ہے\nہر روز کیوں نہ جائیے مہمان جائیے\n\nمحفل میں کس نے آپ کو دل میں چھپا لیا\nاتنوں میں کون چور ہے پہچان جائیے\n\nہیں تیوری میں بل تو نگاہیں پھری ہوئی\nجاتے ہیں ایسے آنے سے اوسان جائیے\n\nدو مشکلیں ہیں ایک جتانے میں شوق کے\nپہلے تو جان جائیے پھر مان جائیے\n\nانسان کو ہے خانۂ ہستی میں لطف کیا\nمہمان آئیے تو پشیمان جائیے\n\nگو وعدۂ وصال ہو جھوٹا مزہ تو ہے\nکیوں کر نہ ایسے جھوٹ کے قربان جائیے\n\nرہ جائے بعد وصل بھی چیٹک لگی ہوئی\nکچھ رکھئے کچھ نکال کے ارمان جائیے\n\nاچھی کہی کہ غیر کے گھر تک ذرا چلو\nمیں آپ کا نہیں ہوں نگہبان جائیے\n\nآئے ہیں آپ غیر کے گھر سے کھڑے کھڑے\nیہ اور کو جتایئے احسان، جائیے\n\nدونوں سے امتحان وفا پر یہ کہہ دیا\nمنوائیے رقیب کو یا مان جائیے\n\nکیا بدگمانیاں ہیں انہیں مجھ کو حکم ہے\nگھر میں خدا کے بھی تو نہ مہمان جائیے\n\nکیا فرض ہے کہ سب مری باتیں قبول ہیں\nسن سن کے کچھ نہ مانئے کچھ مان جائیے\n\nسودائیان زلف میں کچھ تو لٹک بھی ہو\nجنت میں جائیے تو پریشان جائیے\n\nدل کو جو دیکھ لو تو یہی پیار سے کہو\nقربان جائیے ترے قربان جائیے\n\nدل کو جو دیکھ لو تو یہی پیار سے کہو\nقربان جائیے ترے قربان جائیے\n\nجانے نہ دوں گا آپ کو بے فیصلہ ہوئے\nدل کے مقدمے کو ابھی چھان جائیے\n\nیہ تو بجا کہ آپ کو دنیا سے کیا غرض\nجاتی ہے جس کی جان اسے جان جائیے\n\nغصے میں ہاتھ سے یہ نشانی نہ گر پڑے\nدامن میں لے کے میرا گریبان جائیے\n\nیہ مختصر جواب ملا عرض وصل پر\nدل مانتا نہیں کہ تری مان جائیے\n\nوہ آزمودہ کار تو ہے گر ولی نہیں\nجو کچھ بتائیے داغؔ اسے مان جائیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%D9%88%DB%81_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "اب کسی بات کا طالب دل ناشاد نہیں", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب کسی بات کا طالب دل ناشاد نہیں\nآپ کی عین عنایت ہے یہ بیداد نہیں\n\nآپ شرما کے نہ فرمائیں ہمیں یاد نہیں\nغیر کا ذکر ہے یہ آپ کی روداد نہیں\n\nدم نکل جائے گا حسرت ہی میں اک دن اپنا\nسچ کہا تم نے کچھ انسان کی بنیاد نہیں\n\nپہلے نالے کو سنا غور سے پھر ہنس کے کہا\nآپ کی ساری ہی بناوٹ ہے یہ فریاد نہیں\n\nبعد استاد کے ہے ختم غزل بیخودؔ پر\nمعجزہ کہیے اسے طبع خدا داد نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اب کوئی ترا مثل نہیں ناز و ادا میں", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "اب کوئی ترا مثل نہیں ناز و ادا میں\nانداز میں شوخی میں شرارت میں حیا میں\n\nمغرور سے سرکش متواضع پہ ہوں قرباں\nمٹی میں تو مٹی ہوں ہوا ہوں میں ہوا میں\n\nکیا خوب وہ خود کرتے ہیں یوں اپنی ستائش\nآفت ہوں جلانے میں قیامت ہوں جفا میں\n\nغیرت نہیں آتی تمہیں ہر بات میں بیٹھے\nالفت میں محبت میں مروت میں وفا میں\n\nجب ہو دم آخر تو بچا لینے کی طاقت\nپھر خاک شفا میں نہ کہیں آب بقا میں\n\nوہ چاہے تو سب کچھ ہے نہ چاہے تو نہیں کچھ\nتعویذ میں گنڈے میں فتیلہ میں دعا میں\n\nاک ادنیٰ سا پردہ ہے اک ادنیٰ سا تفاوت\nمخلوق میں معبود میں بندہ میں خدا میں\n\nسرخی کے سبب خوب کھلا ہے گل لالہ\nعارض میں لبوں میں کف دست و کف پا میں\n\nعشاق کی خوں ریزی سے کیا فائدہ ظالم\nمشغول ہو لاکھے میں تو مصروف حنا میں\n\nعاشق تو ہمیشہ ہے محبت کی بدولت\nالزام میں تقصیر میں عصیاں میں خطا میں\n\nہم بھی تھے کبھی خوبیٔ تقدیر سے پرویںؔ\nعرفات میں مزدلفہ میں مکہ میں منا میں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%AB%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D9%88_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اب کوئی غم گسار ہمارا نہیں رہا", "poet_page": "مصنف:دل شاہ جہانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب کوئی غم گسار ہمارا نہیں رہا\nدنیا کو اعتبار ہمارا نہیں رہا\n\nاس فرط غم میں خون کے آنسو ٹپک پڑے\nاب دل بھی رازدار ہمارا نہیں رہا\n\nاس کی حضور پیر مغاں میں ہے منزلت\nجو عہد پائیدار ہمارا نہیں رہا\n\nہر داغ ابھر کے زخم بنا زخم رشک گل\nدل مائل بہار ہمارا نہیں رہا\n\nیہ ہے مآل صحبت زاہد جناب دل\nرندوں میں اب شمار ہمارا نہیں رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%BA%D9%85_%DA%AF%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "اب کون بات رہ گئی یہ بات بھی گئی", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب کون بات رہ گئی یہ بات بھی گئی\nیعنی کبھی کبھی کی ملاقات بھی گئی\n\nکہتے ہیں وہ کہ جذبۂ دل اب فریب ہے\nجب دل گیا تو دل کی کرامات بھی گئی\n\nجو کچھ کیا وہ تو نے کیا اضطراب شوق\nسو آفتیں بھی آئیں مری بات بھی گئی\n\nدستار آپ کی جو ہوئی رہن میکدہ\nتوبہ ہماری قبلۂ حاجات بھی گئی\n\nوعدے کی کون رات قیامت کا دن نہیں\nآثار صبح کہتے ہیں یہ رات بھی گئی\n\nمانا کہ دن سدھارے مبارکؔ شباب کے\nرنگیں طبیعتوں سے ملاقات بھی گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "اب کون پھر کے جائے تری جلوہ گاہ سے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب کون پھر کے جائے تری جلوہ گاہ سے\nاو شوخ چشم پھونک دے برق نگاہ سے\n\nکس شان سے چلا ہے مرا شہسوار حسن\nفتنے پکارتے ہیں ذرا ہٹ کے راہ سے\n\nجھپکی پلک تو برق فلک سے زمیں پہ تھی\nسنبھلا نہ کوئی گر کے تمہاری نگاہ سے\n\nدلچسپ ہو گئی ترے چلنے سے رہ گزر\nاٹھ اٹھ کے گرد راہ لپٹتی ہے راہ سے\n\nمیزاں کھڑی ہوئی مرے آگے نہ روز حشر\nدبنا پڑا اسے مرے بار گناہ سے\n\nدیکھو پھر ایسے دیکھنے والے نہ پاؤ گے\nکیوں خاک میں ملاتے ہو نیچی نگاہ سے\n\nآئینے آرسی تو فقط دیکھنے کے ہیں\nدیکھو تم اپنے حسن کو میری نگاہ سے\n\nکثرت سے مے جو پی ہے نظر ہے مآل پر\nرعشہ نہیں ہے کانپ رہا ہوں گناہ سے\n\nپایا بلند کیوں نہ ہمارا ہو اے جلیلؔ\nپایا ہے فیض امیر سخن دستگاہ سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92"} {"title": "اب کہاں تک بت کدہ میں صرف ایماں کیجئے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "اب کہاں تک بت کدہ میں صرف ایماں کیجئے\nتا کجا عشق بتاں میں سست پیماں کیجئے\nہے یہی بہتر علی گڑھ جا کے سید سے کہوں\nمجھ سے چندہ لیجئے مجھ کو مسلماں کیجئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%AF%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "اب کی چمن میں گل کا نے نام و نے نشاں ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب کی چمن میں گل کا نے نام و نے نشاں ہے\nفریاد بلبلاں ہے یا شہرۂ خزاں ہے\n\nہم سیر کر جو دیکھا روئے زمیں کے اوپر\nآسودگی کہاں ہے جب تک یہ آسماں ہے\n\nہم کیا کہیں زباں سے آپ ہی تو سن رہے گا\nشکوہ ترے ستم کا ظالم جہاں تہاں ہے\n\nمدت ہوئی کہ مر کر میں خاک ہو گیا ہوں\nجینے کا بد گماں کو اب تک مرے گماں ہے\n\nہولی کے اب بہانے چھڑکا ہے رنگ کس نے\nنام خدا تجھ اوپر اس آن عجب سماں ہے\n\nمکرے سے فائدہ کیا رندوں سے کب چھپی ہے\nکیا حاجت بیاں ہے جو کچھ ہے سب عیاں ہے\n\nرنگ گلال منہ پر ایسا بہار دے ہے\nجوں آفتاب تاباں زیر شفق نہاں ہے\n\nکیسر میں اس طرح سے آلودہ ہے سراپا\nسنتے تھے ہم سو دیکھا تو شاخ زعفراں ہے\n\nآپ ہی میں دیکھ حاتمؔ وحدت کے بیچ کثرت\nتو ایک و ایک جا ہے اور دل کہاں کہاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D9%86%DB%92_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگ", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگ\nاور ہی لایا فراق یار رنگ\n\nسرخ رو کر دے شراب آئی بہار\nہے خزاں سے زرد اے خمار رنگ\n\nہونٹ اودے سبز خط آنکھیں سیاہ\nچہرے کا سرخ و سفید اے یار رنگ\n\nہم کو سارے گلشن آفاق میں\nبس پسند آئے یہی دو چار رنگ\n\nغیر سے کھیلی ہے ہولی یار نے\nڈالے مجھ پر دیدۂ خوں بار رنگ\n\nکس کی ہولی جشن نو روزی ہے آج\nسرخ مے سے ساقیا دستار رنگ\n\nہجر جاناں میں ٹھہرتا ہی نہیں\nکیا ہی میرے منہ سے ہے بیزار رنگ\n\nکیا ہے گرگٹ آسماں کے سامنے\nبدلے اک اک دم میں سو سو بار رنگ\n\nآتی ہے او قیس لیلیٰ دشت میں\nخون پا سے جلد اب پر خار رنگ\n\nدھوپ ہے پر میرے روز ہجر کا\nہے برنگ سایۂ دیوار رنگ\n\nہو گیا کیوں زرد ناسخؔ کیا کہوں\nہے زمانے کا عجب اے یار رنگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%D9%86%DA%AF"} {"title": "اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا\nعرفان غم ہوا مجھے اپنا پتا ملا\n\nجب دور تک نہ کوئی فقیر آشنا ملا\nتیرا نیاز مند ترے در سے جا ملا\n\nمنزل ملی مراد ملی مدعا ملا\nسب کچھ مجھے ملا جو ترا نقش پا ملا\n\nخود بین و خود شناس ملا خود نما ملا\nانساں کے بھیس میں مجھے اکثر خدا ملا\n\nسرگشتۂ جمال کی حیرانیاں نہ پوچھ\nہر ذرے کے حجاب میں اک آئنہ ملا\n\nپایا تجھے حدود تعین سے ماورا\nمنزل سے کچھ نکل کے ترا راستہ ملا\n\nکیوں یہ خدا کے ڈھونڈنے والے ہیں نامراد\nگزرا میں جب حدود خودی سے خدا ملا\n\nیہ ایک ہی تو نعمت انساں نواز تھی\nدل مجھ کو مل گیا تو خدائی کو کیا ملا\n\nیا زخم دل کو چھیل کے سینے سے پھینک دے\nیا اعتراف کر کہ نشان وفا ملا\n\nسیمابؔ کو شگفتہ نہ دیکھا تمام عمر\nکم بخت جب ملا ہمیں غم آشنا ملا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "اب کیا ملیں حسینوں سے ہم گوشہ گیر ہیں", "poet_page": "مصنف:میر طاہر علی طاہر فرخ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب کیا ملیں حسینوں سے ہم گوشہ گیر ہیں\nغارت گروں نے لوٹ لیا ہے فقیر ہیں\n\nخالق بچائے زہرہ جبینوں کی چاہ سے\nسنتے ہیں دو فرشتے ابھی تک اسیر ہیں\n\nچار آنکھیں ہم نے کی تو ہیں غصہ نہ کیجیے\nسائل نہیں فقیر نہیں راہگیر ہیں\n\nدر پر تمہارے بیٹھے ہیں سر پر ہے آفتاب\nہم خاکسار مالک تاج و سریر ہیں\n\nوہ بھی تو روئیں اے اثر گریہ ایک دن\nجن کی نگاہ میں مرے آنسو حقیر ہیں\n\nکہہ دیں گے صاف صاف وہ دیکھیں تو آئنہ\nیہ مانگ ہے لکیر ہم اس پر فقیر ہیں\n\nنظروں سے کیا گرائیں گے طاہرؔ عدو مجھے\nفضل خدا سے دست خدا دست گیر ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%AF%D9%88%D8%B4%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اب کے بھی سیر باغ کی جی میں ہوس رہی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب کے بھی سیر باغ کی جی میں ہوس رہی\nاپنی جگہ بہار میں کنج قفس رہی\n\nمیں پا شکستہ جا نہ سکا قافلے تلک\nآتی اگرچہ دیر صدائے جرس رہی\n\nلطف قبائے تنگ پہ گل کا بجا ہے ناز\nدیکھی نہیں ہے ان نے تری چولی چس رہی\n\nدن رات میری آنکھوں سے آنسو چلے گئے\nبرسات اب کے شہر میں سارے برس رہی\n\nخالی شگفتگی سے جراحت نہیں کوئی\nہر زخم یاں ہے جیسے کلی ہو بکس رہی\n\nدیوانگی کہاں کہ گریباں سے تنگ ہوں\nگردن مری ہے طوق میں گویا کہ پھنس رہی\n\nجوں صبح اس چمن میں نہ ہم کھل کے ہنس سکے\nفرصت رہی جو میرؔ بھی سو یک نفس رہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%B3_%D8%B1%DB%81%DB%8C"} {"title": "اب کے جو یہاں سے جائیں گے ہم", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب کے جو یہاں سے جائیں گے ہم\nپھر تجھ کو نہ منہ دکھائیں گے ہم\n\nمشکل ہے نہ آنا تجھ گلی میں\nپر یہ بھی سہی نہ آئیں گے ہم\n\nجو آگے کہا کئے ہیں تجھ سے\nسو اب کے وہ کر دکھائیں گے ہم\n\nایسا ہی جو دل نہ رہ سکے گا\nٹک دور سے دیکھ جائیں گے ہم\n\nہاں کیوں نہ ملیں گے تجھ سے ظالم\nجب گالییں نت کی کھائیں گے ہم\n\nآزردہ ہو غیر سے لڑو یاں\nاس عہدے سے کب بر آئیں گے ہم\n\nجینے ہی سے ہاتھ اٹھائیں گے لیک\nباتیں نہ تری اٹھائیں گے ہم\n\nگر زیست ہے تجھ تلک تو پھر کیا\nصدقے ترے مر ہی جائیں گے ہم\n\nاب کوچہ میں تیرے ہی پیارے\nکسی اور سے جی لگائیں گے ہم\n\nجوں چاہئے چاہ کا سرشتہ\nجیتے ہیں تو کر دکھائیں گے ہم\n\nاس پر بھی اگر ملیں گے خیر\nقائمؔ ہی نہ پھر کہائیں گے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "اب گرم خبر موت کے آنے کی ہے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اب گرم خبر موت کے آنے کی ہے\nغافل تجھے فکر آب و دانے کی ہے\nہستی کے لیے ضرور اک دن ہے فنا\nآنا تیرا دلیل جانے کی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%85%D9%88%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپنا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپنا\nجس کے گھر کو یہ سمجھتے تھے کہ ہے گھر اپنا\n\nکوچۂ دہر میں غافل نہ ہو پابند نشست\nرہ گزر میں کوئی کرتا نہیں بستر اپنا\n\nغم زدہ اٹھ گئے دنیا ہی سے ہم آخر آہ\nزانوئے غم سے ولیکن نہ اٹھا سر اپنا\n\nدیکھیں کیا لہجۂ ہستی کو کہ جوں آب رواں\nیاں ٹھہرنا نظر آتا نہیں دم بھر اپنا\n\nگر ملوں میں کف افسوس تو ہنستا ہے وہ شوخ\nہاتھ میں ہاتھ کسی شخص کے دے کر اپنا\n\nوائے قسمت کہ رہے لوگ بھی اس پاس نہ وہ\nذکر لاتے تھے کسی ڈھب سے جو اکثر اپنا\n\nذبح کرنا تھا تو پھر کیوں نہ مری گردن پر\nزور سے پھیر دیا آپ نے خنجر اپنا\n\nنیم بسمل ہی چلے چھوڑ کے تم کیوں پیارے\nزور یہ تم نے دکھایا ہمیں جوہر اپنا\n\nکیا کریں دل جو کہے میں ہو تو ہم اے جرأتؔ\nنہ کہیں جائیں کہ ہے سب سے بھلا گھر اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DA%AF%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "اب ہند کی ظلمت سے نکلتا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اب ہند کی ظلمت سے نکلتا ہوں میں\nتوفیق رفیق ہو تو چلتا ہوں میں\nتقدیر نے بیڑیاں تو کاٹی ہیں انیسؔ\nکیوں رک گئے پاؤں ہاتھ ملتا ہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%B8%D9%84%D9%85%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اب یہ بھی نہیں کہ نام تو لیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اب یہ بھی نہیں کہ نام تو لیتے ہیں\nدامن فقط اشکوں سے بھگو لیتے ہیں\nاب ہم ترا نام لے کے روتے بھی نہیں\nسنتے ہیں ترا نام تو رو لیتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں\nاشک بہہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیں\n\nپھر کوئی کم بخت کشتی نذر طوفاں ہو گئی\nورنہ ساحل پر اداسی اس قدر ہوتی نہیں\n\nتیرا انداز تغافل ہے جنوں میں آج کل\nچاک کر لیتا ہوں دامن اور خبر ہوتی نہیں\n\nہائے کس عالم میں چھوڑا ہے تمہارے غم نے ساتھ\nجب قضا بھی زندگی کی چارہ گر ہوتی نہیں\n\nرنگ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب\nچند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں\n\nاضطراب دل سے قابلؔ وہ نگاہ بے نیاز\nبے خبر معلوم ہوتی ہے مگر ہوتی نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8_%DB%8C%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے\nاڑ گیا جب رنگ رخ سے استخواں پیدا ہوئے\n\nخاکساری نے دکھائیں رفعتوں پر رفعتیں\nاس زمیں سے واہ کیا کیا آسماں پیدا ہوئے\n\nعلم خالق کا خزانہ ہے میان کاف و نون\nایک کن کہنے سے یہ کون و مکاں پیدا ہوئے\n\nضبط دیکھو سب کی سن لی اور کچھ اپنی کہی\nاس زباں دانی پر ایسے بے زباں پیدا ہوئے\n\nشور بختی آئی حصے میں انہیں کے وا نصیب\nتلخ کامی کے لیے شیریں زباں پیدا ہوئے\n\nاحتیاط جسم کیا انجام کو سوچو انیسؔ\nخاک ہونے کو یہ مشت استخواں پیدا ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B6%D8%B9%DB%8C%D9%81_%D9%88_%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "ابتدائے عسق ہے روتا ہے کیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "prose", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راہ دور عشق میں روتا ہے کیا\n\nآگے آگے دیکھِیے ہوتا ہے کیا\n\nقافلے میں صبح کے اِک شور ہے\n\nیعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا\n\nسبز ہوتی ہی نہیں یے سرزمیں\n\nتخم خواھش دِل میں تُو بوتا ہے کیا\n\nیے نشان عشق ہیں جاتے نہیں\n\nداغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا\n\nغیرت یوسف ہے یے وقت عزیز\n\nمیر اِس کو رایگاں کھوتا ہے کیا", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%B3%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہے\nصبر رخصت ہو رہا ہے اضطراب آنے کو ہے\n\nقبر پر کس شان سے وہ بے نقاب آنے کو ہے\nآفتاب صبح محشر ہم رکاب آنے کو ہے\n\nمجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے\nعمر رفتہ پلٹی آتی ہے شباب آنے کو ہے\n\nہائے کیسی کشمکش ہے یاس بھی ہے آس بھی\nدم نکل جانے کو ہے خط کا جواب آنے کو ہے\n\nخط کے پرزے نامہ بر کی لاش کے ہم راہ ہیں\nکس ڈھٹائی سے مرے خط کا جواب آنے کو ہے\n\nناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر\nآس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے\n\nروح گھبرائی ہوئی پھرتی ہے میری لاش پر\nکیا جنازے پر میرے خط کا جواب آنے کو ہے\n\nبھر کے ساقی جام مے اک اور لا اور جلد لا\nان نشیلی انکھڑیوں میں پھر حجاب آنے کو ہے\n\nخانۂ تصویر میں آنے کو ہے تصویر یار\nآئنے میں قد آدم آفتاب آنے کو ہے\n\nپھر حنائی ہونے والے ہیں مرے قاتل کے ہاتھ\nپھر زبان تیغ پر رنگ شہاب آنے کو ہے\n\nگدگداتا ہے تصور چٹکیاں لیتا ہے درد\nکیا کسی بے خواب کی آنکھوں میں خواب آنے کو ہے\n\nدیکھیے موت آئے فانیؔ یا کوئی فتنہ اٹھے\nمیرے قابو میں دل بے صبر و تاب آنے کو ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "ابجی ڈ ڈو", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بادشاہت کا خاتمہ", "year": "1950", "text_ur": "’’مجھے مت ستائیے۔۔۔ خدا کی قسم،میں آپ سے کہتی ہوں، مجھے مت ستائیے۔‘‘\n\n’’تم بہت ظلم کررہی ہو آج کل۔‘‘\n\n’’ جی ہاں بہت ظلم کررہی ہوں۔‘‘\n\n’’یہ تو کوئی جواب نہیں۔‘‘\n\n’’میری طرف سے صاف جواب ہے اور یہ میں آپ سے کئی دفعہ کہہ چکی ہوں۔‘‘\n\n’’آج میں کچھ نہیں سنوں گا۔‘‘\n\n’’مجھے مت ستائیے۔ خدا کی قسم، میں آپ سے سچ کہتی ہوں، مجھے مت ستائیے، میں چلانا شروع کردوں گی۔‘‘\n\n’’آہستہ بولو۔ بچیاں جاگ پڑیں گی۔‘‘\n\n’’آپ تو بچیوں کے ڈھیر لگانا چاہتے ہیں۔‘‘\n\n’’تم ہمیشہ مجھے یہی طعنہ دیتی ہو۔‘‘\n\n’’آپ کو کچھ خیال تو ہونا چاہیے۔۔۔ میں تنگ آچکی ہوں۔‘‘\n\n’’درست ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔‘‘\n\n’’لیکن ویکن کچھ نہیں۔‘‘\n\n’’تمہیں میرا کچھ خیال نہیں۔۔۔ اصل میں اب تم مجھ سے محبت نہیں کرتیں۔۔۔ آج سے آٹھ برس پہلے جو بات تھی وہ اب نہیں رہی۔۔۔ تمہیں اب میری ذات سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔‘‘\n\n’’جی ہاں!‘‘\n\n’’وہ کیا دن تھے جب ہماری شادی ہوئی تھی۔ تمہیں میری ہربات کا کتنا خیال رہتا تھا۔ ہم باہم کس قدر شیر و شکر تھے۔۔۔ مگر اب تم کبھی سونے کا بہانہ کردیتی ہو، کبھی تھکاوٹ کا عذر پیش کردیتی ہواور کبھی دونوں کان بند کرلیتی ہو۔ کچھ سنتی ہی نہیں۔‘‘\n\n’’میں کچھ سننے کے لیے تیار نہیں۔‘‘\n\n’’تم ظلم کی آخری حد تک پہنچ گئی ہو۔‘‘\n\n’’مجھے سونے دیجیے۔‘‘\n\n’’سو جائیے۔۔۔ مگر میں ساری رات کروٹیں بدلتا رہوں گا۔۔۔ آپ کی بلا سے!‘‘\n\n’’آہستہ بولیے۔۔۔ ساتھ ہمسائے بھی ہیں۔‘‘\n\n’’ہوا کریں۔‘‘\n\n’’آپ کو تو کچھ خیال ہی نہیں۔۔۔ سنیں گے تو کیا کہیں گے؟‘‘\n\n’’کہیں گے کہ اس غریب آدمی کو کیسی کڑی بیوی ملی ہے۔‘‘\n\n’’اوہ ہو!‘‘\n\n’’آہستہ بولو۔۔۔ دیکھو بچی جاگ پڑی۔‘‘\n\n’’اللہ اللہ۔۔۔ اللہ جی اللہ۔۔۔ اللہ اللہ۔۔۔ اللہ جی اللہ۔۔۔ سو جاؤ بیٹے سو جاؤ۔۔۔ اللہ اللہ۔۔۔ اللہ جی اللہ۔۔۔ خدا کی قسم آپ بہت تنگ کرتے ہیں، دن بھر کی تھکی ماندی کو سونے تو دیجیے۔‘‘\n\n’’اللہ، اللہ۔۔۔ اللہ جی، اللہ۔۔۔ اللہ اللہ۔۔۔۔ اللہ جی اللہ۔۔۔ تمہیں اچھی طرح سلانا بھی نہیں آتا۔۔۔‘‘\n\n’’آپ کو تو آتا ہے نا۔۔۔ سارا دن آپ گھرمیں رہ کر یہی تو کرتے رہتے ہیں۔‘‘\n\n’’بھئی میں سارا دن گھر میں کیسے رہ سکتا ہوں۔۔۔ جب فرصت ملتی ہے، آجاتا ہوں اور تمہارا ہاتھ بٹا دیتا ہوں۔‘‘\n\n’’میرا ہاتھ بٹانے کی آپ کو کوئی ضرورت نہیں۔ آپ مہربانی کرکے گھر سے باہر اپنے دوستوں ہی کے ساتھ گل چھرے اڑایا کریں۔‘‘\n\n’’گل چھرے؟‘‘\n\n’’میں زیادہ باتیں نہیں کرنا چاہتی۔‘‘\n\n’’اچھا دیکھو، میری ایک بات کا جواب دو۔۔۔‘‘\n\n’’خدا کے لیے مجھے تنگ نہ کیجیے۔‘‘\n\n’’کمال ہے میں کہاں جاؤں؟‘‘\n\n’’جہاں آپ کے سینگ سمائیں چلے جائیے۔‘‘\n\n’’لو اب ہمارے سینگ بھی ہوگئے۔‘‘\n\n’’آپ چپ نہیں کریں گے؟‘‘\n\n’’نہیں۔۔۔ میں آج بولتا ہی رہوں گا۔ خود سوؤں گا نہ تمہیں سونے دوں گا۔‘‘\n\n’’سچ کہتی ہوں، میں پاگل ہو جاؤں گی۔۔۔ لوگو یہ کیسا آدمی ہے۔۔۔ کچھ سمجھتا ہی نہیں۔۔۔ بس ہر وقت۔ ہر وقت۔ ہر وقت۔۔۔‘‘\n\n’’تم ضرور تمام بچیوں کو جگا کر رہو گی۔‘‘\n\n’’نہ پیدا کی ہوتیں اتنی۔‘‘\n\n’’پیدا کرنے والا میں تو نہیں ہوں۔۔۔ یہ تو اللہ کی دین ہے۔۔۔ اللہ، اللہ۔۔۔ اللہ جی، اللہ، اللہ۔۔۔ اللہ جی، اللہ۔‘‘\n\n’’بچی کو اب میں نے جگایا تھا؟‘‘\n\n’’مجھے افسوس ہے!‘‘\n\n’’افسوس ہے، کہہ دیا۔۔۔ چلو چھٹی ہوئی۔۔۔ گلا پھاڑ پھاڑ کرچلائے چلے جا رہے ہیں۔ ہمسائیگی کا کچھ خیال ہی نہیں، لوگ کیا کہیں گے اس کی پروا ہی نہیں۔۔۔ خدا کی قسم میں عنقریب ہی دیوانی ہو جاؤں گی!‘‘\n\n’’دیوانے ہوں تمہارے دشمن۔‘‘\n\n’’میری جان کے دشمن تو آپ ہیں۔‘‘\n\n’’تو خدا مجھے دیوانہ کرے۔‘‘\n\n’’وہ تو آپ ہیں!‘‘\n\n’’میں دیوانہ ہوں، مگر تمہارا۔‘‘\n\n’’اب جونچلے نہ بگھاریئے۔‘‘\n\n’’تم تو نہ یوں مانتی ہو نہ ووں۔‘‘\n\n’’میں سونا چاہتی ہوں۔‘‘\n\n’’سو جاؤ، میں پڑا بکواس کرتا رہوں گا۔‘‘\n\n’’یہ بکواس کیا اشد ضروری ہے؟‘‘\n\n’’ہے تو سہی۔۔۔ ذرا ادھر دیکھو۔۔۔‘‘\n\n’’میں کہتی ہوں، مجھے تنگ نہ کیجیے۔ میں رو دوں گی۔‘‘\n\n’’تمہارے دل میں اتنی نفرت کیوں پیدا ہوگئی۔۔۔ میری ساری زندگی تمہارے لیے ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔۔۔ مجھ سے کوئی خطا ہوئی ہو تو بتا دو۔‘‘\n\n’’آپ کی تین خطائیں یہ سامنے پلنگ پر پڑی ہیں۔‘‘\n\n’’یہ تمہارے کوسنے کبھی ختم نہیں ہوں گے؟‘‘\n\n’’آپ کی ہٹ کب ختم ہوگی؟‘‘\n\n’’لو بابا میں تم سے کچھ نہیں کہتا۔ سو جاؤ۔۔۔ میں نیچے چلا جاتا ہوں۔‘‘\n\n’’کہاں؟‘‘\n\n’’جہنم میں۔‘‘\n\n’’یہ کیا پاگل پن ہے۔۔۔ نیچے اتنے مچھر ہیں، پنکھا بھی نہیں۔۔۔ سچ کہتی ہوں، آپ بالکل پاگل ہیں۔۔۔ میں نہیں جانے دوں گی آپ کو۔‘‘\n\n’’میں یہاں کیا کروں گا۔۔۔ مچھر ہیں پنکھا نہیں ہے، ٹھیک ہے۔ میں نے زندگی کے برے دن بھی گزارے بھی ہیں۔ تن آسان نہیں ہوں۔۔۔ سو جاؤں گا صوفے پر۔‘‘\n\n’’سارا وقت جاگتے رہیں گے؟‘‘\n\n’’ تمہاری بلا سے۔‘‘\n\n’’میں نہیں جانے دوں گی آپ کو۔۔۔ بات کا بتنگڑ بنا دیتے ہیں۔‘‘\n\n’’میں مر نہیں جاؤں گا۔۔۔ مجھے جانے دو۔‘‘\n\n’’کیسی باتیں منہ سے نکالتے ہیں۔۔۔! خبردار جو آپ گئے۔‘‘\n\n’’مجھے یہاں نیند نہیں آئے گی۔‘‘\n\n’’نہ آئے۔‘‘\n\n’’ یہ عجیب منطق ہے۔۔۔ میں کوئی لڑجھگڑ کر تو نہیں جارہا۔‘‘\n\n’’لڑائی جھگڑا کیا ابھی باقی ہے۔۔۔ خدا کی قسم آپ کبھی کبھی بالکل بچوں کی سی باتیں کرتے ہیں۔ اب یہ خبط سر میں سمایا ہے کہ میں نیچے گرمی اور مچھروں میں جا کر سوؤں گا۔۔۔ کوئی اور ہوتی تو پاگل ہو جاتی۔‘‘\n\n’’تمہیں میرا بڑا خیال ہے۔۔۔‘‘\n\n’’اچھا بابا نہیں ہے۔۔۔ آپ چاہتے کیا ہیں؟‘‘\n\n’’اب سیدھے راستے پر آئی ہو۔‘‘\n\n’’چلیے ہٹیے۔۔۔ میں کوئی راستہ واستہ نہیں جانتی۔ منہ دھوکے رکھیے اپنا۔‘‘\n\n’’ منہ صبح دھویا جاتا ہے۔۔۔ لو،اب من جاؤ۔‘‘\n\n’’توبہ!‘‘\n\n’’ساڑی پر وہ بورڈر لگ کر آگیا؟‘‘\n\n’’نہیں!‘‘\n\n’’عجب الو کا پٹھا ہے درزی۔۔۔ کہہ رہا تھا آج ضرور پہنچا دے گا۔‘‘\n\n’’لے کر آیا تھا، مگر میں نے واپس کردی۔۔۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’ ایک دو جگہ جھول تھے۔‘‘\n\n’’اوہ۔۔۔ اچھا، میں نے کہا، کل ’’برسات‘‘ دیکھنے چلیں گے۔ میں نے پاس کا بندوبست کرلیا ہے۔‘‘\n\n’’کتنے آدمیوں کا؟‘‘\n\n’’دو کا۔۔۔ کیوں؟‘‘\n\n’’باجی بھی جانا چاہتی تھیں۔‘‘\n\n’’ہٹاؤ باجی کو، پہلے ہم دیکھیں گے پھر اس کو دکھا دیں گے۔۔۔ پہلے ہفتے میں پاس بڑی مشکل سے ملتے ہیں۔۔۔ چاندنی رات میں تمہارا بدن کتنا چمک رہا ہے۔‘‘\n\n’’مجھے تو اس چاندنی سے نفرت ہے۔ کم بخت آنکھوں میں گھستی ہے۔ سونے نہیں دیتی۔‘‘\n\n’’تمہیں تو بس ہر وقت سونے ہی کی پڑی رہتی ہے۔‘‘\n\n’’ آپ کو بچیوں کی دیکھ بھال کرنا پڑے تو پھر پتا چلے۔ آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔ ایک کے کپڑے بدلو، تو دوسری کے میلے ہو جاتے ہیں۔ ایک کو سلاؤ، دوسری جاگ پڑتی ہے، تیسری نعمت خانے کی غارت گری میں مصروف ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’دو نوکر گھر میں موجود ہیں۔‘‘\n\n’’نوکر کچھ نہیں کرتے۔‘‘\n\n’’تو انہیں نکال باہر کرو۔‘‘\n\n’’آہستہ بولیے، دیکھیے، چھوٹی کیسے چونکی ہے۔‘‘\n\n’’معاف کر دینا۔۔۔ ذرا ہاتھ سے تھپکا دو۔‘‘\n\n’’منجھلی بھی تڑپ رہی ہے۔‘‘\n\n’’پیشاب کرا دیا تھا اسے؟‘‘\n\n’’جی ہاں! ‘‘\n\n’’پھر کیا وجہ ہے؟‘‘\n\n’’گرمی آج کچھ زیادہ ہے۔۔۔آپ پرے ہٹ جاییے۔‘‘\n\n’’نہیں۔۔۔نہیں۔آخر ہار مجھے ہی ماننی پڑتی ہے۔‘‘\n\n’’تمہاری ہار،ہار نہیں ،جیت ہوتی ہے۔۔۔ اللہ بہتر جانتا ہےمجھے تم سے کتنی محبت ہے۔‘‘\n\n’’اپنی محبت آپ اسی وقت جتایا کرتے ہیں۔‘‘\n\n’’لوبھئی، اور کیا سرِبازار تم سے محبت کیا کروں۔۔۔؟ادھر دیکھو میری طرف۔‘‘\n\n’’آپ اپنی کرکے رہیں گے۔‘‘\n\n’’میری جان جو ہوئیں تم۔‘‘\n\n’’میں نے کہا۔۔۔ ہٹیے۔‘‘\n\n’’کیا ہوا؟‘‘\n\n’’دیکھتے نہیں، بڑی اٹھ کر بیٹھی ہوئی ہے۔‘‘\n\n’’اوہ! ‘‘\n\n’’سنا نہیں آپ نے؟‘‘\n\n’’کیا؟‘‘\n\n’’کہہ رہی ہے۔۔۔ ابجی ڈ ڈو۔‘‘\n\n’’ہاں ہاں۔۔۔ سنا ہے۔۔۔ دے لے ددھ۔‘‘\n\n’’میں نیچے بھول آئی ہوں۔‘‘\n\n’’نیچے؟‘‘\n\n’’ہاں، نعمت خانے میں، جایئے، لے آئیے۔‘‘\n\n’’لے آؤں، نیچے سے؟‘‘\n\n’’جلدی جائیے رونا شروع کردےگی۔‘‘\n\n’’جاتا ہوں۔‘‘\n\n’’میں نے کہا، سنئے۔۔۔ آگ جلا کر ذرا کنکنا کرکیجیے گا دودھ۔‘‘\n\n’’اچھا، اچھا۔۔۔ سن لیا ہے۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D8%AC%DB%8C_%DA%88_%DA%88%D9%88"} {"title": "ابر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اُٹھی پھر آج وہ پُورب سے کالی کالی گھٹا\nسیاہ پوش ہُوا پھر پہاڑ سربن کا\n\nنہاں ہُوا جو رخِ مہر زیرِ دامنِ ابر\nہوائے سرد بھی آئی سوارِ توسنِ ابر\n\nگرج کا شور نہیں ہے، خموش ہے یہ گھٹا\nعجیب مے کدۂ بے خروش ہے یہ گھٹا\n\nچمن میں حکمِ نشاطِ مدام لائی ہے\nقبائے گُل میں گُہر ٹانکنے کو آئی ہے\n\nجو پھُول مہر کی گرمی سے سو چلے تھے، اُٹھے\nزمیں کی گود میں جو پڑ کے سو رہے تھے، اُٹھے\n\nہوا کے زور سے اُبھرا، بڑھا، اُڑا بادل\nاُٹھی وہ اور گھٹا، لو! برس پڑا بادل\n\nعجیب خیمہ ہے کُہسار کے نہالوں کا\nیہیں قیام ہو وادی میں پھِرنے والوں کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D8%B1"} {"title": "ابر بادل ہے اور سحاب گھٹا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابر بادل ہے اور سحاب گھٹا\nجس کی ہم دیکھتے ہیں آج بہار\n\nکس کو باراں نے تازگی بخشی\nزرع کھیتی ہے اور درخت اشجار\n\nکون سی جا ہے سیر کے قابل\nباغ روضہ حدیقہ اور گلزار\n\nاب غریبوں کو ہو گئی تسکیں\nجو کہ لیتے تھے قرض و وام ادھار\n\nقحط ہے کال اور گدائی بھیک\nجس کے مینہ نے مٹا دئیے آثار\n\nجو ندی آب گیر ہے تالاب\nمینہ جو برسا تو بھر گئے یک بار\n\nنرخ ہے بھاؤ اور غلہ اناج\nسستا ارزاں ہے سوق ہے بازار\n\nمردم و آدمی بشر انسان\nفضل باری کے سب ہیں شکر گزار\n\nہیں کشاورز کاشت کار کسان\nخشک سالی سے تھے بہت ناچار\n\nمینہ برستا رہا کئی دن رات\nروز و شب صبح و شام لیل و نہار\n\nقطرہ ہے بوند اور مینہ باراں\nآب پانی ہے اور بہت بسیار\n\nبوندا باندی یہی ترشح ہے\nجیسے ہے آج ننھی ننھی پھوار\n\nکالی کالی گھٹا ہے ابر سیاہ\nجو کہ برسا رہی ہے یہ بوچھار\n\nسایہ ہے چھاؤں آفتاب ہے دھوپ\nدیکھ آج دھوپ چھاؤں کی یہ بہار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D8%AD%D8%A7%D8%A8_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7"} {"title": "ابر دیدہ کا مرے ہو جو نہ اوجھڑ پانی", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابر دیدہ کا مرے ہو جو نہ اوجھڑ پانی\nپھر کہیں جھڑکی لگائے نہ کہیں جھڑ پانی\n\nمیرے رونے سے دل سنگ جو آب آب نہ ہو\nکوہساروں سے گرے پھر نہ دھڑا دھڑ پانی\n\nیہ اندھیرا یہ شب تار کہاں جاؤ گے\nدن ہیں برسات کے گلیوں میں ہے کیچڑ پانی\n\nبرق انداز نہ کس طرح کروں نالۂ گرم\nجان بیتاب ہے بجلی کی طرح تڑ پانی\n\nرشک لعل لب لعلیں سے جگر خوں یاقوت\nشرم دنداں سے ہے موتی کی ہر اک لڑ پانی\n\nتیر باراں مژۂ یار مجھے کرتی ہے\nمیں سمجھتا ہوں برستا ہے جھڑا جھڑ پانی\n\nمیں جو اے شادؔ نہ روؤں صفت ابر بہار\nپائیں اک قطرہ کہیں جھیل نہ جھابڑ پانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%AC%DA%BE%DA%91_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "ابر ساں ہر چند رکھا چشم کو پر آب ہم", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابر ساں ہر چند رکھا چشم کو پر آب ہم\nکر سکے پر کشت الفت کا نہیں شاداب ہم\n\nہجر کی آتش نے ایسا قرب دل پیدا کیا\nبے قرارانہ تڑپتے اب ہیں جوں سیماب ہم\n\nچھا گئیں زلفیں کسی مکھڑے پہ جوں آکاس پوں\nخود بخود کھاتے ہیں پیچ و تاب جوں لیلاب ہم\n\nگرد باد آسا پڑے پھرتے ہیں باغ و راغ میں\nمسکن و ماویٰ کہاں رکھتے ہیں در یک باب ہم\n\nدیکھ لینے دے تو اپنے کان کا بوندا ہمیں\nپھر کہاں پاویں گے ظالم یہ در نایاب ہم\n\nزندگی پھسلا کے لائی یاں ہزار افسوس آہ\nپھنس گئے بے طرح اس دنیا کے در خلاب ہم\n\nیاں ہے فکر معیشت واں ہے اندیشہ معاد\nہیں بہ گرداب غم دنیائے دوں غرقاب ہم\n\nمنکشف ہوتی حقیقت مرگ گر روز الست\nہرگز اے دہر از عدم کرتے نہیں پیشاب ہم\n\nمت کر افریدیؔ کو اس مسلخ میں پابند آخرش\nذبح ہو جاویں گے تیرے ہاتھ اے قصاب ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%86%D8%B4%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A8_%DB%81%D9%85"} {"title": "ابر میں یاد یار آوے ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابر میں یاد یار آوے ہے\nگریہ بے اختیار آوے ہے\n\nباغ سے گل عذار آوے ہے\nبوئے گل پر سوار آوے ہے\n\nاے خزاں بھاگ جا چمن سے شتاب\nورنہ فوج بہار آوے ہے\n\nاے صبا کس طرف کو گزری تھی\nتجھ سے بوئے نگار آوے ہے\n\nمجھ ہوا خواہ سے گریز سو کیوں\nتجھ کو کیا مجھ سے عار آوے ہے\n\nسن کے کہنے لگے کسی کے کوئی\nکاہے کو بار بار آوے ہے\n\nاس قدر بسکہ روز ملنے سے\nخاطروں میں غبار آوے ہے\n\nمیں تو کیا حاتمؔ ایسے بد خو سے\nکس کو صحبت برآر آوے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%88%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "ابر کیا گھر گھر کے آیا کھل گیا", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابر کیا گھر گھر کے آیا کھل گیا\nبس ثبات بحر دنیا کھل گیا\n\nراز دل کتنا چھپایا کھل گیا\nحال اس دولت سرا کا کھل گیا\n\nحسن عارض عارضی تھا کھل گیا\nخط کے آتے ہی لفافہ کھل گیا\n\nآنکھ سے رومال سرکا بعد مرگ\nچشم تر کا آج پردا کھل گیا\n\nتم جو بولے ہو گیا ثابت دہن\nباتوں ہی باتوں میں عقدہ کھل گیا\n\nکٹ گیا سر حل ہوئی مشکل مری\nناخن خنجر سے عقدہ کھل گیا\n\nبے زبانی باتیں سنوانے لگی\nگالیوں پر منہ تمہارا کھل گیا\n\nتھا قلم بند اپنی آزادی کا حال\nخط کو جب اس نے لپیٹا کھل گیا\n\nخط پہ خط لائے جو مرغ نامہ بر\nبولے ان مرغوں کا ڈربا کھل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ابرو سے مہ نو نے کہاں خم مارا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ابرو سے مہ نو نے کہاں خم مارا\nہونٹوں سے ترے لعل نے کب دم مارا\nزلفوں کو تری ہم بھی پریشاں دیکھیں\nاک جمع کو ان دونوں نے برہم مارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%81_%D9%86%D9%88_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D9%85_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "ابرو نے ترے کھینچی کماں جور و جفا پر", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابرو نے ترے کھینچی کماں جور و جفا پر\nقرباں کروں سو جیو ترے تیر ادا پر\n\nیاقوت کو لاوے نہیں خاطر میں کبھی وہ\nجس کی نظر اے یار پڑے تیری حنا پر\n\nکیا خوب ترے سر پہ لگے چیرہ‌ٔ سالو\nکیا زیب دیوے بسمہ تری سبز قبا پر\n\nتجھ دام میں اے آہوئے چیں بند ہے فائزؔ\nہرگز نہیں اوس طائر‌ اندیشہ خطا پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%DB%8C_%DA%A9%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "ابرو کی تیری ضرب دو دستی چلی گئی", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابرو کی تیری ضرب دو دستی چلی گئی\nجتنی کسائی سیف یہ کستی چلی گئی\n\nپیش نظر حسینوں کی بستی چلی گئی\nآئینہ کی بھی حسن پرستی چلی گئی\n\nاچھا کیا شراب خدا نے حرام کی\nرندوں کے ساتھ بادہ پرستی چلی گئی\n\nکس شہر سے مثال دوں اقلیم عشق کو\nجتنی یہ اجڑی اور بھی بستی چلی گئی\n\nروزے مہ صیام میں توڑے شراب سے\nہم فاقہ مستوں کی وہی مستی چلی گئی\n\nوحشت کدے سے رحمت حق نے بھی کی گریز\nبدلے ہمارے گھر سے برستی چلی گئی\n\nکھائیں خدا کی راہ میں لاکھوں ہی ٹھوکریں\nتا لا مکاں بلندی و پستی چلی گئی\n\nمستوں نے ترک مے کی قسم کھائی ہے تو کیا\nتوبہ کہاں وہ بات جو مستی چلی گئی\n\nان ابرووں نے ایک اشارہ میں جان لی\nیک دست تیری تیغ دو دستی چلی گئی\n\nدل ہی گیا تو کون بتوں کا کرے خیال\nکعبہ کے ساتھ سنگ پرستی چلی گئی\n\nہے آسمان تک ترے گریاں کا مضحکہ\nبجلی بھی روتے دیکھ کے ہنستی چلی گئی\n\nگو دل کے بدلے دولت دنیا و دیں ملی\nتو بھی یہ جنس ہاتھ سے سستی چلی گئی\n\nداغ شراب دامن تقویٰ میں رہ گیا\nنشہ کو روح شیخ ترستی چلی گئی\n\nتحت الثرا کو پہنچی ہماری فروتنی\nہم جتنے پست ہو گئے پستی چلی گئی\n\nکیوں کر ہو اجتماع نقیضین اے منیرؔ\nآتے ہی موت کے مری ہستی چلی گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B6%D8%B1%D8%A8_%D8%AF%D9%88_%D8%AF%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%86%D9%84%DB%8C_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ابرو ہے کعبہ آج سے یہ نام رکھ دیا", "poet_page": "مصنف:شوق قدوائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابرو ہے کعبہ آج سے یہ نام رکھ دیا\nہم نے اٹھا کے طاق پہ اسلام رکھ دیا\n\nنشے میں جا گرا جو میں مسجد میں سر کے بل\nزاہد نے مجھ پہ سجدے کا الزام رکھ دیا\n\nجھچکا وہ خوف کھا کے تو میں نے تڑپ کے خود\nبرچھی کی نوک پر دل ناکام رکھ دیا\n\nدلچسپ نام سن کے لگے مانگنے حسیں\nکس نے ذرا سے خون کا دل نام رکھ دیا\n\nاتنی تو اس نے کی مری دل سوزیوں کی قدر\nتربت پہ اک چراغ سر شام رکھ دیا\n\nجوڑا جو بندھ گیا تو نئے دل کہاں پھنسیں\nتو نے ادھر لپیٹ کے کیوں دام رکھ دیا\n\nآنکھ اس ادا سے اس نے دکھائی کہ میں نے شوقؔ\nچپکے سے اپنا مے کا بھرا جام رکھ دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%D8%A2%D8%AC_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ابرِ کوہسار", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا\nابرِ کُہسار ہوں گُل پاش ہے دامن میرا\nکبھی صحرا، کبھی گُلزار ہے مسکن میرا\nشہر و ویرانہ مرا، بحر مرا، بَن میرا\nکسی وادی میں جو منظور ہو سونا مجھ کو\nسبزۂ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو\n\nمجھ کو قُدرت نے سِکھایا ہے دُرافشاں ہونا\nناقۂ شاہدِ رحمت کا حُدی خواں ہونا\nغم زدائے دلِ افسُردۂ دہقاں ہونا\nرونقِ بزمِ جوانانِ گُلستاں ہونا\nبن کے گیسو رُخِ ہستی پہ بکھر جاتا ہوں\nشانۂ موجۂ صرصر سے سنور جاتا ہوں\n\nدُور سے دیدۂ امیّد کو ترساتا ہوں\nکسی بستی سے جو خاموش گزر جاتا ہوں\nسَیر کرتا ہُوا جس دم لبِ جُو آتا ہوں\nبالیاں نہر کو گرداب کی پہناتا ہوں\nسبزۂ مزرعِ نوخیز کی امّید ہوں میں\nزادۂ بحر ہوں، پروردۂ خورشید ہوں میں\n\nچشمۂ کوہ کو دی شورشِ قلزُم میں نے\nاور پرندوں کو کیا محوِ ترنّم میں نے\nسر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قُم میں نے\nغنچۂ گُل کو دیا ذوقِ تبسّم میں نے\nفیض سے میرے نمونے ہیں شبستانوں کے\nجھونپڑے دامنِ کُہسار میں دہقانوں کے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%90_%DA%A9%D9%88%DB%81%D8%B3%D8%A7%D8%B1"} {"title": "ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئی\nایدھر تھے ہفتاد و دو تن یہ اودھر ساری خدائی ہوئی\nصاف نکل کر جیسے گیا یہ گھر کی ساری صفائی ہوئی\nچارہ کیا ہے خواہش حق سے کب رہتی ہے آئی ہوئی\n\nتھی وہ ختم رسلؐ کی امت یہ بھی اس کا نواسا تھا\nچشم وفاداری رکھتا تھا ایک جگہ کا باسا تھا\nسو وے سب دریا پر اترے ایک یہی واں پیاسا تھا\nدیکھو ان اندھے لوگوں سے کیسی دیدہ درائی ہوئی\n\nہائے کنھوں نے یہ بھی نہ پوچھا کیا ہے گنا ان لوگوں کا\nثابت کچھ تو کیا چاہے ہے حال برا ان لوگوں کا\nقتل ہوا پھر کس خاطر سردار بھلا ان لوگوں کا\nیہ جو مسافر آ اترے تھے کاہے کو ان پہ چڑھائی ہوئی\n\nآنکھ ملا کر کہہ تو فلک پر کیسی نظر تھی تاروں کی\nجانیں کھپیاں گردنیں کٹیاں بھوکے پیاسے بچاروں کی\nسرور دیں یوں خاک میں لوٹیں عزت ہو یوں خواروں کی\nچتر گرایا کس کا ظالم کس کے ہائے دہائی ہوئی\n\nکہیے طول جو حد رکھے کچھ ظلم و ستم کے ہاتھوں کا\nکیسا ٹھہرا سبط نبی پر قدغن تھا سب باتوں کا\nدن کا کھانا ترک ہوا تھا منع تھا سونا راتوں کا\nپانی سید پینے نہ پاویں چاروں اور منائی ہوئی\n\nکیا داور محشر کو کہے گا سر رفتہ کر گوش اس کا\nحیدر صفدر باپ ستم کش نانا احمدؐ تھا جس کا\nظلم سے اس کو کیوں مارا یہ مجرم ایسا تھا کس کا\nقہر ہے جو دکھلاوے گا پیشانی پہ برچھی کھائی ہوئی\n\nکھانا پینا ترک کیے پر اس کو یہ غم کھانے پڑے\nبیٹے بھتیجے بھائی سب کے سر ناچار کٹانے پڑے\nہائے رے اس غربت پر اس کو کیا کیا ظلم اٹھانے پڑے\nجان کھپی ناموس لٹی گھر بار گیا رسوائی ہوئی\n\nجب بولیں ہیں لوگ حرم کے چھاتی پھٹ پھٹ جاوے ہے\nایک کھڑی تھانبے ہے عابد ایک اسے سمجھاوے ہے\nایک طرف مچلی ہے سکینہ زینب اس کو مناوے ہے\nبابا بن وہ روٹھی جو ہے سو منتی نہیں ہے منائی ہوئی\n\nجل کے جگر ہے راکھ کی ڈھیری اور توا ہر چھاتی ہے\nجوش غبار ملال اٹھے پر آندھی سی اک آتی ہے\nپات اور بن ہیں جیسے سوکھے جانیں اڑا لے جاتی ہے\nپہنچے ہے تا عرش اعظم خاک ہماری اڑائی ہوئی\n\nایک بہن کہتی تھی یوں گھر بار ترا کیوں لوٹ لیا\nکوئی نہ چھوڑا پیچھے جیتا ہائے یہ کیا ستھراؤ کیا\nکنبہ مر کر ڈھیر ہوا آخر کو تونے جی بھی دیا\nبارے تقصیر ایسی سزا کی کیا تجھ سے اے بھائی ہوئی\n\nایک کہے تھی نوشہ قاسم کیسا بیاہ رچایا تھا\nکیا ساعت تھی نحس وہ جس میں بیاہنے کو تو آیا تھا\nلگ گئی چپ ہے ایکا ایکی اتنی ہی کیا لایا تھا\nمنھ بولے ہے اب تک تیرے ہاتھ کی مہندی لگائی ہوئی\n\nنیگ کی جس کو رسم تھی اس سے کہتی تھی وہ رو رو کر\nرسمیں کتنی باقی تھیں جو یاں سے چلا غمگیں ہوکر\nجاتے ہی آنکھیں مند گئیں شب کو کیا نہ اٹھا تھا تو سوکر\nایک نگاہ حسرت ہی کیا سہرے کی میرے بندھائی ہوئی\n\nکوئی کہے تھی شبیہ اکبر آنکھوں میں کیونکر اب آوے\nنقشہ اس کا نقش جو ہے خاطر صفحہ سے کیا جاوے\nدل کی تڑپ اب جا ہی چکی ہے جان تسلی کیا پاوے\nجلوہ گری پھر کرتی ہے کوئی صورت ایسی مٹائی ہوئی\n\nظلم اٹھایا جی بھی کھپایا سر کو کٹایا چھاتی جلی\nپیاسا جی سے گیا دریا پر منت پھر اک خس کی نہ لی\nشہ جو غیور تھا سوچا جی میں اس جینے سے موت بھلی\nہاتھ پسارے کون کسی سے شاہی نہیں یہ گدائی ہوئی\n\nایک کہے تھی کوئی ہمارے چھٹکارے کی طرح نہیں\nظلم و ستم ہے جور و جفا ہے رحم کسو میں ہے بھی کہیں\nظاہر ہے رفتار فلک سے رکھا ہم کو اسیر یہیں\nقید حیات سے نکلا کوئی جو بارے اس کی رہائی ہوئی\n\nکوئی کہے تھی تونے شاہا جتنے ان سے جور سہے\nیار و یاور خویش و برادر سارے آکر ٹھور رہے\nخاک تھے جوکہ انھوں نے اٹھ کر منھ پر کیا کیا حرف کہے\nہائے رے کیونکر دل میں تیرے ایسے غموں کی سمائی ہوئی\n\nایک کہے تھی ظلم و ستم پوشیدہ نہیں جو کریے بیاں\nسب پیدا ہیں ان سے جو یہ مارے پڑے ہیں پیر و جواں\nبھوکے پیاسے اکبر و قاسم خستہ جگر خود شاہ زماں\nمنھ پہ سبھوں کے نمایاں ہے تلوار ستم کی کھائی ہوئی\n\nکوئی کسو ملت میں یارو ایسا ستم بھی کرتا ہے\nسبط نبی فرزند علی کا ناچاری سے مرتا ہے\nدل تو چاہے ہے جینے کو پر موت پہ جی کو دھرتا ہے\nکیا سمجھے تھے شامی کوئی ایسی جن سے برائی ہوئی\n\nکیا سمجھی یہ قوم سیہ رو کیا ان نے یہ خیال کیا\nزہر حسن کو دے کر مارا حیدر کا وہ حال کیا\nاب جو حسین رہا تھا بیکس تس کو یوں پامال کیا\nاول سے لے تا آخر کیا ان لوگوں سے بھلائی ہوئی\n\nحال عابد کچھ مت پوچھو ایک تو تھا بیمار و نزار\nدوسرے کنبہ اس کا سارا جور و ستم سے ڈالا مار\nتیسرے آفت آکر ایسی ٹوٹ پڑی ہے ایک ہی بار\nچوتھے ایسے حال میں اس کو ویسے پدر سے جدائی ہوئی\n\nقصہ کوتہ میرؔ کہاں تک آل عبا کے دکھ سنیے\nرویئے کڑھیے ماتم کریے کوٹیے چھاتی سر دھنیے\nجیسے کباب بروے آتش جلیے شام و سحر بھنیے\nچپ رہ ظالم خوب نہیں اب آگے بات بڑھائی ہوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D9%86_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%88_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DA%91%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ابن مریم ہوا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابن مریم ہوا کرے کوئی\nمیرے دکھ کی دوا کرے کوئی\n\nشرع و آئین پر مدار سہی\nایسے قاتل کا کیا کرے کوئی\n\nچال جیسے کڑی کمان کا تیر\nدل میں ایسے کے جا کرے کوئی\n\nبات پر واں زبان کٹتی ہے\nوہ کہیں اور سنا کرے کوئی\n\nبک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ\nکچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی\n\nنہ سنو گر برا کہے کوئی\nنہ کہو گر برا کرے کوئی\n\nروک لو گر غلط چلے کوئی\nبخش دو گر خطا کرے کوئی\n\nکون ہے جو نہیں ہے حاجت مند\nکس کی حاجت روا کرے کوئی\n\nکیا کیا خضر نے سکندر سے\nاب کسے رہنما کرے کوئی\n\nجب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ\nکیوں کسی کا گلہ کرے کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D9%86_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ابوالعلامعرّیؔ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معّری\nپھل پھُول پہ کرتا تھا ہمیشہ گزر اوقات\nاک دوست نے بھُونا ہوا تِیتر اسے بھیجا\nشاید کہ وہ شاطِر اسی ترکیب سے ہو مات\nیہ خوانِ تر و تازہ معّری نے جو دیکھا\nکہنے لگا وہ صاحبِ عفران و لزومات\nاے مُرغکِ بیچارہ! ذرا یہ تو بتا تُو\nتیرا وہ گُنہ کیا تھا یہ ہے جس کی مکافات؟\nافسوس، صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تُو\nدیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات\nتقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے\nہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%B9%D8%B1%D9%91%DB%8C%D8%94"} {"title": "ابھی اپنے مرتبۂ حسن سے میاں با خبر تو ہوا نہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابھی اپنے مرتبۂ حسن سے میاں با خبر تو ہوا نہیں\nکہ غزل سرا ترے باغ میں کوئی مرغ تازہ نوا نہیں\n\nجو گلی میں یار کی جاؤں ہوں تو اجل کہے ہے یہ رحم کھا\nتو ستم رسیدہ نہ جا ادھر کوئی زندہ واں سے پھرا نہیں\n\nوہ غریب و بے کس و زار تھا تجھے اس کا دیتا ہوں میں پتہ\nترے کشتہ کا وہ مزار تھا کہ چراغ جس میں جلا نہیں\n\nجو حکیم پاس میں جاؤں ہوں تو وہ دوستی سے سنائے ہے\nتو معاش کی بھی تلاش کر یہ مقام فقر و فنا نہیں\n\nمجھے عشق رکھتا ہے سرنگوں مرا جال پوچھو نہ کیا کہوں\nمیں حباب بحر کا شیشہ ہوں مرے ٹوٹنے کی صدا نہیں\n\nترے خاکساروں نے اپنا سر نہیں پیٹا دشت میں اس قدر\nکہ بگولہ واں سے غبار کا طرف آسماں کے گیا نہیں\n\nنہ نسیم باغ و بہار ہوں نہ فدائے روئے نگار ہوں\nمیں غریب شہر و دیار ہوں مری دیر و کعبہ میں جا نہیں\n\nترے نخل حسن کی کونپلیں ابھی ناشگفتہ ہیں اے پری\nجو نسیم آئی ہے اس نے بھی انہیں کچھ سمجھ کے چھوا نہیں\n\nترے گیسوؤں میں جو جاتی ہے تو مرا ہی حال کہہ آتی ہے\nمری خصم جاں بھی تو اس قدر یہ نسیم نافہ کشا نہیں\n\nنہ میں رہنے والا ہوں باغ کا نہ صفیر سنج ہوں راگ کا\nمجھے ڈھونڈے ہے سو وہ کس جگہ کہیں آشیان ہما نہیں\n\nکوئی زخم خوردہ ہے خار کا کوئی خوں طپیدہ بہار کا\nہے مرا ہی حوصلہ مصحفیؔ کہ کسی سے مجھ کو گلا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%82_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ابھی تو یہی دیکھنا چاہتا ہوں", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابھی تو یہی دیکھنا چاہتا ہوں\nنہیں چاہتا ان کو یا چاہتا ہوں\n\nوہ کہتے ہیں تم مجھ سے کیا چاہتے ہو\nیہی کچھ تو میں جاننا چاہتا ہوں\n\nمری نیتوں پر نظر رکھنے والو\nخدارا بتا دو میں کیا چاہتا ہوں\n\nنہ سمجھا کوئی جس کو وہ حرف ہوں میں\nغلط ہو گیا ہوں مٹا چاہتا ہوں\n\nوہ پرجوش آنسو وہ خاموش آہیں\nوہی عشق کی ابتدا چاہتا ہوں\n\nمیں سمجھا وہ کچھ پوچھنا چاہتے ہیں\nوہ سمجھے کہ میں کچھ کہا چاہتا ہوں\n\nامیدوں سے دل برباد کو آباد کرتا ہوں\nمٹانے کے لئے دنیا نئی ایجاد کرتا ہوں\n\nتری میعاد غم پوری ہوئی اے زندگی خوش ہو\nقفس ٹوٹے نہ ٹوٹے میں تجھے آزاد کرتا ہوں\n\nجفا کارو مری مظلوم خاموشی پہ ہنستے ہو\nذرا ٹھہرو ذرا دم لو ابھی فریاد کرتا ہوں\n\nمیں اپنے دل کا مالک ہوں مرا دل ایک بستی ہے\nکبھی آباد کرتا ہوں کبھی برباد کرتا ہوں\n\nملاقاتیں بھی ہوتی ہیں ملاقاتوں کے بعد اکثر\nوہ مجھ کو بھول جاتے ہیں میں ان کو یاد کرتا ہوں\n\nخودی کی ابتدا یہ تھی کہ اپنے آپ میں گم تھا\nخودی کی انتہا یہ ہے خدا کو یاد کرتا ہوں\n\nبتوں کے عشق میں کھویا گیا ہوں ورنہ اے اخترؔ\nخدا شاہد ہے میں اکثر خدا کو یاد کرتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "ابھی سے آ گئیں نام خدا ہیں شوخیاں کیا کیا", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابھی سے آ گئیں نام خدا ہیں شوخیاں کیا کیا\nمری تقدیر بن بن کر بدلتی ہے زباں کیا کیا\n\nمجھے گردش میں رکھتی ہے نگاہ دلستاں کیا کیا\nمری قسمت دکھاتی ہے مجھے نیرنگیاں کیا کیا\n\nنگاہوں میں حیا ہے اور حیا میں ہے نہاں کیا کیا\nطبیعت میں بسی ہیں خیر سے رنگینیاں کیا کیا\n\nفقط اک سادگی پر شوخیوں کے ہیں گماں کیا کیا\nادائے خامشی میں بھر دیا رنگ بیاں کیا کیا\n\nدل خوں گشتہ حسرت نے کیا کچھ گل کھلائے ہیں\nبہار آگیں ہے کچھ اب کی برس فصل خزاں کیا کیا\n\nنگاہیں بدگمانی سے کہاں جا جا کے لڑتی ہیں\nمری آنکھوں میں ہیں دشمن کی بزم آرائیاں کیا کیا\n\nتصور میں وصال یار کے سامان ہوتے ہیں\nہمیں بھی یاد ہیں حسرت کی بزم آرائیاں کیا کیا\n\nابھی سے بن گئی مشکل ابھی تو دور ہے منزل\nمجھے رسوا کریں گی دیکھیے بیتابیاں کیا کیا\n\nوہ جتنے دور کھنچتے ہیں تعلق اور بڑھتا ہے\nنظر سے وہ جو پنہاں ہیں تو دل میں ہیں عیاں کیا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A2_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D9%88%D8%AE%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ابھی سے آفت جاں ہے ادا ادا تیری", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابھی سے آفت جاں ہے ادا ادا تیری\nیہ ابتدا ہے تو کیا ہوگی انتہا تیری\n\nمری سمجھ میں یہ قاتل نہ آج تک آیا\nکہ قتل کرتی ہے تلوار یا ادا تیری\n\nنقاب لاکھ چھپائے وہ چھپ نہیں سکتی\nمری نظر میں جو صورت ہے دل ربا تیری\n\nلہو کی بوند بھی اے تیر یار دل میں نہیں\nیہ فکر ہے کہ تواضع کروں میں کیا تیری\n\nسنگھا رہی ہے مجھے غش میں نکہت گیسو\nخدا دراز کرے عمر اے صبا تیری\n\nادا پہ ناز تو ہوتا ہے سب حسینوں کو\nفضا کو ناز ہے جس پر وہ ہے ادا تیری\n\nجلیلؔ یار کے در تک گزر نہیں نہ سہی\nہزار شکر کہ ہے اس کے دل میں جا تیری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ابھی سے مت کہو دل کا خلل جاوے تو بہتر ہے", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "ابھی سے مت کہو دل کا خلل جاوے تو بہتر ہے\nیہ راہ عشق ہے یہاں دم نکل جاوے تو بہتر ہے\n\nلہو آنکھوں سے بدلے اشک کے تو ہو گیا جاری\nرہی ہے جان باقی یہ بھی گل جاوے تو بہتر ہے\n\nشکستہ دل کا تو احوال پہنچے اے سرورؔ اس تک\nیہ شیشہ طاق الفت سے پھسل جاوے تو بہتر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AA_%DA%A9%DB%81%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%84%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "ابھی چمن ابھی گل بس یہی سماں دیکھا", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابھی چمن ابھی گل بس یہی سماں دیکھا\nقفس کو بھی مری آنکھوں نے آشیاں دیکھا\n\nقفس کو دیکھ کے جب سوئے آشیاں دیکھا\nزمیں سے چرخ تک اٹھتا ہوا دھواں دیکھا\n\nجو کہہ کے لفظ وفا چپ رہا تو وہ بولے\nکہاں سے چھوڑ دی ظالم نے داستاں دیکھا\n\nتڑپ کے آپ ہی باہر تھا آپ پردے کے\nنگاہ یاس سے یوں سوئے پاسباں دیکھا\n\nنہ پوچھ دشت تمنا کی واردات نہ پوچھ\nہر ایک ذرے کے پردے میں آسماں دیکھا\n\nتڑپ نقاب کی تھی یا جھلک تھی پردے کی\nابھی کلیم نے جلوہ ترا کہاں دیکھا\n\nچھپے تھے ابر کی رگ رگ میں تار بجلی کے\nبھری بہار میں جب سوئے آسماں دیکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B3_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ابھی کم سن ہیں معلومات کتنی", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابھی کم سن ہیں معلومات کتنی\nوہ کتنے اور ان کی بات کتنی\n\nیہ میرے واسطے ہے بات کتنی\nوہ کہتے ہیں تری اوقات کتنی\n\nسحر تک حال کیا ہوگا ہمارا\nخدا جانے ابھی ہے رات کتنی\n\nیہ سر ہے یہ کلیجہ ہے یہ دل ہے\nوہ لیں گے خیر سے سوغات کتنی\n\nتوجہ سے کبھی سن لو مری بات\nجو تم چاہو تو یہ ہے بات کتنی\n\nطبیعت کیوں نہ اپنی مضمحل ہو\nرہی یہ مورد آفات کتنی\n\nگلستاں فصل گل میں لٹ رہا ہے\nحنا آئی تمہارے ہات کتنی\n\nہمارے دل نہ دینے پر خفا ہو\nلٹاتے ہو تمہیں خیرات کتنی\n\nکرو شکر ستم ان کے ستم پر\nکہ اتنی بات بھی ہے بات کتنی\n\nجفا و قہر سے واقف نہ تھا میں\nبڑھی الفت میں معلومات کتنی\n\nجفا والے حساب اس کا لگا لیں\nوفا کرتا ہوں میں دن رات کتنی\n\nعبادت حضرت زاہد کروں میں\nمگر اے قبلۂ حاجات کتنی\n\nنہیں رکتے ہمارے اشک اے نوحؔ\nیہ طوفاں خیز ہے برسات کتنی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D9%85_%D8%B3%D9%86_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%AA%D9%86%DB%8C"} {"title": "ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم\nکسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم\n\nیقیں تو یہ ہے وہ خط کا جواب لکھیں گے\nمگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم\n\nبظاہر ان کو حیا دار لوگ سمجھے ہیں\nحیا میں جو ہے شرارت کسی کو کیا معلوم\n\nقدم قدم پہ تمہارے ہمارے دل کی طرح\nبسی ہوئی ہے قیامت کسی کو کیا معلوم\n\nیہ رنج و عیش ہوئے ہجر و وصل میں ہم کو\nکہاں ہے دوزخ و جنت کسی کو کیا معلوم\n\nجو سخت بات سنے دل تو ٹوٹ جاتا ہے\nاس آئینے کی نزاکت کسی کو کیا معلوم\n\nکیا کریں وہ سنانے کو پیار کی باتیں\nانہیں ہے مجھ سے عداوت کسی کو کیا معلوم\n\nخدا کرے نہ پھنسے دام عشق میں کوئی\nاٹھائی ہے جو مصیبت کسی کو کیا معلوم\n\nابھی تو فتنے ہی برپا کئے ہیں عالم میں\nاٹھائیں گے وہ قیامت کسی کو کیا معلوم\n\nجناب داغؔ کے مشرب کو ہم سے تو پوچھو\nچھپے ہوئے ہیں یہ حضرت کسی کو کیا معلوم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85"} {"title": "ابھی ہے غیر کے الطاف سے جفائے حبیب", "poet_page": "مصنف:جعفر علی حسرت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ابھی ہے غیر کے الطاف سے جفائے حبیب\nوہی رضا ہے ہماری جو ہے رضائے حبیب\n\nنہ سمجھوں اپنا کسی کو رقیب رشک سے میں\nوہ میرا دوست ہے جو ہووے آشنائے حبیب\n\nوہ خواہ قتل کرے خواہ میری جاں بخشے\nکہ مرگ و زیست پہ مختار ہے رضائے حبیب\n\nنہ تیغ یار سے گردن پھراؤں میں ہرگز\nکہ عین لطف سمجھتا ہوں میں جفائے حبیب\n\nپتنگے شمع کے صدقے ہوں بلبلیں گل پر\nکوئی کسی کے فدا ہو میں ہوں فدائے حبیب\n\nبہشت کی مجھے ترغیب دے نہ تو واعظ\nکسی کی مجھ کو تمنا نہیں سوائے حبیب\n\nہمیشہ مجھ سے وہ کہتا تھا مر کہیں حسرتؔ\nہزار شکر پذیرائی ہوئی دعائے حبیب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AD%D8%A8%DB%8C%D8%A8"} {"title": "ابی سِینیا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "یورپ کے کرگسوں کو نہیں ہے ابھی خبر\nہے کتنی زہر ناک ابی سِینیا کی لاش\n\nہونے کو ہے یہ مُردۂ دیرینہ قاش قاش!\n\nتہذیب کا کمال شرافت کا ہے زوال\nغارت گری جہاں میں ہے اقوام کی معاش\n\nہر گُرگ کو ہے برّۂ معصوم کی تلاش!\n\nاے وائے آبُروئے کلیسا کا آئِنہ\nروما نے کر دیا سرِ بازار پاش پاش\n\nپیرِ کلیسیا! یہ حقیقت ہے دلخراش!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%D8%B3%D9%90%DB%8C%D9%86%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اترا تھا غریبانہ کنارے آکر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اترا تھا غریبانہ کنارے آکر\nلب خشک موا سو نورچشم حیدر\nتر حلق دم آب سے اس کا نہ ہوا\nاے آب فرات خاک تیرے سر پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%BA%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A2%DA%A9%D8%B1"} {"title": "اتری ہے آسماں سے جو کل اٹھا تو لا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اتری ہے آسماں سے جو کل اٹھا تو لا\nطاق حرم سے شیخ وہ بوتل اٹھا تو لا\n\nلیلیٰ کے دل میں قیس نکل آئے گی جگہ\nتو سر پر آج نجد کا جنگل اٹھا تو لا\n\nدھونا ہے داغ جامۂ احرام صبح صبح\nحجرے سے شیخ پانی کی چھاگل اٹھا تو لا\n\nمجھ کو بھی انتظار تھا ابر آئے تو پیوں\nساقی اگر یہ سچ ہے کہ بادل اٹھا تو لا\n\nوہ حسن وضع دیکھیں گے کیوں کر جڑے ہیں دل\nزر گر نئی بنی ہے جو ہیکل اٹھا تو لا\n\nطاق حرم میں شیخ گلابی ہے پھول سی\nاس کام کا ملے گا تجھے پھل اٹھا تو لا\n\nبن جائے دن یہ تیرہ شب ہجر اے ندیم\nروشن تھا جس سے طور وہ مشعل اٹھا تو لا\n\nمیں کام لوں گا ابر کا اے رند تان کر\nتو مجھ فقیر مست کا کمبل اٹھا تو لا\n\nاے شیخ میز سے دم افطار فرش پر\nپینے کو پھول کھانے کو کچھ پھل اٹھا تو لا\n\nناصح کا منہ ہو بند چکھا دوں شراب خلد\nساقی ذرا ریاضؔ کی بوتل اٹھا تو لا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%84_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%84%D8%A7"} {"title": "اتش حسن بھری ہے تیرے رخساروں میں", "poet_page": "مصنف:بوم میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اتش حسن بھری ہے تیرے رخساروں میں\nکون منہ مارے دہکتے ہوئے انگاروں میں\n\nطالب دید کو جب دید کا موقع نہ ملا\nلاکھوں سوراخ کئے یار کی دیواروں میں\n\nآج کیا تو نے عیادت کا کیا ہے وعدہ\nکھلبلی آج مچی ہے تیرے بیماروں میں\n\nسینکڑوں بوتلیں اور بیسیوں ساغر ٹوٹے\nہاتھا پائی جو ذرا ہو گئی مے خواروں میں\n\nغیر سے آج ہوئی نوچا کھسوٹی تیری\nداغ جو نیلے پڑے ہیں تیرے رخساروں میں\n\nباد ابرو سے شب ہجر کو کاٹا ہم نے\nیہ بھی چلتا ہوا ہتھیار ہے ہتھیاروں میں\n\nکہیں ہو جائے اسے بردہ فروشی میں سزا\nغیر اس بت کو لئے پھرتا ہے بازاروں میں\n\nہم کو بھی حسن ملاحت کا مزہ چکھوا دو\nہم بھی ہیں آپ کے مدت سے طلب گاروں میں\n\nبوم صاحب کا عجب رنگ نرالا دیکھا\nیار یاروں میں ہے اغیار ہے اغیاروں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AA%D8%B4_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اتنا بتلا مجھے ہرجائی ہوں میں یار کہ تو", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اتنا بتلا مجھے ہرجائی ہوں میں یار کہ تو\nمیں ہر اک شخص سے رکھتا ہوں سروکار کہ تو\n\nکم ثباتی مری ہر دم ہے مخاطب بہ حباب\nدیکھیں تو پہلے ہم اس بحر سے ہوں پار کہ تو\n\nناتوانی مری گلشن میں یہ ہی بحثے ہے\nدیکھیں اے نکہت گل ہم ہیں سبک بار کہ تو\n\nدوستی کر کے جو دشمن ہوا تو جرأتؔ کا\nبے وفا وہ ہے پھر اے شوخ ستم گار کہ تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%81%D8%B1%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%88"} {"title": "اتنا تو جانتے ہیں کہ بندے خدا کے ہیں", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اتنا تو جانتے ہیں کہ بندے خدا کے ہیں\nآگے حواس گم خرد نارسا کے ہیں\n\nممنون برگ گل ہیں نہ شرمندۂ صبا\nہم بلبل اور ہی چمن دل کشا کے ہیں\n\nکیا کوہ کن کی کوہ کنی کیا جنون قیس\nوادیٔ عشق میں یہ مقام ابتدا کے ہیں\n\nبنیان عمر سست ہے اور منعمان دہر\nمغرور اپنے کو شک عالی بنا کے ہیں\n\nاپنے وجود کا ابھی عقدہ کھلا نہیں\nمصروف حل و عقد میں ارض و سما کے ہیں\n\nشیخ اور برہمن میں اگر لاگ ہے تو ہو\nدونوں شکار غمزہ اسی دل ربا کے ہیں\n\nجن کو عنایت ازلی سے ہے چشم داشت\nوہ معتقد دعا کے نہ قائل دوا کے ہیں\n\nلایا نہیں ہنوز نوید‌ وصال دوست\nہم شکوہ سنج سستی‌‌ پیک سبا کے ہیں\n\nسمجھو اگر تو ہیں وہی سب سے حریص تر\nطالب خدا سے جو دل بے مدعا کے ہیں\n\nان بد‌ دلوں نے عشق کو بد نام کر دیا\nجو مرتکب شکایت‌ جور و جفا کے ہیں\n\nہمت ہمائے اوج سعادت ہے مرد کو\nالو ہیں وہ جو شیفتہ ظل ہما کے ہیں\n\nہے اشک و آہ راس ہمارے مزاج کو\nیعنی پلے ہوئے اسی آب و ہوا کے ہیں\n\nجو باندھتے ہیں طرۂ طرار کا خیال\nناداں امیدوار نزول بلا کے ہیں\n\nکھٹکا بھی کچھ ہوا نہیں اور دل اڑا لیا\nیہ سارے ہتکھنڈے تری زلف دوتا کے ہیں\n\nصید کرشمہ اس لئے ہوتے نہیں کہ ہم\nپہلے سے زخم خوردہ فریب وفا کے ہیں\n\nمارا بھی اور مار کے زندہ بھی کر دیا\nیہ شعبدے تو شوخیٔ ناز و ادا کے ہیں\n\nخلوت میں بھی روا نہیں گستاخیٔ نگاہ\nپردے پڑے ہوئے ابھی شرم و حیا کے ہیں\n\nیوں کہہ رہی ہے نرگس بیمار کی ادا\nنسخے تو مجھ کو یاد ہزاروں شفا کے ہیں\n\nاب تک ہے سجدہ گاہ عزیزان روزگار\nجس خاک پر نشان ترے کفش پا کے ہیں\n\nاندیشہ ہے کہ دے نہ ادھر کی ادھر لگا\nمجھ کو تو نا پسند وتیرے صبا کے ہیں\n\nسیر ورود قافلۂ نو بہار دیکھ\nبرپا خیام اوج ہوا میں گھٹا کے ہیں\n\nجاتا ہے خاک‌ پاک دکن کو یہ ریختہ\nواں قدردان اس گہر بے بہا کے ہیں\n\nاحباب کا کرم ہے اگر نکتہ چیں نہ ہوں\nورنہ ہم آپ معترف اپنی خطا کے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوا", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوا\nاور اس سے آگے بڑھ کے خدا جانے کیا ہوا\n\nشان کرم تھی یہ بھی اگر وہ جدا ہوا\nکیا محنت طلب میں نہ حاصل مزا ہوا\n\nمیں اور کوئے عشق مرے اور یہ نصیب\nذوق فنا خضر کی طرح رہ نما ہوا\n\nپہچانتا وہ اب نہیں دشمن کو دوست سے\nکس قید سے اسیر محبت رہا ہوا\n\nشایان درگزر ہے اگر اضطرار میں\nجرم دراز دستی ذوق دعا ہوا\n\nکیا کیا نہ اس نے پورے کئے مدعائے دل\nلیکن پسند اسے دل بے مدعا ہوا\n\nاس کا پتہ کسی سے نہ پوچھو بڑھے چلو\nفتنہ کسی گلی میں تو ہوگا اٹھا ہوا\n\nگل رویوں کے خیال نے گلشن بنا دیا\nسینہ کبھی مدینہ کبھی کربلا ہوا\n\nپیچیدہ تھی جو سر میں ہوائے رضائے دوست\nآسیؔ مرید سلسلۂ مرتضیٰ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D9%81%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل\nدنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل\n\nکم ظرف پر غرور ذرا اپنا ظرف دیکھ\nمانند جوش غم نہ زیادہ ابل کے چل\n\nفرصت ہے اک صدا کی یہاں سوز دل کے ساتھ\nاس پر سپند وار نہ اتنا اچھل کے چل\n\nیہ غول وش ہیں ان کو سمجھ تو نہ رہ نما\nسائے سے بچ کے اہل فریب و دغل کے چل\n\nاوروں کے بل پہ بل نہ کر اتنا نہ چل نکل\nبل ہے تو بل کے بل پہ تو کچھ اپنے بل کے چل\n\nانساں کو کل کا پتلا بنایا ہے اس نے آپ\nاور آپ ہی وہ کہتا ہے پتلے کو کل کے چل\n\nپھر آنکھیں بھی تو دیں ہیں کہ رکھ دیکھ کر قدم\nکہتا ہے کون تجھ کو نہ چل چل سنبھل کے چل\n\nہے طرفہ امن گاہ نہاں خانۂ عدم\nآنکھوں کے روبرو سے تو لوگوں کے ٹل کے چل\n\nکیا چل سکے گا ہم سے کہ پہچانتے ہیں ہم\nتو لاکھ اپنی چال کو ظالم بدل کے چل\n\nہے شمع سر کے بل جو محبت میں گرم ہو\nپروانہ اپنے دل سے یہ کہتا ہے جل کے چل\n\nبلبل کے ہوش نکہت گل کی طرح اڑا\nگلشن میں میرے ساتھ ذرا عطر مل کے چل\n\nگر قصد سوئے دل ہے ترا اے نگاہ یار\nدو چار تیر پیک سے آگے اجل کے چل\n\nجو امتحان طبع کرے اپنا اے ظفرؔ\nتو کہہ دو اس کو طور پہ تو اس غزل کے چل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%85%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84"} {"title": "اتنا نہ غرور کر کہ مرنا ہے تجھے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اتنا نہ غرور کر کہ مرنا ہے تجھے\nآرام ابھی قبر میں کرنا ہے تجھے\nرکھ خاک پہ سوچ کر ذرا پاؤں انیسؔ\nاک روز صراط سے گزرنا ہے تجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B1%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "اتنے آنسو تو نہ تھے دیدۂ تر کے آگے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اتنے آنسو تو نہ تھے دیدۂ تر کے آگے\nاب تو پانی ہی بھرا رہتا ہے گھر کے آگے\n\nدم بدم مجھ کو تصور ہے اسی دلبر کا\nرات دن پھرتا ہے میری وہ نظر کے آگے\n\nہیں یہ اے جان مرے دل سے مجھے اپنے عزیز\nتیرے داغوں کو میں رکھتا ہوں جگر کے آگے\n\nگرمی اپنی کو فراموش کریں مہر وشاں\nسرد ہو جائیں سب اس رشک قمر کے آگے\n\nباد تندی سے میاں تیری مجھے حیرت ہے\nکیونکہ رکھتا ہے طپانچوں کو کمر کے آگے\n\nتیرے دانتوں سے میں تشبیہ نہ دوں گوہر کو\nپوت کو قدر نہیں سلک گہر کے آگے\n\nزور سے کام نکلتا نہیں بے زر کے دئے\nزر بھی حربہ ہے ترا ایک بشر کے آگے\n\nزر اگر برسر فولاد نہیں نرم شود\nزور کا زور دھرا رہتا ہے زر کے آگے\n\nکس کو کہتا ہے میاں یاں سے سرک یاں سے سرک\nکوئی بیٹھا نہیں آ کر ترے در کے آگے\n\nیہ تو مجلس ہے جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے\nکیوں جگہ بدلے کوئی کاہے کو سرکے آگے\n\nاب کہاں جائے حسنؔ ہاتھوں سے تیرے ظالم\nرکھ لیا تو نے اسے تیغ و سپر کے آگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%92_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%AA%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92"} {"title": "اتنے اچھے ہو کہ بس توبہ بھلی", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اتنے اچھے ہو کہ بس توبہ بھلی\nتم تو ایسے ہو کہ بس توبہ بھلی\n\nرسم عشق غیر اور میں یہ بھی خوب\nایسی کہتے ہو کہ بس توبہ بھلی\n\nمیری مے نوشی پہ ساقی کہہ اٹھا\nاتنی پیتے ہو کہ بس توبہ بھلی\n\nوقت آخر اور یہ قول وفا\nدم وہ دیتے ہو کہ بس توبہ بھلی\n\nغیر کی بات اپنے اوپر لے گئے\nایسی سمجھے ہو کہ بس توبہ بھلی\n\nمیں بھی ایسا ہوں کہ خالق کی پناہ\nتم بھی ایسے ہو کہ بس توبہ بھلی\n\nکہتے ہیں مضطرؔ وہ مجھ کو دیکھ کر\nیوں تڑپتے ہو کہ بس توبہ بھلی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%92_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%D8%B3_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81_%D8%A8%DA%BE%D9%84%DB%8C"} {"title": "اتنے بھی نہ ہم خراب ہوتے رہتے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اتنے بھی نہ ہم خراب ہوتے رہتے\nکاہے کو غم و الم سے روتے رہتے\nسب خواب عدم سے چونکنے کے ہیں وبال\nبہتر تھا یہی کہ ووہیں سوتے رہتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92"} {"title": "اتنے بھی ہم خراب نہ ہوتے رہتے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اتنے بھی ہم خراب نہ ہوتے رہتے\nکاہے کو غم الم سے روتے رہتے\nسب خواب عدم سے چونکنے کے ہیں وبال\nبہتر تھا یہی کہ وہیں سوتے رہتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92"} {"title": "اتنے تو ہم خیال دل مبتلا ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اتنے تو ہم خیال دل مبتلا ہیں ہم\nکل جس سے خوش تھے آج اسی سے خفا ہیں ہم\n\nتجھ سے جدا نہیں ہیں جو تجھ سے جدا ہیں ہم\nتیرے ہی ہیں اگرچہ ترے نقش پا ہیں ہم\n\nکہتے ہیں ہم کو نیک بھی بد بھی ہزار ہا\nاس کی خبر نہیں ہے کہ دراصل کیا ہیں ہم\n\nرتبہ بڑھا دیا ہے جنون فراق نے\nہم سے جدا ہیں آپ تو سب سے جدا ہیں ہم\n\nتاثیر اشک و آہ نے بدلا نہیں مزاج\nمدت ہوئی کہ شاکیٔ آب و ہوا ہیں ہم\n\nلاکھوں جفائیں سہہ کے اب آیا ہے یہ خیال\nملتے ہی کیوں ہیں اس سے جو بے مدعا ہیں ہم\n\nوہ یاس بن گئی جو زمانے کی آس تھی\nآزردہ آج اپنے سے بے انتہا ہیں ہم\n\nجمتا ہے اپنے ذکر سے اب محفلوں کا رنگ\nرہتے ہیں اپنے گھر میں مگر جا بجا ہیں ہم\n\nکیا کیا عنایتیں ہیں بس اے چرخ پیر بس\nتیرا تصدق اب بھی کسی سے جدا ہیں ہم\n\nاب اتفاق اہل وفا تم کو کیا دکھائیں\nمحشر میں دیکھنا کہ یہ سب ایک جا ہیں\n\nمنظور امتحان دل عشق باز ہے\nاب اپنے واسطے بھی تو صبر آزما ہیں ہم\n\nاس پر مٹے ہوئے ہیں مٹاتا ہے جو صفیؔ\nدشمن کی گا رہے ہیں بڑے خوش نوا ہیں ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "اثر آہ دل زار کی افواہیں ہیں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اثر آہ دل زار کی افواہیں ہیں\nیعنی مجھ پر کرم یار کی افواہیں ہیں\n\nشرم اے نالۂ دل خانۂ اغیار میں بھی\nجوش افغان عزا بار کی افواہیں ہیں\n\nکب کیا دل پہ مرے پند و نصیحت نے اثر\nناصح بیہودہ گفتار کی افواہیں ہیں\n\nجنس دل کے وہ خریدار ہوئے تھے کس دن\nیہ یونہی کوچہ و بازار کی افواہیں ہیں\n\nقیس و فرہاد کا منہ؟ مجھ سے مقابل ہوں گے؟\nمردم وادی و کہسار کی افواہیں ہیں\n\nیہ بھی کچھ بات ہے میں اور کروں غیر سے بات\nتم نہ مانو کہ یہ اغیار کی افواہیں ہیں\n\nکس توقع پہ جئیں شیفتہؔ مایوس کرم\nغیر پر بھی ستم یار کی افواہیں ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%A2%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%81%D9%88%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اثر آہ کا گر دکھائیں گے ہم", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اثر آہ کا گر دکھائیں گے ہم\nابھی کھینچ کر تم کو لائیں گے ہم\n\nذرا رہ تو اے دشت آوارگی\nترا خوب خاکہ اڑائیں گے ہم\n\nفسانہ تری زلف شب رنگ کا\nبڑھے گا جہاں تک بڑھائیں گے ہم\n\nوہی درد فرقت وہی انتظار\nبھلا مر کے کیا چین پائیں گے ہم\n\nوہ گمراہ غیروں کے ہم راہ ہے\nاسے راہ پر کیوں کہ لائیں گے ہم\n\nقفس سے ہوا اذن پرواز کب\nیہ خواہش ہی دل سے اڑائیں گے ہم\n\nطلسم محبت ہے عاشق کا حال\nانہیں بھی یہ قصہ سنائیں گے ہم\n\nوہ نخوت سے ہیں آسماں سے پرے\nکہاں سے انہیں ڈھونڈ لائیں گے ہم\n\nنہ کر آہ یہ شورش افزائیاں\nتجھے بھی کبھی آزمائیں گے ہم\n\nنہ ٹوٹے گا سر رشتۂ اختلاط\nوہ کھینچیں گے جتنا بڑھائیں گے ہم\n\nیہ مانا کہ ہو رشک حور و پری\nمگر آدمیت سکھائیں گے ہم\n\nحذر تیر مژگاں کی بوچھاڑ سے\nیہ اک دل کہاں تک بچائیں گے ہم\n\nہمیں زہر و خنجر کی کیوں ہے تلاش\nشب غم میں کیا مر نہ جائیں گے ہم\n\nنہ نکلا کوئی ڈھب تو بن کر غبار\nنظر میں تمہاری سمائیں گے ہم\n\nکہاں گھر میں مفلس کے فرش و فروش\nوہ آئے تو آنکھیں بچھائیں گے ہم\n\nترے قد سے کی سرو نے ہم سری\nاسے آج سیدھا بنائیں گے ہم\n\nنہیں غسل میت کی جا قتل گاہ\nمگر خاک و خوں میں نہائیں گے ہم\n\nرہ عشق سے نابلد ہے ابھی\nخضر کو یہ رستہ بتائیں گے ہم\n\nہوا وصل بھی تو مزا کون سا\nوہ روٹھیں گے ہر دم منائیں گے ہم\n\nشب و روز دل کو کریدیں نہ کیوں\nیہیں سے پتا اس کا پائیں گے ہم\n\nعبث ہے یہ مجروحؔ طول امل\nبکھیڑے یہ سب چھوڑ جائیں گے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%A2%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا\nرنج راحت فزا نہیں ہوتا\n\nبے وفا کہنے کی شکایت ہے\nتو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا\n\nذکر اغیار سے ہوا معلوم\nحرف ناصح برا نہیں ہوتا\n\nکس کو ہے ذوق تلخ کامی لیک\nجنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا\n\nتم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے\nورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا\n\nاس نے کیا جانے کیا کیا لے کر\nدل کسی کام کا نہیں ہوتا\n\nامتحاں کیجئے مرا جب تک\nشوق زور آزما نہیں ہوتا\n\nایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہے\nتجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا\n\nآہ طول امل ہے روز فزوں\nگرچہ اک مدعا نہیں ہوتا\n\nتم مرے پاس ہوتے ہو گویا\nجب کوئی دوسرا نہیں ہوتا\n\nحال دل یار کو لکھوں کیوں کر\nہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا\n\nرحم بر خصم جان غیر نہ ہو\nسب کا دل ایک سا نہیں ہوتا\n\nدامن اس کا جو ہے دراز تو ہو\nدست عاشق رسا نہیں ہوتا\n\nچارۂ دل سوائے صبر نہیں\nسو تمہارے سوا نہیں ہوتا\n\nکیوں سنے عرض مضطر اے مومنؔ\nصنم آخر خدا نہیں ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اثر ایسا ہے تپ غم میں دوا کا الٹا", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اثر ایسا ہے تپ غم میں دوا کا الٹا\nنبض دیکھے تو ہو بیمار مسیحا الٹا\n\nہم سری کی قد موزوں و رخ روشن سے\nچور کی طرح دیا شمع کو لٹکا الٹا\n\nصبح کو چہرۂ خورشید کرن سے نکلا\nسر سے اس مہ نے جو مقیس کا سہرا الٹا\n\nخفقان غم فرقت سے دل ایسا الٹا\nمنہ کے باہر نکل آیا جو کلیجہ الٹا\n\nحسرت دید میں آخر کو دم اپنا الٹا\nپردۂ چشم نہ اس شوخ نے اپنا الٹا\n\nناز و انداز نے دیوانہ بنایا دل کو\nاس پری نے جو دم رقص دوپٹا الٹا\n\nمیں تو کرتا نہیں اے عرشؔ گلہ فرقت کا\nشکوۂ بخت وہ کج باز ہے کرتا الٹا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%BE_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9%D8%A7"} {"title": "اثر دیکھا دعا جب رات بھر کی (I)", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اثر دیکھا دعا جب رات بھر کی\nضیا کچھ کچھ ہے تاروں میں سحر کی\n\nہوئے رخصت جہاں سے صبح ہوتے\nکہانی ہجر کی یوں مختصر کی\n\nتڑپ اٹھے لحد کے سونے والے\nزمیں کی سمت کیوں تم نے نظر کی\n\nسحر دیکھیں یہ حسرت لے گئے ہم\nبتائیں کیا تمہیں کیوں کر سحر کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%28I%29"} {"title": "اثر دیکھا دعا جب رات بھر کی (II)", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اثر دیکھا دعا جب رات بھر کی\nضیا کچھ کچھ ہے تاروں میں سحر کی\n\nہوئے رخصت جہاں سے صبح ہوتے\nکہانی ہجر میں یوں مختصر کی\n\nتڑپ اٹھے لحد میں سونے والے\nزمیں کی سمت یوں تم نے نظر کی\n\nسحر کو موت کی مانگی دعائیں\nدعا مقبول ہوتی ہے سحر کی\n\nیہ بجلی ہے کہ اے ابر شب ہجر\nہے دھجی ایک دامان سحر کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%28II%29"} {"title": "اثر زلف کا برملا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اثر زلف کا برملا ہو گیا\nبلاؤں سے مل کر بلا ہو گیا\n\nجنوں لے کے ہم راہ آئی بہار\nنئے سر سے پھر ولولا ہو گیا\n\nدیا غیر نے بھی دل آخر اسے\nمجھے دیکھ کر من چلا ہو گیا\n\nسمائی دل تنگ کی دیکھیے\nکہ عالم میں ثابت خلا ہو گیا\n\nتعلی زمیں سے جو نالوں نے کی\nفلک پر عیاں زلزلہ ہو گیا\n\nہوا قتل بے جرم میں جا کے برقؔ\nوہ کوچہ مجھے کربلا ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%B1%D9%85%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اثر نہ کم ہو کبھی نالۂ رسا تیرا", "poet_page": "مصنف:بیتاب عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اثر نہ کم ہو کبھی نالۂ رسا تیرا\nرہے بڑھا ہوا ہر آن حوصلہ تیرا\n\nپڑھی ہے عارض و کاکل کی داستاں میں نے\nسنا ہے میں نے فسانہ ذرا ذرا تیرا\n\nاے اشک شوق تجھی سے ہے زندگی دل کی\nفزوں ہے چشمۂ حیواں سے مرتبہ تیرا\n\nتمام راہ ہے فیض قدم سے نورانی\nہے ماہتاب زمیں پر کہ نقش پا تیرا\n\nقدم کو تیز کر اس سے زیادہ اے بیتابؔ\nنکل گیا ہے بہت دور قافلہ تیرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%85_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "اثر کر کے آہ رسا پھر گئی", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اثر کر کے آہ رسا پھر گئی\nہوا صاف مطلع ہوا پھر گئی\n\nسواری تری آ کے کیا پھر گئی\nادھر کو ادھر کی ہوا پھر گئی\n\nمرے سر سے تیغ جفا پھر گئی\nکئی بار آئی قضا پھر گئی\n\nگیا دیو غم جلوۂ یار سے\nپری زاد آیا بلا پھر گئی\n\nیہ جاں بخش اس جانستاں کی ہے چال\nوہ آیا جو پھر کر قضا پھر گئی\n\nگھڑی دو گھڑی کا ہے تیرا مریض\nطبیب اٹھ گئے ہر دوا پھر گئی\n\nتو آتا نہیں اس گلی میں منیرؔ\nطبیعت تری ہم سے کیا پھر گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%DB%81_%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "اثر کرے نہ کرے، سُن تو لے مِری فریاد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اثر کرے نہ کرے، سُن تو لے مِری فریاد\nنہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد\n\nیہ مُشتِ خاک، یہ صرصر، یہ وسعتِ افلاک\nکرم ہے یا کہ سِتم تیری لذّت ایجاد!\n\nٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گُل\nیہی ہے فصلِ بہاری، یہی ہے بادِ مُراد؟\n\nقصور وار، غریب الدّیار ہُوں لیکن\nترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد\n\nمری جفا طلَبی کو دعائیں دیتا ہے\nوہ دشتِ سادہ، وہ تیرا جہانِ بےبنیاد\n\nخطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں\nوہ گُلِستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صّیاد\n\nمقامِ شوق ترے قُدسیوں کے بس کا نہیں\nاُنھی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%92%D8%8C_%D8%B3%D9%8F%D9%86_%D8%AA%D9%88_%D9%84%DB%92_%D9%85%D9%90%D8%B1%DB%8C_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "اثر کے پیچھے دل حزیں نے نشان چھوڑا نہ پھر کہیں کا", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اثر کے پیچھے دل حزیں نے نشان چھوڑا نہ پھر کہیں کا\nگئے ہیں نالے جو سوئے گردوں تو اشک نے رخ کیا زمیں کا\n\nبھلی تھی تقدیر یا بری تھی یہ راز کس طرح سے عیاں ہو\nبتوں کو سجدے کئے ہیں اتنے کہ مٹ گیا سب لکھا جبیں کا\n\nوہی لڑکپن کی شوخیاں ہیں وہ اگلی ہی سہی شرارتیں ہیں\nسیانے ہوں گے تو ہاں بھی ہوگی ابھی تو سن ہے نہیں نہیں کا\n\nیہ نظم آئیں یہ طرز بندش سخنوری ہے فسوں گری ہے\nکہ ریختہ میں بھی تیرے شبلیؔ مزہ ہے طرز علی حزیںؔ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DB%8C%DA%86%DA%BE%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AD%D8%B2%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%86_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اثرؔ اب تک فریب کھاتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اثرؔ اب تک فریب کھاتا ہے\nتیری باتوں کو مان جاتا ہے\n\nدل کڑا کر کے تجھ سے کچھ تو کہوں\nجی میں سو بار یہ ہی آتا ہے\n\nخوش گزرتی نہیں ہے کوئی آن\nاشتیاق اب نپٹ ستاتا ہے\n\nدل کو وعدے سے کل نہیں ہوتی\nروز تو آج کل بتاتا ہے\n\nبت کافر کی بے مروتیاں\nیہ ہمیں سب خدا دکھاتا ہے\n\nدل مرا تو نے ہی چرایا ہے\nنہیں یوں نظریں کیوں چراتا ہے\n\nمیں بھی ناصح اسے سمجھتا ہوں\nگو برا ہے پہ مجھ کو بھاتا ہے\n\nتیرے در پر میں کب کب آتا ہوں\nدل مجھے بار بار لاتا ہے\n\nنالہ و آہ کو مرے سن کر\nکہتے ہو یاں کسے سناتا ہے\n\nروز و شب کس طرح بسر میں کروں\nغم ترا اب تو جی ہی کھاتا ہے\n\nدل نا قدر داں یہ گوہر اشک\nنت یوں ہی خاک میں ملاتا ہے\n\nجی ہی جاتا ہے دم بہ دم میرا\nتجھ کو باور نہیں یہ آتا ہے\n\nشمع رو دل یہ مثل پروانہ\nناحق اپنے تئیں جلاتا ہے\n\nتیری ان شعلہ خویوں کے حضور\nبے طرح تجھ پہ جی جلاتا ہے\n\nکیا کروں آہ میں اثرؔ کا علاج\nاس گھڑی اس کا جی ہی جاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AB%D8%B1%D8%94_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اثرؔ کیجئے کیا کدھر جائیے", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اثرؔ کیجئے کیا کدھر جائیے\nمگر آپ ہی سے گزر جائیے\n\nکبھو دوستی ہے کبھو دشمنی\nتری کون سی بات پر جائیے\n\nمرا دل مرے ہاتھ سے لیجئے اور\nستم ہے مجھی سے مکر جائیے\n\nکَے روز کی زندگانی ہے یاں\nبنے جس طرح زیست کر جائیے\n\nاثرؔ ان سلوکوں پہ کیا لطف ہے\nپھر اس بے مروت کے گھر جائیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AB%D8%B1%D8%94_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "اجازت دے کہ اپنی داستان غم بیاں کر لیں", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اجازت دے کہ اپنی داستان غم بیاں کر لیں\nترے احساس اور اپنی زباں کا امتحاں کر لیں\n\nحیات جاوداں بھی عشق میں برباد کر لیں گے\nمتاع ہستی فانی تو پہلے رائیگاں کر لیں\n\nیہ سازش کر رہے ہیں چند تنکے آشیانے کے\nکہ بجلی کو کسی صورت اسیر آشیاں کر لیں\n\nشب غم اے تصور ان کو مجبور تبسم کر\nمرتب اس اجالے میں ہم اپنی داستاں کر لیں\n\nٹھکانا ہو کہاں سیمابؔ پھر ناز آفرینی کا\nاگر ہم اپنے دل کو بے نیاز دو جہاں کر لیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D8%B2%D8%AA_%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D8%BA%D9%85_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اجالا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میری ہمدم، مرے خوابوں کی سنہری تعبیر\nمسکرا دے کہ مرے گھر میں اجالا ہو جائے\nآنکھ ملتے ہوئے اٹھ جائے کرن بستر سے\nصبح کا وقت ذرا اور سہانا ہو جائے\n\nمیرے نکھرے ہوئے گیتوں میں ترا جادو ہے\nمیں نے معیار تصور سے بنایا ہے تجھے\nمیری پروین تخیل، مری نسرین نگاہ\nمیں نے تقدیس کے پھولوں سے سجایا ہے تجھے\n\nدودھ کی طرح کنواری تھی زمستاں کی وہ رات\nجب ترے شبنمی عارض نے دہکنا سیکھا\nنیند کے سائے میں ہر پھول نے انگڑائی لی\nنرم کلیوں نے ترے دم سے چٹکنا سیکھا\n\nمیری تخئیل کی جھنکار کو ساکت پا کر!\nچوڑیاں تیری کلائی میں کھنک اٹھتی تھیں\nاف مری تشنہ لبی تشنہ لبی تشنہ لبی!\nکچی کلیاں ترے ہونٹوں کی مہک اٹھتی تھیں\n\nوقت کے دست گراں بار سے مایوس نہ ہو\nکس کو معلوم ہے کیا ہونا ہے اور کیا ہو جائے\nمیری ہمدم، مرے خوابوں کی سنہری تعبیر\nمسکرا دے کہ مرے گھر میں اجالا ہو جائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "اجالوں کی نمائش ہو رہی ہے", "poet_page": "مصنف:اختر علی اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اجالوں کی نمائش ہو رہی ہے\nاندھیروں سے بھی سازش ہو رہی ہے\n\nکوئی منصف نہیں شاید میسر\nستم گر سے جو نالش ہو رہی ہے\n\nوہ مانے یا نہ مانے اس کی مرضی\nمنانے کی تو کاوش ہو رہی ہے\n\nستم گر سے کوئی پوچھے تو اتنا\nیہ مجھ پر کیوں نوازش ہو رہی ہے\n\nادب کی روک کر تعمیر خود ہی\nترقی کی گزارش ہو رہی ہے\n\nہیں چرچے علم کے ہر اک زباں پر\nمگر کمزور دانش ہو رہی ہے\n\nنہیں اخلاص نیت اور اخترؔ\nعبادت کی نمائش ہو رہی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%D8%B4_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اجل نے کر دیا خاموش تو کیا ہے زباں ہوں میں", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اجل نے کر دیا خاموش تو کیا ہے زباں ہوں میں\nکہ ہستی کا فسانہ ہوں عدم کی داستاں ہوں میں\n\nزمیں والے جو کہتے ہیں کہ اب کیا پیس ڈالے گا\nتو ملتا ہے جواب اس کا کہ دور آسماں ہوں میں\n\nمیں سمجھاتا ہوں جب دل کو تو کہتا ہے متانت سے\nزمانے کی زباں تو ہے حقیقت کی زباں ہوں میں\n\nمری تصویر میرا بت مرا مرقد ہے تن میرا\nکبھی تھا تو اسی دنیا میں لیکن اب کہاں ہوں میں\n\nتری غیرت کو اے ناز ستم گر کیا ہوا آخر\nترے ہوتے ہوئے ممنون جور آسماں ہوں میں\n\nقیامت کر گیا بار امانت کا اٹھا لینا\nحریف ماسوا ہوں مبتلائے امتحاں ہوں میں\n\nنہ جب اٹھا تھا دل دنیا سے ذرہ ذرہ دل کش تھا\nمگر اب آشیاں ہر جا ہے پر بے آشیاں ہوں میں\n\nنظر آتا ہے ہر منبر پہ مجھ کو اک نیا واعظ\nجہاں رندوں کا مجمع ہو وہاں پیر مغاں ہوں میں\n\nمری قسمت میں اے بیخودؔ کہاں منزل کی آسائش\nغبار راہ ہوں بانگ درائے کارواں ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AC%D9%84_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "احباب سے امید ہے بیجا مجھ کو", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "احباب سے امید ہے بے جا مجھ کو\nامید عطائے حق ہے زیبا مجھ کو\nکیا ان سے توقع کہ میان مرقد\nچھوڑ آئیں گے اک روز یہ تنہا مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%AC%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "احباب ملاقات کو جو آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "احباب ملاقات کو جو آتے ہیں\nناحق مجھے غم دے کے چلے جاتے ہیں\nمجھ کو ہے وہی شام جوانی کا خیال\nاب صبح ہے میرے منہ پہ فرماتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "احساس عاشقی نے بیگانہ کر دیا ہے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "احساس عاشقی نے بیگانہ کر دیا ہے\nیوں بھی کسی نے اکثر دیوانہ کر دیا ہے\n\nاب کیا امید رکھوں اے حسن یار تجھ سے\nتو نے تو مسکرا کر دیوانہ کر دیا ہے\n\nتجھ سے خدا ہی سمجھے تو نے کسی کو اے دل\nمجھ سے بھی کچھ زیادہ دیوانہ کر دیا ہے\n\nپھر اس کے دیکھنے کو آنکھیں ترس رہی ہیں\nیادش بخیر جس نے دیوانہ کر دیا ہے\n\nمجھ کو جنوں سے اپنے شکوہ جو ہے تو یہ ہے\nمیری محبتوں کو افسانہ کر دیا ہے\n\nاے حسن روز افزوں عمرت دراز باد\nدونوں جہاں سے مجھ کو بیگانہ کر دیا ہے\n\nجب دل میں آ گیا ہے اک جنبش نظر نے\nدیوانہ کہہ دیا دیوانہ کر دیا ہے\n\nمجھ سے ہی پوچھتے ہیں یہ شوخیاں تو دیکھو\nمیرے جگرؔ کو کس نے دیوانہ کر دیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "احساس غیرت", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہم کسی خوف میں ہرگز نہیں آنے والے\nکہہ دو اب ہم کو ڈرائیں نہ ڈرانے والے\nہم میں خود داری و غیرت کی کمی تھی جب تک\nڈھا چکے ہم پہ ستم خوب سے ڈھانے والے\nمٹ لئے ہم میں نہ تھا جب تلک احساس اس کا\nاب ذرا ہوش کی لیں ہم کو مٹانے والے\nہو گئی ہم کو اب اپنی غلطی پر تنبیہ\nاب ہم اغیار کے دم میں نہیں آنے والے\nہم کو ذلت جو دیا کرتے ہیں خود ہوں گے ذلیل\nوہ بھی دن جلد مقدر سے ہیں آنے والے\nلیں گے جلد ان سے ہم اس جور و جفا کا بدلہ\nدل میں خوش ہوں نہ بہت ہم کو ستانے والے\nمل گئی ہند کو برٹش کی غلامی سے نجات\nکاش یہ مژدہ سنیں جلد زمانے والے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%AA"} {"title": "احسان ترا دل مرا کیا یاد کرے گا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "احسان ترا دل مرا کیا یاد کرے گا\nجو خاک کو اس کی نہ تو برباد کرے گا\n\nنے حسرت گل گشت نہ پرواز کی طاقت\nصدقے میں ترے کیا مجھے آزاد کرے گا\n\nموجود ہوں حاضر ہوں میں راضی ہوں میں خوش ہوں\nسر پر مرے جو کچھ کہ وہ جلاد کرے گا\n\nجز غم کے نہ حاصل ہوا صحبت میں کسو کی\nاس دل کو الٰہی کوئی بھی شاد کرے گا\n\nسودا نہ گیا اس کا طبیبوں کی دوا سے\nتو آ کے علاج اب کوئی فصاد کرے گا\n\nجو اس میں بھی چنگا نہ ہوا تو کوئی دن میں\nجا خانۂ زنجیر کو آباد کرے گا\n\nاس کی جو کمر ہووے تو کھینچے کوئی حاتمؔ\nکیا اپنا سر آ کر یہاں بہزاد کرے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "احسان جو اجل سے کام تیرا بگڑے", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "احسان جو اجل سے کام تیرا بگڑے\nاس وقت نہ ہو دل میں جہاں کے جھگڑے\nیوں تو کلمہ پڑھے طوطا بھی ولے\nٹیں ٹیں کرتا ہے جب بلی پکڑے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%AC%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DA%AF%DA%91%DB%92"} {"title": "احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کر", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کر\nرستہ بھی چل تو سبزۂ بیگانہ چھوڑ کر\n\nمرنے کے بعد پھر نہیں کوئی شریک حال\nجاتا ہے شمع کشتہ کو پروانہ چھوڑ کر\n\nہونٹوں پہ آج تک ہیں شب عیش کے مزے\nساقی کا لب لیا لب پیمانہ چھوڑ کر\n\nافعی نہیں کھلی ہوئی زلفوں کا عکس ہے\nجاتے کہاں ہو آئینہ و شانہ چھوڑ کر\n\nطول امل پہ دل نہ لگانا کہ اہل بزم\nجائیں گے ناتمام یہ افسانہ چھوڑ کر\n\nلبریز جام عمر ہوا آ گئی اجل\nلو اٹھ گئے بھرا ہوا پیمانہ چھوڑ کر\n\nاس پیر زال دہر کی ہم ٹھوکروں میں ہیں\nجب سے گئی ہے ہمت مردانہ چھوڑ کر\n\nپہروں ہمارا آپ میں آنا محال ہے\nکوسوں نکل گیا دل دیوانہ چھوڑ کر\n\nاترا جو شیشہ طاق سے زاہد کا ہے یہ حال\nکرتا ہے رقص سجدۂ شکرانہ چھوڑ کر\n\nیہ سمعۂ و ریا تو نشانی ہے کفر کی\nزنار باندھ سبحۂ صد دانہ چھوڑ کر\n\nرندان مے کدہ بھی ہیں اے خضر منتظر\nبستی میں آئیے کبھی ویرانہ چھوڑ کر\n\nاحسان سر پہ لغزش مستانہ کا ہوا\nہم دو قدم نہ جا سکے مے خانہ چھوڑ کر\n\nوادی بہت مہیب ہے بیم و امید کا\nدیکھیں گے شیر پر دل دیوانہ چھوڑ کر\n\nرو رو کے کر رہی ہے صراحی وداع اسے\nجاتا ہے دور دور جو پیمانہ چھوڑ کر\n\nتوبہ تو کی ہے نظمؔ بنا ہوگی کس طرح\nکیوں کر جیو گے مشرب رندانہ چھوڑ کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D9%84%DB%92_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85%D8%AA_%D9%85%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "احمد کا مقام ہے مقام محمود", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "احمد کا مقام ہے مقام محمود\nہے مرجع حمد اور شایان درود\nلو لاک لما خلقت الافلاک ہے ہیچ\nشاہد ہے محمد اور عالم مشہود", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D9%85%D8%AD%D9%85%D9%88%D8%AF"} {"title": "احوال برق و صاعقہ", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "برق مخصوص کسی ایک جوت سے نہیں ہے بلکہ تمام جوتیں موجود ہیں۔ بعض اشیاء ارضی میں ایسا خاصہ ہے کہ جس وقت ابر نزدیک زمین کے پہنچتا ہے تو وہ برق کو اپنی طرف جذب کر لیتی ہیں اور برق اس جذب کی تاثیر سے سحاب کو چھوڑ کر میل نیچے کی طرف کرتی ہے۔ بادل کے پھٹنے اور اس سے آواز ہولناک پیدا ہونے کا نام صاعقہ ہے۔\n\nجس وقت کہ برق سحاب کو پھاڑ کر باہر نکلتی ہے، آواز ہوتی ہے لیکن وہ آواز بعد ایک لمحہ کے ہم کو سنائی دیتی ہے کیونکہ آواز مذکور عرصہ دو دقیقہ میں چھ کوس تک پہنچتی ہے مگر روشنی برق کی زیادہ جلد چلتی ہے۔ ہر چند آواز اور روشنی ایک وقت حادث ہوتے ہیں لیکن روشنی قبل آواز کے محسوس ہوتی ہے۔ اگر کوئی یہ بات دریافت کیا چاہے کہ درمیان ظہور روشنی اور آواز کے کس قدر تفاوت ہے، چاہئے کہ بطور مذکور حساب کرے، معلوم ہوجاوے گا کہ برق کس قدر دور ہے۔ پس اگر وقت ظہور روشنی سے آواز تک اڑھائی دقیقہ گذرے تو برق زمین سے چھ کوس کے فاصلے پر ہوگی۔ صاعقہ بڑی بڑی چیزوں پر پڑتی ہے اس وجہ سے بوقت طوفان درخت کے نیچے کھڑا ہونا مناسب نہیں۔\n\nبعض اشیاء میں یہ خاصیت ہے کہ وہ بجلی کو اپنی طرف کشش کرتی ہیں اور سب فلزات یہی خواص رکھتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ جو صاعقہ میان تلوار پر پڑے، میان نہیں جلتی اور تلوار جل جاتی ہے۔ حکماء فرنگ نے ایک ایسی کل بنائی ہے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ جب اس کل کو پھراتے ہیں، چنگاریاں نمودار ہوتی ہیں اور بجلی ایک شیشے کے برتن میں جمع ہو سکتی ہے۔ جب اس برتن کو دونوں ہاتھوں سے چھوتے ہیں تو چھونے والے کو ایک صدمہ پہنچتا ہے۔ اگر ایک آدمی کو شیشے کے پائیوں کی چوکی پر بٹھا دیں اور وہ اس آلے کو ایک جانب سے پکڑے رہے تو اس کے جسم میں بجلی جمع ہوجاتی ہے اور اس کے جسم سے بھی چنگاریاں نمودار ہوجاتی ہیں اور یہ کل بڑے بڑے مدرسوں سرکاری میں موجود ہے۔ جو شخص چاہے وہاں جاکر ان سب باتوں کا امتحان کرے۔ جب تک ان چیزوں کو آدمی اپنی نظر سے نہ دیکھے، تب تک اس کو ان کا بخوبی یقین نہیں ہوتا ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D9%88_%D8%B5%D8%A7%D8%B9%D9%82%DB%81"} {"title": "احوال سے کہا کسی نے اے نیک شعار", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "احوال سے کہا کسی نے اے نیک شعار\nتو ایک کو دو دیکھ رہا ہے ناچار\nبولا کہ اگر عیب یہ ہوتا مجھ میں\nدو چاند جو ہیں صاف نظر آتے چار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%86%DB%8C%DA%A9_%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1"} {"title": "احکامِ الٰہی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "پابندیِ تقدیر کہ پابندیِ احکام!\nیہ مسئلہ مشکل نہیں اے مردِ خرد مند\nاک آن میں سَو بار بدل جاتی ہے تقدیر\nہے اس کا مُقلِّد ابھی ناخوش، ابھی خُورسند\nتقدیر کے پابند نباتات و جمادات\nمومن فقط احکامِ الٰہی کا ہے پابند", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%90_%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C"} {"title": "اخبار نویسی اور اس کے فرائض", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ایک شخص نے گدھوں کے سوداگر سے جا کر کہا کہ ’’مجھ کو ایک ایسا گدھا مطلوب ہے جونہ زیادہ چھوٹے قد کا ہو نہ بہت بڑے قد کا۔ جب رستہ صاف ہو تو اچھلتا کودتا چلے اور جب راستے میں بھیڑ ہو تو آہستہ قدم اٹھائے۔ نہ دیوار و در سے اڑتا چلے نہ گنجان درختوں میں سوار کولے کر گھس جائے۔ اگر چارہ کم دی اجائے تو صبر کرے اور پیٹ بھراؤ دیا جائے تو شکر کرے۔ جب اس پر سوار ہوں تو چالاک بن جائے اور جب تھان پر باندھ دیں تو کان نہ ہلائے۔‘‘ سوداگر نے جواب دیا، ’’چند روز صبر کر۔ اگر خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت ک املہ سے قاضی شہر کو گدھا بنا دیا تو تیرا سوال پورا کر سکوں گا۔‘‘ اگر آج کل کوئی کسی سے ایسا سوال کرے تو اس کو قاضی کی جگہ اخبار نویس کا نام لینا چاہئے۔ کیوں کہ قاضی میں صرف دو صفتیں ہونی ضرور ہیں۔ا۔ اس قانون کی واقفیت جس کی رو سے وہ فیصلے کرتا ہے۔ب۔ انصافبہ خلاف اخبار نویس کے کہ اس میں اپنے فرائض کی بجاآوری کے لئے بے شمار لیاقتوں کی ضرورت ہے۔ ہمارے نزدیک کسی شخص کی نسبت یہ کہنا کہ ’’وہ اخبار نویسی کی پوری لیاقت رکھتا ہے۔‘‘ گویااس امر کو تسلیم کر لینا ہے کہ ’’اس کی ذات میں ہرقسم کی لیاقت اور فضیلت موجود ہے۔‘‘ اخبار نویس قطع نظر اس کے کہ قوم کا ناصح، ملک کا وکیل اور گورنمنٹ کا مشیر ہوتا ہے۔ وہ ایک قسم کا تاجر بھی ہے جس کو کم از کم مصارف اخبار اور اپنے حوائج ضرور یہ کے لئے اپنی محنت کا معاوضہ ملک سے وصول کرنا پڑتا ہے۔ پس جس طرح آزادی، انصاف اور دیانت اس کی ذات میں ہونی ضروری ہے، اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ اس کے انداز بیان اور طرز تحریر میں ایک قوت مقناطیسی کا ہونا بھی ضروری ہے جس سے وہ پبلک کے دلوں پر فتح حاصل کرسکے۔مگر جہاں پبلک کے عام مذاق صحیح نہ ہوں، جہاں ظرافت اور مسخرگی اور استہزا واقعات اور حقائق سے زیادہ مرغوب ہوں، جہاں معزز اور شریف لوگوں پر پھبتیاں کہنا داخل حسن بیان سمجھا جائے، جہاں گورنمنٹ پربے جا اور اندھادھند نکتہ چینی کرنے کانام ’’آزادی‘‘ رکھا جائے وہاں باوجود آزادی و انصاف و دیانت کے پبلک کے دلوں کو مسخر کرنا قریب نا ممکن کے معلوم ہوتا ہے۔ ہندوستان کے دیسی اخباروں کی عام حالت کیا گورنمنٹ کے نزدیک اور کیا ملک کے لائق آدمیوں کے نزدیک اب تک بہت بری سمجھی جاتی ہے۔ لیکن جس طرح کسی بستی میں زیادہ تر بوسیدہ اورشکستہ مکانوں اور کھنڈروں کا ہونا اس بستی کے افلاس پر دلالت کرتا ہے، یا کسی ملک کی شاعری میں زیادہ ترہزل اورجھوٹ اور بے تہذیبی کا پایا جانا اس ملک کے مذاق فاسد پر گواہی دیتا ہے۔ اسی طرح اخباروں کابری حالت میں ہونا اخبار نویسوں کی بے سلیقگی کی نسبت زیادہ تر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پبلک کا مذاق صحیح نہیں ہے۔باایں ہمہ اخبار نویسوں کومعذور نہیں سمجھا جا سکتا۔ کیونکہ ان کا پہلا فرض یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنی جادو بیانی سے پبلک کے مذاق کو اگر وہ فاسد ہے توصحیح اور اگر صحیح ہے تواعلیٰ درجے کا صحیح بنا دیں۔ اخبار کے پست حالت میں رہنے کے دوہی سبب ہو سکتے ہیں یا تو یہ کہ ایڈیٹر میں اخبار چلانے کی لیاقت نہیں ہے بلکہ اس نے صرف یہ دیکھ کر کہ بہت سے لوگ اخبار کے ذریعہ سے آسودگی کے ساتھ بسر کرتے ہیں، اخبار کو محض ایک حیلہ معاش سمجھ کر جاری کر لیا ہے۔ یایہ کہ ایڈیٹر میں کافی لیاقت موجود ہے مگر چونکہ پبلک کا مذاق صحیح نہیں ہے اس لئے وہ اپنی اصلی لیاقت کوکام میں نہیں لاتا بلکہ زمانے کے تیور دیکھتا رہتا ہے کہ لوگ کس بات کو پسند کرتے ہیں اور کس بات کو نا پسند اور جو طریقہ ان کے مذاق کے موافق ہوتا ہے اس کو اختیار کر لیتا ہے۔پہلی صورت میں سوااس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح ایک بدآواز مؤذن کو کچھ دنیا کرکے اذان سے روکا گیا تھا، اسی طرح ایسے ایڈیٹروں کے لئے لوگ چندہ کرکے کچھ تنخواہ اس شرط پر مقرر کر دیں کہ وہ مہربانی کرکے کبھی اخبار نہ نکالیں۔ کیونکہ انہوں نے اپنی طاقت کے اندازہ کرنے میں دھوکہ کھایا ہے اور اپنے لئے پیشہ انتخاب کرنے میں ویسی ہی غلطی کی ہے جیسے کوے نے ہنس کی چال چلنے میں کی تھی۔ لیکن دوسری صورت میں ایڈیٹر سخت الزام کے قابل ہیں۔ وہ باوجود یکہ قوم کے ناصح ہیں مگر اس کو گمراہ کرتے ہیں اور طبیب ہوکر لوگوں کو مہلک دوا دیتے ہیں۔ ان کی مثال اس طبیب جیسی ہے جو بیماروں کو دوا اور پرہیز ان کی مرضی کے موافق بتاتا ہے اوران کو خوش رکھنا چاہتا ہے نہ کہ تندرست کرتا۔اس قسم کے ایڈیٹروں کو (جن کی تعداد ملک میں بہ کثرت ہے) خوب یاد رکھنا چاہئے کہ معزز کاموں کاصلہ روپیہ اور دولت نہیں ہے۔ دیکھو ایک گویا جو اچھی طرح گاتا ہے، ایک تماشاگر جو عمدہ تماشا دکھاتا ہے، ایک خدمت گار جو ہوشیاری اور سلیقہ سے کام کرتا ہے، ایک طوائف جو دلفریب طریقے سے گاتی ناچتی ہے، ایک مسخرہ جو اپنے مسخرے پن سے امیروں کو خوش کرتا ہے یہ اوراس قسم کے تمام لوگ روپیہ کمانے میں علماء حکماء اور اہل کمال سے بالعموم اچھے رہتے ہیں۔ پس ایڈیٹر جو ملک کا وکیل اور گورنمنٹ کا مشیر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اگر وہ بھی صرف روپیہ کمانے کے لئے اخبار کو پبلک کے مذاق فاسد کا تابع رکھنا چاہتا ہے تو وہ بھی مذکورہ بالا اشخاص سے کچھ زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔یہ سچ ہے کہ ہمارے ملک میں جو شخص اخبار نویسی کے فرائض پورے پورے ادا کرنے چاہے، اس کو اول اول کسی قدر مشکلات کاسامنا کرنا پڑےگا۔ لیکن یاد رہے کہ سچی عزت جڑکی طرح اندر ہی اندر پھیلتی ہے اور جھوٹی عزت پھولوں کی طرح جلد مرجھا کر خاک میں مل جاتی ہے۔ سچی عزت نیکی کا سایہ ہے۔ جب تک نیکی باقی ہے عزت اس کے ساتھ ہے۔ جو لوگ اول قدم پر مقبول اور ہر دلعزیز ہونا چاہتے ہیں وہ کبھی مقبول اور ہر دلعزیز نہ ہوں گے۔ جن کاموں سے جلد فائدہ حاصل کرنے کی آرزو کی جاتی ہے ان کے فائدے قلیل اور ناپائیدار ہوتے ہیں مگر جو کام صبر اور استقلال کے ساتھ کئے جاتے ہیں، ان سے آخرکار وہ نتائج حاصل ہوتے ہیں جو کبھی وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔ کسی حکیم کا قول ہے کہ ’’قسمت جلدبازوں سے چیزوں کی قیمت ٹھوک بجا کر لیتی ہے مگر صبر کرنے والوں کو مفت دیتی ہے۔‘‘ جو لوگ اخبار نویسی کی عمدہ لیاقت رکھتے ہیں، وہ ہندوستان کے دیسی اخباروں میں بہت آسانی سے فوقیت اور امتیاز حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔ بہ خلاف انگلستان کے کہ وہاں سب سے اعلیٰ اورافضل اخبار نکالنا بظاہر امکان سے خارج معلوم ہوتا ہے۔ ایک ایسے شخص کے لئے جو ایڈیٹر کی عمدہ لیاقت رکھتا ہو ہندوستان کے عام اخباروں کا پست حالت میں ہونا بہت نیک فال ہے۔ مثل مشہور ہے کہ ’’جہاں کوئی برا نہ ہو وہاں اچھا کوئی نہیں ہو سکتا۔‘‘ بہ خلاف اس کے جہاں برے ہی برے ہوں یا برے اچھوں سے زیادہ ہوں وہاں اچھا بن جانا بہت آسان ہے۔ اسپارٹا والے سب بہادر تھے اس لئے وہاں کسی کی بہادری کی تعریف نہ ہوتی تھی لیکن اگر بنگال میں کوئی بنگالی شخص سپہ گری کے فن میں کمال بہم پہنچائے تو وہ تمام قوم میں سربرآوردہ ہو سکتا ہے۔ایک لائق اخبار نویس کے فرائضاگرہندوستان میں کوئی شخص اخبار نویسی کے فن میں اصلی اور حقیقی ترقی کرنی چاہے تو،اپنی جنرل انفارمیشن (معلوما ت عامہ) کو وسعت دے۔اپنی طرز تحریر میں اعتدال پیدا کرے۔مدح وستائش میں مبالغہ کو کام نہ فرمائے۔نکتہ چینی میں خیرخواہی اورسنجیدگی کو ہاتھ سے نہ دے۔جب تک کسی معاملے کے تمام پہلو اس کی نظر میں نہ ہوں تب تک اس پر رائے دینے میں جرأت اور جلد بازی نہ کرے۔جب تک خبر کسی معتبر ذریعے سے نہ پہنچے اس وقت تک اسے شائع نہ کرے۔ظرافت قدر ضرورت سے زیادہ کام میں نہ لائے۔ملایانہ اور طالب علمانہ بحثوں میں نہ پڑے۔مذہبی مباحث میں نہایت ضرورت کے بغیر دخل نہ دے۔ملک میں جو اچھے کام کرتے ہیں ان کو چمکائے اور جن سے کوئی برا کام سرزد ہو اسے تابم قد و رچشم پوشی کرے۔جن کی برائیوں سے ملک یا سوسائٹی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو ان پر آزادانہ گرفت کرے۔تحریر میں سادگی، متانت اور جامعیت اختیار کرے۔کارسپانڈنٹوں (نامہ نگاروں) کی دل آزار تحریروں سے جوان کی ذاتی اغراض پر مبنی ہوں، اپنے اخبار کو پاک رکھے۔اخبار کی کتابت، چھپائی اورصحت کا نہایت کوشش اور توجہ سے خیال رکھے۔اس امر کا خاص اہتمام رکھے کہ اخبار بالکل تاریخ معین اور وقت مقرر پر شائع ہوا کرے۔گورنمنٹ اور حکام کی نسبت جو کچھ لکھے اس میں ادب اور تعظیم کونصب العین رکھے۔ غرض کوئی فرض اپنے فرائض میں سے تابم قدورفر و گزاشت نہ کرے اور کوئی بات اپنے کانشنس (ضمیر) اور انصاف ودیانت اور آزادی کے برخلاف نہ لکھے۔ایسا شخص جوان تمام باتوں پر جوبیان ہوئیں پورے طورپر عمل پیرا ہو اس کی نسبت امید کی جا سکتی ہے کہ وہ کبھی نہ کبھی اپنے ہم عصروں اورہم پیشہ اشخاص میں ممتاز ہوگا۔ جومختصر فرائض ہم نے اخبار نویسی کے اوپر بیان کئے، شاید کوئی یہ سمجھے کہ اتنے فرائض ایک اکیلے آدمی سے کیوں کر ادا ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان سب کا اصل اصول راستی اور سچائی ہے اور یہ ایسا صاف، سیدھا، پرامن اور بے خطر رستہ ہے جو نہایت آسانی سے بے زحمت و مشقت طے ہوتا ہے اور کبھی منزل مقصود پر پہنچانے میں خطا نہیں کرتا۔ جس طرح ایک جھوٹ کے ترک کرنے سے تمام گناہ خود بخود ترک ہو جاتے ہیں اسی طرح کسی پیشہ میں راست بازی اور سچائی اختیار کرنے سے اس پیشہ کے تمام فرائض خود بخود ادا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ راستی ایک سیدھی راہ ہے جس پر راہ گیر آنکھ بند کرکے چل سکتا اور منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے، لیکن جہاں اس سے بہکا پھر جتنا آگے بڑھتا جائےگا اتنا ہی منزل سے دور ہوتا جائےگا۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AE%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D8%B6"} {"title": "اختر سے بھی آبرو میں بہتر ہے یہ اشک", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اختر سے بھی آبرو میں بہتر ہے یہ اشک\nاللہ ہے مشتری وہ گوہر ہیں یہ اشک\nآنکھوں سے لگا کے ان کو کہتے ہیں ملک\nگوہر نہیں نور چشم کوثر ہیں یہ اشک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%B4%DA%A9"} {"title": "اخترِ صُبح", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ستارہ صبح کا روتا تھا اور یہ کہتا تھا\nمِلی نگاہ مگر فرصتِ نظر نہ ملی\nہوئی ہے زندہ دمِ آفتاب سے ہر شے\nاماں مجھی کو تہِ دامنِ سحَر نہ ملی\nبساط کیا ہے بھلا صبح کے ستارے کی\nنفَس حباب کا، تابندگی شرارے کی\n\nکہا یہ میں نے کہ اے زیورِ جبینِ سحَر!\nغمِ فنا ہے تجھے! گُنبدِ فلک سے اُتر\nٹپک بلندیِ گردُوں سے ہمرہِ شبنم\nمرے ریاضِ سخن کی فضا ہے جاں پرور\nمیں باغباں ہوں، محبّت بہار ہے اس کی\nبِنا مثالِ ابد پائدار ہے اس کی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%D9%90_%D8%B5%D9%8F%D8%A8%D8%AD"} {"title": "اخفا کے لئے ہے اس قدر جوش و خروش", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اخفا کے لئے ہے اس قدر جوش و خروش\nیاں ہوش کا مقتضا ہے بننا مدہوش\nحسن ازلی تو ہے ازل سے ظاہر\nیعنی ہے تجلیوں میں اپنی روپوش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%88_%D8%AE%D8%B1%D9%88%D8%B4"} {"title": "اخلاص کی دھوکے پر ہوں مائل تیرا", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اخلاص کی دھوکے پر ہوں مائل تیرا\nسچ تو یہ ہے کہ جانتا ہے مشکل تیرا\nریشم کی سی لچھی ہیں سب اعضا تیرے\nکیوں کر جانوں کہ سخت ہے دل تیرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D8%B5_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%DA%BE%D9%88%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "اخلاق", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "مسٹر ایڈیسن کا قول ہے کہ مذہب کے دو حصے ہو سکتے ہیں، ایک اعتقادیات دوسرا عملیات۔ مسٹر ایڈیسن کی غرض اعتقادیات سے صرف وہ مسائل ہیں جو وحی سے معلوم ہوئے ہیں اور جو عقل سے یا کارخانہ قدرت پر غور کرنے سے معلوم نہیں ہو سکتے، مگر ہم کو ان کے اس بیان سے کسی قدر اختلاف ہے۔ ہم اعتقادیات ان مسائل کو کہتے ہیں جن کا ہونا عقل و نیچر، یعنی کارخانہ قدرت کے اصول پر نا ممکن نہیں ہے، الا ہم ان دونوں کی بنا پر ان کے ہونے کا یقین نہیں کر سکتے تھے، وحی نے صرف ان کے ہونے پر جب و ہ ہوں ہم کو یقین دلایا ہے یا ان کا ہونا بتلایا ہے۔ ہم نے اس مقام پر حرف تردید کو اس لیے استعمال کیا ہے ہم کو اس بات میں شبہ ہے کہ ان مسائل پر جن کو ہم نے اعتقادیات میں داخل کیا ہے، یقین لانا جزو ایمان ہے یا نہیں۔ عملیات میں مسٹر ایڈیسن نے ان مسائل کو داخل کیا ہے جن کی عقل و نیچر کے مطابق مذہب نے بھی ہدایت کی ہے۔ پس وہ پہلے حصے کا نام عقائد رکھتے ہیں اور دوسرے حصے کا نام اخلاق۔\n\nپھر وہ لکھتے ہیں کہ ہم اکثر لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اعتقادیات پر اس قدر خیال کرتے ہیں کہ اخلاق کو بالکل بھول جاتے ہیں اور بعضے اخلاق پر ایسے متوجہ ہوتے ہیں کہ اعتقادیات کا کچھ خیال نہیں کرتے۔ صاحب کمال آدمی کو ان دونوں میں سے کسی بات میں ناقص نہ رہنا چاہیے۔ جو لوگ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ہر ایک سے کیا کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ دل سے ہمارے اس بیان کی تصدیق کریں گے۔\n\nافسوس ہے کہ اس مقام پر بھی مجھ کو مسٹر ایڈیسن سے کچھ تھوڑا سا اختلا ف ہے۔ پچھلا حصہ ان کے اس مضمون کا نہایت سچ ہے، مگر پہلے حصے میں کچھ غلطی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اعتقادیات میں اور عملیات میں جس کو مسٹر ایڈیسن اخلاق کہتے ہیں، کچھ علاقہ نہیں ہے۔ انسان اعتقادیا ت پر کتنا ہی زیادہ خیال کرے اس کے اخلاق میں کچھ تفاوت نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اخلاق پر کیسا ہی متوجہ ہو اس کے اعتقادیات میں کچھ نقصان نہیں آ سکتا، کیونکہ یہ دونوں کام دو جدا جدا آلوں اور دو جدا جدا شخصوں سے متعلق ہیں، پہلا ہمارے دل یا ہماری روح اور خدا سے، دوسرا ہماری ظاہری حرکات اور جذبات اور انسان سے۔\n\nپھر وہ لکھتے ہیں کہ گو مذہب، اخلاق اور اعتقاد پر منقسم ہے اور ان دونوں میں خاص خاص خوبیاں ہیں، مگر اخلاق کو اعتقاد پر اکثر باتوں میں ترجیح ہے۔\n\n(۱) کیونکہ اخلاق کی اکثر باتیں نہایت صحیح اور بہت مضبوط ہیں، یہاں تک کہ اگر اعتقاد بالکل قایم نہ رہیں تب بھی وہ باتیں (یعنی اخلاق کے مسائل) بدستور قائم رہتی ہیں۔\n\n(۲) جس شخص میں اخلاق ہے اور اعتقاد نہیں وہ شخص بہ نسبت اس شخص کے جس میں اعتقاد ہے اور اخلاق نہیں انسان کے لیے دنیا میں بہت زیادہ بہتری کر سکتا ہے اور میں اس قدر اور زیادہ کہتا ہوں کہ انسان کے لیے دین اور دنیا دونوں میں بہت زیادہ بھلائی کر سکتا ہے۔\n\n(۳) اخلاق انسان کی فطرت کو زیادہ کمال بخشتا ہے، کیونکہ اس سے دل کو قرار و آسودگی ہوتی ہے، دل کے جذبات اعتدال پر رہتے ہیں اور ہر ایک انسان کی خوشی کو ترقی ہوتی ہے۔\n\n(۴) اخلاق میں ایک نہایت زیادہ فائدہ اعتقاد سے ہے کہ اگر وہ ٹھیک ٹھیک ہوں تو تمام دنیا کی مہذب قومیں اخلاق کے بڑے بڑے اصولوں میں متفق ہوتی ہیں، گو کہ عقائد میں وہ کیسی ہی مختلف ہوں۔\n\n(۵) کفر سے بھی بد اخلاقی عمدہ بدتر ہے یا اس مطلب کو یوں کہو کہ اکثر لوگوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ایک نیک چلن نپٹ جاہل وحشی جس کو خدا کی باتوں کی کچھ خبر بھی نہیں پہنچی نجات پا سکتا ہے، مگر بد چلن معتقد آدمی نجات نہیں پا سکتا۔\n\n(۶) اعتقاد کی خوبی اسی میں ہے کہ اس کا اثر اخلاق پر ہوتا ہے۔ اگر ہم اس بات پر غور کریں کہ اعتقاد کی، یعنی خدا کے دیے ہوئے مذہب پر ایمان رکھنے کی خوبیاں کیا ہیں تو کیا ہم کو اس بات کی صحت جو ہم نے ابھی بیان کی بخوبی معلوم ہو جاوے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذہب کی خوبیاں ان باتوں میں ہیں جن کو میں بیان کرتا ہوں۔\n\n(۱) اخلاق کی باتوں کو سمجھنا اور ان کو اعلیٰ درجے پر پہنچانا۔\n\n(۲) نیک اخلاق پر عمل کرنے کے لیے نئے نئے اور قوی اغراض کو بہم پہنچانا۔\n\n(۳) خدا کی نسبت عمدہ خیالات پیدا کرنا اور اپنے ہم جنسوں سے اچھا برتاؤ کرنا جس سے آپس میں محبت زیادہ ہو اور خود انسان اپنی سچی حالت کو، کیا بلحاظ اپنے نیچر کی خوبی کے اور کیا بلحاظ اس کی بدی کے بخوبی سمجھے۔\n\n(۴) برائی کی برائیوں کو ظاہر کرنا۔\n\n(۵) نجات کے لیے نیک اخلاق کو عام ذریعہ ٹھہرانا۔\n\nمذہب کی خوبیوں کا یہ ایک مختصر بیان ہے، مگر جو لوگ اس قسم کے مباحثوں میں مشغول رہتے ہیں وہ نہایت آسانی سے ان خیالوں کو ترقی دے سکتے ہیں اور مفید نتیجے ان سے نکال سکتے ہیں، مگر میں یقینا ًکہہ سکتا ہوں کہ ان سب باتوں کا ظاہر نتیجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اخلاق میں کمال حاصل نہیں کر سکتا جب تک اخلاق کو عیسائی مذہب کو سہارا نہ ہو۔ یہ قول مسٹر ایڈیسن کا ہے۔ مگر میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی اعتقاد یا کوئی مذہب سچا ہو ہی نہیں سکتا جس کا نتیجہ اخلاق کی عمدگی نہ ہو۔ پس اخلاق کو کسی مذہب کا کچھ سہارا درکار نہیں ہے بلکہ مذہب یا اعتقاد کے سچ سمجھنے کو اخلاق کا سہارا درکار ہے۔\n\nمسٹر ایڈیسن اور بھی دو ایک اصو ل قائم کرتے ہیں جو اس گفتگو سے علاقہ رکھتے ہیں۔\n\n(۱) وہ کہتے ہیں کہ ہم کو ایسی بات کو اعتقاد کی جڑ نہ قرار دینا چاہیے جس سے اخلاق کو استحکام اور ترقی نہ ہوتی ہو۔\n\n(۲) کوئی اعتقاد صحیح بنیاد پر ہو ہی نہیں سکتا جس سے اخلاق خراب یا ان میں تنزل ہوتا ہو۔\n\nیہ دونوں اصول مسٹر ایڈیسن کے ایسے عمدہ ہیں کہ دنیا میں کوئی شخص جس کے دل کی آنکھ خدانے اندھی نہ کی ہو ان سے انکاری نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد مسٹر ایڈیسن انہیں اصولوں پر اور ایک مسئلہ متفرع کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ تمام مشتبہ مقاموں میں ہم کو نہایت غور کرنی چاہیے کہ اگر بالفرض وہ غلط ہو تو اس سے کیا کیا بد نتیجے پیدا ہو سکتے ہیں، مثلا ً اپنے ایمان کے مضبوط کرنے اور خیالی ثواب حاصل کرنے کی امنگ میں لوگوں کو تکلیف دینا، لوگوں کے دلوں میں رنج اور نفرت، غصہ اور عداوت پیدا کرنا اور جس چیز پر ان کو اعتقاد نہیں ہے زبردستی ان سے قبول کروانا۔ ایسے جذبات میں ہم اسی پر بس نہیں کرتے، بلکہ ان سب باتوں کے سوا ہم ان کو دنیا کے فائدے اور خوشی سے بھی محروم کرتے ہیں۔ ان کے جسم کو تکلیف دیتے ہیں، ان کی دولت کو خراب کرتے ہیں، ان کی ناموریوں کو خاک میں ملا دیتے ہیں، ان کے خاندانوں کو برباد کرتے ہیں، ان کی زندگیوں کو تلخ کر ڈالتے ہیں، یہاں تک کہ آخر کار ان کو مار ڈالتے ہیں۔\n\nپس جب کسی مسئلے سے ایسے بد نتیجے نکلیں تو مجھ کو اس مسئلے کے مشکوک ہونے میں کچھ شبہ نہیں رہتا جیسے کہ علم حساب میں دو اور دو چار ہونے میں کچھ شبہ نہیں ہوتا۔ پس ایسے مسئلے کو اپنے مذہب کی بنیاد نہیں ٹھہرا سکتا اور نہ اس پر عمل کر سکتا ہوں۔ اس قسم کے معاملات میں ہم صریح اپنے ہم جنسوں کو ضرر پہنچاتے ہیں اور جس مسئلے سے ہم ایسا کرتے ہیں بلا شبہ وہ مشکوک اور قابل اعتراض ہے، اخلاق اس سے بالکل خراب ہو جاتے ہیں۔\n\nیہ مضمون مسٹر ایڈیسن کا غالبا ًعیسائی مذہب کے اس زمانے پر اشارہ ہے جب کہ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقے میں دشمنی کی آگ بھڑک رہی تھی اور مرد اور عورت و بچے مذہب نہ ماننے پر آگ میں جلائے جاتے تھے اور نہایت بد بخت خون ریزیاں جو در حقیقت کرسٹانٹی کے بالکل خلاف تھیں، ہو رہی تھیں۔\n\nلوگ خیال کرتے ہیں کو مسلمانوں کے مذہب میں بھی ایسا خوں خوار، امن اور اخلاق کے بر خلاف جہاد کا مسئلہ ہے۔ اگر وہ مسئلہ در حقیقت ایسا ہی ہو جیسا کہ بعض یا اکثر حقیقت تک نہ پہنچنے والے یا خود غرض لوگوں نے سمجھا ہے یا اکثر ظالم و مکار مسلمان حکمرانوں نے برتا ہے تو اس کے اخلاق کے برخلاف ہونے میں کون شبہ کر سکتا ہے مگر ہمارا اعتقاد یہ نہیں ہے، بلکہ جو حقیقت جہاد کی در حقیقت مذہب اسلام کی رو سے ہے وہ اخلاق کے بر خلاف نہیں ہے۔ اس میں کسی قسم کا جبر یا کسی کے مذہب کو بجبر چھڑانا یا مذہب کے لیے کس کا خون بہانا مطلق نہیں ہے۔ وہ صرف نیشنل لا پر، یعنی اس قانون پرجو مختلف قوموں کو آپس میں برتنا چاہیے، مبنی ہے اور جو آج کل مہذب سے مہذب قوموں میں جاری ہے۔ اس مسئلے کا ذکر ہم نے اپنی متعدد تصنیفات میں کیا ہے اور امید ہے کہ کبھی اس مضمون پر کوئی تحریر اس پرچے میں بھی چھاپیں گے۔\n\nمسٹر ایڈیسن اپنے اس مضمون کو کسی مصنف کے نہایت عمدہ اور دل میں اثر کرنے والے کلام پر ختم کرتے ہیں اور وہ کلام یہ ہے، ’’آپس میں نفرت پیدا کرنے کو تو ہمارے لیے مذہب کافی ہے، مگر ایک دوسرے میں محبت پیدا کرنے کے لیے کافی نہیں۔‘‘ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ جو برتاؤ مذہبوں کا اس زمانے میں ہے وہ ایسا ہی ہے اور مسلمانوں کا برتاؤ سب سے زیادہ برا ہے، مگر سچے مذہب کا یعنی اسلام کا سچا مسئلہ یہ ہے کہ خدا کو ایک جاننا اور انسان کو اپنا بھائی سمجھنا، پس جو کوئی اس مسئلے کے بر خلاف ہے وہ غلطی پر ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%82"} {"title": "اخلاق سے جہل علم و فن سے غافل", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اخلاق سے جہل علم و فن سے غافل\nمضموں جو دیکھیں تو مثل خط باطل\nاردو اخبار کے اڈیٹر اکثر\nلکھے نہ پڑھے نام محمد فاضل", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DB%81%D9%84_%D8%B9%D9%84%D9%85_%D9%88_%D9%81%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84"} {"title": "اخلاق کے عنصر ہوں اگر اصل مزاج", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اخلاق کے عنصر ہوں اگر اصل مزاج\nجو قوم ہو کبھی نہ محتاج علاج\nہو اس کو ہمیشہ خرق عادت کا ظہور\nحاصل ہو اسے عمر ابد کی معراج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D9%86%D8%B5%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC"} {"title": "ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہی", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہی\nنگاہ مست سے دنیا خراب ہو کے رہی\n\nغضب تھا ان کا تلون کہ چار ہی دن میں\nنگاہ لطف نگاہ عتاب ہو کے رہی\n\nتری گلی کی ہوا دل کو راس کیا آتی\nہوا یہ حال کہ مٹی خراب ہو کے رہی\n\nوہ آہ دل جسے سن سن کے آپ ہنستے تھے\nخدنگ ناز کا آخر جواب ہو کے رہی\n\nپڑی تھی کشت تمنا جو خشک مدت سے\nرہین منت چشم پر آب ہو کے رہی\n\nہماری کشتیٔ توبہ کا یہ ہوا انجام\nبہار آتے ہی غرق شراب ہو کے رہی\n\nکسی میں تاب کہاں تھی کہ دیکھتا ان کو\nاٹھی نقاب تو حیرت نقاب ہو کے رہی\n\nوہ بزم عیش جو رہتی تھی گرم راتوں کو\nفسانہ ہو کے رہی ایک خواب ہو کے رہی\n\nجلیلؔ فصل بہاری کی دیکھیے تاثیر\nگری جو بوند گھٹا سے شراب ہو کے رہی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D9%88%D8%AC_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%8C"} {"title": "ادا سے آڑ میں خنجر کے منہ چھپائے ہوئے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادا سے آڑ میں خنجر کے منہ چھپائے ہوئے\nمری قضا کو وہ لائے دلہن بنائے ہوئے\n\nالٰہی کیوں نہیں ہوتی کوئی بلا نازل\nاثر ہے دیر سے دست دعا اٹھائے ہوئے\n\nتری لگائی ہوئی آگ حشر تک نہ بجھی\nہوئے نہ مر کے بھی ٹھنڈے ترے جلائے ہوئے\n\nبلائے جاں ہے مگر پھر بھی آرزو ہے تری\nہم اس کو اپنے کلیجے سے ہیں لگائے ہوئے\n\nسحر ہوئی کہ وہ یادش بخیر آتا ہے\nچراغ ہیں مری تربت کے جھلملائے ہوئے\n\nتمہیں کہو کہ تمہیں اپنا سمجھ کے کیا پایا\nمگر یہی کہ جو اپنے تھے سب پرائے ہوئے\n\nکسی کا ہائے وہ مقتل میں اس طرح آنا\nنظر بچائے ہوئے آستیں چڑھائے ہوئے\n\nاجل کو مژدۂ فرصت کہ آج فانیؔ زار\nامید وصل سے بیٹھا ہے لو لگائے ہوئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%DA%91_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%86%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "ادا شناس ترا بے زباں نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:عزیز الحسن غوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادا شناس ترا بے زباں نہیں ہوتا\nکہے وہ کس سے کوئی نکتہ داں نہیں ہوتا\n\nسب ایک رنگ میں ہیں مے کدے کے خورد و کلاں\nیہاں تفاوت پیر و جواں نہیں ہوتا\n\nقمار عشق میں سب کچھ گنوا دیا میں نے\nامید نفع میں خوف زیاں نہیں ہوتا\n\nسہم رہا ہوں میں اے اہل قبر بتلا دو\nزمیں تلے تو کوئی آسماں نہیں ہوتا\n\nوہ محتسب ہو کہ واعظ وہ فلسفی ہو کہ شیخ\nکسی سے بند ترا راز داں نہیں ہوتا\n\nوہ سب کے سامنے اس سادگی سے بیٹھے ہیں\nکہ دل چرانے کا ان پر گماں نہیں ہوتا\n\nجو آپ چاہیں کہ لے لیں کسی کا مفت میں دل\nتو یہ معاملہ یوں مہرباں نہیں ہوتا\n\nجہاں فریب ہو مجذوبؔ یہ تری صورت\nبتوں کے عشق کا تجھ پر گماں نہیں ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%B3_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DB%92_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ادا میں بانکپن انداز میں اک آن پیدا کر", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادا میں بانکپن انداز میں اک آن پیدا کر\nتجھے معشوق بننا ہے تو پوری شان پیدا کر\n\nکہاں کا وصل کیسی آرزو اے دل وہ کہتے ہیں\nنہ میں حسرت کروں پوری نہ تو ارمان پیدا کر\n\nہمارا انتخاب اچھا نہیں اے دل تو پھر تو ہی\nخیال یار سے بہتر کوئی مہمان پیدا کر\n\nمجھے ہے رشک اس کو بھی رقیب اپنا سمجھتا ہوں\nنہ دیکھے جو تجھے ایسا کوئی دربان پیدا کر\n\nخیال ضبط الفت ہے تو احسنؔ پھر خطر کیسا\nنہ دھڑکے دل بھی سینے میں وہ اطمینان پیدا کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D9%86%DA%A9%D9%BE%D9%86_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%A9_%D8%A2%D9%86_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ادا و ناز میں کچھ کچھ جو ہوش اس نے سنبھالا ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادا و ناز میں کچھ کچھ جو ہوش اس نے سنبھالا ہے\nتو اپنے حسن کا کیا کیا دلوں میں شور ڈالا ہے\n\nابھی کیا عمر ہے کیا عقل ہے کیا فہم ہے لیکن\nابھی سے دل فریبی کا لہر اک نقشہ نرالا ہے\n\nتبسم قہر ہنس دینا قیامت دیکھنا آفت\nپلک دیکھو تو نشتر ہے نگہ دیکھو تو بھالا ہے\n\nابھی نوک نگہ میں اس قدر تیزی نہیں تس پر\nکئی زخمی کیے ہیں اور کئی کو مار ڈالا ہے\n\nاکڑنا تن کے چلنا دھج بنانا وضع دکھلانا\nکبھی نیمہ کبھی چپکن کبھی خالی دوشالا ہے\n\nکسی کے ساتھ کاندھے پر کسی کے لات سینے پر\nکہیں نفرت کہیں الفت کہیں حیلہ حوالا ہے\n\nنظیرؔ ایسا ہی دلبر شہرۂ آفاق ہوتا ہے\nابھی سے دیکھیے فتنے نے کیسا ڈھب نکالا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D9%88_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%86%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ادا پریوں کی صورت حور کی آنکھیں غزالوں کی", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادا پریوں کی صورت حور کی آنکھیں غزالوں کی\nغرض مانگے کی ہر اک چیز ہے ان حسن والوں کی\n\nبجائے رقص مے خانے میں ہے گردش پیالوں کی\nتکلف بر طرف یہ بزم ہے اللہ والوں کی\n\nنشاں جب مٹ گیا تربت کا آئے فاتحہ پڑھنے\nانہیں کب یاد آئی ہیں وفائیں مرنے والوں کی\n\nہوا دو گز کفن منعم کو حاصل مال دنیا سے\nبندھی رکھی ہی آخر رہ گئی گٹھری دوشالوں کی\n\nدکھا کر دل مرا پھر آپ ہی عذر جفا کرنا\nارے کافر تری اک چال ہے یہ لاکھ چالوں کی\n\nابھی تم کو بہت کچھ ناز ہے ترچھی نگاہوں پر\nمگر دیکھی نہیں تاثیر تم نے میرے نالوں کی\n\nترے ہوتے ہوئے یہ بات غیرت کی ہے او ظالم\nاڑائے آسماں یوں خاک تیری پائمالوں کی\n\nبھلے ہیں یا برے جو کچھ ہیں بندے تو خدا کے ہیں\nندامت اس قدر واعظ نہ کر مے خانے والوں کی\n\nہوئی بوچھار مجھ پر شکوۂ بے جا کی پھر کیا کیا\nجہاں چھیڑا انہیں بس کھل گئی گٹھری ملالوں کی\n\nگنہ گار محبت ہیں جدھر گزریں گے محشر میں\nہمارے ساتھ ساتھ اک بھیڑ ہوگی خوش جمالوں کی\n\nفرشتوں سے حفیظؔ اک دن لحد میں گفتگو ہوگی\nابھی سے فکر لازم ہے تمہیں ان کے سوالوں کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%AD%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D8%B2%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ادا کے توسن پر اس صنم کو جو آج ہم نے سوار دیکھا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادا کے توسن پر اس صنم کو جو آج ہم نے سوار دیکھا\nتو ہلتے ہی ٹک عناں کے کیا کیا کچلتے صبر و قرار دیکھا\n\nجھپک پہ مژگاں کے جب نگہ کی تو اس نے اک پل میں ہوش اڑایا\nجو چشم و غمزہ کی طرز دیکھی تو جادو اس کا شعار دیکھا\n\nجو دیکھی اس کی وہ تیغ ابرو تو جی کو ہیبت نے آن گھیرا\nنگہ جو کاکل کے دام پر کی تو دل کو اس کا شکار دیکھا\n\nحنا جو ہاتھوں میں اس کے دیکھی تو رنگ دل کا ہوا عجب کچھ\nکمر بھی دیکھی تو ایسی نازک کہ ہو بھی اس پر نثار دیکھا\n\nوہ دیکھ لیتا ہماری جانب تو اس میں ہوتی کچھ اور خوبی\nپر اس نے ہرگز ادھر نہ دیکھا نظیرؔ ہم نے ہزار دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D9%88%D8%B3%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D8%AC_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ادائیں ہیں جو اس رشک پری میں", "poet_page": "مصنف:ہاجر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادائیں ہیں جو اس رشک پری میں\nنہ ڈھونڈے سے ملیں گی وہ کسی میں\n\nنہ دیکھی وہ کسی کی دشمنی میں\nجو آفت ہے تمہاری دوستی میں\n\nتغافل کس قدر ہمت شکن ہے\nنہیں ہے اب کوئی ارمان جی میں\n\nتڑپتے ہیں ہزاروں کشتۂ غم\nقیامت ہے بپا تیری گلی میں\n\nبناوٹ میں وہ کیفیت کہاں ہے\nمزا ہے جو تمہاری سادگی میں\n\nوہ کب سننے لگے ہیں شکوۂ غم\nخفا ہو جاتے ہیں جو دل لگی میں\n\nجدا جب سے ہوئے ہو تم مری جاں\nکمی کچھ آ گئی ہے زندگی میں\n\nوہی دل کو بچا سکتا ہے غم سے\nکبھی جو خوش نہیں ہوتا خوشی میں\n\nبچانا ہر بلا سے اے خدا تو\nترا ہی آسرا ہے بے کسی میں\n\nجو دل میں بس رہا ہے کون ہے وہ\nکسے معلوم ہے یہ بے خودی میں\n\nتمہیں کو چھینتی ہے مجھ سے دنیا\nملے تھے ایک تم ہی زندگی میں\n\nنہ بھولے گی یہ سیر باغ ہاجرؔ\nکسی کو ساتھ لے کر چاندنی میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ادائے دل فریب سرو قامت", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادائے دل فریب سرو قامت\nقیامت ہے قیامت ہے قیامت\n\nشہید خنجر الفت موا نہیں\nسلامت ہے سلامت ہے سلامت\n\nنہ کرنا جی کوں قرباں تجھ قدم پر\nندامت ہے ندامت ہے ندامت\n\nجماعت میں پری رویوں کی تجھ کوں\nامامت ہے امامت ہے امامت\n\nسراجؔ اب عیش کے گلشن کا پانی\nملامت ہے ملامت ہے ملامت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%AA"} {"title": "اداسی چھا گئی چہرے پہ شمع محفل کے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اداسی چھا گئی چہرے پہ شمع محفل کے\nنسیم صبح سے شعلے بھڑک اٹھے دل کے\n\nشریک حال نہیں ہے کوئی تو کیا پروا\nدلیل راہ محبت ہیں ولولے دل کے\n\nعجب نہیں کہ بپا ہو یہیں سے فتنۂ حشر\nزمانے بھر میں ہیں سارے فساد اسی دل کے\n\nنہ سنگ میل نہ نقش قدم نہ بانگ جرس\nبھٹک نہ جائیں مسافر عدم کی منزل کے\n\nخوشی کے مارے زمیں پر قدم نہیں رکھتے\nجب آئے قافلے والے قریب منزل کے\n\nنظارۂ رخ لیلیٰ مبارک اے مجنوں\nنگاہ شوق نے پردے اٹھائے محمل کے\n\nمشاہدے کو اک آئینۂ جمال دیا\nکمال عشق نے جوہر دکھا دئے دل کے\n\nزبان یاسؔ سے افسانۂ سحر سنیے\nوہ رونا شمع کا پروانوں سے گلے مل کے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%DA%A9%DB%92"} {"title": "ادب سے شکوۂ غم ہو رہا ہے", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادب سے شکوۂ غم ہو رہا ہے\nزباں خاموش ہے دل رو رہا ہے\n\nجگر بیتاب ہے دل رو رہا ہے\nتمناؤں کا ماتم ہو رہا ہے\n\nزمانہ لاکھ دے چھینٹے پہ چھینٹے\nمیں کیا جاگوں مقدر سو رہا ہے\n\nسمجھتا ہے وہ جنت کی حقیقت\nتری محفل میں دم بھر جو رہا ہے\n\nجبیں اپنی کسی کا آستاں ہے\nمقدر اب مقدر ہو رہا ہے\n\nدل نا فہم یہ آنسو نہیں ہیں\nبڑے نایاب موتی کھو رہا ہے\n\nمحبت ریز فطرت بن رہی ہے\nقیامت خیز عالم ہو رہا ہے\n\nنیا انداز ہے عذر ستم کا\nمجھی سے میرا شکوہ ہو رہا ہے\n\nشب غم اور سکون قلب مضطر\nمجھے کچھ اور ہی شک ہو رہا ہے\n\nیہاں تک راز دل ہم نے چھپایا\nزمانہ میں فسانہ ہو رہا ہے\n\nالٰہی شان ستاری کا صدقہ\nشمار معصیت کیوں ہو رہا ہے\n\nانہی آنکھوں میں جنت بس رہی ہے\nانہی آنکھوں میں محشر سو رہا ہے\n\nدبے پاؤں گزر جائے قیامت\nکوئی برسوں کا جاگا سو رہا ہے\n\nیہ درد دل منیرؔ ان کا کرم ہے\nمقام شکر ہے تو رو رہا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%82_%D8%BA%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا\nہوس نے شوق کے پہلو دبائے ہیں کیا کیا\n\nنہ جانے سہو قلم ہے کہ شاہکار قلم\nبلائے حسن نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا\n\nنگاہ ڈال دی جس پر وہ ہو گیا اندھا\nنظر نے رنگ تصرف دکھائے ہیں کیا کیا\n\nاسی فریب نے مارا کہ کل ہے کتنی دور\nاس آج کل میں عبث دن گنوائے ہیں کیا کیا\n\nپہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے\nاسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا\n\nگزر کے آپ سے ہم آپ تک پہنچ تو گئے\nمگر خبر بھی ہے کچھ پھیر کھائے ہیں کیا کیا\n\nبلند ہو تو کھلے تجھ پہ زور پستی کا\nبڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا\n\nخوشی میں اپنے قدم چوم لوں تو زیبا ہے\nوہ لغزشوں پہ مری مسکرائے ہیں کیا کیا\n\nخدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں کیا ہوں\nخود اپنی ذات پہ شک دل میں آئے ہیں کیا کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%D8%A8_%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D9%82%D8%A7%D8%B6%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ادبیات", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "عشق اب پیرویِ عقلِ خدا داد کرے\nآبُرو کوچۂ جاناں میں نہ برباد کرے\nکہُنہ پیکر میں نئی رُوح کو آباد کرے\nیا کُہن رُوح کو تقلید سے آزاد کرے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%AA"} {"title": "ادراک خود آشنا نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادراک خود آشنا نہیں ہے\nورنہ انساں میں کیا نہیں ہے\n\nکیا ڈھونڈھنے جاؤں میں کسی کو\nاپنا مجھے خود پتا نہیں ہے\n\nکیوں جام شراب ناب مانگوں\nساقی کی نظر میں کیا نہیں ہے\n\nحسن اور نوازش محبت\nایسا تو کبھی ہوا نہیں ہے\n\nسیمابؔ چمن میں جوش گل سے\nگنجائش نقش پا نہیں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%D8%B1%D8%A7%DA%A9_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ادنیٰ سے جو سر جھکائے اعلیٰ وہ ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ادنیٰ سے جو سر جھکائے اعلیٰ وہ ہے\nجو خلق سے بہرہ ور ہے دریا وہ ہے\nکیا خوب دلیل ہے یہ خوبی کی دبیرؔ\nسمجھے جو برا آپ کو اچھا وہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%D9%86%DB%8C%D9%B0_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%B1_%D8%AC%DA%BE%DA%A9%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%B0_%D9%88%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "ادھر آ کر شکار افگن ہمارا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادھر آ کر شکار افگن ہمارا\nمشبک کر گیا ہے تن ہمارا\n\nگریباں سے رہا کوتہ تو پھر ہے\nہمارے ہاتھ میں دامن ہمارا\n\nگئے جوں شمع اس مجلس میں جتنے\nسبھوں پر حال ہے روشن ہمارا\n\nبلا جس چشم کو کہتے ہیں مردم\nوہ ہے عین بلا مسکن ہمارا\n\nہوا رونے سے راز دوستی فاش\nہمارا گریہ تھا دشمن ہمارا\n\nبہت چاہا تھا ابر تر نے لیکن\nنہ منت کش ہوا گلشن ہمارا\n\nچمن میں ہم بھی زنجیری رہے ہیں\nسنا ہوگا کبھو شیون ہمارا\n\nکیا تھا ریختہ پردہ سخن کا\nسو ٹھہرا ہے یہی اب فن ہمارا\n\nنہ بہکے میکدے میں میرؔ کیوں کر\nگرو سو جا ہے پیراہن ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%81%DA%AF%D9%86_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "ادھر ابر لے چشم نم کو چلا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادھر ابر لے چشم نم کو چلا\nادھر ساقیا! میں بھی یم کو چلا\n\nمبارک ہو کعبہ تمہیں شیخ جی!\nیہ بندہ تو بیت الصنم کو چلا\n\nسر رہ گزر آہ اے بے نشاں\nکدھر چھوڑ نقش قدم کو چلا\n\nجواہر کا ٹکڑا ہے یہ لخت دل\nتو اے اشک لے اس رقم کو چلا\n\nترا مائل حسن اے سرو قد\nسنا ہے کہ ملک عدم کو چلا\n\nحباب لب جو کی مانند آہ\nخبر جلد لے کوئی دم کو چلا\n\nترے عشق میں ساتھ اپنے نصیرؔ\nلیے حسرت و درد و غم کو چلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D9%84%DB%92_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%86%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D9%84%D8%A7"} {"title": "ادھر اس کی نگہ کا ناز سے آ کر پلٹ جانا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادھر اس کی نگہ کا ناز سے آ کر پلٹ جانا\nادھر مرنا تڑپنا غش میں آنا دم الٹ جانا\n\nکہوں کیا کیا میں نقشے اس کی ناگن زلف کے یارو\nلپٹنا اڑ کے آنا کاٹ کھانا پھر پلٹ جانا\n\nاگر ملنے کی دھن رکھنا تو اس ترکیب سے ملنا\nسرکنا دور ہٹنا بھاگنا اور پھر لپٹ جانا\n\nنہ ملنے کا ارادہ ہو تو یہ عیاریاں دیکھو\nہمکنا آگے بڑھنا پاس آنا اور ہٹ جانا\n\nیہ کچھ بہروپ پن دیکھو کہ بن کر شکل دانے کی\nبکھرنا سبز ہونا لہلہانا پھر سمٹ جانا\n\nیہ یکتائی یہ یک رنگی تس اوپر یہ قیامت ہے\nنہ کم ہونا نہ بڑھنا اور ہزاروں گھٹ میں بٹ جانا\n\nنظیرؔ ایسا جو چنچل دل ربا بہروپیا ہووے\nتماشا ہے پھر ایسے شوخ سے سودے کا پٹ جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DA%AF%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1_%D9%BE%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "ادھر بھی آ", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہ جہد و کشمکش یہ خروش جہاں بھی دیکھ\nادبار کی، سروں پہ گھنی بدلیاں بھی دیکھ\nیہ توپ یہ تفنگ یہ تیغ و سنان بھی دیکھ\nاو کشتۂ نگار دل آرا ادھر بھی آ\n\nآ، اور بگل کا نغمۂ جاں آفریں بھی سن\nآ، بے کسوں کا نالۂ اندوہ کیں بھی سن\nآ، باغیوں کا زمزمۂ آتشیں بھی سن\nاو مست ساز و بربط و نغمہ ادھر بھی آ\n\nتقدیر کچھ ہو، کاوش تدبیر بھی تو ہے\nتخریب کے لباس میں تعمیر بھی تو ہے\nظلمات کے حجاب میں تنویر بھی تو ہے\nآ منتظر ہے عشرت فردا ادھر بھی آ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2"} {"title": "ادھر تو ہم جان کھو رہے ہیں ادھر وہ الفت سے رو رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر محمد سلطان عاقل", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاقل (1902)", "year": "1902", "text_ur": "ادھر تو ہم جان کھو رہے ہیں ادھر وہ الفت سے رو رہے ہیں\nکدورتیں عمر بھر کی دل سے وہ آج اشکوں میں دھو رہے ہیں\n\nنہ باز رکھ ہم کو رونے سے تو گریں جو اشکوں کے دانے بہتر\nیہ کشت حسرت میں اپنی ہمدم امید کا تخم بو رہے ہیں\n\nادھر ترقی خیال کو ہے ادھر ترقی جمال کو ہے\nوہاں تو مد نظر ہے سرمہ یہاں تصور میں رو رہے ہیں\n\nجہاں ہوا طفل کوئی پیدا کہا یہ ماں نے ابوالبشر کی\nمری بھی آغوش ہے کشادہ عبث یہ سامان ہو رہے ہیں\n\nکیا ہے بے جرم قتل مجھ کو ہجوم اغیار و آشنا میں\nاور اس پہ دیکھو ڈھٹائی اشکوں سے دامن اپنا بھگو رہے ہیں\n\nنہ پوچھو کچھ معصیت کا عالم فرشتو ہم کیا کہ تم نے بچتے\nحقیقت اس کی انہیں سے پوچھو سرائے دنیا میں جو رہے ہیں\n\nخبر وصال عدو کی سن کر وصال کے معنی سوچتے ہیں\nانہیں کو واں کچھ نہیں ہے شادی کہ خوش یہاں ہم بھی ہو رہے ہیں\n\nگلہ عبث ان سے کیجے عاقلؔ کیا ہے قسمت نے ان کو غافل\nجو در پہ جا کر پکارا میں نے تو بولے کہہ دو کہ سو رہے ہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%88_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا\nکن انکھیوں سے اس کو مگر دیکھ لینا\n\nفقط نبض سے حال ظاہر نہ ہوگا\nمرا دل بھی اے چارہ گر دیکھ لینا\n\nکبھی ذکر دیدار آیا تو بولے\nقیامت سے بھی پیشتر دیکھ لینا\n\nنہ دینا خط شوق گھبرا کے پہلے\nمحل موقع اے نامہ بر دیکھ لینا\n\nکہیں ایسے بگڑے سنورتے بھی دیکھے\nنہ آئیں گے وہ راہ پر دیکھ لینا\n\nتغافل میں شوخی نرالی ادا تھی\nغضب تھا وہ منہ پھیر کر دیکھ لینا\n\nشب وعدہ اپنا یہی مشغلہ تھا\nاٹھا کر نظر سوئے در دیکھ لینا\n\nبلایا جو غیروں کو دعوت میں تم نے\nمجھے پیشتر اپنے گھر دیکھ لینا\n\nمحبت کے بازار میں اور کیا ہے\nکوئی دل دکھائے اگر دیکھ لینا\n\nمرے سامنے غیر سے بھی اشارے\nادھر بھی ادھر دیکھ کر دیکھ لینا\n\nنہ ہو نازک اتنا بھی مشاطہ کوئی\nدہن دیکھ لینا کمر دیکھ لینا\n\nنہیں رکھنے دیتے جہاں پاؤں ہم کو\nاسی آستانے پہ سر دیکھ لینا\n\nتماشائے عالم کی فرصت ہے کس کو\nغنیمت ہے بس اک نظر دیکھ لینا\n\nدیے جاتے ہیں آج کچھ لکھ کے تم کو\nاسے وقت فرصت مگر دیکھ لینا\n\nہمیں جان دیں گے ہمیں مر مٹیں گے\nہمیں تم کسی وقت پر دیکھ لینا\n\nجلایا تو ہے داغؔ کے دل کو تم نے\nمگر اس کا ہوگا اثر دیکھ لینا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے\nہماری خاک پر بھی رو گیا ہے\n\nمصائب اور تھے پر دل کا جانا\nعجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے\n\nمقامر خانۂ آفاق وہ ہے\nکہ جو آیا ہے یاں کچھ کھو گیا ہے\n\nکچھ آؤ زلف کے کوچے میں درپیش\nمزاج اپنا ادھر اب تو گیا ہے\n\nسرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولو\nابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ادھر سے جھانکتے ہیں گہہ ادھر سے دیکھ لیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادھر سے جھانکتے ہیں گہہ ادھر سے دیکھ لیتے ہیں\nغرض ہم اس کی صورت سو ہنر سے دیکھ لیتے ہیں\n\nکیا ہے بخت نے جس دن سے ہم کو اس کا ہم سایہ\nہم اس رشک پری کو اپنے گھر سے دیکھ لیتے ہیں\n\nجو ہو جاتے ہیں دیوانے ترے اتنے نقابوں پر\nخدا جانے کہ وہ تجھ کو کدھر سے دیکھ لیتے ہیں\n\nہمیں گریہ سے وہ فرصت کہاں جو خال و خط دیکھیں\nمگر نقشہ ترا اس چشم تر سے دیکھ لیتے ہیں\n\nہمارے دیکھنے سے کیوں خفا ہوتا ہے اے ظالم\nترا لیتے ہیں کیا ٹک اک نظر سے دیکھ لیتے ہیں\n\nہمیں اس کو میں رہنے کا نہیں کچھ اور تو حاصل\nپر اتنا ہے کہ گاہے چاک در سے دیکھ لیتے ہیں\n\nلگیں ہیں دیکھنے جب مصحفیؔ ہم اس کے کوچے میں\nٹک اک پھر کر بھی رسوائی کے ڈر سے دیکھ لیتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%81%DB%81_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ادھر مائل کہاں وہ مہ جبیں ہے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادھر مائل کہاں وہ مہ جبیں ہے\nفلک کو مجھ سے کیوں پرخاش و کیں ہے\n\nنہ دیکھا اپنے بسمل کا تماشا\nقریب آ کر وہ کتنا دوربیں ہے\n\nیہ اچھا ہے تو اچھا غیر کو بھی\nستاؤ اور پوچھو کیوں غمیں ہے\n\nہمیں صورت دکھائے کیا تمنا\nکہ عاشق جس کے ہیں پردہ نشیں ہے\n\nیہ مجھ سے شکوہ ہے اللہ رے شوخی\nکہ میرے غم سے تو اندوہ گیں ہے\n\nیہ کیسا تفرقہ ہجراں نے ڈالا\nکہیں کیا ہم کہیں ہیں دل کہیں ہے\n\nنہ پوچھو شیفتہؔ کا حال صاحب\nیہ حالت ہے کہ اپنے میں نہیں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%81_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتے\nہوئی دل کی دل کو خبر ہوتے ہوتے\n\nبڑھی چاہ دونوں طرف بڑھتے بڑھتے\nمحبت ہوئی اس قدر ہوتے ہوتے\n\nترا راستہ شام سے تکتے تکتے\nمری آس ٹوٹی سحر ہوتے ہوتے\n\nکئے جا ابھی مشق فریاد بلبل\nکہ ہوتا ہے پیدا اثر ہوتے ہوتے\n\nنہ سنبھلا محبت کا بیمار آخر\nگئی جان درد جگر ہوتے ہوتے\n\nسر شام ہی جب ہے یہ دل کی حالت\nتو کیا کیا نہ ہوگا سحر ہوتے ہوتے\n\nزمانے میں ان کے سخن کا ہے شہرہ\nحفیظؔ اب ہوئے نامور ہوتے ہوتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92"} {"title": "ادھر یار جب مہربانی کرے گا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ادھر یار جب مہربانی کرے گا\nتو اپنا بھی جی شادمانی کرے گا\n\nدیا دل نظیرؔ اس کو یوں کہہ کے اے جاں\nکہو گے تو یہ پاسبانی کرے گا\n\nپڑھے گا یہ اشعار بیٹھو گے جب تک\nجو لیٹو گے افسانہ خوانی کرے گا\n\nبٹھاؤ گے در پر تو ہوگا یہ درباں\nلڑاؤ گے تو پہلوانی کرے گا\n\nاطاعت میں خدمت میں فرماں بری میں\nغرض ہر طرح جانفشانی کرے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ادھورا ٹکڑا", "poet_page": "مصنف:عظمت اللہ خاں", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کیوں مجھے تیری چاہ ہے\nاس کو کیوں پوچھئے\n\nجس کی بوجھن کچھ نہیں\nاس کو کیا بوجھئے\n\nتجھ میں لاکھوں خوبیاں\nکیوں کر کوئی گنائے\n\nمرتے ہیں کس بات پر\nکیوں کر کوئی بتائے\n\nصورت تیری موہنی\nمن میں کھب کھب جائے\n\nجوبن تیرا جوش پر\nدل میں آگ لگائے\n\nچال چھبیلی مست سی\nایک قیامت ڈھائے\n\nبات سریلے گیت سی\nدل کو ناچ نچائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%B1%D8%A7_%D9%B9%DA%A9%DA%91%D8%A7"} {"title": "اذان", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اک رات ستاروں سے کہا نجمِ سحَر نے\nآدم کو بھی دیکھا ہے کسی نے کبھی بیدار؟\nکہنے لگا مرّیخ، ادا فہم ہے تقدیر\nہے نیند ہی اس چھوٹے سے فتنے کو سزاوار\nزُہرہ نے کہا، اور کوئی بات نہیں کیا؟\nاس کرمکِ شب کور سے کیا ہم کو سروکار!\nبولا مہِ کامل کہ وہ کوکب ہے زمینی\nتم شب کو نمودار ہو، وہ دن کو نمودار\nواقف ہو اگر لذّتِ بیداریِ شب سے\nاُونچی ہے ثُریّا سے بھی یہ خاکِ پُر اسرار\nآغوش میں اس کی وہ تجلّی ہے کہ جس میں\nکھو جائیں گے افلاک کے سب ثابت و سیّار\nناگاہ فضا بانگِ اذاں سے ہُوئی لبریز\nوہ نعرہ کہ ہِل جاتا ہے جس سے دلِ کُہسار!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B0%D8%A7%D9%86"} {"title": "اذاں سے نعرۂ ناقوس پیدا ہو نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:احقر جھانسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اذاں سے نعرۂ ناقوس پیدا ہو نہیں سکتا\nابھی کچھ روز تک کعبہ کلیسا ہو نہیں سکتا\n\nزباں سے جوش قومی دل میں پیدا ہو نہیں سکتا\nابلنے سے کنواں وسعت میں دریا ہو نہیں سکتا\n\nبہت پنہاں رہی دل میں خلش خار تعصب کی\nمگر اب امتحاں کے وقت پردہ ہو نہیں سکتا\n\nگراں ہے جنس اور نیت خریداروں کی ابتر ہے\nاب اس بازار میں الفت کا سودا ہو نہیں سکتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B0%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%B9%D8%B1%DB%82_%D9%86%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%B3_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اذن خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہم", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اذن خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہم\nہٹ کر چلے ہیں رہ گزر کارواں سے ہم\n\nکیا پوچھتے ہو جھومتے آئے کہاں سے ہم\nپی کر اٹھے ہیں خمکدۂ آسماں سے ہم\n\nکیوں کر ہوا ہے فاش زمانہ پہ کیا کہیں\nوہ راز دل جو کہہ نہ سکے راز داں سے ہم\n\nہمدم یہی ہے رہ گزر یار خوش خرام\nگزرے ہیں لاکھ بار اسی کہکشاں سے ہم\n\nکیا کیا ہوا ہے ہم سے جنوں میں نہ پوچھئے\nالجھے کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے ہم\n\nہر نرگس جمیل نے مخمور کر دیا\nپی کر اٹھے شراب ہر اک بوستاں سے ہم\n\nٹھکرا دیئے ہیں عقل و خرد کے صنم کدے\nگھبرا چکے تھے کشمکش امتحاں سے ہم\n\nدیکھیں گے ہم بھی کون ہے سجدہ طراز شوق\nلے سر اٹھا رہے ہیں ترے آستاں سے ہم\n\nبخشی ہیں ہم کو عشق نے وہ جرأتیں مجازؔ\nڈرتے نہیں سیاست اہل جہاں سے ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B0%D9%86_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "ارباب قیود تجھ کو کیا دیکھیں گے", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ارباب قیود تجھ کو کیا دیکھیں گے\nخواہان نمود تجھ کو کیا دیکھیں گے\nرویت کے لئے شرط ہے میدان فنا\nپابند وجود تجھ کو کیا دیکھیں گے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%82%DB%8C%D9%88%D8%AF_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "ارتقا", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "قدم قدم پر جنازے رکھے ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤ\nیہ دیکھتے کیا ہو کام میرا نہیں تمہارا یہ کام ہے آج اور کل کا\nتم آج میں محو ہو کے شاید یہ سوچتے ہو\nنہ بیتا کل اور نہ آنے والا تمہارا کل ہے\nمگر یوں ہی سوچ میں جو ڈوبے تو کچھ نہ ہوگا\nجنازے رکھے ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤ\nچلو جنازوں کو اب اٹھاؤ\nیہ بہتے آنسو بہیں گے کب تک اٹھو اور اب ان کو پونچھ ڈالو\n\nیہ راستا کب ہے اک لحد ہے\nلحد کے اندر تو اک جنازہ ہی بار پائے گا یہ بھی سوچو\nتو کیا مشیت کے فیصلے سے ہٹے ہٹے رینگتے رہوگے\nجنازے رکھے ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤ\nلحد کھلی ہے\nلحد ہے ایسے کہ جیسے بھوکے کا لالچی کا منہ کھلا ہوا ہو\nمگر کوئی تازہ اور تازہ نہ ہو میسر تو باسی لقمہ بھی اس کے\nاندر نہ جانے پائے\nکھلا دہن یوں کھلا رہے جیسے اک خلا ہو\nاٹھاؤ جلدی اٹھاؤ آنکھوں کے سامنے کچھ جنازے رکھے\nہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤ\n\nلحد میں ان کو ابد کی اک گہری نیند میں غرق کر کے آؤ\nاگر یہ مردے لحد کے اندر گئے تو شاید\nتمہاری مردہ حیات بھی آج جاگ اٹھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D9%82%D8%A7"} {"title": "اردو اور انگریزی انشاپردازی پر کچھ خیالات", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "اگر زبان کو فقط اظہار مطلب کا وسیلہ ہی کہیں، تو گویا وہ ایک اوزار ہے کہ جو کام ایک گونگے بیچارے یا بچہ نادان کے اشارے سے ہوتے ہیں، وہی اس سے ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں اس کا مرتبہ ان لفظوں سے بہت بلند ہے۔ زبان حقیقت میں ایک معمار ہے کہ اگر چاہے تو باتوں میں ایک قلعہ فولادی تیار کردے جو کسی توپ خانہ سے نہ ٹوٹ سکے، اور چاہے تو ایک رات میں اسے خاک میں ملا دے جس میں ہاتھ ہلانے کی بھی ضرورت نہ پڑے۔ زبان ایک جادوگر ہے جوکہ طلسمات کے کارخانے الفاظ کے منتروں سے تیار کر دیتا ہے، اور جو اپنے مقاصد چاہتا ہے، ان سے حاصل کر لیتا ہے۔\n\nوہ ایک نادر مرصع کار ہے کہ جس کی دست کاری کے نمونے کبھی شاہوں کے سروں کے تاج اور کبھی شہزادیوں کے نولکھے ہار ہوتے ہیں۔ کبھی علوم و فنون کے خزانوں سے زر و جواہر اس کی قوم کو مالامال کرتے ہیں۔ وہ ایک چالاک عیار ہے جو ہوا پر گرہ لگاتا ہے اور دلوں کے قفل کھولتا اور بند کرتاہے۔ یا مصور ہے کہ نظر کے میدان میں مرقع کھینچتا ہے یا ہوا میں گلزار کھلاتا ہے اور اسے پھول، گل، طوطی و بلبل سے سجا کر تیار کر دیتا ہے۔ اس نادر دست کار کے پاس مانی اور بہزاد کی طرح موقلم اور رنگوں کی پیالیاں دھری نظر آتی ہیں۔ لیکن اس کے استعاروں اور تشبیہوں کے رنگ ایسے خوش نما ہیں کہ ایک بات میں مضمون کو شوخ کرکے لال چہچہا کر دیتا ہے۔ پھر بے اس کے کہ بوند پانی اس میں ڈالے، ایک ہی بات میں اسے ایسا کر دیتا ہے کہ کبھی نارنجی، کبھی گلنار، کبھی آتشی، کبھی ایسا بھینا بھینا گلابی رنگ دکھاتا ہے کہ دیکھ کر جی خوش ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بو قلموں اور رنگارنگ اور پھر سرتاپا عالم نیرنگ۔\n\nجس زبان میں ہم تم باتیں کرتے ہیں، اس میں بڑے بڑے نازک قلم مصور گزر گئے ہیں جن کے مرقعے آج تک آنکھوں اور کانوں کے رستہ سے ہمارے تمہارے دلوں کو تازہ کرتے ہیں، لیکن افسوس ہے کہ آج کل گویا ان کے قلم گھس گئے ہیں اور پیالیاں رنگوں سے خالی ہو گئی ہیں، جس سے تمہاری زبان کوئی نئی تصویریا باریک کام کامرقع تیار کرنے کے قابل نہیں رہی اور تعلیم یافتہ قومیں اسے سن کر کہتی ہیں کہ یہ نا کامل زبان ہر قسم کے مطالب ادا کرنے کی قدرت نہیں رکھتی۔\n\nمیرے دوستو! یہ قول ان کاحقیقت میں بے جا نہیں ہے۔ ہر ایک زبان تعلیم یافتہ لوگوں میں جو عزت پاتی ہے، تو دو سبب سے پاتی ہے۔ اول یہ کہ اس کے الفاظ کے خزانے میں ہر قسم کے علمی مطالب ادا کرنے کے سامان موجود ہوں۔ دوم اس کی انشا پردازی ہر رنگ اور ہر ڈھنگ میں مطالب ادا کرنے کی قوت رکھتی ہو۔ ہماری زبان میں یہ دونوں صفتیں ہیں، مگر ناتمام ہیں، اور اس کے سبب ظاہر ہیں۔\n\nعلمی مطالب ادا کرنے کے سامانوں میں جو وہ مفلس ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ تم جانتے ہو، کل ڈیڑھ سو برسوں تخمیناً اس کی ولادت کو ہوئے۔ اس کا نام اردو خود کہتا ہے کہ میں علمی نہیں، بازار کی زبان ہوں۔ اٹھنے بیٹھنے، لین دین کی باتوں کے لئے کام میں آتی ہوں۔ سلاطین چغتائیہ کے وقت تک اس میں تصنیف و تالیف کا رواج نہ تھا۔ مگرخدا کی قدرت دیکھو کہ ایک بچہ شاہ جہاں کے گھر پیدا ہو اور انگریزی اقبال کے ساتھ اس کا ستارہ چمکے۔ جب صاحب لوگ یہاں آئے تو انہوں نے ملکی زبان سمجھ کر اس کے سیکھنے کا ارادہ کیا۔ مگر سوا چند دیوانوں کے اس میں نثر کی کتاب تک نہ تھی۔ ان کی فرمائش سے کئی کتابیں کہ فقط افسانے اور داستانیں تھیں، تصنیف ہوئیں اور انہی کے ڈھب کی صرف و نحو بھی درست ہوئی۔ ۱۸۳۵ سے دفتر بھی اردوہونے شروع ہوئے۔ ۱۸۳۶ میں ایک اردو اخبار جاری ہوا۔ ۱۸۴۲ سے دہلی کی سوسائٹی میں علمی کتابیں اسی زبان میں ترجمہ ہونے لگیں اور اردو نے برائے نام زبان کا تمغہ اور سکہ پایا۔ اب خیال کرنا چاہئے کہ جس زبان کی تصنیفی عمر کل۷۰۔ ۷۲برس کی ہو، اس کی بساط کیا اور اس کے الفاظ کے ذخیرہ کی کائنات کیا ہیں؟ پس اس وقت ہمیں اس کی کمی الفاظ سے دل شکستہ نہ ہونا چاہئے۔\n\nمیرے دوستو! کسی زبان کو لفظوں کے اعتبار سے مفلس یا صاحب سرمایہ کہنا بے جاہے۔ ہرزبان اہل زبان کے باعلم ہونے سے سرمایہ دار ہوتی ہے اور کسی ملک والے کا یہ کہنا کہ علمی تصنیف یا بات چیت میں اپنے ہی ملک کے الفاظ بولیں، بالکل بے جاہے۔ عربی زبان بھی ایک علمی زبان تھی۔ مگر دیکھ لو، سارے لفظ تو عربی نہیں، صد ہا رومی، صدہا یونانی، صدہا فارسی کے لفظ ہیں وغیرہ۔ اردو زبان فارسی کا تو ذکر ہی نہیں۔ انگریزی زبان آج علوم کا سرچشمہ بنی بیٹھی ہے، مگر اس میں بھی غیر زبان کے لفظوں کا طوفان آ رہا ہے۔ زبان کا قاعدہ یہ ہے کہ پہلے اہل ملک میں علم آتاہے، پھر علمی اشیا کے لئے الفاظ یا تو اس علم کے ساتھ آتے ہیں یا وہیں ایجاد ہو جاتے ہیں۔ علمی الفاظ کا ذخیرہ خدا نے بناکر نہیں بھیجا ہے نہ کوئی صاحب علم پہلے سے تیار کرکے رکھ گیا ہے۔ جیسے جیسے کام اور چیزیں پیدا ہوتی گئیں، ویسے ہی ان کے الفاظ پیدا ہوئے اور پیدا ہوتے جاتے ہیں۔\n\nاول خاص وعام میں علم پھیلتا ہے، ساتھ ہی اس کے الفاظ بھی عام ہوتے ہیں۔ مثلاً ریل کا انجن اوراس کے کارخانہ کے صدہا الفاظ ہیں کہ پہلے یہاں کوئی نہیں جانتا تھا۔ جب وہ کارخانے ہوئے تو ادنی ادنی ناخواندے، سب جان گئے۔ اگربے اس کے وہ الفاظ یہاں ڈھونڈتے یا پہلے یاد کرواتے، توکسی کی سمجھ میں بھی نہ آتے۔ اسی طرح مثلا میجک لینٹرن اس وقت یہاں کوئی نہیں جانتا، خواہ اس کا یہی نام لیں، خواہ فانوس جادو کہیں، خواہ اچنبھے کا تماشا کہیں، ہرگز کوئی نہیں سمجھےگا۔ لیکن اگر وہ مشاہدہ میں عام ہو جائے اور گھر گھر میں جاری ہو جائے تو الٹے سے الٹا اس کا نام رکھ دیں، وہی بچہ بچہ کی زبان پر مشہور ہو جائےگا اور وہی سب سمجھیں گے۔ انگریزی میں جوعلمی الفاظ ہیں مثلا ٹیلی گراف یا الیکٹریسٹی وغیرہ، ان میں بھی بہت سے الفاظ ایسے ہیں کہ وہ اپنے اصلی معانی پر پوری دلالت نہیں کرتے۔ مگر چونکہ ملک میں علم عام ہے اور وہ چیزیں عام ہیں، اس لئے الفاظ مذکورہ بھی ایسے عام ہیں کہ سب بے تکلف سمجھتے ہیں۔\n\nپس لفظوں کی کوتاہی ہماری زبان میں اگرہے تو اس سبب سے ہے کہ وہ بے علمی کے عہد میں پیدا ہوئی ہے اور اسی عہد میں پرورش اور تربیت پائی۔ اب اس کی تدبیر ہو سکتی ہے تو اہل ملک ہی سے ہو سکتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ خود علوم و فنون حاصل کرو، اپنے ملک میں پھیلاؤ اور بھائی بندوں کو اس سے آگاہ کرو۔ جب اس میں سب قسم کے کاروبار ہوں گے تو ان کے الفاظ بھی ہوں گے، ملک کے افلاس کے ساتھ زبان سے بھی افلاس کا داغ مٹ جائےگا۔\n\nتمہاری انشا پردازی پر جو نقص کا الزام ہے وہ بھی کچھ درست ہے اور کچھ قابل چشم پوشی کے ہے۔ یہ تو ابھی بیان ہوا کہ زبان مذکور علمی زبان نہیں۔ سو برس ہوئے کہ ہندوستان کے رنگین مزاجوں نے فقط اس حب الوطنی سے کہ ہماری زبان بھی اور زبانوں کی طرح نظم سے خالی نہ ہو، اس میں اپنی مرصع کاری اور نقش نگاری دکھانی شروع کی۔ اور حق یہ ہے کہ ۱۲۱۵ھ میں جو کچھ زور اس نے پایا انہی کی بدولت پایا۔\n\nانشا پردازی کا قاعدہ ہے کہ ابتدا میں جو مطالب کسی زبان میں ادا ہوتے ہیں توان میں سیدھی سادی تشبیہیں اور قریب قریب استعارے خرچ ہوتے ہیں۔ اسی واسطے جو مطالب اس میں ادا کئے جاتے ہیں وہ سنتے ہی سمجھ میں آجاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس پاس کے استعارے اور ان چیزوں کی تشبیہیں جو آنکھوں کے سامنے ہمارے آس پاس موجود ہیں، وہ فقط مطلب مذکور کو سمجھاتے ہی نہیں بلکہ اپنی رنگینی اور لطافت سے اس کے لطف کو روشن کرکے دکھاتے ہیں اور چوں کہ سادگی اور آسانی کے سبب سے انہیں سب سمجھتے ہیں، اس لئے سب کے دل، اس کی تاثیر سے اثر پذیر ہوتے ہیں۔ چند روز کے بعد قریب قریب کی تشبیہیں اور استعارے تو خرچ ہوجاتے ہیں اور آس پاس کی تشبیہیں عام تام ہوکر تمام ہو جاتی ہیں۔ نئی نسلیں دستمال تشبیہوں اور استعاروں کو برتنا، چبائے ہوئے نوالہ کا چبانا سمجھتی ہیں، لیکن علم اور مشق جو مختلف رستوں سے آگاہ کر دیتے ہیں اس لئے ان کے فکر کبھی دائیں بائیں پھیلتے ہیں، اور کبھی بلند ہونا شروع کرتے ہیں اور دور دور ہاتھ بڑھاتے ہیں۔\n\nفارسی اور اردو زبان میں جو کیفیت اس کی گزری ہے، اس وقت میں اسی کا اشارہ کرتا ہوں کہ شعرا نے مستعمل استعاروں سے بچنے کے لئے استعارہ اور استعارہ در استعارہ نکالا اور اسے ایک ایجاد دل پذیر تصور کرکے ’نازک خیالی‘ نام رکھا۔ چونکہ دنیا میں ہر ایک نئی چیزبہت مزا دیتی ہے، اس لئے اوروں نے بھی اسے پسند کیا اور علم کی مشکل پسندی نے اسے زیادہ قوت دی اوریہ معاملہ روز بروز زور پکڑتا گیا۔ چنانچہ ان بلندخیالوں میں دنیا کے کاروبار مثلاً خط و کتابت یا تاریخی مقاصد یا علمی مطالب کا ادا کرنا توبہت دشوار تھا مگر ایک فرقہ پیدا ہوا جنہوں نے ’چال بند ‘ کا خطاب حاصل کیا۔ انہی کی نثریں پنج رقعہ، مینا بازار، چار عنصر وغیرہ اور نظم میں جلال اسیر، قاسم مشہدی، بیدل، ناصر علی اور ان کے مقلدوں کے دیوان موجود ہیں۔ چنانچہ دونوں کے امتیاز کے لئے دو شعر بھی اس مقام پر لکھتا ہوں۔ پہلے طریقہ میں ایک استاد کہتا ہے،\n\nسحر خورشید لرزاں برسر کوے تومی آید\nدل آئینہ را نازم کہ برروے تومی آید\n\nدیکھو ناصرعلی سرہندی نے اسی مضمون کو اپنی نازک خیالی کے زور سے الگ کیا ہے۔\n\nنیا رد چشم بیدل تاب حسن بے حجابش را\nکہ باشد صافی آئینہ شبنم آفتا بش را\n\nچونکہ اردو نے فارسی کا دودھ پی کر پرورش پائی تھی، اس لئے چندروز کے بعد یہی وقت اسے بھی پیش آئی۔ میرسوز، میرتقی، سودا، جرأت وغیرہ کے زمانے تھے۔ ان میں اگرچہ مضامین شاعرانہ تھے، مگر زبان میں ابتدائی خوبی موجودتھی۔ بعد ان کے وہی استعاروں کے ایچ پیچ اور خیالوں کی معمولی ترقی شروع ہوئی۔ البتہ خال خال آدمی ایسے رہے، جو بزرگوں کی تقلید سے صفائی اور سادگی کی لکیر پر فقیر رہے۔ مثلا ًقدما میں خواجہ میر درد کہتے ہیں،\n\nتردا منی پہ شیخ ہماری نہ جائیو\nدامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں\n\nمتاخرین میں غالبِ نازک خیال اس سے الگ ہوکر کہتے ہیں،\n\nدریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک\nمیرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا\n\nہمیں ممنون ہونا چاہئے کہ جو کچھ لطافت یا زور ہماری زبان میں پیدا ہوا، انہیں شعرا کی برکت سے ہوا۔ مگروہ عاشقانہ مضامین کے ادا کرنے کے سامان اور تغزل کے خوشنما انداز اور اس کے الفاظ اور ترکیبوں کی دل آویز تراشیں تھیں۔ بھلا خیالات فلسفہ کے سامان، علوم کی اصطلاحیں، مختلف مضامین تاریخی کے ادا کی طاقت، دلائل و براہین کے لڑانے کے زور اس میں کہاں سے آتے۔ اگرچہ ابتدا میں جو کچھ تھا، یہ رنگ بہت خوشنما تھا۔ مگر اب دیکھتا ہوں تو زمانے کے انداز نے اسے بھی پھیکا کر دیا ہے اور تمہاری انشا پردازی کا یہ حال ہو لیا ہے کہ غیر قومیں تو کچھ کہیں بجا ہے، میں خود دیکھتا ہوں اور شرماتا ہوں کیونکہ مستعمل چیز میں شگفتگی اور تازگی دکھانی بہت مشکل ہے۔ پھر بھی خدا کا شکر کرنا چاہئے کہ ایک خزانہ مصوری کا تمہارے ہاتھ آ گیا ہے۔ مگر اتنا ہے کہ وہ انگریزی قفلوں میں بندہیں۔ جس کی کنجی انگریزی زبان ہے۔\n\nاس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ جس طرح ہم فارسی، عربی کے الفاظ اردو میں بولتے ہیں، اسی طرح انگریزی الفاظ بولنے لگیں، یا ان کے محاوروں اور اصطلاحوں کے ترجمے اردو میں استعمال کرنے لگیں۔ لیکن تم خیال کرو کہ عبارت اور الفاظ حقیقت میں انسان کے خیالات اور مقاصد کے لباس ہیں اور چوں کہ طبعی خیال فرقہ ہائے انسان کے ہمیشہ قریب قریب ہوتے ہیں، اسی لئے وہ جس ملک میں چاہیں رنگ ظہور دکھائیں۔ اصلیت میں کچھ نہ کچھ ملتے جلتے ہی ہوں گے، بلکہ ان میں بعض ڈھنگ ایسے ہوں گے کہ ذرا رنگ پلٹ کر چاہیں گے تو دوسری طرف آ جائیں گے اور نئی بہار دکھائیں گے۔ چنانچہ جب بنظر غور دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ دو قوموں کے ارتباط سے ہمیشہ ایک زبان دوسری زبان سے پرتوہ لیتی رہی ہے۔ دیکھ لو، بھاشا پر جب فارسی عربی آکر گری تو اس کا کیا اثر ہوا اور اب انگریزی کیا اندرونی اثر کر رہی ہے۔ فارسی اردو میں تم نے وقت کے باب میں دیکھا ہوگا کہ زمانہ یا زندگی کوعمر رواں یا آب گزراں کہتے ہیں۔ اسی طرح کہتے ہیں کہ زمانہ عمر کی کھیتی کو یار سنِ عمر کو کاٹ رہا ہے۔ اوریہ بھی کہ، گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔\n\nاسی طرح غصہ کے باب میں دیکھا ہوگا کہ اسے آتش غضب کہہ کر آگ سے تعبیر کرتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ ہمچومارسیاہ برخود پیچید اور کبھی جوش\n\nغضب کے لئے کہتے ہیں کہ آتش از چشمش پرید، دود از نہاوش برآمد، اور ہمچو سپنداز جابر جست۔ پس انگریزی میں متھالیجی ایک خاص علم ہے کہ اس میں ان سب قوتوں یا جذبوں کو ایک ایک مجسم دیبی یا دیوتا مقرر کیا ہے اور انہی سامانوں سے سجایا ہے جو ان کے لئے لازم اور شایان ہیں۔ چنانچہ۔۔۔\n\nوقت، ایک پیر کہن سال کی تصویر ہے۔ اس کے بازوؤں میں پر یوں کی طرح پر پرواز لگے ہیں کہ گویا ہوا میں اڑتا چلا جاتا ہے۔ ایک ہاتھ میں شیشہ ساعت ہے کہ جس سے اہل عالم کو اپنے گزرنے کا اندازہ دکھا جاتا ہے۔ اور ایک میں درانتی ہے کہ لوگوں کی کشت امید یا رشتہ عمر کو کاٹتا جاتا ہے۔ یا ظالم خونریز ہے کہ اپنے گزرنے میں ذرا رحم نہیں کرتا۔ اس کے سر پر یک چوٹی بھی رکھی ہے کہ جو دانا ہیں اسے پکڑ کر قابو میں کر لیتے ہیں۔ لیکن اوروں کے چوٹیاں پیچھے ہوتی ہیں، اس کی چوٹی آگے رکھی ہے۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ جو وقت گزر گیا، وہ قابو میں نہیں آ سکتا۔ ہاں جو پیش بین ہیں وہ پہلے ہی سے روک لیں، سو روک لیں۔\n\nغصہ، ایک عورت ہے، کالارنگ، ڈراؤنی صورت۔ تمام بدن پر بال کھڑے ہیں جیسے لوہے کی سلاخیں۔ سرپر اور بازوؤں پر ہزاروں سانپ پھن اٹھائے لہرا رہے ہیں، اور آنکھوں سے خون برستا ہے۔ بعض صورتوں میں اس کے دو پر ہیں کہ اڑائے لئے جاتے ہیں۔ اور اس کے ہاتھ میں شعلہ آتش ہے کہ دم بدم بھڑکتا چلا جاتا ہے۔ اور ایک ہاتھ میں خونریزی کا برچھا ہے۔\n\nعشق، ایک موقع پر اسے نوجوان خوبصورت لڑکا فرض کیا ہے کہ خوش ہے اور اپنے عالم میں اچھلتا کودتا ہے، مگر آنکھوں سے اندھا رکھا ہے۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ بھلائی برائی کونہیں سوچتا۔ کبھی ایک جوان آدمی بنایا ہے اور ہاتھ میں چڑھی ہوئی کمان میں تیر جوڑا ہوا ہے کہ جدھر چاہتا ہے مار بیٹھتا ہے، اس کی پناہ نہیں۔ ایک موقع پر ایسی تصویر کھینچی ہے کہ پہلو میں تیروں کا ترکش لٹکتا ہے اور ہاتھ سے تیر کا پیکان تیز کر رہا ہے۔ یہ تصویر ایک ہیرے پر کھدی ہوئی ہاتھ آئی تھی۔ خدا جانے کس عہد میں کھدی ہوگی اور کیا طلسم اس میں باندھا ہوگا!\n\nافواہ یا شہرت، اس کی تصویر دیکھی۔ ایک بڑھیا عورت ہے کہ اس کے تمام بدن پر زبانیں ہی زبانیں ہیں۔ پہلے اس کے منہ میں زبان ہلتی ہے، ساتھ ہی ساتھ ساری زبانیں سانپوں کی طرح لہرانے لگتی ہیں۔ اشارہ یہ ہے کہ جو بات اس کی زبان سے نکلتی ہے، وہی عالم میں ایک ایک کی زبان پر آتی ہے۔\n\nحسن کی پری، سمندر کے کف سے پیدا ہوئی ہے۔ شاید اس سے جوش و خروش کے ساتھ اس کی لطافت اور نزاکت کا اشارہ ہو۔ وہ خود بھی محبت رکھتی ہے، مگر لڑائی کے دیوتا پر عاشق ہے۔ جس کو وہ نصیب ہو جائے وہ اس کے پر تو جمال سے کامیاب ہو، پھولوں میں مہندی، گلاب، سیب، لالہ، نافرمان وغیرہ سے اس کی درگاہ میں نذر چڑھتی ہے۔ فاختہ، ہنس، ابابیل، ہدہد وغیرہ اس کے تخت کو اڑاتے ہیں۔ خوشبوؤں کی دھونی اور پھولوں کا ہار اس کا متبرک چڑھاوا ہے۔ انگریزی میں انہیں گاڈز کہتے ہیں اور ہر ایک جذبہ انسانی بلکہ خزاں اور بہار اور موسیقی وغیرہ کے لئے مختلف گاڈز تیار کئے ہیں۔ زمانے کی گردشوں نے ہمارے علوم کو مٹا دیا، اس لئے آج یہ باتیں نئی معلوم ہوتی ہیں، ورنہ سنسکرت میں بھی اکثر اشیاء کے لئے ایک ایک دیبی یا دیوتا ہیں۔\n\nمسلمانوں کے دماغ بھی اس خیال سے خالی نہیں تھے۔ ان کی تصنیفات میں فلاسفہ کا قول منقول ہے کہ اگر ایک مور کے پر کو دیکھیں اور اس کے صنائع و بدائع پر نظر کریں تو عقل حیران ہوتی ہے کہ کون سا صانع ہوگا جو ایسی دست کاری کر سکے۔ پھر مور کے تمام جسم کو دیکھو اور اسی نسبت سے تما م عالم موجودات اوراس کے جزئیات کو دیکھو۔ پھر جب دیکھتے ہیں الواحد لا یصدرعنہ الا الواحد یعنی ایک فاعل سے ایک وقت میں ایک ہی کام ہو سکتا ہے، تو ضرور ہے کہ کائنات کے مختلف کارخانوں کے لئے ایک ایک رب النوع فرض کیا جائے جو اپنے اپنے کارخانے کا سربراہ ہو اور سب کا مالک رب الارباب جامع جمیع صفات کمال۔ اہل شریعت نے اسی کو ہر ایک سلسلہ کا ایک ایک فرشتہ موکل مانا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ صرف زبان کافرق ہے ورنہ وہی دیبی یا دیوتا، وہی گاڈز، وہی رب النوع، وہی فرشتہ موکل۔ یہ خیال مدت سے دل میں کھٹکتا تھا۔ چند روز ہوئے کہ شاہ ایران نے جو سفرنامہ یورپ کا آپ لکھا ہے، وہ میری نظر سے گزرا۔ فرانس کے معنی آفرینوں نے ایک جگہ باغ رنگین میں ایک نقلی پہاڑ بنایا ہے اور اس پر بہار کی گاڈس سجائی ہے۔ چنانچہ شاہ نے وہاں پہنچ کر اسے دیکھا ہے اور اپنے بیان میں اسے رب النوع ہی لکھا ہے۔\n\nغرض یہ ہے کہ خیالات کے اتفاقوں کوغور سے دیکھو کہ فقط طبیعت کی تاثیر ہے جس نے مختلف ملکوں میں مختلف طور پر طبیعتوں کے جوش ظاہر کئے ہیں، مگر سب کا راستہ کسی قدر قریب قریب ہوکر نکلا ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ جب ایک جذبہ موہوم کومجسم فرض کرتے ہیں اور اس کی صفات اور لوازمات کو آنکھوں کے سامنے سجاتے ہیں تو اس پر طبیعت کی تاثیر پوری پوری قائم ہوتی ہے اور جو خیالات اس پر نکلتے ہیں، ٹھیک درستی کے ساتھ ہوتے ہیں اور برجستہ الفاظ میں ادا ہوتے ہیں کہ یہی انشا پردازی کا اپمان ہیں۔ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارے انداز پرانے اور مستعمل ہو گئے تو ہمیں چاہئے کہ انگریزی باغ میں سے نئے پودے لے کر اپنا گلزار سجائیں۔ البتہ دونوں زبانوں میں ایسی مہارت ہونی چاہئے کہ یہ تصرف خوبصورتی کے ساتھ ہو سکے جیسا کہ ابتدا میں ہمارے اردو، فارسی کے انشا پرداز کر گئے۔ اور پھر کہتا ہوں کہ یہ مطلب جب کبھی ہوگا، ان انگریزی دانوں سے ہوگا، جو دونوں زبانوں میں پوری پوری مہارت رکھتے ہوں گے، کیونکہ ان کے دو آنکھیں روشن ہیں۔\n\nاردو اپنی زبان ہے اور انگریزی کنجی خدا نے دی۔ ہم اورہمارے ساتھی پرانی لکیروں کے فقیر، جو کچھ کرنا تھا سو کر چکے۔ نہ ان میدانوں میں اب ہم سے کچھ ہو سکے۔ چقماق کے دونوں جزوں کو ٹکراؤ کہ آگ نکلے۔ اون اور شیشے کو رگڑو الیکٹرسٹی کے فوائد حاصل ہوں۔ لیکن فقط پتھر ہو، تو پتھر ہی ہے اور فقط شیشہ، ڈر کا گھر۔ اپنی زبان کے زور سے اس میں اس طرح جان ڈالو کہ ہندوستانی کہیں سودا اور میر کے زمانے نے عمر دوبارہ پائی۔ اس پر انگریزی روغن چڑھا کر ایسا خوش رنگ کرو کہ انگریز کہیں ہندوستان میں شکسپیئر کی روح نے ظہور کیا۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%BE%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA"} {"title": "اردو زبان اور اس کی عہد بہ عہد ترقی", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اس ملک میں اب جو زبان مروج ہے اور جس میں سب لوگ بولتے چالتے ہیں اس کا نام ’’اردو‘‘ ہے اور تحقیق اس کی یوں ہے کہ ’’اردو‘‘ فارسی لفظ ہے اور اس کے معنی ’’بازار‘‘ کے ہیں اور اردو سے مراد اردوئے شاہ جہاں ہے۔\n\nاگرچہ دلی بہت قدیم شہر ہے اور ہندوؤں کے تمام راجہ پرچاؤں کا ہمیشہ سے دار السلطنت رہا ہے، لیکن سب اپنی اپنی بھاکا بولتے تھے۔ ایک کی دوسرے سے زبا ن نہیں ملتی تھی، جب کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی عمل داری ہوئی اور مسلمان لوگ ان شہروں میں آئے تو اور بھی مشکل پڑی۔ اور نئی زبان کے لوگوں کے آنے سے سودا سلف لینے دینے، بیچنے بچانے میں دقت پڑنے لگی۔ اول اول تو مسلمانوں کی عمل داری میں اختلاف رہا۔ کبھی کسی کی بادشاہت رہی اور کبھی کسی کی، کبھی غوری آئے اور کبھی لودھی اور کبھی پٹھان اور کبھی مغل، اس سبب سے زبان کا بدستور اختلاف چلا گیا۔ اور کوئی شخص اس کی اصلاح کے پیچھے نہ پڑا۔ جب کہ اکبر باشاہ ہوا، ایک گونہ سلطنت کو قیام ہوا اور سب لوگ اپنے اپنے ٹھکانے بیٹھے اور علم کا بھی چرچا ہوا۔ لیکن اس زمانہ میں فارسی زبان کی ایسی قدر تھی کہ لوگ اور کسی طرف متوجہ بھی نہیں ہوتے تھے۔\n\nجب کہ شہاب الدین شاہ جہاں بادشاہ ہوا اور اس نے انتظام سلطنت کیا اور سب ملکوں کے وکلاء کے حاضر رہنے کا حکم دیا اور دلی شہر کو نئے سرے سے آباد کیا اور قلعہ بنایا اور شاہ جہاں آباد اس کا نام رکھا۔ اس وقت ا س شہر میں تمام لوگوں کا مجمع ہوا، ہر ایک کی گفتار رفتار جدا جدا تھی، ہر ایک کا رنگ ڈھنگ نرالا تھا۔ جب آپس میں معاملہ کرتے ناچار ایک لفظ اپنی زبان کا، دو لفظ اس کی زبان کے، تین لفظ دوسرے کی زبان کے ملاکر بولتے اور سودا سلف لیتے۔ رفتہ رفتہ اس زبان نے ایسی ترکیب پائی کہ یہ خود ایک نئی زبان ہو گئی اور جو کہ یہ زبان خاص بادشاہی بازاروں میں مروج تھی، اس واسطے اس کو زبان اردو کہا کرتے تھے۔ اور بادشاہی امیر امراء اس کو بولا کرتے تھے، گویا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی یہی زبان تھی۔ ہوتے ہوتے خود اس زبان ہی کا نام ’’اردو‘‘ ہو گیا۔\n\nاس وقت سے اس زبان نے ایک رونق حاصل کی اور دن بدن تراش خراش اس میں ہوتی گئی یہاں تک کہ جس زمانہ میں میر اور سودا نے آوازہ اپنی خوش زبانی کا بلند کیا تھا اور یہ آویزہ ہر ایک کے کان میں پہنایا تھا۔ اس وقت یہ زبان بہت درست ہوگئی تھی اور عجب رنگ ڈھنگ نکال لائی تھی، ان کے بعد کچھ کچھ اس زبان میں اور تغیر و تبدیلی ہوئی او ر اب ایسی منجھ گئی ہے کہ قیامت تک اس سے بہتر ہونی ممکن نہیں اور اس زبان کو شاہ جہان آباد سے ایسی نسبت ہے جیسے فارسی کو شیراز سے، یعنی یہاں کے لوگوں کی زبان تمام اردو بولنے والوں کی سند ہے۔ نہیں تو بقول میر امّن کے اپنی دستار، رفتار، گفتار کو کوئی برا نہیں جانتا۔ اگر ایک گنوار سے پوچھئے تو شہر والوں کو نام رکھتا ہے اور اپنے تئیں سب سے بہتر سمجھتا ہے۔ خیر عقلاں خود می دانند۔\n\nاگر چہ اس زبان میں اکثر فارسی اور عربی اور سنسکرت کے الفاظ مستعمل ہیں اور بعضے بعضوں میں کچھ تغیر و تبدیل کر لی ہے لیکن اس زمانہ میں اور شہر کے لوگوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ اردو زبان میں یا تو فارسی کی لغت بہت ملا دیتے ہیں اور یا فارسی کی ترکیب پر لکھنے لگے ہیں، یہ دونوں باتیں اچھی نہیں۔ ان سے اردو پن نہیں رہتا اور ظاہر ہے کہ اس بات کے لیے کہ کس قدر فارسی کی ترکیب دی جاوے؟ اور کون کون سی لغت اور زبانوں کی نہ بولی جاویں، کوئی قاعدہ نہیں مقرر ہو سکتا۔ یہ بات صرف اہل زبانوں کی صحت پر منحصر ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%A8%DB%81_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%AA%D8%B1%D9%82%DB%8C"} {"title": "اردو شاعری کا مطالعہ", "poet_page": "مصنف:وحید الدین سلیم", "kind": "poetry", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "وہ نظریں جو کبھی اک بے وفا سے لڑکے نازاں تھیں\nاب ان کو اپنی بدبختی کا قائل دیکھتے جاؤ\n\nوہ آنکھیں جو کبھی پروانۂ رخسار جاناں تھیں\nاب ان کو گریۂ حسرت میں شاغل دیکھتے جاؤ\n\nوہ الفت جس کے استحکام پر دنیا کو حیرت تھی\nاب اس کو مثل رنگ خام زائل دیکھتے جاؤ\n\nوہ بدبخت محبت جس کی فطرت ہی محبت تھی\nاب اس کو صبر کر لینے کے قابل دیکھتے جاؤ\n\nانہیں سوال پہ زعم جنوں ہے کیوں لڑئیے\nہمیں جواب سے قطع نظر ہے کیا کہئے\n\nحسد سزائے کمال سخن ہے کیا کیجیے\nستم بہائے متاع ہنر ہے کیا کہئے\n\nنزع میں پھرتی ہوئی آنکھوں کو\nترا افسوں نظر یاد آیا\n\nستم ہے لاش پر اس بے وفا کا یہ کہنا\nکہ آنے کا بھی کسی کے نہ انتظار کیا\n\nکسی نے نزع کی یوں گتھیوں کو سلجھایا\nسرہانے بیٹھ کے ہر سانس کا شمار کیا\n\nاب تک ہیں یاد روح کو آثار نزع کے\nماتھے پر اک شکن تھی کلیجے میں درد تھا\n\nآکے دیکھے نزع میں کھنچتے جو میرے ہاتھ پاؤں\nاف ری شوخی ایک انگڑائی سی لے کر رہ گیا\n\nمری میت پہ کس دعوے سے وہ کہتے ہوئے آئے\nہٹا دینا ذرا ان رونے والوں کو ہٹا دینا\n\nیہ کہہ کر قبر پر پھر یاد اپنی کر گئے تازہ\nارے اے مرنے والے اب مجھے دل سے بھلا دینا\n\nہجوم عام ہے بالیں پہ سب غم خوار بیٹھے ہیں\nوہ خود جب سے قریب بستر بیمار بیٹھے ہیں\n\nہر اک ہچکی میں کیوں کر کھل رہے ہیں موت کے عقدے\nفقط وہ دیکھنے یہ حالت بیمار بیٹھے ہیں\n\nاسی کی شام غم پہ صدقے ہو مری صبح حیات\nجس کے ماتم میں تری زلفیں پریشاں ہو گئیں\n\nنہ پوچھو دم کے رکنے کا سبب تم نزع میں مجھ سے\nکیا ہو زندگی بھر ضبط جس نے رائگاں کیوں ہو\n\nدم آخر مریض غم کی بالیں تک چلے آؤ\nکسی کی عمر بھر کی جانفشانی رائگاں کیوں ہو\n\nکھڑے بالیں پہ وہ ہنستے ہیں اپنا دم نکلتا ہے\nبرے وقت اے فلک کوئی کسی کا کم نکلتا ہے\n\nشب غم نزع کی بھی سختیوں کا کر لیں اندازہ\nنکل اے آہ یوں سینے سے جیسے دم نکلتا ہے\n\nوداع دل ہجوم آرزو میں کیا کہوں تجھ سے\nبھرے گھر سے جنازہ جیسے اے ہم دم نکلتا ہے\n\nوہ وقت آیا کہ اب سینے میں ہر دم ہوک اٹھتی ہے\nنفس کہتے ہیں جس کو وہ بہت ہی کم نکلتا ہے\n\nبنا ہے مرکز تاثیر غم بیمار کا چہرہ\nیہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے\n\nہماری بیکسی کی موت تھی عبرت کا افسانہ\nجسے دیکھو شریک مجلس ماتم نکلتا ہے\n\nرگیں کھنچنے سے جذب عشق کا اندازہ کرتے ہیں\nوہ کیا جانیں ابھی کن مشکلوں سے دم نکلتا ہے\n\nدیکھوں تو جذب حسرت دیدار وقت نزع\nاے روح یوں نکل کہ تماشا کہیں جسے\n\nکیا کہوں کیا نہ کہوں ہستی موہوم کا راز\nنزع میں پوچھتے ہیں کیا ہے حقیقت تیری\n\nنزع میں پر تو رخ ڈال کہ روشن ہو نگاہ\nاب دکھائی نہیں دیتی مجھے صورت تیری\n\nجب کفن لائے ہیں بیمار محبت کے لیے\nصبح اس وقت ہوئی ہے شب فرقت تیری\n\nدم اکھڑتا ہے کسی کا اور وہ بیٹھے ہیں خموش\nدیکھ لے یہ منظر عبرت کسے اب ہوش ہے\n\nآئیے نزع کا ہنگام ہے اب\nمشورہ آپ سے کچھ کرنا ہے\n\nبالیں پہ میرے کہہ کے کسی نے یہ کھولے بال\nدیکھیں تو امتیاز اسے شام و سحر میں ہے؟\n\nگھبرائیے نہ ختم ہے بیمار شام عمر\nبس تھوڑی دیر اور طلوع سحر میں ہے\n\nکہتی ہے روح نزع میں رستہ دکھا چکے\nجاتے ہیں ہم خود آپ وہاں وہ تو آ چکے\n\nیہ وصیت آخری ہے اسے سن لیں سب احباب\nکوئی دل کا ذکر کرتا نہ سر مزار آئے\n\nرگیں کھنچنے لگیں اب نزع کا ہنگام آتا ہے\nوہ جائیں ورنہ ان کے سر پہ سب الزام آتا ہے\n\nیہ سناٹا یہ تاریکی یہ گورستاں یہ ویرانی\nتمہیں اے سونے والو کس طرح آرام آتا ہے\n\nیہ کیا تھا یوں تو وہ دیکھا کیے دم توڑنا میرا\nمگر انگڑائی لی اک روح نکلی جب مرے دل سے\n\nکہتے ہیں وقت نزع وہ بیمار ہجر سے\nختم اک نفس میں شرح تمنا کرے کوئی\n\nمیت بیمار ہجراں دیکھنے سے فائدہ\nنقش کچھ دھندلے سے ہیں بگڑی ہوئی تصویر سے\n\nدیکھئے تو چہرۂ بیمار سرکا کر کفن\nآج ہیں دشمن بھی شاکی آپ کی تاخیر کے\n\nنزع میں کس کو بھلا تاب شکیبائی ہے\nجب وہ آئے ہیں تو کچھ جان میں جان آئی ہے\n\nتھی صبح اور ستارے کچھ جھلملا رہے تھے\nبیمار شام فرقت دنیا سے جا رہے تھے\n\nدم توڑتا نہیں کوئی بیمار اس طرح\nشاید شریک موت کسی کی ادا بھی ہے\n\nہستی کے رخ کو پھیر دیا روزگار نے\nکروٹ جولی مریض شب انتظار نے\n\nانگڑائی لے کے کسی نے چٹکائیں انگلیاں\nدو ہچکیوں میں ختم جو بیمار ہو گئے\n\nیہ کہہ کر سرہانے مرے آ کے بیٹھے\nہٹو چارہ سازو کہ اب وقت کم ہے\n\nاگر کہیں وہ دم واپسیں چلے آتے\nہم ایک سانس میں تفصیل آرزو کرتے\n\nکہتی ہے روح آئی ہیں جتنی کہ ہچکیاں\nاتنی ہی میں نے ٹھوکریں کھائی ہیں راہ کی\n\nہاں ساقی مہر و کوئی جام آج پلا پھر\nمیں جس کا ہوں مشتاق وہ مے شیشے سے لا پھر\n\nدے آئینہ طبع مصفّا کو جلا پھر\nہونٹوں سے چھلکتے ہوئے ساغر کو ملا پھر\n\nلکھتا ہوں دغا ساقی کوثر کے خلف کی\nجھوٹی بھی اگر می ہو تو رندان نجف کی\n\nاس ہال کے اندر حوض جو تھا فوارے اس میں اچھلتے گئے\nدھاریں جو ہوئیں پانی کی رواں دھاروں سے راگ نکلتے گئے\n\nپھر گھنگروؤں کی چھم چھم کی صدا اس ہال کے فرش سے آنے لگی\nیہ ناچ کی دھن کچھ سازوں کو بجنے کے لیے اکسانے لگی\n\nتارے سے ہیں چمکتے ہوئے یاسمین کے پھول\nحیراں ہیں جن کو دیکھ کے سارے چمن کے پھول\n\nہیں لمبی لمبی ڈالیاں چھائی زمین پر\nچھتری سی ہے جنھوں نے بچھائی زمین پر\n\nبعض اودے ہیں مگر بعض ہیں پیلے شہتوت\nکیا ہی قدرت نے بنائے یہ رسیلے شہتوت\n\nلذت بادۂ کوثر ہے تو شہتوت میں ہے\nشہد جنت کامزہ گر ہے تو شہتوت میں ہے\n\nپیپل کے ہر درخت پہ طوطوں کے ہیں پرے\nچونچیں ہیں لال لال بدن ہیں ہرے ہرے\n\nچھوٹے پھلوں کو پھینکتے ہیں وہ کتر کتر\nمینہ سا برس رہا ہے زمیں پر پٹر پٹر\n\nیاں ہوا آزاد ہے موجیں یہاں آزاد ہیں\nسب پرند آزاد ہیں سب مچھلیاں آزاد ہیں\n\nحسن لیتا ہے یہاں لہریں پڑا چاروں طرف\nہے خوشی چاروں طرف اور ہے ضیا چاروں طرف\n\nمیں ہوں شمع محفل زندگی میرا نام عہد شباب ہے\nمرا سانس باد بہار ہے مری چال موجِ شراب ہے\n\nمری عمر کی ہیں جو ساعتیں ہوئی عشرتوں میں تمام ہیں\nیہی قہقہے یہی چہچہے مری زندگی کے پیام ہیں\n\nہے مرے دل میں بھی یہ تمنا یوں ہی رہوں بے نام و نشاں\nاہل جہاں سے دور رہوں اور دور ہوں مجھ سے اہل جہاں\n\nکشمکش جذبات سے میرا دامن عصمت چاک نہ ہو\nپاک رہوں اور پاک ہی جاؤں گھر میں مرے گوخاک نہ ہو\n\nاے شیکسپیئر اے دل انساں کے مصور\nفطرت کے مظاہر ترے دل پر ہوئے ظاہر\n\nوسعت میں تری روح سمندر سے بڑی ہے\nرفعت میں نظر تیری ستاروں سے لڑی ہے\n\nملک کا سرمایۂ بقا ہے انہیں سے\nقوم کا سامان ارتقا ہے انہیں سے\n\nگرثمر شاخ آرزو ہیں تو یہ ہیں\nجو ہر شمشیر آبرو ہیں تو یہ ہیں\n\nاے آریو آؤ قدم رکھو ان حسن بھرے گلزاروں میں\nجنت کے مزے لوٹوگے سدا اس پاک زمین کی بہاروں میں\n\nتم گنگ و جمن کے کناروں پر شہر اپنے نئے آباد کرو\nگاگاکے بھجن کر کر کے ہون ہو جاؤ مگن دل شاد کرو\n\nوہ راگ جسے ہنگام سحر گانی ہے ہوا گلزاروں میں\nوہ راگ جسے چشموں کی زباں کرتی ہے ادا کہساروں میں\n\nوہ راگ جو ہے موجوں کو رواں اس وحشت خیز سمندر میں\nوہ راگ شراب تند بھری ہے جس کے بھنور کے ساغر میں\n\nوہ راگ جسے گاگاکے سداآتے ہیں پرندے مستی میں\nوہ راگ چھپی ہے جس کی صدا ہر رینگنے والی ہستی میں\n\nاس راگ نے اپنی الاپوں سے لبریز کیے ہیں کان مرے\nپھر جاگ اٹھے ہیں مرے جذبے پھر زندہ ہوئے ارمان مرے\n\nخون اس کی نگاہوں سے ہر لحظہ ٹپکتا ہے\nہے ہاتھ میں جو چاقو بجلی سا چمکتا ہے\n\nہے کاٹتا اک دم وہ سرسبز نہالوں کو\nرحم ان پہ نہ کیوں آئے سب دیکھنے والوں کو\n\nجب نیم کی شاخیں ٹھنڈی ہوا کھا کھا کے تھرکنے لگتی ہیں\nپھر زریں کرنیں سورج کی پتوں پہ چمکنے لگتی ہیں\n\nپتوں کی رگوں میں نیم کا رس ہے دوڑتا پوری سرعت سے\nیہ ریشہ دوانی دیکھ کے میں تصویر بنا ہوں حیرت سے\n\nمرے دل میں اٹھتے ہیں ولولے کہ ہوں کاش بادِبہار میں\nکبھی غنچے پر ہو مرا گزر کبھی پھول سے ہوں دوچار میں\n\nکبھی گلشنوں کو بتاؤں میں وہ جو ضابطے ہیں سنگار کے\nکبھی بلبلوں کو سکھاؤں میں وہ جو زمزمے ہیں بہار کے\n\nہے طبع رواں دب کر جمگھٹ میں کچل جاتی\nبرگوں کے تلے آ کر ہے گھاس بھی جل جاتی\n\nجو ذہن کہ خلوت میں کر سکتے تھے ایجادیں\nجلوت میں وہ جب پہنچے سب گر گئیں بنیادیں\n\nلطف ہوا سے بو پہ بو پھیل رہی فضا میں ہے\nمعجزہ نوبہار کا جلوہ گر اس ہوا میں ہے\n\nعکس مشام پر مگر جب نہ پڑے شمیم کا\nکیجیے کس سے تذکرہ تازگی نسیم کا\n\nسرہانے اک مریض مرے ہے شمع زرد جل رہی\nبرنگ مورنا تواں ہے نبض اس کی چل رہی\n\nیکایک اس کے چہرے پر جھلک سی آکے رہ گئی\nجو زندگی کی موج تھی وہ تلملا کے رہ گئی\n\nوہ گلوں کی روشنی سے نظروں کا دنگ ہونا\nوہ برنگ باغِ رضواں چمنوں کا رنگ ہونا\n\nوہ شمیم عطر گل کا سر رہ گزر مہکنا\nوہ نسیم مشک چین کالب غنچہ سے لپکنا\n\nکس قدر بلندی پر تھا کبھی مکان میرا\nشاخ سبز طوبیٰ پر تھا اک آشیاں میرا\n\nحوریں کس مسرت سے گود میں بٹھاتی تھیں\nزمزمے مرے سن کر خود بھی سرہلاتی تھیں\n\nیہ زمین پر چمنستان وہ بلندی پہ ستارے\nمرے دل سے کوئی پوچھے تو یہ جلوے ہیں تمہارے\n\nکبھی خوشبو کی اگر لہر سی پاتا ہوں فضا میں\nتو سمجھتا ہوں کہ تم بال سکھاتے ہو ہوا میں\n\nصبح یوں ہی آئےگی شام یوں ہی آئےگی\nگردش دور زماں رنگ یوں ہی لائےگی\n\nزمزمے مرغ چمن یوں ہی سدا گائیں گے\nپھول یوں ہی باغ میں رنگ نیا لائیں گے\n\nہے حادثوں میں پنہاں حکمت کا ایک اشارا\nجرا حیاں ہیں گویا قدرت کی آشکارا\n\nنشتر سے حادثوں کے چیرے نہ گروہ پھوڑے\nفاسد مواد ان کو زندہ کبھی نہ چھوڑے\n\nسمندر اے دل خالق کے اضطراب سمندر\nچھپے تو رکھتا ہے کیا انقلاب سینے کے اندر\n\nغرور عقل عشر کے ڈبو چکا ہے تو لاشے\nاب اور دیکھیے کیا کیا دکھائے گا تو تماشے\n\nجولاں گہ اظہار لیاقت اسے کہیے\nگہوارۂ تعلیم فصاحت اسے کہیے\n\nذہنوں کی ترقی کا جو میداں ہے تو یہ ہے\nآداب تمدن کا دبستاں ہے تو یہ ہے\n\nایک ہنگامہ تھا برپا مرے ارمانوں میں\nبرق مضطر کی تڑپ تھی مری شریانوں میں\n\nصرصر رنج کے جھوکے جو گذر جاتے تھے\nدفتر قلب کے اوراق بکھر جاتے تھے\n\nکیا برق و باد کا طوفاں تھا، تھی جس سے فضا میں پڑی ہل چل\nاب تو ہی نشانی ہے باقی طوفاں کی اے تنہا بادل\n\nدل تیری گرج سے دہلتے تھے لرزہ تھا پڑا جانداروں میں\nگویا تھا سمندر ٹوٹ پڑا پانی کی لپکتی دھاروں میں\n\nاس بہشت زندگی سے نوجواں غافل نہ ہوں\nعیش کے مشتاق ہیں تو طیش پر مایل نہ ہوں\n\nلذت اخلاق شیریں ان کو چکھنی چاہیے\nمن و سلوا کی حفاظت ان کو رکھنی چاہیے\n\nلہجۂ بلبل کو فریاد زغن ہونے نہ دیں\nنغمۂ وحدت کو شور ماومن ہونے نہ دیں\n\nمیل کی کھیتی پہ پانی سیل کا پھرنے نہ دیں\nمہر کے خرمن پہ بجلی قہر کی گرنے نہ دیں\n\nجس کو دیکھا تھا کبھی گلشن وہ گلخن ہو نہ جائے\nجس کو سمجھے تھے کبھی مسکن وہ مدفن ہو نہ جائے\n\nصر صر دوزخ کو اس فردوس میں چلنے نہ دیں\nنخلِ طوبیٰ کی جگہ زقوم کو پھلنے نہ دیں\n\nنوح کی کشتی پہ طوفاں کا اثر ہونے نہ دیں\nجنت آدم میں شیطاں کا گزر ہونے نہ دیں\n\nتیوروں پر لطف کے غصے کے بل آنے نہ دیں\nعہد میں الفت کے کلفت کا خلل آنے نہ دیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%B9%DB%81"} {"title": "اردو لسانیات", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "زبان اصل میں انسان کے تعینات یا اداروں میں سے ہے۔ وہ ان کی معمول ہے جن کی کار بر آری اس سے ہوتی ہے۔ وہی اس کے محافظ و مختار ہیں۔ انہیں نے عوارض اور ضروریات کے مطابق اس کو پنے ڈھب کا بنایا ہے۔ ہمیشہ ہر کہیں ایسا ہی ہوتا ہے۔ زبان کا ہر جز و ترکیبی مسلسل تغیرات کا ماحصل ہے، جو اہالیان زبان کے ارادے اور رغبت سے عمل پذیر ہوا۔ یہ لوگ تاریخی عوارض، انسانی فطرت اورداعیے کے تہیج سے متاثر تھے جن کے نشانات ہماری نظر میں صاف نمایاں ہیں، اور یہی زبان کو سائنٹفک تحقیق و تفحص کا شایاں موضوع قرار دیتے ہیں۔ انہیں امتیازی اعتبارات سے مطالعہ زبان کی نوعیت کا، مثل تاریخ و اخلاقیات کے تعین ہوتا ہے۔\nزبان انسانی تہذیب اور نوع انسان کی تاریخ کا ایک شعبہ ہے۔ زبان متعدد علوم سے استعانت کرتی ہے لیکن باوجود اس کے انسان کا ذہن افکار کے اظہار کی تلاش اور چھان بین میں زبان کی ترقی و دخل معضلات اور روابط و نتائج کے درمیان ایک قسم کی حد وسطیٰ ہے۔ تاریخ کی مانند زبان کی بھی تحلیل عامیہ مثل کیمیا اور طبعیات کے ایک معمول میں ناممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معمل میں اسی شے کا دخل ممکن ہے جو امر واقعہ ہو اور قانون قدرت کے کلیہ کے تحت جگہ پا سکے۔ زبان امر واقعہ تو ہے مگر بہ تقاضائے نوعیت ہمیشہ معرض تغیر میں ہے اور یہی مابہ الامتیاز لسانیات کو دوسرے علوم سے حاصل ہے۔لسانیات کے باب میں تحلیل و تجزیے کی وہ اصول عہدہ بر آ نہیں ہو سکتے جو طبیعات ومادیات پر حاوی ہیں۔ زبان سالمات یا سالبات کے قدغن سے مبرا ہے۔ ہاں علما کوشش میں ہیں کہ زبان کو سائنس۔۔۔ کہئے علم نفسیات و صوتیات کے تحت لائیں۔ اس ضمن میں یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ اول الذکر جیسا کہ اس وقت ہے، ضرور یہ شان رکھتا ہے کہ لسانیاتی مسائل پر اس کے خاص نظریوں کی روشنی میں فکر کی جائے۔ یہ امر متقدمین اردو کے ذہن نشین تھا۔ اہالیان اردو نے زبان کی طرف سے علمی تخیل کو کبھی طلاق نہیں دی۔افعال کے صیغوں کی تنظیم، سائنٹفک اصول پر صفت و موصوف اور مضاف، مضاف الیہ کی تقدیم و تاخیر کا آئین، حروف جار کی معنوی حیثیت کی تعیین، اسلوب اور زبان کی داخلی استعداد کے مطابق مرکبات کی توضیع، تارید کے موقعوں پر تصرف کا مستحسن استعمال، محاورے کی سلاست اور منطقی تدوین، ضرب الامثال کی عمومیت، کلیت اور قوت تالیف، اور تعقید و اضمار قبل الذکر کی معائب انشا میں شمولیت وغیرہ وہ امر ہیں جو عہد قدیم و متوسط میں اہالیان اردو کے حسن شعور اور سلیقہ تنظیم کی ہزار زبان سے داد دیتے ہیں۔ ان میں سے بعض امور جستہ جستہ آپ کی توجہ کے لئے پیش کئے جائیں گے۔خدا معلوم وہ دن اردو زبان کے حق میں کتنا اہم اور نتیجہ خیز تھا جب حضرت شاہ سعدا للہ گلشن نے شمس الدین ولی کو ہدایت کی، ’’ایں ہمہ مضامین فارسی کہ پیکار افتادہ اندوریختہ بہ کار ببر۔ از تو کہ محاسبہ خواہد گرفت۔‘‘ترجمہ، ’’یہ اتنے سارے فارسی کے مضمون جو بیکار پڑے ہوئے ہیں، ان کو اپنے ریختے میں میں استعمال کر، کون تجھ سے جائزہ لے گا۔‘‘استاد کی ہدایت کی تعمیل میں وہ مضمون تو شاگرد رشید نے اٹھا لیے، جن کی بدولت اس کے کلام کو شہرت دوام کا تمغہ نصیب ہوا، مگر زبان اس نے شاہ جہاں آباد کی اردوئے معلی ہی رکھی۔ شاہ صاحب کا عندیہ یہ تھاکہ ولی دکنیت کو ترک کر کے اردو زبان کو ایران کی نظر گفتاری، تشبیہ و استعارہ وغیرہ محاسن کلام یا اصناف شعری سے متمول کرے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ تین صدی بعد ایسا زمانہ آئے گا کہ اس مفید مشورے کے الٹے معنی لئے جائیں گے اور چند حروف جار اور امدادی افعال وغیرہ کے سوا اردو کلمے کلام سے خارج کر دیے جائیں گے۔اردو نے قدیم اور متوسط زبانوں میں کیا لسانی ترقی کی، اس اعتبار سے اب اس کی کیا حالت ہے اس کا مجمل تذکرہ آج کیا جائے گا۔ تحقیق اس امر کی منظور ہے کہ عہد حاضر میں اردو لسانیاتی اعتبار سے کس درجہ کو پہنچی ہے اور یہ کہ وہ حالت اطمینان کے قابل ہے یا نہیں؟ یہ تحقیق نہ صرف اس یا اس جماعت بلکہ ہر شخص کا فرض ہے جو اردو کو ا پنی زبان کہنے کا دعویٰ کرتا ہے۔زبان کے ترکیبی فعلوں میں سے یہاں صرف دو کا ذکر کیا جائے گا یعنی اختراعی یا ابداعی استعداد اور اخذ کی قابلیت۔ یہی دو علامتیں ایک زبان کے سر جیون ہونے کی ہے۔ یہ قابلیت اور استعداد جب کسی زبان میں زائل ہو جاتی ہے تو اس کی ترقی کا راستہ مسدود ہو جاتا ہے۔ اور اسباب بھی ہیں جو زبانوں کی ترقی بلکہ زندگی کے مزاحم ہوتے ہیں، جیسے راوج و پسند عام کو قطعاً نظر انداز کر دینا اور زبان سے متعلق ہر امر کو سائنٹفک تنقیح قرار دے کر قاعدے کے قیود و تعینات میں جکڑ بند کر دینا جیسا کہ سنسکرت کے ساتھ ویاکرنیوں نے کیا۔میں مانتا ہوں کہ قاعدے اورآئین کی ضرورت مسلم ہے لیکن اس کا استبداد اور باون تولے پاورتی جیسے یقینات عامہ کو حکم ناطق زبان کی شبابیات اور اپج کا دشمن ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اختراع بغیر حسن شعور اور ذوق سلیم کے اور اخذ بغیر تصرف حسنہ کے ممکن نہیں۔ اردو کی موجودہ حالت دیکھ کر شبہ ہوتا ہے کہ کہیں وہ بے چاری اس مقام کے قریب تو نہیں پہنچ رہی ہے جس کی طرف ابھی اشارہ کیا گیا ہے۔ اگر ہم انانیت اور بر خود غلط ہونے سے دور ہٹ کر نظر غائر سے کام لیں تو خوف ہے کہ شبہ یقین کے قریب پہنچ جائے گا۔ لسانیات اور ادبیات یا کہئے کہ زبان اور لٹریچر میں جو امتیاز ہے اس کی تصریح کی ضرورت نہیں۔مختصر یہ کہ یہ امر تمام اردو دنیا کا دل بڑھانے اور امید دلانے والا ہے کہ جامعہ عثمانیہ حیدر آباد کے دارالترجمہ کا تتمہ نہیں یعنی کسی خط تواناں کا ورق ثانی نہیں بلکہ زبان کی ترقی و اصلاح بھی اس کے مقاصد میں ہیں۔ آج کا موضوع محض اس غرض سے انتخاب کیا گیا کہ جامعہ کے معزز اراکین اور اصحاب حل و عقد اور دوسرے ادیب اور نکتہ رس اصحاب جو اس صحبت میں تشریف رکھتے ہیں، ان کی توجہ اس طرف منعطف کی جائے، یعنی اردو کی لسانیاتی حالت کی جانب، تاکہ وہ بزرگ اس کیفیت وکمیت کا موازنہ کریں۔ اس لحاظ سے شاید ہندی بھی اسی ضغطے میں ہے جس میں اردو ہے لیکن میرا روئے سخن اردو کی طرف ہے۔عرض کیا گیا ہے کہ جب کوئی زبان اختراع و اخذ کے بارے میں قوت فعل سے عاری ہو جاتی ہے تو ارتقا کی شاہراہ سے بھٹک جاتی ہے۔ اگر ابھی سے روک تھام نہ کی گئی تو خوف ہے کہ اب سے دور ی موذی مرض کہیں لا علاج نہ بن جائے۔ پہلے اس کا جائزہ لیا جائے گا کہ اردو کی لسانی ترقی سے متعلق متقدمین اور متوسطین نے کیا کچھ کیا اور پھر بتایا جائے گا کہ ان کے متعاقبین اور عہد حاضر کے کارنامے کیا ہیں لیکن یہ سب امور ایک واحد لکچر میں احاطہ نہیں ہو سکتے۔ جو کچھ کہا جائے گا بالا جمال ہوگا۔متقدمین کرام کو جس وقت یہ چیٹک لگی کہ اردو یا ریختہ کو منظم کریں، تو ان کے سامنے کوئی مکمل دیسی ہندوستانی نمونہ موجود نہ تھا۔ اس وقت کی ہندی یا برج بھاشا سور سینی یا پراکرت کو آج کل کے لسانیاتی معیار اور اصول کے متبع مکمل نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ اگر کسی میں اعلیٰ نظم موجود تھی تو نثر مفقود اور کسی میں نثر تھی تو نظم مہتم بالشان ندارد تھی۔ اس لئے تحقیق اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ ’’ہند ایرانی‘‘ مسالے سے جو بت تیار ہوا تھا اس کی پوشاک توہندوستانی رہی لیکن اس کے لے زیور کچھ ہندستان اوراور زیادہ تر ایران کا استعمال کیا گیا۔ یہ آپ جانتے ہیں، زیور کس قدر پیارا اور سہانا ہوتا ہے۔ اردو زبان کی تدوین و تزئین کے بہت سے اصول اور طریقے بتائے گئے ہیں لیکن جو گر سید انشا مرحوم نے دریافت کیا، فلسفہ زبان کا سر تاج ہے اور رہے گا۔ جب تک کہ اردو زندہ ہے۔ آپ فرماتے ہیں،’’مخفی نماند کہ ہر لفظے کہ در اردو مشہور شد، عربی باشد یا فارسی یا ترکی یا سریانی یا پنجابی یا پوربی، از روے اصل غلط باشد یا صحیح، آن لفظ لفظ اردو است۔ اگر موافق اصل مستعمل است ہم صحیح، و گر خلاف اصل است ہم صحیح۔ صحت و غلطی آن موقف بر استعمال پذیرفتن در اردو است۔ زیرا کہ ہر چہ خلاف اردو است، غلط است، گو در اصل صحیح باشد و ہر چرہ موافق اردوست، صحیح باشد، گودر اصل صحت نہ داشتہ باشد۔‘‘ترجمہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر لفظ جو اردو میں مشہور ہو گیا، اردو ہو گیا خواہ وہ عربی یا فارسی ترکی ہو یا سریانی، پنجابی ہویا پوربی، از روے اصل غلط ہو یا صحیح، وہ لفظ اردو کا لفظ ہے۔ اگر اصل کے مطابق ہے تو بھی صحیح ہے اور اگر اصل کے خلاف مستعمل ہے تو بھی صحیح ہے۔ اس کی صحت اور غلطی اردو میں اس کے استعمال میں آنے پر منحصر ہے کیونکہ جو اردو کے خلاف ہے، غلط ہے خواہ وہ اصل زبا ن میں صحیح ہو۔ اور جو اردو کے موافق ہے صحیح ہے خواہ وہ اصل میں صحیح نہ بھی ہو۔‘‘سید مبرور نے ان چند فقروں میں تہذیب لسان کے ضابطے کالب لباب پیش کر دیا ہے۔ اسی اصول پر اردو بنی اور پروان چڑھی۔ اسلاف کا دستور العمل یہی تھا۔ یہ تصرفات اردو جن کو میں ایک لفظ ’’تارید‘‘ سے تعبیر کروں گا، تفریس و تعریب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور رکھیں گے جب تک اردو زندہ اور چالو زبان ہے کیونکہ اول تو وہ عربی یا سنسکرت کی طرح صرف زبان نہیں اور دوسرے یہ کہ اس کی بنیاد ہی کاٹ چھانٹ اور تصرف ہے۔ اس سے بحث نہیں کہ آیا زبان کی ساخت کا یہ گر اردو والوں نے ہندی سے سیکھا جس کا بہت امور میں سنسکرت سے انحراف بدیہی ہے۔بہرحال کامل تحقیق اب اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دسویں صدی کے قریب سو ر سینی اپ بھرنش سے مغربی ہندی نکلی جس کے میل سے دو آبہ گنجم 1 میں ایک نئی زبان پیدا ہوئی۔ اسے مستشرق اور لسان ہندوستانی کہتے ہیں۔ پھر اس کی دو شاخیں ہو گئیں جس کی وجہ اول اول رسم الخط تھی۔ یہ دو شاخیں آپ کی ہندی اور اردو ہیں۔ زبان کی تاریخی روداد کے اس مجمل حوالے سے میرا مطلب یہ ظاہر کر دینا ہے کہ جو دعویٰ ہم اردو کے بارے میں کرتے ہیں، بہت ممکن بلکہ اغلب ہے کہ اس میں ہندی والوں کا بھی حصہ شریک ہے، کیونکہ یہ امر ثبوت اور استدلال کا محتاج نہیں کہ جب تک ہندوستانی دو شاخوں میں منقسم ہو کر جداگانہ ضبط تحریر میں نہ آئی، سب برابر کام کرتے رہے اور اسے بناتے رہے۔اس سلسلہ میں پہلے اسموں کو لیا جائے گا۔ اردو دانوں نے نہ صرف یہ کیا کہ الخالُق کو الخالَق (پوشاک کی چیز جیسے اچکن) جا جُم کو جاجَم اور موسِم کو موسَم بنا لیا، بلکہ بہت سے عربی الفاظ کی جنسیت بھی بدل دی۔ فارسی خوش نصیب تھی کہ اس نے یہ بکھیڑا پالا ہی نہیں۔ مثلا شمس جو عربی میں مؤنث تھا اردو میں مذکر ٹھہرا۔ آپ کہیں گے کہ یہ مداخلت بیجا کیوں، یہ تو سخت لسانی بدعت ہے؟ میں کہتا ہوں اس لغت کے لئے ان کے پاس صرف دو متبادل طریق عمل تھے۔ یا تو وہ اس لفظ کو لیتے ہی نہیں اور لیتے تو اس کے مترادف لغت ہندی کی جنسیت کا اتباع لابد تھا، جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یعنی سورج۔یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ غیر زبان کے اسموں کی تذکیر و تانیث سے متعلق ان کا نظریہ یہ تھا کہ ان کو دیسی مرادف اسموں کی جنس کا متبع کرتے تھے۔ مدتوں اہل اردو اسی دستور پر چلتے رہے اور جو محتاط ہیں اور ذوق سلیم رکھتے ہیں، اب بھی اس پر عامل ہیں۔ انہوں نے مُندیل کو مَندیل، جادّہ (بروزن مادّہ) کو جادہ، تُوَشک (بجز فوقانی سب حرف ساکن) کو توشک اور بغچہ (غین معجمہ کو) بقچہ کر دیا، قِس علی ہذا۔میں جلدی سے یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان اور بیسیوں دوسرے الفاظ میں تصرف کی معقولیت اور وجاہت کے حق میں زبر دست دلائل پیش ہو سکتے ہیں، جس کا یہ موقع نہیں۔ تصرف کا عمل الفاظ فارسی و عربی کی صوتی حیثیت یعنی تلفظ اور جنسیت تک ہی محدود نہیں رہا، بلکہ اصل معنوں میں بھی تصرف کئے گئے۔ تحفہ سوغات کے معنی رکھتا تھا لیکن وہ ا چھے، سجل اور تازے کے معنے میں بھی استعمال ہونے لگا۔وہ زمانہ بیسویں صدی عیسوی کا زمانہ تھا کہ با ت بات میں ملی نچ نکالی جاتی۔ ان لوگوں کے نزدیک ہندو مسلمان اور ان کے مذہب یا مذہبی روایتیں اور اصطلاحیں یکساں تھیں۔ انہوں نے اپنی زبان کو بنانے اور سنوارنے کا عزم کیا تھا، شدھی یا تبلیغ کا نہیں۔ ان کا قول و فعل تھا، عیسیٰ بدین خود و موسیٰ بدین خود۔ خیر قرآن کا جامہ پہننا اور گنگا اٹھانا تو رہا ایک طرف، انہوں نے صلوۃ جیسے لغت کے معنیٰ میں جو جناب رسالت مآبؐ کی مقدس ذات سے مخصوص ہو چکا تھا، تصرف کیا۔ اگر چہ اتنا پاس ادب ضرور رہا کہ اسے محض صیغہ جمع تک محدود رکھا۔ میر تقی میر مغفور فرماتے ہیں؛پڑھتا تھا میں تو سبجہ لئے ہاتھ میں درودصلواتیں مجھ کو آکے وہ ناحق سنا گیاانہوں نے گنگا کو الٹا کر پھر شوجی کی جٹاؤں میں پہنچا دیا۔ منشی اسیر کا شعر ہے،ہم تو پیاسے رہے، مے غیر کو دی، پیر مغاںالٹی اس شہر میں بہتی ہوئی گنگا دیکھیاصل میں تھا ’’لا الی الذین و لا الی الذین‘‘، یعنی نہ ان میں سے نہ ان میں سے۔ اس سے بنا لیا اِللذی نہ اُللذی بمعنی مذبذب، ڈانوا ڈول، چنانچہ سید رضی نے کہا،نہ تو عاشقوں ہی میں جا ملی، نہ وہ فاسقوں سے بنی رہیتری وہ مثل ہے اب اے رضی کہ اِللذی نہ اُللذیکلمہ مقدس لن ترانی کی شان ورود تشریح کی محتاج نہیں۔ اس کے معنی قرار پائے خود ستائی، انانیت، شیخی وغیرہ۔ شیخ ناسخ نے فرمایا۔لن ترانی سنتے ہیں، دیدار سے محروم ہیںیعنی اس حیرت کدہ میں کور ہیں ہم کر نہیںٹھاکروں کی پوجا میں سب سے پہلے گنیش کی پوجا کی جاتی ہے، مگر وہ بھی تصرف و اختراع کی زد سے نہ بچ سکے ’’گوبر گنیش‘‘ کا مرکب آپ کے روز مرہ اور لغات میں موجود ہے۔سامعین کرام! اور بگلا بھگت اور ولی کھنگر کی طرف توجہ فرمایئے، کیا برابر کی جوڑ ہے! شوق قدوائی مرحوم نے فرمایا،کھویا انہیں شوق کیمیا نے اے شوقلوٹا انہیں جھوٹے فقرا نے اے شوقکاہل نہیں ایک اور ولی کھنگر لاکھبس دور کے ڈھول ہیں سہانے اے شوقرام کہانی ہندوؤں کے ہاں رام چندر جی کی کتھا کو کہتے تھے، اردو دانوں نے اس کے معنی میں تصرف کر کے اس طرح استعمال کیا، جرأت مرحوم کا ارشاد ملاحظہ ہو۔درد دل اس بت بیدرد سے کہئے تو کہےجا کے یہ ر ام کہانی توسنا اور کہیںکھٹ سنسکرت میں چھ کا نام ہے۔ کھٹراگ کے لغوی و اصطلاحی معنی ہیں، چھ راگ۔ یہ مرکب ان چھ مول راگوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جن سے بہت سی راگنیاں نکلی ہیں۔ مگر اردو میں اس کے معنی کی لے اور سر کیا، ٹھاٹھ ہی بدل دیا۔ صبا کا شعر ہے،پڑے ہیں عشق کے کھٹراگ ہیں ہم اے مطربکسے خیال ہے دھرپد، ترانے تروٹ کامرکب اسموں کے سلسلے میں ایک اور لفظ کا ذکر کیا جائے گا، وہ ہے ’کٹ بدیا۔‘ اس کے معنی آپ جانتے ہیں، مار پیٹ، زدو کوب، یہ وہ بدیا ہے جو بے سکھائے پڑھائے آتی ہے۔مبادا آپ سنتے سنتے اکتا جائیں اس لئے اب اس سلسلے کو ختم کرتا ہوں۔ میں نے کئی سو لفظوں کا ایک نقشہ مرتب کیا ہے جن میں اسم بھی ہیں اور افعال و ضمائر وغیرہ بھی۔ اس کے چھ خانے رکھے ہیں (1) اردو (2) ہندی (3) پنجابی (4) اپ بھرنش (5) پراکرت اور (6) سنسکرت۔ اس موقع پر سارا نقشہ تو پیش کرنا تو طول عمل ہے، نمونے کے طور پر پانچ چھ لفظ عرض کئے جائیں گے جو اردو الوں کے اخذ و تصرف کے سلیقے کا بین ثبوت پیش کرتے ہیں۔اردو ہند یپنجابی اپ بھرنش پراکرت سنسکرتچھانو چھئیاں چھاں چھاؤ چھا آ چھایابیکا بانکا و ینگا و نگکؤ و کّو و کرکڈھیٹ ڈھیٹھ ڈھیٹھ ڈھٹھو ڈھٹھو دھرشٹسچ سانچسچّ سچّ سُچمسیتمکویل کویَل کولکویل کویلا کوکلادکھا دیکھا ڈٹھا ڈٹھو ڈٹّھ دِرشٹحفظ مراتب کی نظر اور ادبی رواداری ملاحظہ فرمائیے۔ ایک لفظ کو مفرد حالت میں تو اپنی ڈھب کابنا لیا مگر مرکب حالت میں اس کی اصلی ہئیت کو ہاتھ نہ لگایا۔ مثلاً سانچ کو بدل کر سچ کر لیا لیکن ’’سانچ کو آنچ نہیں‘‘ اس میں سانچ ہی رہنے دیا۔ اسی طرح ہست سے بتدریج ’’ہتھ‘‘ بنا، جب ہمارے ہتھے چڑھا، تو ہم نے اس کو ہاتھ بنالیا لیکن مرکبات میں اس کی وہی سور سینی شکل قائم رکھی۔ جیسے ہتھ، چھٹ، ہتھ پھیری، ہتھ پھول، ہتھ کنڈا۔ پھلم سے پھول بنا، مگر مرکب پھلجھڑی اور پھلکاری میں اصل شکل قائم رکھی۔ اسی طرح سو وسینی ’’نک‘‘ میں ایزاد کر کے ’’ناک‘‘ تو بنا لیا لیکن نکٹوڑا، نکٹا میں اس کی ہیٔت کذائی قائم رکھی۔قدما اور متوسطین کہ نکتہ رسی اور معنی آفرینی کی کہاں تک داد دی جائے! ایک معمولی لفظ ’’خوف‘‘ کو لیجئے، اس کے کتنے مترادف الفاظ وضع یا اختراع کئے یا تصرف سے کام میں لائے اور ان کو وہ معنی پہنائے کہ نفسیات کا ماہر دنگ رہ جاتا ہے، ملاحظہ ہو۔دبدا، جھجک، بھچک۔ سئنسا، کھٹکا۔ دھڑکا، سہم، سناٹا، دھچکا، ڈر۔ سب کلمے خوف کے مختلف درجوں کو واضح کرتے ہیں اور پکار کر کہہ رہے ہیں کہ ہماری زبان کا دامن کتنا فراخ ہے۔ مرکبات کو دیکھئے۔ ’مرتکا‘ سے ادل بدل ہوتے ہوئے ماٹی بنا۔ اس بھاشا کی ماٹی کو انہوں نے مٹی بنا لیا اور اس سے نہایت اہم مرکب توصیفی تیار کیا یعنی مٹیالا۔ میرے خیال میں یہ مرکب سنسکرت کی سندھی کے قاعدے پر بنا ہے۔ بے محل نہ ہوگا اگر گریمر کی اس اصطلاح سندھی کی نسبت یہاں دو لفظ کہہ دیے جائیں۔ جب ایک لفظ ایسے حرف پر ختم ہو کہ اس کی آواز متعاقب لفظ کے اول حرف کی آواز کے ساتھ آسانی سے پیدا نہ کی جا سکے، تو ان حروف میں سے ایک حرف کو کبھی کسی کبھی کسی حرف سے بدل دیتے ہیں۔ یا کہیے کہ ایک حرف کو حذف کر کے اس کی جگہ ایک نیا حرف ایزاد کر دیتے ہیں۔سنسکرت کا اصلی فقرہ تھا، ’’ودھی آنے۔‘‘ چونکہ ای اور آ دونوں کی آواز یکے بعد دیگرے آسانی سے ادا نہیں ہو سکتی تھی اس واسطے اس کا ’’ودھیا نے‘‘ بن گیا۔ اسی طرح، ’’روی آتی تیکشنو بھوتی‘‘ میں اتی کے الف کو ر سے بدلا اور ’’روی رتی‘‘ بنا دیا۔ آپ نے دیکھا اب جس کو ہمارے ہاں تنافر حرف کہتے ہیں، رفع ہو گیا۔ سنسکرت میں یہ قاعدہ یعنی سندھی کا قاعدہ مہتم بالشان حیثیت رکھتا ہے۔ میری تحقیقات میں اکثر انڈو یوروپین یعنی آریائی زبانیں اس پر کم و بیش عمل پیرا ہیں۔فارسی کو لیجئے۔ بندہ اور مژہ کی جمع الف نون سے بنانی تھی۔ دیکھا کہ ہائے مختفی کے ساتھ الف کا میل نہیں، چنانچہ بندہ ان کے بدلے بندگان اور مژہ ان کے بدلے مژگان بنایا یعنی ہائے مختفی کو گ سے بدل دیا۔ یہ دقت اور سندھی کے اصول کی پابندی کی ضروت وہیں آ کر پڑتی ہے جہاں دونوں طرف حرف علت ہوں، یا ایک طرف ہائے مختفی اور دوسری طرف حرف علت یا وسرگ۔ایک خاص فقرے کے تلفظ پر آرنلڈ بنٹ کا غصہ سراسر بے محل تھا جب اس نے اسٹ انڈ کے ایکٹروں کی زبان سے سنا، سوڈار ینڈ ملک۔وہ سمجھا کہ ’’سوڈا اینڈ ملک‘‘ کی مٹی خراب کی ہے جاہل ایکٹروں نے۔ مگر مغربی لندن کے جاہل ایکٹر نا دانستہ پاننی کا اتباع کر رہے تھے، جس نے ’’روی اتی‘‘ کو ’’روی رتی‘‘ بنا دیا۔ وضع کرنے والے نے کیوں نہ سوچا کہ دو الف پیہم آواز نہیں دے سکیں گے۔ لوگوں کو اس ترکیب کی غیر فطری ادا کا احساس ہوا اور اب وہ اور تو کچھ نہ کر سکے ’’ملک اینڈ سوڈا‘‘ اور ’’وہسکی اینڈ سوڈا‘‘ بولنے لگے۔اس ضمن میں ایک مثال انگریزی زبان سے اور پیش کی جائے گی۔ یہاں اسی سندھی کے اصول کو قاعدے کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ انگریزی گریمر کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ جو لفظ حرف علت سے شروع ہو، اس کے پہلے اے A بمعنی ایک نہیں لاتے بلکہ این An لاتے ہیں۔ اے بک، تو ٹھیک لیکن اے ایکٹ غلط، کیونکہ دو الف کی آواز ایک ساتھ نکالنا آلات نطق کے بس کا روگ نہ تھا اس لئے N یا نون بڑھا کر A کا این بنانا پڑا۔عجمی جب عربی زبان کے قاعدے باندھنے بیٹھے، تو ان کا ذہن سندھی کے اس اصول سے متاثر تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے فصاحت سے متعلق تنافر حروف پر بہت زور دیا لیکن چونکہ عربی ان کی مادری زبان نہ تھی اور سامی حروف کی صحیح آواز پیدا کرنے سے ان کے آلات نطق عاری تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں تنافر حروف نہ تھا، وہاں بھی انگلی رکھ گئے۔ سب جانتے ہیں کہ ہائے ہوّز اور حائے حطی کی آوازیں جدا جدا ہیں۔ لیکن غیر اہل زبان اپنے منہ سے اس امتیاز کو ظاہر نہیں کر سکتا۔ اسی طرح بعض شاعروں نے جن کے آلات نطق الف اور عین کی صحیح سامی آواز پیدا کرنے میں قاصر تھے، الف کی طرح عین کو بھی گرا دیا ہے۔مرکب افعال ایسے ایسے مرتب اور وضع کئے کہ اس بارے میں شاید کوئی زبان اردو کا مقابلہ کر سکتی ہو۔ مثال کے لئے ایک معمولی مصدر لکھنا کو لیجئے۔ ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے،(1) خط لکھو۔(2) خط لکھ دو۔(3) خط لکھ ڈالو۔(4) خط لکھ چکو۔آپ ان چار جملوں کے معنی جانتے ہیں۔ ترکیب نے جو زور اور معنوی امتیاز فعل کو بخشا ہے، اس کو بھی محسوس کرتے ہیں۔ اردو کی لسانیاتی وقعت جو اسے اسلاف نے عطا کی، ایک اور واقعہ سے ثابت ہے۔ علما کے اس مجمع کے سامنے اس توجیہ کی ضرورت نہیں کہ ہمارا مجموعہ تعزیرات ہند شاید جسٹی نین کے ضابطہ قانون کے سوا، سیاسی قوانین میں سب سے مکمل بلکہ اکمل تسلیم کیا جاتا ہے۔ یورپ کے کئی ملکوں میں اس مجموعہ کو آگے رکھ کر ضابطے مدون کئے گئے۔ باوجود اس کے یہ مجموعہ بھی اردو کا مرہون منت ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ اور لارڈ مکالے جیسا وحید عصر اور بے بدل منشی اردو کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو گیا۔ یہ اشارہ ہے دفعہ 508 کی تشریح الف کی جانب جس میں لفط دھرنا، قدرے الحاقی تصرف کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ دھرنا دینا کے معنی آپ کومعلوم ہیں جو ہیں۔انہوں نے ماخذ کی پروانہ کرکے ماخوذ سے واسطہ رکھا، اور اسے اپنے مطلب کا بنا لیا۔ چنانچہ عربی یا فارسی لفظوں کی جب اپنے قاعدے کے بموجب جمع بنانے لگے، تو حرف ثانی کی حرکت کو حذف کر دیا۔ محل کی جمع بنی محلوں، حائے حطی کی حرکت غائب، اسی طرح نظر کی جمع بنی نظروں نہ کہ نظَروں۔ اگر انہوں نے فارسی اور عربی یا سنسکرت کے لغات کی اندھی تقلید کی ہوتی تو اردو کو یہ لغاتی تمول ہرگز نصیب نہ ہوتا۔ اب جو کوئی ’’ازا حۃ الاغلاط‘‘ یا ’’تصحیح اللغات‘‘ وغیرہ کا نام لے، تو سمجھ لو کہ وہ اردو کا اہل نہیں۔صفات میں بھی ایسے مرکب وضع کئے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کن الفاظ میں ان کے ذہن رسا اور جدت آفرینی کی توصیف کرے۔ سیتلا منہ داغ اور سیتا ستی کو ملاحظہ فرمایئے۔ اس مرکب توصیفی کو سیتا ستی کے معنوں میں لکھا گیا ہے، ’’ہندی مسلمان عورت۔‘‘ یعنی یہ مرکب مسلمان عورتوں کے استعمال سے خصوصیت رکھتا ہے۔ اس کے معنی ہیں، ’’عفیفہ بیوی زن، جس کے دامن پر نماز جائز ہو۔‘‘ یہ معنی وہ ہیں جو مسلمان مؤلف اس لغت کے سامنے لکھتا ہے۔صفت نسبتی میں انہوں نے نہایت دلچسپ تصرف سے کام لیا۔ تاریخ فیروز شاہی آپ نے دیکھی ہے۔ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کا مصنف ضیا برنی ہے۔ جغرافیہ کے بڑے بڑے ماہر سے پوچھئے کہ برن کہاں واقع ہے۔ وہ سویٹزر لینڈ کے نقشے میں تو ایک برن آپ کو بتا دے گا لیکن ہندوستان کے نقشے میں یہ مقام معدوم رہے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ بلند شہر کا قدیم نام برن ہے۔ انہوں نے قصبہ کا نام تو بدل دیا مگر صفت نسبتی کو برنی رکھا، بلند شہری نہ بنایا۔ اس کا دوسرا رخ بھی دلچسپ ہے۔ آگرہ کا نام اکبر آباد نہ پڑ سکا۔ اکبر کے عہد کے قبل سے سب آج تک آگرہ ہی کہتے ہیں لیکن شاہ نظیر اکبر آبادی کہلاتے ہیں۔ دہلی شاہجہاں آباد تو بن گئی لیکن اس کے شاعر دہلوی ہی رہے۔ بات یہ ہے کہ ان کا تصرف مصلحت اور حس مشترک پر مبنی تھا، ضد اور استبداد پر نہیں اور ان کے نظریے معقولیت پر مدون تھے۔ذرا غور فرمایئے کہ ان بزرگوں کی ذہنیت کتنی دقیقہ رس اور نکتہ پرور ہوگی، اور ان کے تصرف لسانی کی قوت عمل کتنی زبر دست ہوگی جو بخشنا، خریدنا اور آزمانا، بدلنا، فرمانا وغیرہ مصدر ترکہ میں چھوڑ گئے۔ مختصر یہ کہ اردو کے متقدمین نے اس کی تدوین و تنظیم میں جو مسالا ان کے سامنے تھا، اس سے بہترین کام لیا جس کی بدولت زبان کو مستقل اور قائم بالذات حیثیت حاصل ہو گئی۔ تصرف لسانی کے معنی صرف اپنانا نہیں بلکہ اپنا سا بنا لینا ہیں۔ آپ نے دیکھا عربی لفظ ’’بدل‘‘ کو لے کر بدلنا مصدر بنایا۔ اب اس کی، فعل کے ہر زمانے اور صیغے میں گردان ہو سکتی ہے۔ یہیں تک نہیں حاصل مصدر بنا ’’بدلی‘‘ تابع مہمل بھی اس کے ساتھ ملایا گیا۔ جیسے ا دل بدل۔ مختصر یہ کہ اس کی وہی حیثیت ہو گئی جو آنا، جانا، کھانا، پینا کی تھی۔انگریزی میں یہ عمل اب تک جاری ہے، اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ وہ زبان برابر ترقی کرتی رہی ہے۔ لوٹ انہوں نے ہمارے ہاں سے لیا، اور ایساا پنا سا بنا لیا کہ فعل کی گردان میں ٹولو اور ٹولوٹ بالکل یکساں ہیں۔ چارلس ڈکنس جیسے مستند مصنف نے یہ لفظ استعمال کیا ہے اور پھر ہمارے لٹیرا کی جگہ لوٹر بنا لیا۔ حال ہی میں ایک لفظ انگریزی میں داخل ہوا ہے۔ ہڑتال سے انہوں نے ہڑتالسٹ بنا یا، اور جمع کے لئے ’س‘ پر ایزاد کیا جیسا کہ انگریزی گریمر کا قاعدہ 2 ہے۔ میرا مطلب تصرف سے یہ ہے۔پچاس برس کا مشاہدہ اور تجربہ جو منظر ہمارے سامنے پیش کرتاہے، حسرت ناک اور مایوس کرنے والا ہے۔ یہ دیکھ کر جی ڈوبتا ہے کہ اس نصف صدی کی مدت میں ہم نے اردو کی لغات میں کوئی ایزادی نہیں کی۔ یعنی اس بارے میں اردو کا ترکیبی فعل گویا معطل ہو گیا۔ چند اصطلاحیں جیسے ’’برقانا‘‘ وغیرہ ضرور وضع کی گئیں اور ’’بھروٹ‘‘ جیسے چند دیسی لفظ اردو میں ضرور لے لئے گئے ہیں لیکن یہ سب علم و فن کی اصطلاحیں ہیں۔ اور پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ ان کے وضع یا اختیار کرنے والوں کو کیا کہا گیا۔غیر زبانوں سے جو لفظ بلاضرورت بجنسہ اردو میں آئے، ان میں سے اکثر نا خواندہ مہمان کی طرح اردو کی سبھا میں اوپر ے معلوم ہو رہے ہیں، اس ضمن میں آگے چل کر کچھ عرض کیا جائے گا۔سیاسیات کی مانند لسانیات میں بھی سخت جان ہوا کرتے ہیں۔ یہ سخت جان ان سخت جانوں سے مختلف ہیں جن کی سوانح عمریاں غزل کے اشعار میں بکھانی جاتی ہیں۔ ان کا استبداد اور سخت گیری زبان کی ترقی اور توسیع کے مزاحم اور جانی دشمن ثابت ہوتے ہیں۔ ہر زبان ان حضرت سے تنگ ہے۔ کہاں اللہ بخشے، وہ بزرگ جن کا قول تھا برقع چونکہ ہماری زبان میں الف سے نکلتا ہے، اس لئے بجائے عین کے الف سے لکھنا چاہئے اور کہاں یہ حضرت جو تصرف لسانی کے نام سے بھویں تانتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اردو میں خود رفتہ نہیں بلکہ از خود رفتہ استعمال کرنا لازم ہے۔ جواب دیا گیا کہ ’سرگزشت‘ کی سر گذشت تو ذرا بیان فرمایئے۔یہ اسی قسم کی موشگافی اور ماخذ پرستی ہے۔ جیسی انگریزی میں Reliable کے متعلق انگلستان کے ادبی سخت جانوں کی طرف سے ظہور میں آئ تھی، ذرا سنیئے بڑے لطف کی بحث ہے۔ اس لفظ کے معنی ہیں اعتبار کے قابل۔ اعتراض ہوا کہ ایک لفظ ٹرسٹ وردی Trustworthy پہلے موجود ہے تو پھر زبان کے نازک اندام پر اور بوجھ کیوں لادا جاتاہے۔ اس کا شافی جواب ملا یعنی ثابت کر دیا کہ پرانا لفظ نئے لفظ کے نفس معنی کا حامل نہیں۔ تو ارشاد ہوا، چونکہ یہ نیا مرکب لفظ Rely سے بنا ہے اور اس فعل کے بعد التزاماً حرف جارOn آیا کرتا ہے۔ اس واسطے اس مرکب کو Relionable کہو۔ سب جانتے ہیں جو حشر اس غلط استدلال کا ہوا۔ لفظ ریا لیبل اس وقت انگریزی کے معتبر کلمات میں سے ہے۔ارشاد ہوتا ہے کہ لفظ رہائش غلط ہے۔ اردو مصدر رہنا سے فارسی طریق پر حاصل مصدر بنا لیا۔ معترض کی ناواقفیت پر ہنسی آتی ہے کہ اس نے اس لفظ کی تاریخ تحقیق کرنے کی زحمت نہ اٹھا کر اس کے اختراع کی تہمت ایک صوبہ کے سر تھوپ دی، جو اس بارے میں قطعاً معصوم ہے۔ جاننا چاہئے کہ سید انشا نے بالکل معمولی طور پر ناچ، اکٹر وغیرہ کے ساتھ اس لفظ کو لکھا ہے۔ اس بے نظیر ادیب اور اہل نظر نقاد کے قلم سے پورب، پچھم، اتر، دکھن کوئی نہ بچا، اور مغل پورہ کی زبان اور لہجے پر تو بے پناہ حملے ہوئے ہیں۔ اگر یہ لفظ مغل پورہ کی جدت آفرینی یا بد مذاقی کا مولود ہوتا تو سید انشا اس کو ایک سادھا رن لفظ کی طرح ہرگز نہ لکھ جاتے۔ 3زبان کی قوت اشتقاق و اختراع اور سلیقہ ترکیب کا ذکر آگے آ چکا ہے۔ یہاں چند مرکبات پیش کئے جاتے ہیں، جو اردو کی قوت حیات اور فعل ترکیبی کی صلاحیت کا بین ثبوت ہیں، ملاحظہ ہو،منہ پھٹ، ہتھ چھٹ، ہری چگ، نین موتنی، چمکو کھاؤ، لٹاؤ بڑ بڑیا، کچ پیندیا، نکھٹو، تلوریا، گلچلا، کھاؤ، گھپ، لنگوٹیا یار، ہنس مکھ، گلچھرے، کٹھ پتلی، چم چچڑ، تل چاولی، گنگا جمنی، رونی شکل، ماما پختیاں، تھڑدلا، گرہ کٹ، جیب کترا، کلے باز، شور بے چٹ، منہ زور، جوشیلا، دل لگی، کمر کس، اگن بوٹ، قبول صورت، ڈل مل یقین، ایماندار، درشنی جوان، بیکل، ٹکڑ گدا، گھنچکر وغیرہ وغیرہ۔آپ نے دیکھا کہ تصرف و اختراع کے ہاتھ سے عربی، فارسی اور نیز سنسکرت کوئی زبان نہ بچی۔ ان الفاظ میں جو مرکبات ہیں، ان میں اسم اور فعل، اسم اور صفت، اسم اور اسم ہر قسم کے کلموں کو آپ شیر و شکر پائیں گے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب زبان کا بلوغ درجہ کمال پر ہو۔ بقول خواجہ آتش مغفور،یہ باتیں ہیں جب کی کہ آتش جواں تھا۔میں کہتا ہوں کہ اردو کو آریہ زبان ہونے کے باوجود نہ سنسکرت کا حلقہ بگوش بنانا چاہئے، نہ فارسی یا عربی کا دست نگر، علمی اصطلاحوں کا معاملہ دوسرا ہے جس کو بحث بنانے کا موقع نہیں۔اس سے کس کو انکار ہو سکتا ہے کہ شعر کی زبان نثر کی زبان سے اور بول چال کی زبان علمی تصنیف کی زبان سے ممیز ہوا کرتی ہے۔ یہ کون کہتا ہے کہ فلسفہ مابعد طبعیات یا اسلوب تحلیلی کے نظریے پر باغ و بہار یا فسانہ آزاد کی زبان میں کتابیں تصنیف ہونی چاہئیں۔ علمی زبان روز مرہ سے اسی طرح مابہ الامتیاز بنی ہے جس طرح ڈریس سوٹ، رائڈنگ سوٹ سے کوئی صحیح حواس رکھنے والا شخص کھانے کی پوشاک پہن کر سواری کو نہیں نکلتا لیکن وہ سواری کی پوشاک پہن کر شام کی پوشاک کی ہولی بھی نہیں مناتا۔ یہ تمثیل میں آگے نہیں لے جاؤں گا۔عہد حاضر کے ایک جید لسان یعنی عالم لسانیات کا قول 4 ہے کہ تحریری، علمی زبان کی ہستی کو یخ کی اس پپڑی سے تشبیہ دے سکتے ہیں جو دریا کی سطح پر بن گئی ہو۔ یخ نے اپنے اجزائے ترکیبی دریا سے لئے، حقیقیت میں یہ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ دریا کا پانی ہے، پھر بھی اسے دریا نہیں کہہ سکتے۔ ایک بچہ اسے دیکھ کر سمجھتا ہے کہ د ریا نیست و نابود ہو گیا لیکن یہ صرف دھوکہ ہے۔ یخ کی پٹری کے نیچے پانی برابر بہہ رہا ہے یہ تمثیل جو فاضل وینڈر یاس نے دی، فرانسیسی زبان پر صادق آتی ہوگی، اردو پر عائد نہیں ہو سکتی۔ یہاں علمی تحریری زبان کو اس دریا سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی، جس کی سطح جم کر یخ کی پپڑی بن گئی ہو۔ یخ کے کڑاڑے یا بر فانی چٹان کو دریا نہیں کہہ سکتے حالانکہ تینوں کے وجود کی بنا پانی ہی پانی ہے۔ممکن ہے کسی ذہن میں یہ سوال اٹھے کہ اگلے زمانہ میں علمی یا تحریری زبان کیا تھی یا تھی ہی نہیں؟ میں عرض کروں گا کہ تھی، نمونہ حاضر ہے۔تار برقی کا سلسلہ صوبہ شمال مغربی یا زیادہ صحت کے ساتھ کہیئے، صوبہ آگرہ میں نیا نیا تھا۔ آج کل آپ تلغراف کو ترجیح دیں گے، اس زمانہ میں اسے ڈاک بجلی کا نام دیا گیا تھا۔ علمی زبا ن میں تار مخبر کہر بائی کہتے تھے۔ فروری 1856 کا ذکر ہے، آگرہ میں ایک جلسہ ہوا جس میں ایک ہزار سے زیادہ رئیس اور شرفا جمع ہوئے۔ قاضی صفدر علی نے تار مخبر کہربائی کا تجربہ دکھاتے ہوئے ایک تقریر کی، جس کو اردو میں سائنٹیفک موضوع پر شاید اولین تقریر کہنا درست ہوگا۔ اس کا جستہ جستہ خلاصہ جسے آج کل کی زبان میں ملخص کہنا چاہئے، پیش کیا جاتا ہے۔ غالباً دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔’’صاحبو! علم دو قسم کے ہیں، اول وہ جن کو انسان بدون مشاہدہ اور استعمال اجسام کے حاصل کر سکتا ہے، اس کو ریاضی کہتے ہیں۔ دوسرے وہ جس کا جاننا بغیر تجربہ کے نہیں ہو سکتا کیونکہ فرض کرو ایک شخص پیدا ہوا اور اس نے کچھ بھی گرم سرد زمانہ کا نہیں دیکھا۔ ایک اندھیرے کمرے میں رہتا ہے، تو وہ عقل سے ریاضی کے اصول دریافت کر سکتا ہے کہ ایک اور ایک دو ہوتے ہیں، مگر چونکہ اس نے اجساموں کے تجربے نہیں کئے۔ اس واسطے وہ نہیں جان سکتا کہ اگر پتھر کو پانی میں ڈالیں، تو وہ گھلے گا یا نہیں۔ وہ علم جو تجربہ پر منحصر ہیں ان کی قسموں میں سے ایک قسلم علم طبعی ہے۔ یہ علم بہت سے علموں کے واسطے حاوی ہے۔ چنانچہ منجملہ علوم طبعی کے ایک علم کہربائی ہے۔کہربا ایک سیال لطیف ہے جو جہاں کے تمام اجساموں میں بہ مقادیر مختلفہ پھیلی ہوئی ہے اس کے چند اوصاف مخصوصہ ہیں جن سے حوادث عجیبیہ اور فوائد غریبہ سر زد ہوتے ہیں۔ یہ علم بذاتہ دو قسموں پر منقسم ہے اول وہ کہربا جو رگڑنے سے پیدا ہوتی ہے، دویم وہ کہربا جو چھونے سے پیدا ہوتی ہے۔‘‘آپ نے تین چوتھائی صدی پہلے کی علمی زبان ملاحظہ فرمائی۔ یہ تو ہوئی بہتے دریاکی سطح پر برف کی پپڑی۔ آج کل کی زبان جیسی کچھ ہے، آپ جانتے ہیں۔ اس کو کہنا چاہئے انجماد خالص، صاحب زبان خواہ کسی نوع کے موضوع پر لکھے، وہ زبان کو یخ کے کڑاڑے اور برف کی چٹان کے نیچے دفن نہیں کرے گا۔ترجموں کی زبان بھی اسی بھول بھلیاں میں چپر غٹو ہے۔ ایک بات اسی ضمن میں عرض کروں گا، ڈاکٹر نذیر احمد مرحوم نے تعزیرات ہند کا ترجمہ کیا اور اسی شان کا کیا جس شان کی اصل کتاب تھی۔ اس ترجمہ میں جہاں آپ کو استحصال بالجبر اور تخویف مجرمانہ جیسے اصطلاحی فقرے ملیں گے جو مرحوم کی دقت نظر اور اختراعی کمال کا ثبوت ہیں۔ ٹھیٹھ اردو کے مثالیں بھی ملیں گی جن کی اصطلاحی اہمیت قانون میں کسی لاطینی اصطلاح سے کم وقعی نہیں مثلاً ’’لے بھاگنا‘‘ اور ’’بھگا لے جانا‘‘ وغیرہ۔ یہ وہی مرکب مصادر یا افعال کی طلسم کاری ہے جس کی طرف پہلے اشارہ ہو چکا ہے۔وہ اردو کیا جب تک قاموس اور برہان، امر کوش اور شبد کلپدرم داہنے بائیں تشریف فرما نہ ہوں، ایک تحریر کا معنی مدعا سمجھ ہی میں نہ آ سکے۔ یہ تو ہوئی ایک بات اور میں ان مہربانوں کی خاطر سے کہہ دوں گا، اس کا مضائقہ ہی کیا ہے لیکن زبان کی بہبودی ان کی یا کسی کی خوشنودی پر فوقیت چاہتی ہے۔ میں اس موقع پر لسانیات کا نہایت وقیع اور مہتم بالشان اصول موضوعہ آپ کی توجہ کے لئے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ جب کسی زبان کو دوسری زبانوں سے الفاظ یا مرکبات لینے کا لپکا پڑ جاتا ہے اور وہ انہیں بلا چوں و چرا یعنی اپنے طور پر تصرف کے بغیر استعمال کی عادی ہو جاتی ہے تو اس کی تصریفی قوت اختراعی قابلیت اور اشتقاقی اہلیت زائل ہو جاتی ہے۔متاخرین اور ان سے بڑھ کر ہمارے معاصرین نے یہ نہ سوچا کہ وہ جو اور زبانوں کی لغات اندھا دھند لئے جاتے ہیں اس کا نتیجہ ان کی زبان کے حق میں کیا ہوگا۔ میں پھر کہتا ہوں کہ پچھلے پچاس برس میں اردو میں ایک لفظ، ایک مرکب یا ایک محاورہ بھی وضع یا اختراع نہیں ہوا۔ بزرگوں کی کمائی کہاں تک ساتھ دے گی، زبان کا تصریفی اور اشتقاقی عمل معطل ہو رہا ہے۔ یہی حالت رہی تو یاد رہے کہ یہ تعطل سقوط کی صورت پکڑ جائے گا اور اب سے دور ہماری زبان آئے دن بھیک کا کاسہ ہاتھ میں لئے اور زبانوں کے دروازے پر الکھ جگاتی پھرا کرے گی۔ مانگے تانگے کی خوش باشی اور قرض پر دھوم دھام کو تمول نہیں کہتے۔اگلے موقع پر آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا تھا کہ متکلم یا منشی کی او ر سامع یا مخاطب کی با ہم ذہنی قربت ہی روح فصاحت ہے۔ آج میں یہ گذارش کروں گا کہ یہ ذہنی قربت لسانی تربیت کی محتاج ہے۔ محض ابتدائی مدارس کو رہنے دیجئے اور مدارس ثانوی کے نصاب تعلیمی پر نظر ڈالئے تو آپ پر ظاہر ہوگا کہ ان مدارس کے لئے جو اردو نصاب مدون ہوتے ہیں، سائنٹفک نقطہ نظر پر راجع نہیں ہوتے ہیں۔ فوراً یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہاں میرا روئے سخن دکن کے مدارس ثانوی کے اردو نصاب سے ہرگز نہیں۔ میرا تجربہ ہندوستان کے دوسرے حصوں تک محدود ہے لیکن یہ چونکہ اصولی امر ہے اس لئے اس کا تذکرہ ضروری سمجھا گیا۔ میں امید کرتا ہوں آپ میرے ہم خیال ہوں گے۔ اس بارے میں کہ جو بچے مدارس ثانوی میں داخل ہوتے ہیں ان کو فصیح و سلیس اردو میں تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔اس میں بھی آپ کا اتفاق ہوگا کہ فصیح اور نکھار اردو میں اثر اور ترنم بھرا ہوا ہے۔ اصطلاح میں جسے روز مرہ کہتے ہیں، اس پر زور دینا مفید نہ ہوگا کیونکہ اس کے ساتھ صوبیت اور مقامیت تشریف لے آتے ہیں۔ بچے کے ذہن میں شروع سے ہی اختلاف اور تناقص کے جراثیم ڈال دینا اس کی آئندہ ادبی زندگی کے لئے سم قاتل کا حکم رکھتا ہے۔ ان کو ایسی زبان میں تربیت کرنا چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسیوں، اپنے شہر یا قصبے والوں کو اور ان لوگوں کو جو اردو سمجھتے اور جانتے ہیں، اپنا مطلب سمجھا سکیں۔ ابتدائی تعلیم میں نوخیز طلبا کی ذہنی تربیت کا خیال رکھنا نہایت اہم ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ ابتدائی عمر میں ابداع و اختراع کی اپج کمال کی ہوتی ہے۔ جنہوں نے بچوں کے کھیل کود اور ورزش کے مقاموں میں چند لمحے توجہ سے گزارے ہیں وہ تسلیم کریں گے کہ بچے آپس کی پھبتیوں، جوش و خروش کے مکالموں اور فی البدیہ تک بندیوں میں ایسی ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں اور ایسی ایسی ترکیبیں گڑھ لیتے ہیں کہ آپ حیران رہ جاتے ہیں اور نہایت محظوظ ہوتے ہیں۔ اختراع کی یہ قوت اپنے وقت پر ہنسی کھیل سے منتقل ہو کر علم و فضل اور تحقیق و تفحص کے میدان میں مستعمل ہونی چاہئے، نہ کہ وہاں کی وہیں رہ جائے۔ اس لئے لازم ہے کہ ابتدائی اور ثانوی تعلیم ایسی اردو میں ہو کہ طلبا کے تخیل اور قوت اختراع کی یہ مزاحم نہ ٹھیرے۔ یہ تربیت جبھی ہو سکتی ہے کہ اردو الفاظ کے ٹھیٹھ معنی اور وضعی مصرف کو ان کے ذہن نشیں کر دیا جائے اور جملہ کی ترکیب و انشا کا اصول ان کے لوح دل پر نقش ہو جائے۔ اسے کہنا چاہئے زبان متداولہ کی تعلیم۔ اس لسانی استعداد کے حاصل ہونے کے بعد ادب یعنی لٹریچر کی تعلیم کی نوبت آتی ہے۔زبان سے متعلق بہت سے امور ایسے ہیں جنہیں متوسطین نے متنازعہ فیہ یا تصفیہ طلب چھوڑا، وہ ابھی تک لٹک رہے ہیں۔ ایک تذکیر وتانیث ہی کو لیجئے۔ میرا مطلب اس بارے میں اس اختلاف سے نہیں جو ایک مقام یا زمرے کو دوسرے مقام یا زمرے سے ہے۔ اس جگہ غیر ذی روح اسموں کی تذکیر و تانیث کا سوال نہیں اٹھایا جائے گا۔ میں کہ کہنے کو ہوں کہ ہماری بے بسی اور بے بضاعتی کتنی شرم کے قابل ہے کہ ہم ابھی تک یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ جنسیت کے بارے میں کلمہ ربط کس کا متبع ہو۔ مبتدا کا یا خبر کا؟ ذوق اور غالب نے اس تنقیح کو جہاں جہاں چھوڑا تھا وہیں موجود ہے۔ وہ دونوں استاد جب اس کے تصفیہ میں قاصر رہے تو ہم میر فیصلی کہاں کے! ہمارا یہ انداز معلوم ہوتا ہے۔ ذوق مرحوم کا قول ہے،دریائے غم سے میرے گذرنے کے واسطےتیغ خمیدہ یا رکی لوہے کا پل ہوااس شعر میں کلمہ ربط جنسیت میں خبر کا متبع ہے۔ مرزا غالب کا ارشاد ہے،باغ میں مجھ کو نہ لیجا ورنہ میرے حال پر ہر گل تر تو ایک چشم خوں فشاں ہو جائے گایہاں کلمہ ربط مبتدا کا تابع رکھا گیا ہے۔ اس ایک ادنیٰ مثال سے آپ قیاس کر سکتے ہیں کہ زبان کی یہ گڑبڑ کتنی منحوس ہے اور یہ آج تک شامت اعمال کی طرح ہمارے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ ا س کے نتائج و عواقب کی شدت ثبوت کی محتاج نہیں۔ آپ دیکھتے ہیں، یہ وہ بات نہیں جو فرض کیجئے دہلی اور لکھنؤ یا پنجاب اور پٹنہ کے درمیان ایک امر تنقیح کا حکم رکھتی ہو۔ بلکہ یہ وہ امر ہے جو زبان کی یگانگی اور ہم آہنگی کا مدعی ہے۔ جب تک ایسے نقص ہم میں موجود ہیں اور جب تک یہ نا مراد تشخص ذاتی سادھا رن اور کار آمد انفرادیت کا رنگ پکڑ کر اپنے تئیں اجتماعیت میں جذب اور محو نہیں کر دیتا ہماری زبان کا بس اللہ والی ہے۔انگلستان تو اب انگریزی زبان کے بارے میں ’’امریکنزم، اور یانکی ازم یعنی امریکیت کو بھول گیا جس طرح پہلے سکاٹرزم یعنی سکاٹیت کو بھول گیا تھا لیکن ہم اب تک وہی بے وقت کی راگنی الاپے جاتے ہیں۔ہم کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہم اردو کے واحد مالک نہیں بلکہ امین ہیں، وہ ایک ودیعت، ایک امانت ہے جو حفاظت اور ترقی کے لئے ہمیں سونپی گئی۔ وہ ایک جدی جائداد ہے جس کی ملکیت ہمیں پر ختم ہونے والی نہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ماضی سے سبق لے کر اس کی موجودہ حالت کا صحیح موازنہ کریں اور اسے ایسا بنا جائیں کہ ہمارے بعد آنے والے ہم کو دعائے مغفرت سے یاد کریں۔ یاد رہے کہ ہم ماضی اورمستقبل کے درمیان ایک کڑی ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ذاتی پسند اور چاؤ چونپ کو اجتماعی مفاد پر قربان کر دیں۔ ہمارا مطمح نظر مستقبل اور آئندہ ضروریات ہوں نہ کہ ذاتی تشخص اور خود پسندی۔\n\nحاشیے\n\n(1) میں نے اس حصہ ملک کو جو دریائے گنگا جمنا کے بیچ واقع ہے، دو آبہ گنجم نام دیا ہے۔\n\n(2) دیکھو ٹائمز آف انڈیا ہفتہ وار مطبوعہ25 جنوری 1931ء صفحہ 19\n\n(3) رسالہ صبح امید، لکھنؤ بابت دسمبر1919ء ص3، 13 اور دریائے لطافت ص113۔\n\n(4) Venders, J. Language A-Linguistic Introduction to History , Paris University , p. 275", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AA"} {"title": "اردو لٹریچر کا نفس واپسیں", "poet_page": "مصنف:مہدی افادی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اگر اردو لٹریچر کی ارتقائی تاریخ جہاں تک نثر سے تعلق ہے کبھی لکھی گئی تو جو مرقع دفعتاً آنکھوں کے سامنے آئے گا وہ طبقۂ اول کے لکھنے والے ہوں گے جن کو میں نے ’’عناصر خمسہ‘‘ کی حیثیت سے کہیں دکھایا ہے اور جو سرسید کے زمانہ سے پیدا ہوئے۔ آزاد کی زبردست شخصیت گو ایک حد تک سرسید کی تبلیغ سے بے نیاز معلوم ہوتی ہے، لیکن یہ کیا کم ہے کہ ہم عصری کی عزت ان کو بھی حاصل تھی اور مذاق سخن کے لحاظ سے وہ ادھر جھک پڑے جو سرسید کے لٹریچر کا خاصۂ امتیازی تھا۔ نذیر احمد جس حد تک مستغنی رہ سکے ان کے خیالات ومقالات کا بہت بڑا حصہ خود اس فیصلہ کے لئے کافی ہے، رہے حالیؔ وشبلی، کچھ شک نہیں کہ یہ تمام تر سرسید کے پیدا کردہ ہیں۔\n\nمیں اس وقت طبقۂ ثانی کے اہل قلم سے قطع نظر کئے لیتا ہوں جو میرے دائرہ تحریر کے موضوع سے الگ ہیں، ورنہ اردو لٹریچر جب تک باقی ہے، ریاضؔ، احمد علی شوقؔ، شررؔ اور سرشارؔ ہمیشہ محبت آمیز عزت کے ساتھ یاد کئے جائیں گے۔ موجودہ لٹریچر کی خلاقی میں یہ داہنے ہاتھ نہ سہی بائیں ہاتھ کی حیثیت قطعاً رکھتے ہیں، آج ریاضؔ اور شوقؔ کی لطافت نثر گذشتہ تاریخ کا ایک بھولا ہوا سبق ہے، لیکن کل کی بات ہے جب یہ دونوں اپنے وقت کے بہترین پرچوں میں داد سخن دے رہے تھے۔ آئندہ دنیا ان کو زیادہ سے زیادہ مٹی ہوئی شاعری کی حیثیت سے جانے گی، لیکن سچ یہ ہے کہ نظم کے ساتھ یہ نثر کے بھی ’’آقا‘‘ تھے۔\n\nدونوں جوان تھے، جو بنوں پر آئی ہوئی زبان بھی پری بنی ہوئی تھی۔ ’’صحافت‘‘رہ رہ کر جنبش قلم کی بلائیں لیتی تھی، عورت کیسی ہی نازک ہو لیکن چھڑوں کی دھیمی آواز میں جو کیفیت ہے اونچی ایڑی کے بوٹ کی کھٹ کھٹ میں نہیں، آج کل کی کھڑی اردو کے مقابلہ میں ان کی زبان میں ایک خاص لچک اور نزاکت تھی، شستہ، رفتہ، محاورات کی برجستگی اور موقع موقع سے روز مرہ کی پیوندکاریاں کس طرح دکھاؤں، دل کی بے چینی سطح کاغذ پر پھیلتی جاتی ہے، لیکن حق ادا نہیں ہوتا۔ مختصر یہ کہ جس طرح دل نہیں رہے، دلوں کے اکسانے کا سامان نہیں رہا۔ زمانہ کی ترقی کے یہ معنی ہیں کہ بعض اجزا ساتھ ہی ساتھ اس طرح مٹتے گئے کہ بجھے ہوئے چراغوں کی طرح کہیں پڑے ہیں، لیکن جو آنکھیں برقی خیرہ گری کی عادی ہورہی ہیں انھیں فرصت وذوق کہاں کہ ایک نگاہ ادھر بھی ڈالیں۔ شررؔ وسرشارؔ کی نسبت کچھ کہنا نہیں چاہتا کہ یہ اپنی بقا کے آپ ضامن ہیں، یعنی ایسی لائق رشک ہستیاں رکھتے ہیں جو مرنے کے بعد بھی فنا ہونے والی نہیں۔\n\nمیں پھر سلسلہ سے علیحدہ جا پڑا، ہاں تو کہنا یہ تھا کہ طبقۂ اول کی پاک روحوں نے جو سرمایہ ہمارے لئے چھوڑا ہے وہ کتنا ہی لائق ادب ہو، لیکن سوال یہ ہے ان کے مرتبہ کے لحاظ سے اس کی کیا حالت ہے، یعنی ہرمصنف نے اپنی تصنیفات میں کہاں تک اپنا درجہ قائم رکھا؟\n\nیادش بخیر، شبلی کے سوا مجھے خوف ہے، سب کم و بیش وہ نہیں کر سکے جو ان کی قابلیت کا بہترین مصرف تھا۔ پروفیسر آزادؔ کی فارسیت اہل زبان سے دبتی ہوئی نہیں تھی لیکن وہ اپنی نہایت قیمتی تالیف یعنی ’جامع اللغات‘ کی تکمیل نہ کرسکے جو ان کی ساری عمر کی کمائی تھی، اسی طرح ’’تذکرۂ شعرائے فارسی‘‘ بھی جو خاص ان کے مذاق کی چیز تھی، مسودہ سے آگے نہ بڑھ سکا۔\n\nمولانا نذیر احمد کو اپنی اعلیٰ درجہ کی عربیت کے ساتھ ’’قاموس الاسلام‘‘ (انسائیکلو پیڈیا) کے لکھنے کا خیال نہ آیا، وہ اس پیمانہ کو گھٹا کر کم سے کم ’’لغات الاسلام‘‘ لکھ سکتے تھے اور یہ پھر بھی ایسی چیز ہوتی کہ یورپ اپنی فلسفیانہ تحقیق و تدقیق کے ساتھ ان سے آگے نہیں جاسکتا تھا، آئندہ نسلوں کے لئے یہ قیمتی وراثت موصوف کی باقی رہنے والی یادگاروں میں سب سے زیادہ پیش پیش ہوتی۔\n\nحالیؔ، خوش صفات حالیؔ سے ہم کو چنداں شکایت نہیں، ’’مسدس‘‘ کے بعد ’’مقدمۂ دیوان‘‘ اور ’’حیات جاوید‘‘کے سوا اگر یہ کچھ نہ لکھتے تو ان کی بقا کے لئے اس سے زیادہ ضرورت نہیں تھی، گو اس کا افسوس ہے کہ ان کی صحت اور عمر نے موقع نہ دیا کہ ان کی وسیع المشربی اور فلسفیانہ نکتہ سنجیاں ان کے نتائج افکار کی تعداد میں کچھ اور اضافہ کرتیں، جس کی اس لئے زیادہ ضرورت تھی کہ ان کے بعد ان کے رنگ میں کوئی قلم اٹھانے والا معلوم نہیں ہوتا۔\n\nخاتم المصنفین شبلی نے ہمارے لئے کم وبیش ۵ ہزار صفحوں کا ذخیرۂ ادب چھوڑا ہے، یہ لٹریچر کی وہ قیمتی صنف ہے جسے آج کل کی اصطلاح میں ’’تنقیدات عالیہ‘‘ (ہایر کریٹی سزم) کہتے ہیں، آپ لوہے کے چنے کہئے،، اور میرا خیال ہے اسلام کے متعلقات میں اتنا بڑا سرمایہ اور وہ بھی اس قدر گراں مایہ کسی زبان میں موجود نہیں ہے، شبلی میں ایک خاص طرح کا مادۂ اختراعی تھا۔\n\nوہ ایک ہی وقت میں اعلیٰ درجہ کے مؤرخ، اعلیٰ درجہ کے ناثر، اعلیٰ درجہ کے شاعر، غرض مشرقی زبان میں مختلف اصناف سخن کے پورے مالک تھے اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ یورپ کے مستشرقین کی طرح ان کا معیار تصنیف اتنا بلند تھا کہ میرا خیال ہے کہ سیکڑوں برس بعد بھی ان کی تصنیفات ٹکسال باہر نہیں ہوں گی، ایسا جامع حیثیات مصنف غالباً اب پیدا نہیں ہوگا، ان کے تفصیلی کارنامے انشاء اللہ ’’دار المصنفین‘‘ دکھائے گا لیکن مرحوم نے سب کچھ کیا، آنحضرتؐ کی لائف کی تکمیل نہ کر سکے جس کا داغ ہمارے ساتھ وہ بھی لیتے گئے، اسی طرح مسلمانوں کی عام تاریخ نہ لکھی جس کی سخت ضرورت تھی، نہ ’’شعر العجم‘‘ کی طرح عربی لٹریچر کی تاریخ لکھنے کی نوبت آئی اور سلسلے بھی نام تمام رہے، جن کی تکمیل اب قیامت تک ہو چکی!\n\nبات یہ ہے کہ جب ہمارے ہاں محرکات میں اس کے سوا کچھ نہ ہو کہ ’’ہرفعل خود اپنی مکافات ہے۔‘‘ تو ان اساتذہ سے جو کچھ ہمیں ہاتھ آیا وہ بھی ہمارے استحقاق سے کہیں زیادہ تھا۔\n\nعلی گڑھ ایک تاریخی قوم کی مرکزیت کا مدعی ہے، لیکن لاکھوں روپیہ خرچ کرنے کے بعد بھی قوم نے کوئی دائرۃ التالیف قائم نہیں کیا، نہ ان عناصر کو جن کے نام بار بار گناتا رہتا ہوں، وہ کبھی تصنیف و تالیف کے لئے ایک جا کر سکا، اردو لٹریچر کا اطلاق صحیح معنوں میں صرف انھیں حکمائے ادب کی دماغی پیداوار پر ہو سکتا ہے، اگر آپ کو اس سے اتفاق نہ ہو تو اسے اپنی قاصر النظری اور قوم کی ’’شامت اعمال‘‘پر محمول کیجئے، جس کو اتنا بھی احساس نہیں کہ تصنیفی دور آخری تاجدار سخن یعنی شبلی کے ساتھ ہمیشہ کے لئے پیوند خاک ہو گیا۔\n\nسب تو سب، حیدرآباد سی شائستہ ریاست کو یہ خیال نہ آیا کہ سید علی آزادؔ، نذیر احمد اور حالیؔ و شبلی کو جن میں آزاد کے سوا سب اس کے خوان نعمت کے خوشہ چیں تھے، صرف تصنیف و تالیف کے لئے وقف کردیا جائے۔ یہ لوگ معقول وظیفوں پر ایک جگہ رکھے جاتے اور یہ طے کیا جاتا کہ لٹریچر کی فطری ضروریات کے لحاظ سے کون کون کام ترتیباً زیادہ اہم ہیں اور ان پر عالمانہ کتابیں لکھوائی جاتیں۔ سید علی سا ہمہ داں جہاں موجود ہو، وہاں ’’اکبری نورتن‘‘ کی طرح ’’پنجتن آصفی‘‘ کا عالم موجود میں نہ آنا ایک ایسی بدنصیبی ہے جس کی تلافی اب کبھی نہیں ہوسکتی۔ ’’سلسلہ آصفیہ‘‘ اگر برائے نام نہ ہوتا اور فرمانروائے وقت کو کچھ بھی دلچسپی ہوتی تو دنیا دیکھ لیتی کہ ’’عہد عباسیہ‘‘ جہاں تک ادبی فتوحات کا تعلق ہے، نئے سرے سے واپس آ گیا ہے، لیکن گذری ہوئی بات کا رونا کیا، میں پھر یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ملک کا تصنیفی دور ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا، بیشک کتابیں آئندہ بھی لکھی جائیں گی، لیکن میری غرض ردیات سے نہیں، اعلیٰ لٹریچر سے ہے جس کی فصل ایک دم سے ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی۔\n\nثبوت لیجئے! علی گڑھ کالج ۴۰ سالہ جد وجہد کے بعد ایک مصنف بھی اس وقت تک نہ پیدا کر سکا۔ آپ جانتے ہیں یہ کس بات کی پھٹکار ہے؟ نری انگریزی دانی سے خواہ وہ کسی پایہ کی ہو، مشرقی طبائع میں مادہ نہیں ہوتا، لڑکوں کو یہ موقع نہیں ملتا کہ وہ انگریزی سے پہلے یا ساتھ ساتھ عربی فارسی کی تحصیل کر سکیں جس پر ان کی مادری زبان کی ترقی کا انحصار ہے، زبان عربی میں کتنی ہی دستگاہ ہو لیکن اس طرح لکھنا پڑھنا مشکل ہے کہ اہل زبان کو اس میں لطف آئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ انگریزی ٹکسالی ہونے سے رہی، اردو میں یہ اظہار خیال کرنا نہیں چاہتے، یا صاف کیوں نہ کہوں ان کو آتی ہی نہیں اور چونکہ اردو لٹریچر سے بیگانگی کو یہ اپنا شرف امتیازی سمجھتے ہیں، اس لئے ان کے ہاتھوں ابھی مدتوں ہم کو اردو ادب میں کسی اضافہ کی امید نہیں کرنی چاہئے۔ اگر یہ صحیح ہے کہ کوئی قوم دنیا میں اپنے مجموعہ خصائص سے علیحدہ ہوکر ترقی نہیں کرسکتی تو صرف یہی نہیں کہ آج کل کے نوجوانوں کے لئے مادری زبان کا رونا ہے بلکہ ایک وسیع حد تک ان کے مستقبل کی طرف سے بھی مایوسی ہے۔\n\nیہ ایک کھلا ہوا راز ہے کہ جو بساط ابھی دیکھتے دیکھتے اٹھ گئی، یعنی لٹریچر کے جو حقیقی مالک تھے، وہ قریب قریب سب ایسے تھے جنھیں مشرقی تعلیم نے پیدا کیا تھا اور جن کو ’’مغربیت‘‘ کچھ یونہی سی چھو گئی تھی، لیکن ان کی قوت اجتہادی کا مظہر وہ معرکۃ الآرا سرمایۂ ادب ہے جو ورثہ میں وہ ہمارے لئے چھوڑ گئے ہیں۔ بہرحال نوجوان طبقہ کی بیگانہ وشی بہت ہی لائق افسوس ہے، لیکن دنیا میں کوئی کلیہ نہیں جس میں استثنا نہ ہو۔ میں دیکھتا ہوں اس طبقہ میں ایک شخص ایسا پیدا ہو گیا ہے جو اور وں کی ناک رکھ لےگا۔ میری غرض لائق عبدالماجد سے ہے جو انگریزی کی تکمیل کے ساتھ اردو لٹریچر کا نہایت صحیح مذاق رکھتے ہیں اور آج ان کے قلم کے سایہ میں دو فلسفیانہ کتابیں ایسی موجود ہیں جن پر ادب اردو ناز کر سکتا ہے، چونکہ شروع ہی سے پیمانہ تصنیف اونچا اختیار کیا گیا ہے اس لئے آئندہ ہم کو ان سے بہت سی توقعات ہیں، میں ابھی زیادہ کھلنا نہیں چاہتا کیونکہ ان کو نظر بد کے اثر سے بچانا ہے۔\n\nشبلی کا مطمح نظر ایسی ہی تعلیم تھی جس میں انگریزی کے ساتھ مشرقی زبانوں کی بھی تکمیل ہو اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ’’دار المصنفین‘‘ جو چند نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے، مرحوم کے خیالات کی تصویر مرئی ہے، جس قابلیت کے ساتھ مولوی سلیمان ندوی، ایک مختصر علمی جماعت سے کام لے رہے ہیں، اور جس پیمانہ پر وہ تالیف و تصنیف کے صیغہ کو وسعت دینا چاہتے ہیں، میرے دعویٰ کے ثبوت میں ہے کہ نری انگریزی دانی کسی درجہ کی ہو، قوم و ملک کے لئے جہاں تک دماغی مشاغل کا تعلق ہے، ایک بےکار سی چیز ہے۔ ’’معارف‘‘ کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ رفقاء ’’دارالمصنفین‘‘ کیا کرنا چاہتے ہیں اور خیر الاخلاف ہونے کی ان میں کہاں تک اہلیت ہے۔ میرا خیال ہے تصنیفی افق جو ایک دم سے تاریک ہو گیا تھا، دفعتاً امید افزا ہو چلا ہے اور اگر موجودہ رفتار بھی قائم رہ سکی تو اس علمی جماعت کی متفقہ کوشش سے ایک نئے دو رکا آغاز ہوگا جس کی نہایت سخت ضرورت ہے۔\n\nانجمن ترقی اردو سے چنداں امید نہیں، لائق سکریٹری ہرسال چند بے غایت رسائل کی اشاعت کو فرض کفایہ سمجھتے ہیں لیکن دراصل اس قسم کی بے اصول اور خود رَو اشاعت سے زبان کی ترقی نہیں ہوتی۔ میں نہیں جانتا اس وقت تک کوئی لائق ذکر کام کیا گیا ہے جس سے کسی حد تک زبان کا دائرہ وسیع ہوا ہو، میں ’’فلسفہ تعلیم‘‘ کے بعد ’’فلسفۂ جذبات‘‘ اور ’’فلسفۂ اجتماع‘‘ کی اہمیت سے ناواقف نہیں ہوں، لیکن ان کو چھوڑئے، محض طالب علما نہ رسائل جن کا آئے دن اعلان ہوتا رہتا ہے، اور جن میں اظہار خیال کی حیثیت سے مجتہدانہ روح نہ ہو کس کام کے ہیں۔ انجمن کو سرے سے یہی نہیں معلوم یا وہ جاننا ہی نہیں چاہتی، کسی زبان کی ترقی کے عناصر ترکیبی کیا ہوتے ہیں، یہ بات حیدرآباد یا لکھنؤ میں چند افراد کی خود رائی سے طے نہیں ہوسکتی۔ یورپ کے کسی مستشرق سے پوچھئے جو دنیا کے مختلف لٹریچر کے نظامات طبعی پر نظر غائر رکھتا ہو تو وہ بتائےگا، دراصل آپ کے کرنے کے کام یہ ہیں،\n\n(۱) جامع اللغات اردو۔\n(۲) محاورات۔\n(۳) لغات الاصطلاحات۔\n(۴) لغات فارسی جہاں تک اردو کی تکمیل کا تعلق ہے۔\n(۵) لغات عربی بہ ترتیب جدید۔\n(۶) ادب العالیہ (اردو) ۱۲ ضخیم جلدو ں میں۔\n(۷) جامع القواعد (اردو)\n(۸) عقلیات (یعنی فلسفہ اور سائنس کی ہر شاخ پر ایک مستقل کتاب)\n(۹) اردو انسائیکلو پیڈیا۔\n\nارتقاء زبان کی قدرتی ترتیب یہ ہے کہ اس میں صالح لٹریچر کا کافی سرمایہ موجود ہو۔ حسن اتفاق سے ہمارے پاس ایسا ذخیرہ موجود ہے کہ ہم دنیا کی اور کلاسیکس (ادب القدما) کے مقابلہ میں اسے بے تکلف پیش کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد اردو لغات کی تدوین و ترتیب ہے، جس کی اہمیت اس قدر طے شدہ ہے کہ جب تک آپ اسے ختم نہ کر لیں کسی دوسرے موضوع پر ادھوری طبع آزمائی نیک نیتی کے ساتھ بھی دھوکا دینے سے پہلے دھوکا کھانا ہے۔ اردو لغات کے سلسلہ میں ’’فرہنگ آصفیہ‘‘ کو یاد نہ کیجئے جو حشو و زوائد سے بھری ہوئی ہے جسے کاغذی کاسۂ گدائی سمجھئے جس کی تدوین آج تک ختم نہ ہوئی، اور جس کے اجزاء ہزاروں روپیہ ضائع کرنے کے بعد بھی ایک طرحی اور ہم رنگی نہ پیدا کر سکے۔\n\nبہرحال سب سے پہلے آپ کو لغت تیار کرنا ہے، اور ایک ہی سانس میں روز مرہ اور محاورات کو ایکجا کرنا ہے، جن سے زبان کی آرائش ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کی نزاکتیں زبان کے حسن اور اس کی کیفیت کو بڑھاتی چڑھاتی رہتی ہیں۔ آپ کو شاید یہ معلوم نہیں کہ اردو اپنے ذخیرۂ محاورات کے لحاظ سے نسبتاً دوسری زبانوں سے دوم درجہ پر نہیں ہے، اس نے دنیا کی اور کلاسیکس یعنی زندہ اور مستند زبانوں سے جو کچھ لیا، اس کے سوا ذاتی سرمایہ بھی اتنا رکھتی ہے کہ مانگے تانگے کی ضرورت نہیں، لیکن سرمایہ کا بہت بڑا حصہ جو امانت دار تھے ان کے ساتھ ضائع ہو چکا، بچے کھچے، بکھرے ہوئے موتی دلی لکھنؤ میں کچھ اب بھی مل جائیں گے، ان کو سمیٹئے اور گلے کا ہار بنائیے۔\n\nجذبات عشق نے دنیا میں ہمیشہ مشق سخن کی ہے اور نازک سے نازک پیرایۂ اظہار خیال پیدا کئے ہیں۔ آج کسی کو فرصت و لیاقت ہو تو مشرق کو مغرب سے ٹکراکر ایسی آگ پیدا کی جا سکتی ہے جو دلوں کو جلائے گی نہیں صرف گرمائےگی، لیکن جن کو گھر کی خبر نہیں وہ غیروں کی نکتہ آرائیوں سے کہاں تک لطف اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سرسری طور پر دو مصرعے لیجئے جو جذبات میں ڈوبی ہوئی اس سے کہہ رہی ہے جس کے دل کی مالک ہے،\n\nکر چکے تم تو دشت پیمائی\nمجھ سے گھر بیٹھے خاک چھنوائی\n\nاور دنیا کی کسی زبان میں یہ بات دکھا دیجئے جو ان نہایت سلیس لیکن فصیح مصرعوں میں ادا کی گئی ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جس سے آپ کی اردو بڑی بڑی آبرو دار زبانوں پر فوقیت رکھتی ہے، ہزاروں محاورات ہیں جو دلی اور لکھنؤ والوں کے روز مرے میں داخل ہیں اور جن پر جان دینے کو جی چاہتاہے۔ محاورات تو پھر بھی ایک چیز ہیں، لیکن اس کے توابع مہمل بھی اتنے دلکش ہیں کہ یہ کہیں اور نہ دیکھئے گا، بیشک اردو فنا ہونے والی نہیں اور وہ اس وقت تک زندہ رہےگی کہ بیویاں تو خیر، گھر کی ایک ماما بھی چمک کر ’’نوج‘‘ کہنے والی موجود ہے۔ لیکن میری غرض یہ ہے کہ ایسی خوبصورت، ایسی خوش سیرت، ایسی لطیف ونکتہ خیز زبان اگر آپ کے ہاتھوں اپنی عزت نفس کو قائم نہ رکھ سکی تو اس کا ہونا گویا نہ ہونا ہے۔\n\nہاں تو میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ لغات اردو کے بعد اصطلاحات کا درجہ ہے، یہ پہلی شق سے کم نہیں ہے۔ مغربی لٹریچر کو اگر آپ اردو قالب میں ڈھالنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مصر سے ذخیرۂ الفاظ منگوائیے، میری غرض علوم فنون سے زیادہ کمال انشا پردازی سے ہے۔ ہم اچھے سے اچھے خیال کو اردو میں اس لئے نہیں لے سکتے کہ الفاظ نہیں ملتے، اس لئے دل کا ارمان پورا نہیں ہوتا، یعنی ہم ایک خاص طرح کے گونگے ہیں کہ سننے اور سمجھنے کے بعد بھی کسی خیال کو اپنی زبان میں ادا نہیں کر سکتے۔\n\nسکریٹری صاحب انجمن اردو نے اپنی ایک رپورٹ میں علم ہیئت کے مصطلحات کے جمع کرنے کی بشارت دی تھی لیکن ممدوح کو یاد نہیں رہا کہ کارزمین کی تکمیل سے پہلے ’’بآسمان پر داختن‘‘ ایک غیر طبعی بلند پروازی ہے، جس سے بجائے اس کے کہ لٹریچر کے مختلف زاویوں کی توسیع ہو، اس کی حق تلفی ہوتی ہے اور یہی غیر منطقی ترتیب ہے، جس سے آج تک صرف اتلاف قوت ہوتا رہا اور کوئی کام کی بات نہ ہوئی۔\n\nقوم میں لکھے پڑھے (صحیح معنوں میں ) تھوڑے ہیں، ان میں بھی تھوڑے ہی ایسے ہیں جو صحیح قوت فیصلہ رکھتے ہیں، یا جن کے دماغ میں لٹریچر کے نازک مسائل کے جذب کرنے کی صلاحیت ہے، لیکن تعجب یہ ہے کہ نہایت موٹی باتیں بھی ان لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتیں، جو ایک مخلوق بے غایت یعنی ۶ کروڑ ’’حشرات الارض‘‘ کی ادبیات کے نقیب بننا چاہتے ہیں۔ یقین کیجئے، ان دماغوں کی ساخت دنیا کی طبی معلومات میں اضافے کرےگی جن کو ترک ’’فرائض‘‘ کا احساس نہیں، لیکن ’’نوافل‘‘ پر اصرار ہے۔ آپ کہتے ہیں ’’البیرونی‘‘ اور ’’مقدمات الطبعیات‘‘ پڑھو! جن میں ایک حرف مجتہدانہ نہیں، مجھے نہایت ادب سے یہ عرض کرنا ہے کہ ان کے پڑھنے کے بعد بھی میں اتنا ہی کورا رہا جتنا استفادہ سے پہلے تھا اور دردسری بیکار گئی، جس کا افسوس ہے۔\n\nمیں یہ لکھ رہا ہوں اور عنقریب علی گڑھ میں دوم درجہ کی تالیفات کی دوسری کھیپ یا اس کا اعلان ماسبق، حسن کارگذاری کا دفتر بڑھانا ہوگا، لیکن سوال یہ ہے کہ لٹریچر صرف سادے کاغذ پر سیاہی پھیلانے سے کہاں تک حقیقی فوائد حاصل کر سکتا ہے؟ وقت کا فیصلہ تو کچھ اور ہے، وہ صاف کہہ رہاہے،\n\n’’این بجوئے مانمی ارزد‘‘\n\nبہرحال مصطلحات اردو اس قدر ضروری ہیں کہ ان کے ہوتے کسی اور کام کو شروع کرنے کی ضرورت نہیں۔ لغات جدیدہ جس میں ایک فاضل مؤلف نے ۴ہزار الفاظ جمع کر دیے ہیں، آنکھ رکھ کر نہ دیکھنے والوں کی چشم نمائی کے لئے کافی ہیں، کم سے کم اس کے پانچ سو صفحے تو ہوں۔ خیالات کا سلسلہ ہے کہ ختم نہیں ہوتا اور مجھے ابھی کچھ اور کہنا ہے۔ کسی زبان کے ابتدائی نشو اور ارتقاء تدریجی کے لئے جس قسم کے وسائل ترتیبی کی ضرورت ہے، ایک یورپین مستشرق کے خیال کے مطابق جستہ جستہ عرض کر چکا ہوں اور یہ وہ منطقی ترتیب ہے کہ اگر واقعی اردو لٹریچر کو زندہ رکھنا ہے تو ایک منٹ کے لئے بھی اس سے قطع نظر نہیں ہو سکتی۔\n\nمگر مشکل یہ ہے کہ کرنے والے کہا ں سے آئیں گے۔ جو لوگ کر سکتے تھے، وہ آج منوں مٹی کے نیچے دبے پڑے ہیں۔ علی گڑھ کی مقتدر جماعت نصف صدی کی مشق و مہارت کے بعد بھی اس لائق نہیں ہے کہ زبان کے مسئلہ پر اس حیثیت سے غور کرے کہ بقائے قوم کے لئے (اگر اس کی ضرورت ہو) سب سے زیادہ قوی عنصر یہی ہے۔ کانفرنس اس قسم کی تضییع اوقات پسند نہیں کرتی، وہ ایک عملی چیز ہے، سرسید کے وقت میں ایک آدھ لکچر ہو جاتے تھے جن پر انشا پردازی کچھ دنوں اتراتی رہتی تھی، اب فرط سنجیدگی نے یہ سلسلہ بھی باقی نہیں رکھا۔\n\nقوم میں بہیئت مجموعی جہاں تک نفس لٹریچر کا تعلق ہے کوئی روح اجتماعی نہیں، امرا کو صرف اسی کا شوق نہیں، ملک میں کبھی کبھی خارجی اسباب سے عارضی تحریک پیدا ہو جاتی ہے، لیکن وہ باسی کڑھی کا ایک ابال ہوتا ہے کہ آیا اور گیا، لٹریچر کا مذاق صحیح نہ پہلے تھا نہ اب ہے، یہ وہ راز ہے جس کی بے نقابی لٹریچر کے ساتھ مٹنے والی قوم کے مستقبل کو صدیوں پہلے دفعتاً ہمارے پیش نظر کردیتی ہے۔ جس طبقہ سے بڑی امیدیں تھیں، وہ ’’بالغ العلوم‘‘ہونے کے بعد بھی اپنی زبان سے ناآشنا سا رہتا ہے جس کی خوش بیانی اور لطافت کا اسے بالکل احساس نہیں۔\n\nعورت کتنی ہی حسین ہو، لیکن چاہنے والا اس کی خوش ادائی کو آنکھ اٹھا کر نہ دیکھے تو آرزوؤں سے بھرے دل پر کیا گذرےگی، ایسا سہاگ کس کام کا جو جیتے جی بیوگی سے بھی گیا گذرا ہو، غرض اردو کی طرف سے یہ بے التفاتی ایک قومی مسئلہ ہے جس پر ملک کے شائقین ترقی کو اپنی سب سے پہلی فرصت میں توجہ کرنی چاہئے۔\n\nمیں پھر اعادہ کرتا ہوں کہ تصنیفات کا دور ختم ہو چکا، لیکن جو کتابیں پڑھنے کے لائق ہیں ان کو بھی لوگ نہیں پڑھتے۔ اس سے زیادہ خراب حالت صحافت کی ہے جو رائج الوقت لٹریچر کو وقف عام کرنا چاہتی ہے۔ اخبار اور رسالے عالم وجود میں آنے کے بعد ایک وقت خاص تک آپ ہی آپ چلتے ہیں، یعنی شائع کرنے والوں کی وضعداری ان کو جاری رکھتی ہے، لیکن آخر کب تک؟ بہار سے پہلے ان کے حصہ میں خزاں آتی ہے، اور یہ ان کی عنایت ہوتی ہے جن کی دماغی تفریح کے یہ جرائد ذمہ دار ہوتے ہیں۔ خریداروں میں مشکل سے دوچار کو آپ زر بکف پائیں گے، ورنہ حصۂ غالب ادائے قیمت کو ایک طرح کی شکست سمجھتا ہے۔\n\nتجارتی لٹریچر سے قطع نظر کیجئے، اچھے اچھے اخبار اور رسالے صرف چار دن کی چاندنی ہیں کہ آئی اور گئی، بہتیرے بند ہو گئے، کچھ سسک سسک کر چل رہے ہیں، ایک آخری ہچکی کے ساتھ یہ بھی رخصت! یہ مادیت کا دور ہے، ہر چیز اپنی قیمت چاہتی ہے، نرے توکل سے کام نہیں چلتا، جسے آج کل فاقہ کا مرادف سمجھئے۔ ہمارے ہاں جس طرح پڑھنے کا دستور نہیں، ادائے قیمت بھی شائستہ زندگی کا کوئی اصول نہیں۔ اس لئے مدتوں یہ امید نہیں کہ صحافت ہماری زندگی کی رونق بڑھائے اور جب سرے سے دو وقت کی روٹیوں ہی کے لالے ہیں تو سمجھ میں نہیں آتا ایک فاقہ مست طبقہ خون جگر سے کہاں تک ہمارے ادبی مذاق کی شادابی کو قائم رکھ سکتا ہے۔\n\nبہرحال اردو کانفرنس ہو یا انجمن ترقی، اسٹیج کی خوش بیانی سے زیادہ ضرورت اس کی ہے کہ ہم اس امر پر غور کریں کہ موجودہ نسل کو کس طرح اردو داں بنایا جائے، جس کی حالت اس بگڑی ہوئی عورت کی سی ہے جو شوہر کے ہوتے ’بوئے غیر‘ کی شائق ہو اور وہ کون سے وسائل ہیں جن سے طبائع عام کی بے التفاتی میں ترغیب و تشویق کی روح پیدا ہو سکتی ہے۔\n\nیہ مسئلہ فی نفسہ اس قدر مہتم بالشان ہے کہ اسے صرف اردو لٹریچر نہیں بلکہ قوم کا عنوان زندگی سمجھئے، اگر اسے آپ سلجھا سکے، یعنی قوم کے وجدان و مذاق میں جہاں تک زبان کا تعلق ہے کوئی مستقل تغیر پیدا ہو سکا تو میرا خیال ہے فضا ئے تاریک بتدریج صاف ہوتی جائے گی اور جن تالیفات کی ضرورت دکھائی گئی ہے، ان کی ترتیب ہم کو اپنے مقاصد کی تکمیل سے قریب تر کردے گی۔ دنیا میں کوئی قوم دکھا دیجئے جس نے اپنی مادری زبان سے علیحدہ ہوکر ترقی کی ہو۔\n\nآج یہ طے شدہ ہے کہ کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک اتحاد مذہب کے ساتھ اس میں اتحاد خیال اور اتحاد زبان نہ ہو۔ مذہبی اتحاد کو تو تیرہ سو برس کافی نہ ہوئے، اسی طرح امید نہیں کوئی قومی تخیل قوم کی مشترک خواہشات کا مرکز عام ہو، لیکن زبان کی یہ حالت نہیں، مدت کی منھ لگی اور اختیاری ہے، فلسفہ کا یہ مسئلہ کہ مستقبل ہمیشہ ماضی اور حال کا نتیجۂ اضطراری ہوتا ہے، قریب قریب سائنس یعنی یقینیات کی حد تک پہونچ گیا ہے۔ جو دور ابھی ختم ہوا ہے وہ لٹریچر کا ’’عہد زریں‘‘ تھا۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ کسی طرح عہد موجودہ کو سنبھال لیجئے تو حصول کامیابی چنداں دور نہیں۔\n\nلیکن جس پیمانہ پر آپ آج تک چلتے رہے، اس کی خود روی منزل بے غایت کی ایک بھول بھلیاں ہے، جس کے چکر، مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے آپ کو مقصود سے ہمیشہ دور رکھیں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ پچھلی حماقتوں کی تلافی کیجئے اور سوچ سمجھ کر طے کر لیجئے کہ جہاں تک اردو لٹریچر کی ترقی تو خیر، بقا کا تعلق ہے، در اصل ہم کو کیا کیا کرنا ہے۔ میں پھر آپ کے ہاتھ میں سوسوا سو صفحوں کا ایک نامکمل رسالہ دیکھ رہا ہوں جس کو آپ دل ہی دل میں اردو کی لائق رشک فتوحات میں سمجھ رہے ہیں، مگر یہ میری چڑھ ہے، آپ کی خود رائی بزعم خود تعلیم یافتہ دماغ کی ایک اپج سہی، لیکن مجھ کو اگر آپ کی مجتہدانہ قابلیت میں شک ہو تو لائق معافی ہوں۔\n\nمیں نہیں مانتا کہ آپ کی نظر ان نکات پر حاوی ہے جو کسی زبان کی قدرتی ترقی کے عناصر مؤثرہ یعنی ایسے اجزائے ترکیبی ہیں جن پر قواماً اور براہ راست زبان کا بننا بگڑنا منحصر ہے، اس لئے بلاخوف تردید پھر کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک اردو کے پاس ایک ضخیم جامع اللغات اور محاورات واصطلاحات کا پورا دفتر نہ ہو، آپ کی ناقص اور ادعائی کوششیں ’’نادان دوست‘‘ کے خلوص سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں۔\n\nآپ شاہراہ سے کترا کر تنگ گلیوں اور ناہموار راستوں سے قطع منازل چاہتے ہیں اور یہ جہاں تک کمالات علمی کا تعلق ہے ایک غیرحکیمانہ روش ہے، لٹریچر کا آخری نوٹس یہ ہے جسے یاد رکھئے کہ، ’’عمارت کی ترمیم ہوگی یا عمارت خود نہ ہوگی۔‘‘", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C%DA%86%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D9%81%D8%B3_%D9%88%D8%A7%D9%BE%D8%B3%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اردو لٹریچر کے عناصرخمسہ", "poet_page": "مصنف:مہدی افادی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "آئندہ زمانہ میں اردو لٹریچر کی اگر تاریخ لکھی گئی تو انیسویں صدی کا پچھلا دور اس عہد کا ’’نشاۃ الثانیہ‘‘ (یعنی دور جدید) ہوگا جس میں ایک بازاری زبان جس کا سرمایہ ناز ایک بے غایت شاعری کا مجموعۂ خودرو تھا، منازل ارتقائی طے کرتی ہوئی اس سطح امتیازیہ کے قریب قریب پہنچ گئی جہاں دنیا کی اعلیٰ تر زبانیں اپنا سکہ جما رہی ہیں۔\n\nکل کی بات ہے جب تُک سے تُک ملا لینا کمال فن سمجھا جاتا تھا۔ گرمی محفل کے لیے چند مصرعوں کی پیوندکاریاں لٹریچر کے فرائض سے ہم کو سبکدوش کر دیتی تھیں لیکن اقتضائے وقت کے ساتھ تغیر مذاق دیکھئے کہ آ ج ہم کو ان کے ذکر سے بھی شرم آتی ہے۔ یہ کیوں؟ صرف اس لئے کہ ہم دیکھتے ہیں کائنات میں کوئی چیز نہیں جو تغیر پذیر نہ ہو، ہمارے جذبات بدلے، خیالات بدلے، تغیر حالت کے ساتھ وہ آثار خارجی بھی جن میں ہم گھرے ہوئے تھے، کچھ سے کچھ ہوگئے۔ غرض زمین بدلی، آسمان بدلا اور ہم بھی وہ نہیں رہے جوپہلے تھے اور ابھی معلوم نہیں مؤثرات خارجی اور واقعات کی قدرتی رو ہم کو کہاں سے کہاں لے جائے گی۔\n\nاس کش مکش اور سلسلۂ انقلابات میں اتنا ہوش کہاں کہ طبقات ارتقائی کی درمیانی کڑیاں آپ کو گنائی جائیں، صرف یہ سمجھ لیجئے کہ بوسیدہ اور فانی اجزا کی جگہ قوی تر عناصر نے لے لی اور اقلیم سخن کی شریف ترہستیاں عالم وجود میں آئیں جن سے اردو سا کم سواد لٹریچر ایک دم سے آشنائے فلسفۂ ادب ہو گیا۔ میری غرض لائق عزت سرسید، پروفیسر آزاد، نذیر احمد، حالی و شبلی سے ہے جن کے قلم کے سایہ میں اردو یعنی کل کی چھوکری اتنی رودار ہو گئی کہ السنۂ یورپ یعنی مغربی سے بے تکلف آنکھیں ملا سکتی ہیں، ان میں سے ہر شخص مختص النوع خصائص ادبی کے ساتھ اپنے اپنے دائرہ کا آپ مالک ہے اور جس طرح ادب القدما (یعنی کلاسیکس) آج واجب التعظیم سمجھا جاتا ہے، ایک وقت آئے گا جب ان کے ادبیات کا بیشتر حصہ لائق پرستش اور غیرفانی سمجھا جائےگا۔\n\nیہ موضوع نہایت اہم ہے اور چونکہ بہت پھیلایا جا سکتا ہے، اس لئے سرسری طور پر ٹالنا منظور نہیں، بلکہ میری خواہش ہے کہ آج کل کے اچھے لکھنے والے اس پر قلم آزمائی کریں۔ میری عرض لائف نگاری سے نہیں ہے بلکہ صرف تنقید ادبی (یعنی لٹریری ریویو) چاہتا ہوں، جس میں بہ لحاظ فن فرداً فرداً ہر مصنف کے نتائج فکر کی خصوصیات اس طرح دکھائی جائیں کہ ایک حد تک تنقیدات عالیہ (یعنی ہائر کریٹی سزم) کا حق ادا ہو جائے۔\n\nسرسید نے ادب اور معقولات پر جس حد تک مجتہدانہ رنگ چڑھایا، دراصل ان کی اولیات میں داخل ہونے کے لائق ہے۔ یہ انہیں کے قلم کی آواز باز گشت ہے جو ملک میں بڑے سے بڑے مصنف کے لئے دلیل راہ بنی، آج جو خیالات بڑی آب و تاب اور عالمانہ سنجیدگی کے ساتھ مختلف لباس میں جلوہ گر کئے جاتے ہیں، دراصل اسی زبرست اور مستقل شخصیت کے عوارض ہیں، ورنہ پہلے یہ جنس گراں باربا صف استطاعت اچھے اچھوں کے دسترس سے باہر تھی۔ سرسید کے کمالات ادبی کا عدم اعتراف صرف ناشکری نہیں بلکہ تاریخی غلطی ہے اور میں خوش ہوں کہ شریف النفس حالی نے آج کل کی بہتر سے بہتر ’’سوانح عمری‘‘ لکھ کر منحرف طبائع کو بہ وساطت سخت سے سخت شکست دی جو خیال میں آ سکتی ہے۔ لیکن نئی نسل پچھلا سبق کسی قدر بھول چکی ہے، حالانکہ سرسید کے حقوق زیادہ تر اسی کی گردن پر ہیں، بلکہ مجھے کہنا چاہئے کہ لٹریچر کے حقوق کا اقتضا یہ ہے کہ سرسید کے علمی کارنامے پر نگاہ عکس ریز ڈالی جائے اور اس کے لئے سید سجاد حیدر (یلدرم) مجھے زیادہ تر موزوں معلوم ہوتے ہیں۔\n\nعلامہ نذیر احمد کو میں ’’ثم المارہروی‘‘ توبہ! سید افتخار عالم کے سر لگانا چاہتا ہوں، جنھوں نے حال میں مولانا کی نہایت مفصل سوانح عمری شائع کی ہے، بالاستحقاق ان سے بہتر کوئی شخص خیال میں نہیں آتا۔ یہ لکھیں گے اور ہم دردانہ اور سخن گسترانہ لکھیں گے۔ اسی کی ضرورت ہے۔ نذیر احمد گو ایک حد تک عقلیات سے رسیاں تڑاتے رہے لیکن ادب اور ’’منقولات‘‘ سے متعلق جو دفتر انھوں نے چھوڑا ہے، وہ اس قدر اہم ہے کہ کچھ سرسری ریمارک کرنا چاہتا ہوں مگر سمجھ میں نہیں آتا، کہاں سے شروع کروں۔ ان کی اعلیٰ درجہ کی عربیت کے ساتھ بے مثل قدرت بیان، وسیع ذخیرۂ الفاظ اور وہ تصرفات جو جدت خیال اور ظریفانہ نکتہ سنجیوں کے لحاظ سے صرف اس شخص کا حصہ ہیں، لٹریچر کی جان ہیں۔ اس پر اضافہ کیجئے اردو سی کم مایہ زبان کا ایسے شریفانہ قالب میں ڈھلنا جس پر کلاسیکس کا دھوکا ہو۔\n\nبعض صاحبوں کو غالب کی طرح ان کی مشکل پسندی کا رونا ہے اور وہ پیوندکاریاں جو ان کی شستہ رفتہ اور برجستہ اردو میں ہوتی ہیں جس میں انگریزی زیادہ بے جوڑ ہوتی ہے، عام خیال ہے کہ ثقل سے خالی نہیں، لیکن انصاف یہ ہے کہ یہ سب ان کی جدت اختراع اور قوت آخذہ کا زور ہے۔ آمد کی رو میں اضطراری طور پر اپنے پرائے کی تفریق نہیں ہو سکتی اور یہی وجہ ہے کہ بعض حصے بہ لحاظ ترکیب و تحلیل اجزائے السنہ غیر گنگا جمنی ہوتے ہیں، تاہم متانت اور حسن کلام سے کبھی علیحدہ نہیں ہوتے جو ان کے لٹریچر کا خاصۂ طبعی ہے۔ نہ ان کے اچھوتے اور مستقل طرز ادا (اسٹایل) پر جو شارع عام سے الگ تھلگ اور آپ اپنی نظیر ہے، کوئی اثر پڑتا ہے۔ جو باتیں اوروں کے ہاں بیگانی ہیں، ان کی بے ساختگی اور برجستگی خیال کے ساتھ سلسلۂ بیان میں اس طرح جذب ہو جاتی ہیں کہ مغائرت یا اجنبیت کا احساس تک نہیں ہوتا۔ پھر بھی جہاں تک اس حیثیت سے اعتراض کی گنجائش ہے، ادب چاہتا ہے۔ سبک نکتہ چینیوں سے ان کا کمال ہمیشہ بے نیاز رہےگا۔\n\nمیں آج تک یہ فیصلہ نہ کر سکا کہ باوصف کمالات علمی جو ایک حد تک ان کے ہم عصروں کو بھی مرعوب کرنے والے تھے، ان کی فطری قابلیت اور اعلیٰ مذاق سخن کی آزمائش کا بہتر سے بہتر پیرایہ کیا ہو سکتا تھا۔\n\nجس طرح ناولوں اور تراجم میں بہ رعایت فن یہ اپنی قادرالکلامی کا بڑے سے بڑا ثبوت دے سکے، لٹریچر کے وہ اجزاء جن کا موضوع زیادہ اہم اور سنجیدہ ہے، مثلاً فلسفۂ تاریخ وغیرہ، جس میں وسعت نظر کے ساتھ تحقیق و تنقید، قوت استقرا، تفریع مسائل اور فلسفیانہ استخراج نتائج کےساتھ غیر منقطع انضباط خیال کی ضرورت ہے، یہ قصداً اس طرف نہیں آتے۔ یہی حد فاصل ہے جو شبلی کی قلم رو سے ان کے دائرہ کمالات کو جدا کرتی ہے اور یہی وہ آزادی ہے جس کے آثار ان کے لکچروں میں آپ دیکھیں گے اور جس کی بنا پر یہ اکثر کہا گیا ہے کہ وہ موضوع سخن کے حدود کو قائم نہیں رکھ سکتے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ان کا مرتبۂ انشا پردازی چاہتا ہے کہ ہم مان لیں کہ یہ صرف زور بیان کا قصور ہے جو اظہار فصاحت میں کسی چیز کا محکوم نہیں ہوتا۔\n\nزمانہ کتنی ہی ترقی کرے، اس علم کے پتلے کو پھر پیدا نہیں کر سکتا جس کا کوئی رونگٹا بے کار نہیں، جہاں تک لائق ادب ’’مشرقیت‘‘ کا تعلق ہے، قوم کی یہ آخری بہار تھی جس کے اجزاء کچھ اٹھ گئے، کچھ باقی ہیں۔ قدیم علوم کے نام لیوا ایک آدھ سے زیادہ نہیں ہیں۔ جس عربی، مرحوم عربی کو ہم بیسویں صدی میں ڈھونڈتے ہیں، علامہ نذیر احمد کے ساتھ دفن ہو گئی، مگر ان کا حصۂ غیرفانی یعنی ان کی تصنیفات مرنے والی چیز نہیں۔ وہ اپنی بقائے دائمی کی آپ ضامن ہیں اور یہی انسان کا بڑے سے بڑا تخیل (آئڈیل) ہے جس سے دنیا میں کوئی بے نیاز نہیں۔\n\nنذیر احمد کے استادانہ اور باوقار لٹریچر کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔ یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی اب نہیں ہو سکتی، لیکن اخلاف کے لئے جس قدر سرمایۂ علمی انھوں نے چھوڑا ہے، وہ موجودہ اور آئندہ نسلوں کو ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا۔ ہم ان کی قیمتی تصنیفات کو سینہ سے لگائیں گے، آنکھوں میں جگہ دیں گے۔ دائمی جدائی کے بعد ادائے سپاس کا حق کچھ تو ادا ہو رہےگا۔\n\nسرسید کے بعد اگر ان کے رنگ میں کوئی قلم ہاتھ میں لے سکتا ہے تو بوڑھے حالیؔ ہیں۔ یہ ایک ہی وقت میں جہاں فطری شاعر ہیں، اعلیٰ درجہ کے ناثر بھی ہیں۔ لائف نگاری کے ساتھ نکتہ سنجی اور سخن آفرینی کا ایک خاص سلیقہ ہے، جس نزاکت کے ساتھ ادائے خیال کے مختلف پہلوؤں سے دیکھتے دیکھتے یہ اپنا مطلب نکال لیتے ہیں، کثرت مواد کے ساتھ بھی دوسرے اس قسم کے لطیف تصرفات نہیں کر سکتے۔ طبیعت میں ایک حچا تلا خاص طرح کا مادہ ہے جو حشو و زوائد سے غرض نہیں رکھتا اور ساتھ ہی کسی موضوع بحث میں ان نکات متعلقہ کی طرف نہایت خوبصورتی سے فوری انتقال ذہن کا باعث ہوتا ہے جو دراصل اس بحث کی جان ہوتے ہیں۔ لٹریچر کا بہت بڑا وصف یہ ہے کہ سخت سے سخت مسائل باتوں باتوں میں طےکر دیے جائیں۔ یہ سلاست ونفاست قدرت کلام کی آخری حد ہے جو سرسید کے بعد حالیؔ کے حصہ میں آئی۔\n\nایک خاص بات یہ ہے کہ ان کے خیالات و مقالات میں جھول جھال یعنی کسی طرح کا ’’تذبذب فی الرائے‘‘ نہیں ہے۔ خالص یک رنگی ہے جسے اصطلاح میں فلسفیانہ کہئے۔ معیار خیال اس قدر بلند پایہ اور سلجھا ہوا ہے کہ کہیں سے یہ بیگانے نہیں ہوتے۔ مجھے ہنسی آتی ہے جب سنتا ہوں کہ حالیؔ کی جدید شاعری بہ لحاظ فن ساقط المعیار ہے اور اس لائق نہیں کہ اس پر توجہ کی جائے۔ یہ فتویٰ ’’پرانی لکیر‘‘ کے شیدائیوں کا ہے جو خیر سے یہ بھی نہیں جانتے کہ شاعری دراصل کیا چیز ہے اور اس کا موضوع اصلی کیا ہے؟ بھیڑوں کا ایک غول ہے جو مدت ہوئی آنکھیں بند کئے ایک راستہ پر پڑ لیا اور آگے پیچھے آج تک چلا آیا لیکن ہم کو اس سے کچھ بحث نہیں، نہ ہم اس مجموعۂ ردیات پر نظر ڈالنا چاہتے ہیں جو پرانے خیال والوں کا سرمایۂ ناز ہے۔ ہم ایک حد تک معصوم حماقتوں سے، کسی کی ہوں، لطف اٹھانے کے لئے تیار ہیں، کیونکہ یہ بھی ایک عیش ہے۔ صرف اتنا کیجئے کہ برے بھلے حالیؔ کو جدید گروہ کی لائق فخر پیشوائی کے لئے چھوڑ دیجئے۔\n\nمیرا خیال ہے حالیؔ کے کلام پر مولوی عبد الحق کھل کر داد سخن دیں گے۔ یہ آج تک باوصف قابلیت اور فلسفیانہ مذاق کے صرف ’’مقدمات‘‘ پر ٹالتے رہے۔ ان کا مصرف صحیح کچھ اور تھا۔ ان میں مادۂ اختراعی (اریجینٹی) خاصہ ہے مگر قوت فیصلہ کی کمی ’’صحافت‘‘ سے آگے بڑھنے نہیں دیتی، حالانکہ ان کاسلیقہ تحریر سفارشی ہے کہ مستقل تصنیف و تالیف کے سوا یہ کچھ اور نہ کرتے۔ بہرحال ان کو کم سے کم میری خواہش تو پوری کرنی ہوگی۔\n\nیادش بخیر! شبلی پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے جس سے زیادہ ایک زندہ مصنف پر قلم آزمائی کی گنجائش نہیں۔ چبائےہوئے نوالوں کا بار بار منھ میں پھیرنا خواہ وہ کتنے ہی خوش ذائقہ ہوں، جدت طرازی جائز نہیں رکھتی اور چونکہ نئی بات نہیں کہہ سکوں گا اس لئے مختصراً اس قدر کافی ہے کہ شبلی ملک میں پہلے شخص ہیں جنھوں نے تاریخ پر فلسفہ کا رنگ چڑھایا اور حکیمانہ انکشافات و نکتہ آرائیوں سے اسے ایک مستقل فن دیا۔\n\nعلی گڈھ کو انھوں نے چھوڑا اور ندوۃ العلماء نے، مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے خود ان کو، لیکن میرا بس ہو تو شبلی کو ہندوستان سے باہر کالے کوسوں، یورپ کے کسی ’’بیت الحکماء‘‘ (لٹریری اکیڈمی) میں بھیج دوں جہاں ان کو اپنی غیرمعمولی قابلیت کی داد بڑے بڑے علمائے مستشرقین سےملےگی جو بہ لحاظ ہم فنی، ان کے یاران طریقت ہیں۔ شبلی کا وسیع دائرۂ تحقیقات، اہل زبان کی سی فارسی اس میں بھی شاعری کا ملکۂ راسخہ اور سب سے زیادہ اپنی زبان میں ان کی لائق رشک انشاپردازی، وہ صفات ہیں جو علانیہ ان کو ہم نفسوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ شعر العجم کے چوتھے حصہ میں فلسفۂ شاعری پر مختلف پہلوؤں سے جس طرح تنقید کا حق ادا کیا گیا ہے، ’’ادب الاساتذہ‘‘ کا بہتر سے بہتر مرقع ہے جس پر دنیا کی کوئی زبان فخر کر سکتی ہے۔\n\nاردو میں ان کے مطائباتِ نظم کو جو جدید پیداوار ہیں، ان کے سلسلۂ کمالات سے علیحدہ کرکے دیکھئے جن میں لطائف ادبی کوٹ کوٹ کر بھرے ہیں، یہ رنگ بھی ان ہی کا حصہ ہے، شوخی کے ساتھ سنجیدگی یہ معلوم ہوتا ہے دور سے زبان کی بلائیں لے رہی ہے۔ لیکن اس کی جامعیت کے ساتھ بھی سوال یہ ہے کہ قوم نے کہاں تک حوصلہ افزائی کی؟\n\nکل کی بات ہے ایک اتفاقی واقعہ پر شبلی پر ملک کے چپہ چپہ سے لے دے شروع ہوگئی اور اس قدر غل شور ہوا کہ کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی تھی۔ بڑے بڑے سنجیدہ حضرات اپنے نامۂ اعمال کی طرح اخباروں کے کالم سیاہ کرتے رہے جس سے کچھ دنوں کے لئے اخباری افق کی فضائے بسیط ایک دم سے تیرہ و تار ہو گئی۔ کیا یہ کوئی علمی واقعہ تھا؟ ہرگز نہیں صرف حاسدین کی کم نظری تھی۔ دلوں کی جمی ہوئی سیاہی لغزش قلم سےٹپکی اور بری طرح ٹپکی لیکن شرافت علم دیکھئے! شررؔ کو جو ’’شبلی‘‘ پر کبھی کبھی سخن گسترانہ چوٹیں کرتے تھے، اس ناگوار واقعہ کے بعد جس کا انجام ندوہ سے مولانا کی دست کشی پر ہوا، اپنی آواز بلند کرنی پڑی۔ وہ صاف صاف کہہ گذرے کہ ندوہ میں جو کچھ دم تھا، شبلی کی وجہ سے تھا، اب وہ ایک جسد بے روح ہے۔ اسی ضمن میں مولانا کے کمالات کا شناسانہ اعتراف اور قوم کی ناسپاری کا رونا تھا۔\n\n’’نقاد‘‘میں تاریخ کا معلم اول کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ ایک قاصر النظر نے اہتمام کے ساتھ ’’مشرق‘‘ میں اس کی تردید کی جسارت کی لیکن عامیانہ و حاسدانہ، جس میں علامہ شبلی کو ان اوصاف سے معرا کرکے دکھایا تھا جو مضمون نگار نے حسن عقیدت سے نہیں بلکہ خود ’’فلسفہ‘‘ کے ایما سے غیرفانی شبلی کی طرف منسوب کئے تھے۔\n\nبہرحال میں کہنا یہ چاہتا تھا کہ شبلی پر اگر کوئی قلم اٹھانا چاہے تو جی لگنے کے سامانوں میں کمی نہیں۔ میرے خیال میں سید عبدالماجد اگر فلسفۂ تاریخ سے اتنی ہی دلچسپی کا اظہار کرتے جس اہتمام سے ’’الکلام‘‘ پر منحرفانہ نظر ڈالی گئی تھی تو کفارۂ معصیت کے ساتھ تنقید کا بھی حق ادا ہو جاتا۔\n\nسب سے آخر، مگر دراصل سرفہرست آزادؔ پر میں خود کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ آزاد اس پایہ کے ادیب ہیں کہ ان کے دائرہ کے اور خلاقین سخن کو ان کے آگے سر جھکانا پڑےگا۔ آزاد کی جن حیثیتوں پر خصوصیت کے ساتھ نگاہ پڑسکتی ہے، وہ تحقیقات السنہ کے مذاق کے ساتھ پاکیزگیٔ زبان اور آزاد کا خاص انداز بیان ہے جس سے ان کی نثر عموماً زرنگار معلوم ہوتی ہے۔\n\nایک مغربی شاعر کے خیال میں جس نے شوخی سے عالم فطرت (نیچر) پر کمال صنعت (آرٹ) کو ترجیح دی ہے، خوش آب موتیوں کا نشاط انگیز انتشار کے ساتھ فرش ریشمی پر بکھر جانا روانیٔ آب سے زیادہ دلکش ہے مگر اس سے زیادہ تر دلکش ہے کسی نازک خیال مصنف کی مرصع پیداوار دماغی جو حسن صوری اور معنوی کے ساتھ آمد اور بے ساختہ پن کی تصویر ہو۔ اس کے سلیس ونفیس لٹریچر کا یہ وصف اضافی کہ روکھے پھیکے مسائل کو بھی اس لطافت سے جذب کر سکے کہ کہیں سے بار طبیعت نہ ہو اور فسانے (یعنی لائٹ ریڈنگ) کا لطف آئے، میرا خیال ہے لائق ذکر خصائص میں سے ہے، جس کی بنا پر ایک مشہور موقع پر یہ کہا گیا تھا کہ ’’آزاد اردوئے معلیٰ کا ہیرو ہے۔‘‘\n\nجس طرح تاریخ میں فلسفہ کا رنگ سب سے پہلے شبلی نے چمکایا ہے، اردو کو انشاپردازی کے درجہ پر جس نے پہونچایا وہ آزاد اور صرف آزاد ہیں اور گو اس مسئلہ پر ابھی کافی توجہ نہیں کی گئی ہے، لیکن آزاد کی ادبی فتوحات تاریخ لٹریچر کا ایک واقعہ ہے جس کا فیصلہ خود فلسفۂ ادب کے ہاتھوں میں ہوگا۔ جن حضرات کی نگاہیں دلی لکھنؤ کے اختلافات تک محدود ہیں یا جن کی قاصر النظری میرے اس خیال کی تائید کی مانع ہو وہ مجھے معاف فرمائیں گے، اگر میں بلا خوف تردید یہ عرض کروں کہ پروفیسر آزاد کا درجہ بحیثیت ادیب جو کچھ ہے اس کا سمجھنا دوم درجہ کی خلقت کے لئے جو فلسفہ لٹریچر سے قطعاً بیگانہ ہے، آسان نہیں ہے۔ اس لئے کسی اختلافی بحث کا چھیڑنا ’’گول خانہ میں چوکھنٹی چیز ہے‘‘ سے بھی زیادہ گیا گذرا ہوگا۔\n\nسرسید سے ’’معقولات‘‘ الگ کرلیجئے تو کچھ نہیں رہتے، نذیر احمدبغیرمذہب کے لقمہ نہیں توڑسکتے، شبلی سے تاریخ لے لیجئے تو قریب قریب کورے رہ جائیں گے۔ حالی بھی جہاں تک نثر کا تعلق ہے سوانح نگاری کے ساتھ چل سکتے ہیں لیکن ’’آقائے اردو‘‘ یعنی پروفیسر آزاد صرف انشا پرداز ہیں جن کو کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں، اسی لئے واقعات بھی انھوں نے جس قدر لکھے ہیں، ’’قصص‘‘ (یعنی ٹیلز) کی حیثیت رکھتے ہیں، جنھیں ’’افسانہ یارانہ کہن‘‘ سمجھئے۔\n\nاس بحث کو اصل تنقیدی مضمون میں پھیلاؤں گا، یہاں افتتاحی حیثیت سے بھی قوت کا صرف کرنا منظور نہیں۔ اسی سلسلہ میں آپ دیکھیں گے کہ جدید شاعری جس کے ’’آدم‘‘ حالی سمجھے جاتےہیں، غالباً اس کی داغ بیل سب سے پہلے آزاد نے ڈالی تھی۔ مجھ کو آزاد کے لٹریچر سے غیرمعمولی دلچسپی ہے، اس لئے ذرا تفصیل کے ساتھ ان کی دلکش تصنیفات کے ان اجزاء کو ابھار کر دکھاؤں گا جن کا ایک ایک حرف لٹریچر کی جان ہے۔\n\nبہرحال ارکان خمسہ کی تجویز آپ کے سامنے ہے۔ اکبری نورتن کے مقابلہ میں بعض صاحبوں کو یہ تجدید پسند نہ آئے گی لیکن مجھے افسوس ہے کہ مصنفین کی صف اول میں اس سے زیادہ گنجائش معلوم نہیں ہوتی۔ تاہم غیر ضروری نکتہ چینی سے علیحدہ ہوکر اگر کوئی صاحب (بشرطیکہ لٹریچر کا صحیح مذاق رکھتے ہوں) مجھے مفید مشورہ دے سکیں تو میرا خیال ہے میں اس پر غور کرنے کے لئے ایک حد تک تیار ہوں۔\n\nاس تجویز کو قوت سے فعل میں لانے کے لئے ضرورت ہے کہ کم سے کم سو صفحے ہر مصنف کے نذر کئے جائیں۔اس طرح پانچ سو صفحوں کی ایک کتاب تیار ہوجائےگی جس کا ایک طبع خاصہ (یعنی اڈیشن ڈی لکس) بہتر سے بہتر کاغذ اور چھپائی کے ساتھ شائع ہوگا، جس میں مصنفین کے ساتھ منقدین کی ہاف ٹون عکسی تصویریں شامل کی جائیں گی۔ اس کی تکمیل مالی امداد سے قطعاً بے نیاز ہے۔ صرف ضرورت ہے تو ترتیب مضامین کی، جس کی طرف ایک مرتبہ اور میں ان اصحاب کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں جن کو فرداً فرداً میں نے نامزد کرنے کی عزت حاصل کی ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C%DA%86%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%B1%D8%AE%D9%85%D8%B3%DB%81"} {"title": "اردو کا حال اور مستقبل", "poet_page": "مصنف:مولوی عبد الحق", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(یہ خطبۂ صدارت انجمن حمایت اسلام لاہور کے اکیانویں سالانہ اجلاس میں بحیثیت صدر شعبۂ اردو ۱۲/اپریل ۱۹۳۶ء کو پڑھ کر سنایا گیا۔)\n\nاے صاحبو!میں نے لڑکپن میں انجمن حمایت اسلام کا بچپن دیکھا تھا اور اب بڑھاپے میں اس کی جوانی کی بہار دیکھ رہا ہوں۔ میں جوں جوں بڑھتا جاتا ہوں، بڈھا ہوتا جاتا ہوں۔ یہ جوں جوں بڑھتی جاتی ہے، جوان ہوتی ہوتی ہے۔ اور اے اہل پنجاب! جب تک آپ کی ہمت جوان ہے، اس کی جوانی کبھی ڈھلنے نہ پائےگی۔ اس کی ابتدا کا خیال کیجیے تو ایک نازک پودے سے زیادہ نہ تھی، جس کی فنا کے لیے ہوا کا ایک جھونکا کافی تھا مگر آج یہ ہری بھری لہلہاتی کھیتی نظر آتی ہے۔ یہ آپ کے استقلال اور ایثار کی بے نظیر مثال ہے۔ یہ انجمن آپ کی سرزمین پر ابر رحمت کی طرح چھائی ہوئی ہے۔ اس کے ادارے بڑھتے جاتے ہیں، اس کے کارخانے ترقی پر ہیں، اس کے مقاصد میں وسعت پیدا ہوتی جاتی ہے اور اس کا اثر اور اس کی وقعت مسلم ہے۔ اس کی جواں ہمتی کایہ تازہ ثبوت ہے کہ اس نے عین وقت پر اپنی زبان کی بقا اور فروغ کی طرف توجہ کی ہے، جس پر میں آپ کو دل سے مبارکباد دیتا ہوں۔ لیکن یہ پہلی بار نہیں ہے جو پنجاب نے اردو کی دست گیری کی۔ وہ ابتداسے اس کی حمایت کے لیے کمر بستہ رہا ہے۔ اردو کی اشاعت اور ترقی میں پنجاب برابر کا شریک رہا ہے اور اب تو شریک غالب ہے اور یہ حقیقت ہے کہ پنجاب نے اسے اپنی زبان بنا لیا ہے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ وہ اسے ’’اپنی زبان‘‘سے بھی زیادہ عزیز سمجھتا اور عزیز رکھتا ہے۔ اس لیے انجمن حمایت اسلام کا اس سال اپنے سالانہ جلسے میں اردو کا اجلاس رکھنا سنت قدیم کی پابندی اور موقع شناسی کی دلیل ہے۔ حضرات! زبان صرف اظہار خیال کا آلہ نہیں بلکہ ہماری زندگی کا جز ہے۔ ہرشخص جو اسے بولتا یا کام میں لاتا ہے وہ اپنی بساط کے موافق اس میں اپنی زندگی کا کچھ نہ کچھ نشان ضرور چھوڑتا جاتا ہے۔ اس میں ہمارے تمدن وشائستگی، خیالات و جذبات، تجربات اور مشاہدات کی تاریخ پنہاں ہے۔ ہر لفظ ایک زندہ شے ہے جو اپنے منہ سے اپنی حکایت بیان کر رہا ہے۔ ہمارے اسلاف نے کیسی کیسی محنت و مشقت سے اسے پالا پوسا ہے اور اپنے خون سے سینچا ہے۔ یہ ایک مقدس میراث ہے جو نسلاً بعد نسل ہم تک پہنچی ہے۔ ہم ناخلف ہوں گے اگر ہم نے اسے قائم نہ رکھا اور اس کی ترقی و فروغ میں پوری کوشش نہ کی۔ اس وقت اردو زبان کی ترقی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ ملک میں عام طور سے زبان کی اشاعت کے ذرائع اختیار کیے جائیں۔ مثلاً اردو مدارس اور کتب خانوں کا قیام، سرکاری اور غیرسرکاری مدارس میں اردو کی شرکت، موجودہ نصاب اردو کی اصلاح، اردو کی انجمنوں کا قائم کرنا اور ایسے اردو اخباروں اور رسالوں کا اجراجو سلیس زبان میں زمانۂ حال کے حالات اور واقعات کواس طرح سنجیدگی اور صفائی سے پیش کریں کہ ہر پڑھا لکھا شخص سمجھ سکے اور مستفید ہو سکے۔ وہ اپنی رائے میں بے لاگ ہوں اور انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ ان جرائد کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہو لیکن مخصوص طور پر وہ اپنی زبان کے نگراں ہوں، یعنی وہ اپنی زبان کے متعلق ہرقسم کی خبریں مہیا کریں، مختلف علاقوں میں زبان کی جو حالت ہے اس سے آگاہ کریں اور ان مقامات میں جن اصلاحوں اور کوششوں کی ضرورت ہے ان پر بحث کریں، اردو تالیفات کا جائزہ لیں، انصاف کے ساتھ تنقید و تبصرہ کرکے ان کے حسن و قبح کو ظاہر کریں۔ ان تمام تجویزوں سے بڑھ کر ایک ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مؤلفین و مترجمین کی قدر افزائی کی جائے جو اپنی زبان میں قابل قدر کام کر رہے ہیں۔ دوسری صورت زبان کی ترقی کی یہ ہے کہ زبان کو مستحکم اور شائستہ بنایا جائے۔ استحکام سے میری مراد یہ ہے کہ مختلف قسم کی جامع لغات، مبسوط صرف و نحو، انسائیکلوپیڈیا کی تالیف اور ہر قسم کے علوم و فنون پر تالیفات مہیا کی جائیں۔ زبان کو شائستہ بنانے کے معنی یہ ہیں کہ زبان میں صفائی، شستگی اور پختگی پیدا ہو، وہ نازک سے نازک خیال ادا کرنے پر قادر ہو اور اس میں مختلف اسالیب بیان کے سانچے موجود ہوں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ زبان میں اعلیٰ درجے کی تصانیف و تالیفات اور غیرزبانوں کی بہترین تصانیف کے ترجموں کا ذخیرہ فراہم ہو جو اہل قلم کی رہنمائی کر سکے۔ پہلی شق یعنی اشاعت زبان کے متعلق انجمن ترقیٔ اردو نے ڈول ڈالا ہے۔ سب سے اول یہ تجویز ہے کہ ہندستان کے تمام علاقوں اور صوبوں میں اردو زبان کا جائزہ لیا جائے، جس کایہ مطلب ہے کہ جہاں تک ممکن ہو تحقیق طور سے یہ معلوم کیا جائے کہ ان علاقوں میں اردو سمجھنے، بولنے والوں اور پڑھے لکھوں کی کیا تعداد ہے، کتنے سرکاری اور امدادی مدارس ہیں جن میں اردو کی تعلیم دی جاتی ہے، یہ تعلیم کس درجہ تک ہے اور طلبہ کی کیا تعداد ہے، اس کے درسی نصاب کی کیا حالت ہے، قدیم طرز مدارس کی تعداد جن میں اردو پڑھائی جاتی یاذریعۂ تعلیم ہے کتنے ہیں اور ان میں طلبہ کی تعداد کیا ہے، سرکاری اور نجی اردو کتب خانوں کی تعداد، ایسی انجمنوں اور اداروں کی تعداد جو اردو کی خدمت کرتے ہیں، اردو مطابع اور جرائد کی تعداد اور حالت، سرکاری محکموں اور عدالتوں میں اردو کی حیثیت۔ ان شمار واعداد کے علاوہ یہ بھی دریافت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہاں اردو زبان ترقی پہ ہے یا انحطاط پر اور اس کے کیا اسباب ہیں، لوگوں کو اردو سیکھنے اور پڑھنے کا شوق ہے یانہیں، وہاں کی زبان کی مقامی خصوصیات، اردو کا اثر قرب وجوار کی زبانوں پر، وہاں کی قدیم تصانیف اور مصنفین اور شعرا کے نام وغیرہ وغیرہ۔ نیز اس بات کے کھوج لگانے کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ ہر علاقے میں اس کے حالات کی رو سے اردو کی اشاعت و ترقی کے لیے کیا تدابیر عمل میں لائی جائیں۔ یہ تجویز جب میں نے شروع میں ایک منتخب کمیٹی کے سامنے پیش کی تھی تو اس کی مشکلات دیکھ کر ارکان مجلس کو اس کی کامیابی کے متعلق بہت کچھ شبہ تھا اور بعض دوستوں نے مجھے لکھا بھی کہ تم کس خبط میں گرفتار ہو، یہ بیل منڈھے چڑھنے والی نہیں ہے۔ لیکن میں کسی قدر خوشی سے یہ اطلاع دیتا ہوں کہ بعض صوبوں اور علاقوں سے مکمل رپورٹیں وصول ہو گئی ہیں اوربعض میں کام جاری ہے۔ ہرعلاقے سے رپورٹیں وصول ہونے پر ایک مکمل رپورٹ شائع کی جائےگی۔ یہ گویا تمام ہندستان میں اردو زبان کی موجودہ حالت کا آئینہ ہوگا۔ یہ ایک نہایت ضروری اور بنیادی کام ہوگا۔ اس پر ہم اپنی عمارت کھڑی کرسکیں گے۔ تمام حالات معلوم ہونے پر ہم ہر صوبے اورعلاقے میں اردو کی اشاعت و ترقی کا کام شروع کریں گے اور مجھے یقین ہے کہ آپ کا صوبہ اس معاملے میں سب سے پیش پیش ہوگا۔ دوسری شق زبان کے مستحکم اور شائستہ بنانے کی ہے۔ انجمن ترقیٔ اردو اس کی طرف سے بھی غافل نہیں رہی۔ چنانچہ اس نے قدیم کمیاب تذکرے اور قدیم اردو کی کتابیں جن پر اردو ادب کی تاریخ کابہت کچھ انحصار ہے، ڈھونڈ کر طبع کرائیں اور ان کی وجہ سے بہت سی غلط فہمیاں جو اب تک ہمارے ادب کی تاریخوں میں چلی آرہی تھیں رفع ہو گئیں اور اس وقت سے اردو ادب کی تاریخ کا رنگ ہی بدل گیا۔ اس کے علاوہ مختلف قسم کی لغات زیر ترتیب وزیر طبع ہیں۔ مثلاً انگریزی اردو کی جامع لغات جو زیر طبع ہے اور چند ماہ میں چھپ کر شائع ہو جائےگی، اصطلاحات پیشہ وراں جو تقریباً مکمل اور زیر نظر ثانی ہے، اس کا پہلا حصہ عنقریب مطبع میں پہنچ جائےگا۔ قدیم اردو کی لغات وغیرہ، اردو زبان کی مبسوط جامع لغات جو نظام گورنمنٹ کی سرپرستی میں مرتب ہو رہی ہے، وہ بھی انجمن ہی کی تحریک کا نتیجہ ہے۔ ایک دوسری تجویز جواس وقت انجمن کے زیر غور ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کی اعلیٰ زبانوں کی جس قدر بہترین تصانیف ہیں، ان کا اردو میں ترجمہ کر دیا جائے۔ اس کی فہرست تیار ہو چکی ہے اور اب اسے عمل میں لانے کی تدبیر کی جا رہی ہے۔ یہ کام اگر سرانجام پا گیا تو عظیم الشان کامیابی ہوگی۔ اس مختصر ذکر سے میرامقصد اس بات کا جتانا ہے کہ ادبی اداروں کو وہ اہم کام کرنے چاہییں جو افراد کے بس کے نہیں۔ اگر ادبی ادارے بغیر کسی اصول کو مدنظر رکھے ایسے ہی کام کرتے رہے جو قابل تعلیم یافتہ لوگ فرداً فرداً کر سکتے ہیں تو ایسے ادارے کچھ زیادہ مفید نہیں ہو سکتے، بلکہ بعض حالات میں مضرہوں گے کیونکہ اس میں محنت، وقت، روپیہ زیادہ صرف ہوتا ہے اور کام اس کے مقابلے میں ویسا نہیں ہوتا جس کی توقع کی جاتی ہے۔ ایک مدت کے تجربہ کے بعد اور کچھ کھوکر یہ اتنی سی بات معلوم ہوئی ہے لیکن اسے حقیر خیال نہ کیجیے، یہ بہت بڑی بات ہے اور اس لیے میں نے اپنا فرض سمجھا کہ صاف صاف اس کا اظہار کر دوں۔ اس کے متعلق ایک دوسری بات یہ ہے کہ اگر ہمیں اپنی زبان کی حفاظت اور ترقی منظور ہے تو اب ادبی اداروں کو متحد ہوکر کام کرنا چاہیے۔ اتحاد عمل میں بڑی برکت اور قوت ہوتی ہے۔ جو کام فرداً فرداً مشکل اور محال معلوم ہوتا ہے، وہ باہمی مشورے اور اتحاد سے آسان ہو جاتا ہے۔ ہمیں مل کر پہلے سے اپنے ’’اعمال نامے‘‘ تیار کر لینے چاہییں کہ کیا کیا کرنا ہے، کیونکر کرنا ہے اور کتنی مدت میں کرنا ہے۔ یہ موقع اس کی تفصیل کا نہیں۔ اسے میں نے دوسرے وقت کے لیے اٹھا رکھا ہے۔ حضرات! اردو زبان میں ایسے ادیب، شاعر اور انشاپرداز گزر چکے ہیں اور بعض اب بھی ہیں جن پر ہم بجا طور سے فخر کر سکتے ہیں لیکن جب ہم دوسری مہذب اور ادبی زبانوں سے مقابلہ کرتے ہیں تو اپنی زبان کی کم مائیگی پر افسوس ہوتا ہے۔ اس کمی کی تلافی ہمارا فرض ہے۔ اس میں شک نہیں کہ کام کرنے والے کام کر رہے ہیں، ادبی اور علمی ادارے اپنی بساط کے موافق ہمارے ادب و علم کے ذخیرے میں اضافہ کر رہے ہیں، اخبار اور رسالے بھی پہلے سے بہت بڑی تعداد میں شایع ہوتے ہیں، شعر و شاعری کا بھی خوب چرچا ہے بلکہ بعض اوقات وبال جان ہوتا ہے لیکن ایک بات جو مجھے کھٹکتی ہے اسے کہے بغیر نںیں رہ سکتا۔ سرسید احمد خاں کے زمانے میں (جو جدید ادب کے بانی نہیں تو فروغ دینے والے ضرور تھے) ہماراادب عروج پر تھا۔ اس وقت ایسے ایسے ادیب پیدا ہوئے جن کا نام ہمارے ادب کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہےگا۔ وہ زندگی کے صحیح معنی سمجھتے تھے اور دوسروں کو سمجھانے کی کوشش کرتے تھے۔ ہم بے خبری اور غفلت کے عالم میں تھے، انہوں نے ہمیں جھنجوڑا، چونکایا، خبردار کیا اور رستے پر لگایا۔ وہ ادبی مجاہد تھے۔ وہ سربکف میدان عمل میں اترے اور زندگی کی مشکلات سے مردانہ وار ٹکراتے اور مقابلے کرتے رہے اور اکثر پر غالب آئے۔ انہوں نے اپنے زور بیان اور قوت تحریر سے ہل چل مچادی اور سب کو ایک مرکز پر لے آئے۔ ان میں خلوص، بے غرضی، درد اور ایثار تھا۔ انہوں نے اپنے درد سے دوسروں میں سوز، اپنے خلوص اور بےغرضی سے دلوں میں جلا اور اپنے ایثار سے حب قوم پیدا کی اور ایک جماعت ایسی کھڑی کر دی جو اپنی قوم کے لیے کام کرنا شرافت اور انسانیت ہی نہیں بلکہ باعث نجات سمجھتی تھی۔ کیا اب بھی ہمارے ادب کی یہی حالت ہے؟ یہ دیکھ کر کس قدر افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ادیب اور شاعر اس راستے سے ہٹتے جاتے ہیں۔ وہ زندگی کی کشمکش سے جھینپتے اور مشکلات سے کنیاتے ہیں۔ اس لیے وہ عالم خیال کی سیر کرتے رہتے ہیں اور دل فریب خوابوں سے اپنا جی بہلاتے ہیں۔ ہمیں جہاد کی ضرورت ہے اور وہ سیروتفریح کے سامان فراہم کر رہے ہیں۔ شعروادب صرف ’’حظ نفس‘‘ کے لیے ہی نہیں ہے، اس سے اور بھی بڑے بڑے کام نکل سکتے ہیں تاکہ یہ حظ نفس کے ساتھ قوت روح بھی ہو جائے۔ ہمیں شعروادب کی ان تعریفات سے فی الحال قطع نظر کر لینا چاہیے جو فارغ البال اور عیش پرست قوموں نے کی ہیں۔ اس زمانے میں جب کہ ہم طرح طرح کی کشاکشوں میں گرفتار ہیں، ان سے آلات حرب کا کام لینا چاہیے۔ آلات حرب سے خدانخواستہ میری یہ مراد نہیں کہ ہم ملک میں فتنہ وفساد پیدا کریں۔ نہیں، بلکہ ان سے زندگی کی جنگ میں کام لینا چاہیے۔ ان کے ذریعہ سے دلوں کے ابھارنے، زندگی کے سنوارنے، شکوک کے مٹانے اور توہمات کی بیخ کنی میں مدد لیجیے۔ سید احمد خانی درد اور ایثار دکھائیے کہ بغیر اس کے کسی خیال میں گرمی اور اثر پیدا نہیں ہو سکتا۔ جس دل میں آگ نہیں وہ دوسروں میں چنگاریاں کیونکر پیدا کر سکتا ہے۔ جس دل میں لگن نہیں وہ دوسروں کو کیسے ابھار سکتا ہے۔ یہ لگن کہاں سے اور کیونکر آئے؟ یہ اس وقت پیدا ہوگی جب آپ میدان میں آئیں گے، لوگوں کی بھیڑ میں گھسیں گے، کھوے سے کھوا چھلےگا، ہر طرف سے ٹکریں لگیں گی، مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اس وقت آنکھیں کھلیں گی، زندگی اصلی روپ میں نظر آئےگی، اس وقت آپ کے دل پر چوٹ لگے گی اور درد اور خلوص پیدا ہوگا۔ اس وقت آپ کی صریر قلم ہولناک توپوں کی آواز سے زیادہ کارگر اور آپ کی زبان کا ایک ایک لفظ شمشیر کے گھاؤ سے زیادہ کاری ہوگا۔ یہ سچ ہے کہ یہ زمانہ بہت نازک ہے۔ بیکاری روز بروز بڑھتی جاتی ہے۔ معاشیاتی پیچیدگیوں نے ملک کو خستہ کر رکھا ہے، جس سے ادیب اور شاعر دونوں چوکڑی بھول گئے ہیں۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ زمانہ امتحان کاہے، یہیں ادیب اور شاعر کے جوہر کھلتے ہںد اور یہی وقت اسے اپنے خداداد جوہر سے کام لینے کا ہے۔ جو ادیب اور صناع الگ تھلگ رہنا چاہتا ہے اور کار زار زندگی میں شریک نہیں ہونا چاہتا اور خلوص کے ساتھ اپنے فطری جوہر کو کام میں نہیں لانا چاہتا، وہ مجرم ہے اور اس کی سزا وہی ہے جو ایک غدار کی ہوتی ہے۔ زبان بنی نوع انسان کی عملی اور روحانی زندگی کے لیے نہایت درجہ ضروری ہے۔ اس لے زبان وادب کی ترقی (جہاں تک ممکن ہو سکے) اسے قوم کی ضروریات اور حالات کے مطابق بنانے میں ہے۔ یہ نکتہ ہمارے ادیبوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔ حضرات! زبان بلاشبہ ایک معاشرتی ضرورت اس کی تخلیق کا باعث ہوئی اور وہ اس کی زندگی کا ایسا جزو ہے جو اس سے کبھی جدا نہیں ہو سکتا۔ وہ انسان سے الگ کوئی شے نہیں ہے۔ وہ ان لوگوں سے وابستہ ہے جو اسے بولتے اور اس میں فکر کرتے ہیں۔ اس کی جڑیں ہمارے دل ودماغ اور جسم میں پھیلی ہوئی ہیں اور وہیں سے اس کی نشوونما ہوتی ہے۔ زبان کی ترقی و انحطاط معاشرتی حالات کے تابع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے لسانیات تمدن ومعاشرت کی تاریخ کو زبان کی تاریخ میں تلاش کرتے ہیں۔ اسے وقتی سیاسیات کا رنگ دینا سوتے ہوئے فتنے کو جگانا ہے۔ کیا سیاسی کانگریسیوں اور سبھاؤں کے لیے یہ مناسب نہ ہوگا کہ وہ اس وقت تک تہذیبی اور ذوقی معاملات پر ہاتھ نہ ڈالیں جب تک وہ قومیت کی کوئی صورت قایم نہ کر لیں؟ اس سے زیادہ قابل الزام وہ سیاسی حضرات ہیں جو زبان کے پردے میں جس کی تہ زمین سیاست ہے، اس مسئلہ کو چھیڑ کر طرح طرح سے پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس نے یہ قرارداد منظور کی تھی کہ ہندستان کی زبان ہندستانی ہوگی، خواہ وہ ناگری حروف میں ہو یا فارسی حروف میں۔ یہ فیصلہ معقول تھا اور اس دور اندیشی پر مبنی تھاجو اس قسم کی کانگریسں ایسے موقعوں پر عمل میں لاتی ہیں لیکن ان صاحبوں کے اطمینان کے لیے کافی نہ تھا جن کا منشا کچھ اور تھا۔ انہوں نے اس رزولیوشن کو طفل تسلی سے زیادہ وقعت نہ دی اور دوسری ادھیڑ بن میں لگ گیے۔ ان کی کوششوں کا نتیجہ اپریل ۱۹۳۵ء میں ظہور میں آیا۔ یعنی ہندی سمیلن کا سالانہ جلسہ اندور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت مہاتما گاندھی نے فرمائی۔ اس جلسے میں بالاتفاق یہ قرار داد منظور\n\nہوئی،\n\n’’اب ہندی ملکی زبان کی صورت اخیتار کرکے خاص و عام کی زبان ہو چکی ہے۔ مہاتما گاندھی جیسے ملک کے سدھارنے والے اسے زندہ ملکی زبان بنانے کا عہد کر چکے ہیں۔‘‘خود مہاتماجی کا خط ملاحظہ فرمائیے، جو انہوں نے ’’ہنس‘‘ کے متعلق تحریر فرمایا ہے،‘‘ہنس ہندستان بھر میں انوکھا پریتن ہے۔ یدی ہندی اتھوا ہندستانی کو راشٹربھاشا بنانا ہے تو ایسے ماسک کی آوشکتا ہے۔ پرتیک پرانت کی بھاشا میں جو لیکھ لکھا جاتا ہے اس کا پرچیے راشٹر بھاشا دواراسب کو ملنا چاہیے۔ بہت خوشی کی بات ہے کہ اب ایسا پرچیے دل چاہے ان کو ہنس دوار اپرت ماس ادھے روپے میں ادا کرےگا۔‘‘ اس ہوشیاری کو آپ نے دیکھا۔ اب تک ملک کی زبان ’’ہندستانی‘‘ تھی اور سب سے بڑی اورسب سے زیادہ منظم اور باوقعت کانگریس نے اسے علی الاعلان تسلیم کر لیا تھا، لیکن اب ہندی یا ہندستانی ہو گئی۔ یہ ہندستانی کے الفاظ خاص ذہنیت کو ظاہر کر رہے ہیں۔ رفتہ رفتہ یہ لفظ حذف ہو جائیں گے بلکہ یہ سمجھیے کہ ہو گئے، جیسا کہ ’’ہنس‘‘کے اڈیٹروں کی تحریر سے صاف ظاہر ہے۔ اب اس تحریر کا (جسے مہاتماجی ہندستانی کہتے ہیں) مہاتماجی کے اس خط سے مقابلہ کیجیے جو انہوں نے حکیم اجمل خاں کو اردو زبان اور اردو رسم خط میں لکھا تھا اور جس کا عکس بعض رسالوں میں شائع ہو چکا ہے۔ ان دونوں میں سے ہم کس زبان کو ہندستانی کہیں۔ زبان کو سیاسیات کے خارزار میں گھسیٹنے اور سیاست دانوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنانے کا یہ نتیجہ ہے کہ دو طبقوں میں بجائے اتفاق کے نفاق اور بڑھتا جاتا ہے۔\n\nاب مہاتماجی جس زبان کو ہندی یا ہندستانی کہتے ہیں، اس کا ایک نمونہ تو آپ نے خود ان کے خط میں دیکھ لیا۔ دوسرا نمونہ ہنس کے فاضل اڈیٹر منشی پریم چند کی تحریر سے پیش کیا جاتا ہے،’’آپ نے بہت ٹھیک کہا کہ کوتاکیول منورنجن کی وستو نہیں اور نہ گا گاکر سنانے کی چیز ہے۔ وہ تو ہمارے ہردے میں پریرناؤں کو ڈالنے والی، ہمارے اوساد گرست من مں آنندمے اسپھورتی کا سنچار کرنے والی ہم میں کومل بھاؤ ناؤں کو جگانے والی (استرین بھاؤ ناؤں کی نہیں) وستو ہے۔‘‘\n\nاسے مہاتا گاندھی ہی ہندستانی کہہ سکتے ہیں ورنہ کسی اور زبان داں کو یہ جرأت نہیں ہو سکتی۔ یہ میں نے آسان سا جملہ آپ کو سنایا ہے۔ اگر میں اس رسالے کے کسی مضمون کا کوئی حصہ سناتا توآپ کانوں میں انگلیاں دے لیتے اور کہہ اٹھتے،گرتو ہندی بدیں نمط خوانیببری رونق زباں دانیاور یہ بھی یاد رہے کہ جو جملے میں نے ابھی آپ کو سنائے ہیں، یہ ایسے شخص کی تحریر ہے جو اردو کابھی ایسا ہی اچھا ادیب ہے جیسے ہندی کا اور جو ان لوگوں میں سے ہے جو ہندستانی زبان کے فروغ کے حامی ہیں۔ مجھے اس کی زبان پر مطلق اعتراض نہیں، یہ بہت صحیح اور فصیح ہندی ہے لیکن اسے ہندستانی کہنا لوگوں کی آنکھوں میں خاک جھونکنا ہے۔ ممکن ہے کہ مہاتما گاندھی جو توجیہ و تاویل کے فن کے استاد کامل ہیں، لفظ اتھوا(یا) کے کچھ اور معنی پیداکرلیں ورنہ بحالت موجودہ ہندی یا ہندستانی کا کوئی دوسرا مفہوم نہیں ہو سکتا۔ زبان کا آسان یامشکل ہونا ایک دوسری بات ہے۔ ہر ایک کا ایک اسلوب بیان یا طرز تحریر ہوتا ہے اور خاص کر ادبی اور سائینٹفک مضامین میں لامحالہ زبان مشکل ہو جاتی ہے لیکن جو تحریر جس زبان میں ہے، اسے اسی زبان سے منسوب کرنا مناسب ہے۔ لفظوں کے داؤ پیچ سے غلط فہمیاں پیدا کرنا درست نہیں۔ میں یہ بھی عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ جہاں تک مےھص علم ہے، ’’ہنس‘‘کے قابل اڈیٹروں نے اپنے رسالے کی زبان کو کبھی ہندستانی نہیں کہا۔ یہ مہاتما گاندھی ہیں جو ’’ہنس‘‘ کی زبان کو ہندستانی کہتے ہیں اور ایسی بڑی جسارت ایساہی بڑا آدمی کر سکتا ہے۔ اگرچہ ہمیں ہنس کے اڈیٹروں کے اس قول کے تسلیم کرنے میں بہت تامل ہے کہ اب ہندی زبان تمام ہندستان کی عام زبان ہو گئی ہے۔ اس رنگ کو (یعنی سیاسی رنگ کو) اور گہرا کرنے کے لیے اکثر اوقات اور عموماً مذہب کی پٹ دی جاتی ہے۔ جس زمانے میں شدھی اور سنگھٹن کا زور تھا، اس بدعت نے بھی زور پکڑا۔ اگرچہ شدھی اور سنگھٹن کا مقصد ہندوؤں کی تنظیم اور تقویت اور ہندومذہب کی تبلیغ تھا، لیکن زبان بھی اس کی لپیٹ میں آ گئی۔ اگر آپ شدھی اور سنگھٹن کے قبل کے ہندی ادب کا مقابلہ بعد کے ہندی ادب سے کریں گے تو معلوم ہوگا کہ ہندی کی اصل اشاعت وترقی اسی وقت سے شروع ہوئی ہے۔ جب کوئی وار کارگر نہیں ہوتا تو مذہب اور سیاسیات کی آڑ لی جاتی ہے۔ لوگوں کو اکسانے اور ان میں جوش پیدا کرنے کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چلتا ہواعمل نہیں ہے۔ زبان کو جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں، انسانی ضرورت نے پیدا کیا اور زبان اور اس کے ادب کا ارتقا زمانے کی ضروریات اور حالات و افکار کے تابع رہا اور آئندہ بھی رہےگا۔ مذہب کے نام سے یاسیاسیات کے پردے میں اس کی اشاعت کا پراپیگنڈا کرنا خصوصاً ایسے زمانے میں جب کہ نفاق کی آگ ملک میں بھڑک رہی ہے، دانش مندانہ فعل نہیں ہے۔ اس قسم کی تحریکوں سے نہ صرف اردو داں طبقے کو صدمہ پہنچا بلکہ نیشنل کانگریس کی اس قرارداد کی بھی بے وقعتی ہوئی جس کی رو سے ’’ہندستانی‘‘ ملک کی عام زبان قرار پائی تھی اور ہندستانی قومیت اور ہندستانی زبان و ادب کے بنانے کے لیے دلیرانہ اور دانش مندانہ پیش قدمی کی گئی تھی۔ لیکن اب معلوم ہوا کہ ہندستانی کے معنی ہندی ہیں اور اس کی تائید میں مہاتما گاندھی کا بیان سب سے بڑی شہادت ہے۔ ابھی حال میں آپ کے پڑوس کے صوبے میں اسی قسم کا ہنگامہ بپا ہواتھا۔ اس میں بھی سیاسی رنگ کی جھلک پائی جاتی ہے۔ اگرچہ صوبہ سرحد کی مقامی زبان جسے وہاں کا تقریباً ہر باشندہ بولتا اور سمجھتا ہے پشتو ہے یا پنجابی، اب جو انہوں نے اپنی مقامی زبان ترک کرکے اردو کو اپنے نصاب تعلیم میں داخل کیا ہے تو ان کا یہ فعل قابل تعریف ہے نہ لایق مذمت۔ انہوں نے بڑی اخلاقی جرأت سے کام لیا ہے اور محض ہندستانی قومی زبان کی خاطراتنی بڑی قربانی کی ہے۔ جو لوگ ہندستانی قومیت کے خواب دیکھ رہے ہیں انہیں خوش ہونا چاہیے کہ صوبۂ سرحد نے اس طرف سب سے پہلے قدم بڑھایا ہے۔ اس معاملے کے متعلق میں کچھ زیادہ کہنا نہیں چاہتا کیونکہ آپ مجھ سے بہتر ان باتوں کو جانتے اور سمجھتے ہیں۔ ایک اور تازہ واقعہ سنیے کہ مسلمانوں نے دہلی کے نشرگاہ (یعنی براڈ کاسٹنگ سٹیشن) کی زبان کے متعلق ایک شاخسانہ نکالا ہے۔ سننے والوں نے نہیں بلکہ اسمبلی کے بعض ممبروں نے۔ وہی سیاسی رنگ! سنا جاتا ہے کہ اس زبان پر جسے کبھی ہندستان کی عام زبان بنانے کا ارادہ تھا، نزلہ گرنے والاہے اور اس کے پروگرام میں اس قسم کی تبدیلی ہونے والی ہے کہ اردو یا ہندستانی برائے نام رہے اور اس کی جگہ مہاتما گاندھی کی ہندی (یا ہندستانی) کو دے دی جائے۔ اور اس میں انہیں کامیابی ہو جائےگی کیونکہ آج کل اخباروں کی چیخ پکار اور ارکان اسمبلی کے سوالات بڑی وقعت رکھتے ہیں۔ اردو داں طبقہ کو اپنے اخباروں کی خبر لینی چاہیے اور انہیں زیادہ بہتر اور باوقعت بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس زمانے میں یہ بہت بڑی قوت ہے۔ ہرشخص کو اور ہر قوم کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی زبان کی اشاعت و ترقی کے لیے ہر جائز ذریعہ کو استعمال کرے اور جہاں تک اس کی قدرت میں ہو، اس کی بہتری کے لیے کوشش کرے لیکن کسی فرد یاجماعت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی زبان کی محبت یا جنون میں دوسری زبانوں کی تخریب کے درپے ہواور وفد لے کر والیان ریاست کی خدمت میں حاضر ہو اور اصرار کرے کہ وہ اپنے علاقوں سے اردو زبان کو خارج کرکے ہندی داخل کر لیں۔ اردوداں طبقہ کبھی اس کا مرتکب نہیں ہوا۔ ہم کسی زبان کے مخالف نہیں، البتہ اپنی زبان کی ترقی کے خواہاں ہیں اور اس معاملے میں کامل رواداری اور آزادی کے قائل ہیں۔ اسی ضمن میں رسم خط کا مسئلہ بھی آ جاتا ہے۔ آج کل اس پر بڑی پرزور بحثیں ہو رہی ہیں جن میں سے بعض دل چسپ اور کارآمد ہیں۔ لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کی تان اردو رسم خط ہی پر کیوں توڑی جاتی ہے۔ یہ مسئلہ ہندستان کے تمام رسوم خط سے متعلق ہے، جہاں متعدد اور مختلف تحریر کے طریقے رائج ہیں، خصوصاً جنوبی ہند میں، جس کا تعلق نہ اردو رسم خط سے ہے نہ دیوناگری سے۔ ہندستان کی تمام زبانوں کے لیے کسی ایک رسم خط کا ہونا ممکن تو ہے لیکن اس کا عمل میں آنا بہت دشوار ہے۔ مثالاً میں آپ کو ایک پرلطف لطیفہ سناتا ہوں۔ مسٹر ہری کول ٹائپ حروف اور اس کی طباعت کے بڑے ماہر ہیں۔ انہوں نے حال میں بنگالی اور ہندی کا ٹائپ تیار کیا ہے۔ جو بہت قابل قدر ایجاد ہے۔ انہوں نے رسالہ ’’وشال بھارت‘‘ کلکتہ میں دیوناگری رسم خط کی تائید میں ایک مفصل مقالہ لکھا ہے جس کے ضمن میں انہوں نے یہ بحث کی ہے کہ مسلمان جو یہ کہتے ہیں کہ دیوناگری رسم خط اختیار کرنے سے ان کے کلچر کو صدمہ پہنچےگا، یہ بالکل غلط خیال ہے۔ رسم خط کو کلچر سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بحث کرتے کرتے وہ رومن رسم خط پر آتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ رومن رسم خط اختیار کرنے سے ہندو تہذیب اور کلچر کو سخت نقصان پہنچےگا۔ کیا عجیب بات اور کیسی عجیب منطق ہے۔ میں قابل مقالہ نویس کو ’’حافظہ نباشد‘‘ کا الزام نہیں دیتا لیکن اتنا ضرور عرض کرتا ہوں کہ دلوں کی تہوں میں جو بات چھپی ہوئی تھی، اس کا راز کس سادہ لوحی سے طشت ازبام ہو گیا۔ جب تک اس خیال اور دماغ کے لوگ ہم میں موجود ہیں (خواہ وہ کسی طبقے یا فرقے کے ہوں) اس وقت تک ملک کی ساری زبانوں کے لیے کسی ایک رسم خط کا ہونا محال ہے۔ رہا اردو رسم خط تو یہ آج کا نہیں ہے۔ جب سے یہ زبان پیدا ہوئی یہ اس کے ساتھ ہے اور یہ زبان جیسا کہ معلوم ہے اور ظاہر ہے ٹھیٹ ملکی زبان ہے۔ ہندو مسلمانوں کی مشترکہ ملک ہے، دونوں کو ان کے بزرگوں سے میراث میں ملی ہے اور یہ رسم خط بھی اسی کے ساتھ آیا ہے جسے دونوں یکساں طور پر استعمال کرتے رہے اور کرتے ہیں۔ اس میں ایک کو دوسرے سے شکایت کا موقع ہی نہیں۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ ایک وقت ایسا آئے کہ جب ہندستان کی سب زبانوں کا رسم خط ایک ہو جائے لیکن اس وقت کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کب آئےگا اور اس کی کیا صورت ہوگی۔ البتہ یہ میں مانتا ہوں کہ فی الحال اصلاح رسم خط کا مسئلہ قابل غور اور نہایت ضروری ہے۔ دنیا کا کوئی رسم خط کامل نہیں اور ہم بھی یہ دعوی نہیں کر سکتے کہ ہمارا رسم خط بے عیب ہے۔ ہر زندہ زبان اور زندہ شے میں تغیر و تبدل اور اصلاح کا ہونا لازم ہے۔ البتہ مردے میں کسی تغیر و تبدل کی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ نمو کا اس میں امکان ہی نہیں۔ اگر ہم اپنے رسم خط کا سراغ لگاتے لگاتے اس ابتدائی صورت تک پہنچیں جہاں سے اس نے آگے بڑھنا شروع کیا اور پھر اس طرف سے چلیں اور ہر قرن اور ہر عہد کے رسم خط کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ رفتہ رفتہ ہر عہد میں تغیر ہوتا گیا ہے اور جب ہم موجودہ رسم خط تک پہنچیں گے اور اس کا مقابلہ ابتدائی صورت سے کریں گے تو زمین آسمان کا فرق معلوم ہوگا۔ آپ دور کیوں جائیں۔ خود اردو رسم خط کو دیکھیے۔ کیا یہ ابتدا سے اب تک اسی ایک حالت میں ہے؟ پرانی تحریریں دیکھیے، سو ڈیڑھ سو برس بلکہ تیس چالیس برس پہلے کی چھپی ہوئی کتابیں ملاحظہ فرمائیے۔ کیا اس وقت سے اب تک کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ہوا؟ یہ فرق کیوں ہوا اور کس نے پیدا کیا؟ زمانے کے حالات اور خود ہماری ضرورتوں نے۔ ہمیں اصلاح سے کبھی منہ موڑنا نہیں چاہیے اور اس کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ چنانچہ ہندی والوں نے بھی جنہیں اپنے رسم خط کے کامل ہونے کا دعویٰ تھا، اس بات کو محسوس کیا اور ہندی سمیلن نے ایک خاص کمیٹی اس غرض سے مقرر کی ہے کہ وہ غوروفکر کے بعد مناسب اصلاحیں تجویز کرکے پیش کرے۔ اسی طرح ڈاکٹر رابندرا ناتھ ٹیگور کی تحریک پر کلکتہ یونیورسٹی نے ایک کمیٹی کا اسی مقصد سے تقرر کیا ہے کہ وہ بنگالی رسم خط پر غور کرکے ضروری اصلاحیں تجویز کرے۔ میں اس وقت اس مسئلہ پر تفصیل سے بحث کرنا نہیں چاہتا کیونکہ قریب زمانے میں انجمن ترقیٔ اردو منتخب اصحاب کی ایک کانفرنس کرنے والی ہے، جس میں اردو زبان کی اصلاح اور ترقی واشاعت کے متعلق متعدد تجاویز پیش کی جائیں گی۔ اسی میں یہ مسئلہ بھی زیر بحث آئےگا۔ بعض صاحبوں نے اس مسئلہ پر بہت غوروخوض کیا ہے اور کافی معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ انجمن حمایت اسلام بھی اپنے نمائندے بھیج کر اس کانفرنس میں شریک ہوگی۔ بہرحال ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر ہمیں اپنی زبان کی اشاعت منظور ہے تو ہمیں ہر قسم کی سہولتیں بہم پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کوئی زبان ایک ہی حالت میں ایک جگہ کھڑی نہیں رہ سکتی۔ اسے زمانے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے ورنہ اس کی قسمت میں فنا ہونا لکھا ہے۔ اس وقت زبان کی اشاعت کے تین عا م ذریعے ہو سکتے ہیں۔ ایک اخبارات کا، جن کا پیام گھر گھر پہنچتاہے، جن کے خیالات حتی کہ ان کے الفاظ اور جملے چند ہی روز میں زبان زد خاص وعام ہو جاتے ہیں۔ دوسرا ذریعہ عام ابتدائی تعلیم ہے۔ یہ ان تعلیمی کانفرنسوں کا کام ہے جو ہر صوبے میں قائم ہیں۔ بجائے فضول قصیدہ خوانی اور ٹھنک ٹھنک کر اشعار پڑھنے اور لہک لہک کر وعظ کہنے کے ان کانفرنسوں کا خاص کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ قصبے قصبے اور گانو گانو میں ابتدائی مدارس کے سلسلے قائم کر دیں۔ انہیں چھوٹے چھوٹے مدارس میں ہماری قومی زبان کی نشوونما اور قومی بہبودی کی بنیاد پڑےگی۔ جب تک تعلیم عام نہ ہوگی، اس وقت تک نہ آپ کے اخبار کام آئیں گے اور نہ آپ کی کتابیں زیادہ مقبول ہوں گی۔ تیسرا ذریعہ سنیما ہے۔ لہوولعب سمجھ کر اس سے بے التفاتی کرنا درست نہ ہوگا۔ ہمارے اخبار اور کتابیں وہیں کام آ سکتی ہیں جہاں پہلے سے تعلیم موجود ہے لیکن فلم وہاں بھی کار آمد ہو سکتا ہے جہاں تعلیم مفقود ہے۔ اول اول سنیما کو رونق دینے والی ہماری ہی زبان تھی لیکن بعد میں بعض وجوہ کی بناپر جن سے میں بحث نہیں کرنا چاہتا اور جس میں ہمارا بھی قصور ہے، اس کا رخ دوسری طرف پھر گیا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اس کی طرف توجہ کریں۔ ہمارا فرض ہے کہ زمانے کے حالات کو دیکھ کر ہر ایسے ذریعے سے کام لیں جو ہماری زبان کی اشاعت کے لیے مفید ہو۔ حضرات! یہ وقت ہماری زبان پر بہت نازک ہے کچھ مشکلات اندرونی ہیں اور کچھ بیرونی۔ اس سے ہماری ذمہ داری بہت کٹھن ہو جاتی ہے۔ اس ذمہ داری کا حق ادا کرنے کے لیے ہمیں ہر قسم کی جوکھم جھیلنے اور ضرورت کے وقت ہر قسم کی قربانی کرنے کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔ اور کچھ نہیں تو ہر پڑھے لکھے کو یہ عہد کر لینا چاہیے کہ وہ ہر سال اور یہ نہ ہو سکے تو پانچ سال یا دس سال میں یایہ بھی ممکن نہ ہو تو عمر بھر میں کم سے کم ایک شخص کو اردو لکھنا پڑھنا سکھا دےگا۔ اگر ہم دل پر رکھ لیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں لیکن اس کے نتائج عظیم الشان ہوں گے۔ زبان کا کوئی رنگ روپ (ورن) نہیں۔ اس کی کوئی ذات نہیں، اس کی کوئی قومیت نہیں، اس کا کوئی مذہب اور وطن نہیں؛ جواسے بولے، لکھے پڑھے اور استعمال کرےگا، اسی کی وہ زبان ہوگی۔ اگر آپ کی زبان میں یہ خواص ہیں اور ساتھ ہی اس میں بڑھنے اور ترقی کرنے کی صلاحیت ہے تو یہی ہندستان کی زبان ہوکے رہےگی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84"} {"title": "اردو کی مقبولیت کے اسباب", "poet_page": "مصنف:مولوی عبد الحق", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "گری زوں سوسنان کا ایک پرگنہ ہے اور پہاڑی علاقہ ہے۔ اس کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں بہت سی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان کے ہاں قدیم سے ایک روایت مشہور چلی آ رہی ہے کہ خلاق عالم نے فرشتہ کلمائیل کو بیجوں بھرے تھیلے دیے اور فرمایا جاؤ تم دنیا کا ایک چکر لگاؤ۔ فرشتے نے ارشاد خداوندی کی تعمیل کی اور یہ بیج بنی نوع انسان کے دماغوں میں جم گئے اور فوراً اگنے شروع ہوئے اور زبانیں چشمے کی طرح ابلنے لگیں۔ جب فرشتہ کلمائیل اپنے تھیلے خالی کرچکا اور خلاق عالم کے واپس آنے کو ہوا تو یہ دیکھ کر اسے سخت ندامت اور پریشانی ہوئی کہ گری زون کا علاقہ چھٹ گیا ہے۔ اس نے خدائے تعالیٰ کی بارگاہ میں اس فروگزاشت کے متعلق عرض کیا۔ خدا نے مختلف تھیلیوں کے ملے جلے بیج جو بچ رہے تھے، اسے دیے اور کہا کہ جاؤ یہ وہاں جاکر بو آؤ۔ یہی وجہ ہے کہ اس پہاڑی آبادی میں طرح طرح کی زبانیں اور بولیاں پائی جاتی ہیں۔\n\nیہ نقل بہ نسبت گری زون کے ہندوستان پر زیادہ صادق آتی ہے۔ جہاں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جاتی ہیں جن کی تعداد بیسیوں نہیں سینکڑوں تک پہنچ گئی ہے لیکن اس ہجوم میں ایک زبان ایسی بھی نظر آتی ہے جو ملک کے اکثر علاقوں میں بولی جاتی ہے اور تقریباً ہر جگہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ زبان ہندوستانی اردو ہے جس کا ادب نظم و نثر میں نویں صدی عیسوی سے مسلسل موجود ہے۔ یہ ہمارا ہی دعویٰ نہیں بلکہ اس کی شہادت غیروں نے بھی دی ہے اور یہ شہادتیں یوروپی سیاحوں کی تحریروں میں سترہویں صدی کی ابتداء سے بعد تک برابر ملتی ہیں۔ ایک موقع پر کسی خاص معاملے میں ابی سینا کے سفیر خوجہ (Movaad) سے چند استفسارات کیے گئے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ کہ ’’فلاں شخص نے آپ کی حضوری میں کس زبان میں گفتگو کی۔‘‘ وہ جواب دیتے ہیں، ’’ہندوستانی زبان میں جس کی ترجمانی ویر ہزاکسیلینزی دی ہائی گورنمنٹ آف بٹاویا کے سیکریٹری نے کی۔‘‘ یہ واقعہ 1697ء کا ہے۔ اس زمانہ کا ایک سیاح لکھتا ہے کہ ’’دربار کی زبان تو فارسی ہے مگر عام بول چال کی زبان ’اندوستان‘ ہے۔‘‘\n\nیہ اگلی باتیں ہیں۔ انہیں جانے دیجئے، کمپنی کے زمانے کو لیجئے۔ جب ایسٹ انڈیا نے اپنا کاروبار یہاں جمایا اور تجارت سے سیاست کی طرف قدم بڑھایا تو تجارت اور سیاست دونوں اغراض کی خاطر تازہ ولایت نوکار انگریزی ملازموں کی تعلیم کے لیے ملک کی ایک ایسی زبان کا انتخاب کیا جو اپنی عام مقبولیت اور وسعت کی وجہ سے سب سے زیادہ کار آمد تھی۔ یہ زبان ہندوستانی یعنی اردو تھی، اس کے لیے ایک بڑا مدرسہ قائم کیا گیا جو فورٹ ولیم کالج کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں قابل زبان داں ہندی ملازم رکھے گئے جو نوجوان نوواردوں کو ہندوستانی زبان کی تعلیم بھی دیتے تھے۔ اردو کی کتابیں بھی تالیف اور ترجمہ کرتے تھے۔ اس کالج کے معلم اول ڈاکٹر جان گل کرسٹ تھے۔ اردو کے محسن اور اس کے شیدائیوں میں سے تھے۔ اس زبان کو (Grand popular speech of India) کہتے ہیں۔ ایک دوسری جگہ وہ اس کی نسبت لکھتے ہیں کہ ’’یہ نہایت کارآمد اور عام زبان ہے جس پر ہندوستان فخر کر سکتا ہے۔‘‘\n\nاب میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ اردو کی مقبولیت کے کیا اسباب ہوئے۔ سب سے بڑی وجہ اس کی مقبولیت عام کی یہ ہوئی کہ اس کی بنیاد عوام کی زبان پر رکھی گئی تھی جو بول چال کی زبان تھی۔ خود اردو کا لفظ ہی اس کی اصل اور ابتداء کا پتہ دیتا ہے اور اس وقت جتنی شائستہ اعلیٰ درجہ کی زبانیں ہیں، جن کی دھاک ساری دنیا پر بیٹھی ہوئی ہے، وہ ایک وقت میں عوام کی معمولی بولیاں تھیں اور حقارت کی نظر سے بولی جاتی تھیں۔ یہاں تک کہ خود اہل زبان اس میں لکھنا پسند نہ کرتے تھے۔ بعینہ یہی حال پہلے پہلے اردو کا بھی تھا۔ اس کے بولنے والے بھی اس میں لکھتے ہچکچاتے تھے اور جو کبھی کوئی لکھتا اور وہ بھی مذہبی ضرورت سے ہوتا تھا تو پہلے معذرت کرتا کہ چونکہ سب عربی فارسی نہیں جانتے، اس لیے ان کے خیال سے اس زبان میں لکھ رہا ہوں لیکن آخر یہی عوام کی بولی رفتہ رفتہ شائستہ اور ادبی زبان بن گئی اور اس کا تعلق برابر عوام کی بولی سے رہا۔\n\nعوام کی زبان مثل قلب کے ہے جس سے تمام اعضاء کو خون پہنچتا رہتا ہے اور ان کی تقویت کا باعث ہوتا ہے۔ جب تک زبان کو عوام کی بولی سے مدد ملتی رہتی ہے اور وہ عوام کی بولی کا ساتھ دیتی رہتی ہے تو وہ زندہ رہتی ہے اور جس وقت سے اس کا تعلق عوام کی کی بولی سے منقطع ہو جاتا ہے تو اسی وقت سے اس پر مردنی کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ یونانی، سنسکرت، لاطینی جو دنیا کی کامل اور بہترین زبانیں خیال کی جاتی ہیں اسی لیے وہ مر گئیں۔ البتہ اردو پر ایک ایسا تاریک زمانہ آیا کہ ہمارے شعراء نے اکثر ہندی لفظوں کو متروک فرما دیا۔ ان کے بجائے عربی فارسی کے لفظ بھرنے شروع کیے اور یہی نہیں بلکہ بعض عربی فارسی الفاظ جو بہ تغیر ہیئت یا بہ تغیر تلفظ اردو میں داخل ہو گئے ہیں، انہیں بھی غلط قرار دے کر اصل صورت میں پیش کیا اور اس کا نام ’’اصلاح زبان‘‘ رکھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ تکلف اور تصنع ہمارے ادب پر چھا گئے تھے اور ہماری زبان ایک ایسی زبان ہوگئی تھی کہ ادب کو بے جان، بے لطف اور بے اثر بنا دیا تھا۔\n\nلیکن یہ دور تاریکی چند روزہ تھا۔ اس کے دفع کرنے میں سب سے بڑا کام سید احمد خان نے کیا۔ اس کی تحریروں نے ہمارے ادب میں نئی جان ڈال دی۔ اگرچہ اس کی زبان اور اس کا انداز بیان سادہ تھا لیکن اس میں فصاحت، اثر اور قوت تھی۔ اس نے علمی اور سنجیدہ مضامین لکھنے کا نیا ڈول ڈالا اور موافق و مخالف دونوں نے اس کی پیروی کی اور اس کے رفقاء یعنی نذیر احمد، شبلی، حالی، ذکاء اللہ خاں وغیرہ نے اسے چمکایا اور بڑھایا۔ سید احمد خاں کا اردو پر بڑا احسان ہے۔ اس نے صرف ہمارے ادب ہی کو نہیں بنایا اور سنوارا بلکہ ہر موقع پر جب ضرورت پڑی اس کی حمایت کی اور اس پر آنچ نہ آنے دی۔ سرسید کی وجہ سے اب اردو ادب کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو گیا ہے جو ’’علی گڑھ اسکول‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔\n\nاس نئے اسکول نے پھر عام بول چال کی طرف رجوع کی اور خاص کر نذیر احمد، حالی، آزاد، ذکاء اللہ نے ان الفاظ کو جو گھروں کے کونوں، کھدروں، گلیوں، بازاروں اور کھیتوں میں کسمپرسی کی حالت میں پڑے تھے، چن چن کے نکالا، انہیں جھاڑا پونچھا، صاف کیا، جلا دی اور ان میں سے بہت سے اچھوتوں کو مسند عزت پر لا بٹھایا۔ اس نئے خون نے جو ہمیشہ ہماری زبان کی رگ وپے میں پہنچتا رہا ہے، ہمارے ادب کی رونق اور تازگی کو دوبالا کر دیا۔\n\nاردو کی مقبولیت کی ایک وجہ اور بھی ہوئی جو قابل غور ہے۔ جس وقت یہ زبان وجود میں آئی تو ملک میں جتنی بولیاں مروج تھیں، وہ سب اپنے چھوٹے چھوٹے رقبوں اور حلقوں میں محدود تھیں۔ یہ زبان قدرت سے ایسے ماحول اور ایسے حالات اور اس قسم کے اثرات کے تحت بنی تھی اور اس طرح سے اس کی ترکیب عمل میں آئی تھی کہ وہ خود بخود ملک کے اکثر خطوں میں پھیلتی چلی گئی اور لوگ اسے قبول کرتے چلے گئے۔ ملک میں کوئی دوسری بولی یا زبان ایسی نہ تھی جو اس کا مقابلہ کرتی اور جتنی بولیاں یا زبانیں تھیں، وہ اپنے اپنے حلقے سے باہر نہ بولی جاتی تھیں اور نہ سمجھی جاتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اہل یورپ اور خصوصاً انگریز اس ملک میں آئے تو انہوں نے اسے ہندوستانی یعنی ہندوستان کی زبان سے موسوم کیا اور یہی وجہ ہے کہ جب فارسی کے بجائے اردو سرکاری دفاتر کی زبان قرار پائی تو کسی نے اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف ہوتا تو کس بنا پر؟ کوئی دوسری زبان ایسی تھی ہی نہیں جو ہندوستانی ہونے کا دعویٰ کرتی۔\n\nاردو زبان کی ایک اور خصوصیت بھی ہے جس پر بہت کم توجہ کی گئی۔ وہ عورتوں کی زبان ہے۔ یوں تو دنیا میں اور بھی زبانیں ہیں، جن میں مردوں اور عورتوں کی زبان میں کچھ کچھ فرق ہے لیکن اردو زبان میں یہ فرق بہت نمایاں اور گہرا ہے۔ اردو نے جس خطے میں جنم لیا یا جہاں جہاں اس نے زیادہ رواج پایا، وہاں پردے کی رسم رائج رہی۔ اسی وجہ سے مردوں اور عورتوں کی معاشرت میں بہت کچھ فرق پیدا ہو گیا۔ عورتوں کے الفاظ اور محاورے اور ان کا طرز بیان اور بول چال بھی بہت کچھ الگ ہو گئی۔\n\nپردے میں رہنے کی وجہ سے ان کا سارا وقت امور خانہ داری، بال بچوں کی پرورش اور نگہداشت، شادی بیاہ، رسم و رواج کی پابندی اور ان کے متعلق جتنے معاملات ہیں، اس میں صرف ہوتا ہے اور اس اقلیم میں ان کی عمل داری کامل ہوتی ہے، پھر ان کی زبان اور لہجے میں لطافت، نزاکت اور لوچ ہوتا ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنے تعلقات کے لحاظ سے جو طرح طرح کے لفظ، محاورے اور مثلیں بنائی ہیں، وہ بڑی لطیف، نازک، خوبصورت اور سبک ہیں۔ ایسے الفاظ جن کا زبان سے نکالنا بدتمیزی سمجھا جاتا ہے یا جن کے کہنے میں شرم و حجاب مانع ہوتا ہے، عورتیں ایسے الفاظ نہیں بولتیں بلکہ وہ اس مفہوم کو لطیف پیرائے یا تشبیہ اور استعارے کے رنگ میں بڑی خوبصورتی سے بیان کر جاتی ہیں۔ عربی فارسی کے ثقیل الفاظ جن کا تلفظ آسانی سے ادا نہیں ہوتا، وہ انہیں سڈول بنالیتی ہیں۔ بعض اوقات ان کے معنی تک بدل جاتے ہیں اور وہ خالص اردو کے الفاظ ہو جاتے ہیں۔\n\nہماری عورتوں کے الفاظ اور محاورے وغیرہ زیادہ تر ہندی ہیں یا عربی فارسی کے لفظ ہیں تو انہیں ایسا تراشا ہے کہ ان میں اردو کی چمک دمک پیدا ہو گئی ہے۔ اب جدید حالات کچھ ایسے ہو گئے ہیں کہ جہاں ہماری اور بہت سی عزیز چیزیں مٹی جا رہی ہیں، یہ لطیف زبان بھی مٹتی جاتی ہے۔ ریختی گو شعراء کا بڑا احسان ہے۔ (اگرچہ ان میں سے بعض نے بہت کچھ فحش بھی بکا ہے) کہ انہوں نے اس زبان کو محفوظ کر دیا ہے۔ اس زبان کے سینکڑوں، ہزاروں الفاظ اور محاورے اور مثلیں ادبی زبان میں آ گئی ہیں اور ہمارے ادب کی زیب و زینت ہیں۔ اس زمانے میں نذیر احمد، حالی، سید احمد دہلوی، راشد الخیری اور بعض دیگر اصحاب کی بدولت صنف نازک کی اس پاکیزہ زبان کا اکثر حصہ ہمارا مشترکہ سرمایہ ہو گیا ہے۔ اس کے اضافے سے ہماری زبان میں شگفتگی اور حسن ہی نہیں پیدا ہوا بلکہ اسے مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D9%82%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8"} {"title": "اردو کی موجودہ ضروریات", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "چونکہ تھوڑے وقت میں بہت کچھ کہنا ہے اس لئے اردو سے متعلق کئی اہم امور کو مسلمہ مان کر چھوڑ دیا جائے گا۔ ان پر استدلال و توجیہ سے کام نہیں لیا جائے گا۔ کیا ان بدیہی صداقتوں سے کسی کو انکار ہو سکتا ہے کہ اردو زندہ زبان ہے، اردو بہ حیثیت ایک زبان کے اعلیٰ ترین ترقی کے امکان رکھتی ہے، اردو توسیع پذیر ہے، اس کی اشاعت روز افزوں ہے، اس کی زبان اور ادب میں ہمیشہ ترمیم و اصلاح ہوتی رہتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہاں تک تو آپ مجھ سے متفق ہوں گے۔ اب یہ کہنا ہے چونکہ ہم سب اردو کے حامی ہیں اور دل سے اس کی ترقی چاہتے ہیں، اس لئے یہ دیکھ بھال ہمارا فرض ہے کہ زبان کے کس شعبے یا شق میں اصلاح و ترقی کی ضرورت ہے اور موانع جو ترقی کے مزاحم ہوں انہیں دور کرنا۔ اولیات یا مبادیات سے دست بردار ہو کر براہ راست موضوع سے رجوع لاتا ہوں۔نہایت محتاط تحلیل سے کام لے کر ہم ان دو حقیقتوں پر پہنچتے ہیں۔ یعنی یہ دریافت کرتے ہیں کہ زبان کی ترقی کے لئے دو چیزیں لابد ہیں، (1) الفاظ یا کلمات کا وافی ذخیرہ اور (2) ان کی تنظیم یعنی انشا کہئے۔ جملوں کا ایسا اسلوب جو منشی یا متکلم کے مافی الضمیر کو بوجہ احسن ظاہر کر سکے اور کار آمد و متداول علوم و فنون سے متعلق اظہار بیان کی طاقت رکھتا ہو۔ابتدا ہی میں یہ واضح کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں امور جن کا ابھی ذکر ہوا، زبان کی ساخت اور ترکیب سے ہر نوبت پر متاثر ہوتے ہیں۔ اردو کے اجزائے ترکیبی ہندی زبانیں اور فارسی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں میں نے ہندی زبانیں کہا ہے، اس سے میری مراد ہے ہندوستان کی دیسی زبانیں۔ اردو کا لسانیاتی موازنہ آپ پر واضح کرے گا کہ اردو۔۔۔ ہماری آج کل کی اردو۔۔۔ میں ہندوستان کی بہت سی زبانوں سے استفادہ ہوا ہے جن میں برج بھاشا، ماگھدی غرض کہ شور سینی کی کئی شاخیں یعنی اپ بھرنش بولیاں اور گجراتی وغیرہ شریک ہیں۔حیرانی ہوگی کہ عربی اور سنسکرت کا نام کیوں نہیں لیا گیا۔ سنیئے عربی اور سنسکرت سے تصرف کے ساتھ یا بلا تصرف ہم نے صرف مفرد کلمات اور چند مرکبات لئے ہیں۔ ہمارے بیان کا طرز ان کے بیان سے متاثر نہیں ہوا۔ پھر بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر چہ سنسکرت کے مقابلہ میں عربی کلمات کی شرکت اردو میں زیادہ ہوئی لیکن لسانیاتی تاثر کا جہاں تک تعلق ہے اور صرفی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہماری زبان عربی سے زیادہ سنسکرت سے براہ راست یا بالواسطہ مستفید ہوئی ہے۔اب سنیئے! اردو پہلے پہل مقامی اور وقتی ضروریات سے فعل طبیعی کی طرح پیدا ہو گئی۔ اس طرح مدتوں چلتی رہی۔ پھر اس کی طرف اہل علم کی توجہ ہوئی۔ انہوں نے اس کے قواعد مرتب کئے، اصول قائم کئے، آئین اور دستور باندھے، یہاں سے اردو کی تنسیق و تنظیم شروع ہوئی جو انیسویں صدی عیسوی کے شروعات تک برابر جاری رہی۔اتنا کہہ کر اب میں تنقیح نمبر ایک کو لیتا ہوں۔ عہد گذشتہ کی ضروریات کو زیر نظر رکھ کر بے تامل کہہ سکتے ہیں کہ اردو میں کلمات کا ذخیرہ کافی و وافی ہے، متقدمین نے اپنی ضروریات کے مطابق یہ ذخیرہ اچھا پیدا اور فراہم کر لیا تھا۔ متوسطین نے اس کی تنسیق میں کار نمایاں کیا متاخرین نے اگر کیا تو یہ کہ نہ صرف اسلاف کے مساعی مشکور پر پانی پھیر دیا بلکہ اردو کو اشتقاقی قوت اور اختراعی قابلیت سے نادانستہ محروم کرنے میں کسر نہ رکھی۔ کیا تو یہ کہ لفظی صناعی اور تخیلی صناعی سے کلام کی فطری خوبی اور سادگی کا خون کر دیا۔ بلا خوف تردید کہہ سکتے ہیں کہ کم و بیش پچھلی نصف صدی میں اصلاحی ضروریات سے قطع نظر اردو میں ایک مفرد کلمہ، ایک مرکب بھی ایزاد نہیں ہوا۔یہی نہیں ہوا بلکہ اکثر کام کے الفاظ قلیل الااستعمال ہو کر نکمے اور متروک بن گئے۔ ان بزرگواروں نے کیا تو یہ کیا کہ سیدھی سادھی اردو ترکیبیں اور کلمے چھوڑ کر فارسی اور عربی لغات کی بھر مار کر دی۔ دیکھنا کو نظر انداز کیا اور نظر کرنا، تماشا کرناا س کی جگہ استعمال کیا۔ کہاں وہ اسلاف جنہوں نے بخشنا، بدلنا، آزمانا، لرزانا گرمانا، خریدنا، شرمانا، فرمانا وغیرہ مصدر اردو کو بخشے اور کہاں یہ حضرات ٹھیٹھ اردو میں ان کی جدت اور اشتقاقی وجاہت دیکھئے، کھاو، نکھٹو، گلچھرے، ہنس مکھ، منہ پھٹ، ہتھ چھٹ، سمجھ دار، دیوانہ پن وغیرہ سینکڑوں مرکب بنا ڈالے جو معنی کی بیش بہا دولت کے مالک ہیں۔متاخرین کے کارنامے صرف یہ ہیں کہ انہوں نے اردو کا باقاعدہ سیکھنے سکھانے کا تو کبھی خیال تک نہ کیا مگر ضرورت پر یا بے ضرورت کلام کو برہان اور قاموس کا ملخص بنا دیا۔ وہ بھی ہیں جو قدم قدم پر امر کوش اور شبد کلپدرم کے دروازے پر الکھ جگائے رہتے ہیں۔ لیکن آپ ہی دیکھئے کہ ادبی دنیا میں ان مہاپرشوں کو کہاں تک جگہ دی جاتی ہے۔ یہ لوگ نہ اردو کے اہل ہیں اور نہ ہندی کے۔ لسانی حریت حریت فکر کی ماں ہے۔ آپ اپنی زبان میں دوسری زبانوں کے دست نگر اور قرض دار رہیں گے تو حریت فکر و تخیل آپ سے دور ہو جائے گی۔ اردو کوئی صرفی زبان تو ہے نہیں کہ مادوں سے کلمے بناتے جائیے۔ یہ اپنے اجزائے ترکیبی کی زبان سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے،زہر خرمنے خوشہ یافتمیہ خوشہ چینی اب بھی ناگزیر ہے اور اس کا تمول بڑھ سکتا ہے، بشر طیکہ ہم اعتدال اور سلیقہ سے کام لیں۔ اس بارے میں سلیقے کی تعریف تشریح طلب ہوگی۔ یہ کام ڈیڑھ صدی کے قریب زمانہ گذرا، سید انشا کر گئے، فرمایا ہے،’’واضح رہے کہ ہر لفظ جو اردو میں مشہور ہو گیا، عربی ہو یا فارسی، ترکی ہو یا سریانی، پنجابی ہو یا پوربی، ازروئے اصل غلط ہویا صحیح وہ لفظ اردو کا لفظ ہے، اگر اصل کے مطابق ہو تو بھی صحیح ہے اور اگر اصل کے خلاف مستعمل ہے توبھی صحیح ہے۔ ا س کی صحت و غلطی اردو میں اس کے استعمال پر منحصر ہے کیونکہ جو اردو کے خلاف ہے، غلط ہے، خواہ وہ اصل زبان میں صحیح ہو اور جو اردو کے مواقف ہے خواہ وہ اصل میں صحیح نہ بھی ہو، صحیح ہے۔ (دریائے لطافت ص، 241)متاخرین نے طلسم لسان کے اس اسم اعظم کو بھلا کر اردو کو غیر زبانوں کو کنوڈا کر دیا۔ فرماتے ہیں عرصہ عربی میں مدت کے معنی میں نہیں آتا، اس لئے اس معنی میں لانا غلط ارشاد ہوتا ہے۔ فارسی میں از خود رفتہ تھا، آپ کا خود رفتہ بولنا صحیح نہیں، وغیرہ وغیرہ۔ یہ ماخذ پرستی ہی نہیں بلکہ وہ جبر و استبداد ہے جس کے مرتکب ادبی سخت جان لسانیات اور ادبیات میں ہر کہیں اور ہمیشہ ہوا کرتے ہیں۔عربی، فارسی، سنسکرت اور فرنگی کلمے اردو میں ہیں اور رہیں گے اور آئیں گے، مگر اسی نوع سے جیسا کہ سید انشا نے فرمایا۔ بحث ضرورت تلفظ اور معنی ہی سے تو ہے۔ ہم نے دھرم کودھرَم اور کرم کو کرَم اور موسِم کو موسَم بنا دیا۔ ہم آتما یا روح کو نفس یعنی مرکز احساسات وجذبات کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ ہم حور (صیغہ جمع) کو واحد قرا ر دے کر اس کی جمع حوروں اور حوریں لاتے ہیں۔ سنسکرت کے بیاکل کو ہم نے بیکل بنا دیا۔ ارواح روح کی جمع ہے، ہم نے کہا اس کی ارواح خوش ہوئی۔ ارواح شرمانا، آپ میں سے بعض اپنے دل میں ضرور کہہ رہے ہوں گے کہ یہ کہاں کا کھٹراگ لے بیٹھے۔ کوئی غزل سنائیں۔ گوبر گنیش اور صلواتیں سنانا صاف کہہ رہے ہیں کہ مقدس کلمے بھی اردو کے تصرف سے نہ بچ سکے۔زبان صرفی ہو یا غیر صرفی دونوں زبانوں کے کلموں کے شمول سے نہیں بچ سکتی۔ اس کا تو ذکر ہی کیا کہ بھگوت گیتا میں کئی کلمے پراکرت کے بتائے گئے۔ کلام مجید میں ایک سو کے قریب کلمے غیر عربی زبانوں کے موجود ہیں۔ آج کل کی عربی زبان میں جس کا لغات (لغات جدید) سید سلیمان ندوی نے مرتب کیا، غیر زبانوں کے سینکڑوں لفظ شامل ہیں۔ اسی طرح غیر زبانوں یعنی عربی، فارسی، سنسکرت ہندی اور انگریزی وغیرہ زبانوں سے لغت ہم بھی لیتے ہیں اور لیں گے، لیکن اصول تارید کے تحت یعنی اپنے ڈھنگ پر اردو تصرف کی صلاحیت کے ساتھ۔دیکھئے صندوق کو ہاتھ نہ لگایا یہی تو ہے تصرف۔ شمس ہم عرب سے اٹھا تو لائے لیکن تصرف کے افسوں نے اسے عورت سے مرد بنا دیا۔ ٹِکٹ کو ہم ٹکَٹ کہتے ہیں اور فیس کو کلمہ مفرد استعمال کرتے ہیں۔ کلمات کے اختراع، مشتق کرنے یا باہر سے لینے کی ضرورت اس عہد میں ہر کبھی سے زیادہ اور بہت زیادہ ہے اور یہ ایک بدیہی حقیقت ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر علم اور فن اپنے ساتھ نئے لغات لاتا ہے۔ ہمیں نہ صرف اصطلاحات ہی وضع کرنی ہیں بلکہ معمولی ادبی زبان بھی اپنے لغات میں توسیع چاہتی ہے۔پہلے وضع اصطلاحات کو لوں گا۔ وہ کہیں سے لائی گئی ہوں۔ تمام ادبی شعبوں، فلسفہ، منطق، جغرافیہ اور ریاضی وغیرہ علموں کے متعدد شعبوں کی اصطلاحیں ہمارے ہاں موجود تھیں، جس وقت کہ مغرب کے نئے سائنس اور کلچر سے ہمارا سابقہ ہوا۔ یہ بھی ہوا کہ اہل فرنگ کے ساتھ ہم کو بھی اپنی اصطلاحوں میں ترمیم کرنی پڑی۔ انگریزی میں پہلے پولیٹیکل اکانومی ایک علم کا نام تھا۔ ہم اسے سیاست مدن کہتے ہیں۔ اب یورپ میں اس علم کی وضع قطع کے ساتھ اس کا نام بھی بدل گیا، اور ہم بھی اکونومکس کو معاشیات کہنے لگے حالانکہ پرانی اصطلاح ملا جلال الدین دوانی کی وضع کی ہوئی تھی۔کبھی ہم کو اپنی اندرونی ضرورت سے دقت پیش آئی، جب ولائتی مال جہازوں پر لد کر ہندوستان میں آنا شروع ہوا تو بل آف لیڈنگ ساتھ آنا ہی تھا۔ اس کو ضروری تصرف کے ساتھ بلٹی کہا گیا۔ جب ملک میں ریل جاری ہوئی تو ریلوے کے پارسل کی رسید کو نہ جانے کیوں بلٹی کہنے لگے۔ آج بھی ریل کے پارسل یا گودام کی رسید کو بلٹی کہتے ہیں۔ جنہوں نے اس رسید کو بلٹی کہا وہ اردو بولنے والے تھے۔ جنہوں نے بل آف لیڈنگ کو بلٹی کہا وہ گجراتی بولنے والے تھے۔ د ونوں قسموں کا مال لانے والے فرنگی تھے۔ بلٹی کا لفظ مال کی آمد و رفت کے سلسلے میں کانوں میں پڑا ہوا تھا، ادھر بھی سہل انگاری سے اس کا استعمال دوسرے معنی میں شروع ہو گیا۔ اب جو معاشیات کی اصطلاحیں نئے سرے سے وضع ہونے لگیں توبل آف لیڈنگ کے لئے کوئی لفظ نہ تھا کیونکہ تمام شمالی ہند میں بلٹی کا لفظ ریل کے پارسل کے متعلق مستعمل اور معروف ہو چکا تھا، آخر اس کی جگہ لداؤ پرچہ قرار دینا پڑا جو بل آف لیڈنگ کا اردو ترجمہ ہے۔برقیات کی ذیل میں الکٹری فائی کی جگہ بر قانا وضع کیا گیا جو ہر لحاظ سے قابل داد ہے۔ پونڈ کے روپے اور روپوں کے پونڈ بنائے جائیں تو مبادلہ کا فرق جو ہوتا ہے اسے بھڑوت کہا گیا یعنی ڈفرنس آف اکسچینج۔ لفظی ترجمہ کہیں بد عنوانی بھی پیدا کر دیتا ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ اصطلاح کی ضرورت پر پہلے اپنے ہاں جائزہ لیا جائے، یعنی دیکھا جائے کہ ملکی زبان کا کوئی ہم معنی لفظ پہلے سے کہیں موجود اور مستعمل ہے کہ نہیں۔ نہ ملے تو لفظی ترجمہ کیا جائے یا آکسیجن کی طرح اصل لفظ ہی کو رہنے دیا جائے۔ ایک جگہ رزرو فارسٹ کا ترجمہ کیا گیا محفوظ جنگلات، جو افسوسناک ہے، کیونکہ ٹینک یا آکسیجن کی طرح رزرو فارسٹ ہمارے لئے نئی چیز نہیں۔ یہ پہلے سے ہے اور نہ صرف عرف عام بلکہ دفتری اصطلاح میں بھی اسے رکھ سکتے ہیں۔اب تک جو کچھ کہا گیا اسم اور فعل پر حاوی ہے۔ ادبی زبان کا جہاں تک تعلق ہے، نہ تو نفسیاتی اعتبار سے ہمارے ہاں اسموں کی کمی ہے اور نہ صفاتی پہلو سے۔ حروف جاریہ و معنوی بھی کافی ہیں۔ فعل کا کوئی صیغہ ہمیں وضع کرنا نہیں ہے۔ ہمارا صرف کبیر ارادے اور وقوعے کے ہر پہلو اور زمانے کے ہر دقیقے کا صحیح ترجمان ہے۔ غرض کہ مفردات میں ہم کسی سے ہیٹے نہیں۔ ہاں اس میں ترقی کی گنجائش ہر وقت ہے۔ دقت اور اختلاف جو آ کر پڑتے ہیں تو اسموں کی تذکیر و تانیث اور نتیجتاً افعال کی تذکیر و تانیث میں۔اس بارے میں اگر ہم دو کلئے اور صرف چند ضمنی قاعدے قرار دے دیں تو تمام خرابیاں اور اختلاف رفع ہو سکتے ہیں۔ وہ کلئے یہ ہیں (1) جس غیر ذی روح شے کے نام میں جمالی شان پائی جائے، اسے مؤنث اور جس میں جلالی یعنی ہیبت ایذاد ہی اور رعب کی کیفیت پائی جائے اسے مذکر قرار دیں (2) جذبات، احساسات یا افراد موجودات کے ناموں کے متعلق یہ ہونا چاہئے کہ ان کے مترادف یا قریب المعنی جو لفظ پہلے سے ہندوستانی یا ہندی وغیرہ میں ہیں ان کی جنسیت کا اتباع لازم سمجھا جائے۔نوٹ عام رواج یا عورتوں کے استعمال کا بھی لحاظ رکھنا ہوگا اور یہ بھی ہے کہ جو لفظ ہمارے نظریہ کے خلاف پہلے سے بالاتفاق ایک جنس میں رکھ دیا گیا ہے اسے ہاتھ نہ لگایا جائے۔ شارٹ سکرٹ جس جامہ میں ہو جوں کا توں رہنے دیا جائے۔ بعض الفاظ محض اپنی بناوٹ اور صوت کی شان کے تحت جنسیت قبول کر لیتے ہیں۔ سنسکرت کے ا کثر الفاظ اس صوتی جبر کے معمول ہیں۔ جیسے پتی سنسکرت میں مالک یا صاحب کو کہتے ہیں۔ اس کا مؤنث ہے پتنی۔ مگر ہندوؤں میں لڑکیوں کے نام چندر پتی اور اندر پتی وغیرہ رکھے جاتے ہیں۔ یہ یوں کہ ان کا صوتیاتی بہنا پا سرسوتی، لکشمی اور پاربتی وغیرہ سے ہے۔ اسی طرح گنگا جمنا، مالا، چھالیا وغیرہ مذکر ہونے چاہئے تھے مگر ایسا نہیں ہوا۔ متروکات کی لمبی فہرست بھی نظر ثانی کی محتاج ہے جس کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں۔انشا کے بارے میں بھی کچھ کہنا ہے اس لئے کلمات کا دفتر جو بے پایاں ہے، بند کر دینا پڑتا ہے۔ اس سے پہلے مرکبات اور مشتقات کی نسبت ایک مختصر گذارش کرنی ہے۔ میں نے چند لفظ گڑھے ہیں یا یہ کہیے کہ اخذ و تصرف سے ان کے ساتھ سلوک کیا ہے۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں،دو آبہ گنجم یعنی وہ ملک جو گنگا اور جمنا کے درمیان واقع ہے۔ آپ جانتے ہیں یہ قطعہ نہایت اہم ہے، ہندی اورہند کی زبانوں کی تاریخ کے سلسلے میں اس کا نام بار بار آتا ہے لیکن اس کے لئے ایک لفظ اب تک دیکھنے میں نہیں آیا۔ قم یعنی قبل مسیح اور بم یعنی بعد مسیح میں پولی ٹیشن کو سیاس اور نفسیات یعنی سائیکولوجی کے ماہرکو نفاس کہتا ہوں۔ کلام میں بے ضرورت، مغلق اور غریب الفاظ کی بھرمار کو قاموسیات اور شارٹ اسٹوری کو افسانچہ کہتا ہوں۔ اسی طرح نیم گرم ارادہ، گلابی اصول، احولی نقطہ نظر، عمر کا ڈھلواں حصہ، کایا بدل، استفساریہ، متوازیہ، ام الوطن، لسان یعنی لنگواسٹ، خورد بینی اقلیت وغیرہ کی ترکیبیں ہیں۔ تارید یعنی غیر زبان کے لفظ کو ضروری تصرف سے اردو بنا لینا اور مورد وہ لفظ جو اس طریق پر اردو بنایا گیا ہو پھر ایسی ترکیبیں ہیں جیسے ادبی ناداری، ادبی تمول، ادبی استبداد، ادبی سخت جان، ادھورا حافظہ اور ہر کبھی وغیرہ وغیرہ۔اب میں ایک بات کہہ کر اس شق سے رخصت ہوتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جب کوئی زبان ضرورت صحیحہ کے بغیر دوسری زبانوں کے کلمات اور مرکبات مستعار لینے کی عادی ہو جاتی ہے، تو اس کی صرفی استعداد، اشتقاقی قوت اور اختراعی صلاحیت فنا ہو جاتی ہے اور وہ ادبی ناداری اور دریوزہ گری کی درگت کو پہنچ جاتی ہے۔کلام، علم معانی کی کتابوں میں آیا ہے، ’’الفصاحت یوصف بہا المفرد والکلام و المتکلم۔‘‘ یعنی فصاحت کا تعلق کلمہ، کلام اور متکلم سے ہے۔ یہاں ہمارا مطمح نظر صرف کلام ہے، یعنی انشا کے لئے جملہ۔ اس سے پہلے کہ جملے کی ساخت یا ترتیب کی نسبت کچھ کہا جائے، ضروری ہے کہ فصاحت کی جامع و مانع تعریف پیش کر دی جائے جسے غالباً آپ سائنٹفک حیثیت عطا فرمائیں گے اور وہ یہ ہے، ’’فصاحت کلام کا وہ وصف ہے جو سامع یا قاری کے ذہن کو منشی یا متکلم کے ذہن کے قریب ترین پہنچا دیتا ہے۔‘‘بولتے یا لکھتے وقت ہماری انتہائی کوشش اس امر میں ہونی چاہئے کہ پڑھنے یا سننے والے کو ہمارا مافی الضمیر سمجھ لینے میں دقت اور پریشانی نہ ہو۔ آج کل اس کا لحاظ کم رکھا جاتا ہے، جملوں میں اس قدر بے ربطی ہوتی ہے، اس طرح صلہ در صلہ وارد ہوتا ہے کہ ادھر تو اس کا مطلب سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے اور ادھر وہ جملہ اردو کا سا نہیں جچتا، اوپر اوپر معلوم ہوتا ہے۔ ہماری انشا میں یہ ایک بہت بڑی بدعت آ کے پڑ گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے،’’20 ماہ حال کو ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے جو بہ سر پرستی انجمن فلاں زیر صدارت جناب الف ہوا تھا، ادبی ضروریات کی نسبت جناب بے نے فرمایا کہ۔۔۔‘‘آپ دیکھتے ہیں اس جملے کی نوعیت خبریہ ہے۔ اور خبر میں سب سے اہم تقریر کرنے والے کا نام ہے اور پھر موضوع جس پر تقریر ہوئی۔ مقرر کا نام اور موضوع دریافت کرنے کے لئے سامع یا قاری کو دیر تک انتظار کرنا پڑا۔ اس عرصے میں اس کا ذہن جانے کہاں کہاں ٹکریں مارتا پھرا۔ کبھی قیاس کیا کہ تقریر کرنے والا زید ہوگا کیونکہ وہ آج کل لاہور میں وارد ہے اور کئی لکچر دے چکا ہے۔ کبھی اس کا ذہن حضرات ہری جن کی طرف منتقل ہوا کیونکہ ان دنوں یہ موضوع بہت زوروں پر ہے۔غرض کہ یہ خبریہ نہیں بلکہ سامع یا قاری کے صبر سعی، تجسس اور حسن ظن کا امتحان ہے۔ یہ بدعت اول اول انگریزی سے ترجمے کی بدولت اردو میں آفت کی طرح نازل ہوئی، اور اب اسلوب کی سر مشق بن بیٹھی ہے۔ لمبے لمبے پیچیدہ جملے، مغلق فقرے، صلہ موصول کی بھرمار، اضمار قبل الذکر، متعلقات کی بہتات اور بے ڈھنگاپن۔ یہ عیوب بالعموم آج کل کی انشا کو پا بہ گل کر رہے ہیں۔ جو بات کئی چھوٹے چھوٹے جملوں اور قریب الفہم فقروں میں کہی جاسکتی تھی، اسے ایک شیطان کی آنت جملے میں لا کر گڈمڈ کر دینا عہد حاضر کی انشا کا بڑا عیب ہے۔ اب دیکھئے وہی بات نہایت خوش اسلوبی سے یوں کہی جا سکتی ہے،’’جناب (ب) نے ایک جلسے میں ادبی ضروریات پر تقریر کی جو انجمن فلاں کی سر پرستی میں 20 ماہ حال کو جناب الف کی صدارت میں ہوا۔ لکچرار نے دوران تقریر میں کہا۔۔۔‘‘اب سامع یا قاری قیاس اور تلاش کی زحمت سے بچ جاتا ہے۔ ا س کا ذہن ادھر ادھر سراسیمہ نہیں پھرتا۔ ہر بات، واقعہ کا ہر جز، صحیح نفسیاتی ترتیب میں اپنے وقت پر واضح ہو جاتا ہے۔ مگر لوگوں کا رجحان الفاظ کے ساتھ جملوں کو بھی مغلق بنا دینے کی جانب ہے۔ اس اندھی تقلید سے اردو کو پاک رہنا چاہئے۔ روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ انگریزی کا طرز انشا اردو کے اسلوب پر حاوی ہوکر اس کو بگاڑ رہا ہے۔ اس کا ملزم ہمارا اخباری لٹریچر ہے۔ افسانوں اور افسانچوں میں یہ بھی رواج ہو چلا ہے کہ قائل کے قول کو توڑ پھوڑ کر راوی کے توصیفی یاا ضافی الفاظ سے پیوند کیا جائے۔ مثلا ًایک کہانی یااس کی فصل اس طرح شروع ہوتی ہے،’’میں ہرگز ایسا نہیں کر سکتا۔ ‘‘ حامد نے تیوری چڑھا کر کہا۔’’تم تو کیا۔۔۔‘‘ محمود تیزی سے بولا، ’’تمہارا پیر ایسا کرے اور ضرور کرے۔‘‘زبان کا یہ خون کرنا شرمناک ہی نہیں افسوسناک ہے۔کوشش کی جاتی ہے کہ ہر شعر یا ہر جملہ ٹھوس اور ٹھکی ہوئی زبان اور اسلوب میں ہو یعنی پڑھتے یا سنتے ہی سمجھ میں نہ آ سکے۔ لاگ لپیٹ، کھینچ تان، گرہ در گرہ اور پیچ در پیچ طرز بیان فضیلت کا سکہ بٹھا رہے ہیں۔ یہ کچھ بھی نہیں۔ وہ زبان کو بگاڑ رہے ہیں اور بس۔ کسی موضوع کے لئے بھی مغلق بیانی کی ضرورت نہیں، موضوع جتنا زیادہ وقیع ہو اتنی ہی سہل نگاری اور صراحت چاہے گا۔ یہ کیا کہ اپنی دشوار پسندی سے اسے دشوار تر بنا دیا جائے۔بعضوں کا یہ بھی اعتقاد ہے کہ عربی فارسی الفاظ اور ترکیبیں لانے سے کلام کی دل پذیری اور زور بڑھ جاتا ہے مگر وہ سخت مغالطہ اور جہالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ادب کی تاریخ بتاتی ہے کہ لغت بازی یا مغلق بیان سے کلام کبھی سر سبز نہیں ہوا۔ ہر زبان کے اعلیٰ اور الطف ادب میں وہ کلام چوٹی کا سمجھا جاتا ہے جس میں دقت اور اغلاق لفظی یا معنوی نام کونہ ہو۔ بعض اساتذہ کے اشعار اس ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں جو یہی نہیں کہ ستر یا بہتر نشتروں میں تیز تر ہیں بلکہ انہیں حاصل دیوان کہنا شاید درست ہو،تھمتے تھمتے تھمیں گے آنسو رونا ہے یہ کچھ ہنسی نہیں ہےمیر صاحب کے اس شعر میں فاری عربی کا ایک لفظ بھی نہیں۔ یہی حال ذوق کے اس شعر کا ہے،اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گےناسخ کا یہ شعر بھی اسی قبیل سے ہے،وہ نہیں بھولتا جہاں جاؤں ہائے میں کیا کروں کہاں جاؤںمومن فرماتے ہیں،تم مرے پاس ہوتے ہو گیا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتامرزا غالب کا یہ شعر ہے،ان کے دیکھے سے جو آتی ہے منہ پر رونق وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہےفارسی عربی کے تین لفظ جو اس شعر میں آئے، ایسے ہیں جنہیں ان پڑھ اور گنوار بھی بولتا ہے۔ وہ لوگ جو لفظوں کے طلسم سے اپنی شاعری یا تصنیف کا گھروندا بناکر خوش ہوتے ہیں انہیں جلد ہی مایوس ہونا پڑے گا۔ جاننا چاہئے کہ غیر زبانوں کے جو لفظ اردو میں گھل مل گئے ہیں یا اس میں رچنے بچنے کی اہلیت رکھتے ہیں، ان سے اردو کے تمول اور تزئین میں ایزادی ہوتی ہے، لیکن محض لغات بازی یا قاموسیات سے اول تو زبان کا ستیاناس ہوتا ہے، دوسرے متکلم مقبولیت حاصل کرنا تو رہا ایک طرف، اپنے عندیہ کو سامع کے ذہن کے قریب پہنچنے میں مانع ہوتا ہے۔اس میں کلام نہیں کہ علمی زبان تغزل کی یا عام ادبی زبان سے کچھ نہ کچھ مختلف ہوا کرتی ہے اور ایسا ہونا لازمی ہے۔ فرانسیسی لسان برگسیں نے کیا خوب کہا کہ علمی زبان بمنزلہ ایک پپڑی کے ہے جو پانی کی سطح پرجم گئی ہو۔ اس کی نوعیت پانی کی نوعیت سے جداگانہ نہیں۔ وہ بھی انہیں اجزا سے بنی جن سے پانی بنا۔ ہاں خاص اسباب نے اس کی ظاہری شکل کو پانی کی شکل سے ممیز کر دیا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جو دو جمع دو مساوی چار۔ یہ تو ہوئی ریاضی کی علمی زبان اور دو اور دو چار ہوتے ہیں۔ یہ ہوئی معمولی ادبی زبان۔ یہ کون نہیں مانے گا کہ ما بعد الطبعیات یا جر اثقال پر آب حیات یا فسانہ آزاد کی زبان و اسلوب میں نہیں لکھ سکتے لیکن اس کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے کہ ان دونوں میں وہی نسبت قائم رہے جو پانی اور پانی کی پپڑی میں ہے۔وقت کی قلت روکتی ہے ورنہ اب سے ساٹھ ستر برس پہلے کی علمی زبان کے نمونے پیش کئے جاتے جب کہ مغربی علوم سے ہم کو پہلے پہل روشناسی ہوئی تھی۔ محاوروں کی ہمارے ہاں کمی نہیں۔ صنائع بدائع ضرورت سے زیادہ ہیں، بلکہ تحسین کلام کی حد سے گزر کر کلام پر چھائے ہوئے ہیں۔ نظم میں اصناف مقررہ کی قید اور تعین اب باقی نہیں۔ یہ خوب ہوا۔ عروض میں کانٹ چھانٹ کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔ بحور و اوزان اور قافیہ کے قواعد جو عربی زبان کے لئے مدون کئے گئے تھے، مارشل لا کی طرح ہم پر عائد کئے گئے۔ ان کا نباہ نہ ہونا تھا نہ ہوا۔ یہی نہیں بلکہ ان سے بغاوت اس جوش و خروش کی ہوئی کہ اب بے راہ روی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ اردو کو ضرورت ہے علمی لغات میں ایزادی اور وضع اصطلاحات میں آزادی اور تصرف کی۔زبان کی صرفی تاریخ یعنی اشتقاق و لغت آفرینی کے طریق کو ہم بھول بیٹھے ہیں۔ اس بارے میں حافظہ کو تازہ کرنا ہے۔ قدما جو قواعد فصاحت کے باندھ گئے، مثلا تنافر حروف، غرابت اور مخالفت قیاس لغوی وغیرہ، ان میں بھی ترمیم اور نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ فصاحت کا اصلی عنصر جو اسالیب بیان سے اردو میں اڑتا جاتا ہے، اسے روکنا چاہئے۔ یہ سب کچھ ہو لیکن اردو کی ذاتی لطافت مفقود نہیں ہونی چاہئے۔ ہمارا فرض ہے کہ حریت لسان و حریت فکر کے وکیل ہوں، کیونکہ تخیل نطق کے سہارے چلتا ہے۔ الفاظ کے بغیر تخیل نا ممکن ہے۔ اس لئے حریت لسان حریت فکر کی مؤید ہے۔اب یہ کہنا ہے کہ اردو کا نستعلیق ٹائپ نہ ہونا اسے دیسی زبانوں میں ہیٹا بنا رہا ہے۔ امید ہے کہ اس پر گفت و شنید کا بھی موقع دیا جائے گا اور اس بارے میں سنجیدگی سے غور و فکر کے بعد ایک لائحہ عمل قرار پائے گا۔ اسی ضمن میں املا کے مسائل بھی بحث میں آ جائیں گے۔ اردو کی پبلشنگ کمپنیوں کا نہ ہونا اس کی نشر و اشاعت میں مخل ہے۔ ہماری ضروریات میں ایک ضرورت اور بھی ہے جو کسی سے کم نہیں۔ وہ ہے ارباب اردو کے اجتماعی مسائل کی یعنی مل کر کام کرنے کی صلاحیت، جس کی زندہ نظیر امید ہے، یہ آپ کی اردو سبھا ثابت ہوگی۔آخر میں نہایت خلوص سے یہ گذارش ہے کہ اردو ہماری کفالت میں ہے۔ یہی نہیں کہ ہم اچھی نظمیں کہہ کر یا دو چار کتابیں لکھ کر خلقت کی واہ واہ لیں اور بس۔ ہمارا مطمح نظر وسیع ہونا چاہئے۔ قدرت نے ہم پر کچھ فرائض بھی ڈالے ہیں۔ لازم ہے کہ ہم موجودہ حالات کا صحیح مشاہدہ کریں۔ مستقبل میں جو ضرورتیں آنے والی نسلوں کی عارض حال ہوں گی ان کا ٹھیک موازنہ کریں اور اردو کو ایسا بنا کر اس کی ترقی کے ایسے رستے نکال کر چھوڑ جائیں کہ جو ہمارے بعد ہماری جگہ آئیں گے، ان کے لئے کوئی قابل دفع اور ناگوار عوارض مانع ارتقا نہ رہ جائیں، کار دنیا کوئی تمام کر سکا یا نہیں، اس کو رہنے دیجئے، کوشش تکمیل کی کرتے جایئے اور ذات باری کے اس ارشاد کو یاد رکھئے، ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%81_%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AA"} {"title": "اردوئے معلیٰ", "poet_page": "مصنف:صفی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اپنے منہ سے کہہ رہی ہے صاف اردو کی زباں\nمولد و ماویٰ ہے میرا کشور ہندوستاں\nاس کے افعال و روابط دے رہے ہیں خود نشاں\nکس طرح پیدا ہوئی کیوں کر بڑھی پل کر یہاں\nروز افزوں حسن کا ہر دور اک سیارہ ہے\nہے دبستاں لکھنؤ دلی اگر گہوارہ ہے\n\nمدتوں سرکار دہلی میں رہی یہ باریاب\nاب تک اردوئے معلیٰ ہے وہی شاہی خطاب\nدور دورہ لکھنؤ میں بھی تھا قبل از انقلاب\nکر لیا تھا نکتہ سنجوں نے اسی کو انتخاب\nہر ادا شیریں مذاق پارسا و رند میں\nاس کا طوطی بولتا تھا سبزہ زار ہند میں\n\nتجربے کی آنکھ سے دیکھا جو اس کو ہونہار\nکمپنی نے کر لیا اپنا شریک کاروبار\nدفتروں میں محکموں میں بڑھ گیا عضو وقار\nجم گیا چلتے ہوئے سکوں پہ نقش اعتبار\nجب کوئین وکٹوریہ کی یہ سہیلی ہو گئی\nہر زباں دنیا میں اس کی پھر تو چیلی ہو گئی\n\nفارسی ہندی کی آمیزش سے ہے اس کا وجود\nیادگار اتحاد اہل اسلام و ہنود\nدھوپ چھاں کے رنگ کی ہے وہ قبائے ہست و بود\nکارگاہ ہند سے منسوب جس کے تار و پود\nسفت و سنگیں یا لباس عاریت باریک ہے\nجامہ زیبی سے قد موزوں پر اس کے ٹھیک ہے\n\nتھی مہ نو رفتہ رفتہ ماہ کامل بن گئی\nشاعرانہ محفلوں میں شمع محفل بن گئی\nحسن فطرت کی ادا فہمی کے قابل بن گئی\nجب زباں کی تیز نشتر سے رگ دل بن گئی\nکیا قیامت ہے کہ دل پر کچھ اثر لیتے نہیں\nہو رہا ہے خون اس کا تم خبر لیتے نہیں\n\nکھینچ دو اٹھ کر قواعد سے حصار عافیت\nمل کے سب تیار کر دو جامع و مانع لغت\nدیکھتے ہو آئے دن جو ہو رہی ہے اس کی گت\nاک عمارت ہے ہوا پر ہو معلق جس کی چھت\nاس طرح علمی ستونوں پر اسے قائم کرو\nزلزلہ کیسا ہی سخت آئے مگر جنبش نہ ہو\n\nہر زباں کا لفظ کھپ جائے یہ وسعت اس میں ہے\nہر لغت کے جذب کر لینے کی طاقت اس میں ہے\nبرج بھاشا میں ہے جو لذت وہ لذت اس میں ہے\nصاف قند فارسی کی بھی حلاوت اس میں ہے\nراس جز شیر و شکر کوئی نہیں اس کو خورش\nدو زبانیں چوس کر پائی ہے اس نے پرورش", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%B0"} {"title": "ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے\nمیرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے\n\nوحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکے\nآئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے\n\nمیں وہ فتادہ ہوں کہ بغیر از فنا مجھے\nنقش قدم کی طرح نہ کوئی اٹھا سکے\n\nقاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے\nاس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے\n\nغافل خدا کی یاد پہ مت بھول زینہار\nاپنے تئیں بھلا دے اگر تو بھلا سکے\n\nیارب یہ کیا طلسم ہے ادراک و فہم یاں\nدوڑے ہزار آپ سے باہر نہ جا سکے\n\nگو بحث کر کے بات بٹھائی بھی کیا حصول\nدل سے اٹھا غلاف اگر تو اٹھا سکے\n\nاطفائے نار عشق نہ ہو آب اشک سے\nیہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے\n\nمست شراب عشق وہ بے خود ہے جس کو حشر\nاے دردؔ چاہے لائے بہ خود پر نہ لا سکے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D8%B6_%D9%88_%D8%B3%D9%85%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%88%D8%B3%D8%B9%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%D8%A7_%D8%B3%DA%A9%DB%92"} {"title": "ارمان نکلنے کا مزہ ہے کچھ اور", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ارمان نکلنے کا مزہ ہے کچھ اور\nاور رشک سے جلنے کا مزہ ہے کچھ اور\nہاں یاد ہے دوست سے لپٹنا لیکن\nدشمن کو کچلنے کا مزہ ہے کچھ اور", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%86%DA%A9%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B2%DB%81_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "ارے الٹے زمانے مجھ پہ کیا سیدھا ستم لایا", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ارے الٹے زمانے مجھ پہ کیا سیدھا ستم لایا\nنین میرے تھے پی کا گھر سو روئے ہجر دکھلایا\n\nچمن کا شہر فصل گل میں جب آباد تھا عزلتؔ\nصبا کے رنگ میں گلگشت کر حظ جنوں پایا\n\nجو دیکھوں جا خزاں میں ہائے خارستان و پت جھڑ تھا\nنہ غنچے تھے نہ گل نے بلبلیں نے بید کا سایا\n\nبہت سے زاغ و چغدوں کا تھا غل غوکوں کا غوغا تھا\nفلک کی جان کو رو کر میں اپنا سر لے پھر آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%B9%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%8C%D8%AF%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ارے او بے مروت تو کہاں ہے", "poet_page": "مصنف:ابراہیم عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاجز (1934)", "year": "1934", "text_ur": "ارے او بے مروت تو کہاں ہے\nتڑپتا ہجر میں یہ ناتواں ہے\n\nمریض عشق کی تو لے خبر جلد\nکہ وہ اب کوئی دم کا میہماں ہے\n\nبتوں میں سنگ دل ہے کون تجھ سا\nتری سنگیں دلی سب پر عیاں ہے\n\nیہ سن کر حال میرا ہنس کے بولا\nعیادت کی مجھے فرصت کہاں ہے\n\nبتوں کو نرم دل دیکھا ہے کس نے\nسنو سنگیں دلی وصف بتاں ہے\n\nنہ آیا زندگانی میں جو وہ شوخ\nکہ مرتا ہوں دم نزع رواں ہے\n\nتو پھر وہ آ چکا میری لحد پر\nیہی جب حال دور آسماں ہے\n\nفنا ہے غیر حق کو عاجزؔ زار\nبقا وصف خدائے دو جہاں ہے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D9%85%D8%B1%D9%88%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "از بس بھلا لگے ہے تو میرے یار مجھ کو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "از بس بھلا لگے ہے تو میرے یار مجھ کو\nبے اختیار تجھ پر آتا ہے پیار مجھ کو\n\nصیاد کا برا ہو جس کے تغافلوں نے\nکنج قفس میں رکھا فصل بہار مجھ کو\n\nجاؤں کدھر کو یارو مانند صید خرگہ\nمژگاں نے کر رکھا ہے اس کی شکار مجھ کو\n\nاس رفتگی پہ مجھ سے کرتا ہے تو تغافل\nڈانٹے ہے تس پہ الٹا پھر بار بار مجھ کو\n\nمیرا قصور کیا ہے صانع کو چاہئے تھا\nمقدار حسن دیتا صبر و قرار مجھ کو\n\nفتنہ ہے یا پری ہے جادو ہے یا بلا ہے\nآنکھوں سے یہ کیا ہے کس کی دو چار مجھ کو\n\nاے مصحفیؔ تصور اس کا جو سامنے ہے\nآتا نہیں شب غم یک دم قرار مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B2_%D8%A8%D8%B3_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D9%84%DA%AF%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "از مہر تا بہ ذرہ دل و دل ہے آئنہ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "از مہر تا بہ ذرہ دل و دل ہے آئنہ\nطوطی کو شش جہت سے مقابل ہے آئنہ\n\nحیرت ہجوم لذت غلطانیٔ تپش\nسیماب بالش و کمر دل ہے آئنہ\n\nغفلت بہ بال جوہر شمشیر پرفشاں\nیاں پشت چشم شوخیٔ قاتل ہے آئنہ\n\nحیرت نگاہ برق تماشا بہار شوخ\nدر پردۂ ہوا پر بسمل ہے آئنہ\n\nیاں رہ گئے ہیں ناخن تدبیر ٹوٹ کر\nجوہر طلسم عقدۂ مشکل ہے آئنہ\n\nہم زانوئے تأمل و ہم جلوہ گاہ گل\nآئینہ بند خلوت و محفل ہے آئنہ\n\nدل کار گاہ فکر و اسدؔ بے نوائے دل\nیاں سنگ آستانۂ بیدلؔ ہے آئنہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D8%AA%D8%A7_%D8%A8%DB%81_%D8%B0%D8%B1%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81"} {"title": "ازبسکہ جی ہے تجھ بن بیزار زندگی سے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ازبسکہ جی ہے تجھ بن بیزار زندگی سے\nبہتر ہے مجھ کو مرنا اے یار زندگی سے\n\nمر جاؤں میں تو رونا میرا تمام ہووے\nشاکی ہیں میری چشم خوں بار زندگی سے\n\nاس شاہد نہاں کا کشتہ ہوں میں کہ جس نے\nکھینچی ہے درمیاں میں دیوار زندگی سے\n\nمرتے تو چھوٹ جاتے رنج و محن سے یاں کے\nمانند خضر ہم ہیں ناچار زندگی سے\n\nیاں کی اذیتوں سے ازبسکہ آگہی تھی\nکرتے تھے ہم عدم میں انکار زندگی سے\n\nجیتے اگر نہ ہم تو کیوں ذلتیں اٹھاتے\nکھائی ہے دل پہ ہم نے تلوار زندگی سے\n\nسچ ہے اٹھائے کب تک ہر اک کی بے ادائی\nآتی ہے مصحفیؔ کو اب عار زندگی سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B2%D8%A8%D8%B3%DA%A9%DB%81_%D8%AC%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D9%86_%D8%A8%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ازدواج محبت", "poet_page": "مصنف:سجاد حیدر یلدرم", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "بچھڑے دوستوں سے بھی مل کے کیسی خوشی ہوتی ہے! بس خود آپ ہی اندازہ کر لیجئے۔ آخر کار آپ کا بھی تو کوئی دوست بچھڑ گیا ہوگا۔ اور پھر آپ سے اچانک آ ملا ہو گا۔ آپ ہی فرمائیے کیا شادی مرگ کا خوف نہیں ہو جاتا۔ میری بھی واللہ، ایک ہفتہ ہوا یہی کیفیت ہوئی۔ اتفاق سے ایک کام کے باعث میرا جانا علی گڑھ ہو گیا۔ میں کالج کے دیکھنے کا عرصہ سے مشتاق تو تھا ہی۔ اس موقعے کو غنیمت جانا اور ایک زائر کی حیثیت سے کالج کی سیر میں مصروف ہوا۔ ہر چیز کو عظمت اور محبت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور جس عمارت پر نظر پڑ جاتی اس میں محو ہوجاتاتھا۔ اس استغراق کی حالت میں اک نظر ایک صاحب پر بھی جا پڑی جو میری طرح محو نظارہ تھے۔ میں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک کوئی ایسی ہی خاص کشش نہ ہوتی میں کالج سے آنکھ تھوڑا ہی اٹھانے والا تھا۔ لیکن ان پر نظر پڑتی تھی کہ میں اپنے گرد و پیش کی کل چیزوں کو بھول گیا اور بیتابانہ ان سے جا کر لپٹ گیا۔ اول تو وہ جھجکے لیکن پھر ایک استعجاب آمیز ’’تم کہاں؟‘‘ کہہ کے مجھ سے لپٹ گئے۔ اصلیت یہ تھی کہ ہم دونوں بچھڑے ہوئے کم و بیش تیرہ چودہ برس کے بعد ملے تھے۔ میں اس بات کو طول نہ دونگا کہ ہم دونوں کیسے جدا ہوئے تھے اور میں ان تیرہ چودہ برس میں کہاں کہاں رہا۔ مختصر یہ ہے کہ مجھ میں میرے دوست محمد نعیم میں بعدالمشرقیں رہا۔ اور ہم اس زمانے میں ایک دوسرے کے حالات سے بالکل بے خبر رہے۔ میں برما میں تھا، تو وہ انگلستان میں، اور وہ بھی ایک زائر بن کر علی گڑھ آئے تھے۔ محمد نعیم کو دیکھتے ہی کالج کی سیر کچھ وقت کے لیے موقوف ہوئی اور ایک دوسرے کے حالات دریافت ہونے لگے۔ آخرکار ان سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو دن بعد ہمیں ایسٹ انڈین ریلوے کی ڈاک گاڑی عظیم آبادی کی طرف لے جا رہی تھی۔ جہاں میرے دوست۔ محمد نعیم ایم ڈی ایل آر سی پی (کیوں کہ اب مجھے معلوم ہو اکہ اس عرصہ میں محمد نعیم انگلستان جا کر ایم ڈی ہو آئے تھے) کا مکان ہے۔\n\nعظیم آباد پہنچتے ہی ڈاکٹر صاحب نے مجھے اپنی عالی شان اور بے نظیر کوٹھی میں اتارا۔ اور اسی روز اپنے کل احباب کی دعوت کی تاکہ مجھ سے ملائیں۔ دعوت کے بعد سب لوگ باہر چمن میں آ بیٹھے اور ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ آکر یکے بعد دیگرے سب رخصت ہو گئے اور ہم دونوں اکیلے رہ گئے۔\n\nچونکہ گرمی کا موسم تھا، اس لئے رات کا وقت و چاندی رات صحن چمن اور ٹھنڈی ہوا ایسی چیزیں نہ تھیں کہ ہم میں سے کسی کا دل اٹھنے کو چاہتا۔ باہری کرسیاں ڈالے بیٹھے رہے۔ باتوں باتوں میں یہ ذکر آگیا کہ انسان کی زندگی میں ایسے دلچسپ واقعات نہیں ہوتے جن میں ناول کا مزہ آئے، میں اس بارے میں بہت بھرا بیٹھا تھا۔ میں نے ناول نویسوں پر نہایت لے دے شروع کی کہ کم بخت ایسی ایسی باتیں لکھتے ہیں کہ ہمیں رشک ہوتا ہے کہ ہماری زندگی میں کیوں ایسے واقعات پیش نہیں آتے۔‘‘ اور کیا اور کیابہت ہی کچھ کہہ ڈالا نعیم چپکا سنا کیا۔ صرف ایک آدھ جگہ مسکرایا۔ مجھے حیرت تھی کہ یہ کیو ں اپنی رائے ظاہر نہیں کرتے۔ خیز جب میں سب کچھ کہہ چکا تو نعیم نے ایک اور مضمون پیش کیا۔ کہنے لگے،\n\n’’آج کل پردے کی بحث چھڑی ہوئی ہے، تمہاری اس کے متعلق کیا رائے ہے۔ جدید خیال ہو یا کہنہ خیال؟ کہنہ خیال ہو گے، کیوں کہ پردے کی مخالفت تو تم سے قیامت تک بھی نہیں ہونے کی۔‘‘\n\nمیں نے کہا۔ ’’بے شک پردے کی مخالفت کون صاحب عقل کر سکتا ہے۔‘‘\n\n’’تو پھر یہ شکایت بھی چھوڑ دیجئے کہ ہماری زندگی میں دلچسپی نہیں۔‘‘\n\n’’اس کو پردے سے کیا تعلق؟‘‘\n\n’’ایں تعلق ہی نہیں! جب تک پردہ ہے۔ عشقیہ شادی جس کے آپ اس قدر دل دادہ معلوم ہوتے ہیں ممکن ہی نہیں۔ وہاں تو یہ ہوتا ہے کہ بڑھے تو ماں باپ نے جہاں ان کا دل چاہا بیاہ دیا چوں و چرا کی گنجائش ہی نہیں اور ہو بھی تو کیا، نہ دیکھ سکتے ہیں، نہ بات کر سکتے ہیں۔ شادی کیا ہوئی سرکاری نوکری ہوئی۔ جہاں سرکار کا دل چاہا، نوکر کو بھیج دیا۔ حاکم کو ماتحت کی خبر نہیں، ماتحت کو یہ معلوم نہیں کہ حاکم کیسا ملے گا۔ اس زندگی میں راز سر بستہ کیسے پیدا ہو سکتے ہیں اور افسانوں کا سلسلۂ راز آخر میں جا کر کھل کیسے سکتا ہے؟ یہ سب سچے عشق کی طفیل میں نصیب ہو سکتا ہے روپیہ کے لیے شادی مت کیجئے، بلکہ عشق کے لئے اور پھر میرا دعویٰ ہے کہ ایک ایک لفظ ناولوں کا آپ کو صحیح معلوم ہوگا۔ لیجئے میری ہی سرگذشت سنئے اور بتائیے کیا یہ ناول نہیں؟‘‘\n\nیہاں نعیم یکا یک رک گیا، کچھ دیر تک متاثر حالت میں سگار کے دھوئیں کو دیکھا کیا، گویا نظر وہاں ہے اور خیال کہیں اور پھر کہنے لگا،\n\n’’کیا اس سے بھی بڑھ کے کوئی افسانہ ہو سکتا ہے۔‘‘\n\nمیں نے بڑے اشتیاق سے کہا، ’’خداکے لئے سناؤ۔‘‘\n\n’’سناؤں تو، مگر کیا میں سنا سکوں گا؟‘‘\n\n’’میں نے ذرا چلا کے کہا، ’’للہ میرے اشتیاق کو مت بھڑکاؤ کہو تو۔‘‘\n\n’’بھائی اصل یہ ہے کہ یہ سرگذشت ایسی نہیں (نعیم کی آواز یہاں رقت بھری تھی) کہ میں ٹھنڈے دل سے بیان کر سکوں مجھے معاف کرنا اگر کہیں وارفتگی کی حالت طاری ہو جائے۔ تمہیں یاد ہو گا کہ جب ہم تم کالج میں پڑھا کرتے تھے تو میں ہمیشہ ولایت جانے کی تمنا ظاہر کیا کرتا تھا۔ جب تم کالج چھوڑ کے چلے گئے، اس کے کچھ دنوں بعد، والد مرحوم مجھے ولایت بھیجنے پر راضی ہو گئے، حیدر آباد میں تو نوکر تھے ہی وہاں کوشش کر کے ریاست کی طرف سے مجھے بھجوایا۔ پانچ برس کی محنت شاقہ کے بعد بفضل خدا میں ایم ڈی ہو کر واپس آ گیا اور ریاست میں سول سرجن مقررکیا گیا۔ اس کے ایک سال بعد ہی والد ماجد کا سایہ میرے سر سے اٹھ گیا۔ والد مرحوم کی تمنا یہ تھی کہ میری شادی ان کی زندگی ہی میں ہو جاتی، مگر ہائے ایسے باپ کسے نصیب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کبھی مجھ پر خبر نہیں کیا، اور اس کو میری مرضی پر چھوڑ دیا۔ شادی کے بارے میں میرے خیالات اس وقت کچھ اور ہی تھے اور میں ان پر ہنستا تھا جو خواہ مخواہ شادی کر کے مصیبت میں پڑتے تھے اور اپنی آزادی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ میں کہتا تھا کہ اس سے بڑھ کر بھی کوئی غلطی نہیں ہو سکتی کہ جان بوجھ کر انسان اپنے پاؤں میں بیڑیاں ڈال لے، کیا معلوم تھا کہ تھوڑے دنوں بعد لوگ مجھ پر ہنسیں گے۔ جو شفا خانے میری زیر نگرانی تھے ان میں سے تین چار زنانے شفا خانے بھی تھے اور یہ نہایت حیرت انگیز بات تھی کہ ان میں ایک ڈاکٹرنی مسلمان تھی لاہور میں تعلیم پائی تھی اور حیدرآباد مقرر ہو کر آئی تھی۔ چوں کہ یہ بالکل ایک نئی بات تھی اس لئے حیدرآباد میں اس مسلمان لیڈی ڈاکٹر کا شہرہ تھا۔ ہندوستانیوں کی بدگمانی! آپ جانیں یہ کسی کے حق میں کلمہ خیر تھوڑا ہی کہیں گے۔ کسی کو اس کی پاک دامنی میں شبہ تھا۔ کوئی کہتا تھا جانے کس رذیل قوم کی ہے۔ غرض کہ جتنے منہ اتنی ہی باتیں تھیں۔ لیکن اس کا حسن سب کو خیرہ کئے ہوئے تھا۔ کیوں کہ وہ پردہ بالکل نہیں کرتی تھی۔ مجھ کو اپنے عہدے کی حیثیت سے اکثر ملنے کا اتفاق ہوتا تھا۔ مگر اس رکھ رکھاؤ کی عورت میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ چاہے اس مزاج کی سنجیدگی کہئے، یا غرور حسن خیال کیجئے، کچھ ہو۔ نتیجہ یہ تھا کہ کسی کی مجال نہ تھی کہ آنکھ بھر کر دیکھ سکے۔ کام اتنا عمدہ کہ کل ریاست کے زنانہ شفاخانوں میں اس کا شفا خانہ اول رہتا تھا۔ میرا یہ حال تھا کہ اگر کوئی کہیں اس کی ذراسی بھی برائی کرتا تو مجھے تاب نہ رہتی تھی میں کہتا کہ یہ پہلی مثال ہے کہ ایک مسلمان عورت نے ڈاکٹری امتحان پاس کیا اور وہ پہلی مثال بھی اتنی عمدہ ہے، پھر بھی اسے برا کہا جاتا ہے۔ غرض کہ میں لوگوں سے اس کی حمایت میں لڑا کرتا تھا۔ تھوڑے دنوں بعد مجھے معلوم ہوا کہ مجھے محض اس سے محبت ہی نہیں، عشق ہے، کیوں کہ روز بروز اس کا خیال دل میں گھر کرتا جاتا تھا۔ اس خیال کو جتنا میں ہٹانا چاہا اتنے ہی زیادہ زور سے وہ دل میں متمکن ہوتا گیا۔ میں اپنے دل سے کہتا تھا کہ، ’’دنیا کیا کہے گی، عزیز و اقارب کیا کہیں گے‘‘ دل کہتا تھا کہ ’’عشق میں ان باتوں کا کیا خیال؟ کیا یہ کافی نہیں کہ وہ شریف ہے، نیک ہے، لاکھوں میں انتخاب ہے، جب خدا اور رسول نہیں روکتے تو اور روکنے والا کون ہوتا ہے۔‘‘ میں انہیں خیالات میں مستغرق رہتا تھا اور کوئی تصفیہ نہیں کر سکتا تھا کہ مجھے معلوم نہیں کس طرح اور کس بے خودی کی حالت میں ایک دن میں اس سے یہ کہہ گیا کہ، ’’آپ کی شادی ہو گئی ہے اور اگر نہیں تو کیا آپ کی زوجیت کی عزت مجھے حاصل ہو سکتی ہے؟‘‘\n\nاف! اس فقرے کا اثر اس پر کیسا ہوا ہے؟ چہرہ یکایک تمتما اٹھا، آنکھیں جو حسیات روح کی بے زبان ترجمان ہیں، پر غضب ہو گئیں اور نہایت غصہ بھری آواز سے اس نے مجھے جواب دیا،\n\n’’جناب میں نہیں جانتی آپ کیا ارشاد فرما رہے ہیں۔ آپ میرے افسر ہیں، مجھے آپ سے اس قسم کی باتوں کی امید نہ تھی۔‘‘\n\nبجائے اس کے میں اس جواب سے اپنے ہوش میں آتا نہ معلوم وہ کیا بات تھی کہ جس نے مجھے اور بے خود کر دیا اور بیتاب ہو کر نہایت عاجزی سے التجا کرنے لگا۔ اس دن مجھے یقین ہوا ہے کہ،\n\nعشق اول در دل معشوق پیدا میشود\n\nگر نہ سوز دشمع کے پروانہ شیدا میشود\n\nجب میں اپنی جنوں آمیز گفتگو ختم کر چکا تو مجھے یقین تھا کہ شاید اس وقت عتاب کی انتہا نہ رہے گی۔ لیکن میرے نصیب کہ اس نے نہایت آہستگی سے کہا،\n\n’’خود آپ خیال کیجئے کہ میں ایک معمولی درجے کی عورت ہوں آپ اللہ رکھے، اتنے بڑے عہدے پر ہیں کہاں میں، کہاں آپ، مجھے یقین ہے کہ جب آپ اپنی کوٹھی پر جائیں گے تو آپ کہیں گے کہ لاحول ولا قوۃ مجھ سے بھی کیا بیہود گی ہوئی ہے ایک ادنیٰ درجے کی عورت سے کیا کیا باتیں کہی ہیں، اس لئے مجھے میرے حال پر رہنے دیجئے۔‘‘\n\nیہ جواب شاید تمہارے نزدیک مایوسی دلانے والا ہو، مگر مجھ پر تو اس نے الٹا اثر کیا۔ میں گھر گیا تو ان خیالات میں کمی کیسی الٹا میں کسی کام کے قابل نہ رہا۔ اٹھتے بیٹھتے، یہی دھن تھی کہ وہ کسی طرح میری التجا کو قبول کرے۔ میری یہ حالت کہ ضرورت ہو یا نہ ہو، اس کے شفا خانے کا معائنہ ضرور کرتا، اور کسی نہ کسی طرح عرض حال کرتا، کچھ عرصے کے بعد میں نے دیکھا کہ رفتہ رفتہ اس کی پہلی بھڑک میں بھی کمی ہوتی گئی اور قصے کو طول کیا دوں ایک دن وہ آیا کہ میں اور وہ دولہا اور دلہن ہو گئے۔ لیکن میری اور قمرالنساء (یہ اس کا نام تھا) کی شادی کوئی معمولی بات نہ تھی۔ حیدر آباد بھر میں اس کا چرچا ہوا۔ اگرچہ ہم نے سادے طور پر شادی کی تھی مگر اپنی اپنی قسمت ہے کوئی ہزاروں روپیہ خرچ کرتا ہے اور دھوم دھڑکے سے بیاہ رچاتا ہے، تاہم شہرت اس کی عشر عشرا بھی نہیں ہوتی جو ہماری غریبی کی شادی کی ہوئی، مگر جو سنا تھا کانوں پر ہاتھ دہرتا تھا، ہم پر لعن طعن کرتا تھا۔ ہم عیش سے زندگی بسر کرتے تھے، کیا خبر تھی کہ ہم پریوں ظلم ہوگا،\n\nڈرتا ہوں آسمان سے بجلی نہ گر پڑے\n\nصیاد کی نگاہ سوئے آشیاں نہیں\n\nدشمنوں نے ہمارے افسر بالا کے کان بھرے اور ایک دن مرگ مفاجات کی طرح ہمارے پاس یہ حکم آیا دونوں حدود ریاست سے باہر ۴۸ گھنٹے میں نکل جائیں۔ ہم کرہی کیا سکتے تھے۔ سنگ آمد و سخت آمد ہم اپنے قلیل التعداد ہمدردوں کی افسوس اور ٹڈی دل دشمنوں کی خوشیوں میں حیدرآباد سے رخصت ہوئے۔ قمرالنسا نے مجھ سے آبدیدہ ہو کر کہا۔ ’’دیکھا! میری وجہ سے تم پر یہ مصیبت نازل ہوئی۔‘‘ لیکن مجھے بخدا، ذرا بھی جو اس کا خیال ہو کہ مجھ پر یہ مصیبت ہے میں اپنے تئیں دنیا میں سب سے بڑا خوش قسمت سمجھتا تھا کیوں کہ میری قمرالنساء میرے ساتھ تھی۔ میں حیدرآباد سے سیدھا لکھنو پہنچا اور یہاں میں نے اپنا مطب جاری کر دیا۔ سچ کہا ہے کہ مصیبت تنہا نہیں آتی۔ حیدرآباد سے یوں نکلا، یہاں پہنچ کے بالکل نا امیدی ہو گئی۔ کئی مہینے گزر گئے اور آمدنی عنقا! اور ایک دم چلتی بھی کس کی ہے؟ یہ تو ایک سودا گری ہے۔ ظاہری ٹیپ ٹاپ جب تک نہ ہو کون آتا ہے؟ اور میرے پاس کیا تھا؟ جب حیدرآباد میں رہا کبھی کچھ پس انداز ہی نہ کیا، جس کا خمیازہ اب بھگتنا پڑا۔ کہتے ہوئے شرم آتی ہے مگر کہنا ہی پڑتا ہے یہ حالت ہو گئی تھی کہ ایک ماما تک رکھنے کی مقدرت نہ رہی۔ قمرالنساء بیچاری سارے کام گھر کے کرتی تھی اور جب میں گھر میں آتا تو نہایت خندہ پیشانی سے کہتی کہ،\n\n’’کھانا پکانا اور گھر کا کام کرنا مجھے بہت اچھا معلوم ہوتا ہے۔‘‘ اس کا یہ کہنا گو وہ دل سے ہی ہوتا تھا، مجھ پر تیر کا کام کرتا تھا میں کہتا تھا کہ، ’’ہائے میں کمبخت ہی تو اس بیچاری پر ان مصیبتوں کے پڑنے کا باعث ہوا ہوں۔‘‘\n\nخدا کی شان اسی زمانے میں قمرالنساء امید سے ہو گئی اب تو مجھے بے حد فکر ہو گئی۔ ہروقت یہ خیال کہ ایسے ایسے سخت کام کرتی ہے۔ کہیں جھٹکا وٹکا آ جائے تو اور مشکل آ پڑے اسی فکر میں رات دن گھلتا تھا اور کچھ نہ کر سکتا تھا۔ میرا کوئی رشتہ دار بھی نہ تھا کہ جس کے ہاں جا پڑتا اور قمرالنساء بھی کہتی تھی کہ ’’میں یتیم اور بالکل بے دالی وارث ہوں۔‘‘ لیکن ایک دن خود ہی اس نے کہا کہ ’’پٹنہ میں میرے ایک دور کے رشتہ دار ہیں، شاید وہ زندہ ہوں، چلو وہیں چلیں۔‘‘ مجھ کو اس بات کا خیال کرتے بھی شرم آتی تھی کہ میں ان کے یہاں جا کے پڑوں گا، لیکن کیا کرتا، قمرالنساء کی جان بھی پیاری تھی۔ گیا، مگر بادل ناخواستہ۔ جب ہم پٹنہ پہنچے، تو قمرالنساء پتا پوچھتی ہوئی ایک نہایت معمولی درجے کے مکان میں مجھے لے گئی۔ دروازہ کھٹکھٹانے پر، ایک بزرگ صورت باہر آئے۔ قمرالنساء کو دیکھتے ہی متعجب ہوئے پھر خوشی خوشی گھر میں لے گئے۔ گھر میں ایک بڑی بی تھیں، جو ہم دونوں پر صدقے ہوئیں اور قمرالنساء سے کہنے لگیں کہ، ’’میری بھانجی! تمہیں تو ہم مردہ خیال کر چکے تھے۔‘‘ دو تین دن میں یہاں رہا۔ ایک دن قمرالنساء کے خالو، ہمارے میزبان نے مجھ سے کہا،\n\n’’یہاں ایک نواب صاحب ہیں، میں ان کی سرکار میں نوکر ہوں چلئے آپ کو بھی ان سے ملاؤں۔‘‘ پھر ایک نہایت عالیشان کوٹھی میں مجھے لے گئے اور گول کمرے میں بٹھا کے کہا کہ ’’تم یہیں بیٹھے رہنا، میں ابھی آتا ہوں، نواب صاحب بھی اس وقت تشریف لائیں گے محل میں ہیں۔‘‘\n\nمیں اکیلا بیٹھا رہا، کوٹھی کی ایک ایک چیز کو دیکھتا تھا اور عش عش کرتا تھا، لیکن ایک بات سے حیرت تھی، ساری کوٹھی میں سناٹا تھا، میں ایسی حالت میں تھا کہ یکایک سامنے کا دروازہ کھلا اور شاہزادیوں کے لباس میں ملبوس ایک خاتون کمرے میں داخل ہوئی۔ میں جھجک کے چاہتا تھا کہ کمرے سے باہر نکل جاؤں اور اس خیال سے میں باہر کی طرف لپکا بھی کہ اس خاتون نے کہا،\n\n’’پیارے نعیم۔‘‘ پھر کر جو غور سے دیکھتا ہوں تو میری پیاری قمرالنساء بادشاہزادی بنی کھڑی ہے۔ بے ساختہ میری زبان سے نکل گیا،\n\n’’میں خواب دیکھ رہا ہوں یا میری آنکھیں دھوکا دے رہی ہیں۔‘‘\n\nقمرالنساء نے ہنس کے کہا، ’’نہیں تم جاگتے ہو، اور میں ہی تمہاری قمرالنسا ہوں۔ اللہ اللہ مجھے تم پہچانتے بھی نہیں (پھر میری طرف بڑھ کے اور گلے میں باہیں ڈال کے) خدا کا شکر ہے کہ ہماری مصیبتیں دور ہوئیں میرے پاس بڑی ریاست ہے اور ہم اب عمر بھر یہیں رہیں گے۔‘‘\n\nمیں نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا ’’تو تم نے حیدرآباد میں نوکری کیوں کی تھی؟‘‘ ’’سب بتاتی ہوں، بے صبر کیوں ہوئے جاتے ہو۔ میرے والد مرحوم، نہایت روشن خیال آدمی تھے، انہوں نے میری تعلیم نہایت اعلی درجے کی کی تھی اور کہتے تھے کہ اولاد کو تعلیم دنیا بس یہی والدین کا فرض ہے۔ سوائے میرے ان کے کوئی اولاد نہ تھی، اور خدا کی مرضی یہ ہوئی کہ میرے بارھویں سال میں، اللہ بخشے ابا کا سایہ میرے سر سے اٹھ گیا۔ ساری جائداد کی میں ہی مالک ہوئی۔ میں نے اپنے سرپرست سے کہا کہ میں ڈاکٹری پڑھوں گی۔ چنانچہ میں ہور بھیجی گئی، وہاں سے آئی تو بڑے بڑے گھرانوں سے میرے لئے پیغام آئے، مگر میں نے دل میں ٹھان لی تھی کہ جب تک کوئی مجھے صرف میرے لئے بیاہے گا، میں کسی سے شادی نہ کروں گی۔ اس لئے غریب بنی اور حیدرآباد گئی اور صدقے اس کی کریمی کے کہ اللہ نے تم جیسا پیارا خاوند مجھے دیا، جس نے مجھے میری دولت کے لئے نہیں بیاہا، بلکہ صرف میرے لئے ساری دنیا مجھے بر کہتی تھی، میری طرف سے بدگمان تھی، پھر بھی (میرا بوسہ لے کر) تم نے مجھ سے شادی کی اور میں نے تمہارے ساتھ ساری مصیبتیں جھیلیں، صرف یہ دیکھنے کے لئے کہ آیا تمہیں مجھ سے اصلی محبت ہے یا اکتا جاؤ گے۔ اپنی کوٹھی پر میں برابر حالت لکھتی رہتی تھی، اس وجہ سے خالو کو سب حال معلوم تھا۔‘‘\n\nاس کے بعد ہم ہنسی خوشی رہنے لگے۔\n\nیہ کہہ کے نعیم رکا اور پھر بھرائی ہوئی آواز سے کہنے لگا۔ ’’مشیت ایزدی میں کس کو دخل ہے۔ آٹھ سال بعد، اللہ نے قمرالنساء بھی مجھ سے چھین لی۔ اب وہ جنت میں ہے اور میں یہاں زندگی کے دن پورے کر رہا ہوں۔ ایک اس کی یادگار ہے اور وہی میری زندگی کا سہارا ہے۔ یعنی میری پیاری بیٹی نجم النساء جو ہمارے پٹنے آنے کے پانچ مہینے بعددنیا میں آئی تھی۔ اللہ اسے جیتا رکھے۔ میری طبابت بھی یہاں خوب چمکی اور اب میری ذاتی جائدادبہت کچھ ہے۔ اس لئے میرا ارادہ ہے کہ قمرالنساء کی جائداد کسی کا رخیر کے لئے وقت کردوں۔\n\nعزم یہ ہے کہ کل جائداد عورتوں کی تعلیم کے واسطے وقف کر دوں۔ جب محمڈن یونیورسٹی بنے تو ایک کالج خاص طور پر مسلمان خاتونوں کے لئے تیار کیا جائے۔ ایک لاکھ کی جائداد ہے۔ میرے خیال میں کالج کے ابتدائی اخراجات کے لئے کافی ہوگی۔ تمہاری کیا رائے ہے۔‘‘ میں نے تو کہا، ’’ضرور واللہ ضرور۔ خدا تمہارے ارادے میں برکت دے۔ کل قوم احسان مند ہو گی، مگر شب بخیر، نیت شب حرام۔ چلئے رات بہت آئی ہے۔ لو ایک بج گیا اب چل کے سونا چاہیے۔‘‘\n\nیہ کہہ کے ہم کوٹھی میں داخل ہوئے۔ اب کوٹھی کی ایک ایک چیز مجھے عجیب معلوم ہوتی اور میرے دل پر عجیب اثر ڈالتی تھی۔\n\nہے یوں کہ،\n\nکسی کا ہور ہے آتشؔ کسی کو کررکھے\n\nدو روزہ عمر کو انسان نہ رائگاں کاٹے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B2%D8%AF%D9%88%D8%A7%D8%AC_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA"} {"title": "ازل تھے ہے مجے خوباں سوں اخلاص", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ازل تھے ہے مجے خوباں سوں اخلاص\nابد لگ مج ہے محبوباں سوں اخلاص\n\nاگر توں عاشق صادق ہے طالب\nنہ کر توں باج مطلوباں سوں اخلاص\n\nسکی کا حسن کیتا جذب مولود\nاسی تے مج ہے مجذوباں سوں اخلاص\n\nپیاری کے چھنداں ہے سب کوں مرغوب\nمجے لازم ہے مرغوباں سوں اخلاص\n\nجو ہے مکتوب مانند خال و خط سوں\nدھروں میں اس تھے مکتوباں سوں اخلاص\n\nنین ناری کے قلابے ہیں مشہور\nدھروں میں اس تھے مقلوباں سوں اخلاص\n\nنبی صدقے قطب شہ کم جہت\nسدا دھرتا ہے تو خوباں سوں اخلاص", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B2%D9%84_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D8%B5"} {"title": "ازل سے جستجو کی سرگرانی لے کے آیا ہوں", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ازل سے جستجو کی سرگرانی لے کے آیا ہوں\nتلاش حسن ہے شمع جوانی لے کے آیا ہوں\n\nتری محفل سے حسرت کی نشانی لے کے آیا ہوں\nوفا کی آرزو تھی سرگرانی لے کے آیا ہوں\n\nجہاں میں ذوق حسن جاودانی لے کے آیا ہوں\nکہاں کی کس خرابے میں کہانی لے کے آیا ہوں\n\nمری ہستی زمانے کے مٹائے سے نہیں مٹتی\nازل سے میں نشان بے نشانی لے کے آیا ہوں\n\nمری خاموش صورت آئنہ دار محبت ہے\nمیں آئینے سے حسن بے زبانی لے کے آیا ہوں\n\nبھڑک اٹھوں نہ خود اپنی نوائے شعلہ ساماں سے\nخس و خاشاک میں شعلہ بیانی لے کے آیا ہوں\n\nمحبت کو تو عمر جاوداں بھی مختصر ہوگی\nالٰہی کیا کروں میں عمر فانی لے کے آیا ہوں\n\nظفرؔ کیا تاب لائے کوئی طوفان محبت کی\nہوا کے سامنے شمع جوانی لے کے آیا ہوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B2%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%B1%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "ازل سے نقش دل ہے ناز جانانہ محمد کا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "ازل سے نقش دل ہے ناز جانانہ محمد کا\nکیا ہے لوح نے محفوظ افسانہ محمد کا\n\nڈرے کیا آتش دوزخ سے دیوانہ محمد کا\nکہ اٹھے شعلے گل کرتا ہے پروانہ محمد کا\n\nظہور حال و مستقبل سے ماضی کو ملا دوں گا\nمجھے پھر آج دہرانا ہے افسانہ محمد کا\n\nدوئی ایک داغ تہمت، غیرت الزام بے معنی\nدہ دنیا ہے جسے اپنائے یارانہ محمد کا\n\nشفاعت کی دعا میں وہ ہوا دیتے ہیں پر اس کے\nجہنم کو بجھا سکتا ہے پروانہ محمد کا\n\nیہاں سے تابہ جنت روک ہے کوئی نہ پرشس ہے\nجہاں چاہے چلا جا ، بن کے پروانہ محمد کا\n\nرسائی کب ہے اس تک ہوش انساں عقل درسی کی\nجو اپنی رد میں کہہ جاتا ہے دیوانہ محمد کا\n\nشعاع اس پار شیشے کے ، نظر اس پار شیشے کے\nجھلک دیکھی کہ پہنچا اڑ کے پروانہ محمد کا\n\nدرود اول سخن ہو آرزو ، پھر شعر نعتیہ\nزباں دھو ڈال اگر کہنا ہے افسانہ محمد کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B2%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ازل کی یاد میں میں گرم آہ سرد ہوا", "poet_page": "مصنف:راغب بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ازل کی یاد میں میں گرم آہ سرد ہوا\nلگی تھی چوٹ کبھی اور آج درد ہوا\n\nگزر گیا یہ نگاہوں سے تیرا مرکب حسن\nتمام عالم دل اک قدم میں گرد ہوا\n\nغلط کہ قابل دار و رسن ہوں اہل ہوس\nبندھائی عشق نے ہمت جسے وہ مرد ہوا\n\nپرے وہ عقل سے ہیں اس یقیں نے روک لیا\nکبھی جو وہم کے پیچھے میں رہ نورد ہوا\n\nتمام تجربۂ گرم و سرد عشق کہاں\nکچھ اشک گرم ہوا دل کچھ آہ سرد ہوا\n\nنقاب ان کی اٹھی تھی کہ ہم ہوئے بے ہوش\nنگاہ ان سے لڑی تھی کہ دل میں درد ہوا\n\nکرم سے اپنے مٹا دو کہ بے قرار ہے عشق\nمرا وجود کہ دنیا کے دل کا درد ہوا\n\nشہود بے جہت و کیف منسلک راغبؔ\nجنوں اسے جو کسی سمت رہ نورد ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B2%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D8%A2%DB%81_%D8%B3%D8%B1%D8%AF_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "ازل کیا ابتدا حسن و محبت کے ترانے کی", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ازل کیا ابتدا حسن و محبت کے ترانے کی\nابد کیا صرف اک بدلی ہوئی سرخی فسانے کی\n\nتڑپتی بجلیاں پھر خانہ‌ بربادی کے درپئے ہیں\nقفس کی خیر یا رب ہو چکی خیر آشیانے کی\n\nہماری زندگی بھی ایک فرصت تھی مگر کتنی\nفقط رنگ تمنا کے چڑھانے یا اڑانے کی\n\nقفس اک تار ہے تن ایک مٹی کا گھروندا ہے\nحقیقت قید کی یہ ہے یہ ہستی قید خانے کی\n\nوہ آنکھیں دیکھ کر میں کیا زمانہ کہنے لگتا ہے\nکہ ان میں ہے جسے کہتے ہیں سب گردش زمانے کی\n\nہماری زندگی بد مستیوں کا دور تھی بیخودؔ\nادھر ہو کر نہیں نکلی تمنا ہوش آنے کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B2%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%88_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "اس ادا سے وہ جفا کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس ادا سے وہ جفا کرتے ہیں\nکوئی جانے کہ وفا کرتے ہیں\n\nیوں وفا عہد وفا کرتے ہیں\nآپ کیا کہتے ہیں کیا کرتے ہیں\n\nہم کو چھیڑوگے تو پچھتاؤگے\nہنسنے والوں سے ہنسا کرتے ہیں\n\nنامہ بر تجھ کو سلیقہ ہی نہیں\nکام باتوں میں بنا کرتے ہیں\n\nچلئے عاشق کا جنازہ اٹھا\nآپ بیٹھے ہوئے کیا کرتے ہیں\n\nیہ بتاتا نہیں کوئی مجھ کو\nدل جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں\n\nحسن کا حق نہیں رہتا باقی\nہر ادا میں وہ ادا کرتے ہیں\n\nتیر آخر بدل کافر ہے\nہم اخیر آج دعا کرتے ہیں\n\nروتے ہیں غیر کا رونا پہروں\nیہ ہنسی مجھ سے ہنسا کرتے ہیں\n\nاس لیے دل کو لگا رکھا ہے\nاس میں محبوب رہا کرتے ہیں\n\nتم ملوگے نہ وہاں بھی ہم سے\nحشر سے پہلے گلہ کرتے ہیں\n\nجھانک کر روزن در سے مجھ کو\nکیا وہ شوخی سے حیا کرتے ہیں\n\nاس نے احسان جتا کر یہ کہا\nآپ کس منہ سے گلہ کرتے ہیں\n\nروز لیتے ہیں نیا دل دلبر\nنہیں معلوم یہ کیا کرتے ہیں\n\nداغؔ تو دیکھ تو کیا ہوتا ہے\nجبر پر صبر کیا کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس ارض کے تختہ پر سنسار ہے اور میں ہوں", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس ارض کے تختہ پر سنسار ہے اور میں ہوں\nموہوم ہوا تو کیا پر یار ہے اور میں ہوں\n\nپڑتی ہے نظر جیدھر وہ یار ہے اور میں ہوں\nہے کون سوا میرے دل دار ہے اور میں ہوں\n\nمیں یار کنے قاصد بھیجا تو ہے پر شاید\nلے نامہ اگر آیا ریبار ہے اور میں ہوں\n\nموڑوں گا نہیں منہ کو میں عشق کے میداں سے\nاس یار کے ابرو کی تلوار ہے اور میں ہوں\n\nاب دیکھیے کیا نبٹے سینہ ہے سپر اپنا\nوہ خنجر مژگاں کا خوں خار ہے اور میں ہوں\n\nجب سے بہ صنم خانہ کی میں نے قدم بوسی\nسو طرح کی زاہد سے تکرار ہے اور میں ہوں\n\nراہب نے مرے قشقہ صندل کا لگایا ہے\nناقوس ہے گھنٹہ ہے زنار ہے اور میں ہوں\n\nنفع و ضرر دنیا دنیا ہی پہ میں چھوڑا\nاب عشق کا اے یارو بیوپار ہے اور میں ہوں\n\nحیراں میں ہوں اے یارو کس واسطے افریدیؔ\nرسوائی بہ ہر کوچہ بازار ہے اور میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D8%B1%D8%B6_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%AE%D8%AA%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D8%B3%D9%86%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیا", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیا\nمیں اس کو دیکھتا ہوں جو بدلے میں مل گیا\n\nجو حسن تو نے شکل کو بخشا وہ بول اٹھا\nجو رنگ تو نے پھول میں ڈالا وہ کھل گیا\n\nناکامیٔ وفا کا نمونہ ہے زندگی\nکوچے میں تیرے جو کوئی آیا خجل گیا\n\nقسمت کے پھوڑنے کو کوئی اور در نہ تھا\nقاصد مکان غیر کے کیوں متصل گیا\n\nمجھ کو مٹا کے کون سا ارماں ترا مٹا\nمجھ کو ملا کے خاک میں کیا خاک مل گیا\n\nمضطرؔ میں ان کے عشق میں بے موت مر گیا\nاب کیا بتاؤں جان گئی ہے کہ دل گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اس باغ میں کس کو پھول چنتے دیکھا", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس باغ میں کس کا پھول چنتے دیکھا\nسر خاک پہ باغباں کو دھنتے دیکھا\nبلبل نے تڑپ کے جان دی اے صیاد\nنالہ نہ یہاں کسی کا سنتے دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%86%D9%86%D8%AA%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اس بت بے مثال کا پہلو", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس بت بے مثال کا پہلو\nہے خدا سے وصال کا پہلو\n\nماہ کو تیس دن کی گردش میں\nایک شب ہے کمال کا پہلو\n\nدل دیا اس کو اک نگاہ کے ساتھ\nنہ ملا دیکھ بھال کا پہلو\n\nمفت کی مے ملے گی اے قاضی\nڈھونڈھ اس کے حلال کا پہلو\n\nغیر کے گھر نہ جا سکے وہ رات\nنہ ملا ان کو چال کا پہلو\n\nہوجیے غیر سے نہ گرم سخن\nاس میں ہیں اشتعال کا پہلو\n\nتو جگہ پائے اس کے پہلو میں\nہے اثرؔ یہ محال کا پہلو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DB%92_%D9%85%D8%AB%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88"} {"title": "اس بت کا انتظار کبھی ہے کبھی نہیں", "poet_page": "مصنف:رنج حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > مخبر عشق (1895)", "year": "1895", "text_ur": "اس بت کا انتظار کبھی ہے کبھی نہیں\nدل اپنا بے قرار کبھی ہے کبھی نہیں\n\nاقرار بھی ہے وعدے سے انکار بھی اسے\nظالم کا اعتبار کبھی ہے کبھی نہیں\n\nنفرت ہے ویسے گر تجھے انکار ہی سہی\nیہ کیا کہ خواست گار کبھی ہے کبھی نہیں\n\nاترائیں دل میں آپ نہ آئینہ دیکھ کر\nیہ موسم بہار کبھی ہے کبھی نہیں\n\nرغبت بھی ہے شراب سے نفرت بھی ہے مجھے\nیہ چیز ناگوار کبھی ہے کبھی نہیں\n\nیہ حال ہو گیا ہے کہ اس کے فراق میں\nآنکھ اپنی اشک بار کبھی ہے کبھی نہیں\n\nاک روز میرے پاس ہے اک روز ان کے پاس\nدل کا بھی اعتبار کبھی ہے کبھی نہیں\n\nاے رنجؔ کیا بتاؤں علاج اس کا کیا کروں\nدل کو مرے قرار کبھی ہے کبھی نہیں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس بت کدے میں تو جو حسیں تر لگا مجھے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس بت کدے میں تو جو حسیں تر لگا مجھے\nاپنے ہی اک خیال کا پیکر لگا مجھے\n\nجب تک رہی جگر میں لہو کی ذرا سی بوند\nمٹھی میں اپنی بند سمندر لگا مجھے\n\nمرجھا گیا جو دل میں اجالے کا سرخ پھول\nتاروں بھرا یہ کھیت بھی بنجر لگا مجھے\n\nاب یہ بتا کہ روح کے شعلے کا کیا ہے رنگ\nمرمر کا یہ لباس تو سندر لگا مجھے\n\nکیا جانیے کہ اتنی اداسی تھی رات کیوں\nمہتاب اپنی قبر کا پتھر لگا مجھے\n\nآنکھوں کو بند کر کے بڑی روشنی ملی\nمدھم تھا جو بھی نقش اجاگر لگا مجھے\n\nیہ کیا کہ دل کے دیپ کی لو ہی تراش لی\nسورج اگر ہے کرنوں کی جھالر لگا مجھے\n\nصدیوں میں طے ہوا تھا بیاباں کا راستہ\nگلشن کو لوٹتے ہوئے پل بھر لگا مجھے\n\nمیں نے اسے شریک سفر کر لیا شکیبؔ\nاپنی طرح سے چاند جو بے گھر لگا مجھے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "اس بت کو دل دکھا کے کلیجہ دکھا دیا", "poet_page": "مصنف:منشی خیراتی لال شگفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس بت کو دل دکھا کے کلیجہ دکھا دیا\nاسباب اپنی ذات کا سارا دکھا دیا\n\nہم نے تمہاری بات پہ دکھلا کے آئنہ\nمعشوق خوبرو تمہیں تم سا دکھا دیا\n\nمشتاق دل ہوا جو وہ مے نوش بزم میں\nمیں نے اٹھا کے ہاتھ میں شیشہ دکھا دیا\n\nہم نے بھی ان کو ان کی طرح چھیڑ چھاڑ میں\nرونا دکھا دیا کبھی ہنسنا دکھا دیا\n\nاو بحر حسن گریۂ بے حد کے لطف سے\nسو بار مجھ کو اشک کا دریا دکھا دیا\n\nہم نے شگفتہؔ اس بت کافر کو پیار میں\nاپنا سمجھ کے مال پرایا دکھا دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%84%DB%8C%D8%AC%DB%81_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اس بت کو نہیں ہے ڈر خدا سے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس بت کو نہیں ہے ڈر خدا سے\nبگڑی بندے سے گر خدا سے\n\nگو خلق بھی جانے حال میرا\nپوشیدہ نہیں مگر خدا سے\n\nہے ہم سے تو آہ آہ کرنا\nدینا اس کو اثر خدا سے\n\nہم نے اسے اپنا سود جانا\nپہنچا بھی اگر ضرر خدا سے\n\nدیکھا ہے میں جب سے وہ بت شوخ\nپھر گئی ہے مری نظر خدا سے\n\nبازیچے میں ہے ادھر وہ مشغول\nاور بن رہی ہے ادھر خدا سے\n\nکچھ خوب نہیں یہ خود نمائی\nہاں اے بت شوخ ڈر خدا سے\n\nہے بیر خدائی اور خودی میں\nاتنی بھی خودی نہ کر خدا سے\n\nیہ سارے خدا شناس ہیں لیک\nدیتا نہیں کوئی خبر خدا سے\n\nاے مصحفیؔ کچھ کمی نہیں واں\nجو چاہے سو مانگ پر خدا سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%88%D8%B1_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92"} {"title": "اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروں", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروں\nبگڑے ہیں اسی کفر میں ایمان ہزاروں\n\nدنیا ہے کہ ان کے رخ و گیسو پہ مٹی ہے\nحیران ہزاروں ہیں پریشان ہزاروں\n\nتنہائی میں بھی تیرے تصور کی بدولت\nدل بستگئ غم کے ہیں سامان ہزاروں\n\nاے شوق تری پستئ ہمت کا برا ہو\nمشکل ہوئے جو کام تھے آسان ہزاروں\n\nآنکھوں نے تجھے دیکھ لیا اب انہیں کیا غم\nحالانکہ ابھی دل کو ہیں ارمان ہزاروں\n\nچھانے ہیں ترے عشق میں آشفتہ سری نے\nدنیائے مصیبت کے بیابان ہزاروں\n\nاک بار تھا سر گردن حسرتؔ پہ رہیں گے\nقاتل تری شمشیر کے احسان ہزاروں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%AC%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "اس بحر میں سیکڑوں ہی لنگر ٹوٹے", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس بحر میں سیکڑوں ہی لنگر ٹوٹے\nبن بن کے حباب کاسۂ سر ٹوٹے\nگرداب فنا سے کوئی بچ کر نکلا\nشل ہو کے یہاں دست شناور ٹوٹے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AD%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%DA%A9%DA%91%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D9%84%D9%86%DA%AF%D8%B1_%D9%B9%D9%88%D9%B9%DB%92"} {"title": "اس بزم سے میدان میں جانا ہوگا", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس بزم سے میدان میں جانا ہوگا\nایواں سے بیابان میں جانا ہوگا\nہشیار ہو تیار ہو زنہار نہ سو\nکیا جانیے کس آن میں جانا ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "اس بزم میں ارباب شعور آئے ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس بزم میں ارباب شعور آئے ہیں\nیہ شیعہ ہیں یا آیۂ نور آئے ہیں\nپڑھ مرثیہ لے داد سخن ان سے دبیرؔ\nکیا کیا حضرات کانپور آئے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%B4%D8%B9%D9%88%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے\nبیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے\n\nدل ہی تو ہے سیاستِ درباں سے ڈر گیا\nمیں اور جاؤں در سے ترے بِن صدا کیے\n\nرکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجّادہ رہنِ مے\nمدّت ہوئی ہے دعوتِ آب و ہوا کیے\n\nبے صرفہ ہی گزرتی ہے، ہو گرچہ عمرِ خضر\nحضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے\n\nمقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم\nتو نے وہ گنج ہائے گرانمایہ کیا کیے\n\nکس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدو؟\nکس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے؟\n\nصحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خو\nدینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے\n\nضد کی ہے اور بات مگر خو بری نہیں\nبھولے سے اس نے سینکڑوں وعدے وفا کیے\n\nغالبؔ تمہیں کہو کہ ملے گا جواب کیا\nمانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%AA%DB%8C_%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%DB%92"} {"title": "اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھے", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھے\nاے شوق ہرزہ تاز کہاں لے چلا مجھے\n\nیہ درد دل ہی زیست کا باعث ہے چارہ گر\nمر جاؤں گا جو آئی موافق دوا مجھے\n\nاس ذوق ابتلا کا مزہ اس کے دم سے ہے\nسب کچھ ملا ملا ہو دل مبتلا مجھے\n\nدیر و حرم کو دیکھ لیا خاک بھی نہیں\nبس اے تلاش یار نہ در در پھرا مجھے\n\nیہ دل سے دور ہو نہ دکھائے خدا وہ دن\nظالم ترا خیال ہے دل سے سوا مجھے\n\nرنج و ملال و حسرت و ارمان و آرزو\nجانے سے ایک دل کے بہت کچھ ملا مجھے\n\nمیں جانتا ہوں آپ ہیں مست اپنے حال میں\nبیخودؔ نہیں ہے آپ سے مطلق گلا مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "اس بزم کو جنت سے جو خوش پاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس بزم کو جنت سے جو خوش پاتے ہیں\nرضواں لیے گلدستہ نور آتے ہیں\nکیا صحن ہے گلشن عزائے شبیر\nپانی یہاں خضر آ کے چھڑک جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%86%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس بندہ کی چاہ دیکھئے گا", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "اس بندہ کی چاہ دیکھئے گا\nاور اس کا نباہ دیکھئے گا\n\nمیں کیسے نباہتا ہوں تم سے\nانشا اللہ دیکھئے گا\n\nفوجیں اشکوں کی تل رہی ہیں\nیہ حشمت و جاہ دیکھئے گا\n\nعاشق مجھے جان کرتے ہیں قتل\nتقصیر و گناہ دیکھئے گا\n\nانشاؔ سے آپ اب خفا ہیں\nیوں بھر کے نگاہ دیکھئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "اس بے وفا کی بزم سے چشم خیال میں", "poet_page": "مصنف:ہادی مچھلی شہری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس بے وفا کی بزم سے چشم خیال میں\nاک خواب آرزو کا لیے جا رہا ہوں میں\n\nدل کو نگاہ یار کے نشتر سے چھیڑ کر\nبیدار آرزو کو کیے جا رہا ہوں میں\n\nبے درد مجھ سے شرح غم زندگی نہ پوچھ\nکافی ہے اس قدر کہ جیے جا رہا ہوں میں\n\nدو دن کی عمر وہ بھی ملی تھی بقید غم\nیہ شکوہ ہر نفس میں کئے جا رہا ہوں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس تند خو سے جوں ہی مری آنکھ لڑ گئی", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس تند خو سے جوں ہی مری آنکھ لڑ گئی\nاس دل سے اور عقل سے ووہیں بگڑ گئی\n\nکیا کہئے تیرے ہاتھوں سے اے دست برد عشق\nاس دل کی بستی بات کے کہتے اجڑ گئی\n\nتیرا تو قول تھا کہ نہ ہووے گی یہ تمام\nاے ساقی دو ہی گھونٹ میں بس مے نبڑ گئی\n\nؔجوشش لکھا میں اس کو سفینے پر اس طرح\nگویا کہ بھولی تھی یہ غزل یاد پڑ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AA%D9%86%D8%AF_%D8%AE%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DA%91_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "اس توقع پہ کہ دیکھوں کبھی آتے جاتے", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس توقع پہ کہ دیکھوں کبھی آتے جاتے\nگھس گئے پاؤں رہ‌ دوست میں جاتے جاتے\n\nفکر دوزخ میں ہمیں رفع معاصی کی پڑی\nآگ پر دامن تر کو ہیں سکھاتے جاتے\n\nغیر کا زور چلے ان پہ اور ان کا مجھ پر\nکہتے ہیں منہ سے ہو کیوں رال اڑاتے جاتے\n\nغیر کو لے کے گرانی کی نہ ٹھہری ہوتی\nاپنے دروازے سے مجھ کو نہ اٹھاتے جاتے\n\nکیوں نشاں چھوڑ گئے تیز روان رہ عشق\nکعبہ و بت کدہ کو چاہئے ڈھاتے جاتے\n\nآگ سے سبزہ کبھی اور کبھی نخل سے آگ\nہیں ہر اک رنگ میں نیرنگ دکھاتے جاتے\n\nسبزہ بن جائیں گے آخر کو چمن کے سب سرو\nشرم سے تیری زمیں میں ہیں سماتے جاتے\n\nمجھ سے بگڑے ہوئے ان کو ہوئی مدت ناظمؔ\nبیچ والے ہیں ابھی بات بناتے جاتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AA%D9%88%D9%82%D8%B9_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92"} {"title": "اس جسم کی کیچلی میں اک ناگ بھی ہے", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس جسم کی کیچلی میں اک ناگ بھی ہے\nآواز شکست دل میں اک راگ بھی ہے\nبے کار نہیں بنا ہے اک تنکا بھی\nخاموش دیا سلائی میں آگ بھی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%DA%86%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D8%A7%DA%AF_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اس جسم کی ہے پانچ عناصر سے بناوٹ", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس جسم کی ہے پانچ عناصر سے بناوٹ\nعقل‌ و دل و پندار کی ساری ہے بناوٹ\n\nہیں حافظہ ادراک تمیز اور تخیل\nافعالی و علمی خمسات اس کی سجاوٹ\n\nتعمیر جن اجزا سے ہوئی خانۂ تن کی\nہے جان سے ان سب کی نمودار دکھاوٹ\n\nآتے ہوئے اس تن میں نہ جاتے ہوئے تن سے\nہے جان مکیں کو نہ لگاوٹ نہ رکاوٹ\n\nانصاف کی میزاں میں اسے تول تو ساحرؔ\nسب سچ ہے نہیں جھوٹ کی کچھ اس میں ملاوٹ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86_%D8%B9%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D9%88%D9%B9"} {"title": "اس جنبشِ ابرو کا گلہ ہو نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس جنبشِ ابرو کا گلہ ہو نہیں سکتا\nدل گوشت ہے ناخن سے جدا ہو نہیں سکتا\n\nکچھ تو ہی اثر کر، ترے قربان خموشی!\nنالوں سے تو کچھ کام مرا ہو نہیں سکتا\n\nگر غیر بھی ہو وقفِ ستم تو ہے مسلم\nکچھ تم سے بجز جور و جفا ہو نہیں سکتا\n\nکھولے گرہِ دل کو ترا ناخنِ شمشیر\nیہ کام اجل سے بھی روا ہو نہیں سکتا\n\nسبقت ہو تجھے راہ میں اس کوچے کی مجھ پر\nزنہار یہ اے راہ نما! ہو نہیں سکتا\n\nمیں نے جو کہا ہمدمِ اغیار نہ ہو جے\nتو چیں بہ جبیں ہو کے کہا، ہو نہیں سکتا\n\nیہ رازِ محبت ہے نہ افسانۂ بلبل\nمحرم ہو مری بادِ صبا، ہو نہیں سکتا\n\nکب طالعِ خفتہ نے دیا خواب میں آنے\nوعدہ بھی کیا وہ کہ وفا ہو نہیں سکتا\n\nوہ مجھ سے خفا ہے تو اسے یہ بھی ہے زیبا\nپر شیفتہ میں اس سے خفا ہو نہیں سکتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AC%D9%86%D8%A8%D8%B4%D9%90_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%D9%84%DB%81_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اس جور و جفا سے ترے زنہار نہ ٹوٹے", "poet_page": "مصنف:اشرف علی فغاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس جور و جفا سے ترے زنہار نہ ٹوٹے\nیہ دل تو کسی طرح سے اے یار نہ ٹوٹے\n\nغیروں کو نہ کر مجھ دل بسمل کے مقابل\nچو رنگ لگاتے تری تلوار نہ ٹوٹے\n\nوہ شیشۂ دل ہے کہ اسی سنگ جفا پر\nسو بار اگر پھینکیے یک بار نہ ٹوٹے\n\nرکھ قیس قدم وادئ لیلیٰ میں سمجھ کر\nاس دشت محبت کا کوئی خار نہ ٹوٹے\n\nجنبش میں نہ لا سبحۂ اسلام کو اے شیخ\nنازک ہے مرا رشتۂ زنار نہ ٹوٹے\n\nشانہ سے فغاںؔ پھر الجھتا ہے مرا دل\nاس کاکل مشکیں کا کوئی تار نہ ٹوٹے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B2%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D9%B9%D9%88%D9%B9%DB%92"} {"title": "اس حسن کا شیدا ہوں اس حسن کا دیوانہ", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس حسن کا شیدا ہوں اس حسن کا دیوانہ\nہر گل ہے جہاں بلبل ہر شمع ہے پروانہ\n\nپتھر پڑیں دونوں پر کعبہ ہو کہ بت خانہ\nدونوں سے کہیں اچھا دیوانے کا پروانہ\n\nکہتا ہے انا لیلیٰ کیسا ہے یہ دیوانہ\nنبھنے کا نہیں دو دن اب قیس سے یارانہ\n\nکعبہ ہو کلیسا ہو دل ہو کہ صنم خانہ\nجلوہ ہو جہاں تیرا آباد وہ کاشانہ\n\nچھوٹا سا مرا دل ہے ٹوٹا سا مرا دل ہے\nصورت میں تو پیمانہ وسعت میں ہے مے خانہ\n\nدل سے ہے لگی یہ لو اک ذرہ برابر ضو\nپڑ جائے ترا پرتو اے جلوۂ جانانہ\n\nبیگانہ یگانہ ہے دل آئینہ خانہ ہے\nکعبے کا یہ کعبہ ہے بت خانے کا بت خانہ\n\nہے جوش جنوں پر وہ اے عشق خرد آگہ\nفرزانہ ہے دیوانہ دیوانہ ہے فرزانہ\n\nفرہاد بھی مجنوں بھی لیتے ہیں قدم میرے\nایسا بھی نہ ہو کوئی اس عشق میں دیوانہ\n\nیاد آئی بہت ہم کو ٹوٹی ہوئی توبہ بھی\nدیکھا جو کہیں ہم نے ٹوٹا ہوا پیمانہ\n\nشیشے کی پری تجھ میں کیا حسن کا عالم ہے\nساقی نہ ہو پھر بھی تو یہ گھر ہے پری خانہ\n\nدے کوئی سکھی داتا مے خانہ بڑا گھر ہے\nآتا ہے صدا دیتا شب کو کوئی مستانہ\n\nبہکے ہوئے لوگوں میں سب سے ہیں ریاضؔ اچھے\nرفتار ہے مستانہ گفتار ہے رندانہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "اس حسیں کا خیال ہے دل میں", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس حسیں کا خیال ہے دل میں\nجس کا آنا محال ہے دل میں\n\nکیوں نہ دل اس خیال سے خوش ہو\nکہ تمہارا خیال ہے دل میں\n\nکیا کرے رہ کے وہ خدنگ نگاہ\nاب لہو کا بھی کال ہے دل میں\n\nجائے تنگ است مردماں بسیار\nحسرتوں کا یہ حال ہے دل میں\n\nنوحؔ گو منہ سے کچھ نہیں کہتے\nان کو تم سے ملال ہے دل میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس خاکداں میں اب تک باقی ہیں کچھ شرر سے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس خاکداں میں اب تک باقی ہیں کچھ شرر سے\nدامن بچا کے گزرو یادوں کی رہ گزر سے\n\nہر ہر قدم پہ آنکھیں تھیں فرش راہ لیکن\nوہ روشنی کا ہالا اترا نہ بام پر سے\n\nکیوں جادۂ وفا پر مشعل بکف کھڑے ہو\nاس سیل تیرگی میں نکلے گا کون گھر سے\n\nکس دشت کی صدا ہو اتنا مجھے بتا دو\nہر سو بچھے ہیں رستے آؤں تو میں کدھر سے\n\nاجڑا ہوا مکاں ہے یہ دل جہاں پہ ہر شب\nپرچھائیاں لپٹ کر روتی ہیں بام و در سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%A7%DA%A9%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B4%D8%B1%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "اس خطے کی جا عالم بالا میں نہیں", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس خطے کی جا عالم بالا میں نہیں\nیاراۓ نظر چشم تماشا میں نہیں\nہر طائفہ شایان طواف ملکوت\nمیرٹھ میں ہیں وہ لوگ کہ دنیا میں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس در پہ مجھے یار مچلنے نہیں دیتے", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس در پہ مجھے یار مچلنے نہیں دیتے\nارمان مرے جی کے نکلنے نہیں دیتے\n\nدم دم میں خبر پہنچے ہے جو آنے کی اپنی\nہے جان لبوں پر وہ نکلنے نہیں دیتے\n\nآشوب قیامت سے زبس خوف ہے سب کو\nدو چار قدم بھی انہیں چلنے نہیں دیتے\n\nجاتا ہے صفائے رخ دل دار پہ جب دل\nمقدور تک اپنے تو پھسلنے نہیں دیتے\n\nعادت میں کرو فرق نہ تم اپنی نگہ سے\nکیوں زہر اسے آج اگلنے نہیں دیتے\n\nوہ پردہ نشینی کی رعایت ہے تمہاری\nہم بات بھی خلوت سے نکلنے نہیں دیتے\n\nیہ دست بسر رہنے کا عارفؔ وہ محل ہے\nاس جا کف افسوس بھی ملنے نہیں دیتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DA%86%D9%84%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92"} {"title": "اس در پہ ہر ایک شادماں رہتا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس در پہ ہر ایک شادماں رہتا ہے\nخنداں گل امید یہاں رہتا ہے\nہر فصل میں دست افتخارالدولہ\nنیساں کی طرح گہر فشاں رہتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اس دل میں اپنی جان کبھی ہے کبھی نہیں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس دل میں اپنی جان کبھی ہے کبھی نہیں\nآباد یہ مکان کبھی ہے کبھی نہیں\n\nغیروں کی بات کیا کہوں اس کی تو یاد میں\nاپنا بھی مجھ کو دھیان کبھی ہے کبھی نہیں\n\nوہ دن گئے جو کرتے تھے ہم متصل فغاں\nاب آہ ناتوان کبھی ہے کبھی نہیں\n\nجس آن میں رہے تو اسے جان مغتنم\nیاں کی ہر ایک آن کبھی ہے کبھی نہیں\n\nایام وصل پر تو بھروسہ نہ کیجیو\nیہ وقت میری جان کبھی ہے کبھی نہیں\n\nعادت جو ہے ہمیشہ سے اس کی سو ہے غرض\nوہ ہم پہ مہربان کبھی ہے کبھی نہیں\n\nاس دوستی کا تیری تلون مزاجی سے\nاپنے تئیں گمان کبھی ہے کبھی نہیں\n\nمغرور ہوجیو نہ اس اوج و حشم پہ تو\nیاں کی یہ عز و شان کبھی ہے کبھی نہیں\n\nعاشق کہیں ہوا ہے حسنؔ کیا ہے اس کا حال\nیہ آپ میں جوان کبھی ہے کبھی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس دل میں اگر جلوۂ دل دار نہ ہوتا", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "اس دل میں اگر جلوۂ دل دار نہ ہوتا\nزنہار یہ دل مظہر اسرار نہ ہوتا\n\nہوتا نہ اگر جام مے عشق سے سرشار\nہرگز دل دیوانہ یہ ہشیار نہ ہوتا\n\nہوتا نہ اگر اس کی محبت سے سروکار\nیہ غمزدہ رسوا سر بازار نہ ہوتا\n\nہوتی نہ کبھوں اس دل بیمار کو صحت\nگر لطف مسیحائے لب یار نہ ہوتا\n\nپیتا نہ اگر جام مے عشق تو ہرگز\nدل سر حقیقت سے خبردار نہ ہوتا\n\nہوتا نہ اگر آئینۂ جلوۂ دل دار\nدل مہر صفت مطلع انوار نہ ہوتا\n\nہوتا نہ اگر عشق کو منظور یہ اظہار\nوحدت سے یہ کثرت کو سروکار نہ ہوتا\n\nآگاہ حقیقت سے نہ ہوتا کبھو آثمؔ\nخادم کا اگر فیض مددگار نہ ہوتا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اس دل میں کر گزر جو یہ تیر آہ الٹے", "poet_page": "مصنف:ثناء اللہ فراق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس دل میں کر گزر جو یہ تیر آہ الٹے\nاک پل میں سب فلک کی یہ بارگاہ الٹے\n\nمفتی و شحنہ قاضی ہیں کشتہ اس نگہ کے\nپھرتے ہوں اس کے ہاتھوں یہ داد خواہ الٹے\n\nعشاق کے دلوں کو ٹک میں الٹ پلٹ دے\nمکھڑے سے گر دوپٹہ وہ رشک ماہ الٹے\n\nپھرتی ہے یوں نگاہیں اس شوخ جنگجو کی\nپامال کر کے جیسے کوئی سپاہ الٹے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D8%A2%DB%81_%D8%A7%D9%84%D9%B9%DB%92"} {"title": "اس دل کو ہمکنار کیا ہم نے کیا کیا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس دل کو ہمکنار کیا ہم نے کیا کیا\nدشمن کو دوست دار کیا ہم نے کیا کیا\n\nرہتا یہی ہے دل میں شش و پنج یار سے\nآئینہ کیوں دو چار کیا ہم نے کیا کیا\n\nمٹھی بھرم کی غنچہ صفت اس چمن میں کھول\nاسرار آشکار کیا ہم نے کیا کیا\n\nدر پردہ دوستی ہوئی ہم اپنے حق میں آہ\nمطرب پسر کو یار کیا ہم نے کیا کیا\n\nاسلام بھی بہ جبر تھا اے شیخ و برہمن\nکیوں جبر اختیار کیا ہم نے کیا کیا\n\nتسبیح تو پڑی تھی گلے ایک دوسری\nزنار کو بھی ہار کیا ہم نے کیا کیا\n\nدل کو دکھا کے چین جبین پری وشاں\nجوں برق بے قرار کیا ہم نے کیا کیا\n\nکہنے لگا وہ قبر پہ عاشق کی کیوں گزر\nسہواً سر مزار کیا ہم نے کیا کیا\n\nہیہات آشنا تھے جو موج بلا کے پیچ\nان کا نہ انتظار کیا ہم نے کیا کیا\n\nبحر جہاں سے دیدہ و دانستہ جوں حباب\nبا چشم تر گزار کیا ہم نے کیا کیا\n\nدشت جنوں سے توڑ کے رشتے کو جیب کے\nداماں بھی تار کیا ہم نے کیا کیا\n\nاس سرو قد کے عشق میں یہ پھل ملا نصیرؔ\nہر صد آہ وار کیا ہم نے کیا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اس دل کی عمارت میں تم جلوہ دکھا جانا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس دل کی عمارت میں تم جلوہ دکھا جانا\nیا نور مبیں بن کر آنکھوں میں سما جانا\n\nاپنا تو شکستہ دل اک خانۂ ویراں ہے\nقدموں سے اسے اپنے آباد بنا جانا\n\nعشاق کے مرقد پر حسرت یہی کہتی ہے\nتم فتنۂ محشر ہو سوتوں کو جگا جانا\n\nان خاک نشینوں سے ملنا تمہیں لازم ہے\nعشاق کے کوچہ میں بھولے سے تو آ جانا\n\nمدت سے پیاسا میں بیٹھا ہوں ترے در پر\nاک جام محبت کا خود آ کے پلا جانا\n\nاس گردش قسمت نے سرگشتہ کیا یاں بھی\nاے خضر رہ الفت تم راہ بتا جانا\n\nآئے نہ سر بالیں گر میرے دم مردن\nاب بہر دعا دلبر مرقد پہ تو آ جانا\n\nکیا کیا نہ جفا مجھ پہ ہوتی ہے شب فرقت\nالفت نے تری مجھ کو پابند وفا جانا\n\nیہ عشق جمیلہؔ کا اے خضر رہ الفت\nمحبوب کے جلوہ کو اسرار خدا جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "اس دور میں ہر اک تہ چرخ کہن لٹا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس دور میں ہر اک تہ چرخ کہن لٹا\nاوروں کا زر لٹا مرا نقد سخن لٹا\n\nخلوت نشیں ہو تو دل عاشق میں کر جگہ\nیوں دولت جمال نہ اے سیم تن لٹا\n\nبلبل کو کیسی کیسی ہوئیں آفتیں نصیب\nگلچیں کے دست ظلم سے کیا کیا چمن لٹا\n\nفریاد تک خدا سے نہ کی اے صنم تری\nمیں بے زباں ترے یہاں اے بے دہن لٹا\n\nنباش کی جفائیں ہوئیں ہم پہ بعد مرگ\nاے آسمان زیر زمیں بھی کفن لٹا\n\nجھونکے چلے ہوا کے پریشاں ہوئی وہ زلف\nخوشبو تمام پھیلی ہے مشک ختن لٹا\n\nحاتمؔ وہ ہوں کہ بعد فنا دل کو دوں صلاح\nاب قبر میں بھی خاک اڑایا کفن لٹا\n\nبے دل سخن ہوں مہرؔ پڑھوں سن عیسوی\nاوروں کا زر لٹا مرا نقد سخن لٹا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D8%AA%DB%81_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%DB%81%D9%86_%D9%84%D9%B9%D8%A7"} {"title": "اس دور کے اثر کا جو پوچھو بیاں نہیں", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس دور کے اثر کا جو پوچھو بیاں نہیں\nہے کون سی زمیں کہ جہاں آسماں نہیں\n\nاس درجہ دلبروں سے کوئی رسم دلبری\nدل ہاتھ پر لیے ہوں کوئی دل ستاں نہیں\n\nافسردہ دل تھا اب تو ہوا غم سے مردہ دل\nجیتا ہوں دیکھنے میں ولے مجھ میں جاں نہیں\n\nآداب صحبتوں کا کوئی ہم سے سیکھ لے\nپر کیا کروں کہ طالب صحبت یہاں نہیں\n\nدل جل کے بجھ گیا ہے کسی نے خبر نہ لی\nہم سوختہ دلوں کا کوئی قدرداں نہیں\n\nہے کل کی بات سب کے دلوں میں عزیز تھا\nپر ان دنوں تو ایک بھی دل مہرباں نہیں\n\nایسی ہوا بہی کہ ہے چاروں طرف فساد\nجز سایۂ خدا کہیں دارالاماں نہیں\n\nعالم کی ہے گی نرخ الٰہی سے زندگی\nتس پر بھی دیکھتا ہوں کہ بہتوں کو ناں نہیں\n\nحاتمؔ خموش لطف سخن کچھ نہیں رہا\nبکتا عبث پھرے ہے کوئی نکتہ داں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس دکھ میں ہائے یار یگانے کدھر گئے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس دکھ میں ہائے یار یگانے کدھر گئے\nسب چھوڑ ہم کو غم میں نہ جانے کدھر گئے\n\nجو اس پری کو شیشۂ دل میں کرے تھے بند\nوے علم عاشقی کے سیانے کدھر گئے\n\nفوجیں جنوں کی دیکھ کے یک بارگی سبھی\nاس ملک دل سے عقل کے تھانے کدھر گئے\n\nمعلوم ہے کسو کو کہ وہ آج شعلہ خو\nہم کو جلا کے آگ لگانے کدھر گئے\n\nڈھونڈا بہت پا ہم نے نہ پایا انہوں کا کھوج\nدل کو چرا کے ہم سے چھپانے کدھر گئے\n\nحاتمؔ کے دل کو مصرع اول نے خوں کیا\nاس دکھ میں ہائے یار یگانے کدھر گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%DA%A9%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "اس رشتے میں لاکھ تار ہوں بلکہ سوا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں، بلکہ سِوا\nاِتنے ہی برس شُمار ہوں، بلکہ سِوا\nہر سیکڑے کو ایک گرہ فرض کریں\nایسی گرہیں ہزار ہوں، بلکہ سِوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D9%84%DA%A9%DB%81_%D8%B3%D9%88%D8%A7"} {"title": "اس رشک مہ کی یاد دلاتی ہے چاندنی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس رشک مہ کی یاد دلاتی ہے چاندنی\nہر رات مجھ کو آ کے ستاتی ہے چاندنی\n\nآب رواں میں حسن ملاتی ہے چاندنی\nہر موج میں گھٹی نظر آتی ہے چاندنی\n\nجا بیٹھتے ہیں ہم لب دریا پہ جب کبھو\nکیا جھمکے اپنے ہم کو دکھاتی ہے چاندنی\n\nسامان بزم بادہ میں کرتا ہوں جس گھڑی\nآ چاندنی کا فرش بچھاتی ہے چاندنی\n\nصحرا میں جا کے دیکھ کہ ہر رود خشک کو\nہم رنگ جوئے شیر بناتی ہے چاندنی\n\nجب دیکھتی ہے دودھ سا پنڈا ترا میاں\nخجلت سے آب ہی ہوئی جاتی ہے چاندنی\n\nپیارے اندھیری راتیں ہیں ایسے میں مل لے تو\nپھر ورنہ چاند چڑھتے ہی آتی ہے چاندنی\n\nگر وہ بھی قدرداں ہو تو بے جذبۂ طلب\nروٹھے ہوئے صنم کو ملاتی ہے چاندنی\n\nکیونکر نہ میں جلوں شب ہجراں میں مصحفیؔ\nبن یار میرے جی کو جلاتی ہے چاندنی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%85%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%AF%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%86%DB%8C"} {"title": "اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہو", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہو\nافعی کہو سیاہ کہو اژدہا کہو\n\nقاتل نگہ کوں پوچھتے کیا ہو کہ کیا کہو\nخنجر کہو کٹار کہو نیمچا کہو\n\nٹک واسطے خدا کے مرا عجز جا کہو\nبیکس کہو غریب کہو خاک پا کہو\n\nعاشق کا درد حال چھپانا نہیں درست\nپرگھٹ کہو پکار کہو برملا کہو\n\nاس تیغ زن نیں دل کوں دیا ہے مرے خطاب\nبسمل کہو شہید کہو جاں فدا کہو\n\nشاہ نجف کے نام کوں لوں آبروؔ سیں سیکھ\nہادی کہو امام کہو رہ نما کہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%88"} {"title": "اس زلف جاں گزا کوں صنم کی بلا کہو", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس زلف جاں گزا کوں صنم کی بلا کہو\nافعی کہو سیاہ کہو اژدہا کہو\n\nقاتل نگہ کوں پوچھتے کیا ہو کہ کیا کہو\nخنجر کہو کٹار کہو نیمچا کہو\n\nٹک واسطے خدا کے مرا عجز جا کہو\nبیکس کہو غریب کہو خاک پا کہو\n\nعاشق کا درد حال چھپانا نہیں درست\nپرگھٹ کہو پکار کہو برملا کہو\n\nاس تیغ زن نیں دل کوں دیا ہے مرے خطاب\nبسمل کہو شہید کہو جاں فدا کہو\n\nشاہ نجف کے نام کوں لوں آبروؔ سیں سیکھ\nہادی کہو امام کہو رہ نما کہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%A7_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%88"} {"title": "اس زلف سے دل ہو کر آزاد بہت رویا", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس زلف سے دل ہو کر آزاد بہت رویا\nیہ سلسلۂ الفت کر یاد بہت رویا\n\nرحم اس کو نہ تھا ہرگز ہر چند بحال سگ\nاس کوچے میں میں کر کر فریاد بہت رویا\n\nمظلومی مری اور ظلم دیکھ اس بت کافر کا\nرحم آیا ستم کے تئیں بے داد بہت رویا\n\nدل غم سے نہ ہو خالی رونے سے مرا لیکن\nتا ہو مرے رونے سے وہ شاد بہت رویا\n\nاس عشق کی مجبوری ناصح پہ کھلی جب سے\nکر منع محبت کا ارشاد بہت رویا\n\nدیکھی نہ خدا ترسی اک گبر و مسلماں سے\nہر اک سے طلب کر کر میں داد بہت رویا\n\nانجام محبت کا بوجھا تھا مگر اس کو\nجب دل لگا شیریں سے فرہاد بہت رویا\n\nہے تازہ گرفتاروں کی فریاد کو کیا رقت\nشب نالہ مرا سن کر صیاد بہت رویا\n\nسنگیں دلی اس بت کی میں جس سے کہی حسرتؔ\nہر چند دل اس کا تھا فولاد بہت رویا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اس زلف نے ہم سے لے کے دل بستہ کیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس زلف نے ہم سے لے کے دل بستہ کیا\nابرو نے کجی کے ڈھب کو پیوستہ کیا\nآنکھوں نے نگہ نے اور مژہ نے کیا کیا\nکیفی کیا دیوانہ کیا خستہ کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اس زلف کے خیال کا ملنا محال تھا", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس زلف کے خیال کا ملنا محال تھا\nجب تک موئے بلوں سے نکلنا محال تھا\n\nدیتے نہ چاٹ اگر لب شیریں کے ذکر کی\nمچلے تھا طفل اشک بہلنا محال تھا\n\nپیری میں طرز عشق جوانی وہی رہا\nصورت کے ساتھ دل کا بدلنا محال تھا\n\nقاتل تری گلی میں ہوئے سب کے سر قلم\nکیسے تھے کوچے راستہ چلنا محال تھا\n\nشکر خدا بتوں سے ہوئیں گرم جوشیاں\nپتھر کا مثل شیشہ پگھلنا محال تھا\n\nسر تن سے کٹ کے لایا شگوفہ ہمارا خون\nشاخ سناں کا پھولنا پھلنا محال تھا\n\nخط کا غبار چھپ نہ سکا روئے یار سے\nآتش سے گل کے خار کا جلنا محال تھا\n\nمحفل میں ان کو عطر دیا ہوگا غیر نے\nیاروں کے غم میں ہاتھوں کو ملنا محال تھا\n\nعمر رواں کو آنکھوں سے دیکھا چلا جو یار\nکیا کیجے بگڑے دل کا سنبھلنا محال تھا\n\nدل گرمیٔ خیال سے صورت بندھی نسیمؔ\nاس سیم تن کا سانچے میں ڈھلنا محال تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%84%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اس زلف کے سودے کا خلل جائے تو اچھا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس زلف کے سودے کا خلل جائے تو اچھا\nاس پیچ سے دل اپنا نکل جائے تو اچھا\n\nشطرنج میں جی ان کا بہل جائے تو اچھا\nاے مہرؔ یہ چال اچھی ہے چل جائے تو اچھا\n\nاس زیست سے اب موت بدل جائے تو اچھا\nبے چین ہے دل جان نکل جائے تو اچھا\n\nمحروم ہوں اس دور میں ساقی فقط اک میں\nاے کاش خم بادہ ابل جائے تو اچھا\n\nخم ٹھونک کے کرتا ہے یہ اب بیچ بلا کے\nاس طرح کے طرار کا بل جائے تو اچھا\n\nاس عشق میں پھر جان کے پڑ جائیں گے لالے\nاب بھی دل بیتاب سنبھل جائے تو اچھا\n\nچھو جائے جو بندے کی سوا جسم سے تیرے\nاللہ کرے ہاتھ وہ گل جائے تو اچھا\n\nکیا عشق سا ہے عشق محبت سی محبت\nبدلوں گا میں اس دل کو بدل جائے تو اچھا\n\nممکن ہی نہیں ہے کہ بچے جان سلامت\nاس کوچہ میں مشتاق اجل جائے تو اچھا\n\nبوسوں میں مزا قند مکرر کا ہو ساقی\nاک دور دوبارہ کا بھی ڈھل جائے تو اچھا\n\nاب ذوق کی مانند غم عشق جگر میں\nکانٹا سا کھٹکتا ہے نکل جائے تو اچھا\n\nرنگینی فکر اور میری روشنی طمع\nکچھ لعل و گہر اور اگل جائے تو اچھا\n\nاحباب‌ بنارس کے لیے مہرؔ کا تحفہ\nایک اور بھی ساتھ اس کے غزل جائے تو اچھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%AF%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%84%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اس زمانے میں نہ ہو کیوں کر ہمارا دل اداس", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس زمانے میں نہ ہو کیوں کر ہمارا دل اداس\nدیکھ کر احوال عالم اڑتے جاتے ہیں حواس\n\nبس رہا ہے بو سے تیری جان من ایسا دماغ\nبے دماغ ہم کو رکھے ہے باغ میں پھولوں کی باس\n\nجس طرف جاوے تو اے خورشید رو سایہ کی طرح\nہر قدم میں بھی ہوں تیرے ساتھ ساتھ اور پاس پاس\n\nتشنگی سے چاہ کی تیری نہیں سیراب دل\nہے مثل مشہور مستسقی کی نئیں بجھتی ہے پیاس\n\nحق سے ملنا گیروے کپڑوں اوپر موقوف نئیں\nدل کے تئیں رنگو فقیری یہ ہے اور سب ہے لباس\n\nجوں جوں تو ساغر پیے ہے غیر کی مجلس کے بیچ\nتوں توں اے بد مست دل میں میرے آتا ہے ہراس\n\nکنہ ذات حق کو کیا پاوے کوئی حاتمؔ کبھو\nسب کے عاجز ہیں یہاں وہم و گماں فہم و قیاس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B3"} {"title": "اس ستم گار نے سیکھا ہے خفا ہو جانا", "poet_page": "مصنف:ناصری لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نذر احباب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "اس ستم گار نے سیکھا ہے خفا ہو جانا\nکیا قیامت ہوا نالوں کا رسا ہو جانا\n\nنزع میں بڑھ کے کھٹک دل سے یہی کہتی ہے\nآج تو درد کا ممکن ہے دوا ہو جانا\n\nلے کے پیغام قضا باد بہاری آئی\nنا مبارک ہوا زخموں کا ہرا ہو جانا\n\nعرش تھرائے گا اغیار کے دل ٹوٹیں گے\nنالہ کرتا ہوں مگر تم نہ خفا ہو جانا\n\nدم نکلنا ہے یہی جان کا جانا ہے یہی\nدل کا آساں نہیں پہلو سے جدا ہو جانا\n\nپس مردن بھی رہے خانۂ زنجیر میں پاؤں\nاس طرح چاہیے پابند وفا ہو جانا\n\nزلزلے آ کے زمانے کو خبر دیتے ہیں\nنہیں ممکن تپش دل کا فنا ہو جانا\n\nجان لے جائے گا اور درد بڑھا جائے گا\nہاتھ تیرا مرے سینے سے جدا ہو جانا\n\nابھی بیٹھے رہو میں دیکھ رہا ہوں تم کو\nنزع کے وقت گلے مل کے جدا ہو جانا\n\nسمجھو کس درجہ ہے سوز غم الفت دشوار\nدیکھ پروانوں کا جل جل کے فنا ہو جانا\n\nزہر بھر دیتا ہے زخموں میں دل وحشی کے\nفصل باراں میں بیاباں کا ہرا ہو جانا\n\nناصریؔ پھر وہی ہم ہیں وہی شوریدہ سری\nپھر وہی حاضر بزم شعرا ہو جانا", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "اس ستم گر سے جو ملا ہوگا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس ستم گر سے جو ملا ہوگا\nجان سے ہاتھ دھو چکا ہوگا\n\nعشق میں تیرے ہم جو کچھ دیکھا\nنہ کسی نے کبھی سنا ہوگا\n\nآہ قاصد تو اب تلک نہ پھرا\nدل دھڑکتا ہے کیا ہوا ہوگا\n\nتو ہی آنکھوں میں تو ہی ہے دل میں\nکون یاں اور تجھ سوا ہوگا\n\nاے میاں گل تو کھل چکے پہ کبھو\nغنچۂ دل مرا بھی وا ہوگا\n\nدیکھ تو فال میں کہ وہ مجھ سے\nنہ ملے گا ملے گا کیا ہوگا\n\nہے یقیں مجھ کو تجھ ستم گر سے\nدل کسی کا اگر لگا ہوگا\n\nنالہ و آہ کرتے ہی کرتے\nایک دن یوں ہی مر گیا ہوگا\n\nکوئی ہوگا کہ دیکھ اسے بیدارؔ\nدل و دیں لے کے تج رہا ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "اس سلسلۂ شہود کو توڑ دیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس سلسلۂ شہود کو توڑ دیا\nگھبرا کے عدم کی سمت منہ موڑ دیا\nکب تک ان سختیوں کو جھیلا کرتی\nاکتا کے مری روح نے جی چھوڑ دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%82_%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اس سنگ آستاں پہ جبین نیاز ہے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس سنگ آستاں پہ جبین نیاز ہے\nوہ اپنی جانماز ہے اور یہ نماز ہے\n\nناساز ہے جو ہم سے اسی سے یہ ساز ہے\nکیا خوب دل ہے واہ ہمیں جس پہ ناز ہے\n\nپہنچا ہے شب کمند لگا کر وہاں رقیب\nسچ ہے حرام زادے کی رسی دراز ہے\n\nاس بت پہ گر خدا بھی ہو عاشق تو آئے رشک\nہرچند جانتا ہوں کہ وہ پاکباز ہے\n\nمداح خال روئے بتاں ہوں مجھے خدا\nبخشے تو کیا عجب کہ وہ نکتہ نواز ہے\n\nڈرتا ہوں خنجر اس کا نہ بہہ جائے ہو کے آب\nمیرے گلے میں نالۂ آہن گداز ہے\n\nدروازہ مے کدے کا نہ کر بند محتسب\nظالم خدا سے ڈر کہ در توبہ باز ہے\n\nخانہ خرابیاں دل بیمار غم کی دیکھ\nوہ ہی دوا خراب ہے جو خانہ ساز ہے\n\nشبنم کی جائے گل سے ٹپکتی ہیں شوخیاں\nگلشن میں کس کی خاک شہیدان ناز ہے\n\nآہ و فغاں نہ کر جو کھلے ذوقؔ دل کا حال\nہر نالہ اک کلید در گنج راز ہے", "license": "PD-old-70", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D8%A2%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%D9%86_%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92"} {"title": "اس سنگ دل کے دل میں محبت نے گھر کیا", "poet_page": "مصنف:منشی شیو پرشاد وہبی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وہبی (1870)", "year": "1870", "text_ur": "اس سنگ دل کے دل میں محبت نے گھر کیا\nمدت کے بعد آہ نے اپنی اثر کیا\n\nتیغ نگہ کے سامنے سینہ سپر کیا\nکب ہم نے اپنی جان کا خوف و خطر کیا\n\nثابت کرو خطا مری پھر اپنا منہ چھپاؤ\nکس رات کو نظارۂ روئے قمر کیا\n\nصیاد کا یہ ظلم نہ بھولوں گا عمر بھر\nفصل بہار آتے ہی بے بال و پر کیا\n\nلو اپنے گھر وہ صبح سے پہلے ہی جاتے ہیں\nاندھیر کیا یہ نالۂ مرغ سحر کیا\n\nچونکے صدائے صور سرافیل سے نہ ہم\nساقی تری نگاہ نے یہ بے خبر کیا\n\nکاٹوں گا اس ادا پہ گلہ اپنے ہاتھ سے\nقاتل نے آج نیمچہ زیب کمر کیا\n\nرخصت کا نام سنتے ہی بس دم نکل گیا\nجانے سے ان کے پہلے ہی ہم نے سفر کیا\n\nکیا کیا کیا نہ آپ کی الفت نے میرے ساتھ\nرسوا کیا خراب کیا در بدر کیا\n\nوہبیؔ پھر ان کے وصل کو ترسو گے عمر بھر\nنالہ شب فراق میں تم نے اگر کیا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%86%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اس سے امید وفا اے دل ناشاد نہ کر", "poet_page": "مصنف:عبدالعلیم آسی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس سے امید وفا اے دل ناشاد نہ کر\nزندگی اپنی اس ارمان میں برباد نہ کر\n\nگلۂ جور نہ کر شکوۂ بیدار نہ کر\nظلم سہنے کا مزا یہ ہے کہ فریاد نہ کر\n\nخلوت دل ہے ترے آ کے ٹھہرنے کی جگہ\nتیری مرضی اسے برباد کر آباد نہ کر\n\nباغباں تاک میں ہے گھات میں صیاد ہے دیکھ\nسیر گلشن ابھی اے بلبل ناشاد نہ کر\n\nکچھ تڑپنے کا سسکنے کا مزا لینے دے\nاتنی تعجیل مرے قتل میں جلاد نہ کر\n\nاب مجھے طاقت پرواز نہیں اے صیاد\nرہنے دے قید قفس سے مجھے آزاد نہ کر\n\nاوپری دل سے سہی کچھ تو تسلی ہو جائے\nصاف انکار سے ظالم مجھے ناشاد نہ کر\n\nدر محبوب تک اے بخت مجھے پہونچا دے\nاور کچھ اس سے سوا تو مری امداد نہ کر\n\nبے دھڑک جان سبھی اہل وفا دیتے ہیں\nتو فقط مدحت جانبازئ فرہاد نہ کر\n\nغم دل دار نے رگ رگ کا لہو چوس لیا\nمجھ سے اب چھیڑ تو اے نشتر فولاد نہ کر\n\nلاکھ دشوار سہی ضبط فغاں اے بلبل\nمگر اک اف بھی تو بے مرضیٔ صیاد نہ کر\n\nصدمۂ ہجر کے شکوؤں پہ وہ بولے شب وصل\nگئی گزری ہوئی باتوں کو تو اب یاد نہ کر\n\nاے دل اس شوخ کی تصویر تصور میں تو کھینچ\nکام مانی سے نہ رکھ منت بہزاد نہ کر\n\nآسیؔٔ بے سر و ساماں کو پڑا رہنے دے\nاپنے کوچہ سے اٹھا کر اسے ناشاد نہ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "اس سے پھر کیا گلا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس سے پھر کیا گلا کرے کوئی\nجو کہے سن کے کیا کرے کوئی\n\nہم بھی کیا کیا کہیں خدا جانے\nگر ہماری سنا کرے کوئی\n\nہائے وہ باتیں پیار کی شب وصل\nبھولے کیا یاد کیا کرے کوئی\n\nلوگ کیوں پوچھتے ہیں حال مرا\nذکر کس بات کا کرے کوئی\n\nدرد دل کا علاج ہو کس سے\nیوں مسیحا ہوا کرے کوئی\n\nبے وفا گر کہوں تو کہتے ہیں\nکیا ہر اک سے وفا کرے کوئی\n\nجائے گر جاں تو سو ہیں تدبیریں\nجائے گر دل تو کیا کرے کوئی\n\nکوئی اپنی خطا تو ہو معلوم\nعذر کس بات کا کرے کوئی\n\nدل کا کچھ حال ہی نہیں کھلتا\nگر مرض ہو دوا کرے کوئی\n\nکبھی میں نے بھی کچھ کہا تم سے\nنہ سنو، کچھ کہا کرے کوئی\n\nتم سے بے رحم پر نہ دل آئے\nاور آئے تو کیا کرے کوئی\n\nسیکڑوں باتیں کہہ کے کہتے ہیں\nپھر ہمیں کیوں خفا کرے کوئی\n\nکوئی کب تک نہ دے جواب تمہیں\nچپکا کب تک سنا کرے کوئی\n\nشکوہ اس بت کا ہر کسی سے نظامؔ\nاس سے کہہ دے خدا کرے کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "اس سے کہ کہیں کے شاہ ہو سکتے ہم", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس سے کہ کہیں کے شاہ ہو سکتے ہم\nیا اس سے کہ کج کلاہ ہو سکتے ہم\nبہتر تھا کہ خلق کی ہدایت کے لیے\nہر راہ میں شاہراہ ہو سکتے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "اس سے کہہ دو کہ وہ جفا نہ کرے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس سے کہہ دو کہ وہ جفا نہ کرے\nکہیں مجھ سا اسے خدا نہ کرے\n\nآئنہ دیکھ کر غرور فضول\nبات وہ کر جو دوسرا نہ کرے\n\nمیں مسیحا اسے سمجھتا ہوں\nجو مرے درد کی دوا نہ کرے\n\nمضطرؔ اس نے سوال الفت پر\nکس ادا سے کہا خدا نہ کرے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AF%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "اس سے کیا خاک ہم نشیں بنتی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس سے کیا خاک ہم نشیں بنتی\nبات بگڑی ہوئی نہیں بنتی\n\nوہ بنی ابتدائے الفت میں\nدم پہ جو وقت واپسیں بنتی\n\nآدمی سب فرشتے بن جاتے\nآسماں پر اگر زمیں بنتی\n\nمیری صورت بنی تو خاک بنی\nقسمت اے صورت آفریں بنتی\n\nوعدہ کرتے ہی کیا وہ آ جاتے\nرات بھر زلف عنبریں بنتی\n\nکاش سنتا نہ کوئی شور و فغاں\nدل کی جا چشم سرمگیں بنتی\n\nتو نے ایسے بگاڑ ڈالے ہیں\nایک کی ایک سے نہیں بنتی\n\nنہ چمکتی جو حسن کی تقدیر\nکیوں تری چاند سی جبیں بنتی\n\nپارۂ جیب سے مرے اے کاش\nدست وحشت کی آستیں بنتی\n\nبزم دنیا تھی قابل جنت\nخوب بنتی اگر یہیں بنتی\n\nطبع نازک کا لطف جب تھا داغؔ\nنازنینوں میں نازنیں بنتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%AA%DB%8C"} {"title": "اس سے کیا چھپ سکے بنائی بات", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "اس سے کیا چھپ سکے بنائی بات\nتاڑ جائے جو دل کی آئی بات\n\nکہئے گزری ہے ایک ساں کس کی\nکبھی بگڑی کبھی بن آئی بات\n\nرہے دل میں تو ہے وہ بات اپنی\nمنہ سے نکلی ہوئی پرائی بات\n\nمیں سمجھتا ہوں یہ نئی چالیں\nکبھی چھپتی نہیں سکھائی بات\n\nکہہ دیا اپنے دل کو خود بے رحم\nچھین لی میرے منہ کی آئی بات\n\nرکھ لیا عاشقوں نے نام وفا\nگئی جاں پر نہ جانے پائی بات\n\nرنگ بگڑا ہے ان کی صحبت کا\nاب نہیں ہے وہ ابتدائی بات\n\nمجھ سے بے وجہ ہوتے ہو بد ظن\nکر کے باور سنی سنائی بات\n\nکیا ہو ان کا مزاج داں کوئی\nروٹھنا کھیل ہے لڑائی بات\n\nغیر کا ذکر گر نہ تھا صاحب\nمیرے آتے ہی کیوں اڑائی بات\n\nدل میں رکھتا ہے خوب سن کے حبیبؔ\nچاہے اپنی ہو یا پرائی بات", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%DA%BE%D9%BE_%D8%B3%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "اس شرمگیں کے منہ پہ نہ ہر دم نگاہ رکھ", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس شرمگیں کے منہ پہ نہ ہر دم نگاہ رکھ\nسر رشتۂ نگاہ کو اپنے نگاہ رکھ\n\nکس لطف سے ہے آئنہ دیکھ اس کے رو بہ رو\nگردوں نہ دل میں آرزوئے مہر و ماہ رکھ\n\nدیوانے چاہتا ہے اگر وصل یار ہو\nتیرا بڑا رقیب ہے دل اس سے راہ رکھ\n\nدل دار ہو تو یا کہ دل آزار تیرا شوق\nدل دے چکا میں خواہ نہ رکھ اس کو خواہ رکھ\n\nدعوائے قتل کر تجھے منظور ہے جو دل\nدامان و تیغ یار ہی کو تو گواہ رکھ\n\nمیں چاہتا ہوں تجھ کو تو چاہے ہے غیر کو\nیہ کیا غضب ہے چاہنے والے کی چاہ رکھ\n\nؔجوشش جدا ہے یار سے تو جانتا ہوں میں\nاتنا بھی اضطراب خدا پر نگاہ رکھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D8%B1%D9%85%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%81_%D9%86%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%B1%DA%A9%DA%BE"} {"title": "اس شش جہت میں خوب تری جستجو کریں", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس شش جہت میں خوب تری جستجو کریں\nکعبے میں چل کے سجدہ تجھے چار سو کریں\n\nعاشق جو حسن پاک میں کچھ گفتگو کریں\nدامن کا پیچھے نام لیں پہلے وضو کریں\n\nشرمندہ ہوں زمیں میں گڑیں سرخ رو کریں\nاستادگی جو سرو ترے روبرو کریں\n\nپیدا کریں جو تجھ کو انہیں کو ہے دسترس\nپامرد ہیں وہی جو تری جستجو کریں\n\nلے جا چکی چمن میں صبا بوئے زلف یار\nسنبل کے سلسلے کو بھی برہم وہ مو کریں\n\nافسانہ گوئی افعی گیسوئے یار میں\nخاموش ہوں چراغ جو ہم گفتگو کریں\n\nدیوانگی کا سلسلہ جاوے نہ ہاتھ سے\nدامن کو پھاڑیے جو گریباں رفو کریں\n\nاے بادشاہ حسن فقیروں کی طرح سے\nعاشق دعائے خیر تجھے کو بہ کو کریں\n\nدیدار عام کیجیے پردہ اٹھائیے\nتا چند بندہ ہائے خدا آرزو کریں\n\nمستی میں مجھ سے بے ادبی ہوگی یار سے\nمجھ کو گناہگار نہ جام و سبو کریں\n\nدیوان حسن میں سے ہوئی ہے یہ انتخاب\nعاشق مزاج سیر بیاض گلو کریں\n\nورد زباں ہے روز و شب ان کی ثنائے حسن\nشایاں ہے جس قدر کہ یہ شاعر غلو کریں\n\nلکھ دیتے ہیں حسینوں کو ہم خط بندگی\nمشق ستم کو ترک جو یہ تند خو کریں\n\nحیران کار ہوں ترے رخسار صاف کا\nسکتہ ہو آئنہ جو ترے روبرو کریں\n\nمرغ چمن ہوں زمزمہ پیرا بہار آئی\nہنگامہ گرم شیفتۂ رنگ و بو کریں\n\nتاثیر دار لوگ ہیں اللہ کے فقیر\nسنگ صنم ہوں آب جو ہم ذکر ہو کریں\n\nموجود گو کہ تو ہے مگر چاہتا ہے شوق\nآوارہ ہوں تلاش تری چار سو کریں\n\nآتشؔ یہ وہ زمیں ہے کہ جس میں بقول دردؔ\nدل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D8%B4_%D8%AC%DB%81%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس شعلہ رو سے جب سے مری آنکھ جا لگی", "poet_page": "مصنف:غمگین دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس شعلہ رو سے جب سے مری آنکھ جا لگی\nکیا جانے تب سے سینہ میں کیا آگ آ لگی\n\nکعبہ میں وہ ظہور ہے جو بت کدہ میں ہے\nاے شیخ منصفی سے تو کہیو خدا لگی\n\nپا تک بھی دسترس نہ ہو مجھ کو یہ رشک ہے\nاور تیرے ہاتھ میں رہے قاتل حنا لگی\n\nدشنام تم نے مجھ کو جو دی تو میں خوش ہوا\nاور میں نے دی دعا تو تجھے بد دعا لگی\n\nوہ غنچہ لب جو خندہ زناں ہے چمن میں آج\nشاید گلوں کے کھلنے کی اس کو ہوا لگی\n\nخوابیدہ بخت نے وہیں بیدار کر دیا\nتیرے خیال میں جو یہ آنکھ اک ذرا لگی\n\nغمگیںؔ جو ایک آن پہ تیرے ادا ہوا\nکیا خوش ادا اسے تری اے خوش ادا لگی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81_%D8%B1%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%AC%D8%A7_%D9%84%DA%AF%DB%8C"} {"title": "اس شوخ دم شعار سے کہتا سلام شوق", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس شوخ دم شعار سے کہتا سلام شوق\nقاصد یہی ہے آج ہمارا پیام شوق\n\nتائید غیب طالع فرخندہ کی مدد\nوہ عشوہ سنج آج ہوا ہم کلام شوق\n\nقاصد کیا ہے عہد جو ایفائے عہد کا\nصبح امید وصل ہوئی اپنی شام شوق\n\nکیا متصل ہو یار تلون ہے طبع میں\nیہ دیر پا کہاں ہے تمہارا قیام شوق\n\nمد نظر جو ہے وہ ہمیں آشکار ہو\nاے جذب دل نواز مدار المہام شوق\n\nمجذوب اشتیاق ہیں مست مے جمال\nروز نخست سے ہے یہ شرب مدام شوق\n\nبے راہ جا رہا ہے تجھے کچھ خبر نہیں\nکس پھیر میں پڑا ہے بتا ہرزہ گام عشق\n\nاس کیف ذوق و شوق میں تصویر یار ہے\nفرخ سروش نے یہ دیا ہے پیام شوق\n\nتوفیق کا ہے فیض نگاہ دلیل راہ\nہم کو ملا ہے غیب سے کاس الکرام شوق\n\nساقیؔ وہ دیکھ شاہد مے نوش آ گیا\nلبریز ہے یہ شائق نظارہ جام شوق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%AF%D9%85_%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%88%D9%82"} {"title": "اس شوخ سے کیا کیجئے اظہار تمنا", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس شوخ سے کیا کیجئے اظہار تمنا\nیہ لوگ کوئی سنتے ہیں گفتار تمنا\n\nاک آرزو سب لے گئے ساتھ اپنے جہاں سے\nانجام کسو سے نہ ہوا کار تمنا\n\nیہ خوبیٔ قسمت کہ ملے باغ جہاں سے\nسب کو گل امید و ہمیں خار تمنا\n\nحسرت سے بھرا دل مرے پہلو میں نہیں ہے\nپھرتا ہوں بغل میں لیے طومار تمنا\n\nپہلو کو مرے باغ کیا عشق نے تیرے\nزخموں سے مرا دل ہوا گل زار تمنا\n\nمردوں سے حضورؔ ہو نہ سکے منت دونا\nسر جائے پر ان سے نہ اٹھے بار تمنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%B8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7"} {"title": "اس شوخ کو ہم نے جس گھڑی جا دیکھا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس شوخ کو ہم نے جس گھڑی جا دیکھا\nمکھڑے میں عجب حسن کا نقشہ دیکھا\nایک آن دکھائی ہمیں ہنس کر ایسی\nجس آن میں کیا کہیں کہ کیا کیا دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%D8%AC%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اس شوخ کے انداز کو دیکھا تو غضب ہے", "poet_page": "مصنف:منتظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس شوخ کے انداز کو دیکھا تو غضب ہے\nاور اس کے سوا ناز کو دیکھا تو غضب ہے\n\nباتوں میں جو چھل لیوے ہے دل پیر و جواں کا\nاس طفل دعا بار کو دیکھا تو غضب ہے\n\nکیا کیا نہ کہا اس نے مجھے تیری طرف سے\nکافر ترے ہم راز کو دیکھا تو غضب ہے\n\nہر چند کہ ہے طوطیٔ ہند ایک ہی خوش گو\nپر بلبل شیراز کو دیکھا تو غضب ہے\n\nہرچند کہ ہے عشق کا انجام ہی کچھ قہر\nہر حسن کے آغاز کو دیکھا تو غضب ہے\n\nہم منتظرؔ اتنا نہ سمجھتے تھے اسے لیک\nخوب اس بت خود ساز کو دیکھا تو غضب ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "اس شکر لب کا میں خیالی ہوں", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس شکر لب کا میں خیالی ہوں\nاس سبب شکریں مقالی ہوں\n\nجب سوں تیری بھواں کی بیت کہا\nتب سوں میں ثانیٔ ہلالی ہوں\n\nدل نہیں تجھ خیال سوں خالی\nاس سبب صورت خیالی ہوں\n\nکیوں نہیں مجھ شکست میں آواز\nکیا مگر کاسۂ سفالی ہوں\n\nمجھ میں اظہار قال نیں ہرگز\nبسکہ میں عاشقاں میں حالی ہوں\n\nتجھ کف پا کی انتظاری میں\nفرش ہونے کوں نقش قالی ہوں\n\nکاں ہے اس وقت میں ولیؔ داؤدؔ\nجو کہوں میں سخن کا والی ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%D9%84%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "اس طرح آہ کل ہم اس انجمن سے نکلے", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "اس طرح آہ کل ہم اس انجمن سے نکلے\nفصل بہار میں جوں بلبل چمن سے نکلے\n\nآتی لپٹ ہے جیسی اس زلف عنبریں سے\nکیا تاب ہے جو وہ بو مشک ختن سے نکلے\n\nتم کو نہ ایک پر بھی رحم آہ شب کو آیا\nکیا کیا ہی آہ و نالے اپنے دہن سے نکلے\n\nاب ہے دعا یہ اپنی ہر شام ہر سحر کو\nیا وہ بدن سے لپٹے یا جان تن سے نکلے\n\nتو جانیو مقرر اس کو سرورؔ عاشق\nکچھ درد کی سی حالت جس کے سخن سے نکلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%A2%DB%81_%DA%A9%D9%84_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "اس طرح زیست بسر کی کوئی پرساں نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس طرح زیست بسر کی کوئی پرساں نہ ہوا\nیوں میں دنیا سے اٹھا داغ عزیزاں نہ ہوا\n\nمستقل وضع رہی کچھ غم دوراں نہ ہوا\nآندھیوں میں بھی غبار اپنا پریشاں نہ ہوا\n\nوضع پر حرف نہ آئی دیا وحشت میں بھی\nلفظ و معنی کی طرح میں کبھی عریاں نہ ہوا\n\nوار کیا کیا نہ سہے تیغ حوادث کی مگر\nایسے بشاش رہے زخم بھی گریاں نہ ہوا\n\nبجھ گیا دل کا کنول داغ سے جلتے جلتے\nگل کسی شب یہ چراغ شب ہجراں نہ ہوا\n\nسامنا ایسے بلاؤں کا رہا دنیا میں\nملک الموت بھی آئے تو ہراساں نہ ہوا\n\nایڑیاں میں نے یہ رگڑیں کہ گڑھے ڈال دیے\nگورکن کا بھی میں شرمندۂ احساں نہ ہوا\n\nمثل نے نالہ کشی میں مری گزری گزرے\nدل میں ناسور تو یہ ہے کوئی پرساں نہ ہوا\n\nابرو جاتی اگر بے اثر آنسو بہتے\nشکر انگشت نما پنجۂ مژگاں نہ ہوا\n\nالفت ابروئے صنم کی ہوئی پتھر کی لکیر\nمحو دل سے خط قسمت کسی عنواں نہ ہوا\n\nمنحرف کیوں رخ محبوب سے ہے اے واعظ\nتو مسلمان ہوا قائل قرآں نہ ہوا\n\nدل سے نا چیز زمانے میں کوئی چیز نہیں\nمول کیا مفت بھی جس کا کوئی خواہاں نہ ہوا\n\nہم بھی تو دیکھتے کس طرح نکلتے گر کر\nچاہ یوسف یہ ترا چاہ زنخداں نہ ہوا\n\nکپڑے پھاڑے سے بھی نکلے نہ حرارت دل کی\nرشتۂ شمع کوئی تار گریباں نہ ہوا\n\nنالہ کرنے کو بھی منہ چاہئے القیس حزیں\nکوئی زنگولۂ جمازہ حدی خواں نہ ہوا\n\nسفلہ و دوں نہ کبھی رونق محفل ہوں گے\nجگنو دن سے کبھی عالم میں چراغاں نہ ہوا\n\nاے جنوں نکلے نہ اک داغ سے حسرت دل کی\nداغ مجھ کو ہے کہ طاؤس گلستاں نہ ہوا\n\nہائے شنگرف ہے لکھے کہ لب لعلیں ہے\nبات یہ پوچھتے یاقوت رقم خاں نہ ہوا\n\nکوئی لڑکا نہ دم قید ہوا دامن گیر\nکوئی پتھر مجھے سنگ رہ زنداں نہ ہوا\n\nاے جنوں کچھ نہ ملا آبلہ پائی کا مزا\nگوکھرو پاؤں میں کیوں خار مغیلاں نہ ہوا\n\nکیا فرومایہ بڑھے گا اسے ہمت کیا ہے\nبحرؔ دریا کا کبھی چاہ میں طغیاں نہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "اس طرح کر گیا دل کو مرے ویراں کوئی", "poet_page": "مصنف:چراغ حسن حسرت", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "اس طرح کر گیا دل کو مرے ویراں کوئی\nنہ تمنا کوئی باقی ہے نہ ارماں کوئی\n\nہر کلی میں ہے ترے حسن دل آرا کی نمود\nاب کے دامن ہی بچے گا نہ گریباں کوئی\n\nمے چکاں لب نظر آوارہ نگاہیں گستاخ\nیوں مرے پہلو سے اٹھا ہے غزل خواں کوئی\n\nزلف برہم ہے دل آشفتہ صبا آوارہ\nخواب ہستی سا نہیں خواب پریشاں کوئی\n\nنغمۂ درد سے ہو جاتا ہے عالم معمور\nاس طرح چھیڑتا ہے تار رگ جاں کوئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "اس عشق جنوں خیز میں کیا کیا نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس عشق جنوں خیز میں کیا کیا نہیں ہوتا\nدیوانہ ہے جو قیس سے لیلیٰ نہیں ہوتا\n\nکچھ حشر لحد پر ابھی برپا نہیں ہوتا\nآئے ہو تو ٹھہرو کوئی زندہ نہیں ہوتا\n\nکیوں کر یہ کہوں حسن کا نشہ نہیں ہوتا\nہوتا تو بہت ہے مگر اتنا نہیں ہوتا\n\nکچھ کہئے تو شرما کے جھکا لیتے ہیں گردن\nبھولے سے بھی اب وعدۂ فردا نہیں ہوتا\n\nملتے ہیں وہ دل سرخ ہوئی جاتی ہے چٹکی\nنازک ہیں بہت خون تمنا نہیں ہوتا\n\nدیتی ہے مزا مے کا ہمیں تلخئ توبہ\nجب ہاتھ میں پیمانۂ صہبا نہیں ہوتا\n\nوہ حشر کے دن کشتے کو ٹھکرا چکے سو بار\nکچھ جان سی پڑ جاتی ہے زندہ نہیں ہوتا\n\nبولی یہ تمنا جو رکے وہ در دل پر\nگھر آپ کا ہے آپ سے پردا نہیں ہوتا\n\nتیروں کو جگہ دیتے ہیں جو سینے میں اپنے\nان لوگوں کے اے جان کلیجہ نہیں ہوتا\n\nصحرا سے قدم گھر کی طرف خاک اٹھاؤں\nکانٹے سے جدا پاؤں کا چھالا نہیں ہوتا\n\nبیٹھے نظر آتے ہیں وہی تیری گلی میں\nجن کا کہیں دنیا میں ٹھکانا نہیں ہوتا\n\nفرقت میں ہے کیوں نزع کی تکلیف گوارا\nمر جائیں ریاضؔ آپ سے اتنا نہیں ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%AE%DB%8C%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اس عشق و جنوں میں نہ گریبان کا ڈر ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس عشق و جنوں میں نہ گریبان کا ڈر ہے\nیہ عشق وہ ہے جس میں ہمیں جان کا ڈر ہے\n\nآساں نہیں دریائے محبت سے گزرنا\nیاں نوح کی کشتی کو بھی طوفان کا ڈر ہے\n\nبازار سے گزرے ہے وہ بے پردہ کہ اس کو\nہندو کا نہ خطرہ نہ مسلمان کا ڈر ہے\n\nدل خون میں تڑپے ہے ترے تیر نگہ سے\nپر اس پہ بھی ظالم ترے پیکان کا ڈر ہے\n\nدربان بھی یاں کچے گھڑے پانی بھرے ہے\nوہ ہیں ہمیں یاں جن کو کہ دربان کا ڈر ہے\n\nوہ شوخ کہیں وقت نماز آن نہ نکلے\nاے مصحفیؔ مجھ کو اسی شیطان کا ڈر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%88_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%DA%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "اس عشق کے ہاتھوں سے ہرگز نہ مفر دیکھا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس عشق کے ہاتھوں سے ہرگز نہ مفر دیکھا\nاتنی ہی بڑھی حسرت جتنا ہی ادھر دیکھا\n\nتھا کھیل سا پہلے عشق لیکن جو کھلیں آنکھیں\nڈوبا ہوا رگ رگ میں وہ تیر نظر دیکھا\n\nسب ہو گئی اٹھ اٹھ کر اک باز نثار شمع\nپروانوں نے کیا جانے کیا وقت سحر دیکھا\n\nوہ اشک بھری آنکھیں اور درد بھرے نالے\nاللہ نہ دکھلائے جو وقت سحر دیکھا\n\nقرباں تری آنکھوں کے صدقے تری نظروں کے\nتھا حاصل صد ناوک جو زخم جگر دیکھا\n\nجاتے رہے دم بھر میں سارے ہی گلے شکوے\nاس جان تغافل نے جب ایک نظر دیکھا\n\nعہد غم فرقت میں دل اور جگر کیسے\nاک زخم ادھر پایا اک داغ ادھر دیکھا\n\nتھا باعث رسوائی ہر چند جنوں میرا\nان کو بھی نہ چین آیا جب تک نہ ادھر دیکھا\n\nاس چشم غزالیں کو مے خانہ دل پایا\nاس روئے نگاریں کو فردوس نظر دیکھا\n\nیوں دل کو تڑپنے کا کچھ تو ہے سبب آخر\nیا درد نے کروٹ لی یا تم نے ادھر دیکھا\n\nکیا جانئے کیا گزری ہنگام جنوں لیکن\nکچھ ہوش ہو آیا تو اجڑا ہوا گھر دیکھا\n\nماتھے پہ پسینا کیوں آنکھوں میں نمی کیسی\nکچھ خیر تو ہی تم نے کیا حال جگر دیکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D8%B1%DA%AF%D8%B2_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%81%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اس عہد میں احتساب ایمانی کیا", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس عہد میں احتساب ایمانی کیا\nابرام معاصی کی پشیمانی کیا\nہر دعویٔ دیں حکم ایکٹ سے ڈسمس\nڈگری ہے کہ بے سود مسلمانی کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D8%B3%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا\nچھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا\n\nامیدوار وعدۂ دیدار مر چلے\nآتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا\n\nکب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیں\nکچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا\n\nاس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیں\nمعلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا\n\nبخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل\nاے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا\n\nجاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف\nاے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا\n\nتھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میرؔ پر\nکیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "اس غم کدے سے کچھ نہ لگا ہاتھ ہمارے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس غم کدے سے کچھ نہ لگا ہاتھ ہمارے\nآہ دل سوزاں ہی چلی ساتھ ہمارے\n\nدرد و غم و اندوہ و الم نالۂ جاں کاہ\nہیں دشمن جانی سبھی یک ذات ہمارے\n\nجس گھات سے دل تو نے لیا یار ہمارا\nافسوس کہ ہاتھ آئی نہ وہ گھات ہمارے\n\nخطرہ نہ کرو آؤ ملو شوق سے پیارے\nجو سمجھے ہو دل میں نہیں وہ بات ہمارے\n\nکیا ہم نے بگاڑا فلک سفلہ کا ؔجوشش\nکیوں درپئے ایذا ہے یہ دن رات ہمارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D8%AF%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "اس قدر آپ کا عتاب رہے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس قدر آپ کا عتاب رہے\nدل کو میرے نہ اضطراب رہے\n\nنہ پٹی ان سے پیار کی میزان\nہاں مگر رنج بے حساب رہے\n\nیوں شب وصل کا ہے عالم یاد\nجیسے برسوں کی یاد خواب رہے\n\nحال دل سن کے بول اٹھا قاصد\nیاد کس کو یہ سب کتاب رہے\n\nمنتظر ہوں کسی کے آنے کا\nکس کی آنکھوں میں آ کے خواب رہے\n\nصبح کے اس حجاب نے مارا\nرات بھر ایسے بے حجاب رہے\n\nغیر کا منہ اور آپ سے باتیں\nایسی باتوں سے اجتناب رہے\n\nہم بھی مر کر عذاب سے چھوٹے\nآپ بھی داخل ثواب رہے\n\nہائے وہ دن خدا نہ لائے یاد\nہم سے روٹھے جو کچھ جناب رہے\n\nبحر ہستی سے کوچ ہے درپیش\nیاد منصوبۂ حباب رہے\n\nایک دم کا یہاں توقف ہے\nخیمہ بے چوب بے طناب رہے\n\nکچھ نہ بن آئی اس کے آگے نظامؔ\nدو ہی باتوں میں لا جواب رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "اس قدر اب غم دوراں کی فراوانی ہے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس قدر اب غم دوراں کی فراوانی ہے\nتو بھی منجملۂ اسباب پریشانی ہے\n\nمجھ کو اس شہر سے کچھ دور ٹھہر جانے دو\nمیرے ہمراہ مری بے سر و سامانی ہے\n\nآنکھ جھک جاتی ہے جب بند قبا کھلتے ہیں\nتجھ میں اٹھتے ہوئے خورشید کی عریانی ہے\n\nاک ترا لمحۂ اقرار نہیں مر سکتہ\nاور ہر لمحہ زمانے کی طرح فانی ہے\n\nکوچۂ دوست سے آگے ہے بہت دشت جنوں\nعشق والوں نے ابھی خاک کہاں چھانی ہے\n\nاس طرح ہوش گنوانا بھی کوئی بات نہیں\nاور یوں ہوش سے رہنے میں بھی نادانی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%A8_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اس قدر بڑھ گئی وحشت ترے دیوانے کی", "poet_page": "مصنف:بوم میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس قدر بڑھ گئی وحشت ترے دیوانے کی\nتوڑ کے پھینک دیں سب کھڈیاں پاخانے کی\n\nکوستا ایسے ہے مردود ہمیشہ مجھ کو\nکبھی مانگی نہ دعا غیر کے مر جانے کی\n\nکھنچ رہا ہے وہ شب وصل کا نقشۂ دل میں\nیاد ہے ہم کو ادائیں تیرے شرمانے کی\n\nجب سے اس شوخ کی زلفوں کا لیا ہے بوسہ\nبڑھ گئی اور بھی وحشت دل دیوانے کی\n\nشیخ صاحب نے تو پوچھا تھا پتہ مسجد کا\nراہ رندوں نے بتا دی اسے میخانے کی\n\nآ گئی اب تو جوانی ہوا بچپن رخصت\nکیا ضرورت ہے شب وصل میں گھبرانے کی\n\nخلوت یار میں رہنے کو جگہ مل جائے\nنہ تو کعبہ کی ضرورت ہے نہ بت خانے کی\n\nدال روٹی کا بڑا فکر تھا یہ بھی چھوٹا\nہو گئی جب کہ یہ عادت ہمیں غم کھانے کی\n\nکمسنی میں نہ اگر غیر سے جا کر ملتے\nہم کبھی دیکھتے صورت نہ شفا خانے کی\n\nجھوٹی سچی کی نہیں فکر خوشی تو یہ ہے\nان کو عادت ہے مرے سر کی قسم کھانے کی\n\nدل میں آتا ہے کہ دشمن کے لگاؤں جوتے\nلے گیا سالا سلیپر مری دس آنے کی\n\nمنہ کیا رات کو کالا جو زبردستی سے\nکیا ضرورت تھی تمہیں غیر کے گھر جانے کی\n\nاپنے مرنے کی خبر یار نے جھوٹی بھیجی\nخوب تدبیر نکالی مرے مر جانے کی\n\nجب یہ دیکھا کہ نہاتے ہیں وہ ننگے ہو کر\nکھڑکیاں توڑ دیں سب میں نے غسل خانے کی\n\nدونوں ٹھنڈک میں پڑے رہتے ہیں باہم لیٹے\nیاد بھی ہے وہ تمہیں بات برف خانے کی\n\nجب سے آنکھوں پہ پڑا عکس ترے جلوے کا\nہوئی اس روز سے عادت مجھے چندھیانے کی\n\nایک دن وہ تھا کہ وہ اڑ کے چلا کرتے تھے\nایک دن یہ ہے کہ عادت ہوئی کترانے کی\n\nاس کے در کا نہ میاں بومؔ نے پیچھا چھوڑا\nاینٹ سے اینٹ بجا کر رہے تہہ خانے کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "اس قدر بھی تو مری جان نہ ترسایا کر", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس قدر بھی تو مری جان نہ ترسایا کر\nمل کے تنہا تو گلے سے کبھی لگ جایا کر\n\nدیکھ کر ہم کو نہ پردے میں تو چھپ جایا کر\nہم تو اپنے ہیں میاں غیر سے شرمایا کر\n\nیہ بری خو ہے دلا تجھ میں خدا کی سوگند\nدیکھ اس بت کو تو حیران نہ رہ جایا کر\n\nہاتھ میرا بھی جو پہنچا تو میں سمجھوں گا خوب\nیہ انگوٹھا تو کسی اور کو دکھلایا کر\n\nگر تو آتا نہیں ہے عالم بیداری میں\nخواب میں تو کبھی اے راحت جاں آیا کر\n\nاے صبا اوروں کی تربت پہ گل افشانی چند\nجانب گور غریباں بھی کبھی آیا کر\n\nہم بھی اے جان من اتنے تو نہیں ناکارہ\nکبھی کچھ کام تو ہم کو بھی تو فرمایا کر\n\nتجھ کو کھا جائے گا اے مصحفیؔ یہ غم اک روز\nدل کے جانے کا تو اتنا بھی نہ غم کھایا کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B1%D8%B3%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "اس قدر دور سمجھنے لگے وہ دل سے مجھے", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس قدر دور سمجھنے لگے وہ دل سے مجھے\nموت کیا نیند بھی اب آئے گی مشکل سے مجھے\n\nدی حیات ابدی اس نے گلے سے مل کر\nمل گئی داد وفا خنجر قاتل سے مجھے\n\nدے چکے غیر کو دل ان سے کچھ امید نہیں\nاپنے پہلو میں جگہ دیں گے وہ کس دل سے مجھے\n\nدل بیتاب سنبھالے سے سنبھلتا ہی نہیں\nیہ نکلوا کے رہے گا تری محفل سے مجھے\n\nلے گئے آج یہ کہہ کر وہ مرے پہلو سے\nہے محبت بہت ارمان بھرے دل سے مجھے\n\nشکوے کرتا ہوں تغافل کے تو کہتا ہے کوئی\nبات ہی کیا ہے بھلا دیجئے اب دل سے مجھے\n\nاس طرح فکر سخن نے مجھے کھویا صفدرؔ\nموت بھی ڈھونڈھے تو اب پائے گی مشکل سے مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "اس قدر ظلم و ستم اے ستم ایجاد نہ کر", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس قدر ظلم و ستم اے ستم ایجاد نہ کر\nخاک ہم خاک نشینوں کی تو برباد نہ کر\n\nعشق ان کا مرے پہلو میں یہ دیتا ہے صدا\nبھول جا اپنی خودی غیر کو بھی یاد نہ کر\n\nصبر لازم ہے تجھے کوہ محبت پہ ضرور\nجذب دل کو تو کہیں تیشۂ فرہاد نہ کر\n\nشعلۂ ہجر سے خوں خشک ہوا ہے اس کا\nرگ عاشق پہ ستم نشتر فصاد نہ کر\n\nقید غم سے کہیں آزاد بھی ہو جان حزیں\nقتل کرنے میں تامل مرے جلاد نہ کر\n\nفصل گل آئی ہے شاداب ہوا ہے گلشن\nبلبل زار تو یاں شیون و فریاد نہ کر\n\nجذب دل ساتھ جمیلہؔ کا نہیں چھوڑے گا\nغم نہیں خضر رہ عشق میں امداد نہ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%B8%D9%84%D9%85_%D9%88_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "اس قدر غرق لہو میں یہ دل زار نہ تھا", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس قدر غرق لہو میں یہ دل زار نہ تھا\nجب حنا سے ترے پاؤں کو سروکار نہ تھا\n\nحسن کا جذب زلیخا ستی کچھ چل نہ سکا\nورنہ یہ پاک گہر قابل بازار نہ تھا\n\nدل میں زاہد کے جو جنت کی ہوا کی ہے ہوس\nکوچۂ یار میں کیا سایۂ دیوار نہ تھا\n\nدل مرا عشق کے دھڑکوں سے موا جاتا ہے\nیہ وہ دل ہے کہ کوئی ایسا جگر دار نہ تھا\n\nآپ سے کیوں نہ ہوا کہہ کے یقیںؔ کو مارا\nراست پوچھو تو کوئی مجھ سا گنہ گار نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%BA%D8%B1%D9%82_%D9%84%DB%81%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرا", "poet_page": "مصنف:فروغ حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرا\nمجھ کو غربت میں نظر آنے لگا گھر تیرا\n\nنشۂ مے کی بجھی پیاس نہ کچھ بھی افسوس\nنام سنتے تھے بڑا چشمۂ کوثر تیرا\n\nاپنے پامالیٔ دل کا مجھے افسوس نہیں\nدیکھ ظالم نہ بگڑ جائے کہیں گھر تیرا\n\nوہ بھی ہیں لوگ جو ہم بزم رہا کرتے تھے\nہم تو جیتے ہیں فقط نام ہی لے کر تیرا\n\nجلوۂ طور کو کچھ اس کی نظر سے بھانپا\nجس نے دیکھا ہے جمال رخ انور تیرا\n\nزندگی اس کی نصیب اس کے ہیں راتیں اس کی\nجس کو ہو جلوۂ دیدار میسر تیرا\n\nہم نے کوشش تو بہت کی تھی اسے لانے کی\nاے فروغؔ جگر افگار مقدر تیرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D9%88_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "اس قدر ناز ہے کیوں آپ کو یکتائی کا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس قدر ناز ہے کیوں آپ کو یکتائی کا\nدوسرا نام ہے وہ بھی مری تنہائی کا\n\nکیا چھپے راز الٰہی دل شیدائی کا\nعرصۂ حشر تو بازار ہے رسوائی کا\n\nجان لے جائے گا آنا شب تنہائی کا\nکون اب روکنے والا ہے مری آئی کا\n\nخوگر رنج و بلا حشر کے دن کیا خوش ہوں\nکہ وہ مال آج ہوا ہے شب تنہائی کا\n\nزندہ ہے نام شہادت کا اسی کے دم سے\nتیرے کشتہ نے کیا کام مسیحائی کا\n\nہر گلی کوچے میں پامال اسے ہو جانا\nدل ہے یا نقش قدم ہے کسی ہرجائی کا\n\nاس ادب سے تہہ شمشیر تڑپنا اے دل\nکہ گماں تیری تپش پر ہو شکیبائی کا\n\nفتنے بھی قاعدے سے اٹھتے ہیں جب اٹھتے ہیں\nکیا سلیقہ ہے تمہیں انجمن آرائی کا\n\nوہ یہ کہتے ہیں مرا صبر پڑے گا تجھ پر\nاب مجھے رنج نہیں اپنی شکیبائی کا\n\nکیا غرض ہے مری تقدیر کو مجھ سے پوچھے\nآبرو کا ہے طلب گار کہ رسوائی کا\n\nواں شب وعدہ ملی پاؤں میں مہندی اس نے\nیاں کلیجا کوئی ملتا ہے تمنائی کا\n\nرات بھر شمع رہی ہجر میں وہ بھی خاموش\nملتجی تھا تری تصویر سے گویائی کا\n\nسر مرا کاٹ کے دہلیز پر اپنی رکھ دو\nشوق باقی ہے ابھی ناصیہ فرسائی کا\n\nیوں نہ مقبول ہوا ہوگا کسی کا سجدہ\nبت کو ارمان رہا میری جبیں سائی کا\n\nہو گیا پرتو رخسار سے کچھ اور ہی رنگ\nمیں نے منہ چوم لیا اس کے تماشائی کا\n\nتھم گئے جم گئے آنکھوں میں لہو کے قطرے\nخون ظاہر ہے مرے صبر و شکیبائی کا\n\nبن گیا داغ جگر مہر قیامت اے داغؔ\nپر ابھی رنگ وہی ہے شب تنہائی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اس قدر ہم ناتوان و زار ہیں", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس قدر ہم ناتوان و زار ہیں\nبازو اپنے مچھلیوں کے خار ہیں\n\nچاک چاک اپنا گریباں ہو چکا\nان دنوں دست جنوں بے کار ہیں\n\nروتے ہیں اشکوں کے بدلے خون گر\nابر ہیں ہم لیکن آتش بار ہیں\n\nجاتے ہیں گلشن سے لے او باغباں\nہم اگر تیری نظر میں خار ہیں\n\nآستیں سے پوچھیے کاہے کو اشک\nاب تو منہ پر زخم دامن دار ہیں\n\nدیکھ کر تجھ کو مگر حیراں ہوئے\nآئنہ جو پشت بر دیوار ہیں\n\nلے اڑ اے وحشت کہ اپنی پاؤں کے\nمنتظر خار سر دیوار ہیں\n\nآنکھیں ہیں خونخوار تیری اے مسیح\nکیا ہے بے پرہیز یہ بیمار ہیں\n\nخود بخود اپنا جنازہ ہے رواں\nہم یہ کس کے کشتۂ رفتار ہیں\n\nسایۂ خنجر میں آیا خواب مرگ\nواہ کیا طالع مرے بیدار ہیں\n\nہم ہیں رنجور اپنے اشک و آہ سے\nہے بری آب و ہوا بیمار ہیں\n\nاب تو ہے مینہ کا برسنا اپنے ہاتھ\nآستینیں ابر دریا بار ہیں\n\nسرو و شمشاد و صنوبر باغ میں\nنقشہ ہائے قامت دل دار ہیں\n\nکون ہے بیزار ان روزوں وزیرؔ\nہم جو اپنے زیست سے بیزار ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس قوم کو یک دلی کی رغبت ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس قوم کو یک دلی کی رغبت ہی نہیں\nجو ایک کرے ادھر طبیعت ہی نہیں\nاکبر کہتا ہے میل رکھو باہم\nوہ کہتے ہیں میل کی ضرورت ہی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D9%88%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%BA%D8%A8%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس لب کوں کب پسند ہیں رسمی کٹوریاں", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس لب کوں کب پسند ہیں رسمی کٹوریاں\nلالہ کے پھول کی ہیں جسے قہوہ خوریاں\n\nدام و قفس نہ چاہئے دل کے شکار کوں\nکرتی ہیں بند آنکھ کے ڈوروں کی ڈوریاں\n\nہے بس کہ دور ساغر چشم پری رخاں\nگر گئی ہیں دل کے طاق سیں نرگس کی غوریاں\n\nہنستے ہو کیوں جو تم نے مرا دل نہیں لئے\nمعلوم ہوئیں تمہاری نگاہوں کی چوریاں\n\nاب غم کی رات سیر چراغاں ہے اے سراجؔ\nیہ اشک گرم تیل ہے آنکھیں سکوریاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%84%D8%A8_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%B3%D9%85%DB%8C_%DA%A9%D9%B9%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "اس مرگ کو کب نہیں میں سمجھا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس مرگ کو کب نہیں میں سمجھا\nہر دم دم واپسیں میں سمجھا\n\nانداز ترا بس اب نہ کر شور\nاے نالۂ آتشیں میں سمجھا\n\nتب مجھ کو اجل ہوئی گوارا\nجب زہر کو انگبیں میں سمجھا\n\nاک خلق کی سر نوشت بانچی\nاپنا نہ خط جبیں میں سمجھا\n\nجوں شانہ کبھو تہہ پینچ تیرے\nاے کاکل عنبریں میں سمجھا\n\nکیا فائدہ آہ دم بہ دم سے\nہے درد دل حزیں میں سمجھا\n\nپھر اس میں نہ شک نے راہ پائی\nجس بات کو بالیقیں میں سمجھا\n\nجب اٹھ گئی ضد تو ہر سخن میں\nسمجھا تو کہیں کہیں میں سمجھا\n\nموئے کمر اس کا کیا ہے اے عقل\nسمجھا تو مجھے نہیں میں سمجھا\n\nلکھی غزل اس میں مصحفیؔ جلد\nجس کو کہ نئی زمیں میں سمجھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%85%D8%B1%DA%AF_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئی", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئی\nبے درد آسمان یہ کیا بات ہو گئی\n\nآوارگان عشق کا مسکن نہ پوچھئے\nپڑ رہتے ہیں وہیں پہ جہاں رات ہو گئی\n\nذکر شب وصال ہو کیا قصہ مختصر\nجس بات سے وہ ڈرتے تھے وہ بات ہو گئی\n\nمسجد کو ہم چلے گئے مستی میں بھول کر\nہم سے خطا یہ پیر خرابات ہو گئی\n\nپچھلے غموں کا ذکر ہی کیا جب وہ مل گئے\nاے آسماں تلافئ مافات ہو گئی\n\nزاہد کو زندگی ہی میں کوثر چکھا دیا\nرندوں سے آج یہ بھی کرامات ہو گئی\n\nبے چین رکھنے والے پریشاں ہوں خود نہ کیوں\nآخر کو تیری زلف مری رات ہو گئی\n\nجھولا جھلائیں چل کے حسینوں کو باغ میں\nگجرات میں سنا ہے کہ برسات ہو گئی\n\nکیا فائدہ اب اخترؔ اگر پارسا بنے\nجب ساری عمر نذر خرابات ہو گئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%81_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "اس مہینہ بھر کہاں تھا ساقیا اچھی طرح", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس مہینہ بھر کہاں تھا ساقیا اچھی طرح\nآ ادھر آ عید تو مل لیں ذرا اچھی طرح\n\nانگلیاں کانوں میں رکھ کر اے مسافر سن ذرا\nآ رہی ہے صاف آواز درا اچھی طرح\n\nچشم موسیٰ لا سکی اک اس کے جلوہ کی نہ تاب\nچشم دل سے جس کو دیکھا بارہا اچھی طرح\n\nفاصلہ ایسا نہیں کچھ عرش کی زنجیر سے\nکیا کہوں بڑھتا نہیں دست دعا اچھی طرح\n\nاہل صورت کو نہیں ہے اچھی سیرت سے غرض\nاچھی صورت چاہئے اچھی ادا اچھی طرح\n\nشاہدان لالہ و گل کی خبر لائی ہے کچھ\nسال بھر کے بعد آئی اے صبا اچھی طرح\n\nسیکھ لے گی بل کی لینا تا کمر آنے تو دو\nبل ابھی کرتی نہیں زلف دوتا اچھی طرح\n\nشیشہ و جام و سبو بھر لے مئے گل رنگ سے\nآج ساقی گھر کے آئی ہے گھٹا اچھی طرح\n\nلیتے ہیں اہل جنوں کیا کیا تصور کے مزے\nآنکھ سے پریوں کو دیکھا بارہا اچھی طرح\n\nدے رہی ہے اس کی خاموشی صدائے دورباش\nیہ نہیں کہتا کہ نظمؔ مبتلا اچھی طرح", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%81%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "اس نازنیں کی باتیں کیا پیاری پیاریاں ہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس نازنیں کی باتیں کیا پیاری پیاریاں ہیں\nپلکیں ہیں جس کی چھریاں آنکھیں کٹاریاں ہیں\n\nاس بات پر بھلا ہم کیوں کر نہ زہر کھاویں\nہم سے وہی رکاوٹ غیروں سے یاریاں ہیں\n\nٹک صفحۂ زمیں کے خاکے پہ غور کر تو\nصانع نے اس پہ کیا کیا شکلیں اتاریاں ہیں\n\nدل کی تپش کا اپنی عالم ہی کچھ جدا ہے\nسیماب و برق میں کب یہ بے قراریاں ہیں\n\nان محملوں پہ آوے مجنوں کو کیوں نہ حسرت\nجن محملوں کے اندر دو دو سواریاں ہیں\n\nجاگا ہے رات پیارے تو کس کے گھر جو تیری\nپلکیں ندیدیاں ہیں آنکھیں خماریاں ہیں\n\nنومید ہیں بظاہر گو وصل سے ہم اس کے\nدل میں تو سو طرح کی امیدواریاں ہیں\n\nکیا پوچھتا ہے ہم دم احوال مصحفیؔ کا\nراتیں اندھیریاں اور اختر شماریاں ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%86%D8%A7%D8%B2%D9%86%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس نہیں کا کوئی علاج نہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس نہیں کا کوئی علاج نہیں\nروز کہتے ہیں آپ آج نہیں\n\nکل جو تھا آج وہ مزاج نہیں\nاس تلون کا کچھ علاج نہیں\n\nآئنہ دیکھتے ہی اترائے\nپھر یہ کیا ہے اگر مزاج نہیں\n\nلے کے دل رکھ لو کام آئے گا\nگو ابھی تم کو احتیاج نہیں\n\nہو سکیں ہم مزاج داں کیونکر\nہم کو ملتا ترا مزاج نہیں\n\nچپ لگی لعل جاں فزا کو ترے\nاس مسیحا کا کچھ علاج نہیں\n\nدل بے مدعا خدا نے دیا\nاب کسی شے کی احتیاج نہیں\n\nکھوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹھہرا\nدرہم داغ کا رواج نہیں\n\nبے نیازی کی شان کہتی ہے\nبندگی کی کچھ احتیاج نہیں\n\nدل لگی کیجئے رقیبوں سے\nاس طرح کا مرا مزاج نہیں\n\nعشق ہے پادشاہ عالم گیر\nگرچہ ظاہر میں تخت و تاج نہیں\n\nدرد فرقت کی گو دوا ہے وصال\nاس کے قابل بھی ہر مزاج نہیں\n\nیاس نے کیا بجھا دیا دل کو\nکہ تڑپ کیسی اختلاج نہیں\n\nہم تو سیرت پسند عاشق ہیں\nخوب رو کیا جو خوش مزاج نہیں\n\nحور سے پوچھتا ہوں جنت میں\nاس جگہ کیا بتوں کا راج نہیں\n\nصبر بھی دل کو داغؔ دے لیں گے\nابھی کچھ اس کی احتیاج نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس نے آنے کا جو وعدہ کیا جاتے جاتے", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "اس نے آنے کا جو وعدہ کیا جاتے جاتے\nدم مرا سینے میں رکنے لگا آتے جاتے\n\nخاک میں مجھ کو جو تم نے نہ ملایا نہ سہی\nلاش ہی میری ٹھکانے سے لگاتے جاتے\n\nتیرے دیوانوں کا دیکھے تو کوئی جوش و خروش\nسوئے محشر بھی ہیں اک شور مچاتے جاتے\n\nہم تو سمجھے تھے کہ نالوں سے تسلی ہوگی\nیہ تو ہیں درد میں درد اور بڑھاتے جاتے\n\nساتھ لینا تھا ہمیں بھی تجھے او پیک صبا\nہم بھی ہمراہ ترے ٹھوکریں کھاتے جاتے\n\nتم نے کاندھا نہ دیا لاش کو میری نہ سہی\nایک ٹھوکر ہی مری جان لگاتے جاتے\n\nیوں نہ جانا تھا انہیں پاس سے اٹھ کر انجمؔ\nکوئی آفت ہی مرے سر پہ وہ ڈھاتے جاتے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92"} {"title": "اس نے افشاں جو چنی رات کو تنہا ہو کر", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس نے افشاں جو چنی رات کو تنہا ہو کر\nآسماں ٹوٹ پڑا مجھ پہ ستارہ ہو کر\n\nبھوکیں محلوں پہ نہ منعم سگ دنیا ہو کر\nہڈیاں قبر میں رہ جائیں گی چونا ہو کر\n\nوہ جلے تن ہوں مرے پر بھی جو مٹی میں ملوں\nگرد باد اٹھنے لگیں آگ بگولا ہو کر\n\nمے کشی میں جو ہوا چشم خماری کا خیال\nرہ گیا جام ہتھیلی کا پھپھولا ہو کر\n\nشادؔ یہ عشق زنخداں میں ہے دل ڈالوں ڈول\nکود پڑتا ہوں میں ہر چاہ میں اندھا ہو کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%81%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D9%86%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "اس نے مانگا جو دل دیے ہی بنی", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "اس نے مانگا جو دل دیے ہی بنی\nجو نہ کرنا تھا وہ کئے ہی بنی\n\nاس ادا سے دل اس نے پھیرا آج\nکہ مجھے دوڑ کر لئے ہی بنی\n\nتیرے ہمراہ غیر کیوں آیا\nجس کی خاطر مجھے کئے ہی بنی\n\nدیکھا انجام عشق کا اے دل\nجان آخر ہمیں دیے ہی بنی\n\nدست نازک سے اس نے جام دیا\nآج مجھ کو شرفؔ پئے ہی بنی", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%A8%D9%86%DB%8C"} {"title": "اس نے مے پی کے سر بزم جو ساغر الٹا", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس نے مے پی کے سر بزم جو ساغر الٹا\nورق انجمن دہر سراسر الٹا\n\nدیکھنے والے کو دنیا ہے سراپا تصویر\nگو ہے آئینے میں عکس رخ دلبر الٹا\n\nکر دیا آ کے چمن کو تہ و بالا کس نے\nکوئی سیدھا ہے یہاں کوئی گل تر الٹا\n\nناز سے مجھ کو سر بزم جو ساقی نے دیا\nہاتھ تھرائے کچھ اس طرح کہ ساغر الٹا\n\nاے خدا کیا یوں ہی آتی ہے کسی دوست کی یاد\nآ گیا منہ کو کلیجہ دل مضطر الٹا\n\nداد خواہان محبت کا یہ انبوہ کثیر\nدل مرا دیکھ کے ہنگامۂ محشر الٹا\n\nجس پہ کہ بیٹھ کے واعظ نے مذمت مے کی\nمجلس وعظ میں رندوں نے وہ منبر الٹا\n\nیا زمانے میں محبت کے فسانے ہیں غلط\nیا مرا نقش وفا ہے مرے دل پر الٹا\n\nتا کجا اے دل بیمار یہ راحت طلبی\nعمر بھر جب سے بچھا پھر نہ یہ بستر الٹا\n\nاٹھ گئی آج زمانے سے بساط الفت\nبستر مرگ مرا اس نے یہ کہہ کر الٹا\n\nاشک باریٔ شب ہجر کا کیا حال لکھوں\nدیدۂ تر نے نظرؔ ایک سمندر الٹا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%92_%D9%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D9%B9%D8%A7"} {"title": "اس نے کر وسمہ جو فندق پہ جمائی مہندی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس نے کر وسمہ جو فندق پہ جمائی مہندی\nکیا ہی دلچسپ مجھے وہ نظر آئی مہندی\n\nنہ رہا ایک بھی چور اس کے کہیں ہاتھوں میں\nایسی چترائی سے کافر نے لگائی مہندی\n\nبیٹھے بیٹھے جو مزاج آ گیا رنگینی پر\nگوندھ کر لالے کی پتی میں ملائی مہندی\n\nاس نفاست کا میں کشتہ ہوں کہ اک تو اس نے\nبنگلے پانوں سے ہاتھوں میں بندھائی مہندی\n\nتس پہ کمبخت کی یہ دوسری سگھڑائی دیکھ\nباندھ رومالوں سے بسمے کی بچائی مہندی\n\nاور ہشیاری یہ سن سوتے سے جو چونک پڑا\nکھول پھرتی سے وہیں جلد چھڑائی مہندی\n\nبعد ازاں طاق سے اک چھوٹے سے شیشے کو اتار\nعطر میں ہاتھوں سے مل مل کے بسائی مہندی\n\nمصحفیؔ کیوں نہ دعا دیوے کہ اس کو تو نے\nاک غزل اور بھی رنگین لکھائی مہندی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D9%88%D8%B3%D9%85%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D9%81%D9%86%D8%AF%D9%82_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%85%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C"} {"title": "اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں\nمدت سے دوستوں کی محفل کو ڈھونڈتے ہیں\n\nیہ دل کے پار ہو کر پھر دل کو ڈھونڈتے ہیں\nتیر نگاہ اس کے بسمل کو ڈھونڈتے ہیں\n\nاک لہر میں نہ تھے ہم کیوں اے حباب دیکھا\nیوں آنکھ بند کر کے ساحل کو ڈھونڈتے ہیں\n\nطرز کرم کی شاہد ہیں میوہ دار شاخیں\nاس طرح سر جھکا کر سائل کو ڈھونڈتے ہیں\n\nہے وصل و ہجر اپنا اے قیس طرفہ مضموں\nمحمل میں بیٹھے ہیں اور محمل کو ڈھونڈتے ہیں\n\nطول امل کا رستہ ممکن نہیں کہ طے ہو\nمنزل پہ بھی پہنچ کر منزل کو ڈھونڈتے ہیں\n\nحسرت شباب کی ہے ایام شیب میں بھی\nمعدوم کی ہوس ہے زائل کو ڈھونڈتے ہیں\n\nاٹھتے ہیں ولولے کچھ ہر بار درد بن کر\nکیا جانیے جگر کو یا دل کو ڈھونڈتے ہیں\n\nزخم جگر کا میرے ہے رشک دوستوں کو\nمرتا ہوں میں کہ یہ کیوں قاتل کو ڈھونڈتے ہیں\n\nاہل ہوس کی کشتی یک بام و دو ہوا ہے\nدریائے عشق میں بھی ساحل کو ڈھونڈتے ہیں\n\nآیا جو رحم مجھ پر اس میں بھی چال ہے کچھ\nسینہ پہ ہاتھ رکھ کر اب دل کو ڈھونڈتے ہیں\n\nکرتے ہیں کار فرہاد آساں زمین میں بھی\nمشکل پسند ہیں ہم مشکل کو ڈھونڈتے ہیں\n\nاے خضر پئے خجستہ بہر خدا کرم کر\nبھٹکے ہوئے مسافر منزل کو ڈھونڈتے ہیں\n\nدل خواہ تیرے عشوے دل جو ترے اشارے\nوہ دل ٹٹولتے ہیں یہ دل کو ڈھونڈتے ہیں\n\nاے نظمؔ کیا بتائیں حج و طواف اپنا\nکعبے میں بھی کسی کی محمل کو ڈھونڈتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92_%D8%B9%D8%AF%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس واسطے نکلوں ہوں ترے کوچے سے بچ بچ", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس واسطے نکلوں ہوں ترے کوچے سے بچ بچ\nہر ایک مچاتا ہے مجھے دیکھ کے کچ کچ\n\nنیرنگیٔ قدرت کا وہی دید کرے ہے\nپانی کی طرح ہو جو ہر اک رنگ میں رچ رچ\n\nسر پر سے تو مندیل کو اب دور کر اے شیخ\nگردن تری اس بوجھ سے اب کرتی ہے لچ لچ\n\nنادان ہے ایسا کہ جو دشمن مرے حق میں\nجھوٹی اسے کہتے ہیں تو وہ جانے ہے سچ سچ\n\nمکتب میں جو کی سیر تو دیکھا یہ تماشا\nملا کے بھی شاگرد ہیں مرغے کے سے کچ کچ\n\nزر ہووے تو معشوق بھی ہاتھ آوے ہے حاتمؔ\nمفلس عبث اس فکر میں جی دیوے ہے نچ نچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%86_%D8%A8%DA%86"} {"title": "اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیا\nناصح تو میری جان نہ لے دل گیا گیا\n\nضد سے وہ پھر رقیب کے گھر میں چلا گیا\nاے رشک میری جان گئی تیرا کیا گیا\n\nیہ ضعف ہے تو دم سے بھی کب تک چلا گیا\nخود رفتگی کے صدمے سے مجھ کو غش آ گیا\n\nکیا پوچھتا ہے تلخی الفت میں پند کو\nایسی تو لذتیں ہیں کہ تو جان کھا گیا\n\nکچھ آنکھ بند ہوتے ہی آنکھیں سی کھل گئیں\nجی اک بلائے جان تھا اچھا ہوا گیا\n\nآنکھیں جو ڈھونڈتی تھیں نگہ ہائے التفات\nگم ہونا دل کا وہ مری نظروں سے پا گیا\n\nبوئے سمن سے شاد تھے اغیار بے تمیز\nاس گل کو اعتبار نسیم و صبا گیا\n\nآہ سحر ہماری فلک سے پھری نہ ہو\nکیسی ہوا چلی یہ کہ جی سنسنا گیا\n\nآتی نہیں بلائے شب غم نگاہ میں\nکس مہروش کا جلوہ نظر میں سما گیا\n\nاے جذب دل نہ تھم کہ نہ ٹھہرا وہ شعلہ رو\nآیا تو گرم گرم ولیکن جلا گیا\n\nمجھ خانماں خراب کا لکھا کہ جان کر\nوہ نامہ غیر کا مرے گھر میں گرا گیا\n\nمہندی ملے گا پانوں سے دشمن تو آن کر\nکیوں میرے تفتہ سینے کو ٹھوکر لگا گیا\n\nبوسہ صنم کی آنکھ کا لیتے ہی جان دی\nمومنؔ کو یاد کیا حجر الاسود آ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%88%D8%B3%D8%B9%D8%AA_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اس وقت بارے کچھ تو کرم بخشی کیجئے", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس وقت بارے کچھ تو کرم بخشی کیجئے\nگزرے ہم اور بات سے گالی ہی دیجئے\n\nصبر اور دین و دل تو تم آگے ہی لے چکے\nباقی ہے جاں ہماری سو اب یہ بھی لیجئے\n\nدیوے وہ جام غیر کوں یوں میرے سامنے\nیہ دیکھ کیونکہ خون دل اپنا نہ پیجئے\n\nناصح یہ کیا حساب کہ میں جیب کو سلاؤں\nبہتر ہے آپ منہ کے تئیں اپنے سی جیے\n\nپتھر بھی بلکے دیکھ جہاں دارؔ کا یہ حال\nپیارے کبھو تو آپ بھی اس پر پسیجئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D8%A8%D8%AE%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "اس وقت زمانے میں بہم ایسے ہیں", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس وقت زمانے میں بہم ایسے ہیں\nہر بزم میں کہتے ہیں کہ ہم ایسے ہیں\nہے رند ہزار شیوہ ہر چند قلقؔ\nایماں سے اگر پوچھئے کم ایسے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس وہم کی انتہا نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس وہم کی انتہا نہیں ہے\nسب کچھ ہے مگر خدا نہیں ہے\n\nکیا اس کا سراغ کوئی پائے\nجس چیز کی ابتدا نہیں ہے\n\nکھلتا ہی نہیں فریب ہستی\nکچھ بھی نہیں اور کیا نہیں ہے\n\nاس طرح ستم وہ کر رہے ہیں\nجیسے میرا خدا نہیں ہے\n\nتم خوش ہو تو ہے مجھے ندامت\nہر چند مری خطا نہیں ہے\n\nدیکھو تو نگاہ واپسیں کو\nاس ایک نظر میں کیا نہیں ہے\n\nدنیا کا بھرم نہ کھول اے آہ\nیہ راز ابھی کھلا نہیں ہے\n\nہر ذرہ ہے شاہد تجلی\nاس حسن کی انتہا نہیں ہے\n\nسرگرم تلاش رہنے والے\nتیرا بھی کہیں پتا نہیں ہے\n\nامڈا ہے جو دل عزیزؔ رو لو\nآنسو کوئی روکتا نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%88%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئے\nسوتی قسمت کو کر کے بیدار گئے\nاتنے ہوئے تھک کے شل کہ پھر اٹھ نہ سکے\nہمت نہیں ہاری جان تک ہار گئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%88%D9%88%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "اس پری رو نے نہ مجھ سے ہے نباہی کیا کروں", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس پری رو نے نہ مجھ سے ہے نباہی کیا کروں\nسر کدھر پٹکوں کدھر جاؤں الٰہی کیا کروں\n\nوصل کا دن ہے ولے آنکھوں کے میرے سامنے\nہے کھڑی شب ہائے‌ ہجراں کی سیاہی کیا کروں\n\nتختہ تختہ ہو گیا طوفاں میں آ کر جہاں\nتم سے اے یار بیاں اپنی تباہی کیا کروں\n\nہے تو وہ دشمن پہ محضر دیکھ کر خون کا مرے\nسوچتا ہے اس پہ میں اپنی گواہی کیا کروں\n\nٹکڑے ٹکڑے دل ہوا جاتا ہے پہلو میں ہوسؔ\nذبح کرتی ہے بتاں کی کم نگاہی کیا کروں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D9%88_%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A8%D8%A7%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "اس پہ کرنا مرے نالوں نے اثر چھوڑ دیا", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس پہ کرنا مرے نالوں نے اثر چھوڑ دیا\nمجھ کو ایک لطف کی کر کے جو نظر چھوڑ دیا\n\nسونپ کر خانۂ دل غم کو کدھر جاتے ہو\nپھر نہ پاؤ گے اگر اس نے یہ گھر چھوڑ دیا\n\nاشک سوزاں نے جلائے مرے لاکھوں دامن\nپونچھنا میں نے تو اب دیدۂ تر چھوڑ دیا\n\nبخیہ گر جل گیا کیا ہاتھ ترا سوزش سے\nکرتے کرتے جو رفو چاک جگر چھوڑ دیا\n\nگلشن دہر میں خامی نے بچایا ہم کو\nدیکھ کر خام کدورت نے ثمر چھوڑ دیا\n\nلے گئے سامنے حاکم کے مرے قاتل کو\nاس کو اس نے بھی سمجھ خون پدر چھوڑ دیا\n\nنیک و بد کچھ نظر آتا نہیں وہ وحشت ہے\nپردہ غفلت کا مرے پیش نظر چھوڑ دیا\n\nکوچۂ زلف کو کترا کے گیا دل رخ پر\nاس نے وہ رستۂ پر خوف و خطر چھوڑ دیا\n\nاے فلک خانہ خرابی کی ہے پروا کس کو\nدشت میں رہتے ہیں مدت ہوئی گھر چھوڑ دیا\n\nمجھ پہ احسان صبا کا ہے کہ کوچہ میں ترے\nخاک کو میری سر راہ گزر چھوڑ دیا\n\nمجھ کو اے آہ تعجب ہے کہ کاشانۂ غیر\nکل شب ہجر نے برسا کے شرر چھوڑ دیا\n\nبھر گیا دل مرا ایک چیز کو کھاتے کھاتے\nخون دل کھائیں گے اب خون جگر چھوڑ دیا\n\nبوجھ سے آپ ہی مر جائے گا کیوں ہو بد نام\nیہ سمجھ کر بت سفاک نے سر چھوڑ دیا\n\nنہیں تیر نگہ یار سے بچنا ممکن\nکل ہے موجود وہ دن آج اگر چھوڑ دیا\n\nآ گیا دل میں جو عالم کا مسخر کرنا\nزلف کو چہرے پہ ہنگام سحر چھوڑ دیا\n\nیہ نہیں ہے رہ بت خانہ کدھر جانا ہے\nآج سے ہم نے ترا ساتھ خضر چھوڑ دیا\n\nکر دیا تیروں سے چھلنی مجھے سارا لیکن\nخون ہونے کے لیے اس نے جگر چھوڑ دیا\n\nساتھ دیکھا تھا اسے کل تو تیرے اے مجنوں\nآج اس عارفؔ وحشی کو کدھر چھوڑ دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اس ڈر سے میں نے زلف کی اس کی نہ بات کی", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس ڈر سے میں نے زلف کی اس کی نہ بات کی\nجاتی ہے دور دور تک آواز رات کی\n\nدیکھا جب آنکھ کھول کے مثل حباب تب\nمعلوم کائنات ہوئی کائنات کی\n\nاس بلبل چمن کی ہوئی عاقبت بخیر\nسائے میں جس نے آن کے گل کے وفات کی\n\nمیں ہوں صفات ہی کے تحیر میں ہم نشیں\nکیا بات مجھ سے پوچھے ہے تو اس کی ذات کی\n\nدل اپنا اس کو دیجیے یا جی کو کھوئیے\nاس کے سوا طرح نہیں کوئی نجات کی\n\nبولا اگر تو قند مکرر ہوئے وہ لب\nاور چپ رہا تو یہ بھی ہے صورت نبات کی\n\nواقف ہو کیوں نہ شعلۂ آتش سے دل کے وہ\nرہتی ہے باغباں کو خبر پھول پات کی\n\nشہ چال ہو رہا ہوں صنم تیرے عشق میں\nتو نے دکھا کے رخ مری بازی ہی مات کی\n\nزلف عرق فشاں تری جاں بخش کیوں نہ ہو\nترکیب اس نے پائی ہے آب حیات کی\n\nاس سر سے غیر سر نہیں واقف کوئی غرض\nلذت بیاں میں آتی نہیں تیری لات کی\n\nچوں زندگی و مرگ ہیں آپس میں ضد حسنؔ\nچشم و لب اس کی ضد ہے حیات و ممات کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "اس کا جلوہ جو کوئی دیکھنے والا ہوتا", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کا جلوہ جو کوئی دیکھنے والا ہوتا\nوعدۂ دید قیامت پہ نہ ٹالا ہوتا\n\nبام پر تھے وہ کھڑے لطف دوبالا ہوتا\nمجھ کو بھی دل نے اچھل کر جو اچھالا ہوتا\n\nکیسے خوش رنگ ہیں زخم جگر و داغ جگر\nہم دکھاتے جو کوئی دیکھنے والا ہوتا\n\nدل نہ سنبھلا تھا اگر دیکھ کے جلوہ اس کا\nتو نے اے درد جگر اٹھ کے سنبھالا ہوتا\n\nتم جو پردے میں سنورتے ہو نتیجہ کیا ہے\nلطف جب تھا کہ کوئی دیکھنے والا ہوتا\n\nتم نے ارمان ہمارا نہ نکالا نہ سہی\nاپنے خنجر کا تو ارمان نکالا ہوتا\n\nدل کے ہاتھوں نہ ملا چین کسی روز جلیلؔ\nایسے دشمن کو نہ آغوش میں پالا ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اس کا حال کمر کھلا ہمدم", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کا حال کمر کھلا ہمدم\nہم کو ملک عدم ملا ہمدم\n\nحال دل مہرؔ کا کھلا ہمدم\nدرد ہمدرد دل ہوا ہمدم\n\nوالہ کاکل رسا ہمدم\nسر سودا کا ہو رہا ہمدم\n\nدرد ہم کو ہوا دوا ہمدم\nاور للہ دل دکھا ہمدم\n\nدل کا حاصل ہو مدعا ہمدم\nرحم کر آ ادھر کو آ ہمدم\n\nاللہ اللہ لالہ‌‌ٔ کہسار\nگل لوح لحد ہوا ہمدم\n\nموسم گل ہو کوہ صحرا ہو\nسر ہو سودا ہو ولولا ہمدم\n\nہم کو دور‌ سرور وعدۂ وصل\nدور ہوگا مدام کا ہمدم\n\nحکم ہم کو ہوا کہ گل کھاؤ\nواہ واہ اور گل کھلا ہمدم\n\nہوگا معلوم حال روح اللہ\nلعل‌ دل دار گر ہلا ہمدم\n\nاللہ اللہ آہ‌ سرد سحر\nگرم کس کس طرح ہوا ہمدم\n\nکس طرح کا معاملہ ہوگا\nوصل اس کا اگر ہوا ہمدم\n\nکس طرح طالع عدو ہو سعد\nکس طرح الو ہو ہما ہمدم\n\nہم کو اس لعل کا دکھا عالم\nمسکرا کر لہو رلا ہمدم\n\nدام کاکل ہو سلسلہ ہمدم\nگر سر مو گرہ ہو وا ہمدم\n\nدل کا وہ حال اس کا وہ عالم\nکس کا ہو ہم کو آسرا ہمدم\n\nرکھو مہرؔ اس کو لکھو اور طرح\nدور کلک مدام لا ہمدم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%85%D8%AF%D9%85"} {"title": "اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا\nاے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا\n\nہم کشتگان عشق ہیں ابرو و چشم یار\nسر سے ہمارے تیغ کا سایہ نہ جائے گا\n\nہم رہروان راہ فنا ہیں برنگ عمر\nجاویں گے ایسے کھوج بھی پایا نہ جائے گا\n\nپھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دل\nتو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا\n\nاپنے شہید ناز سے بس ہاتھ اٹھا کہ پھر\nدیوان حشر میں اسے لایا نہ جائے گا\n\nاب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک\nپھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا\n\nہم بے خود ان محفل تصویر اب گئے\nآئندہ ہم سے آپ میں آیا نہ جائے گا\n\nگو بے ستوں کو ٹال دے آگے سے کوہ کن\nسنگ گران عشق اٹھایا نہ جائے گا\n\nہم تو گئے تھے شیخ کو انسان بوجھ کر\nپر اب سے خانقاہ میں جایا نہ جائے گا\n\nیاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ\nنادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا\nقسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا\n\nکن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک\nمژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا\n\nآوے جو مصطبہ میں تو سن لو کہ راہ سے\nواعظ کو ایک جام مئے ناب لے گیا\n\nنے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوش\nآیا جو سیل عشق سب اسباب لے گیا\n\nمیرے حضور شمع نے گریہ جو سر کیا\nرویا میں اس قدر کہ مجھے آب لے گیا\n\nاحوال اس شکار زبوں کا ہے جائے رحم\nجس ناتواں کو مفت نہ قصاب لے گیا\n\nمنہ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئے\nشب ہم کو میرؔ پرتو مہتاب لے گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%84%DB%92_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اس کا مزاج پوچھو جو ہر وقت پاس ہے", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کا مزاج پوچھو جو ہر وقت پاس ہے\nاس کی بلا سے دل جو ہمارا اداس ہے\n\nپوشاک سے بدن کی تجلی ہے آشکار\nفانوس شمع طور تمہارا لباس ہے\n\nدل توڑ کر وہ نشہ میں کہتے ہیں ناز سے\nکس کام کا رہا ہے یہ ٹوٹا گلاس ہے\n\nفرمائیے مزاج مبارک ہے کس طرح\nکچھ خیر تو ہے کس لیے چہرہ اداس ہے\n\nمدت کے بعد آج تو تنہا ملے حضور\nاس پر بھی پوچھتے ہیں کہ کیا التماس ہے\n\nتلوار کی ہے قدر شناسی کے دم کے ساتھ\nجوہرؔ کو جانتا ہے جو جوہر شناس ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D8%B1_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%DB%81%DB%92"} {"title": "اس کا پتی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "لوگ کہتے تھے کہ نتھو کا سر اس لیے گنجا ہوا ہے کہ وہ ہر وقت سوچتا رہتا ہے۔ اس بیان میں کافی صداقت ہےکیونکہ سوچتے وقت نتھو سر کھجلایا کرتا ہے۔ چونکہ اس کے بال بہت کھردرے اور خشک ہیں اور تیل نہ ملنے کے باعث بہت خستہ ہو گئے ہیں اس لیے بار بار کھجلانے سے اس کے سر کا درمیانی حصّہ بالوں سے بالکل بے نیاز ہو گیا ہے۔ اگر اس کا سر ہر روز دھویا جاتا تو یہ حصّہ ضرور چمکتا مگر میل کی زیادتی کے باعث اس کی حالت بالکل اس توے کی سی ہو گئی ہے جس پر ہر روز روٹیاں پکائی جائیں مگر اسے صاف نہ کیا جائے۔\n\nنتھو بھٹے پر اینٹیں بنانے کا کام کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر اپنے خیالات کو کچی اینٹیں سمجھتا تھا اور کسی پر فوراً ہی ظاہر نہیں کیا کرتا تھا۔ اس کا یہ اصول تھا کہ خیال کو اچھی طرح پکا کر باہر نکالنا چاہیے تاکہ جس عمارت میں بھی وہ استعمال ہو اس کا ایک مضبوط حصّہ بن جائے۔گاؤں والے اس کے خیالات کی قدر کرتے تھے اور مشکل بات میں اس سے مشورہ لیا کرتے تھے لیکن اس قدر حوصلہ افزائی سے نتھو اپنے آپ کو اہم نہیں سمجھنے لگا تھا۔ جس طرح گاؤں میں شمبھو کا کام ہر وقت لڑتے جھگڑتے رہنا تھا اسی طرح اس کا کام ہر وقت دوسروں کو مشورہ دیتے رہنا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ ہر شخص صرف ایک کام لیے پیدا ہوتا ہے چنانچہ شمبھو کے بارے میں چوپال پر جب کبھی ذکر چھڑتا تو وہ ہمیشہ یہی کہا کرتا تھا، ’’کھاد کتنی بدبودار چیزوں سے بنتی ہے پر کھیتی باڑی اس کے بنا ہو ہی نہیں سکتی۔ شمبھو کے ہر سانس میں گالیوں کی باس آتی ہے، ٹھیک ہے، پر گاؤں کی چہل پہل اور رونق بھی اسی کے دم سے قائم ہے۔۔۔ اگر وہ نہ ہو تو لوگوں کو کیسے معلوم ہو کہ گالیاں کیا ہوتی ہیں۔ اچھے بول جاننے کے ساتھ ساتھ برے بول بھی معلوم ہونے چاہئیں۔‘‘\n\nنتھو بھٹے سے واپس آ رہا تھا اور حسبِ معمول سر کھجلاتا گاؤں کے کسی مسئلے پر غورو فکر کر رہا تھا۔ لالٹین کے کھمبے کے پاس پہنچ کر اس نے اپنا ہاتھ سر سے علیحدہ کیا جس کی انگلیوں سے وہ بالوں کا ایک میل بھرا گچھا مروڑ رہا تھا۔ وہ اپنے جھونپڑے کے تازہ لپے ہوئے چبوترے کی طرف بڑھنے ہی والا تھا کہ سامنے سے اسے کسی نے آواز دی۔نتھو پلٹا اور اپنے سامنے والے جھونپڑے کی طرف بڑھا جہاں مادھو اسے ہاتھ کے اشارے سے بلا رہا تھا۔\n\nجھونپڑے کے چھجے کے نیچے چبوترے پر مادھو،اس کا لنگڑا بھائی اور چوہدری بیٹھے تھے۔ ان کے اندازِ نشست سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ کوئی نہایت ہی اہم بات سوچ رہے ہیں۔ سب کے چہرے کچی اینٹوں کے مانند پیلے تھے۔ مادھو تو بہت دنوں کا بیمار دکھائی دیتا تھا۔ ایک کونے میں طاقچے کے نیچے روپا کی ماں بیٹھی ہوئی تھی۔ غلیظ کپڑوں میں وہ میلے کپڑوں کی ایک گٹھڑی دکھائی دے رہی تھی۔ نتھو نے دور ہی سے معاملے کی نزاکت محسوس کی اور قدم تیز کرکے ان کے پاس پہنچ گیا۔\n\nمادھو نے اشارے سے اسے اپنے پاس بیٹھنے کو کہا۔ نتھو بیٹھ گیا اور اس کا ایک ہاتھ غیر ارادی طور پر اپنے بالوں کے اس گچھے کی طرف بڑھ گیا جس کی جڑیں کافی ہل چکی تھیں۔ اب وہ ان لوگوں کی باتیں سننے کے لیے بالکل تیار تھا۔مادھو اس کو اپنے پاس بٹھا کر خاموش ہو گیامگر اس کے کپکپاتے ہوئے ہونٹ صاف ظاہر کر رہے تھے کہ وہ کچھ کہنا چاہتا ہےلیکن فوراً نہیں کہہ سکتا۔ مادھو کا لنگڑا بھائی بھی خاموش تھا۔ اور بار بار اپنی کٹی ہوئی ٹانگ کے آخری ٹنڈ منڈ حصّے پر جو گوشت کا ایک بدشکل لوتھڑا سا بنا ہوا تھا، ہاتھ پھیر رہا تھا۔ روپا کی ماں طاقچے میں رکھی ہوئی مورتی کے مانند گونگی بنی ہوئی تھی۔ اور چوہدری اپنی مونچھوں کو تاؤ دینا بھول کر زمین پر لکیریں بنا رہا تھا۔\n\nنتھو نے خود ہی بات شروع کی،’’تو۔۔۔‘‘\n\nمادھو بولا،’’نتھو بات یہ ہے کہ۔۔۔ بات یہ ہے کہ۔۔۔ اب میں تمہیں کیا بتاؤں کہ بات کیا ہے۔۔۔ میں کچھ کہنے کے قابل نہ رہا۔۔۔ چوہدری! تم ہی جی کڑا کرکے سارا قصّہ سنا دو۔‘‘ نتھو نے گردن اٹھا کر چوہدری کی طرف دیکھا مگر وہ کچھ نہ بولا اور زمین پر لکیریں بناتا رہا۔دوپہر کی اداس فضا بالکل خاموش تھی البتہ کبھی کبھی چیلوں کی چیخیں سنائی دیتی تھیں اور جھونپڑے کے داہنے ہاتھ گھورے پر جو مرغ کوڑے کو کرید رہا تھا،کبھی کبھی کسی مرغی کو دیکھ کر بول اٹھتا تھا۔چند لمحات تک جھونپڑے کے چھجے کے نیچے سب خاموش رہےاور نتھو معاملے کی نزاکت اچھی طرح سمجھ گیا۔\n\nروپا کی ماں نے رونی آواز میں کہا،’’میرے پھوٹے بھاگ۔۔۔! اس کو تو جو کچھ ا جڑنا تھا اجڑی، مجھ ابھاگن کی ساری دنیا برباد ہو گئی۔۔۔کیا اب کچھ نہیں ہوسکتا؟‘‘ مادھو نے کندھے ہلا دئیے اور نتھو سے مخاطب ہو کر کہا،’’کیا ہو سکتا ہے۔۔۔؟بھئی میں یہ کلنک کا ٹیکہ اپنے ماتھے پر لگانا نہیں چاہتا۔۔۔ میں نے جب اپنے لالو کی بات روپا سے پکی کی تھی تو مجھے یہ قصّہ معلوم نہیں تھا۔۔۔ اب تم لوگ خود ہی وچار کرو کہ سب کچھ جانتے ہوئے میں اپنے بیٹے کا بیاہ روپا سے کیسے کر سکتا ہوں؟‘‘\n\nیہ سن کر نتھو کی گردن اٹھی۔ وہ شاید یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ لالو کا بیاہ کیا ہو گیا کہ روپا لالو کے قابل نہیں رہی ۔وہ روپا اور لالو کو اچھی جانتا تھااور سچ پوچھو تو گاؤں میں ہر شخص ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ کون سی بات تھی جو اسے ان دونوں کے بارے میں معلوم نہ تھی۔ روپا اس کی آنکھوں کے سامنے پھولی پھلی، بڑھی اور جوان ہوئی۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ اس نے اس کے گال پر ایک زور کا دھپّا بھی مارا تھا اور اس کو اتنی مجال نہ ہوئی تھی کہ چوں بھی کرے۔ حالانکہ گاؤں کے سب چھوکریاں چھوکرے گستاخ تھے اور بڑوں کا بالکل ادب نہ کرتے تھے۔ روپا تو بڑی بھولی بھالی لڑکی تھی۔ باتیں بھی بہت کم کرتی تھی اور اس کے چہرے پر بھی کوئی ایسی علامت نہ تھی جس سے یہ پتہ چلتا کہ وہ کوئی شرارت بھی کر سکتی ہے پھر آج اس کی بابت یہ باتیں کیوں ہو رہی تھیں۔\n\nنتھو کو گاؤں کے ہر جھونپڑے اور اس کے اندر رہنے والوں کا حال معلوم تھا۔ مثال کے طور پر اسے معلوم تھا کہ چوہدری کی گائے نے صبح سویرے ایک بچھڑا دیا ہے اور مادھو کے لنگڑے بھائی کی بیساکھی ٹوٹ گئی ہے۔ گاما حلوائی اپنی مونچھوں کے بال چنوا رہا تھا کہ اس کے ہاتھ سے آئینہ گر کر ٹوٹ گیااور ایک سیر دودھ کے پیسے نائی کو بطور قیمت دینا پڑے۔۔۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ دواپلوں پر ،پرسرام اور گنگو کی چخ پخ ہوتے ہوتے رہ گئی تھی۔ اور سالگ رام نے اپنے بچوں کو پاپڑ بھون کر کھلائے تھے حالانکہ وید جی نے منع کیا تھا کہ ان کو مرچوں والی کوئی چیز نہ دی جائے۔ نتھو حیران تھا کہ ایسی کونسی بات ہے جو اسے معلوم نہیں۔ یہ تمام خیالات اس کے دماغ میں ایک دم آئے اور وہ مادھو کاکا سے اپنی حیرت دور کرنے کی خاطر کوئی سوال کرنے ہی والا تھا کہ چوہدری نے زمین پر طوطے کی شکل کرتے ہوئے کہا، ’’کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ تھوڑے ہی دنوں میں وہ بچے کی ماں بن جائے گی۔‘‘\n\nتو یہ بات تھی۔ نتھو کے دل پر ایک گھونسہ سا لگا۔ اسے ایسا محسوس ہوا کہ دوپہر کی دھوپ میں اڑنے والی ساری چیلیں اس کے دماغ میں گھس کر چیخنے لگی ہیں۔ اس نے اپنے بال زیادہ تیزی سے مروڑنے شروع کر دئیے۔\n\nمادھو کاکا، نتھو کی طرف جھکا اور بڑے دکھ بھرے لہجے میں اس سے کہنے لگا، ’’بیٹاتمہیں یہ بات تو معلوم ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کی بات روپا سے پکی کی تھی۔ اب میں تم سے کیا کہوں۔۔۔ذرا کان ادھر لاؤ۔ ‘‘اس نے ہولے سے نتھو کے کان میں کچھ کہااور پھر اسی لہجے میں کہنے لگا،’’کتنی شرم کی بات ہے،میں تو کہیں کا نہ رہا۔ یہ میرا بڑھاپا اور یہ جان لیوا دکھ، اور تو اور لالو کو بتاؤ کتنا دکھ ہوا ہو گا۔۔۔ تمہیں انصاف کروکہ لالو کی شادی اب اس سے ہو سکتی ہے۔۔۔ لالو کی شادی تو ایک طرف رہی، کیا ایسی لڑکی ہمارے گاؤں میں رہ سکتی ہے۔۔۔ کیا اس کے لیے ہمارے یہاں کوئی جگہ ہے؟‘‘\n\nنتھو نے سارے گاؤں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی اور اسے ایسی جگہ نظر نہ آئی جہاں روپا اپنے پاپ سمیت رہ سکتی تھی۔ البتہ اس کا ایک جھونپڑا تھا جس میں وہ چاہے کسی کو بھی رکھتا۔ پچھلے برس اس نے کوڑھی کو اس میں پناہ دی تھی حالانکہ سارا گاؤں اسے روک رہا تھا اور اسے ڈرا رہا تھاکہ دیکھو یہ بیماری بڑی چھوت والی ہوتی ہے ،ایسا نہ ہو کہ تمہیں چمٹ جائے لیکن وہ اپنی مرضی کا مالک تھا۔ اس نے وہی کچھ کیا جو اس کے من نے اچھا سمجھا۔ کوڑھی اس کے گھر میں پورے چھ مہینے رہ کر مر گیا لیکن اسے بیماری ویماری بالکل نہ لگی۔ اگر گاؤں میں روپا کے لیے کوئی جگہ نہ رہے تو کیا اس کا یہ مطلب تھا کہ اسے ماری ماری پھرنے دیا جائے۔ ہر گز نہیں، نتھو اس بات کا قائل نہیں تھا کہ دکھی پر۔۔۔اور دکھ لاد دئیے جائیں۔ اس کے جھونپڑے میں ہر وقت اس کے لیے جگہ تھی۔\n\nوہ چھ مہینے تک ایک کوڑھی کی تیمارداری کر سکتا تھا اور روپا کوڑھی تو نہیں تھی۔۔۔ کوڑھی تو نہیں تھی، یہ سوچتے ہوئے نتھو کا دماغ ایک گہری بات سوچنے لگا۔۔۔ روپا کوڑھی نہیں تھی، اس لیے وہ ہمدردی کی زیادہ مستحق بھی نہیں تھی۔ اسے کیا روگ ہے۔۔۔؟کچھ بھی نہیں جیسا کہ یہ لوگ کہہ رہے تھے وہ تھوڑے ہی دنوں میں بچے کی ماں بننے والی تھی، پر یہ بھی کوئی روگ ہے اور کیا ماں بننا کوئی پاپ ہے؟ ہر لڑکی عورت بننا چاہتی ہے اور عورت ماں، اس کی اپنی استری ماں بننے کے لیے تڑپ رہی تھی اور وہ خود یہ چاہتا تھا کہ وہ جلدی ماں بن جائے۔ اس لحاظ سے بھی روپا کا ماں بننا کوئی ایسا جرم نہیں تھا جس پر اسے کوئی سزا دی جائے یا پھر اسے رحم کا مستحق قرار دیا جائے۔ وہ ایک کے بجائے دو بچے جنے۔ اس سے کسی کا کیا بگڑتا تھا۔\n\nوہ عورت ہی تو تھی۔ مندر میں گڑی ہوئی دیوی تو تھی نہیں اور پھر یہ لوگ خواہ مخواہ کیوں اپنی جان ہلکان کر رہے تھے۔ مادھو کاکا کے لڑکے سے اس کی شادی ہوتی تو بھی کبھی نہ کبھی بچہ ضرور پیدا ہوتا۔ اب کونسی آفت آ گئی تھی۔ یہ بچہ جو اب اس کے پیٹ میں تھا،کہیں سے اُڑ کر تو نہیں آ گیا۔ شادی بیاہ ضرور ہوا ہو گا۔ یہ لوگ باہر بیٹھے آپ ہی فیصلہ کر رہے ہیں اور جس کی بابت فیصلہ ہو رہا ہے، اس سے کچھ پوچھتے ہی نہیں۔ گویا وہ بچہ نہیں بلکہ یہ خود جن رہے ہیں۔ عجیب بات تھی، اور پھر ان کو بچے کی کیا فکر پڑ گئی تھی۔ بچے کی فکر یا تو ماں کرتی ہے یا اس کا باپ۔۔۔ باپ۔۔۔؟ اور مزہ دیکھیے کہ کوئی بچے کے باپ کی بات ہی نہیں کرتا تھا۔\n\nیہ سوچتے ہوئے نتھو کے دماغ میں ایک بات آئی اور اس نے مادھو کاکا سے کہا، ’’جو کچھ تم نے کہا، اس سے مجھے بڑا دکھ ہوا، پر تم نے یہ کیسے کہہ دیا کہ روپا کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں۔۔۔ ہم سب اپنے اپنے جھونپڑوں کو تالے لگا دیں تو بھی اس کے لیے ایک دروازہ کھلا رہتا ہے۔‘‘چوہدری نے زمین پر طوطے کی آنکھ بناتے ہوئے کہا، ’’توبہ کا!‘‘ نتھو نے جواب دیا،’’ان کے لیے جو پاپی ہوں۔۔۔روپا نے کوئی پاپ نہیں کیا۔ وہ نردوش ہے!‘‘ چوہدری نے حیرت سے مادھو کاکا کی طرف دیکھا اور کہا،’’اس نے پوری بات نہیں سنی۔‘‘مادھو کا لنگڑا بھائی اپنی کٹی ہوئی ٹانگ پر ہاتھ پھیرتا رہا۔\n\nنتھو روپا کی ماں سے مخاطب ہوا،’’ابھی سن لیتا ہوں۔۔۔ روپا کہاں ہے؟‘‘روپا کی ماں نے اپنی کھردری انگلیوں سے آنسو پونچھے اور کہا، ’’اندر بیٹھی اپنے نصیبوں کو رو رہی ہے۔‘‘یہ سن کر نتھو نے اپنا سر ایک بار زور سے کھجلایا اور اٹھ کر کمرے کے اندر چلا گیا۔روپا اندھیری کوٹھری کے ایک کونے میں سر جھکائے بیٹھی تھی۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ میلے کچیلے کپڑوں میں اندھیرے کے اندر وہ گیلی مٹی کا ڈھیر سا دکھائی دے رہی تھی۔ جو باتیں باہر ہو رہی تھیں ،ان کا ایک ایک لفظ اس نے سنا تھا حالانکہ اس کے کان اس کے اپنے دل کی باتیں سننے میں لگے ہوئے تھے جو کسی طرح ختم ہی نہ ہوتی تھیں۔ نتھو اندر آنے کے لیے اٹھا تو وہ دوڑ کر سامنے کی کھٹیا پر جا پڑی اور گدڑی میں اپنا سر منہ چھپا لیا۔\n\nنتھو نے جب دیکھا کہ روپا چھپ گئی ہے تو اسے بڑی حیرت ہوئی۔ اس نے پوچھا، ’’ارے مجھ سے کیوں چھپتی ہو؟‘‘روپا رونے لگی اور اپنے آپ کو کپڑے میں اور لپیٹ لیا۔ وہ بغیر آواز کے رو رہی تھی مگر نتھو کو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ روپا کے آنسو اس کے تپتے ہوئے دل پر گر رہے ہیں۔ اس نے گدڑی کے اس حصّہ پر ہاتھ پھیرا جس کے نیچے روپا کا سر تھااور کہا،’’تم مجھ سے کیوں چھپتی ہو؟‘‘\n\nروپا نے سسکیوں میں جواب دیا، ’’روپا نہیں چھپتی نتھو۔۔۔! وہ اپنے پاپ کو چھپا رہی ہے۔‘‘ نتھو اس کے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا، ’’کیسا پاپ۔۔۔ تم نے کوئی پاپ نہیں کیا۔۔۔ اور اگر کیا بھی ہو تو اسے چھپانا چاہئے، یہ تو خود ایک پاپ ہے۔۔۔میں تم سے صرف ایک بات پوچھنے آیا ہوں۔ مجھے یہ بتا دو کہ کس نے تمہاری سدا ہنستی آنکھوں میں یہ آنسو بھر دیے ہیں۔ کس نے اس بالی عمر میں تمہیں پاپ اور پن کے جھگڑے میں پھنسا دیا ہے؟‘‘\n\n’’میں کیا کہوں؟ ‘‘روپا یہ کہہ کر گدڑی میں اور سمٹ گئی۔ نتھو بولتا تھا اور روپا کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کوئی اسے اکٹھا کر رہا ہے ،اسے سکیڑ رہا ہے۔\n\nنتھو نے بڑی مشکل سے روپا کے منہ سے کپڑا ہٹایا اور اس کو اٹھا کر بٹھا دیا۔روپا نے دونوں ہاتھوں میں اپنے منہ کو چھپا لیا اور زور زور سے رونا شروع کر دیا۔ اس سے نتھو کو بہت دکھ ہوا۔ ایک تو پہلے اسے یہ چیز ستا رہی تھی کہ ساری بات اس کے ذہن میں مکمل طور پر نہیں آتی۔ اور دوسرے روپا اس کے سامنے رو رہی تھی۔ اگر اسے ساری بات معلوم ہوتی تو وہ اس کے یہ آنسو روکنے کی کوشش کر سکتا تھا جو میلی گدڑی میں جذب ہو رہے تھے۔ مگر اس کو سوائے اس کے اور کچھ معلوم نہیں تھاکہ روپا تھوڑے ہی دنوں میں بچے کی ماں بننے والی ہے۔\n\nاس نے پھر اس سے کہا،’’روپا تم مجھے بتاتی کیوں نہیں ہو۔۔۔ نتھو بھیّا تم سے پوچھ رہا ہے اور وہ کوئی غیر تھوڑی ہے، جو تم یوں اپنے من کو چھپا رہی ہو۔۔۔ تم روتی کیوں ہو۔ غلطی ہو ہی جایا کرتی ہے۔۔۔ لالو کی کسی اور سے شادی ہو جائے گی اور تم اپنی جگہ خوش رہو گی۔۔۔ تمہیں دنیا کا ڈر ہے تو میں کہوں گا کہ تم بالکل بیوقوف ہو، لوگوں کے جو جی میں آئے کہیں،تمہیں اس سے کیا۔۔۔ رونے دھونے سے کچھ نہیں ہو گا روپا، آنسو بھری آنکھوں سے نہ تم مجھے ہی ٹھیک طور سے دیکھ سکتی ہو اور نہ اپنے آپ کو۔۔۔ رونا بند کرو اور مجھے ساری بات بتاؤ۔‘‘\n\nروپا کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ وہ اس سے کیا کہے، وہ دل میں سوچتی تھی کہ اب ایسی کون سی بات رہ گئی ہے جو دنیا کو معلوم نہیں۔ یہی سوچتے ہوئے اس نے نتھو سے کہا، ’’نتھو بھیّا، مجھ سے زیادہ تو دوسروں کو معلوم ہے۔ میں تو صرف اتنا جانتی ہوں کہ جو کچھ میں سوچتی تھی ایک سپنا تھا، یوں تو ہر چیز سپنا ہوتی تھی پر یہ سپنا بڑا ہی عجیب ہے۔ کیسے شروع ہوا۔، کیونکر ختم ہوا۔ اس کا کچھ پتہ ہی نہیں چلتا۔ بس ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام دن جو میں کبھی خوشی سے گزارتی تھی، آنکھوں میں آنسو بننا شروع ہو گئے ہیں۔۔۔ میں گھڑا لے کر اچھلتی کودتی، گاتی کنوئیں پر پانی بھرنے گئی۔ پانی بھر کر جب واپس آنے لگی تو ٹھوکر لگی اور گھڑا چکنا چور ہو گیا۔ مجھے بڑا دکھ ہوا۔ میں نے چاہا کہ اس ٹوٹے ہوئے گھڑے کے ٹکڑے اٹھا کر جھولی میں بھر لوں پر لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا، نقصان میرا ہوا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ مجھ سے ہمدردی کرتے،پر انھوں نے الٹا مجھے ہی ڈانٹنا شروع کر دیا۔ گویا گھڑا ان کا تھا اور توڑنے والی میں تھی اور اس روڑے کا کوئی قصور ہی نہ تھا جو راستے میں پڑا تھا۔ اور جس سے دوسرے بھی ٹھوکر کھا سکتے تھے۔۔۔تم مجھ سے کچھ نہ پوچھو مجھے کچھ یاد نہیں رہا۔‘‘\n\nنتھو کی انگلیاں زیادہ تیزی سے بالوں کا گچھا مروڑنے لگیں۔ اس نے بڑے اضطراب سے کہا، ’’میں صرف پوچھتا ہوں کہ وہ ہے کون؟‘‘\n\n’’کون؟‘‘\n\n’’وہی۔۔۔ وہی۔۔۔‘‘ روپا اس سے آگے کچھ نہ کہہ سکی۔\n\nروپا کے سینے سے ایک بے اختیار آہ نکل گئی،’’ وہ پہلے جتنا نزدیک تھا اب اتنا ہی دور ہے!‘‘\n\n’’میں اس کا نام پوچھتا ہوں۔۔۔ اور جانتی ہو میں تم سے اس کا نام کیوں پوچھتا ہوں۔۔۔؟ اس لیے کہ وہ تمہارا پتی ہے۔۔۔ اور تم اس کی پتنی ہو۔۔۔تم اس کی ہو اور وہ تمہارا۔۔۔ یہ۔۔۔ ‘‘\n\nنتھو اس کے آگے کچھ کہنے ہی والا ہے کہ روپا نے دیوانہ وار اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور پھٹے ہوئے لہجہ میں کہا، ’’ہولے ہولے بولو نتھو۔۔۔ہولے ہولے بولو، کہیں وہ۔۔۔ جو میرے ہردے میں نیاجیو ہے، نہ سن لے کہ اس کی ماں پاپن ہے۔۔۔ نتھو اسی ڈر کے مارے تو میں زیادہ سوچتی نہیں، زیادہ غم نہیں کرتی کہ اس کو کچھ معلوم نہ ہو۔۔۔ پر بیٹھے بیٹھے کبھی میرے من میں آتا ہے کہ ڈوب مروں، اپنا گلا گھونٹ لوں، یا پھر زہر کھا کے مر جاؤں۔۔۔‘‘\n\nنتھو نے اٹھ کر ٹہلنا شروع کر دیا۔ وہ سوچ رہا تھا۔ ایک دو سیکنڈ غور کرنے کے بعد اس نے کہا،’’کبھی نہیں، میں تمہیں کبھی مرنے نہ دوں گا۔ تم کیوں مرو۔ یوں تو موت سے چھٹکارا نہیں، سب کو ایک دن مرنا ہے۔ پر اسی لیے تو جینا بھی ضروری ہے۔۔۔ میں کچھ پڑھا نہیں، میں کوئی پنڈت نہیں، پر جو کچھ میں نے کہا ہے ٹھیک ہے، تم مجھے اس کا نام بتا دو۔ میں تمہیں اس کے پاس لے چلوں گا۔ اور اسے مجبور کروں گاکہ وہ تمہارے ساتھ بیاہ کر لے اور تمہیں اپنے پاس رکھے۔۔۔ وہی تمہارا پتی ہے!‘‘\n\nنتھو پھر روپا کے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا، ’’لو میرے کان میں کہہ دو۔۔۔ وہ کون ہے۔۔۔؟ روپا کیا تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں، کیا تمہیں یقین نہیں آتا کہ میں تمہارے لیے کچھ کر سکوں گا۔‘‘روپا نے جواب دیا،’’تم میرے لیے سب کچھ کر سکتے ہو نتھو، پر جس آدمی کے پاس تم مجھے لے جانا چاہتے ہو،کیا وہ بھی کچھ کرے گا۔۔۔؟وہ مجھے بھول بھی چکا ہو گا۔‘‘ نتھو نے کہا، ’’تمہیں دیکھتے ہی اسے سب کچھ یاد آ جائے گا۔۔۔ باقی چیزوں کی یاد اسے میں دلا دوں گا۔۔۔ تم مجھے اس کا نام تو بتاؤ۔۔۔ یہ ٹھیک ہے کہ استری اپنے پتی کا نام نہیں لیتی۔ پر ایسے موقع پر تمہیں کوئی لاج نہ آنی چاہیے۔‘‘\n\nروپا خاموش رہی، اس پر نتھو اور زیادہ مضطرب ہو گیا، ’’میں تمہیں ایک سیدھی سادی بات سمجھاتا ہوں اور تم سمجھتی ہی نہیں ہو، پگلی، جو تمہارے بچے کا باپ ہے وہی تمہارا پتی ہے۔۔۔ اب میں تمہیں کیسے سمجھاؤں۔ تم تو بس آنسو بہائے جاتی ہو، کچھ سنتی ہی نہیں ہو۔۔۔میں پوچھتا ہوں، اس کا نام بتانے میں ہرج ہی کیا ہے۔۔۔لو، تم نے اور رونا شروع کر دیا۔ اچھا بھئی میں زیادہ باتیں نہیں کرتا۔ تم یہ بتا دو کہ وہ ہے کون۔۔۔تم مان لو۔ میں اس کا کان پکڑ کر سیدھے راستے پر لے آؤں گا۔‘‘\n\nروپا نے سسکیوں میں کہا، ’’تم بار بار پتی نہ کہو نتھو۔۔۔ میری جوانی میری آشا، میری دنیا، کبھی کی ودھوا ہو چکی ہے۔۔۔ تم میری مانگ میں سیندور بھرنا چاہتے ہو اور میں چاہتی ہوں کہ سارے بال ہی نوچ ڈالوں۔۔۔ نتھو اب کچھ نہیں ہو سکے گا۔۔۔ میری جھولی کے بیر زمین پر گر کر۔۔۔ سب کے سب موری میں جا پڑے ہیں۔ اب انھیں باہر نکالنے سے کیا فائدہ۔۔۔ اس کا نام پوچھ کر تم کیا کرو گے۔۔۔ لوگ تو میرا نام بھول جانا چاہتے ہیں۔‘‘\n\nنتھو تنگ آگیا اور تیز لہجے میں کہنے لگا، ’’تم۔۔۔ تم بیوقوف ہو۔۔۔ میں تم سے کچھ نہیں پوچھوں گا۔‘‘وہ اٹھ کر جانے لگا تو رُوپا نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا۔ ایسا کرتے ہوئے اُس کا رنگ زرد پڑ گیا۔نتھو نے اس کی گیلی آنکھوں کی طرف دیکھا،’’بولو؟‘‘ روپا بولی،’’نتھو بھیّا، مجھے مارو، خوب پیٹو۔ شاید اس طرح میں اس کا نام بتا دوں۔۔۔ تمہیں یاد ہو گا، ایک بار میں نے بچپن میں مندر کے ایک پیڑ سے کچے آم توڑے تھے۔ اور تم نے ایک ہی چانٹا مار کر مجھ سے سچی بات کہلوائی تھی۔۔۔ آؤ مجھے مارو۔۔۔یہ چور جسے میں نے اپنے من میں پناہ دے رکھی ہے بغیر مار کے باہر نہیں نکلے گا۔‘‘\n\nنتھو خاموش رہا۔ ایک لحظے کے لیے اس نے کچھ سوچا پھر ایکا ایکی اس نے روپا کے پیلے گال پر اس زور سے تھپڑ مارا کہ چھت کے چند سوکھے اور گرد سے اٹے تنکے دھمک کے مارے نیچے گر پڑے۔ نتھو کی سخت انگلیوں نے روپا کے گال پر کئی نہریں کھود دیں۔ نتھو نے گرج کر پوچھا،’’بتاؤ وہ کون ہے؟‘‘\n\nجھونپڑے کے باہر مادھو کے لنگڑے بھائی کی آدھی ٹانگ کانپی۔ چوہدری جس تنکے سے زمین پر ایک اور طوطے کی شکل بنا رہا تھا۔ ہاتھ کانپنے کے باعث دہرا ہو گیا۔ مادھو کاکا نے کُلنگ کی طرح اپنی گردن اونچی کرکے جھونپڑے کے اندر دیکھا۔ اندر سے نتھو کی خشم آلود آواز آ رہی تھی مگر یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں مادھو کاکا، چوہدری اور لنگڑے کیشو نے آپس میں کئی باتیں کیں۔ آخر میں مادھو کاکا کا بھائی بیساکھی ٹیک کر اٹھا۔ وہ جھونپڑے میں جانے ہی والا تھا کہ نتھو باہر نکلا۔ کیشو ایک طرف ہٹ گیا۔ نتھو نے پلٹ کر اپنے پیچھے دیکھا اور کہا ،’’آؤ روپا پھر اس نے روپا کی ماں سے کہا، ’’ماں تم بالکل چنتا نہ کرو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ہم شام تک لوٹ آئیں گے۔‘‘\n\nکسی نے نتھو سے یہ نہ پوچھا کہ وہ روپا کو لے کر کدھر جا رہا ہے۔ مادھو کاکا کچھ پوچھنے ہی والا تھا کہ نتھو اور روپا دونوں چبوترے پر سے اتر کر موری کے اس پار جا چکے تھے۔ چنانچہ وہ اپنی مونچھ کے سفید بال نوچنے میں مصروف ہو گیا اور چوہدری نے کبڑے تنکےکو بڑے تنکے کو سیدھا کرنا شروع کر دیا۔\n\nبھٹے کے مالک لالہ گنیش داس کا لڑکا ستیش جسے بھٹے کے مزدور چھوٹے لالہ جی کہا کرتے تھے، اپنے کمرے میں اکیلا چائے پی رہا تھا۔ پاس ہی تپائی پر ایک کھلی ہوئی کتاب رکھی تھی جسے غالباً وہ پڑھ رہا تھا۔ کتاب کی جلد کی طرح اس کا چہرہ بھی جذبات سے خالی تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس نے اپنے چہرے پر غلاف چڑھا رکھا ہے، وہ ہر روز اپنے اندر ایک نیا ستیش پاتا تھا۔ وہ جاڑے اور گرمیوں کے درمیانی موسم کی طرح متغیر تھا۔ وہ گرم اور سرد لہروں کا ایک مجموعہ تھا۔ دوسرے دماغ سے سوچتے تھے لیکن وہ ہاتھوں اور پیروں سے سوچتا تھا۔ جہاں ہر شے کھیل نظر آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپنی زندگی کو گیند کی ماننداچھال رہا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اچھل کود ہی زندگی کا اصل مقصد ہے ،اس کو مسلنے میں بہت زیادہ مزا آتا ہے۔ ہر شے کو وہ مسل کر دیکھتا تھا۔\n\nعورتوں کے متعلق اس کا نظریہ یہ تھا کہ مرد خواہ کتنا ہی بوڑھا ہو جائے مگر اس کو عورت جوان ملنی چاہیے۔ عورت میں جوانی کو وہ اتنا ہی ضروری خیال کرتا تھاجتنا اپنے ٹینس کھیلنے والے ریکٹ میں بنے ہوئے جال کے اندر تناؤ کو۔ دوستوں کو کہا کرتا تھا،’’زندگی کے ساز کا ہر تار ہر وقت تنا ہونا چاہیے۔ تاکہ ذرا سی جنبش پر بھی وہ لرزنا شروع کر دے۔‘‘ یہ لرزش، یہ کپکپاہٹ جس سے ستیش کو اس قدر پیار تھا، دراصل اس کے گندے خون کے کھولاؤ کا نتیجہ تھی۔ جنسی خواہشات اس کے اندر اس قدر زیادہ ہو گئی تھیں کہ جوان حیوانوں کو دیکھ کر بھی اسے لذت محسوس ہوتی تھی۔ وہ جب اپنی گھوڑی کے جوان بچے کے کپکپاتے ہوئے بدن کو دیکھتا تھا تو اسے ناقابلِ بیان مسّرت حاصل ہوتی تھی۔ اس کو دیکھ کر کئی بار اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی تھی کہ وہ اپنا بدن اس کے تروتازہ بدن کے ساتھ گھسے۔\n\nستیش چائے پی رہا تھا اور دل ہی دل میں چائے دانی کی تعریف کر رہا تھا جو بے داغ سفید چینی کی بنی ہوئی تھی۔ ستیش کو داغ پسند نہیں تھے۔ وہ ہر شے میں ہمواری پسند کرتا تھا۔ صاف بدن عورتوں کو دیکھ کر وہ اکثر کہا کرتا تھا، ’’میری نگاہیں اس عورت پر کئی گھنٹے تیرتی رہیں۔۔۔ وہ کس قدر ہموار تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھاکہ شفاف پانی کی چھوٹی سی جھیل ہے۔\n\nیہ کمرہ جس میں اس وقت ستیش بیٹھا ہوا تھا، خاص طور پر اس کے لیے بنوایا گیا تھا۔ کمرے کے سامنے ٹینس کورٹ تھا۔ یہاں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہر روز شام کو ٹینس کھیلتا تھا۔ آج اس نے اپنے دوستوں سے کہہ دیا تھا کہ وہ ٹینس کھیلنے نہیں آئے گا کیونکہ اسے آج ایک دلچسپ کھیل کھیلنا تھا۔ بھنگی کی نوجوان لڑکی جس کے متعلق اس نے ایک روز اپنے دوست سے یہ کہا تھا،’’تم اسے دیکھو۔۔۔ سچ کہتا ہوں تمہاری نگاہیں اس کے چہرے پر سے پھسل پھسل جائیں گی۔ میری نگاہیں اس کو دیکھنے سے پہلے، اس کے کھردرے بالوں کو تھام لیتی ہیں تاکہ پھسل نہ جائیں۔۔۔‘‘ آج ایک مدت کے بعد ٹینس کورٹ میں اس سے خفیہ ملاقات کرنے کے لیے آ رہی تھی۔ وہ چائے پی رہا تھا اور اس کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ چائے میں اس جوان لڑکی کے سانولے رنگ کا عکس پڑ رہا تھا۔\n\nاس کے آنے کا وقت ہو گیا تھا۔ باہر سوکھے پتے کھڑکے تو ستیش نے پیالی میں سے چائے کا آخری گھونٹ پیا اور اس کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔۔۔!\n\nایک لمبا سا سایہ ٹینس کورٹ کے جھاڑو دیے ہوئے سینے پر متحرک ہوا اور لڑکی کی بجائے نتھو نمودار ہوا۔ستیش نے غور سے اس کی طرف دیکھا کہ آنے والا بھٹے کا ایک مزدور ہے۔ نتھو اپنے بالوں کا ایک گچھا انگلیوں سے مروڑ رہا تھا اور ٹینس کورٹ کی طرف بڑھا رہا تھا۔ ستیش کی کرسی برآمدے میں بچھی تھی۔ پاس پہنچ کر نتھو کھڑا ہو گیا اور ستیش کی طرف یوں دیکھنے لگاگویا چھوٹے لالہ جی کو اس کی آمد کی غرض و غایت اچھی طرح معلوم ہے۔\n\nستیش نے پوچھا، ’’کیا ہے؟‘‘\n\nنتھو خاموشی سے برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا، ’’چھوٹے لالہ جی! میں اسے لے کر آیا ہوں۔ اب آپ اُسے اپنے پاس رکھ لیجیے، گاؤں والے اُسے بہت تنگ کر رہے ہیں۔‘‘ ستیش حیران ہو گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ نتھو کیا کہہ رہا ہے۔ اس نے پوچھا،’’کسے۔۔۔؟ کسے تنگ کر رہے ہیں۔‘‘ نتھو نے جواب دیا،’’آپ۔۔۔ آپ۔۔۔ روپا کو۔۔۔ آپ کی پتنی کو۔‘‘\n\n’’میری پتنی؟‘‘ ستیش چکرا گیا۔ ’’میری پتنی۔۔۔ تیرا دماغ تو نہیں بہک گیا۔۔۔ یہ کیا بک رہا ہے۔۔۔‘‘ یہ کہتے ہی اس کے اندر۔۔۔ بہت اندر روپا کا خیال پیدا ہوا اور اسے یاد آیا کہ پچھلے ساون میں وہ ایک موٹی موٹی آنکھوں اور گدرائے ہوئے جسم والی ایک لڑکی سے کچھ دنوں کھیلا تھا۔ وہ دودھ لے کر شہر میں جایا کرتی تھی۔ ایک بار اس نے دودھ کی بوندیں اس کے ابھرتے ہوئے سینے پر ٹپکتی دیکھی تھیں اور۔۔۔ ہاں ہاں یہ روپا وہی لڑکی تھی۔ جس کے بارے میں اس نے ایک بار یہ خیال کیا تھا کہ وہ دودھ سے زیادہ ملائم ہے۔ اس کو حیرت بھی ہوتی تھی کہ یہ اینٹیں بنانے والے ایسی نرم و نازک لڑکیاں کیسے پیدا کر لیتے ہیں۔ وہ بھنگی کی لڑکی کو بھول سکتا تھا۔ سو شیلا کو فراموش کر سکتا تھا، جو ہر روز اُس کے ساتھ ٹینس کھیلتی تھی۔ وہ ہسپتال کی نرس کو بھول سکتا تھا جس کے سفید کپڑوں کا وہ معترف تھا۔ وہ اس۔۔۔لیکن روپا کو نہیں بھول سکتا تھا۔ اسے اچھی طرح یاد ہے کہ دوسری یا تیسری ملاقات پر جب کہ روپا نے اپنا آپ اس کے حوالے کر دیا تھا۔ تو اس کی ایک بات پر اسے بہت ہنسی آئی تھی۔ روپا نے اس سے کہا تھا، ’’چھوٹے لالہ جی!کل سندری چمارن کہہ رہی تھی، جلدی جلدی بیاہ کر لے ری۔ بڑا مزا آتا ہے۔۔۔ اسے کیا پتہ کہ میں بیاہ کر بھی چکی ہوں۔۔۔ ‘‘مگر روپا تھی کہاں؟ ستیش کی حیوانی حِس اس کا نام سنتے ہی بیدار ہو چکی تھی۔ گو ستیش کا دماغ معاملہ کی نزاکت کو سمجھ گیا تھا۔ مگر اس کا جسم صرف اپنی دلچسپی کی طرف متوجہ تھا۔\n\nستیش نے پوچھا، ’’کہاں ہے رُوپا؟‘‘\n\nنتھو اٹھ کھڑا ہوا، ’’باہر کھڑی ہے۔۔۔ میں ابھی اسے لاتا ہوں۔‘‘ستیش نے فوراً رعب دار لہجے میں کہا،’’خبردار جو اسے تو یہاں لایا۔۔۔ جا بھاگ جا یہاں سے۔‘‘\n\n’’پر۔۔۔ پر۔۔۔ چھوٹے لالہ جی وہ۔۔۔ وہ آپ کی پتنی ہو چکی ہے۔۔۔ بچے کی ماں بننے والی ہے اور بچہ آپ ہی کا تو ہو گا۔۔۔ آپ ہی کا تو ہو گا۔‘‘ نتھو نے تتلاتے ہوئے کہا۔\n\nتو روپا حاملہ ہو چکی تھی۔۔۔ ستیش کو قدرت کی یہ ستم ظریفی سخت ناپسند تھی اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ عورت اور مرد کے تعلقات کے ساتھ ساتھ یہ حمل کا سلسلہ کیوں جوڑ دیا ہے۔ مرد جب کسی عورت کی خاص خوبی کا معترف ہوتا ہے تو اس کی سزا بچے کی شکل میں کیوں طرفین کو بھگتنا پڑتی ہے۔۔۔ روپا بچے کے بغیر کتنی اچھی تھی۔ اور وہ خود اس بچے کے بغیر کتنے اچھے طریقے پر، روپا کے ساتھ تعلقات قائم رکھ سکتا تھا۔ اس سلسلہ تولید کی وجہ سے کئی بار اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ عورت ایک بیکار شے ہے یعنی اس کو ہاتھ لگاؤ اور یہ بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ بھی کوئی بات ہے۔ اب اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اس بچے کا کیا کرے جو پیدا ہو رہا تھا تھوڑی دیر غور کرکے اس نے نتھو کو اپنے پاس بٹھایا اور بڑے آرام سے کہا۔\n\n’’تم روپا کے کیا لگتے ہو۔۔۔ خیر چھوڑو اس قصے کو۔۔۔ دیکھو، یہ بچے وچے کی بات مجھے پسند نہیں، مفت میں ہم دونوں بدنام ہو جائیں گے، تم ایسا کرو، روپا کو یہاں چھوڑ جاؤ۔۔۔میں اسے آج ہی کسی ایسی جگہ بھجوا دوں گا جہاں یہ بچہ ضائع کر دیا جائے۔۔۔ اور روپا کو میں کچھ روپے دے دوں گا،وہ خوش ہو جائے گی۔۔۔ تمہارا انعام بھی تمہیں مل جائے گا۔۔۔ ٹھہرو۔‘‘\n\nیہ کہہ کر ستیش نے اپنی جیب سے بٹوہ نکالا اور دس روپے کا نوٹ نتھو کے ہاتھ میں دے کر کہا، ’’یہ رہا تمہارا انعام۔۔۔جاؤ عیش کرو۔‘‘ نتھو چپکے سے اٹھا۔ دس روپے کا نوٹ اس نے اچھی طرح مٹھی میں دبا لیا اور وہاں سے چل دیا۔ ستیش نے اطمینان کا سانس لیا کہ چلو چھٹی ہوئی۔ اب وہ بھنگی کی لڑکی کی بابت سوچنے لگا کہ اگر اسے بھی۔۔۔مگر یہ کیا، نتھو رُوپا کے ساتھ واپس آ رہا تھا۔روپا کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ اور وہ یوں چل رہی تھی جیسے اسے بہت تکلیف ہو رہی تھی۔ ستیش نے سوچا، ’’یہ بچہ پیدا کرنا بھی ایک اچھی خاصی مصیبت معلوم ہوتی ہے۔‘‘\n\nنتھو اور روپا دونوں برآمدے کی سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہو گئے۔ ستیش نے روپا کی طرف دیکھے بغیر کہا،’’دیکھو روپا، میں نے۔۔۔ اس کو سب کچھ سمجھا دیا ہے۔ تم فکر نہ کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ سمجھیں۔۔۔ کیوں بھئی تم نے سب کچھ بتا دیا نا؟‘‘\n\nنتھو نے دس روپے کا نوٹ خاموشی سے ستیش کی طرف بڑھایا اور کہا،’’چھوٹے لالہ جی! کاغذ کے اس ٹکڑے سے آپ مجھے خریدنا چاہتے ہیں۔ میں تو ایک بہت بڑا سودا کرنے آیا تھا۔‘‘ ستیش نے سمجھا کہ نتھو شاید دس روپے سے زیادہ مانگتا ہے،’’کتنے چاہئیں تجھے۔۔۔ میرے پاس اس وقت پچاس ہیں لینا ہو تو لے جاؤ۔‘‘\n\nنتھو نے روپا کی طرف دیکھا۔ روپا کی آنکھوں سے آنسو نکل کر سیمنٹ سے لپی ہوئی سیڑھیوں پر ٹپک رہے تھے۔ اس کے دل پر یہ قطرے پگھلے ہوئے سیسے کی طرح گر رہے تھے۔ ستیش کی طرف اس نے مڑ کر کہا، ’’چھوٹے لالہ جی، یہ آپ کی پتنی ہے، آپ اس کے بچے کے باپ ہیں۔۔۔ جیسے بڑے لالہ جی آپ کے پتا ہیں۔۔۔روپا کے لیے اور کوئی جگہ نہیں ہے ،وہ آپ کے پاس رہے گی اور آپ اسے پتنی بنا کر رکھیں گے۔۔۔ سب گاؤں والے اسے دھتکار رہے ہیں، کس لیے۔۔۔ اس لیے کہ وہ آپ کا بچہ اپنے پیٹ میں لیے پھرتی ہے۔۔۔ آپ کو تھامنا پڑے گا۔ اس لڑکی کا ہاتھ جس نے آپ کو اپنا سب کچھ دے دیا۔۔۔ آپ کا دل پتھر کا نہیں ہے چھوٹے لالہ جی! اور اس چھوکری کا دل بھی پتھر نہیں ہے۔۔۔ آپ نے اس کو سہارا نہ دیا تو اور کون دے گا، یہ آتی نہیں تھی۔ رو رو کے اپنی جان ہلکان کر رہی تھی۔ میں نے اسے سمجھایا اور کہا، پگلی تو کیوں روتی ہے، تیرا پتی جیتا ہے چل میں تجھے اس کے پاس لے چلوں۔\n\nستیش کو پتی پتنی کا مطلب ہی سمجھ میں نہیں آتا تھا،’’دیکھو بھائی! زیادہ بکواس نہ کرو، تم یوں ڈرا دھمکا کر مجھ سے زیادہ روپیہ وصول نہیں کر سکتے۔ میں ایک سو روپیہ دینے پر راضی ہوں۔ مگر شرط یہ ہے کہ بچہ ضائع کر دیا جائے۔ اور تم جو مجھ سے یہ کہتے ہو کہ میں اسے اپنے گھر میں بسالوں تو یہ ناممکن ہے۔۔۔ میں اس کا پتی خواب میں بھی نہیں بنا اور نہ یہ میری کبھی پتنی بنی ہے۔۔۔ سمجھے؟ سو روپیہ لینا ہو تو کل آکے یہاں سے لے جانا، اب یہاں سے نو دو گیارہ ہو جاؤ۔‘‘\n\nنتھو بھنّا گیا، ’’اور۔۔۔اور۔۔۔ یہ بچہ کیا آسمان سے گرا ہے؟ اس کی آنکھوں میں آنسو بھوت پریتوں نے بھر دئیے ہیں۔ میرا دل۔۔۔ میرا دل کون مسل رہا ہے۔۔۔ یہ روپے۔۔۔ یہ سو روپے کیا آپ خیرات کے طور پر دے رہے ہیں۔۔۔ کچھ ہوا ہے تو یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔۔۔ کوئی بات ہے تو یہ ہلچل مچ رہی ہے۔۔۔ آپ اس بچے کے باپ ہیں تو کیا اس کے پتی نہیں؟ میری عقل کو کچھ ہو گیا ہے یا آپ کی سمجھ کو۔۔۔ ‘‘\n\nستیش یہ تقریر برداشت نہ کر سکا،’’الو کے پٹھے! تو جاتا ہے کہ نہیں ،یہاں سے کھڑا اپنی منطق چھانٹ رہا ہے۔ جا ،جو کرنا ہے کرلے۔۔۔ دیکھوں تو میرا کیا بگاڑ لے گا۔ ‘‘نتھو نے ہولے سے کہا،’’میں تو سنوارنے آیا تھا چھوٹے لالہ جی۔۔۔ آپ ناحق کیوں بگڑ رہے ہیں، آپ کیوں نہیں اس کا ہاتھ تھام لیتے یہ آپ کی پتنی ہے۔‘‘\n\n’’پتنی کے بچے! اب تو اپنی بکواس بند کرے گا یا نہیں۔۔۔ بچہ بچہ کیا بک رہا ہے۔۔۔ جا لے جا اپنی اس کچھ لگتی کو، ورنہ یاد رکھ، کھال ادھیڑ دوں گا۔‘‘\n\nنتھو کے سب پٹھے اکڑ گئے، ’’بھگوان کی قسم !مجھ میں اتنی شکتی ہے کہ یوں ہاتھوں میں دبا کر تیرا سارا لہو نچوڑ دوں۔۔۔ میری کھال تیرے ان نازک ہاتھوں سے نہیں ادھڑے گی۔۔۔ میں تیری بوٹی بوٹی نوچ سکتا ہوں۔۔۔ پر میں کچھ نہیں کر سکتا۔ میں تجھے ہاتھ تک نہیں لگانا چاہتا۔۔۔ تو روپا کے بچے کا باپ ہے، تو روپا کا پتی ہے۔ اگر میں تجھ پر ہاتھ اٹھایا تو مجھے ڈر ہے کہ روپا کے دل کو دھکا لگے گا۔۔۔ تو عورتوں سے ملتا جلتا ہے پر تو عورت کا دل نہیں رکھتا۔‘‘\n\nستیش آپے سے باہر ہو گیا۔ اور چیخنے لگا، ’’تیری اور تیری روپا کی ایسی تیسی۔۔۔ نکل یہاں سے باہر۔‘‘\n\nنتھو بڑھ کر روپا کے آگے کھڑا ہو گیا اور ستیش کے پاس۔۔۔ بالکل پاس جا کر کہنے لگا،’’چھوٹے لالہ جی مجھے معاف کر دیجیے گا۔ میں نے ایسی باتیں کہہ دی ہیں جو مجھے نہیں کہنا چاہیے تھیں۔۔۔ مجھے معاف کر دیجیے مگر روپا کا ہاتھ تھام لیجیے۔۔۔ آپ اس کے پتی ہیں، اس کے بھاگ میں آپ کے بنا اور کوئی مرد نہیں لکھا گیا۔ یہ آپ کی ہے۔۔۔ اب آپ اسے اپنا بنا لیں۔۔۔ یہ دیکھئے میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں۔‘‘\n\n’’کیسے واہیات آدمی سے واسطہ پڑا ہے۔‘‘ ستیش نے کمرے کے اندر جاتے ہوئے کہا،’’کہتا ہوں میں روپا ووپا کو نہیں جانتا۔ مگر یہ خواہ مخواہ اسے میرے پلے باندھ رہا ہے۔۔۔ جاؤ جاؤ ہوش کی دوا کرو۔‘‘\n\nکمرے کا صرف ایک دروازہ کھلا تھا جس میں سے ستیش اندر داخل ہوا تھا۔ اندر داخل ہو کر اس نے یہ دروازہ بند کر دیا۔ نتھو نے دروازے کی لکڑی کی طرف دیکھا تو اسے ستیش کے چہرے اور اس میں کوئی فرق نظر نہ آیا۔نتھو نے اپنے سر کے بال مروڑنے شروع کر دئیے اور جب پلٹ کر اس نے روپا سے کچھ کہنا چاہا تو وہ جا چکی تھی۔۔۔ اور وہ اس کا پیچھا کرنے کے لیے بھاگا۔مگر وہ جا چکی تھی۔ باہر نکل کر اُس نے روپا کو بہت دور درختوں کے جھنڈ میں غائب ہوتے دیکھا۔ وہ اس کے پیچھے یہ کہتا ہوا بھاگا،’’روپا۔۔۔ روپا، ٹھہر جا۔۔۔میں ایک بار پھر اسے سمجھاؤں گا۔۔۔ وہی تیرا پتی ہے۔۔۔اس کا گھر ہی تیری اصل جگہ ہے۔\n\nوہ بہت دیر تک بھاگتا رہا۔ مگر روپا بہت دور نکل گئی تھی۔۔۔ اس روز سے آج تک نتھو، روپا کی تلاش میں سرگرداں ہے مگر وہ اسے نہیں ملتی۔ وہ لوگوں سے کہتا ہے، ’’میں روپا کے پتی کو جانتا ہوں۔۔۔ تم اسے ڈھونڈ کر لاؤ، میں اسے اس کے پتی سے ملا دوں گا۔‘‘\n\nلوگ یہ سن کر ہنس دیتے ہیں۔۔۔ بچے جب بھی نتھو کو دیکھتے ہیں تو اس سے پوچھتے ہیں،’’اس کا پتی کون ہے نتھو بھیّا؟‘‘ تو نتھو ان کو مارنے کے لیے دوڑتا ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%AA%DB%8C"} {"title": "اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا\nجو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیا\n\nتصویر کو تصویر دکھائی نہیں جاتی\nاس آئنہ خانے میں نظر دنگ نہیں کیا\n\nہے حلقۂ جاں اپنی وفاؤں کا تصور\nاس داغ سے آگے کوئی فرسنگ نہیں کیا\n\nہر بات پہ ہم دیتے ہیں غیروں کا حوالہ\nاپنا کوئی آہنگ کوئی رنگ نہیں کیا\n\nبخشے ہوئے اک گھونٹ پہ ہم جھوم رہے ہیں\nاب مانگ کے پینا بھی کوئی ننگ نہیں کیا\n\nزخم دل بے تاب ہے ہاتھوں میں نوالہ\nاس بات پہ دنیا سے مری جنگ نہیں کیا\n\nوہ رنگ نہیں شعلۂ احساس میں باقیؔ\nہم ساز تمنا سے ہم آہنگ نہیں کیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%DB%81_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اس کاکل پر خم کا خلل جائے تو اچھا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کاکل پر خم کا خلل جائے تو اچھا\nدل سر سے بلا تیرے یہ ٹل جائے تو اچھا\n\nبوسے کا سوال اس سے کروں ہوں تو کہے ہے\nچل رے مرے کچھ منہ سے نکل جائے تو اچھا\n\nاثبات نہ ہو دعوئ خوں اس پہ الٰہی\nصورت مرے قاتل کی بدل جائے تو اچھا\n\nلے سر پے وبال اپنے پتنگوں کا نہ اے شمع\nتو اور بھی جوبن سے جو ڈھل جائے تو اچھا\n\nڈسنے کو مرا دل ہے تری زلف کی ناگن\nطاؤس خط اس کو جو نگل جائے تو اچھا\n\nہم چشمی تیری چشم سے کرتا ہے یہ بادام\nاس کو کوئی پتھر سے کچل جائے تو اچھا\n\nزلفوں کے تصرف میں ہے بے وجہ رخ یار\nکفار کا کعبہ سے عمل جائے تو اچھا\n\nخوں ہو کے رواں دل ہو گر آنکھوں سے تو بہتر\nیا عشق کی آتش میں یہ جل جائے تو اچھا\n\nلب پر سے بلاق اپنی دم بوسہ اٹھا دو\nاندیشۂ زنبور عسل جائے تو اچھا\n\nپہلو سے نکل جائے اگر دل تو بلا سے\nتو چھوڑ کے خالی نہ بغل جائے تو اچھا\n\nکہتے ہیں نصیرؔ اپنی نہ تم آہ کو روکو\nیہ تیر نشانے پہ جو چل جائے تو اچھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7%DA%A9%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%AE%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%84%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اس کتاب طرب نصاب نے جب", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "اس کتاب طرب نصاب نے جب\nآب و تاب انطباع کی پائی\nفکر تاریخ سال میں مجھ کو\nایک صورت نئی نظر آئی\nہندسے پہلے سات سات کے دو\nدیے ناگاہ مجھ کو دکھلائی\nاور پھر ہندسہ تھا بارہ کا\nبا ہزاراں ہزار زیبائی\nسال ہجری نو ہو گیا معلوم\nبے شمول عبارت آرائی\nمگر اب ذوق بذلہ سنجی کو\nہے جداگانہ کارفرمائی\nسات اور سات ہوتے ہیں چودہ\nبہ امید سعادت افزائی\nغرض اس سے ہیں چار دہ معصوم\nجس سے ہے چشم جاں کو بینائی\nاور بارہ امام ہیں بارہ\nجس سے ایماں کو ہے توانائی\nان کو غالبؔ یہ سال اچھا ہے\nجو ائمہ کے ہیں تولائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%B7%D8%B1%D8%A8_%D9%86%D8%B5%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A8"} {"title": "اس کمر کے خیال میں ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کمر کے خیال میں ہیں ہم\nبیٹھے کرتے ہیں سیر ملک عدم\n\nبے خودی ہم پہ رکھیو لطف و کرم\nاپنے تئیں بھول جائیں جب تک ہم\n\nکیوں گنہ گار ہو نہ نوع بشر\nپہلے ہی چوکے حضرت آدم\n\nآہ اس بحر میں حباب کی طرح\nاپنی بھی زندگی ہے کوئی دم\n\nدی ہے دھونی در توکل پر\nچھوڑ دی ہم نے منت عالم\n\nدیکھنے بھی نہ پائے قاتل کو\nزخم اتنے ہی لگ گئے پیہم\n\nنیلگوں کیوں نہ ہو حصار رنگ\nہے سیہ پوش خانۂ ماتم\n\nلطف ہوتا جو عیش میں ؔجوشش\nچھوڑ دیتا نہ سلطنت ادہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "اس کو آزادی نہ ملنے کا ہمیں مقدور ہے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کو آزادی نہ ملنے کا ہمیں مقدور ہے\nہم ادھر مجبور ہیں اور وہ ادھر مجبور ہے\n\nشب کو چھپ کر آئیے آنا اگر منظور ہے\nآپ کے گھر سے ہمارا گھر ہی کتنی دور ہے\n\nلاکھ منت کی مگر اک بات بھی منہ سے نہ کی\nآپ کی تصویر بھی کتنی بڑی مغرور ہے\n\nاس اندھیری رات میں اے شیخ پہچانے گا کون\nبند ہے مسجد کا در تو مے کدہ کیا دور ہے\n\nایک رشک غیر کا صدمہ تو اٹھ سکتا نہیں\nاور جو فرمائیے سب کچھ ہمیں منظور ہے\n\nمر گیا دشمن تو اس کا سوگ تم کو کیا ضرور\nکون سی یہ رسم ہے یہ کون سا دستور ہے\n\nزاہد اس امید پر ملنا حسینوں سے نہ چھوڑ\nخلد میں نادان تیرے ہی لیے کیا حور ہے\n\nحشر کے دن کیا کہیں گے یہ اگر آیا خیال\nشکوہ کرنا یار کا پاس وفا سے دور ہے\n\nکچھ حفیظؔ ایسا نہیں جس سے کہ تم واقف نہ ہو\nآدمی وہ تو بہت معروف ہے مشہور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "اس کو دنیا اور نہ عقبیٰ چاہئے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کو دنیا اور نہ عقبیٰ چاہئے\nقیس لیلیٰ کا ہے لیلیٰ چاہئے\n\nاب جو کچھ کرنا ہے کرنا چاہئے\nآج ہی سے فکر فردا چاہئے\n\nان بتوں سے دل لگانے کے لیے\nسچ ہے پتھر کا کلیجہ چاہئے\n\nدیکھنا ان کا تو قسمت میں نہیں\nدیکھنے والے کو دیکھا چاہئے\n\nوہ نہیں آئے تو وعدے پر نہ آئیں\nاے اجل تجھ کو تو آنا چاہئے\n\nمجھ سے نفرت ہے تو نفرت ہی سہی\nچاہئے غیروں کو اچھا چاہئے\n\nخلد والوں کو دکھانے کے لئے\nاک ترے کوچہ کا نقشہ چاہئے\n\nآ کے اب جاتا کہاں ہے تیر ناز\nتجھ کو میرے دل میں رہنا چاہئے\n\nتوڑ کر بیدمؔ بت پندار کو\nدیر کو کعبہ بنانا چاہئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%B9%D9%82%D8%A8%DB%8C%D9%B0_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "اس کو غفلت‌ پیشہ کہہ آتے ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کو غفلت‌ پیشہ کہہ آتے ہیں ہم\nبھول جانا یاد دلواتے ہیں ہم\n\nضعف سے رہتا ہے اب پاؤں پہ سر\nآپ اپنی ٹھوکریں کھاتے ہیں ہم\n\nدل نہیں اس بت کی الفت چھوڑتا\nنا سمجھ کو لاکھ سمجھاتے ہیں ہم\n\nہے جنازہ اس لئے بھاری مرا\nحسرتیں دل کی لئے جاتے ہیں ہم\n\nبار عصیاں سر پہ ہے گویا بہت\nکیا اٹھائیں سر جھکے جاتے ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA%E2%80%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%B4%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "اس کو مجھ سے رُٹھا دیا کس نے", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کو مجھ سے رُٹھا دیا کس نے\nمیرے دل کو دکھا دیا کس نے\n\nدام کاکل دکھا دیا کس نے\nمرغ دل کو پھنسا دیا کس نے\n\nخم ابرو دکھا دیا کس نے\nکعبۂ دل گرا دیا کس نے\n\nاے فلک ہم تو بیٹھے ہنستے تھے\nاٹھتے اٹھتے رلا دیا کس نے\n\nآئنے میں دکھا کے تیری شکل\nتجھ کو حیراں بنا دیا کس نے\n\nاک قلم حرف دوستی بھولا\nہائے اس کو پڑھا دیا کس نے\n\nمیں گیا اس کے گھر تو کہنے لگا\nگھر ہمارا بتا دیا کس نے\n\nنہیں معلوم شوق قتل میں کچھ\nسر ہمارا اڑا دیا کس نے\n\nنہ سمائے کسی کی آنکھوں میں\nنظروں سے یوں گرا دیا کس نے\n\nمانگتے ہی گناہ گار ہوئے\nاس سے بوسہ لیا دیا کس نے\n\nکل تلک دوست تھا وہ گویاؔ کا\nآج دشمن بنا دیا کس نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%8F%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B3_%D9%86%DB%92"} {"title": "اس کو میں ہوئے ہم وہ لب بام نہ آیا", "poet_page": "مصنف:میر تسکینؔ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کو میں ہوئے ہم وہ لب بام نہ آیا\nاے جذبۂ دل تو بھی کسی کام نہ آیا\n\nتھا میری طرح غیر کو بھی دعوئ الفت\nناصح تو اسے دینے کو الزام نہ آیا\n\nبے بال و پری کھوتی ہے توقیر اسیری\nصیاد یہاں لے کے کبھی دام نہ آیا\n\nاس ناز کے صدقے ہوں ترے میں کہ عدو سے\nسو بار سنا ہے پہ مرا نام نہ آیا\n\nکیا جانیے کس طرح دیا تو نے جواب آہ\nقاصد کی زباں پر ترا پیغام نہ آیا\n\nتسکینؔ کروں کیا دل مضطر کا علاج اب\nکم بخت کو مر کر بھی تو آرام نہ آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%88%DB%81_%D9%84%D8%A8_%D8%A8%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اس کو نہ رات کہہ تو نہ اس کو بتا غلط", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کو نہ رات کہہ تو نہ اس کو بتا غلط\nکیا جانے کیا سہی ہے واقع میں کیا غلط\n\nدیکھا ہے میں رباعیٔ ہستی کو غور سے\nپر لفظ نادرست ہیں حد مدعا غلط\n\nاظہار عشق ڈول ہی اپنا نہیں ہے شوخ\nجن نے کہا یہ تجھ سے ہے محض افترا غلط\n\nاس مارپیچ کوچہ میں کاکل کے دل ہے غم\nجس میں کہ راہ خضر نے اکثر کیا غلط\n\nقائمؔ نہ عیش نقد کو نسیہ پہ چھوڑیئے\nکیا جانے بات قصہ کی ہے راست یا غلط", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%AA%D8%A7_%D8%BA%D9%84%D8%B7"} {"title": "اس کو کرنوں نے دی ہے تابانی", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "اس کو کرنوں نے دی ہے تابانی\nاس کو مہتاب نے سنوارا ہے\nیوں وہ عورت ضرور ہے لیکن\nاس کی بنیاد استعارہ ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "اس کی تو ایک دل لگی اپنا بنا کے چھوڑ دے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کی تو ایک دل لگی اپنا بنا کے چھوڑ دے\nجائے وہ اب کہاں جسے سب سے چھڑا کے چھوڑ دے\n\nکھیل نہیں ہے بد گماں قول و قرار بھولنا\nپھر سے آزما کے دیکھ یاد دلا کے چھوڑ دے\n\nنبھ چکا زندگی کا ساتھ جب یہ ابھی سے حال ہے\nبوجھ بٹانے والا ہی بیچ میں لا کے چھوڑ دے\n\nاس سے کہیں تو کیا کہیں جس کے مزاج میں یہ ضد\nجب نہ لگی بجھا سکے آگ لگا کے چھوڑ دے\n\nراہ طویل پاؤں شل اور یہ ہم سفر کا حال\nلے تو چلے سنبھال کے بیچ میں لا کے چھوڑ دے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%92"} {"title": "اس کی جب بزم سے ہم ہو کے بتنگ آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کی جب بزم سے ہم ہو کے بتنگ آتے ہیں\nاپنے ساتھ آپ ہی کرتے ہوے جنگ آتے ہیں\n\nحسن میں جب تئیں گرمی نہ ہو جی دیوے کون\nشمع تصویر کے کب گرد پتنگ آتے ہیں\n\nدل کو کس بو قلموں جلوہ نے ہے خون کیا\nاشک آنکھوں سے جو یہ رنگ برنگ آتے ہیں\n\nآہ تعظیم کو اٹھتی ہے مرے سینہ سے\nدل پہ جب اس کی نگاہوں کے خدنگ آتے ہیں\n\nشرط گر پوچھو تو ہے اس میں بھی قسمت ورنہ\nعاشقی کرنے کے ہر ایک کو ڈھنگ آتے ہیں\n\nنخل وحشت بھی مگر ان کا ثمر رکھتا ہے\nہر طرف سے جو یہ دیواروں پہ سنگ آتے ہیں\n\nحیرت افزا ہے عجب کوچۂ دل دار حسنؔ\nجو وہاں جاتے ہیں اس طرف سے دنگ آتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A8_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں\nڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں\n\nڈال کے خاک میرے خون پہ قاتل نے کہا\nکچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں\n\nضبط کمبخت نے یاں آ کے گلا گھونٹا ہے\nکہ اسے حال سناؤں تو سنا بھی نہ سکوں\n\nنقش پا دیکھ تو لوں لاکھ کروں گا سجدے\nسر مرا عرش نہیں ہے جو جھکا بھی نہ سکوں\n\nبے وفا لکھتے ہیں وہ اپنے قلم سے مجھ کو\nیہ وہ قسمت کا لکھا ہے جو مٹا بھی نہ سکوں\n\nاس طرح سوئے ہیں سر رکھ کے میرے زانو پر\nاپنی سوئی ہوئی قسمت کو جگا بھی نہ سکوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%B9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D9%88%DA%BA"} {"title": "اس کی دیوار کا جو روزن ہے", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "اس کی دیوار کا جو روزن ہے\nخور کا چشم و چراغ روشن ہے\n\nلطف مفرط سے دوست دشمن ہے\nبارش بیش برق خرمن ہے\n\nگوشہ گیری میں حرص افزوں ہو\nصبح شبنم کو فکر رفتن ہے\n\nعشق میں تیرے تار تار اے شوخ\nجیب غنچہ کی گل کا دامن ہے\n\nشوق میں تیری تیغ کا یکسر\nشمع ساں تن تمام گردن ہے\n\nبحث کرتا ہے شیخ کعبہ سے\nجو ترے دیر کا برہمن ہے\n\nسرخ مہندی ہوئی ہے اس کی سیاہ\nرنگ شادی میں رنگ شیون ہے\n\nتم نے کھولے چمن میں بند قبا\nبال پرواز رنگ گلشن ہے\n\nجو زمین سخن ہے اس میں وقارؔ\nایک مدت سے میرا مسکن ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%B2%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "اس کی صورت کا تصور دل میں جب لاتے ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:غمگین دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کی صورت کا تصور دل میں جب لاتے ہیں ہم\nخود بہ خود اپنے سے ہمدم آپ گھبراتے ہیں ہم\n\nہوش گر رہتا ہو تجھ کو ہم سے پوشیدہ نہ رکھ\nجب وہ یاں آتا ہے اے دل تب کہاں جاتے ہیں ہم\n\nبیٹھے بیٹھے کیوں یکایک ہائے دل کھویا گیا\nہمدم اس کا کچھ سبب ڈھونڈے نہیں پاتے ہیں ہم\n\nخود بہ خود کل شب کو وہ بولے اٹھا منہ سے نقاب\nجو نہ دیکھا ہو کسی نے مجھ کو، دکھلاتے ہیں ہم\n\nبے سبب ہو کر خفا جب کچھ سناتا ہے وہ شوخ\nجی ہی جی میں اپنے اوپر ہائے جھنجھلاتے ہیں ہم\n\nشام کو ساقی کبھی آتا ہے گر تیرا خیال\nصبح تک بھی ہوش میں اپنے نہیں آتے ہیں ہم\n\nہم نے غم کیا خاک کھایا غم نے ہم کو کھا لیا\nلوگ اے ہمدم سمجھتے ہیں کہ غم کھاتے ہیں ہم\n\nجام لے کر مجھ سے وہ کہتا ہے اپنے منہ کو پھیر\nرو بہ رو یوں تیرے مے پینے سے شرماتے ہیں ہم\n\nجو کلام عشق یہ ہرگز سمجھتا ہی نہیں\nدل کو سو سو طرح غمگیںؔ ہائے سمجھاتے ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "اس کی صورت کو دیکھ کر بھولے", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کی صورت کو دیکھ کر بھولے\nہائے ہم بھولے سر بسر بھولے\n\nمنہ کا میٹھا تھا پیٹ کا کھوٹا\nجھوٹی میٹھی سی بات پر بھولے\n\nدیکھو اس میری یاد کو اور وہ\nمجھ پہ کرتا نہیں نظر بھولے\n\nاس کے عشاق ہو گئے وحشی\nسب یہ خانہ خراب گھر بھولے\n\nجب فراموش و یاد بھی کھیلے\nایک ادھر ہم تم اک ادھر بھولے\n\nہم فراموش کی فراموشی\nاور تم یاد عمر بھر بھولے\n\nبھولے بھٹکے سے یاں تم آ نکلے\nنشہ میں راہ کچھ مگر بھولے\n\nنخل آہ ایک چھٹ نہ پھولے گا\nاس کو پھلتا نہیں ثمر بھولے\n\nاظفریؔ زور کھا گئے دھوکا\nاس کے ظاہر پہ تم اپھر بھولے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%92"} {"title": "اس کی قدرت کی دید کرتا ہوں", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کی قدرت کی دید کرتا ہوں\nروز نو روز عید کرتا ہوں\n\nمیرا احوال فقر مت پوچھو\nزہد مثل فرید کرتا ہوں\n\nروز بازار ملک ہستی میں\nجنس عصیاں خرید کرتا ہوں\n\nفتح کرنے کو قلب دل کا حصار\nتیغ ہمت کلید کرتا ہوں\n\nبسکہ میں تشنۂ شہادت ہوں\nدل کو ہر دم شہید کرتا ہوں\n\nنہ میں سنی نہ شیعہ نے کافر\nصوفی ہوں سب کا وید کرتا ہوں\n\nشیخ تو گو کہ پیر زادہ ہے\nرہ تجھے میں مرید کرتا ہوں\n\nاپنے احسان خلق سے حاتمؔ\nآدمی کو عبید کرتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "اس کی نظروں میں انتخاب ہوا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کی نظروں میں انتخاب ہوا\nدل عجب حسن سے خراب ہوا\n\nعشق کا سحر کامیاب ہوا\nمیں تیرا تو مرا جواب ہوا\n\nہر نفس موج اضطراب ہوا\nزندگی کیا ہوئی عذاب ہوا\n\nجذبۂ شوق کامیاب ہوا\nآج مجھ سے انہیں حجاب ہوا\n\nمیں بنوں کس لیے نہ مست شراب\nکیوں مجسم کوئی شباب ہوا\n\nنگۂ ناز لے خبر ورنہ\nدرد محبوب اضطراب ہوا\n\nمیری بربادیاں درست مگر\nتو بتا کیا تجھے ثواب ہوا\n\nعین قربت بھی عین فرقت بھی\nہائے وہ قطرہ جو حباب ہوا\n\nمستیاں ہر طرف ہیں آوارہ\nکون غارت گر شراب ہوا\n\nدل کو چھونا نہ اے نسیم کرم\nاب یہ دل روکش حباب ہوا\n\nعشق بے امتیاز کے ہاتھوں\nحسن خود بھی شکست یاب ہوا\n\nجب وہ آئے تو پیشتر سب سے\nمیری آنکھوں کو اذن خواب ہوا\n\nدل کی ہر چیز جگمگا اٹھی\nآج شاید وہ بے نقاب ہوا\n\nدور ہنگامۂ نشاط نہ پوچھ\nاب وہ سب کچھ خیال و خواب ہوا\n\nتو نے جس اشک پر نظر ڈالی\nجوش کھا کر وہی شراب ہوا\n\nستم خاص یار کی ہے قسم\nکرم یار بے حساب ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%AE%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "اس کے بالا ہے اب وہ کان کے بیچ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کے بالا ہے اب وہ کان کے بیچ\nجس کی کھیتی ہے جھوک جان کے بیچ\n\nدل کو اس کی ہوا نے آن کے بیچ\nکر دیا باؤلا اک آن کے بیچ\n\nآتے اس کو ادھر سنا جس دم\nآ گئی انبساط جان کے بیچ\n\nراہ دیکھی بہت نظیرؔ اس کی\nجب نہ آیا وہ اس مکان کے بیچ\n\nپان بھی پانداں میں بند رہے\nعطر بھی قید عطر دان کے بیچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%86"} {"title": "اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت\nنہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت\n\nکس سے پیمان وفا باندھ رہی ہے بلبل\nکل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت\n\nہے غم روز جدائی نہ نشاط شب وصل\nہو گئی اور ہی کچھ شام و سحر کی صورت\n\nاپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار\nاک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت\n\nدیکھیے شیخ مصور سے کھچے یا نہ کھچے\nصورت اور آپ سے بے عیب بشر کی صورت\n\nواعظو آتش دوزخ سے جہاں کو تم نے\nیہ ڈرایا ہے کہ خود بن گئے ڈر کی صورت\n\nکیا خبر زاہد قانع کو کہ کیا چیز ہے حرص\nاس نے دیکھی ہی نہیں کیسۂ زر کی صورت\n\nمیں بچا تیر حوادث سے نشانہ بن کر\nآڑے آئی مری تسلیم سپر کی صورت\n\nشوق میں اس کے مزا درد میں اس کے لذت\nناصحو اس سے نہیں کوئی مفر کی صورت\n\nحملہ اپنے پہ بھی اک بعد ہزیمت ہے ضرور\nرہ گئی ہے یہی اک فتح و ظفر کی صورت\n\nرہنماؤں کے ہوئے جاتے ہیں اوسان خطا\nراہ میں کچھ نظر آتی ہے خطر کی صورت\n\nیوں تو آیا ہے تباہی میں یہ بیڑا سو بار\nپر ڈراتی ہے بہت آج بھنور کی صورت\n\nان کو حالیؔ بھی بلاتے ہیں گھر اپنے مہماں\nدیکھنا آپ کی اور آپ کے گھر کی صورت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "اس کے جو جو کہ فوائد ہیں خود دیکھتے جاؤ", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کے جو جو کہ فوائد ہیں خود دیکھتے جاؤ\nسچ کہا ہے یہ کسی نے کہ پیو اور پلاؤ\n\nضبط سرکار میں ہونے کے لئے چھوڑ نہ جاؤ\nخوب ہی کھاؤ زر و مال کو اور خوب اڑاؤ\n\nتم میں اور غیر میں جو شب کو ہوئی ہے صحبت\nخود کہے دیتا ہے وہ آپ کی آنکھوں کا جھکاؤ\n\nبیٹھنے کے نہیں قابل یہ سرائے ویراں\nیاں سے توشے کے اٹھانے کے عوض ناؤ اٹھاؤ\n\nمیں ہوں مخمور مجھے تاب کہاں ہاں ساقی\nصاف ہو درد ہو جلدی سے جو مل جائے تو لاؤ\n\nنہیں بیمار کو تکلیف زیادہ دیتے\nاپنی آنکھوں کو مرے سامنے اتنا نہ جھکاؤ\n\nدل میں آ بیٹھیے اور سیر دو عالم کیجے\nہے بہت دور کا اس منزل ویراں سے دکھاؤ\n\nمنہ سے گر بات نکل جائے تو آفت آ جائے\nجو کہیں چپکے سنے جاؤ زباں کو نہ ہلاؤ\n\nمیں کہاں اور کہاں رات کا آنا پر ہاں\nتیرے گھر سے تو بہت غیر کے گھر کا ہے لگاؤ\n\nاکھڑے جاتے ہیں قدم دیکھ وہاں کی رنگت\nاپنا اس در پہ ہوا ہے نہ کبھی ہوگا جماؤ\n\nدل کی آبادی کی اب فکر ہے بالکل ناحق\nاب تو یاں روز ہی ہوتا ہے سپہ غم کا پڑاؤ\n\nبعد اک عمر کے گر عرض تمنا کیجے\nوہ بگڑ کر یہی کہتے ہیں کہ باتیں نہ بناؤ\n\nگرچہ یہ جھوٹ فسانا ہے ولے ہے دلچسپ\nکہتے ہیں اپنی کہانی مجھے تم روز سناؤ\n\nہوں اگر اس کے عوض نیم نگہ کا خواہاں\nہنس کے کہتے ہیں کہ کچھ قیمت دل اور گھٹاؤ\n\nاول عشق ہے دل کب ہے سمجھنے والا\nابھی زوروں پہ ہے اس بحر پر آفت کا چڑھاؤ\n\nحال بھی کہتے اگر ہوش ٹھکانے ہوتے\nیاں تو حیرت ہے کہ تم اور مجھے پوچھنے آؤ\n\nدم نکلنے کا الم کس سے سہا جاتا ہے\nحرف تم جانے کا اے جان زباں ہی پہ نہ لاؤ\n\nان کو تو پاس محبت نہیں اصلاً لیکن\nنبھ سکے تم سے اگر حضرت دل اور نبھاؤ\n\nزخم ہجراں کی نہیں اور تو دنیا میں دوا\nمندمل وصل کے مرہم سے تو ہوتا ہے یہ گھاؤ\n\nکب اسے دیدۂ تر دعویٰ ہم چشمی ہے\nآٹھ آٹھ آنسو نہ تم ابر بہاری کو رلاؤ\n\nان کے آنے کے تصور میں یہی کہتا ہوں\nاے شب وعدہ نہ ہو صبح وہ کرتے ہیں بناؤ\n\nواں کھپت ہی نہیں کیا جنس وفا لے جائیں\nان کی سرکار میں اک جور و ستم کا ہے بناؤ\n\nاب ہو مجروحؔ محبت سے بہت گھبراتے\nہم تو پہلے ہی یہ کہتے تھے کہ دل کو نہ لگاؤ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D9%81%D9%88%D8%A7%D8%A6%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A4"} {"title": "اس کے خط میں جو لکھا غیر کا میں نام الٹا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کہ خط میں جُو لکھا غیر کا میں نام الٹا\nلایا قاصد بھی مُجھے واں سے تُو پیغام الٹا\n\nہم مسلمانوں سے یاں تک تُو یہ ہندو برعکس\nکے کِبھی خط بھی جُو کرتے ہیں تُو ارقام الٹا\n\nنہ وُہ ساقی نہ وُہ مے نوش ہیں مے خانے میں\nاب تُو رہتا ہے سر خم پہ دھرا جام الٹا\n\nاِک تُو سیپارہ دِل تم نے کیا ہے برہم\nتس پہ پھر مُجھ کو ہی تم دیتے ہو الزام الٹا\n\nواژگونی جُو طبیعت میں فلک کی ہے ہنوز\nنظر آتا ہے زمانہ سحر و شام الٹا\n\nشب ہجراں کی سیاہی نہ ہوئی روز سفید\nیہ ورق تُو نے نہ اے گردش ایام الٹا\n\nرسن دام کو صیاد نے کھینچا تُو وہیں\nآن کر سر پہ اسیروں کہ گرا دام الٹا\n\nمصحفیؔ تُو ابِھی تھا عزم سفر پر تیار\nگھر پھرا جائے ہے کِیوں اس کا سرانجام الٹا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D8%B7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%B9%D8%A7"} {"title": "اس کے در تک کسے رسائی ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کے در تک کسے رسائی ہے\nوہ ہی جائے گا جس کی آئی ہے\n\nبات اک دل میں میرے آئی ہے\nگر کہوں تو ابھی لڑائی ہے\n\nدوسری جان ہے تری الفت\nایک کھوئی ہے ایک پائی ہے\n\nبھر دیا زخم میں نمک اس نے\nیہ دعا گو کی منہ بھرائی ہے\n\nسچ ہے بے عیب ہے خدا کی ذات\nتجھ میں کیا جانے کیا برائی ہے\n\nاے لب یار تجھ کو میری قسم\nکبھی سچی قسم بھی کھائی ہے\n\nاس کے در تک پہنچ گیا قاصد\nآگے تقدیر کی رسائی ہے\n\nقتل کرتی ہے گفتگو ان کی\nبات میں بات کی صفائی ہے\n\nداغؔ اب وصل کا وصال ہوا\nیار زندہ غم جدائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D8%AA%DA%A9_%DA%A9%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اس کے شرار حسن نے شعلہ جو اک دکھا دیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کے شرار حسن نے شعلہ جو اک دکھا دیا\nطور کو سر سے پاؤں تک پھونک دیا جلا دیا\n\nپھر کے نگاہ چار سو ٹھہری اسی کے روبرو\nاس نے تو میری چشم کو قبلہ نما بنا دیا\n\nمیرا اور اس کا اختلاط ہو گیا مثل ابر و برق\nاس نے مجھے رلا دیا میں نے اسے ہنسا دیا\n\nمیں ہوں پتنگ کاغذی ڈور ہے اس کے ہاتھ میں\nچاہا ادھر گھٹا دیا چاہا ادھر بڑھا دیا\n\nتیشے کی کیا مجال تھی یہ جو تراشے بے ستوں\nتھا وہ تمام دل کا زور جس نے پہاڑ ڈھا دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%86%DB%92_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اس کے نبھنے کے کچھ نہیں اسباب", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کے نبھنے کے کچھ نہیں اسباب\nوہ تغافل شعار میں بے تاب\n\nواجب القتل ہے دل بے تاب\nکشتہ ہونا ہی خوب ہے سیماب\n\nابر کی تیرگی میں ہم کو تو\nسوجھتا کچھ نہیں سوائے شراب\n\nاپنی کشتی کا ہے خدا حافظ\nپیچھے طوفاں ہے سامنے گرداب\n\nبوسہ مانگا تو یہ جواب ملا\nسیکھئے پہلے عشق کے آداب\n\nاس کو پھرتا ہے ڈھونڈھتا ہر سو\nکیوں کر آنکھوں سے اڑ نہ جائے خواب\n\nدرد الفت جو ہوتے ہی مرتے\nیہ اذیت نہ کھینچتے احباب\n\nنہیں ممکن کہ جمع ہوں دونوں\nساقیٔ مہروش شب مہتاب\n\nسامنے اس کے جو ٹھہر جائیں\nنہیں بے تابیوں کو اتنی تاب\n\nاہل عالم سے چاہتا ہوں وفا\nاس کا طالب ہوں جو کہ ہے نایاب\n\nعشق کے ساتھ ہی گئے دل و دیں\nآ گئی سیل بہہ گیا اسباب\n\nصاف فقرے ہوں اور ہمیں پر ہوں\nشیوہ اچھا تو ہے مرا آداب\n\nہوتی گر اس جہاں میں کچھ خوبی\nکہتے کیوں پھر صفت میں اس کی خراب\n\nآزمانا نہ دل کو سختی سے\nٹوٹ جائے نہ یہ در نایاب\n\nکس طرح بحر عشق سے نکلوں\nیہ تو دریا کہیں نہیں پایاب\n\nشعلۂ حسن تیرا کیا کہنا\nپھونک دے اس کے پردہ ہائے حجاب\n\nاس کی شوخی کا ہے تعجب کیا\nحسن یہ کچھ اور اس پہ عین شباب\n\nغالبؔ آئے ہیں لاؤ اے مجروحؔ\nبادۂ ناب میں ملا کے گلاب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A8%DA%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8"} {"title": "اس کے چہرے کا عکس پڑتا ہے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "اس کے چہرے کا عکس پڑتا ہے\nاس کی باتیں شروع ہوتی ہیں\nآج کل رات بھر مرے دل میں\nکتنی صبحیں طلوع ہوتی ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%D9%BE%DA%91%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اس کے کوچہ میں گیا میں سو پھر آیا نہ گیا", "poet_page": "مصنف:غمگین دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کے کوچہ میں گیا میں سو پھر آیا نہ گیا\nمیں وہاں آپ کو ڈھونڈا تو میں پایا نہ گیا\n\nگم ہوا دل مرے پہلو سے کہ پایا نہ گیا\nشاید اس کوچہ میں جا اس سے پھر آیا نہ گیا\n\nدم بخود ہو کے موا اس کی نزاکت کے سبب\nآہ و نالہ بھی مجھے اس کو سنایا نہ گیا\n\nاس نے اک روز میں سو بار رلایا مجھ کو\nمجھ سے پر اس بت خوش خو کو منایا نہ گیا\n\nبعد اک عمر کے کیا تجھ سے کہوں اے غمگیںؔ\nحال دل اس نے جو پوچھا تو سنایا نہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اس کے کوچے سے جو اٹھ اہل وفا جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کے کوچے سے جو اٹھ اہل وفا جاتے ہیں\nتا نظر کام کرے رو بقفا جاتے ہیں\n\nمتصل روتے ہی رہیے تو بجھے آتش دل\nایک دو آنسو تو اور آگ لگا جاتے ہیں\n\nوقت خوش ان کا جو ہم بزم ہیں تیرے ہم تو\nدر و دیوار کو احوال سنا جاتے ہیں\n\nجائے گی طاقت پا آہ تو کریے گا کیا\nاب تو ہم حال کبھو تم کو دکھا جاتے ہیں\n\nایک بیمار جدائی ہوں میں آپھی تس پر\nپوچھنے والے جدا جان کو کھا جاتے ہیں\n\nغیر کی تیغ زباں سے تری مجلس میں تو ہم\nآ کے روز ایک نیا زخم اٹھا جاتے ہیں\n\nعرض وحشت نہ دیا کر تو بگولے اتنی\nاپنی وادی پہ کبھو یار بھی آ جاتے ہیں\n\nمیرؔ صاحب بھی ترے کوچے میں شب آتے ہیں لیک\nجیسے دریوزہ گری کرنے گدا جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اس کے کوچے سے صبا گر ادھر آ جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کے کوچے سے صبا گر ادھر آ جاتی ہے\nدل کے نالوں کی مفصل خبر آ جاتی ہے\n\nگرچہ اس زلف سے کچھ کام نہیں اب تو ولے\nسانپ کے کاٹے کی سی اک لہر آ جاتی ہے\n\nمیرے ہوتے ہی تمہیں غیر سے تھی کرنی بات\nدل میں کچھ کچھ پھر اسی بات پر آ جاتی ہے\n\nیہ غضب ہے کہ وہ روٹھا ہوا پھرتا ہے جو یاں\nخواب میں بھی وہی صورت نظر آ جاتی ہے\n\nذکر چھیڑے کوئی اب کیونکہ مرا اس کے حضور\nواں تو ہر بات میں تیغ و سپر آ جاتی ہے\n\nسوجھتا کچھ نہیں اس وقت میاں اپنے تئیں\nیاد جس وقت تری مو کمر آ جاتی ہے\n\nکاٹ دیتا ہے وہ ہر بات میں سنتا ہی نہیں\nبات میری کبھی مجلس میں گر آ جاتی ہے\n\nاک وفاداری جو ہے آب و گل اپنے میں حسنؔ\nپھر طبیعت نہیں پھرتی جدھر آ جاتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اس کے کوچے میں بہت رہتے ہیں دیوانے پڑے", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کے کوچے میں بہت رہتے ہیں دیوانے پڑے\nان میں دیکھا تو میاں رنگیںؔ نہ پہچانے پڑے\n\nمیں سفر میں ہوں اور اس کو غیر بہکاتے ہیں واں\nمجھ کو اب کاغذ کے گھوڑے یاں سے دوڑنے پڑے\n\nساقیا تیری نگاہ ناز کے باعث سے دیکھ\nجام و خم اوندھے ہیں اور تلپٹ ہیں پیمانے پڑے\n\nدوستوں کے کہنے سننے سے مجھے مجبور ہو\nزخم دل جراح کو اے وائے دکھلانے پڑے\n\nاب غزل اک اور رنگیںؔ تو بدل کر لکھ ردیف\nقافیہ پھر یہ مکرر تجھ کو کہہ جانے پڑے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%BE%DA%91%DB%92"} {"title": "اس کے کوچے میں مسیحا ہر سحر جاتا رہا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کے کوچے میں مسیحا ہر سحر جاتا رہا\nبے اجل واں ایک دو ہر رات مر جاتا رہا\n\nکوئے جاناں میں بھی اب اس کا پتہ ملتا نہیں\nدل مرا گھبرا کے کیا جانے کدھر جاتا رہا\n\nجانب کہسار جا نکلا جو میں تو کوہ کن\nاپنا تیشہ میرے سر سے مار کر جاتا رہا\n\nنے کشش معشوق میں پاتا ہوں نے عاشق میں جذب\nکیا بلا آئی محبت کا اثر جاتا رہا\n\nواہ رے اندھیر بہر روشنیٔ شہر مصر\nدیدۂ یعقوب سے نور نظر جاتا رہا\n\nنشہ ہی میں یا الٰہی میکشوں کو موت دے\nکیا گہر کی قدر جب آب گہر جاتا رہا\n\nاک نہ اک مونس کی فرقت کا فلک نے غم دیا\nدرد دل پیدا ہوا درد جگر جاتا رہا\n\nحسن کھو کر آشنا ہم سے ہوا وہ نونہال\nپہنچے تب زیر شجر ہم جب ثمر جاتا رہا\n\nرنج دنیا سے فراغ ایذا دہندوں کو نہیں\nکب تپ شیرا اتری کس دن درد سر جاتا رہا\n\nفاتحہ پڑھنے کو آئے قبر آتشؔ پر نہ یار\nدو ہی دن میں پاس الفت اس قدر جاتا رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B3%DB%8C%D8%AD%D8%A7_%DB%81%D8%B1_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "اس کے کوچے کی طرف تھا شب جو دنگا آگ کا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس کے کوچے کی طرف تھا شب جو دنگا آگ کا\nآہ سے کس کی پڑا تھا واں پتنگا آگ کا\n\nجنگ ہے کس آتشیں خو سے جو رہتا ہے مدام\nتیغ عریاں کی طرح ہر شعلہ ننگا آگ کا\n\nتوشے دانوں میں بھرے رہتے ہیں ان کے کارتوس\nاس لیے خطرہ رکھے ہے ہر تلنگا آگ کا\n\nتہہ سے اس کی سرخ ہو کر کب نہ نکلی موج برق\nکب شفق نے خوں میں پیراہن نہ رنگا آگ کا\n\nشمع کے شعلے پہ موقوف اس کا جل جانا نہیں\nمصحفیؔ جس جا ہو عاشق ہے پتنگا آگ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B4%D8%A8_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%86%DA%AF%D8%A7_%D8%A2%DA%AF_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اس گل باغ امامت کے ہیں پھول", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "اس گل باغ امامت کے ہیں پھول\nآبیاری جن کی کرتی تھی بتول\nسو تن نازک پہ اس کے خاک دھول\nدیدنی ہے رنگ صحبت یا رسولؐ\n\nنوگل اس گلزار کے مرجھا گئے\nپودھے پامالی میں سارے آگئے\nجور کے آرے شجر سب کھا گئے\nجاے گلبن سبز و خرم ہیں ببول\n\nشامیوں کے ظلم سے ہوکر ہلاک\nان نے جانی نہ کسو کی مشت خاک\nدھوپ میں جلتا رہا وہ جسم پاک\nسایہ پرور کو گئے تم اپنے بھول\n\nاب نہیں ہے برگ و بار و بر کا نام\nخار غنچے ہو رہے ہیں گام گام\nسیر کر ٹک جور کے تیشوں کا کام\nکچھ نہ چھوڑا کیا فروع و کیا اصول\n\nپھر گئی کیا آہ یک باری ہوا\nاڑ گئے سب طائران خوش نوا\nکیا زمانے نے ستم رکھا روا\nجاے بلبل زاغ بیٹھے پھول پھول\n\nظالماں پژمردہ گل سب کر گئے\nخار و خس سے گلستاں اب بھر گئے\nآدمی کی جنس یعنی مرگئے\nباغ جنگل ہو گیا پھرتے ہیں غول\n\nالغرض میداں میں شہ مارا گیا\nدار و دستہ قتل ہو سارا گیا\nعابدیں کا یاور و یارا گیا\nکرتے ہیں کیا کیا فضولی اب فضول\n\nدیکھ ناچار ان نے کی کیا کیا گئی\nیار و یاور موت سب کو آگئی\nبیٹے اور بھائی سبھوں کو کھا گئی\nکس قدر تیغ ستم بھی تھی اکول\n\nجس کا نانا رحمت للعالمیں\nباپ جس کا وہ امیرالمومنیں\nخود امام برحق دین مبیں\nتس کو ماریں یہ ظلوم و یہ جہول\n\nپھر وہ مارا جائے یوں بیکس غریب\nنے کوئی جس کا رہے یار و حبیب\nکیونکے ہووے مشت خاک اس کو نصیب\nفاتحہ دے کون آکر کیسے پھول\n\nداد چاہیں کیا شہ مقبول کی\nلاش لے جاویں کہاں مقتول کی\nاصل ہے معلوم اس مجہول کی\nہے جو حاکم رد خلق و ناقبول\n\nنوزدہ سالہ پسر اک رشک ماہ\nلوٹتا تھا خاک و خوں میں پیش شاہ\nہو جہاں کیونکر نہ آنکھوں میں سیاہ\nاس جگرپارے کے تیں برچھی کی ہول\n\nاک پسر شش ماہہ لاگا جس کے تیر\nخوں ہوا جس سے دل برنا و پیر\nہوگا جس کا پارۂ دل وہ صغیر\nاس کے دل میں کیسی اٹھتی ہوگی سول\n\nلوٹ کرتے ہیں تو کچھ تقصیر پر\nغیر یوں آتے تھے خرد و پیر پر\nجیسے جاتے ہیں کھٹن جاگیر پر\nگھر نبیؐ کا ان کی گویا تھی تیول\n\nزور دکھلانے کا کچھ حاصل نہ تھا\nقافیہ یہ مرثیہ قابل نہ تھا\nغم سے پھر مجھ کو دماغ و دل نہ تھا\nورنہ دیتا بات کو میں اور طول\n\nتھا غرض شاداب کیا یہ گلستاں\nپھول گل تھے رنگ رنگ اس میں عیاں\nآگئی یک بار اس پر یوں خزاں\nکل جو تھے غنچے ہوئے ہو کر ملول\n\nیہ چمن جو سبز با خرم رہا\nخوبی و رونق ہی کا ہمدم رہا\nہر گل و بوٹے پر اک عالم رہا\nحظ روحی اس سے ہوتا تھا حصول\n\nہوگیا ہے سو وہ اب ماتم کا گھر\nجھڑ پڑے اس کے گل تر خاک پر\nدیکھیے اودھر تو خوں ہووے نظر\nدرد و غم بن کچھ نہیں ہوتا وصول\n\nدرد دل اے میرؔ کب تک بس خموش\nہوگیا احباب کو تو درد گوش\nکشتہ ہیں اس واقعے کے اہل ہوش\nمردہ ہیں اس سانحے کے ذی عقول", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84"} {"title": "اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھا", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھا\nجس دن کہ یہ بہار نہ تھی گلستاں نہ تھا\n\nدام و قفس سے چھوٹ کے پہنچے جو باغ تک\nدیکھا تو اس زمیں میں چمن کا نشاں نہ تھا\n\nیہ قمریاں جو سرو کی عاشق ہوئیں مگر\nدنیا میں اور کوئی سجیلا جواں نہ تھا\n\nکیوں کر ملی ہو گل سے جو آتی ہو خوش دماغ\nاے بلبلوں چمن میں مگر باغباں نہ تھا\n\nلاچار لے دل اپنا گیا گور میں یقیںؔ\nاس جنس کا جہاں میں کوئی قدرداں نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اس گل کو بھیجنا ہے مجھے خط صبا کے ہاتھ", "poet_page": "مصنف:مظہر جان جاناں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس گل کو بھیجنا ہے مجھے خط صبا کے ہاتھ\nاس واسطے لگا ہوں چمن کی ہوا کے ہاتھ\n\nبرگ حنا اوپر لکھو احوال دل مرا\nشاید کہ جا لگے وہ کسی میرزا کے ہاتھ\n\nآزاد ہو رہا ہوں دو عالم کی قید سے\nمینا لگا ہے جب سے کہ کچھ بے نوا کے ہاتھ\n\nمرتا ہوں میرزائی گل دیکھ ہر سحر\nسورج کے ہاتھ چونری تو پنکھا صبا کے ہاتھ\n\nمظہرؔ چھپا کے رکھ دل نازک کو اپنے تو\nیہ شیشہ بیچنا ہے کسی میرزا کے ہاتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AC%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AE%D8%B7_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "اس گلشن پر خار سے مانند صبا بھاگ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس گلشن پر خار سے مانند صبا بھاگ\nوحشت یہی کہتی ہے کہ زنجیر تڑا بھاگ\n\nگرتے تھے خریدار کب اس طرح سے اس پر\nپاؤں سے ترے لگتے ہی مہندی کو لگا بھاگ\n\nشوخی کہوں کیا تیرے تصور کی کہ ہے ہے\nشب سامنے آ کر مرے آگے سے گیا بھاگ\n\nجب کبک دری دیکھے ہے رفتار کو اس کی\nکہتا ہے یہی جی میں \"یہ رفتار اڑا بھاگ\"\n\nزاہد جو ہوا کر کے وضو حوض پہ قائم\nاک رند کو سوجھی کہ تو اب اس کو گرا بھاگ\n\nٹھہرا جو ذرا بحر محبت پہ میں جا کر\nآئی لب ساحل سے یہی اس کے صدا بھاگ\n\nاے مصحفیؔ ہے مار فلک رہزن مردم\nتو بھاگ سکے اس سے تو از بہر خدا بھاگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%86%D8%AF_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%DA%AF"} {"title": "اس گلی میں جو ہم کو لائے قدم", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس گلی میں جو ہم کو لائے قدم\nپاؤں پڑتے ہی لڑکھڑائے قدم\n\nوائے قسمت میں رہ گیا پیچھے\nاور رفیقوں نے جلد اٹھائے قدم\n\nہر قدم پر ہے لاش کشتے کی\nاب کہاں اس گلی میں جائے قدم\n\nتیرے کوچے سے آئے جو ان کے\nاپنی آنکھوں سے میں لگائے قدم\n\nاشک خونی سے میرے اس کو میں\nنخل مرجاں ہیں نقش ہائے قدم\n\nکاروان عدم کدھر کو گیا\nمطلق آتی نہیں صدائے قدم\n\nپیشتر منزل فنا سے نہیں\nوادی ما و من میں جائے قدم\n\nمصحفیؔ سالکان عشق کا ہے\nایسی منزل پہ انتہائے قدم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%82%D8%AF%D9%85"} {"title": "اس گوشۂ عزلت میں تنہائی ہے اور میں ہوں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اس گوشۂ عزلت میں تنہائی ہے اور میں ہوں\nمعشوق تصور سے یکجائی ہے اور میں ہوں\n\nیا گھر سے قدم میرا باہر نہ نکلتا تھا\nیا شہر کی گلیوں میں رسوائی ہے اور میں ہوں\n\nجس دشت میں ناقے کا گزرا نہ قدم ہرگز\nاس دشت میں مجنوں سا سودائی ہے اور میں ہوں\n\nناصح کی نہ میں مانوں ہم دم کی نہ کچھ سمجھوں\nاس عشق و محبت میں خود آرائی ہے اور میں ہوں\n\nہر چند جنون عشق ہوتا ہے خرد دشمن\nاے مصحفیؔ اس پر بھی دانائی ہے اور میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%88%D8%B4%DB%82_%D8%B9%D8%B2%D9%84%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "اساتِذہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مقصد ہو اگر تربَیتِ لعلِ بدخشاں\nبے سُود ہے بھٹکے ہُوئے خورشید کا پر تُو\nدُنیا ہے روایات کے پھندوں میں گرفتار\nکیا مَدرسہ، کیا مدرسے والوں کی تگ و دَو!\nکر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت\nوہ کُہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پَیرو!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D9%90%D8%B0%DB%81"} {"title": "اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں\nکہ ہے سر پنجۂ مژگان آہو پشت خار اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D8%AF%D8%94_%DB%81%D9%85_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%88%D9%84%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D8%AF%D8%A7%DB%93_%D8%A8%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D9%88_%D9%BE%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اسرار جہاں لطیفۂ غیبی ہیں", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اسرار جہاں لطیفۂ غیبی ہیں\nسب عالم تحت و فوق ترکیبی ہیں\nواں بارش و امساک یہاں پیدا وار\nیہ چرخ و زمیں دونوں میاں بی بی ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%84%D8%B7%DB%8C%D9%81%DB%82_%D8%BA%DB%8C%D8%A8%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئے\nقطرہ ہے بے قرار سمندر لیے ہوئے\n\nآشوب دہر و فتنۂ محشر لیے ہوئے\nپہلو میں یعنی ہو دل مضطر لیے ہوئے\n\nموج نسیم صبح کے قربان جائیے\nآئی ہے بوئے زلف معنبر لیے ہوئے\n\nکیا مستیاں چمن میں ہیں جوش بہار سے\nہر شاخ گل ہے ہاتھ میں ساغر لیے ہوئے\n\nقاتل نگاہ یاس کی زد سے نہ بچ سکا\nخنجر تھے ہم بھی اک تہ خنجر لیے ہوئے\n\nخیرہ کیے ہے چشم حقیقت شناس بھی\nہر ذرہ ایک مہر منور لیے ہوئے\n\nپہلی نظر بھی آپ کی اف کس بلا کی تھی\nہم آج تک وہ چوٹ ہیں دل پر لیے ہوئے\n\nتصویر ہے کھنچی ہوئی ناز و نیاز کی\nمیں سر جھکائے اور وہ خنجر لیے ہوئے\n\nصہبائے تند و تیز کو ساقی سنبھالنا\nاچھلے کہیں نہ شیشہ و ساغر لیے ہوئے\n\nمیں کیا کہوں کہاں ہے محبت کہاں نہیں\nرگ رگ میں دوڑی پھرتی ہے نشتر لیے ہوئے\n\nنام ان کا آ گیا کہیں ہنگام باز پرس\nہم تھے کہ اڑ گئے صف محشر لیے ہوئے\n\nاصغرؔ حریم عشق میں ہستی ہی جرم ہے\nرکھنا کبھی نہ پاؤں یہاں سر لیے ہوئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "اسراف سے احتراز اگر فرماتے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اسراف سے احتراز اگر فرماتے\nکیوں گردش ایام کی سیلی کھاتے\nانگشت نما تھی کج کلاہی جن کی\nوہ پھرتے ہیں آج جوتیاں چٹخاتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%81_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%AA%DB%92"} {"title": "اسلاف کا حصہ تھا اگر نام و نمود", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اسلاف کا حصہ تھا اگر نام و نمود\nپڑھتے پھرو اب ان کے مزاروں پہ درود\nکچھ ہاتھ میں نقد رائج الوقت بھی ہے\nیا اتنی ہی پونجی پدرم سلطاں بود", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%B5%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D9%86%D9%85%D9%88%D8%AF"} {"title": "اسلام اور کفر ہمارا ہی نام ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "اسلام اور کفر ہمارا ہی نام ہے\nکعبہ کنشت دونوں میں اپنا مقام ہے\n\nیہ عشق جس کا شور ہے عالم میں ہیں ہمیں\nیہ حسن ہم ہیں جس کی یہ سب دھوم دھام ہے\n\nبن کر سخن زبان پہ عالم کی ہیں ہمیں\nمصروف اپنے ذکر میں بس ہر اک دام ہے\n\nدیکھو جس آنکھ میں تو ہمارا ہی نور ہے\nہر کان میں بھرا یہ ہمارا کلام ہے\n\nجو کشتگان معرکہ تیغ عشق ہیں\nان کے لئے یہ عالم ہستی دوام ہے\n\nکوئے صنم سے ہم کو سروکار ہے فقط\nواعظ تری بہشت کو اپنا سلام ہے\n\nآثمؔ نہ چھوڑو دامن خادم صفی کبھوں\nمعمور جس کی فیض سے ہر خاص و عام ہے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%81%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "اسمال نہیں گریٹ ہونا اچھا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اسمال نہیں گریٹ ہونا اچھا\nدل ہونا برا ہے پیٹ ہونا اچھا\nپنڈت ہو کہ مولوی ہو دونوں بے کار\nانساں کو گریجویٹ ہونا اچھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%85%D8%A7%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D9%B9_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اسِیری", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ہے اسِیری اعتبار افزا جو ہو فطرت بلند\nقطرۂ نیساں ہے زندانِ صدَف سے ارجمند\n\nمُشکِ اَذفر چیز کیا ہے، اک لہُو کی بوند ہے\nمُشک بن جاتی ہے ہو کر نافۂ آہُو میں بند\n\nہر کسی کی تربیت کرتی نہیں قُدرت، مگر\nکم ہیں وہ طائر کہ ہیں دام و قفَس سے بہرہ مند\n\n“شہپر زاغ و زغن در بندِ قید و صید نیست\nایں سعادت قسمتِ شہباز و شاہیں کردہ اند”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%90%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "اسی خیال سے ترک ان کی چاہ کر نہ سکے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسی خیال سے ترک ان کی چاہ کر نہ سکے\nکہیں گے لوگ کہ دو دن نباہ کر نہ سکے\n\nہمیں جو دیکھ لیا جھک گئی حیا سے آنکھ\nادھر ادھر سر محفل نگاہ کر نہ سکے\n\nخدا کے سامنے آیا کچھ اس ادا سے وہ شوخ\nکہ منہ سے اف بھی ذرا داد خواہ کر نہ سکے\n\nترے کرم کا بھروسا ہی زاہدوں کو نہیں\nاسی لیے تو یہ کھل کر نگاہ کر نہ سکے\n\nرہا یہ پاس ہمیں آپ کی نزاکت کا\nکہ دل کا خون ہوا منہ سے آہ کر نہ سکے\n\nتمہیں حفیظؔ سے نفرت ہے تو یہ فکر ہے کیوں\nکسی حسین سے وہ رسم و راہ کر نہ سکے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%DB%92"} {"title": "اسی عاشقی میں پیہم ہوئی خانماں خرابی", "poet_page": "مصنف:سہا مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسی عاشقی میں پیہم ہوئی خانماں خرابی\nدل مبتلا کی اب تک ہے وہی جنوں مآبی\n\nرہے سوز عشق لیکن گئے ہوش پھر نہ آئیں\nوہ تجلیوں سے پر ہے تری چشم کی گلابی\n\nہمیں تم اب اپنی محفل میں بلا کے کیا کروگے\nنہ وہ جوش باریابی نہ وہ ہوش کامیابی\n\nجو سنے تو داد ممکن ہے مگر بھلا سنے کیوں\nمیری بے بسی کے شکوے ترا حسن لاجوابی\n\nمگر اتنی سادگی بھی تو بجائے خود ادا ہے\nبہ خیال پردہ داری بہ جمال آفتابی\n\nمری آرزو نگاہی نے ستم کیا سکھا کر\nترے اس شباب رنگیں کو مذاق بے حجابی\n\nکوئی ہوشیار کیونکر اسے دلبری میں جانے\nیہ نظر کہ جو بظاہر ہے شعاع نیم خوابی\n\nنہ سہی سہاؔ کہ عالم پہ ہو آشکار ورنہ\nمری خاکساریوں میں ہے شکوۂ بو ترابی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%DB%81%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8%DB%8C"} {"title": "اسی چیز کی کوئی عزت نہیں", "poet_page": "مصنف:ابومحمد سید حسین سیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > منتخب دیوان سیفی (1934)", "year": "1934", "text_ur": "اسی چیز کی کوئی عزت نہیں\nزمانے کو جس کی ضرورت نہیں\n\nصداقت سے جس کو محبت نہیں\nخدا کی قسم اس کو راحت نہیں\n\nہمیں سے ہے جتنی محبت ہمیں\nکسی سے بھی اتنی محبت نہیں\n\nغلامی ہی نعمت ہو جن کے لئے\nتجارت میں ان کو مسرت نہیں\n\nنئی کون سی چیز دنیا میں ہے\nیہ کہئے کہ اب وہ جہالت نہیں\n\nوہ دنیا کے جھگڑے بڑھائے گا کیا\nجسے ذکر خالق سے فرصت نہیں\n\nیہ مانا کہ ہے دشمن بد اجل\nمگر اس سے بچنے کی صورت نہیں\n\nجو پہلے تھے اب بھی وہی ہیں مرے\nہماری زباں ہی میں لذت نہیں\n\nخدا کی ضرورت ہے سیفیؔ ہمیں\nخدا کو ہماری ضرورت نہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%DA%86%DB%8C%D8%B2_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B9%D8%B2%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اسی کا دیکھنا ہے ٹھانتا دل", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسی کا دیکھنا ہے ٹھانتا دل\nجو ہے تیر نگہ سے چھانتا دل\n\nبہت کہتے ہیں مت مل اس سے لیکن\nنہیں کہنا ہمارا مانتا دل\n\nکہا اس نے یہ ہم سے کس صنم کو\nتمہارا ان دنوں ہے مانتا دل\n\nچھپاؤگے تو چھپنے کا نہیں یاں\nہمارا ہے نشاں پہچانتا دل\n\nکہا ہم نے نظیرؔ اس سے کہ جس نے\nیہ پوچھا ہے اسی کا جانتا دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%A7_%D8%AF%D9%84"} {"title": "اسی کی ذات کو ہے دائماً ثبات و قیام", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسی کی ذات کو ہے دائماً ثبات و قیام\nقدیر و حی و کریم و مہیمن و منعام\n\nبروج بارہ میں لا کر رکھی وہ باریکی\nکہ جس کو پہنچے نہ فکرت نہ دانش و اوہام\n\nادھر فرشتۂ کروبی اور ادھر غلماں\nقلم کو لوح پہ بخشی ہے طاقت ارقام\n\nیہ دو ہیں شمس و قمر اور ساتھ ان کے یار\nعطارد و زحل و زہرہ مشتری بہرام\n\nجو چاہیں ایک پلک ٹھہریں یہ سو طاقت کیا\nپھرا کریں گے یہ آغاز سے لے تا انجام\n\nبشر جو چاہے کہ سمجھے انہیں سو کیا امکاں\nہے یاں فرشتوں کی عاجز عقول اور افہام\n\nنکالے ان سے گل و میوہ شاخ و برگ و بار\nسب اس کے لطف و کرم کے ہیں عام یہ انعام\n\nاسی کے باغ سے دل شاد ہو کے کھاتے ہیں\nچھہارے کشمش و انجیر و پستہ و بادام\n\nچمک رہا ہے اسی کی یہ قدرتوں کا نور\nبہر زماں و بہر ساعت و بہر ہنگام\n\nکہ اس کا شکر کریں شب سے ما بہ روز ادا\nاطاعت اس کی بجا لاویں صبح سے تا شام\n\nنظیرؔ نکتہ سمجھ مہر و فضل خالق کو\nاسی کے فضل سے دونوں جہاں میں ہے آرام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B0%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%A6%D9%85%D8%A7%D9%8B_%D8%AB%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%88_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85"} {"title": "اسی کے جلوے تھے لیکن وصال یار نہ تھا", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسی کے جلوے تھے لیکن وصال یار نہ تھا\nمیں اس کے واسطے کس وقت بے قرار نہ تھا\n\nکوئی جہان میں کیا اور طرح دار نہ تھا\nتری طرح مجھے دل پر تو اختیار نہ تھا\n\nخرام جلوہ کے نقش قدم تھے لالہ و گل\nکچھ اور اس کے سوا موسم بہار نہ تھا\n\nوہ کون نالۂ دل تھا قفس میں اے صیاد\nکہ مثل تیر نظر آسماں شکار نہ تھا\n\nغلط ہے حکم جہنم کسے ہوا ہوگا\nکہ مجھ سے بڑھ کے تو کوئی گناہ گار نہ تھا\n\nوفور بے خودیٔ بزم مے نہ پوچھو رات\nکوئی بجز نگہ یار ہوشیار نہ تھا\n\nلحد کو کھول کے دیکھو تو اب کفن بھی نہیں\nکوئی لباس نہ تھا جو کہ مستعار نہ تھا\n\nتو محو گل بن و گلزار ہو گیا آسیؔ\nتری نظر میں جمال خیال یار نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اسیر عشق مرض ہیں تو کیا دوا کرتے", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسیر عشق مرض ہیں تو کیا دوا کرتے\nجو انتہا کو پہنچتے تو ابتدا کرتے\n\nاگر زمانے میں اپنے کبھی وفا کرتے\nدہان زخم تڑپنے پہ کیوں ہنسا کرتے\n\nمریض لذت فریاد کہہ نہیں سکتے\nجو نالے کام نہ آتے تو چپ رہا کرتے\n\nہم ان سے مل کے بھی فرقت کا حال کہہ نہ سکے\nمزہ وصال کا کھوتے اگر گلہ کرتے\n\nمذاق درد سے نا واقفی نہیں اچھی\nکبھی کبھی تو مری داستاں سنا کرتے\n\nشب فراق گوارا نہ تھی مگر دیکھی\nاب اور خاطر مہماں زیادہ کیا کرتے\n\nدر قفس نہ کھلا قدر صبر کر صیاد\nتڑپتے ہم تو پہاڑوں میں راستا کرتے\n\nاسے جلا کے اسے آگ دی برا نہ کیا\nجگر جو رکھتے تھے آخر وہ دل کو کیا کرتے\n\nزبان والوں سے سن سن کے ہے یقیں ثاقبؔ\nکہ بولتے تو صنم بھی خدا خدا کرتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%D8%B1%D8%B6_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے\nکہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے\n\nکسی کے درد محبت نے عمر بھر کے لیے\nخدا سے مانگ لیا انتخاب کر کے مجھے\n\nیہ ان کے حسن کو ہے صورت آفریں سے گلہ\nغضب میں ڈال دیا لا جواب کر کے مجھے\n\nوہ پاس آنے نہ پائے کہ آئی موت کی نیند\nنصیب سو گئے مصروف خواب کر کے مجھے\n\nمرے گناہ زیادہ ہیں یا تری رحمت\nکریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے\n\nمیں ان کے پردۂ بے جا سے مر گیا مضطرؔ\nانھوں نے مار ہی ڈالا حجاب کر کے مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%D9%86%D8%AC%DB%82_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "اسیران قفس صحن چمن کو یاد کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسیران قفس صحن چمن کو یاد کرتے ہیں\nبھلا بلبل پہ یوں بھی ظلم اے صیاد کرتے ہیں\n\nکمر کا تیرے جس دم نقش ہم ایجاد کرتے ہیں\nتو جاں فرمان آ کر معنی و بہزاد کرتے ہیں\n\nپس مردن تو رہنے دے زمیں پر اے صبا مجھ کو\nکہ مٹی خاکساروں کی نہیں برباد کرتے ہیں\n\nدم رفتار آتی ہے صدا پازیب سے تیری\nلحد کے خستگاں اٹھو مسیحا یاد کرتے ہیں\n\nقفس میں اب تو اے صیاد اپنا دل تڑپتا ہے\nبہار آئی ہے مرغان چمن فریاد کرتے ہیں\n\nبتا دے اے نسیم صبح شاید مر گیا مجنوں\nیہ کس کے پھول اٹھتے ہیں جو گل فریاد کرتے ہیں\n\nمثل سچ ہے بشر کی قدر نعمت بعد ہوتی ہے\nسنا ہے آج تک ہم کو بہت وہ یاد کرتے ہیں\n\nلگایا باغباں نے زخم کاری دل پہ بلبل کے\nگریباں چاک غنچے ہیں تو گل فریاد کرتے ہیں\n\nرساؔ آگے نہ لکھ اب حال اپنی بے قراری کا\nبرنگ غنچہ لب مضموں ترے فریاد کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D9%82%D9%81%D8%B3_%D8%B5%D8%AD%D9%86_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اسیروں میں بھی ہو جائیں جو کچھ آشفتہ سر پیدا", "poet_page": "مصنف:اقبال سہیل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسیروں میں بھی ہو جائیں جو کچھ آشفتہ سر پیدا\nابھی دیوار زنداں میں ہوا جاتا ہے در پیدا\n\nکیے ہیں چاک دل سے بوئے گل نے بال و پر پیدا\nہوس ہے زندگانی کی تو ذوق مرگ کر پیدا\n\nیہ مشت خاک اگر کر لے پر و بال نظر پیدا\nتو اوج لامکاں تک ہوں ہزاروں رہ گزر پیدا\n\nجمال دوست پنہاں پردۂ شمس و قمر پیدا\nیہی پردے تو کرتے ہیں تقاضائے نظر پیدا\n\nمحبت تیرے صدقے تو نے کر دی وہ نظر پیدا\nجدھر آنکھیں اٹھیں ہوتا ہے حسن جلوہ گر پیدا\n\nشب غم اب منائے خیر اپنے جیب و دامن کی\nرہے دست جنوں باقی تو کر لیں گے سحر پیدا\n\nمذاق سر بلندی ہو تو پھر دیر و حرم کیسے\nجبیں سائی کی فطرت نے کیے ہیں سنگ در پیدا\n\nنثار اس لن ترانی کے یہ کیا کم ہے شرف اس کا\nدل خوددار نے کر لی نگاہ خود نگر پیدا\n\nجوانو یہ صدائیں آ رہی ہیں آبشاروں سے\nچٹانیں چور ہو جائیں جو ہو عزم سفر پیدا\n\nوہ شبنم کا سکوں ہو یا کہ پروانے کی بیتابی\nاگر اڑنے کی دھن ہوگی تو ہوں گے بال و پر پیدا\n\nسہیلؔ اب پوچھنا ہے انقلاب آسمانی سے\nہماری شام غم کی بھی کبھی ہوگی سحر پیدا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A2%D8%B4%D9%81%D8%AA%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7"} {"title": "اسیری بے مزہ لگتی ہے بن صیاد کیا کیجے", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسیری بے مزہ لگتی ہے بن صیاد کیا کیجے\nقفس کے کنج میں تنہا عبث فریاد کیا کیجے\n\nمری تمکیں گئی مثل جرس برباد کیا کیجے\nکہ میں تو چپ ہوں پر کرتا ہے دل فریاد کیا کیجے\n\nاثر کرتا نہیں بن سجدۂ تسلیم کے نالہ\nہم اس مصرع پہ غیر از حلقۂ قد صاد کیا کیجے\n\nکنار بے ستوں میں کیوں دیا نقش اپنے دلبر کا\nتبھی فرہاد دنیا سے گیا ناشاد کیا کیجے\n\nپٹکتا سر جو سنگ صورت شیریں سے بہتر تھا\nعبث تیشے کے سر خوں دے گیا فرہاد کیا کیجے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D9%85%D8%B2%DB%81_%D9%84%DA%AF%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%86_%D8%B5%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92"} {"title": "اسیری میں تباہی رونق کاشانہ ہو جائے", "poet_page": "مصنف:محمد زکریا خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسیری میں تباہی رونق کاشانہ ہو جائے\nقفس ہی نالوں سے جل کر چراغ خانہ ہو جائے\n\nتغافل سازگار شوق اہل درد کیا ہوگا\nادا سے دو فریب ایسا کہ دل دیوانہ ہو جائے\n\nنہ کہنا غیر سے قاصد کہ میں مطلب نہیں سمجھا\nپیام یار ہے ہے معنئ بیگانہ ہو جائے\n\nنہیں کیوں حضرت موسیٰ کی بیتابی کے ہم پیرو\nکہ راز دل زباں پر آئے اور افسانہ ہو جائے\n\nکہاں تک ضبط بے تابی دل مسکین مجھے ڈر ہے\nتری خوئے تحمل سے وہ بے پروا نہ ہو جائے\n\nفغاں کرتے ہوئے جا پہنچو اس کی بزم عشرت میں\nکبھی تو اے ذکیؔ یہ شوخئ رندانہ ہو جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%A8%D8%A7%DB%81%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D9%86%D9%82_%DA%A9%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "اسے جینا نہیں آتا جسے مرنا نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "خدا اس قوم کو عزت نہیں دیتا زمانے میں\nجسے قومی بزرگوں کا ادب کرنا نہیں آتا\nیقیناً ہوتی ہے مرنے سے بد تر زندگی اس کی\nجسے ملک و وطن کے واسطے مرنا نہیں آتا\nبتوں کا خوف رکھتا ہے اسے لرزہ بہ تن ہر دم\nخدا کے خوف سے جس شخص کو ڈرنا نہیں آتا\nجواں مردوں ہی کا ہے کام قطع راہ حریت\nکہ اس منزل میں بزدل کو قدم دھرنا نہیں آتا\nمقدر میں ہے اس کے عمر بھر پامال غم رہنا\nجسے پامالیٔ ملت کا غم کرنا نہیں آتا\nاسے زندہ نہ سمجھو سانس ہے گو جس کے سینے میں\nمگر آزادیٔ ملت کا دم بھرنا نہیں آتا\nبقول حضرت اکبر فنا میں ہے بقا مضمر\nاسے جینا نہیں آتا جسے مرنا نہیں آتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے\nجسے کوئی نسبت خاص ہو ترے حسن برق خرام سے\n\nمجھے دے رہے ہیں تسلیاں وہ ہر ایک تازہ پیام سے\nکبھی آ کے منظر عام پر کبھی ہٹ کے منظر عام سے\n\nکیوں کیا رہا جو مقابلہ خطرات گام بہ گام سے\nسر بام عشق تمام تک رہ شوق نیم تمام سے\n\nنہ غرض کسی سے نہ واسطہ مجھے کام اپنے ہی کام سے\nترے ذکر سے تری فکر سے تری یاد سے ترے نام سے\n\nمرے ساقیا مرے ساقیا تجھے مرحبا تجھے مرحبا\nتو پلائے جا تو پلائے جا اسی چشم جام بہ جام سے\n\nتری صبح عیش ہے کیا بلا تجھے اے فلک جو ہو حوصلہ\nکبھی کر لے آ کے مقابلہ غم ہجر یار کی شام سے\n\nمجھے یوں نہ خاک میں تو ملا میں اگرچہ ہوں ترا نقش پا\nترے جلوے کی ہے بقا مرے شوق نام بہ نام سے\n\nتری چشم مست کو کیا کہوں کہ نظر نظر ہے فسوں فسوں\nیہ تمام ہوش یہ سب جنوں اسی ایک گردش جام سے\n\nیہ کتاب دل کی ہیں آیتیں میں بتاؤں کیا جو ہیں نسبتیں\nمرے سجدہ ہائے دوام کو ترے نقش ہائے خرام سے\n\nمجھے چاہیئے وہی ساقیا جو برس چلے جو چھلک چلے\nترے حسن شیشہ بدست سے تری چشم بادہ بہ جام سے\n\nجو اٹھا ہے درد اٹھا کرے کوئی خاک اس سے گلا کرے\nجسے ضد ہو حسن کے ذکر سے جسے چڑھ ہو عشق کے نام سے\n\nوہیں چشم حور پھڑک گئی ابھی پی نہ تھی کہ بہک گئی\nکبھی یک بیک جو چھلک گئی کسی رند مست کے جام سے\n\nتو ہزار عذر کرے مگر ہمیں رشک ہے اور ہی کچھ جگرؔ\nتری اضطراب نگاہ سے ترے احتیاط کلام سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%88_%D9%82%D8%A7%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "اسے سودا اسے سودا یہ دیوانہ وہ دیوانہ", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسے سودا اسے سودا یہ دیوانہ وہ دیوانہ\nہوا کیا موسم گل کی جنوں انگیز ہوتی ہے\n\nارے کم بخت انکار اور مے سے موسم گل میں\nبری اتنی بھی زاہد عادت پرہیز ہوتی ہے\n\nچھری سے پہلے مجھ کو تیرے غمزے مار ڈالیں گے\nکب آئے گی ارے جلاد کب سے تیز ہوتی ہے\n\nمبارکؔ بھی اسی خاک عظیم آباد سے اٹھا\nسلامت وہ زمیں یارب جو مردم خیز ہوتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "اسے کیا رات دن جو طالب دیدار پھرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اسے کیا رات دن جو طالب دیدار پھرتے ہیں\nغرض ہے تو غرض کے واسطے سو بار پھرتے ہیں\n\nادھر دیکھو بھلا ہم کو زمانہ کیا نہیں کہتا\nتو کیا ہر ایک سے کرتے ہوئے تکرار پھرتے ہیں\n\nجو اب وحشت نہیں بھی ہے تو اپنی چال کیوں چھوڑیں\nجدھر جی چاہے دن بھر رات بھر بے کار پھرتے ہیں\n\nتری خاطر محبت ہو گئی ہے دل کی وحشت سے\nہمیں آوارہ پن پر آ گیا ہے پیار پھرتے ہیں\n\nتڑپنے لوٹنے کی آج ان تک بھی خبر پہنچی\nمجھے بدنام کرنے کو مرے غم خوار پھرتے ہیں\n\nاسے ہم مانتے ہیں تو زمانے بھر سے اچھا ہے\nمگر اچھے بھی اپنے قول سے اے یار پھرتے ہیں\n\nسمجھتے ہیں سمجھنے والے اس کو بھی ریا کاری\nگلی کوچوں میں کیوں تیرے ستم بردار پھرتے ہیں\n\nتمہیں افسوس کیوں ہے عاشقوں کی کوچہ گردی پر\nپھراتا ہے مقدر یہ خدائی خار پھرتے ہیں\n\nکہیں ایسا نہ ہو اک روز تم بھی ہم سے پھر جاؤ\nیہاں پہلے ہی اپنی جان سے بیزار پھرتے ہیں\n\nوہ دل کی آرزو اب ہے نہ اس کی جستجو اب ہے\nہمارے پاؤں میں چکر ہے ہم بے کار پھرتے ہیں\n\nکسی کافر کا گھر تھا یا نہیں معلوم جنت تھی\nابھی تک میری آنکھوں میں در و دیوار پھرتے ہیں\n\nزمانے سے نرالا ہے چلن ان حسن والوں کا\nلقب تو قاتل عالم ہے بے تلوار پھرتے ہیں\n\nصفیؔ کو تم نے تو کوئی بڑا پہنچا ہوا سمجھا\nاجی رہنے بھی دو ایسے بہت مکار پھرتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%AF%D9%86_%D8%AC%D9%88_%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلے\nستم کے تیر چلے نیمچے قضا کے چلے\n\nپکارے کہتی تھی حسرت سے نعش عاشق کی\nصنم کدھر کو ہمیں خاک میں ملا کے چلے\n\nمثال ماہیٔ بے آب موجیں تڑپا کیں\nحباب پھوٹ کے روئے جو تم نہا کے چلے\n\nمقام یوں ہوا اس کارگاہ دنیا میں\nکہ جیسے دن کو مسافر سرا میں آ کے چلے\n\nکسی کا دل نہ کیا ہم نے پائمال کبھی\nچلے جو راہ تو چیونٹی کو بھی بچا کے چلے\n\nملا جنہیں انہیں افتادگی سے اوج ملا\nانہیں نے کھائی ہے ٹھوکر جو سر اٹھا کے چلے\n\nانیسؔ دم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاؤ\nچراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DA%AF%DB%82_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "اشک آ آ کے مری آنکھوں میں تھم جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اشک آ آ کے مری آنکھوں میں تھم جاتے ہیں\nجب وہ کہتے ہیں ابھی تو نہیں ہم جاتے ہیں\n\nسکہ اپنا نہیں جمتا ہے تمہارے دل پر\nنقش اغیار کے کس طور سے جم جاتے ہیں\n\nکوئی دم کا ہی دمامہ ہے نہیں دم ہمدم\nپاس انفاس نہیں دم میں یہ دم جاتے ہیں\n\nمرگ عشاق نہیں زندۂ جاوید ہوئے\nیار سے ہونے ہم آغوش و بہم جاتے ہیں\n\nاس جفا کیش کو ہے آج تلاش عشاق\nشوق دیدار میں مشتاق ستم جاتے ہیں\n\nہند کے خاک بسر ساقیؔ ہیں اہل باطن\nکعبۂ دل میں پئے طوف حرم جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%A2_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D9%85_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اشک آئے غم شہ سے جو چشم تر میں", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اشک آئے غم شہ سے جو چشم تر میں\nدل جلنے لگا تڑپ تڑپ کر بر میں\nمائلؔ یہ ماجرا نہ دیکھا نہ سنا\nپانی سے لگی آگ خدا کے گھر میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%B4%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AA%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اشک آنکھوں میں ڈر سے لا نہ سکے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اشک آنکھوں میں ڈر سے لا نہ سکے\nدل کی بھڑکی ہوئی بجھا نہ سکے\n\nنہ ہلی جب زباں نزاکت سے\nرہ گئے دیکھ کر بلا نہ سکے\n\nتھیں جو اس میں حیا کی کچھ باتیں\nشکوہ میرا وہ لب پہ لا نہ سکے\n\nکیا ہوئے تیرے حوصلے اے اشک\nحرف تقدیر کو مٹا نہ سکے\n\nتھا یہ خطرہ کہیں پسند نہ ہوں\nگالیاں بھی مجھے سنا نہ سکے\n\nگو بہت پاس غیر تھا لیکن\nآنکھ ہم سے بھی وہ چرا نہ سکے\n\nپاؤں چوما کیے حنا کی طرح\nجب کوئی اور رنگ لا نہ سکے\n\nخامشی تھی بہ شکل زخم مجھے\nلب تک اپنے سوال آ نہ سکے\n\nنہ ملی اس نے پاؤں میں مہندی\nرنگ اپنا عدو جما نہ سکے\n\nاضطراب قضا ہوا یہ نسیمؔ\nکہ گلے بھی اسے لگا نہ سکے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%DB%92"} {"title": "اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا\nلوہو آتا ہے جب نہیں آتا\n\nہوش جاتا نہیں رہا لیکن\nجب وہ آتا ہے تب نہیں آتا\n\nصبر تھا ایک مونس ہجراں\nسو وہ مدت سے اب نہیں آتا\n\nدل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش\nگریہ کچھ بے سبب نہیں آتا\n\nعشق کو حوصلہ ہے شرط ارنہ\nبات کا کس کو ڈھب نہیں آتا\n\nجی میں کیا کیا ہے اپنے اے ہمدم\nپر سخن تا بلب نہیں آتا\n\nدور بیٹھا غبار میرؔ اس سے\nعشق بن یہ ادب نہیں آتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اشک آنکھوں کے اندر نہ رہا ہے نہ رہے گا", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اشک آنکھوں کے اندر نہ رہا ہے نہ رہے گا\nیہ طفل ہے ابتر نہ رہا ہے نہ رہے گا\n\nمنعم نہ ہو مغرور سدا پاس کسو کے\nسیم و زر و گوہر نہ رہا ہے نہ رہے گا\n\nگر عیش میسر ہو تو کر لیجے کم و بیش\nسب وقت برابر نہ رہا ہے نہ رہے گا\n\nآنکھوں سے اسی طرح اگر سیل رواں ہے\nدنیا میں کوئی گھر نہ رہا ہے نہ رہے گا\n\nجب دختر رز لے کے حضورؔ آ گیا ساقی\nپھر زہد برادر نہ رہا ہے نہ رہے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "اشک افتادہ نظر آتے ہیں سارے دریا", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اشک افتادہ نظر آتے ہیں سارے دریا\nسیل گریہ نے یہ نظروں سے اتارے دریا\n\nدیکھ لیں گر مری اشکوں کے شرارے دریا\nخشک برسات میں ہوں خوف کے مارے دریا\n\nدونوں چشموں سے مری اشک بہا کرتے ہیں\nموج زن رہتا ہے دریا کے کنارے دریا\n\nرغبت اس ترک کو مچھلی کے کبابوں سے نہیں\nآتش شوق سے شیخی نہ بگھارے دریا\n\nکام اشکوں کی روانی سے نہ نکلا آخر\nجستجوئے در مقصود میں ہارے دریا\n\nجس کو عزت دے اسے پھر نہ کرے بے عزت\nکلہ سر نہ حبابوں کی اتارے دریا\n\nساتھ غیروں کے وہاں تم تو نہانے کو گئے\nروئے یاں ہم غم فرقت میں تمہارے دریا\n\nحاصل گوہر مقصود ہے رونے سے مجھے\nدیدۂ تر کے بدولت ہے اجارے دریا\n\nآنکھ سے مجھ کو بلاتا نہیں وہ قلزم حسن\nچشم گرداب سے کرتا ہے اشارے دریا\n\nبار الفت کو جو لے سر پہ تو نکلے نہ کسک\nتا قیامت کمر کوہ جو دھارے دریا\n\nجب میں روتا ہوں نظر آتا ہے پانی پانی\nدم گریہ مری آنکھوں کے ہیں تارے دریا\n\nفرقت یار میں کیا سیر کریں دریا کی\nاے صباؔ دیدۂ گریاں ہیں ہمارے دریا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%A7%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی\nلالہ کاری کسی صورت بھی ہماری نہ گئی\n\nکوچۂ حسن چھٹا تو ہوئے رسوائے شراب\nاپنی قسمت میں جو لکھی تھی وہ خواری نہ گئی\n\nان کی مستانہ نگاہوں کا نہیں کوئی قصور\nناصحو زندگی خود ہم سے سنواری نہ گئی\n\nچشم محزوں پہ نہ لہرائی وہ زلف شاداب\nیہ پری ہم سے بھی شیشے میں اتاری نہ گئی\n\nمدتیں ہو گئیں بچھڑے ہوئے تم سے لیکن\nآج تک دل سے مرے یاد تمہاری نہ گئی\n\nشاد و خنداں رہے ہم یوں تو جہاں میں لیکن\nاپنی فطرت سے کبھی درد شعاری نہ گئی\n\nسیکڑوں بار مرے سامنے کی توبہ مگر\nتوبہ اخترؔ کہ تری بادہ گساری نہ گئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%B9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%D9%81%DA%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "اشک بیتاب و نگہ بے باک و چشم تر خراب", "poet_page": "مصنف:انور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اشک بیتاب و نگہ بے باک و چشم تر خراب\nچشم بینا سے اگر دیکھو تو گھر کا گھر خراب\n\nگریہ بے تاثیر و فریاد دل مضطرب خراب\nکار عشق و عاشقی ناقص تمام اکثر خراب\n\nاک ہمارا نام جو پہنچے نہ تیری بزم تک\nاک ہماری خاک ہے جو پھرتی ہے در در خراب\n\nہے ادب سے نطق بند اب کیا بیاں ہو مدعا\nپہلے ہی یہاں ہو چکا گفتار کا دفتر خراب\n\nدل خراب اور سب ہوا و حرص دل بیکار ہے\nہے فضائے دہر میں حال بت و بت گر خراب\n\nجان ہی جاتی ہے گفتار شکر آلود پر\nبوالہوس سے نیت‌ عاشق ہے کچھ بڑھ کر خراب\n\nشب عدو کے ساتھ دن کو مجھ سے چھپتے پھرتے ہو\nالغرض پھرتے ہو یوں ہی رات بھر دن بھر خراب\n\nدل خرابات مغاں سے ہم اٹھا سکتے نہیں\nہو گئے اس خاکداں میں چار دن رہ کر خراب\n\nپھوڑنا سر کا ہی آ ٹھہرا تو لاکھوں سنگ ہیں\nکیجیے کیوں آستان یار کا پتھر خراب\n\nجو مقابل میں بلا آئے وہ موجود اس میں ہے\nدل ہوا اپنا صفا سے آئینہ بن کر خراب\n\nاک صنم کے ہاتھ بک جاتا نہ پھرتا در بدر\nبت فروشی سے ہوا ہے کس قدر آزر خراب\n\nلطف ساقی عام تھا پر وائے بخت عندلیب\nجام گل بیکار نکلا ساغر عبہر خراب\n\nمیرے دل میں ایک دم آتے نہیں مثل مراد\nہو گئے اغیار کی آنکھوں میں تم رہ کر خراب\n\nتم کسی وعدہ سے پھر جاؤ کہ ہو جاؤں تمام\nہو اگر پھرنے میں میرے حلق پر خنجر خراب\n\nمنحرف ہم دیکھتے ہیں کچھ نگاہ تیز تیز\nکس رگ جاں سے ہوا ہے یہ سر نشتر خراب\n\nآرزوئے قتل بر آئی تو کیا بر آئی خاک\nکچھ یہاں قسمت بری کچھ وہاں دم خنجر خراب\n\nیوں خرابات مغاں بھی ہے خراب روزگار\nلیکن اس سے بھی ہے کچھ تیرا دل انورؔ خراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%88_%D9%86%DA%AF%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DA%A9_%D9%88_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AA%D8%B1_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "اشک خونیں ہے شفق آج مری آنکھوں میں", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اشک خونیں ہے شفق آج مری آنکھوں میں\nسانجھ پھولی ہے ترے باج مری آنکھوں میں\n\nایک دن نین جھروکے کی طرف سیں گزرو\nمردم چشم ہے محتاج مری آنکھوں میں\n\nبیٹھ کر تخت مرصع پہ مری پتلی کے\nہے مبارک جو کرو راج مری آنکھوں میں\n\nباغ میں نرگس حیراں نے تجھے دیکھ کہی\nتیری آنکھوں سی کہاں لاج مری آنکھوں میں\n\nآج کی رات عجب رات مبارک ہے سراجؔ\nاس کی صورت کوں ہے معراج مری آنکھوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%AE%D9%88%D9%86%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D9%81%D9%82_%D8%A2%D8%AC_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اشک غم عقدہ کشائے خلش جاں نکلا", "poet_page": "مصنف:ہادی مچھلی شہری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اشک غم عقدہ کشائے خلش جاں نکلا\nجس کو دشوار میں سمجھا تھا وہ آساں نکلا\n\nکس قدر دست جنوں بے سروساماں نکلا\nتجھ میں اک تار نہ اے چاک گریباں نکلا\n\nاف وہ تقدیر جو تدبیر کی پابند رہی\nحیف وہ درد جو منت کش درماں نکلا\n\nخاک ہو کر بھی رہا جلوہ طرازی کا دماغ\nمیرا ہر ذرۂ دل طور بداماں نکلا\n\nالاماں وہ خلش جاں جو مٹائے نہ مٹی\nہائے وہ دم جو بصد کاوش پنہاں نکلا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%BA%D9%85_%D8%B9%D9%82%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%B4%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%84%D8%B4_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "اشک مژگان تر کی پونجی ہے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "اشک مژگان تر کی پونجی ہے\nیہ ثمر اس شجر کی پونجی ہے\n\nآہ کو مت حقیر جان یہی\nدودمان اثر کی پونجی ہے\n\nجو گھڑی یاد میں تری کٹ جائے\nوہ ہی آٹھوں پہر کی پونجی ہے\n\nجلوۂ یار ہے عزیز بہت\nیہی اہل نظر کی پونجی ہے\n\nجلد اچھا ہو یہ تعالیٰ اللہ\nیہی انشاؔ کے گھر کی پونجی ہے\n\nتیری بخشی ہوئی خداوندا\nمیری یہ عمر بھر کے پونجی ہے\n\nمیں ترے صدقے بس یہی میرے\nدل و جان و جگر کی پونجی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%D9%88%D9%86%D8%AC%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اشک ٹپکے حال دل کا کھل گیا", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اشک ٹپکے حال دل کا کھل گیا\nدیدۂ گریاں سے پردہ کھل گیا\n\nدل سے امڈے اشک خوں آنکھوں کی راہ\nجوش مے سے خم کا ڈھکنا کھل گیا\n\nکوچۂ جاناں کی ملتی تھی نہ راہ\nبند کیں آنکھیں تو رستہ کھل گیا\n\nہر گرہ میں اس کے تھے عاشق کے دل\nزلف کے کھلتے ہی عقدہ کھل گیا\n\nنرگس جادو ہے اب عالم فریب\nزلف کا لوگوں پہ لٹکا کھل گیا\n\nجان کر عنقا کمر کو یار کے\nزلف نے پھانسا تھا پھندا کھل گیا\n\nآج کیونکر ہو خبر اس کو نسیمؔ\nشعر پڑھنے کا بھی فقرا کھل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D9%B9%D9%BE%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اشک گلگوں کو نہ خون شہدا کو دیکھا", "poet_page": "مصنف:مرزا مائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اشک گلگوں کو نہ خون شہدا کو دیکھا\nشوخ جیسا کہ ترے رنگ حنا کو دیکھا\n\nتجھ کو دیکھا نہ ترے ناز و ادا کو دیکھا\nتیری ہر طرز میں اک شان خدا کو دیکھا\n\nہیں تجھے دیکھ کے حوران بہشتی بیتاب\nیا ترے کشتۂ انداز و ادا کو دیکھا\n\nتشنۂ آب دم تیغ نے پینا کیسا\nآنکھ اٹھا کر نہ کبھی آب بقا کو دیکھا\n\nمجھے کافر ہی بتانا ہے یہ واعظ کمبخت\nمیں نے بندوں میں کئی بار خدا کو دیکھا\n\nنکہت زلف معنبر کو چمن میں پایا\nآتے جاتے ترے کوچے میں صبا کو دیکھا\n\nمائلؔ ایمان ہے بالغیب ہمیں لوگوں کا\nکہ پیمبر کو ہے دیکھا نہ خدا کو دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%DA%AF%D9%84%DA%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AE%D9%88%D9%86_%D8%B4%DB%81%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اشکوں میں حسن دوست دکھاتی ہے چاندنی", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اشکوں میں حسن دوست دکھاتی ہے چاندنی\nشبنم کو چار چاند لگاتی ہے چاندنی\n\nاب بھی اداس اداس ہیں راتیں ترے بغیر\nاب بھی بجھی بجھی نظر آتی ہے چاندنی\n\nجس نے چراغ شام غریباں بجھا دیا\nاس ہاتھ کا مذاق اڑاتی ہے چاندنی\n\nتیرے فروغ حسن سے یہ بھی نہ ہو سکا\nنظروں کے حوصلے تو بڑھاتی ہے چاندنی\n\nخوشبوئے انتظار سے مہکی ہوئی ہے رات\nقابلؔ نہ جانے کس کو بلاتی ہے چاندنی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%86%DB%8C"} {"title": "اشکوں میں نہاؤ تو جگر ٹھنڈے ہوں", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اشکوں میں نہاؤ تو جگر ٹھنڈے ہوں\nبھیگے جو مژہ دیدۂ تر ٹھنڈے ہوں\nیوں سینہ و قلب سرد ہو جائیں گے\nخس خانے میں جیسے بام و در ٹھنڈے ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B4%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A4_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D9%B9%DA%BE%D9%86%DA%88%DB%92_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "اصحاب نے پوچھا جو نبی کو دیکھا", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اصحاب نے پوچھا جو نبی کو دیکھا\nمعراج میں حضرت نے کسی کو دیکھا\nکہنے لگے مسکرا کے محبوب خدا\nواللہ جہاں دیکھا علی کو دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B5%D8%AD%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%86%D8%A8%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اصحاب کو جو کہ ناسزا کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اصحاب کو جو کہ ناسزا کہتے ہیں\nسمجھیں تو ذرا دل میں کہ کیا کہتے ہیں\nسمجھا تھا نبی نے ان کو اپنا ہمدم\nہے ہے نہ کہو کسے برا کہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B5%D8%AD%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%B3%D8%B2%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اصحابِ درد کو ہے عجب تیزیِ خیال", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اصحابِ درد کو ہے عجب تیزیِ خیال\nمثل زبانِ نطق قلم کی زبانِ حال\n\nعہدِ وفا کیا ہے، نباہیں گے، شک عبث\nوعدہ کیا ہے، آئیں گے، بے جا ہے احتمال\n\nکیا کچھ وہاں سے منزلِ مقصود پاس ہے\nیا ایھاالذینَ سَکَنتم عَلَی الجبَال\n\nناز و غرور ٹھیک ہے، جور و جفا درست\nکس کے ہوا نصیب یہ حسن اور یہ جمال\n\nساقی پلا وہ بادہ کہ غفلت ہو آگہی\nمطرب سنا وہ نغمہ کہ ہو جس سے قال، حال\n\nہم اگلے عشق والوں کی تقلید کیوں کریں\nاے خوردہ گیر، نحن رجال و ہم رجال\n\nاہلِ طریق کی بھی روش سب سے ہے الگ\nجتنا زیادہ شغل زیادہ فراغ بال\n\nہنگامِ عہد کام میں لائے وہ ایسے لفظ\nجن کو معانیِ متعدد پر اشتمال\n\nماذا لتنہبن و انتن فی البیوت\nماذا تقتلن و انتن فی الحجال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B5%D8%AD%D8%A7%D8%A8%D9%90_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DB%8C%D8%B2%DB%8C%D9%90_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84"} {"title": "اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیں", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیں\nاس قوم پر خدا نے اتارا نہیں ہمیں\n\nڈھونڈیں کہاں سحر کو تمہیں اے غزال شب\nاب نام بھی تو یاد تمہارا نہیں ہمیں\n\nاب کیا سنور سکیں گے ہم آوارگان عشق\nصدیوں کے جبر نے تو سنوارا نہیں ہمیں\n\nہاتھوں میں ہے ہمارے گریبان کائنات\nلیکن ابھی جنوں کا اشارا نہیں ہمیں\n\nڈھونڈو کوئی نئی روش شاعری ظفرؔ\nاسلوب دوسروں کا گوارا نہیں ہمیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD_%D8%A7%DB%81%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%B4_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "“اصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہے”\nغالبؔ کا قول سچ ہے تو پھر ذکرِ غیر کیا\n\nکیوں اے جنابِ شیخ! سُنا آپ نے بھی کچھ\nکہتے تھے کعبے والوں سے کل اہلِ دَیر کیا\n\nہم پُوچھتے ہیں مسلمِ عاشق مزاج سے\nاُلفت بُتوں سے ہے تو بَرہمن سے بَیر کیا!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D9%90_%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D9%88_%D9%85%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DB%81%DB%92"} {"title": "اصلیت اگر نہیں تو دھوکا ہی سہی", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اصلیت اگر نہیں تو دھوکا ہی سہی\nاللہ بہت نہیں تو تھوڑا ہی سہی\nتسکین کی آخر کوئی صورت بھی تو ہو\nرویت ممکن نہیں تو رویا ہی سہی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B5%D9%84%DB%8C%D8%AA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DA%BE%D9%88%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "اطوار ترے اہل زمیں سے نہیں ملتے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد ہادی رسوا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اطوار ترے اہل زمیں سے نہیں ملتے\nانداز کسی اور حسیں سے نہیں ملتے\n\nان کی بھی بہ ہر حال گزر جاتی ہیں راتیں\nجو لوگ کسی زہرہ جبیں سے نہیں ملتے\n\nتم مہر سہی ماہ سہی ہم سے ملو تو\nکیا اہل مہک اہل زمیں سے نہیں ملتے\n\nاے حضرت دل ان سے بنی ہے نہ بنے گی\nکیوں آپ کسی اور حسیں سے نہیں ملتے\n\nمرزاؔ کو بھی پردا نہیں والا منشوں کی\nاچھا ہے جو اس خاک نشیں سے نہیں ملتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B7%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%92"} {"title": "اعتبار نظر کریں کیسے", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اعتبار نظر کریں کیسے\nہم ہوا میں بسر کریں کیسے\n\nتیرے غم کے ہزار پہلو ہیں\nبات ہم مختصر کریں کیسے\n\nرخ ہوا کا بدلتا رہتا ہے\nگرد بن کر سفر کریں کیسے\n\nخود سے آگے قدم نہیں جاتا\nمرحلہ دل کا سر کریں کیسے\n\nساری دنیا کو ہے خبر باقیؔ\nخود کو اپنی خبر کریں کیسے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92"} {"title": "اعتراف (مجاز لکھنوی)", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو\n\nمیں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہو\nچمن دہر میں روح چمن آرائی ہو\nطلعت مہر ہو فردوس کی برنائی ہو\nبنت مہتاب ہو گردوں سے اتر آئی ہو\n\nمجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہے\nمیں نے خود اپنے کیے کی یہ سزا پائی ہے\n\nخاک میں آہ ملائی ہے جوانی میں نے\nشعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نے\nشہر خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے\nخواب گاہوں میں جگائی ہے جوانی میں نے\n\nحسن نے جب بھی عنایت کی نظر ڈالی ہے\nمیرے پیمان محبت نے سپر ڈالی ہے\n\nان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھا\nسر پہ سرشارئ عشرت کا جنوں طاری تھا\nماہ پاروں سے محبت کا جنوں طاری تھا\nشہریاروں سے رقابت کا جنوں طاری تھا\n\nبستر مخمل و سنجاب تھی دنیا میری\nایک رنگین و حسیں خواب تھی دنیا میری\n\nجنت شوق تھی بیگانہ آفات سموم\nدرد جب درد نہ ہو کاوش درماں معلوم\nخاک تھے دیدۂ بیباک میں گردوں کے نجوم\nبزم پرویں تھی نگاہوں میں کنیزوں کا ہجوم\n\nلیلیٰ ناز برافگندہ نقاب آتی تھی\nاپنی آنکھوں میں لیے دعوت خواب آتی تھی\n\nسنگ کو گوہر نایاب و گراں جانا تھا\nدشت پر خار کو فردوس جواں جانا تھا\nریگ کو سلسلۂ آب رواں جانا تھا\nآہ یہ راز ابھی میں نے کہاں جانا تھا\n\nمیری ہر فتح میں ہے ایک ہزیمت پنہاں\nہر مسرت میں ہے راز غم و حسرت پنہاں\n\nکیا سنوگی مری مجروح جوانی کی پکار\nمیری فریاد جگر دوز مرا نالۂ زار\nشدت کرب میں ڈوبی ہوئی میری گفتار\nمیں کہ خود اپنے مذاق طرب آگیں کا شکار\n\nوہ گداز دل مرحوم کہاں سے لاؤں\nاب میں وہ جذبۂ معصوم کہاں سے لاؤں\n\nمیرے سائے سے ڈرو تم مری قربت سے ڈرو\nاپنی جرأت کی قسم اب میری جرأت سے ڈرو\nتم لطافت ہو اگر میری لطافت سے ڈرو\nمیرے وعدوں سے ڈرو میری محبت سے ڈرو\nاب میں الطاف و عنایت کا سزا وار نہیں\nمیں وفادار نہیں ہاں میں وفادار نہیں\n\nاب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%81_%28%D9%85%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D9%88%DB%8C%29"} {"title": "اعجاز تصور", "poet_page": "مصنف:تصدق حسین خالد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "راہ دیکھی نہیں اور دور ہے منزل میری\nکوئی ساقی نہیں میں ہوں مری تنہائی ہے\nدیکھنی ہے مجھے حیرانی سے تاروں کی نگاہ\nدور ان سے بھی کہیں دور مجھے جانا ہے\nاس بلندی پہ اڑے جاتا ہے تو سن میرا\nکہکشاں گرد سی دیتی ہے دکھائی مجھ کو\nرفعت گوش سے سنتا ہوا مبہم سا شرار\nمیری منزل ہے کہا یہ کبھی سوچا ہی نہیں\nاس کی فرصت ہی کسے دل میں مگر رہتا ہے\nدرد وہ درد کہ ہے جس سے کمنا بیتا\nجانے کچھ راہ مرے ساتھ ہوا تھا لیکن\nرہ گیا دور کہیں ہار کے ہمت اپنی\nزہرہ کہنے لگی اے بزم فلک کے قاصد\nزرد رو پہلی ہی منزل میں ہوا تو کیوں کر\nجب کہ وہ خاکئی بے مایہ بڑھے جاتا ہے\nپست ہر ایک بلندی کو کٹے جاتا ہے\nبھڑکے اک آہ کہا چاند نے یوں زہرہ سے\nاے نگار رخ زیبائے بہار افلاک\nمیں بھی حیران ہوں اس ہمت عالی پہ کہیں\nحسن سلمیٰ کے تصور کا یہ اعجازؔ نہ ہو\nیہ جواں حوصلگی پردہ در راز نہ ہو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1"} {"title": "اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو\nزندہ کیا ہے ہم نے مسیحا کے نام کو\n\nلکھو سلام غیر کے خط میں غلام کو\nبندے کا بس سلام ہے ایسے سلام کو\n\nاب شور ہے مثال جو دی اس خرام کو\nیوں کون جانتا تھا قیامت کے نام کو\n\nآتا ہے بہر قتل وہ دور اے ہجوم یاس\nگھبرا نہ جاے دیکھ کہیں اژدحام کو\n\nگو آپ نے جواب برا ہی دیا ولے\nمجھ سے بیاں نہ کیجے عدو کے پیام کو\n\nیاں وصل ہے تلافی ہجراں میں اے فلک\nکیوں سوچتا ہے تازہ ستم انتقام کو\n\nتیرے سمند ناز کی بے جا شرارتیں\nکرتے ہیں آگ نالۂ اندیشہ کام کو\n\nگریہ پہ میرے زندہ دلو ہنستے کیا ہو آہ\nروتا ہوں اپنے میں دل جنت مقام کو\n\nسہ سہ کے نادرست تری خو بگاڑ دی\nہم نے خراب آپ کیا اپنے کام کو\n\nاس سے جلا کے غیر کو امید پختگی\nلگ جائے آگ دل کے خیالات خام کو\n\nبخت سپید آئینہ داری کرے تو میں\nدکھلاؤں دل کے جور اس آئینہ فام کو\n\nجب تو چلے جنازۂ عاشق کے ساتھ ساتھ\nپھر کون وارثوں کے سنے اذن عام کو\n\nشاید کہ دن پھرے ہیں کسی تیرہ روز کے\nاب غیر اس گلی میں نہیں پھرتے شام کو\n\nمدت سے نام سنتے تھے مومنؔ کا بارے آج\nدیکھا بھی ہم نے اس شعرا کے امام کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "اعجاز عشق", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "ثناے جہاں آفریں ہے محال\nزباں اس میں جنبش کرے کیا مجال\nکمالات اس کے ہیں سب پر عیاں\nکرے کوئی حمد اس کی سو کیا بیاں\nکہوں کیا میں اس کی صفات کمال\nکہ ہے عقل کل یاں پریشاں خیال\nخرد کنہ میں اس کی حیران ہے\nگماں یاں پریشاں پشیمان ہے\nزمین و فلک سب ہیں اس کے حضور\nمہ و خور ہیں اس سے ہی لبریز نور\nیہ صنعت گری اس ہی صانع سے آئے\nکف خاک کو آدمی کر دکھائے\nنہ آوے کسی کے جو ادراک میں\nسو رکھ جائے وہ اس کف خاک میں\nبری ہے گا تمثیل و تشبیہ سے\nمنزہ ہے وہ بلکہ تنزیہ سے\nوہی حاصل مزرع آسماں\nکیے ان نے دانے میں خرمن نہاں\nسفید و سیہ کو نہیں اس کی بار\nورے ہے زمانے کی لیل و نہار\n\nدر توحید انشا طراز حسینے کہ فقرۂ یکتائی او بہ عالم دویدہ\n\nسوا اس کے نقصاں ہے گر دیکھیے\nکمال اس کے ہی ہیں جدھر دیکھیے\nسر رشتہ ہے خلق کا اس کے ہاتھ\nوہ شب باز ان پتلیوں کے ہے ساتھ\nسبھوں میں نمود اس کی ہی شان ہے\nیہ قالب ہیں سارے وہی جان ہے\nگل و غنچہ و رنگ و بو و بہار\nیہ سب رنگ اللہ ہی کے ہیں یار\nاگرچہ ہیں یاں سب کی طرحیں جدا\nیہ سب طرحیں ہیں ایک نام خدا\nسما ارض و خورشید یا ماہ ہے\nجدھر دیکھو اللہ ہی اللہ ہے\nنظر کرکے ٹک دیکھ ہر جا ہے وہ\nنہان و عیاں سب میں پیدا ہے وہ\nبہرصورت آئینہ ہے گا جہاں\nیہ سب عکس اس کے ہی پڑتے ہیں یاں\nملک جن و حیواں جماد و نبات\nجو اس بن ہیں تو حیف ہے کائنات\nوجود و عدم اس سے دونوں ہیں شاد\nوہی ہے گا مبدا وہی ہے معاد\nمجھے ساقی دے کوئی جام عقیق\nولیکن لبالب ہو اس میں رحیق\nرکھے آپ میں جس کی آمد مجھے\nکہ درپیش ہے نعت احمدؐ مجھے\nدر نعت سید المرسلین\nثنا جان پاک محمدؐ کے تیں\nدرود و تحیات احمدؐ کے تیں\nرسول خدا و سر انبیا\nزہے حشمت و جاہ صل علےٰ\nدیا مجلس کبریا کا ہے وہ\nشرف دودمان قضا کا ہے وہ\nسب اس صفحے میں ہیں ظہور خدا\nپر اس سے عبارت ہے نور خدا\nجہاں وہ ہے واں جبرئیل امیں\nاڑے حشر تک تو پہنچتا نہیں\nکروں اس کی قربت کا کیا میں بیاں\nکہ تھا قاب قوسین ادنیٰ مکاں\nمرا زیر پا اس کے فرق نیاز\nکیا جس کی خلقت پہ صانع نے ناز\nبہ صورت اگر عبد مشہود ہے\nحقیقت کو پہنچو تو معبود ہے\nنہیں پاشکستوں کا اب دست گیر\nمحمدؐ بن اور آل بن اس کے میرؔ\nگنہگار ہوں چشم لیک اس سے ہے\nتوقع شفاعت کی ایک اس سے ہے\nدرود آل پر اس کے ہر صبح و شام\nوہ ہے شافع حشر و خیر انام\nپلا ساقیا بادۂ لعل گوں\nکہ ہوجائیں سرخ آنکھیں مانند خوں\nہے اب حرف مستانہ کا دل میں جوش\nکر آویزۂ گوش گر کچھ ہے ہوش\n\nمناجات بہ طور عاشقان زار در بلاے جدائی گرفتار\n\nمرا زخم یارب نمایاں رہے\nپس از مرگ صد سال خنداں رہے\nرہے دشمنی جیب سے چاک کو\nصبا دوست رکھے مری خاک کو\nمژہ اشک خونیں سے سازش کرے\nغم دل بھی مجھ پر نوازش کرے\nجگر سے طپیدن موافق رہے\nمرا درد دل مجھ پہ عاشق رہے\nجو نالہ ہو شب گیر کا روشناس\nوہ آٹھوں پہر ہی رہے میرے پاس\nمژہ گرم افسوس و نم ناک ہو\nکہ سیلاب آتش پہ خاشاک ہو\nکرے نیزہ بازی یہ آہ سحر\nکہ خورشید کی پھوٹ جاوے سپر\nخموشی سے مجھ کو رہے گفتگو\nاڑے پر لگاکر مرا رنگ رو\nنہ مرہم سے افسردہ ہو داغ دل\nشگفتہ رہے یہ گل باغ دل\nسدا چشم حیرت سے نسبت رہے\nمجھے دیکھ رہنے کی فرصت رہے\nاگر ضعف ٹک کسب طاقت کرے\nمری ناتوانی قیامت کرے\nمری بیکسی ناز بردار ہو\nمروں میں تو مرنے کو تیار ہو\nبیاباں میں آشفتہ حالی کروں\nکہیں تو دل پر کو خالی کروں\nکریں دونوں عالم ملامت مجھے\nڈبو دیوے اشک ندامت مجھے\nمرا ہاتھ ہو چاک کا دستیار\nکہ تا جیب و دامن ہو قرب و جوار\nجنوں میرے سر پر سلامت رہے\nبیاباں میں مجھ سے قیامت رہے\nبہکنے سے مجھ کو نہ ہو وارہی\nبھلا دے خضر کو مری گمرہی\nجو ہو گرم رہ پاے پرآبلہ\nتو ہوجائے سرد آتش قافلہ\nارے ساقی اے غیرت آفتاب\nکہاں تک ہمیں خون دل کی شراب\nکبھو ساغر بادہ کا دید ہو\nمحرم ہمارا کبھو عید ہو\n\nدر تعریف عشق خانماں آباد و آزادگان برنا نہاد\n\nزہے عشق نیرنگ سازی تری\nکہ ہے کھیلنا جی پہ بازی تری\nتجھی سے ہے آب رخ زرد زرد\nتجھی سے مرے دل میں اٹھتا ہے درد\nتجھے ربط کفار و دیں دار سے\nتجھے رشتہ تسبیح و زنار سے\nتجھی سے ہے بلبل کو نوحہ گری\nتجھی پر ہے قمری بھی خاکستری\nترا جذب دریا کو بہنے نہ دے\nترا شور صحرا کو رہنے نہ دے\nتجھی سے دل شاد غم ناک ہے\nتجھی سے مرا سینہ صد چاک ہے\nتمنا کو تونے کیا ہے شہید\nتجھی سے نہ برآئی میری امید\nتجھی سے ہے مجنون صحرانورد\nتجھی سے ہے فرہاد کوہوں پہ مرد\nتجھی سے گلوبند ہے خستگی\nتجھی سے ہے وابستہ دل بستگی\nتجھی سے دل عاشقاں ہے کباب\nتجھی سے ہے پروانہ آتش کا باب\nترا کام دینا ہے بدنامیاں\nتری ریجھ دیکھے ہے ناکامیاں\nتجھی سے سراسیمہ ہیں یار لوگ\nتری تیغ سے قیمہ ہیں یار لوگ\nتجھی میں ہیں یہ کارپردازیاں\nتجھی پر ہیں موقوف جانبازیاں\nمجھے اس کے چھپنے کا سودا رہا\nولیکن ترا راز رسوا رہا\nلہو اپنا عاشق پیا ہی کیے\nترے جرم پر جی دیا ہی کیے\nترا ہی نمک خوار ہے زخم دل\nکہ مرہم سے بیزار ہے زخم دل\nتجھے اک ہے مژگاں سے یہ ربط اشک\nکہ مشکل ہوا ہے مجھے ضبط اشک\nکدھر ہے تو اے ساقی لالہ فام\nنہ لغزش ہے تجھ بن نہ بہکا کلام\nکہاں تک کوئی خون دل کو پیے\nکوئی کیونکے اس رنگ ظالم جیے\n\nزبانی درویش جگر ریش کہ ایں بلا در سفر آمدش پیش\n\nکسو معتبر سے روایت ہے ایک\nکہ درویش سے یہ حکایت ہے ایک\nکہ اک ملک میں میں قضارا گیا\nجواں ایک واں مفت مارا گیا\nوہ جس طور مارا گیا اب کہوں\nتعجب میں اس کے کہاں تک رہوں\nسن اب آ جو کچھ اس کے جی پر ہوا\nمصیبت زدہ بن اجل ہی موا\nاٹھا سیر کرنے کو میں ایک روز\nپشیمانی اس کی ہے مجھ کو ہنوز\nنظر جا پڑی جو مری ایک سو\nسر راہ بیٹھا تھا اک خوب رو\nفقیروں کی سی جھولی ایک اس کے پاس\nگلے میں نہایت مکلف لباس\nسر اوپر تھا ہنگامہ اک اس کے جمع\nپتنگے اکٹھے ہوں جوں گرد شمع\nلقب اس کا دیوانۂ عشق تھا\nکہ شہرت میں افسانۂ عشق تھا\nجوانی کے گلشن کا وہ تازہ گل\nکرے جس کی خاک قدم غازہ گل\nاسی کی سی مقدور تک سب کہیں\nسدا اس کا منھ دیکھتے ہی رہیں\nوہ اک دودماں کا تھا روشن چراغ\nجلاتے تھے سارے اسی پر دماغ\nولے اس کے دل میں اک آتش نہاں\nکہ دیجے جلا اس سے سارا جہاں\nسب آرام چاہیں اسے اضطرار\nسراپا تلک ایک دل بے قرار\nنہ کچھ ہوش گھر جانے کا اس کو تھا\nتشتت نہ مرجانے کا اس کو تھا\nنہ طاقت تھی تن میں نہ کچھ جی میں تاب\nنہ دل پاس نے صبر و آرام و خواب\nسر راہ دل قیمہ قیمہ لیے\nیہ کہتا تھا مرجایئے بس جیے\nسن اس نوگل عشق کی بے کلی\nرہا کرتی ماتم سرا وہ گلی\nدل و صبر و ہوش و توان و حواس\nرہیں اس کی وحشت سے سارے اداس\nنہ ناموس کا ننگ نے نام کا\nبلا دوست دشمن تھا آرام کا\nشب و روز فریاد کرنا اسے\nکئی بار اک دم میں مرنا اسے\nتماشے کا دیوانہ پیدا ہوا\nزمانے کو چندے تماشا ہوا\nجو دم لے طپش تو شتابی کرے\nتسلی دل کی خرابی کرے\nکرے طرح داغوں سے وہ باغ کو\nروائی اسی سے زر داغ کو\nدل غم زدہ سے محبت اسے\nقیامت خوشی سے عداوت اسے\nوہ بے تابیوں سے بہت کم فراغ\nکہاں صبر کرنے کا اس کو دماغ\nاٹھے اس کے جی سے فغاں کے شرر\nرہے برچھیاں سہتی آہ سحر\nوہ ہرچند ہر صبح کو ہو ملول\nولیکن دعا اس کی کیا ہو قبول\nنہ آنسو کو اس کے تھی اس پر نظر\nنہ آہ سحر میں تھا اس کے اثر\nکہے رنگ رو کیوں مرا زرد ہے\nرکھے ہاتھ دل پر کہ کچھ درد ہے\nکرے دیدۂ اشک افشاں پہ ناز\nبدے لخت دل رونے کی کچھ نیاز\nوہ کاندھے پہ نعش تمنا کے تیں\nکرے تعزیت خانہ دنیا کے تیں\nسنے نہ کسو کی نہ اپنی کہے\nبیاں اس کا کچھ گو مگو ہی رہے\nلے آ ساقی گر بادۂ شوق ہے\nسیہ مستی کا ہم کو بھی ذوق ہے\nکھلا چاہتا ہے گل راز عشق\nکہ پردے میں کب تک بجے ساز عشق\n\nرفتن درویش پیش آں جوان رفتہ از خویش و دل دہی کردن او بیش از بیش\n\nیہ قصہ جہاں میں فسانہ ہوا\nمجھے بھی سخن کا بہانہ ہوا\nولے گاہ وہ شمع مجلس فروز\nکئی بیتیں پڑھتا تھا وہ سینہ سوز\nکہ جن کا یہ مضمون تھا دوستاں\nجلے ہے گی تقریر کرتے زباں\nبڑی آتش عشق سرکش ہے یاں\nجگر کیوں نہ جل جائے آتش ہے یاں\nنظر آ کہیں جارہا ہے یہ جی\nکہ آنکھوں میں اب آرہا ہے یہ جی\nزن و مرد کی ہوں زباں سے بتنگ\nہوا ہوں میں سارے قبیلے کا ننگ\nسدا خون دل میں طپیدہ ہوں میں\nکہ آہ بہ لب نارسیدہ ہوں میں\nتری دوری میں پہنچی ہے اے حبیب\nوداع دم واپسیں بھی قریب\nجگر تو ہو پانی بہا غم کے بیچ\nیہ دم بھی ہوا ہے کوئی دم کے بیچ\nسمجھنا یہ بھی اے مرے سر پہ خاک\nکس امید پر میں ہوا ہوں ہلاک\nتو جب سے در اوپر نظر آگئی\nرہیں آفتیں میرے سر پر نئی\nنہ نامہ نہ پیغام نے رسم و راہ\nیونہی ہوتی جاتی ہے حالت تباہ\nدل و دیدہ سب مدعی ہوگئے\nتماشائی مجھ پر بہت رو گئے\nکئی بار جاں لب پر آ پھر گئی\nکہاں ہے تو اے گل ہوا پھر گئی\nیہ حیران ہوں صبر آتا نہیں\nتصور ترا جی سے جاتا نہیں\nخراش جگر سے ہے چھاتی میں درد\nکہ جس سے ہوا جائے ہے رنگ زرد\nرہا کرتی ہے داد بیداد یاں\nدل شب سے گذرے ہے فریاد یاں\nسر رہ تک آ دیکھ یہ خستہ حال\nکہ ہے نقش پا کی طرح پائمال\nترے دور غم میں تو جوں کیمیا\nسنا ہی گیا نام مہر و وفا\nنہ آنا نظر ہی ادا ہے ولیک\nنہ اتنا کہ جاتا رہے جی سے ایک\nترے غم میں اے آفت روزگار\nہزاروں بلائیں ہیں یاں روبکار\nکہاں ہے تو محمل نشین حیا\nسر راہ نالاں ہوں مثل درا\nکہہ اس طرز سے حال دل کا تمام\nخموشی کو پھر اس نے فرمایا کام\nکہاں ہے تو اے ساقی گل عذار\nکہ دے مجھ کو جام مئے خوش گوار\nکہوں قصۂ عشق بے کیف و کم\nقلم بے خودانہ کرے کچھ رقم\nمجھے آہ اک اس کے دل کی لگی\nکہے تو کہ سینے میں برچھی لگی\nگیا زہرۂ تاب دل آب ہو\nکہا آگے جاکر میں بے تاب ہو\nکہ اے نازپرورد مہر و وفا\nکوئی اپنے جی پر کرے ہے جفا\nمثل ہے کہ جی ہے تو ہے گا جہاں\nوگرنہ موئے پر ہے کیا میری جاں\nتلف یوں نہیں جان کرتا کوئی\nنہیں اس سلیقے سے مرتا کوئی\nتہ دل ہو معلوم تا بول ٹک\nتو مژگان خوں بستہ کو کھول ٹک\nسخن حسرت آلود کہنے پہ آ\nکچھ اک دل کی باتیں زباں پر بھی لا\nوگرنہ تو رک رک کے مرجائے گا\nیہ ہے عشق کام اپنا کر جائے گا\nتو ہے صرصر غم سے آتش بجاں\nدیا سا نہ بجھ جائیو اے جواں\nتو اے شمع خامش زباں ٹک ہلا\nکہ کس مجلس افروز سے تو جلا\nتو کس آتش تند پر ہے سپند\nترا دود دل یہ ہوا ہے بلند\nجلاتی ہے آتش تری میرے تیں\nکیا داغ کس شعلے نے تیرے تیں\nگھٹا پاتے ہیں تجھ کو ہر صبح و شام\nنہ کاہیدہ ہو تو ہے ماہ تمام\nترا درد پنہاں ہے گو آشکار\nیہ مجھ سے بیاں کر کہ ہوں رازدار\nکہیں دل لگا ہو تو یہ مجھ سے کہہ\nکہوں اس سے جاکر غمیں تو نہ رہ\nجہاں کو تو بھیجے وہاں جاؤں میں\nکہے کام جو تو بجا لاؤں میں\nجو حور بہشتی بھی ہو تیری یار\nکروں میں ملک کی طرح واں گذار\nخدا جانے کیا جی میں بات آگئی\nکہ یہ میری دل جوئی ہی بھا گئی\nیہ سن کر جوان زخود رفتہ نے\nجگر سوختہ اور دل تفتہ نے\nکیا سوز دل کو لبوں پر نمود\nزباں تاب کھانے لگی جیسے دود\nسخن ہونے لاگے نمودار کچھ\nلگا کرنے پیچیدہ گفتار کچھ\nکہ جس سے یہ معنی ہوئے مستفاد\nکہ اے غم گسار دل نامراد\nجو دل جوئی میری ہے مدنظر\nتو یاں اک محلہ ہے ٹک قصد کر\nنہیں اس کو درکار کچھ جستجو\nسرا ایک ترسا کی ہے قبلہ رو\nزبانی مری در پہ یہ جا کے کہہ\nکہ احوال سے میرے غافل نہ رہ\nترے واسطے خوب رسوا ہوا\nمرے سر پہ ہنگامہ برپا ہوا\nتسلی شکیبائی مطلق نہیں\nپر اب تاب تنہائی مطلق نہیں\nرہی جب تلک تن میں تاب و تواں\nاٹھایا تحمل کا بار گراں\nشتابی سے دے ساقیا جام عشق\nکہ لکھنے لگا ہوں میں پیغام عشق\nہوا آخر اب دل کا سب خون ناب\nپیوں کب تلک اک گلابی شراب\nکہے سے جواں کے غرض قصد کر\nگیا بندہ ترسا کے دروازے پر\nسن آواز دستک کی اک رشک حور\nمہ چاردہ سی نپٹ باشعور\nدوچار آکے مجھ سے ہوئی ایک بار\nگیا جس کے دیکھے سے صبر و قرار\nہوئی دیکھے سے جب حقیقت عیاں\nکہا میں کہ تاجر پسر تھا جہاں\nبشر کیا ہے دیکھ ایسی آفت کے تیں\nفرشتہ بھی رو بیٹھے عصمت کے تیں\nکہا میں نے پیغام جو آیا بن\nپہ خوبی سے اس کی کروں کیا سخن\nمژہ بخت عاشق کی برگشتگی\nنگہ ایک عالم کی سرگشتگی\nقد و قامت اس کا کروں کیا بیاں\nقیامت کا ٹکڑا ہوا تھا عیاں\nوہ نازاں جدھر آتی تھی اچپلی\nقیامت بھی آتی جلو میں چلی\nمیں سودائی اس زلف تاریک کا\nہر اک مو سبب رنج باریک کا\nشکن اس کی کاکل کا دام بلا\nہر اک حلقۂ زلف کام بلا\nبھووں کی کمانوں سے لگ زلف تار\nالٹتے تھے اڑ اڑ کے جوں تیرمار\nاگر ابرو اس کی جھمک جاتی تھی\nمہ نو کی گردن ڈھلک جاتی تھی\nہلے اس کے ابرو جدھر کرکے ناز\nکرے اس طرف ایک عالم نماز\nکمان اس کے ابرو کی عاشق کمیں\nخدنگ اس کی مژگاں کے سب دل نشیں\nنہ آنکھوں کی مستی کی اس کو خبر\nخرابی نہ عاشق کی مدنظر\nنگہدار تھی سرخی چشم کی\nطرفدار تھی اپنے ہی خشم کی\nشہید اس کی چشمک کے دل خستگاں\nنشانے نگاہوں کے دل بستگاں\nمژہ موجب قتل جمع کثیر\nغرض سب تھے یہ ایک ترکش کے تیر\nچھپیں اس کے غمزے میں کتنی سناں\nنمایاں ہوئی سب پہ مرگ جہاں\nجبیں کھول دی اس پری زاد نے\nکہ چیں مانی خوبان نوشاد نے\nرواں اس شب افروز سے اشک شمع\nیہیں سے ہے روشن کہ تھی رشک شمع\nوہ مردوں کو زندہ دوبارہ کرے\nمسیحا جہاں سے کنارہ کرے\nپری منفعل رنگ رخسار سے\nخجل کبک انداز رفتار سے\nخضر تشنہ اس کے ہے دیدار کا\nمسیحا شہید اس کے بیمار کا\nسوا اس کی باتوں کے سب باتیں ہیں\nجسے سن کے مردے بھی جی جاتے ہیں\nغرض اور سب یونہی کہنے کو ہیں\nمسیحا کے لب یونہی کہنے کو ہیں\nلب سرخ اس کے وہ گل برگ تر\nچھپیں جن میں دنداں کے سلک گہر\nتبسم میں اپنے وہ برق بہار\nدم حرف ہوتے گئے آبدار\nدہن غنچۂ ناشگفتہ سے کم\nسخن رہرو راہ تنگ عدم\nتبسم ٹک اک گر وہ دلکش کرے\nتو گلشن میں گل صد چمن غش کرے\nنہ دیکھا کسی نے جو تن اس کا صاف\nنظر گر نہ ٹھہرے تو کیجے معاف\nکمر اس کی ممکن نہیں ہاتھ آئے\nمگر صاحب دست غیب اس کو پائے\nنہ رنگ صفا ہی فقط تن پہ تھا\nکہ مینا کا خون اس کی گردن پہ تھا\nکیا ان نے پامال فتنوں کا خوں\nحنا اس کے ہاتھوں میں کتنوں کا خوں\nادا اس کی عاشق کے جی کی بلا\nنہ میری تمھاری سبھی کی بلا\nاگر جلوہ گر ہو وہ محشر خرام\nتو معلوم ہے پھر جہاں کا قیام\nخراماں خراماں جدھر آگئی\nقیامت ہی گویا ادھر آگئی\nاسے لغزش پا مئے ناز سے\nوہ مست سر انداز انداز سے\nنہ ہووے وہ دن جس میں ہووے نقاب\nچلا جائے پردے ہی میں آفتاب\nاسی بت کا ہر اک تئیں ذکر ہے\nخدا کو خدائی کا اب فکر ہے\nچڑھاوے اگر ہاتھ سے آستیں\nتو پھر دست موسیٰ بھی کچھ ہے نہیں\nہوئیں طرح اس سے جفاکاریاں\nنکالی ہیں ان نے دل آزاریاں\nترحم کو پاؤں تلے وہ ملے\nستم اس کے کوچے سے بچ کر چلے\nجو آمد ہو اس کی نصیب چمن\nکرے ترک گل عندلیب چمن\nگلی اس کی فردوس کا تھی شرف\nبہشت اک گنہگار سی اک طرف\nزمیں اس کی یک دست گلزار تھی\nنسیم چمن واں گرفتار تھی\nگلی اس کی وہ قتل گاہ عجیب\nشہادت وہاں خضر کو ہو نصیب\nوہی جاے باش دل عاشقاں\nاسی پر معاش دل عاشقاں\nصبا گر اڑا دے تنک واں کی خاک\nتو نکلے زمیں سے دل چاک چاک\nکئی نعرہ کش واں کئی نعرہ زن\nکئی خوں گرفتہ کئی بے کفن\nکئی بے وطن واں سفر کر گئے\nسسکتے ہیں کتنے کئی مر گئے\nہر اک جان ہر شخص ناکام کی\nہوادار اس کے لب بام کی\nپھروں گرد ساقی نشے میں ترے\nگلابی ہی منھ کو لگادے مرے\nمجھے مست آب سیہ دے کے کر\nچلوں جوں قلم پھر میں مطلب اپر\nسنا وہ جگرسوز پیغام جب\nکیے آشنا حرف سے لعل لب\nپڑھی اک رباعی نہ کر اعتنا\nکہ مضمون جس کا یہ موزوں ہوا\nکہ ہجراں میں جو بے قراری کرے\nسر راہ فریاد و زاری کرے\nنہ سونے دے نالوں سے ہمسایہ کو\nبھلی مرگ ایسے فرومایہ کو\nمحبت کی رہ میں یہ پہلا ہے کام\nکہ سر سے گذر جائیے شاد کام\nنہیں شرط الفت میں چین جبیں\nاگر پیش آوے دم واپسیں\nجو پھوٹا ہی پڑتا ہو جوں آبلہ\nوہ ہے دم میں واماندۂ قافلہ\nنہ جو ہوسکے ہجر کا پائمال\nتو بہتر ہے ہونا ہی اس کا وصال\nگیا میں جواب اس سے لے کر ادھر\nسر رہ تھا پامال غم وہ جدھر\nحقیقت بیاں کی سب اس جاے کی\nجواں نے یہ سنتے ہی اک ہائے کی\nگئی ساتھ اس ہائے کے اس کی جاں\nگرا خاک پر ہوکے بے دم جواں\nتکے تھا مگر رہ سفر کر گیا\nکہ اک بات کی بات میں مر گیا\nنہ دیر اس کو ہوتے ہوئے جی سے سیر\nمجھے بات کے کہتے لاگی بھی دیر\nمری بات میں خون بلبل ہوا\nدیا سا وہ جلتا جو تھا گل ہوا\nمیں یہ واقعہ دیکھ گھبرا گیا\nکہ یوں یہ گل تازہ مرجھا گیا\nنہ سوجھا مجھے اور کچھ اس سوا\nکہ کریے بیاں طرف ثانی سے جا\nملامت کروں اس کو میں یک جہاں\nکہ اے بے حقیقت گئی اس کی جاں\nترے ناز بیجا کا تو کیا گیا\nپر اک بے گنہ اس میں مارا گیا\nرہی گھر میں خوبی پہ تجھ کو نظر\nسر رہ گیا ایک جی سے گذر\nہے اب مشت خاک اس کی ذلت کا باب\nترے آستاں بن ہے مٹی خراب\nیہ ٹھہرا میں اودھر روانہ ہوا\nادھر مرنا اس کا فسانہ ہوا\nپلا ساقی ماہ وش ایک جام\nگیا کاستن ہی میں ماہ تمام\nکہاں ہے وہ خون کبوتر سی مے\nکہ پی کر فغاں کیجیے مثل نے\nغرض جوں توں کر قطع میں راہ کی\nگیا تھی جہاں منزل اس ماہ کی\nکی آواز دستک کہ بار دگر\nہوئی گھر میں القصہ میری خبر\nدر خانہ پر آئی اک پیر زن\nلگی کرنے عشق جواں سے سخن\nکہ کیوں دوسری بار آیا ہے تو\nشگوفہ مگر اور لایا ہے تو\nکوئی رہ گیا تھا پیام جواں\nجو تو پھر شتابی سے آیا یہاں\nبیاں کر جو کہنا ہو تجھ کو شتاب\nکہ ہے منتظر غیرت آفتاب\nکہا میں نے اے پیر زن کیا کہوں\nعزادار اس نوجواں کا میں ہوں\nپیام اس کا لایا تھا میں اس لیے\nکہ وہ بے اجل مرتا ہے ٹک جیے\nسو یاں سے گیا لے کر ایسا جواب\nکہ جس سے نکلتا تھا ناز و عتاب\nنہ تھی تاب حرف درشت اس کے تیں\nکیا غم نے تھا نیم کشت اس کے تیں\nنہ مشغول یوں ہی وہ زاری سے تھا\nوہ بے تاب بے اختیاری سے تھا\nنہ سمجھی یہ رشک پری اس کے تیں\nدکھائی دی عشوہ گری اس کے تیں\nچڑھا ان نے تیوری اک انداز سے\nکہا بے مزہ ہو کے یوں ناز سے\nکہ جس کو نہ ہو تاب لانے کی تاب\nشتابی سے مرنا ہے اس کا صواب\nہوا سامنے اس کے میں حرف زن\nیہ اس کی زباں سے کہا میں سخن\nجواں سنتے ہی کرکے ایدھر نگاہ\nسفر کر گیا جان سے بھر کر آہ\nیہی ماجرا کہنے آیا ہوں یاں\nخبر اس کے مرنے کی لایا ہوں یاں\nکہہ اس سے کہ اے کشتۂ غم کی جاں\nگیا آخرالامر جی سے جواں\nیہ کہہ دس قدم واں سے میں تھا چلا\nکہ اک شور کانوں میں میرے پڑا\nگذرنے لگی دل سے آواز آہ\nلگا ہونے آنکھوں میں عالم سیاہ\nصدا ایک نوحے کی آنے لگی\nکہ یعنی وہ دختر ٹھکانے لگی\nمحبت نے کام اپنا پورا کیا\nکہ ان دونوں لعلوں کو چورا کیا\nفقیر آن کر سخت نادم ہوا\nکہ میرے سبب دونوں کا جی گیا\nیہ بھی جاے گریہ ہے ساقی سنا\nکہ بدلے گزک کے ہے یاں دل بھنا\nتھوڑی دارو دے سایۂ تاک میں\nبہ رنگ گل اب لوٹیے خاک میں\n\nمقولۂ شاعر\n\nعجب کی نہیں جا نہ کھا پیچ و تاب\nیہ اے میرؔ ہے عشق خانہ خراب\nسنا ہے کہ فرہاد پر کیا ہوا\nپھر اس عشق نے شیریں سے کیا کیا\nعزا کا ہے مجنوں کی نوحہ پڑا\nسیہ خیمہ لیلیٰ کا بھی ہے کھڑا\nگئی جان وامق کی کس رنگ سے\nہوا چاک عذرا کا سر سنگ سے\nگئی آہ نل کی فلک سے ادھر\nدمن ہے بگولہ زمیں کے اپر\nبہت عشق کی آگ میں جل گئے\nبہت اٹھتے جاتے ہیں شعلے نئے\nگئی جل کے آخر پتنگوں کی جاں\nچراغوں سے اک دود دل ہے کشاں\nہے بے تاب ذرہ اسی سے کباب\nجلے ہے اسی آگ میں آفتاب\nدل اس داغ سے مہ کا بھنتا ہی ہے\nکتاں کا جگر چاک سنتا ہی ہے\nسیہ رنگ اگتا ہے سرو سہی\nوہی رنگ قمری ہے خاکستری\nبھنور کے بھی جی پر پڑے گل کئی\nکنول کی کھلی آنکھ پھر مند گئی\nکوئی نالہ بلبل سے ہے یادگار\nخزاں اس چمن میں ہے گل کی بہار\nکہیں ساقی دے آب گل رنگ کو\nکشادہ بھی کر اس دل تنگ کو\nگلے لگ کے مینا کے ٹک رویئے\nفسانہ بھی آخر ہے اب سویئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ\nٹوٹا ہے ایشیا میں سحر فرنگیانہ\n\nتعمیرِ آشیاں سے میں نے یہ راز پایا\nاہلِ نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ\n\nیہ بندگی خدائی، وہ بندگی گدائی\nیہ بندۂ خدا بن یا بندۂ زمانہ\n\nغافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی\nشاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ\n\nاے لآ اِلہٰ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں\nگفتارِ دلبرانہ، کردارِ قاہرانہ\n\nتیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے\nکھویا گیا ہے تیرا جذب قلندرانہ\n\nرازِ حرم سے شاید اقبال با خبر ہے\nہیں اس کی گفتگو کے اندر محرمانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "اعدا کو ادھر حرام کا مال ملا", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اعدا کو ادھر حرام کا مال ملا\nحرؔ کو اسداللہ کا ادھر لال ملا\nواللہ کلاہ سر عالم ہوا حرؔ\nحلہ ملا معصومہ کا رومال ملا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B9%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AD%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D9%84_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "اعداد کے ساتھ ادب اور زندگی کی چھیڑ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "مسلمانوں نے تیرہ سو سال حکومت کی، مگر اب بیچارے تین میں ہیں نہ تیرہ میں، لیکن چودہ کا عدد بڑا مبارک ہے، اگر کسی کے چودہ طبق روشن ہوتے ہیں تو پورے چودہ ہوتے ہیں، سوا تیرہ نہ پونے چودہ۔ چودھویں کا چاند ہے جس کے متعلق شاعروں نے کیا کچھ نہیں کہا۔ معشوق جب عاشق سے ملتا ہے تو عاشق کی محبت کے آسمان پر چودھویں کا چاند طلوع ہوتا ہے۔ اس مصلحت کے ساتھ کہ دوسری رات ہی ڈھلنا شروع ہو جائے اور چودہ کا سن کیا کیا قیامت نہیں ڈھاتا۔ میٹھا برس جوانوں کی زندگی میں کوٹ کوٹ کر شیرینیاں بھر دیتا ہے۔\n\nراجہ رام چندر جی نے چودہ ہی برس کا بن باس کاٹا۔ تیرہ برس یا ساڑھے تیرہ برس جنگلوں میں رہ کے آئے ہوتے تو وہ بات کبھی نہ بنتی جو پورے چودہ برس کاٹنے پر بنی۔ ان کے عہد کا وہ ’’سنہرا زمانہ‘‘ وقت کی کوکھ ہی میں سویا رہتا یا غیر طبعی موت مر جاتا۔ لیکن وہ چودہ برس کالے پانی کی سزا۔ خدا بچائے بہت اچھا ہوا جو یہ کالا پانی بھارت بہہ گیا، لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس سزا کی میعاد ہمارے قانونی خداؤں نے دس گیارہ برس کیوں نہ رکھی۔ کوئی خاص مصلحت ہوگی۔\n\nتین اور تیرہ کے عدو عام طور پر منحوس خیال کئے جاتے ہیں۔ پنجابی میں تیسرے آدمی کی شرکت پر کہا جاتا ہے، ’’تیسرا رلیا تے جھگا گلیا۔‘‘ یعنی تیسرے کا سا جھا برا۔ تین کانے ہیں چوسر کے، نامرادی اور ناکامی کے نشان۔ تین تیرہ کریں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ تتر بتر کر رہے ہیں۔ بس جب کسی مشتعل ہجوم کو منشتر کرنا ہو تو ڈائس پر چڑھ کر بلند آواز میں یہ نعرہ لگا دیجئے، سب تتر بتر ہو جائیں گے۔ مرنے پر آپ قبر میں جائیں گے تو وہاں بھی تین کا عدد آپ کو نہیں چھوڑے گا۔ تین دن قبر میں آپ پر ضرور بھاری ہوں گے، لیکن تین حرف بھیجئے اس تین پر۔ لیکن ابھی یہ سلسلہ کہاں ختم ہو گا، اگر آپ تین پانچ کریں گے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ آپ یا تو کسی سے تکرار کر رہے ہیں یا کسی کا مال اڑائے لئےجا رہے ہیں۔\n\nاگر آپ دعوت میں تین آدمی بلاتے ہیں، لیکن تیرہ آ جاتے ہیں تو آپ گھر والی سے کہیں گے تین بلائے تیرہ آئے، دے دال میں پانی، لیکن اگر گیارہ بارہ آئیں گے تو پھر آپ دال میں پانی نہیں ڈال سکیں گے، کیونکہ یہ اصول ہے کہ محاورہ کبھی تبدیل نہیں ہو سکتا خواہ آپ کا اپنا حلیہ تبدیل ہو جائے۔\n\nآپ تیرہ کا ایک لطیفہ سنیئے۔ یہ عدد بھی ماشاء اللہ بڑا حضرت ہے۔ ایک صاحب گھر سے سفر پر نکلے۔ اکتوبر کی تیرہ تاریخ تھی۔ تیرہ نمبر کے پلیٹ فارم پر ان کی گاڑی کھڑی تھی۔ تیرہ نمبر کے ڈبے میں انہیں تیرہ نمبر کی سیٹ ملی۔ منزل مقصود پر ہوٹل جانے کے لئے ٹیکسی لی تو اس کا نمبر بھی تیرہ تھا۔ جس ہوٹل میں ان کو رہنا تھا تیرہ نمبر کے بازار میں تھا۔ تیرہ کا نمبر ان کے ساتھ بری طرح چپک گیا تھا۔ دوسرے روز وہ ریس کورس میں بہت دیر سے پہنچے۔ تیرہویں ریس شروع ہونے والی تھی۔ آپ نے سوچا شگون اچھا ہے۔ تیرہ نمبر کے گھوڑے پر ڈھیر سا روپیہ لگا دیا۔ معلوم ہے کیا ہوا؟ تیرہ نمبر کی ریس میں تیرہ نمبر کا گھوڑا تیرھویں نمبر پر آیا۔ یعنی بالکل پھسڈی۔\n\nتیرہ کو چھوڑیئے۔ تین کا عدد باوجود اس کے کہ منحوس خیال کیا جاتا ہے، ہماری زندگی کا ایک اہم جزو ہے، ہندوؤں میں ترشول، عیسائیوں میں خدا، بیٹے، روح القدس کی مقدس تثلیث، مسلمانوں میں خدا، اس کا رسول ؐ اور قرآن پاک۔\n\nاب عدد چار کو لیجئے، کسی کے اگر لگتے ہیں تو چار چاند ہی لگتے ہیں۔ چاند تو ضرور ایک ہے، معلوم نہیں باقی تین کن آسمانوں سے نوچ کر لگائے جاتے ہیں اور چار دن کی چاندنی ہے جس کے آگے کچھ نہیں صرف اندھیری رات ہے جس میں آپ ٹھوکریں کھاتے پھریئے۔ کسی کا ڈنکا بجتا ہے تو تین دانگ نہیں چار دانگ بجتاہے۔ خواہ کسی بھی دانگ تک اس کی آواز نہ پہنچے۔ آدمی ہوشیار ہوتا ہے تو چاروں گانٹھ ہوشیار ہوتا ہے خواہ اس کے پاس ایک چھوٹی سی گانٹھ بھی ہوشیار ہونے کے لئے نہ ہو، اور کسی کو مار پڑتی ہے تو چار چوٹ کی مار پڑتی ہے یعنی چار چوٹیں لگائیں اور یہ جاوہ جا۔ زندگی ہوتی ہے چار دن کی پانچویں دن یہ ختم ہو جاتی ہے۔ اکھاڑے میں اگر کوئی پہلوان گرتا ہے تو سوا تین یا ساڑھے تین شانے چت نہیں گرتا۔ اسے محاورہ کے مطابق پورے چاروں شانے چت گرنا پڑتا ہے تاکہ اس کو مکمل عبرت حاصل ہو۔\n\nاگر مرد اپنی عورت کو گھر میں قید رکھنا چاہے تو اس گھر کی چاردیواریں ضرور ہونی چاہئیں پانچ یا چھ ہوں گی تو معاملہ بگڑ جائے گا اور تین ہوں گی تو ایک رستہ بھاگنے کے لئے کھلا رہے گا۔ رسول اکرم ﷺ کے اصحاب اربعہ لیجئے۔ چار یار، پانچواں کوئی بھی نہیں۔ اس سے عدد چار کی عظمت بہت زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ تین پہیوں کی موٹر یا گاڑی ہو سکتی ہے لیکن آپ تین پایوں کی چارپائی پر کبھی نہیں سو سکتے اور اگر آپ بے مروت ہیں تو آپ کو چار چشم کہا جائے گا۔ خواہ آپ کی صرف تین آنکھیں ہوں۔ اس لئے کہ محاورہ ویسے کا ویسا رہے گا۔ اور جب آپ راہی ملک عدم ہوں گے تو محاورہ دان کہیں گے، آخر بیچارے چار کے کندھے پر چڑھ گئے۔\n\nاب چالیس کا عدد لیجئے۔ یہ بھی اپنی جگہ کافی اہم ہے یعنی اگر آپ نرے کھرے بیوقوف ہیں یعنی بڑے ہائی کلاس ایڈیٹ ہیں تو آپ کا وزن چالیس سیر ہونا چا ہئے کیونکہ محاورہ ہے، ’’چالیس سیرا اوت۔‘‘ سو اگر آپ اس قسم کے صاحب کمال ہیں تو آپ کو اپنا وزن محاورے کے مطابق کرنا پڑے گا۔ بچہ پیدا ہوتا ہے تو ماں انتالیس دن کے بعد نہیں پورے چالیس دن کے بعد نہاتی ہے۔ یہ میرا خیال ہے محاورہ نہیں رواج ہے اور رواج کی بھی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ بڑی بوڑھیوں سے سنا ہے اگر ایک دن اوپر نیچے ہو جائے تو آفت آ جاتی ہے۔ اس لئے عورتیں ایسا نہیں ہونے دیتیں۔ پورے چالیس دن چارپائی کے ساتھ لگی رہتی ہیں۔\n\nاور جب کوئی مرتا ہے تو اس کا سوگ بھی چالیس دن منایا جاتا ہے۔ چالیسویں دن اس کا چالیسواں ہوتا ہے یعنی فاتحہ پڑھی جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر مرنے والے کے عزیز اس کو بھولنا چاہیں تو بڑے شوق سے بھول سکتے ہیں، کیونکہ اتنے دن کے سوگ سے مرحوم و مغفور کی سنا ہے پوری تشفی ہو جاتی ہے۔ چلہ کمانا ہو تو آپ کو چالیس دن ہی کمانا ہوگا، اگر آپ نے اس میعاد سے ایک دن کم یا زیادہ عمل کیا تو آپ کے حق میں قطعاً غیر مفید ہوگا۔ بہت ممکن ہے چلہ الٹ کر آپ پر سوار ہو جائے۔ اور آپ کو یاد ہوگا کہ علی بابا کے ساتھ کتنے چور تھے؟ پورے چالیس، ایک کم نہ ایک زیادہ، آپ یہاں کسی علی بابا سے کہئے کہ وہ چالیس سے کم چوروں کی جماعت بنائے، مجال ہے جو کھل جا سم سم کام کرے۔ میں تو چنانچہ اپنے سیاسی علی باباؤں کو یہی مشورہ دوں گا کہ وہ اپنے ساتھ چالیس سیاسی چوروں اور گٹھ کتروں کی کھیپ رکھا کریں۔ انشاء اللہ ہر دروازہ ان کے کھل سم سم کہنے پر کھل جایا کرئے گا۔\n\nکھانے کے بعد چہل قدمی اطبائے قدیم کا حکم ہے، آپ کھانا کھانے کے بعد گھر سے باہر نکلیں تو اپنے قدم گننا شروع کر دیں جہاں چالیس ختم ہوں وہیں چار پائی بچھائی اور سو گئے۔ اگر آپ گھر واپس آنا چاہیں تو بیس قدم آگے بیس قدم پیچھے چلئے، مگر دیکھئے حساب میں غلطی نہ ہو کیونکہ معدے میں خلل پیدا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ انگریز چہل قدمی نہیں کرتے شاید مختلف آب و ہوا کے باعث، لیکن وہ کھانا کھانے کے بعد ’’فورٹی ونکس‘‘ لگاتے ہیں، یعنی چالیس مرتبہ آنکھیں جھپکنے کے عرصہ تک قیلولہ کرتے ہیں، خود آنکھیں نہیں جھپکتے، ان کی جگہ کوئی اور جھپکتا ہے وہ خود سوئے رہتے ہیں، جب ’’فورٹی ونکس‘‘ پوری ہو جاتی ہے تو ان کو جگا دیا جاتا ہے۔ اور ’’وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں‘‘ اس کے متعلق کون نہیں جانتا۔\n\nاب چھوٹے موٹے عدد ہیں۔ مثال کے طور پر انیس بیس کا فرق یعنی کوئی فرق نہیں، لیکن بینک والے اسے نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک پائی کا فرق پہاڑ جتنا فرق ہوتا ہے، لیکن انہیں کون سمجھائے۔ وہ آنے پائیوں کے چکر میں اس قدر غرق رہتے ہیں کہ انہیں سمجھنے سمجھانے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ جو آدمی اکیس کا ہو، اس کا مطلب ہے کہ وہ غالب ہے، اس کا پلہ بھاری ہے، خواہ دوسرا دس ہزار ہی کیوں نہ ہو۔ اگر آپ بتیس دانتوں سے کسی کے لئے بددعا مانگیں تو وہ خدا کے حضور ضرور قبول ہوگی لیکن اگر آپ کے ایک دو دانت جھڑے ہوئے ہیں تو بددعا دینے کا خیال دماغ سے نکال دیجئے گا۔\n\nبتیس دھار کا دودھ ہے یعنی شیر مادر، اگر ایک دھارا اِدھر اُدھر ہو گئی تو ایک نہ ایک دن آپ کو چھٹی کا دودھ ضرور یاد آ جائے گا۔ اگر آپ بد زبان ہیں تو آپ کی زبان محاورے کے مطابق یا تو دس ہاتھ کی ہونی چاہیئے یا دس گز کی۔ بہرحال جو صاحب یہ صفت رکھتے ہیں، وہ اپنی زبان کی پیمائش کرا لیں۔ دس کے عدد نے خدا معلوم کیا گناہ کیا تھا کہ حکومت نے غریب کو مہاغنڈوں اور بدمعاشوں کے ساتھ منسوب کر دیا۔ دس نمبریئے کافی مشہور ہیں مگر اب کہ حکومت ان کے انسداد کی طرف مائل ہو رہی ہے شاید اس غریب عدد کی سنی جائے۔\n\nنوگزے کی قبر ہے جو قریب قریب ہر شہر میں موجود ہے، معلوم نہیں یہ کون صاحب تھے جو اتنا بڑا قد سنبھالے بیک وقت کئی شہروں میں قیام فرماتے رہے اور جب آپ نے انتقال فرمایا تو پورے نو گز قد کے ساتھ تمام شہروں میں ایک ہی وقت فرمایا۔ اچھا۔۔۔ اگر آپ رادھا سے ناچنے کےلئے کہیں تو آپ کے پاس پورے نومن تیل موجود ہونا چا ہیئے۔ ایک چھٹانک کم ہوا تو وہ ناچنے سے انکار کر دے گی اور آپ کو دوست احباب کے سامنے خفت اٹھانی پڑے گی۔ نو نقد نہ تیرہ ادھار۔۔۔ درست ہے، آپ کہئے کہ میاں نو اور تیرہ کا قصہ ختم کرو۔ مجھے چودہ کا ادھار دو تمہیں اسی حساب سے سترہ دے دوں گا، مگر ایسے بیوقوف کم ملتے ہیں۔\n\nایک کا عدد تھا۔ وہ خداوند تعالیٰ جل جلالہ، وحق شانہ، نے یہ دنیا بناتے ہی اپنے نام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے الاٹ کرا لیا تھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A7%D8%AF%D8%A8_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91"} {"title": "اعزاز سلف کے مٹتے جاتے ہیں نشاں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اعزاز سلف کے مٹتے جاتے ہیں نشاں\nاگلے سے خیالات ہند میں اب وہ کہاں\nسید بننا ہو تو بنو سر سید\nہونا ہو جو خاں تو بنو انگریز خواں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B9%D8%B2%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%D9%84%D9%81_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%B9%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA"} {"title": "اعلیٰ رتبے میں ہر بشر سے پایا", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اعلیٰ رتبے میں ہر بشر سے پایا\nافضل انہیں خضر راہ بر سے پایا\nیہ در جو نہ ملتا تو بھٹکتے پھرتے\nجنت کا پتا علی کے گھر سے پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%B0_%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D8%B4%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اعلیٰحضرت نوّاب سرحمید اللہ خاں فرمانروائے بھوپال کی خدمت میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "زمانہ با اُمَمِ ایشیا چہ کرد و کند\nکسے نہ بود کہ ایں داستاں فرو خواند\nتو صاحبِ نظری آنچہ در ضمیرِ من است\nدل تو بیند و اندیشۂ تو می داند\nبگیر ایں ہمہ سرمایۂ بہار از من\n’کہ گُل بدستِ تو از شاخِ تازہ تر ماند‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%B0%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D9%86%D9%88%D9%91%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%D8%B1%D8%AD%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%AE%D8%A7%DA%BA_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%BE%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%AF%D9%85%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اغلب ہے وہ غم کا بار کھینچے گا میرؔ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اغلب ہے وہ غم کا بار کھینچے گا میرؔ\nمنھ دیکھو کہ شکل یار کھینچے گا میرؔ\nبیٹھا ہے بنانے اس کی چشم مے گوں\nنقاش بہت خمار کھینچے گا میرؔ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%BA%D9%84%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94"} {"title": "اغیار چھوڑ مجھ سیں اگر یار ہووے گا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اغیار چھوڑ مجھ سیں اگر یار ہووے گا\nشاید کہ یار محرم اسرار ہووے گا\n\nبوجھے گا قدر مجھ دل آشفتہ حال کی\nپھاندے میں زلف کے جو گرفتار ہووے گا\n\nبے فکر میں نہیں کہ صنم مست خواب ہے\nکیا کیا بلا کرے گا جو بیدار ہووے گا\n\nپنہاں رکھا ہوں درد کوں لوہو کی گھونٹ پی\nکہتا نہیں کسی سیں کہ اظہار ہووے گا\n\nبزم جنوں میں ساغر وحشت پیا جو کوئی\nغفلت سیں عقل و ہوش کی ہشیار ہووے گا\n\nتیری بھنووں کی تیغ کے پانی کوں دیکھ دل\nاٹکا ہے اس سبب کہ ندی پار ہووے گا\n\nرنگیں نہ کر توں دل کا محل نقش عیش سیں\nغم کے تبر سیں مار کہ مسمار ہووے گا\n\nبرجا ہے یار مجھ پہ اگر مہربان ہے\nبلبل پہ گل بغیر کسے پیار ہووے گا\n\nجاتا نہیں ہے یار کی شمشیر کا خیال\nمعلوم یوں ہوا کہ گلے ہار ہووے گا\n\nانکار مجھ کوں نیں ہے تری بندگی ستی\nیاں کیا ہے بلکہ حشر میں اقرار ہووے گا\n\nمجھ پاس پھر کر آوے اگر وو کتاب رو\nمکتب میں دل کے درس کا تکرار ہووے گا\n\nصحن چمن میں دیکھ تیرے قد کی راستی\nہر سرد تجھ سلام کوں خم دار ہووے گا\n\nاس چشم نیم خواب کی دیکھے اگر بہار\nنرگس چمن میں تختۂ دیوار ہووے گا\n\nاس زلف عنبریں سیں جو یک تار جھڑ پڑے\nہر خوب رو کوں طرۂ دستار ہووے گا\n\nاے جان میرے پاس سیں یک دم جدا نہ ہو\nجینا ترے فراق میں دشوار ہووے گا\n\nرکھتا ہے گرچہ آئنہ فولاد کا جگر\nتیر نگہ کے سامنے لاچار ہووے گا\n\nمت ہو شب فراق میں بے تاب اے سراجؔ\nامید ہے کہ صبح کوں دیدار ہووے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "اف انتہائے شوق میں اب کیا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اف انتہائے شوق میں اب کیا کرے کوئی\nکہتے ہیں پہلے اپنی تمنا کرے کوئی\n\nبیداد حسن یہ ہے تو پھر کیا کرے کوئی\nرسوائیوں کے بعد بھی پردہ کرے کوئی\n\nتم بھی کہو تو دل کو بتا دیں اب اس کا حال\nاب وقت وہ نہیں ہے کہ پردہ کرے کوئی\n\nکھل جائیں حسن و عشق کی نیرنگیوں کے راز\nدیکھوں جو پھر کسی کی تمنا کرے کوئی\n\nبد نامیاں نصیب میں ہیں سب کے ورنہ یاں\nکوئی نہ کچھ مٹائے نہ پیدا کرے کوئی\n\nکچھ ایسا حال ہے کسی بیمار عشق کا\nوہ خود بھی کہہ رہے ہیں کہ اب کیا کرے کوئی\n\nجھلکے گا اختیار میں محبوبیوں کا رنگ\nمیری نظر سے گل کا تماشا کرے کوئی\n\nذروں میں گونجتی ہے صدائے شکست دل\nہے شرط گوش دل کو مگر وا کرے کوئی\n\nجب کچھ سمجھنے دیں نہ کسی کی تجلیاں\nپھر کیوں مرے خیال کو رسوا کرے کوئی\n\nہے ذرہ ذرہ محشر آشوب شوق دیر\nاب وقت آگیا ہے کہ پردا کرے کوئی\n\nگم ہو چکی ہے قدرت ابداع آرزو\nبیخودؔ حریم ناز تو ہے کیا کرے کوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "اف رے ابھار اف رے زمانہ اٹھان کا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اف رے ابھار اف رے زمانہ اٹھان کا\nکل بام پر تھے آج ہے قصد آسمان کا\n\nرونا لکھا نصیب میں ہے اپنی جان کا\nشکوا نہ آپ کا نہ گلا آسمان کا\n\nبازار میں بھی چلتے ہیں کوٹھوں کو دیکھتے\nسودا خریدتے ہیں تو اونچی دکان کا\n\nیہ بھی خدا کی شان ہم اب ایسے ہو گئے\nسایا بھی بھاگتا ہے تمہارے مکان کا\n\nکیوں غم نصیب دل کو برا کہہ رہے ہو تم\nکیوں صبر لے رہے ہو کسی بے زبان کا\n\nواعظ شراب خانے میں کھولے گا کیا زباں\nہم خوب جانتے ہیں وہ ٹرا ہے تھان کا\n\nہم جام مے کے بھی لب تر چوستے نہیں\nچسکا پڑا ہوا ہے تمہاری زبان کا\n\nمیں دل کی واردات تو کہنے کو کہہ چلوں\nکس کو یقین آئے گا میرے بیان کا\n\nیہ تو کہا تجھے ہو لہو تھوکنا نصیب\nتم نے کبھی دیا کوئی ٹکڑا بھی پان کا\n\nمیں جاؤں یا نہ جاؤں انہیں لے کے بام پر\nبدلا ہوا ہے رنگ بہت آسمان کا\n\nافسانہ تم نے قیس کا شاید سنا نہیں\nٹکڑا ہے ایک وہ بھی مری داستان کا\n\nاب کوئی سینہ چیر کے رکھ لے کہ دل بنائے\nآویزہ گر پڑا ہے کوئی ان کے کان کا\n\nآیا جو غیر لطف بہت دیر تک رہا\nبدلا تھا میں نے بھیس ترے پاسبان کا\n\nدنیا کی پڑ رہی ہیں نگاہیں ریاضؔ پر\nکس وضع کا جوان ہے کس آن بان کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81_%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%81_%D8%B1%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اف مری زندگی کی رات اف مری زندگی کے دن", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اف مری زندگی کی رات اف مری زندگی کے دن\nایسی نہ ہے کسی کی رات ایسے نہ ہیں کسی کے دن\n\nرخ پہ ہے سرخیٔ حیا رنگ نگاہ سرمگیں\nجان بہار بن گئے حسن کی سادگی کے دن\n\nزندگی امیدوار ایک ادا عتاب کی\nآنکھ میں کٹ گئی تھی رات ہائے وہ برہمی کے دن\n\nپاؤں بڑھا کے چل دیا اور میں دیکھتا رہا\nآہ شباب بے خطر ہائے ہنسی خوشی کے دن\n\nکیفیؔٔ بے قرار اب دل سے بنے گی کس طرح\nہوش کی بات رہ گئی کٹ گئے بے خودی کے دن", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%D9%81_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%86"} {"title": "اف کیا مزا ملا ستم روزگار میں", "poet_page": "مصنف:اقبال سہیل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اف کیا مزا ملا ستم روزگار میں\nکیا تم چھپے تھے پردۂ لیل و نہار میں\n\nسو سجدے ایک لغزش مستانہ وار میں\nاللہ کیا ادا ہے ترے بادہ خوار میں\n\nروکوں تو موج غم کو دل بے قرار میں\nساغر چھلک نہ جائے کف رعشہ دار میں\n\nکس سے ہو پھر امید کہ تار نظر مرا\nخود جا کے مل گیا صف مژگان یار میں\n\nخود حسن بے نیاز نہیں فیض عشق سے\nخو میرے دل کی ہے نگہ بے قرار میں\n\nوہ مست ناز حسن میں سرشار آرزو\nوہ اختیار میں ہیں نہ میں اختیار میں\n\nآشوب اضطراب میں کھٹکا جو ہے تو یہ\nغم تیرا مل نہ جائے غم روزگار میں\n\nباقی رہا نہ کوئی گلہ وقت واپسیں\nکیا کہہ گئے وہ اک نگہ شرمسار میں\n\nاک مشق اضطراب کا رکھا ہے نام عشق\nاف بیکسی کہ وہ بھی نہیں اختیار میں\n\nبزم سخن میں آگ لگا دی سہیلؔ نے\nکیا بجلیاں تھیں خامۂ جادو نگار میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B2%D8%A7_%D9%85%D9%84%D8%A7_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%B1%D9%88%D8%B2%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہے\nگھٹتی ہے عمر کیا ستم ہوتا ہے\nہے مثل چراغ زندگانی مائلؔ\nبتی جلتی ہے تیل کم ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B2%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D9%85_%D8%A8%D8%AF%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "افزوں ہیں بیاں سے معجزات حیدر", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "افزوں ہیں بیاں سے معجزات حیدر\nحلال مہمات ہے ذات حیدر\nتوریت انجیل اور زبور و قرآن\nہیں ایک رباعی صفات حیدر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B2%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B9%D8%AC%D8%B2%D8%A7%D8%AA_%D8%AD%DB%8C%D8%AF%D8%B1"} {"title": "افسانہ مرے دل کا دل آزار سے کہہ دو", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "افسانہ مرے دل کا دل آزار سے کہہ دو\nبلبل کے ذرا درد کو گلزار سے کہہ دو\n\nسودائے محبت نے کیا ہے مجھے مجنوں\nجا سلسلۂ گیسوئے دلدار سے کہہ دو\n\nمجھ تشنۂ دیدار کی ہے ہونٹوں پہ اب جان\nللہ یہ چاہ زقن یار سے کہہ دو\n\nگردن پہ مری سر یہ بہت بار گراں ہے\nتیغ دو دم ابروئے خم دار سے کہہ دو\n\nاس چشم سے کہہ دو مری رنجوری کی حالت\nپیغام یہ بیمار کا بیمار سے کہہ دو\n\nہوں بندۂ الفت نہیں مذہب کی ہے خواہش\nیہ حال مرا سبحہ و زنار سے کہہ دو\n\nمنصور صفت دل سے نکلتا ہے انا الحق\nیہ حال مرا جلد سر دار سے کہہ دو\n\nمژگان ستم گر نے کیا مجھ کو ہے بسمل\nاعجاز مسیحائے لب یار سے کہہ دو\n\nآثمؔ ہی ہوا کافر عشق شہ خادم\nاس رمز کو ہر صاحب اسرار سے کہہ دو", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AF%D9%88"} {"title": "افسانہ نگار اور جنسی مسائل", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "لذت سنگ", "year": "1948", "text_ur": "کوئی حقیر سے حقیر چیز ہی کیوں نہ ہو، مسائل پیدا کرنے کا باعث ہو سکتی ہے۔ مسہری کے اندر ایک مچھر گھس آئے تو اس کو باہر نکالنے، مارنے اور آئندہ کے لئے دوسرے مچھروں کی روک تھام کرنے کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔۔۔ لیکن دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ، یعنی تمام مسئلوں کا باپ، اس وقت پیدا ہوا تھا جب آدم نے بھوک محسوس کی تھی اور اس سے چھوٹا مگر دلچسپ مسئلہ اس وقت پردۂ ظہور پر آیا تھا جب دنیا کے اس سب سے پہلے مرد کی دنیا کی سب سے پہلی عورت سے ملاقات ہوئی تھی۔\n\nیہ دونوں مسئلے، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، دو مختلف قسم کی بھوکیں ہیں جن کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس وقت جتنے معاشرتی، مجلسی، سیاسی اور جنگی مسائل نظر آتے ہیں، ان کے عقب میں یہی دو بھوکیں جلوہ گر ہیں۔ موجودہ جنگ کا خونیں پردہ اگر اٹھا دیا جائے تو لاشوں کے انبار کے پیچھے آپ کو ملک گیری کی بھوک کے سوا اور کچھ نظر نہیں آئے گا۔ بھوک کسی قسم کی بھی ہو، بہت خطرناک ہے۔۔۔ آزادی کے بھوکوں کو اگر غلامی کی زنجیریں ہی پیش کی جاتی رہیں تو انقلاب ضرور برپا ہوگا۔۔۔ روٹی کے بھوکے اگر فاقے ہی کھینچتے رہے تو وہ تنگ آ کر دوسرے کا نوالہ ضرور چھینیں گے۔۔۔ مرد کی نظروں کو اگر عورت کے دیدار کا بھوکا رکھا گیا تو شاید وہ اپنے ہم جنسوں اور حیوانوں ہی میں اس کا عکس دیکھنے کی کوشش کریں۔\n\nدنیا میں جتنی لعنتیں ہیں، بھوک ان کی ماں ہے۔۔۔ بھوک گداگری سکھاتی ہے۔ بھوک جرائم کی ترغیب دیتی ہے۔ بھوک عصمت فروشی پر مجبور کرتی ہے۔ بھوک انتہا پسندی کا سبق دیتی ہے۔۔۔ اس کا حملہ بہت شدید، اس کا وار بہت بھرپور اور اس کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے۔ بھوک دیوانے پیدا کرتی ہے۔ دیوانگی بھوک پیدا نہیں کرتی۔\n\nدنیا کے کسی کونے کا مصنف ہو، ترقی پسند ہو یا تنزل پسند، بوڑھا ہو یا جوان، اس کے پیش نظر دنیا کے تمام بکھرے ہوئے مسائل رہتے ہیں۔ چن چن کر وہ ان پر لکھتا رہتا ہے۔ کبھی کسی کے حق میں کبھی کسی کے خلاف۔ آج کا ادیب بنیادی طور پر آج سے پانچ سو سال پہلے کے ادیب سے کوئی زیادہ مختلف نہیں۔۔۔ ہر چیز پر نئے پرانے کا لیبل وقت لگاتا ہے۔ انسان نہیں لگاتا۔۔۔ ہم آج نئے ادیب کہلاتے ہیں۔ آنے والی کل ہمیں پرانا کر کے الماریوں میں بند کر دے گی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بے کار جئے، ہم نے مفت میں مغز دردی کی۔ گھڑی کی سوئی جب ایک سے گزر کر دو کی طرف رینگتی ہے تو ایک کا ہندسہ بے مصرف نہیں ہو جاتا۔۔۔ پورا سفر طے کر کے سوئی پھر اسی ہندسے کی طرف لوٹتی ہے۔۔۔ یہ گھڑی کا اصول بھی ہے اور دنیا کا بھی۔\n\nآج کے نئے مسائل بھی گزری ہوئی کل کے پرانے مسائل سے بنیادی طور پر مختلف نہیں، جو آج کی برائیاں ہیں، گزری ہوئی کل ہی نے ان کے بیج بوئے تھے۔ جنسی مسائل جس طرح آج کے نئے ادیبوں کے پیش نظر ہیں، اسی طرح پرانے ادیبوں کے پیش نظر بھی تھے۔ انہوں نے ان پر اپنے رنگ میں لکھا۔ ہم آج اپنے رنگ میں لکھ رہے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں، مجھ سے جنسی مسائل کے متعلق بار بار کیوں پوچھا جاتا ہے۔۔۔ شاید ا س لئے کہ لوگ مجھے ترقی پسند کہتے ہیں یا شاید اس لئے کہ میرے چند افسانے جنسی مسائل کے متعلق ہیں یا پھر ا س لئے کہ آج کے نئے ادیبوں کو بعض حضرات ’’جنس زدہ‘‘ قرار دے کر انہیں ادب، مذہب اور سماج سے یک قلم خارج کر دینا چاہتے ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو، میں اپنا نقطہ نظر بیان کئے دیتا ہوں،\n\nروٹی اور پیٹ، عورت اور مرد۔۔۔ یہ دو بہت پرانے رشتے ہیں۔ ازلی اور ابدی۔۔۔ روٹی زیادہ اہم ہے یا پیٹ۔۔۔ عورت زیادہ ضروری ہے کہ مرد۔۔۔ میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا، اس لئے کہ میرا پیٹ روٹی مانگتا ہے، لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ گیہوں بھی میرے پیٹ کے لئے اتنا ہی ترستا ہے جتنا کہ میرا پیٹ! پھر بھی، جب میں سوچتا ہوں کہ زمین نے گیہوں کے خوشوں کو بیکار جنم نہیں دیا ہوگا تو مجھے خوش فہمی ہوتی ہے کہ میرے پیٹ ہی کے لئے وسیع و عریض کھیتوں میں سنہری بالیں جھومتی ہیں اور پھر ہو سکتا ہے کہ میرا پیٹ پہلے پیدا ہوا اور گیہوں کی یہ بالیاں کچھ دیر بعد۔ کچھ بھی ہو، لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دنیا کا ادب صرف ان دو رشتوں ہی سے متعلق ہے۔۔۔ الہامی کتابیں بھی، جن کو آسمانی ادب کہنا چاہیئے، روٹی اور پیٹ، عورت اور مرد کے تذکروں سے خالی نہیں۔\n\nمگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ مسائل اتنے پرانے ہیں کہ ان کا ذکر الہامی کتابوں میں بھی آ چکا ہے تو پھر کیوں آج کے ادیب ان پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔۔۔ کیوں کر عورت اور مرد کے تعلقات کو بار بار کریدا جاتا ہے اور بقول شخصے عریانی پھیلائی جاتی ہے۔۔۔ جواب اس سوال کا یہ ہے کہ اگر ایک ہی بار، جھوٹ نہ بولنے اور چوری نہ کرنے کی تلقین کرنے پر ساری دنیا جھوٹ اور چوری سے پرہیز کرتی تو شاید ایک ہی پیغمبر کافی ہوتا۔۔۔ لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں، پیغمبروں کی فہرست خاصی لمبی ہے۔ ہم لکھنے والے پیغمبر نہیں۔ ہم ایک ہی چیز کو، ایک مسئلے کو مختلف حالات میں مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں اور جو کچھ ہماری سمجھ میں آتا ہے، دنیا کے سامنے پیش کر دیتے ہیں اور کبھی مجبور نہیں کرتے کہ وہ اسے قبول ہی کرے۔ ہم قانون ساز نہیں، محتسب بھی نہیں۔ احتساب اور قانون سازی دوسروں کا کام ہے۔ ہم حکومتوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں، لیکن خود حاکم نہیں بنتے۔ ہم عمارتوں کے نقشے بناتے ہیں لیکن معمار نہیں۔ ہم مرض بتاتے ہیں لیکن دواخانوں کے مہتمم نہیں۔\n\nہم جنسیات پر نہیں لکھتے۔ جو سمجھتے ہیں کہ ہم ایسا کرتے ہیں، یہ ان کی غلطی ہے۔ ہم اپنے افسانوں میں خاص عورتوں اور خاص مردوں کے حالات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ہمارے کسی افسانے کی ہیروئن سے اگر اس کا مرد صرف اس لئے متنفر ہو جاتا ہے کہ وہ سفید کپڑے پسند کرتی ہے اور سادگی پسند ہے تو دوسری عورتوں کو اسے اصول نہیں سمجھ لینا چاہیئے۔ یہ نفرت کیوں پیدا ہوئی اور کن حالات میں پیدا ہوئی۔۔۔ اس استفہام کا جواب آپ کو ہمارے افسانے میں ضرور مل جائے گا۔ جو لوگ ہمارے افسانوں میں لذت حاصل کرنے کے طریقے دیکھنا چاہتے ہیں، انہیں یقیناً ناامیدی ہوگی۔۔۔ ہم داؤ پیچ بتانے والے خلیفے نہیں۔۔۔ ہم سب اکھاڑے میں کسی کو گرتا دیکھتے ہیں تو اپنی سمجھ کے مطابق آپ کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کیوں گرا تھا۔\n\nہم رجائی ہیں۔۔۔ دنیا کی سیاہیوں میں بھی ہم اجالے کی لکیریں دیکھ لیتے ہیں۔ ہم کسی کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکھتے۔۔۔ چکلوں میں جب کوئی ٹکھیائی اپنے کوٹھے پر سے کسی راہ گزر پر پان کی پیک تھوکتی ہے تو ہم دوسرے تماشائیوں کی طرح نہ تو کبھی اس راہ گزر پر ہنستے ہیں اور نہ کبھی اس ٹکھیائی کو گالیاں دیتے ہیں۔۔۔ ہم یہ واقعہ دیکھ کر رک جائیں گے۔۔۔ ہماری نگاہیں اس غلیظ پیشہ ور عورت کے نیم عریاں لباس کو چیرتی ہوئی، اس کے سیاہ عصیاں بھرے جسم کے اندر داخل ہو کر اس کے دل تک پہنچ جائیں گی۔۔۔ اس کو ٹٹولیں گی اور ٹٹولتے ٹٹولتے ہم خود کچھ عرصے کے لئے تصور میں وہی کریہہ اور متعفن رنڈی بن جائیں گے۔۔۔ صرف اس لئے کہ ہم اس واقعے کی تصویر ہی نہیں بلکہ اس کے اصل محرک کی وجہ بھی پیش کر سکیں۔\n\nجب کسی اچھے خاندان کی جوان، صحت مند اور خوبصورت لڑکی کسی مریل، بدصورت اور قلاش لڑکے کے ساتھ بھاگ جاتی ہے تو ہم اسے ملعون قرار نہیں دیں گے۔۔۔ دوسرے، اس لڑکی کا ماضی، حال اور مستقبل اخلاق کی پھانسی میں لٹکا دیں گے، لیکن ہم وہ چھوٹی سی گرہ کھولنے کی کوشش کریں گے، جس نے اس لڑکی کے ادراک کو بے حس کیا۔ انسان ایک دوسرے سے کوئی زیادہ مختلف نہیں۔ جو غلطی ایک مرد کرتا ہے، دوسرا بھی کر سکتا ہے۔ جب ایک عورت بازار میں دکان لگا کر اپنا جسم بیچ سکتی ہے تو دنیا کی سب عورتیں کر سکتی ہیں۔۔۔ لیکن غلط کار انسان نہیں، وہ حالات ہیں جن کی کھیتیوں میں انسان اپنی غلطیاں پیدا کرتا ہے اور ان کی فصلیں کاٹتا ہے۔\n\nزیادہ تر جنسی مسائل ہی آج کے نئے ادیبوں کی توجہ کا مرکز کیوں بنے ہیں، اس کا جواب معلوم کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں۔ یہ زمانہ عجیب و غریب قسم کے اضداد کا زمانہ ہے۔۔۔ عورت قریب بھی ہے، دور بھی۔۔۔ کہیں مادر زاد برہنگی نظر آتی ہے، کہیں سر سے لے کر پیر تک ستر۔۔۔ کہیں عورت، مرد کے بھیس میں دکھائی دیتی ہے کہیں مرد عورت کے بھیس میں۔\n\nدنیا ایک بہت بڑی کروٹ لے رہی ہے۔۔۔ ہندوستان بھی۔ جہاں آزادی کا ننھا منا بچہ غلامی کے دامن سے آنسو پونچھ رہا ہے، مٹی کا نیا گھروندا بنانے کے لئے ضد کر رہا ہے۔۔۔ مشرقی تہذیب کی چولی کے بند کبھی کھولے جاتے ہیں، کبھی بند کئے جاتے ہیں۔ مغربی تہذیب کے چہرے کا غازہ کبھی ہٹایا جاتا ہے، کبھی لگایا جاتا ہے۔۔۔ ایک افراتفری سی مچی ہے۔۔۔ نئے کھٹ بنے پرانی کھاٹوں کی مونج ادھیڑ رہے ہیں۔ پرانے کھٹ بنے چلا رہے ہیں۔ ہلی ہوئی چولوں سے کہیں کھٹمل نکل رہے ہیں، کہیں پسو۔۔۔ کوئی کہتا ہے انہیں زندہ رہنے دو، کوئی کہتا ہے نہیں، فنا کردو۔۔۔ اس دھاندلی میں، اس شورش میں ہم نئے لکھنے والے اپنے قلم سنبھالے کبھی اس مسئلے سے ٹکراتے ہیں، کبھی اس مسئلے سے۔\n\nاگر ہماری تحریروں میں عورت اور مرد کے تعلقات کا ذکر آپ کو زیادہ نظر آئے تو یہ ایک فطری بات ہے۔ ملک، ملک سے سیاسی طور پر جدا کئے جا سکتے ہیں۔ ایک مذہب دوسرے مذہب سے عقیدوں کی بنا پر علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ دو زمینوں کو ایک قانون ایک دوسرے سے بیگانہ کر سکتا ہے۔ لیکن کوئی سیاست، کوئی عقیدہ، کوئی قانون، عورت اور مرد کو ایک دوسرے سے دور نہیں کر سکتا۔ عورت اور مرد میں جو فاصلہ ہے۔۔۔ اس کو عبور کرنے کی کوشش ہر زمانے میں ہوتی رہے گی۔۔۔ عورت اور مرد میں جو ایک لرزتی ہوئی دیوار حائل ہے، اسے سنبھالنے اور گرانے کی سعی ہر صدی، ہر قرن میں ہوتی رہے گی۔۔۔ جو اسے عریانی سمجھتے ہیں، انہیں اپنے احساس کے ننگ پر افسوس ہونا چاہیئے، جو اسے اخلاق کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ اخلاق زنگ ہے جو سماج کے استرے پر بے احتیاطی سے جم گیا ہے۔\n\nجو سمجھتے ہیں کہ نئے ادب نے جنسی مسائل پیدا کئے ہیں، غلطی پر ہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جنسی مسائل نے اس نئے ادب کو پیدا کیا ہے۔ اس نئے ادب کو جس میں، آپ کبھی کبھی اپنا ہی عکس دیکھتے ہیں، جھنجھلا اٹھتے ہیں۔۔۔ حقیقت خواہ شکر ہی میں لپیٹ کر پیش کی جائے، اس کی کڑواہٹ دور نہیں ہوگی۔ ہماری تحریریں آپ کو کڑوی اور کسیلی لگتی ہیں، مگر اب تک مٹھاسیں آپ کو پیش کی جاتی رہی ہیں۔ ان سے انسانیت کو کیا فائدہ ہوا ہے۔۔۔ نیم کے پتے کڑوے سہی، مگر خون ضرور صاف کرتے ہیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D9%86%D8%B3%DB%8C_%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84"} {"title": "افسانہ نگاروں کی قسمیں", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ایک نوخیز افسانہ نگار کو سب سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آج کل افسانہ نگاروں کی قسمیں کتنی ہیں تاکہ وہ یہ طے کرسکے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ میں نمبر وار گناتا ہوں۔\n\n(۱) پہلی قسم افسانہ نویسوں کی وہ ہے جنہوں نے محض اپنے افسانوں کی خوبی کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔ اپنے اوریجنل افسانوں کی وجہ سے پبلک سے روشناس ہوئے۔ اول تو انہوں نے دوسری چیزیں مثلاً فکاہیہ مقالے، تواریخی مضامین، ترجمے اور دوسرے دلچسپ ادبی اور معاشرتی مضامین ویسے بھی کم لکھے اور اگر لکھے بھی تو ان کی بدولت ان کو مقبولیت کا تمغہ نہیں ملا۔ اصل کارنامہ ان کا افسانہ نگاری رہا۔ ایک نہیں ان کے درجنوں افسانے ہیں اور ایک سے ایک بڑھ کر، ایسے کہ جب کبھی بھی کسی رسالے میں ان کا افسانہ شائع ہوا تو نہ صرف افسانوں میں ان کا افسانہ بہترین قرار دیا گیا بلکہ رسالے کے تمام مضامین نظم و نثر سے وہ سبقت لے گیا۔ عموماً رسالہ ہاتھ میں آتے ہی لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کا افسانہ بھی ہے یا نہیں اور اگر ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہی پڑھتے ہیں۔ مثال کے طور پر منشی پریم چند۔\n\n(۲) دوسری قسم افسانہ نگاروں کی وہ ہے جنہوں نے انتہائی قابلیت اور خوبی سے غیر ملکی زبانوں کے مشہور افسانہ نویسوں کی کاوشوں سے اردو کو مالا مال کر دیا اور انہوں نے دنیائے ادب میں اسی سے شہرت حاصل کی۔ بدقسمتی سے آج کل کی اصطلاح میں یہ بھی افسانہ نویس کہلاتے ہیں۔\n\n(۳) ایک اور قسم افسانہ نویسوں کی وہ ہے جنہوں نے غیرملکی افسانوں کو ملکی جامہ نہایت ہی خوبی سے پہنایا اور اپنا کمال اسی مخصوص کام میں دکھایا۔ بدقسمتی سے یہ بھی افسانہ نویس ہیں۔\n\n(۴) ایک قسم افسانہ نویسوں کی وہ ہے، جنہوں نے خود بھی اوریجنل افسانے لکھے، غیر ملکی افسانوں کو ملکی لباس بھی خوب پہنایا، دوسری زبانوں کے اچھے افسانوں کے ترجمے بھی خوب پیش کیے اور ان تمام کاموں کو مجموعی طور پر نہایت ہی خوبی سے انجام دیا اور جو کچھ بھی شہرت حاصل کی وہ ان تینوں کاموں سے حاصل کی مگر ان کا ہر کام علیحدہ کر کے دیکھا جائے تو ایسا نہیں جو ان کو مقبولیت کا وہ درجہ دے سکتا جو ان کو اب حاصل ہے۔ یہ بھی افسانہ نویس ہیں۔\n\n(۵) ایک قسم افسانہ نگاروں کی وہ ہے جنہوں نے محض اپنی مزاحیہ نگاری کی بدولت نام پیدا کیا۔ افسانے بھی لکھے اور اچھے لکھے مگر جو کچھ شہرت حاصل کی وہ محض اپنی مزاحیہ نگاری کی بدولت حاصل کی۔ بدقسمتی یاخوش قسمتی سے یہ بھی افسانہ نگار ہیں۔\n\n(۶) ایک قسم افسانہ نگاروں کی وہ ہے جو در اصل شاعر ہیں اور انہوں نے شاعری ہی میں نام اور کمال پیدا کیا اور اپنا ثانی نہیں رکھتے لیکن باوجود اس کے اوریجنل افسانے بھی لکھتے ہیں۔ اچھے افسانے مگر ایسے نہیں کہ وہ افسانے ان کو وہ شہرت دیتے جو ان کی اپنی شاعری کی بدولت حاصل ہے۔ یہ بھی افسانہ نویس ہیں۔\n\n(۷) ایک قسم افسانہ نویسوں کی وہ ہے جو تخلص رکھتے ہیں اور ساتھ ہی دہلوی، جودھپوری وغیرہ کو تخلص کے ساتھ لازمی استعمال کرتے ہیں۔ محض اس نیت سے کہ اگر افسانے کے ساتھ نام شائع نہ ہوا تو لوگ بھول جائیں گے اور پبلک سے روشناس ہونے میں بڑی دیر لگے گی۔ یہ لوگ اپنے افسانوں سے نام پیدا نہیں کرتے بلکہ نام سے افسانہ پیدا کرتے ہیں۔ پڑھنے والوں کے دل پر بجائے افسانے کے نقش کے اپنے تخلص یا قلمی نام کا نقش کھود چکے ہیں۔ ہر قسم کے مضمون، ترجمے، ادب لطیف وغیرہ وغیرہ کے مریض ہیں۔ لوگوں کے ذہن نےاور حافظے نے کام نہ دیا۔ نتیجہ یہ پبلک کو سوائے ان کے تخلص کے اور کچھ یاد نہیں رہا کہ انہوں نے کب افسانے لکھے اور ان میں کیا لکھا تھا، مگر ہاں یہ قطعی فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ مشہور افسانہ نویس ہیں، جو کچھ بھی انہوں نے نام پیدا کیا وہ تخلص کے زور سے کیا اور فطرت انسانی کا صحیح مطالعہ کر کے اپنے نام کو مخفف کر کے اس سے پورا فائدہ اٹھایا۔ یہ بھی افسانہ نویس ہیں۔\n\n(۸) ایک قسم افسانہ نویسوں کی وہ ہے جو آئے دن اس فکر میں رہتے ہیں کہ کسی طرح کسی رسالے کے آنریری ایڈیٹر یعنی مدیر اعزازی بن جائیں۔ اس سے یہ آسانی ہوتی ہے کہ اگر اپنا افسانہ کسی رسالہ کو چھپنے بھیجتے تو وہ اشتہارات کا نرخ پیش کرتا، اب مفت چھپ جائے گا۔ یہ لوگ اڈیٹر کو خط لکھتے ہیں تو عموماً کسی آنریری مجسٹریٹ کے خط سے مسودہ تیار کرتے ہیں جو کمشنر کو لکھا گیا ہو۔ یہ افسانہ نویس سرکار ادب کے آنریری مجسٹریٹ ہیں۔ مدیر اعزازی ہوتے ہی رسالہ ان کا ہو جاتا ہے، خود ایڈیٹر صاحب اس بات پر زور دیا کرتے ہیں کہ اپنے رسالے کا خیال رکھیے، ان کے ہر قسم کے مضامین رسالے میں شائع ہوتے ہیں۔ کسی کے نیچے کبھی ’ٹیگور‘ لکھنا بھول گئے، کبھی ’منقول‘ لکھنے سے رہ گیا۔\n\nجس طرح آنریری مجسٹریٹ سرکار اور پبلک کی خاطر اپنا خرچ کرتا ہے، اسی طرح یہ بھی سرکار ادب اور رعایائے ادب کی خاطر اپنا بیش قیمت وقت اور ڈاک خرچہ صرف کرتے ہیں۔ کبھی کبھار آنکھ بچاکر ایک آدھ اوریجنل افسانہ بھی رسالے میں شائع کر دیتے ہیں۔ ایڈیٹر بھی چشم پوشی سے کام لیتے ہیں کہ چلو رہنے بھی دو۔ روز یہ بدعت تھوڑے ہی ہوگی۔ جس طرح آنریری مجسٹریٹ تساہلی کرے تو اس کے اختیارات ضبط ہو جاتے ہیں، اسی طرح یہ بھی اگر ٹھیک کام نہ کریں اور توسیع اشاعت میں کوشاں نہ رہیں تو ان کے اختیارات بھی ضبط ہو جاتے ہیں اور پھر یہ اپنی تقرری کے لیے دوسرے پر گنے کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔ آنریری مجسٹریٹ کا اور ان دونوں کا منتہائے نظر اور مقصد اولین خطاب حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ایک دن وہ آتا ہے کہ دونوں کو خطاب مل جاتا ہے۔ ایک کو بادشاہ کی سالگرہ پر دوسرے کو رسالے کی سالگرہ پر۔ اس کے بعد ایک کو خان بہادر کہتے ہیں اور ایک کو افسانہ نویس! چنانچہ مدیران اعزازی بھی افسانہ نویس ہیں۔\n\nقصہ مختصر آج کل ہر مضمون نگار، نامہ نگار، فکاہیہ نگار، مزاحیہ نگار، شاعر، مترجم، وغیرہ وغیرہ افسانہ نگار یا افسانہ نویس کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ مجھے اس سے کچھ بحث نہیں کہ ایسا کیوں کیا جاتا ہے یا یہ کہ کارروائی کہاں تک صحیح اور درست ہے۔ مجھے تو ایک مبتدی کی توجہ صرف اس بات کی طرف مبذول کرنا ہے کہ وہ محض افسانہ نویسی کے نام کے پیچھے نہ دوڑے، ورنہ کوشش رائیگاں جائے گی۔ اس کو یہ کوشش کبھی نہ کرنا چاہیے کہ کسی نہ کسی طرح لفظ ’’افسانہ نویس‘‘ کا اس پر اطلاق ہوجانا ہی کافی ہے۔ خوب اچھی طرح ایک مبتدی کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان آٹھ طرح کے افسانہ نویسوں میں سے کوئی بھی صحیح معنی میں افسانہ نویس نہیں۔ سوائے قسم اول کے اور مبتدی کو طے کرلینا چاہیے کہ اس کو سوائے پہلی قسم کے اور کسی طرح کا افسانہ نگار بننا کسی طرح بھی منظور نہیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "افسانۂ حیات کو دہرا رہا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "افسانۂ حیات کو دہرا رہا ہوں میں\nیوں اپنی عمر رفتہ کو لوٹا رہا ہوں میں\n\nاک اک قدم پہ درس وفا دے رہا ہوں میں\nیہ کس کی جستجو ہے کدھر جا رہا ہوں میں\n\nیا رب کسی کا دام حسیں منتظر نہ ہو\nپر شوق کے لگے ہیں اڑا جا رہا ہوں میں\n\nاس سحر رنگ و بو نے تو دیوانہ کر دیا\nدامن کے تار تار کو الجھا رہا ہوں میں\n\nسوز درون سینہ کو نغموں میں ڈھال کر\nساز نفس کے تار کو برما رہا ہوں میں\n\nراہ طلب میں دیکھ مرے دل کی حسرتیں\nسائے میں پائے خضر کو سہلا رہا ہوں میں\n\nرستے کی اونچ نیچ سے واقف تو ہوں امیںؔ\nٹھوکر قدم قدم پہ مگر کھا رہا ہوں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%81%D8%B1%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "افسانۂ یار بہر وصلت ہے لذیذ", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "افسانۂ یار بہر وصلت ہے لذیذ\nپیمانۂ مے پئے فراغت ہے لذیذ\nاے شیخ ہے ہر وقت تو روکھا پھیکا\nیہ طرفہ مذاق ہے کہ طاعت ہے لذیذ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%B1_%D9%88%D8%B5%D9%84%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%84%D8%B0%DB%8C%D8%B0"} {"title": "افسردگئ دل سے یہ رنگ ہے سخن میں", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "افسردگئ دل سے یہ رنگ ہے سخن میں\nیعنی خزاں رسیدہ کچھ پھول ہیں چمن میں\n\nغربت میں بھی رہے ہم یاروں کی انجمن میں\nیاد وطن نے رکھا اکثر ہمیں وطن میں\n\nکیا سانس کا بھروسا پھر آئے یا نہ آئے\nکب تک جلے گی آخر یہ شمع انجمن میں\n\nلاکھوں میں ایک نکلی وضع جنوں بھی اپنی\nاب بھی رہے نہ دب کر ہم ان سے بانکپن میں\n\nکیا جانے کیا وہاں سے لایا خوشی کا مژدہ\nپھولا نہیں سماتا قاصد جو پیرہن میں\n\nجو چاہتے ہیں راحت لکھیں وہ حال غربت\nہم ننگ جانتے ہیں خط بھیجنا وطن میں\n\nشاید کچھ امن پاؤں ہاتھوں سے آسماں کے\nخاک اس گلی کی لے کر ملنا مرے کفن میں\n\nگو پیرزن ہے مخبر باعث تو ہے یہ آخر\nآلودہ دست شیریں ہے خون کوہ کن میں\n\nہم میکشوں کو پی کر یہ انفعال آیا\nرعشہ پڑا ہوا ہے ایک ایک عضو تن میں\n\nخانہ خرابی اپنی یاد آئی جی بھر آیا\nاجڑا ہوا جو دیکھا اک آشیاں چمن میں\n\nواعظ تری زباں سے غیبت بتوں کی سن کر\nمسجد سے اٹھ کے پہنچے ہم دیر برہمن میں\n\nوہ دل میں اور دل ہے سو حسرتوں کا مسکن\nخلوت میں انجمن ہے خلوت ہے انجمن میں\n\nشاعر حفیظؔ تم سے کامل بہت ہیں لیکن\nکہتے ہیں درد ایسا پیدا کہاں سخن میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1%D8%AF%DA%AF%D8%A6_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "افسردگی اور گرم جوشی بھی غلط", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "افسردگی اور گرم جوشی بھی غلط\nگم گشتگی اور خود فروشی بھی غلط\nکچھ کہئے اگر تو گفتگو ہے بے جا\nچپ رہئے اگر تو ہے خموشی بھی غلط", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D8%AC%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%BA%D9%84%D8%B7"} {"title": "افسوس ان پر فلک نے پایا قابو", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "افسوس ان پر فلک نے پایا قابو\nمطلق نہیں ان میں رنگ ڈھونڈو یا بو\nشیخی کو چھوڑ میرزا پہلے بنے\nبنتے جاتے ہیں اب یہ مسلم بابو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3_%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%88"} {"title": "افسوس تری وضع پہ آتا ہے قلقؔ", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "افسوس تری وضع پہ آتا ہے قلقؔ\nانداز ترا جی کو کڑھاتا ہے قلقؔ\nتو دولت حسن ہے کہ نقد نا اہل\nکیوں ہاتھ سے اپنے آپ جاتا ہے قلقؔ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%88%D8%B6%D8%B9_%D9%BE%DB%81_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%82%D9%84%D9%82%D8%94"} {"title": "افسوس سفید ہو گئے بال ترے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "افسوس سفید ہو گئے بال ترے\nلیکن ہیں سیاہ اب بھی اعمال ترے\nتو زلف بتاں بنا ہوا ہے اب تک\nدنیا پہ ہنوز پڑتے ہیں جال ترے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3_%D8%B3%D9%81%DB%8C%D8%AF_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%84_%D8%AA%D8%B1%DB%92"} {"title": "افسوس شکایت نہانی نہ گئی", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "افسوس شکایت نہانی نہ گئی\nدل پر سے رقیب کی گرانی نہ گئی\nالطاف تھے بس کہ رو بروئے دشمن\nاس شوخ سے بد گمانی نہ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%D9%86%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے\nجن لوگوں کی تھی درخورِ عقدِ گہر انگشت\n\nکافی ہے نشانی تِری، چھلّے کا نہ دینا\nخالی مجھے دکھلا کے بوقتِ سفر انگشت\n\nلکھتا ہوں اسدؔ سوزشِ دل سے سخنِ گرم\nتا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%B2%D9%82_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%86%DB%92"} {"title": "افسوس گزر گئی جوانی", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "افسوس گزر گئی جوانی\nوہ لمحۂ کیف و شادمانی\n\nکیا آ گئی نیند اہل محفل\nکہنی تھی ہمیں بھی اک کہانی\n\nمیں حسن وفا کی زندگی تھا\nتم نے مری قدر ہی نہ جانی\n\nاب تک ایمن کی وادیوں سے\nآتی ہے صدائے لن ترانی\n\nسیمابؔ کرو اب اللہ اللہ\nتا چند یہ ماتم جوانی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "افسوس ہے بد گماں کی آزادی پر", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "افسوس ہے بد گماں کی آزادی پر\nخالق کبھی خوش نہ ہوگا بربادی پر\nطاعون سے کیوں ہے اتنی وحشت اکبرؔ\nیہ تو اک ٹیکس ہے اس آبادی پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%AF_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "افسوس ہے عمر ہم نے یوں ہی کھوئی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "افسوس ہے عمر ہم نے یوں ہی کھوئی\nدل جس کو دیا ان نے نہ کی دلجوئی\nجھنجھلا کے گلا چھری سے کاٹا آخر\nجھل ایسی بھی عشق میں کرے ہے کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "افشا ہوئے اسرار جنوں جامہ دری سے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "افشا ہوئے اسرار جنوں جامہ دری سے\nچھاپے گئے اخبار مری بے خبری سے\n\nدم ناک میں آیا ہے اب اس نوحہ گری سے\nدل پک گیا اے آہ تری بے اثری سے\n\nکیا دن ہیں جو گل کھلتے ہیں شعلے ہیں دہکتے\nلو چلتی ہے باغوں میں نسیم سحری سے\n\nسونے کے نوالوں سے نہ کر پرورش روح\nاتنی بھی محبت نہیں کرتے سفری سے\n\nکب اہل دول سے ہوئی معبود پرستی\nباطل ہے اگر سجدہ کریں تاج زری سے\n\nہر حال میں رہتی ہے خدا پر نظر اپنی\nیہ مرتبہ حاصل ہے ہمیں بے ہنری سے\n\nمغرور نہ ہو چاند سے رخسار پر اپنے\nیہ قمقمہ روشن ہے چراغ سحری سے\n\nتو وہ ہے شہ حسن اگر باج طلب ہو\nلے حور سے گلدستہ طبق شاہ پری سے\n\nمنہ چڑھتے ہیں بد اصل تمیز ان کو نہیں ہے\nدانتوں سے لڑی سلک گہر بد گہری سے\n\nآنکھوں سے نکلوایے آنکھیں ہرنوں کی\nچیتوں کی کمر توڑیئے نازک کمری سے\n\nنوبت تو کہیں قتل گناہ گار کی آئی\nنقارے بجاؤں گا میں تیروں کی سری سے\n\nپشت لب شفاف سے جوبن ہے مسوں کا\nسبزے نے نمو کی ہے عقیق شجری سے\n\nپیری میں بھی ہم سے نہ ہوئی خانہ نشینی\nباز آئے نہ بزموں سے نہ گزرے گزری سے\n\nقد تیر سا تلوار تواضع سے ہوا ہے\nوہ ہاتھ اٹھاتے نہیں بے داد گری سے\n\nجب چاہو چلے آؤ یہ وعدہ نہیں اچھا\nدل آنکھ چراتا ہے بہت منتظری سے\n\nاب ضعف جنوں کوچۂ جاناں میں بہا دے\nکب تک یہ ورم پاؤں پر آشفتہ سری سے\n\nوہ چوٹ کلیجے میں لگی ہے کہ نہ پوچھو\nتڑپوں گا تہ خاک بھی درد جگری سے\n\nرونے کا نہ لے نام غم یار میں اے بحرؔ\nالٹے نہ زمانے کا ورق لب کی تری سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B4%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%85%DB%81_%D8%AF%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92"} {"title": "افضل کوئی مرتضیٰ سے ہمت میں نہیں", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "افضل کوئی مرتضیٰ سے ہمت میں نہیں\nاس طرح کا بندہ تو حقیقت میں نہیں\nطوبیٰ تسنیم و خلد و سیب و رمان\nوہ کیا ہے جو حیدر کی ولایت میں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B6%D9%84_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%B6%DB%8C%D9%B0_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "افطار", "poet_page": "مصنف:رشید جہاں", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "روزہ دار روزہ کھلوادے، اللہ تیرا بھلا کرے گا۔ کی صدائیں ڈیوڑھی سے آئیں۔ ڈپٹی صاحب کی بیگم صاحبہ جن کا مزاج پہلے ہی سے چڑچڑا تھا بولیں، ’’نامعلوم کم بخت یہ سارے دن کہاں مر جاتے ہیں۔ روزہ بھی تو چین سے نہیں کھولنے دیتے!‘‘\n\n’’اللہ تیرا بھلا کرے گا!‘‘ کی کانپتی آواز پھر گھر میں پہنچی۔\n\n’’نصیباً، اری او نصیباً! دیکھ وہاں قفلی میں کچھ جلیبیاں پرسوں کی بچی ہوئی رکھی ہیں فقیر کو دے دے۔‘‘\n\nنصیباً نے پوچھا کہ ’’اور بھی کچھ؟‘‘\n\n’’اور کیا چاہئے! سارا گھر اٹھا کر نہ دے دے۔‘‘\n\nنصیباً دوپٹہ سنبھالتی ہوئی اندر چلی گئی۔ برآمدے میں تخت پر بیگم صاحبہ بیٹھی تھیں۔ دسترخوان سامنے بچھا تھا جس پر چند افطاری کی چیزیں چنی ہوئی تھیں اور کچھ ابھی تلی جا رہی تھیں۔ منٹ منٹ میں گھڑی دیکھ رہی تھیں کہ کب روزہ کھلے اور کب وہ پان اور تمباکو کھائیں۔ ویسے ہی بیگم صاحبہ کا مزاج کیا کم تھا لیکن رمضان میں تو ان کی خوش مزاجی نوکروں میں ایک کہاوت کی طرح مشہور تھی۔ سب سے زیادہ آفت بے چاری نصیباً کی آتی ہے۔ گھر کی پلی چھوکری تھی۔ بیگم صاحبہ کے سوا دنیا میں اس کا کوئی نہ تھا اور بیگم صاحبہ اپنی اس مامتا کو نصیباً کی اکثر مرمت کرکے پورا کر لیا کرتی تھیں، حالانکہ گرمی رخصت ہو گئی تھی لیکن پھر بھی ایک پنکھا بیگم صاحبہ کے قریب رکھا رہتا تھا، جو ضرورت کے وقت نصیباً کی خبر لینے میں کام آتا تھا۔\n\n’’ارے کیا وہیں مر گئی! نکلتی کیوں نہیں!‘‘ نصیباً نے جلدی سے منہ پونچھا جلیبیاں لے کر ڈیوڑھی کی طرف چلی۔\n\n’’ادھر تو دکھا، کتنی ہیں؟‘‘\n\nنصیباً نے آکر ہاتھ پھیلا دیا۔ اس میں صرف دو جلیبیاں تھیں۔\n\n’’دو!‘‘ بیگم صاحبہ زور سے چیخ پڑیں، ’’اری اجڑی اس میں تو زیادہ تھیں۔ ادھر تو آ، کیا تو کھا گئی؟‘‘\n\n’’جی نہیں‘‘ نصیباً منہ ہی منہ میں منمنائی۔ لیکن بیگم صاحبہ کی ایکسرے نگاہوں نے جلیبی کے ٹکڑے نصیباً کے دانتوں میں لگے دیکھ ہی لئے۔ بس پھر کیا تھا آؤ دیکھا نہ تاؤ، پنکھا اٹھا کر پھیل ہی تو پڑیں، ’’حرامزادی، یہ تیرا روزہ ہے! قطامہ! تجھ سے آدھ گھنٹے اور نہ صبر کیا گیا۔ ٹھہر تو! میں تجھے چوری کا مزا چکھاتی ہوں۔‘‘\n\n’’اللہ تیرا بھلا کرے گا اپاہج کا روزہ کھلوا دے۔‘‘\n\n’’اب نہیں۔ اچھی بیگم صاحب اب نہیں۔ اللہ بیگم صاحب معاف کیجئے، اچھی بیگم صاحب۔ اچھی۔۔۔‘‘\n\nنصیباً گڑگڑانے لگی۔\n\n’’اب نہیں، اب نہیں کیسی۔ ٹھہر تو تو! مردار تیرا دم ہی نہ نکال کر چھوڑا ہو روزہ توڑنے کا مزہ!‘‘\n\n’’تیرے بال بچوں کی خیر! روزہ دار کا روزہ!‘‘\n\nجب بیگم صاحبہ بے دم ہو کر ہانپنے لگیں تو نصیباً کو دھکا دے کر بولیں، ’’جا کم بخت! جا کر فقیر کو یہ جلیبیاں دے آ، بے چارہ بڑی دیر سے چیخ رہا تھا۔ اور لے یہ دال بھی۔‘‘\n\nبیگم صاحبہ نے تھوڑی سی دال نصیباً کی مٹھی میں ڈال دی۔ نصیباً سسکیاں بھرتی ہوئی ڈیوڑھی پر گئی۔ دو جلیبیاں اور دال فقیر کو دے آئی۔\n\nنئی سٹرک جو شاید کبھی نئی ہو، اب تو پرانی اور ردی حالت میں تھی اس کے دونوں طرف گھر تھے۔ بس کہیں کہیں کوئی مکان ذرا اچھی حالت میں نظر آ جاتا تھا۔ زیادہ تر مکان پرانے اور بوسیدہ تھے۔ جو اس محلے کی گری ہوئی حالت کا پتہ دیتے تھے۔ یہ سٹرک ذرا چوڑی تھی جس کو رنگریز، دھوبی، جلا ہے اور لوہار وغیرہ علاوہ چلنے پھرنے کے آنگن کی طرح استعمال کرنے پر مجبور تھے۔ گرمیوں میں اتنی چارپائیاں بچھی ہوتی تھیں کہ یکہ بھی مشکل سے نکل سکتا تھا۔\n\nاس محلہ میں زیادہ تر مسلمان آباد تھے، علاوہ گھروں کے یہاں تین مسجدیں تھیں۔ ان مسجدوں کے ملاؤں میں ایک قسم کی بازی لگی رہتی تھی کہ کون ان جاہل غریبوں کو زیادہ الو بنائے اور کون ان کی گاڑھی کمائی میں سے زیادہ ہضم کرے۔ یہ ملا بچوں کو قرآن پڑھانے سے لے کر چھاڑ پھونک، تعویذ، گنڈا، غرض کہ ہر ان طریقوں کے استاد تھے کہ جن سے وہ ان جلاہوں اور لوہاروں کے بے وقوف بنا سکیں۔ یہ تین بے کار اور فضول خاندان ان محنت کرنے والے انسانوں کے بیچ میں اس طرح رہتے تھے کہ جس طرح گھنے جنگلوں میں دیمک رہتی ہے اور آہستہ آہستہ درختوں کو چاٹتی رہتی ہے۔ یہ ملا سفید پوش تھے اور ان کے پیٹ پالنے والے میلے اور گندے تھے۔ یہ ملا صاحبان سید اور شریف زادے تھے اور یہ محنت کش رذیل اور کمینوں سے گنے جاتے تھے۔\n\nاس محلے میں ایک ٹوٹا ہوا مکان تھا۔ نیچے کے حصہ میں کباڑی کی دوکان تھی اور اوپر کوئی پندرہ بیس خان رہتے تھے۔ اوپر کی منزل کا بارجہ سٹرک کی جانب کھلتا تھا۔ یہ خان سرحد کے رہنے والے تھے اور سب کے سب سود پر روپیہ چلاتے تھے۔ یہ لوگ حد سے زیادہ گندے تھے محلے والے تک ان سے بہت ڈرتے تھے۔ ایک تو زیادہ تر لوگ ان کے قرضدارتھے، دوسرے ان کی نگاہ ایسی بری تھی کہ اکیلی عورت کی ہمت ان کے گھر کے سامنے سے ہو کر نکلنے کی نہ ہوتی تھی۔ دن بھر ان کے گھر میں تالا پڑا رہتا تھا۔ شام کو جب یہ لوگ واپس آتے تو ایک چھوٹی دیگ میں گوشت ابال لیتے۔ بازار سے نان لے کر اسی ایک برتن میں ہاتھ ڈال کر کھانا کھا لیتے اور چچوڑی ہوئی ہڈیاں نیچے سڑک پر پھینکتے جاتے۔ جب ان کے کھانے کا وقت ہوتا تو شام کو بہت سے کتے جمع ہو جاتے اور دیر تک غر غر بھوں بھوں کی آوازیں آتی رہتیں۔\n\nاپنا پیٹ بھر کر یہ خان بہی کھاتے کھول کر بیٹھ جاتے۔ حساب کتاب کرنے لگتے۔ پھر کچھ اپنے کمبل بچھا کر اور حقہ لے کر سونے کو لیٹ جاتے اور چند منچلے شہر کی مٹر گشت کو نکل کھڑے ہوتے۔\n\nنماز روزوں کا ایک سود کھانے والا خان بڑا پابند ہوتا ہے اور اپنے کو سچا مسلمان سمجھتا ہے حالانکہ اس کے مذہب نے سود لینے کو بالکل منع کیا ہے لیکن یہ سود کو نفع کہہ کر ہضم کر جاتاہے اور اپنے خدا کے حضور میں اپنی عبادت (پوجا) ایک رشوت کی شکل میں پیش کرتا رہتا ہے۔ آج کل رمضان تھا تو سب خان بھی روزہ رکھے ہوئے تھے اور افطار کے خیال سے جلدی گھر لوٹ آتے تھے۔ ان کا دل بہلانے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ اپنے چھجے پر کھڑے ہو کر سٹرک کی سیر کریں اور کوئی اکا دکا عورت گزرے تو اس پر آواز ے کسیں۔ ان کے سامنے کا جو گھر تھا اس کی کھڑکیاں تو کبھی کھلتی ہی نہ تھیں۔ کبھی کبھار روشنی سے پتہ چلتا تھا کہ پھر کوئی کرایہ دار آ گیا ہے۔ آخر کو ایک دن چھکڑے اور تانگے آتے اور گھر پھر خالی ہو جاتا۔\n\nایک دن اصغر صاحب گھر تلاش کرتے پھرتے تھے۔ اس گھر کو بھی دیکھا۔ اس وقت خان باہر گئے ہوئے تھے۔ گھر میں تالا پڑا ہوا تھا۔ اصغر صاحب نے گھر کو پسند کیا۔ خاص کر کرایہ کو۔ قلعی وغیرہ ہو جانے پر مع اپنی بیوی، بچے اور ماں کے گھر آ گئے۔ ان کی بیوی نسیمہ کو گھر بہت پسند آیا۔ اگر آس پاس کا محلہ گندہ اور بوسیدہ حالت میں ہے تو ہوا کرے لیکن بیس روپیہ میں اتنا بڑا مکان کہاں ملا جاتا تھا۔ اس نے گھر کو فوراً سجانے اور ٹھیک کرانے کا ارادہ کر لیا۔ شام کو وہ اپنی کھڑکی میں سے جھانک کر باہر سٹرک پر بچوں کی بھاگ دوڑ دیکھ رہی تھی کہ اس کی ساس بھی آ کھڑی ہوئی اور باہر دیکھنے لگیں اور ایک دم ’’اوئی‘‘ کہہ کر پیچھے ہٹ گئیں۔\n\n’’اے دیکھ تو ان موٹے مسٹنڈے خانوں کو۔ پھوٹیں ان کے دیدے۔ ادھر دیکھ دیکھ کر کیسے ہنس رہے ہیں!‘‘\n\nنسیمہ نے نگاہ موڑی دیکھا کہ کئی خان اپنے چھجے پر دانت نکالے اس کی طرف گھور رہے ہیں۔ نسیمہ کے ادھر دیکھتے ہی خانوں کی فوج میں ایک حرکت ہوئی اور وہ زور زور سے باتیں کرنے لگے۔ شکر تو یہ تھا کہ ان کا گھر ذرا ترچھا تھا لیکن پھر بھی سامنا خوب ہوتا تھا۔\n\n’’اے دلہن کھڑکی بند کر کے ہٹ جاؤ۔ یہ کیسا بے پردہ گھر اصغر نے لیا ہے۔ میں تو یہاں دو روز تک نہیں ٹک سکتی۔‘‘\n\nنسیمہ نے جواب نہیں دیا اور خانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر برابر دیکھتی رہی۔ ساس وہاں سے بڑبڑاتی ہوئی چلی گئیں، ’’مردوں کو کون کہے جب عورتیں ہی شرم نہ کریں۔‘‘\n\nاصغر اور نسیمہ کی زندگی میں اب سے نہیں کچھ عرصہ سے رکاوٹ پیدا ہو گئی تھی۔ ان دونوں کی منگنی بچپن میں ہی ہو گئی تھی۔ جیسے جیسے بڑھتے گئے پردہ بھی بڑھتا گیا مگر آنکھ مچولی جیسے اپنے ہاں اکثر منگیتروں میں ہوتی ہے ان میں بھی ہوتی رہی، نوبت یہاں تک پہنچی ہوئی تھی کہ چھپ چھپ کر خط بھی لکھا کرتے تھے۔\n\nاصغر جب کالج میں پڑھتا تھا تو نوجوانی کا زمانہ تھا۔ طبیعت میں جوش تھا اور ان لڑکوں کا ساتھی تھا جو ملک کی آزادی کا درددل میں رکھتے تھے۔ اس کی جوشیلی تقریریں اور ویاکھیاں انگریزوں کے ظلم، زمینداروں کی بے گار، کسانو ں کی مصیبت، سرمایہ داروں کی لوٹ اور مزدوروں کے سنگٹھن کے بارے میں بہت مشہور تھیں۔ بولنے والا غضب کا تھا، ودّیارتھیوں کی دنیا میں وہ ہر جگہ مشہور تھا۔ دیش کو اس سے بہت آشائیں تھیں اور نسیمہ کو اس سے بھی زیادہ۔ اصغر اپنی کالج کی زندگی کی سب باتیں نسیمہ کو لکھا رہتا اور جب وہ اخبار میں اس کا نام دیکھتی تو نسیمہ کا سر غرور سے اونچا ہو جاتا۔ اس کی کسی سہیلی کا بھائی یا منگیتر ایسا دیش بھگت نہیں تھا۔ نسیمہ نے بھی اپنے کو ایک نئی زندگی کے لئے تیار کرنا شروع کیا۔\n\nعقلمند کو اشارہ کافی۔ ہوشیار لڑکی تھی وہ اپنے سماج کے روگوں کو اچھی طرح سمجھنے لگی اور ساتھ ہی ان کو سدھارنے کی تصویریں بھی اپنے دماغ میں کھینچنے لگی۔ دیش کو آزاد کرنے اور اس کو سکھ پہنچانے کے لئے وہ ہر قسم کا بلیدان کرنے کی تیاری کرنے لگی۔ آزادی کے نام سے اس کو عشق ہو گیا تھا۔ وہ اس پر اپنی جان بھی قربان کر سکتی تھی۔\n\nجیسے ہی اصغر نے بی۔ اے کیا دونوں کی شادی ہوگئی اور ساتھ رہنے سے نسیمہ کو پتہ چلا کہ اصغر کی روشن خیالی ایک چھوٹے سے دائرے کے اندر بند ہے انہوں نے اتنا تو ضرور کیا کہ اپنے چند دوستوں سے بیوی کو ملوادیا تھا۔ ان لوگوں سے بات چیت کرنے کے بعد نسیمہ کی سوچ اور سمجھ میں زیادہ ترقی ہو گئی او ر اس کو خود آگے بڑھ کر کام کرنے کی خواہش ہوئی۔\n\nایک طرف تو نسیمہ کا شوق اور جوش بڑھ رہا تھا اور دوسری طرف اصغر آہستہ آہستہ ڈھیلے پڑتے جاتے تھے۔ کہتے کچھ تھے اور کرتے کچھ تھے۔ جس آسانی کے ساتھ دوستوں کے ساتھ بہانے بازی کر سکتے تھے، نسیمہ کے ساتھ نہیں کر پاتے تھے۔ کبھی کہتے تھے کہ ابھی تو ہمارے ہاں بچہ ہونے والا ہے! پھر یہ کہ بچہ چھوٹا ہے۔ کبھی کہا کہ وکالت ختم کر لینے دو، وکالت ختم بھی نہ کی تھی کہ نوکر ہو گئے۔ نوکری بھی کی تو سرکاری اور اپنے پرانے دوستوں سے الگ ہونے لگے۔\n\nآخر کب تک نسیمہ سے اپنے دل کا حال چھپا سکتے تھے۔ باہر تو بیوی بچوں کا بہانہ تھا لیکن گھر میں کیاکہتے۔ نسیمہ بھی سمجھ گئی کہ یہ کرنے دھرنے والے تو کچھ ہیں نہیں۔ صرف باتیں بنانے کے ہیں۔ جب کبھی پرانے دوست اتفاق سے مل جاتے تو پھر اصغر صاحب وہی زبانی جمع خرچ شروع کر دیتے اور اپنی غیر سیاسی زندگی کو ایک مصیبت بنا کر دوستوں کے سامنے پیش کر دیتے اور سب یہی خیال کرتے کہ نسیمہ ہی ان کو بہکانے کی ذمہ دار ہے۔ میاں کی اس موقع پرستی سے دونوں کے دلوں میں گرہ پڑ گئی اور نسیمہ نے ایک خاموشی اختیار کر لی۔\n\nاب تو اصغر کے دوست ڈھیلے ڈھالے قسم کے وکیل اور سرکاری ملازم تھے اور جن میں سی۔ آئی۔ ڈی والے بھی شامل تھے۔ نسیمہ کے پاس اکیلے بیٹھتے ہوئے انہیں ایک الجھن سی ہوتی تھی، کیونکہ اصغر کے دل میں ایک چور تھا اور جانتے تھے کہ اس چور کا پتہ نسیمہ کو خوب اچھی طرح معلوم ہے۔ نسیمہ کی ہر بات ان کو ایک طعنہ نظر آتی تھی۔ اس کی سرد خاموشی سے ان کو ایک جھنجھلاہٹ آ جاتی تھی اور ان کا دل چاہتا تھا کہ وہ نسیمہ کے خوبصورت چہرے پر ایک روز کا تھپڑ ماربیٹھیں۔ اگر نسیمہ ان سے لڑتی، باتیں سناتی اور طعنہ دے دے کر ان کے دل کو چھلنی کر دیتی تو اتنی تکلیف نہ ہوتی جتنی کہ اصغر کواس کی خاموش حقارت سے ہوتی تھی۔\n\nافطار کا وقت قریب تھا۔ سب خان دریچہ میں موجود تھے۔ کچھ کھڑے تھے کچھ چائے پکا رہے تھے۔ نسیمہ بھی معہ اسلم کے اپنی کھڑکی میں سے جھانک رہی تھی۔ اب دو مہینے کے قریب ان کو اس گھر میں آئے ہوئے ہو گئے تھے، خان اس کی صورت اور لاپروائی کے عادی ہو چکے تھے۔ اب خواہ نسیمہ وہاں گھنٹوں گھڑی رہے خان اس کی طرف دھیان نہ دیتے تھے۔ اس وقت بھی ان کی آنکھیں اور کان قریب کی مسجد کی طرف لگے ہوئے تھے۔\n\nافطار میں ابھی دیر باقی تھی کہ ایک بڈھا فقیر گلی میں سے نکل کر سڑک پر آیا۔ جس طرح وہ ٹٹولتا ہوا چل رہا تھا اس سے ظاہر تھا کہ وہ اندھا بھی ہے، اس کے سارے جسم میں رعشہ تھا۔ جس لکڑی کے سہارے وہ چل رہا تھا وہ ابھی مشکل سے تھام سکتا تھا۔ اس کی مٹھی میں کوئی چیز تھی جو اس کے ہاتھوں کے کانپنے کی وجہ سے دکھائی نہ دیتی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ بڑھ کر نسیمہ کے گھر کے سامنے ایک دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔\n\n’’دیکھو اماں، اس فقیر کے ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘\n\nنسیمہ نے غور سے دیکھ کر کہا، ’’کچھ کھانے کی چیز معلوم ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’کھا کیوں نہیں لیتا؟‘‘\n\n’’روزے سے ہوگا۔ شاید اذان کا انتظار کر رہا ہوگا‘‘\n\n’’اماں تم روزہ نہیں رکھتیں؟‘‘\n\nنسیمہ نے مسکرا کر بیٹے کی طرف دیکھا۔ ’’نہیں‘‘\n\n’’ابا نے داروغہ جی سے کیوں کہا تھا کہ ان کا بھی روزہ ہے؟ کیا ابا نے جھوٹ بولا تھا؟‘‘\n\nنسیمہ نے کچھ دیر سوچ کر جواب دیا، ’’تم خود ان سے پوچھ لینا۔‘‘\n\n’’تو اماں تم روزہ کیوں نہیں رکھتیں؟‘‘\n\n’’تم جو نہیں رکھتے!‘‘ نسیمہ نے اسلم کو چھیڑا۔\n\n’’میں تو چھوٹا ہوں! دادی اماں کہتی ہیں کہ جو بڑا ہو جائے اور روزہ نہیں رکھے وہ دوزخ میں جاتا ہے۔ اماں دوزخ کیا ہوتی ہے؟‘‘\n\n’’دوزخ! دوزخ وہ تمہارے سامنے تو ہے۔‘‘\n\n’’کہاں؟‘‘ اسلم نے چاروں طرف گردن گھما کر دیکھا۔\n\n’’وہ نیچے جہاں اندھا فقیر کھڑا ہے، جہاں وہ جلاہے رہتے ہیں اور جہاں رنگریز رہتا ہے اور لوہار بھی۔‘‘\n\n’’دادی اماں تو کہتی ہیں دوزخ میں آگ ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’ہاں آگ ہوتی ہے! لیکن ایسی تھوڑی ہوتی ہے جیسے ہمارے چولہے ہیں۔ دوزخ کی آگ بیٹا بھوک کی آگ ہوتی ہے۔ اکثر وہاں کھانے کو ملتا ہی نہیں اور جو ملتا بھی ہے تو بہت برا اور تھوڑا سا۔ محنت بیو بہت کرنی پڑتی ہے اور کپڑے بھی دوزخ والوں کے پاس پھٹے پرانے پیوند لگے ہوتے ہیں۔ ان کے گھر بھی چھوٹے چھوٹے اندھیرے جوؤں اور کھٹملوں سے بھے ہوتے ہیں اور اسلم میاں دوزخ کے بچوں کے پاس کھلونے بھی نہیں ہوتے۔‘‘\n\n’’کلو کے پاس بھی کوئی کھلونا نہیں ہے۔ اماں وہ دوزخ میں جو رہتا ہے۔‘‘\n\n’’ہاں!‘‘\n\n’’اور جنت؟‘‘\n\n’’جنت یہ ہے جہاں ہم اور تم اور چچا اور خالہ جان رہتے ہیں۔ بڑا سا گھر، صاف ستھرا، کھانے کو مزے مزے کی چیزیں، مکھن، توس، پھل، انڈا، سالن، دودھ سب کچھ ہوتا ہے۔ بچوں کے پاس اچھے کپڑے اور کھیلنے کو اچھی سی موٹر ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’تو اماں سب لوگ جنت میں کیوں نہیں رہتے؟‘‘\n\n’’اس لئے میری جان کہ جولوگ جنت میں رہتے ہیں، وہ ان لوگوں کو گھسنے نہیں دیتے اپنا کام تو کروا لیتے ہیں اور ان کو پھر دوزخ میں دھکا دے دیتے ہیں۔‘‘\n\n’’اور وہ اندھے بھی ہو جاتے ہیں؟‘‘\n\n’’ہاں بیٹا! دوزخ میں اندھے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔‘‘\n\n’’تو وہ کھاتے کیسے ہیں؟‘‘\n\nاتنے میں اذان کی آواز آئی اور گولہ چلا۔ خان چائے پر لپکے اور بڈھے فقیر نے جلیبیاں جلدی منہ کی طرف بڑھائیں۔ رعشہ اور بڑھ گیا۔ اس کے ہاتھ زیادہ کانپنے لگے اور سر بھی زور زور سے ہلنے لگا۔ بڑی مشکل سے ہاتھ منہ تک پہنچایا اور جب منہ کھول کر جلیبیاں منہ میں ڈالنے لگا تو رعشہ کی وجہ سے جلیبیاں ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر پڑیں۔ ساتھ بڈھا بھی جلدی سے گھٹنوں کے بل زمین پر گر پڑا اور اپنے کانپتے ہاتھوں سے جلیبیاں ڈھونڈھنے لگا۔ ادھر ایک کتا جلیبیوں پر لپکا اور جلدی سے جلیبیاں کھا گیا۔ دوسرے کتے بھی بڑھے۔ بڈھے نے ان کو ڈانٹا۔ کتے اس پر غرانے لگے۔ بڈھا نڈھال ہو کر زمین پر بیٹھ گیا اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔\n\nخان جو ادھر دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے یہ سین دیکھ کر ایک قہقہہ لگایا اور بڈھے کی شکل و صورت اور بے چارگی پر ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔\n\nچھوٹا اسلم سہم کر نسیمہ سے چمٹ گیا اور بولا، ’’اماں!‘‘\n\nاس کے ننھے سے دماغ نے پہلی دفعہ دوزخ کی اصلی تصویر دیکھی تھی۔ نسیمہ نے خانوں کی طرف غصہ سے دیکھ کر کہا، ’’یہ کم بخت۔‘‘\n\nاسلم نے پھر دبی ہوئی آواز میں کہا، ’’اماں۔‘‘\n\nنسیمہ نے جھک کر اس کو گود میں اٹھا لیا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر جوش سے کہا، ’’میری جان! جب تم بڑے ہوگے تو اس دوزخ کا مٹانا تمہارا ہی کام ہوگا۔‘‘\n\n’’اور ماں تم؟‘‘\n\n’’میں بیٹا اب اس قید سے کہاں جا سکتی ہوں۔‘‘\n\n’’کیوں؟ ابھی تو تم دادی کی طرح بڈھی نہیں ہوئیں کہ چل نہ سکو۔‘‘ ننھے سے اسلم نے ماں کی سنجیدگی کی نقل کرتے ہوئے جواب دیا، ’’تم بھی چلنا اماں!‘‘\n\n’’اچھا میرے لال! تمہارے ساتھ ضرور چلوں گی۔‘‘", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B7%D8%A7%D8%B1"} {"title": "افطار صوم کی کچھ اگر دستگاہ ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "افطار صوم کی کچھ اگر دستگاہ ہو\nاس شخص کو ضرور ہے روزہ رکھا کرے\nجس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو\nروزہ اگر نہ کھائے تو ناچار کیا کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D8%B7%D8%A7%D8%B1_%D8%B5%D9%88%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D8%B3%D8%AA%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "افلاس اچھا نہ فکر دولت اچھی", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "افلاس اچھا نہ فکر دولت اچھی\nجو دل کو پسند ہو وہ حالت اچھی\nجس سے اصلاح نفس نا ممکن ہو\nاس عیش سے ہر طرح مصیبت اچھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D9%84%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C"} {"title": "افلاس میں کیوں ٹیکس لگا رکھا ہے", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "افلاس میں کیوں ٹیکس لگا رکھا ہے\nاسٹام کے جال میں پھنسا رکھا ہے\nقانون نے اک لوٹ مچا رکھی ہے\nاس واسطے اس کا نام لا رکھا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D9%84%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%B9%DB%8C%DA%A9%D8%B3_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر\nکرتے ہیں خطاب آخر، اٹھتے ہیں حجاب آخر\n\nاحوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایسا!\nسوزو تب و تاب اول، سوزو تب و تاب آخر!\n\nمیں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہے\nشمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر\n\nمیخانۂ یورپ کے دستور نرالے ہیں\nلاتے ہیں سرور اول، دیتے ہیں شراب آخر\n\nکیا دبدبۂ نادر، کیا شوکتِ تیموری!\nہوجاتے ہیں سب دفتر غرقِ مئے ناب آخر\n\nخلوت کی گھڑی گزری، جلوت کی گھڑی آئی\nچھٹنے کو ہے بجلی سے آغوشِ سحاب آخر!\n\nتھا ضبط بہت مشکل اس سیلِ معانی کا\nکہہ ڈالے قلندر نے اسرارِ کتاب آخر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%81%D9%84%D8%A7%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%AE%D8%B1"} {"title": "اقبالؔ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "فِردوس میں رومیؔ سے یہ کہتا تھا سنائیؔ\nمشرق میں ابھی تک ہے وہی کاسہ، وہی آش\nحلّاج کی لیکن یہ روایت ہے کہ آخر\nاک مرد قلندر نے کِیا رازِ خودی فاش!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%94"} {"title": "اقبالؔ نے کل اہلِ خیاباں کو سُنایا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اقبالؔ نے کل اہلِ خیاباں کو سُنایا\nیہ شعرِ نشاط آور و پُر سوز و طرب ناک\nمَیں صُورتِ گُل دستِ صبا کا نہیں محتاج\nکرتا ہے مرا جوشِ جُنوں میری قبا چاک", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%94_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%84_%D8%A7%DB%81%D9%84%D9%90_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%8F%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اقرار نگر کو گدائی کا ہے", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اقرار نگر کو گدائی کا ہے\nدعویٰ افلاس و بے نوائی کا ہے\nہر بات میں ہے فروتنی کا اظہار\nیہ بھی انداز خود ستائی کا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اقوامِ مشرق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق اُن کو\nآنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور\nزندہ کر سکتی ہے ایران و عرب کو کیونکر\nیہ فرنگی مَدنیّت کہ جو ہے خود لبِ گور!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%85%D9%90_%D9%85%D8%B4%D8%B1%D9%82"} {"title": "الا یا شاہ خوباں کیجیے شاد", "poet_page": "مصنف:ماتم فضل محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الا یا شاہ خوباں کیجیے شاد\nہوئے جاتے ہیں عاشق غم سے برباد\n\nہمیں تم یاد ہو ہر لحظہ لیکن\nہماری بھی کبھی تو کیجیے یاد\n\nگرفتار بلا بالائے تو یار\nغم دوراں سے ہیں جوں سرو آزاد\n\nاگر لیلیٰ ہے تو مجنوں ہیں ہم\nوگر شیریں ہے تو ہم ہیں فرہاد\n\nوہی ایراد کر سکتا ہے آخر\nکیا ہے جس نے اول ہم کو ایجاد\n\nکسی شے کو درست و چست دائم\nنہ دیکھا در جہان سست بنیاد\n\nشعر ہے اشک چشم و لخت دل سے\nاٹھایا چاہئے ہم آب و ہم زاد\n\nگل تر خار سے سمجھیں بتر تر\nجو دیکھیں عندلیباں روتے صیاد\n\nگلوئے گل تو پکڑے آخر کار\nگئے کب رائیگاں بلبل کے فریاد\n\nعبث کرتے ہو بہر ترک تکرار\nعزیزو ہوں میں دخت رز کا داماد\n\nنہیں جس روز میعاد آمد یار\nوہی ہم جانتے ہیں روز میعاد\n\nبہت فرزانہ تھے دیوانہ ہم کو\nبنائے شوخ طفلان پریزاد\n\nحمل مریخ معشوقوں نے میرا\nکیا ہے سر جدا از تیغ بیداد\n\nہزاراں شکر ملک سندھ میں بھی\nمرا مسکن ہے شہر حیدرآباد\n\nجناب حیدر صفدر سے ماتمؔ\nطلب اوقات مشکل میں کر امداد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%8C%DB%92_%D8%B4%D8%A7%D8%AF"} {"title": "الجھا دل ستم زدہ زلف بتاں سے آج", "poet_page": "مصنف:امانت لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الجھا دل ستم زدہ زلف بتاں سے آج\nنازل ہوئی بلا مرے سر پر کہاں سے آج\n\nتڑپوں گا ہجر یار میں ہے رات چودھویں\nتن چاندنی میں ہوگا مقابل کتاں سے آج\n\nدو چار رشک ماہ بھی ہم راہ چاہئیں\nوعدہ ہے چاندنی میں کسی مہرباں سے آج\n\nہنگام وصل رد و بدل مجھ سے ہے عبث\nنکلے گا کچھ نہ کام نہیں اور ہاں سے آج\n\nقعر بدن میں روح پکاری یہ وقت نزع\nمدت کے بعد اٹھتے ہیں ہم اس مکاں سے آج\n\nکھینچی ہے چرخ نے بھی کسی مانگ کی شبیہ\nثابت ہوئی یہ بات مجھے کہکشاں سے آج\n\nاندھیر تھا نگاہ امانتؔ میں شام سحر\nتم چاند کی طرح نکل آئے کہاں سے آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%B2%D8%AF%DB%81_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "الجھن کی کہانی", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ایک اکہرا دوسرا دہرا تیسرا ہے سو تہرا ہے\nایک اکہرے پر پل پل کو دھیان کا خونیں پہرہ ہے\nدوسرے دوہرے کے رستے میں تیسرا کھیل کا مہرہ ہے\nتیسرا تہرہ جو ہے اس کا سب سے اجاگر چہرہ ہے\nگویا اکہرا پہرا دہرہ مہرا، تہرا چہرہ ہے\nایک اکہرا کاغذ دہرا تہرا ہو کر ناؤ بنی\nناؤ سے پل بھر بچے بہلے کھیل کھیل میں گھاؤ بنی\nگھاؤ بنی تو دل میں دھیان یہ آیا کہہ دیں آؤ بنی\n\nبن بن کر جو کھیل بگڑ جاتے ہیں ان کی بات نہیں\nکوئی جنازہ بھی یہ نہیں ہے اور کوئی بارات نہیں\nیہ اک ایسا دن ہے جس کے آگے پیچھے رات نہیں\n\nتہرے کی ہر تہہ میں یوں تو ایک نیا ہی چہرا ہے\nلیکن ہر ایک چہرا اس بن کھیلے کھیل کا مہرا ہے\nجس کا رنگ اکہرا ہے\n\nآگے بات بڑھائیں کیسے بات بنے تو بات بڑھے\nاب تک رنگ اکہرا تھا گر کوئی بڑھا تو ہاتھ بڑھے\nہونی کی تو ریت یہی ہے چھوٹے دن کی رات بڑھے\nاب تو جو بھی بڑھنا چاہے اپنے ساتھ ہی ساتھ بڑھے\nآگے پیچھے دوڑ دوڑ کر اک آگے اک پیچھے ہے\nپیچھے والا کیسے بڑھے جب آگے والا بھی دوڑے\nدونوں چوٹ برابر کی ہیں یہ دونوں سے کون کہے\nہار اور جیت اسی میں ہے اب کون رکے اور کون بڑھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D8%AC%DA%BE%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "الجھے جو رقیب سے وہ کل پی کے شراب", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "الجھے جو رقیب سے وہ کل پی کے شراب\nکہتے ہیں ہوا چاک کشاکش میں نقاب\nسب جھوٹ نقاب رخ پہ کیوں کر ٹھہری\nثابت رکھتا ہے کب کتاں کو مہتاب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%DA%A9%D9%84_%D9%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "الحق کہ نہیں ہے غیر ہرگز موجود", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "الحق کہ نہیں ہے غیر ہرگز موجود\nجب تک کہ ہے وہم غیر حق ہے مفقود\nحق یہ ہے کہ وہم کا بھی ہونا حق ہے\nحق ہے تو ہر اک طرح سے حق ہے مشہود", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D8%AD%D9%82_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D8%B1%DA%AF%D8%B2_%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF"} {"title": "السلام اے کام جان مصطفےٰؐ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "سلام", "year": null, "text_ur": "السلام اے کام جان مصطفےٰؐ\nالسلام اے یادگار مرتضےٰ\nالسلام اے مقصد خیرالنسا\nالسلام اے پیشواے دوسرا\n\nکیا ستم ہے خیمے دریا پر ہوئے\nاور بے جاں پانی پانی کر ہوئے\nلب نہ اک قطرے سے تیرے تر ہوئے\nالسلام اے تشنہ کام کربلا\n\nزندگانی کی ہے تونے کیا کٹھن\nآ مدینے سے ہوا غربت وطن\nمر گئے پر اب نہ تربت نے کفن\nالسلام اے کشتۂ تیغ جفا\n\nچارہ گر سب تیرے بیچارے گئے\nدونوں بیٹے کیا ترے پیارے گئے\nیار بھائی سب ترے مارے گئے\nالسلام اے بیکس دشت وغا\n\nگھر ترا یک بار ویراں ہوگیا\nدم نہ مارا گوکہ بے جاں ہوگیا\nخاک سے مل کر تو یکساں ہوگیا\nالسلام اے رفتۂ راہ رضا\n\nماجرا تیرا نہایت ہے شگرف\nرنج میں طاقت ہوئی سب تیری صرف\nخوں ہوا دل پر نہ نکلا منھ سے حرف\nالسلام اے غنچۂ باغ حیا\n\nشان کیا کیسی امارت تیرے بعد\nہوگیا اسباب غارت تیرے بعد\nپچھلوں کی اب ہے حقارت تیرے بعد\nالسلام اے لائق مدح و ثنا\n\nگوش زد ایسا نہیں ظلم عیاں\nطعن کے ہمراہ پھر تیغ و سناں\nغم سا تیرا غم ہو تو کریے بیاں\nالسلام اے مبتلاے صدبلا\n\nکس جگہ آیا کہ یوں حیراں ہوا\nکن سیہ کاسوں کا تو مہماں ہوا\nکس قدر محتاج آب و ناں ہوا\nالسلام اے خلق کے حاجت روا\n\nتجھ سے خوبی امامت چارچند\nتیرا رایت تھا ولایت میں بلند\nتیرے در کا ہر گدا اقبال مند\nالسلام اے شاہ اقلیم ولا\n\nتیرے سجدے میں سدا اہل یقیں\nصبح خیزوں کی ترے در پر جبیں\nوائے شامی جن کو تجھ سے بغض و کیں\nالسلام اے قبلۂ اہل صفا\n\nحیف تو افسوس تو اے آہ تو\nنے نے رحمت تو زہے تو واہ تو\nجی سے گذرا فی سبیل اللہ تو\nالسلام اے عاشق طرز فنا\n\nسانحہ تیرا بھی یاں ہے یادگار\nدل جگر لے کر گیا دونوں فگار\nاک پسر چھوڑا ہے سو بیمار و زار\nالسلام اے دردمندوں کی دوا\n\nدل کو تیری آرزو ہر صبح و شام\nجی کو تیری ہی تمنا ہے مدام\nجان و دل صدقے کیے حاصل کلام\nالسلام اے جان و دل کے مدعا\n\nچشم رکھیں تجھ سے سب درویش و شاہ\nکج رکھیں تیرے بھروسے پر کلاہ\nآفتاب حشر سے دے تو پناہ\nالسلام اے سایۂ لطف خدا\n\nمیرؔ داخل ظلم کے ماروں میں ہے\nیعنی تیرے تعزیت داروں میں ہے\nمرحمت کر گو گنہگاروں میں ہے\nالسلام اے شافع روز جزا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%92%D9%B0%D8%90"} {"title": "الطاف بیاں ہوں کب ہم سے اے جان تمہاری صورت کے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الطاف بیاں ہوں کب ہم سے اے جان تمہاری صورت کے\nہیں لاکھوں اپنی آنکھوں پر احسان تمہاری صورت کے\n\nمنہ دیکھے کہ یہ بات نہیں سچ پوچھو تو اب دنیا میں\nبے ہوش کرے ہیں پریوں کو انسان تمہاری صورت کے\n\nآئینہ رخوں کی محفل میں جس وقت عیاں تم ہوتے ہو\nسب آئنہ ساں رہ جاتے ہیں حیران تمہاری صورت کے\n\nکچھ کہنے پر موقوف نہیں معلوم ابھی ہو جاوے گا\nخورشید مقابل ہو دیکھے اک آن تمہاری صورت کے\n\nکہ عرض نظیرؔ اک بوسے کی جب ہنس کر چنچل بولا یوں\nاس منہ سے بوسہ لیجئے گا قربان تمہاری صورت کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%81_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%92"} {"title": "الفاظ و معانی کی کروٹ جو بدلتے ہیں", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الفاظ و معانی کی کروٹ جو بدلتے ہیں\nپہلو مرے مطلب کے پہلو سے نکلتے ہیں\n\nشکل اور بدلتی ہے جب شکل بدلتے ہیں\nہم صورت اشک اکثر بے پاؤں بھی چلتے ہیں\n\nکچھ زور نہیں چلتا جب زور نہیں چلتا\nوہ دل کی طرح میرے قابو سے نکلتے ہیں\n\nفصل آئی ہے یہ کیسی کس جوش پہ ہے مستی\nبو دیتے ہیں گل مے کی ہم عطر جو ملتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%A7%D8%B8_%D9%88_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D9%88%D9%B9_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D8%AF%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "الفت سے ہو خاک ہم کو لہنا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الفت سے ہو خاک ہم کو لہنا\nقسمت میں تو ہے عذاب سہنا\n\nدھیان اس کے میں ہم کو سر بہ زانو\nآنکھیں کیے بند بیٹھے رہنا\n\nمنہ چاہئے چاہنے کو یوں جی\nکیا تم نے کہا یہ پھر تو کہنا\n\nاللہ رے سادگی کا عالم\nدرکار نہیں کچھ اس کو گہنہ\n\nکر بند نہ اشک چشم تر کو\nبہتر ناسور کا ہے بہنا\n\nقائم رہے کیا عمارت دل\nبنیاد میں تو پڑا ہے ڈھنا\n\nشب گھر جو رہا مرے وہ مہماں\nتھا صبح یہ کس ادا سے کہنا\n\nطاقت نہ رہی بدن میں ہے ہے\nقربان کیا تھا یاں کا رہنا\n\nدل نے بھی دیا نہ ساتھ جرأتؔ\nکیا دوش کسی کو دیجے لہنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DB%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "الفت شیریں کو بھاری سل سمجھ", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "الفت شیریں کو بھاری سل سمجھ\nسہل کو اے کوہ کن مشکل سمجھ\n\nگرد باد دشت اے مجنوں نہ ہو\nتل کو لیلہ چشم کو محمل سمجھ\n\nجان نبض راہ دشت نیستی\nتیغ ابرو کا مجھے بسمل سمجھ\n\nدل کو بیت اللہ کہتا ہے جہاں\nاس کو اے بت منزلت منزل سمجھ\n\nہے جو شب بیدار تیری یاد میں\nاس فرامش کار کو غافل سمجھ\n\nخون دل ہے سرخ روئی کا نشاں\nمجھ کو بسمل اپنا اے قاتل سمجھ\n\nوہ نگاہ گرم ہے برق اے وقارؔ\nخرمن ہستی کو بے حاصل سمجھ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%B4%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D9%84_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE"} {"title": "الفت عارض لیلیٰ میں پریشاں نکلا", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الفت عارض لیلیٰ میں پریشاں نکلا\nقیس مانند سحر چاک گریباں نکلا\n\nبن گئے خوب ہدف اس ستم ایجاد کے آپ\nلیجئے حضرت دل آج تو ارماں نکلا\n\nنہ ہوئی طاقت نظارہ کسی عاشق کو\nشعلۂ حسن حجاب رخ جاناں نکلا\n\nآ گئی صدمۂ فرقت سے اجل عاشق کی\nہجر محبوب فراق جسد و جاں نکلا\n\nروح نے خانۂ تن چھوڑ دیا آخر کار\nمیزباں ہم جسے سمجھے تھے وہ مہماں نکلا\n\nصاف دل بحر جہاں میں نہیں رکھتے دولت\nچشمۂ مہر سے کب گوہر غلطاں نکلا\n\nتو وہ ہے حسن میں یکتا کہ تجسس میں ترے\nآسماں لے کے چراغ مہ تاباں نکلا\n\nوہ پری رو ہوا قسمت سے مری میرا مطیع\nخط تقدیر خط مہر سلیماں نکلا\n\nمیرے مرنے سے ہوئے سیکڑوں ارمان شہید\nعالمؔ انجام میں دل گنج شہیداں نکلا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D8%B6_%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%D9%B0_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "الفت میں عیاں سوز بتاں ہو نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الفت میں عیاں سوز بتاں ہو نہیں سکتا\nیہ آگ ہے ایسی کہ دھواں ہو نہیں سکتا\n\nکیا پارۂ دل کوئی زباں ہو نہیں سکتا\nکیا اڑ کے لہو رنگ فغاں ہو نہیں سکتا\n\nاو جلوہ گہ طور کے کھل کھیلنے والے\nکیا دل کوئی خلوت کا مکاں ہو نہیں سکتا\n\nمجھ کو ہے لب جام شکستہ بھی مہ عید\nساقی یہ ہلال رمضاں ہو نہیں سکتا\n\nجوبن سے ہے مسکی ہوئی محرم کا اشارہ\nیہ دن وہ ہیں کوئی نگراں ہو نہیں سکتا\n\nجانے میں وہاں آندھی ہے اے آہ رسا تو\nکیا اشک رواں سیل رواں ہو نہیں سکتا\n\nدن اور جگہ اور ہو اے داور محشر\nانصاف حسینوں کا یہاں ہو نہیں سکتا\n\nدیوانۂ لیلیٰ کو نہ لیلیٰ سے رہا کام\nکچھ اور بلا ہے خفقاں ہو نہیں سکتا\n\nجو دام اٹھیں حسن جوانی کے وہ کم ہیں\nسودا یہ کسی طرح گراں ہو نہیں سکتا\n\nبت خانے بنا کرتے ہیں کس طرح مساجد\nجب نغمۂ ناقوس اذاں ہو نہیں سکتا\n\nدیوانوں کا انداز اڑاتے ہیں عنادل\nدیوانے میں یہ رنگ فغاں ہو نہیں سکتا\n\nیہ جان کو میری ہے عذاب آٹھ پہر کا\nدل سا بھی کوئی آفت جاں ہو نہیں سکتا\n\nہیں پیری و طفلی و جوانی کے مزے اور\nدنیا سا کوئی اور جہاں ہو نہیں سکتا\n\nبدلے ہوئے ہیں چرخ کے سب چاند ستارے\nوہ وصل کی راتیں وہ سماں ہو نہیں سکتا\n\nبننے کو ریاضؔ آپ بنیں کوہ کن و قیس\nہیں ساختہ باتیں خفقاں ہو نہیں سکتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "الفت میں مرے تو زندگی ملتی ہے", "poet_page": "مصنف:آسی الدنی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "الفت میں مرے تو زندگی ملتی ہے\nغم لاکھ سہے تو ایک خوشی ملتی ہے\nہر شمع کو بزم دہر میں اے آسیؔ\nجلنے ہی کے بعد روشنی ملتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "الفت نہ کروں گا اب کسی کی", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الفت نہ کروں گا اب کسی کی\nدشمن ہوا جس سے دوستی کی\n\nحالت کہوں اپنی بے خودی کی\nدل دے کے سنو جو میرے جی کی\n\nاول اول بھلائیاں کیں\nآخر آخر بہت بری کی\n\nمصروف ہے سینہ کوبی میں دل\nآتی ہے صدا دھڑا دھڑی کی\n\nالفت پہ تیری خاتمہ ہے\nاب لے لے قسم تو عاشقی کی\n\nکرتے رہے اختراع آپھی\nتقلید نہ کی کبھی کسی کی\n\nرونے پہ میرے ہنستے ہیں آپ\nہنس لیجئے بات ہے ہنسی کی\n\nکیوں کر نہ فریفتہ ہو انساں\nتن حور کا شکل ہے پری کی\n\nشیریں دہنو نہیں ہے زیبا\nتم باتیں کرو نہ پھیکی پھیکی\n\nدیوانہ ہوا ہوں اک پری کا\nتقصیر یہ ہے تو واقعی کی\n\nبے یار ہے دل کباب ساقی\nتکلیف نہ کر تو مے کشی کی\n\nآنکھیں لڑیں تجھ سے میں ہوا قتل\nان ترکوں نے جنگ زرگری کی\n\nکرنے دو بدی جو کرتے ہیں غیر\nسنتا نہیں رندؔ وہ کسی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہی\nمرشد نہ بناؤ ان کو دعوت ہی سہی\nبگڑا ہے جو دل زباں ہی کو روکو\nرونا جو نہ آئے غم کی صورت ہی سہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%B9%D8%B2%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "الفت نے تری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کا", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الفت نے تری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کا\nدریا کا نہ جنگل کا سما کا نہ زمیں کا\n\nاقلیم معانی میں عمل ہو گیا میرا\nدنیا میں بھروسہ تھا کسے تاج و نگیں کا\n\nتقدیر نے کیا قطب فلک مجھ کو بنایا\nمحتاج مرا پاؤں رہا خانۂ زیں کا\n\nاک بوریے کے تخت پہ اوقات بسر کی\nزاہد بھی مقلد رہا سجادہ نشیں کا\n\nاخترؔ قلم فکر کے بھی اشک ہیں جاری\nکیا حال لکھوں اپنے دل زار و حزیں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے\nتھے پاس ایک ہم ہی جو جاں پہ کھیل نکلے\n\nتیغ و سناں کو رکھ دو آنکھیں لڑاؤ ہم سے\nاچھی ہے وہ لڑائی جس میں کہ میل نکلے\n\nدیکھا جو نور اس کا تو کھل گئی ہیں آنکھیں\nدنیا و دیں کے جھگڑے بچوں کا کھیل نکلے\n\nامید نیکیوں کی رکھو نہ تم بروں سے\nممکن نہیں کھلی سے ہرگز جو تیل نکلے\n\nکب کوہ کن سے اٹھا کوہ گراں سے الفت\nان سختیوں کو کیفیؔ کچھ ہم ہی جھیل نکلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%81%DB%8C%D9%84_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "الفت ہو جسے اسے ولی کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "الفت ہو جسے اسے ولی کہتے ہیں\nایسوں کو سعید ازلی کہتے ہیں\nاس بزم میں دھوپ اٹھا کے آتے ہیں جو لوگ\nہنس کر طوبیٰ لکم علی کہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D9%88%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "الفت یہ چھپائیں ہم کسی کی", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الفت یہ چھپائیں ہم کسی کی\nدل سے بھی کہیں نہ اپنی جی کی\n\nجانے وہ کیا کسی کی جی کی\nجس کو الفت نہ ہو کسی کی\n\nخواہش نہ بر آئی اپنی جی کی\nہم نے کس کس کی دوستی کی\n\nاچھی نہیں شرح عاشقی کی\nپوچھو نہ اجی کسی کی جی کی\n\nیہ روئے کہ نامہ بہہ کے پہنچا\nاشکوں نے ہمارے قاصدی کی\n\nسرخی مگر اس کے لب کی دیکھی\nرنگت ہے سفید آرسی کی\n\nعاشق تھے وہ ہم کہ بعد اپنے\nمٹی ہی خراب عاشقی کی\n\nاے ابر شب فراق سچ کہہ\nروتے کٹتی ہے شب کسی کی\n\nدل زلف رسا تلک تو پہنچا\nاتنی بختوں نے رہبری کی\n\nبجلی چمکی تو ابر رویا\nیاد آ گئی کیا ہنسی کسی کی\n\nہم کسی کی گلی کی راہ بھولے\nجو خضر نے بھی نہ رہبری کی\n\nدل کو مرے خاک میں ملایا\nدلبر نے خوب دلبری کی\n\nسوزش مرے دل کی دیکھ اے ماہ\nکر سیر اس برج آتشی کی\n\nوہ طفل نصیری آئے شاید\nقسمیں دوں مرتضیٰ علی کی\n\nگردن زدنی تھی شمع سرکش\nکیوں اس کی گلی سے ہم سری کی\n\nبس رکھ دیا خط میں برگ سوسن\nجب لکھ نہ سکے صفت مسی کی\n\nٹھکرا کے چلی جبیں کو میرے\nقسمت کے لکھے نے یاوری کی\n\nیہ رشک ہے منہ جو یار دیکھے\nصورت دیکھوں نہ آرسی کی\n\nبھولا تھا میں راہ کوئے قاتل\nتو نے اے موت رہبری کی\n\nاس کے گردن تلک نہ پہنچا\nاے دست دراز کوتہی کی\n\nدل کو پالا بغل میں تو نے\nگویا دشمن سے دوستی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DB%8C%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "اللہ اللہ عز و جاہ ذاکر", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اللہ اللہ عز و جاہ ذاکر\nدربار حسینی میں ہے راہ ذاکر\nپنجہ جو علم کا سر منبر ہے انیس\nہے دست علم دار پناہ ذاکر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%B9%D8%B2_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%DB%81_%D8%B0%D8%A7%DA%A9%D8%B1"} {"title": "اللہ اللہ وصل کی شب اس قدر اعجاز ہے", "poet_page": "مصنف:بوم میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اللہ اللہ وصل کی شب اس قدر اعجاز ہے\nایک ذرا سی چیز ہے اس پر بھی اتنا ناز ہے\n\nخیر ہو یا رب کے حسن و عشق کا آغاز ہے\nاس طرف دل ہے ادھر سسری نگاہ ناز ہے\n\nجب بہار آئی موے پنجرے چمن کو اڑ گیا\nاس مصیبت پر بھی اتنی قوت پرواز ہے\n\nچھٹ گئیں نبضیں ہوئے لب بند پتلی پھر گئیں\nاور وہ مردود کہتا ہے کہ یہ دم باز ہے\n\nغیر نے مجھ کو ستا کر جیل کی کھائی ہوا\nیہ نہ سمجھا تھا کہ اس کا لٹھ بے آواز ہے\n\nجب کہا اس نے کہ اٹھ بے جھٹ میں زندہ ہو گیا\nبات کی تو بات ہے اعجاز کا اعجاز ہے\n\nتوڑ کر بدنام تم دل کو مرے ہو جاؤ گے\nاس میں پوشیدہ محبت کا تمہاری راز ہے\n\nغیر کو لائے ہیں میرے گھر وہ مع بسترے\nبھید اس میں بھی کوئی اس میں بھی کوئی راز ہے\n\nعشق میں پیدا نہیں ہوتا ہے سسرا انقلاب\nحسن دے جاتا ہے دھوکہ حسن دھوکہ باز ہے\n\nاب کوئی دن بھی بڑھاپا ٹھوکریں کھلوائے گا\nحسن ہے چند روزہ جس پہ تم کو ناز ہے\n\nنوچ کر میرے پروں کو کر دیا ہے ڈنڈ منڈ\nاب نہ قوے ہے نہ مجھ میں طاقت پرواز ہے\n\nوصل کی شب چار دم چھلے بھی ان کے ساتھ ہیں\nیعنی شوخی ہے شرارت ہے حیا ہے ناز ہے\n\nغیر کی کچھ حیثیت بھی آپ کو معلوم ہے\nخود ہے چوکیدار بادہ اس کا برفنداز ہے\n\nمیری فریاد و فغاں سن کر حرامی نے کہا\nیہ اسی الو کے پٹھے بومؔ کی آواز ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92"} {"title": "اللہ اللہ یہ لرزش مژگاں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "اللہ اللہ یہ لرزش مژگاں\nجھٹپٹے کا ہے طرفہ راز و نیاز\nراگنی میں ڈھلا ہوا گویا\nرات کو گھومتے کرے کا گداز", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D9%84%D8%B1%D8%B2%D8%B4_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA"} {"title": "اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں\nفیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں\n\nیہ تو نے کہا کیا اے ناداں فیاضی قدرت عام نہیں\nتو فکر و نظر تو پیدا کر کیا چیز ہے جو انعام نہیں\n\nیارب یہ مقام عشق ہے کیا گو دیدہ و دل ناکام نہیں\nتسکین ہے اور تسکین نہیں آرام ہے اور آرام نہیں\n\nکیوں مست شراب عیش و طرب تکلیف توجہ فرمائیں\nآواز شکست دل ہی تو ہے آواز شکست جام نہیں\n\nآنا ہے جو بزم جاناں میں پندار خودی کو توڑ کے آ\nاے ہوش و خرد کے دیوانے یاں ہوش و خرد کا کام نہیں\n\nزاہد نے کچھ اس انداز سے پی ساقی کی نگاہیں پڑنے لگیں\nمے کش یہی اب تک سمجھے تھے شائستہ دور جام نہیں\n\nعشق اور گوارا خود کر لے بے شرط شکست فاش اپنی\nدل کی بھی کچھ ان کے سازش ہے تنہا یہ نظر کا کام نہیں\n\nسب جس کو اسیری کہتے ہیں وہ تو ہے امیری ہی لیکن\nوہ کون سی آزادی ہے یہاں جو آپ خود اپنا دام نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%88%D9%81%DB%8C%D9%82_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اللہ اے بتو ہمیں دکھلائے لکھنؤ", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اللہ اے بتو ہمیں دکھلائے لکھنؤ\nسوتے میں بھی یہ کہتے ہیں ہم ہائے لکھنؤ\n\nایسا ہوا ہوں ہجر میں اس کے نحیف و زار\nدیکھے اگر مجھے وہیں شرمائے لکھنؤ\n\nآئے نہ میرے پاس تو میں آپ ہی چلوں\nمجھ کو خدا کرے کہیں بلوائے لکھنؤ\n\nکلکتہ کے حسینوں کو جب دیکھ لیتا ہوں\nاس وقت دل میں ہوتا ہے سودائے لکھنؤ\n\nاب لٹ گیا ہے کیا رہا دوزخ سے بڑھ کے ہے\nرشک بہشت کہتے تھے سب جائے لکھنؤ\n\nخوش چشمی آہوؤں کی وہ بھولے جہان میں\nدیکھے جو آنکھ نرگس شہلائے لکھنؤ\n\nگلشن عجب بہار کے ہر قصر رشک خلد\nاور گومتی غضب کی ہے دریائے لکھنؤ\n\nحور و پری کو رشک تھا اک ایک شخص پر\nبے مثل تھے سبھی مہ سیمائے لکھنؤ\n\nمرنے کے بعد بھی نہ مٹے گا جگر سے داغ\nجنت میں ہم کو ہوئے گی پروائے لکھنؤ\n\nجب سے ہٹا ہے وہ تہہ و بالا یہ ہو گیا\nجنت کوئی ضرور تھا بالائے لکھنؤ\n\nمیں کیا کہوں فقیروں کو جو کچھ غرور تھا\nاک اک گدائے شہر تھا دارائے لکھنؤ\n\nہٹتا نہیں تصور اسباب و ملک و مال\nکانوں میں بج رہی ہے وہ شہنائے لکھنؤ\n\nکیا کیا حسیں تھے جمع پرستاں کا تختہ تھا\nنظروں میں پھرتے ہیں رخ زیبائے لکھنؤ\n\nشاہوں پہ فخر کرتے تھے اس ملک کے گدا\nتھا مثل جام جم مے و مینائے لکھنؤ\n\nہر چند لاکھ طرح بھلاتا ہوں یاد کو\nاخترؔ پکار اٹھتا ہے دل ہائے لکھنؤ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A4"} {"title": "اللہ دتا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سرکنڈوں کے پیچھے", "year": "1955", "text_ur": "دو بھائی تھے۔ اللہ رکھا اور اللہ دتا۔ دونوں ریاست پٹیالہ کے باشندے تھے۔ ان کے آباءواجداد البتہ لاہور کے تھے مگر جب ان دو بھائیوں کا دادا ملازمت کی تلاش میں پٹیالہ آیا تو وہیں کا ہورہا۔ اللہ رکھا اور اللہ دتا دونوں سرکاری ملازم تھے۔ ایک چیف سیکرٹری صاحب بہادر کا اردلی تھا، دوسرا کنٹرولر آف اسٹورز کے دفتر کا چپراسی۔\n\nدونوں بھائی ایک ساتھ رہتے تھے تاکہ خرچ کم ہو۔ بڑی اچھی گزر رہی تھی۔ ایک صرف اللہ رکھا کو جو بڑا تھا، اپنے چھوٹے بھائی کے چال چلن کے متعلق شکایت تھی۔ وہ شراب پیتا تھا۔ رشوت لیتا تھا اور کبھی کبھی کسی غریب اور نادار عورت کو پھانس بھی لیا کرتا تھا۔ مگر اللہ رکھا نے ہمیشہ چشم پوشی سے کام لیا تھا کہ گھرکا امن و سکون درہم برہم نہ ہو۔دونوں شادی شدہ تھے۔ اللہ رکھا کی دو لڑکیاں تھیں۔ ایک بیاہی جا چکی تھی اور اپنے گھر میں خوش تھی۔دوسری جس کا نام صغریٰ تھا، تیرہ برس کی تھی اور پرائمری اسکول میں پڑھتی تھی۔\n\nاللہ دتا کی ایک لڑکی تھی، زینب۔۔۔ اس کی شادی ہوچکی تھی مگر اپنے گھرمیں اتنی خوش نہیں تھی۔ اس لیے کہ اس کا خاوند اوباش تھا۔ پھر بھی وہ جوں توں نبھائے جارہی تھی۔ زینب اپنے بھائی طفیل سے تین سال بڑی تھی۔ اس حساب سے طفیل کی عمر اٹھارہ انیس برس کے قریب ہوتی تھی۔ وہ لوہے کے ایک چھوٹے سے کارخانے میں کام سیکھ رہا تھا۔ لڑکا ذہین تھا، چنانچہ کام سیکھنے کے دوران میں بھی پندرہ روپے ماہوار اسے مل جاتے تھے۔\n\nدونوں بھائیوں کی بیویاں بڑی اطاعت شعار، محنتی اور عبادت گزار عورتیں تھیں۔ انھوں نے اپنے شوہروں کوکبھی شکایت کا موقع نہیں دیا تھا۔زندگی بڑی ہموار گزر رہی تھی کہ ایکا ایکی ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے۔ دونوں بھائیوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کے مال و جان اورعزت و آبرو پر حملہ ہوگا اور انھیں افراتفری اور کسمپرسی کے عالم میں ریاست پٹیالہ چھوڑنا پڑے گی۔۔۔ مگر ایسا ہوا۔\n\nدونوں بھائیوں کو قطعاً معلوم نہیں کہ اس خونیں طوفان میں کون سا درخت گرا، کون سے درخت سے کون سی ٹہنی ٹوٹی۔۔۔ جب ہوش و حواس کسی قدر درست ہوئے تو چند حقیقتیں سامنے آئیں اور وہ لرز گئے۔ اللہ رکھا کی لڑکی کا شوہر شہید کردیا گیا تھا اور اس کی بیوی کو بلوائیوں نے بڑی بے دردی سے ہلاک کردیا تھا۔اللہ دتا کی بیوی کو بھی سکھوں نے کرپانوں سے کاٹ ڈالا تھا۔ اسکی لڑکی زینب کا بدچلن شوہربھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔\n\nرونا دھونا بیکار تھا۔ صبر شکرکرکے بیٹھ رہے۔ پہلے تو کیمپوں میں گلتے سڑتے رہے۔ پھر گلی کوچوں میں بھیک مانگا کیے۔ آخر خدا نے سنی۔ اللہ دتا کو گوجرانوالہ میں ایک چھوٹا سا شکستہ مکان سر چھپانے کو مل گیا۔ طفیل نے دوڑ دھوپ کی تو اسے کام مل گیا۔\n\nاللہ رکھا لاہور ہی میں دیر تک دربدر پھرتا رہا۔جوان لڑکی ساتھ تھی۔ گویا ایک پہاڑ کا پہاڑ اس کے سرپر تھا۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس غریب نے کس طرح ڈیڑھ برس گزارا۔ بیوی اور بڑی لڑکی کا غم وہ بالکل بھول چکا تھا۔ قریب تھا کہ وہ کوئی خطرناک قدم اٹھائے کہ اسے ریاست پٹیالہ کے ایک بڑے افسر مل گئے جو اس کے بڑے مہربان تھے۔ اس نے ان کو اپنی حالت زار الف سے لے کر یے تک کہہ سنائی۔ آدمی رحم دل تھا۔ اس کو بڑی دقتوں کے بعد لاہور کے ایک عارضی دفتر میں اچھی ملازمت مل گئی تھی، چنانچہ انھوں نے دوسرے روز ہی اس کو چالیس روپیہ ماہوار پر ملازم رکھ لیا اور ایک چھوٹا سا کوارٹر بھی رہائش کے لیے دلوا دیا۔\n\nاللہ رکھا نے خدا کا شکر ادا کیا جس نے اس کی مشکلات دور کیں۔ اب وہ آرام سے سانس لے سکتا تھا اور مستقبل کے متعلق اطمینان سے سوچ سکتا تھا۔ صغریٰ بڑے سلیقے والی سگھڑ لڑکی تھی، سارا دن گھر کے کام کاج میں مصروف رہتی۔ ادھر ادھر سے لکڑیاں چن کے لاتی۔ چولہا سلگاتی اور مٹی کی ہنڈیا میں ہر روز اتنا سالن پکاتی جو دو وقت کے لیے پورا ہو جائے۔ آٹا گوندھتی۔ پاس ہی تنور تھا، وہاں جا کر روٹیاں لگوا لیتی۔\n\nتنہائی میں آدمی کیا کچھ نہیں سوچتا۔ طرح طرح کے خیالات آتے ہیں۔ صغریٰ عام طور پر دن میں تنہا ہوتی تھی اور اپنی بہن اور ماں کو یاد کرکے آنسو بہاتی رہتی تھی، پر جب باپ آتا تو وہ اپنی آنکھوں میں سارے آنسو خشک کرلیتی تھی تاکہ اس کے زخم ہرے نہ ہوں۔ لیکن وہ اتنا جانتی تھی کہ اس کا باپ اندرہی اندر گھلا جارہا ہے۔ اس کا دل ہر وقت روتا رہتا ہے مگر وہ کسی سے کہتا نہیں۔ صغریٰ سے بھی اس نے کبھی اس کی ماں اور بہن کا ذکر نہیں کیا تھا۔\n\nزندگی افتاں و خیزاں گزر رہی تھی۔ ادھر گوجرانوالہ میں اللہ دتا اپنے بھائی کے مقابلے میں کسی قدرخوش حال تھا، کیوں کہ اسے بھی ملازمت مل گئی تھی اور زینب بھی تھوڑا بہت سلائی کا کام کرلیتی تھی۔ مل ملا کے کوئی ایک سو روپے ماہوار ہو جاتے تھے جو تینوں کے لیے بہت کافی تھے۔\n\nمکان چھوٹا تھا، مگر ٹھیک تھا۔ اوپر کی منزل میں طفیل رہتا تھا، نچلی منزل میں زینب اور اس کا باپ۔ دونوں ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے تھے۔ اللہ دتا اسے زیادہ کام نہیں کرنے دیتا تھا۔ چنانچہ منہ اندھیرے اٹھ کروہ صحن میں جھاڑو دے کر چولہا سلگا دیتا تھا کہ زینب کا کام کچھ ہلکا ہو جائے۔ وقت ملتا تو دو تین گھڑے بھر کرگھڑونچی پر رکھ دیتا تھا۔زینب نے اپنے شہید خاوند کو کبھی یاد نہیں کیا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ اس کی زندگی میں کبھی تھا ہی نہیں۔ وہ خوش تھی۔ اپنے باپ کے ساتھ بہت خوش تھی۔ بعض اوقات وہ اس سے لپٹ جاتی تھی۔۔۔ طفیل کے سامنے بھی اور اس کو خوب چومتی تھی۔\n\nصغریٰ اپنے باپ سے ایسے چہل نہیں کرتی تھی۔۔۔ اگر ممکن ہوتا تو وہ اس سے پردہ کرتی۔ اس لیے نہیں کہ وہ کوئی نامحرم تھا۔ نہیں۔۔۔ صرف احترام کے لیے۔۔۔ اس کےدل سے کئی دفعہ یہ دعا اٹھتی تھی،’’یا پروردگار۔۔۔ میرا باپ میرا جنازہ اٹھائے۔‘‘\n\nبعض اوقات کئی دعائیں الٹی ثابت ہوتی ہیں۔ جو خدا کو منظور تھا، وہی ہونا تھا۔ غریب صغریٰ کے سر پر غم و اندوہ کا ایک اور پہاڑ ٹوٹنا تھا۔جون کے مہینے دوپہر کو دفتر کے کسی کام پر جاتے ہوئے تپتی ہوئی سڑک پر اللہ رکھا کو ایسی لُو لگی کہ بے ہوش ہوکر گر پڑا۔ لوگوں نے اٹھایا۔ ہسپتال پہنچایا مگر دوا دارو نے کوئی کام نہ کیا۔صغریٰ باپ کی موت کے صدمے سے نیم پاگل ہوگئی۔ اس نے قریب قریب آدھے بال نوچ ڈالے۔ ہمسایوں نے بہت دم دلاسا دیا مگر یہ کارگر کیسے ہوتا۔۔۔ وہ تو ایسی کشتی کے مانند تھی جس کا بادبان ہو نہ کوئی پتوار اور بیچ منجدھار کے آن پھنسی ہو۔\n\nپٹیالہ کے وہ افسر جنہوں نے مرحوم اللہ رکھا کو ملازمت دلوائی تھی، فرشتہ رحمت ثابت ہوئے۔ ان کو جب اطلاع ملی تو دوڑے آئے۔ سب سے پہلے انھوں نے یہ کام کیا کہ صغریٰ کو موٹر میں بٹھا کر گھر چھوڑ آئے اور بیوی سے کہا کہ وہ اس کا خیال رکھے۔ پھر ہسپتال میں جا کر انھوں نے اللہ رکھا کےغسل وغیرہ کا وہیں انتظام کیا اور دفتر والوں سے کہا کہ وہ اس کو دفنا آئیں۔\n\nاللہ دتا کو اپنے بھائی کے انتقال کی خبر بڑی دیر کے بعد ملی۔ بہرحال وہ لاہور آیا اور پوچھتا پاچھتا وہاں پہنچ گیا جہاں صغریٰ تھی۔ اس نے اپنی بھتیجی کو بہت دم دلاسا دیا، بہلایا، سینے کے ساتھ لگایا، پیار کیا، دنیا کی بے ثباتی کا ذکر کیا۔ بہادر بننے کو کہا، مگرصغریٰ کے پھٹے ہوئے دل پر ان تمام باتوں کا کیا اثر ہوتا۔ غریب خاموش اپنے آنسو دوپٹے میں خشک کرتی رہی۔\n\nاللہ دتا نے افسر صاحب سے آخر میں کہا،’’ میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں۔ میری گردن آپ کے احسانوں تلے ہمیشہ دبی رہے گی۔ مرحوم کی تجہیز و تکفین کا آپ نے بندوبست کیا۔ پھر یہ بچی جو بالکل بے آسرا رہ گئی تھی، اس کو آپ نے اپنے گھر میں جگہ دی۔۔۔ خدا آپ کو اس کا اجر دے۔۔۔ اب میں اسے اپنے ساتھ لیے جاتا ہوں۔ میرے بھائی کی بڑی قیمتی نشانی ہے۔‘‘\n\nافسر صاحب نے کہا، ’’ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن تم ابھی اسے کچھ دیر اور یہاں رہنے دو۔۔۔ طبیعت سنبھل جائے تو لے جانا۔‘‘\n\nاللہ دتا نے کہا،’’حضور! میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس کی شادی اپنے لڑکے سے کروں گا اور بہت جلد!‘‘\n\nافسر صاحب بہت خوش ہوئے،’’بڑا نیک ارادہ ہے۔۔۔ لیکن اس صورت میں جب کہ تم اس کی شادی اپنے لڑکے سے کرنے والے ہو، اس کا اس گھر میں رہنا مناسب نہیں، تم شادی کا بندوبست کرو۔ مجھے تاریخ سے مطلع کردینا۔ خدا کے فضل و کرم سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘\n\nبات درست تھی۔ اللہ دتا واپس گوجرانوالہ چلا گیا۔ زینب اس کی غیر موجودگی میں بڑی اداس ہوگئی تھی۔ جب وہ گھر میں داخل ہوا تو وہ اس سے لپٹ گئی اور کہنے لگی کہ اس نے اتنی دیر کیوں لگائی؟\n\nاللہ دتا نے پیار سے اسے ایک طرف ہٹایا،’’ارے بابا، آنا جانا کیا ہے۔۔۔ قبر پر فاتحہ پڑھنی تھی۔ صغریٰ سے ملنا تھا، اسے یہاں لانا تھا۔‘‘\n\nزینب نہ معلوم کیا سوچنے لگی۔’’صغریٰ کو یہاں لانا تھا۔‘‘ایک دم چونک کر۔’’ہاں۔۔۔ صغریٰ کو یہاں لانا تھا۔ پر وہ کہاں ہے؟‘‘\n\n’’وہیں ہے۔۔۔ پٹیالے کے ایک بڑے نیک دل افسر ہیں، ان کے پاس ہے۔ انھوں نے کہا جب تم اس کی شادی کا بندوبست کرلو گے تو لے جانا۔‘‘یہ کہتے ہوئے اس نے بیڑی سلگائی۔\n\nزینب نے بڑی دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا،’’ اس کی شادی کا بندوبست کررہے ہو۔۔۔ کوئی لڑکا ہے تمہاری نظر میں؟‘‘\n\nاللہ دتانے زور کا کش لگایا،’’ارے بھئی، اپنا طفیل۔۔۔ میرے بڑے بھائی کی صرف ایک ہی نشانی تو ہے۔۔۔ میں اسے کیا غیروں کے حوالے کردوں گا؟‘‘\n\nزینب نے ٹھنڈی سانس بھری،’’تو صغریٰ کی شادی تم طفیل سے کروگے؟‘‘\n\nاللہ دتا نے جواب دیا،’’ہاں۔۔۔ کیا تمہیں کوئی اعتراض ہے؟‘‘\n\nزینب نے بڑے مضبوط لہجے میں کہا،’’ہاں۔۔۔ اور تم جانتے ہوکیوں ہے۔۔۔ یہ شادی ہرگز نہیں ہوگی!‘‘\n\nاللہ دتا مسکرایا۔ زینب کی ٹھوڑی پکڑ کر اس نے اس کا منہ چوما،’’پگلی۔۔۔ ہر بات پر شک کرتی ہے۔۔۔ اور باتوں کو چھوڑ، آخر میں تمہارا باپ ہوں۔‘‘\nزینب نے بڑے زور سے ہونہہ کی،’’باپ!‘‘ اور اندر کمرے میں جا کر رونے لگی۔\n\nاللہ دتا اس کے پیچھے گیا اور اس کو پچکارنے لگا۔\n\nدن گزرتے گئے۔ طفیل فرمانبردار لڑکا تھا۔ جب اس کے باپ نے صغریٰ کی بات کی تو وہ فوراً مان گیا۔ آخر تین چار مہینے کے بعد تاریخ مقرر ہوگئی۔ افسر صاحب نے فوراً صغریٰ کے لیے ایک بہت اچھا جوڑا سلوایا جو اسے شادی کے دن پہننا تھا۔ ایک انگوٹھی بھی لے دی۔ پھر اس نے محلے والوں سے اپیل کی کہ وہ ایک یتیم لڑکی کی شادی کے لیے جو بالکل بے سہارا ہے، حسب توفیق کچھ دیں۔ صغریٰ کو قریب قریب سبھی جانتے تھے اور اس کے حالات سے واقف تھے، چنانچہ انھوں نے مل ملا کر اس کے لیے بڑا اچھا جہیز تیار کردیا۔\n\nصغریٰ دلہن بنی تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ تمام دکھ جمع ہوگئے ہیں اور اس کوپیس رہے ہیں۔ بہر حال، وہ اپنے سسرال پہنچی جہاں اس کا استقبال زینب نے کیا، کچھ اس طرح کہ صغریٰ کو اسی وقت معلوم ہوگیا کہ وہ اس کے ساتھ بہنوں کا سا سلوک نہیں کرے گی بلکہ ساس کی طرح پیش آئے گی۔صغریٰ کا اندیشہ درست تھا۔ اس کے ہاتھوں کی مہندی ابھی اچھی طرح اترنے بھی نہ پائی تھی کہ زینب نے اس سے نوکروں کے کام لینے شروع کردیے۔ جھاڑو وہ دیتی، برتن وہ مانجھتی، چولہا وہ جھونکتی، پانی وہ بھرتی۔ یہ سب کام وہ بڑی پھرتی اور بڑے سلیقے سے کرتی لیکن پھر بھی زینب خوش نہ ہوتی۔ بات بات پر اس کو ڈانٹتی ڈپٹتی، جھڑکتی رہتی۔\n\nصغریٰ نے دل میں تہیہ کرلیا تھا،وہ یہ سب کچھ برداشت کرے گی اور کبھی حرف شکا یت زبان پر نہ لائے گی، کیوں کہ اگر اسے یہاں سے دھکّا مل گیا تو اس کے لیے اور کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔\n\nاللہ دتا کاسلوک البتہ اس سے برا نہیں تھا۔ زینب کی نظر بچا کر کبھی کبھار وہ اس کو پیار کرلیتا تھا اور کہتا تھا کہ وہ کچھ فکر نہ کرے،سب ٹھیک ہو جائے گا۔ صغریٰ کواس سے بہت ڈھارس ہوتی۔ زینب جب کبھی اپنی کسی سہیلی کے ہاں جاتی اور اللہ دتا اتفاق سے گھر پر ہوتا تو وہ اس سے دل کھول کرپیار کرتا، اس سے بڑی میٹھی میٹھی باتیں کرتا، کام میں اس کا ہاتھ بٹاتا۔ اس کے واسطے اس نے جو چیزیں چھپا کر رکھی ہوتی تھیں، دیتا اور سینے کے ساتھ لگا کر اس سے کہتا،’’صغریٰ، تم بڑی پیاری ہو!‘‘\n\nصغریٰ جھینپ جاتی۔ دراصل وہ اتنے پرجوش پیار کی عادی نہیں تھی۔ اس کا مرحوم باپ اگر کبھی اسے پیار کرنا چاہتا تھا تو صرف اس کے سر پرہاتھ پھیر دیا کرتا تھا یا اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا دیا کرتا تھا،’’خدا میری بیٹی کے نصیب اچھے کرے۔‘‘\n\nصغریٰ طفیل سے بہت خوش تھی۔ وہ بڑا اچھا خاوند تھا۔جو کماتا تھا، اس کے حوالے کردیتا تھا،مگر صغریٰ زینب کودے دیتی تھی، اس لیے کہ وہ اس کے قہر و غضب سے ڈرتی تھی۔ طفیل سے صغریٰ نے زینب کی بدسلوکی اور اس کے ساس ایسے برتاؤ کا کبھی ذکر نہیں کیا تھا۔ وہ صلح کل تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے باعث گھرمیں کسی قسم کی بدمزگی پیدا ہو۔ اور بھی کئی باتیں تھیں جو وہ طفیل سے کہنا چاہتی تو کہہ دیتی مگر اسے ڈر تھا کہ طوفان برپا ہو جائے گا۔ اور تو اس میں سے بچ کر نکل جائیں گے مگر وہ اکیلی اس میں پھنس جائے گی، اور اس کی تاب نہ لاسکے گی۔\n\nیہ خاص باتیں اسے چند روز ہوئے معلوم ہوئی تھیں اور وہ کانپ کانپ گئی تھی۔ اب اللہ دتا اسے پیار کرنا چاہتا تووہ الگ ہٹ جاتی، یادوڑ کر اوپر چلی جاتی، جہاں وہ اور طفیل رہتے تھے۔\n\nطفیل کو جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی۔ اللہ دتا کو اتوار کی۔ اگر زینب گھر پر ہوتی تو وہ جلدی جلدی کام کاج ختم کرکے اوپر چلی جاتی۔ اگر اتفاق سے اتوار کو زینب کہیں باہر گئی ہوتی تو صغریٰ کی جان پر بنی رہتی۔ ڈر کے مارے اس سے کام نہ ہوتا، لیکن زینب کا خیال آتا تو اسے مجبوراً کانپتے ہاتھوں سےدھڑکتے دل سے طوعاًوکرہاً سب کچھ کرنا پڑتا۔ اگر وہ کھانا وقت پرنہ پکائے تو اس کا خاوند بھوکا رہے کیوں کہ وہ ٹھیک بارہ بجے اپنا شاگرد روٹی کے لئےبھیج دیتا تھا۔\n\nایک دن اتوار کو جب کہ زینب گھر پر نہیں تھی، اور وہ آٹا گوندھ رہی تھی، اللہ دتا پیچھے سے دبے پاؤں آیا اور کھلنڈرے انداز میں اس کی آنکھوں پرہاتھ رکھ دیے۔ وہ تڑپ کر اٹھی، مگر اللہ دتا نے اسے اپنی مضبوط گرفت میں لے لیا۔صغریٰ نے چیخنا شروع کردیامگر وہاں سننے والا کون تھا۔ اللہ دتا نے کہا،’’شور مت مچاؤ۔ یہ سب بے فائدہ ہے۔۔۔ چلو آؤ!‘‘\n\nوہ چاہتا تھا کہ صغریٰ کو اٹھا کر اندر لے جائے۔ کمزور تھی مگر خدا جانے اس میں کہاں سے اتنی طاقت آگئی کہ اللہ دتا کی گرفت سے نکل گئی اور ہانپتی کانپتی اوپر پہنچ گئی۔ کمرے میں داخل ہو کر اس نے اندر سے کنڈی چڑھا دی۔\n\nتھوڑی دیر کے بعد زینب آگئی۔ اللہ دتا کی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔ اندر کمرے میں لیٹ کر اس نے زینب کو پکارا۔ وہ آئی تو اس سے کہا۔’’ادھر آؤ، میری ٹانگیں دباؤ۔۔۔ زینب اچک کر پلنگ پر بیٹھ گئی اور اپنے باپ کی ٹانگیں دبانے لگیں۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد دونوں کے سانس تیز تیز چلنے لگے۔\n\nزینب نے اللہ دتا سے پوچھا۔’’کیابات ہے؟ آج تم اپنے آپ میں نہیں ہو؟‘‘\n\nاللہ دتا نے سوچا کہ زینب سے چھپانا فضول ہے، چنانچہ اس نے سارا ماجرا بیان کردیا۔ زینب آگ بگولا ہوگئی،’’کیا ایک کافی نہیں تھی۔۔۔تمہیں تو شرم نہ آئی، پر اب تو آنی چاہیے تھی۔۔۔ مجھے معلوم تھا کہ ایسا ہوگا، اسی لیے میں شادی کے خلاف تھی۔۔۔ اب سن لو کہ صغریٰ اس گھر میں نہیں رہے گی!‘‘\n\nاللہ دتا نے بڑے مسکین لہجے میں پوچھا،’’کیوں؟‘‘\n\nزینب نے کھلے طور پر کہا،’’میں اس گھر میں اپنی سوت دیکھنا نہیں چاہتی!‘‘\n\nاللہ دتا کا حلق خشک ہوگیا۔ اس کے منہ سے کوئی بات نہ نکل سکی۔\n\nزینب باہر نکلی تو اس نے دیکھا کہ صغریٰ صحن میں جھاڑو دے رہی ہے۔ چاہتی تھی کہ اس سے کچھ کہے مگر خاموش رہی۔\n\nاس واقعے کو دو مہینے گزر گئے۔۔۔ صغریٰ نے محسوس کیا کہ طفیل اس سے کھچا کھچا رہتا تھا۔ ذرا ذرا سی بات پر اس کو شک کی نگاہوں سے دیکھتا تھا۔آخر ایک دن آیا کہ اس نے طلاق نامہ اس کے ہاتھ میں دیا اور گھر سے باہر نکال دیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%AF%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اللہ رے اس گلشن ایجاد کا عالم", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اللہ رے اس گلشن ایجاد کا عالم\nجو صید کا عالم وہی صیاد کا عالم\n\nاف رنگ رخ بانی بیداد کا عالم\nجیسے کسی مظلوم کی فریاد کا عالم\n\nپہروں سے دھڑکنے کی بھی آتی نہیں آواز\nکیا جانئے کیا ہے دل ناشاد کا عالم\n\nمنصور تو سر دے کے سبک ہو گیا لیکن\nجلاد سے پوچھے کوئی جلاد کا عالم\n\nمیں اور ترے ہجر مسلسل کی شکایت\nتیرا ہی تو عالم ہے تیری یاد کا عالم\n\nکیا جانیے کیا ہے مری معراج مقامی\nعالم تو ہے صرف اک مری افتاد کا عالم\n\nارباب چمن سے نہیں پوچھو یہ چمن سے\nکہتے ہیں کسے نکہت برباد کا عالم\n\nکیوں آتش گل میرے نشیمن کو جلائے\nتنکوں میں ہے خود برق چمن زاد کا عالم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85"} {"title": "اللہ رے فیض ایک جہاں مستفید ہے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اللہ رے فیض ایک جہاں مستفید ہے\nہر مست میرے پیر مغاں کا مرید ہے\n\nواعظ عبث یہ ذکر عذاب شدید ہے\nاک توبہ قفل رحمت حق کی کلید ہے\n\nوحشت نے ہم کو جامۂ خاکی پہنا دیا\nاے عقل اب یہ کاہے کی قطع و برید ہے\n\nاے رہروان جادۂ الفت بڑھے چلو\nیہ کس نے کہہ دیا ہے کہ منزل بعید ہے\n\nکیونکر نہ قرب حق کی طرف دل مرا کیجیے\nگردن اسیر حلقۂ حبل الورید ہے\n\nاب جام جم کی مجھ کو ضرورت نہیں رہی\nوہ دل ملا ہے جس میں دو عالم کی دید ہے\n\nواللیل ہے کہ زلف معنبر حضور کی\nیہ روئے پاک ہے کہ کلام مجید ہے\n\nہلکی سی اک خراش ہے قاصد کے حلق پر\nیہ خط جواب خط ہے کہ خط کی رسید ہے\n\nخنجر بکف وہ کہتے ہیں اب آئے سامنے\nکس کو خیال وصل ہے ارمان دید ہے\n\nمجھ خستہ دل کی عید کا کیا پوچھنا حضور\nجن کے گلے سے آپ ملے ان کی عید ہے\n\nتو دیکھے اور بندے پہ تیرے عذاب ہو\nیارب یہ تیری شان کرم سے بعید ہے\n\nشیشے کا معتقد ہے ارادت ہے جام سے\nکس پیر مے فروش کا بیدمؔ مرید ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%B1%DB%92_%D9%81%DB%8C%D8%B6_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%81%DB%8C%D8%AF_%DB%81%DB%92"} {"title": "اللہ متاع زندگانی مل جائے", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اللہ متاع زندگانی مل جائے\nپھر عہد شباب کی نشانی مل جائے\nتھی آس بڑھاپے میں تری ملنے کی\nجب تو نہ ملا تو پھر جوانی مل جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%B9_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "اللہ کا بڑا فضل ہے", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان۔۔۔ ایک وہ زمانہ جہالت تھا کہ جگہ جگہ کچہریاں تھیں۔ ہائی کورٹیں تھیں۔ تھانے تھے، چوکیاں تھیں۔ جیل خانے تھے، قیدیوں سے بھرے ہوئے کلب تھے جن میں جوا چلتا تھا، شراب اڑتی تھی۔ ناچ گھر تھے، سینما تھے، آرٹ گیلریاں تھیں اور کیا کیا خرافات نہ تھیں۔۔۔ اب تو اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان، کوئی شاعر دیکھنے میں آتا ہے نہ موسیقار۔۔۔ لا حول و لا۔ یہ موسیقی بھی ایک لعنتوں کی لعنت تھی۔۔۔ یعنی آخر گانا بھی انسانوں کا کام ہے۔۔۔؟ تنبورہ لے کر بیٹھے ہیں اور گلا پھاڑ رہے ہیں۔ صاحب، کیا گا رہے ہیں، درباری کا نہڑہ، مالکوس، میاں کی ٹوڈی، اڈا نہ اور جانے کیا کیا بکواس۔۔۔ کوئی ان سے پوچھے کہ جناب آخر ان راگ راگنیوں سے انسانیت کو کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ آپ کوئی ایسا کام کیجئے جس سے آپ کی عاقبت سنورے، آپ کو کچھ ثواب پہنچے۔ قبر کا عذاب کم ہو۔‘‘\n\nاللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان۔۔۔ موسیقی کے علاوہ اور جتنی لعنتیں تھیں ان کا اب نام و نشان تک نہیں اور خدا نے چاہا تو آہستہ آہستہ یہ زندگی کی لعنت بھی دور ہو جائے گی۔۔۔ میں نے شاعر کا ذکر کیا تھا۔۔۔ عجیب و غریب چیز تھی یہ بھی۔۔۔ خدا کا خیال، نہ اس کے رسول کی فکر، بس معشوقوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ کوئی ریحانہ کے گیت گا رہا ہے، کوئی سلمیٰ کے۔۔۔ لا حول و لا، زلفوں کی تعریف ہو رہی ہے، کبھی گالوں کی۔۔۔ وصل کے خواب دیکھے جا رہے ہیں۔۔۔ کتنے گندے خیالات کے تھے یہ لوگ، ہائے عورت، وائے عورت۔۔۔ لیکن اب اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان! اول تو عورتیں ہی کم ہو گئی ہیں اور جو ہیں پڑی گھر کی چاردیواری میں محفوظ ہیں۔۔۔ جب سے یہ خطہ زمین شاعروں کے وجود سے پاک ہوا ہے فضا بالکل صاف اور شفاف ہو گئی ہے۔\n\nمیں نے آپ کو بتایا نہیں۔ شاعری کے آخری دور میں کچھ شاعر ایسے بھی پیدا ہو گئے تھے جو معشوقوں کے بجائے مزدوروں پر شعر کہتے تھے۔ زلفوں اور عارضوں کی جگہ ہتھوڑوں اور درانتیوں کی تعریف کرتے تھے۔۔۔ اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان کہ ان مزدوروں سے نجات ملی۔ کمبخت انقلاب چاہتے تھے، سنا آپ نے؟ تختہ الٹنا چاہتے تھے حکومت کا، نظام معاشرت کا، سرمایہ داری کا اور نعوذ باللہ مذہب کا۔ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ ان شیطانوں سے ہم انسانوں کو نجات ملی، عوام بہت گمراہ ہو گئے تھے۔ اپنے حقوق کا ناجائز مطالبہ کرنے لگے تھے، جھنڈے ہاتھ میں لے کر لادینی کی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔۔۔ خدا کا شکر ہے کہ اب ان میں سے ایک بھی ہمارے درمیان موجود نہیں اور لاکھ لاکھ شکر ہے پروردگار کا، اب ہم پر ملاؤں کی حکومت ہے اور ہر جمعرات ہم حلوے سے ان کی ضیافت کرتے ہیں۔\n\nآپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ اس زمانے میں حلوے کا نام و نشان تک اڑ گیا تھا۔۔۔ مسجدوں میں حجروں کے اندر بیچارے ملا، خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، پڑے حلوے کو ترستے تھے۔ ان کی لمبی لمبی نورانی داڑھیوں کا ایک ایک بال شیطانی استروں کی موت کی دعائیں مانگتا تھا۔ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ یہ دعائیں قبول ہوئیں۔ اب آپ اس کونے سے اس کونے تک چلے جائیے۔ ساری دکانیں چھان ماریئے، ایک استرہ بھی آپ کو نہیں ملے گا۔ البتہ حلوہ جو کہ ہمارے رہنما ملاؤں کی مذہبی خوراک ہے، آپ کو اب ہر جگہ اور ہر مقدار میں دستیاب ہو سکتا ہے۔\n\nاللہ کا بڑا فضل ہے۔۔۔ اب کوئی ٹھمری، دا درا نہیں گاتا، فلمی دھنیں بھی مرکھپ چکی ہیں۔ موسیقی کا ایسا جنازہ نکالا ہے اور اس طور پر اسے زمین میں دفن کیا گیا ہے کہ اب کوئی مسیحا اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا۔ کتنی بڑی لعنت تھی یہ موسیقی۔ لوگ کہتے تھے یہ آرٹ ہے، کیسا آرٹ، کہاں کا آرٹ، یہ بھی کوئی آرٹ ہے کہ آپ نے کوئی گانا سنا اور دنیا کے دکھ درد تھوڑی دیر کے لئے بھول گئے۔ کوئی گیت سنا اور دل آپ کا بلیوں اچھلنے لگا۔۔۔ حسن و عشق کی دنیا میں جا پہنچے۔۔۔ لا حول و لا۔ آرٹ کبھی ایسا گمراہ کن نہیں ہو سکتا۔ گھونگھٹ کے پٹ کھول۔۔۔ پائل باجی چھنن، چھنن۔۔۔ بابل بنہر مورا چھوٹو جائے۔۔۔ رتیاں کہاں گوائیں رے۔۔۔ کوئی شرافت ہے ان بولوں میں۔ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اب ایسی خرافات موجود نہیں۔ الحمد للہ قوالی ہے، سنیئے اور سر دھنئے۔ حال کھیلئے، ہو حق کے نعرے لگایئے اور ثواب حاصل کیجئے۔\n\nمصوری بھی کچھ کم لعنت نہیں تھی۔ تصویریں بنتی تھیں۔ برہنہ نیم برہنہ۔ مصور اپنی پوری قوت تصور حسن کی تخلیق میں صرف کر دیتے تھے، لیکن یہ کفر تھا۔ تخلیق صرف خدا کا کام ہے اس کے بندوں کا نہیں اور پھر حسن کی تخلیق، یہ تو گناہ کبیرہ تھا۔ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ ہمارے درمیان آج ایک بھی مصور موجود نہیں، جو تھے ان کی انگلیاں قلم کر دی گئیں، تاکہ وہ اپنی شیطانی حرکت سے باز رہیں۔۔۔ اب یہ عالم ہے کہ اس سرزمین پر آپ کو ایک سیدھی لکیر بھی کہیں دیکھنے میں نہیں ملے گی۔ ایک آدمی بھی ایسا موجود نہیں جو غروب آفتاب کے حسین منظر کو دیکھ کر اسے کاغذ یا کپڑے پر منتقل کرنے کا خیال اپنے دل و دماغ میں لائے۔ سچ پوچھئے تو اب وہ خوفناک حس ہی مٹ چکی ہے جسے طلب حسن کہتے ہیں، تخلیق حسن کی بات تو الگ رہی۔\n\nننگی عورتوں کی تصویریں بنائی جاتی تھیں، ننگی عورتوں کے مجسمے تراشے جاتے تھے۔ اسی پر موقوف نہیں، ان کو بڑے پیار سے عجائب خانوں میں سجایا جاتا تھا۔ ان کے بنانے والوں کو انعام و اکرام دیے جاتے تھے۔۔۔ جی ہاں، انعام و اکرام۔۔۔ وظیفے دیے جاتے تھے، القاب عنایت کئے جاتے تھے کہ واہ مصور صاحب، آپ نے ننگی عورت کی تصویر کیا خوب کھینچی ہے۔۔۔ یہ پستان۔۔۔ لا حول و لا، میں نے کس چیز کا نام لے لیا۔ معاف کیجئے، میں ابھی حاضر ہوا۔۔۔ ذرا کلی کر آؤں۔۔۔ کلی کر آیا، لیکن منہ کا ذائقہ ابھی تک خراب ہے۔ معاف کر دیجئے گامجھے، سہواً میرے منہ سے ایک غلیظ چیز کا نام نکل گیا، لیکن آپ تو اس کا مطلب نہیں سمجھے ہوں گے، کیونکہ جتنے گندے اور خراب لفظ تھے سب کے سب لغات میں سے نکال دیے گئے ہیں۔\n\nمیں کیا غرض کر رہا تھا۔۔۔؟ جی ہاں۔۔۔ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اب ایسا کوئی عجائب خانہ موجود نہیں جہاں ننگی تصویریں یا صرف تصویریں جنہیں آرٹ کا نمونہ کہا جاتا تھا، دیکھنے میں آئیں۔ ایسے جتنے عجائب خانے تھے ان کو فوراً ہی ڈھا دیا گیا اور ملبہ دریاؤں میں ڈال دیا گیا، تاکہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہے۔\n\nعریانی کی وبا صرف تصویروں اور مجسموں ہی تک محدود نہ تھی۔۔۔ شعروں اور افسانوں میں بھی پھیلی ہوئی تھی، وہ غزل اور وہ افسانہ بہت کامیاب متصور کیا جاتا تھا جس میں عورت اور مرد کے جسمانی رشتے پر بحث کی گئی ہو۔ کس قدر مریضانہ ذہنیت کے تھے وہ لوگ۔۔۔ روحانیت کے بارے میں کبھی کچھ سوچتے ہی نہیں تھے۔ زمین کی باتیں کرتے تھے، اوپر سات آسمان پڑے ہیں، اس کا علم ہی نہیں تھا ان کو۔۔۔ جسم کی بھوک کا سوچتے تھے، روح کی بھوک کیا ہوتی ہے، ان کے فلک کو بھی اس کا پتہ نہیں تھا۔۔۔ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ جسم کی بھوک اب بالکل مٹ چکی ہے۔۔۔ اور اللہ کا فضل شامل حال رہا تو صرف روح ہی روح رہ جائے گی اور ہم فانی انسانوں کا جسم سرے سے غائب ہو جائے گا۔۔۔ خس کم جہاں پاک!\n\nکوئی زمانہ تھا کہ سیکڑوں پرچے، ادب کے نام پر شائع ہوتے تھے۔ ان میں لوگوں کا اخلاق بگاڑنے والی ہزاروں تحریریں آئے دن چھپتی تھیں۔۔۔ سمجھ میں نہیں آتایہ ادب کیا بلا تھی۔ ادب آداب سکھانے کی کوئی چیز ہوتی تو ٹھیک تھا۔ جو کہانیاں، افسانے، مضمون، نظمیں، غزلیں، ادب کا نام لے کر چھاپی جاتی تھیں، ان میں نہ تو چھوٹوں کو بڑوں کا لحاظ کرنے کی تعلیم دی جاتی تھی اور نہ مغرب زدہ لوگوں کو ڈھیلا لگانے کی ترکیب ہی بتائی جاتی تھی۔ یہ تو ایک بہت بڑا پاکیزہ فن ہے کہ آتے آتے ہی آتا ہے لیکن اتنا بھی نہ تھا کہ عوام کو داڑھی رکھنے اور لبیں کتروانے ہی کی طرف مائل کیا جاتا۔\n\nادب ان نااہل ہاتھوں میں بس یہ رہ گیا تھا۔۔۔ عورت اور مرد کے جنسی مسائل۔۔۔ لا حول و لا قوۃ۔ انسان کی نفسیات، نعوذ باللہ یعنی ہم فانی انسانوں کی غیر فانی روح تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ حسن و عشق کی داستانیں، خوبصورت مناظر کی تعریفیں، بڑے ہی خوشنما الفاظ میں۔۔۔ کوئی شام اودھ کی مدح سرائی کر رہا ہے کوئی صبح بنارس کی، قوس قزح کے رنگوں کو کاغذ پر اتارا جا رہا ہے۔ پھولوں، بلبلوں، کوئلوں اور چڑیوں پر ہزاروں صفحے کالے کئے جا رہے ہیں، لیکن صاحبان، سوال تو یہ ہے۔۔۔ تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا۔۔۔ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اب کوئی پھول رہا ہے نہ بلبل۔۔۔ پھولوں کا ناس مارا گیا، تو بلبلیں خود بخود دفان ہو گئیں۔۔۔ اسی طرح اور بہت سی واہیات چیزیں آہستہ آہستہ اس سرزمین سے جہاں ان کے سینگ سمائے چلی گئی ہیں۔۔۔\n\nمیں ادب کے متعلق عرض کر رہا تھا۔ ہاں صاحب میں نے آپ کو بتایا ہی نہیں آخر میں ادب کی ایک بالکل ہی نئی قسم پیدا ہو گئی تھی۔۔۔ اس وقت لوگ کہتے تھے یہ حقیقی ادب ہے، یعنی جو کچھ ہم دیکھتے ہیں بیان کر دیتے ہیں۔۔۔ غضب خدا کا۔۔۔ غور فرمایئے اگر آپ کو اس وقت خدا نخواستہ چھینک آ جائے، تو مجھے کیا حق پہنچتا ہے کہ میں اس افسوسناک واقعے کو قلم بند کردوں اور پھر ادب کے نام سے اسے دوسروں کے سامنے پیش کروں، چھینک آنا تھی، اب اس حادثے کی تفصیلات میں جانے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ اول تو یہ بات ہی سمجھ میں نہیں آ سکتی کہ چھینک کے نفسیاتی پہلو کیا ہو سکتے ہیں؟ فرمایئے ہو سکتے ہیں؟ ہر چیز اسی ذات پاک کی طرف سے آتی ہے اور اسی کی طرف واپس چلی جاتی ہے۔\n\nاللہ کا بڑا فضل ہے کہ اس نام نہاد ادب اور ان برخود غلط ادیبوں کا اب نام و نشان نہیں رہا۔ کوئی رسالہ چھپتا ہے نہ جریدہ، صحیفہ۔۔۔ نغوذ باللہ۔۔۔ اس زمانے میں لوگوں کو اتنی جرأت تھی کہ اپنے ذلیل پرچوں کو صحیفے کہتے تھے اور خود کو صحافی۔۔۔ اب تو صاحب کوئی اخبار بھی نظر نہیں آتا۔ حاکم لوگ البتہ کبھی کبھار جب ضرورت پڑے تو ہماری معلومات کے لئے چند سطریں شائع کر دیتے ہیں۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ اب صرف ایک اخبار حکومت کی طرف سے چھپتا ہے اور آپ جانتے ہی ہیں سال میں ایک آدھ بار جب کہ اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے۔\n\nخبریں ہوتی ہی کہاں ہیں، اب کوئی ایسی بات ہونے ہی نہیں دی جاتی جو لوگ سنیں اور آپس میں چہ میگوئیاں کریں۔ وہ زمانہ تھا، لوگ بیکار ہوٹلوں اور گھروں میں یہ لمبے لمبے اخبار لئے گھنٹوں بحث کر رہے ہیں، کون سی پارٹی برسراقتدار ہونی چا ہیئے، کس لیڈر کو ووٹ دینے چاہئیں۔ شہر کی صفائی کا انتظام ٹھیک نہیں۔ آرٹ اسکول کھلنے چاہئیں۔ عورتوں کے مساوی حقوق کا مطالبہ درست ہے یا نا درست اور خدا معلوم کیا کیا خرافات۔ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ ہماری دنیا ایسے ہنگاموں سے پاک ہے۔ لوگ کھاتے ہیں، پیتے ہیں، اللہ کو یاد کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ کسی کی برائی میں نہ کسی کی اچھائی میں۔\n\nصاحبان میں سائنس کا ذکر کرنا تو بھول ہی گیا۔ ۔ یہ ادب کی بھی خالہ تھی۔ خدا محفوظ رکھے اس بلا سے، نغوذ باللہ اس فانی دنیا کو جنت بنانے کی فکر میں تھے، یہ لوگ جو خود کو سائنس داں کہتے تھے۔ ملعون کہیں کے۔ خدا کے مقابلے میں تخلیق کے دعوے باندھتے تھے۔ ہم مصنوعی سورج بنائیں گے جو رات کو تمام دنیا روشن کر دے گا۔ ہم جب چاہیں گے بادلوں سے بارش برسا لیا کریں گے۔۔۔ ذرا غور فرمایئے، نمرود کی خدائی تھی، جی اور کیا؟ سرطان جیسی لاعلاج اور مہلک بیماری کا علاج ڈھونڈا جا رہا ہے، یعنی ملک الموت کے ساتھ پنجہ لڑانے کی سعی فرمائی جا رہی ہے، ایک صاحب ہیں، وہ دوربین لئے بیٹھے ہیں اور دعوے کر رہے ہیں کہ وہ چاند تک پہنچ جائیں گے۔ ایک سر پھرے بوتلوں اور مرتبانوں میں بچے پیدا کر رہے ہیں۔ خدا کا خوف ہی نہیں رہا تھا پاجیوں کو۔۔۔ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ یہ سب شیطان ہمارے درمیان سے اٹھ گئے۔\n\nاب چاروں طرف سکون ہے۔ کوئی ہنگامہ نہیں، کوئی واردات نہیں، کوئی شاعر نہیں، کوئی مصور نہیں، زندگی یوں گزر رہی ہے، جیسے گزر ہی نہیں رہی، قلب کے لئے یہ کتنی اطمینان دہ چیز ہے، لوگ پیدا ہوتے ہیں، مر جاتے ہیں، کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ زندگی سے لے کر موت تک ایک بے آواز، صاف شفاف دھارا بہا چلا جا رہا ہے۔ کوئی بھنور ہے نہ بلبلہ، لوگ دونوں کناروں کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی ٹھنڈی ریت پر لمبی تانے سو رہے ہیں اور کیوں صاحبان! کیا جی نہیں چاہتا کہ اسی طرح سوئے رہیں، حتیٰ کہ جنت میں دودھ کی نہروں کے کنارے ہماری آنکھیں کھلیں۔۔۔ اوپر دیکھیں تو انگور کے خوشے جھک کر ہمارے منہ میں آ جائیں اور ہم پھر سو جائیں۔\n\nیہ۔۔۔ یہ اخبار کہاں سے آیا۔۔۔؟ اوہ ہم سو گئے تھے۔۔۔ سرکاری ڈاکیہ پھینک گیا ہو گا۔۔۔ بڑی دیر کے بعد آیا ہے پرچہ۔۔۔ دیکھیں کیا لکھا ہے۔۔۔ وہ زمانہ برا تھا صاحبان لیکن ایک بات تھی۔۔۔ سنا ہے کہ اخباروں کی لکھائی چھپائی بہت ہی خوبصورت ہوتی تھی۔۔۔ لیکن خوبصورتی کا کیا ہے۔۔۔ معاذ اللہ۔۔۔ یہ کیا؟\n\nٹھہریئے ٹھہریئے۔۔۔ لیکن میری نظریں تو دھوکا نہیں دے رہیں؟ جی نہیں، صاف پڑھا جا رہا ہے۔۔۔ حکومت شش و پنج میں۔۔۔ مملکت میں ایک آدمی گرفتار کیا گیا ہے۔۔۔ گرفتار۔۔۔؟ گرفتار کیا گیا ہے۔۔۔؟ الزام یہ ہے کہ وہ گلی گلی اور کوچے کوچے یہ شور مچاتا پھرتا تھا کہ میں اس مملکت میں نہیں رہنا چاہتا جہاں خدا تو ہے پر شیطان نہیں ہے۔۔۔ نعوذ باللہ۔۔۔ نامہ نگار خصوصی کا بیان ہے کہ جب ملزم کو حکام بالا کے حضور پیش کیا گیا تو اس نے چلانا شروع کر دیا، ’’یہاں جلدی شیطان بلاؤ ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گا۔۔۔‘‘ نامہ نگار خصوصی یہ بھی بیان کرتا ہے کہ ملزم نے اپنی صفائی میں یہ انکشاف کیا کہ اس کے قبضے میں حضرت علامہ اقبال نور اللہ مرقدہ، کا شعر موجود ہے۔ شعر فارسی زبان کا ہے جسے ہم یہاں درج کرتے ہیں،\n\nمزی اندر جہان کور ذوقے\nکہ یزداں دارد و شیطاں ندارد\n\nلیکن یہ شعر علامہ مرحوم کے مطبوعہ کلام میں کہیں بھی موجود نہیں، حالانکہ وہ حکومت کی نگرانی میں چھاپا جاتا ہے۔۔۔ بالکل درست ہے۔۔۔ ملزم صریحاً چال بازی کر رہا ہے۔۔۔ آگے کیا لکھا ہے۔۔۔ جی میں پڑھتا ہوں۔۔۔ الزام کی نوعیت بہت سنگین ہے، لیکن حکومت سخت شش و پنج میں ہے کہ ملزم پر مقدمہ کیسے چلائے، کیونکہ کوئی عدالت ہی موجود نہیں۔۔۔ مقدمے کی سماعت ہو تو سزا ملنے کی صورت میں اسے رکھا کہاں جائے کیونکہ مملکت میں ایک بھی جیل موجود نہیں۔۔۔ لیکن سنا ہے کہ حکومت فوراً ہی ایک حوالات، ایک عدالت اور ایک جیل تعمیر کرا رہی ہے۔\n\nاللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان کہ حکومت نے معاملے کی اہمیت اور نزاکت کو سمجھ لیا ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%91%D8%A7_%D9%81%D8%B6%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "اللہ کو زاہد جو طلب کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اللہ کو زاہد جو طلب کرتے ہیں\nظاہر تقویٰ کو کس سبب کرتے ہیں\nدکھلانے کو لوگوں کے دنوں کی ہے صلوٰۃ\nپیش انجم نماز شب کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D8%AC%D9%88_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اللہ کے بھی گھر سے ہے کوئے بتاں عزیز", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اللہ کے بھی گھر سے ہے کوئے بتاں عزیز\nکعبہ سے بھی زیادہ ہے ہندوستاں عزیز\n\nیہ مشت خاک ہو کہیں مقبول بارگاہ\nمٹی ہماری کر بھی چکے آسماں عزیز\n\nشکوے کی جائے غیر سے باقی نہیں رہی\nدشمن سے بھی زیادہ ہیں خوبان جاں عزیز\n\nہستی عدم سے لائی ہے کس ملک غیر میں\nکوئی نہ آشنا ہے ہمارا نہ یاں عزیز\n\nاے رندؔ اپنے عہد میں قدر سخن نہیں\nہر عصر میں وگرنہ تھے اہل زباں عزیز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2"} {"title": "الوداع اے افتخار نوع انساں الوداع", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "الوداع اے افتخار نوع انساں الوداع\nبادشاہ کم سپاہ اہل ایماں الوداع\nاے تمناے دل زہراے بیکس ہے دریغ\nوے ستم کشتہ علی کے خواہش جاں الوداع\nہوگئے پانی جگر حسرت سے جب تونے کہا\nخشک لب اہل حرم سے ہو کے گریاں الوداع\nمر گیا محروم سب چیزوں سے تس پر بھی گئے\nساتھ تیری جان کے صدگونہ حرماں الوداع\nیوں چمن کر کن نے دکھلایا ہے آگے معرکہ\nسرخ تھی سب تیرے خوں سے خاک میداں الوداع\nاے برنگ خاک یکسر داغ تجھ پر صد صلوٰۃ\nوے بسان گیسواں خاطرپریشاں الوداع\nمرگ اصغر میں ہوا ہنگامہ برپا حشر کا\nتونے رو کر جو کہا اے طفل ناداں الوداع\nکھانے پینے کی رہی کیا قید تجھ پر ہے ستم\nاے عزیز اس مجلس دوناں کے مہماں الوداع\nہائے رخصت تیری یوں کیونکر ہوئی ہے اتفاق\nدشت تو بے آب سب یہ سر پہ طوفاں الوداع\nخوبی تیرے دم سے تھی اے خانہ ساز دیں درود\nگھر تو پھر سب ہوگیا اک دم میں ویراں الوداع\nمر گئے بیٹے بھتیجے سب ترے تصویر سے\nہوگیا تو حال میں اپنے ہی حیراں الوداع\nنقل کیا اب بے سر و سامانی تیری کیجیے\nاے نہ تن پر سر نہ سر کو تیرے ساماں الوداع\nعورتیں بیکس گئیں سو لب پر ان کے ہائے واے\nکہہ گئے آگے ہی سب انصار و اعواں الوداع\nپاس پیکر کے کھڑی کلثوم لب پر الفراق\nساتھ سر کے کہتی زینب خاک افشاں الوداع\nخاک میں بھی دفن ہونا تیری قسمت میں نہ تھا\nاے تمام اندوہ کم انبوہ سلطاں الوداع\nتو مسافر ہوگیا دوگام چل کر اے حسین\nشہربانو گئی بیاباں در بیاباں الوداع\nایک بیٹا بیکس و بیمار سو کیا کیا کرے\nزاری و فریاد و آہ و شور و افغاں الوداع\nمرثیہ تو میرؔ تو کہتا ہی تھا پر اب کے یہ\nکیا کہی ہے ہائے اے نمناک مژگاں الوداع", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%B9_%D8%A7%DB%92_%D8%A7%D9%81%D8%AA%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D9%88%D8%B9_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%B9"} {"title": "الٰہی بلبل گل زار معنی کر لساں میرا", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "الٰہی بلبل گل زار معنی کر لساں میرا\nبرنگ ابر نیسانی سخن گوہر فشاں میرا\n\nسنے پر ہوویں عشاقاں یہ معنی رمز سوں سرمست\nلے جاویں فیض غواص حقیقت حق رساں میرا\n\nلطافت گلبن حسن جہاں آرا سمجھ اے دل\nہوا ہے زلف اور رخسار جاناں آشیاں میرا\n\nدیا ہے آب و تاب چشم دانہ خال عارض کا\nکہو سب اس کو اب قاتل ہے یا رب دلستاں میرا\n\nہوا ہے منظر چشم نظر منظور عشاقاں\nدر و دیوار سوں دستا نشان بے نشاں میرا\n\nعلیمؔ اللہ خموش اب رمز اسرار الٰہی کا\nسمجھتا ہے کہاں ہر شخص مستی کا بیاں میرا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "الٰہی جان دی ہے میں نے کس کے روئے روشن پر", "poet_page": "مصنف:مرزا عبدالغفور گورگانی ارشد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الٰہی جان دی ہے میں نے کس کے روئے روشن پر\nہزاروں شمعیں پروانہ بنی ہیں میرے مدفن پر\n\nتعجب کیا خمیدہ ہو اگر تلوار قاتل کی\nچڑھا ہے خون کس کس بے گنہ کا اس کی گردن پر\n\nوہ بے انصاف اور اپنی وفا کی داد یا قسمت\nگمان دوستی ہے سادگی سے ہم کو دشمن پر\n\nعجب اس جلوۂ یکتا میں نیرنگ تماشا ہے\nنئی صورت سے چمکا خاطر شیخ و برہمن پر\n\nمیں ہوں مرہون منت صلح کل کا جب سے اے ارشدؔ\nیقین دوستی ہونے لگا ہے مجھ کو دشمن پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "الٰہی خیر جو شر واں نہیں تو یاں بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الٰہی خیر جو شر واں نہیں تو یاں بھی نہیں\nتأمل اس میں اگر واں نہیں تو یاں بھی نہیں\n\nکچھ ان گھر سے نہیں کم ہمارا خانۂ دل\nجو آدمی کا گزر واں نہیں تو یاں بھی نہیں\n\nوہ جان لیتے ہیں ہم ان پہ جان دیتے ہیں\nنصیحتوں کا اثر واں نہیں تو یاں بھی نہیں\n\nمرے مٹیں گے ہم اے دل یہی جو چشمک ہے\nصفائی مد نظر واں نہیں تو یاں بھی نہیں\n\nکرے گا ناز تڑپنے میں ہم سے کیا بسمل\nکمیٔ درد جگر واں نہیں تو یاں بھی نہیں\n\nوہ تیغ زن ہیں تو ہم بھی جگر پہ روکیں گے\nجو احتیاج سپر واں نہیں تو یاں بھی نہیں\n\nوہ بے خبر ہیں جہاں سے تو ہم ہیں خود رفتہ\nزمانے کی جو خبر واں نہیں تو یاں بھی نہیں\n\nخجل ہیں گالوں سے ان کے ہمارے داغوں سے\nفروغ شمس و قمر واں نہیں تو یاں بھی نہیں\n\nتم آئنے میں یہ کس نازنیں سے کہتے تھے\nبغور دیکھ کمر واں نہیں تو یاں بھی نہیں\n\nشب مزار سے کچھ کم نہیں ہے شام فراق\nاگر اسیر سحر واں نہیں تو یاں بھی نہیں\n\nوہ گالی دیں گے تو بوسہ شرفؔ میں لے لوں گا\nلحاظ پاس اگر واں نہیں تو یاں بھی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%B4%D8%B1_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیں\nکسی کے قتل کرنے کو بھبھوکا بن کے بیٹھے ہیں\n\nسبک سر ہے وہی جو دوسروں کے گھر پہ جاتا ہے\nجو اپنے گھر میں بیٹھے ہیں وہ لاکھوں من کے بیٹھے ہیں\n\nغضب ہے قہر ہے شامت ہے آفت ہے قیامت ہے\nبغل میں وہ عدو کے آج کیوں بن ٹھن کے بیٹھے ہیں\n\nکہیں کیا مدعا اپنا سنائیں راز دل کیوں کر\nہمارے سامنے کچھ آدمی دشمن کے بیٹھے ہیں\n\nمزہ کنج لحد میں کیوں نہ لوں میں ساغر مل کا\nکہ بادہ خوار پاس آ کر مرے مدفن کے بیٹھے ہیں\n\nخدا کے واسطے ان کو نکل کر جلوہ دکھلا دو\nکہ خواہش مند کوچہ میں ترے چتون کے بیٹھے ہیں\n\nہیں پیاسے ہم تو مدت کے پلا دے جام مے ساقی\nوہ جب چاہیں پئیں جو منتظر ساون کے بیٹھے ہیں\n\nطبیعت ہو تو ایسی ہو جو عادت ہو تو ایسی ہو\nابھی وہ تن کے بیٹھے تھے ابھی وہ من کے بیٹھے ہیں\n\nاگر رغبت نہ ہو اس دہر میں موذی کو موذی سے\nتو کیوں خار مغیلاں پاؤں میں رہزن کے بیٹھے ہیں\n\nنہیں معلوم کس کو تاڑتے ہیں کس سے وعدہ ہے\nبہ وقت شام پاس آ کر جو وہ چلمن کے بیٹھے ہیں\n\nنہیں پروا اگر اے مشرقیؔ ان کو بلا جانے\nاگر وہ ہیں کھنچے بیٹھے تو ہم بھی تن کے بیٹھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "الٰہی عقلِ خجستہ پے کو ذرا سی دیوانگی سِکھا دے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "الٰہی عقلِ خجستہ پے کو ذرا سی دیوانگی سِکھا دے\nاسے ہے سودائے بخیہ کاری، مجھے سرِ پیرہن نہیں ہے\n\nمِلا محبّت کا سوز مجھ کو تو بولے صبحِ ازل فرشتے\nمثالِ شمعِ مزار ہے تُو، تری کوئی انجمن نہیں ہے\n\nیہاں کہاں ہم نفَس میسّر، یہ دیس ناآشنا ہے اے دل!\nوہ چیز تُو مانگتا ہے مجھ سے کہ زیرِ چرخِ کُہن نہیں ہے\n\nنرالا سارے جہاں سے اس کو عرب کے معمارؐ نے بنایا\nبِنا ہمارے حصارِ ملّت کی اتّحادِ وطن نہیں ہے\n\nکہاں کا آنا، کہاں کا جانا، فریب ہے امتیازِ عقبیٰ\nنمُود ہر شے میں ہے ہماری، کہیں ہمارا وطن نہیں ہے\n\nمُدیرِ ’مخزن‘ سے کوئی اقبالؔ جا کے میرا پیام کہہ دے\nجو کام کچھ کر رہی ہیں قومیں، اُنھیں مذاقِ سخن نہیں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%D8%B9%D9%82%D9%84%D9%90_%D8%AE%D8%AC%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D9%BE%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C_%D8%B3%D9%90%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%92"} {"title": "الٰہی کوئی ہوا کا جھونکا دکھا دے چہرہ اڑا کے آنچل", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "الٰہی کوئی ہوا کا جھونکا دکھا دے چہرہ اڑا کے آنچل\nکہ جھانکتا بھی ہے وہ ستمگر تو کھڑکھڑی میں لگا کے آنچل\n\nضرور ڈھائے گا کوئی آفت ضرور فتنہ بپا کرے گا\nیہ تیرا اٹکھیلیوں سے چلنا جھکا کے گردن اٹھا کے آنچل\n\nجو تم کو منظور ہے پھر آنا تمہیں کہو پھر یہ کیسا جانا\nجتا کے غصہ سنا کے باتیں چڑھا کے تیوری چھڑا کے آنچل\n\nزمانہ فرقت کا جائے یارب وہ وقت وہ دن بھی آئے یارب\nادا کروں میں ترا دوگانہ کھڑے رہیں وہ بچھا کے آنچل\n\nضرور ہیں کچھ نہ کچھ کشیدہ کہ رہتے ہیں دور دور ہم سے\nجو پاس بھی آ کے بیٹھتے ہیں تو زیر زانو دبا کے آنچل\n\nتمہیں ہے صاحب لحاظ کس کا یہ کوسنا چپکے چپکے کیسا\nدعا کروں میں رگڑ کے ماتھا کہو تم آمین اٹھا کے آنچل\n\nترا یہ بوٹا سا قد قیامت پہ چال متوالی آفت آفت\nیہ پیاری صورت ستم دوپٹہ غضب کی رنگت بلا کے آنچل\n\nسمجھ لے یہ دل میں آسماںؔ تو وہ لوٹ ہیں تیرے لوٹنے پر\nجو اوڑھ کر لٹپٹا دوپٹہ لٹاتے ہیں ادبدا کے آنچل", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%92_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%81_%D8%A7%DA%91%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86%DA%86%D9%84"} {"title": "الٹا اثر یہ شکوۂ بیداد سے ہوا", "poet_page": "مصنف:ہاجر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الٹا اثر یہ شکوۂ بیداد سے ہوا\nوہ اور بھی خفا مری فریاد سے ہوا\n\nمجنوں ہی سے ہوا نہ وہ فرہادؔ سے ہوا\nجو کام عشق میں دل ناشاد سے ہوا\n\nدشمن کی کیا مجال کہ مجھ کو برا کہے\nجو کچھ ہوا حضور کے ارشاد سے ہوا\n\nاس دشمن وفا کا تصور ہے پھر مدام\nمجبور میں تو اس دل ناشاد سے ہوا\n\nاللہ ہی اب کے جان بچائے تو بچ سکے\nپھر عشق مجھ کو اک ستم ایجاد سے ہوا\n\nمرنے کے بعد بھی نہ گئی عشق کی خلش\nیہ عقدہ حل نہ خنجر جلاد سے ہوا\n\nاتنا تو بے قرار ہوا تھا نہ دل کبھی\nجتنا کہ مضطر آج تری یاد سے ہوا\n\nجو کام دوستوں سے نہ الفت میں ہو سکا\nہاجرؔ وہ کام غیر کی امداد سے ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%B9%D8%A7_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%82_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "الٹی ہر ایک رسم جہان شعور ہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الٹی ہر ایک رسم جہان شعور ہے\nسیدھی سی اک غزل مجھے لکھنی ضرور ہے\n\nوحدت میں اعتبار حدوث و قدم نہیں\nتھا جو بطون میں یہ وہی تو ظہور ہے\n\nتارک وہی ہے جس نے کیا کل کو اختیار\nیعنی حریص تر ہے وہی جو صبور ہے\n\nمطلق یگانگی ہے تو نزدیک و دور کیا\nپہنچا ہے جو قریب وہی دور دور ہے\n\nاصل حیات ہے یہی کہتے ہیں جس کو موت\nجینے کی آرزو ہے تو مرنا ضرور ہے\n\nاقرار بندگی ہے خدائی کا ادعا\nعجز و نیاز کیا ہے کمال غرور ہے\n\nامید کیجئے اگر امید کچھ نہیں\nغم کھائیے بہت جو خیال سرور ہے\n\nزلف سیاہ سے رخ تاباں کا حسن ہے\nکہتے ہو جس کو دیو حقیقت میں حور ہے\n\nبے معصیت خزانۂ رحمت ہے رائیگاں\nسچ پوچھئے تو جرم نہ کرنا قصور ہے\n\nاظہار جان پاک ہے جسم کثیف سے\nبے پردگی حجاب ہے ظلمت ہی نور ہے\n\nبالاتفاق ہستیٔ وہمی ہے نیتی\nہشیار ہے جو نشۂ غفلت میں چور ہے\n\nاعلیٰ تھا جس کا رتبہ وہ اسفل میں ہے اسیر\nصف نعال موقف صدر الصدور ہے\n\nہے راہ کی تلاش تو کر گمرہی طلب\nعاقل وہی ہے عقل میں جس کی فتور ہے\n\nبیداریٔ وجود ہے خواب عدم میں غرق\nلب بند ہو گئے یہی شور نشور ہے\n\nہر چند شغل شعر نہیں آج کل ضرور\nنذرانہ پیر جی کے لئے کچھ ضرور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%B9%DB%8C_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B1%D8%B3%D9%85_%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86_%D8%B4%D8%B9%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "الٹی ہو گئیں سب تدبیریں ، کچھ نہ دوا نے کام کیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "prose", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الٹی ہو گئیں سب تدبیریں ، کچھ نہ دوا نے کام کیا\nدیکھا اس بیمارئ دل نے ، آخر کام تمام کیا\n\nعہدِ جوانی رو رو کاٹا، پیری میں لیں آنکھیں موند\nیعنی رات بہت تھے جاگے ، صبح ہوئی آرام کیا\n\nحرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی\nہم سے جو پہلے کہہ بھیجا ، سو مرنے کا پیغام کیا\n\nناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی\nچاہتے ہیں سو آپ کریں ، ہم کو عبث بدنام کیا\n\nسارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں\nبانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا\n\nسرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی\nکوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا\n\nکس کا کعبہ ،کیسا قبلہ، کون حرم ہے ، کیا احرام\nکوچے کے اس کے باشندوں نے سب کو یہیں سلام کیا\n\nشیخ جو ہے مسجد میں ننگا، رات کو تھا میخانے میں\nجبہ، خرقہ ، کرتا، ٹوپی، مستی میں انعام کیا\n\nکاش اب برقع منہ سے اٹھاوے ورنہ پھر کیا حاصل ہے\nآنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا\n\nیاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے\nرات کو رو رو صبح کی، یا دن کو جوں توں شام کیا\n\nصبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی\nرخ سے گل کو مول لیا ، قامت سے سرو غلام کیا\n\nساعدِ سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیے\nبھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیالِ خام کیا\n\nکام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سے\nاستغنا کی چوگنی ان نے ،جوں جوں میں ابرام کیا\n\nایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی\nسحر کیا، اعجاز کیا، جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا\n\nمیر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ، ان نے تو\nقشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا ، کب کا ترک اسلام کیا", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%B9%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ\nبے طاقتی کے طعنے ہیں عذر جفا کے ساتھ\n\nبہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھ\nدم ہی نکل گیا مرا آواز پا کے ساتھ\n\nبے پردہ غیر پاس اسے بیٹھا نہ دیکھتے\nاٹھ جاتے کاش ہم بھی جہاں سے حیا کے ساتھ\n\nوہ لالہ رو گیا نہ ہو گلگشت باغ کو\nکچھ رنگ بوئے گل کے عوض ہے صبا کے ساتھ\n\nاس کی گلی کہاں یہ تو کچھ باغ خلد ہے\nکس جاے مجھ کو چھوڑ گئی موت لا کے ساتھ\n\nآتی ہے بوئے داغ شب تار ہجر میں\nسینہ بھی چاک ہو نہ گیا ہو قبا کے ساتھ\n\nگلبانگ کس کا مشورۂ قتل ہو گیا\nکچھ آج بوئے خوں ہے وہاں کی ہوا کے ساتھ\n\nتھے وعدے سے پھر آنے کے خوش یہ خبر نہ تھی\nہے اپنی زندگانی اسی بے وفا کے ساتھ\n\nکوچہ سے اپنے غیر کا منہ ہے مٹا سکے\nعاشق کا سر لگا ہے ترے نقش پا کے ساتھ\n\nاللہ رے گمرہی بت و بت خانہ چھوڑ کر\nمومنؔ چلا ہے کعبے کو اک پارسا کے ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%B9%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B3_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "الہ آباد سے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "الہ آباد میں ہر سو ہیں چرچے\nکہ دلی کا شرابی آ گیا ہے\n\nبہ صد آوارگی یا صد تباہی\nبہ صد خانہ خرابی آ گیا ہے\n\nگلابی لاؤ چھلکاؤ لنڈھاؤ\nکہ شیدائے گلابی آ گیا ہے\n\nنگاہوں میں خمار بادہ لے کر\nنگاہوں کا شرابی آ گیا ہے\n\nوہ سرکش رہزن ایوان خوباں\nبہ عزم باریابی آ گیا ہے\n\nوہ رسوائے جہاں ناکام دوراں\nبہ زعم کامیابی آ گیا ہے\n\nبتان ناز فرما سے یہ کہہ دو\nکہ اک ترک شہابی آ گیا ہے\n\nنوا سنجان سنگم کو بتا دو\nحریف فاریابی آ گیا ہے\n\nیہاں کے شہر یاروں کو خبر دو\nکہ مرد انقلابی آ گیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%B3%DB%92"} {"title": "امانت محتسب کے گھر شراب ارغواں رکھ دی", "poet_page": "مصنف:سائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "امانت محتسب کے گھر شراب ارغواں رکھ دی\nتو یہ سمجھو کہ بنیاد خربات مغاں رکھ دی\n\nکہوں کیا پیش زاہد کیوں شراب ارغواں رکھ دی\nمری توفیق جو کچھ تھی برائے میہماں رکھ دی\n\nیہاں تک تو نبھایا میں نے ترک مے پرستی کو\nکہ پینے کو اٹھا لی اور لیں انگڑائیاں رکھ دی\n\nجناب شیخ مے خانے میں بیٹھے ہیں برہنہ سر\nاب ان سے کون پوچھے آپ نے پگڑی کہاں رکھ دی\n\nتمہیں پروا نہ ہو مجھ کو تو جنس دل کی پروا ہے\nکہاں ڈھونڈوں کہاں پھینکی کہاں دیکھوں کہاں رکھ دی\n\nلگا لیں گے اسے اہل وفا بے شبہ آنکھوں سے\nاگر پائے عدو پر اس نے خاک آستاں رکھ دی\n\nادھر پر نوچ کر ڈالا قفس میں اف رے بیدردی\nادھر اک جلتی چنگاری میان آشیاں رکھ دی\n\nضمیر اس کا ڈبو دے گا اسے آب خجالت میں\nوفاداری کی تہمت غیر پر کیوں بد گماں رکھ دی\n\nہوس مستی کی سائلؔ کو نہیں کافی ہے تھوڑی سی\nپیالے میں اگر پس خوردۂ پیر مغاں رکھ دی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%AA_%D9%85%D8%AD%D8%AA%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D8%B1%D8%BA%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%DB%8C"} {"title": "امت تھی نبیؐ کی کہ یہ کفار حسینا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "امت تھی نبیؐ کی کہ یہ کفار حسینا\nتو سبط تھا اس کا کہ گنہگار حسینا\nبے ہیچ لیا جی سے تجھے مار حسینا\nیہ دیں ہے تو ہم پہنیں گے زنار حسینا\n\nیوں اہل حرم کہتے ہیں وارث نہیں سر پر\nجو تیرے تلف ہوگئے آباد رہے گھر\nرکھتے تھے توقع کہ جواں سال ہے اکبر\nسو کھا گئی اس کو بھی وہ تلوار حسینا\n\nاصغر نہ ہوا تھا ابھی امید کی جاگہ\nتھا طفل نہ تھا نیک و بد دہر سے آگہ\nسو اس کو بھی اک تیر لگا آن کے ناگہ\nسجاد جو باقی ہے سو بیمار حسینا\n\nقاسم پہ کبھی اپنی نظر پڑتی تھی جاکر\nکہتے تھے اسے سونپے گا شہ ہم کو بلاکر\nسو آگے ہی تجھ سے وہ گیا سر کو کٹاکر\nکیا روئیے کوئی نہیں غم خوار حسینا\n\nہر چند کہ یاں سے وہ بہت دور مکاں تھا\nپر ترک وطن کرتے ہی ہنگامہ عیاں تھا\nتو آن اترتا تھا جہاں اور سماں تھا\nبے ڈھب تھی تبھی چرخ کی رفتار حسینا\n\nگریاں در و دیوار تھے ہنگام سفر کے\nہم چشم تھے پاؤں کے اثر دیدۂ تر کے\nدامن میں ترے دست زناں لوگ تھے گھر کے\nکچھ خوب نہ تھے پہلے ہی آثار حسینا\n\nیاں تو تھا اگرچند بہت مردم کم سے\nپر بادیہ آباد ہوا تیرے قدم سے\nاب تو ہے جہاں واں تئیں بے فاصلہ ہم سے\nسرہاے بریدہ کا ہے بازار حسینا\n\nکیا خویش و برادر ترے کیا یاور و انصار\nآگے ہی ترے کر گئے سب رخت سفر بار\nگھر لوٹ لیا سارا نہ آدم ہے نہ یک تار\nہو کون سیہ پوش و عزادار حسینا\n\nوارث جو کوئی ہو تو لگے اس کے جگر کو\nجلنا نہ سکے دیکھ وہ اس طرح سے گھر کو\nیوں خوش نہ کرے لوگوں کی عریانی سر کو\nسو غیرخدا کون ہے ستار حسینا\n\nمیدان کی سب خاک کو ہم چھان کے دیکھا\nتب لاشہ ترا دیر میں پہچان کے دیکھا\nسو جسم کو بے سر ترے اب آن کے دیکھا\nجی ہی میں رہی خواہش دیدار حسینا\n\nیوں خاک ملے خوں میں ترا سامنے سونا\nپھر طاقت رفتار کا پاؤں میں نہ ہونا\nکہیے بھی جو بیٹے کے تئیں ایک ہو رونا\nہیں اس کو تو آزار پر آزار حسینا\n\nمرنا ہو میسر تو کریں ہم تگ و دو بھی\nہوں اپنوں کی باتیں تو سنی جاتی ہیں سو بھی\nپتھر بھی کیا دل کے تئیں ہم نے پہ تو بھی\nاٹھتی نہیں یہ سختی گفتار حسینا\n\nکیا قہر ہے ہر پیر و جواں خستہ پڑا ہو\nبیٹا جو رہا ہو سو بندھے ہاتھ کھڑا ہو\nتو قتل ہوئے پر بھی زمیں میں نہ گڑا ہو\nہم ایسے ستم کے ہوں سزاوار حسینا\n\nآنکھوں کے مندے تیرے ستم سخت ہوا ہے\nسر ننگے ہیں سب کون سا پردہ وہ رہا ہے\nناموس نبیؐ قید ہو لوگوں میں کھڑا ہے\nدے کھینچ کوئی بیچ میں دیوار حسینا\n\nلیتے ہیں ترا نام جو سب شور و بکا کر\nپوچھے ہے سکینہ تجھے ہر ایک سے آکر\nدلجوئی کرے کون اسے پاس بلاکر\nہم ایک مصیبت میں گرفتار حسینا\n\nکیوں بیٹے بھتیجے سبھی یوں جاویں نہ مارے\nکس طور تلف ہوویں طرفدار نہ سارے\nتوسرپہ سلامت رہے کیونکرکے ہمارے\nہونا تو ہمیں دشت میں تھا خوار حسینا\n\nیہ جور کسو مذہب و ملت میں نہ دیکھا\nیہ طور جو دیکھا کسو صحبت میں نہ دیکھا\nیہ حال کسو کی بھی ہزیمت میں نہ دیکھا\nمارے بھی پڑا کرتے ہیں سردار حسینا\n\nکس واسطے سب روے زمیں لال ہوا ہے\nکاہے کو ترے باغ کا یہ حال ہوا ہے\nکیوں خون ترا خاک سا پامال ہوا ہے\nتھا تو تو سبھوں کا گل دستار حسینا\n\nکیا حال کہے یاں کے کوئی جور و جفا کا\nخوں بسکہ گرا خاک کے اوپر شہدا کا\nاٹھ سیر تو کر تو بھی تنک رنگ ہوا کا\nہر خار و خس دشت ہے گلزار حسینا\n\nرنج ایک جو ہووے تو ہر اک اس کو اٹھا لے\nجی کوئی سنبھالے کہ سکینہ کو سنبھالے\nتو کاشکے اب سب کے تئیں پاس بلا لے\nاس جینے سے ہم آئے ہیں بیزار حسینا\n\nجوں ہم لٹے دشمن کو بھی حق یوں ہی لٹاوے\nپردے کے تئیں اس کے بھی یک بار اٹھاوے\nکاہے سے کوئی منھ کے تئیں آہ چھپاوے\nچھوٹا نہیں ہے گھر میں تو اک تار حسینا\n\nنقصان ہوا تیرے تئیں جان کا عائد\nکچھ سمجھے نہ اس قوم سیہ رو کے عقائد\nپھر کاٹے لیے جاتے ہیں سر کو جو یہ شاید\nہے تجھ سے ابھی ان کو سروکار حسینا\n\nکیا کہیے ترے مر گئے عزت ہے نہ آدر\nسر پر نہ رہا معجر و چھوٹی نہیں چادر\nنے یار نہ داور نہ کوئی خویش و برادر\nکس سے کریں ہم درد دل اظہار حسینا\n\nمیداں میں عزیزوں کے لہو دیکھے ہیں جاری\nکس طرح سے موقوف کریں نالہ و زاری\nکرتے ہیں بہت ضبط پہ جوں ابر بہاری\nتھمتے نہیں یہ دیدۂ خوں بار حسینا\n\nکہتے تھے ادھر کو نہ کسی طرح پڑے راہ\nسو آئے چلے سیدھے یہیں خواہش اللہ\nتقدیر کا سمجھا نہ گیا ہم سے فریب آہ\nکچھ ہووے ہی گا اس میں بھی اسرار حسینا\n\nیہ آتش غم کس سے کہیں جا کہ بجھادے\nشعلے سے جو اٹھتے ہیں جگر میں سے بٹھادے\nیوں جلتے رہیں کب تئیں ہم سب کو جلادے\nکاش آکے کوئی ابر شرربار حسینا\n\nانواع ستم ہم نے ترے پیچھے سہا ہے\nکچھ تو بھی تو کہہ کاہے کو منھ موند رہا ہے\nبے رحم کسی شخص نے کیا تجھ سے کہا ہے\nمت بولیو ان لوگوں سے زنہار حسینا\n\nاس بگڑے ہوئے حال کا مشکل ہے سنورنا\nکیا نقل کریں خوب ہے اس جینے سے مرنا\nجن لوگوں سے تھا ننگ ہمیں بات کا کرنا\nاب ان کو سخن ہم سے ہوا عار حسینا\n\nسب حال کہیں تنگی وقت آہ جو رہ دے\nتجھ پاس رہیں فرصت اگر روز سیہ دے\nاب تو ہی کچھ اس باب میں سجاد سے کہہ دے\nہم شام کے جانے کو ہیں تیار حسینا\n\nبے طاقتی و ضعف بدن گرچہ عیاں ہے\nناچار ولے ساتھ ہمارے وہ رواں ہے\nانصاف سے ٹک دیکھے سو وہ چشم کہاں ہے\nعابد کے کف پا و سر خار حسینا\n\nہوتا نہیں اب منھ پہ یہاں خاک ملے کچھ\nتسکیں ہو دلوں کو جو زباں تیری ہلے کچھ\nسرکیں نہ قدم گاہ سے اپنا جو چلے کچھ\nجاتے ہیں تجھے چھوڑ کے ناچار حسینا\n\nماتم بھی ترا کریے جو فرصت دے زمانہ\nعزت سے ترا خاک سے بن آوے اٹھانا\nسو ہم نے تو دل کھول کے رونا بھی نہ جانا\nوقفہ نہیں دیتے یہ ستمگار حسینا\n\nیہ حرف تھے جو شور ہوا چلنے کا ناگاہ\nپھر میرؔ وہ قیدی بھی گئے واں سے بھر اک آہ\nہر غم زدہ کے لب پہ چلے جاتے ہوئے راہ\nآتا تھا ہر اک گام کئی بار حسینا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%86%D8%A8%DB%8C%D8%90_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D9%81%D8%A7%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "امتحان", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "کہا پہاڑ کی ندّی نے سنگ ریزے سے\nفتادگی و سر افگندگی تری معراج!\nترا یہ حال کہ پامال و درد مند ہے تُو\nمری یہ شان کہ دریا بھی ہے مرا محتاج\nجہاں میں تُو کسی دیوار سے نہ ٹکرایا\nکسے خبر کہ تُو ہے سنگِ خارہ یا کہ زُجاج!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%86"} {"title": "امتحان و صبر کی حد کیوں پڑے تاخیر میں", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "امتحان و صبر کی حد کیوں پڑے تاخیر میں\nجو نہ لکھوائے کوئی لکھ دے مری تقدیر میں\n\nخواب ہستی دیکھنے والے تھے کیسے بد نصیب\nخواب کا عالم بھی گزرا دہشت تعبیر میں\n\nحشر میں ہلچل ہوئی قاتل کو غش آنے لگے\nآئے وہ کچھ بے گنہ جکڑے ہوئے زنجیر میں\n\nان نصیبوں پر تھی قدرت سے الجھنے کی امنگ\nعمر بھر چوٹیں چلیں تدبیر اور تقدیر میں\n\nاور ہی عالم ہے کچھ دنیائے حسن و عشق کا\nہے یہاں جو شے بھی ہے ڈوبی ہوئی تاثیر میں\n\nناز سجدے میں ادا حیرت میں جلوے وجد میں\nدل نے یہ دیکھا حریم دوست کی تصویر میں\n\nذرہ ذرے سے صدائے بازگشت آنے لگی\nاور کیا ہوتا اثر ظالم تری تقریر میں\n\nدل کو پیدا کرکے فطرت خود غضب میں پڑ گئی\nمحو ہے اخفائے راز دہر کی تدبیر میں\n\nجس میں تھیں ساری خیال یار کی آزادیاں\nوہ دل رم آفریں جکڑا رہا زنجیر میں\n\nکیوں کسی نے نقش آشوب تمنا کھینچ کر\nبھر دیا مجبوریوں کا رنگ ہر تصویر میں\n\nاللہ اللہ ایک ذرے کی بھی حد ملتی نہیں\nرنگ ہو نقاش کا اتنا تو ہر تصویر میں\n\nپائے بیخودؔ میں کچھ ایسی بیڑیاں ڈالی گئیں\nجن سے بعد حشر بھی چھٹنا نہ تھا تقدیر میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DA%91%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "امتحاں کے لیے جفا کب تک", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "امتحاں کے لیے جفا کب تک\nالتفات ستم نما کب تک\n\nغیر ہے بے وفا پہ تم تو کہو\nہے ارادہ نباہ کا کب تک\n\nجرم معلوم ہے زلیخا کا\nطعنۂ دست نارسا کب تک\n\nمجھ پہ عاشق نہیں ہے کچھ ظالم\nصبر آخر کرے وفا کب تک\n\nدیکھیے خاک میں ملاتی ہے\nنگہ چشم سرمہ سا کب تک\n\nکہیں آنکھیں دکھا چکو مجھ کو\nجانب غیر دیکھنا کب تک\n\nنہ ملائیں گے وہ نہ آئیں گے\nجوش لبیک و مرحبا کب تک\n\nہوش میں آ تو مجھ میں جان نہیں\nغفلت جرأت آزما کب تک\n\nلے شب وصل غیر بھی کاٹی\nتو مجھے آزمائے گا کب تک\n\nتم کو خو ہو گئی برائی کی\nدرگزر کیجیئے بھلا کب تک\n\nمر چلے اب تو اس صنم سے ملیں\nمومنؔ اندیشۂ خدا کب تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "امرد ہوئے ہیں تیرے خریدار چار پانچ", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "امرد ہوئے ہیں تیرے خریدار چار پانچ\nدے ایسے اور حق مجھے اغیار چار پانچ\n\nجب گدگداتے ہیں تجھے ہم اور ڈھب سے تب\nسہتے ہیں گالیاں تری نا چار چار پانچ\n\nکل یوں کہا کہ ٹک تو ٹھہر لے تو بولے آپ\nہیں منتظر مرے سر بازار چار پانچ\n\nاو جانے والے شخص ٹک اک مڑ کے دیکھ لے\nیاں بھی تڑپ رہے ہیں گناہ گار چار پانچ\n\nصیاد لے خبر کہ دیا چاہتے ہیں جان\nکنج قفس میں تازہ گرفتار چار پانچ\n\nمیاں ہم بھی کوئی قہر ہیں جب دیکھو تب لیے\nبیٹھے ہیں اپنے پاس طرحدار چار پانچ\n\nچپکے سے تم جو کہتے ہو ہیں اپنے آشنا\nشعلہ بھبھوکے اور دھواں دھار چار پانچ\n\nہر ایک ان سے شوخ ہے کیا خوب بات ہو\nلگ جائیں تیرے ہاتھ جو یک بار چار پانچ\n\nتو ان کو چاہ چھوڑ مجھے واچھڑے چے خوش\nرکھے ہیں میرے واسطے دل دار چار پانچ\n\nہے کام ایک ہی سے وہ چولھے میں سب پڑیں\nصدقے کیے تھے ایسے وہ فی النار چار پانچ\n\nصاحب تمہیں تمہیں نہیں ہرگز نہیں نہیں\nمجھ کو نہیں نہیں نہیں درکار چار پانچ\n\nمیرؔ و قتیلؔ و مصحفیؔ و جرأتؔ و مکیںؔ\nہیں شاعروں میں یہ جو نمودار چار پانچ\n\nسو خوب جانتے ہیں کہ ہر ایک رنگ کے\nانشاؔ کی ہر غزل میں ہیں اشعار چار پانچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%D8%B1%D8%AF_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86"} {"title": "امرود اور ملا جی", "poet_page": "مصنف:لطیف فاروقی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کسی قصبے میں ایک تھا امرود\nبیسوں میں وہ نیک تھا امرود\nپڑھنے جاتا تھا وہ نماز وہاں\nآدمی اک نظر نہ آئے جہاں\nخوف اس کو ہمیشہ رہتا تھا\nآدمی کوئی مجھ کو کھا لے گا\nشوق بولا کہ ایک دن جاؤ\nکسی مسجد میں جا نماز پڑھو\nچھوٹی سی مسجد اک قریب ہی تھی\nتھے وہاں ڈٹ کے بیٹھے ملا جی\nچپکے چپکے خدا کی لے کر آس\nچل کے جا بیٹھا جوتیوں کے پاس\nجوں ہی سجدے میں اس نے رکھا سر\nآئے ملا جی اس طرف اٹھ کر\nایسے ملا ندیدے ہوتے ہیں\nدیکھ کے کھانے ہوش کھوتے ہیں\nحلوہ کھاتے ہیں نان کھاتے ہیں\nجب ملے کچھ نہ جان کھاتے ہیں\n\nجھپٹے اس پر پکڑ لیا امرود\nچیخا چلایا رو پڑا امرود\nکہا امرود نے کہ ملا جی\nہو اگر آج میری جاں بخشی\nپھل کھلاؤں گا آپ کو ایسا\nاچھا مجھ سے ہے ذائقہ جس کا\nپھر کہا یہ کہ میرے ساتھ آئیں\nجس جگہ میں کہوں ٹھہر جائیں\nاک دکاں کے قریب آ کے کہا\nآئیے دیکھیے ہے کیسا مزا\nکیلا جلدی سے اک اٹھا لیجے\nاور مسجد میں چل کے کھا لیجئے\nمالک اس کا وہاں نہ تھا موجود\nملا موجود تھا خدا موجود\nکیلا مسجد کے پاس لے کے چلے\nچلتے چلتے وہ آخر آ پہنچے\nکہا امرود نے نکالیے آپ\nچھیل کر کیلا اس کو کھائیے آپ\nلگے مسجد میں جانے جب کھا کر\nآ گیا ان کا پاؤں چھلکے پر\nوائے قسمت کہ آپ ایسے گرے\nایک گھنٹے سے پہلے اٹھ نہ سکے\nموقع پاتے ہی چل دیا امرود\nدے کے ملا کو جل گیا امرود\nحرص کا خوب ہی مزا پایا\nدودھ ان کو چھٹی کا یاد آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%D8%B1%D9%88%D8%AF_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D9%84%D8%A7_%D8%AC%DB%8C"} {"title": "امروز", "poet_page": "مصنف:م حسن لطیفی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "گلہ ہے کم نگہی کو میں کامگار نہیں\nہنوز ندرت کردار آشکار نہیں\n\nمرا وہ سوز ہے نا محرموں میں بے تعبیر\nمہ و ستارہ کو جس کے لیے قرار نہیں\n\nمرا سکوت جواب آئنہ ہے ان کے لیے\nوہ جن کی رائے میں دیوانہ ہونہار نہیں\n\nنہیں ہے کوئی درخشندہ برق جس کی مثال\nمشابہ جس کے کوئی گہر آبدار نہیں\n\nسزائے خویش ہے خود سطح چشم ظاہر میں\nجسے معانی شاعر پہ اعتبار نہیں\n\nسبب ہیں اور بھی لیکن بجز دو حرف جواب\nادائے ذیل سے مقصود زینہار نہیں\n\nتمہیں کہو ہے مرا کون سا کرم فرما\nکہ جس کی خاطر برگشتہ میں غبار نہیں\n\nہو شاد کامئ گلگشت ظرف شاعر کیا\nمصاف شہر چراگاہ و چشمہ ساز نہیں\n\nشگفت طبع کے سامان و ساز ہیں ناپید\nصبا نہیں چمنستاں نہیں بہار نہیں\n\nمشام نغمہ ہے آزردہ چہچہے خاموش\nنوائے غنچہ نہیں نکہت ہزار نہیں\n\nنہیں بط مے ساقی نہ بربط مطرب\nبساط گل نہیں آغوش گلعذار نہیں\n\nمحیط غربت بالیں ہے خانماں سوزی\nکوئی حبیب نہیں کوئی غم گسار نہیں\n\nمرے کمال کی ضامن ہے خود یہ قسمت غم\nخوشا میں خستۂ غم تو ہوں سوگوار نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%D8%B1%D9%88%D8%B2"} {"title": "املا اور صحت الفاظ", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ایک معزز اور محترم بزرگ نے جو ہندوسان کے مشہور صاحب قلم اور معاملات ملکی میں بڑے اہل الرائے ہیں، ہم کو ایک نہایت طولانی خط لکھا ہے، جس میں سخت افسوس کے ساتھ اس بات کی شکایت کی ہے کہ نااہلوں کی وجہ سے اردو زبان روز بہ روز بگڑتی جاتی ہے ، اور اگر اس کا تدارک نہیں کیا جاتا تو ہماری قومی زبان برباد ہوئی جاتی ہے۔ ان کے خاص الفاظ یہ ہیں، ’’آج کل میں دیکھتا ہوں کہ اردو کے اخبار اور رسالے جو انگریزی پڑھے ہوئے مضامین نگار لوگ نکال رہے ہیں، یا اخباروں وغیرہ میں مضامین لکھتے ہیں، ان غریبوں کے ہاتھ سے بے چاری اردو کی ایسی مٹی خراب ہونی شروع ہوئی کہ توبہ! مضامین کا عمدہ ہونا دوسری بات ہے، مگر زبان یعنی الفاظ اور املا کی غلطیاں ایسی ہوتی ہیں کہ میرا تو اکثر ان کے پڑھنے تک سے دل نفرت کرتا ہے۔ یہ حالت خود انہی کے لئے قابل افسوس نہیں ہے بلکہ ایسی غلط عبارتوں اور لفظوں کے شیوع سے آئندہ بہت ہی برے نتائج پیدا ہوں گے۔ لاہور کے ایک غیر انگریزی داں پرانے اخبار نویس نے جو بے چارہ سوائے عربی کے صرف معمولی سی فارسی پڑھا ہوا تھا، لفظ جناب کا مؤنث جنابہ بنایا، اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدولت یہ جنابت ایسی بری طرح پھیلتی جاتی ہے کہ توبہ۔ لفظ نذر اور نظر میں فرق نہیں کیا جاتا۔ بجائے نافیہ کے منفی، میرے خیال میں غلط ہے، اس کا استعمال برابر ہو رہا ہے۔ موافقت کے مقابلے میں لفظ نفاق لکھا جا رہا ہے، اور جو کوئی کسی امر میں رائے مخالف رکھتا ہو، اس کو اس طرح پر خواہ مخواہ منافق کہا جاتا ہے۔ آپ فلاں امر کے لئے مجاز نہیں ہیں، اس کی جگہ لکھتے ہیں کہ آپ کو اس بات کا کیا مجاز ہے۔ محاذی کی جگہ محاذ اور ایک بڑی ضخیم کتاب کے نویسندہ صاحب نے بجائے لفط منادی یعنی واعظ کے مناد بر وزن قناد و شداد اختراع کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ آپ کی خدمت میں یہ شکایت اس لئے لکھتا ہوں کہ آپ کے اہتمام سے (جو شاید برائے نام ہے) رسالہ کالج میگزین شائع ہوتا ہے، اس میں ایسی ایسی فاش غلطیاں ہوتی ہیں کہ جن کودیکھ کر بہت رنج ہوتا ہے اورغضب یہ ہے کہ جب کہ اس پر لکھا جاتا ہے کہ مولانا محمد شبلی صاحب کے اہتمام سے شائع ہوا، توغور فرمائیے کہ بے چارے انگریزی خواں اردو نویسوں کے لئے تو گمراہ ہو جانے کے لئے ایک بڑی دلیل ہو جائے گی، جب کوئی ان کوسمجھانا چاہے گا تو وہ یہی جواب دیں گے کہ فلاں مقام پر ہم نے ایساہی لکھا دیکھا ہے اورچونکہ وہ رسالہ جناب مولانا جیسے مستند شخص کے اہتمام سے شائع ہوتا ہے، تویہ لفظ یا املا وغیرہ وغیرہ غلط کس طرح ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ہمارے ایک عالی کرم فرما مصنف و مضمون نگار نے کہیں ہمارے عرفی کا یہ شعر پڑھ لیا ہوگا۔ از نقش و نگار در و دیوار شکستہ آثار پدید است صنادیدِ عجم را یا جناب سید صاحب کی کتاب کا نام آثار الصنادید سن لیا ہوگا ، اب بے تکلف آثار قدیمہ کی نسبت لفظ صنادید لکھنا شروع کر دیا اور ان کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی غلطی میں پڑتے جاتے ہیں۔ ایک رسالہ آج کل بہار سے بنام اصلاح جاری ہوا ہے، اس کے ٹائٹل پیج پر جو ایک عربی کا حصہ ہے وہ قابل ملاحظہ ہے۔ اگرآپ اخبارعلی گڑھ کا ایک حصہ واسطے اصلاح ایسے اغلاط کے مخصوص فرما کر الفاظ و املاہائےغلط و محاورات غیر صحیح کی تصحیح فرمایا کریں تو دنیا پر خصوصاً ہماری زبان اردو پر بڑا احسان ہو، ورنہ چند ہی سال میں ایک ’’گڈڈامی‘‘ اردو پیدا ہوگی کہ باید و شاید۔ ’’فانظر الی الابل کیف خلقت۔‘‘ یہ ضروری نہیں کہ کاتب مضمون کا نام لے کر اخبار میں نکتہ چینی کی جائے، بلکہ صرف اشارے کے طور پر لکھا جا سکتا ہے اور جب کہ ایک آدھ کالم اسی کام کے لئے وقف کیا جائے گا تو لوگ خوہ مخواہ ناراض بھی نہ ہوں گے کیونکہ اس عام طریق سے کسی کی تضحیک اور توہین مقصود نہ ہوگی البتہ محض اصلاح زبان، زیادہ کہاں تک سامعہ خراشی کروں۔‘‘ سب سے پہلے میں اپنے محترم بزرگ کی خدمت میں یہ گزارش کرتا ہوں کہ میں سال بھر سے کالج میگزین کا ایڈیٹر نہیں ہوں، اس لئے اس کی غلطیوں کا (اگر واقع میں ہیں) میں ذمہ دار نہیں۔ اصل بحث کی نسبت اس امر سے انکار نہیں ہو سکتا کہ اردو زبان میں بہت سے ایسے الفاظ داخل ہوگئے اور ہوتے جاتے ہیں جو لغت اور ترکیب کے لحاظ سے غلط ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا یہ عام قاعدہ قرار پا سکتا ہے یا نہیں کہ جو لفظ اصل لغت کے لحاظ سے غلط ہے، اس کا استعمال بھی عموما ًغلط ہے۔ فارسی زبان میں جب عربی کا اختلاط ہوا توعربی کے سیکڑوں الفاظ اور جملے شامل ہوگئے، فارسی کے شعرا اور نثار عموما ًعلوم عربیہ میں نہایت مہارت رکھتے تھے، لیکن عربی الفاظ جو انہوں نے برتے، اس قدرغلط برتے کہ آج کم مایہ اردو داں اس سے زیادہ غلطی نہیں کرتے، تاہم وہی فارسی آج تک مستند اور فصیح اور شیریں سمجھی جاتی ہے۔ بہ سخن ہای دروغ تو تسلی شد و رفت میلی بہ نشست و قراں خواند و بجنباندہی سر قاآنی حمام شریف شد مزیب ولہ شاخ بنفشہ چون بروز لفین دوست گشت منوچھری قوم اشرب الصبوح یا ایہا النائمین منو چھری در و بسیر و بیندیش کاین خجستہ نہاد عرفی سر و من طرح نو انداختہ یعنی چہ حزیں اصل حقیقت یہ ہے کہ زبان کی ابتدا عوام سے ہوتی ہے اور یہ گروہ صحت الفاظ سے بالکل بے خبر ہوتا ہے، خواص اسی زبان کو لے کر کاٹ چھانٹ کر اصلاح کرتے ہیں، اصلاح میں وہ بہت سے الفاظ کو اس طرح چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ کبھی تو یہ ہوتی ہے کہ وہ غلط الفاظ اس قدر عام استعمال میں رواج پا چکے ہوتے ہیں کہ صحت کے ساتھ بولے جائیں ، توعام لوگوں کی سمجھ میں نہ آئیں۔ اور کبھی یہ کہ یہ امر زبان کی عزت اور خود مختاری کی دلیل سمجھی جاتی ہے کہ دوسری زبان کے الفاظ اس میں آئیں تو اسی کے قالب میں ڈھل کر آئیں۔ فارسی اور اردو پر موقوف نہیں، ہرزبان میں دوسری زبان کے الفاظ آکراصلی حالت پرنہیں رہتے البتہ چونکہ اردو کوئی مستقل زبان نہیں، بلکہ عربی، فارسی، ہندی کا مجموعہ ہے، اس لئے اس کو عربی، فارسی وغیرہ کے الفاظ پر تصرف کا بہت کم حق حاصل ہے۔ اس لئے جہاں تک ہوسکے اس بات کا التزام زیادہ موزوں ہے کہ غیر زبانوں کے الفاظ صحیح تلفظ اور ترکیب کے ساتھ قائم رکھے جائیں، لیکن اس سے بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ اساتذہ قدیم و جدید نے عربی و فارسی کے بہت سے الفاظ کو اردو زبان میں غلط طور سے برتا اور آج وہی غلط استعمالات فصیح اور با محاورہ خیال کئے جاتے ہیں۔ بہر حال اس قسم کے الفاظ کے استعمال و عدم استعمال کے لئے جو قاعدہ کلیہ قرار پا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ جو الفاظ فصحا اور مسلم الثبوت اہل زبان کے عام استعمال میں آجائیں تو وہ صحیح الاستعمال ہیں اور جن کو اہل زبان نے عموماً نہ قبول کر لیا ہو، ان کا استعمال صحیح نہیں۔ اسی بنا پر جب مشہور اساتذہ مثلاً انیس، دبیر، آتش وغیرہ نے غلط الفاظ استعمال کئے، تو لوگوں نے اسی وقت اعتراض کیا کیونکہ وہ الفاظ فصحا کے نزدیک استعمال عام کی سند نہیں پا چکے تھے، اس لئے صرف ایک دو بزرگوں کا استعمال گو وہ کیسے ہی مسلم الثبوت استاد ہوں، صحت کی دلیل نہیں قرار پا سکتا تھا۔ ہمارے محترم بزرگ نے جن الفاظ کا ذکر کیا ہے وہ یقینا ًفصحائے اہل زبان کے ہاں مستعمل نہیں ہیں، اس لئے ان کے غلط ہونے میں کچھ کلام نہیں ہو سکتا۔ بےشبہ ایسےالفاظ کو بہت سختی سے روکنا چاہئے ورنہ زبان پر بہت برا اثر پڑے گا۔ کیونکہ اگر اس قسم کے الفاظ تحریر و تقریر میں کثرت سے پھیل گئے تو ہر شخص کہاں تک یہ تحقیق کرتا پھرے گا کہ ان میں سے کون سے فصحا کے نزدیک مقبول ہو چکے ہیں اور کون غیر مقبول۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%D9%84%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B5%D8%AD%D8%AA_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%A7%D8%B8"} {"title": "امور خیر میں کچھ اہتمام ہو نہ سکا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "امور خیر میں کچھ اہتمام ہو نہ سکا\nمال نیک ہو جس کا وہ کام ہو نہ سکا\n\nبغیر منزل اول قیام ہو نہ سکا\nجب آیا کوچ کا دن پھر مقام ہو نہ سکا\n\nہر ایک مرتکب معصیت یہاں سے گیا\nکسی بشر سے فرشتے کا کام ہو نہ سکا\n\nقدم کسی کی نہ ٹھہری جب آب و دانہ اٹھا\nگہر سے بطن صدف میں قیام ہو نہ سکا\n\nشراب آب خجالت نگاہ میں ٹھہرے\nکہ چشم یار سے ہم چشم جام ہو نہ سکا\n\nنزاکت اس کے قدم چومتی ہے دیکھا ہے\nکڑی پہن لیے جس دن خرام ہو نہ سکا\n\nملے نہ ان سے ملے ہم جدا ہوئے جب سے\nپھٹا دل ایسا کہ پھر التیام ہو نہ سکا\n\nہر ایک رنج کو راحت سمجھ لی شکر کیا\nکرے شکایت آقا غلام ہو نہ سکا\n\nکسی کے ملک اطاعت میں عاملی نہ چلے\nفساد نفس رہا انتظام ہو نہ سکا\n\nہوا ہے آتش گل میں لگی یہ تلووں سے\nاڑے شرر کی طرح ہم قیام ہو نہ سکا\n\nگئے جو شکوے کو اپنا سا منہ وہ لے کے پھرے\nملی زبان نہ منہ میں کلام ہو نہ سکا\n\nشراب ترک کی ہم نے رقیب کے ہاتھوں\nلہو کے گھونٹ پئیں ہم مدام ہو نہ سکا\n\nکبھی وفائی نہ ہلنے دیا لب فریاد\nبتوں سے حشر میں بھی انتقام ہو نہ سکا\n\nہزار نعمت دنیا نے ہم کو للچایا\nحلال لقمہ ہمارا حرام ہو نہ سکا\n\nنصیب ہو نہ ترقی تو باڑھ ہے بیکار\nہلال تیغ کا ماہ تمام ہو نہ سکا\n\nہے یادگار زمانے میں اپنی تنہائی\nفقیر کا کوئی قائم مقام ہو نہ سکا\n\nہزار موج صفت بحرؔ دست و پا مارے\nحباب ساں مگر اپنا قیام ہو نہ سکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B1_%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DB%81%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D8%A7"} {"title": "امُرَائے عرب سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "کرے یہ کافرِ ہندی بھی جُرأتِ گُفتار\nاگر نہ ہو اُمَرائے عرب کی بے ادبی!\nیہ نکتہ پہلے سِکھایا گیا کس اُمّت کو؟\nوصال مُصطفوی، افتراق بُولہَبی!\nنہیں وجود حدود و ثُغُور سے اس کا\nمحمدِؐ عَربی سے ہے عالمِ عَربی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%D9%8F%D8%B1%D9%8E%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%B1%D8%A8_%D8%B3%DB%92"} {"title": "امکان طلب سے کوئی آگاہ تو ہو", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "امکان طلب سے کوئی آگاہ تو ہو\nمنزل کا تہ دل سے ہوا خواہ تو ہو\nچل پھر کے ذرا دیکھ جھجکتا کیا ہے\nمل جائے گی راہ راست گمراہ تو ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88"} {"title": "امید مہر پر اک حسرت دل ہم بھی رکھتے تھے", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "امید مہر پر اک حسرت دل ہم بھی رکھتے تھے\nتمنا وصل کی اے ماہ کامل ہم بھی رکھتے تھے\n\nکبھی گل زار داغ عشق سے دل ہم بھی رکھتے ہے\nکبھی اک تازہ گلشن اے عنادل ہم بھی رکھتے تھے\n\nکسی دن تو وہ بحر حسن آ کر زیب بر ہوتا\nکہ آغوش تمنا شکل ساحل ہم بھی رکھتے تھے\n\nالگ تو بزم سے اٹھ کر جو سن لیتا تو کہہ دیتے\nکہ کچھ کچھ التجا اے زیب محفل ہم بھی رکھتے تھے\n\nہمیں بے موت کیوں مارا اجل تو کس لیے آئی\nہوائے بوسۂ شمشیر قاتل ہم بھی رکھتے تھے\n\nہمارے دل کا عقدہ کیوں نہ اے غنچہ دہن کھولا\nہوس بوسے کی تھی تھوڑی سی مشکل ہم بھی رکھتے تھے\n\nکریں اب کیا کہاں ڈھونڈھیں گنوایا کوئے گیسو میں\nکبھی یادش بخیر اے ہمدمو دل ہم بھی رکھتے تھے\n\nہمارا امتحاں او قدر انداز لازم تھا\nدل مجروح و مضطر جان بسمل ہم بھی رکھتے تھے\n\nکیا پامال اس کو کیوں نہ تم نے ساتھ سبزے کے\nتمہارے زیر پا اے جان جاں دل ہم بھی رکھتے تھے\n\nنہیں اب کثرت داغ جنوں سے لائق ہدیہ\nکبھی دل پیشکش کرنے کے قابل ہم بھی رکھتے تھے\n\nحقارت سے نہ دیکھو آج ہم کو اے پری رویو\nکبھی تم سا کوئی زہرہ شمائل ہم بھی رکھتے تھے\n\nعجب ہے کیا ہوئی الفت وہ اے جاں دونوں جانب کی\nیہی دل تم بھی رکھتے تھے یہی دل ہم بھی رکھتے تھے\n\nیونہی شب بھر جلا کرتے تھے یاد شعلۂ رخ میں\nیہی سوزش کبھی اے شمع محفل ہم بھی رکھتے تھے\n\nلب جاں بخش پر کیا فوق دیتے چشم فتاں کو\nکہ انجمؔ کچھ تمیز حق و باطل ہم بھی رکھتے تھے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے\nجو زندگانی کو تلخ کر دے وہ وقت مجھ پر گزر چکا ہے\n\nاگرچہ سینے میں سانس بھی ہے نہیں طبیعت میں جان باقی\nاجل کو ہے دیر اک نظر کی فلک تو کام اپنا کر چکا ہے\n\nغریب خانے کی یہ اداسی یہ نا درستی نہیں قدیمی\nچہل پہل بھی کبھی یہاں تھی کبھی یہ گھر بھی سنور چکا ہے\n\nیہ سینہ جس میں یہ داغ میں اب مسرتوں کا کبھی تھا مخزن\nوہ دل جو ارمان سے بھرا تھا خوشی سے اس میں ٹھہر چکا ہے\n\nغریب اکبر کے گرد کیوں میں خیال واعظ سے کوئی کہہ دے\nاسے ڈراتے ہو موت سے کیا وہ زندگی ہی سے ڈر چکا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D9%B9%D9%88%D9%B9%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B1_%DA%86%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "امید کی خوشی", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اے آسمان پر بھورے بادلوں میں بجلی کی طرح چمکنے والی دھنک، اے آسمان کے تارو، تمہاری خوشنما چمک، اے بلند پہاڑوں کی آسمان سے باتیں کرنے والی دھندلی چوٹیو! اے پہاڑ کے عالی شان درختو! اے اونچے اونچے ٹیلوں کے دل کش بیل بوٹو! تم بہ نسبت ہمارے پاس کے درختوں اور سر سبز کھیتوں اور لہراتی ہوئی نہروں کے کیوں زیادہ خوشنما معلوم ہوتے ہو؟ اس لیے کہ ہم سے بہت دور ہو۔ اس دوری ہی نے تم کو یہ خوب صورتی بخشی ہے۔ اس دوری ہی سے تمہار ا نیلا رنگ ہماری آنکھوں کو بھایا ہے، تو ہماری زندگی میں بھی جو چیز بہت دور ہے وہی ہم کو زیادہ خوش کرنے والی ہے۔\n\nوہ چیز کیا ہے؟ کیا عقل ہے؟ جس کو سب لوگ سب سے اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ کیا وہ ہم کو آئندہ کی خوشی کا یقین دلا سکتی ہے؟ ہر گز نہیں! اس کا میدان تو نہایت تنگ ہے۔ بڑی دوڑ دھوپ کرے تو نیچر تک اس کی رسائی ہے جو سب کے سامنے ہے۔ او نورانی چہرہ والے یقین کی اکلوتی خوب صورت بیٹی امید! یہ خدائی روشنی تیرے ہی ساتھ ہے۔ تو ہی ہماری مصیبت کے وقتوں میں ہم کو تسلی دیتی ہے۔ تو ہی ہمارے آڑے وقتوں میں ہماری مدد کرتی ہے۔ تیری ہی بدولت نہایت دور دراز خوشیاں ہم کو نہایت ہی پاس نظر آتی ہیں۔ تیرے ہی سہارے سے زندگی کی مشکل مشکل گھاٹیاں ہم طے کرتے ہیں۔ تیرے ہی سبب سے ہمارے خوابیدہ خیال جاگتے ہیں۔ تیر ی ہی برکت سے خوشی، خوشی کے لیے نام آوری، نام آوری کے لیے بہادری، بہادری کے لیے فیاضی، فیاضی کے لیے محبت، محبت کے لیے نیکی، نیکی، نیکی کے لیے تیار ہے۔ انسان کی تمام خوبیاں اور ساری نیکیاں تیری ہی تابع اور تیری ہی فرماں بردار ہیں۔\n\nوہ پہلا گنہگار انسان جب شیطان کے چنگل میں پھنسا اور تمام نیکیوں نے اس کو چھوڑا اور تمام بدیوں نے اس کو گھیرا تو صرف تو ہی اس ساتھ رہی۔ تو ہی نے اس ناامید کو ناامید ہونے نہیں دیا، تو ہی نے اس موت میں پھنسے دل کو مرنے نہیں دیا۔ تو ہی نے اس کو ذلت سے نکالا اور پھر اس کو اس اعلی درجہ پر پہونچایا جہاں کہ فرشتوں نے اس کو سجدہ کیا تھا۔\n\nاس نیک نبی کو جس نے سینکڑوں برس اپنی قوم کے ہاتھ سے مصیبت اٹھائی اور مارپیٹ سہی، تیرا ہی خوبصورت چہر ہ تسلی دینے والا تھا۔ وہ پہلا نا خدا جب کہ طوفان کی موجوں میں بہا جاتا تھا اور بجز مایوسی کے کچھ اور نظر نہیں آتا تھا تو تو ہی اس طوفان میں اس کی کشتی کھینچنے والی اور اس کا بیڑا پار لگانے والی تھی۔ تیرے ہی نام سے جودی پہاڑ کی مبارک چوٹی کو عزت ہے۔ زیتون کی ہری ٹہنی کو جو وفادار کبوتر کی چونچ میں وصل کے پیغام کی طرح پہنچی، جو کچھ برکت ہے تیری ہی بدولت ہے۔\n\nاے آسمانوں کی روشنی او ر اے ناامیدوں کی تسلی امید! تیرے ہی شاداب اور سر سبز باغ سے ہر ایک محنت کا پھل ملتا ہے۔ تیرے ہی پاس ہر درد کی دوا ہے۔ تجھی سے ہر ایک رنج میں آسودگی ہے۔ عقل کے ویران جنگلوں میں بھٹکتے بھٹکتے تھکا ہوا مسافر تیرے ہی گھنے باغ کے سر سبز درختوں کے سایہ کو ڈھونڈتا ہے۔ وہاں کی ٹھنڈی ہوا، خوش الحان جانوروں کے راگ، بہتی نہروں کی لہریں اس کے دل کو راحت دیتی ہیں۔ اس کے مرے ہوئے خیالات کو پھر زندہ کرتی ہیں۔ تمام فکریں دل سے دور ہو تی ہیں او ر دور دراز زمانہ کی خیالی خوشیاں سب آموجود ہوتی ہیں۔\n\nدیکھ نادان بے بس بچہ گہوارہ میں سوتا ہے۔ اس کی مصیبت زدہ ماں اپنے دھندے میں لگی ہوئی ہے اور اس گہوارہ کی ڈوری بھی ہلاتی جاتی ہے۔ ہاتھ کام میں اور دل بچے میں ہے اور زبان سے اس کو یوں لوری دیتی ہے۔ سورہ میرے بچے سو رہ، اے اپنے باپ کی مورت اور میرے دل کی ٹھنڈک سو رہ، اے میرے دل کی کونپل سو رہ، بڑھ اور پھل پھول، تجھ پر کبھی خزاں نہ آنے پاوے، تیری ٹہنی میں کوئی خار کبھی نہ پھوٹے، کوئی کٹھن گھڑی تجھ کو نہ آوے، کوئی مصیبت جو تیرے ماں باپ نے بھگتی تو نہ دیکھے، سو رہ میرے بچے سو رہ، میری آنکھوں کے نور اور میرے دل کے سرور میرے بچے سو رہ، تیرا مکھڑا چاند سے بھی زیادہ روشن ہوگا، تیری خصلت تیرے باپ سے بھی اچھی ہوگی، تیری شہرت، تیری لیاقت، تیری محبت جو تو ہم سے کرےگا آخر کار ہمارے دل کو تسلی دے گی۔ تیری ہنسی ہمارے اندھیرے گھر کا اجالا ہوگی۔ تیری پیاری پیاری باتیں ہمارے غم کو دور کریں گی۔ تیری آواز ہمارے لیے خوش آیند راگنیاں ہوں گی، سو رہ میرے بچے سو رہ۔ اے ہماری امیدوں کے پودے سو رہ۔\n\nبولو جب اس دنیا میں ہم تم سے جدا ہو جاویں گے تو تم کیا کروگے۔ تم ہماری بے جان لاش کے پاس کھڑے ہوگے۔ تم پوچھوگے اور ہم کچھ نہ بولیں گے۔ تم روؤگے اور ہم کچھ نہ رحم کریں گے۔ اے میرے پیارے رونے والے! تم ہمارے ڈھیر پر آکر ہماری روح کو خوش کروگے۔ آہ ہم نہ ہوں گے اور تم ہماری یادگاری میں آنسو بہاؤگے۔ اپنی ماں کا محبت بھرا چہرہ، اپنے باپ کی نورانی صورت یا د کروگے۔ آہ ہم کو یہی رنج ہے کہ اس وقت ہماری محبت یاد کر کر تم رنجیدہ ہوگے۔ سو رہ میرے بچے سو رہ۔ سو رہ میرے بالے سو رہ۔\n\nیہ امید کی خوشیاں ماں کو اس وقت تھیں جب کہ بچہ غوں غاں بھی نہیں کر سکتا تھا۔ مگر جب وہ ذرا اور بڑا ہوا اور معصوم ہنسی سے اپنی ماں کے دل کو شاد کرنے لگا اور امّاں امّاں کہنا سیکھا۔ اس کی پیاری آواز، ادھورے لفظوں میں اس کی ماں کے کان میں پہونچنے لگی۔ آنسوؤں سے اپنی ماں کی آتش محبت کو بھڑکانے کے قابل ہوا۔ پھر مکتب سے اس کو سروکار پڑا۔ رات کو اپنی ماں کے سامنے دن کا پڑھا ہوا سبق غم زدہ دل سے سنانے لگا اور جب کہ وہ تاروں کی چھاؤں میں اٹھ کر ہاتھ منہ دھوکر اپنے ماں باپ کے ساتھ صبح کی نماز میں کھڑا ہونے لگا اور اپنے بے گناہ دل، بے گناہ زبان سے، بے ریا خیال سے خدا کا نام پکارنے لگا تو امید کی خوشیاں اور کس قدر زیادہ ہو گئیں۔ ا س کے ماں باپ اس معصوم سینہ سے سچی ہمدردی دیکھ کر کتنے خوش ہوتے ہیں اور ہماری پیاری امید تو ہی ہے جو مہد سے لحد تک ہمارے ساتھ رہتی ہے۔\n\nدیکھو وہ بڈھا آنکھوں سے اندھا اپنے گھر میں بیٹھا روتا ہے۔ اس کا پیارا بیٹا بھیڑوں کے ریوڑ میں سے غائب ہو گیا ہے۔ وہ اس کو ڈھونڈتا ہے پر وہ نہیں ملتا۔ مایوس ہے پر امید نہیں ٹوٹی۔ لہو بھرا دانتوں پھٹا کرتا دیکھتا ہے، پر ملنے سے نا امید نہیں۔ فاقوں سے خشک ہے۔ غم سے زار نزار ہے۔ روتے روتے آنکھیں سفید ہو گئی ہیں۔ کوئی خوشی اس کے ساتھ نہیں ہے مگر صرف ایک امید ہے جس نے اس کو وصل کی امید میں زندہ اور اس خیال میں خوش رکھا ہے۔\n\nدیکھ وہ بے گناہ قیدی، اندھیرے کنوئیں میں سات تہہ خانوں میں بند ہے۔ اس کا سورج کا سا چمکنے والا چہرہ زرد ہے۔ بے یارو دیار غیر قوم، غیر مذہب کے لوگوں کے ہاتھ میں قید ہے۔ بڈھے باپ کا غم اس کی روح کو صدمہ پہنچاتا ہے۔ عزیز بھائی کی جدائی اس کے دل کو غمگین رکھتی ہے۔ قید خانے کی مصیبت، اس کی تنہائی، اس گھر کا اندھیرا اور اس پر اپنی بے گناہی کا خیال اس کو نہایت رنجیدہ رکھتا ہے۔ اس وقت کوئی اس کا ساتھی نہیں ہے۔ مگر اے ہمیشہ زندہ رہنے والی امید! تجھ ہی میں اس کی خوشی ہے۔\n\nوہ دلاور سپاہی لڑائی کے میدان میں کھڑا ہے، کوچ پر کوچ کرتے کرتے تھک گیا ہے، ہزاروں خطرے در پیش ہیں مگر سب میں تقویت تجھ ہی سے ہے۔ لڑائی کے میدان میں جب کہ بہادروں کی صفیں کی صفیں چپ چاپ کھڑی ہوتی ہیں اور لڑائی کا میدان ایک سنسان کا عالم ہوتا ہے، دلوں میں عجیب قسم کی خوف ملی ہوئی جرأت ہوتی ہے۔ اور جب کہ لڑائی کا وقت آتا ہے اور لڑائی کے بگل کی آواز بہادر سپاہی کے کان میں پہنچتی ہے۔ اور وہ آنکھ اٹھا کر نہایت بہادری سے بالکل بے خوف ہوکر لڑائی کے میدان کو دیکھتا ہے۔ اور جبکہ بجلی سی چمکنے والی تلواریں اور سنگینیں اس کی نظر کے سامنے ہوتی ہیں اور بادل کی سی کڑکنے والی اور آتشیں پہاڑ کی سی آگ برسانے والی توپوں کی آواز سنتا ہے۔ اور جب کہ اپنے ساتھی کو خون میں لتھڑا ہوا زمین پر پڑا ہوا دیکھتا ہے تو اے بہادروں کی قوت ِبازو۔ اور اے بہادری کی ماں۔ تیرے ہی سبب سے فتح مندی کا خیال ان کے دلوں کو تقویت دیتا ہے۔ ان کا کان نقارہ میں سے تیرے ہی نغمے کی آواز سنتا ہے۔\n\nوہ قومی بھلائی کا پیاسا اپنی قوم کی بھلائی کی فکر کرتا ہے۔ دن رات اپنے دل کو جلاتا ہے، ہر وقت بھلائی کی تدبیریں ڈھونڈتا ہے۔ ان کی تلاش میں دور دراز کا سفر اختیار کرتا ہے، یگانوں بے گانوں سے ملتا ہے۔ ہر ایک کی بول چال میں اپنا مطلب ڈھونڈتا ہے۔ مشکل کے وقت ایک بڑی مایوسی سے مدد مانگتاہے۔ جن کی بھلائی چاہتا ہے انہیں کو دشمن پاتا ہے۔ شہری وحشی بتاتے ہیں۔ دوست آشنا دیوانہ کہتے ہیں۔ عالم فاضل کفر کے فتوؤں کا ڈر دکھاتے ہیں۔ بھائی بند عزیز اقارب سب سمجھاتے ہیں اور پھر یہ شعر پڑھ کر چپ ہو رہتے ہیں۔\n\nوہ بھلا کس کی بات مانے ہیں\nبھائی سید تو کچھ دیوانے ہیں\n\nساتھی ساتھ دیتے ہیں مگر ہاں ہاں کر کر محنت اور دل سوزی سے دور رہ کر۔ بہت سی ہمدردی کرتے ہیں، پر کوٹھی کٹھلے سے الگ کر کر۔ دل ہر وقت بے قرار ہے۔ کسی کو اپنا سا نہیں پاتا۔ کسی پر دل نہیں ٹھہرتا۔ مگر اے بے قرار دلوں کی راحت اور اے شکستہ خاطروں کی تقویت۔ تو ہی ہر دم ہمارے ساتھ ہے، تو ہی ہمارے دل کی تسلی ہے، تو ہی ہماری کٹھن منزلوں کی ساتھی ہے۔ تیری ہی تقویت سے ہم اپنی منزلِ مقصود تک پہنچیں گے۔ تیرے ہی سبب گوہر مراد کو پاویں گے اور ہمارے دل کی عزیز اور ہمارے مہدی کی پیاری‘‘ امید’’ تو ہمیشہ ہمارے دل کی تسلی رہ۔\n\nاے ہمیشہ زندہ رہنے والی امید۔ جب کہ زندگی کا چراغ ٹمٹماتا ہے اور دنیاوی حیات کا آفتاب لبِ بام ہوتا ہے۔ ہاتھ پاؤں میں گرمی نہیں رہتی۔ رنگ فق ہو جاتا ہے۔ منہ پر مردنی چھاتی ہے۔ ہوا ہوا میں، پانی پانی میں، مٹی مٹی میں ملنے کو ہوتی ہے تو تیرے ہی سہارے سے وہ کٹھن گھڑی آسان ہوتی ہے۔ اس وقت اس زرد چہرے اور آہستہ آہستہ ہلتے ہوئے ہونٹوں اور بے خیال بند ہوتی ہوئی آنکھوں اور غفلت کے دریا میں ڈوبتے ہوئے دل کو تیری یادگاری ہوتی ہے۔ تیرا نورانی چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ تیری صدا کان میں آتی ہے اور ایک نئی روح اور تازہ خوشی حاصل ہوتی ہے اور ایک نئی لازوال زندگی کی جس میں ایک ہمیشہ رہنے والی خوشی ہوگی، امید ہوتی ہے۔\n\nیہ تکلیف کا وقت تیرے سبب سے ہمارے لیے موسمِ بہار کی آمد آمد کا زمانہ ہو جاتا ہے۔ اس لازوال خوشی کی امید تمام دنیاوی رنجوں اور جسمانی تکلیفوں کو بھلا دیتی ہے اور غم کی شام کو خوشی کی صبح سے بدل دیتی ہے۔ گو کہ موت ہر دم جتاتی ہے کہ مرنا بہت خوف ناک چیز ہے۔ او ہماری آنکھوں سے چھپی ہوئی دوسری دنیا جس میں ہم کو ہمیشہ رہنا ہے جہاں سورج کی کرن اور زمانے کی لہر بھی نہیں پہنچتی۔ تیری راہ تین چیزوں سے طے ہوتی ہے، (۱) ایمان کے توشے۔ (۲) امید کے ہادی اور (۳) موت کی سواری سے۔ مگر ان سب میں جس کو سب سے زیادہ قوت ہے وہ ایمان کی کی خوبصورت بیٹی ہے جس کا پیارا نام ’’امید‘‘ ہے۔\n\nلوگ کہتے ہیں کہ بے یقینوں کو موت کی کٹھن گھڑی میں کچھ امید نہیں ہوتی مگر میں دیکھتا ہوں کہ تیری بادشاہت وہاں بھی ہے۔ قیامت پر یقین نہ کرنے والا سمجھتا ہے کہ تمام زندگی کی تکلیفوں کا اب خاتمہ ہے اور پھر کسی تکلیف کے ہونے کی توقع نہیں ہے۔ وہ اپنے اس بے تکلف آنے والے زمانے کی امید میں نہایت بردباری سے اور رنجوں کے زمانے کے اخیر ہونے کی خوشی میں نہایت بشاشت سے یہ شعر پڑھتا ہوا جان دیتا ہے۔\n\nبقدر ہر سکوں راحت بود بنگر تفاوت را\nدویدن، رفتن، استادن، نشتن، خفتن و مردن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C"} {"title": "امید ہے کہ مجھ کو خدا آدمی کرے", "poet_page": "مصنف:منتظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "امید ہے کہ مجھ کو خدا آدمی کرے\nپر آدمی کرے تو بھلا آدمی کرے\n\nاس طرح وہ فریب سے دل لے گئے مرا\nجس طرح آدمی سے دغا آدمی کرے\n\nبھاتیں نہیں کچھ اس کے نکلتی ہے اپنی جان\nکیا ایسے بے وفا سے وفا آدمی کرے\n\nمارا ہے کوہ کن نے سر اپنے پہ تیشہ آہ\nدل کو لگی ہو چوٹ تو کیا آدمی کرے\n\nگر کچھ کہا بگڑ کے میں بس اس نے ہنس دیا\nکیا ایسے آدمی کا گلا آدمی کرے\n\nگزرا میں ایسی چاہ سے تا چند ہم نشیں\nبیٹھا کسی کے سر کو لگا آدمی کرے\n\nہے عشق بد مرض کوئی جاتا ہے منتظرؔ\nکیا خاک اس مرض کی دوا آدمی کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "امیدوں سے دل برباد کو آباد کرتا ہوں", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "امیدوں سے دل برباد کو آباد کرتا ہوں\nمٹانے کے لیے دنیا نئی ایجاد کرتا ہوں\n\nتری میعاد غم پوری ہوئی اے زندگی خوش ہو\nقفس ٹوٹے نہ ٹوٹے میں تجھے آزاد کرتا ہوں\n\nجفا کارو مری مظلوم خاموشی پہ ہنستے ہو\nذرا ٹھہرو ذرا دم لو ابھی فریاد کرتا ہوں\n\nمیں اپنے دل کا مالک ہوں مرا دل ایک بستی ہے\nکبھی آباد کرتا ہوں کبھی برباد کرتا ہوں\n\nملاقاتیں بھی ہوتی ہیں ملاقاتوں کے بعد اکثر\nوہ مجھ کو بھول جاتے ہیں میں ان کو یاد کرتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "امیر لاکھ ادھر سے ادھر زمانہ ہوا", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "امیر لاکھ ادھر سے ادھر زمانہ ہوا\nوہ بت وفا پہ نہ آیا میں بے وفا نہ ہوا\n\nسر نیاز کو تیرا ہی آستانہ ہوا\nشراب خانہ ہوا یا قمار خانہ ہوا\n\nہوا فروغ جو مجھ کو غم زمانہ ہوا\nپڑا جو داغ جگر میں چراغ خانہ ہوا\n\nامید جا کے نہیں اس گلی سے آنے کی\nبہ رنگ عمر مرا نامہ بر روانہ ہوا\n\nہزار شکر نہ ضائع ہوئی مری کھیتی\nکہ برق و سیل میں تقسیم دانہ دانہ ہوا\n\nقدم حضور کے آئے مرے نصیب کھلے\nجواب قصر سلیماں غریب خانہ ہوا\n\nترے جمال نے زہرہ کو دور دکھلایا\nترے جلال سے مریخ کا زمانہ ہوا\n\nکوئی گیا در جاناں پہ ہم ہوئے پامال\nہمارا سر نہ ہوا سنگ آستانہ ہوا\n\nفروغ دل کا سبب ہو گئی بجھی جو ہوس\nشرار کشتہ سے روشن چراغ خانہ ہوا\n\nجب آئی جوش پہ میرے کریم کی رحمت\nگرا جو آنکھ سے آنسو در یگانہ ہوا\n\nحسد سے زہر تن آسماں میں پھیل گیا\nجو اپنی کشت میں سرسبز کوئی دانہ ہوا\n\nچنے مہینوں ہی تنکے غریب بلبل نے\nمگر نصیب نہ دو روز آشیانہ ہوا\n\nخیال زلف میں چھائی یہ تیرگی شب ہجر\nکہ خال چہرۂ زخمی چراغ خانہ ہوا\n\nیہ جوش گریہ ہوا میرے صید ہونے پر\nکہ چشم دام کے آنسو سے سبز دانہ ہوا\n\nنہ پوچھ ناز و نیاز اس کے میرے کب سے ہیں\nیہ حسن و عشق تو اب ہے اسے زمانہ ہوا\n\nاٹھائے صدمے پہ صدمے تو آبرو پائی\nامیر ٹوٹ کے دل گوہر یگانہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "امیروں تک رسائی ہو چکی بس", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "امیروں تک رسائی ہو چکی بس\nمری بخت آزمائی ہو چکی بس\n\nبہار اب کے بھی جو گزری قفس میں\nتو پھر اپنی رہائی ہو چکی بس\n\nکہاں تک اس سے قصہ قضیہ ہر شب\nبہت باہم لڑائی ہو چکی بس\n\nنہ آیا وہ مرے جاتے جہاں سے\nیہیں تک آشنائی ہو چکی بس\n\nلگا ہے حوصلہ بھی کرنے تنگی\nغموں کی اب سمائی ہو چکی بس\n\nبرابر خاک کے تو کر دکھایا\nفلک بس بے ادائی ہو چکی بس\n\nدنی کے پاس کچھ رہتی ہے دولت\nہمارے ہاتھ آئی ہو چکی بس\n\nدکھا اس بت کو پھر بھی یا خدایا\nتری قدرت نمائی ہو چکی بس\n\nشرر کی سی ہے چشمک فرصت عمر\nجہاں دے ٹک دکھائی ہو چکی بس\n\nگلے میں گیروی کفنی ہے اب میرؔ\nتمہاری میرزائی ہو چکی بس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%B3"} {"title": "امینِ راز ہے مردانِ حُر کی درویشی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "امینِ راز ہے مردانِ حُر کی درویشی\nکہ جبرئیلؑ سے ہے اس کو نسبتِ خویشی\n\nکسے خبر کہ سفینے ڈبو چُکی کتنے\nفقِیہ و صوفی و شاعر کی نا خوش اندیشی\n\nنگاہِ گرم کہ شیروں کے جس سے ہوش اڑ جائیں\nنہ آہِ سرد کہ ہے گوسفندی و میشی\n\nطبیبِ عشق نے دیکھا مجھے تو فرمایا\nترا مَرض ہے فقط آرزو کی بے نیشی\n\nوہ شے کچھ اور ہے کہتے ہیں جانِ پاک جسے\nیہ رنگ و نم، یہ لہُو، آب و ناں کی ہے بیشی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86%D9%90_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%AD%D9%8F%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%B4%DB%8C"} {"title": "ان آنکھوں سے آب کچھ نہ نکلا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان آنکھوں سے آب کچھ نہ نکلا\nغیر از خوں ناب کچھ نہ نکلا\n\nبوسے کا کیا سوال لیکن\nاس منہ سے جواب کچھ نہ نکلا\n\nباہم ہوئی یوں تو دید وا دید\nپر دل کا حجاب کچھ نہ نکلا\n\nجز تیری ہوا کے اپنے سر میں\nمانند حباب کچھ نہ نکلا\n\nکرتا تھا بہت سا مجھ پہ دعویٰ\nپر وقت حساب کچھ نہ نکلا\n\nسینے میں جو دل کی کی تفحص\nجز دود کباب کچھ نہ نکلا\n\nہم سمجھے تھے جس کو مصحفیؔ یار\nوہ خانہ خراب کچھ نہ نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%A8_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھا\nحقیقت میں جو دیکھنا تھا نہ دیکھا\n\nتجھے دیکھ کر وہ دوئی اٹھ گئی ہے\nکہ اپنا بھی ثانی نہ دیکھا نہ دیکھا\n\nان آنکھوں کے قربان جاؤں جنہوں نے\nہزاروں حجابوں میں پروانہ دیکھا\n\nنہ ہمت نہ قسمت نہ دل ہے نہ آنکھیں\nنہ ڈھونڈا نہ پایا نہ سمجھا نہ دیکھا\n\nمریضان الفت کی کیا بے کسی ہے\nمسیحا کو بھی چارہ فرما نہ دیکھا\n\nبہت درد مندوں کو دیکھا ہے تو نے\nیہ سینہ یہ دل یہ کلیجا نہ دیکھا\n\nوہ کب دیکھ سکتا ہے اس کی تجلی\nجس انسان نے اپنا جلوا نہ دیکھا\n\nبہت شور سنتے تھے اس انجمن کا\nیہاں آ کے جو کچھ سنا تھا نہ دیکھا\n\nصفائی ہے باغ محبت میں ایسی\nکہ باد صبا نے بھی تنکا نہ دیکھا\n\nاسے دیکھ کر اور کو پھر جو دیکھے\nکوئی دیکھنے والا ایسا نہ دیکھا\n\nوہ تھا جلوہ آرا مگر تو نے موسیٰ\nنہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا\n\nگیا کارواں چھوڑ کر مجھ کو تنہا\nذرا میرے آنے کا رستا نہ دیکھا\n\nکہاں نقش اول کہاں نقش ثانی\nخدا کی خدائی میں تجھ سا نہ دیکھا\n\nتری یاد ہے یا ہے تیرا تصور\nکبھی داغؔ کو ہم نے تنہا نہ دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ان بتوں سے ربط توڑا چاہئے", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان بتوں سے ربط توڑا چاہئے\nچاہئے اب ان کو تھوڑا چاہئے\n\nقحبۂ دنیا کو چھوڑا چاہئے\nربط اس لولی سے توڑا چاہئے\n\nکس زباں سے محتسب تو نے کہا\nساغر و مینا کو توڑا چاہئے\n\nخندہ زن ہے مستیٔ میخوار پر\nشیشۂ صہبا کو توڑا چاہئے\n\nاس بط مے نے کیا ہم کو ذلیل\nاس کی گردن کو مروڑا چاہئے\n\nجی میں ہے سیر فلک کو جائیں ہم\nبادۂ گلگوں کا گھوڑا چاہئے\n\nہے خراماں ناز سے موج نسیم\nنکہت گل کا یہ گھوڑا چاہئے\n\nدونوں آنکھیں کیوں نہ ہوں دل کو عزیز\nآہوؤں کا مجھ کو جوڑا چاہئے\n\nگر نشان منزل جاناں ملے\nپھر قدم پیچھے نہ موڑا چاہئے\n\nایک مدت میں بڑھایا تو نے ربط\nاب گھٹانا تھوڑا تھوڑا چاہئے\n\nظلمت شب سے ہے زینت ماہ کی\nزلف کو عارض پہ چھوڑا چاہئے\n\nٹوٹے دل کو مومیائے لطف سے\nہو اگر توفیق جوڑا چاہئے\n\nکیوں شہیدوں کا کفن ہووے سفید\nان کے تن پر لال جوڑا چاہئے\n\nہے جو فکر‌ شاہ عالی سلسلہ\nعالم معنی سے جوڑا چاہئے\n\nکوہ تو تیشہ سے ٹوٹا کوہ کن\nکوشک خسرو بھی توڑا چاہئے\n\nپڑ گئی چکر میں کشتی نا خدا\nاب خدا پر اس کو چھوڑا چاہئے\n\nگر سمند ناز پر تو ہو سوار\nزلف کا ہاتھوں میں کوڑا چاہئے\n\nکھل گیا مجھ سے جو اک بند قبا\nبولے اس کا ہاتھ توڑا چاہئے\n\nاس کی زلفوں کو سپیرا دیکھ لے\nگر اسے کالوں کا جوڑا چاہئے\n\nگنج‌ حسن اس کا ہے رخ اور مار زلف\nگنج پر کالوں کا جوڑا چاہئے\n\nباد پا ہے ابلق چشم سیاہ\nکیا اسے کاجل کا کوڑا چاہئے\n\nمارتا بلبل کو ہے کیوں باغباں\nکان گل کا بھی مروڑا چاہئے\n\nہے چمن میں آمد فصل بہار\nاب در زنداں کو توڑا چاہئے\n\nہے بہار آئی قبائے گل سے اب\nبلبلوں کو لال جوڑا چاہئے\n\nگل بھی ان کو خار آتے ہیں نظر\nحاسدوں کی آنکھ پھوڑا چاہئے\n\nمیں ہوں عاصی منہ میں میرے وقت نزع\nدامن تر کو نچوڑا چاہئے\n\nرہ چکا تن کے قفس میں یہ بہت\nروح کے طائر کو چھوڑا چاہئے\n\nہو اگر نہ سر میں سودا عشق کا\nپھر اسے پتھر سے پھوڑا چاہئے\n\nہاتھ میں اے گل بدن مہندی لگا\nپنجۂ مرجاں مروڑا چاہئے\n\nکون سی مشکل ہے جو آساں نہ ہو\nدل میں استقلال تھوڑا چاہئے\n\nمنزل ملک بقا میں مشرقیؔ\nدامن‌ نانک نہ چھوڑا چاہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%A8%D8%B7_%D8%AA%D9%88%DA%91%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "ان بتوں کی جو چاہ کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:نواب امراوبہادر دلیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان بتوں کی جو چاہ کرتے ہیں\nدل و دیں کو تباہ کرتے ہیں\n\nہم جو حوروں سے راہ کرتے ہیں\nواعظو کیا گناہ کرتے ہیں\n\nان سے ہم رسم و راہ کرتے ہیں\nوہ خراب و تباہ کرتے ہیں\n\nکیا اٹھائیں گے تیرے جور رقیب\nہم ہیں یہ جو نباہ کرتے ہیں\n\nمیکشوں کو برا نہ کہہ واعظ\nکیا یہ تیرا گناہ کرتے ہیں\n\nدیکھنا دم میں پیش داور حشر\nفیصلہ داد خواہ کرتے ہیں\n\nشوق سے آؤ خانۂ دل میں\nآنکھیں ہم فرش راہ کرتے ہیں\n\nشکر ہے مجھ کو اپنی بزم میں وہ\nیاد اب گاہ گاہ کرتے ہیں\n\nدیکھنا ہم رقیب سے مل کر\nدل میں اس بت کے راہ کرتے ہیں\n\nدل مرا آپ ہی ہے خانہ خراب\nآپ اسے کیوں تباہ کرتے ہیں\n\nبندے تیرے ہی عشق کے ہیں صنم\nہم خدا کو گواہ کرتے ہیں\n\nہائے جب مر چکا ہوں تو وہ اب\nنامہ اپنا سیاہ کرتے ہیں\n\nہم کو ملتا ہے رزق بے منت\nشکر فضل الٰہ کرتے ہیں\n\nان حسینوں سے اتنا کہہ دو دلیرؔ\nتھام لیں دل ہم آہ کرتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ان دنوں وہ ادھر نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان دنوں وہ ادھر نہیں آتا\nاپنا جینا نظر نہیں آتا\n\nاس کی وعدہ خلافیاں دیکھو\nآنے کہتا ہے بے پر نہیں آتا\n\nگھر بہ گھر تو پڑا پھرے ہے تو\nآہ کیوں میرے گھر نہیں آتا\n\nقاصد اس بے وفا سے یوں کہنا\nلکھ تو کچھ بھیج گر نہیں آتا\n\nگو کہ رہتا ہے یہ جرس نالاں\nمیرے نالوں سے پر نہیں آتا\n\nیار راتوں کو تیرے کوچے میں\nکب یہ خستہ جگر نہیں آتا\n\nاور کہتے نہیں رقیب اسے\nلب کچھ مجھ کو ڈر نہیں آتا\n\nکس لئے ؔجوشش اتنی نالہ کشی\nکچھ اثر تو نظر نہیں آتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ان دونوں گھر کا خانہ خدا کون غیر ہے", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان دونوں گھر کا خانہ خدا کون غیر ہے\nشیخ حرم عبث تھے انکار دیر ہے\n\nاے یار بے خبر تو مری لے نہ لے خبر\nورد زباں ترا ہی مجھے ذکر خیر ہے\n\nغیبت میں کیا تعلق اسے یاد سے مری\nکچھ کام اس کا اٹکا بھلا مجھ بغیر ہے\n\nپروا ہے کب اسے مرے رفع ملال سے\nگہہ شاغل شکار کبھی گشت سیر ہے\n\nبے وجہ کیا ہیں ہم سے یہ بے روئیاں تری\nکیا ہم میں اور تجھ میں کسی رو سے بیر ہے\n\nانسان رکھے عشق کی نسبت سے امتیاز\nیوں قید خواب و خور میں تو ہر وحش و طیر ہے\n\nاپنی گلی میں دیکھ کے حسرتؔ کو بولا یار\nچل جا پرے ہو دور اگر تیری خیر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے\nدو زہر کے پیالوں پہ قضا کھیل رہی ہے\n\nہیں نرگس و گل کس لیے مسحور تماشا\nگلشن میں کوئی شوخ ادا کھیل رہی ہے\n\nاس بزم میں جائیں تو یہ کہتی ہیں ادائیں\nکیوں آئے ہو، کیا سر پہ قضا کھیل رہی ہے\n\nاس چشم سیہ مست پہ گیسو ہیں پریشاں\nمیخانے پہ گھنگھور گھٹا کھیل رہی ہے\n\nبد مستی میں تم نے انہیں کیا کہہ دیا اخترؔ\nکیوں شوخ نگاہوں میں حیا کھیل رہی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D8%B1%D8%B3_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ان سیم کے بیجوں کو کوئی کیا جانے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اِن سیم کے بِیجوں کو کوئی کیا جانے\nبھیجے ہیں جو اَرمُغاں شہِ والا نے\nگِن کر دیویں گے ہم دُعائیں سَو بار\nفیروزے کی تسبیح کے، ہیں یہ دانے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%8C%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%AC%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "ان سے دل ملتے ہی فرقت کی بلا بھی آئی", "poet_page": "مصنف:راغب بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان سے دل ملتے ہی فرقت کی بلا بھی آئی\nجان آنے بھی نہ پائی کہ قضا بھی آئی\n\nاب تو تم گور غریباں کو چلو بے پردہ\nاس کی شمعوں کو ہوا جا کے بجھا بھی آئی\n\nہجر میں عرش سے ناکام دعا ہی نہ پھری\nنارسا ہو کے مری آہ رسا بھی آئی\n\nبات پوری نہ سنی ہم نے کبھی ناصح کی\nٹوک اٹھے اپنی سمجھ میں جو ذرا بھی آئی\n\nپھیر لی رخ سے نظر اس نے کس انداز کے ساتھ\nآئنے میں جو نظر اپنی ادا بھی آئی\n\nدیکھ کر حال مرا ان سے ہنسی رک نہ سکی\nروکنے کے لئے ہر چند حیا بھی آئی\n\nنعش پہ آ کے مری اس نے وہ باتیں چھیڑیں\nہر عزادار کو عبرت بھی حیا بھی آئی\n\nنگہ شوق نے کیا راز نہاں فاش کیا\nہم سے پردہ بھی ہوا آج حیا بھی آئی\n\nنزع میں آ کے مری صرف یہ پوچھا اس نے\nاب بتاؤ کسی مصرف میں وفا بھی آئی\n\nدل ہی خستہ نہ ہوا لشکر غم کے ہاتھوں\nبلکہ اس معرکے میں کام دعا بھی آئی\n\nدعویٰ سحر بیانی ہے عبث اے راغبؔ\nمیرؔ صاحب کی تمہیں طرز ادا بھی آئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ان سے دو آنکھ سے آنسو بھی بہائے نہ گئے", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان سے دو آنکھ سے آنسو بھی بہائے نہ گئے\nقبر عاشق کے نشاں بھی تو مٹائے نہ گئے\n\nہم مٹے بھی تو مٹے خاک جو حسرت نہ مٹی\nہم گئے بھی تو گئے کیا جو بلائے نہ گئے\n\nبزم دشمن میں ابھی تھے ابھی اپنے گھر میں\nآ کے یوں بیٹھے کہ جیسے کہیں آئے نہ گئے\n\nبرق کہئے کہ چھلاوا جو چمک دکھلا کر\nاس طرح آئے کہ آئے بھی اور آئے نہ گئے\n\nہیں وہ عاشقؔ کہ جگہ پا کے نہ نکلے دل سے\nیاد آئے تو جنوں مجھ سے بھلائے نہ گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "ان سے کہا کہ صدق محبت مگر دروغ", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان سے کہا کہ صدق محبت مگر دروغ\nکہنے لگے یہ سچ ہے کہ ہر طرح پر دروغ\n\nدزد حنا پہ دزدیٔ جاں کا ہے اتہام\nخون دل و جگر سر تیغ نظر دروغ\n\nآنا صباح حشر کا شام فراق جھوٹ\nاڑ جانا شور نالہ سے رنگ سحر دروغ\n\nہر لحظہ تیغ جاننا ابرو کا افتراک\nہر لمحہ ذوق قتل میں سر ہاتھ پر دروغ\n\nسر سنگ در سے پھوڑنا وحشت میں ناثبوت\nگر جانا سیل اشک سے دیوار و در دروغ\n\nخون جگر بجائے مئے ناب نادرست\nآتش زنی شعلہ فشاں چشم تر دروغ\n\nجاں اور فگار تیر مژہ کس قدر غلط\nدل اور اسیر رشتۂ مو سر بسر دروغ\n\nبے جاں ہو اور جیتے ہو فرقت میں اختراع\nبے دل ہو اور نیاز نگہ ہے جگر دروغ\n\nٹکڑے نگاہ ناز سے دل آپ کا درست\nوہم نظر سے دور ہماری کمر دروغ\n\nاڑتا ہے رنگ ساتھ ہی آواز ناز کے\nچین جبیں سے آپ کو اتنا خطر دروغ\n\nہے نا سپاس وصل دل ہجر دوست خبط\nہے پاک باز چشم حقیقت نگر دروغ\n\nکوچے میں میرے لے کے صبا آئے گی بجا\nتم خاک ہو گئے ہو سر رہ گزر دروغ\n\nہم کو تلاش آپ کی اور در بہ در محال\nجذب دل و جگر سے امید اثر دروغ\n\nہم اور نعش اٹھانے کو آتے خلاف عقل\nمرگ شب فراق کی ہر سو خبر دروغ\n\nیہ ضبط وضع نام قلقؔ قصہ مختصر\nشاعر ہو ہر طرح ہے تمہارا ہنر دروغ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%B5%D8%AF%D9%82_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D9%88%D8%BA"} {"title": "ان سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:انور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیں\nآگ دل میں دبائے بیٹھے ہیں\n\nوہ جو گردن جھکائے بیٹھے ہیں\nحشر کیا کیا اٹھائے بیٹھے ہیں\n\nتیرے کوچے کے بیٹھنے والے\nاپنی ہستی مٹائے بیٹھے ہیں\n\nزور بل اف رے اس نزاکت پر\nخلق کا دل دکھائے بیٹھے ہیں\n\nکیوں اٹھیں ان کی بزم سے اغیار\nرنگ اپنا جمائے بیٹھے ہیں\n\nکچھ نہیں خاک دشت الفت میں\nہم بہت خاک اڑائے بیٹھے ہیں\n\nہم نہیں آپ میں خوشی سے کہ وہ\nگھر میں مہمان آئے بیٹھے ہیں\n\nکیوں نہ پھیلائیں پاؤں بزم میں غیر\nآپ کے سر چڑھائے بیٹھے ہیں\n\nجنگجو وہ ملاپ میں بھی رہے\nمجھ سے آنکھیں لڑائے بیٹھے ہیں\n\nدل کے کھوٹے ہیں سب یہ سیم اندام\nخوب ہم آزمائے بیٹھے ہیں\n\nحسن نظارہ سوز ہے پردہ\nگو وہ پردہ اٹھائے بیٹھے ہیں\n\nاس کی عارض سے روکشی کیسی\nگل پہ ہم خار کھائے بیٹھے ہیں\n\nجیتے ہیں نام کو وگرنہ ہم\nعشق میں جی کھپائے بیٹھے ہیں\n\nہار دیکھا بھی خون عاشق کا\nآپ اور سر جھکائے بیٹھے ہیں\n\nکیوں کہ بگڑا ہوا انہیں کہیے\nبگڑے اور منہ بنائے بیٹھے ہیں\n\nجی چرانا اور اس پہ ہائے ستم\nآپ آنکھیں چرائے بیٹھے ہیں\n\nشرم بھی اک طرح کی چوری ہے\nوہ بدن کو چرائے بیٹھے ہیں\n\nجو کہ بیٹھے ہیں ان کی پیش نگاہ\nموت آنے کی جائے بیٹھے ہیں\n\nدیکھ ساقی کو اپنے دریا دل\nظرف میکش بڑھائے بیٹھے ہیں\n\nاس کے در سے لگا کے مقتل تک\nجاں فدا جائے جائے بیٹھے ہیں\n\nغیر باتوں سے اور ہم آنکھوں سے\nایک طوفاں اٹھائے بیٹھے ہیں\n\nہے یہ روشن کہ ہے حجاب میں چاند\nآپ کیا منہ چھپائے بیٹھے ہیں\n\nاس خوشی میں حنا لگاتے ہیں\nکہ مرا خوں بہائے بیٹھے ہیں\n\nجانتا ہوں کہ قتل پر میرے\nآپ بیڑا اٹھائے بیٹھے ہیں\n\nمیرے دل سوز بن کے یار مرے\nمفت جی کو جلائے بیٹھے ہیں\n\nکیا سکھائے گا ان کو ظلم فلک\nخود وہ سیکھے سکھائے بیٹھے ہیں\n\nہے جہاں اس سے فیضیاب انورؔ\nجس کے در پر ہم آئے بیٹھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%84%D9%88_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ان شوخ حسینوں کی ادا اور ہی کچھ ہے", "poet_page": "مصنف:ابو الکلام آزاد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان شوخ حسینوں کی ادا اور ہی کچھ ہے\nاور ان کی اداؤں میں مزا اور ہی کچھ ہے\n\nیہ دل ہے مگر دل میں بسا اور ہی کچھ ہے\nدل آئینہ ہے جلوہ نما اور ہی کچھ ہے\n\nہم آپ کی محفل میں نہ آنے کو نہ آتے\nکچھ اور ہی سمجھے تھے ہوا اور ہی کچھ ہے\n\nبے خود بھی ہیں ہوشیار بھی ہیں دیکھنے والے\nان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے\n\nآزادؔ ہوں اور گیسوئے پیچاں میں گرفتار\nکہہ دو مجھے کیا تم نے سنا اور ہی کچھ ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%DB%92"} {"title": "ان ظالموں کو جور سوا کام ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان ظالموں کو جور سوا کام ہی نہیں\nگویا کہ ان کے ظلم کا انجام ہی نہیں\n\nغم وصل میں ہے ہجر کا ہجراں میں وصل کا\nہرگز کسی طرح مجھے آرام ہی نہیں\n\nکیا کیا خرابیاں میں ترے واسطے سہیں\nتس پر بھی چاہنے کا مرے نام ہی نہیں\n\nاب ہم دنوں کو اپنے نہ روئیں تو کیا کریں\nکرنے تھے جن میں عیش وے ایام ہی نہیں\n\nوے شخص جن سے فخر جہاں کو تھا اب وے ہائے\nایسے گئے کہ ان کا کہیں نام ہی نہیں\n\nتم جو ہر اک کے دل کو ستاتے ہو کیا میاں\nآغاز کا جفا کے کچھ انجام ہی نہیں\n\nتاباںؔ بتا میں عجز کہاں تک کیا کروں\nجز ترک مہر یار کا پیغام ہی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ان عقل کے بندوں میں آشفتہ سری کیوں ہے", "poet_page": "مصنف:اسد ملتانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان عقل کے بندوں میں آشفتہ سری کیوں ہے\nیہ تنگ دلی کیوں ہے یہ کم نظری کیوں ہے\n\nاسرار اگر سمجھے دنیا کی ہر اک شے کے\nخود اپنی حقیقت سے یہ بے خبری کیوں ہے\n\nسو جلوے ہیں نظروں سے مانند نظر پنہاں\nدعویٔ جہاں بینی اے دیدہ وری کیوں ہے\n\nحل جن کا عمل سے ہے پیکار و جدل سے ہے\nان زندہ مسائل پر بحث نظری کیوں ہے\n\nتو دیکھ ترے دل میں ہے سوز طلب کتنا\nمت پوچھ دعاؤں میں یہ بے اثری کیوں ہے\n\nاے گل جو بہار آئی ہے وقت خود آرائی\nیہ رنگ جنوں کیسا یہ جامہ دری کیوں ہے\n\nواعظ کو جو عادت ہے پیچیدہ بیانی کی\nحیراں ہے کہ رندوں کی ہر بات کھری کیوں ہے\n\nملتا ہے اسے پانی اشکوں کی روانی ہے\nمعلوم ہوا کھیتی زخموں کی ہری کیوں ہے\n\nالفت کو اسدؔ کتنا آسان سمجھتا تھا\nاب نالۂ شب کیوں ہے آہ سحری کیوں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D8%B9%D9%82%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B4%D9%81%D8%AA%DB%81_%D8%B3%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ان نے پہلے ہی پہل پی ہے شراب آج کے دن", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان نے پہلے ہی پہل پی ہے شراب آج کے دن\nبولو دل کھول کر اے چنگ و رباب آج کے دن\n\nاے اجل جائے ترحم ہے کہ یہ عاشق زار\nکوچۂ یار میں ہے پائے تراب آج کے دن\n\nیار بد مست ہوا سب پہ چھڑکتا ہے شراب\nتہہ کر اے واعظ شہر اپنی کتاب آج کے دن\n\nروز نوروز ہے ملتے ہیں سبھی آپس میں\nکوئی کرتا ہے کسی پر بھی عتاب آج کے دن\n\nعید قرباں ہے بتاں کیوں نہیں سرگرم جفا\nقتل عشاق سمجھتے ہیں ثواب آج کے دن\n\nدور دور لب جاناں ہے عجب کیا ؔجوشش\nمے کدے شہر کے ہووے جو خراب آج کے دن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%BE%DB%81%D9%84_%D9%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%86"} {"title": "ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں\nپاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیں\n\nآ جائے ایسے جینے سے اپنا تو جی بتنگ\nجیتا رہے گا کب تلک اے خضر مر کہیں\n\nپھرتی رہی تڑپتی ہی عالم میں جا بہ جا\nدیکھا نہ میری آہ نے روئے اثر کہیں\n\nمدت تلک جہان میں ہنستے پھرا کیے\nجی میں ہے خوب روئیے اب بیٹھ کر کہیں\n\nیوں تو نظر پڑے ہیں دل افگار اور بھی\nدل ریش کوئی آپ سا دیکھا نہ پر کہیں\n\nظالم جفا جو چاہے سو کر مجھ پہ تو ولے\nپچھتاوے پھر تو آپ ہی ایسا نہ کر کہیں\n\nپھرتے تو ہو بنائے سج اپنی جدھر تدھر\nلگ جاوے دیکھیو نہ کسو کی نظر کہیں\n\nپوچھا میں درد سے کہ بتا تو سہی مجھے\nاے خانماں خراب ہے تیرے بھی گھر کہیں\n\nکہنے لگا مکان معین فقیر کو\nلازم ہے کیا کہ ایک ہی جاگہ ہو ہر کہیں\n\nدرویش ہر کجا کہ شب آمد سرائے اوست\nتو نے سنا نہیں ہے یہ مصرع مگر کہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ان پہ رشک آتا ہے یہ لوگ ہیں قسمت والے", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان پہ رشک آتا ہے یہ لوگ ہیں قسمت والے\nراہ میں تیری مٹے تیری محبت والے\n\nتیرے ہی غم میں مرے تیری محبت والے\nپاک دل لے کے گئے پاک طبیعت والے\n\nکھائے لیتے ہیں عبث جان نصیحت والے\nعشق سے باز نہ آئیں گے محبت والے\n\nاس کے سودائیوں کو نام و نشاں سے مطلب\nبے نشاں لوگ ہیں یہ عشق و محبت والے\n\nمنزل عشق میں آتے ہی ہوئے خاک بسر\nمٹ گئے مٹنے سے پہلے ہی محبت والے\n\nآ گیا بار نظر سے عرق ان گالوں پر\nیہ ہیں وہ ہم جنہیں کہتے ہیں نزاکت والے\n\nنہ ہمیں شاہوں سے مطلب نہ امیروں سے غرض\nہم حسینوں کے ہیں بندے یہ ہیں دولت والے\n\nدار پر چڑھ کے بھی منصور کی مستی نہ گئی\nکلمہ پڑھتے ہیں اسی مست کا سب متوالے\n\nتیرے قامت پہ ہے زیبا وہی اطلس کی قبا\nاپنی صورت نہ بدل چاند سی صورت والے\n\nوہ جدھر جاتا ہے چلاتی ہے یوں خلق خدا\nدیکھتا جا ادھر او چاند سی صورت والے\n\nیہ مرے عرس کی شب ہے کہ عروسی کی ہے رات\nہیں حسینان گل اندام زیارت والے\n\nیا خدا وصل کبھی ہوگا نصیب اس بت کا\nہم سے کم بخت بھی کہلائیں گے قسمت والے\n\nمیرے گھر آیا جو وہ مہر منیر اے اکبرؔ\nمجھ سے کہتا ہے کہ اب تو ہوئے قسمت والے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%D9%BE%DB%81_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D9%84%D9%88%DA%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "ان کا برباد کرم کہنے کے قابل ہو گیا", "poet_page": "مصنف:باسط بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کا برباد کرم کہنے کے قابل ہو گیا\nدرد پہلو میں جہاں بھی تھا وہیں دل ہو گیا\n\nبارہا دیکھا ہے دل نے او مرے محو خرام\nحشر اٹھا اور ترے قدموں میں شامل ہو گیا\n\nدل جہاں اچھلا فضائے دو جہاں پر چھا گیا\nعرصۂ کونین جب سمٹا مرا دل ہو گیا\n\nبے خبر رہنا ہی اچھا اس جہان غیر میں\nمٹ گیا جو واقف آداب محفل ہو گیا\n\nجو نگاہ شوق اٹھی حسن بن کر رہ گئی\nجو قدم ہم نے اٹھایا نقش منزل ہو گیا\n\nیا کبھی منزل تھی مقصود مذاق جستجو\nیا مذاق جستجو مقصود منزل ہو گیا\n\nہائے باسطؔ یہ مرے خون تمنا کا اثر\nاور بھی رنگین کچھ دامان قاتل ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ان کا جشن سال گرہ", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اک مجمع رنگیں میں وہ گھبرائی ہوئی سی\nبیٹھی ہے عجب ناز سے شرمائی ہوئی سی\nآنکھوں میں حیا لب پہ ہنسی آئی ہوئی سی\n\nہونٹوں پہ فدا روح بہار و گل و نسریں\nآنکھوں کی چمک رو کش بزم مہ و پرویں\nپیراہن زر تار میں اک پیکر سیمیں\n\nلہریں سی وہ لیتا ہوا اک پھول کا سہرا\nسہرے میں جھمکتا ہوا اک چاند سا چہرا\nاک رنگ سا رخ پر کبھی ہلکا کبھی گہرا\n\nہر سانس میں احساس فراواں کی کہانی\nخاموشئ محبوب میں اک سیل معانی\nجذبات کے طوفاں میں ہے دوشیزہ جوانی\n\nفطرت نئے جذبات کے در کھول رہی ہے\nمیزان جوانی میں اسے تول رہی ہے\nلب ساکت و صامت ہیں نظر بول رہی ہے\n\nسرشار نگاہوں میں حیا جھوم رہی ہے\nہیں رقص میں افلاک زمیں گھوم رہی ہے\nشاعر کی وفا بڑھ کے قدم چوم رہی ہے\n\nاے تو کہ ترے دم سے مری زمزمہ خوانی\nہو تجھ کو مبارک یہ تری نور جہانی\nافکار سے محفوظ رہے تیری جوانی\n\nچھلکے تری آنکھوں سے شراب اور زیادہ\nمہکیں ترے عارض کے گلاب اور زیادہ\nاللہ کرے زور شباب اور زیادہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%B4%D9%86_%D8%B3%D8%A7%D9%84_%DA%AF%D8%B1%DB%81"} {"title": "ان کا جلوہ نہیں دیکھا جاتا", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کا جلوہ نہیں دیکھا جاتا\nدیکھ دیکھا نہیں دیکھا جاتا\n\nقتل کرنے کی وہ جلدی تھی تمہیں\nاب تڑپنا نہیں دیکھا جاتا\n\nچشم خوں بار خدا رحم کرے\nتیرا رونا نہیں دیکھا جاتا\n\nالفت ان کی نہیں چھوڑی جاتی\nحال دل کا نہیں دیکھا جاتا\n\nدیکھنے ہی کے لئے ہیں آنکھیں\nان سے کیا کیا نہیں دیکھا جاتا\n\nپر تری برق تجلی کا جمال\nخوب دیکھا نہیں دیکھا جاتا\n\nنامہ پورا وہ حسنؔ کیا دیکھیں\nنام پورا نہیں دیکھا جاتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ان کا یا اپنا تماشا دیکھو", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کا یا اپنا تماشا دیکھو\nجو دکھاتا ہے زمانہ دیکھو\n\nوقت کے پاس ہیں کچھ تصویریں\nکوئی ڈوبا ہے کہ ابھرا دیکھو\n\nرنگ ساحل کا نکھر آئے گا\nدو گھڑی جانب دریا دیکھو\n\nتلملا اٹھا گھنا سناٹا\nپھر کوئی نیند سے چونکا دیکھو\n\nہم سفر غیر ہوئے جاتے ہیں\nفاصلہ رہ گیا کتنا دیکھو\n\nبرف ہو جاتا ہے صدیوں کا لہو\nایک ٹھہرا ہوا لمحہ دیکھو\n\nرنگ اڑتے ہیں تبسم کی طرح\nآئنہ خانوں کا دعویٰ دیکھو\n\nدل کی بگڑی ہوئی صورت ہے یہاں\nاب کوئی اور خرابہ دیکھو\n\nیا کسی پردے میں گم ہو جاؤ\nیا اٹھا کر کوئی پردا دیکھو\n\nدوستی خون جگر چاہتی ہے\nکام مشکل ہے تو رستہ دیکھو\n\nسادہ کاغذ کی طرح دل چپ ہے\nحاصل رنگ تمنا دیکھو\n\nیہی تسکین کی صورت ہے تو پھر\nچار دن غم کو بھی اپنا دیکھو\n\nغم گساروں کا سہارا کب تک\nخود پہ بھی کر کے بھروسا دیکھو\n\nاپنی نیت پہ نہ جاؤ باقیؔ\nرخ زمانے کی ہوا کا دیکھو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں\nبے کار جائیں اپنی دعائیں تو کیا کریں\n\nاک زہرہ وش ہے آنکھ کے پردوں میں جلوہ گر\nنظروں میں آسماں نہ سمائیں تو کیا کریں\n\nمانا کہ سب کے سامنے ملنے سے ہے حجاب\nلیکن وہ خواب میں بھی نہ آئیں تو کیا کریں\n\nہم لاکھ قسمیں کھائیں نہ ملنے کی سب غلط\nوہ دور ہی سے دل کو لبھائیں تو کیا کریں\n\nبد قسمتوں کا یاد نہ کرنے پہ ہے یہ حال\nاللہ اگر وہ یاد ہی آئیں تو کیا کریں\n\nناصح ہماری توبہ میں کچھ شک نہیں مگر\nشانہ ہلائیں آ کے گھٹائیں تو کیا کریں\n\nمے خانہ دور راستہ تاریک ہم مریض\nمنہ پھیر دیں ادھر جو ہوائیں تو کیا کریں\n\nراتوں کے دل میں یاد بسائیں کسی کی ہم\nاخترؔ حرم میں وہ نہ بلائیں تو کیا کریں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ان کو جو شغل ناز سے فرصت نہ ہو سکی", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کو جو شغل ناز سے فرصت نہ ہو سکی\nہم نے یہ کہہ دیا کہ محبت نہ ہو سکی\n\nشکر جفا بھی اہل رضا نے کیا ادا\nان سے یہی نہیں کہ شکایت نہ ہو سکی\n\nشب کا یہ حال ہے کہ تری یاد کے سوا\nدل کو کسی خیال سے راحت نہ ہو سکی\n\nپابوس کی بھی ہم کو اجازت نہ دے سکے\nاتنی بھی تم سے قدر محبت نہ ہو سکی\n\nغرق سرور و سور مجھے پا کے دفعتاً\nناصح سے ترک مے کی نصیحت نہ ہو سکی\n\nخاموشیوں کا راز محبت وہ پا گئے\nگو ہم سے عرض حال کی جرأت نہ ہو سکی\n\nکر دی زبان شوق نے سب شرح آرزو\nالفاظ میں اگرچہ صراحت نہ ہو سکی\n\nلطف مزید کی میں تمنا تو کر سکا\nتم یہ تو کہہ سکے کہ قناعت نہ ہو سکی\n\nکیوں اتنی جلد ہو گئے گھبرا کے ہم فنا\nاے درد یار کچھ تری خدمت نہ ہو سکی\n\nواعظ کو اپنے عیب ریا کا رہا خیال\nرندوں کی صاف صاف مذمت نہ ہو سکی\n\nارباب قال حال پہ غالب نہ آ سکے\nزاہد سے عاشقوں کی امامت نہ ہو سکی\n\nایسا بھی کیا عتاب کہ ساقی بچی کھچی\nآخر میں کچھ بھی ہم کو عنایت نہ ہو سکی\n\nان سے میں اپنے دل کا تقاضا نہ کر سکا\nیہ بات تھی خلاف مروت نہ ہو سکی\n\nکیوں آئے ہوش میں جو عبادت نہ کر سکے\nپیر مغاں کی ہم سے اطاعت نہ ہو سکی\n\nحسرتؔ تری نگاہ محبت کو کیا کہوں\nمحفل میں رات ان سے شرارت نہ ہو سکی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%B4%D8%BA%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D8%B1%D8%B5%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B3%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ان کو حال دل پر سوز سنا کر اٹھے", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کو حال دل پر سوز سنا کر اٹھے\nاور دو چار کے گھر آگ لگا کر اٹھے\n\nتم نے پہلو میں مرے بیٹھ کے آفت ڈھائی\nاور اٹھے بھی تو اک حشر اٹھا کر اٹھے\n\nوعدۂ وصل سے ہے نعش پہ آنے کی امید\nمژدۂ قتل مرا مجھ کو سنا کر اٹھے\n\nمنہ چھپانے میں تو ہے شرم و حیا کا پردہ\nہاں مگر دل بھی نگہ تھا کہ چرا کر اٹھے\n\nآج آئے تھے گھڑی بھر کو ظہیرؔ ناکام\nآپ بھی روئے ہمیں ساتھ رلا کر اٹھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92"} {"title": "ان کو دل دے کے پشیمانی ہے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کو دل دے کے پشیمانی ہے\nیہ بھی اک طرح کی نادانی ہے\n\nوصل سے آج نیا ہے انکار\nتم نے کب بات مری مانی ہے\n\nآپ دیتے ہیں تسلی کس کو\nہم نے اب اور ہی کچھ ٹھانی ہے\n\nحال بن پوچھے کہے جاتا ہوں\nاپنے مطلب کی یہ نادانی ہے\n\nکس قدر بار ہوں غم خواروں پر\nکیا سبک میری گراں جانی ہے\n\nگھر بلا کر وہ مجھے لوٹتے ہیں\nیہ نئی طرح کی مہمانی ہے\n\nہم سے وحشت کی نہ لے او مجنوں\nہم نے بھی خاک بہت چھانی ہے\n\nخاک اڑتی ہے جدھر جاتا ہوں\nکیا مقدر کی پریشانی ہے\n\nگھر بھی ویرانہ نظر آتا ہے\nہائے کیا بے سر و سامانی ہے\n\nآئی کیوں ان کی شکایت لب تک\nہم کو خود اس کی پشیمانی ہے\n\nکہیں دو دن نہ رہا جم کے حفیظؔ\nایک آوارہ ہے سیلانی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B4%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ان کو دماغ پرسش اہل محن کہاں", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کو دماغ پرسش اہل محن کہاں\nیہ بھی سہی تو ہم کو مجال سخن کہاں\n\nاک بوند ہے لہو کی مگر بے قرار ہے\nدل کو چھپائے زلف شکن در شکن کہاں\n\nتمکین خامشی نے انہیں بت بنا دیا\nسب اس گمان میں ہیں کہ ان کے دہن کہاں\n\nوہ شام وعدہ محو ہیں آرائشوں میں اور\nپہونچا ہے لے کے مجھ کو مرا سوء ظن کہاں\n\nبیخودؔ نہ کیوں ہوں دوریٔ استاد ہے ملول\nسوچو تو مارواڑ کہاں ہے دکن کہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%B4_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D9%85%D8%AD%D9%86_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "ان کو نفرت اسے کیا کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کو نفرت اسے کیا کہتے ہیں\nہم کو رغبت اسے کیا کہتے ہیں\n\nنقد دل لے کے ہمارا نہ دیا\nخود بدولت اسے کیا کہتے ہیں\n\nروز فرقت بھی تو ہے طول بہت\nاے قیامت اسے کیا کہتے ہیں\n\nہر پری رو پہ تجھے آ جانا\nاے طبیعت اسے کیا کہتے ہیں\n\nغیر کو بزم میں بٹھلا لینا\nہم کو رخصت اسے کیا کہتے ہیں\n\nایک تو عشق کا صدمہ مجھ کو\nاس پہ فرقت اسے کیا کہتے ہیں\n\nنقد دل عشق میں دیتے ہیں سخیؔ\nاے سخاوت اسے کیا کہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D9%81%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ان کی آرائش سے میرے کام بن جائیں گے کیا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کی آرائش سے میرے کام بن جائیں گے کیا\nدل کی گتھی شانہ ہائے زلف سلجھائیں گے کیا\n\nوصل کے وعدے سے خوش ہو کر نہ مر جائیں گے کیا\nنامہ بر ہنستا ہوا آتا ہے خود آئیں گے کیا\n\nقیدیٔ غم تربتوں میں اور ان کو یہ خیال\nکاٹنے میں اک شب فرقت کے مر جائیں گے کیا\n\nکام اپنا کر چکے اہل وفا شک ہے تو ہو\nسر نہیں باقی شہیدوں کے قسم کھائیں گے کیا\n\nعرض مطلب کے لئے اے دل زباں کھلتی نہیں\nکچھ اشارے میں کروں گا وہ سمجھ جائیں گے کیا\n\nہاتھ ادھر اٹھتا نہیں ہے تار ادھر باقی نہیں\nدیں گے وہ کیا اور ہم دامن کو پھیلائیں گے کیا\n\nقصۂ فرہاد و مجنوں کیوں سناتے ہو ہمیں\nجب پریشانی سے مطلب ہے تو گھبرائیں کیا\n\nمہمان کوئے جاناں ہو کے دل بیتاب ہے\nمیں تو سمجھاتا نہیں وہ بھی نہ سمجھائیں گے کیا\n\nمست رہتے ہیں ہمیشہ مے فروشان‌‌ جمال\nہم تو مانگیں گے کوئی ساغر وہ فرمائیں گے کیا\n\nکیوں نہ چپ بیٹھوں قفس میں دور ہی فصل بہار\nآہ و زاری سے مری موسم بدل جائیں گے کیا\n\nتنکے تنکے کا خدا حافظ چلے ہم باغ سے\nالوداع اے آشیاں اب جا کے پھر آئیں گے کیا\n\nدل کی بیماری کا عقدہ کھولنا دشوار ہے\nجو نہیں سمجھے وہ ثاقبؔ مجھ کو سمجھائیں گے کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D8%B4_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ان کی اور میری کسی روز لڑائی نہ گئی", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کی اور میری کسی روز لڑائی نہ گئی\nبات بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئی\n\nہم نے ہر چند ملا ان کو بہت روغن قاز\nپر کسی شکل ذرا ان کی رکھائی نہ گئی\n\nکیوں نہ کھاتا ترے ملنے کی قسم ہو کے یہ تنگ\nتھی مگر زہر سے بھی تلخ کہ کھائی نہ گئی\n\nاس قدر ضعف میں آواز نکلتی تو کہاں\nہم سے زنجیر در یار ہلائی نہ گئی\n\nاس کے دیدار سے محروم نزاکت نے رکھا\nدونوں ہاتھوں سے نقاب اس سے اٹھائی نہ گئی\n\nگریۂ چشم نے سو بار اٹھایا طوفاں\nپر ذرا آتش دل میری بجھائی نہ گئی\n\nمر گئے پھر بھی وہ مضطر ہے مرا دل عارفؔ\nخاک میں لاش کسی طور دبائی نہ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D9%84%DA%91%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ان کی باتوں کو کچھ قیام نہیں", "poet_page": "مصنف:نشتر چھپروی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نشتر (1930)", "year": "1930", "text_ur": "ان کی باتوں کو کچھ قیام نہیں\nصبح کہتے ہیں ہاں تو شام نہیں\n\nذکر دشمن پہ کیوں بگڑتے ہو\nمہرباں آپ کا تو نام نہیں\n\nمجھ کو کمبخت کیوں کہو ہر دم\nمیری جاں یہ تو میرا نام نہیں\n\nبرہمن ہم ہوئے مسلماں سے\nاب بھی کافر تو ہوگا رام نہیں\n\nدر پہ ہے پاسبان میرے لئے\nغیر جائے تو روک تھام نہیں\n\nغیر پر خم کے خم لنڈھاتے ہو\nمیرے حصے کا کوئی جام نہیں\n\nمست ہو کر وہ شیخ کا کہنا\nمفت کی ہو تو مے حرام نہیں\n\nجب کہا تم عدو پہ مرتے ہو\nبولے اس میں کوئی کلام نہیں\n\nغیر کیوں جا رہے ہیں مقتل کو\nامتحاں میرا قتل عام نہیں\n\nبس تمہارا غلام ہو کے رہوں\nچاہئے مجھ کو اور نام نہیں\n\nمست رکھتی ہے چشم مست اس کی\nمجھ کو اب آرزوئے جام نہیں\n\nہنس پڑے ذکر وصل دشمن پر\nیعنی میرا خیال خام نہیں\n\nعید کا دن ہے پی بھی لے اک جام\nاب تو زاہد مہ صیام نہیں\n\nتیری عیاریاں سمجھتا ہوں\nتجھ کو اور دشمنوں سے کام نہیں\n\nکم ہے کب روز ہجر سے شب غم\nصبح اس کی تو اس کی شام نہیں\n\nغیر ہی فیضیاب رہتا ہے\nمہربانی تمہاری عام نہیں\n\nایک چپ سی لگی ہے نشترؔ کو\nجب سے وہ شوخ ہم کلام نہیں", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ان کی خلوت میں رساؔ بھی ہوگا", "poet_page": "مصنف:رسا رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کی خلوت میں رساؔ بھی ہوگا\nکبھی یوں حکم خدا بھی ہوگا\n\nمجھ پہ جو تو نے ستم ڈھایا ہے\nکہیں دنیا میں ہوا بھی ہوگا\n\nصبر والوں کا بھی دن آئے گا\nایک دن روز جزا بھی ہوگا\n\nآپ سا کوئی نہیں دنیا میں\nآپ نے یہ تو سنا بھی ہوگا\n\nمحفل شعر میں ہو آئیں چلو\nآج سنتے ہیں رساؔ بھی ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%94_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ان کی رخصت اک قیامت تھی دم اظہار صبح", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کی رخصت اک قیامت تھی دم اظہار صبح\nشام تک بچتا نظر آتا نہیں بیمار صبح\n\nمجھ کو بھی اے شمع رو لے وصل کی شب ہے اخیر\nاور دو آنسو بہا اے کشتۂ آزار صبح\n\nکھو دیا طول شب فرقت نے لطف انتظار\nدیدۂ بے خواب کو ہے حسرت دیدار صبح\n\nوصل کی شب بجھ گیا تھا جو ہمارا داغ دل\nمہر بن کر اب وہی ہے طرۂ دستار صبح\n\nصبح سے پہلے الٹ دی اس نے چہرے سے نقاب\nاب کوئی کافر بھی کر سکتا نہیں انکار صبح\n\nرات بھر میری زباں پر سر گذشت شام غم\nان کے لب ہیں آشنائے لذت گفتار صبح\n\nوصل کی بے لطفیاں بھی لطف سے خالی نہیں\nرات بھر دل کو مزہ دیتی رہی تکرار صبح\n\nعید ملنے آئیں وہ گر عید کا نکلا ہے چاند\nشام آئے ساتھ لے کر دولت بیدار صبح\n\nوصل میں ہے اپنی قسمت کی خلش بھی یادگار\nدامن شب سے الجھ جاتے ہیں اکثر خار صبح\n\nدے صبوحی جلد ساقی اب نہیں ماہ صیام\nبے سبب کیوں راہ دیکھیں شام کی مے خوار صبح\n\nدیکھنا کیا جلد گزری ہے شب وعدہ نظرؔ\nوہ ادھر آئے ادھر ظاہر ہوئے آثار صبح", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%D8%A7%DA%A9_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%85_%D8%A7%D8%B8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%AD"} {"title": "ان کی رفتار سے دل کا عجب احوال ہوا", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کی رفتار سے دل کا عجب احوال ہوا\nرندہ گیا پس گیا مٹی ہوا پامال ہوا\n\nدشت وحشت کا علاقہ مجھے امسال ہوا\nداغ سودا صفت نیر اقبال ہوا\n\nاس بکھیڑے سے الٰہی کہیں چھٹکارا ہو\nعشق گیسو نہ ہوا جان کا جنجال ہوا\n\nنظر لطف نہ کی تو نے مرے رونے پر\nطفل اشک اے مہ خوبی نہ خوش اقبال ہوا\n\nہیں وہ صوفی جو کبھی نالۂ ناقوس سنا\nوجد کرنے لگے ہم دل کا عجب حال ہوا\n\nپڑ گیا ان پہ مرے پیچ میں لانے کا وبال\nکیا پریشان ترے گیسوؤں کا حال ہوا\n\nدولت فقر ہو اے منعمو اور کملی ہو\nفخر کیا ہے جو دوشالہ ہوا رومال ہوا\n\nاپنی قسمت کا نوشتہ جو دکھایا ہم نے\nحشر کے روز غلط نامۂ اعمال ہوا\n\nآسماں نے مجھے محروم شہادت رکھا\nتیغ قاتل کے لئے بخت‌ سیہ ڈھال ہوا\n\nلوگ کہنے لگے کندن پہ چڑھائے مینا\nسبزۂ خط سے وہ خوش رنگ ترا گال ہوا\n\nتیغ حسن اے گل تر ہو گئی خون آلودہ\nمجھ پہ غصے میں تیرا منہ جو بہت لال ہوا\n\nطائر دل کی لئے آپ نے صیادی کی\nرشتۂ دام‌ بلا زلف کا ہر بال ہوا\n\nلا مکاں تک کہیں ٹھہرا نہ مرا پائے خیال\nمزرع سبز فلک بیچ میں پامال ہوا\n\nاے صباؔ آپ رعایت نہ کریں لفظوں کی\nزر گل پایا جو گلچیں نے تو کیا مال ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "ان کی ٹھوکر میں شرارت ہوگی", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کی ٹھوکر میں شرارت ہوگی\nفتنے اٹھیں گے قیامت ہوگی\n\nکج ادائی کی تلافی کیوں ہو\nمہربانی تو مصیبت ہوگی\n\nمیری فرصت کا ٹھکانا کیا ہے\nآپ کو بھی کبھی فرصت ہوگی\n\nوہ نہ ہوں گے تو نہ ہوگا کچھ بھی\nدیکھنے کے لئے جنت ہوگی\n\nکیا خبر تھی دم رخصت یہ عزیزؔ\nشکر کے بدلے شکایت ہوگی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%B9%DA%BE%D9%88%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C"} {"title": "ان کی چٹکی میں دل نہ مل جاتا", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کی چٹکی میں دل نہ مل جاتا\nتو یہ سکہ ہمارا چل جاتا\n\nشمع تھا یار جو پگھل جاتا\nاور میں پروانہ تھا جو جل جاتا\n\nکیا کہیں سیر کو وہ گل نہ گیا\nباغ کا رنگ ہی بدل جاتا\n\nگور ہی سے نہ بن پڑی ورنہ\nاژدہا تو ہمیں نگل جاتا\n\nاب تو پستاں نکالئے صاحب\nاتنے سن میں انار پھل جاتا\n\nصدمے گھیرے ہیں ہجر میں دم کو\nسانس پاتا تو یہ نگل جاتا\n\nکیا گراتا سخیؔ یہ چرخ مجھے\nیا علیؔ کہتا اور سنبھل جاتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D9%B9%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ان کی یہ ضد کہ مرے گھر میں نہ آئے کوئی", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کی یہ ضد کہ مرے گھر میں نہ آئے کوئی\nاپنی ہی ہٹ کہ مجھے خود ہی بلائے کوئی\n\nوصل میں ہائے بگڑ کر یہ کسی کا کہنا\nہاتھ ٹوٹیں جو ہمیں ہاتھ لگائے کوئی\n\nحشر میں دیکھ کے آمادۂ فریاد مجھے\nکہتے ہیں طنز سے اب ان کو مٹائے کوئی\n\nاصل اور نقل میں کیا فرق ہے کھل جائے ابھی\nتیری تصویر جو یوسف سے ملائے کوئی\n\nکیوں فلک ہم کو مٹائے جو تم اتنی کہہ دو\nغم زدوں کو نہ محبت کے ستائے کوئی\n\nان کی رگ رگ میں زمانے کی بھری ہیں گھاتیں\nبھولی صورت پہ حسینوں کی نہ جائے کوئی\n\nہائے جھنجھلا کے شب وصل کسی کا کہنا\nنیند آتی ہے ہمیں اب نہ جگائے کوئی\n\nبت کدے میں تو یہ شکلیں بھی نظر آتی ہیں\nشیخ کعبے میں دھرا کیا ہے کہ جائے کوئی\n\nپارسائی میں بھی نفرت ہے رکھائی سے حفیظؔ\nتھوڑی پی لیں جو محبت سے پلائے کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%B6%D8%AF_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں\nہیں جہاں سو ہزار ہم بھی ہیں\n\nتم بھی بے چین ہم بھی ہیں بے چین\nتم بھی ہو بے قرار ہم بھی ہیں\n\nاے فلک کہہ تو کیا ارادہ ہے\nعیش کے خواست گار ہم بھی ہیں\n\nکھینچ لائے گا جذب دل ان کو\nہمہ تن انتظار ہم بھی ہیں\n\nبزم دشمن میں لے چلا ہے دل\nکیسے بے اختیار ہم بھی ہیں\n\nشہر خالی کئے دکاں کیسی\nایک ہی بادہ خوار ہم بھی ہیں\n\nشرم سمجھے ترے تغافل کو\nواہ کیا ہوشیار ہم بھی ہیں\n\nہاتھ ہم سے ملاؤ اے موسیٰ\nعاشق روئے یار ہم بھی ہیں\n\nخواہش بادۂ طہور نہیں\nکیسے پرہیزگار ہم بھی ہیں\n\nتم اگر اپنی گوں کے ہو معشوق\nاپنے مطلب کے یار ہم بھی ہیں\n\nجس نے چاہا پھنسا لیا ہم کو\nدلبروں کے شکار ہم بھی ہیں\n\nآئی مے خانے سے یہ کس کی صدا\nلاؤ یاروں کے یار ہم بھی ہیں\n\nلے ہی تو لے گی دل نگاہ تری\nہر طرح ہوشیار ہم بھی ہیں\n\nادھر آ کر بھی فاتحہ پڑھ لو\nآج زیر مزار ہم بھی ہیں\n\nغیر کا حال پوچھئے ہم سے\nاس کے جلسے کے یار ہم بھی ہیں\n\nکون سا دل ہے جس میں داغؔ نہیں\nعشق میں یادگار ہم بھی ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ان کے پیکان پہ پیکان چلے آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کے پیکان پہ پیکان چلے آتے ہیں\nدل میں گھر کرنے کو مہمان چلے آتے ہیں\n\nدیکھ کر آئے ہیں کیا عارض و گیسو ان کے\nلوگ حیران پریشان چلے آتے ہیں\n\nچار انگل کا وہ پرچہ نہیں لکھتے مجھ کو\nپاس اغیار کے فرمان چلے آتے ہیں\n\nاپنی محفل میں مجھے دیکھ کے کہتا ہے وہ بت\nکیوں مرے گھر میں مسلمان چلے آتے ہیں\n\nبزم اغیار میں کس شخص نے گستاخی کی\nکہ وہ خاموش پشیمان چلے آتے ہیں\n\nدوش احباب یہ آگے ہے جنازہ میرا\nپیچھے سر پیٹتے ارمان چلے آتے ہیں\n\nکیا بتائیں کہ نسیمؔ آتے ہیں کیوں آپ کے گھر\nمفت ہونے کو پشیمان چلے آتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D9%86_%D9%BE%DB%81_%D9%BE%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D9%86_%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ان کے ہوتے کون دیکھے دیدہ و دل کا بگاڑ", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ان کے ہوتے کون دیکھے دیدہ و دل کا بگاڑ\nپڑ گیا دونوں میں فرط رشک سے کیسا بگاڑ\n\nاس کی محفل کا مرقع کھینچ اے مانی مگر\nاس مرقع میں ذرا تو غیر کا چہرا بگاڑ\n\nتیرے جھکنے سے جھکے ہیں دل کے لینے کو حسیں\nکم لگا کر دام اے ظالم نہ تو سودا بگاڑ\n\nدخت رز کو شکل تیری دیکھ کر نفرت نہ ہو\nتلخیٔ مے سے ارے زاہد نہ منہ اتنا بگاڑ\n\nہاں وہی پھر کعبہ بن جائے گا اے شیخ حرم\nبت کدہ کا پہلے نقشہ کھینچ پھر نقشہ بگاڑ\n\nہو تعلق گل رخوں سے تو مزا ہر بات میں\nکیا بناوٹ کیا کھنچاوٹ کیا لگاوٹ کیا بگاڑ\n\nمیرے حال زار پر آ جائے تجھ کو آپ رحم\nاو بنانے والے میرے مجھ کو تو اتنا بگاڑ\n\nکوئی ہوں کافر ہوں یا اللہ والے اے ریاضؔ\nچار دن کی زندگانی میں کسی سے کیا بگاڑ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%AF%D8%A7%DA%91"} {"title": "انار کلی", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "تیرے غم میں کتنا نازک ہو گیا ہے دل کہ اب\nاس بھرے بازار میں\nہر صدا اک اجنبی احساس کا آئینہ ہے\nآج تیرے غم سے فارغ ہو کے میں\nبہہ رہا ہوں لذت اظہار کے سیلاب میں\nلڑکھڑاتے رینگتے لنگڑاتے ہنستے بولتے\nلفظ اور ان کا دھواں خوشبو چمک\nچل رہے ہیں مل کے بے آہنگ آوازوں کے رنگ\nاجنبی ہونٹوں کے لفظ\nآرزؤں کے غبارے حسرتوں کی تتلیاں\nچار سو اڑتی ہیں میں خاموش ہوں\nگفتگو کے دائروں میں پھیل کر\nرنگ بھرتا جا رہا ہے ان تمناؤں کا خوں\nجن کے لفظوں نے زباں دی سننے والوں کا خیال\nان میں ڈوبا جا رہا ہے بولتے لفظوں کا سحر\nاس کو اپنے دام میں لاتا ہوا\nپھیل کر آتا ہے مجھ تک پیچ و خم کھاتا ہوا\nاور میں\nاس کی کیفیت کا غازہ اپنے چہرے پر لگائے\nاک نئی آواز کے سائے میں ہوں\nچاہتا ہوں بند آنکھوں سے میں اس سیلاب میں\nکود جاؤں اور نظارہ کروں\nاپنے کانوں سے دلوں کے ترجماں الفاظ کا\nصورت گویا سے بڑھ کر ہے سخن انداز کا\n\nنقرئی آواز میں لفظوں کا نور\nاپنے ہم راہی کے دل پر نغمہ بار\nجیسے شبنم دامن گل پر گرے بے اختیار\n\nاس صدا میں حرف ہیں یا موم کے آنسو ہیں جو\nشمع کے پہلو میں گرتے جا رہے ہیں کیا کروں\nآنکھیں کھولوں اور اس بچی کی صورت دیکھ لوں\nاس صدا میں نخوت زر کا جلال\nجیسے پربت سے گرے جھرنا کوئی\nسنگ اسود کی چٹانیں توڑنا\n\nدوست ہم سن ہم سخن\nجن کے سادہ صاف سے انداز میں\nکوئی ماضی کوئی مستقبل نہیں\nحال کے لمحات رنگیں قہقہے پھولوں کے ہار\nاور اس آواز میں\nزیست کی محرومیاں زنجیر در زنجیر ہیں\nکھولتے لفظوں کی بھاپ\nدل کے آئینے کو دھندلاتی ہے ہاتھ\nخود بخود بڑھتا ہے اپنی جیب کی جانب مگر\nیہ گدا بھی تو نہیں\nاور اس آواز میں حرص و ہوس کا زہر ہے\nلفظ تیروں کی طرح اڑتے ہوئے\nسینۂ احساس میں پیوست ہوتے ہیں مگر\nدل سے نفرت کے سوا کوئی صدا اٹھتی نہیں\nاور یہ آواز میری دوست دار دل تری آواز ہے\nکتنے نغمے گونجتے ہیں کتنی راتوں کا خمار\nکتنے رنگوں کا تلاطم کتنے پھولوں کی ہنسی\nسرسراتے ریشمیں ملبوس کے مانند یہ تیری صدا\nڈھانپتی ہے گرمئی آغوش سے پرواز میں\nکھو گئی ہیں ساری آوازیں تری آواز میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%84%DB%8C"} {"title": "انتظار حشر کر سکتے نہیں ناکام عشق", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انتظار حشر کر سکتے نہیں ناکام عشق\nآج ہی ہو جائے ہونا ہو جو کل انجام عشق\n\nابتدا میں درد فرقت موت ہے انجام عشق\nاہل دل کو نا موافق ہے ہوائے بام عشق\n\nبے خودی میں ڈبڈبا آئے ہیں آنسو آنکھ میں\nالمدد اے ضبط چھلکا چاہتا ہے جام عشق\n\nاس کی الفت نے کیا رسوائے عالم کس قدر\nانگلیاں اٹھتی ہیں جاتے ہیں جدھر بدنام عشق\n\nکیوں نصیحت میں تری ناصح ہیں یہ دل سوزیاں\nکیا ترے دل پر گزرتے ہیں مرے آلام عشق\n\nچشم گریاں قلب نالاں کی شماتت قہر ہے\nدونوں مل کر اک مجھی کو دیتے ہیں الزام عشق\n\nحسرتیں بھی آج دل کے ساتھ ہی دم توڑ دیں\nآگے پیچھے ساتھ والوں کا نہ ہو انجام عشق\n\nبام پر آ کر ذرا بکھرائیے زلف دراز\nپھیل جائے سارے عالم میں سواد شام عشق\n\nاور کیا اعجاز ہوتا حسن لیلیٰ کے لیے\nمر گیا مجنوں مگر زندہ ہے اب تک نام عشق\n\nچار ہی دن میں نظرؔ تم اس قدر گھبرا گئے\nآسماں سے کوئی پوچھے گردش ایام عشق", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "انتہا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "پھر آج یاس کی تاریکیوں میں ڈوب گئی!\nوہ اک نوا جو ستاروں کو چوم سکتی تھی\n\nسکوت شب کے تسلسل میں کھو گئی چپ چاپ\nجو یاد وقت کے محور پہ گھوم سکتی تھی\n\nابھی ابھی مری تنہائیوں نے مجھ سے کہا\nکوئی سنبھال لے مجھ کو، کوئی کہے مجھ سے\n\nابھی ابھی کہ میں یوں ڈھونڈھتا تھا راہ فرار\nپتہ چلا کہ مرے اشک چھن گئے مجھ سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7"} {"title": "انتہا بھی اس کی ہے؟ آخر خریدیں کب تلک", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "انتہا بھی اس کی ہے؟ آخر خریدیں کب تلک\nچھتریاں، رُومال، مفلر، پیرہن جاپان سے\n\nاپنی غفلت کی یہی حالت اگر قائم رہی\nآئیں گے غسّال کابل سے،کفن جاپان سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92%D8%9F_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%D9%84%DA%A9"} {"title": "انتہا صبر آزمائی کی", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انتہا صبر آزمائی کی\nہے درازی شب جدائی کی\n\nہے برائی نصیب کی کہ مجھے\nتم سے امید ہے بھلائی کی\n\nنقش ہے سنگ آستاں پہ ترے\nداستاں اپنی جبہ سائی کی\n\nتم سے کچھ مل کے خوش ہوا ہوں کہ ہوں\nدہر میں حسرت آشنائی کی\n\nہے فغاں بعد امتحان فغاں\nپھر شکایت ہے نارسائی کی\n\nکیا نہ کرتا وصال شادیٔ مرگ\nتم نے کیوں مجھ سے کج ادائی کی\n\nراز کھلتے گئے مرے سب پر\nجس قدر اس نے خود نمائی کی\n\nکتنے عاجز ہیں ہم کہ پاتے ہیں\nبندے بندے میں لو خدائی کی\n\nرہ گئیں دل میں حسرتیں سالکؔ\nآ گئی عمر پارسائی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D8%B2%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "انتہائے عشق ہو یوں عشق میں کامل بنو", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انتہائے عشق ہو یوں عشق میں کامل بنو\nخاک ہو کر بھی نشان سرحد منزل بنو\n\nمیرے شکوؤں پر یہ کہنا رحم کے قابل بنو\nمدعا یہ ہے کہ اپنے حال سے غافل بنو\n\nغرق ہو کر رول لو موتی خود اپنے واسطے\nڈوب کر ابھرو تو اوروں کے لیے ساحل بنو\n\nانجمن کیسی تم اپنی ذات سے ہو انجمن\nگوشۂ خلوت میں بھی بیٹھو تو اک محفل بنو\n\nحسن خود بیں معجزات عشق کا قائل نہیں\nقطرہ ہائے اشک خونیں جمع ہو کر دل بنو\n\nساتھ آزادی کے خود داری بھی رہنا چاہئے\nبحر بے پایاں کبھی لب خشکئ ساحل بنو\n\nعلم کا دورہ لہو کے ساتھ رگ رگ میں رہے\nجوہر قابل اگر ہو قوت عامل بنو\n\nشرم سے تم کو سمٹنا ہے تو سمٹو حسن سے\nدل میں بن جاؤ سویدا پتلیوں میں تل بنو\n\nربط باطن کیا سنو تفصیل اس اجمال کی\nہم سراپا درد ہوں اور تم سراپا دل بنو\n\nجلنے والو تا بہ امکاں ضبط سوز غم کرو\nآگ جب بھڑکے چراغ سرحد منزل بنو\n\nکچھ دنوں بیٹھو سر قبر عزیزؔ بے نوا\nخانقاہوں میں بہت دشوار ہے کامل بنو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%88_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%84_%D8%A8%D9%86%D9%88"} {"title": "انجام بخیر", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "رتی، ماشہ، تولہ", "year": "1956", "text_ur": "بٹوارے کے بعد جب فرقہ وارانہ فسادات شدت اختیار کر گئے اور جگہ جگہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے خون سے زمین رنگی جانے لگی تو نسیم اختر جو دہلی کی نوخیز طوائف تھی اپنی بوڑھی ماں سے کہا،’’چلو ماں یہاں سے چلیں۔‘‘بوڑھی نائکہ نے اپنے پوپلے منہ میں پاندان سے چھالیہ کے باریک باریک ٹکڑے ڈالتے ہوئے اس سے پوچھا، ’’کہاں جائیں گے بیٹا۔۔۔‘‘\n\nپاکستان۔ یہ کہہ کر وہ اپنے استاد خان صاحب اچھن خاں سے مخاطب ہوئی،’’خان صاحب! آپ کا کیا خیال ہے؟ یہاں رہنا اب خطرے سے خالی نہیں۔‘‘\n\nخان صاحب نے نسیم اختر کی ہاں میں ہاں ملائی، ’’تم کہتی ہو مگر بائی جی کو منا لو تو سب چلیں گے۔‘‘\n\nنسیم اختر نے اپنی ماں سے بہتیرا کہاکہ چلو اب یہاں ہندوؤں کا راج ہوگا۔ کوئی مسلمان باقی نہیں چھوڑیں گے۔\n\nبڑھیا نے کہا، ’’تو کیا ہوا، ہمارا دھندہ تو ہندوؤں کی بدولت ہی چلتا ہے اور تمہارے چاہنے والے بھی سب کے سب ہندو ہی ہیں ،مسلمانوں میں رکھا ہی کیا ہے۔‘‘\n\n’’ایسا نہ کہو، ان کا مذہب اور ہمارا مذہب ایک ہے۔ قائد اعظم نے اتنی محنت سے مسلمانوں کے لیے پاکستان بنایا ہے ہمیں اب وہیں رہنا چاہیے۔‘‘\n\nمانڈو میراثی نے افیم کے نشہ میں اپنا سر ہلایا اور غنودگی بھری آواز میں کہا، ’’چھوٹی بائی، اللہ سلامت رکھے تمھیں۔۔۔ کیا بات کہی ہے۔ میں تو ابھی چلنے کے لیے تیار ہوں ،میری قبر وہاں بنے تومیری روح ہمیشہ خوش رہے گی۔‘‘\n\nدوسرے میراثی تھے، وہ بھی تیار ہوگئے، لیکن بڑی بائی دلی چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔ بالا خانے پر اسی کا حکم چلتا تھا، اس لیے سب خاموش ہو گئے۔\n\nبڑی بائی نے سیٹھ گوبند پرکاش کی کوٹھی پر آدمی بھیجا اور اس کو بلا کر کہا، ’’میری بچی آج کل بہت ڈری ہوئی ہے۔ پاکستان جانا چاہتی تھی۔ مگر میں نے سمجھایا،وہاں کیا دھرا ہے۔ یہاں آپ ایسے مہربان سیٹھ لوگ موجود ہیں، وہاں جا کر ہم اپلے تھاپیں گے۔ آپ ایک کرم کیجیے۔‘‘\n\nسیٹھ بڑی بائی کی باتیں سن رہا تھا مگر اس کا دماغ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔ ایک دم چونک کر اس نے بڑی بائی سے پوچھا،’’تو کیا چاہتی ہے؟ ‘‘\n\n’’ہمارے کوٹھے کے نیچے دو تین بندوقوں والے سپاہیوں کا پہرا کھڑا کر دیجیے تاکہ بچی کا سہم دور ہو۔‘‘\n\nسیٹھ گوبند پرکاش نے کہا،’’ یہ کوئی مشکل نہیں۔ میں ابھی جا کر سپریٹنڈنٹ پولیس سے ملتا ہوں، شام سے پہلے پہلے سپاہی موجود ہوں گے۔‘‘\n\nنسیم اختر کی ماں نے سیٹھ کو بہت دعائیں دیں۔ جب وہ جانے لگا تو اس نے کہا ہم آج اپنی بائی کا مجرا سننے آئیں گے۔ بڑھیا نے اٹھ کر تعظیماً کہا، ’’ہائے جم جم آئیے، آپ کا اپنا گھر ہے، بچی کو آپ اپنی قمیص سمجھیے، کھانا یہیں کھائیے گا۔‘‘\n\n’’نہیں میں آج کل پرہیزی کھانا کھارہا ہوں۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنی توند پر ہاتھ پھیرتا چلا گیا۔\n\nشام کو نسیم کی ماں نے چاندنیاں بدلوائیں، گاؤتکیوں پر نئے غلاف چڑھوائے ،زیادہ روشنی کے بلب لگوائے، اعلیٰ قسم کے سگرٹوں کا ڈبہ منگوانے بھیجا۔تھوڑی ہی دیر کے بعد نوکر حواس باختہ ہانپتا کانپتا واپس آ گیا۔ اس کے منہ سے ایک بات نہ نکلتی تھی۔ آخر جب وہ کچھ دیر کے بعد سنبھلا تو اس نے بتایا کہ چوک میں پانچ چھ سکھوں نے ایک مسلمان خوانچہ فروش کو کرپانوں سے اس کی آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ہے، جب اس نے یہ دیکھا تو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا اور یہاں آن کے دم لیا۔\n\nنسیم اختر یہ خبر سن کر بے ہوش ہوگئی۔ بڑی مشکلوں سے خان صاحب اچھن خاں اسے ہوش میں لائے مگر وہ بہت دیر تک نڈھال رہی اور خاموش خلا میں دیکھتی رہی۔ آخر اس کی ماں نے کہا،’’خون خرابے ہوتے ہی رہتے ہیں، کیا اس سے پہلے قتل نہیں ہوتے تھے؟‘‘ دم دلاسہ دینے کے بعد نسیم اختر سنبھل گئی تو اس کی ماں نے اس سے بڑے دلاراور پیار سے کہا، ’’اٹھو میری بچی، جاؤ پشواز پہنو، سیٹھ آتے ہی ہوں گے۔‘‘\n\nنسیم نے بادل نخواستہ پشواز پہنی، سولہ سنگھار کیے اور مسند پر بیٹھ گئی۔ اس کا جی بھاری بھاری تھا۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا تھاکہ اس مقتول خوانچہ فروش کا سارا خون اس کے دل و دماغ میں جم گیا ہے ،اس کا دل ابھی تک دھڑک رہا تھا ۔وہ چاہتی تھی کہ زرق برق پشواز کی بجائے سادہ شلوار قمیص پہن لے اور اپنی ماں سے ہاتھ جوڑ کر بلکہ اس کے پاؤں پڑ کر کہے کہ خدا کے لیے میری بات سنو اور بھاگ چلو یہاں سے۔ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ ہم پر کوئی نہ کوئی آفت آنے والی ہے۔\nبڑھیا نے جھنجھلا کر کہا، ’’ہم پرکیوں آفت آنے لگی، ہم نے کسی کا کیا بگاڑا ہے؟‘‘\n\nنسیم نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا، ’’اس غریب خوانچہ فروش نے کسی کا کیا بگاڑا تھا جو ظالموں نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ بگاڑنے والے بچ جاتے ہیں۔ مارے جاتے ہیں جنہوں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا ہوتا۔‘‘\n\n’’تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔‘‘\n\n’’ایسے حالات میں کس کا دماغ درست رہ سکتا ہے۔ چاروں طرف خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھی، بالکونی میں کھڑی ہوگئی اور نیچے بازار میں دیکھنے لگی۔ اسے بجلی کے کھمبے کے پاس چار آدمی کھڑے دکھائی دیے۔ جن کے پاس بندوقیں تھیں ،اس نے خان اچھن کو بتایا اور وہ آدمی دکھائے۔ ایسا لگتا ہےکہ وہی سپاہی ہیں جن کو بھیجنے کا وعدہ سیٹھ کر گیا تھا۔\nخان صاحب نے غور سے دیکھا۔\n\n’’نہیں یہ سپاہی نہیں۔ سپاہیوں کی تو وردی ہوتی ہے، مجھے تو یہ غنڈے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘\n\nنسیم اختر کا کلیجہ دھک سے رہ گیا، ’’غنڈے! ‘‘\n\n’’اللہ بہتر جانتا ہے۔ کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ لو یہ تمہارے کوٹھے کی طرف آ رہے ہیں۔ دیکھو نسیم، کسی بہانے سے اوپر کوٹھے پر چلی جاؤ، میں تمہارے پیچھے آتا ہوں۔ مجھے دال میں کالا نظر آتا ہے۔‘‘\n\nنسیم اختر چپکے سے باہر نکلی اور اپنی ماں سے نظر بچا کر اوپر کی منزل پر چلی گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد خان صاحب اچھن خاںاپنی چندھی آنکھیں جھپکاتا اوپر آیا اور جلدی سے دروازہ بند کر کے کنڈی چڑھا دی۔\n\nنسیم اختر جس کا دل جیسے ڈوب رہا تھا، خان صاحب سے پوچھا، ’’کیا بات ہے؟‘‘\n’’وہی جو میں نے سمجھا تھا۔ تمہارے متعلق پوچھ رہے تھے، کہتے تھے سیٹھ گوبند پرکاش نے کار بھیجی ہے اور بلوایا ہے۔ تمہاری ماں بڑی خوش ہوئی ۔بڑی مہربانی ہے ان کی۔ میں دیکھتی ہوں کہاں ہے شاید غسل خانے میں ہو۔ اتنی دیر میں میں تیار ہو جاؤں۔ان غنڈوں میں سے ایک نے کہا،تمھیں کیا شہد لگا کر چاٹیں گے ،بیٹھی رہو جہاں بیٹھی ہو ،خبردار! جو تم وہاں سے ہلیں ۔ہم خود تمہاری بیٹی کو ڈھونڈ نکالیں گے۔ میں نے جب یہ باتیں سنیں اور ان غنڈوں کے بِگڑے ہوئے تیور دیکھے تو کھسکتا کھسکتا یہاں پہنچ گیا ہوں۔‘‘\n\nنسیم اختر حوا س باختہ تھی، ’’اب کیا کیا جائے ؟‘‘\n\nخان نے اپنا سر کھجایا اور جواب دیا، ’’دیکھو میں کوئی ترکیب سوچتا ہوں بس یہاں سے نکل بھاگنا چاہیے۔‘‘\n\n’’اور ماں؟‘‘\n\n’’اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا، اس کو اللہ کے حوالے کر کے خود باہر نکلنا چاہیے۔‘‘\n\nاوپر چار پائی پر دو چادریں پڑی ہوئی تھیں۔ خان صاحب نے ان کو گانٹھ دے کر رسہ سا بنایا اور مضبوطی سے ایک کنڈے کے ساتھ باندھ کر دوسری طرف لٹکایا ۔نیچے لانڈری کی چھت تھی، وہاں اگر وہ پہنچ جائیں تو راستہ آگے صاف ہے۔ لانڈری کی چھت کی سیڑھیاں دوسری طرف تھیں اس کے ذریعے سے وہ طویلے میں پہنچ جاتے اور وہاں سائیس سے جو مسلمان تھا، تانگہ لیتے اور اسٹیشن کا رخ کرتے۔\nنسیم اختر نے بڑی بہادری دکھائی۔ آرام آرام سے نیچے اتر کر لانڈری کی چھت تک پہنچ گئی۔ خان صاحب اچھن خاں بھی بحفاظت تمام اتر گئے۔ اب وہ طویلے میں تھے ۔سائیس اتفاق سے تانگے میں گھوڑا جوت رہا تھا۔ دونوں اس میں بیٹھے اور اسٹیشن کا رخ کیا مگر راستے میں ان کو ملٹری کا ٹرک مل گیا ،اس میں مسلح فوجی مسلمان تھے جو ہندووں کے خطرناک محلوں سے مسلمانوں کو نکال نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچا رہے تھے جو پاکستان جانا چاہتے، ان کو اسپیشل ٹرینوں میں جگہ دلوا دیتے۔\n\nتانگہ سے اتر کر نسیم اختر اور اس کا استاد ٹرک میں بیٹھے اور چند ہی منٹوں میں اسٹیشن پر پہنچ گئے۔ اسپیشل ٹرین اتفاق سے تیار تھی اس میں ان کو اچھی جگہ مل گئی اور وہ بخیریت لاہور پہنچ گئے ۔یہاں وہ قریب قریب ایک مہینے تک والٹن کیمپ میں رہے، نہایت کسمپرسی کی حالت میں۔ اس کے بعد وہ شہر چلے آئے۔ نسیم اختر کے پاس کافی زیور تھا جو اس نے اس رات پہنا ہوا تھا جب سیٹھ گوبند پرکاش اس کا مجرا سننے آرہا تھا۔ یہ اس نے اتار کر خان صاحب اچھن خاں کے حوالے کر دیا تھا۔ ان زیوروں میں سے کچھ بیچ کر انھوں نے ہوسٹل میں رہنا شروع کر دیا لیکن مکان کی تلاش جاری رہی۔آخر بدقت تمام ہیرا منڈی میں ایک مکان مل گیا جو اچھا خاصا تھا۔ اب خان صاحب اچھن خاں نے نسیم اختر سے کہا، ’’گدے اور چاندنیاں وغیرہ خرید لیں اور تم بسم اللہ کر کے مجرا شروع کر دو۔‘‘\n\nنسیم نے کہا، ’’نہیں خان صاحب !میرا جی اکتا گیا ہے میں تو اس مکان میں بھی رہنا پسند نہیں کرتی ،کسی شریف محلے میں کوئی چھوٹا سا مکان تلاش کیجیےکہ میں وہاں اٹھ جاؤں۔ میں اب خاموش زندگی بسر کرنا چاہتی ہوں۔‘‘\n\nخان صاحب کو یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی، ’’کیا ہوگیا ہے تمھیں؟‘‘\n\n’’بس جی اچاٹ ہو گیا ہے۔ میں اس زندگی سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتی ہوں۔ دعا کیجیے خدا مجھے ثابت قدم رکھے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے نسیم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔\n\nخان صاحب نے اس کو بہت ترغیب دی پر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی ۔ایک دن اس نے اپنے استاد سے صاف کہہ دیا کہ وہ شادی کر لینا چاہتی ہے، اگر کسی نے اسے قبول نہ کیا تو وہ کنواری رہے گی۔\n\nخان صاحب بہت حیران تھاکہ نسیم میں یہ تبدیلی کیسے آئی۔ فسادات تو اس کا باعث نہیں ہوسکتے۔ پھر کیا وجہ تھی کہ وہ پیشہ ترک کر نے پر تلی ہوئی ہے۔\n\nجب وہ اسے سمجھا سمجھا کر تھک گیا تو اسے ایک محلے میں جہاں شرفاء رہتے تھے ،ایک چھوٹا سا مکان لے دیا اور خود ہیرا منڈی کی ایک مالدار طوائف کو تعلیم دینے لگا۔ نسیم نے تھوڑے سے برتن خریدے ،ایک چارپائی اور بستر وغیرہ بھی۔ ایک چھوٹا لڑکا نوکر رکھ لیا اور سکون کی زندگی بسر کرنے لگی ۔پانچوں نمازیں پڑھتی،روزے آئے تو اس نے سارے کے سارے رکھے ۔ایک دن وہ غسل خانے میں نہا رہی تھی کہ سب کچھ بھول کر اپنی سریلی آواز میں گانے لگی۔ اس کے ہاں ایک اور عورت کا آنا جانا تھا۔ نسیم اختر کو معلوم نہیں تھا کہ یہ عورت شریفوں کے محلے کی بہت بڑی پھپھا کٹنی ہے ۔شریفوں کے محلے میں کئی گھر تباہ و برباد کر چکی ہے ،کئی لڑکیوں کی عصمت اونے پونے داموں بِکوا چکی ہے، کئی نوجوانوں کو غلط راستے پر لگا کر اپنا الو سیدھا کرتی رہتی ہے۔\n\nجب اس عورت نے جس کا نام جنتے ہے، نسیم کی سریلی اور منجھی ہوئی آواز سنی تو اس کو فوراً خیال آیا کہ اس لڑکی کا آگا ہے نہ پیچھا،بڑی معرکے کی طوائف بن سکتی ہے ۔چنانچہ اس نے اس پر ڈورے ڈالنے شروع کر دیے۔ اس کو اس نے کئی سبز باغ دکھائے مگر وہ اس کے قابو میں نہ آئی۔ آخر اس نے ایک روز اس کو گلے لگایا اور چٹ چٹ اس کی بلائیں لینا شروع کر دیں۔ جیتی رہو بیٹا۔ میں تمہارا امتحان لے رہی تھی ،تم اس میں سولہ آنے پوری اتری ہو۔ نسیم اختر اس کے فریب میں آگئی۔ ایک دن اس کو یہاں تک بتا دیا کہ وہ شادی کرنا چاہتی ہے کیونکہ ایک یتیم کنواری لڑکی کا اکیلے رہنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔\n\nجنتے کو موقع ہاتھ آیا۔ اس نے نسیم سے کہا،’’بیٹا یہ کیا مشکل ہے میں نے یہاں کئی شادیاں کرائی ہیں، سب کی سب کامیاب رہی ہیں۔ اللہ نے چاہا تو تمہارے حسب منشا میاں مل جائے گا جو تمہارے پاؤں دھو دھو کر پئے گا۔‘‘\n\nجنتے کئی فرضی رشتے لائی مگر اس نے ان کی کوئی زیادہ تعریف نہ کی۔ آخر میں وہ ایک رشتہ لائی جو اس کے کہنے کے مطابق فرشتہ سیرت اور صاحب جائیداد تھا ،نسیم مان گئی، تاریخ مقرر کی گئی اور اس کی شادی انجام پا گئی۔\n\nنسیم اختر خوش تھی کہ اس کا میاں بہت اچھا ہے، اس کی ہر آسائش کا خیال رکھتا ہے لیکن اس دن اس کے ہوش و حواس گم ہوگئے جب اس کو دوسرے کمرے سے عورتوں کی آوازیں سنائی دیں۔ دروازے میں سے جھانک کر اس نے دیکھا کہ اس کا شوہر دو بوڑھی طوائفوں سے اس کے متعلق باتیں کر رہا ہے، جنتے بھی پاس بیٹھی تھی۔ سب مل کر اس کا سودا طے کررہے تھے ۔اس کی سمجھ میں نہ آیا کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ بہت دیر روتی اور سوچتی رہی۔ آخر اٹھی اور اپنی پشواز نکال کر پہنی اور باہر نکل کر سیدھی اپنے استاد اچھن خاں کے پاس پہنچی اور مجرے کے ساتھ ساتھ پیشہ بھی شروع کر دیا ۔ایک انتقامی قسم کے جذبے کے تحت وہ کھیلنے لگی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D8%AE%DB%8C%D8%B1"} {"title": "انجام خوشی کا دنیا میں سچ کہتے ہو غم ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انجام خوشی کا دنیا میں سچ کہتے ہو غم ہوتا ہے\nثابت ہے گل اور شبنم سے جو ہنستا ہے وہ روتا ہے\n\nہم شوق کا نامہ لکھتے ہیں کہ صبر اے دل کیوں روتا ہے\nیہ کیا ترکیب ہے اے ظالم ہم لکھتے ہیں تو دھوتا ہے\n\nہے دل اک مرد آخر بیں اپنے اعمال پر روتا ہے\nگر ڈوب کے دیکھو اشک نہیں موتی سے کچھ یہ پروتا ہے\n\nگھر اس سے عشق کا بنتا ہے دل سختی سے کیوں گھبرائے\nشیریں یہ محل اٹھواتی ہے فرہاد یہ پتھر ڈھوتا ہے\n\nٹھکرا کر نعش ہر عیسیٰ کہتا ہے ناز سے ہو برہم\nاٹھ جلد کھڑے ہیں دیر سے ہم کن نیندوں غافل سوتا ہے\n\nہم رو رو اشک بہاتے ہیں وہ طوفاں بیٹھے اٹھاتے ہیں\nیوں ہنس ہنس کر فرماتے ہیں کیوں مرد کا نام ڈبوتا ہے\n\nکیا سنگ دلی ہے الفت میں ہم جس کی جان سے جاتے ہیں\nانجان وہ بن کر کہتا ہے کیوں جان یہ اپنی کھوتا ہے\n\nلے دے کے سارے عالم میں ہمدرد جو پوچھو اک دل ہے\nمیں دل کے حال پہ روتا ہوں دل میرے حال پہ روتا ہے\n\nدکھ درد نے ایسا زار کیا اک گام بھی چلنا دوبھر ہے\nچلئے تو جسم زار اپنا خود راہ میں کانٹے بوتا ہے\n\nوہ امنگ کہاں وہ شباب کہاں ہوئے دونوں نذر عشق مژہ\nپوچھو مت عالم دل کا مرے نشتر سا کوئی چبھوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%86_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%BA%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "انجام وفا بھی دیکھ لیا اب کس لیے سر خم ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:اقبال سہیل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انجام وفا بھی دیکھ لیا اب کس لیے سر خم ہوتا ہے\nنازک ہے مزاج حسن بہت سجدے سے بھی برہم ہوتا ہے\n\nمل جل کے بہ رنگ شیر و شکر دونوں کے نکھرتے ہیں جوہر\nدریاؤں کے سنگم سے بڑھ کر تہذیب کا سنگم ہوتا ہے\n\nکچھ ما و شما میں فرق نہیں کچھ شاہ و گدا میں بھید نہیں\nہم بادہ کشوں کی محفل میں ہر جام بکف جم ہوتا ہے\n\nدیوانوں کے جبہ و دامن کا اڑتا ہے فضا میں جو ٹکڑا\nمستقبل ملت کے حق میں اقبال کا پرچم ہوتا ہے\n\nمنصور جو ہوتا اہل نظر تو دعویٔ باطل کیوں کرتا\nاس کی تو زباں کھلتی ہی نہیں جو راز کا محرم ہوتا ہے\n\nتا چند سہیلؔ افسردۂ غم کیا یاد نہیں تاریخ حرم\nایماں کے جہاں پڑتے ہیں قدم پیدا وہیں زمزم ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%B3_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D8%AE%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "انجام پہ اپنے آہ و زاری کر تو", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "انجام پہ اپنے آہ و زاری کر تو\nسختی بھی جو ہو تو بردباری کر تو\nپیدا کیا خاک سے خدا نے تجھ کو\nبہتر ہے یہی کہ خاک ساری کر تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%BE%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%A2%DB%81_%D9%88_%D8%B2%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D9%88"} {"title": "انجام ہر اک شے کا بجز خاک نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انجام ہر اک شے کا بجز خاک نہیں ہے\nکیا ہے جو یہ عالم خس و خاشاک نہیں ہے\n\nکہہ دو وہ ستا کر مجھے بے فکر نہ بیٹھیں\nمیرے ہی لئے گردش افلاک نہیں ہے\n\nآنکھوں سے ہر اک پردۂ موہوم ہٹا دے\nاتنی نگہ شوق ابھی چالاک نہیں ہے\n\nکر چاک گریباں سے نہ اندازۂ وحشت\nدیوانے ابھی دامن دل چاک نہیں ہے\n\nسیمابؔ دعا کیجئے کیا صبر و سکوں کی\nشائستۂ تسکیں دل غم ناک نہیں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D8%B4%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%AC%D8%B2_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "انجام یہ ہوا ہے دل بے قرار کا", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انجام یہ ہوا ہے دل بے قرار کا\nتھمتا نہیں ہے پانوں ہمارے غبار کا\n\nپہلے کیا خیال نہ گل کا نہ خار کا\nاب دکھ رہا ہے پانوں نسیم بہار کا\n\nپیہم دیے وہ رنج کہ انساں بنا دیا\nمنت پذیر ہوں ستم روزگار کا\n\nاس کو خزاں کے آنے کا کیا رنج کیا قلق\nروتے کٹا ہو جس کو زمانہ بہار کا\n\nمخفی ہے اس میں راز بقائے حیات عشق\nکیا پوچھتے ہو حال دل بے قرار کا\n\nمجبوریاں ستم ہیں وگرنہ خدا کی شان\nمیں اور یوں گزار دوں موسم بہار کا\n\nغافل نگاہ ہوش سے رنگ چمن کو دیکھ\nپروردۂ خزاں ہے زمانہ بہار کا\n\nنکلا ہے دم رواںؔ کا تمنا کے ساتھ ساتھ\nاللہ رے زور نالۂ بے اختیار کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DB%8C%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "انجمؔ اگر نہیں در دل دار تک پہنچ", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "انجمؔ اگر نہیں در دل دار تک پہنچ\nہو جائے کاش روزن دیوار تک پہنچ\n\nجاتا ہے کوئی کعبے کو اور کوئی سوئے دیر\nمجھ رند کی ہے خانۂ خمار تک پہنچ\n\nنالے کی نارسائی نے عاجز کیا ہمیں\nہو جاتی ورنہ آپ کی سرکار تک پہنچ\n\nیہ کیا ہے بیٹھا باتیں بناتا ہے دور سے\nعیسیٰ اگر بنا ہے تو بیمار تک پہنچ\n\nلے جائے گی بہا کے کبھی سیل چشم تر\nانجمؔ کبھی تو ہوگی در یار تک پہنچ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D8%94_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%A9_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86"} {"title": "انجمؔ تمہیں الفت ابھی کرنا نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "انجمؔ تمہیں الفت ابھی کرنا نہیں آتا\nہر ایک پہ مرتے ہو پہ مرنا نہیں آتا\n\nعالم کے حسیں بھرتے ہیں آنکھوں میں تمہاری\nدم عشق کا بھرتے ہو پہ بھرنا نہیں آتا\n\nہم جان ہی سے اپنی گزر جائیں تو بہتر\nہٹ دھرمی سے ان کو جو گزرنا نہیں آتا\n\nلو نام خدا ہم سے بناتے ہیں وہ باتیں\nجن کو کہ ابھی بات بھی کرنا نہیں آتا\n\nکہتے ہو مری لاش پہ مارا ہے یہ کس کا\nکیوں جی یہی کہتے تھے مکرنا نہیں آتا\n\nبکھرے ہوئے بالوں میں بھی ہیں لاکھ ادائیں\nالھڑ کو ابھی میرے سنورنا نہیں آتا\n\nکیا وصل کی شب کاٹی ہے فقرے ہی بتا کر\nسچ ہے کہ تمہیں بات کترنا نہیں آتا\n\nایسا تو ہمیں پیس کہ ہوں آنکھوں کا سرمہ\nاے چرخ تجھے جور بھی کرنا نہیں آتا\n\nحق یہ ہے کہ انجم ترا دل ٹھہرے تو کیوں کر\nسینے پہ انہیں ہاتھ بھی دھرنا نہیں آتا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D8%94_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "انجمن اصلاح حال بد معاشان", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اب کوئی مانے یا نہ مانے میرا تو یہ ایمان ہے کہ دنیا میں کوئی آدمی نہیں جس میں ہر قسم کی برائی کا مادہ موجود نہ ہو۔ یہ دوسری بات ہے کہ گرد و پیش کے واقعات سے بعض لوگوں میں یہ مادہ پرورش پاتا ہے، بڑھتا ہے اور بالآخر پختہ ہو جاتا ہے اور بعض کے حالات اس مادے کو سر اٹھانے نہیں دیتے۔ دل میں برائی کا جوش اٹھتا ہے لیکن باہمی تعلقات، ذاتی وجاہت، خاندانی شرافت، غرض ایسی ہی بہت سی چیزیں مانع آتی ہیں اور اس ابال کو ٹھنڈا کر دیتی ہیں۔\n\nآپ یقین مانیئے کہ اگر مذہبی قیود، سماجی ذمہ داریاں اور ذاتی وقعت کا خیال لوگوں کے دلوں سے نکال دیا جائے تو آپ کویہ جتنے شریف صورت انسان نظر آ رہے ہیں، ان کے کارناموں سے شیطان بھی پناہ مانگے اور یہ لوگ وہ حشر بپا کر دیں کہ دنیا دو زخ کا نمونہ بن جائے۔ یہ تو شاید آپ بھی مانتے ہوں گے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور یہ خطاب اس کو محض اس کی دماغی قوتوں کی وجہ سے ملا ہے۔ چونکہ شیطان اور اس کی ذریات یقیناً اشرف المخلوقات کے زمرے سے خارج ہیں، اس لئے ماننا پڑے گا کہ ان کے سروں میں دماغ نہیں ہے اور جب دماغ ہی نہیں ہے تو وہ کسی طرح بھی سوچ سوچ کر وہ بد معاشیاں نہیں کر سکتے جو انسان کر سکتا ہے اور جو جو باتیں دماغ سے اتار کر یہ کر جاتا ہے وہ فرشتہ تو کیا حضرت عزرائیل کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آ سکتیں۔\n\nاس کے بعد دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر واقعات کسی شخص کو نیک سے بد اور اچھے سے برا کر سکتے ہیں تو کیا واقعات کسی بد معاش کو نیک معاش بھی بنا سکتے ہیں۔ اس بارے میں میری اور دنیا کی بعض قابل احترام ہستیوں کی رائے میں اختلاف ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ چیز ممکن ہے وہ کہتے ہیں کہ برائی کا مادہ پختہ ہو کر کوئی بیرونی اثر قبول نہیں کر سکتا۔ یہ وہ بحث ہے جس کے سلسلے میں اپنی زندگی کے بعض حالت لکھ کر میں آپ کی رائے کا طالب ہوں۔ مگر خدا کے لئے رائے ظاہر کرتے وقت آپ صرف واقعات کو دیکھئے اور اس کا خیال نہ کیجئے کہ ایک طرف توایک ایسے شخص کی رائے ہے جس کی تمام عمر بد معاشیاں کرتے گزری ہے اور دوسری طرف ان لوگوں رائے ہے جن کی عزت دنیا میں ہر شخص کے دل میں ہے اور جن کے قول آپ حدیث اور آیت کے ہم پلہ سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی بتائیے کہ کیا طریقے ہو سکتے ہیں جو پختہ کار بد معاشوں کو راہ راست پر لا سکیں اور ان کی اصلاح حال کر سکیں۔\n\nاس سے غرض نہیں کہ میں کہاں پیدا ہوا ور کب پیدا ہوا۔ اس سے مطلب نہیں کہ میں کس خاندان میں پیدا ہوا۔ میرانام کیا رکھا گیا اور میں نے اس ایک نام کے رفتہ رفتہ کتنے نام کر لئے۔ ہمارے گردو پیش کے واقعات سمجھنے کے لئے بس اتنا جاننا کافی ہے کہ ہم پیدا ہوئے اور ایسے والدین کے ہاں پیدا ہوئے کہ جناب والد صاحب قبلہ سخت شرابی اور بے فکرے تھے اور ہماری اماں بالکل اپاہج۔ گھر میں پہلے کچھ جمع پونجی ہو تو ہو لیکن جب سے ہوش سنبھالا، ہم نے تو یہاں خاک ہی اڑتے دیکھی۔ ہم کو اب تک یہ معلوم نہیں کہ آخر گھر کا خرچ چلتا تھا تو کیوں کر چلتا تھا۔ آٹھ نو برس تک ہماری عمر لونڈوں میں گیڑیاں اور گلی ڈندا کھیلنے، بد معاشیاں کرنے اور شہر بھر کے گلی کوچوں کی خاک چھاننے میں گزری۔\n\nکوئی ہم دس برس کے ہوں گے کہ والدہ صاحبہ نے گھر کا خرچ چلانے کا آلہ ہم کو بنایا۔ یعنی چوری کرنے کی ترغیب دی اور اس طرح ہم نے چوری کی۔ بسم للہ سامنے کے گھر والے مولوی صاحب کے مرغے سے کی لیکن وہ مرغا بھی آخر مولوی صاحب کا مرغا تھا۔ ادھر ہم نے اس پر ہاتھ ڈالا اور ادھر اس نے غل مچا کر سارے محلے کو جمع کر لیا۔ مولوی صاحب بھی باہر نکل آئے۔ مرغے کو ہماری بغل سے رہائی دلائی۔ ہمارے دو تین چپت رسید کیے۔ خوب ڈانٹا۔ ہماری اماں سے شکایت کی اور ڈرامے کا یہ سین ختم ہو گیا۔ ہماری عمرکا لحاظ کرتے ہوئے کسی کویہ خیال بھی نہیں گزرا کہ ہم نے چوری کی نیت سے یہ مرغا پکڑا تھا۔ یہ سمجھے کہ جس طرح بچے جانوروں کو ستاتے ہیں، اسی طرح اس نے بھی کیا ہوگا۔ چلیے گئی گزری بات ہوئی۔\n\nہم روتے ہوئے اماں کے پاس آئے۔ انہوں نے ہم کو ایک ایسی ترکیب بتا دی کہ اب کہو تو سارے شہر کی مرغیاں پکڑ لاؤں اور کیا مجال ہے کہ ایک بھی ذرا چوں کر جائے۔ خیر وہ ترکیب بھی سن لیجئے۔ مگر للہ اس پر عمل نہ کیجئے، ورنہ یاد رکھئے کہ چوری کا جو مادہ فطرت نے آپ کو ودیعت کیا ہے اس میں ہیجان پیدا ہو جائے گا اور ممکن ہے آپ بھی مرغے چور ہو جائیں۔\n\nیہ تو آپ جانتے ہوں گے کہ مرغی پر اگر پانی کی ایک بوند بھی پڑ جائے تووہ سکڑ کر وہیں بیٹھ جاتی ہے اور چاہے مار بھی ڈالو تو آواز نہیں نکالتی اور اسی سے ’’بھیگی مرغی‘‘ کا محاورہ نکلا ہے۔ فطرت کے مطالعے نے چوروں کو سکھا دیا ہے کہ مرغیوں کے چرانے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ان کو کسی طرح گیلا کر دیا جائے۔ وہ کیا کرتے ہیں کہ جہاں کسی مرغی کو اپنے موقع پر دیکھا اور چپکے سے گیلا کپڑا اس پر ڈال دیا۔ ادھر گیلا کپڑا پڑ اور ادھر وہ دبکی۔ انہوں نے اٹھا کر بغل میں دبایا اور چلتے بنے۔ اب مرغی ہے کہ آنکھیں بند کیے سکڑی سکڑائی بغل میں دبی چلی جا رہی ہے۔ نہ کڑ کڑاتی ہے اور نہ منہ سے آواز نکالتی ہے۔ بہر حال یہ طریقہ سیکھ ہم نے سب سے پہلے مولوی صاحب کے مرغے پر ہی ہاتھ صاف کیا۔ اس روز بہت دنوں کے بعد ہمارے ہاں مرغ کا سالن پکا اور سب نے بڑے مزے سے اڑایا۔ مرغ کے بال و پر سب گڑھا کھود کر گھر ہی میں دفن کر دیے۔\n\nبات یہ ہے کہ بچے کو جو چیز سکھائی جاتی ہے وہ جلد سیکھ جاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اپنے ہاتھ کی چالاکی دکھا کر لوگوں کو بتائے کہ ہم کسی کارروائی میں بڑوں سے دب کر رہنے والے نہیں ہیں۔ چنانچہ ہم نے بھی مرغیاں پکڑنے کا تانتا باندھ دیا۔ شاید ہی کوئی منحوس دن ہوتا ہوگا جو ہم مرغیاں پکڑ کر نہ لاتے ہوں۔ کچھ دنوں تو یہ مرغیاں صرف ہمارے کھانے میں آتی رہیں۔ اس کے بعد ان کی تجارت شروع کی۔ یہاں کی مرغی پکڑی وہاں بیچ دی۔ وہاں کی مرغی لائے یہاں فروخت کر دی۔ غرض ہمارے بل پر گھر کا خرچ چلنے لگا۔ گھر کے خرچ سے جو کچھ بچتا وہ والد صاحب قبلہ مار پیٹ کر لے جاتے اور مفت کی شراب اڑاتے۔\n\nاسی آوارہ گردی میں ہماری ملاقات ایسے لوگوں سے ہو گئی جو چوری میں مشاق تھے۔ ان میں بعضے ایسے تھے جو قید خانے کی ڈگریاں بھی حاصل کر چکے تھے۔ رفتہ رفتہ ان کی صحبت میں ہم کو مزا آنے لگا۔ ہم اپنے کارنامے بیان کرتے وہ اپنے قصے سناتے۔ ہمارا شوق بڑھتا اور جی چاہتا کہ کچھ ایسا کام کرو جو یہ بھی کہیں کہ ’’واہ میاں صاحب زادے تم نے تو کمال کر دیا۔‘‘ غرض’’بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔‘‘ کے خیال نے ہم کو مرغی چور سے پکا چور کر دیا۔ پہلے جیب کترنے کی مشق کی۔ گندہ بروزہ مل مل کر انگلیوں کی کگریں ایسی سخت کر لیں کہ مضبوط سے مضبوط اور موٹے سے موٹے کپڑے کو چٹکی میں لیا، ذرا مسلا اور جیب ہاتھ میں آ گئی۔ ہوتے ہوتے انگلیاں ایسا کام کرنے لگیں کہ قینچی بھی کیا کرے گی۔ جب اس میں کمال حاصل ہوگیا تو پھر قفل شکنی کی مشق بہم پہنچائی۔\n\nقفل دو طرح سے کھولے جاتے ہیں۔ یا کنجیوں سے یا تار سے۔ اب یہ چور کا کمال ہے کہ قفل کو دیکھتے ہی اپنے لچھے میں سے کنجی ایسی نکالے جو قفل میں ٹھیک بیٹھ جائے، اور تار کو اس طرح موڑ کر ڈالے کہ پہلے ہی چکر میں سب پتلیاں ہٹ کر کھٹ سے قفل کھل جائے۔ کچھ خدا کی دین تھی کہ مجھے اس کام میں ید طولی حاصل ہو گیا۔ معمولی قفل تو درکنار، چپ کے کارخانے کا قفل بھی میں ایک منٹ میں کھول دیتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ شہر کے بڑے بڑے چور بھی میری خوشامد کرتے۔ سب سے بڑا حصہ دیتے۔ اور ہاتھ جوڑ جوڑ کر مجھے ساتھ لے جاتے مگر میں سوائے قفل کھول دینے کے چوری سے کچھ غرض نہ رکھتا تھا۔ قفل کھولا اور چلا آیا۔ یار لوگوں نے چوری کا مال فروخت کیا اور میرا حصہ چپکے سے میرے پاس بھیج دیا۔ میرے ساتھی اکثر گرفتار ہوئے جیل گئے لیکن میرا نام کبھی عدالت کے سامنے نہیں آیا اورمیں باوجود سیکڑوں وارداتوں میں حصہ لینے کے بچا رہا۔\n\nہوتے ہوتے میرے ہاتھ کی صفائی نے وہ نام پیدا کیا کہ مجھے شہر بھر کے چوروں نے اپنا سرداربنا لیا۔ کوئی بڑی واردات نہ ہوتی تھی جس میں مجھ سے مشورہ نہ کیا جاتا ہو۔ کوئی بڑی چوری نہ ہوتی تھی جس کا میں نقشا نہ ڈالتا ہوں اور کوئی مقدمہ نہ ہوتا تھا جس میں میری ذہانت سے مدد لے کرملزمین رہا نہ ہوتے ہوں۔ بڑے بڑے گھاگ جیب کترے میرا لوہا مانتے تھے اوربڑے بڑے دھاڑی چور میرے مشورے بغیر کسی کام میں ہاتھ نہ ڈالتے تھے۔\n\nمیری عمر کوئی اٹھارہ انیس سال کی ہوگی کہ اخبار’’حفاظت‘‘ میں ایک اشتہار میری نظر سے گزرا۔ ہمارے ملک کے ایک بہت بڑے ادیب مسٹر مسعود نے لکھا تھا کہ ’’میں ایک ناول لکھنا اور چوری کے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ اگر اس فن کا کوئی ماہر میری مدد کرے تو میں اس کو مناسب معاوضہ دینے پر بھی تیار ہوں۔‘‘ آپ جانتے ہیں کہ ہر شخص اپنے کارناموں پر فخر کرتا اور ان کو مشتہر کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایک انسانی کمزوری ہے اور اس سے کوئی فرد بشر خالی نہیں ہے۔ خیر انعام و اکرام کا تو مجھے فکر نہ تھا۔ ہاں میرے دل نے کہا کہ ذرا ان صاحب سے چل کر مل لو اور دیکھو کہ ہیں یہ کتنے پانی میں۔ چوروں کے قصے لکھ لکھ کر یہ اتنے مشہور ہو گئے ہیں لیکن یہ جانتے بھی ہیں کہ چور کیسے ہوتے ہیں اور چوری کس طرح کرتے ہیں۔\n\nخطرہ ضرور تھا مگر میرے شوق نے مجھے اس قدر گھیرا کہ میں آخر شریفوں کی سی شکل بنا ان کے پاس پہنچ ہی گیا۔ میرے خیال نے ان کا جو حلیہ قائم کیا تھا، اس کے لحاظ سے میں سمجھتا تھا کہ یہ بڑی عمر کے تجربے کار آدمی ہوں گے۔ ولایت کے اہل ادب کی طرح لمبی داڑھی ہوگی۔ ڈھیلا ڈھالا لباس ہوگا۔ سر پر بڑے بڑے پٹھے ہوں گے۔ طوطے کی سی ناک ہوگی۔ اس کی نوک پر عینک دھری ہوگی۔ چندھی چندھی آنکھیں ہوں گی۔ غرض ایسے ہوں گے اور ایسے ہوں گے مگر جب یہ سامنے آئے تو میں دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔\n\nکیا دیکھتا ہوں کہ ایک خوبصورت نوجوان سا شخص سامنے کھڑا مسکرا رہا ہے۔ آنکھوں میں ذہانت اور چہرہ پر متانت کے ساتھ شوخی اور لباس میں سادگی کے ساتھ صفائی ہے۔ آتے ہی ہاتھ بڑھایا اور کہا، ’’معاف کیجئے گا میں نے آپ کو نہیں پہنچانا۔‘‘ میں نے کہا، ’’میں آپ ہی کی طلبی پر حاضر ہوا ہوں۔ آپ ہم لوگوں کے متعلق کچھ معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ میں آپ کی اس خواہش کو پورا کر سکوں۔‘‘ کہنے لگے کہ ’’اوہو۔ آپ میرے اشتہارکے جواب میں تشریف لائے ہیں۔ ذرا ٹھہریے۔ میں ابھی اپنی موٹر لاتا ہوں۔ ایسی باتیں کرنے کے لئے یہ جگہ مناسب نہیں ہے۔ کہیں سوفتے میں بیٹھ کر گفتگو کریں گے۔ مجھے آپ سے بہت کچھ پوچھنا ہے۔ ممکن ہے کہ ہماری یہ گفتگو دونوں کے لئے فائدہ بخش ہو۔‘‘\n\nوہ تو یہ کہہ کر چلے گئے اور مجھے خیال ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ حضرت مجھے گرفتار کرا دیں۔ پھر سوچا کہ مجھ پر الزام ہی کیا ہے جو میں ڈروں۔ اور ان کو میرے حالات ہی کیا معلوم ہیں جو مجھے کچھ اندیشہ ہو۔ اگر گڑبڑ ہوئی بھی تو خود انہی کو شرمندہ ہونا پڑے گا۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ وہ موٹر لے آئے اور میں ’’ہر چہ باد باد ما کشتی در آب انداختیم‘‘ کہتا ہوا ان کے ساتھ سوار ہو گیا۔\n\nموٹر فراٹے بھرتی شہر سے گزر آبادی کو پیچھے چھوڑ، جنگل میں سے ہوتی ہوئی ایک ندی پر پہنچی۔ مسٹر مسعود نے موٹر روکی۔ ہم دونوں اترے۔ چائے کا سامان نکالا گیا اور ندی کے کنارے دستر خوان بچھا کر ہم دونوں بیٹھے۔ اب کھاتے جاتے ہیں اور باتیں ہوتی جاتی ہیں۔ مسٹر مسعود نے کہا کہ ’’معاف کیجئے میں آپ کا نام نہیں جانتا اس لئے آپ کو گفتگو میں صرف ’’مسٹر‘‘ کہوں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ کے حالات شاید اس کی اجازت نہ دیں کہ آپ اپنا نام کسی اجنبی شخص پر ظاہر کریں۔ اور اگر آپ نے ظاہر کیا بھی تو وہ یقیناً آپ کا اصلی نام نہ ہوگا۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ صرف لفط ’’مسٹر‘‘ سے ان تمام دقتوں کو رفع کیا جائے۔\n\nاس سے تو آپ مطمئن ہو گئے ہوں گے کہ میں آپ کو ایسی جگہ لایا ہوں جہاں کوئی شخص چھپ چھپا کر ہماری باتیں نہیں سن سکتا۔ اور میں نے یہ صرف اس لیے کیا ہے کہ آپ کو یہ اندیشہ نہ ہو کہ میں آپ کے واقعات سننے میں کسی دوسرے کو شریک کر کے گواہ بنانا چاہتا ہوں۔ اب ہم نہایت اطمینان سے گفتگو کر سکتے ہیں۔ آپ کا جو جی چاہے مجھ سے پوچھیئے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ہر چیز صاف دلی سے بیان کروں گا اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی میرے سوالوں کے جواب میں سچائی کا پہلو اختیار کریں گےا ور اس طرح ممکن ہے کہ یہ صحبت ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کا دوست اور پکا دوست بنا دے۔\n\nمسٹر مسعود کی آواز میں کچھ ایسا لوچ، الفاظ میں کچھ ایسی شیرینی، نگاہ میں کچھ ایسی محبت اور گفتگو میں کچھ ایسی دل چسپی تھی کہ تھوڑی ہی دیر میں وہ تمام اندیشے ہوا ہو گئے جو مجھ جیسے شخص کے دل میں پیدا ہوئے تھے۔ اور پیدا ہونے لازمی تھے اور یہ پہلا موقع تھا کہ میرے دل میں کسی شخص کی وقعت قائم ہوئی۔ اور خود اپنے متعلق بھی سمجھا کہ میں بھی آدمی ہوں اور ایک شریف آدمی بن سکتا ہوں۔ باتوں باتوں میں یہ بھی معلوم ہوا کہ مسٹر مسعود کو ابتدا ہی سے مجھ جیسے لوگوں سے ملنے کا شوق ہے اور وہ کوئی کتاب نہیں لکھتے جب تک اس کی بنا واقعات پر نہ ہو۔ ان کو بہت سے بد معاشوں نے دھوکے بھی دیےاور دوستی کی آڑ میں ان کو خوب لوٹا۔ یہاں تک کہ کئی دفعہ تو خود ان کے گھر میں چوری کی اور مزا یہ ہے کہ خود اس چوری کاحال ان سے بیان بھی کر دیا مگر اس اللہ کے بندے نے نہ کبھی کسی کے خلاف کوئی کارروائی کی اور نہ کبھی کوئی شکوہ و شکایت زبان پر لایا۔\n\nمجھے یہ معلوم کر کے بڑی حیرت ہوئی کہ وہ اور تو اور، خود میرے حالات سے پوری طرح واقف ہیں۔ انہوں نے اپنا جال کچھ اس طرح پھیلایا تھا کہ کوئی واردات نہ ہوتی ہوگی جس کا رتی رتی حال ان کو نہ معلوم ہو جاتا ہو۔ اور کوئی مشہور چور یا ڈاکو ایسا نہ تھا جس کو وہ ذاتی طور پر نہ جانتے ہوں، اور ضرورت کے وقت اس کی مدد نہ کرتے ہوں۔ وہ اس بات کے قائل تھے کہ ضرورت اکثر لوگوں کو چوری کا پیشہ اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے لیکن رفتہ رفتہ گرد و پیش کے واقعات جال بن کر ان کو اس طرح پھنسا لیتے ہیں کہ وہ جتنا نکلنا چاہتے ہیں اتنی ہی جال کی رسیاں ان کو کستی چلی جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یا تو وہ کسی جیل خانے میں مر کر رہ جاتے ہیں یا ضمیر کی ملامت کسی مرض میں مبتلا کر کےان کا خاتمہ کر دیتی ہے۔\n\nمسٹر مسعود جیسے شخص کے ساتھ دل کھول کر گفتگو نہ کرنا واقعی ظلم تھا۔ میں نے بھی اپنے اگلے پچھلے واقعات سب بیان کر دیے۔ چوری کرنے کی ترکیبیں بتائیں۔ قفل کھولنے کے طریقے بتائے۔ اپنے ساتھیوں کے قصے بیان کیے۔ غرض کوئی تین چار گھنٹے اسی قسم کی گفتگو میں گزر گئے۔ شام ہو گئی تھی اس لیے ہم دونوں اٹھے۔ شہر کے کنارے پر انہوں نے مجھے موٹر سے اتار دیا۔ دوسرے دن ملنے کا وعدہ لیا اور اس طرح ہم دونوں کی گفتگو کا سلسلہ کوئی مہینہ بھر چلتا رہا۔ انہوں نے مجھے معقول معاضہ دینا بھی چاہا لیکن میں نے لینے سے انکار کر دیا۔ ایک دن مجھ سے کہنے لگے، ’’مسٹر اب معلوم نہیں آئندہ ہمارا ملنا ہو یا نہ ہو لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ آپ کی صحبت میں جو مزا مجھے آیا ہے، وہ شاید ہی کسی کی صحبت میں آیا ہو۔ میرا رادہ ہے کل یہاں سے چلا جاؤں گا۔ اس لئے یہ سمجھنا چاہئے کہ آج میری اور آپ کی آخری ملاقات ہے۔ قصے تو آپ نے بہت کچھ کہے اور مجھ سے بہت کچھ سنے۔ اب میں آپ سے چند سوال کرنا چاہتا ہوں۔ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچ کر صحیح صحیح جواب دیجئے۔ کیونکہ یہی وہ چیزیں ہیں جن پر میں اپنے ناول کی بنیاد رکھنا چاہتا ہوں۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’بسم اللہ فرمائیے۔ بھلا میں کیا ا ور میری عقل کیا۔ مگر ہاں جو کچھ میری سمجھ میں آئے گا کہہ دوں گا۔ لیکن جو کچھ کہوں گا اس میں انشاء اللہ ریا کاری کو دخل نہ ہوگا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’میرا پہلا سوال یہ ہے کہ کیا آپ کو واقعی چوری میں مزا آتا ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’جی ہاں آتا ہے اور ضرور آتا ہے۔ اس کے دو بڑے وجوہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ تھوڑی سی تکلیف میں بہت کچھ مل جاتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ انسان فطرتاً کاہل الوجود واقع ہوا ہے۔ اس لیے ذرا سی محنت میں عرصے تک روزی سے مطمئن ہو جانا اس کو پکا چور بنا دیتا ہے۔ دوسرے یہ کہ انسان کو اس چیز میں بڑا مزا آتا ہے جس کے حاصل کرنے میں اسے خطرہ سے دو چار ہونا پڑے۔\n\nچوری میں جتنی دقتیں اور دشواریاں ہوں گی، چور کو اس میں اتنا ہی زیادہ لطف آئے گا۔ اور جس طرح بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شراب ان کی صحت کو تباہ کر رہی ہے اس کو برابر پیے جاتے ہیں، اسی طرح چوری کے نتائج جاننے کے بعد بھی چور اس پیشے کو ترک نہیں کرتے۔ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ محض خطرے میں پڑنے کا شوق بعض لوگوں کو چوری پر مجبور کرتا ہے۔ اور اگر ان کو کسی دوسرے دشوار کام پر لگا دیا جائے تو اس شوق کا دب جانا بہت ممکن ہے۔‘‘\n\nمسٹر مسعود نے دوسرا سوال اس سے ذرا ٹیڑھا کیا۔ یعنی یہ کہ ’’کیا آپ کو چوری سے اطمینان قلبی نصیب ہوتا ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا کہ ’’ہرگز نہیں۔ شاید سپاہی کو جنگ میں جاتے وقت اتنی پریشانی نہ ہوتی ہو جتنی ایک چور کو چوری کے لیے جاتے وقت ہوتی ہے۔ سپاہی کے دل کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ میں ملک اور قوم کے لیے مرنے جا رہا ہوں اگر مر بھی گیا تو میری عزت ہوگی، میرے خاندان کی عزت ہوگی اورمیری اولاد میرے کارنامے بیان کر کے فخر کرے گی۔ بر خلاف اس کے چور جانتا ہے کہ ا گر پکڑا گیا تو سزا ہونی لازم ہے۔ ہر شخص مجھ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھے گا۔ میرا خاندان تباہ ہو جائے گا اور میرے بال بچے مشتبہ نظر سے دیکھے جائیں گے۔ چوری کرنے اور مال حاصل ہونے کے بعد یہ بے اطمینانی اور بڑھ جاتی ہے۔ وہ اپنے دوستوں تک سے ڈرنے لگتا ہے کہ کہیں یہ بھانڈا نہ پھوڑ دیں۔ وہ اپنے شرکاء کار سے گھبراتا ہے کہ کہیں ان کی غلطی اس واردات کے کھل جانے کا باعث نہ ہو جائے۔ یا یہ خود لالچ میں آ کر سرکاری گواہ نہ ہو جائیں۔\n\nوہ خود چوری کے حاصل کیے ہوئے مال کو جلد جلد ٹھکانے لگاتا ہےکہ کہیں بر آمد ہو کر اس کے جرم کا پتہ نہ دے۔ وہ اس جرم سے حاصل کیے ہوئے روپے کو نہایت بے دردی سے اٹھاتا ہے کہ کہیں دوسرے اپنا حصہ ختم کر نے کے بعد اس میں پھر حصہ بٹانے نہ آ جائیں اور حصہ نہ ملنے کی صورت میں مخبری نہ کر دیں۔ غرض اتنا مال جو اس کو مہینوں کے لیے روزی سے بے فکر کر سکتا ہے، چند دنوں میں ختم ہو جاتا ہے، اور وہ مجبور ہوتا ہے کہ چوری کے لیے کوئی اور جگہ تاکے۔ اور اس طرح کی ساری زندگی بے اطمینانی کا ایک لامتناہی سلسلہ ہو جاتی ہے۔‘‘\n\nان کا تیسرا سوال گویا مقطع کا بند تھا یعنی یہ کہا کہ ’’جس شخص کو چوری کا مرض پڑ گیا ہو اس کی اصلاح کی جا سکتی ہے؟‘‘ اس سوال پر میری اور ان کی رائے میں اختلاف ہو گیا۔ وہ کہتے تھے کہ یہ مرض پختہ ہو کر عادت ثانی ہو جاتی ہے اور عادت ثانی کا چھڑا نانا ممکن ہے۔ میں کہتا تھا کہ اگر ان لوگوں کی صحبت بدل دی جائے تو وہ یقیناً درست ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دعوے کی تائید میں سیکڑوں مثالیں دیں مگر افسوس ہے کہ میں ایک نظیر سے بھی ان کی تردید نہ کر سکا۔ لیکن میرا دل کہتا تھاکہ تو جو کہہ رہا ہے وہ سچ کہہ رہا ہے۔ نظیر کیوں پیش کرے خود کر کے دکھا دے کہ دیکھو چوری کی عادت اس طرح چھوٹ سکتی ہے۔\n\nبہر حال کئی گھنٹے اس پر بحث ہوتی رہی اور کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ وہ اپنی رائے پر قائم رہے اور میں نے اپنی رائے نہ بدلی۔ رات کووہ تو ریل میں بیٹھ خدا جانے کہا چل دیے، اور میں نے دل میں ٹھان لی کہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے، میں ثابت کر دوں گا کہ کتنا ہی بڑا چور کیوں نہ ہو، راہ راست پر آ سکتا ہے۔\n\nہے یہ کہ جب انسان کوئی بات دل میں ٹھان لیتا ہے تو کر ہی گزرتا ہے۔ میں نے جو اس روز سے چوری کا پیشہ چھوڑا تو وہ دن اور آج کا دن اس طرف رخ بھی نہیں کیا۔ آپ جانتے ہیں کہ کسی چور کا چوری چھوڑ دینا کچھ آسان کام نہیں ہے۔ اس کے جتنے دوست ہوئے ہیں، سب دشمن ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ وہ ڈرتے ہیں کہ اس طرح رنگ بدلنے میں اس کی کچھ غرض ضرور ہے۔ اور ممکن ہے کہ مخبر بن کر یہ ہم کو پھنسا نہ دے۔ اسی خیال سے مجھے اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔ پاس پیسہ نہیں تھا۔ بھیک مانگنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ پیٹ کی دوزخ بھرنا ضرور تھا۔\n\nآخر یہ کیا محنت مزدوری کرتا اور وطن سے دو ر ہوتا جاتا۔ ایک دن میں نے اخبار میں پڑھا کہ قفلوں کے ایک بڑے کارخانے میں ایک کاریگر کی ضرورت ہے۔ اسی روپئے تنخواہ ملے گی مگر انہی لوگوں کو درخواست دینی چاہئے جو قفلوں کی پتلیوں کو سمجھتے ہوں اور ان میں ایجاد کرنے کا مشورہ دے سکتے ہوں۔ مجھ کو آتا ہی کیا تھا، اگر کچھ آتا تھا تو انہی پتلیوں کا الٹ پھیر۔ دل میں آیا کہ چلو یہاں قسمت آزمائی کریں۔ جیب جو ٹٹولی تو کرایہ تک پاس نہ تھا۔ اللہ کا نام لے کر پیدل چل کھڑا ہوا۔\n\nسو میل کا فاصلہ چار دن میں طے کیا۔ کارخانے میں پہنچا۔ میری زدہ حالت دیکھ کر کسی نے منہ نہ لگایا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ جگہ بھر چکی ہے۔ کارخانے کی سیڑھیوں پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر نہ ہوئی تھی کہ خدا کی قدرت سے کارخانے کے مالک وہاں سے گذرے۔ مجھے سر پکڑے بیٹھا دیکھ کر وہیں ٹھہر گئے۔ مجھ سے پوچھا کہ ’’آپ کون ہیں اور یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟‘‘ میں نے اپنے پیدل آنے کا قصہ بیان کیا۔ ان پر اس کا کچھ ایسا اثر ہوا کہ مجھے لے کارخانے میں گئے۔ ایک بڑی تجوری رکھی تھی۔ کہنے لگے، ’’ذرا بتاؤ تو سہی کہ اس میں کتنی پتلیاں ہیں۔ ہمارے کار خانے کا دعویٰ ہے کہ اسے کوئی نہیں کھول سکتا۔‘‘ میں نے ان سے ایک موٹا تار مانگا۔ قفل کے سوراخ میں ڈال کر گھمایا اور کہا کہ’’اس میں گیارہ پتلیاں ہیں اور اس کے کھولنے کے لیے دو کنجیاں چاہئیں۔ لیکن اگر آپ کہیں تو اسی تار سے میں اس کو کھول دوں۔‘‘\n\nمیں نے تار کو ذرا موڑ کر دو چکر دیے۔ قفل کھٹ سے کھل گیا۔ یہ دیکھ کر تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ کہنے لگے، ’’کیا تم بتا سکتے ہو کہ اس میں اور کیا ترمیم کی ضرورت ہے جو قفل بغیر کسی کنجی کے نہ کھل سکے۔‘‘ میں نے اپنے تجربے کے لحاظ سے ان کو پتلیوں کی ترتیب بتائی۔ یہ سن کر تو وہ ایسے خوش ہوئے کہ وہیں کھڑے کھڑے اسی روپے پر مجھے نوکر رکھ لیا۔ اس کے بعد میں نے اتنی محنت سے کام کیا اور قفلوں میں وہ ایجادیں کیں کہ تھوڑے ہی دنوں میں وہ کارخانہ کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔ میری تنخواہ بڑھ کر تین سو روپے ہو گئی۔ دوسرے کار خانے والوں نے مجھے توڑنا بھی چاہا لیکن میں نے صاف انکار کر دیا۔ بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ جس شخص نے مصیبت میں میری مدد کی تھی اس کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔ غرض یہ کہ تمام ملک میں ہمارے کار خانے کی دھاک بیٹھ گئی۔ جب اس طرح اطمینان ہو گیا، تو میں نے گھر بسانے کا ارادہ کیا۔ شادی بھی ٹھہر گئی لیکن عین وقت پر از غیبی گولہ پڑا۔\n\nہوا یہ کہ ہمارے شہر میں’’چور اور چوری‘‘ پر ایک لیکچر کا اشتہار دیا گیا۔ میں نے سوچا کہ چلو دیکھیں کہ یہ لیکچر ار صاحب اس پیشے کے متعلق کیا جانتے ہیں اور کیا کہتے ہیں۔ وقت مقررہ پر جو میں جلسہ میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہزاروں آدمیوں کا مجمع ہے۔ سیکڑوں اخباروں کے نمائندے فوٹو کے کیمرے لیے موجود ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر ان بھلے آدمیوں کو چوروں سے کچھ ایسی دلچسپی ہے جو اپنا سارا کاروبار چھوڑ کر یہاں جمع ہوئے ہیں۔ بہر حال چار بجے کے قریب مقرر صاحب تشریف لائے۔ ان کے خیر مقدم میں تالیوں کا وہ شور اور ہرے ہرے کا وہ غل ہوا کہ زمین آسمان ہل گئے۔ وہ بھی نہایت شان سے چبوترہ پر آئے۔ اب جو دیکھتا ہوں تو یہ تو میرے پرانے دوست مسٹر مسعود ہیں۔ میں نے کہا، ’’لو بھئی اچھا ہوا، اب ان کو بتاؤں گا کہ حضرت مجھے دیکھ کر آپ اندازہ کیجئے کہ میں صحیح کہتا تھا یا آپ صحیح کہتے تھے۔ میں پہلے کیا تھا اور اب کیا ہوں۔ آخر میری اصلاح حال ہوئی یا نہیں۔‘‘\n\nخیر لکچر شروع ہوا۔ مسٹر مسعود نے چوروں کی ٹولیوں کے، ان کے رہنے سہنے کے، ان کے چوری کرنے کے، ان کے خیالات کے غرض ان کی زندگی کے ہر پہلو کا نقشہ اس خوبی سے کھینچا کہ دل خوش ہو گیا۔ اور اس وقت معلوم ہواکہ واقعی مطالعہ زندگی اس طرح کیا جاتا ہے اور تجربات کو اس طرح بیان کرتے ہیں۔ اپنے لیکچر کے آخر میں انہوں نے وہی پرانی بحث چھیڑی کہ ’’جس شخص کو چوری کا مرض پڑ گیا ہو کیا اس کی اصلاح حال کی جا سکتی ہے؟‘‘ اور اپنی وہی پرانی رائے ظاہر کی کہ ’’یہ مرض پختہ ہو کر عادت ثانی ہو جاتا ہے۔ اور عادت ثانی کا چھڑانا ناممکن ہے۔‘‘ لیکچر ختم ہونے کے بعد مجھ سے نہ رہا گیا اور میں سیدھا لیکچر ار صاحب کے چبوترے پر پہنچا۔ انہوں نے مجھ کو ذرا غور سے دیکھا لیکن یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ کون شخص ہے۔\n\nمجھ کو لیکچر و کچر دینا تو آتا نہیں۔ ہاں میں نے سیدھی سیدھی زبان میں کہا، ’’معزز حاضرین! ہمارے کرم فرما مسٹر مسعود نے آخر میں جو کچھ کہا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ ممکن ہے کہ ان کی دریافت میں کوئی ایسا چور نہ ملا ہو جو راہ راست پر آیا ہو۔ لیکن میرا تجربہ اس کے بالکل خلاف ہے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ بد سے بد تر شخص کی اصلاح ہو سکتی ہے۔ خواہ اس کو مسٹر مسعود مانیں یا نہ مانیں۔‘‘ میں یہیں تک کہنے پایا تھا کہ جلسہ میں غل مچ گیا۔ کوئی کہتا، ’’حضرت آپ کے دماغ کا علاج کرائیے۔‘‘ کوئی کہتا، ’’آپ کی فصد لیجئے۔‘‘ غرض کیسا سننا اور کیسا سمجھنا۔ ایک طوفان بے تمیزی بر پا ہو گیا۔ مسٹر مسعود تو سوار ہو کر چل دیے اور مجھے اخبار کے نمائندوں نے گھیر لیا۔ بیسیوں فوٹو لیےگئے۔ ہزاروں سوالات کیے گئے۔\n\nمیں نے پوچھا، ’’بھائیوں یہ کیا معاملہ ہے۔ آخر میں نے ایسی کون سی عجیب بات کہی ہے جو مجھے یوں دیوانہ بنا لیا ہے۔‘‘ آخر بڑی مشکل سے ایک صاحب نے کہا، ’’حضرت معلوم بھی ہے کہ آپ نے کس شخص کی تردید کی ہے۔ مسٹر مسعود وہ شخص ہیں کہ جرائم پیشہ لوگوں کی واقفیت کے متعلق تمام دنیا ان کا لوہا مانتی ہے۔ آپ کے سوا اس شہر میں تو کیا ساری دنیا میں کوئی نہ ہوگا کہ مسٹر مسعود ان لوگوں کے بارے میں کچھ فرمائیں اور وہ آمنا اور صدقنا نہ کہے۔ خیر اور کچھ نہیں تو یہ ضرور ہوگا کہ ساری دنیا میں شہرت ہو جائے گی کہ آج بھرے جلسے میں ایک صاحب نے مسٹر مسعود پراعتراض ٹھونک دیا۔‘‘ میں پریشان تھا کہ یا میرے اللہ یہ عجیب بات ہے کہ یہ دنیا والے جب کسی کو اچھا سمجھنے لگتے ہیں تو پھر اس کے خلا ف کچھ سننا ہی نہیں چاہتے اور اس کی صحیح اور غلط ہر بات پر سر تسلیم جھکا دیتے ہیں۔\n\nچار روز بھی نہیں گزرتے تھے کہ ملک کے سارے اخباروں میں اس جلسے کی کیفیت اور میری تقریر چھپ گئی۔ ہر اخبارمیں میری تصویر تھی اور اس کے نیچے لکھا تھا کہ ’’آپ فلاں شہر میں لوہار ہیں۔ اور چوروں کے اصلاح حال کے بارے میں مسٹر مسعود کی رائے سے اختلاف رکھتے ہیں۔‘‘ غرض کوئی پرچہ نہ تھا جس میں مجھے خوب نہ بنایا گیا ہو، اور میرا مذاق نہ اڑایا گیا ہو۔ جو پرچہ چھپتا اس کی ایک کاپی میرے پاس بھی آتی۔ میں دیکھتا اور ہنس کر خاموش ہو جاتا۔ لوگوں کی اس بے ہودگی کی تو مجھے پروا نہ تھی لیکن غضب یہ ہوا کہ یہ اخبار میرے قدیم ہم پیشہ لوگوں کے ہاتھوں میں بھی پڑے۔ وہ پہلے سے میری تلاش میں تھے، اور پیشہ چھوڑنے کی وجہ سے مجھ سے بدلہ لینا چاہتے تھے۔ انہوں نے یہ کیا کہ میرے سابقہ حالات اخباروں میں چھپوا دیے۔ اور دنیا کو بتا دیا کہ جن صاحب نے مسٹر مسعود کی مخالفت کی ہے وہ خود بڑے دہاڑی چور ہیں۔ اور اس لیے ان کی رائے کسی طرح بھی مسٹر مسعود کی رائے سے کم وقعت نہیں رکھتی۔\n\nان حالات کا چھپنا تھا کہ سارے ملک میں اودھم مچ گیا ور جو عزت میں نے اپنی محنت، کار گزاری اور دیانت سے حاصل کی تھی وہ سب خاک میں مل گئی۔ ایک دن ہمارے کارخانے کے مالک نے مجھے بلایا اور کہا، ’’حضرت اب تمہارا یہاں رہنا میرے کار خانے کو تباہ کر دےگا۔ بہتر یہی ہے کہ کہیں اور جا کر روزگار کی تلاش کرو۔ تم نے جو کچھ میرے لیے کیا ہے اس کا شکریہ ادا کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ مگر بھائی یہاں نام کو دیکھتے ہیں کام کو نہیں دیکھتے۔ اب تمہارے اصلی حالات لوگوں کو معلوم ہو گئے ہیں۔ جہاں کوئی واردات ہوئی اور پولیس والوں نے تم پر یورش کی۔\n\nیہ میں جانتا ہوں کہ تم سے زیادہ ایماندار شخص سارے شہر میں ملنا مشکل ہے مگراس کو کیا کیا جائے کہ بد بھلا اور بدنام برا۔ یہاں بروں کو چھوڑ دیتے ہیں بدنام لوگوں کو پکڑ لیتے ہیں۔ پولیس اور تمہاری کشمکش میں کارخانہ بدنام ہو جائے گا۔ تم نے شادی کے لئے روپیہ جمع کیا تھا، وہ میرے پاس موجود ہے۔ شادی تو اب وہ لوگ کرنے ہی کیوں لگے۔ اب بہتر یہی ہے کہ یہ روپیہ لو کچھ بطور صلہ کار گزاری میں دیتا ہوں وہ لو اور کہیں دور دراز مقام پر جا کر کاروبار پھیلاؤ۔ خدا تمہاری مدد کرے گا۔ لیکن اب تمہارا میرے ہاں رہنا ذرا مشکل ہے۔‘‘\n\nمیں خود سمجھتا تھا کہ اپنے ساتھ اس غریب کو لپیٹنا کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ اس لیے صرف وہ روپیہ لے کر جو میں نے اپنی محنت سے کمایا تھا، اس شہر کو چھوڑا، اور سیدھا وہاں گیا جہاں مجھے اخباروں سے معلوم ہوا تھا کہ مسٹر مسعود لیکچر دینے والے ہیں۔ لوگوں سے پتا پوچھا اور رات کے بارہ بجے چوروں کی طرح دروازہ کھولتا ہوا ان کے کمرے میں پہنچا۔ جونہی میں نے ان کے کمرے کی کھڑکی کھولی، انہوں نے آہستہ سے کہا، ’’اوہو آپ ہیں۔ مجھے آپ کا کئی روز سے انتظار تھا۔ بندہ خدا اس روز تم کو اس طرح دخل در معقولات دینے کی کیا ضرورت تھی۔ اگر کچھ کہنا تھا تو مجھ سے آ کر ملتے۔ میرا مطلب سمجھتے، مجھ سے حجت کرتے مجھے قائل کرتے۔ آخر اس طرح بھرے جلسہ میں تڑ سے اعتراض کرنے سے تمہاری کیا غرض تھی۔ بھلا ممکن تھا کہ میرے مقابلے میں تمہاری کوئی سنتا اورتمہاری کسی سچی بات کی قدر کرتا۔ اس عجیب و غریب دنیا میں بعض لوگوں کی وقعت قائم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ جو چاہیں کہیں اور جو چاہیں کریں۔ ان کے لئے سب جائز ہے اور ان کے خلاف جو کوئی کچھ کہے وہ مردود ہے۔ نامعقول ہے کافر ہے۔ اچھا بیٹھو، کھڑے کیوں ہو۔‘‘\n\nمیں غصے میں بھرا ہوا گیا تھا مگر اس شخص کی نرم نرم باتوں نے سارا غصہ اتار دیا۔ میں کرسی پر بیٹھ گیا اور کہا، ’’مسٹر مسعود! خیر جو مصیبت مجھ پر تمہارے لیکچر سے پڑی ہے اس کو تو جانے دو۔ اب یہ بتاؤ کہ بدمعاشوں کی اصلاح حال کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے۔ کیا میں نے اپنے طرز عمل سے ثابت نہیں کر دیا کہ برے سے برا شخص بھی اچھا بن سکتا ہے اور تم ہو کہ وہی مرغے کی ایک ٹانگ ہانکے چلے جاتے ہو۔ اب تم ہی ایمان سے کہو کہ تم سچے ہو یا میں سچا ہوں۔‘‘\n\nمسٹر مسعود میری بات سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ ’’واہ بھئی واہ، تم نے میرا مطلب خوب سمجھا۔ حضرت میں نے یہ تھوڑی کہا تھا کہ کسی بد معاش کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ میں نے تو یہ کہا تھا کہ ایسے لوگوں کی اصلاح نہیں کی جا سکتی۔ ہاں اگر وہ لوگ خود اپنی اصلاح کرنی چاہیں تو یہ دوسری بات ہے۔ چنانچہ خود تمہارا معاملہ اس کا عملی ثبوت ہے۔ یقین مانو کہ میں تو کیا چیز ہوں، اگر ساری دنیا کی قوت تم کو راہ راست پر لانا چاہتی توکبھی نہ لا سکتی۔ ہاں تم نے خود اپنی اصلاح کرنی چاہی اور اصلاح ہو گئی۔ میں تو ہر جگہ یہی کہتا ہوں کہ جیل خانوں وغیرہ میں جرائم پیشہ لوگوں کے سامنے لیکچر دینے کے جو طریقے، ان کو ارکان مذہب پڑھانے کے جو قواعد، ان کو کار آمد پیشے سکھانے کا جو رواج ہے وہ سب بے کار ہے۔ جو لوگ سنبھلنا چاہتے ہیں وہ خود سنبھل جاتے ہیں اور جو نہیں سنبھلنا چاہتے ہیں ان کو نہ مکتی فوج والے سنبھال سکتے ہیں اور نہ آپ کو کوئی مبلغ۔‘‘\n\nان کی یہ گفتگو سن کر میرا دل خوش ہو گیا اور میں نے کہا، ’’مسٹر مسعود، خداکی قسم آپ نے میرے دل پر سے ایک بڑا بوجھ اتار دیا۔ مجھے نوکری جانے یا آوارہ ہو جانے کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اللہ رازق ہے۔ یہاں نہیں کہیں اور نوکری مل جائے گی مگر خیر یہ ثابت ہو گیا کہ ا گر آپ غلط نہیں کہتے تھے تو میرا کہنا بھی کچھ غلط نہ تھا۔ اچھا خدا حافظ۔‘‘ میں یہ کہہ کر اٹھنا چاہتا تھا کہ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ ’’واہ حضرت، خوب چلے، بڑی مشکل سےتو مجھے ایک کام کا آدمی ملا ہے۔ اب میں جانے تھوڑی دیتا ہوں۔ آپ کو میرے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا اور ہم دونوں یہ بات معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ جو لوگ راہ راست سے ہٹ گئے ہیں، ان کے دلوں میں یہ کیوں کر ڈالا جا سکتا ہے کہ وہ خود اپنے اصلاح حال کی طرف متوجہ ہوں۔ کیونکہ اس وقت جو طریقے رائج ہیں ان میں ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کو سود مند کہا جا سکے، یا جس نے کوئی مفید نتیجہ پیدا کیا ہو۔‘‘\n\nاس واقعہ کو دو سال ہو چکے ہیں، میں اور مسٹر مسعود اس بارے میں مختلف تجربے کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں۔ ہم دونوں کو یقین ہے کہ اگر گورنمنٹ ہمارے بنائے ہوئے راستہ پر چلی تو کم سے کم تیس فیصدی بد معاشوں کا راہ راست پر آ جانا ممکن ہے۔ یہ تجربے عنقریب ایک کتاب کی صورت میں پبلک کے سامنے آنے والے ہیں۔ اور ہم پبلک سے توقع کرتے ہیں کہ وہ بھی ہم کو اصلاح حال بد معاشاں کے متعلق مشورہ دے تاکہ ہم آزمائش کر کے دیکھیں کہ وہ مشورے بکار آمد ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ اور اسی خیال کوپیش نظر رکھ کر میں نے اپنے حالات کا خلاصہ لکھا ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A8%D8%AF_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D9%86"} {"title": "انجمن ساز عیش تو ہے یہاں", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انجمن ساز عیش تو ہے یہاں\nاور پھر کس کی آرزو ہے یہاں\n\nمن و تو کی نہیں ہے گنجائش\nحرف وحدت کی گفتگو ہے یہاں\n\nکام کیا شمع کا ہے لے جاؤ\nدل بر آفتاب رو ہے یہاں\n\nدل میں اپنے نہیں کچھ اور تلاش\nایک تیری ہی جستجو ہے یہاں\n\nدست بوسی کو تیری اے ساقی\nمنتظر ساغر اور سبو ہے یہاں\n\nآ شتابی کہ ہے مکان لطیف\nسیر گلزار و آب جو ہے یہاں\n\nکیا ترے گھر میں رات تھا بیدارؔ\nاس گل اندام کی سی بو ہے یہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "انداز جفا بدل کے دیکھو تو سہی", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "انداز جفا بدل کے دیکھو تو سہی\nپاؤں سے یہ پھول مل کے دیکھو تو سہی\nرنگ گلکاری جبین سجدہ\nاک دن گھر سے نکل کے دیکھو تو سہی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%A8%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "انداز سخن تم جو ہمارے سمجھو", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "انداز سخن تم جو ہمارے سمجھو\nجو لطف کلام ہیں وہ سارے سمجھو\nآواز گرفتہ گو ہے اس ذاکر کی\nپہروں رؤو اگر اشارے سمجھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D8%AA%D9%85_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%88"} {"title": "انداز و ادا سے کچھ اگر پہچانوں", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "انداز و ادا سے کچھ اگر پہچانوں\nالبتہ اسے خدا قائل جانوں\nکافر مغرور بے کینہ کش بے باک\nوہ اور خدا کو مانے کیوں کر مانوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D9%88_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%BE%DB%81%DA%86%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA"} {"title": "انداز کچھ اور ناز و ادا اور ہی کچھ ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انداز کچھ اور ناز و ادا اور ہی کچھ ہے\nجو بات ہے وہ نام خدا اور ہی کچھ ہے\n\nنہ برق نہ خورشید نہ شعلہ نہ بھبھوکا\nکیوں صاحبو یہ حسن ہے یا اور ہی کچھ ہے\n\nبلور کی چمکیں ہیں نہ الماس کی جھمکیں\nاس گورے سے سینے کی صفا اور ہی کچھ ہے\n\nپیچھے کو نظر کی تو وہ گدی ہے قیامت\nآگے کو جو دیکھا تو گلا اور ہی کچھ ہے\n\nسینے پہ کہا میں نے یہ دو سیب ہیں کیا ہیں\nشرما کے یہ چپکے سے کہا اور ہی کچھ ہے\n\nتم باتیں ہمیں کہتے ہو اور سنتے ہیں ہم چپ\nاپنی بھی خموشی میں صدا اور ہی کچھ ہے\n\nہیں آپ کی باتیں تو شکر ریز پر اے جاں\nاس گونگے کے گڑ میں بھی مزا اور ہی کچھ ہے\n\nپوچھی جو دوا ہم نے طبیبوں سے تو بولے\nبیماری نہیں ہے یہ بلا اور ہی کچھ ہے\n\nعناب نہ خطمی نہ بنفشہ نہ خیارین\nاس ڈھب کے مریضوں کی دوا اور ہی کچھ ہے\n\nہم کو تو نظیرؔ ان سے شکایت ہے جفا کی\nاور ان کا جو سنیے تو گلہ اور ہی کچھ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D9%88_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%DB%92"} {"title": "انداز کہیں دیکھا ہے مستانہ کسی کا", "poet_page": "مصنف:نواب امراوبہادر دلیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انداز کہیں دیکھا ہے مستانہ کسی کا\nشیدا ہی ہوا پھر دل دیوانہ کسی کا\n\nساقی نگہ مست سے تیری جو لڑے آنکھ\nسرشار نہ کیوں کر رہے پیمانہ کسی کا\n\nمسکن ہے خرابی کا تباہی کا ٹھکانہ\nدل سے مرے بڑھ کر نہیں ویرانہ کسی کا\n\nحوروں میں نہ یہ ناز نہ پریوں میں یہ انداز\nپاتے ہیں چلن سب سے جداگانہ کسی کا\n\nکہتے ہیں رقیبوں سے وہ سن کر مرے اشعار\nمضموں ہمیں خوش آتا ہے رندانہ کسی کا\n\nکچھ بنت عنب پر ترا قبضہ نہیں واعظ\nٹھیکے میں نہیں ہے ترے مے خانہ کسی کا\n\nبھیجا ہے سوئے مے کدہ جو ابر خدا نے\nمقبول ہوا نعرۂ مستانہ کسی کا\n\nیاد آتا ہے کیا کیا طلب بوسۂ لب پر\nمنہ پھیر کے گھونگھٹ میں وہ شرمانا کسی کا\n\nذکر شب غم سن کے دلیرؔ ان کا بھی کہنا\nہم نیند میں سنتے نہیں افسانہ کسی کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے\nشاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات\nیا وُسعتِ افلاک میں تکبیرِ مسلسل\nیا خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات\nوہ مذہبِ مردانِ خود آگاہ و خدا مست\nیہ مذہبِ مُلّا و جمادات و نباتات", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2%D9%90_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "اندمال", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "شام کی سیڑھیاں کتنی کرنوں کا مقتل بنیں\nباد مسموم نے توڑ کر کتنے پتے سپرد خزاں کر دیے\nبہہ کے مشکیزۂ ابر سے کتنی بوندیں زمیں کی غذا بن گئیں\nغیرممکن تھا ان کا شمار\nتھک گئیں گننے والے ہر اک ہاتھ کی انگلیاں\nان گنت کہہ کے آگے بڑھا وقت کا کارواں\nان گنت تھے مرے زخم دل\nٹوٹی کرنوں، بکھرتے ہوئے زرد پتوں، برستی ہوئی بوندیوں کی طرح\nاور مرہم بھی ناپید تھا\nلیکن اس روز دیکھا جو اک طفل نو زائیدہ کا خندۂ زیر لب\nزخم دل مندمل ہو گئے سب کے سب!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%85%D8%A7%D9%84"} {"title": "اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شب", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شب\nمجھ دل زدہ کو نیند نہ آئی تمام شب\n\nجب میں شروع قصہ کیا آنکھیں کھول دیں\nیعنی تھی مجھ کو چشم نمائی تمام شب\n\nچشمک چلی گئی تھی ستاروں کی صبح تک\nکی آسماں نے دیدہ درائی تمام شب\n\nبخت سیہ نے دیر میں کل یاوری سی کی\nتھی دشمنوں سے اس کو لڑائی تمام شب\n\nبیٹھے ہی گزری وعدے کی شب وہ نہ آ پھرا\nایذا عجب طرح کی اٹھائی تمام شب\n\nسناہٹے سے دل سے گزر جائیں سو کہاں\nبلبل نے گو کی نالہ سرائی تمام شب\n\nتارے سے میری پلکوں پہ قطرے سرشک کے\nدیتے رہے ہیں میرؔ دکھائی تمام شب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%DB%81_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%A8"} {"title": "اندوہ شباب ٹالنے کو خم ہوں", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اندوہ شباب ٹالنے کو خم ہوں\nمیں قلب و جگر سنبھالنے کو خم ہوں\nدونوں مرے پاؤں ہو گئے ہیں بے کار\nخار پیری نکالنے کو خم ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%DB%81_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%B9%D8%A7%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D9%85_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "اندوہ کھپے عشق کے سارے دل میں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اندوہ کھپے عشق کے سارے دل میں\nاب درد لگا رہنے ہمارے دل میں\nکچھ حال نہیں رہا ہے دل میں اپنے\nکیا جانیے وہ کیا ہے تمھارے دل میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D9%BE%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اندھا", "poet_page": "مصنف:میکش حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سنتا ہے حسن شمس و قمر دیکھتا نہیں\nیعنی نظام شام و سحر دیکھتا نہیں\nاس کے بھی پیرہن پہ گناہوں کے داغ ہیں\nدنیا کو چاہتا ہے مگر دیکھتا نہیں\nاس کو بھی ہیں نصیب محبت کی لذتیں\nدل تھامتا ہے تیر نظر دیکھتا نہیں\nاس کے بھی دل میں آگ بھڑکتی ہے عشق کی\nجلتا ہے اور رقص شرر دیکھتا نہیں\nاس کے بھی سر نے پایا ہے احساس بندگی\nسجدہ میں گر تو جاتا ہے در دیکھتا نہیں\nاس کو سنبھال لیتی ہیں ہر بار ٹھوکریں\nچلتا ہے اور راہ گزر دیکھتا نہیں\nباتوں سے تاڑ لیتا ہے باطن کی حالتیں\nملتا ہے اور روئے بشر دیکھتا نہیں\nہنستا ہے صرف اپنے لئے غیر پر نہیں\nروتا ہے اور دامن تر دیکھتا نہیں\nمعلوم ہے تمول و غربت کی کشمکش\nآنکھوں سے امتیاز نظر دیکھتا نہیں\nاس کو سکون چاہئے جینے کے واسطے\nرہتا ہے اور اپنا ہی گھر دیکھتا نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اندھیری رات کا مسافر", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جوانی کی اندھیری رات ہے ظلمت کا طوفاں ہے\nمری راہوں سے نور ماہ و انجم تک گریزاں ہے\nخدا سویا ہوا ہے اہرمن محشر بداماں ہے\nمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں\n\nغم و حرماں کی یورش ہے مصائب کی گھٹائیں ہیں\nجنوں کی فتنہ خیزی حسن کی خونیں ادائیں ہیں\nبڑی پر زور آندھی ہے بڑی کافر بلائیں ہیں\nمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں\n\nفضا میں موت کے تاریک سائے تھرتھراتے ہیں\nہوا کے سرد جھونکے قلب پر خنجر چلاتے ہیں\nگزشتہ عشرتوں کے خواب آئینہ دکھاتے ہیں\nمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں\n\nزمیں چیں بر جبیں ہے آسماں تخریب پر مائل\nرفیقان سفر میں کوئی بسمل ہے کوئی گھائل\nتعاقب میں لٹیرے ہیں چٹانیں راہ میں حائل\nمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں\n\nافق پر زندگی کے لشکر ظلمت کا ڈیرا ہے\nحوادث کے قیامت خیز طوفانوں نے گھیرا ہے\nجہاں تک دیکھ سکتا ہوں اندھیرا ہی اندھیرا ہے\nمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں\n\nچراغ دیر فانوس حرم قندیل رہبانی\nیہ سب ہیں مدتوں سے بے نیاز نور عرفانی\nنہ ناقوس برہمن ہے نہ آہنگ ہدیٰ خوانی\nمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں\n\nتلاطم خیز دریا آگ کے میدان حائل ہیں\nگرجتی آندھیاں بپھرے ہوئے طوفان حائل ہیں\nتباہی کے فرشتے جبر کے شیطان حائل ہیں\nمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں\n\nفضا میں شعلہ افشاں دیو استبداد کا خنجر\nسیاست کی سنانیں اہل زر کے خونچکاں تیور\nفریب بے خودی دیتے ہوئے بلور کے ساغر\nمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں\n\nبدی پر بارش لطف و کرم نیکی پہ تعزیریں\nجوانی کے حسیں خوابوں کی ہیبت ناک تعبیریں\nنکیلی تیز سنگینیں ہیں خوں آشام شمشیریں\nمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں\n\nحکومت کے مظاہر جنگ کے پر ہول نقشے ہیں\nکدالوں کے مقابل توپ بندوقیں ہیں نیزے ہیں\nسلاسل تازیانے بیڑیاں پھانسی کے تختے ہیں\nمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں\n\nافق پر جنگ کا خونیں ستارہ جگمگاتا ہے\nہر اک جھونکا ہوا کا موت کا پیغام لاتا ہے\nگھٹا کی گھن گرج سے قلب گیتی کانپ جاتا ہے\nمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں\n\nفنا کے آہنی وحشت اثر قدموں کی آہٹ ہے\nدھویں کی بدلیاں ہیں گولیوں کی سنسناہٹ ہے\nاجل کے قہقہے ہیں زلزلوں کی گڑگڑاہٹ ہے\nمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1"} {"title": "اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریش", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریش\nٹکڑے ہے جگر جیسے لباس درویش\nہاتھوں سے جو آج ہوسکے کر لیجے\nپھر کل تو ہمیں ہے اک قیامت درپیش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%B4%DB%82_%D9%85%D8%B1%DA%AF_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%B3%D8%A8_%D8%B1%DB%8C%D8%B4"} {"title": "انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھا", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھا\nکیا نشہ ہے سارا عالم ایک پیمانے میں تھا\n\nآہ اتنی کاوشیں یہ شور و شر یہ اضطراب\nایک چٹکی خاک کی دو پر یہ پروانے میں تھا\n\nآپ ہی اس نے انا الحق کہہ دیا الزام کیا\nہوش کس نے لے لیا تھا ہوش دیوانے میں تھا\n\nاللہ اللہ خاک میں ملتے ہی یہ پائے ثمر\nلو خدا کی شان پھل بھی پھول بھی دانے میں تھا\n\nشیخ کو جو پارسا کہتا ہے اس کو کیا کہوں\nمیں نے اپنی آنکھ سے دیکھا وہ مے خانے میں تھا\n\nشاعرؔ نازک طبیعت ہوں مرا دل کٹ گیا\nساقیا لینا کہ شاید بال پیمانے میں تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%B3_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "انس ہے خانۂ صیاد سے گلشن کیسا", "poet_page": "مصنف:تعشق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انس ہے خانۂ صیاد سے گلشن کیسا\nناز پرورد قفس ہوں میں نشیمن کیسا\n\nہم وہ عریاں ہیں کہ واقف نہیں اے جوش جنوں\nنام کس شے کا گریبان ہے دامن کیسا\n\nاپنی آزردہ دلی بعد فنا کام آئی\nڈھیر یہاں گرد کدورت کے ہیں مدفن کیسا\n\nکہہ دیا بس کہ تری آہ میں تاثیر نہیں\nیہ نہ دیکھا کہ یہ سینہ میں ہے روزن کیسا\n\nچھٹ کے اس پھول سے برباد پڑے پھرتے ہیں\nہم تو اب طائر نگہت ہیں نشیمن کیسا\n\nدل اسے دے کے چلے ملک عدم کو بے خوف\nمال رکھتے نہیں اندیشۂ رہزن کیسا\n\nدل بے تاب کی ہے سینۂ سوزاں میں صدا\nاصل پارہ کی ہے کیا دانۂ گل خن کیسا\n\nتھا کبھی دور اسیران قفس اے صیاد\nاب تو اک پھول کی محتاج ہیں گلشن کیسا\n\nچار دن میں یہ زمانہ بھی گزر جائے گا\nابھی روئیں گے جوانی کو لڑکپن کیسا\n\nسخت جاں ہیں تری تلوار سے کیا خوف ہمیں\nسختیٔ مرگ سے دبتے نہیں آہن کیسا\n\nجل گئے صورت پروانہ تب عشق سے ہم\nپھینک دے لاش اٹھا کر کوئی مدفن کیسا\n\nایک دن ابلق ایام کرے گا پامال\nمجھ سے رہ رہ کے بگڑتا ہے یہ توسن کیسا\n\nعشق سے کام نہ تھا حسن کی پروا بھی نہ تھی\nیاد آتا ہے جوانی میں لڑکپن کیسا\n\nکھیلتے ہو دل بے تاب سے پھولوں کی طرح\nاور ہوتا ہے مری جان لڑکپن کیسا\n\nشمع سے آپ کے سوزاں یہ سنا کرتے ہیں\nکوئی محتاج کفن بھی نہ ہو مدفن کیسا\n\nچاہتا ہوں کوئی دیکھے نہ تیری تیغ کے زخم\nچشم جراح ہے کیا دیدۂ سوزن کیسا\n\nنقش پا ہیں ہوس نام و نشاں خاک نہیں\nہم تو اٹھنے کے لیے بیٹھے ہیں مسکن کیسا\n\nآندھیاں گرم جو چلتی ہیں مری آہوں سے\nمنہ چھپاتا ہے چراغ تہ دامن کیسا\n\nسینہ اپنا ہے ہمارا دل سوزاں اپنا\nشمع فانوس و چراغ تہ دامن کیسا\n\nدور جب سے صفت برگ خزاں دیدہ ہے\nیاد آتا ہے شب و روز وہ گلشن کیسا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B5%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7"} {"title": "انسان", "poet_page": "مصنف:عظیم الدین احمد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "انسان اور اطاعت ماحول افترا\nآیا ہے اپنی آپ یہ دنیا لیے ہوئے\nہے دیکھنے میں ذرہ پہ صد مہر در بغل\nوحدت ہے اس کی کثرت اشیا لیے ہوئے\nظاہر میں ایک پھول پہ صد گلستاں یہ جیب\nبالفعل قطرہ بالقوۃ دریا لیے ہوئے\nمعماریٔ جہان نو اس کی ہے زندگی\nموت اس کی ہے حیات کا چشمہ لیے ہوئے\nکس کی مجال ہے کہ اسے دیکھ کر کہے\nآیا ہے اپنے ساتھ یہ کیا کیا لیے ہوئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86"} {"title": "انسان (قُدرت کا عجیب یہ ستم ہے)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "قُدرت کا عجیب یہ ستم ہے!\nانسان کو راز جو بنایا\nراز اس کی نگاہ سے چھُپایا\nبے تاب ہے ذوق آگہی کا\nکھُلتا نہیں بھید زندگی کا\nحیرت آغاز و انتہا ہے\nآئینے کے گھر میں اور کیا ہے\n\nہے گرمِ خرام موجِ دریا\nدریا سوئے بحر جادہ پیما\nبادل کو ہوا اُڑا رہی ہے\nشانوں پہ اُٹھائے لا رہی ہے\nتارے مستِ شرابِ تقدیر\nزندانِ فلک میں پا بہ زنجیر\nخورشید، وہ عابدِ سحَر خیز\nلانے والا پیامِ ’برخیز‘\nمغرب کی پہاڑیوں میں چھُپ کر\nپیتا ہے مئے شفَق کا ساغر\nلذّت گیرِ وجود ہر شے\nسر مستِ مئے نمود ہر شے\nکوئی نہیں غم گُسارِ انساں\nکیا تلخ ہے روزگارِ انساں!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%28%D9%82%D9%8F%D8%AF%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DB%81%DB%92%29"} {"title": "انسان (منظر چَمنِستاں کے زیبا ہوں کہ نازیبا)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "منظر چَمنِستاں کے زیبا ہوں کہ نازیبا\nمحرومِ عمل نرگس مجبورِ تماشا ہے\n\nرفتار کی لذّت کا احساس نہیں اس کو\nفطرت ہی صنوبر کی محرومِ تمنّا ہے\n\nتسلیم کی خُوگر ہے جو چیز ہے دُنیا میں\nانسان کی ہر قوّت سرگرمِ تقاضا ہے\n\nاس ذرّے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم\nیہ ذرّہ نہیں، شاید سِمٹا ہُوا صحرا ہے\n\nچاہے تو بدل ڈالے ہیئت چَمنِستاں کی\nیہ ہستیِ دانا ہے، بِینا ہے، توانا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%28%D9%85%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%86%D9%8E%D9%85%D9%86%D9%90%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B2%DB%8C%D8%A8%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%B2%DB%8C%D8%A8%D8%A7%29"} {"title": "انسان تو نقد جاں بھی کھو دیتا ہے", "poet_page": "مصنف:فرحت کانپوری", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "انسان تو نقد جاں بھی کھو دیتا ہے\nممکن ہو تو اپنا نشاں دھو دیتا ہے\nرہتا ہے یوں جہاں میں گم سم ہو کر\nچھیڑے جو کوئی تو صرف رو دیتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D9%88_%D9%86%D9%82%D8%AF_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "انسان نے اول اول بولنا کیونکر شروع کیا؟", "poet_page": "مصنف:وحید الدین سلیم", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "علمائے فلالوجی (علم اللسان) نے جو نقشہ دنیا کی زبانوں کی تقسیم کا مرتب کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک براعظم کی زبانوں کی تعداد حسب ذیل ہے،\n\n(۱) ایشیا ۹۸۷\n(۲) یورپ ۳۵۸\n(۳) افریقہ ۲۷۶\n(۴) امریکہ ۱۲۶۴\n(۵) اوشینیا ۷۹\n\nیہ تقسیم باعتبار جغرافیہ کے ہے۔ زبانوں کی ترکیب اور بناوٹ کے لحاظ سے ان کی بڑی بڑی قسمیں حسب ذیل ہیں،\n\n(۱) آرین زبانیں\n(۲) سامی زبانیں\n(۳) تورانی زبانیں\n\nاول خاندان کی زبانوں میں سنسکرت، لاطینی، یونانی، ژند، زبانیں داخل ہیں، جو مردہ ہو چکی ہیں۔ اس خاندان کی زندہ زبانوں میں انگریزی، جرمنی، فرانسیسی، ایطالی، اندلسی، ڈچ، ہندی، فارسی وغیرہ یورپ و ایشیا کی موجودہ زبانیں داخل ہیں۔ دوسرے خاندان میں سے عبرانی اور حمیری زبانیں مردہ ہو چکیں، عربی ایک زندہ زبان ہے جس کو دنیا کے تیرہ آدمیوں میں سے ایک آدمی بو لتا ہے۔ تیسرے خاندان کی زبانوں میں ترکی، چینی، جاپانی، برہمی وغیرہ زبانیں داخل ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس قدر زبانیں کیوں کر پیدا ہوئیں اور انسان نے اول اول بولنا کیوں کر شروع کیا؟ ہر زبان کے بولنے والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں کی زبان دنیا میں سب سے پہلے بولی گئی۔ دنیا کے اکثر مذہبی آدمی تو یہ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ انسان کو زبان خدا نے سکھائی اور بطورِ الہام الفاظ اس کے دل میں القا کیے گئے مگر زمانۂ حال کے علماء جو ہر بات کا پتہ پتال تک لگاتے ہیں، ان الفاظ کو سن کر خاموش نہیں رہ سکتے۔\n\nاٹھارہویں صدی عیسوی کے فلاسفہ، لاک، ایڈم سمتھ، ڈوگلڈ اسٹوارٹ وغیرہ یہ کہتے تھے کہ انسان پہلے تو بالکل گونگا تھا۔ کوئی آواز بےمعنی یا بامعنی اس کے منہ سے نہیں نکلتی تھی۔ اگر ایک آدمی دوسرے آدمی سے اپنے دل کی بات کہنی چاہتا، تو ہاتھ پاؤں سے اشارہ کرتا تھا اور طرح طرح کی حرکتوں سے اپنا مطلب سمجھاتا تھا۔ جب اشاروں اور حرکتوں سے ہمیشہ کام نہ چلا تو وہ طبعاً بولنے پر مجبور ہوا۔ اس کی زبان خودبخود کھل گئی اور ہر مطلب کے لیے الفاظ اس کے منہ سے نکلنے لگے۔ ان الفاظ پر متکلم اور سامع دونوں کا اتفاق ہوتا گیا اور رفتہ رفتہ ایک وسیع زبان پیدا ہو گئی۔ یہاں تک تو یہ فلاسفہ متفق ہیں۔ آگے چل کر اس بات میں اختلاف ہے کہ الفاظ میں سے فعل پہلے پیدا ہوا یا اسم، بعض تو کہتے ہیں کہ سب سے پہلے فعل پیدا ہوا۔ کیوں کہ اسم کا اشارہ سے سمجھا دینا ممکن ہے۔ مگر فعل میں جو معنی پوشیدہ ہیں وہ اشارے سے سمجھے نہیں جا سکتے۔ اس لیے مثلاً جب کبھی کوئی آدمی بھیڑیے کو آتا دیکھتا تو وہ ’’آیا، آیا‘‘ کہہ کر چلاتا اور دوسرے کو خبردار کرتا تھا۔\n\nبعض کہتے ہیں کہ فعل سے پہلے اسم پیدا ہوا، کیوں کہ اسم کے معلوم ہونے کے بعد فعل کا اس کی طرف منسوب کر دینا آسان ہے۔ ان کے نزدیک اس زمانے کے آدمی بھیڑیے کو دیکھ کر ’’آیا، آیا‘‘ کہہ کرنہیں چلاتے تھے بلکہ ’’بھیڑیا، بھیڑیا‘‘ کہہ کر غل مچاتے تھے۔ اب اس بحث کو جانے دو کہ پہلے فعل پیدا ہوا یا اسم۔ اصلی بحث تو یہ ہے کہ جب کوئی آدمی اس وقت بولنا نہیں جانتے تھے تو الفاظ ان کی زبان سے خودبخود کیوں کر نکلنے شروع ہوئے اور ہر لفظ پران کا اتفاق کیوں کر ہوا؟\n\nزمانۂ حال کے علما نے اس مسئلے کے حل کرنے کا نیا طریقہ ایجاد کیا ہے۔ انہوں نے دنیا کی زبانوں کا باہم مقابلہ کیا ہے اور ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان کے الفاظ سے ملانا شروع کیا ہے۔ اس سے نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا میں زبانوں کے تین بڑے خاندان ہیں۔ (۱) آرین، (۲) سامی، (۳) تورانی۔\n\nہر خاندان میں جو زبانیں شامل ہیں ان کے الفاظ ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ مگر ایک خاندان کے کسی زبان کے الفاظ کا دوسرے خاندان کے کسی زبان کے الفاظ سے مشابہ ہونا ابھی تک ثابت نہیں ہوا۔ علمائے السنہ اب تک برابر کوشش کر رہے ہیں کہ جس طرح ہر خاندان کی زبانیں با ہم متحد ثابت ہوئیں، اسی طرح ان خاندانوں کو بھی ایک اصل کے ساتھ متحد ثابت کریں۔ ہر خاندان کی زبانوں کی جدا جدا تحقیقات بھی کی گئی ہے، جس سے معلوم ہوا ہے کہ ہر زبان کیسی ہی وسیع ہو مگر اس کی بنیاد چند ابتدائی مادوں سے شروع ہوئی ہے، جن کی تعداد ہزار تک کسی طرح نہیں پہنچ سکتی۔\n\nمثلاً عبرانی زبانی کی نسبت تحقیقات کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ (۵۰۰) ابتدائی مادوں سے تیار ہوئی ہے۔ یہ مقولہ پروفیسر رینان کا ہے، جو فرانس کی نہایت نامور عالم ہے۔ پروفیسر میکس مولر نے سنسکرت کی نسبت بھی یہی امر دریافت کیا ہے کہ اس وسیع زبان کے بھی ابتدائی مادے (۵۰۰) سے زیادہ نہیں ہیں۔ چینی زبان میں چالیس اور پچاس ہزار کے درمیان الفاظ ہیں مگر ڈاکٹر جولین نے بتایا ہے کہ وہ اصلی مفرد مادے جن سے اس زبان کے کل الفاظ تیار ہوئے ہیں (۴۵۰) سے زیادہ نہیں ہیں۔ تحقیقات کے اس نئے طریقے سے جب یہ معلوم ہو گیا کہ ہر زبان میں اصلی مادوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے تو اب اتنا ہی دریافت کرنا باقی رہ گیا کہ وہ کون سا طریقہ ہے جس کے ذریعے سے انسان نے ان ابتدائی مادوں کو معلوم کیا اور ان سے بولنا شروع کیا۔\n\nعلمائے السنہ نے اس باب میں تین نظریے اختیار کیے ہیں۔ پہلا نظریہ تو وہی اٹھارہویں صدی کے فلاسفہ کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے انسان اپنا مطلب اشاروں اور حرکتوں سے نکالتا تھا۔ جب اس کے دل و دماغ پر خیالات کا ہجوم ہوا اور اشارات اور حرکات سے کام نہ چل سکا تو ان آوازوں کی نقل اتارنے لگا جو اس کو سنائی دیتی تھیں۔ مثلاً جب کتے کی طرف اشارہ کرتا تو ’’بھوں بھوں‘‘ کہہ کر اس کی آواز کی نقل اتارتا تھا۔ کوے کو ’’کائیں کائیں‘‘ کی آواز سے بتاتا تھا۔ چڑیا کو ’’چوں چوں‘‘ سے تعبیر کرتا تھا۔ اسی طرح ہوا کو ’’سائیں سائیں‘‘ پتھر کو ’’کھٹ کھٹ‘‘ کہہ کر بتاتا تھا۔ جب آوازوں کی نقل سے کام بخوبی چلنے لگا تو اس نے یہی طریقہ ہر مطلب کے سمجھانے کے لیے پسند کر لیا۔ اس طریقہ سے زبان کے اصلی اور ابتدائی مادے تیار ہو گئے۔ پھر ترکیب، تبدیل، حذف وغیرہ طریقوں سے ایک ایک مادے سے ہزاروں الفاظ نکل آئے اور زبان میں یہ قوت پیدا ہو گئی کہ وہ ہر مطلب کو ادا کر سکے۔\n\nدوسرا نظریہ جو کانڈی لاک وغیرہ علما نے اختیار کیا ہے اس سے محتلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم آوازوں کی نقل اتارنے کا نظریہ کیوں مانیں اور انسان کو انسان کے درجے سے گراکر اس کو حیوانات کے زمرے میں کیوں داخل کریں۔ کیا نیچر نے اس کو ایسی آوازیں عطا نہیں کیں جن سے وہ اپنے مطلب کو ظاہر کر سکے۔ اس کو کیا حاجت ہے کہ وہ جانوروں کی آواز کے ساتھ آواز ملایا کرے اور ان کا منہ چڑایا کرے۔ کیا غم اور خوشی، غصے اور تکلیف کے وقت اس کے منہ سے مختلف آوازیں نہیں نکلتیں۔ یہ اس کی طبعی آوازیں ہیں اور انہیں سے زبان کی بنیاد ڈالی گئی ہے۔ یہی آوازیں وہ ابتدائی اور اصلی مادے ہیں جن سے زبان کے تمام الفاظ پھوٹ کر نکلے ہیں۔\n\nتیسرا نظریہ جو حال میں ہی ایجاد ہوا ہے، اس کے موجدوں میں دونہایت نامور شخص پروفیسر میکس مولر اور پروفیسر رینان ہیں۔ پروفیسر میکس مولر نے اپنی ایک کتاب میں، جو اس نے زبان کی اصلیت اور اس کی نشوونما پر لکھی ہے، بیان کیا ہے کہ آواز کی نقل اتارنے سے کسی مطلب کا سمجھانا بے شک ممکن ہے۔ مثلاً ایک انگریز نے، جو چینی زبان سے ناواقف تھا، جب اس کے سامنے ایک چینی ہوٹل میں کھانا چنا گیا، خانساماں سے ’’کوک کوک‘‘ کہہ کر یہ پوچھا کہ کیا یہ مرغ کا گوشت ہے۔ اس نے ’’بھوں بھوں‘‘ کہہ کر سمجھایا کہ نہیں مرغ کا نہیں بلکہ کتے کا گوشت ہے۔ مگر یہ آوازیں کسی زبان کے تیار کرنے کے لیے کارآمد نہیں ہیں۔ نہ ان سے کوئی زبان مرکب ہوئی ہے۔\n\nاگر کوئی زبان جانوروں کی آوازوں سے بن سکتی تو سب سے پہلے جانوروں کا نام انہیں آوازوں میں رکھا جاتا، حالاں کہ بلی کے نام کو اس کی ’’میاؤں میاؤں‘‘ سے اور کتے کے نام کو اس کے ’’بھوں بھوں‘‘ سے اور چڑیا کے نام کو اس کی ’’چوں چوں‘‘ سے کوئی مناسبت نہیں ہے۔ بیشک بعض جانوروں کے نام ایسے ہیں جو ان کی آوازوں سے ملتے جلتے ہیں۔ مگر وہ مصنوعی پھول ہیں جن سے اصلی پھولوں کی بوباس کا سراغ لگانا ناممکن ہے۔ ان آوازوں سے الفاظ کا اشتتاق نہیں ہوا۔ جب ہم الفاظ کی مرکب اور پیچیدہ صورتوں پر غور کرتے ہیں اور ان سے وہ تمام ترکیبی زیادتیاں اور پیچیدگیاں دور کرکے ان کو سادہ اور ابتدائی مادوں کی شکل میں لے آتے ہیں تو ہم کو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ ان تمام ترکیبوں کو تحلیل کرتے کرتے کوئی آواز باقی نہیں رہی۔ یا کچھ آوازیں باقی رہیں مگر ان کو باقی ابتدائی مادوں میں شمار میں کچھ نسبت نہیں۔\n\nیہ اعتراض تیسرے گروہ کاپہلے گروہ کے نظریے پر ہے۔ دوسرے گروہ کے نظریے پر ان کا اعتراض یہ ہے کہ کوئی زبان ان آوازوں سے بھی مرکب نہیں ہوئی جو انسان کی طبعی آوازیں کہلاتی ہیں، نہ ایسا ہونا ممکن ہے۔ کیوں کہ جب انسان کی طبعی آواز ختم ہوتی ہے تو وہ بامعنی الفاظ کے ساتھ بولنا شروع کرتا ہے۔ ہوران ٹک کہتا ہے کہ جب طبعی آوازیں دور ہو جاتی ہیں تب کوئی زبان زبان بنتی ہے۔ انسان ان آوازوں کا جبھی استعمال کرتا ہے جب کہ اس کو ایسا حادثہ پیش آئے جو اس کی طبیعت کو بدل دے اور وہ اصلی الفاظ کو بھول جائے یا موقع کے جاتے رہنے کا خوف دامن گیر ہو۔ اگر زبان کی بنیاد طبعی آوازیں ہوتیں تو زور کی ہنسی کو ’’قہ قہ‘‘ غمگین ہونے کو ’’ہائے ہائے‘‘ نفرت کو ’’آخ تھو‘‘ رونے کو ’’ہو ہو‘‘ کے الفاظ سے تعبیر کرتے۔ ہنسنا، رونا، نفرت، غم وغیرہ الفاظ کیوں بولے جاتے۔ حالاں کہ ان آوازوں اور ان لفظوں میں کوئی علاقہ نہیں ہے۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ آوازیں اشاروں اور حرکتوں کی نسبت ادائے مطلب کے لیے کچھ زیادہ مفید نہیں ہیں۔ اس لیے ممکن نہیں ہے کہ کسی زبان کی بنیاد ان آوازوں پر رکھی جائے۔\n\nاس کے علاوہ ایک اور بات ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر زبان جانوروں کی آوازوں یا طبعی آوازوں سے مل کر بنتی تو یہ نہایت تعجب کی بات ہے کہ بے زبان جانور کیوں بولنا شروع نہ کریں۔ حالانکہ جانوروں میں بعض جانور ایسے بھی ہیں جو آوازوں کی نقل اتار سکتے ہیں۔ مثلاً طولا، ہنس راج وغیرہ اور بعض جانور خوشی، غم اور خوف کے وقت خاص قسم کی آوازیں بھی نکال سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں اگر ایسا ہی ہوتا تو الفاظ سب سے پہلے محسوسات کی جزئی صورتوں کے لیے جو ذہن میں آتے ہیں، ایجاد کیے جاتے۔ پھر بتدریج کلی صورتوں پر ان کااطلاق ہوتا۔ مثلاً اگر کوئی کتے کا نام بھوں بھوں رکھتا تو ضرور تھا کہ یہ کسی خاص کتے کا نام ہو اور اس سے پہلے پہل وہی کتا مراد لیا جائے۔ پھر بتدریج ہر کتے پر یہ لفظ بولا جائے۔\n\nصحیح بات یہ ہے کہ انسان نے پہلے پہل کلی صورتوں کے لیے الفاظ ایجاد کیے۔ کیوں کہ جب ہم زبان کے الفاظ کو تحلیل کرتے ہیں اور ان کو اصلی مفرومادوں کی طرف لے جاتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ الفاظ سب سے پہلے اشیا کی ان صفات کے لیے جو ان کے ساتھ مخصوص ہیں، یا ان کے افعال کے لیے موضوع ہوئے تھے، مثلاً اگر کہف کے لفظ کا آرین زبانوں میں سراغ لگایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسے مادے سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں سوراخ کرنا، چھپانا۔ اسی طرح نہر کا لفظ ایسے مادے سے مشتق ہوا جس کے معنی جاری ہونے کے ہیں۔ دونوں معنی کلی ہیں۔ جو اول جزئی معنوں کے لیے خاص کیے جاتے ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ کلی پر بولے جانے لگے۔\n\nمیرے نزدیک بے زبان جانور کلی معنوں کا تصور نہیں کر سکتے۔ تمام جانداروں میں صرف انسان ہی اس کی قدرت رکھتا ہے۔ اسی سبب سے فکر اور نطق یہ دونوں صفات انسان ہی کے ساتھ خاص ہیں۔ فکر اور نطق دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔ جو کلام بغیر فکر کے ہو وہ خالی آواز ہے اور جو فکر بغیر کلام کے ہو وہ لغو اور بے کار ہے۔ فکر اس کلام کا نام ہے جو پست ہو اور کلام اس فکر کا نام ہے جو بلند ہو۔ ہر کلمہ جو انسان کی زبان سے نکلتا ہے وہ ایک مجسم فکر ہے۔ یہ سارا بیان عالم السنہ پروفیسر میکس مولر کی کتاب کا خلاصہ ہے۔\n\nپروفیسر میکس مولر یہ بھی کہتا ہے کہ انسان نے اول اس قوت کی مدد سے جو اس کی فطرت میں ودیعت کی گئی تھی، وہ اصلی مادے ایجاد کیے جن پر زبان کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس کے بعد یہ قوت قلت استعمال سے کمزور ہو گئی اور مدت دراز تک اس کے کام میں نہ آنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ معطل ہوکر بالکل جاتی رہی۔ سونے اور لوہے کو بجاکر دیکھو دونوں کی آواز الگ الگ ہے۔ اسی طرح لکڑی اور ٹھیکری کی آوازیں جدا جدا ہیں۔ انسان طبعی مخلوقات میں سب سے برتر اور سب سے کامل ہے۔ اس میں صرف یہی قوت نہیں ہے کہ وہ اپنے گردوپیش کی آوازوں کی نقل اتارے یا بے زبان جانوروں کی طرح صرف طبعی آوازوں کی مدد سے اپنے مطالب کو ادا کرے۔ بلکہ اس میں ایک اور نئی قوت بھی رکھی گئی ہے، جس کا کام یہ ہے کہ اس کی مدد سے انسان اپنے مافی الضمیر کو الفاظ سے تعبیر کر سکتا ہے۔\n\nاول انسان کے دماغ میں کوئی خیال گردش کرتا تھا گویا کہ وہ قوت جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے، دماغ پر اپنی ضربات پہنچاتی تھی۔ ضربات سے جو آوازیں پیدا ہوئیں وہ الفاظ ہیں۔ یہی الفاظ زبان کے لیے بمنزلہ ابتدائی مادوں کے ہو گئے۔ اس کے بعد انسان نے ان الفاظ میں تغیر و تبدل کرکے ہزاروں نئے الفاظ نکال لیے اور رفتہ رفتہ زبان کی ایک عالی شان عمارت اِن بنیادوں پر اٹھائی گئی۔ اصلی مادوں کے ایجاد کرنے کے بعد اس قوت کو کام کرنے کا کوئی موقع نہیں رہا۔ اور جس طرح انسان کی ہر قوت قلت استعمال سے رفتہ رفتہ مضمحل پھر معدوم ہو جاتی ہے، اس طرح یہ قوت بھی بتدریج بنی نوع انسان سے زائل ہو گئی۔ یہاں تک ہم نے میکس مولر کا نظریہ بیان کیا ہے۔\n\nاس نظریے پر پروفیسر ہوٹنی نے جو امریکہ کا مشہور عالم ہے اعتراض کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ پروفیسر میکس مولر کے بیان سے لازم آتا ہے کہ انسان نے اول اس قوت کی مدد سے بولنا شروع کیا جو اس کی جبلت میں موجود تھی۔ اس کے بولنے کا یہ سبب نہیں تھا کہ اس کو سوسائٹی کے ساتھ میل جول اور تبادلۂ خیالات کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ حالاں کہ یہ واقعہ کے بالکل خلاف ہے۔ میکس مولر کے نزدیک نطق اور فکر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ حالاں کہ فکر، بدون نطق کے بھی پایا جا سکتا ہے۔ اگر میکس مولر کا خیال صحیح ہے کہ انسان نے ایک عجیب و غریب جبلی قوت کی مدد سے الفاظ ایجاد کیے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ قوت اب بھی ہو اور دنیا سے معدوم نہ ہوئی ہو۔ انسان کے ذہن میں اب بھی نئے نئے خیالات آتے ہیں۔ مگر کبھی یہ نہیں ہوتا کہ جب اس کے ذہن میں خیالات کی لہریں آنے لگیں تو بےاختیار نئے نئے الفاظ بھی زبان سے نکلنے لگیں جو ان جدید خیالات کو تعبیر کر سکیں۔ پس جس حالت میں کہ اب بھی اس قوت کی حاجت ہے اور باوجود حاجت کے اس کا کوئی کرشمہ دیکھا نہیں جاتا، تو یہ نتیجہ نکالنا کچھ عجیب نہیں ہے کہ یہ حیرت انگیز قوت پہلے بھی کبھی انسان کے حصے میں نہیں آئی۔\n\nہمارے نزدیک تیسرا نظریہ جس کے بانیوں میں پروفیسر میکس مولر اور پروفیسر رینان ہیں، صحیح نہیں ہے۔ ہم پہلے اور دوسرے نظریے کو صحیح سمجھتے ہیں اور دونوں کو ملاکر یہ یقین کرتے ہیں کہ انسان نے اشارات و حرکات کے بعد جن آوازوں سے بولنا شروع کیا وہ یا تو خود انسان کی طبعی آوازیں تھیں یا گردوپیش کی آوازوں کی نقل تھیں۔ پھر اس نے دونوں قسم کی آوازوں میں تغیر و تبدل کرکے زبان ایجاد کی۔\n\nدوسرے گروہ کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اس نظریے کے تسلیم کرنے سے انسان اپنے درجے سے گرکر حیوانات میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ درحقیقت انسان بھی ایک ترقی یافتہ حیوان ہے۔ اس کی موجودہ لیاقتیں اور قابلیتیں ایک دم سے نمودار نہیں ہوئیں بلکہ رفتہ رفتہ اس کی ہر قوت کو نشوونما ہوا ہے۔ تیسرے گروہ کا یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ اگر انسان نے جانوروں کی آوازوں کی نقل اتار کر بولنا شروع کیا ہے تو سب سے پہلے جانوروں کے نام وہی رکھے جاتے جو ان کی آوازیں ہیں۔ ہم ان کو یقین دلاتے ہیں کہ انسان نے ایسا ہی کیا ہے۔ جانوروں کے جونام ان کی آوازوں سے ملتے جلتے ہیں، ان کی نسبت تو ان کو بھی تامل نہیں ہے مگر وہ نام جو آوازوں سے ملتے جلتے نہیں ہیں، ان کو شک میں ڈالتے ہیں۔ یہ نام یا تو درحقیقت آواز ہی پر رکھے گئے تھے۔ بگڑتے بگڑتے ان ناموں کی یہ حالت ہو گئی کہ اب مشکل سے ان کے خط و خال پہچانے جاتے ہیں۔ یا وہ اس زمانہ میں مقرر ہوئے ہیں جب کہ انسان نے اس سادہ طریقہ کے علاوہ اور طریقے نام رکھنے کے ایجاد کر لیے تھے۔\n\nالفاظ کو تحلیل کرتے کرتے جو اصل مادے ہم نے ایجاد یا دریافت کیے ہیں، اگر ان میں سے کوئی مادہ ایسا ہے کہ ایک زبان میں وہ کسی آواز پر دلالت نہیں کرتا تو دوسری زبان میں اس کو تلاش کرو، جو اسی خاندان کی زبان ہے۔ اگر اس میں بھی نہ ملے تو اس خاندان کی تیسری زبان میں ٹٹولو۔ اس تحقیق سے یقیناً ہم اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ وہ مادہ اگرچہ ایک زبان میں آواز پر دلالت نہیں کرتا مگر دوسری زبان میں جو اسی خاندان کی ہے اس کی آواز سنائی دیتی ہے۔ چونکہ دونوں زبانیں ایک ہی خاندان کی ہیں، اس لیے یہ کہنا قرین قیاس ہے کہ جب دونوں زبانوں کے بولنے والے ایک ہی جگہ آباد تھے اور ایک ہی مشترک زبان بولتے تھے تو اس وقت وہ لفظ آواز کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ پھر ایک گروہ نے اس کو دوسرے معنوں کے لیے بولنا شروع کیا اور جب وہ اپنے مشترک گروہ سے جدا ہوکر دوسری جگہ آباد ہوئے تو انہوں نے اس کے اصلی مفہوم کو فراموش کر دیا تھا۔\n\nممکن ہے کہ ہم ہر مادے کی نسبت ایسی انتہائی اور کامل تحقیقات نہ کرسکیں کیوں کہ کمپیریٹو فلالوجی (علم اللغات بالمقابلہ) ایسا علم ہے جس کی عمر بہ نسبت دیگر علوم کے بہت تھوڑی ہے اور اس کی ترقی کے لیے ابھی ہزاروں مشکلات پر غالب آنا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی بہت سی زبانیں متروک اور مردہ ہو چکی ہیں اور ان کی مکمل ڈکشنریاں موجود نہیں ہیں۔ یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ طبعی آوازوں کے ساقط ہو جانے کے بعد کوئی زبان زبان بنتی ہے۔ اور اس وقت طبعی آوازوں سے بہت کام لیا جاتا ہے۔ اور وہ بہت زیادہ کارآمد بھی نہیں ہیں، اس لیے کہ جب ہم انسان کی اس حالت کا سراغ لگاتے ہیں جب کہ وہ مثل دیگر حیوانوں کے موجودہ ترقی کے ہتھیاروں سے مسلح نہیں تھا تو اس وقت کی نسبت یہ خیال کرنا کہ اس کی ہر قوت ایک دم سے معراج کمال کو پہنچ گئی تھی محض غلط ہے۔\n\nعلمائے انتھروپالوجی (علم الانسان) کی نہایت دقیق اور عمیق تحقیقات سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ جب انسان دنیا میں نمودار ہوا تو ہر لحاظ سے حیوان مطلق اور ہر قسم کی ترقیوں سے عاری تھا۔ اس نے سکونت، پوشش، غذا، بولنے لکھنے، سوچنے اور سمجھنے میں بے شمار برسوں تک آہستہ آہستہ ترقی کی اور آخرکار وہ اس حالت پر پہنچ گیا کہ دیگر حیوانوں سے ممتاز ہوکر ایک نئی نوع کو وجود میں لایا۔ آوازوں کے نقل اتارنے یا طبعی آوازوں کی مدد سے اپنے مطالب کے لیے اب اس کے پاس مکمل طریقے ہیں۔ اس کو اس بات پر مجبور کرنا کہ اب بھی وہ انہیں ناقص اور نامکمل طریقوں سے کام لے، جن کے ایجاد کرنے کی ضرورت اس وقت اسے پیش آئی تھی، بعینہ یہ چاہنا ہے کہ دنیا موجودہ ترقی سے ہزاروں کوس پیچھے ہٹ جائے۔ اب بے شک وہ آوازیں کارآمد نہیں رہیں مگر یہ کہنا کہ وہ کبھی کار آمد نہیں تھیں، غلط ہے۔\n\nیہ اعتراض بھی حیرت انگیز ہے کہ اگر انسان نے طبعی آوازوں کی مدد سے یا جانوروں کی آوازوں کی نقل سے بولنا سیکھا ہے تو جانور کیوں نہیں بولنا شروع کر دیتے۔ حالانکہ ان میں بعض جانور آوازوں کی نقل اتار سکتے ہیں اور بعض جانور طبعی آوازیں بھی نکال سکتے ہیں۔ ہمارے معترض اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ انسان نے جو بولنا شروع کیا ہے، وہ بے شمار برسوں کے بعد اس قابل ہوا ہے کہ ادائے مطالب کے لیے الفاظ کا استعمال کر سکے۔ طوطے اور ہنس راج جو نہایت ادنیٰ درجہ کے حیوان ہیں، ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ موجودہ حالت میں انسان کی طرح فصیح و بلیغ اسپیچ کر سکیں بالکل بے معنی ہے۔ اوولیوشن (ارتقاء) کا نظریہ جس کو ڈارون نے نہایت عمدگی سے زندہ مخلوقات میں ثابت کیا ہے، ہم کو بتاتا ہے کہ کس طرح ایک بسیط مادہ زندگی (پروٹوپلازم) نے ترقی کی اور اس سے مختلف حیوانات کی نسلیں کیوں کر شروع ہوئیں اور حیوانات میں بتدریج ترقی ہوکر کیوں کر اعلیٰ قسم کے حیوانات کی نسل پیدا ہوئی اور ان میں بے شمار برسوں کی تبدیلیوں کے بعد کیوں کر انسان کی قابلیتیں نمودار ہوئیں۔\n\nیہ نظریہ اب علم کے درجہ پر پہنچ گیا ہے اور ڈارون کے بعد اس کو بہت علوم پر منطبق کیا گیا ہے۔ جو تبدیلیاں اور ترقیاں حیوانات کے ایک گروہ میں بے شمار برسوں کے بعد ظہور میں آئی ہیں، ان کے لیے یہ توقع کرنا کہ وہ ایک دم سے ادنی حیوانات میں ظہور پذیر ہوں اور وہ اعلیٰ حیوانات کے درجہ پر یکلخت پہنچ جائیں، ایک مضحکہ آمیز خیال ہے۔ پروفیسر میکس مولر اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ انسان نے اول کلی صورتوں کے لیے الفاظ تراشنے شروع کیے۔ مگر ہم کو ان کے اس یقین پر تعجب آتا ہے۔ ناممکن ہے کہ ایک بچہ کلی تصورات ذہن میں لا سکے۔ انسان کی ابتدائی حالت کو طفولیت سے تشبیہ دینا بے جا نہیں اور اسی لیے یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ اس حالت میں انسان محسوسات کی جزئی صورتوں کا خیال کر سکتا تھا اور انہیں جزئی صورتوں کے نام رکھتا تھا۔ جب اس کے دل و دماغ نے ترقی کی اور کلی تصورات اس کے ذہن میں آنے لگے تو وہ انہیں جزئی تصورات کے ناموں کو کلی تصورات پر بولنے لگا۔\n\nبےشک ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بے زبان جانور کلی معنوں کا تصور نہیں کر سکتے اور ان میں سے صرف انسان ہی ایسا تصور ذہن میں لا سکتا ہے، مگر ہم پوچھتے ہیں کہ آیا انسان کو یہ قدرت ایک دم سے حاصل ہوئی؟ ہم کو ایک منٹ کے لیے بھی یہ خیال نہیں آ سکتا کہ وہ نطق اور فکر جس کو پروفیسر میکس مولر انسان کے ساتھ خاص بتاتے اور دونوں کو لازم ملزوم کہتے ہیں، ان پر انسان ایک دم سے قادر ہو گیا تھا۔ جس طرح ایک بچہ نہایت سادہ اور بسیط حالت سے رفتہ رفتہ ترقی کرکے بلوغ کو پہنچتا ہے، یہی حال بالکل نوع انسان کا ہے اور انسان کی تمام قوتیں اور قابلیتیں بتدریج کمال کو پہنچتی ہیں۔\n\nاب ایک شخص یہ سوال کر سکتا ہے کہ اگر پروفیسر میکس مولر کے نظریے کو تسلیم کیا جاتا ہے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ وہ قوت جس کی مدد سے انسان نے نئے نئے الفاظ ایجاد کیے، اب اس کی حاجت نہیں رہی اور اسی لیے وہ دنیا سے معدوم ہو گئی اور اگر تمہارے نظریے کو تسلیم کیا جائے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ آوازوں کی نقل اتارنے یا طبعی آوازوں کی مدد سے نام رکھنے کاطریقہ، جس سے انسان بولنا سیکھا، اب اس کی حاجت نہیں رہی اور اسی لیے وہ طریقہ اب بےکار ہو گیا۔ جب دونوں صورتوں میں ایک ایسی قوت یا طریقے کو تسلیم کرنا پڑتا ہے، جس کا وجود پہلے تھا اور اب وہ معدوم ہے تو ان دونوں میں کیا فرق ہے اور ایک خیال کو دوسرے خیال پر ترجیح دینے کی کیا وجہ ہے؟\n\nاس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ پروفیسر میکس مولر کے نظریے کو تسلیم کرنے سے ایسی قوت کے اول وجود اور پھر بے سبب معدوم ہونے کو ماننا پڑتا ہے جس کی حاجت اب بھی ہے، مگر اس کا کوئی ظہور نہیں ہوتا، جیسا کہ پروفیسر ہوٹنی نے بیان کیا ہے۔ ہمارے نظریے سے ایک ایسے ناقص طریقے کے وجود کو تسلیم کرنا پڑتا ہے، جس کی حاجت ابتدا میں مکمل طریقے نہ ہونے کے سبب سے تھی مگر اب اس سبب سے کہ بہتر اور برتر اور کامل طریقے نئے نام رکھنے کے نکل آئے ہیں، اس کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ یہ کچھ اسی طریقے پر منحصر نہیں ہے بلکہ انسان ہمیشہ ان ناقص چیزوں کو چھوڑتا رہا ہے جن کو اس نے رفتہ رفتہ کمال کے درجے پر پہنچایا اور اب وہ ایک نئی حالت میں آکر زیادہ مفید ہو گئی ہیں۔\n\nاس نظریے کے ثبوت کے لیے جس کو ہم نے اختیار کیا ہے بہت سی کتابیں یورپین زبانوں میں لکھی گئی ہیں۔ اگر ہمارے ناظرین ان کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیں تو ہم ان کا نام ونشان بتا سکتے ہیں۔ عربی میں صرف دو کتابیں ہماری نظر سے گزری ہیں، جن میں اس نظریے کو عربی زبان پر منطبق کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک کتاب الفلسفۃ اللغویہ ہے، جو مصر کے رسالہ ’’الہلال‘‘ کے اڈیٹر جرجی زیدان کی تصنیف ہے۔ دوسری کتاب کا نام المقدمہ جو ہمارے مخدوم مولوی سید کرامت حسین بیرسٹراٹ لا (الہ آباد) کی تصنیف ہے۔ دونوں کتابیں مصنفوں سے درخواست کرنے پر مل سکتی ہیں۔ ہماری زبان میں اب تک کوئی کتاب اس موضوع پر نہیں لکھی گئی۔ ہم اس مضمون پر آئندہ پھر کبھی قلم فرسائی کریں گے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%88%D9%84_%D8%A7%D9%88%D9%84_%D8%A8%D9%88%D9%84%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1_%D8%B4%D8%B1%D9%88%D8%B9_%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%9F"} {"title": "انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "سقراط حکیم نے کیا خوب لطیفہ کہا ہے کہ اگر تمام اہل دنیا کی مصیبتیں ایک جگہ لا کر ڈھیر کردیں اور پھر سب کو برابر بانٹ دیں تو جو لوگ اب اپنے تئیں بدنصیب سمجھ رہے ہیں وہ اس تقسیم کو مصیبت اور پہلی مصیبت کو غنیمت سمجھیں گے۔\n\nایک اور حکیم اس لطیفے کے مضمون کو اور بھی بالا تر لے گیا ہے۔ وہ کہتا کہ اگر ہم اپنی اپنی مصیبتوں کو آپس میں بدل بھی سکتے تو پھر ہر شخص اپنی پہلی ہی مصیبت کو اچھا سمجھتا۔\n\nمیں ان دونوں خیالوں کو وسعت دے رہا تھا، اور بے فکری کے تکیے سے لگا بیٹھا تھا کہ نیند آگئی۔ خواب میں دیکھتا ہوں کہ سلطان افلاک کے دربار سے ایک اشتہار جاری ہوا ہے۔ خلاصہ جس کا یہ ہے کہ تمام اہل عالم اپنے اپنے رنج و الم اور مصائب و تکالیف کو لائیں اور ایک جگہ ڈھیر لگائیں چنانچہ اس مطلب کے لئے ایک میدان کہ میدان خیال سے بھی زیادہ وسیع تھا تجویز ہوا اور لوگ آنے شروع ہوئے۔ میں بیچوں بیچ کھڑا تھا اور ان کے تماشے کا لطف اٹھا رہا تھا دیکھتا تھا کہ ایک کے بعد ایک آتا ہے اور اپنا بوجھ سر سے پھینک جاتا ہے لیکن جو بوجھ گرتا ہے مقدار میں اور بھی بڑا ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ مصیبتوں کا پہاڑ بادلوں سے بھی اونچا ہو گیا۔\n\nایک شخص سوکھا سہما۔ دبلاپے کے مارے فقط ہوا کی حالت ہو رہا تھا اس انبوہ میں نہایت چالاکی اور پھرتی سے پھر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک آئینہ تھا جس میں دیکھنے سے شکل نہایت بڑی معلوم ہونے لگتی تھی۔ وہ ایک ڈھیلی ڈھالی پوشاک پہنے تھا۔ جس کا دامن دامن قیامت سے بندھا ہوا تھا اس پر دیوزادوں اور جنات کی تصویریں زردوزی کڑھی ہوئی تھیں۔ اور جب وہ ہوا سے لہراتی تھیں تو ہزاروں عجیب وہ غریب صورتیں اس پر نظر آتی تھیں، اس کی آنکھ وحشیانہ تھی مگر نگاہ میں افسردگی تھی، اور نام اس کا وہم تھا۔ ہر شخص کا بوجھ۔ بندھوا تا تھا اور لد واتا تھا اور مقام مقررہ پر لے جاتا تھا۔ میں نے اپنے ہم جنسوں اور ہم صورت بھائیوں کو جب بوجھوں کے نیچے گڑ گڑاتا دیکھا اور ان مصیبتوں کے انبار کو خیال کیا تو بہت گھبرایا اور دل میں ایسا ترس آیا کہ بیان نہیں ہو سکتا۔ اس عالم میں بھی چند شخصوں کی حالت ایسی نظر آئی کہ اس نے ذرا میرا دل بہلایا صورت بہلا وے کہ یہ ہوئی کہ دیکھتا ہوں کہ ایک شخص پرانے سے چکن کے چغے میں ایک بھاری سی گٹھری لے آتا ہے۔ جب وہ گٹھری انبار میں پھینکی تو معلوم ہوا کہ افلاس کا عذاب تھا۔ اس کے پیچھے ایک اور شخص دوڑا آتا تھا، بدن سے پسینہ بہتا تھا، اور مارے بوجھ کے ہانپتا جاتا تھا، اس نے بھی وہ بوجھ سرسے پھینکا۔ اور معلوم ہوا کہ اس کی جورو بہت بری تھی۔ اس نے وہ بلا سر سے پھینکی ہے۔\n\nان کے بعد ایک بڑی بھیڑ آئی کہ جس کی تعداد کا شمار نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ عاشقوں کا گروہ ہے۔ ان کے سروں پر دود آہ کی گٹھریاں تھیں کہ انہی میں آ ہوں کے تیر خیالی۔ اور نالوں کے نیزۂ وبالی دبے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ لوگ مارے بوجھ کے اس طرح درد سے آہیں بھرتے تھے کہ گویا اب سینے ان کے پھٹ جائیں گے لیکن تعجب یہ ہے کہ جب اس انبار کے پاس آئے تو اتنا نہ ہو سکا کہ ان بوجھوں کو سر سے، پھینک دیں۔ کچھ جدو جہد سے سر ہلایا۔ مگر جس طرح لدے ہوئے تھے اسی طرح چلے گئے۔ بہت بڑھیاں دیکھیں کہ بدن کی جھریاں پھینک رہی تھیں۔ چند نوجوان اپنی کالی رنگت کچھ موٹے موٹے ہونٹ۔ اکثر ایسے میل جمے ہوئے دانت پھینکتے تھے کہ جنھیں دیکھ کر شرم آتی تھی مگر مجھے یہ ہی حیرت تھی کہ اس پہاڑ میں سب سے زیادہ جسمانی عیب تھے۔ ایک شخص کو دیکھتا ہوں کہ اس کی پیٹھ پر بھاری سے بھاری اور بڑے سے بڑا بوجھ ہے۔ مگر خوشی خوشی اٹھائے چلا آتا ہے۔ جب پاس آیا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک کبڑا ہے۔ اور آدم زاد کے انبار رنج و الم میں اپنے کبڑے پن کو پھینکنے آیا ہے۔ کہ اس کے نزدیک اس سے زیادہ کوئی مصیبت نہیں، اس انبار میں انواع و اقسام کے سقیم اور امراض بھی تھے جن میں بعض اصلی تھے اور بعض ایسے تھے کہ غلط فہموں نے خواہ مخواہ انہیں مرض سمجھ لیا تھا۔ ایک بوجھ مجھے اور نظر آیا جو امراض آدم زاد پر عارض ہوتے ہیں۔ ان سب کا مجموعہ تھا۔ یعنی بہت سے حسین نوجوان تھے کہ اپنے ہاتھوں کی کمائی یعنی امراض نوجوانی ہاتھوں میں لیے آتے تھے۔ مگر میں فقط ایک ہی بات میں حیران تھا، اور وہ یہ تھی کہ اتنے بڑے انبار میں کوئی بیوقوفی یا بد اطواری پڑی ہوئی نہ دکھائی دی۔ میں یہ تماشے دیکھتا تھا اور دل میں کہتا تھا کہ اگر ہو سہائے نفسانی اور ضعف جسمانی اور عیوب عقلی سے کوئی نجات پانی چاہے تو اس سے بہتر موقع نہ ہاتھ آئے گا۔ کاش کہ جلد آئے اور پھینک جائے۔ اتنے میں ایک عیاش کو دیکھا کہ اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائے بے پرواہ چلا آتا ہے اس نے بھی ایک گٹھری پھینک دی مگر جب دیکھا تو معلوم ہوا کہ گناہوں کے عوض اپنی عاقبت اندیشی کو پھینک گیا۔ ساتھ ہی ایک چھٹے ہوئے شہدے آئے۔ میں سمجھا کہ یہ شاید اپنی کوتاہ اندیشی کو پھینکیں گے مگر وہ بجائے اس کے اپنی شرم و حیا کو پھینک گئے۔\n\nجب تمام بنی آدم اپنے بوجھوں کا وبال سر سے اتار چکے تو میاں وہم کہ جب سے اب تک اس مصروفیت میں سرگرداں تھے مجھے الگ کھڑا دیکھ کر سمجھے کہ یہ شخص خالی ہے۔ چنانچہ اس خیال سے میری طرف جھکے ان کو اپنی طرف آتے دیکھ کر میرے حواس اڑ گئے، مگر انہوں نے جھٹ اپنا آئینہ سامنے کیا مجھے اپنا منھ اس میں ایسا چھوٹا معلوم ہوا کہ بے اختیار چونک پڑا۔ بر خلاف اس کے بدن اور قد و قامت ایسا چوڑا چکلا نظر آیا کہ جی بیزار ہو گیا، اور ایسا گھبرایا کہ چہرے کو نقاب کی طرح اتار کر پھینک دیا او رخاص خوش نصیبی اس بات کو سمجھا کہ ایک شخص نے اپنے چہرے کو بڑا اور اپنے بدن پر ناموزوں سمجھ کر اتار پھینکا تھا۔ یہ چہرہ حقیقت میں بہت بڑا تھا، یہاں تک کہ فقط اس کی ناک میرے سارے چہرے کے برابر تھی۔\n\nہم اس، نبوہ پر آفات پر غور سے نظر کر رہے تھے اور اس عالم ہیولائی کی ایک ایک بات کو تاک تاک کر دیکھ رہی تھے۔ جو سلطان افلاک کی بارگاہ سے حکم پہنچا کہ اب سب کو اختیار ہے جس طرح چاہیں اپنے اپنے رنج و تکلیف تبدیل کر لیں، اور اپنے اپنے بوجھ لے کر گھروں کو چلے جائیں۔ یہ سنتے ہی میاں وہم پھر مستعد ہوئے اور پھر بڑی ترت پھرت کے ساتھ اس انبار عظیم کے بو جھ باندھ باندھ کر تقسیم کرنے لگے۔ ہر شخص اپنا اپنا بوجھ سنبھالنے لگا اور اس طرح کی ریل پیل اور دھکم دھکا ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ چنانچہ اس وقت چند باتیں جو میں نے دیکھیں وہ بیان کرتا ہوں۔\n\nایک پیر مرد کہ نہایت معزز محترم معلوم ہوتا تھا درد قولنج سے جان بلب تھا اور لاولدی کے سبب سے اپنے مال و املاک کے لئے ایک وارث چاہتا تھا اس نے درد مذکور کو پھینک کر ایک خوبصورت نوجوان لڑکے کو لیا مگر لڑکے نا بکار کو نافرمانی اور سرشوری کے سبب سے دق ہو کر اس کے باپ نے چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اس نالائق نوجوان نے آتے ہی جھٹ بڈھے کی ڈاڑھی پکڑ لی اور سر توڑنے کو تیار ہوا۔ اتفاقاً برابر ہی لڑکے کا حقیقی باپ نظر آیا کہ اب وہ درد قولنج کے مارے لوٹنے لگا تھا۔ چنانچہ بڈھے نے اس سے کہا کہ برائے خدا میرا درد قولنج مجھے پھیر دیجئے اور اپنا لڑکا لیجئے کہ میرا پہلا عذاب اس سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ مگر مشکل یہ ہوئی کہ مبادلہ اب پھر نہ سکتا تھا۔\n\nایک بچارہ جہازی غلام تھا کہ اس نے قید زنجیر اور جہازی محنت کی تکلیف سے دق ہو کر اس عذاب کو چھوڑا تھا اور جھولے کے مرض کو لے لیا تھا۔ اسے دیکھا کہ دو قدم چل کر بیٹھ گیا ہے اور سر پکڑ کر بسور رہا ہے۔\n\nغرض اسی طرح کئی شخص تھے کہ اپنی حالت میں گرفتار تھے، اور اپنے کیے پر پچھتا رہے تھے۔ مثلاً کسی بیمار نے افلاس لے لیا تھا، وہ اس سے ناراض تھا۔ کسی کو بھوک نہ لگتی تھی، وہ اب جوع البقر کے مارے پیٹ کو پیٹ رہا تھا ایک شخص نے فکر سے دق ہو کر اسے چھوڑا تھا اب وہ درد جگر کا مارا لوٹ رہا تھا اور اسی طرح برعکس۔ غرض ہر شخص کو دیکھ کر عبرت اور پشیمانی حاصل ہوئی تھی۔\n\nعورتیں بچاری اپنے ادل بدل کے عذاب میں گرفتار تھیں۔ کسی نے تو سفید بالوں کو چھوڑا تھا۔ مگر اب پا ؤں میں ایک پھوڑا ہو گیا تھا کہ لنگڑاتی تھی اور ہائے ہائے کرتی چلی جاتی تھی۔ کسی کی پہلے کمر بتخ پتلی تھی مگر چونکہ سینہ اور بازو بھی دبلے تھے، اس لئے پتلی کمر کو چھوڑا تھا۔ اب گول گول بارودوں کے ساتھ بڑی سی توند نکالے چلی جاتی تھی۔ کسی نے چہرے کی خوبصورتی لی تھی مگر اس کے ساتھ بے آبروئی کا داغ اور بدنامی کا ٹیکا بھی چلا آیا تھا۔ غرض ان سب میں کوئی ایسا نہ تھا کہ جسے پہلے نقص کی نسبت نیا نقص گراں نہ معلوم ہو رہا ہو۔ ان سب کی حالتوں کو دیکھ کر یہ میری سمجھ میں آیا کہ جو مصیبتیں ہم پر پڑتی ہیں۔ وہ حقیقت میں ہمارے سہارنے کے بموجب ہوتی ہیں َ یا یہ بات ہے کہ سہتے سہتے ہمیں ان کی عادت ہو جاتی ہے۔\n\nمجھے اس بڈھے کے حال پر نہایت افسوس ہوا کہ ایک خوبصورت سجیلا جوان بن کر چلا۔ مگر مثانہ میں ایک پتھری ہو گئی کہ اب بھی سیدھی طرح نہ چل سکتا تھا۔ اس سے بھی زیادہ اس نوجوان کے حال پر افسوس آتا تھا کہ بچارا لکڑی ٹیکتا گرتا پڑتا چلا جاتا تھا۔ کمر جھکی ہوئی۔ گردن بیٹھی ہوئی تھی کھوئے ہوئے سر سے اونچے نکل آئے تھے اور جو عورتیں پہلے اس کی سج دھج پر جان دیتی تھیں ان کا غول گرد تھا۔ یہ انھیں دیکھتا تھا اور پانی پانی ہوا جاتا تھا۔ جب سب کے مباد لے بیان کئے ہیں تو اپنے مبادلے سے بھی مجھے صاف نہ گزرنا چاہیے، چنانچہ اس کی صورت حال یہ ہے کہ بڑے چہرے والے یار میرے چھوٹے چہرے کو لے کر ایسے بدنما معلوم ہونے لگے کہ جب میں نے ان کی طرف دیکھا تو اگرچہ میرا ہی چہرہ تھا۔ مگر میں بے اختیار ہنسا کہ میری اپنی بھی صورت بگڑ گئی اور صاف معلوم ہوا کہ وہ بچارا میرے ہنسنے سے شرما گیا مگر مجھے بھی اپنے حال پر کچھ فخر کی جگہ نہ تھی۔ کیوں کہ جب میں اپنی پیشانی سے عرق ندامت پوچھنے لگا تو وہاں تک ہاتھ نہ پہنچ سکا، چہرہ اتنا بڑا ہو گیا تھا کہ ہاتھ رکھتا کہیں تھا اور جا پڑتا کہیں تھا۔ ناک اتنی بڑی ہو گئی تھی کہ جب چہرے پر ہاتھ پھیرا تو کئی دفعہ ہاتھ نے ناک سے ٹکر کھائی۔ میرے پاس ہی دو آدمی اور بھی تھے کہ جن کے حال پر تمسخر کرنا واجب تھا۔ ایک تو وہ شخص تھا کہ پہلے ٹانگوں کے مٹاپے کے سبب سے چھدرا کر چلتا تھا۔ اس نے ایک لم ٹنگو سے مبادلہ کر لیا تھا کہ جس میں پنڈلی معلوم نہ ہوتی تھی۔ ان دونوں کو جو دیکھتا تھا وہ ہنستا تھا۔ ایک تو ایسا معلوم ہوتا تھا۔ گویا دو بلیوں پر چلا جاتا ہے، سرکا یہ عالم تھا گویا ہوا میں اڑا جاتا ہے اور دوسرے کا یہ حال تھا کہ دونوں طرف دو دائرے کھینچے چلے جاتے تھے۔ میں نے اس عجیب الخلقت کی حالت غریب کو دیکھ کر کہا کہ میاں اگر دس قدم سیدھے چلے جاؤ تو سوا دمڑی کی ریوڑیاں کھلاتے ہیں۔\n\nغرض وہ سارا انبار عورتوں اور مردوں میں تقسیم ہو گیا۔ مگر لوگوں کا یہ حال تھا کہ دیکھنے سے ترس آتا تھا۔ یعنی جان سے بیزار تھے اور اپنے اپنے بوجھوں میں دبے ہوئے اوپر تلے دوڑتے پھرتے تھے۔ سارا میدان گر یہ وزاری نالہ و فریاد آہ و افسوس سے دھواں دھار ہو رہا تھا۔ آخر سلطان افلاک کو بیکس آدم زاد کے حال دردناک پر رحم آیا، اور حکم دیا کہ اپنے اپنے بوجھ اتار کر پھینک دیں، پہلے ہی بوجھ انھیں مل جائیں۔ سب نے خوشی خوشی ان وبالوں کو سرد گردن میں سے اتار کر پھینک دیا۔ اتنے میں دوسرا حکم آیا کہ وہم جس نے انھیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا وہ شیطان نابکار یہاں سے دفع ہو جائے۔ اس کی جگہ ایک فرشتہ رحمت آسمان سے نازل ہوا۔ اس کی حرکات و سکنات نہایت معقول و باوقار تھیں اور چہرہ بھی سنجیدہ اور خوش نما تھا۔ اس نے بار بار اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف اٹھایا اور رحمت الہی پر توکل کر کے نگاہ کو اسی کی آس پر لگا دیا اس کا نام صبر و تحمل تھا۔ ابھی وہ اس کوہ مصیبت کے پاس آکر بیٹھا ہی تھا جو کوہ مذکور خودبخود سمٹنا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ گھٹتے ایک ثلث رہ گیا۔ پھر اس نے ہر شخص کو اصلی اور واجبی بوجھ اٹھا اٹھا کر دینا شروع کیا اور ایک ایک کو سمجھاتا گیا کہ نہ گھبراؤ اور بردباری کے ساتھ اٹھاؤ ہر شخص لیتا تھا اور اپنے گھر کو راضی رضا مند چلا جاتا تھا۔ ساتھ ہی اس کا شرمیہ ادا کرتا تھا کہ آپ کی عنایت سے مجھے اس انبار لا انتہا میں سے اپنا بار مصیبت چننا نہ پڑا۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7"} {"title": "انسان کی فریاد", "poet_page": "مصنف:غلام بھیک نیرنگ", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہاں اے مصاف ہستی! مت پوچھ مجھ سے کیا ہوں\nاک عرصۂ بلا ہوں اک لقمۂ فنا ہوں\nمجبوریوں نے ڈالا گردن میں میری پھندا\nخود کردۂ وفا ہوں جاں دادۂ رضا ہوں\nصیاد حادثے کا کرتا ہے میرا پیچھا\nمرغ بریدہ پر ہوں صید شکستہ پا ہوں\nہے ذات میری مجمع ساری برائیوں کا\nکہنے کو میں بڑا ہوں لیکن بہت برا ہوں\nآزادیوں کی مجھ پر تہمت ہی ہے سراسر\nمیں قیدیٔ ہوس ہوں میں بندۂ ہوا ہوں\nاک بات ہو بتاؤں اک درد ہو سناؤں\nروؤں بھلا کہاں تک کب تک پڑا کراہوں\nکم بخت دل کچھ ایسا میں ساتھ لے کے آیا\nاک لمحہ جس کے ہاتھوں دنیا میں سکھ نہ پایا\nجو جوش اس میں اٹھا حالات نے دبایا\nجو شعلہ اس میں بھڑکا تقدیر نے بجھایا\nامید کا یہ غنچہ کھلتے کبھی نہ دیکھا\nیہ آرزو کا پودا پھلتا نظر نہ آیا\nگو اس میں موجزن تھی قوم و وطن کی الفت\nلیکن غرض نے اس کو کچھ اور ہی سکھایا\nہوتی نہیں رسائی امید کے افق تک\nطول امل نے اس کو اک جال میں پھنسایا\nکی رہبری خرد نے ہر چند رہنمائی\nاس جہد پر بھی لیکن کھلتی نہیں سچائی\nپایا نہ میں نے اب تک مقصد کا اپنے ساحل\nکی بحر معرفت میں دن رات آشنائی\nاس جستجو میں میں نے کی سیر طور و ایمن\nپربت کو گھر بنایا جنگل سے لو لگائی\nمندر کو جا کے دیکھا گرجا میں جا کے ڈھونڈا\nمسجد کو چھان مارا اس کی نہ دید پائی\nجوگی کا روپ دھارا بن میں کیا گزارا\nتن پر بھبھوت مل کر دھونی بہت رمائی\nجپ تپ میں عمر اپنی میں نے بسر کی اکثر\nبن بن کے پیر راہب جا خانقاہ بسائی\nصوفی بھی بن کے دیکھا اور رند بے ریا بھی\nکر نعرۂ انا الحق اک کھلبلی مچائی\nپھرتی ہیں ماری ماری مشتاق جلوہ آنکھیں\nپر اک جھلک سے بڑھ کر دیتا نہیں دکھائی\nاٹھ جا نظر سے میری ہاں اے حجاب ہستی\nحسن ازل نہاں ہے زیر نقاب ہستی\nیہ زندگیٔ انساں اک خواب ہے پریشاں\nبیدارئ عدم ہے تعبیر خواب ہستی\nدیکھیں اگر تو کیوں کر ہم جلوۂ معارف\nتو ظلمت نظر ہے اے آفتاب ہستی\nتسکیں کو زہر قاتل آب و ہوائے عالم\nراحت کا دشمن جاں ہر انقلاب ہستی\nاے تشنۂ حقیقت دھوکے میں تو نہ آنا\nاک دام پر خطر ہے موج سراب ہستی\nچاہے اگر رہائی پیش از فنا فنا ہو\nپاداش جرم ہستی ہے یہ عذاب ہستی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "انسان کے خیالات", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "جہاں اور بہت سے عجائبات قدرت الٰہی ہیں انہیں میں سے انسان کے خیالات بھی نہایت عجیب ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک قسم کی مخلوقات ایک ہی سا خیال رکھتی ہے۔ جانوروں کی وہ حرکات اور افعال جو جاندار ہونے کے سبب سے ہیں اور وہ چیز جو محرک ان افعال یا حرکات کی بواسطہ یا بلا واسطہ ہے اس کا کچھ ہی نام رکھو، مگر وہ وہی چیز ہے جس کو انسانی حالت میں خیال کہتے ہیں۔\n\nتمام افعال اور حرکات جانوروں کی بلاشبہ ارادی ہیں اور کچھ شک نہیں کہ وہ متحرک بالارادہ ہیں۔ ان کی تمام حرکتوں کا باعث بواسطہ یا بلاواسطہ ایک خیال جلب منفعت مادی جیسے غذا اور مسکن وغیرہ یا غیر مادی جیسے فرحت و انبساط اور بشاشت یا خیال دفع مضرت مادی و غیر مادی کا ہوتا ہے۔ ہم نہیں پاتے کہ انسان میں اور کوئی چیز اس سے زیادہ ہے۔ بلاشبہ اتنا فرق پاتے ہیں کہ جانو روں میں وہ خیالات محدود اور انسان میں نامحدود ہیں۔ مگر تعجب تو ہم کو ا س بات سے ہوتا ہے کہ ہر گاہ ایک قسم کے جانداروں میں ایک ہی سے خیالات ہیں اور ان پر وہ سب ایک ہی سا یقین کامل رکھتے ہیں تو تمام انسان بھی باوجود یکہ ایک قسم کے جاندار ہیں، ایک ہی سے خیالات اور ایک سا یقین کیوں نہیں رکھتے ہیں۔\n\nکبھی یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جانوروں کے خیالات محدود ہونے کے سبب متفق ہیں اور انسان کے خیالات میں نا محدود ہونے کے سبب وہ صفت نہیں ہے، مگر یہ بات تسلیم نہیں کی جا سکتی، اس لیے کہ نامحدود ہونے کے لیے مختلف ہونا ضرور نہیں ہے۔ پس انسانوں کے خیالات سے جہاں تک ہم کو واقفیت ہو، اسی قدر عجائبات قدرت الہٰی سے ہم کو زیادہ واقفیت ہوتی ہے اور ان خیالات کا صحیح ہونا یا غیر صحیح ہونا ہمارے اس فائدہ میں کچھ نقصان نہیں پہونچاتا، بلکہ در صورت مختلف ہونے کے اور بھی زیادہ فائدہ دیتا ہے، اس لیے ہم اپنے اس آرٹیکل میں ایک انسان کے خیالات بیان کرتے ہیں جن کو وہ اس طرح پر کہتا ہے۔\n\nمجھ کو خیال آیا کہ جس قدر اور جانداروں کو کرنا ہے اتنا ہی مجھ کو بھی کرنا ہے یا اس سے زیادہ۔ مگر میرے خیال میں یہ آیا کہ انسان کے سوا تمام جاندار مخلوقات کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے ان کے بنانے والے کاریگر نے سب کچھ ان کے ساتھ بنادی ہیں۔ ان کو ان چیزوں کے بہم پہنچانے یا پیدا کرنے کی حاجت نہیں ہے۔ تمام جانوروں کی خوراک بغیر ان کی سعی و تدبیر کے پیدا ہوتی ہے۔ سرد ملک کے جانوروں کے لیے نہایت عمدہ پشمینے کا گرم لباس ان کے بدنوں پر پیدا کیا ہے۔ پرند جانوروں کے لیے مینہ سے بچنے کا باران کوٹ انہی کے بدنوں پر سیا ہے۔ گرم ملک کے جانوروں کے لیے اسی آب و ہوا کے مناسب ان کا جامہ قطع کیا، مگر انسان کے لیے کچھ نہیں کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو یہ سب کچھ خود کرنا ہے۔\n\nپھر میں نے خیال کیاکہ حیوان اپنے کاموں کے کرنے کے لیے کسی سے کچھ سیکھنے یا تعلیم پانے کے محتاج نہیں ہوتے، خود سیکھے سکھائے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ شہد کی مکھی کو رس چوسنے کے لیے عمدہ قسم کے ماخذوں کی شناخت کوئی نہیں بتاتا اور اپنے گھروں کو ایسی عمدہ تقسیم سے نکالنا جس میں ایک بڑا مہندس بھی حیران ہو جاوے کوئی نہیں پڑھاتا۔ بیئے کو ایسا عمدہ اور محفوظ کا شانہ بنانا کوئی نہیں سکھاتا، مگر انسان کو بغیر سیکھے کچھ بھی نہیں آتا۔ پھر میں نے خیال کیا کہ حیوان کے کام خواہ وہ افعال جوارح سے ہوں یا دوسری قسم سے اور وہ از خود ان کو آئے ہوں یا تعلیم سے، نہایت محدود ہیں، مگر انسان کے ہر قسم کے کام نا محدود ہیں۔ ان سب باتوں سے میں نے خیال کیا کہ انسان کو اور جانوروں سے بہت کچھ زیادہ کرنا ہے۔\n\nپھر میں نے خیال کیا کہ ایسے بڑے کاریگر نے جو انسان کو اور جانوروں سے بھی زیادہ در ماندہ بنایا ہے اور طرح طرح کی مشکلات میں ڈالا ہے تو کیا چیز اس کو دی ہے جس سے وہ یہ سب چیزیں کر سکتا ہے او ر تمام مشکلوں پر فتح پا سکتا ہے، اتنے میں میرا دل بول اٹھا کہ عقل۔ میں یہ بات سن کر سوچ میں گیا کہ کیا یہ بات سچ ہے، مگر میں نے خیال کیا کہ عقل سے تو یہ کام نہیں نکل سکتا۔ نہ تو وہ خود یہ کام نکال سکتی ہے اور نہ اس کے بغیر یہ مشکل حل ہو سکتی ہے، یہ تو کسی دوسری چیز کے حاصل کرنے کو بطور آلے کے ہے جیسے کہ سونا چاندی ہماری بھو ک نہیں کھو سکتا، مگر اس چیز کو بہم پہنچا دیتا ہے جو ہماری بھوک کھو دیتی ہے۔\n\nبہت سی تلاش اور جستجو میں نے کی اور خیال دوڑایا کہ وہ کیا چیز ہے جس کے حاصل کرنے کے لیے عقل بھی صرف آلہ ہے تو خیال میں آیا کہ وہ چیز علم ہے جس کے معنی دانستن ہیں۔ تب میں سمجھاکہ مجھ کو اور جانوروں سے زیادہ جو کچھ کرنا ہے وہ صرف تمام باتوں کی اصلیت دریافت کرنا ہے۔ میں نے خیال کیا کہ علم اور یقین یہ دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ جس چیز کا مجھ کو علم ہوگا بے شک اس کا یقین بھی ہوگا اور جس کا یقین ہوگا اس کا علم بھی ہوگا۔ پس میں نے خیال کیا کہ یقین بغیر علم کے اور علم بغیر یقین کے سچا اور پورا نہیں ہے۔\n\nمیں نے اس بات کو بالکل سچ سمجھا اور خیال کیا کہ مثلاً مجھ کو اعداد کے حسا ب میں تین کا اور دس کا علم ہے اور اس لیے یقین ہے کہ دس بہ نسبت تین کے زیادہ ہوتے ہیں، تو اگر کوئی شخص اس کے بر خلاف کہے اور اپنے بیان کے ثبوت کے لیے یہ بات کہے کہ میں اس لکڑی کو سانپ بنا دیتا ہوں اور وہ اس کو سانپ بنا بھی دے، تو کچھ عجیب نہیں کہ اس کاا یسا کرنا مجھ کو حیرت میں ڈال دے، مگر کسی طرح اس بات کے یقین میں کہ دس بہ نسبت تین کے زیادہ ہوتے ہیں، شک نہیں لانے کا۔\n\nمیں نے یہ خیال کیا کہ مسلمانوں کے مذہب کا یہ ایمانی مسئلہ کہ اقرار باللسان و تصدیق بالقلب بے شک سچا مسئلہ ہے۔ اس کا پہلا جزو تو دنیاوی باتوں سے متعلق ہے مگر جو اصل مطلب ہے وہ دوسرے جزو میں ہے۔ تصدیق قلبی او ر یقین اگر چہ ایک ہی چیز ہے، مگر الفاظ تصدیق قلبی زیادہ شان دار اور مطلب کو زیادہ تر دل پر نقش کرنے والے ہیں۔۔۔ اس لیے میں نے خیال کیا کہ ایمان بے یقین کے اور یقین بغیر علم کے نہیں ہو سکتا۔ میں نے یہ بھی خیال کیا کہ علم یا یقین جس کے بغیر ایمان نہیں حاصل ہو سکتا، ایسا ہی ہونا چاہیے جیسے کہ دس اور تین کی زیادتی و کمی کا یقین ہے۔ تاکہ کسی طرح زائل نہ ہوسکے، کیونکہ اگر وہ کسی طرح زائل ہوگیا تو وہ حقیقت میں علم یا یقین نہ تھا، بلکہ محض ایک دھوکا تھا۔\n\nان تمام خیالات نے مجھ کو گھبرا لیا او رمیں چاروں طرف ڈھونڈنے لگا کہ علم یا یقین، بلکہ یوں کہو کہ ایمان حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے۔ میں نے دیکھا کہ ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں آدمی بہت سی باتوں پر یقین رکھتے ہیں اور ان کو کچھ بھی مشکل نہیں ہوتی۔ میں کیوں ایسی مشکلات میں پڑا ہوں۔ بہتر ہے کہ ان لوگوں سے پوچھوں کہ تم نے ان سب باتوں پر کس طرح سے یقین حاصل کیا۔ یہودی نے کہا کہ مجھے اس بات پر یقین کامل ہے کہ خدا ایک ہے، اس لیے کہ موسی نے کہا ہے۔ عیسائی بولا کہ غلط، خدا تین ہیں اور مجھ کو اس پر کامل یقین ہے اس لئے کہ یوحنا نے یوں ہی بتایا ہے۔\n\nایسے اختلاف سے میں اور بھی گھبرایا، میں نے خیال کیا کہ ایک شے کے علم یا یقین میں اختلاف ہے تو وہ یقین ہی نہیں، پھر کیوں کر ان کو ایسا مختلف یقین ہوا۔ جب میں نے غور کیا تو سمجھا کہ ان کو تو نہ خدا کے ایک ہونے پر یقین ہے نہ خد ا کے تین ہونے پر، بلکہ ان کو تو اس بات پر یقین ہے کہ موسی ٰ اور یوحنا نے ایسا کہا ہے۔ یہودی بولا کہ موسی نے خدا سے باتیں کیں۔ لکڑی کو سانپ بنایا پھر اس نے جو کہا اس میں کیا شک ہے؟ عیسائی بولا کہ عیسیٰ نے مردوں کو جلایا، مارنے سے بھی نہ مرا، بلکہ قبر میں سے اٹھ کر آسمان پر چلا گیا، پھر اس کے خدا ہونے میں کیا شک ہے؟ پہلے تو میں شک میں پڑا کہ دلیلیں تو اچھی ہیں مگر پھر مجھے خیال ہوا کہ ان کو تو خدا سے موسیٰ کے باتیں کرنے پر اور لکڑی کو سانپ بنانے پر اور عیسیٰ کے مردوں کو جلانے پر اور خود جی اٹھنے پر یقین ہے، خدا کے ایک یا تین ہونے پر یقین نہیں ہے۔\n\nان سب مباحثوں کے بعد میں نے یقین کیا کہ علم یا یقین یا ایمان حاصل کرنے کا وسیلہ صرف عقل ہے جو ان چیزوں کے حاصل کرنے کے لیے آلہ اور نہایت عمدہ رہنما ہے۔ پھر میں نے خیال کیا کہ عقل پر غلطی سے محفوظ رہنے کا کیوں کر یقین ہو، میں نے اقرار کیا کہ حقیقت میں اس پر یقین نہیں ہو سکتا، مگر جب عقل ہمیشہ کام میں لائی جاتی ہے تو ایک شخص کی عقل کی غلطی دوسرے شخص کی عقل سے اور ایک زمانے کی عقلوں کی غلطی دوسرے زمانے کی عقلوں سے صحیح ہو جاتی ہیں، مگر جب کہ علم یا یقین یا ایمان کا مدار عقل پر نہ رکھا جاوے تو ا س کا حاصل ہونا کسی زمانے اور کسی وقت میں بھی ممکن نہیں۔\n\nمیرے دل میں شبہ اٹھا کہ عقل کو جو میں نے سب سے بڑا رہنما سمجھا کیوں سمجھا، کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ عقل سے بڑا کوئی اور رہنما ہو جو عقل کو بھی شکست دے دے، ہم کو اس سے واقفیت نہ ہونی اس کے معدوم ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ مگر میں نے خیال کیا کہ ایسے رہنما کے موجود ہونے کے احتمال سے ہمار ا کام نہیں چلتا۔ اس کے موجود ہونے کا ہم کو علم اور یقین چاہیئے، جب یہ نہیں ہے تو عقل کے سوا ااور کوئی رہنما بھی نہیں ہے۔\n\nمجھے خواب کا خیال آیا، میں نے اپنے دل میں کہا کہ سونے کے وقت ہم خواب دیکھتے ہیں اور اس حالت میں ہم اس کو واقعی اور اصلی سمجھتے ہیں اور اس کے سچے ہونے میں ہم کو کچھ شبہ بھی نہیں ہوتا، مگر جب جاگتے ہیں تو جانتے ہیں کہ وہ اصلی نہ تھا، بلکہ صرف خواب و خیال تھا تو کس وجہ سے ہم کو یقین ہے کہ جو کچھ ہم حالت بیداری میں جانتے اور سمجھتے ہیں وہ دراصل صحیح اور واقعی ہے، ممکن ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے اس وقت کی حالت کے مطابق صحیح ہو، مگر ایک دوسری حالت پیش آوے جو ہماری بیداری کی حالت کے ساتھ ایسی ہی مناسبت رکھتی ہو، جیسا کہ ہماری بیداری کی در حقیقت خواب کی حالت تھی۔ مگر پھر مجھے خیال آیا کہ ایسی حالت کا احتمال ہمارے یقین کو کافی نہیں، ہم کو یقین ہونا چاہیے کہ در حقیقت ایسی بھی کوئی حالت ہے، اور احتمال اور یقین میں بڑا فرق ہے، پھر عقل کے سوا کوئی ذریعہ نہیں رہا۔\n\nمیں نے خیال کیا کہ ممکن ہے کہ ورائے عقل کے او ر طریقہ بھی ہو جس سے صورت یا کیفیت روح کی تبدیل ہو جاوے اور وہی تبدیلی یا ترقی آلہ حصول علم یا یقین یا ایمان کی ہو اور اس کیفیت میں اور اس سے پہلی کیفیت میں ایسا ہی فرق ہو جیسا کہ ایک تندرست شخص میں اور اس شخص میں جو تندرستی کے حال سے واقف ہو، فرق ہے۔ پھر مجھ کو خیال آیا کہ تندرستی کے حال سے واقف ہونا بغیر تندرست رہے ممکن نہیں اور صورت یا کیفیت روح کی تبدل کی حالت میں اس بات کی تمیز کرنے کے لیے کہ دونوں حالتوں میں سے بیماری کی حالت کون سی ہے، کیا چیز ہے وہی تبدل صورت یا کیفیت روح تو اس کی ممیز ہو نہیں سکتی، لا محالہ دوسری چیز چاہیے اور وہ دوسری چیز بجز عقل کے اور کوئی نہیں ہے۔ اس لیے کسی طرف جاؤ اور کہیں سے پھیر کھاکر آؤ علم یا یقین یا ایمان کا مدار صرف عقل ہی پر رہتا ہے۔\n\nان تمام خیالوں نے مجھے یہ ہدایت کی کہ عام لوگوں میں جو یہ مسئلہ ہے کہ ایمان اور مذہب کو عقل سے کچھ علاقہ نہیں ہے یقینی غلط ہے اور جب میں نے مذہب اسلام کو بالکل عقل کے مطابق پایا تو اس کی سچائی پر اور اس مسئلے کی غلطی پر اور بھی کامل یقین ہوا۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA"} {"title": "انسان ہوس پیشہ سے کیا ہو نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انسان ہوس پیشہ سے کیا ہو نہیں سکتا\nمجبور ہے اس سے کہ خدا ہو نہیں سکتا\n\nوہ عقدہ مرے کام میں تقدیر نے ڈالا\nجو ناخن تدبیر سے وا ہو نہیں سکتا\n\nدہشت سے کوئی نام بھی لیتا نہیں ورنہ\nاس بزم میں کیا ذکر مرا ہو نہیں سکتا\n\nکیوں کر ہو حریص ستم عشق کی سیری\nغم رزق مقدر ہے سوا ہو نہیں سکتا\n\nدل کیوں کہ خدنگ نگہ یار سے بچ جائے\nیہ تیر قضا کا ہے خطا ہو نہیں سکتا\n\nتمکیں سے نہ دیکھے جو کبھی آئنہ جھک کر\nوہ مرتکب شرم و حیا ہو نہیں سکتا\n\nماتم زدہ کے ہاتھ سے گھبرا نہ شب وصل\nعادت ہے کہ سینے سے جدا ہو نہیں سکتا\n\nکہنے پہ چلے دل کے عبث یہ بھی نہ جانا\nگمراہ کبھی راہنما ہو نہیں سکتا\n\nہے چال تری باعث آسودگیٔ حلق\nخجلت کے سبب حشر بپا ہو نہیں سکتا\n\nیہ درد ہے تیرا ہی کہ ہے جان سے شیریں\nہر درد میں ظالم یہ مزا ہو نہیں سکتا\n\nاے طائر جاں شکوۂ تکلیف قفس کیوں\nکیا تو قفس تن سے رہا ہو نہیں سکتا\n\nغیرت ہے جو مجھ میں تو وہ کہتے ہیں سر بزم\nپروانے سے جو کام ہوا ہو نہیں سکتا\n\nوہ غم زدہ بنتے ہیں مری نعش پہ لیکن\nدل خوش ہے کہ لب نوحہ سرا ہو نہیں سکتا\n\nہم زمزمہ سنج ارنی بن نہیں سکتے\nتو بام پہ کیا جلوہ نما ہو نہیں سکتا\n\nمیں اس قدر اچھا تو نہیں ہوں کہ بہر آؤں\nمنصور نے دعویٰ جو کیا ہو نہیں سکتا\n\nمیں اس نگہ ناز کا محکوم ہوں سالکؔ\nوابستۂ احکام قضا ہو نہیں سکتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%88%D8%B3_%D9%BE%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "انسان ہے تو کبر سیں کہتا ہے کیوں انا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انسان ہے تو کبر سیں کہتا ہے کیوں انا\nآدم تو ہم سنا ہے کہ وہ خاک سے بنا\n\nکیسا ملا ہے ہم سیں کہ اب لگ ہے انمنا\nسن کر ہماری بات کوں کرتا ہے ہاں نہ نا\n\nمکھڑے کی نو بہار ہوئی خط سے آشکار\nسبزہ نہ تھا یہ حسن کا بنجر تھا پر گھنا\n\nمردا ہے بے وصال رہے گو کہ جاگتا\nسوتا ہوں یار ساتھ سو زندوں میں جاگنا\n\nدونی بیماری جب سیں بتاتے ہیں فاحشہ\nمل مل کے جس قدر کہ گھناتے ہیں ابٹنا\n\nیوں دل ہمارا عشق کی آتش میں خوش ہوا\nبھن کر تمام آگ میں کھلتا ہے جوں چنا\n\nنہیں آب و گل صفت ترے تن کے خمیر کی\nکرتا ہوں جان و دل کوں لگا اس کی میں ثنا\n\nجب آبروؔ کا بیاہ ہوا بکر فکر سیں\nتب شاعروں نے نام رکھا اس کا بت بنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "انساں کو چاہئے نہ ہمت ہارے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "انساں کو چاہئے نہ ہمت ہمارے\nمیدان طلب میں ہاتھ بڑھ کر مارے\nجو علم و ہنر میں لے گئے ہیں بازی\nہر کام میں ہیں انہیں کے وارے نیارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85%D8%AA_%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "انصاف کی ترازو میں تولا عیاں ہوا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انصاف کی ترازو میں تولا عیاں ہوا\nیوسف سے تیرے حسن کا پلہ گراں ہوا\n\nروئے زمیں پہ ایسا میں بسمل تپاں ہوا\nاڑ کر مرا لہو شفق آسماں ہوا\n\nاس برق وش کا عشق نہانی عیاں ہوا\nابر سیاہ آہوں کا میرے دھواں ہوا\n\nپیری میں مجھ کو عشق حسین جواں ہوا\nبار دگر کبادے میں زور کماں ہوا\n\nاہل زمیں سے صاف کہاں آسماں ہوا\nکس روز برج ماہ میں فرش کتاں ہوا\n\nمعدوم داغ عشق کا دل سے نشاں ہوا\nافسوس بے چراغ ہمارا مکاں ہوا\n\nدو ٹکڑے ایک وار میں خود حباب ہے\nگرداب موج تیغ کو سنگ فساں ہوا\n\nدیکھا جو میں نے اس کو سمندر کی آنکھ سے\nگل زار آگ ہو گئی سنبل دھواں ہوا\n\nملتا نہیں دماغ ہی گیسوئے یار کا\nکچھ ان دنوں میں مشک کا سوداگراں ہوا\n\nخوش چشموں کے فراق میں کھائے یہ پیچ و تاب\nشاخ غزال اپنا ہر اک استخواں ہوا\n\nسختیٔ راہ عشق سے واقف ہوئے نہ پاؤں\nجوش جنوں مرے لیے تخت رواں ہوا\n\nانبوہ عاشقاں سے ہوا حسن کو غرور\nکثرت سے مشتری کی یہ سوداگراں ہوا\n\nپیوند خاک ہو گئے اک بت کی راہ میں\nپتھر ہماری قبر کا سنگ نشاں ہوا\n\nپھینکا گیا نہ پیر فلک نعل کی طرح\nکوئی نہ طفل اشک ہمارا جواں ہوا\n\nتو دیکھنے گیا لب دریا جو چاندنی\nاستادہ تجھ کو دیکھ کے آب رواں ہوا\n\nانساں کو چاہئے کہ نہ ہو ناگوار طبع\nسمجھے سبک اسے جو کسی پر گراں ہوا\n\nاس گل سے عرض حال کی حسرت ہی رہ گئی\nکانٹے پڑے زباں میں جو میل بیاں ہوا\n\nاللہ کے کرم سے بتوں کو کیا مطیع\nزیر نگیں قلمرو ہندوستاں ہوا\n\nانصاف میں نے عالم اسباب میں کیا\nبنوائی چاندنی جو میسر کتاں ہوا\n\nگردش نے اس کی سرمہ کئے اپنے استخواں\nچکی ہمارے پیسنے کو آسماں ہوا\n\nقاتل کی تیغ سے رہ ملک عدم ملی\nآہن ہمارے واسطے سنگ نشاں ہوا\n\nفکر بلند نے مری ایسا کیا بلند\nآتشؔ زمین شعر سے پست آسماں ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%B5%D8%A7%D9%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B2%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88%D9%84%D8%A7_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "انفرادیت پرست", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ایک انساں کی حقیقت کیا ہے\nزندگی سے اسے نسبت کیا ہے\nآندھی اٹھے تو اڑا لے جائے\nموج بپھرے تو بہا لے جائے\nایک انساں کی حقیقت کیا ہے\nڈگمگائے تو سہارا نہ ملے\nسامنے ہو پہ کنارا نہ ملے\nایک انساں کی حقیقت کیا ہے\nکند تلوار قلم کر ڈالے\nسرد شعلہ ہی بھسم کر ڈالے\nزندگی سے اسے نسبت کیا ہے\nایک انساں کی حقیقت کیا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA"} {"title": "انقلاب", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "چھوڑ دے مطرب بس اب للہ پیچھا چھوڑ دے\nکام کا یہ وقت ہے کچھ کام کرنے دے مجھے\nتیری تانوں میں ہے ظالم کس قیامت کا اثر\nبجلیاں سی گر رہی ہیں خرمن ادراک پر\nیہ خیال آتا ہے رہ رہ کر دل بے تاب میں\nبہہ نہ جاؤں پھر ترے نغمات کے سیلاب میں\nچھوڑ کر آیا ہوں کس مشکل سے میں جام و سبو!\nآہ کس دل سے کیا ہے میں نے خون آرزو\nپھر شبستان طرب کی راہ دکھلاتا ہے تو\nمجھ کو کرنا چاہتا ہے پھر خراب رنگ و بو\nمیں نے مانا وجد میں دنیا کو لا سکتا ہے تو\nمیں نے یہ مانا غم ہستی مٹا سکتا ہے تو\nمیں نے یہ مانا غم ہستی مٹا سکتا ہے تو\nمیں نے مانا تیری موسیقی ہے اتنی پر اثر\nجھوم اٹھتے ہیں فرشتے تک ترے نغمات پر\nہاں یہ سچ ہے زمزمے تیرے مچاتے ہیں وہ دھوم\nجھوم جاتے ہیں مناظر، رقص کرتے ہیں نجوم\nتیرے ہی نغمے سے وابستہ نشاط زندگی\nتیرے ہی نغمے سے کیف و انبساط زندگی\nتیری صوت سرمدی باغ تصوف کی بہار\nتیرے ہی نغموں سے بے خود عابد شب زندہ دار\nبلبلیں نغمہ سرا ہیں تیری ہی تقلید میں\nتیرے ہی نغموں سے دھومیں محفل ناہید میں\nمجھ کو تیرے سحر موسیقی سے کب انکار ہے\nمجھ کو تیرے لحن داؤدی سے کب انکار ہے\nبزم ہستی کا مگر کیا رنگ ہے یہ بھی تو دیکھ\nہر زباں پر اب صلائے جنگ ہے یہ بھی تو دیکھ\nفرش گیتی سے سکوں اب مائل پرواز ہے\nابر کے پردوں میں ساز جنگ کی آواز ہے\nپھینک دے اے دوست اب بھی پھینک دے اپنا رباب\nاٹھنے ہی والا ہے کوئی دم میں شور انقلاب\nآ رہے ہیں جنگ کے بادل وہ منڈلاتے ہوئے\nآگ دامن میں چھپائے خون برساتے ہوئے\nکوہ و صحرا میں زمیں سے خون ابلے گا ابھی\nرنگ کے بدلے گلوں سے خون ٹپکے گا ابھی\nبڑھ رہے ہیں دیکھ وہ مزدور دراتے ہوئے\nاک جنوں انگیز لے میں جانے کیا گاتے ہوئے\nسرکشی کی تند آندھی دم بہ دم چڑھتی ہوئی\nہر طرف یلغار کرتی ہر طرف بڑھتی ہوئی\nبھوک کے مارے ہوئے انساں کی فریادوں کے ساتھ\nفاقہ مستوں کے جلو میں خانہ بربادوں کے ساتھ\nختم ہو جائے گا یہ سرمایہ داری کا نظام\nرنگ لانے کو ہے مزدوروں کا جوش انتقام\nگر پڑیں گے خوف سے ایوان عشرت کے ستوں\nخون بن جائے گی شیشوں میں شراب لالہ گوں\nخون کی بو لے کے جنگل سے ہوائیں آئیں گی\nخوں ہی خوں ہوگا نگاہیں جس طرف بھی جائیں گی\nجھونپڑوں میں خوں، محل میں خوں، شبستانوں میں خوں\nدشت میں خوں، وادیوں میں خوں، بیابانوں میں خوں\nپر سکوں صحرا میں خوں، بیتاب دریاؤں میں خوں\nدیر میں خوں، مسجد میں خوں، کلیساؤں میں خوں\nخون کے دریا نظر آئیں گے ہر میدان میں\nڈوب جائیں گی چٹانیں خون کے طوفان میں\nخون کی رنگینیوں میں ڈوب جائے گی بہار\nریگ صحرا پر نظر آئیں گے لاکھوں لالہ زار\nخون سے رنگیں فضائے بوستاں ہو جائے گی\nنرگس مخمور چشم خوں فشاں ہو جائے گی\nکوہساروں کی طرف سے سرخ آندھی آئے گی\nجا بجا آبادیوں میں آگ سی لگ جائے گی\nتوڑ کر بیڑی نکل آئیں گے زنداں سے اسیر\nبھول جائیں گے عبادت خانقاہوں میں فقیر\nحشر در آغوش ہو جائے گی دنیا کی فضا\nدوڑتا ہوگا ہر اک جانب فرشتہ موت کا\nسرخ ہوں گے خون کے چھینٹوں سے بام و در تمام\nغرق ہوں گے آتشیں ملبوس میں منظر تمام\nاس طرح لے گا زمانہ جنگ کا خونیں سبق\nآسماں پر خاک ہوگی، فرق پر رنگ شفق\nاور اس رنگ شفق میں باہزاراں آب و تاب!\nجگمگائے گا وطن کی حریت کا آفتاب", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8"} {"title": "انقلاب (احمق پھپھوندوی)", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوں\nکہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے\nنظام چرخ میں دیکھیں گے اک تغیر خاص\nسکون دہر میں اک اضطراب دیکھیں گے\nخدا نے چاہا تو اب جلد ہی وطن والے\nوطن میں اپنا مشن کامیاب دیکھیں گے\nدعائیں کی ہیں جو اہل وطن نے رو رو کر\nیقیں ہے جلد انہیں مستجاب دیکھیں گے\nزمانہ آنے ہی والا ہے جب ہم اے ظالم\nتجھے بھی خوار تجھے بھی خراب دیکھیں گے\nبہت ہی جلد ترے سر پہ بھی خدا کی قسم\nخدا کا قہر خدا کا عتاب دیکھیں گے\nتجھے بھی دیکھیں گے مجبور فاقہ و افلاس\nتجھے بھی قید غم و اضطراب دیکھیں گے\nتجھے بھی اپنی طرح جلد ہی بفضل خدا\nاسیر سلسلۂ پیچ و تاب دیکھیں گے\nتجھے بھی اپنی طرح پائے بند نالہ و آہ\nیوں ہی مجال تباہ و خراب دیکھیں گے\nرواں دواں تجھے ہندوستاں سے سوئے عدم\nبہ قلب زار و بہ چشم پر آب دیکھیں گے\nیہ دیکھنا ہے جو کچھ ہم کو اس میں دیر نہیں\nبہت ہی جلد بہت ہی شتاب دیکھیں گے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8_%28%D8%A7%D8%AD%D9%85%D9%82_%D9%BE%DA%BE%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%86%D8%AF%D9%88%DB%8C%29"} {"title": "انقلاب (اعظم کریوی)", "poet_page": "مصنف:اعظم کریوی", "kind": "poetry", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "تیرے دیکھن کو راجہ ہم کب سے کھڑے\nدن نہیں چیناں رات نہیں نندیا\nجب سے سڑکوا پہ نینا لڑے\nتیرے دیکھن کو پیاری ہم کب سے کھڑے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8_%28%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D9%88%DB%8C%29"} {"title": "انقلاب روزگار", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بس بس کے ہزاروں گھر اجڑ جاتے ہیں\nگڑ گڑ کے علم لاکھوں اکھڑ جاتے ہیں\nآج اس کی ہے نوبت تو کل اس کی باری\nبن بن کے یونہی کھیل بگڑ جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8_%D8%B1%D9%88%D8%B2%DA%AF%D8%A7%D8%B1"} {"title": "انقلاب ہند", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "بارہا دیکھا ہے تو نے آسماں کا انقلاب\nکھول آنکھ اور دیکھ اب ہندوستاں کا انقلاب\n\nمغرب و مشرق نظر آنے لگے زیر و زبر\nانقلاب ہند ہے سارے جہاں کا انقلاب\n\nکر رہا ہے قصر آزادی کی بنیاد استوار\nفطرت طفل و زن و پیر و جواں کا انقلاب\n\nصبر والے چھا رہے ہیں جبر کی اقلیم پر\nہو گیا فرسودہ شمشیر و سناں کا انقلاب", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%86%D8%AF"} {"title": "انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں\nیہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں\n\nعلاجِ درد میں بھی درد کی لذّت پہ مرتا ہُوں\nجو تھے چھالوں میں کانٹے، نوکِ سوزن سے نکالے ہیں\n\nپھلا پھُولا رہے یا رب! چمن میری اُمیدوں کا\nجگر کا خون دے دے کر یہ بُوٹے مَیں نے پالے ہیں\n\nرُلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کی\nنرالا عشق ہے میرا، نرالے میرے نالے ہیں\n\nنہ پُوچھو مجھ سے لذّت خانماں برباد رہنے کی\nنشیمن سینکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں\n\nنہیں بیگانگی اچھّی رفیقِ راہِ منزل سے\nٹھہر جا اے شرر، ہم بھی تو آخر مِٹنے والے ہیں\n\nاُمیدِ حور نے سب کچھ سِکھا رکھا ہے واعظ کو\nیہ حضرت دیکھنے میںسیدھے سادے، بھولے بھالے ہیں\n\nمرے اشعار اے اقبالؔ! کیوں پیارے نہ ہوں مجھ کو\nمرے ٹُوٹے ہُوئے دل کے یہ درد انگیز نالے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%A9%DA%BE%DB%8C_%D9%88%D8%B6%D8%B9_%DB%81%DB%92%D8%8C_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%B1%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "انکار نہ اقرار نہ تصدیق نہ ایجاب", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "انکار نہ اقرار نہ تصدیق نہ ایجاب\nاعمال نہ افعال نہ سنت نہ کتاب\nخود ہے نہ خدا ہے نہ خودی ہے نہ خدائی\nتوحید کے دریا میں ہیں سب نقش بر آب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B5%D8%AF%DB%8C%D9%82_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%A8"} {"title": "انکار ہم سے غیر سے اقرار بس جی بس", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انکار ہم سے غیر سے اقرار بس جی بس\nدیکھے تمہارے ہم نے یہ اطوار بس جی بس\n\nاتنا ہوں جائے رحم جو کرتا ہے وہ جفا\nتو اس سے رو کے کہتے ہیں اغیار بس جی بس\n\nساقی ہمیں پلائیے یوں جام پے بہ پے\nجو ہم نشین کہہ اٹھیں یک بار بس جی بس\n\nہوں ناامید وصل سے یوں جیسے وقت نزع\nرو کر کہے طبیب سے بیمار بس جی بس\n\nغش ہوں میں وقت بوسہ جو کہتا ہے ہنس کے وہ\nمنہ کو ہٹا ہٹا کے بہ تکرار بس جی بس\n\nاس کا جو بس جی بس مجھے یاد آوے ہے تو آہ\nپہروں تلک میں کہتا ہوں ہر بار بس جی بس\n\nکل وہ جو بولا ٹک تو کہا ہم نے منہ پھرا\nخیر اب نہ ہم سے بولئے زنہار بس جی بس\n\nہم دل لگا کے تم سے ہوے یاں تلک بہ تنگ\nجو اپنے جی سے کہتے ہیں لاچار بس جی بس\n\nسن کر کہا کہ کیا مرے لگتی ہے دل میں آگ\nشکوہ سے جب کرے ہے تو اظہار بس جی بس\n\nایسے طمانچے ماروں گا منہ میں ترے نظیرؔ\nگر تو نے مجھ سے پھر کہا ایک بار بس جی بس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%B3_%D8%AC%DB%8C_%D8%A8%D8%B3"} {"title": "انگلستان کی آزادی اور ہندوستان کی غلامی", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں آزاد ہو جاتا ہے جب لیتا ہے سانس\nیاں غلام آ کر کرامت ہے ہی انگلستان کی\n\nاس کی سرحد میں غلاموں نے جو ہے رکھا قدم\nاور کنکر پاؤں سے ایک اک کے بیڑی گر پڑی\n\nقلب ماہیت میں انگلستان ہے گر کیمیائی\nکم نہیں کچھ قلب ماہیت میں ہندوستان بھی\n\nآن کر آزادیاں آزاد رہ سکتا نہیں\nوہ رہے ہو کر غلام اس کی ہوا جن کو لگی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C"} {"title": "انگوٹھی", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "چھپاؤں کیوں نہ دل میں خاتم گوہر نگار اس کی\nیہی لے دے کے میرے پاس ہے اک یادگار اس کی\n\nیہ تنہائی میں میرے لب تک آ کر مسکراتی ہے\nاور اپنی مالکہ کی طرح دل کو گدگداتی ہے\n\nقلم کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہر وقت رہتی ہے\nاور اس کے دست رنگیں کے فسانے مجھ سے کہتی ہے\n\nطلائی انگلیوں کا جب مجھے قصہ سناتی ہے\nتصور میں ستاروں کے سے پیکر کھینچ لاتی ہے\n\nمری سلمیٰؔ کو اس نے شاد اور ناشاد دیکھا ہے\nگہے مسرور گاہے مائل فریاد دیکھا ہے\n\nاسے معلوم ہیں اچھی طرح بیتابیاں اس کی\nنہیں پوشیدہ اس کی آنکھ سے بے خوابیاں اس کی\n\nشب تنہائی میں اس نے اسے بے دار پایا ہے\nاور اکثر دیدۂ سرشار کو خوں بار پایا ہے\n\nاسے معلوم ہے وہ کس طرح مغموم رہتی تھی\nکسی کے غم میں لطف زیست سے محروم رہتی تھی\n\nمرا خط پڑھ کے وہ کس کس ناز سے مسرور ہوتی تھی\nپھر اپنی بے بسی پر کس طرح رنجور ہوتی تھی\n\nیہ شاہد ہے کہ اس کی شام غم کیوں کر گزرتی تھی\nیہ شاہد ہے کہ وہ رو رو کے کیوں کر صبح کرتی تھی\n\nوہ جب دل تھام لیتی تھی ہجوم غم سے گھبرا کر\nتو یہ کرتی تھی اس کی غم گساری دل کے پاس آ کر\n\nاسے معلوم ہے جو درد تھا اس پاک سینے میں\nبسی ہیں اس کے دل کی دھڑکنیں اس کے نگینے میں\n\nپہنچتی ہیں شعاعیں اس کی جس دم چشم حیراں تک\nتصور مجھ کو لے اڑتا ہے سلمیٰؔ کے شبستاں تک\n\nجہاں سلمیٰؔ کے اور میرے سوا ہوتا نہیں کوئی\nانگوٹھی کھوئی جاتی ہے مگر کھوتا نہیں کوئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%88%D9%B9%DA%BE%DB%8C"} {"title": "انگوٹھی کی مصیبت", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "میں نے شاہدہ سے کہا، تو میں جا کے اب کنجیاں لے آؤں۔ شاہدہ نے کہا، آخر تو کیوں اپنی شادی کے لئے اتنی تڑپ رہی ہے؟ اچھا جا۔ میں ہنستی ہوئی چلی گئی۔ کمرہ سے باہر نکلی۔ دوپہر کا وقت تھا اور سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اماں جان اپنے کمرہ میں سو رہی تھیں اور ایک خادمہ پنکھا جھل رہی تھی۔ میں چپکے سے برابر والے کمرے میں پہنچی اور مسہری کے تکیہ کے نیچے سے کنجی کا گچھا لیا۔ سیدھی کمرے پر واپس آئی اور شاہدہ سے کہا، جلدی چلو۔\n\nہم دونوں نے چپکے سے چلتے ہوئے کہ کہیں کوئی پیر کی آہٹ نہ سن لے زینے کی راہ لی، اور ابا جان والی چھت پر داخل ہوئی۔ وہاں بھی حسب توقع سناٹا پایا۔ سب سے پہلے دوڑ کر میں نے دروازہ بند کر دیا جو باہر زینے سے آنے جانے کے لیے تھا۔ اس کے بعد یہ دروازہ بھی بند کر دیا جس سے ہم دونوں داخل ہوئے تھے۔ سیدھی ابا جان کے کمرہ میں پہنچ کر ان کی الماری کا تالہ کھولا۔ کیا دیکھتی ہوں کہ سامنے بیچ کے تختہ پر تمام خطوط اور تصویریں رکھی ہیں۔\n\nوہ دیکھ! وہ دیکھ! وہ اچھا ہے شاہدہ نے کہا۔\n\nنہیں شروع سے دیکھو۔۔۔ ادھر سے۔ یہ کہہ کر میں نے شروع کا بنڈل کھولا اور اس میں سے تصویر نکالی۔ یہ ایک پروفیسر صاحب کی تصویر تھی۔ جن کی عمر پینتیس سال کی ہو گی۔ یہ نہایت ہی عمدہ سوٹ پہنے بڑی شان سے کرسی کا تکیہ پکڑے کھڑے تھے۔ کرسی پر ان کا پانچ سال کا بچہ بیٹھا تھا۔ ان کی پہلی بیوی مر چکی تھیں۔ اب مجھ سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ نام اور پتہ وغیرہ سب تصویر کی پشت پر موجود تھا۔\n\nیہ لے ! شاہدہ نے کہا۔ پہلی ہی بسم اللہ غلطمیں نے تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا، کیوں؟ کیا یہ برا ہے؟\n\nکمبخت یہ دوہاجو ہے، بہن اس سے بھول کے بھی مت کیجؤ۔ تو تو اپنی طرح کوئی کنوارا ڈھونڈھ۔ اری ذرا اس لونڈے کو دیکھ! اگر نہ تیرا یہ ناک میں دم کر دے اور نتھنوں میں تیر ڈال دے تو میرا نام پلٹ کر رکھ دیجؤ۔ دیکھتی نہیں کہ بس کی گانٹھ کتنا شریر ہے۔ اور پھر راتوں کو تیری سوت خواب میں الگ آ کر گلا دبائے گی۔\n\nتو تو پاگل ہو گئی ہے۔ میں نے کہا۔ شاہدہ ڈھنگ کی باتیں کر۔شاہدہ ہنستے ہوئے بولی، میری بلا سے۔ کل کی کرتی تو آج کر لے میری دانست میں تو اس پروفیسر کو بھی کوئی ایسی ہی ملے تو ٹھیک رہے جو دو تین موذی بچے جہیز میں لائے۔ اور وہ اس کے چھوکرے کو مارتے مارتے اتو کر دیں۔ چل رکھ اس کو۔۔۔ دوسری دیکھ۔\n\nپہلی تصویر پر یہ ریمارکس پاس کیےگیے اور اس کو جوں کا توں رکھ کر دوسری تصویر اٹھائی اور شاہدہ سے پوچھا،یہ کیسا ہے ؟شاہدہ غور سے دیکھ کر بولی، ویسے تو ٹھیک ہے مگر ذرا کالا ہے۔ کون سے درجے میں پڑھتا ہے ؟میں نے تصویر دیکھ بھال کر کہا،بی۔اے میں پڑھتا ہے۔ کالا تو ایسا نہیں ہے۔شاہدہ نے کہا، ہوں! یہ آخر تجھے کیا ہو گیا ہے، جسے دیکھتی ہے اس پہ عاشق ہوئی جاتی ہے۔ نہ کالا دیکھتی ہے نہ گورا، نہ بڈھا دیکھتی ہے نہ جوان!میں نے زور سے شاہدہ کے چٹکی لے کر کہا، کمبخت میں نے تجھے اس لیے بلایا تھا کہ تو مجھے تنگ کرے ! غور سے دیکھ۔غور سے تصویر دیکھ کر اور کچھ سوچ کر شاہدہ بولی، نہ بہن یہ ہر گز ٹھیک نہیں، میں تو کہہ چکی، آئندہ تو جانے۔\n\nمیں نے کہا، خط تو دیکھ بڑے رئیس کا لڑکا ہے۔ یہ تصویر ایک طالب علم کی تھی جو ٹینس کا بلا لیے بیٹھا تھا۔ دو تین تمغے لگائے ہوئے تھا اور دو تین جیتے ہوئے کپ سامنے میز پر رکھے ہوئے تھے۔شاہدہ بولی، ویسے تو لڑکا بڑا اچھا ہے۔ عمر میں تیرے جوڑ کا ہے۔ مگر ابھی پڑھتا ہے اور تیرا بھی شوکت کا سا حال ہو گا کہ دس روپے ماہوار جیب خرچ اور کھانے اور کپڑے پر نوکر ہو جائے گی اور دن رات ساس نندوں کی جوتیاں، یہ تو جھگڑا ہے۔ میں نے کہا، بی اے میں پڑھتا ہے، سال دو سال میں نوکر ہو جائے گا۔\n\nٹینس کا جمعدار ہو رہا ہے تو دیکھ لیجؤ دو تین دفعہ فیل ہو گا اور ساس نندیں بھی کہیں گی کہ بیوی پڑھنے نہیں دیتی اور پھر دوڑنے دھوپنے کا شوقین، تجھے رپٹا مارے گا۔ ویسے تو لڑکا اچھا ہے، صورت بھی بھولی بھالی ہے اور ایسا ہے کہ جب شرارت کرے، اٹھا کر طاق پر بٹھا دیا۔ مگر نہ بابا میں رائے نہ دوں گی۔اس تصویر کو بھی رکھ دیا اور اب دوسرا بنڈل کھولا اور ایک اور تصویر نکلی۔\n\nآخاہ! یہ موا پان کا غلام کہاں سے آیا۔ شاہدہ نے ہنس کر کہا، دیکھ تو کمبخت کی داڑھی کیسی ہے اور پھر مونچھیں اس نے ایسی کتروائی ہیں کہ جیسے سینگ کٹا کر بچھڑوں میں مل جائے !میں بھی ہنسنے لگی۔ یہ ایک معزز رئیس آنریری مجسٹریٹ تھے اور ان کی عمر بھی زیادہ نہ تھی۔ مگر مجھ کو یہ ذرہ بھر پسند نہ آئے۔ غور سے شاہدہ نے تصویر دیکھ کر پہلے تو ان کی نقل بنائی اور پھر کہنے لگی، ایسے کو بھلا کون لڑکی دے گا؟نہ معلوم اس کے کتنی لڑکیاں اور بیویاں ہوں گی۔ پھینک اسے۔یہ تصویر بھی رکھ دی گئی اور دوسرا بنڈل کھول کر ایک اور تصویر لی، یہ تو گبرو جوان ہے ؟ اس سےتو فورا کر لے۔ شاہدہ تصویر دیکھ کر بولی، یہ ہے کون!ذرا دیکھ۔میں نے دیکھ کر بتایا کہ ڈاکٹر ہے۔\n\nبس بس، یہ ٹھیک، خوب تیری نبض ٹٹول ٹٹول کے روز تھرمامیٹر لگائے گا۔ صورت شکل ٹھیک ہے۔ شاہدہ نے ہنس کر کہا، میرا میاں بھی ایسا ہی ہٹا کٹا موٹا تازہ ہے میں نے ہنس کر کہا، کمبخت آخر تو ایسی باتیں کہاں سے سیکھ آئی ہے، کیا تو نے اپنے میاں کو دیکھا ہے ؟\n\nدیکھا تو نہیں مگر سنا ہے کہ بہت اچھا ہے۔\n\nبھدا سا ہو گا۔\n\nشاہدہ نے چیں بچیں ہو کر کہا، اتنا تو میں جانتی ہوں کہ جو کہیں تو اسے دیکھ لے تو شاید لٹو ہی ہو جائے۔\n\nمیں نے اب ڈاکٹر صاحب کی تصویر کو غور سے دیکھا اور نکتہ چینی شروع کی۔ نہ اس لیے کہ مجھے یہ ناپسند تھے، بلکہ محض اس لیے کہ کچھ رائے زنی ہو سکے۔ چنانچہ میں نے کہا، ان کی ناک ذرا موٹی ہے۔\n\nسب ٹھیک ہے۔ شاہدہ نے کہا۔ ذرا اس کا خط دیکھ۔ میں نے دیکھا کہ صرف دو خط ہیں۔ پڑھنے سے معلوم ہوا کہ ان کی پہلی بیوی موجود ہیں مگر پاگل ہو گئی ہیں۔پھینک پھینک اسے کمبخت کو پھینک۔ شاہدہ نے جل کر کہا، جھوٹا ہے کمبخت کل کو تجھے بھی پاگل خانہ میں ڈال کے تیسری کو تکے گا۔ ڈاکٹر صاحب بھی نامنظور کر دیے گیےاور پھر ایک اور تصویر اٹھائی۔\n\nشاہدہ نے اور میں نے غور سے اس تصویر کو دیکھا۔ یہ تصویر ایک نو عمر اور خوبصورت جوان کی تھی۔ شاہدہ نے پسند کرتے ہوئے کہا، یہ تو ایسا ہے کہ میری بھی رال ٹپکی پڑ رہی ہے۔ دیکھ تو کتنا خوبصورت جوان ہے۔ بس اس سے تو آنکھ میچ کے کر لے اور اسے گلے کا ہار بنا لیجیو۔ہم دونوں نے غور سے اس تصویر کو دیکھا ہر طرح دونوں نے پسند کیا اور پاس کر دیا۔ شاہدہ نے اس کے خط کو دیکھنے کو کہا۔ خط جو پڑھا تو معلوم ہوا کہ یہ حضرت ولایت میں پڑھتے ہیں۔\n\nارے توبہ توبہ، چھوڑ اسے۔ شاہدہ نے کہا۔\n\nمیں نے کہا،کیوں۔ آخر کوئی وجہ؟\n\nوجہ یہ کہ بھلا اسے وہاں میمیں چھوڑیں گی۔ عجب نہیں کہ ایک آدھ کو ساتھ لے آئے۔\n\nمیں نے کہا، واہ اس سے کیا ہوتا ہے۔ احمد بھائی کو دیکھو، پانچ سال ولایت میں رہے تو کیا ہو گیا۔\n\nشاہدہ تیزی سے بولی، بڑے احمد بھائی احمد بھائی، رجسٹر لے کر وہاں کی بھاوجوں کے نام لکھنا شروع کرے گی تو عمر ختم ہو جائے گی اور رجسٹر تیار نہ ہو گا۔ میں تو ایسا جوا نہ کھیلوں اور نہ کسی کو صلاح دوں۔ یہ ادھار کا سا معاملہ ٹھیک نہیں۔\n\nیہ تصویر بھی ناپسند کر کے رکھ دی گئی اور اس کے بعد ایک اور نکالی۔ شاہدہ نے تصویر دیکھ کر کہا، یہ تو اللہ رکھے اس قدر باریک ہیں کہ سوئی کے ناکہ میں سے نکل جائیں گے۔ علاوہ اس کے کوئی آندھی بگولا آیا تو یہ اڑ اڑا جائیں گے اور تو رانڈ ہو جائے گی۔اسی طرح دو تین تصویریں اور دیکھی گئیں کہ اصل تصویر آئی اور میرے منہ سے نکل گیا، اخاہ۔\n\nمجھے دے۔ دیکھوں، دیکھوں۔ کہہ کر شاہدہ نے تصویر لے لی۔ہم دونوں نے غور سے اس کو دیکھا۔ یہ ایک بڑی سی تصویر تھی۔ ایک تو وہ خود ہی تصویر تھا اور پھر اس قدر صاف اور عمدہ کھینچی ہوئی کہ بال بال کا عکس موجود تھا۔ شاہدہ نے ہنس کر کہا، اسے مت چھوڑیو۔ ایسے میں تو میں دو کر لوں۔ یہ آخر ہے کون۔۔۔؟ تصویر کو الٹ کر دیکھا جیسے دستخط اوپر تھے ایسے ہی پشت پر تھے مگر شہر کا نام لکھا ہوا تھا اور بغیر خطوط کے دیکھے ہوئے مجھے معلوم ہو گیا کہ کس کی تصویر ہے۔ میں نے شاہدہ سے کہا، یہ وہی ہے جس کا میں نے تجھ سے اس روز ذکر کیا تھا۔\n\nاچھا یہ بیرسٹر صاحب ہیں۔ شاہدہ نے پسندیدگی کے لہجہ میں کہا، صورت شکل تو خوب ہے، مگر ان کی کچھ چلتی بھی ہے یا نہیں؟ میں نے کہا، ابھی کیا چلتی ہو گی۔ ابھی آئے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں۔\n\nتو پھر ہوا کھاتے ہوں گے۔ شاہدہ نے ہنستے ہوئے کہا۔ خیر تو اس سے ضرور کر لے۔ خوب تجھے موٹروں پر سیر کرائے گا، سینما اور تھیٹر دکھائے گا اور جلسوں میں نچائے گا۔\n\nمیں نے کہا، کچھ غریب تھوڑی ہیں۔ ابھی تو باپ کے سر کھاتے ہیں۔\n\nشاہدہ نے چونک کر کہا، اری بات تو سن۔\n\nمیں نے کہا، کیوں۔\n\nشاہدہ بولی، صورت شکل بھی اچھی ہے۔ خوب گورا چٹا ہے۔ بلکہ تجھ سے بھی اچھا ہے اور عمر بھی ٹھیک ہے۔ مگر یہ تو بتا کہ کہیں کوئی میم ویم تو نہیں پکڑ لایا ہے۔میں نے کہا، مجھے کیا معلوم۔ لیکن اگر کوئی ساتھ ہوتی تو شادی کیوں کرتے۔\n\nٹھیک ٹھیک۔ شاہدہ نے سر ہلا کر کہا، بس اللہ کا نام لے کر پھانس میں نے خط اٹھائے اور شاہدہ دوسری تصویریں دیکھنے لگی۔ میں خط پڑھ رہی تھی اور وہ ہر ایک تصویر کا منہ چڑا رہی تھی۔ میں نے خوش ہو کر اس کو چپکے چپکے خط کا کچھ حصہ سنایا۔ شاہدہ سن کر بولی الا اللہ! میں نے اور آگے پڑھا تو کہنے لگی۔ وہ مارا۔ غرض خط کا سارا مضمون سنایا۔ شاہدہ نے خط سن کر کہا کہ، یہ تو سب معاملہ فٹ ہے اور چول بیٹھ گئی ہے۔ اب تو گڑ تقسیم کر دے۔\n\nپھر ہم دونوں نے اس تصویر کو غور سے دیکھا۔ دونوں نے رہ رہ کر پسند کیا۔ یہ ایک نوعمر بیرسٹر تھے اور غیر معمولی طور پر خوبصورت معلوم ہوتے تھے اور ناک نقشہ سب بے عیب تھا۔ شاہدہ رہ رہ کر تعریف کر رہی تھی۔ ڈاڑھی مونچھیں سب صاف تھیں اور ایک دھاری دار سوٹ پہنے ہوئے تھے۔ ہاتھ میں کوئی کتاب تھی۔میں نے بیرسٹر صاحب کے دوسرے خط پڑھے، اور مجھ کو کل حالات معلوم ہو گیے۔ معلوم ہوا ہے کہ بیرسٹر صاحب بڑے اچھے اور رئیس گھرانے کے ہیں اور شادی کا معاملہ طے ہو گیا ہے۔ آخری خط سے پتہ چلتا تھا کہ صرف شادی کی تاریخ کے معاملہ میں کچھ تصفیہ ہونا باقی ہے۔\n\nمیں نے چاہا کہ اور دوسرے خط پڑھوں اور خصوصا آنریری مجسٹریٹ صاحب کا مگر شاہدہ نے کہا، اب دوسرے خط نہ پڑھنے دوں گی۔ بس یہی ٹھیک ہے۔ میں نے کہا، ان کے ذکر کی بھنک ایک مرتبہ سن چکی ہوں۔ آخر دیکھ تو لینے دے کہ معاملات کہاں تک پہنچ چکے ہیں۔\n\nشاہدہ نے جھٹک کر کہا، چل رہنے دے اس موذی کا ذکر تک نہ کر۔ میں نے بہت کچھ کوشش کی مگر اس نے ایک نہ سنی۔ قصہ مختصر جلدی جلدی سب چیزیں جوں کی توں رکھ دیں، اور الماری بند کر کے میں نے مردانہ زینہ کا دروازہ کھولا اور شاہدہ کے ساتھ چپکے سے جیسے آئی تھی ویسے ہی واپس ہوئی۔ جہاں سے کنجی لی تھی، اسی طرح رکھ دی۔ شاہدہ سے دیر تک بیرسٹر صاحب کی باتیں ہوتی رہیں۔ شاہدہ کو میں نے اسی لیے بلایا تھا۔ شام کو وہ اپنے گھر چلی گئی مگر اتنا کہتی گئی کہ خالہ جان کی باتوں سے بھی پتہ چلتا ہے کہ تیری شادی اب بالکل طے ہو گئی اور تو بہت جلد لٹکائی جائے گی۔\n\n(۲)\n\nاس بات کو مہینہ بھر سے زائد گزر چکا تھا۔ کبھی تو ابا جان اور اماں جان کی باتیں چپکے سے سن کر ان کے دل کا حال معلوم کرتی تھی اور کبھی اوپر جا کر الماری سے خطوط نکال کر پڑھتی تھی۔میں دل ہی دل میں خوش تھی کہ مجھ سے زیادہ خوش قسمت بھلا کون ہو گی کہ یک لخت معلوم ہوا کہ معاملہ طے ہو کر بگڑ رہا ہے۔\n\nآخری خط سے معلوم ہوا کہ بیرسٹر صاحب کے والد صاحب چاہتے ہیں کہ بس فوراً ہی نکاح اور رخصتی سب ہو جائے اور اماں جان کہتی تھیں کہ میں پہلے صرف نسبت کی رسم ادا کروں گی اور پھر پورے سال بھر بعد نکاح اور رخصتی کروں گی کیونکہ میرا جہیز وغیرہ کہتی تھیں کہ اطمینان سے تیار کرنا ہے اور پھر کہتی تھیں کہ میری ایک ہی اولاد ہے۔ میں تو دیکھ بھال کے کروں گی۔ اگر لڑکا ٹھیک نہ ہوا تو منگنی توڑ بھی سکوں گی۔ یہ سب باتیں میں چپکے سے سن چکی تھی۔\n\nادھر تو یہ خیالات، ادھر بیرسٹر صاحب کے والد صاحب کو بے حد جلدی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ اگر آپ جلدی نہیں کر سکتے تو ہم دوسری جگہ کر لیں گے۔ جہاں سب معاملات طے ہو چکے ہیں۔ مجھے یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ ابا جان نے اس کا کیا جواب دیا، اور میں تاک میں لگی ہوئی تھی کہ کوئی میرے دل سے پوچھے کہ میرا کیا حال ہوا۔ جب ایک روز چپکے سے میں نے ابا جان اور اماں جان کا تصفیہ سن لیا۔ طے ہو کر لکھا جا چکا تھا کہ اگر آپ کو ایسی ہی جلدی ہے کہ آپ دوسری جگہ شادی کیے لیتے ہیں تو بسم اللہ۔ ہم کوہماری لڑکی بھاری نہیں ہے، یہ خط لکھ دیا گیا اور پھر ان کمبخت مجسٹریٹ کی بات ہوئی کہ میں وہاں جھونکی جاؤں گی۔ نہ معلوم یہ آنریری مجسٹریٹ مجھ کو کیوں سخت ناپسند تھے کہ کچھ ان کی عمر بھی ایسی نہ تھی۔ مگر شاہدہ نے کچھ ان کا حلیہ یعنی ڈاڑھی وغیرہ کچھ ایسا بنا بنا کر بیان کیا کہ میرے دل میں ان کے لئے ذرہ بھر جگہ نہ تھی۔ میں گھنٹوں اپنے کمرے میں پڑی سوچتی رہی۔\n\nاس بات کو ہفتہ بھر بھی نہ گزرا تھا کہ میں نے ایک روز اسی طرح چپکے سے الماری کھول کر بیرسٹر صاحب کے والد کا ایک تازہ خط پڑھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے یہ خط شاید ابا جان کے آخری خط ملنے سے پہلے لکھا تھا کہ بیرسٹر صاحب کو خود کسی دوسری جگہ جانا ہے اور راستہ میں یہاں ہوتے ہوئے جائیں گے اور اگر آپ کو شرائط منظور ہوئیں تو نسبت بھی قرار دے دی جائے گی۔ اسی روز اس خط کا جواب بھی میں نے سن لیا۔ انہوں نے لکھ دیا تھا کہ لڑکے کو تو میں خود بھی دیکھنا چاہتا تھا، خانہ بے تکلف ہے۔ جب جی چاہے بھیج دیجئے مگر اس کا خیال دل سے نکال دیجئے کہ سال بھر سے پہلے شادی کر دی جائے۔ اماں جان نے بھی اس جواب کو پسند کیا اور پھر انہی آنریری مجسٹریٹ صاحب کے تذکرہ سے میرے کانوں کی تواضع کی گئی۔\n\nان سب باتوں سے میرا ایسا جی گھبرایا کہ اماں جان سے میں نے شاہدہ کے گھر جانے کی اجازت لی اور یہ سوچ کر گئی کہ تین چار روز نہ آؤں گی۔\n\nشاہدہ کے ہاں جو پہنچی تو اس نے دیکھتے ہی معلوم کر لیا کہ کچھ معاملہ دگرگوں ہے۔ کہنے لگی کہ ،کیا تیرے بیرسٹر نے کسی اور کو گھر میں ڈال لیا؟\n\nمیں اس کا بھلا کیا جواب دیتی۔ تمام قصہ شروع سے آخیر تک سنا دیا کہ کس طرح وہ جلدی کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد شادی ہو جائے۔ مگر اماں جان راضی نہیں ہوتیں۔ یہ سب سن کر اور مجھ کو رنجیدہ دیکھ کر وہ شریر بولی، خوب! چٹ منگنی پٹ بیاہ بھلا ایسا کون کرے گا۔ مگر ایک بات ہے۔ میں نے کہا، وہ کیا؟ وہ بولی، وہ تیرے لئے پھڑک رہا ہے اور یہ فال اچھی ہے۔ میں نے جل کر کہا، یہ تو فال نکال رہی ہے اور مذاق کر رہی ہے۔\n\nپھر کیا کروں؟ شاہدہ نے کہا۔ (کیونکہ واقعی وہ بیچاری کر ہی کیا سکتی ہے۔)\n\nمیں نے کہا، کوئی مشورہ دو۔ صلاح دو۔ دونوں مل کر سوچیں۔\n\nپاگل نہیں تو۔ شاہدہ نے میری بیوقوفی پر کہا، دیوانی ہوئی ہے، میں صلاح کیا دوں؟\n\nاچھا مجھے پتہ بتا دے۔ میں بیرسٹر صاحب کو لکھ بھیجوں کہ ادھر تو اس چھوکری پر نثار ہو رہا ہے اور ادھر یہ تیرے پیچھے دیوانی ہو رہی ہے، آ کے تجھے بھگا لے جائے۔\n\nخدا کی مار تیرے اوپر اور تیری صلاح کے اوپر۔ میں نے کہا۔ کیا میں اسی لئے آئی تھی؟ میں جاتی ہوں۔ یہ کہہ کر میں اٹھنے لگی۔\n\nتیرے بیرسٹر کی ایسی تیسی۔ شاہدہ نے ہاتھ پکڑ کر کہا۔ جاتی کہاں ہے شادی نہ بیاہ، میاں کا رونا روتی ہے۔ تجھے کیا؟ کوئی نہ کوئی ماں کا جایا آ کر تجھے لے ہی جائے گا۔ چل دوسری باتیں کر۔\n\nیہ کہہ کر شاہدہ نے مجھے بٹھا لیا اور میں بھی ہنسنے لگی۔ دوسری باتیں ہونے لگیں۔ مگر یہاں میرے دل کو لگی ہوئی تھی اور پریشان بھی تھی۔ گھوم پھر کر وہی باتیں ہونے لگیں۔ شاہدہ نے جو کچھ ہمدردی ممکن تھی وہ کی اور دعا مانگی اور پھر آنریری مجسٹریٹ کو خوب کوسا۔ اس کے علاوہ وہ بیچاری کر ہی کیا سکتی تھی۔ خود نماز کے بعد دعا مانگنے کا وعدہ کیا اور مجھ سے بھی کہا کہ نماز کے بعد روزانہ دعا مانگا کر۔ اس سے زیادہ نہ وہ کچھ کر سکتی تھی اور نہ میں۔میں گھر سے کچھ ایسی بیزار تھی کہ دو مرتبہ آدمی لینے آیا اور نہ گئی۔ چوتھے روز میں نے شاہدہ سے کہا کہ، اب شاید خط کا جواب آ گیا ہو گا اور میں کھانا کھا کے ایسے وقت جاؤں گی کہ سب سوتے ہوں۔ تاکہ بغیر انتظار کئے ہوئے مجھے خط دیکھنے کا موقع مل جائے۔\n\nچلتے وقت میں ایسے جا رہی تھی جیسے کوئی شخص اپنی قسمت کا فیصلہ سننے کے لیے جا رہا ہو۔میری حالت عجیب امید و بیم کی تھی۔ نہ معلوم اس خط میں بیرسٹر صاحب کے والد نے انکار کیا ہو گا یا منظور کر لیا ہو گا کہ ہم سال بھر بعد شادی پر رضامند ہیں۔ یہ میں بار بار سوچ رہی تھی۔ چلتے وقت میں نے اپنی پیاری سہیلی کے گلے میں ہاتھ ڈال کر زور سے دبایا۔ نہ معلوم کیوں میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ شاہدہ نے مذاق کو رخصت کرتے ہوئے کہا، بہن خدا تجھے اس موذی سے بچائے۔ تو دعا مانگ اچھا۔ میں نے چپکے سے کہا،اچھا۔\n\n(۳)\n\nشاہدہ کے یہاں سے جو آئی تو حسب توقع گھر میں سناٹا پایا۔ اماں جان سو رہی تھیں۔ اور ابا جان کچہری جا چکے تھے۔ میں نے چپکے سے جھانک کر ادھر ادھر دیکھا۔ کوئی نہ تھا۔ آہستہ سے دروازہ بند کیا اور دوڑ کر مردانہ زینہ کا دروازہ بھی بند کر دیا اور سیدھی کمرہ میں پہنچی۔ وہاں پہنچی تو ششدر رہ گئی۔\n\nکیا دیکھتی ہوں کہ ایک بڑا سا چمڑے کا ٹرنک کھلا پڑا ہے اور پاس کی کرسی پر اور ٹرنک میں کپڑوں کے اوپر مختلف چیزوں کی ایک دکان سی لگی ہوئی ہے۔ میں نے دل میں کہا کہ آخر یہ کون ہے، جو اس طرح سامان چھوڑ کر ڈال گیا ہے۔ کیا بتاؤں میرے سامنے کیسی دکان لگی ہوئی اور کیا کیا چیزیں رکھی تھیں کہ میں سب بھول گئی اور انہیں دیکھنے لگی۔ طرح طرح کی ڈبیاں اور ولائتی بکس تھے جو میں نے کبھی نہ دیکھے تھے۔ میں نے سب سے پیشتر جھٹ سے ایک سنہرا گول ڈبہ اٹھا لیا۔ میں اس کو تعریف کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔ یہ گنی کے سونے کا ڈبہ تھا اور اس پر سچی سیپ کا نفیس کام ہوا تھا۔ اودی اودی کندن کی جھلک بھی تھی۔ ڈھکنا تو دیکھنے ہی سے تعلق رکھتا تھا۔ اس میں موتی جڑے ہوئے تھے اور کئی قطاریں ننھے ننھے سمندری گھونگھوں کی اس خوبصورتی سے سونے میں جڑی ہوئی تھیں کہ میں دنگ رہ گئی۔\n\nمیں نے اسے کھول کر دیکھا تو ایک چھوٹا سا پوؤڈر لگانے کا پف رکھا ہوا تھا اور اس کے اندر سرخ رنگ کا پاؤڈر رکھا ہوا تھا۔ میں نے پف نکال کر اس کے نرم نرم روئیں دیکھے جن پر غبار کی طرح پاؤڈر کے مہین ذرے گویا ناچ رہے تھے۔ یہ دیکھنے کے لیے یہ کتنا نرم ہے، میں نے اس کو اپنے گال پر آہستہ آہستہ پھرایا اور پھر اس کو واپس اسی طرح رکھ دیا۔ مجھے خیال بھی نہ آیا کہ مرے گال پر سرخ پاؤڈر جم گیا۔ میں نے ڈبہ کو رکھا ہی تھا کہ میری نظر ایک تھیلی پر پڑی۔ مہ سبز مخمل کی تھیلی تھی۔ جس پر سنہری کام میں مختلف تصویریں بنی ہوئی تھیں۔\n\nمیں نے اس کو اٹھایا تو میرے تعجب کی کوئی انتہا نہ رہی۔ کیونکہ دراصل یہ ولایتی ربڑ کی تھیلی تھی، جو مخمل سے بھی زیادہ خوبصورت اور نرم تھی، میں نے غور سے سنہری کام کو دیکھا۔ کھول کر جو دیکھا تو اندر دو چاندی کے بالوں میں کرنے کے برش تھے اور ایک ان ہی کے جوڑ کا کنگھا تھا۔ میں نے اس کو بھی رکھ دیا اور چھوٹی خوبصورت ڈبیوں کو دیکھا۔ کسی میں سیفٹی پن تھا، کسی میں خوبصورت سا بروچ تھا اور کسی میں پھول تھا۔ غرض طرح طرح کے بروچ اور بلاؤس پن وغیرہ تھے۔دو تین ڈبیاں ان میں ایسی تھیں جو عجیب شکل تھیں۔ مثلاً ایک بالکل کتاب کی طرح تھی اور ایک کرکٹ کے بلے کی طرح تھی۔ ان میں بعض ایسی بھی تھیں جو مجھ سے کسی طرح بھی نہ کھلیں۔ علاوہ ان کے سگریٹ کیس، دیا سلائی کا بکس وغیرہ وغیرہ۔ سب ایسی کہ بس ان کو دیکھا ہی کرے۔\n\nمیں ان کو دیکھ ہی رہی تھی کہ ایک مخمل کے ڈبہ کا کونہ ٹرنک میں ریشمی رومالوں میں مجھے دبا ہوا نظر آیا۔ میں نے اس کو نکالا۔ کھول کر دیکھا تو اندر بہت سے چھوٹے چھوٹے ناخن کاٹنے اور گھسنے کے اوزار رکھے ہوئے تھے اور ڈھکنے میں ایک چھوٹا سا آئینہ لگا ہوا تھا۔ میں نے اس کو جوں کا توں اسی جگہ رکھا تو میرے ہاتھ ایک اور مخمل کا ڈبہ لگا۔ اس کو جو میں نے نکال کر کھولا تو اس کے اندر سے سبز رنگ کا ایک فاؤنٹین پن نکلا۔ جس پر سونے کی جالی کا خول چڑھا ہوا تھا۔ میں نے اس کو بھی رکھ دیا۔ ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ ایک چھوٹی سے سنہری رنگ کی ڈبیہ پر نظر پڑی۔ اس کو میں نے کھولنا چاہا۔ مگر وہ کمبخت نہ کھلنا تھی نہ کھلی۔ میں اس کو کھول ہی رہی تھی کہ ایک لکڑی کے بکس کا کونہ نظر پڑا۔ میں نے اس کو فوراً ٹرنک سے نکال کر دیکھا۔ یہ ایک بھاری سا خوبصورت بکس تھا۔ اس کو جو میں نے کھولا تو میں دنگ رہ گئی۔ اس کے اندر سے ایک صاف شفاف بلور کا عطردان نکلا جو کوئی بالشت بھر لمبا اور اسی مناسبت سے چوڑا تھا۔ میں نے اس کو نکال کر غور سے دیکھا اور لکڑی کا بکس جس میں یہ بند تھا، الگ رکھ دیا۔\n\nعجیب چیز تھی۔ اس کے اندر کی تمام چیزیں باہر سے نظر آ رہی تھیں۔ اس کے اندر چوبیس چھوٹی چھوٹی عطر کی قلمیں رکھی ہوئی تھیں۔ جن کے خوشنما رنگ روشنی میں بلور میں سے گزر کر عجیب بہار دکھا رہے تھے۔ میں اس کو چاروں طرف سے دیکھتی رہی اور پھر کھولنا چاہا۔ جہاں جہاں بھی جو بٹن نظر آئے میں نے دبائے مگر یہ نہ کھلا۔ میں اس کو دیکھ رہی تھی کہ میری نظر کسی تصویر کے کونے پر پڑی جو ٹرنک میں ذرا نیچے کو رکھی تھی۔ میں نے تصویر کو کھینچ کر نکالا کہ اس کے ساتھ ساتھ ایک مخمل کی ڈبیہ رومالوں اور ٹائیوں میں لڑھکتی ہوئی چلی آئی اور کھل گئی۔\n\nکیا دیکھتی ہوں کہ اس میں ایک خوبصورت انگوٹھی جگ مگ جگمگ کر رہی ہے۔ فوراً تصویر کو چھوڑ کر میں نے اس ڈبیا کو اٹھایا اور انگوٹھی کو نکال کر دیکھا۔ بیچ میں اس کے ایک نیلگوں رنگ تھا اور ارد گرد سفید سفید ہیرے جڑے تھے۔ جن پر نگاہ نہ جمتی تھی۔ میں نے اس خوبصورت انگوٹھی کو غور سے دیکھا اور اپنی انگلیوں میں ڈالنا شروع کیا۔ کسی میں تنگ تھی تو کسی میں ڈھیلی۔ مگر سیدھے ہاتھ کی چھنگلی کے پاس والی انگلی میں میں نے اس کو زور دے کر کسی نہ کسی طرح تمام پہن تو لیا اور پھر ہاتھ اونچا کر کے اس کے نگینوں کی دمک دیکھنے لگی۔ میں اسے دیکھ بھال کر ڈبیا میں رکھنے کے لئے اتارنے لگی تو معلوم ہوا کہ پھنس گئی ہے۔\n\nمیرے بائیں ہاتھ میں وہ بلور کا عطر دان بدستور موجود تھا اور میں اس کو رکھنے ہی کو ہوئی تاکہ انگلی میں پھنسی ہوئی انگوٹھی کو اتاروں کہ ایکا ایکی میری نظر اس تصویر پر پڑی جو سامنے رکھی تھی اور جس کو میں سب سے پیشتر دیکھنا چاہتی تھی۔ اس پر ہوا سا باریک کاغذ تھا جس کی سفیدی میں سے تصویر کے رنگ جھلک رہے تھے۔ میں عطردان تو رکھنا بھول گئی اور فوراً ہی سیدھے ہاتھ سے تصویر کو اٹھا لیا اور کاغذ ہٹا کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ سب سامان بیرسٹر صاحب کا ہے کہ یہ انہی کی تصویر تھی۔ یہ کسی ولایتی دکان کی بنی ہوئی تھی اور رنگین تھی۔ میں بڑے غور سے دیکھ رہی تھی اور دل میں کہہ رہی تھی کہ اگر یہ صحیح ہے تو واقعی بیرسٹر صاحب غیر معمولی طور پر خوبصورت آدمی ہیں۔ چہرے کا رنگ ہلکا گلابی تھا۔ سیاہ بال تھے اور آڑی مانگ نکلی ہوئی تھی۔ چہرہ، آنکھ، ناک، غرض ہر چیز اس صفائی سے اپنے رنگ میں موجود تھی کہ میں سوچ رہی تھی کہ میں زیادہ خوبصورت ہوں یا یہ۔ کوٹ کی دھاریاں ہوشیار مصور نے اپنے اصلی رنگ میں اس خوبی سے دکھائی تھیں کہ ہر ایک ڈورا اپنے رنگ میں صاف نظر آ رہا تھا۔\n\nمیں اس تصویر کو دیکھنے میں بالکل محو تھی کہ دیکھتے دیکھتے ہوا کی رمق سے وہ کمبخت باریک سا کاغذ دیکھنے میں مخل ہونے لگا۔ میں نے تصویر کو جھٹک کر الگ کیا۔ کیونکہ بایاں ہاتھ گھرا ہوا تھا۔ اس میں وہی بلور کا عطردان تھا پھر اسی طرح کاغذ اڑ کر آیا اور تصویر کو ڈھک دیا۔ میں نے جھٹک کر الگ کرنا چاہا۔ مگر وہ چپک سا گیا اور علیحدہ نہ ہوا۔ تو میں نے منہ سے پھونکا اور جب بھی وہ نہ ہٹا تو میں نے اونھ کر کے بائیں ہاتھ کی انگلی سے جو کاغذ کو ہٹایا تو وہ بلور کا عطردان بھاری تو تھا ہی ہاتھ سے پھسل کر چھوٹ پڑا اور چھن سے پختہ فرش پر گر کر کھیل کھیل ہو گیا۔\n\nمیں دھک سے ہو گئی اور چہرہ فق ہو گیا۔ تصویر کو ایک طرف پھینک کے ایک دم سے شکستہ عطردان کے ٹکڑے اٹھا کر ملانے لگی کہ ایک نرم آواز بالکل قریب سے آئی ،تکلیف نہ کیجئے، آپ ہی کا تھا۔ آنکھ اٹھا کر جو دیکھا تو جیتی جاگتی اصلی تصویر بیرسٹر صاحب کی سامنے کھڑی ہے ! تعجب!! اس تعجب نے مجھے سکتہ میں ڈال دیا کہ الہٰی یہ کدھر سے آ گیے۔ دو تین سیکنڈ تو کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کروں کہ ایک دم سے میں نے ٹوٹے ہوئے عطردان کے ٹکڑے پھینک دیے اور دونوں ہاتھوں سے منہ چھپا کر جھٹ سے دروازہ کی آڑ میں ہو گئی۔\n\n(۴)\n\nمیری حالت بھی اس وقت عجیب قابل رحم تھی۔ بلیوں دل اچھل رہا تھا ۔یہ پہلا موقع تھا جو میں کسی نامحرم اور غیر شخص کے ساتھ اس طرح ایک تنہائی کے مقام پر تھی۔ اس پر طرہ یہ کہ عین چوری کرتے پکڑی گئی۔ سارا ٹرنک کرید کرید کر پھینک دیا تھا اور پھر عطردان توڑ ڈالا، اور نہایت ہی بے تکلفی سے انگوٹھی پہن رکھی تھی۔\n\nاوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے تھی۔ سارے بدن میں ایک سنسنی اور رعشہ سا تھا کہ ذرا ہوش بجا ہوئے تو فوراً انگوٹھی کا خیال آیا۔ جلدی جلدی اسے اتارنے لگی۔ طرح طرح سے گھمایا۔ طرح طرح سے انگلی کو دبایا اور انگوٹھی کو کھینچا۔ مگر جلدی میں وہ اور بھی نہ اتری۔ جتنی دیر لگ رہی تھی، اتنا ہی میں اور گھبرا رہی تھی۔ پل پل بھاری تھا، اور میں کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ہر طرح انگوٹھی اتارنے کو کوشش کر رہی تھی۔ مگر وہ نہ اترتی تھی۔ غصہ میں میں نے انگلی مروڑ ڈالی۔ مگر کیا ہوتا تھا۔ غرض میں بے طرح انگوٹھی اتارنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اتنے میں بیرسٹر صاحب نے کہا، شکر ہے کہ انگوٹھی آپ کو پسند تو آ گئی۔\n\nیہ سن کر میرے تن بدن میں پسینہ آ گیا اور میں گویا کٹ مری۔ میں نے دل میں کہا کہ میں منہ چھپا کر جو بھاگی تو شاید انگوٹھی انہوں نے دیکھ لی۔ اور واقعہ بھی دراصل یہی تھا۔ اس جملہ نے میرے اوپر گویا ستم ڈھایا۔ میں نے سن کر اور بھی جلدی جلدی اس کو اتارنے کی کوشش کی مگر وہ انگوٹھی کمبخت ایسی پھنسی تھی کہ اترنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔ میرا دل انجن کی طرح چل رہا تھا اور میں کٹی جا رہی تھی اور حیران تھی کہ کیونکر اس نامراد انگوٹھی کو اتاروں۔\n\nاتنے میں بیرسٹر صاحب آڑ سے ہی بولے، اس میں سے اگر اور کوئی چیز پسند ہو تو وہ بھی لے لیجئے۔ میں نے یہ سن کر اپنی انگلی مروڑ تو ڈالی کہ یہ لے تیری یہ سزا ہے، مگر بھلا اس سے کیا ہوتا تھا؟ غرض میں حیران اور زچ ہونے کے علاوہ مارے شرم کے پانی پانی ہوئی جاتی تھی۔اتنے میں بیرسٹر صاحب پھر بولے، چونکہ یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ مجھے اپنی منسوبہ بیوی سے باتیں کرنے کا بلکہ ملاقات کرنے کا موقع مل گیا ہے لہذا میں اس زریں موقع کو کسی طرح ہاتھ سے نہیں کھو سکتا۔\n\nیہ کہہ کر وہ دروازہ سے نکل کر سامنے آ کھڑے ہوئے اور میں گویا گھر گئی۔ میں شرم و حیا سے پانی پانی ہو گئی اور میں نے سر جھکا کر اپنا منہ دونوں ہاتھوں سے چھپا کر کونہ میں موڑ لیا۔ کواڑ میں گھسی جاتی تھی۔ میری یہ حالت زار دیکھ کر شاید بیرسٹر صاحب خود شرما گیے اور انہوں نے کہا، میں گستاخی کی معافی چاہتا ہوں مگر۔۔۔ یہ کہہ کر سامنے مسہری سے چادر کھینچ کر میرے اوپر ڈال دی اور خود کمرے سے باہر جا کر کہنے لگے، آپ مہربانی فرما کر مسہری پر بیٹھ جائیے اور اطمینان رکھیے کہ میں اندر نہ آؤں گا۔ بشرطیکہ آپ میری چند باتوں کے جواب دیں۔\n\nمیں نے اس کو غنیمت جانا اور مسہری پر چادر لپیٹ کر بیٹھ گئی کہ بیرسٹر صاحب نے کہا، آپ میری گستاخی سے خفا تو نہیں ہوئیں؟ میں بدستور خاموش انگوٹھی اتارنے کی کوشش میں لگی رہی اور کچھ نہ بولی بلکہ اور تیزی سے کوشش کرنے لگی تاکہ انگوٹھی جلد اتر جائے۔اتنے میں بیرسٹر صاحب بولے، بولیے صاحب جلدی بولیے۔ میں پھر خاموش رہی۔ تو انہوں نے کہا، آپ جواب نہیں دیتیں تو پھر میں حاضر ہوتا ہوں۔میں گھبرا گئی اور مجبوراً میں نے دبی آواز سے کہا ، جی نہیں میں برابر انگوٹھی اتارنے کی کوشش میں مشغول تھی۔بیرسٹر صاحب نے کہا، شکریہ۔ یہ انگوٹھی آپ کو بہت پسند ہے ؟\n\nیا اللہ میں نے تنگ ہو کر کہا، مجھے موت دے۔ یہ سن کر میں دراصل دیوانہ وار انگلی کو نوچنے لگی۔ کیا کہوں میرا کیا حال تھا۔ میرا بس نہ تھا کہ انگلی کاٹ کر پھینک دوں۔ میں نے اس کا کچھ جواب نہ دیا کہ اتنے میں بیرسٹر نے پھر تقاضا کیا۔ میں اپنے آپ کو کوس رہی تھی اور دل میں کہہ رہی تھی کہ بھلا اس کا کیا جواب دوں۔ اگر کہتی ہوں کہ پسند ہے تو شرم آتی ہے اور اگر ناپسند کہتی ہوں تو بھلا کس منہ سے کہوں۔ کیونکہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ یہ نہ کہہ دیں کہ ناپسند ہے۔ تو پھر پہنی کیوں؟ میں چپ رہی اور پھر کچھ نہ بولی۔\n\nاتنے میں بیرسٹر صاحب نے کہا،شکر ہے عطر دان تو آپ کو ایسا پسند آیا کہ آپ نے اس کو برت کر ختم بھی کر دیا۔ اور گویا میری محنت وصول ہو گئی، مگر انگوٹھی کے بارے میں آپ اپنی زبان سے اور کچھ کہہ دیں تاکہ میں سمجھوں کہ اس کے بھی دام وصول ہو گیے۔ میں یہ سن کر اب مارے غصے اور شرم کے رونے کے قریب ہو گئی تھی اور تمام غصہ انگلی پر اتار رہی تھی، گویا اس نے عطر دان توڑا تھا۔ میں عطر دان توڑنے پر سخت شرمندہ تھی اور میری زبان سے کچھ بھی نہ نکلتا تھا۔جب میں کچھ نہ بولی تو بیرسٹرصاحب نے کہا،آپ جواب نہیں دیتیں لہذا میں حاضر ہوتا ہوں۔\n\nمیں گھبرا گئی کہ کہیں آنہ جائیں اور میں نے جلدی سے کہا، بھلا اس بات کا میں کیا جواب دوں۔ میں سخت شرمندہ ہوں کہ آپ کا عطر دان۔۔۔\nبات کاٹ کر بیرسٹر صاحب نے کہا،خوب! وہ عطردان تو آپ کا ہی تھا۔ آپ نے توڑ ڈالا، خوب کیا۔ میرا خیال ہے کہ انگوٹھی بھی آپ کو پسند ہے جو خوش قسمتی سے آپ کی انگلی میں بالکل ٹھیک آئی ہے اور آپ اس کو اب تک از راہ عنایت پہنے ہوئی ہیں۔\n\nمیں اب کیا بتاؤں کہ یہ سن کر میرا کیا حال ہوا۔ میں نے دل میں کہا کہ خوب انگوٹھی ٹھیک آئی اور خوب پہنے ہوئے ہوں۔ انگوٹھی نہ ہوئی گلے کی پھانسی ہو گئی۔ جو ایسی ٹھیک آئی کہ اترنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ میں نے دل میں یہ بھی سوچا کہ اگر یہ کمبخت میری انگلی میں نہ پھنس گئی ہوتی تو کاہے کو میں بے حیا بنتی اور انہیں یہ کہنے کا موقع ملتا کہ آپ پہنے ہوئے ہیں۔ خدا ہی جانتا ہے کہ اس نامراد انگوٹھی کو اتارنے کے لیے کیا کیا جتن کر چکی ہوں، اور برابر کر رہی تھی۔ مگر وہ تو ایسی پھنسی تھی کہ اترنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔ میں پھر خاموش رہی اور کچھ نہ بولی۔ مگر انگوٹھی اتارنے کی برابر کوشش کر رہی تھی۔\n\nبیرسٹر صاحب نے میری خاموشی پر کہا، آپ پھر جواب سے پہلو تہی کر رہی ہیں۔ پسند ہے یا ناپسند۔ ان دو جملوں میں سے ایک کہہ دیجیئے۔میں نے پھر غصے میں انگلی کو نوچ ڈالا اور قصہ ختم کرنے کے لیے ایک اور ہی لفظ کہہ دیا، اچھی ہے۔\n\nجی نہیں۔ بیرسٹر صاحب نے کہا،اچھی ہے اور آپ کو پسند نہیں تو کس کام کی۔ علاوہ اس کے اچھی تو خود دکاندار نے کہہ کر دی تھی، اور میں یہ پوچھتا بھی نہیں، آپ بتائیے کہ آپ کو پسند ہے یا ناپسند، ورنہ پھر حاضر ہونے کی اجازت دیجیئے۔ میں نے دل میں کہا یہ قطعی گھس آئیں گے اور پھر جھک مار کر کہنا ہی پڑے گا، لہذا کہہ دیا۔ پسند ہے۔ یہ کہہ کر میں دانت پیس کر پھر انگلی نوچنے لگی۔\n\nشکریہ۔ بیرسٹر صاحب نے کہا۔صد شکریہ۔ اور اب آپ جا سکتی ہیں۔ لیکن ایک عرض ہے اور وہ یہ کہ یہ انگوٹھی تو بے شک آپ کی ہے اور شاید آپ اس کو پہن کر اتارنا بھی نہیں چاہتی ہیں۔ لیکن مجھ کو مجبوراً آپ سے درخواست کرنا پڑ رہی ہے کہ شام کو مجھ کو چونکہ اور چیزوں کے ساتھ اس کو رسماً بھجوانا ہے لہذا اگر ناگوار خاطر نہ ہو تو اس وقت اس کو یہاں چھوڑتی جائیں۔ میں علیحدہ ہوا جاتا ہوں۔ خدا حافظ۔ یہ کہہ کر وہ ہٹ گیے۔ اور میں نے ان کے جانے آواز سنی۔ وہ سامنے کے غسل خانے میں چلے گیے۔ دراصل وہ اسی غسل خانے میں کنگھا وغیرہ کر رہے ہوں گے، جب میں بے خبری میں آ کر پھنس گئی۔\n\nاب میں سخت چکر میں تھی اور انگلی سے انگوٹھی اتارنے کی سر توڑ کوشش کی گھبراہٹ اور جلدی میں پاگل سی ہو رہی تھی۔ پریشان ہو کر میں نے علاوہ ہاتھ کے، دانتوں سے بھی امداد لی۔ اور انگلی میں کاٹ کاٹ کر کھایا مگر وہ کمبخت انگوٹھی جان لیوا تھی اور نہ اترنا تھی نہ اتری۔ میں نے تنگ آ کر اپنا سر پیٹ لیا اور رو رو کر کہا، ہائے میرے اللہ میں کس مصیبت میں پھنس گئی۔ یہ کمبخت تو میری جان لیے لیتی ہے۔\n\nبیرسٹر صاحب غسل خانے میں کھڑے کھڑے تھک گیے اور میں وہیں کی وہیں تھی۔ وہ لوٹ آئے اور بولے، معاف کیجیے نہیں معلوم تھا کہ انگوٹھی اتارنے پر آپ رضامند نہیں اور اس شرط پر جانا بھی نہیں چاہتیں۔ مگر چونکہ اس رسم کا نام ہی انگوٹھی کی رسم ہے، لہذا میں اس کی خالی ڈبیہ رکھ دوں گا۔ اور کہلا دوں گا کہ انگوٹھی آپ کے پاس ہے۔ یہ کہہ کر ذرا رک کر بولے،اور تو کسی بات کا خیال نہیں صرف اتنا کہ آپ کے والد اس کو بدقسمتی سے دیکھ چکے ہیں۔\n\nمیں اپنی انگلی توڑ رہی تھی اور یہ سن کر گھبرا گئی۔ یہ تو خیر مذاق تھا کہ وہ کہہ دیں گے انگوٹھی میرے پاس ہے۔ مگر میں سوچ رہی تھی کہ جب ابا جان انگوٹھی دیکھ چکے ہیں تو آخر بیرسٹر صاحب ان سے اس کے بارے میں کیا کہیں گے۔اتنے میں بیرسٹر صاحب کو شبہ گزرا کہ میں اس وجہ سے نہیں جا رہی ہوں کہ کہیں وہ غسل خانہ میں سے مجھ کو جاتے ہوئے نہ دیکھ لیں۔ لہذا وہ ایک دم سے بولے، اوہو! اب میں سمجھا۔ لیجیے بجائے غسل خانہ کے زینے میں کھڑا ہو جاتا ہوں۔\n\nمیں بے حد پریشان تھی، مجبور تھی کہ اس غلط فہمی کو جلد از جلد دور کر دوں اور اصل وجہ بتا دوں۔ میری عقل کام نہ کرتی تھی کہ الہی کیا کروں۔ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن، تو میرا حال تھا اور بیرسٹر صاحب نہ جانے کیا خیال کر رہے تھے۔ بالاخر جب میں نے دیکھا کہ اب یہ زینے میں روپوش ہونے جا رہے ہیں تو مرتا کیا نہ کرتا، تنگ آ کر نہ معلوم میں نے کس طرح دبی آواز میں کہا، وہ نہیں اترتی۔\n\nادھر تو میرا یہ حال تھا اور ادھر بیرسٹر صاحب گویا مارے خوشی کے اچھل پڑے، اور انہوں نے ہنس کر بڑی خوشی کے لہجہ میں جیسے کوئی بے تکلفی سے کہتا ہے۔ کہا،واللہ!یہ معاملہ ہے !! خدا کرے نہ اترے۔ میں بھلا اس جملے کے بعد کیا بولتی۔ اسی طرح چپ تھی۔ اور اپنی بنتی کوشش کر رہی تھی کہ انگوٹھی اتر آئے۔ لیکن جب دیر ہوئی تو انہوں نے کہا،اگر آپ کو ناگوار نہ ہو تو میں اتار دوں۔\n\nیا اللہ! میں نے اپنے دل میں کہا۔ اب کیا کروں۔ میں تو نہ اترواؤں گی۔ یہ طے کر کے میں پھر کوشش کرنے لگی۔ مگر توبہ کیجیئے وہ بھلا کیوں اترتی۔ اتنے میں بیرسٹر صاحب نے کہا،وہ آپ سے ہر گز نہ اترے گی۔ کوئی حرج نہیں ہے میں باہر سے اتار دوں گا۔\n\nمیں چونکہ اب تنگ آ گئی تھی اور اس مصیبت سے کسی نہ کسی طرح جان چھڑوانا چاہتی تھی لہذا میں نے مجبوراً ہار کر مسہری پر بیٹھ کر ہاتھ دروازے سے باہر کر دیا۔ بیرسٹر صاحب نے انگلی ہاتھ میں لے کر کہا، شاباش اس انگوٹھی کو! کیوں صاحب تعریف تو آپ بھی کرتی ہوں گی کہ میں کسی ناپ تول کے ٹھیک ٹھیک انگوٹھی لایا ہوں۔ وہ انگوٹھی ہی بھلا کس کام کی جو یہ تماشا نہ دکھائے۔ میں مجبور تھی اور چار و ناچار سن رہی تھی۔ مگر اس جملے پر مجھ کو اس مصیبت میں بھی ہنسی آ گئی کہ دیکھو تو کمبخت کس ناپ کی انگوٹھی آئی کہ مجھے اس مصیبت ڈال دیا۔ انگلی کو انہوں نے خوب ادھر ادھر سے دیکھ کر اور دبا کر کہا، یہ تو پھنس گئی ہے۔ یہ کہہ کو وہ اتارنے کی کوشش کرنے لگے۔\n\nایک دم سے بولے،اخاہ! معاف کیجیئے گا۔ آپ بتا سکتی ہیں کہ اس غریب انگلی پر دانت کس نے تیز کیے ہیں؟ میں نے جھٹ شرمندہ ہو کر ہاتھ اندر کر لیا۔\n\nلائیے۔ لائیے۔بیرسٹر صاحب نے کہا، اب میں کچھ نہ کہوں گا۔\n\nمجبورا پھر ہاتھ بڑھانا پڑا۔ اور انہوں نے انگوٹھی اتارنے کی کوشش کرنا شروع کی۔ انہوں نے خوب خوب کوشش کی۔ خوب دبایا، اور وہ بھی ایسا کہ درد کے مارے میرا حال برا ہو گیا۔ مگر وہ دشمن جان انگوٹھی نہ اترنا تھی نہ اتری۔ لیکن وہ بے چارے ہر ممکن کوشش کر رہے تھے اتنے میں کسی نے مردانہ زینے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ بیرسٹر صاحب غسل خانے کی طرف چلے کہ، آج شام نہ سہی کل شام مگر براہ کرم یہ انگوٹھی جس طرح بھی ممکن ہو میرے پاس ضرور پہنچا دیجیئے گا۔ چلتے چلتے وہ ایک ستم کا فقرہ اور کہہ گیےاور وہ یہ کہ سرخ پاؤڈر کی آپ کو چنداں ضرورت تو نہ تھی۔میں کٹ ہی تو گئی۔ کیونکہ کم بختی سے ایک گال پر سرخ پاؤڈر لگائے ہوئے تھی جو انہوں نے دیکھ لیا تھا۔\n\nادھروہ غسل خانے میں بند ہوئے اور ادھر میں چادر پھینک کر سیدھی بھاگی اور اپنے کمرے میں آ کر دم لیا۔ سب سے پہلے آئینہ جو دیکھا تو ایک طرف کے گال پر سرخ پوڈر رنگ دکھا رہا تھا اپنے کو کوستی گئی اور پونچھتی گئی۔ اس کے بعد سب سے پہلے انگلی پر ایک پٹی باندھی تاکہ انگوٹھی چھپ جائے اور بہانہ کر دوں کہ چوٹ لگی ہے۔\n\n(۵)\n\nخیر سے یہ بہانہ کارگر ہوا اور اماں جان نے چوٹ یا زخم تک کی وجہ نہ پوچھی۔ میں نے سر درد کا بہانہ کر دیا اور وہ ملازمہ سے یہ کہہ کر چپ ہو رہیں۔ رہنے دے اس کامنگیتر آیا ہوا ہے۔ شرم کی وجہ سے نہیں نکل رہی۔ انہیں یا ملازمہ کو بھلا کیا معلوم تھا کہ یہ کمبخت اس سے ملاقات کر آئی ہے اور صرف ملاقات ہی نہیں بلکہ تمام چیزیں اس کی بگاڑ آئی ہے۔\n\nتیسرے پہر کا وقت تھا اور مجھ کو ہر لمحہ شاہدہ کا انتظار تھا۔ اس کو میں نے بلوایا تو اس نے انکار کر دیا۔ کیونکہ آج ہی تو میں اس کے یہاں سے آئی تھی۔ میں نے پھر اس کو ایک خط لکھا تھا کہ بہن خدا کے واسطے جس طرح بھی بن پڑے جلد آ، ورنہ میری جان کی خیر نہیں۔ اس خط کے جواب میں اس کا انتظار بڑی بے چینی سے کر رہی تھی۔میں جانتی تھی کہ وہ ضرور آئے گی۔ چنانچہ وہ آئی۔ میں اس کو لینے بھی نہ گئی۔ اماں جان سےاس کو معلوم ہوا کہ بیرسٹر صاحب آئے ہوئے ہیں۔ اس کی گھبراہٹ رفع ہو گئی اور ہنستی ہوئی آئی اور آتے ہی اس نے نہ سلام نہ دعا کہا، اری کمبخت باہر جا کے ذرا مل تو آ۔\n\nمیں تو مل بھی آئی۔ میں نے مسکرا کر کہا۔ تجھے یقین نہ آئے تو یہ دیکھ۔ یہ کہہ کر میں نے انگلی کھول کر دکھائی۔\n\nمیں نے شروع سے آخر تک سارا واقعہ تفصیل سے سنایا تو شاہدہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور وہ بولی، تو نے بڑی مزیدار ملاقات کی۔ یہ کہہ کر وہ چٹکیاں لینے کو آگے بڑھی۔ میں نے کہا، ملاقات تو گئی چولہے میں، اب اس ناہجار انگوٹھی کو کسی طرح اتارو، چاہے انگلی کٹے یا رہے۔ مگر تو اسے اتار دے اور اسی لیے تجھے بلایا ہے۔\n\nشاہدہ نے کہا، خیر یہ اتر تو ابھی آئے گی مگر اسے دینے کیا تو جائے گی؟\n\nاب میں چکرمیں آئی کہ یہ کس طرح جائے گی۔ ایسے جانا چاہیے کہ کسی کو معلوم نہ ہو سکے۔ کچھ سوچ کر شاہدہ نے کہا کہ، میں پان میں رکھ کر بھیج دوں گی۔ نوکرانی سے کہلوا دوں گی کہ یہ پان ان کے ہاتھ میں دینا اور کہہ دینا کہ تمہاری سالی نے دیا ہے۔یہ تجویز مجھے پسند آئی۔ کیونکہ اماں جان یہی خیال کرتیں کہ پان میں کچھ مذاق ہو گا۔ جو نئی بات نہ تھی۔\n\nجب اس طرف سے اطمینان ہو گیا تو شاہدہ نے انگوٹھی اتارنے کی کوشش شروع کی۔ بہت جلد معلوم ہو گیا کہ اس کا اترنا آسان کام نہیں ہے، تیل اور صابن کی مالش کی گئی مگر بے کار۔ جب ہر طرح کوشش کر لی تو شاہدہ گھبرا گئی اور کہنے لگی کہ انگلی سوج گئی ہے اور یہ خدا ہی ہے جو اتارے۔ غرض گھنٹوں اس میں کوشش اور محنت کی گئی۔ بورا سینے کا بڑا سوا لایا گیا۔ چھوٹی بڑی قینچیاں آئیں۔ موچنا لایا گیا۔ کاک نکالنے کا پیچ اور مشین کا پیچ کس۔ غرض جو بھی اوزار ممکن تھا لایا گیا اور استعمال کیا گیا مگر سب بے کار۔\n\nرات کو اسی فکر میں مجھ سے کھانا بھی نہ کھایا گیا۔ تھک کر میں بیٹھ گئی۔ اور رو رو کر شاہدہ سے کہتی تھی کہ خدا کے لیے کوئی صورت نکال۔ رات کو گرم پانی میں انگلی ڈبوئی گئی۔ اور طرح طرح سے ڈورے ڈال کو کھینچی گئی مگر کچھ نتیجہ نہ نکلا۔ رہ رہ کر میں پریشان ہوتی تھی اور شاہدہ جب کوشش کر کے تھک جاتی تھی تو یہ کہتی تھی کہ خدا کے واسطے مجھے اس انگوٹھی کی مصیبت سے نکال۔\n\nآخر تو عشق بازی کرنے گئی ہی کیوں تھی؟ شاہدہ نے خود تنگ ہو کر مجھ سے پوچھا۔\n\nخدا کی مار پڑے تمہاری عشق بازی پر۔ میں تو اس مصیبت میں گرفتار ہوں اور تمہیں یہ مذاق سوجھ رہا ہے۔ میں نے منہ بنا کر کہا۔\n\nیہ عشق بازی نہیں تو اور کیا ہے ؟ گئیں وہاں اور شوق سے پاؤڈر اور مسی لگاتے لگاتے میاں کے چونچلے میں آکر انگوٹھی پہن لی۔ شاہدہ نے کہا، اب عشق بازی کے مزے بھی چکھو۔ مزے مزے کی باتیں تو کرنے گئیں، اور اب۔۔۔میں نے اپنے ہاتھ سے اس کا منہ بند کر کے کہا، خدا کے لیے ذرا آہستہ بولو۔\n\nقینچی سے انگوٹھی کتر دوں؟\n\nنہ بہن کتراؤں گی نہیں۔ نہ معلوم کتنی قیمتی انگوٹھی ہو گی، ایک تو میں شامت کی ماری عطردان توڑ آئی اور اب اسے کاٹ ڈالوں۔\n\nبھلا مجال ہے جو وہ چوں بھی کر جائے۔ ابھی کہلوا دوں، میاں راستہ دیکھو، ہماری چھوکری فاضل نہیں، کہیں اور مانگ کھاؤ۔ یہ کہہ کر شاہدہ نے قینچی لی، اور مجھ سے کہا، لاؤ ادھر لاؤ۔\n\nنہیں نہیں میں نے کہا۔ ایسا نہ کرو۔ پھر وہی کوششیں جاری ہو گئیں۔ غرض انگوٹھی نے رات کو سونا حرام کر دیا۔ رات بھی انگلی طرح طرح سے کھینچی گئی، کبھی میں اپنے آپ کو خوب کوستی تھی اور کبھی انگوٹھی کو برا بھلا کہتی تھی۔ اور کبھی گڑگڑا کر دعا مانگتی تھی کہ خدایا میری مشکل آسان کر دے۔مجبور ہو کر صبح میں نے شاہدہ سے کہا کہاب میری انگلی ویسے بھی درد کے مارے پھٹی جا رہی ہے؛ تو کاٹ دے۔\n\nشاہدہ نے قینچی سے کاٹنے کی کوشش کی۔ امید تھی کہ سونا ہے اور آسانی سے کٹ جائے گا مگر وہ گنی کا سخت سونا تھا اور تھوڑی دیر بعد معلوم ہو گیا کہ اس کو کاٹنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ طرح طرح کے اوزار استعمال کیے گیے مگر سب بیکار۔ اب تو میں اور بھی گھبرا گئی اور ایسی حواس باختہ ہوئی کہ شاہدہ سے کہنے لگی کہ مجھے زہر مل جائے تو میں کھا کر اپنا قصہ ختم کر دوں۔اب شاہدہ بھی متفکر تھی، اور اس نے بہت سوچ سمجھ کر مجھ سے نرمی سے کہا، کہ اب صرف ایک ترکیب ہے۔\n\nوہ کیا؟\n\nوہ یہ ہے۔ شاہدہ نے مسکرا کر کہا، وہ یہ کہ تم اوپر جاؤ اور اپنے چہیتے سے نکلواؤ، ورنہ شام تک پکڑی جاؤ گی۔ اور ناک چوٹی کٹے گی۔\n\nمیں تو کبھی نہ جاؤں گی۔ میں نے کہا۔\n\nیہ باتیں، اور وہ بھی ہم سے ! شاہدہ نے کہا۔ ذرا دل سے تو پوچھ میں نے واقعہ کہا کہخدا کی قسم میں کسی طرح بھی جانا پسند نہیں کرتی۔ میں اس وقت بدبخت انگوٹھی کی بدلے جان سے بیزار ہو رہی ہوں۔\n\nشاہدہ بولی، مذاق نہیں کرتی۔ خواہ پسند کرو یا نہ کرو، جانا ضرور پڑے گا۔ کیونکہ گھر کے کسی اوزار سے بھی ناممکن ہے کہ میں یا تم اسے اتار یا کاٹ سکیں۔\n\nمیں چپ بیٹھی رہی اور سوچتی رہی۔ شاہدہ نے آہستہ آہستہ سب اونچ نیچ بتائی کہ کوئی نقصان نہیں۔ خاص طور پر جب وہ اس قدر شرمیلے اور باحیا ہیں۔ مرتا کیا نہ کرتا کوئی چارہ ہی نہ تھا اور مجبوراً میں راضی ہو گئی۔\n\n(۶)\n\nجب سناٹا ہو گیا تو اوپر پہنچی اور شاہدہ بھی ساتھ تھی۔ دروازے کے پاس پہنچ کر میرا قدم نہ اٹھتا تھا۔ شاہدہ نے مجھے ہٹا کر جھانک کر دیکھا۔ کواڑ کی آواز سن کو بیرسٹر صاحب نکل آئے، کیونکہ وہ شاید منتظر ہی تھے۔ وہ سیدھے غسل خانہ میں بند ہونے چلے۔ وہ جیسے ہی دروازے کے سامنے آئے، اس شریر شاہدہ کی بچی نے مجھے ایک دم سے آگے کر کے دروازہ تیزی سے کھول کر اندر کو زور سے دھکیل دیا ۔وہ اتنے قریب تھے کہ میں سیدھے ان سے لڑ گئی۔ وہ اس نا معقولیت کے لیے بالکل تیار نہ تھے۔ ارے ؟ کہہ کر انہوں نے مجھے ہاتھوں سے روکا۔ وہ خود بے طرح گھبرا گیے۔ میری حالت پر انہوں نے رحم کھا کر منہ موڑ لیا۔ میں کیا بتاؤں کہ میرا کیا حال ہوا۔ دروازہ شاہدہ نے بند کر لیا تھا۔ میں سیدھی کمرے میں گھس گئی اور چادر میں اچھی طرح اپنے کو لپیٹ کر بیٹھ گئی۔\n\nبیرسٹر صاحب آئے تو سب سے پہلے انہوں نے سلام کر کے زبردستی اندر گھسنے کی دھمکی دے کر جواب لیا اور پھر مزاج پوچھا۔ اس کے جواب میں میں نے ہاتھ دروازہ سے باہر کر دیا۔\n\nیہ کیا حالت ہے؟ بیرسٹر صاحب نے انگلی کو دیکھ کر کہا۔\n\nمعلوم ہوتا ہے کہ انگلی اور انگوٹھی دونوں پر آپ نے عمل جراحی کیا ہے۔\n\nمیں کچھ نہ بولی، اور انہوں نے انگلی کو چاروں طرف سے اچھی طرح دیکھا اور پھر پوچھا۔\n\nبراہ مہربانی پہلے یہ بتا دیجئے کہ یہ کون شریر ہیں جنہوں نے آپ کو میرے اوپر دھکیل دیا۔ آپ کے لگی تو نہیں؟\n\nمیں نے صرف ایک لفظ کہا، شاہدہ۔\n\nآپ کی کوئی ہم جولی معلوم ہوتی ہیں۔ بیرسٹر صاحب نے کہا،ماشاءاللہ ہیں بڑی سیدھی۔ میں دل میں شاہدہ کی شرارت پر ہنسنے لگی کہ دیکھو اس کمبخت نے کیسی شرارت کی۔\n\nمیں صابون لاتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ صابون لینے گیے۔ مجھ سے کہا بھی نہ گیا کہ صابون کی مالش ہو چکی ہے۔ بیرسٹر صاحب نے صابون سے خوب مالش کی۔ اور پھر طرح طرح سے انگوٹھی اتارنے کی کوشش کی گئی مگر سب بے سود ثابت ہوئی۔ جب ہر طرح طرح وہ کوشش کر چکے تو تھک کر انہوں نے کہا۔ یہ انگوٹھی آپ پہنے رہیے۔ میری قسمت اچھی ہے۔ ورنہ ہزار روپیہ خرچ کرتا جب بھی اس ناپ کی انگوٹھی مجھے نہ ملتی۔ میں گھبرا گئی اور مجھے شرم آئی۔ بجائے منہ سے بولنے کے میں نے ہاتھ کو جھٹکا کہ گویا اتار دیجیئے۔\n\nاب نہیں اتر سکتی۔ انہوں نے نہایت لاپروائی سے کہا، پہنے رہیے۔ میں سخت گھبرائی اور شرم و حیا اب رخصت کر کے بولی، خدا کے واسطے میرے اوپر رحم کیجئے۔ اور کوئی تدبیر کیجیئے۔ خواہ انگلی کٹے یا رہے۔\n\nبیرسٹر صاحب بولے، اتر تو سکتی ہے۔ مگر آپ منظور نہ کریں گی۔ میں چپ رہی کہ الہٰی کیوں نہ منظور کروں گی بیرسٹر صاحب بھی چپ رہے۔ مجبور ہو کر میں نے پھر بے حیا بن کر کہا، مجھے سب منظور ہے، اتر جائے۔\n\nمجھے قطعی معلوم نہ تھا کہ اس سے ان کا کیا مطلب ہے۔ وہ یہ سن کر اندر چلے آئے۔ میں چادر میں منہ چھپا کر بالکل سکڑ گئی۔ وہ پلنگ کے سامنے بالکل میرے مقابل ایک کرسی پر بیٹھ گیے اور کہنے لگے دراصل اس میں تین ہاتھوں کی ضرورت ہے۔ آپ کو منظور ہو تو میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے آہستہ آہستہ صابون لگا کر دباتا ہوں، آپ اپنے ہاتھ سے انگوٹھی اوپر کرنے کی کوشش کریں ورنہ اور کوئی تدبیر نہیں۔\n\nمجبوری سب کچھ کرواتی ہے۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے صابون کی مالش کر کے انگلی دبائی اور میں نے انگوٹھی اتارنے کی کوشش کی۔\n\nمیرا سر اور منہ چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ کیونکہ میں سر سے پاؤں تک چادر میں لپٹی ہوئی بیٹھی تھی اس لیے میں ٹٹول کر انگوٹھی اوپر کر رہی تھی۔ دو مرتبہ انگوٹھی چکر کھا کر انگلی کی گرہ پر سے لوٹ گئی۔ بیرسٹر صاحب نے جب تیسری مرتبہ دیکھا کہ میں کہیں کی کہیں سرکاتی ہوں تو انہوں نے کہا، آپ کو تو انگوٹھی اتروانے کے لیے سب منظور ہے کیونکہ اس کام میں تین ہاتھوں کے علاوہ دراصل چار آنکھوں کی بھی ضرورت ہے۔ اور بدقسمتی سے یہاں صرف دو ہی کام کر رہی ہیں۔مگر آپ کو سب منظور ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے ایک جھٹکے سے میری چادر اتار لی اور کھینچ کر اس کو الگ پھینک دیا۔ میں سمٹ سی گئی اور میں نے اپنا منہ گود میں چھپا کر چادر کی طرف ہاتھ بڑھایا۔\n\nبخدا میری یہ ہمت نہیں کہ آپ کی طرف آنکھ بھی اٹھا سکوں۔لہذا چادر کی قطعی آپ کو ضرورت نہیں۔یہ کہہ کر وہ واقعی بالکل نیچی نظر کر کے پھر سے کوشش کرنے لگے۔ میں پھر چادر کی طرف بڑھی تو انہوں نے انگلی گھسیٹ کر روکا اور کہا، آپ دوسرا ہاتھ منہ پر رکھے ہیں، کیا میری قسم کا آپ کو اعتبار نہیں؟ بخدا میں آپ کو ہر گز نہ دیکھوں گا۔\n\nیہ انہوں نے اسی طرح کہا جیسے کوئی برا مان کر کہتا ہے۔ میں نے مجبوراً ہاتھ ہٹا کر، انگلی کو دبانا شروع کیا۔ مگر کیا کہوں میرا کیا حال تھا۔ حالانکہ وہ میری طرف بالکل نہیں دیکھ رہے تھے اور دیدہ و دانستہ ضرورت سے زیادہ گردن جھکائے تھے مگر پھر بھی میں سمٹی جا رہی تھی، دونوں ہاتھ علیحدہ تھے اور سمجھ میں نہ آتا تھا کہ چہرہ کدھر لے جاؤں۔لیکن یہ حالت تھوڑی ہی دیر رہی۔ کیونکہ انہوں نے کہا کہ آپ تو اتارنے میں کوئی دلچسپی ہی نہیں لیتی ہیں۔ میں سب گویا بھول کر کوشش کرنے لگی۔\n\nدونوں کی کوششیں جاری تھیں۔ لیکن میں رہ رہ کر اپنی نظریں انگوٹھی پر سے ہٹا کر بیرسٹر صاحب کی کشادہ پیشانی اور صاف شفاف جھکے ہوئے چہرے پر بھی ڈالتی تھی۔ کبھی میں ان کے پپوٹوں کو دیکھتی اور کبھی کبھی لمبی لمبی پلکوں کو دیکھتی تھی۔۔۔ مجھ کو یہ معلوم نہ تھا کہ جب میں ایسا کرتی ہوں تو میرا ہاتھ کام کرنے سے خود بخود رک جاتا ہے اور جو شخص غور سے انگلی اور انگوٹھی کی طرف دیکھ رہا ہے وہ آسانی سے بغیر میرے چہرے کو دیکھے ہوئے معلوم کر سکتا ہے کہ میری آنکھیں اب کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ میں نے ہمت کر کے بیرسٹر صاحب کے چہرے کو غور سے نظر بھر کر دیکھا، وہاں میرا ہاتھ معطل ہو گیا تو بیرسٹر صاحب نے مجبوراً تنگ آ کر کہا، مجھے آپ بعد میں فرصت میں دیکھ لیجئے گا۔ اس وقت براہ کرم ادھر دیکھیئے۔ یہ کہہ کر انہوں نے میری انگلی کو جھٹکا ،مجھے اس قدر شرمندگی معلوم ہوئی کہ میں نے جھٹ اپنا منہ اپنے بائیں ہاتھ کی کہنی سے چھپا لیا۔\n\nبیرسٹر صاحب نے کہا: اچھا معاف کیجئے۔ اور یہ کہہ کر اسی طرح نیچی نظر کیے ہوئے میرا ہاتھ پکڑ کر کام میں لگا دیا۔\n\nپھر میری ہمت نہ پڑی کہ بیرسٹر صاحب کی طرف دیکھوں اور بڑے غور سے میں نے اپنی انگوٹھی اتروانے کی کوشش کی۔ خوب خوب ہم دونوں نے کوشش کی۔ مگر وہ دشمن جان نہ اترنا تھی نہ اتری۔ جب بیرسٹر صاحب زچ آ گیے اور کوئی امید نہ رہی تو انہوں نے ہاتھ روک لیا اور اسی طرح نظر نیچی کیے ہوئے بولے، یہ نہیں اتر سکتی، کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ آپ نے یہ کس مقصد سے پہنی تھی؟میں جھینپ گئی اور میں نے بائیں ہاتھ کی کہنی سے اپنا منہ چھپا لیا۔\n\nبیرسٹرصاحب نے کہا، بس ایک سوال کا جواب دے دیجئے، تو ابھی آپ کو خلاصی مل جائے۔ وہ یہ کہ آپ صرف یہ بتا دیں کہ آخر قبل از وقت آپ نے اسے کیوں پہن لیا ہاتھ کو انہوں نے آہستہ سے جھٹک کر کہا۔ بولیے۔میں کچھ نہ بولی تو انہوں نے کہا، تو پھر آپ جانیں اور آپ کا کام، میں صرف اسی شرط پر مشکل آسان کر سکتا ہوں۔میں نے بڑی کوشش سے زبان ہلائی۔ کہا۔ یونہی۔ میں اپنی آنکھوں کے گوشہ سے کہنی کی آڑ سے بیرسٹر صاحب کے خوبصورت چہرہ کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی۔۔ ان کی لمبی لمبی سیاہ پلکیں بدستور اسی طرح زمین کی طرف جھکی ہوئی تھیں۔\n\nانہوں نے میرا جواب سن کر نہایت ہی سادگی سے کہا، آپ کے والد صاحب قبلہ تو سال بھر کا وقت مانگتے ہیں۔مگر شکر ہے کہ آپ خود۔۔۔ انہوں نے شاید میرے اوپر رحم کیا کہ جملہ پورا نہ کیا۔ گو کہ اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ وہ ایک دم سے بات بدل کر بولے، آپ کے جواب کا شکریہ، اب عرض یہ ہے کہ انگوٹھی کٹ کر اترے گی اور مجھ کو بازار سے جا کر خود ریتی لانا پڑے گی۔\n\nیہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور دروازے کی طرف رخ کر کے دیکھنے لگے۔ میں نے موقع کو غنیمت خیال کر کے چادر قبضے میں کر کے اپنے اوپر ڈال لی۔ مجھے ایک دم سے خیال آیا کہ ایک چھوٹی سی ریتی میں اس چھوٹے سے بکس میں دیکھی تھی جس میں بہت سے چھوٹے چھوٹے ناخن کترنے اور گھسنے اوزار رکھے تھے۔ میں بولنے ہی کو تھی کہ بیرسٹر صاحب نے کہا، میں اس مقام سے واقف نہیں؛ مگر جاتا ہوں اور کہیں نہ کہیں سے ریتی ڈھونڈ کر لاتا ہوں۔ آپ مناسب خیال کریں تو اندر چلی جائیں۔ یہ کہہ کر وہ کھونٹی کی طرف اپنی ٹوپی لینے بڑھے۔\n\nمیں نے ہمت کر کے صرف اتناکہا کہ۔۔۔ ہے۔\n\nکہاں ہے۔ بیرسٹر صاحب نے مڑ کر پوچھا۔میں نے جواب میں ٹرنک کی طرف انگلی اٹھا دی۔\n\nمیرے ٹرنک میں؟ بیرسٹر صاحب نے متعجب ہو کر پوچھا،میرے ٹرنک میں؟\n\nجی میں نے دبی آواز میں کہا۔\n\nکم از کم ابھی تک تو مجھے ریتی اور پھاوڑے سوٹ کیس میں رکھنے کی ضرورت پڑی نہیں۔ آئندہ خدا مالک ہے۔ وہ اور بات ہے کہ جب آپ۔۔۔ اتنا کہہ کر رک گیے لیکن میں سمجھ گئی کہ خواہ مخواہ کی چوٹ مجھ پر کستے ہیں۔ بولے کہ، تو آپ پھر تکلیف کر کے نکال بھی دیں۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ میرے پاس کوئی ریتی یا پھاؤڑہ نہیں ہے۔\n\nاٹھنا تو پڑتا ہی۔ یہ سوچ کر کہ اس بھلے آدمی کو ذرا قائل ہی کر دوں، میں اٹھی۔ انہوں نے بڑھ کر سوٹ کیس کو کھول دیا۔ میں اِدھر اُدھر دیکھ کر اور چیزیں الٹ پلٹ کر وہ بکس نکال کر ان کے سامنے ڈال دیا۔\n\nاوہو! بے شک اس میں ضرور ہو گی۔ معاف کیجیے گا۔ آپ نے خوب ہی تو میرے ٹرنک کا جائزہ لیا ہے، مگر دیکھ لیجیے، پھاؤڑہ نہیں ہے۔ ان کی آنکھیں واقعی اسی طرح تھیں کہ میں آزادی سے بار بار دیکھ رہی تھی۔ مگر وہ بے چارے قسم کھانے کو بھی پلک نہ اٹھاتے تھے۔ میں سوچ رہی تھی کہ یہ کتنے اچھے اور شرمیلے شخص ہیں۔\n\nبکس میں سے ایک لمبی سی سیپ کے دستہ کی نازک سی ریتی نکلی اور بیرسٹر صاحب نے کہا، اگر اب تین ہاتھ اور چار آنکھیں کام میں لگیں تو بس پانچ منٹ کا کام ہے۔ چونکہ کافی دیر ہو گئی تھی۔ میں نے بہت دیکھ بھال کے اپنی انگلی اچھی طرح پکڑ لی، اس طرح کہ انگوٹھی نہ ہٹ سکے اور بیرسٹر صاحب نے ایک باریک اور تیز ریتی سے اس ظالم انگوٹھی کو کاٹنا شروع کیا۔ دراصل اس کا ریتنا بھی دشوار ہو رہا تھا کیونکہ اِدھر اُدھر انگلی کا گوشت ابھرا ہوا تھا۔ بیرسٹرصاحب انگوٹھی کاٹنے میں مشغول تھے اور میں کمبخت آنکھ کے گوشے سے ان کی لمبی لمبی پلکیں اور صاف و شفاف پیشانی دیکھ رہی تھی۔ انگوٹھی کو کاٹتے کاٹتے بیرسٹر صاحب نے مجھ سے پوچھا، آپ نے مجھ کو اچھی طرح دیکھا ہے ؟\n\nمیں نے کچھ جواب نہ دیا تو انہوں نے کہا، تو پھر کام چھوڑے دیتا ہوں ورنہ جواب دیجیے۔ یہ کہہ کر انہوں نے ہاتھ روک لیا۔مجھ کو جلدی ہو رہی تھی اور میں سمجھی کہ یہ سوال اسی جواب پر ختم ہو جائے گا۔ لہٰذا میں نے کہہ دیا۔ جی ہاں۔ یہ کہہ کر میں شرما گئی۔بیرسٹر صاحب نے کہا، مگر میں نے اب تک آپ کو نہیں دیکھا ہے سوائے ایک جھلک کے۔ اور وہ بھی محض اتفاقاً۔\n\nدراصل یہ واقعہ تھا کہ مجھے انہوں نے ایک مرتبہ بھی نظر بھر کر نہ دیکھا تھا حالانکہ ان کو میں برابر دیکھتی رہی تھی۔ جس سے انکار ہی نہ کر سکتی تھی۔ میں چپ ہو رہی اور کچھ نہ بولی۔ انگوٹھی ذرا سی رہ گئی تھی اور بیرسٹر صاحب نے ہاتھ روک کر اسی طرح نظر نیچی کئے ہوئے کہا،اتنی محنت میں نے مفت کر دی۔ لیکن اب میں بغیر مزدوری لئے قطعی نہیں کر سکتا۔ وعدہ کیجیے۔ کیونکہ یہ تو بے انصافی ہے کہ آپ مجھ کو دیکھ لیں اور میں نہ دیکھوں۔\nمیں چپ رہی اور چادر سے منہ کو اچھی طرح چھپانے لگی کہ انہوں نے انگلی بھی چھوڑ دی۔ مجھ کو سخت جلدی ہو رہی تھی اور میں نے پریشان ہو کر کہا، خدا کے واسطے۔\n\nبس۔ بس۔ یہ لیجئے۔ یہ کہہ کر انہوں نے چشم زدن میں انگوٹھی کو کاٹ کر نکال دیا اور میری جان میں جان آئی۔\n\nمیری مزدوری۔ بیرسٹر صاحب نے کہا۔\n\nمیں نے اور بھی چادر میں منہ چھپا لیا۔\n\nیہ نہیں ہو سکتا۔ یہ کہہ کر انہوں نے ایک جھٹکے سے چادر کو منہ سے الگ کر دیا۔سیدھا ہاتھ میرا پکڑے ہوئے تھے۔ میں نے بائیں ہاتھ کی کہنی اپنے منہ پر رکھ لی۔\n\nیہ کوئی انصاف نہیں ہے۔ بیرسٹر صاحب بولے۔ اگر آپ کو کافی فرصت ہے تو بسم اللہ! اسی طرح بیٹھی رہیں۔میں سخت گھبرا رہی تھی اور سر زمین کی طرف جھکائے ہوئے کہنی سے منہ چھپائے بیٹھی تھی اور سوچ رہی تھی کہ کیسے جان چھڑاؤں، سیدھا ہاتھ تو وہ پکڑے ہی تھے، انہوں نے کہا، معاف کیجئے گا۔ اور یہ کہہ کر میرا بایاں ہاتھ جس سے منہ چھپائے تھی، میرے منہ سے ہٹا دیا۔ مجبوراً میں نے اپنا منہ کندھوں اور گریبان اور اپنی گود میں چھپانے کی کوشش کی تو انہوں نے ہاتھ چھوڑ کر اپنے ہاتھ سے میری ٹھوڑی اوپر کو کی تو میں نے پھر اپنا ہاتھ آزاد پا کر اس سے چہرہ ڈھک لیا۔ زچ ہو کر بیرسٹر صاحب نے کہا، کاش کہ میرے تین ہاتھ ہوتے۔ قصہ مختصر وہ میرے دونوں ہاتھ پکڑ لیتے تو میں گود میں منہ چھپا لیتی اور ہاتھ چھوڑ کر میرا سر اوپر کرتے تو میں ہاتھ سے چھپا لیتی۔\n\nتنگ آ کر بیرسٹر صاحب نے کہا،اب دیر ہو رہی ہے۔ خواہ کچھ ہی ہو آپ کو نجات اس وقت تک نہیں مل سکتی جب تک کہ آپ ایمانداری سے میری مزدوری نہ چکا دیں۔ مجبوراً اپنی جان چھڑانے کے لیے میں نے لمحہ بھر کے لیے آنکھیں بند کر لیں اور ہاتھ چہرے پر نہ لے گئی۔ میں نے آنکھیں کھولی تو ان کو اپنے چہرے کی طرف گھورتے ہوئے پایا۔ اور دوسرا ہاتھ بھی جھٹک کر میں نے چھڑا لیا اور دونوں ہاتھوں سے منہ چھپا کر چادر کو اکٹھا کر کے جانے کے لئے سرکی۔\n\nمیں چلنے ہی کو تھی کہ انہوں نے نرم آواز میں کہا، ٹھہریے۔ میں نے جھانک کر دیکھا تو وہ سوٹ کیس میں سے کوئی چیز نکال رہے تھے۔ انہوں نے ایک چھوٹا سا ڈبہ نکالا اور اس میں سے ایک سونے کی گھڑی نکال کر میری کلائی پر باندھی اور کہا، بقیہ چیزیں شام کو۔ اتنا کہہ کر میرا ہاتھ پکڑ کر ذرا جھٹک کر کہا،ہمیں بھولو گی تو نہیں؟میں کچھ نہ بولی۔ مگر اپنی کہنی اور چادر کی آڑ سے ان کے خوبصورت چہرے کو دیکھ رہی تھی۔ کیا کہوں کہ اس جملہ کا میرے دل پر کیسا اثر ہوا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے یہ الفاظ دل سے کہے تھے۔\n\nایک مرتبہ انہوں نے مجھ سے پھر یہی کہا اور جب میں پھر کچھ نہ بولی تو بائیں ہاتھ سے میری ٹھوڑی اوپر اٹھا کر کہا،خدا کے واسطے بھولو گی تو نہیں۔\nمیں نے سر ہلا کر بتایا کہ نہیں بھولوں گی۔ وہ جھکے ہوئے تھے اور میری آنکھیں چادر کے کونے سے چار ہوئیں۔ کیونکہ میں کمبخت پھر جھانک رہی تھی۔ میرا یہ سر ہلانا بس غضب ہی تو ہو گیا۔ ایک ہاتھ تو میری ٹھوڑی پر تھا۔ دوسرے ہاتھ سے بے خبری میں انہوں نے جھٹک کر میرا ہاتھ چہرے سے الگ کر دیا، بھولنا مت بھولنا مت، بھولنا مت۔ خدا کی پناہ! میری آنکھیں بند ہو گئیں اور سانس رک گئی۔جس طرح بھی بن پڑا میں اس مصیبت سے اپنی جان چھڑا کر بھاگی اور تیر کی طرح دروازے میں گھس گئی۔\n\nاری یہ کیا؟! یہ کیا؟! شاہدہ نے مجھے بے ترتیب اور حیران دیکھ کر کہا، یہ کیا؟\n\nمیں نے بن کر کہا، کچھ نہیں، ہوتا کیا۔\n\nشاہدہ بولی، خالہ آئی تھیں اور پوچھتی تھیں۔میں سن سی ہو گئی اور گھبرا کر میں نے کہا، پھر تم نے کیا کہہ دیا۔شاہدہ نے نہایت سادگی سے کہا،کہتی کیا؟ میں نے کہہ دیا کہ شہد کھا رہی ہے ابھی آتی ہے۔\n\nخدا کی مار تیرے اوپر، تو نے مجھے دہلا دیا۔ وہ بولی،ذرا مجھے بتا تو سہی کہ یہ کیا ہو رہا تھا۔؟ کمبخت۔۔۔میں نے بات کاٹ کر کہا،ہم نہیں بتاتے یہ کہہ کر میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ گھسیٹا۔ کمرہ میں آئی اور اسے وہ گھڑی دکھانے لگی۔ جو بیرسٹر صاحب نے تحفتاً پہنا دی تھی۔\n\nشاہدہ نے اس میں کوک بھری اور پھر کان سے لگا کر کہنے لگی۔،اب تو نے بیرسٹر کو پھانس لیا۔ اور وہ سال بھر چھوڑ! دو سال انتظار کرے گا، مگر کرے گا تجھی سے۔\n\nشام کو تمام دوسری چیزیں مثلاً پوڈر کا ڈبہ اور دوسری ڈبیاں وغیرہ وغیرہ مع انگوٹھی کے آئیں۔ نہ معلوم کس سے اس قدر تھوڑے وقت میں بیرسٹر صاحب نے انگوٹھی کو اس صفائی سے جڑوایا کہ سوائے شاہدہ کے کسی کو پتہ بھی نہ چلا۔ ابا جان کو بیرسٹر صاحب نے پھسلا کر راضی کر لیا اور وہ سال بھر کے بجائے چھ مہینے پر آ گیے۔\n\nبیرسٹر صاحب دو مہینہ بعد پھر آئے۔ میرا دل کہہ رہا تھا کہ وہ ضرور مجھ سے ملنا چاہتے ہوں گے، بلکہ شاید اسی امید پر آئے ہوں گے۔ مگر میں جھانکنے تک نہ گئی۔ کچھ تحفہ وغیرہ بھجوا کر چلے گیے۔\n\nچھ مہینوں میں سے چار مہینے تو گزر گیے ہیں اور دو مہینے باقی ہیں۔ کچھ بھی ہوا، اچھا یا برا، مگر اس انگوٹھی کی مصیبت کو عمر بھر نہ بھولوں گی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%88%D9%B9%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA"} {"title": "انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ\nدیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھ\n\nبے ساختہ نگاہیں جو آپس میں مل گئیں\nکیا منہ پر اس نے رکھ لیے آنکھیں چرا کے ہاتھ\n\nیہ بھی نیا ستم ہے حنا تو لگائیں غیر\nاور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ\n\nبے اختیار ہو کے جو میں پاؤں پر گرا\nٹھوڑی کے نیچے اس نے دھرا مسکرا کے ہاتھ\n\nگر دل کو بس میں پائیں تو ناصح تری سنیں\nاپنی تو مرگ و زیست ہے اس بے وفا کے ہاتھ\n\nوہ زانوؤں میں سینہ چھپانا سمٹ کے ہائے\nاور پھر سنبھالنا وہ دوپٹہ چھڑا کے ہاتھ\n\nقاصد ترے بیاں سے دل ایسا ٹھہر گیا\nگویا کسی نے رکھ دیا سینے پہ آ کے ہاتھ\n\nاے دل کچھ اور بات کی رغبت نہ دے مجھے\nسننی پڑیں گی سیکڑوں اس کو لگا کے ہاتھ\n\nوہ کچھ کسی کا کہہ کے ستانا سدا مجھے\nوہ کھینچ لینا پردے سے اپنا دکھا کے ہاتھ\n\nدیکھا جو کچھ رکا مجھے تو کس تپاک سے\nگردن میں میری ڈال دیئے آپ آ کے ہاتھ\n\nپھر کیوں نہ چاک ہو جو ہیں زور آزمائیاں\nباندھوں گا پھر دوپٹہ سے اس بے خطا کے ہاتھ\n\nکوچے سے تیرے اٹھیں تو پھر جائیں ہم کہاں\nبیٹھے ہیں یاں تو دونوں جہاں سے اٹھا کے ہاتھ\n\nپہچانا پھر تو کیا ہی ندامت ہوئی انہیں\nپنڈت سمجھ کے مجھ کو اور اپنا دکھا کے ہاتھ\n\nدینا وہ اس کا ساغر مے یاد ہے نظامؔ\nمنہ پھیر کر ادھر کو ادھر کو بڑھا کے ہاتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%DA%AF%DA%91%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D9%84%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے\nہزار کچھ ہو مگر اک وفا نہیں کرتے\n\nبرا ہوں میں جو کسی کی برائیوں میں نہیں\nبھلے ہو تم جو کسی کا بھلا نہیں کرتے\n\nوہ آئیں گے مری تقریب مرگ میں توبہ\nکبھی جو رسم عیادت ادا نہیں کرتے\n\nجہاں گئے یہی دیکھا کہ لوگ مرتے ہیں\nیہی سنا کہ وہ وعدہ وفا نہیں کرتے\n\nکسی کے کم ہیں کسی کے بہت مگر زاہد\nگناہ کرنے کو کیا پارسا نہیں کرتے\n\nجو ان حسینوں پہ مرتے ہیں جیتے جی مضطرؔ\nوہ انتظار پیام قضا نہیں کرتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "انہیں عادت ہمیں لذت ستم کی", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انہیں عادت ہمیں لذت ستم کی\nادھر شمشیر ادھر تقدیر چمکی\n\nکہوں کیا درد دل کب سے بڑھا ہے\nنگاہ لطف تم نے جب سے کم کی\n\nقدم چومیں گے تیرے ہو کے پامال\nچلیں گے چال ہم نقش قدم کی\n\nیہاں تک ان کے وعدے جھوٹ نکلے\nقسم کو بھی ہوئی حاجت قسم کی\n\nوہ زلف مشک بو بکھری ہوئی تھی\nکھلی چوری نسیم صبح دم کی\n\nیہاں تک ان کو پاس راز خط تھا\nکہ خامے کی زباں پہلے قلم کی\n\nزمیں پر اس ادا سے پاؤں رکھا\nکہ آنکھیں کھل گئیں نقش قدم کی\n\nکہاں پیری میں وہ روشن بیانی\nزباں تو ہے چراغ صبح دم کی\n\nکہاں ہم اور کہاں بخشش ہماری\nجلیلؔ اک موج بھی ابر کرم کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "انہیں لوگوں کی بدولت یہ حسیں اچھے ہیں", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انہیں لوگوں کی بدولت یہ حسیں اچھے ہیں\nچاہنے والے ان اچھوں سے کہیں اچھے ہیں\n\nکوچۂ یار سے یا رب نہ اٹھانا ہم کو\nاس برے حال میں بھی ہم تو یہیں اچھے ہیں\n\nنہ کوئی داغ نہ دھبا نہ حرارت نہ تپش\nچاند سورج سے بھی یہ ماہ جبیں اچھے ہیں\n\nکوئی اچھا نظر آ جائے تو اک بات بھی ہے\nیوں تو پردے میں سبھی پردہ نشیں اچھے ہیں\n\nتیرے گھر آئیں تو ایمان کو کس پر چھوڑیں\nہم تو کعبے ہی میں اے دشمن دیں اچھے ہیں\n\nہیں مزے حسن و محبت کے انہیں کو حاصل\nآسماں والوں سے یہ اہل زمیں اچھے ہیں\n\nایک ہم ہیں کہ جہاں جائیں برے کہلائیں\nایک وہ وہ ہیں کہ جہاں جائیں وہیں اچھے ہیں\n\nکوچۂ یار سے محشر میں بلاتا ہے خدا\nکہہ دو مضطرؔ کہ نہ آئیں گے یہیں اچھے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرف", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرف\nنظر اٹھا کے نہیں دیکھتے کسی کی طرف\n\nتوجہ اپنی ہو کیا فن شاعری کی طرف\nنظر ہر ایک کی جاتی ہے عیب ہی کی طرف\n\nلکھا ہوا ہے جو رونا مرے مقدر میں\nخیال تک نہیں جاتا کبھی ہنسی کی طرف\n\nتمہارا سایہ بھی جو لوگ دیکھ لیتے ہیں\nوہ آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھتے پری کی طرف\n\nبلا میں پھنستا ہے دل مفت جان جاتی ہے\nخدا کسی کو نہ لے جائے اس گلی کی طرف\n\nکبھی جو ہوتی ہے تکرار غیر سے ہم سے\nتو دل سے ہوتے ہو در پردہ تم اسی کی طرف\n\nنگاہ پڑتی ہے ان پر تمام محفل کی\nوہ آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھتے کسی کی طرف\n\nنگاہ اس بت خود بیں کی ہے مرے دل پر\nنہ آئنہ کی طرف ہے نہ آرسی کی طرف\n\nقبول کیجیئے للہ تحفۂ دل کو\nنظر نہ کیجیئے اس کی شکستگی کی طرف\n\nیہی نظر ہے جو اب قاتل زمانہ ہوئی\nیہی نظر ہے کہ اٹھتی نہ تھی کسی کی طرف\n\nغریب خانہ میں للٰلہ دو گھڑی بیٹھو\nبہت دنوں میں تم آئے ہو اس گلی کی طرف\n\nذرا سی دیر ہی ہو جائے گی تو کیا ہوگا\nگھڑی گھڑی نہ اٹھاؤ نظر گھڑی کی طرف\n\nجو گھر میں پوچھے کوئی خوف کیا ہے کہہ دینا\nچلے گئے تھے ٹہلتے ہوئے کسی کی طرف\n\nہزار جلوۂ حسن بتاں ہو اے اکبرؔ\nتم اپنا دھیان لگائے رہو اسی کی طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "انہیں کے کام الٰہی مرا لہو آئے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انہیں کے کام الٰہی مرا لہو آئے\nرنگیں جو ہاتھ لہو میں حنا کی بو آئے\n\nمریض ہوش میں آئے نہ آئے تو آئے\nجو تو نہ آئے ترے گیسوؤں کی بو آئے\n\nعتاب یار کا اس کے سوا جواب نہ تھا\nہم آئے تو لیے آئینہ رو بہ رو آئے\n\nنہ پی زبان سے میرا بھی ذکر کر دینا\nکلیم طور پر ان سے جو گفتگو آئے\n\nنہ جھوٹ بول کہ ہم شام سے کل آئیں گے\nنہ کھا قسم ارے جھوٹی کبھی جو تو آئے\n\nنماز ہوگی ادا دخت رز کے دامن پر\nہماری بزم میں جو آئے با وضو آئے\n\nطلب کیے کبھی ہم نے اگر پس توبہ\nبہت بھرے ہوئے ہم سے خم و سبو آئے\n\nاترنے والے ابھی تک نہ بام سے اترے\nتڑپنے والے تڑپ کر فلک کو چھو آئے\n\nگراں دماغ وہ ہیں بوئے گل کی تیزی سے\nنسیم کہہ دے ذرا ہلکی ہو کے بو آئے\n\nنثار وصل کی راتیں اس ایک ساعت پر\nہم انتظار میں تیرے ہوں اور تو آئے\n\nیہ جانتے ہیں کہ نکلا ہوا ہے نام اس کا\nحسین حشر میں کیوں میرے روبرو آئے\n\nکھلے جو کوئی تو کھل کر کسی سے باتیں ہوں\nاٹھے حجاب تو کچھ لطف گفتگو آئے\n\nدلائے یاد جو وعدے تو بولے جھنجھلا کر\nیہ اور حشر میں لینے کو آبرو آئے\n\nکبھی کی پی ہوئی کام آئے آج حشر کے دن\nخدا کے سامنے مے نوش سرخ رو آئے\n\nریاضؔ تھی جو مقدر میں باز گشت شباب\nجوان ہونے کو پیری میں لکھنؤ آئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%84%DB%81%D9%88_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "انہیں یہ فکر ہے ہر دم نئی طرز جفا کیا ہے", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "انہیں یہ فکر ہے ہر دم نئی طرز جفا کیا ہے\nہمیں یہ شوق ہے دیکھیں ستم کی انتہا کیا ہے\n\nگنہگاروں میں شامل ہیں گناہوں سے نہیں واقف\nسزا کو جانتے ہیں ہم خدا جانے خطا کیا ہے\n\nیہ رنگ بیکسی رنگ جنوں بن جائے گا غافل\nسمجھ لے یاس و حرماں کے مرض کی انتہا کیا ہے\n\nنیا بسمل ہوں میں واقف نہیں رسم شہادت سے\nبتا دے تو ہی اے ظالم تڑپنے کی ادا کیا ہے\n\nچمکتا ہے شہیدوں کا لہو پردے میں قدرت کے\nشفق کا حسن کیا ہے شوخئ رنگ حنا کیا ہے\n\nامیدیں مل گئیں مٹی میں دور ضبط آخر ہے\nصدائے غیب بتلا دے ہمیں حکم خدا کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%B2_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "او دیس سے آنے والے بتا", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "او دیس سے آنے والا ہے بتا\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکس حال میں ہیں یاران وطن\nآوارۂ غربت کو بھی سنا\nکس رنگ میں ہے کنعان وطن\nوہ باغ وطن فردوس وطن\nوہ سرو وطن ریحان وطن\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی وہاں کے باغوں میں\nمستانہ ہوائیں آتی ہیں\nکیا اب بھی وہاں کے پربت پر\nگھنگھور گھٹائیں چھاتی ہیں\nکیا اب بھی وہاں کی برکھائیں\nویسے ہی دلوں کو بھاتی ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی وطن میں ویسے ہی\nسرمست نظارے ہوتے ہیں\nکیا اب بھی سہانی راتوں کو\nوہ چاند ستارے ہوتے ہیں\nہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے\nکیا اب وہی سارے ہوتے ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی شفق کے سایوں میں\nدن رات کے دامن ملتے ہیں\nکیا اب بھی چمن میں ویسے ہی\nخوش رنگ شگوفے کھلتے ہیں\nبرساتی ہوا کی لہروں سے\nبھیگے ہوئے پودے ہلتے ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nشاداب و شگفتہ پھولوں سے\nمعمور ہیں گل زار اب کہ نہیں\nبازار میں مالن لاتی ہے\nپھولوں کے گندھے ہار اب کہ نہیں\nاور شوق سے ٹوٹے پڑتے ہیں\nنوعمر خریدار اب کہ نہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا شام پڑے گلیوں میں وہی\nدلچسپ اندھیرا ہوتا ہے\nاور سڑکوں کی دھندلی شمعوں پر\nسایوں کا بسیرا ہوتا ہے\nباغوں کی گھنیری شاخوں میں\nجس طرح سویرا ہوتا ہے\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی وہاں ویسی ہی جواں\nاور مدھ بھری راتیں ہوتی ہیں\nکیا رات بھر اب بھی گیتوں کی\nاور پیار کی باتیں ہوتی ہیں\nوہ حسن کے جادو چلتے ہیں\nوہ عشق کی گھاتیں ہوتی ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nمیرانیوں کے آغوش میں ہے\nآباد وہ بازار اب کہ نہیں\nتلواریں بغل میں دابے ہوئے\nپھرتے ہیں طرحدار اب کہ نہیں\nاور بہلیوں میں سے جھانکتے ہیں\nترکان سیہ کار اب کہ نہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی مہکتے مندر سے\nناقوس کی آواز آتی ہے\nکیا اب بھی مقدس مسجد پر\nمستانہ اذاں تھراتی ہے\nاور شام کے رنگیں سایوں پر\nعظمت کی جھلک چھا جاتی ہے\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والا بتا\nکیا اب بھی وہاں کے پنگھٹ پر\nپنہاریاں پانی بھرتی ہیں\nانگڑائی کا نقشہ بن بن کر\nسب ماتھے پہ گاگر دھرتی ہیں\nاور اپنے گھروں کو جاتے ہوئے\nہنستی ہوئی چہلیں کرتی ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nبرسات کے موسم اب بھی وہاں\nویسے ہی سہانے ہوتے ہیں\nکیا اب بھی وہاں کے باغوں میں\nجھولے اور گانے ہوتے ہیں\nاور دور کہیں کچھ دیکھتے ہی\nنوعمر دیوانے ہوتے ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی پہاڑی چوٹیوں پر\nبرسات کے بادل چھاتے ہیں\nکیا اب بھی ہوائے ساحل کے\nوہ رس بھرے جھونکے آتے ہیں\nاور سب سے اونچی ٹیکری پر\nلوگ اب بھی ترانے گاتے ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی پہاڑی گھاٹیوں میں\nگھنگھور گھٹائیں گونجتی ہیں\nساحل کے گھنیرے پیڑوں میں\nبرکھا کی ہوائیں گونجتی ہیں\nجھینگر کے ترانے جاگتے ہیں\nموروں کی صدائیں گونجتی ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی وہاں میلوں میں وہی\nبرسات کا جوبن ہوتا ہے\nپھیلے ہوئے بڑ کی شاخوں میں\nجھولوں کا نشیمن ہوتا ہے\nامڈے ہوئے بادل ہوتے ہیں\nچھایا ہوا ساون ہوتا ہے\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا شہر کے گرد اب بھی ہے رواں\nدریائے حسیں لہرائے ہوئے\nجوں گود میں اپنے من کو لیے\nناگن ہو کوئی تھرائے ہوئے\nیا نور کی ہنسلی حور کی گردن\nمیں ہو عیاں بل کھائے ہوئے\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی فضا کے دامن میں\nبرکھا کے سمے لہراتے ہیں\nکیا اب بھی کنار دریا پر\nطوفان کے جھونکے آتے ہیں\nکیا اب بھی اندھیری راتوں میں\nملاح ترانے گاتے ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی وہاں برسات کے دن\nباغوں میں بہاریں آتی ہیں\nمعصوم و حسیں دوشیزائیں\nبرکھا کے ترانے گاتی ہیں\nاور تیتریوں کی طرح سے رنگیں\nجھولوں پر لہراتی ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی افق کے سینے پر\nشاداب گھٹائیں جھومتی ہیں\nدریا کے کنارے باغوں میں\nمستانہ ہوائیں جھومتی ہیں\nاور ان کے نشیلے جھونکوں سے\nخاموش فضائیں جھومتی ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا شام کو اب بھی جاتے ہیں\nاحباب کنار دریا پر\nوہ پیڑ گھنیرے اب بھی ہیں\nشاداب کنار دریا پر\nاور پیار سے آ کر جھانکتا ہے\nمہتاب کنار دریا پر\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا آم کے اونچے پیڑوں پر\nاب بھی وہ پپیہے بولتے ہیں\nشاخوں کے حریری پردوں میں\nنغموں کے خزانے گھولتے ہیں\nساون کے رسیلے گیتوں سے\nتالاب میں امرس گھولتے ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا پہلی سی ہے معصوم ابھی\nوہ مدرسے کی شاداب فضا\nکچھ بھولے ہوئے دن گزرے ہیں\nجس میں وہ مثال خواب فضا\nوہ کھیل وہ ہم سن وہ میداں\nوہ خواب گہہ مہتاب فضا\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی کسی کے سینے میں\nباقی ہے ہماری چاہ بتا\nکیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے\nاب یاروں میں کوئی آہ بتا\nاو دیس سے آنے والے بتا\nللہ بتا للہ بتا\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا ہم کو وطن کے باغوں کی\nمستانہ فضائیں بھول گئیں\nبرکھا کی بہاریں بھول گئیں\nساون کی گھٹائیں بھول گئیں\nدریا کے کنارے بھول گئے\nجنگل کی ہوائیں بھول گئیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا گاؤں میں اب بھی ویسی ہی\nمستی بھری راتیں آتی ہیں\nدیہات کی کمسن ماہ وشیں\nتالاب کی جانب جاتی ہیں\nاور چاند کی سادہ روشنی میں\nرنگین ترانے گاتی ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی گجردم چرواہے\nریوڑ کو چرانے جاتے ہیں\nاور شام کے دھندلے سایوں کے\nہم راہ گھروں کو آتے ہیں\nاور اپنی رسیلی بانسریوں\nمیں عشق کے نغمے گاتے ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا گاؤں پہ اب بھی ساون میں\nبرکھا کی بہاریں چھاتی ہیں\nمعصوم گھروں سے بھور بھئے\nچکی کی صدائیں آتی ہیں\nاور یاد میں اپنے میکے کی\nبچھڑی ہوئی سکھیاں گاتی ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nدریا کا وہ خواب آلودہ سا گھاٹ\nاور اس کی فضائیں کیسی ہیں\nوہ گاؤں وہ منظر وہ تالاب\nاور اس کی ہوائیں کیسی ہیں\nوہ کھیت وہ جنگل وہ چڑیاں\nاور ان کی صدائیں کیسی ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی پرانے کھنڈروں پر\nتاریخ کی عبرت طاری ہے\nان پورنا کے اجڑے مندر پر\nمایوسی و حسرت طاری ہے\nسنسان گھروں پر چھاؤنی کے\nویرانی و رقت طاری ہے\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nآخر میں یہ حسرت ہے کہ بتا\nوہ غارت ایماں کیسی ہے\nبچپن میں جو آفت ڈھاتی تھی\nوہ آفت دوراں کیسی ہے\nہم دونوں تھے جس کے پروانے\nوہ شمع شبستاں کیسی ہے\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nمرجانا تھا جس کا نام بتا\nوہ غنچہ دہن کس حال میں ہے\nجس پر تھے فدا طفلان وطن\nوہ جان وطن کس حال میں ہے\nوہ سرو چمن وہ رشک سمن\nوہ سیم بدن کس حال میں ہے\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی رخ گلرنگ پہ وہ\nجنت کے نظارے روشن ہیں\nکیا اب بھی رسیلی آنکھوں میں\nساون کے ستارے روشن ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nکیا اب بھی شہابی عارض پر\nگیسوئے سیہ بل کھاتے ہیں\nیا بحر شفق کی موجوں پر\nدو ناگ پڑے لہراتے ہیں\nاور جن کی جھلک سے ساون کی\nراتوں کے سپنے آتے ہیں\nاو دیس سے آنے والے بتا\n\nاو دیس سے آنے والے بتا\nاب نام خدا ہوگی وہ جواں\nمیکے میں ہے یا سسرال گئی\nدوشیزہ ہے یا آفت میں اسے\nکمبخت جوانی ڈال گئی\nگھر پر ہی رہی یا گھر سے گئی\nخوش حال رہی خوش حال گئی\nاو دیس سے آنے والے بتا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%D8%A8%D8%AA%D8%A7"} {"title": "او میاں بانکے ہے کہاں کی چال", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "او میاں بانکے ہے کہاں کی چال\nتم جو چلتے ہو نت یہ بانکی چال\n\nناز رفتار یہ نہیں دیکھا\nہم نے دیکھی ہے اک جہاں کی چال\n\nلاکھوں پامال ناز ہیں ان کے\nکون سمجھے ہے ان بتاں کی چال\n\nکبک کو دیکھ کر یہ کہنے لگا\nیہ چلے ہے ہمارے ہاں کی چال\n\nرکھ کے شطرنج غائبانۂ عشق\nتم چلے اک تو امتحاں کی چال\n\nتس پہ دشمن ہمارے جی کی ہوئی\nکجیٔ پیل آسماں کی چال\n\nمصحفیؔ بھر چلا وہ ریش و بروت\nہوئے جس پیر ناتواں کی چال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D9%86%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D8%A7%D9%84"} {"title": "اور اب کیا کہیں کہ کیا ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اور اب کیا کہیں کہ کیا ہیں ہم\nآپ ہی اپنے مدعا ہیں ہم\n\nاپنے عاشق ہیں اپنے وارفتہ\nآپ ہی اپنے دل ربا ہیں ہم\n\nآپ ہی خانہ آپ خانہ خدا\nآپ ہی اپنی مرحبا ہیں ہم\n\nعشق جو دل میں درد ہو کے رہا\nخود اسی درد کی دوا ہیں ہم\n\nراز دل کی طرح زمانے میں\nتھے چھپے آج برملا ہیں ہم\n\nکیوں نہ ہو عرش پر دماغ اپنا\nکس کے کوچے کی خاک پا ہیں ہم\n\nہر کوئی آشنا سمجھتا ہے\nاور یاں کس کے آشنا ہیں ہم\n\nابتدا کی بھی ابتدا ہیں ہم\nانتہا کی بھی انتہا ہیں ہم\n\nہم تو بندے نظامؔ ان کے ہیں\nوہ بجا کہتے ہیں \"خدا ہیں ہم\"", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "اور ان آنکھوں نے میرے دل کی حالت زار کی", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اور ان آنکھوں نے میرے دل کی حالت زار کی\nہو نہیں سکتی دوا بیمار سے بیمار کی\n\nمہر کی ان پر ضرورت کیا ہے اے پیر مغاں\nایک اک خم پر لگی ہے آنکھ ہر مے خوار کی\n\nخیر ہو یارب کہیں وہ خود نہ بن جائیں رقیب\nآئینے پر آج پڑتی ہیں نگاہیں پیار کی\n\nخون کر کے دل ہمارا پھر گئی وہ مست آنکھ\nایک ہی چلو میں نیت بھر گئی مے خوار کی\n\nدید کے طالب تھے موسیٰ طور کو تھی کیا خبر\nپھونک کر رکھ دے گی بجلی جلوۂ دیدار کی\n\nجلوۂ محبوب سے خالی نہ دیکھا دل کوئی\nآئینے ہیں سیکڑوں اور ایک صورت یار کی\n\nہو سبک رفتار کتنی ہی نسیم صبح دم\nآنکھ کھل جاتی ہے پھر بھی نرگس بیمار کی\n\nدختر رز نے دیے چھینٹے کچھ ایسے ساقیا\nپانی پانی ہو گئی توبہ ہر اک مے خوار کی\n\nکچھ پھلے پھولے نہ یہ نازک مضامیں اے جلیلؔ\nبے کھلے مرجھا گئیں کلیاں مرے گل زار کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%86_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%AA_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ غفلت کر کے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ غفلت کر کے\nآزمایا جو انہیں ضبط محبت کر کے\n\nدل نے چھوڑا ہے نہ چھوڑے ترے ملنے کا خیال\nبارہا دیکھ لیا ہم نے ملامت کر کے\n\nدیکھنے آئے تھے وہ اپنی محبت کا اثر\nکہنے کو یہ ہے کہ آئے ہیں عیادت کر کے\n\nپستئ حوصلۂ شوق کی اب ہے یہ صلاح\nبیٹھ رہئے غم ہجراں پہ قناعت کر کے\n\nدل نے پایا ہے محبت کا یہ عالی رتبہ\nآپ کے درد دواکار کی خدمت کر کے\n\nروح نے پائی ہے تکلیف جدائی سے نجات\nآپ کی یاد کو سرمایۂ راحت کر کے\n\nچھیڑ سے اب وہ یہ کہتے ہیں کہ سنبھلو حسرتؔ\nصبر و تاب دل بیمار کو غارت کر کے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92"} {"title": "اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے\nاک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے\n\nدل سے ارباب وفا کا ہے بھلانا مشکل\nہم نے یہ ان کے تغافل کو سنا رکھا ہے\n\nتم نے بال اپنے جو پھولوں میں بسا رکھے ہیں\nشوق کو اور بھی دیوانہ بنا رکھا ہے\n\nسخت بے درد ہے تاثیر محبت کہ انہیں\nبستر ناز پہ سوتے سے جگا رکھا ہے\n\nآہ وہ یاد کہ اس یاد کو ہو کر مجبور\nدل مایوس نے مدت سے بھلا رکھا ہے\n\nکیا تأمل ہے مرے قتل میں اے بازو یار\nایک ہی وار میں سر تن سے جدا رکھا ہے\n\nحسن کو جور سے بیگانہ نہ سمجھو کہ اسے\nیہ سبق عشق نے پہلے ہی پڑھا رکھا ہے\n\nتیری نسبت سے ستم گر ترے مایوسوں نے\nداغ حرماں کو بھی سینے سے لگا رکھا ہے\n\nکہتے ہیں اہل جہاں درد محبت جس کو\nنام اسی کا دل مضطر نے دوا رکھا ہے\n\nنگہ یار سے پیکان قضا کا مشتاق\nدل مجبور نشانے پہ کھلا رکھا ہے\n\nاس کا انجام بھی کچھ سوچ لیا ہے حسرتؔ\nتو نے ربط ان سے جو اس درجہ بڑھا رکھا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اور تڑپائے مجھے درد جگر آج کی رات", "poet_page": "مصنف:راجہ نوشاد علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اور تڑپائے مجھے درد جگر آج کی رات\nکل وہ آئیں گے نہیں آئے اگر آج کی رات\n\nخود بخود کم ہے مرا درد جگر آج کی رات\nکون آئے گا الٰہی مرے گھر آج کی رات\n\nالٹے دیتا ہے نقاب رخ روشن کوئی\nشام ہی سے ہوئی جاتی ہے سحر آج کی رات\n\nمیں جو بیتاب گیا بزم میں تو وہ بولے\nخیر ہے خیر ہے آ نکلے کدھر آج کی رات\n\nدر مے خانہ اگر بند ہے مسجد کو چلو\nمے کشو پڑ رہو اللہ کے گھر آج کی رات\n\nہاں ذرا چونک تو اینڈ اینڈ کے سونے والے\nلے کسی عاشق مضطر کی خبر آج کی رات\n\nایک مدت سے جسے ڈھونڈ رہی تھیں آنکھیں\nآنے والا ہے وہی رشک قمر آج کی رات\n\nصبح ہوتے ترے بیمار کا دم نکلے گا\nہے یہ مہماں صفت شمع سحر آج کی رات\n\nدرد دل تو نے ہمیں مار ہی ڈالا ہوتا\nوہ کلیجے سے لگاتے نہ اگر آج کی رات\n\nکوئی سوتا ہے کہیں ساتھ کسی کے شاید\nدل کے ہم راہ تڑپتا ہے جگر آج کی رات\n\nتم تو مر جاؤ گے دم بھر میں تڑپ کے نوشادؔ\nدور از حال وہ آئے نہ اگر آج کی رات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%DA%91%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "اور ساقی پلا ابھی کیا ہے", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اور ساقی پلا ابھی کیا ہے\nتیری سرکار میں کمی کیا ہے\n\nاب فقط اس لیے ہے یہ تکرار\nکوئی پوچھے تری خوشی کیا ہے\n\nہم بھی بیخودؔ سے آج مل آئے\nاک فرشتہ ہے آدمی کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%BE%D9%84%D8%A7_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اور عشرت کی تمنا کیا کریں", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اور عشرت کی تمنا کیا کریں\nسامنے تو ہو تجھے دیکھا کریں\n\nمحو ہو جائیں تصور میں ترے\nہم بھی اپنے قطرے کو دریا کریں\n\nہم کو ہے ہر روز ہر وقت انتظار\nبندہ پرور گاہ گاہ آیا کریں\n\nچارہ گر کا چاہیئے کرنا علاج\nاس کو بھی اپنا سا دیوانہ کریں\n\nان کے آنے کا بھروسا ہو نہ ہو\nراہ ہم ان کی مگر دیکھا کریں\n\nہم نہیں ناواقف رسم ادب\nدل کی بیتابی کو وحشتؔ کیا کریں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اور مجھ سا جان دینے کا تمنائی نہیں", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اور مجھ سا جان دینے کا تمنائی نہیں\nاس کا شیدائی ہوں جس کا کوئی شیدائی نہیں\n\nصاف ہیں ہم گو تجھے میل خود آرائی نہیں\nدل وہی آئینہ ہے پر تو تماشائی نہیں\n\nقائل وحدت ہوں شرکت کا تمنائی نہیں\nتو جو تنہا ہے تو مجھ کو فکر تنہائی نہیں\n\nناصحو کیوں صبر کرنے کے لئے کرتے ہو تنگ\nاس قدر دل تنگ ہے جائے شکیبائی نہیں\n\nڈھونڈھنے پر میں کمر باندھوں تو پاؤں قصر یار\nبے محل ہے لا مکاں کہنا وہ ہرجائی نہیں\n\nسچ ہے حق نا حق نہیں ملتا کسی کو مرتبہ\nدار پر منصور کو اوج مسیحائی نہیں\n\nیا کرو اپنا کسی کو یا کسی کے ہو رہو\nچار دن کی زندگی میں لطف تنہائی نہیں\n\nزار ہوں طاقت سے مل جانے کو طاقت چاہئے\nناتوانی سے جدائی کی توانائی نہیں\n\nدشت وحشت میں نہیں ملتا ہے سایہ کا پتا\nمیں ہوں سودائی مرا ہم زاد سودائی نہیں\n\nآتشی شیشہ کی عینک ہو ہماری آنکھ میں\nہم تمہاری گرمیاں دیکھیں یہ بینائی نہیں\n\nمصر کے بازار میں کیا بڑھ گئی یوسف کی قدر\nحسن کو بے پردگی میں عیب رسوائی نہیں\n\nبے مے و مے خانہ و ساقی جو آئی مجھ کو موت\nحلقۂ ماتم ہے دور چرخ مینائی نہیں\n\nہو گیا خاموش جو شہر خموشاں کا ہوا\nہے دہان گور موجود اور گویائی نہیں\n\nدونوں نشاؤں سے ہیں باہر مست صہبائے الست\nاپنے مے خانہ میں دور چرخ مینائی نہیں\n\nپائیں کیا دیوانۂ مژگاں بت ترسا میں لطف\nسوزن عیسیٰ میں نوک خاک صحرائی نہیں\n\nمیرے دل کی تجھ کو بے جا ہے شکایت غیر سے\nاپنے گھر کا حال کہنا طرز دانائی نہیں\n\nنشہ میں زندہ ہیں ہے عیسیٰ نفس اپنا خمار\nجان اعضا میں چلی آتی ہے انگڑائی نہیں\n\nہو گئے ٹیڑھے اگر ہم نے جگایا نیند سے\nآپ در پردہ اکڑتے ہیں یہ انگڑائی نہیں\n\nمے کدہ پر سقف ابر رحمت حق چاہئے\nاحتیاج سائبان چرخ مینائی نہیں\n\nبے خطر ہیں سستیٔ اندام سے نازک مزاج\nجستجوئے بادہ میں شیشوں کی انگڑائی نہیں\n\nسر کو ٹکرا کر مٹایا اپنی قسمت کا لکھا\nدیر میں کعبہ میں اب فکر جبیں سائی نہیں\n\nآپ سے یوسف ہزاروں ہم سے عاشق سیکڑوں\nحسن کا توڑا نہیں قحط تماشائی نہیں\n\nپیر گردوں سے ذرا انجم اچک کر چھین لیں\nہمتیں عالی ہیں فکر چرخ بالائی نہیں\n\nہے مرا دشت جنوں سات آسمانوں سے دو چند\nربع مسکوں وادئ وحشت کی چوتھائی نہیں\n\nدختر رز مثل افلاطوں ہے جب تک خم میں ہے\nنشہ میں اپنے سے باہر ہوں یہ دانائی نہیں\n\nلکھنؤ کی آرزو میں جان دیتا ہے منیرؔ\nسلطنت کا بھی زمانہ میں تمنائی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اور مے خانہ نشیں چور بنائے نہ گئے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اور مے خانہ نشیں چور بنائے نہ گئے\nہم دھرے جاتے ہیں ناحق کہیں آئے نہ گئے\n\nشوخیاں تیری اٹھائیں گی مجھے بزم سے کیا\nان سے تو شرم کے پردے بھی اٹھائے نہ گئے\n\nقید نغمے کی ہوئی قید قفس پر طرہ\nہم سے صیاد کو نالے بھی سنائے نہ گئے\n\nپردہ ڈالا تری رحمت نے مرے عصیاں پر\nان فرشتوں سے مرے عیب چھپائے نہ گئے\n\nکون سا لطف نہ فردوس میں پایا لیکن\nپھر بھی دنیا کے مرے دل سے بھلائے نہ گئے\n\nجب چلے سوئے لحد مڑ کے نہ دیکھا گھر کو\nایسے روٹھے کہ کسی سے بھی منائے نہ گئے\n\nیہ سمجھ کر کہ گنہ گار ہیں کس مالک کے\nنہ گئے حشر میں ہم آنکھ جھکائے نہ گئے\n\nغیر کے جلنے سے کچھ آنچ نہ آتی تم پر\nکیوں الگ بیٹھے ہوئے آگ لگائے نہ گئے\n\nنہ رہا حشر میں نظارہ سے محروم کوئی\nقبر سے ایک ہمیں آج اٹھائے نہ گئے\n\nکس نے دیکھا ہمیں کوچے میں حسینوں کے ریاضؔ\nمفت بدنام ہوئے ہم کہیں آئے نہ گئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "اور واعظ کے ساتھ مل لے شیخ", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اور واعظ کے ساتھ مل لے شیخ\nکھول آپس کے بیچ کلے شیخ\n\nتیر سا قد کمان کر اپنا\nکھینچ فاقوں کے بیچ چلے شیخ\n\nچھوڑ تسبیح ہزار دانوں کی\nہاتھ میں اپنے ایک دل لے شیخ\n\nبھونک مت غیر پر نہ کر حملہ\nمرد ہے نفس پر تو پل لے شیخ\n\nخال خوباں سیں تجھ کوں کیا نسبت\nبس ہیں بکرے کے تجھ کو تلے شیخ\n\nاس سے سنگیں دلاں کا شوق نہ کر\nمت تو سینے پہ اپنے سل لے شیخ\n\nچھوڑ دے زہد خشک یہ پیالہ\nخوش ہو کر آبروؔ سے مل لے شیخ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%D9%84_%D9%84%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%AE"} {"title": "اور کھل جا کہ معارف کی گزر گاہوں میں", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اور کھل جا کہ معارف کی گزر گاہوں میں\nپیچ اے زلف سیہ فام ابھی باقی ہیں\n\nاک سبو اور کہ لوح دل مے نوشاں پر\nکچھ نقوش سحر و شام ابھی باقی ہیں\n\nٹھہر اے باد سحر اس گل نورستہ کے نام\nاور بھی شوق کے پیغام ابھی باقی ہیں\n\nاے حریفان سبو گوش بر آواز رہو\nدامن وحی میں الہام ابھی باقی ہیں\n\nطول کھینچ اے شب مے خانہ کہ سب کار سیاہ\nبہ ہمہ لذت اقدام ابھی باقی ہیں\n\nاور ابھی روندا نہیں اے کف پائے تحقیق\nدل میں سو طرح کے اوہام ابھی باقی ہیں\n\nاے سہی قد تری نسبت سے سب اونچی قدریں\nباوجود روش عام ابھی باقی ہیں\n\nہم میں کل کے نہ سہی حافظؔ و خیامؔ ظفرؔ\nآج کے حافظؔ و خیامؔ ابھی باقی ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%D9%84_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%AF%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اوروں کی بات یاں بہت کم ہے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اوروں کی بات یاں بہت کم ہے\nذکر خیر آپ کا ہی ہر دم ہے\n\nجان تک تو نہیں ہے تجھ سے دریغ\nاے میں قربان کیوں تو برہم ہے\n\nگاہ رونا ہے کاہ ہنسنا ہے\nعاشقی کا بھی زور عالم ہے\n\nخوش نہ پایا کسی کو یاں ہم نے\nدیکھی دنیا سرائے ماتم ہے\n\nآہ جس دن سے آنکھ تجھ سے لگی\nدل پہ ہر روز اک نیا غم ہے\n\nمگر آنسو کسو کے پونچھے ہیں\nآستیں آج کیوں تری نم ہے\n\nاس کے عارض پہ ہے عرق کی بوند\nیا کہ بیدارؔ گل پہ شبنم ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DA%A9%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "اوروں کی طرح سے اب نہ ٹالو", "poet_page": "مصنف:نواب سلیمان شکوہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اوروں کی طرح سے اب نہ ٹالو\nہم کو اپنے گلے لگا لو\n\nگالی نہ دیا کرو کسی کو\nبس بس اپنی زباں سنبھالو\n\nغرفے میں سے جھانک پاس اپنے\nغیروں کو ہنسی خوشی بلا لو\n\nاور ہم سے ہزار حیف پیارے\nمنہ کو شرما کے یوں چھپا لو\n\nہے قافلہ عمر کا روانہ\nرخت اپنا مسافرو سنبھالو\n\nبت خانے کی راہ کو سلیمانؔ\nچھوڑو تم اور رہ خدا لو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D9%B9%D8%A7%D9%84%D9%88"} {"title": "اوقات شیخ گو کہ سجود و قیام ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اوقات شیخ گو کہ سجود و قیام ہے\nمیرے کنے تو ایک خدا ہی کا نام ہے\n\nہر صبح اٹھ بتوں سے مجھے رام رام ہے\nزاہد تری نماز کو میرا سلام ہے\n\nتیری نگہ کے دور میں ایسا ہوا ہوں مست\nساغر سے مجھ کو آنکھ ملانا حرام ہے\n\nہم اور تیری شکایتیں ظالم خدا سے ڈر\nبہتان ہے غلط ہے یہ محض اتہام ہے\n\nدن کو نہ بھوک ہے نہ مجھے رات کو ہے نیند\nاس روزگار میں یہ مری صبح و شام ہے\n\nمرتا ہوں آ کے دیکھ ترے انتظار میں\nورنہ سنے گا اب کوئی دم کو تمام ہے\n\nقاصد کہاں چلا ہے مجھے بھی خبر تو دے\nیک دم تو بیٹھ جا کہ مجھے تجھ سے کام ہے\n\nتجھ کو قسم خدا کی جو جاتا ہے اس طرف\nتو بھولیو نہ اتنا ہی میرا پیام ہے\n\nکہیو مری طرف سے نہ پہنچا مرا جواب\nاتنا دماغ کیا ترا حاتمؔ غلام ہے\n\nقاصد سے اس نے سن کے حقیقت کہا کہ واہ\nکیا خوب اس سخن کا کوئی یہ مقام ہے\n\nکہنا اسے یہی تو کہ اے بو الہوس ہنوز\nعاشق ہوا تو پر یہ ترا عشق خام ہے\n\nمعشوق کی جناب میں کوئی بھی بے ادب\nبولا ہے اس طرح سے جو تیرا کلام ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D9%82%D8%A7%D8%AA_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%DA%AF%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D8%B3%D8%AC%D9%88%D8%AF_%D9%88_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "اوقات لڑکپن کے گئے غفلت میں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اوقات لڑکپن کے گئے غفلت میں\nایام جوانی کے کٹے عشرت میں\nپیری میں جز افسوس کیا کیا جائے\nیک بارہ کمی ہی آگئی طاقت میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D9%82%D8%A7%D8%AA_%D9%84%DA%91%DA%A9%D9%BE%D9%86_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اوقات کے صرف کے بیان میں", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "یہ بات ظاہر ہے کہ وقت جو گذر گیا ہے وہ پھر نہیں ہاتھ آسکتا ہے، اور جو وقت آنے والا ہے اس کا کیا اعتبار ہے۔ کس واسطے کہ ہمیں ایک لحظے کی خبر نہیں کہ کیا واقع ہوگا۔ پس انسان پر لازم ہے کہ جو جو چیزیں اس کے اوپر فرض ہیں، انہیں زمانہ حال میں کرے اور آئندہ کے واسطے نہ ٹالے اور نہ گذشتہ کا افسوس کرے کیونکہ گذشتہ کا افسوس کرنے سے وہ وقت پھر ہاتھ نہیں آ سکتا اور آئندہ کی خبر نہیں کہ شاید جو لحظہ اب گذر رہا ہے، ہماری زندگی کا آخری لحظہ ہو کہ اس کے بعد ہم اس جہاں میں نہ پائے جائیں۔\n\nواضح ہو کہ وقت ایک شیٔ نہایت قیمتی ہے۔ وہ ایک ایسی شیٔ ہے کہ اس کی قیمت بے انتہا ہے۔ زر اور جواہرات موجود ہو سکتے ہیں لیکن وقت گذشتہ کسی طرح ہاتھ نہیں آ سکتا ہے۔ پس جو شخص اسے ضائع کرے وہ بڑا فضول خرچ اور بے ہوش ہے۔ ہر آدمی پر لازم ہے کہ اپنے وقت کو ذرا سا بھی ضائع نہ کرے، اور اس کو مختلف کاموں پر تقسیم کرلے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس وقت کوئی کار نیک اور اچھا نہ بن جائے اور وہ وقت گذر جائے تو جاننا چاہئے کہ وہ وقت کھویا گیا۔\n\nچنانچہ ایک شاہنشاہ روم کا جس کا نام طے طوس تھا اور جو نہایت نیک بادشاہ تھا، اپنے اوقات کو اچھے کاموں میں صرف کیا کرتا تھا اور جس دن اس سے کوئی نیک کام نہ بنتا تو وہ نہایت افسوس کر کے کہا کرتا کہ میں نے ایک دن کھو دیا لیکن ہزارہا آدمی ایسے ہیں کہ ان کے بیسیوں برس نکمے گذر جاتے ہیں اور انہیں کچھ خیال نہیں ہوتا بلکہ وہ غنیمت سمجھتے ہیں کہ ہماری زندگی کسی نہ کسی طرح کٹ گئی۔ ان کے نزدیک یہ بات ہے کہ زندگی کو گذارنا ہے، اسے چاہے جس طرح سے کاٹ دیا۔ یہ ان کی بڑی غلطی ہے۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی شیٔ عاقبت بھی ہے اور یہ دنیا چند روزہ ایک جائے امتحان کی ہے کہ یہاں انسان کی نیکی اور استقلال اور سخاوت اور مروت اور حق پرستی وغیرہ کا امتحان ہوتا ہے اور بعد ازاں اسے عالم بقا میں موافق اس کے کاموں کے انعام یا سزا ملتی ہے۔\n\nجب یہ حال دنیا کا ہے کہ یہ چند روزہ ہے اور جائے تیاری کرنے کے واسطے مقام پائیدار کی ہے یعنی یہ دنیا اس واسطے ہے کہ یہاں جتنے نیک کام بن سکیں اتنے کام کر لیں تاکہ آئندہ کو فائدہ ہو تو وہ نہایت عاقل آدمی ہے جو اپنے اوقات کو واہیات میں صرف نہ کرے۔ علاوہ ازیں یہ زندگی چند روز کی ہے یہ تحقیق ہے۔ بعض پیدا ہوتے ہی مر جاتے ہیں اور بعض جوانی میں۔ علاوہ خیال عاقبت کے اس دنیا میں بھی خوشی اور سرور اسی کے واسطے ہے جو کہ اپنے اوقات کو اچھی طرح سے صرف کرے۔ قطع نظر فوائد کثیر کے جو بہ سبب اچھی طرح سے صرف کرنے وقت کے انسان کو حاصل ہو سکتے ہیں۔\n\nایک یہ بات بہت خوب ہے کہ جو آدمی اپنا وقت اچھی طرح سے صرف کرتا ہے اس کی ہمیشہ خاطر جمع رہتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میں نے اپنے وقت کو خوبی سے صرف کیا اور اللہ تعالیٰ مجھ سے خوش ہوگا۔ اس دلجمعی سے اسے زیادہ سرور حاصل ہوتا ہے بہ نسبت تمام عیش اور عشرت اس دنیا کے۔ لیکن وہ شخص جو اپنے اوقات کو واہیات میں صرف کرتا ہے ہمیشہ پریشان اور پشیمان رہتا ہے۔ جب وہ ذرا دل میں سوچتا ہے تو وہ آہ کھینچ کر آپ ہی آپ افسوس کیا کرتا ہے کہ میری زندگی ناحق گذرتی ہے۔\n\nاگر کوئی دریافت کیا چاہے کہ اوقات کو اچھی طرح سے صرف کرنے سے کیا کیا فائدے ہوتے ہیں، اسے لازم ہے کہ قوم انگریز اور اہل فرنگ پر نظر کرے کہ ان میں سے اکثر لوگ اپنے اوقات کو اچھی طرح سے صرف کرتے ہیں۔ یہ دولت اور حشمت اور عقل اور علم انہیں کیوں کر حاصل ہوا؟ اس کا باعث یہی ہے کہ ہمیشہ ہر بات پر وہ غور کرتے ہیں اور اپنے وقت کو مختلف کاموں کے واسطے تقسیم کرتے ہیں۔ برخلاف ان کے دیکھو حال اکثر رئیسوں اس ولایت یعنی ہندوستان کا کہ وہ اپنے اوقات کو واہیات میں صرف کرتے ہیں اور ان کا حال ملاحظہ کرنے سے اتقان کثیر وقت کے ضائع کرنے کے معلوم ہو جائیں گے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D9%82%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%B5%D8%B1%D9%81_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اول تو ترے کوچے میں آنا نہیں ملتا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اول تو ترے کوچے میں آنا نہیں ملتا\nآؤں تو کہیں تیرا ٹھکانا نہیں ملتا\n\nملنا جو مرا چھوڑ دیا تو نے تو مجھ سے\nخاطر سے تری سارا زمانا نہیں ملتا\n\nآوے تو بہانے سے چلا شب مرے گھر کو\nایسا کوئی کیا تجھ کو بہانا نہیں ملتا\n\nکیا فائدہ گر حرص کرے زر کی تو ناداں\nکچھ حرص سے قاروں کا خزانا نہیں ملتا\n\nبھولے سے بھی اس نے نہ کہا یوں مرے حق میں\nکیا ہو گیا جو اب وہ دوانا نہیں ملتا\n\nپھر بیٹھنے کا مجھ کو مزہ ہی نہیں اٹھتا\nجب تک کہ ترے شانے سے شانا نہیں ملتا\n\nاے مصحفیؔ استاد فن ریختہ گوئی\nتجھ سا کوئی عالم کو میں چھانا نہیں ملتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارے\nپاس آئے تو گھبرائے سوالوں سے ہمارے\n\nیہ کہتے ہیں بلبل سے وہ گل ہاتھ میں لے کر\nتو دیکھ ملا کر اسے گالوں سے ہمارے\n\nکیا برہنہ پا دشت میں لاکھوں بھی نہ ہوں گے\nکانٹوں کو مگر چھیڑ ہے چھالوں سے ہمارے\n\nہر وقت نئی دھن ہے ہمیں تازہ تصور\nجاؤ گے کہاں بچ کے خیالوں سے ہمارے\n\nکہتی ہیں وہ آنکھیں صف مژگاں کو بڑھا کر\nہے کون جو روکش ہو رسالوں سے ہمارے\n\nاے داغؔ فلک دشمن ارباب ہنر ہے\nظالم کو خبر ہو نہ کمالوں سے ہمارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "اول تو یہ دھج اور یہ رفتار غضب ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اول تو یہ دھج اور یہ رفتار غضب ہے\nتس پہ ترے پازیب کی جھنکار غضب ہے\n\nکیوں کر نہ تجھے دوڑ کے چھاتی سے لگا لوں\nپھولوں کا گلے میں ترے یہ ہار غضب ہے\n\nجب دیکھوں ہوں کرتی ہے مرے دل کو پریشاں\nآشفتگیٔ طرۂ طرار غضب ہے\n\nاے کاش یہ آنکھیں مجھے یہ دن نہ دکھاتیں\nاس شوق پہ محرومیٔ دیدار غضب ہے\n\nخورشید کا منہ ہے کہ طرف ہو سکے اس سے\nیعنی وہ بر افروختہ رخسار غضب ہے\n\nمیں اور کسی بات کا شاکی نہیں تجھ سے\nیہ وقت کے اوپر ترا انکار غضب ہے\n\nاب تک حرم وصل سے محرم نہ ہوئے ہم\nکعبے میں حجاب در و دیوار غضب ہے\n\nگر ایک غضب ہو تو کوئی اس کو اٹھاوے\nرفتار غضب ہے تری گفتار غضب ہے\n\nفرہاد بچا عشق سے نے قیس نہ وامق\nجی لے ہی کے جاتا ہے یہ آزار غضب ہے\n\nاے مصحفیؔ اس شوق سے ٹک بچ کے تو چلنا\nسنتا ہے میاں وہ بت خوں خار غضب ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D9%84_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%DA%BE%D8%AC_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "اول سیں دل مرا جو گرفتار تھا سو ہے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اول سیں دل مرا جو گرفتار تھا سو ہے\nمیرے گلے میں عشق کا زنار تھا سو ہے\n\nاے شاہ حسن مجھ کوں تمہاری جناب میں\nمدت سیں بندگی کا جو اقرار تھا سو ہے\n\nمعلوم یوں ہوا کہ نصیبوں میں نہیں شفا\nشمشیر غم کا وار جگر پار تھا سو ہے\n\nجیوں غنچہ سیر باغ سیں ہوتا ہوں تنگ دل\nتجھ بن مری نگاہ میں گل خار تھا سو ہے\n\nسوزن مثال آنکھ میں سلتی ہے ہر پلک\nتیری برہ کا خار دل آزار تھا سو ہے\n\nاب لگ غم فراق جدائی کی رات میں\nیارو رفیق و مونس و غم خوار تھا سو ہے\n\nمت بوجھ سوز عشق سیں فارغ سراج کوں\nپروانہ وار جان سیں بلہار تھا سو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D9%84_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی\nرات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھی\n\nقید کو توڑ کے نکلا جب میں اٹھ کے بگولے ساتھ ہوئے\nدشت عدم تک جنگل جنگل بھاگ چلا ویرانہ بھی\n\nہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی پر\nاتنا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی\n\nایک لگی کے دو ہیں اثر اور دونوں حسب مراتب ہیں\nلو جو لگائے شمع کھڑی ہے رقص میں ہے پروانہ بھی\n\nدونوں جولاں گاہ جنوں ہیں بستی کیا ویرانہ ہے\nاٹھ کے چلا جب کوئی بگولا دوڑ پڑا ویرانہ بھی\n\nغنچے چپ ہیں گل ہیں ہوا پر کس سے کہیے جی کا حال\nخاک نشیں اک سبزہ ہے سو اپنا بھی بیگانہ بھی\n\nحسن و عشق کی لاگ میں اکثر چھیڑ ادھر سے ہوتی ہے\nشمع کا شعلہ جب لہرایا اڑ کے چلا پروانہ بھی\n\nخون ہی کی شرکت وہ نہ کیوں ہو شرکت چیز ہے جھگڑے کی\nاپنوں سے وہ دیکھ رہا ہوں جو نہ کرے بیگانا بھی\n\nدور مسرت آرزوؔ اپنا کیسا زلزلہ آگیں تھا\nہاتھ سے منہ تک آتے آتے چھوٹ پڑا پیمانہ بھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D9%84_%D8%B4%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D9%86%D9%82_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "اولاد", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "شکاری عورتیں", "year": "1955", "text_ur": "جب زبیدہ کی شادی ہوئی تو اس کی عمر پچیس برس کی تھی۔ اس کے ماں باپ تو یہ چاہتے تھے کہ سترہ برس کے ہوتے ہی اس کا بیاہ ہو جائے مگر کوئی مناسب و موزوں رشتہ ملتا ہی نہیں تھا۔ اگر کسی جگہ بات طے ہونے پاتی تو کوئی ایسی مشکل پیدا ہو جاتی کہ رشتہ عملی صورت اختیار نہ کرسکتا۔\n\nآخر جب زبیدہ پچیس برس کی ہوگئی تو اس کے باپ نے ایک رنڈوے کا رشتہ قبول کرلیا۔ اس کی عمر پینتیس برس کے قریب قریب تھی، یا شاید اس سے بھی زیادہ ہو۔ صاحبِ روزگار تھا۔ مارکیٹ میں کپڑے کی تھوک فروشی کی دکان تھی۔ ہر ماہ پانچ چھ سو روپے کما لیتا تھا۔\n\nزبیدہ بڑی فرماں بردار لڑکی تھی۔ اس نے اپنے والدین کا فیصلہ منظور کرلیا۔ چنانچہ شادی ہوگئی، اور وہ اپنے سسرال چلی گئی۔\n\nاس کا خاوند جس کا نام علم الدین تھا، بہت شریف اور محبت کرنے والا ثابت ہوا۔ زبیدہ کی ہر آسائش کا خیال رکھتا۔ کپڑے کی کوئی کمی نہیں تھی۔ حالانکہ دوسرے لوگ اس کے لیے ترستے تھے۔ چالیس ہزار اور تھری بی کا لٹھا، شنوں اور دو گھوڑے کی بوسکی کے تھانوں کے تھان زبیدہ کے پاس موجود تھے۔\n\nوہ اپنے میکے ہر ہفتے جاتی۔۔۔ ایک دن وہ گئی تو اس نے ڈیوڑھی میں قدم رکھتے ہی بین کرنے کی آواز سنی۔ اندر گئی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کا باپ اچانک دل کی حرکت بند ہونے کے باعث مر گیا ہے۔اب زبیدہ کی ماں اکیلی رہ گئی تھی۔ گھر میں سوائے ایک نوکر کے اور کوئی بھی نہیں تھا۔ اس نے اپنے شوہر سے درخواست کی کہ وہ اسے اجازت دے کہ وہ اپنی بیوہ ماں کو اپنے پاس بلالے۔\n\nعلم الدین نے کہا، ’’اجازت لینے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ یہ تمہارا گھر ہے اور تمہاری ماں میری ماں۔۔۔ جاؤ انہیں لے آؤ۔۔۔ جو سامان وغیرہ ہو گا اس کو یہاں لانے کا بندوبست میں ابھی کیے دیتا ہوں۔‘‘\n\nزبیدہ بہت خوش ہوئی۔ گھر کافی بڑا تھا۔ دو تین کمرے خالی پڑے تھے۔ وہ تانگے میں گئی اور اپنی ماں کو ساتھ لے آئی۔ علم الدین نے سامان اٹھوانے کا بندوبست کردیا تھا، چنانچہ وہ بھی پہنچ گیا۔ زبیدہ کی ماں کے لیے کچھ سوچ بچار کے بعد ایک کمرہ مختص کردیا گیا۔\n\nوہ بہت ممنون و متشکرتھی۔ اپنے داماد کے حسنِ سلوک سے بہت متاثر۔ اس کے جی میں کئی مرتبہ یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اپنا سارا زیور جو کئی ہزاروں کی مالیت کا تھا، اس کو دے دے کہ وہ اپنے کاروبار میں لگائے اور زیادہ کمائے۔ مگروہ طبعاً کنجوس تھی۔\n\nایک دن اس نے اپنی بیٹی سے کہا،’’مجھے یہاں آئے دس مہینے ہوگئے ہیں۔۔۔ میں نے اپنی جیب سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا۔۔۔ حالانکہ تمہارے مرحوم باپ کے چھوڑے ہوئے دس ہزار روپے میرے پاس موجود ہیں۔۔۔ اور زیور الگ۔‘‘\n\nزبیدہ انگیٹھی کے کوئلوں پر پھلکا سینک رہی تھی،’’ماں،تم بھی کیسی باتیں کرتی ہو۔۔۔‘‘\n\n’’کیسی ویسی میں نہیں جانتی۔۔۔ میں نے یہ سب روپے علم الدین کو دے دیے ہوتے، مگر میں چاہتی ہوں کہ تمہارے کوئی بچہ پیدا ہو۔۔۔ تو یہ سارا روپیہ اس کو تحفے کے طور پر دوں۔۔۔‘‘\n\nزبیدہ کی ماں کو اس بات کا بڑا خیال تھا کہ ابھی تک بچہ پیدا کیوں نہیں ہوا۔۔۔ شادی ہوئے قریب قریب دو برس ہوچکے تھے، مگر بچے کی پیدائش کے آثار ہی نظر نہیں آتے تھے۔وہ اسے کئی حکیموں کے پاس لے گئی۔ کئی معجونیں، کئی سفوف، کئی قرص اس کو کھلوائے، مگر خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا۔\n\nآخر اس نے پیروں فقیروں سے رجوع کیا۔ ٹونے ٹوٹکے استعمال کیے گئے، تعویذ، دھاگے بھی۔۔۔ مگر مراد بر نہ آئی۔ زبیدہ اس دوران میں تنگ آگئی۔ ایک دن چنانچہ اس نے اکتا کر اپنی ماں سے کہہ دیا،’’چھوڑو اس قصّے کو۔۔۔ بچہ نہیں ہوتا تو نہ ہو۔۔۔‘‘\n\nاس کی بوڑھی ماں نے منہ بسور کرکہا،’’بیٹا۔۔۔ یہ بہت بڑا قصّہ ہے۔۔۔ تمہاری عقل کو معلوم نہیں کیا ہوگیا ہے۔۔۔ تم اتنا بھی نہیں سمجھتی کہ اولاد کا ہونا کتنا ضروری ہے۔۔۔ اسی سے تو انسان کی زندگی کا باغ سدا ہرا بھرا رہتا ہے۔‘‘\n\nزبیدہ نے پھلکا چنگیر میں رکھا، ’’میں کیا کروں۔۔۔ بچہ پیدا نہیں ہوتا تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟‘‘\n\nبڑھیا نے کہا، ’’قصور کسی کا بھی نہیں بیٹی۔۔۔بس صرف ایک اللہ کی مہربانی چاہیے۔‘‘\n\nزبیدہ اللہ میاں کے حضور ہزاروں مرتبہ دعائیں مانگ چکی تھی کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اس کی گود ہری کرے، مگر اس کی ان دعاؤں سے کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔\n\nجب اس کی ماں نے ہر روز اس سے بچے کی پیدائش کے متعلق باتیں کرنا شروع کیں، تو اس کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ وہ بنجر زمین ہے، جس میں کوئی پودا اگ ہی نہیں سکتا۔ راتوں کو وہ عجیب عجیب سے خواب دیکھتی۔ بڑے اوٹ پٹانگ قسم کے۔ کبھی یہ دیکھتی کہ وہ لق و دق صحرا میں کھڑی ہے، اس کی گود میں ایک گل گو تھنا سا بچہ ہے، جسے وہ ہوا میں اتنے زور سے اچھالتی ہے کہ وہ آسمان تک پہنچ کر غائب ہو جاتا ہے۔ کبھی یہ دیکھتی کہ وہ اپنے بستر میں لیٹی ہے جو ننھے منے بچوں کے زندہ اور متحرک گوشت سے بنا ہے۔\n\nایسے خواب دیکھ دیکھ کر اس کا دل و دماغ غیر متوازن ہوگیا۔۔۔ بیٹھے بیٹھے اس کے کانوں میں بچوں کے رونے کی آواز آنے لگی، اوروہ اپنی ماں سے کہتی،’’یہ کس کا بچہ رو رہا ہے؟ ‘‘اس کی ماں نے اپنے کانوں پر زور دے کر یہ آواز سننے کی کوشش کی،جب کچھ سنائی نہ دیا تو اس نے کہا’’ کوئی بچہ رو نہیں رہا۔۔۔‘‘\n\n’’نہیں ماں۔۔۔ رو رہا ہے۔۔۔ بلکہ رو رو کے ہلکان ہوئے جا رہا ہے۔‘‘\n\nاس کی ماں نے کہا، ’’یا تو میں بہری ہوگئی ہوں، یا تمہارے کان بجنے لگے ہیں۔‘‘\n\nزبیدہ خاموش ہوگئی، لیکن اس کے کانوں میں دیر تک کسی نوزائیدہ بچے کے رونے اور بلکنے کی آوازیں آتی رہیں۔ اس کو کئی بار یہ بھی محسوس ہوا کہ اس کی چھاتیوں میں دودھ اتر رہا ہے۔ اس کا ذکر اس نے اپنی ماں سے نہ کیا۔ لیکن جب وہ اندر اپنے کمرے میں تھوڑی دیر آرام کرنے کے لیے گئی تو اس نے قمیص اٹھا کر دیکھا کہ اس کی چھاتیاں ابھری ہوئی تھیں۔\n\nبچے کے رونے کی آواز اس کے کانوں میں اکثر ٹپکتی رہی۔۔۔ لیکن وہ اب سمجھ گئی تھی کہ یہ سب واہمہ ہے۔ حقیقت صرف یہ ہے کہ اس کے دل و دماغ پر مسلسل ہتھوڑے پڑتے رہے ہیں کہ اس کے بچہ کیوں نہیں ہوتا اور وہ خود بھی بڑی شدت سے وہ خلا محسوس کرتی ہے، جو کسی بیاہی عورت کی زندگی میں نہیں ہونا چاہیے۔\n\nوہ اب بہت اداس رہنے لگی۔۔۔ محلے میں بچے شور مچاتے تو اس کے کان پھٹنے لگتے۔ اس کا جی چاہتا کہ باہر نکل کر ان سب کا گلا گھونٹ ڈالے۔ اس کے شوہر علم الدین کو اولاد وولاد کی کوئی فکر نہیں تھی۔ وہ اپنے بیوپار میں مگن تھا۔ کپڑے کے بھاؤ روز بروز چڑھ رہے تھے۔ آدمی چونکہ ہوشیار تھا، اس لیے اس نے کپڑے کا کافی ذخیرہ جمع کر رکھا تھا۔ اب اس کی ماہانہ آمدن پہلے سے دوگنا ہو گئی تھی۔\n\nمگر اس آمدن کی زیادتی سے زبیدہ کو کوئی خوشی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ جب اس کا شوہر نوٹوں کی گڈی اس کو دیتا، تو اسے اپنی جھولی میں ڈال کر دیر تک انہیں لوری دیتی رہتی۔۔۔ پھر وہ انہیں اٹھا کر کسی خیالی جھولنے میں بٹھا دیتی۔\n\nایک دن علم الدین نے دیکھا کہ وہ نوٹ جو اس نے اپنی بیوی کو لا کر دیے تھے، دودھ کی پتیلی میں پڑے ہیں۔ وہ بہت حیران ہوا کہ یہ کیسے یہاں پہنچ گئے۔ چنانچہ اس نے زبیدہ سے پوچھا، ’’یہ نوٹ دودھ کی پتیلی میں کس نے ڈالے ہیں؟‘‘\n\nزبیدہ نے جواب دیا، ’’بچے بڑے شریر ہیں، یہ حرکت انہی کی ہوگی۔‘‘\n\nعلم الدین بہت متحیر ہوا، ’’لیکن یہاں بچے کہاں ہیں؟‘‘\n\nزبیدہ اپنے خاوند سے کہیں زیادہ متحیر ہوئی، ’’کیا ہمارے ہاں بچے نہیں۔۔۔ آپ بھی کیسی باتیں کرتے ہیں۔۔۔ ابھی اسکول سے واپس آتے ہوں گے۔۔۔ ان سے پوچھوں گی کہ یہ حرکت کس کی تھی۔‘‘\n\nعلم الدین سمجھ گیا، اس کی بیوی کے دماغ کا توازن قائم نہیں۔ لیکن اس نے اپنی ساس سے اس کا ذکر نہ کیا کہ وہ بہت کمزور عورت تھی۔وہ دل ہی دل میں زبیدہ کی دماغی حالت پر افسوس کرتا رہا۔ مگر اس کا علاج اس کے بس میں نہیں تھا۔ اس نے اپنے کئی دوستوں سے مشورہ لیا۔ ان میں سے چند نے اس سے کہا کہ پاگل خانے میں داخل کرادو۔ مگر اس کے خیال ہی سے اسے وحشت ہوتی تھی۔\n\nاس نے دکان پر جانا چھوڑ دیا۔ سارا وقت گھر رہتا اور زبیدہ کی دیکھ بھال کرتا کہ مبادا وہ کسی روز کوئی خطرناک حرکت کر بیٹھے۔\n\nاس کے گھر پر ہر وقت موجود رہنے سے زبیدہ کی حالت کسی قدر درست ہوگئی، لیکن اس کو اس بات کی بہت فکر تھی کہ دکان کا کاروبار کون چلا رہا ہے۔ کہیں وہ آدمی جس کو یہ کام سپرد کیا گیا ہے، غبن تو نہیں کررہا۔\n\nاس نے چنانچہ کئی مرتبہ اپنے خاوند سے کہا، ’’دکان پر تم کیوں نہیں جاتے؟‘‘\n\nعلم الدین نے اس سے بڑے پیار کے ساتھ کہا، ’’جانم۔۔۔ میں کام کرکے تھک گیا ہوں، اب تھوڑی دیر آرام کرنا چاہتاہوں۔‘‘\n\n’’مگر دکان کس کے سپرد ہے؟‘‘\n\n’’میرا نوکر ہے۔۔۔ وہ سب کام کرتا ہے۔‘‘\n\n’’کیا ایمان دار ہے؟‘‘\n\n’’ہاں، ہاں۔۔۔ بہت ایمان دار ہے۔۔۔ دمڑی دمڑی کا حساب دیتا ہے۔۔۔ تم کیوں فکر کرتی ہو۔‘‘\n\nزبیدہ نے بہت متفکر ہو کر کہا،’’مجھے کیوں فکر نہ ہوگی، بال بچے دار ہوں۔ مجھے اپنا تو کچھ خیال نہیں ،لیکن ان کا تو ہے۔۔۔ یہ آپ کا نوکر اگر آپ کا روپیہ مار گیا تو یہ سمجھیے کہ بچوں۔۔۔‘‘\n\nعلم الدین کی آنکھوں میں آنسو آگئے، ’’زبیدہ۔۔۔ ان کا اللہ مالک ہے۔ ویسے میرا نوکر بہت وفادارہے اور ایمان دار ہے۔ تمہیں کوئی تردّد نہیں کرنا چاہیے۔‘‘\n\n’’مجھے تو کسی قسم کا تردد نہیں ہے، لیکن بعض اوقات ماں کو اپنی اولاد کے متعلق سوچنا ہی پڑتا ہے۔‘‘\n\nعلم الدین بہت پریشان تھا کہ کیا کرے۔ زبیدہ سارا دن اپنے خیالی بچوں کے کپڑے سیتی رہتی۔ ان کی جرابیں دھوتی، ان کے لیے اونی سویٹر بنتی۔ کئی بار اس نے اپنے خاوند سے کہہ کر مختلف سائز کی چھوٹی چھوٹی سینڈلیں منگوائیں، جنہیں وہ ہر صبح پالش کرتی تھی۔\n\nعلم الدین یہ سب کچھ دیکھتا اور اس کا دل رونے لگتا۔ اور وہ سوچتا کہ شاید اس کے گناہوں کی سزا اس کو مل رہی ہے۔ یہ گناہ کیا تھے، اس کا علم، علم الدین کو نہیں تھا۔\n\nایک دن اس کا ایک دوست اس سے ملا جو بہت پریشان تھا۔ علم الدین نے اس سے پریشانی کی وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ اس کا ایک لڑکی سے معاشقہ ہوگیا تھا۔ اب وہ حاملہ ہوگئی۔ اسقاط کے تمام ذرائع استعمال کیے گئے ہیں مگر کامیابی نہیں ہوئی۔ علم الدین نے اس سے کہا،’’دیکھو، اسقاط و سقاط کی کوشش نہ کرو۔ بچہ پیدا ہونے دو۔‘‘\n\nاس کے دوست نے، جسے ہونے والے بچے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی،کہا،’’میں بچے کا کیا کروں گا؟‘‘\n\n’’تم مجھے دے دینا۔‘‘\n\nبچہ پیدا ہونے میں کچھ دیر تھی۔ اس دوران میں علم الدین نے اپنی بیوی زبیدہ کو یقین دلایا کہ وہ حاملہ ہے اور ایک ماہ کے بعد اس کے بچہ پیدا ہوجائے گا۔\n\nزبیدہ بار بار کہتی، ’’مجھے اب زیادہ اولاد نہیں چاہیے، پہلے ہی کیا کم ہیں۔‘‘\n\nعلم الدین خاموش رہتا۔\n\nاس کے دوست کی داشتہ کے لڑکا پیدا ہوا، جو علم الدین نے زبیدہ کے پاس، جو کہ سورہی تھی، لٹا دیا۔۔۔ اور اسے جگا کر کہا ’’زبیدہ، تم کب تک بے ہوش پڑی رہو گی۔ یہ دیکھو، تمہارے پہلو میں کیا ہے؟‘‘\n\n’’زبیدہ نے کروٹ بدلی اوردیکھا کہ اس کے ساتھ ایک ننھا منا بچہ ہاتھ پاؤں ماررہا ہے، علم الدین نے اس سے کہا، ’’لڑکا ہے۔ اب خدا کے فضل و کرم سے ہمارے پانچ بچے ہوگئے ہیں۔‘‘\n\nزبیدہ بہت خوش ہوئی، ’’یہ لڑکا کب پیدا ہوا؟‘‘\n\n’’صبح سات بجے۔‘‘\n\n’’اور مجھے اس کا علم ہی نہیں۔۔۔ میرا خیال ہے، درد کی وجہ سے میں بے ہوش ہوگئی ہوں گی۔‘‘\n\nعلم الدین نے کہا، ’’ہاں، کچھ ایسی ہی بات تھی، لیکن اللہ کے فضل و کرم سے سب ٹھیک ہوگیا۔‘‘\n\nدوسرے روز جب علم الدین اپنی بیوی کو دیکھنے گیا تو اس نے دیکھا کہ وہ لہولہان ہے۔ اس کے ہاتھ میں اس کا کٹ تھروٹ استرا ہے۔ وہ اپنی چھاتیاں کاٹ رہی ہے۔\n\nعلم الدین نے اس کے ہاتھ سے استرا چھین لیا، ’’یہ کیا کررہی ہو تم؟‘‘\n\nزبیدہ نے اپنے پہلو میں لیٹے ہوئے بچے کی طرف دیکھا اور کہا، ’’ساری رات بلکتا رہا ہے، لیکن میری چھاتیوں میں دودھ نہ اترا۔۔۔ لعنت ہے ایسی۔۔۔‘‘\n\nاس سے آگے، وہ اور کچھ نہ کہہ سکی۔ خون سے لتھڑی ہوئی ایک انگلی اس نے بچے کے منہ کے ساتھ لگا دی، اور ہمیشہ کی نیند سو گئی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D9%84%D8%A7%D8%AF"} {"title": "اولاً اس بے نشاں اور با نشاں کو عشق ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اولاً اس بے نشاں اور با نشاں کو عشق ہے\nبعد ازاں سر حلقۂ پیغمبراں کو عشق ہے\n\nلا فتیٰ الا علی ہے شان میں جس کی نزول\nدوستاں اس شاہ مرداں سے جواں کو عشق ہے\n\nپھر جو ہے باغ نبوت اور امامت کی بہار\nغنچۂ گل سبزۂ عنبر فشاں کو عشق ہے\n\nعرش و کرسی حور و غلماں اور ملائک خاص و عام\nعالم بالا کے سب باشندگاں کو عشق ہے\n\nہیں جو یہ چودہ طبق متحرک و ساکن سدا\nبے سخن ان سب زمین و آسماں کو عشق ہے\n\nمختلف ہیں اور ملے رہتے ہیں باہم روز و شب\nخاک باد و آتش و آب رواں کو عشق ہے\n\nہے جہاں میں جن سے روشن عدل کے گھر کا چراغ\nدم بدم ان بادشاہان جہاں کو عشق ہے\n\nاور خراساں اصفہان ایران اور توران کو\nپھر ہمارے گلشن ہندوستاں کو عشق ہے\n\nہیں جہاں تک سلسلے فقرا کے از کہہ تا بہ مہ\nعارفاں اور کاملاں اور عاشقاں کو عشق ہے\n\nکوہ تھراتے ہیں لرزیں ہیں زمین و آسمان\nعاشق مولا کی فریاد و فغاں کو عشق ہے\n\nہر طرف گل زار ہے سبزان اور آب رواں\nاپنی نظروں میں بہار گل فشاں کو عشق ہے\n\nوہ جو ہیں اس گلشن ہستی میں اب محو فنا\nان کے آگے موسم باد خزاں کو عشق ہے\n\nگرد کے مانند پھرتی ہیں پڑی اڑتی خراب\nلٹ گئی دست جنوں کی کارواں کو عشق ہے\n\nلوٹتے ہیں مست مے خانے کے در پر جا بجا\nجام و صہبا ساقی و پیر مغاں کو عشق ہے\n\nکل ہی نقش ذائقہ سن کر بھی ہم عامل رہے\nاے عزیزاں اس حیات رائیگاں کو عشق ہے\n\nخلقت کونین میں کیا جن و کیا انساں نظیرؔ\nوحشی و طائر زباں و بے زباں کو عشق ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%8B_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%A7_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92"} {"title": "اونٹ", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "لق و دق صحرا میں یا میدان میں\nیا عرب کے گرم ریگستان میں\nسایہ افگن ہے نہ واں کوئی چٹان\nسرد پانی کا نہ دریا کا نشان\nچلچلاتی دھوپ ہے اور چپ ہوا\nواں پرندہ بھی نہیں پر مارتا\nتو وہاں کے مرحلے کرتا ہے طے\nدن بہ دن اور ہفتہ ہفتہ پے بہ پے\nقیمتی اشیا ہیں تیری پشت پر\nتاجروں کا ریشم اور شاہوں کا زر\nتودہ تودہ تیرے اوپر لد رہا\nہے بھرا گویا جہاز پر بہا\nچند ہفتے جب کہ جاتے ہیں گزر\nاور تھکا دیتا ہے راکب کو سفر\nاونٹ! گھبراتا نہیں تو بار سے\nدیکھتا ہے اس کی جانب پیار سے\nگویا کہتا ہے کہ اے میرے سوار\nایک دن تو اور بھی ہمت نہ ہار\nہاں نہ بے دل ہو نہ رستے میں ٹھٹک\nصاف سر چشمہ ہے آگے دھر لپک\nمجھ کو آتی ہے ہوا سے بوئے آب\nناامیدی سے نہ کر تو اضطراب\nاونٹ تو کرتا ہے اس کی رہبری\nیوں بنا دیتا ہے راکب کو جری\nآخرش منزل پہ پہنچاتا ہے تو\nاور سوکھے خار و خس کھاتا ہے تو\nصبر سے کرتا ہے طے راہ دراز\nسچ کہا ہے تو ہے خشکی کا جہاز\nالغرض تو ہے حلیم و خوش خصال\nتربیت میں چھوٹے بچوں کی مثال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D9%86%D9%B9"} {"title": "اونچا مکان", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بے شمار آنکھوں کو چہرے میں لگائے ہوئے استادہ ہے تعمیر کا اک نقش عجیب\nاے تمدن کے نقیب!\nتیری صورت ہے مہیب!\nذہن انسانی کا طوفان کھڑا ہے گویا\nڈھل کے لہروں میں کئی گیت سنائی مجھے دیتے ہیں مگر\nان میں اک جوش ہے بیداد کا فریاد کا اک عکس دراز\nاور الفاظ میں افسانے ہیں بے خوابی کے\nکیا کوئی روح حزیں\nترے سینے میں بھی بے تاب ہے تہذیب کے رخشندہ نگیں\n\nگھٹ کے لہریں ترے گیتوں کی سنیں مجھ کو نظر آنے لگا\nایک تلخابہ کسی بادۂ بد رنگ کا اک ٹوٹے ہوئے ساغر میں\nنشۂ مے سے نظر دھندلی ہوئی جاتی ہے\nرات کی تیرہ فضا کیوں مجھے گھبراتی ہے؟\nرات کی تیرہ فضا میں تری آنکھوں کی چمک مجھ کو ڈرا سکتی نہیں ہے میں تو\nاس سے بھی بڑھ کے اندھیرے میں رہا کرتا تھا\nاور اس تیرگیٔ روح میں درخشاں تھے ستارے دکھ کے\nاور کبھی بھول میں ہر نجم درخشاں سے لپک اٹھتے تھے شعلے سکھ کے\nجیسے روزن سے ترے تان لپکتی ہوئی پھیلاتی ہے بازو اپنے\nجذب کر لیتا ہے پھر اس کو خلا کا دامن\nیاد آنے لگے تنہائی میں بہتے ہوئے آنسو اپنے\nوہی آنسو وہی شعلے سکھ کے\nلیکن اک خواب تھا اک خواب کی مانند لپک شالوں کی تھی\nمری تخئیل کے پر طائر زخمی کے پروں کے مانند\nپھڑپھڑاتے ہوئے بے کار لرز اٹھتے ہیں\nمرے اعضا کا تناؤ مجھے جینے ہی نہ دیتا تھا تڑپ کر ایک بار\nجستجو مجھ کو رہائی کی ہوا کرتی تھی\nمگر افسوس کہ جب درد دوا بننے لگا مجھ سے وہ پابندی ہٹی\n\nاپنے اعصاب کو آسودہ بنانے کے لیے\nبھول کر تیرگیٔ روح کو میں آ پہنچا\nاس بلندی کے قدم میں نے لیے\nجس پہ تو سیکڑوں آنکھوں کو جھپکتے ہوئے استادہ ہے\nترے بارے میں سنا رکھی تھیں لوگوں نے مجھے\nکچھ حکایات عجیب\nمیں یہ سنتا تھا ترے جسم گراں بار میں بستر ہے بچھا\nاور اک نازنیں لیٹی ہے وہاں تنہائی\nایک پھیکی سی تھکن بن کے گھسی جاتی ہے\nذہن میں اس کے مگر وہ بیتاب\nمنتظر اس کی ہے پردہ لرزے\nپیرہن ایک ڈھلکتا ہوا بادل بن جائے\nاور در آئے اک ان دیکھی انوکھی صورت\nکچھ غرض اس کو نہیں ہے اس سے\nدل کو بھاتی ہے نہیں بھاتی ہے\nآنے والے کی ادا\nاس کا ہے ایک ہی مقصود وہ استادہ کرے\nبحر اعصاب کی تعمیر کا اک نقش عجیب\nجس کی صورت سے کراہت آئے\nاور وہ بن جائے ترا مد مقابل پل میں\nذہن انسانی کا طوفان کھڑا ہو جائے\nاور وہ نازنیں بے ساختہ بے لاگ ارادے کے بغیر\nایک گرتی ہوئی دیوار نظر آنے لگے\nشب کے بے روح تماشائی کو\nبھول کر اپنی تھکن کا نغمہ\nمختصر لرزش چشم در سے\nریگ کے قصر کے مانند سبک سار کرے\nبحر اعصاب کی تعمیر کا اک نقش عجیب\nایک گرتی ہوئی دیوار کی مانند لچک کھا جائے\n\nیہ حکایات مرے ذہن میں اک بوئے خراماں بن کر\nجب کبھی چاہتی تھیں رقص کیا کرتی تھیں\nاور اب دیکھتا ہوں سیکڑوں آنکھوں میں تری\nایک ہی چشم درخشاں مجھے آتی ہے نظر\nکیا اسی چشم درخشاں میں ہے شعلہ سکھ کا؟\nہاتھ سے اپنے اب اس آنکھ کو میں بند کیا چاہتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D9%86%DA%86%D8%A7_%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86"} {"title": "اوپر نیچے اور درمیان (افسانہ)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "میاں صاحب: بہت دیرکے بعد آج مل بیٹھنے کا اتفاق ہوا ہے۔\n\nبیگم صاحبہ: جی ہاں!\n\nمیاں صاحب: مصروفیتیں۔۔۔ بہت پیچھے ہٹتا ہوں مگر نااہل لوگوں کا خیال کرکے قوم کی پیش کی ہوئی ذمہ داریاں سنبھالنی ہی پڑتی ہیں۔\n\nبیگم صاحبہ: اصل میں آپ ایسے معاملوں میں بہت نرم دل واقع ہوئے ہیں، بالکل میری طرح۔\n\nمیاں صاحب: ہاں! مجھے آپ کی سوشل ایکٹی وٹیزکا علم ہوتا رہتاہے۔ فرصت ملے تو کبھی اپنی وہ تقریریں بھجوا دیجئے گا جو پچھلے دنوں آپ نے مختلف موقعوں پر کی ہیں۔۔۔ میں فرصت کے اوقات میں ان کا مطالعہ کرنا چاہتاہوں۔\n\nبیگم صاحبہ: بہت بہتر۔\n\nمیاں صاحب: ہاں بیگم! وہ میں نے آپ سے اس بات کا ذکر کیا تھا!\n\nبیگم صاحبہ: کس بات کا؟\n\nمیاں صاحب: میرا خیال ہے، ذکرنہیں کیا۔۔۔ کل اتفاق سے میں منجھلے صاحبزادے کے کمرے میں جا نکلا، وہ لیڈی چٹرلیز لور پڑھ رہاتھا۔\n\nبیگم صاحبہ: وہ رسوائے زمانہ کتاب!\n\nمیاں صاحب: ہاں بیگم\n\nبیگم صاحبہ: آپ نے کیا کیا؟\n\nمیاں صاحب: میں نے اس سے کتاب چھین کر غائب کردی۔\n\nبیگم صاحبہ: بہت اچھا کیاآپ نے۔\n\nمیاں صاحب: اب میں سوچ رہاہوں کہ ڈاکٹر سے مشورہ کروں اور اس کی روزانہ غذا میں تبدیلی کرادوں۔\n\nبیگم صاحبہ: بڑا صحیح قدم اٹھائیں گے آپ۔\n\nمیاں صاحب: مزاج کیسا ہے آپ کا؟\n\nبیگم صاحبہ: ٹھیک ہے۔\n\nمیاں صاحب: میرا خیال تھا کہ آج آپ سے۔۔۔ درخواست کروں۔\n\nبیگم صاحبہ: اوہ! آپ بہت بگڑتے جا رہے ہیں۔\n\nمیاں صاحب: یہ سب آپ کی کرشمہ سازیاں ہیں۔\n\nبیگم صاحبہ: لیکن آپ کی صحت؟\n\nمیاں صاحب: صحت؟ اچھی ہے لیکن ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاؤں گا۔۔۔ اورآپ کی طرف سے بھی مجھے پورا اطمینان ہونا چاہیے۔\n\nبیگم صاحبہ: میں آج ہی مس سلڈھانا سے پوچھ لوں گی۔\n\nمیاں صاحب: اور میں ڈاکٹر جلال سے\n\nبیگم صاحبہ: قاعدے کے مطابق ایسا ہی ہونا چاہیے۔\n\nمیاں صاحب: اگر ڈاکٹر جلال نے اجازت دے دی؟\n\nبیگم صاحبہ: اگرمس سلڈھانا نے اجازت دے دی۔۔۔ مفلر اچھی طرح لپیٹ لیجئے۔ باہر سردی ہے۔\n\nمیاں صاحب: شکریہ\n\nڈاکٹر جلال: تم نے اجازت دے دی؟\n\nمس سلڈھانا: جی ہاں\n\nڈاکٹر جلال: میں نے بھی اجازت دے دی۔۔۔ حالانکہ شرارت کے طور پر۔۔۔\n\nمس سلڈھانا: حالانکہ شرارت کے طور پر میں بھی چاہتی تھی کہ اجازت نہ دوں۔\n\nڈاکٹر جلال: لیکن مجھے ترس آ گیا۔\n\nمس سلڈھانا: مجھےبھی۔\n\nڈاکٹر جلال: پورے ایک برس کے بعد وہ۔۔۔\n\nمس سلڈھانا: ہاں پورے ایک برس کے بعد۔\n\nڈاکٹر جلال: میری انگلیوں کے نیچے اس کی نبض تیز ہوگئی، جب میں نے اس کو اجازت دی۔\n\nمس سلڈھانا: اس کی بھی یہی کیفیت تھی۔\n\nڈاکٹر جلال: اس نے مجھ سے ڈرتے ہوئے کہا، ڈاکٹر! ایسا معلوم ہوتا ہے، میرا دل کمزور ہوگیا ہے۔۔۔ آپ کا رڈیوگرام لیجئے۔۔۔\n\nمس سلڈھانا: اس نے بھی مجھ سے یہی کہا۔\n\nڈاکٹر جلال: میں نے اس کے ٹیکہ لگا دیا۔\n\nمس سلڈھانا: میں نے بھی۔۔۔ صرف سادہ پانی کا۔\n\nڈاکٹر جلال: سادہ پانی بہترین چیز ہے۔\n\nمس سلڈھانا: جلال! اگر تم اس بیگم کے شوہر ہوتے؟\n\nڈاکٹر جلال: اگر تم اس میاں کی بیوی ہوتیں؟\n\nمس سلڈھانا: میرا کیریکٹر خراب ہوگیا ہوتا!\n\nڈاکٹر جلال: میراجنازہ اٹھ گیا ہوتا!\n\nمس سلڈھانا: یہ بھی تمہارے کیریکٹر کی خرابی کہلاتی۔\n\nڈاکٹر جلال: ہم جب بھی سوسائٹی کے ان الوؤں کو دیکھنے آتے ہیں، ہمارا کیریکٹر خراب ہو جاتا ہے۔\n\nمس سلڈھانا: آج بھی ہوگا؟\n\nڈاکٹر جلال: بہت زیادہ۔\n\nمس سلڈھانا: مگر مصیبت یہ ہے کہ ان کا لمبے لمبے وقفوں کے بعد ہوتا ہے۔\n\nبیگم صاحبہ: لیڈی چٹرلیز لور، یہ آپ نے تکیے کے نیچے کیوں رکھی ہوئی ہے؟\n\nمیاں صاحب: میں دیکھنا چاہتاتھا کہ یہ کتاب کتنی بے ہودہ اور واہیات ہے۔\n\nبیگم صاحبہ: میں بھی آپ کے ساتھ دیکھوں گی۔\n\nمیاں صاحب: میں جستہ جستہ دیکھوں گا، پڑھتا جاؤں گا۔ آپ بھی سنتی جایئے۔\n\nبیگم صاحبہ: بہت اچھا رہے گا۔\n\nمیاں صاحب: میں نے منجھلے صاحبزادے کی روزانہ غذا میں ڈاکٹر کےمشورے سے تبدیلیاں کرادی ہیں۔\n\nبیگم صاحبہ: مجھے یقین تھا کہ آپ نے اس معاملے میں غفلت نہیں برتی ہوگی۔\n\nمیاں صاحب: میں نے اپنی زندگی میں کبھی آج کا کام کل پر نہیں چھوڑا۔\n\nبیگم صاحبہ: میں جانتی ہوں۔۔۔ اور خاص کر آج کا کام توآپ کبھی۔۔۔\n\nمیاں صاحب: آپ کا مزاج کتنا شگفتہ ہے۔۔۔\n\nبیگم صاحبہ: یہ سب آپ کی کرشمہ سازیاں ہیں۔\n\nمیاں صاحب: میں بہت محظوظ ہوا ہوں۔۔۔ اگر آپ کی اجازت ہوتو۔۔۔\n\nبیگم صاحبہ: ٹھہریئے! کیا آپ نے دانت صاف کیے؟\n\nمیاں صاحب: جی ہاں! میں دانت صاف کر کے اور ڈیٹول کے غرارے کر کے آیا تھا۔\n\nبیگم صاحبہ: میں بھی\n\nمیاں صاحب: اصل میں ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے بنائے گئے تھے\n\nبیگم صاحبہ: اس میں کیا شک ہے\n\nمیاں صاحب: میں جستہ جستہ یہ بے ہودہ کتاب پڑھنا شروع کروں۔\n\nبیگم صاحبہ: ٹھہریئے! ذرا میری نبض دیکھئے۔\n\nمیاں صاحب: کچھ تیزچل رہی ہے۔۔۔ میر ی دیکھئے۔\n\nبیگم صاحبہ: آپ کی بھی تیز چل رہی ہے\n\nمیاں صاحب: وجہ؟\n\nبیگم صاحبہ: دل کی کمزوری!\n\nمیاں صاحب: یہی وجہ ہو سکتی ہے۔۔۔ لیکن ڈاکٹر جلال نے کہا تھا کوئی خاص بات نہیں۔\n\nبیگم صاحبہ: مس سلڈھانا نے بھی یہی کہا تھا۔\n\nمیاں صاحب: اچھی طرح امتحان کر کے اس نے اجازت دی تھی؟\n\nبیگم صاحبہ: بہت اچھی طرح امتحان کر کے اجازت دی تھی۔\n\nمیاں صاحب: تو میرا خیال ہے کوئی حرج نہیں\n\nبیگم صاحبہ: آپ بہتر سمجھتے ہیں۔۔۔ ایسا نہ ہو، آپ کی صحت۔۔۔\n\nمیاں صاحب: اور آپ کی صحت بھی۔۔۔\n\nبیگم صاحبہ: اچھی طرح سوچ سمجھ کر ہی قدم اُٹھانا چاہیے۔\n\nمیاں صاحب: مس سلڈھانا نے اس کا تو بندوبست کردیا ہے نا؟\n\nبیگم صاحبہ: کس کا۔۔۔؟ ہاں، ہاں، اس کا تو بندوبست کر دیا ہے اس نے۔\n\nمیاں صاحب: یعنی اس طرف سے تو پورا اطمینان ہے۔\n\nبیگم صاحبہ: جی ہاں!\n\nمیاں صاحب: ذرا اب دیکھئے نبض؟\n\nبیگم صاحبہ: اب تو۔۔۔ ٹھیک چل رہی ہے۔۔۔ میری؟\n\nمیاں صاحب: آپ کی بھی نور مل ہے۔\n\nبیگم صاحبہ: اس بے ہودہ کتاب کا کوئی پیرا تو پڑھیے۔\n\nمیاں صاحب: بہتر۔۔۔ نبض پھر تیز ہوگئی۔\n\nبیگم صاحبہ: میری بھی۔\n\nمیاں صاحب: نوکروں سے مطلوبہ سامان رکھوا دیا آپ نے کمرے میں؟\n\nبیگم صاحبہ: جی ہاں! سب چیزیں موجود ہیں۔\n\nمیاں صاحب: اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو میرا ٹمپریچر لے لیجئے۔\n\nبیگم صاحبہ: کیا آپ تکلیف نہیں کر سکتے۔۔۔ اسٹاپ واچ موجود ہے۔ نبض کی رفتار بھی دیکھ لیجئے۔\n\nمیاں صاحب: ہاں! یہ بھی نوٹ ہونی چاہیے۔\n\nبیگم صاحبہ: سملنگ سالٹ کہاں ہے؟\n\nمیاں صاحب: دوسری چیزوں کے ساتھ ہونا چاہیے۔\n\nبیگم صاحبہ: جی ہاں! پڑا ہے تپائی پر۔\n\nمیاں صاحب: کمرے کا ٹمپریچر میرا خیال ہے تھوڑا سا بڑھا دینا چاہیے۔\n\nبیگم صاحبہ: میرا بھی یہی خیال ہے۔\n\nمیاں صاحب: نقاہت زیادہ ہوگئی تو مجھے دوا دینا نہ بھولیے گا۔\n\nبیگم صاحبہ: میں کوشش کروں گی اگر۔۔۔\n\nمیاں صاحب: ہاں ہاں۔۔۔! بصورت دیگر آپ تکلیف نہ اُٹھایئے گا۔\n\nبیگم صاحبہ: آپ یہ صفحہ۔۔۔ یہ پورا صفحہ پڑھیے۔۔۔\n\nمیاں صاحب: سنیے!\n\nبیگم صاحبہ: یہ آپ کو چھینک کیوں آئی؟\n\nمیاں صاحب: معلوم نہیں۔\n\nبیگم صاحبہ: حیرت ہے۔\n\nمیاں صاحب: مجھے خود حیرت ہے۔\n\nبیگم صاحبہ: اوہ۔۔۔ میں نے کمرے کا ٹمپریچر بڑھا نے کے بجائے گھٹا دیا تھا۔۔۔ معافی چاہتی ہوں۔\n\nمیاں صاحب: یہ اچھا ہوا کہ چھینک آگئی اور بروقت پتہ چل گیا۔\n\nبیگم صاحبہ: مجھے بہت افسوس ہے۔\n\nمیاں صاحب: کوئی بات نہیں۔ بارہ قطرے برانڈی اس کی تلافی کردیں گے۔\n\nبیگم صاحبہ: ٹھہریئے۔۔۔! مجھے ڈالنے دیں۔ آپ سے گننے میں غلطی ہو جایا کرتی ہے۔\n\nمیاں صاحب: یہ تو درست ہے۔ آپ ڈال دیجئے۔\n\nبیگم صاحبہ: آہستہ آہستہ پیچھے\n\nمیاں صاحب: اس سے زیادہ آہستہ اور کیا ہوگا؟\n\nبیگم صاحبہ: طبیعت بحال ہوئی؟\n\nمیاں صاحب: ہورہی ہے۔\n\nبیگم صاحبہ: آپ تھوڑی دیر آرام کر لیں۔\n\nمیاں صاحب: ہاں۔۔۔ میں خود اس کی ضرورت محسوس کر رہا ہوں۔\n\nنوکر: کیا بات ہے، آج بیگم صاحبہ نظر نہیں آئیں؟\n\nنوکرانی: طبیعت ناساز ہے ان کی۔\n\nنوکر: میاں صاحب کی طبیعت بھی ناساز ہے۔\n\nنوکرانی: ہمیں معلوم تھا۔\n\nنوکر: ہاں! لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔\n\nنوکرانی: کیا؟\n\nنوکر: یہ قدرت کا تماشا۔۔۔ ہمیں تو آج بستر مرگ پر ہونا چاہیے تھا۔\n\nنوکرانی: کیسی باتیں منہ سے نکالتے ہو۔ بستر مرگ پرہوں وہ۔۔۔\n\nنوکر: نہ چھیڑو ان کے بستر مرگ کا ذکر۔۔۔ بڑا شاندار ہوگا۔۔۔ خواہ مخواہ میرا جی چاہے گا کہ اٹھا کر اپنی کوٹھری میں لے جاؤں۔\n\nنوکرانی: کہاں چلے؟\n\nنوکر: بڑھئی ڈھونڈنے جارہا ہوں۔۔۔ چار پائی اب بالکل جواب دے چکی ہے۔\n\nنوکرانی: ہاں! اس سے کہنا، مضبوط لکڑی لگائے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%88%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%8C%DA%86%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29"} {"title": "اَسرارِ پیدا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی\nہو جس کے جوانوں کی خودی صُورتِ فولاد\nناچیز جہانِ مہ و پرویں ترے آگے\nوہ عالَم مجبور ہے، تُو عالَمِ آزاد\nموجوں کی تپِش کیا ہے، فقط ذوقِ طلب ہے\nپنہاں جو صَدف میں ہے، وہ دولت ہے خدا داد\nشاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گِرتا\nپُر دَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ اُفتاد", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%8E%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%D9%90_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7"} {"title": "اَفرنگ زدہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ترا وجود سراپا تجلّیِ افرنگ\nکہ تُو وہاں کے عمارت گروں کی ہے تعمیر\nمگر یہ پیکرِ خاکی خودی سے ہے خالی\nفقط نیام ہے تُو، زرنگار و بے شمشیر!\n\nتری نگاہ میں ثابت نہیں خدا کا وجود\nمری نگاہ میں ثابت نہیں وجود ترا\nوجود کیا ہے، فقط جوہرِ خودی کی نمود\nکر اپنی فکر کہ جوہر ہے بے نمود ترا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%8E%D9%81%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%B2%D8%AF%DB%81"} {"title": "اَلْاَرْضُ للہ!", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "پالتا ہے بیج کو مٹّی کی تاریکی میں کون\nکون دریاؤں کی موجوں سے اُٹھاتا ہے سحاب؟\nکون لایا کھینچ کر پچھم سے بادِ سازگار\nخاک یہ کس کی ہے، کس کا ہے یہ نُورِ آفتاب؟\nکِس نے بھردی موتیوں سے خوشۂ گندم کی جیب\nموسموں کو کِس نے سِکھلائی ہے خُوئے انقلاب؟\nدِہ خُدایا! یہ زمیں تیری نہیں، تیری نہیں\nتیرے آبا کی نہیں، تیری نہیں، میری نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%8E%D9%84%D9%92%D8%A7%D9%8E%D8%B1%D9%92%D8%B6%D9%8F_%D9%84%D9%84%DB%81%21"} {"title": "اَہرامِ مصر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اس دشتِ جگر تاب کی خاموش فضا میں\nفطرت نے فقط ریت کے ٹیلے کیے تعمیر\nاَہرام کی عظمت سے نگُوں سار ہیں افلاک\nکس ہاتھ نے کھینچی اَبدِیّت کی یہ تصویر!\nفطرت کی غلامی سے کر آزاد ہُنَر کو\nصیّاد ہیں مردانِ ہُنر مند کہ نخچیر!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%8E%DB%81%D8%B1%D8%A7%D9%85%D9%90_%D9%85%D8%B5%D8%B1"} {"title": "اُس بزم میں ہر ایک سے کم تر نظر آیا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اُس بزم میں ہر ایک سے کم تر نظر آیا\nوہ حسن کہ خورشید کے عہدے سے بر آیا\n\nبے فائدہ ہے وہم کہ کیوں بے خبر آیا\nاس راہ سے جاتا تھا ہمارے بھی گھر آیا\n\nکچھ دور نہیں ان سے کہ نیرنج بتا دیں\nکیا فائدہ گر آنکھ سے لختِ جگر آیا\n\nگو کچھ نہ کہا، پر ہوئے دل میں متاثر\nشکوہ جو زباں پر مری آشفتہ تر آیا\n\nبے طاقتیِ شوق سے میں اٹھ ہی چکا تھا\nناگاہ وہ بے تاب مری قبر پر آیا\n\nبے قدر ہے مفلس شجرِ خشک کی مانند\nیاں درہم و دینار میں برگ و ثمر آیا\n\nحالِ دلِ صد چاک پہ کٹتا ہے کلیجہ\nہر پارہ اک الماس کا ٹکڑا نظر آیا\n\nدیکھے کہ جدائی میں ہے کیا حال، وہ بدظن\nاس واسطے شب گھر میں مرے بے خبر آیا\n\nکیا دیر ہے اے ساقیِ گلفام سحر ہے\nکیا عذر ہے اے زاہدِ خشک، ابرِ تر آیا\n\nاحوال میں ہیں شیفتہ کی مختلف اقوال\nپوچھیں گے، وہاں سے جو کوئی معتبر آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%8F%D8%B3_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%85_%D8%AA%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اُس وفا کی مجھ سے پھر امیدواری ہے عبث", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اُس وفا کی مجھ سے پھر امیدواری ہے عبث\nدل فریبی کی لگاوٹ، یہ تمہاری ہے عبث\n\nدشمنی کو جو کہ احساں جانتا ہو ناز سے\nاس ستم ایجاد سے امیدِ یاری ہے عبث\n\nغمزہ ہائے دوست بعد از مرگ بھی نظروں میں ہیں\nوہمِ راحت سے عدو کو بے قراری ہے عبث\n\nسرو میں کب پھل لگا، تاثیر کیا ہو آہ میں\nچشمِ تر کی صورتِ ابر اشک باری ہے عبث\n\nہم نے غافل پا کے تجھ کو اور کو دل دے دیا\nاے ستم گر اب تری غفلت شعاری ہے عبث\n\nہجر میں چرخ و اجل نے گر نہ کی یاری تو کیا\nدشمنوں سے شیفتہ امیدواری ہے عبث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%8F%D8%B3_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%A8%D8%AB"} {"title": "اُلو کا پٹھا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "کالی شلوار", "year": "1941", "text_ur": "قاسم صبح سات بجے لحاف سے باہر نکلا اور غسل خانے کی طرف چلا۔ راستے میں، یہ اس کو ٹھیک طور پر معلوم نہیں، سونے والے کمرے میں، صحن میں یا غسل خانے کے اندر اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ کسی کو الو کا پٹھا کہے۔ بس صرف ایک بار غصے میں یا طنزیہ انداز میں کسی کو الو کا پٹھا کہہ دے۔\n\nقاسم کے دل میں اس سے پہلے کئی بار بڑی بڑی انوکھی خواہشیں پیدا ہو چکی تھیں مگر یہ خواہش سب سے نرالی تھی۔ وہ بہت خوش تھا۔ رات اس کو بڑی پیاری نیند آئی تھی۔ وہ خود کو بہت تروتازہ محسوس کررہا تھا۔ لیکن پھر یہ خواہش کیسے اس کے دل میں داخل ہوگئی۔ دانت صاف کرتے وقت اس نے ضرورت سے زیادہ وقت صرف کیا جس کے باعث اس کے مسوڑھے چھل گئے۔ دراصل وہ سوچتا رہا کہ یہ عجیب وغریب خواہش کیوں پیدا ہوئی مگروہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔\n\nبیوی سے وہ بہت خوش تھا۔ ان میں کبھی لڑائی نہ ہوئی تھی، نوکروں پر بھی وہ ناراض نہیں تھا۔ اس لیے کہ غلام محمد اور نبی بخش دونوں خاموشی سے کام کرنے والے مستعد نوکر تھے، موسم بھی نہایت خوشگوار تھا، فروری کے سہانے دن تھے جن میں کنوار پنے کی تازگی تھی، ہوا خنک اور ہلکی، دن چھوٹے نہ راتیں لمبی، نیچرکا توازن بالکل ٹھیک تھا اور قاسم کی صحت بھی خوب تھی۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کسی کوبغیروجہ کے الو کا پٹھا کہنے کی خواہش اس کے دل میں کیوں کر پیدا ہوگئی۔\n\nقاسم نے اپنی زندگی کے اٹھائیس برسوں میں متعدد لوگوں کو الو کا پٹھا کہا ہوگا اور بہت ممکن ہے کہ اس سے بھی کڑے لفظ اس نے بعض موقعوں پر استعمال کیے ہوں اور گندی گالیاں بھی دی ہوں مگر اسے اچھی طرح یاد تھا کہ ایسے موقعوں پر خواہش بہت پہلے اس کے دل میں پیدا نہیں ہوئی تھی مگر اب اچانک طورپر اس نے محسوس کیا تھا کہ وہ کسی کو الو کا پٹھا کہنا چاہتا ہے اور یہ خواہش لمحہ بہ لمحہ شدت اختیار کرتی چلی گئی جیسے اس نے اگر کسی کو الو کا پٹھا نہ کہا تو بہت بڑا ہرج ہو جائے گا۔\n\nدانت صاف کرنے کے بعد اس نے چھلے ہوئے مسوڑھوں کو اپنے کمرے میں جا کر آئینے میں دیکھا۔ مگر دیر تک ان کو دیکھتے رہنے سے بھی وہ خواہش نہ دبی جو ایکا ایکی اس کے دل میں پیدا ہوگئی تھی۔قاسم منطقی قسم کا آدمی تھا۔ وہ بات کے تمام پہلوؤں پر غورکرنے کا عادی تھا۔ آئینہ میز پررکھ کروہ آرام کرسی پر بیٹھ گیا اور ٹھنڈے دماغ سے سوچنے لگا۔\n\n’’مان لیا کہ میرا کسی کو الو کا پٹھا کہنے کو جی چاہتا ہے۔۔۔ مگر یہ کوئی بات تو نہ ہوئی۔۔۔ میں کسی کو الو کا پٹھا کیوں کہوں؟ میں کسی سے ناراض بھی تو نہیں ہوں۔۔۔‘‘یہ سوچتے سوچتے اس کی نظر سامنے دروازے کے بیچ میں رکھے ہوئے حقے پر پڑی۔ ایک دم اس کے دل میں یہ باتیں پیدا ہوئیں، عجیب واہیات نوکر ہے۔ دروازے کے عین بیچ میں یہ حقہ ٹِکا دیا ہے۔ میں ابھی اس دروازے سے اندر آیا ہوں، اگر ٹھوکر سے بھری ہوئی چلم گر پڑتی تو پاانداز جوکہ مونج کا بنا ہوا ہے جلنا شروع ہو جاتا اور ساتھ ہی قالین بھی۔۔۔\n\nاس کے جی میں آئی کہ غلام محمد کو آواز دے۔ جب وہ بھاگا ہوا اس کے سامنے آجائے تو وہ بھرے ہوئے حقے کی طرف اشارہ کرکے اس سے صرف اتنا کہے،’’تم نرے الو کے پٹھے ہو۔‘‘ مگر اس نے تامل کیا اور سوچا یوں بگڑنا اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ اگر غلام محمد کو اب بلا کر الو کا پٹھا کہہ بھی دیا تو وہ بات پیدا نہ ہوگی اور پھر۔۔۔ اور پھر اس بچارے کا کوئی قصور بھی تو نہیں ہے۔ میں دروازے کے پاس بیٹھ کر ہی توہر روز حقّہ پیتا ہوں۔\n\nچنانچہ وہ خوشی جو ایک لمحہ کے لیے قاسم کے دل میں پیدا ہوئی تھی کہ اس نے الو کا پٹھا کہنے کے لیے ایک اچھا موقع تلاش کرلیا، غائب ہوگئی۔\n\nدفتر کے وقت میں ابھی کافی دیر تھی۔ پورے دو گھنٹے پڑے تھے، دروازے کے پاس کرسی رکھ کر قاسم اپنے معمول کے مطابق بیٹھ گیا اور حقّہ نوشی میں مصروف ہوگیا۔\n\nکچھ دیر تک وہ سوچ بچار کیے بغیر حقے کا دھواں پیتا رہا اور دھوئیں کے انتشار کو دیکھتا رہا۔ لیکن جونہی وہ حقے کو چھوڑ کر کپڑے تبدیل کرنے کے لیے ساتھ والے کمرے میں گیا تو اس کے دل میں وہی خواہش نئی تازگی کے ساتھ پیدا ہوئی۔قاسم گھبرا گیا۔ بھئی حد ہوگئی۔۔۔ الو کا پٹھا۔۔۔ میں کسی کو الو کا پٹھا کیوں کہوں اور بفرضِ محال میں نے کسی کو الو کا پٹھا کہہ بھی دیا تو کیا ہوگا۔۔۔قاسم دل ہی دل میں ہنسا۔ وہ صحیح الدماغ آدمی تھا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ خواہش جو اس کے دل میں پیدا ہوئی ہے بالکل بیہودہ اور بے سروپا ہے لیکن اس کا کیا علاج تھا کہ دبانے پر وہ اور بھی زیادہ ابھر آتی تھی۔قاسم اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ بغیر کسی وجہ کے الو کا پٹھا نہ کہے گا۔ خواہ یہ خواہش صدیوں تک اس کے دل میں تلملاتی رہے، شاید اسی احساس کے باعث یہ خواہش جو بھٹکی ہوئی چمگادڑ کی طرح اس کے روشن دل میں چلی آئی تھی، اس قدر تڑپ رہی تھی۔\n\nپتلون کے بٹن بند کرتے وقت جب اس نے دماغی پریشانی کے باعث اوپر کا بٹن نچلے کاج میں داخل کردیا تو وہ جھلا اٹھا۔ بھئی ہوگا۔۔۔ یہ کیا بیہودگی ہے۔۔۔ دیوانہ پن نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔ الو کا پٹھا کہو۔۔۔الو کا پٹھا کہو اور یہ پتلون کے سارے بٹن مجھے پھر سے بند کرنے پڑیں گے۔ لباس پہن کر وہ میز پر آبیٹھا۔ اس کی بیوی نے چائے بنا کرپیالی اس کے سامنے رکھ دی اور توس پر مکھن لگانا شروع کردیا۔ روزانہ معمول کی طرح ہر چیز ٹھیک ٹھاک تھی، توس اتنے اچھے سنکے ہوئے تھے کہ بسکٹ کی طرح کرکرے تھے اور ڈبل روٹی بھی اعلیٰ قسم کی تھی، خمیر میں سے خوشبو آرہی تھی، مکھن بھی صاف تھا، چائے کی کیتلی بے داغ تھی۔ اس کی ہتھی کے ایک کونے پر قاسم ہر روز میل دیکھا کرتا تھا۔ مگر آج وہ دھبہ بھی نہیں تھا۔\n\nاس نے چائے کا ایک گھونٹ پیا۔ اس کی طبیعت خوش ہوگئی۔ خالص دارجلنگ کی چائے تھی، جس کی مہک پانی میں بھی برقرار تھی۔ دودھ کی مقدار بھی صحیح تھی۔\n\nقاسم نے خوش ہو کر اپنی بیوی سے کہا،’’آج چائے کا رنگ بہت ہی پیارا ہے اور بڑے سلیقے سے بنائی گئی ہے۔‘‘ بیوی تعریف سن کر خوش ہوئی۔ مگر اس نے منہ بنا کر ایک ادا سے کہا،’’جی ہاں، بس آج اتفاق سے اچھی بن گئی ہے ورنہ ہر روز تو آپ کو نیم گھول کے پلائی جاتی ہے۔۔۔ مجھے سلیقہ کہاں آتا ہے۔۔۔ سلیقے والیاں تو وہ موئی ہوٹل کی چھوکریاں ہیں جن کے آپ ہر وقت گن گایا کرتے ہیں۔‘‘\n\nیہ تقریر سن کر قاسم کی طبیعت مکدر ہوگئی۔ ایک لمحہ کے لیے اس کے جی میں آئی کہ چائے کی پیالی میز پر الٹ دے اور وہ نیم جو اس نے اپنے بچے کی پھنسیاں دھونے کے لیے غلام محمد سے منگوائی تھی اور سامنے بڑے طاقچے میں پڑی تھی گھول کرپی لے مگر اس نے بردباری سے کام لیا’’یہ عورت میری بیوی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی بات بہت ہی بھونڈی ہے مگر ہندوستان میں سب لڑکیاں بیوی بن کر ایسی ہی بھونڈی باتیں کرتی ہیں۔ اور بیوی بننے سے پہلے اپنے گھروں میں وہ اپنی ماؤں سے کیسی باتیں سنتی ہیں؟ بالکل ایسی ادنیٰ قسم کی باتیں اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ عورتوں کو عمومی زندگی میں اپنی حیثیت کی خبر ہی نہیں۔۔۔ میری بیوی تو پھر بھی غنیمت ہے یعنی صرف ایک ادا کے طور پر ایسی بھونڈی بات کہہ دیتی ہے، اس کی نیت نیک ہوتی ہے۔بعض عورتوں کا تو یہ شعار ہوتا ہے کہ ہر وقت بکواس کرتی رہتی ہیں۔\n\nیہ سوچ کر قاسم نے اپنی نگاہیں اس طاقچے پر سے ہٹا لیں جس میں نیم کے پتے دھوپ میں سوکھ رہے تھے اور بات کا رخ بدل کر اس نے مسکراتے ہوئے کہا،’’دیکھو، آج نیم کے پانی سے بچے کی ٹانگیں ضرور دھو دینا، نیم زخموں کے لیے بڑی اچھی ہوتی ہے۔۔۔ اور دیکھو، تم موسمبیوں کا رس ضرور پیا کرو۔۔۔ میں دفتر سے لوٹتے ہوئے ایک درجن اور لے آؤں گا۔ یہ رس تمہاری صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔‘‘ بیوی مسکرا دی، ’’آپ کو تو بس ہر وقت میری ہی صحت کا خیال رہتا ہے۔ اچھی بھلی تو ہوں، کھاتی ہوں، پیتی ہوں، دوڑتی ہوں، بھاگتی ہوں۔۔۔ میں نے جو آپ کے لیے بادام منگوا کے رکھے ہیں۔۔۔ بھئی آج دس بیس آپ کی جیب میں ڈالے بغیر نہ رہوں گی۔۔۔ لیکن دفتر میں کہیں بانٹ نہ دیجیے گا۔‘‘\n\nقاسم خوش ہوگیا کہ چلو موسمبیوں کے رس اور باداموں نے اس کی بیوی کے مصنوعی غصے کو دور کردیا اور یہ مرحلہ آسانی سے طے ہوگیا۔ دراصل قاسم ایسے مرحلوں کو آسانی کے ساتھ ان طریقوں ہی سے طے کیا کرتا تھا۔ جو اس نے پڑوس کے پرانے شوہروں سے سیکھے تھے اور اپنے گھر کے ماحول کے مطابق ان میں تھوڑا بہت ردوبدل کرلیا تھا۔\n\nچائے سے فارغ ہوکر اس نے جیب سے سگریٹ نکال کر سلگایا اور اٹھ کر دفتر جانے کی تیاری کرنے ہی والا تھا کہ پھر وہی خواہش نمودار ہوگئی۔ اس مرتبہ اس نے سوچا اگر میں کسی کو الو کا پٹھا کہہ دوں تو کیا ہرج ہے۔ زیرِلب بالکل ہولے سے کہہ دوں، الو۔۔۔ کا۔۔۔ پٹھا۔۔۔ تو میرا خیال ہے کہ مجھے دلی تسکین ہو جائے گی۔ یہ خواہش میرے سینے میں بوجھ بن کربیٹھ گئی ہے کیوں نہ اس کو ہلکا کردوں۔۔۔ دفتر میں۔اس کو صحن میں بچے کا کموڈ نظر آیا۔ یوں صحن میں کموڈ رکھنا سخت بدتمیزی تھی اور خصوصاً اس وقت جب کہ وہ ناشتہ کر چکا تھا اور خوشبودار کر کرے توس اور تلے ہوئے انڈوں کا ذائقہ ابھی تک اسکے منہ میں تھا۔۔۔ اس نے زور سے آواز دی،’’ غلام محمد!‘‘\n\nقاسم کی بیوی جو ابھی تک ناشتہ کررہی تھی بولی،’’غلام محمد باہر گوشت لینے گیا ہے۔۔۔ کوئی کام تھا آپ کو اس سے؟‘‘ ایک سیکنڈ کے اندر اندر قاسم کے دماغ میں بہت سی باتیں آئیں کہہ دوں، یہ غلام محمد الو کا پٹھا ہے۔۔۔ اور یہ کہہ کر جلدی سے باہر نکل جاؤں۔۔۔ نہیں۔۔۔ وہ خود تو موجود ہی نہیں، پھر۔۔۔ بالکل بیکار ہے۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ بچارے غلام محمد ہی کو کیوں نشانہ بنایا جائے۔ اس کو تو میں ہر وقت الو کا پٹھا کہہ سکتا ہوں۔قاسم نے ادھ جلا سگریٹ گرادیا اور بیوی سے کہا،’’ کچھ نہیں، میں اس سے یہ کہنا چاہتا تھا کہ دفتر میں میرا کھانا بے شک ڈیڑھ بجے لے آیا کرے۔۔۔ تمہیں کھانا جلدی بھیجنے میں بہت تکلیف کرنا پڑتی ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے بیوی کی طرف دیکھا جو فرش پر اس کے گرائے ہوئے سگریٹ کو دیکھ رہی تھی۔ قاسم کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ یہ سگریٹ اگر بجھ گیا اور یہاں پڑا رہا تو اس کا بچہ رینگتا رینگتا آئے گا اور اسے اٹھا کر منہ میں ڈال لے گاجس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے پیٹ میں گڑ بڑ مچ جائے گی۔ قاسم نے سگریٹ کا ٹکڑا اٹھا کر غسل خانے کی موری میں پھینک دیا۔ یہ بھی اچھا ہوا کہ میں نے جذبات سے مغلوب ہو کرغلام محمد کو الو کا پٹھا نہیں کہہ دیا۔ اس سے اگر ایک غلطی ہوئی ہے تو ابھی ابھی مجھ سے بھی تو ہوئی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ میری غلطی زیادہ شدید تھی۔\n\nقاسم بڑا صحیح الدماغ آدمی تھا۔ اسے اس بات کا احساس تھا کہ وہ صحیح خطوط پر غور و فکر کرنے والا انسان ہے مگر اس احساس نے اس کے اندر برتری کا خیال کبھی پیدا نہیں کیا تھا۔ یہاں پر پھر اس کی صحیح الدماغی کو دخل تھا کہ وہ احساس برتری کو اپنے اندر دبا دیا کرتا تھا۔\n\nموری میں سگریٹ کا ٹکڑا پھینکنے کے بعد اس نے بلا ضرورت صحن میں ٹہلنا شروع کردیا۔ وہ دراصل کچھ دیر کے لیے بالکل خالی الذہن ہوگیا تھا۔\n\nاس کی بیوی ناشتہ کا آخری توس کھا چکی تھی۔ قاسم کو یوں ٹہلتے دیکھ کر وہ اس کے پاس آئی اور کہنے لگی،’’کیا سوچ رہے ہیں آپ۔‘‘ قاسم چونک پڑا۔ ’’کچھ نہیں۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔ دفتر کا وقت ہوگیا کیا؟‘‘ یہ لفظ اس کی زبان سے نکلے اور دماغ میں وہی الو کا پٹھا کہنے کی خواہش تڑپنے لگی۔\n\nاس کے جی میں آئی کہ بیوی سے صاف صاف کہہ دے کہ یہ عجیب و غریب خواہش اس کے دل میں پیدا ہوگئی ہے جس کا سر ہے نہ پیر، بیوی ضرورسنے گی اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس کو بیوی کا ساتھ دینا پڑے گا، چنانچہ یوں ہنسی ہنسی میں الو کا پٹھا کہنے کی خواہش اس کے دماغ سے نکل جائے گی۔ مگر اس نے غور کیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ بیوی ہنسے گی اور میں خود بھی ہنسوں گالیکن ایسا نہ ہو کہ یہ بات مستقل مذاق بن جائے۔۔۔ ایسا ہوسکتا ہے۔۔۔ ہو سکتا ہے کیا، ضرور ہو جائے گا اور بہت ممکن ہے کہ انجام کار ناخوشگواری پیدا ہو، چنانچہ اس نے اپنی بیوی سے کچھ نہ کہا اور ایک لمحہ تک اس کی طرف یونہی دیکھتا رہا۔\n\nبیوی نے بچے کا کموڈ اٹھا کر کونے میں رکھ دیا اور کہا،’’آج صبح آپ کے برخوردار نے وہ ستایا ہے کہ اللہ کی پناہ۔۔۔ بڑی مشکلوں کے بعد میں نے اسے کموڈ پر بٹھایا۔ اس کی مرضی یہ تھی کہ بستر ہی کو خراب کرے۔۔۔ آخر لڑکا کس کا ہے؟‘‘ قاسم کو اس قسم کی چخ پسند تھی۔ ایسی باتوں میں وہ تیکھے مزاح کی جھلک دیکھتا تھا۔ مسکرا کر اس نے بیوی سے کہا،’’لڑکا میرا ہی ہے مگر۔۔۔ میں نے تو آج تک کبھی بستر خراب نہیں کیا۔ یہ عادت اس کی اپنی ہوگی۔‘‘ بیوی نے اس کی بات کا مطلب نہ سمجھا۔ قاسم کو مطلقاً افسوس نہ ہوا، اس لیے کہ ایسی باتیں وہ صرف اپنے منہ کا ذائقہ درست رکھنے کے لیے کیا کرتا تھا۔ وہ اور بھی خوش ہوا جب اس کی بیوی نے جواب نہ دیا اور خاموش ہوگئی۔ ’’اچھا، بھئی میں اب چلتا ہوں۔ خدا حافظ!‘‘\n\nیہ لفظ جو ہر روز اس کے منہ سے نکلتے تھے آج بھی اپنی پرانی آسانی کے ساتھ نکلے اور قاسم دروازہ کھول کر باہر چل دیا۔\n\nکشمیری گیٹ سے نکل کر جب وہ نکلسن پارک کے پاس سے گزر رہا تھا تو اسے ایک داڑھی والا آدمی نظر آیا۔ ایک ہاتھ میں کُھلی ہوئی شلوار تھامے وہ دوسرے ہاتھ سے استنجا کررہا تھا۔ اس کو دیکھ کر قاسم کے دل میں پھر الو کا پٹھا کہنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ لو بھئی، یہ آدمی ہے جس کو الو کا پٹھا کہہ دینا چاہیے یعنی جو صحیح معنوں میں الو کا پٹھا ہے۔۔۔ ذرا انداز ملاحظہ ہو۔۔۔ کس انہماک سے ڈرائی کلین کیے جارہا ہے۔۔۔ جیسے کوئی بہت اہم کام سرانجام پا رہا ہے۔۔۔ لعنت ہے۔\n\nلیکن قاسم صحیح الدماغ آدمی تھا۔ اس نے تعجیل سے کام نہ لیا اور تھوڑی دیر غور کیا۔ میں اس فٹ پاتھ پر جارہا ہوں اور وہ دوسرے فٹ پاتھ پر، اگر میں نے بلند آواز میں بھی اس کو الو کا پٹھا کہا تو وہ چونکے گا نہیں۔ اس لیے کہ کم بخت اپنے کام میں بہت بری طرح مصروف ہے۔ چاہیے تو یہ کہ اس کے کان کے پاس زور سے نعرہ بلند کیا جائے اور جب وہ چونک اٹھے تو اسے بڑے شریفانہ طور پر سمجھایا جائے، قبلہ آپ الو کے پٹھے ہیں۔۔۔ لیکن اس طرح بھی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوگا۔ چنانچہ قاسم نے اپنا ارادہ ترک کردیا۔\n\nاسی اثنا میں اس کے پیچھے سے ایک سائیکل نمودار ہوئی۔ کالج کی ایک لڑکی اس پر سوار تھی۔ اس لیے کہ پیچھے بستہ بندھا تھا۔ آنا فاناً اس لڑکی کی ساڑھی فری وہیل کے دانتوں میں پھنسی، لڑکی نے گھبرا کر اگلے پہیے کا بریک دبایا۔ ایک دم سائیکل بے قابو ہوئی اور ایک جھٹکے کے ساتھ لڑکی سائیکل سمیت سڑک پر گر پڑی۔\n\nقاسم نے آگے بڑھ کر لڑکی کو اٹھانے میں عجلت سے کام نہ لیا۔ اس لیے کہ اس نے حادثہ کے رد عمل پر غور کرنا شروع کردیا تھا مگر جب اس نے دیکھا کہ لڑکی کی ساڑی فری وہیل کے دانتوں نے چبا ڈالی ہے اور اس کا بورڈر بہت بری طرح ان میں الجھ گیا ہے تو وہ تیزی سے آگے بڑھا۔ لڑکی کی طرف دیکھے بغیر اس نے سائیکل کا پچھلا پہیہ ذرا اونچا اٹھایا تاکہ اسے گھما کرساڑی کو وہیل کے دانتوں میں سے نکال لے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ پہیہ گھمانے سے ساڑھی کچھ اس طرح تاروں کی لپیٹ میں آئی کہ ادھر پیٹی کوٹ کی گرفت سے باہر نکل آئی۔ قاسم بوکھلا گیا۔ اس کی اس بوکھلاہٹ نے لڑکی کو بہت زیادہ پریشان کردیا۔ زور سے اس نے ساڑی کو اپنی طرف کھینچا۔ فری وہیل کے دانتوں میں ایک ٹکڑا اڑا رہ گیا اور ساڑی باہر نکل آئی۔\n\nلڑکی کا رنگ لال ہوگیا۔ قاسم کی طرف اس نے غضبناک نگاہوں سے دیکھا اور بھنچے ہوئے لہجہ میں کہا،’’اُلو کا پٹھا۔‘‘\n\nممکن ہے کچھ دیر لگی ہومگر قاسم نے ایسا محسوس کیا کہ لڑکی نے جھٹ پٹ نہ جانے اپنی ساڑی کو کیا کیا۔ اور ایک دم سائیکل پر سوار ہو کریہ جا وہ جا، نظروں سے غائب ہوگئی۔ قاسم کو لڑکی کی گالی سن کر بہت دکھ ہوا۔ خاص کر اس لیے کہ وہ یہی گالی خود کسی کو دینا چاہتا تھا۔ مگر وہ بہت صحیح الدماغ آدمی تھا۔ ٹھنڈے دل سے اس نے حادثہ پر غور کیا اور اس لڑکی کو معاف کردیا۔ ’’اس کومعاف ہی کرنا پڑے گا۔ اس لیے کہ اس کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں۔ عورتوں کو سمجھنا بہت مشکل کام ہے اور ان عورتوں کو سمجھنا تو اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جو سائیکل پر سے گری ہوئی ہوں۔ لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اس نے اپنی لمبی جراب میں اوپر ران کے پاس تین چار کاغذ کیوں اڑس رکھے تھے؟‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%8F%D9%84%D9%88_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D9%B9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اُمِّید", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مقابلہ تو زمانے کا خوب کرتا ہُوں\nاگرچہ مَیں نہ سپاہی ہُوں نے امیرِ جنُود\nمجھے خبر نہیں یہ شاعری ہے یا کچھ اور\nعطا ہُوا ہے مجھے ذکر و فکر و جذب و سرود\nجبینِ بندۂ حق میں نمود ہے جس کی\nاُسی جلال سے لبریز ہے ضمیرِ وجود\nیہ کافری تو نہیں، کافری سے کم بھی نہیں\nکہ مردِ حق ہو گرفتارِ حاضر و موجود\nغمیں نہ ہو کہ بہت دَور ہیں ابھی باقی\nنئے ستاروں سے خالی نہیں سِپہرِ کبود", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%8F%D9%85%D9%90%D9%91%DB%8C%D8%AF"} {"title": "اُن کو دسشمن سے ہے محبت خاص", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اُن کو دسشمن سے ہے محبت خاص\nیہ ہمارا ہے ثمرہ اخلاص\n\nوجد میں لائے اہلِ درد ہمیں\nباد کے ساتھ خاک ہے رقاص\n\nدل کے ٹکڑے اُڑا، نہیں ہے گناہ\nنفس کو قتل کر، نہیں ہے قصاص\n\nحسنِ باطن، زبونیِ ظاہر\nہے مئے ناب اور جامِ رصاص\n\nکیا مزا تم سے آشنائی کا\nما شربتم مدامۃ الاخلاص\n\nہجر زہر اور وصل ہے تریاق\nزہر و تریاق کا جدا ہے خواص\n\nقسمت اُس کی، خبر نہ ہو جس کو\nعام اس دور میں ہے بادہ خاص\n\nدام سے تیرے موسمِ گل میں\nبلبلوں کو نہیں ہوائے خلاص\n\nشیفتہ نے ہماری داد نہ دی\nسچ ہے القاص لا یحب القاص", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%8F%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D8%B3%D8%B4%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D8%A7%D8%B5"} {"title": "اُٹھ کہ خورشید کا سامانِ سفر تازہ کریں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اُٹھ کہ خورشید کا سامانِ سفر تازہ کریں\nنفَسِ سوختۂ شام و سحَر تازہ کریں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%8F%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں\nنئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے\n\nالکشن، ممبری، کونسل، صدارت\nبنائے خوب آزادی نے پھندے\n\nمیاں نجّار بھی چھیلے گئے ساتھ\nنہایت تیز ہیں یورپ کے رندے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%8F%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%A9_%D8%AF%D9%88_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اُٹھے نہ چھوڑ کے ہم آستانِ بادہ فروش", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اُٹھے نہ چھوڑ کے ہم آستانِ بادہ فروش\nطلسمِ ہوش ربا ہے دکانِ بادہ فروش\n\nکھلا جو پردہ روئے حقائقِ اشیاء\nکھلی حقیقتِ رازِ نہانِ بادہ فروش\n\nفسردہ طینتی و کاہلی سے ہم نے کبھی\nشباب میں بھی نہ دیکھی دکانِ بادہ فروش\n\nیقین ہے کہ مئے ناب مفت ہاتھ آئے\nیہ جی میں ہے کہ بنوں میہمانِ بادہ فروش\n\nقدح سے دل ہے مراد اور مے سے عشق غرض\nمیں وہ نہیں کہ نہ سمجھوں زبانِ بادہ فروش\n\nعجب نہیں کہ کسی روز وہ بھی آ نکلیں\nکہ ہے گزرگہِ خلق، آستانِ بادہ فروش\n\nمے و سرود کے اسرار آپ آ کر دیکھ\nنہ پوچھ مجھ سے کہ ہوں رازدانِ بادہ فروش\n\nشراب دیکھ کہ کس رنگ کی پلاتا ہے\nجز اس کے اور نہیں امتحانِ بادہ فروش\n\nتری شمیم نے گلزار کو کیا برباد\nتری نگاہ نے کھولی دکانِ بادہ فروش\n\nعبث ہے شیفتہ ہر اک سے پوچھتے پھرنا\nملے گا بادہ کشوں سے نشانِ بادہ فروش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%8F%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%B4"} {"title": "اِبلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "لا کر بَرہمنوں کو سیاست کے پیچ میں\nزُناّریوں کو دَیرِ کُہن سے نکال دو\nوہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا\nرُوحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو\nفکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیّلات\nاسلام کو حِجاز و یمن سے نکال دو\nافغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج\nمُلّا کو اُن کے کوہ و دمن سے نکال دو\nاہلِ حرم سے اُن کی روایات چھِین لو\nآہُو کو مرغزارِ خُتن سے نکال دو\nاقبالؔ کے نفَس سے ہے لالے کی آگ تیز\nایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%90%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%D9%81%D8%B1%D8%B2%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85"} {"title": "اِبلیس کی عرضداشت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کہتا تھا عزازیل خداوندِ جہاں سے\nپرکالۂ آتش ہُوئی آدم کی کفِ خاک!\nجاں لاغر و تن فربہ و ملبُوس بدن زیب\nدل نزع کی حالت میں، خِرد پُختہ و چالاک!\nناپاک جسے کہتی تھی مشرق کی شریعت\nمغرب کے فقیہوں کا یہ فتویٰ ہے کہ ہے پاک!\nتجھ کو نہیں معلوم کہ حُورانِ بہشتی\nویرانیِ جنت کے تصوّر سے ہیں غم ناک؟\nجمہور کے اِبلیس ہیں اربابِ سیاست\nباقی نہیں اب میری ضرورت تہِ افلاک!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%90%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%B1%D8%B6%D8%AF%D8%A7%D8%B4%D8%AA"} {"title": "اِبلیس کی مجلسِ شُوریٰ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "اِبلیس\nیہ عناصِر کا پُرانا کھیل، یہ دُنیائے دُوں\nساکنانِ عرشِ اعظم کی تمنّاؤں کا خوں!\nاس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز\nجس نے اس کا نام رکھّا تھا جہانِ کاف و نوں\nمیں نے دِکھلایا فرنگی کو مُلوکیّت کا خواب\nمَیں نے توڑا مسجد و دَیر و کلیِسا کا فسوں\nمَیں نے ناداروں کو سِکھلایا سبق تقدیر کا\nمَیں نے مُنعِم کو دیا سرمایہ داری کا جُنوں\nکون کر سکتا ہے اس کی آتشِ سوزاں کو سرد\nجس کے ہنگاموں میں ہو اِبلیس کا سوزِ دروں\nجس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند\nکون کر سکتا ہے اُس نخلِ کُہن کو سرنِگُوں!\n\nپہلا مُشیر\nاس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ اِبلیسی نظام\nپُختہ تر اس سے ہوئے خُوئے غلامی میں عوام\nہے اَزل سے ان غریبوں کے مقدّر میں سجود\nان کی فطرت کا تقاضا ہے نمازِ بے قیام\nآرزو اوّل تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں\nہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام\nیہ ہماری سعیِ پیہم کی کرامت ہے کہ آج\nصوفی و مُلّا مُلوکیّت کے بندے ہیں تمام\nطبعِ مشرق کے لیے موزُوں یہی افیون تھی\nورنہ ’قوّالی‘ سے کچھ کم تر نہیں ’علمِ کلام‘!\nہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا\nکُند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام\nکس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمانِ جدید؟\n’ہے جہاد اس دَور میں مردِ مسلماںپر حرام!\n\nدُوسرا مُشیر\nخیر ہے سُلطانیِ جمہور کا غوغا کہ شر\nتُو جہاں کے تازہ فِتنوں سے نہیں ہے با خبر!\n\nپہلا مُشیر\nہُوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے\nجو ملوکیّت کا اک پردہ ہو، کیا اُس سے خطر!\nہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہُوری لباس\nجب ذرا آدم ہُوا ہے خود شناس و خود نگر\nکاروبارِ شہریاری کی حقیقت اور ہے\nیہ وجودِ مِیر و سُلطاں پر نہیں ہے منحصَر\nمجلسِ ملّت ہو یا پرویز کا دربار ہو\nہے وہ سُلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر\nتُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہُوری نظام\nچہرہ روشن، اندرُوں چنگیز سے تاریک تر!\n\nتیسرا مُشیر\nروحِ سُلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب\nہے مگر کیا اُس یہُودی کی شرارت کا جواب؟\nوہ کلیمِ بے تجلّی، وہ مسیحِ بے صلیب\nنیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب\nکیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہِ پردہ سوز\nمشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روزِ حساب!\nاس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فساد\nتوڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب!\n\nچوتھا مُشیر\nتوڑ اس کا رومۃُالکُبریٰ کے ایوانوں میں دیکھ\nآلِ سیزر کو دِکھایا ہم نے پھر سیزر کا خواب\nکون بحرِ روم کی موجوں سے ہے لِپٹا ہُوا\n’گاہ بالد چوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب‘\n\nتیسرا مُشیر\nمَیں تو اُس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں\nجس نے افرنگی سیاست کو کِیا یوں بے حجاب\n\nپانچواں مُشیر\n( اِبلیس کو مخاطَب کرکے)\nاے ترے سوزِ نفس سے کارِ عالم اُستوار!\nتُو نے جب چاہا، کِیا ہر پردگی کو آشکار\nآبِ و گِل تیری حرارت سے جہانِ سوز و ساز\nابلہِ جنّت تری تعلیم سے دانائے کار\nتجھ سے بڑھ کر فطرتِ آدم کا وہ محرم نہیں\nسادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگار\nکام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طواف\nتیری غیرت سے ابَد تک سرنِگون و شرمسار\nگرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحِر تمام\nاب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار\nوہ یہودی فِتنہ گر، وہ روحِ مزدک کا بُروز\nہر قبا ہونے کو ہے اس کے جُنوں سے تار تار\nزاغِ دشتی ہو رہا ہے ہمسرِ شاہین و چرغ\nکتنی سُرعت سے بدلتا ہے مزاجِ روزگار\nچھا گئی آشُفتہ ہو کر وسعتِ افلاک پر\nجس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مُشتِ غبار\nفِتنۂ فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج\nکانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جُوئبار\nمیرے آقا! وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے\nجس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار\n\nاِبلیس\n( اپنے مُشیروں سے)\nہے مرے دستِ تصرّف میں جہانِ رنگ و بو\nکیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسمانِ تُو بتُو\nدیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرق\nمَیں نے جب گرما دیا اقوامِ یورپ کا لہُو\nکیا امامانِ سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ\nسب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہُو\nکارگاہِ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے\nتوڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو!\nدستِ فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک\nمزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو\nکب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کُوچہ گرد\nیہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشُفتہ مُو\nہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اُس اُمّت سے ہے\nجس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو\nخال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ\nکرتے ہیں اشکِ سحر گاہی سے جو ظالم وضُو\nجانتا ہے، جس پہ روشن باطنِ ایّام ہے\nمزدکِیّت فتنہ فردا نہیں، اسلام ہے!\n\nجانتا ہُوں میں یہ اُمّت حاملِ قُرآں نہیں\nہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دِیں\nجانتا ہُوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں\nبے یدِ بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں\nعصرِ حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف\nہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں\nالحذَر! آئینِ پیغمبر سے سَو بار الحذَر\nحافظِ نامُوسِ زن، مرد آزما، مرد آفریں\nموت کا پیغام ہر نوعِ غلامی کے لیے\nنے کوئی فُغفور و خاقاں، نے فقیرِ رہ نشیں\nکرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک صاف\nمُنعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں\nاس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب\nپادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں!\nچشمِ عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئِیں تو خوب\nیہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ یقیں\nہے یہی بہتر الٰہیات میں اُلجھا رہے\nیہ کتابُ اللہ کی تاویلات میں اُلجھا رہے\n\nتوڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسمِ شش جہات\nہو نہ روشن اُس خدا اندیش کی تاریک رات\nابن مریم مر گیا یا زندۂ جاوید ہے\nہیں صفاتِ ذاتِ حق، حق سے جُدا یا عینِ ذات؟\nآنے والے سے مسیحِ ناصری مقصود ہے\nیا مجدّد، جس میں ہوں فرزندِ مریم کے صفات؟\nہیں کلامُ اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم\nاُمّتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟\nکیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دَور میں\nیہ الٰہیات کے ترشے ہُوئے لات و منات؟\nتم اسے بیگانہ رکھّو عالمِ کردار سے\nتا بساطِ زندگی میں اس کے سب مُہرے ہوں مات\nخیر اسی میں ہے، قیامت تک رہے مومن غلام\nچھوڑ کر اَوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات\nہے وہی شعر و تصوّف اس کے حق میں خوب تر\nجو چھُپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات\nہر نفَس ڈرتا ہُوں اس اُمّت کی بیداری سے مَیں\nہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات\nمست رکھّو ذکر و فکرِ صُبحگاہی میں اسے\nپختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%90%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3%D9%90_%D8%B4%D9%8F%D9%88%D8%B1%DB%8C%D9%B0"} {"title": "اِجتہاد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہند میں حکمتِ دیں کوئی کہاں سے سیکھے\nنہ کہیں لذّتِ کردار، نہ افکارِ عمیق\nحلقۂ شوق میں وہ جُرأتِ اندیشہ کہاں\nآہ محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق!\nخود بدلتے نہیں، قُرآں کو بدل دیتے ہیں\nہُوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!\nان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب\nکہ سِکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%90%D8%AC%D8%AA%DB%81%D8%A7%D8%AF"} {"title": "اِرتقا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز\nچراغِ مُصطفویؐ سے شرارِ بُولہبی\n\nحیات شُعلہ مزاج و غیور و شور انگیز\nسرِشت اس کی ہے مشکل کشی، جفا طلبی\n\nسکُوتِ شام سے تا نغمۂ سحَرگاہی\nہزار مرحلہ ہائے فعانِ نیم شبی\n\nکشا کشِ زم و گرما، تپ و تراش و خراش\nز خاکِ تِیرہ درُوں تا بہ شیشۂ حلبی\n\nمقامِ بست و شکست و فشار و سوز و کشید\nمیانِ قطرۂ نیسان و آتشِ عِنبی\n\nاسی کشاکشِ پیہم سے زندہ ہیں اقوام\nیہی ہے رازِ تب و تابِ مِلّتِ عربی\n\n“مغاں کہ دانۂ انگور آب می سازند\nستارہ می شکنند، آفتاب می سازند”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%90%D8%B1%D8%AA%D9%82%D8%A7"} {"title": "اِسلام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "رُوح اسلام کی ہے نُورِ خودی، نارِ خودی\nزندگانی کے لیے نارِ خودی نور و حضور\nیہی ہر چیز کی تقویم، یہی اصلِ نمود\nگرچہ اس رُوح کو فِطرت نے رکھا ہے مستور\nلفظِ ’اسلام، سے یورپ کو اگر کد ہے تو خیر\nدوسرا نام اسی دِین کا ہے ’فقرِ غیور‘!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%90%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "اِشاعتِ اسلام فرنگستان میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ضمیر اس مَدنِیّت کا دِیں سے ہے خالی\nفرنگیوں میں اخوّت کا ہے نسَب پہ قیام\nبلند تر نہیں انگریز کی نگاہوں میں\nقبولِ دینِ مسیحی سے برہَمن کا مقام\nاگر قبول کرے، دینِ مصطفیؐ، انگریز\nسیاہ روز مسلماں رہے گا پھر بھی غلام", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%90%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D9%90_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D9%81%D8%B1%D9%86%DA%AF%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اِشتراکِیت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "قوموں کی روِش سے مجھے ہوتا ہے یہ معلوم\nبے سُود نہیں رُوس کی یہ گرمیِ رفتار\nاندیشہ ہُوا شوخیِ افکار پہ مجبور\nفرسُودہ طریقوں سے زمانہ ہُوا بیزار\nانساں کی ہوَس نے جنھیں رکھّا تھا چھُپا کر\nکھُلتے نظر آتے ہیں بتدریج وہ اَسرار\nقُرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں\nاللہ کرے تجھ کو عطا جِدّتِ کردار\nجو حرفِ ’قُلِ العَفو‘ میں پوشیدہ ہے اب تک\nاس دَور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%90%D8%B4%D8%AA%D8%B1%D8%A7%DA%A9%D9%90%DB%8C%D8%AA"} {"title": "اِلتجائے مُسافر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا\nبڑی جناب تری، فیض عام ہے تیرا\nستارے عشق کے تیری کشش سے ہیں قائم\nنظامِ مہر کی صورت نظام ہے تیرا\nتری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی\nمسیح و خضر سے اُونچا مقام ہے تیرا\nنہاں ہے تیری محبّت میں رنگِ محبوبی\nبڑی ہے شان، بڑا احترام ہے تیرا\nاگر سیاہ دلم، داغِ لالہ زارِ تو ام\nوگر کُشادہ جبینم، گُلِ بہارِ تو ام\n\nچمن کو چھوڑ کے نِکلا ہوں مثلِ نکہتِ گُل\nہُوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کو\nچلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے\nشرابِ علم کی لذّت کشاں کشاں مجھ کو\nنظر ہے ابرِ کرم پر، درختِ صحرا ہُوں\nکِیا خدا نے نہ محتاجِ باغباں مجھ کو\nفلک نشیں صفَتِ مہر ہُوں زمانے میں\nتری دعا سے عطا ہو وہ نردباں مجھ کو\nمقام ہم سفروں سے ہو اس قدر آگے\nکہ سمجھے منزلِ مقصود کارواں مجھ کو\nمری زبانِ قلم سے کسی کا دل نہ دُکھے\nکسی سے شکوہ نہ ہو زیرِ آسماں مجھ کو\nدلوں کو چاک کرے مثلِ شانہ جس کا اثر\nتری جناب سے ایسی مِلے فغاں مجھ کو\nبنایا تھا جسے چُن چُن کے خار و خس میں نے\nچمن میں پھر نظر آئے وہ آشیاں مجھ کو\nپھر آ رکھوں قدمِ مادر و پدر پہ جبیں\nکِیا جنھوں نے محبّت کا رازداں مجھ کو\nوہ شمعِ بارگہِ خاندانِ مرتضوی\nرہے گا مثلِ حرم جس کا آستاں مجھ کو\nنفَس سے جس کے کھِلی میری آرزو کی کلی\nبنایا جس کی مروّت نے نکتہ داں مجھ کو\nدعا یہ کر کہ خداوندِ آسمان و زمیں\nکرے پھر اس کی زیارت سے شادماں مجھ کو\nوہ میرا یوسفِ ثانی، وہ شمعِ محفلِ عشق\nہُوئی ہے جس کی اخوّت قرارِ جاں مجھ کو\nجَلا کے جس کی محبّت نے دفترِ من و تو\nہوائے عیش میں پالا، کِیا جواں مجھ کو\nریاضِ دہر میں مانندِ گُل رہے خنداں\nکہ ہے عزیز تر از جاں وہ جانِ جاں مجھ کو\nشگفتہ ہو کے کلی دل کی پھُول ہو جائے!\nیہ التجائے مسافر قبول ہو جائے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%90%D9%84%D8%AA%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%D9%8F%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1"} {"title": "اِلہام اور آزادی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہو بندۂ آزاد اگر صاحبِ اِلہام\nہے اس کی نِگہ فکر و عمل کے لیے مہمیز\nاس کے نفَسِ گرم کی تاثیر ہے ایسی\nہو جاتی ہے خاکِ چَمنِستاں شرر آمیز\nشاہِیں کی ادا ہوتی ہے بُلبل میں نمودار\nکس درجہ بدل جاتے ہیں مُرغانِ سحَر خیز!\nاُس مردِ خود آگاہ و خدامست کی صحبت\nدیتی ہے گداؤں کو شکوہِ جم و پرویز\nمحکوم کے اِلہام سے اللہ بچائے\nغارت گرِ اقوام ہے وہ صُورتِ چنگیز", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%90%D9%84%DB%81%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C"} {"title": "اِمامت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "تُو نے پُوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے\nحق تجھے میری طرح صاحبِ اَسرار کرے\nہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق\nجو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے\nموت کے آئِنے میں تجھ کو دکھا کر رُخِ دوست\nزندگی تیرے لیے اور بھی دُشوار کرے\nدے کے احساسِ زیاں تیرا لہُو گرما دے\nفقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے\nفتنۂ ملّتِ بیضا ہے امامت اُس کی\nجو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%90%D9%85%D8%A7%D9%85%D8%AA"} {"title": "اِنتداب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "کہاں فرشتۂ تہذیب کی ضرورت ہے\nنہیں زمانۂ حاضر کو اس میں دُشواری\nجہاں قِمار نہیں، زن تُنک لباس نہیں\nجہاں حرام بتاتے ہیں شغلِ مے خواری\nبدن میں گرچہ ہے اک رُوحِ ناشکیب و عمیق\nطریقۂ اَب و جد سے نہیں ہے بیزاری\nجَسوُر و زیرک و پُردم ہے بچّۂ بدوی\nنہیں ہے فیضِ مکاتب کا چشمۂ جاری\nنظروَرانِ فرنگی کا ہے یہی فتویٰ\nوہ سرزمیں مَدنیّت سے ہے ابھی عاری!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%90%D9%86%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D8%A8"} {"title": "اِنسان اور بزمِ قُد رت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "صبح خورشیدِ دُرَخشاں کو جو دیکھا میں نے\nبزمِ معمورۂ ہستی سے یہ پُوچھا میں نے\nپرتوِ مہر کے دم سے ہے اُجالا تیرا\nسیمِ سیّال ہے پانی ترے دریاؤں کا\nمہر نے نور کا زیور تجھے پہنایا ہے\nتیری محفل کو اسی شمع نے چمکایا ہے\nگُل و گُلزار ترے خُلد کی تصویریں ہیں\nیہ سبھی سُورۂ ’وَالشمَّس‘ کی تفسیریں ہیں\nسُرخ پوشاک ہے پھُولوں کی، درختوں کی ہری\nتیری محفل میں کوئی سبز، کوئی لال پری\nہے ترے خیمۂ گردُوں کی طِلائی جھالر\nبدلیاں لال سی آتی ہیں اُفق پر جو نظر\nکیا بھلی لگتی ہے آنکھوں کو شفق کی لالی\nمئے گُلرنگ خُمِ شام میں تُو نے ڈالی\nرُتبہ تیرا ہے بڑا، شان بڑی ہے تیری\nپردۂ نور میں مستور ہے ہر شے تیری\nصبح اک گیت سراپا ہے تری سطوت کا\nزیرِ خورشید نشاں تک بھی نہیں ظلمت کا\nمَیں بھی آباد ہوں اس نور کی بستی میں مگر\nجل گیا پھر مری تقدیر کا اختر کیونکر؟\nنور سے دُور ہوں ظلمت میں گرفتار ہوں میں\nکیوں سیَہ روز، سیَہ بخت، سیَہ کار ہوں میں؟\n\nمَیں یہ کہتا تھا کہ آواز کہیں سے آئی\nبامِ گردُوں سے و یا صحنِ زمیں سے آئی\nہے ترے نور سے وابستہ مری بود و نبود\nباغباں ہے تری ہستی پئے گُلزارِ وجود\nانجمن حُسن کی ہے تُو، تری تصویر ہوں میں\nعشق کا تُو ہے صحیفہ، تری تفسیر ہوں میں\nمیرے بگڑے ہوئے کاموں کو بنایا تُو نے\nبار جو مجھ سے نہ اٹھّا وہ اُٹھایا تُو نے\nنورِ خورشید کی محتاج ہے ہستی میری\nاور بے منّتِ خورشید چمک ہے تری\nہو نہ خورشید تو ویراں ہو گُلستاں میرا\nمنزلِ عیش کی جا نام ہو زنداں میرا\nآہ، اے رازِ عیاں کے نہ سمجھے والے!\nحلقۂ دامِ تمنّا میں اُلجھنے والے\nہائے غفلت کہ تری آنکھ ہے پابندِ مجاز\nناز زیبا تھا تجھے، تُو ہے مگر گرمِ نیاز\nتُو اگر اپنی حقیقت سے خبردار رہے\nنہ سیَہ روز رہے پھر نہ سیَہ کار رہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%90%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%B2%D9%85%D9%90_%D9%82%D9%8F%D8%AF_%D8%B1%D8%AA"} {"title": "اِنقلاب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "نہ ایشیا میں نہ یورپ میں سوز و سازِ حیات\nخودی کی موت ہے یہ، اور وہ ضمیر کی موت\nدِلوں میں ولولۂ انقلاب ہے پیدا\nقریب آگئی شاید جہانِ پِیر کی موت!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%90%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8"} {"title": "اٹھ جائے گر یہ بیچ سے پردہ حجاب کا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھ جائے گر یہ بیچ سے پردہ حجاب کا\nدریا ہی پھر تو نام ہے ہر اک حباب کا\n\nکیوں چھوڑتے ہو درد تہ جام مے کشو\nذرہ ہے یہ بھی آخر اسی آفتاب کا\n\nایسی ہوا میں پاس نہ ساقی نہ جام مے\nرونا بجا ہے حال پہ میرے سحاب کا\n\nہونا تھا زندگی ہی میں منہ شیخ کا سیاہ\nاس عمر میں ہے ورنہ مزا کیا خضاب کا\n\nاس دشت پر سراب میں بہکے بہت پہ حیف\nدیکھا تو دو قدم پہ ٹھکانا تھا آب کا\n\nزاہد مریض عشق پہ ہو شرب مے حرام\nبارے یہ مسئلہ ہے تری کس کتاب کا\n\nجوں سرمہ کیوں نہ چشم میں قائمؔ کی ہو جگہ\nآخر وہ خاک پا ہے شہ بو تراب کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DB%8C%DA%86_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اٹھ صبح ہوئی مرغ چمن نغمۂ سرا دیکھ", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھ صبح ہوئی مرغ چمن نغمۂ سرا دیکھ\nنور سحر و حسن گل و لطف ہوا دیکھ\n\nدو چار فرشتوں پہ بلا آئے گی نا حق\nاے غیرت ناہید نہ ہو نغمہ سرا دیکھ\n\nمنت سے مناتے ہیں مجھے میں نہیں منتا\nاوضاع ملک دیکھ اور اطوار‌ گدا دیکھ\n\nگر بو الہوسی یوں تجھے باور نہیں آتی\nاک مرتبہ اغیار کے قابو میں تو آ دیکھ\n\nاتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت\nدامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ\n\nاک دم کے نہ ملنے پہ نہیں ملتے ہیں مجھ سے\nاے شیفتہؔ مایوسیٔ امید فضا دیکھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%BA_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%86%D8%BA%D9%85%DB%82_%D8%B3%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE"} {"title": "اٹھ چکا دل مرا زمانے سے", "poet_page": "مصنف:اشرف علی فغاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھ چکا دل مرا زمانے سے\nاڑ گیا مرغ آشیانے سے\n\nدیکھ کر دل کو مڑ گئی مژگاں\nتیر خالی پڑا نشانے سے\n\nچشم کو نقش پا کروں کیونکر\nدور ہو خاک آستانے سے\n\nہم نے پایا تو یہ صنم پایا\nاس خدائی کے کارخانے سے\n\nتیری زنجیر زلف سے نکلے\nیہ توقع نہ تھی دوانے سے\n\nاے فغاںؔ درد دل سنوں کب تک\nاڑ گئی نیند اس فسانے سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%86%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92"} {"title": "اٹھ کے لوگوں سے کنارے آئیے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھ کے لوگوں سے کنارے آئیے\nکچھ ہمیں کہنا ہے پیارے آئیے\n\nگر اجازت ہو تو پروانہ کی طرح\nصدقہ ہونے کو تمہارے آئیے\n\nمدتوں سے آرزو یہ دل میں ہے\nایک دن تو گھر ہمارے آئیے\n\nکچھ تو کی تاثیر نالہ نے مرے\nآئے تم مدت میں بارے آئیے\n\nآپ کی کل یاد میں بیدارؔ کو\nگنتے گزری رات تارے آئیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "اٹھ گئے یاں سے اپنے ہم دم تو", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھ گئے یاں سے اپنے ہم دم تو\nہاتھ ملتے ہی رہ گئے ہم تو\n\nیار آیا ہے دیکھ لوں اس کو\nاے اجل دم لے تو کوئی دم تو\n\nمونس تازہ ہیں یہ درد و الم\nمدتوں کا رفیق ہے غم تو\n\nاپنا عاشق نہ جان تو مجھ کو\nاس کو جانے ہے ایک عالم تو\n\nبے حلاوت نہیں خط لب یار\nفی الحقیقت شکر ہے یہ سم تو\n\nدل بھی بہہ جائے گا ترے ہم راہ\nکاروان سرشک ٹک تھم تو\n\nکیوں رکھوں داغ دل پر اے ؔجوشش\nداغ کو بہہ کرے ہے مرہم تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%AF%D9%85_%D8%AA%D9%88"} {"title": "اٹھئے تو کہاں جائیے جو کچھ ہے یہیں ہے", "poet_page": "مصنف:سہا مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھئے تو کہاں جائیے جو کچھ ہے یہیں ہے\nباہر ترے گھر کے تو نہ دنیا ہے نہ دیں ہے\n\nہم ہیں کہ سر نقش قدم سیکڑوں سجدے\nوہ ہے کہ جہاں دیکھیے بس چیں بہ جبیں ہے\n\nصحرا میں پھراتی ہے مجھے خانہ خرابی\nیہ ڈھونڈ رہا ہوں کہ مرا گھر بھی یہیں ہے\n\nآتی نہیں نزدیک خیالوں کے یہ دنیا\nوہ بزم بھی یا رب کوئی فردوس بریں ہے\n\nتا حد تخیل فقط اک جلوہ ہے یا دل\nدنیا میں ہماری نہ فلک ہے نہ زمیں ہے\n\nجی بھر کے ذرا دیکھ تو لیں حسن کے جلوے\nپھر کس کو انہیں چھوڑ کے جینے کا یقیں ہے\n\nوہ درد دروں جسم میں یوں پھیل گیا ہے\nپڑتا ہے جہاں ہاتھ سمجھتا ہوں یہیں ہے\n\nرہتا ہوں سہاؔ اہل حرم میں بھی نمایاں\nہوتے ہیں اشارے یہ خرابات نشیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "اٹھا لے جائیں گلشن سے کدھر ہم آشیاں اپنا", "poet_page": "مصنف:وحیدالدین احمد وحید", "kind": "poetry", "section": "غزل > انتخاب وحید (1939)", "year": "1939", "text_ur": "اٹھا لے جائیں گلشن سے کدھر ہم آشیاں اپنا\nہوا ہے عین فصل گل میں دشمن باغباں اپنا\n\nکوئی شب اور وہ رشک قمر ہے مہماں اپنا\nدکھا لے چار دن کی چاندنی یہ بھی سماں اپنا\n\nنہیں ہیں کون سی جا موت کی حسرت میں سرگرداں\nفلک کرتا ہے وعدہ دیکھیے پورا کہاں اپنا\n\nبرے دن میں زمیں کب پاؤں کے نیچے ٹھہرتی ہے\nکیا کرتے ہیں شکوہ ہم نہیں ہے آسماں اپنا\n\nچمن نازاں ہے کیا اپنی بہار چند روزہ پر\nلیے جاتا ہے دل شوق بہار جاوداں اپنا\n\nپلک کو دے کے جنبش پھر گئی ہم سے جو آنکھ ان کی\nہوا پر اڑ گئی کشتی اٹھا کر بادباں اپنا\n\nنہیں ہوش و خرد کی برہمی سودائے گیسو میں\nاندھیری رات میں یہ لٹ رہا ہے کارواں اپنا\n\nبنایا دونوں عالم سے جدا اک اور ہی عالم\nجو پوچھا بے خودی سے ایک دن نام و نشاں اپنا\n\nسمجھ رکھو وہیں وہ خود نما بھی جلوہ گر ہوگا\nصفائے دل دکھاتی ہوگی آئینہ جہاں اپنا\n\nحلاوت سے مزے سے لطف و شیرینی سے مملو ہے\nزباں اپنی سخن اپنا کلام اپنا بیاں اپنا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "اٹھا کر ناز سے برقع دکھا کر روئے زیبا کو", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھا کر ناز سے برقع دکھا کر روئے زیبا کو\nتماشا کر دیا دلبر نے مجھ محو تماشا کو\n\nمناسب تھی جو جا بس اس میں رکھے تحفۂ دلبر\nنگہ میں یاس کو حسرت کو دل میں سر میں سودا کو\n\nدکھاتی ہے مرے اشکوں کی طغیانی مجھے کیا کچھ\nحباب دل کبھی دیکھا کبھی امواج دریا کو\n\nخیال روئے زیبا میں تو دامان سحر دیکھا\nشب فرقت تصور کر لیا زلف چلیپا کو\n\nمریض ہجر تیرا میہماں ہے اب کوئی دم کا\nدکھائے وقت آخر نبض اپنی کیا مسیحا کو\n\nدل بیمار میں گھر کر لیا ہے درد نے اپنا\nالٰہی میں رکھوں کس جا ان ارمان و تمنا کو\n\nتمہیں تو اے صنم منظور اپنی پردہ پوشی تھی\nدکھائی طور سینا پر تجلی کس نے موسیٰ کو\n\nخجل کیسا کیا ہے دیدہ و دل نے فدائی کے\nسبو کو جام کو مینا کو اور ساغر کو صہبا کو\n\nچراغ عشق روشن کر دیا فرہاد و مجنوں نے\nکیا آباد اس نے کوہ کو اور اس نے صحرا کو\n\nرہا ویران بعد از مرگ حافظ ایک مدت تک\nکیا آباد جا کر ہم نے گل گشت مصلےٰ کو\n\nمرے پہلو کو موسیٰ دیکھ کر حیرت سے کہتے ہیں\nچھپایا کس طرح دل میں جمیلہؔ اس تجلیٰ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B2%DB%8C%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%D9%88"} {"title": "اٹھا کے ناز سے دامن بھلا کدھر کو چلے", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھا کے ناز سے دامن بھلا کدھر کو چلے\nادھر تو دیکھیے بہر خدا کدھر کو چلے\n\nمری نگاہوں میں دونوں جہاں ہوئے تاریک\nیہ آپ کھول کے زلف دوتا کدھر کو چلے\n\nابھی تو آئے ہو جلدی کہاں ہے جانے کی\nاٹھو نہ پہلو سے ٹھہرو ذرا کدھر کو چلے\n\nخفا ہو کس پہ بھنویں کیوں چڑھی ہیں خیر تو ہے\nیہ آپ تیغ پہ دھر کر جلا کدھر کو چلے\n\nمسافران عدم کچھ کہو عزیزوں سے\nابھی تو بیٹھے تھے ہے ہے بھلا کدھر کو چلے\n\nچڑھی ہیں تیوریاں کچھ ہے مژہ بھی جنبش میں\nخدا ہی جانے یہ تیغ ادا کدھر کو چلے\n\nگیا جو میں کہیں بھولے سے ان کے کوچے میں\nتو ہنس کے کہنے لگے ہیں رساؔ کدھر کو چلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "اٹھا ہے ابر جوش کا عالم لیے ہوئے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھا ہے ابر جوش کا عالم لیے ہوئے\nبیٹھا ہوں میں بھی دیدۂ پر نم لیے ہوئے\n\nساقی کی چشم مست کا عالم نہ پوچھیے\nاک اک نگاہ ہے کئی عالم لیے ہوئے\n\nشبنم نہیں گلوں پہ یہ قطرے ہیں اشک کے\nگزرا ہے کوئی دیدۂ پر نم لیے ہوئے\n\nطے کر رہا ہوں عشق کی دشوار منزلیں\nآہ دراز و گریۂ پیہم لیے ہوئے\n\nاٹھ اے نقاب یار کہ بیٹھے ہیں دیر سے\nکتنے غریب دیدۂ پر نم لیے ہوئے\n\nسنتا ہوں ان کی بزم میں چھلکیں گے آج جام\nمیں بھی چلا ہوں دیدۂ پر نم لیے ہوئے\n\nموتی کی قدر سب کو ہے پھولوں کو دیکھیے\nکیا ہنس رہے ہیں قطرۂ شبنم لیے ہوئے\n\nجوش جنوں میں لطف تصور نہ پوچھیے\nپھرتے ہیں ساتھ ساتھ انہیں ہم لیے ہوئے\n\nدل کی لگی نہ ان سے بجھی آج تک جلیلؔ\nدریا ہیں گرچہ دیدۂ پر نم لیے ہوئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "اٹھائیں گے کوئی تازہ قیامت تن کے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:رفیع احمد عالی", "kind": "poetry", "section": "غزل > یادگار عالی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "اٹھائیں گے کوئی تازہ قیامت تن کے بیٹھے ہیں\nبگاڑیں گے ہزاروں گھر کہ وہ بن ٹھن کے بیٹھے ہیں\n\nہمارے قتل سے ناحق ہیں نادم اپنے گھر جائیں\nجھکائے سر عبث اب سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں\n\nاٹھایا ہجر میں طوفان کیا کیا چشم گریاں نے\nیہ دیکھو بام و در کیسے مرے مسکن کے بیٹھے ہیں\n\nقسم کھائی تھی ملنے کی عدو کے کچھ تو شرماؤ\nیہ تم بیٹھے ہو یا پہلو میں ہم دشمن کے بیٹھے ہیں\n\nنکلنے ہی نہیں دیتے ہیں کانٹے دشت وحشت سے\nپکڑنے والے ہر جانب مرے دامن کے بیٹھے ہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%AA%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اٹھائیں ہجر کی شب دل نے آفتیں کیا کیا", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھائیں ہجر کی شب دل نے آفتیں کیا کیا\nامید وصل میں جھیلیں مصیبتیں کیا کیا\n\nوہی ہے جام وہی مے وہی سبو لیکن\nبدل گئی ہیں زمانے کی نیتیں کیا کیا\n\nدبی زبان سے کرتے ہیں غیر در پردہ\nتمہارے منہ پہ تمہاری شکایتیں کیا کیا\n\nستم میں لطف، جفا میں ادا نگاہ میں ناز\nعتاب میں بھی ہیں پنہاں عنایتیں کیا کیا\n\nکروں میں ان کی شکایت عزیزؔ جھوٹ غلط\nگڑھی ہیں دل سے رقیبوں نے تہمتیں کیا کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%92_%D8%A2%D9%81%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اٹھتی گھٹا ہے کس طرح بولے وہ زلف اٹھا کہ یوں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھتی گھٹا ہے کس طرح بولے وہ زلف اٹھا کہ یوں\nبرق چمکتی کیونکہ ہے ہنس کے یہ پھر کہا کہ یوں\n\nچوری سے اس کے پاؤں تک پہنچی تھی شب کو کس طرح\nآ کہیں ہاتھ مت بندھا کہہ دے اب اے حنا کہ یوں\n\nدن کو فلک پہ کہکشاں نکلے ہے کیونکہ غیر شب\nچین جبیں دکھا مجھے اس نے دیا بتا کہ یوں\n\nجیسے کہا کہ عاشقاں رہتے ہیں کیونکہ چاک جیب\nاس کو گل چمن دکھا کہہ کے چلی صبا کہ یوں\n\nہو گئے بر سر خلش لے کے سناں جو خار دشت\nکر نے کلام تب لگا قیس برہنہ پا کہ یوں\n\nپوچھے ہے وہ کہ کس طرح شیشہ و جام کا ہے ساتھ\nکہہ دے ملا کے چشم سے چشم کو ساقیا کہ یوں\n\nکرتے سفر ہیں کس طرح بحر جہاں سے اے حباب\nخیمے کو اپنے لاد کر کر دے یہ عقدہ وا کہ یوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%AA%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%D9%88%DA%BA"} {"title": "اٹھنے میں درد متصل ہوں میں", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھنے میں درد متصل ہوں میں\nگرد باد غبار دل ہوں میں\n\nکعبے تک ساتھ آیا شوق صنم\nہائے بت خانہ کیا خجل ہوں میں\n\nحیف کس مدعی کی جاں ہے تو\nہائے کس آشنا کا دل ہوں میں\n\nتجھ کو دوں کیا جواب اے داور\nاپنے ہی آپ منفعل ہوں میں\n\nتیری نازک تنی پہ غور نہ کی\nاپنی امید سے خجل ہوں میں\n\nنہ ہلا اس کے در سے تا محشر\nمرقد آرزو کی سل ہوں میں\n\nخاک ہستی کی گرد باد ہے تو\nآتش دل کی آب و گل ہوں میں\n\nحد نہیں کوئی اپنی حالت کی\nکہ نگاہوں میں منتقل ہوں میں\n\nچھا گیا یہ تصور اس بت کا\nنقش چیں اور بت چگل ہوں میں\n\nذرہ سی زندگی پہاڑ ہوئی\nآنکھ کا اپنی آپ تل ہوں میں\n\nاے قلقؔ کیوں کہ چھوڑ دوں وحشت\nوضع میں اپنی مستقل ہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%85%D8%AA%D8%B5%D9%84_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اٹھنے کو تو اٹھا ہوں محفل سے تری لیکن", "poet_page": "مصنف:ہادی مچھلی شہری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھنے کو تو اٹھا ہوں محفل سے تری لیکن\nاب دل کو یہ دھڑکا ہے جاؤں تو کدھر جاؤں\n\nمرنا مری قسمت ہے مرنے سے نہیں ڈرتا\nپیمانۂ ہستی کو لبریز تو کر جاؤں\n\nتو اور مری ہستی میں اس طرح سما جائے\nمیں اور تری نظروں سے اس طرح اتر جاؤں\n\nدنیائے محبت میں دشوار جو جینا ہے\nمر کر ہی سہی آخر کچھ کام تو کر جاؤں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86"} {"title": "اٹھو زمانے کے آشوب کا ازالہ کریں", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھو زمانے کے آشوب کا ازالہ کریں\nبنام گل بدناں رخ سوئے پیالہ کریں\n\nبیاد دیدۂ مخمور پر پیالہ کریں\nاٹھو کہ زہر کا پھر زہر سے ازالہ کریں\n\nوہ رند ہیں نہ اٹھائیں بہار کا احساں\nورود ہم تری خلوت میں بے حوالہ کریں\n\nکہاں کے دیر و حرم آؤ ایک سجدۂ شوق\nبپائے ہوش ربایان بست سالہ کریں\n\nبرس پڑے جو گلستاں میں اس نظر سے شراب\nبہک بہک کے ہم آگے سبوئے لالہ کریں\n\nسبو اٹھا کہ گدایان کوئے مے خانہ\nترے حوالے مہ و مہر کا قبالہ کریں\n\nحدیث زہد ہو یا واردات زہرہ مثال\nکسی کے نام کو ہم زیب ہر مقالہ کریں\n\nدکھا صحیفۂ رخ اس طرح کہ اہل بہار\nورق ورق بہ خجالت بیاض لالہ کریں\n\nاٹھو جلا کے مے سرخ سے چراغ ابد\nنشاط صحبت شب کو ہزار سالہ کریں\n\nادا وہ نیچی نگاہوں کی ہے کہ جیسے ظفرؔ\nتلاش کنج غزالان خورد سالہ کریں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D9%88_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%B4%D9%88%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D9%84%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اٹھی ہے جب سے دل میں مرے عشق کی ترنگ", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "اٹھی ہے جب سے دل میں مرے عشق کی ترنگ\nشادی و غم ہیں آگے مرے دونوں ایک رنگ\n\nجب سے ہوا ہوں بادۂ توحید سے میں مست\nاٹھتی ہے دل سے نغمۂ منصور کی امنگ\n\nدل اندرون سینہ مگر ہو گیا ہے خون\nنکلے ہیں میری آنکھوں سے جو اشک سرخ رنگ\n\nپہنچے ہے تیر آہ مرا عرش کے پرے\nجب سے لگا ہے دل میں مرے عشق کا خدنگ\n\nنیرنگیاں تری ہیں ہوئی جیسے جلوہ گر\nہوش و حواس و عقل رسا جملہ ہیں یہ دنگ\n\nاک بار گر وہ دیکھے ترے رخ کو بے نقاب\nکعبہ پرست ہووے وہیں پر بت فرنگ\n\nکر نام و ننگ ترک دلا راہ عشق میں\nعاشق وہی ہے جس کو کہ ہے اس سے عار و ننگ\n\nمت رکھ تو بحر عشق میں اے بو الہوس قدم\nہر قطرہ میں یہاں ہیں بلا کے دو صد نہنگ\n\nآثمؔ میں کیا کروں شہ خادم کی اب ثنا\nہے پائے عقل عرصۂ مدحت میں اس کے لنگ", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D9%86%DA%AF"} {"title": "اٹھے آج ان سے فیصلہ کر کے", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھے آج ان سے فیصلہ کر کے\nیا خفا ہو کے یا خفا کر کے\n\nاس کی رفتار سے غنیمت ہے\nکہ رہے حشر ہی بپا کر کے\n\nاس صنم کی گلی میں جاتا ہوں\nپھر نظر جانب خدا کر کے\n\nغیر تک اپنی بات پہنچائی\nاس سے اظہار مدعا کر کے\n\nکر تو لیں ترک عشق ہم ناصح\nپر گزاریں گے عمر کیا کر کے\n\nمجھ پہ جو چاہیے ستم کیجے\nپر نہ اغیار کا کہا کر کے\n\nمفت ذلت اٹھائی سالکؔ نے\nذکر اس بزم میں مرا کر کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%81%DB%8C%D8%B5%D9%84%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92"} {"title": "اٹھے تری محفل سے تو کس کام کے اٹھے", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اٹھے تری محفل سے تو کس کام کے اٹھے\nدل تھام کے بیٹھے تھے جگر تھام کے اٹھے\n\nدم بھر مرے پہلو میں انہیں چین کہاں ہے\nبیٹھے کہ بہانے سے کسی کام کے اٹھے\n\nاس بزم سے اٹھ کر تو قدم ہی نہیں اٹھتا\nگھر صبح کو پہنچے ہیں کہیں شام کے اٹھے\n\nہے رشک کہ یہ بھی کہیں شیدا نہ ہوں اس کے\nتربت سے بہت لوگ مرے نام کے اٹھے\n\nافسانۂ حسن اس کا ہے ہر ایک زبان پر\nپردے نہ کبھی جس کے در و بام کے اٹھے\n\nآغاز محبت میں مزے دل نے اڑائے\nپوچھے تو کوئی رنج بھی انجام کے اٹھے\n\nدل نذر میں دے آئے ہم اک شوخ کو بیخودؔ\nبازار میں جب دام نہ اس جام کے اٹھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92"} {"title": "اپنا اپنا رنگ دکھلاتی ہیں جانی چوڑیاں", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنا اپنا رنگ دکھلاتی ہیں جانی چوڑیاں\nآسمانی ارغوانی زعفرانی چوڑیاں\n\nاک ذرا رنگ نزاکت بھی رہی مد نظر\nدھان پان اے جان تم ہو پہنو دھانی چوڑیاں\n\nداغ کھا کھا کر ہزاروں دل لہو ہو ہو گئے\nکل کھلی پہنیں جو تم نے ارغوانی چوڑیاں\n\nہاتھ کھینچے کیوں نہ آرائش سے وہ نازک بدن\nساعد نازک پہ کرتی ہیں گرانی چوڑیاں\n\nعاشقوں کے زخم رو رو کر لہو ہنس ہنس پڑیں\nمہندی ملتی ہو تو پہنو زعفرانی چوڑیاں\n\nرنگ مہندی کا تری دست نگارں میں نہیں\nکر رہی ہیں اے پری آتش فشانی چوڑیاں\n\nدیکھنے والے تمہارے دل بچائیں کس طرح\nآفت جاں تم بلاے‌ ناگہانی چوڑیاں\n\nمیرے ماتم میں اتاریں آ کے میری قبر پر\nدے گئی یوں مجھ کو وہ اپنی نشانی چوڑیاں\n\nچار دن آرائشوں سے ہاتھ اٹھانا چاہئے\nسوگ میں عاشق کے لازم ہیں بڑھانی چوڑیاں\n\nعید کو ہے نازنینوں صحت ناظمؔ کا جشن\nہوں نئی آرائشیں اتریں پرانی چوڑیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%86%D9%88%DA%91%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "اپنا جمال مجھ کوں دکھایا رسول آج", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنا جمال مجھ کوں دکھایا رسول آج\nعاجز کی التماس کوں کرنا قبول آج\n\nاے مہرباں طبیب شتابی علاج کر\nتیرے برہ کے درد سیں ہے دل میں سول آج\n\nمرہم ترے وصال کا لازم ہے اے صنم\nدل میں لگی ہے ہجر کی برچھی کی ہول آج\n\nگل رو بغیر خانۂ بلبل خراب ہے\nمرجھا رہا ہے صحن گلستاں میں پھول آج\n\nبے فکر ہوں عذاب قیامت سیں اے سراجؔ\nدین محمدی کوں کیا ہوں قبول آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "اپنا جہاں میں رہنا ہے یادگار رہنا", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنا جہاں میں رہنا ہے یادگار رہنا\nمشکل تھا اپنے گھر میں بیگانہ وار رہنا\n\nاے موت رحم کر اب یہ کوئی زندگی ہے\nنظروں سے اپنی گر کر دنیا پہ بار رہنا\n\nہاتھوں پہ سر کو رکھے ہر رند کہہ رہا ہے\nبے کیف رہنے ہی تک تھا بے خمار رہنا\n\nکس طرح میں نے مانا اے اختیار والے\nمیت کے مثل اپنا بے اختیار رہنا\n\nرنگینیوں نے کس کی سکھلا دیا ہے گل کو\nجب تک چمن میں رہنا بن کر بہار رہنا\n\nہستی کے قافلے کو اس راہزن نے لوٹا\nکہتا تھا راہ بھر جو ہاں ہوشیار رہنا\n\nبیخودؔ کی زندگی کی یہ بھی کوئی طرح تھی\nبے اختیار آنا بے اختیار رہنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "اپنا رفیق و آشنا غیر خدا کوئی نہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنا رفیق و آشنا غیر خدا کوئی نہیں\nرنج و محن میں غم زدا غیر خدا کوئی نہیں\n\nپوچھا جو میں حکیم سے علت کن فکاں ہے کون\nسوچ کے اس نے یہ کہا غیر خدا کوئی نہیں\n\nکعبے کا شب کو میں جو جا حلقۂ در ہلا دیا\nآئی صدا یہ \"اندر آ غیر خدا کوئی نہیں\"\n\nعارف اگر بہ چشم غور آئینۂ جہاں کے بیچ\nدیکھے تو سمجھے رونما غیر خدا کوئی نہیں\n\nگرچہ جہاں ہے ماسوا ذات کے اس کی مصحفیؔ\nسوچیے پھر تو ماسوا غیر خدا کوئی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%B1%D9%81%DB%8C%D9%82_%D9%88_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم\nگھبرا گئے ہیں بے دلئ ہم رہاں سے ہم\n\nکچھ ایسی دور بھی تو نہیں منزل مراد\nلیکن یہ جب کہ چھوٹ چلیں کارواں سے ہم\n\nاے یاد یار دیکھ کہ باوصف رنج ہجر\nمسرور ہیں تری خلش ناتواں سے ہم\n\nمعلوم سب ہے پوچھتے ہو پھر بھی مدعا\nاب تم سے دل کی بات کہیں کیا زباں سے ہم\n\nاے زہد خشک تیری ہدایت کے واسطے\nسوغات عشق لائے ہیں کوئے بتاں سے ہم\n\nبیتابیوں سے چھپ نہ سکا حال آرزو\nآخر بچے نہ اس نگہ بدگماں سے ہم\n\nپیرانہ سر بھی شوق کی ہمت بلند ہے\nخواہان کام جاں ہیں جو اس نوجواں سے ہم\n\nمایوس بھی تو کرتے نہیں تم ز راہ ناز\nتنگ آ گئے ہیں کشمکش امتحاں سے ہم\n\nخلوت بنے گی تیرے غم جاں نواز کی\nلیں گے یہ کام اپنے دل شادماں سے ہم\n\nہے انتہائے یاس بھی اک ابتدائے شوق\nپھر آ گئے وہیں پہ چلے تھے جہاں سے ہم\n\nحسرتؔ پھر اور جا کے کریں کس کی بندگی\nاچھا جو سر اٹھائیں بھی اس آستاں سے ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%B3%D8%A7_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "اپنا پتہ مجھے بتا بہر خدا تو کون ہے", "poet_page": "مصنف:یاسین علی خاں مرکز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مرکز (1926)", "year": "1926", "text_ur": "اپنا پتہ مجھے بتا بہر خدا تو کون ہے\nتجھ پہ ہیں سارے مبتلا بہر خدا تو کون ہے\n\nنام خدا سنا کیا تیرے سوا نہیں ملا\nساری صفت سے ہے بھرا بہر خدا تو کون ہے\n\nتیرا حسد تو نام تھا ہو گیا بندہ کس طرح\nتیری ہی ذات ہے بقا بہر خدا تو کون ہے\n\nتیرے سے ہست کل ہوئی تھی تو عدم میں بے نشاں\nہادی مظل ہے برملا بہر خدا تو کون ہے\n\nمالک دو جہاں ہے تو چاہے جسے عطا کرے\nکر دے گدا کو بادشا بہر خدا تو کون ہے\n\nتیرے کرم سے اے شہا میں نے خدا نما ہوا\nتھا تو فنا بقا ملا بہر خدا تو کون ہے\n\nمرکزؔ جملہ کائنات مظہر ذات کبریا\nتیرے سوا نہیں ہوا بہر خدا تو کون ہے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%BE%D8%AA%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A8%D8%AA%D8%A7_%D8%A8%DB%81%D8%B1_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "اپنا ہر عضو چشم بینا ہے", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنا ہر عضو چشم بینا ہے\nاس قدر انتظار تیرا ہے\n\nجو ہے محبوب تیرا شیدا ہے\nیوسف آگے تری زلیخا ہے\n\nایک مہ رو بغل میں سوتا ہے\nآسماں پر دماغ اپنا ہے\n\nخاک میں جو ملا دیا مجھ کو\nآسماں نے زمیں کو سونپا ہے\n\nکس نے چہرے سے بال سرکائے\nشام کو صبح آشکارا ہے\n\nاستخواں تک کبھی گزر نہ کیا\nمیرے حق میں ہما بھی عنقا ہے\n\nتیرے قدموں پہ کیوں نہ قیس گرے\nنقش پا رشک روئے لیلیٰ ہے\n\nان دنوں اے مسیح دم تجھ پر\nدم نکلتا ہے دم نکلتا ہے\n\nتولوں اس سیم تن کو نظروں میں\nیہ مرا جسم زار کانٹا ہے\n\nحسن خوباں ہلال و بدر کی طرح\nکبھی کم ہے کبھی زیادہ ہے\n\nاس بیاباں میں لے گئی وحشت\nماہ نو جس کا ایک کانٹا ہے\n\nدل میں رہتا ہے اس کمر کا خیال\nکیا یہ عنقا کا آشیانا ہے\n\nآؤ آنکھوں میں ایک دم ٹھہرو\nپتلیوں کا یہاں تماشا ہے\n\nکف پا بھی نہ ہم کو دکھلائے\nبرہمن ہاتھ دیکھ جاتا ہے\n\nیار نام خدا ہے کشتی میں\nناخدا آج پار بیڑا ہے\n\nتیرا نقش قدم زمیں پہ نہیں\nآسماں پر کوئی ستارا ہے\n\nہم سے تم دشمنی لگے کرنے\nدوستی اب نصیب اعدا ہے\n\nکہہ رہے ہیں شب فراق میں ہم\nآج کس کو امید فردا ہے\n\nخار چبھ کر جو ٹوٹتا ہے کبھی\nآبلہ پھوٹ پھوٹ روتا ہے\n\nآنکھیں نرگس ہیں رخ ہے گل قد سرو\nتو تو اے گل چمن سراپا ہے\n\nکام پوشاک سے نہیں ہم کو\nعیب پوشی ہمارا شیوہ ہے\n\nدے سلیماں کی اس پری کو قسم\nاس طرح شیشے میں اتارا ہے\n\nزلف نے نقد دل کئے ہیں جمع\nاب تو یہ سانپ کوڑیالا ہے\n\nپہنچے ہیں گور کے کنارے ہم\nہم سے اب تک تمہیں کنارا ہے\n\nجرم گویاؔ کے بخشوا دینا\nیا محمد فقیر تیرا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DB%81%D8%B1_%D8%B9%D8%B6%D9%88_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%A8%DB%8C%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اپنی تجلیوں سے معمور ہو گئے ہم", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "آئی سحر قریب تو میں نے پڑھی غزل\nجلنے لگے ستاروں کے بجھتے ہوئے کنول\n\nبیتاب ہے جنوں کہ غزل خوانیاں کروں\nخاموش ہے خرد کہ نہیں بات کا محل\n\nراہوں میں جوئے خوں ہے رواں مثل موج مے\nساقی یقیں نہ ہو تو ذرا میرے ساتھ چل\n\nہم رند خاک و خوں میں اٹے ہاتھ بھی کٹے\nنکلے نہ اے بہار ترے گیسوؤں کے بل\n\nکچھ بجلیوں کا شور ہے کچھ آندھیوں کا زور\nدل ہے مقام پر تو ذرا بام پر نکل\n\nاب ترک دوستی ہی تقاضا ہے وقت کا\nاے یار چارہ ساز مری آگ میں نہ جل\n\nاے التفات یار مجھے سوچنے تو دے\nجینے کا ہے مقام کہ مرنے کا ہے محل\n\nدل پر ہے ایسا بوجھ کہ کھلتی نہیں زباں\nآندھی ہے ایسی تیز کہ جلتا نہیں کنول\n\nکیسے دئے جلائے غم روزگار نے\nکچھ اور جگمگاتے غم یار کے محل\n\nفرمان شہریار کی پروا نہیں مجھے\nایمائے عاشقاں ہو تو عابدؔ پڑھے غزل", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B9%D9%85%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "اپنی جاں بازی کا جس دم امتحاں ہو جائے گا", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنی جاں بازی کا جس دم امتحاں ہو جائے گا\nخنجر سفاک پر جوہر عیاں ہو جائے گا\n\nآہ سوزاں کا اگر اونچا دھواں ہو جائے گا\nآسماں اک اور زیر آسماں ہو جائے گا\n\nکچھ سمجھ کر اس مۂ خوبی سے کی تھی دوستی\nیہ نہ سمجھے تھے کہ دشمن آسماں ہو جائے گا\n\nلے خبر بیمار غم کی ورنہ اے رشک مسیح\nتیری فرقت میں فراق جسم و جاں ہو جائے گا\n\nخاک کر دے گا مجھے آخر سیہ چشموں کا عشق\nجسم خاکی گرد پائے آہواں ہو جائے گا\n\nجب ادا سے وہ کرے گا قتل مجھ کو اے اثرؔ\nکشتۂ شمشیر حیرت اک جہاں ہو جائے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D9%85_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ\nکوچۂ یار میں چل دیکھ لے جنت میری\n\nساری دنیا سے انوکھی ہے زمانے سے جدا\nنعمت خاص ہے اللہ رے قسمت میری\n\nشکوۂ ہجر پہ سر کاٹ کے فرماتے ہیں\nپھر کروگے کبھی اس منہ سے شکایت میری\n\nتیری قدرت کا نظارہ ہے مرا عجز گناہ\nتیری رحمت کا اشارہ ہے ندامت میری\n\nلو تبسم بھی شریک نگہ ناز ہوا\nآج کچھ اور بڑھا دی گئی قیمت میری\n\nفیض یک لمحۂ دیدار سلامت فانیؔ\nغم کہ ہر روز ہے بڑھتی ہوئی دولت میری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D9%86%D8%AA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "اپنی جولاں گاہ زیرِ آسماں سمجھا تھا میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اپنی جولاں‌گاہ زیرِ آسماں سمجھا تھا میں\nآب و گِل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں\n\nبے حجابی سے تری ٹُوٹا نگاہوں کا طلسم\nاک رِدائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں\n\nکارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا\nمہر و ماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں\n\nعشق کی اِک جَست نے طے کر دیا قصّہ تمام\nاس زمین و آسماں کو بےکراں سمجھا تھا میں\n\nکہہ گئیں رازِ محبّت پردہ دارِیہاے شوق\nتھی فغاں وہ بھی جسے ضبطِ فغاں سمجھا تھا میں\n\nتھی کسی درماندہ رہرو کی صداے دردناک\nجس کو آوازِ رحیلِ کارواں سمجھا تھا میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D9%84%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%B2%DB%8C%D8%B1%D9%90_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اپنی حد سے گزر گئے اب کیا ہے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اپنی حد سے گزر گئے اب کیا ہے\nمنجدھار سے پار اتر گئے اب کیا ہے\nاے شوق وصال اے تمنائے سکوں\nدونوں پلے تو بھر گئے اب کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AD%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل\nہر سائے کے ساتھ نہ ڈھل\n\nلفظوں کے پھولوں پہ نہ جا\nدیکھ سروں پر چلتے ہل\n\nدنیا برف کا تودا ہے\nجتنا جل سکتا ہے جل\n\nغم کی نہیں آواز کوئی\nکاغذ کالے کرتا چل\n\nبن کے لکیریں ابھرے ہیں\nماتھے پر راہوں کے بل\n\nمیں نے تیرا ساتھ دیا\nمیرے منہ پر کالک مل\n\nآس کے پھول کھلے باقیؔ\nدل سے گزرا پھر بادل", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AC%D9%84"} {"title": "اپنی صورت نہ جب نظر آئی", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اپنی صورت نہ جب نظر آئی\nشکل آوارگوں نے دکھلائی\nاس سے نکلے تو یہ تماشا ہے\nخود تماشا و خود تماشائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:تعشق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں\nکیفیت پر گل رخسار چلے آتے ہیں\n\nپڑ گئی کیا نگہ مست ترے ساقی کی\nلڑکھڑاتے ہوئے مے خوار چلے آتے ہیں\n\nیاد کیں نشہ میں ڈوبی ہوئی آنکھیں کس کی\nغش تجھے اے دل بیمار چلے آتے ہیں\n\nراہ میں صاحب اکسیر کھڑے ہیں مشتاق\nخاکساران در یار چلے آتے ہیں\n\nباغ میں پھول ہنسے دیتے ہیں بے دردی سے\nنالۂ مرغ گرفتار چلے آتے ہیں\n\nدیکھ کر ابروئے خم دار پھرے یوں عاشق\nغل ہے کھائے ہوئے تلوار چلے آتے ہیں\n\nجس طرح نرغے میں چلتے ہیں غزال صحرا\nیوں تری چشم کے بیمار چلے آتے ہیں\n\nہوں وہ بے خود کہ یہ ہے نالۂ سوزاں پہ گماں\nشعلۂ آتش رخسار چلے آتے ہیں\n\nچاہئے شور قیامت پئے تعظیم اٹھے\nآپ کے عاشق رفتار چلے آتے ہیں\n\nشور سنتے ہیں جو ہم چاک گریبانوں کا\nبند کھولے سر بازار چلے آتے ہیں\n\nہر طرف حشر میں جھنکار ہے زنجیروں کی\nان کی زلفوں کے گرفتار چلے آتے ہیں\n\nچل گئی تیغ نگہ آج تعشقؔ پہ ضرور\nلوگ اس کوچہ سے خوں بار چلے آتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%81%D8%B1%D8%AD%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%86_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اپنی مدد آپ", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔\n\nیہ ایک نہایت عمدہ اور آزمودہ مقولہ ہے۔ اس چھوٹے سے فقرے میں انسانوں کا اور قوموں کا اور نسلوں کا تجربہ جمع ہے۔ ایک شخص میں اپنی مدد کرنے کا جوش اس کی سچی ترقی کی بنیاد ہے اور جب یہ جوش بہت سے شخصوں میں پایا جاوے تو وہ قومی ترقی اور قومی طاقت اور قومی مضبوطی کی جڑ ہے۔ جب کہ کسی شخص کے لیے یا کسی گروہ کے لیے کوئی دوسرا کچھ کرتا ہے تو اس شخص میں سے یا اس گروہ میں سے وہ جوش اپنی مدد آپ کرنے کی کم ہو جاتا ہے اور ضرورت اپنے آپ مدد کرنے کی اس کے دل سے مٹتی جاتی ہے اور اسی کے ساتھ غیرت جو ایک نہایت عمدہ قوت انسان میں ہے اور اسی کے ساتھ عزت جو اصلی چمک دمک انسان کی ہے از خود جاتی رہتی ہے اور جب کہ ایک قوم کی قوم کا یہ حال ہو تو وہ ساری قوم دوسری قوموں کی آنکھ میں ذلیل اور بے غیرت اور بے عزت ہو جاتی ہے۔\n\nآدمی جس قدر کہ دوسرے پر بھروسے کرتے جاتے ہیں، خواہ اپنی بھلائی اور اپنی ترقی کا بھروسہ گورنمنٹ ہی پر کیوں نہ کریں (یہ امر بدیہی اور لا بدی ہے) وہ اسی قدر بے مدد اور بے عزت ہوتے جاتے ہیں۔ اے میرے ہم وطن بھائیو! کیا تمہار ا یہی حال نہیں ہے؟ ایشیا کی تمام قومیں یہی سمجھتی رہی ہیں کہ اچھا بادشاہ ہی رعایا کی ترقی اور خوشی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ یورپ کے لوگ جو ایشیا کے لوگوں سے زیادہ ترقی کر گئے تھے، یہ سمجھتے تھے کہ ایک عمدہ انتظام قوم کی عزت و بھلائی و خوشی اور ترقی کا ذریعہ ہے، خواہ وہ انتظام باہمی قوم کے رسم و رواج کا ہو، یا گورنمنٹ کا۔ اور یہی سبب ہے کہ یورپ کے لوگ قانون بنانے والی مجلسوں کو بہت بڑا ذریعہ انسان کی ترقی اور خیال کرکر ان کا درجہ سب سے اعلیٰ اور نہایت بیش بہا سمجھتے تھے، مگر حقیقت میں یہ سب خیال غلط ہیں۔\n\nایک شخص فرض کرو کہ وہ لندن میں آئرلینڈ کی طرف سے پارلیمنٹ کا ممبر ہی کیوں نہ ہو جائے یا کلکتہ میں وائسرائے اور گورنر جنرل کی کونسل میں ہندوستان کا ممبر ہی ہو کر کیوں نہ بیٹھ جاوے، قومی عزت، قومی بھلائی اور قومی ترقی کیا کر سکتا ہے۔ برس دو برس میں کسی بات پر ووٹ دے دینے سے گو وہ کیسی ہی ایمانداری اور انصاف سے کیوں نہ دیا ہو قوم کی کیا بھلائی ہو سکتی ہے۔ بلکہ خوداس کے چال چلن پر اس کے برتاؤ پر بھی اس سے کوئی اثر پیدا نہیں ہوتا تو قوم کے برتاؤ پر کیا اثر پیدا ہو سکتا ہے۔ ہاں یہ بات بے شبہ ہے کہ گورنمنٹ سے انسان کے برتاؤ میں کچھ مدد نہیں ملتی، مگر عمدہ گورنمنٹ سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آدمی آزادی سے اپنے قوا کی تکمیل اور اپنی شخصی حالت کی ترقی کر سکتا ہے۔\n\nیہ بات روز بروز روشن ہوتی جاتی ہے کہ گورنمنٹ کا فرض بہ نسبت مثبت اور معمل ہونے کے زیادہ تر منفی اور مانع ہے اور وہ فرض جان اور مال اور آزادی کی حفاظت ہے۔ جب کہ قانون کا عمل در آمد دانشمندی سے ہوتا ہے تو آدمی اپنی جسمی اور ذہنی محنت کے ثمروں کا بے خطرہ حظ اٹھا سکتا ہے۔ جس قدر گورنمنٹ کی حکومت عمدہ ہوتی ہے اتنا ہی ذاتی نقصان کم ہوتا ہے۔ مگر کوئی قانون گو وہ وہ کیسا ہی ابھارنے والا کیوں نہ ہو، سست آدمی کو محنتی، فضول خرچ کو کفایت شعار، شراب خور کو تائب نہیں بنا سکتا، بلکہ یہ باتیں شخصی محنت، کفایت شعاری، نفس کشی سے حاصل ہو سکتی ہیں۔ قومی ترقی، قومی عزت، قومی اصلاح، عمدہ عادتوں، عمدہ چال چلن، عمدہ برتاؤ کرنے سے ہوتی ہے، نہ گورنمنٹ میں بڑے بڑے حقوق اور اعلی اعلی درجے حاصل کرنے سے۔\n\nپرانے لوگوں کا مقولہ ہے کہ ’’الناس علی دین ملوکہم۔’‘ اگر اس مقولے میں ’’الناس‘‘ سے چند خاص آدمی مراد لئے جاویں جو بادشاہ کے مقرّب ہوتے ہیں تو یہ مقولہ صحیح ہے اور اگر یہ معنی لئے جاویں کہ رعایا اپنی گورنمنٹ کی سی ہو جاتی ہے تویہ مقولہ صحیح نہیں ہے۔ ریایا کبھی گورنمنٹ کے رنگ میں نہیں رنگی جاتی بلکہ گورنمنٹ رعایا کا سا رنگ بدلتی جاتی ہے۔ نہایت ٹھیک بات ہے کہ گورنمنٹ عموماً ان لوگوں کا جن پر وہ حکومت کرتی ہے عکس ہوتی ہے۔ جو رنگ ان کا ہوتا ہے اسی کا عکس گورنمنٹ میں پایا جاتا ہے۔ جو گورنمنٹ اپنی رعایا سے تہذیب و شائستگی میں آگے بڑھی ہوئی ہے، رعایا اس کو زبردستی سے پیچھے کھینچ لاتی ہے اور جو گورنمنٹ کمتر اور تہذیب و شائستگی میں پیچھے ہوتی ہے وہ ترقی کی دوڑ میں رعایا کے ساتھ کھنچ جاتی ہے۔\n\nتاریخ کے دیکھنے سے ثابت ہے کہ ہندوستان و انگلستان کا یہی حال ہوا۔ انگلستان کی رعایا تہذیب و شائستگی میں اس زمانے کی گورنمنٹ سے آگے بڑھی ہوئی تھی، اس نے زبردستی سے گورنمنٹ کو اپنے ساتھ آگے کھینچ لیا۔ ہندوستان کی رعایا تہذیب و شائستگی میں موجودہ گورنمنٹ سے کوسوں پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ گورنمنٹ کتنا کچھ کھینچنا چاہتی ہے، مگر وہ نہیں کھنچتی، بلکہ زبردستی سے گورنمنٹ کو پیچھے کھینچ لائی ہے۔\n\nیہ ایک نیچر کا قاعدہ ہے کہ جیسا مجموعہ قوم کی چال چلن کا ہوتا ہے یقینی اسی کے موافق اس کے قانون اور اسی کے مناسب حال گورنمنٹ ہوتی ہے۔ جس طرح کہ پانی خود اپنی پنسال میں آ جاتا ہے، اسی طرح عمدہ رعایا پر عمدہ حکومت ہوتی ہے اور جاہل و خراب وناتربیت یافتہ رعایا پر ویسی ہی اکھڑ حکومت کرنی پڑتی ہے۔ تمام تجربوں سے ثابت ہوا ہے کہ کسی ملک کی خوبی و عمدگی اور قدر و منزلت بہ نسبت وہاں کی گورنمنٹ کے عمدہ ہونے کے زیادہ تر اس ملک کی رعایا کے چال چلن، اخلاق و عادت، تہذیب و شائستگی پر منحصر ہے، کیونکہ قوم شخصی حالتوں کا مجموعہ ہے اور ایک قوم کی تہذیب در حقیقت ان مرد و عورت و بچوّں کی شخصی ترقی ہے، جن سے وہ قوم بنی ہے۔\n\nقومی ترقی مجموعہ ہے شخصی محنت، شخصی عزت، شخصی ایمانداری، شخصی ہمدردی کا۔ اسی طرح قومی تنزل مجموعہ ہے شخصی سستی، شخصی بے عزتی، شخصی بے ایمانی، شخصی خود غرضی کا اور شخصی برائیوں کا۔ نا تہذیبی و بد چلنی جو اخلاقی و تمدنی یا باہمی معاشرت کی بدیوں میں شمار ہوتی ہے، در حقیقت وہ خود اسی شخص کی آوارہ زندگی کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم چاہیں کہ بیرونی کوشش سے ان برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ ڈالیں اور نیست و نابود کردیں تو یہ برائیاں کسی اور نئی صورت میں اس سے بھی زیادہ زور شور سے پیدا ہو جاویں گی۔ جب تک شخصی زندگی اور شخصی چال چلن کی حالتوں کو ترقی نہ کی جاوے۔\n\nاے میرے عزیز ہم وطنو! اگر یہ رائے صحیح ہے تو اس کا یہ نتیجہ ہے کہ قوم کی سچی ہمدردی اور سچی خیر خواہی کرو۔ غور کرو کہ تمہاری قوم کی شخصی زندگی اور شخصی چال چلن کس طرح پر عمدہ ہو، تاکہ تم بھی ایک معزز قوم ہو۔ کیا جو طریقہ تعلیم و تربیت کا، بات بات چیت کا، وضع و لباس کا، سیر سپاٹے کا، شغل و اشغال کا، تمہاری اولاد کے لیے، اس سے ان کے شخصی چال چلن، ااخلاق و عادات، نیکی و سچائی میں ترقی ہو سکتی ہے؟ حاشا و کلّا۔ جب کہ ہر شخص اور کل قوم خود اپنی اندرونی حالتوں سے آپ اپنی اصلاح کر سکتی ہے تو اس بات کی امید پر بیٹھے رہنا کہ بیرونی زور انسان کی یا قوم کی اصلاح و ترقی کرے کس قدر افسوس بلکہ نا دانی کی بات ہے۔\n\nوہ شخص در حقیقت غلام نہیں ہے جس کو ایک خدا ناترس نے جو اس کا ظالم آقا کہلایا جاتا ہے خرید لیا ہے۔ یا ایک ظالم اور خود مختار بادشاہ یا گورنمنٹ کی رعیت ہے بلکہ در حقیقت وہ شخص اصلی غلام ہے جو بد اخلاقی، خود غرضی، جہالت اور شرارت کا مطیع اور اپنی خود غرضی کی غلامی میں مبتلا اور قومی ہمدردی سے بے پرواہ ہے۔ وہ قومیں جو اس طرح دل میں غلام ہیں وہ بیرونی زوروں سے، یعنی عمدہ گورنمنٹ یا عمدہ قومی انتظام سے آزاد نہیں ہو سکتیں جب تک کہ غلامی کی یہ دلی حالت دور نہ ہو۔ اصل یہ ہے کہ جب تک انسانوں میں یہ خیال ہے کہ ہماری اصلاح و ترقی گورنمنٹ پر یا قوم کے عمدہ انتظام پر منحصر ہے اس وقت تک کوئی مستقل اور برتاؤ میں آنے کے قابل نتیجہ اصلاح و ترقی کا قوم میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ گو کیسی ہی عمدہ تبدیلیاں گورنمنٹ یاانتظام میں کی جاویں، وہ تبدیلیاں فانوس خیال سے کچھ زیادہ رتبہ نہیں رکھتیں جس میں طرح طرح کی تصویریں پھرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، مگر جب دیکھو تو کچھ بھی نہیں۔\n\nمستقل اور مضبوط آزادی، سچی عزت، اصلی ترقی، شخصی چال چلن کے عمدہ ہونے پر منحصر ہے اور وہی شخصی چال چلن معاشرت و تمدن کا محافظ اور وہی شخصی چال چلن قومی ترقی کا بڑا ضامن ہے۔ جان اسٹیورٹ مل جو اسی زمانے میں ایک بہت بڑا حکیم گذرا ہے، اس کا قول ہے کہ ظالم اور خود مختار حکومت بھی زیادہ خراب نتیجے پیدا نہیں کر سکتی اگر اس کی رعایا میں شخصی اصلاح اور شخصی ترقی موجود ہے اور جو چیز کہ شخصی اصلاح و شخصی ترقی کو دبا دیتی ہے در حقیقت وہی شے اس کے لیے ظالم و خود مختار گورنمنٹ ہے۔ پھر اس شے کو جس نام سے چاہو پکارو۔ اس مقولے پر میں اس قدر اور زیادہ کرتا ہوں کہ جہاں شخصی اصلاح اور شخصی ترقی مٹ گئی ہے یا دب گئی ہے وہاں کیسی ہی آزاد اور عمدہ گورنمنٹ کیوں نہ قائم کی جاوے وہ کچھ بھی عمدہ نتیجے پیدا نہیں کر سکتی اور ا س اپنے مقولے کی تصدیق کو ہندوستان کی اور خصوصا ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت کی مثال پیش کرتا ہوں۔ اے مسلمان بھائیو! کیا تمہاری یہی حالت نہیں ہے؟ تم سے اس عمدہ گورنمنٹ سے جو تم پر حکومت کر رہی ہے کیا فائدہ اٹھایا ہے؟ تمہاری آزادی کے محفوظ رہنے کا تم کو کیا نتیجہ حاصل ہو ا ہے؟ ہیچ، ہیچ، ہیچ! اس کا سبب یہی ہے کہ تم میں اپنی مدد آپ کرنے کا جذبہ نہیں ہے۔\n\nانسان کی قومی ترقی کی نسبت ہم لوگوں کے یہ خیال ہیں کہ کوئی خضر ملے، گورنمنٹ فیاض ہو اور ہمارے سب کام کر دے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ ہر چیز ہمارے لیے کی جاوے اور ہم خود نہ کریں۔ یہ ایسا مسئلہ ہے کہ اس کو ہادی اور رہنما بنایا جاوے تو تمام قوم کی دلی آزادی کو برباد کردے اور آدمیوں کو انسان پرست بنا دے۔ حقیقت میں ایسا ہونا قوت کی پرستش ہے اور اس کے نتائج انسان کو ایسا ہی حقیر بنا دیتے ہیں، جیسے کہ صرف دولت کی پرستش سے انسان حقیر و ذلیل ہو جاتا ہے۔ کیا لالہ اشرفی مل جو ہر روز لچھمی کی پوجا کرتے ہیں اور بے انتہا دولت رکھتے ہیں، انسانوں میں کچھ قدر و منزلت کے لائق گنے جاتے ہیں؟\n\nبڑا سچا مسئلہ اور نہایت مضبوط جس سے دنیا کی معزز قوموں نے عزت پائی ہے وہ اپنی مدد آپ کرنا ہے۔ جس وقت لوگ اس کو اچھی طرح سمجھیں گے اور کام میں لاویں گے تو پھر خضر کو ڈھونڈنا بھول جاویں گے۔ اوروں پر بھروسے اور اپنی مدد آپ یہ دونوں اصول ایک دوسرے کے بالکل مخالف ہیں۔ پچھلا انسان کی بدیوں کو برباد کرتا ہے اور پہلا خود انسان کو۔ قومی انتظام یا عمدہ قوانین کے اجراء کی خواہش یہ بھی ایک قدیمی غلط خیال ہے۔ سچا اصول وہ ہے جو ولیم ڈراگن نے ڈبلن کی نمائش گاہ دست کاری میں کہا تھا جو ایک بڑ ا خیر خواہ آئر لینڈ کا تھا۔ اس نے کہا کہ،\n\n’’جس وقت میں آزادی کا لفظ سنتا ہوں، اسی وقت مجھ کو میرا ملک اور میرے شہر کے باشندے یاد آتے ہیں۔ ہم اپنی آزادی کے لیے بہت سی باتیں سنتے آئے ہیں، مگر میرے دل میں بہت بڑا مضمون یقین ہے کہ ہماری محنت، ہماری آزادی ہمارے اوپر منحصر ہے۔ میں یقین کرتا ہوں کہ اگر ہم محنت کیے جاویں اور اپنی قوتوں کو ٹھیک طور استعمال کریں تو اس سے زیادہ ہم کو کوئی موقع یا آئندہ کی قوی توقع اپنی بہتری کے لیے نہیں ہے۔ استقلال اور محنت کامیابی کا بڑا ذریعہ ہے۔ اگر ہم ایک دلی ولولے اور محنت سے کام کئے جائیں گے تو مجھے پورا یقین ہے کہ تھوڑے زمانے میں ہماری حالت بھی ایک عمدہ قوم کی مانند آرام و خوشی و آزادی کی ہو جاوے گی۔’‘\n\nانسان کی اگلی پشتوں کے حالات پر خیال کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی موجودہ حالت انسانوں کے نسل در نسل کے کاموں سے حاصل ہوئی ہے۔ محنتی اور مستقل مزاج محنت کرنے والوں، زمین کے جوتنے والوں، کانوں کے کھودنے والوں، نئی نئی باتوں کے ایجاد کرنے والوں، مخفی باتوں کو ڈھونڈ کر نکالنے والوں، آلات جر ثقیل سے کام لینے والوں اور ہر قسم کے پیشہ کرنے والوں، ہنر مندوں، شاعروں، حکیموں، فیلسوفوں، ملکی منتظموں نے انسان کو موجودہ ترقی کی حالت پر پہنچانے میں بڑی مدد دی ہے۔ ایک نسل نے دوسری نسل کی محنت پر عمار ت بنائی ہے اور اس کو ایک اعلی درجے پر پہونچایا ہے۔ ان عمدہ کاریگروں سے جو تہذیب و شائستگی کی عمارت کے معیار ہیں، لگاتار ایک دوسرے کے بعد ہونے سے محنت اور علم و ہنر میں جو ایک بے ترتیبی کی حالت میں تھی، ایک ترتیب پیدا ہوئی ہے۔\n\nرفتہ رفتہ نیچر کی گردش نے موجودہ نسل کو اس زر خیز اور بے بہا جائداد کا وارث کیا ہے جو ہمارے پرکھوں کی ہوشیار ی اور محنت سے مہیا ہوئی تھی اور وہ جائداد ہم کو اس لیے نہیں دی گئی ہے کہ ہم صرف مثل مار سر گنج اس کی حفاظت ہی کیا کریں، بلکہ ہم کو اس لیے دی گئی ہے کہ اس کو ترقی دیں اور ترقی یافتہ حالت میں آئندہ نسلوں کے لئے چھوڑ جاویں، مگر افسوس صد ہزار افسوس کہ ہماری قوم نے ان پرکھوں کی چھوڑ ی ہوئی جائداد کو بھی گرا دیا۔\n\nانگریزوں کو جو دنیا کے دور میں اس قدر ترقی ہوئی، اس کا سبب صرف یہی ہے کہ ہمیشہ ان کی قوم میں اپنی مدد آپ کرنے کا جذبہ رہا ہے اور اس قوم کی شخصی محنت اس پر گواہ عادل ہے۔ یہی مسئلہ اپنی مدد آپ کرنے کا انگریزوں کی قوم کی طاقت کا سچا پیمانہ رہا ہے۔\n\nانگریزوں میں اگرچہ بہت سے ایسے لوگ بھی تھے جو تمام لوگوں سے اعلیٰ درجے کے اور زیادہ مشہور تھے اور جن کی تمام لوگ عزت بھی کرتے تھے، لیکن کم درجے کے اور غیر مشہور آدمیوں کے گروہوں میں سے بھی اس قوم کی بڑ ی ترقی ہوئی ہے۔ گو کسی لڑائی اور میدان کارزار کی فہرستوں اور تاریخوں میں صرف بڑے بڑے جنرلوں اور سپہ سالاروں کے نام لکھے گئے ہوں، لیکن وہ فتوحات ان کو زیادہ تر انہیں محنتی لوگوں کی شجاعت اور بہادری کے سبب ہوئی ہے۔ عام لوگ ہی تمام زمانے میں سب سے زیادہ کام کرنے والے ہوئے ہیں۔ بہت سے ایسے شخص ہیں جن کی زندگی کا حال کسی نے نہیں لکھا، لیکن تہذیب و شائستگی اور ترقی پر ان کا بھی ایسا ہی اثر ہوا ہے جیسا کہ ان خوش نصیب مشہور نامور آدمیوں کا ہوا ہے جن کی زندگی کے حالات مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں لکھے ہیں۔\n\nایک نہایت عاجز و مسکین غریب آدمی جو اپنے ساتھیوں کو محنت اور پرہیزگاری اور بے لگاؤ ایمانداری کی نظیر دکھاتا ہے، اس شخص کا اس کے زمانے میں اور آئندہ زمانے میں اس کے ملک، اس کی قوم کی بھلائی پر بہت بڑا اثر پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کی زندگی کا طریقہ اور چال چلن گو معلوم نہیں ہوتا، مگر اور شخصوں کی زندگی میں خفیہ خفیہ پھیل جاتا ہے اور آئندہ کی نسل کے لئے ایک عمدہ نظیر بن جاتا ہے۔\n\nہر روز کے تجربے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ شخصی ہی چال چلن میں یہ قوت ہے کہ دوسرے کی زندگی اور برتاؤ اور چال چلن پر نہایت قوی اثر پیدا کرتا ہے اور حقیقت میں یہی ایک نہایت عمدہ عملی تعلیم ہے اور جب ہم اس عملی تعلیم کا علمی تعلیم سے مقابلہ کریں تو مکتب و مدرسے اور مدرسۃ العلوم کی تعلیم اسی عملی تعلیم کی ابتدائی تعلیم معلوم ہوتی ہے۔ زندگی کے علم کا یعنی زندگی کے برتاؤ کے علم کا جس کو انگریزی میں ’’لیف ایجوکیشن’‘ کہتے ہیں، انسان پر، قوم پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے۔ مکتب و مدرسہ و مدرسۃ العلوم کا علم طاق میں یا صندوق میں یا الماری میں یا کسی بڑے کتب خانے میں رکھا ہوا ہوتا ہے، مگر زندگی کے برتاؤ کا علم ہر وقت دوست سے ملنے میں، گھر کے رہنے سہنے میں، شہر کی گلیوں میں پھرنے میں، صرافہ کی دوکان کرنے میں، ہل جوتنے میں، کپڑا بننے کے کارخانے میں، کلوں سے کام کرنے کے کارخانہ میں اپنے ساتھ ہوتا ہے او ر پھر بے سکھائے اور بے شاگرد کیے، لوگوں میں صرف اس کے برتاؤ سے پھیلتا جاتا ہے۔\n\nیہ پچھلا علم وہ علم ہے، جو انسان کو انسان بناتا ہے۔ اسی پچھلے علم سے عمل، چال چلن، تعلیم نفسی، نفس کشی، شخصی خوبی، قومی مضبوطی، قومی عزت حاصل ہوتی ہے۔ یہی پچھلا علم وہ علم ہے کہ جو انسان کو اپنے فرائض ادا کرنے اور دوسروں کے حقوق محفوظ رکھنے اور زندگی کے کاروبار کرنے اور اپنی عاقبت کے سنوارنے کے لائق بنا دیتا ہے۔ اس تعلیم کو آدمی صرف کتابوں سے نہیں سیکھ سکتا اور نہ یہ تعلیم کسی درجے کی علمی تحصیل سے ہوتی ہے۔ لارڈ بیکن کا نہایت علم سے باہر اور علم سے بر تر ہے اور مشاہدہ آدمی کی زندگی کو درست اور اس کے علم کو باعمل، یعنی اس کے برتاؤ میں کردیتا ہے۔ علم کے بہ نسبت عمل اور سوانح عمری کی بہ نسبت عمدہ چال چلن آدمی کو زیادہ تر معزز اور قابل ادب بناتا ہے۔ کیا یہی وجہ ہے جو مدرسۃ العلوم مسلماناں کے بانیوں نے یہ تجویز کی ہے کہ مسلمانوں کے لڑکے گھروں سے اور بد صحبتوں سے علیحدہ مدرسۃ العلوم میں عالموں، اشرافوں اور تربیت یافتہ لوگوں کی صحبت میں رکھے جاویں۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%AF%D8%AF_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "اپنی ناکام تمناؤں کا ماتم نہ کرو", "poet_page": "مصنف:عبدالعزیز فطرت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنی ناکام تمناؤں کا ماتم نہ کرو\nتھم گیا دور مئے ناب تو کچھ غم نہ کرو\n\nاور بھی کتنے طریقے ہیں بیان غم کے\nمسکراتی ہوئی آنکھوں کو تو پر نم نہ کرو\n\nہاں یہ شمشیر حوادث ہو تو کچھ بات بھی ہے\nگردنیں طوق غلامی کے لیے خم نہ کرو\n\nتم تو ہو رند تمہیں محفل جم سے کیا کام\nبزم جم ہو گئی برہم تو کوئی غم نہ کرو\n\nبادۂ کہنہ ڈھلے ساغر نو میں فطرتؔ\nذوق فریاد کو آزردۂ ماتم نہ کرو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "اپنی نظر میں ہیچ ہے سارے جہاں کی سیر", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنی نظر میں ہیچ ہے سارے جہاں کی سیر\nدل خوش نہ ہو تو کس کا تماشہ کہاں کی سیر\n\nاب تک تو دیکھتے رہے جوبن بہار کا\nآئندہ ہم کریں گے تمہاری خزاں کی سیر\n\nدنیا کے دیکھنے کے لیے آنکھ چاہیے\nجنت کی سیر سے ہے سوا اس مکاں کی سیر\n\nکچھ جھومتے ہیں نشے میں کچھ ہیں گرے پڑے\nکچھ اور ہی ہے محفل پیر مغاں کی سیر\n\nکیوں دیکھنے لگے مری چشم پر آب کو\nدریا پہ آپ کیجیے آب رواں کی سیر\n\nکیوں آدمی کو عالم بالا کی ہو ہوس\nبڑھ کر نہیں زمین سے کچھ آسماں کی سیر\n\nدلی میں پھول والوں کی ہے ایک سیر داغؔ\nبلدے میں ہم نے دیکھ لی سارے جہاں کی سیر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%86_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%B1"} {"title": "اپنی وہ بے ثبات ہستی ہے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنی وہ بے ثبات ہستی ہے\nکہ سدا نیستی ہی ہنستی ہے\n\nنام سنتے ہو جس کا ویرانہ\nوہی سودائیوں کی بستی ہے\n\nشمع سے ہاتھ کھینچ اے گل گیر\nاتنی بھی کیا دراز دستی ہے\n\nچشم وحدت سے گر کوئی دیکھے\nبت پرستی بھی حق پرستی ہے\n\nاپنے ابر مژہ سے اے ؔجوشش\nجائے آب آگ ہی برستی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D8%AB%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اپنی پرسش جو ہو ارباب وفا سے پہلے", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنی پرسش جو ہو ارباب وفا سے پہلے\nمانگیے دولت دیدار خدا سے پہلے\n\nجھک گیا وہ شہ حسن آ کے گدا سے پہلے\nخم ہوئی زلف دوتا قد دوتا سے پہلے\n\nچشم مشتاق لڑی چشم دوتا سے پہلے\nسامنا ہوگا بلاؤں کا بلا سے پہلے\n\nتو ہر اک اسفل و اعلیٰ کا ہے رزاق کریم\nاستخواں سگ کو پہنچتا ہے ہما سے پہلے\n\nبعد ہو چہرۂ جاناں کے مقابل اے چرخ\nچاند منہ اس کے ملائے کف پا سے پہلے\n\nبعد بھی ذکر کیا ہو جو وفاداری کا\nسر قلم کیجیے شمشیر جفا سے پہلے\n\nخون دل ہجر میں پیتا ہوں تو غم کھاتا ہوں\nکہ دوا پیتے ہیں بیمار غذا سے پہلے\n\nشوق گل صورت بلبل خطر گلچیں ہے\nصبح دم باغ میں جاتا ہوں صبا سے پہلے\n\nغفلت قلب سے زہاد پڑھیں بعد نماز\nبرہمن سجدہ کرے بت کو خدا سے پہلے\n\nتخت تابوت رواں بھی ہے عجب تخت رواں\nشاہ تکیے میں پہنچتا ہے گدا سے پہلے\n\nمثل موسیٰ مجھے غش آئے نہ ہو تم کو حجاب\nوعدۂ وصل جو ایفا ہو حیا سے پہلے\n\nشوخ نے مہندی ملی ہاتھ میں میں قتل ہوا\nرنگ لائے گا لہو رنگ حنا سے پہلے\n\nپائے قاتل جو پس مرگ بھی ٹھوکر مارے\nنذر سر کیجیے تسلیم و رضا سے پہلے\n\nروبرو تیرے ہوا اسفل و اعلیٰ کا ظہور\nعلم خالق میں تو تھا ارض و سما سے پہلے\n\nکیا بیاں رتبۂ اعلائے علی کو میں کروں\nسیر معراج کی محبوب خدا سے پہلے\n\nدستگیری جو ہے بندے کی خدا کو منظور\nاٹھتے ہیں دست دعا عرشؔ دعا سے پہلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%B4_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92"} {"title": "اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے\nاخبار میں تو نام مرا چھاپ دیجئے\n\nدیکھو جسے وہ پانیر آفس میں ہے ڈٹا\nبہر خدا مجھے بھی کہیں چھاپ دیجئے\n\nچشم جہاں سے حالت اصلی چھپی نہیں\nاخبار میں جو چاہئے وہ چھاپ دیجئے\n\nدعویٰ بہت بڑا ہے ریاضی میں آپ کو\nطول شب فراق کو تو ناپ دیجئے\n\nسنتے نہیں ہیں شیخ نئی روشنی کی بات\nانجن کی ان کے کان میں اب بھاپ دیجئے\n\nاس بت کے در پہ غیر سے اکبرؔ نے کہہ دیا\nزر ہی میں دینے لایا ہوں جان آپ دیجئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%DB%81_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A2%D9%BE_%D8%AF%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "اپنی ہستی خود ہم آغوش فنا ہو جائے گی", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنی ہستی خود ہم آغوش فنا ہو جائے گی\nموج دریا آب ساحل آشنا ہو جائے گی\n\nتہ کا اندیشہ رہے گا پھر نہ ساحل کی ہوس\nدل سے جب قطع امید بے وفا ہو جائے گی\n\nشب کی شب بزم طرب ہے پردہ دار انقلاب\nصبح تک آئینۂ عبرت نما ہو جائے گی\n\nجان ایماں ہے ابھی وہ آنکھ شرمائی ہوئی\nکیفیت میں ڈوب کر کیا جانے کیا ہو جائے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%BA%D9%88%D8%B4_%D9%81%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "اپنی ہستی سے تھا خود میں بد گماں کل رات کو", "poet_page": "مصنف:عبدالعلیم آسی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنی ہستی سے تھا خود میں بد گماں کل رات کو\nکچھ نہ تھا اندیشۂ سود و زیاں کل رات کو\n\nچاندنی برسات صحن گلستاں دل کش ہوا\nتھیں ہجوم غم میں یہ رنگینیاں کل رات کو\n\nوسعت تخیئل کے حلقے میں تھا عرش بریں\nدیکھتی تھیں چشم دل کون و مکاں کل رات کو\n\nمل رہے تھے دست الفت سے مجھے جام شراب\nمہرباں تھا وہ بت نا مہرباں کل رات کو\n\nوہ محبت کی نگاہیں وہ محبت کے کلام\nہاں دوبالا تھی ادائے دل ستاں کل رات کو\n\nہر نظر پیغام ہر انداز میں رقصاں امید\nاور ہی تھا اس کا طرز امتحاں کل رات کو\n\nعفت الفت سے تھی آئینۂ دل کی جلا\nورنہ تھا جذبات کا دریا رواں کل رات کو\n\nذوق سے وہ سن رہے تھے داستان غم مری\nہو رہا تھا انقلاب آسماں کل رات کو\n\nدل کی اک آواز تھی اس بزم میں تفسیر غم\nہو چکے تھے وہ بھی مجبور فغاں کل رات کو\n\nتفرقہ بے اعتمادی دشمنی مکر و فریب\nتھی تری تعبیر اے ہندوستاں کل رات کو\n\nسو چکے تھے چند ہی گھنٹوں میں ارباب نشاط\nصبح تک تھا ساتھ وہ آرام جاں کل رات کو\n\nرنگ صہبا چشم نرگس میں تھا آسیؔ وقت صبح\nجاگنے سے ہو رہی تھیں خوں فشاں کل رات کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%AF_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%84_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D9%88"} {"title": "اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائے\nآدمی کثرت انوار سے حیراں ہو جائے\n\nتم جو چاہو تو مرے درد کا درماں ہو جائے\nورنہ مشکل ہے کہ مشکل مری آساں ہو جائے\n\nاو نمک پاش تجھے اپنی ملاحت کی قسم\nبات تو جب ہے کہ ہر زخم نمک داں ہو جائے\n\nدینے والے تجھے دینا ہے تو اتنا دے دے\nکہ مجھے شکوۂ کوتاہئ داماں ہو جائے\n\nاس سیہ بخت کی راتیں بھی کوئی راتیں ہیں\nخواب راحت بھی جسے خواب پریشاں ہو جائے\n\nسینۂ شبلی و منصور تو پھونکا تو نے\nاس طرف بھی کرم اے جنبش داماں ہو جائے\n\nآخری سانس بنے زمزمۂ ہو اپنا\nساز مضراب فنا تار رگ جاں ہو جائے\n\nتو جو اسرار حقیقت کہیں ظاہر کر دے\nابھی بیدمؔ رسن و دار کا ساماں ہو جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%86%D9%85%D8%A7%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "اپنے آقا کی ہر گھڑی یاد میں ہوں", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اپنے آقا کی ہر گھڑی یاد میں ہوں\nہر وقت منیرؔ آہ و فریاد میں ہوں\nاس شہر کے نام میں ہے تشدید بلا\nآرے کے تلے میں فرخ آباد میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%A2%D9%82%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "اپنے ابرو آئنے میں دیکھ کر بسمل ہوا", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنے ابرو آئنے میں دیکھ کر بسمل ہوا\nکھینچ کر تلوار اپنا آپ وہ قاتل ہوا\n\nبھاگ کر کب تجھ سے جاں بر کوئی اے قاتل ہوا\nاڑ چلا گر ہوش اپنا طائر بسمل ہوا\n\nاب کہاں نالے کہ اس لیلیٰ کا مسکن دل ہوا\nتھا جرس جو پیش ازیں وہ ان دنوں محمل ہوا\n\nنام نیک اہل حکومت کو کہاں حاصل ہوا\nخلق میں مشہور اک نوشیرواں عادل ہوا\n\nسر سے پا تک ہر صنوبر ہی فقط کیا دل ہوا\nدیکھ کر اس سرو قد کو سرو بھی مائل ہوا\n\nاس ادا سے باڑھ دیکھی آپ نے تلوار کی\nطائر رنگ حنا بھی طائر بسمل ہوا\n\nدھیان اس کے بند کرنے کا اگر آتا تجھے\nکیوں نہ تیرا رخنۂ در میرا چاک دل ہوا\n\nہے یہ غم جانکاہ خال ابروئے خم دار کا\nکعبے میں کاہیدہ ہو کر سنگ اسود دل ہوا\n\nجو یہاں مغلوب ہے عقبیٰ میں غالب ہے وہی\nمرکب مقتول ہے اک روز جو قاتل ہوا\n\nدھوئے ہیں دھوبی نے دریا میں جو کپڑے یار کے\nآج کوسوں تک معطر دامن ساحل ہوا\n\nدلبری کا جب ہوا اس سرو قامت کو خیال\nعضو عضو اپنا وہیں مثل صنوبر دل ہوا\n\nسب کے خالق نے بنائے کاسۂ سر واژگوں\nآدمی اس پر بھی پیش آدمی سائل ہوا\n\nبجھ گیا میرا چراغ داغ وصل یار میں\nنور مہ نزدیکیٔ خورشید سے زائل ہوا\n\nجو پری رو بیٹھتا ہے آ کے اٹھ سکتا نہیں\nاب تو نقش بوریا کا خوب میں عامل ہوا\n\nجذب جنسیت بہم رہنے نہیں دیتا فراق\nکل بنا جو جسم خاکی آج گل در گل ہوا\n\nہائے کس قاتل ادا سے کی شروع اس نے نماز\nنکلی جب تکبیر اس کے منہ سے میں بسمل ہوا\n\nکہتے ہیں زاہد مری دیوانگی کو دیکھ کر\nبت پرستی کے سبب قہر خدا نازل ہوا\n\nجب تصور یار کا باندھا ہم آپ آئے نظر\nسامنے آنکھوں کے آئینہ ہمارا دل ہوا\n\nعاشق بے ننگ سے ہوتا ہے معشوقوں کو ننگ\nپیرہن مجنوں کا پھٹ کر پردۂ محمل ہوا\n\nسامنے میرے رہا گر شام سے لے تا سحر\nحسن میں گر مثل ماہ چاردہ کامل ہوا\n\nروح ناسخؔ ہے اسی کی روح اقدس پر نثار\nبارہا جس کے لیے روح القدس نازل ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "اپنے اپنے رنگ میں یکتا میں ہی میں ہوں تو ہی تو ہے", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنے اپنے رنگ میں یکتا میں ہی میں ہوں تو ہی تو ہے\nحسن کی مورت عشق کا پتلا میں ہی میں ہوں تو ہی تو ہے\n\nدنیا سے کیا مطلب مجھ کو عالم سے کیا تجھ کو تعلق\nمیرا دل بر تیرا شیدا میں ہی میں ہوں تو ہی تو ہے\n\nچل کر پھر کر دیکھا بھالا جانچا پرکھا سمجھا بوجھا\nسب سے اعلیٰ سب سے ادنیٰ میں ہی میں ہوں تو ہی تو ہے\n\nظلم سے رکھے کام ہمیشہ دعوے کرتا جائے وفا کا\nکون زمانے میں ہے ایسا میں ہی میں ہوں تو ہی تو ہے\n\nخون جگر سے قول رہا یہ میرے اشک چشم تر کا\nچڑھتا دریا بہتا دریا میں ہی میں ہوں تو ہی تو ہے\n\nتو ہی تو ہے میں ہی میں ہوں عالم میں عالم سے نرالا\nدنیا میں دنیا سے انوکھا میں ہی میں ہوں تو ہی تو ہے\n\nدل نہ تجھے لینا تھا مجھ سے جان مجھے دینی تھی نہ تجھ پر\nکیسا دنیا بھر میں رسوا میں ہی میں ہوں تو ہی تو ہے\n\nکیسی عذرا کیسی لیلیٰ کیسا وامق کیسا مجنوں\nاب مشہور جہاں میں کیا کیا میں ہی میں ہوں تو ہی تو ہے\n\nیوں تو ہیں معشوق ہزاروں یوں تو ہیں لاکھوں عاشق بھی\nلیکن بہتر نادر یکتا میں ہی میں ہوں تو ہی تو ہے\n\nنوحؔ یہ باتیں مٹ جائیں گی تیرے میرے مٹ جانے سے\nچاہنے والا عشق و وفا کا میں ہی میں ہوں تو ہی تو ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "اپنے جانان کو اے جان اسی جان میں ڈھونڈ", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنے جانان کو اے جان اسی جان میں ڈھونڈ\nڈھونڈ مت اور جگہ پر دل حیران میں ڈھونڈ\n\nڈھونڈھنا اس کا بہت سہل بتایا ہے فقیر\nجان میں اپنی اسے لوں گا میں اک آن میں ڈھونڈ\n\nجس طرف دیکھو اسی کا ہے جھمکڑا واللہ\nطالب اللہ کا لیتا ہے ہر اک شان میں ڈھونڈ\n\nچاہنے والے کا خود آپ چہیتا ہے وہ\nمہ کنعاں کو لیا تھا چہہ کنعان میں ڈھونڈ\n\nظاہرا دیکھ سخن فہم سخن آفریدیؔ\nغیر مخلوق سخن معنیٔ قرآن میں ڈھونڈ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88"} {"title": "اپنے جوار میں ہمیں مسکن بنا دیا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنے جوار میں ہمیں مسکن بنا دیا\nدشمن کو اور دوست نے دشمن بنا دیا\n\nمشاطہ نے مگر عملِ سیمیا کیا\nگل برگ کو جو غنچۂ سوسن بنا دیا\n\nدامن تک اس کے ہائے نہ پہنچا کبھی وہ ہاتھ\nجس ہاتھ نے کہ جیب کو دامن بنا دیا\n\nدیکھا نہ ہو گا خواب میں بھی یہ فروغِ حسن\nپردے کو اس کے جلوے نے چلمن بنا دیا\n\nتم لوگ بھی غضب ہو کہ دل پر یہ اختیار\nشب موم کر لیا، سحر آہن بنا دیا\n\nپروانہ ہے خموش کہ حکمِ سخن نہیں\nبلبل ہے نغمہ گر کہ نوا زن بنا دیا\n\nصحرا بنا رہا ہے وہ افسوس شہر کو\nصحرا کو جس کے جلوے نے گلشن بنا دیا\n\nمشاطہ کا قصور سہی سب بناؤ میں\nاس نے ہی کیا نگہ کو بھی پر فن بنا دیا\n\nاظہارِ عشق اس سے نہ کرنا تھا شیفتہ\nیہ کیا کیا کہ دوست کو دشمن بنا دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B3%DA%A9%D9%86_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اپنے در سے جو اٹھاتے ہیں ہمیں", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنے در سے جو اٹھاتے ہیں ہمیں\nخاک میں آپ ملاتے ہیں ہمیں\n\nہے جو منظور جفا در پردہ\nمنہ وہ غیروں میں دکھاتے ہیں ہمیں\n\nغیر کو پاس بٹھا رکھتے ہیں\nجب کبھی آپ بلاتے ہیں ہمیں\n\nگرمیاں غیر کو دکھلا دکھلا\nبزم میں آپ جلاتے ہیں ہمیں\n\nشب فرقت میں فلک کے تارے\nداغ دل یاد دلاتے ہیں ہمیں\n\nان کے انداز سخن ہیں معلوم\nغیر کو کہہ کے سناتے ہیں ہمیں\n\nپھر کسی گل پہ ہوا دل مائل\nداغ تازہ نظر آتے ہیں ہمیں\n\nچھوڑ دیں آپ کی ہم راہی ہم\nواہ کیا راہ بتاتے ہیں ہمیں\n\nتو ہمیں راہ بتائے جس سے\nغیر وہ راہ بتاتے ہیں ہمیں\n\nعطر گل سے نہیں جب دل بھرتا\nاپنا رومال سونگھاتے ہیں ہمیں\n\nشب کو افسانۂ دل کہہ کے اثرؔ\nآپ روتے ہیں رلاتے ہیں ہمیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دے\nہر قطرۂ دل کو قیس بنا ہر ذرے کو محمل کر دے\n\nدنیائے حسن و عشق مری کرنا ہے تو یوں کامل کر دے\nاپنے جلوے میری حیرت نظارے میں شامل کر دے\n\nیاں طور و کلیم نہیں نہ سہی میں حاضر ہوں لے پھونک مجھے\nپردے کو اٹھا دے مکھڑے سے برباد سکون دل کر دے\n\nگر قلزم عشق ہے بے ساحل اے خضر تو بے ساحل ہی سہی\nجس موج میں ڈوبے کشتئ دل اس موج کو تو ساحل کر دے\n\nاے درد عطا کرنے والے تو درد مجھے اتنا دے دے\nجو دونوں جہاں کی وسعت کو اک گوشۂ دامن دل کر دے\n\nہر سو سے غموں نے گھیرا ہے اب ہے تو سہارا تیرا ہے\nمشکل آساں کرنے والے آسان مری مشکل کر دے\n\nبیدمؔ اس یاد کے میں صدقے اس درد محبت کے قرباں\nجو جینا بھی دشوار کرے اور مرنا بھی مشکل کر دے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%BE%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%92"} {"title": "اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے\nیہ قفس یہ آشیانا اور ہے\n\nموت کا آنا بھی دیکھا بارہا\nپر کسی پر دل کا آنا اور ہے\n\nناز اٹھانے کو اٹھاتے ہیں سبھی\nاپنے دل کا ناز اٹھانا اور ہے\n\nدرد دل سن کر تمہیں نیند آ چکی\nبندہ پرور یہ فسانا اور ہے\n\nرات بھر میں شمع محفل جل بجھی\nعاشقوں کا دل جلانا اور ہے\n\nہم کہاں پھر باغباں گلشن کہاں\nایک دو دن آب و دانا اور ہے\n\nبھولی بھولی ان کی باتیں ہو چکیں\nاب خدا رکھے زمانا اور ہے\n\nچھوڑ دوں کیوں کر در پیر مغاں\nکوئی ایسا آستانا اور ہے\n\nیار صادق ڈھونڈتے ہو تم جلیلؔ\nمشفق من یہ زمانا اور ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%B9%DA%BE%DA%A9%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "اپنے سے بے سمجھ کو حق کی کہاں پچھانت", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "اپنے سے بے سمجھ کو حق کی کہاں پچھانت\n'من عَرَفَ' کو نہ بوجھا 'قد عَرَفَ' سوں جہالت\n\nہے فرض بوجھ اول اپنا پچھے خدا کو\nبے بوجھ بندگی ہے سب رنج اور ملامت\n\nجنت کی تو مزدوری بوجھا ہے بندگی کو\nبخشش نہیں ہے ہرگز جز لطف اور عنایت\n\nحرص و ہوا میں پڑ کر حق سوں ہوا ہے باطل\nپھر مانگتا ہے جنت کیا نفس بد خصالت\n\nبن قلب کی حضوری منظور کیوں پڑے گا\nروزہ نماز رسمی سجدہ سجود طاعت\n\nمعبود کے مقابل عابد کو عبدیت ہے\nغیبت میں چپ رجھانا کیا محض ہے خجالت\n\nتن نفس اور دل روح سر نور ذات مل کر\nاپنے میں حق کو پانا ہے افضل العبادت\n\nبن پیر کے خدا کو پایا نہ کوئی ہرگز\nکامل کو کیوں پچھانے بے صدق و بے ہدایت\n\nنہیں ہے علیمؔ کو سچ تقویٰ عمل پہ اپنے\nدیدار کا صنم کے کافی ہے استقامت", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AD%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DA%86%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%AA"} {"title": "اپنے شعر سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہے گِلہ مجھ کو تِری لذّتِ پیدائی کا\nتُو ہُوا فاش تو ہیں اب مرے اَسرار بھی فاش\nشُعلے سے ٹُوٹ کے مثلِ شرَر آوارہ نہ رہ\nکر کسی سِینۂ پُر سوز میں خلوَت کی تلاش!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B4%D8%B9%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "اپنے عہد وفا کو بھول گئے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنے عہد وفا کو بھول گئے\nتم تو بالکل خدا کو بھول گئے\n\nکچھ نہ پوچھ انتہائے رنج فراق\nدرد پا کر دوا کو بھول گئے\n\nہم نے یاد بتاں میں دم توڑا\nمرتے مرتے خدا کو بھول گئے\n\nان کی باتوں کو یاد کرتا ہوں\nجو مری التجا کو بھول گئے\n\nدرمیانی تعلقات نہ پوچھ\nابتدا انتہا کو بھول گئے\n\nان سے دو دن بھی چاہ نبھ نہ سکی\nمضطرؔ بے نوا کو بھول گئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "اپنے قاصد کو صبا باندھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنے قاصد کو صبا باندھتے ہیں\nسچ ہے شاعر بھی ہوا باندھتے ہیں\n\nپھر سر دست مرا خوں ہوگا\nپھر وہ ہاتھوں میں حنا باندھتے ہیں\n\nگٹھری پھولوں کی وہ ہو جاتی ہے\nجن میں وہ اپنی قبا باندھتے ہیں\n\nاجی دیکھیں دل عاشق تو نہیں\nآپ آنچل میں یہ کیا باندھتے ہیں\n\nاے سخیؔ آج تو کچھ خیر نہیں\nوہ کمر ہو کے خفا باندھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اپنے نالے میں گر اثر ہوتا", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنے نالے میں گر اثر ہوتا\nقطرۂ اشک بھی گہر ہوتا\n\nجن کے نامے کی ہے پہنچ تجھ تک\nکاش میں ان کا نامہ بر ہوتا\n\nدل نہ دیتا جو میں تجھے ظالم\nکیوں مری جان کا ضرر ہوتا\n\nپھر نہ کرتا ستم کسی پہ اگر\nحال سے میرے باخبر ہوتا\n\nخون عشاق کرتے کیوں ناحق\nگر بتوں کو خدا کا ڈر ہوتا\n\nکام آتا میں ایک دن پیارے\nربط مجھ سے تجھے اگر ہوتا\n\nکھینچتی فوج خط جو حسن پہ تیغ\nسینہ میرا ہی واں سپر ہوتا\n\nسوزؔ کو شوق کعبے جانے کا\nہے بہت پر زیادہ تر ہوتا\n\nشیخ مانند تیرے اس کے پاس\nبار برداری کو جو خر ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے\nان کو ہم قصۂ غم اپنا سنا ہی نہ سکے\n\nذہن میرا وہ قیامت کہ دو عالم پہ محیط\nآپ ایسے کہ مرے ذہن میں آ ہی نہ سکے\n\nدیکھ لیتے جو انہیں تو مجھے رکھتے معذور\nشیخ صاحب مگر اس بزم میں جا ہی نہ سکے\n\nعقل مہنگی ہے بہت عشق خلاف تہذیب\nدل کو اس عہد میں ہم کام میں لا ہی نہ سکے\n\nہم تو خود چاہتے تھے چین سے بیٹھیں کوئی دم\nآپ کی یاد مگر دل سے بھلا ہی نہ سکے\n\nعشق کامل ہے اسی کا کہ پتنگوں کی طرح\nتاب نظارۂ معشوق کی لا ہی نہ سکے\n\nدام ہستی کی بھی ترکیب عجب رکھی ہے\nجو پھنسے اس میں وہ پھر جان بچا ہی نہ سکے\n\nمظہر جلوۂ جاناں ہے ہر اک شے اکبرؔ\nبے ادب آنکھ کسی سمت اٹھا ہی نہ سکے\n\nایسی منطق سے تو دیوانگی بہتر اکبرؔ\nکہ جو خالق کی طرف دل کو جھکا ہی نہ سکے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%DB%92"} {"title": "اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا\nاس دل کو کیا کہوں کہ دوانے نے کیا کیا\n\nیاں تک ستانا مج کو کہ رو رو کہے تو ہائے\nیارو نہ تم سنا کہ فلانے نے کیا کیا\n\nپردہ تو راز عشق سے اے یار اٹھ چکا\nبے سود ہم سے منہ کے چھپانے نے کیا کیا\n\nآنکھوں کی رہبری نے کہوں کیا کہ دل کے ساتھ\nکوچے کی اس کے راہ بتانے نے کیا کیا\n\nکام آئی کوہ کن کی مشقت نہ عشق میں\nپتھر سے جوئے شیر کے لانے نے کیا کیا\n\nٹک در تک اپنے آ مرے ناصح کا حال دیکھ\nمیں تو دوانا تھا پہ سیانے نے کیا کیا\n\nچاہوں میں کس طرح یہ زمانے کی دوستی\nاوروں سے دوست ہو کے زمانے نے کیا کیا\n\nکہتا تھا میں گلے کا ترے ہو پڑوں گا ہار\nدیکھا نہ گل کو سر پہ چڑھانے نے کیا کیا\n\nسوداؔ ہے بے طرح کا نشہ جام عشق میں\nدیکھا کہ اس کو منہ کے لگانے نے کیا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اپنے ہی دل اپنوں کا دکھاتے ہیں بہت", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اپنے ہی دل اپنوں کا دکھاتے ہیں بہت\nڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بناتے ہیں بہت\nہر چند کہ ہیں دانت نہایت ہم درد\nلیکن جب ہل گئے ستاتے ہیں بہت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA"} {"title": "اپنے ہی دم سے ہے چرچا کفر اور اسلام کا", "poet_page": "مصنف:میاں داد خاں سیاح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اپنے ہی دم سے ہے چرچا کفر اور اسلام کا\nگاہ عابد ہوں خدا کا گہہ پجاری رام کا\n\nلوٹتے ہیں جس کو سن سن کر ہزاروں مرغ دل\nہو رہا ہے ذکر کس کے گیسوؤں کے دام کا\n\nچشم مست یار کا ہم چشم لو پیدا ہوا\nدیکھنا اب پوست کھینچا جائے گا بادام کا\n\nسیر کرتا ہے وہ عالم کی مرا پیک نگاہ\nلاکھ ہے بے دست و پا لیکن ہے پھر سو کام کا\n\nسر جدا تن سے کیا اک ہاتھ میں جلاد نے\nنقد جاں دیجے کیا اس نے یہ کام انعام کا\n\nہیں شہ ملک جنوں صحرا ہے اپنا تخت گاہ\nتن پہ ہر داغ جنوں سکہ ہے اپنے نام کا\n\nجلد نام اپنا بتا دے جیسے بندہ ہوں ترا\nواسطہ دیتا ہوں میں اے بت خدا کے نام کا\n\nبت پرستی کی بہت سیاحؔ اب کر یاد حق\nشغل مولا میں رہے بندہ وہی ہے کام کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%DA%86%D8%B1%DA%86%D8%A7_%DA%A9%D9%81%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اچھا جو خفا ہم سے ہو تم اے صنم اچھا", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "اچھا جو خفا ہم سے ہو تم اے صنم اچھا\nلو ہم بھی نہ بولیں گے خدا کی قسم اچھا\n\nمشغول کیا چاہئے اس دل کو کسی طور\nلے لیویں گے ڈھونڈ اور کوئی یار ہم اچھا\n\nگرمی نے کچھ آگ اور بھی سینہ میں لگائی\nہر طور غرض آپ سے ملنا ہی کم اچھا\n\nاغیار سے کرتے ہو مرے سامنے باتیں\nمجھ پر یہ لگے کرنے نیا تم ستم اچھا\n\nہم معتکف خلوت بت خانہ ہیں اے شیخ\nجاتا ہے تو جا تو پئے طوف حرم اچھا\n\nجو شخص مقیم رہ دل دار ہیں زاہد\nفردوس لگے ان کو نہ باغ ارم اچھا\n\nکہہ کر گئے آتا ہوں کوئی دم کو ابھی میں\nپھر دے چلے کل کی سی طرح مجھ کو دم اچھا\n\nاس ہستئ موہوم سے میں تنگ ہوں انشاؔ\nواللہ کہ اس سے بہ مراتب عدم اچھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اچھا ہوا کہ دم شب ہجراں نکل گیا", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اچھا ہوا کہ دم شب ہجراں نکل گیا\nدشوار تھا یہ کام پر آساں نکل گیا\n\nبک بک سے ناصحوں کی ہوا یہ تو فائدہ\nمیں گھر سے چاک کر کے گریباں نکل گیا\n\nپھر دیکھنا کہ خضر پھرے گا بہا بہا\nگر سوئے دشت میں کبھی گریاں نکل گیا\n\nخوبی صفائے دل کی ہماری یہ جانیے\nسینے کے پار صاف جو پیکاں نکل گیا\n\nہنگامے کیسے رہتے ہیں اپنے سبب سے واں\nہم سے ہی نام کوچۂ جاناں نکل گیا\n\nفرقت میں کار وصل لیا واہ واہ سے\nہر آہ دل کے ساتھ اک ارماں نکل گیا\n\nبہتر ہوا کہ آئے وہ محفل میں بے نقاب\nعارفؔ غرور ماہ جبیناں نکل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D9%85_%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اچھا ہوا یہ وقت تو آنا ضرور تھا", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اچھا ہوا یہ وقت تو آنا ضرور تھا\nمدت سے کش مکش میں دل ناصبور تھا\n\nدنیا کا ہوشیار بڑا ذی شعور تھا\nجب تک مرے کہے میں دل ناصبور تھا\n\nمیرا قصور میری نظر کا قصور تھا\nوہ جس قدر قریب تھا اتنا ہی دور تھا\n\nاچھا ہوا جو دل کی تڑپ اور بڑھ گئی\nجانا بھی ان کی بزم میں مجھ کو ضرور تھا\n\nاس بے نشاں کا آج نشاں ڈھونڈتے ہیں آپ\nسنیے وہی جو نازش اہل قبور تھا\n\nوہ دور میری عمر کا تھا یادگار دور\nجس میں کہ تیرے حسن پہ مجھ کو غرور تھا\n\nلے آیا کون گور غریباں میں کھینچ کر\nکوسوں ابھی میں منزل مقصد سے دور تھا\n\nواعظ نے ذکر وعدۂ فردوس کیوں کیا\nاس رند سے جو نشۂ وحدت سے چور تھا\n\nاب آ کے میری لاش سے فرما رہے ہیں وہ\nعالمؔ یہ تیری عقل و فراست سے دور تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D9%86%D8%A7_%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اچھلتا کودتا ہے خوش دل دیوانہ ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:بوم میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اچھلتا کودتا ہے خوش دل دیوانہ ہوتا ہے\nنظر کے سامنے جب جلوۂ جانانہ ہوتا ہے\n\nمری خصلت سے نا خوش اپنا اور بیگانہ ہوتا ہے\nجہاں میں بیٹھ جاتا ہوں وہیں ویرانہ ہوتا ہے\n\nمیرے کندھوں پہ رکھ دے ساقیا دوکان کو اپنی\nجہاں دو بوتلیں رکھ دیں وہی مے خانہ ہوتا ہے\n\nشمع کچھ پھوکنے کے واسطے گھر پر نہیں جاتی\nفدا الو کا پٹھا آ کے خود پروانہ ہوتا ہے\n\nابے ساقی نہیں ہے جام تو لا اس طرف بوتل\nذرا سی ٹنٹنی کو توڑ دوں پیمانہ ہوتا ہے\n\nجناب شیخ کا اس وقت میں کھنچے کوئی فوٹو\nکہ جب بوتل بغل میں ہاتھ میں پیمانہ ہوتا ہے\n\nنقب کر کے چرا لیتے ہیں ہم پیپے شرابوں کے\nکہ جس دم بند آدھی رات کو مے خانہ ہوتا ہے\n\nشب وعدہ کی باتیں تم جو کہہ دیتے ہو گھر جا کر\nانہیں باتوں کا بڑھتے بڑھتے ایک افسانہ ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%86%DA%BE%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%AF%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اچھی تربیت کے فوائد کے بیان میں", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "واضح ہو کہ اچھی تربیت سے فقط یہ مراد نہیں ہے کہ آدمی لکھنا اور پڑھنا خط وغیرہ کا سیکھ جاوے بلکہ اس سے مراد وہ عقل اور شعور اور استعداد بھی ہے جو بہ سبب تحصیل کتب فاضلوں اور حکماء سے اور صحبت عاقلوں اور عالموں کی سے حاصل ہوتی ہے۔ پس جب یہ مراد ہوئی تربیت سے، تو جو آدمی اپنے تئیں جاہل اور ناخواندوں سے بزرگی دیا چاہے اسے لازم ہے کہ حاصل کرنے اچھی تربیت میں کوشش کرے۔\n\nاگر اس دنیا میں ہم خلقت کو مشاہدہ کریں تو ہمیں یہ بات دریافت ہوگی کہ گو اچھی تربیت یافتوں کو دولت حاصل نہ ہو لیکن اس میں شک نہیں کہ ان کی ہرجائے عزت و تعظیم کی جاوے گی۔ جو آدمی اس سے کلام کرے گا، اسے اس کی خوش اخلاقی اور علمیت کو دیکھ کر اس سے بہت خوش ہوگا اور اس کی صحبت کا آرزو مند ہوگا۔ خلاف اس کے جو آدمی جاہل مطلق اور ناتربیت یافتہ ہیں، ان کے کلام اور حرکات ایسے ہوتے ہیں کہ ان سے ہر آدمی نفرت کرنے لگتا ہے اور جہاں ایسے شخص جاتے ہیں کوئی ان کی تواضع نہیں کرتا بلکہ ان کے بیٹھنے کے بھی خواہاں نہیں ہوتے۔\n\nحقیقت یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے سب انسانوں کو تھوڑی بہت عقل اور تمیز دی ہے لیکن بعض کو اچھی تربیت ملتی ہے اور بعض کو بالکل تربیت نہیں ہوتی۔ اس باعث سے انسان میں اختلاف پڑ جاتا ہے۔ ایک آدمی منشی ہے اور ایک چپراسی۔ پس ان دونوں میں فقط فرق یہ ہے کہ ایک ان میں سے تربیت یافتہ اور دوسرا ناتربیت یافتہ ہے۔ عقل جو انسان میں پائی جاتی ہے، وہ مانند ایک پتھر سنگ مرمر کے ہے، جو کان میں مٹی سے آلودہ دبا ہوا ہے اور تربیت مانند اس کاری گر کے ہے کہ جو پتھر کو نکال کر صاف اور درست کیا کرتا ہے۔ جب تک سنگ مرمر کو کاری گر مذکور کان میں سے نکال کر صاف نہیں کرتا ہے، تب تک خوبصورتی اور رونق سنگ مرمر کی کہاں ظاہر ہوتی ہے؟ اسی طور سے جب تک کہ آدمی کو تربیت نہیں ہوتی ہے اس وقت تک عقل اور صفات جبلی جو اللہ تعالیٰ نے اسے بخشے ہیں ظاہر نہیں ہوتے ہیں۔\n\nممکن ہے کہ ہزارہا گنوار اور دیہاتی ایسے گذرے ہوں گے کہ ان کو خدا تعالیٰ نے اسی قدر ذہن اور عقل بخشی ہو جیسی کہ حکیم ارسطو کو حاصل تھی۔ اب کوئی پوچھے کیوں حکیم ارسطو نامی حکیم ہوا، اور گنوار مذکور حالت جہالت ہی میں مرگیا اور نام و نشان بھی نہیں رہا۔ اس کا جواب فقط یہ ہے کہ ارسطو کو تربیت ہوئی تھی اور اس کو نہیں ہوئی۔ ارسطو نے کتب اور تصنیفات حکمائے گذشتہ کو ملاحظہ کیا اور گنوار مذکور کاشتکاری کرتے کرتے مر گیا۔ اگر مانند ارسطو کے ان کو بھی قابو واسطے تحصیل کتب وغیرہ کے ہوتا تو شاید وہ گنوار ارسطو سے بھی سبقت لے جاتا۔ ایک شاعر نے سچ کہا ہے کہ گنواروں اور غریبوں کے ذہن اور عقل سے کون آگاہ ہوتا ہے۔ وہ مانند ان جواہرات کے ہیں جو اندر سمندر کے پڑے ہوئے ہیں اور انسان کی نگاہ سے پوشیدہ ہیں یا وہ مانند ان خوشبودار پھولوں کے ہیں جو دشت لق و دق میں شگفتہ ہیں ان کی خوشبو کو کون سونگھتا ہے۔\n\nتربیت ایک ایسی شیٔ ہے کہ وہ ورثے میں نہیں حاصل ہوتی ہے یعنی یہ بات غیرممکن ہے کہ اگر باپ تربیت یافتہ ہو تو بالضرور اس کا بیٹا بھی تربیت یافتہ ہی ہو۔ یہاں سے یہ بات ہر انسان پر فرض ہے کہ اچھی تربیت پانے میں کوشش بلیغ کرے اور اس میں تغافلی اور کاہلی کو جائے نہ دے۔ اہل یونان تربیت کے فوائد سے بہت آگاہ تھے۔ وہ اپنے بچوں اور خوردوں کو اچھی طرح سے تربیت کرنے میں ہمیشہ کوشش کرتے تھے۔ چنانچہ بادشاہ فیلقوس نے جو باپ شاہنشاہ سکندر رومی کا تھا، اپنے لڑکے شاہنشاہ یعنی سکندر کے واسطے تربیت کے ارسطو کو مقرر کیا اور فی الحقیقت جیسی تربیت اس حکیم اعظم فاضل سے پائی تھی، وہ سب پر روشن ہے۔ اس سارے مضمون سے یہ غرض ہے کہ یہ بات آدمیوں پر فرض ہے کہ اپنے لڑکوں اور بچوں کو خوب اچھی طرح سے تربیت کریں اور انھیں سب علوم سکھاویں اور کرنے اس ترکیب سے آئندہ کو بہت فائدہ ہوگا۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D9%81%D9%88%D8%A7%D8%A6%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا\nیاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا دل کا\n\nتم بھی منہ چوم لو بے ساختہ پیار آجائے\nمیں سناؤں جو کبھی دل سےفسانا دل کا\n\nان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہ\nہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا\n\nمیری آغوش سے کیا ہی وہ تڑپ کر نکلے\nان کا جانا تھا الہٰی کہ یہ جانا دل کا\n\nحور کی شکل ہو تم نور کے پتلے ہو تم\nاور اس پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا\n\nچھوڑ کر اس کو تیری بزم سے کیوں‌کر جاؤں\nاک جنازے کا اٹھانا ہے اٹھانا دل کا\n\nبے دلی کا جو کہا حال تو فرماتے ہیں\nکر لیا تو نے کہیں اور ٹھکانا دل کا\n\nبعد مدت کے یہ اے “داغ“ سمجھ میں‌آیا\nوہی دانا ہے کہا جس نے نہ مانا دل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%DB%81_%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%D9%B9%D9%88%D9%B9_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اچھی نبھی بتان ستم آشنا کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اچھی نبھی بتان ستم آشنا کے ساتھ\nاب بعد مرگ دیکھیے کیا ہو خدا کے ساتھ\n\nجب سے وہ سن چکے ہیں کہ ہم خواب میں چلے\nنیچی نگاہ بھی نہیں کرتے حیا کے ساتھ\n\nیوں گمرہان عشق ہیں رہزن کے ساتھ خوش\nگویا کہ ہو لیے ہیں کسی رہنما کے ساتھ\n\nمانگوں دعائے مرگ تو آمیں کہے عدو\nاب ان کی بد دعا ہے مرے مدعا کے ساتھ\n\nیوں کہتے ہیں کہ تجھ کو ستائے ہی جائیں گے\nگویا کہ مجھ کو عشق ہے اپنی وفا کے ساتھ\n\nغیروں نے بے دلی سے مری پائے مدعا\nمیں گم ہوا نہ کیوں دل حسرت فزا کے ساتھ\n\nشرمندۂ بتاں نہ ہوئے لاکھ لاکھ شکر\nسالکؔ خدا نے ہم کو اٹھایا وفا کے ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D9%86%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "اچھی کتاب", "poet_page": "مصنف:مولوی عبد الحق", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "پڑھنے کی عادت بہت اچھی ہے لیکن پڑھنے پڑھنے میں فرق ہے اورکتاب کتاب میں فرق ہے۔\n\nمیں ایک بدمعاش اور پاجی آدمی سے باتیں یا بے تکلّفی کرتے ہوئے جھپکتا ہوں اور آپ بھی میرے اس فعل کو بُری نظر سے دیکھتے ہیں لیکن میں اس سے زیادہ تر بُری اور پاجی کتاب پڑھتا ہوں، نہ آپ کو ناگوار گزرتا ہے اور نہ مجھے ہی کچھ ایسی شرم آتی ہے بلکہ اس کی بات شربت کے گھونٹ کی طرح حلق سے اُترتی چلی جاتی ہے۔ پاجی آدمی کی شاید کوئی حرکت ناگوار ہوتی اور میں اس سے بیزار ہو جاتا مگر یہ چپکے چپکے دِل میں گھر کر رہی ہے اور اس کی ہر بات دلربا معلوم ہوتی ہے۔\n\nاگر میں کسی روز بازار جاؤں اور چوک میں سے کسی محض اجنبی شخص کو ساتھ لے آؤں اور اس سے بے تکلفی اور دوستی کی باتیں شروع کردوں اور پہلے ہی روز اس طرح اعتبار کرنے لگوں جیسے کسی پرانے دوست پر، تو آپ کیا کہیں گے ؟ لیکن ریل اگر کسی اسٹیشن پر ٹھہرے اور میں اپنی گاڑی سے اُتر کر سیدھا بک اسٹا ل (کتب فروش کی الماری ) پر پہنچوں اور پہلی کتاب جو میرے ہاتھ لگے وہ خرید لاؤں اور کھول کر شوق سے پڑھنے لگوں تو شاید آپ کچھ نہ کہیں گے۔ حالانکہ یہ فعل پہلے فعل سے زیادہ مجنونانہ ہے۔\n\nمیں ایک بڑے شہر یا مجمع میں جاتا ہوں۔ کبھی ایک طرف نکل جاتا ہوں اور کبھی دوسری طرف جا پہنچتا ہوں اور بغیر کسی مقصد کے اِدھر اُدھر مارا مارا پھرتا ہوں۔ افسو س کہ باوجود آدمیوں کی کثرت کے میں وہاں اپنے تئیں اکیلا اور تنہا پاتا ہوں اور اس ہجوم میں تنہائی کا بار اور بھی گراں معلوم ہوتا ہے۔ میرے کتب خانے میں بیسوں الماریاں کتابوں کی ہیں میں کبھی ایک الماری کے پاس جا کھڑا ہوتا ہوں اور کوئی کتاب نکال کر پڑھنے لگتاہوں۔ میں اس طرح سینکڑوں کتابیں پڑھ جاتا ہوں لیکن اگر میں غور کروں تو دیکھوں گا کہ میں نے کچھ بھی نہیں پڑھا۔ اس وقت میری آوارہ خوانی مجھے ستائے گی اور جس طرح ایک بھرے پرے شہر میں میری تنہائی میرے لیے و بال ہوگی۔ اسی طرح اس مجمع شرفا و علما ادبا شعرا میں یکہ و تنہا و حیران ہوں گا۔\n\nبغیر کسی مقصد کے پڑھنا فضو ل ہی نہیں مضر بھی ہے۔ جس قدر ہم بغیر کسی مقصد کے پڑھتے ہیں اسی قدر ہم ایک بامعنی مطالعہ سے دور ہوتے جاتے ہیں۔\n\nملٹن نے ایک جگہ کہا ہے ’’اچھی کتاب کا گلا گھونٹنا ایسا ہی ہے جیسا کسی انسان کا گلا گھوٹنا۔‘‘ جس سے اس کی مراد یہ ہے کہ فضول اور معمولی کتابوں کے پڑھنے میں عزیز وقت ضائع کرنا اچھی کتابوں کا گلا گھوٹنا ہے۔ کیونکہ ایسی صورت میں وہ ہمارے لیے مردہ ہے۔ لو گ کیوں فضول، معمولی اور ادنیٰ درجے کی کتابیں پڑھتے ہیں، کچھ تو اس لیے کہ ان میں نیاپن ہے، کچھ اس خیال سے کہ ایسا کرنا داخل فیشن ہے اور کچھ اس غرض سے کہ اس سے معلومات حاصل ہوتی ہیں۔\n\nپہلی دو وجہیں تو طفلانہ ہیں، تیسری وجہ بظاہر معقول ہے لیکن اس کے یہ معنٰی ہوں گے کہ ہم معمولی، ذلیل اور ادنیٰ معلومات کو اپنے دماغ میں بھرتے ہیں تاکہ اعلیٰ معلومات کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اگر ہم اپنے مطالعہ کا ایک سیاہہ تیار کریں اور اس میں صبح و شام تک جو کچھ پڑھتے ہیں لکھ لیا کریں اور ایک مدّت کے بعد اسے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہم کیا کیاکر گزرے۔ اس میں ہم بہت سی ایسی تحریریں پائیں گے جن کا ہمیں مطلق خیال نہیں۔\n\nبہت سے ایسے ناول ہوں گے جس کے ہیروؤں تک کے نام یاد نہیں۔ بہت سے ایسی کتابیں ہیں کہ جن کی نسبت اگر ہم سے کوئی کہتا کہ یہ ہم پڑھ چکے ہیں تو ہمیں کبھی یقین نہ آتا۔ بہت سی ایسی تاریخیں، سفر نامے، رسالے وغیرہ ہوں گے جنھیں پڑھ کر خوش تو کیا ہوتے پچھتائے ہی ہوں گے۔\n\nاگرہم علی گڑھ کے کالج کے طالب علموں کے نام، ان کے حلیے، ان کے وطن، ان کے محلّے، ان کی کتب، نصاب تعلیم اور ان کے شجرے یاد کرنے شروع کردیں اور اسے معلومات کے نام سے موسوم کریں تو لوگ کیا کہیں گے۔\n\nغرض ایسا ہی کچھ حال اس سیاہہ کا ہوگا۔ اس کا اکثر حِصّہ خرافات کی ایک عجیب فہرست اور ہماری ورق گردانی اور تضیع وقت ودماغ کی ایک عمدہ یادگار ہوتی ہے۔\n\nملٹن نے کیا خوب کہا ہے۔ ’’عمدہ کتاب حیات ہی نہیں بلکہ وہ ایک لافانی چیز ہے۔‘‘ اس قول میں مطلق مبالغہ نہیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8"} {"title": "اچھی کہی دل میں نے لگایا ہے کہیں اور", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اچھی کہی دل میں نے لگایا ہے کہیں اور\nیہ جب ہو کہ تم سا ہو زمانے میں کہیں اور\n\nگردوں پہ مہ و مہر گل و شمع زمیں پر\nاک جلوۂ جاناں ہے کہیں اور کہیں اور\n\nمیں عکس ہوں آئینۂ امکاں میں تمہارا\nتم سا جو نہیں اور تو مجھ سا بھی نہیں اور\n\nاحباب جو کرتے ہیں کرم حال پہ میرے\nکہتا ہے جنوں آئیے چل بیٹھیں کہیں اور\n\nجاتے ہیں مٹاتے ہوئے وہ نقش قدم کو\nکہہ دے کوئی ان سے کہ ہے اک خاک نشیں اور\n\nآنکھ اس نے ملائی تڑپ اٹھا دل مضطر\nتاکا تھا کہیں اور پڑا تیر کہیں اور\n\nہم بھولے ہوئے راہ ہیں اے کعبہ نشینو\nجاتے تھے کہیں اور نکل آئے کہیں اور\n\nدیتی ہے مزہ ناصیہ سائی ترے در پر\nاک سجدہ جو کرتا ہوں تو کہتی ہے جبیں اور\n\nکچھ روز جلیلؔ اپنی رہی گر یہی حالت\nڈھونڈیں گے فلک اور نکالیں گے زمیں اور", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "اچھے دن", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بدلیں پھر رخ اپنا ہوائیں\nرنج کے بادل پھر چھٹ جائیں\nخوشیاں اپنا رنگ جمائیں\nعیش سے ہوں معمور فضائیں\nراس آئیں یا رب یہ دعائیں\nملک کے پھر اچھے دن آئیں\n\nپھر گل زار بنیں ویرانے\nپھر ہوں وہی رنگیں افسانے\nپھر آ جائیں اگلے زمانے\nپھر ہوں وہی پر کیف ترانے\nپھر ہوں وہی دلچسپ صدائیں\nملک کے پھر اچھے دن آئیں\n\nدیس کی حالت پھر ہو چنگی\nآئے وہی دور یک رنگی\nختم ہوں باتیں سب بے ڈھنگی\nاترے گلے سے طوق فرنگی\nگورے سب ہجرت کر جائیں\nملک کے پھر اچھے دن آئیں\n\nسکہ اپنا راج بھی اپنا\nتخت بھی اپنا تاج بھی اپنا\nپیلس اپنا لاج بھی اپنا\nکل بھی اپنا آج بھی اپنا\nہم پھر اپنا ٹھاٹھ جمائیں\nملک کے پھر اچھے دن آئیں\n\nمل اپنے ہوں مال ہو اپنا\nسن اپنا ہو سال ہو اپنا\nدولت اور اقبال ہو اپنا\nآکاس اور پاتال ہو اپنا\nسب کچھ پھر اپنے ہو جائیں\nملک کے پھر اچھے دن آئیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%92_%D8%AF%D9%86"} {"title": "اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے\nہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہے\n\nتجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے\nسو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے\n\nدیکھ لے بلبل و پروانہ کی بیتابی کو\nہجر اچھا نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے\n\nآ گیا اس کا تصور تو پکارا یہ شوق\nدل میں جم جائے الٰہی یہ خیال اچھا ہے\n\nآنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب\nوہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے\n\nبرق اگر گرمئ رفتار میں اچھی ہے امیرؔ\nگرمی حسن میں وہ برق جمال اچھا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%92_%D8%B9%DB%8C%D8%B3%DB%8C%D9%B0_%DB%81%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%B6%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اڑ کر سراغ کوچۂ دلبر لگائیے", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اڑ کر سراغ کوچۂ دلبر لگائیے\nکس طرح دونوں بازوؤں میں پر لگائیے\n\nاک تیر دل پر ایک جگر پر لگائیے\nحصہ لگائیے تو برابر لگائیے\n\nپھولوں میں توپئے مجھے نازک دماغ ہوں\nللہ اس لحد میں نہ پتھر لگائیے\n\nجب بزم یار میں ہے تکلف رسائی کا\nخلوت سرائے خاص میں بستر لگائیے\n\nہر دم کیا کرے رگ جاں مرحبا کا شور\nاس نوک جھونک سے کوئی نشتر لگائیے\n\nبرسوں سے بے قرار ہے تسکین کے لیے\nجھکئے ذرا جگر سے مرے سر لگائیے\n\nکیا بستنی قفس کی یہ بلبل کو بھیجئے\nحصے میں اس کے پھولوں کی چادر لگائیے\n\nجا اپنے دل میں دیجئے مجھ صاف قلب کو\nآئینے میں شبیہ سکندر لگائیے\n\nیاور نصیب ہو تو حسینوں کو چاہئے\nدل ان سے آزما کے مقدر لگائیے\n\nاکثر وہ کہتے ہیں کہ جو بوسہ طلب کرے\nاس گفتگو پہ منہ اسے کیوں کر لگائیے\n\nآئے دہان زخم سے آواز اور اور\nاس اس ادا و ناز سے خنجر لگائیے\n\nپرزے مرے اڑائیے بھیجا ہے میں نے خط\nبے جرم کیوں کباب کبوتر لگائیے\n\nصورت جو ایک ایک کی تکتا ہے آئنہ\nحسرت یہ ہے سراغ سکندر لگائیے\n\nہیں آپ تو تمام خدائی کے ناخدا\nمیرا جہاز بھی لب کوثر لگائیے\n\nبرہم مزاج ہو کے وہ برگشتگی کرے\nدفتر میں جس کے فرد مقدر لگائیے\n\nدولت جو مجھ غریب کی لوٹی ہے آپ نے\nکیا کیجئے گا حصۂ لشکر لگائیے\n\nجتنوں کی جانیں لیں ہیں انہیں خوں بہا ملے\nپورا حساب دیکھ کے دفتر لگائیے\n\nاس گل کی آ ہی جائے گی خوشبو دماغ میں\nچلیے ریاض عشق میں چکر لگائیے\n\nافشا کیا جو عشق تو جھنجھلا کے بولے وہ\nلکھوا کے اشتہار یہ گھر گھر لگائیے\n\nسو جا سے دل پھٹا ہے کلیجا ہے چاک چاک\nپیوند پھاڑ پھاڑ کے چادر لگائیے\n\nپھر اٹھ کے تیرے ہاتھ سے کٹوائیے گلا\nکیوں کر دوبارہ جسم میں پھر سر لگائیے\n\nساتھ اس قدر ہیں اس شہ خوباں کے سرفروش\nبرسوں حساب کثرت لشکر لگائیے\n\nکہتے ہیں لخت دل کو وہ بازار حسن میں\nسودا یہ میرے اردو سے باہر لگائیے\n\nمجھ سے لگاوٹ آپ کی شمشیر کرتی ہے\nمرتا ہوں اس پہ اس کو مرے سر لگائیے\n\nسیلاب اشک نے مرے رستے کیے ہیں بند\nکشتی منگا کے متصل در لگائیے\n\nخلعت شہید ناز کو بھجواتے ہیں جواب\nکشتی میں پہلے پھولوں کی چادر لگائیے\n\nپہونچا کے خط حلال ہوا ہے یہ اے شرفؔ\nآنکھوں سے لے کے خون کبوتر لگائیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%91_%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%82_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "اڑا سکتا نہیں کوئی مرے انداز شیون کو", "poet_page": "مصنف:سائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اڑا سکتا نہیں کوئی مرے انداز شیون کو\nبمشکل کچھ سکھایا ہے نوا سنجان گلشن کو\n\nگریباں چاک کرنے کا سبب وحشی نے فرمایا\nکہ اس کے تار لے کر میں سیوں گا چاک دامن کو\n\nبہار آتے ہی بٹتی ہیں یہ چیزیں قید خانوں میں\nسلاسل ہاتھ کو پاؤں کو بیڑی طوق گردن کو\n\nجھڑی ایسی لگا دی ہے مرے اشکوں کی بارش نے\nدبا رکھا ہے بھادوں کو بھلا رکھا ہے ساون کو\n\nدل مرحوم کی میت اجازت دو تو رکھ دیں ہم\nترے تلوے برابر ہی زمیں کافی ہے مدفن کو\n\nاجازت دو تو ساری انجمن کے دل ہلا دوں میں\nسمجھ رکھا ہے تم نے ہیچ تاثیرات شیون کو\n\nسلوک پیر مے خانہ کی اے ساقی تلافی کیا\nبجز اس کے دعائیں دو اسے پھیلا کے دامن کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%91%D8%A7_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%B4%DB%8C%D9%88%D9%86_%DA%A9%D9%88"} {"title": "اڑا لیے ہیں کچھ ارباب گلستاں نے تو کیا", "poet_page": "مصنف:نہال سیوہاروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اڑا لیے ہیں کچھ ارباب گلستاں نے تو کیا\nہزار شیوۂ نو ہیں مری فغاں کے لیے\n\nزمین کوچۂ جاناں سے آ رہی ہے صدا\nبلندیاں نہیں مخصوص آسماں کے لیے\n\nہے ختم حوصلہ مندی وجود آدم پر\nستیزۂ کار ہے فتح غم جہاں کے لیے\n\nہے سخت بے ادبی گر کہے فسانۂ عشق\nہر ایک بات مناسب نہیں زباں کے لیے\n\nاندھیری رات تھکی ہمتیں کڑی منزل\nسلامتی کی دعا مانگ کارواں کے لیے\n\nسجائی فکر درخشاں نے میری بزم نجوم\nتھی منتظر یہ زمیں ناز آسماں کے لیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%91%D8%A7_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہے", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہے\nشرابی جمع ہیں مے خانہ میں ٹوپی اچھلتی ہے\n\nبہار مے کشی آئی چمن کی رت بدلتی ہے\nگھٹا مستانہ اٹھتی ہے ہوا مستانہ چلتی ہے\n\nزخود رفتہ طبیعت کب سنبھالے سے سنبھلتی ہے\nنہ بن آتی ہے ناصح سے نہ کچھ واعظ کی چلتی ہے\n\nیہ کس کی ہے تمنا چٹکیاں لیتی ہے جو دل میں\nیہ کس کی آرزو ہے جو کلیجہ کو مسلتی ہے\n\nوہ دیوانہ ہے جو اس فصل میں فصدیں نہ کھلوائے\nرگ ہر شاخ گل سے خون کی ندی ابلتی ہے\n\nسحر ہوتے ہی دم نکلا غش آتے ہی اجل آئی\nکہاں ہوں میں نسیم صبح پنکھا کس کو جھلتی ہے\n\nتمتع ایک کا ہے ایک کے نقصاں سے عالم میں\nکہ سایہ پھیلتا جاتا ہے جوں جوں دھوپ ڈھلتی ہے\n\nبنا رکھی ہے غم پر زیست کی یہ ہو گیا ثابت\nنہ لپکا آہ کا چھوٹے گا جب تک سانس چلتی ہے\n\nقرار اک دم نہیں آتا ہے خون بے گنہ پی کر\nکہ اب تو خود بہ خود تلوار رہ رہ کر اگلتی ہے\n\nجہنم کی نہ آنچ آئے گی مے خواروں پہ او واعظ\nشراب آلودہ ہو جو شے وہ کب آتش میں جلتی ہے\n\nنہ دکھلانا الٰہی ایک آفت ہے شب فرقت\nنہ جو کاٹے سے کٹتی ہے نہ جو ٹالے سے ٹلتی ہے\n\nیہ اچھا شغل وحشت میں نکالا تو نے اے حیدرؔ\nگریباں میں الجھنے سے طبیعت تو بہلتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%91%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%DA%AF_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%92_%DA%AF%D9%84%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اڑاؤں نہ کیوں تار تار گریباں", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اڑاؤں نہ کیوں تار تار گریباں\nکہ پردہ دری ہے شعار گریباں\n\nہر اک تار ہے دست گیر تماشا\nکیا ضعف نے شرمسار گریباں\n\nکتان و گل و سینۂ اہل حسرت\nبہت چیز ہیں یادگار گریباں\n\nاگر دشمنی بخیہ گر کو نہیں\nتو کیوں اس قدر دوست دار گریباں\n\nیہیں قید رسم خلائق پسند\nہر اک سانس ہے خار خار گریباں\n\nوفا ہے مری پیش دست سلاسل\nترا پردہ ہے پیش کار گریباں\n\nیہ اڑنے میں چالاک ہر پارہ ہے\nرم دشت وحشت شکار گریباں\n\nکبھی کوہ میں دشت میں ہے کبھی\nنہیں کچھ گلو پر مدار گریباں\n\nقلقؔ کیوں کے پردہ نہ اٹھتا ہمارا\nکہ ہے بخیہ گر راز دار گریباں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%91%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA"} {"title": "اژدرنامہ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "یہ موذی کئی ناخبردار فن\nنئی ناگنیں جن کے ٹیکوں پہ پھن\nنہیں جانتیں میں ہوں مار سیاہ\nزبانہ ہے آتش کا میری نگاہ\nنفس ہے مرا افعی پیچ دار\nگیا جس سے خصم قوی من کو مار\nجدھر پھر نظر دیکھوں لگ جائے آگ\nدم دم کشی لب پہ کھیلیں ہیں ناگ\nجہاں میں ہوں وہ جا ہے پرشر و شور\nعصا سے چلے راہ واں مار و مور\nمری آنکھ سے زہر ٹپکا کیا\nجلا آگے میرے کبھو کب دیا\nسن اس ماجرے کو سبھوں نے کہا\nکہاں کیچوے یہ کہاں اژدہا\nنہ خصمی مری اژدروں سے ہوئی\nطرف مجھ سے ہو جونک کیا ادھ موئی\nاگر شور زاغاں سے ڈر جائے مار\nتو کیا اجگروں کا رہے اعتبار\nنہ کس طور اژدر کو تلواسہ ہو\nحریف اس کی سوکھی سی چلپاسہ ہو\nکہاں چھپکلی اژدہے سے لڑی\nکس اژدر پہ ایسی قیامت پڑی\nہزار اجگر اندوہ سے جائے لٹ\nولے ایسے کیڑے مکوڑے ہیں چٹ\nجہاں شور اژدر سے ہے دھوم دھام\nکوئی کنسلائی سے نکلے ہے کام\nبظاہر یہ لائے تو ہیں پر نکال\nولے ہوں گے ان کے جیوں کے وبال\nحریفی انھوں سے ہو اژدر کی کب\nوہ کھینچے جو یک دم تو پھنکا ہیں سب\nحکایت بعینہ یہ دل سے ہے میرؔ\nسر راہ کہتا تھا جو اک فقیر\nکہ تھا دشت میں ایک اژدر مقیم\nدرندوں کے بھی دل تھے اس سے دو نیم\nنکلتے نہ تھے اس طرف ہو کے شیر\nپلنگ و نمر واں نہ رہتے تھے دیر\nجہاں شیر کا زہرہ ہوتا ہو آب\nشغال اور روبہ کا واں کیا حساب\nوہ صحرا تھا اس کے سبب ہولناک\nدم اس کے نے واں کی اڑا دی تھی خاک\nنکلتا تھا جب بہر برگ و نوا\nشجر کے شجر ہوتے تھے تب ہوا\nکہاں سایہ اس جا و سبزہ کہاں\nدرخت اس کے چاٹے رہے تھے نہ واں\nصدا جب مہیب اس کی ہوتی بلند\nجگر چاک کرتے ہوا سے پرند\nدرندوں کے برجا نہ رہتے حواس\nچرندے مکانوں سے ہوتے اداس\nوحوش اس بیاباں میں جاتے نہ تھے\nطیور آشیانوں میں آتے نہ تھے\nکبھو اس کی رہ میں جو اٹھتا غبار\nتو وہ دشت تھا ایک تاریک غار\nپہنچتا تھا گردوں تلک شور و شر\nہوا صاف ہوتی نہ دو دو پہر\nرہا کرتی کوسوں تلک اس کی دھوم\nنہ اس راہ آتا کوئی جز سموم\nہوئے ساکنان بیاباں بتنگ\nاٹھے کوہ و وادی سے شیر و پلنگ\nگئے جان لے لے وحوش و طیور\nکوئی رہ گیا موش و مینڈھک سا دور\nگئی لومڑی ایک سوکھی ہوئی\nکسو اور جنگل میں بھوکی ہوئی\nگلے میں جو یاں کے کھلے اس کے لب\nہوئے واں کے اعیان گرم غضب\nخراطین و خرموش و موش و شغال\nاس اژدر کو کر جنس اپنی خیال\nرواں ساتھ اس کے شبانہ ہوئے\nکئی گرگٹ آگے روانہ ہوئے\nرعونت سے مینڈھک اچھلتے چلے\nبلوں میں سے چوہے نکلتے چلے\nقریب اس بیاباں کے جس دم گئے\nانھوں میں سے آگے بہت کم گئے\nقضارا وہ آفت تھی سرگرم سیر\nچلے آتے تھے بھاگتے وحش و طیر\nاس آشوب سے دست و پا گم کیے\nفراموش سب نے سر و دم کیے\nلگا ڈرنے خرموش سا پہلواں\nہوا مضطرب کیچوا سا جواں\nوہ گرگٹ کہ جس کو تھی گردن کشی\nہوئی خوف سے اس پہ طاری غشی\nقدم غوک سے گرد کا جل گیا\nبھروسا تھا گیدڑ پہ سو ٹل گیا\nجہاں پہلواں موش رستم معاش\nلگا کرنے میدان میں بل تلاش\nکہ سوراخ پاوے تو روپوش ہو\nیہ تشویش یک دم فراموش ہو\nولے چھوڑتا کب ہے خصم قوی\nکہ ہو خوف جاں سے کوئی منزوی\nپراگندگی تھی اس انبوہ میں\nکہ گونجی بلاے سیہ کوہ میں\nاس آواز سے جی نکل ہی گئے\nجو ثابت قدم تھے بچل ہی گئے\nسیہ جب ہوا ہوگئے منھ سفید\nہوئے مدعی جان سے ناامید\nبھرا ایک دم ان نے وا کر دہاں\nکہ پایا اس انبوہ کو نیم جاں\nدم دیگر ان سے نہ کوئی رہا\nوہی دشت خالی وہی اژدہا\nزبانہ وہی آگ کا چار اور\nہوا گرم ویسی ہی ویسا ہی شور\nوہی دم کشی شام سے تا سحر\nاسی ہولناکی سے وہ دشت و در\nگئی یہ خبر جس بیابان میں\nرہی سدھ نہ کچھ واں کے سکان میں\nکنھوں نے کبھو منھ نہ ایدھر کیا\nنہ پھر نام اس اژدہے کا لیا\nمری ان گزندوں کی صحبت ہے یہ\nطرف ہوں مرے ان کی طاقت ہے یہ\nجو مجھ کو ہو کچھ بھی انھوں کا خیال\nتو یہ مارگیری کریں کیا مجال\nتو کیا ہو انھوں سے بہت دور میں\nہوں اپنی جگہ شاد و مسرور میں\nمری قدر کیا ان کے کچھ ہاتھ ہے\nجو رتبہ ہے میرا مرے ساتھ ہے\nکہاں پہنچیں مجھ تک یہ کیڑے حقیر\nگیا سانپ پیٹا کریں اب لکیر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%98%D8%AF%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81"} {"title": "اک آفت جاں ہے جو مداوا مرے دل کا", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک آفت جاں ہے جو مداوا مرے دل کا\nاچھا کوئی پھر کیوں ہو مسیحا مرے دل کا\n\nکیوں بھیڑ لگائی ہے مجھے دیکھ کے بیتاب\nکیا کوئی تماشا ہے تڑپنا مرے دل کا\n\nبازار محبت میں کمی کرتی ہے تقدیر\nبن بن کے بگڑ جاتا ہے سودا مرے دل کا\n\nگر وہ نہ ہوئے فیصلۂ حشر پہ راضی\nکیا ہوگا پھر انجام خدایا مرے دل کا\n\nکیا کوہ کن و قیس کو دیتے دم تقسیم\nحصہ تھا غم حوصلہ فرسا مرے دل کا\n\nگو میں نہ رہوں محفل جاناں میں مگر روز\nتسلیمؔ یوں ہی ذکر رہے گا مرے دل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AF%D8%A7%D9%88%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اک بات پر بگڑے گئے نہ جو عمر بھر ملے", "poet_page": "مصنف:مفتی صدر الدین خان آزردہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک بات پر بگڑے گئے نہ جو عمر بھر ملے\nاس سے طریق صلح کے کیا صلح گر ملے\n\nباہم سلوک تھا پہ ترے دور حسن میں\nیہ رسم اٹھ گئی کہ بشر سے بشر ملے\n\nدل محو چشم یار تھا بیمار ہو گیا\nکچھ ان پرستشوں کا بھی آخر ثمر ملے\n\nاے نالہ تو نے ساتھ دیا آہ کا تو کیا\nامید کیا اثر کی جو دو بے اثر ملے\n\nصدمہ جگر پہ پہنچے تو ہو دل میں کیوں نہ درد\nکیا فرق کچھ جدا نہیں ہیں دل جگر ملے\n\nہم کو ہمارے طالع بد نے ڈبو دیا\nاچھے تھے گر نصیب تو کیوں چشم تر ملے\n\nدھوؤں صد آب تیغ سے اے پنبہ جو کبھو\nدامن سے تیرے دامن داغ جگر ملے\n\nامید بو میں اس کی ملے یوں صبا سے ہم\nجس طرح بے خبر سے کوئی بے خبر ملے\n\nجو کچھ نہ دیکھنا تھا سو وہ دیکھنا پڑا\nاس بے وفا سے پہلے تھے کیا دیکھ کر ملے\n\nدیکھے ہنر جو اپنے ہی وہ جانے اس کا کام\nہم کو تو عیب دیکھ کے اپنے ہنر ملے\n\nمہر جہاں فروز دکھا دوں جبیں کو میں\nگر سنگ آستانۂ خیر البشر ملے\n\nملنے سے اس کی گھٹتی ہے کیا تیری شان حسن\nآزردہؔ خستہ جاں بھی ملے تو اگر ملے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%AF%DA%91%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D9%84%DB%92"} {"title": "اک برگ مضمحل نے یہ اسپیچ میں کہا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "اک برگ ضمحل نے یہ اسپیچ میں کہا\nموسم کی کچھ خبر نہیں اے ڈالیو تمہیں\nاچھا جواب خشک یہ اک شاخ نے دیا\nموسم سے با خبر ہوں تو کیا جڑ کو چھوڑ دیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%B1%DA%AF_%D9%85%D8%B6%D9%85%D8%AD%D9%84_%D9%86%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%B3%D9%BE%DB%8C%DA%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7"} {"title": "اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئے\nگو بت ہیں آپ بہر خدا مان لیجئے\n\nدل لے کے کہتے ہیں تری خاطر سے لے لیا\nالٹا مجھی پہ رکھتے ہیں احسان لیجئے\n\nغیروں کو اپنے ہاتھ سے ہنس کر کھلا دیا\nمجھ سے کبیدہ ہو کے کہا پان لیجئے\n\nمرنا قبول ہے مگر الفت نہیں قبول\nدل تو نہ دوں گا آپ کو میں جان لیجئے\n\nحاضر ہوا کروں گا میں اکثر حضور میں\nآج اچھی طرح سے مجھے پہچان لیجئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%84%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "اک حرف کن میں جس نے کون و مکاں بنایا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک حرف کن میں جس نے کون و مکاں بنایا\nسارے جہاں کا تجھ کو آرام جاں بنایا\n\nبوئے محبت اپنی رکھی خدا نے اس میں\nسینے میں آدمی کے دل عطرداں بنایا\n\nاپنی تو اس چمن میں نت عمر یوں ہی گزری\nیاں آشیاں بنایا واں آشیاں بنایا\n\nمحنت پہ ٹک نظر کر صورت گر ازل نے\nچالیس دن میں تیرا میم دہاں بنایا\n\nازبسکہ اس سفر میں منزل کو ہم نہ پہنچے\nآوارگی نے ہم کو ریگ رواں بنایا\n\nمغرور کیوں نہ ہووے صنعت پر اپنی صانع\nکس واسطے جب اس نے یہ گلستاں بنایا\n\nخون جگر سے میرے گل کی شبیہ کھینچی\nنالے کو میرے لے کر سرو رواں بنایا\n\nآتا ہے مصحفیؔ تو یہ کس کے زخم کھائے\nتیر جفا کا کس نے تجھ کو نشاں بنایا\n\nسو ٹکڑے ہے گریباں دامن لہو میں تر ہے\nیہ رنگ تو نے ظالم اپنا کہاں بنایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%AD%D8%B1%D9%81_%DA%A9%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D9%88_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اک حسیں کو دل دے کر کیا بتائیں کیا پایا", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "اک حسیں کو دل دے کر کیا بتائیں کیا پایا\nلذت فنا چکھی زیست کا مزا پایا\n\nمنزلوں کی سختی کا غم نہیں خوشی یہ ہے\nکس ہجوم حسرت میں ہم نے راستہ پایا\n\nقدر اس کی پہچانیں آپ یا نہ پہچانیں\nاپنے دل کو ہم نے تو حسب مدعا پایا\n\nبے خودی کی حسرت کیا بے سبب میں کرتا تھا\nآ کے ہوش میں سمجھا بے خودی میں کیا پایا\n\nشیخ یہ تہی ساغر ہاں اسی کو ساقی نے\nمیرے کام کا پایا یا تیرے کام کا پایا\n\nحسرتیں سراسیمہ ہر طرف نظر آئیں\nکاروان دل میں نے پھر لٹا ہوا پایا\n\nمیری مستیاں سمجھیں تیری شوخیاں جانیں\nتو نے کیا لیا مجھ سے میں نے تجھ سے کیا پایا\n\nسب یہ رنگ آمیزی ہے فقط تخیل کی\nکیا بتاؤں کیا کھویا کیا جتاؤں کیا پایا\n\nپاس بیٹھ کر میرے دیکھتے نہیں مجھ کو\nان کی شرم کو میں نے صبر آزما پایا\n\nسعی پیہم اے منظورؔ اس قدر نشاط افزا\nناامید کس سے تھے کس سے یہ صلہ پایا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اک خلش سی ہے مجھے تقدیر سے", "poet_page": "مصنف:فرحت کانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک خلش سی ہے مجھے تقدیر سے\nالاماں اس خار دامن گیر سے\n\nحسرت نظارہ کی تاثیر سے\nپردہ اٹھا یار کی تصویر سے\n\nشام غم کے رونے والے صبر کر\nصبح بھی ہوگی تری تقدیر سے\n\nادعائے ضبط غم کرنا پڑا\nتنگ آ کر آہ بے تاثیر سے\n\nمجھ کو دیوانہ سمجھ لیں اہل ہوش\nکیوں الجھتے ہیں مری زنجیر سے\n\nدل نہیں اک آبلہ سینے میں ہے\nاس نگاہ گرم کی تاثیر سے\n\nہوتی ہے تسکین فرحتؔ کچھ نہ کچھ\nخوش ہوں اپنی آہ بے تاثیر سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%AE%D9%84%D8%B4_%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "اک خلق جو ہر سمت سے آئی ترے در پر", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "اک خلق جو ہر سمت سے آئی ترے در پر\nآیا نظر انداز خدائی ترے در پر\n\nتھی جس کی تمنا دل مشتاق کو ہر دم\nوہ چیز اگر پائی تو پائی ترے در پر\n\nعشاق کے آگے نہ لڑا غیروں سے آنکھیں\nڈر ہے کہ نہ ہو جائے لڑائی ترے در پر\n\nدیکھی جو یہاں آ کے جھڑی ابر کرم کی\nسب دل کی لگی ہم نے بجھائی ترے در پر\n\nاس نفس ہی کمبخت نے روکا تھا شرفؔ کو\nدشوار نہ تھی ورنہ رسائی ترے در پر", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%AE%D9%84%D9%82_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D8%B1_%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسے", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسے\nہے اس میں اک طلسم تمنا کہیں جسے\n\nاک شکل ہے تفنن طبع جمال کی\nاس سے زیادہ کچھ نہیں دنیا کہیں جسے\n\nخمیازہ ہے کرشمہ پرستئ دہر کا\nاہل زمانہ عالم عقبیٰ کہیں جسے\n\nاک اشک ارمیدۂ ضبط غم فراق\nموج ہوائے شوق ہے دریا کہیں جسے\n\nباوصف ضبط راز محبت ہے آشکار\nعقدہ ہے دل کا عقد ثریا کہیں جسے\n\nبرہم زن حجاب ہے خود رفتگی حسن\nاک شان بے خودی ہے زلیخا کہیں جسے\n\nعکس صفائے قلب کا جوہر ہے آئینہ\nوارفتۂ جمال خود آرا کہیں جسے\n\nرم شیوہ ہے صنم تو ہے رم آشنا یہ دل\nحاصل ہے مجھ کو عیش مہیا کہیں جسے\n\nخونی کفن یہ سینت کے رکھا ہے کس لیے\nقاتل وہ ہے کہ رشک مسیحا کہیں جسے\n\nسب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں دہر کا وجود\nکیفیؔ یہ بات وہ ہے معما کہیں جسے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%DB%92"} {"title": "اک دانشِ نُورانی، اک دانشِ بُرہانی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اک دانشِ نُورانی، اک دانشِ بُرہانی\nہے دانشِ بُرہانی، حیرت کی فراوانی\n\nاس پیکرِ خاکی میں اک شے ہے، سو وہ تیری\nمیرے لیے مشکل ہے اُس شے کی نگہبانی\n\nاب کیا جو فغاں میری پہنچی ہے ستاروں تک\nتُو نے ہی سِکھائی تھی مجھ کو یہ غزل خوانی\n\nہو نقش اگر باطل، تکرار سے کیا حاصل\nکیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟\n\nمجھ کو تو سِکھا دی ہے افرنگ نے زِندیقی\nاس دَور کے مُلّا ہیں کیوں ننگِ مسلمانی!\n\nتقدیر شکن قُوّت باقی ہے ابھی اس میں\nناداں جسے کہتے ہیں تقدیر کا زِندانی\n\nتیرے بھی صنم خانے، میرے بھی صنم خانے\nدونوں کے صنم خاکی، دونوں کے صنم فانی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B4%D9%90_%D9%86%D9%8F%D9%88%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%8C_%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B4%D9%90_%D8%A8%D9%8F%D8%B1%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "اک رات بخت سوں میں رنداں کا سات پایا", "poet_page": "مصنف:قربی ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک رات بخت سوں میں رنداں کا سات پایا\nعرفاں کے ملک دیں پر حق سوں برات پایا\n\nمن عرف نفسہ کا انجن لگا کو دیکھا\nہر چیز ذات حق بن میں بے ثبات پایا\n\nیو نفس دوں ہوا سوں پکڑے لیا تھا میری\nمرشد کی کفش اٹھائیں اس سوں نجات پایا\n\nیو قول و فعل میرا مجھ اختیار سوں نیں\nہت پنج مات کی میں آپس کی ذات پایا\n\nتسلیم کر اپس کوں اس کی رضا کے اوپر\nمحبوب کا اپس پر نت التفات پایا\n\nجا بت کدے میں دیکھا چشم یگانگی سوں\nحق بن نہیں دسیا گر عزیٰ و لات پایا\n\nاسم و صفت کا جلوہ اسم و صفت میں دیکھا\nہر ذات کوں خدا کی میں عین ذات پایا\n\nقطرہ ہے عین دریا دریا ہے عین قطرہ\nبھی دونوں غیر ہی ہیں نادر یو بات پایا\n\nہر شے ہے عین ہر شے بھی شے ہے غیر ہر شے\nمرشد کے لطف سوں میں کیا خوب بات پایا\n\nمہتاب علم سلگا گل ریز معرفت کے\nکر جہل کو ہوائی خوش شبرات پایا\n\nروں روں زباں کروں تو اس کی ثنا نہ سر سی\nقربیؔ کرم سوں حق کی کیا خوش نکات پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D8%AA_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اک رند ہے اور مدحت سلطان مدینہ", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "اک رند ہے اور مدحت سلطان مدینہ\nہاں کوئی نظر رحمت سلطان مدینہ\n\nتو صبح ازل آئینہ حسن ازل بھی\nاے صل علی صورت سلطان مدینہ\n\nاے خاک مدینہ تری گلیوں کے تصدق\nتو خلد ہے تو جنت سلطان مدینہ\n\nظاہر میں غریب الغربا پھر بھی یہ عالم\nشاہوں سے سوا سطوت سلطان مدینہ\n\nاس طرح کہ ہر سانس ہو مصروف عبادت\nدیکھوں میں در دولت سلطان مدینہ\n\nکونین کا غم، یاد خدا، درد شفاعت\nدولت ہے یہی دولت سلطان مدینہ\n\nاس امت عاصی سے نہ منہ پھیر خدا یا\nنازک ہے بہت غیرت سلطان مدینہ\n\nاے جان بلب آمدہ، ہشیار، خبردار\nوہ سامنے ہیں حضرت سلطان مدینہ\n\nکچھ اور نہیں کام جگر مجھ کو کسی سے\nکافی ہے بس اک نسبت سلطان مدینہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%B1%D9%86%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD%D8%AA_%D8%B3%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%86_%D9%85%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%81"} {"title": "اک شخص جواں خاک بسر یاد تو ہوگا", "poet_page": "مصنف:نہال سیوہاروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک شخص جواں خاک بسر یاد تو ہوگا\nوہ اپنی نگاہوں کا اثر یاد تو ہوگا\n\nوہ دھوم زمانے میں مرے جوش جنوں کی\nوہ غلغلۂ شام و سحر یاد تو ہوگا\n\nبھولے تو نہ ہو گے وہ تجلی کی حکایت\nوہ تذکرۂ داغ جگر یاد تو ہوگا\n\nہر گام پہ وہ حسن کی پر ہوش نگاہیں\nوہ عشق کا بد مست سفر یاد تو ہوگا\n\nہر لمحہ وہ دنیائے محبت میں تغیر\nہر سانس میں وہ رنگ دگر یاد تو ہوگا\n\nوہ دل کو ترے حسن خود آرا سے تعلق\nوہ خاک سے پیمان نظر یاد تو ہوگا\n\nوہ کارگہ دہر سے اک بے خبری سی\nوہ طعنۂ ہر اہل خبر یاد تو ہوگا\n\nوہ دید کہ تھا روکش آرائش گیتی\nپہروں طرف راہگزر یاد تو ہوگا\n\nوہ عشق کے جذبات کا بھرپور تلاطم\nطوفان کی موجوں میں گزر یاد تو ہوگا\n\nگم کردہ سکوں پا کے مجھے اپنی گلی میں\nکہنا وہ تجاہل سے کدھر یاد تو ہوگا\n\nبھولی تو نہ ہوگی مری الفت کی حقیقت\nمدت کا فسانہ ہے مگر یاد تو ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%B4%D8%AE%D8%B5_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "اک صدمہ درد دل سے مری جان پر تو ہے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک صدمہ درد دل سے مری جان پر تو ہے\nلیکن بلا سے یار کے زانو پہ سر تو ہے\n\nآنا ہے ان کا آنا قیامت کا دیکھیے\nکب آئیں لیکن آنے کی ان کے خبر تو ہے\n\nہے سر شہید عشق کا زیب سنان یار\nصد شکر بارے نخل وفا بارور تو ہے\n\nمانند شمع گریہ ہے کیا شغل طرفہ تر\nہو جاتی رات اس میں بلا سے بسر تو ہے\n\nہے درد دل میں گر نہیں ہمدرد میرے پاس\nدل سوز کوئی گر نہیں سوز جگر تو ہے\n\nاے دل ہجوم درد و الم سے نہ تنگ ہو\nخانہ خراب خوش ہو کہ آباد گھر تو ہے\n\nتربت پہ دل جلوں کی نہیں گر چراغ و گل\nسینے میں سوزش دل و داغ جگر تو ہے\n\nغائب میں جو کہا سو کہا پھر بھی ہے یہ شکر\nخاموش ہو گیا وہ مجھے دیکھ کر تو ہے\n\nکشتی بحر غم ہے مرے حق میں تیغ یار\nکر دیتی ایک دم میں ادھر سے ادھر تو ہے\n\nوہ دل کہ جس میں سوز محبت نہ ہووے ذوقؔ\nبہتر ہے سنگ اس سے کہ اس میں شرر تو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%B5%D8%AF%D9%85%DB%81_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "اک طلسم عجب نما ہوں میں", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک طلسم عجب نما ہوں میں\nکیا بتاؤں تمہیں کہ کیا ہوں میں\n\nہے زوال اپنا اک نشان کمال\nبدو کی طرح گھٹ گیا ہوں میں\n\nکیا نشاں پوچھتے ہو تم میرا\nرہ گم گشتہ کا پتا ہوں میں\n\nہے یہ حیرت کہ ہوں تجسم درد\nاور ہر درد کی دوا ہوں میں\n\nمیری شہرت ہے میری گمنامی\nقوت بازوئے ہما ہوں میں\n\nرہ الفت میں نقش پا کی طرح\nخاک ہو ہو کے مٹ گیا ہوں میں\n\nساغر عشق کر گیا بے خود\nہوش کس کو نہیں ہوں یا ہوں میں\n\nخاک سمجھو تم آبرو میری\nدرد اعزاز کی بہا ہوں میں\n\nدم غنیمت ہے سالکو میرا\nجرس دور کی صدا ہوں میں\n\nہوں صراحی میں بادۂ احمر\nاور مے سرخ میں نشہ ہوں میں\n\nجس طرح سے کنول ہو پانی میں\nہو کے دنیا میں پھر جدا ہوں میں\n\nخاکساری ہے میری جوہر ذات\nخاک میں مثل کیمیا ہوں میں\n\nدر درج وفا کی آب ہوں میں\nدل کے آئینے کی صفا ہوں میں\n\nآج ہے میری دھاک عالم میں\nروشناس شہ و گدا ہوں میں\n\nدھوم ہے فن شعر میں میری\nقمر علم کی ضیا ہوں میں\n\nلکھوں گر داستان رنج و الم\nدل بشکستہ کی صدا ہوں میں\n\nگر کروں ذکر ساز عیش و طرب\nطوطئ خلد کی نوا ہوں میں\n\nگر میں لکھوں بیان عرصہ رزم\nناوک ترکش قضا ہوں میں\n\nایک اس نظم پر ہے کیا موقوف\nنور شمع علوم کا ہوں میں\n\nقدر ہے میری قدر علم و ہنر\nکیا زمانے میں دوسرا ہوں میں\n\nہوں تو سب کچھ پہ کچھ نہیں کیفیؔ\nصورت موجۂ فنا ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%B7%D9%84%D8%B3%D9%85_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D9%86%D9%85%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اک عالم حیرت ہے فنا ہے نہ بقا ہے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک عالم حیرت ہے فنا ہے نہ بقا ہے\nحیرت بھی یہ حیرت ہے کہ کیا جانیے کیا ہے\n\nسو بار جلا ہے تو یہ سو بار بنا ہے\nہم سوختہ جانوں کا نشیمن بھی بلا ہے\n\nہونٹوں پہ تبسم ہے کہ اک برق بلا ہے\nآنکھوں کا اشارہ ہے کہ سیلاب فنا ہے\n\nسنتا ہوں بڑے غور سے افسانۂ ہستی\nکچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز ادا ہے\n\nہے تیرے تصور سے یہاں نور کی بارش\nیہ جان حزیں ہے کہ شبستان حرا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%81%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%82%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اک عالم خواب خلق پر طاری ہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اک عالم خواب خلق پر طاری ہے\nیہ خواب میں کارخانہ سب جاری ہے\nیہ خواب نہیں یہی سمجھنا ہے خواب\nگر خواب کا عالم ہے تو بیداری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%AE%D9%84%D9%82_%D9%BE%D8%B1_%D8%B7%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اک غیر کہ محفل سے اٹھایا نہیں جاتا", "poet_page": "مصنف:نشتر چھپروی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نشتر (1930)", "year": "1930", "text_ur": "اک غیر کہ محفل سے اٹھایا نہیں جاتا\nاک میں کہ کبھی ساتھ بٹھایا نہیں جاتا\n\nسننے کو تو راضی ہیں وہ حال دل بیتاب\nافسوس مجھی سے یہ سنایا نہیں جاتا\n\nاس ضعف و نقاہت کا برا ہو کہ شب وصل\nوہ پاس ہیں اور ہاتھ لگایا نہیں جاتا\n\nتم دیکھ کے مجھ کو تو گرا دیتے تھے پردہ\nمنہ سامنے غیروں کے چھپایا نہیں جاتا\n\nجس روز سے اغیار نے بھڑکایا ہے ان کو\nمیں بزم میں اس دن سے بلایا نہیں جاتا\n\nخط غیر کا بھیجا ہے مجھے یار نے قاصد\nقسمت کا لکھا سچ ہے مٹایا نہیں جاتا\n\nغم دوست وہ ہوں میری تسلی نہیں ہوتی\nجب تک کہ میں جی بھر کے ستایا نہیں جاتا\n\nلے لے کے مرا نام دیا کرتے ہیں گالی\nمیں دل سے کبھی ان کو بھلایا نہیں جاتا\n\nآنکھیں تو ملاتے ہیں غضب ناک وہ ہو کر\nافسوس ہے دل ان سے ملایا نہیں جاتا\n\nاب ضبط فغاں کا نہیں یارا مجھے ہرگز\nراز دل بیتاب چھپایا نہیں جاتا\n\nاللہ ر نزاکت کہ مرے قتل پہ نشترؔ\nاس شوخ سے خنجر بھی اٹھایا نہیں جاتا", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئے\nمیں جو رویا مسکرا کر رہ گئے\n\nیا ترے محتاج ہیں اے خون دل\nیا انہیں آنکھوں سے دریا بہہ گئے\n\nموت ان کا منہ ہی تکتی رہ گئی\nجو تری فرقت کے صدمے سہ گئے\n\nتو سلامت ہے تو ہم اے درد دل\nمر ہی جائیں گے جو جیتے رہ گئے\n\nپھر کسی کی یاد نے تڑپا دیا\nپھر کلیجہ تھام کر ہم رہ گئے\n\nاٹھ گئے دنیا سے فانیؔ اہل ذوق\nایک ہم مرنے کو زندہ رہ گئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%86_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "اک قافلہ ہے بن ترے ہمراہ سفر میں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک قافلہ ہے بن ترے ہمراہ سفر میں\nاشک آنکھ میں ہے دل میں ہے داغ آہ جگر میں\n\nآرام مجھے بن ترے اک پل نہیں گھر میں\nجوں مردمک دیدہ ہوں دن رات سفر میں\n\nپھرتا ہے وہ گل پوش مرے دیدۂ تر میں\nہے شعلۂ جوالہ کی تصویر بھنور میں\n\nسوراخ یہاں صورت فوارہ ہیں سر میں\nدکھلاؤں تماشا جو مجھے چھوڑ دے گھر میں\n\nرشک آئے نہ کیوں مجھ کو کہ تو دیکھ زر و سیم\nرکھتا ہے قدم پلۂ خورشید و قمر میں\n\nمیں ان در شہوار کے اشکوں سے ادھر آ\nتولوں گا بٹھا کر تجھے حیران نظر میں\n\nآ دیکھ نہ ہنس ہنس کے رلا مجھ کو ستم گر\nاک نوح کا طوفاں ہے مرے دیدۂ تر میں\n\nعکس لب پاں خوردہ سے دنداں ہیں ترے سرخ\nیا آتش یاقوت ہے یہ آب گہر میں\n\nباز آؤ شکار افگنی سے ہاتھ اٹھاؤ\nبھالے کو میاں کس لیے رکھتے ہو کمر میں\n\nرہتی ہے بہم زلف بنا گوش سے تیرے\nکچھ فرق نہیں ہے سر مو شام و سحر میں\n\nہے اس میں رقم حال سیہ بختی عاشق\nیہ نامہ کوئی باندھ دو اب زاغ کے پر میں\n\nیہ بھی کوئی انصاف ہے اے خانہ خراب آہ\nاوروں کو تو لے جائے ہے تو دن دیئے گھر میں\n\nاور ہم جو ہیں سو دیکھنے کو بھی ترے ترسیں\nدیوار میں رخنہ ہے نہ سوراخ ہے در میں\n\nکس وجہ نصیرؔ اس لب شیریں پہ نہ ہو خال\nہوتا وطن مور تو ہے تنگ شکر میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D9%82%D8%A7%D9%81%D9%84%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%86_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے", "poet_page": "مصنف:ناصری لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نذر احباب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے\nاڑ گئے ٹکڑے فلک کے آہ کی تاثیر سے\n\nراز الفت کے عیاں ہونے کا ڈر جاتا رہا\nخامشی سیکھی ہے ہم نے بلبل تصویر سے\n\nچھیڑتا ہے کس لیے ناصح اسیر زلف کو\nدم الجھتا ہے تری الجھی ہوئی تقریر سے\n\nکس کا دل زخمی کیا تو نے ستم گر کیا کیا\nخوں ٹپکتا ہے لب سوفار و نوک تیر سے\n\nخوف کیا گر ہوگا مجمع روز حشر اے ناصریؔ\nمیں اسے پہچان لوں گا خون دامن گیر سے", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%BE%D8%A7_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D9%84%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے\nسمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانا ہے\n\nیہ کس کا تصور ہے یہ کس کا فسانا ہے\nجو اشک ہے آنکھوں میں تسبیح کا دانا ہے\n\nدل سنگ ملامت کا ہر چند نشانا ہے\nدل پھر بھی مرا دل ہے دل ہی تو زمانا ہے\n\nہم عشق کے ماروں کا اتنا ہی فسانا ہے\nرونے کو نہیں کوئی ہنسنے کو زمانا ہے\n\nوہ اور وفا دشمن مانیں گے نہ مانا ہے\nسب دل کی شرارت ہے آنکھوں کا بہانا ہے\n\nشاعر ہوں میں شاعر ہوں میرا ہی زمانا ہے\nفطرت مرا آئینا قدرت مرا شانا ہے\n\nجو ان پہ گزرتی ہے کس نے اسے جانا ہے\nاپنی ہی مصیبت ہے اپنا ہی فسانا ہے\n\nکیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے\nہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے\n\nآغاز محبت ہے آنا ہے نہ جانا ہے\nاشکوں کی حکومت ہے آہوں کا زمانا ہے\n\nآنکھوں میں نمی سی ہے چپ چپ سے وہ بیٹھے ہیں\nنازک سی نگاہوں میں نازک سا فسانا ہے\n\nہم درد بہ دل نالاں وہ دست بہ دل حیراں\nاے عشق تو کیا ظالم تیرا ہی زمانا ہے\n\nیا وہ تھے خفا ہم سے یا ہم ہیں خفا ان سے\nکل ان کا زمانہ تھا آج اپنا زمانا ہے\n\nاے عشق جنوں پیشہ ہاں عشق جنوں پیشہ\nآج ایک ستم گر کو ہنس ہنس کے رلانا ہے\n\nتھوڑی سی اجازت بھی اے بزم گہ ہستی\nآ نکلے ہیں دم بھر کو رونا ہے رلانا ہے\n\nیہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے\nاک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے\n\nخود حسن و شباب ان کا کیا کم ہے رقیب اپنا\nجب دیکھیے اب وہ ہیں آئینہ ہے شانا ہے\n\nتصویر کے دو رخ ہیں جاں اور غم جاناں\nاک نقش چھپانا ہے اک نقش دکھانا ہے\n\nیہ حسن و جمال ان کا یہ عشق و شباب اپنا\nجینے کی تمنا ہے مرنے کا زمانا ہے\n\nمجھ کو اسی دھن میں ہے ہر لحظہ بسر کرنا\nاب آئے وہ اب آئے لازم انہیں آنا ہے\n\nخودداری و محرومی محرومی و خودداری\nاب دل کو خدا رکھے اب دل کا زمانا ہے\n\nاشکوں کے تبسم میں آہوں کے ترنم میں\nمعصوم محبت کا معصوم فسانا ہے\n\nآنسو تو بہت سے ہیں آنکھوں میں جگرؔ لیکن\nبندھ جائے سو موتی ہے رہ جائے سو دانا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D9%84%D9%81%D8%B8_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AF%D9%86%DB%8C%D9%B0_%DB%8C%DB%81_%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اک مرتبہ دل پہ اضطرابی آئی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اک مرتبہ دل پہ اضطرابی آئی\nیعنی کہ اجل میری شتابی آئی\nبکھرا جاتا ہے ناتوانی سے جی\nعاشق نہ ہوئے کہ اک خرابی آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "اک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد", "poet_page": "مصنف:ابو الکلام آزاد", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ہیں! یہ تم نے کیا کیا؟ ’’اک مس سیمیں بدن سے کرلیا لندن میں عقد۔‘‘ جی ہاں! حضرت! کر لیا لندن میں عقد! آخر کوئی وجہ؟ کیوں کر لیا لندن میں عقد؟ بس یہ نہ پوچھیے، کیوں؟ کس لیے؟ کیا آپ کو ہندوستان میں کوئی پری جمال ایسی نہیں ملتی تھی کہ آپ کو معشوقان یورپ کی تلاش ہوئی۔ کیا آپ کو ہندوستان میں کوئی سیمیں بدن نہیں نظر آتی تھی کہ خدا مان۔۔۔ والا کو مسانِ یورپ کی طرف نظر کرنی پڑی؟ بھلا ایک مسلمان کے لیے یہ بات نازیبا نہیں ہے کہ وہ اپنی تعلیم قوم اور خاندان چھوڑ کر غیر قوم، غیر مذہب، غیر خیال، غیر طبیعتوں سے تعلق پیدا کرے؟ کیوں جناب! شرمائیے نہیں، بغلیں نہ جھانکیے، ادھر دیکھیے کیا آپ کے کانشنس نے آپ کو اس امر کی اجازت دی ہے کہ آپ بلا ضرورت اس قوم سے قومی نیچرل تعلق پیدا کریں کہ جن میں اور آپ میں قدرت نے متضاد طبیعتیں رکھی ہیں؟ واہ حضرت وا! آپ بھی بس پرانی لکیرکے فقیر نکلے، ابھی تک پرانے خیالات سے آپ کا دماغ خالی نہیں ہوا ہے۔ ہنوز نئی روشنی کی تیز شعاعوں سے محروم ہے۔ ورنہ اس قدر تاریکی اس میں نہ ہوتی۔ آج کل کی حالت سے آپ بالکل بے خبر ہیں اور وہی پرانا خواب دیکھ رہے ہیں۔ فی زمانہ اس امر کی سخت ضرورت ہے کہ فاتح قوم سے اہالی ہند قومی رابطہ پیدا کریں، اپنا میل جول بڑھائیں، تاکہ ان میں ہم میں انس پیدا ہو، اور وہ وحشت نہ رہے جو ہماری ترقی میں (جو فاتح قوم کی توجہ پر موقوف ہے) حائل ہوتی ہے۔ علاوہ اس کے انہیں اس امر کا موقع دیا جائے کہ وہ اپنے شکوک کو جو مسلمانوں کی جانب مذہبی اور پولیٹیکل امور میں ان کے دلوں میں جمے ہوئے ہیں رفع کریں، اس لیے اگر یہ قوی تعلق پیدا ہو جائے تو ہمیں ان امور کا بہت اچھا موقع ہاتھ آئے گا۔ پس اسی خیال سے اس خادم قوم نے بھی،’’اک مِس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد‘‘کیا خوب! اے جناب! کیا فاتح قوم سے میل جول بڑھانے کے یہی معنی ہیں کہ ان سے یہ تعلق پیدا کیا جائے؟ کیا مواکلت، مشاربت، معاہدت وغیرہ باعث میل جول کے نہیں ہیں؟ ان الاسباب المحبۃ اربعۃ اشیاء المجاسلۃ والمکالمۃ والمواکلۃ والمشاربۃ۔ پس میل جول کے لیے یہ باتیں کچھ کم ہیں اور آپ کا یہ کہنا کہ ان کی توجہ ہماری ترقی کا ذریعہ ہے محض غلط ہے۔ آپ کسی ترقی یافتہ قوم کی مثال نہیں پیش کر سکتے کہ گورنمنٹ یا فاتح قوم کی توجہ سے ترقی پائی ہو، بلکہ جن قوموں میں سیلف ہیلپ کا خیال قدرت نے پیدا کر دیا ہے، انہوں نے خود ترقی کے اسباب پیدا کیے۔ خود مدارس جاری کیے، خود علوم و فنون کی تکمیل کے لیے دارالعلوم قائم کیے، خود آرٹ کے اسکول کھولے بلا امداد غیر۔ اپنے خیال اور اپنی مدد سے بیشک وہ ترقی کر گئے۔ چنانچہ اس کی مثال کے لیے اہل یورپ کافی ہیں۔ ایسے موقعوں میں گورنمنٹ سہارا ضرور دیتی ہے، اور یہ اس کا فرض ہے مگر اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ۔۔۔ جواب ندارد۔۔۔ (کچھ دیر بعد) اچھا جانے دیجیے، یہ وجہ نہ سہی۔ لیکن فرمائیے جناب اسلام نے تو ہم کو اہل کتاب سے اس تعلق کی اجازت دی تھی۔ پھر جانے گفتگو کیا ہے؟ ہاں آئیے! اب آپ مذہب کے دامن گیر ہوتے ہیں۔ سنئے مذہب اسلام نے جس زمانے میں اس امر کی اجازت دی تھی بلا اس کے اس زمانے میں چارہ بھی نہ تھا۔ علاوہ اس کے مذہب اسلام کی اجازت دینی یہ معنی رکھتی ہے کہ مذہب اسلام انسانی ضرورتوں کے لیے ایک حد تک آزادی دینے والا ہے، اور اس میں نہایت تسہیل ملحوظ رکھی گئی ہے جس سے اس کی جامعیت اور مانعیت متحقق ہو، اور اکثر مواقع میں جب کہ اتفاقیہ اس تعلق کی ضرورت ہو تو اہل کتاب سے مذہب کی ممانعت بیچ میں حائل نہ ہو، نہ یہ کہ بلا کسی خیال مضرت کے ہر زمانے میں اس پر زور دیا جائے۔ علاوہ اس کے اس زمانے میں آج کل کی قوم فاتح، مفتوح تھی۔ ہر طرف اسلامی سلطنت چھائی ہوئی تھی اس لیے اس تعلق سے مسلمانوں کو ہرگز ان مضرتوں اور اثروں کا خوف نہ تھا، جس قدر کہ آج برعکس حالت پیش ہو جانے سے در پیش ہے۔ جس طرح کہ ہم مفتوح اور یورپین قوم فاتح ہے، اس طرح اس تعلق میں بھی عورت فاتح اور مرد مفتوح رہےگا۔ ایسی حالت میں اندازہ ہو سکتا ہے کہ اولاد پر کس قدر عورت کے اخلاق و عادات اور مذہب کا برا اثر پڑے گا۔ بیسیوں باتیں مذہب میں ایسی جائز رکھی گئی ہیں، جو اکثر مواقع کے لحاظ سے شخصی فوائد پر مبنی ہیں۔ پس اس سے اس کی بنا پر قومی مضرتوں سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن یہ تو فرمائیے کہ اس تعلق سے کیا برا اثر اولاد پر پڑ سکتا ہے؟ اولاد پر باپ کا اثر زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے اور میرے نزدیک یہ بات مسلّم سی معلوم ہوتی ہے۔ ہاں آپ اگر کوئی ایسا واقعہ پیش کردیں کہ جس سے اس امر کی تصدیق ہو تو یہ آپ کا فرمانا صحیح قرار دیا جائے، ورنہ آپ نے کہا اور میں نے مانا۔ کیا آپ کو معلوم نہیں! آپ تو پڑھے لکھے آدمی معلوم ہوتے ہیں یعنی مور کی ہسٹری۔۔۔ آپ نے دیکھی ہوگی! لیجئے میں وہاں کا ایک تاریخی واقعہ جو اسلامی سلطنت میں واقع ہوا ہے پیش کرتا ہوں۔ اس سے آپ اندازہ فرما لیجئے گا کہ آج کل یورپین سلطنت ہے اور اس زمانے میں اسلامی بادشاہت تھی۔ لیکن پھر ایسا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ کو مسٹر شرر کے فلورا ناول میں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اندلس میں جب کہ عبد الرحمن ثانی کی سلطنت تھی، اور اس نے عیسائیوں کو مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔ ایک بھائی بہن واقعے کے اعتبار سے عجوبہ گزرے ہیں۔ ایک لڑکی تھی جس کا نام فلورا تھا اور اس کا بھائی زیاد نامی تھا۔ فلورا کا باپ ایک مسلمان اندلسی متقی مسلمان تھا جس نے ایک عیسائی حسین عورت سے جائز تعلق پیدا کر لیا تھا، اس سے فلورا پیدا ہوئی، اور باوجودیکہ مسلمان باپ نے اسلامی نام رکھ کر احباب میں مشتہر بھی کر دیا، مگر اس عیسائی عورت نے اپنے طریقے کے موافق اپنی زبان میں اس کا نام فلورا رکھا۔ باپ ہر وقت گھر میں رہ نہیں سکتا تھا۔ ماں کا سایہ اس پر ہر روز رہا کرتا تھا۔ اس لیے ماں نے فلورا کے دل میں عیسائی مذہب کی خوبیاں اچھی طرح جما دیں۔ ماں مرگئی، باپ مرگیا، بھائی زیاد صرف باقی رہا۔ پادریوں نے فلورا کو حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ ایک مسلمان کے پنجے سے نکل جائے۔ فلورا کو زیاد نے ہر چند سمجھایا کہ مذہب اسلام برحق ہے مگر پتھر پر جونک نہ لگی۔ معاملے نے طول پکڑا۔ زیاد کے ہاں عیسائینیں آنے لگیں، اور اس کے نکالنے کی کوشش کرنے لگیں۔ زیاد نے بھی خوب انتظام کیا مگر بے سود۔ فلورا نکلی اور کہاں کہاں پہنچی۔ زیادہ اس کی تلاش میں پریشان ہوا۔ کہاں کہاں کی خاک چھانی، اور کدھر کی مٹی اڑائی۔ بالآخر بہت سخت واقعے اس کی بدولت پیش آئے، سلطنت کو حیرانی ہوئی، رعایا کو پریشانی۔ زیاد اور فلورا دونوں برباد ہوئے، اور دیکھنے والے افسوس ناک نگاہ سے دیکھتے رہے۔ الغرض باوجود یہ کہ فاتح قوم مسلمان تھی مگر پھر بھی اس تعلق نے کیا کیا گل کھلائے، کتنے خانماں برباد ہوئے، کتنے جان سے گئے۔ تمام اسلامی اور عیسائی دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ کس لیے ہوا؟ یہ سب اس تعلق کی وجہ سے ہوا۔ اس کم بخت تعلق نے یہ سب کچھ کیا، جس کی آپ یہ کچھ تعریف کر رہے ہیں۔ اب غور فرمائیے کہ آج کل جب کہ فاتح قوم کا اثر بالکل رعایا پر چھایا ہوا ہے۔ فاتح قوم سے یہ تعلق کیا ایسی صورت نہیں پیدا کرتا، کر چکا ہے اور ضرور کرےگا۔ جواب ندارد۔۔۔ ادھر ادھردیکھ کر۔ اچھا (کھانس کر) اسے جانے دیجیے تم۔۔۔ (کھانس کر) مگر اس کا کیا جواب ہے کہ ہم ایسے تعلیم یافتہ لوگوں کو تعلیم یافتہ عورتوں کی ضرورت ہے۔ (ایں از ہندوستانیاں مفقود) پھر کیا کیا جائے؟ مجبوراً ہمیں دوسری تعلیم یافتہ معزز قوم (ذراتبسم کے ساتھ) کی طرف توجہ کرنی پڑتی ہے۔ کیا ہم ایسے تعلیم یافتہ جاہلہ عورتوں کی زبانی شگن شگون بھوت پریت کی جاہلانہ اوہام پرستی کی آوازیں سن سکتے ہیں۔ واقعی یہ آپ کا ارشاد ایک پہلو سے بجا ہے جیسا کہ جناب چودھری خوشی محمد ناظر نے رام پور کانفرنس کے لکچر میں ظاہر کیا ہے کہ اس جہالت نسواں سے یہ اچھا عذر آپ کے ہاتھ آ گیا ہے، اور جب تک تعلیم نسواں کا خیال ہندوستان میں نہ ہوگا، اس عذر کا آپ کو موقع ملتا رہےگا۔ لیکن حضرات نہیں اگر آپ محبِّ قوم ہیں تو آپ کو چاہیے کہ آپ تعلیم نسواں کو جاری کریں اور عورتوں کو اس قابل بناکے ان سے عقد کریں تاکہ یہ ضرورت قوم کو تعلیم پر آمادہ کرے، نہ یہ کہ آپ یہ عذر پیش کر کے غیر قوم کی تعلیم یافتہ لیڈیوں کو اپنے پہلو میں بٹھا کے مزے میں (خاک مزے میں) زندگی بسر کریں اور اس سے مستغنی ہو جائیں۔ سوا اس کے جن ہندوستانیوں نے یہ تعلق کیا ہے ان میں اکثر ایسے نکلیں گے جو اپنے اس کیے پر پریشان ہو رہے ہیں۔ اور اس خرچ اور آزادی کے متحمل نہیں ہو سکتے جو اس سبب سے کرنے پڑتے ہیں۔ کیا آپ کسی ایک معزز شحص کے حالات سے بھی واقف نہیں جس نے یہ تعلق پیدا کر کے تقریباً اپنی زندگی تلخ کر رکھی ہو؟ مگر افسوس ہے کہ اس پر بھی آپ ایسے ناواقفوں کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور یورپ کی سفید رولیڈیوں کو دیکھ کر چکا چوند ہوجاتی ہیں۔ مگر ہاں! یہ ضرور ہے کہ آپ لوگ ایک حد تک معذور اور مجبور بھی ہیں۔ یہ سب کچھ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لندن میں تعلیمی خیال سے ایک جوشیلے نوجوان کا جانا اور وہاں چاروں طرف حسن حسن کا نظر آنا ایک ایسا نظارہ ہےجسے دیکھ کر بے اختیار نہ ہونا مشکل امر ہے۔ ہمارے مکرم دوست سید اکبر حسین صاحب سیشن جج سہارنپور نے تعلیم یافتہ گروہ پر سے اس اعتراض کو رفع کرنے کی بڑی کوشش کی ہے، اور ایک عجیب و غریب دلچسپ نظم لکھی ہے۔ اس نظم نے ہم کو بہت ہی لطف حاصل کرنے کا موقع دیا ہے۔ ہم نہیں پسند کرتے کہ اس نظم سے ناظرین الپنچ محروم رہیں۔ ایسی حالت میں کہ اس کا پہلا مصرع عنوان پر ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اس نظم میں انہوں نے کیسے یہ اعتراض رفع کیا ہے۔ اس کی داد ناظرین پر چھوڑتا ہوں۔ قطعہاِک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقداس خطا پر سن رہا ہوں طعنہ ہائے دلخراشکوئی کہتا ہے کہ بس اس نے بگاڑی نسل قومکوئی کہتا ہے کہ یہ ہے بدخصال و بدمعاشدل میں کچھ انصاف کرتا ہی نہیں کوئی بزرگہو کے اب مجبور خود اس راز کو کرتا ہوں فاشہوئی تھی تاکید لندن جاؤ انگریزی پڑھوقوم انگلش سے ملو سیکھو وہی وضع و تراشجگمگاتے ہوٹلوں کا جاکے نظارہ کروسوپ و کاری کے مزے لو چھوڑ کر یخنی و آشجب عمل اس پر کیا، پریوں کا سایہ پڑگیاجس سے تھا دل کی حرارت کو سراسر انتعاشسامنے تھیں لیڈیان زہرہ وش جادو نظریاں جوانی کی امنگ اور ان کو عاشق کی تلاشدونوں جانب تھا دلوں میں جوشِ خون فتنہ زادل ہی تھا آخر نہیں تھی برف کی یہ کوئی قاشاس کی چتون سحر آگیں اس کی باتیں دل رباچال اس کی فتنہ خیز اس کی نگاہیں برق پاشجب یہ صورت تھی تو ممکن تھا کہ ایک برق بلادست سیمیں کو بڑھاتی اور میں کہتا دور باشبارہا آتا ہے اکبرؔ میرے دل میں یہ خیالحضرت سید سے جاکر عرض کرتا کوئی کاشدرمیان قعر دریا تختہ بندم کردۂباز می گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باشاس نظم میں حضرت اکبر نے جو جو کیفیتیں بیان کی ہیں ان کی وہ اشخاص تصدیق کر سکتے ہیں جو اس کوچے میں قدم رکھ چکے ہیں۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیپ کا شعر لندن جانے والوں کے لیے بہت ہی حسب حال ہے۔ راقم حضرت آزاد رقمبقلم ابو الکلام محی الدین احمد دہلوی از کلکتہ\n\nنوٹ\n\n(۱) حضرت اکبر الہ آبادی کی یہ نظم مکمل نہیں۔ اس میں تین شعر کم ہیں، اور بعض ترتیب میں اصلی کے برخلاف بھی ہیں۔ البتہ اشعار کی اصلاح اصل کے مطابق کر دی ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D9%85%D8%B3_%D8%B3%DB%8C%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%D9%84%D9%86%D8%AF%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D9%82%D8%AF"} {"title": "اک نظر میں درد کھو دینا دل بیمار کا", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک نظر میں درد کھو دینا دل بیمار کا\nیہ تو ادنیٰ سا کرشمہ ہے نگاہ یار کا\n\nغیر ممکن ہے کہ ہو پامال کوئی حشر میں\nہو نہ جب تک کچھ اشارہ آپ کی رفتار کا\n\nحضرت آدم سے تا ایں دم ہوئے سب عشق دوست\nہے ازل سے دور دورہ حسن کی سرکار کا\n\nہم جو مر کر جی اٹھے اس پر تعجب کیا کہ ہے\nوہ کرامت چال کی یہ معجزہ گفتار کا\n\nآپ کے غمزے اٹھاؤں، غیر کے طعنے سنوں\nبندہ پرور میں نے چھوڑا عشق بھی سرکار کا\n\nآبلوں کو سر اٹھانے کی ذرا مہلت نہیں\nہے کرم صحرا نوردی میں یہ نوک خار کا\n\nاس سے بڑھ کر آپ احسنؔ چاہتے ہیں اور کیا\nدوستوں کی داد ہے گویا صلہ اشعار کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اک نقش خیال رو بہ رو ہے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک نقش خیال رو بہ رو ہے\nجو کچھ ہے یہ کچھ نہیں ہے تو ہے\n\nہر پھول کے ساتھ ایک کانٹا\nہر دوست کے ساتھ اک عدو ہے\n\nدل ہے تو ہزار تجھ سے اچھے\nایسا ہی تو اک بڑا وہ تو ہے\n\nدشمن کے جگر کا خار میں ہوں\nاور اس کے گلے کا ہار تو ہے\n\nدامن جو ہے پردہ دار وحشت\nاس میں بھی کئی جگہ رفو ہے\n\nمیں آپ ہی آپ رو رہا ہوں\nکچھ آپ ہی آپ گفتگو ہے\n\nمحشر میں کسی کا ہائے کہنا\nاب آپ کے ہاتھ آبرو ہے\n\nاو غیر کو آنکھ دینے والے\nمضطرؔ بھی نگاہ رو بہ رو ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%B1%D9%88_%D8%A8%DB%81_%D8%B1%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "اک نو بہار ناز کو مہماں کریں گے ہم", "poet_page": "مصنف:مجید لاہوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک نو بہار ناز کو مہماں کریں گے ہم\nہر داغ دل کو رشک گلستاں کریں گے ہم\n\nساغر میں نور دیدۂ انجم انڈیل کر\nپھر تیرگیٔ غم میں چراغاں کریں گے ہم\n\nاڑ جائیں گی فضا میں بہاروں کی دھجیاں\nجس وقت تار تار گریباں کریں گے ہم\n\nکہتے ہیں آسماں پہ وہ زلفیں بکھیر کر\nجھلسی ہوئی زمین پہ احساں کریں گے ہم\n\nجی بھر کے ہم کو کر لے پریشان آسماں\nاک روز آسماں کو پریشاں کریں گے ہم\n\nاے وقت سن کہ آئے گا جب بھی ہمارا وقت\nطوفاں کو موج موج کو طوفاں کریں گے ہم\n\nجب تک ہمارے سامنے جام شراب ہے\nبرہم مزاج گردش دوراں کریں گے ہم\n\nوہ آرزو کہ دل سے زباں تک نہ آ سکے\nکچھ اس کا تذکرہ بھی مری جاں کریں گے ہم\n\nدور خزاں سے کوئی کہے جا کے اے مجیدؔ\nپھر اہتمام جشن بہاراں کریں گے ہم", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%81%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "اک وقت تھے ہم بھی خوش معاشی کرتے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اک وقت تھے ہم بھی خوش معاشی کرتے\nہر نالے سے اپنے دل خراشی کرتے\nآتے جو کبھو ادھر کو سنتے اس کو\nہم گریے سے اپنے آبپاشی کرتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "اک پردہ نشیں کی آرزو ہے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک پردہ نشیں کی آرزو ہے\nدر پردہ کہیں کی آرزو ہے\n\nہے بھی تو انہیں کا دل کو ارماں\nہے بھی تو انہیں کی آرزو ہے\n\nہوتا نہیں ہاں سے قول پورا\nاب مجھ کو نہیں کہ آرزو ہے\n\nکھو آئے ہیں کوئے یار میں دل\nاس پر بھی وہیں کی آرزو ہے\n\nایمان کا اب خدا نگہباں\nاک دشمن دیں کی آرزو ہے\n\nنکلے بھی تو تیری جستجو میں\nیہ جان حزیں کی آرزو ہے\n\nاندھیرا مچا ہوا ہے دل میں\nکس ماہ جبیں کی آرزو ہے\n\nکیوں حشر کا قول کر رہے ہو\nمضطرؔ کو یہیں کی آرزو ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "اک پری کا پھر مجھے شیدا کیا", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک پری کا پھر مجھے شیدا کیا\nعشق نے پھر مفسدہ برپا کیا\n\nآج پھر اس شوخ نے فقرا کیا\nوعدۂ امروز بھی فردا کیا\n\nخون ناحق اک مسلماں کا کیا\nکیا غضب او شوخ بے پروا کیا\n\nدل کو مائل شعلہ رویوں کا کیا\nدین زردشتی کو پھر احیا کیا\n\nابر اکثر اس برس برسا کیا\nکیا تتبع دیدۂ تر کا کیا\n\nکیوں اجل کیا تجھ کو بھی موت آ گئی\nاس قدر آنے میں کیوں عرصہ کیا\n\nکان کی بجلی جو یاد آئی تری\nبرق کے مانند میں تڑپا کیا\n\nوہ کف پائے حنائی کر کے یاد\nہجر کی شب ایڑیاں رگڑا کیا\n\nاس کو بھی سکتہ ہوا دیکھ آئینہ\nدیر تک حیرت سے منہ دیکھا کیا\n\nخاک چھانی مدتوں تنکے چنے\nکیا کہوں اس عشق میں کیا کیا کیا\n\nکل نہ پاؤ گے ہمیں کہیو سفیر\nآج آنے میں اگر حیلہ کیا\n\nواں ہوئے مسی سے لب ان کے کبود\nپیٹ کر منہ ہم نے یاں نیلا کیا\n\nتب اٹھے ہیں ان بتوں کے ہم سے ناز\nجب کلیجا اپنا پتھر کا کیا\n\nہے گرہ موئے کمر کی ناف یار\nفکر نے اپنے یہ عقدہ وا کیا\n\nلاگ پیدا کر کے اب جلاد سے\nجان کھوئی ہائے دل نے کیا کیا\n\nڈنٹر پہ باندھا ہم نے جوشن کی طرح\nحرز جاں قاتل ترا چھلا کیا\n\nمجھ کو مجنوں کر دیا مانند قیس\nسحر کچھ اور غیرت لیلیٰ کیا\n\nمعرکہ میں عشق کے سرکا نہ پاؤں\nآبرو کو جان کو صدقہ کیا\n\nسوز فرقت نے شرارت مجھ سے کی\nہیزم تر کی طرح سلگا کیا\n\nاے شب فرقت نہ کر مجھ پر عذاب\nمیں نے تیرا منہ نہیں کالا کیا\n\nزلف جاناں جس نے دیکھی ایک بار\nدل سے اپنے عمر بھر الجھا کیا\n\nاس مصیبت سے شب فرقت کٹی\nپاؤں پیٹے آہ کی نالہ کیا\n\nعشق افشان جبین یار میں\nخاک چھلنی کی طرح چھانا کیا\n\nتھا مناسب ترک عشق یار رندؔ\nآپ نے انسب کیا اولیٰ کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اک ڈھب پہ کبھو وہ بت خودکام نہ پایا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک ڈھب پہ کبھو وہ بت خودکام نہ پایا\nدیکھا میں جو کچھ صبح اسے شام نہ پایا\n\nاپنی ہی ہوس کے یہ سب الجھاؤ ہیں ورنہ\nاس راہ میں ہم نے تو کہیں دام نہ پایا\n\nوہ نخل خزاں دیدہ ہوں اس دشت میں جس کے\nسایہ میں کسی پہنچے نے بسرام نہ پایا\n\nوہ بے سر و تن ہے یہ زمانہ کہ بہ ایں غور\nجس کا میں کچھ آغاز اور انجام نہ پایا\n\nفہرست میں خوبان وفادار کی پیارے\nدیکھی تو کہیں اس میں ترا نام نہ پایا\n\nمعمول تھا دشنام عوض اپنی دعا کا\nسو وہ بھی کئی دن سے میں انعام نہ پایا\n\nیک شب وہ کہیں گود میں سویا تھا سو قائمؔ\nپھر بالش مخمل سے میں آرام نہ پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%DA%88%DA%BE%D8%A8_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اک کافر مغرور دل آرام ہے میرا", "poet_page": "مصنف:نبی بخش نایاب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نایاب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "اک کافر مغرور دل آرام ہے میرا\nکہتے ہیں جسے کفر وہ اسلام ہے میرا\n\nکانٹوں پہ لٹایا جو مجھے میری خطا کیا\nڈر حق سے کہ کہلاتا تو گلفام ہے میرا\n\nایواں سے مرے تخت اٹھا لیجئے جلدی\nمٹی ہی میں مل جانا گر انجام ہے میرا\n\nکیسی ہے چمک میرے سیہ خانۂ دل میں\nشاید کہ یہاں بستا خوش اندام ہے میرا\n\nمیں تڑپوں تو آرام سے بیٹھو گے نہ تم بھی\nنایابؔ رہے یاد تمہیں نام ہے میرا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D9%85%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے\nرکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے\nپروانہ خانہ غم ہو تو پھر کس لیے اسدؔ\nہر رات شمع شام سے لے تا سحر جلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D8%A2%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%84%DB%92"} {"title": "اک ہجوم غم و کلفت ہے خدا خیر کرے", "poet_page": "مصنف:غلام بھیک نیرنگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اک ہجوم غم و کلفت ہے خدا خیر کرے\nجان پر نت نئی آفت ہے خدا خیر کرے\n\nجائے ماندن ہمیں حاصل ہے نہ پائے رفتن\nکچھ مصیبت سی مصیبت ہے خدا خیر کرے\n\nآ چلا اس بت عیار کی باتوں کا یقیں\nسادگی اپنی قیامت ہے خدا خیر کرے\n\nرہنماؤں کو نہیں خود بھی پتا رستے کا\nراہ رو پیکر حیرت ہے خدا خیر کرے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D8%AC%D9%88%D9%85_%D8%BA%D9%85_%D9%88_%DA%A9%D9%84%D9%81%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "اکبر نے جو گھر موت کا آباد کیا", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اکبر نے جو گھر موت کا آباد کیا\nصغرا کو دم نزع بہت یاد کیا\nلاشے پہ کمر پکڑ کے کہتے تھے حسین\nتم نے علی اکبر ہمیں برباد کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D9%88%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اکبر کا ظریفانہ کلام", "poet_page": "مصنف:سید سلیمان ندوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ولیؔ دکھنی سے لے کر میرؔ و داغؔ و جلالؔ کے زمانہ تک ہماری شاعری جس تنگ و محدود شاہراہ پر چل رہی تھی، اہل محفل کا دل اس سے اتنا اکتا گیا تھا کہ اگر نئے راستے پیدا نہ ہوتے تو اردوشاعری فنا ہو چکی ہوتی۔ مولانا شبلی کی تاریخی شاعری، مولانا حالیؔ کا پند و موعظت، مولوی اسماعیل میرٹھی کی اخلاقی کہانیاں، ڈاکٹر اقبالؔ کا فلسفہ، میر اکبرحسین کی پر معنی اور لطیف ظرافت اردوشاعری کی جدید تاریخ کے شاندار ابواب ہیں۔ ارباب تجارت دوطرح کے ہیں۔ ایک وہ جو بازار کا چلن دیکھ کر اپنی دوکان میں ہر ضرورت کی چیزیں ادھر ادھر چن دیتے ہیں۔ خریدار راستہ سے گزرتے ہیں اوراپنی پسند اور ضرورت کے مطابق دوکان سے مختلف چیزیں اٹھا لیتے ہیں، ان دکانداروں کی پھر جو سستی اور چلتی ہوئی چیزیں نظر آتی ہیں ان کو لے کر اپنی دوکان سجا لیتے ہیں۔ دوسرے وہ سوداگر ہیں جنہوں نے اپنے مذاق اور استعدا د کے مطابق کوئی چیز پسند کرلی ہے اور وہی ایک جنس ان کی دوکان میں ملتی ہے، اگر تم کوکسی اور چیز کی ضرورت ہو تو اسی قسم کی کوئی اور دوکان تلاش کرو جہاں صرف اسی جنس کی تجارت ہوتی ہو، عموماً بڑے بڑے تاجر اسی دوسری قسم کے ہیں۔ شاعری کا بھی یہی حال ہے۔ فردوسیؔ، سعدیؔ، حافظؔ شیرازی، خیامؔ نیشاپوری، عرفیؔ شیرازی جن کا کلام قبول عام حاصل کرچکا ہے، تھوک فروش سوداگر تھے۔ ان کے یہاں شاعر کے مذاق کے مطابق کلام ملے گا۔ ان میں ناظرین کے مذاق و انتخاب سے بحث نہیں۔ ایک شاعر و خطیب میں سب سے بڑا نازک فرق یہی ہے کہ شاعر دنیا کو صرف اپنا دل دکھلاتا ہے، خطیب سامعین کے دل دیکھتا ہے اور ان کے خیالات و جذبات کو متاثر کرنا چاہتا ہے، یہی سبب ہے کہ تمام بڑے بڑے شعراء کا ایک خاص رنگ مذاق ہے جس کے مطابق وہ اپنے کلام کو فرو غ دیتے ہیں۔ قدیم شعرائے اردو میں میرؔ، غالبؔ، انشاؔ اور نظیرؔاکبرآبادی کے سوا کسی اور کا مخصوص موضوع سخن نہیں۔ جدیدشاعری کے ہماری زبان پر دوبڑے احسانات ہیں۔ ایک توغزل اور قصیدہ کے متفرق و پراگندہ خیالات کے بجائے عربی شاعری کی طرح مسلسل مضامین کی اس نے بنیاد ڈالی۔ دوم یہ کہ زلف و شانہ کے الجھاؤ و گرفتاری سے اس نے نجات پائی اور ہر قسم کے مسلسل خیالات شعر میں بندھنے لگے۔ ہماری تعلیم اور عام فضل وکمال کے مشاہیر جس طرح اب تک وہی قدیم تعلیم یافتہ تھے، جنہوں نے بوریانشین ہوکر تعلیم پائی اوراب تک قومی اسٹیج کے وہ مالک تھے، اسی طرح جدید شاعری کے میدان میں بھی وہی بزرگوار پیش روہیں، جنہوں نے قدیم شاعری سے اکتاکر اس نئے کوچہ میں قدم رکھا۔ مولانا حالیؔ اور میر اکبرحسین دونوں قدیم شاعری کے استاد مسلم الثبوت ہیں، ان کے دیوانوں کا ایک حصہ ان ہی قدیم غزلوں کا مجموعہ ہے جن کے شکست و ریخت میں عمر کا بڑا حصہ ضائع کیا گیا ہے۔ میر صاحب غالباً وحید الہ آبادی کے شاگرد ہیں جن کو آتشؔ یا ناسخؔ سے شرف تلمذ حاصل تھا۔ اسی بنا پر میر صاحب کی شاعری میں لکھنؤ کا مذاق نہایت نمایاں ہے اور وہی رنگ طبیعت نکھر کر ایک اور عالم بن گیا ہے۔ اب تک ان کے دو دیوان شائع ہوچکے ہیں۔ کلام کی تقسیم مختلف مضامین پر ہے، لیکن درحقیقت ہم ان کو صرف تین جلی تقسیمات میں درج کرتے ہیں۔ غزلیں، سنجیدہ و متین اورظریفانہ نظمیں۔ اول اور دوم صنف سخن سے یہاں کوئی بحث نہیں، صرف تیسری صنف کے متعلق کچھ کہنا ہے۔ لکھنؤ کے شعرا میں سیدانشا (لکھنؤ، آکر) اور امانت لکھنوی کا جو رنگ ہے، میر صاحب کی ظریفانہ نظموں کا درحقیقت وہ اساس سخن ہے۔ آج سے تیس برس پہلے لکھنؤ سے اودھ پنچ کے نام سے ایک اخبارنکلا تھا اور مدت تک زندہ رہا۔ میر صاحب کے فطری رنگ کی پختگی میں اس اخبار سے بڑی مدد ملی۔ اس کی ہفتہ وار اشاعتوں میں میر صاحب کا کلام خاص ذوق سے لوگ پڑھا کرتے تھے۔ اودھ پنچ کے گر جانے کے بعد اور ماہوار رسائل میں بھی میر صاحب کا کلام چھپ کر مطبوع ہونے لگا اوراب ہماری زبان کا ہر ممتاز رسالہ اور اخبار ان کے اشعار کے لئے ہر مہینہ بے قرار ہتا ہے۔ میر صاحب کا اعلیٰ مذاق اوران کی شاعری کا موضوع عام پُرمعنی اور سنجیدہ ظرافت ہے۔ ان کو مذہب، فلسفہ، سیاست، قومیات جس موضوع پر جو کچھ بھی کہنا ہوتاہے، اس کا مغز سخن جوکچھ ہو لیکن اس کا قشربالائی صرف سنجیدہ ظرافت ہوتی ہے۔ ظرافت کا رنگ جوسید انشاءؔ اور سعادت علی خاں کی بدولت لکھنؤ کی شاعری میں پیدا ہو گیا تھا، اس کا مقصد صرف تفریح طبع اور دل بہلانا تھا، ضلع جگت اور رعایت لفظی لکھنؤ کا خاص مذاق ہے۔ اس کا مقصد بھی محض تفنن طبع تھا اور لکھنؤ میں امانتؔ اس اقلیم کا باشاہ ہوا ہے۔ جان صاحب کا ظریفانہ رنگ گوزنانہ لہجہ میں آکر بدنما ہوگیا تھا تاہم اس کی بنیاد بھی محض تفریح طبع پر تھی۔ میر صاحب کا احسان یہ ہے کہ انہوں نے سعدی بن یمین اور خیام کے مغز سخن کو امانت کے الفاظ میں اور سید انشاءؔ کی بولی میں اس طرح ادا کیا کہ وہ نہ صرف تفریح طبع اور واہ واہ کا سامان رہا بلکہ اس کی تہہ میں پند و موعظت، اخلاقی تعلیم، سیاسی نکتے، فلسفیانہ اسرار، مذہبی مسائل، اجتماعی مباحث بھی نظر آنے لگے۔ سیدانشاؔ کے زمانے کی سرکاری زبان فارسی اور ترکی تھی۔ وہ اسی شیرہ اور قوام سے اپنا شربت تیار کرتے تھے۔ اب انگریزی سرکاری زبان ہے، میر صاحب اس بادہ فرنگی کی آمیزش سے ذوق کلام کو لطف دیتے ہیں۔ ہم اوپر کہہ آئے ہیں کہ میر صاحب کے اصناف کلام میں گوہر جنس کی چیزیں ملتی ہیں لیکن ان کے کلام میں لذت درحقیقت ظرافت کی ہوتی ہے، جس کے مزے سے دل و زبان دونوں لطف اٹھاتے ہیں۔ میر صاحب اسی شیر و شکر میں پند و موعظت اور نصیحت گری کی ان تلخ دواؤں کا گھونٹ گلے سے اتار دیتے ہیں، جن کو یوں پینا اس جدید دور لطافت و تنزہ پسندی میں ناممکن تھا۔ میر صاحب بھری محفل میں علمائے کرام، مشائخ عظام، امراء، وحکام، مدعیان رہبری عام اورنوجوان تعلیم یافتوں کا خاکہ اڑاتے ہیں اوران کی چتون پر میل تک نہیں آتا۔ میر صاحب کا اصل رنگ یہ ہے کہ جدیدطرز معاشرت، یورپین اخلاق و عادات، تعلم جدید کے نقائص، مغربی تقلید کے معائب کو ظرافت کے پردے میں اس طرح نمایاں اورواضح کریں کہ مخاطب جھینپ کر خاموش ہوجائے اور اپنے فعل پر تھوڑی دیر کے لئے اس کے چہرے پر ندامت سے پسینہ آجائے۔ کہتے ہیں، ہر چند کہ کوٹ بھی ہے پتلون بھی ہے بنگلہ بھی ہے پاٹ بھی ہے صابون بھی ہے لیکن میں تجھ سے پوچھتا ہوں ہندییورپ کا تری رگوں میں کچھ خون بھی ہے آگاہ ہوں معنی خوش اقبالی سے واقف ہوں بنائے رتبہ عالی سے شرطیں عزت کی اور ہیں اکبرؔچلتا نہیں کام صرف نقالی سے تعلیم میں ان علوم کے ہو مصروفنیچر کی جو طاقتوں کو کر دے مکشوفلیکن تم سے امید کیا ہو کہ تمہیں عہدہ مطلوب ہے وطن ہے مالوفمذہب کی کہوں تو دل لگی میں اڑ جائے مطلب کی کہوں تو پالسی میں اڑ جائے باقی سر قوم میں ابھی ہے کچھ ہوشغالب ہے کہ یہ بھی اس صدی میں اڑ جائے میر صاحب کی ظریفانہ شاعری پر اگر تنقید کی نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کی ظرافت کے مختلف سات عنصر ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل عنوانوں میں کی جا سکتی ہے، رعایت لفظی یا ضلع جگتدنیا میں کوئی چیز بری یا بھلی نہیں ہے۔ ہر چیز کا محل استعمال برا یا بھلا ہے۔ ضلع جگت درحقیقت ایک بازاری چیز ہے۔ اس لئے سنجیدہ کلام اس کو متحمل نہیں ہوسکتا۔ امیر خسرو نے اعجاز خسروی کے ذریعہ اس عالم میں اپنی پیغمبری کا لاکھ ثبوت دیا لیکن اہل ہوش و خرد کے نزدیک مقبول نہ ہوئی۔ رعایت لفظی اور ضلع جگت متاخرین بلکہ متوسطین شعرائے لکھنؤ تک کا مذاق خاص رہا ہے۔ اکثر صرف اسی اساس پر ان کی شاعری کی ساری بنیاد قائم ہوتی ہے۔ ان لوگوں نے بڑی غلطی یہ کی کہ اس کا کوئی خاص محل استعمال متعین نہیں کیا بلکہ ہر قسم کے کلام کو اس زیور سے آراستہ کرنا چاہا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اونچے طبقوں میں مقبول نہیں ہوا، لیکن میر صاحب نے رعایت لفظی کو صرف ظریفانہ کلام کے ساتھ مخصوص کردیا جو اس کے لئے خاص طور سے موزوں تھی۔ میر صاحب کے ظریفانہ کلام کے رنگ کو جابجا اسی عنصر کی آمیزش نے نہایت شوخ کردیا ہے۔ مثلاً گولیاں دوا کی بھی ہوتی ہیں اور بندوقوں کی بھی، اس تجنیس سے دیکھو میر صاحب کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں۔ گولیوں کے زور سے کرتے ہیں وہ دنیا کو ہضماس سے بہتر اس غذا کے واسطے چورن نہیں رسالہ کی تجنیس سے دیکھئے کس طرح کام نکالتے ہیں، ملکی ترقیوں میں دوا لے نکالیے پلٹن نہیں تو خیر رسالے نکالیے مس کی تجنیس دیکھئے کیا رنگ دکھاتی ہے، سراسر نور تقوی سایہ پر قربان کر آئے یہ کیا اچھا کیا تم نے اگر زر کھوکے مس لائے تثلیث اور تینشیخ تثلیث کی تردید تو کرتے نہیں کچھگھر میں بیٹھے ہوئے والتین پڑھ اکرتے ہیں اس رعایت لفظی اور تجنیس کے شوق میں بعض اوقات وہ اردو، انگریزی و فارسی الفاظ کو بھی ہم متجانس کر لیتے ہیں اور اس میں بھی ایک لطف پیدا ہو جاتا ہے۔ ’ہمبل‘ انگریزی میں خاکسار کوکہتے ہیں۔ وہ اس کو امام حنبل بناتے ہیں۔ ہر طرح ہے اب عاجزی ہم میں اب ہمارے امام حنبل ہیں پاس کرنا اورپاس رہنالندن میں بگڑ جاؤگے وسواس یہی ہے تم پاس رہو میرے بڑا پاس یہی ہے گڈڈے اور گڈے ضرورت کچھ نہ تھی اس کی کہ آپس میں بھی ہوجائے سلام و رحمۃ اللہ کی جگہ گڈ نائٹ ا و رگڈ ڈے حیات مذہبی سے بھاگنا تھا کھیل گڑیوں کاکہاں کی قوم، ہاں کچھ بن گئے ہیں نازنیں گڈے کم آل اور کمالساری دنیا ہے اس کو پیاری اکبرؔکہتا ہے ’کم آل‘جس کو حاصل ہے کمالکم آل (تم سب آؤ) اورکمال کی تجنیس صوتی اس ظرافت کی بنیاد ہے۔ ہے۔\n\nجدت قافیہ\n\nمیر صاحب کی ظرافت کا بڑا کھیل اکثر اوقات قافیہ کی جدت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر انگریزی الفاظ کو بطور قافیہ کے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً، ہوائے طوبیٰ ہے اب سرمیں نہ موج کوثر ہے اب نظر میں ہوس اگر ہے تو بس یہی ہے کہ ہم بھی چھپ جائیں پانیر میں اک دن وہ تھا کہ دب گئے تھے لوگ دین سے ایک دن یہ ہے کہ دین دبا ہے مشین سے خواہش ہو تجھے اگر غنی بننے کیدولت کی ہوس ہے اور دھنی بننے کیشخصی حالت کو چھوڑ اے ہندیکوشش لازم ہے کمپنی بننے کیبلبل ہیں آج ہم چمنستان کیمپ کے پروانہ کل بنیں گے کلیسا کے لمپ کے فکر بہشت و کوثر و تسنیم ہوچکیاب پارک کا خیال ہے چرچے ہیں پمپ کے رکھتے تھے جو بزرگ قدم پھونک پھونک کرخوگر ہوئے ہیں لیمپ کے اسکپ کے جمپ کے عینک آنکھوں میں مصنوعی ہیں دانتنیچر نے سکھا کے کر دیا جسم کو تانتاب تک ہے وہی مگر ہوس حضرت کیہے طول امل ہنوز شیطان کی آنتنہ نماز ہے، نہ روزہ، نہ زکوٰۃ، نہ حج ہے تو خوشی پھر اس کی کیا ہے کوئی جنٹ کوئی جج ہے بعض الفاظ ایسے ہیں جو قافیہ نہیں بنتے لیکن میر صاحب اس قسم کے الفاظ کی ترکیب سے بعض موقعوں پر قافیہ کا کام لیتے ہیں، اس لئے اس سے نہایت ندرت اور جدت پیدا ہوجاتی ہے۔ مثلاًپنڈت بیٹھا ہے اپنی پوتھی لےکربنیا بیٹھا ہے موٹھ موتھی لےکرسودا اس کو ہے جو سدھارا لندنوہ دولت وجنس گھر میں جو تھی لے کرپوتھی موتھی کا قافیہ جو بھی تھی کتنا عجیب ہے۔ میرؔ صاحب کو قافیہ نکالنے میں کمال حاصل تھا۔ مولانا شبلی فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے ان سے کہا کہ میرے نام کا قافیہ نکالئے تو جانیں۔ وہ اس وقت چپ رہے۔ تھوڑی دیر کے بعدمیرؔ صاحب نے دعوت کا رقعہ بھیجا۔ آتا نہیں مجھ کو قبلہ قبلیہے بات یہ صاف بھائی شبلیقبلہ قبلی اورشبلی کا قافیہ ان ہی کی تلاش سے مل سکتا تھا۔ مخاطب کے دعوی کی تشریح، میر صاحب کے کلام میں بعض وقت ظرافت اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ مخاطب کے دعویٰ کو صحیح تسلیم کرلیتے۔ ہیں لیکن اس کی تشریح اس طرح کردیتے ہیں کہ مدعا بالکل اس کے مخالف ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً موجودہ بیداری سید احمد خاں کی کوششوں کا نتیجہ خیال کی جاتی ہے۔ میر صاحب اس کو تسلیم کرتے ہیں مگرکہتے ہیں کہ اس میں للہیت اتنی ہوکہ لوگ اٹھتے وقت اللہ کا نام لیں۔ سید صاحب سکھا گئے جو شعورکہتا نہیں تم سے کہ ہو اس سے نفورسوتوں کو جگا دیا انہوں نے لیکناللہ کا نام لے کے اٹھنا ہے ضرورجدید تعلیم یافتہ گروہ کالج کو تمام قومی کاموں کا تنہا واحد مرکز بتاتا ہے۔ میر صاحب اس کے اس دعویٰ کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اسی طرح واحد اور ایک جس طرح ایک بے مایہ کی ایک واحد جھونپڑی یا اندھے کی ایک لکڑی۔ مسلمانوں نے کالج کی بری کیا راہ پکڑی ہے وہی تو ایک ٹھکانا ہے وہی اندھے کی لکڑی ہے جدید تہذیب کے دلدادہ بے پردگی کے حامی اور عورتوں کو پبلک مجمع میں دیکھنے کے مشتاق ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو انگریزی نہ جانے گویا وہ تعلیم سے عاری ہے۔ میر صاحب ان کے دعویٰ کی تشریح ان الفاظ میں کرتے ہیں۔ حامدہ چمکی نہ تھی، انگلش سے جب بیگانہ تھیاب وہ شمع بزم ہے پہلے چراغ خانہ تھیشمع بزم او چراغ خانہ کی تشریح سن کر عجب نہیں کہ عورتوں کی بے پردگی اورانگریزی تعلیم کے مدعی چراغ پا ہوجائیں۔ ابہام، یعنی کسی فقرے کو دومطلب ہوں، غریب تر غیرمقصود اور بعید تر مقصود ہو۔ یورپ والے جوچاہیں دل میں بھردیں جس کے سر پر جو چاہیں تہمت دھر دیں بچتے رہو ان کی تیزیوں سے اکبرتم کیا ہو خدا کے تین ٹکڑے کردیں تین ٹکڑے کر دینے سے قطع وبرید نہیں تثلیث مراد ہے لیکن ابہام قطع وبرید کا ہوتا ہے۔ اور یہی اس شعر کا لطف ہے۔ بے پردہ کل جوآئیں نظر چند بیبیاں اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیاپوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہواکہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیابظاہر اس سوال کا جواب ہے کہ پردہ اس لئے نہیں ہے کہ وہ مردوں نے چھین لیا لیکن اصل مقصود یہ ہے کہ مردوں کی عقل پر پردہ پڑ گیا اور اپنی عورتوں کا پردہ انہوں نے اٹھا دیا۔ بوٹ ڈاسن نے بنایا میں نے ایک مضمون لکھامیرا مضموں رہ گیا ڈاسن کا جوتا چل گیاجوتا چل گیا کے دومعنی ہیں ایک مقصود اور دوسرا غیرمقصود۔ قدیم شعراء کے خیالات کو دوسرے پیرایہ میں ادا کرنا، میر صاحب بعض اوقات قدیم شعرا کے خیالات اس طرح الٹ پلٹ کر دیتے ہیں کہ قدیم وجدید مضامین میں ایسی دلآویز مناسبت پیدا ہوجاتی ہے جس سے بے ساختہ ہنسی آجاتی ہے۔ سعدی کے ایک شعر کا مصرع ہے، پہ برتخت مردن چہ بر روئے خاک۔ وہ اس کو یوں پلٹتے ہیں، چومسٹر نباشد ترا میہماں چہ برمیز خوردن چہ بر روئے خواں مولوی روم کا شعر ہے، چیست دنیا از خدا غافل شدننے قماش و نقرہ و فرزند وزناس کو یوں کیا ہے، نیچریت چیست از دیں گم شدننے قمیص و کوٹ و پتلون و بٹنابر و باد و مہ و خورشیدو فلک درکار اندتا تونانے بکف آری و بغلفت نخوریاس شعر کو یوں کیا ہے، کالج و ٹیچر و حکام درکار اندتانو ’پاسے‘ بکف آری وکنی عہدہ پریجدید محاورات\n\nمیر صاحب کے کلام کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ جدید محاورے جو انگریزی زبان کے اختلاط سے پیدا ہو گئے ہیں، ہمارے مشرقی شاعرتو ان کا استعمال عام عار کلام سمجھیں گے لیکن میر صاحب انہیں محاورات کو پیرایہ اشعار میں اس طرح جلوہ دیتے ہیں کہ ہزاروں محتاط شاعروں کو ان پر قربان کر دینے کوجی چاہتا ہے۔ بیٹھا رہا میں صبح سے اس در پہ شام تکافسوس ہے ہوا نہ میسر سلام تکہر اک ریمارک آپ کا عقرب کا نیش ہے مجھ کو بھی رنج غیر کا سینہ بھی ریش ہے حریفوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کے تھانے میں کہ اکبرؔ نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں تشبیہ و استعارات کی جدت، کلام میں نئی تشبیہیں پیدا کرنا، شاعری کی جنت کا شجر ممنوعہ ہے۔ عر ب میں تشبیہات بالکل مادی اور سادی ہوتی تھیں، ایران آکر عربی شاعری باغ وبہار بن گئی۔ فارسی شاعری جب ہندوستان آئی تو گوشیراز کا بلبل ہاتھ سے نہ چھوٹا، لیکن فاختہ اور قمری کی کوکو بھی اب سنائی دینے لگی۔ اس نئے دور مخترعات میں سیکڑوں چیزیں نئی پیدا ہوگئی ہیں لیکن ہماری قدیم شاعری کا ذخیرہ تشبیہات اب تک وہی سلف کا متروکہ اوراندوختہ چلا آتا ہے۔ میر صاحب کا احسان ہے کہ انہوں نے بیسیوں نئی تشبیہیں کلام میں پیدا کردیں اور ان سے عجیب و غریب تمثیلی استدلالات پیدا کئے۔ زندگی اور قیامت میں ریلیشن سمجھواس کو کالج اور اسے کانووکیشن سمجھوآہ فریاد سے قابو میں نہ آئے گا دلتپش قلب کو بنگالی ایجی ٹیشن سمجھوبحر ہستی کا یہی دور چلاجاتا ہے برف کی طرح جمے، بہہ گئے پانی کی طرحمیدان عمل لیگ کا محدود ہے بیشکہاں ر قبہ مجلس کی کوئی ناپ نہیں ہے ہے کوماہی کو ما، جو پڑھے دہر کا نامہجز موت کہیں اس میں فل اسٹاپ نہیں ہے بعد مردن کچھ نہیں کہ یہ فلسفہ مردود ہے قوم ہی کو دیکھئے مردہ اور موجود ہے کل مست عیش و ناز تھے ہوٹل کے ہال میں اب ہائے ہائے کر رہے ہیں اسپتال میں دنیا اسے قرار دو اور آخرت ہے یہسن لو کہ ساز معنی اکبرؔ کی گت ہے یہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%B8%D8%B1%DB%8C%D9%81%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "اکبرؔ مجھے شک نہیں تیری تیزی میں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اکبرؔ مجھے شک نہیں تیری تیزی میں\nاور تیرے بیان کی دلآویزی میں\nشیطاں عربی سے ہند میں ہے بے خوف\nلاحول کا ترجمہ کر انگریزی میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1%D8%94_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B4%DA%A9_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%B2%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اکثر نے ہے آخرت کی کھیتی بوئی", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اکثر نے ہے آخرت کی کھیتی بوئی\nاکثر نے ہے عمر جستجو میں کھوئی\nآخر کو اگر پتا ملا تو یہ ہی ملا\nملنے کا نہیں سوائے اپنے کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1_%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AE%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%D8%A8%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ\nہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%A8%D8%B2%DB%81_%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%94"} {"title": "اگر", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے مضامین", "year": "1942", "text_ur": "اگر یہ ہوتا تو کیا ہوتا اور اگر یہ نہ ہوتا تو کیا ہوتا اور اگر کچھ بھی نہ ہوتا تو پھر کیا ہوتا۔۔۔ ظاہر ہے کہ ان خطوط پر ہم جتنا سوچیں گے، الجھاؤ پیدا ہوتے جائیں گے اور جیسا یورپ کے ایک بڑے مفکر نے کہا ہے، ’’یہ نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔‘‘ کے متعلق سوچ بچار کرنا بالکل لاحاصل ہے۔ یہ بات ایک عام آدمی کے نقطۂ نظر سے کہی گئی ہے اور بالکل سچ ہے کیونکہ عام آدمی کا کام اگر کے چکر میں پھنسنا نہیں ہے، اس لئے کہ اس میں پھنس کر وہ اپنی حرکت، اپنی توجہ کی شدت اور اپنے عمل کی قوت کو بالکل کھو دے گا۔ ’’وہ جو کچھ کہ ہو سکتا یا ہو جاتا‘‘ پر سوچ بچار کرنا ’’دماغی سٹہ بازی‘‘ ہے۔ کیونکہ اس میں بھی آدمی اسپیکولیشن کی بھول بھلیوں میں پھنس جاتا ہے۔\n\nعام آدمی کا ایسی باتیں سوچنا بالکل بیکار ہے، لیکن فلسفی کی بات الگ ہے۔ وہ جب نامعلوم ممکنات کا کھوج لگاتا ہے تو اسے کچھ نہ کچھ ضرور حاصل ہو جاتا ہے، اس لئے کہ وہ حال اور مستقبل دونوں سے متعلق ہے۔ عارضی اور دائمی دونوں چیزوں سے اسے واسطہ ہے۔ انسان کی متبدل اور غیر متبدل دونوں قسم کی عادات اس کے پیش نظر رہتی ہیں۔ چنانچہ اس کے دماغ میں ایسے سوالوں کا پیدا ہونا ضروری ہے کہ اگر فلاں فلاں حادثہ وقوع پذیر نہ ہوتا تو زمانے کی رفتار کیسی ہوتی۔ فلاں ارادے یا فیصلے میں اگر تھوڑی سی ترمیم ہوتی تو واقعات کا رخ کیسا ہوتا، اگر فلاں آدمی مقررہ وقت سے کچھ دیر پہلے یا کچھ دیر بعد مرتا تو زندگی میں کیا تبدیلی پیدا ہوتی۔\n\n’’اگر‘‘ کی بے شمار ایسی شکلیں ہو سکتی ہیں، کیونکہ اب تک جو کچھ ہوا ہے اس کو ہر رنگ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ’’اگر‘‘ کے میدان میں ایسے کئی گھوڑے دوڑائے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر حکیم سقراط اس ماردھاڑ میں جو کہ چارسو چوبیس سال قبل از مسیح ایتھنز کے باشندوں نے مچائی تھی، قتل ہو گیا ہوتا تو افلاطون اور ارسطو کا نام کبھی سننے میں نہ آتا۔ یونانی فلسفے کا وجود تک نہ ہوتا اور وہ سبق جو یورپ کی دانش گاہوں میں دو ہزار سال سے پڑھایا جا رہا ہے، معرض وجود ہی میں نہ آتا۔۔۔ اس ’’اگر‘‘ پر اگر غور کیا جائے تو کتنی دلچسپ باتوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ بیتے ہوئے زمانے کا دو ہزار سال لمبا تھان کھول کر اس کے تمام نقش و نگار مٹا کر نئے بیل بوٹے بنانا کم دلچسپ نہیں۔۔۔ اور اگر یہ سوچا جائے کہ اگر قلو پطرہ کی ناک ایک انچ کا آٹھواں حصہ بڑی یا چھوٹی ہوتی تو کیا ہوتا۔۔۔\n\nیہ ’’اگر‘‘ بہت مشہور ہے اور اس پر غور بھی کیا جا چکا ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر قلو پطرہ کی ناک ایک انچ کا آٹھواں حصہ بڑی یا چھوٹی ہوتی تو عیسائیوں کی تاریخ تمدن بالکل مختلف ہوتی۔ ممکن ہے کہ بعض لوگ عورتوں کی ناک کے سائز کو اتنا اہم نہ سمجھیں اور کسی خاتون کی ناک کو قوموں کی قسمت تبدیل کرنے والی نہ مانیں مگر اس بات پر پھر بھی بحث ہو سکتی ہے کہ اگر قلو پطرہ کی ناک ذرا بھر بڑی یا چھوٹی ہوتی تو اس کی خوبصورتی میں نمایاں فرق پیدا ہو جاتا۔ اگر اس کی خوبصورتی میں فرق آ جاتا تو وہ نہ جولیس سیزر کو اور نہ مارک انطونی کو مسحور کر سکتی،چنانچہ رومن ہسٹری بالکل مختلف ہوتی اور۔۔۔ خدا جانے اور کیا کیا کچھ نہ ہوتا اور کیا کیا کچھ ہوتا۔ آیئے ہم چند تاریخی ’’اگروں‘‘ پر سرسری نظر ڈالیں۔\n\nاگر سابق قیصر جرمنی ولیم دوئم اور شہنشاہ ایڈورڈ ہفتم ایک دوسرے سے دلی نفرت نہ رکھتے ہوتے تو سن چودہ کی بڑی لڑائی معرض وجود ہی میں نہ آتی۔ کہتے ہیں کہ شہنشاہ ایڈورڈ کو قیصر ولیم کی خودبینی پسند نہ تھی۔ پہلی ملاقات ہی میں ان کے دل نفرت کے جذبات سے معمور ہو گئے جو سالہا سال تک قائم رہے۔ اس دوران میں چھوٹے چھوٹے معمولی واقعات بھی ان کو مشتعل کرتے رہے، چنانچہ کاؤنٹس آف داروک نے اس قسم کے ایک معمولی واقعے کا ذکر کیا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ شہنشاہ ایڈورڈ اور قیصر بیٹھے گفتگو کر رہے تھے کہ ان کے سامنے سے جنگی نامہ نگار ملٹن پرائر گزرا۔ قیصر نے پوچھا، ’’یہ مختصر سا عجیب و غریب آدمی کون ہے؟‘‘ ایڈورڈ نے جواب دیا، ’’مشہور و معروف جنگی نامہ نگار ملٹن پرائر۔‘‘ قیصر نے حقارت آمیز لہجے میں کہا، ’’اوہ۔۔۔ ملٹن پرائر، وہ جرنلسٹ۔‘‘\n\nشہنشاہ ایڈورڈ، قیصر کی اس بدتمیزی سے کبیدہ خاطر ہو گئے اور اس کو ذلیل کرنے کی ٹھان لی۔ ’’آپ اس سے مل کر یقیناً خوش ہوں گے۔‘‘ شہنشاہ ایڈورڈ نے اس انداز میں کہا گویا انہوں نے قیصر کی حقارت آمیز گفتگو کا مقصد ہی نہیں سمجھا۔ اس سے پہلے کہ شہنشاہ ایڈورڈ کا تندمزاج بھانجا کچھ کہہ سکے، انہوں نے ملٹن پرائر کو قریب آنے کا اشارہ کر دیا۔ جب وہ پاس آ گیا تو شہنشاہ نے یوں تعارف کرایا، ’’مسٹر پرائر، قیصر نے خواہش ظاہر کی کہ میں تمہاری اس سے ملاقات کراؤں۔‘‘ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ یہ شخصی منافرت جنگ کے دیوتا کو مشتعل کرنے کا سبب بنی اور انگریزوں سے جرمنی کے حسد اور نفرت کی آگ کا ایندھن بن گئی اور سن چودہ میں جنگ عظیم شروع ہو گئی۔\n\nاگر نیپلز میں لیڈی ہملٹن نے نلسن سے ملاقات نہ کی ہوتی اور وہ اس پر عاشق نہ ہو جاتا تو بہت ممکن ہے نیل کی جنگ کبھی وقوع پذیر نہ ہوتی۔ اٹلی کا ارادہ نلسن کی مدد کرنے کا نہ تھا۔ اس کی راہ میں روڑے اٹکانے جا رہے تھے، لیکن حسین اورجادو نظر ایما یعنی لیڈی ہملٹن نے اپنے مدبر شوہر کے پردے میں زنجیر کو حرکت دی اور اس کے جہازوں کو سامان رسد فراہم کرنے اور مہم پر روانہ ہونے میں مدد دی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس خاتون نے اپنے عاشق نلسن کو بہت سی راز کی باتیں بھی معلوم کر کے بتلائیں۔\n\nاگر ملکہ الزبتھ اسپین کے شہنشاہ فلپ سے شادی کرنے سے انکار کر دیتی اور ملکہ میری کے پروانہ موت پر دستخط نہ کرتی تو انگلستان پر آرمیڈا یعنی اسپین کا زبردست جنگی بیڑہ کبھی حملہ نہ کرتا۔ سیاست کی بساط پر ملکہ انگلستان نے شاہ فرانس اور شاہ اسپین کو ایک دوسرے کے مقابلے میں احمق بنا کر یورپ میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کا جھگڑا کھڑا کر دیا۔ بلکہ میری جب قتل ہوئی تو فلپ کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا۔ میری نے اپنی وصیت میں فلپ کو تاج و تخت کا مالک قرار دیا تھا، جو اس کا سب سے زیادہ قریبی عزیز اور کیتھولک تھا۔ فلپ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اگر انگلستان فتح ہو گیا تو یورپ میں کیتھولک مذہب کا پھر پچھلا سا اقتدار قائم ہو جائے گا۔ بس اس نے بغیر سوچے سمجھے آرمیڈا کو انگلستان فتح کرنے کے لئے روانہ کر دیا، لیکن نتیجہ برعکس ہوا اور اسپین کی ساری شان و شوکت خاک میں مل گئی۔\n\nاگر شہنشاہ میکس میلیاں ایک مغرور اور ضدی عورت سے شادی نہ کرتا تو میکسیکو خونیں انقلاب سے محفوظ رہتا اور ساتھ ہی شہنشاہ کی جان بچ جاتی۔ میکسیکو کے باشندے اس بات کے خلاف تھے کہ ان کے وطن پر کوئی غیر ملکی حکمران ہو۔ ان کی مرضی کے خلاف نپولین سوئم ان پر میکس میلیاں کی حکومت عائد کر رہا تھا، جس سے انہوں نے یکسر انکار کر دیا، میکس میلیاں نے جب دیکھا کہ معاملات دگرگوں ہو چکے ہیں تو اس نے چاہا کہ تخت سے دست بردار ہو جائے مگر اس کی ضدی اور مغرور ملکہ بیچ میں حائل ہو گئی۔ اس نے اپنے خاوند کو غیرت دلائی۔ ایسی باتیں صرف بڈھوں اور احمقوں کو زیب دیتی ہیں۔۔۔ چونتیس سال کے جوان شہنشاہ کے لئے یہ انتہائی ذلت اور بزدلی ہوگی اگر وہ تخت سے دستبردار ہو جائے۔\n\nاس کے بعد وہ بعجلت تمام شہنشاہ فرانس کے پاس آئی، اور نپولین سوئم سے فوجی امداد کی ملتجی ہوئی، لیکن امریکہ نے نپولین کو پہلے ہی متنبہ کر دیا تھا، چنانچہ اس نے فوجی امداد سے صاف انکار کر دیا۔ ادھر ملکہ امداد و اعانت کی فکر میں سرگرداں تھی۔ ادھر میکس میلیاں اور اس کی فوج صدرواریز کے ہاتھوں شکست پر شکست کھا رہی تھی۔ ملکہ کی ضد آخر رنگ لائی اور اس کے نیک دل شوہر میکس میلیاں کو گرفتار کر لیا گیا اور بعد میں اسے گولی کا نشانہ بنا دیا گیا۔۔۔ کہتے ہیں کہ ملکہ کو پھر کبھی اپنے شوہر کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوا، اور مدت تک اس پر غم کے باعث دیوانگی کی کیفیت طاری رہی۔\n\nاگر۔۔۔ یہ بڑا دلچسپ اگر ہے۔۔۔ اگر کولمبس نے امریکہ دریافت نہ کیا ہوتا تو ظاہر ہے کسی اور نے دریافت کر لیا ہوتا کیونکہ پرانی دنیا سے یہ نئی دنیا زیادہ دور نہیں، مگر ہمیں تو صرف یہ سوچنا ہے کہ اگر کولمبس نے یہ دنیا دریافت نہ کی ہوتی تو کیا ہوتا۔۔۔ فورڈ کی موٹرکاریں نہ ہوتیں۔ لیگ آف نیشنز نہ ہوتی۔ انگریزوں کا تمباکو سے تعارف نہ ہوتا اور نہ آئرستان میں آلوؤں کی کاشت ہوتی۔۔۔ چارلی چپلن جیسا مسخرہ نہ ہوتا اور یہ فلم نہ ہوتی۔ فلموں اور آلوؤں کو چھوڑیئے۔۔۔ آپ یہ سوچئے کہ اگر راجہ دسرتھ کے رتھ کا پہیہ نہ نکلتا تو کیا ہوتا۔۔۔ ظاہر ہے کہ ہر سال دسہرے کے موقع پر جو راون جلایا جاتا ہے، نہ جلایا جاتا۔\n\nتاریخی بیان ہے کہ جب راجہ دسرتھ کے رتھ کا پہیہ نکل گیا تو رانی کیکئی نے میخ کی جگہ اپنی انگلی داخل کر دی اور یوں رتھ کو بچا لیا۔ راجہ دسرتھ اپنی رانی کے اس ایثار سے بہت متاثر ہوا۔ چنانچہ اس نے خوش ہو کر کہا، ’’مانگ مجھ سے کیا مانگتی ہے۔‘‘ رانی کیکئی نے اس وقت تو کچھ نہ مانگا، مگر جب رام چندر جی کو گدی پر بٹھایا جانے لگا تو اس نے اپنے خاوند کو اس کا وچن یاد دلایا اور کہا، ’’میری یہ خواہش ہے کہ آپ رام کو چودہ سال کے لئے جنگلوں میں بھیج دیں اور میرے لڑکے بھرت کو گدی پر بٹھا دیں، چنانچہ رام چندر جی کا بن باس ہوا اور ان کی راون سے معرکہ خیز جنگ ہوئی۔\n\nاس طرح اگر درد پدی طعن آمیز لہجے میں دریودھن سے یہ نہ کہتی کہ آخر تم اندھے ہی کے لڑکے ہو۔ تمہیں سجھائی کیسے دے گا تو بہت ممکن ہے مہابھارت نہ لڑی جاتی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ پانڈوں کے حصے میں بہت خراب زمین آئی تھی، جس کو انہوں نے بڑی محنت سے صاف کیا اور کاریگری کے ایسے نمونے پیدا کئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایسا فرش بنایا تھا کہ تالاب معلوم ہو اور ایسا تالاب بنایا تھا جو فرش معلوم ہو۔ پانڈوں نے جب کوروں کو اپنے یہاں دعوت دی تو وہ صنعت کے یہ نادر نمونے دیکھ کر حیرت زدہ ہو گئے۔ دریودھن تو بوکھلا سا گیا۔ ایک فرش کو اس نے یہ سمجھا کہ تالاب ہے، چنانچہ اس نے اپنا لباس اوپر اڑس لیا۔ کہتے ہیں اس موقع پر درد پدی نے یہ طعنہ زنی کی۔ ’’آخر تم اندھے ہی کے لڑکے ہو، تمہیں سجھائی کیسے دے گا۔۔۔‘‘ چنانچہ یہ طعنہ آگے چل کر مہا بھارت کا موجب ہوا۔\n\nاگر چنگیز خان پیدا نہ ہوتا تو مغرب کی بیداری میں ایک زمانہ صرف ہوتا، چینیوں کو مقناطیسی سوئی کا استعمال ایک مدت سے آتا تھا مگر نئے یورپ سے اس ایجاد کا تعارف چنگیز خان کے حملوں کی بدولت ہوا۔ ظاہر ہے کہ اگر قطب نما جیسی اہم ایجاد کا علم صرف چین تک ہی محدود رہتا تو کولمبس اور واسکوڈے گاما اتنے لمبے سمندری سفر کبھی نہ کرتے، اگر چنگیز خان پیدا نہ ہوتا تو آج روس کی شکل ہی اور ہوتی کیونکہ وہ منگولوں کی غلامی سے بچا رہتا۔\n\nدشمن کے بحری بیڑے کا کھوج لگانے کے سلسلے میں جنرل نلسن مالٹا سے مصر تک گیا۔ یہ ۱۷۹۸ء کا ذکر ہے۔ ۲۲ جون اور ۲۸ جون کے درمیانی عرصے میں انگریزوں کا جنگی بیڑہ فرانسیسیوں کے جنگی بیڑے کے پاس سے ہو کر گزرا مگر ان میں سے کسی کو ایک دوسرے کی موجودگی کا علم نہ ہوا۔۔۔ بحیرۂ روم کی ایک کالی رات میں دنیا کی سب سے بڑی ’’اگر‘‘ دیر تک کانپتی رہی، اگر طرفین کے کسی جہاز میں روشنی کی ہلکی سی شعاع نظر آ جاتی، کوئی آواز سنائی دے جاتی، کوئی فوجی موج میں آ کر گیت گا دیتا اور نلسن کو دشمن کے بحری بیڑے کی موجودگی کا علم ہو جاتا تو دنیا نپولین کے نام سے بالکل نا آشنا ہوتی۔ اس کا نام جنگی تذکروں میں ایک ایسے جرنیل کی حیثیت سے لکھا جاتا جو کافی اہلیتوں کا مالک ہو اور بس۔۔۔ روس پر نپولین کا ناکام حملہ نہ ہوتا اور یوں فرانس کے ایک لاکھ پچیس ہزار آدمی مارے نہ جاتے، ایک لاکھ بتیس ہزار آدمی سردی اور تھکاوٹ کی بھینٹ نہ چڑھتے اور ایک لاکھ ترانوے ہزار فرانسیسی روسیوں کے قیدی نہ بنتے۔\n\nاگر اسٹیفن چائے کی کیتلی کی ٹونٹی پر چمچہ نہ رکھتا تو اسے بھاپ کی طاقت معلوم نہ ہوتی اور ریلوے انجن کبھی نہ بنتا۔۔۔ اگر درخت سے سیب نہ گرتا تو نیوٹن کشش ثقل کیسے دریافت کر سکتا۔۔۔ اگر مہاتما گاندھی نہ ہوتے تو آج اس ونو بھابھوے کو کون جانتا۔۔۔ اگر مارکونی نہ ہوتا تو ریڈیو نہ ہوتے۔۔۔ اگر ہٹلر نہ ہوتا تو یہ دوسری جنگ عظیم معرض وجود میں نہ آتی، اگر حضرت آدم بہشت سے نکالے نہ جاتے تو اس دنیا کے بجائے کوئی اور ہی دنیا ہوتی، اگر کچھ بھی نہ ہوتا تو خدا جانے کیا ہوتا اور اگر خدا نہ ہوتا تو۔۔۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1"} {"title": "اگر اتنا نہ تو عیار ہوتا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر اتنا نہ تو عیار ہوتا\nتو دشمن کا نہ ہرگز یار ہوتا\n\nدوئی کا نقش مٹتا دل سے اے کاش\nمئے وحدت سے میں سرشار ہوتا\n\nجو ہوتے آج کل قیس اور فرہاد\nمیں ان کا قافلہ سالار ہوتا\n\nنہ ہوتا گر ترا طالب جہاں میں\nتو میں پابند ننگ و عار ہوتا\n\nلگائے چاٹ پر ہیں اس کو دشمن\nالٰہی میں بھی کچھ زردار ہوتا\n\nاگر ہوتا مجھے پاس آبرو کا\nنہ تیرا عاشق دیدار ہوتا\n\nتڑپتا ہے قفس میں طائر دل\nنکل جاتا اگر پر دار ہوتا\n\nتمنا دل کی ساقیؔ جب نکلتی\nاگر منہ سے نہ کچھ اظہار ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اگر اس کا مرا جھگڑا یہیں طے ہو تو اچھا ہو", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر اس کا مرا جھگڑا یہیں طے ہو تو اچھا ہو\nخدا جانے خدا کے سامنے کل کیا نہ ہو کیا ہو\n\nگزرتی ہے بشر کی زندگی کس وہم باطل میں\nجو ایسا ہو تو ایسا ہو جو ایسا ہو تو ایسا ہو\n\nشب خلوت یہ کہنا بار بار اس کا بناوٹ سے\nہمیں چھیڑے تو غارت ہو ہمیں دیکھے تو اندھا ہو\n\nوہ ہر دم کی عیادت سے مری گھبرا کے کہتے ہیں\nغضب میں جان ہے اپنی نہ مر جائے نہ اچھا ہو\n\nوہ فرماتے ہیں مجھ کو دیکھ کر میں یوں نہ مانوں گا\nاگر یہ نوحؔ ہے طوفان اٹھائے غرق دنیا ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%DA%BE%DA%AF%DA%91%D8%A7_%DB%8C%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B7%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "اگر الٹی بھی ہو اے مشرقیؔ تدبیر سیدھی ہو", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر الٹی بھی ہو اے مشرقیؔ تدبیر سیدھی ہو\nمگر یہ شرط ہے انسان کی تقدیر سیدھی ہو\n\nسمجھ میں آئے بھی کیا کہتے ہیں اور کیا وہ لکھتے ہیں\nاگر تقریر سیدھی ہو اگر تحریر سیدھی ہو\n\nوہ آ کر خواب میں اک بوسہ رخ کا دے گئے مجھ کو\nیقیں مجھ کو نہیں اس خواب کی تعبیر سیدھی ہو\n\nکجی اے مشرقیؔ ہو دور کیوں کر کج‌ مزاجوں کی\nنہیں ممکن کہ پشت آسمان پیر سیدھی ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D9%B9%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%B4%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%94_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D8%AF%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88"} {"title": "اگر ان کے لب پر گلا ہے کسی کا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر ان کے لب پر گلا ہے کسی کا\nتو بے جا بھی شکوہ بجا ہے کسی کا\n\nحسیں حشر میں سر جھکائے ہوئے ہیں\nوفا آج وعدہ ہوا ہے کسی کا\n\nوہ جوبن بہت سر اٹھائے ہوئے ہیں\nبہت تنگ بند قبا ہے کسی کا\n\nوہ خود چاہتے ہیں کوئی اب ستائے\nستانا مزا دے گیا ہے کسی کا\n\nجو ہیں دست گستاخ اپنے سلامت\nتو جھوٹا ہی وعدہ وفا ہے کسی کا\n\nوہ کیوں اٹھ کے خلوت سے محفل میں آئیں\nوہ کیا جانیں کیا مدعا ہے کسی کا\n\nبنا لوں خدا تو بھی میرے نہ ہوں گے\nبتوں میں کوئی بھی ہوا ہے کسی کا\n\nکوئی گود میں جھم سے آ ہی گیا ہے\nتصور ہمیں جب بندھا ہے کسی کا\n\nریاضؔ اور ہی رنگ میں مست ہیں اب\nسنا ہے پیالا پیا ہے کسی کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%D8%B1_%DA%AF%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اگر انکھیوں سیں انکھیوں کو ملاؤ گے تو کیا ہوگا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر انکھیوں سیں انکھیوں کو ملاؤ گے تو کیا ہوگا\nنظر کر لطف کی ہم کوں جلاؤ گے تو کیا ہوگا\n\nتمہارے لب کی سرخی لعل کی مانند اصلی ہے\nاگر تم پان اے پیارے نہ کھاؤ گے تو کیا ہوگا\n\nمحبت سیں کہتا ہوں طور بد نامی کا بہتر نہیں\nاگر خندوں کی صحبت میں نہ جاؤ گے تو کیا ہوگا\n\nتمہارے شوق میں ہوں جاں بلب اک عمر گزری ہے\nاگر اک دم کوں آ کر مکھ دکھاؤ گے تو کیا ہوگا\n\nمرا دل مل رہا ہے تم سوں پیارے باطنی ملنا\nاگر ہم پاس ظاہر میں نہ آؤ گے تو کیا ہوگا\n\nجگت کے لوگ سارے آبروؔ کوں پیار کرتے ہیں\nاگر تم بھی گلے اس کوں لگاؤ گے تو کیا ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%A4_%DA%AF%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے\nمزا کہنے کا جب ہے اک کہے اور دوسرا سمجھے\nکلام میر سمجھے اور زبان میرزا سمجھے\nمگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%D8%A2%D9%BE_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "اگر اپنی چشم نم پر مجھے اختیار ہوتا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر اپنی چشم نم پر مجھے اختیار ہوتا\nتو بھلا یہ راز الفت کبھی آشکار ہوتا\n\nہے تنک مزاج صیاد کچھ اپنا بس نہیں ہے\nمیں قفس کو لے کے اڑتا اگر اختیار ہوتا\n\nیہ ذرا سی اک جھلک نے دل و جاں کو یوں جلایا\nتری برق حسن سے پھر کوئی کیا دو چار ہوتا\n\nاجی توبہ اس گریباں کی بھلا بساط کیا تھی\nیہ کہو کہ ہاتھ الجھا نہیں تار تار ہوتا\n\nوہ نہ آتے فاتحہ کو ذرا مڑ کے دیکھ لیتے\nتو ہجوم یاسؔ اتنا نہ سر مزار ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%86%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر اے نسیمِ سحر ترا! ہو گزر دیار ِحجاز میں\nمری چشمِ تر کا سلام کہنا حضورِ بندہ نواز میں\n\nتمہیں حدِ عقل نہ پاسکی فقط اتنا حال بتا سکی\nکہ تم ایک جلوہء راز تھے جو نہاں ہے رنگِ مجاز میں\n\nنہ جہاں میں راحتِ جاں ملی ، نہ متاعِ امن و اماں ملی\nجو دوائے دردِ نہاں ملی ، تو ملی بہشتِ حجاز میں\n\nعجب اک سُرور سا چھا گیا مری روح و دل میں سما گیا\nترا نام ناز سے آگیا مِرے لب پہ جب بھی نماز میں\n\nکروں نذر نغمہء جاں فزا میں کہاں سے اخترِ بے نوا\nکہ سوائے نالہء دل نہیں مرے دل کے غمزدہ ساز میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دو", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دو\nنہ کام آئے تو واپس دو جو کام آئے تو رہنے دو\n\nمرا رہنا تمہارے در پہ لوگوں کو کھٹکتا ہے\nاگر کہہ دو تو اٹھ جاؤں جو رحم آئے تو رہنے دو\n\nکہیں ایسا نہ کرنا وصل کا وعدہ تو کرتے ہو\nکہ تم کو پھر کوئی کچھ اور سمجھائے تو رہنے دو\n\nدل اپنا بیچتا ہوں واجبی دام اس کے دو بوسے\nجو قیمت دو تو لو قیمت نہ دی جائے تو رہنے دو\n\nدل مضطرؔ کی بیتابی سے دم الجھے تو واپس دو\nاگر مرضی بھی ہو اور دل نہ گھبرائے تو رہنے دو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%85_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DA%86%DA%BE%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%88"} {"title": "اگر ثابت قدم ہو عشق میں جیوں شمع جل سکیے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر ثابت قدم ہو عشق میں جیوں شمع جل سکیے\nمقابل تند خو کی تیغ ابرو کے سنبھل سکیے\n\nہمارے اشک خونیں نے حنائی رنگ لایا ہے\nارے دل اس کے پاؤں پر یہ آنکھیں اب تو مل سکیے\n\nپلک سے جس طرح آنسو گزر جاتا ہے اک پل میں\nصراط اوپر خدا کا فضل شامل ہو تو چل سکیے\n\nنکلنا صید کا صیاد کے پھاندے سے مشکل ہے\nنہیں آسان اے دل دام دنیا سے نکل سکیے\n\nلگی جب شمع کی سی طرح آتش عشق کے سر کو\nتصور شعلہ رو کا باندھ کر جل جل پگھل سکیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AB%D8%A7%D8%A8%D8%AA_%D9%82%D8%AF%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%AC%D9%84_%D8%B3%DA%A9%DB%8C%DB%92"} {"title": "اگر درد محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر درد محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا\nنہ کچھ مرنے کا غم ہوتا نہ جینے کا مزا ہوتا\n\nبہار گل میں دیوانوں کا صحرا میں پرا ہوتا\nجدھر اٹھتی نظر کوسوں تلک جنگل ہرا ہوتا\n\nمئے گل رنگ لٹتی یوں در مے خانہ وا ہوتا\nنہ پینے کی کمی ہوتی نہ ساقی سے گلا ہوتا\n\nہزاروں جان دیتے ہیں بتوں کی بے وفائی پر\nاگر ان میں سے کوئی با وفا ہوتا تو کیا ہوتا\n\nرلایا اہل محفل کو نگاہ یاس نے میری\nقیامت تھی جو اک قطرہ ان آنکھوں سے جدا ہوتا\n\nخدا کو بھول کر انسان کے دل کا یہ عالم ہے\nیہ آئینہ اگر صورت نما ہوتا تو کیا ہوتا\n\nاگر دم بھر بھی مٹ جاتی خلش خار تمنا کی\nدل حسرت طلب کو اپنی ہستی سے گلا ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اگر دشمن کی تھوڑی سی مرمت اور ہو جاتی", "poet_page": "مصنف:بوم میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر دشمن کی تھوڑی سی مرمت اور ہو جاتی\nتو پھر الو کے پٹھے کو نصیحت اور ہو جاتی\n\nشب وعدہ میں ان کی کمسنی سے ڈر گیا ورنہ\nذرا سی بات پر نازل مصیبت اور ہو جاتی\n\nیہی اچھا ہوا تو نے جو زلفوں کو منڈا ڈالا\nنہیں تو تیرے دیوانوں کی حالت اور ہو جاتی\n\nاگر تم نیم عریاں حشر کے میداں میں آ جاتے\nقیامت میں پھر اک برپا قیامت اور ہو جاتی\n\nشراب ناب کی کرتا مذمت پھر نہ بھولے سے\nجو مے خانہ میں واعظ کی مرمت اور ہو جاتی\n\nنہ ان کی کمسنی سے میں سزا پاتا عدالت سے\nجو ان کے آشناؤں کی شہادت اور ہو جاتی\n\nلگا کرتی ہزاروں عاشقوں کو بے خطا پھانسی\nحسینوں کی اگر گھر کی عدالت اور ہو جاتی\n\nخطا پیشاب دشمن کا ہوا گھر ان کے پٹنے سے\nمزا جب تھا کہ سالے کو اجابت اور ہو جاتی\n\nہمیں چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے گرانی نے\nمرے اللہ یہ دنیا سے غارت اور ہو جاتی\n\nاگر بوسہ دیا ہے وصل کا وعدہ بھی کر لیجے\nعنایت کی تو تھوڑی سی عنایت اور ہو جاتی\n\nاگر دل کو بچاتا میں نہ زلفوں کے اڑنگے سے\nتو دنیا بھر سے لمبی شام فرقت اور ہو جاتی\n\nدعا ہے بومؔ کی یا رب یہ کاٹن ملز کی بابت\nترقی اور ہوتی زیب و زینت اور ہو جاتی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D9%85%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C"} {"title": "اگر دل عشق سیں غافل رہا ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر دل عشق سیں غافل رہا ہے\nتو اپنے فن میں نا قابل رہا ہے\n\nدل و دیں سے تو گزرا اب خودی چھوڑ\nگھر اس مہ کا اب اک منزل رہا ہے\n\nجدائی کے کرے تدبیر اب کون\nیہ دل تھا سو اسی سیں مل رہا ہے\n\nنہ باندھو صید رہنے کا نہیں باز\nدل اپنی حرکتوں سیں ہل رہا ہے\n\nمثل برق دنیا سے گزر جا\nایتا کیوں اس میں بے حاصل رہا ہے\n\nنہیں تضمین کا ذوق آبروؔ کو\nکہاں اس کوں دماغ و دل رہا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتا\nزمانہ کی دو رنگی کا اسے ہرگز نہ غم ہوتا\n\nیہ پابند مصیبت دل کے ہاتھوں ہم تو رہتے ہیں\nنہیں تو چین سے کٹتی نہ دل ہوتا نہ غم ہوتا\n\nانہیں کی ہے وفائی کا یہ ہے آٹھوں پہر صدمہ\nوہی ہوتے جو قابو میں تو پھر کاہے کو غم ہوتا\n\nلب و چشم صنم گر دیکھنے پاتے کہیں شاعر\nکوئی شیریں سخن ہوتا کوئی جادو رقم ہوتا\n\nبہت اچھا ہوا آئے نہ وہ میری عیادت کو\nجو وہ آتے تو غیر آتے جو غیر آتے تو غم ہوتا\n\nاگر قبریں نظر آتیں نہ دارا و سکندر کی\nمجھے بھی اشتیاق دولت و جاہ و حشم ہوتا\n\nلئے جاتا ہے جوش شوق ہم کو راہ الفت میں\nنہیں تو ضعف سے دشوار چلنا دو قدم ہوتا\n\nنہ رہنے پائے دیواروں میں روزن شکر ہے ورنہ\nتمہیں تو دل لگی ہوتی غریبوں پر ستم ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%88%D8%A7%D9%82%D9%81_%D9%86%DB%8C%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%D9%94_%D8%B7%D8%A8%D8%B9_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اگر دلا غم گیسوئے یار بڑھ جاتا", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر دلا غم گیسوئے یار بڑھ جاتا\nشب فراق میں اور انتشار بڑھ جاتا\n\nجو شوق جنبش مژگان یار بڑھ جاتا\nترا مزا خلش نوک خار بڑھ جاتا\n\nجو میری چشم کے پردے شریک ہو جاتے\nکمال دامن ابر بہار بڑھ جاتا\n\nوطن میں ہم نہ ہوئے خاک شکر کی جا ہے\nغبار خاطر اہل دیار بڑھ جاتا\n\nدکھائی کیوں نہ مجھے آ کے گرمیٔ رفتار\nبلا سے آپ کی میرا بخار بڑھ جاتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%84%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اگر راہ میں اس کی رکھا ہے گام", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر راہ میں اس کی رکھا ہے گام\nگئے گزرے خضر علیہ السلام\n\nدہن یار کا دیکھ چپ لگ گئی\nسخن یاں ہوا ختم حاصل کلام\n\nمجھے دیکھ منہ پر پریشاں کی زلف\nغرض یہ کہ جا تو ہوئی اب تو شام\n\nسر شام سے رہتی ہیں کاہشیں\nہمیں شوق اس ماہ کا ہے تمام\n\nقیامت ہی یاں چشم و دل سے رہی\nچلے بس تو واں جا کے کریے قیام\n\nنہ دیکھے جہاں کوئی آنکھوں کی اور\nنہ لیوے کوئی جس جگہ دل کا نام\n\nجہاں میرؔ زیر و زبر ہو گیا\nخراماں ہوا تھا وہ محشر خرام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7%D9%85"} {"title": "اگر شمع ہوئے تو گل گئے ہم", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر شمع ہوئے تو گل گئے ہم\nجو پروانہ ہوئے تو جل گئے ہم\n\nپڑے آ کر فلک کے آسیا میں\nمثال دانہ ہائے دل گئے ہم\n\nکسی صورت نہ پایا ہم نے آرام\nیہاں سے واں کے تئیں بے کل گئے ہم\n\nنہ یاں سے لے گئے نہ واں سے لائے\nکف افسوس ناحق مل گئے ہم\n\nطلسمات جہاں کا دیکھ ظاہر\nطرف معنی کے اب اوجھل گئے ہم\n\nچلے آئے تھے تاریکی سے لیکن\nپہ چلتے وقت لے مشعل گئے ہم\n\nنہ آیا ہاتھ وہ دیر و حرم میں\nملا جب دل کے در مندل گئے ہم\n\nاگر سمجھو گے معنی شیخ صاحب\nگئے پر تم کو کر قائل گئے ہم\n\nرہے گا نام افریدیؔ کا تا حشر\nہمیں تھے جو کہ لا طائل گئے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%AF%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "اگر عاشق کوئی پیدا نہ ہوتا", "poet_page": "مصنف:اشرف علی فغاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر عاشق کوئی پیدا نہ ہوتا\nتو معشوقوں کا یہ چرچا نہ ہوتا\n\nگریباں چاک کر روتے کہاں ہم\nاگر یہ دامن صحرا نہ ہوتا\n\nسدا رہتی توقع بلبلوں کو\nاگر یہ غنچۂ گل وا نہ ہوتا\n\nجدائی میں اگر آنکھیں نہ روتیں\nتو ہرگز راز دل افشا نہ ہوتا\n\nفغاںؔ کون اب خریدار سخن تھا\nاگر یہ حضرت سوداؔ نہ ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اگر غفلت سے باز آیا جفا کی", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر غفلت سے باز آیا جفا کی\nتلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی\n\nمرے آغاز الفت میں ہم افسوس\nاسے بھی رہ گئی حسرت جفا کی\n\nکبھی انصاف ہے دیکھا نہ دیدار\nقیامت اکثر اس کو میں رہا کی\n\nفلک کے ہاتھ سے میں جا چھپوں گر\nخبر لا دے کوئی تحت الثرا کی\n\nشب وصل عدو کیا کیا جلا ہوں\nحقیقت کھل گئی روز جزا کی\n\nچمن میں کوئی اس کو سے نہ آیا\nگئی برباد سب محنت صبا کی\n\nکشاد دل پہ باندھی ہے کمر آج\nنہیں ہے خیریت بند قبا کی\n\nکیا جب التفات اس نے ذرا سا\nپڑی ہم کو حصول مدعا کی\n\nکہا ہے غیر نے تم سے مرا حال\nکہے دیتی ہے بیباکی ادا کی\n\nتمہیں شور فغاں سے میرے کیا کام\nخبر لو اپنی چشم سرمہ سا کی\n\nدیا علم و ہنر حسرت کشی کو\nفلک نے مجھ سے یہ کیسی دغا کی\n\nغم مقصد رسی تا نزع اور ہم\nاب آئی موت بخت نارسا کی\n\nمجھے اے دل تری جلدی نے مارا\nنہیں تقصیر اس دیر آشنا کی\n\nجفا سے تھک گئے تو بھی نہ پوچھا\nکہ تو نے کس توقع پر وفا کی\n\nکہا اس بت سے مرتا ہوں تو مومنؔ\nکہا میں کیا کروں مرضی خدا کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B2_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا\nتو میں مرنے سے در گزرا مرے کس کام آئے گا\n\nاسے بھی ٹھان رکھ ساقی یقیں ہوگا نہ رندوں کو\nاگر زاہد پہن کر جامۂ احرام آئے گا\n\nشب فرقت میں درد دل سے میں اس واسطے خوش ہوں\nزباں پر رات بھر رہ رہ کے تیرا نام آئے گا\n\nلگی ہو کچھ تو قاصد آخر اس کم بخت دل میں بھی\nوہاں تیری طرح جو جائے گا ناکام آئے گا\n\nاسی امید میں باندھے ہوئے ہیں ٹکٹکی میکش\nکف نازک پہ ساقی رکھ کے اک دن جام آئے گا\n\nیہاں اپنی پڑی ہے تجھ سے اے غم خوار کیا الجھوں\nیہ کون آرام ہے مر جاؤں تب آرام آئے گا\n\nزہے عزت جو ہو اس بزم میں مذکور اے واعظ\nبلا سے گر گنہ گاروں میں اپنا نام آئے گا\n\nہزار انکار یا قطع تعلق اس سے کر ناصح\nمگر ہر پھر کے ہونٹوں پر اسی کا نام آئے گا\n\nعطا کی جب کہ خود پیر مغاں نے پی بھی لے زاہد\nیہ کیسا سوچنا ہے تجھ پہ کیوں الزام آئے گا\n\nپڑا ہے سلسلہ تقدیر کا صیاد کے بس میں\nچمن میں اے صبا کیونکر اسیر دام آئے گا\n\nکوئی بدمست کو دیتا ہے ساقی بھر کے پیمانہ\nترا کیا جائے گا مجھ پر عبث الزام آئے گا\n\nانہیں دیکھے گی تو اے چشم حسرت وصل میں یا میں\nترے کام آئے گا رونا کہ میرے کام آئے گا\n\nہمیشہ کیا پیوں گا میں اسی کہنہ سفالی میں\nمرے آگے کبھی تو ساغر زرفام آئے گا\n\nکہاں سے لاؤں صبر حضرت ایوب اے ساقی\nخم آئے گا صراحی آئے گی تب جام آئے گا\n\nچھری تھی کند تیری یا ترے قاتل کی او بسمل\nتڑپ بھی تو تری گردن پہ کیوں الزام آئے گا\n\nیہی کہہ کر اجل کو قرض خواہوں کی طرح ٹالا\nکہ لے کر آج قاصد یار کا پیغام آئے گا\n\nہمیشہ کیا یوں ہی قسمت میں ہے گنتی گنا دینا\nکوئی نالہ نہ لب پر لائق انجام آئے گا\n\nگلی میں یار کی اے شادؔ سب مشتاق بیٹھے ہیں\nخدا جانے وہاں سے حکم کس کے نام آئے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "اگر میں جانتا ہے عشق میں دھڑکا جدائی کا", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر میں جانتا ہے عشق میں دھڑکا جدائی کا\nتو جیتے جی نہ لیتا نام ہرگز آشنائی کا\n\nجو عاشق صاف ہیں دل سے انہیں کو قتل کرتے ہیں\nبڑا چرچا ہے معشوقوں میں عاشق آزمائی کا\n\nکروں اک پل میں برہم کارخانے کو محبت کے\nاگر عالم میں شہرہ دوں تمہاری بے وفائی کا\n\nجفا یا مہر جو چاہے سو کر لے اپنے بندوں پر\nمجھے خطرہ نہیں ہرگز برائی یا بھلائی کا\n\nنہ پہنچا آہ و نالہ گوش تک اس کے کبھو اپنا\nبیاں ہم کیا کریں طالع کی اپنے نارسائی کا\n\nخدایا کس کے ہم بندے کہاویں سخت مشکل ہے\nرکھے ہے ہر صنم اس دہر میں دعویٰ خدائی کا\n\nخدا کی بندگی کا سوزؔ ہے دعویٰ تو خلقت کو\nولے دیکھا جسے بندہ ہے اپنی خود نمائی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%BE%DA%91%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اگر میں معجزے کو خاکساری کے عیاں کرتا", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر میں معجزے کو خاکساری کے عیاں کرتا\nبگولے سا بنا اور ہی زمیں و آسماں کرتا\n\nمجھے حق گلشن ایجاد کا گر باغباں کرتا\nتو اشک بلبلوں کو آبیار گلستاں کرتا\n\nگلہ دل سختیٔ احباب کا گر میں بیاں کرتا\nصدف سا پل میں آنسو عقدۂ دل کے رواں کرتا\n\nجو دیوان قضا کی پیشکاری حق مجھے دیتا\nتو ریشے سرو کے مژگان چشم قمریاں کرتا\n\nخدا گر خانہ سامان قضا کرتا یہ عزلتؔ کو\nتو پروانوں کی راکھ اے شمع صبح آسماں کرتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D8%AC%D8%B2%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے\nتو پھر یہ کیسے کٹے زندگی کہاں گزرے\n\nجو تیرے عارض و گیسو کے درمیاں گزرے\nکبھی کبھی وہی لمحے بلائے جاں گزرے\n\nمجھے یہ وہم رہا مدتوں کہ جرأت شوق\nکہیں نہ خاطر معصوم پر گراں گزرے\n\nہر اک مقام محبت بہت ہی دل کش تھا\nمگر ہم اہل محبت کشاں کشاں گزرے\n\nجنوں کے سخت مراحل بھی تیری یاد کے ساتھ\nحسیں حسیں نظر آئے جواں جواں گزرے\n\nمری نظر سے تری جستجو کے صدقے میں\nیہ اک جہاں ہی نہیں سینکڑوں جہاں گزرے\n\nہجوم جلوہ میں پرواز شوق کیا کہنا\nکہ جیسے روح ستاروں کے درمیاں گزرے\n\nخطا معاف زمانے سے بد گماں ہو کر\nتری وفا پہ بھی کیا کیا ہمیں گماں گزرے\n\nمجھے تھا شکوۂ ہجراں کہ یہ ہوا محسوس\nمرے قریب سے ہو کر وہ نا گہاں گزرے\n\nرہ وفا میں اک ایسا مقام بھی آیا\nکہ ہم خود اپنی طرف سے بھی بد گماں گزرے\n\nخلوص جس میں ہو شامل وہ دور عشق و ہوس\nنہ رائیگاں کبھی گزرا نہ رائیگاں گزرے\n\nاسی کو کہتے ہیں جنت اسی کو دوزخ بھی\nوہ زندگی جو حسینوں کے درمیاں گزرے\n\nبہت حسین مناظر بھی حسن فطرت کے\nنہ جانے آج طبیعت پہ کیوں گراں گزرے\n\nوہ جن کے سائے سے بھی بجلیاں لرزتی تھیں\nمری نظر سے کچھ ایسے بھی آشیاں گزرے\n\nمرا تو فرض چمن بندی جہاں ہے فقط\nمری بلا سے بہار آئے یا خزاں گزرے\n\nکہاں کا حسن کہ خود عشق کو خبر نہ ہوئی\nرہ طلب میں کچھ ایسے بھی امتحاں گزرے\n\nبھری بہار میں تاراجی چمن مت پوچھ\nخدا کرے نہ پھر آنکھوں سے وہ سماں گزرے\n\nکوئی نہ دیکھ سکا جن کو وہ دلوں کے سوا\nمعاملات کچھ ایسے بھی درمیاں گزرے\n\nکبھی کبھی تو اسی ایک مشت خاک کے گرد\nطواف کرتے ہوئے ہفت آسماں گزرے\n\nبہت حسین سہی صحبتیں گلوں کی مگر\nوہ زندگی ہے جو کانٹوں کے درمیاں گزرے\n\nابھی سے تجھ کو بہت ناگوار ہیں ہمدم\nوہ حادثات جو اب تک رواں دواں گزرے\n\nجنہیں کہ دیدۂ شاعر ہی دیکھ سکتا ہے\nوہ انقلاب ترے سامنے کہاں گزرے\n\nبہت عزیز ہے مجھ کو انہیں کیا یاد جگرؔ\nوہ حادثات محبت جو نا گہاں گزرے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%B2%DB%81%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92"} {"title": "اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے\nتو ذرے کو ماہتاب اور ماہتاب کو آفتاب کر دے\n\nتری محبت کی وادیوں میں مری جوانی سے دور کیا ہے\nجو سادہ پانی کو اک نشیلی نظر میں رنگیں شراب کر دے\n\nحریم عشرت میں سونے والے شمیم گیسو کی مستیوں سے\nمری جوانی کی سادہ راتوں کو اب تو سرشار خواب کر دے\n\nمزے وہ پائے ہیں آرزو میں کہ دل کی یہ آرزو ہے یا رب\nتمام دنیا کی آرزوئیں مرے لیے انتخاب کر دے\n\nنظر نا آنے پہ ہے یہ حالت کہ جنگ ہے شیخ و برہمن میں\nخبر نہیں کیا سے کیا ہو دنیا جو خود کو وہ بے نقاب کر دے\n\nمرے گناہوں کی شورشیں اس لیے زیادہ رہی ہیں یا رب\nکہ ان کی گستاخیوں سے تو اپنے عفو کو بے حساب کر دے\n\nخدا نہ لائے وہ دن کہ تیری سنہری نیندوں میں فرق آئے\nمجھے تو یوں اپنے ہجر میں عمر بھر کو بیزار خواب کر دے\n\nمیں جان و دل سے تصور حسن دوست کی مستیوں کے قرباں\nجو اک نظر میں کسی کے بے کیف آنسوؤں کو شراب کر دے\n\nعروس فطرت کا ایک کھویا ہوا تبسم ہے جس کو اخترؔ\nکہیں وہ چاہے شراب کر دے کہیں وہ چاہے شباب کر دے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%92"} {"title": "اگر وہ گلبدن مجھ پاس ہو جاوے تو کیا ہووے", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر وہ گلبدن مجھ پاس ہو جاوے تو کیا ہووے\nزمین دل میں تخم عشق بو جاوے تو کیا ہووے\n\nصنم تجھ زلف کے زنار کے رشتے میں آ زاہد\nاپس کے سبحہ گردانی کوں کھو جاوے تو کیا ہووے\n\nپلا جام شراب عیش وو ساقیٔ بزم آرا\nغبار غم کوں لوح دل سوں ہو جاوے تو کیا ہووے\n\nبیاں کرتا ہوں میں تجھ زلف مشکیں کا صنم نس دن\nختن میں گر سخن میرے کی بو جاوے تو کیا ہووے\n\nسدا مشق جنون عشق میں رہتا ہے سودائی\nاگر داؤدؔ کی یو زشت خو جاوے تو کیا ہووے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D9%84%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92"} {"title": "اگر کج رَو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اگر کج رَو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرا\nمجھے فکرِ جہاں کیوں ہو، جہاں تیرا ہے یا میرا؟\n\nاگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لامکاں خالی\nخطا کس کی ہے یا رب! لامکاں تیرا ہے یا میرا؟\n\nاُسے صبحِ ازل انکار کی جُرأت ہوئی کیونکر\nمجھے معلوم کیا، وہ راز داں تیرا ہے یا میرا؟\n\nمحمدؐ بھی ترا، جبریل بھی، قرآن بھی تیرا\nمگر یہ حرفِ شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا؟\n\nاسی کوکب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن\nزوالِ آدمِ خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%AC_%D8%B1%D9%8E%D9%88_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D8%8C_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "اگر کعبہ کا رخ بھی جانب مے خانہ ہو جائے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر کعبہ کا رخ بھی جانب مے خانہ ہو جائے\nتو پھر سجدہ مری ہر لغزش مستانہ ہو جائے\n\nوہی دل ہے جو حسن و عشق کا کاشانہ ہو جائے\nوہ سر ہے جو کسی کی تیغ کا نذرانہ ہو جائے\n\nیہ اچھی پردہ داری ہے یہ اچھی رازداری ہے\nکہ جو آئے تمہاری بزم میں دیوانہ ہو جائے\n\nمرا سر کٹ کے مقتل میں گرے قاتل کے قدموں پر\nدم آخر ادا یوں سجدۂ شکرانہ ہو جائے\n\nتری سرکار میں لایا ہوں ڈالی حسرت دل کی\nعجب کیا ہے مرا منظور یہ نذرانہ ہو جائے\n\nشب فرقت کا جب کچھ طول کم ہونا نہیں ممکن\nتو میری زندگی کا مختصر افسانہ ہو جائے\n\nوہ سجدے جن سے برسوں ہم نے کعبہ کو سجایا ہے\nجو بت خانے کو مل جائیں تو پھر بت خانہ ہو جائے\n\nکسی کی زلف بکھرے اور بکھر کر دوش پر آئے\nدل صد چاک الجھے اور الجھ کر شانہ ہو جائے\n\nیہاں ہونا نہ ہونا ہے نہ ہونا عین ہونا ہے\nجسے ہونا ہو کچھ خاک در جانانہ ہو جائے\n\nسحر تک سب کا ہے انجام جل کر خاک ہو جانا\nبنے محفل میں کوئی شمع یا پروانہ ہو جائے\n\nوہ مے دے دے جو پہلے شبلی و منصور کو دی تھی\nتو بیدمؔ بھی نثار مرشد مے خانہ ہو جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D8%AE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A8_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "اگر کچھ ہوش ہم رکھتے تو مستانے ہوئے ہوتے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر کچھ ہوش ہم رکھتے تو مستانے ہوئے ہوتے\nپہنچتے جا لب ساقی کوں پیمانے ہوئے ہوتے\n\nعبث ان شہریوں میں وقت اپنا ہم کئے ضائع\nکسی مجنوں کی صحبت بیٹھ دیوانے ہوئے ہوتے\n\nنہ رکھتا میں یہاں گر الفت لیلیٰ نگاہوں کوں\nتو مجنوں کی طرح عالم میں افسانے ہوئے ہوتے\n\nاگر ہم آشنا ہوتے تری بیگانہ خوئی سیں\nبرائے مصلحت ظاہر میں بیگانے ہوئے ہوتے\n\nزبس کافر ادایوں نے چلائے سنگ بے رحمی\nاگر سب جمع کرتا میں تو بت خانے ہوئے ہوتے\n\nنہ کرتا ضبط اگر میں گریۂ بے اختیاری کوں\nگزرتا جس طرف یہ پور ویرانے ہوئے ہوتے\n\nنظر چشم خریداری سیں کرتا دلبر ناداں\nاگر قطرے مرے آنسو کے دردانے ہوئے ہوتے\n\nمحبت کے نشے میں خاص انساں واسطے ورنہ\nفرشتے یہ شرابیں پی کہ مستانے ہوئے ہوتے\n\nعوض اپنے گریباں کے کسی کی زلف ہات آتی\nہمارے ہات کے پنجے مگر شانے ہوئے ہوتے\n\nتری شمشیر ابرو سیں ہوئے سنمکھ و الا نہ\nاجل کی تیغ سیں جیوں آرا دندانے ہوئے ہوتے\n\nمزہ جو عاشقی میں ہے سو معشوقی میں ہرگز نیں\nسراجؔ اب ہو چکے افسوس پروانے ہوئے ہوتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%85_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92"} {"title": "اگر گل میں پیارے تری بو نہ ہووے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر گل میں پیارے تری بو نہ ہووے\nوہ منظور بلبل کسی رو نہ ہووے\n\nترے بن تو فردوس مجھ کو جہنم\nقیامت ہو مجھ پر اگر تو نہ ہووے\n\nہو اس بزم میں شمع کب رونق افزا\nجہاں محفل افروز مہ رو نہ ہووے\n\nیہ آئینہ لے جا کے پتھر سے پھوڑوں\nپری کا اگر درمیاں رو نہ ہووے\n\nمہکتی ہے زلف سیہ اس کی ہر رات\nکہیں اس میں عشقؔ عطر شبو نہ ہووے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DA%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D9%88_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92"} {"title": "اگر گل کی کوئی پتی جھڑی ہے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر گل کی کوئی پتی جھڑی ہے\nتو سو سو بار بلبل گر پڑی ہے\n\nنظر کیا جائے سوئے شیشہ و جام\nہماری آنکھ ساقی سے لڑی ہے\n\nیہ ہے جوش بہار ان کے چمن میں\nکہ ہر اک شاخ پھولوں کی چھڑی ہے\n\nسنی رفعت سلیماں کی تو بولے\nہماری اک انگوٹھی گر پڑی ہے\n\nتمہاری زلف سے کم ہے شب ہجر\nمگر روز قیامت سے بڑی ہے\n\nاک آنے کا ہے اک جانے کا ہنگام\nیہ قصہ زندگی کا دو گھڑی ہے\n\nنہیں ہٹتی تمہارے چہرے سے زلف\nیہ شاید بوسہ لینے پر اڑی ہے\n\nہزاروں داغ لاکھوں حسرتیں ہیں\nہمارے دل کی بھی بستی بڑی ہے\n\nہوا کیا جلد خاک اپنا تن زار\nجہاں ہم تھے وہاں مٹی پڑی ہے\n\nمرے ہیں در پہ ہم وہ پوچھتے ہیں\nیہ کس کی لاش رستے میں پڑی ہے\n\nجو دیکھی ہے نگاہ مست ساقی\nتو بجلی لڑکھڑا کے گر پڑی ہے\n\nجو اپنا مال ہوگا خیر ہوگا\nرشیدؔ اب تو ہمیں دل کی پڑی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%BE%D8%AA%DB%8C_%D8%AC%DA%BE%DA%91%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اگر گلشن طرف وو نو خط رنگیں ادا نکلے", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر گلشن طرف وو نو خط رنگیں ادا نکلے\nگل و ریحاں سوں رنگ و بو شتابی پیشوا نکلے\n\nکھلے ہر غنچۂ دل جیوں گل شاداب شادی سوں\nاگر ٹک گھر سوں باہر وو بہار دل کشا نکلے\n\nغنیم غم کیا ہے فوج بندی عشق بازاں پر\nبجا ہے آج وو راجہ اگر نوبت بجا نکلے\n\nنثار اس کے قدم اوپر کروں انجھواں کے گوہر سب\nاگر کرنے کوں دل جوئی وو سرو خوش ادا نکلے\n\nصنم آئے کروں گا نالۂ جاں سوز کوں ظاہر\nمگر اس سنگ دل سوں مہربانی کی صدا نکلے\n\nرہے مانند لعل بے بہا شاہاں کے تاج اوپر\nمحبت میں جو کوئی اسباب ظاہر کوں بہا نکلے\n\nبخیلی درس کی ہرگز نہ کیجو اے پری پیکر\nولیؔ تیری گلی میں جب کہ مانند گدا نکلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D9%88%D9%88_%D9%86%D9%88_%D8%AE%D8%B7_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "اگر ہم نہ تھے غم اٹھانے کے قابل", "poet_page": "مصنف:مفتی صدر الدین خان آزردہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر ہم نہ تھے غم اٹھانے کے قابل\nتو کیوں ہوتے دنیا میں آنے کے قابل\n\nکروں چاک سینہ تو سو بار لیکن\nنہیں داغ دل یہ دکھانے کے قابل\n\nملیں تم سے کیونکر رہے ہی نہیں ہم\nبلانے کے قابل نہ آنے کے قابل\n\nچھٹے بھی قفس سے تو کس کام کے ہیں\nنہیں جب چمن تک بھی جانے کے قابل\n\nبجز اس کے تھے خاک پہلے بھی اے چرخ\nنہ تھے خاک میں پھر ملانے کے قابل\n\nکیا ترک دنیا میں جب تو یہ سمجھے\nکہ دنیا نہیں دل لگانے کے قابل\n\nوہ آئے دم نزع کیا کہہ سکیں\nنہیں ہونٹ تک بھی ہلانے کے قابل\n\nخدایا یہ رنج اور یہ ناصبوری\nنہ تھے ہم تو اس آزمانے کے قابل\n\nرہے ہم نہ کچھ مصطفیٰ خاں کے غم میں\nنہ فکر سخن نے پڑھانے کے قابل\n\nنہ چھوڑیں گے محبوب الٰہی کے در کو\nنہیں گو ہم اس آستانے کے قابل\n\nہمیں قید کرنے سے کیا نفع صیاد\nنہ تھے دام میں ہم تو لانے کے قابل\n\nنہ بال منقش نہ پرہائے رنگیں\nنہ آواز خوش کے سنانے کے قابل\n\nہوئے ہیں وہ ناقابلوں میں شمار اب\nجنہیں مانتے تھے زمانے کے قابل\n\nوہ آزردہؔ جو خوش بیاں تھے نہیں اب\nاشارے سے بھی کچھ بتانے کے قابل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84"} {"title": "اگر ہے منظور یہ کہ ہووے ہمارے سینے کا داغ ٹھنڈا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر ہے منظور یہ کہ ہووے ہمارے سینے کا داغ ٹھنڈا\nتو آ لپٹئے گلے سے اے جاں جھمک سے کر جھپ چراغ ٹھنڈا\n\nہم اور تم جاں اب اس قدر تو محبتوں میں ہیں ایک تن من\nلگایا تم نے جبیں پہ صندل ہوا ہمارا دماغ ٹھنڈا\n\nلبوں سے لگتے ہی ہو گئی تھی تمام سردی دل و جگر میں\nدیا تھا ساقی نے رات ہم کو کچھ ایسے مے کا ایاغ ٹھنڈا\n\nدرخت بھیگے ہیں کل کے مینہ سے چمن چمن میں بھرا ہے پانی\nجو سیر کیجے تو آج صاحب عجب طرح کا ہے باغ ٹھنڈا\n\nوہی ہے کامل نظیرؔ اس جا وہی ہے روشن دل اے عزیزو\nہوا سے دنیا کی جس کے دل کا نہ ہووے ہرگز چراغ ٹھنڈا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D9%B9%DA%BE%D9%86%DA%88%D8%A7"} {"title": "اگر یوں ہی رہے گی حیرت عشق", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "اگر یوں ہی رہے گی حیرت عشق\nاگر یہ دیدۂ نم نم رہے گا\nبرنگ شبنم آ کر قطرۂ اشک\nہماری ہر مژہ پر جم رہے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا\nتو اک دن مرا جی ہی جاتا رہے گا\n\nمیں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑے\nمری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا\n\nگلی سے تری دل کو لے تو چلا ہوں\nمیں پہنچوں گا جب تک یہ آتا رہے گا\n\nجفا سے غرض امتحان وفا ہے\nتو کہہ کب تلک آزماتا رہے گا\n\nقفس میں کوئی تم سے اے ہم صفیرو\nخبر گل کی ہم کو سناتا رہے گا\n\nخفا ہو کے اے دردؔ مر تو چلا تو\nکہاں تک غم اپنا چھپاتا رہے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "اگرچہ دل کو لے ساتھ اپنے آیا اشک مرا", "poet_page": "مصنف:باقر آگاہ ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگرچہ دل کو لے ساتھ اپنے آیا اشک مرا\nنگاہ میں تری ہرگز نہ بھایا اشک مرا\n\nمیں تیرے ہجر میں جینے سے ہو گیا تھا اداس\nپہ گرم جوشی سے کیا کیا منایا اشک مرا\n\nحذر ضروری ہے اے سرو ناز اس سے تجھے\nکہ آبشار مژہ کو بہایا اشک مرا\n\nہوا ہے کون سے خورشید رو سے گرم اتنا\nکہ میرے دل کو جو ایسا جلایا اشک مرا\n\nبرنگ غنچۂ افسردہ ہو گیا تھا یہ دل\nسو ویسے مردہ کو پل میں جلایا اشک مرا\n\nہوا وہ جب نظر انداز یار کا آگاہؔ\nمجھے یہ بے اثری پر ہنسایا اشک مرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D9%85%D8%B1%D8%A7"} {"title": "اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہے", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہے\nنرا برا نہیں یہ شغل کچھ بھلا بھی ہے\n\nاس اشک و آہ میں سودا بگڑ نہ جائے کہیں\nیہ دل کچھ آب رسیدہ ہے کچھ جلا بھی ہے\n\nیہ آرزو ہے کہ اس بے وفا سے یہ پوچھوں\nکہ میرے بے مزا رکھنے میں کچھ مزا بھی ہے\n\nیہ کون ڈھب ہے سجن خاک میں ملانے کا\nکسو کا دل کبھو پانو تلے ملا بھی ہے\n\nیقیںؔ کا شور جنوں سن کے یار نے پوچھا\nکوئی قبیلۂ مجنوں میں کیا رہا بھی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اگرچہ ہتھیار سے ہیں ڈرتے مگر ارادے بڑے بڑے ہیں", "poet_page": "مصنف:رنجور عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "اگرچہ ہتھیار سے ہیں ڈرتے مگر ارادے بڑے بڑے ہیں\nملے ہمیں تخت ورنہ تختہ ہم اپنی اس بات پر اڑے ہیں\n\nاگرچہ ہتھیار دیکھتے ہی خراب ہوتی ہے اپنی دھوتی\nقلم سے میدان کاغذی میں ہمیشہ سرکار سے لڑے ہیں\n\nاگرچہ رہتے ہیں جھونپڑوں میں پر خواب محلوں کے دیکھتے ہیں\nسڑی گلی مچھلی کھاتے کھاتے دماغ ہم لوگوں کے سڑے ہیں\n\nہمیشہ سرکار انگلشیہ کو پانی پی پی کے کوستے ہیں\nاگرچہ دل ہیں ہمارے بودے مگر زباں کے تو ہم بڑے ہیں\n\nطیور یورپ کی دیکھادیکھی ہے شوق پرواز اب ہمیں بھی\nاگرچہ مدت سے پر ہمارے کریز ادبار سے جھڑے ہیں\n\nسدیشی کی کرتے ہیں حمایت کہ بند ہو لندنی تجارت\nقدم اکھڑ جائیں صاحبوں کے جو عرصے سے ہند میں گڑے ہیں\n\nکرے کوئی ہم پہ لاکھ احساں ہم اس کو مانیں یہ کیا ہے امکاں\nپھسل پڑے جن پہ بوند پڑ کر وہ ان میں چکنے ہم گھڑے ہیں\n\nسدا سے تھے ہم وحوش سیرت غریق دریائے جہل و ذلت\nجو پڑھ کے انگریزی پائی عزت تو ظرف تھا تنگ ابل پڑے ہیں\n\nاگر سڈیشن کے جرم میں ہم پرزن جائیں تو کچھ نہیں غم\nہم اپنی کڑیوں کو بیڑیوں کو یہ سمجھیں گے یہ کڑے چھڑے ہیں\n\nکیا نہ ہم نے یہ کام تھوڑا کہ سرفلرؔ کو نکال چھوڑا\nہوئے ہیں ہم کامیاب اکثر اگر کسی بات پر اڑے ہیں\n\nکہا ہے اسلامیوں سے ہم نے کہ اپنا بھائی ہمیں سمجھیے\nجو کام لینا ہے ہم کو ان سے تو کیسے فقرے انہیں جڑے ہیں\n\nغرض کہ وقتوں میں ہم نے اکثر لگائی ہے مسلموں سے یاری\nمگر غرض جب رہی نہ باقی تو ان سے ناحق الجھ پڑے ہیں\n\nنواب ڈھاکہ کی ہے بن آئی سریندر ناتھ کی دہائی\nہماری شرکت سے مسلموں کو وہ روکنے کے لیے کھڑے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%DB%81%D8%AA%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%88%D8%B1%D8%AA%DB%92_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AF%DB%92_%D8%A8%DA%91%DB%92_%D8%A8%DA%91%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اہل الفت سے تنے جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اہل الفت سے تنے جاتے ہیں\nروز روز آپ بنے جاتے ہیں\n\nذبح تو کرتے ہو کچھ دھیان بھی ہے\nخون میں ہاتھ سنے جاتے ہیں\n\nروٹھنا ان کا غضب ڈھائے گا\nاب وہ کیا جلد منے جاتے ہیں\n\nکچھ ادھر دل بھی کھنچا جاتا ہے\nکچھ ادھر وہ بھی تنے جاتے ہیں\n\nکیوں نہ غم ہو مجھے رسوائی کا\nوہ مرے ساتھ سنے جاتے ہیں\n\nدل نہ گھبرائے کہ وہ روٹھ گئے\nچار فقروں میں منے جاتے ہیں\n\nہے یہ مطلب نہیں چھیڑے کوئی\nبیٹھے بیٹھے وہ تنے جاتے ہیں\n\nبے وفاؤں سے وفا کی امید\nنوحؔ نادان بنے جاتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اہل ایماں سے نہ کافر سے کہو", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اہل ایماں سے نہ کافر سے کہو\nاے بتو لیکن خدا لگتی کہو\n\nگر ملیں یاران رفتہ پوچھیے\nمر گئے پر کس طرح گزری کہو\n\nپائمالو عشق میں کیوں کر کٹی\nکوہ کن سے سرگزشتے اپنی کہو\n\nچشم تر پر دجلہ و جیحوں میں کیا\nابر سی چھا جائے جو پھبتی کہو\n\nشمع و پروانہ جو پوچھیں سوز عشق\nاپنی بیتی یا مری بیتی کہو\n\nپیٹ پیچھے بد کہو اے آئنو\nروبرو اس کے نہ منہ دیکھی کہو\n\nمنہ لپیٹے گوشۂ مرقد میں شادؔ\nکیوں پڑے چپ ہو ہے کیسا جی کہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%88"} {"title": "اہل جہاں کے ملنے سے ہم احتراز کر", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اہل جہاں کے ملنے سے ہم احتراز کر\nبیٹھے ہیں گوشہ گیر ہو اس دل سے ساز کر\n\nصورت اسی کی ہے متجلی ہر ایک میں\nدیکھے جو کوئی چشم حقیقت کو باز کر\n\nسجدہ جسے کریں ہیں ہر سو ہے جلوہ گر\nجیدھر ترا مزاج ہو اودھر نماز کر\n\nگو آسمان پر بھی اڑا تو تو کیا ہوا\nمیں کون ہوں کہاں ہوں یہ بھی امتیاز کر\n\nکل ایک پل بھی تو نہ تھما اس کے روبرو\nاے اشک کیا ملا تجھے افشائے راز کر\n\nؔجوشش ہو جب تلک کہ حقیقت سے تجھ کو راہ\nتب تک برائے شغل تو سیر مجاز کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "اہل دل اہل نظر شام و سحر رویا کیے", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اہل دل اہل نظر شام و سحر رویا کیے\nدرد کے پتلے تھے آخر عمر بھر رویا کیے\n\nحال اہل درد نے ان کو رلایا عمر بھر\nجن کو حیرت تھی یہ کیونکر رات بھر رویا کیے\n\nدل کی مجبوری پہ رونے سے جو میں روکا گیا\nبے بسی سے دل کے چھالے پھوٹ کر رویا کیے\n\nپاس ناموس محبت نے کچھ ایسا کہہ دیا\nسر جھکا کر ہم تو وہ منہ پھیر کر رویا کیے\n\nجن سے ہلچل تھی جہان عاشقی میں میرے بعد\nایسے نالوں کے لیے درد و اثر رویا کیے\n\nذوق گریہ دل کو تھا جانے وہی اس کا سبب\nکیا بتائیں تجھ کو ہم کیوں عمر بھر رویا کیے\n\nہم نہ کہتے تھے کہ اتنی سختیاں اچھی نہیں\nتم نہ بیخودؔ کو مٹا کر عمر بھر رویا کیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%DB%92"} {"title": "اہل دل گر جہاں سے اٹھتا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اہل دل گر جہاں سے اٹھتا ہے\nاک جہاں جسم و جاں سے اٹھتا ہے\n\nچلو اے ہم رہو غنیمت ہے\nجو قدم اس جہاں سے اٹھتا ہے\n\nجمع رکھتے نہیں، نہیں معلوم\nخرچ اپنا کہاں سے اٹھتا ہے\n\nگر نقاب اس کے منہ سے اٹھی نہیں\nشور کیوں کارواں سے اٹھتا ہے\n\nوائے بے طاقتی و بے صبری\nپردہ جب درمیاں سے اٹھتا ہے\n\nپھر وہیں گر پڑے ہے پروانہ\nگر ٹک اک شمع داں سے اٹھتا ہے\n\nقصۂ مصحفیؔ سنا کر یار\nعشق اس داستاں سے اٹھتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%AF%D9%84_%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اہل غم سے عشرت عالم کا ساماں ہو گیا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اہل غم سے عشرت عالم کا ساماں ہو گیا\nجب زمیں کی داغ ابھر آئے گلستاں ہو گیا\n\nاپنی حد سے بڑھ کے جاتا کس طرف کو دل مرا\nجان پڑتے ہی یہ مشت خاک بے جاں ہو گیا\n\nعشق کے بعد اب حوادث کی ضرورت کیا رہی\nآسماں دم لے مرے مرنے کا ساماں ہو گیا\n\nحشر میں پہچان کر قاتل کا منہ تکنے لگا\nجب ضرورت ہوش کی دیکھی تو حیراں ہو گیا\n\nخفتگان خاک کتنا بے محل سوئے کہ اب\nمجمع احباب اک خواب پریشاں ہو گیا\n\nانقلاب آ کر مدد دیتے ہیں استعداد کو\nکروٹیں بدلیں لہو نے اور انساں ہو گیا\n\nراستہ وحشت کو آخر مل گیا تنگی میں بھی\nیہ گریباں تھا جو دو ہاتھوں میں داماں ہو گیا\n\nوسعت صحن جہاں کچھ کم نہ تھی اے عشق دوست\nکیوں گھٹا اتنا کہ دل والوں کو زنداں ہو گیا\n\nباغباں کی رائے میں میں بے حقیقت تھا مگر\nبعد میرے آشیاں داغ گلستاں ہو گیا\n\nرک چلا ہے بیچ میں خنجر الٰہی خیر ہو\nدم نہ نکلے گا اگر قاتل پشیماں ہو گیا\n\nایک قطرہ بحر عصیاں کا تھا جو یوں سر چڑھا\nپلتے پلتے دامن عالم میں طوفاں ہو گیا\n\nجب کوئی آنسو مژہ پر آ کے چمکا شام غم\nمیں یہ سمجھا صبح کا تارا نمایاں ہو گیا\n\nشکر شانے کا کروں یا صبر کو ڈھونڈوں کہیں\nزلف تو سمٹی مگر ہاں دل پریشاں ہو گیا\n\nکم سے کم پر آج راضی ہیں شہیدوں کے مزار\nآپ ہنس دیں گے تو سمجھیں گے چراغاں ہو گیا\n\nجس میں لاکھوں پھول تھے ثاقبؔ وہ باغ دل کشا\nایک ہی گردش میں گردوں کی بیاباں ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اہلِ مِصر سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "خود ابوالہول نے یہ نکتہ سِکھایا مجھ کو\nوہ ابوالہول کہ ہے صاحبِ اَسرارِ قدیم\nدفعتہً جس سے بدل جاتی ہے تقدیرِ اُمم\nہے وہ قوّت کہ حریف اس کی نہیں عقلِ حکیم\nہر زمانے میں دِگر گُوں ہے طبیعت اس کی\nکبھی شمشیرِ محمدؐ ہے، کبھی چوبِ کِلیمؑ!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%81%D9%84%D9%90_%D9%85%D9%90%D8%B5%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "اہلِ ہُنر سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مہر و مہ و مشتری، چند نفس کا فروغ\nعشق سے ہے پائدار تیری خودی کا وجود\nتیرے حرم کا ضمیر اسود و احمر سے پاک\nننگ ہے تیرے لیے سُرخ و سپید و کبود\nتیری خودی کا غیاب معرکۂ ذکر و فکر\nتیری خودی کا حضور عالمِ شعر و سرود\nرُوح اگر ہے تری رنجِ غلامی سے زار\nتیرے ہُنَر کا جہاں دَیر و طواف و سجود\nاور اگر باخبَر اپنی شرافت سے ہو\nتیری سِپہ اِنس و جِنّ، تُو ہے امیرِ جُنود!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%81%D9%84%D9%90_%DB%81%D9%8F%D9%86%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ایام تعطیل میں ایک سفر کی کیفیت", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "مولانا حالی جب اینگلو عربک اسکول دہلی میں فرسٹ اورینٹل ٹیچر تھے تو موسمی تعطیلات میں جو اس وقت ایک مہینے کی ہوا کرتی تھیں، انہوں نے خاص طور پر ایک تفریحی سفر ریاست الور کا کیا تھا۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ تفریح کے لئے خاص الور ہی کو مولانا نے کیوں منتخب کیا۔ بہرحال اس سفر میں وہ علی گڑھ، فیروز آباد، اٹاوہ، مین پوری، کان پور، ہمیرپور اور باندی کوٹی ہوتے ہوئے الور پہنچے۔ علی گڑھ میں سرسید کے مہمان رہے اور علی گڑھ کالج دیکھنے کاان کا یہ تیسرا موقع تھا۔ اس کا حال بیان کرتے ہوئے مولانا کے ایک ایک لفظ سے اس محبت اور عقیدت کا اظہار ہوتا ہے جو مولانا کو علی گڑھ اور سرسید کی ذات سے تھی۔ راستے میں مولانا جن جن مقامات سے گزرے، ان کی مختصر کیفیت بیان کی ہے۔ سب سے مفصل حالات الور کے لکھے ہیں جہاں وہ خاص طور پر تشریف لے گئے تھے۔ مگراب تو سب کچھ اس قدر بدل گیا ہے کہ یہ حالات ایک پرانی کہانی معلوم ہوتے ہیں۔ (محمد اسماعیل)ایام تعطیل میں دوستوں اور عزیزوں سے ملنے کی غرض سے ہم کو چند مقامات میں دورہ کرنے کا اتفاق ہوا اور ہم دہلی سے علی گڑھ پہنچے اور جناب آنریبل سید احمدخاں بہادر کی کوٹھی پر ٹھہرے۔علی گڑھاب کی دفعہ ہم نے مدرسۃ العلوم کو تیسری بار دیکھا اور اس کی روز افزں ترقی دیکھ کر خدا کا شکر ادا کیا۔ مدرسے کو دیکھ کر ہم کواس بات کا پورا یقین ہو گیا کہ اولوالعزم اور مستقل مزاج آدمی اپنے ارادوں کی مزاحمت سے اور زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے سوا جو عناد اور دشمنی سے اس مدرسے کے مخالف ہیں، باقی سب مسلمان رفتہ رفتہ اس کی قدر کرتے جاتے ہیں اورجن عمدہ اصول پر اس مدرسے کی بنیاد قائم کی گئی ہے، اب ان کی خوبی و عمدگی سب سے پر ظاہر ہو رہی ہے اور اسی وجہ سے طلبہ کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ بہت سے بے خبر اور ناواقف لوگ جو اپنی اولاد کو یہاں بھیجتے ہوئے جھجکتے تھے اوران کے مذہب و عقائد کے بدل جانے سے ڈرتے تھے، وہ اب نہایت اطمینان اور دلجمعی سے اپنی اولاد کو وہاں بھیجنے لگے ہیں۔یہ بات تحقیق ہو گئی ہے کہ بانی مدرسۃ العلوم کے مذہبی اعتقادات اور رایوں کو مدرسۃ العلوم کی تعلیم میں کچھ بھی دخل نہیں ہے۔ اس امر کا یہاں تک خیال رکھا جاتاہے کہ رسالہ ’تہذیب الاخلاق‘ جو مطبع علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ سے چھپ کر شائع ہوتا ہے، اس کی کوئی کاپی مفت یا بہ قیمت کسی طالب علم کو نہیں دی جاتی۔ طلبائے مدرسہ کے افعال و اخلاق کی نگرانی پر یہاں وہ لوگ مامور ہیں جو جمہور اہل اسلام کے طریقے سے سرمو تجاوز کرنے کو بھی کفرجانتے ہیں۔ علی گڑھ میں ہم بعض ایسے دوستوں سے بھی ملے جو چند سال پہلے اس مدرسے کو ’’دارالکفر‘‘ سمجھتے تھے، لیکن اب حد سے زیادہ اس کے مداح اور ثناخواں ہیں اور اپنے بچوں کو وہاں تعلیم کے لئے بھیجتے ہیں۔مدرسے میں دو چار کے سوا، جو کہ مریض تھے، ہم نے سب مسلمان طالب علموں کو روزہ دار پایا۔ افطار کے وقت نماز کے چبوترے پر، جو بالفعل عارضی طور پر بنایا گیا ہے، سب جمع ہوتے تھے اور نہایت لطف کے ساتھ روزہ افطار ہوتا تھا۔ نماز عشا کے بعد جناب مولوی محمد امیر صاحب تراویح میں قرآن سناتے تھے اور اکثر طالب علم ان کا قرآن سنتے تھے۔ ایک روز جناب مولوی سیدفریدالدین احمد خاں بہادر نے اور دوسرے روز ہمارے جلیل القدر میزبان (یعنی سید احمدخاں صاحب) نے بھی روزہ افطار کی تقریب میں اپنے دوستوں کو بلایا تھا اور ان دونوں صحبتوں میں ہم بھی شریک تھے۔مدرسہ العلوم کی تعمیر نہایت شدومد سے جاری ہے اور جس قدر کام اس میں ہو چکا ہے اور ہورہا ہے، اس کو دیکھ کر بے انتہا تعجب ہوتا ہے۔ مدرسۃ العلوم کے حامیوں اور کارپردازوں کی سرگرمی اور کوشش دیکھ کر ان لوگوں کے دل میں بھی، جو مسلمانوں کی ترقی سے مایوس ہیں، ایک جوش اور ولولہ پیدا ہوتا ہے اور یہ امید ہوتی ہے کہ اس قوم کی ترقی کا اگرذمہ دار ہو سکتا ہے تو یہی مدرسہ ہو سکتا ہے۔ علی گڑھ میں پانچ روز ٹھہر کر ہم فیروز آباد، اٹاوہ، مین پوری اور کانپور ہوتے ہوئے ہمیرپور میں پہنچے۔فیروزآبادفیروزآباد ضلع آگرہ کا ایک مشہور قصبہ ہے جس میں سرکاری تھانہ اور تحصیل بھی ہے۔ یہ قصبہ جیسا کہ مشہور ہے، فیروز خواجہ سرا کا آباد کیا ہوا ہے، لیکن یہ ایک غیر محقق بات ہے۔ کچھ عجب نہیں کہ فیروزشاہ کا آباد کیا ہوا ہو، جیسے فیروز پور یا حصار فیروزہ وغیرہ۔ یہاں کھجور کے پٹھے کی پنکھیاں ایسی عمدہ بنتی ہیں کہ ہندوستان میں شاید ہی کہیں اور بنتی ہوں۔ سادی پنکھیاں جن میں کسی قدرریشم کا کام بھی ہوتا ہے۔ ایک روپیہ قیمت کی ہم نے بھی یہاں دیکھیں۔ اس کے سوا یہاں کی کوئی بات ذکر کے قابل نہیں ہے۔ یہاں کے مسلمان جو پہلے بہت آسودہ اور مرفہ الحال تھے، اب اس قدر پست حالت میں ہیں کہ وہاں کے ذی اعتبار باشندوں میں ان کا کوئی ذکرنہیں آتا۔اٹاوہاٹاوے میں ہم کو زیادہ ٹھہرنے کی مہلت نہیں ملی اور نہ اپنے شفیق میزبان کے مکان کے سوا کہیں جانے کا اتفاق ہوا۔مین پوریمین پوری میں ہم دو روز ٹھہرے۔ خوش قسمتی سے ہم کو ایک دن اور ایک رات جناب مرزا عابد علی بیگ صاحب سب آرڈنیٹ جج کی خدمت میں رہنے کا موقع ملا۔ یہاں بھی طریقہ معاشرت میں ہم نے وہی انوار و برکات مشاہدہ کئے جو علی گڑھ میں کئے تھے۔ جناب مرزا صاحب بھی اسی ’’مردود گروہ‘‘میں سے ہیں جو قومی ہمدردی کوراس الحسنات اور مخ العبادات جانتا ہے۔ جب ہم ان کے دولت خانے سے رخصت ہوکر ڈاک گاڑی پر پہنچے تو ان کے دو آدمی ہمارے ساتھ تھے، جن سے کوچبان کو معلوم ہوا کہ وہ صدراعلیٰ کے ہاں سے آئے ہیں۔ اس بات نے ہم کو بہت تکلیف میں ڈالا کیوں کہ گاڑی کا کوچبان اتفاق سے مسلمان ہونے کے ساتھ ہی نہایت متقی بھی تھا۔ اس نے یہ بات معلوم ہونے پر راستے میں ہم کو پانی پینے کے لئے اپنا کٹورا تک نہیں دیا اور ہم سے برابر ایسا پرہیز کرتا رہا جیسے بعض ہندو مسلمان سے کرتے ہیں۔ اول تو ہم کو اس سے بہت تعجب ہوا، لیکن پھر یاد آیا کہ ہم نے اپنے عالی قدر میزبان کے ہاں برابر دو وقت میزپر کھانا کھایا تھا اور اسی لئے ہم سے پرہیز کرنا ضروری تھا۔ہمیرپورجب ہم کانپورمیں پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہاں سے ہمیرپور تک اونٹ گاڑی کے سوا کوئی سواری نہیں جاتی، اس لے لاچار اسی میں جانا پڑا اور اتفاقاً ہم کو اوپر کے درجے میں جگہ ملی۔ ہم کو یاد نہیں کہ ہم نے کبھی کسی سواری یا پیدل جانے میں ایسی تکلیف اٹھائی ہو جیسی اس اونٹ گاڑی میں ہمیں پہنچی۔ریل کے زمانے سے پہلے یہی سواریاں نہایت غنیمت سمجھی جاتی تھیں مگر ا ب تو ان کے نام سے ہول آتی ہے۔ افسوس کہ یورپ کی صنعتیں روز بروز ہم کو پرلے درجے کا آرام طلب اور راحت پسند بناتی جاتی ہیں، اور اب وہ تمام اسباب اور ذریعے مفقود ہیں جن کے باعث سے کبھی کبھی ہم کو جفا کشی اور محنت کرنے کا بھی موقع ملتا رہے۔ہمیرپور کو جاتے ہوئے پچھم کی طرف سڑک سے کسی قدر فاصلے پر ہم نے ایک مندر دیکھا جو بیربر کا بنایا ہوا مشہور ہے۔ گو یہ مندر کچھ زیادہ شاندار نہیں ہے مگر اس سنسان جنگل میں ایک ایسے زمانے کو یاد دلاتا ہے جو ہندوستان کی تاریخ میں ’’طلائی زمانہ‘‘کہلانے کامستحق ہے۔ اب ہم جمنا سے اتر کر ہمیرپو رپہنچے۔ ہمیرپور راجاہمیر سنگھ کا آباد کیا ہوا مشہور ہے، جس کے خاندان کی عمارتوں کے کھنڈر اب تک وہاں موجود ہیں۔ یہ قصبہ کان پور سے چالیس میل جانب جنوب بہت بلندی پر واقع ہے۔ اس کے شمال میں جمنا اور جنوب میں بیدونتی ندی بہتی ہے اور مشرق میں ایک میل پر جاکر دونوں مل گئی ہیں۔ مغرب میں ایک نالہ ہے جو بیدونتی میں جاکر گرتا ہے۔ یہ نالہ برسات میں جاری ہو جاتاہے اور ویسے ایام میں خشک رہتا ہے اور اس لحاظ سے ہمیرپور کو کبھی جزیرہ اور کبھی جزیرہ نما کہا جا سکتا ہے۔قدیم باشندے یہاں کے زیادہ تر ہندو ہیں۔ شریف مسلمانوں میں صرف ایک سیدوں کا خاندان ہے جو اکثر خانہ نشین اور بزرگوں کے متروکے پر قانع ہے۔ اس خاندان کے جتنے آدمی میں نے دیکھے ہیں، سب پرانی روش کے بھولے بھالے سیدھے سادے سید ہیں، جن پرزمانہ حال کی چھینٹ بھی نہیں پڑی۔ اس مقام کی رونق زیادہ تر سرکاری ملازموں سے ہے، اور یہ نہایت خوشی کی بات ہے کہ یہاں سرکاری ملازموں میں جس قدر پردیسی مسلمان ہیں، وہ برخلاف عام مسلمانوں کے باہم برادرانہ محبت اور برتاؤ رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے درد اور دکھ میں شریک ہوتے ہیں مگر باوجود اس کے تعصبات بے جا میں سب گرفتار ہیں۔ حقیقت میں ہمیرپور ایک ایسے گوشے میں واقع ہے جہاں زمانے کے شور و شغب کی آواز بہت کم پہنچتی ہے۔ مدرسۃ العلوم کا نام وہاں کے اکثر مسلمانوں نے کبھی کان سے بھی نہیں سنا اور جنہوں نے سنا ہے، ان کے ذہن میں اس کی ایسی ہول ناک صورت سمائی ہوئی ہے کہ اس کے نام سے پناہ مانگتے ہیں۔دلی سے ہمیر پور تکدلی سے ہمیر پور تک ہم کو شریف مسلمانوں کی اکثر صحبتوں میں بیٹھنے اور ان کی بات چیت سننے کا اتفاق ہوا۔ تقریباً تمام مجلسوں کا رنگ ہم نے ایک ہی اصل پر دیکھا۔ وہی بے جا شیخی اور تعلی اور ہر ایک پہلو سے اپنی تعریف نکالنی، لوگوں کے عیب ڈھونڈنے اور ان کو برائی سے یاد کرنا، حاضرین کی خوشامداور غائبین کی بد گوئی، بات بات میں فحش اور دشنام سے زبان کو آلودہ کرنا، اور سب سے زیاہد خود غرضی اور تعصب کا بازار ہر جگہ گرم پایا۔آگرے سے باندی کوٹی تکمراجعت کے وقت ہم ایک دن آگرے میں ٹھیر کر الور پہنچے۔ یہاں ہم کو راجپوتانہ اسٹیٹ ریلوے میں بیٹھنا پڑا۔ چونکہ یہ سرکاری ریل ہے، اس لیے ہم کو امید تھی کہ اس میں زیادہ آرام ملے گا، مگر بر خلاف اس کے سب سے زیادہ اسی میں تکلیف اٹھانی پڑی۔ اول تو اس میں انٹر میڈیٹ کلاس کے نہ ہونے سے بڑا نقص ہے۔ کیوں کہ متوسط الحال آدمیوں کے لیے یہ درجہ فرسٹ کلاس کا حکم رکھتا ہے۔ دوسرے گاڑیاں اس قدر چھوٹی ہیں کہ ایک کمرے میں صرف چار آدمی آرام سے بیٹھ سکتے ہیں۔ باوجود اس کے ایک ایک کمرے میں آٹھ آٹھ ادمی بٹھائے جانے کا حکم ہے۔ اور اس پر غضب یہ ہے کہ جب تک ایک کمرہ میں پورے آٹھ آدمی نہیں بیٹھ لیتے، تب تک دوسرا کمرہ نہیں کھولا جاتا، حالاں کہ اکثر اسی کلاس کی پانچ پانچ سات سات گاڑیاں ٹرین میں بالکل خالی جاتی ہیں۔ہم رات کی ٹرین میں سوارہوئے تھے اور ہماری گاڑی کے کسی کمرے میں آٹھ آدمی سے کم نہ تھے۔ نیند کے مارے ایک دوسرے پر گرا پڑتا تھا اور تمام راستے مسافروں میں باہم تکرار ہوتی رہی۔ علاوہ ان ’’خوبیوں‘‘ کے یہ ریل اور ریلوں کی نسبت سست رفتار بھی بہت ہے۔ صبح کے سات بجے ہم باندی کوٹی میں پہنچے اور دس بجے تک یہاں ٹھیرے رہے۔ یہاں تقریبا ڈیڑھ میل طول اور اسی قدر عرض کے میدان میں بالکل سنگین عمارتیں اس قدر بنائی گئی ہیں کہ بجائے خود ایک شہر آباد ہوگیا ہے۔ سنا جاتا ہے کہ یہاں کسی قدر سرکاری فوج رکھی جائےگی۔الوروہاں سے چل کر ساڑھے بارہ بجے ہم الور پہنچے اور دوپہر تک نئی سرائے میں جو کیڈل صاحب پولیٹکل ایجنٹ کے عہد میں تیار ہوئی ہے، ٹھہرے۔ اس سرائے کی عمارت بالکل سنگین ہے۔ ظاہراً ہندوستان میں یہ پہلی سرائے ہے جس کے نقشے میں ہر ایک مسافرکی آسائش اور تمام ضروریات کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔ رات کو ہمارے ایک معزز دوست نے ہم کو اپنے مکان پر بلا لیا اور پانچ روز تک ہم ان ہی کے مکان پر ٹھہرے رہے۔ الور کو ہم نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شہر کی آبادی دامن کوہ میں واقع ہوئی ہے اور اسی وجہ سے شہر کا شمالی حصہ جنوبی حصے سے کسی قدر بلند ہے۔ یہاں کے بازار اگرچہ بہت وسیع نہیں مگر پررونق ضرور ہیں اور عمارتیں اکثر سنگین ہیں۔شہر کی عام عمارتیں کچھ زیادہ امتیاز نہیں رکھتیں لیکن سرکاری محلوں سے راج کی پوری پوری شان و شوکت ظاہر ہوتی ہے۔ خصوصا ًوہ محل جو موتی ڈونگری کے باغ میں مہاراجا بنے سنگھ نے بنوایا ہے۔ عمارت کی خوبی کے علاوہ وہ ایک ایسے موقع پر واقع ہوا ہے جس سے اس کی شان اور عظمت دس گنی ہو گئی ہے۔ محل کے اوپر کے درجے پرچڑھ کر جس طرف نظر ڈالیے، زمین اور پہاڑ اور فرش زمردیں کے سوا کچھ نظرنہیں آتا۔ اگرچہ اب تک وہاں بارش کم ہوئی تھی مگر پھر بھی وہاں کی قدرتی فضادیکھنے کے قابل تھی۔یہاں ایک اورمقام بھی کمال دل کش اور روح افزا ہے جو سیلی سیڑھ کے نام سے مشہور ہے۔ شہر سے تقریبا ًچھ میل کے فاصلے پر ایک سیتلا کا مندر ہے۔ جس کو وہاں کے لوگ سیلی سیڑھ کہتے ہیں۔ (سیلی سیڑھ کے لفظی معنی ٹھنڈی سیتلا کے ہیں۔ ) یہاں دوطرف سے پہاڑ آکر مل گیا ہے اور ایک مثلث کی سی شکل پیدا ہو گئی ہے۔ اس مثلث کے گوشے میں ایک بڑا اور نہایت مستحکم بند باندھا گیا ہے جس میں وقتاً فوقتاً بارش کا پانی دونوں پہاڑوں سے جھر جھر کر اکٹھا ہوتا رہتا ہے۔ اوریہاں سے الور تک ایک پختہ نہر بنی ہوئی ہے جس کے ذریعہ سے بند کا پانی رستے کے تمام کھیتوں کوسیراب کرتا ہوا شہر تک پہنچتاہے اور وہاں جاکر الور کے تمام باغات اور اس کے تمام سواد کو سال بھر تک سرسبز و شاداب رکھتا ہے۔ بند کے ایک جانب پہاڑ پر ایک نہایت پختہ گؤ گھاٹ تقریبا پاؤ میل اونچا بنا ہوا ہے۔ جو پہاڑ کی چوٹی پر جاکر ختم ہوتا ہے اور وہاں سرکاری محل بنے ہوئے ہیں۔ یہ مہاراجا بنے سنگھ کی ایک نمودار یادگار ہے جو ہمیشہ ان کے عہد حکومت کو یاد دلائےگی۔الور کا سواد نہایت دل کش اور دل ربا ہے اورتمام باغات سے گھرا ہواہے۔ موتی ڈونگری کے باغ کے سوا جوکہ مشہور ہے، ایک کمپنی باغ بھی ہے جو مہاراجا شیو دھیان سنگھ نے حضور ڈیوک آف ایڈنبراکی تشریف آوری کے زمانے میں تیار کروایا تھا۔ یہ بھی ایک عمدہ پارک ہے۔ اس کے سوا کیڈل گنج، شفاخانہ اور اسکول وغیرہ کی عمارتیں جو کیڈل صاحب کے عہدمیں بنی ہیں، نہایت عمدہ اور شہر کے لئے باعث زینت ہیں۔ ریاست الور کے پولیٹکل حالات جس قدرہم کو معلوم ہوئے ہیں، ان سے ریاست کی آئندہ بہبودی اور ترقی کی بہت کچھ امید ہوتی ہے۔مہاراجا منگل سنگھ جو تقریبا دوڈھائی برس سے با اختیار ہوئے ہیں ان کی تعریف میں صرف اس قدر کہنا کافی ہے کہ نواب گورنر جنرل بہادر سابق جب سال گزشتہ کے ختم پر اجمیر میں تشریف لئے گئے تھے تو انہوں نے میوکالج کے طالب علموں سے خطاب کرکے ایک لمبی اسپیچ کی تھی جس میں مہاراجا منگل سنگھ کی شہ سواری، گولہ اندازی، بہادری، جفاکشی، شائستگی اور عالی دماغی کی نہایت تعریف کرکے مخاطبین کو ان کی پیروی کرنے کی ہدایت فرمائی تھی۔مہاراجا صاحب نے اس نہایت قلیل زمانے میں جودوڈھائی برس سے زیادہ نہ ہوگا کئی ایسے کام کئے ہیں جن کا ایک نوجوان ہندوستانی رئیس سے وقوع میں آنا نہایت عجیب معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے پہلے جنوبی ہندوستان کا ایک سفر اختیار کیا جس میں کسی قدر بحری سفر اور جزیرہ سیلون کی سیاحت بھی شامل تھی، اوربہت شوق سے اپنا سفرنامہ بھی تیار کرایا۔ پھر با اختیار ہونے کے وقت خزانہ بالکل خالی تھا بلکہ ریاست کسی قدر مقروض تھی، مگراب سنا جاتا ہے کہ خزانے میں تقریبا سات آٹھ لاکھ روپیہ جمع ہے۔ ہر جمعرات کے دن ایک عام دربار مقرر کیا جس میں تمام ریاست کے مستغیثو ں کو اجازت دی گئی کہ خود مہاراجا کے روبرو حاضر ہوکر عرض معروض کریں۔ اور معمولی دربار جو ہر روز تین گھنٹے سے چار گھنٹے تک رہتا ہے اور جس میں کونسل کی تجویزات اور فیصلے پیش ہوتے ہیں یہ اس عام دربار کے علاوہ ہے۔ پولس اور مال کا ازسرنو انتظام کیا جس کی وجہ سے تقریباً پانچ سو روپے ماہوار کااضافہ عملہ، پولس اورعملہ مال کی تنخواہوں میں کیا گیا۔ سررشتہ تعلیم میں بھی روزبروز ترقی ہوتی جاتی ہے۔ایک بڑا اسکول شہر میں عام رعایا کی تعلیم کے لئے ہے جس میں انٹرنس تک پڑھائی ہوتی ہے اور جو لڑکے یہاں سے انٹرنس پاس کرتے ہیں ان کو وظیفہ دے کرکسی کالج میں بھیج دیا جاتا ہے۔ اگلے برس دو لڑکوں نے انٹرنس پاس کیا تھا، وہ دونوں لڑکے اجمیر کے گورنمنٹ کالج میں ترقی تعلیم کے لئے بھیج دیے گئے اور آٹھ روپیہ ماہوار ان کا وظیفہ مقرر کیا گیا۔ اس کے سوا ایک اور اسکول شہر میں ہے جو خاص ٹھاکروں اور سرداروں کی اولاد کے لئے مخصوص ہے۔ اس مدرسے کی حالت ابھی تک کچھ اچھی نہیں ہے۔ علاقہ الور کے دیہاتی مدارس کی ٹھیک تعداد ہم کو یاد نہیں رہی لیکن غالباً سو سے زیادہ اور ڈیڑھ سوسے کم ہے۔ چودہ مدرسے زنانے بھی ہیں جن میں ہندومسلمان دونوں قوموں کی لڑکیاں تعلیم پاتی ہیں۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آرام طلبی اور سستی اور کاہلی جو ہندوستانی رئیسوں کی سرشت میں داخل ہے، وہ مہاراجا کے مزاج میں بالکل نہیں ہے۔ اور سادگی اور بے تکلفی ایسی ہے کہ اہل یورپ میں بھی ایسی نہیں دیکھی گئی۔ البتہ شکار کا شوق جس قدر ہونا چاہئے اس سے کسی قدر زیادہ ہے۔ باقی تعیش، لہو و لعب اور مسکرات سے، جہاں تک ہم نے سنا ہے، بہ کلی نفرت ہے اور یہ تمام باتیں بشرطیکہ استقلال کے ساتھ قائم رہیں، ایسی ہیں جو انسان کی ترقی کی اصل اصول ہیں۔ ہم جناب ماسٹر سری رام صاحب کے، جو مہاراجا کے پرائیویٹ سکریٹری ہیں اور جناب ماسٹر کنج بہاری لال صاحب ہیڈماسٹر ہائی اسکول الور کے دل سے شکرگزار ہیں جن کی عنایت سے ہم نے الور کی خاطر خواہ سیرکی۔ پانچ روز الور میں ٹھہر کر ہم رمضان کی انتیسویں تاریخ دن کی ریل میں الور سے روانہ ہوئے اور شام کودلی پہنچ گئے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D8%B9%D8%B7%DB%8C%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D9%81%DB%8C%D8%AA"} {"title": "ایام شباب اپنے بھی کیا عیش اثر تھے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایام شباب اپنے بھی کیا عیش اثر تھے\nکہتے ہیں جنہیں عیب وہ اس وقت ہنر تھے\n\nدن رات وہ محبوب میسر تھے کہ جن کی\nزلفیں الم شام تھیں رخ رشک سحر تھے\n\nساقی کے ادھر جام ادھر ناز و ادا سے\nجادو نظراں خوش نگہاں پیش نظر تھے\n\nمحفل سے جو اٹھتے تھے ذرا ہم تو لپٹ کر\nنازک بدناں مو کمراں دست و کمر تھے\n\nہم راہ گل انداموں کے ہو خرم و خنداں\nباغ و چمن و گلشن و بستاں میں گزر تھے\n\nکیا شور تھے کیا زور تھے ہر لحظہ اہا ہا\nکیا ولولے کیا قہقہے بے خوف و خطر تھے\n\nدکھلا کے جھمک جاتے رہے دم میں نظیرؔ آہ\nکیا جانے وہ دن برق تھے یا مثل شرر تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "ایجاد غم ہوا دل مضطر کے واسطے", "poet_page": "مصنف:منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایجاد غم ہوا دل مضطر کے واسطے\nپیدا جنوں ہوا ہے مرے سر کے واسطے\n\nکرتے ہو فکر غافلو کیا گھر کے واسطے\nدنیا میں سب مقیم ہیں دم بھر کے واسطے\n\nہر شے میں جو کہ دیکھتے ہیں جلوہ دوست کا\nوہ لوگ سجدہ کرتے ہیں پتھر کے واسطے\n\nاس بت نے ایک بات نہ مانی شب وصال\nلاکھوں دیے خدا و پیمبر کے واسطے\n\nسن کر پیام وصل میں قاصد سے جی اٹھا\nہے معجزہ ضرور پیمبر کے واسطے\n\nمژگاں کو تیری ہم نے جگہ اپنے دل میں دی\nزیبا یہ میان ہے اسی خنجر کے واسطے\n\nلکھتا ہوں اس پری کی صفت چشم شوخ کی\nتار نگاہ حور ہو مسطر کے واسطے\n\nبالش کی جا ہے مجھ کو ترا سنگ آستاں\nکافی ہے خاک در مرے بستر کے واسطے\n\nجاتا ہوں چین کاکل عنبر فشاں کو میں\nسودا خریدتا ہے مجھے سر کے واسطے\n\nجتنے تھے ظلم سب وہ جفا کار کر چکا\nباقی رہے نہ چرخ ستم گر کے واسطے\n\nکرتا ہوں روز ہجر میں تدبیریں دوستو\nکیا کیا تسلیٔ دل مضطر کے واسطے\n\nساقی شراب اشک ہے یاں جام چشم میں\nاحسان اٹھائیں کیوں مے و ساغر کے واسطے\n\nاے سحرؔ قدرداں جو نہ ہو کوئی شعر کا\nتو زندگی ہے موت سخنور کے واسطے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%D8%BA%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92"} {"title": "ایجادِ معانی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہر چند کہ ایجادِ معانی ہے خدا داد\nکوشش سے کہاں مردِ ہُنَر مند ہے آزاد!\nخُونِ رگِ معمار کی گرمی سے ہے تعمیر\nمیخانۂ حافظؔ ہو کہ بُتخانۂ بہزادؔ\nبے محنتِ پیہم کوئی جوہر نہیں کھُلتا\nروشن شرَرِ تیشہ سے ہے خانۂ فرہاد!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF%D9%90_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "ایذائیں اٹھائے ہوئے دکھ پاے ہوئے ہیں", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایذائیں اٹھائے ہوئے دکھ پاے ہوئے ہیں\nہم دل سے بتنگ آئے ہیں اکتائے ہوئے ہیں\n\nبیتاب ہیں بے چین ہیں گھبرائے ہوئے ہیں\nہم دل سے بتنگ آئے ہیں اکتائے ہوئے ہیں\n\nان ہونٹھوں کے بوسے کا مزا پاے ہوئے ہیں\nپیار آیا ہے منہ تکتے ہیں للچائے ہوئے ہیں\n\nزلفیں وہ بلا جی کو جو الجھائے ہوئے ہیں\nجوڑے کے الٹ بیچ میں دل آئے ہوئے ہیں\n\nغصے میں بھرے بیٹھے ہیں جھلائے ہوئے ہیں\nافروختہ ہیں غیروں کے بھڑکائے ہوئے ہیں\n\nدروازے پہ بیٹھے ہیں نکلوائے ہوئے ہیں\nہم نے تو ڈھہی دی وہ غضب ڈھائے ہوئے ہیں\n\nاٹھلائے ہوئے بیٹھے ہیں اترائے ہوئے ہیں\nاب روپ ہے جوبن پہ ہیں گدرائے ہوئے ہیں\n\nکیا بات ہے کیا بات ہے تیری لب جاں بخش\nایسی بھی ترے عہد میں دم کھائے ہوئے ہیں\n\nمجھ پر انہیں رحم آئے یہ ممکن ہی نہیں ہے\nایسے وہ سمجھتے نہیں سمجھائے ہوئے ہیں\n\nکرتا غضب اب تک تو ہمارا دل بیتاب\nروکے ہوئے ڈانٹے ہوئے دھمکائے ہوئے ہیں\n\nہنگامہ رہے گا یوں ہی کوچہ میں تمہارے\nعاشق کہاں جا سکتے ہیں دل آئے ہوئے ہیں\n\nآئیں تو عنایت ہے نہیں آتے نہ آئیں\nہم دل کو تصور ہی سے بہلائے ہوئے ہیں\n\nدل ٹھہر گیا زخم جگر بھر گئے اپنے\nآرام ہی ہم تم کو جو لپٹائے ہوئے ہیں\n\nمرنے پہ بھی افسردہ دلی اپنی عیاں ہے\nتربت پہ مری پھول بھی مرجھائے ہوئے ہیں\n\nاغیار سیہ رو سے بہت ربط ہے ان کو\nوہ چاند ہیں اے مہرؔ تو گہنائے ہوئے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B0%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AF%DA%A9%DA%BE_%D9%BE%D8%A7%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ایرانی فصاحت اور حجازی غیرت", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ایرانی فصاحت اور حجازی غیرت\nیونانی بلاغت اور رومی حکمت\nترکانہ جلالت اور چینی صنعت\nجس قوم میں عام ہو ہے قومی عزت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%81%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%AA"} {"title": "ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہے", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہے\nکس حسن کا ہے حسن ادا کس ادا کی ہے\n\nچشم سیاہ یار سے سازش حیا کی ہے\nلیلیٰ کے ساتھ میں یہ سہیلی بلا کی ہے\n\nتصویر کیوں دکھائیں تمہیں نام کیوں بتائیں\nلائے ہیں ہم کہیں سے کسی بے وفا کی ہے\n\nانداز مجھ سے اور ہیں دشمن سے اور ڈھنگ\nپہچان مجھ کو اپنی پرائی قضا کی ہے\n\nمغرور کیوں ہیں آپ جوانی پر اس قدر\nیہ میرے نام کی ہے یہ میری دعا کی ہے\n\nدشمن کے گھر سے چل کے دکھا دو جدا جدا\nیہ بانکپن کی چال یہ ناز و ادا کی ہے\n\nرہ رہ کے لے رہی ہے مرے دل میں چٹکیاں\nپھسلی ہوئی گرہ ترے بند قبا کی ہے\n\nگردن مڑی نگاہ لڑی بات کچھ نہ کی\nشوخی تو خیر آپ کی تمکیں بلا کی ہے\n\nہوتی ہے روز بادہ کشوں کی دعا قبول\nاے محتسب یہ شان کریمی خدا کی ہے\n\nجتنے گلے تھے ان کے وہ سب دل سے دھل گئے\nجھیپی ہوئی نگاہ تلافی جفا کی ہے\n\nچھپتا ہے خون بھی کہیں مٹھی تو کھولیے\nرنگت یہی حنا کی یہی بو حنا کی ہے\n\nکہہ دو کہ بے وضو نہ چھوئے اس کو محتسب\nبوتل میں بند روح کسی پارسا کی ہے\n\nمیں امتحان دے کے انہیں کیوں نہ مر گیا\nاب غیر سے بھی ان کو تمنا وفا کی ہے\n\nدیکھو تو جا کے حضرت بیخودؔ نہ ہوں کہیں\nدعوت شراب خانے میں اک پارسا کی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ایسا بھی کوئی کرے ہے خلل ملک دیں میں بت", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایسا بھی کوئی کرے ہے خلل ملک دیں میں بت\nہرگز میں اس کی شکل کا دیکھا نہ چیں میں بت\n\nمذہب میں میرے شیخ کے اتنا ہی فرق ہے\nمیں ہاتھ میں رکھوں ہوں تو وہ آستیں میں بت\n\nدیں ہو گیا بہ کفر بدل یاں تلک کہ خلق\nرکھے ہے جائے قبلہ نما اب نگیں میں بت\n\nسجدہ کرے خدا کو تو کیجو سمجھ کے شیخ\nاب بھی گڑے ہوئے ہیں ہزاروں زمیں میں بت\n\nجاؤں طواف کرنے کو کیوں کر میں مصحفیؔ\nکعبہ کے طاق میں ہے مرے ہے نگیں میں بت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%84%D9%84_%D9%85%D9%84%DA%A9_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%AA"} {"title": "ایسا ترا رہ گزر نہ ہوگا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایسا ترا رہ گزر نہ ہوگا\nہر گام پہ جس میں سر نہ ہوگا\n\nکیا ان نے نشے میں مجھ کو مارا\nاتنا بھی تو بے خبر نہ ہوگا\n\nدھوکا ہے تمام بحر دنیا\nدیکھے گا کہ ہونٹ تر نہ ہوگا\n\nآئی جو شکست آئینے پر\nروئے دل یار ادھر نہ ہوگا\n\nدشنوں سے کسی کا اتنا ظالم\nٹکڑے ٹکڑے جگر نہ ہوگا\n\nاب دل کے تئیں دیا تو سمجھا\nمحنت زدوں کے جگر نہ ہوگا\n\nدنیا کی نہ کر تو خواست گاری\nاس سے کبھو بہرہ ور نہ ہوگا\n\nآ خانہ خرابی اپنی مت کر\nقحبہ ہے یہ اس سے گھر نہ ہوگا\n\nہو اس سے جہاں سیاہ تد بھی\nنالے میں مرے اثر نہ ہوگا\n\nپھر نوحہ گری کہاں جہاں میں\nماتم زدہ میرؔ اگر نہ ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ایسا نہ ہو حق کا سامنا ہو جائے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ایسا نہ ہو حق کا سامنا ہو جائے\nسارا یہ طلسمات ہوا ہو جائے\nکیا کرتا ہے سچ پہ جان دینے والے\nیاروں کا مزا نہ کرکرا ہو جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AD%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "ایسا نہ ہوا کہ ہم نے شادی کی ہو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ایسا نہ ہوا کہ ہم نے شادی کی ہو\nیا سیر بہار باغ و وادی کی ہو\nپژمردہ کلی کے رنگ اس گلشن میں\nغالب ہے یہی کہ نامرادی کی ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88"} {"title": "ایسا وار پڑا سر کا", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایسا وار پڑا سر کا\nبھول گئے رستہ گھر کا\n\nزیست چلی ہے کس جانب\nلے کاسہ کاسہ مر کا\n\nکیا کیا رنگ بدلتا ہے\nوحشی اپنے اندر کا\n\nدل سے نکل کر دیکھو تو\nکیا عالم ہے باہر کا\n\nسر پر ڈالی سرسوں کی\nپاؤں میں کانٹا کیکر کا\n\nکون صدف کی بات کرے\nنام بڑا ہے گوہر کا\n\nدن ہے سینے کا گھاؤ\nرات ہے کانٹا بستر کا\n\nاب تو وہ جی سکتا ہے\nجس کا دل ہو پتھر کا\n\nچھوڑو شعر اٹھو باقیؔ\nوقت ہوا ہے دفتر کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ایسا کہاں حباب کوئی چشم تر کہ ہم", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایسا کہاں حباب کوئی چشم تر کہ ہم\nلب خشک یہ محیط ہے کب اس قدر کہ ہم\n\nایسا نہیں غریب کوئی گھر بہ گھر کہ ہم\nایسا نہیں خراب کوئی در بدر کہ ہم\n\nمدام ہی مشبک مژگان یار ہے\nلیکن نہ اس قدر رہے خستہ جگر کہ ہم\n\nگو آج ہم ہیں بے سر و پا دیکھیے کہ کل\nیہ راہ پل صراط کرے شیخ سر کہ ہم\n\nہم بحثتے ہیں چاک گریباں پہ تیرے ساتھ\nاور دیکھیے کہ ہم سے رہے تو سحر کہ ہم\n\nروتے عدم سے آئے تھے روتے ہی جائیں گے\nایسا نہیں ازل سے کوئی نوحہ گر کہ ہم\n\nدنیا کہ نیک و بد سے مجھے کچھ خبر نہیں\nاتنا نہیں جہاں میں کوئی بے خبر کہ ہم\n\nپوچھا میں اس سے کون ہے قاتل مرا بتا\nکہنے لگا پکڑ کے وہ تیغ و سپر کہ ہم\n\nدیواں ہمارا غور سے تاباںؔ تو دیکھ تو\nرکھتا ہے کب محیط یہ گنج گہر کہ ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AA%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%85"} {"title": "ایسی حالت نہ ہو کسی دل کی", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایسی حالت نہ ہو کسی دل کی\nکیا کہوں ہائے بے بسی دل کی\n\nلطف دیکھو کہ وہ سنورتا ہے\nلے کے ہاتھوں میں آرسی دل کی\n\nاپنی حالت سنائے وہ کیوں کر\nکون سمجھے گا فارسی دل کی\n\nیہ ستم دیکھیے وہ کہتا ہے\nغیر ممکن ہے واپسی دل کی\n\nزخم خنداں کو دیکھتے جاؤ\nتم نے دیکھی نہیں ہنسی دل کی\n\nدل کا آئینہ روئے عاشق ہے\nاس سے ظاہر ہے بے کسی دل کی\n\nاے جمیلہؔ بٹھاؤ حسرت کو\nوہ بھی مہمان ہے اسی دل کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ایسی وحشت نہیں دل کو کہ سنبھل جاؤں گا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایسی وحشت نہیں دل کو کہ سنبھل جاؤں گا\nصورت پیرہن تنگ نکل جاؤں گا\n\nوہ نہیں ہوں کہ رکھائی سے جو ٹل جاؤں گا\nآج جاتا تھا تو ضد سے تری کل جاؤں گا\n\nشام ہجراں کسی صورت سے نہیں ہوتی صبح\nمنہ چھپا کر میں اندھیرے میں نکل جاؤں گا\n\nکھینچ کر تیغ کمر سے کسے دکھلاتے ہو\nناف معشوق نہیں ہوں جو میں ٹل جاؤں گا\n\nشب ہجر اپنی سیاہی کسے دکھلاتی ہے\nکچھ میں لڑکا تو نہیں ہوں کہ دہل جاؤں گا\n\nکوچۂ یار کا سودا ہے مرے سر کے ساتھ\nپاؤں تھک تھک کے ہوں ہر چند کہ شل جاؤں گا\n\nضبط بیتابیٔ دل کی نہیں طاقت باقی\nکوہ صبر اب یہ صدا دیتا ہے ٹل جاؤں گا\n\nطالع بد کے اثر سے یہ یقیں ہے مجھ کو\nتیری حسرت ہی میں اے حسن عمل جاؤں گا\n\nچار دن زیست کے گزریں گے تأسف میں مجھے\nحال دل پر کف افسوس میں مل جاؤں گا\n\nشعلہ‌ رویوں کو نہ دکھلاؤ مجھے اے آنکھو\nموم سے نرم مرا دل ہے پگھل جاؤں گا\n\nحال پیری کسے معلوم جوانی میں تھا\nکیا سمجھتا تھا میں دو دن میں بدل جاؤں گا\n\nوہی دیوانگی میری ہے بہار آنے دو\nدیکھ کر لڑکوں کی صورت کو بہل جاؤں گا\n\nشعر ڈھلتے ہیں مری فکر سے آج اے آتشؔ\nمر کے کل گور کے سانچے میں میں ڈھل جاؤں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D8%B3%D9%86%D8%A8%DA%BE%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ایسی کوئل نہ پپیہے کی ہے پیاری آواز", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایسی کوئل نہ پپیہے کی ہے پیاری آواز\nکیا بھلی لگتی ہے کانوں کو تمہاری آواز\n\nجب مجھے تم نے پکارا یہ دعا دی میں نے\nرہے مکے میں مدینے میں تمہاری آواز\n\nآپ کے بول سنائے وہ ہمیں کیا قدرت\nایسی پیدا تو کرے کوئی ستاری آواز\n\nسن کے بسمل ہوئے ہم نغمہ سرائی ان کی\nنہیں معلوم چھری ہے کہ کٹاری آواز\n\nبے سرے سامنے اس کے رہے تنبور و ستار\nلا کے تاروں کے جواری نے سنواری آواز\n\nاس طرح روئیے آنسو فقط آنکھوں سے بہیں\nمنہ سے نکلے نہ دم گریہ و زاری آواز\n\nچٹکیوں میں نہ اڑا مجھ کو مغنی بتلا\nساز کے پردے میں کس کی ہے یہ پیاری آواز\n\nایسے نالے کیے ہم نے کہ گلا بیٹھ گیا\nآئی آفت وہ گلے پر کہ سدھاری آواز\n\nناچ گانے میں وہ عالم ہے جو دیکھے وہ کہے\nسربسر تم ہو پری شعلہ ہے ساری آواز\n\nبحرؔ روئے ہو ضرور آج کسی کے لیے تم\nسرخ سرخ آنکھیں بھی ہیں اور ہے بھاری آواز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%D9%84_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%BE%DB%8C%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2"} {"title": "ایسی کیا تھیں عتاب کی باتیں", "poet_page": "مصنف:مرزا مائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایسی کیا تھیں عتاب کی باتیں\nمیں تو کہتا تھا خواب کی باتیں\n\nکچھ غضب ہو رہی ہیں عارض سے\nزلف پر پیچ و تاب کی باتیں\n\nبے حجابی میں کیا غضب ہوگا\nجب یہ کچھ ہیں حجاب کی باتیں\n\nسر مرا اور نشان پائے عدو\nدیکھنا اضطراب کی باتیں\n\nایک حضرت ہیں آپ بھی مائلؔ\nسن چکا ہوں جناب کی باتیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ایسی ہوئی سرسبز شکایت کی کڑی بات", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایسی ہوئی سرسبز شکایت کی کڑی بات\nسبزے کی طرح کان میں اس گل کی پڑی بات\n\nکیوں کر دہن تنگ سے ظاہر ہو کڑی بات\nمنہ آپ کا چھوٹا ہے نہ نکلے گی بڑی بات\n\nگل رنگ ترے ہونٹھ ہوے بار سخن سے\nاے جان اڑا لے گئی مسی کی دھڑی بات\n\nتیرے سخن سخت میں ہے حسن نزاکت\nکانوں کو ہوئی پنبۂ مہتاب کڑی بات\n\nاس پیچ سے تم مجھ کو اڑاتے ہو دم نطق\nزنجیر رم ہوش کی بنتی ہے کڑی بات\n\nتقریر تری شاخ گل تازہ ہے اے مست\nدیتی ہے کف بادہ میں پھولوں کی چھڑی بات\n\nوصف در دنداں سے یہ بڑھ جاتے ہیں رتبے\nرگ رگ کو بنا دیتی ہے موتی کی لڑی بات\n\nہر کان ہوا ہے سبد گل سے زیادہ\nکیا پھول کے مانند ترے منہ سے جھڑی بات\n\nدھوتا ہے سخن دل سے غبار غم دنیا\nہے گرد الم کے لئے ساون کی جھڑی بات\n\nکیا مہر بنائی ترے یاقوت سخن کی\nمانند نگیں ہم نے انگوٹھی میں جڑی بات\n\nنقد سخن پاک دیا گرد قلق میں\nگنجینہ کے مانند تہ خاک گڑی بات\n\nجس روز میں گنتا ہوں ترے آنے کی گھڑیاں\nسورج کو بنا دیتی ہے سونے کی گھڑی بات\n\nاستاد کے احسان کا کر شکر منیرؔ آج\nکی اہل سخن نے تری تعریف بڑی بات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D8%B1%D8%B3%D8%A8%D8%B2_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DA%91%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "ایسے حسیں کے عشق میں ہے بے قرار دل", "poet_page": "مصنف:نواب امراوبہادر دلیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایسے حسیں کے عشق میں ہے بے قرار دل\nصدقے ہیں جس کی ایک ادا پر ہزار دل\n\nجب مانگتے ہیں سب صنم روزگار دل\nاتنے کہاں سے لاؤں میں پروردگار دل\n\nبیزار زندگی سے ہے لیل و نہار دل\nجس روز سے حضور کو کرتا ہے پیار دل\n\nکیا سوچتے ہو اس کو نشانہ بتاؤ تم\nہے ناوک مژہ کا تمہارے شکار دل\n\nبوچھار ہو رہی ہے جو تیر نگاہ کی\nسینہ ہے چاک چاک ہمارا فگار دل\n\nغمزہ کو دوں کرشمۂ ناز و ادا کو دوں\nکس طرح ایک دل کے بنیں تین چار دل\n\nکیا کیا اٹھائیں ہجر صنم میں مصیبتیں\nبرسوں رہا ہے آٹھ پہر بے قرار دل\n\nدفن اس میں کشتہ ہو کے ہوئیں کتنی حسرتیں\nمدفن بنا ہے سینہ تو لوح مزار دل\n\nزاہد خیال یار تو ہر دم ہے جاگزیں\nکیونکر کروں میں حور جناں پر نثار دل\n\nکرنے لگا ہے مجھ سے بہت کج ادائیاں\nاب بت ہوا ہے جیسے ترا رازدار دل\n\nٹھہرا نہ ایک دم کبھی سوز فراق میں\nسیماب وار اپنا رہا بے قرار دل\n\nدیکھا کوئی حسین تو کیا کیا پھڑک اٹھا\nبے چین ہو گیا مرا بے اختیار دل\n\nبھولا ہے تیری یاد بتوں کے خیال میں\nایسا دیا تھا کیوں مجھے پروردگار دل\n\nآؤ جو میرے گھر میں تو سو جان سے کروں\nچتون پر آنکھ صدقے ادا پر نثار دل\n\nہوتا نہیں ہے عید کو بھی غم غلط دلیرؔ\nیاران رفتگاں کا بنا سوگوار دل", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%84"} {"title": "ایسے پر نور و ضیا یار کے رخسارے ہیں", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایسے پر نور و ضیا یار کے رخسارے ہیں\nجن کے آگے مہ و خورشید بھی دو تارے ہیں\n\nکوئی ان آنکھوں سے اس سبزۂ خط کو پوچھے\nیہ وہ کانٹے ہیں کہ پلکوں سے سوا پیارے ہیں\n\nکوئی سبقت نہ کبھی خال سے جتنے ہو بچو\nسانپ گیسوئے سیہ فام سے من ہارے ہیں\n\nکیوں کر انگیا میں نہ ہو صورت جوزا پیدا\nگورے گورے ترے پستاں ہیں کہ مہ پارے ہیں\n\nفصل گل آئے کلی کوئی نہ کوئی چٹکے\nآج مرغان سحر باغ میں چہکارے ہیں\n\nعشق اطفال چمن میں ہیں عنادل بیتاب\nآشیانوں کا یہ عالم ہے کہ گہوارے ہیں\n\nقتل کرتا ہے مجھے کیوں شب فرقت خاموش\nاے موذن مد تکبیر نہیں آرے ہیں\n\nایک دن پرچہ لگائیں گے نکیرین ضرور\nیہ فرشتے نہیں اخبار کے ہرکارے ہیں\n\nخال مشکیں نے دل ایسا ہی جلایا ہے کہ بس\nکوئلوں پر بھی یہ دھوکا ہے کہ انگارے ہیں\n\nخوان نعمت سے کبھی خط نہ اٹھائیں گے بخیل\nمال کھا سکتی ہیں تقدیر نے منہ مارے ہیں\n\nنہ سزاوار حضر ہوں نہ مبارک ہے سفر\nمیرے پلے پہ نہ ثابت ہیں نہ سیارے ہیں\n\nرنگ گلزار کا شبنم سا اڑا جاتا ہے\nروبرو تیرے ہزاری نہیں فوارے ہیں\n\nواہ کیا یار کے ہونٹوں کی میں تعریف کروں\nجان شیریں نہیں جن سے وہ شکر پارے ہیں\n\nخانۂ عشق کے مہماں ہیں ہم اور تدور\nداغ ہیں ہم کو نصیب اور اسے انگارے ہیں\n\nبحرؔ ایام جدائی میں نہ کپڑے پھاڑو\nیہ سمجھ لو کہ شب وصل کے کفارے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%B6%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ایسے ڈرے ہیں کس کی نگاہ غضب سے ہم", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایسے ڈرے ہیں کس کی نگاہ غضب سے ہم\nبد خواب ہو گئے ہیں جو دو چار شب سے ہم\n\nکب کامیاب بوسہ ہوئے اس کے لب سے ہم\nشرمندہ ہی رہے دل مطلب مطلب سے ہم\n\nبوسہ نہ لے سکے کف پا کا ادب سے ہم\nکاٹیں ہیں اس لیے کف افسوس شب سے ہم\n\nسوداگر صفائے دل بے غبار ہیں\nاجناس شیشہ لائے ہیں شہر حلب سے ہم\n\nیہ روز ڈھونڈھ لائے ہے اک خوبرو نیا\nشاکی ہیں اپنے ہی دل آفت طلب سے ہم\n\nکشتی ہماری بحر کی ہے مانجدھار میں\nنکلے ہیں کب کشاکش لطف و غضب سے ہم\n\nطرز خرام ناز کی بے اعتدالیاں\nدیکھیں ہیں اور کچھ نہیں کہتے ادب سے ہم\n\nبرقعے میں ہو کہ پردۂ چادر میں خوبرو\nپہچانتے ہیں وضع سے شوخی سے چھب سے ہم\n\nشغل شراب و شیشہ و ساقیٔ نغمہ سنج\nتائب ہوئے ہیں عالم پیری میں سب سے ہم\n\nبے لطف زندگی کے ہیں دن آ بھی اے اجل\nتیرے ہی انتظار میں بیٹھے ہیں کب سے ہم\n\nفن اتنا کم کیا ہے کہ ان روزوں مصحفیؔ\nدل میں اک انس رکھتے ہیں شعر عرب سے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DA%88%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "ایسے کی محبت کو محبت نہ کہیں گے", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایسے کی محبت کو محبت نہ کہیں گے\nاس عام عنایت کو عنایت نہ کہیں گے\n\nکہئے تو کہوں انجمن غیر کو روداد\nکیا اب بھی اسے آپ کرامت نہ کہیں گے\n\nسمجھیں گے نہ اغیار کو اغیار کہاں تک\nکب تک وہ محبت کو محبت نہ کہیں گے\n\nجب عربدہ جو تم ہو تو کیوں صبر سمیٹیں\nہم اس میں رقیبوں کی شرارت نہ کہیں گے\n\nہے یاد ظہیرؔ ان کا شب وصل بگڑنا\nوہ تلخیٔ دشنام کی لذت نہ کہیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "ایفائے وعدہ آپ سے اے یار ہو چکا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایفائے وعدہ آپ سے اے یار ہو چکا\nاس کا تو امتحان کئی بار ہو چکا\n\nاحباب ہاتھ اٹھائیں ہمارے علاج سے\nصحت پذیر عشق کا بیمار ہو چکا\n\nوہ بے حساب بخش دے یہ بات اور ہے\nاپنے حساب میں تو گنہ گار ہو چکا\n\nمیں ہاتھ جوڑتا ہوں بڑی دیر سے حضور\nلگ جائیے گلے سے اب انکار ہو چکا\n\nبیچوں کہاں میں اپنے دل داغدار کو\nسودا برا پسند خریدار ہو چکا\n\nپیری میں پرورش ہے عبث جسم زار کی\nپھینکوں کسی گھڑی میں یہ بیکار ہو چکا\n\nبرہم وہ شوخ کیوں نہ ہو کیوں زلف کو چھوا\nیہ ہاتھ ہتھکڑی کے سزاوار ہو چکا\n\nاب مجھ سے التیام کی باتیں نہ کیجیے\nدل تم سے پھٹ گیا جگر افگار ہو چکا\n\nمجھ دل فگار کو نہ رہی تم سے کچھ امید\nیہ خط سبز مرہم زنگار ہو چکا\n\nدربان کو سلام کریں گھر کی راہ لیں\nوہ منہ چھپا کے بیٹھے ہیں دیدار ہو چکا\n\nبندے کے حال پر نظر پرورش رہے\nحسن ملیح کا میں نمک خوار ہو چکا\n\nلوں بوسہ خوں بہا میں اس ابرو کمان سے\nاب تو جگر سے تیر نگہ پار ہو چکا\n\nاے بحرؔ اب تو بات بھی کرتا نہیں وہ شوخ\nوہ رسم و راہ ہو چکی وہ پیار ہو چکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%D8%A2%D9%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانی\nکی آل پیمبر سے جو دشمنی جانی\nبے آبی میں کشتی تھی شبیر کی طوفانی\nدریا کے کنارے پر اس کو نہ ملا پانی\n\nکیا گوہر تر لا کر کس گھاٹ اتارا ہے\nلب خشک جگر ٹکڑے بے یاور و یارا ہے\nسب خویش و پسر بھائی ایک ایک کو مارا ہے\nہے قہر نہ پانی پر یہ پیاس کی طغیانی\n\nانواع ستم گذرے بہتوں کو جواں مارا\nجو جاکے گھرا تنہا میداں میں عیاں مارا\nانصار کو یاں مارا اعوان کو واں مارا\nعباس کی بے جانی اصغر کی وہ نادانی\n\nبازو نہ رہا کوئی اس درد کا کیا چارہ\nکیا لطف ہے جینے کا کنبہ مرے جب سارا\nپھر دیدہ و دانستہ اپنے ہی تئیں مارا\nسب شہر بیابانی گھر بار کی ویرانی\n\nیہ حشر میں احمد کو منھ کیونکے دکھائیں گے\nکیا سامنے حیدر کے رولے کے پھر آئیں گے\nدیکھیں گے جو زہرا کو کیا بات بنائیں گے\nاے واہ ری دیں داری اللہ ری خداخوانی\n\nکیا شام کے لوگوں نے فتنے کو جگایا ہے\nاولاد کو حیدر کی سب جن نے سلایا ہے\nیہ جور یہودوں سے کس دور میں آیا ہے\nاس طور سے پیش آئے کب کفری و نصرانی\n\nآنکھیں جو مندیں شہ کی آشوب سا اک آیا\nاسباب گیا سارا خیمے کو جلا پایا\nعریاں سر و بے چادر نسواں نہ جنھیں سایہ\nاس جمع میں یک باری کیا آئی پریشانی\n\nغارت ہوا ناگاہے اسباب امیرانہ\nمردم حرم شہ کے نکلے ہو فقیرانہ\nعابد کے تئیں لائے میداں میں اسیرانہ\nوہ یوسف ثانی تھا جیسے کہ ہو زندانی\n\nدل سینے میں صد پارہ بے طاقت و بے چارہ\nناموس بیاباں میں یک شہر تھے آوارہ\nسر باپ کا نیزے پر کرتا تھا جو نظارہ\nچاہے تھا کہ ناخن سے نوچوں سر و پیشانی\n\nپر دست نہ تھا اس کو تھے ہاتھ رسن بستہ\nرہ جاتا تھا سر دھن کر ناکام جگرخستہ\nکہتا تھا پدر مر کر تو تو ہوا وارستہ\nمجھ قیدی کی مشکل کی آساں نہیں آسانی\n\nلاشوں کی طرف ہوکر نکلے جو اساریٰ سب\nخون جگر آنکھوں میں فریاد تھی زیر لب\nکرتی ہے نظر یک سو تو دیکھے ہے کیا زینب\nہے بھائی کے پیکر کو اس خاک میں غلطانی\n\nگر خاک میں چلائی کیا جرم ہوا بھائی\nجو سر کو کٹا تونے ہموار کی تنہائی\nکر سیر چمن اپنا آفت عجب اک آئی\nکیا باد خزاں نے کی جنگل میں گل افشانی\n\nنو رستہ نہال اس کے یک دست چھٹے ہیں گے\nاشجار سر و بن سے دیکھو تو کٹے ہیں گے\nگل پھولے چڑھے چڑھ کر ماٹی میں اٹے ہیں گے\nاس رنگ کی دیکھی ہے خاموشی و حیرانی\n\nیاں آن کے جانا تھا ہوگی تری عزت بھی\nحیدر کا خلف ہے تو ہے تجھ کو امامت بھی\nخاطر کریں گے تیری بھیجیں گے اقامت بھی\nسو قوم سیہ دل نے کیا خوب کی مہمانی\n\nکیوں تاج شہی تیرا ہے خاک برابر یوں\nکیوں مارے گئے تیرے سب خویش و برادر یوں\nکیوں سرکے تئیں رکھا لے نیزے کے اوپر یوں\nبرباد کیا بارے کیوں تخت سلیمانی\n\nپرگرد بیاباں میں آوارہ ہوئے ازبس\nبے چارہ و بے وارث بے جا و مکاں بیکس\nجا بیٹھیں کہیں چھپ کر اپنا جو چلے کچھ بس\nکیا دیکھی ہے رسوائی کیا خاک ہے یاں چھانی\n\nاحمد نہیں ہے جس کو یہ حال دکھاویں ہم\nحیدر نہیں جس پاس اب روتے ہوئے جاویں ہم\nعباس نہیں جس کو اس وقت بلاویں ہم\nتو تھا سو مٹا تیرا ہنگامۂ سلطانی\n\nہے زندگی کچھ یہ بھی تھی موت بھلی اس سے\nسر کب تئیں یوں ماریں فریاد کریں کس سے\nاکبر کہ توقع تھی ہم سب کے تئیں جس سے\nبے وقت گیا مارا سو وہ نبی ثانی\n\nقاسم کی طرف گاہے پڑتی تھی نظر جاکر\nاس مخمصے میں شاید امداد کرے آکر\nسر دے گیا سو آگے تہ بات کی کچھ پاکر\nعشرت نہ جوانی کی اس دل زدہ نے جانی\n\nہم شام کو جاتے ہیں فرصت نہیں ہے ہم کو\nبے طاقتی سے مطلق طاقت نہیں ہے ہم کو\nتاکید سے چلنے کی مہلت نہیں ہے ہم کو\nآنکھوں سے کریں ورنہ سب تیری نگہبانی\n\nیہ کہہ کے گئے آگے روتے ہوئے غم دیدہ\nاب تو بھی قلم رکھ دے اے میرؔ ستم دیدہ\nبس گریہ سے خامے کے کاغذ تو ہے نم دیدہ\nدیوانگی کر اس جا یھاں عقل ہے دیوانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "ایڈیٹر صاحب کا کمرہ", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(۱)\n\nایڈیٹر صاحب کرسی پر بیٹھے ہیں۔ سامنے میز لگی ہے۔ ایک ہاتھ میں جلتی ہوئی بیڑی ہے دوسرے میں دیا سلائی کی ڈبیہ۔ میز کے دوسری طرف مدد گار صاحب سر جھکائے کچھ لکھ رہے ہیں۔ ابھی ابھی ڈاک آئی ہے۔ ایڈیٹر صاحب ایک خط اٹھاتے ہیں، پڑھتے ہیں اور رکھ دیتے ہیں۔ دوسرا اٹھاتے ہیں، دیکھتے ہیں، ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور پھینک دیتے ہیں۔ بڑے زور دار آدمی ہیں۔ گورنمنٹ ان کی بڑی قدر کرتی ہے۔ لاٹ صاحب کرسی دیتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر صاحب ہاتھ ملاتے ہیں۔ یہ بھی کسی بھلے مانس کو خاطر میں نہیں لاتے۔ کسی سے سیدھے منہ بات نہیں کرتے۔ ان سے نامہ نگار اور یہ نامہ نگاروں سے سخت بیزار ہیں۔ سرکار کی امداد ہے جو ان کا اخبار چل رہا ہے۔ ورنہ کبھی کا بند ہو گیا ہوتا، سچ ہے گورنمنٹ کی کمائی عہدے داروں اور اخباروں نے کھائی۔\n\n(۲)\n\nایڈیٹر صاحب مددگار صاحب! آپ نے آج کی ڈاک دیکھی۔مددگار صاحب جی نہیں، آپ ہی تو کھول رہے ہیں۔ایڈیٹر میں تو اخبار اور رسالہ نکال کر جنجال میں پڑ گیا۔ ان نامہ نگاروں نے ناک میں دم کر دیا ہے۔ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہی بل پر اخبار چلتا ہے۔ قسم خدا کی، اگر ان کے مضمون بغیر ترمیم کیے جیسے کے ویسے چھاپ دوں تو آج ان سب کی قلعی کھل جاتی ہے۔ جو صاحب ہیں یہی لکھتے ہیں کہ مضمون لکھنے کی فرصت نہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مضمون لکھنے میں ایسی کون سی دماغ سوزی کی ضرورت ہے۔ کوئی سمجھ کی بات لکھنی ہوتو واقعی دماغ پر زور ڈالنا پڑے۔ یہاں تو میاں کام کو نہیں پوچھتے نام کو پوچھتے ہیں۔ یہ تھوڑی دیکھتے ہیں کہ کیا لکھا ہے۔ یہ دیکھتے ہیں کہ کس نے لکھا ہے۔اب یہ دیکھئے شوکت تھانوی صاحب کیا فرماتے ہیں۔ ’’حسامن۔‘‘ خدا معلوم یہ جان من لکھا ہے یا جناب من۔ ہا ں تو لکھتے ہیں، ’’تسلیم! مجھ پر سر پنچ کا بار اتنا پڑ گیا ہے کہ دوسرے کسی رسالے یا اخبار میں مضمون لکھنا میرے لیے دشوار ہی نہیں نا ممکن ہے۔ اگر آپ ہی میری مدد فرمائیں تو باعث ممنونیت ہوگا۔ امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے۔‘‘ دیکھی آپ نے ان کی چال۔ دو پیسے کا کارڈ لکھا۔ اور دو کام نکال لیے۔ ایک تو مضمون لکھنے سے انکار کر گئے۔ دوسرے خود مجھ سے مضمون لکھنے کا تقاضا کر بیٹھے۔ خیر کئی مضمون بھیج چکے ہیں۔ ان کی خواہش بھی پوری کر دو۔ احسان الرحمن مرحوم کا جو مضمون پچھلے مہینے آیا تھا، وہ میرے نام سے بھیج دو۔مددگار ممکن ہے کہ احسان کا کوئی عزیز یا رشتہ دار بھانڈا پھوڑ دے۔ایڈیٹر مہربانی کر کے آپ مجھے مشورہ دینے کی تکلیف نہ اٹھایا کیجئے۔ میں نے آپ کو اپنا مدد گار مقرر کیا ہے نہ کہ اتالیق۔ افسوس ہے کہ آپ اتنے دن سے یہاں کام کر رہے ہیں اور ابھی تک اسی طرح کورے کے کورے ہیں۔ احسان کے بھائی بند رونے پیٹنے میں لگے ہیں یا اخبار پڑھنے میں۔ تھوڑے دنوں میں پرچہ پرانا ہو جائے گا، پھر خدا نخواستہ اس کو پڑھتا ہی کون ہے۔ لانا یہ سامنے والا خط دینا۔ اوہو آپ ہیں۔ خدا کسی کو ایسا بھیک منگا نہ کرے۔ مضمون لکھتے ہیں تو ہم پر ایسا کون سا احسان کرتے ہیں۔ اجی احسان ہمارا ہے کہ ان کا مضمون چھاپ بھی دیتے ہیں۔ ورنہ کسی اور کو ایسا مضمون بھیجیں تو الٹا منہ پر مارے اور ان حضرت کی حالت یہ ہے کہ مضمون بھیجنا اور ساتھ ہی ہاتھ پھیلا دیا کہ لاؤ کچھ دلواؤ۔ اجی مدد گار صاحب آج کوئی منی آرڈر آیا ہے۔مددگار جی ہاں سوا چھے روپے کا ایک منی آرڈر آیا ہے۔ایڈیٹر اچھا تو، سوا دو روپے ان کو بھیج دو اور باقی چار روپے کاغذ والے کے حساب میں دے دو۔ دہن سگ بہ لقمہ دوختہ بہ۔مددگار پطرس صاحب کا خط آیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ میری کتاب کا اشتہار اخبار میں چھاپ دیجئے۔ روپیہ نہیں بھیجا۔ شاید مفت چھپوانا چاہتے ہیں۔ایڈیٹر اخبار سب بھر گیا یا کچھ حصہ باقی ہے۔مددگار ابھی چار صفحے خالی ہیں۔ایڈیٹر تو ان کی کتاب کا اشتہار جلی قلم سے پورے ایک صفحے میں چھاپ دو اور لکھ دو کہ آپ کی فرمائش کی تعمیل کر دی گئی۔ مگر آپ نے بہت تنگ وقت میں اشتہار چھاپنے بھیجا ہے۔ پورا ایک مضمون حذف کر کے اس اشتہار کے لیے جگہ نکالی ہے۔ آپ نے عرصے سے ہم کوکوئی مضمون سر فراز نہیں فرمایا۔ لوگ بے حد مشتاق ہیں۔ امید ہے کہ اس پرچے کو بھی کچھ عنایت کر کے ممنون فرمائیے گا۔ اور ہاں تمکین کاظمی صاحب کو ابھی لکھ دو کہ بعض اصحاب نے ’’نیازمندان لاہور‘‘ بن کر آپ کی ذات پر جو حملہ کیا ہے اس کا جواب ابھی تک آپ نے نہیں دیا۔ براہ کرم اس بارے میں خاموشی اختیار نہ کیجئے۔ آپ اردو ا دب کی روح رواں ہیں۔ آپ کاا س طرح چپ ہو جانا اچھا نہیں۔ آج یہ لکھا گیا ہے کل اس سے زیادہ لکھا جائے گا۔ آپ بھی لکھئے اور ضرور لکھئے۔مددگار مگر یہ تو لڑائی ہو جانے کی بات ہے۔ایڈیٹر اور میرا مقصد مدد گار سوائے اس کے کیا ہے۔ یہی لڑائیاں تو اخبار اور رسالوں کی جان ہوتی ہیں۔ مجرم علی چشتی کیوں بڑھے۔۔۔ مولوی نذیر احمد سے لڑ کر۔ مرزا حیرت نے کیوں نام پایا۔۔۔ مولانا حالی سے ٹکرا کر۔ میاں تم ان باتوں کو کیا جانو۔ جب تک دو ایک بڑے آدمیوں میں جوتی پیزار نہ ہو جائے، اخبار چلتا تھوڑی ہے۔ ہمت کر کے کسی بڑے آدمی کا خاکہ اڑانا شروع کر و۔ پھر دیکھو تمہارا اخبار کیا زنا زن بکتا ہے، اور کس شوق سے پڑھا جاتا ہے اور جو کہیں تم گالیوں پر اتر آئے تو مزا ہی مزا ہے۔ اگر ہزاروں کی اشاعت نہ ہو جائے تو میرا ذمہ۔ اور ہاں یہ تو بتانا وہ جودھ پور والے چغتائی صاحب کا بھی کوئی خط آیا نہیں۔ مددگار جی نہیں۔ایڈیٹر واللہ! یہ بھی عجیب آدمی ہے۔ ابھی آپ کو پیدا ہو کر ہی کتنے دن ہوئے ہیں جو اتنی مشیخت آ گئی ہے۔ سمجھتے ہوں گے کہ میں بھی کچھ لکھنے لگا ہوں۔ خیر رہنے دو۔ ان کی کتاب روح ظرافت پر وہ ریویو لکھوں گا کہ میاں یاد ہی کریں گے۔ ہم نے بھلے آدمی کے مضمون چھاپ چھاپ کر اور تعریفیں کر کے یہاں تک پہنچایا اور ہماری بلی اور ہمیں سے میاؤں کرنے لگی۔ خدا کی قدرت ہے جو دھ پور کو دیکھو اور اردو زبان کو دیکھو۔ ایک حرف تو صحیح لکھتے نہیں اور اس پر زبان دانی کا یہ دعویٰ ہے کہ معاذ اللہ۔ دیکھنا کل ان کی کتاب اور اردو کی دو تین لغات صبح ہی صبح مجھ کو دے دینا۔ ایک مضمون لکھ کر ان کو ٹھنڈا کیے دیتا ہوں۔ سمجھتے ہوں گے کہ مرزا فرحت للہ بیگ نے دیباچے میں جو تعریف کی ہے تو گویا لفٹننٹ گورنر کا سرٹیفکٹ مل گیا اور ہاں بھئی! مرزا صاحب نے بھی خطوں کا کوئی جواب دیا یا نہیں۔ قسم خدا کی کیا نالائق آدمی ہے۔ اکٹھے چار پوسٹ کارڈ روانہ کر چکا ہوں اور میرے یار نے ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔سب سے زیادہ اس شخص کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ واللہ اگر سارے ایڈیٹر اس کے پیچھے پڑ جائیں تو تھوڑے ہی دنوں میں دماغ درست ہو جاتا ہے۔ پرچے بھیجو تو چپکے سے رکھ لیتے ہیں۔ مضمون مانگو تو جواب تک نہیں دیتے۔ لیجئے یہ ہمارے مضمون نگاروں کی تہذیب ہے۔ ارے بھئی مدد گار صاحب دیکھنا۔ ان کے مضامین کے دونوں حصے چھپ کر ریویو کے لے آئے ہیں ذرا سوچ سمجھ کر ریویو کرنا۔ اس شخص سے ابھی بگاڑنا اچھا نہیں، ہاں جب تک آمد تنگ آمد کی نوبت آئے گی اس وقت دیکھا جائےگا۔ آج ایک خط اور لکھ دو۔ اور تھوڑی بہت خوشامد بھی کر دو۔ شاید کوئی مضمون بھیج دیں۔ جواب کے لئے ٹکٹ خط میں نہ رکھنا۔ وہ بندہ خدا ٹکٹ تک ہضم کر جائے گا مگر ہاں ان کے مضمونوں کی غلطیاں جمع کر تے رہو۔ کبھی نہ کبھی کام آئیں گی۔مددگار راشد صاحب تقاضا کر رہے ہیں کہ میری غزلیں بر وقت آپ کے رسالے میں طبع نہیں ہوتیں۔ اس کا کیا جواب دوں۔ایڈیٹر لکھ دو کہ آئندہ انشاء اللہ شکایت کا موقع نہ آئے گا۔ یار من۔ ان شاعروں سے بگاڑنا ٹھیک نہیں۔ یہ ضرور ہے کہ ان کا کلام کوڑی کا م کا نہیں ہوتا، اور نہ کوئی اس کو پڑھتا ہے لیکن رسالے کے کئی صفحہ تو بھر جاتے ہیں۔مددگار انہوں نے اپنی نظم میں پھر گاندھی جی کی تعریف لکھی ہے۔ایڈیٹر بھئی یہ بری بات ہے۔ ایک ہی مضمون پڑھتے پڑھتے طبیعت اکتا جاتی ہے۔ تم یہ کرو کہ ان کی نظم میں جہاں جہاں لفظ ’’گاندھی‘‘ آیا ہے وہاں ’’مالوی‘‘ کر دو۔مددگار اور مالوی بحر میں کیونکر آئے گا۔ایڈیٹر ارے میاں۔ تم بھی بچوں کی سی باتیں کرتے ہو۔ مجھے یہ تو بتاؤ قارئین کرام میں اللہ کے فضل سے نظم کو صحیح پڑھنے والے کتنے ہوتے ہیں اور خدا نخواستہ ان بحروں کو سمجھتا کون ہے۔ اخبار یا رسالے پڑھنے سے یہ مطلب تھوڑی ہوتا ہے کہ زبان درست ہو یا کوئی نصیحت حاصل کی جائے۔ اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح بے کار وقت کٹ جائے۔ اور ہاں تعلیمات کے ڈائرکٹر صاحب کو نہایت ادب سے لکھ دینا کہ ’’گو آپ کے تعلیمی مباحث ہمارے رسالے اور اخبار کے مقاصد میں نہیں آتے لیکن صرف آپ کی خاطر ہم اس قسم کے مضمون چھاپ رہے ہیں۔‘‘ اس کے بعد اپنے اخبار کے وسیع اثرات کا ذکر کر کے ضمناً یہ بھی بتا دینا کہ اسکولوں کے لیے اخبار کے پرچے خریدنے کی جو درخواست دی گئی تھی اس کا اگر جلد تصفیہ فرما دیا جائے تو مناسب ہے۔ اچھا اب جائیے۔ مجھے ایک مضمون لکھنا ہے۔ خدا حافظ۔\n\n(۳)\n\nایڈیٹر صاحب آرام کرسی پر لیٹے ہیں۔ گود میں کاغذوں کا ایک دستہ ہے۔ ہاتھ میں قلم ہے۔ آنکھیں بند ہیں۔ خراٹے لے رہے ہیں۔ ان کی ظاہری حالت پر نہ جانا۔ یہ بڑے آدمی ہیں۔ سوتے میں بھی مضمون لکھا کرتے ہیں۔ کیوں نہ ہو بڑی تقدیر والے آدمی ہیں۔ چار دفعہ جان بوجھ کر جیل خانے جا چکے اور سرکاری روٹیاں کھا چکے ہیں۔ سچ ہے جس کو خدا رکھے اس کو کون چکھے۔نوٹ اس مضمون کا اگر لطف اٹھانا ہے تو اس کے پہلے اور تیسرے حصے کو اسی لہجے میں پڑھئے جس لہجے میں پہلی جماعت کے طالب علم اردو کی پہلی کتاب پڑھتے ہیں۔ ہر لفظ کو کھینچتے ہیں اور ہر فقرے پر تان توڑتے ہیں۔ (مصنف)", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%B9%D8%B1_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D9%85%D8%B1%DB%81"} {"title": "ایڈیٹر کا حشر", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "prose", "section": "نثر", "year": null, "text_ur": "== ایڈیٹر کا حشر ==\n\n﷽\n\nپہلا ایکٹ\n\n(سین: لاہور میں ایک سجی ہوئی انگریری وضع کی کوٹھی۔ وقت شام کے ساڑھے سات بجے۔)\n\nنازلی بیگم (مسٹر عبد الواحد بیرسٹر کی ناز آفریں بیٹی جو اپنے بلند خیال باپ کی تہذیب پرستی کے تصدق میں انگلستان سے تعلیم کا پنج سالہ زمانہ ختم کر کے حال ہی میں وطن کو لوٹی ہے۔ لیمپ کی شعاعیں گلابی ساٹن کے فانوس میں سے چھن چھن کر دو چٹھیوں پر پڑ رہی ہیں جو اُس کے سامنے ایک تپائی پر رکھی ہیں اور وہ خود ایک پر تکلف کوچ پر بیٹھی ہوئی اپنے جی سے باتیں کر رہی ہے): ایک دن میں دو پیغام! کسے قبول کروں اور کسے رد کروں۔ جس طرح اسلام نے مردوں کو چار چار بیبیاں کر لینے کی اجازت دی ہے کاش عورتوں کو اس سے آدھا ہی حق دیا ہوتا تاکہ میں ایک وقت میں ان دونوں کے ساتھ عقد کر سکتی۔ دونوں اپنی اپنی جگہ میری گرویدگی پر حق رکھتے ہیں۔ ایک دولت مند اور ذی و جاہت ہے، دوسرا علم و فضل اور حسن ظاہری میں اپنا جواب آپ ہے۔ محمد اسلم ویسراے کی کونسل کا ممبر ہے۔ لکھ پتی زمیندار ہے اور ملک میں ایک خاص وقعت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ محمد یوسف اعلیٰ درجہ کا شاعر ہے۔ نہایت رنگین و مرصع نثر لکھتا ہے۔ اور اخبار “کوکبِ صبح” کے ایڈیٹر و مالک ہونے کے لحاظ سے معروف اشخاص کے حلقہ میں داخل ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کی آنکھوں میں کُچھ ایسا جادُو ہے کہ جس دن پہلی مرتبہ ٹھنڈی سڑک پر میری اُس کی نگاہیں چار ہوئی ہیں تو مجھ پر نیم مدہوشی کی کیفیت طاری ہو گئی۔ کاش محمد یوسف کے پاس آنریبل کی دولت ہوتی پھر تو مجھے فیصلہ کرنے میں مطلق تامل نہ ہوتا۔ لیکن اس وقت حیراں ہوں کہ کیا کروں۔ اسلم کو خشک جواب دیتے وقت سونے اور چاندی کے پہاڑ قلم کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں اور یوسف کے خیال کا دامن خواب میں نہیں چھوٹنے پاتا۔\n\n(بآوازِ بلند خط پڑھنے لگتی ہے)\n\nپیاری نازلی! مُجھے تُمھارے دل دادوں کے حلقہ میں داخل ہوئے اتنی مدّت گُذر چکی ہے کہ میرے دِل کی کیفیت سے تمھیں نا واقف نہ ہونا چاہیے۔ قصہ مختصر یہ کہ میں تم پر دل سے فریفتہ ہوں اور اگرچہ جانتا ہوں کہ میں تمھارے قابل نہیں لیکن پھر بھی یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا تم میری بی بی بننا پسند کرو گی۔ میں اس سوال کا جواب طلب کرنے کے لیے آج شام کے آٹھ بجے حاضر ہوں گا۔ خدا کرے یہ جواب باصواب ہو۔\n\nتمھارا دلداره\n\nمحمد اسلم\n\nاس خط کی شان ہی کہے دیتی ہے کہ اس کا لکھنے والا لگی لپٹی نہیں جانتا۔ کھرا اور بے لاگ آدمی ہے جس کی متانت تحریر عاشق کی کیفیت اضطرار کا مضحکہ اڑاتی ہے لیکن اس کے پختہ کار اور صاحب دولت ہونے میں شک نہیں اور مجھے اس کے یہ دونوں وصف دِل سے پسند ہیں۔ یوسف اگرچہ ذی ثروت نہیں یا کم از کم اس وقت اس کی مالی حالت اچھی نہیں اس لیے کہ اس کی کل کائنات اس کا اخبارات ہے جس کی اشاعت ایک ہزار سے زیادہ نہیں اور خریداروں کی بد مذاقی سے کم امید ہے کہ یہ تعداد کچھ بہت زیادہ ترقی کرے گی۔ لیکن کیا دولت ایسی شے ہے جس کی محبت کے سامنے کوئی حقیقت ہو! دل میں اگر کسی کے عشق کی شمع روشن ہو تو جھونپڑی میں رہ کر بھی محلوں کا لطف آ سکتا ہے۔ لیکن اگر حریمِ سینہ میں نور محبت کا اُجالا نہ ہو تو نقره و زر، دبیقی و دیبا، طاق و رواق، خدم و حشم سب ہیچ ہیں۔ آہ یوسف! جب تیری دلربا صورت، تیری متوالی آنکھیں، تیرا جذبہ زیر تکلم میرے چشم و گوش کی از خود رفتگی کا سرمایہ بنتا ہے تو مُجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں بجز تیرے اور کسی شے کا حقیقی وجود نہیں اور تو اگر پہلو میں ہو تو کوئی ایسی مصیبت نہیں جس پر مجھے راحت و عشرت کا گمان نہ ہو۔\n\n(دوسرا خط اُٹھا کر پڑھنے لگتی ہے۔)\n\nمیری جان میرے ایمان!\n\nکیا کہوں کتنی دفعہ جی چاہا ہے اور بے اختیار چاہا ہے کہ ان مضامین کو سپرد قلم کروں جن سے زیاده دلربا اور دل آویز مضمون میرے دماغ کو آج تک نہیں سوجھا لیکن اس تہی دستی و بے مایگی کا بُرا ہو جس نے میرے پیمانۂ تمنا میں تلخابۂ تامل ملا ملا دیا ہے۔ درد جب حد سے گذرتا ہے تو دوا ہو جاتا ہے۔ میرا جامِ محبت بھی آخر چھلک کر رہا۔ سچے عشق کی محفل میں مسند صدارت کہیں بچھی ہوئی نظر نہیں آتی۔ یہاں شاہ و گدا سب پہلو بہ پہلو بیٹھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ میں اگرچہ فقیر ہوں لیکن تُمھاری محبت کے صدقہ میں بادشاہوں سے اونچا دماغ رکھتا ہوں اور اسی لیے اپنے پیک خیال کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ تمھارے حجلۂ ناز تک بار پا سکے۔ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ ممکن نہیں کہ تمھارے آئینۂ دل میں میری محبت کا آفتاب منعکس نہ ہو۔ اسی امکان کو پیش نظر رکھ کر میں تم سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا میری غربت و تہی دستی کی پردہ پوش تمھاری الفت ہو سکتی ہے اور تم میرے مقدر کی عنان اپنے پاتھ میں لے سکتی ہو۔ اس یقین کو تمھارے دل تک کیسے پہنچاؤں کہ اگر میں زندہ ہوں تو محض اس لیے کہ تم پر اپنی ساری ہستی کو تا دم زيست نچھاور کرتا رہوں۔\n\nتمھارا کشتۂ الفت\n\nیوسف\n\nکیا اس خط کو پڑھ کر بھی جس کے لفظ لفظ سے درد ٹپک رہا ہے اور حرف حرف سے ایثار آفریں محبت کی بُو آ رہی ہے، روپیہ کی کوئی وقعت دل میں رہ سکتی ہے۔ روپیہ! لا حول و لا قوۃ!! اس لفظ کے نام سے مجھے گھن آنے لگی۔ یوسف! دونوں جہان کی دولت تمھاری زلیخائی سے مجھے باز نہیں رکھ سکتی۔ (اپنی ساعد سیمیں کو جس پر ایک جواہر نگار گھڑی بندھی ہوئی ہے بلند کر کے وقت دیکھتی ہے) ارے ساڑھے سات ہو گئے! (کمرے کے تابدان کی سجی ہوئی کارنس کی طرف بڑھ کر گھنٹی بجاتی ہے) محمد اسلم کے آنے کا وقت ہو گیا اور عجب نہیں کہ یوسف بھی آتا ہو۔\n\n(خطوں کو لفافہ میں ڈال کر جیب میں رکھ لیتی ہے۔ دروازہ کھلتا ہے اور خادمہ آتی ہے)\n\nخادمہ سے مخاطب ہو کر: دل افروز! اگر محمد یوسف آئیں تو انھیں اس کمره میں لے آنا، اور کوئی اور صاحب آئیں تو کہہ دینا کہ آج شام بی بی کو کسی سے ملنے کی فرصت نہیں ہے۔\n\nدل افروز: بیوی! بہت اچھا۔ لیکن اگر آنریبل محمد اسلم آئیں تو؟\n\nنازلی بیگم (گھرک کر): دل افروز! سڑن تو نہیں ہو گئی ہو۔ کیا میں نے صاف لفظوں میں نہیں کہہ دیا کہ کسی دوسرے صاحب سے میں نہ مل سکوں گی؟\n\nدل افروز: بہت خوب حضور۔\n\n(دل افروز چلی جاتی ہے)\n\nدوسرا ایکٹ\n\nآٹھ سال بعد\n\n(سین: محلہ بلی ماراں (دہلی) میں پانچ روپیہ مہینہ کرایہ کا ایک مختصر سا مکان۔ مکان کے ایک حصّہ میں اخبار “کوکب صبح” کا مطبع ہے اور دوسرے حصہ کے ایک ہی حجرے سے اخبار کے دفتر باورچی خانے کھانے سونے بیٹھنے کا گوناگوں کام لیا گیا ہے۔ فرش اور فرنیچر نام کو نہیں۔ چھت دھوئیں کی کلونس سے شب دیجور بنی ہوئی ہے۔ ہر طرف افلاس اور نحوست کے آثار نمودار ہیں۔)\n\nنازلی بیگم (جو اب مسٹر محمد یوسف ایڈیٹر “کوکب صبح” کی بیاہتا بی بی ہے، چار چھوٹے چھوٹے بچوں کو لیے جن میں سے ایک شیر خوار ہے اور چلا چلا کر رو رہا ہے ایک ٹوٹی کوچ پر بیٹھی ہے اور ایک بے ٹونٹی کی چا دانی سے تام چینی کی پیالیوں میں جن پر سے روغن اُڑ گیا ہے چا انڈیل رہی ہے): حامد! مکھن صرف جمعہ کے دن ملے گا۔ ضد نہ کرو اس وقت سوکھا توس ہی کھا لو۔ رشید! للچائی ہوئی نظروں سے اس انڈے کی طرف مت دیکھو۔ یہ تمھارے ابا جان کے لیے ہے۔ عائشہ! ننھا ایسا پھوٹ پھوٹ کر کیوں رو رہا ہے؟\n\nعائشہ: اماں جان! ننھے کی بوتل میں جو دودھ آپ نے ڈالا تھا وہ میرے منع کرتے کرتے رشید پی گیا اور بوتل کو پانی سے بھر کر کہنے لگا کہ اتنا سا بچہ دودھ اور پانی کا فرق کیا جانے؟ اے لو ابا جان آ گئے ۔\n\n(عائشہ بھاگی ہوئی باہر چلی جاتی ہے۔ مسٹر محمد یوسف کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ “کوکب صبح” کی ایک کاپی جسے کسی کاتب سے لکھوا کر ابھی ابھی لائے ہیں، ہاتھ میں ہے۔ ایڑی سے لے کر چوٹی تک فلاکت کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ چہرے پر ہجوم افکار اور کثرت آلام سے جو جھریاں پڑ گئی ہیں انھیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ جامۂ ہستی کی آستینیں گاذر قدرت نے وقت سے پہلے چُن دی ہیں۔ سرکنڈے کے ایک ڈگمگاتے ہوئے مونڈھے پر بیٹھ جاتے ہیں اور ایک آہ سرد بھر کر کچھ دیر تک ماتھے کو ہتھیلی پر ٹیکے ہوئے فکر میں ڈوبے رہتے ہیں۔ پھر)\n\nمسٹر محمد یوسف (تلخی کے لہجہ میں نازلی بیگم سے مخاطب ہو کر): نازلی! کیا اچھا ہو اگر گھر کے انتظام میں ذرا زیادہ سلیقہ اور کفایت شعاری سے کام لو۔ جب سے گورنمنٹ نے ڈھائی ہزار کی ضمانت طلب کی ہے جو تمھارا زیور بیچ کر میں نے داخل کی حالت روز بروز نازک ہوتی چلی جا رہی ہے۔\n\nنازلی بیگم (شوہر پر ملامت آمیز نظر ڈال کر): اس سے زیادہ کفایت کیا خاک کروں۔ روٹی کے ایک سوکھے ٹکڑے اور پانی کے ایک آبخورے تک تو نوبت آ پہنچی ہے اور مشكل روح و جسم کا اتحاد قائم ہے۔ میں تم سے نہ کہتی تھی کہ اس اخبار کو بند کر دو اور کوئی اور دهندا پیٹ پالنے کا اختیار کرو لیکن تم نے میری ایک نہ سنی، اور ایک نامہ نگار کے بے راہ رو قلم کا خمیازہ کھینچ کر اس حالت کو پہنچ گئے۔ گورنمنٹ کو تمھاری اصلی نیت کے ساتھ کیا ہمدردی۔ یہاں تو ذرا لغزش ہوئی اور ضمانت کے شکنجے میں جکڑے گئے۔ خواہ اس میں کسی کا گھر بار ہی کیوں نہ بک جائے۔ میں جانتی ہوں کہ تم اپنے بادشاہ کے پسینے کے ایک قطرے کی جگہ اپنے سارے جسم کا خون بہانے کے لیے تیار ہو اور بادشاہ سلامت کے میز پر اگر کوکب صبح کی ایک کاپی رکھ دی جایا کرے تو مجھے یقین ہے کہ وہ اس ایک قابل گرفت مضمون پر جس کی پاداش میں تم سے ڈھائی ہزار کی ضمانت جبراً قہراً لی گئی ہے، اغماض کا پردہ ڈال دیں اور باقی مضامین کے صلہ میں جن کے حرف حرف سے وفا و ارادت کی بو آتی ہے تمھیں سی۔ آئی۔ ای بنا دیں۔ لیکن اس قانون کا کیا علاج جس کو نہ جذبات کی پروا ہے نہ احساسات کا خیال۔ یہ تو ایک آگ ہے جس میں نیک و بد وفادار و سرکش جو پڑا، جل گیا ؎\n\nاگر صد سال گبر آتش فروزد\nچو یک دم اندراں ماند بسوزد\n\nاب تم ہی بتاؤ کہ میں خود تو فاقہ بھی کر گذروں مگر ان چھوٹے چھوٹے بچوں کی مصیبت کیوں کر دیکھوں (زار و قطار رونے لگتی ہے)۔\n\nمحمد یوسف: میں نے حماقت کی کہ شادی کر لی۔ اس ملک میں اول تو ایڈیٹر کی مٹی پہلے ہی خراب ہے۔ پریس ایکٹ نے اس کی رہی سہی حیثیت بھی کھو دی اور ادخال ضمانت کے وقت جس کا خوف شامت اعمال کی طرح ہر وقت سر پر سوار ہے، ناظرین کی بد مذاقی و سرد مہری شاه مدار کا حکم رکھتی ہے جنھیں مرے کو مارنے کے فن میں ید طولیٰ حاصل ہے۔ آدمی اکیلا ہو تو ان سختیوں کو جھیل بھی جائے۔ لیکن بال بچوں کو ان مصیبتوں میں اپنے ساتھ شریک ہوتے دیکھنا ایک صدمۂ جان فرسا ہے (دروازے کے پٹ بڑے زور سے کھلتے ہیں اور عائشہ ہانپتی کانپتی بے تحاشا اندر داخل ہوتی ہے۔)\n\nعائشہ: امی جان! خدا بخش قصاب باہر کھڑا ہے اور کہتا ہے کہ میرا تین مہینے کا حساب چکتا کر دو ورنہ میں آج سے گوشت اُدھار نہ دوں گا۔ نہال چند بزاز کا آدمی بھی اپنے حساب کی فرد لیے مطبع میں موجود ہے اور عبد الله پریس مین سے باتوں باتوں میں کہہ رہا تھا کہ اگر آٹھ دن کے اندر اندر ہمارا روپیہ نہ ادا کیا گیا تو مطبع قرق کرا لوں گا۔\n\nنازلی بیگم: خدا کرے نہال چند کی دھمکی سچی ہو تاکہ جو کام طلائی چوڑیوں کی سفارش پر گورنمنٹ کے ہاتھوں انجام پاتے پاتے رک گیا تھا وہ میرے ایک ہی پھول دار ریشمی گون کی ضد کی وجہ سے جو میری شادی کی یادگار ہے، نہال چند کر دکھائے۔\n\nمحمد يوسف: نازلی! اس قدر افسردہ مت ہو۔ مصیبت کے دن کچھ ہمیشہ تھوڑے ہی رہیں گے۔ آخر راحت کا زمانہ بھی کبھی آئے ہی گا۔\n\nدور گردوں گر دو روزے بر مراد ما نگشت\nدائما یکساں نباشد کار دوراں غم مخور\nہر غمے را شادی در پے بود دل شاد دار\nہیچ دردے نیست کورا نیست درماں غم مخور\n\n“کوکب صبح” تو چلتا چلاتا نظر نہیں آتا۔ اپنا خرچ ہی نکالے جائے تو غنیمت ہے۔ وہ اصول یا بے اصولیاں جو اخبار کو آج کل کامیاب بناتی ہیں، مجھے پسند ہیں۔ نہ میں مسلمان جہلا کو خوش کرنے کے لیے ہندوؤں کو گالیاں دینے کا روادار ہوں۔ نہ ہندوؤں کے حلقہ میں اپنے اخبار کو ہر دل عزیز بنانے کے لیے ان کی قابلِ اعتراض باتوں کو لائق تحسین ظاہر کرنے کا حامی ہوں۔ نہ گورنمنٹ کی جھوٹی خوشامد کر کے اپنے شیشۂ ضمیر کو ارباب ذوق سلیم کے استہزا کا مد مقابل بنانا چاہتا ہوں۔ پھر آج کل کے طوفان بے تمیزی میں میرے اخبار کی اشاعت بڑھے تو کیوں کر بڑھے۔ اس کو میں بند بھی نہیں کرنا چاہتا اس لیے کہ اس کا بند کر دینا گویا حق و راستی کے منہ میں جان بوجھ کر کپڑا ٹھونس دینا ہوگا۔ اس لیے میں اپنی آمدنی کے بڑھانے کی کوئی اور ہی فکر کرتا ہوں۔ دو کتابیں لکھی رکھی ہیں ایک ناول ہے اور دوسری ایک علمی کتاب کا ترجمہ ہے۔ یہ چھپ جائیں تو عجب نہیں کہ ہزار پانچ سو روپیہ مل جائے۔\n\nنازلی بیگم: تم ہمیشہ سے خیالی پلاؤ پکانے کے عادی ہو۔ کتابیں بیچ کر اگر نفع حاصل کرنا چاہو گے تو رہا سہا اثاث البیت بھی نیلام ہو جائے گا۔ تم ہو کس خیال میں۔ مولوی شبلی اور خواجہ حالی جیسے مصنفوں تک کی کتابیں تو بکتی ہی نہیں، تمھاری کتابوں کو کون پوچھے گا۔ یہ میں نے مانا کہ تم اچھے لکھنے والے ہو لیکن یہ زمانہ اہل قلم کے لیے ساز گار نہیں ہے۔ علمی کتابوں کا تو نام مت لو۔ کہنے کو سب کہتے ہیں کہ علمی کتابوں کے تراجم سے اردو لٹریچر میں اضافہ ہونا چاہیے اور بڑے بڑے شاندار فقروں میں ان لوگوں کو ملامت کی جاتی ہے جو دماغ رکھتے ہیں لیکن اس سے کام نہیں لیتے۔ لیکن جب کوئی کتاب جو حقیقت میں قابلِ قدر ہو چھپتی ہے تو چھاپنے والا اس کی چھپائی کا خرچ بھی نہیں نکال سکتا۔ باقی رہے ناول، سو آج کل ان کا بازار بھی سرد پڑا ہوا ہے۔ میں آج تک یہی نہیں سمجھی کہ پبلک پسند کس چیز کو کرتی ہے اور اس کا مذاق کیا ہے۔\n\nمحمد یوسف: تو پھر کیا کروں۔ ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھا رہوں۔\n\nنازلی بیگم: بھانڈ بنو۔ نقلیں کرو۔ بندر نچاؤ۔ سرکار رس اور دربار نشین لوگوں کی ہاں میں ہاں ملاؤ۔ جھوٹ بولو۔ خوشامد کرو۔ اس قسم کی ہر بات کرو۔ لیکن خدا کے لیے مضمون نگاری یا تصنیف و تالیف کو ذریعۂ معاش بنانے کے خبط سے باز آ جاؤ۔\n\nمحمد یوسف اُٹھ کر چلا جاتا ہے اور کچھ دیر کے بعد نازلی بیگم ایک ٹوٹے ہوئے آئینہ کے سامنے اپنے عکس سے یوں خطاب کرتی ہے: “کیا تو اسی حوروش لڑکی کی تصویر ہے جس کا یہ خیال تھا کہ عشق و محبت کی دولت وہ دولت ہے جس کے مقابلہ میں ساری دنیا کے خزانے ہیچ ہیں؟ کیا رعنائی شباب کبھی تیرے حصے میں آئی تھی؟ یہ اُترا ہوا چہره، یہ زرد رخسار، یہ فکر مند آنکھیں، یہ نحیف و لاغر جسم جس میں بجز پوست و استخوان کے کچھ باقی نہیں کس کا ہے؟ (کانپ کر منہ پھیر لیتی ہے اور ایک ٹولی ہوئی کرسی پر بیٹھ جاتی ہے) کیا اب بھی اگر مجھے موقع ملے تو میں یوسف ہی کو پسند کروں؟ کیا اس زندگی سے اس کی ان تلخیوں کو جانتے ہوئے میں مقابلہ کروں؟ ہرگز نہیں! ہزار بار نہیں!! اسلم مجھے اب دیکھے تو کیا وہ مجھے پہچان لے؟ کیا اس کی شادی ہو چکی ہے؟ کاش میں پھر لاہور میں ہوں۔ جوانی کا عالم ہو اور مجھے اسلم و یوسف دونوں میں انتخاب کرنے کا موقع دیا جائے۔ اس زندگی سے تو میں بیزار ہوں۔ (اپنی ساڑھی کا پلو ہاتھ میں تھام لیتی ہے) او میلی کچیلی ململ کی ساڑھی! مجھے تجھ سے نفرت ہے (پلو کو پھاڑ ڈالتی ہے) اور اگرچہ میں جانتی ہوں کہ دوسری ساڑھی جو دھوبن کے ہاں گئی ہوئی ہے ابھی نہیں آئی اور کل صبح میرے پاس پہننے کو کچھ بھی نہیں پھر بھی میں تجھے نوچوں گی، نوچوں گی، پھاڑوں گی۔”\n\n(پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہے)\n\nتیسرا ایکٹ\n\n(سین: وہی جو پہلے ایکٹ میں تھا یعنی لاہور میں ایک سجی ہوئی انگریزی وضع کی کوٹھی۔ پہلے اور دوسرے ایکٹ کا درمیانی وقفہ پندرہ منٹ ہے۔ نازلی بیگم آنکھیں ملتی ہوئی کوچ سے اٹھ بیٹھتی ہے اور چاروں طرف گھبرائی ہوئی نظر ڈالتی ہے۔ اس کے چہرے کی مایوسی تعجب سے، تعجب بے اعتباری سے اور بے اعتباری اطمینان سے بدل جاتی ہے۔)\n\nنازلی بیگم: خدا کا شکر ہے کہ یہ محض ایک خواب پریشان تھا۔ (یوسف کے خط کے پرزے پرزے چاروں طرف بکھرے ہوئے پاتی ہے) مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے اسے چاک کیا ہو۔ البتہ ململ کی ساڑھی کو جو میں خواب میں پہنے ہوئے تھی میں نے ضرور پھاڑا تھا۔ ململ کی ساڑھی! (نفرت کے لہجہ میں) میں نے کبھی نہیں پہنی اور نہ کبھی پہنوں گی۔ شکر ہے کہ ابھی تک نکاح کی زنجیر میرے پاؤں میں نہیں پڑی اور اس سے بھی بڑھ کر شکر کا مقام یہ ہے کہ وہ چار ڈراؤنے بچے میرے نہیں ہیں۔ اگرچہ عائشہ کی شکل ضرور پیاری تھی۔ پریس ایکٹ اور اردو اخباروں کی حالتِ زار کے مباحث پڑھنے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے۔ پھر بھی اگر یوسف کے ساتھ شادی کرنے سے میرا یہی حشر ہونے والا ہے تو میں نے فیصلہ کر لیا۔ (گھنٹی بجاتی ہے)\n\nدل افروز: کیا حضور نے گھنٹی بجائی تھی؟\n\nنازلی بیگم: ہاں۔ یہ چا کی کشتی اٹھا کر لے جاؤ۔ اور سنو۔ آنریبل مسٹر محمد اسلم آئیں تو انھیں یہاں لے آنا اور کوئی صاحب آئیں تو کہہ دو کہ مجھے فرصت نہیں۔\n\nدل افروز: لیکن بیوی! مجھے خیال پڑتا ہے کہ آپ نے مجھ سے یہ فرمایا تھا کہ مسٹر محمد یو۔۔۔\n\nنازلی بیگم: نہیں دل افروز، میں ان سے نہیں ملوں گی۔ سمجھی؟\n\nدل افروز: جی ہاں حضور۔ خوب سمجھی۔\n\nدل افروز چلی جاتی ہے۔\n\n(دس دن بعد مسٹر محمد یوسف اپنے دفتر میں کوکب صبح کی اگلی اشاعت کے لیے لیڈر لکھنے بیٹھے ہیں جس کا موضوع یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت جارج خامس خلد اللہ ملکہم کی رونق افروزیِ ہند کی یادگار میں بہ تقریب جشن مبارک تاج پوشی قانون مطابع منسوخ ہو جانا چاہیے۔ لاکھ قلم کو دوات میں ڈبوتے ہیں، رہ رہ کر سر کھجاتے ہیں مگر نہ آمد کام دیتی ہے نہ آورد۔ دماغ طرح طرح کے پریشان کن خیالات کی جولانگاه بنا ہوا ہے۔ مجبور ہو کر قلم ہاتھ سے رکھ دیتے ہیں اور اپنے جی سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔)\n\nمسٹر محمد یوسف: میں احمق تھا جو اس بے استطاعتی پر اپنے آپ کو نازلی بیگم کے قابل سمجھا۔ آج کل دنیا پر روپیہ کی حکومت ہے۔ نہ کوئی علم و فضل کو پوچھتا ہے، نہ كمال و لياقت کو۔ محمد اسلم میرے بوٹ کا تسمہ باندھنے کی قابلیت نہیں رکھتا۔ آنریبل ہونے پر اس کی لیاقت کی یہ کیفیت ہے کہ پرائمری تعلیم کو باغیانہ خیالات کا پیش خیمہ سمجھ کر ملک کے لیے مضر قرار دینے کی مضحکہ انگیز لغویت کا اقدام کرتا ہے۔ مگر چونکہ روپیہ والا ہے، اس لیے نازلی بیگم جھٹ اُس کے آغوش میں چلی جاتی ہے۔ میں ایسی بی بی سے باز آیا۔ مجھے میکالے اور ٹنی سن اور اسپنسر پڑھی ہوئی حریت پسند بی بی کی ضرورت نہیں جو اس اعلیٰ تعلیم پانے پر بھی اس درجہ کنیز زر اور غرض پرست ہو۔ مجھے تو وہی پردہ نشین اردو پڑھی ہوئی قرآن کی آیتوں کا مطلب سمجھی ہوئی بی بی چاہیے جو میری شریک رنج و راحت ہو سکے اور میرے دال دلیے کو پلاؤ قلیہ سمجھنے کی قابلیت رکھتی ہو۔\n\n(پردہ گر پڑتا ہے۔)\n\nنوٹ: مندرجہ بالا قصہ اگرچہ اوریجنل نہیں ہے لیکن قرین قیاس ضرور ہے۔ ان آخری مشہور و معروف ضمانت طلبیوں سے ہی کسی ایڈیٹر کا حال محمد یوسف کا سا ہو گیا ہو تو ہمیں کیا معلوم۔ ہز اکسیلنسی لارڈ ہارڈنگ بہادر (جنھوں نے قضیہ کانپور کو ختم کر کے ایک چوتھائی ہندوستان کیوں، کل ہندوستان کے دلوں کو موہ لیا ہے) کاش اس پریس ایکٹ کی طرف بھی توجہ فرمائیں اور اپنے عہد کی یادگاروں میں اس کی تنسیخ کی یادگار بھی چھوڑتے جائیں تو بڑا کام کریں۔ یہ اوراق ہم نے حضور پر نور ہی کے ملاحظہ گرامی کے لیے شائع کیے ہیں۔ ان کا ترجمہ اُن کی نظر سے گذرے گا تو وہ یقیناً بے چین ہو جائیں گے۔ خدا ایسے رحیم و کریم ویسراے کو ہمارے سروں پر مدت تک رکھے اور ہر ادنیٰ اعلیٰ حاکم پر ان کا سایہ ڈالے۔\n\nمحمد الواحدی\n\nایڈیٹر نظام المشايخ دہلی\n\n۲۵؍ اکتوبر ۱۹۱۳ء؁", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%B9%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%B4%D8%B1"} {"title": "ایک آرزو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "دُنیا کی محفلوں سے اُکتا گیا ہوں یا رب!\nکیا لُطف انجمن کا جب دل ہی بُجھ گیا ہو\n\nشورش سے بھاگتا ہوں، دل ڈھونڈتا ہے میرا\nایسا سکُوت جس پر تقریر بھی فدا ہو\n\nمرتا ہوں خامشی پر، یہ آرزو ہے میری\nدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو\n\nآزاد فکر سے ہوں، عُزلت میں دن گزاروں\nدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو\n\nلذّت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میں\nچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہو\n\nگُل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا\nساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہو\n\nہو ہاتھ کا سَرھانا، سبزے کا ہو بچھونا\nشرمائے جس سے جلوت، خلوت میں وہ ادا ہو\n\nمانوس اس قدر ہو صورت سے میری بُلبل\nننھّے سے دل میں اُس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو\n\nصف باندھے دونوں جانب بُوٹے ہرے ہرے ہوں\nندّی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو\n\nہو دل فریب ایسا کُہسار کا نظارہ\nپانی بھی موج بن کر، اُٹھ اُٹھ کے دیکھتا ہو\n\nآغوش میں زمیں کی سویا ہُوا ہو سبزہ\nپھِر پھِر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہو\n\nپانی کو چھُو رہی ہو جھُک جھُک کے گُل کی ٹہنی\nجیسے حَسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو\n\nمہندی لگائے سورج جب شام کی دُلھن کو\nسُرخی لیے سنہری ہر پھُول کی قبا ہو\n\nراتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم\nاُمّید اُن کی میرا ٹُوٹا ہوا دِیا ہو\n\nبجلی چمک کے اُن کو کُٹیا مری دکھا دے\nجب آسماں پہ ہر سُو بادل گھِرا ہوا ہو\n\nپچھلے پہر کی کوئل، وہ صبح کی مؤذِّن\nمَیں اُس کا ہم نوا ہوں، وہ میری ہم نوا ہو\n\nکانوں پہ ہو نہ میرے دَیر وحرم کا احساں\nروزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہو\n\nپھُولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے\nرونا مرا وضو ہو، نالہ مری دُعا ہو\n\nاس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے\nتاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو\n\nہر دردمند دل کو رونا مرا رُلا دے\nبے ہوش جو پڑے ہیں، شاید انھیں جگا دے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88"} {"title": "ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہے\nلطف پینے میں نہیں ہے بلکہ کھو جانے میں ہے\n\nمعنی آدم کجا اور صورت آدم کجا\nیہ نہاں خانے میں تھا اب تک نہاں خانے میں ہے\n\nخرمن بلبل تو پھونکا عشق آتش رنگ نے\nرنگ کو شعلہ بنا کر کون پروانے میں ہے\n\nجلوۂ حسن پرستش گرمئ حسن نیاز\nورنہ کچھ کعبے میں رکھا ہے نہ بت خانے میں ہے\n\nرند خالی ہاتھ بیٹھے ہیں اڑا کر جزو و کل\nاب نہ کچھ شیشے میں ہے باقی نہ پیمانے میں ہے\n\nمیں یہ کہتا ہوں فنا کو بھی عطا کر زندگی\nتو کمال زندگی کہتا ہے مر جانے میں ہے\n\nجس پہ بت خانہ تصدق جس پہ کعبہ بھی نثار\nایک صورت ایسی بھی سنتے ہیں بت خانے میں ہے\n\nکیا بہار نقش پا ہے اے نیاز عاشقی\nلطف سر رکھنے میں کیا سر رکھ کے مر جانے میں ہے\n\nبے خودی میں دیکھتا ہوں بے نیازی کی ادا\nکیا فنائے زندگی خود حسن بن جانے میں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C_%D8%A2%D8%AC_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب\nخون جگر ودیعت مژگان یار تھا\n\nاب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو\nتوڑا جو تو نے آئنہ تمثال دار تھا\n\nگلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں\nجاں دادۂ ہوائے سر رہ گزار تھا\n\nموج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال\nہر ذرہ مثل جوہر تیغ آب دار تھا\n\nکم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب\nدیکھا تو کم ہوے پہ غم روزگار تھا\n\nکس کا جنون دید تمنا شکار تھا\nآئینہ خانہ وادی جوہر غبار تھا\n\nکس کا خیال آئنۂ انتظار تھا\nہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا\n\nجوں غنچہ و گل آفت فال نظر نہ پوچھ\nپیکاں سے تیرے جلوۂ زخم آشکار تھا\n\nدیکھی وفاۓ فرصت رنج و نشاط دہر\nخمیازہ یک درازی عمر خمار تھا\n\nصبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسدؔ\nجس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%82%D8%B7%D8%B1%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%A8"} {"title": "ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہے", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہے\nجو ہجر میں تڑپائے وہی رات بڑی ہے\n\nیہ ضعف کا عالم ہے کہ تقدیر کا لکھا\nبستر پہ ہوں میں یا کوئی تصویر پڑی ہے\n\nبیتابیٔ دل کا ہے وہ دلچسپ تماشا\nجب دیکھو شب ہجر مرے در پہ کھڑی ہے\n\nدیکھا تو زمانہ گلۂ ہجر سے کم تھا\nسمجھا تھا کہ فرقت سے شب وصل بڑی ہے\n\nرونے سے حیا شمع کی ظاہر ہو تو کیوں کر\nعریاں ہے مگر بیچ میں محفل کے کھڑی ہے\n\nاب تک مجھے کچھ اور دکھائی نہیں دیتا\nکیا جانئے کس آنکھ سے یہ آنکھ لڑی ہے\n\nمر جاؤں جو میں وادئ الفت میں عجب کیا\nمقصد ہے مرا سخت تو منزل بھی کڑی ہے\n\nکب آؤ گے وقت آ گیا دنیا سے سفر کا\nوقفہ ہے کوئی دم کا نہ ساعت نہ گھڑی ہے\n\nکد ہے وہ مجھے کوچ میں آنے نہیں دیتے\nاپنا ہے خیال ان کو مجھے دل کی پڑی ہے\n\nہمت کو نظر پا نہیں سکتی کسی صورت\nدل کوئی بڑا ہے جو کوئی آنکھ بڑی ہے\n\nاے حشر نمائندۂ رفتار ٹھہر جا\nاس زلف کے صدقے جو تری پاؤں پڑی ہے\n\nتڑپا دیا دل گوندھ کے گیسو شب وصلت\nمیں جانتا تھا پیٹھ پہ پھولوں کی چھڑی ہے\n\nبالائے جبیں خون جب آیا تو عرق کیا\nاے جلوہ گہہ حسن تری دھوپ کڑی ہے\n\nآدھی سے زیادہ شب غم کاٹ چکا ہوں\nاب بھی اگر آ جاؤ تو یہ رات بڑی ہے\n\nآرائش گیسو کو حسیں مانگ رہے ہیں\nثاقبؔ کی غزل کیا کوئی موتی کی لڑی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ایک بحری قزاّق اور سکندر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "سکندر\nصلہ تیرا تری زنجیر یا شمشیر ہے میری\nکہ تیری رہزنی سے تنگ ہے دریا کی پہنائی!\n\nقزّاق\nسکندر! حیف، تُو اس کو جواں مردی سمجھتا ہے\nگوارا اس طرح کرتے ہیں ہم چشموں کی رُسوائی؟\nترا پیشہ ہے سفّاکی، مرا پیشہ ہے سفّاکی\nکہ ہم قزاّق ہیں دونوں، تو مَیدانی، میں دریائی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%D8%AD%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B2%D8%A7%D9%91%D9%82_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DA%A9%D9%86%D8%AF%D8%B1"} {"title": "ایک برچھی سے مار جاتے ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک برچھی سے مار جاتے ہو\nدر پر آ جب پکار جاتے ہو\n\nہم سے بدتے ہو شرط پھر دیکھو\nبار بار ہار ہار جاتے ہو\n\nاسی رستے سے دیکھتا ہوں میں\nجب نہ تب ہو دو چار جاتے ہو\n\nبھلا جاتے تو ہو کھڑے ہی کھڑے\nہم سے ہو ہمکنار جاتے ہو\n\nیوں چڑھا جوتا کس کمر ہو چلے\nجب سے گنگا کے پار جاتے ہو\n\nیاد میں کس کی غن غنا اُنّا\nیوں بجاتے ستار جاتے ہو\n\nاظفریؔ کس کے شوق میں دوڑے\nننگے پا منہ نہار جاتے ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%D8%B1%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "ایک تضاد", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کوہ سے زریں اذیت کے گزر جانے کے بعد\nسرخ نغمہ شام کا اک پل میں مر جانے کے بعد\nہاں پس از فریاد و قلب دہر کی لرزش کے بعد\nدن کی تم آلود زرد و لالہ گوں کاوش کے بعد\nتیرگی کے داغ دل سے کس طرح دھوؤں گا میں\nجاگتے ہی جاگتے پھر صبح تک روؤں گا میں\n\nہاں وہی میں دن کو جس کی آنکھ تھی اور آفتاب\nہاں وہی میں جس نے دیکھا دہر لبریز حیات\nذہن انسانی مرا کہتا ہے کھا کر پیچ و تاب\nدیکھ لے حسن مناظر کو نہیں حاصل ثبات\nقلب میخانے کی ہا و ہو کا عادی ہے مرا\nکچھ تعلق ہی نہیں مجھ کو سکون سنگ سے\nمجھ کو خوش آتی نہیں ہے امن کی شب گوں فضا\nروح کو تسکیں ملے گی ایک پیہم جنگ سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AA%D8%B6%D8%A7%D8%AF"} {"title": "ایک تنہا خاطر محزوں جسے افکار سو", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک تنہا خاطر محزوں جسے افکار سو\nایک مجھ بیمار سے وابستہ ہیں آزار سو\n\nہے تعجب نوک مژگاں سے جو خوں آلودہ ہوں\nخوں گرفتہ ایک دل اور خنجر خونخوار سو\n\nمو بہ مو کیوں کر نہ ہو مجھ کو گرفتاریٔ زلف\nکافر عشق بتاں میں ایک اور زنار سو\n\nدو بہ دو کب ہو سکیں اس کے اثرؔ ہے آنکھ نار\nکیا ہوا، ہیں دیکھنے کہنے کو گر اغیار سو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D8%B2%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%81%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D9%88"} {"title": "ایک تو بیٹھے ہو دل کو مرے کھو اور سنو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک تو بیٹھے ہو دل کو مرے کھو اور سنو\nتس پہ کہتے ہو \"دیا ہے تجھے\" لو اور سنو\n\nمے پیو آپ جو دیویں مجھے تلچھٹ احباب\nان سے کہتے ہو اسے خاک نہ دو اور سنو\n\nقصہ اپنا تو میں سب تم سے کہا اے یارو\nچپکے کیوں بیٹھے ہو کچھ تم بھی کہو اور سنو\n\nچٹکیاں لیتے ہو جب پاس مرے بیٹھو ہو\nآپ نے زور نکالی ہے یہ خو اور سنو\n\nستم طرفہ تو یہ ہے کہ مجھے روتا دیکھ\nہنس کے کہتے ہو ذرا اور بھی رو اور سنو\n\nابھی دفتر ہیں بغل میں مری اے ہم نفسو\nایک ہی بات میں اتنا نہ رکو اور سنو\n\nمصحفیؔ ڈر نہیں میرے تئیں رسوائی سے\nبات اپنی مجھے کہنی اسے گو اور سنو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%86%D9%88"} {"title": "ایک تو تری دولت تھا ہی دل یہ سودائی", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک تو تری دولت تھا ہی دل یہ سودائی\nتس اوپر قیامت ہے بے کسی و تنہائی\n\nتیرے تئیں تو لازم تھا توبہ کا سبب پوچھے\nمے کشی سے اے ساقی گو کہ ہم قسم کھائی\n\nدل تو ایچ پیچوں سے دام خط کے چھوٹا تھا\nزلف پھر نئے سر سے سر اوپر بلا لائی\n\nجی تو بے قراری سے جاں بہ لب ہے اے ناصح\nکو تحمل و طاقت صبر اور شکیبائی\n\nعمر عاشق و معشوق صرف ناز و حیرت ہے\nحسن ہے ادا پرداز عشق ہے تماشائی\n\nرات اس کی محفل میں سر سے جل کے پاؤں تک\nشمع کی پگھل چربی استخواں نکل آئی\n\nحسب حال حاتمؔ ہے شعر میرزا مظہرؔ\nاس سے پھر زیادہ کچھ ہے عبارت آرائی\n\nدل ہمیشہ می خواہد طوف کوئے جاناں را\nہائے بے پر و بالی وائے ناتوانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AA%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ایک تھی عورت", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہ جی چاہتا ہے کہ تم ایک ننھی سی لڑکی ہو اور ہم تمہیں گود میں لے کے اپنی بٹھا لیں\nیوں ہی چیخو چلاؤ ہنس دو یوں ہی ہاتھ اٹھاؤ ہوا میں ہلاؤ ہلا کر گرا دو\nکبھی ایسے جیسے کوئی بات کہنے لگی ہو\nکبھی ایسے جیسے نہ بولیں گے تم سے\nکبھی مسکراتے ہوئے شور کرتے ہوئے پھر گلے سے لپٹ کر کرو ایسی باتیں\nہمیں سرسراتی ہوا یاد آئے\nجو گنجان پیڑوں کی شاخوں سے ٹکرائے دل کو انوکھی پہیلی بجھائے مگر وہ پہیلی سمجھ میں نہ آئے\n\nکوئی سرد چشمہ ابلتا ہوا اور مچلتا ہوا یاد آئے\nجو ہو دیکھنے میں ٹپکتی ہوئی چند بوندیں\nمگر اپنی حد سے بڑھے تو بنے ایک ندی بنے ایک دریا بنے ایک ساگر\nیہ جی چاہتا ہے کہ ہم ایسے ساگر کی لہروں پہ ایسی ہوا سے بہائیں وہ کشتی جو بہتی نہیں ہے\nمسافر کو لیکن بہاتی چلی جاتی ہے اور پلٹ کر نہیں آتی ہے ایک گہرے سکوں سے ملاتی چلی جاتی ہے\nیہ جی چاہتا ہے کہ ہم بھی یوں ہی چیخیں چلائیں ہنس دیں یوں ہی ہاتھ اٹھائیں\nہوا میں ہلائیں ہلا کر گرا دیں\nکبھی ایسے جیسے کوئی بات کہنے لگے ہیں\nمگر تم ہمیں گود میں لے کے اپنی بٹھا لو\nمچلنے لگیں تو سنبھالو\nکبھی مسکراتے ہوئے شور کرتے ہوئے پھر گلے سے لپٹ کر کریں ایسی باتیں\nتمہیں سرسراتی ہوا یاد آئے\nوہی سرسراتی ہوا جس کے میٹھے فسوں سے دوپٹہ پھسل جاتا ہے\nوہی سرسراتی ہوا جو ہر انجان عورت کے بکھرے ہوئے گیسوؤں کو\nکسی سوئے جنگل پہ گنگھور کالی گھٹا کا نیا بھیس دے کر\nجگا دیتی ہے\n\nتمہیں سرسراتی ہوا یاد آئے\nہمیں سرسراتی ہوا یاد آئے\nیہ جی چاہتا ہے\nمگر اپنی حد سے بڑھے تو ہر اک شے بنے ایک ندی بنے ایک دریا بنے ایک ساگر\nوہ ساگر جو بہتے مسافر کو آگے بہاتا نہیں ہے جھکولے دئیے جاتا ہے بس\nجھکولے دئیے جاتا ہے\nاور پھر جی ہی جی میں مسافر یہ کہتا ہے اپنی کہانی نئی تو نہیں ہے\nپرانی کہانی میں کیا لطف آئے\nہمیں آج کس نے کہا تھا پرانی کہانی سناؤ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا\nظاہراً کاغذ ترے خط کا غلط بردار ہے\n\nجی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں\nہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے\n\nآگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا\nہر کوئی درماندگی میں نالہ سے ناچار ہے\n\nہے وہی بد مستی ہر ذرہ کا خود عذر خواہ\nجس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے\n\nمجھ سے مت کہہ تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی\nزندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بے زار ہے\n\nآنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا\nتجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%D8%A7_%D8%AD%D8%B1%D9%81_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D9%B9_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ایک جاگہ پہ نہیں ہے مجھے آرام کہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک جاگہ پہ نہیں ہے مجھے آرام کہیں\nہے عجب حال مرا صبح کہیں شام کہیں\n\nچشم نے جو یمنی لخت جگر کے کھو دے\nان نگیں کا تو نہیں سنتے ہم اب نام کہیں\n\nاپنی قسمت میں مئے صاف تو ساقی معلوم\nکاش پھینکے تو ادھر درد تہ جام کہیں\n\nاے فلک طرح سے مکڑی کی تو جالوں کو نہ پور\nوہ جو شہباز ہیں آتے ہیں تہہ دام کہیں\n\nاس کمر سے نگہ شوق لپٹتی تو ہے لیک\nجی یہ دھڑکے ہے کہ آ جائے نہ الزام کہیں\n\nتم نے کی دل کی طلب ہم بھی کہاویں گے ولیک\nیوں یہ فرمائشیں ہوتی ہیں سرانجام کہیں\n\nپائے دیوار سے پھر میری طرح وہ نہ اٹھا\nجن نے دیکھا تجھے یکبار سر بام کہیں\n\nعذر تقصیر بھی چاہوں گا میں اس سے اے دل\nٹک تو خاموش ہو دینے سے وہ دشنام کہیں\n\nعزم کعبہ کا تو قائمؔ تو کیا ہے لیکن\nرہن مے کیجو نہ واں جامۂ احرام کہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%D8%A7%DA%AF%DB%81_%D9%BE%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ایک جلا وطن کی واپسی", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "پھر خبر گرم ہے وہ جان وطن آتا ہے\nپھر وہ زندانیٔ زندان وطن آتا ہے\nوہ خراب گل و ریحان وطن آتا ہے\nمصر سے یوسف کنعان وطن آتا ہے\nکوئی معشوق بصد شوکت و ناز آتا ہے\nسرخ بیرق ہے سمندر میں جہاز آتا ہے\n\nرند بے کیف کو تھی بادہ و ساغر کی تلاش\nناظر منظر فطرت کو تھی منظر کی تلاش\nایک بھونرے کو خزاں میں تھی گل تر کی تلاش\nخود صنم خانۂ آذر کو تھی آذر کی تلاش\nمژدہ اے دوست کہ وہ جان بہار آ پہنچا!\nاپنے دامن میں لیے برق و شرار آ پہنچا!\n\nاپنا پرچم وہ کچھ اس انداز سے لہراتا ہے\nرنگ اغیار کے چہروں سے اڑا جاتا ہے\nکوئی شاداں، کوئی حیراں، کوئی شرماتا ہے\nکون یہ ساحل مشرق پہ نظر آتا ہے\nاپنے میخانے کا اک میکش بے حال ہے یہ\nہاں وہی مرد جواں بخت و جواں سال ہے یہ\n\nمرد سرکش تجھے آدم کی کہانی کی قسم\nروح انساں کے تقاضائے نہانی کی قسم\nجذبۂ عیش کی ہر شورش فانی کی قسم\nتجھ کو اپنی اسی بد مست جوانی کی قسم\nآ کہ اک بار گلے سے تو لگا لیں تجھ کو\nاپنے آغوش محبت میں اٹھا لیں تجھ کو\n\nنطق تو اب بھی ہے پر شعلہ فشاں ہے کہ نہیں\nسوز پنہاں سے تری روح تپاں ہے کہ نہیں\nتجھ پہ یہ بار غلامی کا گراں ہے کہ نہیں\nجسم میں خون جوانی کا رواں ہے کہ نہیں\nاور اگر ہے تو پھر آ تیرے پرستار ہیں ہم\nجنس آزادیٔ انساں کے خریدار ہیں ہم\n\nساقی و رند ترے ہیں مے گلفام تری\nاٹھ کہ آسودہ ہے پھر حسرت ناکام تری\nبرہمن تیرے ہیں کل ملت اسلام تری\nصبح کاشی تری، سنگم کی حسیں شام تری\nدیکھ شمشیر ہے یہ ساز ہے یہ جام ہے یہ\nتو جو شمشیر اٹھا لے تو بڑا کام ہے یہ\n\nدیکھ بدلا نظر آتا ہے گلستاں کا سماں\nساغر و ساز نہ لے، جنگ کے نعرے ہیں یہاں\nیہ دعائیں ہیں وہ مظلوم کی آہوں کا دھواں\nمائل جنگ نظر آتا ہے ہر مرد جواں\nسرفروشان بلاکش کا سہارا بن جا\nاٹھ اور افلاک بغاوت کا ستارا بن جا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%D9%84%D8%A7_%D9%88%D8%B7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%D8%A7%D9%BE%D8%B3%DB%8C"} {"title": "ایک جلوے کی ہوس وہ دم رحلت بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک جلوے کی ہوس وہ دم رحلت بھی نہیں\nکچھ محبت نہیں ظالم تو مروت بھی نہیں\n\nاس کے کوچے میں کہاں کش مکش بیم و رجا\nخوف دوزخ بھی نہیں خواہش جنت بھی نہیں\n\nذوق مستی کی مذمت نہ کر اتنی اے شیخ\nکیا تجھے نشۂ ذوق مئے الفت بھی نہیں\n\nبے نیازی بھی اٹھا لوں میں ترے ناز کی طرح\nکیا وہ طاقت نہ رہی مجھ میں تو ہمت بھی نہیں\n\nکس طرح کہئے کہ دیدار دکھایا اس نے\nباغ جنت بھی نہیں روز قیامت بھی نہیں\n\nزہد و تقویٰ و اصلاح در حسن عمل\nکچھ نہیں مجھ میں مگر کیا تری رحمت بھی نہیں\n\nجذب کامل سے اسے کھینچ لو اے حضرت دل\nکیسے درویش ہو کچھ تم میں کرامت بھی نہیں\n\nکبھی آسیؔ سے ہم آغوش نہ دیکھا تجھ کو\nاثر جذبۂ دل اہل محبت بھی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%B3_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%85_%D8%B1%D8%AD%D9%84%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ایک حاجی مدینے کے راستے میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "قافلہ لُوٹا گیا صحرا میں اور منزل ہے دُور\nاس بیاباں یعنی بحرِ خشک کا ساحل ہے دُور\n\nہم سفر میرے شکارِ دشنۂ رہزن ہوئے\nبچ گئے جو، ہو کے بے دل سُوئے بیت اللہ پھرے\n\nاُس بخاری نوجواں نے کس خوشی سے جان دی!\nموت کے زہراب میں پائی ہے اُس نے زندگی\n\nخنجرِ رہزن اُسے گویا ہلالِ عید تھا\n’ہائے یثرِب‘ دل میں، لب پر نعرۂ توحید تھا\n\nخوف کہتا ہے کہ یثرِب کی طرف تنہا نہ چل\nشوق کہتا ہے کہ تُو مسلم ہے، بے باکانہ چل\n\nبے زیارت سُوئے بیت اللہ پھر جاؤں گا کیا\nعاشقوں کو روزِ محشر منہ نہ دِکھلاؤں گا کیا\n\nخوفِ جاں رکھتا نہیں کچھ دشت پیمائے حجاز\nہجرتِ مدفونِ یثرِبؐ میں یہی مخفی ہے راز\n\nگو سلامت محملِ شامی کی ہمراہی میں ہے\nعشق کی لذّت مگر خطروں کی جاں کاہی میں ہے\n\nآہ! یہ عقلِ زیاں اندیش کیا چالاک ہے\nاور تاثّر آدمی کا کس قدر بے باک ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AD%D8%A7%D8%AC%DB%8C_%D9%85%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ایک حسن فروش سے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "محبت آہ تیری یہ محبت رات بھر کی ہے\nتری رنگین خلوت کی لطافت رات بھر کی ہے\nترے شاداب ہونٹوں کی عنایت رات بھر کی ہے\nترے مستانہ بوسوں کی حلاوت رات بھر کی ہے\nمہ روشن ہے تو اور تیری طلعت رات بھر کی ہے\nگل شبو ہے تو اور تیری نکہت رات بھر کی ہے\n\nتو کیا جانے کہ سودائے محبت کس کو کہتے ہیں\nمحبت اور محبت کی لطافت کس کو کہتے ہیں\nغم ہجراں ہے کیا اور سوز الفت کس کو کہتے ہیں\nجنوں ہوتا ہے کیسا اور وحشت کس کو کہتے ہیں\nتو کیا جانے غم شب ہائے فرقت کس کو کہتے ہیں\nترے اظہار الفت کی فصاحت رات بھر کی ہے\n\nنگاہ مست سے دل کو مرے تڑپا رہی ہے تو\nادائے شوق سے جذبات کو بھڑکا رہی ہے تو\nمجھے بچے کی صورت ناز سے پھسلا رہی ہے تو\nکھلونے دے کے بوسوں کے مجھے بہلا رہی ہے تو\nمگر نادان ہے تو آہ دھوکا کھا رہی ہے تو\n\nترا روئے درخشاں ہے بظاہر ماہتاب آسا\nترے ہونٹوں کی شادابی ہے رنگت میں شراب آسا\nترے رخسار کی مہتابیاں ہیں آفتاب آسا\nمگر ان کی حقیقت ہے حباب آسا سراب آسا\nکہ غازے کی صباحت اس پہ چھائی ہے نقاب آسا\nاور اس غازے کی بھی جھوٹی صباحت رات بھر کی ہے\n\nیہ مانا تیری خلوت کی فضا روح گلستاں ہے\nتری خلوت کا ہر فانوس اک مہتاب لرزاں ہے\nترا ابریشمی بستر نہیں اک خواب خنداں ہے\nترا جسم آفت دل تیرا سینہ آفت جاں ہے\nتو اک زندہ ستارہ ہے جو تنہائی میں تاباں ہے\nمگر کہتے ہیں تاروں کی حکومت رات بھر کی ہے\n\nلطافت سے ہیں خالی تیرے کمھلائے ہوئے بوسے\nطراوت سے ہیں خالی تیرے مرجھائے ہوئے بوسے\nنزاکت سے ہیں خالی تیرے گھبرائے ہوئے بوسے\nحقیقت سے ہیں خالی تیرے شرمائے ہوئے بوسے\nمحبت سے ہیں خالی تیرے گھبرائے ہوئے بوسے\nاور ان بوسوں کی یہ جھوٹی حلاوت رات بھر کی ہے\n\nترے زہریلے بوسے مجھ کو جس دم یاد آئیں گے\nمرے ہونٹوں پہ کالے ناگ بن کر تھرتھرائیں گے\nپشیمانی کے جذبے مجھ کو دیوانہ بنائیں گے\nمرے انکار کو نفرت کے خنجر گدگدائیں گے\nمرے دل کی رگوں میں غم کے شعلے تیر جائیں گے\nمیں سمجھا! آہ سمجھا! یہ مسرت رات بھر کی ہے\n\nمجھے دیوانہ کرنے کی مسرت بے خبر کب تک\nرہے گی میرے دل میں تیری الفت کارگر کب تک\nمجھے مسحور رکھے گا یہ عشق بے ثمر کب تک\nحقیقت کی سحر آخر نہ ہوگی پردہ در کب تک\nمجھے مغلوب کر کے خوش ہے تو ظالم مگر کب تک\nتری یہ فتح میری یہ ہزیمت رات بھر کی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%B4_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ایک خط", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "چغد", "year": "1948", "text_ur": "تمہارا طویل خط ملا جسے میں نے دو مرتبہ پڑھا۔ دفتر میں اس کے ایک ایک لفظ پر میں نے غور کیا۔ اور غالباً اسی وجہ سے اس روز مجھے رات کے دس بجے تک کام کرنا پڑا، اس لیے کہ میں نے بہت سا وقت اس غورو فکر میں ضائع کردیا تھا۔ تم جانتے ہو اس سرمایہ پرست دنیا میں اگر مزدور مقررہ وقت کے ایک ایک لمحے کے عوض اپنی جان کے ٹکڑے تول کر نہ دے تو اسے اپنے کام کی اجرت نہیں مل سکتی۔ لیکن یہ رونا رونے سے کیا فائدہ!\n\nشام کو عزیز صاحب، جن کے یہاں میں آج کل ٹھہرا ہوں، دفتر میں تشریف لائے اور کمرے کی چابیاں دے کر کہنے لگے، ’’میں ذرا کام سے کہیں جا رہا ہوں۔ شاید دیر میں آنا ہو۔ اس لیے تم میرا انتظار کیے بغیر چلے جانا۔‘‘ لیکن پھر فوراً ہی چابیاں جیب میں ڈالیں اور فرمانے لگے، ’’نہیں، تم میرا انتظار کرنا،میں دس بجے تک واپس آجاؤں گا۔‘‘\n\nدفتری کام سے فارغ ہوا تو دس بج چکے تھے۔ سخت نیند آرہی تھی۔ آنکھوں میں بڑی پیاری گدگدی ہورہی تھی۔ جی چاہتا تھا کرسی پر ہی سو جاؤں۔نیند کے غلبے کے اثر میں میں نے گیارہ بجے تک عزیز صاحب کا انتظار کیا مگر وہ نہ آئے۔ آخر کار تھک کر میں نے گھر کی راہ لی۔ میرا خیال تھا کہ وہ ادھر ہی ادھر گھرچلے گئے ہوں گے اور آرام سے سو رہے ہوں گے۔ آہستہ آہستہ نصف میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد میں تیسری منزل پر چڑھا اور جب اندھیرے میں دروازے کی کنڈی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو آہنی تالے کی ٹھنڈک نے مجھے بتایا کہ عزیز صاحب ابھی تشریف نہیں لائے۔\n\nسیڑھیاں چڑھتے وقت میرے تھکے ہوئے اعضا سکون بخش نیند کی قربت محسوس کرکے اور بھی ڈھیلے ہوگئے، اور جب مجھے ناامیدی کا سامنا کرنا پڑا تو مضمحل ہوگئے۔ دیر تک چوبی زینے کی ایک سیڑھی پرسر زانوؤں میں دبائے عزیز صاحب کا انتظار کرتا رہا مگر وہ نہ آئے۔ آخر کار تھک ہار کر میں اٹھا اور تین منزلیں اتر کر نیچے بازار میں آیا اور ایسے ہی ٹہلنا شروع کردیا۔ ٹہلتے ٹہلتے پل پر جا نکلا جس کے نیچے سے ریل گاڑیاں گزرتی ہیں۔ اسی پل کے پاس ہی ایک بڑا چوک ہے۔\n\nیہاں تقریباً آدھ گھنٹے تک میں بجلی کے ایک کھمبے کے ساتھ لگ کر کھڑا رہا اور سامنے نیم روشن بازار کو اس امید پر دیکھتا رہا کہ عزیز صاحب گھر کی جانب لوٹتے نظر آجائیں گے۔آدھ گھنٹے کے اس انتظار کے بعد میں نے دفعتاً سر اٹھا کر کھمبے کے اوپر دیکھا، بجلی کا قمقمہ میری ہنسی اڑا رہا تھا۔ جانے کیوں!\n\nتھکاوٹ اور نیند کے شدید غلبے کے باعث میری کمر ٹوٹ رہی تھی اور میں چاہتا تھا کہ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جاؤں۔ بند دوانوں کے تھڑے مجھے نشست پیش کررہے تھے مگر میں نے ان کی دعوت قبول نہ کی۔ چلتا چلتا پل کی سنگین منڈیر پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔\n\nکشادہ بازار بالکل خاموش تھا۔ آمدوفت قریب قریب بند تھی، البتہ کبھی کبھی دور سے موٹر کے ہارن کی رونی آواز خاموش فضا میں لرزش پیدا کرتی ہوئی اوپر کی طرف اڑ جاتی تھی۔ میرے سامنے سڑک کے دو رویہ بجلی کے بلند کھمبے دور تک پھیلے چلے گئے تھے جو نیند اور اس کے احساس سے عاری معلوم ہوتے تھے۔ ان کو دیکھ کر مجھے روس کے مشہور شاعر میاتلف کی نظم کے چند اشعار یاد آگئے۔ یہ نظم چراغ ہائے سرراہ سے معنون کی گئی ہے۔\n\nمیا تلف، سڑک کے کنارے جھلملاتی روشینوں کو دیکھ کر کہتا ہے\n\nیہ ننھے چراغ، یہ ننھے سردار\nصرف اپنے لیے چمکتے ہیں\nجو کچھ یہ دیکھتے ہیں، جو کچھ یہ سنتے ہیں\nکسی کو نہیں بتاتے\n\nروسی شاعر نے کچھ درست ہی کہا ہے۔۔۔ میرے پاس ہی ایک گز کے فاصلے پر بجلی کا کھمبا گڑا تھا اور اس کے اوپر بجلی کا ایک شوخ چشم قمقمہ نیچے جھکا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں روشن تھیں مگر وہ میرے سینے کے تلاطم سے بے خبر تھا۔ اسے کیا معلوم مجھ پر کیا بیت رہی ہے۔\n\nسگریٹ سلگانے کے لیے میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو تمہارے وزنی لفافے پرپڑا۔ ذہن میں تمہارا خط پہلے ہی سے موجود تھا۔ چنانچہ میں نے لفافہ کھول کر بسنتی رنگ کے کاغذ نکال کر انھیں پڑھنا شروع کیا۔تم لکھتے ہو، ’’کبھی تم شیطان بن جاتے ہو اور کبھی فرشتہ نظر آنے لگتے ہو۔‘‘ یہاں بھی دو تین حضرات نے میرے متعلق یہی رائے قائم کی ہے اور مجھے یقین سا ہوگیا ہے کہ میں واقعی دو سیرتوں کا مالک ہوں۔ اس پر میں نے اچھی طرح غور کیا ہے اور جو نتیجہ اخذ کیا ہے، وہ کچھ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے:\n\nبچپن اور لڑکپن میں مَیں نے جو کچھ چاہا، وہ پورا نہ ہونے دیا گیا، یوں کہوکہ میری خواہشات کچھ اس طرح پوری کی گئیں کہ ان کی تکمیل میرے آنسوؤں اور میری ہچکیوں سے لپٹی ہوئی تھی۔ میں شروع ہی سے جلد باز اور زُود رنج رہا ہوں۔ اگر میرا جی کسی مٹھائی کھانے کو چاہا ہے اور یہ چاہ عین وقت پر پوری نہیں ہوئی تو بعد میں میرے لیے اس خاص مٹھائی میں کوئی لذت نہیں رہی۔ ان امور کی وجہ سے میں نے ہمیشہ اپنے حلق میں ایک تلخی سی محسوس کی ہے اور اس تلخی کی شدت بڑھانے میں اس افسوس ناک حقیقت کا ہاتھ ہے کہ میں نے جس سے محبت کی، جس کو اپنے دل میں جگہ دی، اس نے نہ صرف میرے جذبات کو مجروح کیا بلکہ میری اس کمزوری ’’محبت‘‘ سے زبردستی ناجائز فائدہ بھی اٹھایا۔ وہ مجھ سے دغا فریب کرتے رہے،اور لطف یہ ہے کہ میں ان تمام دغا بازیوں کے احساس کے باوجود ان سے محبت کرتا رہا۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اپنی ہر نئی چال کی کامیابی پر بہت مسرور ہوتے تھے کہ انھوں نے مجھے بے وقوف بنا لیا اور میری بے وقوفی دیکھو کہ میں سب کچھ جانتے ہوئے بے وقوف بن جاتا تھا۔\n\nجب اس ضمن میں مجھے ہر طرف سے ناامیدی ہوئی، یعنی جس کسی کو میں نے دل سے چاہا، اس نے میرے ساتھ دھوکا کیا تو میری طبیعت بجھ گئی اور میں نے محسوس کیا کہ ریگستان میں ایک بھونرے کے مانند ہوں، جسے رس چوسنے کے لیے حد نظر تک کوئی پھول نظر نہیں آسکتا لیکن اس کے باوجود محبت کرنے سے باز نہ رہا اور حسبِ معمول کسی نے بھی میرے اس جذبے کی قدر نہ کی۔ جب پانی سر سے گزر گیا اور مجھے اپنے نام نہاد دوستوں کی بے وفائیاں اور سرد مہریاں یاد آنے لگیں تو میرے سینے کے اندر ایک ہنگامہ سا برپا ہوگیا۔ میرے جذباتی، سرمدی اور ناطق وجود میں ایک جنگ سی چھڑ گئی۔\n\nناطق وجود ان لوگوں کو ملعون و مطعون گردانتے ہوئے اور گزشتہ واقعات کی افسوس ناک تصویر دکھاتے ہوئے اس بات کا طالب تھا کہ میں آئندہ سے اپنا دل پتھر کا بنا لوں اور محبت کو ہمیشہ کے لیے باہر نکال پھینکوں، لیکن جذباتی وجود ان افسوسناک واقعات کو دوسرے رنگ میں پیش کرتے ہوئے مجھے فخر کرنے پر مجبور کرتا تھا کہ میں نے زندگی کا صحیح راستہ اختیار کیا ہے۔ اس کی نظر میں ناکامیاں ہی کامیابیاں تھیں۔ وہ چاہتا تھا کہ میں محبت کیے جاؤں کہ یہی کائنات کی روحِ رواں ہے۔ تحت الشعور وجود اس جھگڑے سے میں بالکل الگ تھلگ رہا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس پر ایک نہایت ہی عجیب و غریب نیند کا غلبہ طاری ہے۔\n\nیہ جنگ خدا جانے کس نا مبارک روز شروع ہوئی کہ اب میری زندگی کا ایک جزو بن کے رہ گئی ہے۔ دن ہو یا رات، جب کبھی مجھے فرصت کے چند لمحات میسر آتے ہیں، میرے سینے کے چٹیل میدان پر میرا ناطق وجود اور جذباتی وجود ہتھیار باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور لڑنا شروع کردیتے ہیں۔ ان لمحات میں جب ان دونوں کے درمیان لڑائی زوروں پر ہو، اگر میرے ساتھ کوئی ہم کلام ہو تو میرا لہجہ یقیناًکچھ اور قسم کا ہوتا ہے۔ میرے حلق میں ایک ناقابل بیان تلخی گھل رہی ہوتی ہے۔\n\nآنکھیں گرم ہوتی ہیں اور جسم کا ایک ایک عضو بے کل ہوتا ہے۔ میں بہت کوشش کیا کرتا ہوں کہ اپنے لہجے کو درشت نہ ہونے دوں، اور بعض اوقات میں اس کوشش میں کامیاب بھی ہو جاتا ہوں۔ لیکن اگر میرے کانوں کو کوئی چیز سنائی دے یا میں کوئی ایسی چیز محسوس کروں جو میری طبیعت کے یکسر خلاف ہے تو پھر میں کچھ نہیں کرسکتا۔ میرے سینے کی گہرائیوں سے جوکچھ بھی اٹھے، زبان کے راستے باہر نکل جاتا ہے۔ اور اکثر اوقات جو الفاظ بھی ایسے موقع پر میری زبان پر آتے ہیں، بے حد تلخ ہوتے ہیں۔ ان کی تلخی اور درشتی کا احساس مجھے اس وقت کبھی نہیں ہوا۔\n\nاس لیے کہ میں اپنے اخلاص سے ہمیشہ اور ہر وقت باخبر رہتا ہوں اور مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں کبھی کسی کو دکھ نہیں پہنچا سکتا۔ اگر میں نے اپنے ملنے والوں میں سے یا کسی دوست کو ناخوش کیا ہے تو اس کا باعث میں نہیں ہوں بلکہ یہ خاص لمحات ہیں جب میں دیوانے سے کم نہیں ہوتا یا تمہارے الفاظ میں ’’شیطان‘‘ ہوتا ہوں، گو یہ لفظ بہت سخت ہے اور اس کا اطلاق میری دیوانگی پر نہیں ہوسکتا۔\n\nجب تمہارا پچھلے سے پچھلا خط موصول ہوا تھا، اس وقت میرا ناطق وجود جذباتی وجود پر غالب تھا اور میں اپنے دل کے نرم و نازک گوشت کو پتھر میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ میں پہلے ہی سے اپنے سینے کی آگ میں پھنکا جارہا تھا کہ اوپر سے تمہارے خط نے تیل ڈال دیا۔\n\nتم نے بالکل درست کہا ہے،’’تم درد مند دل رکھتے ہو، گو اس کو اچھا نہیں سمجھتے۔‘‘ میں اس کو اچھا کیوں نہیں سمجھتا۔۔۔ اس سوال کا جواب ہندوستان کا موجودہ انسانیت کش نظام ہے جس میں لوگوں کی جوانی پر بڑھاپے کی مہر ثبت کردی جاتی ہے۔\n\nمیرا دل درد سے بھرا ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ میں علیل ہوں اور علیل رہتا ہوں۔ جب تک درد مندی میرے سینے میں موجود ہے، میں ہمیشہ بے چین رہوں گا۔ تم شاید اسے مبالغہ یقین کرو مگر یہ واقعہ ہے کہ درد مندی میرے لہو کی بوندوں سے اپنی خوراک حاصل کررہی ہے، اور ایک دن ایسا آئے گا جب درد ہی درد رہ جائے گا اور تمہارا دوست دنیا کی نظروں سے غائب ہو جائے گا۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ درد مندی کے اس جذبے نے مجھے کیسے کیسے بھیانک دکھ پہنچائے ہیں۔ یہ کیا کم ہے کہ میری جوانی کے دن بڑھاپے کی راتوں میں تبدیل ہوگئے ہیں اور جب یہ سوچتا ہوں تو اس بات کا تہیّہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ مجھے اپنا دل پتھر بنا لینا چاہیے۔ لیکن افسوس ہے اس درد مندی نے مجھے اتنا کمزور بنا دیا ہے کہ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا، اور چونکہ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا اس لیے میری طبیعت میں عجیب و غریب کیفیتیں پیدا ہوگئی ہیں۔\n\nشعر میں اب بھی صحیح نہیں پڑھ سکتا، اس لیے کہ شاعری سے مجھے بہت کم دلچسپی رہی ہے۔ لیکن مجھے اس بات کا کامل طور پر احساس ہے کہ میری طبیعت شاعری کی طرف مائل ہے۔ شہر میں بسنے والے لوگوں کی ’’وزنی شاعری‘‘ مجھے پسند نہیں۔ دیہات کے ہلکے پھلکے نغمے مجھے بے حد بھاتے ہیں۔ یہ اس قدر شفاف ہوتے ہیں کہ ان کے پیچھے دل دھڑکتے ہوئے نظر آسکتے ہیں۔ تمہیں حیرت ہے کہ میں ’’رومانی حزنیہ‘‘ کیونکر لکھنے لگا اور میں اس بات پر خود حیران ہوں۔\n\nبعض لوگ ایسے ہیں جو اپنے محسوسات کو دوسروں کی زبان میں بیان کرکے اپنا سینہ خالی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ ’’ذہنی مفلس‘‘ ہیں اور مجھے ان پر ترس آتا ہے۔ یہ ذہنی افلاس مالی افلاس سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ میں مالی مفلس ہوں مگر خدا کا شکر ہے، ذہنی مفلس نہیں ہوں، ورنہ میری مصیبتوں کی کوئی حد نہ ہوتی۔ مجھے یہ کتنا بڑا اطمینان ہے کہ میں جوکچھ محسوس کرتا ہوں، وہی اپنی زبان میں بیان کرلیتا ہوں۔\n\nمیں نے اپنے افسانوں کے متعلق کبھی غور نہیں کیا۔ اگر ان میں کوئی چیز بقول تمہارے ’’جلوہ گر‘‘ ہے تو میرا بے کل باطن ۔ میرا ایمان نہ تشدد پر ہے اور نہ عدم تشدد پر۔ دونوں پر ہے اور دونوں پر نہیں۔ موجودہ تغیر پسند ماحول میں رہتے ہوئے میرے ایمان میں استقلال نہیں رہا۔ آج میں ایک چیز کو اچھا سمجھتا ہوں لیکن دوسرے روز سورج کی روشنی کے ساتھ ہی اس چیز کی ہئیت بدل جاتی ہے۔ اس کی تمام اچھائیاں برائیاں بن جاتی ہیں۔ انسان کا علم بہت محدود ہے اور میرا علم محدود ہونے کے علاوہ منتشر بھی ہے۔ ایسی صورت میں تمہارے اس سوال کا جواب میں کیونکر دے سکتا ہوں!\n\n’’مجھ‘‘ پر مضمون لکھ کر کیا کرو گے پیارے! میں اپنے قلم کی مقراض سے اپنا لباس پہلے ہی تار تار کر چکا ہوں۔ خدا کے لیے مجھے اور ننگا کرنے کی کوشش نہ کرو۔ میرے چہرے سے اگر تم نے نقاب اٹھا دی تو تم دنیا کو ایک بہت ہی بھیانک شکل دکھاؤ گے۔ میں ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ ہوں جس پر میرا قلم کبھی کبھی پتلی جھلی منڈھتا رہتا ہے۔ اگر تم نے جھلیوں کی یہ تہہ ادھیڑ ڈالی تو میرا خیال ہے جو ہیبت تمہیں منہ کھولے نظر آئے گی، اسے دیکھنے کی تاب تم خود میں نہ پاؤ گے۔\n\nمیری کشمیر کی زندگی ، ہائے میری کشمیر کی زندگی! مجھے معلوم ہے تمہیں میری زندگی کے اس خوشگوار ٹکڑے کے متعلق مختلف قسم کی باتیں معلوم ہوتی رہی ہیں۔ یہ باتیں جن لوگوں کے ذریعے تم تک پہنچتی ہیں، ان کو میں اچھی طرح جانتاہوں۔ اس لیے تمہارا یہ کہنا درست ہے کہ تم ان کو سن کر ابھی تک کوئی صحیح رائے مرتب نہیں کرسکے۔ لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ کہنے کے باوجود تم نے ایک رائے مرتب کی اور ایسا کرنے میں بہت عجلت سے کام لیا ہے۔\n\nاگر تم میری تمام تحریروں کو پیش نظر رکھ لیتے تو تمہیں یہ غلط فہمی ہرگز نہ ہوتی کہ میں کشمیر میں ایک سادہ لوح لڑکی سے کھیلتا رہا ہوں۔ میرے دوست تم نے مجھے صدمہ پہنچایا ہے۔\n\nوزیر کون تھی۔۔۔ اس کا جواب مختصر یہی ہو سکتا ہے کہ وہ ایک دیہاتی لڑکی تھی۔ جوان اور پوری جوان! اس پہاڑی لڑکی کے متعلق، جس نے میری کتاب زندگی کے کچھ اوراق پر چند حسین نقوش بنائے ہیں۔ میں بہت کچھ کہہ چکا ہوں۔\n\nمیں نے وزیر کوتباہ نہیں کیا۔اگر ’’تباہی‘‘ سے تمہاری مراد ’’جسمانی تباہی‘‘ ہے تو وہ پہلے ہی سے تباہ شدہ تھی، اور وہ اسی تباہی میں اپنی مسرت کی جستجو کرتی تھی۔ جوانی کے نشے میں مخمور اس نے اس غلط خیال کو اپنے دماغ میں جگہ دے رکھی تھی کہ زندگی کا اصل حظ اور لطف اپنا خون کھولانے میں ہے، اور وہ اس غرض کے لیے ہر وقت ایندھن چنتی رہتی تھی۔ یہ تباہ کن خیال اس کے دماغ میں کیسے پیدا ہوا، اس کے متعلق بہت کچھ کہا جاتا ہے۔ ہماری صنف میں ایسے افراد کی کمی نہیں جن کا کام صرف بھولی بھالی لڑکیوں سے کھیلنا ہوتا ہے۔ جہاں تک میرا اپنا خیال ہے، وزیر اس چیز کا شکار تھی جسے تہذیب و تمدن کا نام دیا جاتا ہے۔\n\nایک چھوٹا سا پہاڑی گاؤں ہے جو شہروں کے شور و شر سے بہت دور ہمالیہ کی گود میں آباد ہے، اور اب تہذیب و تمدن کی بدولت شہروں سے اس کا تعارف کرادیا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں شہروں کی گندگی اس جگہ منتقل ہونا شروع ہوگئی ہے۔\n\nخالی سلیٹ پر تم جو کچھ بھی لکھو گے، نمایاں طورپر نظر آئے گا اور صاف پڑھا جائے گا۔ وزیر کا سینہ بالکل خالی تھا۔ دنیوی خیالات سے پاک اور صاف لیکن تہذیب کے کھردرے ہاتھوں نے اس پر نہایت بھدے نقش بنا دیے تھے جو مجھے اس کی غلط روش کا باعث نظر آتے ہیں۔\n\nوزیر کامکان یا جھونپڑا، سڑک کے اوپرپہاڑ کی ڈھلوان میں واقع تھا اور میں اس کی ماں کے کہنے پر ہر روز اس سے ذرا اوپر چیڑ کے درختوں کی چھاؤں میں زمین پر دری بچھا کر کچھ لکھا پڑھا کرتا تھا اور عام طور پروزیر میرے پاس ہی اپنی بھینس چرایا کرتی تھی۔ چونکہ ہوٹل سے ہر روز دری اٹھا کر لانا اور پھر اسے واپس لے جانا میرے جیسے آدمی کے لیے ایک عذاب تھا، اس لیے میں اسے ان کے مکان ہی میں چھوڑ جاتا تھا۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ مجھے غسل کرنے میں دیر ہوگئی اور میں ٹہلتا ٹہلتا پہاڑی کے دشوار گزار راستوں کو طے کرکے جب ان کے گھر پہنچا اور دری طلب کی تو اس کی بڑی بہن کی زبانی معلوم ہوا کہ وزیر دری لے کر اوپر چلی گئی ہے۔ یہ سن کر میں اور اوپر چڑھا اور جب اس بڑے پتھر کے قریب آیا جسے میں میز کے طور پر استعمال کرتا تھا تو میری نگاہیں وزیر پر پڑیں۔ دری اپنی جگہ بچھی ہوئی تھی اور وہ اپنا سبز کلف لگا دوپٹہ تانے سو رہی تھی۔\n\nمیں دیر تک پتھر پر بیٹھا رہا۔ مجھے معلوم تھا وہ سونے کا بہانہ کرکے لیٹی ہے شاید اس کا خیال تھا کہ میں اسے جگانے کی کوشش کروں گا اور وہ گہری نیند کا بہانہ کرکے جاگنے میں دیر کرے گی۔ لیکن میں خاموش بیٹھا رہا بلکہ اپنے چرمی تھیلے سے ایک کتاب نکال کر اس کی طرف پیٹھ کرکے پڑھنے میں مشغول ہوگیا۔ جب نصف گھنٹہ اسی طرح گزر گیا تو وہ مجبور ہو کر بیدار ہوئی۔ انگڑائی لے کر اس نے عجیب سی آواز منہ سے نکالی۔ میں نے کتاب بند کردی اور مڑ کر اس سے کہا، ’’میرے آنے سے تمہاری نیند تو خراب نہیں ہو ئی؟‘‘\n\nوزیر نے آنکھیں مل کر لہجے کو خواب آلود بناتے ہوئے کہا، ’’آپ کب آئے تھے؟‘‘\n\n’’ ابھی ابھی آکے بیٹھا ہوں۔ سونا ہے تو سو جاؤ۔‘‘\n\n’’نہیں۔ آج نگوڑی نیند کو جانے کیا ہوگیا۔ کمر سیدھی کرنے کے لیے یہاں ذری کی ذری لیٹی تھی کہ بس سو گئی۔۔۔ دو گھنٹے سے کیا کم سوئی ہوں گی۔‘‘\n\nاس کے گیلے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے جو کچھ باہر جھانک رہا تھا، اس کو میرا قلم بیان کرنے سے عاجز ہے۔ میرا خیال ہے اس وقت اس کے دل میں یہ احساس کروٹیں لے رہا تھا کہ اس کے سامنے ایک مرد بیٹھا ہے اور وہ عورت ہے۔۔۔ جوان عورت۔۔۔ شباب کی امنگوں کا ابلتا ہوا چشمہ!\n\nتھوڑی دیر کے بعد وہ غیر معمولی باتونی بن گئی اور بہک سی گئی۔ مگر میں نے اس کی بھینس اور بچھڑے کا ذکر چھیڑنے کے بعد ایک دلچسپ کہانی سنائی جس میں ایک بچھڑے سے اس کی ماں کی الفت کا ذکر تھا۔ اس سے اس کی آنکھوں میں وہ شرارے سرد ہوگئے جو کچھ پہلے لپک رہے تھے۔\n\nمیں زاہد نہیں ہوں، اور نہ میں نے کبھی اس کا دعویٰ کیا ہے۔ گناہ و ثواب اور سزا و جزا کے متعلق میرے خیالات دوسروں سے جدا ہیں اور یقیناًتمہارے خیالات سے بھی بہت مختلف ہیں۔ میں اس وقت ان بحثوں میں نہیں پڑنا چاہتا ،اس لیے کہ اس کے لیے سکون قلب اور وقت درکار ہے۔برسیبل تذکرہ ایک واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے تم میرے خیالات کے متعلق کچھ اندازہ لگا سکو گے۔\n\nباتوں باتوں میں ایک مرتبہ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ حسن اگر پورے شباب اور جوبن پر ہو تو وہ دلکشی کھو دیتا ہے۔ مجھے اب بھی اس خیال پر ایمان ہے۔ مگر میرے دوست نے اسے مہمل منطق قراردیا۔ ممکن ہے تمہاری نگاہ میں بھی یہ مہمل ہو۔ مگر میں تم سے اپنے دل کی بات کہتا ہوں۔ اس حسن نے میرے دل کو اپنی طرف راغب نہیں کیا جو پورے شباب پر ہو۔ اس کو دیکھ کر میری آنکھیں ضرور چندھیا جائیں گی۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ اس حسن نے اپنی تمام کیفیتیں میرے دل و دماغ پر طاری کردی ہیں۔ شوخ اور بھڑکیلے رنگ اس بلندی تک کبھی نہیں جا سکتے جو نرم و نازک الوان و خطوط کو حاصل ہے۔ وہ حسن یقیناًقابل احترام ہے جو آہستہ آہستہ نگاہوں میں جذب ہو کر دل میں اتر جائے۔ روشنی کا خیرہ کن شعلہ دل کے بجائے اعصاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔۔۔ لیکن اس فضول بحث میں پڑنے سے کیا فائدہ۔\n\nمیں کہہ رہا تھا کہ میں زاہد نہیں ہوں، یہ کہتے وقت میں دبی زبان میں بہت سی چیزوں کا اعتراف بھی کررہا ہوں لیکن اس پہاڑی لڑکی سے جو جسمانی لذتوں کی دلدادہ تھی، میرے تعلقات صرف ذہنی اور روحانی تھے۔میں نے شاید تمہیں یہ نہیں بتایا کہ میں اس بات کا قائل ہوں کہ اگر عورت سے دوستی کی جائے تو اس کے اندر ندرت ہونی چاہیے۔ اس سے اس طرح ملنا چاہیے کہ وہ تمہیں دوسروں سے بالکل علیحدہ سمجھنے پر مجبور ہو جائے، اسے تمہارے دل کی ہر دھڑکن میں ایسی صدا سنائی دے جو اس کے کانوں کے لیے نئی ہو۔\n\nعورت اور مرد۔۔۔ اور ان کا باہمی رشتہ ہر بالغ آدمی کو معلوم ہے۔ لیکن معاف کرنا، یہ رشتہ میری نظروں میں فرسودہ ہو چکا ہے۔ اس میں یکسر حیوانیت ہے۔ میں پوچھتا ہوں اگر مرد کو اپنی محبت کا مرکز کسی عورت ہی کو بنانا ہے تو وہ انسانیت کے اس مقدس جذبے میں حیوانیت کو کیوں داخل کرے۔۔۔ کیا اس کے بغیر محبت کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔۔۔ کیا جسم کی مشقت کا نام محبت ہے؟\n\nوزیراس غلط فہمی میں مبتلا تھی کہ جسمانی لذتوں کا نام محبت ہے اور میرا خیال ہے جس مرد سے بھی وہ ملتی تھی، وہ محبت کی تعریف انہی الفاظ میں بیان کرتی تھی۔ میں اس سے ملا اور اس کے تمام خیالات کی ضد بن کر میں نے اس سے دوستی پیدا کی۔ اس نے اپنے شوخ رنگ خوابوں کی تعبیر میرے وجود میں تلاش کرنے کی کوشش کی مگر اسے مایوسی ہوئی۔ لیکن چونکہ وہ غلط کار ہونے کے ساتھ ساتھ معصوم تھی، میری سیدھی سادی باتوں نے اس مایوسی کو حیرت میں تبدیل کردیا۔ اور آہستہ آہستہ اس کی یہ حیرت اس خواہش کی شکل اختیار کرگئی کہ وہ اس نئی رسم و راہ کی گہرائیوں سے واقفیت حاصل کرے۔ یہ خواہش یقیناً ایک مقدس معصومیت میں تبدیل ہو جاتی اور وہ اپنی نسوانیت کا وقارِ رفتہ پھر سے حاصل کرلیتی جسے وہ غلط راستے پر چل کر کھو بیٹھی تھی، لیکن افسوس ہے مجھے اس پہاڑی گاؤں سے دفعتاً پرنم آنکھوں کے ساتھ اپنے شہر واپس آنا پڑا۔\n\nمجھے وہ اکثر یاد آتی ہے۔۔۔ کیوں۔۔۔ اس لیے کہ رخصت ہوتے وقت اس کی سدا متبسم آنکھوں میں دو چھلکتے آنسو بتا رہے تھے کہ وہ میرے جذبے سے کافی متاثر ہوچکی ہے اور حقیقی محبت کی ایک ننھی سی شعاع اس کے سینے کی تاریکی میں داخل ہو چکی ہے۔۔۔ کاش! میں وزیر کو محبت کی تمام عظمتوں سے روشناس کراسکتا اور کیا پتہ ہے کہ یہ پہاڑی لڑکی مجھے وہ چیز عطا کردیتی جس کی تلاش میں میری جوانی بڑھاپے کے خواب دیکھ رہی ہے۔\n\nیہ ہے میری داستان جس میں بقول تمہارے، لوگ اپنی دلچسپی کا سامان تلاش کرتے ہیں۔۔۔ تم نہیں سمجھتے،اور نہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں یہ د استانیں کیوں لکھتا ہوں۔۔۔ پھر کبھی سمجھاؤں گا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AE%D8%B7"} {"title": "ایک خط کے جواب میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ہوَس بھی ہو تو نہیں مجھ میں ہمّتِ تگ و تاز\nحصولِ جاہ ہے وابستۂ مذاقِ تلاش\n\nہزار شُکر، طبیعت ہے ریزہ کار مری\nہزار شُکر، نہیں ہے دماغ فِتنہ تراش\n\nمرے سخن سے دلوں کی ہیں کھیتیاں سرسبز\nجہاں میں ہوں مَیں مثالِ سحاب دریا پاش\n\nیہ عُقدہ ہائے سیاست تجھے مبارک ہوں\nکہ فیضِ عشق سے ناخن مرا ہے سینہ خراش\n\nہوائے بزمِ سلاطیں دلیلِ مُردہ دِلی\nکِیا ہے حافظِؔ رنگیں نوا نے راز یہ فاش\n\n“گرت ہوا ست کہ با خِضر ہم نشیں باشی\nنہاں ز چشمِ سکندر چو آبِ حیواں باش”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AE%D8%B7_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ایک دم خشک مرا دیدۂ تر ہے کہ نہیں", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک دم خشک مرا دیدۂ تر ہے کہ نہیں\nماجرے سے مرے تجھ کو بھی خبر ہے کہ نہیں\n\nیوں تو اٹھتے ہے مرے دل سے ہزاروں نالہ\nلیکن ان خانہ خرابوں میں اثر ہے کہ نہیں\n\nحال میرا تجھے بے درد نہیں گر باور\nدیکھ لے آ کے کہ اب نوع دگر ہے کہ نہیں\n\nمیرے گھر کیونکہ تو آوے کہ گلی کوچوں میں\nتیرے مشتاق کہاں اور کدھر ہے کہ نہیں\n\nتجھ میں بو پائی نہ مطلق کہیں جنسیت کی\nنسل آدم سے تو اے شوخ پسر ہے کہ نہیں\n\nبوالہوس دل کو کر اپنے ذرا بس میں حسرتؔ\nمرد بے صبر تجھے کچھ بھی جگر ہے کہ نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%85_%D8%AE%D8%B4%DA%A9_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ایک دن بھی تو نہ اپنی رات نورانی ہوئی", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک دن بھی تو نہ اپنی رات نورانی ہوئی\nہم کو کیا اے مہ جبیں گر چاند پیشانی ہوئی\n\nسرد مہری کا تری ساقی نتیجہ یہ ہوا\nآگ کے مولوں جو بکتی تھی وہ مے پانی ہوئی\n\nاللہ اللہ پھوٹ نکلا رنگ چاہت کا مری\nزہر کھایا میں نے پوشاک آپ کی دھانی ہوئی\n\nہم کو ہو سکتا نہیں دھوکا ہجوم حشر میں\nتیری صورت ہے ازل سے جانی پہچانی ہوئی\n\nلے اڑی گھونگٹ کے اندر سے نگاہ مست ہوش\nآج ساقی نے پلائی مے ہمیں چھانی ہوئی\n\nجان کر دشمن جو لپٹے جان میں جاں آ گئی\nبارک اللہ کس مزے کی تم سے نادانی ہوئی\n\nرفتہ رفتہ دیدۂ تر کو ڈبویا اشک نے\nپانی رستے رستے کشتی میری طوفانی ہوئی\n\nکر گئی دیوانگی ہم کو بری ہر جرم سے\nچاک دامانی سے اپنی پاک دامانی ہوئی\n\nخون کی چادر مبارک با حیا تلوار کو\nمیان سے باہر نکل کر بھی نہ عریانی ہوئی\n\nرات کو چھپ کر نکل جاتی ہے آنکھوں سے جلیلؔ\nسیر دیکھو نیند بھی کمبخت سیلانی ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%86_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D9%86%D9%88%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ایک دن رات کی صحبت میں نہیں ہوتے شریک", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "ایک دن رات کی صحبت میں نہیں ہوتے شریک\nہم کو کیا فائدہ گر آپ بہت ہیں نزدیک\n\nاب تو ٹک ہو کے کھڑے بات ہماری سن لو\nرات ہے کوچہ و بازار پڑے ہیں تاریک\n\nپان جو ہاتھ سے کل غیر کے تو نے کھایا\nپی کے لوہو کو غرض گھونٹ رہے ہم جوں پیک\n\nدور ہو وادئ مجنوں سے نکل اے وحشت\nکس وسیلہ سے ملی تجھ کو جہاں کی تملیک\n\nوادیٔ عشق میں انشاؔ تو سنبھل کر جاتا\nہاں خبردار کہ یہ راہ بہت ہے تاریک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%86_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%D8%B4%D8%B1%DB%8C%DA%A9"} {"title": "ایک دن مثل پتنگ کاغذی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "ایک دن مثلِ پتنگِ کاغذی\nلے کے دل سر رشتۂ آزادگی\n\nخود بخود کچھ ہم سے کَنیانے لگا\nاس قدر بگڑا کہ سر کھانے لگا\n\nمیں کہا، اے دل، ہوائے دلبراں!\nبس کہ تیرے حق میں رکھتی ہے زیاں\n\nبیچ میں ان کے نہ آنا زینہار\nیہ نہیں ہیں گے کِسے کے یارِ غار\n\nگورے پنڈے پر نہ کر ان کے نظر\nکھینچ لیتے ہیں یہ ڈورے ڈال کر\n\nاب تو مِل جائے گی ان سے تیری گانٹھ\nلیکن آخر کو پڑے گی ایسی سانٹھ\n\nسخت مشکل ہو گا سلجھانا تجھے\nقہر ہے، دل ان میں الجھانا تجھے\n\nیہ جو محفل میں بڑھاتے ہیں تجھے\nبھول مت اس پر اُڑاتے ہیں تجھے\n\nایک دن تجھ کو لڑا دیں گے کہیں\nمفت میں ناحق کٹا دیں گے کہیں\n\nدل نے سن کر۔ کانپ کر، کھا پیچ و تاب\nغوطے میں جا کر، دیا کٹ کر جواب\n\nرشتۂ در گردنم افگندہ دوست\nمی بُرد ہر جا کہ خاطر خواہِ اوست", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%86_%D9%85%D8%AB%D9%84_%D9%BE%D8%AA%D9%86%DA%AF_%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0%DB%8C"} {"title": "ایک دن مدتوں میں آئے ہو", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک دن مدتوں میں آئے ہو\nآہ تس پر بھی منہ چھپائے ہو\n\nآپ کو آپ میں نہیں پاتا\nجی میں یاں تک مرے سمائے ہو\n\nکیا کہوں تم کو اے دل و دیدہ\nجو جو کچھ سر پہ میرے لائے ہو\n\nدید بس کر لیا اس عالم کا\nپھر چلو واں جہاں سے آئے ہو\n\nکیونکہ تشبیہ اس سے دے بیدارؔ\nمہ سے تم حسن میں سوائے ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%86_%D9%85%D8%AF%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "ایک دن وصل سے اپنے مجھے تم شاد کرو", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک دن وصل سے اپنے مجھے تم شاد کرو\nپھر مری جان جو کچھ چاہو سو بیداد کرو\n\nگر کسی غیر کو فرماؤ گے تب جانو گے\nوے ہمیں ہیں کہ بجا لاویں جو ارشاد کرو\n\nاب تو ویراں کئے جاتے ہو طرب خانۂ دل\nآہ کیا جانے کب آ پھر اسے آباد کرو\n\nیاد میں اس قد و رخسار کے اے غم زدگاں\nجا کے ٹک باغ میں سیر گل و شمشاد کرو\n\nلے کے دل چاہو کہ پھر دیوے وہ دلبر معلوم\nکیسے ہی نالہ کرو کیسی ہی فریاد کرو\n\nسرمۂ دیدۂ عشاق ہے یہ اے خوباں\nاپنے کوچہ سے مری خاک نہ برباد کرو\n\nدیکھ کر طائر دل آپ کو بھولا پرواز\nخواہ پابند کرو خواہ اسے آزاد کرو\n\nآپ کی چاہ سے چاہیں ہیں مجھے سب ورنہ\nکون پھر یاد کرے تم نہ اگر یاد کرو\n\nشمع افروختہ جب بزم میں دیکھو یارو\nحال بیدارؔ جگر سوختہ واں یاد کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%86_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D9%85_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "وسوخت", "year": null, "text_ur": "ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے\nاونی سونی بھی مرے آگے اٹھا جاتے تھے\nمدعی کاہے کو مجلس میں جگہ پاتے تھے\nچھوتے تھے پاؤں تو پھر سر میں وہیں کھاتے تھے\nیا تو اب شام و سحر پاس لگے رہتے ہیں\nکرکے سرگوشی جو کچھ چاہتے ہیں کہتے ہیں\n\nتم کو بھی آٹھ پہر حرف و حکایت ان سے\nبازو جانو ہو انھیں چشم حمایت ان سے\nشکر ان کا ہے جو ہے بھی تو شکایت ان سے\nہو طرح کوئی چلی جا ہے رعایت ان سے\nہاتھ کاندھے پہ کبھو رکھ کے کھڑے ہوتے ہو\nکبھی منت کرو ہو ٹک جو لڑے ہوتے ہو\n\nپاس ان کا ہے تمھیں خاطر انھیں کی منظور\nان سے ملنے میں نہیں کرتے کسی طور قصور\nان سے اک دن میں کئی بار ملاقات ضرور\nان سے لگ بیٹھتے ہو بھاگتے ہو ہم سے دور\nجن کا شیوہ ہے حرم زدگی انھیں سے صحبت\nبندگی کیشوں سے پرخاش خدا کی قدرت\n\nوے جو آزردہ ہوں ٹک بھی تو منانے جاؤ\nمکث کر بیٹھ رہیں گھر تو بلانے جاؤ\nالغرض کرکے ادھر سو سو بہانے جاؤ\nان کو دریا پہ جو سن پاؤ نہانے جاؤ\nہم اگر خاک ملیں منھ پہ نہ بولو چالو\nہم اگر لوہو لگیں رونے تو ہنس کر ٹالو\n\nان سے آزار دہی کی مری کنگائش ہے\nہر دم ان سے مری خوں ریزی کی فرمائش ہے\nان کی دلجوئی ہے یا چہرے کی آرائش ہے\nفارغ ان دونوں سے ہوتے ہو تو آسائش ہے\nدو دو دن مست مئے ناب پڑے سوتے ہو\nرہتے ہو بے مزہ بیدار اگر ہوتے ہو\n\nخوبی رعنائی سے کم تجھ کو بہت فرصت ہے\nاپنی ترکیب بنانے سے کہاں مہلت ہے\nچہرہ آرائی شب و روز ہے یہ صورت ہے\nشانہ و زلف گتھے رہتے ہیں یہ صحبت ہے\nسرمے سے آنکھ اٹھاوے تو مرا رو دیکھے\nآرسی چھوڑے تجھے ٹک تو ادھر تو دیکھے\n\nمحو کس روز تجھے پاتے تھے رعنائی کا\nذوق رہتا تھا تجھے کاہے کو خودرائی کا\nکب کب آنچل رہے تھا ہاتھ میں اکلائی کا\nاتنا دل بستہ نہ تھا جامۂ زیبائی کا\nسرخ سنجاف نہ لگتی تھی نہ ہوتے تھے چاک\nخون سے عشق کے ماروں کے یہ دامن تھا پاک\n\nایسے اوباشوں کی تقلید میں کب تھی تگ و دو\nتنگ چولی کے نہ رہتا تھا کبھی اتنا گرو\nپاٹ دامن کے نہ ہوتے تھے ترے ساٹھ کے سو\nاب تو ہے قہر جو ڈھیلی ہو کمر ایک بھی جو\nدرزی کانپا ہی کرے ٹھیک نہ جب تک سی لے\nکاڑھے ناکے میں سوئی کے کرے ٹانکے ڈھیلے\n\nخط بھی آیا پہ مری تیری صفائی نہ ہوئی\nکس گھڑی آن کے بیٹھے کہ لڑائی نہ ہوئی\nاپنی سج دیکھنے سے تجھ کو رہائی نہ ہوئی\nاک بلا جی کی ہوئی تنگ قبائی نہ ہوئی\nرک گئے دیکھتے دس جا سے ترے مونڈھے چسے\nچولی مسکی ہوئی سب مہریوں میں پہنچے پھنسے\n\nبند لمبے نہ کبھو اتنے سیے جاتے تھے\nشانے پر ڈالے ہوئے لچھے سے کب آتے تھے\nزہ سراسر نہ گریبان میں لگواتے تھے\nگھیر دامن کا بہت ہوتا تو گھبراتے تھے\nاب تو پوشاک ہے کچھ تازہ نکالی تم نے\nطرحداری کی طرح اور ہی ڈالی تم نے\n\nکن دنوں ساتھ کئی یار رکھا کرتے تھے\nکن شبوں غیر سے یہ پیار رکھا کرتے تھے\nکس گھڑی ہاتھ میں تلوار رکھا کرتے تھے\nکس کو یوں میری طرح مار رکھا کرتے تھے\nمیان سے اب تو لیے آٹھ پہر رہتے ہو\nگھر سے جب نکلو ہو تب خون ہی کر رہتے ہو\n\nبال واں سنوریں ترے یاں مجھے جی ہی جنجال\nمیں ملوں خاک میں منظور تجھے اپنی چال\nہو جگر داغ مرا منھ پہ بنے تیرے خال\nمہندی پاؤں سے لگے گھل کے رہوں میں پامال\nسرمہ آنکھوں میں جگہ تیری کرے شام و سحر\nمطلق احوال مرا تجھ کو نہ ہو مدنظر\n\nتھیں فریب اگلی نگاہیں وے تمھاری بارے\nدامن و جیب پھٹے یاد میں ان کی سارے\nشوق کے ہاتھ شب و روز سروں پر مارے\nچھاتیاں کوٹتے ہی کوٹتے آخر ہارے\nروئے اتنا کہ جگر میں نہ رہی لوہو کی بوند\nاب سماں وہ ہے کہ دیکھوگے لیاں آنکھیں موند\n\nتنگ اب حد سے زیادہ ہوئے ہیں یاد رہے\nبس بہت اب ترے اطوار سے ناشاد رہے\nکب تک اس طور کوئی اے ستم ایجاد رہے\nدن کو بیداد رہے رات کو فریاد رہے\nہے قریب اب کہ ترے کوچے سے اٹھ کر جاویں\nبے حمیت ہی ہمیں کہیو اگر پھر آویں\n\nاک طرف مر رہیں گے جاکے بھلا کیا کریے\nہر زماں ہر کسو سے حال کہا کیا کریے\nسر گریبان میں یوں ڈالے رہا کیا کریے\nمیرؔ کے طور ترا شکوہ لکھا کیا کریے\nجی نہ نکلا اگر اس میں تو کڑھا کریے گا\nمرثیہ اپنا کہیں بیٹھے کہا کریے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%86_%D9%88%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "ایک دنیا مست اک عالم خراب", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک دنیا مست اک عالم خراب\nکس نے کی تقسیم آنکھوں سے شراب\n\nاک قیامت تھا وہ حسن لاجواب\nاب قیامت پر قیامت ہے شباب\n\nروئے ساقی مطلع نور شراب\nآفتاب آمد دلیل آفتاب\n\nعشق نے کونین پر ڈالی نظر\nحسن پر ٹھہری نگاہ انتخاب\n\nعشق سے بہتر نہیں کوئی گناہ\nہجر سے بد تر نہیں کوئی عذاب\n\nعشق نیک انجام نے مژدہ دیا\nتیری ناکامی ہے ناطقؔ کامیاب", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D8%A7%DA%A9_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "ایک دوست کی خوش مذاقی پر", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہو نہیں سکتا تری اس خوش مذاقی کا جواب\nشام کا دل کش سماں اور تیرے ہاتھوں میں کتاب\nرکھ بھی دے اب اس کتاب خشک کو بالائے طاق\nاڑ رہا ہے رنگ و بو کی بزم میں تیرا مذاق\nچھپ رہا ہے پردۂ مغرب میں مہر زر فشاں\nدید کے قابل ہیں بادل میں شفق کی سرخیاں\nموجزن جوئے شفق ہے اس طرح زیر سحاب\nجس طرح رنگین شیشوں میں جھلکتی ہے شراب\nاک نگارش آتشیں ہر شے پہ ہے چھایا ہوا\nجیسے عارض پر عروس نو کے ہو رنگ حیا\nشانۂ گیتی پہ لہرانے کو ہیں گیسوئے شب\nآسماں میں منعقد ہونے کو ہے بزم طرب\nاڑ رہے ہیں جستجو میں آشیانوں کے طیور\nآ چلا ہے آئنے میں چاند کے ہلکا سا نور\nدیکھ کر یہ شام کے نظارہ ہائے دل نشیں\nکیا ترے دل میں ذرا بھی گدگدی ہوتی نہیں\nکیا تری نظروں میں یہ رنگینیاں بھاتی نہیں\nکیا ہوائے سرد تیرے دل کو تڑپاتی نہیں\nکیا نہیں ہوتی تجھے محسوس مجھ کو سچ بتا\nتیز جھونکوں میں ہوا کے گنگنانے کی صدا\nسبزہ و گل دیکھ کر تجھ کو خوشی ہوتی نہیں\nاف ترے احساس میں اتنی بھی رنگینی نہیں\nحسن فطرت کی لطافت کا جو تو قائل نہیں\nمیں یہ کہتا ہوں تجھے جینے کا حق حاصل نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%85%D8%B0%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "ایک ستم اور لاکھ ادائیں اف ری جوانی ہائے زمانے", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک ستم اور لاکھ ادائیں اف ری جوانی ہائے زمانے\nترچھی نگاہیں تنگ قبائیں اف ری جوانی ہائے زمانے\n\nہجر میں اپنا اور ہے عالم ابر بہاراں دیدۂ پر نم\nضد کہ ہمیں وہ آپ بلائیں اف ری جوانی ہائے زمانے\n\nاپنی ادا سے آپ جھجکنا اپنی ہوا سے آپ کھٹکنا\nچال میں لغزش منہ پہ حیائیں اف ری جوانی ہائے زمانے\n\nہاتھ میں آڑی تیغ پکڑنا تاکہ لگے بھی زخم تو اوچھا\nقصد کہ پھر جی بھر کے ستائیں اف ری جوانی ہائے زمانے\n\nکالی گھٹائیں باغ میں جھولے دھانی دوپٹے لٹ جھٹکائے\nمجھ پہ یہ قدغن آپ نہ آئیں اف ری جوانی ہائے زمانے\n\nپچھلے پہر اٹھ اٹھ کے نمازیں ناک رگڑنی سجدوں پہ سجدے\nجو نہیں جائز اس کی دعائیں اف ری جوانی ہائے زمانے\n\nشادؔ نہ وہ دیدار پرستی اور نہ وہ بے نشہ کی مستی\nتجھ کو کہاں سے ڈھونڈ کے لائیں اف ری جوانی ہائے زمانے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%81_%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "ایک سوال", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "کوئی پُوچھے حکیمِ یورپ سے\nہند و یوناں ہیں جس کے حلقہ بگوش\nکیا یہی ہے معاشرت کا کمال\nمرد بے کار و زن تہی آغوش!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84"} {"title": "ایک سے ربط ایک سے ہے بگاڑ", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک سے ربط ایک سے ہے بگاڑ\nروز ہے واں یہی اکھاڑ پچھاڑ\n\nاب وہ دل میں کبھی نہیں آتے\nمدتوں سے یہ گھر پڑا ہے اجاڑ\n\nکیوں ہے بے کار موسم گل میں\nجیب کر چاک اور گریباں پھاڑ\n\nکار عاشق جو ہو نگہ میں درست\nکہیے کیا آپ کا ہے اس میں بگاڑ\n\nکہتے ہو غیر جائے تو آؤں\nخوب رکھی ہے آپ نے یہ آڑ\n\nسنگ دل رکھ رکھاؤ دل کا رکھ\nکہیں اس شیشے میں نہ آئے دراڑ\n\nغیر جائے تو کام کیوں نہ بنے\nدور چھاتی سے ہو کہیں یہ پھاڑ\n\nقد کو ان کے کہا تھا سرو تو وہ\nپیچھے لپٹے ہیں میرے ہو کر جھاڑ\n\nعشق سے رہ الگ جہاں تک ہو\nکہیں سر پر نہ آ پڑے یہ پھاڑ\n\nقتل تو کر چکے نہ ہو بدنام\nمیرے لاشے کو دو زمین میں گاڑ\n\nاس کا چھایا ہوا ہے ابر ستم\nکیوں نہ تیروں کی مجھ پہ ہو بوچھاڑ\n\nکوئی مہمان تازہ وارد ہے\nبند رہتے ہیں رات دن جو کواڑ\n\nوہ تفنگ مژہ ہیں صف آرا\nتم پہ مجروحؔ چل نہ جائے باڑ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%A8%D8%B7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DA%AF%D8%A7%DA%91"} {"title": "ایک شاعرہ کی شادی پر", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جس کو دعویٰ تھا کہ وہ ’’دنیا میں صرف شاعرانہ زندگی گزارنے آئی ہے ‘‘\n\nاے کہ تھا انس تجھے عشق کے افسانوں سے\nزندگانی تری آباد تھی رومانوں سے\n\nشعر کی گود میں پلتی تھی جوانی تیری\nتیرے شعروں سے ابلتی تھی جوانی تیری\n\nرشک فردوس تھا ہر حسن بھرا خواب ترا\nایک پامال کھلونا تھا یہ مہتاب ترا\n\nنکہت شعر سے مہکی ہوئی رہتی تھی سدا\nنشۂ فکر میں بہکی ہوئی رہتی تھی سدا\n\nشرکت غیر سے بیگانہ تھے نغمے تیرے\nعصمت حور کا افسانہ تھے نغمے تیرے\n\nشعر کی خلوت رنگیں تھی پری خانہ ترا\nمست خوابوں کے جزیروں میں تھا کاشانہ ترا\n\nغائب از چشم تھی جنت کی بہاروں کی طرح\nدست انساں سے تھی محفوظ ستاروں کی طرح\n\nصحبت غیر سے گھبراتی تھی تنہائی تری\nآئینے سے بھی تو شرماتی تھی تنہائی تری\n\nصبح کی طرح سے دوشیزہ تھی ہستی تیری\nبوئے گل کی طرح پاکیزہ تھی ہستی تیری\n\nنغمہ و شعر کے فردوس میں تو رہتی تھی\nیکسر الہام و ترنم تھا جو تو کہتی تھی\n\nتیرے اشعار تھے جنت کی بہاروں کے ہجوم\nتیرے افکار تھے زرین ستاروں کے ہجوم\n\nدرد شعری کے تأثر سے تو مغموم تھی تو\nآسماں کا مگر اک غنچۂ معصوم تھی تو\n\nموج کوثر کا چھلکتا ہوا پیمانہ تھی\nغیر ہونٹوں کے تصور سے بھی بیگانہ تھی\n\nاب گوارا ہوئی کیوں غیر کی صحبت تجھ کو\nکیوں پسند آ گئی نا جنس کی شرکت تجھ کو\n\nاوج تقدیس کو پستی کی ادا بھا گئی کیوں\nتیری تنہائی کی جنت پہ خزاں چھا گئی کیوں\n\nشعر و رومان کے وہ خواب کہاں ہیں تیرے\nوہ نقوش گل و مہتاب کہاں ہیں تیرے\n\nکون سی طرفہ ادا بھا گئی اس دنیا میں\nخلد کو چھوڑ کے کیوں آ گئی اس دنیا میں\n\nہو گئی عام تو نور مہ تاباں کی طرح\nآہ کیوں جل نہ بجھی شمع شبستاں کی طرح\n\nاپنی دوشیزہ بہاروں کو نہ کھونا تھا کبھی\nوہ کلی تھی تو جسے پھول نہ ہونا تھا کبھی\n\nعفتیں مٹ کے جوانی کو مٹا جاتی ہیں\nپھول کمھلاتے ہیں کلیاں کہیں کمھلاتی ہیں\n\nبلبل مست نوا دشت میں کیوں رہنے لگی\nنغمۂ تر کی جگہ مرثیہ کیوں کہنے لگی\n\nہوس آلودہ ہوئی پاک جوانی تیری\nغیر کی رات ہے اب اور کہانی تیری\n\nکس کو معلوم تھا تو اس قدر ارزاں ہوگی\nزینت محفل و پامال شبستاں ہوگی\n\nجذب عفت کا میسر تھا جو عرفاں تجھ کو\nکیوں نہ مرغوب ہوا شیوۂ جاناں تجھ کو\n\nتیرگی حرص کی حوروں کو بھی بہکا ہی گئی\nتیرے بستر پہ بھی آخر کو شکن آ ہی گئی\n\nاب نہیں تجھ میں وہ حوروں کی سی عفت باقی\nحور تھی تجھ میں، گئی، رہ گئی عورت باقی\n\nہاں وہ عورت جسے بچوں کا فسانہ کہئے\nبربط نفس کا اک فحش ترانہ کہئے\n\nجس میں ہے زہر عفونت کا وہ پیمانہ کہیں\nاک گناہوں کا بھبھکتا ہوا مے خانہ کہیں\n\nنوحہ خواں اپنی جواں موت کا ہونے دے مجھے\nمسکرا تو مگر اس حال پہ رونے دے مجھے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "ایک شام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "خاموش ہے چاندنی قمر کی\nشاخیں ہیں خموش ہر شجر کی\n\nوادی کے نوا فروش خاموش\nکُہسار کے سبز پوش خاموش\n\nفطرت بے ہوش ہو گئی ہے\nآغوش میں شب کے سو گئی ہے\n\nکچھ ایسا سکُوت کا فُسوں ہے\nنیکر کا خرام بھی سکُوں ہے\n\nتاروں کا خموش کارواں ہے\nیہ قافلہ بے درا رواں ہے\n\nخاموش ہیں کوہ و دشت و دریا\nقُدرت ہے مُراقبے میں گویا\n\nاے دِل! تُو بھی خموش ہو جا\nآغوش میں غم کو لے کے سو جا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B4%D8%A7%D9%85"} {"title": "ایک شام (مصطفٰی زیدی)", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یوں تو لمحوں کے اس تسلسل میں\nاب سے پہلے بھی عمر کٹتی تھی\nموم بتی کی روشنی میں نظر\nحافظے کے ورق الٹتی تھی\nریت کے سوگوار ٹیلوں پر\nچاندنی رات بھر بھٹکتی تھی\n\nآج لیکن تھکے ہوئے دل پر\nجسم کا تار تار بھاری ہے\nشام کی دم بخود ہواؤں پر\nصبح کا انتظار بھاری ہے\n\nمقبروں سے اٹھی ہوئی آندھی\nٹہنیوں سے الجھ کے چلتی ہے\nخشک پلکوں پہ آنسوؤں کی امید\nپے بہ پے کروٹیں بدلتی ہے\nایک اک عکس سانس لیتا ہے\nایک اک یاد آنکھ ملتی ہے\nجیسے صحرا میں سر جھکائے ہوئے\nحاجیوں کی قطار چلتی ہے\n\nزرد چنگاریوں کے دامن میں\nیوں سلگتا ہے سرد آتش دان\nجیسے بچوں کی بھوک کے آگے\nایک نادار باپ کا ایمان\n\nدم بخود خامشی میں دھیرے سے\nزرد پتے قدم اٹھاتے ہیں\nیاد کے کارواں اندھیرے میں\nخواب کی طرح سرسراتے ہیں\nکھڑکیوں کے ڈرے ہوئے چہرے\nاپنی آہٹ سے کانپ جاتے ہیں\n\nدل کی قربان گاہ کے آگے\nایک ٹوٹا ہوا دیا بھی نہیں\nکسی پیپل کے نرم سائے میں\nکوئی پتھر کا دیوتا بھی نہیں\nروح کے کاسۂ گدائی کو\nچار ٹکڑوں کا آسرا بھی نہیں\n\nلمبی چوڑی سڑک کے دامن پر\nقمقمے سہمے سہمے جلتے ہیں\nجیسے اکثر بڑے گھرانوں میں\nفاقہ کش رشتہ دار پلتے ہیں\n\nسوچتا ہوں کہ اس دیار سے دور\nایک ایسا بھی دیس ہے جس کی\nرات تاروں میں سج کے آئے گی\nصبح ہوگی تو گھر کے گوشوں میں\nتیری معصوم مسکراہٹ کی\nنرم سی دھوپ پھیل جائے گی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%28%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%D9%B0%DB%8C_%D8%B2%DB%8C%D8%AF%DB%8C%29"} {"title": "ایک طوفاں ہے غم عشق میں رونا کیا ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک طوفاں ہے غم عشق میں رونا کیا ہے\nنہیں معلوم کہ انجام کو ہونا کیا ہے\n\nدیکھ کر سانولی صورت تری یوسف بھی کہے\nچٹپٹا حسن نمک دار سلونا کیا ہے\n\nچار باتیں بھی کبھی آپ نے گھل مل کے نہ کیں\nانہیں باتوں کا ہے رونا مجھے رونا کیا ہے\n\nکاش مل جائے ترا سایۂ دیوار ہمیں\nاوڑھنا کیا ہے فقیروں کا بچھونا کیا ہے\n\nاس کی ٹھوکر سے بھی کم بخت نہ جاگا افسوس\nموت ہے داغؔ سیہ مست کا سونا کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B7%D9%88%D9%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ایک عالم نے جبہ سائی کی", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک عالم نے جبہ سائی کی\nاے بتو تم نے بھی خدائی کی\n\nعاشقوں کے لہو کی پیاسی ہیں\nمچھلیاں اس کف حنائی کی\n\nزلف پر پیچ سے جو دل الجھا\nبیچ میں رخ پڑا صفائی کی\n\nمرغ بے بال و پر ہوں اے صیاد\nآرزو ہے کسی رہائی کی\n\nاے جنوں دشت کو چلیں گے ہم\nہے قسم اس برہنہ پائی کی\n\nسر جدا ہم نے اپنا کر ڈالا\nآئی جب گفتگو جدائی کی\n\nپھر گیا یار گھر کے پاس آ کر\nبخت برگشتہ نے برائی کی\n\nسیکڑوں جامے تجھ پہ پھٹتے ہیں\nدھوم ہے تیری میرزائی کی\n\nتجھ سے تو ہم کو اے خم ابرو\nتھی نہ امید کج ادائی کی\n\nکوئی قاتل کی راہ بھولا تھا\nاے اجل تو نے رہنمائی کی\n\nدل کہیں اور ہم نے اٹکایا\nبے وفاؤں سے بے وفائی کی\n\nنہ گئی زاہدوں کے پاس کبھی\nدختر رز نے پارسائی کی\n\nشہر میں جائے گی مری پاپوش\nقدر واں کیا برہنہ پائی کی\n\nصاف ہے آئنہ تن پر نور\nہے دلیل اس پہ خود نمائی کی\n\nکاسۂ ماہ کیوں نہ ہو پر نور\nبرسوں اس کوچے کی گدائی کی\n\nکعبۂ دل میں بھی مقام کیا\nاے بتو تم نے کیا رسائی کی\n\nخط کے آنے پہ بھی مکدر ہے\nصورت اب کون سی صفائی کی\n\nبال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ\nاب تو صورت نہیں رہائی کی\n\nکس کے کوچے کی راہ بھولا ہوں\nخضر نے بھی نہ رہنمائی کی\n\nشاہ کہلائے ہر طرح سے وزیرؔ\nبادشاہی نہ کی گدائی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A8%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ایک علامت", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "گھاس سے بچ کے چلو ریت کو گلزار کہو\nنرم کلیوں پہ چڑھا دو غم دوراں کے غلاف\nخود کو دل تھام کے مرغان گرفتار کہو\nرات کو اس کے تبسم سے لپٹ کر سو جاؤ\nصبح اٹھو تو اسے شاہد بازار کہو\nذہن کیا چیز ہے جذبے کی حقیقت کیا ہے\nفرش پر بیٹھ کے تبلیغ کے اشعار کہو\n\nاسی رفتار سے چلتا ہے جہان گزراں\nانہی قدموں پہ زمانے کے قدم اٹھتے ہیں\nکوئی عینک سے دکھاتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں\nکوئی کاندھوں پہ اٹھاتا ہے تو ہم اٹھتے ہیں\nایک رقاصۂ طناز کی محفل ہے جہاں\nکبھی آتے ہیں بھتیجے کبھی عم اٹھتے ہیں\nکبھی اک گوشۂ تاریک کے ویرانے میں\nکسی جگنو کے چمکنے پہ فغاں ہوتی ہے\nکبھی اس مرحمت خاص کا اندازہ نہیں\nکبھی دو بوند چھلکنے پہ فغاں ہوتی ہے\nکبھی منزل کے تصور سے جگر جلتے ہیں\nکبھی صحرا میں بھٹکنے پہ فغاں ہوتی ہے\n\nہم نے اس چور کو سینوں میں دبا رکھا ہے\nہم اسی چور کے خطرے سے پریشان بھی ہیں\nکون سمجھے گا کہ اس سطح خوش آواز کے بعد\nاسی ٹھہرے ہوئے تالاب میں طوفان بھی ہیں\nبھائی کی آنکھ کے کانٹے پہ نظر ہے سب کی\nدیوتا بھی ہیں اسی بزم میں انسان بھی ہیں\nخط سرطان سے آتی ہے ملر کی آواز\nاور امریکہ کے بازار میں کھو جاتی ہے\nجائس کی فکر نے تعمیر کیا ہے جس کو\nوہ زمیں حسرت معمار میں کھو جاتی ہے\nکبھی منٹو کا قلم بن کے دہکتی ہے حیات\nکبھی سرمائے کی تلوار میں کھو جاتی ہے\n\nہر پیمبر پہ ہنسا ہے یہ زمانہ لیکن\nہر پیمبر نے جھکائی ہے زمانے کی جبیں\nاپنے ہم عصر سے خائف نہ ہو اے وقت کی آنچ\nاس کی مٹی میں ستاروں کا دھواں ہے کہ نہیں\nاسی مٹی سے دمکتی ہے یہ دھرتی ورنہ\nدرد یک ساغر غفلت ہے چہ دنیا و چہ دیں\n\nجسم کے داغ چھپانا تو کوئی بات نہیں\nروح کے زخم سلگتے ہیں پس پردۂ دل\nسر چھپا لیتے ہو تم ریت میں جس کے آگے\nاسی طوفان میں گھر جاتے ہیں لاکھوں ساحل\nایک راہی جسے احساس نہ حسرت نہ طلب\nاک سفر جس میں نہ منزل نہ سراغ منزل\n\nاپنی حساس سبک ناک سے رومال ہٹاؤ\nکھاد میں محض تعفن ہی نہیں خیز بھی ہے\nذوق درکار ہے قطرے کو گہر کرنے میں\nیہ مئے ناب پر اسرار بھی ہے تیز بھی ہے\nکچھ تو ہے وجۂ دل آزاری و آہنگ و ستیز\nورنہ یہ طبع خوش اخلاق و کم آمیز بھی ہے\n\nشہر کی تیرہ و تاریک گزر گاہوں میں\nداستاں ہوگی تو منٹو کا قلم لکھے گا\nزیست قانون و فرامین قفس کے آگے\nبے زباں ہوگی تو منٹو کا قلم لکھے گا\nاس شفا خانۂ اخلاق میں نشتر کے قریب\nرگ جاں ہوگی تو منٹو کا قلم لکھے گا\n\nگوپی ناتھ اور ظفر شاہ کے جیسے کردار\nکتنی گمنامی میں جی لیتے ہیں مر جاتے ہیں\nکس نے ان آنکھوں میں وہ خواب لہکتے دیکھے\nجو اس انسانوں کے جنگل میں بکھر جاتے ہیں\nکس کا آئینہ ہے موذیل کی اس روح کا عکس\nجس میں مریم کے حسیں نقش نکھر جاتے ہیں\n\nاے نئے عصر کی رگ رگ کو سمجھنے والے\nفہم و ادراک بدی ہیں تو بدی تیری ہے\nچند لمحوں کی خدائی ہے روایات کے ساتھ\nفن کے آدرش کی روح ابدی تیری ہے\nموت یہ صرف سعادت کی ہے منٹو کی نہیں\nیہ شب و روز ترے ہیں یہ صدی تیری ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA"} {"title": "ایک غمگین یاد", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مرے پہلو بہ پہلو جب وہ چلتی تھی گلستاں میں\nفراز آسماں پر کہکشاں حسرت سے تکتی تھی\nمحبت جب چمک اٹھتی تھی اس کی چشم خنداں میں\nخمستان فلک سے نور کی صہبا چھلکتی تھی\n\nمرے بازو پہ جب وہ زلف شب گوں کھول دیتی تھی\nزمانہ نکہت خلد بریں میں ڈوب جاتا تھا\nمرے شانے پہ جب سر رکھ کے ٹھنڈی سانس لیتی تھی\nمری دنیا میں سوز و ساز کا طوفان آتا تھا\n\nوہ میرا شعر جب میری ہی لے میں گنگناتی تھی\nمناظر جھومتے تھے بام و در کو وجد آتا تھا\nمری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جب مسکراتی تھی\nمرے ظلمت کدے کا ذرہ ذرہ جگمگاتا تھا\n\nامنڈ آتے تھے جب اشک محبت اس کی پلکوں تک\nٹپکتی تھی در و دیوار سے شوخی تبسم کی\nجب اس کے ہونٹ آ جاتے تھے از خود میرے ہونٹوں تک\nجھپک جاتی تھیں آنکھیں آسماں پر ماہ و انجم کی\n\nوہ جب ہنگام رخصت دیکھتی تھی مجھ کو مڑ مڑ کر\nتو خود فطرت کے دل میں محشر جذبات ہوتا تھا\nوہ محو خواب جب ہوتی تھی اپنے نرم بستر پر\nتو اس کے سر پہ مریم کا مقدس ہاتھ ہوتا تھا\n\nخبر کیا تھی کہ وہ اک روز مجھ کو بھول جائے گی\nاور اس کی یاد مجھ کو خون کے آنسو رلائے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%BA%D9%85%DA%AF%DB%8C%D9%86_%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "ایک فلسفہ زدہ سیّد زادے کے نام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "تُو اپنی خودی اگر نہ کھوتا\nزُناّریِ برگساں نہ ہوتا\nہیگل کا صدَف گُہر سے خالی\nہے اُس کا طلِسم سب خیالی\nمحکم کیسے ہو زندگانی\nکس طرح خودی ہو لازمانی!\nآدم کو ثبات کی طلب ہے\nدستورِ حیات کی طلب ہے\nدُنیا کی عشا ہو جس سے اِشراق\nمومن کی اذاں نِدائے آفاق\nمَیں اصل کا خاص سومناتی\nآبا مرے لاتی و مناتی\nتو سیّدِ ہاشمی کی اولاد\nمیری کفِ خاک برہمن زاد\nہے فلسفہ میرے آب و گِل میں\nپوشیدہ ہے ریشہ ہائے دل میں\nاقبالؔ اگرچہ بے ہُنر ہے\nاس کی رگ رگ سے باخبر ہے\nشُعلہ ہے ترے جُنوں کا بے سوز\nسُن مجھ سے یہ نکتۂ دل افروز\nانجامِ خِرد ہے بے حضوری\nہے فلسفہ زندگی سے دُوری\nافکار کے نغمہ ہائے بے صوت\nہیں ذوقِ عمل کے واسطے موت\nدیں مسلکِ زندگی کی تقویم\nدیں سِرِّ محمدؐ و براہیمؑ\n“دل در سخنِ محمدیؐ بند\nاے پورِ علیؓ ز بوعلی چند!\nچوں دیدۂ راہ بیں نداری\nقاید قرشی بہ از بخاری”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%81_%D8%B2%D8%AF%DB%81_%D8%B3%DB%8C%D9%91%D8%AF_%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85"} {"title": "ایک لڑکی کا گیت", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جہاں چڑیاں گھنیری جھاڑیوں میں چہچہاتی ہوں\nجہاں شاخوں پہ کلیاں نت نئی خوشبو لٹاتی ہوں\nاور ان پر کوئلیں کو کو کے میٹھے گیت گاتی ہوں\nوہاں میں ہوں مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو\nجہاں برسات کے موسم میں سبزہ لہلہاتا ہو\nہوا کی چھیڑ سے ایک ایک پتا تھرتھراتا ہو\nجہاں چشموں کا پانی نرم لے میں گنگناتا ہو\nوہاں میں ہوں میری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو\nجہاں اونچے پہاڑوں پر گھٹائیں گھر کے آتی ہوں\nہوا کی گود میں نیلم کی پریاں مسکراتی ہوں\nاور اپنے نیلگوں ہونٹوں سے موتی میں لٹاتی ہوں\nوہاں میں ہوں میری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو\nجہاں نہروں میں بہتا پانی موتی سا چھلکتا ہو\nجہاں چاروں طرف گلزار میں سبزہ لہکتا ہو\nجہاں پھولوں کی خوشبوؤں سے بن کا بن مہکتا ہو\nوہاں میں ہوں مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو\nجہاں پھولوں کی خوشبوؤں سے بن کا بن مہکتا ہو\nجہاں باغوں میں اور کھیتوں میں ہر یا دل لہکتا ہو\nجہاں ٹیسو کے اک اک پھول میں شعلہ دہکتا ہو\nوہاں میں ہوں مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو\nجہاں آموں کے ہوں باغ اور کوئی رکھوالا نہ ہو ہرگز\nکوئی کتا بھی مالی نے جہاں پالا نہ ہو ہرگز\nاور اماں جی سا کوئی دیکھنے والا نہ ہو ہرگز\nوہاں میں ہوں مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو\nالٰہی میرے دل کی آرزو جلدی سے پوری ہو\nوہاں لے چل جہاں اس فصل میں جانا ضروری ہو\nمری ہو شملہ ہو سولن ہو دلہوزی مسوری ہو\nوہاں میں ہوں مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%84%DA%91%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%AA"} {"title": "ایک مدت سے طلب گار ہوں کن کا ان کا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک مدت سے طلب گار ہوں کن کا ان کا\nتشنۂ حسرت دیدار ہوں کن کا ان کا\n\nجان کو بیچ کے یہ نقد دل اب لایا ہوں\nسب سے پہلے میں خریدار ہوں کن کا ان کا\n\nامتداد اس مرے بیمار کا مت پوچھ طبیب\nروز میثاق سے بیمار ہوں کن کا ان کا\n\nمخلصی قید سے مشکل ہے مجھے تا دم مرگ\nدام الفت میں گرفتار ہوں کن کا ان کا\n\nبود و باش اپنا بتاؤں میں تمہیں کیا یارو\nساکن سایۂ دار ہوں کن کا ان کا\n\nہے بجا فخر کروں اپنی اگر تالا پر\nکفش برداروں کا سردار ہوں کن کا ان کا\n\nگالیاں تجھ کو جو دیتے ہیں یہ حاتمؔ ہیں کون\nکچھ نہ پوچھو میں گنہ گار ہوں کن کا ان کا\n\nتو سزا وار سزا کس کا ہوا ہے حاتمؔ\nصاحب من میں گنہ گار ہوں کن کا ان کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%85%D8%AF%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ایک مقتول جفا دو ظلم کے قابل نہ تھا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک مقتول جفا دو ظلم کے قابل نہ تھا\nورنہ دل کا مارنا آسان تھا مشکل نہ تھا\n\nشوق آزادی میں تڑپوں اس پہ راضی دل نہ تھا\nورنہ بیتابی سلامت چھوٹنا مشکل نہ تھا\n\nحشر میں وہ سر جھکائے ہیں میں شکوہ کیا کروں\nجانے والی جان تھی میرا کوئی قاتل نہ تھا\n\nاب سلیمانی کسے کہتے ہیں بتلا دے مجھے\nایک عالم تھا تری مٹھی میں میرا دل نہ تھا\n\nدے صدا اب دل مگر نقش قدم کو دیکھ کر\nایسے بھی در ہیں کبھی جن پر کوئی سائل نہ تھا\n\nخاص وقت یاد گلشن اور میرا چھیڑنا\nشب کو بھی صیاد میرے ذبح سے غافل نہ تھا\n\nصبح و شام غم نے دامن بھر کے بھیجا دہر سے\nورنہ اس عمر دو روزہ کا کوئی حاصل نہ تھا\n\nاس کی قدرت نا توانوں کو بھی دیتا ہے عروج\nآسماں سے سر چڑھے نالہ تو اس قابل نہ تھا\n\nتیرے نقشے نے بھی فرقت میں نہ بہلایا مجھے\nشام غم جب آئی گردوں پر ہر کامل نہ تھا\n\nدیکھ لیتے دو قدم چل کر کہ مطلب تھا یہی\nدر پہ جو آیا تھا وہ بیمار تھا سائل نہ تھا\n\nقلب سوزاں اور ہی دھوکا نہ کھانا دہر میں\nرہ گیا جو آگ دے کر سنگ تھا وہ دل نہ تھا\n\nکچھ سنبھل جاتا اگر کروٹ بدل جاتے مری\nیہ مجھے دشوار تھا ان کے لئے مشکل نہ تھا\n\nڈوبتا تھا دل شب وصل آ چکی تھی تا سحر\nایک تنکے کا سہارا بھی لب ساحل نہ تھا\n\nاس دل گم گشتہ مطلب کے سبب سے دہر میں\nکون سا دن تھا کہ میں آوارۂ منزل نہ تھا\n\nایک جلتی شمع اٹھوا دی بہت اچھا کیا\nسوختہ دل تھا میں کوئی رونق محفل نہ تھا\n\nشام غم جس میں رہے برسوں وہاں کیا عید ہو\nوہ تو آ جائے مگر یہ دل ہی اس قابل نہ تھا\n\nجز فریب حسن اور الفت کو ثاقبؔ کیا کہوں\nزندگی سے شے کبھی اس پر بھی دل مائل نہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%85%D9%82%D8%AA%D9%88%D9%84_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%AF%D9%88_%D8%B8%D9%84%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ایک مکالمہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اک مُرغِ سرا نے یہ کہا مُرغِ ہوا سے\nپَردار اگر تُو ہے تو کیا مَیں نہیں پَردار!\n\nگر تُو ہے ہوا گیر تو ہُوں مَیں بھی ہوا گیر\nآزاد اگر تُو ہے، نہیں مَیں بھی گرفتار\n\nپرواز، خصوصیّتِ ہر صاحبِ پَر ہے\nکیوں رہتے ہیں مُرغانِ ہوا مائلِ پندار؟\n\nمجروح حمیّت جو ہوئی مُرغِ ہوا کی\nیوں کہنے لگا سُن کے یہ گُفتارِ دل آزار\n\nکچھ شک نہیں پرواز میں آزاد ہے تُو بھی\nحد ہے تری پرواز کی لیکن سرِ دیوار\n\nواقف نہیں تُو ہمّتِ مُرغانِ ہوا سے\nتُو خاک نشیمن، اُنھیں گردُوں سے سروکار\n\nتُو مُرغِ سرائی، خورش از خاک بُجوئی\nما در صدَدِ دانہ بہ انجم زدہ منقار", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%81"} {"title": "ایک مکڑا اور مکھّی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اک دن کسی مکھّی سے یہ کہنے لگا مکڑا\nاس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا\nلیکن مری کُٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت\nبھُولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھّا\nغیروں سے نہ مِلیے تو کوئی بات نہیں ہے\nاپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا\nآؤ جو مرے گھر میں تو عزّت ہے یہ میری\nوہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو آنا\nمکھّی نے سُنی بات جو مکڑے کی تو بولی\nحضرت! کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا\nاس جال میں مکھّی کبھی آنے کی نہیں ہے\nجو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا، پھر نہیں اُترا\n\nمکڑے نے کہا واہ! فریبی مجھے سمجھے\nتم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہو گا\nمنظور تمھاری مجھے خاطر تھی وگرنہ\nکچھ فائدہ اپنا تو مرا اس میں نہیں تھا\nاُڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے\nٹھہرو جو مرے گھر میں تو ہے اس میں بُرا کیا!\nاِس گھر میں کئی تم کو دکھانے کی ہیں چیزیں\nباہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کُٹیا\nلٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردے\nدیواروں کو آئینوں سے ہے میں نے سجایا\nمہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونے\nہر شخص کو ساماں یہ میّسر نہیں ہوتا\nمکھّی نے کہا خیر، یہ سب ٹھیک ہے لیکن\nمیں آپ کے گھر آؤں، یہ امّید نہ رکھنا\nان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے\nسو جائے کوئی ان پہ تو پھر اُٹھ نہیں سکتا\n\nمکڑے نے کہا دل میں، سُنی بات جو اُس کی\nپھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا\nسَو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں\nدیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندا\nیہ سوچ کے مکھّی سے کہا اُس نے بڑی بی!\nاللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رُتبا\nہوتی ہے اُسے آپ کی صورت سے محبّت\nہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا\nآنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کَنیاں\nسر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا\nیہ حُسن، یہ پوشاک، یہ خوبی، یہ صفائی\nپھر اس پہ قیامت ہے یہ اُڑتے ہوئے گانا\nمکھی نے سُنی جب یہ خوشامد تو پسیجی\nبولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا\nانکار کی عادت کو سمجھتی ہوں بُرا میں\nسچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھّا نہیں ہوتا\nیہ بات کہی اور اُڑی اپنی جگہ سے\nپاس آئی تو مکڑے نے اُچھل کر اُسے پکڑا\nبھوکا تھا کئی روز سے، اب ہاتھ جو آئی\nآرام سے گھر بیٹھ کے مکھّی کو اُڑایا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%85%DA%A9%DA%91%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DA%A9%DA%BE%D9%91%DB%8C"} {"title": "ایک نواب صاحب کی ڈائری کے چند پراگندہ صفحے", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "مکرمی جناب ایڈیٹر صاحب!السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، عرصے سے فکر میں تھا کہ رسالہ، نمائش کے لئے کوئی مضمون لکھوں مگر اس کے لئے فرصت چاہئے۔ مجھے دفتر سے چھٹکارا نہیں۔ چند روز ہوئے پیارے لال پنساری کے ہاں سے گھر میں کچھ سودا آیا تھا۔ میں دفتر سے آکر لیٹا تھا۔ پڑیوں پر نظر پڑی۔ اٹھا کر دیکھنے لگا معلوم ہوا کہ کسی کی سوانح عمری کے صفحات ہیں۔۔۔ مضمون دل چسپ اور خط صاف تھا۔ تمام پڑیاں کھول ڈالیں۔ دیکھوں تو عجب پر لطف واقعات ہیں۔ اسی وقت پیارے لال کے ہاں پہنچا۔ وہاں اور بھی چند کاغذات ملے مگر سب متفرق و پریشان۔جو کچھ ملا ہے اس کی نقل روانہ کرتا ہوں۔ میں محنت سے بچا اور آپ کو ایک دل چسپ مضمون مل گیا لیکن افسوس اس کا ہے کہ ڈائری کا مکمل نسخہ نہ ملا اور نہ اب ملنے کی امید ہو سکتی ہے۔ خیر حاضر میں حجت نہیں۔والسلام(مرزا الم نشرح)دیباچہ ڈائرییہ ناچیز خادم ملک و ملت نواب اسد یار خاں ناظرین کرام کی خدمت میں عرض پرداز ہے کہ اس کم ترین کو کتوں سے ہمیشہ نفرت رہی ہےا ور رہنی بھی چاہئے۔ کیونکہ جب باری تعالیٰ نے ان ناپاک ہستیوں کو نجس العین فرمایا ہے تو انسان ضعیف البنیان کیا ہستی ہے کہ ان احکام کی خلاف ورزی کرے اور جب ہمارے ہادیٔ برحق نے کتوں سے کنارہ کرنے کی ہدایت فرمائی ہے تو اب کس کی مجال ہے کہ ان ہدایتوں پر عمل کرنے سے گریز کرے۔اکثر اصحاب اس ناچیز سے دریافت فرماتے ہیں کہ آخر کتوں سے نفرت کرنے کی وجہ کیا ہے؟ اس کا جواب میں پہلے تو شیکسپئر کے اس فقرے سے دیتا ہوں کہ’’جذبات انسانی طبیعت کے تابع ہیں۔ طبیعت اپنے حسب دل خواہ ان جذبات کو نفرت یا رغبت جس طرف چاہے پھیر دیتی ہے۔‘‘ دوسرے میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ میرے خیال ناقص میں کتوں کا ہلاک کرنا کار ثواب ہے۔ ثواب ہی نہیں بلکہ جہاد اور جہاد بھی کیسا کہ جہاد اکبر۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ کافر نجس ہیں نجس العین نہیں۔ اور یہ بھی ثابت ہے کہ کتے نجس العین ہیں۔ جب نجس کو ہلاک کرنا جہاد ہے تو نجس العین کو مارنا یقیناً جہاد سے بھی کچھ افضل ہے۔ یہی خیالات تھے جس کی وجہ سے میں کتوں کا جانی دشمن ہو گیا۔ جہاں پاتا مارتا، اور جہاں دیکھتا کم سے کم دو تین لاتیں تو ضرور رسید کر دیتا۔ البتہ بعض کتے بڑے زبر دست اور خوفناک ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں چوں کہ اپنی جان کی حفاظت فرض ہے اس لئے ذرا احتیاط کو کام میں لاتا۔ کبھی کچلے سے کبھی کسی اور طرح ان کو ٹھکانے لگاتا۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میری محنت مشکور ہوئی اور میری اس سرگرمی کی یہ داد ملی کہ پبلک نے مجھے’’غازی‘‘ کے بجائے ’’نواب کتے مار خاں‘‘ کا خطاب دیا۔ ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین۔جو جو مشکلات اور مقابلے مجھے اس جہاد میں پیش آئے ان کو میں نے اپنی ڈائری سے لے کر ایک جگہ جمع کیا اور اس کا نام ’’فتوح الکلاب‘‘ رکھا۔نوشتہ بماند سیہ بر سفیدنویسندہ را نیست فردا امیدامید ہے کہ قارئین کرام ان حالات کو پڑھ کر فائدہ اٹھائیں گے۔ اگر میری اس تحریر نے بعض اصحاب کے دل میں کتوں سے نفرت پیدا کر دی اور میری طرح کتوں کو مارنے میں ہر مشکل کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہو گئے تو میں سمجھوں گا کہ میری محنت ٹھکانے لگی۔نصیحت کسے سود مند آیدشکہ گفتار سعدی پسند آیدشوالسلام علی من تبع الہدیٰخاکسار نواب کتے مار خاںنوٹ اس کے بعد کے چند صفحات غائب ہیں۔کتا پیٹھ میں مکان ملا۔ سامنے ہی ایک نواب صاحب رہتے تھے۔ ان کا بڑا کارخانہ تھا۔ میری شومی قسمت (یا خوش قسمتی سے) ایک بڑا زبردست کتا بھی ان کے ہاں پلا ہوا تھا۔ جب دیکھو دروازے کے باہر بیٹھا ہے اور ہر آنے جانے والے پر بھونکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا مارنا مجھ پر فرض ہو گیا۔ آمنے سامنے کے مقابلے کی تو ہمت نہ پڑی۔ ہاں یہ ترکیب اختیار کی کہ جب ادھر سے گزرتا کوئی نہ کوئی چیز اس کے کھانے کو ڈال دیتا۔ اس کو بھی کھانے کا چسکا پڑ گیا اور چند دنوں میں مجھ سے کسی قدر مانوس ہو گیا۔ آخر ایک دن دہی میں کچھ لے دے کر اس کو جہنم واصل کر دیا۔نواب صاحب کو خبر ہوئی۔ وہ میرے خطاب اور حالات سے واقف تھے۔ مگر ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے میرا کچھ بگاڑ نہ سکتے تھے۔ اس لئے خون کے گھونٹ پی کر خاموش ہو گئے۔ چلو گئی گزری بات ہوئی۔ایک روز میں باہر گیا ہوا تھا۔ کوئی دس گیارہ بجے جو واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے دروازے کے سامنے کتوں کا جمگھٹا ہے اور میونسپلٹی کا چپراسی ایک ٹوکری بغل میں مارے کتوں کو گوشت پھینک رہا تھا۔ مجھے بہت برا معلوم ہوا۔ بچتا بچاتا چپراسی صاحب کے پاس تک پہنچا اور کہا، ’’بد معاش یہ تونے کیا گڑ بڑ مچائی ہے؟ کیا اپنے باوا کی فاتحہ کا کھانا تقسیم کرنے کو میرا ہی دروازہ ملا۔ اب یہاں سے جاتا ہے یا نہیں یا پھر اور طرح خبر لوں۔‘‘ چپراسی ناک بھوں چڑھا کر بولا، ’’اجی جاؤ جاؤ۔ ہم سرکاری حکم کی تعمیل کر رہے ہیں۔ حکم ہوا ہے کہ روز دس سیر گوشت اس جگہ کتوں کو ڈالا جائے۔ سرکاری سڑک ہے، ایساہی برا معلوم ہوتا ہے تو جا کر ہمارے نام کی نالش کر دو۔‘‘گوشت کی بو پا کر ادھر ادھر سے کتے ٹوٹ پڑے اور تھوڑی دیر میں ہزاروں کا مجمع ہو گیا۔ راستہ بند، گھر میں جاؤں تو کس طرح جاؤں۔ اتنی ہمت نہ ہوتی تھی کہ ایسی بڑی فوج کو چیر پھاڑ کر گزر جاؤں۔ آخر سوچتے سوچتے یہ سوجھی کہ اس بارے میں کسی وکیل سے مشورہ کرنا چاہئے۔ ان دنوں لالہ شیو سیوان مل کی وکالت زوروں پر تھی۔ سیدھا ان کے پاس پہنچا۔ تمام واقعہ بیان کیا اور کہا کہ نواب نجول خاں پر میرے جانب سے استغاثہ دائر کر دیجئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ کارروائی نواب صاحب ہی نے کی ہے۔ میں نے کہا کہ ’’ہو نہ ہو یہ انہی کی کارستانی ہے۔ وہ میونسپل کمیٹی کے ممبر ہیں۔ انہوں نے ہی اس نا معقول چپراسی کو اس لنگر کی تقسیم پر مقرر کیا ہے۔‘‘ وکیل صاحب نے کہا کہ، ’’ قیاسات پر کسی کو ملزم نہیں بنایا جا سکتا۔‘‘ میں نے کہا کہ، ’’تو میونسپل کمیٹی کو ملزم بنا دیجئے۔‘‘ انہوں نے اس سے بھی انکار کیا تو میں نے جل کر کہا، ’’تو اچھا کتوں ہی کو ملزمین بنائیے۔‘‘وکیل صاحب معاف فرمائیے میں کتوں کو ملزمین بنا کر اپنی وقعت کھونا نہیں چاہتا۔میں معلوم ہوتا ہے کہ کتوں میں آپ کی بڑی قدر و منزلت ہے اور ان میں اپنی وقعت کم ہونے سے آپ گھبراتے ہیں۔ یا شاید پہلے جنم میں آپ کتے تھے کہ اپنے سابقہ رشتے داروں اور دوستوں کے خلا ف کوئی کارروائی کرنا نہیں چاہتے۔وکیل صاحب نے بہت نیلے پیلے ہوکر میری طرف دیکھا مگر سمجھ گئے کہ ہاتھ پاؤں سے مجھ پر ور آنا مشکل ہے۔ اس لئے کہنے لگے، ’’جناب میں نے عدم تعاون کے اصول پر کاربند ہو کر وکالت ترک کر دی ہے، آپ کسی دوسرے وکیل کی تلاش کیجئے۔‘‘یہاں سے کورا جواب مل گیا تو میں نے دل میں کہا کہ چلو خود ہی قانون دیکھ ڈالو۔ انہیں وکیل صاحب میں کیا سرخاب کا پر ہے کہ یہی قانون سمجھتے ہیں، دوسرا نہیں سمجھ سکتا۔ راستے میں آتے آتے تعزیرات ہند اور ضابطہ فوجداری خرید لیا۔ گھر پر پہنچ کر تمام رات میں ان دونوں کتابوں کو دیکھ ڈالا۔ معاملہ کوئی پیچیدہ نہ تھا۔ قانون صاف تھا۔ کتوں کے افعال سے جرم مزاحمت بے جا پورا بنتا تھا۔ چنانچہ دفعہ (339) تعزیرات ہند کے تحت استغاثہ مرتب کیا۔ ترتیب استغاثہ کے وقت یہ دقت پیش آئی کہ آخر ملزمین کن کو بنایا جائے۔ قانون پر غور کرنے کے بعد میں نے استغاثہ کا عنوان اس طرح قائم کیا۔نواب اسد یار خاں المخاطب بہ کتے یار خاں بہادر۔۔۔ مستغیثبنام جمیع سگان خوردو کلاں بازاری (فاتر العقل) بولایت میونسپل کمیٹی۔۔۔ ملزمینعلت مزاحمت بے جا زیر دفعہ (339) تعزیرات ہنداستغاثہ میں تمام واقعات مذکورہ بالا کی صراحت کر کے استدعا کی گئی تھی کہ چوں کہ فاتر العقل ہونے کی وجہ سے کتے مستثنیات عامہ کی دفعہ 84 میں داخل ہو جاتے ہیں، اس لئے بعد تحقیقات میونسپل کمیٹی کو سزا قانونی صادر فرمائی جائے۔استغاثہ مرتب کر کے دوسرے دن ڈپٹی کلب علی خاں صاحب مجسٹریٹ ضلع کے اجلاس پر داخل کر دیا۔ میرے حلفی بیان کے بعد عدالت سے میونسپل کمیٹی کے نام سمن جاری ہوئے اور تاریخ پیشی پر مقدمہ پیش ہوا۔ میونسپل کمیٹی کی جانب سے مسٹر کولی بیرسٹر ایٹ لا کونسل تھے۔ اپنی طرف سے میں نے خود پیروی کی۔سب سے پہلے کونسل ملزمین نے یہ بحث چھیڑی کہ میونسپل کمیٹی کتوں کی ولیہ نہیں ہو سکتی۔ دوسرے یہ کہ کتوں کے فاتر العقل ہونے کی کوئی شہادت یا ثبوت نہیں ہے۔ مجسٹریٹ صاحب نے میری طرف دیکھا۔ میں ان مباحث کے لئے پہلے ہی سے تیار تھا۔ میں نے بحث کی کہ’’میرے فاضل دوست نے اپنی بحث کی ابتدا ہی غلط کی ہے کہ پہلے ولایت کا مسئلہ چھیڑا ہے اور بعد میں کتوں کے فاتر العقل ہونے کا ثبوت طلب کیا ہے۔ چاہئے یہ تھا کہ پہلے کتوں کے فاتر العقل ہونے پر بحث کی جاتی۔ اگر وہ فاتر العقل قرار پاتے تو اس صورت میں ولایت کی بحث کی جاتی۔ بہر حال پہلے میں اپنے فاضل دوست سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ انہیں کتوں کے فاتر العقل تسلیم کرنے میں کیوں تامل ہے۔‘‘مسٹر کولی میں بغیر ثبوت کے کسی چیز کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ڈپٹی صاحب میرے خیال میں بعض کتے اپنے مالکوں سے زیادہ ہوشیار اور سمجھ دار ہوتے ہیں۔مسٹر کولی جناب والا صحیح ارشاد فرماتے ہیں۔ خود میرا کتا ٹو بی ایسا ہی ہے۔میں ممکن ہے کہ مسٹر کولی کا کتا خود ان سے زیادہ ہوشیار اور سمجھ دار ہو۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ کتے فاتر العقل نہیں ہوتے بلکہ اگر منطقی نتیجہ نکل سکتا ہے تو یہ نکل سکتا ہے کہ مسٹر کولی کتوں سے بھی زیادہ فاترا لعقل ہیں۔مسٹر کولی جناب والا میں ان الفاظ کو برداشت نہیں کر سکتا۔نوٹ یہ کچھ عجب اتفاق ہے کہ ہمارے نواب صاحب کو مکان ملا تو کتا پیٹھ میں۔ مد مقابل ملے تو نجول خاں، بیرسٹر ملے تو مسٹر کولی، ڈپتی صاحب ملے تو کلب علی خاں، وکیل صاحب ملے تو شیو سیوان مل۔ غرض کتوں کے تلازمے سے کہیں نجات نہیں ملی ہے۔ واقعی۔ ’اتفاقات ہیں زمانے کے۔‘ (یہ عبارت حاشیہ میں ہے)میں حضور اس مسئلے کا صغریٰ اور کبریٰ خود مسٹر کولی نے قائم کیا ہے۔ میں نے تو صرف اس کی بنا پر نتیجے کا اظہار کیا ہے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ مسٹر کولی کتوں سے زیادہ بے وقوف ہیں۔ انہوں نے خود اپنی عقل کامعیار ظاہر کیا۔ تعجب ہے کہ اسی کے دہرانے کو یہ اپنی توہین خیال فرماتے ہیں۔ڈپٹی صاحب اچھا اب آپ اپنی بحث کی طرف رجوع کیجئے۔میں جناب والا کسی کے عاقل یا فاتر العقل ہونے کا اندازہ اس کے افعال سے لگایا جاتا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ کتے بازاروں میں کھڑے ہڈیاں چباتے ہیں اور ان کو اپنے اس فعل پر شرم تک نہیں آتی تو ان کو فاتر العقل کہتے ہیں۔ کون امر مانع ہو سکتا ہے۔ کیونکہ خود ان کے افعال ان کے فاتر العقل ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔مسٹر کولی میرے خیال میں ان کا اس طرح ہڈیاں چبانا ان کے فاتر العقل ہونے کا ثبوت قطعی نہیں ہے۔میں اگر میرے فاضل دوست سڑک پر کھڑے ہو کر ہڈیاں چبانے لگیں اور کوئی ان کو فاتر العقل نہ کہے تو میں کتوں کو بھی فاتر العقل کے زمرے سے نکال دینے پر بالکل تیار ہوں۔مسٹر کولی میں معزز عدالت کو توجہ دلاتا ہوں کہ مستغیث نے جو الفاظ میری نسبت استعمال کئے ہیں وہ میری توہین کی حد تک پہنچتے ہیں۔میں جناب والا میرے فاضل دوست نے ثبوت طلب کیا۔ میں نے منطق سے اس کا جواب دیا۔ اگر یہ میرے اعتراض کا عملی ثبوت دینے پر تیار نہیں ہے تو یہ کتوں کو فاتر العقل تسلیم کر لیں۔ چلو چھٹی ہوئی نہ مجھ کو حجت نہ ان کو شکایت۔ڈپٹی صاحب بہتر ہوگا کہ اگر آپ اس قسم کی تمثیلات سے پرہیز کریں۔میں جناب والا۔ قانون ہمیشہ تمثیلات سے اچھی طرح سمجھا جاتا ہے۔ اگر تمثیلات سے جناب کو ایسی ہی نفرت ہے تو مناسب ہوگا کہ قانون سے ان کو خارج کر دینے کی تحریک فرما دی جائے۔ڈپٹی صاحب آپ خیال رکھیں کہ یہ گفتگو آپ کہاں کر رہے ہیں ممکن ہے کہ آپ کے الفاظ کی بنا پر تحقیر عدالت کا مقدمہ آپ پر قائم ہو جائے۔میں حضور والا کی تقریر سے خود میری حجت کی تائید ہوتی ہے۔ عدالت کوئی عاقل شے نہیں ہے جس کی تحقیر ہو سکے۔ اگر خدا نخواستہ تحقیر ہوگی تو جناب والا کی اور اگر مقدمہ قائم ہوگا تو اس عنوان سے قائم ہو سکے گا کہ، ’’عدالت (فاتر العقل) بولایت صاحب مجسٹریٹ بہادر مستغیث۔‘‘ڈپٹی صاحب آپ اپنی بحث میں احتیاط کیجئے اور آگے چلیے۔میں دوسری بحث فریق مخالف کی جانب سے کی جاتی ہے کہ میونسپل کمیٹی کتوں کی ولیہ نہیں ہے۔ اس کا جواب میں میونسپل کمیٹی کے ضابطے سے دینا چاہتا ہوں۔ میرے فاضل دوست اس امر کو تسلیم کریں گے کہ تمام رعایا کے مکانات سے میونسپل کمیٹی ٹیکس وصول کرتی ہے۔ لیکن جو جائداد خود میونسپل کمیٹی کی ہے اس پر ہاؤس ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ اصول یہ ہوا کہ میونسپل کمیٹی کی جو چیز ہے وہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔ اب اس کا عکس ملاحظہ کیجئے۔ رعایا کے کتوں پر میونسپل کمیٹی ٹیکس لیتی ہے۔ لیکن بازاری کتوں پر کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ جنگلی کتے میونسپل کمیٹی کی ملک ہیں اورچوں کہ (جیسا کہ میں اوپر ظاہر کر آیا ہوں) یہ کتے فاتر العقل اس لئے ہیں کہ ان کا مالک و قابض یعنی میونسپل کمیٹی ان کی ولیہ جائز ہے۔مسٹر کولی میں معزز عدالت سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میرے دوست کے ان فقروں سے میرے موکلین کی توہین ہوتی ہے۔میں میں اپنے فاضل دوست سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ ان کے مؤکل کتے ہیں یا میونسپل کمیٹی؟ اس صراحت کی مجھے اس لئے ضرورت ہوئی ہے کہ مستغیث کی نگاہ میں بہ حیثیت ملزمین اس مقدمے میں کتوں اور میونسپل کمیٹی میں کوئی فرق نہیں ہے۔مسٹر کولی میں معزز عدالت کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ یہ دوسرے پہلو سے میرے موکلین پر حملہ کیا جا رہا ہے۔میں میرے فاضل دوست نے میرے سوال کا جواب عنایت نہیں فرمایا۔مسٹر کولی میں میونسپل کمیٹی کی طرف سے پیروی کر رہا ہوں۔میں جب مسٹر کولی کتوں کی طرف سے کونسل نہیں ہیں اور یہ میونسپل کمیٹی کو کتوں کی ولیہ بھی تسلیم نہیں کرتے تو میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ کون سے قاعدے کی رو سے کتوں کی طرف سے بحث کر رہے ہیں۔ ان کو چاہئے تھا کہ اپنے موکل کا نام زمرہ ملزمین سے خارج کرانے کی کوشش کرتے۔ بقیہ ملزمین اور ہم خود آپس میں بھگت لیتے۔ بحالت موجودہ میونسپل کمیٹی نے جو ایک بیرسٹر مقرر کر کے رعایا کا روپیہ برباد کیا ہے اس کے متعلق میں عدالت سے نہایت ادب کے ساتھ درخواست کروں گا کہ مجھے رعایا کی جانب سے میونسپل کمیٹی پر خیانت مجرمانہ زیر دفعہ 409 تعزیرات ہند مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دی جائے۔ڈپٹی صاحب آپ صرف اپنے مقدمے سے سروکار رکھیئے۔مسٹر کولی میں مستغیث کے ان مباحث قانونی کا کوئی جواب دے کر عدالت کا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا۔ معزز عدالت خود ان کی وقعت پر غور کرکے فیصلہ صادر فرما سکتی ہے۔ مجھے صرف ایک قانونی بحث اور کرنی رہ گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ تعزیرات ہند میں صرف افعال اشخاص سے بحث کی گئی ہے۔ جانوروں کے افعال اس میں داخل نہیں ہو سکتے۔ اگر میں تسلیم کر لوں کہ چند کتے مستغیث کے دروازے کے سامنے جمع ہوئے اور بفرض محال ان کی سدراہ بھی ہوئے توان کے افعال ان کو مزاحمت بے جا کے جرم کے تحت میں نہیں لا سکتے۔میں اپنے فاضل دوست کی اس بحث کی قدر کرتا ہوں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے تعزیرات ہند کو نہایت سرسری نظر سے دیکھا ہے۔ میں ان سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا میونسپل کمیٹی قانوناً ’’شخص‘‘ کی تعریف میں داخل ہو سکتی ہے؟مسٹر کولی ہو سکتی ہے۔میں یہ کیوں کر؟مسٹر کولی کیونکہ چند میونسپل کمشنروں کے مجموعے کا نام میونسپل کمیٹی ہے۔ اس وجہ سے لفظ ’’شخص‘‘ کا اطلاق قانوناً اس پر ہو سکتا ہے۔میں میرے فاضل دوست نے خود اپنے اس جواب سے اپنے اعتراض کو رفع کر دیا۔ جب چند جانداروں کے مجموعے پر لفظ شخص کا اطلاق ہو سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی کہ کتوں کا مجموعہ لفظ ’’شخص‘‘ کے تحت میں کیوں نہ آئے اور جب کتوں کا مجموعہ لفظ ’’شخص‘‘ سے قانوناً تعبیر کیا جاسکتا ہے تو جو افعال اس کتوں کے مجموعہ سے سرزد ہوئے ہیں۔ ان سے تعزیرات ہند کے جرائم متعلق ہو جائیں گے۔مسٹر کولی میں اس بحث کے سمجھنے سے قاصر ہوں۔میں مجھے آپ کے دماغ سے یہی امید تھی۔ کیا اچھا ہوتا اگر آپ اپنے کتے کو بھی ساتھ لے آتے۔ شاید دونوں مل کر اس بحث کو سمجھ لیتے۔ڈپٹی صاحب اچھا آگے چلئے۔میں اب رہی یہ بحث کہ کتوں کا سد راہ ہونا مزاحمت بے جا ہو سکتا ہے یا نہیں۔ تو میں اس کے متعلق نہایت زور سے کہوں گا کہ ہو سکتا ہے اور ضرور ہو سکتا ہے۔ میں اپنی اس بحث کو ایک تمثیل سے بہت اچھی طرح ذہن نشین کرا سکتا ہوں۔ فرض کیجئے، ہمارے بیرسٹر صاحب اپنے مکان میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور ہمارے ڈپٹی صاحب ان کے سد راہ ہوتے ہیں اور اسی کش مکش میں ہمارے فاضل دوست کے دو چار ٹھوکریں بھی پڑ جاتی ہیں میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا مزاحمت بے جا جرم مکمل ہو گیا؟مسٹر کولی جرم ضرور ہوا مگر جن الفاظ میں وہ بیان کیا گیا ہے وہ عدالت کی توجہ کا محتاج ہے۔میں اب بیرسٹر صاحب کے دروازے پر ڈپٹی صاحب کو کتا سمجھ لیجئے۔ اگر یہ اس کش مکش میں ہمارے فاضل دوست پر بھونکیں اور کاٹ کھائیں تو کیا جرم مزاحمت بے جا مکمل نہیں ہوا۔مسٹر کولی مفروضات کو قانون میں دخل نہیں ہے۔میں یہ قانونی مفروضات ہیں۔ میں اوپر ثابت کر آیا ہوں کہ کتے لفظ ’’شخص‘‘ کی تعریف میں قانوناً آ سکتے ہیں اور آپ یہ تسلیم کریں گے کہ ڈپٹی صاحب بھی قانوناً شخص ہیں، اس لئے اپنی بحث میں اگر میں نے یہ فرض کر لیا کہ ڈپٹی صاحب کتے ہیں تو کیا ظلم کیا۔ بہر حال جب ڈپٹی صاحب کا سد راہ ہونا جو مسٹر کولی سے کم تعلیم یافتہ ہیں، مزاحمت بے جا ہے تو کتوں کا سد راہ ہونا بدرجۂ اولی مزاحمت بے جا ہے کیونکہ ہمارے فاضل دوست تسلیم کرتے ہیں کہ بعض کتے ان سے زیادہ سمجھ دار ہوتے ہیں۔خدا خدا کر کے مکان ملا۔ مکان گو چھوٹا تھا لیکن میری ضرورت کو کافی ہے گھر میں تھا کون۔ میں، میری بلیاں اور ایک کھوسٹ ماما۔ دیوار بیچ مولوی قطمیر صاحب کا مکان تھا۔ بے چارے بڑے بھلے آدمی معلوم ہوتے تھے۔ مجھ سے آ کر ملے۔ حالات دریافت کئے۔ باتوں باتوں میں کتا پیٹھ کے مکان چھوڑنے کا بھی ذکر چھیڑ دیا۔ میں نے تمام واقعات بیان کئے۔ کہنے لگے، ’’بھئی معاف کرنا میرے ہاں بھی ایک کتا پلا ہوا ہے مگر بہت غریب ہے اورمیں کوشش کروں گا کہ وہ آپ کو آ کر تکلیف نہ دے۔‘‘ کتے کا ذکر سنتے ہی جو وقعت مولوی صاحب کی میرے دل میں قائم ہوئی تھی وہ یک قلم جاتی رہی۔ اس کے بعد میں نے ان سے کچھ اکھڑی اکھڑی باتیں کیں۔ وہ کسی قدر کشیدہ خاطر ہو کر میرے پاس سے اٹھ گئے۔چار روز تک کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ پانچویں روز میں صحن میں بیٹھا تھا کہ ایک نہایت بد صورت کالا کتا پاخانے کی مہری سے نکل کر بہت اطمینان سے اندر آیا اور اس طرح ٹہلنے لگا گویا اس کے باوا کا مکان ہے۔ میں نے بہت دھت دھت کی لیکن اس نے یہ بھی نہ جانا کہ کون کتا بھونک رہا ہے۔ میں نے فہیمن کو پکارا وہ باورچی خانے سے لکڑی لے کر دوڑی۔ جب کہیں جا کر یہ بلا دفع ہوئی۔ اب مشکل یہ آپڑی کہ پے خانہ کے برابر والی دیوار مولوی قطمیر صاحب کی تھی اور مہری بھی انہیں کی تھی۔ مہری بند کس طرح کرتا۔ آخر سوچتے سوچتے ایک ترکیب سوجھی۔ کوئی دو من کا پتھر لے کر عین مہری کے اوپر منڈیر کے بالکل کنارے پر رکھا، پتھر میں رسی باندھی اورمہری کے سامنے بیچوں بیچ ایک لمبی سی کیل گاڑ کر اور رسی کو تان کر اس کا دوسرا سرا کیل میں باندھ دیا۔ اور دل میں کہا، ’’لو بیٹا اب تم آنا کھوپڑی چورم چور نہ ہو جائے تو میرا نام نواب کتے مار خاں نہیں۔‘‘وہ دن تو خیر سے گزر گیا۔ دوسرے دن صبح ہی کو مولوی صاحب کے کتے نے میرے مکان میں مٹرگشت کا ارادہ کیا۔ میں صحن میں بیٹھا ان کی کار گزاری دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے نہایت اطمینان سے مہری میں سر ڈالا۔ سر رسی سے ٹکرایا۔ ادھر انہوں نے زور کیا، ادھر پتھر آہستہ آہستہ منڈیر سے کھسکنا شروع ہوا۔ ادھر یہ مہری سے باہر نکلے ادھر پتھر اوپر سے آیا۔ قیں کر کے وہیں ٹھنڈے ہو گئے۔ مولوی صاحب کی بیوی نے جو آواز سنی تو غل مچایا، ’’ہائے ہائے مولوی صاحب اس حرام زادے نواب نے میرے کتے کو مار ڈالا۔ خدا اس کو غارت کرے۔‘‘ایک لمحہ نہ گزرا تھا کہ مولوی صاحب میرے مکان میں آئے اور بغیر سلام علیک کہے سیدھے مہری کے پاس پہنچے۔ کتے کو پتھر کے نیچے سے نکالا اور اسی طرح چپ چاپ واپس چلے گئے۔ مجھے خیال تھاکہ کچھ گل خپ ہو جائے گی لیکن ان کے اس تحمل پر مجھے تعجب ہوا۔ میں نے دل میں کہا کہ چلو مفت میں ایک کتا تو کم ہوا۔ رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت۔ اگر معلوم ہوتا کہ مولوی صاحب کا سکون طوفا ن کی آمد کا پیش خیمہ ہے تو میں پہلے ہی سے گھر چھوڑ کر بھاگ جاتا۔اس کے بعد فہیمن کا مولوی صاحب کے ہاں آنا جانا بڑھا۔ جب دیکھو باورچی خانہ خالی پڑا ہے۔ میں نے کہا، ’’بی فہیمن اس طرح راہ و رسم بڑھانا اچھا نہیں، تمہیں میرے پاس رہنا ہے تو سیدھی طرح رہو ورنہ خدا حافظ۔ تمہیں نوکری کی کمی نہیں اورمجھے نوکروں کا توڑا نہیں۔‘‘ بی فہیمن نے کہا، ’’میاں! میں آپ کا کام کاج کر کے دو گھڑی رحمت کی ماں کے پاس جا بیٹھتی ہوں۔ اگر آپ کو یہ ناگوار ہے تو آج سے نہ جایا کروں گی۔‘‘یہ سن کر میں چپ ہو رہا۔دوسرے دن شام کو بی فہیمن ہانپتی کانپتی میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں، ’’میاں مجھے بخار چڑھ رہا ہے۔ آپ اجازت دیں تو گھر ہو آؤں۔ کھانا پکا دیا ہے، آپ کو تکلیف تو ہوگی اگر آپ کھانا کھا کر سامان باورچی خانے میں رکھ دیں تو انشاء اللہ میں کل صبح آ کر دیکھ لوں گی۔‘‘میں نے کہا، ’’اس میں کیا ہرج ہے۔ جاؤ گھر ہو آؤ۔ مگر کل صبح ضرور آجانا۔ ورنہ مجھے تکلیف ہوگی۔‘‘ وہ دعائیں دیتی ہوئی چلی گئی اور میں نے باہر کے دروازے کی کنڈی لگا لی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کم بخت بھی مولوی صاحب سے مل گئی تھی۔ بخار کا بہانہ تھا۔ مجھے صرف تنہا مکان میں چھوڑ جانا مقصود تھا۔خیر تھوڑی دیر بعد میں نے اٹھ کر وضو کیا۔ عشا کی نماز پڑھی۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ باہر سیتل پاٹی ڈالی۔ باورچی خانے میں سے کھانا نکال کر لایا، منہ میں نوالا رکھنا ہی چاہتا تھا کہ پے خانہ کی مہری کی طرف سے قیاؤں کی آواز آئی اور ساتھ ہی ایک کالا جگادری کتا صحن میں نازل ہوا۔ میں نے ہش ہش کی، مارنے کو لکڑی اٹھائی، وہ مہری کی طرف بھاگا لیکن مہری تک نہ پہنچا تھا کہ ایک دوسرا کتا اسی راستے سے اندر داخل ہوا۔ اس کے بعد تو کتوں کی قطار لگ گئی۔ ایک دو تین، چار، دس بارہ، بیس پچیس، خدا جھوٹ نہ بلوائے تو کم از کم تیس پینتیس کتے اندر گھس آئے۔ تمام صحن بھر گیا۔ ایک کو ماروں، دو کو ماروں، آخر کن کن کو ماروں، کتوں نے بھی دیکھا کہ ہماری تعداد زیادہ ہے اور یہ شخص کچھ سہما ہوا سا ہے، اور بھی شیر ہو گئے، پہلے مجھ پر غرائے، ادھر کھانے کی بو ناک میں گئی۔ ایک دم دستر خوان پر ہلا بول دیا۔ ان کی یورش سے میں پریشان ہو کر بھاگا۔ کتے سمجھے گھر میں یہی ایک غیر جنس ہے، مجھ پر پل پڑے۔ مجھ کو اس وقت اور کچھ نہ سدھرا۔ سامنے پنکھا لٹکا ہوا تھا۔ جست کر کے او پر چڑھ گیا۔ ایک کتے نے چڑھتے چڑھتے پاؤں پر منہ بھی مارا مگر میں جوں تو ں کسی نہ کسی طرح پنکھے پر جا ہی بیٹھا۔اب کیا تھا حرام زادوں کو خوان یغما مل گیا۔ نہایت فراغت سے دستر خوان صاف کر دیا اور ہم خون کے گھونٹ پیتے پنکھے پر بیٹھے رہے۔ کھانے اور لڑنے سے فراغت پا کر بد معاشوں نے مکان کے کونے کونے پر قبضہ کر لیا۔ کوئی کہیں جا بیٹھا کوئی کہیں، دو زبر دست کالے کتے عین میرے پنکھے کے نیچے بآرام تمام آ کر قالین پر دراز ہو گئے۔جب ذرا امن ہوا تو میں نے سوچنا شروع کیا کہ اس واردات کی بنا پر ان کتوں اور مولوی قطمیر صاحب پر کیا کیا جرائم عائد ہو سکتے ہیں۔ تعزیرات ہند پاس نہ تھی لیکن اس کی دفعات دھیان میں تھیں۔ آخر رائے یہ قرار پائی کہ نقب زنی، بلوہ اور ڈاکے کے جرائم کی اعانت کا الزام مولوی صاحب پر قائم کیا جا سکتا ہے۔ وہیں بیٹھے بیٹھے استغاثہ کا مضمون بھی دل میں سوچ لیا۔ غرض اسی فکر میں رات کے کوئی بارہ بج گئے۔ نیند کا غلبہ ہوا۔ آنکھیں بند ہونے لگیں اور آخر کار آنکھ لگ گئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ بلوے نقب اور ڈاکے کا مقدمہ ڈپٹی صاحب کے اجلاس پر پیش ہوا۔ کتوں کو حبس دوام بعبور دریائے شور کی سزا ہوئی اور مولوی صاحب پر اعانت کا جرم ثابت قرار پا کر چھ سال کی قید با مشقت کی سزا سنا دی گئی اور یہ بھی حکم دیا گیا کہ جو جرمانہ وصول ہو، اس میں سے حسب دفعہ 545 ضابطہ فوج داری نو ہزار روپیہ مستغیث کو دیا جائے۔ یہ سزا مرافعہ میں بحال رہی اور مجھ کو جرمانہ وصول شدہ میں سے نو ہزار روپئے نقد حسب ضابطہ وصول ہو گئے۔اب کیا تھا۔ یار دوستوں نے مبارک باد کی بوچھار کر دی اور تقاضا شروع کیا کہ اس خوشی میں جلسہ کیا جائے۔ خاص باغ میں جلسہ مقرر ہوا، ارباب نشاط بلائے گئے۔ ساون کا مہینہ ہے، امرائی میں جھولا پڑا ہے۔ یہ خاکسار جھولے میں بیٹھا ہے۔ ننھی جان اور بی حفیظن کھڑی جھولا جھولا رہی ہیں؟ ملا ر گائے جا رہے ہیں کہ ایک دفعہ ہی جھولے کی رسی ٹوٹی اور میں دھم سے نیچے آ رہا اور گرنے کے ساتھ ہی دو کتوں نے چیخ ماری۔ آنکھ کھل گئی۔ دیکھتا ہوں تو پنکھے کے نیچے پڑا ہوا ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کہ پنکھے سے جو گرا توسیدھا کتوں کے اوپر۔ ان کو اس بلائے ناگہانی کے نازل ہونے کا کیا خیال تھا۔ ہڈیا ں پسلیاں چورا ہو گئیں۔ لنگڑاتے اور چیختے ہوئے بھاگے۔ دوسرے کتے بھی گھبرائے۔ان دونوں زخمیوں نے پہلے دروازے کا رخ کیا۔ اس کو بند پایا تو سیدھے پے خانے کی مہری کی طرف گئے اور زور کر کے پار ہو گئے جانوروں میں بھیڑ یا چال تو ہوتی ہی ہے سب کے سب یکے بعد دیگرے مہری سے نکل کر مولوی صاحب کے گھر میں داخل ہو گئے۔ جب یہ آفت دفع ہوئی تو میں بھی اٹھا۔ کولہےمیں بہت چوٹ آئی تھی۔ مشکل سے کھسکتا کھسکاتا دروازے کے پاس آیا کنڈی کھولی۔ باہر نکلا اور تمام رات سڑک پر بیٹھ کر گزار دی۔ صبح بی فہیمن سرخرو چونڈ ا آئیں۔ میں نے ان کو بہت برا بھلا کہا اور حساب کر دیا۔ کیونکہ مثل مشہور ہے دشمن کا دوست اپنا دشمن۔ آج میرے ساتھ یہ سلوک کیا کل خدا جانے گلا گھٹوا دیں۔نو بجے گھر میں آیا، کپڑے بدلے، بستہ بغل میں مار ہوٹل گیا۔ وہاں کھانا کھایا۔ پھر تعزیرات کی دفعات کو دیکھا۔ کوتوالی میں رپورٹ کی لیکن انہوں نے مقدمے کا چالان کرنے سے انکار کیا۔ اس لئے خود استغاثہ لکھا اور دس بجے عدالت ضلع میں جا کر داخل کر دیا۔ تیس نفر کتوں اور مولوی قطمیر صاحب کو ملزمین بنایا۔ استغاثہ میں نقب زنی بوقت شب حسب دفعہ 453 ڈاکہ زیر دفعہ 395 اور صلاح مہلک کے ساتھ بلوہ زیر دفعہ 148 تعزیرات ہند کے جرائم قائم کئے۔ کچھ دے دلا کر اسی روز سمن جاری کروائے۔ سر رشتہ میں یہ اعتراض ہوا کہ کتوں پر سمن کی تعمیل کیوں کر کی جائے۔ ان کو فاتر العقل تو کہا نہیں جا سکتا کیونکہ میونسپل کمیٹی والے مقدمے میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ کتے فاتر العقل نہیں ہیں۔ اس لئے بالآخر بہت کچھ حجت کے بعد یہ طے پایا کہ کتوں کو نابالغ اور زیر پرورش مولوی قطمیر صاحب قرار دے کر مولوی صاحب پر جملہ سمنوں کی تعمیل کرا دی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ گواس قانونی مسئلے کے سلجھانے میں میرے کئی روپے صرف ہوئے لیکن مجھے اس کی پروا نہ تھی کیونکہ مجھے یقین تھا کہ آخر میں مولوی صاحب کے جرمانے میں سے مجھے نو ہزار روپے ضرور ملیں گے۔مولوی صاحب کو یقین نہ تھا کہ معاملہ عدالت تک کھنچے گا۔ اس لئے سمن پہنچنے کے بعد بہت گھبرائے اور مجھ سے آ کر معذرت کرنے لگے کہ میرا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں ہے۔ ساری کارستانی میرے چھوکرے کی ہے۔ میں نے کہا کہ مولوی صاحب! میں شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ کی وجہ سے مجھے ایک اور ملزم کا نام معلوم ہو گیا۔ کل اس کو بھی زمرہ ملزمین میں شریک کئے دیتا ہوں۔ اب رہا معاملہ کا تصفیہ، تو وہ یوں ہو سکتا ہے کہ آپ محلے کے تمام کتوں کو مار ڈالیں اور چونکہ عدالت سے آپ کے حق میں چھ سال کی قید اور دس ہزار روپے جرمانہ کی سزا صادر ہونے والی ہے، اس لئے میں اتنا کر سکتا ہوں کہ اگر آپ نو ہزار روپے مجھے بطور ہر جانہ ادا کریں تو میں مقدمے سے دست برداری کر لوں گا۔ اگر آپ اس پر راضی نہیں ہیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دنیا کی کوئی قوت آپ کو جیل خانے جانے سے نہیں روک سکتی۔میری یہ قانونی بحث سن کر مولوی صاحب حیران ہو گئے۔ بہت جز بز ہوئے۔ منہ ہی منہ میں کچھ بڑ بڑاتے ہوئے اٹھے۔ میں نے کہا مولوی صاحب سنبھل کے بات کیجئے گا۔ آپ کا یہ بڑبڑانا آپ کو ایک اور جرم کا مرتکب کئے دیتا ہے۔ اگر آئندہ آپ کے ہونٹ ہلے تو ابھی جا کر استغاثہ میں ازالہ حیثیت عرفی کی دفعہ 500 تعزیرات اور بڑھا آتا ہوں۔ اس تقریر سے مولوی صاحب کے رہے سہے حواس گم ہو گئے اور دروازے سے نکل کر نوک دم بھاگ گئے۔مجھے توقع تھی کہ شاید مولوی صاحب پھر مصالحت کا دروازہ کھٹکھٹائیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی وکیل کے پھندے میں جا پھنسے اور آپ ان لوگوں کے اصول سے واقف ہیں کہ مردہ دوزخ میں جائے یا بہشت میں ان کو اپنے حلوے مانڈے سے کام۔بہر حال تاریخ پیشی آ گئی اور میں کتابوں کا پشتارہ بغل میں مار ڈپٹی صاحب کے اجلاس پر پہنچ گیا۔ پہلی پیشی میرے ہی مقدمے کی تھی۔ اندر جا کر کیا دیکھتا ہوں کہ تیس چالیس کتے ایک رسی میں بندھے کھڑے ہیں۔ رسی کا سرا مولوی قطمیر صاحب کے ہاتھ میں ہے اور مولوی صاحب مسٹر کولی بیرسٹریٹ لا سے کھڑے باتیں کر رہے ہیں۔ ڈپٹی صاحب اس وقت تک اجلاس پر تشریف نہیں لائے تھے۔ میں نے کولی صاحب سے کہا، ’’کیا آپ ان تمام ملزمین کے وکیل ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ہاں!‘‘ میں نے کہا، ’’کیا مناسب نہ ہوگا کہ ان ناپاک ہستیوں کو عدالت کے کمرے سے خارج کر دیا جائے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’نہیں ملزمین کے مواجہہ میں تحقیقات ہوگی۔‘‘ یہ بالکل قانون کے مطابق جواب تھا لیکن چوں کہ مجھے یقین تھا کہ ان ملزین کو عنقریب حسب دوام بعبور دریائے شور کی سزا ہونے والی ہے اس لئے دل پر جبر کر کے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔دس بجتے ہی ڈپٹی صاحب اجلاس پر آئے۔ کتوں کا ہجوم دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا، ’’اچھا ہمارے نواب صاحب کا کوئی سنگین مقدمہ ہے۔‘‘ میں نے نہایت ادب سے سلام کر کے عرض کی، ’’حضور والا خود ملاحظہ فرمائیں گے کہ اس غریب پر کیا کیا ظلم توڑے گئے ہیں۔ اس سے زیادہ میں کچھ عرض کر کے عدالت کی رائے پر اثر ڈالنا خلاف قانون و انصاف سمجھتا ہوں۔‘‘ مسٹر کولی نے کھڑے ہو کر کہا، ’’مائی لارڈ! اس مقدمے کا دار و مدار محض قانونی مباحث پر ہے کیونکہ اس مقدمے کے مستغیث اور ہمارے قدیم دوست مولوی اسد یار خاں صاحب نے نہ تو گواہوں کی کوئی فہرست استغاثہ کے ساتھ منسلک کی ہے اور نہ کوئی شہادت طلب کی گئی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ بھی محض اپنے بیان اور قانونی مباحث پر اس مقدمے کا تصفیہ کرانا چاہتے ہیں۔ اگر یہ صورت ہے اور مجھے یقین ہے کہ میرے فاضل دوست کو بھی اس سے انکار نہ ہوگا تو میں نہایت ادب کے ساتھ عرض کروں گا کہ پہلے مقدمے کے قانونی پہلوؤں پر نظر ڈالی جائے تاکہ اگریہ ثابت ہو کہ ملزمین کے افعال سے کوئی جرم نہیں بنتا تو مقدمہ کو شہادت لسانی لئے بغیر ختم کر دیا جائے۔‘‘ڈپٹی صاحب نے میری طرف دیکھا۔ میں نے عرض کی، ’’مجھے مسٹر کولی رائے سے پورا اتفاق ہے اور میں عدالت کو باور کراتا ہوں کہ اگر اپنی تمام عمر میں میرے فاضل دوست نے کبھی کوئی سمجھ کی بات کہی ہے تو آج اور اس وقت کہی ہے۔‘‘مسٹر کولی مائی لارڈ میں امید کرتا ہوں کہ میرے فاضل دوست کو اس طرح میری قانونی واقفیت کی نکتہ چینی کرنے سے روک دیا جائےگا۔میں میں دیکھتا ہوں کہ میرے فاضل دوست کا دماغ اپنی کمزوری کی طرف رفتہ رفتہ رجوع کر رہا ہے۔ اگر وہ اپنے آپ کو میری تعریف کے لائق نہیں سمجھتے تو میں نہایت خوشی سے اپنے وہ الفاظ، جو ان کی تعریف میں میں نے استعمال کئے تھے واپس لیتا ہوں اور اگر وہ لفظ ’’فاضل دوست‘‘ میں لفظ ’’فاضل‘‘ کو اپنی توہین خیال فرماتے ہیں تو میں آئندہ سے بجائے فاضل دوست کے بے وقوف دوست استعمال کرنے کو تیار ہوں۔ڈپٹی صاحب مجھے افسوس ہے کہ آپ نے عذر گناہ بد تر از گناہ کی صورت اختیار کی ہے۔ لیکن چوں کہ مسٹر کولی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ مستغیث نے جو کچھ کہا ہے وہ کسی بری نیت سے نہیں کہا۔ اس لئے وہ اس ریمارک سے در گزر کر کے اصل مقدمے کی طرف رجوع کریں گے۔مسٹر کولی مائی لارڈ۔ میں حضور کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میرے موکلین میں سے اکثر کو نابالغ ظاہر کیا گیا ہے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ ان میں سے اکثر جوان ہیں اور اکثر بال بچے والے ہیں۔میں جناب والا یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ کتے کی عمر بارہ سال سے زیادہ نہیں ہوتی اور اس کو میرے فاضل دوست بھی تسلیم کریں گے کہ بارہ سال والی ہر ہستی قانوناً نابالغ سمجھی گئی ہے۔ ایسی حالت میں میرا کتوں کو نابالغ قرار دینا کسی طرح غلط نہیں ہے۔ علاوہ ازیں مستغیث دوسرے کے بلوغ یا عدم بلوغ کا پتہ نہیں چلا سکتا۔ اگر مسٹر کولی اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر اپنے بعض موکلین کو بالغ بیان کرتے ہیں تو وہ ابھی ٹٹول ٹٹول کر بالغوں اور نابالغوں کو علاحدہ علاحدہ کر دیں۔ میں استغاثہ میں صحت کر دوں گا۔ اس سے استغاثہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ البتہ وکیل صاحب کی عقل کا ضرور اندازہ ہوتا ہے۔ڈپٹی صاحب مسٹر کولی آپ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔مسٹر کولی مناسب ہے کہ استغاثہ کو بحالت موجودہ چلنے دیا جائے۔میں یہ دوسری سمجھ کی بات ہے جو آج مسٹر کولی کے منہ سے نکلی ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ انہوں نے کہا اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دماغ اور ان کے اکثر موکلین کی دماغوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے جس کا وہ سابق میں اعتراف بھی کر چکے ہیں۔مسٹر کولی جناب والا! میں اس قسم کے ریمارک کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ممکن ہے کہ اشتعال طبع کی صورت پیدا ہو جائے اور عدالت کوئی دوسری کارروائی کرنے پر مجبور ہو۔ڈپٹی صاحب میں مستغیث کو ہدایت کرتا ہوں کہ اگر آئندہ انہوں نے کوئی ایسی بات زبان سے نکالی جو تحقیر عدالت کی حدتک پہنچتی ہو تو میں حسب دفعہ 480 ضابطہ فوجداری کارروائی شروع کروں گا۔مسٹر کولی میرے موکلین پر تعزیرات ہند کا جو پہلا جرم قائم کیا گیا ہے وہ نقب زنی ہے۔ میری ابتدائی حجت یہ ہے کہ کتے نقب زنی کا ارتکاب نہیں کر سکتے۔میں یہ حجت بلا دلیل ہے۔ میں یہ کہوں گا کہ کتے نقب زنی انسان سے زیادہ سہولت سے کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے سخت پنجے اور ناخن ہیں، اور انسان کے نہیں ہیں۔ ابھی ان کتوں اور مسٹر کولی کو سامنے کی دیوار کھودنے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔ دیکھیں پہلے کتے سوراخ ڈالتے ہیں یا مسٹر کولی۔ دوسرے یہ بحث بھی الٹی کی گئی ہے اور کیوں نہ ہو مسٹر کولی کے دماغ سے ایسی ہی بحث کی توقع کی جا سکتی ہے۔ استغاثہ میں یہ کہاں کہا گیا ہے کہ کتوں نے دیوار میں سوراخ کیا۔ میں عرض کرتا ہوں کہ دیوار میں مہری پہلے سے موجود تھی اور یہ انسان کی آمد و رفت کے لئے نہیں بنائی گئی تھی بلکہ پاخانے کے پانی کے اخراج کے لئے تھی۔ دفعہ 445 ضمن (2) کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’کسی ایسے راستے سے داخل ہونا جو آمد و رفت کے لئے نہ بنایا گیا ہو۔‘‘ اس لئے کتوں کا مہری میں سے آنا حسب دفعہ محولہ یقیناً نقب زنی میں داخل ہے۔مسٹر کولی اس کا ثبوت؟میں جناب والا اب میں ثبوت میں کچھ عرض کروں گا تو پھر اعتراض کیا جائے گا۔ اگر اجازت ہو تو جواب دوں۔ڈپٹی صاحب اچھا اجازت ہے۔میں میں کہتا ہوں کہ یہ مہری آمد و رفت کے لئے نہیں بنائی گئی تھی۔ مسٹر کولی اس کا ثبوت طلب کرتے ہیں۔ میں صرف یہ عرض کرتا ہوں کہ کیا کبھی اس مہری سے مولوی قطمیر صاحب میرے مکان میں تشریف لائے تھے یا کبھی ان کے بال بچے اس راستہ سے آتے جاتے رہتے ہیں۔ اگر ان لوگوں میں سے کوئی نہیں آتا تو ماننا پڑے گا کہ یہ مہری انسان کی آمد و رفت کے لئے نہیں بنائی گئی اور اگر یہ لوگ اس مہری میں سے آمد و رفت رکھتے ہیں تو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ لوگ انسان نہیں جانور ہیں۔مسٹر کولی مائی لارڈ! کیا ان الفاظ سے میرے موکل کی توہین نہیں ہوتی؟میں میں نے پہلے ہی حضور والا سے اجازت لے لی ہے۔ اب اگر مسٹر کولی ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو خود عدالت پر دائر کریں۔ میں ان کی طرف سے شہادت دینے کو تیار ہوں۔ ڈپٹی صاحب میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہو ں کہ یہ مہری کتنی بڑی ہے۔مسٹر کولی اس کے لئے مناسب ہے کہ معائنہ موقع کر لیا جائے۔میں میرے خیال میں بھی اس کی ضرورت ہے اور میں عدالت کو باور کراتا ہوں کہ یہ مہری اتنی بڑی ہے کہ کتا تو کتا، اگر جناب والا معائنہ موقع کے وقت مسٹر کولی کی گردن پکڑ کر مہری میں ٹھونس دیں، تو یہ بھی باوجود اس تن و توش کے پھنس پھنسا کراس مہری سے پار ہو جائیں گے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس فقرہ پر مسٹر کولی کو بہت تاؤ آ گیا۔ انہوں نے نہایت زور سے میز پر مکا مارا اور کچھ کہنا چاہتے تھے کہ اجلاس کا رنگ ہی بدل گیا۔ وجہ یہ ہوئی کی مسٹر کولی نے مکا مارتے وقت یہ خیال نہیں کیا کہ میرا ہاتھ میز پر رکھا ہے۔ بجائے میز پر پڑنے کے مکا میرے ہاتھ پر پڑا۔ بھلا میرے ہاتھ کی تحقیر عدالت ہوتی اور میں خاموش رہتا۔ چوں کہ میں جانتا تھا کہ مجھے اشتعال طبع ہو جانے کے وجوہ پیدا ہو گئے ہیں اور میں دفعہ 300 کے مستثنیٰ چہارم میں آ گیا ہوں۔ اس لئے میں نے میز پر کی دوات اٹھائی (خدا جھوٹ نہ بلوائے کوئی تین پاؤ کی تھی) اور اٹھاتے ہی مسٹر کولی کی طرف پوری طاقت سے پھینکی۔ وہ اس وقت سر جھکائے ہوئے کچھ کہہ رہے تھے کہ دوات عین ان کی چندیا پر پڑی۔ چندیا تھی صاف اور چکنی، وہاں سے چٹخی پھسلنے کی وجہ سے۔ اس کا رخ اجلاس کی طرف ہو گیا اور سیدھی ڈپٹی صاحب کی کنپٹی پر بیٹھی اور چشم زدن میں مسٹر کولی کا سر اور ڈپٹی صاحب کا منہ ہم رنگ ہو گئے۔ادھر تو اجلاس کے چپراسی اپنی اپنی کمر سے پٹکے کھول کر ڈپٹی صاحب کا منہ پوچھنے کو دوڑے، ادھر مسٹر کولی نے جست کی تو میز کے اوپر وہاں سے کود کر مجھ پر گرنا چاہتے تھے۔ مگر میں پہلے ہی سے اس حملے کے لئے تیار تھا۔ پیترا کاٹ گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ بجائے مجھ پر گرنے کے کرسی پر گرے اور کرسی سمیت اپنے بعض موکلین پر آ پڑے۔ جو کتے دبے، انہوں نے غل مچایا۔ ان کا ساتھ ان کے یاروں نے دیا۔ غرض ایک قیامت برپا ہو گئی۔ باہر کے لوگ دوڑے ہوئے آئے کہ دیکھیں اجلاس پر کیا مصیبت نازل ہوئی۔ ادھر سے یہ کتوں کا غول گھبرا کر نکلا۔ راستے میں مڈ بھیڑ ہو گئی۔ دو چار تماشائی تو جھپٹ میں آ کر چت ہو گئے۔ بعضوں کی ٹانگیں کتوں نے لیں غرض۔۔۔نوٹ یہاں سے پھر صفحات غائب ہیں۔اس کے بعد جو صفحہ شروع ہوا ہے اس کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے نواب صاحب پر تحقیر عدالت کی کارروائی زیر دفعہ 480 ضابطہ فوجداری شروع کر کے ان کا جواب لیا جا رہا ہے۔ سوال کا جو ابتدائی حصہ ہے وہ گم شدہ صفحہ میں ہوگا)لہٰذاآپ وجہ ظاہر کیجئے کہ کیوں آپ کے خلاف حسب دفعہ 480 ضابطہ فوجداری کارروائی کر کے تجویز مناسب نہ کی جائے۔28 مئی؁شرح دستخط کلب علی خاں۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ۔یہ کاغذ مجھے دیا گیا۔ میں نے پڑھا۔ ذرا مسکرایا اور ڈپٹی صاحب سے عرض کی کہ کیا میں جواب زبانی دوں یا تحریری۔ڈپٹی صاحب تحریری۔\nمیں کیا میں اپنے جواب میں صاف صاف ظاہر کر دوں کہ جو لوگ قانون سے واقف نہیں، ان کا کرسی عدالت پر بیٹھنا خود تحقیر عدالت ہے اور جن کا وجود خود تحقیر عدالت ہو وہ دوسرے کسی شخص پر تحقیر عدالت کا مقدمہ قائم کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ڈپٹی صاحب آپ کوزبانی گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کا جو جی چاہے وہ اپنے بیان تحریر میں لکھ دیجئے۔ میں نہایت اطمینان سے وہیں کرسی پر بیٹھ گیا۔ بستہ کھول کر قانونی کتابیں نکالیں، دفعات متعلقہ کو دیکھا اور حسب ذیل مسودہ تیار کیا۔باجلاس عالی جناب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بہادرکارروائی زیر دفعہ 480 ضابطہ فوجداری سرکار ذریعہ کنپٹی ڈپٹی کلب علی خاں صاحب۔۔۔ مستغیثنواب اسد یار خاں بہادر مستغاث علیہبعرض۔۔۔ عالی۔۔۔ می رساندگزارش ہے کہ میرا اس کاروائی میں جواب طلب کیاجاتا ہے لیکن جواب دینے سے پہلے میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ جو طریقہ عدالت نے اختیار کیاہے وہ سراسر خلاف قانون ہے۔ تحقیر عدالت ضرور ہوئی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کس کی تحقیر عدالت ہوئی۔ مجھے اس بحث میں جانے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ عدالت کے کمرے میں جو داخل ہوتا ہے وہ خود عدالت کا جزو ہوجاتا ہے۔ اگر اس کی یا اس کے کسی حصے کی تحقیر کی جائے تو وہ عدالت کی عین تحقیر ہے۔ اس لحاظ سے سب سے پہلے تحقیر عدالت میرے ہاتھ کی مسٹر کولی نے کی۔ اس کے بعد میں نے نہیں بلکہ دوات نے مسٹر کولی کے سر کی تحقیر عدالت کی اور اس کے بعد مسٹر کولی کے سر نے (اس کو میں آخر میں ثابت کروں گا) ڈپٹی صاحب کی کنپٹی کی تحقیر عدالت کی۔ مسٹر کولی نے کتوں کی تحقیر عدالت اور کتوں نے تماشائیوں کی تحقیر عدالت کی۔ ایسی صورت میں تمام اجزا کو ترک کر کے صرف کنپٹی کی تحقیر عدالت کے متعلق کارروائی کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ مقدمے میں تجزی قانوناً و اصولاً ناجائز ہے۔(2) میں نے مسٹر کولی کو دوات ماری اور اس کا مجھے قانوناً حق تھا۔ ملاحظہ ہو دفعہ 300 مستثنیٰ چہارم، جس میں محکوم ہے کہ اشتعال طبع کی صورت میں قتل عمد بھی جرم نہیں ہوتا۔مجھے حق حاصل تھا کہ اجلاس ہی پر مسٹر کولی کا گلا گھونٹ دیتا لیکن میں نے صرف دوات کھینچ مارنے پر اکتفا کیا۔ یہ مسٹر کولی کا قصور تھا کہ وہ اس وقت گردن جھکائے کھڑے تھے اور دوات ان کے سر پر لگی۔ اگر معمولی چندیا ہوتی تو اتنی بھاری دوات سے صرف اتنا ہوتا کہ کھوپڑی ٹوٹ جاتی اور کارروائی وہیں ختم ہو جاتی۔ یہ کبھی باور نہیں کیا جا سکتا تھا کہ یہ خاص کرپ کے کارخانے کی بنی ہوئی کھوپڑی ہے۔ یا گھر میں دباغت ہوتے ہوتے اتنی مضبوط ہو گئی ہے کہ اس پر سے ایسی بھاری دوات بھی چٹخ جائے گی۔ اگر دوات چٹخی تو وہ مسٹر کولی کی کھوپڑی کی مضبوطی کا قصور ہے نہ کہ میرا، کیوں کہ یہ سوء اتفاق کی صورت ہے اور میں دفعہ80 تعزیرات کی رو سے بری الذمہ ہوں۔(3) اب رہا یہ امر کہ دوات نے بجائے سیدھا جانے کے اجلاس کی طرف رخ کیوں بدلا تو اس کا جواب بہت صاف ہے۔ مسٹر کولی کے سر کی چکنائی اس تبدیل رخ کا باعث ہوئی۔ ان کی کھوپڑی نہ ایسی چکنی ہوتی اور نہ دوات اجلاس کی طرف جاتی۔ نہ ڈپٹی کلب علی خان کی کنپٹی پر لگتی اور نہ کنپٹی کی تحقیر عدالت کا مقدمہ ہوتا۔ ان حالات میں میں نہایت ادب سے عرض کروں گا کہ اگر جناب والا کو اپنی کنپٹی کے متعلق تحقیر عدالت کا مقدمہ قائم کرنا ہے تو مسٹر کولی کی کھوپڑی کی چکنائی پر قائم کیا جائے۔ کیونکہ یہ چکنائی اس تحقیر کا باعث ہوئی۔ مجھ پر مقدمہ قائم کرنا اور صرف میرا جواب لینا قانوناً صحیح نہیں ہے۔(4) یہاں میں ڈپٹی صاحب کو ایک قانونی صلاح دینا مناسب سمجھتا ہوں گو میں جانتا ہوں کہ ان کے دماغ میں ایسے نازک قانونی نکتے کا اترنا دشوار ہے مگر بقول شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ۔اگر بینم کہ نابینا و چاہ استو گر خاموش بنشینم گناہ استمیں ڈپٹی صاحب کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ قانوناً مسٹر کولی کی کھوپڑی یا اس کی چکنائی پر بھی مقدمہ قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر افعال قدرت کی وجہ سے کسی کو کوئی نقصان پہنچ جائے تو وہ مجرم نہیں ہوتا۔ مثلاً ابھی اس مکان کی چھت بیٹھ جائے اور ڈپٹی صاحب دب کر مر جائیں تو نہ کوئی مجرم ہوا، نہ اس کے متعلق کوئی مقدمہ قائم ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ قدرت کا فعل ہے اور اس پر کسی کو اختیار حاصل نہیں ہے۔ بجنسہ یہی حالت مسٹر کولی کی کھوپڑی کی ہے۔ ان کے چند یا قدرت نے صاف کر دی ہے (ممکن ہے گھر والوں نے بھی اس صفائی میں کچھ حصہ لیا ہو) اس لئے اگر اس کی وجہ سے دوات کا رخ بدلا تو یہ صورت افعال قدرت میں داخل ہے اور مسٹر کولی جواب دہ قرار نہیں دیے جا سکتے۔ البتہ اگر یہ ثابت کیا جا سکے کہ آج خاص اسی غرض سے مسٹر کولی سر منڈوا کر اور تیل مل کر آئے تھے تو یقیناً وہ اپنی کھوپڑی کی چکنائی کے ذمے دار ہوں گے۔لہذا استدعا ہے کہکارروائی ختم اور مثل داخل دفتر کی جائے اور چوں کہ اپنی درخواست کے فقرہ 4 میں میں نے مسٹر کولی کی جانب سے وکالت کی ہے اور ان کو ایک سنگین مقدمے سے بچا لیا ہے، اس لئے مجھے ان سے معقول محنتانہ دلایا جائے۔نوٹ مناسب ہوگا کہ عدالت مسٹر کولی کو ہدایت کر دے کہ وہ آئندہ جب اجلاس پر آئیں تو اپنے سر پر اچھی طرح سنیڈ پیپر (ریگمال) مل کر آیا کریں تاکہ اس قسم کے واقعات کا ہمیشہ کے لئے سد باب ہو جائے۔ واجب تھا عرض کیا گیا۔دستخط۔ نواب اسد یار خاںڈپٹی صاحب جواب پڑ کر بہت گھبرائے لیکن بے حیائی تیرا ہی آسرا ہے۔ کچھ سمجھے سمجھائے تو نہیں چار سطر کی ایک تجویز ٹھونک ماری کہ ملزم کا بیان دیکھا گیا۔ ہماری رائے میں جو جواب ملزم نے دیا ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ (نوٹ اس کے آگے کے صفحات غائب ہیں)غالب بیسنی روٹی کی تعریف کریں تو کریں۔ میں تو یہی کہوں گا کہ لعنت ہے بیسن اور بیسنی روٹی پر۔ میرا ہی دل خوب جانتا ہے کہ اس بیسنی روٹی نے مجھے کیا کیا ناک چنے چبوائے ہیں۔ میں نے تو عہد کر لیا ہے کہ زہر کھاؤں گا مگر بیسنی روٹی کے پاس نہ جاؤں گا۔ایک روز کا ذکر ہے کہ ابر آیا ہوا تھا، کچھ پھوہار بھی پڑ رہی تھی۔ ہماری ماما جی باورچی خانے سے مسکراتی ہوئی آئیں اور کہا، ’’میاں کہو تو آج بیسنی روٹی پکالوں۔‘‘ میں نے کہا، ’’اچھا پکا لو۔ موسمی چیز ہے مگر خدا کے لئے کچی نہ رکھنا۔ ایسا نہ ہو کہ بد ہضمی ہو جائے۔‘‘ بڑی بی بولیں، ’’نوج میاں ایسی فال زبان منہ سے نہ نکالئے۔ دور پار میں کوئی آپ کی دشمن ہوں کہ کچی روٹیا کھلا کر دشمنوں کو بیمار ڈالوں گی۔‘‘ یہ کہہ کر جو وہ باورچی خانے میں گھسیں تو اللہ کی بندی نے ایک بجا دیا۔ میں کھانے والا نو بجے کا۔ انتظار کرتے کرتے بیزار ہو گیا لیکن روٹیاں نہ آنی تھیں نہ آئیں۔ آنتوں نے ڈیڑھ لاکھ قل ہو اللہ کا ختم پورا کیا۔ جب کہیں خدا خدا کر کے بڑی بی کی شکل نظر آئی۔مجھے تاؤ تو بہت تھا مگربیسنی روٹیوں کو دیکھ کر ٹھنڈا پڑ گیا۔ ایسی پتلی پتلی اور سرخ سرخ تھیں کہ دل لوٹ گیا۔ کھانے پر جو ڈٹا تو اناڑی کی بندوق بھر لی سچ ہے۔ چنا اور غلام منہ لگ کر نہیں چھوٹتا۔ اتنا کھایا، اتنا کھایا کہ حلق تک آگیا۔ جب دسترخوان صاف ہو گیا تو خدا خدا کر کے اٹھا، پانی پیا اور ذرا لیٹ گیا۔ تھوڑی دیر میں لگی پیاس۔ اٹھ کر پانی پیا، پھر پیا۔نوٹ اس ڈائری کے صفحات اگر کسی اور صاحب کے ہاتھ لگے ہوں تو براہ کرم رسالہ نمائش کو بھیج کر ممنون فرمائیں (ایڈیٹر) لیکن پیاس تھی کہ کسی طرح نہ بجھتی تھی۔ پیٹ پھول کر نقارہ ہو گیا۔ اتنے میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ باہر نکل کر کیا دیکھتا ہوں کہ ڈپٹی کلب علی صاحب کھڑے ہیں۔ یہ اکثر میرے غریب خانے پر تشریف لانے لگے تھے۔ جب کوئی پیچیدہ قانونی مسئلہ پیش آتا تو حل کرنے اکثر میرے پاس آ جاتے تھے۔ خیر ان کو ساتھ لےدیوان خانے میں جا بیٹھا۔ سامنے میز پر ’’رسالہ نمائش‘‘ رکھا تھا۔ وہ انہوں نے اٹھا لیا اور اس کے دیکھنے میں محو ہو گئے۔ میرے پیٹ کی بری حالت تھی۔ بس پھٹنے کے قریب تھا کسی طرح چین نہ آتا تھا۔ آرام کرسی پر میں نے بہت بہت پہلو بدلے۔ ٹانگیں کرسی کی دستیوں پر پھیلا کر سہولت راہ پیدا کی۔ توند کو کچھ سہلایا۔ کچھ دبایا مگر باوجود اس قدر کوششوں کے ایک بھی امر باعث ندامت صادر نہ ہوا۔ اسی جدو جہد میں آنکھ لگ گئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑے غدار شہر میں جا رہا ہوں۔ سڑکیں صاف ستھری ہیں مگر پتلی پتلی۔ مکان خوش نما اور خوبصورت ہیں مگر نیچے نیچے۔ بازاروں میں خوب چہل پہل ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے کام میں مصروف ہے۔ بعض بے فکر ے کوٹ پتلون پہنے، سگریٹ منہ میں دبائے لکڑی ہلاتے مٹر گشت کر رہے ہیں۔ بیچوں بیچ شہر میں ایک عالی شان عمارت ہے۔ طالب علم بستے بغل میں دبائے اس میں چلے جارہے ہیں۔ مجھے بھی شوق ہوا۔ دل میں کہا چلو، چلتے چلتے یہاں کا طریقہ تعلیم بھی دیکھ لیں۔ اندر گیا کیا دیکھتا ہوں کہ سیکڑوں طالب علم اکڑوں بیٹھے کتابیں اگلے بنچوں پر رکھے پروفیسر صاحب کا لکچر سن رہے ہیں۔ اب جو میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ ان سب کی شکلیں انسانوں کی بہ نسبت کتوں سے زیادہ ملتی جلتی ہیں۔پروفیسر صاحب کی ہیئت کذائی دیکھ کر مجھے ہنسی آگئی۔ اگر کوئی جاندار ان کے ہم شباہت ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے تو وہ صرف خارشی لینڈی کتا ہے۔ ان کی مختصر ناک پر بڑے تالوں اور سیاہ کمانیوں کی فیشن ایبل عینک عجب بہار دے رہی تھی۔ سیاہ کوٹ پتلون زیب تن تھا۔ پشت کی طرف پتلون کا ابھار ظاہر کر رہا تھا کہ زبر دستی کسی چیز کو موڑ کر اندر دبا دیا گیا ہے۔ کوٹ کے اوپر سیاہ گون اور سر پر پھندنے دار چوکونی ٹوپی تھی۔ وہ اس وقت علم ارتقا پر لکچر دے رہے تھے۔جس وقت میں داخل ہوا تو وہ فرما رہے تھے، ’’جو ہستی فطرت کے اصولوں کو تبدیل کر سکے اسی کو حق حاصل ہے کہ اشرف المخلوقات کا لقب اختیار کرے۔ فطرت کا تقاضا ہے کہ ہر جاندار مار پڑنے پر چیخے چلائے اور آنسو بہائے۔ سوائے کتوں کے آپ ایک جاندار بھی ایسا نہیں بتا سکتے جو اس اصول مقررہ پر کار بند نہ ہوتا ہو۔ کتے ہی وہ قابل قدر ہستی ہیں جو اس اصول فطرت کے تابع نہیں ہیں۔ وہ مار کھانے پر چیخنے اور رونے کے بجائے واہ واہ واہ کے نعرے لگاتے ہیں اور اس طرح تعریفوں سے اپنے مارنے والے کا دل بڑھاتے ہیں۔ فطرت کا دوسرا مسلمہ اصول یہ ہے کہ زمانے کی ٹھوکریں بڑے بڑے ٹیڑھوں کو سیدھا کر دیتی ہیں۔ لیکن تجربہ بتا رہا ہے کہ بارہ برس تک ہماری دم زمین میں دبائی گئی پھر بھی وہ ٹیڑھی ٹیڑھی رہی۔ اس سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ کتے ہی اشرف المخلوقات کا لقب اختیار کرنے کے مستحق ہیں۔ چنانچہ بعض عاقل اور سمجھ دار انسانوں نے اپنے سے کتوں کو افضل مانا اور تسلیم کیا ہے (یہاں سے کچھ حصہ غائب ہے۔)’’حلم کتوں کا شیوہ ہے اور متانت ان کا شعار۔‘‘کتوں کی اتنی تعریفیں سن کر میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے چیخ کر کہا، ’’ابے کتے کے بچے! اپنے منہ میاں مٹھو! تم کتےتھے، کتے ہو اور ہمیشہ کتے ہی رہو گے۔‘‘ پروفیسر صاحب نے نظر اٹھا کرمیری طرف دیکھا۔ ان کو ایک غیر جنس نظر آیا۔ اپنی ساری متانت بھول گئے۔ کرسی پر سے اچک قلانچیں مارتے میری طرف لپکے۔ ان کے ارادوں کا اندازہ کر کے میں دروازے کی طرف بھاگا۔ میں آگے اور وہ پیچھے۔ دروازہ قریب تھا۔ میں نکل یہ جا وہ جا مگر وہ بھی خالی ہاتھ نہ گئے۔ میرے پائجامے کے پائنچوں کے حد اتصال کا کچھ حصہ اپنے منہ میں لے گئے۔ وہ سمجھے کہ بھاگتے بھوت کی لنگوٹی ہی سہی۔ میں سمجھا، چلو جان بچی لاکھوں پائے۔ فی الحال صافی نشد، نشد۔ گھر جا کر دوسری ڈلوا لیں گے (اس کے بعد کا کچھ حصہ غائب ہے)بازار میں ٹہل رہا تھا کہ چند کتے پولیس والوں کا لباس پہنے گلے میں پٹے اور زنجیریں ڈالے میری طرف آئے۔ ایک نے جوان کا افسر معلوم ہوتا تھا، اپنا پنجہ میری پیٹھ پر رکھا اور کہا، ’’آپ کو قتل عمل کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے۔‘‘ میں نے کہا کہ ’’میں نے کسی کو قتل نہیں کیا۔‘‘ اس نے جواب دیا کہ اس وقت جو کچھ آپ بیان کریں گے وہ آپ کے خلاف شہادت میں استعمال کیا جاسکے گا۔‘‘ چونکہ یہ قانونی جملہ تھا اس لئے میں خاموش ہو گیا۔ ایک نے اپنی گردن میں سے پٹہ اور زنجیر کھولی۔ پٹہ میری گردن میں ڈال دیا اور زنجیر افسر کے ہاتھ میں دے دی۔ میں نے چلنے میں ذرا ہچر مچر کی تو اس کے ساتھ والوں نے بھونکنا اور منہ مارنا شروع کیا۔ خلقت کا اژدہام ہو گیا۔ کتوں کا یہ مجمع خلاف قانون دیکھ کر میرے اوسان باختہ ہو گئے۔ ہمت نے جواب دے دیا اور میں کان دبائے ان کتوں کی پولیس کے ساتھ ہو گیا۔پہلے یہ مجھ کو اسٹیشن ہاؤس پرلے گئے، وہاں سے ایک دفتر مثلوں کا نکالا اور چار کانسٹبلوں کو مدعیوں اور گواہوں کو بلانے بھیجا۔ دس بجتے ہی مجھ کو عدالت میں لے گئے اور ملزمین کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ اندر جا کر کیا دیکھتا ہوں کہ تمام کمرہ کتوں سے بھرا ہوا ہے۔ تل رکھنے کو جگہ نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ میری گرفتار کی خبر نے یہ مجمع کثیر جمع کر دیا تھا۔ اجلاس پر ایک بڑا زبر دست بل ڈاگ بالوں دار ٹوپی (وگ) پہنے ناک کی پھننگ پر عینک رکھے سرخ گون زیب تک کئے بیٹھا ہے۔ سامنے ایک لمبی میز پر دونوں جانب وکلا کی قطار ہے۔ یہ رنگ دیکھ کر میری آنکھوں میں ڈپٹی کلب علی کاں کے اجلاس کا نقشہ پھر گیا۔ گو اس مجسٹریٹ کی شکل بالکل تو ان سے ملتی نہ تھی لیکن دونوں میں شباہت ضرور تھی۔ مجسٹریٹ صاحب نے بہت غرا کر کہا، ’’کیا ملزم حاضر ہے؟‘‘پیرو کار سرکار اٹھے۔ کیا کہوں عین مسٹر کولی معلوم ہوتے تھے۔ اگر فرق ہوگا تو بس انیس بیس کا ہوگا۔ انہوں نے پہلے اپنی طرف دیکھا پھر اجلاس کی طرف دیکھا۔ عینک ٹھیک کی، گون کی ایک پٹی کو انگلی پر لپیٹا گردن جھکائی۔ پھر اٹھائی پھر جھکائی اور کہا کہپیرو کار سرکار جناب والا ملزم حاضر ہے اس پر وارنٹ کی تعمیل باضابطہ بطریق پر ہوئی ہے اور اس کے خلاف جس قدر چالان ہیں وہ بالکل تیار ہیں۔ مدعی بھی حاضر ہیں۔ اور گواہ بھی موجود ہیں۔مجسٹریٹ مسٹر ٹوبی اس وقت کتنے مقدمات ایسے ہیں جن کی تعمیل آج کی جا سکتی ہے۔مسٹر ٹوبی مائی لارڈ۔ یوں تو ملزم کے خلاف ہزار رہا مقدمات ہیں لیکن اس نے اکثر ایسے موقعوں پر اور اس طرح ہمارے عزیز بھائیوں کو ہلاک کیا ہے کہ ان کے متعلق کوئی گواہ ہم کو ہم دست نہ ہو سکا۔ لیکن پھر بھی اس وقت ڈیڑھ سو مقدمات ایسے تیارہیں جن میں مکمل شہادت پولیس کو فراہم ہو چکی ہے اور انہیں تحقیقات میں جناب والا کے اجلاس پر کرانا چاہتا ہوں۔مجسٹریٹ نے میری طرف دیکھا اور کہا کہ ’’تم ان مقدمات میں خود پیروی کروگے یا کوئی وکیل مقرر کرنا چاہتے ہو۔‘‘میں جناب والا میں اپنے مقدمات میں خود پیروی کرتا ہوں لیکن میں یہ سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں کہ آخر یہ معاملہ کیا ہے۔ میں کس کے قتل کے الزام میں ماخوذ کیا گیا ہوں اور ااپ کو ان مقدمات کی سماعت کا اختیار کیسے حاصل ہوا ہے۔ اگر کسی کتے کو کتے نے مارا ہوتا تو البتہ اس مقدمے کی سماعت اس اجلاس پر ہو سکتی تھی مگر جب کسی مقدمے میں کوئی انسان ملزم قرار دیا گیا ہوتو اس کی سماعت انسانوں ہی کی عدالت میں ہو سکتی ہے۔مسٹر ٹوبی مائی لارڈ ملزم کا استدلال صحیح نہیں ہے۔ میں ملزم کی اس بحث کے باضابطہ نقول داخل عدالت کرتا ہوں، جو اس نے ڈپٹی کلب علی خاں صاحب کے اجلاس پر کی تھی۔ جب انہوں نے بہ حیثیت مستغیث کتوں کو ملزمین قرار دے کر انسان کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا تو کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی کہ وہ مقدمات جن میں کتے مستغیث اور ملزم ہیں کتوں کی عدالت میں کیوں سماعت نہ کئے جائیں۔میں اگر اس بحث کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو مجھ کو یہ عذر ہے کہ چوں کہ ہلاکت انسانوں کی عدالت کے حدود اختیاری میں واقع ہوئی ہے۔ اس لئے ان مقدمات کی سماعت حسب دفعہ (180) ضابطہ فوجداری ہند موجودہ اجلاس پر نہیں ہو سکتی۔مسٹر ٹوبی شاید ملزم کو دفعہ 180 ضابطہ فوجداری ہند کے اس جزو کا خیال ہے جس کی رو سے مقدمات قتل کی تحقیقات صرف اسی عدالت میں ہو سکتی ہے جس کی حدود میں ہلاکت واقع ہوئی ہو لیکن ملزم پر یہاں یہ ظاہر کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک میں ضابطہ فوجداری ہند نہیں بلکہ ضابطہ فوجداری کلاب نافذ ہے۔ اور اس کی جو دفعہ اس کارروائی سے متعلق ہے وہ دفعہ 181 ضمن (1) ضابطہ فوج داری ہند کے مماثل ہے۔ اس میں محکوم ہے کہ مقدمات قتل کی تحقیقات نہ صرف اسی عدالت میں ہو سکتی ہے جہاں ہلاکت واقع ہوئی ہو بلکہ اسی عدالت میں بھی ہو سکتی ہے جہاں ملزم پایا جائے۔میں مگر ضابطہ فوج داری کلاب انسانوں سے متعلق نہیں ہو سکتا۔مسٹر ٹوبی اس کے دو جواب ہیں ایک عقلی دوسرا نقلی۔ جس عدالت میں مقدمے کی تحقیقات کی جائے اس میں وہی قانون استعمال کئے جائیں گے جو وہاں کی مجلس وضع قوانین نے نافذ کئے ہوں۔ میں اوپر ثابت کر آیا ہوں کہ ملزم کے خلاف جو مقدمات ہیں ان کی تحقیقات اسی عدالت میں ہو سکتی ہے۔ اس لئے اسی ملک کے نافذہ قانون ان مقدمات کے انفصال میں استعمال ہوں گے۔ دوسری بحث کے متعلق میں ملزم کے ان استغاثوں کی باضابطہ نقول داخل کرتا ہوں جو اس نے اپنے ملک کی عدالت میں پیش کئے تھے۔ وہاں اس نے کتوں پر تعزیرات ہند کے الزامات لگائے ہیں۔ جب انسان کی عدالت میں کتوں کی تحقیقات تعزیرات ہند کی رو سے ہو سکتی ہے تو میں کوئی وجہ نہیں پاتا کہ کتوں کی عدالت میں انسانوں کی تحقیقات خود کتوں کے قوانین نافذہ کے تحت کیوں نہ کی جائے۔مجسٹریٹ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ ملزم اپنے دشمنوں کے ملک میں اپنی خوشی سے کس طرح آ گیا۔مسٹر ٹوبی مائی لارڈ یہ ہمارے ملک کی پولیس کا ایک روشن کارنامہ ہے۔ ان مقدمات کے مفتش کے لئے سب سے اہم اور مشکل کام ملزم کی گرفتاری تھا۔ لیکن ملزم کی ماما کی اعانت اور ہمارے وارنٹ نے جو بیسنی روٹی کی شکل میں نافذ ہوا تھا، اس کو بآسانی ہمارے قبضے میں پہنچا دیا۔یہ سن کر مجھے بہت تاؤ آیا اور میں نے عہد کر لیا کہ اگر بخیر و خوبی اس مخمصے سے نجات پائی تو گھر جا کر بڑھیا کا گلا ہی گھونٹ دوں گا۔ رہی بیسنی روٹی تو وہ آئندہ نہ میں خود کھاؤں گا نہ حتی المقدور دوسرے کو کھانے دوں گا۔ بس سمجھ لو کہ اس وقت تک صرف گیہوں سے دشمنی تھی آج سے چنے سے بھی بیر ہے۔مجسٹریٹ مسٹر ٹوبی آپ اپنا سب سے مضبوط مقدمہ پیش کیجئے تاکہ ملزم پر اگر جرم ثابت قرار پائے تو اس کی تجویز موت کے ساتھ بقیہ کل مقدمات کا خود بخود خاتمہ ہو جائے۔مسٹر ٹوبی مائی لارڈ! میں اس قیمتی مشورے کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور سب سے پہلے مولوی قطمیر صاحب کے کتے کے قتل عمد کا مقدمہ شروع کرتا ہوں۔مسٹر ٹوبی نے مقدمے کے واقعات تفصیل سے بیان کئے اور جس طرح پتھر کے گرنے سے اس کتے کی موت واقع ہوئی تھی اس کی صراحت کرنے کے بعد کہا کہ مائی لارڈ میں اپنی بحث کے آخر میں ثابت کروں گا کہ قتل عمد کے لئے یہ لازم نہیں ہے کہ ملزم خود اپنے ہاتھ سے کسی کی ہلاکت کا باعث ہو۔ بلکہ بعض صورتوں میں ملزم کے ایسے افعال بھی جو بظاہر جرم نہ معلوم ہوتے ہوں، اس کو جرم قتل عمد کے تحت میں لے آتے ہیں۔ اس قدر بحث کے بعد اب میں مقدمے کی شہادت پیش کرتا ہوں۔ اس مقدمے کا پہلا گواہ وہی مفتش ہے جس کی کار گزاری بالآخر اس ملزم کی گرفتاری کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ گواہ کو آواز دی گئی۔ اس نے گواہوں کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر حلف لیا۔ جس کو میں سمجھ نہ سکا۔ اس لئے میں نے اعتراض کیا کہ حلف اس طرح اور اس طریقے سے ہونا چاہئے جس سے ملزم کو اطمینان ہو جائے کہ گواہ سچ بول رہا ہے۔مجسٹریٹ حلف کا یہ اصول صحیح نہیں ہے۔ چوں کہ عدالت گواہ کے سچے یا جھوٹے ہونے کی تنقید کرتی ہے، اس لئے حلف اسی طرح اور اس طریقے سے لیا جاتا ہے جس سے عدالت مطمئن ہو جائے کہ جو کچھ اس کے سامنے بیان کیاجا رہا ہے وہ قابل اعتبار ہے۔ مفتش نے واقعات مقدمہ بیان کئے اور آخر میں میرے طریقہ گرفتار ی پر روشنی ڈالی۔ اس سے معلوم ہوا کہ میری ماما کتوں کی بڑی شوقین تھی۔ اور ایک کتے سے جو در اصل مفتش مقدمہ تھا اس کو بڑی محبت ہو گئی تھی۔ اس کتے نے رفتہ رفتہ اپنے طرز عمل سے اس بڑھیا پر ثابت کیا کہ اس کو بیسنی روٹی کا بہت شوق ہے۔ چنانچہ چند روز تک وہ بڑھیا چرا چھپا کر اس کتے کو بیسنی روٹی کھلاتی رہی۔ ایک دن اس نے مجھے بھی بیسنی روٹی کھانے پر آمادہ کیا تاکہ بچے ہوئے ٹکڑوں سے اس کتے کا بھی کھانا نکل آئے۔ یہ وہ جال تھا جس میں مجھے پھنسایا گیا اور میں عدم واقفیت کی وجہ سے اس مصیبت میں گرفتار ہو گیا۔مفتش کے ابتدائی بیان کے بعد میں نے اس پر جرح کرنی چاہی تو اس پر مسٹر ٹوبی نے کہا کہ اس عدالت میں کسی گواہ پر جرح کی اجازت نہیں دی جاتی اور نہ ہمارے قانون شہادت میں جرح کی کوئی دفعہ قائم کی گئی ہے۔میں لیکن قانون شہادت ہند کی رو سے کوئی بیان قابل ادخال شہادت نہیں ہو سکتا، جب تک فریق ثانی کو اس پر جرح کا موقع نہ دیا گیا ہو۔مجسٹریٹ جرح اس لئے کی جاتی ہے کہ گواہ کی سچائی کا امتحان ہو سکے۔ جب ایک گواہ حلف لے کر کچھ ظاہر کرے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ اس بیان کو سچ کیوں نہ سمجھا جائے۔مسٹر ٹوبی مائی لارڈ، ملزم ان لوگوں کے قانون کا حوالہ دے رہا ہے جو حلف لے کر بھی جھوٹ بولنے میں تامل نہیں کرتے اور جو حلف کی وقعت کو نہیں سمجھتے۔ جناب والا کا ارشاد بالکل صحیح ہے۔ یا تو گواہ کو حلف نہ دیا جائے اور اس کی صداقت کا امتحان بذریعہ جرح کیا جائے یا اس کو حلف دیا جائے تو اس کے بیان پر بلا جرح اعتبار کرنا چاہئے۔مجسٹریٹ دوسرے گواہ کو بلایا جائے۔آواز دی گئی اور ایک سفید چادر میں لپٹی ہوئی عورت کٹہرے میں داخل ہوئی۔ میں نے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ میری چہیتی بلی ہے۔ غضب ہے جس کو میں جان کے برابر رکھتا تھا وہی آج میرے خلاف شہادت دینے آ کھڑی ہوئی۔ سچ ہے بلی کی ذات بڑی بے وفا ہوتی ہے۔گواہ نے مسٹر ٹوبی کے سوالات کے جواب میں بہ حلف بیان کیا کہ میں ملزم کے پاس ایک عرصے سے رہتی ہوں۔ ان کے مکان سے ملا ہوا مولوی قطمیر کا مکان ہے۔ ملزم کے مکان کے پیخانے کی مہری، مولوی صاحب کے مکان میں نکلتی ہے۔ تقریباً چھ ماہ کا عرصہ ہوگا کہ۔۔۔ (آگے کے صفحات غائب ہیں جس میں گواہوں کے بیانات، بحث اور فیصلے کا بڑا حصہ ہوگا کیونکہ جو صفحہ اس کے بعد کا ہے وہ فیصلے کے جزو آخر سے شروع ہوتا ہے۔) شہادت پیش شدہ سے مہری کے عین اوپر کی منڈیر پر پتھر کا رکھنا۔ پتھر سے رسی باندھ کر اس کا دوسرا سرا مہری کے سامنے کیل سے لپیٹ دینا، مولوی قطمیر صاحب کے کتے کا مہری میں سے نکلنے کی کوشش کرنا، اس کوشش کرنے میں رسی کا اس سے ٹکرانا اور پتھر کا اوپر سے گر کر اس کو ہلاک کرنا پوری طرح ثابت ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ملزم کے ایسے افعال کا مجموعہ جو فرداً فرداً جرم نہ ہوں اس کو قتل عمد کا مجرم قرار دے سکتا ہے یا نہیں۔ اس بارے میں مسٹر ٹوبی نے نہایت لیاقت سے بحث کی ہے اور عدالت کو ان کی حجت سے پورا اتفاق ہے۔ اگر ملزم جاننے یا باور کرنے کی وجہ رکھتا ہو کہ اس کے افعال سے ہلاکت واقع ہونے کا احتمال ہے یا غالباً اس کا نتیجہ ہلاکت ہے یا وہ افعال حسب طبیعت معہودۂ جاندار ہلاکت کے لئے کافی ہیں تو ملزم کے ایسے افعال اس کو جرم قتل عمد کے تحت میں لے آئیں گے۔ اور جیسا کہ ہم شہادت سے بحث کرتے ہوئے ثابت قرا ر دے چکے ہیں کہ ملزم کو یہ معلوم تھا کہ مولوی قطمیر صاحب کا کتا اس مہری سے آمد و رفت رکھتا ہے۔ اس کا ایسا بڑا پتھر اس طرح منڈیر پر رکھنا اور اس کا سلسلہ رسی سے اس طرح قائم کرنا کہ مہری سے آنے جانے والوں کی ذرا سی ٹھیس سے وہ گر سکے اور بلحاظ اپنی جسامت کے ایک بڑے سے بڑے کتے کے ہلاک کرنے کو کافی ہو تو اس کے افعال اس کی بد نیتی پر دلالت کریں گے۔ اور اس کا قانونی نتیجہ یہی نکلے گا کہ ملزم نے وہ افعال اس نیت سے کئے تھے کہ مولوی قطمیر صاحب کے کتے کی ہلاکت واقع ہو۔ان تمام حالات پر غور کرنے کے بعد میں ملزم پر جرم ثابت قرار دیتا ہوں اور چوں کہ ورثائے مقتول خواہان قصاص ہیں۔لہذا حکم ہوا کہملزم کتے مار خاں کو بپاداش جرم قتل عمد ہلاک کیا جائے اور ایک درجن کتے اس کے پیچھے اس غرض سے چھوڑے جائیں کہ وہ ملزم کو اس وقت تک کاٹیں اور بھنبوڑیں کہ اس کی جان جسم سے نکل جائے۔ ملزم کی تمام جائیداد ضبط کی جائے اور حسب دفعہ 545 ضابطہ فوج داری ورثائے مقتول میں تقسیم کر دی جائے۔نوٹ فیصلے کی فوراً تعمیل کی جائے۔دستخط مسٹر بل ڈاگ سشن جج کتا نگرمیں مگر جناب والا مجھے مرافعے کا حق حاصل ہے اور ابھی اس فیصلے کا نفاذ لوکل گورنمنٹ کی منظوری کا محتاج ہے۔مجسٹریٹ یہاں مرافعے کا نہ کوئی قاعدہ ہے اور نہ لوکل گورنمنٹ کی منظوری کی ضرورت۔ یہ ان ممالک کا دستور ہے جہاں گواہوں کے بیانات پر اعتبار نہ کرنے کی وجہ ہوتی ہے۔ چوں کہ ہماری عدالتوں میں کوئی گواہ حلف لے کر جھوٹ نہیں بولتا اس لئے شہادت سے صرف ایک ہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے اور اسی لئے یہاں کوئی عدالت مرافعہ قائم ہی نہیں کی گئی۔ اور نہ لوکل گورنمنٹ کو عدالتی کارروائیوں میں کوئی دخل ہے۔ (پولیس والوں کی طرف دیکھ کر) مجرم کو مقتل میں لے جاؤ۔مجسٹریٹ کا حکم سنتے ہی پولیس والے کشاں کشاں کشاں مجھے ایک بڑے میدان میں لے گئے۔ اس میدان کے چاروں طرف اونچے اونچے کٹہرے تھے۔ تمام شہر اس قتل کا تماشا دیکھنے امنڈ پڑا تھا۔ کٹہرے کے گرد کتوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ تھے۔ جہاں تک نظر جاتی تھی کتے ہی کتے نظر آتے تھے۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ میرے جلادوںمیں خود مجسٹریٹ صاحب بھی شریک ہیں۔ میری غیرت کو حرکت ہوئی اور میں نے ٹھان لی کہ مرنا برحق ہے مگر مرتے مرتے دو چار کتوں کو موت کے گھاٹ اتار دوں گا۔ مجھے میدان میں ان جلادوں سے کوئی دس قدم آگے کھڑا کیا گیا۔ ایک کتا میدان میں جھنڈی لے کر آیا۔ جب اس نے دیکھا کہ سب مستعد ہو گئے تو ایک دفعہ ہی اس نے جھنڈی گرائی اور میری موت اور زیست کی دوڑ شروع ہوئی۔میں نے بھی وہ وہ چکر دیے، اور وہ وہ پلٹیاں لیں کہ بہت سے کتوں کی کمریں توڑ دیں۔ جو کوئی قریب آ یا، اس کو دو چار لاتیں رسید کیں۔ کسی کو اٹھا کر دے پٹکا۔ کسی کو گردن دبا کر چھوڑ دیا۔ غرض یہ کہ جتنے کتے تھے وہ تھک کر بیٹھ رہے اور میدان میں صرف مجسٹریٹ صاحب اور میں رہ گئے۔ اب میری بھی ہمت بڑھی اور میں نے للکار کر کہا کہ ’’حرام زادے مجسٹریٹ! اب دیکھ تجھے مجسٹریٹی کا مزا چکھاتا ہوں۔ بڑا کلب علی خاں کا باوا بن کر اجلاس پر بیٹھا تھا۔ آج چھٹی کا دودھ یاد نہ دلایا ہو تو میرا نام کتے مار خاں نہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے میں مجسٹریٹ کی طرف جھپٹا، ادھر سے وہ بڑھا۔ ادھر سے میں بڑھا۔ دونوں دست و گریباں ہو گئے۔ میں نے اس کی تھوتھنی پکڑی۔ اس نے میرے منہ پر پنجہ مارا۔ میں نے اس کو نوچا۔ اس نے مجھ کو کاٹا میں نے اس کو گرایا۔ اس نے مجھے دے مارا۔ میرے کپڑوں اور اس کی کھال کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ دونوں لہو میں تر بتر تھے لیکن نہ میں اس کی گرفت چھوڑتا تھا اور نہ وہ پیچھے ہٹتا تھا۔میں نے دیکھا کہ جتنا وقت گزرتا جاتاہے، میرے قوی مضمحل اور میرے ہاتھ پاؤں جواب دیتے جاتے تھے۔ اس خوں خوار کتے نے بھی میری کمزوری کو محسوس کر لیا اور آخری حملے کے لئے اپنی تمام تر قوت صرف کر کے اپنے پنجے میری گرفت سے چھڑ الئے۔ چھڑانے کے ساتھ ہی اس نے میری گردن دبائی۔ میرا سانس رکنے لگا۔ میں نے بڑی نے بڑی مشکل سے ایک چیخ ماری اور چیخ کے ساتھ میری آنکھ کھل گئی۔ دیکھتا کیا ہوں کہ میں نیچے پڑا ہوں اور کلب علی خاں صاحب میرے سینے پر سوار میرا ٹیٹوا دبا رہے ہیں۔ ان کی داڑھی اور میری مونچھوں کے کچھ اجزامیں تبادلہ ملکیت ہو گیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ عالم خواب میں مجسٹریٹ کے متعلق جو الفاظ میں نے کہے تھے، ان کا مخاطب ڈپٹی صاحب نے اپنے آپ کو سمجھا۔ اس کے بعد جب میں اٹھ کر جھپٹا تو وہ بھی غصہ میں آپے سے باہر ہو کر مجھ سے لپٹ گئے۔ پھر جو کچھ ہوا وہ ہوا۔ اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم دونوں کی حالت اس کا آئینہ تھی۔ میری چیخ سے ڈپٹی صاحب کے چپراسی بھی دالان میں آ گئے اور یہ تماشا دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے۔ ایک نے بڑی مشکل سے ڈپٹی صاحب کو مجھ سے علاحدہ کیا اور وہ یہ بڑ بڑاتے ہوئے اٹھے کہ ’’بازی بازی باریش بابا ہم بازی۔‘‘ میں نے کہا کہ ’’ڈپٹی صاحب آپ کو یہ کیا وحشت ہو گئی تھی کہ (یہاں سے پھر صفحے غائب ہیں۔)", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%DA%88%D8%A7%D8%A6%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D9%BE%D8%B1%D8%A7%DA%AF%D9%86%D8%AF%DB%81_%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%92"} {"title": "ایک نوجوان کے نام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ترے صوفے ہیں افرنگی، ترے قالیں ہیں ایرانیِ\nلہُو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی\nامارت کیا، شکوہِ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل\nنہ زورِ حیدری تجھ میں، نہ استغنائے سلمانی\nنہ ڈھُونڈ اس چیز کو تہذیبِ حاضر کی تجلّی میں\nکہ پایا مَیں نے استغنا میں معراجِ مسلمانی\n\nعقابی رُوح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں\nنظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں\nنہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے\nاُمیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں\nنہیں تیرا نشیمن قصرِ سُلطانی کے گُنبد پر\nتو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%86%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85"} {"title": "ایک وصیت کی تعمیل", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "خدا بخشے، مولوی وحید الدین سلیم بھی ایک عجیب چیز تھے۔ ایک نگینہ سمجھئے کہ برسوں نا تراشیدہ رہا۔ جب تراشا گیا، پھل نکلے، چمک بڑھی، اہل نظر میں قدر ہوئی۔ اس وقت چٹ سے ٹوٹ گیا۔شہرت بھی غالب کے قصیدے کی طرح آج کل کسی کو راس نہیں آتی۔ ادھر نام بڑھا اور ادھر مرا۔ صف سے آگے نکلا اور تیر قضا کا نشانہ ہوا۔ چل چلاؤ کا زور ہے۔ آج یہ گیا، کل وہ گیا۔ مولوی نذیر احمد گئے، شبلی گئے، حالی گئے، وحید الدین گئے۔ اب بڑوں میں مولوی عبد الحق رہ گئے ہیں، ان کو بھی شہرت کی ریہ لگ گئی ہے۔ سوکھے چلے جا رہے ہیں، کسی دن بھی خشک ہو کر رہ جائیں گے۔ یہ تو جو کچھ تھا سو تھا، ایک نئی بات یہ ہے کہ آج کل کا مرنا بھی کچھ عجیب مرنا ہوگیا ہے۔ پہلے زندگی کو چراغ سے تشبیہ دیتے تھے، بتی جلتی، تیل خرچ ہوتا، تیل ختم ہونے کے بعد چراغ جھلملاتا، ٹمٹماتا، لو بیٹھنی شروع ہوتی اور آخر رفتہ رفتہ ٹھنڈا ہو جاتا۔ اب چراغ کی جگہ زندگی، بجلی کا لیمپ ہو گئی ہے۔ ادھر بٹن دبا، ادھر اندھیرا گھپ۔ عظمت اللہ خاں اسی طرح مرے، مولوی وحید الدین اسی طرح رخصت ہوئے۔ اب دیکھیں کس کی باری ہے۔ اردو کی مجلس میں دو چار لیمپ جل رہے ہیں، وہ بھی کسی وقت کھٹ سے گل ہو جائیں گے، اس کے بعد بس اللہ ہی اللہ ہے۔میں مدت سے حیدرآباد میں ہوں۔ مولوی وحید الدین بھی برسوں سے یہاں تھے، لیکن کبھی ملنا نہیں ہوا۔ انہیں ملنے سے فرصت نہ تھی۔ مجھے ملنے کی فرصت نہ تھی۔ آخر ملے تو کب ملے کہ مولوی صاحب مرنے کو تیار بیٹھے تھے۔ گذشتہ سال کالج کے جلسے میں مولوی عبد الحق صاحب نے مجھے اورنگ آباد کھینچ بلایا۔ روانہ ہونے کے لیے جو حیدرآباد کے اسٹیشن پر پہنچا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ اسٹیشن کا اسٹیشن اورنگ آباد جانے والوں سے بھرا پڑا ہے۔ طالب علم بھی ہیں، ماسٹر بھی ہیں۔ کچھ ضرورت سے جا رہے ہیں، کچھ بے ضرورت چلے جا رہے ہیں۔ کچھ واقعی مہمان ہیں، کچھ بن بلائے مہمان ہیں۔ غرض یہ کہ آدھی ریل ابھی اورنگ آباد کے مسافروں نے گھیر رکھی ہے۔ ریل کی روانگی میں دیر تھی۔ سب کے سب پلیٹ فارم پر کھڑے غپیں مار رہے تھے۔ میں بھی ایک صاحب سے کھڑ اباتیں کر رہا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑے میاں بھیڑ چیرتے پھاڑتے، بڑے بڑے ڈگ بھرتے، میری طرف چلے آ رہے ہیں۔متوسط قد، بھاری گٹھیلا بدن، بڑی سی توند، کالی سیاہ فام رنگت، اس پر سفید چھوٹی سی گول ڈاڑھی، چھوٹی کرنجی آنکھیں، شرعی سفیدپائجامہ، کتھئی رنگ کے کشمیرے کی شیروانی، سر پر عنابی ترکی ٹوپی، پاؤں میں جرابیں اور انگریزی جوتا۔ آئے اور آتے مجھے گلے لگا لیا۔ حیران تھا کہ یا الٰہی یہ کیا ماجر اہے۔ کیا امیر حبیب اللہ خاں اور مولوی نذیر احمد مرحوم کی ملاقات کا دوسرا سین ہونے والا ہے۔ جب ان کی اور میری ہڈیاں پسلیاں گلے ملتے ملتے تھک کر چور ہو گئیں اس وقت انہوں نے فرمایا، ’’میاں فرحت! مجھے تم سے ملنے کا بڑا شوق تھا۔ جب سے تمہارا نذیر احمد والا مضمون دیکھا ہے کئی دفعہ ارادہ کیا کہ گھر پر آ کر ملوں، مگر موقع نہ ملا۔ قسمت میں ملنا تو آج لکھا تھا۔ بھئی! مجھے نذیر احمد کی قسمت پر رشک آتا ہے کہ تجھ جیسا شاگرد اس کو ملا، مرنے کے بعد بھی ان کا نام زندہ کر دیا۔ افسوس ہے ہم کو کوئی ایسا شاگرد نہیں ملتا جو مرنے کے بعد اسی رنگ میں ہمارا حال بھی لکھتا۔‘‘میں پریشان تھا کہ یا اللہ یہ کون اور کیا کہہ رہےہیں۔ مگر میری زبان کب رکتی ہے میں نے کہا، ’’مولوی صاحب! گھبراتے کیوں ہیں، بسم للہ کیجئے، مر جائیے، مضمون لکھ دوں گا۔‘‘کیا خبر تھی کہ سال بھر کے اندر ہی اندر مولوی صاحب مر جائیں گے اور مجھے ان کی وصیت کو پورا کرنا پڑے گا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ یہ مولوی وحید الدین سلیم ہیں تو واقعی مجھے بہت پشیمانی ہوئی، میں نے معذرت کی۔ وہ خود شگفتہ طبیعت لے کر آئے تھے رنج تو کجا، بڑی دیر تک ہنستے اور اس جملے کے مزے لیتے رہے۔ سر ہو گئے کہ جس گاڑی میں تو ہے، میں بھی اسی میں بیٹھوں گا۔ شاگردوں کی طرف دیکھا، انہوں نے ان کا سامان لا میرے درجے میں رکھ دیا۔ ادھر ریل چلی اور ادھر ان کی زبان چلی۔ رات کے بارہ بجے، ایک بجا، دو بج گئے، مولوی صاحب نہ خود سوتے ہیں اور نہ سونے دیتے ہیں۔ درج اول میں ہم تین آدمی تھے۔ مولوی صاحب اور رفیق بیگ، رفیق بیگ تو سو گئے ہم دونوں نے باتوں میں صبح کر دی۔ اپنی زندگی کے حالات بیان کئے، اپنے علمی کارناموں کا ذکر چھیڑا، اصطلاحات زبان اردو پر بحث ہوتی رہی، شعر و شاعری ہوئی، دوسروں کی خوب برائیاں ہوئیں، اپنی تعریفیں ہوئیں، مولوی عبد الحق کو برا بھلا کہا کہ اس بیماری میں مجھے زبردستی کھینچ بلایا۔غرض چند گھنٹے بڑے مزے سے گزر گئے۔ صبح ہوتے ہوتے کہیں جا کر آنکھ لگی۔ شاید ہی گھنٹا بھر سوئے ہوں گے کہ ان کے شاگردوں اور ساتھیوں نے گاڑی پر یورش کر دی۔ پھر اٹھ بیٹھے اور پھر وہی علمی مباحث شروع ہوئے، پھبتیاں اڑیں، اس کوبے وقوف بنایا، اس کی تعریف کی، ہنسی اور قہقہوں کا وہ زور تھا کہ درجے کی چھت ا ڑی جاتی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد مجھ کو نواب مسعود جنگ اپنے پاس لے گئے اور یہاں اورنگ آباد تک وہی غل غپاڑا رہا۔میں شاعر نہیں ہوں، ہاں بعض دوستوں کی فرمائش سے زبر دستی شعر کہتا ہوں۔ مجھے بڑا تعجب ہوا، جب مولوی صاحب نے کہا، ’’فرحت تو شاعر ہے کیوں اس جوہر کو خاک میں ملا رہا ہے، ہوسکے تو کچھ کہہ لیا کر۔‘‘ میرے ایک قطعہ تاریخ سے ایسے خوش ہوئے کہ اسی وقت اٹھ، قلم دوات نکال، وہ قطعہ لکھ لیا۔ آپ بھی سن لیجئے، کہتے ہیں نئی طرز کی تاریخ ہے، ہوگی۔ ہم کو تو نہ اس کے لکھنے میں دماغ سوزی کرنی پڑی اور نہ اس کی کوئی قدر ہے، ہاِ قطعے سے پہلے اس کی شان نزول سن لیجئے۔واقعہ یہ ہے کہ میرے ایک نہایت عزیز دوست کے دماغ میں یورپ جانے کے خیالات ہمیشہ چکر لگاتے تھے۔ پیسا پاس نہیں تھا مگر چاہتے تھے کہ ساری دنیا میں پھریں اور وہ بھی اس طرح نہیں جس طرح امریکہ والے پھرتے ہیں، بلکہ اس طرح جیسے پہلے زمانے کے سیاح پھرتے تھے۔ ادھر کوشش کی ادھر کوشش کی، آخر سرکار سے منظوری ہو ہی گئی۔ ڈھائی تین برس میں سارا یورپ چھا ن مارا، شمالی افریقہ کے سب ملک دیکھ لیے۔ عراق، عرب، شام، ترکی غرض سیکڑوں ملکوں کی سیر کی۔ آئے اور بڑی دھوم دھام سے آئے۔ وہ نام پیدا کیا کہ خدا سب کو نصیب کرے۔ دوستوں نے مجھ سے تاریخ کہنے کا تقاضا کیا۔ مار مار کر شاعر بنایا، تاریخ ہوئی ہے، پھر پھرا کر مرے اک دوست سفر سے آئےہار تاریخ کا ڈالا گیا میرے سر پردوستوں کا یہ تقاضا کہ لکھو جلد لکھومیں بھی شاعر ہوا، اللہ کی قدرت ہے مگرمیرے انکار سے احباب نہ رنجیدہ ہوںاس لیے لکھتا ہوں تاریخ بہت ڈر ڈر کرایک طائر کو قفس میں تھا خیال گلشنپر سمیٹے ہوئے بیٹھا تھا جھکائے ہوئے سررحم کچھ آ گیا صیاد کے دل میں شایدہٹ گیا سامنے سے ایک طرف کھول کے دردر کھلا پایا تو آہستہ سے طائر نکلاپھر چلا تیر سا گلشن کی طرف مار کے پرخوب دل بھر کے مزے زمزمہ سنجی کے لئےخوب دل کھول کے باغوں میں لگائے چکربچتا وہ گردش افلاک سے آخر کب تکہوتا کب تک نہ زمانے کے تغیر کا اثرآب و دانہ اسے پھر کھینچ کے لایا سوئے دامباندھے صیاد نے پھر طائر آزاد کے پرلکھی’’فرحت‘‘ نے ہے کس زور سے فصلی تاریخپھر وہی کنج قفس پھر 1 وہی صیاد (213) کا گھرمیں نے باتوں باتوں میں یہ بھی کوشش کی کہ مولوی صاحب کی طبیعت کا اندازہ لگاؤں۔ پہلے تو ذرا بند بند رہے، لیکن آخر میں بالکل کھل گئے۔ میں نے جو رائے ان کے متعلق قائم کی ہے وہ سن لیجئے۔ سب سے پہلے تو یہ ہے کہ ان میں ظرافت کا مادہ بہت تھا۔ لیکن یہ ظرافت اکثر رکاکت کی صورت اختیار کر لیتی تھی۔ کسی کوبرا بھی کہتے تو ایسے الفاظ میں کہتے کہ سننے سے تکلیف ہوتی، اور جب کہنے پر آتے تو پھر یہ نہ دیکھتے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور کس کے سامنے کہہ رہا ہوں۔ نتیجہ اکثر یہ ہوتا کہ لوگ ادھر سے ادھر لگا دیتے اور مولوی صاحب کی کسی نہ کسی سے بگڑ جاتی۔ شاید ہی کوئی بھلا آدمی ہوگا جو سچے دل سے ان کو چاہتا ہو۔ ان کے علم، ان کی سمجھ، ان کی زود فہمی اور ان کی طبع رسا کی سب تعریف کرتے ہیں لیکن ان کی طبیعت کے سب شاکی ہیں اور وہ خود بھی اس سے بیزار تھے۔بات یہ ہے کہ انہوں نے زمانے کی وہ ٹھوکریں اٹھائی تھیں کہ خدا کی پناہ۔ خاصا بھلا چنگا آدمی دیوانہ ہو جائے۔ اگر مولوی صاحب کی طبیعت پر ان مصیبتوں نے اتنا اثر کیا تو کیا تعجب ہے۔ جب کسی نا اہل کوبڑی خدمت پر دیکھتے تو ان کے آگ لگ جاتی۔ ریل میں دو ایک بڑے شخصوں کا ذکر آیا، انہوں نے ہر دفعہ یہی کہا، ’’ارے میاں! گدھا ہے، ایک سطر صحیح نہیں لکھتا اور دیکھو تو کون ہیں کہ نواب صاحب، ہم کو دیکھو تمام عمر علم حاصل کرنے میں گزار دی۔ اس اخبار کی ایڈیٹری کی، اس رسالے کے منیجر ہوئے، سر سید کی خدمت کی، سرگاڑی پاؤں پہیہ کیا اب جو چند روپلی مل رہے ہیں، تو فلاں صاحب جلے جاتےہیں، خبر نہیں کچھ ہوتے تو گلا ہی گھونٹ دیتے۔‘‘میں نے کہا، ’’مولوی صاحب! یہ دنیا ہے آخرت نہیں ہے کہ جیسا بوؤگے ویسا پھل ملے گا۔ یہاں اہل کمال ہمیشہ آشفتہ حال رہے ہیں۔ آپ کیوں خواہ مخواہ اپنا دل جلاتے ہیں۔ جو اللہ نے دیا ہے، بہت ہے۔‘‘ آگے ناتھ نہ پیچھے پگا۔ مزے کیجئے۔ بہت گئی ہے، تھوڑی رہی ہے، ہنسی خوشی یہ بھی گزار دیجئے۔‘‘وہ بھلا میری باتوں کو کیا سننے والے تھے۔ ان کے تو دل میں زخم تھے۔ تمام عمر مصیبت اٹھائی تھی، نا اہلوں کو آرام و آسائش میں دیکھ کر وہ زخم ہرے ہو جاتے تھے۔ زبان اپنی تھی، کسی کا دینا نہیں آتا تھا۔ بے نقط سنا کر دل ٹھنڈا کر لیتے تھے۔زمانے کے ہاتھوں ان کی طبیعت میں ایک دوسرا انقلاب یہ بھی ہوگیا تھا کہ جتنی ان کی نگاہ وسیع ہوئی، اتنا ہی ان کا دل تنگ ہوا۔ جتنی ان کے قلم میں روانی پیدا ہوئی اتنی ہی ان کی مٹھی بند ہوئی۔ میں ان کی پیٹھ پیچھے نہیں کہتا جب ان کے منہ پر کہہ چکا ہوں کہ مولوی صاحب، آپ کی کفایت شعاری نے بڑھتے بڑھتے کنجوسی کی شکل اختیار کر لی ہے تو اب لکھتے کیوں ڈروں۔ واقعی بڑے ہی کنجوس تھے۔ ہزار روپے کے گریڈ میں تھے۔ دارالترجمہ سے بہت کچھ مل جاتا تھا مگر خرچ کی پوچھو تو صفر سے کچھ ہی زیادہ ہوگا۔ اس کی صراحت میں آگے چل کر کروں گا۔ ہاں، ان کا یہ عذر سب کو ماننا پڑے گا کہ مفلسی کے پے در پے حملوں نے ان کی آنکھیں کھول دی تھیں۔ ان کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ اس خدمت پر کب تک ہیں اور کب نکال دیے جائیں گے۔ خشک سالی کے اندیشے سے ارزانی کے زمانے میں کھتے بھرنے کی فکر میں رہے۔ خود چل بسے اور جمع پونجی دوسروں کے لیے چھوڑ گئے۔ اور چھوڑ بھی اتنی گئے کہ بعض لوگوں کو افسوس ہوا کہ ہم ان کے بیٹے کیوں نہ ہوئے۔بہر حال یونہی ہنستے، بولتے دو بجے اورنگ آباد پہنچ گئے۔ بڑے زور کا استقبال ہوا۔ موٹروں میں لد کر اورنگ آباد کالج پہنچے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ یہاں سے وہاں تک خیمے ہی خیمے لگے ہیں۔ خیموں کے سامنے جلسے کا منڈوا ہے۔ منڈوے کے سامنے جو خیمہ تھا اس میں مجھے اور مولوی صاحب کو جگہ ملی۔ مولوی صاحب کی طبیعت پہلے سے بد مزہ تھی۔ راستے کی تکان اور رات بھر کے جاگنے سے اور خراب ہو گئی، بخار چڑھ آیا۔ دو وقت کھانا نہیں کھایا، تیسرے وقت بڑے کہنے سننے سے تھوڑا سا دودھ پیا۔دوسرے روز کا ان کا لکچر تھا۔ طبیعت صاف نہیں تھی۔ پھر بھی بڑے میاں کو جوش آ گیا۔ ٹرنک میں سے جوڑا نکالا، ریشمی شیروانی نکالی، نئی ترکی ٹوپی نکالی، اپنا میلا کچیلا جوڑا پھینک نیا پہن اس ٹھاٹھ سے جلسے میں آئے کہ واہ واہ واہ۔ کھڑے ہو کر لکچر دینے کا دم نہ تھا، اسٹیج پر کرسی بچھا دی گئی۔ انہوں نے جیب میں سے چھوٹے چھوٹے نیلے کاغذ کے پرچوں کی ایک گڈی نکالی اور لکچر پڑھنا شروع کیا۔میں ہمیشہ سے یہ سمجھتا تھا کہ اسپیچ کے پڑھنے میں الفاظ کا زور کم ہو جاتا ہے مگر مولوی صاحب کے طرز ادا نے میرا خیال بالکل بدل دیا۔ ان کے پڑھنے میں بھی وہی بلکہ اس سے زیادہ زور تھا جتنا بولنے میں ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا تھا کہ شیر گرج رہا ہے۔ تقریباً دو ہزار آدمی کا مجمع تھا مگر سناٹے کا یہ عالم تھا کہ سوئی گرے تو آواز سن لو۔ لفظوں کی نشست، زبان کی روانی، آواز کے اتار چڑھاؤ سے معلوم ہوتا تھا کہ ایک دریا ہے کہ امڈا چلا آ رہا ہے۔ یا ایک برقی رو ہے کہ کانوں سے گزر کر دل و دماغ پر اثر کر رہی ہے۔ برس روز ہو چکا ہے مگر اب تک وہ آواز میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ میں نے بڑے بڑے لکچر دینے والوں کو سنا ہے مگر میں یقین دلاتا ہوں کہ لکچر پڑھ کرایسا اثر پیدا کرنے والا، میری نظر سے کوئی نہیں گزرا۔ کچھ تو بات تھی کہ آخر آخر زمانے میں سر سید مرحوم اپنے اکثر لکچر انہیں سے پڑھوایا کرتے تھے۔ یا تو یہ لکچر پڑھتے پڑھتے یہ خود منجھ گئے تھے یا یہ ان کی خداداد قابلیت تھی، جس کو دیکھ کر سر سید مرحوم نے اس کام کے لیے ان کا انتخاب کیا تھا۔ غرض کچھ ہی ہو، اس میں ان کا مد مقابل نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔اسی روز ایک واقعہ ایسا پیش آیا کہ اس کا خیال کر کے اب تک مجھے ہنسی آتی ہے۔ ’’1261 میں دہلی کا ایک مشاعرہ‘‘ اس جلسے میں زندہ کیا گیا تھا۔ وہی ساز و سامان، وہی کپڑے اور وہی لوگ، سو برس کے بعد پھر سامنے لائے گئے تھے۔ اسٹیج کے انتظام ہی کے لیے مولوی عبد الحق صاحب نے مجھے پکڑ بلایا تھا۔ پہلے بہروپ اور نقلیں ہوتی رہیں، آخر پردہ گرا اور مشاعرے کا نمبر آیا۔ تھوڑی دیر میں اسٹیج کا رنگ بدلنا کچھ آسان کام نہ تھا۔دریاں، چاندنیاں، قالین بچھانا، گاؤ تکیے لگانا، سامان جمانا، مشعلیں جلانا، غرض اتنا کام تھا کہ پردہ گرے گرے بڑی دیر ہو گئی اور لوگوں میں ذرا ہل چل ہونے لگی۔ مجھے اس وقت سوا اس کے اور کچھ نہ سوجھا کہ ایک چھوٹی سی تقریر کر کے اس بے چینی کو کم کروں۔ میں نے کہا، ’’یارو! ذرا جلدی کرو، دیر ہو رہی ہے، مزا کر کرا ہو جائے گا۔ میں باہر جا کر کچھ بولنا شروع کرتا ہوں، تمہارا کام جب ختم ہو جائے تو سیٹی بجا دینا، میں اپنی اسپیچ ختم کردوں گا۔‘‘ اتنا کہہ میں چٹ باہر پردے کے سامنے آ گیا۔ مضمون سوچنے کا موقع نہیں ملا تھا، اس وقت یہی سمجھ میں آیا کہ اپنے مضمون کی تمہید کو ذرا مذاق میں ادا کر دوں۔جن صاحبوں نے وہ مضمون پڑھا ہے وہ واقف ہیں کہ میں نے اس مضمون کو مولوی کریم الدین صاحب مولف ’’طبقات الشعرائے ہند‘‘ سےمنسوب کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ یہ مشاعرہ انہی کے مکان پر نواب زین العابدین خاں کی مدد سے ہوا تھا۔ چنانچہ میں نے اپنے لکچر میں ابتداءً اس زمانے کی دہلی کا نقشہ کھینچا اور پھر مولوی کریم الدین صاحب کا پانی پت سے دہلی آنا مذاقیہ پیرائے میں بیان کیا۔ ان کی پھٹی ہوئی جوتیوں، ان کے خاک آلودہ کپڑوں، ان کی وحشت زدہ شکل اور ان کی مفلسی کا نقشہ خدا جانے کن کن الفاظ میں کھینچ گیا۔ پھر ان کے دلی میں آ کر تعلیم پانے، مسجد کی روٹیوں پر پڑے رہنے، دوسروں کی مدد سے مطبع کھولنے کا ذکر کر کے یہ بتایا کہ آخر کس طرح اس مشاعرے کی اجازت ہوئی اور کس طرح دہلی کے تمام شعرا اس میں جمع ہوئے۔میں اسپیچ دینے میں سیدھا کھڑا نہیں رہتا، کچھ ہاتھ پاؤں ہلاتا ہوں۔ خدا معلوم مولوی کریم الدین کاحال بیان کرنے میں کیوں میرے ہاتھ کا اشارہ کئی دفعہ مولوی وحید الدین سلیم کی طرف ہو گیا۔ مجھے تو معلوم نہیں مگرجلسے میں اس نے کچھ اور ہی معنی پیدا کر لیے۔ مولوی صاحب کے والد بھی پانی پت سے دہلی آئے تھے۔ کتابوں کا بیوپار کرتے تھے۔ لوگ سمجھے کہ مولوی کریم الدین ہی مولوی وحید الدین کے والد تھے۔ ناموں کے یکساں ہونے نے اس خیال کو اور تقویت دی۔ اب جو ہے وہ مولوی صاحب سے پوچھتا ہے، ’’مولوی صاحب! کیا مولوی کریم الدین صاحب آپ کے والد تھے؟‘‘مولوی صاحب کے تاؤ کچھ نہ پوچھو، دل ہی دل میں اونٹتے رہے۔ خدا خدا کر کے ڈیڑھ بجے مشاعرہ ختم ہوا۔ اسٹیج کے دروازے سے جو نکلتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب دیوار سے چپکے کھڑے ہیں، مجھے دیکھتے ہی بپھر گئے۔ کہنے لگے، ’’فرحت! یہ سب تیری شرارت ہے۔ کریم الدین کو میرا باپ بنا دیا۔‘‘ میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر یہ کہہ کیا رہے ہیں۔ بڑی مشکل سےمولوی صاحب کو ٹھنڈا کیا۔ وہاں سے لے جا کر خیمے میں بٹھایا، پان بنا کر دیا، سگریٹ پیش کیا، جب جا کر ذرا نرم پڑے اور واقعہ بیان کیا۔میں نے کہا، ’’ مولوی صاحب! بھلا مجھ سے ایسی گستاخی ہو سکتی تھی۔ اول تو اس مذاق کا یہ موقع ہی کیا تھا، دوسرے مجھے کیا معلوم کہ آپ کے والد کون تھے، کہاں تھے، دہلی آئے بھی تھے یا نہیں، کتابیں بیچتے تھے یا کیا کرتے تھے۔‘‘کہنے لگے، ’’تو گھڑی گھڑی ہاتھ سے میری طرف کیوں اشارہ کرتا تھا۔‘‘ میں نے کہا، ’’مولوی صاحب! اسپیچ دینے میں ہاتھ کا اشارہ خود بہ خود اسی طرح ہو جاتا ہے۔ اب اگر اگلی صف میں بیٹھ کر آپ اس اشارے کو اپنے سے متعلق کر لیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔‘‘بہر حال یہ بات لوگوں کے دلوں میں کچھ ایسی جم گئی کہ مٹائے نہ مٹی۔ جب تک اورنگ آباد میں رہے، ہر شخص مولوی صاحب سے یہی سوال کرتا تھا، ’’مولوی صاحب! کیا مولوی کریم الدین صاحب آپ کے والد تھے؟‘‘ یہ کبھی تو ہنس کر چپ ہو جاتے، کبھی صرف جھڑک دیتے، کبھی جل کر کہتے، ’’جی ہاں، میرے والد تھے کچھ آپ کا دینا آتا ہے۔‘‘اورنگ آباد سے واپس آنے کے بعد میرا ان کے ہاں آنا جانا بہت ہو گیا تھا۔ جب کچھ لکھتا پہلے ان کوجا کر سناتا۔ بڑے خوش ہوتے، تعریفیں کرتے، دل بڑھاتے، ہائے ان کے گھر کا نقشہ اس وقت آنکھوں میں پھر گیا۔ گھر بہت بڑا تھا، مگر خالی ڈھنڈار، ساٹھ روپے مہینا کرایہ دیتے اور اپنی اکیلی جان سے رہتے۔ نہ بال نہ بچہ، نہ نوکر، نہ ماما۔ میں گیا۔ باہر کا دروازہ کھٹکھٹایا، آواز آتی، ’’کون؟‘‘میں نے کہا، ’’فرحت۔‘‘ اسی وقت کرتا پہنتے ہوئے آئے، دروازہ کھولا اندر لے گئے۔ بر آمدے میں ایک بان کی چارپائی پڑی ہے، دو تین تختے جڑی ٹوٹی پھوٹی کرسیاں ہیں۔ اندر ایک ذرا سی دری بچھی ہے، اس پر میلی چاندنی ہے۔ دو چار چوہا چکٹ تکئے اور ایک سڑی ہوئی رضائی رکھی ہے۔ دیواروں پر ایک دو سگریٹ کے اشتہاروں کی تصویریں اور تین چار پرانے کیلنڈر لٹکے ہیں۔ سامنے دیوار کی الماری میں پانچ چھ کنڈا ٹوٹی چائے کی پیالیاں، کنارے جھڑی رکابیاں، ایک دو چائے کے ڈبے رکھے ہیں۔ سامنے کے کمرے میں کھونٹیوں پر دو تین شیروانیاں، دو تین ٹوپیاں لٹک رہی ہیں۔ نیچے دو تین پرانے کھڑنک جوتوں کے جوڑے پڑے ہیں۔ لیجئے مولوی صاحب کے گھر بار کا یہ خلاصہ ہے۔مولوی صاحب بیٹھے ہیں۔ سامنے دو انگیٹھیاں رکھی ہیں۔ ایک پر پانی، دوسری پر دودھ جوش ہو رہا ہے۔ چائے بن رہی ہے۔ خود پی رہے ہیں، دوسروں کو پلا رہے ہیں۔ ایک نمک کا ڈلا پاس رکھا ہے، چائے بنائی، نمک کے ڈلے کو ڈال دو ایک چکر دے نکال لیا۔ بس سارے دن ان کا یہی شغل تھا۔ گھر میں برتن ہی نہیں تھے، کھانا کیسے پکتا اور کون پکاتا۔ خبر نہیں کہاں جا کر کھا پی آتے تھے۔کبھی میں گیا، دیکھا کہ دروازے میں یہ بڑا قفل لٹک رہا ہے، سمجھ گیا کہ مولوی صاحب کہیں چرنے چگنے تشریف لے گئے ہیں۔ میں نے کئی دفعہ پوچھا بھی کہ مولوی صاحب! آپ کے ہاں کچھ پکتا پکاتا نہیں، کہنے لگے، ’’نہیں بھئی، میں نے تو مدتوں سے کھانا چھوڑ دیا ہے، صرف چائے پر گزران ہے۔‘‘تم مان لو میں تو نہیں مانتا، میں نے خود اپنی آنکھوں سے ان کو کھاتے اور خوب کھاتے دیکھا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنے گھر کا پکا نہیں کھاتے تھے اور کھاتے تو کیوں کر کھاتے۔ پکانے کاانتظام کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ماما رکھنی پڑتی، سامان منگوانا ہوتا، لکڑی کاخرچ، تیل کا خرچ، نون کا خرچ، غرض اتنے خرچ کون اپنے سر باندھے اور اپنی بھلی چنگی جان کو بیٹھے بٹھائے روگ لگائے۔ چائے بنائی، پی لی۔ ادھر ادھر گئے، پیٹ بھر لیا، گھر آئے، بان کی کھری چار پائی پر لوٹ ماری، چلو زندگی کا ایک دن کٹ گیا۔ان کی بان کی چارپائی بھی نمائش میں رکھنے کے قابل تھی۔ ننگی پیٹھ اس پر اتنا لوٹے تھے کہ بان صاف اور چمکدار ہو کر کالی اطلس ہو گیا تھا۔ ادوان خود کھینچتے تھے اور ایسی کھینچتے تھے کہ ہاتھ مارو تو طبلے کی آواز دے۔ خدا معلوم اب یہ چارپائی کس کے قبضے میں ہے۔ کسی کے پاس بھی ہو، سونے میں بڑا آرام دے گی۔مولوی صاحب کو مٹھاس کا بڑا شوق تھا۔ خدا شکر خورے کو شکر دیتا ہے۔ ان کے بھی یار، دوست شاگرد غرض کوئی نہ کوئی ان کو مٹھائی پہنچا ہی دیتا تھا۔ یہ کچھ کھاتے کچھ رکھ چھوڑتے۔ مٹھائی کی ٹوکریوں میں جو کاغذ آتے ان کو پونچھ پونچھ صاف کر جمع کرتے جاتے، انہی کاغذوں پر خط لکھتے، غزلیں لکھتے، غرض جو کچھ لکھنا پڑھنا ہوتا بس انہیں کاغذوں پر ہوتا، خدا معلوم ایسے جھر جھرے کاغذ پر یہ لکھتے کیوں کر تھے۔مولوی صاحب دنیا میں کسی سے نہیں ڈرتے تھے، ہاں ڈرتے تھے تو مولوی عبد الحق صاحب سے۔ میں نے کئی دفعہ کوشش کی کہ مولوی عبد الحق صاحب کے متعلق ان کی رائے معلوم کروں مگر وہ کسی نہ کسی طرح ٹال گئے۔ تھوڑے دن اور جیتے تو پوچھ ہی لیتا۔ دوسروں کے متعلق مجھے ان کی رائے معلوم ہے۔ اگر ان ہی کے الفاظ میں لکھوں تو ابھی فوج داری ہو جائے۔مولوی صاحب کو اصطلاحات وضع کرنے کا خاص ملکہ تھا۔ ایسے ایسے الفاظ دماغ سے اتارتے کہ باید و شاید۔ جہاں ثبوت طلب کیا اور انہوں نے شعر پڑھا، اور کسی نہ کسی بڑے شاعر سے منسوب کر دیا۔ اب خدا بہتر جانتا ہے کہ یہ خود ان کا شعر ہوتا تھا یا واقعی اس شاعر کا۔ بھلا ایک ایک لفظ کے لیے کون دیوان ڈھونڈتا بیٹھے۔ اگر کوئی تلاش بھی کرتا اور وہ شعر دیوان میں نہ ملتا تو یہ کہہ دینا کیا مشکل تھا کہ یہ غیر مطبوعہ کلام ہے۔ انگریزی بالکل نہیں جانتے تھے مگر انگریزی اصطلاحات پر پورے حاوی تھے۔ یہ ہی نہیں بلکہ یہاں تک جانتے تھے کہ اس لفظ کے کیا ٹکڑے ہیں، ان ٹکڑوں کی اصل کیا ہے، اور اس اصل کے کیا معنے ہیں۔ اس بلا کا حافظہ لے کر آئے تھے کہ ایک دفعہ کوئی لفظ سنا اور یاد ہو گیا۔الفاظ کے ساتھ انہوں نے اس پر بھی بہت غور کیا تھ اکہ انگریزی میں اصطلاحات بنانے میں کن اصولوں کو پیش نظر رکھا گیا ہے، انہیں اصولوں کو اردو کی اصطلاحات وضع کرنے میں کام میں لاتے اور ہمیشہ کامیاب ہوتے۔ میری کیا اس وقت سب کی یہی رائے ہے کہ اصطلاحات بنانے کے کام میں مولوی وحید الدین سلیم اپنا جواب نہیں رکھتے تھے، اور اب ان کے بعد ان کا بدل ملنا دشوار تو کیا نا ممکن ہے۔ عربی اور فارسی میں اچھی دسترس تھی، مگر وہ اردو کے لئے بنے تھے۔ اور اردو ان کے لیے۔ خوب سمجھتے تھے اور خوب سمجھاتے تھے۔ زبان کے جو نکات وہ اپنے شاگردوں کو بتا گئے ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ کالج کے لونڈے وہ مضمون لکھ جاتے ہیں، جو بڑے بڑے اہل قلم کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آتے۔مولوی صاحب کیا مرے، زبان اردو کا ایک ستون گر گیا اور ایک ایسا ستون گرا کہ اس جیسا بننا تو کجا، اس حصے میں اڑواڑ بھی لگانی مشکل ہے۔ اس کی جگہ بھرنے کے لیے دوسرے پروفیسر کی تلاش ہو رہی ہے مگر عثمانیہ یونیورسٹی کےا رباب حل و عقد لکھ رکھیں کہ چاہے اس سرے سے اس سرے تک ہندوستان چھان مارو، مولوی وحید الدین سلیم جیسا پروفیسر ملنا تو بڑی بات ہے، ان کا پاسنگ بھی مل جائے تو غنیمت اور بہت غنیمت سمجھو۔\n\nحاشیہ\n\n(۱) ’’پھر‘‘ کی جگہ اگر ’’اور‘‘ رکھا جائے تو مادۂ تاریخ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%88%D8%B5%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B9%D9%85%DB%8C%D9%84"} {"title": "ایک وقت میں ایک کام", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہے کام کے وقت کام اچھا\nاور کھیل کے وقت کھیل زیبا\nجب کام کا وقت ہو کرو کام\nبھولے سے بھی کھیل کا نہ لو نام\nہاں کھیل کے وقت خوب کھیلو\nکودو پھاندو کہ ڈنڈ پیلو\nخوش رہنے کا ہے یہی طریقہ\nہر بات کا سیکھیے سلیقہ\nہمت کو نہ ہاریو خدا را\nمت ڈھونڈیو غیر کا سہارا\nاپنی ہمت سے کام کرنا\nمشکل ہو تو چاہئے نہ ڈرنا\nجو کچھ ہو سو اپنے دم قدم سے\nکیا کام ہے غیر کے کرم سے\nمت چھوڑیو کام کو ادھورا\nبے کار ہے جو ہوا نہ پورا\nہر وقت میں صرف ایک ہی کام\nپا سکتا ہے بہتری سے انجام\nجب کام میں کام اور چھیڑا\nدونوں ہی میں پڑ گیا بکھیڑا\nجو وقت گزر گیا اکارت\nافسوس! ہوا خزانہ غارت\nہے کام کے وقت کام اچھا\nاور کھیل کے وقت کھیل زیبا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%A9%D8%A7%D9%85"} {"title": "ایک پرندہ اور جگنو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "سرِ شام ایک مرغِ نغمہ پیرا\nکسی ٹہنی پہ بیٹھا گا رہا تھا\n\nچمکتی چیز اک دیکھی زمیں پر\nاُڑا طائر اُسے جُگنو سمجھ کر\n\nکہا جُگنو نے او مرغِ نواریز!\nنہ کر بے کس پہ منقارِ ہوس تیز\n\nتجھے جس نے چہک، گُل کو مہک دی\nاُسی اللہ نے مجھ کو چمک دی\n\nلباسِ نور میں مستور ہوں میں\nپتنگوں کے جہاں کا طُور ہوں میں\n\nچہک تیری بہشتِ گوش اگر ہے\nچمک میری بھی فردوسِ نظر ہے\n\nپروں کو میرے قُدرت نے ضیا دی\nتجھے اُس نے صدائے دل رُبا دی\n\nتری منقار کو گانا سکھایا\nمجھے گُلزار کی مشعل بنایا\n\nچمک بخشی مجھے، آواز تجھ کو\nدیا ہے سوز مجھ کو، ساز تجھ کو\n\nمخالف ساز کا ہوتا نہیں سوز\nجہاں میں ساز کا ہے ہم نشیں سوز\n\nقیامِ بزمِ ہستی ہے انھی سے\nظہورِ اوج و پستی ہے انھی سے\n\nہم آہنگی سے ہے محفل جہاں کی\nاسی سے ہے بہار اس بوستاں کی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%BE%D8%B1%D9%86%D8%AF%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%DA%AF%D9%86%D9%88"} {"title": "ایک پرواز کو بھی رخصت صیاد نہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک پرواز کو بھی رخصت صیاد نہیں\nورنہ یہ کنج قفس بیضۂ فولاد نہیں\n\nشیخ عزلت تو تہ خاک بھی پہنچے گی بہم\nمفت ہے سیر کہ یہ عالم ایجاد نہیں\n\nداد لے چھوڑوں میں صیاد سے اپنی لیکن\nضعف سے میرے تئیں طاقت فریاد نہیں\n\nکیوں ہی معذور بھی رکھ یوں تو سمجھ دل میں شیخ\nیہ قدح خوار مرے قابل ارشاد نہیں\n\nبے ستوں بھی ہے وہی اور وہی جوئے شیر\nتھا نمک شہرت شیریں کا سو فرہاد نہیں\n\nکیا کہوں میرؔ فراموش کیا ان نے تجھے\nمیں تو تقریب بھی کی پر تو اسے یاد نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%D8%B5%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ایک پل جا نہ کہوں نین سوں اے نور بصر", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک پل جا نہ کہوں نین سوں اے نور بصر\nٹک نہ ہو اس دل تاریک سوں اے بدر بدر\n\nتیری اس صبح بنا گوش و خط مشکیں سوں\nسیر کرتا ہوں عجب شام و سحر شام و سحر\n\nجل کے میں سرمہ ہوا بلکہ ہوا کاجل بھی\nخانۂ چشم میں تجھ پاؤں جو ٹک راہ مگر\n\nراہ داراں لیویں ہر گام میں جیو کا حاصل\nہے گا اس راہ میں اے عمر ابد جاں کا خطر\n\nقبلے سوں مونھ پھرایا ترے مکھ کی جانب\nکیا زاہد نے مکے سوں سوئے بت خانہ سفر\n\nچاند سورج کی رکھ عینک کوں سدا پیر فلک\nخم ہو کرتا ہے نظر تاکہ دیکھے تیری کمر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%BE%D9%84_%D8%AC%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%8C%D9%86_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%B5%D8%B1"} {"title": "ایک پودا اور گھاس", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اتفاقا ایک پودا اور گھاس\nباغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاس\nگھاس کہتی ہے کہ اے میرے رفیق\nکیا انوکھا اس جہاں کا ہے طریق\nہے ہماری اور تمہاری ایک ذات\nایک قدرت سے ہے دونوں کی حیات\nمٹی اور پانی ہوا اور روشنی\nواسطے دونوں کے یکساں ہے بنی\nتجھ پہ لیکن ہے عنایت کی نظر\nپھینک دیتے ہیں مجھے جڑ کھود کر\nسر اٹھانے کی مجھے فرصت نہیں\nاور ہوا کھانے کی بھی رخصت نہیں\nکون دیتا ہے مجھے یاں پھیلنے\nکھا لیا گھوڑے گدھے یا بیل نے\nتجھ پہ منہ ڈالے جو کوئی جانور\nاس کی لی جاتی ہے ڈنڈے سے خبر\nاولے پالے سے بچاتے ہیں تجھے\nکیا ہی عزت سے بڑھاتے ہیں تجھے\nچاہتے ہیں سب تجھ کو سب کرتے ہیں پیار\nکچھ پتا اس کا بتا اے دوست دار\nاس سے پودے نے کہا یوں سر ہلا\nگھاس سب سچا ہے تیرا یہ گلا\nمجھ میں اور تجھ میں نہیں کچھ بھی تمیز\nصرف سایہ اور میوہ ہے عزیز\nفائدہ اک روز مجھ سے پائیں گے\nسایہ میں بیٹھیں گے اور پھل کھائیں گے\nہے یہاں عزت کا سہرا اس کے سر\nجس سے پہونچے نفع سب کو بیشتر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%BE%D9%88%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%D8%A7%D8%B3"} {"title": "ایک پہاڑ اور گلہری", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے\nتجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے\nذرا سی چیز ہے، اس پر غرور، کیا کہنا\nیہ عقل اور یہ سمجھ، یہ شعور، کیا کہنا!\nخدا کی شان ہے ناچیز چیز بن بیٹھیں\nجو بے شعور ہوں یوں باتمیز بن بیٹھیں\nتری بساط ہے کیا میری شان کے آگے\nزمیں ہے پست مری آن بان کے آگے\nجو بات مجھ میں ہے، تجھ کو وہ ہے نصیب کہاں\nبھلا پہاڑ کہاں، جانور غریب کہاں!\n\nکہا یہ سُن کے گلہری نے، مُنہ سنبھال ذرا\nیہ کچّی باتیں ہیں دل سے انھیں نکال ذرا\nجو مَیں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا\nنہیں ہے تُو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا\nہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے\nکوئی بڑا، کوئی چھوٹا، یہ اُس کی حکمت ہے\nبڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اُس نے\nمجھے درخت پہ چڑھنا سِکھا دیا اُس نے\nقدم اُٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میں\nنِری بڑائی ہے، خوبی ہے اور کیا تجھ میں\nجو تُو بڑا ہے تو مجھ سا ہُنر دِکھا مجھ کو\nیہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دِکھا مجھ کو\nنہیں ہے چیز نِکمّی کوئی زمانے میں\nکوئی بُرا نہیں قُدرت کے کارخانے میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%BE%DB%81%D8%A7%DA%91_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%AF%D9%84%DB%81%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ایک کتبہ", "poet_page": "مصنف:تصدق حسین خالد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "شیر دل خاں\nمیں نے دیکھے تیس سال\nپے بہ پے فاقے\nمسلسل ذلتیں\nجنگ\nروٹی\nسامراجی بیڑیوں کو وسعتیں دینے کا فرض\nایک لمبی جانکنی\nسو رہا ہوں اس گڑھے کی گود میں\nآفتاب مصر کے سائے تلے\nمیں کنوارا ہی رہا\nکاش میرا باپ بھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%A9%D8%AA%D8%A8%DB%81"} {"title": "ایک کہانی اور سنا دو ایک کہانی اور", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ایک کہانی اور سنا دو ایک کہانی اور\nایک کہانی ایک کہانی اچھی نانی اور\nلال پری آکاش سے اتری\nپریوں کے راجا کی پتری\nایک محل کے چھت پر آئی\nچھت پر ناچی چھت پر گائی\nیہ تو بتا دو اس نے دل میں کیا تھی ٹھانی اور\nایک کہانی ایک کہانی اچھی نانی اور\nملا نصرالدین کہاں ہیں\nکیا وہ کسی کے پھر مہماں ہیں\nان کی باتیں کہہ کے ہنسا دو\nایک دفعہ پھر آج ہنسا دو\nعقل کو شرما دینے والی اک نادانی اور\nایک کہانی ایک کہانی اچھی نانی اور\nبال جلا کر دیو بلاؤ\nاس سے کہو اک محل بناؤ\nمحل میں لاکھوں پریاں آئیں\nاور محل لے کر اڑ جائیں\nبڑھ جائے جس سے ہماری کچھ حیرانی اور\nایک کہانی ایک کہانی اچھی نانی اور", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%88_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "ایک گائے اور بکری", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اک چراگہ ہری بھری تھی کہیں\nتھی سراپا بہار جس کی زمیں\n\nکیا سماں اُس بہار کا ہو بیاں\nہر طرف صاف ندّیاں تھیں رواں\n\nتھے اناروں کے بے شمار درخت\nاور پیپل کے سایہ دار درخت\n\nٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیں\nطائروں کی صدائیں آتی تھیں\n\nکسی ندّی کے پاس اک بکری\nچَرتے چَرتے کہیں سے آ نکلی\n\nجب ٹھہر کر اِدھر اُدھر دیکھا\nپاس اک گائے کو کھڑے پایا\n\nپہلے جھُک کر اُسے سلام کیا\nپھر سلیقے سے یوں کلام کیا\n\nکیوں بڑی بی! مزاج کیسے ہیں\nگائے بولی کہ خیر اچھّے ہیں\n\nکٹ رہی ہے بُری بھلی اپنی\nہے مصیبت میں زندگی اپنی\n\nجان پر آ بنی ہے، کیا کہیے\nاپنی قِسمت بُری ہے، کیا کہیے\n\nدیکھتی ہوں خدا کی شان کو مَیں\nرو رہی ہوں بُروں کی جان کو مَیں\n\nزور چلتا نہیں غریبوں کا\nپیش آیا لِکھا نصیبوں کا\n\nآدمی سے کوئی بھلا نہ کرے\nاس سے پالا پڑے، خدا نہ کرے\n\nدُودھ کم دوں تو بڑبڑاتا ہے\nہوں جو دُبلی تو بیچ کھاتا ہے\n\nہتھکنڈوں سے غلام کرتا ہے\nکِن فریبوں سے رام کرتا ہے\n\nاس کے بچوں کو پالتی ہوں مَیں\nدُودھ سے جان ڈالتی ہوں مَیں\n\nبدلے نیکی کے یہ بُرائی ہے\nمیرے اللہ! تری دُہائی ہے\n\nسُن کے بکری یہ ماجرا سارا\nبولی، ایسا گِلہ نہیں اچھّا\n\nبات سچّی ہے بے مزا لگتی\nمَیں کہوں گی مگر خدا لگتی\n\nیہ چراگہ، یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا\nیہ ہری گھاس اور یہ سایا\n\nایسی خوشیاں ہمیں نصیب کہاں\nیہ کہاں، بے زباں غریب کہاں!\n\nیہ مزے آدمی کے دَم سے ہیں\nلُطف سارے اسی کے دَم سے ہیں\n\nاس کے دَم سے ہے اپنی آبادی\nقید ہم کو بھلی کہ آزادی!\n\nسَو طرح کا بَنوں میں ہے کھٹکا\nواں کی گُزران سے بچائے خُدا\n\nہم پہ احسان ہے بڑا اس کا\nہم کو زیبا نہیں گِلا اس کا\n\nقدر آرام کی اگر سمجھو\nآدمی کا کبھی گِلہ نہ کرو\n\nگائے سُن کر یہ بات شرمائی\nآدمی کے گِلے سے پچھتائی\n\nدل میں پرکھا بھلا بُرا اُس نے\nاور کچھ سوچ کر کہا اُس نے\n\nیوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی\nدل کو لگتی ہے بات بکری کی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%A9%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ایک گیت", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "باجا بجا\nنازوں پلا\nراجا چلا\nاس پر چڑھا\nآگے بڑھا\nکھٹ کھٹ چلا\nسرپٹ چلا\nآیا پری کے دیس میں\nایسی کری\nجادوگری\nبادل پھٹا\nپردہ ہٹا\nآئی پری\nگائی پری\nپاپا اسے\nلایا اسے\nسوداگروں کے بھیس میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%DB%8C%D8%AA"} {"title": "ایک ہم سے تجھے نہیں اخلاص", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک ہم سے تجھے نہیں اخلاص\nگھر بہ گھر تجھ کو ہر کہیں اخلاص\n\nرو سیاہی سوا نہیں حاصل\nنام سے مت کر اے نگیں اخلاص\n\nدیکھ تجھ زلف و رو کی الفت کو\nکرتے ہیں آج کفر و دیں اخلاص\n\nزور ہی ہم سے تیں رکھا پیارے\nواہ وا رحمت آفریں اخلاص\n\nمثل نقش قدم یہ رکھتی ہے\nتیرے در سے مری جبیں اخلاص\n\nگر تمنا گہر کی ہے تو کر\nچشم میری سے آستیں اخلاص\n\nآدم اس دام میں پھنسا سوداؔ\nرکھے دانے سے خوشہ چیں اخلاص", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D8%B5"} {"title": "ایک ہی جام کو پلا ساقی", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک ہی جام کو پلا ساقی\nعدل اور ہوش لے گیا ساقی\n\nابر ہے مجھ کو مے پلا ساقی\nاس ہوا میں نہ جی کڑھا ساقی\n\nلب دریا پہ چاندنی دیکھوں\nہو اگر مجھ سے آشنا ساقی\n\nصبح آیا شراب میں مخمور\nنیند سے اٹھ کے مسمسا ساقی\n\nسب کے تئیں تو نے مے پلائی ہے\nمیں ترستا ہی رہ گیا ساقی\n\nقہر ہے مے اگر نہ دے اس وقت\nجھوم آئی ہے کیا گھٹا ساقی\n\nکیا مزے سے کروں چمن کی سیر\nگرچہ ہو ابر اور مرا ساقی\n\nدرد سر ہے خمار سے مجھ کو\nجلد لے کر شراب آ ساقی\n\nگر تو تاباںؔ کو مے پلاوے گا\nترا احساں نہ ہوگا کیا ساقی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%D9%84%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "ایک ہی خط میں ہے کیا حال جو مذکور نہیں", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ایک ہی خط میں ہے کیا حال جو مذکور نہیں\nدل تو دل عشق میں سادہ ورق طور نہیں\n\nایک ہم ہیں کہ کسی بات کا مقدور نہیں\nایک وہ ہیں کہ کسی رنگ میں مجبور نہیں\n\nامتحاں گاہ محبت نہیں گل زار خلیل\nکون ایسا ہے جو زخموں سے یہاں چور نہیں\n\nنزع کا وقت ہے بیٹھا ہے سرہانے کوئی\nوقت اب وہ ہے کہ مرنا ہمیں منظور نہیں\n\nقابل غور ہے اے جلوہ پرستان ازل\nیہ کہانی ہے مری واقعۂ طور نہیں\n\nمصر کا چاند ہو آغوش میں زنداں کے طلوع\nفطرت حسن بدل جائے تو کچھ دور نہیں\n\nسر جھکائے در دولت سے پلٹنے والے\nبے نیازی کی ادائیں ہیں وہ مغرور نہیں\n\nجبہ سائی بھی گوارا نہیں کرتا کوئی\nاٹھ کے جانا در دولت سے بھی دستور نہیں\n\nعشق میں سرحد منزل سے کچھ آگے ہوں گے\nاس کا رونا ہے کوئی سعی بھی مشکور نہیں\n\nدل میں پیوست ہوئی تھی جو مرے روز ازل\nہے وہی شوخ نظر صاعقۂ طور نہیں\n\nدل کو بھی دی گئی ہے خدمت درد ابدی\nصرف آنکھیں ہی مری رونے پہ معمور نہیں\n\nسر مژگاں مرے آنسو کا ستارہ چمکا\nدار پر اب اثر جذبۂ منصور نہیں\n\nصاد سرخی سے کیا کس نے سر فرد جمال\nاپنے عالم میں ترے دیدۂ مخمور نہیں\n\nزندگی ختم ہوئی جب تو اک آواز سنی\nآ گیا میں ترے نزدیک بس اب دور نہیں\n\nروح کہتی ہوئی نکلی ہے دم نزع عزیزؔ\nان سے اس بزم میں ملنا ہمیں منظور نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DB%81%DB%8C_%D8%AE%D8%B7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B0%DA%A9%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ایکٹریس کی آنکھ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "کالی شلوار", "year": "1941", "text_ur": "’’پاپوں کی گٹھری‘‘ کی شوٹنگ تمام شب ہوتی رہی تھی،رات کے تھکے ماندے ایکٹر، لکڑی کے کمرے میں جو کمپنی کے ولن نے اپنے میک اپ کے لیے خاص طور پرتیار کرایا تھا اور جس میں فرصت کے وقت سب ایکٹر اور ایکٹرسیں سیٹھ کی مالی حالت پر تبصرہ کیا کرتے تھے، صوفوں اور کرسیوں پر اونگھ رہے تھے۔ اس چوبی کمرے کے ایک کونے میں میلی سی تپائی کے اوپر دس پندرہ چائے کی خالی پیالیاں اوندھی سیدھی پڑی تھیں جو شاید رات کو نیند کا غلبہ دور کرنے کے لیے ان ایکٹروں نے پی تھیں۔ان پیالوں پر سیکڑوں مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ کمرے کے باہر ان کی بھنبھناہٹ سن کر کسی نووارد کو یہی معلوم ہوتا کہ اندر بجلی کا پنکھا چل رہا ہے۔\n\nدراز قد ولن جو شکل و صورت سے لاہور کا کوچوان معلوم ہوتا تھا، ریشمی سوٹ میں ملبوس صوفے پر دراز تھا۔ آنکھیں کھلی تھیں اور منہ بھی نیم وا تھا مگر وہ سو رہا تھا۔ اسی طرح اس کے پاس ہی آرام کرسی پر ایک مونچھوں والا ادھیڑ عمر کا ایکٹر اونگھ رہا تھا۔ کھڑکی کے پاس ڈنڈے سے ٹیک لگائے ایک اور ایکٹر سونے کی کوشش میں مصروف تھا۔ کمپنی کے مکالمہ نویس یعنی منشی صاحب ہونٹوں میں بیڑی دبائے اور ٹانگیں میک اپ ٹیبل پر رکھے، شاید وہ گیت بنانے میں مصروف تھے جو انھیں چار بجے سیٹھ صاحب کو دکھانا تھا۔\n\n’’اوئی، اوئی، اوئی۔۔۔ ہائے۔۔۔ ہائے۔‘‘\n\nدفعتاً یہ آواز باہر سے اس چوبی کمرے میں کھڑکیوں کے راستے اندر داخل ہوئی۔ ولن صاحب جھٹ سے اٹھ بیٹھے اور اپنی آنکھیں ملنے لگے۔ مونچھوں والے ایکٹر کے لمبے لمبے کان ایک ارتعاش کے ساتھ اس نسوانی آواز کو پہچاننے کے لیے تیار ہوئے۔ منشی صاحب نے میک اپ ٹیبل پر سے اپنی ٹانگیں اُٹھالیں اور ولن صاحب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنا شروع کردیا۔\n\n’’اُوئی، اُوئی، اُوئی۔۔۔ ہائے۔۔۔ ہائے۔‘‘\n\nاس پر، ولن، منشی اور دوسرے ایکٹر جو نیم غنودگی کی حالت میں تھے چونک پڑے، سب نے کاٹھ کے اس بکس نما کمرے سے اپنی گردنیں باہر نکالیں۔\n\n’’ارے، کیا ہے بھئی۔‘‘\n\n’’خیر تو ہے!‘‘\n\n’’کیا ہوا؟‘‘\n\n’’اماں، یہ تو۔۔۔ دیوی ہیں!‘‘\n\n’’کیا بات ہے! دیوی؟‘‘\n\nجتنے منہ اتنی باتیں۔۔۔ کھڑکی میں سے نکلی ہوئی ہر گردن بڑے اضطراب کے ساتھ متحرک ہوئی اور ہر ایک کے منہ سے گھبراہٹ میں ہمدردی اور استفسار کے ملے جلے جذبات کا اظہار ہوا۔\n\n’’ہائے، ہائے، ہائے ۔۔۔ اُوئی ۔۔۔ اُوئی!‘‘\n\nدیوی، کمپنی کی ہر دلعزیز ہیروئن کے چھوٹے سے منہ سے چیخیں نکلیں اور بانہوں کو انتہائی کرب و اضطراب کے تحت ڈھیلا چھوڑ کر اس نے اپنے چپل پہنے پاؤں کو زور زور سے اسٹوڈیوکی پتھریلی زمین پر مارتے ہوئے چیخنا چلانا شروع کردیا۔ٹھمکا ٹھمکا بوٹا سا قد، گول گول گدرایا ہوا ڈیل، کھلتی ہوئی گندمی رنگت، خوب خوب کالی کالی تیکھی بھنویں،کھلی پیشانی پر گہرا کسوم کا ٹیکا۔۔۔ بال کالے بھونراسے جو سیدھی مانگ نکال کر پیچھے جوڑے کی صورت میں لپیٹ دے کرکنگھی کیے ہوئے تھے، ایسے معلوم ہوتے تھے، جیسے شہد کی بہت سی مکھیاں چھتے پربیٹھی ہوئی ہیں۔\n\nکنارے دار سفید سوتی ساڑھی میں لپٹی ہوئی، چولی گجراتی تراش کی تھی، بغیر آستینوں کے، جن میں سے جوبن پھٹا پڑتا تھا، ساڑھی بمبئی کے طرز سے بندھی تھی۔ چاروں طرف میٹھا میٹھا جھول دیا ہوا تھا۔۔۔ گول گول کلائیاں جن میں کُھلی کُھلی جاپانی ریشمیں چوڑیاں کھنکنا رہی تھیں۔ ان ریشمیں چوڑیوں میں ملی ہوئی ادھر ادھر ولایتی سونے کی پتلی پتلی کنگنیاں جھم جھم کررہی تھیں، کان موزوں اور لویں بڑی خوبصورتی کے ساتھ نیچے جھکی ہوئیں، جن میں ہیرے کے آویزے، شبنم کی دو تھراتی ہوئی بوندیں معلوم ہورہی تھیں۔چیختی چلاتی، اور زمین کو چپل پہنے پیروں سے کوٹتی، دیوی نے داہنی آنکھ کو ننھے سے سفید رومال کے ساتھ ملنا شروع کردیا۔\n\n’’ہائے میری آنکھ۔۔۔ ہائے میری آنکھ۔۔۔ ہائے!‘‘\n\nکاٹھ کے بکس سے باہر نکلی ہوئی کچھ گردنیں اندر کو ہوگئیں اور جو باہر تھیں، پھر سے ہلنے لگیں۔\n\n’’آنکھ میں کچھ پڑ گیا ہے؟‘‘\n\n’’یہاں کنکر بھی تو بے شمار ہیں۔۔۔ ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں۔‘‘\n\n’’یہاں جھاڑو بھی تو چھ مہینے کے بعد دی جاتی ہے۔‘‘\n\n’’اندر آجاؤ دیوی!‘‘\n\n’’ہاں، ہاں، آؤ۔۔۔ آنکھ کو اس طرح نہ ملو۔‘‘\n\n’’ارے بابا۔۔۔ بولا نا! تکلیف ہو جائےگی۔۔۔ تم اندر تو آؤ۔‘‘\n\nآنکھ ملتی ملتی، دیوی کمرے کے دروازے کی جانب بڑھی۔\n\nولن نے لپک کر تپائی پر سے بڑی صفائی کے ساتھ ایک رومال میں چائے کی پیالیاں سمیٹ کر میک اپ ٹیبل کے آئینے کے پیچھے چھپا دیں اور اپنی پرانی پتلون سے ٹیبل کو جھاڑپونچھ کر صاف کردیا۔ باقی ایکٹروں نے کرسیاں اپنی اپنی جگہ پر جما دیں اور بڑے سلیقے سے بیٹھ گئے۔ منشی صاحب نے پرانی ادھ جلی بیڑی پھینک کر جیب سے ایک سگرٹ نکال کر سلگانا شروع کردیا۔\n\nدیوی اندر آئی۔ صوفے پرسے منشی صاحب اور ولن اٹھ کھڑے ہوئے۔ منشی صاحب نے بڑھ کر کہا،’’آؤ، دیوی یہاں بیٹھو۔‘‘ دروازے کے پاس بڑی بڑی سیاہ و سفید مونچھوں والے بزرگ بیٹھے تھے، ان کی مونچھوں کے لٹکے اور بڑھے ہوئے بال تھرتھرائے اور انھوں نے اپنی نشست پیش کرتے ہوئے گجراتی لہجہ میں کہا، ’’ادھر بیسو۔‘‘\n\nدیوی ان کی تھرتھراتی ہوئی مونچھوں کی طرف دھیان دیے بغیر آنکھ ملتی اور ہائے ہائے کرتی آگے بڑھ گئی۔ ایک نوجوان نے جو ہیرو سے معلوم ہورہے تھے اور پھنسی پھنسی قمیص پہنے ہوئے تھے، جھٹ سے ایک چوکی نما کرسی سرکا کر آگے بڑھا دی اور دیوی نے اس پر بیٹھ کر اپنی ناک کے بانسے کو رومال سے رگڑنا شروع کردیا۔سب کے چہرے پر دیوی کی تکلیف کے احساس نے ایک عجیب و غریب رنگ پیدا کردیا تھا۔ منشی صاحب کی قوتِ احساس چونکہ دوسرے مردوں سے زیادہ تھی، اس لیے چشمہ ہٹا کر انھوں نے اپنی آنکھ ملنا شروع کردی تھی۔جس نوجوان نے کرسی پیش کی تھی، اس نے جھک کر دیوی کی آنکھ کا ملاحظہ کیا اور بڑے مفکرانہ انداز میں کہا،’’آنکھ کی سرخی بتا رہی ہے کہ تکلیف ضرور ہے۔‘‘ ان کا لہجہ پھٹا ہوا تھا۔ آواز اتنی بلند تھی کہ کمرہ گونج اٹھا۔\n\nیہ کہنا تھا کہ دیوی نے اور زور زور سے چلانا شرع کردیا اور سفید ساڑھی میں اس کی ٹانگیں اضطراب کا بے پناہ مظاہرہ کرنے لگیں۔ولن صاحب آگے بڑھے اور بڑی ہمدردی کے ساتھ اپنی سخت کمر جھکا کر دیوی سے پوچھا،’’جلن محسوس ہوتی ہے یا چُبھن!‘‘ ایک اور صاحب جو اپنے سولا ہیٹ سمیت کمرے میں ابھی ابھی تشریف لائے تھے، آگے بڑھ کے پوچھنے لگے،’’پپوٹوں کے نیچے رگڑ سی محسوس تو نہیں ہوتی۔‘‘ دیوی کی آنکھ سرخ ہورہی تھی۔ پپوٹے ملنے اور آنسوؤں کی نمی کے باعث میلے میلے نظر آرہے تھے۔ چتونوں میں سے لال لال ڈوروں کی جھلک، چک میں سے غروبِ آفتاب کا سرخ سرخ منظر پیش کررہی تھی۔ داہنی آنکھ کی پلکیں نمی کے باعث بھاری اور گھنی ہوگئی تھیں، جس سے ان کی خوبصورتی میں چار چاند لگ گئے تھے۔ باہیں ڈھیلی کرکے دیوی نے دکھتی آنکھ کی پتلی نچاتے ہوئے کہا۔\n\n’’آں۔۔۔ بڑا تکلیپھ ہوتا ہے۔۔۔ ہائے۔۔۔ اُوئی!‘‘اور پھر سے آنکھ کوگیلے رومال سے ملنا شروع کردیا۔\n\nسیاہ و سفید مونچھوں والے صاحب نے جو کونے میں بیٹھے تھے، بلند آواز میں کہا،’’اس طرح آنکھ نہ رگڑو، خالی پیلی کوئی اور تکلیپھ ہو جائے گا۔‘‘\n\n’’ہاں، ہاں۔۔۔ ارے، تم پھر وہی کررہی ہو۔‘‘ پھٹی آواز والے نوجوان نے کہا۔\n\nولن جو فوراً ہی دیوی کی آنکھ کو ٹھیک حالت میں دیکھنا چاہتے تھے، بگڑ کر بولے،’’ تم سب بیکار باتیں بنا رہے ہو۔۔۔ کسی سے ابھی تک یہ بھی نہیں ہوا کہ دوڑ کر ڈاکٹر کو بلا لائے۔۔۔ اپنی آنکھ میں یہ تکلیف ہو توپتہ چلے۔‘‘یہ کہہ کر انھوں نے مڑ کر کھڑکی میں سے باہر گردن نکالی اور زور زور سے پکارنا شروع کیا،’’ارے، کوئی ہے۔۔۔ کوئی ہے۔۔۔؟ گلاب۔۔۔؟ گلاب!‘‘\n\nجب ان کی آواز صدابصحرا ثابت ہوئی تو انھوں نے گردن اندر کو کرلی اور بڑبڑانا شروع کردیا، ’’خدا جانے ہوٹل والے کا یہ چھوکرا کہاں غائب ہو جاتا ہے۔۔۔ پڑا اونگھ رہا ہوگا اسٹوڈیو میں کسی تختے پر۔۔۔ مردود نابکار۔‘‘ پھر فوراً ہی دور اسٹوڈیو کے اس طرف گلاب کو دیکھ کر چلائے، جو انگلیوں میں چائے کی پیالیاں لٹکائے چلا آرہا تھا،’’ارے گلاب۔۔۔گلاب!‘‘\n\nگلاب بھاگتا ہوا آیا اور کھڑکی کے سامنے پہنچ کر ٹھہر گیا۔ ولن صاحب نے گھبرائے ہوئے لہجہ میں اس سے کہا،’’دیکھو! ایک گلاس میں پانی لاؤ۔ جلدی سے۔۔۔ بھاگو!‘‘ گلاب نے کھڑے کھڑے اندر جھانکا، دیکھنے کے لیے کہ یہاں گڑ بڑ کیا ہے۔۔۔ اس پر ہیرو صاحب للکارے،’’ارے دیکھتا کیا ہے۔۔۔ لا، نا گلاس میں تھوڑا سا پانی۔۔۔ بھاگ کے جا، بھاگ کے!‘‘\n\nگلاب، سامنے ٹین کی چھت والے ہوٹل کی طرف روانہ ہوگیا۔ دیوی کی آنکھ میں چبھن اور بھی زیادہ بڑھ گئی اور اس کی بنارسی لنگڑے کی کیری ایسی ننھی منی ٹھوڑی روتے بچے کی طرح کانپنے لگی اور وہ اٹھ کر درد کی شدت سے کراہتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی۔ دستی بٹوے سے ماچس کی ڈبیا کے برابر ایک آئینہ نکال کر اس نے اپنی دکھتی آنکھ کو دیکھنا شروع کردیا۔ اتنے میں منشی صاحب بولے،’’ گلاب سے کہہ دیا ہوتا۔۔۔ پانی میں تھوڑی سی برف بھی ڈالتا لائے!‘‘\n\n’’ہاں، ہاں، سرد پانی اچھا رہے گا۔‘‘ یہ کہہ کر ولن صاحب کھڑکی میں سے گردن باہر نکال کرچلائے،’’گلاب۔۔۔ ارے گلاب۔۔۔ پانی میں تھوڑی سی برف چھوڑ کے لانا۔‘‘\n\nاس دوران میں ہیرو صاحب جو کچھ سوچ رہے تھے، کہنے لگے،’’میں بولتا ہوں کہ رومال کو سانس کی بھانپ سے گرم کرو اور اس سے آنکھ کو سینک دو۔۔۔ کیوں دادا؟‘‘\n\n’’ایک دم ٹھیک رہے گا!‘‘ سیاہ و سفید مونچھوں والے صاحب نے سر کو اثبات میں بڑے زور سے ہلاتے ہوئے کہا۔\n\nہیرو صاحب کھونٹیوں کی طرف بڑھے۔ اپنے کوٹ میں سے ایک سفید رومال نکال کر دیوی کو سانس کے ذریعے سے اس کو گرم کرنے کی ترکیب بتائی اور الگ ہو کرکھڑے ہوگئے۔ دیوی نے رومال لے لیا اور اسے منہ کے پاس لے جا کر گال پھلا پھلا کر سانس کی گرمی پہنچائی، آنکھ کو ٹکور دی مگر کچھ افاقہ نہیں ہوا۔\n\n’’کچھ آرام آیا؟‘‘ سولاہیٹ والے صاحب نے دریافت کیا۔ دیوی نے رونی آواز میں جواب دیا،’’نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ ابھی نہیں نکلا۔۔۔ میں مر گئی۔۔۔!‘‘اتنے میں گلاب پانی کا گلاس لے کر آگیا۔ ہیرو اور ولن دوڑ کربڑھے اور دونوں نے مل کر دیوی کی آنکھ میں پانی چوایا۔ جب گلاس کا پانی آنکھ کو غسل دینے میں ختم ہوگیا، تو دیوی پھر اپنی جگہ پر بیٹھ گئی اور آنکھ جھپکانے لگی۔\n\n’’کچھ افاقہ ہوا؟‘‘\n\n’’اب تکلیف تو نہیں ہے؟‘‘\n\n’’کنکری نکل گئی ہوگی۔‘‘\n\n’’بس تھوڑی دیر کے بعد آرام آجائے گا!‘‘\n\nآنکھ دھل جانے پر پانی کی ٹھنڈک نے تھوڑی دیر کے لیے دیوی کی آنکھ میں چبھن رفع کردی، مگر فوراً ہی پھر سے اس نے درد کے مارے چلانا شروع کردیا۔\n\n’’کیا بات ہے؟‘‘یہ کہتے ہوئے ایک صاحب باہر سے اندر آئے اور دروازے کے قریب کھڑے ہوکر معاملے کی اہمیت کو سمجھنا شروع کردیا۔\n\nنووارد کہنہ سال ہونے کے باوجود چست و چالاک معلوم ہوتے تھے۔ مونچھیں سفید تھیں، جو بیڑی کے دھوئیں کے باعث سیاہی مائل زرد رنگت اختیار کر چکی تھیں، ان کے کھڑے ہونے کا انداز بتا رہا تھا کہ فوج میں رہ چکے ہیں۔سیاہ رنگ کی ٹوپی سر پر ذرا اس طرف ترچھی پہنے ہوئے تھے۔ پتلون اور کوٹ کا کپڑا معمولی اور خاکستری رنگ کا تھا۔ کولھوں اور رانوں کے اوپر پتلون میں پڑے ہوئے جھول اس بات پر چغلیاں کھا رہے تھے کہ ان کی ٹانگوں پر گوشت بہت کم ہے۔ کالر میں بندھی ہوئی میلی نکٹائی کچھ اس طرح نیچے لٹک رہی تھی کہ معلوم ہوتا تھا وہ ان سے روٹھی ہوئی ہے، پتلون کا کپڑا گھٹنوں پر کھنچ کر آگے بڑھا ہوا تھا، جو یہ بتا رہا تھا کہ وہ اس بے جان چیز سے بہت کڑا کام لیتے رہے ہیں، گال بڑھاپے کے باعث بہ پچکے ہوئے، آنکھیں ذرا اندر کو دھنسی ہوئیں، جو بار بار شانوں کی عجیب جنبش کے ساتھ سکیڑ لی جاتی تھیں۔\n\nآپ نے کاندھوں کو جنبش دی اور ایک قدم آگے بڑھ کر کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا،’’کنکر پڑ گیا ہے کیا؟‘‘ اور اثبات میں جواب پا کر دیوی کی طرف بڑھے۔ ہیرو اور ولن کو ایک طرف ہٹنے کا اشارہ کرکے آپ نے کہا،’’پانی سے آرام نہیں آیا۔۔۔ خیر۔۔۔ رومال ہے کسی کے پاس؟‘‘\n\nنصف درجن رومال ان کے ہاتھ میں دے دیئے گئے۔ بڑے ڈرامائی انداز میں آپ نے ان پیش کردہ رومالوں میں سے ایک منتخب کیا، اور اس کا ایک کنارہ پکڑ کر دیوی کو آنکھ پر سے ہاتھ ہٹالینے کا حکم دیا۔جب دیوی نے ان کے حکم کی تعمیل کی، تو انھوں نے جیب میں سے مداری کے سے انداز میں ایک چرمی بٹوا نکالا اور اس میں سے اپنا چشمہ نکال کر کمال احتیاط سے ناک پر چڑھالیا۔ پھر چشمے کے شیشوں میں سے دیوی کی آنکھ کا دور ہی سے اکڑ کر معائنہ کیا۔ پھر دفعتاً فوٹو گرافر کی سی پھرتی دکھاتے ہوئے آپ نے اپنی ٹانگیں چوڑی کیں اور جب انھوں نے اپنی پتلی پتلی انگلیوں سے دیوی کے پپوٹوں کو وا کرنا چاہا تو ایسا معلوم ہوا کہ وہ فوٹو لیتے وقت کیمرے کا لینس بند کررہے ہیں۔\n\nدو تین مرتبہ ڈرامائی انداز سے اپنے کھڑے ہونے کا رخ بدل کر انھوں نے دیوی کی آنکھوں کا معائنہ کیااور پھر پپوٹے کھول کر بڑی آہستگی سے رومال کا کنارہ ان کے اندر داخل کر دیا۔۔۔ حاضرین خاموشی سے اس عمل کو دیکھتے رہے۔ پانچ منٹ تک کمرے میں قبر کی سی خاموشی طاری رہی۔آنکھ صاف کرنے کے بعد اسی ڈرامائی انداز میں فوٹو گرافر صاحب نے۔۔۔ چونکہ وہ بزرگ فوٹو گرافر ہی تھے۔۔۔چشمہ اتار کر چرمی بٹوے میں رکھ کر دیوی سے کہا، ’’اب کنکر نکل گیا ہے۔۔۔تھوڑی دیر میں آرام آ جائے گا!‘‘دیوی نے انگلیوں سے آنکھ کے پپوٹوں کو چھوااور ننھا سا آئینہ نکال کر اپنا اطمینان کرنے لگی۔\n\n’’کنکری نکل گئی نا؟‘‘\n\n’’اب درد محسوس تو نہیں ہوتا!‘‘\n\n’’سالا، اب نکل گیا ہوگا، بہت دکھ دیا ہے اس نے۔‘‘\n\n’’دیوی۔۔۔ اب طبیعت کیسی ہے؟‘‘\n\nیہ شور سن کر فوٹو گرافر صاحب نے کاندھوں کو زور سے جنبش دی اور کہا،’’تم سارا دن کوشش کرتے رہتے مگر کچھ نہ ہوتا۔۔۔ہم فوج میں پچیس برس بھاڑ نہیں جھونکتا رہا۔۔۔یہ سب کام جانتا ہے۔۔۔ کنکر نکل گیا ہے، اب صرف جلن باقی ہے،وہ بھی دور ہو جائے گی۔‘‘ یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ دیوی جو آئینے میں رونی صورت بنائے اپنا اطمینان کر رہی تھی، ایکا ایکی مسکرائی اور کھل کھلا کر ہنس دی۔۔۔چوبی کمرے میں مترنم تارے بکھر گئے۔\n\n’’اب آرام ہے۔۔۔ اب آرام ہے!‘‘ یہ کہہ کر دیوی سیٹھ کی جانب روانہ ہو گئی جو ہوٹل کے پاس اکیلا کھڑا تھا، اور سب لوگ دیکھتے رہ گئے۔ہیرو جب صوفے پر بیٹھنے لگا تو تو منشی صاحب کی ران نیچے دب گئی۔آپ بھنا گئے،’’اب کیا پھر سونے کا ارادہ ہے۔۔۔ چلو بیٹھو،مجھے کل والے سین کے ڈائلاگ سناؤ۔‘‘\n\nہیرو کے دماغ میں اس وقت کوئی اور ہی سین تھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%DA%A9%D9%B9%D8%B1%DB%8C%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE"} {"title": "اے آرزوئے شوق تجھے کچھ خبر ہے آج", "poet_page": "مصنف:تاجور نجیب آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے آرزوئے شوق تجھے کچھ خبر ہے آج\nحسن نظر نواز حریف نظر ہے آج\n\nہر راز داں ہے حیرتیٔ جلوہ ہائے راز\nجو با خبر ہے آج وہی بے خبر ہے آج\n\nکیا دیکھیے کہ دیکھ ہی سکتے نہیں اسے\nاپنی نگاہ شوق حجاب نظر ہے آج\n\nدل بھی نہیں ہے محرم اسرار عشق دوست\nیہ راز داں بھی حلقۂ بیرون در ہے آج\n\nکل تک تھی دل میں حسرت آزادیٔ قفس\nآزاد آج ہیں تو غم بال و پر ہے آج", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا\nمشکل پڑا مرا مرے قاتل کو تھامنا\n\nتاثیر بیقراری ناکام آفریں\nہے کام ان سے شوخ شمائل کو تھامنا\n\nدیکھے ہے چاندنی وہ زمیں پر نہ گر پڑے\nاے چرخ اپنے تو مہ کامل کو تھامنا\n\nمضطر ہوں کس کا طرز سخن سے سمجھ گیا\nاب ذکر کیا ہے سامع عاقل کو تھامنا\n\nہو صرصر فغاں سے نہ کیونکر وہ مضطرب\nمشکل ہوا ہے پردۂ محمل کو تھامنا\n\nسیکھے ہیں مجھ سے نالۂ نے آسماں شکن\nصیاد اب قفس میں عنادل کو تھامنا\n\nیہ زلف خم بہ خم نہ ہو کیا تاب غیر ہے\nتیرے جنوں زدے کی سلاسل کو تھامنا\n\nاے ہمدم آہ تلخی ہجراں سے دم نہیں\nگرتا ہے دیکھ جام ہلاہل کو تھامنا\n\nسیماب وار مر گئے ضبط قلق سے ہم\nکیا قہر ہے طبیعت مائل کو تھامنا\n\nآغوش گور ہو گئی آخر لہولہان\nآساں نہیں ہے آپ کے بسمل کو تھامنا\n\nسینہ پہ ہاتھ دھرتے ہی کچھ دم پہ بن گئی\nلو جان کا عذاب ہوا دل کو تھامنا\n\nباقی ہے شوق چاک گریباں ابھی مجھے\nبس اے رفوگر اپنی انامل کو تھامنا\n\nمت مانگیو امان بتوں سے کہ ہے حرام\nمومنؔ زبان بیہودہ سائل کو تھامنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%82%D8%AA%D9%84_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%85%D9%86%D8%A7"} {"title": "اے آہ تری قدر اثر نے تو نہ جانی", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے آہ تری قدر اثر نے تو نہ جانی\nگو تج کو لقب ہم نے دیا عرش مکانی\n\nیک خلق کی نظروں میں سبک ہو گیا لیکن\nکرتا ہوں میں اب تک تری خاطر پہ گرانی\n\nٹک دیدۂ تحقیق سے تو دیکھ زلیخا\nہر چاہ میں آتا ہے نظر یوسف ثانی\n\nمعمور ہے جس روز سے ویرانۂ دنیا\nہر جنس کے انساں کی یہ ماٹی گئی چھانی\n\nاک وامق نو کا ہے سمجھ چاک گریباں\nکرتی ہے جو رخنہ کوئی دیوار پرانی\n\nبلبل ہی سسکتی نہ تھی کچھ باغ میں تجھ بن\nشبنم گلوں کے منہ میں چواتی رہی پانی\n\nہے گوش زدہ خلق مرا قصۂ جانکاہ\nجب سے کہ نہ سمجھے تھا تو چڑیا کی کہانی\n\nجوں شمع مجھے شرم ہے زنار کی اے شیخ\nمالا نہ جپوں رات کو بے اشک فشانی\n\nجس سمت نظر موج سراب آوے تو یہ جان\nہووے گی کسی زلف چلیپا کی نشانی\n\nکیا کیا ملے لیلیٰ منشاں خاک میں سوداؔ\nگو اپنے بھی محبوب کی دیکھی نہ جوانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A2%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "اے ابر تر تو اور کسی سمت کو برس", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے ابر تر تو اور کسی سمت کو برس\nاس ملک میں ہماری ہے یہ چشم تر ہی بس\n\nحرماں تو دیکھ پھول بکھیرے تھی کل صبا\nاک برگ گل گرا نہ جہاں تھا مرا قفس\n\nمژگاں بھی بہہ گئیں مرے رونے سے چشم کی\nسیلاب موج مارے تو ٹھہرے ہے کوئی خس\n\nمجنوں کا دل ہوں محمل لیلیٰ سے ہوں جدا\nتنہا پھروں ہوں دشت میں جوں نالۂ جرس\n\nاے گریہ اس کے دل میں اثر خوب ہی کیا\nروتا ہوں جب میں سامنے اس کے تودے ہے ہنس\n\nاس کی زباں کے عہدے سے کیوں کر نکل سکوں\nکہتا ہوں ایک میں تو سناتا ہے مجھ کو دس\n\nحیراں ہوں میرؔ نزع میں اب کیا کروں بھلا\nاحوال دل بہت ہے مجھے فرصت اک نفس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%B1%D8%B3"} {"title": "اے ابر کہاں تک ترے رستے دیکھیں", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے ابر کہاں تک ترے رستے دیکھیں\nاس طرح سے دنیا کو ترستے دیکھیں\nبھولا نہیں بارش کا طریقہ تو اگر\nآ سامنے ہم بھی تو برستے دیکھیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اے اجل اے جان فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے اجل اے جان فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیا\nمار ڈالا مرنے والے کو کہ اچھا کر دیا\n\nجب ترا ذکر آ گیا ہم دفعتاً چپ ہو گئے\nوہ چھپایا راز دل ہم نے کہ افشا کر دیا\n\nکس قدر بے زار تھا دل مجھ سے ضبط شوق پر\nجب کہا دل کا کیا ظالم نے رسوا کر دیا\n\nیوں چرائیں اس نے آنکھیں سادگی تو دیکھیے\nبزم میں گویا مری جانب اشارا کر دیا\n\nدردمندان ازل پر عشق کا احساں نہیں\nدرد یاں دل سے گیا کب تھا کہ پیدا کر دیا\n\nدل کو پہلو سے نکل جانے کی پھر رٹ لگ گئی\nپھر کسی نے آنکھوں آنکھوں میں تقاضا کر دیا\n\nرنج پایا دل دیا سچ ہے مگر یہ تو کہو\nکیا کسی نے دے کے پایا کس نے کیا پا کر دیا\n\nبچ رہا تھا ایک آنسودار و گیر ضبط سے\nجوشش غم نے پھر اس قطرے کو دریا کر دیا\n\nفانیؔ مہجور تھا آج آرزو مند اجل\nآپ نے آ کر پشیمان تمنا کر دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A7%D8%AC%D9%84_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%81%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%94_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اے اہل محبت کیا کہئے کیا چیز محبت ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے اہل محبت کیا کہئے کیا چیز محبت ہوتی ہے\nکچھ غم کی حقیقت ہوتی ہے کچھ دل کی طبیعت ہوتی ہے\n\nکل زیست الم تا زیست الم یک وقفۂ دم تسکین الم\nسنتے ہیں قیامت آتی ہے جب اس سے بھی فرصت ہوتی ہے\n\nاف آیت سجدہ حسن ادا جلوے کے لیے پردہ بھی اٹھا\nبیتاب جبیں جھک جاتی ہے کچھ ایسی بھی صورت ہوتی ہے\n\nکچھ مست نگاہ ساقی ہے کل مے میں ہے جو کچھ باقی ہے\nمے خانے کے باہر کچھ بھی نہیں مے خانے میں جنت ہوتی ہے\n\nدنیا سے الگ ہو کر کیفیؔ دنیا سے خفا دنیا کا گلہ\nامید اگر باقی نہ رہے تب یاس میں راحت ہوتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%DB%8C%D8%B2_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اے اہل نظر سوز ہمیں ساز ہمیں ہیں", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے اہل نظر سوز ہمیں ساز ہمیں ہیں\nعالم میں پس پردۂ پرواز ہمیں ہیں\n\nاے جبر مشیت بہ ہمہ بے پر و بالی\nاب بھی ہے جنہیں ہمت پرواز ہمیں ہیں\n\nخوش ہیں کہ نہیں اس ستم آرا کا ستم عام\nنازاں ہیں کہ اس کے ہدف ناز ہمیں ہیں\n\nوہ انجمن‌ ناز بتاں ہو کہ سر دار\nجس سمت سے گزرے ہیں سرافراز ہمیں ہیں\n\nدیکھیں جو کسی اور طرف بھی وہ سر بزم\nمقصود نگاہ غلط انداز ہمیں ہیں\n\nاے شاہد معنی صف شیریں سخناں میں\nہے کوئی اگر شاعر طناز ہمیں ہیں\n\nاے جان ظفرؔ حافظ‌ؔ و سعدیؔ کی قفا میں\nاب وارث مے خانۂ شیراز ہمیں ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اے اہل وفا خاک بنے کام تمہارا", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے اہل وفا خاک بنے کام تمہارا\nآغاز بتا دیتا ہے انجام تمہارا\n\nجاتے ہو کہاں عشق کے بیداد کشو تم\nاس انجمن ناز میں کیا کام تمہارا\n\nاے دیدہ و دل کچھ تو کرو ضبط و تحمل\nلبریز مئے شوق سے ہے جام تمہارا\n\nاے کاش مرے قتل ہی کا مژدہ وہ ہوتا\nآتا کسی صورت سے تو پیغام تمہارا\n\nوحشتؔ ہو مبارک تمہیں بدمستی و رندی\nجز عشق بتاں اور ہے کیا کام تمہارا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "اے بادِ صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اے بادِ صبا! کملی والےؐ سے جا کہیو پیغام مرا\nقبضے سے اُمّت بیچاری کے دِیں بھی گیا، دنیا بھی گئی\n\nیہ موجِ پریشاں خاطر کو پیغام لبِ ساحل نے دیا\nہے دُور وصالِ بحر ابھی، تُو دریا میں گھبرا بھی گئی!\n\nعزّت ہے محبّت کی قائم اے قیس! حجابِ محمل سے\nمحمل جو گیا عزّت بھی گئی، غیرت بھی گئی، لَیلا بھی گئی\n\nکی ترک تگ‌ودو قطرے نے تو آبروئے گوہر بھی مِلی\nآوارگیِ فطرت بھی گئی اور کشمکشِ دریا بھی گئی\n\nنکلی تو لبِ اقبالؔ سے ہے، کیا جانیے کس کی ہے یہ صدا\nپیغامِ سکوں پہنچا بھی گئی، دل محفل کا تڑپا بھی گئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%90_%D8%B5%D8%A8%D8%A7%21_%DA%A9%D9%85%D9%84%DB%8C_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85_%D9%85%D8%B1%D8%A7"} {"title": "اے بار خدا یہ شور و غوغا کیا ہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے بار خدا یہ شور و غوغا کیا ہے\nکیا چیز طلب ہے اور تمنا کیا ہے\nہے کم نظری سے اشتیاق دیدار\nجو کچھ ہے نظر میں یہ تماشا کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%BA%D9%88%D8%BA%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اے باغ حیا دل کی گرہ کھول سخن بول", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے باغ حیا دل کی گرہ کھول سخن بول\nتنگی ہے مرے حال پر اے غنچہ دہن بول\n\nاے آہ سنا اس کوں مرے حال کی عرضی\nتجھ زلف کے پیچوں نے دیا مجھ کوں شکن بول\n\nمدت ستی پروانہ توں ہمدرد مرا ہے\nاس شمع سیں تیری جو لگی آج لگن بول\n\nآتی ہے تجھے دیکھ کے گل رو کی گلی یاد\nاے بلبل بیتاب مجھے اپنا وطن بول\n\nخاموش نہ ہو سوز سراجؔ آج کی شب پوچھ\nبھڑکی ہے مرے دل میں ترے غم کی اگن بول", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D8%A8%D9%88%D9%84"} {"title": "اے بت جفا سے اپنی لیا کر وفا کا کام", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے بت جفا سے اپنی لیا کر وفا کا کام\nبندوں کے کام آ کہ یہی ہے خدا کا کام\n\nکس جا تھا قصد شوق نے پہنچا دیا کدھر\nکہتے نہ تھے ٹھگوں سے نہ لے رہ نما کا کام\n\nکہتا ہے دل سنا مجھے گیسو کی داستاں\nآج اس نے سر پہ ڈال دیا ہے بلا کا کام\n\nتاثیر کو نہ آہ سے پوچھوں تو کیا کروں\nکیوں خود اٹھا لیا دل بے مدعا کا کام\n\nاپنی سی تو تو کر انہیں پھر اختیار ہے\nسننا ہے ان کا کام پہنچنا دعا کا کام\n\nسینے میں داغ کھلتے ہی جاتے ہیں ہر نفس\nاب اپنی سانس کرتی ہے باد صبا کا کام\n\nموسیٰ فقط نہ تھے ترے آئینہ داروں میں\nعیسیٰ بھی کرتے تھے لب معجزنما کا کام\n\nہر رات اپنی آنکھوں کو رونا ہے فرض عین\nطاعت گزار کرتے ہیں جیسے خدا کا کام\n\nتھا بھی ذلیل حسن کی سرکار میں یہ دل\nکم بخت کو سپرد ہوا التجا کا کام\n\nاے شادؔ میری سخت زبانی پہ ہے خموش\nناصح بھی اب تو کرنے لگا انبیا کا کام", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85"} {"title": "اے بت جو شب ہجر میں دل تھام نہ لیتے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے بت جو شب ہجر میں دل تھام نہ لیتے\nکلمہ میں بھی ہوتا تو ترا نام نہ لیتے\n\nضد پر اگر آ جائیں ہم اے رشک مسیحا\nمر جاتے مگر منہ سے ترا نام نہ لیتے\n\nکامل کوئی ملتا جو خریدار دل و جاں\nیہ جنس یونہی بیچتے ہم دام نہ لیتے\n\nکیوں حشر میں دیوانہ ہمیں کہہ کے پکارا\nنفرت تھی تو اب بھی وہ مرا نام نہ لیتے\n\nوحشت کدۂ دہر میں چلتا جو بس اپنا\nدشمن سے محبت کے سوا کام نہ لیتے\n\nجاروب کشی ملتی اگر کرب و بلا کی\nہاتھوں سے منیرؔ اور کوئی کام نہ لیتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%D8%AC%D9%88_%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92"} {"title": "اے بخت رسا سوئے نجف راہی کر", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے بخت رسا سوئے نجف راہی کر\nمجھ زار کو زائر ید اللہی کر\nلے جا سوئے کربلا مری مشت غبار\nاے باد صبا اتنی ہوا خواہی کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%86%D8%AC%D9%81_%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "اے بد گماں ترا ہے گماں اور کی طرف", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے بد گماں ترا ہے گماں اور کی طرف\nمیرا ترے سوا نہیں دھیاں اور کی طرف\n\nناوک مجھے رقیب کو برچھی لگائیے\nتیر اس طرف چلے تو سناں اور کی طرف\n\nمجھ کو سنا کے غیر کے اوپر پلٹ پرو\nپلٹو جو گفتگو میں زباں اور کی طرف\n\nحور و پری پہ کیا ہے ہمارا سوائے یار\nدل اور کی طرف ہے نہ جاں اور کی طرف\n\nگھر دل میں تو ہمارے خدا کے لیے نہ لے\nاے خانماں خراب مکاں اور کی طرف\n\nہم فاقہ مست رزق مقدر پہ شاد ہیں\nبھیجے خدا طعام کے خواں اور کی طرف\n\nاردو میں مصحفیؔ کو بھی استاد کہہ کے شادؔ\nآوازہ کس گیا یہ جواں اور کی طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%AF_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "اے بدخشان نبیؐ کے لعل احمر السلام", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "سلام", "year": null, "text_ur": "اے بدخشان نبیؐ کے لعل احمر السلام\nوے گلستان علی کے لالۂ تر السلام\nایک ساعت ہی میں امت پھر گئی نانا کی سب\nکیا قیامت لائی تیرے سر کے اوپر السلام\nبوند بھر پانی نہ دریا پر تجھے پینے دیا\nاے تمناے دل ساقی کوثر السلام\nسب کنارے لگ گئے تو بحر خوں میں غرق ہے\nاے کنار مصطفےٰؐ کے نازپرور السلام\nتو تو شاہ دیں تھا ایسا ہو کے بیکس کیوں موا\nاب نہ تن پر سر ہے نے سر پر ہے افسر السلام\nبات کو بے پردہ کہیے کس طرح اب تجھ سے ہائے\nہیں حرم کے لوگ سب محتاج چادر السلام\nکیا ستم کشیاں بیاں تیری کرے دل خستہ میرؔ\nنام تیرا سن کے آنکھیں ہوتی ہیں تر السلام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%AF%D8%AE%D8%B4%D8%A7%D9%86_%D9%86%D8%A8%DB%8C%D8%90_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%B9%D9%84_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "اے بڑھیا میں کیسا؟", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ایک میں دل ریش ہوں ویسا ہی دوستزخم کتنوں کے سنا ہے بھر چلےآغا قیس (اپنی بیوی الماس خانم سے) بیگم! دیکھو، میں دلی چھوڑ کر کلکتہ جارہا ہوں۔ آنے جانے میں برسوں لگیں گے، اور زندگی کا کچھ بھروسہ نہیں۔ خدا جانے تم لوگوں کی شکل پھر دیکھنی نصیب ہو یا نہیں۔ میں وصیت کرتا ہوں کہ تم میری پیٹھ پیچھے میری اماں جان سے نہ لڑنا اورنہ انہیں ستانا اور کپڑے لتّے یا کھانے پینے کی تکلیف نہ دینا۔ نہیں یاد رکھنا قیامت کے دن تمہارا دامن ہوگا اورمیرا ہاتھ ہوگا۔ اتنا کہہ کر قیس چپ ہوگیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔الماس خانم بھلا چلتے وقت تم کیوں بدشگونی کرتے ہو۔ خواہ مخواہ رونے بیٹھ گئے۔ تم خوشی خوشی سدھارو۔ میں تمہاری اماں جان کوآدھی بات بھی نہ کہوں گی اور ان سے بھول کر بھی نہ لڑوں گی۔ جس وقت سے تم نے مجھے محشر میں دامن گیر ہونے کی دھمکی دی ہے، اپنے دیدے گھٹنوں کی قسم ڈر کے مارے میرا کلیجہ کانپ رہا ہے۔ توبہ توبہ الہٰی توبہ! ساس میں اور سگی ماں میں فرق ہی کیا ہوتا ہے۔ میں تو ان کے پاؤں دھو دھوکر پیوں گی۔\n\nبیوی کی باتوں سے آغا قیس کو تسکین ہو گئی، اور وہ بیچارہ کلکتہ روانہ ہوگیا۔ اس کے جانے کے بعد آٹھ دن تک بہو نے ساس سے کچھ چھیڑ چھاڑ نہ کی۔ مگر نویں دن الماس خانم کی والدہ شریفہ بی یاقوت بیگم آن براجیں، اور آتے ہی انہو ں نے بیٹی کو ہلسایا۔ باؤلے کو آگ دکھائی۔ اس نے گھر کو لے لکٹی آگ لگائی اور وہ چڑیل کی طرح ہاتھ دھوکر بی عزت نسا کے پیچھے پڑی۔ (عزت نساء آغا قیس کی ماں کا نام ہے)عزت نساء بادشاہ زمانی (بہو کا خطاب ہے) کل جمعہ کے دن سر دھو لوں تو اچھا ہے۔ کیونکہ میرے بال چکٹ گئے ہیں۔ آج آنولے منگا دو۔ رات کو بھگو دوں گی تو صبح تک خوب گل جائیں گے۔الماس خانم بوڑھا چونچلا جنازے کے ساتھ۔ قبر میں تو پاؤں لٹکائے بیٹھی ہو، اور اپنے تئیں سمجھتی ہو بارہ برس کی لڑکی۔ آنولے تو جوان عورتیں سر میں ڈالا کرتی ہیں، جو اپنے بالوں کو سیاہ بھونرا بنانا چاہتی ہیں۔ خاک پڑے اس ہوس کاری پر۔ کالا منہ، نیلے ہاتھ پاؤں، خدا کی لعنت، خدا کی پھٹکار شیطان کا دھکا۔ میں نے تیرے بیٹے کو عمل پڑھ پڑھ کر دلی سے اسی لئے نکالا ہے کہ تجھ سے عمر بھر کے بدلے لے لوں۔ اور تیری فریاد کو پہنچنے والا چڑیا کا بچہ تک نہ ہو۔ خدا نے اور اس کی حبیب نے چاہا تو تیرے تکلے کے سے بل نکالوں گی۔ موئی پدم شکری۔ چوٹٹی چمپا۔بی عزت نساء خون کے سے گھونٹ پی کر چپ ہو گئیں، اور بہو کی باتوں کا اصلا ًجواب نہ دیا۔ یاقوت خانم کو سمدھن سے بڑی لاگ تھی۔ بیٹی کے اس برا بھلا کہنے پر بھی ان کے کلیجے میں ٹھنڈک نہ پڑی، اور انہوں نے الماس خانم کے کان میں کہا، ’’اگر تو گھر میں چین سے رہنا چاہتی ہے تو اس بڑھیا مردار کو مار پیٹ کر گھر سے نکال باہر کر۔‘‘ الماس خانم ماں کے اس بہکائے سکھائے میں بھی آگئی اور اس نے ایک دن مغرب کے وقت بی عزت نساء کو اس بے دردی سے مارا کہ وہ بدنصیب سسکنے لگیں اور بانڈیوں کی مار سے لہو لہان ہو گئیں۔ انہیں غش آ گیا۔ اور رات کے آٹھ بجے تک وہ مردہ کی طرح پڑی رہیں۔یاقوت خانم نے الماس خانم سے کہا کہ بیٹی تیرا گھر شہر کے کنارے پر بنا ہوا ہے، اور جنگل پاس ہے۔ اپنی ساس کو گٹھری میں باندھ کر جنگل میں پھینک آ۔ رات بھر میں گیدڑ، بھیڑیے لاش کو کھاپی کر برابر کردیں گے۔ جب تیرا خاوند دو چار برس میں آئےگا تو کہہ دیں گے، تمہاری اماں مر گئیں اور فلاں قبرستان میں رکھی گئیں۔ برسات میں قبر ان کی ڈہ گئی اور نشان بھی نہیں رہا۔ صبر کرو۔ الماس خانم نے اپنی ماں کا یہ کہنا بھی قبول کیا اور بی عزت نساء کو کپڑے میں باندھ کر جنگل میں ڈال آئی۔ مگر جس کپڑے میں باندھ کر لے گئی تھی وہ لے آئی تاکہ اس کے حوالے سے پکڑا پکڑی نہ ہو۔ اس رات کو دونوں ماں بیٹیاں پاؤں پھیلاکر چین سے سوئیں۔رات کے بارہ بجے کچھ ٹھنڈک ہوئی تو بی عزت کو ہوش ہوا، اور چوٹوں کی تکلیف سے وہ زمین پر پڑے پڑے کراہنے لگیں۔ کیونکہ کلونتی بہو نے چار چور کی مارا نہیں دی تھی۔ ناگہاں انہوں نے دیکھا کہ تین شخص سفید پوش مشرق کی طرف سے آگے پیچھے آتے ہیں۔ چلتے چلتے وہ اتفاقاً بی عزت نساء کے پاس پہنچ گئے اور بڑی بی کو پڑا دیکھ کرٹھٹک گئے اور کہنے لگے ہم آپس میں اپنا فیصلہ قیامت تک نہ کرسکیں گے۔ دیکھو یہ بنی آدم اور اشرف المخلوقات ہے۔ اس بڑھیا سے پوچھو اور جو یہ حکم لگائے اسے تسلیم کرلو۔ تینوں شخصوں نے کہا، بیشک انسان کا بڑا رتبہ ہے اور یہ اللہ کا خلیفہ ہے۔ ہمارے حق میں جو کچھ اس کے منہ سے نکلے، اس پر ہم سب کو یقین لانا چاہئے۔ اچھا پہلے میں ہی اپنی نسبت اس سے پوچھتا ہوں۔ اتنا کہہ کر ان تین سفید پوشوں میں سے ایک شخص آگے بڑھا، اور اس نے بی عزت سے کہا، اے بڑھیا میں کیسا ہوں؟عزت نساء (کراہ کر) بیٹا مجھے کیا معلوم ہے۔ تم کون صاحب ہو۔ اپنا نام و نشان بتاؤ تو میں کہوں تم ایسے ہو۔\n\nسائل میں ہوں جاڑے کا موسم اب بتاؤ، میں کیسا ہوں؟عزت نساء سبحان اللہ جاڑے کے کیا کہنے ہیں۔ کنوار لگتے ہی لحاف تو شکیں تیار ہونے لگتی ہیں۔ رضائیاں،، کمریاں، قبائیں، چھینٹ کی، مخمل کی بنائی جاتی ہیں۔ گرمی کے موسم کے پیاسے ٹھنڈا پانی پی پی کر اپنا کلیجہ خنک کرتے ہیں۔ جاڑے کی راتیں بڑی ہوتی ہیں۔ اس لئے کھانا خوب ہضم ہوتا ہے۔ بھوک بھی بیتابی سے لگتی ہے۔ گرم گرم چائے پیتے ہیں۔ حلوا سوہن، گاجر کا میٹھا اسی موسم کا تحفہ ہے۔ بادام، پستہ، چلغوزہ، اخروٹ انہی دنوں میں کھاتے ہیں۔ مسجد میں نمازیوں کے لئے سقاووں کے اندر پانی گرم کیا جاتا ہے تاکہ وہ نہائیں، دھوئیں، وضو کریں اور مسجد کے متولی کو ثواب حاصل ہو۔عابد زاہد جاڑے کی لمبی لمبی راتوں کو بہت پسند کرتے ہیں۔ کیونکہ ذکر، شغل دل کھول کر ہو سکتا ہے۔ سردی کے آتے ہی پنبئی پردے کمروں، دالانوں کے دروں پر باندھ دیے جاتے ہیں۔ کمروں کے اندر آتش دان اور انگیٹھیاں روشن کرتے ہیں۔ چھوٹے بڑے مل کر آگ تاپتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ کابلی، کشمیری سوداگروں کو ہزاروں کا فائدہ پہنچتا ہے۔ شال، دوشالہ، دُھسّے، ٹپو، بانات اور طرح طرح کے اونی کپڑے بکتے ہیں۔ گیہوں، جو، چنا، جاڑے ہی کے موسم میں بڑھتا چلتا ہے۔ صبح سے شام تک جاڑے کی دھوپ اچھی لگتی ہے۔ بیٹا کیا کہوں، بہو نے مارکر اس بندی کا بھرکس نکال دیا ہے۔ کمزوری کے مارے بولا نہیں جاتا۔ نہیں تیری سچی سچی تعریف میں اور بھی بیان کرتی۔جاڑا نہیں بڑھیا۔ تو نے اب بھی میری بہت کچھ تعریف بیان کی ہے۔ میں تیری باتیں سن کر بہت خوش ہوا۔ لو یہ ہزار روپیہ کا ایک توڑا ہے۔ اسے تم اپنے علاج میں صرف کرنا اور خدا تمہاری اس بے ادب بہو سے سمجھے جس نے ناحق تمہیں ستایا۔ یہ کہہ کر جاڑے نے ایک ہزار روپے کی تھیلی بی عزت نساء کے پہلو میں رکھ دی اور خود پیچھے سرک گیا اور اس کا دوسرا رفیق آگے بڑھا اور اس نے کہا، اے بڑھیا میں کیسا؟عزت نساء میاں مجھے کیا خبر تم کون صاحب ہو؟ اپنا کچھ اتہ پتہ بتاؤ تو میں کہوں تم ایسے ہو۔گرمی کا موسم میں ہوں گرمی کی رُت۔عزّت نساء ماشاء اللہ چشم بد دور! گرمی کی رت کی کیا تعریف ہو سکتی ہے۔ گرمی کچے اناجوں اور کچے میوؤں کو پکاتی ہے۔ گرمی جب تک جاندار کے جسم میں باقی ہے، زندہ ہے۔ نہیں مردہ ہے۔ گرمی کے موسم میں ملائی کی برف، شربت کی برف، قسم قسم کے شربت، تخم ریحاں، فالودہ، پن بھتّا۔ کیسا بھلا لگتا ہے۔ شورہ میں پانی کی صراحیاں لگائی جاتی ہیں۔ لال، لال صافیاں لپیٹی جاتی ہیں۔ کورے کورے مٹکے۔ ٹھلیاں، جھجریاں، بھبکے، کاغذی آبخورے پانی سے بھر کر رکھے جاتے ہیں، جنہیں دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ چھڑکاؤ کئے جاتے ہیں۔ امیر لوگ خس خانوں میں بیٹھتے ہیں، خس کی ٹٹیاں لگاتے ہیں۔ ان پر پانی چھڑکتے ہیں۔ فراشی پنکھے کھینچے جاتے ہیں۔ تہ خانوں کی قدر ہوتی ہے۔ کھیرے، ککڑیاں، تربوز گرمی کے موسم کی نایاب چیزیں ہیں۔ آب رواں کے دو پٹے، بابر لیٹ کی محرم کرتیاں، موتیا، جوہی کے کنٹھے، پھولوں کے گہنے کی بہار اسی میں آتی ہے۔ واہ گرمی کی رت! تیرے کیا کہنے ہیں۔ ایک لنگوٹی میں بھی آدمی بسر کرسکتا ہے۔ یہ کہہ کر عزت نساء چپ ہوگئیں۔ اور گرمی کو اپنی یہ صفت و ثنا بہت پسند آئی۔ اس نے بھی ایک ہزار روپے کی تھیلی بی عزت نساء کے پاس رکھ دی۔ اور وہ پیچھے ہٹی۔ اب تیسرا رفیق بی عزت نساء کے پاس آیا اور اس نے کہا، اے بڑھیا میں کیسا؟ عزت آپ یہ کہئے کہ ہیں کون؟ پھر میں آپ کو جواب دوں کہ آپ کیسے ہیں۔ برسات کا موسم میرا نام ہے برسات کا موسم۔ اب کہو میں کیسا ہوں۔\n\nعزت نساء واہ واہ! برسات کے کیا کہنے ہیں۔ برسات نہ ہو تو دنیا خاک میں مل جائے۔ جانداروں کا تو کیا ذکر ہے۔ جڑی بوٹیاں تک برسات کی آرزو رکھتی ہیں۔ برکھا رُت میں دھان پان، آم خصوصیت سے پیدا ہوتا ہے۔ باغوں میں جھولے پڑتے ہیں۔ ملہار گائے جاتے ہیں۔ کڑاہیاں چڑھتی ہیں۔ رم جھم، رم جھم مینہ برستا ہے، جس کے دیکھے سے دل کو تفریح ہوتی ہے۔ دلّی میں پھول والوں کی سیر کی دھوم ہوتی ہے۔ قطب صاحب کے مزار اور جوگ مایاجی کے مندر پر بیش قیمت پنکھے چڑھائے جاتے ہیں۔ پکوان تلے جاتے ہیں۔ اندر سے کی گولیاں، اندر سے، سُہال، پھینیاں برسات کے پانی سے ہی تیار ہوتی ہیں۔ کویل کوکتی ہے۔ پپیہے خوش آوازی سے بولتے ہیں۔ مور جھنگارتے ہیں۔ جوار، باجرا، مونگ، ماش، مکئی اسی موسم کی پیداوار ہیں۔ جنہیں سال بھر کھا کر انسان و حیوان جیتے ہیں۔ ہزاروں قسم کے ساگ اور سیکڑوں قسم کی گھاس برسات میں پیدا ہوتی ہے، جس کے بغیر زندگی دشوار ہے۔ اگر برسات نہیں ہوتی تو کال پڑجاتا ہے۔ آدمی کو آدمی کھاتا ہے۔برسات کا موسم بڑی بی کی زبان سے اپنی اس قدر تعریف سن کر شاد ہوگیا اور اس نے بھی اپنی بغل سے ایک ہزار روپے کی تھیلی نکال کر بی عزت نساء کے پاس دکھ دی اور پھر تینوں موسم بڑی بی کو سلام کر کے چل دیے۔ بی عزت نساء روپیوں کا نام سن کر اپنی چوٹوں کو بھول گئیں اور انہوں نے اٹھ کر تھیلیوں کو ٹٹولا اور روپیوں کو ہاتھ لگنے سے ہی ا ن کا سارا ضعف دور ہوگیا۔ دو بجے (رات) کے بعد الماس خانم کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنی ماں یاقوت خانم کو جگاکر کہا، اماں تم نے مجھے بہت بری مت دی کہ میں نے اپنی ساس کو مارا اور انہیں جنگل میں جا ڈالا۔ جب صبح کے وقت پڑوسی پوچھیں گے کہ ان کی اماں کہاں گئی تو میں کیا جواب دوں گی؟ اور اگر وہ کسی آدمی کو مری مل گئیں، یا ان کی ہڈیاں پائی گئیں، تو کوتوالی کا چبوترہ ہوگا اور میری ٹنڈیاں کسی جائیں گی۔ ابھی رات پردہ پوش موجود ہے۔ مناسب ہے کہ انہیں زندہ یا مردہ کو گھر میں لے آئیں۔یہ کہہ کر الماس خانم اپنے بچھونے سے گھبرا کر اٹھی اور پچھواڑے جنگل میں پہنچی۔ دیکھا تو بڑی بی کھونٹا سی بیٹھی ہیں او رکوئی چیز ان کے پاس رکھی ہے۔ الماس خانم نے چپکے چپکے ان سے معذرت کی، اور کہا خدا کے واسطے گھر چلئے اور یہ آپ کے پاس کیا رکھا ہے؟ بی عزت نساء نے بہو کے کان میں تینوں موسموں کے آنے اور تین ہزار روپے دیے جانے کا حال بیان کیا۔ الماس خانم اس قصہ کو سن کر پھولی نہ سمائیں۔ ساس کو پیٹھ پر لاد کر اور تینوں تھیلیوں کو بغل میں مارکر گھر لائیں۔ انہیں نرم بچھونے پر لٹایا۔ گرم گرم حریرہ بناکر پلایا اور چوٹوں پر جا بجا ہلدی پیس کر اور گرم کر کے لگائی، اور صبح اٹھ کر ان کے لئے سٹورہ بنایا اور اپنی خطا معاف کرائی۔الماس خانم کی ماں رشک و حسد کا پتلہ تھیں۔ وہ بی عزت نساء کے اس طرح روپیہ لانے پر جل مریں اور سوچنے لگیں کہ کسی طرح میں بھی ان تینوں موسموں سے انعام حاصل کروں۔ آخر ان سے ضبط نہ ہوا۔ ایک دن انہوں نے بیٹی کو الگ لے جاکر کہا، بیٹی ماشو! (الماس خانم کا بچپن کا نام ہے) یہ تو روپیہ پیدا کرنے کا بڑا اچھا ڈھنگ ہے۔ تو جانتی ہے میں بھی مفلس کنگال ہوں۔ آج رات کو تو مجھے مارکوٹ کر جنگل میں پھینک آ۔ خدا چاہے میں تیری سا س سے دگنا مال لے کر آؤں گی۔الماس خانم نے ماں کو بہت سمجھایا، مگر وہ تو پیسہ کے لالچ میں اندھی ہو رہی تھی۔ بیٹی کے سمجھانے کا کچھ بھی خیال نہ کیا۔ اور اس سے یہی کہا کہ تو بی عزت کی طرح مجھے مارتے مارتے کچومر نکال دے، اور جنگل میں پہنچا۔ ناچار ہوکر سعادت مند بیٹی الماس خانم نے یاقوت خانم کو لنگر کے بِلاؤ کی طرح خوب ہی مار دی۔ اور اس کے ہاتھ پاؤں توڑ کر رات کو جنگل میں پھینک آئی۔ جب آدھی رات ادھر آدھی ادھر ہوئی، تو جاڑہ، گرمی، برسات کی روحانیت یاقوت کے پاس آن پہنچی۔ اور کل کی طرح سب سے پہلے جاڑے نے بڑھ کر کہا، اے بڑھیا! میں کیسا؟یاقوت خانم خدائی خوار گدھے سوار۔ پہلے تو اپنا نام و نشان بتا۔ مجھے کیا خبر تو کون بلا ہے، پھر میں جواب دوں گی۔جاڑہ میں جاڑہ کا موسم ہوں۔یاقوت خانم اے خدا تجھے غارت کرے۔ کم بخت تو بڑا منحوس ہے۔ غریب آدمی گرمی کے اندر تو ایک چتھڑے میں بھی گزار لیتے ہیں۔ مگر تیرا منہ بے روئی دار کپڑوں کے نہیں جھکسا جاتا۔ پانی میں اولے جیسی ٹھر پیدا ہوجاتی ہے۔ نہ منہ دھویا جا سکے نہ نہانے کا حوصلہ۔ لوگ وضو کرنے، نماز پڑھنے سے جی چراتے ہیں اور جو ٹھنڈے پانی سے وضو کیا جاتا ہے تو ہاتھ پاؤں پھٹتے ہیں۔ موم روغن اور پھلوا ملنے کو کہاں سے لائے۔ ہر کام سے آدمی سردی میں گھبراتے ہیں۔ عورتیں دال دھوتی ہیں، آٹا گوندھتی ہیں تو مارے سردی کے ہاتھ اکڑ جاتے ہیں۔ پانی گرم کر کے کام کریں تو دوگنا ایندھن درکار ہوتا ہے۔ ٹھنڈے پانی سے نہاتی ہیں تو نزلہ زکام ہوجاتا ہے۔ بال سکھانے کی مصیبت پڑتی ہے۔ بچوں کو بھیگے سردودھ پلا دیتی ہیں، تو ان کا جی انمنا ہوجاتا ہے۔ بخار چڑھتے ہیں، پسلی کا خلل ہوتا ہے۔ پیٹ میں ہرا ہوجاتا ہے۔ بڑے آدمی ذات الجنب میں مرتے ہیں۔ دن چھوٹے ہوتے ہیں، کوئی کام پورا نہیں ہوتا۔ دھوبی سقے چار مہینے تک کوستے ہیں کہ خدا جاڑے کا جلدی سے منہ کالا کرے۔ اس نے ہمیں ستا دیا۔ دریا کے ٹھنڈے پانی میں کپڑے دھونے کے لئے کیونکر گھسا جائے۔ ٹھنڈا پانی مشک میں کیونکر بھرا جائے۔ پھر ٹھنڈی مشک کو کس طرح اٹھاکر لے جائیں۔ سردی کی ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ اگر سفر کیا جاتا ہے تو اوڑھنا بچھونا، روئی دار لے جانا پڑتا ہے جس کا لے جانا دشوار ہوتا ہے۔ روٹی توے سے اتری اور ٹھنڈی۔ ہانڈی میں، پتیلی میں دال سالن برف کی طرح جم گیا۔ کھاؤ تو معلوم ہوتا ہے، ٹھنڈی مٹی کھار ہے ہیں۔ کپڑوں میں جو ئیں پڑ جاتی ہیں اور رات دن ستاتی ہیں۔یاقوت خانم ابھی جاڑے کے بارے میں اور کچھ کہنا چاہتی تھیں جو گرمی کے موسم نے بڑھ کر کہا۔ بس بڑھیا بس! تونے میرے بھائی کی بہت ہجو کی۔ اچھا اب بتا میں کیسا ہوں؟یاقوت خانم ستیاناسی۔ میری پیزار کو بھی معلوم نہیں کہ تو کون سے کھیت کی مولی ہے۔ اپنا نام و نشان کچھ مجھے بتا تو میں کہوں تو ایسا ویسا ہے۔\n\nگرمی میں گرمی کا موسم ہوں۔یاقوت خانم اے گرمی تجھے خدا کی پھٹکار۔ خدا تیرا ستیا ناس کرے۔ گرمی کا دکھڑا کیا روؤں۔ پسینے پر پسینے چلے آتے ہیں۔ پسینہ کی تیزی سے کپڑے میلے بھی ہوتے ہیں اور گل بھی جاتے ہیں۔ نہ باسی پانی ٹھنڈا ہو نہ تازہ۔ جب پیو گرم، حلق سے اترنا دشوار۔ دال سالن اور سب کھانے شام سے صبح اور صبح سے شام نہیں پکڑتے۔ سڑ جاتے ہیں۔ بدبو پیدا ہوجاتی ہے۔ چولھے کے پاس بیٹھ کر کھانا پکانا مشکل، لپٹ کے مارے تن بدن جلا جاتا ہے۔ دھواں آنکھوں میں گھسا جاتا ہے۔ گرمی کے مارے بچوں کو تو نس ہوتی ہے۔ چیچک، موتی جھارا نکلتا ہے اور اپنی ماں کے لال اس گرمی کی بدولت قبر میں جا سوتے ہیں۔تل تخیری دھوپ میں مسافر بیچارے راہ چلتے اور بیمار پڑتے ہیں۔ سرسام ہوتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں رمضان شریف آ گئے تو پھر انسان کا جینا دشوار۔ مگر اللہ کے پاک بندے روزہ ناغہ نہیں کرتے۔ اللہ کے فرض کے پیچھے اپنی جانیں دے دیتے ہیں۔ روزہ کھول کر پانی زیادہ پی گئے، کلیجے میں درد اٹھا، مرگئے۔ کسی بچہ کو روزہ رکھوایا۔ اس کا دانہ پانی بند ہوا تو بچہ بلبلا کر ہاتھوں میں آگیا۔ مارے پیاس کے اس کی آنکھوں میں گڑھے پڑ گئے۔ روزہ کھول کر سنبھل گیا تو سنبھل گیا۔ نہیں عید سے پہلے محرم ہوگیا۔ مجھے گرمی کے عیب بہت یاد ہیں، مگر درد اور چپک کے مارے مجھ سے اچھی طرح بولا نہیں جاتا ہے۔ چل دور ہو میرے سامنے سے۔ گرمی اپنا سا منہ لے کر سرک گئی اور برسات نے اپنے ان دونوں ساتھیوں سے کہا، ذرا ٹھہرو میں بھی اس ڈائن بد زبان سے دو دو باتیں کرلوں۔ برسات اے بڑھیا میں کیسا؟یاقوت خانم اے جوانا مرگ، مونڈی کاٹے، پہلے یہ تو منہ سے پھوٹ کہ تو کون ہے؟برسات میں ہوں برسات کا موسم۔یاقوت خانم اللہ تجھ سے بچائے، برسات موئی آفت کی پڑیا ہوتی ہے۔ سردی گرمی میں آدمی پیڑ تلے، ٹٹی تلے بیٹھ کر زندگی بسر کرسکتا ہے، مگر تجھے چاہئیں بنگلے، چھتیں، ڈھیاپھوٹی تو ہی لاتی ہے۔ گاؤں اور شہر تو ہی بہاکر لے جاتی ہے۔ رعد کی کڑک تو لے کر آتی ہے۔ بجلیاں تو ہی گراتی ہے۔ سانپ بچھو، کھنکھجورے اور ہزاروں قسم کے زہر دار کیڑے تو ہی پیدا کرتی ہے۔ مچھروں سے تو کٹواتی ہے۔ پسوّوں سے تو نچواتی ہے۔ ملیریا بخار اور ہیضہ تو پھیلاتی ہے۔ مکھیاں تو ہی بھنکواتی ہے۔ سڑی گرمی برسات کی ہی کہلاتی ہے۔ تو بڑی بے رحم ہے۔ قحط تو ہی ڈالتی ہے۔ بھوکا مارتی ہے۔جب یاقوت خانم بکواس کرچکی تو تینوں موسموں نے آپس میں صلاح کی کہ اس بے حیات عورت کو ایسی سزا دینی چاہئے جو ہمیشہ قائم رہے اور لو گ اسے دیکھ کر عبرت پکڑیں۔ یہ کہہ کر جاڑا آگے بڑھا اور اس نے یاقوت خانم کی ناک جڑ سے کاٹ لی۔ پھر گرمی نے ایک کان اس کا بے نشان کردیا۔ پھر برسات نے اس کا دوسرا کان تراش لیا اور یاقوت خانم کو برابھلا کہتے چلے گئے۔ رات کے تین بجے الماس بیگم اس خیال میں ڈوبی ہوئی اپنی ماں کے پاس پہنچیں کہ چھ ہزار کی رقم وہ اپنے پیٹ سے لگائے بیٹھی ہوں گی، مگر جاکر دیکھا کہ بڑی بی مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہیں۔الماس خانم نے کہا، اماں جان خیر تو ہے؟یاقوت خانم خیر کیسی کمبخت! تو مجھے گھر لے چل۔ وہاں پہنچ کر اپنی بیتی تجھے سناؤں گی۔ الماس خانم اماں جان کو چڈھی پر چڑھاکر گھر میں لے آئی اور چراغ کی روشنی میں معلوم ہوا کہ اماں کی ناک نہیں ہے۔ اس نے اپنے سینہ میں ایک گھونسا مارا اور کہا، ہائے اماں جان! تمہاری ناک کہاں گئی؟ یاقوت خانم نے سارا حال بیان کیا اور کہا بیٹی! یہ سمدھن کا صبر میری جان پر پڑا ہے۔ مت کر ساس برائیاں تیرے آگے بھی جائیاں۔صبح کو ہمسایہ کے بچوں نے یاقوت خانم کو نکٹی، بوچی دیکھ کر ہنسی اڑائی۔ اور سارے شہر میں تھڑی تھڑی ہوئی۔ خدا ہم فقیروں کو ایسی طمع سے بچائے۔ جس میں ناک کان کی جوکھوں ہو۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A8%DA%91%DA%BE%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7%D8%9F"} {"title": "اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سے", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سے\nرونے میں مزا ہے نہ بہلتا ہے غزل سے\n\nاس شہر کی دیواروں میں ہے قید مرا غم\nیہ دشت کی پہنائی میں ہیں یادوں کے جلسے\n\nباتوں سے سوا ہوتی ہے کچھ وحشت دل اور\nاحباب پریشاں ہیں مرے طرز عمل سے\n\nتنہائی کی یہ شام اداسی میں ڈھلی ہے\nاٹھتا ہے دھواں پھر مرے خوابوں کے محل سے\n\nراتوں کی ہے تقدیر ترا چاند سا چہرہ\nنظروں میں ہے تصویر ترے نین کنول سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%84_%D8%B3%DB%92"} {"title": "اے بے خبری کی نیند سونے والو", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے بے خبری کی نیند سونے والو\nراحت طلبی میں وقت کھونے والو\nکچھ اپنے بچاؤ کی بھی سوچی تدبیر\nاے ڈوبتی ناؤ کے ڈبونے والو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%AF_%D8%B3%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88"} {"title": "اے تازہ نہال عاشقی کے مالی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے تازہ نہال عاشقی کے مالی\nیہ تونے طرح ناز کی کیسی ڈالی\nسب تجھ سے جہاں بھرا ہے تس کے اوپر\nدیکھیں ہیں کہ جاے ہے گی تیری خالی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81_%D9%86%DB%81%D8%A7%D9%84_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کا", "poet_page": "مصنف:اشرف علی فغاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کا\nمر گیا آخر کو یہ طالب ترے دیدار کا\n\nکیا بنائے خانۂ عشاق بے بنیاد ہے\nڈھل گیا سر سے مرے سایہ تری دیوار کا\n\nروز بہ ہوتا نظر آتا نہیں یہ زخم دل\nدیکھیے کیا ہو خدا حافظ ہے اس بیمار کا\n\nنو ملازم لعل لب کو لے گئے تنخواہ میں\nبے طلب رہتا ہے یہ نوکر تری سرکار کا\n\nدیکھ نئیں سکتا فغاںؔ شادی دل آفت طلب\nیہ کہاں سے ہو گیا مالک مرے گھر بار کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B4%DB%8C%D9%88%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اے جان حسن افسر خوباں تمہیں تو ہو", "poet_page": "مصنف:رادھے شیام رستوگی احقر", "kind": "poetry", "section": "غزل > نقشہاے رنگ رنگ (1929)", "year": "1929", "text_ur": "اے جان حسن افسر خوباں تمہیں تو ہو\nمیں اک گدائے عشق ہوں سلطاں تمہیں تو ہو\n\nپہونچی ہے آسماں پہ تجلی جمال کی\nکہتے ہیں لوگ مہر درخشاں تمہیں تو ہو\n\nسچ سچ یہ کہہ رہا ہے تناسخ کا مسئلہ\nروح عزیز یوسف کنعاں تمہیں تو ہو\n\nآگے تمہارے سرو ہے غیرت سے پا بہ گل\nصحن چمن میں سرو خراماں تمہیں تو ہو\n\nہر بات پر بگڑتے ہو رندوں سے شیخ جی\nسارے جہاں میں ایک مسلماں تمہیں تو ہو\n\nدل میرا لے کے تم نے کھلونا بنا لیا\nدنیا میں ایک طفلک ناداں تمہیں تو ہو\n\nباتوں میں سحر چال میں محشر نگہ میں قہر\nثابت ہے ان سے فتنۂ دوراں تمہیں تو ہو\n\nدل دے کے تم کو کیوں نہ کہوں مایۂ حیات\nمیرے جگر تمہیں ہو مری جاں تمہیں تو ہو\n\nمداح ہوں تمہارے نہ کس طرح حق پسند\nاحقرؔ بتوں کے ایک ثنا خواں تمہیں تو ہو", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88"} {"title": "اے جان شب ہجراں تری سخت بڑی ہے", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے جان شب ہجراں تری سخت بڑی ہے\nہر پل مگر اس نس کی برمہا کی گھڑی ہے\n\nہر بال میں ہے میرا دل صاف گرفتار\nکیا خوب تری زلف میں موتیاں کی لڑی ہے\n\nنیلم کی جھلک دیتی ہے یاقوت میں گویا\nسو تیرے لب لعل پہ مسی کی دھڑی ہے\n\nتھے ذکر درازی کے تری ہجر کی شب کے\nکیا پہنچی شتاب آ کے تری عمر بڑی ہے\n\nسورج کا جلانے کوں جگر جیوں دل فائزؔ\nاے نار تو کیوں دھوپ میں سر کھول کھڑی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D8%AE%D8%AA_%D8%A8%DA%91%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اے جذب دل وہ دن تو میسر خدا کرے", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے جذب دل وہ دن تو میسر خدا کرے\nمیرے لیے وہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرے\n\nمیں جان دوں وفا سے وہ مجھ پر جفا کرے\nمرنا تو میرا اپنے ہی در پر روا کرے\n\nپامال شوق سے دل عاشق کیا کرے\nیہ بھی تماشا شوخیٔ رنگ حنا کرے\n\nحسن بتاں میں شان الٰہی ہے کیا کہوں\nبیٹھے نہ بت کدہ میں فدائی تو کیا کرے\n\nاس نازنیں سے کہہ دے کہ بن جائے نور جاں\nآنکھوں میں آئے کعبۂ دل میں رہا کرے\n\nحالت کو میری سن کے عجب ناز سے صنم\nکہتا ہے مجھ کو غم نہیں کوئی مرا کرے\n\nدیکھے مرے صنم کو تو رہبان عشق بھی\nصل علیٰ کہے کبھی شکر خدا کرے\n\nکہہ دینا ان کے طالب دیدار سے یہی\nمرأت کے دل میں صورت حیرت رہا کرے\n\nاس آرزو نے مجھ کو بلایا ہے خاک میں\nتا مشت خاک کو مرے وہ نقش پا کرے\n\nپوچھا تھا میں نے قیس سے جا کر یہ دشت میں\nجس میں نہ ہوئے صبر و تحمل وہ کیا کرے\n\nبولا وہ ہنس کے جی سے گزرنا ہی خوب ہے\nاس ابتدائے عشق کی یوں انتہا کرے\n\nفصل بہار آئی ہے مجھ کو نہ روکئے\nجاتا ہوں اب تو دشت میں کچھ بھی ہوا کرے\n\nتصویر یار دل میں جمیلہؔ لیے رہو\nکعبہ میں جا کے عاشق ناشاد کیا کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%B0%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%86_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B3%D8%B1_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے\nسیدھی بھی چھری ٹیڑھی بھی چھری دل دوز نظر قاتل ہی تو ہے\n\nجب ہوک اٹھے گی تڑپے گا انصاف نہ چھوڑو دل ہی تو ہے\nناچند تھکن کا صبر و سکوں بسمل آخر بسمل ہی تو ہے\n\nطوفان بلا کی موجوں میں کیں بند آنکھیں اور پھاند پڑے\nکشتی نے جہاں ٹکر کھائی دل بول اٹھا ساحل ہی تو ہے\n\nہے ظرف یہاں کس کا کتنا دل بس ہے اسی کا پیمانہ\nرونا بھی برا ہنسنا بھی برا جو بات ہے وہ مشکل ہی تو ہے\n\nناخوش ہے تو کیا ہے خوش ہے تو کیا جیسا بھی سہی ہے تو اپنا\nیہ ساتھ نہیں چھٹنے والا بے کس کا سہارا دل ہی تو ہے\n\nہیں موت کے اس جینے میں مزے غم جس کو نہ ہو وہ کیا سمجھے\nجب ثابت کرتے بن نہ پڑے جو دعویٰ ہے باطل ہی تو ہے\n\nتھی خضر طریق افتاد یہاں اور سنگ حوادث سنگ نشاں\nحد راہ طلب کی آ گئی ہاں جاتا ہے کہاں منزل ہی تو ہے\n\nدکھ دے کے الٹے دینا کیا فریاد نتیجہ ہے غم کا\nجب ٹھیس لگی شیشہ ٹھنکا پتھر نہ سمجھئے دل ہی تو ہے\n\nآپ آرزوؔ اب خاموش رہیں کچھ اچھی بری کھل کر نہ کہیں\nہیں جتنے منہ اتنی باتیں محفل آخر محفل ہی تو ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%B0%D8%A8_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%8C_%D8%A8%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%84%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئی", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئی\nپھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئی\n\nمر کے بھی جذب دل قیس میں تاثیر یہ تھی\nخاک اڑاتی ہوئی لیلیٰ سر تربت آئی\n\nمسجدیں شہر کی اے پیر مغاں خالی ہیں\nمے کدے میں تو جماعت کی جماعت آئی\n\nوہ ہے کھڑکی میں ادھر بھیڑ نظر بازوں کی\nآج اس کوچہ میں سنتے ہیں قیامت آئی\n\nکبھی جی بھر کے وطن میں نہ رہے ہم آسیؔ\nروز میلاد سے تقدیر میں غربت آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "اے جنوں ہاتھ کے چلتے ہی مچل جاؤں گا", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے جنوں ہاتھ کے چلتے ہی مچل جاؤں گا\nمیں گریبان سے پہلے ہی نکل جاؤں گا\n\nوہ ہٹے آنکھ کے آگے سے تو بس صورت عکس\nمیں بھی اس آئنہ خانے سے نکل جاؤں گا\n\nمہر تم سوختہ میں شیشۂ آتش ہے رقیب\nاس پہ ڈالو گے تجلی تو میں جل جاؤں گا\n\nمجھ سے کہتا ہے مرا دود جگر صورت شمع\nدل میں روکو گے تو میں سر سے نکل جاؤں گا\n\nشمع ساں برسر محفل نہ جلا دیکھ مجھے\nپھیل جاؤں گا ستم گر جو پگھل جاؤں گا\n\nٹھہر اے مہر ذرا صبح شب وصل ہے آج\nبام پر دھوپ چڑھے گی تو میں ڈھل جاؤں گا\n\nروکتا ہوں کبھی شوخی سے تو ہر طفل سرشک\nرو کے کہتا ہے ابھی گھر سے نکل جاؤں گا\n\nکار امروز بفردا مگذار اے واعظ\nآج اس کوچہ میں ہوں خلد میں کل جاؤں گا\n\nکون اٹھائے گا الٰہی شب غم کی افتاد\nمنہ کو آتا ہے کلیجہ کہ نکل جاؤں گا\n\nلے کے آنکھوں میں ترا جلوہ کہاں جائے گا\nغیر کو دیکھ کے میں آنکھ بدل جاؤں گا\n\nہر طرح ہاتھ میں ہوں گوشۂ دامن کی طرح\nوہ سنبھالیں گے جو مجھ کو تو سنبھل جاؤں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%85%DA%86%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سے\nفصل گل آئی کہ دیوانے سدھارے شہر سے\n\nخوب روئے حال پر اپنے وطن کا سن کے حال\nکوئی غربت میں جو آ نکلا ہمارے شہر سے\n\nجان دوں گا میں اسیر اے دوستو چپکے رہو\nذکر کیا اس کا کہ دیوانہ سدھارے شہر سے\n\nموسم گل میں رہا زنداں میں اور آئی نہ موت\nسامنے ہوتی نہیں ہے آنکھ سارے شہر سے\n\nجوش وحشت میں جو لی زنداں سے میں نے راہ دشت\nکود کاں مجھ کو خدا حافظ پکارے شہر سے\n\nپاؤں میں مجنوں کے تو طاقت نہیں اے کودکو\nموسم گل کی ہوا تم کو ابھارے شہر سے\n\nاک نظر للہ ہم کو صورت زیبا دکھاؤ\nتشنۂ دیدار جاتے ہیں تمہارے شہر سے\n\nدشت گردی کی نہیں دیوانہ کو کچھ احتیاج\nجامہ سے باہر جو ہے باہر ہے سارے شہر سے\n\nاونٹ سی لگتی ہے دل جنگل سے ہوتا ہے اچاٹ\nسنگ طفلاں کرتے ہیں مجھ کو اشارے شہر سے\n\nلاش وحشت سے نہیں پہونچا میں صحرا تک ہنوز\nجانے والے گور کے پہنچے کنارے شہر سے\n\nموسم گل آئی نیت سیر دیوانوں کی ہو\nمیوۂ صحرائی پر ہیں منہ پسارے شہر سے\n\nاب تو آزردہ ہے تو لیکن ملے گا ہاتھ پھر\nجس گھڑی آتشؔ نکل جاوے گا پیارے شہر سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "اے جہاں آفریں خداے کریم", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "اے جہاں آفریں خداے کریم\nصانع ہفت چرخ و ہفت اقلیم\n\nنام مکلوڈ جن کا ہے مشہور\nیہ ہمیشہ بہ صد نشاط و سرور\n\nعمر و دولت سے شادمان رہیں\nاور غالبؔ پہ مہربان رہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D9%81%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7%DB%92_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D9%85"} {"title": "اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہے\nتجھ سے زیادہ درد ترا کامیاب ہے\n\nعاشق کی بے دلی کا تغافل نہیں جواب\nاس کا بس ایک جوش محبت جواب ہے\n\nتیری عنایتیں کہ نہیں نذر جاں قبول\nتیری نوازشیں کہ زمانہ خراب ہے\n\nاے حسن اپنی حوصلہ افزائیاں تو دیکھ\nمانا کہ چشم شوق بہت بے حجاب ہے\n\nمیں عشق بے نیاز ہوں تم حسن بے پناہ\nمیرا جواب ہے نہ تمہارا جواب ہے\n\nمے خانہ ہے اسی کا یہ دنیا اسی کی ہے\nجس تشنہ لب کے ہاتھ میں جام شراب ہے\n\nاس سے دل تباہ کی روداد کیا کہوں\nجو یہ نہ سن سکے کہ زمانہ خراب ہے\n\nاے محتسب نہ پھینک مرے محتسب نہ پھینک\nظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے\n\nاپنے حدود سے نہ بڑھے کوئی عشق میں\nجو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے\n\nوہ لاکھ سامنے ہوں مگر اس کا کیا علاج\nدل مانتا نہیں کہ نظر کامیاب ہے\n\nمیری نگاہ شوق بھی کچھ کم نہیں مگر\nپھر بھی ترا شباب ترا ہی شباب ہے\n\nمانوس اعتبار کرم کیوں کیا مجھے\nاب ہر خطائے شوق اسی کا جواب ہے\n\nمیں اس کا آئینہ ہوں وہ ہے میرا آئینہ\nمیری نظر سے اس کی نظر کامیاب ہے\n\nتنہائی فراق کے قربان جائیے\nمیں ہوں خیال یار ہے چشم پر آب ہے\n\nسرمایۂ فراق جگرؔ آہ کچھ نہ پوچھ\nاب جان ہے سو اپنے لیے خود عذاب ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%D8%B1%D9%85_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "اے حق سرشت آئنہ حق نما ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:محمد دین تاثیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے حق سرشت آئنہ حق نما ہیں ہم\nاے ابتدائے کار تری انتہا ہیں ہم\n\nتم کیا ہو عشوہ کاریٔ تخیئل اور کیا\nہم کیا ہیں باز گشتہ تمہاری صدا ہیں ہم\n\nذہن ازل میں ایک تصور کا اہتزاد\nمدھم سی ایک نغمۂ کن کی نوا ہیں ہم\n\nکچھ بھی نہیں جو تو نہ ہو تو ہے تو کیا نہیں\nسب کچھ بھی ہم ہیں اور جو سوچیں تو کیا ہیں ہم\n\nآ اے نقاب پوش ازل آ قریب تر\nپردہ الٹ کے آ کہ تیرا مدعا ہیں ہم\n\nکیسی تلاش راہ کہ منزل میں آپ ہیں\nکیسی رجا و بیم کہ خود مدعا ہیں ہم", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AD%D9%82_%D8%B3%D8%B1%D8%B4%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%D8%AD%D9%82_%D9%86%D9%85%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "اے خار خار حسرت کیا کیا فگار ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے خار خار حسرت کیا کیا فگار ہیں ہم\nکیا حال ہوگا اس کا جس دل میں خار ہیں ہم\n\nہر چند دل میں تیرے ظالم غبار ہیں ہم\nکتنے دبے ہوئے ہیں کیا خاکسار ہیں ہم\n\nکیا جانے کیا دکھائے کم بخت راز دشمن\nبے اختیار ہو تم اور بے قرار ہیں ہم\n\nواں شوخیوں نے مارے ناکام کیسے کیسے\nیاں سادگی سے کیا کیا امیدوار ہیں ہم\n\nنے رخت میکدے میں نے کعبے کا ارادہ\nہیں دل لگی کے بندے یاروں کے یار ہیں ہم\n\nواں سرگزشت دشمن وہ کہہ رہے ہیں منہ پر\nیاں بے خودی ہے اس پر کیا راز دار ہیں ہم\n\nساقی تری نگاہیں کب تک رہیں گی پلٹی\nہے نشہ زاہدوں کو اور بادہ خوار ہیں ہم\n\nکعبہ ہے سنگ بالیں زہاد خفتہ دل کا\nاور مے کدے کے اندر شب زندہ دار ہیں ہم\n\nاللہ رے ظرف دل کا سب کی جگہ ہے اس میں\nبے غم رہے ہے دشمن کیا غم گسار ہیں ہم\n\nاے حشر بچ کے چلنا اے چرخ ہٹ کے گرنا\nہے برق سایہ جس کا وہ خار زار ہیں ہم\n\nاتنی خلش مژہ کی اب بڑھ گئی کہ گویا\nزخم دل عدو میں خنجر گزار ہیں ہم\n\nکب تک رہے گا دشمن جامے سے اپنے باہر\nہو آگ آگ جس سے تم وہ شرار ہیں ہم\n\nدشمن کی جیب میں تم صبر و شکیب میں ہم\nتم دست کوتہی ہو پائے نگار ہیں ہم\n\nوادی جستجو سے گزریں تو کیا عجب ہے\nوارفتہ کیسے کیسے لیل و نہار ہیں ہم\n\nکیا بادۂ جوانی مرد آزماں نشہ تھا\nاب اے قلقؔ وبال خواب و خمار ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%81%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "اے خالق ذوالفضل و کرم رحمت کر", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے خالق ذوالفضل و کرم رحمت کر\nاے دافع ہر رنج و الم رحمت کر\nسبقت ہے سدا غضب پہ رحمت کو تری\nاپنی تجھے رحمت کی قسم رحمت کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%84%D9%82_%D8%B0%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%B6%D9%84_%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "اے خدا اے خدا", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "پھول بھیجے ہیں جو تو نے پودوں کے ہاتھ\nسارے دن آج کھیلا ہوں میں ان کے ساتھ\nاور کلیاں کھلا اور کلیاں کھلا\nاے خدا اے خدا اے خدا\n\nرات تاروں سے جھولی بھرے آئی تھی\nگھپ اندھیرا مگر ساتھ وہ لائی تھی\nمیں کبھی خوش ہوا میں کبھی ڈر گیا\nاے خدا اے خدا اے خدا اے خدا\n\nپتیاں ہیں ہتھیلی پہ موتی لیے\nتو نے پودوں کو یہ سب کھلونے دئے\nان سے آتا نہیں ہے مگر کھیلنا\nاے خدا اے خدا اے خدا اے خدا\n\nگانا چڑیاں جو گاتی ہوئی آئی ہیں\nصبح کو چہچہاتی ہوئی آئی ہیں\nان کو تو نے بتایا ہے میرا پتا\nاے خدا اے خدا اے خدا اے خدا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7"} {"title": "اے خضر کے رہبر مجھے گمراہ نہ کر", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے خضر کے رہبر مجھے گمراہ نہ کر\nممنوں گدا دلوں کا یا شاہ نہ کر\nروباہ کی طرح چھپتے ہیں ارباب دول\nیا شیر خدا سائل کو روباہ نہ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AE%D8%B6%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%DB%81%D8%A8%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%AF%D9%85%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "اے خوب رو فرشتہ سیر انجمن میں آ", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے خوب رو فرشتہ سیر انجمن میں آ\nسرو روان حسن ہمارے چمن میں آ\n\nمنہ باندھ کر کلی سا نہ رہ میرے پاس تو\nخنداں ہو کر کے گل کی صفت ٹک سخن میں آ\n\nعشاق جاں بکف کھڑے ہیں تیرے آس پاس\nاے دل ربائے غارت جاں اپنے فن میں آ\n\nدوری نہ کر کنار سوں میری تو اے ہما\nکب لگ رہے گا دور تک اپنے وطن میں آ\n\nتیرے ملاپ بن نہیں فائزؔ کے دل کو چین\nجیوں روح ہو بسا ہے تو اس کے بدن میں آ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%B1%D9%88_%D9%81%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%81_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2"} {"title": "اے دل اب عشق کی لے گوئی اور چوگان میں آ", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے دل اب عشق کی لے گوئی اور چوگان میں آ\nبے خطر ٹھوک کے خم جنگ کے سامان میں آ\n\nخوف غماز رقیبوں کا نہ کر کچھ ہرگز\nہو کے راضی بہ رضا وقت ہے میدان میں آ\n\nفرصت اس وقت غنیمت ہے نکل ظلمت سے\nسلجھ کر زلف سے رخسار درخشان میں آ\n\nگل رخسارہ کا نظارہ تو کر آنکھیں کھول\nانگبیں چکھنے کو پھر دل لب خندان میں آ\n\nبعد اس کے جو اگر سمجھے مناسب اے دل\nقید ہونے کے تئیں چاہ زنخدان میں آ\n\nہرزہ پھرنے سے ترے گوشہ نشینی بہتر\nوہم و شک اور گماں چھوڑ کے ایقان میں آ\n\nوصل و ہجرت کے تئیں ایک سمجھ افریدیؔ\nعقل ہے کچھ بھی اگر صحبت رندان میں آ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%A8_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%DB%92_%DA%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%86%D9%88%DA%AF%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2"} {"title": "اے دل اس زلف کی رکھیو نہ تمنا باقی", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے دل اس زلف کی رکھیو نہ تمنا باقی\nحشر تک ورنہ رہے گی شب یلدا باقی\n\nترے ہنگامہ سے خوش ہوں مگر اے جوش جنوں\nکچھ قیامت کے لئے بھی رہے غوغا باقی\n\nآپ کو بیچ چکا ہوں ترے غم کے ہاتھوں\nہے مگر عشق کا تیرے ابھی سودا باقی\n\nغم ہجراں میں گئی جان چلو خوب ہوا\nدوستوں کو نہ رہے فکر مداوا باقی\n\nجان سینہ سے نکلنے کو ہے دل پہلو سے\nہے فقط اس نگہ ناز کا ایما باقی\n\nخاک عاشق سے اگاتا ہے مغیلاں کا درخت\nاس کی مژگاں کا ہے مرقد میں بھی کھٹکا باقی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "اے دل افسردہ", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے دل افسردہ پینے کی بہاریں آ گئیں\nکالی کالی بدلیاں پھر آسماں پر چھا گئیں\n\nدامن کہسار سے ٹھنڈی ہوا آنے لگی\nنبض خس میں زندگی کا خون دوڑانے لگی\n\nموتیے کے پھول گلزاروں میں لہرانے لگے\nلالہ و نسریں کے جلوے رنگ پر آنے لگے\n\nہے کنار آب دریا ماہ پاروں کا ہجوم\nجس طرح شاداب راتوں میں ستاروں کا ہجوم\n\nکالے کالے آنچلوں میں ان کے چہرے نور پاش\nگہرے گہرے بادلوں میں بجلیوں کا ارتعاش\n\nگل بدن گل پیرہن مہتاب رخ ناز آفریں\nدل ربائی کی اداکاری میں اعجاز آفریں\n\nکچھ لگاوٹ کچھ حیا کچھ شوخیاں کچھ اضطراب\nاپنے سائے سے گریزاں اپنے سائے سے حجاب\n\nدلبری کے سب طریقے سادگی کے رنگ ہیں\nسادگی کے سب طریقے دلبری کے رنگ ہیں\n\nاے دل افسردہ اے کم بخت اے حسرت نصیب\nاے فریب حسن کے پامال اے فرقت نصیب\n\nتو ہے اور اس بے وفا کی بے وفائی کے گلے\nبے وفائی کے گلے درد جدائی کے گلے\n\nہر طرف اک عالم کیف و طرب چھایا ہوا\nاور تو اے بد نصیب شوق مرجھایا ہوا\n\nکیسے کیسے مہ جبیں ہیں نور پیکر برق تاب\nدل نوازی کے لئے بیتاب ہے جن کا شباب\n\nان حسینوں کے اشارات محبت دل فروز\nجن کے جلوے دل ربا ہیں جن کی طلعت دل فروز\n\nدلبری کے کیسے کیسے نکتہ داں موجود ہیں\nسجدہ کرنا ہو تو کتنے آستاں موجود ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1%D8%AF%DB%81"} {"title": "اے دل اپنی تو چاہ پر مت پھول", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے دل اپنی تو چاہ پر مت پھول\nدلبروں کی نگاہ پر مت پھول\n\nعشق کرتا ہے ہوش کو برباد\nعقل کی رسم و راہ پر مت پھول\n\nدام ہے وہ ارے کمند ہے وہ\nدیکھ زلف سیاہ پر مت پھول\n\nواہ کہہ کر جو ہے وہ ہنس دیتا\nآہ اس ڈھب کی واہ پر مت پھول\n\nگر پڑے گا نظیرؔ کی مانند\nتو زنخداں کی چاہ پر مت پھول", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DA%86%D8%A7%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%D8%AA_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84"} {"title": "اے دل بے ادب اس یار کی سوگند نہ کھا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے دل بے ادب اس یار کی سوگند نہ کھا\nتوں ہر اک بات میں دل دار کی سوگند نہ کھا\n\nروح چندر بدن اے بو الہوس آزردہ نہ کر\nخوب نہیں تربت مہیار کی سوگند نہ کھا\n\nیہ ادا سرو میں زنہار نہیں اے قمری\nیار کے قامت و رفتار کی سوگند نہ کھا\n\nخوف کر خط کی سیاہی ستی اے وعدہ خلاف\nہر گھڑی مصحف رخسار کی سوگند نہ کھا\n\nاپنی آنکھوں کی قسم کھا کہ لیا نہیں میں نے\nجان لے کر دل بیمار کی سوگند نہ کھا\n\nپیچ دے دے کے مرے دل کوں پریشاں تو کیا\nناحق اس زلف گرہ دار کی سوگند نہ کھا\n\nتاب اس رخ کی تجلی کی نہیں تجھ کوں سراجؔ\nتوں عبث شعلۂ دیدار کی سوگند نہ کھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AF%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D9%88%DA%AF%D9%86%D8%AF_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "اے دل جو یہ آنکھ آج لڑائی اس نے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے دل جو یہ آنکھ آج لڑائی اس نے\nاور پل میں لڑا کے پھر جھکائی اس نے\nاپنی بے باکی اور حیا کی خوبی\nتھی ہم کو دکھانی سو دکھائی اس نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%A2%D8%AC_%D9%84%DA%91%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92"} {"title": "اے دل زار لکھو جانب جاناں کاغذ", "poet_page": "مصنف:ماتم فضل محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے دل زار لکھو جانب جاناں کاغذ\nحال کا لکھتے ہیں فقرا سوئے سلطاں کاغذ\n\nمرجع گبر و مسلماں ہے وہ بت نام خدا\nبھیجتے ہیں اسے ہندو و مسلماں کاغذ\n\nان کا مضمون بھی البتہ ہویدا ہوگا\nاب جو آنے لگے اس شوخ کو پنہاں کاغذ\n\nحیف ہے صبح وطن سے نہ ہوا وارد وقت\nہیچ گاہے بہ سر شام غریباں کاغذ\n\nکسی کا بھی نہ جواب آیا ہمیں غربت میں\nلاکھ ہم لکھے وطن کو سوئے یاراں کاغذ\n\nوصف افشاں کا ہے کس سیم بدن کے لکھنا\nکاغذی ہم کو ہے درکار زر افشاں کاغذ\n\nاس قدر ہم نے گراں کر دئیے لکھ لکھ کے کسے\nورنہ کس مرتبہ تھے شہر میں ارزاں کاغذ\n\nلکھتے ہم تو خط محبوب کو ہر دم نو خط\nلکھنے دیتے جو ہمیں دیدۂ گریاں کاغذ\n\nمجھ سے دیوانہ کو کیا خط وہ پری زاد لکھے\nلکھتے البتہ ہیں انساں سوئے انساں کاغذ\n\nبھیجتا ہوں میں کسی رشک گلستاں کی طرف\nمیرا پہنچائے مگر مرغ گلستاں کاغذ\n\nبھیجتا ہوں میں کسی ثانیٔ بلقیس کے صوب\nمیرا لے جائے مگر مرغ سلیماں کاغذ\n\nکیا مگر بھول گئے باعث جمعیت خویش\nہم کو بھیجے نہ عدم سے جو عزیزاں کاغذ\n\nکہتے ہیں نصف ملاقات ہے مکتوب بھی یار\nکبھی لکھو تو سوئے ماتم نالاں کاغذ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0"} {"title": "اے دل نہ سن افسانہ کسی شوخ حسیں کا", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے دل نہ سن افسانہ کسی شوخ حسیں کا\nناعاقبت اندیش رہے گا نہ کہیں کا\n\nدنیا کا رہا ہے دل ناکام نہ دیں کا\nاس عشق بد انجام نے رکھا نہ کہیں کا\n\nہیں تاک میں اک شوخ کی دزدیدہ نگاہیں\nاللہ نگہبان ہے اب جان حزیں کا\n\nحالت دل بیتاب کی دیکھی نہیں جاتی\nبہتر ہے کہ ہو جائے یہ پیوند زمیں کا\n\nگو قدر وہاں خاک بھی ہوتی نہیں میری\nہر وقت تصور ہے مگر دل میں وہیں کا\n\nہر عاشق جانباز کو ڈر اے ستم آرا\nتلوار سے بڑھ کر ہے تری چین جبیں کا\n\nکچھ سختی دنیا کا مجھے غم نہیں احسنؔ\nکھٹکا ہے مگر دل کو دم بازپسیں کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%86_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اے دل نہ عقیدہ ہے دوا پر نہ دعا پر", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے دل نہ عقیدہ ہے دوا پر نہ دعا پر\nکم بخت تجھے چھوڑ دیا ہم نے خدا پر\n\nاس طرح سنی عشق میں ناصح کی ہر اک بات\nپرہیز کیا کرتے ہیں جس طرح دوا پر\n\nاب تک تو کبھی بے مے و معشوق نہ گزری\nآئندہ رضامند ہوں مالک کی رضا پر\n\nاتنے تو گناہ گار ہیں بدنام محبت\nآنکھیں تو ملی ہیں ترے نقش کف پا پر\n\nدل لینے کے انداز کا کچھ نام نہیں ہے\nموقوف ہے یہ چیز ادا پر نہ حیا پر\n\nاللہ مجھے کم سے کم اتنا تو بنا دے\nایک ایک تو دل دوں تری ایک ایک ادا پر\n\nدیکھیں ترے کوچے کی ذرا آب و ہوا بھی\nچلتے ہیں جو پانی پہ جو اڑتے ہوا پر\n\nآج آپ کو دیکھا مگر اب تک تو سنا تھا\nقائل نہیں ہوتا کبھی انسان خطا پر\n\nمعلوم نہیں کون سی مٹی سے بنے ہیں\nوہ لوگ جو غش ہیں ترے نقش کف پا پر\n\nہم اپنے خیالات کی اصلاح کریں گے\nکوشش تو بہت کی ہے بھروسہ ہے خدا پر\n\nہوتا ہوں تری شان کریمی کے تصدق\nمرنے کے لئے ہوتے ہیں چیونٹی کو عطا پر\n\nاے دوست فراموش یہ ہے حال ہمارا\nآمین کہا کرتے ہیں دشمن کی دعا پر\n\nکیا آہ سے ارمان نکلتے ہیں کسی کے\nپل باندھتے ہیں باندھنے والے تو ہوا پر\n\nتکلیف ہمیشہ دل خود سر نے اٹھائی\nآئی ہیں بلائیں بہت اس ایک بلا پر\n\nاللہ نے کیا کیا ترے منہ سے نہ سنایا\nہم شکر بھی کرتے ہیں شکایت کی بنا پر\n\nتاکا تھا مجھے اور چھدا غیر کا سینہ\nاے واہ نکالے ہیں ترے تیر نے کیا پر\n\nعاشق ہوں تو کیا آپ کی صحبت میں رہا ہوں\nہنسنا ہی پڑے گا مرے رونے کی ادا پر\n\nوہ کون ہیں میں کون ہوں کیا منہ سے نکالوں\nمنصور کو سولی ملی ایسی ہی خطا پر\n\nایسے ترے عاشق کبھی دیکھے نہ سنے تھے\nپہرے تو بٹھائے نہیں نقش کف پا پر\n\nعشاق سے بھولے کہیں دیکھے بھی ہیں تم نے\nمر مٹتے ہیں یہ لوگ فقط نام وفا پر\n\nتم سے تو صفیؔ نے فقط اک ڈھونگ کیا ہے\nکھاتا ہے نہ پیتا ہے تو جیتا ہے ہوا پر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%B9%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "اے دل نہ کر تو فکر پڑے گا بلا کے ہاتھ", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے دل نہ کر تو فکر پڑے گا بلا کے ہاتھ\nآئینہ ہو کے جا کے لگ اب دل ربا کے ہاتھ\n\nپیغام درد دل کا مرے غنچہ لب ستی\nپہنچا سکے گا کون مگر دوں صبا کے ہاتھ\n\nمیں اب گلہ جہاں میں بیگانوں سیں کیا کروں\nجینا ہوا محال مجھے آشنا کے ہاتھ\n\nدینا نہیں ہے شیشۂ دل سنگ دل کے تئیں\nدیجے اگر یہ دل تو کسو میرزا کے ہاتھ\n\nآزاد ہو رہا ہوں دو عالم کے قید سوں\nمیتا لگا ہے جب ستیں مج بے نوا کے ہاتھ\n\nتابع رضا کا اوس کی ازل سیں کیا مجھے\nچلتا نہیں ہے زور کسوں کا قضا کے ہاتھ\n\nحاتمؔ امید حق پہ نہ راکھے تو کیا کرے\nموقوف ہے ملاپ سجن کا خدا کے ہاتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D9%BE%DA%91%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے\nوہ عمر کیا ہوئی وہ زمانے کدھر گئے\n\nویراں ہیں صحن و باغ بہاروں کو کیا ہوا\nوہ بلبلیں کہاں وہ ترانے کدھر گئے\n\nہے نجد میں سکوت ہواؤں کو کیا ہوا\nلیلائیں ہیں خموش دوانے کدھر گئے\n\nاجڑے پڑے ہیں دشت غزالوں پہ کیا بنی\nسونے ہیں کوہسار دوانے کدھر گئے\n\nوہ ہجر میں وصال کی امید کیا ہوئی\nوہ رنج میں خوشی کے بہانے کدھر گئے\n\nدن رات مے کدے میں گزرتی تھی زندگی\nاخترؔ وہ بے خودی کے زمانے کدھر گئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%88%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "اے دل ہوا ہے جیسے مرے دل کو تو پسند", "poet_page": "مصنف:نواب امراوبہادر دلیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے دل ہوا ہے جیسے مرے دل کو تو پسند\nآیا کوئی حسین نہ ترے روبرو پسند\n\nٹانکے لگاؤ حلق پہ خنجر کو پھیر کر\nپھر یہ کہو ہمیں ہے یہ طوق گلو پسند\n\nایمان سے خدا کے لئے تو ہی سچ بتا\nواعظ کسی کو بھی ہے تری گفتگو پسند\n\nآفت ہے زمزمہ تو غضب گٹکری کی تان\nکیوں ہو نہ مجھ کو تجھ سا بت خوش گلو پسند\n\nدرد فراق میں دل صد چاک کو مرے\nتار نگاہ یار ہے بہر رفو پسند\n\nروز الست سے ہوں میں سرشار واعظو\nکیوں ہو نہ مجھ کو بادہ و جام و سبو پسند\n\nدرد فراق دوست پہ مرتے ہیں دل جگر\nدونوں کو ہے بس ایک یہی آرزو پسند\n\nدیکھوں گا آنکھ اوٹھا کے نہ میں حور کی طرف\nمر کر بھی ہاں رہے گی یہی آرزو پسند\n\nجھوٹی ملے شراب جو اس بت کی ساقیا\nکیوں ہو نہ زاہدوں کو وہ بہر وضو پسند\n\nابرو سے گو لڑا کبھی تیر نگاہ سے\nدل کو ہے میرے جنگ یہ اے جنگجو پسند", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF"} {"title": "اے دل یہ ہے خلاف رسم وفا پرستی", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے دل یہ ہے خلاف رسم وفا پرستی\nتوبہ بتوں کے آگے ذکر خدا پرستی\n\nاک خنجر قضا ہے اک نشتر جفا ہے\nوہ چشم شوخ جو ہے محو حیا پرستی\n\nدکھلاؤں گا تماشا اس آئنے میں تم کو\nصبح ازل سے دل ہے محو صفا پرستی\n\nظالم کی ہے یہ کوشش اس کو کہیں مٹا دوں\nمظلوم دل کو میرے فکر بقا پرستی\n\nکیوں ساز و برگ ہستی کرتا ہے تو مہیا\nدنیا کو ہے ازل سے ذوق فنا پرستی\n\nلائی نہ میکدے سے واپس عزیزؔ تجھ کو\nیہ حکمت و تصوف یہ اولیا پرستی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DB%8C%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%81_%D8%B1%D8%B3%D9%85_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%8C"} {"title": "اے دلا ہم ہوئے پابند غم یار کہ تو", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے دلا ہم ہوئے پابند غم یار کہ تو\nاب اذیت میں بھلا ہم ہیں گرفتار کہ تو\n\nہم تو کہتے تھے نہ عاشق ہو اب اتنا تو بتا\nجا کے ہم روتے ہیں پہروں پس دیوار کہ تو\n\nہاتھ کیوں عشق بتاں سے نہ اٹھایا تو نے\nکف افسوس ہم اب ملتے ہیں ہر بار کہ تو\n\nوہی محفل ہے وہی لوگ وہی ہے چرچا\nاب بھلا بیٹھے ہیں ہم شکل گنہ گار کہ تو\n\nہم تو کہتے تھے کہ لب سے نہ لگا ساغر عشق\nمئے اندوہ سے اب ہم ہوئے سرشار کہ تو\n\nبے جگہ جی کا پھنسانا تجھے کیا تھا درکار\nطعن و تشنیع کے اب ہم ہیں سزا وار کہ تو\n\nوحشت عشق بری ہوتی ہے دیکھا ناداں\nہم چلے دشت کو اب چھوڑ کے گھر بار کہ تو\n\nآتش عشق کو سینے میں عبث بھڑکایا\nاب بھلا کھینچوں ہوں میں آہ شرربار کہ تو\n\nہم تو کہتے تھے نہ ہم راہ کسی کے لگ چل\nاب بھلا ہم ہوئے رسوا سر بازار کہ تو\n\nغور کیجے تو یہ مشکل ہے زمیں اے جرأتؔ\nدیکھیں ہم اس میں کہیں اور بھی اشعار کہ تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%BA%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%88"} {"title": "اے دوست تلطف سیں مرے حال کوں آ دیکھ", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے دوست تلطف سیں مرے حال کوں آ دیکھ\nسینے کی اگن مہر کے پانی سیں بجھا دیکھ\n\nصادق ہوں مجھے بو الہوس اے جان توں مت جان\nشمشیر تغافل دل زخمی پہ چلا دیکھ\n\nپیاسا ہوں تری تیغ کے پانی کا ہر اک دم\nباور نہیں یہ بات تو یک بار پلا دیکھ\n\nمجھ آہ کی گرمی سیں جھڑے پھول چمن کے\nاے سرو گلستان ادا باغ میں جا دیکھ\n\nبندہ ہوں ترا خواہ کرم خواہ جفا کر\nجس طرز ترے شوق میں ہوئے مجھ کوں جلا دیکھ\n\nنقد دل خالص کوں مری قلب توں مت جان\nہے تجھ کوں اگر شبہ تو کس دیکھ تپا دیکھ\n\nتجھ لب کے تبسم میں ہے اعجاز مسیحا\nاے جان سراجؔ اس دل بے جاں کوں جلا دیکھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D8%AA%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%A2_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE"} {"title": "اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا\nدشمن کے بھی دشمن پر ایسا نہ ہوا ہوگا\n\nاب اشک حنائی سے جو تر نہ کرے مژگاں\nوہ تجھ کف رنگیں کا مارا نہ ہوا ہوگا\n\nٹک گور غریباں کی کر سیر کہ دنیا میں\nان ظلم رسیدوں پر کیا کیا نہ ہوا ہوگا\n\nبے نالہ و بے زاری بے خستگی و خواری\nامروز کبھی اپنا فردا نہ ہوا ہوگا\n\nہے قاعدہ کلی یہ کوئے محبت میں\nدل غم جو ہوا ہوگا پیدا نہ ہوا ہوگا\n\nاس کہنہ خرابے میں آبادی نہ کر منعم\nیک شہر نہیں یاں جو صحرا نہ ہوا ہوگا\n\nآنکھوں سے تری ہم کو ہے چشم کہ اب ہووے\nجو فتنہ کہ دنیا میں برپا نہ ہوا ہوگا\n\nجز مرتبۂ کل کو حاصل کرے ہے آخر\nیک قطرہ نہ دیکھا جو دریا نہ ہوا ہوگا\n\nصد نشتر مژگاں کے لگنے سے نہ نکلا خوں\nآگے تجھے میرؔ ایسا سودا نہ ہوا ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D8%A7_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "اے دیدہ خانماں تو ہمارا ڈبو سکا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے دیدہ خانماں تو ہمارا ڈبو سکا\nلیکن غبار یار کے دل سے نہ دھو سکا\n\nتجھ حسن نے دیا نہ کبھو مفسدی کو چین\nفتنہ نہ تیرے دور میں پھر نیند سو سکا\n\nجو شمع تن ہوا شب ہجراں میں صرف اشک\nپر جس قدر میں چاہے تھا اتنا نہ رو سکا\n\nسوداؔ قمار عشق میں شیریں سے کوہ کن\nبازی اگرچہ پا نہ سکا سر تو کھو سکا\n\nکس منہ سے پھر تو آپ کو کہتا ہے عشق باز\nاے رو سیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%88%D8%A8%D9%88_%D8%B3%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ\nورنہ جگر کو روئے گا تو دھر کے سر پہ ہاتھ\n\nچھوڑا نہ دل میں صبر نہ آرام نے قرار\nتیری نگہ نے صاف کیا گھر کے گھر پہ ہاتھ\n\nکھائے ہے اس مزے سے غم عشق میرا دل\nجیسے گرسنہ مارے ہے حلوائے تر پہ ہاتھ\n\nخط دے کے چاہتا تھا زبانی بھی کچھ کہے\nرکھا مگر کسی نے دل نامہ بر پہ ہاتھ\n\nجوں پنج شاخہ تو نہ جلا انگلیاں طبیب\nرکھ رکھ کے نبض عاشق تفتہ جگر پہ ہاتھ\n\nقاتل یہ کیا ستم ہے کہ اٹھتا نہیں کبھی\nآ کر مزار کشتۂ تیغ نظر پہ ہاتھ\n\nمیں ناتواں ہوں خاک کا پروانے کی غبار\nاٹھتا ہوں رکھ کے دوش نسیم سحر پہ ہاتھ\n\nاے شمع ایک چور ہے بادی یہ باد صبح\nمارے ہے کوئی دم میں ترے تاج زر پہ ہاتھ\n\nاے ذوقؔ میں تو بیٹھ گیا دل کو تھام کر\nاس ناز سے کھڑے تھے وہ رکھ کر کمر پہ ہاتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B0%D9%88%D9%82%D8%94_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%92_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "اے رشک قمر آگے ترے شمس و قمر کیا", "poet_page": "مصنف:مردان صفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مردان صفی (1914)", "year": "1914", "text_ur": "اے رشک قمر آگے ترے شمس و قمر کیا\nسو جاں سے فدا ہوں میں یہ ہے جان و جگر کیا\n\nاک آن میں دیتے ہو جلا عشق کے مارے\nان باتوں سے تھی عیسیٔ مریم کو خبر کیا\n\nغیرت میں محبت میں مروت میں ترا مثل\nپایا نہیں ہم نے کہیں اور ہوگا بشر کیا\n\nدن بھر ہے تصور ہے مگر بات کو رونا\nکرتے ہیں میاں دیکھیے یہ دیدۂ تر کیا\n\nہم تم ہیں دل و جاں سے اگر ایک ہی مرداںؔ\nکہنے کو ہیں وہ ایک ہیں ہم دو ہیں مگر کیا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%82%D9%85%D8%B1_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B4%D9%85%D8%B3_%D9%88_%D9%82%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اے روشنی دیدہ شہاب الدین خاں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے روشنی دیدہ شہاب الدین خاں\nکٹتا ہے بتاؤ کس طرح سے رمضاں\nہوتی ہے تراویح سے فرصت کب تک\nسنتے ہو تراویح میں کتنا قرآں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%B4%DB%81%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D8%AE%D8%A7%DA%BA"} {"title": "اے رُوحِ محمدؐ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "شِیرازہ ہُوا ملّتِ مرحوم کا ابتر\nاب تُو ہی بتا، تیرا مسلمان کِدھر جائے!\nوہ لذّتِ آشوب نہیں بحرِ عرَب میں\nپوشیدہ جو ہے مجھ میں، وہ طوفان کِدھر جائے\nہر چند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاد\nاس کوہ و بیاباں سے حُدی خوان کِدھر جائے\nاس راز کو اب فاش کر اے رُوحِ محمدؐ\nآیاتِ الہیٰ کا نگہبان کِدھر جائے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B1%D9%8F%D9%88%D8%AD%D9%90_%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%90"} {"title": "اے زلف اس کے منہ سے تو تو لپٹ رہی ہے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے زلف اس کے منہ سے تو تو لپٹ رہی ہے\nگیسو کو کاٹیو مت وہ آپ کٹ رہی ہے\n\nہو کس طرح میسر اس بحر حسن کی سیر\nابرو کی ایک کشتی سو بھی الٹ رہی ہے\n\nدل دینے کی حقیقت ہم خوب جانتے ہیں\nہے غم کسی کا اس کو جو زلف لٹ رہی ہے\n\nمحروم ہم ہی ہیں اس مہماں سرا میں ورنہ\nکس کس طرح کی نعمت خلقت کو بٹ رہی ہے\n\nخالی نہیں خلل سے ؔجوشش یہ خیبر دل\nدن رات موج غم کی اس سے چمٹ رہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%84%D9%BE%D9%B9_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اے سبط مصطفےٰ کے تجھ کو سلام پہنچے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "سلام", "year": null, "text_ur": "اے سبط مصطفےٰ کے تجھ کو سلام پہنچے\nاے جان مرتضےٰ کے تجھ کو سلام پہنچے\nاے حکم کش قضا کے تجھ کو سلام پہنچے\nاے غمزدہ سدا کے تجھ کو سلام پہنچے\n\nبابا شہ ولایت نانا کی خلق امت\nدریا کنارے اترے سارے وہ بے مروت\nتو تشنہ کام تنہا یہ رنج یہ مصیبت\nاے مبتلا بلا کے تجھ کو سلام پہنچے\n\nبیٹے بھتیجے بھائی یار و رفیق سارے\nساقی کوثر آگے کیا تشنہ لب سدھارے\nپانی جو تونے مانگا سو تیر تجھ کو مارے\nاے خستہ دل جفا کے تجھ کو سلام پہنچے\n\nاللہ ری تیری عزت مرنا جو تونے ٹھانا\nزنہار منھ نہ پھیرا گو پھر گیا زمانہ\nآتا ہے کس سے ایسا بیکس ہو مارے جانا\nاے دل زدہ رضا کے تجھ کو سلام پہنچے\n\nبرسا کی تیغ لیکن تونے سپر نہ رکھی\nدریا بہا کیا پر تونے نظر نہ رکھی\nکیا کہیے جب توجہ ٹک جان پر نہ رکھی\nکشتہ ہیں اس وفا کے تجھ کو سلام پہنچے\n\nتسلیم کا رضا کا دیکھا ترا عجب ڈھب\nوقت بریدن سر سجدے میں تھا مودب\nیہ بندگی الٰہی یہ انکسار یارب\nاے شوق کش خدا کے تجھ کو سلام پہنچے\n\nمجلس میں گر پڑا تھا گرم آش کا پیالہ\nچھینٹیں پڑیں جو تجھ پر سہما وہ لانے والا\nغصے کو کھا گیا تو منھ سے نہ کچھ نکالا\nاے صاحب اس حیا کے تجھ کو سلام پہنچے\n\nتعریف سے ہے باہر سید ترا یہ ساکا\nشائستہ معرکے میں تو ہی تھا اپنی جا کا\nاب نقش ہے دلوں پر تیرے ثبات پا کا\nاے باب صد ثنا کے تجھ کو سلام پہنچے\n\nدرویش بے بضاعت ہے میرؔ دست کوتہ\nغیر از سلام تحفہ رکھتا نہیں ہے کچھ وہ\nہر لحظہ اور ہر دم ہر گاہ اور بے گہ\nاے شاہ دوسرا کے تجھ کو سلام پہنچے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%A8%D8%B7_%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%92%D9%B0_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%92"} {"title": "اے ستم آزما جفا کب تک", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے ستم آزما جفا کب تک\nکشتۂ زندگی وفا کب تک\n\nگرمیٔ کوشش جفا کب تک\nدعویٔ شہرت وفا کب تک\n\nاے دل زہد خو ریا کب تک\nنامرادانہ مدعا کب تک\n\nایک میں مل گیا خدا مارا\nیوں نباہے گا دوسرا کب تک\n\nامتحاں پر یہ امتحاں تا چند\nآزما آزمائے گا کب تک\n\nحسرت آئے گی دم میں سو سو بار\nاے ہوس شور مرحبا کب تک\n\nقدرت صبر عاقبت کتنی\nجرأت طاقت آزما کب تک\n\nتم سمجھ جاؤ میری خاموشی\nنہ کہوں کہئے مدعا کب تک\n\nکیجئے اب مرے نباہ کی فکر\nیار صبر گریز پا کب تک\n\nخواب میں بھی وہ آئیں گے تا چند\nمیں ملا بھی تو یوں ملا کب تک\n\nدل میں کب تک تمہارے کھٹکوں گا\nچشم دشمن میں میری جا کب تک\n\nتندرستیٔ دل ہے بے جانی\nدرد بے درد کی دوا کب تک\n\nترک کی صاف اس نے گویائی\nنرگس سرمہ سا خفا کب تک\n\nاے دل بے قرار و بے آرام\nنالہ تا چند تا کجا کب تک\n\nاے قلقؔ وصل میں بھی ہوں ناشاد\nطالع نارسا رسا کب تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A2%D8%B2%D9%85%D8%A7_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "اے ستم گر نہیں دیکھا جاتا", "poet_page": "مصنف:مرزا مائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے ستم گر نہیں دیکھا جاتا\nزخم دل پر نہیں دیکھا جاتا\n\nہم سے زاہد کو برابر اپنے\nلب کوثر نہیں دیکھا جاتا\n\nدشت کی جس میں کوئی بات نہ ہو\nہم سے وہ گھر نہیں دیکھا جاتا\n\nہم نے دیکھا ہی نہیں جلوۂ یار\nکہیں کیوں کر نہیں دیکھا جاتا\n\nدیکھنا شوق شہادت میرا\nمجھ سے خنجر نہیں دیکھا جاتا\n\nطور پر دیکھنے جاتے ہیں کلیمؔ\nدل کے اندر نہیں دیکھا جاتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "اے سجن وقت جاں گدازی ہے", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے سجن وقت جاں گدازی ہے\nموسم‌ عیش و فصل بازی ہے\n\nان چکوروں سے دور رہ اے چاند\nقول عشاق کا نمازی ہے\n\nاس قلندر کی بات سہل نہ بوجھ\nعشق کے فن میں فخر رازی ہے\n\nہم قریں مجھ نہ کر رقیباں سوں\nطور یاروں کی پاک بازی ہے\n\nعاشقاں جان و دل گنواتے ہیں\nیہ نہ طور زمانہ سازی ہے\n\nفائزؔ اس خوش ادا سریجن پاس\nبے گناہاں کا قتل بازی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%AC%D9%86_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D8%AF%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اے شاہ کے غم میں جان کھونے والو", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے شاہ کے غم میں جان کھونے والو\nاے ابن علی کے صدقے ہونے والو\nاس اجر عظیم کو نہ دو ہاتھوں سے\nاب دو ہی شبیں اور ہیں رونے والو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88"} {"title": "اے شب ہجر کہیں تیری سحر ہے کہ نہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے شب ہجر کہیں تیری سحر ہے کہ نہیں\nنالۂ نیم شبی تجھ میں اثر ہے کہ نہیں\n\nجان پر اپنی میں کھیلا ہوں جدائی میں تری\nبے خبر تجھ کو بھی کچھ اس کی خبر ہے کہ نہیں\n\nایک مدت ہوئی ہم وصف کمر کرتے ہیں\nپر یہ معلوم نہیں اس کے کمر ہے کہ نہیں\n\nرکھ نہ سوزن کو ذرا دیکھ تو لے اے جراح\nقابل بخیہ مرا زخم جگر ہے کہ نہیں\n\nکیا خوش آئی ہے دلا منزل ہستی تجھ کو\nسچ بتا یاں سے ترا عزم سفر ہے کہ نہیں\n\nتو جو بے پردہ ہو منہ غیر کو دکھلاتا ہے\nپاس میرا بھی کچھ اے رشک قمر ہے کہ نہیں\n\nدیکھ تو اے بت بے مہر تری فرقت میں\nہر بن موے مرا دیدۂ تر ہے کہ نہیں\n\nاس کے در پر ہی جو رہتا ہوں میں دن رات پڑا\nمجھ سے جھنجھلا کے کہے ہے ترے گھر ہے کہ نہیں\n\nمصحفیؔ اس کی گلی میں جو تو جاتا ہے سدا\nاپنی بدنامی کا کچھ تجھ کو بھی ڈر ہے کہ نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح\nمیں نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح\n\nدل کے سوا کوئی نہ تھا سرمایہ اشک کا\nحیراں ہوں کام آنکھوں کا جاری ہے کس طرح\n\nعنصر ہے خیر و شر کا ہر اک شے میں یوں نہاں\nہر شمع بزم نوری و ناری ہے جس طرح\n\nبس یوں سمجھ لو مجھ کو امید سحر نہ تھی\nکیا پوچھتے ہو رات گزاری ہے کس طرح\n\nاس نقش مستقل پہ ہے شرمندہ آئینہ\nتصویر ان کی دل پہ اتاری ہے اس طرح\n\nناطقؔ جلال میں بھی اثر اس قدر نہیں\nرعب جمال قلب پہ طاری ہے جس طرح", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "اے شمع دل افروز شب تار محبت", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے شمع دل افروز شب تار محبت\nبخشے ہے یہی گرمی بازار محبت\n\nکرتے ہیں عبث مجھ دل بیمار کا درماں\nوابستہ مری جاں سے ہے آزار محبت\n\nاے لالہ رخاں ان کے تئیں داغ نہ سمجھو\nپھولا ہے مرے سینہ میں گل زار محبت\n\nگر ہم سے چھپاتا ہے تو بیدارؔ ولیکن\nانکار ہی تیرا ہے یہ اقرار محبت\n\nرہتا ہے مری جان کہیں عشق بھی پنہاں\nظاہر ہیں تری شکل سے آثار محبت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%B4%D8%A8_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA"} {"title": "اے شہ اقلیم شوکت السلام", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "سلام", "year": null, "text_ur": "اے شہ اقلیم شوکت السلام\nرونق تخت خلافت السلام\nاختر چرخ سیادت الصلوٰۃ\nنیر برج سعادت السلام\nتو جو ناگہ خانہ روشن کر گیا\nتیرہ ہے بزم رسالت السلام\nمقتدا تو پیشواؤں کا رہا\nتجھ کو زیبا تھی امامت السلام\nتو ہے جس پر دم بہ دم بھیجیں درود\nیا کہیں ساعت بہ ساعت السلام\nکربلا میں تو جہاں قائم رہا\nتھا قیام اس جا قیامت السلام\nبات کہتے جان اپنی دے گیا\nاے تمامی جود و ہمت السلام\nامتحان حق سے یوں نکلا ہے کون\nاللہ اللہ تیری غیرت السلام\nوادی بے آب میں تو کیا کھلا\nاے گل باغ شہادت السلام\nغم میں تیرے خاک ہو کیونکر نہ میرؔ\nسخت تھی اس کو کدورت السلام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B4%DB%81_%D8%A7%D9%82%D9%84%DB%8C%D9%85_%D8%B4%D9%88%DA%A9%D8%AA_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "اے شہ عالی مقام تجھ پہ درود و سلام", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "سلام", "year": null, "text_ur": "اے شہ عالی مقام تجھ پہ درود و سلام\nبعد ہزاراں سلام تجھ پہ درود و سلام\nاے شہ من الوداع وے مہ من الفراق\nاے گل تر السلام تجھ پہ درود و سلام\nآوے ہے بے اختیار صل علیٰ لب پہ ساتھ\nلیتے ہیں جب تیرا نام تجھ پہ درود و سلام\nراہرو راہ راست قطرہ زناں گریہ ناک\nکہتے گئے گام گام تجھ پہ درود و سلام\nبھیجتے ہیں صبح و شام بعد قعود و قیام\nاہل مساجد تمام تجھ پہ درود و سلام\nکیا کہے غیر از سکوت داور محشر اگر\nچاہیں ترا انتقام تجھ پہ دورد و سلام\nواہ رے اسلام و دیں سبط محمدؐ سے کیں\nقتل بھی پھر قتل عام تجھ پہ درود و سلام\nآہ لب آب سب تجھ پہ یہ رنج و تعب\nجی سے گیا تشنہ کام تجھ پہ درود و سلام\nکیا کہیں ہم یا امام دل کے تئیں تھام تھام\nکہتے ہیں ہر صبح و شام تجھ پہ درود و سلام\nحرف ہو کچھ تو کہیں تیرے تقدس کے بیچ\nکہتے ہیں ہم لاکلام تجھ پہ درود و سلام\nمردم پیشیں سے گر پیچھے ہے تیرا ظہور\nپر تو ہے سب کا امام تجھ پہ درود و سلام\nروکے ترے رنگ سے خوبی تھی اس باغ کی\nاے گل خیرالانام تجھ پہ درود و سلام\nجی سے گیا اپنے تو ہوکے کھڑا جس جگہ\nواں تھا قیامت قیام تجھ پہ درود و سلام\nاب کہے سو کیا کہے میرؔ زمانہ زدہ\nروز و شب و صبح و شام تجھ پہ درود و سلام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B4%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D8%AF%D8%B1%D9%88%D8%AF_%D9%88_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "اے شہنشاہ آسماں اورنگ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "اے شہنشاہ آسماں اورنگ\nاے جہاں دار آفتاب آثار\nتھا میں اک بے نواے گوشہ نشیں\nتھا میں اک درد مند سینہ فگار\nتم نے مجھ کو جو آبرو بخشی\nہوئی میری وہ گرمی بازار\nکہ ہوا مجھ سا ذرہ ناچیز\nروشناس ثوابت و سیار\nگرچہ از روے ننگ بے ہنری\nہوں خود اپنی نظر میں اتنا خوار\nکہ گر اپنے کو میں کہوں خاکی\nجانتا ہوں کہ آئے خاک کو عار\nشاد ہوں لیکن اپنے جی میں کہ ہوں\nبادشہ کا غلام کار گزار\nخانہ زاد اور مرید اور مداح\nتھا ہمیشہ سے یہ عریضہ گزار\nبارے نوکر بھی ہو گیا صد شکر\nنسبتیں ہو گئیں مشخص چار\nنہ کہوں آپ سے تو کس سے کہوں\nمدعاے ضروری الاظہار\nپیر و مرشد اگرچہ مجھ کو نہیں\nذوق آرایش سرود ستار\nکچھ تو جاڑے میں چاہیے آخر\nتانہ دے بادز مہریر آزار\nکیوں نہ درکار ہو مجھے پوشش\nجسم رکھتا ہوں ہے اگرچہ نزار\nکچھ خریدا نہیں ہے اب کے سال\nکچھ بنایا نہیں ہے اب کی بار\nرات کو آگ اور دن کو دھوپ\nبھاڑ میں جائیں ایسے لیل و نہار\nآگ تاپے کہاں تلک انساں\nدھوپ کھاوے کہاں تلک جاں دار\nدھوپ کی یابش آگ کی گرمی\nوقنا ربنا عذاب النار\nمیری تنخواہ جو مقرر ہے\nاس کے ملنے کا ہے عجب ہنجار\nرسم ہے مردے کی چھ ماہی ایک\nخلق کا ہے اسی چلن پہ مدار\nمجھ کو دیکھو تو ہوں بقید حیات\nاور چھ ماہی ہو سال میں دوبار\nبس کہ لیتا ہوں ہر مہینے قرض\nاور رہتی ہے سود کی تکرار\nمیری تنخواہ میں تہائی کا\nہو گیا ہے شریک ساہوکار\nآج مجھ سا نہیں زمانے میں\nشاعر نغز گوے خوش گفتار\nرزم کی داستان گر سنیے\nہے زباں میری تیغ جوہر دار\nبزم کا التزام گر کیجیے\nہے قلم میری ابر گوہر بار\nظلم ہے گر نہ دو سخن کی داد\nقہر ہے گر کرو نہ مجھ کو پیار\nآپ کا بندہ اور پھروں ننگا\nآپ کا نوکر اور کھاؤں ادھار\nمیری تنخواہ کیجیے ماہ بماہ\nتا نہ ہو مجھ کو زندگی دشوار\nختم کرتا ہوں اب دعا پہ کلام\nشاعری سے نہیں مجھے سروکار\nتم سلامت رہو ہزار برس\nہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B4%DB%81%D9%86%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%86%DA%AF"} {"title": "اے شہنشاہ فلک منظر بے مثل و نظیر", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "اے شہنشاہ فلک منظر بے مثل و نظیر\nاے جہاندار کرم شیوۂ بے شبہ و عدیل\nپانو س تیرے ملے فرق ارادت اورنگ\nفرق سے تیرے کرے کسب سعادت اکلیل\nتیرا انداز سخن شانۂ زلف الہام\nتیری رفتار قلم جنبش بال جبریل\nتجھ سے عالم پہ کھلا رابطۂ قرب کلیم\nتجھ سے دنیا میں بچھا مائدہ بذل خلیل\nبہ سخن اوج وہ مرتبۂ معنی و لفظ\nبہ کرم داغ نہ ناصیۂ قلزم و نیل\nتاترے وقت میں ہو عیش و طرب کی توفیر\nتاترے عہد میں ہو رنج و الم کی تقلیل\nماہ نے چھوڑ دیا ثور سے جانا باہر\nزہرہ نے ترک کیا حوت سے کرنا تحویل\nتیری دانش مری اصلاح مفاسد کی رہین\nتیری بخشش مرے انجاح مقاصد کی کفیل\nتیرا اقبال ترحم مرے جینے کی نوید\nتیرا انداز تغافل مرے مرنے کی دلیل\nبخت ناساز نے چاہا کہ نہ دے مجھ کو اماں\nچرخ کج باز نے چاہا کہ کرے مجھ کو ذلیل\nپیچھے ڈالی ہے سر رشتۂ اوقات میں گانٹھ\nپہلے ٹھونکی ہے بن ناخن تدبیر میں کیل\nتپش دل نہیں بے رابطۂ خوف عظیم\nکشش دم نہیں بے ضابطۂ جر ثقیل\nدر معنی سے مرا صفحہ لقا کی داڑھی\nغم گیتی سے مرا سینہ عمر کی زنبیل\nفکر میری گہر اندوز اشارات کثیر\nکلک میری رقم آموز عبارات قلیل\nمیرے ابہام پہ ہوتی ہے تصدق توضیح\nمیرے اجمال سے کرتی ہے تراوش تفصیل\nنیک ہوتی مری حالت تو نہ دیتا تکلیف\nجمع ہوتی مری خاطر تو نہ کرتا تعجیل\nقبلۂ کون و مکاں خستہ نوازی میں یہ دیر\nکعبۂ امن و اماں عقدہ کشائی میں یہ ڈھیل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B4%DB%81%D9%86%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%85%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D9%85%D8%AB%D9%84_%D9%88_%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1"} {"title": "اے شیخ تیری پند و نصیحت سے کیا ہوا", "poet_page": "مصنف:کیفی کاکوروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے شیخ تیری پند و نصیحت سے کیا ہوا\nکمبخت چھوٹتا ہے کہیں دل لگا ہوا\n\nشرم و حیا کو چھوڑیئے برقع اٹھائیے\nکب تک رہے گا چاند گہن میں دیا ہوا\n\nمانگا تھا بوسہ آپ سے لے تو نہیں لیا\nبرہم ہو کیوں بتائیے نقصان کیا ہوا\n\nدعویٰ ہمارے دل پہ بتوں کو ہے کس لئے\nکیا ان کے ہاتھ بیع ہوا یا ہبہ ہوا\n\nبوسہ ضرور لیں گے کسی روز دیکھنا\nلب پہ ہے ان کے دانت ہمارا لگا ہوا\n\nاو بت تری خدائی کا قصہ سناؤں گا\nاللہ سے جو حشر کے دن سامنا ہوا\n\nہم نے نگاہ پھیر کے دیکھا جو غیر کو\nکیفیؔ کے دل سے پوچھئے انجام کیا ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%D9%86%D8%AF_%D9%88_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%AD%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "اے شیخ حرم تک تجھے آنا جانا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے شیخ حرم تک تجھے آنا جانا\nیہ طوف جلاہے کاہے تانا بانا\nپہچانے گا واں کیا اسے حیراں ہوں میں\nجس کو حرم دل میں نہ تیں پہچانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%AA%DA%A9_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A2%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "اے شیفتہ نویدِ شبِ غم سحر ہے آج", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے شیفتہ نویدِ شبِ غم سحر ہے آج\nہم تابِ آفتاب، فروغِ قمر ہے آج\n\nآہنگِ دل پذیر سے مطرب ہے جاں نواز\nآہِ جگر خراش کا ظاہر اثر ہے آج\n\nدل سے کشادہ تر نہ ہو کیوں کر فضائے بزم\nتنگیِ خانہ حلقۂ بیرونِ در ہے آج\n\nفانوس میں نہ شمع، نہ شیشے میں ہے پری\nساغر میں جس بہار سے مے جلوہ گر ہے آج\n\nپروانوں کا دماغ بھی ہے آسمان پر\nنورِ چراغ میں جو فروغِ قمر ہے آج\n\nہر سمت جلوہ گر ہیں جوانانِ لالہ رُو\nگلزار جس کو کہتے ہیں وہ اپنا گھر ہے آج\n\nسامان وہ کہ آئے نہ چشمِ خیال میں\nآ اے رقیب دیکھ کہ پیشِ نظر ہے آج\n\nوہ دن گئے کہ ربطِ سر و سنگ تھا بہم\nشکرانے کے سجود ہیں اور اپنا سر ہے آج\n\nاسبابِ عیش یہ جو مہیا ہے شیفتہ\nکیا پردہ تم سے، آنے کی اُن کے خبر ہے آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D9%81%D8%AA%DB%81_%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%AF%D9%90_%D8%B4%D8%A8%D9%90_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "اے صبا جذب پہ جس دم دل ناشاد آیا", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے صبا جذب پہ جس دم دل ناشاد آیا\nاپنی آغوش میں اڑ کر وہ پری زاد آیا\n\nمحو ابرو کے لئے خنجر فولاد آیا\nذبح کرنا بھی نہ تجھ کو مرے جلاد آیا\n\nسرکشی پر جو وہ سرو ستم ایجاد آیا\nپاس آرے کے گھسٹتا ہوا شمشاد آیا\n\nچشم موسیٰ ہمہ تن بن گیا میں حیرت سے\nدیکھا اک بت کا وہ عالم کہ خدا یاد آیا\n\nدم آغاز جنوں طوق گلو گیر ہوا\nغل مچانے بھی نہ پائے تھی کہ حداد آیا\n\nکٹ گئے مارے خجالت کے جوانان چمن\nباڑھ پر قد جو ترا او ستم ایجاد آیا\n\nعاشقوں سے نہ رہا کوئی زمانہ خالی\nکبھی وامق کبھی مجنوں کبھی فرہاد آیا\n\nدل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے\nبیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانئے کیا یاد آیا\n\nروئے غربت میں ہجوم گل صحرائی پر\nچمن‌ مجمع یاران وطن یاد آیا\n\nمژۂ یار کے نشتر کے ہوئے سودائی\nخون‌ فاسد کی طرح جوش میں فصاد آیا\n\nبن گیا خال جبین کوکب بخت یوسف\nکس ترقی پہ ترا حسن خداداد آیا\n\nعارض صاف کا کھینچا نہ گیا جب نقشہ\nآئنہ لے کے ترے سامنے بہزاد آیا\n\nبیت ہستی کے صباؔ ہو گئے معنی روشن\nخواجہ آتشؔ سا زمانے میں جو استاد آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%AC%D8%B0%D8%A8_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اے صبا کہہ بہار کی باتیں", "poet_page": "مصنف:ناجی شاکر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے صبا کہہ بہار کی باتیں\nاس بت گل عذار کی باتیں\n\nکس پہ چھوڑے نگاہ کا شہباز\nکیا کرے ہے شکار کی باتیں\n\nمہربانی سیں یا ہوں غصے سیں\nپیاری لگتی ہیں یار کی باتیں\n\nچھوڑتے کب ہیں نقد دل کوں صنم\nجب یہ کرتے ہیں پیار کی باتیں\n\nپوچھیے کچھ کہیں ہیں کچھ ناجیؔ\nآ پڑیں روزگار کی باتیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اے صف مژگاں تکلف بر طرف", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے صف مژگاں تکلف بر طرف\nدیکھتی کیا ہے الٹ دے صف کی صف\n\nدیکھ وہ گورا سا مکھڑا رشک سے\nپڑ گئے ہیں ماہ کے منہ پر کلف\n\nآ گیا جب بزم میں وہ شعلہ رو\nشمع تو بس ہو گئی جل کر تلف\n\nساقی بھی یوں جام لے کر رہ گیا\nجس طرح تصویر ہو ساغر بکف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D9%81_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9%D9%84%D9%81_%D8%A8%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "اے صنم تجھ برہ میں روتا ہوں", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے صنم تجھ برہ میں روتا ہوں\nاشک خونیں سیں منہ کوں دھوتا ہوں\n\nبندگی میں مجھے قبول کرو\nمیں تمہارا غلام ہوتا ہوں\n\nبارش آب اشک ہے درکار\nداغ ہجراں کے بیج بوتا ہوں\n\nبولتا ہوں جو وو بلاتا ہے\nتن کے پنجرے میں اس کا طوطا ہوں\n\nمت کہو مجھ سیں قصۂ فرہاد\nخواب شیریں میں آج سوتا ہوں\n\nگوہر اشک کوں مثال سراجؔ\nرشتۂ آہ میں پروتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D8%B1%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے\nاسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے\n\nتیغ بے آب ہے نے بازوئے قاتل کمزور\nکچھ گراں جانی ہے کچھ موت نے فرصت دی ہے\n\nاس قدر کس کے لیے یہ جنگ و جدل اے گردوں\nنہ نشاں مجھ کو دیا ہے نہ تو نوبت دی ہے\n\nسانپ کے کاٹے کی لہریں ہیں شب و روز آتیں\nکاکل یار کے سودے نے اذیت دی ہے\n\nآئی اکسیر غنی دل نہیں رکھتی ایسا\nخاکساری نہیں دی ہے مجھے دولت دی ہے\n\nشمع کا اپنے فتیلہ نہیں کس رات جلا\nعمل حب کی بہت ہم نے بھی دعوت دی ہے\n\nجسم کو زیر زمیں بھی وہی پہونچا دے گا\nروح کو جس نے فلک سیر کی طاقت دی ہے\n\nفرقت یار میں رو رو کے بسر کرتا ہوں\nزندگانی مجھے کیا دی ہے مصیبت دی ہے\n\nیاد محبوب فراموش نہ ہووے اے دل\nحسن نیت نے مجھے عشق سے نعمت دی ہے\n\nگوش پیدا کیے سننے کو ترا ذکر جمال\nدیکھنے کو ترے، آنکھوں میں بصارت دی ہے\n\nلطف دل بستگیٔ عاشق شیدا کو نہ پوچھ\nدو جہاں سے اس اسیری نے فراغت دی ہے\n\nکمر یار کے مضمون کو باندھو آتشؔ\nزلف خوباں سی رسا تم کو طبیعت دی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%D8%B3%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "اے صنم سب ہیں ترے ہاتھوں سے نالاں آج کل", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے صنم سب ہیں ترے ہاتھوں سے نالاں آج کل\nصورت ناقوس ہیں گبر و مسلماں آج کل\n\nباغ میں کہتے ہیں وہ لالے کا تختہ دیکھ کر\nگل کھلاتی ہے عجب خاک شہیداں آج کل\n\nحرف مطلب اپنے دیوانے کا بھی سن جا ذرا\nہو تجھے چھٹی جو اے طفل‌ دبستاں آج کل\n\nموسم جوش جنوں ہے جامۂ گل کی طرح\nخودبخود ہوتے ہیں ٹکڑے جیب و داماں آج کل\n\nپیشتر خط سے مزا تھا حسن کا اے نونہال\nہو گیا داغی ترا سیب زنخداں آج کل\n\nیاد کرتے ہیں کسی کے مصحف رخسار کو\nطاق نسیاں پر رکھا ہے ہم نے قرآں آج کل\n\nزلفیں چھوڑی ہیں جو اس صیاد گل رخسار نے\nدام میں پھنستے ہیں مرغان‌ گلستاں آج کل\n\nہائے وہ خوش قد پئے گلگشت اب آتا نہیں\nنخل ماتم ہے ہر اک سرو گلستاں آج کل\n\nضعف کے ہاتھوں ہوئے فصل جنوں میں تنگ ہم\nہو گیا پھانسی ہمیں اپنا گریباں آج کل\n\nان دنوں میں زور ہوتا ہے ہمیں جوش جنوں\nبھاگتا ہے چھوڑ کر مجنوں بیاباں آج کل\n\nجو حسیں ہے گرد ہے اس بادشاہ حسن کی\nرہتا ہے پریوں کی جھومر میں سلیماں آج کل\n\nاینڈتے ہیں کج ادائی کرتے ہیں عشاق سے\nبل کی لیتے ہیں بہت گیسوئے جاناں آج کل\n\nگلشن عالم مری نظروں میں باغ سبز ہے\nدیکھتا ہوں سبزۂ‌ گور غریباں آج کل\n\nسامنا ہر روز کا ہے اس بت سفاک سے\nاے صباؔ اللہ ہے اپنا نگہباں آج کل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%B3%D8%A8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%D9%84"} {"title": "اے صنم طالب نہیں وہ خلد سے گلزار کا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے صنم طالب نہیں وہ خلد سے گلزار کا\nمبتلا کو چاہیے سایہ تری دیوار کا\n\nمیہماں ہے کوئی دم کا یا کوئی ساعت کا وہ\nحال اب دیکھا نہیں جاتا ترے بیمار کا\n\nخوب صورت گوہر خوش آب کی ہر اک لڑی\nسلسلہ کیسا بندھا ہے آنسوؤں کے تار کا\n\nگھر کیا ہے اے صنم اس میں تری تصویر نے\nبند ہونا غیر ممکن دیدۂ دیدار کا\n\nزندگانی کا مزا کیا کیا نہیں دکھلا گیا\nاس مرے دل کے مکاں میں چھپ کے آنا یار کا\n\nکیجیے نذر بتاں اب شوق سے ایمان و دل\nکیا پہننا سہل سمجھا آپ نے زنار کا\n\nکھول کر پر کیف آنکھیں دیکھتے ہیں وہ ادھر\nلیجئے وہ کھل گیا اب خانۂ خمار کا\n\nدیکھنے کو تاب کیا ہو طالب دیدار کا\nنور سے شمس و قمر میں تیرے ہی رخسار کا\n\nعاصیوں کے جرم کو وہ حشر میں افشا کرے\nاے جمیلہؔ کام یہ ہرگز نہیں ہشیار کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%AE%D9%84%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%84%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اے صنم مجھ کو کسی سے بھی سروکار نہیں بخدا تیرے سوا", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے صنم مجھ کو کسی سے بھی سروکار نہیں بخدا تیرے سوا\nدین و ایماں سے بھی مطلب مجھے زنہار نہیں میں تو بندہ ہوں ترا\n\nراس آئی نہ اسے باغ کی بھی آب و ہوا عارضہ کچھ نہ گھٹا\nاچھی ہونے کی بس اب نرگس بیمار نہیں اس کا حافظ ہے خدا\n\nیہ وہی دل ہے کہ معشوقوں کا تھا مد نظر تھا ہجوم آٹھ پہر\nاب وہی دل ہے کہ کوئی بھی خریدار نہیں ایسا بازار گرا\n\nنبض ساقط ہی ہوئی آنکھیں بھی ہیں چھت سے لگیں ہے دم باز پسیں\nزندگی کے مرے اب کوئی بھی آثار نہیں یوں تو قادر ہے خدا\n\nکیسا کیسا تری فرقت میں ہوا حال مرا تو نے پوچھا نہ ذرا\nتجھ سا بے رحم کوئی اے بت عیار نہیں اور اگر ہے تو بتا\n\nاپنے بیگانے ہوئے دوست بنے دشمن جاں خوں کا پیاسا ہے جہاں\nاے صنم تو ہی مری شکل سے بیزار نہیں ایک عالم ہے خفا\n\nاکبرؔ خستہ سے کہہ دو کہ وہ تیار رہے ہم کمر باندھ چکے\nاب یہاں رہنے کا موقع کوئی زنہار نہیں قافلہ آگے بڑھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D8%B1%D9%88%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7"} {"title": "اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے\nوہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے\n\nنہیں بچتا نہیں بچتا نہیں بچتا عاشق\nپوچھتے کیا ہو شب ہجر میں کیا ہوتا ہے\n\nبے اثر نالے نہیں آپ کا ڈر ہے مجھ کو\nابھی کہہ دیجیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے\n\nکیوں نہ تشبیہ اسے زلف سے دیں عاشق زار\nواقعی طول شب ہجر بلا ہوتا ہے\n\nیوں تکبر نہ کرو ہم بھی ہیں بندے اس کے\nسجدے بت کرتے ہیں حامی جو خدا ہوتا ہے\n\nبرقؔ افتادہ وہ ہوں سلطنت عالم میں\nتاج سر عجز سے نقش کف پا ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو\nدل میں ہزار درد اٹھے آنکھ تر نہ ہو\n\nمدت میں شام وصل ہوئی ہے مجھے نصیب\nدو چار سال تک تو الٰہی سحر نہ ہو\n\nاک پھول ہے گلاب کا آج ان کے ہاتھ میں\nدھڑکا مجھے یہ ہے کہ کسی کا جگر نہ ہو\n\nڈھونڈے سے بھی نہ معنی باریک جب ملا\nدھوکا ہوا یہ مجھ کو کہ اس کی کمر نہ ہو\n\nالفت کی کیا امید وہ ایسا ہے بے وفا\nصحبت ہزار سال رہے کچھ اثر نہ ہو\n\nطول شب وصال ہو مثل شب فراق\nنکلے نہ آفتاب الٰہی سحر نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B6%D8%A8%D8%B7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "اے طینت عبث اب بدی سے باز آ", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے طینت عبث اب بدی سے باز آ\nاے حسن ارادت اپنا جلوہ دکھلا\nنیکی کا گزر نہ ہونے پایا دل میں\nانجام بخیر ہو جو حاصل ہو صفا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B7%DB%8C%D9%86%D8%AA_%D8%B9%D8%A8%D8%AB_%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%D8%AF%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B2_%D8%A2"} {"title": "اے ظالم ترے جب سے پالے پڑے", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے ظالم ترے جب سے پالے پڑے\nہمیں اپنے جینے کے لالے پڑے\n\nپھرے ڈھونڈتے پا برہنہ تجھے\nیہاں تک کہ پاؤں میں چھالے پڑے\n\nکیا ہے یہ طغیاں مرے اشک نے\nکہ بہتے ہیں دنیا میں نالے پڑے\n\nچلا غیر پر نئیں یہ تیر نگاہ\nہماری ہی چھاتی پہ بھالے پڑے\n\nہمیں کیوں کہ وہ شوخ بالے نہ دے\nکہ اب کان میں کان بالے پڑے\n\nمرا خون دل یوں بہا دشت میں\nکہ جنگل میں لوہو کے تھالے پڑے\n\nجہاں دارؔ غم ہے کسی لالہ رو کا\nجو دل پر ترے داغ کالے پڑے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D9%84%DB%92_%D9%BE%DA%91%DB%92"} {"title": "اے عشق تو نے واقف منزل بنا دیا", "poet_page": "مصنف:دل شاہ جہانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے عشق تو نے واقف منزل بنا دیا\nاب مرحلوں کو اور بھی مشکل بنا دیا\n\nاللہ رے شوق قیس کی جلوہ طرازیاں\nاکثر غبار دشت کو محمل بنا دیا\n\nمیں غرق ہو رہا تھا کہ طوفان عشق نے\nاک موج بے قرار کو ساحل بنا دیا\n\nہم نے اک آہ سرد کو شمع سحر کے ساتھ\nروداد ناتمام کا حاصل بنا دیا\n\nاے دل یہ سب امیر سخنور کا فیض ہے\nذرہ کو جس نے جوہر قابل بنا دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%82%D9%81_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اے عشق تیری اب کے وہ تاثیر کیا ہوئی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے عشق تیری اب کے وہ تاثیر کیا ہوئی\nشور جنوں کدھر گیا زنجیر کیا ہوئی\n\nدیوانہ پن کا میرے جو کرتے نہیں علاج\nتدبیر کرنے والوں کی تدبیر کیا ہوئی\n\nآگو کی طرح آپ جو اب بولتے نہیں\nکیا جانے ایسی ہم سے وہ تقصیر کیا ہوئی\n\nہم نے تو تم کو دوڑ کے کولی میں بھر لیا\nفرمائیے اب آپ کی شمشیر کیا ہوئی\n\nکی تھی جو میں مرقع عالم سے انتخاب\nاے مصحفیؔ دریغ وہ تصویر کیا ہوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D8%A7%D8%AB%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "اے عشق کہیں لے چل", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے عشق کہیں لے چل اس پاپ کی بستی سے\nنفرت گہہ عالم سے لعنت گہہ ہستی سے\nان نفس پرستوں سے اس نفس پرستی سے\n\nدور اور کہیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nہم پریم پجاری ہیں تو پریم کنہیا ہے\nتو پریم کنہیا ہے یہ پریم کی نیا ہے\nیہ پریم کی نیا ہے تو اس کا کھویا ہے\n\nکچھ فکر نہیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nبے رحم زمانے کو اب چھوڑ رہے ہیں ہم\nبے درد عزیزوں سے منہ موڑ رہے ہیں ہم\nجو آس کہ تھی وہ بھی اب توڑ رہے ہیں ہم\n\nبس تاب نہیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nیہ جبر کدہ آزاد افکار کا دشمن ہے\nارمانوں کا قاتل ہے امیدوں کا رہزن ہے\nجذبات کا مقتل ہے جذبات کا مدفن ہے\n\nچل یاں سے کہیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nآپس میں چھل اور دھوکے سنسار کی ریتیں ہیں\nاس پاپ کی نگری میں اجڑی ہوئی پرتیں ہیں\nیاں نیائے کی ہاریں ہیں انیائے کی جیتیں ہیں\n\nسکھ چین نہیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nاک مذبح جذبات و افکار ہے یہ دنیا\nاک مسکن اشرار و آزار ہے یہ دنیا\nاک مقتل احرار و ابرار ہے یہ دنیا\n\nدور اس سے کہیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nیہ درد بھری دنیا بستی ہے گناہوں کی\nدل چاک امیدوں کی سفاک نگاہوں کی\nظلموں کی جفاؤں کی آہوں کی کراہوں کی\n\nہیں غم سے حزیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nآنکھوں میں سمائی ہے اک خواب نما دنیا\nتاروں کی طرح روشن مہتاب نما دیا\nجنت کی طرح رنگیں شاداب نما دنیا\n\nللّٰلہ وہیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nوہ تیر ہو ساگر کی رت چھائی ہو پھاگن کی\nپھولوں سے مہکتی ہو پروائی گھنے بن کی\nیا آٹھ پہر جس میں جھڑ بدلی ہو ساون کی\n\nجی بس میں نہیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nقدرت ہو حمایت پر ہمدرد ہو قسمت بھی\nسلمیٰؔ بھی ہو پہلو میں سلمیٰؔ کی محبت بھی\nہر شے سے فراغت ہو اور تیری عنایت بھی\n\nاے طفل حسیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nاے عشق ہمیں لے چل اک نور کی وادی میں\nاک خواب کی دنیا میں اک طور کی وادی میں\nحوروں کے خیالات مسرور کی وادی میں\n\nتا خلد بریں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nسنسار کے اس پار اک اس طرح کی بستی ہو\nجو صدیوں سے انساں کی صورت کو ترستی ہو\nاور جس کے نظاروں پر تنہائی برستی ہو\n\nیوں ہو تو وہیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nمغرب کی ہواؤں سے آواز سی آتی ہے\nاور ہم کو سمندر کے اس پار بلاتی ہے\nشاید کوئی تنہائی کا دیس بتاتی ہے\n\nچل اس کے قریں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nاک ایسی فضا جس تک غم کی نہ رسائی ہو\nدنیا کی ہوا جس میں صدیوں سے نہ آئی ہو\nاے عشق جہاں تو ہو اور تیری خدائی ہو\n\nاے عشق وہیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nایک ایسی جگہ جس میں انسان نہ بستے ہوں\nیہ مکر و جفا پیشہ حیوان نہ بستے ہوں\nانساں کی قبا میں یہ شیطان نہ بستے ہوں\n\nتو خوف نہیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nبرسات کی متوالی گھنگھور گھٹاؤں میں\nکہسار کے دامن کی مستانہ ہواؤں میں\nیا چاندنی راتوں کی شفاف فضاؤں میں\n\nاے زہرہ جبیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nان چاند ستاروں کے بکھرے ہوئے شہروں میں\nان نور کی کرنوں کی ٹھہری ہوئی نہروں میں\nٹھہری ہوئی نہروں میں سوئی ہوئی لہروں میں\n\nاے خضر حسیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!\n\nاک ایسی بہشت آئیں وادی میں پہنچ جائیں\nجس میں کبھی دنیا کے غم دل کو نہ تڑپائیں\nاور جس کی بہاروں میں جینے کے مزے آئیں\n\nلے چل تو وہیں لے چل!\nاے عشق کہیں لے چل!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DB%92_%DA%86%D9%84"} {"title": "اے عشق ہمیں برباد نہ کر", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر\nپہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم تو اور ہمیں ناشاد نہ کر\nقسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر\n\nیوں ظلم نہ کر بیداد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر\n\nجس دن سے ملے ہیں دونوں کا سب چین گیا آرام گیا\nچہروں سے بہار صبح گئی آنکھوں سے فروغ شام گیا\nہاتھوں سے خوشی کا جام چھٹا ہونٹوں سے ہنسی کا نام گیا\n\nغمگیں نہ بنا ناشاد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر\n\nہم راتوں کو اٹھ کر روتے ہیں رو رو کے دعائیں کرتے ہیں\nآنکھوں میں تصور دل میں خلش سر دھنتے ہیں آہیں بھرتے ہیں\nاے عشق یہ کیسا روگ لگا جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیں\n\nیہ ظلم تو اے جلاد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر\n\nیہ روگ لگا ہے جب سے ہمیں رنجیدہ ہوں میں بیمار ہے وہ\nہر وقت تپش ہر وقت خلش بے خواب ہوں میں بے دار ہے وہ\nجینے پہ ادھر بیزار ہوں میں مرنے پہ ادھر تیار ہے وہ\n\nاور ضبط کہے فریاد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر\n\nجس دن سے بندھا ہے دھیان ترا گھبرائے ہوئے سے رہتے ہیں\nہر وقت تصور کر کر کے شرمائے ہوئے سے رہتے ہیں\nکمھلائے ہوئے پھولوں کی طرح کمہلائے ہوئے سے رہتے ہیں\n\nپامال نہ کر برباد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر\n\nبے درد! ذرا انصاف تو کر اس عمر میں اور مغموم ہے وہ\nپھولوں کی طرح نازک ہے ابھی تاروں کی طرح معصوم ہے وہ\nیہ حسن ستم! یہ رنج غضب! مجبور ہوں میں مظلوم ہے وہ\n\nمظلوم پہ یوں بیداد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر\n\nاے عشق خدارا دیکھ کہیں وہ شوخ حزیں بد نام نہ ہو\nوہ ماہ لقا بد نام نہ ہو وہ زہرہ جبیں بد نام نہ ہو\nناموس کا اس کے پاس رہے وہ پردہ نشیں بد نام نہ ہو\n\nاس پردہ نشیں کو یاد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر\n\nامید کی جھوٹی جنت کے رہ رہ کے نہ دکھلا خواب ہمیں\nآئندہ کی فرضی عشرت کے وعدوں سے نہ کر بیتاب ہمیں\nکہتا ہے زمانہ جس کو خوشی آتی ہے نظر کم یاب ہمیں\n\nچھوڑ ایسی خوشی کو یاد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر\n\nکیا سمجھے تھے اور تو کیا نکلا یہ سوچ کے ہی حیران ہیں ہم\nہے پہلے پہل کا تجربہ اور کم عمر ہیں ہم انجان ہیں ہم\nاے عشق! خودارا! رحم و کرم معصوم ہیں ہم نادان ہیں ہم\n\nنادان ہیں ہم ناشاد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر\n\nوہ راز ہے یہ غم آہ جسے پا جائے کوئی تو خیر نہیں\nآنکھوں سے جب آنسو بہتے ہیں آ جائے کوئی تو خیر نہیں\nظالم ہے یہ دنیا دل کو یہاں بھا جائے کوئی تو خیر نہیں\n\nہے ظلم مگر فریاد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر\n\nدو دن ہی میں عہد طفلی کے معصوم زمانے بھول گئے\nآنکھوں سے وہ خوشیاں مٹ سی گئیں لب کو وہ ترانے بھول گئے\nان پاک بہشتی خوابوں کے دلچسپ فسانے بھول گئے\n\nان خوابوں سی یوں آزاد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر\n\nاس جان حیا کا بس نہیں کچھ بے بس ہے پرائے بس میں ہے\nبے درد دلوں کو کیا ہے خبر جو پیار یہاں آپس میں ہے\nہے بے بسی زہر اور پیار ہے رس یہ زہر چھپا اس رس میں ہے\n\nکہتی ہے حیا فریاد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر\n\nآنکھوں کو یہ کیا آزار ہوا ہر جذب نہاں پر رو دینا\nآہنگ طرب پر جھک جانا آواز فغاں پر رو دینا\nبربط کی صدا پر رو دینا مطرب کے بیاں پر رو دینا\n\nاحساس کو غم بنیاد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر\n\nہر دم ابدی راحت کا سماں دکھلا کے ہمیں دلگیر نہ کر\nللٰلہ حباب آب رواں پر نقش بقا تحریر نہ کر\nمایوسی کے رمتے بادل پر امید کے گھر تعمیر نہ کر\n\nتعمیر نہ کر آباد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر\n\nجی چاہتا ہے اک دوسرے کو یوں آٹھ پہر ہم یاد کریں\nآنکھوں میں بسائیں خوابوں کو اور دل میں خیال آباد کریں\nخلوت میں بھی ہو جلوت کا سماں وحدت کو دوئی سے شاد کریں\n\nیہ آرزوئیں ایجاد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر\n\nدنیا کا تماشا دیکھ لیا غمگین سی ہے بیتاب سی ہے\nامید یہاں اک وہم سی ہے تسکین یہاں اک خواب سی ہے\nدنیا میں خوشی کا نام نہیں دنیا میں خوشی نایاب سی ہے\n\nدنیا میں خوشی کو یاد نہ کر\nاے عشق ہمیں برباد نہ کر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "اے عیش و طرب تو نے جہاں راج کیا", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے عیش و طرب تو نے جہاں راج کیا\nسلطاں کو گدا غنی کو محتاج کیا\nویراں کیا تو نے نینواؔ اور بابلؔ\nبغداد کو 'قرطبہ' کو تاراج کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D9%88_%D8%B7%D8%B1%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%AC_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "اے غم زدہ ضبط کر کے چلنا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے غم زدہ ضبط کر کے چلنا\nہر گام ٹھہر ٹھہر کے چلنا\n\nانداز غضب ہے یہ بتوں کا\nہاتھوں کو کمر پہ دھر کے چلنا\n\nجاتے ہوئے اس گلی سے ہم کو\nہر گام اک آہ بھر کے چلنا\n\nاے کبک کہاں تو اور وہ رفتار\nپاوے گا نہ ایسا مر کے چلنا\n\nاے مصحفیؔ کیوں دبوں نہ اس سے\nعاشق کا ہے شیوہ ڈر کے چلنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%B2%D8%AF%DB%81_%D8%B6%D8%A8%D8%B7_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84%D9%86%D8%A7"} {"title": "اے فلک چاہیئے جی بھر کے نظارہ ہم کو", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے فلک چاہیئے جی بھر کے نظارہ ہم کو\nجا کے آنا نہیں دنیا میں دوبارہ ہم کو\n\nکبھی ایما نہ کنایہ نہ اشارہ ہم کو\nکم نگاہی نے تری جان سے مارا ہم کو\n\nہم کسی زلف پریشاں کی طرح اے تقدیر\nخوب بگڑے تھے مگر خوب سنوارا ہم کو\n\nجب کھنچے ان سے ہوئے اور زیادہ مضطر\nمرض عشق کے پرہیز نے مارا ہم کو\n\nروز تکرار کرے کون خریداروں سے\nدل کی اس گرمئ بازار نے مارا ہم کو\n\nآپ سے اب نہ بنے گا کوئی سودا اپنا\nپھیر دیجے دل بیتاب ہمارا ہم کو\n\nبحر ہستی میں ہوئے کشتیئ طوفانی ہم\nنہیں ملتا کہیں اے داغؔ کنارہ ہم کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%81%D9%84%DA%A9_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%D8%A6%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%B8%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "اے مرد خدا ہو تو پرستار بتاں کا", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے مرد خدا ہو تو پرستار بتاں کا\nمذہب میں مرے کفر ہے انکار بتاں کا\n\nلگتی وہ تجلی شرر سنگ کے مانند\nموسی تو اگر دیکھتا دیدار بتاں کا\n\nگردن میں مرے طوق ہے زنار کے مانند\nہوں عشق میں ازبسکہ گنہ گار بتاں کا\n\nدونوں کی ٹک اک سیر کر انصاف سے اے شیخ\nکعبے سے ترے گرم ہے بازار بتاں کا\n\nدوں ساری خدائی کو عوض ان کے میں تاباںؔ\nکوئی مجھ سا بتا دے تو خریدار بتاں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%AF_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اے مری جان ہمیشہ ہو تری جان کی خیر", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے مری جان ہمیشہ ہو تری جان کی خیر\nنازکی دور بلا، حسن کے سامان کی خیر\n\nرات دن شام سحر پہر گھڑی پل ساعت\nمانگتے جاتی ہے ہم کو تری آن آن کی خیر\n\nمہندی چوٹی ہو سوائی ہو چمک پیٹی کی\nعمر چوٹی کی بڑی زلف پریشان کی خیر\n\nبے طرح بوجھ سے جھمکوں کے جھکے پڑتے ہیں\nکیجو اللہ تو ان جھمکوں کی اور کان کی خیر\n\nپان کھایا ہے تو اس وقت بھی لازم ہے یہی\nایک بوسہ ہمیں دیجے لب و دندان کی خیر\n\nآنکھ اٹھا دیکھیے اور دیکھ کے ہنس بھی دیجے\nاپنے کاجل کی زکوٰۃ اور مسی و پان کی خیر\n\nپہلے جس آن تمہاری نے لیا دل ہم سے\nاب تلک مانگتے ہیں دل سے ہم اس آن کی خیر\n\nکیا غضب نکلے ہے بن ٹھن کے وہ کافر یارو\nآج ہوتی نظر آتی نہیں ایمان کی خیر\n\nجتنے محبوب پری زاد ہیں دنیا میں نظیرؔ\nسب کے اللہ کرے حسن کی اور جان کی خیر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%DB%8C%D8%B1"} {"title": "اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا\nآنکھوں سے خوں بہائے جا ہونٹوں سے مسکرائے جا\n\nجانے سے پہلے بے وفا شب کو سحر بنائے جا\nدل کو بجھا کے کیا چلا شمع کو بھی بجھائے جا\n\nسانس کا تار ٹوٹ جائے ٹوٹے نہ تار آہ کا\nایک ہی لے پہ گائے جا ایک ہی دھن بجائے جا\n\nحکم طلب کے منتظر شوق کی آبرو نہ کھو\nسر کو قدم بنا کے چل آنکھوں سے بے بلائے جا\n\nلے وہ دوائے تلخ ہے جس کا اثر ہے خوش گوار\nپینے میں منہ بنائے جا دل میں مزے اٹھائے جا\n\nجوشش چشم اشک بار مفت نہ رکھ کرم کا بار\nمیری لگی تو بجھ چکی اپنی لگی بجھائے جا\n\nمنزل بے خودیٔ شوق حد نظر سے دور ہے\nپیچھے پلٹ کے بھی نہ دیکھ آگے قدم بڑھائے جا\n\nاک ہمہ تن ہے پائے ناز اک ہمہ تن سر نیاز\nیہ تو چلن جہاں کا ہے جتنا دے دبائے جا\n\nظرف شراب تیرے پاس ظروف سرور میرے پاس\nدل تو نہیں بقدر جام دیکھ نہ منہ پلائے جا\n\nدونوں ہیں ناز دلبری ضد میں ہے جن کی اور لطف\nایک طرف لگائے جا ایک طرف بجھائے جا\n\nچاند میں گم چکور خود چاند کہیں چھپا ہوا\nاپنی تلاش ختم کر اس کا پتہ لگائے جا\n\nآرزوؔ اس سے کہہ دو صاف غم کا اثر ہے دیر پا\nجلد ہنسی نہ آئے گی اور ابھی گدگدائے جا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "اے مصور جو مری تصویر کھینچ", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے مصور جو مری تصویر کھینچ\nحسرت آگیں غمزدہ دلگیر کھینچ\n\nجذب بھی کچھ اے تصور چاہئے\nخود کھنچے جس شوخ کی تصویر کھینچ\n\nاے محبت داغ دل مرجھا نہ جائیں\nعطر ان پھولوں کا بے تاخیر کھینچ\n\nآ بتوں میں دیکھ زاہد شان حق\nدیر میں چل نعرۂ تکبیر کھینچ\n\nایک ساغر پی کے بوڑھا ہو جوان\nوہ شراب اے مے کدہ کے پیر کھینچ\n\nدل نہ اس بت کا دکھے کہتا ہے عشق\nکھینچ جو نالہ وہ بے تاثیر کھینچ\n\nدل ادھر بیتاب ہے ترکش ادھر\nکھینچتا ہوں آہ میں تو تیر کھینچ\n\nکچھ تو کام آ ہجر میں او اضطراب\nشوخیٔ محبوب کی تصویر کھینچ\n\nقیس سے دشت جنوں میں کہہ جلالؔ\nآگے آگے چل مرے زنجیر کھینچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86"} {"title": "اے مصور یاد کی تصویر کھینچا چاہئے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے مصور یاد کی تصویر کھینچا چاہئے\nہاتھ میرا اس کا دامن گیر کھینچا چاہئے\n\nمجھ سے بسمل کی اگر تصویر کھینچا چاہئے\nیہ گلا میرا تہہ شمشیر کھینچا چاہئے\n\nبستۂ زلف مسلسل ہے یہ دل صورت گرو\nدونوں جانب اس کے دو زنجیر کھینچا چاہئے\n\nرنگ زرد عاشقاں کر صرف جائے زعفراں\nاس بسنتی پوش کی تصویر کھینچا چاہئے\n\nکاغذ ابری پہ لکھ حال دل پر سوز عشق\nگرد اس کے برق کی تحریر کھینچا چاہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%B5%D9%88%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "اے منشی خیرہ سر سخن ساز نہ ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے منشیِ خیرہ سر سخن ساز نہ ہو\nعصفور ہے تو مقابلِ باز نہ ہو\nآواز تیری نکلی اور آواز کے ساتھ\nلاٹھی وہ لگی کہ جس میں آواز نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%85%D9%86%D8%B4%DB%8C_%D8%AE%DB%8C%D8%B1%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "اے موت تجھ پہ عمر ابد کا مدار ہے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے موت تجھ پہ عمر ابد کا مدار ہے\nتو اعتبار ہستی بے اعتبار ہے\n\nعہد ازل پہ زندگیوں کا مدار ہے\nعالم تمام غم کدۂ اعتبار ہے\n\nذرات چشم شوق ہیں آمادۂ نگاہ\nمحرومیوں کو اب بھی ترا انتظار ہے\n\nبیداد کا گلہ تو کروں اور جو وہ کہیں\nیہ کہیے امتحان وفا ناگوار ہے\n\nاک یہ وفا کہ ننگ غم دوست ہے ہنوز\nاک وہ ستم کہ حسن کا آئینہ دار ہے\n\nتمییز حسن و عشق نہ عرفان غم مگر\nاک تیر بے پناہ کلیجے کے پار ہے\n\nمختار ہوں کہ معترف جبر دوست ہوں\nمجبور ہوں کہ یہ بھی کوئی اختیار ہے\n\nاب کس کو اعتبار کہ تو بے وفا نہیں\nاب کس کو انتظار مگر انتظار ہے\n\nباقی نہیں کسی کو نشاط جنوں کا ہوش\nکس جوش پر شباب غم روزگار ہے\n\nآداب عاشقی کا تقاضا ہے اور بات\nتو ورنہ دل کی آڑ میں خود بے قرار ہے\n\nہوگی کسی کو فرصت نظارۂ جمال\nفانیؔ خراب حسن تماشائے یار ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%AA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%A7%D8%A8%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "اے مومنو فاطمہ کا پیارا شبیر", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے مومنو فاطمہؓ کا پیارا شبیر\nکل جائے گا بھوکا پیاسا مارا شبیر\nہو جائیں گے سب تعزیہ خانے سنسان\nآج اور ہے مہمان تمہارا شبیر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86%D9%88_%D9%81%D8%A7%D8%B7%D9%85%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%B4%D8%A8%DB%8C%D8%B1"} {"title": "اے مہرؔ جو واں نقاب سر کا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے مہرؔ جو واں نقاب سر کا\nتڑکا ہو جائے گا سحر کا\n\nاللہ رے طول بل بے الجھاؤ\nہے زلف کا قصہ رات بھر کا\n\nمخفی کی بیاض بھی تو دیکھیں\nمضمون تو ڈھونڈیئے کمر کا\n\nبنتا تو ہے خاک سے بھی سونا\nمحتاج نہیں فقیر زر کا\n\nدل میں ہے خیال چہرۂ یار\nہمسایہ ہوں آئنہ کے گھر کا\n\nمیٹھا تیرے لب کا کیا ہے مجھ کو\nہے رنگ تو سرخ اس شکر کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%94_%D8%AC%D9%88_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "اے مہرباں ہے گر یہی صورت نباہ کی", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے مہرباں ہے گر یہی صورت نباہ کی\nباز آئے دل لگانے سے توبہ گناہ کی\n\nالٹے گلے وہ کرتے ہیں کیوں تم نے چاہ کی\nکیا خوب داد دی ہے دل داد خواہ کی\n\nقاتل کی شکل دیکھ کے ہنگام باز پرس\nنیت بدل گئی مرے اک اک گواہ کی\n\nمیری تمہاری شکل ہی کہہ دے گی روز حشر\nکچھ کام گفتگو کا نہ حاجت گواہ کی\n\nاے شیخ اپنے اپنے عقیدے کا فرق ہے\nحرمت جو دیر کی ہے وہی خانقاہ کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D9%86%D8%A8%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "اے میرؔ کہاں دل کو لگایا تونے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے میرؔ کہاں دل کو لگایا تونے\nشکل اپنی بگاڑ کر کڑھایا تونے\nجی میں نہ ترے حال نہ منھ پر کچھ رنگ\nاپنا یہ حال کیا بنایا تونے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DA%AF%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88%D9%86%DB%92"} {"title": "اے ناصح چشم تر سے مت کر آنسو پاک رہنے دے", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے ناصح چشم تر سے مت کر آنسو پاک رہنے دے\nارے بے درد رونے میں مجھے بے باک رہنے دے\n\nبرس مت ابر مٹ جاگا بگھولا خاک مجنوں کا\nخدا کے واسطے دشت جنوں کی ناک رہنے دے\n\nدل زخمی ہے شائق بوئے گل اور شور بلبل کا\nرفو گر فصل گل میں یہ گریباں چاک رہنے دے\n\nیہ طاقت نذر ہے اے ناتوانی پر بہاروں میں\nمرے ہاتھوں کو چاک جیب پر چالاک رہنے دے\n\nنصیحت مجھ کو ترک عشق کی کچھ فرض نہیں تجھ پر\nنہ چھوڑ اے شیخ سنت منہ میں نت مسواک رہنے دے\n\nاڑا مت اے نسیم باغ جنت کیا کروں تجھ کو\nمرے سر پر ذرا پی کی گلی کی خاک رہنے دے\n\nاگر جوں شمع دید شعلہ رویاں چاہئے عزلتؔ\nنظارا تا نہ جل جا چشم کو نمناک رہنے دے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AA%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%B1_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%D9%BE%D8%A7%DA%A9_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%92"} {"title": "اے نسیم سحری ہم تو ہوا ہوتے ہیں", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے نسیم سحری ہم تو ہوا ہوتے ہیں\nدم جو گھٹتا ہے محبت میں خفا ہوتے ہیں\n\nہم فقیرانہ غزل کہتے ہیں اے شاہ جہاں\nخیر ہو خیر ہو مصروف دعا ہوتے ہیں\n\nبحر عالم میں یہ انسان ہیں مانند حباب\nدم میں بنتے ہیں یہ دم بھر میں فنا ہوتے ہیں\n\nہم غریبوں کو نہ اس بزم سے اٹھوا اے بت\nصحبت عام میں خاصان خدا ہوتے ہیں\n\nہم میں اور ان میں بڑھا رابطہ اخترؔ اتنا\nہم پہ وہ صدقے ہیں ہم ان پہ فدا ہوتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D8%B3%D8%AD%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اے نوش لب و ماہ رخ و زہرہ جبیں", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے نوش لب و ماہ رخ و زہرہ جبیں\nآئنہ ہی ترے رخ پہ حیران نہیں\nہے شانہ خم زلف میں زنجیر بہ پا\nہے سرمہ رواق چشم میں گوشہ نشیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%B4_%D9%84%D8%A8_%D9%88_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%B1%D8%AE_%D9%88_%D8%B2%DB%81%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA"} {"title": "اے پردہ نشیں سہل ہوا یہ اشکال", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے پردہ نشیں سہل ہوا یہ اشکال\nدر پردہ نہیں وصل سے کم تیرا خیال\nآئینۂ دیدہ کے ادھر پھرتے ہو\nاس طرف نظر کے ہے طلسمات وصال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%81%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D9%84"} {"title": "اے پِیرِ حرم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اے پِیرِ حرم! رسم و رہِ خانقہی چھوڑ\nمقصود سمجھ میری نوائے سَحری کا\nاللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت!\nدے ان کو سبق خود شکَنی، خود بِگَری کا\nتُو ان کو سِکھا خارا شگافی کے طریقے\nمغرب نے سِکھایا انھیں فن شیشہ گری کا\nدِل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی\nدارُو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظَری کا\nکہہ جاتا ہوں مَیں زورِ جُنوں میں ترے اَسرار\nمجھ کو بھی صِلہ دے مری آشُفتہ سری کا!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%D9%BE%D9%90%DB%8C%D8%B1%D9%90_%D8%AD%D8%B1%D9%85"} {"title": "اے چشم غمیں تیرے عوض روئے کون", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے چشم غمیں تیرے عوض روئے کون\nجی اپنا بھلا میرے لیے کھوئے کون\nافسانۂ وصل کس سے پوچھوں شب ہجر\nآپ ہی میں کہوں آپ سنوں سوئے کون", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%BA%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D9%88%D8%B6_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D9%88%D9%86"} {"title": "اے کاش بتاں کا خنجر سینہ شگاف", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے کاش بتاں کا خنجر سینہ شگاف\nپہلوے حیات سے گزر جاتا صاف\nاک تسمہ لگا رہا کہ تا روزے چند\nرہیے نہ مشقت گدائی سے معاف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%B4_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%86%D8%AC%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%B4%DA%AF%D8%A7%D9%81"} {"title": "اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ\nہے اصل خرد سے شرمسار اندیشہ\nیک قطرۂ خون و دعوت صد نشتر\nیک وہم و عبادت ہزار اندیشہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%DA%A9%D8%AB%D8%B1%D8%AA_%D9%81%DB%81%D9%85_%D8%A8%DB%92_%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%B4%DB%81"} {"title": "اے کشمکش الفت جی سخت پریشاں ہے", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "اے کشمکش الفت جی سخت پریشاں ہے\nمرنے کی بھی حسرت ہے جینے کا کا بھی ارماں ہے\n\nساحل سے نہیں لگتی غرقاب نہیں ہوتی\nکشتی ہے تھپیڑوں میں یہ بھی کوئی طوفاں ہے\n\nمیں کیا مری الفت کیا تو اور مجھے پوچھے\nبس اے ستم آرا بس حسرت ہے نہ ارماں ہے\n\nیہ موج تبسم کیا ظالم اسے دھو دے گی\nجو رنگ پشیمانی چہرہ سے نمایاں ہے\n\nمغرور محبت ہوں خود میری نگاہوں میں\nیہ بے سر و سامانی راز سر و ساماں ہے\n\nاس حسن مجسم کی شرمیلی اداؤں کا\nاحساس محبت بھی شرمندۂ احساں ہے\n\nمنظورؔ اسے رخصت کس دل سے کروں گا میں\nدھڑکا ہے یہی ہر دم جب سے کہ وہ مہماں ہے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DA%A9%D8%B4_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%AC%DB%8C_%D8%B3%D8%AE%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "اے گرد باد طرف چمن ٹک گزار کر", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے گرد باد طرف چمن ٹک گزار کر\nبلبل کے پر پڑے ہیں گلوں پر نثار کر\n\nآئے تھے عیش کے لیے سو تو نہ یاں ملا\nپھر غم کدہ کو اٹھ چلے ہم اپنے ہار کر\n\nکیا مسکرا کے ٹالے ہے اب پھر کب آئے گا\nدل بیقرار ہوتا ہے کچھ تو قرار کر\n\nداغوں سے دل کے سینہ تو ہے رشک لالہ زار\nہاں اشک سرخ تو بھی تو اپنی بہار کر\n\nدھجی بھی ایک چھوڑی نہ دامان و جیب کی\nدست جنوں نے لوٹا مجھے تار تار کر\n\nوہ بھی نہ آیا اور نظر آنے سے رہ گیا\nدیکھا مزا نہ اور دل اب انتظار کر\n\nبے چیز تو نہیں یہ حسنؔ اس گلی میں روز\nجا جا کے بات کرتے ہر اک سے پکار کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%B9%DA%A9_%DA%AF%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "اے گل خوش رنگ گلزار شہادت السلام", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "سلام", "year": null, "text_ur": "اے گل خوش رنگ گلزار شہادت السلام\nتیری مظلومی کی سب دیں گے شہادت السلام\nجور دیکھے تونے کیا کیا لال سنگ جور سے\nاے کہ گذری تیرے اوپر سخت حالت السلام\nشام کے لوگوں نے تجھ کو یوں مکدر کردیا\nاے مہ تابندۂ برج امامت السلام\nکارواں در کارواں بار الم تجھ سے کھنچا\nحوصلہ کس کا جو کھینچے یہ ملالت السلام\nقامت دلکش ترا بے سر پڑا تھا خاک میں\nکربلا میں تجھ پہ گذری ہے قیامت السلام\nہائے غیبت میں تری عالم سیہ سب ہوگیا\nاے فروغ چہرۂ صبح سعادت السلام\nتند باد ظلم نے تجھ کو دیا سا گل کیا\nاے کہ تو تھا زیب ایوان رسالت السلام\nکب عقیدے میں محبوں کے برابر ہوسکے\nایک سجدے سے ترے صدسالہ طاعت السلام\nمیرؔ کم گو کبریا تیری بیاں کب کرسکے\nتو ہی اپنی جانے ہے قدر و جلالت السلام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%AF%D9%84%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%DB%81%D8%A7%D8%AF%D8%AA_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "اے گل نو دمیدہ کے مانند", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے گل نو دمیدہ کے مانند\nہے تو کس آفریدہ کے مانند\n\nہم امید وفا پہ تیری ہوئے\nغنچۂ دیر چیدہ کے مانند\n\nخاک کو میری سیر کر کے پھرا\nوہ غزال رمیدہ کے مانند\n\nسر اٹھاتے ہی ہو گئے پامال\nسبزۂ نو دمیدہ کے مانند\n\nنہ کٹے رات ہجر کی جو نہ ہو\nنالہ تیغ کشیدہ کے مانند\n\nہم گرفتار حال ہیں اپنے\nطائر پر بریدہ کے مانند\n\nدل تڑپتا ہے اشک خونیں میں\nصید در خوں تپیدہ کے مانند\n\nتجھ سے یوسف کو کیونکے نسبت دیں\nکب شنیدہ ہو دیدہ کے مانند\n\nمیرؔ صاحب بھی اس کے ہاں تھے لیک\nبندۂ زر خریدہ کے مانند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D9%86%D9%88_%D8%AF%D9%85%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%86%D8%AF"} {"title": "اے ہم نشیں خدا کے لئے امتحاں نہ کر", "poet_page": "مصنف:نبی بخش نایاب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نایاب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "اے ہم نشیں خدا کے لئے امتحاں نہ کر\nتو میرے پاس میری حکایت بیاں نہ کر\n\nزندہ ہے راہ یار میں اے دل جو مر گیا\nپروانہ وار جان فدا کر فغاں نہ کر\n\nشادی کے بعد دے نہ خدایا کسی کو غم\nدینا ہو جس کو غم تو اسے شادماں نہ کر\n\nمٹی میں مل چکی ہیں بہت ایسی صورتیں\nاتنا غرور حسن تو او نوجواں نہ کر\n\nنایابؔ جی میں سوچ کہاں تک یہ زندگی\nاوروں کے نفع کے لئے اپنا زیاں نہ کر", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "اے یار مجھ افسردۂ ہجراں کو پہنچ تو", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے یار مجھ افسردۂ ہجراں کو پہنچ تو\nاے رشک مسیحا تن بے جاں کو پہنچ تو\n\nفریاد‌ کش اک بوسے کا ہوں تیرے لبوں سے\nاے سرمہ مسی کے مری افغاں کو پہنچ تو\n\nگر آتش دل نالوں کی صرصر سے نہ سلگے\nمت سرد ہو دامان بیاباں کو پہنچ تو\n\nبکھرے ہیں شرر دل کے مرے دود فغاں میں\nاپنے ہی سر‌ زلف زر افشاں کو پہنچ تو\n\nشاید کہ ہو اس باغی چمن میر کا منظور\nشبنم ہو کے اے اشک گلستاں کو پہنچ تو\n\nگر چاہ ہے سرسبزئے بختوں کی دوانے\nاطفال کے پتھراؤ کی باراں کو پہنچ تو\n\nپر زنگ ہے آئینۂ دل ہند سے عزلتؔ\nگر چاہیے صف ہاں تو صفاہاں کو پہنچ تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1%D8%AF%DB%82_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86_%D8%AA%D9%88"} {"title": "اے یار نصیحت کو اگر گوش کرے تو", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "اے یار نصیحت کو اگر گوش کرے تو\nیہ طور و طریق اپنے فراموش کرے تو\n\nدیوانے سیانے ہویں سب دیکھ تجھ انکھیاں\nاک چشم کی گردش ستی بے ہوش کرے تو\n\nاے سرو چماں آوے اگر میری بغل میں\nجنت کا چمن خانۂ‌ آغوش کرے تو\n\nحوراں نہ کریں خلد کے گلبن کا نظارا\nجب سیم بدن اپنے کو گل پوش کرے تو\n\nاس فائزؔ بے چارے کی تب قدر پچھانے\nاک جام محبت کا اگر نوش کرے تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%AD%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DA%AF%D9%88%D8%B4_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D9%88"} {"title": "با ایں ہمہ سادگی ہے پرکاری بھی", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "با ایں ہمہ سادگی ہے پرکاری بھی\nشوخی بھی ہے اس میں عیاری بھی\nچھپ چھپ کے ہے تاک جھانک اپنی کرتا\nاس سے کوئی سیکھ جائے مکاری بھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "بائیسویں رجب کے کونڈے", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "صحبت گل ہے فقط بلبل سے کیا بگڑی ہوئی\nآج کل سارے چمن کی ہے ہوا بگڑی ہوئی\n\n۱۷؍ فروری ۱۹۲۵ء منگل کے دن صبح کی نماز پڑھ کر میں اپنے جھونپڑے سے نکلا اور میر تفضل حسین کی کھڑکی سے گزر کر ملک معظم ایڈورڈ ہفتم کے گلشن یادگار میں پہنچا تھا۔ بنارس کی صبح تو واقعی دلکش ہوتی ہے۔ مگر اہل نظر جانتے ہیں کہ ہماری دلی کی صبح اس سے کچھ کم نورانی، دل فریب، دلکش نہیں ہوتی۔ جب شاہدرہ کی طرف سے پو پھٹتی ہے اور تڑکا ہونے لگتا ہے تو اس کا نور جمنا جی، لال قلعہ اور جامع مسجد کے اوپر ایسی آبداری پیدا کرتا ہے جس کا لطف آنکھوں سے دل اور دل سے روح میں شامل ہو جاتا ہے اور سیر کرنے والا تھوڑی دیر اس تصور میں ڈوب جاتا ہے کہ میں اس وقت جنت کی بہار دیکھ رہا ہوں۔\n\nجب میں پھاٹک سے گزر کر یادگار میں داخل ہوا تو سامنے ایک چوڑی چکلی روش تھی۔ روش پر دورو یہ انگریزی ناریل کے درخت اپنے سر اٹھائے عالم تحیر میں کھڑے تھے۔ اور ان درختوں کے نیچے مربع، مثلث اٹھوانس کیاریاں بنی ہوئی تھیں، او رکیاریوں میں پھلواری لگی ہوئی تھی۔ داہنے، بائیں ہرے ہرے گھانس کے تختے تھے، مگر موسم کی سردی نے بہار و گلزار کو ٹھٹرا دیا تھا۔ پھول، پتے، کلیاں، غنچہ اول تو بہت ہی کم اور خال خال تھیں، اور جو کچھ تھیں، سردی کی شدت سے ان کے منہ پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، بے رونقی چھا رہی تھی۔ مگر پھر بھی چمن تھا۔ بربینیا، فلوک، نکسٹائن کے پھول اپنی زردی، سرخی اور رنگا رنگی اور اپنی شادابی میں بے نظیر تھے۔\n\nان پھولوں کے بیچوں بیچ میں ایک زمین دوز نل کی ٹونٹی لگی ہوئی تھی، جس میں سے موتی جیسا سفید پانی ابل ابل کر چمنستان کو ترائی پہنچا رہا تھا۔ اسے دیکھ کر میرے دل نے کہا، یہ زمین دوز ٹونٹی سے پانی نہیں ابلتا ہے، بلکہ آج صبح صادق نے فرش زمین سے طلوع کیا ہے۔ میں نے چاہا کہ ان خوش رنگ پھولوں میں سے دو چار توڑ کر ایک گلدستہ لے جاؤں اور اپنے گھر لے جاکر اور گلدان میں رکھ کر ان کے دیدار کا مزہ اٹھاؤں۔ مگر سامنے ایک بورڈ پر انگریزی اور اردو میں نوٹس لکھا ہوا تھا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ جو شخص اس باغ کے کسی گل یا ٹہنی پتہ کو توڑےگا یا نوچے کھسوٹے گا تو مستوجب سزا ہوگا۔ نوٹس پڑھ کر مجھے ہنسی آئی اور میں نے کہا۔ سبحان اللہ۔\n\nبہر زمین کہ رسیدیم آسماں پیدا ست۔\n\nہم عاشقوں کی جان کھکیٹریں جھیلنے کے لئے ہی بنائی گئی ہے۔ صبح صبح چمن کی سیر کے لئے آئیے اور خدانخواستہ بھولے سے بھی کسی پنکھڑی یا پھول کو ہاتھ لگائیے تو پکڑے جائیے۔ مجسٹریٹ کے سامنے حاضر ہوجئے، سزا پائیے اور رات کو تخلیہ میں بیٹھ کر کسی گلعذار سے دل بہلانا چاہئے تو گھر کیاں کھائیے۔ جھڑکیاں سنئے۔ دیکھئے میں نے کہہ دیا ہے کہ آپ ذرا پرے بیٹھئے۔ آج میرا جی اچھا نہیں ہے۔ مجھے چکر آرہے ہیں۔ میں نے کل جڑاؤ سونے کی بالیاں کانوں میں ڈال لی تھیں، کان کم بخت سوج سوج کر گردہ ہو گئے ہیں۔ اوئی نوج پھٹ پڑے وہ سونا جس سے ٹوٹیں کان۔ خدا کو مان کے کہیں ٹھیس نہ لگ جائے۔ تمہارے بار بار دیکھنے سے میری نرگسی آنکھیں دکھنے آ گئی ہیں۔ غرض ہمارے لئے بہارستانِ حسن کے سیبِ زنخدان، انار، غنچہ لب، گل رخسار، سنبل زلف اور اس کے سارے پھل پھولوں کو کو چھیڑنا ممنوع ہے۔\n\nچار نا چار دلِ مجروح کو بہلاتا ہوا یادگار کے دوسرے پھاٹک سے نکلا۔ اجڑے ہوئے اوربے نشان خاص بازار کی سڑک لانگ کر پریڈ کے میدان کی طرف بڑھتا کہ قطب شاہجہاں آباد حضرت شیخ کلیم اللہ جہان آبادی قدس سرہٗ العزیز کے آستانۂ کرامت نشان پر پہنچ کر جبیں سائی کروں، جو ٹھنڈی سڑک پر سے کسی شخص نے کہا، آج رجب کی بائیسویں ہے۔ اس صدا کو سن کر میری نظروں میں مسلمانوں کی دولت مندی کا عہد پھر گیا۔ کون سا عہد، جس میں اکبر ثانی اور ابو ظفر بہادر شاہ کے نام کے بادشاہ تھے۔ یہ سچا سچا اور صحیح صحیح ہمارے بزرگوں کا دیکھا ہوا نقشہ ہے کہ لال قلعہ میں حضرت بادشاہ اوربیگمات بادشاہ زادوں، مرشد زادوں، سلاطین کے دولت خانوں میں فاتحہ اور نیاز اور ایصال ثواب کے لئے عید۔ بقرعید، شب برات، رجب، محرم کے موقعہ پر اتنے لذیذ کھانے اور نعمتیں پکائی جاتی تھیں کہ اگرا ن کی فہرست لکھی جائے تو ان کے ناموں سے ایک بڑی کتاب تیار ہوجائے۔\n\nپھر وہ نعمتیں اور کھانے سیکڑوں من کی تعداد میں پکتے تھے اور طالب علم، ملا، درویش، حاجت مند تلاش کئے جاتے تھے کہ یہ کھانے انہیں کھلائے جائیں، مگر اس قسم کے لوگ ان تاریخوں میں گھس لگانے کو بھی نہیں ملتے تھے، کیونکہ انہیں ایک ہی سرکار، ایک ہی محل سے اتنی نعمت ملتی تھی کہ دوسری جگہ اگر سونے کا نوالہ انہیں کھلایا جاتا، تو وہ کھانے سے مجبور ہوتے تھے۔ اللہ ہو بس باقی ہوس۔ اس دور میں طالب علم جو دلی کی مسجدوں میں پڑے رہتے تھے، وہ اپنے حجرہ میں برتن کے نام کا مٹی کا پیالہ بھی نہ رکھتے تھے۔ کیونکہ بادشاہ، وزیر، امیر کبیر جس کسی دولت مند کے گھر سے ان لوگوں کے لئے کھانا آتا تھا، سچی چینی اور تانبے کے قلعی دار رکابیاں، پیالے، اور قسم قسم کے ظروف خوانوں میں رکھے ہوئے آتے تھے۔\n\nطالب علموں کے سامنے دسترخوان بچھایا جاتا تھا۔ انہیں کھانا کھلایا جاتا تھا۔ کھانا کھا کر طالب علم دسترخوان پر سے اٹھ کھڑے ہوتے تھے، جو لوگ لائے تھے، وہ جھوٹے برتن اٹھاکر لے جاتے تھے۔ خصوصاً اس بائیسویں رجب کو قلعہ معلیٰ میں بڑی دھوم ہوتی تھی۔ کیونکہ ایک تو اس تاریخ پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی نیاز ہوتی تھی۔ دوسری ۲۷؍ رجب کو رسول خدا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی فاتحہ کی جاتی تھی۔ کیونکہ یہ حضور کی معراج کی تاریخ اور مسلمانوں کی خوشی منانے کا دن ہے۔ بائیسویں کو کھیر پکا کر مٹی کے کونڈوں میں جمائی جاتی تھی۔ پھر وہ کھیر صرف دودھ چاولوں کی نہ ہوتی تھی بلکہ پستہ بادام کی کھیر، قلاقند کی کھیر اور رنگا رنگ فیرنیاں اور کھیریں ہوتی تھیں۔ خوشبو میں بسی ہوئیں۔ سونے روپے کے ورقوں اور ورقیوں سے آراستہ دسترخوان پر بیٹھ کر کھانے والے پیٹ بھر کے کھالیتے تھے، تو چلتے وقت ایک ایک کونڈا کھیر کا اچھوتا اور ہر کونڈے کے ساتھ نقدی کی ایک پوڑیہ بھی دی جاتی تھی۔\n\nقلعہ معلیٰ کے باہر اردو بازار میں بعض لوگ شوقین ان قلعہ سے واپس ہونے والوں کے انتظار میں کھڑے رہتے تھے اور ان سے پانچ پانچ آنہ کو ایک ایک کونڈہ کھیر کا مول لے جاتے تھے، اور اپنے بال بچوں کو کھلاتے تھے۔ ہر کونڈہ میں کم سے کم بارہ سیر کھیر ہوتی تھی۔ ایک بزرگ معتمد اور ثقہ بیان فرماتے ہیں کہ فلاں مسجد میں ایک رات کو طالب علموں کے لئے ایک دیگ مطنجن کی آئی۔ چوبدار جو دیگ کے ساتھ آیا تھا، اس نے طالب علموں سے کہا، مطنجن لے لیجئے اور دیگ خالی کر دیجئے۔ طالب علم سٹ پٹائے کہ ہمارے پاس مٹی کی ایک رکابی تو ہے نہیں، یہ ایک دیگ کا مطنجن کس چیز میں بھریں۔ آخر انہوں نے یہ ترکیب کی کہ مسجد کے کنویں کے پاس چھوٹا سا حوض بنا ہوا تھا۔ اسے اور کنویں کی من کو دھوکر پاک کیا اور کنوئیں کی من پر چاروں طرف مطنجن بھر لیا۔ دیگ خالی کر کے حوالہ کردی۔\n\nکنوئیں کی من سے حوض میں پانی جانے کے لئے ننھی سی موری بنی ہوئی تھی۔ اس میں سے کھانے کا گھی گزر کر حوض میں بھر گیا اور طالب علموں کے اشارہ سے محلہ والے علاوہ مطنجن کے پتیلیاں اور دیگچے بھر بھر کے اپنے گھر لے گئے۔ یہ تو دوسری بات ہے کہ اس قسم کی نیازیں بدعت حسنہ ہیں یا بدعت سیئہ۔ مگر اس میں شک نہیں ہے کہ ان حیلہ بہانوں سے غریب غربا جیتے تھے اور ان صورتوں سے خیر خیرات بہت کچھ ہو جاتی تھی۔ مگر ذکر جوانی در پیری و ذکر امیری در فقیری دروغ می نماید۔ جب مسلمانوں کے اقبال کا ورق الٹ گیا اور لال قلعہ اجڑ گیا تو یہ سچی باتیں قصے کہانیوں میں گنی جانے لگیں۔ اور سچ پوچھئے تو ایک لال قلعہ ہی انہیں اجڑا، بلکہ مسلمانوں کی بداقبالی نے لال قلعہ جیسے بہت سے قلعہ اور قصر اور حصار اور ارک ویران کردیے ہیں۔\n\nفیروز شاہ کا کوٹلہ، پرانا قلعہ، غیاث پور، اندر پرست، پرتھی راج کے محلات، تغلق آباد، یہ سب دلی کے شاہنشاہوں اور چکرورتی راج بابوؤں کے زر نگار قلعہ ہی تھے اور ان میں اس قدر جاہ و حشم اور طبل و علم تھے جو سکندر اور افریدوں کی آنکھوں نے خواب میں بھی نہ دیکھے تھے۔ مگر اس جہان کی بنا ایسے چار رکنوں سے ہے جو بالکل بودے ہیں۔ اور اس کی ہستی میں خاک کا پلہ غالب اور خاک کا جو بھوجو جو پانی میں گھل کر ناپید ہو جائے۔ جسے ہوا اڑا لے جائے۔ پھر جن چیزوں کے مٹنے پر میں افسوس کر رہا ہوں، یہ باقی کیونکر رہ سکتے تھے۔ مگر اس سے زیادہ حسرت اور افسوس کا یہ مقام ہے کہ ہمارے اس تن بدن کے اندر بھی ایک لال قلعہ ہے۔ جس کے اندر کبھی شاہجہاں تخت طاؤس پر بیٹھ کر دربار کیا کرتا تھا اور اس شاہجہاں کی حکومت اس ہستی کے چار دانگ ہند میں پھیلی ہوئی تھی۔\n\nمگر شاہجہاں کی غفلت نے اسے تخت سے اتار دیا۔ وہ لال قلعہ اجڑ گیا۔ اس میں نہ باغ حیات بخش رہا، نہ مہتاب باغ۔ نہ دیوان خاص نہ دیوان عام۔ مورکھ کیا اب تک نہ سمجھا کہ تیرے تن بدن میں لال قلعہ کون سا تھا اور ا س میں شاہجہاں کون سا حکومت کرتا تھا۔ سمجھ لے کہ میری مراد تیرا دل ہے اور یاد الٰہی اس میں شاہجہاں ہے۔ غفلت کی باغی فوج نے شاہجہاں کو معطل کر دیا ہے۔ اگر تو ہمت سے کام لے تو تیرے دل کا اجڑا ہوا لال قلعہ پھر آباد ہو جائے۔ اور اگلی سب بہاریں پیدا ہوجائیں۔ میاں نظیر اکبرآبادی نے گویا اسی موقع کے لئے یہ شعر کہا تھا،\n\nاللہ کو ہر دم یاد کر اس نام سے دل شاد کر\nاجڑا وطن آباد کر جو عاقبت درکار ہے\n\nاجڑا وطن تیرا دل ہے۔ اس کی آبادی اور چہل پہل خدا کی یاد سے تھی۔ تونے خدا کا نام لینا چھوڑا، وہ اجڑ گیا۔ اگر عاقبت کی درستی مطلوب ہے تو یاد الٰہی کر۔ جس طرح کہ قرآن پاک میں آیا ہے۔ یا ایھا الذین آمنوا ذکرو اللہ ذکراً کثیراً۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%D9%86%DA%88%DB%92"} {"title": "بابو گوپی ناتھ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "چغد", "year": "1948", "text_ur": "بابو گوپی ناتھ سے میری ملاقات سن چالیس میں ہوئی۔ ان دنوں میں بمبئی کا ایک ہفتہ وار پرچہ ایڈٹ کیا کرتا تھا۔ دفتر میں عبدالرحیم سینڈو، ایک ناٹے قد کے آدمی کے ساتھ داخل ہوا۔ میں اس وقت لیڈر لکھ رہا تھا۔ سینڈو نے اپنے مخصوص انداز میں بآواز بلند مجھے آداب کیا اور اپنے ساتھی سے متعارف کرایا، ’’منٹو صاحب! بابو گوپی ناتھ سے ملیے۔‘‘\n\nمیں نے اٹھ کر اس سے ہاتھ ملایا۔ سینڈو نے حسبِ عادت میری تعریفوں کے پل باندھنے شروع کردیے:’’بابو گوپی ناتھ تم ہندوستان کے نمبر ون رائٹر سے ہاتھ ملا رہے ہو۔ لکھتا ہے تو دھڑن تختہ ہو جاتا ہے لوگوں کا۔ ایسی ایسی کنٹی نیوٹلی ملاتا ہے کہ طبیعت صاف ہو جاتی ہے۔ پچھلے دنوں وہ کیا چٹکلا لکھا تھا آپ نے منٹو صاحب؟ مس خورشید نے کار خریدی۔ اللہ بڑا کارساز ہے۔ کیوں بابو گوپی ناتھ، ہے اینٹی کی پینٹی پو؟‘‘\n\nعبدالرحیم سینڈو کے باتیں کرنے کا اندازہ بالکل نرالا تھا۔ کنٹی نیوٹلی۔ دھڑن تختہ اور اینٹی کی پینٹی پو ایسے الفاظ اس کی اپنی اختراع تھے جن کو وہ گفتگو میں بے تکلف استعمال کرتا تھا۔ میرا تعارف کرانے کے بعد وہ بابو گوپی ناتھ کی طرف متوجہ ہوا جو بہت مرعوب نظر آتا تھا۔ ’’آپ ہیں بابو گوپی ناتھ۔ بڑے خانہ خراب۔ لاہور سے جھک مارتے مارتے بمبئی تشریف لائے ہیں۔ ساتھ کشمیر کی ایک کبوتری ہے۔‘‘ بابو گوپی ناتھ مسکرایا۔\n\nعبدالرحیم سینڈو نے تعارف کو ناکافی سمجھ کرکہا، ’’نمبر ون بے وقوف ہوسکتا ہے تو وہ آپ ہیں۔ لوگ ان کے مسکا لگا کر روپیہ بٹورتے ہیں۔ میں صرف باتیں کرکے ان سے ہر روز پولسن بٹر کے دو پیکٹ وصول کرتا ہوں۔ بس منٹو صاحب یہ سمجھ لیجیے کہ بڑے اینٹی فلو جسٹین قسم کے آدمی ہیں۔ آپ آج شام کو ان کے فلیٹ پر ضرور تشریف لائیے۔‘‘\n\nبابو گوپی ناتھ نے جو خدا معلوم کیا سوچ رہا تھا، چونک کرکہا، ’’ہاں ہاں، ضرورتشریف لائیے منٹو صاحب۔‘‘ پھر سینڈو سے پوچھا، ’’کیوں سینڈو کیا آپ کچھ اُس کا شغل کرتے ہیں؟‘‘\n\nعبدالرحیم سینڈو نے زور سے قہقہہ لگایا۔ ’’اجی ہر قسم کا شغل کرتے ہیں۔ تو منٹو صاحب آج شام کو ضرور آئیے گا۔ میں نے بھی پینی شروع کردی ہے، اس لیے کہ مفت ملتی ہے۔‘‘\n\nسینڈو نے مجھے فلیٹ کا پتا لکھا دیا جہاں میں حسب وعدہ شام کو چھ بجے کے قریب پہنچ گیا۔ تین کمرے کا صاف ستھرا فلیٹ تھا جس میں بالکل نیا فرنیچر سجا ہوا تھا۔ سینڈو اور بابو گوپی ناتھ کے علاوہ بیٹھنے والے کمرے میں دو مرد اور دو عورتیں موجود تھیں جن سے سینڈو نے مجھے متعارف کرایا۔\n\nایک تھا غفار سائیں، تہمد پوش۔ پنجاب کا ٹھیٹ سائیں۔ گلے میں موٹے موٹے دانوں کی مالا۔ سینڈو نے اس کے بارے میں کہا، ’’آپ بابو گوپی ناتھ کے لیگل ایڈوائزر ہیں۔ میرا مطلب سمجھ جائیے۔ جس آدمی کی ناک بہتی ہو یا جس کے منہ میں سے لعاب نکلتا ہو، پنجاب میں خدا کو پہنچا ہوا درویش بن جاتا ہے یہ بھی بس پہنچے ہوئے ہیں یا پہنچنے والے ہیں۔ لاہور سے بابو گوپی ناتھ کے ساتھ آئے ہیں کیونکہ انھیں وہاں کوئی اور بے وقوف ملنے کی امید نہیں تھی۔ یہاں آپ بابو صاحب سے کریون اے کے سگریٹ اور سکاچ وسکی کے پیگ پی کر دعا کرتے رہتے ہیں کہ انجام نیک ہو۔۔۔‘‘\n\nغفار سائیں یہ سن کر مسکراتا رہا۔\n\nدوسرے مرد کا نام تھا غلام علی۔ لمبا تڑنگا جوان، کسرتی بدن، منہ پر چیچک کے داغ۔ اس کے متعلق سینڈو نے کہا، ’’یہ میرا شاگرد ہے۔ اپنے استاد کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔ لاہور کی ایک نامی طوائف کی کنواری لڑکی اس پر عاشق ہوگئی۔ بڑی بڑی کنٹی نیوٹلیاں ملائی گئیں اس کو پھانسنے کے لیے، مگر اس نے کہا ڈو اور ڈائی، میں لنگوٹ کا پکا رہوں گا۔ ایک تکیے میں بات چیت کرتےپیتے بابو گوپی ناتھ سے ملاقات ہوگئی۔ بس اس دن سے ان کے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔ ہر روز کریون اے کا ڈبہ اور کھانا پینا مقرر ہے۔‘‘\n\nیہ سن کر غلام علی بھی مسکراتا رہا۔\n\nگول چہرے والی ایک سرخ و سفید عورت تھی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی میں سمجھ گیا تھا کہ وہی کشمیر کی کبوتری ہے جس کے متعلق سینڈو نے دفتر میں ذکر کیا تھا۔ بہت صاف ستھری عورت تھی۔ بال چھوٹے تھے۔ ایسا لگتا تھا کٹے ہوئے ہیں مگر درحقیقت ایسا نہیں تھا۔ آنکھیں شفاف اور چمکیلی تھیں۔ چہرے کے خطوط سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ بے حد الہڑ اور ناتجربہ کار ہے۔ سینڈو نے اس سے تعارف کراتے ہوئے کہا، ’’زینت بیگم۔ بابو صاحب پیار سے زینو کہتے ہیں۔ ایک بڑی خرانٹ نائکہ کشمیر سے یہ سیب توڑ کر لاہور لے آئی۔ بابو گوپی ناتھ کو اپنی سی آئی ڈی سے پتہ چلا اور ایک رات لے اڑے۔ مقدمے بازی ہوئی۔ تقریباً دو مہینے تک پولیس عیش کرتی رہی۔ آخر بابو صاحب نے مقدمہ جیت لیا اور اسے یہاں لے آئے۔۔۔ دھڑن تختہ!‘‘\n\nاب گہرے سانولے رنگ کی عورت باقی رہ گئی تھی جو خاموش بیٹھی سگریٹ پی رہی تھی۔ آنکھیں سرخ تھیں جن سے کافی بے حیائی مترشح تھی۔ بابو گوپی ناتھ نے اس کی طرف اشارہ کیا۔ اور سینڈو سے کہا، ’’اس کے متعلق بھی کچھ ہو جائے۔‘‘\n\nسینڈو نے اس عورت کی ران پرہاتھ مارا اور کہا، ’’جناب یہ ہے ٹین پٹوٹی، فل فل فوٹی۔ مسز عبدالرحیم سینڈو عرف سردار بیگم۔۔۔ آپ بھی لاہور کی پیداوار ہیں۔ سن چھتیس میں مجھ سے عشق ہوا۔ دو برسوں ہی میں میرا دھڑن تختہ کر کے رکھ دیا۔ میں لاہور چھوڑ کر بھاگا۔ بابو گوپی ناتھ نے اسے یہاں بلوا لیا ہے تاکہ میرا دل لگا رہے۔ اس کو بھی ایک ڈبہ کریون اے کا راشن میں ملتا ہے ہر روز شام کو ڈھائی روپے کا مورفیا کا انجکشن لیتی ہے۔ رنگ کالا ہے۔ مگر ویسے بڑی ٹٹ فورٹیٹ قسم کی عورت ہے۔‘‘\n\nسردار نے ایک ادا سے صرف اتنا کہا، ’’بکواس نہ کر!‘‘ اس ادا میں پیشہ ور عورت کی بناوٹ تھی۔\n\nسب سے متعارف کرانے کے بعد سینڈو نے حسب عادت میری تعریفوں کے پل باندھنے شروع کردیے۔ میں نے کہا، ’’چھوڑو یار۔ آؤ کچھ باتیں کریں۔‘‘\n\nسینڈو چلایا، ’’بوائے۔۔۔ وسکی اینڈ سوڈا۔۔۔ بابو گوپی ناتھ لگاؤ ہوا، ایک سبزے کو۔‘‘\n\nبابو گوپی ناتھ نے جیب میں ہاتھ ڈال کر سو سو کے نوٹوں کا ایک پلندا نکالا اور ایک نوٹ سینڈو کے حوالے کردیا۔ سینڈو نے نوٹ لے کر اس کی طرف غور سے دیکھا اور کھڑکھڑا کر کہا، ’’او گوڈ۔۔۔ او میرے رب العالمین۔۔۔ وہ دن کب آئے گا جب میں بھی لب لگا کر یوں نوٹ نکالا کروں گا۔۔۔ جاؤ بھئی غلام علی۔ دو بوتلیں جانی واکر سٹل گوئنگ سٹرانگ کی لے آؤ۔‘‘ بوتلیں آئیں تو سب نے پینا شروع کی۔ یہ شغل دو تین گھنٹے تک جاری رہا۔\n\nاس دوران میں سب سے زیادہ باتیں حسب معمول عبدالرحیم نے کیں۔ پہلا گلاس ایک ہی سانس میں ختم کرکے وہ چلایا، ’’دھڑن تختہ!منٹو صاحب، وسکی ہو تو ایسی۔ حلق سے اتر کر پیٹ میں ’’انقلاب، زندہ باد‘‘ لکھتی چلی گئی ہے۔۔۔ جیو بابو گوپی ناتھ! جیو۔‘‘\n\nبابو گوپی ناتھ بے چارہ خاموش رہا۔ کبھی کبھی البتہ وہ سینڈو کی ہاں میں ہاں ملا دیتا تھا۔ میں نے سوچا اس شخص کی اپنی رائے کوئی نہیں ہے۔ دوسرا جو بھی کہے، مان لیتا ہے۔ ضعیف الاعتقادی کا ثبوت غفار سائیں موجود تھا جسے وہ بقول سینڈو اپنا لیگل ایڈوائزر بنا کر لایا تھا۔ سینڈو کا اس سے دراصل یہ مطلب تھا کہ بابو گوپی ناتھ کو اس سے عقیدت تھی۔ یوں بھی مجھے دوران گفتگو میں معلوم ہوا کہ لاہور میں اس کا اکثر وقت فقیروں اور درویشوں کی صحبت میں کٹتا تھا۔ یہ چیز میں نے خاص طور پر نوٹ کی کہ وہ کھویا کھویا سا تھا، جیسے کچھ سوچ رہا تھا۔ میں نے چنانچہ اس سے ایک بار کہا، ’’بابو گوپی ناتھ کیا سوچ رہے ہیں آپ؟‘‘\n\nوہ چونک پڑا۔ ’’جی میں۔۔۔ میں۔۔۔ کچھ نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مسکرایا اور زینت کی طرف ایک عاشقانہ نگاہ ڈالی۔ ’’ان حسینوں کے متعلق سوچ رہا ہوں۔۔۔ اور ہمیں کیا سوچ ہوگی۔‘‘\n\nسینڈو نے کہا، ’’بڑے خانہ خراب ہیں، یہ منٹو صاحب۔ بڑے خانہ خراب ہیں۔۔۔ لاہور کی کوئی ایسی طوائف نہیں جس کے ساتھ بابو صاحب کی کنٹی نیوٹلی نہ رہ چکی ہو۔‘‘\n\nبابو گوپی ناتھ نے یہ سن کر بڑے بھونڈے انکسار کے ساتھ کہا، ’’اب کمر میں وہ دم نہیں منٹو صاحب۔‘‘\n\nاس کے بعد واہیات گفتگو شروع ہوگئی۔ لاہور کی طوائفوں کے سب گھرانے گنے گیے۔\n\nکون ڈیرہ دار تھی، کون نٹنی تھی، کون کس کی نوچی تھی، نتھنی اتارنے کا بابو گوپی ناتھ نے کیا دیا تھا وغیرہ وغیرہ۔ یہ گفتگو سردار، سینڈو، غفار سائیں اور غلام علی کے درمیان ہوتی رہی، ٹھیٹ لاہور کے کوٹھوں کی زبان میں۔ مطلب تو میں سمجھتا رہا مگر بعض اصطلاحیں سمجھ میں نہ آئیں۔\n\nزینت بالکل خاموش بیٹھی رہی۔ کبھی کبھی کسی بات پر مسکرا دیتی۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اسے اس گفتگو سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ہلکی وسکی کا ایک گلاس بھی نہیں پیا۔ بغیر کسی دلچسپی کے سگریٹ بھی پیتی تھی تو معلوم ہوتا تھا اسے تمباکو اور اس کے دھویں سے کوئی رغبت نہیں لیکن لطف یہ ہے کہ سب سے زیادہ سگریٹ اسی نے پیے۔ بابو گوپی ناتھ سے اسے محبت تھی، اس کا پتا مجھے کسی بات سے نہ ملا۔ اتنا البتہ ظاہر تھا کہ بابو گوپی ناتھ کو اس کا کافی خیال تھا کیونکہ زینت کی آسائش کے لیے ہر سامان مہیا تھا۔ لیکن ایک بات مجھے محسوس ہوئی کہ ان دونوں میں کچھ عجیب سا کھنچاؤ تھا۔ میرا مطلب ہے وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہونے کے بجائے کچھ ہٹے ہوئے سے معلوم ہوتے تھے۔\n\nآٹھ بجے کے قریب سردار، ڈاکٹر مجید کے ہاں چلی گئی کیونکہ اسے مورفیا کا انجکشن لینا تھا۔ غفارسائیں تین پیگ پینے کے بعد اپنی تسبیح اٹھا کر قالین پر سو گیا۔ غلام علی کو ہوٹل سے کھانا لینے کے لیے بھیج دیا گیا۔ سینڈو نے اپنی دلچسپ بکواس جب کچھ عرصے کے لیے بند کی تو بابو گوپی ناتھ نے جو اب نشے میں تھا، زینت کی طرف وہی عاشقانہ نگاہ ڈال کر کہا، ’’منٹو! میری زینت کے متعلق آپ کا خیال کیا ہے؟‘‘\n\nمیں نے سوچا کیا کہوں۔ زینت کی طرف دیکھا تو وہ جھینپ گئی۔ میں نے ایسے ہی کہہ دیا، ’’بڑا نیک خیال ہے۔‘‘\n\nبابو گوپی ناتھ خوش ہوگیا۔ ’’منٹو صاحب! ہے بھی بڑی نیک لوگ۔ خدا کی قسم نہ زیور کا شوق ہے نہ کسی اور چیز کا۔ میں نے کئی بار کہاجان من مکان بنوادوں؟ جواب کیا دیا، معلوم ہے آپ کو؟ کیا کروں گی مکان لے کر۔ میرا کون ہے۔۔۔‘‘\n\n’’منٹو صاحب موٹر کتنے میں آجائے گی۔‘‘ میں نے کہا، ’’مجھے معلوم نہیں۔‘‘\n\nبابو گوپی ناتھ نے تعجب سے کہا، ’’کیا بات کرتے ہیں آپ منٹو صاحب۔۔۔ آپ کو، اور کاروں کی قیمت معلوم نہ ہو۔ کل چلیے میرے ساتھ، زینو کے لیے ایک موٹر لیں گے۔ میں نے اب دیکھا ہے کہ بمبئی میں موٹر ہونی ہی چاہیے۔‘‘ زینت کا چہرہ رد عمل سے خالی رہا۔\n\nبابو گوپی ناتھ کا نشہ تھوڑی دیرکے بعد بہت تیز ہوگیا۔ ہمہ تن جذبات ہوکر اس نے مجھ سے کہا، ’’منٹو صاحب! آپ بڑے لائق آدمی ہیں۔ میں تو بالکل گدھا ہوں۔۔۔ لیکن آپ مجھے بتائیے میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں۔ کل باتوں باتوں میں سینڈو نے آپ کا ذکرکیا۔ میں نے اسی وقت ٹیکسی منگوائی اور اس سے کہا مجھے لے چلو منٹو صاحب کے پاس۔ مجھ سے کوئی گستاخی ہوگئی ہوتومعاف کردیجیے گا۔۔۔ بہت گنہ گار آدمی ہوں۔۔۔ وسکی منگاؤں آپ کے لیے اور؟‘‘ میں نے کہا۔ ’’نہیں نہیں۔۔۔ بہت پی چکے ہیں۔‘‘\n\nوہ اور زیادہ جذباتی ہوگیا، ’’اور پیجیے منٹو صاحب!‘‘ یہ کہہ کر جیب سے سو سو کے نوٹوں کا پلندا نکالا اور ایک نوٹ جدا کرنے لگا۔ لیکن میں نے سب نوٹ اس کے ہاتھ سے لیے اور واپس اس کی جیب میں ٹھونس دیے، ’’سو روپے کا ایک نوٹ آپ نے غلام علی کو دیا تھا۔ اس کا کیا ہوا؟‘‘\n\nمجھے دراصل کچھ ہمدردی سی ہو گئی تھی بابو گوپی ناتھ سے۔ کتنے آدمی اس غریب کے ساتھ جونک کی طرح چمٹے ہوئے تھے۔ میرا خیال تھا بابو گوپی ناتھ بالکل گدھا ہے۔ لیکن وہ میرا اشارہ سمجھ گیا اور مسکرا کرکہنے لگا، ’’منٹو صاحب! اس نوٹ میں سے جو کچھ باقی بچا، وہ یا تو غلام کی جیب سے گرپڑے گا یا۔۔۔‘‘\n\nبابو گوپی ناتھ نے پورا جملہ بھی ادا نہیں کیا تھا کہ غلام علی نے کمرے میں داخل ہوکر بڑے دکھ کے ساتھ یہ اطلاع دی کہ ہوٹل میں کسی حرام زادے نے اس کی جیب سے سارے روپے نکال لیے۔ بابو گوپی ناتھ میری طرف دیکھ کر مسکرایا۔ پھر سو روپے کا ایک نوٹ جیب سے نکال کرغلام علی کو دے کر کہا، ’’جلدی کھانا لے آؤ۔‘‘\n\nپانچ چھ ملاقاتوں کے بعد مجھے بابو گوپی ناتھ کی صحیح شخصیت کا علم ہوا۔ پوری طرح توخیر انسان کسی کو بھی نہیں جان سکتا لیکن مجھے اس کے بہت سے حالات معلوم ہوئے جو بے حد دلچسپ تھے۔\n\nپہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرا یہ خیال کہ وہ پرلے درجے کا چغد ہے، غلط ثابت ہوا۔ اس کواس امر کا پورا احساس تھا کہ سینڈو، غلام علی اور سردار وغیرہ جواس کے مصاحب بنے ہوئے تھے، مطلبی انسان ہیں۔ وہ ان سے جھڑکیاں، گالیاں سب سنتا تھا لیکن غصّے کا اظہار نہیں کرتا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا، ’’منٹو صاحب! میں نے آج تک کسی کا مشورہ رد نہیں کیا۔ جب بھی کوئی مجھے رائے دیتا ہے، میں کہتاہوں سبحان اللہ۔ وہ مجھے بے وقوف سمجھتے ہیں لیکن میں انھیں عقل مند سمجھتا ہوں اس لیے کہ ان میں کم از کم اتنی عقل تو تھی جومجھ میں ایسی بے وقوفی کو شناخت کرلیا جس سے ان کا الو سیدھا ہوسکتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ میں شروع سے فقیروں اور کنجروں کی صحبت میں رہا ہوں۔ مجھے ان سے کچھ محبت سی ہوگئی ہے۔ میں ان کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میں نے سوچ رکھا ہے کہ جب میری دولت بالکل ختم ہو جائے گی تو کسی تکیے میں جا بیٹھوں گا۔ رنڈی کا کوٹھا اور پیر کا مزار بس یہ دو جگہیں ہیں جہاں میرے دل کو سکون ملتا ہے۔ رنڈی کا کوٹھا تو چھوٹ جائے گا اس لیے کہ جیب خالی ہونے والی ہے لیکن ہندوستان میں ہزاروں پیر ہیں۔ کسی ایک کے مزار میں چلا جاؤں گا۔‘‘\n\nمیں نے اس سے پوچھا، ’’رنڈی کے کوٹھے اور تکیے آپ کوکیوں پسند ہیں؟‘‘\n\nکچھ دیرسوچ کر اس نے جواب دیا، ’’اس لیے کہ ان دونوں جگہوں پر فرش سے لے کر چھت تک دھوکہ ہی دھوکہ ہوتا ہے جو آدمی خود کو دھوکہ دینا چاہتا ہے اس کے لیے ان سے اچھا مقام اور کیا ہو سکتا ہے۔‘‘\n\nمیں نے ایک اور سوال کیا، ’’آپ کو طوائفوں کا گانا سننے کا شوق ہے، کیا آپ موسیقی کی سمجھ رکھتے ہیں۔‘‘\n\nاس نے جواب دیا، ’’بالکل نہیں اور یہ ا چھا ہے کیونکہ میں کن سری سے کن سری طوائف کے ہاں جا کر بھی اپنا سر ہلاسکتا ہوں۔۔۔ منٹو صاحب مجھے گانے سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن جیب سے دس یا سو روپے کا نوٹ نکال کر گانے والی کو دکھانے میں بہت مزا آتا ہے۔ نوٹ نکالا اور اس کو دکھایا۔ وہ اسے لینے کے لیے ایک ادا سے اٹھی۔ پاس آئی تو نوٹ جراب میں اڑس لیا۔ اس نے جھک کر اسے باہر نکالا تو ہم خوش ہوگیے۔ ایسی بہت فضول فضول سی باتیں ہیں جو ہم ایسے تماش بینوں کو پسند ہیں، ورنہ کون نہیں جانتا کہ رنڈی کے کوٹھے پر ماں باپ اپنی اولاد سے پیشہ کراتے ہیں اور مقبروں اور تکیوں میں انسان اپنے خدا سے۔‘‘\n\nبابو گوپی ناتھ کا شجرہ نسب تو میں نہیں جانتا لیکن اتنا معلوم ہوا کہ وہ ایک بہت بڑے کنجوس بنیے کا بیٹا ہے۔ باپ کے مرنے پر اسے دس لاکھ روپے کی جائیداد ملی جو اس نے اپنی خواہش کے مطابق اڑانا شروع کردی۔ بمبئی آتے وقت وہ اپنے ساتھ پچاس ہزارروپے لایا تھا۔ اس زمانے میں سب چیزیں سستی تھیں، لیکن پھربھی ہر روز تقریباً سو سوا سو روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔\n\nزینو کے لیے اس نے فئیٹ موٹر خریدی۔ یاد نہیں رہا، لیکن شاید تین ہزارروپے میں آئی تھی۔ ایک ڈرائیور رکھا لیکن وہ بھی لفنگے ٹائپ کا۔ بابو گوپی ناتھ کوکچھ ایسے ہی آدمی پسند تھے۔\n\nہماری ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھ گیا۔ بابو گوپی ناتھ سے مجھے تو صرف دلچسپی تھی، لیکن اسے مجھ سے کچھ عقیدت ہوگئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دوسروں کی بہ نسبت میرا بہت زیادہ احترام کرتا تھا۔\n\nایک روز شام کے قریب جب میں فلیٹ پر گیا تو مجھے وہاں شفیق کو دیکھ کر سخت حیرانی ہوئی۔ محمد شفیق طوسی کہوں تو شاید آپ سمجھ لیں کہ میری مراد کس آدمی سے ہے۔ یوں تو شفیق کافی مشہور آدمی ہے۔ کچھ اپنی جدت طراز گائکی کے باعث اور کچھ اپنی بذلہ سنج طبیعت کی بدولت۔ لیکن اس کی زندگی کا ایک حصّہ اکثریت سے پوشیدہ ہے۔ بہت کم آدمی جانتے ہیں کہ تین سگی بہنوں کو یکے بعد دیگرے تین تین چار چار سال کے وقفے کے بعد داشتہ بنانے سے پہلے اس کا تعلق اس کی ماں سے بھی تھا۔ یہ بہت کم مشہور ہے کہ اس کو اپنی پہلی بیوی جو تھوڑے ہی عرصے میں مر گئی تھی، اس لیے پسند نہیں تھی کہ اس میں طوائفوں کے غمزے اور عشوے نہیں تھے۔\n\nلیکن یہ تو خیر ہر آدمی جو شفیق طوسی سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتا ہے، جانتا ہے کہ چالیس برس (یہ اس زمانے کی عمر ہے) کی عمر میں سیکڑوں طوائفوں نے اسے رکھا۔ اچھے سے اچھا کپڑا پہنا۔ عمدہ سے عمدہ کھانا کھایا۔ نفیس سے نفیس موٹر رکھی۔ مگر اس نے اپنی گرہ سے کسی طوائف پر ایک دمڑی بھی خرچ نہ کی۔\n\nعورتوں کے لیے، خاص طور پر جو کہ پیشہ ور ہوں، اس کی بذلہ سنج طبیعت جس میں میراثیوں کے مزاح کی ایک جھلک تھی، بہت ہی جاذب نظر تھی۔ وہ کوشش کے بغیر ان کو اپنی طرف کھینچ لیتا تھا۔ میں نے جب اسے زینت سے ہنس ہنس کر باتیں کرتے دیکھا تو مجھے اس لیے حیرت نہ ہوئی کہ وہ ایسا کیوں کررہا ہے، میں نے صرف یہ سوچا کہ وہ دفعتاًیہاں پہنچا کیسے۔ ایک سینڈو اسے جانتا تھا مگر ان کی بول چال تو ایک عرصے سے بند تھی۔ لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ سینڈو ہی اسے لایا تھا۔ ان دونوں میں صلح صفائی ہوگئی تھی۔\n\nبابوگوپی ناتھ ایک طرف بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ میں نے شاید اس سے پہلے ذ کر نہیں کیا، وہ سگریٹ بالکل نہیں پیتا تھا۔ محمد شفیق طوسی میراثیوں کے لطیفے سنا رہا تھا، جس میں زینت کسی قدر کم اور سردار بہت زیادہ دلچسپی لے رہی تھی۔ شفیق نے مجھے دیکھا اور کہا، ’’او بسم اللہ۔ بسم اللہ۔ کیا آپ کا گزر بھی اس وادی میں ہوتا ہے؟‘‘\n\nسینڈو نے کہا، ’’تشریف لے آئیے عزرائیل صاحب یہاں دھڑن تختہ۔‘‘ میں اس کا مطلب سمجھ گیا۔\n\nتھوڑی دیر گپ بازی ہوتی رہی۔ میں نے نوٹ کیا کہ زینت اور محمد شفیق طوسی کی نگاہیں آپس میں ٹکرا کرکچھ اور بھی کہہ رہی ہیں۔ زینت اس فن میں بالکل کوری تھی لیکن شفیق کی مہارت زینت کی خامیوں کو چھپاتی رہی۔ سردار، دونوں کی نگاہ بازی کو کچھ اس انداز سے دیکھ رہی تھی جیسے خلیفے اکھاڑے سے باہر بیٹھ کر اپنے پٹھوں کے داؤ پیچ کو دیکھتے ہیں۔\n\nاس دوران میں، میں بھی زینت سے کافی بے تکلف ہوگیا تھا وہ مجھے بھائی کہتی تھی جس پر مجھے اعتراض نہیں تھا۔ اچھی ملنسار طبیعت کی عورت تھی۔ کم گو، سادہ لوح، صاف ستھری۔ شفیق سے مجھے اس کی نگاہ بازی پسند نہیں آئی تھی۔ اول تو اس میں بھونڈا پن تھا۔ اس کے علاوہ۔۔۔ کچھ یوں کہیے کہ اس بات کا بھی اس میں دخل تھا کہ وہ مجھے بھائی کہتی تھی۔ شفیق اور سینڈو اٹھ کر باہر گیے تو میں نے شاید بڑی بے رحمی کے ساتھ اس سے نگاہ بازی کے متعلق استفسار کیا کیونکہ فوراً اس کی آنکھوں میں یہ موٹے موٹے آنسو آگیے اور روتی روتی وہ دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ بابو گوپی ناتھ جو ایک کونے میں بیٹھا حقہ پی رہا تھا، اٹھ کر تیزی سے اس کے پیچھے گیا۔ سردار نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس سے کچھ کہا لیکن میں مطلب نہ سمجھا۔ تھوڑی دیر کے بعد بابو گوپی ناتھ کمرے سے باہر نکلا اور ’’آئیے منٹو صاحب‘‘ کہہ کر مجھے اپنے ساتھ اندر لے گیا۔\n\nزینت پلنگ پر بیٹھی تھی۔ میں اندر داخل ہوا تو وہ دونوں ہاتھوں سے منہ ڈھانپ کر لیٹ گئی۔ میں اور بابو گوپی ناتھ، دونوں پلنگ کے پاس کرسیوں پر بیٹھ گیے۔ بابو گوپی ناتھ نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ کہنا شروع کیا، ’’منٹو صاحب! مجھے اس عورت سے بہت محبت ہے۔ دو برس سے یہ میرے پاس ہے۔ میں حضرت غوث اعظم جیلانی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس نے مجھے کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا۔ اس کی دوسری بہنیں، میرا مطلب ہے اس پیشے کی دوسری عورتیں دونوں ہاتھوں سے مجھے لو ٹ کر کھاتی رہیں مگر اس نے کبھی ایک زائد پیسہ مجھ سے نہیں لیا۔ میں اگر کسی دوسری عورت کے ہاں ہفتوں پڑا رہا تو اس غریب نے اپنا کوئی زیور گروی رکھ کرگزارا کیا میں جیسا کہ آپ سے ایک دفعہ کہہ چکا ہوں بہت جلد اس دنیا سے کنارہ کش ہونے والا ہوں۔ میری دولت اب کچھ دن کی مہمان ہے میں نہیں چاہتا اس کی زندگی خراب ہو۔ میں نے لاہور میں اس کو بہت سمجھایا کہ تم دوسری طوائفوں کی طرف دیکھو جو کچھ وہ کرتی ہیں، سیکھو۔ میں آج دولت مند ہوں۔ کل مجھے بھکاری ہونا ہی ہے۔ تم لوگوں کی زندگی میں صرف ایک دولت کافی نہیں۔ میرے بعد تم کسی اور کو نہیں پھانسو گی تو کام نہیں چلے گا۔ لیکن منٹو صاحب اس نے میری ایک نہ سنی۔\n\nسارا دن شریف زادیوں کی طرح گھر میں بیٹھی رہتی۔ میں نے غفار سائیں سے مشورہ کیا۔ اس نے کہا بمبئی لے جاؤ اسے۔ مجھے معلوم تھا کہ اس نے ایسا کیوں کہا۔ بمبئی میں اس کی دو جاننے والی طوائفیں ایکٹرسیں بنی ہوئی ہیں۔ لیکن میں نے سوچا بمبئی ٹھیک ہے۔ دو مہینے ہوگیے ہیں اسے یہاں لائے ہوئے۔ سردار کو لاہور سے بلایا ہے کہ اس کو سب گر سکھائے۔ غفار سائیں سے بھی یہ بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔ یہاں مجھے کوئی نہیں جانتا۔ اس کایہ خیال تھا کہ بابو تمہاری بے عزتی ہوگی۔ میں نے کہا تم چھوڑو اس کو۔ بمبئی بہت بڑا شہر ہے۔ لاکھوں رئیس ہیں۔ میں نے تمہیں موٹر لے دی ہے۔ کوئی اچھا آدمی تلاش کرلو۔۔۔\n\nمنٹو صاحب! میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں میری دلی خواہش ہے کہ یہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے، اچھی طرح ہوشیار ہو جائے۔ میں اس کے نام آج ہی بنک میں دس ہزار روپیہ جمع کرانے کو تیار ہوں۔ مگر مجھے معلوم ہے دس دن کے اندر اندر یہ باہر بیٹھی ہو گی۔ سردار اس کی ایک ایک پائی اپنی جیب میں ڈال لے گی۔۔۔ آپ بھی اسے سمجھائیے کہ چالاک بننے کی کوشش کرے۔ جب سے موٹر خریدی ہے، سردار اسے ہر روز شام کو اپولو بندر لے جاتی ہے لیکن ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی۔ سینڈو آج بڑی مشکلوں سے محمد شفیق کو یہاں لایا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے اس کے متعلق؟‘‘\n\nمیں نے اپنا خیال ظاہر کرنا مناسب خیال نہ کیا، لیکن بابو گوپی ناتھ نے خود ہی کہا، ’’اچھا کھاتا پیتا آدمی معلوم ہوتا ہے اور خوبصورت بھی ہے۔۔۔ کیوں زینو جانی۔۔۔ پسند ہے تمہیں؟‘‘\n\nزینو خاموش رہی۔\n\nبابو گوپی ناتھ سے جب مجھے زینت کو بمبئی لانے کی غرض و غایت معلوم ہوئی تو میرا دماغ چکرا گیا۔ مجھے یقین نہ آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن بعد میں مشاہدے نے میری حیرت دور کردی۔ بابو گوپی ناتھ کی دلی آرزو تھی کہ زینت بمبئی میں کسی اچھے مال دار آدمی کی داشتہ بن جائے یا ایسے طریقے سیکھ جائے جس سے وہ مختلف آدمیوں سے روپیہ وصول کرتے رہنے میں کامیاب ہوسکے۔\n\nزینت سے اگر صرف چھٹکارا ہی حاصل کرنا ہوتا تو یہ کوئی اتنی مشکل چیز نہیں تھی۔ بابو گوپی ناتھ ایک ہی دن میں یہ کام کرسکتا تھا۔ چونکہ اس کی نیت نیک تھی، اس لیے اس نے زینت کے مستقبل کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ اس کو ایکٹرس بنانے کے لیے اس نے کئی جعلی ڈائریکٹروں کی دعوتیں کیں۔ گھر میں ٹیلی فون لگوایا۔ لیکن اونٹ کسی کروٹ نہ بیٹھا۔\n\nمحمد شفیق طوسی تقریباً ڈیڑھ مہینہ آتارہا۔ کئی راتیں بھی اس نے زینت کے ساتھ بسر کیں لیکن وہ ایسا آدمی نہیں تھا جو کسی عورت کا سہارا بن سکے۔ بابو گوپی ناتھ نے ایک روز افسوس اور رنج کے ساتھ کہا، ’’شفیق صاحب تو خالی خالی جنٹلمین ہی نکلے۔ ٹھسّہ دیکھیے، بے چاری زینت سے چار چادریں، چھ تکیے کے غلاف اور دو سو روپے نقد ہتھیا کر لے گیے۔ سنا ہے آج کل ایک لڑکی الماس سے عشق لڑا رہے ہیں۔‘‘\n\nیہ درست تھا۔ الماس، نذیر جان پٹیالے والی کی سب سے چھوٹی اور آخری لڑکی تھی۔ اس سے پہلے تین بہنیں شفیق کی داشتہ رہ چکی تھیں۔ دوسو روپے جو اس نے زینت سے لیے تھے، مجھے معلوم ہے الماس پر خرچ ہوئے تھے۔ بہنوں کے ساتھ لڑ جھگڑ کر الماس نے زہر کھا لیا تھا۔\n\nمحمد شفیق طوسی نے جب آنا جانا بند کردیا تو زینت نے کئی بار مجھے ٹیلی فون کیا اور کہا اسے ڈھونڈ کر میرے پاس لائیے۔ میں نے اسے تلاش کیا، لیکن کسی کو اس کا پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ کہاں رہتا ہے۔ ایک روز اتفاقیہ ریڈیو اسٹیشن پر ملاقات ہوئی۔ سخت پریشانی کے عالم میں تھا۔ جب میں نے اس سے کہا کہ تمہیں زینت بلاتی ہے تو اس نے جواب دیا، ’’مجھے یہ پیغام اور ذریعوں سے بھی مل چکا ہے۔ افسوس ہے، آج کل مجھے بالکل فرصت نہیں۔ زینت بہت اچھی عورت ہے لیکن افسوس ہے کہ بے حد شریف ہے۔۔۔ ایسی عورتوں سے جو بیویوں جیسی لگیں مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘\n\nشفیق سے مایوسی ہوئی تو زینت نے سردار کے ساتھ اپولو بندر جانا شروع کیا۔ پندرہ دنوں میں، بڑی مشکلوں سے، کئی گیلن پٹرول پھونکنے کے بعد سردار نے دو آدمی پھانسے۔ ان سے زینت کو چار سو روپے ملے۔ بابو گوپی ناتھ نے سمجھا کہ حالات امید افزا ہیں کیونکہ ان میں سے ایک نے جو ریشمی کپڑوں کی مل کا مالک تھا، زینت سے کہا تھا کہ میں تم سے شادی کروں گا۔ ایک مہینہ گزر گیا لیکن یہ آدمی پھر زینت کے پاس نہ آیا۔\n\nایک روز میں جانے کس کام سے ہاربنی روڈ پر جارہا تھا کہ مجھے فٹ پاتھ کے پاس زینت کی موٹر کھڑی نظر آئی۔ پچھلی نشست پر محمد یاسین بیٹھا تھا۔ نگینہ ہوٹل کا مالک۔ میں نے اس سے پوچھا، ’’یہ موٹر تم نے کہاں سے لی؟‘‘\n\nیاسین مسکرایا۔ ’’تم جانتے ہو موٹر والی کو۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’جانتا ہوں۔‘‘\n\n’’تو بس سمجھ لو میرے پاس کیسے آئی۔۔۔ اچھی لڑکی ہے یار!‘‘ یاسین نے مجھے آنکھ ماری۔ میں مسکرا دیا۔\n\nاس کے چوتھے روز بابو گوپی ناتھ ٹیکسی پر میرے دفتر میں آیا۔ اس سے مجھے معلوم ہوا کہ زینت سے یاسین کی ملاقات کیسے ہوئی۔ ایک شام اپولوبندر سے ایک آدمی لے کر سردار اور زینت نگینہ ہوٹل گئیں۔ وہ آدمی تو کسی بات پر جھگڑا کرکےچلا گیا لیکن ہوٹل کے مالک سے زینت کی دوستی ہوگئی۔\n\nبابو گوپی ناتھ مطمئن تھا کیونکہ دس پندرہ روز کی دوستی کے دوران میں یاسین نے زینت کو چھ بہت ہی عمدہ اور قیمتی ساڑیاں لے دی تھیں۔ بابو گوپی ناتھ اب یہ سوچ رہا تھا کچھ دن اورگزر جائیں، زینت اور یاسین کی دوستی اور مضبوط ہو جائے تو لاہور واپس چلا جائے۔۔۔ مگر ایسا نہ ہوا۔\n\nنگینہ ہوٹل میں ایک کرسیچین عورت نے کمرہ کرائے پر لیا۔ اس کی جوان لڑکی میوریل سے یاسین کی آنکھ لڑ گئی۔ چنانچہ زینت بے چاری ہوٹل میں بیٹھی رہتی اور یاسین اس کی موٹر میں صبح شام اس لڑکی کو گھماتا رہا۔ بابوگوپی ناتھ کو اس کا علم ہونے پر دکھ ہوا۔ اس نے مجھ سے کہا، ’’منٹو صاحب یہ کیسے لوگ ہیں۔ بھئی دل اچاٹ ہوگیا ہے تو صاف کہہ دو۔ لیکن زینت بھی عجیب ہے۔ اچھی طرح معلوم ہے کیا ہورہا ہے مگر منہ سے اتنا بھی نہیں کہتی، میاں! اگر تم نے اس کرسٹان چھوکری سے عشق لڑانا ہے تو اپنی موٹر کار کا بندوبست کرو، میری موٹر کیوں استعمال کرتے ہو۔ میں کیاکروں منٹو صاحب! بڑی شریف اور نیک بخت عورت ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ تھوڑی سی چالاک تو بننا چاہیے۔‘‘\n\nیاسین سے تعلق قطع ہونے پر زینت نے کوئی صدمہ محسوس نہ کیا۔ بہت دنوں تک کوئی نئی بات وقوع پذیر نہ ہوئی۔ ایک دن ٹیلی فون کیا تو معلوم ہوا بابو گوپی ناتھ، غلام علی اور غفار سائیں کے ساتھ لاہور چلا گیا، روپے کا بندوبست کرنے، کیونکہ پچاس ہزار ختم ہوگیے تھے۔ جاتے وقت وہ زینت سے کہہ گیا تھا کہ اسے لاہور میں زیادہ دن لگیں گے کیونکہ اسے چند مکان فروخت کرنے پڑیں گے۔\n\nسردار کو مورفیا کے ٹیکوں کی ضرورت تھی۔ سینڈو کو پولسن مکھن کی۔ چنانچہ دونوں نے متحدہ کوشش کی اور ہر روز تین آدمی پھانس کر لے آتے۔ زینت سے کہا گیا کہ بابو گوپی ناتھ واپس نہیں آئے گا، اس لیے اسے اپنی فکر کرنی چاہیے۔ سو سوا سو روپے روز کے ہو جاتے جن میں سے آدھے زینت کو ملتے باقی سینڈو اور سردار دبا لیتے۔ میں نے ایک دن زینت سے کہا، ’’یہ تم کیا کررہی ہو۔‘‘ اس نے بڑے الہڑ پن سے کہا، ’’مجھے کچھ معلوم نہیں بھائی جان۔ یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں مان لیتی ہوں۔‘‘\n\nجی چاہا کہ بہت دیر پاس بیٹھ کر سمجھاؤں کہ جو کچھ تم کررہی ہو، ٹھیک نہیں، سینڈو اور سردار اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے تمہیں بیچ بھی ڈالیں گے مگر میں نے کچھ نہ کہا۔ زینت اکتا دینے والی حد تک بے سمجھ، بے امنگ اور بے جان عورت تھی۔ اس کم بخت کو اپنی زندگی کی قدرو قیمت ہی معلوم نہیں تھی۔ جسم بیچتی مگر اس میں بیچنے والوں کا کوئی انداز تو ہوتا۔ واللہ مجھے بہت کوفت ہوتی تھی اسے دیکھ کر۔ سگریٹ سے، شراب سے، کھانے سے، گھر سے، ٹیلی فون سے، حتیٰ کہ اس صوفے سے بھی جس پر وہ اکثر لیٹی رہتی تھی، اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔\n\nبابو گوپی ناتھ پورے ایک مہینے کے بعد لوٹا۔ وہاں گیا تو وہاں فلیٹ میں کوئی اور ہی تھا۔ سینڈو اور سردار کے مشورے سے زینت نے باندرہ میں ایک بنگلے کا بالائی حصہ کرائے پر لے لیا تھا۔ بابو گوپی ناتھ میرے پاس آیا تو میں نے اسے پورا پتہ بتا دیا۔ اس نے مجھ سے زینت کے متعلق پوچھا۔ جوکچھ مجھے معلوم تھا، میں نے کہہ دیا لیکن یہ نہ کہا کہ سینڈو اور سردار اس سے پیشہ کرارہے ہیں۔\n\nبابو گوپی ناتھ اب کہ دس ہزار روپیہ اپنے ساتھ لایا تھا جواس نے بڑی مشکلوں سے حاصل کیا تھا۔ غلام علی اور غفار سائیں کو وہ لاہور ہی چھوڑ آیا تھا۔ ٹیکسی نیچے کھڑی تھی۔ بابو گوپی ناتھ نے اصرار کیا میں بھی اس کے ساتھ چلوں۔ تقریباً ایک گھنٹے میں ہم باندرہ پہنچ گئے۔ بالی ہل پر ٹیکسی چڑھ رہی تھی کہ سامنے تنگ سڑک پر سینڈو دکھائی دیا۔ بابو گوپی ناتھ نے زور سے پکارا، ’’سینڈو!‘‘\n\nسینڈو نے جب بابو گوپی ناتھ کو دیکھا تو اس کے منہ سے صرف اتنا نکلا، ’’دھڑن تختہ‘‘\n\nبابو گوپی ناتھ نے اس سے کہا آؤ ٹیکسی میں بیٹھ جاؤ اور ساتھ چلو، لیکن سینڈو نے کہا ٹیکسی ایک طرف کھڑی کیجیے، مجھے آپ سے کچھ پرائیویٹ باتیں کرنی ہیں۔ ٹیکسی ایک طرف کھڑی کی گئی۔ بابو گوپی ناتھ باہر نکلا تو سینڈو اسے کچھ دور لے گیا دیر تک ان میں باتیں ہوتی رہیں جب ختم ہوئیں تو بابو گوپی ناتھ اکیلا ٹیکسی کی طرف آیا۔ ڈرائیور سے اس نے کہا، ’’واپس لے چلو!‘‘\n\nبابو گوپی ناتھ خوش تھا۔ ہم دادر کے پاس پہنچے تو اس نے کہا، ’’منٹو صاحب! زینو کی شادی ہونے والی ہے۔‘‘\n\nمیں نے حیرت سے کہا، ’’کس سے؟‘‘\n\nبابو گوپی ناتھ نے جواب دیا، ’’حیدر آباد سندھ کا ایک دولت مند زمیندار ہے۔ خدا کرے وہ خوش رہیں۔ یہ بھی اچھا ہوا جو میں عین وقت پر آپہنچا۔ جو روپے میرے پاس ہیں، ان سے زینو کا زیور بن جائے گا۔۔۔ کیوں، کیا خیال ہے آپ کا؟‘‘\n\nمیرے دماغ میں اس وقت کوئی خیال نہ تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہ حیدرآباد سندھ کا دولت مند زمیندار کون ہے، سینڈو اور سردارکی کوئی جعلسازی تو نہیں، لیکن بعد میں اس کی تصدیق ہوگئی کہ وہ حقیقتاً حیدر آباد کا متمول زمیندار ہے جو حیدر آباد سندھ ہی کے ایک میوزک ٹیچر کی معرفت زینت سے متعارف ہوا۔ یہ میوزک ٹیچر زینت کو گانا سکھانے کی بے سود کوشش کیا کرتا تھا۔ ایک روز وہ اپنے مربی غلام حسین (یہ اس حیدرآباد سندھ کے رئیس کا نام تھا) کو ساتھ لے کر آیا۔ زینت نے خوب خاطر مدارات کی۔ غلام حسین کی پرزور فرمائش پر اس نے غالب کی غزل:\n\nنکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے\n\nگاکر سنائی۔ غلام حسین سو جان سے اس پر فریفتہ ہوگیا۔ اس کا ذکر میوزک ٹیچر نے زینت سے کیا۔ سردار اور سینڈو نے مل کرمعاملہ پکا کردیا اور شادی طے ہوگئی۔\n\nبابو گوپی ناتھ خوش تھا۔ ایک دفعہ سینڈو کے دوست کی حیثیت سے وہ زینت کے ہاں گیا۔ غلام حسین سے اس کی ملاقات ہوئی۔ اس سے مل کر بابو گوپی ناتھ کی خوشی دگنی ہوگئی۔ مجھ سے اس نے کہا، ’’منٹو صاحب! خوبصورت، نوجوان اور بڑا لائق آدمی ہے۔ میں نے یہاں آتے ہوئے داتا گنج بخشؒ کے حضور جا کر دعا مانگی تھی جو قبول ہوئی۔ بھگوان کرے دونوں خوش رہیں!‘‘\n\nبابو گوپی ناتھ نے بڑے خلوص اور بڑی توجہ سے زینت کی شادی کا انتظام کیا۔ دو ہزار کے زیور اور دو ہزار کے کپڑے بنوا دیے اور پانچ ہزار نقد دیے۔ محمد شفیق طوسی، محمد یاسین پروپرائیٹر نگینہ ہوٹل، سینڈو، میوزک ٹیچر، میں اور گوپی ناتھ شادی میں شامل تھے دلہن کی طرف سے سینڈو وکیل تھے۔\n\nایجاب و قبول ہوا تو سینڈو نے آہستہ سے کہا، ’’دھڑن تختہ۔‘‘\n\nغلام حسین سرج کا نیلا سوٹ پہنے تھے۔ سب نے اس کو مبارک باد دی جو اس نے خندہ پیشانی سے قبول کی۔ کافی وجیہہ آدمی تھا۔ بابو گوپی ناتھ اس کے مقابلے میں اس کے سامنے چھوٹی سی بٹیر معلوم ہوتا تھا۔ شادی کی دعوتوں پر خورد و نوش کا جو سامان بھی ہوتا ہے، بابو گوپی ناتھ نے مہیا کیا تھا۔ دعوت سے جب لوگ فارغ ہوئے تو بابو گوپی ناتھ نے سب کے ہاتھ دھلوائے۔ میں جب ہاتھ دھونے کے لیے آیا تو اس نے مجھ سے بچوں کے انداز سے کہا، ’’منٹو صاحب! ذرا اندر جائیے اور دیکھیے زینو دلہن کے لباس میں کیسی لگتی ہے۔‘‘\n\nمیں پردہ ہٹا کر اندر داخل ہوا۔ زینت سرخ زربفت کا شلوار کرتہ پہنے تھی۔۔۔ دوپٹہ بھی اسی رنگ کا تھا جس پر گوٹ لگی تھی چہرے پر ہلکا ہلکا میک اپ تھا حالانکہ مجھے ہونٹوں پر لپ اسٹک کی سرخی بہت بری معلوم ہوتی ہے مگر زینت کے ہونٹ سجے ہوئے تھے۔ اس نے شرما کر مجھے آداب کیا توبہت پیاری لگی لیکن جب میں نے دوسرے کونے میں ایک مسہری دیکھی جس پر پھول ہی پھول تھے تو مجھے بے اختیار ہنسی آگئی۔ میں نے زینت سے کہا یہ کیا مسخرہ پن ہے۔\n\nزینت نے میری طرف بالکل معصوم کبوتری کی طرح دیکھا، ’’آپ مذاق کرتے ہیں بھائی جان!‘‘ اس نے یہ کہا اور آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے۔\n\nمجھے ابھی غلطی کا احساس بھی نہ ہوا تھا کہ بابو گوپی ناتھ اندر داخل ہوا۔ بڑے پیار کے ساتھ اس نے اپنے رومال کے ساتھ زینت کے آنسو پونچھے اور بڑے دکھ کے ساتھ مجھ سے کہا، ’’منٹو صاحب! میں سمجھا تھا کہ آپ بڑے سمجھ دار اور لائق آدمی ہیں۔۔۔ زینو کا مذاق اڑانے سے پہلے آپ نے کچھ تو سوچ لیا ہوتا۔‘‘\n\nبابو گوپی ناتھ کے لہجے میں وہ عقیدت جو اسے مجھ سے تھی، زخمی نظر آئی لیکن پیشتر اس کے کہ میں اس سے معافی مانگوں، اس نے زینت کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بڑے خلوص کے ساتھ کہا، ’’خدا تمہیں خوش رکھے!‘‘\n\nیہ کہہ کر بابو گوپی ناتھ نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ ان میں ملامت تھی۔۔۔ بہت ہی دکھ بھری ملامت۔۔۔ اور چلا گیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%A8%D9%88_%DA%AF%D9%88%D9%BE%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "بات دل کی زبان پر آئی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بات دل کی زبان پر آئی\nآفت اب میری جان پر آئی\n\nآرزو کیوں زبان پر آئی\nان کی زلف اڑ کے کان پر آئی\n\nکھنچتے ہی اڑ گئی وہ بادہ فروش\nچوکھی مے کب دکان پر آئی\n\nہو گئی اونچی ان کے بام سے آہ\nآفت اب آسمان پر آئی\n\nکی فرشتوں نے جب صراحت جرم\nہنسی ان کے بیان پر آئی\n\nجب چلی آسماں سے کوئی بلا\nسیدھی میرے مکان پر آئی\n\nغیر کا ساز بن کے راز رہا\nبات سب پاسبان پر آئی\n\nروکے رکتا نہیں ہے سیل سرشک\nاب تباہی مکان پر آئی\n\nآئی بوتل بھی میکدے سے ریاضؔ\nجب گھٹا آسمان پر آئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی\nکر کے توبہ توڑ ڈالی جائے گی\n\nوہ سنورتے ہیں مجھے اس کی ہے فکر\nآرزو کس کی نکالی جائے گی\n\nدل لیا پہلی نظر میں آپ نے\nاب ادا کوئی نہ خالی جائے گی\n\nآتے آتے آئے گا ان کو خیال\nجاتے جاتے بے خیالی جائے گی\n\nکیا کہوں دل توڑتے ہیں کس لیے\nآرزو شاید نکالی جائے گی\n\nگرمئ نظارہ بازی کا ہے شوق\nباغ سے نرگس نکالی جائے گی\n\nدیکھتے ہیں غور سے میری شبیہ\nشاید اس میں جان ڈالی جائے گی\n\nاے تمنا تجھ کو رو لوں شام وصل\nآج تو دل سے نکالی جائے گی\n\nفصل گل آئی جنوں اچھلا جلیلؔ\nاب طبیعت کچھ سنبھالی جائے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "بات میری کبھی سنی ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بات میری کبھی سنی ہی نہیں\nجانتے وہ بری بھلی ہی نہیں\n\nدل لگی ان کی دل لگی ہی نہیں\nرنج بھی ہے فقط ہنسی ہی نہیں\n\nلطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد\nہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں\n\nاڑ گئی یوں وفا زمانے سے\nکبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں\n\nجان کیا دوں کہ جانتا ہوں میں\nتم نے یہ چیز لے کے دی ہی نہیں\n\nہم تو دشمن کو دوست کر لیتے\nپر کریں کیا تری خوشی ہی نہیں\n\nہم تری آرزو پہ جیتے ہیں\nیہ نہیں ہے تو زندگی ہی نہیں\n\nدل لگی دل لگی نہیں ناصح\nتیرے دل کو ابھی لگی ہی نہیں\n\nداغؔ کیوں تم کو بے وفا کہتا\nوہ شکایت کا آدمی ہی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بات کا اپنی نہ جب پایا جواب", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بات کا اپنی نہ جب پایا جواب\nہم یہ سمجھے وہ دہن ہے لا جواب\n\nباتیں سنوائیں لب خاموش نے\nورنہ ہم دیتے اسے کیا کیا جواب\n\nبے نشاں ہے وہ کمر شکل دہن\nکون سی شے ہے نہیں جس کا جواب\n\nسادہ کاغذ بھیجا نامہ کے عوض\nواں سے آیا بھی تو صاف آیا جواب\n\nپوچھتا گر اس کمر کا میں نشاں\nغیب سے ملتا مجھے اس کا جواب\n\nتم جو کچھ کہتے زبان تیغ سے\nمیں دہان زخم سے دیتا جواب\n\nآج مجھ سے بات اگر کرتے نہیں\nدیں گے یہ بت کل خدا کو کیا جواب\n\nبے دہن وہ ہے تو میں ہوں بے زباں\nیار کی صورت ہوں میں بھی لا جواب\n\nکہہ کے اک مصرع مہ نو رہ گیا\nہو سکا کب بیت ابرو کا جواب\n\nبات سیدھی کی جو تھا مذکور قد\nذکر ابرو میں دیا ٹیڑھا جواب\n\nکیجیے کیا بات اس کج طبع سے\nدے گا چرخ واژگوں الٹا جواب\n\nباتیں کرتا ہے جو پردہ چھوڑ کر\nمجھ کو دیتا ہے وہ در پردہ جواب\n\nآ گیا اے وائے پیغام اجل\nپر نہ قاصد لے کے کچھ آیا جواب\n\nسن کے بیتیں میرے حاسد چپ رہے\nاے وزیرؔ اپنا سخن ہے لا جواب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8"} {"title": "بات کر دل ستی حجاب نکال", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بات کر دل ستی حجاب نکال\nغنچۂ لب ستی گلاب نکال\n\nشب ہجراں کی تیرگی کر دور\nحسن تاباں کا آفتاب نکال\n\nبیت ابرو کا درس دے مجھ کوں\nفرد دیوان انتخاب نکال\n\nبو الہوس بند عقدۂ غم ہے\nزلف مشکیں سیں پیچ و تاب نکال\n\nمنحصر نہیں ہے گوشہ گیری پر\nدل سیں یکسو ہو سب حساب نکال\n\nتکیۂمخملی سرہانے رکھ\nلیکن آنکھوں سیں اپنی خواب نکال\n\nمستیٔ عشق گر تجھے ہے سراجؔ\nشیشۂ چشم سیں شراب نکال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84"} {"title": "بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی\nجیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی\n\nلے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار\nبے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی\n\nاس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو\nکہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی\n\nعکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا\nتاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی\n\nاب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیف\nسخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی\n\nپائے کوباں کوئی زنداں میں نیا ہے مجنوں\nآتی آواز سلاسل کبھی ایسی تو نہ تھی\n\nنگہ یار کو اب کیوں ہے تغافل اے دل\nوہ ترے حال سے غافل کبھی ایسی تو نہ تھی\n\nچشم قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن\nجیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی\n\nکیا سبب تو جو بگڑتا ہے ظفرؔ سے ہر بار\nخو تری حور شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات\nکیا بری بات ہے رہ جاؤ یہیں رات کی رات\n\nذرے افشاں کے نہیں کرمک شب تاب سے کم\nہے وہ زلف عرق آلود کہ برسات کی رات\n\nزاہد اس زلف پھنس جائے تو اتنا پوچھوں\nکہیے کس طرح کٹی قبلۂ حاجات کی رات\n\nشام سے صبح تلک چلتے ہیں جام مے عیش\nخوب ہوتی ہے بسر اہل خرابات کی رات\n\nوصل چاہا شب معراج تو یہ عذر کیا\nہے یہ اللہ و پیمبر کی ملاقات کی رات\n\nہم مسافر ہیں یہ دنیا ہے حقیقت میں سرا\nہے توقف ہمیں اس جا تو فقط رات کی رات\n\nچل کے اب سو رہو باتیں نہ بناؤ صاحب\nوصل کی شب ہے نہیں حرف حکایات کی رات\n\nلیلۃ القدر ہے وصلت کی دعا مانگ امیرؔ\nاس سے بہتر ہے کہاں کوئی مناجات کی رات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو\nمجھ کو دم بھر کے لئے غیر کی قسمت دے دو\n\nتم کو الفت نہیں مجھ سے یہ کہا تھا میں نے\nہنس کے فرماتے ہیں تم اپنی محبت دے دو\n\nہم ہی چوکے سحر وصل منانا ہی نہ تھا\nاب ہے یہ حکم کہ جانے کی اجازت دے دو\n\nمفت لیتے بھی نہیں پھیر کے دیتے بھی نہیں\nیوں سہی خیر کہ دل کی ہمیں قیمت دے دو\n\nکم نہیں پیر خرابات نشیں سے بیخودؔ\nمے کشو تو اسے مے خانے کی خدمت دے دو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D8%B2%D8%AA_%D8%AF%DB%92_%D8%AF%D9%88"} {"title": "بات کو میری الگ ہو کے نہ شرماؤ سنو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بات کو میری الگ ہو کے نہ شرماؤ سنو\nکچھ کہا چاہوں ہوں میں تم سے ادھر آؤ سنو\n\nمیں تو جانے کا نہیں رو بہ رو اس کے یارو\nکچھ وہ گر تم سے کہے ہے تو تمہیں جاؤ سنو\n\nچھیڑنے کو مرے گر آپ کا جی چاہے ہے\nبے ادب ہوں میں مرے حق میں جو فرماؤ سنو\n\nبات بھی مانو کسی کی کوئی یہ بھی ضد ہے\nاپنے عاشق کے تئیں اتنا نہ ترساؤ سنو\n\nگل صنوبر کا اگر قصہ ہے تم پاس میاں\nپڑھنے والا بھی تو موجود ہوں میں لاؤ سنو\n\nاے دل و دیدہ مآل اس کا برا ہی سمجھو\nدیکھ کر اس کے تئیں اتنا نہ للچاؤ سنو\n\nمصحفیؔ بات تو کہنے دو ذرا قاصد کو\nپہلے ہی حرف میں تم اتنا نہ گھبراؤ سنو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D9%84%DA%AF_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B4%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A4_%D8%B3%D9%86%D9%88"} {"title": "بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج\nبول کر ہم نے منہ کی کھائی آج\n\nچپ پر اپنی بھرم تھے کیا کیا کچھ\nبات بگڑی بنی بنائی آج\n\nشکوہ کرنے کی خو نہ تھی اپنی\nپر طبیعت ہی کچھ بھر آئی آج\n\nبزم ساقی نے دی الٹ ساری\nخوب بھر بھر کے خم لنڈھائی آج\n\nمعصیت پر ہے دیر سے یا رب\nنفس اور شرع میں لڑائی آج\n\nغالب آتا ہے نفس دوں یا شرع\nدیکھنی ہے تری خدائی آج\n\nچور ہے دل میں کچھ نہ کچھ یارو\nنیند پھر رات بھر نہ آئی آج\n\nزد سے الفت کی بچ کے چلنا تھا\nمفت حالیؔ نے چوٹ کھائی آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D9%86_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "بات کے ساتھ ہی موجود ہے ٹال ایک نہ ایک", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "بات کے ساتھ ہی موجود ہے ٹال ایک نہ ایک\nہے خلاف اپنے سدا آپ کے چال ایک نہ ایک\n\nہم بھی اس واسطے بیٹھے ہیں کہ ہو رہتا ہے\nتجھ سہی سرو کے سایہ میں نہال ایک نہ ایک\n\nیار ہے پاس پر اب فرط تردد کے سبب\nآ ہی رہتا ہے مرے دل کو ملال ایک نہ ایک\n\nمیں تو ہر چند بچاتا ہوں ولیکن ہیہات\nکھب ہی جاتا ہے ان آنکھوں میں جمال ایک نہ ایک\n\nتجھے کچھ حسن پرستی سے نہیں کام ولے\nہو ہی رہتا ہے مرے جی کا زوال ایک نہ ایک\n\nکیا کروں گرچہ بھلاتا ہوں بہت میں لیکن\nآ ہی رہتا ہے ترا مجھ کو خیال ایک نہ ایک\n\nمجلس وجد میں پڑھ اپنی غزل تو انشاؔ\nکر ہی بیٹھے گا ابھی سنتے ہی حال ایک نہ ایک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DB%81%DB%8C_%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D9%B9%D8%A7%D9%84_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9"} {"title": "باتوں باتوں میں کیا خوں آج اک دلگیر کا", "poet_page": "مصنف:ناصری لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نذر احباب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "باتوں باتوں میں کیا خوں آج اک دلگیر کا\nواہ کیا کہنا تری رنگینیٔ تقریر کا\n\nبے سبب کب ہے تڑپنا عاشق دلگیر کا\nسینے سے پیکاں نکلتا ہے تمہارے تیر کا\n\nنو گرفتاروں کی وحشت کا بھی ہو کچھ امتحاں\nآج سننا چاہیے نالہ نئی زنجیر کا\n\nباعث حیرت ہوا بیماری دل کا اثر\nدیکھو اب تو رنگ اڑتا ہے مری تصویر کا\n\nبس بس اے ظالم کہاں تک امتحان ضبط آہ\nاب تو دم گھٹنے لگا ہے عاشق دلگیر کا\n\nمر گیا ہے آپ کا وحشی اداسی چھائی ہے\nدیدنی ہے آج عالم خانۂ زنجیر کا\n\nدل بھی دھڑکا آپ کا زلفیں بھی بل کھانے لگیں\nاور ابھی زنداں میں نالہ ہے مری زنجیر کا", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%A2%D8%AC_%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%D9%84%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "باتوں میں تو اختیار شیرینی کر", "poet_page": "مصنف:آسی الدنی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "باتوں میں تو اختیار شیرینی کر\nاظہار نیاز و عجز و مسکینی کر\nخواہش ہو جو آنکھوں میں جگہ پانے کی\nاے مردم دیدہ ترک خود بینی کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%DB%8C%D8%B1%DB%8C%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "باتوں میں ڈھونڈتے ہیں وہ پہلو ملال کا", "poet_page": "مصنف:شیر سنگھ ناز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باتوں میں ڈھونڈتے ہیں وہ پہلو ملال کا\nمطلب یہ ہے کہ ذکر نہ آئے وصال کا\n\nکیا ذکر ان سے کیجیے دل کے ملال کا\nہے خامشی جواب مرے ہر سوال کا\n\nتا عمر پھر نہ طالب جلوہ ہوئے کلیم\nدیکھا جو ایک بار کرشمہ جمال کا\n\nرخ پر پڑی ہوئی ہے نقاب شعاع حسن\nموقع نظر کو خاک ملے دیکھ بھال کا\n\nہم نا مراد عشق وہ ہجراں نصیب ہیں\nدیکھا نہ ہم نے منہ کبھی شام وصال کا\n\nبود و نبود کہتے ہیں اہل جہاں جسے\nادنیٰ سا شعبدہ ہے طلسم خیال کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "باتیں", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے مضامین", "year": "1942", "text_ur": "بمبئی آیا تھا کہ چند روز پرانے دوستوں کے ساتھ گزاروں گا اور اپنے تھکے ہوئے دماغ کو کچھ آرام پہنچاؤں گا، مگر یہاں پہنچتے ہی وہ جھٹکے لگے کہ راتوں کی نیند تک حرام ہو گئی۔ سیاسیات سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ لیڈروں اور دوا فروشوں کو میں ایک ہی زمرے میں شمار کرتا ہوں۔ لیڈری اور دوا فروشی، یہ دونوں پیشے ہیں۔ دوا فروش اور لیڈر دونوں دوسروں کے نسخے استعمال کرتے ہیں۔ خیر کہنا یہ ہے کہ سیاسیات سے مجھے اتنی ہی دلچسپی ہے جتنی گاندھی جی کو سینما سے۔ گاندھی جی سینما نہیں دیکھتے، میں اخبار نہیں پڑھتا۔ اصل میں ہم دونوں غلطی کرتے ہیں۔ گاندھی جی کو فلم ضرور دیکھنے چاہئیں اور مجھے اخبار ضرور پڑھنے چاہئیں۔\n\nخیر صاحب بمبئی پہنچا۔ وہی بازار تھے، وہی گلیاں تھیں، جن کے پتھروں پر پانچ برس میرے نقش قدم بکھرتے رہے تھے۔ وہی بمبئی تھی جہاں میں دو ہندو مسلم فساد دیکھ چکا تھا۔ وہی خوبصورت شہر تھا، جس کے اندر میں نے کئی بے گناہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے خون کے چھینٹے اڑتے دیکھے تھے۔ وہی جگہ تھی جہاں کانگرس نے امتناع شراب کا قانون پاس کر کے ان ہزارہا مزدوروں کو بے کار کر دیا تھا جو تاڑی نکالتے تھے۔ وہی مقام تھا جہاں میں نے کئی دھوبیوں کو جو بارہ بارہ گھنٹے پانی میں کھڑے رہتے تھے، رات کو اپنے جسم میں گرمی پیدا کرنے کے لئے زہریلی اسپرٹ پیتے دیکھا تھا۔۔۔ وہی عروس البلاد تھی جس کے گھونگھٹ کا ایک حصہ حریری ہے اور دوسرا موٹے اور کھردرے ٹاٹ کا۔۔۔ وہی بمبئی تھا جہاں اونچی اونچی خوبصورت عمارات کے قدموں میں فٹ پاتھوں پر ہزار ہا مخلوق رات کو سوتی ہے۔\n\nمیں نے بس میں سوار ہوتے ہوئے ایک عورت کو دیکھا، پھر دیکھا۔۔۔ اب کے غور سے دیکھا۔۔۔ آہ، حقیقت میرے سامنے تھی ان کالے حلقوں کی صورت میں جو اس لڑکی کی شربتی آنکھوں کے نیچے پڑے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا (نام نہیں بتاؤں گا) یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے۔۔۔؟ میں نے اس لڑکی کو دلی میں دیکھا تھا۔ مغلوں کی دلی میں جنہیں مقبرے بنانے کا بہت شوق تھا۔ کتنی بھولی بھالی تھی۔ صرف دس مہینے پہلے وہ کس قدر معصوم تھی۔ میں اس سے ڈر کے مارے بات تک نہ کرتا تھا۔ میں اس کو دیکھتا تھا تو مجھ پر رعب سا طاری ہو جاتا تھا۔ پر اب میں نے اسے دیکھا تو مجھے اس کے اور اپنے درمیان کوئی چیز بھی حائل محسوس نہ ہوئی۔ میں نے اس کے کاندھے پر بے دھڑک ہاتھ رکھ کر اس سے پوچھا، ’’کہو، کیسی گزر رہی ہے؟‘‘\n\nاس کی آنکھوں میں ایک دھندلی سی چمک پیدا ہوئی۔ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ وہ دیا جو کبھی مندر میں جلتا تھا، اب دیر سے کسی ویشیا کے گھر میں جل رہا ہے۔ دیر سے بہت دیر سے۔۔۔ یہ بمبئی کتنی لڑکیوں کو عورتوں میں تبدیل کر چکا ہے۔۔۔؟ عصمت کی حفاظت ضروری ہے مگر پیٹ کی بھوک مٹانا بھی ضروری ہے۔ یہاں بمبئی میں آ کر معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو بھوک بھی لگتی ہے۔\n\nدو ہندو مسلم فساد اس شہر میں دیکھ چکا ہوں۔ بنائے فساد وہی تھی، پرانی! مندر اور مسجد۔۔۔ گائے اور سور۔ مندر اور مسجد اینٹوں کا ڈھیر، گائے اور سور، گوشت کا ڈھیر۔۔۔ پر اس دفعہ ایک نیا فساد دیکھنے میں آیا۔ ہندو مسلم فساد نہیں۔ مندر اور مسجد کا جھگڑا نہیں، گائے اور سور کا قضیہ نہیں، ایک نئے قسم کا ہلڑ، ایک نئے قسم کا طوفان جو بمبئی میں قریباً چھ روز مچا رہا۔\n\nایک روز ٹیلی فون پر کسی صاحب نے مجھے بتایا کہ رات رات میں کانگرس کے تمام لیڈر گرفتار کر لئے گئے، گاندھی جی سمیت جو کانگرس کے ممبر نہیں ہیں۔۔۔ میں نے کہا اچھا بھئی، گرفتار کر لئے گئے ہیں تو ٹھیک ہے، یہ لوگ گرفتار اور رہا ہوتے ہی رہتے ہیں۔ مجھے کوئی اچنبھا نہ ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر ایک دوست نے رنگ کیا تو معلوم ہوا کہ شہر بھر میں ہلڑ مچ گیا ہے۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا ہے، گولی چلائی ہے۔ فوج بلائی گئی ہے۔ بازاروں میں ٹینک چل رہے ہیں۔۔۔ دو تین روز تک میں گھر سے باہر نہ نکل سکا۔ اخبار پڑھتا رہا اور لوگوں سے بھانت بھانت کی خبریں سنتا رہا۔\n\nمسلم لیگ مسجد ہے، کانگرس مندر ہے۔ لوگوں کا یہی خیال ہے۔ اخبار بھی یہی کہتے ہیں، کانگرس سوراج چاہتی ہے، مسلم لیگ بھی، لیکن دونوں کے رستے جدا جدا ہیں۔ دونوں مل جل کر کام نہیں کرتے۔ ا س لئے کہ مندر اور مسجد ساخت کے اعتبار سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔ میرا خیال تھا کہ یہ جو فساد ہو رہا ہے، اس میں ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے مصروف پیکار ہو جائیں گے اور ان دونوں کے خون کا ملاپ جو مندروں اور مسجدوں میں نہیں ہوتا، موریوں اور بدرؤں میں ہوگا، مگر مجھے بہت تعجب ہوا، جب میرا یہ خیال بالکل غلط ثابت ہوا۔\n\nماہم کی طرف ایک لمبی سڑک جاتی ہے۔ سڑک کے آخری سرے پر مسلمانوں کی مشہور خانقاہ ہے۔ مسلمان مردہ پرست مشہور ہیں۔ جب بلوہ شروع ہوا اور شہر کے اس حصے تک پہنچ گیا۔ لڑکوں اور بچوں نے فٹ پاتھ کے درخت اکھیڑ اکھیڑ کر بازار میں رکھنے شروع کئے تو ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ چند ہندو لڑکے لوہے کا ایک جنگلہ گھسیٹ کر اس طرف لے جانے لگے، جدھر خانقاہ ہے۔ چند مسلمان آگے بڑھے، ان میں سے ایک نے بڑی آہستگی سے ان لڑکوں سے کہا، ’’دیکھو بھئی ادھر مت آؤ۔۔۔ یہاں سے پاکستان شروع ہوتا ہے۔‘‘ سڑک پر ایک لکیرکھینچ دی گئی، چنانچہ بلوہ پسند لڑکے چپ چاپ اس جنگلے کو اٹھا کر دوسری طرف لے گئے۔ کہتے ہیں کہ ’’پاکستان‘‘ کی طرف پھر کسی ’’کافر‘‘ نے رخ نہ کیا۔\n\nبھنڈی بازار مسلمانوں کا علاقہ ہے۔ وہاں کوئی شورش نہ ہوئی۔ مسلمان وہ مسلمان جو ہندو مسلم فساد میں سب سے پیش پیش ہوتے تھے، اب ہوٹلوں میں چاء کی پیالیاں سامنے رکھ کر فساد کی باتیں کرتے تھے اور ٹھنڈی سانسیں بھرتے تھے۔ میں نے ایک مسلمان کو اپنے دوست سے کہتے سنا، ’’ہمارے جناح صاحب دیکھئے ہمیں کب آرڈر دیتے ہیں۔‘‘\n\nاسی بلوے کا ایک لطیفہ سنئے۔ ایک سڑک پر ایک انگریز اپنی موٹر میں جا رہا تھا۔ چند آدمیوں نے اس کی موٹر روک لی۔ انگریز بہت گھبرایا کہ نہ معلوم یہ سر پھرے لوگ اس کے ساتھ کس قسم کا وحشیانہ سلوک کریں گے، مگر اس کو حیرت ہوئی جب ایک آدمی نے اس سے کہا، ’’دیکھو، اپنے شوفر کو پیچھے بٹھاؤ اور خود اپنی موٹر ڈرائیو کرو۔۔۔ تم نوکر بنو اور اس کو اپنا آقا بناؤ۔‘‘ انگریز چپکے سے اگلی سیٹ پر چلا گیا۔ اس کا شوفر بوکھلایا ہوا پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔ بلوہ پسند لوگ اتنی سی بات پر خوش ہو گئے۔ انگریزکی جان میں جان آئی کہ چلو سستے چھوٹ گئے۔\n\nایک جگہ بمبئی کے ایک اردو فلمی اخبار کے ایڈیٹر صاحب پیدل جا رہے تھے۔ بل وصول کرنے کی خاطر انہوں نے سوٹ ووٹ پہن رکھا تھا۔ ہیٹ بھی لگی تھی۔ ٹائی بھی موجود تھی۔ چند فسادیوں نے انہیں روک کر کہا، ’’یہ ہیٹ اور ٹائی اتار کر ہمارے حوالے کر دو۔‘‘ ایڈیٹر صاحب نے ڈر کے مارے یہ دونوں چیزیں ان کے حوالے کر دیں۔ جو فوراً دہکتے ہوئے الاؤ میں جھونک دی گئیں۔ اس کے بعد ایک نے ایڈیٹر صاحب کا سوٹ دیکھ کر کہا، ’’یہ بھی تو انگریزی ہے، اسے کیا نہیں اتروانا چا ہیئے۔‘‘ ایڈیٹر صاحب سٹپٹائے کہ اب کیا ہوگا، چنانچہ انہوں نے بڑی لجاجت کے ساتھ ان لوگوں سے کہا، ’’دیکھو، میرے پاس صرف یہی ایک سوٹ ہے جسے پہن کر میں فلم کمپنیوں میں جاتا ہوں اور مالکوں سے مل کر اشتہار وصول کرتا ہوں۔ تم اسے جلا دو گے تو میں تباہ ہو جاؤں گا۔ میری ساری بزنس برباد ہو جائے گی۔‘‘ ایڈیٹر صاحب کی آنکھوں میں جب ان لوگوں نے آنسو دیکھے تو پتلون اور کوٹ ان کے بدن پر سلامت رہنے دیا۔\n\nمیں جس محلے میں رہتا ہوں، وہاں کر سچین زیادہ آباد ہیں۔ ہر رنگ کے کرسچین، سیاہ فام کرسچینوں سے لے کر گورے چٹے تک آپ کو تمام شیڈ یہاں مل جائیں گے۔ جامنی رنگ کے کرسچین بھی میں نے یہاں دیکھے ہیں، جو خود کو ہندوستان کی فاتح قوم یعنی انگریزوں میں شمار کرتے ہیں۔ اس بلوے میں ان لوگوں کا میں نے برا حال دیکھا۔ پتلونوں میں مردوں کی اور سکرٹس میں عورتوں کی ننگی ٹانگیں کانپتی تھیں جب فساد کی خبریں آتی تھیں۔۔۔ ڈر کے مارے مردوں نے ہیٹ لگانے چھوڑ دیے۔ ٹائیاں گلے سے الگ کر دیں۔ عورتوں نے سکرٹس اور فراک پہننے چھوڑ دیے اور ساڑھیاں پہننا شروع کر دیں۔\n\nہندو مسلم فساد کے دنوں میں ہم لوگ جب باہر کسی کام سے نکلتے تھے تو اپنے ساتھ دو ٹوپیاں رکھتے تھے۔ ایک ہندو کیپ، دوسری رومی ٹوپی، جب مسلمانوں کے محلے سے گزرتے تھے تو رومی ٹوپی پہن لیتے تھے اور جب ہندوؤں کے محلے میں جاتے تھے تو ہندو کیپ لگا لیتے تھے۔ اس فساد میں ہم لوگوں نے گاندھی کیپ خریدی۔ یہ ہم جیب میں رکھ لیتے تھے جہاں کہیں ضرورت محسوس ہوتی تھی، جھٹ سے پہن لیتے تھے۔ پہلے مذہب سینوں میں ہوتا تھا آج کل ٹوپیوں میں ہوتا ہے۔ سیاست بھی اب ٹوپیوں میں چلی آئی ہے۔۔۔ زندہ باد ٹوپیاں!\n\nمیرے سامنے دیوار پر ایک کلاک آویزاں ہے۔۔۔ ابھی ابھی اس نے بارہ بجائے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چار بجے ہیں۔ جب چار کا وقت ہوگا تو یہ بارہ بجائے گا۔ اس میں کوئی خرابی واقع ہو گئی ہے۔ میں نے اب سوچنا شروع کیا ہے تو مجھے اس کلاک میں اور ہمارے عوام کی موجودہ حالت میں صد گونہ مماثلت نظر آتی ہے۔ کلاک کی طرح ان کے کل پرزوں میں بھی کوئی خرابی ہے۔ یوں تو کلاک کی سوئیوں کی طرح وہ اپنا کام ٹھیک کرتے ہیں، لیکن ان کے فعل اور اس کے ظاہری نتیجہ میں بہت تضاد ہوتا ہے، بالکل اس کلاک کے مانند جو بارہ کے عمل پر چار دفعہ ٹن ٹن کرتا ہے اور چار بجنے پر بارہ دفعہ ٹن ٹن کرتا ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "باتیں نہ کس نے ہم کو کہیں تیرے واسطے", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باتیں نہ کس نے ہم کو کہیں تیرے واسطے\nاور ہم نے بھی نہ کس کی سہیں تیرے واسطے\n\nحیران در بہ در پڑے پھرتے ہیں رات دن\nخورشید و ماہ زہرہ جبیں تیرے واسطے\n\nسیماب و برق و شعلۂ جوالہ اور یہ دل\nبیتاب ان میں کون نہیں تیرے واسطے\n\nہم نے تری تلاش میں اے برق وش کیا\nیاں ایک آسمان و زمیں تیرے واسطے\n\nشب سوز غم سے شمع صفت بے قراریاں\nکیا کیا نہ میرے دل کو رہیں تیرے واسطے\n\nتو زیب بزم غیر رہا اور میں یہاں\nبھٹکا پھرا کہیں کا کہیں تیرے واسطے\n\nیہ نالے وہ ہیں یاد رہے تو نہ گر ملا\nپہنچیں گے تابہ عرش بریں تیرے واسطے\n\nکچھ اور اختلاف کا باعث نہیں فقط\nعالم میں ہے چناں و چنیں تیرے واسطے\n\nفضل خدا سے یاد رہے عیشؔ نعمتیں\nموجود ہوں گی دیکھ یہیں تیرے واسطے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92"} {"title": "باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا\nپڑھتے کسو کو سنیے گا تو دیر تلک سر دھنیے گا\n\nسعی و تلاش بہت سی رہے گی اس انداز کے کہنے کی\nصحبت میں علما فضلا کی جا کر پڑھیے گنیے گا\n\nدل کی تسلی جب کہ ہوگی گفت و شنود سے لوگوں کی\nآگ پھنکے گی غم کی بدن میں اس میں جلیے بھنیے گا\n\nگرم اشعار میرؔ درونہ داغوں سے یہ بھر دیں گے\nزرد رو شہر میں پھریے گا گلیوں میں نے گل چنیے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%86%DB%8C%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "باتیں ہیں واعظوں کی عذاب و ثواب کیا", "poet_page": "مصنف:مرزا مائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باتیں ہیں واعظوں کی عذاب و ثواب کیا\nدو دن کی زندگی میں حساب و کتاب کیا\n\nچاہی وفائے وعدہ تو پایا جواب کیا\nہاں کہئے تو یہ آپ نے دیکھا ہے خواب کیا\n\nدل میں غضب کے جوش ہیں توبہ کی خیر ہو\nکرتی ہے دیکھیے یہ شب ماہتاب کیا\n\nیہ سب سہی کہ زلزلہ ہے تا فلک مگر\nشوخی تو اپنی دیکھ مرا اضطراب کیا\n\nاس نے تو جو لکھا سو لکھا پر غضب یہ ہے\nاک ایک پوچھتا ہے کہ آیا جواب کیا\n\nاچھا گمان و وہم ہمارے غلط سہی\nکہئے تو کہتی ہے نگہ پر حجاب کیا\n\nاے ہم نشیں بھلا وہ اگر سن کے حال دل\nکہہ دیں کہ سب غلط ہے پھر اس کا جواب کیا\n\nکرتے ہیں لوگ واعظ و مائلؔ پہ طعن کیوں\nپیتا نہیں جہان میں کوئی شراب کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%A8_%D9%88_%D8%AB%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر\nایماں یہ ہے کہ بھیج دے آنکھیں نکال کر\n\nدل سینے میں کہاں ہے نہ تو دیکھ بھال کر\nاے آہ کہہ دے تیر کا نامہ نکال کر\n\nاترے گا ایک جام بھی پورا نہ چاک سے\nخاک دل شکستہ نہ صرف کلال کر\n\nلے کر بتوں نے جان جب ایماں پہ ڈالا ہاتھ\nدل کیا کنارے ہو گیا سب کو سنبھال کر\n\nتصویر ان کی حضرت دل کھینچ لیجے گر\nرکھ دیں گے ہم بھی پاؤں پہ آنکھیں نکال کر\n\nقاتل ہے کس مزے سے نمک پاش زخم دل\nبسمل ذرا تڑپ کے نمک تو حلال کر\n\nدل کو رفیق عشق میں اپنا سمجھ نہ ذوقؔ\nٹل جائے گا یہ اپنی بلا تجھ پہ ٹال کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D9%85_%D8%AF%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AC%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%B9%D9%88%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%88%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "بادشاہت کا خاتمہ (افسانہ)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بادشاہت کا خاتمہ", "year": "1950", "text_ur": "ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ من موہن پاس ہی بیٹھا تھا۔ اس نے ریسیور اٹھایا اور کہا، ’’ہیلو۔۔۔ فور فور فور فائیو سیون۔‘‘\n\nدوسری طرف سے پتلی سی نسوانی آواز آئی، ’’سوری۔۔۔ رونگ نمبر۔‘‘\n\nمن موہن نے ریسیور رکھ دیا اور کتاب پڑھنے میں مشغول ہوگیا۔\n\nیہ کتاب وہ تقریباً بیس مرتبہ پڑھ چکا تھا۔ اس لیے نہیں کہ اس میں کوئی خاص بات تھی۔ دفترمیں جو ویران پڑا تھا،ایک صرف یہی کتاب تھی جس کے آخری اوراق کرم خوردہ تھے۔ایک ہفتے سے دفتر من موہن کی تحویل میں تھا کیونکہ اس کا مالک جو کہ اس کا دوست تھا، کچھ روپیہ قرض لینے کے لیے کہیں باہر گیا ہوا تھا۔من موہن کے پاس چونکہ رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی، اس لیے فٹ پاتھ سے عارضی طور پر وہ اس دفتر میں منتقل ہوگیا تھا اور اس ایک ہفتے میں وہ دفتر کی اکلوتی کتاب تقریباً بیس مرتبہ پڑھ چکا تھا۔\n\nدفتر میں وہ اکیلا پڑا رہتا۔ نوکری سے اسے نفرت تھی۔ اگروہ چاہتا تو کسی بھی فلم کمپنی میں بطور فلم ڈائریکٹر کے ملازم ہو سکتا تھا۔ مگر وہ غلامی نہیں چاہتا تھا۔ نہایت ہی بے ضرر اور مخلص آدمی تھا۔ اس لیے دوست یار اس کے روزانہ اخراجات کا بندوبست کردیتے تھے۔ یہ اخراجات بہت ہی کم تھے۔ صبح کو چائے کی پیالی اور دو توس۔ دوپہر کو دو پھلکے اور تھوڑا سا سالن سارے دن میں ایک پیکٹ سگریٹ اور بس!\n\nمن موہن کا کوئی عزیز یا رشتہ دار نہیں تھا۔ بے حد خاموشی پسند تھا۔ جفاکش تھا۔ کئی کئی دن فاقے سے رہ سکتا تھا۔ اس کے متعلق اس کے دوست اور تو کچھ نہیں لیکن اتنا جانتے تھے کہ وہ بچپن ہی سے گھر چھوڑ چھاڑ کے نکل آیا تھا اور ایک مدت سے بمبئی کے فٹ پاتھوں پر آباد تھا۔ زندگی میں صرف اس کو ایک چیز کی حسرت تھی۔۔۔ عورت کی محبت کی۔ ’’اگرمجھے کسی عورت کی محبت مل گئی تو میری ساری زندگی بدل جائے گی۔‘‘ دوست اس سے کہتے، ’’تم کام پھر بھی نہ کرو گے۔‘‘\n\nمن موہن آہ بھر کا جواب دیتا، ’’کام۔۔۔؟ میں مجسم کام بن جاؤں گا۔‘‘\n\nدوست اس سے کہتے، ’’تو شروع کردوکسی سے عشق۔‘‘\n\nمن موہن جواب دیتا، ’’نہیں۔۔۔ میں ایسے عشق کا قائل نہیں جومرد کی طرف سے شروع ہو۔‘‘\n\nدوپہر کے کھانے کا وقت قریب آرہا تھا۔ من موہن نے سامنے دیوار پر کلاک کی طرف دیکھا۔ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی۔ اس نے ریسیور اٹھایا اور کہا، ’’ہیلو۔۔۔ فور فور فور فائیو سیون۔‘‘\n\nدوسری طرف سے پتلی سی آواز آئی، ’’فور فور فور فائیو سیون؟‘‘\n\nبرج موہن نے جواب دیا، ’’جی ہاں!‘‘\n\nنسوانی آواز نے پوچھا، ’’آپ کون ہیں؟‘‘\n\n’’من موہن۔۔۔ فرمائیے!‘‘\n\nدوسری طرف سے آواز آئی تو من موہن نے کہا، ’’فرمائیے کس سے بات کرنا چاہتی ہیں آپ؟‘‘\n\nآواز نے جواب دیا، ’’آپ سے!‘‘\n\nمن موہن نے ذرا حیرت سے پوچھا، ’’مجھ سے؟‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ آپ سے۔۔۔ کیا آپ کو کوئی اعتراض ہے۔‘‘\n\nمن موہن سٹپٹا سا گیا، ’’جی۔۔۔؟ جی نہیں!‘‘\n\nآواز مسکرائی، ’’آپ نے اپنا نام مدن موہن بتا یا تھا۔‘‘\n\n’’جی نہیں۔۔۔ من موہن۔‘‘\n\n’’من موہن؟‘‘\n\nچند لمحات خاموشی میں گزرگیے تو من موہن نے کہا، ’’آپ باتیں کرنا چاہتی تھیں مجھ سے؟‘‘\n\nآواز آئی، ’’جی ہاں!‘‘\n\n’’تو کیجیے!‘‘\n\nتھوڑے وقفے کے بعد آواز آئی، ’’سمجھ میں نہیں آتا کیا بات کروں۔۔۔ آپ ہی شروع کیجیے نہ کوئی بات۔‘‘\n\n’’بہت بہتر‘‘ یہ کہہ کر من موہن نے تھوڑی دیر سوچا، ’’نام اپنا بتا چکا ہوں۔ عارضی طور پر ٹھکانہ میرا یہ دفتر ہے۔۔۔ پہلے فٹ پاتھ پر سوتا تھا۔ اب ایک ہفتہ سے اس دفتر کے بڑے میز پر سوتا ہوں۔‘‘\n\nآواز مسکرائی، ’’فٹ پاتھ پر آپ مسہری لگا کر سوتے تھے؟‘‘\n\nمن موہن ہنسا، ’’اس سے پہلے کہ میں آپ سے مزید گفتگوکروں، میں یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ فٹ پاتھوں پر سوتے مجھے ایک زمانہ ہوگیا ہے۔ یہ دفتر تقریباً ایک ہفتے سے میرے قبضے میں ہے۔ آج کل عیش کر رہا ہوں۔‘‘\n\nآواز مسکرائی، ’’کیسی عیش؟‘‘\n\nمن موہن نے جواب دیا، ’’ایک کتاب مل گئی تھی یہاں سے۔۔۔ آخری اوراق گم ہیں لیکن میں اسے بیس مرتبہ پڑھ چکا ہوں۔۔۔ سالم کتاب کبھی ہاتھ لگی تو معلوم ہوگا ہیرو ہیروئن کے عشق کا انجام کیا ہوا۔‘‘\n\nآواز ہنسی، ’’آپ بڑے دلچسپ آدمی ہیں۔‘‘\n\nمن موہن نے تکلف سے کہا، ’’آپ کی ذرہ نوازی ہے۔‘‘\n\nآواز نے تھوڑے توقف کے بعد پوچھا، ’’آپ کا شغل کیا ہے؟‘‘\n\n’’شغل؟‘‘\n\n’’میرا مطلب ہے آپ کرتے کیا ہیں؟‘‘\n\n’’کیا کرتا ہوں۔۔۔؟ کچھ بھی نہیں۔ ایک بیکار انسان کیا کرسکتا ہے۔ سارا دن آوارہ گردی کرتا ہوں۔ رات کو سو جاتا ہوں۔‘‘\n\nآواز نے پوچھا، ’’یہ زندگی آپ کو اچھی لگتی ہے۔‘‘\n\nمن موہن سوچنے لگا۔ ’’ٹھہریئے۔۔۔ بات دراصل یہ ہے کہ میں نے اس پر کبھی غور ہی نہیں کیا۔ اب آپ نے پوچھا ہے تو میں اپنے آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ یہ زندگی تمہیں اچھی لگتی ہے یا نہیں؟‘‘\n\n’’کوئی جواب ملا؟‘‘\n\nتھوڑے وقفے کے بعد من موہن نے جواب دیا، ’’جی نہیں۔۔۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ایسی زندگی مجھے اچھی لگتی ہی ہوگی۔ جب کہ ایک عرصے سے بسر کررہا ہوں۔‘‘\n\nآواز ہنسی۔ من موہن نے کہا، ’’آپ کی ہنسی بڑی مترنم ہے۔‘‘\n\nآواز شرما گئی۔ ’’شکریہ!‘‘ اور سلسلہ گفتگو منقطع کردیا۔\n\nمن موہن تھوڑی دیر ریسیور ہاتھ میں لیے کھڑا رہا۔ پھر مسکرا کر اسے رکھ دیا اور دفتر بند کرکے چلا گیا۔دوسرے روز صبح آٹھ بجے جب کہ من موہن دفتر کے بڑے میز پر سو رہا تھا، ٹیلیفون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی۔ جمائیاں لیتے ہوئے اس نے ریسیور اٹھایا اور کہا، ’’ہلو فور فورفور فائیو سیون۔‘‘\n\nدوسری طرف سے آواز آئی، ’’آداب عرض من موہن صاحب!‘‘\n\n’’آداب عرض!‘‘ من موہن ایک دم چونکا۔ ’’اوہ، آپ۔۔۔ آداب عرض۔‘‘\n\n’’تسلیمات!‘‘\n\nآواز آئی، ’’آپ غالباً سورہے تھے؟‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ یہاں آکر میری عادات کچھ بگڑ رہی ہیں۔ واپس فٹ پاتھ پر گیا تو بڑی مصیبت ہو جائے گی۔‘‘\n\nآواز مسکرائی۔’’کیوں؟‘‘\n\n’’وہاں صبح پانچ بجے سے پہلے پہلے اٹھنا پڑتا ہے۔‘‘\n\nآواز ہنسی۔ من موہن نے پوچھا، ’’کل آپ نے ایک دم ٹیلی فون بند کردیا۔‘‘\n\nآواز شرمائی۔ ’’آپ نے میری ہنسی کی تعریف کیوں کی تھی۔‘‘\n\nمن موہن نے کہا، ’’لو صاحب، یہ بھی عجیب بات کہی آپ نے۔۔۔ کوئی چیز جو خوبصورت ہو تو اس کی تعریف نہیں کرنی چاہیے؟‘‘\n\n’’بالکل نہیں۔‘‘\n\n’’یہ شرط آپ مجھ پر عائد نہیں کرسکتیں۔۔۔ میں نے آج تک کوئی شرط اپنے اوپر عائد نہیں ہونے دی۔ آپ ہنسیں گی تو میں ضرور تعریف کروں گا۔‘‘\n\n’’میں ٹیلی فون بند کردوں گی۔‘‘\n\n’’بڑے شوق سے۔‘‘\n\n’’آپ کو میری ناراضگی کا کوئی خیال نہیں۔‘‘\n\n’’میں سب سے پہلے اپنے آپ کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ اگر میں آپ کی ہنسی کی تعریف نہ کروں تو میرا ذوق مجھ سے ناراض ہو جائے گا۔۔۔ یہ ذوق مجھے بہت عزیز ہے!‘‘\n\nتھوڑی دیر خاموشی رہی۔ اس کے بعد دوسری طرف سے آواز آئی، ’’معاف کیجیے گا، میں ملازمہ سے کچھ کہہ رہی تھی۔۔۔ آپ کا ذوق آپ کو بہت عزیز ہے۔۔۔ ہاں یہ تو بتائیے آپ کو شوق کس چیز کا ہے؟‘‘\n\n’’کیا مطلب؟‘‘\n\n’’یعنی۔۔۔ کوئی شغل۔۔۔ کوئی کام۔۔۔ میرا مطلب ہے آپ کو آتا کیا ہے؟‘‘\n\nمن موہن ہنسا، ’’کوئی کام نہیں آتا۔۔۔ فوٹوگرافی کا تھوڑا سا شوق ہے۔‘‘\n\n’’یہ بہت اچھا شوق ہے۔‘‘\n\n’’اس کی اچھائی یا برائی کا میں نے کبھی نہیں سوچا۔‘‘\n\nآواز نے پوچھا، ’’کیمرہ تو آپ کے پاس بہت اچھا ہوگا؟‘‘\n\nمن موہن ہنسا، ’’میرے پاس اپنا کوئی کیمرہ نہیں۔ دوست سے مانگ کر شوق پورا کرلیتا ہوں۔ اگر میں نے کبھی کچھ کمایا تو ایک کیمرہ میری نظر میں ہے۔ وہ خریدوں گا۔‘‘\n\nآواز نے پوچھا، ’’کون سا کیمرہ؟‘‘\n\nمن موہن نے جواب دیا، ’’ایگزکٹا۔ ریفلکس کیمرہ ہے۔ مجھے بہت پسند ہے۔‘‘\n\nتھوڑی دیر خاموشی رہی۔ اس کے بعد آواز آئی، ’’میں کچھ سوچ رہی تھی۔‘‘\n\n’’کیا؟‘‘\n\n’’آپ نے میرا نام پوچھا نہ ٹیلی فون نمبر دریافت کیا۔‘‘\n\n’’مجھے اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’نام آپ کا کچھ بھی ہو کیا فرق پڑتاہے۔۔۔ آپ کو میرا نمبر معلوم ہے بس ٹھیک ہے۔۔۔ آپ گر چاہیں گی تو میں آپ کو ٹیلی فون کروں تو نام اور نمبر بتا دیجیے گا۔‘‘\n\n’’میں نہیں بتا ؤں گی۔‘‘\n\n’’لو صاحب یہ بھی خوب رہی۔۔۔ میں جب آپ سے پوچھوں گا ہی نہیں تو بتانے نہ بتانے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔‘‘\n\nآواز مسکرائی، ’’آپ عجیب و غریب آدمی ہیں۔‘‘\n\nمن موہن مسکرا دیا، ’’جی ہاں کچھ ایسا ہی آدمی ہوں۔‘‘\n\nچند سیکنڈ خاموشی رہی۔ ’’آپ پھر سوچنے لگیں۔‘‘\n\n’’جی ہاں، کوئی اور بات اس وقت سوجھ نہیں رہی تھی۔‘‘\n\n’’تو ٹیلی فون بند کردیجیے۔۔۔ پھر سہی۔‘‘\n\nآواز کسی قدر تیکھی ہوگئی، ’’آپ بہت روکھے آدمی ہیں۔۔۔ ٹیلی فون بند کردیجیے۔ لیجیے میں بند کرتی ہوں۔‘‘\n\nمن موہن نے ریسیور رکھ دیا اور مسکرانے لگا۔\n\nآدھے گھنٹے کے بعد جب من موہن ہاتھ دھو کر کپڑے پہن کر باہر نکلنے کے لیے تیار ہوا تو ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے ریسیور اٹھایا اورکہا، ’’فور فور فور فائیو سیون!‘‘\n\nآواز آئی، ’’مسٹر من موہن؟‘‘\n\nمن موہن نے جواب دیا، ’’جی ہاں من موہن۔ ارشاد؟‘‘\n\nآواز مسکرائی۔ ’’ارشاد یہ ہے کہ میری ناراضگی دور ہوگئی ہے۔‘‘\n\nمن موہن نے بڑی شگفتگی سے کہا، ’’مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے۔‘‘\n\n’’ناشتہ کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ آپ کے ساتھ بگاڑنی نہیں چاہیے۔۔۔ ہاں آپ نے ناشتہ کرلیا؟‘‘\n\n’’جی نہیں، باہر نکلنے ہی والا تھا کہ آپ نے ٹیلی فون کیا۔‘‘\n\n’’اوہ۔۔۔ تو آپ جائیے۔‘‘\n\n’’جی نہیں، مجھے کوئی جلدی نہیں، میرے پاس آج پیسے نہیں ہیں۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ آج ناشتہ نہیں ہوگا۔‘‘\n\n’’آپ کی باتیں سن کر۔۔۔ آپ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں۔۔۔ میرا مطلب ہے ایسی باتیں آپ اس لیے کرتے ہیں کہ آپ کو دکھ ہوتا ہے؟‘‘\n\nمن موہن نے ایک لمحہ سوچا، ’’جی نہیں۔۔۔ میرا اگر کوئی دکھ درد ہے تو میں اس کا عادی ہو چکا ہوں۔‘‘\n\nآواز نے پوچھا، ’’میں کچھ روپے آپ کو بھیج دوں؟‘‘\n\nمن موہن نے جواب دیا، ’’بھیج دیجیے۔ میرے فنانسروں میں ایک آپ کا بھی اضافہ ہو جائے گا!‘‘\n\n’’نہیں، میں نہیں بھیجوں گی!‘‘\n\n’’آپ کی مرضی!‘‘\n\n’’میں ٹیلی فون بند کرتی ہوں۔‘‘\n\n’’بہتر!‘‘\n\nمن موہن نے ریسیور رکھ دیا اور مسکراتا ہوا دفتر سے نکل گیا۔ رات کو دس بجے کے قریب واپس آیا اور کپڑے بدل کر میز پر لیٹ کر سوچنے لگا کہ یہ کون ہے جو اسے فون کرتی ہے۔ آواز سے صرف اتنا پتہ چلتا تھا کہ جوان ہے۔ ہنسی بہت ہی مترنم تھی۔ گفتگو سے یہ صاف ظاہر ہے کہ تعلیم یافتہ اور مہذب ہے۔ بہت دیر تک وہ اس کے متعلق سوچتا رہا۔ ادھر کلاک نے گیارہ بجائے ادھر ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ من موہن نے ریسیور اٹھایا۔ ’’ہلو۔‘‘\n\nدوسری طرف سے وہی آواز آئی، ’’مسٹر من موہن۔‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ من موہن۔۔۔ ارشاد۔‘‘\n\n’’ارشاد یہ ہے کہ میں نے آج دن میں کئی مرتبہ رِنگ کیا۔ آپ کہاں غائب تھے؟‘‘\n\n’’صاحب بیکار ہوں، لیکن پھر بھی کام پر جاتا ہوں۔‘‘\n\n’’کس کام پر؟‘‘\n\n’’آوارہ گردی۔‘‘\n\n’’واپس کب آئے؟‘‘\n\n’’دس بجے۔‘‘\n\n’’اب کیا کر رہے تھے؟‘‘\n\n’’میز پر لیٹا آپ کی آواز سے آپ کی تصویر بنا رہا تھا۔‘‘\n\n’’بنی؟‘‘\n\n’’جی نہیں۔‘‘\n\n’’بنانے کی کوشش نہ کیجیے۔۔۔ میں بڑی بد صورت ہوں۔‘‘\n\n’’معاف کیجیے گا، اگر آپ واقعی بد صورت ہیں تو ٹیلی فون بند کردیجیے، بدصورتی سے مجھے نفرت ہے۔‘‘\n\nآواز مسکرائی، ’’ایسا ہے تو چلیے میں خوبصورت ہوں، میں آپ کے دل میں نفرت نہیں پیدا کرنا چاہتی۔‘‘\n\nتھوڑی دیر خاموشی رہی۔ من موہن نے پوچھا، ’’کچھ سوچنے لگیں؟‘‘\n\nآواز چونکی ’’جی نہیں۔۔۔ میں آپ سے پوچھنے والی تھی کہ۔۔۔‘‘\n\n’’سوچ لیجیے اچھی طرح۔‘‘\n\nآواز ہنس پڑی۔ ’’آپ کو گانا سناؤں؟‘‘\n\n’’ضرور۔۔۔‘‘\n\n’’ٹھہرئیے!‘‘\n\nگلہ صاف کرنے کی آواز آئی۔ پھر غالب کی یہ غزل شروع ہوئی\n\nنکتہ چیں ہے غمِ دل۔۔۔\n\nسہگل والی نئی دھن تھی۔ آواز میں درد اور خلوص تھا۔ جب غزل ختم ہوئی تو من موہن نے داد دی۔ ’’بہت خوب۔۔۔ زندہ رہو۔‘‘\n\nآواز شرما گئی۔ ’’شکریہ!‘‘ اور ٹیلی فون بند کردیا۔\n\nدفتر کے بڑے میز پر من موہن کے دل و دماغ میں ساری رات غالب کی غزل گونجتی رہی۔ صبح جلدی اٹھا اور ٹیلی فون کا انتظار کرنے لگا۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے کرسی پر بیٹھا رہا مگر ٹیلی فون کی گھنٹی نہ بجی۔ جب مایوس ہو گیا تو ایک عجیب سی تلخی اس نے اپنے حلق میں محسوس کی۔ اٹھ کر ٹہلنے لگا۔ اس کے بعد میز پر لیٹ گیا اور کڑھنے لگا۔ وہی کتاب جس کو وہ متعدد مرتبہ پڑھ چکا تھا اٹھائی اور ورق گردانی شروع کردی۔ یونہی لیٹے لیٹے شام ہوگئی۔ تقریباً سات بجے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ من موہن نے ریسیور اٹھایا اور تیزی سے پوچھا، ’’کون ہے؟‘‘\n\nوہی آواز آئی، ’’میں!‘‘\n\nمن موہن کا لہجہ تیز رہا، ’’اتنی دیر تم کہاں تھیں؟‘‘\n\nآواز لرزی، ’’کیوں؟‘‘\n\n’’میں صبح سے یہاں جھک مار رہا ہوں۔۔۔ ناشتہ کیا ہے نہ دوپہر کا کھانا کھایا ہے حالانکہ میرے پاس پیسے موجود تھے۔‘‘\n\nآواز آئی، ’’میری جب مرضی ہوگی ٹیلی فون کروں گی۔۔۔ آپ۔۔۔‘‘\n\nمن موہن نے بات کاٹ کر کہا، ’’دیکھو جی یہ سلسلہ بند کرو۔ ٹیلی فون کرنا ہے تو ایک وقت مقرر کرو۔ مجھ سے انتظار برداشت نہیں ہوتا۔‘‘\n\nآواز مسکرائی۔ ’’آج کی معافی چاہتی ہوں۔ کل سے باقاعدہ صبح اور شام فون آیا کرے گا آپ کو۔‘‘\n\n’’یہ ٹھیک ہے!‘‘\n\nآواز ہنسی ’’مجھے معلوم نہیں تھا آپ اس قدر بگڑے دل ہیں۔‘‘\n\nمن موہن مسکرایا۔ ’’معاف کرنا۔ انتظار سے مجھے بہت کوفت ہوتی ہے اور جب مجھے کسی بات سے کوفت ہوتی ہے تو اپنے آپ کو سزا دینا شروع کردیتا ہوں۔‘‘\n\n’’وہ کیسے؟‘‘\n\n’’صبح تمہارا ٹیلی فون نہ آیا۔۔۔ چاہیے تو یہ تھا کہ میں چلا جاتا۔۔۔ لیکن بیٹھا دن بھر اندر ہی اندر کڑھتا رہا۔ بچپنا ہے صاف۔‘‘\n\nآواز ہمدردی میں ڈوب گئی، ’’کاش مجھ سے یہ غلطی نہ ہوتی۔۔۔ میں نے قصداً صبح ٹیلی فون نہ کیا!‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’یہ معلوم کرنے کے لیے آپ انتظار کریں گے یا نہیں؟‘‘\n\nمن موہن ہنسا۔ ’’بہت شریر ہو تم۔۔۔ اچھا اب ٹیلی فون بند کرو۔ میں کھانا کھانے جا رہا ہوں۔‘‘\n\n’’بہتر، کب تک لوٹیے گا؟‘‘\n\n’’آدھے گھنٹے تک۔‘‘\n\nمن موہن آدھے گھنٹے کے بعد کھانا کھا کر لوٹا تو اس نے فون کیا۔ دیر تک دونوں باتیں کرتے رہے۔ اس کے بعد اس نے غالب کی ایک غزل سنائی۔ من موہن نے دل سے داد دی۔ پھر ٹیلی فون کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔\n\nاب ہر روز صبح اور شام من موہن کو اس کا ٹیلی فون آتا۔ گھنٹی کی آواز سنتے ہی وہ ٹیلی فون کی طرف لپکتا۔ بعض اوقات گھنٹوں باتیں جاری رہتیں۔ اس دوران میں من موہن نے اس سے ٹیلی فون کا نمبر پوچھا، نہ اس کا نام۔ شروع شروع میں اس نے اس کی آواز کی مدد سے تخیل کے پردے پر اس کی تصویر کھینچنے کی کوشش کی تھی مگر اب وہ جیسے آواز ہی سے مطمئن ہوگیا تھا۔ آوازہی شکل تھی۔ آواز ہی صورت تھی۔ آواز ہی جسم تھا۔ آواز ہی روح تھی۔\n\nایک دن اس نے پوچھا، ’’موہن۔تم میرا نام کیوں نہیں پوچھتے؟‘‘\n\nمن موہن نے مسکرا کر کہا، ’’تمہارا نام تمہاری آواز ہے۔‘‘\n\n’’جو کہ بہت مترنم ہے۔‘‘\n\n’’اس میں کیا شک ہے؟‘‘\n\nایک دن وہ بڑا ٹیڑھا سوال کر بیٹھی۔ ’’موہن تم نے کبھی کسی لڑکی سے محبت کی ہے؟‘‘\n\nمن موہن نے جواب دیا، ’’نہیں!‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\nموہن ایک دم اداس ہوگیا، ’’اس کیوں کا جواب چند لفظوں میں نہیں دے سکتا۔ مجھے اپنی زندگی کا سارا ملبہ اٹھانا پڑے گا۔۔۔ اگر کوئی جواب نہ ملے تو بڑی کوفت ہوگی۔‘‘\n\n’’جانے دیجیے۔‘‘\n\nٹیلی فون کا رشتہ قائم ہوئے تقریباً ایک مہینہ ہوگیا۔ بلاناغہ دن میں دو مرتبہ اس کا فون آتا۔ من موہن کو اپنے دوست کا خط آیا کہ قرضے کا بندوبست ہوگیا ہے۔ سات آٹھ روز میں وہ بمبئی پہنچنے والا ہے۔ من موہن یہ خط پڑھ کر افسردہ ہوگیا۔ اس کا ٹیلیفون آیا تو من موہن نے اس سے کہا میری دفتر کی بادشاہی اب چند دنوں کی مہمان ہے۔\n\nاس نے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘\n\nمن موہن نے جواب دیا۔ ’’قرضے کا بندوبست ہوگیا ہے۔۔۔ دفتر آباد ہونے والا ہے۔‘‘\n\n’’تمہارے کسی اور دوست کے گھر میں ٹیلی فون نہیں۔‘‘\n\n’’کئی دوست ہیں جن کے ٹیلی فون ہیں۔ مگر میں تمہیں ان کا نمبر نہیں دے سکتا۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’میں نہیں چاہتا تمہاری آواز کوئی اور سنے۔‘‘\n\n’’وجہ؟‘‘\n\n’’میں بہت حاسد ہوں۔‘‘\n\nوہ مسکرائی۔’’یہ تو بڑی مصیبت ہوئی۔‘‘\n\n’’کیا کیا جائے؟‘‘\n\n’’آخری دن جب تمہاری بادشاہت ختم ہونے والی ہو گی۔ میں تمہیں اپنا نمبر دوں گی۔‘‘\n\n’’یہ ٹھیک ہے!‘‘\n\nمن موہن کی ساری افسردگی دور ہوگئی۔ وہ اس دن کا انتظار کرنے لگا کہ دفتر میں اس کی بادشاہت ختم ہو۔ اب پھر اس نے اس کی آواز کی مدد سے اپنے تخیل کے پردے پر اس کی تصویر کھینچنے کی کوشش شروع کی۔ کئی تصویریں بنیں مگر وہ مطمئن نہ ہوا۔ اس نے سوچا چند دنوں کی بات ہے۔ اس نے ٹیلی فون نمبر بتا دیا تووہ اسے دیکھ بھی سکے گا۔ اس کا خیال آتے ہی اس کا دل و دماغ سُن ہوجاتا۔ ’’میری زندگی کا وہ لمحہ کتنا بڑا لمحہ ہوگا جب میں اس کو دیکھوں گا۔‘‘\n\nدوسرے روز جب اس کا ٹیلی فون آیا تو من موہن نے اس سے کہا، ’’تمہیں دیکھنے کا اشتیاق پیدا ہوگیا ہے۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’تم نے کہا تھا کہ آخری دن جب یہاں میری بادشاہت ختم ہونے والی ہوگی، تو تم مجھے اپنا نمبر بتا دوگی۔‘‘\n\n’’کہا تھا۔‘‘\n\n’’اس کا یہ مطلب ہے تم مجھے اپنا ایڈریس دے دو گی۔۔۔ میں تمہیں دیکھ سکوں گا۔‘‘\n\n’’تم مجھے جب چاہو دیکھ سکتے ہو۔۔۔ آج ہی دیکھ لو۔‘‘\n\nنہیں نہیں۔۔۔ پھر کچھ سوچ کر کہا، ’’میں ذرا اچھے لباس میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔ آج ہی ایک دوست سے کہہ رہا ہوں۔ وہ مجھے سوٹ دلوا دے گا۔‘‘\n\nوہ ہنس پڑی۔ ’’بالکل بچے ہو تم۔۔۔ سنو۔ جب تم مجھ سے ملو گے تو میں تمہیں ایک تحفہ دوں گی۔‘‘\n\nمن موہن نے جذباتی انداز میں کہا، ’’تمہاری ملاقات سے بڑھ کر اور کیا تحفہ ہوسکتا ہے؟‘‘\n\n’’میں نے تمہارے لیے ایگزکٹا کیمرہ خرید لیا ہے۔‘‘\n\n’’اوہ!‘‘\n\n’’اس شرط پر دوں گی کہ پہلے میرا فوٹو اتارو۔‘‘\n\nمن موہن مسکرایا۔ ’’اس شرط کا فیصلہ ملاقات پر کروں گا۔‘‘\n\nتھوڑی دیر اور گفتگوہوئی اس کے بعد ادھر سے وہ بولی، ’’میں کل اور پرسوں تمہیں ٹیلی فون نہیں کرسکوں گی۔‘‘\n\nمن موہن نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا، ’’کیوں؟‘‘\n\n’’میں اپنے عزیزوں کے ساتھ کہیں باہر جارہی ہوں۔ صرف دو دن غیر حاضر رہوں گی۔ مجھے معاف کردینا۔‘‘\n\nیہ سننے کے بعد من موہن سارا دن دفتر ہی میں رہا۔ دوسرے دن صبح اٹھا تو اس نے حرارت محسوس کی۔ سوچا کہ یہ اضمحلال شاید اس لیے ہے کہ اس کا ٹیلی فون نہیں آئےگا لیکن دوپہر تک حرارت تیز ہوگئی۔ بدن تپنے لگا۔ آنکھوں سے شرارے پھوٹنے لگے۔ من موہن میز پر لیٹ گیا۔ پیاس بار بارستاتی تھی۔ اٹھتا اور نل سے منہ لگا کر پانی پیتا۔ شام کے قریب اسے اپنے سینے پر بوجھ محسوس ہونے لگا۔ دوسرے روز وہ بالکل نڈھال تھا۔ سانس بڑی دقت سے آتا تھا۔ سینے کی دکھن بہت بڑھ گئی تھی۔\n\nکئی بار اس پر ہذیانی کیفیت طاری ہوئی۔ بخار کی شدت میں وہ گھنٹوں ٹیلی فون پر اپنی محبوب آواز کے ساتھ باتیں کرتا رہا۔ شام کو اس کی حالت بہت زیادہ بگڑ گئی۔ دھندلائی ہوئی آنکھوں سے اس نے کلاک کی طرف دیکھا، اس کے کانوں میں عجیب و غریب آوازیں گونج رہی تھیں۔ جیسے ہزار ہا ٹیلی فون بول رہے ہیں، سینے میں گھنگھرو بج رہے تھے۔ چاروں طرف آوازیں ہی آوازیں تھیں۔ چنانچہ جب ٹیلی فون کی گھنٹی بجی تو اس کے کانوں تک اس کی آواز نہ پہنچی۔ بہت دیر تک گھنٹی بجتی رہی۔ ایک دم من موہن چونکا۔ اس کے کان اب سُن رہے تھے۔ لڑکھڑاتا ہوا اٹھا اور ٹیلی فون تک گیا۔ دیوار کا سہارالے کر اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ریسیور اٹھایا اور خشک ہونٹوں پر لڑکی جیسی زبان پھیر کر کہا، ’’ہلو‘‘\n\nدوسری طرف سے وہ لڑکی بولی، ’’ہلو۔۔۔ موہن؟‘‘\n\nمن موہن کی آواز لڑکھڑائی۔ ’’ہاں موہن!‘‘\n\n’’ذرا اونچی بولو۔۔۔‘‘\n\nمن موہن نے کچھ کہنا چاہا۔ مگر وہ اس کے حلق ہی میں خشک ہوگیا۔\n\nآواز آئی، ’’میں جلدی آگئی۔۔۔ بڑی دیر سے تمہیں رنگ کر رہی ہوں۔۔۔ کہاں تھے تم؟‘‘\n\nمن موہن کا سرگھومنے لگا۔\n\nآواز آئی، ’’کیا ہوگیا ہے تمہیں؟‘‘\n\nمن موہن نے بڑی مشکل سے اتنا کہا، ’’میری بادشاہت ختم ہوگئی ہے آج۔‘‘\n\nاس کے منہ سے خون نکلا اور ایک پتلی لکیر کی صورت میں گردن تک دوڑتا چلا گیا۔\n\nآواز آئی، ’’میرا نمبر نوٹ کرلو۔۔۔ فائیو نوٹ تھری ون فور، فائیو نوٹ تھری ون فور۔۔۔ صبح فون کرنا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ریسیور رکھ دیا۔ من موہن اوندھے منہ ٹیلی فون پر گرا۔۔۔ اس کے منہ سے خون کے بلبلے پھوٹنے لگے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%B4%D8%A7%DB%81%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D8%AA%D9%85%DB%81_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29"} {"title": "بادل آ کے رو گئے ہائے غضب", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بادل آ کے رو گئے ہائے غضب\nآنسو نایاب ہو گئے ہائے غضب\nجی بھر کے حسین کو نہ روئے اس سال\nآنکھوں کے نصیب سو گئے ہائے غضب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%BA%D8%B6%D8%A8"} {"title": "بادل امڈے ہیں دھواں دھار گھٹا چھائی ہے", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بادل امڈے ہیں دھواں دھار گھٹا چھائی ہے\nدھوئیں توبہ کے اڑانے کو بہار آئی ہے\n\nتا کہ انگور ہرے ہوں مرے زخم دل کے\nدھانی انگیا مرے دل دار نے رنگوائی ہے\n\nتیرہ بختی سے ہوئی مجھ کو یہ خفت حاصل\nدل وحشت میں سویدا کی جگہ پائی ہے\n\nیہ چلن ہیں تو تمہیں حشر سے دیں گے تشبیہ\nلوگ سفاک کہیں گے بڑی رسوائی ہے\n\nموت کو زیست سمجھتا ہوں میں بیتابی سے\nتری فرقت نے یہ حالت مری پہنچائی ہے\n\nصبر ہجراں میں کرے کیفیؔٔ محزوں کب تک\nآخر اے دوست کوئی حد شکیبائی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%85%DA%88%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DA%BE%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "بادل اور چاند", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "نیلے ساگر والے چاند\nمجھ کو پاس بلا لے چاند\nبرکھا میں جاتا ہے کہاں تو\nلے کر شال دو شالے چاند\nتارے ہیں یہ آس لگائے\nمنہ پردے سے نکالے چاند\nبادل کا اک ہلکا ہلکا\nمنہ پر آنچل ڈالے چاند\nگنگا کے دھارے میں اتر کر\nپھر کچھ غوطے کھا لے چاند\nابر سیہ میں لپٹ کر نکلا\nکالی کملی والے چاند\nلے آیا ہے کہاں سے یہ تو\nاتنے روئی کے گالے چاند\nکانپ رہے ہیں تارے ان کو\nتو کمبل میں چھپا لے چاند\nبادل کے پھندے میں نہ پھنسنا\nسن اے بھولے بھالے چاند", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"} {"title": "بادل کو لگی کھلتے برستے کچھ دیر", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بادل کو لگی کھلتے برستے کچھ دیر\nدل کو نہ لگی اجڑتے بستے کچھ دیر\nبچوں کی طرح موم ہوا ہوں ایسا\nروتے کچھ دیر ہے نہ ہنستے کچھ دیر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AF%DB%8C%D8%B1"} {"title": "بادہ کشی کے سکھلاتے ہیں کیا ہی قرینے ساون بھادوں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بادہ کشی کے سکھلاتے ہیں کیا ہی قرینے ساون بھادوں\nکیفیت کے ہم نے جو دیکھا دو ہیں مہینے ساون بھادوں\n\nدیکھے نہ ہوں گے آج تلک یہ ایسے کسی نے ساون بھادوں\nچشم کی دولت ہم کو رہے ہیں بارہ مہینے ساون بھادوں\n\nچھوٹے ہیں فوارۂ مژگاں روز و شب ان آنکھوں سے\nیوں نہ برستے دیکھے ہوں گے مل کے کسی نے ساون بھادوں\n\nٹانکنے کو پھرتی ہے بجلی اس میں گوٹ تمامی کی\nدامن ابر کے ٹکڑوں کو جب لگتے ہیں سینے ساون بھادوں\n\nبھولے دم کی آمد و شد ہم یاد کر اس جھولے کی پینگیں\nسوجھے ہے بے یار نہ دیں گے آہ یہ جینے ساون بھادوں\n\nکیونکہ نہ یہ در ہائے تگرگ اے بادہ پرستو! برسائیں\nکان گہر چھٹ زر کے نہیں رکھتے گنجینے ساون بھادوں\n\nکان جواہر کیونکہ نہ سمجھے کھیت کو دہقاں اولوں سے\nبرساتے ہیں موتیوں میں ہیروں کے نگینے ساون بھادوں\n\nابر سیہ میں دیکھی تھی بگلوں کی قطار اس شکل سے ہم نے\nیاد دلائے پھر کے ترے دندان و مسی نے ساون بھادوں\n\nکھیت رکھے گی آخر اک دن فرقت دہقاں پسر کی نصیرؔ\nکرتے ہیں جوں گندم شق مغلوں کے سینے ساون بھادوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%82%D8%B1%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%88%D9%86_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%AF%D9%88%DA%BA"} {"title": "بادۂ خم خانۂ توحید کا مے نوش ہوں", "poet_page": "مصنف:مہاراجہ سر کشن پرشاد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بادۂ خم خانۂ توحید کا مے نوش ہوں\nچور ہوں مستی میں ایسا بے خود و مدہوش ہوں\n\nگرد پھرنے دے مجھے ساقی یہ میرا فرض ہے\nمثل ساغر دور میں ہوں بادۂ سرجوش ہوں\n\nطرز خاموشی مری بتلاتی ہے اس راز کو\nہوں نوا سنج حقیقت لاکھ میں خاموش ہوں\n\nدردمند عشق ہو کر ضبط کا خوگر ہوں میں\nصورت سیماب ہو کر پیکر خاموش ہوں\n\nکس کی فرقت وصل کس کا اور ہے معشوق کون\nشادؔ میں اس عالم تکویں کا ہم آغوش ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%82_%D8%AE%D9%85_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "بادۂ وحشت اثر سے مست ویرانے میں تھا", "poet_page": "مصنف:پیارے لال رونق دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بادۂ وحشت اثر سے مست ویرانے میں تھا\nایک عالم بے خودی کا تیرے دیوانے میں تھا\n\nجلوہ فرماتا وہ کعبے میں نہ بت خانے میں تھا\nڈھونڈھتا تھا جس کو میں وہ دل کے کاشانے میں تھا\n\nحسرتیں تھیں رقص میں ساز طرب تھی آہ دل\nعیش دنیا بھر کا میرے ایک غم خانے میں تھا\n\nپوچھتا کیا ہے حقیقت اس کی مجھ سے محتسب\nکیا بتاؤں میں تجھے کیا میرے پیمانے میں تھا\n\nجوش وحشت میں تھی اس کی جستجو دونوں طرف\nاک قدم میرا تھا گھر میں ایک ویرانے میں تھا\n\nہر گھڑی تھی جس کے جلوہ کی نگاہوں کو تلاش\nنور اس کا آنکھ میں وہ دل کے کاشانے میں تھا\n\nسرخ ڈورے آ گئے پیتے ہی ساقی آنکھ میں\nیہ مئے گل رنگ تھی یا خون پیمانے میں تھا\n\nلا سکا اے شمع دم بھر بھی نہ تاب سوز عشق\nخاک ہونے کے سوا کیا خاک پروانے میں تھا\n\nاور کیا کعبے میں ملتا سنگ اسود کے سوا\nڈھونڈھتا تھا جس کو تو زاہد وہ بت خانے میں تھا\n\nنغمۂ حق کی صدا ہر دم کئے دیتی تھی مست\nکس مزے کا اک ترنم دل کے پیمانے میں تھا\n\nمیری راحت کا ذریعہ تھیں مری آزادیاں\nوہ قدم تھا عیش خانے میں جو ویرانے میں تھا\n\nکوند کر گرتی تھیں دل پر ہر طرف سے بجلیاں\nاک نیا انداز ان کے تیغ چمکانے میں تھا\n\nچشم حق بیں کے لئے ہیں ایک ہی دیر و حرم\nصاف کعبے میں نظر آیا جو بت خانے میں تھا\n\nاب وہ رنگ بادۂ الفت الٰہی کیا ہوا\nجوشش حب وطن جو دل کے پیمانے میں تھا\n\nکیا کہوں کس شے نے رونقؔ کر دیا مست الست\nتھا وہ اک رنگ مئے عرفاں جو پیمانے میں تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%82_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "بار تجھ ہجر کا بھاری ہے خدا خیر کرے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بار تجھ ہجر کا بھاری ہے خدا خیر کرے\nرات دن نالہ و زاری ہے خدا خیر کرے\n\nسختیٔ غم سیں مرے دل کا لہو پانی ہو\nچشم گریاں ستی جاری ہے خدا خیر کرے\n\nکب مرے چاند کے آنے سیں اجالا ہوگا\nہجر کی رات اندھاری ہے خدا خیر کرے\n\nچشم خونریز تری کی ہے عجب تند نگاہ\nہو بہ ہو عین کٹاری ہے خدا خیر کرے\n\nدل پر آہ سیں میرے وہ صنم ڈرتا نہیں\nکالے ناگوں کی پٹاری ہے خدا خیر کرے\n\nبسمل عشق کوں ہرگز نہیں امید حیات\nزخم اس تیغ کا کاری ہے خدا خیر کرے\n\nآشنا شعلۂ دوری سیں ہوا جان سراجؔ\nکاہ کوں آگ سیں یاری ہے خدا خیر کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "باردہ شمالی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "برقعے", "year": "1955", "text_ur": "دوگوگلز آئیں۔ تین بش شرٹوں نے ان کا استقبال کیا۔ بش شرٹیں دنیا کے نقشے بنی ہوئی تھیں، ان پرپرندے، چرندے، درندے، پھول بوٹے اور کئی ملکوں کی شکلیں بنی ہوئی تھیں۔\n\nدونوں گوگلز نے اپنی کتابیں میز پررکھیں۔ اپنے ڈسٹ کور اتارے اور بش شرٹوں کے بٹن بن گئیں۔ایک گوگل نے اس بش شرٹ سے جو خالص امریکی تھی، کہا،’’آپ کا لباس بڑا واہیات ہے۔ ‘‘وہ بش شرٹ ہنسا،’’ تمہارے گوگلز بڑے واہیات ہیں۔ اسے لگا کرتم ایسی دکھائی دیتی ہو جیسے روشن دِن اندھیری رات بن گیا ہے۔‘‘اس اندھیری رات نے اس بش شرٹ سے کہا، ’’میں تو چاندنی رات ہوں۔‘‘ امریکی بش شرٹ نے اس کو ایک کوہ ہمالہ پیش کیا جو بہت ٹھنڈا اور میٹھا تھا۔\n\nاس نے چمچ سے اس کوہ ہمالہ کو سر کرلیا۔ لیکن اس مہم کے دوران میں اس کو بڑی کوفت ہوئی۔۔۔ وہ برفوں کی عادی نہیں تھی۔ وہ مجبوراً اپنی سہیلی دوسری گوگلز کے ساتھ آگئی تھی کہ وہاں اس کا چہیتیا بش شرٹ مل گیا۔دوسری گوگلز اپنے بش شرٹ سے علیحدہ باتیں کررہی تھی۔\n\n’’آج تم اتنی حسین کیوں دکھائی دے رہی ہو؟‘‘\n\n’’ مجھے کیا معلوم؟‘‘\n\n’’اپنی چقیں اتار دو۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’مجھے تمہاری آنکھیں نظر نہیں آتیں۔‘‘\n\n’’میرا دل تو تمہیں نظر آرہا ہوگا۔‘‘\n\n’’نظر آتا رہا ہے۔۔۔ نظر آتا رہے گا۔۔۔ لیکن مجھے تمہاری آنکھوں پر یہ غلاف پسند نہیں۔‘‘\n\n’’ تیز روشنی مجھے پسند نہیں۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’بس نہیں۔۔۔ تمہاری بش شرٹ بھی مجھے پسند نہیں۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’ اس لیے کہ اس کا ڈیزائن بہت بے ہودہ ہے۔۔۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آئس کریم میں کیڑے مکوڑے چل رہے ہیں۔‘‘\n\n’’تم کھا تو چکی ہو۔‘‘\n\n’’میں نے تو صرف چکھی ہے، کھائی کب ہے؟‘‘\n\n’’ آپ ’باردہ شمالی‘ میں صرف آئس کریم چکھنے کے لیے ہی آتی ہیں؟‘‘\n\n’’ آپ مجبورکرتے ہیں تو میں آتی ہوں، ورنہ مجھے اس جگہ سے کوئی رغبت نہیں۔‘‘\n\n’’میں یہ چاہتا تھا کہ ہم دونوں مل کر کوئی مہم سر کریں۔‘‘\n\n’’کون سی مہم؟‘‘\n\n’’بے شمار مہمیں ہیں۔۔۔ لیکن ایک سب سے بڑی ہے۔‘‘\n\n’’کون سی؟‘‘\n\n’’کسی آتش فشاں پہاڑ کے اندر کود جائیں اور وہاں کے حالات معلوم کریں۔‘‘\n\n’’میں تیار ہوں۔۔۔ لیکن پھر میں یہاں آکر آئس کریم ضرور کھاؤں گی۔‘‘\n\n’’میں کھلاؤں گا تمہیں۔‘‘\n\nدونوں بانہوں میں بانہیں ڈالے ایک ایسی دوزخ میں چلے گئے جو آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوتی گئی۔ اس گوگلز کی ساری کتابیں اس بش شرٹ کی لائبریری میں داخل ہوگئیں۔دوسری گوگلز نے اپنی بش شرٹ کو اپنے بلاؤز کی ساری کتابیں پڑھائیں مگر اس کی سمجھ میں نہ آئیں، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ بش شرٹ کسی گھٹیا قسم کے درزی کی سلی ہوئی ہے۔\n\nاس نے’’باردہ شمالی‘‘ میں اس سے کہا، ’’تم آئس کریم نہ کھایا کرو۔۔۔ ہم آئندہ’’ آتشیں ہاؤس ‘‘میں جایا کریں گے۔۔۔‘‘دوسری گوگلز کلبلانے لگی۔ اس گلگاہٹ میں اس نے اپنی بش شرٹ کے کاج بنانے شروع کردیے اور ان میں کئی پھول ٹانک دیے۔ یہ بش شرٹ گھٹیا قسم کے درزی کی سلی ہوئی نہیں تھی، اصل میں اس کا کپڑا کھردرا تھا، جیسے ٹاٹ ہو، اس میں دوسری گوگلز نے اپنی مخمل کے کئی پیوند لگائے، مگر خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا۔\n\nوہ ’’آتشیں ہاؤس‘‘ میں بھی کئی مرتبہ گئے، وہاں انہوں نے کئی گلاس پگھلی ہوئی آگ کے پیےمگر کوئی تسکین نہ ہوئی۔دوسری گوگلز حیران تھی کہ اس کا بش شرٹ جس کے لیے اس نے اپنے بلاؤز کے تمام بخیے ادھیڑ دیے، اس سے ملتفت کیوں نہیں ہوتا۔ وہ اس کی ہر سلوٹ سے پیار کرتی تھی۔ لیکن وہ’’باردہ شمالی‘‘ میں اور ’’آتشیں ہاؤس‘‘ میں اس کے خوبصورت فریم سے کوئی دلچسپی لیتا ہی نہیں تھا۔عجیب بات ہے کہ وہ باردہ شمالی میں گرم ہو جاتا اور آتشیں ہاؤس میں اولاسا بن جاتا۔ دوسری بش شرٹ بہت حیران تھی کہ یہ کیا ماجرا ہے!\n\nاس نے پہلی گوگلز کو جو اس کی سہیلی تھی، ایک خط لکھا اور اس کو اپنا سارا دکھ بتایا۔ اس نے جواب میں یہ لکھا،’’تم کچھ فکر نہ کرو۔ یہ بش شرٹ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ کبھی سکڑ جاتے ہیں۔ کبھی پھیل جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ تمہاری لانڈری میں بھی کوئی نقص ہے۔ اسے دورکرنے کی کوشش کرو۔ تمہاری استری بھی ایسا معلوم ہوتا ہے، خراب ہوگئی ہے، اسے ٹھیک کراؤ۔ کہیں کرنٹ تو نہیں مارتی؟\n\nدوسری گوگلز نے اسے لکھا، ’’کبھی کبھی مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میری استری کرنٹ مارتی ہے۔۔۔ میرا بش شرٹ گیلا ہو چکا ہوتا ہے کہ میری استری گرم ہوتی ہے، میں جب اس پر پھیرتی ہوں تو مجھے بجلی کے دھچکے لگتے ہیں۔‘‘ جواب میں اس کی سہیلی نے لکھا، ’’میں تمہاری استری کی خرابی سمجھ گئی ہوں۔ نیا پلگ بھیج رہی ہوں، اس کو لگا کر دیکھو، شاید یہ خرابی دور ہو جائے۔‘‘\n\nوہ پلگ آیا۔ بڑا خوبصورت تھا۔ مگر جب اس نے اپنی استری میں لگانا چاہا تو فٹ نہ ہوا۔ کنڈم کرکے اس نے واپس کردیا، اور اپنے بش شرٹ کی رفو گری شروع کردی۔یہ کام بڑا نازک تھا مگر اس دوسری گوگلز نے بڑی محنت سے کیا پر نتیجہ پھر بھی صفر رہا۔۔۔ وہ ’’باردہ شمالی‘‘ میں گئی۔ وہاں اس نے پانچ کوہ ہمالہ چمچوں سے سر کیے۔۔۔ وہاں سے یخ بستہ ہو کے اٹھی اور ایک نہایت واہیات بش شرٹ کے ساتھ ’’آتشیں ہاؤس‘‘ جا کر اس نے دس جوالا مکھی نگلے اور واپس اپنے چمڑے کے تھیلے میں آگئی۔\n\nدوسرے دن وہ پھر اپنے چہیتے بش شرٹ سے ملی۔ اس کو اس نے بتایا کہ وہ رات ایک نہایت لغو قسم کے بش شرٹ کے ساتھ ’’آتشیں ہاؤس‘‘ گئی تھی، اس نے قطعاً برا نہ مانا، وہ سوچنے لگی کہ یہ کیسا کلف لگا بش شرٹ ہے جس کی جیبوں میں رشک اور حسد کے سکے کھنکھناتے ہی نہیں۔\n\nاس نے پھر اپنی سہیلی گوگلز کو خط لکھا اور سنایا، ’’تمہارا بھیجا ہوا پلگ میری استری میں لگا ہی نہیں۔۔۔ میں نے واپس بھیج دیا تھا۔ امید ہے کہ تمہیں مل گیا ہوگا۔۔۔ اب مجھے تم سے یہ پوچھنا ہے کہ میں کیا کروں۔۔۔ وہ میرا بش شرٹ۔۔۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا شے ہے۔۔۔ خدا کے لیے آؤ۔۔۔ میں بہت پریشان ہوں، اپنے بش شرٹ کو میرا سلام کہنا، میرا خیال ہے کہ تم اس کو ہر رات پہنتی ہو۔۔۔ اس کا کپڑا بڑا ملائم ہے۔‘‘\n\nاس کی سہیلی، اس کے بلاوے پر آگئی، اس کے ساتھ کا اپنا بش شرٹ نہیں تھا۔۔۔ دونوں بہت خوش تھیں، ان کے شیشے آپس میں ٹکرائے۔۔۔ بڑی کھنکیں پیدا ہوئیں، جیسے کئی کانچ کی چوڑیاں ایک کلائی میں پڑی بج رہی ہیں۔اس کی سہیلی گوگلز کا فریم سنہرا تھا۔ اسے دیکھ کر دوسری کو تھوڑا سا رشک ہوا، مگر اس نے اس جذبے کو فوراً دور کردیا اور اس سنہرے فریم کا تعارف اپنے ’’بش شرٹ‘‘ سے کرایا تاکہ وہ اس کے متعلق کوئی رائے قائم کرے اور بتائے کہ اس پر استری کس طرح کرنی چاہیےتاکہ اس کی سلوٹیں دورہو جائیں۔\n\nوہ اپنی سہیلی کے بش شرٹ سے بڑے تپاک سے ملی، اس نے بڑے غور سے اس کا ٹانکہ ٹانکہ دیکھا، مگر اسے کوئی عیب نظر نہ آیا۔ وہ اس کے اپنے بش شرٹ کے مقابلے میں کئی درجے اچھا سلا ہوا تھا۔ان دونوں کی ملاقاتیں ہوتی رہیں، آخر ایک دن انہوں نے ’’باردہ شمالی‘‘ جانے کا پروگرام بنایا۔ وہ معلوم کرنا چاہتی تھی کہ اس بش شرٹ کا ردِّ عمل کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنی سہیلی گوگلز سے کہہ گئی تھی کہ وہ اپنے شیشوں میں سے اس کے بش شرٹ کو دیکھنا چاہتی ہے۔\n\nجب وہ ’’باردہ شمالی‘‘ میں گئے تووہاں اس بش شرٹ کو آگ لگ گئی جس میں اس نے اپنی ساتھی گوگلز کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔۔۔ دونوں دیر تک اس آگ میں جلتے رہے۔۔۔ اور اسے بجھانے کے لیے ’’آتشیں ہاؤس‘‘ میں چلے گئے۔۔۔ چونکہ آبلے زیادہ پڑ گئے تھے، اس لیے وہ کئی دن ان کا علاج باہر ہی باہر کرتے رہے۔\n\nدوسری گوگلز حیران تھی کہ یہ دونوں کہاں غائب ہوگئے ہیں۔۔۔ اس کے دونوں شیشے دھندلے ہوتے جارہے تھے کہ اچانک اس کی سہیلی کا بش شرٹ آگیا۔ اس نے اس کو نہ پہچانا اور کہا، ’’معاف کیجیے گا میرے شیشے دھندلے ہوگئے ہیں۔‘‘ اس نے فوراً اس کے شیشے نکالے، ان کو اپنی سانسوں سے پہلے گرم، پھر نم آلود کیا، اور اپنے دامن سے پونچھ کر صاف کردیا۔\n\nوہ حیرت زدہ ہوگئی۔۔۔ اس کی زندگی میں اس کے شیشے کبھی اتنے صاف نہیں ہوئے تھے۔۔۔ دونوں ’’باردہ شمالی‘‘ میں کوہ ہمالہ کھانے کے لیے گئے۔۔۔ وہ یہ کھا ہی رہے تھے کہ پہلا بش شرٹ دوسری گوگلز کے ساتھ آگیا۔دونوں خاموش رہے۔۔۔ انہوں نے دل ہی دل میں محسوس کرلیا کہ وہ غلط چوٹیوں پرچڑھ رہے تھے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%B4%D9%85%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "بارش کا پہلا قطرہ", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "گھنگھور گھٹا تلی کھڑی تھی\nپر بوند ابھی نہیں پڑی تھی\nہر قطرہ کے دل میں تھا یہ خطرہ\nناچیز ہوں میں غریب قطرہ\nتر مجھ سے کسی کا لب نہ ہو گا\nمیں اور کی گوں نہ آپ جوگا\nکیا کھیت کی میں بجھاؤں گا پیاس\nاپنا ہی کروں گا ستیا ناس\nآتی ہے برسنے سے مجھے شرم\nمٹی پتھر تمام ہیں گرم\nخالی ہاتھوں سے کیا سخاوت\nپھیکی باتوں میں کیا حلاوت\nکس برتے پہ میں کروں دلیری\nمیں کون ہوں کیا بساط میری\nہر قطرہ کے دل میں تھا یہی غم\nسرگوشیاں ہو رہی تھیں باہم\nکھچڑی سی گھٹا میں پک رہی تھی\nکچھ کچھ بجلی چمک رہی تھی\nاک قطرہ تھا کہ بڑا دلاور\nہمت کے محیط کا شناور\nفیاض و جواد و نیک نیت\nبھڑکی اس کی رگ حمیت\nبولا للکار کر کہ آؤ\nمیرے پیچھے قدم بڑھاؤ\nکر گزرو جو ہو سکے کچھ احسان\nڈالو مردہ زمین میں کچھ جان\nیارو، یہ ہچر مچر کہاں تک\nاپنی سی کرو بنے جہاں تک\nمل کر جو کرو گے جانفشانی\nمیدان پہ پھیر دو گے پانی\nکہتا ہوں یہ سب سے برملا میں\nآتے ہو تو آؤ لو چلا میں\nیہ کہہ کے وہ ہو گیا روانہ\n’’ دشوار ہے جی پہ کھیل جانا ‘‘\nہر چند کہ تھا وہ بے بضاعت\nکی اس نے مگر بڑی شجاعت\nدیکھی جرات جو اس سخی کی\nدوچار نے اور پیروی کی\nپھر ایک کے بعد ایک لپکا\nقطرہ قطرہ زمین پہ ٹپکا\nآخر قطروں کا بندھ گیا تار\nبارش لگی ہونے موسلا دھار\nپانی پانی ہوا بیاباں\nسیراب ہوئے چمن خیاباں\nتھی قحط سے پائمال خلقت\nاس مینہ سے ہوئی نہال خلقت\nجرات قطرہ کی کر گئی کام\nباقی ہے جہاں میں آج تک نام\nاے صاحبو قوم کی خبر لو\nقطروں کا سا اتفاق کر لو\nقطروں ہی سے ہو گی نہر جاری\nچل نکلیں گی کشتیاں تمہاری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%B4_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%81%D9%84%D8%A7_%D9%82%D8%B7%D8%B1%DB%81"} {"title": "بارک اللہ میں ترے حسن کی کیا بات کہوں", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بارک اللہ میں ترے حسن کی کیا بات کہوں\nسج کہوں دھج کہوں چھب تختی کہوں گات کہوں\n\nرخ و زلف اس کے شب تار میں دیکھے باہم\nہوں اچنبھے میں اسے دن کہوں یا رات کہوں\n\nکی قیامت ترے قامت نے تو گلشن اوپر\nپنکھڑی ایک طرف پھول کہوں پات کہوں\n\nطاق ابرو کے نظارے کے تھے خواہاں سو ملا\nاور کیا حاجت اب اے قبلۂ حاجات کہوں\n\nدیکھنے کو ابھی دل تڑپا کہ تم آ پہنچے\nکشش دل کہ تمہاری یہ کرامات کہوں\n\nعین ہجراں میں بہار گل و باراں آئی\nگریہ عاشق کا کہوں یا اسے برسات کہوں\n\nاظفریؔ نے ہیں ترے عشق میں جھیلے پیارے\nکیا کیا آفات بلیات کہ صدمات کہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "بارہ مہینے ہجر کے گزرے ملال میں", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بارہ مہینے ہجر کے گزرے ملال میں\nلاکھوں ہی رنج ہم نے سہے ایک سال میں\n\nلاتے نہیں فقیر کسی کو خیال میں\nاللہ والے مست ہیں اپنے ہی حال میں\n\nتکلیف قید زلف مرے دل سے پوچھیے\nخالق کہیں پھنسائے نہ مچھلی کو جال میں\n\nسن کر سوال وصل وہ جوہرؔ سے کہتے ہیں\nکچھ بات ہو تو آئے ہمارے خیال میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D9%85%DB%81%DB%8C%D9%86%DB%92_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بارہا دل کو میں سمجھا کے کہا کیا کیا کچھ", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بارہا دل کو میں سمجھا کے کہا کیا کیا کچھ\nنہ سنا اور کھویا مجھ سے مرا کیا کیا کچھ\n\nعزت و آبرو و حرمت و دین و ایماں\nروؤں کس کس کو میں یارو کہ گیا کیا کیا کچھ\n\nصبر و آرام کہوں یا کہ میں اب ہوش و حواس\nہو گیا اس کی جدائی میں جدا کیا کیا کچھ\n\nعشق کس ذات کا عقرب ہے کہ لگتے ہی نیش\nدل کے ساتھ آنکھوں سے پانی ہو بہا کیا کیا کچھ\n\nسادہ روئی نے تو کھویا دل و دیں سے دیکھیں\nخط کے آنے میں ہے قسمت کا لکھا کیا کیا کچھ\n\nدخل کیا راہ محبت میں نکو نامی کو\nآیا اس کوچے میں جو ان نے سنا کیا کیا کچھ\n\nوالہ و شیفتہ و زار و حزین و مجنوں\nاپنے عاشق کو کل اس نے نہ کہا کیا کیا کچھ\n\nگریۂ شیشہ کبھی تھا تو کبھی خندۂ جام\nساقی اس دور میں تیرے نہ ہوا کیا کیا کچھ\n\nغرہ مت ہو جو زمانے سے تری بن آئی\nتھا وہ کیا کیا کہ نہ بگڑا نہ بنا کیا کیا کچھ\n\nشادی آنے کی نہ کر یار نہ جانے کا غم\nآیا کیا کیا نہ کچھ اس جا نہ گیا کیا کیا کچھ\n\nسینہ قانون و غنا نالہ و دل ہے مضراب\nنکلے ہے ساز محبت سے صدا کیا کیا کچھ\n\nدوستو حق میں ترقی و تنزل اپنے\nکیا کہیں ہم کو زمانے سے ہوا کیا کیا کچھ\n\nضعف و نا طاقتی و سستی و اعضا شکنی\nایک گھنٹے میں جوانی کے بڑھا کیا کیا کچھ\n\nسیر کی قدرت خالق کی بتاں میں سوداؔ\nمشت بھر خاک میں جلوہ ہے بھلا کیا کیا کچھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE"} {"title": "بارہا گور دل جھنکا لایا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بارہا گور دل جھنکا لایا\nاب کے شرط وفا بجا لایا\n\nقدر رکھتی نہ تھی متاع دل\nسارے عالم میں میں دکھا لایا\n\nدل کہ یک قطرہ خوں نہیں ہے بیش\nایک عالم کے سر بلا لایا\n\nسب پہ جس بار نے گرانی کی\nاس کو یہ ناتواں اٹھا لایا\n\nدل مجھے اس گلی میں لے جا کر\nاور بھی خاک میں ملا لایا\n\nابتدا ہی میں مر گئے سب یار\nعشق کی کون انتہا لایا\n\nاب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ\nپھر ملیں گے اگر خدا لایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DA%AF%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%DA%BE%D9%86%DA%A9%D8%A7_%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو\nایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو\n\nعشق پیچے کی طرح حسن گرفتاری ہے\nلطف کیا سرو کی مانند گر آزاد رہو\n\nہم کو دیوانگی شہروں ہی میں خوش آتی ہے\nدشت میں قیس رہو کوہ میں فرہاد رہو\n\nوہ گراں خواب جو ہے ناز کا اپنے سو ہے\nداد بیداد رہو شب کو کہ فریاد رہو\n\nمیرؔ ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے\nاس خرابے میں مری جان تم آباد رہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D8%B2%D8%AF%DB%81_%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81%D9%88"} {"title": "بازار دہر میں تری منزل کہاں نہ تھی", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بازار دہر میں تری منزل کہاں نہ تھی\nیوسف نہ جس میں ہو کوئی ایسی دکاں نہ تھی\n\nزردی نے میرے رنگ کی مجھ کو رلا دیا\nہنسوائے جو کسی کو یہ وہ زعفراں نہ تھی\n\nظاہر سے خوب رویوں کا باطن خلاف تھا\nشیریں لبوں کی طرح سے ان کی زباں نہ تھی\n\nمنزل ہی دور ہے جو یہ پہنچی نہیں ہنوز\nدم لینے والی راہ میں عمر رواں نہ تھی\n\nدکھلائی سیر آنکھوں کو بام مراد کی\nایسی کوئی کمند کوئی نردباں نہ تھی\n\nقوس قزح سے ہم نے بھی تشبیہ دی اسے\nچلہ نہ ہونے سے جو وہ ابرو کماں نہ تھی\n\nآگاہ جذب عشق زلیخا سے تھا نہ حسن\nیوسف کو چاہ میں خبر کارواں نہ تھی\n\nیاد آ گئی جو سلک گہر تیرے گوش کی\nسوہان روح تھی مجھے شب کہکشاں نہ تھی\n\nرہ جانا پیچھے جسم کا جاں سے عجب نہیں\nکس کارواں کی گرد پس کارواں نہ تھی\n\nنا فہمی کی دلیل ہے یہ سجدہ سے آیا\nابلیس کو حقیقت آدم عیاں نہ تھی\n\nعاشق کے سر کے ساتھ ہے سودائے کوئے یار\nمومن نہ تھا وہ جس کو ہوائے جناں نہ تھی\n\nبانگ جرس سے آگے ہر اک کا قدم رہا\nگرد اپنے کارواں کے پس کارواں نہ تھی\n\nافسوس کیا جوانیٔ رفتہ کا کیجیے\nوہ کون سی بہار تھی جس کو خزاں نہ تھی\n\nنالوں سے ایک دن نہ کئے گرم گوش یار\nآتشؔ مگر تمہارے دہن میں زباں نہ تھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں\nیہ بھی ہے کوئی بات کبھی ہاں کبھی نہیں\n\nجس نے کچھ احتیاط جوانی میں کی نہیں\nعقل سلیم کہتی ہے وہ آدمی نہیں\n\nدل مانگو تو جواب ہے ان کا ابھی نہیں\nگویا ابھی نہیں کا ہے مطلب کبھی نہیں\n\nواعظ کو لعن طعن کی فرصت ہے کس طرح\nپوری ابھی خدا کی طرف لو لگی نہیں\n\nعاشق پر ان کا ایک ذرا سا ہے التفات\nاور وہ بھی اس طرح کہ کبھی ہے کبھی نہیں\n\nجیسا کہ آپ چاہتے ہیں شخص پاک و صاف\nایسا تو شہر بھر میں کوئی متقی نہیں\n\nتنہا جیے تو خاک جیے لطف کیا لیا\nاے خضر یہ تو زندگی میں زندگی نہیں\n\nہم سب ہیں راہگیر تصادم کا کیا سبب\nدنیا ہے شاہراہ کچھ ایسی گلی نہیں\n\nدل میں نشاط آئے تو چہرہ ہو تابناک\nجب تک جناب چاند نہیں چاندنی نہیں\n\nپرویںؔ جلاؤ شمع عمل گور کے لئے\nسورج کا نور چاند کے وہاں چاندنی نہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%D9%BE%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے\nہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے\n\nاک کھیل ہے اورنگ سلیماں میرے نزدیک\nاک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے\n\nجز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور\nجز وہم نہیں ہستی اشیا مرے آگے\n\nہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے\nگھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے\n\nمت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے\nتو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے\n\nسچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہوں\nبیٹھا ہے بت آئنہ سیما مرے آگے\n\nپھر دیکھیے انداز گل افشانیٔ گفتار\nرکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے\n\nنفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا\nکیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے\n\nایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر\nکعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے\n\nعاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام\nمجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ میرے آگے\n\nخوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے\nآئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے\n\nہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو\nآتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے\n\nگو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے\nرہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے\n\nہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا\nغالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B2%DB%8C%DA%86%DB%82_%D8%A7%D8%B7%D9%81%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92"} {"title": "باسط", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "ٹھنڈا گوشت", "year": "1950", "text_ur": "باسط بالکل رضا مند نہیں تھا، لیکن ماں کے سامنے اس کی کوئی پیش نہ چلی۔ اول اول تو اس کو اتنی جلدی شادی کرنے کی کوئی خواہش نہیں تھی، اس کے علاوہ وہ لڑکی بھی اسے پسند نہیں تھی جس سے اس کی ماں اس کی شادی کرنے پر تلی ہوئی تھی۔ وہ بہت دیر تک ٹالتا رہا۔ جتنے بہانے بنا سکتا تھا۔ اس نے بنائے، لیکن آخر ایک روز اس کو ماں کی اٹل خواہش کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہی پڑا۔ دراصل انکار کرتے کرتے وہ بھی تنگ آگیا تھا۔ چنانچہ اس نے دل میں سوچا، ’’یہ بک بک ختم ہی ہو جائے تو اچھا ہے ،ہونے دو شادی۔ کوئی قیامت تو نہیں ٹوٹ پڑے گی۔۔۔ میں نبھالوں گا۔‘‘\n\nاس کی ماں بہت خوش ہوئی۔ لڑکی والے اس کے عزیز تھے اور وہ عرصہ ہوا ان کو زبان دے چکی تھی۔ جب باسط نے ہاں کی تو وہ تاریخ پکی کرنے کے لیے لڑکی والوں کے ہاں گئی۔ انھوں نے ٹال مٹول کی تو باسط کی ماں کو بہت غصہ آیا۔ ’’سعیدہ کی ماں، میں نے اتنی مشکلوں سے باسط کو رضا مند کیا ہے، اب تم تاریخ پکی نہیں کررہی ہو۔ شادی ہوگی تو اسی مہینے کی بیس کو ہوگی۔ نہیں تو نہیں ہوگی۔ اور یہ بات سولہ آنے پکی ہے۔سمجھ لیا۔‘‘\n\nدھمکی نے کام کیا۔ لڑکی کی ماں بالآخر راضی ہوگئی۔ سب تیاریاں مکمل ہوئیں۔ بیس کو دلہن گھر میں تھی۔ باسط کو گو وہ پسند نہیں تھی لیکن وہ اس کے ساتھ نبھانے کا فیصلہ کر چکا تھا، چنانچہ وہ اس سے بڑی محبت سے پیش آیا۔ اس پر بالکل ظاہر نہ ہونے دیا کہ وہ اس سے شادی کرنے کے لیے تیار نہیں تھا اور یہ کہ وہ زبردستی اس کے سر منڈھ دی گئی ہے۔\n\nنئی دلہنیں عام طور پر بہت شرمیلی ہوتی ہیں لیکن باسط نے محسوس کیا کہ سعیدہ ضرورت سے زیادہ شرمیلی ہے۔ اس کے اس شرمیلے پن میں کچھ خوف بھی تھا جیسے وہ باسط سے ڈرتی ہے۔ شروع شروع میں باسط نے سوچا کہ یہ چیز دور ہو جائےگی مگر وہ بڑھتی ہی گئی۔ باسط نے اس کو چند روز کے لیے میکے بھیج دیا۔ واپس آئی تو اس کا خوف آلود شرمیلا پن ایک حد تک دور ہو چکا تھا۔ باسط نے سوچا ایک دو مرتبہ اور میکے جائے گی تو ٹھیک ہو جائے گی۔مگر اس کا یہ قیاس غلط نکلا۔ سعیدہ پھر خوف زدہ رہنے لگی۔\n\nباسط نے ایک روز اس سے پوچھا،’’سعیدہ تم ڈری ڈری کیوں رہتی؟‘‘ سعیدہ یہ سن کر چونکی،’’ نہیں تو۔۔۔ نہیں تو۔‘‘ باسط نے اس سے بڑے پیار بھرے لہجے میں کہا،’’آخر بات کیا ہے۔۔۔ خدا کی قسم مجھے بڑی الجھن ہوتی ہے۔۔۔ کس بات کا ڈر ہے تمہیں۔۔۔ میری ماں اتنی اچھی ہے۔۔۔ وہ تم سے ساسوں کا سا سلوک نہیں کرتی ۔ میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں۔۔۔ پھر تم ایسی صورت کیوں بنائے رکھتی ہو کہ معلوم ہوتا ہے تمہیں یہ خوف ہے کہ کوئی تمہیں پیٹے گا۔‘‘ یہ کہہ کراس نے سعیدہ کا منہ چوما۔ سعیدہ خاموش رہی۔ اس کی آنکھیں البتہ اور زیادہ خوف زدہ ہوگئیں۔\n\nباسط نے اس کو اور پیار کیا اور کہا،’’تمہیں ہر وقت ہنستی رہنا چاہیے۔۔۔ لو، اب ذرا ہنسو۔۔۔ ہنسو میری جان۔‘‘ سعیدہ نے ہنسنے کی کوشش کی۔ باسط نے پیار سے اس کو تھپکی دی۔’’شاباش۔۔۔! اسی طرح مسکراتا چہرہ ہونا چاہیے ہر وقت!‘‘\n\nباسط کی یہ محبت ظاہر ہے کہ بالکل مصنوعی تھی، کیونکہ سعیدہ کے لیے اس کے دل میں کوئی جگہ نہیں تھی، لیکن وہ صرف اپنی ماں کی خاطر چاہتا تھا کہ سعیدہ سے اس کا رشتہ ناکام ثابت نہ ہو۔۔۔ اس کی ماں اپنی شکست کبھی برداشت نہ کرسکتی۔ اس نے اپنی زندگی میں شکست کا منہ دیکھا ہی نہیں تھا۔ اس لیے باسط کی انتہائی کوشش یہی تھی کہ سعیدہ سے اس کی نبھ جائے، چنانچہ اپنے دل میں سعیدہ کے لیے اس نے بڑے خلوص کے ساتھ مصنوعی محبت پیدا کرلی تھی۔اس کی ہر آسائش کا خیال رکھتا تھا۔ اپنی ماں سے سعیدہ کی چھوٹی سی بات کی بھی تعریف کرتا تھا۔ جب وہ یہ محسوس کرتا کہ اس کی ماں بہت مطمئن ہے، اس بات سے مطمئن ہے کہ اس نے باسط کا رشتہ ٹھیک جگہ کیاہے تو اس کو دلی خوشی ہوتی۔\n\nشادی کو ایک مہینہ ہوگیا۔ اس دوران میں سعیدہ کئی مرتبہ میکے گئے۔ باسط کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ یوں اس کا خوف آلود شرمیلا پن دور ہو جائے گا۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ یہ دن بہ دن بڑھتا چلا جارہا تھا۔ اب تو سعیدہ وحشت زدہ دکھائی دیتی تھی۔ باسط حیران تھا کہ بات کیا ہے۔ اس کے بارے میں اس نے ماں سے کوئی بات نہ کی اس لیے کہ اسے یقین تھا کہ وہ اس کو ڈانٹ پلاتیں،’’بکواس نہ کرو۔ مجھے معلوم تھا تم ضرور ایک روز اس میں کیڑے ڈالو گے۔ ‘‘باسط نے سعیدہ ہی سے کہا،’ میری جان، تم مجھے بتاتی کیوں نہیں ہو۔‘‘ سعیدہ چونک اٹھی۔ ’’جی؟‘‘\n\nاس کے چونکنے پر باسط نے یوں محسوس کیا جیسے اس نے سعیدہ کی کسی دکھتی رگ پر زور سے ہاتھ رکھ دیا تھا۔لہجے میں اورزیادہ پیار بھر کے اس نے کہا،’’ میں نے پوچھا تھا کہ اب تم اور زیادہ خوف زدہ رہنے لگی ہو۔ آخر بات کیا ہے؟‘‘\n\nسعیدہ نے تھوڑے توقف کے بعد جواب دیا،’’بات تو کچھ بھی نہیں۔۔۔ میں ذرا بیمار ہوں۔‘‘\n\n’’کیا بیماری ہے۔۔۔ تم نے مجھ سے کبھی ذکرہی نہیں کیا۔‘‘\n\nسعیدہ نے دوپٹے کے کنارے کو انگلی پر لپیٹتے ہوئے جواب دیا، ’’امی جان علاج کرا رہی ہے میرا۔ جلدی ٹھیک ہو جاؤں گی۔‘‘باسط نے سعیدہ سے اور زیادہ دلچسپی لینا شروع کی تو اس نے دیکھا کہ وہ ہر روز چھپ کر کوئی دوا کھاتی ہے۔ ایک دن جب کہ وہ اپنے قفل لگے ٹرنک سے دوا نکال کر کھانے والی تھی۔ وہ اس کے پاس پہنچ گیا۔ وہ زور سے چونکی۔ سفوف کی کھلی ہوئی پڑیا اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔باسط نے اس سے پوچھا،’’یہ دوا کھاتی ہو؟‘‘ سعیدہ نے تھوک نگل کر جواب دیا،’’جی ہاں۔۔۔ امی جان نے حکیم صاحب سے منگوائی تھی۔‘‘\n\n’’کچھ افاقہ ہے اس سے؟‘‘\n\n’’جی ہاں!‘‘\n\n’’تو کھاؤ۔۔۔ اگر آرام نہ آئے تو مجھ سے کہنا۔ میں ڈاکٹر کے پاس لے چلوں گا۔‘‘ سعیدہ نے پڑیا فرش پر سے اٹھائی اور سرہلاکر کہا، ’’جی اچھا۔‘‘\n\nباسط چلا گیا۔ اس نے سوچا، ’’اچھا ہے، کوئی علاج تو ہورہا ہے۔ خدا کرے اچھی ہو جائے۔ میرا خیال ہے یہ ڈر ور کچھ نہیں۔ بیماری ہے۔۔۔ دور ہو جائیگی انشاء اللہ!‘‘\n\nاس نے سعیدہ کی اس بیماری کا اپنی ماں سے پہلی بار ذکر کیا تو کہنے لگی،’’ بکواس ہے۔ خدا کے فضل و کرم سے اچھی بھلی ہے۔ کیا بیماری ہے اسے؟‘‘ باسط نے کہا،’’مجھے کیا معلوم امی جان۔۔۔؟یہ تو سعیدہ ہی بتا سکتی ہے آپ کو۔ ‘‘باسط کی ماں نے بڑی بے پروائی سے کہا،’’میں پوچھوں گی اس سے۔۔۔‘‘\n\nجب سعیدہ سے دریافت کیا تو اس نے جواب دیا،’’کچھ نہیں خالہ جان، سر میں درد رہتا تھا۔ امی جان نے حکیم صاحب سے دوا منگا دی تھی۔ اصل میں باسط صاحب بڑے وہمی ہیں۔۔۔ ہر وقت کہتے رہتے ہیں تم ڈری ڈری سی دکھائی دیتی ہو۔۔۔ مجھے ڈر کس بات کاہوگا بھلا۔ ‘‘باسط کی ماں نے کہا،’’بکواس کرتا ہے۔ تم اس کی فضول باتوں کا خیال نہ کرو۔‘‘ چند روز کے بعد باسط نے محسوس کیا کہ سعیدہ بہت ہی زیادہ گھبرائی ہوئی ہے۔ اس کا اضطراب اس کے روئیں روئیں سے ظاہر ہوتا تھا۔ شام کے قریب اس نے باسط سے کہا،’’امی جان سے ملنے کو جی چاہتا ہے۔۔۔ مجھے وہاں چھوڑ آئیے۔‘‘\n\nباسط نے جوا ب دیا،’’نہیں سعیدہ۔ آج تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں۔‘‘سعیدہ نے اصرار کیا،’’ آپ مجھے وہاں چھوڑ آئیے۔ ٹھیک ہو جاؤں گی۔‘‘ باسط نے انکار کردیا۔’’و ہاں طبیعت ٹھیک ہوسکتی ہے تو یہاں بھی ٹھیک ہوسکتی ہے۔ جاؤ آرام سے لیٹ جاؤ۔ ‘‘باسط کی ماں آگئی۔باسط نے اس سے کہا،’’ امی جان، دیکھیے سعیدہ ضد کررہی ہے طبیعت اس کی ٹھیک نہیں، کہتی ہے مجھے امی جان کے پاس لے چلو۔ ‘‘باسط کی ماں نے بڑی بے پروائی سے کہا،’’ کل چلی جانا سعیدہ۔‘‘\n\nسعیدہ نے اور کچھ نہ کہا۔ خاموش ہو کر باہر صحن میں چلی گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد باسط باہر نکلا۔ سعیدہ صحن میں نہیں تھی۔ اس نے اِدھر اُدھرتلاش کیا۔ مگر وہ نہ ملی۔ باسط نے سوچا اوپر کوٹھے پر ہوگی۔ اوپر گیا تو غسل خانے کا دروازہ بند تھا۔کھٹکھٹا کر اس نے آواز دی، ’’سعیدہ!‘‘ کوئی جواب نہ ملا تو پھر پکارا، ’’سعیدہ!‘‘ اندرسے بڑی نحیف آواز آئی۔ ’’جی!‘‘ باسط نے پوچھا، ’’کیا کررہی ہو۔‘‘ اور زیادہ نحیف آواز آئی،’’نہا رہی ہوں۔‘‘\n\nباسط نیچے آگیا۔ سعیدہ کے بارے میں سوچتا سوچتا باہر گلی میں نکلا۔ موری کی طرف نظر پڑی تو اس میں خون ہی خون تھا اور یہ خون اس غسل خانے سے آرہا تھا۔ جس میں سعیدہ نہا رہی تھی۔ باسط کے ذہن میں تلے اوپر کئی خیالات اوندھے سیدھے گرے۔ پھر یہ گردان شروع ہوگئی۔’’دوا۔۔۔ خون۔۔۔ خون۔۔۔ دوا۔۔۔ ڈر۔۔۔ دوا۔۔۔ خون۔۔۔ ڈر!‘‘\n\nپھر اس نے آہستہ آہستہ سوچنا شروع کیا۔ سعیدہ کی ماں شادی کی تاریخ کی پکی نہیں کرتی تھی۔ اس نے کہا تھا ایک دو مہینے ٹھہر جاؤ۔۔۔ سعیدہ کا بار بار اپنی ماں سے ملنے جانا۔۔۔ اس کا ہر وقت خوفزدہ رہنا، دوا کھانااور خاص طور پر آج بہت ہی زیادہ وحشت زدہ رہنا۔باسط سارا معاملہ سمجھ گیا۔ سعیدہ پیٹ سے تھی۔ جب وہ دلہن بن کر اس کے پاس آئی تھی۔اس کی ماں کی یہ کوشش تھی کہ حمل گر جائے۔ چنانچہ آج وہ چیز ہوگئی۔ باسط نے سوچا،’’کیا میں اوپر جاؤں۔ جا کر سعیدہ کو دیکھوں۔۔۔ اپنی ماں سے بات کروں۔‘‘ ماں کا سوچا تواس کو خیال آیا کہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کرسکے گی۔ وہ اپنے بیٹے کی آنکھوں میں ذلیل ہونا کبھی گوارا نہیں کرے گی۔ ضرور کچھ کھا کر مر جائے گی۔وہ کوئی فیصلہ نہ کرسکا۔ اپنے کمرے میں گیا اور سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔\n\nکئی بار اس کو سعیدہ کا خیال آیا کہ وہ خدا معلوم کس حالت میں ہوگی۔ اس کے جسم پر، اس کے دل و دماغ پر کیا کچھ بیتا ہوگا اور کیا بیت رہا ہوگا۔ کیسے اتنا بڑا راز چھپائے گی۔ کیا لوگ پہچان نہیں جائیں گے۔ جوں جوں وہ سعیدہ کے بارے میں سوچتا اس کے دل میں ہمدردی کا جذبہ بڑھتا جاتا۔ اس کو سعیدہ پر ترس آنے لگا،’’بے چاری، معلوم نہیں بے ہوش پڑی ہے یا ہوش میں ہے۔ ہوش میں بھی اس پر جانے کیا گزر رہی ہوگی۔۔۔کیا وہ نیچے آسکے گی؟‘‘\n\nتھوڑی دیر کے بعد وہ اٹھ کر صحن میں گیا تو سعیدہ نیچے آئی۔ اس کا رنگ بے حد زرد تھا، اتنا زرد کہ وہ بالکل مردہ معلوم ہوتی تھی۔ اس سے بمشکل چلا جاتا تھا۔ ٹانگیں لڑکھڑا رہی تھیں۔ کمر میں جیسے جان ہی نہیں تھی۔ باسط نے اس کو دیکھا تو اس پر بہت ترس آیا۔ اندر سے برقع اٹھایا اور اس سے کہا، ’’چلو میں تمہیں چھوڑ آؤں۔‘‘ سعیدہ نے بہت ہمت سے کام لیا۔ باسط کے ساتھ چل کر باہر سڑک تک گئی ۔باسط نے ٹانگہ لیا اور اس کو اس کی ماں کے پاس چھوڑ آیا۔ ماں نے اس سے پوچھا،’’سعیدہ کہاں ہے؟‘‘باسط نے جواب دیا، ’’ضد کرتی تھی۔ میں اسے چھوڑ آیا ہوں۔‘‘\n\nباسط کی ماں نے اس کو ڈانٹا، ’’بکواس کرتے ہو۔ ضد کرنے دی ہو تی۔ تم اسی طرح اس کی عادتیں خراب کرو گے اور پھر مجھ سے کہو کہ میں نے غلط جگہ تمہارا رشتہ کیا تھا۔‘‘\n\nباسط نے کہا، ’’نہیں امی جان۔ سعیدہ بڑی اچھی لڑکی ہے۔‘‘ اس کی ماں مسکرائی،’’میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ وہ بہت نیک لڑکی ہے تم اسے ضرور پسند کرو گے۔‘‘ پھر تھوڑی دیر چھالیا کاٹنے کے بعد ایک دم باسط سے مخاطب ہوئی،’’اور ہاں باسط، یہ اوپر غسل خانے میں خون کیسا تھا؟‘‘\n\nباسط سٹپٹا سا گیا۔ ’’وہ۔۔۔ کچھ نہیں امی جان۔ میری نکسیر پھوٹی تھی۔‘‘ماں نے بڑے غصے کے ساتھ کہا، ’’کم بخت گرم چیزیں نہ کھایا کرو۔۔۔جب دیکھو جیبیں مونگ پھلی سے بھری ہیں۔‘‘\n\nباسط کچھ دیر اپنی ماں کے ساتھ باتیں کرتارہا۔ وہ اٹھ کر کہیں گئی تو باسط اوپر غسل خانے میں گیا۔ پانی ڈال کر اس کو اچھی طرح صاف کیا۔ اس کے دل کو اس بات کا بڑا اطمینان تھا کہ اس نے اپنی ماں سے سعیدہ کے متعلق کوئی بات نہیں کی اور نہ اس نے سعیدہ پر یہ ظاہر ہونے دیا کہ وہ اس کا راز جانتا ہے۔\n\nوہ دل میں فیصلہ کر چکا تھا کہ سعیدہ کا راز ہمیشہ اس کے سینے میں دفن رہیگا۔ وہ کافی تکلیف اٹھا چکی تھی۔ باسط کے خیال کے مطابق اس کو اپنے کیے کی سزا مل چکی تھی۔ مزید سزا دینے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ ’’خدا کرے وہ جلد تندرست ہوجائے۔ اب اس کے چہرے پر وہ الجھن پیدا کرنے والا خوف نہیں رہے گا۔‘‘ وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ نیچے اس کی ماں کی چیخ کی آواز آئی۔ باسط لوٹا رکھ کر دوڑا نیچے گیا۔ سب کمرے دیکھے ۔ڈیوڑھی میں گیا تو اس کی ماں فرش پر اوندھی پڑ ی تھی، مردہ۔ اس کے سامنے کوڑے والے لکڑی کے بکس میں ایک چھوٹا بہت ہی چھوٹا سا نامکمل بچہ کپڑے میں لپٹا پڑا تھا۔\n\nباسط کو بے حد صدمہ ہوا۔ اس نے پہلے اس بچے کو اٹھایا۔ کپڑے میں اچھی طرح لپیٹا اور اندر جا کر بوٹ کے خالی ڈبے میں بند کردیا۔ پھر ماں کو اٹھا کر اندر چارپائی پر لٹایا اور اس کے سرہانے بیٹھ کر دیر تک روتا رہا۔سعیدہ کو اطلاع پہنچی تو اس کو اپنی ماں کے ساتھ آنا پڑا۔ وہ اسی طرح زرد تھی۔ پہلے سے زیادہ نڈھال۔ باسط کو بہت ترس آیا۔ اس سے کہا،’’سعیدہ جو اللہ کو منظورتھا، ہوگیا۔ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں۔ رونا بند کرو اور جاؤ اندر لیٹ جاؤ۔‘‘\n\nاندر جانے کے بجائے سعیدہ ڈیوڑھی میں گئی۔ جب واپس آئی تو اس کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد تھا۔ باسط خاموش رہا۔ سعیدہ نے اس کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ یہ آنسو صاف بتا رہے تھے کہ وہ باسط کا شکریہ ادا کررہی ہے۔۔۔ باسط نے اس سے بڑے پیار سے کہا،’’زیادہ رونا اچھا نہیں سعیدہ۔۔۔ جو خدا کو منظور تھا ہوگیا۔‘‘\n\nدوسرے رز اس نے بچے کو نہر کے کنارے گڑھا کھود کر دفنا دیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B3%D8%B7"} {"title": "باشندے حقیقت میں ہیں ہم ملک بقا کے", "poet_page": "مصنف:مردان علی خاں رانا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باشندے حقیقت میں ہیں ہم ملک بقا کے\nکچھ روز سے میہمان ہیں اس دار فنا کے\n\nدل خوں ہو شب وصل بھی حسرت میں نہ کیوں کر\nدیکھیں نہ وہ خلوت میں بھی جب آنکھ اٹھا کے\n\nفرمائیے ہم سے تھی یہی شرط محبت\nخوب آپ نے رسوا کیا غیروں میں بلا کے\n\nکوچے میں نہ آئے کوئی میں جان گیا ہوں\nفرماتے ہو مجھ سے یہ رقیبوں کو سنا کے\n\nدل ہاتھ سے کھو جاتا ہے کس طور سے زاہد\nتو آپ ذرا دیکھ لے اس کوچے میں جا کے\n\nخاک در جاناں ہے لباس تن عریاں\nعاشق ترے محتاج نہیں اور قبا کے\n\nہم سر کے بل آئیں گے جو بلواؤ گے صاحب\nگر ہو نہ یقیں دیکھ لو تم چاہو بلا کے\n\nہو سایۂ دیوار تمہارا جو میسر\nپھر کیا کریں فرمائیے سائے کو ہما کے\n\nدل کھول کے کر لیجئے اے حضرت دل سیر\nہم پھر کے نہ پھر آئیں گے اس بزم سے جا کے\n\nتن خاک میں مل جائے گا اک روز ہمارا\nجی تن سے نکل جائے گا مانند ہوا کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B4%D9%86%D8%AF%DB%92_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%85%D9%84%DA%A9_%D8%A8%D9%82%D8%A7_%DA%A9%DB%92"} {"title": "باطل ہے ہم سے دعویٰ شاعر کو ہم سری کا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باطل ہے ہم سے دعویٰ شاعر کو ہم سری کا\nدیوان ہے ہمارا کیسہ جواہری کا\n\nچہرہ ترا سا کب ہے سلطان خاوری کا\nچیرہ ہزار باندھے سر پر جو وہ زری کا\n\nمنہ پر یہ گوشوارہ موتی کا جلوہ گر ہے\nجیسے قران باہم ہو ماہ و مشتری کا\n\nآئینہ خانے میں وہ جس وقت آن بیٹھے\nپھر جس طرف کو دیکھو جلوہ ہے واں پری کا\n\nجز شوق دل نہ پہنچوں ہرگز بہ کوئے جاناں\nاے خضر کب ہوں تیری محتاج رہبری کا\n\nجو دیکھتا ہے تجھ کو ہنستا ہے قہقہے مار\nاے شیخ تیرا چہرہ مبدا ہے مسخری کا\n\nطالب ہیں سیم و زر کے خوبان ہند سوداؔ\nاحوال کون سمجھے عاشق کی بے زری کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%84_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%B9%D9%88%DB%8C%D9%B0_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%B3%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "باعث ترک ملاقات بتاؤ تو سہی", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "باعث ترک ملاقات بتاؤ تو سہی\nچاہنے والا کوئی ہم سا دکھاؤ تو سہی\n\nکیسی ہوتی ہے محبت نہیں معلوم تمہیں\nایک دو دن کہیں دل تم بھی لگاؤ تو سہی\n\nبے وفائی کی ہے تہمت چلو مانا ہم نے\nہاں بھلا ہم سے ذرا آنکھ ملاؤ تو سہی\n\nجان دے دوں گا مگر تم کو نہ جانے دوں گا\nاٹھ کے پہلو سے بھلا تم مرے جاؤ تو سہی\n\nنہیں ملنے کی جو مرضی ہے نہ ملنا ہم سے\nبات کرنا کہ نہ کرنا مگر آؤ تو سہی\n\nدیکھ لو جیتے ہیں یا مرتے ہیں مشتاق صدا\nاپنی آواز ذرا ان کو سناؤ تو سہی\n\nہر طرح بگڑے ہوئے بیٹھے ہیں جانے کے لیے\nآسماںؔ آج کوئی بات بناؤ تو سہی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B9%D8%AB_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A4_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "باعث کوئی ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باعث کوئی ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\nورنہ مجھے سودا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nالزام یہ جھوٹا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\nکیا وہ مری سنتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nجھوٹا ترا کہنا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\nدعویٰ مرا سچا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nتو دیکھ رہا ہے جو مرا حال ہے قاصد\nمجھ کو یہی کہنا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nکہنا جو نہ تھا کہہ گیا دیکھو تو ڈھٹائی\nاور پھر کہے جاتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nوہ ضد پہ تلے بیٹھے ہیں کیا بحث سے حاصل\nموقع ہی یہ ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nتھی سمع خراشی کی شکایت کبھی ان کو\nاب سنتا ہوں شکوا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nبد گوئی سی بد گوئی ہے بہتان سا بہتان\nاور اس پہ وہ کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nمیں کچھ کہوں تو ہاتھ وہ کانوں پہ ہیں دھرتے\nاور الٹا یہ چھیڑا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nآتا ہے جو منہ پر وہ کہے جاتے ہیں بے روک\nاور اس پہ یہ فقرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nمیں دیکھ چکا ہوں انہیں کہہ کہہ کے مگر کیا\nاس کا ہی نتیجہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nمیں کس سے کہوں کیا کہوں سنتا ہے وہاں کون\nاس کا ہی یہ منشا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nیہ ترک محبت نہیں ان سے مگر اے دوست\nرنج ایسا ہی پہنچا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nقینچی سی چلی چلتی ہے دیکھو تو زباں اور\nاس پر بھی یہ دعویٰ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nراز ان کے کھلے جاتے ہیں ایک ایک سبھوں پر\nاور اس پہ تماشا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nسچ بات کے سننے کی انہیں تاب کہاں ہے\nاس سے یہی اچھا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nباتیں ہیں کہ چھریاں سی چبھی جاتی ہیں دل میں\nمیرا ہی کلیجہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nمیں کہنے پہ آؤں تو رلا کر انہیں چھوڑوں\nمت پوچھ سبب کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nچپ چاپ سنی ان سنی کر دیتا ہوں ہر بات\nغیروں میں بھی چرچا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nنازک ہے مزاج ان کا یہاں سچ کی ہے عادت\nاس سمجھے سبب کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nبگڑا ہے مزاج اور کہیں تیز نہ ہو جائیں\nمجھ کو یہی سانسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nکیوں اپنی زباں سے کہوں پوچھو تم انہیں سے\nراز اس میں نہیں یا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nجو رنج عزیزوں نے دئے کیا کہوں کیفیؔ\nغیرت کا تقاضا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B9%D8%AB_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7"} {"title": "باغ آرزو", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "آہا ہا ہا ہا! سامنے کیسے پھول کھلے ہوئے ہیں! جوانانِ چمن کیسا خوبصورت زیور پہنے ہیں کہ نظر ادھر جاتے ہی فریفتہ ہو جاتی ہے۔ درختوں کا ہراہرا رنگ آنکھوں میں کھبا جاتا ہے۔ کس قیامت کی بہار ہے! اس نظر فریب منظر نے دل میں کچھ ایسا جوش پیدا کرکے اپنی طرف کھینچا کہ بجھی ہوئی طبیعت میں ایک ولولہ پیدا ہو گیا، حوصلے بڑھ گئے اور امیدوں نے پہلو میں گدگدا کر آگے بڑھا دیا۔ حسرت نصیب زندگی میں جن ہاتھوں کو شب و روز ملا کیے تھے، وہ اس شوق سے پھیلے کہ دو پھول توڑ لیں مگر ناکامی ہوئی اور دو قدم اور بڑھے۔ اب یقین تھا کہ پھول بالکل پاس ہی ہیں مگر ہاتھ پھر خالی پڑا۔ اور آگے بڑھے مگر پھر بھی حسرت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔\n\nیوں ہی برابر بڑھ بڑھ کر ہاتھ مارتے چلے گئے اور ناکام ہوتے رہے۔ حوصلہ پست ہونے لگا اور ارادہ کیا کہ اس خیال خام سے باز آئیں۔ حسرت بھری نگاہ سے ان تروتازہ اور خوشنما پھولوں کو دیکھا جن سے ہاتھ اٹھایا چاہتے تھے لیکن اس مرتبہ وہ پھول اس قدر نزدیک اور ایسے شگفتہ معلوم ہوئے کہ امیدیں از سر نو زندہ ہوگئیں اور حوصلے نے گویا سنبھالا لیا۔ دل خود بخود کہنے لگا او ہو! اب تو یہ پھول پاس ہے۔ تروتازگی اب کچھ اور ترقی پر معلوم ہوتی ہے۔ اب تو اس کے رنگ بھی پہلے سے زیادہ نظر فریب ہیں۔ تھکے ہوئے پاؤں سے پھر کام لیا مگر اب بھی یہی ہوا کہ دھوکا ہوا تھا۔ ہمت ہار کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے، ’’ہائے! کیا اچھے پھول ہیں۔‘‘ اتنا کہہ کر دیکھا تو پھول اور زیادہ نزدیک معلوم ہوئے۔ بہ ہزار دشواری اٹھے اور گرتے پڑتے چلے مگر مایوسیوں نے اس دفعہ بھی ناکام ہی رکھا۔ ’’باغ آرزو‘‘ اسی کو کہتے ہیں۔\n\nیہ تو کسی کو نہیں معلوم کہ دنیا میں ہے یا نہیں مگر اتنا جانتے ہیں، سب لوگوں کے پاس ہی نظر آتا ہے۔ دل بستگیاں ہیں کہ جلوہ گاہ حسن کی طرح لگا لگا کے آگے ہی بڑھائے لیے چلی جاتی ہیں اور کچھ ایک ہی قسم کی نہیں، ہر طرح کے لطف اور ہر مذاق کی دلچسپیاں ہیں۔ دیکھو! وہ عورت اپنا بیمار بچہ گود میں لیے کھڑی ہے۔ کیسی مایوس ہو ہو کے چاروں طرف دیکھتی ہے مگر کوئی درد مند نظر نہیں آتا۔ آنسو بھری آنکھوں سے کارخانہ قدرت کے مٹے مٹے نمونے دیکھ رہی ہے۔ دنیا بھر کی خوشیاں اور شگفتہ دلیاں اسے دھندلی دکھائی دیتی ہیں۔ ان سب چیزوں کو ایک حسرت آلود نگاہ سے دیکھ کر اس نے ایک آہ سرد بھری اور آنکھیں جھکا لیں۔ ہجوم یاس سے گھبرائی ہوئی نگاہ کہیں ایک حال پر ٹھہر سکتی ہے۔ اس نے پھر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کیا۔ اتفاقاً ’’باغ آرزو‘‘ پر نظر جا پڑی۔ وہ دیکھتی ہے کہ اس پر فضا باغ کی کیاریوں پر ایک مسیحا نفس حکیم کھڑا ہوا ہے اور دلفریب اشاروں سے اسے بلا رہا ہے کہ یہاں آ! میں تیرے بچے کا علاج کر دوں گا۔ حکیموں کی تشخیص اور علاج کاحال تجربے سے معلوم ہوتا ہے مگر اس کی صورت دیکھتے ہی تسکین سی ہو جاتی ہے۔\n\nغریب عورت اپنے لڑکے کو لیے خوشی خوشی ادھر کو چلی۔ کامیابی کے شوق میں خدا جانے کس قدر آگے بڑھ گئی لیکن نگاہ اٹھاکے دیکھا تو اسی قدر فاصلہ نظر آیا جس قدر پہلے تھا۔ عجب حسرت کی آواز سے پکار کر کہنے لگی، ’’کیا میری قسمت میں نہیں لکھا ہے کہ آپ تک پہنچوں؟‘‘ اس طرف سے جواب ملا، ’’گھبرا نہیں۔ اب پہنچا ہی چاہتی ہے۔‘‘ عورت اور آگے بڑھی۔ آرزوؤں کے جذبات پھر بہت دور تک بڑھا لے گئے۔ دیکھا تو اب بھی حکیم صاحب اسی قدر فاصلے پر ہیں۔ اب عورت کے پاؤں میں بھی طاقت نہیں رہی۔ سانس پھول گئی اور پاؤں من بھر کے ہو گئے۔ اس بے نصیبی پر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ مامتا کا جوش! اس حالت پر بھی اس نے ہمت نہیں ہاری۔ روتی ہوئی چلی۔ اب غور کر کے وہ بھی دیکھتی جاتی ہے کہ کہیں حکیم صاحب تو پیچھے نہیں ہٹتے جاتے۔ ایک ہچکی کی آواز اس کے کان میں آئی۔ سہم کر اس نے اپنی گود کی طرف دیکھا۔ لڑکے کی حالت غیر تھی اور وہ دم توڑ رہا تھا۔ گھبرا کے بیٹھ گئی۔ مایوسی کی صورت سے حکیم صاحب کی طرف دیکھا کہ ہائے میں لڑکے کو وہاں تک نہیں پہنچا سکتی۔ اس طرف حکیم صاحب نے پکار کر کہا، ’’بیٹھ کیوں گئی؟ میں پاس ہی تو ہوں۔ آ میرے پاس چلی آ۔ میرے پاس سب طرح کی دوائیں ہیں۔ اگر تو مانگے تو موت کی بھی دوا دے سکتا ہوں۔‘‘\n\nوہ روکے کہنے لگی، ’’سب کچھ ہے مگر کیا کروں۔ اب آپ تک میں پہنچ ہی نہیں سکتی۔‘‘ اتنے میں بچے کا دم نکل گیا۔ ناامیدی کے ہجوم میں معلوم تو کچھ نہ ہوا مگر عورت اس مصیبت میں جس قدر آگے بڑھتی تھی، خدا جانے کس نے اس سے بھی زیادہ پیچھے پھینک دیا۔ ’’باغ آرزو‘‘ اور ہمارے بیچ میں جو مختصر سا میدان نظر آتا ہے، وہ ظاہر میں تو بہت چھوٹا اور بالکل صاف صاف ہے مگر اصل میں بڑا الجھاؤ، لمبا چوڑا اور انتہا سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ ا س کے الجھاؤ کچھ انہیں لوگوں کو خوب معلوم ہیں، جنہو ں نے اس کا سفر کر کے اپنی قسمت آزمائی کی ہے۔ ہماری زندگی کا دامن میدان آرزو کے دامن سے بندھا ہوا ہے۔ زندگی کی دشواریاں اور عرصہ ہستی کی دقتیں ہر گز اس قابل نہ تھیں کہ انسان کو جھیل سکتا، مگر آرزو کی وہ پیاری پیاری صورتیں جو سامنے باغ آرزو میں نظر آیا کرتی ہیں، ان سے کچھ ایسی دل بستگی پیدا ہو جاتی ہے کہ یہ دشوار گزار منزلیں عجب دل بستگی کے ساتھ ایک نرالی دھن اور محویت میں گزر جاتی ہیں۔ زندگی کے ایک مختصر حصہ کی دشواریاں بھی ایسی ہیں کہ ان کو یاد کر کے رونے کے لئے بھی جگ چاہئیں۔ دنیا میں ہمیں اچھی طرح ان کے یاد کرنے کی نوبت تو آتی نہیں ہے، جھیلنا کیسا؟\n\nیہ باغ آرزو ہی کی دل فریبیاں ہیں کہ گزشتہ رنج و الم ہمیں یاد کرنے سے بھی نہیں یاد آتے۔ اے ہم صفیر ان ہستی! دیکھو۔ باغ آرزو کی بہار زندگی کی نشیب و فراز میں تمہیں کس طرح اپنی طرف متوجہ رکھتی ہیں؟ بہت کم ایسے ہوں گے جنہیں باغ آرزو کی دل فریبیاں یاد ہوں۔ اسی لیے ہم یاد دلاتے ہیں۔ کنج عدم کی بے تعلقی او ربے غرضی نے ایسی سادگی اور بھولا پن پیدا کر دیا تھا کہ نہ کوئی آرزو تھی، نہ کسی کا ارمان تھا۔ ایسی بے غرضی کی حالت میں خدا جانے کیا سبب ہوا کہ نہ رہا گیا اور عرصہ ہستی کو روانہ ہوئے۔ اس وقت تک ہمیں تو کسی کی آرزو نہ تھی مگر ہم البتہ اوروں کے ارمان بن بن کر آئے تھے۔ غالباً اوروں کے جذبات اور دنیا والوں کی کشش ہی نے ہمیں اس فکر مندی کے مقام میں کھینچ بلایا۔ یہ ایسا مقام تھا کہ یہاں کی کوئی چیز ہمارے مزاج کے موافق نہ تھی اور نہ آب و ہوا مناسب تھی اور نہ یہاں کے اخلاق و عادات سے مانوس تھے۔ دل بے آرزو کو وہ بے فکری کی حالت بہت ہی پسند تھی مگر یہ پہلا موقع تھا کہ ہمارے دل میں کچھ تمنائیں پیدا ہوئیں۔ ہائے مرتے دم تک اس بے فکری کے زمانہ کو یاد کر کر کے رویا کرتے ہیں۔\n\nوہ اگلے سچے سرور اور اطمینان کی حالت جو کنج عدم میں نصیب تھی، وہاں تک تو ہمارے خیال کی نظر بھی نہیں جاتی۔ ہاں بچپن کے دنوں کو یاد کر کے رو لیا کرتے ہیں۔ جب ہم میں فکر مندی کی صلاحیت آ چکی تھی، بچے تو تھے ہی۔ امید ایک دلفریب مربی کی صورت میں نظر آئی اور انگلی پکڑ کے ان چیزوں کی سیر کرانے لگی جن کی تمنا میں ہمیں جان دینی تھی۔ عمر کے میدان میں جوں جوں آگے بڑھتے تھے، وہ وہ آرزوئیں پختگی کے ساتھ دل میں جگہ پکڑتی گئیں۔ جوانی کا زمانہ یاد آیا اور دل میں جنون انگیز جذبات ہجوم کرنے لگے۔ ان دنوں ہوش تو کسے تھا؟ مگر اتنا کہیں گے، چونکہ حوصلے بڑھے ہوئے تھے اور پاؤں میں نیا نیا جوش اور پورا شوق بھرا ہوا تھا، لہٰذا باغ آرزو میں جو کوئی نظر آ جاتا، اگر ہم سے بھاگتا تو ہم بھی رگید ڈالتے تھے۔ باغ امید اس وقت ایسی بہار میں معلوم ہوا کہ دل آرزو پسند گھبرا اٹھا۔ جو نظر پڑی دلفریب تھی، جو پھول دکھائی دیا نظر فریب، جس صورت کی طرف نگاہ گئی ہو شربا تھی۔\n\nایک دل کدھر کدھر متوجہ ہوتا اور کس کس کا آرزومند بنتا۔ اس پھول کی خوبیوں کو دیکھ رہے تھے کہ دوسرا نظر پڑا۔ اس خوشنمائی کو ابھی جی بھر کے دیکھ بھی نہیں چکے تھے کہ تیسرے پر نظر جا پڑی اور اس شوق سے گئی کہ وہیں کی ہو رہی۔ ہائے افسوس! بوالہوسی باغ آرزو کی مصنوعی بہار دکھا دکھا کے یوں بڑھائے لیے چلی گئی اور ہم اس میدان ہوس میں چلتے چلتے ایسے تھکے کہ سارے حوصلے پست ہو گئے۔ تھوڑی ہی سیر کرنے پائے ہوں گے، طاقت نے جواب دیا اور بڑھاپا نامرادیوں کی بھیانک تصویروں کا البم ہاتھ میں لیے آموجود ہوا۔ یہ عجب وقت تھا کہ کبھی تو باغ آرزو کے سدا بہار پھولوں پر نظر پڑتی تھی اور مردہ امیدیں جی اٹھتی تھیں اور کبھی وہ مایوسیاں نگاہ کے سامنے ہو جاتی تھیں جن کی تصویریں بڑھاپا اپنے البم میں دکھا رہا تھا۔ زندگی اور موت کی کشاکش میں پڑ گئے۔ حیات اپنی طرف کھینچتی تھی اور موت اپنی طرف۔\n\nاے ہم صفیر ان ہستی! ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ باغ آرزو ہے تو مزے کی چیز مگر فقط جو اس کے پیچھے کھڑا رہا، وہ ایسا خراب ہوا کہ کہیں کا نہ رہا۔ یہ ایک بھول بھلیاں ہے کہ تم نے اندر قدم رکھا اور پلٹنا دشوار ہو گیا۔ اس باغ میں تم جہاں تک بڑھتے چلے جاؤگے، تمہیں بڑھاتا لیے چلا جائےگا۔ اس کے پھولوں میں یہ قیامت کا جادو بھرا ہے کہ جب تک درختوں میں لگے ہیں، اسی وقت تک لطف دکھاتے ہیں۔ ادھر تم نے کوئی پھول توڑا، اول تو تمہارا ہاتھ ہی وہاں تک مشکل سے پہنچےگا اور وہ لطف تشریف لے گیا۔ یہ خوش نمائیاں اس وقت تک ہیں جب تک تم دور سے دیکھ رہے ہو۔ ان طالب علموں سے دریافت کرو جنہوں نے تحصیل علم کے زمانے میں زندگی کی کچھ قدر نہ کی تھی کہ جن ہوسوں نے یہ محنت اور مشقت کرائی تھی۔ ان میں سے کتنے ہیں جو اب یونیورسٹی کے بڑے بڑے سارٹیفکٹ مل چکنے کے بعد انہیں حاصل ہوئیں؟ ہائے! تم جہاں تک غور کروگے، یہی معلوم ہوگا کہ آرزو محض ایک دل میں رہنے والی چیز ہے۔ یہ دل سے کبھی نہ نکلےگی اور جو نکلے، وہ آرزو نہیں۔ آرزو اسی کا نام ہے۔\n\nتم کو کچھ کرنا ہے اور اس سے کچھ فائدہ اٹھانا ہے تو باغ آرزو میں زیادہ بڑھے نہ چلے جاؤ۔ جہاں رہو، وہیں رہو۔ سامنے کی دل فریبیوں کو دور ہی سے دیکھو۔ ان کے پاس جانے کا قصد نہ کرو۔ جو تمہیں کرنا ہے، وہ کرو۔ جس غرض کے پورا کرنے کے لئے دنیا میں آئے ہو اس کی تکمیل کی فکر کرو۔ ہاں جس طرح دنیا کے اور باغوں میں تفریح کے لئے نکل جاتے ہو، اسی طرح اس باغ کی بھی دو گھڑی سیر کر لیا کرو۔ یہ نہیں کہ اسی کے ہو رہے۔ اس خام خیالی میں پڑوگے تو یونہی بیکار زندگی گزارتے گزارتے ایک دن ایسا اضطراب ہوگا کہ پاؤں کے نیچے سے زمین نکل جائےگی اور تم بڑی افسردگی اور بے بسی کے ساتھ قبر میں سلا دیے جاؤگے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88"} {"title": "باغ الفت میں گل جو خود رو ہے", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "باغ الفت میں گل جو خود رو ہے\nخون بلبل کا رنگ ہے بو ہے\n\nعاشق جاں فدائے ابرو ہے\nجو مہ عید سر بہ زانو ہے\n\nفتنۂ حشر زلف عمر دراز\nپر بلائے سیاہ گیسو ہے\n\nتیری ابرو ہے تیغ اے سفاک\nجوہر تیغ چین ابرو ہے\n\nحسن ان کا اگر ہے سنگیں دل\nعشق اپنا بھی سخت بازو ہے\n\nلیں نہ شور نشور سے کروٹ\nوہ یہاں خواب چار پہلو ہے\n\nتول لے شعر کو مرے حاسد\nپاس اگر نظم کی ترازو ہے\n\nکیوں نہ وہ چشم شوق میں کھٹکے\nاے پری رو کمر تری مو ہے\n\nاس کا عاشق ہوا ہوں جس کی وقارؔ\nچشم آہو نگاہ آہو ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%B1%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "باغ تھا اس میں آشیاں بھی تھا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باغ تھا اس میں آشیاں بھی تھا\nچند روز آب و دانہ یاں بھی تھا\n\nصوت بلبل جگر میں سالتی تھی\nخندۂ گل نمک فشاں بھی تھا\n\nخوان قسمت کے حاشیے پہ جلیں\nکبھی یہ مشت استخواں بھی تھا\n\nمرغ بستاں کو سامنے میرے\nمصحفیؔ زہرۂ فغاں بھی تھا؟\n\nانجمن میں میاں بشارت کی\nیعنی اک شخص شعر خواں بھی تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "باغ جہاں میں سرو سا گردن کشیدہ ہوں", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باغ جہاں میں سرو سا گردن کشیدہ ہوں\nدامن تعلقات سے عالم کے چیدہ ہوں\n\nاس قافلہ کو نالہ سنانے کا ذوق نیں\nمثل جرس کے میں نہ دہان دریدہ ہوں\n\nنیں بھولنے کا مثل جرس کی فغاں کے تئیں\nنالاں ہوں دل اگرچہ لب آرمیدہ ہوں\n\nبسمل ہوں دل فگار ہوں اور جاں بہ لب ہوں آہ\nصورت عیاں ہے نالہ کی حلق بریدہ ہوں\n\nرکھتا ہوں اس لیے دل سوزاں و چشم تر\nجیوں شمع درد داغ سے عشق آفریدہ ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D8%B3%D8%A7_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D9%86_%DA%A9%D8%B4%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں\nگر یار ہیں تو ہم ہیں اغیار ہیں تو ہم ہیں\n\nدریائے معرفت کے دیکھا تو ہم ہیں ساحل\nگر وار ہیں تو ہم ہیں اور پار ہیں تو ہم ہیں\n\nوابستہ ہے ہمیں سے گر جبر ہے و گر قدر\nمجبور ہیں تو ہم ہیں مختار ہیں تو ہم ہیں\n\nتیرا ہی حسن جگ میں ہر چند موجزن ہے\nتس پر بھی تشنہ کام دیدار ہیں تو ہم ہیں\n\nالفاظ خلق ہم بن سب مہملات سے تھے\nمعنی کی طرح ربط گفتار ہیں تو ہم ہیں\n\nاوروں سے تو گرانی یک لخت اٹھ گئی ہے\nاے دردؔ اپنے دل کے گر بار ہیں تو ہم ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہے\nدل پر خوں کا وہاں ہاتھ پتا لگتا ہے\n\nکیا تڑپنا دل بسمل کا بھلا لگتا ہے\nکہ جب اچھلے ہے ترے سینے سے جا لگتا ہے\n\nدل کہاں سیر تماشے پہ مرا لگتا ہے\nجی کے لگ جانے سے جینا بھی برا لگتا ہے\n\nجو حوادث سے زمانے کے گرا پھر نہ اٹھا\nنخل آندھی کا کہیں اکھڑا ہوا لگتا ہے\n\nدل لگانے کا مزا ہے کہ گزک میں اس کے\nسب کبابوں سے نمک دل پہ سوا لگتا ہے\n\nنہ شب ہجر میں لگتی ہے زباں تالو سے\nاور نہ پہلو مرا بستر سے ذرا لگتا ہے\n\nہائے محتاج ہوا مرہم زنگار کا تو\nزخم دل زہر مجھے ہنسنا ترا لگتا ہے\n\nآب خنجر جو ہے زہراب وفاداری کو\nپانی شاید کہ سر ملک فنا لگتا ہے\n\nقد مجنوں کوئی پہلے سے چھڑی بید کی ہے\nجب ذرا جھکتا ہے قد پاؤں سے جا لگتا ہے\n\nزرد زاہد ہے تو کیا کھوٹ ابھی ہے دل میں\nذوقؔ اس زر کو کسوٹی پر کسا لگتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%AE%D9%84_%D8%AD%D9%86%D8%A7_%D9%84%DA%AF%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "باغ عالم میں ہے بے رنگ بیان واعظ", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باغ عالم میں ہے بے رنگ بیان واعظ\nصورت برگ خزانی ہے زبان واعظ\n\nمصر میں بھی نہ یہ فرعون کا عالم ہوگا\nدیکھے مسجد میں کوئی شوکت و شان واعظ\n\nایک کانٹا سا نکل جائے ہمارے دل سے\nسنسیوں سے کوئی کھینچے جو زبان واعظ\n\nقلقل‌ شیشۂ مے سے ترے میکش ساقی\nسن رہے ہیں خبر راز نہان واعظ\n\nحال معلوم ہوا نار و جناں کا کیوں کر\nاس قدر تو نہیں اونچا ہے مکان واعظ\n\nنام مے وہ ہے کہ لب پر جو کبھی آتا ہے\nمنہ سے باہر نکل آتی ہے زبان واعظ\n\nمیکدے والوں سے دبنے لگے مسجد والے\nدور ساقی کا ہے گزرا وہ زمان واعظ\n\nمیں بھی وہ ہوں جو مرے آگے کبھی منہ کھولے\nکاٹ ڈالوں ابھی دانتوں سے زبان واعظ\n\nاپنے رندوں کی میں ہو حق کا ہوں سننے والا\nیا الٰہی نہ سنانا سخنان واعظ\n\nمیں پری زادوں کا عاشق ہوں تو وہ حوروں کا\nمیرے سودے سے ہے بڑھ کر خفقان واعظ\n\nپائے خم بیٹھ کے نشہ میں وہ باتیں کیجے\nلوگ سمجھیں سر منبر ہے بیان واعظ\n\nاے صباؔ خلد میں جاؤں کہ جہنم میں جلوں\nنہ سنا ہے نہ سنوں گا میں بیان واعظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "باغ میں آمد بہار ہے آج", "poet_page": "مصنف:میر مظفر حسین ضمیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باغ میں آمد بہار ہے آج\nچشم نرگس کو انتظار ہے آج\n\nپا بہ زنجیر موج ایسے کہوں\nباغ میں سرو جوۓ بار ہے آج\n\nآئے گا کیا کوئی صنوبر قد\nقمریوں کا مگر شکار ہے آج\n\nنگہت گل ہوئی ہے مژدہ رساں\nباد کے گھوڑے پر سوار ہے آج\n\nوصف کس کا کیا تھا بلبل نے\nگل جو اس کے گلے کا ہار ہے آج\n\nسنگ برسر زناں یہ کس کے لئے\nکہو گلشن میں آبشار ہے آج\n\nخندۂ گل کو دیکھ کر بلبل\nہمہ تن نالہ ہائے زار ہے آج\n\nکہا باد صبا نے اے ناداں\nسینۂ دشمناں فگار ہے آج\n\nشاہ دلدل سوار آتا ہے\nتا فلک نور کا غبار ہے آج\n\nکہا میں نے کہ یہ سخن تیرا\nمژدۂ جان بے قرار ہے آج\n\nحبذا مرحبا شراب طہور\nساقیا رخصت خمار ہے آج\n\nفرط شوق جمال یار کے ہاتھ\nدامن صبر تار-تار ہے آج\n\nآئیے اے ضمیرؔ مطلب پر\nیاں سے منظور اختصار ہے آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%85%D8%AF_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "باغ میں تو کبھو جو ہنستا ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باغ میں تو کبھو جو ہنستا ہے\nغنچۂ دل مرا بکستا ہے\n\nارے بے مہر مجھ کو روتا چھوڑ\nکہاں جاتا ہے مینہ برستا ہے\n\nتیرے ماروں ہوؤں کی صورت دیکھ\nمیرا مرنے کو جی ترستا ہے\n\nتیری تروار سے کوئی نہ بچا\nاب کمر کس اوپر تو کستا ہے\n\nکیوں مزاحم ہے میرے آنے سے\nکوئی ترا گھر نہیں یہ رستا ہے\n\nمیری فریاد کوئی نہیں سنتا\nکوئی اس شہر میں بھی بستا ہے\n\nحاتمؔ اس زلف کی طرف مت دیکھ\nجان کر کیوں بلا میں پھنستا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "باغ میں جب کہ وہ دل خوں کن ہر گل پہنچے", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باغ میں جب کہ وہ دل خوں کن ہر گل پہنچے\nبلبلاتی ہوئی گلزار میں بلبل پہنچے\n\nصدمۂ شام اجل مجھ کو نہ بالکل پہنچے\nگر مری داد کو کل تک بھی وہ کاکل پہنچے\n\nدل بھی لے کر علم آہ مقابل پہنچا\nنیزہ بازان مژہ جب بہ تغافل پہنچے\n\nمہر کوچہ ترا جھاڑے ہے بہ جاروب‌ شعاع\nکہ اسی طرح بہم تجھ سے توسل پہنچے\n\nاپنا یہ منہ تو نہ تھا آپ تلک ہم پہنچیں\nآپ کا جب کہ ہوا ہم پہ تفضل پہنچے\n\nہم رہ یاس و الم دشت جنوں میں کل ہم\nبہ تحمل بہ تأمل بہ تجمل پہنچے\n\nگر ترے وزن پہ میں سارے قوافی باندھوں\nدم ترا ناک میں اے باب تفعل پہنچے\n\nخانہ آباد تمہارا ہو کہ ہم حضرت عشق\nنفع کو تم سے بہ ایام توکل پہنچے\n\nدرد و غم یاس و الم سوز دل و داغ جگر\nتحفے جو آپ نے بھیجے ہمیں بالکل پہنچے\n\nجب گیا حسن تو آیا ترے اخلاص کا بار\nاب ترقی ہے تب ایام تنزل پہنچے\n\nقہر اک رند پہ قل پیر مغاں نے تھا پڑھا\nشعر یہ ہم نے سنا سننے کو جب قل پہنچے\n\nترس عقبیٰ ہے تو مے خانہ میں رہ اے زاہد\nتب بچو واں جو بجا کان میں قلقل پہنچے\n\nرشک گل باغ میں بیٹھا تھا تو ہم بھی احساںؔ\nیہ غزل پڑھتے ہوئے واں بہ‌ تجاہل پہنچے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%86_%DB%81%D8%B1_%DA%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%92"} {"title": "باغ میں جگنو چمکتے ہیں جو پیارے رات کو", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باغ میں جگنو چمکتے ہیں جو پیارے رات کو\nیاد آتے ہیں ان آنکھوں کے اشارے رات کو\n\nشبہ ہے تم کو کہاں ٹوٹے ہیں تارے رات کو\nدم بہ دم آنسو ٹپکتے تھے ہمارے رات کو\n\nٹوٹے تارے سیکڑوں یوں قدسیوں کے دل ہلے\nدرد سے جس وقت ہم تم کو پکارے رات کو\n\nپوری گردش آسماں نے شام سے کی تا سحر\nآج میں نے گن لیے سارے ستارے رات کو\n\nدھوپ نکلی دن کو چہرے سے ہٹا لی جب نقاب\nچاندنی پھیلی جہاں کپڑے اتارے رات کو\n\nصاف کروٹ لینے کی آواز آئی کان میں\nسوئے دل جب جھک کے ہم تم کو پکارے رات کو\n\nذروں کو شاباش دن کو ہیں حضور مہر رخ\nدیکھیے چھپ کے نکلتے ہیں ستارے رات کو\n\nہجر کی مدت نہ ہوگی ختم ثابت ہو چکا\nدن کو ذرے گن چکا میں اور تارے رات کو\n\nالفت رخ میں ہے وحشت یاد گیسو میں بکا\nدن کو صحرا میں ہیں دریا کے کنارے رات کو\n\nآ گئی صبح قیامت اور میں سویا نہیں\nپھر نہ آئی نیند تم جب سے سدھارے رات کو\n\nدل جگر لینے پھر آئے صبح کو کہتے ہوئے\nرہ گئے بستر پہ دو موتی ہمارے رات کو\n\nمنہ پہ زلف زر فشاں ہے مجھ سے ہے رونے کا حکم\nچاندنی دیکھی ہے دریا کے کنارے رات کو\n\nآپ آرائش بھی کرتے ہیں موافق وقت کے\nدن کو منہ دھویا گیا گیسو سنوارے رات کو\n\nڈھونڈھتے پھرتے ہیں دل کو صبح سے ہر سو رشیدؔ\nدل ربا تھا ایک پہلو میں ہمارے رات کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DA%AF%D9%86%D9%88_%DA%86%D9%85%DA%A9%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D9%88"} {"title": "باغ میں پھول کھلے موسم سودا آیا", "poet_page": "مصنف:مظفر علی اسیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باغ میں پھول کھلے موسم سودا آیا\nگرم بازار ہوا وقت تماشہ آیا\n\nسارباں ناقۂ لیلیٰ کو نہ دوڑا اتنا\nپاؤں مجنوں کے تھکے ہاتھ ترے کیا آیا\n\nایک نالہ نے مرے کام کئے باغ میں وہ\nگل کو تپ آئی تو شبنم کو پسینہ آیا\n\nرو کے میں نے جو کہا آپ کی ہے چاہ مجھے\nہنس کے بولے کہ بڑا چاہنے والا آیا\n\nجھاڑ دی گرد جو دامن کی کبھی ہم نے اسیرؔ\nہنس کے فرمایا کہ تم کو بھی سلیقہ آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "باغ میں پھولوں کو روند آئی سواری آپ کی", "poet_page": "مصنف:تعشق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باغ میں پھولوں کو روند آئی سواری آپ کی\nکس قدر ممنون ہے باد بہاری آپ کی\n\nبے وفائی آپ کی غفلت شعاری آپ کی\nمیرے دل نے عادتیں سیکھی ہیں ساری آپ کی\n\nہے یقیں باہم گلے ملنے کو اٹھیں دست شوق\nہو اگر تصویر بھی یکجا ہماری آپ کی\n\nمیکدے میں ٹوٹے جاتے ہیں بہم لڑ لڑ کے جام\nمفسدہ پرداز ہے چشم خماری آپ کی\n\nجذب اسے کہتے ہیں آئے کہنے میری قبر تک\nاب یہاں سے بڑھ نہیں سکتی سواری آپ کی\n\nکرتی ہیں اندھیر ہاتھوں کی یہ کالی میلیاں\nقاتل عالم ہوئی ہے سوگواری آپ کی\n\nجا بجا ہوتے ہیں دامن گیر دل عشاق کے\nہر قدم پر آج رکتی ہے سواری آپ کی\n\nیاد ایامے کہ تھا زوروں پہ جذب حسن و عشق\nوہ مرے دل کا تڑپنا بے قراری آپ کی\n\nہے شب مہتاب گورے رنگ سے کپڑے سیاہ\nحسن کو چمکا رہی ہے سوگواری آپ کی\n\nدو طرح کے ایک ساغر میں لبالب ہے شراب\nخواب آلودہ نہیں چشم خماری آپ کی\n\nمیرے لاشے کو لیے پھرتے ہیں ان راہوں میں لوگ\nجن گلی کوچوں میں پھرتی تھی سواری آپ کی\n\nآج کس پر رحم آیا کس کو روئے ہیں حضور\nہے نصیب دشمناں آواز بھاری آپ کی\n\nعہد میں مجنوں کے لیلیٰ کا رہا کیا دور دور\nاب تعشقؔ کے زمانے میں ہے باری آپ کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D9%88%D9%86%D8%AF_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "باغ و بہار/آغاز", "poet_page": "مصنف:میر امّن دہلوی", "kind": "prose", "section": "تصنیفات > باغ و بہار", "year": null, "text_ur": "بسم اللہ الرحمن الرحیم\nسبحان اللہ کیا صانع ہے! کہ جس نے ایک مٹھی خاک سے کیا کیا صورتیں اور مٹّی کی مورتیں پیدا کیں! باوجود دو رنگ کے ایک گورا ایک کالا اور یہی ناک کان ہاتھ پاؤ سب دیے ہیں۔ اس پر رنگ بہ رنگ کی شکلیں جدی جدی بنائیں کہ ایک کی سج دھج سے دوسے کا ڈیل ڈول ملتا نہیں، کروڑوں خلقت میں جس کو چاہیے پہچان لیجیے۔ آسمان اس کے دریاۓ وحدت کا ایک بلبلا ہے، اور زمین پانی کا بتاشا، لیکن یہ تماشا ہی کہ سمندر ہزاروں لہریں مارتا ہے، پر اس کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ جس کی یہ قدرت اور سکت ہو اس کی حمد و ثنا میں زبان انسان کی گویا گونگی ہے۔ کہے! بہتر یوں ہی کہ جس بات میں دم نہ مار سکے، چپکا ہو رہے۔\n\nعرش سے لے کر فرش تک جس کا کہ یہ سامان ہے\n\nحمد اس کی گر لکھنا چاہوں، تو کیا امکان ہے!\n\nجب پیمبر نے کہا ہو، \"میں نے پہچانا نہیں\"\n\nپھر کوئی دعوا کرے اس کا، بڑا نادان ہے\n\nرات دن یہ مہرو مہ پھرتے ہیں صنعت دیکھتے\n\nپر ہر ایک واحد کی صورت دیسہ حیران ہے\n\nجس کا ثانی اور مقابل ہے نہ ہووے گا کبھو\n\nایسا یکتا کو خدائی سب طرح شایان ہے", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1/%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2"} {"title": "باغ و بہار/آغاز قصے کا", "poet_page": "مصنف:میر امّن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "تصنیفات > باغ و بہار", "year": null, "text_ur": "چلتی چکی دیکھ کر، دیا کبیرا رو\nدو پاٹن کے بیچ آ، ثابت گیا نہ کو", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1/%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2_%D9%82%D8%B5%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "باغ و بہار/سبب تالیف کتاب", "poet_page": "مصنف:میر امّن دہلوی", "kind": "prose", "section": "تصنیفات > باغ و بہار", "year": null, "text_ur": "منشا اس تالیف کا یہ ہے کہ سن ایک ہزار دو سو پندرہ برس ہجری اور اٹھارہ سے ایک سال عیسوی مطابق ایک ہزار دو سو سات سن فصلی کے عہد میں اشرف الاشراف مارکوئس ولزلی، گورنر جنرل، لارڈ مارننگٹن صاحب کے (جن کی تعریف میں عقل حیران اور فہم سرگردان ہے۔ جتنے وصف سرداروں کو چاہیے انکی ذات میں خدا نے جمع کیے ہیں۔ غرض، قسمت کی خوبی، اس ملک کی تھی جو ایسا حاکم تشریف لایا، جس کے قدم کے فیض سے ایک عالم نے آرام پایا۔ مجال نہیں کوئی کسو پر زبردستی کرسکے۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں، سارے غریب و غربا دعا دیتے ہیں اور جیتے ہیں) چرچا علم کا پھیلا۔ صاحبانِ ذی شان کو شوق ہوا کہ اردو زبان سے واقف ہو کر ہندوستانیوں سے گفت و شنید کریں اور ملکی کام کو بہ آگاہی تمام انجام دیں۔ اس واسطے کتنی کتابیں اسی سال بموجب فرمائش کے تالیف ہوئیں۔\n\nجو صاحب دانا اور ہندوستان کی زبان بولنے والے ہیں، انکی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ یہ قصہ چار درویش کا، ابتدا میں امیر خسرو دہلوی نے اس تقریب سے کہا کہ حضرت نظام الدین اولیاء، زری زر بخش، (جو انکے پیر تھے اور درگاہ انکی دلی میں، قلعے سے تین کوس، لال دروازے کے باہر، مٹیا دروازے سے آگے، لال بنگلے کے پاس ہے) انکی طبیعت ماندی ہوئی۔ تب مرشد کا دل بہلانے کے واسطے امیر خسرو یہ قصہ ہمیشہ کہتے اور تیمار داری میں حاضر رہتے۔ اللہ نے چند روز میں شفا دی۔ تب انہوں نے غسلِ صحت کے دن یہ دعا دی کہ جو کوئی اس قصے کو سنے گا، خدا کے فضل سے تندرست رہے گا۔ جب یہ قصہ فارسی میں مروج ہوا۔\n\nاب خداوندِ نعمت، صاحبِ مروت، نجیبوں کے قدردان، جان گلکرسٹ صاحب نے (کہ ہمیشہ ان کا اقبال زیادہ رہے، جب تلک گنگا جمنا بہے) لطف فرمایا کہ اس قصے کو ٹھیٹھ ہندوستانی گفتگو میں جو اردو کے لوگ، ہندو مسلمان، عورت مرد، لڑکے بالے، خاص و عام آپس میں بولتے چالتے ہیں، ترجمہ کرو۔ موافق حکم حضور کے، میں نے ابھی اسی محاورے سے لکھنا شروع کیا جیسے کوئی باتیں کرتا ہے۔\n\nپہلے اپنا احوال یہ عاصی گنہگار، میر امن دلی والا بیان کرتا ہے کہ میرے بزرگ ہمایوں بادشاہ کے عہد سے ہر ایک بادشاہ کی رکاب میں، پشت بہ پشت، جاں فشانی بجا لاتے رہے اور وہ بھی پرورش کی نظر سے، قدر دانی جتنی چاہیے، فرماتے رہے۔ جاگیر و منصب اور خدمات کی عنایات سے سرفراز کر کر، مالا مال اور نہال کر دیا اور خانہ زاد موروثی، اور منصب دار قدیمی، زبانِ مبارک سے فرمایا، چنانچہ یہ لقب بادشاہی دفتر میں داخل ہوا۔ جب ایسے گھر کی (کہ سارے گھر اس گھر کے سبب آباد تھے) یہ نوبت پہنچی، ظاہر ہے۔ (عیاں را چہ بیاں) تب سورج مل جاٹ نے جاگیر کو ضبط کر لیا اور احمد شاہ درانی نے گھر بار تاراج کیا۔ ایسی ایسی تباہی کھا کر ویسے شہر سے (کہ وطن اور جنم بھوم میرا ہے، اور آنول نال وہیں گڑا ہے) جلا وطن ہوا، اور ایسا جہاز کہ جس کا ناخدا بادشاہ تھا، غارت ہوا۔ میں بے کسی کے سمندر میں غوطے کھانے لگا۔ ڈوبتے کو تنکے کا آسرا بہت ہے۔ کتنے برس بلدۂ عظیم آباد میں دم لیا۔ کچھ بنی کچھ بگڑی، آخر وہاں بھی پاؤں اکھڑے، روزگار نے موافقت نہ کی۔ عیال و اطفال کو چھوڑ کر تن تنہا کشتی پر سوار ہوا، اشرف البلاد کلکتے میں آب و دانے کے زور سے آ پہنچا۔ چندے بیکاری گزری۔ اتفاقاً نواب دلاور جنگ نے بلوا کر، اپنے چھوٹے بھائی میر محمد کاظم خاں کی اتالیقی کے واسطے مقرر کیا۔ قریب دو سال کے وہاں رہنا ہوا، مگر نباہ اپنا نہ دیکھا۔ تب منشی میر بہادر علی جی کے وسیلے سے، حضور تک، جان گلکرسٹ صاحب بہادر (دام اقبالہ) کے، رسائی ہوئی۔ بارے، طالع کی مدد سے ایسے جواں مرد کا دامن ہاتھ لگا ہے، چاہیے کہ دن کچھ بھلے آویں۔ نہیں تو یہ بھی غنیمت ہے کہ ایک ٹکڑا کھا کر، پاؤں پھیلا کر سو رہتا ہوں اور گھر میں دس آدمی، چھوٹے بڑے، پرورش پا کر دعا اس قدردان کو کرتے ہیں۔ خدا قبول کرے۔\n\nحقیقت اردو کی زبان کی، بزرگوں کے منہ سے یوں سنی ہے کہ دلی شہر ہندوؤں کے نزدیک چوجگی ہے، انہیں کے راجا پرجا قدیم سے رہتے تھے اور اپنی بھاکھا بولتے تھے۔ ہزار برس سے مسلمانوں کا عمل ہوا۔ سلطان محمود غزنوی آیا، پھر غوری اور لودھی بادشاہ ہوئے۔ اس آمدورفت کے باعث کچھ زبانوں نے ہندو مسلمان کی آمیزش پائی۔ آخر امیر تیمور نے (جن کے گھرانے میں اب تلک نام نہاد سلطنت کا، چلا جاتا ہے) ہندوستان کو لیا۔ ان کے آنے اور رہنے سے لشکر کا بازار شہر میں داخل ہوا۔ اس واسطے شہر کا بازار اردو کہلایا۔ پھر ہمایوں بادشاہ پٹھانوں کے ہاتھ سے حیران ہو کر ولایت گئے۔ آخر وہاں سے آن کر پسماندوں پٹھانوں کی گوشمالی کی۔ کوئی مفسد باقی نہ رہا کہ فتنہ و فساد برپا کرے۔\n\nجب اکبر بادشاہ تخت پر بیٹھے تب چاروں طرف کے ملکوں سے قوم، قدردانی اور فیض رسانی اس خاندانِ لاثانی کی سن کر، حضور میں آ کر جمع ہوئے۔ لیکن ہر ایک کی گویائی اور بولی جُدی جُدی تھی۔ اکٹھے ہونے سے آپس میں لین دین، سودا سلف، سوال و جواب کرنے کی زبان اردو کی مقرر ہوئی۔ جب حضرت شاہ جہان، صاحب قران نے قلعۂ مبارک اور جامع مسجد اور شہر پناہ تعمیر کروایا اور تخت طاؤس میں جواہر جڑوایا اور دل بادل سا خیمہ، چوبوں پر استاد کر، طنابوں سے کھنچوایا اور نواب علی مردان خان نہر کو لے کر آیا، تب بادشاہ نے خوش ہو کر جشن فرمایا اور شہر کو اپنا دارالخلافت بنایا، تب سے شاہ جہاں آباد مشہور ہوا (اگرچہ دلی جُدی ہے، وہ پرانا شہر اور یہ نیا شہر کہلاتا ہے) اور وہاں کے بازار کو اردوئے معلیٰ خطاب دیا۔\nامیر تیمور کے عہد سے محمد شاہ کی بادشاہت، بلکہ احمد شاہ اور عالم گیر ثانی کے وقت تک، پیڑھی بہ پیڑھی، سلطنت یکساں چلی آئی، ندان، زبان اردو کی منجھتے منجھتے ایسی منجھی کہ کسو شہر کی بولی اس سے ٹکر نہیں کھاتی، لیکن قدردان منصف چاہیے، جو تجویز کرے۔ سو اب خدا نے، بعد موت کے، جان گلکرسٹ صاحب سا دانا، نکتہ رس پیدا کیا کہ جنہوں نے اپنے گیان اور اُگت سے، اور تلاش و محنت سے، قاعدوں کی کتابیں تصنیف کیں۔ اس سبب سے ہندوستان کی زبان کا ملکوں میں رواج ہوا اور نئے سر سے رونق زیادہ ہوئی۔ نہیں تو اپنی دستار و گفتار و رفتار کو کوئی برا نہیں جانتا۔ اگر ایک گنوار سے پوچھیے تو شہر والے کو نام رکھتا ہے، اور اپنے تئیں سب سے بہتر سمجھتا ہے۔ خیر عاقلاں خود میدانند۔\n\nجب احمد شاہ ابدالی کابل سے آیا اور شہر کو لٹوایا، شاہ عالم پورب کی طرف تھے۔ کوئی وارث اور مالک، ملک کا نہ رہا، شہر بے سر ہو گیا۔ ہیچ ہے، بادشاہت کے اقبال سے شہر کی رونق تھی۔ ایک بارگی تباہی پڑی۔ رئیس وہاں کے، میں کہیں تم کہیں، ہو کر جہاں جس کے سینگ سمائے وہاں نکل گئے۔ جس ملک میں پہنچے، وہاں کے آدمیوں کے ساتھ سنگت سے بات چیت میں فرق آیا۔ اور بہت ایسے ہیں کہ دس پانچ برس کسو سبب سے دلی میں گئے اور رہے، وے بھی کہاں تک بول سکیں گے، کہیں نہ کہیں چوک ہی جائیں گے۔ اور جو شخص سب آفتیں سہہ کر دلی کا روڑا ہو کر رہا، اور دس پانچ پشتیں اسی شہر میں گزاریں، اور اس نے دربار امراؤں کے، اور میلے ٹھیلے، عرس چھڑیاں سیر تماشا اور کوچہ گردی اس شہر کی مدت تلک کی ہوگی، اور وہاں سے نکلنے کے بعد اپنی اپنی زبان کو لحاظ میں رکھا ہوگا، اس کا بولنا البتہ ٹھیک ہے۔ یہ عاجز بھی ہر ایک شہر کی سیر کرتا اور تماشا دیکھتا یہاں تلک پہنچا ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1/%D8%B3%D8%A8%D8%A8_%D8%AA%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%81_%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8"} {"title": "باغ و بہار/سیر تیسرے درویش کی", "poet_page": "مصنف:میر امّن دہلوی", "kind": "prose", "section": "تصنیفات > باغ و بہار", "year": null, "text_ur": "تیسرا درویش کوٹ باندھ بیٹھا اور اپنی سیر کا بیان اس طرح سے کرنے لگا\n\nاحوال اس فقیر کا اے دوستاں سنو\nیعنی جو مجھ پہ بیتی ہے وہ داستاں سنو\nجو کچھ کہ شاہ عشق نے مجھ سے کیا سلوک\nتفصیل دار کرتا ہوں اس کا بیان سنو\n\nیہ کمترین بادشاہ زادہ عجم کا ہے۔ میرے ولی نعمت وہاں بادشاہ تھی اور سوائے میرے کوئی فرزند نہ رکھتے تھے۔ میں جوانی کے عالم میں مصاحبوں کے ساتھ چوپڑ، گنجفہ، شطرنج، تختہ نرو کھیلا کرتا تھا۔ یا سوار ہو کر سیر و شکار میں مشغول رہتا۔\n\nایک دن کا ماجرا ہے کہ سواری تیار کروا کر اور سب یار آشناؤں کو لے کر میدان کی طرف نکلا۔ باز بہری، جرح، باشا، سرخاب اور تیتروں پر اڑاتا ہوا دور نکل گیا۔ عجب طرح کا ایک قطعہ بہار کا نظر آیا کہ جیدھر نگاہ جاتی تھی، کوسوں تلک سبز اور پھولوں سے لال زمین نظر آتی تھی۔ یہ سماں دیکھ کر گھوڑوں کی باگیں ڈال دیاں، اور قدم قدم سیر کرتے ہوئے چلے جاتے تھے۔ ناگاہ اس صحرا میں دیکھا کہ ایک کالا ہرن اس پر زربفت کا جھول اور بھنوت کلی مرصع کی اور گھونگرو سونے کے زردوزی پٹے میں ٹکے ہوئے گلے میں پڑے، خاطر جمع سے اس میدان میں کہ، جہاں انسان کا دخل نہیں اور پرندہ پر نہیں مارتا، چرتا پھرتا ہے۔ ہمارے گھوڑوں کی سم کی آواز پا کر چوکنا ہوا اور سر اٹھا کر دیکھا اور آہستہ آہستہ چلا۔\n\nمجھے اس کو دیکھنے سے یہ شوق ہوا کہ رفیقوں سے کہا تم یہیں کھڑے رہوں۔ یہ اسے جیتا پکڑوں گا۔ خبردار تم قدم آگے نہ بڑھائیو اور میرے پیچھے نہ آئیو۔ اور گھوڑا میری رانوں تلے ایسا پرند تھا کہ بارہا ہرنوں کے اوپر دوڑا کر ان کی کرچھالوں کو بھلا کر ہاتھوں سے پکڑ لیے تھے، اس کے عقب دوڑایا۔ وہ دیکھ کر چھلانگیں بھرنے لگا اور ہوا ہوا۔ گھوڑا بھی باد سے باتیں کرتا تھا لیکن اس کی گرد کو نہ پہنچا، وہ رہوار بھی پسینے پسینے ہو گیا اور میری بھی جیب مارے پیاس کو کٹخنے لگی پر کچھ بس نہ چلا۔ شام ہونے لگی۔ اور میں کیا جانوں کہاں سے کہاں نکل آیا۔ لاچار ہو کر اسے بھلاوا دیا۔ اور ترکش سے تیر نکال کر اور قربان سے کمان سنبھال کر چلے میں جوڑ کر کشش کان تلک لا کر، ران کواس کی تاک، اللہ اکبر کہہ کر مارا۔ بارے پہلا ہی تیر اس کے پاؤں ترازو ہوا۔ تب لنگڑاتا ہوا پہاڑ کے دامن کی سمت چلا۔ فقیر بھی گھوڑے پر سے اتر پڑا اور پا پیادہ اس کے پیچھے لگا۔ اس نے کوہ کا ارادہ کیا اور میں نے بھی اس کا ساتھ دیا۔ کئی اتار چڑھاؤ کے بعد ایک گنبد نظر آیا۔ جب پاس پہنچا ایک باغیچہ اور ایک چشمہ دیکھا۔ وہ ہرن تو نظر سے چھلاوا ہو گیا۔ میں نہایت تھکا تھا ہاتھ پاؤں دھونے لگا۔\n\nایک بارگی آواز رونے کی اس برج کے اندر سے میرے کان میں آئی جیسے کوئی کہتا ہے کہ اے بچے! جس نے تجھے تیر مارا، میری آہ کا تیر اس کے کلیجے میں لگیو۔ وہ اپنی جوانی سے پھل نہ پاوے اور خدا اس کو میرا سا دکھیا بنا دے میں یہ سن کر وہاں گیا۔ دیکھا تو ایک بزرگ ریش سفید اچھی پوشاک پہنے ایک مسند پر بیٹھا ہے اور ہرن آگے لیٹا ہے۔ اس کی جانگھ سے تیر کھینچتا ہے اور بددعا دیتا ہے۔\n\nمیں نے سلام کیا اور ہاتھ جوڑ کہا۔ کہ حضرت سلامت یہ تقصیر نادانستہ اس غلام سے ہوئی۔ میں یہ نہ جانتا تھا خدا کے واسطے معاف کرو۔ بولا کہ بے زبان کو تو نے ستایا ہے، اگر آن جان تجھ سے یہ حرکت ہوئی، اللہ معاف کرے گا، میں پاس جا بیٹھا، اور تیر نکالنے میں شریک ہوا۔ بڑے طاقت سے تیر کو نکالا اور زخم میں مرہم بھر کر چھوڑ دیا۔ پھر ہاتھ دھو کر اس پیر مرد نے کچھ حاضری جو اس وقت موجود تھی، مجھے کھلائی میں نے کھا پی کر ایک چارپائی پر لنبی تانی۔\n\nماندگی کے سبب خوب پیٹ بھر کر سویا۔ اس نیند میں آواز نوحہ و زاری کی کان میں آئی۔ آنکھیں مل کر جو دیکھتا ہوں تو اس مکان میں نہ وہ بوڑھا ہے نہ کوئی اور ہے۔ اکیلا میں پلنگ پر لیٹا ہوں اور وہ دالان خالی پڑا ہے، چاروں طرف بھیانک ہو کر دیکھنے لگا۔ ایک کونے میں پردہ پڑا نظر آیا۔ وہاں جا کر اسے اٹھایا۔ دیکھا تو ایک تخت بچھا ہے۔ اور اس پر ایک پری زادی عورت برس چودہ ایک کی، مہتاب کی صورت، اور زلفیں دونوں طرف چھوٹی ہوئیں، ہنستا چہرہ، فرنگی لباس پہنے ہوئے عجب ادا سے دیکھتی ہے اور بیٹھتی ہے اور وہ بزرگ اپنا سر اس کے پاؤں پر دھرے بے اختیار رو رہا ہے، اور ہوش حواس کھو رہا ہے۔ میں اس پیر مرد کا یہ احوال اور اس نازنین کا حسن و جمال دیکھ کر مرجھا گیا اور مردے کی طرح بے جان ہو کر گر پڑا۔ وہ مرد بزرگ میرا یہ حال دیکھ کر شیشہ گلاب کا لے آیا اور مجھ پر چھڑکنے لگا جب میں جیتا اٹھ کر اس معشوق کے مقابل جا کر سلام کیا، اس نے ہر گز نہ ہاتھ اٹھایا اور نہ ہونٹھ ہلایا میں نے کہا اے گل بدن اتنا غرور کرنا اور جواب سلام کا نہ دینا کس مذہب میں درست ہے؟\n\nکم بولنا ادا ہے ہر چند، پر نہ اتنا\nمند جائے چشم عاشق تو بھی وہ منہ نہ کھولے\n\nواسطے اس خدا کے جس نے تجھے بنایا ہے کچھ تو منہ سے بول۔ ہم بھی اتفاقا یہاں آ نکلے ہیں۔ مہمان کی خاطر ضرور ہے۔ میں نے بہتیری باتیں بنائیں، لیکن کچھ کام نہ آئیں۔ وہ چپکی بت کی طرح بیٹھی سنا کی۔ تب میں نے بھی آگے بڑھ کر ہاتھ پاؤں پر چلایا۔ جب پاؤں کو چھیڑا تو سخت معلوم ہوا۔ آخر یہ دریافت کیا کہ پتھر سے اس لعل کو تراشا ہے، اور اس آذر نے اس بت کو بنایا ہے۔ تب اس پیر مرد بت پرست سے پوچھا کہ میں نے تیرے ہرن کی ٹانگ میں کھپرا مارا۔ تو نے اس عشق کی ناوک سے میرا کلیجہ چھید کر وار پار کیا۔ تیری دعا قبول ہوئی۔ اب اس کی کیفیت مفصل بیان کر کر یہ طلسم کیوں بنایا ہے۔ اور تو بستی کو چھوڑ کر جنگل پہاڑ کیوں سیتا ہے۔ تجھ پر جو کچھ بیتا ہے مجھ سے کہہ۔\n\nجب اس کا بہت پیچھا لیا تب اس نے جواب دیا کہ اس بات نے مجھے تو خراب کیا، کیا تو بھی سن کر ہلاک ہو چاہتا ہے؟ میں نے کہا لو اب بہت چکر کیا۔ مطلب کی بات کہو۔ نہیں تو مار ڈالوں گا۔ مجھے نہایت در پے دیکھ کر بولا۔ اے جوان حق تعالیٰ ہر ایک انسان کو عشق کی آنچ سے محفوظ رکھے۔ دیکھ تو اس عشق نے کیا کیا آفتیں برپا کی ہیں۔ عشق ہی کے مارے عورت خاوند کے ساتھ ستی ہوتی ہے اور اپنی جان کھوتی ہے۔ اور فرہاد مجنوں کا قصہ سب کو معلوم ہے۔ تو اس کے سننے سے پھل پاوے گا؟ ناحق گھر بار، دولت دنیا چھوڑ کر نکل جاوے گا، میں نے جواب دیا بس اپنی دوستی تہہ کر رکھو، اس وقت مجھے اپنا دشمن سمجھو۔ اگر جان عزیز ہے تو صاف کہو۔ لاچار ہو کر آنسو بھر لایا اور کہنے لگا کہ مجھ خانہ خراب کی یہ حقیقت ہے کہ بندے کا نام نعمان سیاح ہے، میں بڑا سوداگر تھا۔ اس سن میں تجارت کے سبب ہفت اقلیم کی سیر کی اور سب بادشاہوں کی خدمت میں رسائی ہوئی۔ ایک بار یہ خیال جی میں آیا کہ چاروں وانگ ملک تو پھرا، لیکن جزیرہ فرنگ کی طرف نہ گیا اور وہاں کے بادشاہ کو اور رعیت و سپاہ کو نہ دیکھا اور رسم و راہ وہاں کی کچھ نہ دریافت ہوئی۔ ایک دفعہ وہاں بھی چلا چاہیے۔ رفیقوں اور شفیقوں سے صلاح لے کر ارادہ مصمم کیا۔ اور تحفہ ہدایا جہاں تہاں کا جو وہاں کے لائق تھا لیا۔ اور ایک قافلہ سوداگروں کا اکٹھا کر کر جہاز پر سوار ہو کر روانہ ہوا۔ ہوا جو موافق پائی، کئی مہینوں میں اس ملک میں جا داخل ہوا۔ ہر ایک بازار و کوچے میں پختہ سڑکیں بنی ہوئیں اور چھڑکاؤ کیا ہوا۔ صفائی ایسی کہ تنکا کہیں پڑا نظر نہ آیا کوڑے کا تو کیا ذکر ہے۔ اور عمارتیں رنگ برنگ کی، اور رات کو رستوں میں دو رستہ قدم بقدم روشنی۔ اور شہر کے باہر باغات کہ جن میں عجائب گل بوٹے اور میوے نظر آئے کہ شاید سوائے بہشت کے کہیں اور نہ ہوں گے، جو وہاں کی تعریف کروں سو بجا ہے۔\n\nغرض سوداگروں کے آنے کا چرچا ہوا۔ ایک خواجہ سر معتبر سوار ہو کر اور کئی خدمت گار ساتھ لے کر قافلے میں آیا۔ اور بیوپاریوں سے پوچھا کہ تمہارا سردار کونسا ہے؟ سبھوں نے میری طرف اشارت کی۔ وہ محلی میرے مکان میں آیا۔ میں تعظیم بجا لایا، باہم سلام علیک ہوئی۔ اس کو سوزنی پر بٹھایا۔ تکیے کی تواضع کی۔ بعد اس کے میں نے پوچھا کہ صاحب کے تشریف لانے کا باعث ہے؟ فرمایئے۔ جواب دیا کہ شہزادی سے سنا ہے سوداگر آئے ہیں اور بہت جنس لائے ہیں، لہٰذا مجھ کو حکم دیا کہ جا کر ان کو حضور میں لے آؤ۔ پس تم جو کچھ اسباب لائق بادشاہوں کی سرکار کے ہو، ساتھ لے چلو اور سعادت آستانہ بوسی کی حاصل کرو۔\n\nمیں نے جواب دیا کہ آج تو ماندگی کے باعث قاصر ہوں۔ کل جان و مال سے حاضر ہوں گا۔ جو کچھ اس عاجز کے پاس موجود ہے، نذر گزرانوں گا۔ جو پسند آوے، مال سرکار کا ہے یہ وعدہ کر کر عطر پان دے کر خواجہ کو رخصت کیا اور سب سوداگرون کو اپنے پاس بلا کر جو جو تحفہ جس کے پاس تھا، لے لے کر جمع کیا۔ اور جو میرے گھر میں تھا وہ بھی لیا۔ اور صبح کے وقت دروازے پر بادشاہی محل کے حاضر ہوا۔\n\nباری باری داروں نے میری خبر عرض کی۔ حکم ہوا کہ حضور میں لاؤ۔ وہی خواجہ سرا نکلا اور میرا ہاتھ ہاتھ میں لے کر دوستی کی راہ سے باتیں کرتا ہوا لے چلا۔ پہلے خواص پر سے ہو کر ایک مکان عالی شان میں لے گیا۔ اے عزیز! تو باور نہ کرے گا، یہ عالم نظر آیا گویا پر کاٹ کر پریوں کو چھوڑ دیا ہے۔ جس طرف دیکھتا تھا نگاہ گڑ جاتی۔ پاؤں زمیں سے اکھڑے جاتے تھے۔ بہ زور اپنے تئیں سنبھالتا ہوا رو برو پہنچا۔ جونہیں بادشاہ زادی پر نظر پڑی۔ غش کی نوبت ہوئی اور ہاتھ پاؤں میں رعشہ ہو گیا۔ بہر صورت سلام کیا۔ دونوں طرف دست راست اور دست چپ، صف بہ صف نازنینان پری چہرہ، دست بست کھڑی تھیں۔ میں جو کچھ قسم جواہر اور پارچہ پوشاکی اور تحفہ اپنے ساتھ لے گیا تھا، پیش کیا۔ جب کشتیاں حضور میں چنی گئیں، ازبس کہ سب جنس لائق پسند کی تھی، خوش ہو کر خانساماں کے حوالے ہوئی اور فرمایا کہ قیمت اس کی بموجب فرد کے کل دی جاوے گی۔ میں تسلیمات بجا لایا اور دل میں خوش ہوا کہ اس بہانے سے بھلا کل بھی آنا ہو گا۔ جب رخصت ہو کر باہر آیا تو سودائی کی طرح کہتا کچھ تھا اور منہ سے سدے کچھ نکلتا تھا۔ اسی طرح سرا میں آیا، لیکن حواس بجا نہ تھے۔ سب آشنا دوست پوچھنے لگے کہ تمہاری کیا حالت ہے؟ میں نے کہا اتنی آمدورفت سے گرمی دماغ پر چڑھ گئی ہے۔\n\nغرض وہ رات تلیھے کاٹی۔ فجر کو پھر جا کر حاضر ہوا، اور اسی خواجہ کے ساتھ پھر محل میں پہنچا۔ وہی عالم جو کل دیکھا تھا۔ بادشاہ زادی نے مجھے دیکھا اور ہر ایک کو اپنے اپنے کام پر رخصت کیا۔ جب پرچھا ہوا۔ خلوت میں اٹھ گئیں اور مجھے طلب کی۔ جب میں وہاں گیا، بیٹھے کا حکم کیا۔ میں بھی آداب بجا لا کر بیٹھا۔ فرمایا کہ یہاں جو تو آتا اور یہ اسباب لایا، اس میں منافع کتنا منظور ہے۔ میں نے عرض کی کہ آپ کے قدم دیکھنے کی بڑی خواہش تھی۔ سو خدا نے میسر کی، اب میں نے سب کچھ بھر پایا۔ اور دونوں جہان کی سعادت حاصل ہوئی۔ اور قیمت کچھ فہرست میں ہے، نصف کی خرید ہے اور نصف نفع ہے۔ فرمایا نہیں جو قیمت تو نے لکھی ہے وہ عنایت ہو گی، بلکہ اور بھی انعام دیا جائے گا بشرطیکہ ایک کام تجھ سے ہو سکے تو حکم کروں۔ میں نے کہا کہ غلام کا جان و مال اگر سرکار کے کام آوے تو میں اپنے طالعوں کی خوب سمجھوں اور آنکھوں سے کروں۔ یہ سن کر قلم دان یاد فرمایا۔ ایک شقہ لکھا اور موتیوں کے درمیان میں رکھ کر ایک رومال شبنم کا اور لپیٹ کر میرے حوالے کیا اور ایک انگوٹھی نشان کے واسطے انگلی سے اتار دی اور کہا کہ اس طرف کو ایک بڑا باغ ہے۔\n\nدل کشا اس کا نام ہے۔ وہاں تو جا کر ایک شخص کے خسرو نام داروغہ ہے، اس کے ہاتھ میں یہ انگشتری دیجئو، اور ہماری طرف سے دعا کہیو اور اس رقعہ کا جواب مانگیو۔ لیکن جلد آئیو۔ اگر کھانا وہاں کھائیو تو پانی یہاں پیئو۔ اس کام کا انعام تجھے ایسا دوں گی تو دیکھے گا۔ میں رخصت ہوا۔ اور پوچھتا پوچھتا چلا۔ قریب دو کوس کے جب گیا، وہ باغ نظر پڑا۔ جب پاس پہنچا، ایک عزیز مسلح مجھ کو پکڑ کر دروازے میں باغ کے لے گیا۔ دیکھوں تو ایک جوان شیر کی صورت، سونے کی کرسی پر زرہ داؤدی پہنے، چار آئینہ باندھے فولادی خود سر پر دھرے، نہایت شان و شوکت سے بیٹھا ہے اور پانچ سو جوان تیار ڈھال تلوار ہاتھ لئے اور ترکش کامان باندھے مستعد پرا باندھے کھڑے ہیں۔ میں نے سلام کیا، مجھے نزدیک بلایا۔ میں نے وہ خاتم دی اور خوشامد کی باتیں کر کر وہ رومال دکھایا۔ اور سقے کے بھی لانے کا احوال کہا۔ اس نے سنتے ہی انگلی دانتوں سے کاٹی اور سر دھن کر بولا کہ شاید تیری اجل تجھ کو لے کر آئی ہے۔ خیر باغ کے اندر جا، سرو کے درخت میں ایک آہنی پنجرا لٹکتا ہے اس میں ایک جوان قید ہے۔ اس کو یہ خط دے کر جواب لے کر جلدی پھرا۔ میں شتاب باغ میں گھسا۔ باغ کیا تھا، گویا جیسے جی بہشت میں گیا۔ ایک پر ایک چمن رنگ بہ رنگ کا پھول رہا تھا اور فوارے چھوٹ رہے تھے۔ جانور چہچہے مار رہے تھے میں سیدھا چلا گیا اور اس درخت میں وہ قفس دیکھا اس میں ایک حسین نظر آیا میں نے ادب سے سر نیہوڑ لیا اور سلام لیا اور وہ خریط سر بمہر پنجرے کی تیلیوں کی راہ سے دیا۔ وہ عزیز رقعہ کھول کر پڑھنے لگا اور مجھ سے مشتاق وار احوال ملکہ کو پوچھنے لگا۔ ابھی باتیں تمام نہ ہوئیں تھیں کہ ایک فوج زنگیوں کی نمودار ہوئی اور چاروں طرف سے مجھ پر آ ٹوٹی اور بے تحاشا برچھی و تلوار مارنے لگی ایک نہتے کی بساط کیا؟ ایک دم میں چور زخمی کر دیا۔ مجھے کچھ اپنی سدھ بدھ نہ رہی۔ پھر جو ہوش آیا اپنے تئیں چارپائی پر پایا کہ دو پیادے اٹھائے لیے جاتی ہیں اور آپ میں بتیاتے ہیں۔\n\nایک نے کہا اس مرد کی لوتھ کو میدان میں پھینک دو۔ کتے کوے کھا جائیں گے دوسرا بولا اگر بادشاہ تحقیق کرے اور یہ خبر پہنچے تو جیتا گڑوا دے اور باقی بچوں کو کولہو میں پڑوا دے۔ کیا ہمیں اپنی جان بھاری پڑے ہے جو ایسی نامعقول حرکت کریں۔\n\nمیں نے یہ گفتگو سن کر دونوں جاجوج ماجوج سے کہا واسطے خدا کے مجھ پر رحم کرو۔ ابھی مجھ میں ایک رمق جان باقی ہے۔ جب مر جاؤں گا جو تمہارا جی چاہے گا، سو کیجو، مردہ بدست زندہ لیکن یہ تو کہو مجھ پر یہ کیا حقیقت بیتی۔ مجھے کیوں مارا؟ اور تم کون ہو؟ بھلا اتنا تو کہہ سناؤ۔\n\nتب انہوں نے رحم کھا کر کہا وہ جوان جو قفس میں بند ہے اس بادشاہ کا بھتیجا ہے اور پہلے اس کا باپ تخت نشین تھا۔ رحمت کے وقت یہ وصیت اپنے بھائی کو کی کہ ابھی میرا بیٹا جو وارث اس سلطنت کا ہے، لڑکا اور بے شعور ہے۔ کاروبار بادشاہت کا خیر خواہی اور ہوشیاری سے تم کیا کیجو۔ جب بالغ ہو اپنی بیٹی سے شادی اس کی کر دیجیو اور مختار تمام ملک اور خزانے کا کیجو۔\n\nیہ کہہ کر انہوں نے وفات پائی اور سلطنت چھوٹے بھائی پر آئی۔ اس نے وصیت پر عمل نہ کیا بلکہ دیوانہ اور سودائی مشہور کر کے پنجرے میں ڈال دیا اور چوکی گاڑھی چاروں طرف باغ کے رکھی ہے کہ پرندہ پر نہیں مار سکتا۔ اور کئی مرتبے زہر ہلاہل دیا ہے لیکن زندگی زبردست ہے اثر نہیں کیا۔ اب وہ شہزادی اور یہ شہزادہ دونوں عاشق و معشوق بن رہے ہیں۔ وہ گھر میں تلپھتی اور یہ قفس میں تڑپھے ہے۔ تیرے ہاتھ شوق کا نامہ اس نے بھیجا۔ یہ خبر ہر کاروں نے بہ جنس بادشاہ کو پہنچائی۔ حبشیوں کا دستہ متعین ہوا، تیرا یہ احوال کیا اور اس جوان قیدی کے قتل کی وزیر سے تدبیر پوچھی۔ اس نمک حرام نے ملکہ کو راضی کیا ہے کہ اس بے گناہ کو بادشاہ کے حضور اپنے ہاتھ سے شہزادی مار ڈالے۔\n\nمیں نے کہا چلو مرتے مرتے یہ بھی تماشا دیکھ لیں۔ آ کر راضی ہو کر وہ دونوں اور میں زخمی چپکے ایک گوشے میں جا کھڑے ہوئے، دیکھا تو تخت پر بادشاہ بیٹھا ہے اور ملکہ کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہے اور شہزادے کو پنجرے سے باہر نکال کر رو بہ رو کھڑا کیا ملکہ جلاد بن کر شمشیر برہنہ لئے ہوئے اپنے عاشق کو قتل کرنے کو آئی۔ جب نزدیک پہنچی تلوار پھینک دی اور گلے میں چمٹ گئی۔ تب وہ عاشق بولا کہ ایسے مرنے پر میں راضی ہوں۔ یہاں تیری آرزو ہے، وہاں بھی تیری تمنا رہے گی۔ ملکہ بولی کہ اس بہانے سے میں تیرے دیکھنے کو آئی تھی۔ بادشاہ یہ حرکت دیکھ کر سخت برہم ہوا اور وزیر کو ڈانٹا کہ تو یہ تماشا دکھلانے کو لایا تھا؟ محلی ملکہ کو جدا کر کے محل میں لے گئے اور وزیر نے خفا ہر کر تلوار اٹھائی اور بادشاہ زادے کے اوپر دوڑا کہ ایک ہی وار میں کام اس بیچارے کا تمام کرے۔ جوں چاہتا ہے کہ تیغا چلاوے، غیب سے ایک تیر ناگہانی سے اس کی پیشانی پر بیٹھا کہ دوسار ہو گیا اور وہ گر پڑا۔ بادشاہ یہ واردات دیکھ کر محل میں گھس گئے، جوان کو پھر قفس میں بند کر کر باغ میں لے گئے۔ میں بھی وہاں سے نکلا۔ راہ میں سے ایک آدمی مجھے بلا کر ملکہ کے حضور میں لے گیا۔ مجھے گھائل دیکھ کر ایک جراح کو بلوایا اور نہایت تاکید سے فرمایا کہ نوجوان کو چنگا کر کے غسل شفا کے دے۔ یہی تیرا مجرا ہے اس کے اوپر جتنی محبت تو کرے گا ویسا ہی انعام اور سرفرازی پاوے گا۔ غرض وہ جراح بموجب ارشاد ملکہ کے تک و دو کر کے ایک چلے میں نہلا دھلا مجھے حضور میں لے گیا۔ ملکہ نے پوچھا کہ اب تو کچھ کسر باقی نہیں رہی؟ میں نے کہا کہ آپ کی توجہ سے اب ہٹا کٹا ہوں۔ تب ملکہ نے ایک خلعت اور بہت سے روپے جو فرمائے تھے، بلکہ اس سے بھی دوچند عطا کئے اور رخصت کیا۔\n\nمیں نے وہاں سے رفیق اور نوکر چاکروں کو لے کر کوچ کیا۔ جب اس مقام پر پہنچا سب کو کہا۔ تم اپنے وطن جاؤ۔ اور میں نے اس پہاڑ پر یہ مکان اور اس کی صورت بنا کر اپنا رہنا مقرر کیا۔ اور نوکروں اور غلاموں کو موافق ہر ایک کی قدر کے روپے دے کر آزاد کیا اور یہ کہہ دیا کہ جب تلک جیت رہوں گا، میرے قوت کی خبر گیری تمہیں ضرور ہے۔ آگے مختار ہو۔ اب وہی نمک حلالی سے میرے کھانے کی خبر لیتے ہیں اور میں بہ خاطر جمع اس بت کی پرستش کرتا ہوں۔ جب تلک جیتا ہوں میرا یہی کام ہے۔ یہ میری سرگزشت ہے جو تو نے سنی۔ یا فقر! میں نے بہ مجرد سنتے اس قصے کی کفنی گلے میں ڈالی اور فقیروں کا لباس کیا اور اشتیاق میں فرنگ ملک کے دیکھے کے لیے روانہ ہوا۔ کتنے ایک عرصہ میں جنگل پہاڑوں کی سیر کرتا ہوا مجنوں اور فرہاد کی صورت بن گیا۔\n\nآخر میرے شوق نے اس شہر تلک پہنچایا۔ گلی کوچے میں باولا سا پھرنے لگا۔ اکثر ملکہ کے محل کے آس پاس رہا کرتا۔ لیکن کوئی ڈھبایسا نہ ہوتا جو وہاں تک رسائی ہو۔ عجیب حیرانی تھی کہ جس واسطے یہ محنت کر کر گیا، وہ مطلب ہاتھ نہ آیا۔ ایک دن بازار میں کھڑا تھا کہ ایک بارگی آدمی بھاگنے لگا اور دکاندار دکانیں بند کر کے چلے گئے۔ یا وہ رونق تھی یا سنسان ہو گیا۔ ایک طرف سے ایک جوان رستم کا سا کلہ جڑا شیر کی مانند گونجتا اور تلوار دو دوستی جھاڑتا ہوا، زرہ بکتر گلے میں ٹوپ جھلم کا سر پر طمنچے کی جوڑی کمر میں، کیفی کی طرح بکتا جھکتا نظر آیا۔ اور اس کے پیچھے غلام بنات کی پوشاک پہنے ایک تابوت مخمل کا شانی سے مڑھا ہوا سر پر لئے چلے آتے ہیں۔ میں نے یہ تماشا دیکھ کر ساتھ چلنے کا قصد کیا۔ جو کوئی آدمی میری نظر پڑتا، مجھے منع کرتا لیکن میں کب سنتا ہوں، رفتہ رفتہ وہ جوان مرد ایک عالی شان مکان میں چلا۔ میں بھی ساتھ ہوا۔ اس نے پھرتے ہی چاہا کہ ایک ہاتھ مارے اور مجھے دو ٹکڑے کرے۔ میں نے اسے قسم دی کہ میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ میں نے اپنا خون معاف کیا۔ کسو طرح مجھے اس زندگی کے عذاب سے چھڑا دے کہ نہایت تنگ آیا ہوں۔ میں جان بوجھ کر تیرے سامنے آیا ہوں، دیر مت کر، مجھے مرنے پر ثابت قدم دیکھ کر خدا نے اس کے دل میں رحم ڈالا اور غصہ ٹھنڈا ہوا۔ بہت توجہ اور مہربانی سے پوچھا کہ تو کون ہے؟ اور کیوں اپنی زندگی سے بیزار ہوا ہے؟ میں نے کہا ذرا بیٹھئے تو کہوں۔ میرا قصہ بہت درو و دراز ہے۔ اور عشق کے نیچے میں گرفتار ہوں۔ اس سبب سے لاچار ہوں۔ یہ سن کر اس نے اپنی کمر کھولی اور ہاتھ منہ دھو دھا کر کچھ ناشتا کیا۔ مجھے بھی عنایت ہوا۔ جب فراغت کر کے بیٹھا، بولا۔ کہہ تجھ پر کیا گزری؟ میں نے سب واردات اس پیر مرد کی اور ملکہ کی اور وہاں اپنے جانے کی کہہ سنائی۔ پہلے سن کر رویا اور یہ کہا کہ اس کم بخت نے کس کس کا گھر گھالا۔ مراد کو پہنچے اور تو اندیشہ نہ کر اور خاطر جمع رکھ حجام کو فرمایا کہ اس کی حجامت کر کے حمام کروا دے۔ ایک جوڑا کپڑا اس کے غلام نے لا کر پہنایا۔ تب مجھ سے کہنے لگا کہ یہ تابوت جو تو نے دیکھا، اس شہزادے مرحوم کا ہے، جو قفس میں مقید تھا۔ اس کو دوسرے وزیر نے آخر کمر سے مارا، اس کو تو نجات ہوئی کہ مظلوم مارا گیا۔ میں اس کا کوکا ہوں۔ میں نے اس وزیر کو بہ ضرب شمشیر مارا اور بادشاہ کے بھی مارنے کا ارادہ کیا۔ بادشاہ گڑگڑایا اور سوگند کھانے لگا کہ میں بے گناہ ہوں۔ میں نے اسے نامرد جان کر چھوڑ دیا۔ تب سے میرا کام یہی ہے کہ ہر مہینے کی نو چندی جمعرات کو میں اس تابوت کو اسی طرح شہر میں لئے پھرتا ہوں، اور اس کا ماتم کرتا ہوں۔ اس کی زبانی یہ احوال سننے سے مجھے تسلی ہوئی کہ اگرچہ یہ چاہے گا تو میرا مقصد بر آوے گا۔ خدا نے بڑا احسان کیا جو ایسے جنونی کو مجھ پر مہربان کیا۔ سچ ہے خدا مہربان تو کل مہربان۔\n\nجب شام ہوئی اور آفتاب غروب ہوا۔ اس جوان نے تابوت کو نکالا اور ایک غلام کے عوض وہ تابوت میرے سر پر دھرا اور اپنے ساتھ لے کر چلا۔ فرمانے لگا کہ ملکہ کے نزدیک جاتا ہوں۔ تیری سفارش تابہ مقدور کروں گا۔ تو ہرگز دم نہ ماریو، چپکا بیٹھا سنا کیجو۔ میں نے کہا جو کچھ صاحب فرمائے ہیں وہی کروں گا، خدا تم کو سلامت رکھے جو میرے احوال پر ترس کھاتے ہو۔ اس جوان نے قصد بادشاہی باغ کا کیا، جب اندر داخل ہوا ایک چبوترا سنگ مرمر کا ہشت پہلو باغ کے صحن میں تھا اور اس پر ایک نم گیرہ سفید بادلے کا موتیوں کی جھالر لگی ہوئی الماس کے استادوں پر کھڑا تھا اور ایک مسند مغرق بچھی تھی۔ گاؤ تکیہ اور بغلی تکیے زربفت کے لگے ہوئے۔ وہ تابوت وہاں رکھوایا اور ہم دونوں کو فرمایا کہ اس درخت کے پاس جا کر بیٹھو۔ بعد ایک ساعت کے مشعل کی روشنی نظر آئی۔ ملکہ آپ کئی خواصیں پس و پیش اہتمام کرتی ہوئیں تشریف لائیں لیکن اداسی اور خفگی چہرے پر ظاہر تھی۔ آ کر مسند پر بیٹھیں۔ فاتحہ پڑھی اور کچھ باتیں کرنے لگا۔ میں کان لگائے سن رہا تھا۔ آخر اس جوان نے کہا کہ ملکہ جہان سلامت! ملک عجم کا شہزادہ آپ کی خوبیاں اور محبوبیاں غائبانہ سن کر اپنی سلطنت کو برباد دے فقیر بن مانند ابراہیم ادہم کے تباہ ہوا، اور بڑی محنت کھینچ کر یہاں تک آ پہنچا۔ سائیں تیرے کارن چھوڑا شہر بلخ۔ اور شہر میں بہت دنوں سے حیران پریشان پھرتا ہے۔ آخر وہ قصد مرنے کا کر کے میرے ساتھ لگ چلا۔ میں نے تلوار سے ڈرایا۔ اس نے گردن آگے دھر دی کہ اب میں یہی چاہتا ہوں، دیر مت کر۔ غرض تمہارے عشق میں ثابت ہے میں نے خوب آزمایا۔ سب طرح پورا پایا۔ اس سبب سے اس کا مذکور میں درمیان لایا۔ اگر حضور سے اس کے احوال پر مسافر جان کر توجہ ہو تو خدا ترسی اور حق شناسی سے دور نہیں۔\n\nیہ ذکر ملکہ نے سن کر فرمایا کہاں ہے؟ اگر شہزادہ ہے تو کیا مضائقہ؟ رو بہ رو آوے وہ کوکا وہاں سے اٹھ کر آیا اور مجھے ساتھ لے کر گیا۔ میں ملکہ کے دیکھنے سے نہایت شاد ہوا، لیکن عقل و ہوش برباد ہوئے۔ عالم سکوت کا ہو گیا۔ یہ ہواؤ نہ پڑا کہ کچھ کہوں۔ ایک دم میں ملکہ سدھاری اور کوکا اپنے مکان کو چلا۔ گھر آ کر بولا کہ میں نے تیری سب حقیقت اول سے آخر تک کہہ سنائی اور سفارش بھی کی، اب تو ہمیشہ رات کو بلا ناغہ جایا کر اور عیش خوشی منایا کر۔ میں اس کے قدم پر گر پڑا۔ اس نے گلے لگا لیا۔ تمام دن گھڑیاں گنتا رہا کہ کب سانجھ ہو، جو میں جاؤں۔ جب رات ہوئی میں اس جوان سے رخصت ہو کر چلا اور پائیں باغ میں ملکہ کے چبوترے پر تکیہ لگا کے جا بیٹھا۔ بعد ایک گھڑی کے ملکہ تن تنہا ایک خواص کو ساتھ لے کر آہستہ آہستہ آ کر مسند پر بیٹھیں۔ خوش طالعی سے یہ دن میسر ہوا، میں نے قدم بوس کیا۔ انہوں نے میرا سر اٹھا لیا اور گلے سے لگا لیا۔ اور بولیں کہ اس فرصت کو غنیمت جان میرا کہا مان۔ مجھے یہاں سے لے نکل، کسو اور ملک کو چل۔ میں نے کہا چلئے یہ کہہ کر ہم دونوں باغ کے باہر تو ہوئے پر حیرت سے اور خوشی سے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ راہ بھول گئے اور ایک طرف کو چلے جاتے تھے، پر کچھ ٹھکانا نہیں پاتے تھے۔ ملکہ برہم ہو کر بولیں اب میں تھک گئی تیرا مکان کہاں ہے، جلدی چل کر پہنچ۔ نہیں تو کیا کیا چاہتا ہے؟ میرے پاؤں میں پھپھولے پڑ گئے، رستے میں کہیں بیٹھ جاؤں گی۔\n\nمیں نے کہا کہ تیرے غلام کی حویلی نزدیک ہے، اب آ پہنچے، خاطر جمع رکھو اور قدم اٹھاؤ۔ جھوٹ تو بولا پر دل میں حیران تھا کہ کہاں لے جاؤں؟ عید راہ پر ایک دروازہ مقفل نظر پڑا۔ جلدی سے قفل کو توڑ کر مکان کے بھیتر گئے۔ اچھی حویلی، فرش بچھا ہوا شراب کے شیشے بھرے، قرینے سے طاق میں دھرے اور باورچی خانے میں نان کباب تیار تھے۔ ماندگی کمال ہو رہی تھی ایک ایک گلاب شراب پرتگالی کی اس گزک کے ساتھ پی اور ساری راہ باہم خوشی کی۔ جب اس چین سے صبح ہوئی، شہر میں غل مچا کہ شہزادی غائب ہوئی۔ محلہ محلہ، کوچہ کوچہ، منادی پھرنے لگی اور کٹنیاں اور ہرکارے چھوٹے کہ جہاں ہاتھ آوے پیدا کریں، اور سب دروازوں پر شہر کے بادشاہی غلاموں کی چوکی آ بیٹھی۔ گزر بانوں کو حکم ہوا کہ بغیر پروانگی، چیونٹی باہر شہر کے نہ نکل سکے۔ جو کوئی سراغ ملکہ کا لاوے گا ہزار اشرفی اور خلعت انعام پاوے گا۔ تمام شہر کٹنیاں پھرنے اور گھر گھر میں گھسنے لگیں۔ مجھے جو کم بختی لگی دروازہ بند نہ کیا۔ ایک بڑھیا شیطان کی خالہ، اس کا خدا کرے منہ کالا، ہاتھ میں تسبیح لٹکائے برقع اوڑھے، دروازہ کھلا پا کر ندھڑک چلی آئی اور سامنے ملکہ کے کھڑی ہو کر ہاتھ اٹھا کر دیا دینے لگی کہ الٰہی تیری نتھ جوڑی سہاگ کی سلامت رہے اور کماو کی پگڑی قائم رہے میں غریب رنڈیا فقیرنی ہوں۔ ایک بیٹی میری ہے کہ وہ دو جی سے پورے دونوں درد زہ میں مرتی ہے اور مجھ کو اتنی وسعت نہیں کہ ادھی کا تیل چراغ جلاؤں، کھانے پینے کو تو کہاں سے لاؤں۔ اگر مر گئی تو گورو کفن کیونکر کروں گی؟ آج دو دن ہوئے ہیں کہ بھوکی پیاسی پڑی ہے۔ اسے صاحب زادی! اپنی خیر کچھ ٹکڑا پارچہ دلا تو اس کو پانی پینے کا آدھار ہو۔\n\nملکہ نے ترس کھا کر اپنے نزدیک بلا کر چار نان اور کباب اور ایک انگوٹھی چھینگیا سے اتار کر حوالے کی کہ اس کو بیچ بانچ کر گہنا پاتا بنا دیجو۔ اور خاطر جمع سے گزران کیجو۔ اور کبھو آیا کیجو، تیرا گھر ہے، اس نے اپنے دل کا مدعا، جس کی تلاش میں آئی تھی بہ جنس پایا۔ خوشی سے دعائیں دیتی اور بلائیں لیتی دفع ہوئی۔ ڈیوڑھی میں نان کباب پھینک دیئے، مگر انگوٹھی کو مٹھی میں لے لیا کہ پتا ملکہ کے ہاتھ کا میرے ہاتھ آیا۔ خدا اس آفت سے جو بچایا چاہے اس مکان کا مالک جواں مرد سپاہی، تازی گھوڑے پر چڑھا ہوا، نیزہ ہاتھ میں لئے شکار بن سے ایک ہرن لٹکائے آ پہنچا، اپنی حویلی کا تالا ٹوٹا اور کواڑ کھلے پائے۔ اس دلالہ کو نکلتے دیکھا، مارے غصے کے ایک ہاتھ سے اس کے جھونٹے پکڑ کر لٹکایا اور گھر میں آیا۔ اس کے دونوں پاؤں میں رسی باندھ کر ایک درخت کی ٹہنی میں لٹکایا۔ سر تلے پاؤں اوپر کئے ایک دم میں تڑپہ تڑپہ مر گئیں۔ اس مرد کی صورت دیکھ کر یہ ہیبت غالب ہوئی کہ ہوائیاں منہ پر اڑنے لگیں اور مارے ڈر کے کلیجہ کانپنے لگا۔ اس عزیز نے ہم دونوں کو بدحواس دیکھ کر تسلی دی کہ بڑی نادانی تم نے کی۔ ایسا کام کیا اور دروازہ کھول دیا۔\n\nملکہ نے مسکرا کر فرمایا کہ شہزادہ اپنے غلام کی حویلی کہہ کر مجھے لے آیا اور مجھ کو پھسلایا۔ اس نے التماس کیا کہ شہزادے نے بیان واقعی کہا۔ جتنی خلق اللہ ہے بادشاہوں کے لونڈی غلام ہیں۔ انہیں کی برکت اور فیض سے سب کی پرورش اور نباہ ہے۔ یہ غلام بے دام و درم زر خریدہ تمہارا ہے۔ لین بھید چھپانا، عقل کا مقتضا ہے۔ اے شہزادے تمہارا اور ملکہ کا اس غریب خانے میں توجہ فرمانا اور تشریف لانا سعادت دونوں جہان کی ہے۔ اور اپنے فدوی کو سرفراز کیا۔ میں نثار ہونے کو تیار ہوں۔ کسو صورت میں جان و مال سے دریغ نہ کروں گا۔ آپ شوق سے آرام فرمائیے اب کوڑی بھر خطرہ نہیں۔ یہ مردار کٹنی اگر سلامت جاتی تو آفت لاتی۔ اب جب تلک مزاج شریف چاہے بیٹھے رہیے اور جو کچھ چاہیے درکار ہو اس خانہ زاد کو کہیے سب حاضر کرے گا اور بادشاہ تو کیا چیز ہے! تمہاری خبر فرشتے کو بھی نہ ہو گی۔ اس جواں مرد نے ایسی ایسی باتیں تسلی کی کہیں کہ تک خاطر جمع ہوئی۔ تب میں نے کہا شاباش تم مرد ہو۔ اس مروت کا عوض ہم سے بھی جب ہو سکے گا تب ظہور میں آوے گا۔ تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا کہ غلام کا اسم بہزاد خاں ہے۔ غرض چھ مہینے تک جتنی شرط خدمت کی تھی۔ بہ جان و دل بجا لایا۔ خوب آرام سے گزری۔\n\nایک دن مجھے اپنا ملک اور ماں باپ یاد آئے اس لیے نہایت متفکر بیٹھا تھا۔ میرا چہرہ ملین دیکھ کر بہزاد خان روبرو ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اس فدوی سے اگر کچھ تقصیر چرن برداری میں واقع ہو تو ارشاد ہو۔ میں نے کہا از برائے خدا یہ کیا مذکور ہے! تم نے ایسا سلوک کیا کہ اس شہر میں ایسے آرام سے رہے، جیسے اپنی ماں کے پیٹ میں کوئی رہتا ہے۔ نہیں تو یہ ایسی حرکت ہم سے ہوئی تھی کہ تنکا تنکا ہمارا دشمن تھا۔ ایسا دوست ہمارا کون تھا کہ ذرا دم لیتے۔ خدا تمہیں خوش رکھے بڑے مرد ہو۔ تب اس نے کہا اگر یہاں سے دل برداشتہ ہوا ہو۔ تو جہاں خیر عافیت سے پہنچا دوں۔ فقیر بولا کہ اگر اپنے وطن تک پہنچوں تو والدین کو دیکھوں، میری تو یہ صورت ہوئی، خدا جانے ان کی کیا حالت ہوئی جس واسطے جلا وطن ہوا تھا میری آرزو بر آئی۔ اب ان کی بھی قدم بوسی واجب ہے۔ میری خبر ان کو کچھ نہیں کہ مرا یا جیتا ہے؟ ان کے دل پر کیا قلق گزرتا ہو گا۔ وہ جوان مرد بولا کہ بہت مبارک ہے چلئے یہ کہہ کر ایک راس گھوڑا ترکی سو کوس چلنے والا اور ایک گھوڑی جلد جس کے پر نہیں کٹے تھے۔ لیکن شائستہ، ملکہ کی خاطر لایا اور ہم دونوں کو سوار کروایا۔ پھر زرہ بکتر پہن سلاغ باندھ اوپچی بن اپنے مرکب پر چڑھ بیٹھا اور کہنے لگا غلام آگے ہو لیتا ہے، صاحب خاطر جمع سے گھوڑے دبائے چل آویں۔ جب شہر کے دروازے پر آیا ایک نعرہ مارا اور تیرے قفل کر توڑا اور نگہبانوں کو ڈپٹ کر للکارا کہ برچودو! اپنے خاوند کو جا کر کہو کہ بہزاد خان ملکہ مہر نگار اور شہزادہ کا مار کو جو تمہارا داماد ہے ہانکے پکارے لئے جاتا ہے اگر مروی کا کچھ نشہ ہے تو باہر نکلو اور ملکہ کو چھین لو۔ یہ نہ کہیو کہ چپ چاپ لے گیا، نہیں تو قلعے میں بیٹھے آرام کیا کرو۔ کہ خبر بادشاہ کو جلد جا پہنچے۔ وزیر اور میر بخشی کو حکم ہوا کہ ان تینوں زاد مفسدوں کو باندھ کر لاؤ، یا ان کے سر کاٹ کر حضور میں پہنچاؤ، ایک دم کے بعد رغٹ فوج کا نمودار ہوا اور تمام زمین و آسمان گرد باد ہو گیا۔ بہزاد خاں نے ملکہ کو اس فقیر کو ایک در میں پل کے کہ بارہ پلے اور جون پور کے پل کے برابر کھڑا تھا۔ اور آپ گھوڑے کو تنگیا کر اس فوج کی طرف پھرا اور شیر کی مانند گونج کر مرکب کو ڈپٹ کر فوج کے درمیان گھسا۔ تمام لشکر کائی سا پھٹ گیا اور یہ دونوں سرداروں تلک جا پہنچا۔ دونوں کے سر کاٹ لئے جب سردار مارے گئے لشکر تتر بتر ہو گیا۔ وہ کہاوت ہے سر سے سر واہ جب بیل پھوٹی رائی رائی ہو گی۔ وہ نہیں آپ بادشاہ کتنی فوج بکتر پوشوں کے ساتھ لے کمک کو آئے۔ ان کو بھی لڑائی اس پکا جوان نے مار دی شکست فاس کھائی۔\n\nبادشاہ پسپا ہوئے۔ سچ ہے فتح داد الٰہی ہے لیکن بہزاد خان نے ایسی جوانمردی کی کہ شاید رستم سے بھی نہ ہو سکتی تھی۔ جب بہزاد خان نے دیکھا کہ مطلق صاف ہوا، اب کون باقی رہا ہے جو ہمارا پیچھا کرے گا، بے وسواس ہو کر اور خاطر جمع کر جہاں ہم کھڑے تھے آیا اور ملکہ اور مجھ کو ساتھ لے کر چلا۔ سفر کی عمر کو تاہ ہوتی ہے۔ تھوڑے عرصے میں اپنے ملک کی سرحد میں جا پہنچے۔\n\nایک عرضی صحیح سلامت آنے کی بادشاہ کے حضور میں، جو قبلہ گاہ مجھ فقیر کے تھے، لکھ کر روانہ کی، جہاں پناہ پڑھ کر شاد ہوئے۔ دوگانہ شکر کا ادا کیا، جیسے سوکھے دھان میں پانی پڑا۔ خوش ہو کر سب امیروں کو جلو میں لے کر اس عاجز کے استقبال کی خاطر لب دریا آ کر کھڑے ہوئے۔ اور نواڑوں کے واسطے میر بحر کو حکم ہوا۔ میں نے دوسرے کنارے پر سواری بادشاہ کی کھڑی دیکھی۔ قدم بوسی کی آرزو میں گھوڑے کو دریا میں ڈال دیا۔ ہیلہ مار کر حضور میں حاضر ہوا مجھے مارے اشتیاق کلیجے سے لگا لیا۔ اب ایک اور آفت ناگہانی پیش آئی کہ جس گھوڑے پر میں سوار تھا شاید وہ بچہ اسی مادیان کا تھا جس پر ملکہ سوار تھی۔ باجنسیت کے باعث میرے مرکب کو دیکھ کر گھوڑی نے بھی جلد کر کر اپنے تئیں ملکہ سمیت میرے پیچھے دریا میں گرایا اور پیرنے لگی، ملکہ نے گھبرا کر باگ کھینچی، وہ منہ کی نرم تھی الٹ گئی۔ ملکہ غوطے کھا کر مع گھوڑے دریا میں ڈوب گئی۔ کہ پھر ان دونوں کا نشان نظر نہ آیا۔ بہزاد خان نے یہ حالت دیکھی کہ اپنے تئیں گھوڑے سمیت ملکہ کی مدد کی خاطر دریا میں پہنچایا۔ وہ بھی اس بھنور میں آ گیا، پھر نکل نہ سکا۔ بہتیرے ہاتھ پاؤں مارے، کچھ بس نہ چلا، ڈوب گیا۔ جہاں پناہ نے یہ واردات دیکھ کر مہا جال منگوا کر پھنکوایا، ملاحوں اور غوطہ خوروں کو فرمایا۔ انہوں نے سارا دریا چھان مارا۔ تھاہ کی مٹی لے لے آئے۔ پر وہ دونوں ہاتھ نہ آئے۔ یا فقرا! یہ حادثہ ایسا ہوا کہ میں سودائی اور جنونی ہو گیا اور فقیر بن کر یہی کہتا پھرتا ان نینوں کا یہی بسیکہ وہ بھی دیکھا یہ بھی دیکھ۔ اگر ملکہ کہیں غائب ہو جاتی یا مر جاتی تو دل کو تسلی آتی۔ پھر تلاش کو نکلتا یا صبر کرتا۔ لیکن جب نظروں کے رو بہ رو غرق ہو گئی تو کچھ بس نہ چلا۔ آخر جی میں یہی لہر آئی کہ دریا میں ڈوب جاؤں شاید اپنے محبوب کو مر کر پاؤں۔\n\nایک روز ایک رات کو اسی دریا میں بیٹھا اور ڈوبنے کا ارادہ کر کر گلے تک پانی میں گیا۔ چاہتا ہوں کہ آگے پاؤں رکھوں اور غوطہ کھاؤں۔ وہی سوار برقعہ پوش جنہوں نے تم کو بشارت دی ہے آ پہنچے۔ میرا ہاتھ پکڑ لیا اور دلاسا دیا کہ خاطر جمع رکھ۔ ملکہ اور بہزاد خان جیتے ہیں۔ تو اپنی جان ناحق کیوں کھوتا ہے؟ دنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے خدا کی درگاہ سے مایوس مت ہو۔ اگر جیتا رہے گا تو تیری ملاقات ان دونوں سے ایک نہ ایک روز ہو رہے گی۔ اب تو روم کی طرف جا۔ اور بھی دو درویش دل ریش وہاں گئے ہیں۔ ان سے جب ملے گا اپنی مراد کو پہنچے گا۔ یا فقرا! یہ موجب حکم اپنے ہادی کے میں بھی خدمت شریف میں آ کر حاضر ہوا ہوں۔ امید قوی ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے مطلب کو پہنچے۔ اس ٹکڑ گدا کا یہ احوال تھا جو تمام کمال کہہ سنایا", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1/%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%B4_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "باغ و بہار/سیر دوسرے درویش کی", "poet_page": "مصنف:میر امّن دہلوی", "kind": "prose", "section": "تصنیفات > باغ و بہار", "year": null, "text_ur": "جب دوسرے درویش کے کہنے کی نوبت پہنچی، وہ چار زانو ہو بیٹھا اور بولا۔\n\nاے یارو! اس فقیر کا ٹک ماجرا سنو!\n\nمیں ابتدا سے کہتا ہوں تا انتہا سنو!\n\nجس کا علاج کر نہیں سکتا کوئی حکیم\n\nہے گا ہمارا درد نپت لا دوا سنو!\n\nاے دلق پوش! یہ عاجز بادشاہ فارس کے ملک کا ہے۔ ہر فن کے آدمی وہاں پیدا ہوتے ہیں۔ چنانچہ اصفہان نصف جہاں مشہور ہے۔ ہفت اقلیم میں اس اقلیم کے برابر کوئی ولایت نہیں کہ وہاں کا ستارہ آفتاب اور وہ ساتوں کواکب میں نیر اعظم ہے۔ آب و ہوا وہاں کی خوشی اور لوگ روشن طبع اور صاحب سلیقہ ہوتے ہیں۔ میرے قبلہ گاہ نے، جو بادشاہ اس ملک کے تھے لڑکپن سے قاعدے اور قانون سلطنت کی تربیت کرنے کے واسطے بڑے بڑے دانا ہر ایک علم اور کسب کے چن کر میری اتالیقی کے لیے مقرر کیے تھے تو تعلیم کامل ہر نوع کی پا کر قابل ہوں۔ خدا کے فضل سے چودہ برس کے سن و سال میں سب علم سے ماہر ہوا۔ گفتگو معقول نشست و برخاست پسندیدہ اور جو کچھ بادشاہوں کو لائق اور درکار ہے سب حاصل کیا اور یہی شوق شب و روز تھا کہ قابلوں کی صحبت میں قصے ہر ایک ملک کے اور احوال اوالعزم بادشاہوں اور نام آوروں کا سنا کروں۔\n\nایک روز ایک مصاحب دانا نے کہ خوب تواریخ داں اور جہاں دیدہ تھا، مذکور کیا کہ اگرچہ آدمی کی زندگی کا کچھ بھروسا نہیں، لیکن اکثر وصف ایسے ہیں کہ ان کے سبب سے انسان کا نام قیامت تک زبانوں پر بخوبی چلا جائے گا۔ میں نے کہا اگر تھوڑا سا احوال اس کا مفصل بیان کرو تو میں بھی سنوں اور اس پر عمل کروں۔ تب وہ شخص حاتم طائی کا ماجرا اس طرح سے کہنے لگا۔\n\n== قصہ حاتم طائی کا ==\n\nحاتم طائی کے وقت میں ایک بادشاہ عرب کا نوفل نام تھا۔ اس کو حاتم کے ساتھ بہ سبب نام آوری کے دشمنی مکال ہوئی۔ بہت سا لشکر فوج جمع کر کر لڑائی کی خاطر چڑھ آیا۔ حاتم تو خدا ترس اور نیک مرد تھا، یہ سمجھا کہ اگر میں بھی جنگ کی تیاری کروں تو خدا کے بندے مارے جائیں گے۔ اور بڑے خوں ریزی ہو گی۔ اس کا عذاب میرے نام لکھا جائے گا۔ یہ بات سوچ کر تن تنہا اپنی جان لے کر پہاڑ کی کھوہ میں جا چھپا۔\n\nجب حاتم کے غائب ہونے کی خبر نوفل کو معلوم ہوئی، سب اسباب گھر بار حاتم کا قرق کیا اور منادی کرا دی جو کوئی حاتم کو ڈھونڈ کر پکڑ لاوے پانچ سو اشرفی بادشاہ کے سرکار سے انعام پاوے۔ یہ سن کر سب کو لالچ آیا اور جستجو حاتم کی کرنے لگے۔ اور روز ایک بوڑھا اس کی بڑھیا دو تین بچے چھوٹے چھوٹے ساتھ لیے ہوئے لکڑیاں توڑنے کے واسطے اس غار کے پاس جہاں حاتم پوشیدہ تھا، پہنچے اور لکڑیاں اس جنگل سے چننے لگے، بڑھیا بولی کہ اگر ہمارے کچھ دن بھلے آتے تو حاتم کو کہیں ہم دیکھ پاتے اور اس کو پکڑ کر نوفل کے پاس لے جاتے تو وہ پانچ سو اشرفی دیتا ہم آرام سے کھاتے اس دکھ دھندے سے چھوٹ جاتے۔ بوڑھے نے کہا۔ کیا ٹر ٹر کرتی ہے؟ ہماری طالع میں یہی لکھا ہے کہ روز لکڑیاں توڑیں اور سر پر دھر کر بازار میں بیچیں، تب لون روٹی میسر آوے یا ایک روز جنگل سے باگھ لے جاوے۔ لے اپنا کام کر۔ ہمارے ہاتھ حاتم کاہے کو آوے گا اور بادشاہ روپے دلاوے گا؟ عورت نے ٹھنڈی سانس بھری اور چپکی ہو رہی۔\n\nیہ دونوں کی باتیں حاتم نے سنیں، مرومی اور مروت سے بعید جانا کہ اپنے تئیں چھپائے اور جان کو بچائے اور ان دونوں بے چاروں کو مطلب تک نہ پہنچائے۔ سچ ہے اگر آدمی میں رحم نہیں تو وہ انسان نہیں، اور جس کی جی میں درد نہیں وہ قصائی ہے۔\n\nدرد دل کے واسطے پیدا کیا انساں کو\n\nورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں\n\nغرض حاتم کی جواں مردی نے نہ قبول کیا کہ اپنے کانوں سے سن کر چپکا ہو رہے۔ وونہیں باہر نکل آیا اور اس بوڑھے سے کہ اے عزیز! حاتم میں ہی ہوں۔ میرے تئیں نوفل کے پاس لے چل۔ وہ مجھے دیکھے گا اور جو کچھ روپے دینے کا اقرار کیا ہے تجھے دیوے گا۔ میر مرد نے کہا، سچ ہے کہ اس صورت میں بھلائی اور بہبودی البتہ ہے، لیکن وہ کیا جانے تجھ سے سلوک کرے، اگر مار ڈالے تو میں کیا کروں؟ یہ مجھ سے ہر گزر نہ ہو سکے گا کہ تجھ سے انسان کو طمع کی خاطر دشمنی کے حوالے کروں۔ وہ مال کتنے دن کھاؤں گا اور کب تک جیئوں گا؟ آخر مر جاؤں گا، تب خدا کو کیا جواب دوں گا۔\n\nحاتم نے بہتیری منت کی کہ مجھے لے چل۔ میں اپنے خوشی سے کہتا ہوں اور ہمیشہ اسی آرزو میں رہتا ہوں کہ مرا جان مال کسو کے کام آوے تو بہتر ہے۔ لیکن وہ بوڑھا کسی طرح راضی نہ ہوا کہ حاتم کو لے جاتا تو میں آپ سے آپ بادشاہ پس جا کر کہتا ہوں کہ اس بوڑھے مجھے جنگل میں ایک پہاڑ کی کوہ میں چھپا رکھا تھا۔ وہ بوڑھا ہنسا اور بولا۔ بھلائی کے بدلے برائی ملے، تو یا نصیب اس رد و بدل کے سوال جواب میں آدمی اور بھی آ پہنچے، بھیڑ لگ گئی۔ افسوس کرتا ہوا پیچھے پیچھے ساتھ ہو لیا۔ جب نوفل کے رو برو لے گئے تو اس نے پوچھا کو اس کو کون پکڑ لایا؟ ایک بد ذات سنگ دل بولا کہ ایسا کام سوائے ہماری اور کون کر سکتا ہے؟ یہ فتح ہماری نام ہے ہم نے عرش پر جھنڈا گاڑا ہے۔ ایک لن ترانی والا ٹینگ مارنے لگا کہ میں کئی دن سے دوڑ دھوپ کر کر جنگل سے پکڑ لیا ہوں۔ میری محنت پر نظر کیجئے اور جو قرار ہے، سو دیجئے۔ اسی طرح اشرفیوں کے لالچ سے ہر کوئی کہتا تھا کہ یہ کام مجھ سے ہوا۔ وہ بوڑھا چپکا ایک کونے میں لگتا ہوا سب کی شیخیاں سن رہا تھا اور حاتم کی خاطر روتا تھا۔ جب اپنی اپنی دلاوری اور مردانگی سب کہہ چکے۔ تب حاتم نے بادشاہ سے کہا اگر سچ بات پوچھو تو یہ ہے کہ وہ بوڑھا جو الگ سب سے کھڑا ہے، مجھ کو لایا ہے، اگر قیافہ پہچان جانتے ہو تو دریافت کرو اور میرے پکڑنے کی خاطر جو قبول کیا ہے پورا کرو کہ ساری ڈیل میں زبان حلال ہے۔ مرد کو چاہیے جو کہے سو کرے۔ نہیں تو جیبھ حیوان کو بھی خدا نے دی ہے۔ پھر حیوان اور انسان میں کیا تفاوت ہے؟ نوفل نے اس لکڑہارے بوڑھے کو پاس بلا کر پوچھا کہ سچ کہہ، اصل کیا ہے؟ حاتم کو کون پکڑ لایا؟ اس بیچارے نے سر سے پاؤں تک جو گذرا تھا راست کہہ سنایا اور کہا حاتم میری خاطر آپ سے چلا آیا ہے۔ نوفل یہ ہمت حاتم کی سن کر متعجب ہوا کہ بل بے تیری سخاوت اپنی جان کا بھی خطر نہ کیا۔ جتنے جھوٹ دعوے حاتم کو پکڑ لانے کے کرتے تھے، حکم ہوا کہ ان کی ٹنڈیاں کس کر پانچ سو اشرفی کے بدلے پانچ پانچ سو جوتیاں اس کے سر پر لگاؤ کہ ان کی جان نکل پڑے۔ وونہیں تڑ تڑ بیزا سریں پڑنے لگیں کہ ایک دم میں سر ان کے گنجے ہو گئے۔ سچ ہے، جھوٹ بولنا ایسی ہی گناہ ہے کہ کوئی گناہ اس نہیں پہنچتا۔ خدا سب کو اس بلا سے محفوظ رکھے اور جھوٹ بولنے کا چسکا نہ دے۔ بہت آدمی جھوٹ موٹ بکے جاتے ہیں لیکن آزمائش کے وقت سزا پاتے ہیں۔ غرض ان سب کو موافق ان کے انعام دے کر، نوفل نے اپنے دل میں خیال کیا کہ حاتم سے شخص سے کہ ایک عالم کو اس سے فیض پہنچتا ہے اور محتاجوں کی خاطر جان اپنی دریغ نہیں کرتا اور خدا کی راہ میں سرتاپا حاضر ہے دشمنی رکھنی اور اس کا مدعی ہونا مرد آدمیت اور جواں مردی سے بعید ہے۔ وونہیں حاتم کا ہاتھ بڑی دوستی اور گرم جوشی سے پکڑ لیا اور کہا کیوں نہ ہو جب ایسی ہو تب ایسی ہو تواضع تعظیم کر کر پاس بٹھلایا اور حاتم کو ملک و املاک اور مال و اسباب جو ضبط کیا وونہیں چھوڑ دیا، نئے سر سے سرداری قبیلہ طے کی اسے دی اور اس بوڑھے کو پانچ سو اشرفیاں خزانے سے دلوا دیں وہ دعا دیتا ہوا چلا گیا۔\n\nجب یہ ماجرا حاتم کا میں نے تمام سنا جی میں غیرت آئی اور یہ خیال گزرا کہ حاتم اپنی قوم کا رئیس تھا، جن نے سخاوت کے باعث یہ نام پیدا کیا کہ آج تلک مشہور ہے۔ میں خدا کے حکم سے بادشاہ تمام ایران کا ہوں، اگر اس نعمت سے محروم رہوں تو بڑا افسوس ہے۔ فی الواقع دنیا میں کوئی بڑا داد و دہش سے نہیں۔ اس واسطے کہ آدمی جو کچھ دنیا میں دیتا ہے اس کو عوض عاقبت میں لیتا ہے۔ اگر کوئی ایک دانہ بوتا ہے تو اس جتنا کچھ پیدا ہوتا ہے۔ یہ بات دل میں ٹھہرا کر میر عمارت کو بلوا کر حکم کیا کہ ایک مکان عالی شان جس کے چالیس دروازے بلند اور بہت کشادہ ہوں، باہر شہر کے جلد بنواؤ۔ تھوڑے عرصے میں ویسی ہی عمارت جیسا دل چاہتا تھا بن کر تیار ہوئی اور اس مکان میں ہر روز ہر وقت فجر سے شام تک محتاجوں اور بے کسوں کے تئیں روپے اشرفیاں دیتا، اور جو کوئی جس چیز کا سوال کرتا، میں اسے مالا مال کرتا۔\n\nغرض چالیس دروازوں سے حاجت مند آتے اور جا چاہتے سو لے جاتے۔ ایک روز کا یہ ذکر ہے کہ ایک فقیر سامنے کے دروازے سے آیا اور سوال کیا۔ میں نے اسے ایک اشرفی دی۔ پھر وہی دوسرے دروازے سے ہو کر آیا، دو اشرفیاں مانگیں۔\n\nمیں نے پہچان کر درگزر کی اور دیں۔ اسی طرح اس نے ہر ایک دروازے سے اور ایک ایک اشرفی بڑھانا شروع کیا اور میں بھی جان بوجھ کر ان جان ہوا، اور اس کے سوا موافق دیا گیا۔ آخر چالیس دروازے کی راہ سے آ کر چالیس اشرفیاں مانگیں۔ وہ بھی میں نے دلوا دیں اتنا کچھ لے کر وہ درویش پھر پہلے دروازے سے گھس آیا اور سوال کیا۔ مجھے بہت برا معلوم ہوا۔ میں نے کہا سن اے لالچی تو کیسا فقیر ہے کہ ہر گز فقیر کے تینوں حرفوں سے واقف نہیں؟ فقیر کا عمل ان پر چاہیے۔ فقیر بولا۔ بھلا داتا تم ہی بتاؤ میں نے کہا \" ف \" سے فاقہ، \" ق \" سے قناعت \" ر \" سے ریاضت نکلتی ہے، جس میں یہ باتیں نہ ہوں وہ فقیر نہیں۔ اتنا جو تجھے ملا ہے، اس کو کھا پی کر پھر آئیو اور جو مانگے گا لے جائیو۔ یہ خیرات احتیاج رفع کرنے کے واسطے ہے نہ جمع کرنے کے لیے۔ اے حریص! چالیس دروازوں سے تو نے ایک اشرفی سے چالیس اشرفیوں تک لیں، اس کا حساب تو کر کہ ریوڑی کے پھیری طرح کتنی اشرفیاں ہوئیں اور اس پر بھی تجھے حرص پھر پہلے دروازے سے لے آئی۔ اتنا مال جمع کر کے کیا کرے گا؟ فقیر کو چاہیے کہ ایک روز کی فکر کر لے اور دوسرے دن پھر نئی روزی رازق دینے والا موجود ہے۔ اب حیا و شرم پکڑ اور صبر و قناعت کا کام فرما۔ یہ کیسی فقیری ہے جو تجھے مرشد نے بتائی ہے؟\n\nفقیر یہ میری بات سن کر خفا اور بد دماغ ہوا اور جتنا مجھ سے لے کر جمع کیا تھا سب زمیں میں ڈال دیا اور بولا۔ بس بابا اتنے گرم مت ہو۔ اپنی کائنات لے کر رکھ چھوڑو، پھر سخاوت کا نام لیجئو۔ سخی ہونا بہت مشکل ہے۔ تم سخاوت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اس منزل کو کب پہنچو؟ ابھی دلی دور ہے۔ سخی کے بھی تین حروف ہیں۔ پہلے ان پر عمل کرو تب سخی کہلاؤ گے۔ جب میں ڈرا اور کہا بھلا داتا! اس کے معنی مجھے سمجھاؤ۔ کہنے لگا۔ س سے سمائی اور خ سے خوف الٰہی اور ی سے یاد رکھنا اپنی پیدائش اور مرنے کو، جب تلک اتنا نہ ہو لے، تو سخاوت کا نام لے، اور سخی کا درجہ ہے کہ اگر بدکار ہو، تو بھی دوست خدا کا ہے، اس فقیر نے بہت ملکوں کے سیر کی ہے، لیکن سوائے بصرے کی بادشاہ زادی کے کوئی سخی دیکھنے میں نہ آیا۔ سخاوت کا خاصہ خدا نے اس عورت پر قطع کیا ہے اور سب نام چاہتے ہیں، پر ویسا کام نہیں کرتے۔ یہ بھی سن کر میں نے بہت منت کی اور قسمیں دیں کہ میری تقصیر معاف کرو اور جو چاہیے سو اور میر دیا ہرگز نہ لیا اور یہ بات کہتا ہوا چلا۔ اب اپنی ساری بادشاہت مجھے دے تو اس پر بھی نہ تھوکوں اور نہ دھر ماروں، وہ تو چلا گیا پر بصرے کی بادشاہ زادی کی یہ تعریف سننے سے دل بے کل ہوا۔ کسی طرح کل نہ تھی۔ اب یہ آرزو ہوئی کہ کسو صورت سے بصرے چل کر اس کو دیکھا چاہیے۔\n\nاس عرصے میں بادشاہ نے وفات پائی اور تخت پر میں بیٹھا۔ سلطنت ملی پر وہ خیال نہ گیا۔ وزیر اور امیروں سے، جو پائے تختِ سلطنت کے اور کان مملکت کے تھے، مشورت کی کہ سفر بصرے کا کیا چاہتا ہوں۔ تم اپنے کام میں مستعد رہو۔ اگر زندگی ہے تو سفر کی عمر کوتاہ ہوتی ہے، جلد پھر میں آتا ہوں۔ کوئی میرے جانے پر راضی نہ ہوا۔ لاچار دل تو اداس ہو رہا تھا۔ ایک دن بغیر سبب کے کہے سنے، چپکے سے وزیرِ با تدبیر کو بلا کر مختار اور وکیل مطلق اپنا کیا اور سلطنت کا مدار المہام بنایا۔ پھر میں نے گیروا بسر پہن فقیر بھیس کر، اکیلے راہ بصرے کی لی۔ تھوڑے دنوں میں اس کی سرحد میں جا پہنچا۔ تب سے یہ تماشا دیکھنے لگا کہ جہاں رات کو جا کر مقام کرتا، نوکر چاکر اسی ملکہ کے استقبال کر کر ایک مکان معقول میں اتارتے، اور جینا لوازمہ ضیافت کا ہوتا ہے، بخوبی موجود ہو کر اور خدمت میں دست بستہ تمام رات حاضر رہتے، دوسرے دن دوسری منزل میں یہی صورت پیش آتی۔ اسی آرام سے مہینوں کی راہ طے کی۔ آخر بصرے میں داخل ہوا۔ وونہیں ایک جواں شکیل، خوش لباس، نیک خُو، صاحبِ مروت کہ دانائی اس کے قیافے سے ظاہر تھی، میرے پاس آیا اور نپٹ شیریں زبانی سے کہنے لگا کہ میں فقیروں کا خادم ہوں، ہمیشہ اسی تلاش میں رہتا ہوں کہ جو کوئی مسافر، فقیر یا دنیا دار اس شہر میں آوے، میرے گھر میں قدم رنجہ فرماوے، سوائے ایک مکان کے یہاں بدیسی کے رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ آپ تشریف لے چلئے اور مقام کو زینت بخسئے اور مجھے سرفراز کیجئے۔\n\nفقیر نے پوچھا، صاحب کا اسمِ شریف کیا ہے۔ بولا اس گمنام کا نام بیدار بخت ہے۔ اس کی خوبی اور تملق دیکھ کر یہ عاجز اس کے ساتھ چلا اور اس کے مکان میں گیا۔ دیکھا تو ایک عمارت عالی لوازم شاہانہ سے تیار ہے۔ ایک دالان میں اس نے لے جا کر بٹھایا اور گرم پانی منگوا کر ہاتھ پاؤں دھلوائے اور دستر خوان بچھوا کر مجھ تن تنہا کے روبرو بکاول نے ایک تاورے کا تورا چن دیا۔ چار بشقاب، ایک میں یخنی پلاؤ، دوسری میں قورما پلاؤ، تیسری میں متنجن پلاؤ اور چوتھی میں کوکو پلاؤ اور ایک قاب زردے کی اور کئی طرح کے قلئے، دو پیازہ، نرگسی، بادام، روغن جوش اور روٹیاں کئی قسم کی باقر خانی، تنکی شیرمال، گاؤدیدہ، گاؤ زبان، نعمت نان، پراٹھے، اور کباب کوفتے کے، مرچ کے تکے، خاگینہ، ملغوبہ شب دیگ، دم پُخت، حلیم، ہریسا، سموسے، ورتی، قبولی، فرنی، شیر برنج، ملائی، حلوہ، فالودہ، پن بھتا، نمش، آب شورہ، ساق عروس، لوزیات، مربہ اچار دان، دہی کی قلفیاں، یہ نعمتیں دیکھ کر روح بھر گئی۔ جب ایک ایک نوالہ ہر ایک سے لیا، پیٹ بھی بھر گیا، تب کھانے سے ہاتھ کھینچا۔ وہ شخص مجوز ہوا کہ صاحب نے کیا کھایا؟ کھانا تو سب امانت دھرا ہے بے تکلف اور نوشِ جان فرمائیے۔ میں نے کہا شرم کیا ہے خدا تمہارا خانہ آباد رکھے۔ جو کچھ میرے پیٹ میں سمایا سو میں نے کھایا اور ذائقے کی اس کے کیا تعریف کروں کہ اب تک جزبان چاٹتا ہوں اور جو ڈکار آتی ہے سو معطر۔ لو اب مزید کرو۔ جب دسترخوان اٹھا تو زیر انداز کا شانی مخمل کا مقیش بچھا کر چلمچی، آفتابہ طلائی لا کر بیس دان میں سے خوشبو دار بیس دے کر گرم پانی سے میرے ہاتھ دھلائے۔ پھر پان دان جڑاؤ میں گلوریاں سونے کی بھر کر پکھروٹوں میں بندھی ہوئیں اور چو گھروں میں گلوریاں، چکنی سپاریاں اور لونگ الائچیاں، روپہلے ورقوں میں منڈھی ہوئی لا کر رکھیں۔ جب میں پانی پینے کو مانگتا تب صراحی برف میں لگی ہوئی آب دار لے آتا۔\n\nجب شام ہوئی فانوسوں میں کافوری شمعیں روشن ہوئیں۔ وہ عزیز بیٹھا ہوا باتیں کرتا رہا۔ جب پہر رات بیت گئی، بولا اب اس چھپر کھٹ میں کہ جس کے آگے دلدار پیش گیر کھڑا ہے، آرام کیجئے۔ فقیر نے کہا اے صاحب! ہم فقیروں کو ایک بوریا یا مرگ چھار بستر کے لئے بہت ہے۔ یہ خدا نے تم دنیا داروں کے واسطے بنایا ہے۔ کہنے لگا۔ یہ سب اسباب درویشوں کی خاطر ہے۔ کچھ میرا مال نہیں۔ اس کے بجد ہونے سے ان بچھونے پر۔ کہ پھولوں کی سیج جیسی بھی نرم تھے، جا کر لیٹا۔ دونوں پٹیوں کی طرف گلدان اور چنگیریں پھولوں کی چنی ہوئیں اور عود سوز اور لخلخے روشن تھے، جیدھر کی کروٹ لیتا دماغ معطر ہو جاتا۔ اس عالم میں سو رہا۔\n\nجب صبح ہوئی ناشتے کو بھی بادام، پستے، انگور، انجیر، ناشپاتی، انار، کشمش، چھوہارے اور میوے کا شربت لا کر حاضر کیا۔ اسی طور سے تین دن رہا۔ چوتھے روز میں نے رخصت مانگی۔ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا شاید اس گنہگار سے صاحب کی خدمت گاری میں کچھ قصور ہوا کہ جس کے باعث مزاج تمہارا مکدر ہوا، میں نے حیران ہو کر کہا برائے خدا یہ کیا مذکور ہے؟ لیکن مہمانی کی شرط تین دن تلک ہے سو میں رہا۔ زیادہ رہنا خوب نہیں اور علاوہ یہ فقیر واسطے سیر کے نکلا ہے۔ اگر ایک ہی جگہ زیادہ رہ جاوے تو مناسب نہیں۔ اس لئے اجازت چاہتا ہے نہیں تو تمہاری خوبیاں ایسی نہیں کہ جدا ہونے کو جی چاہے۔ تب وہ بولا جیسی مرضی لیکن ایک سماعت توقف کیجئے کہ بادشاہ زادی کے حضور میں جا کر عرض کروں۔ اور تم جو جایا چاہتے ہو تو جو کچھ اسباب اوڑھے بچھانے کا اور کھانے کے باسن روپے سونے کے اور جڑاؤ کے اس مہمان خانے میں ہیں، یہ سب تمہارا مال ہے، اس کے ساتھ لے جانے کی خاطر جو فرماؤ تدبیر کی جائے۔ میں نے کہا لا حول پڑھو، ہم فقیر نہ ہوئے نئے بھاٹ ہوئے۔ اگر یہی حرص دل میں ہوتی تو فقیر کاہے کو ہوتے، دنیا داری کیا بری تھی۔\n\nاس عزیز نے کہا اگر یہ احوال ملکہ سے سنے تو خدا جانے مجھے اس خدمت سے تغیر کر کر کیا سلوک کرے۔ اگر تمہیں ایسی ہی بے پروائی ہے تو ان سب کو ایک کوٹھڑی میں امانت بند کر کر دروازے کو سر بہ مہر کر دو پھر جو چاہو سو کیجو۔\n\nمیں قبول نہ کرتا تھا اور وہ مانتا بھی نہ تھا۔ لاچار یہی صلاح ٹھہری کہ سب اسباب کو گند کر کر قفل کر دیا اور منتظر رخصت کا ہوا۔ اتنے میں ایک خواجہ سرا معتبر سر پر سر پیچ اور گوش پیچ اور کمر بندی، باندھے ایک عصا سونے کا جڑاؤ ہاتھ میں اور ہاتھ اس کے کئی خدمت گار، معقول عہدے لیے ہوئے اس شان و شوکت سے میرے نزدیک آیا۔ ایسی ایسی مہربانی اور ملائمت سے گفتگو کرنے لگا کہ جس کا بیان نہیں کر سکتا۔ پھر بولا، اے میاں، اگر توجہ اور کرم کر اس مشتاق کے غریب خانے کو اپنے قدم کی برکت سے رونق بخشو تو بندہ نوازی اور غریب پروری سے بعید نہیں۔ شاید شہزادی سنے کہ کوئی مسافر یہاں آیا تھا۔ اس کی تواضع مدارت کسے نے نہ کی، وہ یوں ہی چلا گیا۔ اس واسطے واللہ اعلم مجھ پر کیا آفت لاوے اور کیسی قیامت اٹھاوے، بلکہ حرف زندگی پر ہے۔ میں نے ان باتوں پر نہ مانا۔ تب خواہ مخواہ منتیں کر کرے میرے تئیں اور ایک حویلی میں، کہ پہلے مکان سے بہتر تھی، لے گیا۔ اسی پہر شربت اور تفنن کی خاطر میوے کھلائے اور باسن نقرئی و طلائی فرش فروش اور اسباب جو کچھ وہاں تھا مجھے سے کہنے لگا کہ ان سب کے تم مالک مختار ہو۔ جو چاہو سو کرو۔ میں یہ باتیں سن کر حیران ہوا اور چاہا کہ کسی نہ کسی طرح یہاں سے رخصت ہو کر بھاگوں۔ میرے بشرے کو دیکھ کر وہ محلی بولا اے خدا کے بندے، جو تیرا مطلب یا آرزو ہو، سو مجھ سے کہہ، تو حضور میں ملکہ کے جا کر عرض کروں۔ میں نے کہا۔ میں فقیری کے لباس میں دینا کا مال کیا مانگوں کہ تم بغیر مانے دیتے ہو اور میں انکار کرتا ہوں۔ تب وہ کہنے لگا کہ حرص دنیا کی کسی کے جی سے نہیں گئی۔ چنانچہ کسو کب نے کبت کہا ہے:\n\nنکھ بن کٹا دیکھے، سمیں بھاری جٹا دیکھے\n\nجوگی کن پتھا دیکھے، چھار لائے تن میں\n\nموتی انمول دیکھے، سیوڑا سر چھول دیکھے\n\nکرت کلول دیکھے، بن کھنڈی بن میں\n\nبیر دیکھے، سور دیکھے، سب گئی اور کوڑ دیکھے\n\nمایا کہ پور دیکھے، پھول رہے، دھن میں\n\nاوی انت سکھی دیکھے، جنم ہی کے دکھی دیکھے\n\nپردے نہ دیکھے، جن کے لوبھ ناہیں من من\n\nمیں نے یہ سن کر جواب دیا کہ یہ سچ ہے، پر میں کچھ نہیں چاہتا۔ اگر فرماؤ تو ایک رقعہ سر بہ مہر اپنے مطلب کا لکھ کر دوں جو حضور ملکہ کے پہنچا دو، تو بڑی مہربانی ہے، گویا تمام دنیا کا مال مجھ کو دیا۔ بولا بسر و چشم کیا مضائقہ میں نے ایک رقعہ لکھا پہلے شکر خدا کیا پھر احوال کہ یہ بندہ خدا کا کئی روز سے اس شہر میں وارد ہے اور سرکار سے سب طرح کی خبر گیری ہوتی ہے۔ جیسی خوبیاں اور نیک نامیاں ملکہ کی سن کر اشتیاق دیکھنے کا ہوا تھا، اس سے چار چند پایا۔ اب حضور کے ارکان دولت یوں کہتے ہیں کہ جو مطلب اور تمنا تیری ہو، سو ظاہر کر۔ اس واسطے بے حجابانہ جو جو دل کی آرزو ہے، سو عرض کرتا ہو کہ دنیا کے مال کا محتاج نہیں۔ اپنے ملک کا میں بھی بادشاہ ہوں۔ فقط یہاں آنا اور محنت اٹھانا آپ کے اشتیاق کے سبب سے ہوا جو تن تنہا اس صورت سے آ پہنچا۔ اب امید ہے کہ حضور کی توجہ سے خاک نشین مطلب دلی کو پہنچے لائق ہے۔ آگے جو مرضی مبارک۔ لیکن اگر یہ التماس خاکسار کا قبول نہ ہو گا، تو اسی طرح خاک چھنتا پھرے گا اور اس جان بے قرار کو آپ کے عشق میں نثار کرتے گا۔ مجنوں اور فرہاد کی مانند جنگل میں یا پہاڑ پر مر رہے گا۔\n\nیہی مدعا لکھ کر اس خوجے کو دیا۔ اس نے بادشاہ زادی تلک پہنچایا۔ بعد ایک دم کے پھر آیا اور میرے تئیں اور اپنے ساتھ محل کی ڈیوڑھی پر لے گیا۔ وہاں جا کر دیکھا تو ایک بوڑھی سی عورت صاحب لیاقت سنہری کرسی پر گہنا پاتا پہنے ہوئے بیٹھی ہے۔ اور کئی خوجے خدمت گار تکلف کے لباس پہنے ہوئے ہاتھ باندھے سامنے کھڑے ہیں۔ میں اسے مختار کا جان کر اور دیرینہ سمجھ کر دست بسر ہوا۔ اس ماما نے بہت مہربانی سے سلام کیا اور حکم کیا آؤ بیٹھو خوب ہوا تم آئے۔ تمہیں نے ملکہ کے اشتیاق کا رقعہ لکھا تھا؟ میں شرم کھا کر چپ ہو رہا اور سر نیچا۔\n\nایک ساعت کے بعد بولی کہ اے جوان! پادشاہ زادی نے سلام کہا اور فرمایا کہ مجھ کو خاوند کرنے سے عیب نہیں۔ تم نے میری درخواست کی، لیکن اپنی پادشاہت کا بیان کرنا اور اس فقیری میں اپنے تئیں پادشاہ سمجھنا اور اس کا غرور کرنا نپٹ بے جا ہے۔ اس واسطے کہ سب آدمی آپس میں فی الحقیقت ایک ہیں، لیکن فضیلت دین اسلام کی البتہ ہے اور میں بھی ایک مدت سے شادی کرنے کی آرزومند ہوں، اور جیسے تم دولت دنیا سے بے پروا ہو، میرے تئیں بھی حق تعالیٰ اتنا مال دیا ہے کہ جس کا کوئی حساب نہیں۔ پر ایک شرط ہے کہ پہلے مہر ادا کر لو، اور مہر شاہ زادی کا ایک بات ہے جو تم سے ہو سکے۔\n\nمیں نے کہا۔ میں سب طرح حاضر ہوں۔ جان و مال سے دریغ نہیں کرنے کا۔ وہ بات کیا ہے؟ کہو تو میں سنوں۔ تب اس نے کہا آج کے دن رہ جاؤ کل تمہیں کہہ دوں گی۔ میں نے خوشی سے قبول کیا اور رخصت ہو کر باہر آ یا۔\n\nدن تو گزرا، جب شام ہوئی تو اکابر عالم اور فاضل صاحب شرع حاضر ہیں، میں بھی اس جلسے میں جا کر بیٹھا۔ اتنے میں دسترخوان بچھایا گیا۔ اور کھانے اقسام اقسام کے شیریں اور نمکین چُنے گئے۔ وہ سب کھانے لگے تو مجھے بھی تواضع کر کر شریک کیا۔ جب کھانے سے فراغت ہوئی ایک دائی اندر آئی اور بولی کہ بہروز کہاں ہے؟ اسے بلاؤ۔ یسادلوں نے وونہیں حاضر کیا۔ اس کی صورت میں بہت مرد آدمی کی سی اور بہت سی کنجیاں روپے سونے کی کمر میں لٹکی ہوئیں۔ سلام علیک کر کے میرے پاس آ کر بیٹھا۔ وہی دائی کہنے لگی کہ اے بہروز! تُو نے جو کچھ دیکھا ہے مفصل اس کا بیان کر۔\n\nبہروز نے یہ داستان کہنی شروع کی اور مجھ سے مخاطب ہو کر بولا اے عزیز ہماری پادشاہ زادی کی سرکار میں ہزاروں غلام ہیں کہ سوداگری کے کام نہیں متعین ہیں۔ ان میں سے ایک میں بھی ادنا خانہ زاد ہوں۔ ہر ایک ملک کی طرف لاکھوں روپے کا اسباب اور جنس دے کر رخصت فرماتی ہیں جب وہ وہاں سے پھر آتا ہے تب اس سے اس دیس کا احوال اپنے حضور میں پوچھتی ہیں اور سنتی ہیں۔ ایک بار یہ اتفاق ہوا کہ کم ترین تجارت کی خاطر چلا اور شہر نیم روز پہنچا۔ وہاں کے باشندوں کے دیکھا تو سب کا لباس سیاہ ہے اور ہر دم نالہ و آہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان پر کچھ بڑی مصیبت پڑی ہے۔ اس سبب جس سے میں پوچھتا کوئی جواب میرا نہ دیتا۔\n\nایس حیرت میں کئی روز گزرے۔ ایک دن جونہیں صبح ہوئی۔ تمام آدمی چھوٹے بڑے، لڑکے بوڑھے غریب، غنی، شہر کے باہر چلے۔ ایک میدان میں جا کر جمع ہوئے، اور اس ملک کا بادشاہ بھی سب امیروں کے ساتھ سوار ہوا اور وہاں گیا۔ تب سب برابر قطار باندھ کر کھڑے ہوئے۔\n\nمیں بھی ان کے درمیان کھڑا تماشا دیکھتا تھا۔ پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب کسو کا انتظار کھینچ رہے ہیں۔ ایک گھڑی کے عرصے میں دور سے ایک جوان پری زاد صاحب جمال پندرہ سولہ برس کا سن و سال، غل اور شور کرتا ہوا اور کف منہ سے جاری زرد بیل کی سواری، ایک ہاتھ میں کچھ لئے مقابل خلق اللہ کے آیا اور اپنے بیل پر سے اترا۔ ایک ہاتھ میں ناتھ اور ایک ہاتھ میں ننگی تلوار لے کر دو زانو بیٹھا۔ ایک گل اندام، پری چہرہ اس کے ہمراہ تھا۔اس کو اس جوان نے وہ چیز جو ہاتھ میں تھی دی وہ یتیم لے کر ایک سرے سے ہر ایک کو دیکھاتا جاتا تھا‘ لیکن یہ حالت تھی کہ جو کوئی دیکھتا تھا بے اختیار دھاڑ مار کر روتا تھا۔ اسی طرح سب کو دکھاتا اور رلاتا ہوا سب کے سامنے سے ہو کر اپنے خاوند کے پاس پھر گیا۔\n\nاس کے جاتے ہی وہ جوان اٹھا اور غلام کا سر شمشیر سے کاٹ کر اور سوار ہو کر جیدھر سے آیا تھا، اودھر کو چلا۔ سب کھڑے دیکھا کئے۔ جب نظروں سے غائب ہوا لوگ شہر کی طرف پھرے۔میں ہر ایک سے اس ماجرے کی حقیقت پوچھتا تھا بلکہ روپیوں کا لالچ دیتا اور خوشامد منت کرتا کہ مجھے ذرا بتا دو کہ یہ جوان کون تھا؟ اور اس نے یہ کیا حرکت کی۔ اور کہاں سے آیا اور کہاں گیا؟ ہرگز کسی نے نہ بتلایا اور نہ کچھ میرے خیال میں آیا۔ یہ تعجب دیکھ کر جب میں یہاں آیا اور ملکہ کے روبرو اظہار کیا۔ تب سے پادشاہ زادی بھی حیران ہو رہی ہے اور اس کے تحقیق کرنے کی خاطر دو دلی ہو رہی ہے۔ لہٰذا مہر اپنا یہی مقرر کیا ہے کہ جو شخص اس عجوبے کی کماحقہ‘ خبر لاوے، اس کو پسند فرماوے اور وہی مالک سارے ملک کا اور ملکہ کا ہووے۔\n\nیہ ماجرا تم نے سب سنا۔ اپنے دل میں غور کرو، اگر تم اس جوان کی خبر لا سکو تو قصد ملک نیم روز کا کرو اور جلد روانہ ہو۔ نہیں تو انکار کر کر اپنے گھر کی راہ لو، میں نے جواب دیا کہ اگر خدا چاہے تو جلد اس کا احوال سر سے پاؤں تک دریافت کر کر پادشاہ زادی تک آ پہنچتا ہوں اور کامیاب ہوتا ہوں۔ اور جو میری قسمت بدتر ہے تو اس کا کچھ علاج نہیں، لیکن ملکہ اس کا قول اقرار کریں کہ اپنے کہنے سے نہ پھریں۔ اور بالفعل ایک اندیشہ مشکل میرے دل میں خلش کر رہا ہے۔ اگر ملکہ غریب نوازی اور مسافر پروری سے حضور میں بلاویں اور پردے کے باہر بٹھلا دیں اور میرا التماس اپنے کانوں سنیں اور اس کا جواب اپنی زبان سے فرما دیں تو میری جان جمع ہو، اور مجھ سے سب کچھ ہو سکے۔ یہ میرے مطلب کی بات اس ماما نے روبرو اس پیکر کے عرض کی بارے قدردانی کی راہ سے حکم کیا کہ انہیں بلا لو۔\n\nدائی پھر باہر آئی اور مجھے اپنے ساتھ جس محل میں پادشاہ زادی تھی، لے گئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ دو رویہ صف باندھے دست بستہ سہیلیاں اور خواصیں اور اروابیگیاں قلماقنیاں، ترکیناں، حبشیاں، ازبکنیاں، کشمیرنیاں جواہر میں جڑی عہد لئے کھڑی ہیں۔ اندر کا اکھاڑا کہوں یا پریوں کا اتارا؟ بے اختیار ایک آہ بےخودی سے زباں تک آئی اور کلیجہ تہلکے لگا۔ پر بہ زور اپنے تئیں تھانبا۔ ان کو دیکھتا بھالتا اور سیر کرتا آگے چلا، لیکن پاؤں سو سو من کے ہو گئے۔ جس کو دیکھو پھر یہ نہ جی چاہے کہ آگے جاؤں۔ ایک طرف چلون پڑی تھی اور مونڈھا جڑاؤ بچھوا رکھا تھا، اور ایک چوکی بھی صندل کی بچھی ہوئی تھی۔ دائی نے مجھے بیٹھنے کی اشارت کی۔ میں مونڈھے پر بیٹھ گیا اور وہ چوکی پر، کہنے لگی لو اب جو کہنا ہے سو جی بھر کر کہو۔\n\nمیں نے ملکہ کی خوبیوں کی اور عدل و انصاف۔ داردو دہش کی پہلے تعریف کی پھر کہنے لگا۔ جب سے میں اس ملک کی سرحد میں آیا، ہر ایک منزل میں یہی دیکھتا کہ جا بجا مسافرخانے اور عمارتیں عالی بنیں ہوئیں ہیں اور آدمی ہر ایک عہدے کے تعینات ہیں کہ خبرگیری مسافروں کی کرتے ہیں۔ مجھے بھی تین دن ہر ایک مقام میں گزرے چوتھے روز جب رخصت ہونے لگا تب کسو نے خوشی سے نہ کہا کہ جاؤ۔ اور جتنا اسباب اس مکان میں تھا، شطرنجی،چاندی،قالین،ستیل پانی،منگل کوٹی، دیوار گیری،چھت پردے،چلونیں،سائبان، نم گیرے، چھپر کھٹ مع غلاف،اوقچہ،توشک،بالا پوش،سإیج بند، چادر تکیے،تکینی،گل تکیے،مسند،گاؤ تکیے،دیگ دیگچے،پتیلے،طباق،رکابی،با دئیے،تشتری،چمچے،بکاؤلی،کف گیر،طعام بخش، سرپوش، سینی، خوان، پوش، تورہ پوش، آبخورے، بجھرے، صراحی، لگن، پان دان،چوگھرے، چنگیر، گلاب پوش، عود، سوز، آفتابہ، چلمچی سب میرے حوالے کیے کہ یہ تمہارا مال ہے چاہو اب لے جاؤ، نہیں تو ایک کوٹھڑے میں بند کر کر اپنی مہر کرو۔ جب تمہاری خوشی ہو گی پھرتے ہوئے لے جائیو۔ میں نے یوں ہی کیا۔ پر یہ حیرت ہے کہ جب مجھ سے فقیر تنہا سے یہ سلوک ہوا۔ تو ایسے غریب ہزاروں تمہارے ملکوں میں آتے جاتے ہوں گے۔ پس ہر ایک سے یہی مہمان داری کا طور رہتا ہو گا تو مبلغ بےحساب خرچ ہوتی ہوں گے۔پس اتنی دولت کہ جس کا یہ صرف ہے، کہاں سے آئی اور کیسی ہے؟ اگر گنجِ قارون ہو تو بھی وفا نہ کرے۔ اور ظاہری میں اگر ملکہ کی سلطنت پر نگاہ کیجئے تو اس کی آمد فقط باورچی خانے کے خرچ کو بھی کفایت نہ کرتی ہو گی۔ اور خرچوں کا تو کیا ذکر ہے۔ اگر اس کا بیان ملکہ کی زبان سے سنوں تو خاطر جمع ہو، قصد ملک نیم روز کا کروں اور جوں توں وہاں جا پہنچوں پھر سب احوال دریافت کر کے ملکہ کی خدمت میں بہ شرط زندگی بار دگر حاضر ہوں، اپنے دل کی مراد پاؤں۔\n\nیہ سن کر ملکہ نے اپنی زبان سے کہا کہ اے جوان! اگر تجھے آرزو کمال ہے کہ یہ ماہیت دریافت کرے تو آج کے دن بھی مقام کر۔ شام کو تجھے حضور میں طلب کر کر جو کچھ احوال اس دولتِ بے زوال کا ہے، بے کم و کاست کہا جائے گا۔ میں یہ تسلی پا کر اپنی استقامت کے مکان پر آ کر منتظر تھا کہ کب شام ہو جو میرا مطلب تمام ہو۔ اتنے میں خواجہ سرا کئی چوگاشے تورہ پوش پڑے بھوئیوں کے سر پر دھرے آ کر موجود ہوا اور بولا کہ حضور سے الش خاص عنایت ہوا ہے اس کو تناول کرو۔جس وقت میرے سامنے کھولے بوباس سے دماغ معطر ہوا اور روح بھر گئی۔ جتنا کھا سکا کھا لیا۔ باقی ان سبھوں کو اٹھا دیا اور شکر نعمت کہہ بھیجایا۔ بارے آفتاب تمام دن کا مسافر تھکا ہوا، گرتا پڑتا اپنے محل میں داخل ہوا اور ماہتاب دیوان خانے میں اپنے مصاحبوں کو ساتھ لے کر نکل بیٹھا، اس وقت دائی آئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ چلو پادشاہ زادی نے یاد فرمایا ہے۔ میں اس کے ہمراہ ہو لیا خلوت خاص میں لے گئی۔ روشنی کا یہ عالم تھا کہ شب قدر کو وہاں قدر نہ تھی اور بادشاہی فرش پر مسند مغرق بچھی ہوئی مرصع کا تکیہ لگا ہوا اور اس پر ایک شمیانہ موتیوں کا جھالر کا جڑاؤ استادوں پر کھڑا ہوا۔ اور سامنے مسند کے جواہر کے درخت پھولوں پات لگے ہوئے، گویا عین قدرتی ہیں۔ سونے کی کیاریوں میں جمے ہوئے اور دونوں طرف دست چپ شاگرد پیتے اور مجرائی دست بستہ، با ادب آنکھیں نیچی کئے ہوئے حاضر تھے اور طوائفیں اور گائنیں سازوں کے سُر بنائے منتظر۔ یہ سماں اور یہ تیاری کروفر دیکھ کر عقل ٹھکانے نہ رہی۔ دائی سے پوچھا کہ دن کو وہ زیبائش اور رات کو یہ آرائش کہ دن عید اور رات شب برات کہا چاہیے۔بلکہ دنیا میں بادشاہت ہفت اقلیم کو یہ عیش میسر نہ ہو گا۔ کیا ہمیشہ یہی صورت رہتی ہے؟ دائی کہنے لگی کہ ہماری ملکہ کا جتنا کارخانہ تم نے دیکھا یہ سب اسی دستور سے جاری ہے۔ اس میں ہرگز خلل نہیں۔ بلکہ افزوں ہے۔ تم یہاں بیٹھوں دوسرے مکان میں تشریف رکھتی ہیں، جا کر خبر کروں۔\n\nدائی یہ کہہ کر گئی اور انہی پاؤں پھر آئی کہ چلو حضور میں۔ یہ مجرد اس مکان میں جاتے ہی بھیچک رہ گیا۔ نہ معلوم ہوا کہ دروازہ کہاں اور دیوار کدھر ہے اور اس واسطے کہ آئینے قدم آدم چاروں طرف لگے اور ان کی پروازوں میں ہیرے موتی جڑے ہوئے تھے۔ ایک کا عکس ایک میں نظر آتا تو یہ معلوم ہوتا کہ جواہر کا سارا مکان ہے۔ ایک طرف پردہ پڑا تھا۔ اس کے پیچھے ملکہ بیٹھی تھیں۔ وہ دائی پردے سے لگ کر بیٹھی اور مجھے بھی بیٹھنے کو کہا۔ تب دائی ملکہ کے فرمانے سے اس طور پر بیان کرنے لگی کہ سن اے جوان! دانا! سلطان اس اقلیم کا بڑا بادشاہ تھا۔ اس کے گھر سات بیٹیاں پیدا ہوئیں ایک روز بادشاہ نے جشن منایا۔ یہ ساتوں لڑکیاں سولہ یہ ساتوں لڑکیاں سولہ سنگار، بارہ ابھرن بال بال گنج موتی پرو کر بادشاہ کے حضور کھڑی تھیں۔ سلطان کے کچھ جی آیا تو بیٹیوں کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ اگر تمہارا باپ بادشاہ نہ ہوتا اور کسی غریب کے گھر تم پیدا ہوتیں، تو تمھیں بادشاہ زادی اور ملکہ کون کہتا؟ خدا کا شکر کرو کہ شہزادیاں کہلاتی ہو، تمہاری یہ ساری خوبی میرے دم سے ہے، چھے لڑکیاں ایک زبان ہو کر بولیں کہ جہاں پناہ جو فرماتے ہیں بجا ہے، اور آپ ہی کی سلامتی سے ہماری بھلائی ہے۔ لیکن یہ ملکہ پناہ سب بہنوں سے چھوٹی تھیں، پر عقل و شعور میں اس عمر میں بھی گویا سب سے بڑی تھیں۔ چپکی کھڑی رہیں۔ اس گفتگو میں بہنوں کی شریک نہ ہوئیں۔ اس واسطے کہ یہ کلمہ کفر کا ہے۔\n\nبادشاہ نے نظرِ غضب سے ان کی طرف دیکھا اور کہا کیوں بی بی تم کچھ نہ بولیں اس کا کیا باعث ہے؟ تب ملکہ نے اپنے دونوں ہاتھ رومال سے باندھ کر عرض کی کہ اگر جان کی امان پاؤں اور تقصیر معاف ہو تو یہ لونڈی اپنے دل کی بات گزارش کرے۔ حکم ہوا کہ کیا کہتی ہے؟ تب ملکہ نے کہا کہ قبلہ عالم آپ نے سنا ہے کہ سچ بات کڑوی لگتی ہے سو اس وقت میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو کر عرض کرتی ہوں، اور جو کچھ میری قسمت میں لکھنے والے نے لکھا ہے اس کا مٹانے والا کوئی نہیں۔ کسو طرح نہیں ٹلنے کا۔\n\nخواہ تم پاؤں گھسو یا کہ رکھو سر بسجود\n\nبات پیشانی کی جو کچھ ہے سو پیش آتی ہے\n\nجس بادشاہ علی الاطلاق نے آپ کو بادشاہ بنایا۔ انہیں نے مجھے بھی بادشاہ زادی کہلوایا۔ اس کی قدرت کے کارخانے میں کسو کا اختیار نہیں چلتا۔ آپ کی ذات ہماری ولی نعمت اور قبلہ و کعبہ ہے۔ حضرت کے قدم مبارک کی خاک کو سرمہ کروں تو بجا ہے۔ مگر نصیب ہر ایک کے ہر ایک کے ساتھ ہیں۔ بادشاہ سُن کر طیش میں آئے اور جواب دل پر سخت گراں معلوم ہوا۔ بیزار ہو کر فرمایا۔ چھوٹا منہ بڑی بات، اب اس کی یہی سزا ہے کہ گہنا پاتا جو کچھ اس کے ہاتھ گلے میں ہے، اُتار لو۔ اور ایک میانے میں چڑھا کر ایسے جنگل میں کہ جہاں نام و نشان آدمی آدم زاد کا نہ ہو، پھینک آؤ۔ دیکھیں اس کے نصیبوں میں کیا لکھا ہے۔\n\nبموجب حکم بادشاہ کے اس آدھی رات میں کہ عین اندھیری تھی، ملکہ کو جو نرے بھونرے میں پلی تھیں اور سوائے اپنے محل کے دوسرے جگہ نہ دیکھی تھی، بھولی لے جا کر ایک میدان میں کہ وہاں پرندہ پر نہ مار سکتا، انسان کو تو کیا ذکر ہے، چھوڑ کر چلے آئے۔ ملکہ کے دل پر عجب حالت گزرتی تھی کہ ایک دم میں کیا تھا اور کیا ہو گیا؟ پھر اپنے خدا کی جناب میں شکر کرتیں اور کہتیں تو ایسا ہی بے نیاز ہے، جو چاہا سو ہو گیا۔ اور جو چاہتا ہے سو کرتا ہے اور جو چاہے گا سو کرے گا۔ جب تلک نتھنوں میں دم ہے، تجھ سے نا امید نہیں ہوتی۔ اسی اندیشے میں آنکھ لگ گئی۔ جس وقت صبح ہونے لگی ملکہ کی آنکھ کھُل گئی۔ پُکاریں کہ وضو کا پانی لانا۔ پھر ایک بارگی رات کی بات چیت یاد آئی کہ تو کہاں اور یہ بات کہاں؟ یہ کہہ کر اٹھ کر تیمّم کیا اور دوگانہ شکر کا پڑھا۔ اے عزیز، ملکہ کی اس حالت کے سننے سے چھاتی پھٹتی ہے۔ اس بھولے بھالے جی سے پوچھا چاہیے کہ کیا کہتا ہو گا۔ غرض اس میانے میں بیٹھی خدا سے لو لگائے رہتی تھیں۔ اور یہ کبت اس دم پڑھتی تھیں:\n\nجب دانت نہ تھے تب دودھ دیو، جب دانت دیے کاہے ان نہ دے ہے\n\nجو جل میں تھل میں پنچھی پس کی سدھ لیت، سو تیری بھی لے ہے\n\nکاہے کو سوچ کرے من مورکھ، سوچ کرے کچھ ہاتھ نہ آئے ہے\n\nجان کو دیت، ابا جان کو دیت، جہاں کو دیت سو تو کو بھی دے ہے\n\nسچ ہے جب کچھ بن نہیں آتا۔ تب خدا ہی یاد آتا ہے۔ نہیں تو اپنی اپنی تدبیر میں ہر ایک لقمان اور بو علی سینا ہے۔ اب خدا کے کارخانے کا تماشا سنو۔ اسی طرح تین دن رات صاف گزر گئے کہ ملکہ کے مُنہ میں ایک کھیل بھی اُڑ کر نہ گئ۔ وہ پھول سا بدن سوکھ کر کانٹا ہو گیا اور وہ رنگ جو کندن سا دمکتا تھا، ہلدی سا بن گیا۔ مُنہ میں پھپھڑی بندھ گئی، آنکھیں پتھرا گئیں، مگر ایک دم اٹک رہا تھا کہ وہ آتا جاتا تھا۔ جب تلک سانس تب تلک آس۔ چوتھے روز صبح کو ایک درویش، خضر کی سی صورت، نورانی چہرہ، روشن دل آ کر پیدا ہوا۔ ملکہ کو اس حالت میں دیکھ کر بولا اے بیٹی! اگرچہ تیرا باپ بادشاہ ہے لیکن تیری قسمت میں یہ بھی بدا تھا۔ اب اس فقیر بوڑھے کو اپنا خادم سمجھ اور اپنے پیدا کرنے والے کا رات دن دھیان رکھ۔ خدا خوب کرے گا۔ اور فقیر کے کشکول میں جو ٹکڑے بھیک کے موجود تھے، ملکہ کے روبرو رکھے اور پانی کی تلاش میں پھرنے لگا دیکھتے تو ایک کنواں تو ہے پر ڈول رسّی کہاں جس سے پانی بھرے؟ تھوڑے پتّے درخت سے توڑ کر دونا بنایا اور اپنی سیلی کھول کر اس میں باندھ کر نکالا اور ملکہ کو کچھ کھلایا پلایا۔ بارے ٹک ہوش آیا۔ اس مردِ خدا نے بےکس اور بےبس جان کو بہت سی تسلّی دی، خاطر جمع کی اور آپ بھی رونے لگا۔ ملکہ نے جب غم خواری اور دل داری اس کی بےحد دیکھی، تب ان کی رجا کو استقلال ہوا۔\n\nاس روز اس پیر مرد نے یہ مقرّر کیا کہ صبح کو بھیک مانگنے نکل جاتا۔ جو ٹکرا پارچہ پاتا، ملکہ کے پاس لے آتا اور کھلاتا۔\n\nاس طور سے تھوڑے روز گزرے۔ ایک روز ملکہ نے تیل سر میں ڈالنے اور کنگھی چوٹی کرنے کا قصد کیا۔ جوں ہی مباف کھولا، چٹلے میں سے ایک موتی کا دانہ گول آب دار نکل پڑا۔ ملکہ نے اس درویش کو دیا اور کہا کہ شہر میں اسے بیچ لاؤ۔ وہ فقیر اس گوہر کو بیچ کر اس کی قیمت بادشاہ زادی کے پاس لے آیا۔ تب ملکہ نے حکم کیا کہ ایک مکان موافق گزران کے اسی جگہ بنواؤ۔ فقیر نے کہا اے بیٹی! نیو دیوار کی کھود کر تھوڑی سی مٹی جمع کرو۔ ایک دم میں پانی لا کر گارا کر کر گھر کی بنیاد درست کر دوں گا۔ ملکہ نے اس کے کہنے سے مٹی کھودنی شروع کی۔ جب ایک گز عمیق گڑھا کھود گیا۔ زمین کے نیچے سے ایک دروازہ نمودار ہوا، ملکہ نے اس در کو صاف کیا۔ ایک بڑا گھر جواہر اور اشرفیوں سے معمور نظر آیا۔ ملکہ نے پانچ چار لب اشرفیوں کی لے کر پھر بند کر دیا، اور مٹی دے کر اوپر سے ہموار کر دیا۔\n\nاتنے میں فقیر آیا، ملکہ نے فرمایا کہ راج اور معمار کاریگر اور اپنے کام کے استاد اور مزدور جلد بلاؤ جو اس مکان پر ایک عمارت بادشاہانہ کہ طاقِ کسریٰ کا جفت ہو، اور قصرِ نعمان سے سبقت لے جائے اور شہر پناہ اور قلعہ اور باغ اور باؤلی اور ایک مسافر خانہ کہ لاثانی ہو، جلد تیّار کریں، لیکن پہلے نقشہ ان کا ایک کاغذ پر دست کر کے حضور میں لاویں جو پسند کیا جائے۔ فقیر نے ایسے ہی کارکن، کارکردہ، ذی ہوش لا کر حاضر کیے، موافق فرمانے کے تعمیر عمارت کی ہونے لگی۔ اور نوکر چاکر ہر ایک کارخانہ جات کی خاطر چُن چُن کر فہمیدہ اور بادیانت ملازم ہونے لگے۔ اس عمارت عالیشان کی تیار کی خبر رفتہ رفتہ بادشاہ ظل سبحانی کو جو قبلہ ملکہ کے تھے، پہنچی۔ سن کر بہت متعجّب ہوئے اور ہر ایک سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے جس نے یہ محلات بنانے شروع کیے ہیں؟ اس کیفیت سے کوئی واقف نہ تھا جو عرض کرے۔ سبھوں نے کانوں پر ہاتھ رکھے کہ کوئی غلام نہیں جانتا کہ اس کا بانی کون ہے؟ تب بادشاہ نے ایک امیر کو بھیجا اور پیغام دیا کہ میں ان مکانوں کو دیکھنے آیا چاہتا ہوں۔ اور یہ بھی معلوم نہیں تم کہاں بادشاہ زادی ہو اور کس خاندان سے ہو؟ یہ سب کیفیّت دریافت کرنی اپنے تئیں منظور ہے۔ جوں ہی ملکہ نے یہ خوش خبری سنی، دل میں بہت شاد ہو کر عرضی لکھی کہ جہاں پناہ سلامت! حضور کے تشریف لانے کی خبر طرف غریب خانے کی سُن کر نہایت خوشی حاصل ہوئی۔ اور سبب حرمت اور عزّت اس کمترین کا ہوا۔ زہے طالع اس مکان کے! کہ جہاں قدم مبارک کا نشان پڑے، اور وہاں کے رہنے والوں پر دامن دولت سایہ کرے اور نظرِ توجّہ سے وہ دونوں سرفراز ہوویں۔ یہ لونڈی امیدوار ہے کہ کل روز پنج شنبہ مبارک ہے اور میرے نزدیک بہتر نو روز سے ہے۔ آپ کی ذات مشابہ آفتاب کے ہے، تشریف فرما کر اپنے نور سے اس ذرّہ بے مقدار کو قدر و منزلت بخشے۔ اور جو کچھ اس عاجزہ سے میسّر ہو سکے نوش جان فرمائیے۔ یہ عین ریب نوازی اور مسافر پروری ہے، زیادہ حد ادب، اور اس عمدہ کو بھی کچھ تواضع کر رخصت کیا۔\n\nبادشاہ نے عرضی پڑھی اور کہلا بھیجا کہ ہم نے تمہاری دعوت قبول کی، البتّہ آویں گے۔ ملکہ نے نوکروں اور سب کاروباریوں کو حکم کیا کہ لوازمہ ضیافت کا ایسے سلیقے سے تیار ہو کہ بادشاہ دیکھ کر اور کھا کر بہتر محظوظ ہوں اور ادنیٰ اعلیٰ جو بادشاہ کے آویں سب کھا پی کر خوش ہو کر جاویں۔ ملکہ کے فرمانے اور تاکید کرنے سے سب قسم کے کھانے سلونے اور میٹھے ذائقے کے تیّار ہوئے کہ اگر برہمن کی بیٹی کھاتی تو کلمہ پڑھتی۔ جب شام ہوئی بادشاہ منڈے تخت پر سوار ہو کر ملکہ کے مکان کی طرف تشریف لائے۔ ملکہ اپنی جان خواص سہیلیوں کو لے کر استقبال کے واسطے چلیں۔ جوں بادشاہ کے تخت پر نظر پڑے اس آداب سے مجرا شاہانہ کیا کہ یہ قاعدہ دیکھ کر بادشاہ کو اور بھی حیرت نے لیا، اور اسی انداز سے جلوہ کر کر بادشاہ کو تخت مرصع پر لا بٹھایا۔ ملکہ نے سوا لاکھ روپے کا چبوترہ تیّار کروا رکھا تھا اور ایک سو ایک کشتی جواہر اور اشرفی اور پشمینہ اور نوبانی اور ریشمی طلابانی اور زردوزی کی لگا رکھی تھی، اور وہ زنجیر فیل اور دس راس اسپ عراق اور یمنی مرصع کے ساز سے تیّار کر رکھے تھے، نذر گزرانے اور آپ دونوں ہاتھ باندھے روبرو کھڑی رہیں۔ بادشاہ نے بہت مہربانی سے فرمایا کہ تم کس ملک کی شہزادی ہو اور یہاں کس صورت آنا ہوا؟\n\nملکہ نے آداب بجا کر التماس کیا کہ یہ لونڈی وہی گنہ گار ہے جو غضبِ سلطانی کے باعث جنگل میں پہنچی اور یہ سب تماشے خدا کے ہیں جو آپ دیکھتے ہیں۔ یہ سنتے ہی بادشاہ کے لہو نے جوش مارا۔ اُٹھ کر محبت سے گلے لگا لیا اور ہاتھ پکڑ کر اپنے تخت کے پاس کرسی بچھوا کر حکم بیٹھنے کا کیا، لیکن بادشاہ حیران اور متعجّب بیٹھے تھے، فرمایا کہ بادشاہ بیگم کو کہو کہ بادشاہ زادیوں کو اپنے ساتھ لے کر جلد آویں۔ جب وہ آئیں، ماں بہنوں نے پہچانا اور گلے مل کر روئیں اور شکر کیا۔ ملکہ نے اپنی والدہ اور چھیوں ہمشیروں کو روبرو اتنا کچھ نقد اور جواہر رکھا کہ خزانہ تمام عالم کا اس کے پاسنگ میں نہ چڑھے، پھر بادشاہ نے سب کو ساتھ بٹھا کر خاصہ نوش جان فرمایا۔ جب تلک جہاں پناہ جیتے رہے اسی طرح گزری۔ کبھو کبھو آپ آتے اور ملکہ کو بھی اپنے ساتھ محلوں میں لے جاتے۔\n\nجب بادشاہ نے رحلت فرمائی اس اقلیم کی ملکہ کو پہنچی کہ ان کے سوا دوسرا کوئی لائق اس کے نہ تھا۔ اے عزیز سرگزشت یہ ہے جو تو نے سنی۔ دولت خداداد کو ہر گز زوال نہیں ہوتا، مگر آدمی کی نیّت درست چاہیے۔ بلکہ جتنی خرچ کرو، اس میں اتنی برکت ہوتی ہے۔ خدا کی قدرت میں تعجب کرنا کسی مذہب میں روا نہیں۔\n\nدائی نے یہ بات کہہ کر آپ اگر قصد وہاں کے جانے کا اور اس خبر لانے کا دل میں مقرر رکھتے ہو تو جلد روانہ ہو۔ میں نے کہا اسی وقت میں جاتا ہوں اور خدا چاہے تو پھر آتا ہوں۔ آخر رخصت ہو کر اور فضل الٰہی پر نظر رکھ اس سمت کو چلا۔\n\nبرس دن کے عرصے میں ہرج مرج کھینچتا ہوا شہر نیمروز جا پہنچا۔ جتنے وہاں کے آدمی ہزاری اور بزاری نظر پڑے، سیاہ پوش تھے۔ جیسا احوال سنا تھا اپنی آنکھوں سے دیکھا۔\n\nکئی دن کی بعد چاند رات ہوئی۔ پہلی تاریخ، سارے لوگ اسی شہر کے چھوٹے بڑے لڑکے بالے، امرا، بادشاہ عورت مرد ایک میدان میں جمع ہوئے، میں بھی اپنی حالت میں حیران سرگردان اس کثرت کے ساتھ اپنے مال ملک سے جدا، فقیر کی صورت بنا ہوا کھڑا دیکھتا تھا کہ دیکھیئے پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ اتنے میں ایک جوان گاؤ سوار منھ میں کف بھرے، جوش خروش کرتا ہوا جنگل میں سے باہر نکلا۔ یہ عاجز جو اتنی محنت کر کے اس کے احوال دریافت کرنے کی خاطر گیا تھا، دیکھتے ہی اسے حواس باختہ ہو کر حیران کھڑا رہ گیا۔ وہ جوان مرد قدیم قاعدے پر جو جو کام کرتا تھا، کر کر پھر گیا اور خلقت شہر کی طرف متوجہ ہوئی۔ جب مجھے ہوش آیا تب میں پچھتایا کہ یہ کیا تجھ سے حرکت ہوئی۔ اب مہینے بھر پھر راہ دیکھنی پڑی۔ لاچار سب کے ساتھ چلا آیا اور اس مہینے کو ماہ رمضان کی مانند ایک ایک دن گن کر کاٹا۔ بارے دوسری چاند رات آئی مجھے گویا عید ہوئی۔ غرے کو پھر بادشاہ خلقت سمیت وہیں آ کر اکٹھے ہوئے۔ تب میں نے دل میں مصمم ارادہ کیا کہ اب کے بار جو ہو سو ہو اپنے تئیں سنبھال کر اس ماجرائے عجیب کو معلوم کیا چاہیے۔\n\nناگاہ جوان بدستور زرد بیل پر زین باندھے سوار آ پہنچا، اور اتر کر دو زانو بیٹھا، ایک ہاتھ میں ننگی سیف اور ایک ہاتھ میں بیل ناتھ پکڑی اور مرتبان غلام کو دیا۔ غلام ہر ایک کو دکھا کر لے گیا۔ ایک آدمی دیکھ کر رونے لگا۔ اس جوان نے مرتبان پھوڑا، اور غلام کو ایک تلوار ایسی ماری کہ سر جدا ہو گیا اور آپ سوار ہو کر مڑا۔ میں اس کے پیچھے جلد قدم اٹھا کر چلنے لگا۔ شہر کے آدمیوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا یہ کیا کرتا ہے۔ کیوں جان بوجھ کر مرتا ہے؟ اگر ایسا ہی تیرا دم ناک میں آیا ہے تو بہتیری طرحیں مرنے کی ہیں۔ مر رہیو۔ ہر چند میں نے منت کی اور زور بھی کیا کہ کسو صورت سے ان کے ہاتھ سے چھوٹوں، چھٹکارا نہ ہوا۔ دو چار آدمی لپٹ گئے اور پکڑے ہوئے بستی کی طرف لے آئے۔ عجب طرح کا قلق پھر مہینے بھر گزرا۔ جب وہ بھی مہینہ تمام ہوا اور سلخ کا دن آیا۔ صبح کو اسی صورت سے عالم کا وہاں ازدحام ہوا۔ میں الگ سے نماز کے وقت اٹھ کر آگے ہی جنگل میں، جو عین اس طرح کی راہ پر تھا، گھس چھپ رہا کہ یہاں کوئی میرا مزاحم نہ ہو گا۔ وہ شخص اسی قاعدے سے آیا اور وہی حرکتیں کر کرا سوار ہوا اور چلا۔ میں نے اس کا پیچھا کیا اور دوڑتا دھوپتا ساتھ ہو لیا۔ اس عزیز نے آہٹ سے معلوم کیا کہ کوئی چلا آتا ہے۔ ایک بارگی باگ موڑ کر ایک نعرہ مارا اور گھڑکا۔ تلوار کھینچ کر میرے سر پر آ پہنچا۔ چاہتا تھا کہ حملہ کرے۔ میں نے نہایت ادب سے مہر کر سلام کیا اور دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑا رہ گیا۔ وہ قاعدہ داں متکلم ہوا کہ اے فقیر تو ناحق مارا گیا ہوتا، پر بچ گیا۔ تیری حیات کچھ باقی ہے۔ جا کہاں آتا ہے؟ اور جڑاؤ خنجر موتیوں کا اور آویزہ لگا ہوا کمر سے نکال میرے آگے پھینکا اور کہا۔ اس وقت میرے پاس کچھ نقد موجود نہیں جو تھے دوں۔ اس کو بادشاہ کے پاس لے جا، جو تو مانگے گا ملے گا۔\n\nایسی ہیبت اور ایسا رعب اس کا مجھ پر غالب ہوا کہ نہ بولنے کی قدرت نہ چلنے کی طاقت۔ منہ میں گھگھی بندھ گئی پاؤں بھاری ہو گئے۔\n\nاتنا کہہ کر وہ غازی جمرد نعرہ بھرتا ہوا چلا۔ میں نے دل میں کہا ہر چہ بادا باد۔ اب رہ جانا تیرے حق میں برا ہے۔ پھر ایسا وقت نہ ملے گا۔ اپنی جان سے ہاتھ دھو کر میں بھی روانہ ہوا۔ پھر وہ پھرا اور بڑے غصے سے ڈانٹا، اور مقرر ارادہ میرے قتل کا کیا، میں نے سر جھکا دیا اور سوگند دی کہ اے رستم وقت کے، ایسی ہی ایک سیف مار کے صاف دو ٹکڑے ہو جاؤں، ایک تسمہ باقی نہ رہے اور اس حیرانی اور تباہی سے چھوٹ جاؤں۔ میں نے اپنا خون معاف کیا؟ وہ بولا کہ اے شیطان کی صورت، کیوں اپنا خون ناحق میری گردن پر چڑھاتا ہے وہ مجھے گنہ گار بناتا ہے؟ جا اپنی راہ لے، کیا جان بھاری پڑی ہے؟ میں نے اس کا کہا نہ مانا اور قدم آگے دھرا پھر اس نے دیدہ و دانستہ آنا کانی دی اور میں پیچھے لگ لیا۔ جاتے جاتے دو کوس وہ جھاڑ جنگل طے کیا۔\n\nایک چار دیواری نظر آئی۔ وہ جوان دروازے پر گیا اور ایک نعرہ مہیب مارا۔ وہ در آپ سے آپ کھل گیا۔ وہ اندر بیٹھا۔ میں باہر کا باہر کھڑا رہ گیا۔ الٰہی اب کیا کروں، حیران تھا۔ بارے ایک دم کے بعد غلام آیا اور پیغام لایا کہ چل تجھے روبرو بلایا ہے۔ شاید تیرے سر پر اجل کا فرشتہ آیا ہے۔ کیا تجھے کم بختی لگی تھی۔ میں نے کہا زہے نصیب اور بے دھڑک اس کے ساتھ اندر باغ کے گیا۔\n\nآخر مکان میں لے گیا جہاں وہ بیٹھا تھا۔ میں نے اسے دیکھ کر فراشی سلام کیا۔ اس نے اشارت بیٹھنے کی کی۔ میں ادب سے دو زانو بیٹھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ مرد اکیلا ایک مسند پر بیٹھا اور ہتھیار زر گری کے آگے دھرے ہیں۔ اور ایک جھاڑو مرد کا تیار کر چکا ہے۔ جب اس کے اٹھنے کا وقت آیا جتنے غلام اس شہ نشین کے گرد و پیش حاضر تھے، حجروں میں چھپ گئے۔ میں بھی مارے وسواس کے ایک کوٹھڑی میں جا گھسا، وہ جوان اٹھ کر سب مکان کی کنڈیاں چڑھا کر باغ کے کونے کی طرف چلا اور اپنی سواری کے بیل کو مارنے لگا۔ اس کے چلانے کی آواز میرے کانوں میں آئی۔ کلیجا کانپنے لگا لیکن ماجرے کی دریافت کرنے کی خاطر یہ سب آفتیں یہیں تھیں۔ ڈرتے ڈرتے دروازہ کھول کر ایک درخت کے تنے کی آڑ میں جا کر کھڑا ہوا اور دیکھنے لگا۔ جوان نے وہ سونٹا جس سے مارتا تھا۔ ہاتھ سے ڈال دیا اور ایک مکان کا قفل کنجی سے کھولا اور اندر گیا۔ پھر وونہیں باہر نکل کر نرگاؤ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور منہ چوما اور دانہ گھاس کھلا کر ایدھر کو چلا۔ میں دیکھتے ہی جلد دوڑ کر پھر کوٹھڑی میں جا چھپا۔\n\nاس جوان نے زنجیریں سب دروازوں کی کھول دیں۔ سارے غلام باہر نکلے۔ زیر انداز اور سپلچی، آفتابہ لے کر حاضر ہوئے۔ وہ وضو کر کر نماز کی خاطر کھڑا ہوا۔ جب نماز ادا کر چکا پکارا کہ وہ درویش کہاں ہے؟ اپنا نام سنتے ہی میں دوڑ کر روبرو جا کھڑا ہوا۔ فرمایا بیٹھ۔ میں تسلیم کر کر بیٹھا۔ خاصہ آیا اس نے تناول فرمایا مجھے بھی عنایت کیا۔ میں نے بھی کھایا۔ جب دسترخوان بڑھایا اور ہاتھ دھوائے، غلاموں کو رخصت دی کہ جا کر جو رہو۔ جب کوئی اس مکان میں نہ رہا، تب مجھ سے ہم کلام ہوا اور پوچھا کہ اے عزیز تجھ پر کیا ایسی آفت آئی ہے جو تو اپنی موت کو ڈھونڈھتا پھرتا ہے؟ میں نے اپنا احوال آغاز سے انجام تک جو کچھ گزرتا تھا، تفصیل وار بیان کیا اور کہا۔ آپ کی توجہ سے امید ہے کہ اپنی مراد کو پہنچوں۔\n\nاس نے یہ سنتے ہی ایک ٹھنڈی سانس بھری اور بے ہوش ہوا اور کہنے لگا بار خدایا عشق کے درد سے تیرے سوا کون واقف ہے۔ جس کی نہ پھٹی ہو، بوائی کیا جانے پیر پرائی۔ اس درد کی قدر درد مند ہو سو جانے۔\n\nآفتوں کو عشق کی عاشق سے پوچھا چاہیے\nکیا خبر فاسق کو ہے؟ صادق سے پوچھا چاہیے\n\nبعد ایک لمحے کے ہوش میں آ کر ایک آہ جگر سوز بھری، سارا مکان گونج گیا۔ تب مجھے یقین ہوا کہ یہ بھی اسی عشق کی بلا میں گرفتار اور اسی مرض کا بیمار ہے۔ تب تو میں نے دل چلا کر کہا میں نے اپنا احوال سب عرض کیا۔ آپ توجہ فرما کر اپنی سرگزشت سے بندے کو مطلع فرمائیے۔ توبہ مقدور اپنے پہلے تمہارے واسطے سعی کروں اور دل کا مطلب کوشش کر ہاتھ میں لاؤں۔\n\nالقصہ وہ عاشق صادق مجھ کو اپنا ہمراز اور ہمدرد جان کر اپنا ماجرا اور اس صورت سے بیان کرنے لگا کہ سن اے عزیز میں بادشاہ زاد جگر سوز اس اقلیم نیم روز کا ہوں۔ بادشاہ یعنی قبلہ گاہ نے میرے پیدا ہونے کے بعد بخوبی اور رمال اور پنڈت جمع کیئے اور فرمایا کہ احوال شہزادے کے طالعوں کا دیکھو اور جانچو، اور جنم پتری درست کرو اور جو جو کچھ ہونا ہے حقیقت پل پل گھڑی گھڑی اور پہر پہر، دن دن مہینے مہینے اور برس برس مفصل حضور میں عرض کرو۔ بموجب بادشاہ کے سب نے متفق ہو اپنے اپنے علم کی رو سے ٹھہرا اور سادھ کر التماس کیا۔ خدا کے فضل سے ایسی نیک ساعت اور شبھ لگن میں شہزادے کا تولد اور جنم ہوا ہے کہ چاہیے سکندر کی بادشاہت کرے اور نوشیرواں سا عادل ہو اور جتنے علم اور ہنر ہیں، ان میں کامل ہو اور جس کام کی طرف دل اس کا مائل ہو، وہ بخوبی حاصل ہو۔ سخاوت شجاعت میں ایسا نام پیدا کرے کہ حاتم اور رستم کو لوگ بھول جاویں، لیکن چودہ برس تلک سورج اور چاند کے دیکھنے سے ایک بڑا خطرہ نظر آتا ہے بلکہ یہ وسواس ہے کہ جنونی اور سودائی ہو کر بہت آدمیوں کا خون کرے اور بستی سے گھبراوے، جنگل میں جاوے اور چرند پرند کے ساتھ دل بہلاوے، اس کا قید رہے کہ رات دن آفتاب ماہتاب کو نہ دیکھے، بلکہ آسمان کی طرف بھی نگاہ نہ کرنے پاوے، جو اتنی مدت خیر و عافیت سے کٹے تو پھر سارے عمر سکھ اور چین سے سلطنت کرے۔\n\nیہ سن کر بادشاہ نے اس لیے اس باغ کی بنا ڈالی، اور مکان متعدد ہر ایک نقشے کے بنوائے۔ میری تئیں تہ خانے میں پلنے کا حکم کیا اور اوپر ایک برج نمدے کا تیار کروا دیا تو دھوپ اور چاندی اس میں سے چھنے۔ میں دائی دودھ پلائی اور انگاچھو اور کئی خواص کے ساتھ اس محافظت سے اس مکان عالی میں پرورش پانے لگا، اور ایک استاد دانا، کار آزمودہ واسطے میری تربیت کی متعین کیا تو تعلیم ہر علم اور ہنر کی اور مشق ہفت قلم لکھنے کی کرے اور جہاں پناہ ہمیشہ میری خبر گیراں رہتے۔ دم بہ دم کی کیفیت روز مرہ حضور میں عرض ہوتی۔ میں اس مکان ہی کو عالم دنیا جان کر کھلونوں اور رنگ بہ رنگ پھولوں سے کھیلا کرتا اور تمام جہان کی نعمتیں کھانے کے واسطے موجود رہتیں۔ جو چاہتا سو کھاتا۔ دس برس کی عمر تک جتنی صنعتیں اور قابلیتیں تھیں، تحصیل کیں۔\n\nایک روز اس گنبد کے نیچے روشن دان سے ایک پھول اچنبھے کا نظر پڑا کی دیکھتے دیکھتے بڑا ہوتا جاتا تھا۔ میں نے چاہا کہ ہاتھ سے پکڑ لوں۔ جوں جوں میں ہاتھ لمبا کرتا تھا وہ اونچا ہوتا جاتا تھا۔ میں حیران ہو کر اسے جاتا تک رہا تھا۔ وونہیں ایک آواز قہقہے کی میرے کان میں آئی۔ میں نے اس کے دیکھنے کو گردن اٹھائی دیکھا کہ نمدا چیر کر ایک مکھڑا چاند کا سا نکل رہا ہے۔ دیکھتے ہی اس کے میرے عقل و ہوش بجا نہ رہے۔ پھر اپنے تئیں سنبھال کر دیکھا تو ایک مرصع کا تخت پری زادوں کا کاندھے پر معلق کھڑا ہے اور ایک تخت نشین تاج و جواہر کا سر پر اور خلعت جھلا بور بدن میں پہنے، ہاتھ میں یاقوت کا پیالہ لئے اور شراب پئے ہوئے بیٹھی ہے، وہ تخت بلندی سے آہستہ آہستہ نیچے اتر کر اس برج میں آیا۔ تب پری نے مجھے بلایا، اور اپنے نزدیک بٹھایا۔ باتیں پیار کی کرنے لگی اور منہ سے منہ لگا کر ایک جام شراب گل گلاب کا میرے تئیں پلایا اور کہا آدمی زاد بیوفا ہوتا ہے، لیکن دل ہمارا تجھے چاہتا ہے۔ ایک دم میں ایسی ایسی انداز و ناز کی باتیں کیں کہ دل محو ہو گیا اور ایسی خوشی حاصل ہوئی کہ زندگی کا مزا پایا، اور یہ سمجھا کہ آج تو دنیا میں آیا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ میں تو کیا ہوں، کسو نے یہ عالم نہ دیکھا ہو گا۔ نہ سنا ہو گا اس مزے میں خاطر جمع سے ہم دونوں بیٹھے تھے کہ کریال غلیلا لگا۔ اب اس حادثہ کا ماجرا سن کر وہ نہیں چار پری زاد نے آسمان سے اتر کر کچھ اس معشوقہ کے کان میں کہا۔ سنتے ہی اس کا چہرہ تغیر ہو گیا اور مجھ سے بولی کہ اے پجاری دل تو یہ چاہتا تھا کہ کوئی دم تیرے ساتھ بیٹھ کر دل بہلاؤں اور اسی طرح ہمیشہ آؤں یا تجھے اپنے ساتھ لے جاؤں۔ پر یہ آسمان دو شخص کو ایک جگہ آرام سے اور خوشی سے رہنے نہیں دیتا۔ لے جاناں تیرا خدا نگہبان ہے۔\n\nیہ سن کر میرے حواس جاتے رہے اور طوطے ہاتھ کے اڑ گئے۔ میں نے کہا کہ جی اب پھر کب ملاقات ہو گی؟ یہ کیا تم نے غضب کی بات سنائی؟ اگر جلد آؤ گی تو مجھے جیتا پاؤ گی، نہیں تو پچھتاؤ گی یا اپنا ٹھکانا اور نام و نشان بتاؤ کہ میں ہی اس پتے پر ڈھونڈھتے اپنے تئیں تمہارے پاس پہنچاؤں۔ یہ سن کر بولی دور پار شیطان کے کان بہرے، تمہاری صد و بیت سال کی عمر ہووے۔ اگر زندگی ہے تو پھر ملاقات ہو رہے گی۔ میں جنوں کے بادشاہ کی بیٹی ہوں اور کوہ قاف میں رہتی ہوں۔ یہ کہہ کر تخت اٹھایا اور جس طرح اترا تھا وونہیں بلند ہونے لگا۔ جب تلک سامنے تھا، میری اور اس کی چار آنکھیں ہو رہی تھیں، جب نظروں سے غائب ہوا یہ حالت ہو گئی جیسے پری کا سایہ ہوتا ہے۔ عجب طرح کی اداسی دل پر چھا گئی، عقل و ہوش رخصت ہوا، دنیا آنکھوں کے تلے اندھیری ہو گئی، حیران، پریشان اور سر پر خاک اڑانا، کپڑے پھاڑنا، نہ کھانا کھانے کی سدھ نہ بھلے برے کی بدھ\n\nاس عشق کی بدولت کیا کیا خرابیاں ہیں\nدل میں اداسیاں ہیں اور اضطرابیاں ہیں\n\nاس خرابی سے دائی اور معلم خبردار ہوئے۔ ڈرتے ڈرتے بادشاہ کے روبرو گئے اور عرض کی کہ بادشاہ زادہ عالمیان کا یہ حال ہے۔ معلوم نہیں خود بخود کیا غضب ٹوٹا جو ان کا آرام اور کھانا پینا سب چھوٹا۔ تب بادشاہ وزیر امرائے صاحب تدبیر اور حکیم حاذق، منجم صادق، ملا، سیانے، خوب درویش سالک اور مجذوب اپنے ساتھ لے کر اس باغ میں رونق افزا ہوئے۔ میری بے قراری اور نالہ و زاری دیکھ کر ان کی بھی حالت اضطراب کی ہو گئی۔\n\nآب دیدہ ہو کر بے اختیار گلے سے لگا لیا۔ اور اس کی تدبیر کی خاطر حکم کیا۔ حکیموں نے قوتِ دل اور خلل دماغ کے واسطے نسخے لکھے اور ملاؤں نے نقش و تعویذ پلانے اور پاس رکھنے کو دیئے۔ دعائیں پڑھ پڑھ کر پھونکنے لگے اور نجومی بولے کہ ستاروں کی گردش کے سبب یہ صورت پیش آئی ہے۔ اس کا صدقہ دیجیئے۔\n\nغرض ہر کوئی اپنے اپنے کام کی باتیں کہتا تھا۔ جو گزرتی تھی میرا دل ہی سہتا تھا۔ کسو کی سعی اور تدبیر اور میری تقدیر بد کے کام نہ آئی۔ دن بہ دن دیوانگی کا زور اور میرا بدن بے آب و دانے کم زور ہو چلا۔ رات دن چلانا اور سر ٹپکنا ہی باقی رہا۔ اس حالت میں تین سال گزرے۔ چوتھے برس ایک سوداگر سیر و سفر کرتا ہوا آیا، اور ہر ایک ملک کے تحفے تحائف عجیب و غریب جہاں پناہ کے حضور میں لایا۔ ملازمت حاصل کی۔ بادشاہ نے بہت توجہ فرمائی اور احوال پرسی اس کی کر کے پوچھا کہ تم نے بہت ملک دیکھے، کہیں کوئی حکیم کامل بھی نظر پڑا، یا کسو سے مذکور اس کا سنا؟ اس نے التماس کیا کہ قبلہ عالم غلام نے بہت سیر کی، لیکن ہندوستان میں دریا کے بیچ ایک پہاڑی ہے وہاں ایک گسائیں جٹا دھاری نے بڑا منڈھب مہا دیو کا اور سنگت اور باغ بڑی بہار کا بنایا ہے۔ اس میں رہتا ہے اور اس کا یہ قاعدہ ہے کہ برسویں دن شیو رات کے روز اپنے استھان سے نکل کر دریا میں پیرتا ہے اور خوشی کرتا ہے۔ اشنان کے بعد جب اپنے آسن پر جانے لگتا ہے تب بیمار اور درد مند دیس دیس اور ملک ملک کے جو دور دور سے آتے ہیں دروازے پر جمع ہوتے ہیں، ان کی بڑی بھیڑ ہوتی ہے۔\n\nوہ مہنت جسے اس زمانے کا افلاطون کہا چاہیے، قارورہ اور نبض دیکھتا ہوا اور ہر ایک کو نسخہ لکھ کر دیتا ہوا چلا جاتا ہے۔ خدا نے ایس دست شفا اس کو دیا ہے کہ دور پیتے ہی اثر ہوتا ہے اور وہ مرض بالکل جاتا رہتا ہے۔ یہ ماجرا میں نے بہ چشمِ خود دیکھا اور خدا کی قدرت کو یاد کیا کہ ایسے ایسے بندے پیدا کیئے ہیں۔ اگر حکم ہو تو شہزادہ عالمیان کو اس کے پاس لے جاویں، اس کو ایک نظر دکھاویں، امید قوی ہے کہ جلد شفائے کامل ہو۔ اور ظاہر میں بھی یہ تدبیر اچھی ہے کہ ہر ایک ملک کی ہوا کھانے سے اور جا بجا کے آب و دانے سے مزاج میں فرحت آتی ہے۔\n\nبادشاہ کو بھی اس کی صلاح پسند آئی اور خوش ہو کر فرمایا بہت بہتر، شاید اس کا ہاتھ راس آوے اور میرے فرزند کے دل سے وحشت جاوے، ایک امیر معتبر جہاں دیدہ، کار آزمودہ کو اور اس تاجر کو میر رکاب میں تعینات کیا اور اسباب ضروری ساتھ کر دیا۔ نواڑی، بجرے، مور پنکھی پلوار، لچکے، کھیلنے، الاق، پٹیلیوں پر مع سر انجام سوار کر کر رخصت کیا۔ منزل منزل چلتے چلتے اس ٹھکانے پر جا پہنچے۔ نئی ہوا اور نیا دانہ پانی کھانے پینے سے کچھ مزاج ٹھہرا، لیکن خاموشی کا وہی عالم تھا اور رونے سے کام۔ دم بہ دم اسی پری کی دل سی بھولتی نہ تھی۔ اگر کبھو بولتا تو بیت پڑھتا۔\n\nنہ جانوں کس پری رو کی نظر ہوئی\nابھی تو تھا بھلا چنگا مرا دل\n\nبارے جب وہ تین مہینے گزرے اس پہاڑ پر قریب چار ہزار مریض کے جمع ہوئے، لیکن سب یہی کہتے تھے کہ اب خدا چاہے تو گسائیں اپنے مٹھ سے نکلیں گے اور سب کو ان کے فرمانے سے شفائے کلی ہو گی۔\n\nالقصہ جس دن وہ دن آیا، صبح کو جوگی مانند آفتاب سے نکل آیا اور دریا میں نہایا اور پیرا، پار جا کر پھر آیا اور بھبھوت بھسم تمام بدن میں لگایا۔ وہ گورا بدن مانند انگار کے راکھ میں چھپایا اور ماتھے پر ملا گیر کا ٹیکا دیا، لنگوٹ باندھ کر انگوچھا کاندھے پر ڈالا بھالوں کا جوڑا باندھا، موچھوں پر تاؤ دے کر چڑھواں جوتا اڑایا۔ اس کے چہرے سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ ساری دنیا اس کے نزدیک کچھ قدر نہیں رکھتی۔ ایک قلم دان جڑاؤ بغل میں لے کر ایک ایک کی طرف دیکھتا اور نسخہ دیتا ہوا میرے نزدیک آ پہنچا۔ جب میری اور اس کی چار نظریں ہوئیں، کھڑا رہ کر غور میں گیا اور مجھ سے کہنے لگا ہمارے ساتھ آؤ۔ میں ہم راہ ہو لیا۔\n\nجب سب کی نوبت ہو چکی، میرے تئیں باغ کے اندر لے گیا اور ایک مقطع خوش نقشی خلوت خانے مجھے فرمایا کہ یہاں تم رہا کرو، اور آپ اپنے استھان میں گیا۔ جب ایک چِلا گزرا تو میرے پاس آیا اور آگے کی نسبت مجھے خوش پایا۔ تب مسکرا کر فرمایا کہ اس باغیچے میں سیر کیا کرو۔ جس میوے پر جی چلے کھایا کرو اور ایک قلفی چینی کی معجون بھری ہوئی دی کہ اس میں سے چھ ماشے ہمیشہ بلا ناغہ نوش جان فرمایا کرو۔ یہ کہہ کر وہ تو چلا گیا، اور میں نے اس کے کہنے پر عمل کیا۔ ہر روز قوت بدن میں اور فرحت دل کی معلوم ہونے لگی، لیکن حضرت عشق کو کچھ اثر نہ کیا۔ اس پری کی صورت نظروں کے آگے پھرتی تھی۔\n\nایک روز طاق میں جلد کتاب کی نظر آئی۔ اتار کر دیکھا تو سارے علم دن دنیا کے اس میں جمع کئے تھے۔ گویا دریا کو کوزے میں بھر دیا تھا۔ ہر گھڑی اس کا مطالعہ کیا کرتا۔ علم حکمت اور تسخیر میں نہایت قوت بہم پہنچائی۔ اس عرصے میں برس دن گزر گیا۔ پھر وہی خوشی کا دن آیا۔ جوگی اپنے آسن پر سے اٹھ کر باہر نکلا۔ میں نے سلام کیا۔ ان نے قلم دان مجھے دے کر کہا ساتھ چلو۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ جب دروازے سے باہر نکلا ایک عالم دینے لگا۔ وہ امیر اور سوداگر مجھے ساتھ دیکھ کر گسائیں کے قدموں میں گرے اور ادائے شکر کرنے لگے کہ آپ کی توجہ سے بارے اتنا تو ہوا۔ وہ اپنی عادت پر دریا کے گھاٹ تک گیا اور اشنان پوجا جس طرح ہر سال کرتا تھا، پھرتی بار بیماریوں کو دیکھتا بھالتا چلا آتا تھا۔\n\nاتفاقا مسودائیوں کے غول میں ایک جوان خوب صورت شکیل کے ضعف سے کھڑے ہونے کی طاقت اس میں نہ تھی نظر پڑا۔ مجھ کو کہا کہ اس کو ساتھ لے آؤ۔ سب کی دارو درمن کر کے جب خلوت خانے میں گیا۔ تھوڑی سی کھوپڑی اس جوان کی تراش کر، چاہا کہ کنکھجورا جو مغز پر بیٹھا تھا، زنبور سے اٹھا لیوے۔ میرے خیال میں گذرا اور بول اٹھا کہ اگر دست پناہ آگ میں گرم کر کر اس کی پیٹھ پر رکھئے تو خوب ہے۔ آپ سے آپ نکل آوے گا۔ اور جو یوں کھینچے گا تو مغز کے گودے کو نہ چھوڑے گا۔ پھر خوف زندگی کو ہے۔ یہ سن کر میری طرف دیکھا اور چپکا اٹھا باغ کے کونے میں ایک درخت کو لے میں پکڑ جٹا کی لٹ کی گلے میں پھانسی لگا کر رہ گیا۔ میں نے پاس جا کر دیکھا تو واہ واہ یہ تو مر گیا۔ یہ اچنبھا دیکھ کر نہایت افسوس ہوا۔ لاچار جی میں آیا اس کو گارڈ دوں۔ جوں درخت سے جدا کرنے لگا وہ کنجیاں اس کی لٹوں میں سے گر پڑیں۔ میں نے ان کو اٹھا لیا اور اس گنج خوبی کو زمیں میں دفن کیا۔ وہ دونوں کنجیاں لے کر سب قفلوں میں لگانے لگا۔ اتفاقاً دو حجروں کے تالے ان تالیوں سے کھلے۔ دیکھا تو زمیں سے چھت تلک جواہر بھرا ہوا ہے۔ اور ایک پیٹی مخمل سے مڑھی سونے کے پتر لگی قفل دی ہوئی ایک طرف دھری ہے۔ اس کو جو کھولا تو ایک کتاب دیکھی کہ اس میں اسم اعظم اور حاضرات جن و پری کی اور روحوں کی ملاقات اور تسخیر آفتاب کی ترکیب لکھی ہے۔\n\nایسی دولت کے ہاتھ لگنے سے نہایت خوشی حاصل ہوئی اور ان پر عمل کرنا شروع کیا۔ دروازہ باغ کا کھول اپنے اس امیر اور ساتھ والوں کو کہا کہ کشتیاں منگوا کر یہ سب جواہر و نقد جنس اور کتابیں بار کر لو اور ایک نواڑے پر آپ سوار ہو کر وہاں سے بحر کو روانہ کیا۔ آتے آتے جب نزدیک اپنے ملک کے پہنچا، جہاں پناہ کو خبر ہوئی۔ سوار ہو کر استقبال کیا اور اشتیاق سے بے قرار ہو کر کلیجے سے لگا لیا۔ میں نے قدم بوسی کر کر کہا کہ اس خاک سار کو قدیم باغ میں رہنے کا حکم ہوا۔ بولے کہ اے برخوردار وہ مکان میرے نزدیک منحوس ٹھہرا۔ لہٰذا اس کی مرمت اور تیاری موقوف کی۔ اب وہ مکان لائق انسان کے رہنے کے نہیں رہا۔ اور جس محل میں جی چاہے، اترو۔ بہتر یوں ہے کہ قلعے میں کوئی جگہ پسند کر کے میری آنکھوں کے روبرو رہو اور پائیں باغ جیسا چاہو تیار کروا کر سیر تماشا کرو۔ میں نے بہت ضد اور ہٹ کر کر اس باغ کو نئے سرے سے تعمیر کروا دیا اور بہشت کی مانند آراستہ کر داخل ہوا۔ پھر فراغت سے جنوں کی تسخیر کی خاطر چلے بیٹھا اور ترک حیوانات کر کر حاضرات کرنے لگا۔\n\nجب چالیس دن پورے ہوئے تب آدھی رات کو ایک ایسی آندھی آئی کہ بڑی بڑی عمارتیں گر پڑیں اور درخت جڑ پیڑ سے اکھڑ کر کہیں سے کہیں جا پڑے، اور پری زادیوں کا لشکر نمودار ہوا۔\n\nایک تخت ہوا سے اترا۔ اس پر ایک شخص شاندار موتیوں کا تاج اور خلعت پہنے ہوئے بیٹھا تھا۔ میں نے دیکھتے ہی بہت مودب ہو کر سلام کیا۔ اس نے میرا سلام لیا اور کہا اے عزیز! یہ کیا تو نے ناحق دند مچایا؟ ہم سے تجھے کیا مدّعا ہے؟ میں نے التماس کیا کہ یہ عاجز بہت مدت سے تمہاری بیٹی پر عاشق ہے، اور اسی لیے کہاں سے کہاں خراب و خستہ ہوا اور جیتے جی موا۔ اب زندگی سے بھی تنگ آیا ہوں اور اپنی جان پر کھیلا ہوں، جو یہ کام کیا ہے۔ اب آپ کی ذات سے امیدوار ہوں کہ مجھ حیران سرگردان کو اپنی توجہ سے سرفراز کرو، اور اس کے دیدار سے زندگی اور آرام بخشو تو بڑا ثواب ہو گا۔ یہ میری آرزو سن کر بولا کہ آدمی خاکی اور ہم آتشی، ان دونوں میں موافقت آنی مشکل ہے۔ میں نے قسم کھائی کہ ان کے دیکھنے کا میں مشتاق ہوں اور کچھ مطلب نہیں۔ پھر اس تخت نشین نے جواب دیا کہ انسان اپنے قول و قرار پر نہیں رہتا۔ غرض کے وقت پر سب کچھ کہتا ہے لیکن یاد نہیں رکھتا۔ یہ بات میں تیرے بھلے کے لیے کہہ سناتا ہوں کہ اگر تو نے کبھی قصد کچھ اور کیا تو وہ بھی اور تو بھی دونوں خراب اور خستہ ہو گئے، بلکہ خوف جان کا ہے۔ میں نے پھر دوبارہ سوگندہ یاد کی کہ جس میں طرفین کی برائی ہو، ویسا کام ہر گز نہ کروں گا۔ مگر ایک نظر دیکھتا رہوں گا۔ یہ باتیں ہوتیاں تھیں کہ انچت وہ پری کہ جس کا مذکور تھا، نہایت ٹھسے سے بناؤ کیے ہوئے آ پہنچی اور بادشاہ کا تخت وہاں سے چلا گیا۔ تب میں نے بے اختیار اس پری کو جان کی طرح بغل میں لے لیا اور یہ شعر پڑھا: کماں ابرو مرے گھر کیوں نہ آوے کہ جس کے واسطے کھینچے ہیں چلّے\n\nاسی خوشی کے عالم میں باہم اس باغ میں رہنے لگے۔ مارے ڈر کے کچھ اور خیال نہ کرتا۔ بلائی مزے لیتا اور فقط دیکھا کرتا۔ وہ پری میرے قول و قرار کے نباہنے پر دل میں حیران رہتی اور بعضے وقت کہتی کہ پیارے! تم بھی اپنی بات کے بڑے سچے ہو، لیکن ایک نصیحت میں دوستی کی راہ سے کرتی ہوں۔ اپنی کتاب سے خبردار رہیو کہ جن کسی نہ کسی دن تمہیں غافل پا کر چرا کر لے جائیں گے۔ میں نے کہا اسے میں اپنی جان کے برابر رکھتا ہوں۔\n\nاتفاقاً ایک روز رات کو شیطان نے ورغلایا۔ شہوت کی حالت میں یہ دل میں آیا کہ جو کچھ ہو سو ہو، کہاں تلک اپنے تئیں تھانبوں؟ اسے چھاتی سے لگایا اور قصد جماع کا کیا۔ وونہیں ایک آواز آئی۔ یہ کتاب مجھ کو دے کہ اس میں اسم اعظم ہے، بے ادبی نہ کر۔ اس مستی کے عالم میں کچھ ہوش نہ رہا۔ کتاب بغل سے نکال کر بغیر جانے پہچانے حوالے کر دی اور اپنے کام میں لگا۔ وہ نازنین یہ میری نادانی کی حرکت دیکھ کر بولی کہ ظالم! آخر چوکا اور نصیحت بھولا۔\n\nیہ کہہ کر بے ہوش ہو گئی اور میں اس کے سرہانے ایک دیو دیکھا کی کتاب لیے کھڑا ہے۔ چاہا کہ پکڑ کر خوب ماروں اور کتاب چھین لوں۔ اتنے میں اس کے ہاتھ سے کتاب دوسرا لے بھاگا۔ میں نے جو افسوں یاد کیے تھے، پڑھنے شروع کیے۔ وہ جن جو کھڑا تھا بیل بن گیا، لیکن افسوس کہ پری ذرا بھی ہوش میں نہ آئی اور وہی حالت بے خودی کی رہی۔ تب میرا دل گھبرایا۔ سارا عیش تلخ ہو گیا۔\n\nاس روز آدمیوں سے نفرت ہوئی۔ اس باغ کے گوشے میں پڑا رہتا ہوں اور دل بہلانے کی خاطر یہ مرتبان زمرد کا جھاڑ دار بنایا کرتا ہوں، اور ہر مہینے اس میدان میں اس بیل پر سوار ہو کر جایا کرتا ہوں۔ مرتبان کو توڑ کر غلام کو مار ڈالتا ہوں۔ اس امید پر کہ سب میری حالت دیکھیں اور افسوس کھاویں۔ شاید کوئی ایسا خدا کا بندہ مہربان ہو کہ میرے حق میں دعا کرے تو میں بھی اپنے مطلب کو پہنچوں۔\n\nاے رفیق! میرے جنون اور سودا کی یہ حقیقت ہے جو میں نے تجھے کہہ سنائی۔ میں سن کر آبدیدہ ہوا اور بولا کہ اے شہزادے! تو نے واقعی عشق کی بڑی محنت اٹھائی۔ لیکن قسم خدا کی کھاتا ہوں کہ میں اپنے مطلب سے درگزرا۔ اب تیری خاطر جنگل پہاڑ پھروں گا اور جو مجھ سے ہو سکے گا کروں گا۔ یہ وعدہ کر کر میں جوان سے رخصت ہوا، اور پانچ برس تک سودائی سا ویرانے میں خاک چھانتا پھرا، سراغ نہ ملا۔\n\nآخر اکتا کر ایک پہاڑ پر چڑھ گیا اور چاہا کہ اپنے تئیں گرا دوں کہ ہڈی پسلی کچھ ثابت نہ رہے۔ وہی ایک سوار برقع پوش آ پہنچا اور بولا کہ اپنی جان مت کھو، تھوڑے دنوں کے بعد تو اپنے مقصد میں کامیاب ہو گا۔ یا سائیں اللہ! تمہارے دیدار تو میسر ہوئے۔ اب خدا کے فضل سے امیدوار ہوں کہ خوشی اور خرمی حاصل ہو۔ اور سب نامراد اپنی مراد کو پہنچیں۔\n\n== سرگذشت آزاد بخت پادشاہ کی ==\n\nجب دوسرا درویش بھی اپنی سیر کا قصہ کہہ چکا، رات آخر ہو گئی اور وقت صبح کا شروع ہونے پر آیا۔ بادشاہ آزاد بخت چپکا اپنے دولت خانے کی طرف روانہ ہوا۔ محل میں پہنچ کر نماز ادا کی۔ پھر غسل خانے میں جا کر خلعت فاخرہ پہن کر دیوان عام میں تخت پر نکل بیٹھا۔ اور حکم کیا کہ یساول جاوے۔ چار فقیر فلانے مکان پر وارد ہیں۔ ان کو با عزت اپنے ساتھ حضور میں لے آوے۔\n\nبموجب حکم کے چوب دار وہاں گیا۔ دیکھا تو چاروں بے نوا، جھاڑا جھٹکا، پھر ہاتھ منہ دھو کر چاہتے ہیں کہ وسا کریں اور اپنی اپنی راہ لیں۔ چیلے نے کہا، شاہ جی نے چاروں صورتوں کو طلب فرمایا۔ میرے ساتھ چلیے۔ چاروں درویش آس میں ایک ایک کو تکنے لگے اور چوب دار سے کہا بابا!ً ہم اپنے دل کے بادشاہ ہیں۔ ہمیں دنیا کے بادشاہ سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا میاں اللہ! مضائقہ نہیں اگر چلو تو اچھا ہے۔ اتنے میں چاروں کو یاد آیا کہ مولا مرتضیٰ نے جو فرمایا تھا، سو اب پیش آیا۔ خوش ہوئے اور یساول کے ہمراہ چلے۔ جب قلعے میں پہنچے اور روبرو بادشاہ کے گئے، چاروں قلندروں نے دعا دی کہ بابا! تیرا بھلا ہو۔ بادشاہ دیوان خاص میں جا بیٹھے، اور دو چار خاص امیروں کو بلایا، اور فرمایا کہ چاروں گدڑی پوشوں کو بلاؤ۔ جب وہاں گئے حکم بیٹھنے کا کیا۔ احوال پرسی فرمائی کہ تمہارا کہاں سے آنا ہوا، اور کہاں کا ارادہ ہے؟ مکان مرشدوں کے کہاں ہیں؟\n\nانہوں نے کہا کہ بادشاہ کی عمر و دولت زیادہ رہے۔ ہم فقیر ہیں۔ ایک مدت سے خانہ بدوش اسی طرح سیر و سفر کرتے پھرتے ہیں۔ وہ مثل ہے فقیر کو جہاں شام ہوئی وہیں گھر ہے۔ اور جو کچھ اس دنیائے ناپائدار میں دیکھا ہے کہاں تک بیان کریں؟ آزاد بخت نے بہت تسلی اور تشفی کی اور کھانے کو منگوا کر اپنے روبرو ناشتہ کروایا، جب فارغ ہوئے، پھر فرمایا کہ اپنا ماجرا تمام بے کم و کاست مجھ سے کہو۔ جو مجھ سے تمہاری خدمت ہو سکے گی قصور نہ کروں گا۔\n\nفقیروں نے جواب دیا کہ ہم پر جو کچھ بیتا ہے، نہ ہمیں بیان کرنے کی طاقت ہے اور نہ بادشاہ کے سننے سے فرحت ہو گی، اس کو معاف کیجیے۔ تب بادشاہ نے تبسم کیا، اور کہا۔ شب کو جہاں تم بستروں پر بیٹھے اپنا احوال کہہ رہے تھے، وہاں میں بھی موجود تھا، چنانچہ دو درویش کا احوال سن چکا ہوں۔ اب چاہتا ہوں کہ دونوں جو باقی ہیں، وے بھی کہیں اور چند روز بخاطر جمع میرے پاس رہیں کہ قدم درویشان ردِّ بلا ہے۔ بادشاہ سے یہ بات سنتے ہی مارے خوف کے کانپنے لگے اور نیچے کر کے چپ ہو رہے۔ طاقت گویائی کی نہ رہی۔\n\nآزاد بخت نے جب دیکھا کہ اب ان میں مارے رعب کے حواس نہیں رہے، جو کچھ بولیں۔ فرمایا کہ اس جہاں میں کوئی شخص ایسا نہ ہو گا جس پر ایک نہ ایک واردات عجیب و غریب نہ ہوئی ہو گی۔ باوجودے کہ بادشاہ ہوں لیکن میں نے ایسا تماشا دیکھا ہے کہ پہلے میں ہی اس کا بیان کرتا ہوں۔ تم بہ خاطر جمع سنو! درویشوں نے کہا۔ بادشاہ سلامت آپ کا الطاف فقیروں پر ایسا ہی ہے۔ ارشاد فرمائیے۔\n\nآزاد بخت نے اپنا احوال کہنا شروع کیا اور کہا۔\nاے شاہو! بادشاہ کا اب ماجرا سنو\nجو کچھ کہ میں نے دیکھا ہے اور ہے سنا، سنو\nکہتا ہوں میں فقیر کی خدمت میں سر بسر\nاحوال میرا خوب طرح دل لگا سنو\n\nمیرے قبلہ گاہ نے جب وفات پائی اور میں اس تخت پر بیٹھا۔ عین عالم شباب کا تھا۔ اور سارا یہ ملک روم کا میرے حکم میں تھا۔ اتفاقاً ایک سال کوئی سوداگر بدخشاں کے ملک سے آیا، اور اسباب تجارت کا بہت سا لایا۔ خبرداروں نے میرے حضور میں خبر کی کہ ایسا بڑا تاجر آج تک شہر میں نہیں آیا۔ میں نے اس کو طلب فرمایا۔\n\nوہ تحفے ہر ایک ملک کے لائق میری نذر کے لے کر آیا۔ فی الواقع ہر ایک جنس بے بہا نظر آئی۔ چنانچہ ایک ڈبیا میں ایک لعل تھا نہایت خوش رنگ اور آبدار، قد و قامت درست وزن میں پانچ مثقال کا۔ میں نے باوجود سلطنت کے ایسا جواہر کبھو نہ دیکھا تھا اور نہ کسو سے سنا تھا۔ پسند کیا۔ سوداگر کو بہت سا انعام و اکرام دیا اور سند راہ داری کی لکھ دی کہ اس سے ہماری تمام قلمرو میں کوئی مزاحم محصول کا نہ ہو اور جہاں جاوے اس کو آرام سے رکھیں۔ چوکی پہرے میں رہیں اس کا نقصان اپنا نقصان سمجھیں۔ وہ تاجر حضور میں دربار کے وقت حاضر رہتا اور آدابِ سلطنت سے خوب واقف تھا۔ اور تقریر و خوش گوئی اس کے لائق سننے کے تھی اور میں اس لعل کو ہر روز جواہر خانے سے منگوا کر سرِ دربار دیکھا کرتا۔\n\nایک روز دیوان عام کیے بیٹھا، اور امراء و ارکان دولت اپنے اپنے پائے پر کھڑے تھے۔ اور ہر ملک کے بادشاہوں کے ایلچی مبارک باد کی خاطر جو آئے تھے، وہ بھی سب حاضر تھے۔ اس وقت میں نے موافق معمول کے اس لعل کو منگوایا، جواہر خانے کا داروغہ لے کر آیا۔ میں ہاتھ میں لے کر تعریف کرنے لگا اور فرنگ ایلچی کو دیا ان کو دیکھ کر تبسم کیا اور زمانہ سازی سے صفت کی۔ اس طرح ہاتھوں ہاتھ ہر ایک نے لیا اور دیکھا اور ایک زبان ہو کر بولے قبلہ عالم کے اقبال کے باعث یہ میسر ہوا ہے۔ واللہ کسو بادشاہ کے ہاتھ آج تک ایسا رقم بے بہا نہیں لگا۔ اس وقت میرے قبلہ گاہ کا وزیر کہ مرد دانا تھا کہ اسی خدمت پر سرفراز تھا، وزارت کی چوکی پر کھڑا تھا، آداب بجا لایا، اور التماس کیا کہ کچھ عرض کیا چاہتا ہوں اگر جان بخشی ہو۔\n\nمیں نے حکم کیا کہہ۔ وہ بولا قبلہ عالم آپ بادشاہ ہیں اور بادشاہوں سے بہت بعید ہے کہ ایک پتھر کی تعریف کریں۔ اگرچہ رنگ ڈھنگ سنگ میں لاثانی ہے، لیکن سنگ ہے اور اس دم سب ملکوں کے ایلچی دربار میں حاضر ہیں۔ جب اپنے اپنے شہر میں جاویں گے البتہ یہ نقل کریں گے کہ عجب بادشاہ ہے کہ ایک لعل کہیں سے پایا ہے، اسے ایسا تحفہ بنایا ہے کہ ہر روز روبرو منگاتا ہے اور آپ اس کی تعریف کر کر سب کو دکھاتا ہے۔ پس جو بادشاہ یا راجہ احوال سنے گا، اپنی مجلس میں ہنسے گا۔ خداوند! ایک ادنیٰ سوداگر نیشاپور میں ہے۔ اس نے بارہ دانے لعل کے ہر ایک سات سات مثقال کا ہے، پٹے میں نصب کر کر کتے کے گلے میں ڈال دیے۔ مجھے سنتے ہی غصہ چڑھ آیا۔ اور کھسیانے ہو کر فرمایا کہ اس وزیر کی گردن مار دو۔ جلادوں نے وونہیں اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور چاہا کہ باہر لے جاویں۔ فرنگ کے بادشاہ کا ایلچی دست بستہ روبرو آ کھڑا ہوا۔ میں نے پوچھا کہ تیرا کیا مطلب ہے؟ اس نے عرض کی امیدوار ہوں کہ تقصیر سے وزیر کی واقف ہوں۔ میں نے فرمایا کہ جھوٹ بولنے سے اور بڑا گناہ کونسا ہے۔ خصوصاً بادشاہوں کے روبرو؟ اس نے کہا اس کا دروغ ثابت نہیں ہوا۔ شاید خچہ عرض کی ہے، سچ ہو۔ ابھی بے گناہ کا قتل کرنا درست نہیں۔ اس کا میں نے یہ جواب دیا کہ ہر گز پھرتا ہے اور کوڑی کوڑی جمع کرتا ہے بارہ دانے لعل کے جو وزن میں سات سات مثقال کے ہوں، کتے کے پٹے میں لگاوے۔ اس نے کہا۔ خدا کی قدرت سے تعجب نہیں۔ شاید کہ باشد ایسے تحفے اکثر سوداگروں اور فقیروں کے ہاتھ آتے ہیں۔ اس واسطے کی یہ دونوں ہر ایک ملک میں جاتے ہیں اور جہاں سے جو کچھ پاتے ہیں، لے آتے ہیں۔ صلاح دولت یہ ہے کہ اگر وزیر ایسا ہی تقصیر وار ہے تو حکم قید کا ہو۔ اس لیے کہ بادشاہوں کی عقل ہوتے ہیں، اور یہ حرکت سلاطیوں سے بدنما ہے کہ ایسی بات پر کہ جھوٹ سچ اس کا ابھی ثابت نہیں ہوا، حکم قتل کر فرمائیں اور اس کی تمام عمر کی خدمت اور نمک حلالی بھول جائیں۔\n\nبادشاہ سلامت! اگلے شہر یاروں نے بندی خانہ اسی سبب ایجاد کیا کہ بادشاہ یا سردار اگر کسو پر غضب ہوں تو اسے قید کریں۔ کئی دن میں غصہ جاتا رہے گا، اور بے تقصیری اس کی ظاہر ہو گی۔ بادشاہ خون ناحق سے محفوظ رہیں گے۔ کل کو روز قیامت میں ماخوذ نہ ہوئیں گے۔\n\nمیں نے جتنا اس کے قائل کرنے کو چاہا اس نے ایسی معقول گفتگو کی کہ مجھے لاجواب کیا۔ تب میں نے کہا کہ خیر تیرا کہنا پذیرا ہوا۔ میں خون سے اس کے درگذرا لیکن زندان میں مقید رہے گا۔ اگر ایک سال کے عرصے میں اس کا سخن راست ہوا کہ ایسے لعل کتے کے گلے میں ہیں تو اس کی نجات ہو گی۔ اور نہیں تو بڑے عذاب سے مارا جاوے گا۔ فرمایا کہ وزیر کو پنڈت خانے میں لے جاؤ۔ یہ سن کر ایلچی نے زمین خدمت کی چومی اور تسلیمات کی۔\n\nجب یہ خبر وزیر کے گھر میں گئی، آہ واویلا مچا اور ماتم سرا ہو گیا۔ اس وزیر کی ایک بیٹی تھی برس چودہ پندرہ کی۔ نہایت خوب صورت اور قابل، نوشت و خواند میں درست۔ وزیر اس کو نپٹ پیار کرتا تھا اور عزیز رکھتا تھا، چنانچہ اپنے دیوان خانے کے پچھواڑے ایک رنگ محل اس کی خاطر بنوا دیا تھا۔ اور لڑکیاں عمدوں کی اس کی مصاحبت میں اور خواصیں تکمیل خدمت میں رہتیں۔ ان سے ہنسی خوشی کھیلا کودا کرتی۔\n\nاتفاقاً جس دن وزیر کو محبوس خانے میں بھیجا، وہ لڑکی اپنی ہم جولیوں میں بیٹھی تھی اور خوشی سے گڑیا کا بیاہ رچایا تھا۔ اور ڈھولک پکھاوج لیے ہوئے رت جگے کی تیاری کر رہی تھی۔ اور کڑاہی چڑھا کر گلگلے اور تلتی اور بنا رہی تھی کہ ایک بارگی اس کی ماں روتی پیٹتی، سر کھلے، پاؤں ننگے، بیٹی کے گھر میں گئی اور دو ہتڑ اس لڑکی کے سر پر ماری اور کہنے لگی کاش کہ تیرے بدلے خدا اندھا بیٹا تو میرا کلیجہ ٹھنڈا ہوتا۔ اور باپ کا رفیق ہوتا۔ وزیر زادی نے پوچھا۔ اندھا بیٹا تمہارے کس کام آتا؟ جو کچھ بیٹا کرتا میں بھی کر سکتی ہوں۔ امّاں نے جواب دیا خاک تیرے سر پر یہ بپتا بیتی ہے کہ بادشاہ کو روبرو کچھ ایسی بات کہی کہ بندی خانے میں قید ہوا۔ اس نے پوچھا وہ کیا بات تھی؟ ذرا میں بھی تو سنوں تب وزیر کے قبیلے نے کہا کہ تیرے باپ نے شاید یہ کہا کہ نیشاپور میں کوئی سوداگر ہے۔ اس نے بارہ عدد لعل بے بہا کتے کے پٹے میں ٹانکے ہیں۔ بادشاہ کو باور نہ ہوا۔ اس نے جھوٹا سمجھا اور اسیر کیا۔ اگر آج کے دن بیٹا ہوتا تو ہر طرح سے کوشش کر کر اس بات کی تحقیق کرتا، اور اپنے باپ کا اپرالا کرتا۔ اور بادشاہ سے عرض معرض کر کے میرے خاوند کو پنڈت خانے سے مخلصی دلواتا۔\n\nوزیر زادی بولی۔ امّاں جان! تقدیر سے لڑا نہیں جاتا۔ چاہیے انسان بلائے ناگہانی میں صبر کرے اور امیدوار فضل الٰہی کا رہے۔ وہ کریم ہے مشکل کسو کی اٹکی نہیں رکھتا اور رونا دھونا خوب نہیں۔ مبادا دشمن اور طرح سے بادشاہ کے پاس لگا دیں اور لترے چغلی کھاویں کہ باعث زیادہ خفگی کا ہو۔ بلکہ جہاں پناہ کے حق میں دعا کرو۔ ہم اس کے خانہ زاد ہیں۔ وہ ہمارا خداوند ہے۔ وہی غضب ہوا ہے، وہی مہربان ہو گا۔ اس لڑکی نے عقل مندی سے ایسی ایسی طرح ماں کو سمجھایا کہ کچھ اس کو صبر و قرار آیا۔ تب اپنے محل میں گئی اور چپکی ہو رہی۔ جب رات ہوئی وزیر زادی نے دادا کو بلایا۔ اس کے ہاتھ پاؤں پڑی، بہت سی منت کی اور رونے لگی اور کہا۔ میں یہ ارادہ رکھتی ہوں کہ امّاں جان کا طعنہ مجھ پر نہ رہے اور میرا باپ مخلصی پاوے۔ جو تیرا رفیق ہو تو میں نیشاپور کو چلوں اور اس تاجر کو، جس کے کتے کے گلے میں ایسے لعل ہیں، دیکھ کر جو بن آوے لے کر آؤں اور اپنے باپ کو چھڑاؤں۔\n\nپہلے تو اس مرد نے انکار کیا آخر بہت کہنے سننے سے راضی ہوا۔ تب وزیر زادی نے فرمایا۔ چپکے چپکے اسباب سفر کا درست کر اور جنس تجارت کے لائق نذر بادشاہوں کے خرید کر، اور غلام و نوکر چاکر جتنے ضرور ہوں ساتھ لے۔ لیکن یہ بات کسو پر نہ کھلے۔ دادا نے قبول کیا اور اس کی تیاری میں لگا۔ جب سب اسباب مہیا کی اونٹوں اور خچروں پر بار کر کر روانہ ہوا۔ اور وزیر زادی بھی لباس مردانہ پہن کر ساتھ جا ملی ہر گز کسو کو خبر نہ ہوئی۔ جب صبح ہوئی۔ وزیر کے محل میں چرچا ہوا کہ وزیر زادی غائب ہے۔ معلوم نہیں کیا ہوئی۔\n\nآخر بدنامی کے ڈر سے ماں نے بیٹی کا گم ہونا چھپایا، اور وہاں وزیر زادی نے اپنا نام سوداگر بچہ رکھا۔ منزل بہ منزل چلتے چلتے نیشاپور میں پہنچی۔ خوشی بہ خوشی کارواں سرا میں جا اتری، اور سب اپنا اسباب اتارا۔ رات کو رہی۔ فجر کی حمام میں ہو گئی۔ اور پوشاک پاکیزہ جیسے روم کے باشندے پہنتے ہیں پہنی، شہر کی سیر کے واسطے نکلی۔ آتے آتے جب چوک میں پہنچی چوراہے پر کھڑی ہوئی۔ ایک طرف دکان جوہری کی نظر پڑی کہ بہت سے جواہر کا ڈھیر لگ رہا ہے، اور غلام فاخرہ لباس پہنے ہوئے دست بستہ کھڑے ہیں۔ اور ایک شخص جو سردار ہے برس پچاس ایک کی اس کی عمر ہے، طالع مندوں کی سی خلعت اور نمیہ آستیں پہنے ہوئے اور کئی صاحب با وضع نزدیک اس کے کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔ اور آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔\n\nوزیر زادی، جس نے اپنے تئیں سوداگر بچہ مشہور کیا تھا اسے دیکھ کر متعجب ہوئی اور دل میں سمجھ کر خوش ہوئی کہ خدا جھوٹ نہ کرے، جس سوداگر کا میرے باپ نے بادشاہ سے مذکور کیا ہے، اغلب ہے کہ یہی ہو۔ بار خدایا اس کا احوال مجھ پر ظاہر کر۔\n\nاتفاقاً ایک طرف جو دیکھا تو ایک دکان ہے اس میں دو پنجرے آہنی لٹکے ہیں اور ان دونوں میں دو آدمی قید ہیں۔ ان کی مجنون کی سی صورت ہو رہی ہے، کہ چرم و استخوان باقی ہے، اور سر کے بال اور ناخن بڑھ گئے ہیں، سر اوندھائے بیٹھے ہیں۔ اور وہ حبشی بد ہیئت مسلح دونوں طرف کھڑے ہیں۔ سوداگر بچے کو اچنبھا آیا۔ لاحول پڑھ کر دوسری طرف جو دیکھا تو ایک دکان میں غالیچے بچھے ہیں۔ ان پر ایک چوکی ہاتھی دانت کی، اس پر گدیلا مخمل کا پڑا ہوا، ایک کتا جواہر کا پٹا گلے میں اور سونے کی زنجیر سے بندھا ہوا بیٹھا ہے، اور دو غلام امرد خوب صورت اس کی خدمت کر رہے ہیں۔ ایک تو مور چھل جڑاؤ دستے کا لیے جھلتا ہے اور دوسرا مال تار کشی کا ہاتھ میں لے کر منہ اور پاؤں اس کا پونچھ رہا ہے۔ سوداگر بچے نے خوب غور کر کر جو دیکھا تو پٹے میں کتے کے بارہوں لعل کے جیسے سنے تھے موجود ہیں۔ شکر خدا کیا اور فکر میں گیا کہ کس صورت سے ان لعلوں کو بادشاہ کے پاس لے جاؤں اور دکھا کر اپنے باپ کو چھڑاؤں؟ یہ تو اس حیرانی میں تھا اور تمام خلقت چوک اور رستے کی اس کا حسن و جمال دیکھ کر حیران تھی اور ہکا بکا ہو رہی تھی۔ سب آدمی آپس میں یہ چرچا کرتے تھے کہ آج تک اس صورت و شبیہ کا انسان نظر نہیں آیا۔ اس خواجہ نے بھی دیکھا۔ ایک غلام کو بھیجا کہ تو جا کر بہ منت اس سوداگر بچے کو میرے پاس بلا لا۔\n\nوہ غلام آیا اور خواجہ کا پیام لایا۔ اگر مہربانی فرمائیے تو ہمارا خداوند صاحب کا مشتاق ہے، چل کر ملاقات کیجیے۔ سوداگر بچہ تو یہ چاہتا ہی تھا، بولا کیا مضائقہ جوں ہی خواجہ کے نزدیک آیا اور اس پر خواجہ کی نظر پڑی، ایک برچھی عشق کی سینے میں گرے، تعظیم کی خاطر سروقد اٹھا، لیکن حواس باختہ۔ سوداگر بچہ نے دریافت کیا کہ اب یہ دام آیا۔ آپس میں بغل گیر ہوئے۔ خواجہ نے سوداگر بچے کی پیشانی کو بوسہ دیا اور اپنے برابر بٹھایا۔ بہت سا تملق کر کے پوچھا کہ اپنے نام و نسب سے مجھے آگاہ کرو، کہاں سے آنا ہوا، اور کہاں کا ارادہ ہے؟ سوداگر بچہ بولا کہ، اس کمترین کا وطن روم ہے اور قدیم سے استنبول زاد بوم ہے۔ میرے قبلہ گاہ سوداگر ہیں۔ اب بہ سبب پیری کے طاقت سیر و سفر کی نہیں رہی۔ اس واسطے مجھے رخصت کیا ہے کہ کاروبار تجارت کا سیکھوں۔ آج تک میں نے قدم گھر سے باہر نہ نکالا تھا۔ یہ پہلا ہی سفر درپیش ہوا۔ دریا کی راہ ہواؤ نہ پڑا، خشکی کی طرف سے قصد کیا۔ لیکن اس عجم کے ملک میں آپ کے اخلاق اور خوبیوں کا جو شور ہے، محض آپ کی ملاقات کی آرزو یہاں تک آیا ہوں۔ بارے فضل الٰہی سے خدمت شریف میں مشرف ہوا۔ اور اس سے زیادہ پایا۔ تمنا دل کی بر آئی خدا سلامت رکھے۔ اب یہاں سے کوچ کروں گا۔ یہ سنتے ہیں خواجہ کے عقل و ہوش جاتے رہے۔ بولا اے فرزند! ایسی بات مجھے نہ سناؤ۔ کوئی دن غریب خانے میں قدم فرماؤ۔ بھلا یہ تو بتاؤ کہ تمہارا اسباب اور نوکر چاکر کہاں ہیں؟ سوداگر بچے نے کہا کہ مسافر کا گھر سرا ہے، انہیں وہاں چھوڑ کر میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ خواجہ نے کہا بھٹیار خانے میں رہنا مناسب نہیں۔ میرا اس شہر میں اعتبار ہے، اور بڑا نام ہے۔ جلد انہیں بلوا لو۔ میں ایک مکان تمہارے اسباب کے لیے خالی کر دیتا ہوں۔ جو کچھ جنس لائے ہو، میں دیکھوں۔ ایسی تدبیر کروں گا کہ یہیں تمھیں بہت سا منافع ملے۔ تم بھی خوش ہو گے اور سفر کے حرج مرج سے بچو گے اور مجھے بھی چند روز رہنے سے اپنا احسان مند کرو گے۔ سوداگر بچے نے اوپری دل سے عذر کیا۔ لیکن خواجہ نے پذیرا نہ کیا۔ اور اپنے گماشتے کو فرمایا کیا بار بردار جلدی بھیجو اور کارواں سرا سے ان کا اسباب منگوا کر فلانے مکان میں رکھواؤ۔\n\nسوداگر بچے نے ایک زنگی غلام کو ان کے ساتھ کر دیا کہ سب مال و متاع لدوا کر لے آ، اور آپ شام تلک خواجہ کے ساتھ بیٹھا رہا۔ جب گزری کا وقت ہو چکا اور دکان بڑھائی۔ خواجہ گھر کو چلا تب دونوں غلاموں میں سے ایک نے کتے کو بغل میں لیا۔ دوسرے نے کرسی اور غالیچہ اٹھا لیا اور ان دونوں حبشی غلاموں نے ان پنجروں کو مزدوروں کے سر پر دھر دیا، اور آپ پانچوں ہتھیار باندھے ساتھ آئے۔ خواجہ سوداگر بچے کا ہاتھ، ہاتھ میں لیے باتیں کرتا ہوا حویلی میں آیا۔ سوداگر بچے نے دیکھا کہ مکان عالی شان لائق بادشاہوں یا امیروں کے ہے۔ لب نہر فرش چاندنی کا بچھا ہے، اور مسند کے روبرو اسباب عیش کا چنا ہے۔ کتے کی صندلی بھی اسی جگہ بچھائی اور خواجہ، سوداگر بچے کو لے کر بیٹھا بے تکلف وضع شراب کی کی۔ دونوں پینے لگے۔ جب سر خوش ہوئے، تب خواجہ نے کھانا مانگا۔ دسترخوان بچھا اور دنیا کی نعمت چنی گئی۔ پہلے ایک لنگری میں کھانا لے کر سر پوش طلائی ڈھانپ کر کتے کے واسطے لے گئے اور ایک دسترخوان زر بفت کا بچھا کر اس کے آگے دھر دی۔ کتا صندلی سے نیچے اترا جتنا جی چاہا اتنا کھایا اور سونے کی لگن میں پانی پیا۔ پھر چوکی پر جا بیٹھا۔ غلاموں نے رومال سے ہاتھ منہ اسکا پاک کیا۔ پھر اس طباق اور لگن کو غلام پنجروں کے نزدیک لے گئے اور خواجہ سے کنجی مانگ کر قفل قفسوں کے کھولے۔ ان دونوں انسانوں کو باہر نکال کر کئی سونٹے مار کر کتے کا جھوٹا انہیں کھلایا اور وہی پانی پلایا۔ پھر تالے بند کر کر تالیاں خواجہ کے حوالے کیں۔ جب یہ سب ہو چکا، تب خواجہ نے آپ کھانا شروع کیا۔ سوداگر بچے کو یہ حرکت پسند نہ آئی۔ گھن کھا کر ہاتھ کھانے میں نہ ڈالا۔ ہرچند خواجہ نے منت کی پھر اس نے انکار ہی کیا۔ تب خواجہ نے سبب اسکا پوچھا کہ تم کیوں نہیں کھاتے؟ سوداگر بچے نے کہا یہ حرکت تمہاری اپنے تئیں بدنام معلوم ہوئی۔ اس لیے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور کتا نجس العین ہے۔ پس خدا کے دو بندوں کو کتے کا جھوٹا کھلانا کس مذہب و ملت میں روا ہے؟ فقط یہ غنیمت نہیں جانتے کہ وہ تمہاری قید میں ہیں؟ نہیں تو تم اور وہ برابر ہو۔ اب میرے تئیں شک آئی کہ تم مسلمان نہیں۔ کیا جانوں کون ہو کہ کتے کو پوجتے ہو؟ مجھے تمہارا کھانا کھانا مکروہ ہے۔ جب تلک یہ شبہ دل سے درد نہ ہو۔\n\nخواجہ نے کہا۔ اے بابا، جو کچھ۔ تو کہتا ہے، میں یہ سب سمجھتا ہوں اور اسی خاطر بدنام ہوں کہ اس شہر کی خلقت نے میرا نام خواجہ سگ پرست رکھا ہے اسی طرح پکارتے ہیں اور مشہور کیا ہے۔ لیکن خدا کی لعنت کافروں اور مشرکوں پر ہو جیو۔ کلمہ پڑھا اور سوداگر بچے کی خاطر جمع کی۔ تب سوداگر بچے نے پوچھا کہ اگر مسلمان بہ دل ہو تو اس کا کیا باعث ہے کہ ایسی حرکت کر کے اپنے تئیں بدنام کیا ہے۔ خواجہ نے کہا اے فرزند، نام میرا بدنام ہے اور دگنا محصول اس شہر میں بھرتا ہوں، اسی واسطے یہ بھید کسو پر ظاہر نہ ہو۔ عجب یہ ماجرا ہے کہ جو کوئی سوائے غم اور غصے کے اسے کچھ حاصل نہ ہو۔ تو بھی مجھے معاف رکھ کر نہ مجھ میں قدرت کہنے کی اور نہ تجھ میں طاقت سننے کی رہے گی۔ سوداگر بچے نے اپنے دل میں غور کی کہ مجھے اپنے کام سے کام ہے۔ کیا ضرورت ہے، جو ناحق زیادہ مجوز ہوں۔ بولا۔ اگر لائق کہنے کے نہیں تو نہ کہہ۔ کھانے میں ہاتھ ڈالا، اور نوالہ اٹھا کر کھانے لگا۔ دو مہینے تک اس ہوشیاری اور عقل مندی سے سوداگر بچے نے خواجہ کے ساتھ گزران کی کہ کسو پر ہرگز نہ کھلا کہ یہ عورت ہے۔ سب یہی جانتے تھے کہ مرد ہے۔ اور خواجہ سے روز بروز ایسی محبت زیادہ ہوئی کہ دم اپنی آنکھوں سے جدا نہ کرتا۔\n\nایک دن عیش مے نوشی کی صحبت میں سوداگر بچے نے رونا شروع کیا۔ خواجہ نے دیکھتے ہی خاطر داری کی اور رومال سے آنسو پوچھنے لگا اور سبب گریہ کا پوچھا۔ سوداگر بچے نے کہا۔ اے قبلہ! کیا کہوں؟ کاش کے تمہاری خدمت میں بندگی پیدا نہ کی ہوتی اور یہ شفقت جو صاحب میرے حق میں کرتے ہیں نہ کرتے۔ اب دو مشکلیں میرے پیش آئی ہیں۔ نہ تمہاری خدمت سے جدا ہونے کو جی چاہتا ہے اور نہ رہنے کا اتفاق یہاں ہو سکتا ہے۔ اب جانا ضرور ہوا۔ لیکن آپ کی جدائی سے امید زندگی کی نظر نہیں آتی۔\n\nیہ بات سن کر خواجہ بے اختیار ایسا رونے لگا کہ ہچکی بندھ گئی، اور بولا کہ اے نور چشم! ایسی جلدی اس اپنے بوڑھے خادم سے سیر ہوئے کہ اسے دل گیر کیے جاتے ہو؟ قصد روانہ ہونے کا دل سے دور کرو۔ جب تلک میری زندگی ہے، رہو تمہاری جدائی سے ایک دم جیتا نہ رہوں گا۔ بغیر اجل کے مر جاؤں گا اور اس ملک فارس کی آب و ہوا بہت خوب اور موافق ہے۔ بہتر یوں ہے کہ ایک آدمی معتبر بھیج کر اپنے والدین کو مع اسباب یہیں بلوا لو۔ جو کچھ سواری اور برداری درکار ہو، میں موجود کروں۔ جب ماں باپ تمہارے گھر بار سب آیا، اپنی خوشی سے کاروبار تجارت کا کیا کریو۔ میں نے بھی اس عمر میں زمانے کی بہت سختیاں کھینچی ہیں، اور ملک ملک پھرا ہوں، اب بوڑھا ہوا۔ فرزند نہیں رکھا تجھے بہتر اپنے بیٹے سے جانتا ہوں، اور اپنا ولی عہد و مختار کرتا ہوں۔ میرے کارخانے سے بھی ہوشیار اور خبردار ہو۔ جب تلک جیتا ہوں، ایک ٹکڑا کھانے کو اپنے ہاتھ سے دو۔ جب مر جاؤں داب گاڑ دیجو، اور سب مال و متاع میر لیجو۔ تب سوداگر بچے نے جواب دیا کہ واقعی صاحب نے زیادہ باپ سے میری غم خواری اور خاطر داری کی کہ مجھے ماں باپ بھول گئے۔ لیکن اس عاصی کے والد نے ایک سال کی رخصت دی تھی۔ اگر دیر لگاؤں گا تو وہ اس پیری میں روتے روتے مر جائیں گے پس رضامندی پدر کی خوشنودی خدا کی ہے، اگر وہ مجھے سے ناراضی ہوں گے تو میں ڈرتا ہوں کہ شاید دعائے بد نہ کریں کہ دونوں جہاں میں خدا کی رحمت سے محروم رہوں۔ اب آپ کی یہی شفقت ہے کہ بندے کہ حکم کیجئے کہ فرمانا قبلہ گاہ کا بجا لاوے اور حق پدری سے ادا ہووے۔ اور صاحب کی توجہ کا ادائے شکر جب تلک تم میں دم ہے، میری گردن پر ہے۔ اگر اپنے میں بھی جاؤں گا تو ہر دم میں دل و جان سے یاد کروں گا، خدا مسبب الاسباب ہے۔ شاید پھر کوئی ایسا سبب ہو کر قدم بوسی حاصل کروں۔\n\nغرض سوداگر بچے نے ایسی ایسی باتیں لون مرچ لگا کر خواجہ کو سنائی کہ وہ بچارا لاچار ہو کر ہونٹ چاٹنے لگا۔ ازبسکہ اس پر شیفتہ اور فریفتہ ہو رہا تھا، کہنے لگا اچھا اگر تم نہیں رہتے ہو تو میں ہی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ میں تجھ کو اپنی جان کے برابر جانتا ہوں۔ پس جب جان چلی جاوے تو خالی بدن کس کام آوے؟ اگر تو ایس میں رضامند ہے تو چل اور مجھے بھی لے چل۔ سوداگر بچے یہ کہہ کر اپنی بھی تیاری سفر کی کرنے لگا اور گماشتوں کو حکم کیا، بار برداری کی فکر جلدی کرو۔\n\nجب خوجہ کے چلنے کی خبر مشہور ہوئی۔ وہاں کے سوداگروں نے سن کر سب نے تہیہ سفر کیا۔ خواجہ سگ پرست نے گنج اور جواہر بے شمار، نوکر اور غلام ان گنت، تحفے اور اسباب شاہانہ بہت ساتھ لے کر شہر کے باہر تنبو اور قنات اور بے چوبے اور سرا پردے اور کندے کھڑے کروا کر ان میں داخل ہوا۔ جتنے تجار تھے، اپنی اپنی بساط موافق سوداگری کا لے کر ہم راہ ہوئے برئے خود ایک لشکر ہو گیا۔\n\nایک دن چوگنی کو پیٹھ دے کر وہاں سے کوچ کیا۔ ہزاروں اونٹوں پر شلیتے اسباب کے اور خچروں پر صندوق نقد و جواہر کے لاد کر پانچ سو غلام دشت قبچاق اور زنگ و روم کے مسلح، صاحب شمشیر، تازی اور ترکی و عراق و عربی گھوڑے پر چڑھ کر چلے۔ سب کے پیچھے خواجہ اور سوداگر بچہ خلعت فاخرہ پہنے سکھپال پر سوار اور ایک تخت بغدادی اونٹ پر کسا، اس پر کتا مسند پر سویا ہوا، اور ان دونوں قیدیوں کے قفس ایک شتر پر لٹکائی ہوئے روانہ ہوئے۔ جس منزل پہنچے سب سوداگر خواجہ کی بارگاہ میں آ کر حاضر ہوتے۔ اور دستر خوان پر کھانا کھاتے اور شراب پیتے۔ خواجہ سوداگر بچے کے ساتھ ہونے کی خوشی میں شکر خدا کا کرتا اور کوچ در کوچ چلا جاتا تھا۔\n\nبارے بخیر و عافیت نزدیک قسطنطنیہ کے آ پہنچے۔ باہر شہر کے مقام کیا۔ سوداگر بچے نے کہا۔ اے قبلہ اگر رخصت دیجئے تو میں جا کر ماں باپ کو دیکھوں اور مکاں صاحب کے واسطے خالی کروں۔ جب مزاج سامی میں آوے شہر میں داخل ہو جئے، خواجہ نے کہا تمہاری خاطر تو میں یہاں آیا۔ اچھا جلد مل جل کر میرے پاس آؤ۔ اور اپنے نزدیک میرے اترنے کو مکان دو۔ سوداگر بچہ رخصت ہو کر اپنے گھر میں آیا۔ سب وزیر کے محل کے آدمی حیران ہوئے کہ یہ مرد کون گھس آیا۔ سوداگر بچہ، یعنی بیٹی وزیر کی، اپنی ماں کے پاؤں پر جا گری اور روئی اور بولی کہ میں تمہاری جائی ہوں۔ سنتے ہی وزیر کی بیگم گالیاں دینے لگی کہ اے تتری تو بڑی شتا ہو نکلی۔ اپنا منہ تو نے کالا کیا اور خاندان کو رسوا کیا۔ ہم تو تیری جان کو رو پیٹ کر صبر کر کے تجھ سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جا دفع ہو۔ تب وزیر زادی کے سر پر پگڑی اتار کر پھینک دی اور بولی اے اماں جان میں بری جگہ نہیں گئی۔ کچھ بدی نہیں کی۔ مگر تمہارے بموجب فرمانے کے بابا کو قید سے چھڑانے کی خاطر یہ فکر کی۔ الحمد اللہ تمہاری دعا کی برکت سے اور اللہ کے فضل سے پورا کام کر کے آئی ہوں، کہ نیشا پور سے اس سوداگر مع کتے، جس کے گلے میں وہ لعل پڑے ہیں، اپنے ساتھ لائی ہوں، اور تمہاری امانت میں بھی خیانت نہیں کی۔ سفر کے لیے مردانہ بھیس کیا ہے۔ اب ایک روز کا کام باقی ہے۔ وہ کر کر قبلہ گاہ پنڈت خانے سے چھڑاتی ہوں، اور اپنے گھر میں آتی ہوں۔ اگر حکم ہو تو پھر جاؤں اور ایک روز باہر رہ کر خدمت میں آؤں۔\n\nماں نے جب خوب معلوم کیا کہ میری بیٹی نے مردوں کا کام کیا ہے اور اپنے تئیں سب طرح سلامت و محفوظ رکھا ہے۔ خدا کی درگاہ میں نک گھسنی کی اور خوش ہو کر بیٹی کو چھاتی سے لگا لیا۔ اور منہ چوما بلائیں لیں، دعائیں دیں اور رخصت کیا کہ تو جو مناسب جان سو کر۔ میری، خاطر جمع ہوئی۔\n\nوزیر زادی پھر سوداگر بچہ بن کر خواجہ سگ پرست کے پاس چلی۔ وہاں خواجہ کو جدائی اس کی از بسکہ مشاق ہوئی، بے اختیار ہو کر کوچ کیا۔ اتفاقاً نزدیک شہر کے ادھر سے سوداگر بچہ جاتا تھا اور ادھر سے خواجہ آتا تھا۔ عین راہ میں ملاقات ہوئی۔ خواجہ نے دیکھے ہی کہا بابا مجھ بوڑھے کو اکیلا چھوڑ کر کہا گیا تھا؟ سوداگر بچہ بولا آپ سے اجازت لے کر اپنے گھر گیا تھا۔ آخر ملازمت کے اشتیاق نے وہاں رہنے نہ دیا۔ آ کر حاضر ہوا۔ شہر کے دروازے پر دریا کے کنارے ایک باغ سایہ دار دیکھ کر خیمہ استاد کیا اور وہیں اترے۔ خواجہ اور سوداگر بچہ باہم بیٹھ کر شراب و کباب پینے لگے۔ جب عصر کا وقت ہوا، سیر تماشے کی خاطر خیمے سے نکل کر صندلیوں پر بیٹھے۔\n\nاتفاقاً ایک قراول بادشاہی ادھر آ نکلا۔ ان کا لشکر اور نشست برخاست دیکھ کر اچنبھے ہو رہا اور دل میں کہا۔ شاید ایلچی کسو بادشاہ کا آیا ہے، کھڑا تماشا دیکھتا تھا کہ خواجہ شاطر نے اس کو آگے بلایا اور پوچھا کہ تو کون ہے؟ اس نے کہا میں بادشاہ کا میر شکار ہوں۔ شاطر نے خواجہ سے اس کا احوال کہا۔ خواجہ نے ایک غلام کافری کو کہا کہ جا کر باز دار سے کہہ کہ ہم مسافر ہیں۔ (اگر جہ چاہے تو آؤ بیٹھو، قہوہ قلیان حاضر ہے جب میر شکار نے سوداگر کا سنا تو زیادہ متعجب ہوا، اور یتیم کے ساتھ خواجہ کی مجلس میں آیا۔ لوازم اور شان و شوکت اور سپاہ و غلام دیکھے۔ خواجہ اور سوداگر بچے کو سلام کیا اور مرتبہ سگ کا نگاہ کیا۔ ہوش اس کے جاتے رہے۔ ہکا بکا سا ہو گیا۔ خواجہ نے اسے بٹھلا کر قہوہ کی ضیافت کی۔ قراول نے نام و نشان خواجہ کا پوچھا۔ جب رخصت مانگی خواجہ نے کئی تھان اور کچھ تحفے اس کو دے کر اجازت دی۔\n\nصبح کو جب بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور درباریوں سے خواجہ سوداگر کا ذکر کرنے لگا، رفتہ رفتہ مجھ کو خبر ہوئی۔ میر شکار کو میں نے روبرو طلب کیا اور سوداگر کا احوال پوچھا۔ اس نے جو کچھ دیکھا تھا عرض کیا۔ سننے سے کتے کے تجمل کے اور وہ آدمیوں کے پنجرے میں قید ہونے کے مجھے کو خفگی ہوئی۔ میں نے فرمایا وہ مردود تاجر واجب القتل ہے۔ قشقچیوں کو حکم کیا کہ جلد جاؤ اس بے دین کا سر کاٹ لاؤ۔ قضا کار وہی ایلچی فرنگ کا دربار میں حاضر تھا، مسکرایا، مجھے اور بھی غضب زیادہ ہوا، فرمایا کہ اے بے ادب بادشاہوں کے حضور میں بے سبب دانت کھولنے ادب سے باہر ہیں۔ بے محل ہنسنے سے رونا بہتر ہے۔ اس سے التماس کیا۔ جہاں پناہ کئی باتیں خیال میں گزریں، لٰہذا فدوی متبسم ہوا۔ پہلے یہ کہ وزیر سچا ہے۔ اب قید خانے سے رہائی پاوے گا۔ دوسرے یہ کہ بادشاہ ناحق سے اس وزیر کے بچے۔ تیسرے یہ قبلہ عالم نے بے سبب اور بے تقصیر اس سوداگر کو حکم قتل کا کیا۔ ان حرکتوں سے تعجب آیا کہ بے تحقیق ایک بے وقوف کے کہنے سے آپ ہر کسو کو حکم قتل کر کر بیٹھے ہیں۔ خدا جانے فی الحقیقت اس خواجہ کا احوال کیا ہے، اسے حضور میں طلب کیجئے اور اس کی واردات پوچھئے اگر تقصیر وار ٹھہرے، تب مختار ہو، جو مرضی میں آوے اس سے سلوک کیجئے۔ جب ایلچی نے اس طرح سے سمجھایا، مجھے بھی وزیر کا کہنا یاد آیا۔ فرمایا جلد سوداگر کو اس کے بیٹے کے ساتھ اور وہ سگ اور قفس حاضر کرو۔ قورچی اس کے بلانے کو دوڑائے۔ وہ ایک دم میں سب کو حضور لے آئے۔ روبرو طلب کیا پہلے خواجہ اور اس کا پسر آیا۔ دونوں لباس فاخرہ پہنے ہوئے۔ سوداگر بچے کا جمال دیکھنے سے سب ادنیٰ اعلیٰ حیران اور بھیچک ہوئے۔ ایک خوان طلائی جواہر سے بھرا ہوا، کہ ہر ایک کو چھوٹ نے سارے مکان کو روشن کر دیا، سوداگر بچہ ہاتھ میں لئے آیا اور میرے تخت کے آگے نچھاور کیا، آداب کورنشات بجا لا کر کھڑا ہوا۔\n\nخواجہ نے بھی زمین چومی اور دعا کرنے لگا اس گویائی سے بولتا تھا کہ گویا بلبل ہزار داستان ہے۔ میں نے اس لیاقت کو بہت پسند کیا، لیکن عتاب کی رو سے کہا۔ اے شیطان! آدمی کی صورت تو نے یہ کیا حال پھیلایا ہے اور اپنی راہ میں کنواں کھودا ہے؟ تیرا کیا دین ہے؟ اور یہ کون آئین ہے؟ کس پیغمبر کی امت ہے؟ اگر کافر ہے تو بھی یہ کیسی مت ہے؟ اور تیرا کیا نام ہے کہ تیرا یہ کام ہے؟ اس نے کہا قبلہ کی عمر و دولت بڑھتی رہے، غلام کا دین یہ ہے کہ خدا واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتا ہوں اور اس کے بعد بارہ امام کو اپنا پیشوا جانتا ہوں۔ اور آئیں میرا یہ ہے کہ پانچوں وقت کی نماز پڑھتا ہوں اور روزہ رکھتا ہوں، حج بھی کر آیا ہوں، اور اپنے مال سے خس زکوٰۃ دیتا ہوں، اور مسلمان کہلاتا ہوں، لیکن ظاہر میں یہ سارے عیب جو مجھ میں بھرے ہیں، جن کے سبب سے آپ ناخوش ہوئے اور تمام خلق اللہ میں بدنام ہو رہا ہوں اس کا ایک باعث ہے کہ ظاہر نہیں کر سکتا۔ ہر چند سگ پرست مشہور ہوں، اور مضاعف محصول دیتا ہوں۔ یہ سب قبول کیا ہے، پھر دل کا بھید کسو سے نہیں کہا۔\"\n\nاس بہانے سے میرا غصہ زیادہ ہوا اور کہا۔ \" مجھے تو باتوں میں پھسلاتا ہے۔ میں نہیں ماننے کا، جب تلک اس اپنی گمراہی کی دلیل معقول عرض نہ کرئے کہ میرے دل نشین ہو۔ تب تو جان سے بچے گا۔ نہیں تو اس کے قصاص میں تیرا پیٹ چاک کرواؤں گا۔ تو سب کی عبرت ہو کہ بار دیگر کوئی دین محمدی میں رخنہ نہ کرے۔\" خواجہ نے کہا۔ \" اے بادشاہ! مجھ کم بخت کے خون سے درگزر کر۔ اور جتنا مال میرا ہے کہ گنتی اور شمار سے باہر ہے، سب کو ضبط کر لے اور مجھے اور میرے بیٹے کو اپنے تخت کے تصدق کر کر چھوڑ دے۔ اور جان بخشی کر۔\"\n\nمیں نے تبسم کر کے کہا۔ \" اے بیوقوف! اپنے مال کی طمع مجھے دکھاتا ہے، سوائے سچ بولنے کے اب تیری مخلصی نہیں۔\" یہ سنتے ہی خواجہ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو ٹپکنے لگے اور اپنے بیٹے کی طرف دیکھ کر ایک آہ بھری اور بولا۔ \" میں تو پادشاہ کے روبرو گنہگار ٹھہرا، مارا جاؤں گا۔ اب کیا کروں؟ تجھے کس کو سونپوں؟\" میں نے ڈانٹا کہ\n\n\" اے مکار! بس اب عذر بہت کئے، جو کہنا ہے جلد کہہ۔\"\n\nتب تو اس مرد نے قدم بڑھا کر تخت کے پاس آ کر پائے کو بوسہ دیا اور صفت و ثنا کرنے لگا اور بولا۔ \" اے شہنشاہ! اگر حکم قتل کا میرے حق میں نہ ہوتا تو سب سیاستیں سہتا اور اپنا ماجرا نہ کہتا۔ لیکن جان سب سے عزیز ہے۔ کوئی آپ سے کنویں میں نہیں گرتا۔ پش جان کی محافظت واجب ہے، اور ترک واجب کا خلاف حکم خدا کے ہے۔ خیر جو مرضی مبارک یہی ہے، تو سرگزشت اس پیر ضعیف کی سنئے۔ پہلے حکم ہو کہ وہ دونوں قفس جن میں دو آدمی قید ہیں، حضور میں لا کر رکھیں۔ میں اپنا احوال کہتا ہوں۔ اگر کہیں جھوٹ کہوں تو ان سے پوچھ کر مجھے قائل کیجئے اور انصاف فرمائیے۔ مجھے یہ بات اس کی پسند آئی۔ پنجروں کو منگوا کر اس دونوں کو نکلوا کر خواجہ کے پاس کھڑا کیا۔\n\nخواجہ نے کہا، اے بادشاہ یہ مرد جو داہنی طرف ہے، غلام کا بڑا بھائی ہے، اور جو بائیں کو کھڑا ہے منجھلا برادر ہے۔ میں ان دونوں سے چھوٹا ہوں۔ میرا باپ ملک فارس میں سوداگر تھا۔ جب میں چودہ برس کا ہوا، قبلہ گاہ نے رحلت کی۔ جب تجہیز و تکفین سے فراغت ہوئی اور پھول اٹھ چکے، ایک روز ان دونوں بھائیوں نے مجھے کہا کہ اب باپ کا ملا جو کچھ ہے تقسیم کر لیں۔ جس کا دل جو چاہے سو کام کرے۔ میں نے سن کر کہا اے بھائیو یہ کیا بات ہے؟ میں تمہارا غلام ہوں۔ بھائی چارے کا دعوی نہیں رکھتا۔ ایک باپ مر گیا۔ تم دونوں میرے پدر کی جگہ میرے سر پر قائم ہو۔ ایک نان خشک چاہتا ہوں جس میں زندگی بسر کروں اور تمہاری خدمت میں حاضر رہوں۔ مجھے حصے بخرے سے کیا کام ہے؟ تمہارے آگے کو جوٹھے سے اپنا پیٹ بھر لوں گا اور تمہارے پاس رہوں گا۔ میں لڑکا ہوں، کچھ پڑھا لکھا بھی نہیں۔ مجھ سے کیا ہو سکے گا؟ ابھی تم مجھے تربیت کرو۔ یہ سن کر جواب دیا کہ تو چاہتا ہے اپنے ساتھ ہمیں بھی خراب اور محتاج کرے۔ میں چپکا ایک گوشے میں جا کر رونے لگا۔ پھر دل کو سمجھایا کہ بھائی آخر بزرگ ہیں۔ میری تعلیم کی خاطر چشم نمائی کرتی ہیں کہ کچھ سیکھے اس فکر میں سو گیا۔ صبح کو ایک ایک پیادہ قاضی کا آیا اور مجھے دارالشرع میں لے گیا۔ وہاں دیکھا تو یہی دونوں بھائی حاضر ہیں۔ قاضی نے کہا کیوں اپنے باپ کا ورثہ بانٹ چونٹ نہیں لیتا؟ میں نے گھر میں جو کہا تھا، وہاں بھی جواب دیا۔\n\nبھائیوں نے کہا۔ اگر یہ بات اپنے دل سے کہتا تو ہمیں لا دعویٰ لکھ دے کہ باپ کے مال و اسباب سے مجھے کچھ علاقہ نہیں۔ تب بھی میں نے یہی سمجھا کہ یہ دونوں میرے بزرگ ہیں۔ میری نصیحت کے واسطے کہتے ہیں کہ باپ کا ملا لیکر بے جا تصرف نہ کروں۔ بہ موجب ان کی مرضی کے فارغ خطبی بہ مہر قاضی میں نے لکھ دی۔ یہ راضی ہوئے۔ گھر میں آیا۔ دوسرے دن مجھ سے کہنے لگے اے بھائی یہ مکان جس میں تو رہتا ہے ہمیں درکار ہے۔ تو اپنی بود و باش کی خاطر اور جگہ لے کر جا رہ۔ تب میں نے دریافت کیا کہ باپ کی حویلی میں بھی رہنے سے خوش نہیں۔ لاچار ارادہ اٹھ جانے کا کیا۔ جہاں پناہ جب میرا باپ جیتا تھا تو جس وقت سفر سے آتا ہر ایک ملک کا تحفہ بہ طریق سوغات کے لاتا اور مجھے دیتا۔ اس واسطے کہ چھوٹے بیٹے کو ہر کوئی زیادہ پیار کرتا ہے۔ میں نے اس کو بیچ بیچ کر تھوڑی سی اپنی نج کی پونجی بہم پہنچائی تھی۔ اسی سے کچھ خرید و فروخت کرتا۔ ایک بار لونڈی میری خاطر ترکستان سے میرا باپ لایا۔ ایک دفعہ گھوڑے لے کر آیا۔ ان میں سے ایک بچھڑا تا کند کہ ہونہار تھا، وہ بھی مجھے دیا۔ میں اپنے پاس سے دانہ گھاس کا اس کا کرتا تھا۔\n\nآخر ان کی بے مروتی دیکھ ایک حویلی خریدی کی۔ وہاں جا رہا۔ یہ کتا بھی میرے ساتھ چلا آیا۔ واسطے ضروریات کے اسباب خانہ داری کا جمع کیا اور وہ غلام خدمت خاطر مول لئے اور باقی پونجی سے ایک دکان بزازی کی کر کے خدا کے توکل پر بیٹھا۔ اپنی قسمت پر راضی تھا۔ اگرچہ بھائیوں نے بد خلقی کی، پر خدا جو مہربان ہوا، تین برس کے عرصے میں ایسی دکان جمی کہ میں صاحب اعتبار ہوا۔ سب سرکاروں میں جو تحفہ چاہتا میری ہی دکان سے جاتا۔ اس میں بہت سے روپے کمائے اور نہایت فراغت سے گزرنے لگی۔ ہر دم جناب باری شکرانہ کرتا اور آرام سے رہتا۔ یہ کبت اکثر اپنے احوال پر پڑھتا:\n\nروٹھے کیوں نہ راجا، واتیں کچھ ناہیں کاجا\nایک تو سے مہاراجا، اور کون کو سراہیے\nروٹھے کیوں نہ بھائی واتیں کچھ نہ بسائیں\nایک تو ہی بے سہائی، اور کون پاس جائیے\nروٹھے کیوں نہ متر، ستر آٹھوں جام\nایک راوے چرن کے نہیہ کو نبھائیے\nسنسار ہے روٹھا، ایک تو ہے انوٹھا\nسب چومیں گے انگوٹھا، ایک تو نہ روٹھا چاہیے\n\nاتفاقاً جمعے کے روز میں اپنے گھر بیٹھا تھا کہ ایک غلام میرا سودا سلف کو بازار گیا تھا۔ بعد میں ایک دم کے روتا ہوا آیا۔ میں نے سبب پوچھا کہ تجھے کیا ہوا؟ خفا ہو کر بولا کہ تمہیں کیا کام ہے؟ تم خوشی مناؤ، لیکن قیامت میں کیا جواب دو گے؟ میں نے کہا اے حبشی! ایسی کیا بلا تجھ پر نازل ہوئی؟ اس نے کہا یہ غضب ہے کہ تمہارے بڑے بھائیوں کی چوک کے چوراہے میں ایک یہودی نے مشکیں باندھی ہیں، اور قمچیاں مارتا ہے۔ اور ہنستا ہے کہ اگر میرے روپے نہ دو گے تو مارتے مارتے مار ہی ڈالوں گا۔ بھلا مجھے ثواب تو ہو گا۔ پس تمہارے بھائیوں کی یہ نوبت اور تم بے فکر ہو؟ یہ بات اچھی ہے۔ لوگ کیا کہیں گے؟ یہ بات غلام سے سنتے ہی لہو نے جوش کیا۔ ننگے پاؤں بازار کی طرف دوڑا اور غلاموں کو کہا جلد روپے لے کر آؤ۔ جونہی وہاں گیا، دیکھا جو جو غلام نے کہا تھا سچ ہے ان پر مار پڑ رہی ہے۔ حاکم کے پیادوں کو کہا۔ واسطے خدا کے ذرا ٹھہر جاؤ۔ میں یہودی سے پوچھوں کہ ایسی کیا تقصیر کی ہے، جس کے بدلے یہ تعزیر کی ہے؟\n\nیہ کہہ کر میں یہودی کے نزدیک گیا اور کہا آج روز آدینہ ہے۔ ان کو کیوں ضرب شاق کر رہا ہے؟ اس نے جواب دیا اگر حمائت کرتے ہو تو پوری کرو۔ ان کے عوض روپے حوالے کرو۔ نہیں تو اپنے گھر کی راہ لو۔ میں نے کہا، کیسے روپے؟ دستاویز نکال، میں روپے گن دیتا ہوں۔ اس نے کہا تمسک حاکم کے پاس دے آیا ہوں۔ اس میں تیرے دونوں غلاموں دویدرہ روپے لے کر آئے۔ ہزار میں یہودی کو دیئے اور بھائیوں کو چھڑایا۔ ان کی یہ صورت ہو رہی تھی کہ بدن سے ننگے اور بھوکے پیاسے اپنے ہمراہ گھر میں لایا۔ وونہیں حمام میں نہلوایا پوشاک پہنائی۔ کھانا کھلایا۔ برگزاں سے یہ نہ کہا کہ اتنا مال باپ کا تم نے کیا کیا؟ شاید شرمندہ ہوں۔\n\nاے بادشاہ یہ دونوں موجود ہیں، پوچھے کہ سچ کہتا ہوں یا کوئی بات جھوٹ بھی ہے؟ خیر جب کئی دن میں مار کی گرفت سے بحال ہوئے، ایک روز میں نے کہا کہ اے بھائیوں اب اس شہر میں تم بے اعتبار ہو گئے ہو، بہتر یہ ہے کہ چند روز سفر کرو۔ یہ سن کر چپ ہو رہے۔ میں نے معلوم کیا کہ راضی ہیں، سفر کی تیاری کرنے لگا۔ پال پر تل، باربرداری، اور سواری کی فکر کر کے بیس ہزار کی جنس تجارت خرید کر دی۔ ایک قافلہ سوداگروں کا بخارے کو جاتا تھا ان کے ساتھ کر دیا۔\n\nبعد ایک سال کے وہ کارواں پھر آیا۔ ان کی خیر خبر کچھ نہ پائی۔ آخر ایک آشنا سے قسمیں دے کر پوچھا۔ اس نے کہا جب بخارے میں گئے ایک نے جوئے میں اپنا تمام مال ہار دیا۔ اب وہاں کی جاروب کشی کرتا ہے اور پھڑ کو لیپتا پوتتا ہے۔ جواری جو جمع ہوتے ہیں، ان کی خدمت کرتا ہے، وہ بطریق خیرات کے کچھ دے دیتے ہیں وہاں گرگا بنا پڑا رہتا ہے۔ اور دوسرا بوزہ فروش کی لڑکی پر عاشق ہوا، اپنا مال سارا صرف کیا۔ اب وہ بوزہ خانے کی ٹہل کرتا ہے۔ قافلے کے آدمی اس لیے نہیں کہتے کہ تو شرمندہ ہو گا۔\n\nیہ احوال اس شخص سے سن کر میری عجب حالت ہوئی۔ مارے فکر کے نیند بھوک جاتی رہی، زاد راہ لے کر قصد بخارے کا کیا۔ جب وہاں پہنچا دونوں کو ڈھونڈا اور اپنے مکان میں لایا۔ غسل کروا کر نئی پوشاک پہنائی اور ان کی خجالت کے ڈر سے ایک بات منہ پر نہ رکھی۔ پھر مال سوداگری کا ان کے واسطے خریدا اور ارادہ گھر کا کیا، جب نزدیک نیشاپور کے آیا، ایک گاؤں میں بہ مع مال اسباب ان کو چھوڑ کر گھر میں آیا۔ اس لیے کہ میرے آنے کی کسی کو خبر نہ تھی۔\n\nبعد دو دن کے مشہور کیا کہ میرے بھائی سفر سے آئے ہیں کل ان کے استقبال کی خاطر جاؤں گا۔ صبح کو چاہا کہ جاؤں۔ ایک گرہست اسی موضع کا میرے پاس آیا اور فریاد کرنے لگا۔ میں اس کی آواز سن کر باہر نکلا۔ اسے روتا دیکھ کر پوچھا کیوں زاری کرتا ہے؟ بولا تمہارے بھائیوں کے سبب سے ہمارے گھر لوٹے گئے۔ کاش کہ ان کو تم وہاں نہ چھوڑ آتے!\n\nمیں نے پوچھا کیا مصیبت گزری؟ بولا کہ رات کو ڈاکا آیا، ان کا مال و اسباب لوٹا اور ہمارا گھر بھی لوٹ گئے۔ میں نے افسوس کیا اور پوچھا کہ اب وہ دونوں کہاں ہیں؟ کہا شہر کے باہر ننگے، خراب خستہ بیٹھے ہیں۔ اور یہ مارے شرمندگی کے باہر نہ نکلتے تھے۔\n\nتین مہینے اسی طرح گزرے۔ تب میں نے اپنے دل میں غور کیا کہ کب تلک یہ کونے میں دبکے بیٹھے رہیں گے۔ بنے تو ان کو اپنے ساتھ سفر میں لے جاؤں۔ بھائیوں سے کہا۔ اگر فرمائیے تو فدوی آپ کے ساتھ چلے؟ یہ خاموش ہو رہے۔ پھر لوازمہ سفر کا اور جنس سوداگری کر کے چلا اور ان کو ساتھ لیا۔\n\nجنس مال کی زکوٰۃ دے کر اسباب کشتی پر چڑھایا اور لنگر اٹھایا، ناؤ چلی یہ کتا کنارے پر سو رہا تھا۔ جب چونکا اور جہاز کو مانجھ دھار میں دیکھا، حیران ہو کر بھونکا اور دریا میں کود پڑا اور تیرنے لگا۔ میں نے ایک پسوئی دوڑا دی۔ بارے سگ کو لے کر کشتی میں پہنچایا۔\n\nایک مہینہ خیرو عافیت سے دریا میں گزرا۔ کہیں منجھلا بھائی لونڈی پر عاشق ہوا۔ ایک دن بڑے بھائی سے کہنے لگا کہ چھوٹے بھائی کی منت اٹھانے سے بڑی شرمندگی حاصل ہوئی۔ اس کا تدارک کیا کریں؟ بڑے نے جواب دیا کہ ایک صلاح دل میں ٹھہرائی ہے۔ اگر بن آوے تو بڑی بات ہے۔ آخر دونوں نے مصلحت کر کے تجویز کی کہ اسے مار ڈالیں اور سارے اسباب کے قابض متصرف ہوں۔\n\nایک دن میں جہاز کی کوٹھڑی میں سوتا تھا اور لونڈی پاؤں داب رہی تھی کہ منجھلا بھائی آیا اور جلدی سے مجھے جگایا۔ میں ہڑبڑا کر چونکا اور باہر نکلا۔ یہ کتا بھی میرے ساتھ ہو لیا۔ دیکھوں تو بڑا بھائی جہاز کی باڑ پر ہاتھ ٹیکے نہیوڑا ہوا تماشا دریا کا دیکھ رہا ہے اور مجھے پکارتا ہے۔ میں نے پاس جا کر کہا خیر تو ہے؟ بولا عجب طرح کا تماشا ہو رہا ہے کہ دریائی آدمی موتی کی سیپیاں اور مونگے کے درخت ہاتھ میں لیے ہوئے ناچتے ہیں۔ اگر اور کوئی ایسی بات خلاف قیاس کہتا تو میں نہ مانتا۔ بڑے بھائی کے کہنے کو راست جانا دیکھنے کو سر جھکایا۔ ہر چند نگاہ کی، کچھ نظر نہ آیا اور وہ یہی کہتا رہا، اب دیکھا؟ لیکن کچھ ہو تو دیکھوں۔ اس میں مجھے غافل پا کر منجھلے نے اچانک پیچھے آ کر ایسا دھکیلا کہ بے اختیار پانی میں گر پڑا۔ اور وہ رونے دھونے لگے کہ دوڑیو! ہمارا بھائی دریا میں ڈوبا۔ اتنے میں ناؤ بڑھ گئی اور دریا کی لہر مجھے کہیں سے کہیں لے گئی۔ غوطے پر غوطے کھاتا تھا اور موجوں میں چلا جاتا تھا۔ آخر تھک گیا۔ خدا کو یاد کرتا تھا، کچھ بس نہ چلتا تھا۔ یکبارگی کسو چیز پر ہاتھ پڑا۔ آنکھ کھول کر دیکھا تو یہی کتا ہے۔ شاید جس دم مجھے دریا میں ڈالا، میرے ساتھ یہ بھی کودا اور تیرتا ہوا میرے ساتھ لپٹا چلا جاتا تھا۔ میں نے اس کی دم پکڑ لی۔ اللہ نے اس کو میری زندگی کا سبب کیا، سات دن اور رات یہی صورت گزری۔ آٹھویں دن کنارے جا لگے۔ طاقت مطلق نہ تھی، لیٹے لیٹے کروٹیں کھا کر جوں توں اپنے تئیں خشکی میں ڈالا۔\n\nایک دن بے ہوش پڑا رہا۔ دوسرے دن کتے کی آواز کان میں گئی۔ ہوش میں آیا، خدا کا شکر بجا لایا، ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ دور سے شہر کا سواد نظر آیا لیکن قوت کہاں کہ ارادہ کروں! لاچار قدم چلتا پھر بیٹھتا۔ اسی حالت سے شام تک کوس بھر راہ کاٹی۔ بیچ میں ایک پہاڑ ملا۔ رات کو وہاں گر رہا۔ صبح کو شہر میں داخل ہوا۔ جب بازار میں گیا۔ نان بائی اور حلوائیوں کی دکانیں نظر آئیں، دل ترسنے لگا۔ نہ پاس پیسا جو خرید کروں۔ نہ جی چاہے کہ مفت مانگوں۔ اسی طرح اپنے دل کو تسلی دیتا ہوا کہ دکان سے لوں گا، چلا جاتا تھا۔ آخر طاقت نہ رہی اور پیٹ میں آگ لگی۔ نزدیک تھا کہ روح بدن سے نکلے، ناگاہ دو جوان کو دیکھا کہ لباس عجم کا پہنے، اور ہاتھ پکڑے چلے آتے تھے۔ ان کو دیکھ کر خوش ہوا کہ یہ اپنے ملک کے انسان ہیں شاید آشنا صورت ہو، ان سے اپنا احوال کہوں گا۔ جب نزدیک آئے تو میرے دونوں برادر حقیقی تھے۔ دیکھ کر نپٹ شاد ہوا۔ شکر خدا کا آیا کہ خدا نے آبرو رکھ لی۔ غیر کے آگے ہاتھ نہ پسارا۔ نزدیک جا کر سلام کیا اور بڑے بھائی کا ہاتھ چوما۔ انہوں نے مجھے دیکھتے ہی غل و شور کیا۔ منجھلے نے طمانچہ مارا کہ میں لڑکھڑا گر پڑا۔ بڑے بھائی کا دامن پکڑا کہ شاید یہ حمایت کرے گا۔ اس نے لات ماری۔\n\nغرض دونوں نے مجھے خوار و خام کیا، اور حضرت یوسف کے بھائیوں کا سا کام کیا۔ ہرچند میں نے خدا کے واسطے دیے اور گھگھیا ہر گز رحم نہ کھایا۔ ایک خلقت اکٹھی ہوئی۔ سب نے پوچھا اس کا کیا گناہ ہے؟ تب بھائیوں نے کہا۔ یہ حرام زادہ مدتوں سے تلاش میں تھے، آج اس صورت سے نظر آیا۔ اور مجھ سے پوچھتے تھے کہ اے ظالم! یہ کیا تیرے دل میں آیا کہ ہمارے بھائی کو مار کھپایا! کیا اس نے تیری تقصیر کی تھی۔ ان نے تجھ سے کیا برا سلوک کیا تھا کہ اپنا مختار بنایا تھا؟ پھر ان دونوں نے اپنے گریبان چاک کر ڈالے، اور بے اختیار جھوٹھ موٹھ بھائی کی خاطر روتے تھے، اور لات مکے مجھ پر کرتے تھے۔\n\nاس میں حاکم کے پیادے آئے۔ ان کو ڈانٹا کہ کیوں مارتے ہو؟ اور میرا ہاتھ پکڑا کوتوال کے پاس لے گئے۔ یہ دونوں بھی ساتھ چلے اور حاکم سے بھی یہی کہا، اور بطور رشوت کے کچھ دے کر اپنا انصاف چاہا اور خون ناحق کا دعویٰ کیا۔ حاکم نے مجھ سے پوچھا۔ میری یہ حالت تھی کہ مارے بھوک اور پیٹ کے طاقت گویائی کی نہ تھی۔ سر نیچے کھڑا تھا کہ کچھ منہ سے جواب نہ نکلا۔ حاکم کو بھی یقین ہوا کہ یہ مقرر خونی۔ فرمایا کہ اسے میدان میں لے جا کر سولی دو۔ جہاں پناہ! میں نے روپے دے کر ان کو یہودی کی قید سے چھڑایا تھا۔ اس کے عوض انہوں نے بھی روپے خرچ کر کے میری جان کا قصد کیا، یہ دونوں حاضر ہیں۔ ان سے پوچھیے اس میں سرِ مو تفاوت کہتا ہوں؟ خیر مجھے لے گئے۔ جب دار کو دیکھا، ہاتھ زندگی سے دھوئے سوائے اس کتے کے کوئی میرا رونے والا نہ تھا۔ اس کی یہ حالت تھی کہ آدمی کے پاؤں میں لوٹتا اور چلاتا تھا۔ کوئی لکڑی کوئی پتھر سے مارتا لیکن یہ اس جگہ سے نہ سرکتا۔ اور میں رو بہ قبلہ کھڑا ہو خدا سے کہتا تھا کہ اس وقت میں تیری ذات کے سوا میرا کوئی نہیں، جو آڑے آوے اور بے گناہ کو بچاوے، اب تو ہی بچائے تو بچتا ہوں۔ یہ کہہ کر کلمہ شہادت کا پڑھ کر تیورا کر گر پڑا۔\n\nخدا کی حکمت سے اس شہر کے بادشاہ کو قولنج کی بیماری ہوئی۔ امراء اور حکیم جمع ہوئے، جو علاج کرتے تھے، فائدہ نہ ہوتا تھا۔ ایک بزرگ نے کہا کہ سب سے بہتر یہ دوا ہے، کہ محتاجوں کو کچھ خیرات کرو اور بندی خانوں کو آزاد کرو۔ دوا سے دعا میں بڑا اثر ہے۔ وونہیں بادشاہی چیلے پنڈت خانوں کی طرف دوڑے۔ اتفاقاً ایک اس میدان میں آ نکلا اژدحام دیکھ کر معلوم کیا کہ کسو کو یہاں چڑھاتے ہیں۔ یہ سنتے ہی گھوڑے کو دار کے نزدیک لا کر تلوار سے طنابیں کاٹ دیں۔ حاکم کے پیادوں کو ڈانٹا اور تنبیہ کی کہ ایسے وقت میں کہ بادشاہ کی یہ حالت ہے، تم خدا کے بندے کو قتل کرتے ہو، اور مجھے چھڑوا دیا۔ تب یہ دونوں بھائی پھر حاکم کے پاس گئے۔ اور میرے قتل کے واسطے کہا۔ شحنہ نے تو رشوت کھائی تھی، جو یہ کہتے تھے سو کرتا تھا۔ کوتوال نے ان سے کہا خاطر جمع رکھو۔ اب میں ایسا قید کرتا ہوں کہ آپ سے آپ مارے بھوکوں کے لیے بے آب و دانہ مر جاوے۔ کسو کو خبر نہ ہووے۔ مجھے پکڑ لائے اور ایک گوشے میں رکھا۔ اس شہر سے باہر کوس ایک پر ایک پہاڑ تھا کہ حضرت سلیمان کے وقت میں دیوؤں نے ایک کنواں تنگ و تاریک اس میں کھودا تھا۔ اس کا نام زندان سلیمان کہتے تھے، جس پر بڑا غضب بادشاہی ہوتا، اسے وہاں محبوس کرتے۔ وہ خودبخود مر جاتا۔ رات کو چپکے یہ دونوں بھائی اور کوتوال کے ڈنڈے مجھے اس پہاڑ پر لے گئے اور غار میں ڈال کر اپنی خاطر جمع کر کے پھر اے بادشاہ! یہ کتا میرے ساتھ چلا۔ جب مجھے کنویں میں گرایا، تب یہ اس کے مینڈ پر لیٹ رہا۔ میں اندر بے ہوش پڑا تھا۔ ذرا سرت آئی تو میں اپنے تئیں مردہ خیال کیا اور اس مکان کو گور سمجھا۔ اس میں دو شخصوں کی آواز کان میں پڑی کہ کچھ آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ یہی معلوم کیا کہ منکر نکیر ہیں مجھ سے سوال کرنے آئے ہیں۔ سرسراہٹ رسی کی سنی، جیسے کسو نے وہاں لٹکائی۔ میں حیرت میں تھا زمین کو ٹٹولتا تو ہڈیاں ہاتھ میں آتیں۔\n\nبعد ایک ساعت کے آواز چپڑ چپڑ منہ چلانے کی میرے کان میں آئی۔ جیسے کوئی کچھ کھاتا ہے میں نے پوچھا کہ اے خدا کے بندو! تم کون ہو؟ خدا کے واسطے بتاؤ۔ وہ ہنسے اور بولے۔ یہ زندان مہتر سلیمان کا ہے۔ اور ہم قیدی ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا۔ کیا میں جیتا ہوں؟ پھر کھلکھلا کر ہنسے اور کہا۔ اب تلک تو تو زندہ ہے، پر اب مرے گا۔ میں نے کہا تم کیا کھاتے ہو جو ہو مجھے بھی تھوڑا سا دو۔ تب جھنجھلا کر خالی جواب دیا اور کچھ نہ دیا۔ وہ کھا پی کر سو رہے۔ اور میں مارے ضعف و ناتوانی کے غش میں پڑا روتا تھا اور خدا کو یاد کرتا تھا۔ قبلہ عالم! سات دن دریا میں اور اتنے بھائیوں کے بہتان کے سبب دانہ میسر نہ آیا، علاوہ کھانے کے مار پیٹ کھائی، اور ایسے زندان میں پھنسا کہ صورت رہائی کی مطلق خیال میں نہ آتی تھی۔ آخر جان کندنی کی نوبت پہنچی۔ کبھو دم آتا کبھو نکل جاتا تھا، لیکن کبھو کبھو آدھی رات کو ایک شخص آتا اور رومال میں روٹیاں اور پانی کی صراحی ڈوری میں باندھ کر لٹکا دیتا اور پکارتا۔ وہ دونوں آدمی جو میرے پاس محبوس تھے، لے لیتے اور کھاتے پیتے۔ اوپر سے کتے نے یہ ہمیشہ احوال دیکھتے دیکھتے عقل دوڑائی کہ جس طرح یہ شخص آب و نان کنویں میں لٹکا دیتا ہے تو بھی ایسی فکر کر کہ اس بے کس جو میرا خاوند ہے آزوقہ پہنچے تو اس کا دم بچے۔ یہ خیال کر کے شہر میں گیا۔ نان بائی کی دکان پر میز پر گردے چنے ہوئے دھرے تھے۔ جست مار کر ایک کلچہ منہ میں لیا اور بھاگی۔ لوگ پیچھے دوڑے، ڈھیلے مارتے۔ لیکن اس نے نان کو نہ چھوڑا۔ آدمی تھک کر پھرے۔ شہر کے کتے پیچھے لگے ان سے لڑتا بھڑتا روٹی کو بچائے اس چاہ پر آیا، اور نان کو اندر ڈال دیا۔ روز روشن تھا۔ میں نے روٹی کو اپنے پاس پڑا دیکھا اور کتے کی آواز سنی۔ کلچے کو اٹھا لیا۔ اور یہ کتا روٹی پھینک کر پانی کی تلاش میں گیا۔\n\nکسی گاؤں کے کنارے ایک بڑھیا کی جھونپڑی تھی۔ ٹھلیا اور بندھا پانی سے بھرا ہوا دھرا تھا پیر زن چرخا کاتتی تھی۔ کتا کوزے کے نزدیک گیا چاہا کہ لوٹے کو اٹھاوے۔ عورت نے ڈانٹا۔ لوٹا اس کے منہ سی چھٹا، گھڑے پر گرا، گھڑا پھوٹا، باقی باسن لڑکھ گئے، پانی بہہ چلا۔ بڑھیا لکڑی لے کر مارنے کو اٹھی۔ یہ سگ اس کے دامن میں لپٹ گیا۔ پھر اس کے پاؤں پر منہ ملنے اور دم ہلانے لگا۔ اور پہاڑ کی طرف دوڑ گیا۔ پھر اس پاس آ کر کبھی رسی اٹھاتا۔ کبھو ڈول منہ میں پکڑ کر دکھاتا، اور منہ اس کے قدموں پر رگڑتا، اور آنچل چادر کا پکڑ کر کھینچتا۔ خدا نے اس عورت کے دل میں رحم دیا کہ ڈول رسی کو لے کر اس کے ہمراہ چلی۔ یہ اس کا آنچل پکڑے گھر سے باہر ہو کر آگے آگے ہو لیا۔\n\nآخر اس کو پہاڑی پر لے آیا۔ عورت کے جی میں کتے کی اس حرکت سے الہام ہوا کہ اس کا میاں مقرر اس غار میں گرفتار ہے۔ شاید اس کی خاطر پانی چاہتا ہے۔ غرض پیر زن کو لیے ہوئے غار کے منہ پر آیا۔ عورت نے لوٹا پانی کا بھر کر رسی سے لٹکایا۔ میں نے وہ باسن لے لیا۔ اور نان کا ٹکڑا کھایا۔ دو تین گھونٹ پانی پیا، اس پیٹ کے کتے کو راضی کیا۔ خدا کا شکر کر کر ایک کنارے بیٹھا اور خدا کی رحمت کا منتظر تھا کہ دیکھئے اب کیا ہوتا ہے؟ یہ حیوان بے زبان اسی طور سے نان لے آتا اور بڑھیا کے ہاتھ پانی پلواتا۔\n\nجب بھٹیاروں نے دیکھا کہ کتا ہمیشہ روٹی لے جاتا۔ ترس کھا کر مقرر کہ جب اسے دیکھتے، ایک گروا اس کے آگے پھینک دیتے۔ اگر وہ عورت پانی نہ لاتی، تو یہ اس کے باسن پھوڑ ڈالتا۔ لاچار وہ بھی ہر روز ایک صراحی پانی کی دے جاتی، اس رفیق نے آب و نان سے میری خاطر جمع کی اور آپ زندانی کے منہ پر پڑا رہتا۔ اس طرح چھ مہینے گزرے، لیکن جو آدمی ایسی زندان میں رہے کہ دنیا کی ہوا اس کے نہ لگے اس کا کیا حال ہوا۔ نرا پوست داستخوان مجھ میں باقی رہا۔ زندگی وبال ہوئی۔ جی میں آوے کہ یا الٰہی! یہ دن نکل جاوے تو بہتر ہے۔\n\nایک روز رات کے وہ دونوں قیدی سوتے تھے۔ مرا دل امنڈ آیا۔ بے اختیار رونے لگا اور خدا کی درگاہ میں نک گھسنی کرنے لگا۔ پچھلے پہر کیا دیکھتا ہوں کہ خدا کی قدرت سے ایک رسی غار میں لٹکی۔ اور آواز سج میں آئی اے کم بخت بد نصیب ڈوری کا سرا اپنے ہاتھ میں مضبوط باندھ اور یہاں سے نکل۔\n\nمیں نے سن کر دل میں خیال کیا کہ آخر بھائی مجھ پر مہربان ہو کر لہو کے جوش سے آپ ہی نکالنے آئے۔ نہایت خوشی سے اس طناب کو کمر میں خوب کسا۔ کسو نے مجھے اوپر کھینچا۔ رات ایسی اندھیری تھی کہ جن نے مجھے نکالا۔ اس کو نہ پہچانا۔ کہ کون ہے۔ جب میں باہر آیا، تب اس نے کہا، جلد آ، یہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہیں۔مجھ میں طاقت تو نہ تھی، پر مارے ڈر کے لڑھکتا پڑتا پہاڑ سے نیچے آیا۔ دیکھوں تو دو گھوڑے زین بندھے ہوئے کھڑے ہیں۔ اس شخص نے ایک پر مجھے سوار کیا، اور ایک پر آپ چڑھ لیا۔ اور آگے ہوا۔ جاتے جاتے دریا کنارے پر پہنچا۔\n\nصبح ہو گئی۔ اس شہر سے دس بارہ کوس نکل آئے۔ اس جوان کو دیکھا کہ اوپچی بنا ہوا زرہ بکتر پہنے چار آئنہ باندھے گھوڑے پر پاکھر ڈالے، میری طرف غضب کی نظروں سے گھر کر اور ہاتھ اپنا دانتوں سے کاٹ کر تلوار میان سے کھینچی اور گھوڑے کو جست کر مجھ پر چلائی۔ میں نے اپنے تئیں گھوڑے پر سے نیچے گرا دیا اور گھگھیانے لگا میں بے تقصیر ہوں، مجھے کیوں قتل کرتا ہے؟ اے صاحب مروت! ایسے زندان سے میرے تئیں تو نے نکالا۔ اب یہ بے مروتی کیا ہے؟ اس نے کہا۔ سچ کہہ تو کون ہے؟ میں نے جواب دیا کہ مسافر ہوں ناحق کی بلا میں گرفتار ہو گیا تھا۔ تمہارے تصدق سے باہر جیتا نکلا ہوں۔ اور باتیں خوشامد کی کیں۔\n\nخدا نے اس کے دل میں رحم کیا۔ شمشیر کو غلاف کیا اور بولا خیر خدا جو چاہے سو کرے۔ جا تیری جان بخشی کی۔ جلد سوار ہو۔ یہاں توقف کا مکان نہیں۔ گھوڑوں کو جلد کیا اور چلے۔ راہ میں افسوس کھاتا اور پچھتاتا جاتا تھا۔ ظہر کی وقت تک ایک جزیرے میں جا پہنچے۔ وہاں گھوڑے سے اترا۔ مجھے بھی اتارا زین خوگیر مرکیوں کی پیٹھ سے کھولا اور چرنے کو چھوڑ دیا۔ اپنی بھی کمر سے ہتھیار کھول ڈالے اور بیٹھا۔ مجھ سے بولا۔ اے بد نصیب! اب اپنا احوال کہہ تو معلوم ہو کہ تو کون ہے۔ میں نے اپنا نام بتایا، اور جو کچھ بپتا بتی تھی، اس سے آخر تک کہی۔\n\nاس جوان نے جب میری سرگزشت سب سنی رونے لگا۔ اور مخاطب ہوا کہ اے جوان! اب میرا ماجرا سن۔ میں کنیا زیرباد کے دیس کے راجہ کی بیٹی ہوں۔ اور وہ گبرو جو زندان سلیمان میں قید ہے، اس کا نام بہرہ مند ہے۔ میرے پتا کے منتری کا بیٹا ہے۔ ایک روز مہاراج نے آگیا دی کہ جتنے راجہ اور کنور ہیں، میدان میں زیر جھروکے نکل کر تیر اندازی اور چوگان بازی کریں تو گھڑ چڑھی اور کسب ہر ایک کا ظاہر ہو۔ میں رانی کے نیڑے میں جو میری ماتا تھیں، ٹھاری پر اوجھل بیٹھی تھی۔ اور دائیاں اور سہیلیاں حاضر تھیں تماشا دیکھتی تھی۔ یہ دیوان کا پوت سب میں سندر تھا، اور گھوڑے کو کاوے دے کر کسب کر رہا تھا۔ مجھ کو بھایا اور دل سے اس پر ریجھی مدت تلک یہ بات گپت رکھی۔\n\nآخر جب بہت بیاکل ہوئی، تو دائی سے کہا اور ڈھیر سا انعام دیا۔ وہ اس جوان کو کسو نہ کر ڈھپ سے پوشیدہ میری دھراھر میں لے آئی، تب یہ بھی مجھے چاہنے لگا۔ بہت دن اس عشق مشک میں کٹے۔\n\nایک روز چوکی داروں نے آدھی رات کو ہتھیار باندھے اور محل میں آتے دیکھ کر اسے پکڑا اور راجہ سے کہا۔ اسے حکم قتل کا کیا۔ سب اراکان دولت نے کہہ سن کر جان بخشی کروائی۔ تب فرمایا کہ اس کو زندان سلیمان میں ڈال دو اور دوسرا جوان جو اس کے ہمراہ اسیر ہے اس کا بھگنا ہے۔ اس دن کو وہ بھی اس کے ساتھ تھا۔ دونوں کو اس کنویں میں چھوڑ دیا۔ آج تین برس ہوئے کہ وہ پھنسے ہیں۔ مگر کسو نے نہیں دریافت کیا کہ یہ جوان راجہ کے گھر میں کیوں آیا تھا۔ بھگوان نے میری پت رکھی۔ اس شکرانے کے بدلے میں نے اپنے اوپر لازم کیا ہے کہ ان اور جل اس کو پہنچایا کروں۔ جب سے اٹھواڑے میں ایک دن آتی ہوں اور آٹھ دن کا آزوقہ اکٹھا دے جاتی ہوں۔ کل کی رات سپنے میں دیکھا کہ کوئی مانس کہتا ہے کہ شتابی اٹھ اور گھوڑا جوڑا اور کمند اور کچھ نقد خرچ کے واسطے لے کر اس غار پر جا اور اس بچارے کو وہاں سے نکال۔ یہ سن کر میں چونک پڑے اور مگن ہو کر مردانہ بھیس کیا، اور ایک صندوقچہ جواہر و اشرفی سے بھر لیا۔ اور یہ گھوڑا اور کپڑا جوڑا لے کر وہاں گئی کہ کمند سے اسے کھینچوں۔ کرم میں تیری تھا کہ ویسی قید سے اس طرح چھٹکارا پاوے۔ اور میرے اس کرتب سے محرم کوئی نہیں، شاید وہ کوئی دیوتا تھا کہ تیری مخلصی کی خاطر مجھے بھجوایا۔ خیر جو میرے بھاگ میں تھا سو ہوا۔ یہ کتھا کہہ کر پوری کچوری، اس کا سالن انگوچھے سے کھولا۔ پہلے قند نکال ایک کٹورے میں گھولا اور عرق بید مشک کا اس میں ڈال کر مجھے دیا۔ میں نے اس کے ہاتھ لے کر پیا۔ پھر تھوڑا سا ناشتہ کیا۔ بعد ایک ساعت کے میرے تئیں لنگی بندھوا کر دریا میں لے گئی۔ قینچی سے میری سر کے بال کترے، ناخن لیے، نہلا دھلا کر کپڑے پہنائے۔ نئے سر سے آدمی بنایا۔ میں دوگانہ شکرانے کا رو بہ قبلہ ہو کر پڑھنے لگا۔ وہ نازنین اس میری حرکت کو دیکھتی رہی۔\n\nجب نماز سے فارغ ہوا، پوچھنے لگی کہ یہ تو نے کیا کام کیا؟ میں نے کہا جس خالق نے ساری خلقت کو پیدا کیا اور تجھ سی محبوبہ سے میری خدمت کروائی اور تیرے کو مجھ پر مہربان کیا اور ویسے زندان سے خلاص کروایا اس کی ذات لاشریک ہے اس کی میں نے عبادت کی اور بندگی بجا لایا۔ اور ادائے شکر کیا۔ یہ بات سن کر کہنے لگی تم مسلمان ہو؟ میں کہا شکر الحمد للہ، بولی۔ میرا دل تمہاری باتوں سے خوش ہوا۔ میرے تئیں جبھی سکھاؤ اور کلمہ پڑھاؤ۔ میں نے دل میں کہا الحمد للہ کہ یہ ہمارے دین کی شریک ہوئی۔\n\nغرض میں نے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھا، اور اس سے پڑھوایا۔ پھر وہاں سے گھوڑوں پر سوار ہو کر ہم دونوں چلے۔ رات کو اترتے تو وہ ذکر دین ایمان کا کرتی اور سنتی اور خوش ہوتی۔ اسی طرح دو مہینے تلک پیہم شبانہ روز چلتے گئے۔ آ کر ایک ولایت میں پہنچے کہ درمیان سرحد ملک زیر باد اور سراندیپ کے تھی۔ ایک شہر نظر آیا کہ آبادی میں استنبول سے بڑا اور آب و ہوا بہت خوش اور موافق۔ بادشاہ اس شہر کا کسری سے زیادہ عادل اور رعیت پرور دیکھ کر دل نپٹ شاد ہوا۔ ایک حویلی خرید کر بود و باش مقرر کی۔ جب کئی دن میں رنج سفر سے آسودہ ہوئے کچھ اسباب ضروری درست کر کے اس بی بی سے موافق شرع محمدی کے نکاح کیا اور رہنے لگا۔ تین سال میں وہاں کے اکابر و اصاغر سے مل جل کر اعتبار بہم پہنچایا۔ اور تجارے کا ٹھاٹھ پھیلایا۔ آخر وہاں کے سب سوداگروں سے سبقت لے گیا۔\n\nایک روز وزیر اعظم کی خدمت میں سلام کے لئے چلا۔ ایک میدان میں کثرت خلق اللہ کی دیکھی، کسو سے پوچھا کیوں اتنا ازدحام ہے؟ معلوم ہوا کہ دو شخصوں کو زنا اور چوری کرتے پکڑا ہے، اور شاید خون بھی کیا ہے، ان کو سنگسار کرنے کو لائے ہیں۔ مجھے سنتے ہی اپنا احوال یاد آیا کہ ایک دن مجھے بھی اس طرح سولی چڑھانے لے گئے تھے۔ خدا نے بچایا۔ آیا یہ کون ہوں گے کہ ایسی بلا میں گرفتار ہوئے ہیں؟ معلوم نہیں کہ راست ہے یا میری طرح تہمت میں گرفتار ہوئے ہیں۔ بھیڑ کو چیر کر اندر گھسا۔ دیکھا تو یہی میرے دونوں بھائی ہیں کہ ٹنڈیاں کسے، سروپا برہنہ ان کو لیے جاتے ہیں۔ ان کی صورت دیکھتے ہی خون نے جوش کیا اور کلیجہ جلا۔ محصول کو ایک مٹھی اشرفیاں دیں، اور کہا ایک ساعت توقف کرو۔ اور وہاں سے گھوڑے کو سرپٹ پھینک کر حاکم کے گھر گیا۔ ایک دانہ یاقوت بے بہا کا نذر گزرانا اور ان کی شفاعت کی۔ حاکم نے کہا۔ ایک شخص ان کا مدعی ہے، اور ان کے گناہ ثابت ہوئے ہیں، اور بادشاہ کے ہو چکا ہے۔ میں لاچار ہوں۔\n\nبارے بہت منت و زاری سے حاکم نے مدعی کو بلوا کر پانچ ہزار روپے پر راضی کیا کہ وہ دعوی خون کا معاف کرے۔ میں نے روپے گن دیئے اور لا دعوی لکھوا لیا۔ اور ایسی بلا سے مخلصی دلوائی۔ جہاں پناہ! ان سے پوچھئے کہ سچ کہتا ہوں یا جھوٹ بکتا ہوں۔ وہ دونوں بھائی سر نیچے کیے شرمندہ سے کھڑے تھے، خیر ان کو چھڑوا کر گھر میں لایا حمام کروا کر لباس پہنوایا۔ دیوان خانے میں مکان رہنے کو دیا۔ اس مرتبہ اپنے قبیلے کو ان کے روبرو نہ کیا۔ ان کی خدمت میں حاضر رہتا۔ اور ان کے ساتھ کھانا کھاتا۔ سونے کے وقت گھر میں جاتا۔ تین برس تک ان کی خاطر داری میں گزری اور ان سے بھی کوئی حرکت بد واقع نہ ہوئی کہ باعث رنجیدگی کا ہووے جو میں سوار ہو کر کہیں جاتا تو یہ گھر میں رہتے۔\n\nاتفاقا وہ بی بی نیک بخت ایک دن حمام کو گئی تھی۔ جب دیوان خانے میں آئی کوئی مرد نظر نہ پڑا۔ اس نے برقع اتارا۔ شاید یہ منجھلا بھائی لیٹا ہوا جاگتا تھا۔ دیکھتے ہی عاشق ہوا۔ بڑے بھائی سے کہا دونوں نے میرے مار ڈالنے کی باہم صلاح کی۔ میں اس حرکت سے مطلق خبر نہ رکھتا بلکہ دل میں کہتا تھا کہ الحمد للہ اس مرتبے اب تک انہوں نے کچھ ایسی بات نہیں کی۔ اب ان کی وضع درست ہوئی۔ شاید غیرت کو کام فرمایا۔\n\nایک روز بعد کھانے کے بڑے بھائی صاحب آب دیدہ ہوئے اور اپنے وطن کی تعریف اور ایران کی خوبیاں بیان کرنے لگے۔ یہ سن کر دوسرے بھی بسورنے لگے۔ میں نے کہا اگر ارادہ وطن کا ہے تو بہتر میں تابع مرضی کے ہوں۔ میری بھی یہی آرزو ہے۔ اب انشا اللہ تعالیٰ میں بھی آپ کی رکاب میں چلتا ہوں۔ اس بی بی سے دونوں بھائیوں کی اداسی کا مذکور کیا اور اپنا ارادہ بھی کہا۔ وہ عاقلہ بولی۔ تم جانو لیکن پھر کچھ دغا کیا چاہتے ہیں۔ یہ تمہاری جان کے دشمن ہیں۔ تم نے سانپ آستین میں پالے ہیں۔ اور ان کی دوستی کا بھروسا رکھتے ہو! جو جی چاہے سو کرو۔ لیکن موذیوں سے خبردار رہو۔ بہر تقدیر تھوڑے عرصہ میں تیاری سفر کی کر کے خیمہ میدان میں استاد کیا۔ بڑا قافلہ جمع ہوا اور میری سرداری اور قافلہ باشی پر راضی ہوئے۔ اچھی ساعت دیکھ کر روانہ ہوا، لیکن اس کی طرف سے اپنی جانب میں ہوشیار رہتا اور سب صورتوں سے فرماں برداری اور دلجوئی ان کی کرتا۔ ایک روز ایک منزل میں منجھلے بھائی نے مذکور کیا کہ ایک فرسخ اس مکان سے ایک چشمہ جاری ہے، مانند سلسبیل کے، اور میدان میں خود رو کوسوں تک لالہ و نافرمان اور نرگس و گلاب پھولا ہے۔ واقعی عجب مکان سیر کا ہے۔ اگر اپنا اختیار ہوتا تو کل وہاں جا کر تفریح طبیعت کی کرتے اور ماندگی بھی رفع ہوتی۔ میں بولا کہ صاحب مختار ہیں۔ فرماؤ تو کل کے دن مقام کریں اور وہاں چل کر سیر کرتے پھریں۔ یہ بولے ازیں چہ بہتر؟\n\nمیں نے حکم کیا کہ سارے قافلے میں پکار دو کہ کل مقام ہے، اور بکاول کو کہا کہ حاضری قسم بہ قسم کی تیار کر، کل سیر کو چلیں گے، جب صبح ہوئی ان دونوں برادروں نے کپڑے پہن کر کمر باندھ کر مجھے یاد دلایا کہ جلد ٹھنڈے ٹھنڈے چلیے اور سیر کیجئے۔\n\nمیں نے سواری مانگی۔ بولے کہ پاپیادہ جو لطف سیر کا ہوتا ہے، سو سواری میں معدوم نفروں کو کہہ دو گھوڑے ڈریا کر لے آویں۔ دونوں غلاموں نے قلیان اور قہوہ دان لے لیا اور ساتھ ہوئے۔ راہ میں تیر اندازی کرتے ہوئے چلے جاتے تھے۔ جب قافلہ سے دور نکل گئے ایک غلام کو انہوں نے کسی کام سے دور بھیجا۔ تھوڑی دور آگے بڑھ کر دوسرے کو بھی اس کے بلانے کو رخصت کیا۔ کم بختی جو آئی میرے منہ میں جیسے کسو نے مہر دے دی۔ جو وہ چاہتے تھے سو کرتے تھے اور مجھے باتوں میں پر جائے لیے جاتے تھے۔ مگر یہ کتا ساتھ رہ گیا۔\n\nبہت دور نکل گئے نہ چشمہ نظر آیا نہ گلزار۔ مگر ایک میدان پر خار تھا۔ وہاں مجھے پیشاب لگا۔ میں بول کرنے کو بیٹھا۔ اپنے پیچھے چمک تلوار کی سی دیکھی، مڑ کر دیکھوں تو منجھلے بھائی صاحب نے مجھ پر تلوار ماری کہ سر دو پارہ ہو گیا جب تلک بولوں کہ اے ظالم مجھے کیوں مارتا ہے بڑے بھائی نے شانے پر لگائی۔ دونوں کاری زخم لگے۔ تیورا کر گرا۔ تب ان دونوں بے رحموں نے بہ خاطر جمع میرے تئیں چور زخمی کیا اور لہو لہان کر دیا۔ یہ کتا میرا احوال دیکھ کر ان پر بھپکا۔ اس کو بھی گھائل کیا۔ بعد اس کے اپنے ہاتھوں سے اپنے بدنوں میں زخموں کے نشان کیے اور سروپا برہنہ قافلے میں گئے اور ظاہر کیا کہ حرامیوں نے اس میدان میں ہمارے بھائی کو شہید کیا اور ہم بھی لڑ بھڑ کر زخمی ہوئے۔ جلدی کوچ کرو نہیں تو کارواں پر گر کر سب کو ننگیا لیں گی۔ قافلے کے لوگوں نے بدوؤں کا نام جو سنا وونہیں بدحواس ہوئے اور گھبرا کر کوچ کیا اور چل نکلے۔ میرے قبیلے نے سلوک اور خوبیاں اور ان کی سن رکھی تھیں، جو جو مجھ سے دعائیں کی تھی۔ یہ واردات ان کا زبوں سے سن کر جلد خنجر سے تئیں ہلاک کیا اور جاں بحق تسلیم ہوئی۔\n\nاے درویشو! اس خواجہ سگ پرست نے جب اپنی کیفیت اور مصیبت اس طرح سے یہاں تلک کہی، سنتے ہی مجھے بے اختیار رونا آیا۔ وہ سوداگر دیکھ کر کہنے لگا۔ قبلہ عالم! اگر بے ادبی نہ ہوتی تو برہنہ ہو کر میں اپنا سارا بدن کھول کر دکھاتا۔ تس پر بھی اپنی راستی پر گریبان مونڈھے تلک چیر کر دکھایا۔ واقعی چار انگل تن اس کا بغیر زخم کے ثابت نہ تھا۔ میرے حضور سر سے عمامہ اتارا۔ کھوپڑی میں ایسا بڑا گڑھا پڑا تھا کہ ایک انار سموچا اس میں سماوے۔ اراکان دولت جتنے حاضر تھے سب نے اپنی آنکھیں بند کر لیں طاقت دیکھنے کی نہ رہی۔\n\nپھر خواجہ بولا کہ بادشاہ سلامت! جب یہ بھائی اپنی دانست میں میرا کام تمام کر کے چلے گئے ایک طرف میں اور ایک طرف یہ سگ میرے نزدیک زخمی پڑا تھا۔ لہو اتنا بدن سے گیا کہ مطلق طاقت اور ہوش کچھ باقی نہ تھا۔ کیا جانوں دم کہا اٹک رہا تھا کہ جیتا تھا۔ جس جگہ پڑا تھا ولایت سراندیپ کی سرحد تھی اور ایک شہر بہت آباد اس کے قریب تھا۔ اس شہر میں بڑا بت خانہ تھا۔ اور وہاں کے بادشاہ کی ایک بیٹی تھی، نہایت قبول صورت اور صاحب جمال۔\n\nاکثر بادشاہ اور شہزادے اس کے عشق میں خراب تھے۔ وہاں رسم حجاب کی نہ تھی۔ اس سے، وہ لڑکی تمام ہمجولیوں کے ساتھ شیر شکار کرتی پھرتی۔ ہم سے نزدیک ایک بادشاہی باغ تھا۔ اس روز بادشاہ سے اجازت لے کر اسی باغ میں آئی تھی۔ سیرکی خاطر اس میدان میں پھرتی پھرتی آ نکلی۔ کئی خواتین بھی ساتھ سوار تھیں، جہاں میں پڑا تھا آئیں۔ میرا کراہنا سن کر پاس کھڑی ہوئی۔ مجھے اس حالت میں دیکھ کر وہ بھاگیں اور شہزادی سے کہا کہ ایک مردوا اور ایک کتا لہو میں شور بور پڑا ہے۔ ان سے یہ سن کر آپ ملکہ میرے سر پر آئی، افسوس کھا کر کہا۔ دیکھو تو کچھ جان باقی ہے؟ دوچار دائیوں نے اتر کر دیکھا اور عرض کی۔ اب تلک تو جیتا ہے ترت فرمایا کہ آمانت قالیچے پر لٹا کر باغ لے چلو۔\n\nوہاں لے جا کر جراح سرکار کا بلا کر میرے اور میرے کتے کے علاج کی خاطر بہت تاکید اور امیدوار انعام و بخشش کا کیا۔ اس حجام نے سارا بدن میرا پونچھ پانچھ کر خاک و خون سے پاک کیا، اور شراب سے دھو دھا کر زخموں کو ٹانکے دے کر مرہم لگایا، اور بید مشک کا عرق پانی کے بدلے میرے حلق میں چوایا۔ ملکہ آپ میرے سرہانے بیٹھی رہتی اور میری خدمت کرواتی اور تمام دن رات میں دوچار بار کچھ شوربا یا شربت اپنے ہاتھ سے پلاتی۔\n\nبارے مجھے ہوش آیا تو دیکھا کہ ملکہ نہایت افسوس سے کہتی ہے، کس ظالم خوں خوار نے تجھ پر یہ ستم کیا۔ بڑے بت سے بھی نہ ڈرا۔ بعد دس روز کے عرق اور شربت اور معجونوں کے قوت سے میں نے آنکھ کھولی۔ دیکھا تو اندر کا اکھاڑا میرے آس پاس جمع ہے اور ملکہ سرہانے کھڑی ہے۔ ایک آہ بھری اور چاہا کہ کچھ حرکت کروں۔ طاقت نہ پائی۔ بادشاہ زادی مہربانی سے بولی کہ اے عجمی خاطر جمع رکھ۔ کڑھ مت اگرچہ کسو ظالم نے تیرا یہ احوال کیا، لیکن بڑے بت نے مجھ کو مہربان کیا ہے۔ اب چنگا ہو جاوے گا۔ قسم اس خدا کی جو واحد لا شریک ہے، میں اسے دیکھ کر پھر بے ہوش ہو گیا۔ ملکہ نے بھی دریافت کیا اور گلاب پاش سے گلاب اپنے ہاتھ سے چھڑکا۔ بیس دن کے عرصے میں زخم بھر آئے اور انگور کر لائے۔ بلکہ ہمیشہ رات کو جب سب سو جاتے میرے پاس آتی اور کھلا پلا جاتی۔\n\nغرض ایک چلے میں غسل کیا۔ بادشاہ زادی نہایت خوش ہوئی۔ حجام کو انعام بہت سا دیا۔ اور مجھ کو پوشاک پہنائی۔ خدا کے فضل سے اور خبر گیری اور سعی سے ملکہ کی خوب چاق و چوبند ہوا۔ اور بدن نہایت تیار ہوا۔ اور کتا بھی فربہ ہو گیا۔ ہر روز مجھے شراب پلاتی اور باتیں سنتی اور خوش ہوتی۔ میں بھی ایک آدھی نقل یا کہانی انوٹھی کہہ کر اس کے دل کو بہلاتا۔\n\nایک دن پوچھنے لگی کہ اپنا احوال تو بیان کرو کہ تم کون ہو اور یہ واردات تم پر کیونکر آئی؟ میں نے سارا ماجرا اپنا اول سے آخر تک کہہ سنایا۔ سن کر رونے لگی اور بولی کہ اب میں تجھ سے ایسا سلوک کروں گی کہ اپنی ساری مصیبت بھول جاوے گا۔ میں نے کہا خدا تمہیں سلامت رکھے۔ تم نے نئے سر سے میری بخشی کی ہے۔ اب میں تمہارا ہو رہا ہوں۔ واسطے خدا کے اسی طرح ہمیشہ مجھ پر اپنی مہربانی کی نظر رکھیو۔ غرض تمام رات اکیلی میرے پاس بیٹھی رہتی اور صحبت رکھتی۔ بعضے دن دائی اس کی بھی ساتھ رہتی۔ ایک طور کا مذکور سنتی اور کہتی۔ جب ملکہ اٹھ جاتی اور میں تنہا ہوتا، طہارت کر کونے میں چھپ کر نماز پڑھ لیتا۔\n\nایک بار ایسا اتفاق ہوا کہ ملکہ اپنے باپ کے پاس گئی تھی۔ میں خاطر جمع سے وضو کر کے نماز پڑھ رہا تھا کہ اچانک شہزادی دائی سے بولتی ہوئی کہ دیکھیں عجمی اس وقت کیا کرتا ہے۔ سوتا ہے یا جاگتا ہے، مجھے مکان پر جو نہ دیکھا تعجب میں ہوئی کہ آئیں یہ کہاں گیا ہے؟ کسو سے کوئی لگا تو نہیں لگایا۔ کونا کٹھرا دیکھنے لگی اور تلاش کرنے لگی۔ آخر جہاں میں نماز کر رہا تھا وہاں آ نکلی۔ اس لڑکی نے کبھو نماز کاہے کو دیکھی تھی۔ چپکی کھڑی دیکھا کی۔ جب میں نماز تمام کر کے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور سجدے میں گیا، بے اختیار کھلکھلا کر ہنسی اور بولی کیا یہ آدمی سودائی ہو گیا۔ یہ کیسی کیسی حرکتیں کر رہا ہے۔ میں ہنسنے کی آواز سن کر دل میں ڈرا۔ بلکہ آگے آ کر پوچھنے لگی کہ اے عجمی! یہ تو کیا کرتا تھا میں کچھ جواب نہ دے سکا۔ اس میں دائی بولی بلا لوں تو تیرے صدقے گئی مجھے یوں معلوم ہوتا ہے، کہ یہ شخص مسلمان ہے، اور لات منات کا دشمن ہے ان دیکھے خدا کو پوجتا ہے۔\n\nملکہ نے یہ سنتے ہی ہاتھ پر ہاتھ مارا۔ بہت غصے ہوئی کہ میں کیا جانتی تھی کہ یہ ترک ہے اور ہمارے خداؤں کا منکر ہے۔ تب ہی ہمارے بت کے غضب میں پڑا تھا۔ میں نے ناحق اس کی پرورش کی اور اپنے گھر میں رکھا۔ یہ کہتی ہوئی چلی گئی۔ میں سنتے ہی بدحواس ہوا کہ دیکھئے اب کیا سلوک کرے۔ مارے خوف کے نیند اچاٹ ہو گئی۔ صبح تک بے اختیار رویا کیا اور آنسوؤں سے منہ دھوایا کیا۔\n\nتین دن رات اسی خوف و رجا میں روتے گزرے، ہرگز آنکھ نہ جھپکی۔ تیسری شب ملکہ شراب کے نشے میں مخمور اور دائی ساتھ لیے میرے مکان پر آئی۔ غصے میں بھری ہوئی اور تیر کمان ہاتھ میں لیے باہر چمن کے کنارے بیٹھی دائی سے پیالا شراب کا مانگا، پی کر کہا۔ دیا وہ عجمی ہماری بڑے بت کے قہر میں گرفتار ہے، موا یا اب تک جیتا ہے؟ دائی نے کہا بلیا لوں کچھ دم باقی ہے۔ بولی کہ اب وہ ہماری نظروں سے گرا۔ لیکن کہہ کر باہر آوے۔ دائی نے مجھے پکارا میں دوڑا۔ دیکھوں تو ملکہ کا چہرہ مارے غصے کے تمتما رہا ہے۔ اور سرخ ہو گیا ہے۔ روح قلب میں نہ رہی۔ سلام کیا اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوا۔ غضب کی نگاہ سے مجھے دیکھ کر دائی سے بولی۔ اگر میں اس دین کے دشمن کو تیر سے مار دوں تو میری خطا بڑا بت معاف کرے گا یا نہیں؟ یہ مجھ سے بڑا گناہ ہوا ہے کہ میں نے اسے اپنے گھر میں رکھ کر خاطر داری کی۔\n\nدائی نے کہا بادشاہ زادی کی کیا تقصیر ہے کہ کچھ دشمن جان کر نہیں رکھا۔ تم نے اس پر ترس کھایا۔ تم کو نیکی کے عوض نیکی ملے گی اور یہ اپنی بدی کا ثمرہ بڑے بت سے پا رہے گا۔ یہ سن کر کہا دائی اسے بیٹھنے کو کہہ۔ دائی نے مجھے اشارت کی کہ بیٹھ جا۔ میں بیٹھ گیا۔ ملکہ نے اور جام شراب کا پیا اور دائی سے کہا کہ اس کم بخت کو بھی ایک پیالہ دے تو آسانی سے مارا جاوے۔ دائی نے جام دیا۔ میں نے بے عذر پیا اور سلام کیا۔ ہرگز میری طرف نگاہ نہ کی، مگر کن انکھیوں سے چوری چوری دیکھتی تھی۔ جب مجھے سرور ہوا کچھ شعر پڑھے لگا۔ ازاں جملہ ایک بیت یہ بھی پڑھی:\n\nقابو میں ہوں میں تیرے، گو اب جیا تو پھر کیا\nخنجر تلے کسو نے ٹک دم لیا تو پھر کیا\n\nسن کر مسکرائی اور دائی کی طرف دیکھ کر بولی۔ کیا تجھے نیند آئی ہے۔ دائی نے مرضی پر کہا ہاں مجھ پر خواب نے غلبہ کیا ہے۔ وہ تو رخصت ہو کر جہنم واصل ہوئی۔ بعد ایک دم کے ملکہ نے پیالہ مجھ سے مانگا۔ میں جلد بھر کر رو برو لے گیا۔ ایک ادا سے میرے ہاتھ سے لے کر پی لیا۔ تب میں قدموں میں گرا۔ ملکہ نے ہاتھ مجھ پر جھاڑا اور کہنے لگی۔ اے جاہل ہماری بڑے بت میں کیا برائی دیکھی جو غائب خدا کی پرستش کرنے لگا؟ میں نے کہا انصاف شرط ہے۔ ٹک غور فرمائیے کہ بندگی کے لائق وہ خدا ہے کہ جس نے ایک قطرے پانی سے تم سارا کا محبوب پیدا کیا اور یہ حسن و جمال دیا کہ ایک آن میں ہزاروں انسانوں کے دل کو دیوانہ کر ڈالا۔ بت کیا چیز ہے کہ کوئی اس کی پوجا کرے؟ ایک پتھر کو سنگ تراشوں نے گڑھ کی صورت بنائی اور دام احمقوں کے واسطے بچھایا۔ جن کو شیطان نے ورغلانا ہے۔ وہ مصنوع کو صانع جانتے ہیں۔ جسے اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں۔ اس کے آگے سر جھکاتے ہیں۔ اور ہم مسلمان ہیں۔ جس نے ہمیں بنایا، ہم اسے مانتے ہیں۔ ان کے واسطے دوزخ، ہمارے لیے بہشت بنایا ہے اگر بادشاہ زادی ایمان خدا پر لاوے تب اس کا مزہ پاوے، اور حق و باطل میں فرق کرے اور اپنے اعتقاد کو غلط سمجھے۔\n\nبارے ایسی ایسی نصیحتیں سن کر اس سنگ دل کا دل ملائم ہوا۔ خدا کے فضل و کرم سے رونے لگی۔ اور بولی اچھا مجھے بھی اپنا دین سکھاؤ۔ میں نے کلمہ تلقین کیا۔ ان نے بصدق دل پڑھا اور توجہ استغفار کر کر مسلمان ہوئی۔ تب میں اس کے پاؤں پڑا۔ صبح تک کلمہ پڑھتی اور استغفار کرتی رہی، پھر کہنے لگی۔ بھلا میں نے تمہارا دین قبول کیا، لیکن ماں باپ کافر ہیں۔ ان کا علاج کیا ہے۔ میں نے کہا تمہاری بلا سے جو جیسا کرے ویسا پاوے گا۔ بولی کہ مجھے چچا کے بیٹے سے منسوب کیا ہے اور وہ بت پرست ہے۔ کل کو خدانخواستہ بیاہ ہو اور وہ کافر مجھ سے ملے اور اس کا نطفہ میرے پیٹ میں ٹھہر جاوے تو بڑی قباحت ہے۔ اس کی فکر ابھی سے کیا چاہیے۔ کہ اس بلا سے نجات پاؤں۔ میں نے کہا تم بات تو معقول کہتی ہو۔ جو مزاج میں آوے سو کرو۔ بولی کہ میں اب یہاں نہ رہوں گی۔ کہیں نکل جاؤں گی۔\n\nمیں نے پوچھا کس صورت سے بھاگنے پاؤں گی اور کہاں جاؤں گی؟ جواب دیا کہ پہلے تم میرے پاس سے جاؤ۔ مسلمانوں کے ساتھ سرا میں جا رہو تو سب آدمی سنیں اور تم پر گمان نہ لے جاویں۔ تم وہاں کشتیوں کی تلاش میں رہو جو جہاز عجم کی طرف چلے، مجھے خبر کیجیو۔ میں اس واسطے دائی کو تمہارے پاس اکثر بھیجا کروں گی۔ جب تم کہلا بھیجو گے، میں نل کر آؤں گی اور کشتی پر سوار ہو کر چلی جاؤں گی۔ ان کم بخت دے دینوں کے ہاتھ سے مخلصی پاؤں گی۔\n\nمیں نے کہا۔ تمہاری جان و ایمان کے قربان ہوا۔ دائی کو کیا کرو گی؟ بولی اس کی فکر سہل ہے۔ ایک پیالے میں زہر ہلاہل پلا دوں گی۔ یہی صلاح مقرر ہوئی۔ جب دن ہوا، میں کارواں سرا میں ہو گیا۔ ایک حجرہ کرائے پر لیا اور جا رہا۔ اس جدائی میں فقط وصل کی توقع پر جیتا تھا۔ جب دو مہینے میں سوداگر روم و شام و اصفہان کے جمع ہوئے، ارادہ کوچ کا تری کی راہ سے کیا اور اپنا اسباب جہاز پر چڑھانے لگے۔ ایک جگہ رہنے سے اکثر آشنا صورت ہو گئے تھے۔ آشنانان صورت مجھ سے کہنے لگے کیوں صاحب! تم بھی چلو نا۔ یہاں کفرستان میں کب تلک رہو گے؟ میں نے جواب دیا کہ میرے پاس کیا ہے جو اپنے وطن کو جاؤں؟ یہی ایک لونڈی، ایک کتا، ایک صندوق بساط میں رکھتا ہوں اگر تھوڑی سی جگہ بیٹھ رہنے کو دو اور اس کو نول مقرر کرو تو میری خاطر جمع ہو۔ میں بھی سوار ہوں۔\n\nسوداگروں نے ایک کوٹھڑی میرے تحت میں کر دی۔ میں نے اس کے نول کا روپیہ بھر دیا۔ دل جمی کر کر کسو بہانے سے دائی کے گھر گیا اور کہا اے اماں تجھ سے رخصت ہونے آیا ہوں اب وطن کو جاتا ہوں۔ اگر تیری توجہ سے ایک نظر ملکہ کو دیکھ لوں تو بڑی بات ہے۔ بارے دائی نے قبول کیا۔ میں نے کہا میں رات کو آؤں گا۔ فلانے مکان پر کھڑا رہوں گا۔ بولی اچھا۔ میں کہہ کر سرا میں آیا۔ صندوق اور بچھونے اٹھا کر جہاز میں لایا۔ اور ناخدا کو سونپ کر کہا۔ کل فکر کو اپنی کنیز کو لے کر آؤں گا۔ ناخدا بولا۔ جلد آئیو۔ صبح ہی لنگر اٹھاویں گے۔ میں نے کہا بہت خوب۔ جب رات ہوئی اسی مکان پر جہاں دائی سے وعدہ کیا تھا، جا کر کھڑا رہا۔ پہر رات گئے محل کا دروازہ کھلا اور ملکہ میلے کچیلے کپڑے پہنے ایک پیٹی جواہر کی لئے باہر نکلی۔ وہ پٹاری میرے حوالے کی اور ساتھ چلی۔ صبح ہوتے کنارے دریا کے ہم پہنچے۔ ایک لبوت پر سوار ہو کر جہاز میں اترے۔ یہ وفادار کتا بھی ساتھ تھا۔ جب صبح خوب روشن ہوئی لنگر اٹھایا اور روانہ ہوئے۔ بہ خاطر جمع چلے جاتے تھے ایک بندر سے آواز توپوں کی شلک کی آئی۔ سب حیران اور فکر مند ہوئے۔ جہاز کو لنگر کیا اور آپس میں چرچا ہونے لگا کہ کیا شاہ بندر کچھ دغا کرے گا۔ توپ چھوڑنے کا سبب کیا ہے؟ اتفاقاً سب سوداگروں کے پاس خوب صورت لونڈیاں تھیں۔ شاہ بندر کے خوف سے مبادا چھین لے، سب نے کنیزوں کو صندوقوں میں بند کیا۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا کہ اپنی شہزادی کو صندوق میں بٹھا کر قفل کر دیا۔ اس عرصے میں شاہ بندر ایک غراب پر بمع نوکر چاکر بیٹھا ہوا نظر آیا۔ آتے آتے جہاز پر آ چڑھا۔ شاید اس کے آنے کا یہ سبب تھا کہ بادشاہ کو دائی کے مرنے اور ملکہ کے غائب ہونے کی خبر معلوم ہوئی مارے غیرت کے اس کا تو نام نہ لیا مگر شاہ بندر کو حکم کیا کہ میں نے سنا ہے عجمی سوداگروں کے پاس لونڈیاں خوب خوب ہیں۔ سو میں شہزادی کے واسطے لیا چاہتا ہوں، تم ان کو روک کر جتنی لونڈیاں جہاز میں ہوں، حضور میں حاضر کرو گے۔ انہیں دیکھ کر جو پسند آویں گی ان کی قیمت دی جائے گی۔ نہیں تو واپس ہوں گی۔ بموجب حکم بادشاہ کے یہ شاہ بندر اس لیے آپ جہاز پر آیا۔ اور میرے نزدیک ایک اور شخص تھا اس کے پاس بھی ایک باندی قبول صورت صندوق میں بند تھی۔ شاہ بندر اسی صندوق پر آ کر بیٹھا۔ اور لونڈیوں کو نکلوانے لگا۔ میں نے خدا کا شکر کیا کہ بھلا بادشاہ زادی کا مذکور نہیں۔\n\nغرض جتنی لونڈیاں پائیں شاہ بندر کے آدمیوں نے ناؤ پر چڑھائیں اور خود شاہ بندر جس صندوق پر بیٹھا تھا، اس کے مالک سے بھی ہنستے ہنستے پوچھا کہ تیرے پاس بھی تو لونڈی تھی؟ اس احمق نے کہا۔ آپ کے قدموں کے سوگند میں نے ہی یہ کام نہیں کیا۔ سبھوں نے تمہارے ڈر سے لونڈیاں صندوق میں چھپائی ہیں۔ شاہ بندر نے یہ بات سن کر سب صندوقوں کا جھاڑا لینا شروع کیا۔ میرا بھی صندوق کھولا اور ملکہ کو نکال کر سب کے ساتھ لے گیا عجب طرح کی مایوسی ہوئی کہ یہ ایسی حرکت پیش آئی کہ تیری جان تو مفت گئی اور ملکہ سے دیکھئے کیا سلوک کرے۔ اس کی فکر میں اپنی بھی جان کا ڈر بھول گیا۔ سارے دن رات خدا سے دعا مانگتا رہا۔ جب بڑی فجر ہوئی، سب لونڈیوں کو کشتی پر سوار کر کے پھرا لائے۔ سوداگر خوش ہویئے۔ اپنی اپنی کنیزیں لیں۔ سب آئیں مگر ایک ملکہ ان میں نہ تھی۔ میں نے پوچھا کہ میری لونڈی نہیں آئی۔ اس کا کیا سبب ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم واقف نہیں، شاید بادشاہ نے پسند کی ہو گی۔ سب سوداگر مجھے تسلی اور دلاسا دینے لگے کہ خیر جو ہوا سو ہوا تو کڑھ مت اس کی قیمت ہم سے بہری کر کر تجھے دیں گے میرے حواس باختہ ہو گئے۔ میں نے کہا کہ اب عجم میں نہیں جانے کا۔ کشتی رانوں سے کہا، یارو مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو، کنارے پر اتار دیجئو۔ وہ راضی ہوئے میں جہاز سے اتر کر غراب میں بیٹھا۔ یہ کتا بھی میرے ساتھ چلا آیا۔\n\nجب بندر میں پہنچا، ایک صندوقچہ جواہر کا جو ملکہ اپنے ساتھ لائی اسے تو رکھ لیا، اور سب اسباب شاہ بندر کے نوکروں کو دیا، اور میں جاسوسی میں ہر کہیں پھرنے لگا کہ شاید خبر ملکہ کی پاؤں۔ لیکن ہر گز سراغ نہ ملا اور نہ اس بات کا پتا پایا۔ ایک رات کو کسو مکر سے بادشاہ کے بھی محل میں گیا اور ڈھونڈتا کچھ خبر نہ ملی۔ قریب ایک مہینے کے شہر کے کوچے اور محلے چھان مارے اور اس غم سے اپنے تئیں قریب ہلاکت کے پہنچایا، اور سودائی سا پھرنے لگا۔ آخر اپنے دل میں خیال کیا، کہ غالب ہے شاہ بندر کے گھر میری بادشاہ زادی ہووے تو ہووے نہیں تو اور کہیں نہیں۔ شاہ بندر کی حویلی کے گرد و پیش دیکھتا تھا، کہ کہیں سے بھی جانے کی راہ پاؤں تو اندر جاؤں۔\n\nایک بدرو نظر پڑی کہ موافق آدمی کی آمد و رفت کے ہے مگر جالی آہنی اس کے دہانے پر جڑی ہے۔ یہ قصد کیا کہ اس بدرو کی راہ سے چلوں۔ کپڑے بدن سے اتارے اور اس نجس کیچڑ میں اترا۔ ہزار محنت سے اس جالی کو توڑا اور سنڈاس کی راہ سے چور محل میں گیا۔ عورتوں کا لباس بنا کر ہر طرف دیکھنے بھالنے لگا۔ ایک مکان سے آواز میرے کان میں پڑی، جیسے کوئی مناجات کر رہا ہے۔ آگے جا کر دیکھوں تو ملکہ ہے کہ عجب حالت سے روتی اور نک گھسنی کر رہی ہے، اور خدا سے دعا مانگتی ہے کہ صدقے اپنے رسولؐ اور اس کی آل پاک کے، مجھے اس کفرستان سے نجات دے۔ اور جس شخص نے مجھے اسلام کی راہ بتائی ہے، اس سے ایک بار خیریت سے ملا۔ میں دیکھتے ہی دوڑ کر پاؤں پر گڑ پڑا۔ ملکہ نے مجھے گلے لیا۔ ہم دونوں پر ایک دم بے ہوشی کا عالم ہو گیا۔ جب حواس بجا ہوئے میں نے کیفیت ملکہ سے پوچھی۔ بولی جب شاہ بندر سب لونڈیوں کو کنارے پر لے گیا۔ میں خدا سے یہی دعا مانگتی تھی کہ کہیں میرا راز فاش نہ ہو، اور میں پہچانی نہ جاؤں اور تیری جان پر آفت نہ آوے۔ وہ ایسا ستار ہے کہ ہرگز کسو نے نہ دریافت کیا کہ یہ ملکہ ہے۔ شاہ بندر ہر ایک کو بہ نظر خریداری دیکھتا تھا۔ جب میری باری ہوئی۔ مجھے پسند کر کر اپنے گھر میں چپکے سے بھیج دیا اوروں کو بادشاہ کے حضور میں گزارنا۔\n\nمیرے باپ نے جب ان میں مجھے نہ دیکھا، سب کو رخصت کیا۔ یہ سب پرپنچ میرے واسطے کیا تھا۔ اب یوں مشہور کیا ہے کہ بادشاہ زادی بیمار ہے۔ اگر میں ظاہر نہ ہوئی کہ کوئی دن میرے مرنے کی خبر سارے ملک میں اڑے گی۔ تو بدنامی بادشاہ کی نہ ہووے۔ لیکن اب اس عذاب میں ہوں کہ شاہ بندر مجھ سے اور ارادہ دل میں رکھتا ہے۔ اور ہمیشہ ساتھ سونے کو بلاتا ہے۔ میں راضی نہیں ہوتی ازبس کہ چاہتا ہے، اب تک میری رضا مندی منظور ہے لہٰذا چپ ہو رہتا ہے۔ پر حیران ہوں اس طرح کہاں تک نبھے گی سو میں نے جی بھر ٹھہرا لیا کہ جب مجھ سے کچھ اور قصد کرے گا تو میں اپنی جان دوں گی اور مر رہوں گی لیکن تیری ملنے سے ایک اور تدبیر دل میں سوجھی ہے۔ خدا چاہے تو سوائے اس فکر کے دوسری کوئی طرح مخلصی کی نظر نہیں آتی۔ میں نے کہا فرماؤ تو، کون سے تدبیر ہے؟ کہنے لگی اگر تو سعی اور محنت کرے تو ہو سکے۔ میں نے کہا فرمانبردار ہوں۔ اگر حکم کرو تو جلتی آگ میں کود پڑوں۔ اور سیڑھی پاؤں تو تمہاری خاطر آسمان پر چلا جاؤں جو کچھ فرماؤ سو بجا لاؤں۔\n\nملکہ نے کہا تو بڑے بت کے بت خانے میں جا اور جس جگہ جوتیاں اتارتے ہیں وہاں ایک سیاہ ٹاٹ پڑا رہتا ہے۔ اس ملک کی رسم ہے کہ جو کوئی مفلس اور محتاج ہو جاتا ہے۔ اس جگہ وہ ٹاٹ اوڑھ کر بیٹھتا ہے۔ وہاں کے لوگ جو زیارت کو جاتے ہیں موافق اپنے اپنے مقدور کے اسے دیتے ہیں۔ جب دوچار دن مال جمع ہو جاتا ہے، پنڈے ایک خلعت بڑے بت کی سرکار سے دیکر اسے رخصت کرتے ہیں۔ وہ تونگر ہو کر چلا جاتا ہے۔ کوئی نہیں معلوم کرتا کہ یہ کون تھا۔ تو بھی جا کر اس پلاس کے نیچے بیٹھ اور ہاتھ منہ اپنا خوب طرح چھپا لے اور کسو سے نہ بول۔\n\nبعد تین دن کے باہم اور بت پرست ہر چند تجھے خلعت دے کر رخصت کریں تو وہاں سے ہرگز نہ اٹھ۔ جب نہایت منت کریں۔ تب تو بولیو کہ مجھے روپیہ پیسہ کچھ درکار نہیں۔ میں مال کا بھوکا نہیں۔ میں مظلوم ہوں۔ فریاد کر آیا ہوں۔ اگر برہمنوں کی ماتا میری داد دے تو بہتر ہے۔ نہیں تو بڑا بت میرا انصاف کرے گا۔ اور اس ظالم سی یہی بڑا بت میری فریاد کو پہنچے گا۔ جب تک وہ ماتا برہمنوں کی آپ تیرے پاس نہ آوے بہتیرا کوئی منائے تو راضی نہ ہو جیو۔ آخر لاچار ہو کر وہ خود تیرے نزدیک آوے گی۔ وہ بہت بوڑھی ہے۔ دو سو چالیس برس کی عمر ہے، اور چھتیس بیٹے اس کے جنے ہوئے بت خانے کے سردار ہیں۔ اور اس کا بڑے بت کے پاس بڑا درجہ ہے۔ اس سبب اس کا اتنا بڑا حکم ہے کہ جتنے چھوٹے بڑے اس ملک کے ہیں اس کے کہنے کو اپنی سعادت جانتے ہیں۔ جو وہ فرماتی ہے بسر و چشم مانتے ہیں۔ اس کا دامن پکڑ کر کہو۔ اے مائی اگر مجھ مظلوم مسافر کا انصاف ظالم سے نہ کرے گی تو میں بڑے بت کی خدمت میں ٹکریں ماروں گا۔ آخر وہ رحم کھا کر تجھ سے میری سفارش کرے گا۔\n\nاس کے بعد جب وہ برہمنوں کی ماتا تیرا سب احوال پوچھے تو کہیو کہ میں عجم کا رہنے والا ہوں۔ بڑے بت کی زیارت کی خاطر اور تمہاری علالت سن کر کالے کوسوں سے یہاں آیا ہوں۔ کئی دنوں آرام سے رہا۔ میری بی بی بھی میرے ساتھ آئی تھی۔ وہ جوان ہے اور صورت شکل بھی اچھی ہے اور آنکھ ناک سے درست ہے۔ معلوم نہیں کہ شاہ بندر نے اسے کیونکر دیکھا۔ بہ زور مجھ سے چھین کر اپنے گھر میں ڈال دیا۔ اور ہم مسلمانوں کا یہ قاعدہ ہے کہ جو محرم عورت ان کی دیکھے یا چھین لے تو واجب ہے کہ اس کو جس طرح ہو یا مار ڈالیں اور اپنی جورو کو لے لیں۔ اور نہیں تو کھانا پینا چھوڑ دیں، کیونکہ جب تلک وہ جیتا رہے وہ عورت خاوند پر حرام ہے۔ اب یہاں لاچار ہو کر آیا ہوں۔ دیکھئے تم کیا انصاف کرتی ہو؟ جب ملکہ نے مجھے یہ سب سکھا پڑھا دیا، میں رخصت ہو اسی ناب دان سے باہر نکلا، اور وہ جالی آہنی پر لگا دی۔\n\nصبح ہوتے ہی بت خانے میں گیا اور وہ سیاہ پلاس اوڑھ کر بیٹھا۔ تین روز میں اتنا روپیہ اور اشرفی اور کپڑا میرے نزدیک جمع ہوا کہ انبار لگ گیا۔ چوتھے دن پنڈے بھجن کرتے اور گاتے بجاتے میرے پاس آئے اور رخصت کرنے لگے۔ میں راضی نہ ہوا اور دہائی بڑے بت کی دی کہ میں گدائی نہیں کرنے آیا۔ بلکہ انصاف کے لیے بڑے بت اور برہمنوں کی ماتا کے پاس آیا ہوں۔ جب تلک اپنی داد نہ پاؤں گا۔ یہاں سے نہ جاؤں گا۔ وہ سن کر اس پیرزال کے روبرو ہو گئے۔ اور میرا احوال بیان کیا۔ بعد اس کے ایک چوبے آیا اور میرے تئیں کہنے لگا چل ماتا بلاتی ہے، میں وونہیں ٹاٹ کالا سر سے پاؤں تک اوڑھے ہوئے دھرے میں گیا۔ دیکھتا ہوں کہ ایک جڑاؤ سنگھاسن پر جس میں لعل، الماس اور موتی مونگا لگا ہوا ہے، بڑا بت بیٹھا ہے اور ایک کرسی زریں پر فرش معقول بچھا ہے۔ اس پر ایک بڑھیا سیاہ پوش مسند تکیے لگائی اور دو لڑکے دس بارہ برس کے ایک داہنے ایک بائیں شان و شوکت اور تجمل سے بیٹھی ہے۔ مجھے آگے بلایا۔ میں ادب سے گیا اور تخت کے پائے کو بوسہ دیا۔ پھر اس کا دامن پکڑ لیا۔ اس نے میرا احوال پوچھا۔ میں نے اسی طرح جس طرح ملکہ نے تعلیم کر دیا تھا، ظاہر کیا۔ سن کر بولی کیا مسلمان اپنی استریوں کو اوجھل میں رکھتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں تمہارے بچوں کی خیر ہو۔ یہ ہماری رسم قدیم ہے بولی کہ تیرا اچھا مذہب ہے میں ابھی حکم کرتی ہوں کہ شاہ بندر مع تیری جورو آن کر حاضر ہوتا ہے۔ اور اس گیدی کو ایسی سیاست کروں کہ بار دیگر ایسی حرکت نہ کرے اور سب کے کان کھڑے ہوں اور ڈریں۔ اپنے لوگوں سے پوچھنے لگی کہ شاہ بندر کون ہے؟ اس کی یہ مجال ہے کہ بگانی تریا کو بزور چھین لیتا ہے؟ لوگوں نے کہا فلانا شخص ہے۔ یہ سن کر ان دونوں لڑکوں کو، جو پاس میں بیٹھے تھے، فرمایا کہ جلدی اس مانس کو لے کر بادشاہ کے پاس جاؤ اور کہو کہ ماتا فرماتی ہے کہ حکم بڑے بت کا یہ ہے کہ شاہ بندر کے آدمیوں پر زور زیادتی کرتا ہے، چنانچہ اس غریب کی عورت چھین لیا ہے۔ اس کی تقصیر بڑے ثابت ہوئی۔ جلد اس گمراہ کے مال کا تالیقہ کر کر اس ترک کے، کہ ہمارا منظور نظر ہے، حوالے کر، نہیں تو آج کو تو ستیاناس ہو گا۔ اور ہماری غضب میں پڑے گا، وہ دونوں طفل اٹھ کر منڈل سے باہر آئے اور سوار ہویئے۔ سب پنڈے سنکھ بجاتے اور آرتی گاتے جلو میں ہو لئے۔ غرض وہاں کے بڑے چھوٹے جہاں ان لڑکوں کا پاؤں پڑتا تھا وہاں کی مٹی تبرک جان کر اٹھا لیتے اور آنکھوں سے لگاتے۔ اسی طرح بادشاہ کے قلعے تک گئے۔ بادشاہ کو خبر ہوئی۔ ننگے پاؤں استقبال کی خاطر نکل آیا اور ان کو بڑے مان مہت سے لے جا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا، اور پوچھا، آج کیونکر تشریف فرمانا ہوا، ان دونوں برہمن بچوں نے ماں کی طرف سے جو کچھ سن آئے تھے، اور کہا اور بڑے بت کی خفگی سے ڈرایا۔ بادشاہ نے سنتے ہی فرمایا، بہت خوب اور اپنے نوکروں کو حکم کیا کہ محصل جاویں اور شاہ بندر کی مع اس عورت کے جلد حضور میں حاضر کریں، تو میں تقصیر اس کی تجویز کر کے سزا دوں۔\n\nیہ سن کر میں اپنے دل میں گھبرایا کہ یہ بات تو اچھی نہ ہوئی۔ اگر شاہ بندر کے ساتھ ملکہ کو بھی لاویں تو پردہ فاش ہو گا اور میرا کیا احوال ہو گا؟ دل میں نہایت خوف زدہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کی، لیکن میرے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور بدن کانپنے لگا۔ لڑکوں نے یہ میرا رنگ دیکھ کر شاید دریافت کیا کہ یہ حکم اس کی مرضی کے موافق نہ ہوا۔ وہ نہیں خفا و برہم ہو کر اٹھے اور بادشاہ کو جھڑک کر بولے اے مردک تو دیوانہ ہوا ہے جو فرمانبرداری سے بڑے بت کی نکلا، اور ہمارے بچن کو جھوٹ سمجھا جو دونوں کو بلا کر تحقیق کیا چاہتا ہے؟ اب خبردار تو غضب میں بڑے بت کے پڑا۔ ہم نے تجھے حکم پہنچا دیا۔ اب تو جان اور بڑا بت جانے۔\n\nاس کہنے سے بادشاہ کی عجیب حالت ہوئی کہ ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا۔ اور سر سے پاؤں تلک رعشہ ہو گیا۔ منت کر کے منانے لگا۔ یہ دونوں ہرگز نہ بیٹھے، لیکن کھڑے رہے۔ اس میں جتنے امیر امرا وہاں حاضر تھے ایک منہ ہو کر بد گوئی شاہ بندر کرنے لگے کہ وہ ایسا ہی حرام زادہ بدکار اور پاپی۔ ایسی ایسی حرکتیں کرتا ہے کہ حضور بادشاہ کے کیا کیا عرض کریں؟ جو کچھ برہمنوں کی ماتا نے کہلا بھیجا ہے، درست ہے۔ اس واسطے کہ حکم بڑے بت کا ہے۔ یہ دروغ کیونکر ہو گا؟ بادشاہ نے جب سب کی زبانی ایک ہی بات سنی، اپنے کہنے سے بہت خجل اور نادم ہوا۔ جلد ایک خلعت پاکیزہ مجھے دی اور حکم نامہ اپنے ہاتھ سے لکھ اس پر دستی مہر کر میرے حوالے کیا۔ اور ایک رقعہ مادر برہمناں کو لکھا اور جواہر اشرفیوں کے خوان لڑکوں کے روبرو پیش کش رکھ کر رخصت کیا۔ میں خوشی بہ خوشی بت خانے میں آیا اور اس بڑھیا کے پاس گیا۔ بادشاہ کا جو خط آیا تھا اس کا مضمون تھا۔ القاب کے بعد بندگی عجز و نیاز لکھ کر لکھا تھا کہ موافق حکم حضور کے اس مرد مسلمان کو خدمت شاہ بندر کی مقرر ہوئی اور خلعت دی گئی۔ اب یہ اس کے قتل کا مختار ہے، اور سارا مال و اموال اس ترک کا ہوا۔ جو چاہے سو کرے۔ امیدوار ہوں کہ میری تقصیر معاف ہو۔ برہمنوں کی ماں نے خوش ہو کر فرمایا نوبت خانے میں بت خانے کی نوبت بجے۔ اور پانچ سو سپاہی برق انداز جو بال باندھی کوڑی ماریں، مسلح میرے ہمراہ کر دیئے، اور حکم کیا کہ بندر میں جا کر شاہ بندر کو دستگیر کر کے اس مسلمان کے حوالے کریں۔ جس طرح کے عذاب سے اس کا جی چاہے اسے مارے اور خبردار سوائے اس عزیز کے کوئی محل سرا میں داخل نہ ہوئے، اور اس کے مال و خزانے کو امانت اس کے سپرد کریں۔ جب یہ بہ خوشی رخصت کرے، رسید اور رہائی نامہ اس سے لے کر پھر آویں۔ اور ایک سرے پاؤ بت بزرگ کی سرکار سے میرے تئیں دے کر سوار کروا کر وداع کیا۔\n\nجب میں بندر میں پہنچا، ایک آدمی نے بڑھ کر شاہ بندر کو خبر کی۔ وہ حیران سا بیٹھا تھا کہ میں جا پہنچا۔ غصہ تو دل میں بھر ہی رہا تھا۔ دیکھتے ہی شاہ بندر کو تلوار کھینچ کر ایسی گردن لگائی کہ اس کا سر بھٹا سا اڑ گیا۔ اور وہاں سے گماشتے خزانچی، مشرف داروغوں کو پکڑوا کر سب دفتر ضبط کئے اور میں محل میں داخل ہوا۔ ملکہ سے ملاقات کی۔ آپس میں گلے لگ کر روئے اور شکر خدا کا کیا۔ میں اس کے، اس نے میرے آنسو پونچھے۔ پھر باہر مسند پر بیٹھ کر اہل کارواں کو خلعتیں دیں اور اپنی اپنی خدمتوں پر سب کو بحال کیا۔ نوکر اور غلاموں کو سرفرازی دی۔ وہ لوگ جو منڈپ سے میرے ساتھ متعین ہوئے تھے۔ ہر ایک کو انعام و بخشش دے کر ان کے جمدار، رسالہ دار کو جوڑے پہنا کر رخصت کیا اور جواہر بیش قیمت اور تھان نوریانی اور شال بانی اور زر دوزی اور جنس و تحفے ہر ایک ملک کے اور نقد بہت سا بادشاہ کی نذر کی خاطر، اور موافق ہر ایک امراؤں کے درجہ بہ درجہ اور پنڈیاین کے لیے اور سب پنڈوں کے تقسیم کرنے کی خاطر اپنے ساتھ لے کر بعد ایک ہفتے کے میں بت کدے میں آیا اور اس ماتا کے آگے بطریق بھینٹ کے رکھا۔ اس نے ایک اور خلعت سرفرازی کی مجھے بخشی اور خطاب دیا۔ پھر بادشاہ کے دربار میں جا کر پیش گزرانی اور جو جو ظلم و فساد شاہ بندر نے ایجاد کیا تھا اس کے موقوف کرنے کی خاطر عرض کی۔ اس سبب سے بادشاہ اور امیر، سوداگر سب مجھ سے راضی ہوئے۔ بہت نوازش مجھ پر فرمائی اور خلعت اور گھوڑا دے کر منصب جاگیر عنایت کی، اور آبرو حرمت بخشی۔\n\nجب بادشاہ کے حضور سے باہر آیا شاگرد پیشوں کو اور اہلکاروں کو اتنا کچھ دے کر راضی کیا کہ سب میرا کلمہ پڑھنے لگے۔ غرض میں بہت مرفہ الحال ہو گیا اور نہایت چین و آرام سے اس ملک میں ملکہ سے عقد باندھ کر رہنے لگا۔ اور خدا کی بندگی کرنے لگا۔ میرے انصاف کے باعث رعیت پرجا سب خوش تھے۔ مہینے میں ایک بار بت خانے میں اور بادشاہ کے حضور میں آتا جاتا۔ بادشاہ روز بروز زیادہ سرفراز فرماتا۔\n\nآخر مصاحبت میں مجھے داخل کیا۔ میرے بے صلاح کوئی کام نہ کرتا۔ نہایت بے فکری سے زندگی گزرنے لگی۔ مگر خدا ہی جانتا ہے، اکثر اندیشہ ان دونوں بھائیوں کا دل میں آیا کہ وہ کہاں ہوں گے اور کس طرح ہوں گے؟ بعد مدت دو برس کے ایک قافلہ سوداگروں کا ملک زیر باد سے اس بندر میں آیا۔ وہ سب قصد عجم کا قاعدہ یہ تھا کہ جو ہر کارواں آتا، اس کا سردار سوغات و تحفہ ہر ایک ملک کا میرے پاس لاتا اور نذر گزرانتا۔ دوسرے روز میں اس کے مکان پر جاتا۔ وہ یکے بہ طریق محصول اس کے مال سے لیتا اور پروانگی کوچ کی دیتا۔ اسی طرح وہ سوداگر زیرباد کے بھی میری ملاقات کو آئے اور بے بہا پیش کش لائے۔ دوسرے دن میں ان کے خیمے میں گیا۔ دیکھا تو دو آدمی پھٹے پرانے کیڑے پہنے گٹھڑی بقچے سر پر اٹھا میری روبرو لاتے ہیں۔ بعد ملاحظہ کرنے کے پھر اٹھا لے جاتے ہیں اور بڑی محنت سے خدمت کر رہے ہیں۔\n\nمیں نے خوب نجھا کر جو دیکھا تو یہی میرے دونوں بھائی ہیں۔ اس وقت غیرت اور حمیت نے نہ چاہا کہ ان کو اس طرح خدمت گاری میں دیکھوں۔ جب اپنے گھر کو چلا آدمیوں کو کہا کہ ان دونوں شخصوں کو لے آؤ۔ جب انکو لائے پھر لباس اور پوشاک بنوا دی اور اپنے پاس رکھا۔ ان بد ذاتوں نے پھر میرے مارنے کا منصوبہ کر کر ایک روز آدھی رات میں سب کو غافل پا کر چوروں کی طرح میرے سرہانے آ پہنچے۔ میں نے اپنی جان کے ڈر سے چوکی داروں کو دروازے پر رکھا تھا اور یہ کتا وفادار میری چارپائی کی پٹی تلے سوتا تھا۔ جوں انہوں نے تلواریں میان سے کھینچیں، پہلے کتے نے بھونک کر ان پر حملہ کیا۔ اس کی آواز سے سب جاگ پڑے۔ میں ہل ہلا کر چونکا۔ آدمیوں نے پکڑا، معلوم ہوا کہ آپ ہی ہیں۔ سب لعنتیں دینے لگے کہ باوجود اس خاطر داری یہ کیا حرکت ان سے ظہور میں آئی۔\n\nبادشاہ سلامت! تب تو میں بھی ڈرا۔ مثل مشہور ہے ایک خطا، دو خطا، تیسری خطا مادر بہ خطا۔ دل میں یہی صلاح کہ ان کو مقید کروں، لیکن اگر بندی خانے میں رکھوں تو ان کا کون خبر گیراں رہے گا؟ بھوک و پیاس سے مر جائیں گے۔ یا کوئی اور سوانگ لائیں گے۔ اس واسطے قفس میں رکھا ہے کہ ہمیشہ میری نظروں کے تلے رہیں تو میری خاطر جمع رہے۔ مبادا آنکھوں سے اوجھل ہو کر کچھ اور مکر کریں۔ اور اس کتے کی عزت اور حرمت، اس کی نمک حلالی اور وفاداری کے سبب ہے۔ سبحان اللہ آدمی بے وفا، بدتر، حیوان وفا سے ہے۔ سے میری یہ سرگذشت تھی جو حضور میں عرض کی اب خواہ قتل فرمائیے یا جان بخشی کیجئے حکم بادشاہ کا ہے۔\n\nمیں نے سن کر اس جوان با ایمان پر آفریں کی اور کہا تیری مروت میں کچھ خلل نہیں، اور اس کی بے حیائی اور حرام زدگی میں ہرگز قصور نہیں۔ سچ ہے کتے کی دم کو بارہ برس گاڑو تو بھی ٹیڑھی رہے۔ اس کے بعد میں نے حقیقت ان بارہوں لعل کی، کہ اس کتے کے پٹے میں تھے، پوچھی۔ خواجہ بولا کہ بادشاہ کے صد و بیت سال کی عمر ہو۔ اسی بندر میں جہاں میں حاکم تھا، بعد تین چار سال کے ایک روز بالا خانے پر محل کے، کہ بلند تھا، واسطے سیر اور تماشے دریا و صحرا کے میں بیٹھا تھا اور ہر طرف دیکھتا تھا، ناگاہ ایک طرف جنگل میں کہ وہاں شاہراہ تھی، دو آدمی کی تصویر سی نظر آئی کہ چلے جاتے ہیں، دور بین لے کر دیکھا تو عجیب ہیئت کے انسان دکھائی دیئے۔\n\nچوب داروں کو ان کے بلانے کے واسطے دوڑایا۔ جب وہ آئے تو معلوم ہوا کہ ایک عورت اور ایک مرد ہے۔ رنڈی کو محل سرا میں ملکہ کے پاس بھیج دیا اور مرد کو روبرو بلایا۔ دیکھا تو ایک جوان برس بیس بائیس کا داڑھی موچھ آغاز ہے، لیکن دھوپ کی گرمی سے اس کے چہرے کا رنگ کالے توے کا سا ہو رہا ہے۔ اور سر کے بال اور ہاتھوں کے ناخن بڑھ کر بن مانس کی صورت بن رہا ہے۔ اور ایک لڑکا برس تین چار کا ایک کاندھے پر، اور آستیں کرتے کے بھری ہوئی ہیکل کی طرح گلے میں ڈالی عجیب صورت اور عجیب یہ وضع اس کی دیکھی، میں نے نہایت حیران ہو کر پوچھا۔ اے عزیز کون ہے، اور کس ملک کا باشندہ ہے، اور یہ کیا تیری حالت ہے؟ وہ جوان بے اختیار رونے لگا۔ اور ہمیانی کھول کر میرے آگے زمین پر رکھی اور بولا۔ الجوع الجوع واسطے خدا کے کچھ کھانے کو دو۔ مدت سے گھاس اور بناس پتیاں کھاتا چلا آتا ہوں۔ ایک ذرا قوت مجھ میں باقی نہیں رہی۔ وونہیں نان و کباب اور شراب میں نے منگوا دی۔ وہ کھانے لگا اتنے میں خواجہ سرا محل سے کئی تھیلیاں اس کے قبیلے پاس سے لے آیا۔ میں نے اس سب کو کھلوایا۔ ہر ایک قسم کے جواہر دیکھے کہ ایک ایک دانہ ان کا خراج سلطنت کا کہا چاہیے ایک سے ایک انمول ڈول میں، و رتول میں اور آب داری میں۔ اور ان کی چھوٹ پڑنے سے سارا مکان بو قلموں ہو گیا۔ جب اس نے ٹکڑا کھایا اور ایک جام دارو کا پیا اور دم لیا، حواس بجا ہوئے۔ تب میں نے پوچھا جیہ پتھر تجھے کہاں ہاتھ لگے؟ جواب دیا کہ میرا وطن ولایت آذربائیجان ہے۔ لڑکپن میں گھر بار ماں باپ سے جدا ہو کر بہت سختیاں کھنچیں اور ایک مدت تلک میں زندہ درگور تھا۔ اور کئی بار ملک الموت کے پنجے سے بچا ہوں۔ میں نے کہا اے مرد آدمی مفصل کہہ تو معلوم ہو۔ تب وہ اپنا احوال بیان کرنے لگا کہ میرا باپ سوداگر پیشہ تھا۔ ہمیشہ سفر ہندوستان و روم و چین و خطا و فرنگ کا کرتا۔ جب میں دس برس کا ہوا، باپ ہندوستان کو چلا۔ مجھے اپنے ساتھ لے جانے کو چاہا۔ ہر چند والدہ نے اور خالا، ممانی، پھوپھی نے کہا کہ ابھی یہ لڑکا ہے لائق سفر کے نہیں ہوا۔ والد نے نہ مانا اور کہا کہ میں بوڑھا ہوا اگر یہ میرے رو بہ رو تربیت نہ ہو گا تو یہ حسرت قبر میں لے جاؤں گا۔ مرد بچہ ہے اب نہ سیکھے گا؟\n\nیہ کہہ کر مجھے خواہ مخواہ ساتھ لیا اور روانہ ہوا۔ خیر عافیت سے راہ کٹی۔ جب ہندوستان میں پہنچے کچھ جنس وہاں بیچی اور وہاں کے سوغات کر کرے جہاز پر سوار ہوئے کہ جلدی وطن میں پہنچیں۔ بعد ایک مہینے کے ایک روز آندھی اور طوفان آیا اور مینہ موسلادھار برسنے لگا۔ سارا زمین و آسمان دھواں دھار ہو گیا۔ اور پتوار جہاز کی ٹوٹ گئی۔ معلم ناخدا سر پیٹنے لگا۔ دس دن تلک ہوا اور موج جیدھر چاہتی تھی، لئے جاتی تھی۔ گیارھویں روز ایک پہاڑ سے ٹکر کھا کر جہاز پرزے پرزے ہو گیا۔ نہ معلوم کہ باپ اور نوکر چاکر اور اسباب کہاں گیا۔\n\nمیں نے اپنے تئیں ایک تختے پر دیکھا۔ سبہ شبانہ روز وہ پڑا بے اختیار چلا گیا۔ چوتھے دن کنارے پر جا لگا۔ مجھ میں فقط جان باقی تھی۔ اس پر سے اتر کر گھنٹوں چل کر بارے کسو نہ کسو طرح زمین پر پہنچا۔ دور سے کھیت نظر آئے اور بہت سے آدمی وہاں جمع تھے، لیکن سب سیاہ فام اور ننگے مادر زاد مجھ سے کچھ بولے، لیکن میں نے ان کی زبان مطلق نہ سمجھی۔ وہ کھیت چنوں کا تھا۔ وہ آدمی آگ کا الاؤ جل کر بوٹوں کے ہولے کرتے تھے اور کھاتے تھے۔ اور کئی ایک گھر میں وہاں نظر آئے۔ شاید ان کی خوراک یہی تھی اور وہیں بستے تھے۔ مجھے بھی اشارات کرنے لگے کہ تو بھی کھا۔ میں نے بھی ایک مٹھی اکھاڑ کر بھونے اور پھانکنے لگا۔ تھوڑا سا پانی پی کر ایک گوشے میں سو رہا۔ بعد دیر کے جب جاگا ان میں سے ایک شخص میرے نزدیک آیا اور راہ دکھانے لگا۔ میں نے تھوڑے سے چنے اور اکھیڑ لیے اور اس راہ پر چلا۔ ایک کف دست میدان تھا گویا صحرائے قیامت کا نمونہ کہا جائے وہی بونٹ کھاتا ہوا چلا جاتا تھا۔ بعد چار دن کے ایک قلعہ نظر آیا۔ جب پاس گیا تو ایک کوٹ دیکھا، بہت بلند تمام پتھر کا، اور ہر ایک النگ اس کی دو کوس کی اور دروازہ ایک سنگ کا تراشا ہوا، ایک قفل بڑا سا جڑا تھا، لیکن وہاں انسان کا نشان نظر نہ پڑا۔ وہیں سے آگے چلا۔ ایک ٹیلا دیکھا کہ اس کی خاک سرمے کے رنگ سیاہ تھی۔ جب اس تل کے پار ہوا تو ایک شہر نظر پڑا، بہت بڑا گرد شہر پناہ اور جا بجا برج، ایک طرف شہر کے دریا تھا، بڑے پاٹ کا، جاتے جاتے دروازے پر گیا اور بسم اللہ کہ کر قدم اندر رکھا۔ ایک شخص کو دیکھا پوشاک اہل فرنگ کی پہنے ہوئے کرسی پر بیٹھا ہے۔ جوں ان نے مجھے اجنبی مسافر دیکھا اور میرے منہ سے بسم اللہ سنی، پکارا کہ آگے آؤ میں نے جا کر سلام کیا۔ نہایت مہربانی سے سلام کا جواب دیا۔ ترت میز پر پاؤ روٹی اور مسکہ اور مرغ کا کباب اور شراب رکھ کر کہا۔ پیٹ بھر کھاؤ۔ میں نے تھوڑا سا کھا لیا اور پیا اور بے خبر ہو کر سویا۔ جب رات ہو گئی تب آنکھ کھلی۔ ہاتھ منہ دھویا۔ پھر مجھے کھانا کھلایا اور کہا کہ اے بیٹا اپنا احوال کہہ۔ جو کچھ مجھ پر گزرا تھا سب کہہ سنایا۔ تب بولا کہ یہاں تو کیوں آیا؟ میں نے دق ہو کر کہا شاید تو دیوانہ ہے۔ میں نے بعد مدت کے محنت کے اب بستی کی صورت دیکھی ہے۔ خدا نے یہاں تلک پہنچایا اور تو کہتا ہے کیوں آیا ہے۔ کہنے لگا اب تو آرام کر کل جو کہنا ہو گا کہوں گا۔\n\nجب صبح ہوئی بولا کوٹھری میں پھاوڑا اور چھلنی اور توبڑا ہے، باہر لے آ، میں نے دل میں کہا کہ خدا جانے روٹی کھلا کر کیا محنت مجھ سے کروائے گا، لاچار وہ سب نکال کر اس کے روبرو لایا۔ تب اس نے فرمایا کہ اس ٹیلے پر جا اور ایک گز کے موافق گڑھا کھود۔ وہاں سی جو کچھ نکلنے اس چھلنے میں چھان سکے اسے توبڑے میں بھر کر میرے پاس لا۔ میں وہ سب چیزں لے کر وہاں گیا اور اتنا ہی کھود کر چھان چھون کر توبڑے میں ڈالا۔ دیکھا تو سب جواہر رنگ برنگ کے تھے۔ ان کو جوت سے آنکھیں چوندھیا گئیں۔ اس طرح تھیلی کو مونہاں منہ بھر کر اس عزیز کے پاس لے گیا۔ دیکھ کر بولا کہ جو اس میں بھرا ہے تو لے اور یہاں سے جا کر تیرا رہنا اس شہر میں خوب نہیں۔ میں نے جواب دیا کہ صاحب نے اپنی جانب میں بڑی مہربانی کی کہ اتنا کچھ کنکر پتھر دیا لیکن میرے کس کام کا؟ جب بھوکا ہوں گا تو نہ ان کو چبا سکوں گا، نہ پیٹ بھرے گا۔ پس اگر اور بھی دو تو میرے کس کام آئیں گے؟ وہ مرد ہنسا اور کہنے لگا مجھ کو تجھ پر افسوس آتا ہے کہ تو بھی بکاری مانند ملک عجم کا متوطن ہے۔ اس لئے میں منع کرتا ہوں، نہیں تو جان۔ اگر خواہ مخواہ تیرا یہی قصد ہے کہ شہر میں جاؤں تو میری انگوٹھی لیتا جا۔ جب بازار کے چوک میں جاوے تو ایک شخص سفید ریش وہاں بیٹھا ہو گا اور اس کی صورت شکل مجھ سے بہت مشابہ ہے۔ میرا بڑا بھائی ہے۔ اس کو یہ چھاپ دیجئو تو تیری خبر گیری کرے گا۔ اور جو کچھ وہ کہے، اسی کے موافق کا کیجیو، نہیں تو مفت میں مارا جائے گا۔ اور میرا حکم یہیں تلک ہے، شہر میں میرا دخل نہیں۔\n\nمیں نے وہ خاتم اس سے لی اور سلام کر کر رخصت ہوا۔ شہر میں گیا۔ بہت خاصہ شہر دیکھا، کوچہ و بازار، صاف اور زن و مرد بے حجاب آپس میں خرید و فروخت کرتے، سب خوش لباس۔ میں سیر کرتا اور تماشا دیکھتا، جب چوک کے چوراہے میں پہنچا، ایس ازدحام تھا کہ تھالی پھینکے تو آدمی کے سر پر چلی جائے، خلقت کا یہ ٹھٹھ بندھ رہا تھا کہ آدمی کو راہ چلنا مشکل تھا۔ جب کچھ بھیڑ چھٹی، میں بھی دھکم دھکا کرتا ہو آگے گیا، بارے اس عزیز کو دیکھا ایک چوکی پر بیٹھا ہے اور ایک جڑاؤ چاق رو برو دھرا ہے۔ میں نے جا کر سلام کیا اور وہ مہر دی۔ نظر غضب سے میری طرف دیکھا اور بولا۔ کیوں تو یہاں آیا اور اپنے تئیں بلا میں ڈالا؟ مگر میرے بے وقوف بھائی نے تجھے منع نہ کیا تھا؟ میں نے کہا انہوں نے تو کہا لیکن میں نہ مانا اور تمام کیفیت اپنی ابتدا سے انتہا تک کہہ سنائی۔ وہ شخص اٹھا اور مجھے ساتھ لے کر اپنے گھر کی طرف چلا۔ اس کا مکان بادشاہوں کا سا دیکھنے میں آیا، اور بہت سے نوکر چاکر اس کے تھے۔ جب خلوت میں جا کر بیٹھا بہ ملایمت بولا کہ اے فرزند یہ کیا تو نے حماقت کی کہ اپنے پاؤں سے گور میں آیا؟ کوئی بھی اس کم بخت طلسماتی شہر میں آتا ہے؟ میں نے کہا میں اپنا احوال پیشتر کہہ چکا ہوں۔ اب تو قسمت لے آئی، لیکن شفقت فرما کر یہاں کے راہ و رسم سے مطلع کیجئے تو معلوم کروں کہ اس واسطے تم نے اور تمہارے بھائی نے مجھے منع کیا۔ تب وہ جوان مرد بولا کہ بادشاہ اور تمام رئیس اس شہر کے راندے ہوئے ہیں۔ عجب طرح کا ان کا رویہ اور مذہب ہے۔ یہاں بت خانے میں ایک بت ہے کہ شیطان اس کے پیٹ میں سے نام اور ذات اور دین ہر کسو کا بیان کرتا ہے۔ پس جو کوئی غریب مسافر آتا ہے بادشاہ کو خبر ہوتی ہے۔ اسے منڈپ میں لے جاتا ہے اور بت کو سجدہ کرواتا ہے اگر ڈنڈوت کی تو بہتر، نہیں تو پجاری کو دریا میں ڈبوا دیتا ہے۔ اگر وہ چاہے کہ دریا سے نکل کر بھاگے تو آلت اور خصئے اس کے لمبے ہو جاتے ہیں، ایسے کہ زمین میں گھسٹتے ہیں۔ ایسا کچھ طلسم اس شہر میں بنایا۔ مجھ کو تیری جوانی پر رحم آتا ہے۔ مگر تیری خاطر ایک تدبیر کرتا ہوں کہ بھلا کون دن تو تو جیتا رہے اور اس عذاب سے بچے۔\n\nمیں نے پوچھا وہ کیا صورت تجویز کی ہے؟ ارشاد ہو۔ کہنے لگا تجھے کتخدا کروں اور وزیر کی لڑکی تیری خاطر بیاہ لاؤں۔ میں نے جواب دیا کہ وزیر اپنی بیٹی مجھے مفلس کو کب دے گا، مگر جب ان کا دین قبول کروں؟ سو مجھ سے نہ ہو سکے گا۔ کہنے لگا اس شہر کی یہ رسم ہے کو جو کوئی اس بت کو سجدہ کرے، اگر فقیر اور بادشاہ کی بیٹی کو مانگے تو اس کی کوشی کی خاطر حوالے کریں اور اسے رنجیدہ نہ کریں۔ اور امیر ابھی بادشاہ کے نزدیک اعتبار ہے اور عزیز رکھتا ہے لہٰذا سب اراکان اور اکابر یہاں کے میری قدر کرتے ہیں۔ اور درمیان ایک ہفتے میں دو دن بت کدے میں زیارت کو جاتے ہیں اور عبادت بجا لاتے ہیں۔ چنانچہ کل سب جمع ہوویں گے میں تجھے لے جاؤں گا۔ یہ کہہ کر کھلا پلا کر سلا رکھا۔ کب صبح ہوئی مجھے ساتھ لے کر بت خانے کی طرف چلا۔ وہاں جا کر دیکھا تو آدمی آتے جاتے ہیں اور پرستش کرتے ہیں۔ بادشاہ اور امیر بت کے سامنے پنڈتوں کے پاس سر ننگے کئے ادب سے دو زانو بیٹھے تھے، اور نا کتخدا لڑکیاں اور لڑکے خوب صورت جیسے حور غلماں چاروں طرف صف باندھے کھڑے تھے۔ تب وہ عزیز مجھ سے مخاطب ہوا کہ اب جو کہوں سو کر۔ میں نے قبول کیا کہ جو فرماؤ سو بجا لاؤں۔ میں نے ویسا ہی کیا بادشاہ نے پوچھا یہ کون ہے اور کیا کہتا ہے؟ اس مرد نے کہا یہ جوان میرے رشتے میں ہے۔ بادشاہ کی قدم بوسی کی آرزو میں دور سے آتا ہے۔ اس توقع پر کہ وزیر اس کو اپنی غلامی میں سربلند کرے۔ اگر حکم بت کلاں کا اور مرضی حضور کی ہووے۔ بادشاہ نے پوچھا کہ ہمارا مذہب اور دین و آئین قبول کرے گا تو مبارک ہے۔ وونہیں بت خانے کا نقار خانہ بجنے لگا اور بھاری خلعت مجھے پہنائی، اور ایک رسی سیاہ میرے گلے میں ڈال کر کھینچتے ہوئے بت کی سنگھاسن کے آگے لے جا کر سجدہ کروا کر کھڑا کیا۔ بت سے آواز نکلی کہ اے خواجہ زادے خوب ہوا کہ تو ہماری بندگی میں آیا، اب ہماری رحمت اور عنایت کا امیدوار رہ۔ یہ سن کر سب خلقت نے سجدہ کیا اور زمین میں لوٹنے لگے اور پکارے دھن ہے کیوں نہ ہو تم ایسے ہی ٹھاکر ہو۔ جب شام ہوئی بادشاہ اور وزیر سوار ہو کر وزیر کے محل میں داخل ہوئے اور وزیر کی بیٹی کو اپنے طور کی ریت رسم کر کے میرے حوالے کیا۔ اور بہت سا دان دہیز دیا اور بہت منت دار ہوئے کہ بہ موجب حکم بڑے بت کے اسے تمہاری خدمت میں دیا ہے ایک مکان میں ہم دونوں کو رکھا اس نازنین کو جو میں نے دیکھا تو فی الواقع اس کا عالم پری کا تھا۔ نکھ سکھ سے درست جو جو خوبیاں پدمنی کی سنی جاتی ہیں، سو سب اس میں موجود تھیں، بفراغت تمام میں نے صحبت کی اور حظ اٹھایا۔ صبح کو غسل کر کر مے بادشاہ کے حجرے میں حاضر ہوا۔ بادشاہ نے خلعت دامادی کی عنایت کی اور حکم فرمایا کہ ہمیشہ دربار میں حاضر رہا کرے۔ آخر کو بعد چند روز کے بادشاہ کی مصاحبت میں داخل ہوا۔\n\nبادشاہ میرے صحبت سے نہایت محظوظ ہوتے اور اکثر خلعت اور انعام عنایت کرتے۔ اگرچہ دنیا کے مال میں غنی تھا، اس واسطے کہ میرے قبیلے کے پاس اتنا نقد و جنس اور جواہر تھا کہ جس کی حد و نہایت نہ تھی۔ دو سال تک بہت عیش و آرام سے گزری۔ اتفاقا وزیر زادی کو پیٹ رہا۔ جب ستواں سا ہوا اور ان گنا مہینہ گزرا کر پورے دن ہوئے پیریں لگیں۔ دائی جنائی آئی تو میرا لڑکا پیٹ میں سے نکلا اس کا بس جچہ کو چڑھا وہ مر گئی۔ میں مارے غم کے دیوانہ ہو گیا کہ یہ کیا آفت ٹوٹی۔ اس کے سرہانے بیٹھا روتا تھا۔ ایک بارگی رونے کی آواز سارے محل میں بلند ہوئی اور چاروں طرف سے عورتیں آنے لگیں۔ جو آتی تھی ایک دو ہتڑ میرے سر پر مارتی اور منہ کے مقابل کھڑی رہتی اور رونا شروع کرتی، نزدیک تھا کہ جان نکل جاوے۔ اتنے میں کسو نے پیچھے سے گریبان میرا کھینچ کر گھسیٹا۔ دیکھوں تو ہی مرد عجمی ہے جس نے مجھے بیاہا تھا۔ کہنے لگا کہ احمق تو کس لیے روتا ہے؟ میں نے کہا اے ظالم یہ تو نے کیا بات کہی؟ میری بادشاہت لٹ گئی، آرام خانہ داری کا گیا گزرا۔ تو کہتا ہے کیوں غم کرتا ہے! وہ عزیز تبسم کر کے بولا کہ اب اپنی موت کی خاطر رو۔ میں نے پہلے ہی تجھے کہا تھا کہ شاید اس شہر میں تیری اجل لے آئی ہو، سو ہی ہوا۔ اب سوائے مرنے کے تیری رہائی نہیں۔ آخر لوگ مجھے پکڑ کر بت خانے میں لے گئے۔ دیکھا تو بادشاہ اور امرا اور پھتیس فرقہ رعیت پر جا وہاں جمع ہیں اور وزیر زادی کا مال اموال سب دھرا ہے۔ جو چیز جس کا جی چاہتا ہے لیتا ہے اور اس کی قیمت کے روپے دھر دیتا ہے۔ غرض سب اسباب کے نقد روپے ہوئے۔ ان روپیوں کا جواہر خریدا گیا اور صندوقچے میں بند کیا اور ایک دوسرے صندوق میں نان، حلوہ اور گوشت کے کباب اور میوہ خشک و تر کھانے کی چیزیں لے کر بھریں اور لاش اس بی بی ایک صندوق میں رکھ کر صندوق آزوقے کا ایک اونٹ پر لدا دیا، اور مجھ سوار کیا اور صندوقچہ جواہر کا میری بغل میں دیا، اور سارے باہمن آگے بھجن کرتے سنکھ بجاتے چلے، اور پیچھے ایک خلقت مبارک بادی کہتے ہوئے ساتھ ہوئی۔ اس طور سے اسی دروازے سے کہ میں پہلے روز آیا تھا، شہر کے باہر نکلا۔ جونہیں داروغہ کی نگاہ مجھ پر پڑی رونے لگا اور بولا کہ کم بخت اجل گرفتہ میری بات نہ سنی اور اس شہر میں جا کر مفت اپنی جان دی۔ میری تقصیر نہیں۔ میں نے منع کیا تھا۔ ان نے یہ کہی، لیکن میں تو ہکا بکا ہو رہا تھا۔ دربان باری دیتی تھی کہ جواب دوں، نہ اوسان بجا تھے کہ دیکھئے انجام میرا کیا ہوتا ہے۔\n\nآخر اسی قلعہ کے پاس جس کا میں نے پہلے روز دروازہ بند دیکھا تھا، لے گئے اور بہت سے آدمیوں نے مل کر قفل کو کھولا۔ تابوت اور صندوق کو اندر لے چلے۔ ایک پنڈت میرے نزدیک آیا اور سمجھانے لگا کہ مانس ایک دن جنم پاتا ہے ا ور ایک روز ناس ہوتا ہے۔ دنیا کا یہ اوگن ہے اب یہ تیری استری اور پوست اور دھن اور چالیس دن کا اسباب بھوجن کا موجود ہے اس کو لے اور یہاں رہ جب تلک بڑا بت تجھ پر مہربان ہووے میں نے غصے میں چاہا کہ اس بت پر اور وہاں کے رہنے والوں پر اور اس ریت رسم پر لعنت کہوں اور باہمن کو دھول چھکڑ کروں۔ وہی مرد عجمی اپنی زبان میں مانع ہوا کہ خبردار ہرگز دم مت مار۔ اگر کچھ بھی بولا تو اسی وقت تجھے جلاویں گے۔ خیر جو تیری قسمت میں تھا سو ہوا۔ اب خدا کے کرم سے امیدوار رہ۔ شاید اللہ تجھے یہاں سے جیتا نکالے۔\n\nآخر سب مجھے تن تنہا چھوڑ کر اس حصار سے باہر نکلے اور دروازہ پھر مقفل کر دیا۔ اس وقت میں اپنی تنہائی اور بے بسی پر بے اختیار رویا اور اس عورت کو اور لوتھ پر لاتیں مارنے لگا کہ اے مردار اگر تجھے جنتے ہی مر جانا تھا تو بیاہ کاہے کو کیا تھا اور پیٹ سے کیوں ہوئی تھی؟ مار مور کر پھر چپکا بیٹھا۔ اس میں دن میں چڑھا اور دھوپ گرم ہوئی سر کا بھیجا پکنے لگا۔ اور تعفن کے مارے روح نکلنے لگی۔ جیدھر دیکھتا ہوں، مردوں کی ہڈیاں اور صندوق جواہر کے ڈھیر لگے ہیں۔ تب کئی صندوق پرانے لے کر نیچے اوپر رکھے کہ دن کو دھوپ سے اور رات کو اوس سے بچاؤ۔ آپ پانی کی تلاش کرنے لگا۔ ایک طرف جھرنا سا دیکھا کہ قلعے کی دیوار میں پتھر کا تراشا ہوا گھڑے کے منہ کے موافق ہے۔ بارے کئی دن اس پانی اور کھانے سے زندگی ہوئی۔ آ کر آزوقہ تمام ہوا۔ میں گھبرایا اور خدا کی جناب میں فریاد کی۔ وہ ایسا کریم ہے کہ دروازہ کوٹ کا کھلا اور ایک مرد کو لائے۔ اس کے ساتھ ایک پیر مرد آیا۔ جب اسے بھی چھوڑ کر گئے۔ یہ دل میں آیا کہ اس بوڑھے کو مار کر اس کے کھانے کا صندوق سب کا سب لے لے۔ ایک صندوق کا پایا ہاتھ میں لے کر اس پاس گیا۔ وہ بچارا سر زانو پر دھرے حیران بیٹھا تھا۔ میں نے پیچھے سے آ کر اس کے سر میں ایسا مارا کہ سر پھٹ کر مغز کو گودا نکل پڑا اور فی الفور جاں بحق تسلیم ہوا۔ اس کا آزوقہ لے کر میں کھانے لگا، مدت تلک یہی میرا کام تھا کہ جو زندہ مردے کے ساتھ آتا، اسے میں مار ڈالتا اور کھانے کا اسباب لے کر بہ فراغت کھاتا۔\n\nبعد کتنی مدت ایک مرتبہ ایک لڑکی تابوت کے ہمراہ آئی، نہایت قبول صورت، میرے دل نے نہ چاہا کہ اسے بھی ماروں۔ ان نے مجھے دیکھا اور مارے ڈر کے بے ہوش ہو گئی۔ میں اس کا بھی آزوقہ اٹھا کر اپنے پاس لے آیا، لیکن اکیلا نہ کھاتا۔ جب بھوک لگتی کھانا اس کے نزدیک لے جاتا اور ساتھ مل کر کھاتا۔\n\nجب اس عورت نے دیکھا کہ مجھے یہ شخص نہیں ستاتا، دن بہ دن اس کی وحشت کم ہوئی اور رام ہوتی چلی۔ میرے مکان میں آنے جانے لگی۔ ایک روز اس کا احوال پوچھا کہ تو کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں بادشاہ کے وکیل کی مطلق کی بیٹی ہوں۔ اپنے چچا کے بیٹے سے منسوب ہوئی تھی۔ شب عروسی کے دن اسے قولنج ہوا۔ ایسے درد سے تڑپنے لگا کہ ایک آن کی آن میں مر گیا۔ مجھے اس کے تابوت کے ساتھ لا کر یہاں چھوڑ گئے۔ تب اس نے میرا احوال پوچھا۔ میں نے بھی تمام و کال بیان کیا اور کہا خدا نے تجھے میری خاطر یہاں بھیجا ہے۔ وہ مسکرا کر چپکی ہو رہی۔\n\nاس طرح کئی دن میں آپس میں محبت زیادہ ہو گئی۔ میں نے اسے ارکان مسلمانی کے سکھا کر کلمہ پڑھایا اور متعہ کر کر صحبت کی۔ وہ بھی حاملہ ہوئی ایک بیٹا پیدا ہوا۔ قریب تین برس کے اسی صورت سے گزری۔ جب لڑکے کا دودھ بڑھایا۔ ایک روز بی بی سے کہا کہ یہاں کب تلک رہیں اور کس طرح یہاں سے نکلیں؟ وہ بولی خدا نکالے تو نکلیں۔ نہیں تو ایک روز یونہیں مر جائیں۔ مجھے اس کے کہنے پر اور اپنے رہنے پر کمال رقت آئی۔ روتے روتے سو گیا۔ ایک شخص کو خواب میں دیکھا کہ کہتا ہے پرنالے کی راہ سے نکلنا ہے تو نکل۔ میں مارے خوشی کے چونک پڑا اور جورو کو کہا کہ لوہے کی میخیں اور سیخیں جو پرانے صندوق میں ہیں جمع کر کے لے آؤ تو اس کو کشادہ کروں۔ غرض میں اسی موری کے منہ پر میخ رکھ کر پتھر سے ایسا ٹھونکتا کہ تھک جاتا۔ ایک برس کی محنت میں وہ سوراخ اتنا بڑا ہوا کہ آدمی نکل سکے۔\n\nبعد اس کے مردوں کی آستینوں میں اچھے اچھے جواہر چن کر بھرے اور ساتھ لے کر اسی راہ سے ہم تینوں باہر نکلے۔ خدا کا شکر کیا اور بیٹھے کو کاندھے پر بٹھایا ایک مہینہ ہوا ہے کہ سر راہ چھور کر مارے ڈر کے جنگل پہاڑوں کی راہ سے چلا آتا ہوں، جب گرسنگی ہوتی ہے گھاس پات ہوں قوت بات کہنے کی مجھ میں نہیں۔ یہ میری حقیقت ہے جو تم نے سنی۔\n\nبادشاہ سلامت! میں نے اس کی حالت پر ترس کھایا اور حمام کروا کر اچھا لباس پہنوایا اور اپنا نائب بنایا اور میرے گھر میں ملکہ سے کئی لڑکے پیدا ہوئیے، لیکن خورد سالی میں مر گئے ایک بیٹا پانچ برس کا ہو کر مرا۔ اس کے غم میں ملکہ نے وفات پائی۔ مجھے کمال غم ہوا اور وہ ملک بغیر اسکے کاٹنے لگا۔ دل اداس ہو گیا۔ ارادہ عجم کا کیا۔ بادشاہ سے عرض کر کر خدا شاہ بندر کی اس جوان کو دلوا دی۔ اس عرصے میں بادشاہ بھی مر گیا۔ میں اس وفادار کتے کو اور سب مال خزانہ جواہر لے کر نیشا پور میں آ رہا۔ اس واسطے کہ بھائیوں کے احوال سے کوئی واقف نہ ہووے۔ میں خواجہ سگ پرست مشہور ہوا۔ اس بدنامی میں دگنا محصول آج تک بادشاہ ایران کی سرکار میں بھرتا ہوں۔\n\nاتفاقا یہ سوداگر بچہ وہاں گیا۔ اس کے وسیلے سے جہاں پناہ کا قدم بوس کیا میں نے پوچھا کیا یہ تمہارا فرزند نہیں؟ خواجہ نے جواب دیا قبلہ عالم! یہ میرا بیٹا نہیں آپ ہی کی رعیت ہے، لیکن اب میرا مالک اور وارث جو کچھ کہے سو یہی ہے یہ سن کر سوداگر بچے میں نے پوچھا کہ تو کس تاجر کا لڑکا ہے اور تیرے ماں باپ کہاں رہتے ہیں؟ اس لڑکے نے زمین چومی اور جان کی امان مانگی اور بولا کہ یہ لونڈی سرکار کے وزیر کی بیٹی ہے۔ میرا باپ حضور کے عتاب میں بے سبب اسی خواجہ کے لعلوں کے پڑا۔ اور حکم یوں ہوا کہ اگر ایک سال تک اس کی بات کرسی نشین نہ ہو گی تو جان سے مارا جائے گا۔ میں نے سن کر یہ بھیس بنایا اور اپنے تئیں نیشا پور پہنچایا۔ خدا نے خواجہ کو بہ مع کتے اور لعلوں کو حضور میں حاضر کر دیا۔ آپ نے تمام احوال سن لیا۔ امیدوار ہوں کہ میرے بوڑھے باپ کی مخلصی ہو۔\n\nیہ بیان وزیر زادی سے سن کر خواجہ نے ایک آہ کی اور اختیار گر پڑا۔ جب گلاب اس پر چھڑکا گیا تب ہوش میں آیا اور بولا کہ ہائے کم بختی! اتنی دور سے رنج و محنت کھینچ کر میں اس توقع پر آیا تھا کہ اس سوداگر بچے کو متبنیٰ کر کر اپنا فرزند کروں گا اور اپنے مال متاع کا اس کو ہبہ نامہ لکھ دوں گا تو میرا نام رہے گا اور سارا عالم اسے خواجہ زادہ کہے گا سو میرا خیال خام ہوا اور بالعکس کام ہوا۔ ان نے عورت ہو کر مجھ مرد پیر کو خراب کیا۔ میں رنڈی کے چرتر میں پڑا۔ اب میری وہ کہاوت ہوئی گھر میں رہے، نہ تیرتھ گئے، منڈ منڈا فضیحت۔ القصہ مجھے اس کی بے قراری اور نالہ و زاری پر رحم آیا۔ خواجہ کو نزدیک بلایا اور کان میں مژدہ اس کے وصل کا سنایا کہ غمگین مت ہو اسی سے تیری شادی کر دیں گے۔ خدا چاہے تو اولاد تیری ہو گی اور یہی تیری مالک ہو گئی۔ اس خوشخبری کے سنتے سے فی الجملہ اس کو تسلی ہوئی۔ تب میں نیک ہا کہ وزیر زادی کو محل میں لے جاؤ اور وزیر کو پنڈت خانے سے لے آؤ اور حمام میں نہلاؤ اور خلعت سرفرازی کی پہناؤ اور جلد میرے پاس لاؤ۔ جس وقت وزیر آیا، لب فرش تک اس کا استقبال فرمایا اپنا بزرگ جان کر گلے لگایا، اور نئے سر سے قلمدان اور وزارت کا عنایت فرمایا اور خواجہ کو بھی جاگیر و منصب دیا اور ساعت سعید دیکھ کر وزیر زادی سے نکاح پڑھوا کر منسوب کیا۔\n\nکئی سال میں دو بیٹے اور ایک بیٹی اس کے گھر میں پیدا ہوئی۔ چنانچہ بڑا بیٹا ملک التجار ہے اور چھوٹا ہماری سرکار کا مختار ہے۔ اے درویشو! میں نے اس لیے یہ نقل تمہارے سامنے کی کل کی رات دو فقیروں کی سرگذشت میں نے سنی تھی۔ اب تم دونوں جو باقی رہے ہو یہ سمجھو کہ ہم اسی مکان میں بیٹھے ہیں اور مجھے اپنا خادم اور اس گھر کو اپنا تکیہ جانو، بے وسواس اپنی اپنی سیر کا احوال کہو اور چندے میرے پاس رہو۔ جب فقیروں نے بادشاہ کی طرف سے بہت خاطر داری دیکھی، کہنے لگے خیر جب تم نے گداؤں سے الفت کی اور تو ہم دونوں بھی اپنا ماجرا بیان کرتے ہیں سنئے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1/%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%B4_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "باغ و بہار/سیر پہلے درویش کی", "poet_page": "مصنف:میر امّن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "تصنیفات > باغ و بہار", "year": null, "text_ur": "یہ سر گزشت میری ذرا کان دھر سُنو!\n مجھ کو فلک نے کر دیا زیر و زبر سُنو!\n جو کچھ کہ پیش آئی ہے شدت مری تئیں\n اُس کا بیان کرتا ہوں تم سر بہ سر سُنو!", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1/%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%B4_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "باغ و بہار/سیر چوتھے درویش کی", "poet_page": "مصنف:میر امّن دہلوی", "kind": "prose", "section": "تصنیفات > باغ و بہار", "year": null, "text_ur": "چوتھا فقیر اپنی سیر کی حقیقت رو رو کر اس طرح دھرانے لگا۔\n\nقصہ ہماری بے سروپائی کا اب سنو\nٹک اپنا دھیان رکھ کر مرا حال سب سنو\nکس واسطے میں آیا ہوں یاں تک تباہ ہو\nسارا بیان کرتا ہوں اس کا سبب سنو\n\nیا مرشد اللہ! ذرا متوجہ ہو۔ یہ فقیر جو اس حالت میں گرفتار ہے۔ چین کے بادشاہ کا بیٹا ہے۔ ناز و نعمت سے پرورش پائی اور بخوبی تربیت ہوا۔ زمانے کے برے بھلے سے کچھ واقف نہ تھا۔ جانتا تھا کہ یونہیں ہمیشہ نبھے گی۔ عین بے کفر میں یہ حادثہ روبکار ہوا کہ قبلہ عالم، جو والد اس یتیم کے تھے انہوں نے رحلت فرمائی۔ جان کندنی کے وقت اپنے چھوٹے بھائی کو، جو میرے چچا ہیں، بلایا اور فرمایا کہ ہم نے تو سب مال ملک چھوڑ کر ارادہ کوچ کا کیا۔ لیکن یہ وصیت میری تم بجا لائیو، اور بزرگی کا کام فرمائیو۔ جب تلک شہزادہ جو مالک اس تخت و چھتر کا ہے، جوان ہو اور شعور سنھالے اور اپنا گر دیکھے بھالے، اور اپنا گھر دیکھے بھالے، تم اس کی نیابت کیجو اور سپاہ و رعیت کو خراب نہ ہونے دیجو۔ وہ بالغ ہو، اس کو سمجھا بجھا کر تخت حوالے کرنا اور روشن اختر جو تمہاری بیٹی ہے، اس سے شادی کر کے تم سلطنت سے کنارہ پکڑنا۔ اس بندوبست اور سلوک سی بادشاہت ہمارے خاندان میں قائم رہے گی۔ کچھ خلل نہ آوے گا۔ یہ کہہ کر آپ تو جاں بحق تسلیم ہوئے، چچا بادشاہ ہوئے اور بندوبست ملک کا کرنے لگے مجھے حکم کیا کہ تلک بیگمات اور خواصوں میں پلا کیا اور کھیلا کودا کیا۔ چچا کی بیٹی سے شادی سن کر شاد تھا اور اس امید پر بے فکر رہتا، اور دل میں کہتا کہ اب کوئی دن میں بادشاہت بھی ہاتھ لگے گی اور کتخدائی بھی ہو گی۔ دنیا بہ امید قائم ہے۔ ایک حبشی مبارک نام کہ والد مرحوم کی خدمت میں تربیت ہوا تھا اور اس کا بڑا اعتبار تھا، اور صاحب شعور نمک حلال تھا۔ میں اکثر اس کے نزدیک جا بیٹھا۔ وہ بھی مجھے بہت پیار کرتا اور میری جوانی دیکھ کر خوش ہوتا اور کہتا کہ الحمد للہ اے شاہ زادے اب تم جوان ہوئے انشا اللہ عنقریب تمہارا عموغل سبحانی نصیحت پر عمل کرے گا، اپنی بیٹی اور تمہارے والد کا تخت تمہیں دے گا۔\n\nایک روز یہ اتفاق ہوا کہ ایک ادنیٰ سہیلی نے بے گناہ میرے تئیں ایسا طمانچہ کھینچ کر مارا کہ میری گال پر پانچوں انگلیوں کا نشان اکھڑ آیا۔ میں روتا ہوا مبارک کے پاس گیا۔ ان نے مجھے گلے لگا لیا اور آنسو آستیں سے پونچھے اور کہا کہ چلو آج تمہیں بادشاہ پاس لے چلوں۔ شاید دیکھ کر مہربان ہو۔ اور لائق سمجھ کر تمہارا حق تمہیں دے۔ اسی وقت چچا کے حضور میں لے گیا۔ چچا نے دربار میں نہایت شفقت کی اور پوچھا کہ کیوں دل گیر ہو اور یہاں کیوں کر آئے؟ مبارک بولا کچھ عرض کرنے آئے ہیں یہ سن کر خود بخود کہنے لگا کہ اب میاں کا بیاہ کر دیتے ہیں۔ مبارک نے کہا بہت مبارک ہے۔ وونہیں نجومی اور تالوں کو رو بہ رو طلب کیا۔ اوپری دل سے پوچھا کہ اس سال کونسا مہینہ اور کونسا دن اور گھڑی مہورت مبارک ہے کہ سر انجام شادی کا کروں؟ انہوں نے مرضی پا کر گن گنا کر عرض کی کہ قبلہ عالم یہ برس سارا نحس ہے۔ کسی چاند میں کوئی تاریخ سعد نہیں ٹھہرتی۔ اگر یہ سال تمام بخیر و عافیت کٹے تو آئندہ کار خیر کے لیے بہتر ہے۔\n\nبادشاہ نے مبارک کی طرف دیکھا اور کہا شاہ زادے کو محل میں لے جا۔ خدا چاہے اس سال کے گزرنے سے اس کی امانت اس کے حوالے کر دوں گا۔ خاطر جمع رکھی اور پڑھے لکھے۔ مبارک نے سلام کیا اور مجھے ساتھ لیا۔ محل میں پہنچا دیا۔ دو تین دن کے بعد میں مبارک کے پاس گیا، مجھے دیکھتے ہی رونے لگا۔ میں حیران ہوا اور پوچھا کہ دادا خیر تو ہے۔ تمہارے رونے کا کیا باعث ہے؟ تب وہ خیر خواہ کہ مجھے دل و جان سے چاہتا تھا بولا کہ میں اس روز تمہیں اس ظالم کے پاس لے گیا کاش کہ اگر یہ جانتا تو نہ لے جتا۔ میں نے گھبرا کر کہا۔ میرے جانے میں کیا ایسی قباحت ہوئی؟ کہو تو سہی۔ تب اس نے کہا کہ سب امیر وزیر ارکان دولت، چھوٹے بڑے تمہارے باپ کے وقت کے تمہیں دیکھ کر خوش ہوئے اور خدا کا شکر ادا کرنے لگے کہ اب ہمارا صاحبزادہ جوان ہوا اور سلطنت کے لائق ہوا۔ اب کوئی دن میں حق حق دار کو ملے گا۔ تب ہماری قدر دانی کرے گا اور خانہ زاد مورویوں کی قدر سمجھے گا۔ یہ خبر اس بے ایمان کو پہنچی۔ اس کی چھاتی پر سانپ پھر گیا۔ مجھے خلوت میں بلا کر کہا اے مبارک اب ایسا کام کر کہ شہزادے کو کسو فریب سے مار ڈال۔ اور اس کا خطرہ میرے جی سے نکال جو میری خاطر جمع ہو۔ تب سے میں بے حواس ہو رہا ہوں کہ تیرا چچا تیری جان کا دشمن ہوا۔ جونہیں مبارک سے یہ خبر میں نے سنی، بغیر مارے مر گیا اور جان کے ڈر سے اس کے پاؤں پر گر پڑا کہ واسطے خدا کے میں سلطنت سے گزرا کسو طرح میرا جی بچے۔ اس غلام با وفا نے میرا سر اٹھا کر چھاتی سے لگا لیا اور جواب دیا کہ کچھ خطرہ نہیں۔ ایک تدبیر سوجھی ہے اگر رات آئی تو کچھ پرواہ نہیں زندگی ہے تو سب کچھ ہے۔ اغلب ہے کہ اس فکر سے تیری جان بھی بچے اور اپنے مطلب سے کامیاب ہو۔ یہ بھروسا دے کر مجھے ساتھ لے کر اس جگہ جہاں بادشاہ غفور یعنی والد اس فقیر کے سوتے بیٹھتے تھے، گیا اور میری بہت خاطر جمع کی۔ وہاں ایک کرسی بچھی تھی۔ ایک طرف مجھے کہا اور ایک طرف آپ پکڑ کر صندلی کو سرکایا اور کرسی کے تلے کا فرش اٹھایا اور زمین کو کھودنے لگا۔ ایک بارگی ایک کھڑکی نمودار ہوئی کہ زنجیر اور قفل اس میں لگا ہے مجھے بلایا۔ میں اپنے دل میں مقرر یہ سمجھا کہ میرے ذبح کرنے اور گاڑ دینے کو یہ گڑھا اس نے کھودا ہے۔ موت آنکھوں کے آگے پھر گئی۔ لاچار چپکے چپکے کلمہ پڑھتا ہوا نزدیک گیا دیکھتا ہوں تو اس دریچے کے اندر عمارت ہے اور چار مکان ہیں۔ ہر ایک دالان میں دس دس خمیں سونے کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی لٹکتی ہیں اور ہر ایک گولی کے منہ پر سونے کی اینٹ اور ایک بندر جڑاؤ کا بنا ہوا بیٹھا ہے انتالیس گولیاں چاروں مکان میں گئیں اور ایک خم کو دیکھا کہ مونہا منہ اشرفیاں بھری ہیں۔ اس پر نہ میمون ہے، نہ خشت ہے، اور ایک حوض جواہر سے لبالب بھرا ہوا دیکھا۔ میں نے مبارک سے پوچھا کہ اے دادا یہ کیا طلسم ہے اور یہ کس کام کے ہیں؟ بولا کہ یہ بوزے جو دیکھتے ہو، ان کا یہ ماجرا ہے کہ تمہارے باپ نے جوانی کے وقت سے ملک صادق، جو بادشاہ جنوں کا ہے، اس کے ساتھ دوستی اور آمدورفت پیدا کی تھی۔\n\nچناچہ ہر سال میں ایک دفعہ کئی طرح کے تحفے، خوشبوئیں اور اس ملک کی سوغاتیں لے جاتے، اور مہینے کے قریب اس کی خدمت میں رہتے۔ جب رخصت ہوتے تو ملک صادق ایک بندر زمرد کا دیتا، ہمارا بادشاہ اسے لا کر اس تہہ خانے میں رکھتا۔ اس بات سی سوائے میرے کوئی دوسرا مطلع نہ تھا۔ ایک مرتبہ غلام نے عرض کی کہ جہان پناہ! لاکھوں روپے کے تحفے لے جاتے ہیں اور وہاں سے ایک بوزنہ پتھر کا مردہ آپ لے آتے ہیں۔ اس کا آخر فائدہ کیا ہے؟ جواب میری اس بات کا مسکرا کر فرمایا خبردار کہیں ظاہر نہ ہو۔ کیجو خبر شرط ہے۔ یہ ایک میمون بے جان جو تو دیکھتا ہے، ہر ایک کے ہزار دیو زبردست تابع اور فرماں بردار ہیں۔ لیکن جب میرے پاس چالیسوں بندر پورے جمع نہ ہوویں، تب تک یہ سب نکمے ہیں۔ کچھ کام نہ آویں گے۔ سو ایک بندر کی کمی تھی کہ اس بادشاہ نے وفات پائی۔\n\nاتنی محنت کچھ نیک نہ لگی۔ اس کا فائدہ ظاہر نہ ہوا۔ اے شہزادے تیرے یہ حالت بے کسی کی دیکھ کر مجھے یاد آیا اور جی میں ٹھہرایا، کسو طرح تجھ کو ملک صادق کے پاس لے چلوں اور تیرے چچا کا ظلم بیان کروں غالب ہے کہ وہ درستی تمہارے باپ کی یاد کر کر ایک بوزنہ جو باقی ہے تجھے دے۔ تیرا ملک تیرے ہاتھ آوے اور چین ماچین کی سلطنت توبہ خاطر جمع کرے۔ اور بالفعل اس حرکت سے تیری جان بچتی ہے۔ اگر اور کچھ نہ ہوا تو اس ظالم کے ہاتھ سے سوائے اس تدبیر کے اور کوئی صورت مخلصی کی نظر نہیں آتی۔ میں نے اس کی زبانی یہ سب کیفیت سن کر کہا کہ دادا جان اب تو میری جان کا مختار ہے۔ جو میرے حق میں بھلا ہو، سو کر۔ میری تسلی کر کے آپ عطر اور بخور اور جو کچھ وہاں کے لیے جانے کی خاطر مناسب جانا، خرید کرنے بازار میں گیا۔\n\nدوسرے دن میرے اس کافر چچا کے پاس، جو بجائے ابوجہل کے تھا، گیا اور کہا جہاں پناہ! شہزادے کے مار ڈالنے کی ایک صورت میں نے دل میں ٹھہرائی ہے۔ اگر حکم ہو تو عرض کروں۔ وہ کم بخت خوش ہو کر بولا۔ وہ کیا تدبیر ہے؟ تب مبارک نے کہا کہ اس کے مار ڈالنے میں سب طرح آپ کی بدنامی ہے۔ مگر میں اسے باہر جنگل میں لے جار کر اسے ٹھکانے لگاؤں اور گاڑ داب کر چلا آؤں۔ ہر گز کوئی محرم نہ ہو گا کہ کیا ہوا۔ یہ بندش مبارک سے سن کر بولا کہ بہت مبارک۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ سلامت نہ رہے۔ اس کا دغددغہ میرے دل میں ہے۔ اگر مجھے اس فکر سے تو چھیڑ دے گا تو اس خدمت کے عوض کچھ پاوے گا۔ جہاں تیرا جی چاہے لے جا کے کھپا دے، اور مجھے یہ خوشخبری لا دے۔ مبارک نے بادشاہ کی طرف سے اپنی دل جمعی کر کے مجھے ساتھ لیا اور وہ تحفے لیکر آدھی رات کو شہر کوچ کیا اور اتر کی سمت چلا۔ ایک مہینے تک پیہم چلا رکھا۔ ایک روز رات کو چلے جاتے تھے، جو مبارک بولا کہ شکر خدا کا اب منزل مقصود کو پہنچے۔ میں نے سن کر کہا دادا یہ تو نے کیا کہا؟ کہنے لگا کہ اے شہزادے تو جنون کا لشکر کیا نہیں دیکھتا؟ میں نے کہا مجھے تیرے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا۔ مبارک نے ایک سرمہ دانی نکال کر سلیمانی سرمے کی دو سلائیں میری دونوں آنکھوں میں پھیر دیں وونہیں جنوں کی خلقت اور لشکر تنبو قنات نظر آنے لگے، لیکن سب خوش رو اور خوش لباس مبارک کو پہچان کر ہر ایک آشنائی کی راہ سے گلے ملتا اور مزاخیں کرتا۔\n\nآخر جاتے جاتے بادشاہ سراچوں کے نزدیک گئے اور بارگاہ میں داخل ہوئے۔ دیکھتا ہوں تو روشنی قرینے سے روشن ہے اور صندلیاں طرح بہ طرح کی دو رویہ بچھی ہیں۔ اور عالم، فاضل، درویش اور امیر وزیر، میر بخشی، دیوان ان پر بیٹھے ہیں۔ اور یسا دل گرز بردار احدی چپکے چپکے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں اور درمیان میں ایک تخت مرصع کا بچھا ہے۔ اس پر ملک صادق تاج اور چارقب موتیوں کی پہنے ہوئے مسند پر تکیے لگائے بڑی شان و شوکت سے بیٹھا ہے۔ میں نے نزدیک جا کر سلام کیا۔ مہربانگی سے بیٹھنے کا حکم کیا۔ پھر کھانے کا چرچا ہوا۔ بعد فراغت کے دسترخوان بڑھایا گیا۔ تب مبارک کی طرف متوجہ ہو کر احوال میرا پوچھا۔ مبارک نے کہا کہ اب ان کے باپ کی جگہ پر چچا ان کی بادشاہت کرتا ہے۔ اور ان کا دشمن جانی ہوا ہے۔ اس لئے میں انہیں وہاں سے لے بھاگ کر آپ کی خدمت میں لایا ہوں کہ یتیم ہیں اور سلطنت ان کا حق ہے۔ لیکن بغیر مربی کسو سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ حضور کی دستگیری کے باعث اس مظلوم کی پرورش ہوتی ہے۔ ان کے باپ کی خدمت کا حق یاد کر کے ان کی مدد فرمائیے اور وہ چالیس بندر عنایت کیجئے جو چالیس پورے ہوں۔ اور یہ اپنے حق پر پہنچ کر تمہارے جان و مال کو دعا دیں۔ سوائے صاحب کی پناہ کی خوئی ان کا ٹھکانا نظر نہیں آتا۔ یہ تمام کیفیت سن کر صادق نے تامل کر کے کہا کہ واقعی حقوق خدمت اور دوستی بادشاہ مغفور کے ہمارے اوپر بہت تھے اور یہ بچارہ تباہ ہو کر اپنی سلطنت موروثی چھوڑ کر جان کے واسطے یہاں تلک آیا ہے اور ہمارے دامن دولت میں پناہ لی ہے۔ تا مقدور کسی طرح ہم سے کمی نہ ہو گی اور در گزر نہ کروں گا۔ لیکن ایک مقام ہمارا ہے اگر وہ اس سے ہو سکا اور خیانت نہ کی اور بخوبی انجام دیا اور اس امتحان میں پورا اترا تو میں قول قرار کرتا ہوں کہ زیادہ بادشاہ سے سلوک کروں گا، اور جو یہ چاہے کام سو دوں گا۔\n\nمیں نے ہاتھ باندھ کر التماس کیا کہ اس فدوی سے تابہ مقدور جو خدمت سرکار کی ہو سکے گی بہ سرو چشم بجا لاوے گا۔ اور اس کی خوبی و دیانت داری اور ہوشیار سے کرے گا اور اپنی سعادت دونوں جہاں کی سمجھے گا۔ فرمایا کہ تو ابھی لڑکا ہے اس واسطے بار بار تاکید کرتا ہوں، مبادا خیانت کرے اور آفت میں پڑے۔ میں نے کہا خدا بادشاہ کے اقبال سے آسان کرے گا اور میں حتی المقدور کوشش کروں گا اور امانت حضور تلک لے آؤں گا۔ یہ سن کر ملک صادق نے مجھ کو قریب بلایا اور ایک دستکی سے نکال کر میرے تئیں دکھلایا اور کہا یہ جس شخص کی شبیہ ہے اسے جہاں سے جانے تلاش کر کے میری خاطر پیدا کر کے لا۔ اور جس گھڑی تو اس کا نام و نشان پائے اور سامنے جاوے، میری طرف سے بہت اشتیاق ظاہر کیجو۔ اگر یہ خدمت تجھ سے سر انجام ہوئی تو جتنی توقع تجھے منظور ہے، اس سے زیادہ غور پرداخت کی جائے گی۔ والانہ نہ جیسا کرے گا ویسا پاوے گا۔\n\nمیں نے اس کا غذ کو جو دیکھا، ایک تصویر نظر پڑی کہ غَش سا آنے لگا۔ بہ زور مارے ڈر کے اپنے تئیں سنبھالا اور کہا “بہت خوب، میں رخصت ہوتا ہوں۔ اگر خدا کو میرا بھلا کرنا ہے تو بہ موجبِ حکم حضور کے مجھ سے عمل میں آوے گا۔ یہ کہہ کر مبارک کو ہم راہ لے کر جنگل کی راہ لی۔ گاؤں گاؤں، بستی بستی، شہر شہر، ملک ملک پھرنے لگا اور ہر ایک سے اس کا نام و نشان تحقیق کرنے۔ کسو نے نہ کہا کہ ہاں میں جانتا ہوں یا کسی سے مذکور سنا ہے۔ سات برس تک اسی عالم میں حیرانی و پریشانی سہتا ہوا ایک نگر میں وارد ہوا۔ عمارت عالی اور آباد، لیکن وہاں کا ہر ایک متنفس اسمِ اعظم پڑھتا تھا اور خدا کی عبادت بندگی کرتا تھا۔\n\nایک اندھا ہندوستانی فقیر بھیک مانگتا نظر آیا، لیکن کسو نے ایک کوڑی یا ایک نوالہ نہ دیا۔ مجھے تعجب آیا اور اس کے اوپر رحم کھایا۔ جیب میں سے ایک اشرفی نکال کر اس کے ہاتھ میں دی۔ وہ لے کر بولا کہ اے داتا! خدا تیرا بھلا کرے، تو شاید مسافر ہے، اس شہر کا باشندہ نہیں۔ میں کہا “فی الواقع سات برس سے میں تباہ ہوا ہوں۔ جس کام سے نکلا ہوں، اُس کا سراغ نہیں ملتا۔ آج اِس بلدے میں آپہنچا ہوں۔” وہ بوڑھا دعائیں دے کر چلا، میں اُس کے پیچھے لگ گیا۔ باہر شہر کے ایک مکانِ عالی شان نظر آیا، وہ اس کے اندر گیا۔ میں بھی چلا۔ دیکھا تو جا بجا عمارت گر پڑی ہے اور بے مرمّت ہو رہی ہے۔\nمیں نے دل میں کہا کہ یہ محل لائق پادشاہوں کے ہے۔ جس وقت تیاری اِس کی ہوگی، کیا ہی مکان ِ دل چسپ بنا ہوگا، اور اب تو ویرانی سے یہ صورت بن رہی ہے! پر معلوم نہیں کہ اُجاڑ کیوں پڑا ہے، اور یہ نابینا اس محل میں کیوں بستا ہے۔ وہ کور لاٹھی ٹیکتا ہوا چلا جاتا تھا کہ ایک آواز آئی، جیسے کوئی کہتا ہے کہ اے باپ! خیر تو ہے، آج سویرے کیوں پھرے آتے ہو؟ پیر مرد نے سن کر جواب دیا کہ بیٹی! خدا نے ایک جوان مسافر کو میرے احوال پر مہربان کیا، اس نے ایک مہر مجھ کو دی۔ بہت دنوں سے پیٹ بھر کر اچھا کھانا نہ کھایا تھا، سو گوشت، مصالح، گھی، تیل، آٹا، لون مول لیا اور تیری خاطر کپڑا جو ضرور تھا، خرید کیا۔ اب اِس کو قطع کر اور سی کر پہن۔ اور کھانا پکا، تو کھا پی کے اُس سخی کے ہاتھ میں دعا دیں۔ اگرچہ مطلب اُس کے دل کا معلوم نہیں، پر خدا دانا بینا ہے، ہم بے کسوں کی دعا قبول کرے۔ میں نے یہ احوال اس کی فاقہ کشی کا جو سنا، بے اختیار جی میں آیا کہ بیس اشرفیاں اور اس کو دوں لیکن آواز کی طرف دھیان جو گیا تو ایک عورت دیکھی کہ ٹھیک وہ تصویر اسی معشوق کی تھی۔ تصویر کو نکال کر مقابل کیا۔ سر مو تفاوت نہ دیکھا۔ ایک نعرہ دل سے نکلا اور بے ہوش ہوا۔ مبارک میر میرے تئیں بغل میں لے کر بیٹھا اور پنکھا کرنے لگا۔ مجھ میں ذرا سا ہوش آیا، اس کی طرف تاک رہا تھا؛ جو مبارک نے پوچھا کہ تم کو کیا ہو گیا؟ ابھی منھ سے جواب نہ نکلا، وہ نازنین بولی کہ اے جوان! خدا سے ڈر اور بِگانی اِستِری پر نگاہ مت کر، حیا اور شرم سب کو ضرور ہے۔\nاس لیاقت سے گفتگو کی کہ میں اس کی صورت اور سیرت پر محو ہو گیا۔ مبارک میری خاطر داری بہت سی کرنے لگا، لیکن دل کی حالت کی اُس کو کیا خبر تھی؟ لاچار ہو کر میں پکارا کہ اے خدا کے بندو اور اس مکان کے رہنے والو! میں غریب مسافر ہوں، اگر اپنے پاس بلاؤ اور رہنے کو جگہ دو تو بڑی بات ہے۔ اس اندھے نے نزدیک بلایا اور آواز پہچان کر گلے لگا اور جہاں وہ گل بدن بیٹھی تھی، اس مکان میں لے گیا۔ وہ ایک کونے میں چھپ گئی۔ اس بوڑھے نے مجھ سے پوچھا کہ اپنا ماجرا کہہ، کہ کیوں گھر بار چھوڑ کر اکیلا پڑا پھرتا ہے اور تجھےکس کی تلاش ہے۔ میں نے ملک صادق کا نام نہ لیا اور وہاں کچھ ذکر مذکور نہ کیا۔ اس طور سے کہا کہ یہ بے کس، شہزادہ چین و ماچین کا ہے۔چنانچہ میرے ولی نعمت ہنوز بادشاہ ہیں۔ ایک سوداگر سے لاکھوں روپے دے کر یہ تصویر مول لی تھی۔ اس کے دیکھنے سے سب ہوش آرام جاتا رہا، اور فقیر کا بھیس کرکر تمام دنیا چھان ماری۔ اب یہاں میرا مطلب ملا ہے، سو تمھارا اختیار ہے۔\nیہ سن کر اندھے نے ایک آہ بھری اور بولا “اے عزیز! میری لڑکی بڑی مصیبت میں گرفتار ہے۔ کسو بشر کی مجال نہیں کہ اس سے نکاح کرے اور پھل پاوے۔” میں نے کہا “امیدوار ہوں کہ مفصل بیان کرو۔” تب اس مرد عجمی نے اپنا ماجرا اس طور سے ظاہر کیا کہ سن اے پادشاہ زادے! میں رئیس اور اکابر اس کم بخت شہر کا ہوں۔ میرے بزرگ نام آور اور عالی خاندان تھے۔ حق تعالیٰ نے یہ بیٹی مجھے عنایت کی۔ جب بالغ ہوئی تو اس کی خوب صورتی اور نزاکت اور سلیقے کا شور ہوا۔ اور سارے ملک میں مشہور ہوا کہ فلانے کے گھر میں ایسی لڑکی ہے کہ اس کے حسن کے مقابل حور، پری شرمندہ ہے۔ انسان کا تو کیا منھ ہے کہ برابری کرے؟ یہ تعریف اِ س شہر کے شہزادے نے سنی۔ غائبانہ بغیر دیکھے بھالے عاشق ہوا، کھانا پینا چھوڑ دیا، اَٹھوائی کھٹوائی لے کر پڑا۔\nآخر بادشاہ کو یہ بات معلوم ہوئی۔ میرے تئیں رات کو خلوت میں بلایا اور یہ مذکور درمیان میں لایا اور مجھے باتوں میں پھسلایا، حتی کہ نسبت ناتا کرنے میں راضی کیا۔ میں بھی سمجھا کہ جب بیٹی گھر میں پیدا ہوئی تو کسو نہ کسو سے بیاہا ہی چاہیے۔ پس اس سے کیا بہتر ہے کہ پادشاہ زادے سے منسوب کر دوں؟ اس میں پادشاہ بھی مِنّت دار ہوتا ہے۔ میں قبول کرکے رخصت ہوا۔ اسی دن سے دونوں طرف تیاری بیاہ کی ہونے لگی۔ ایک روز اچھی ساعت میں قاضی، مفتی، عالم، فاضل، اکابر سب جمع ہوئی۔ نکاح باندھا گیا اور مہر متعین ہوا۔ دلہن کو بڑی دھوم دھام سے لے گئے۔ سب رسم رسومات کرکے فارغ ہوئے۔ نوشہ نے رات کو جب قصد جِماع کا کیا؛ اُس مکان میں ایک شور و غُل ایسا ہوا کہ جو باہر لوگ چوکی میں تھے، حیران ہوئے۔ دروازہ کوٹھری کا کھول کر چاہا دیکھیں یہ کیا آفت ہے، اندر سے ایسا بند تھا کہ کواڑ کھول نہ سکے۔ ایک دم میں وہ رونے کی آواز بھی کم ہوئی۔ پٹ کی چول اکھاڑ کر دیکھا تو دولہا سر کٹا ہوا پڑا تڑپتا ہے اور دلہن کے منھ سے کف چلا جاتا ہے اور اسی مٹی لہو میں لتھڑی ہوئی بے حواس پڑی لوٹتی ہے۔\nیہ قیامت دیکھ کر سب کے ہوش جاتے رہے۔ ایسی خوشی میں یہ غم ظاہر ہوا۔\n\nبادشاہ کو خبر پہنچی۔ سر پیٹتا ہوا دوڑا۔ تمام ارکان سلطنت کے جمع ہوئے۔ پر کسو کی عقل کام نہیں کرتی کہ اس احوال کو دریافت کرے۔ نہایت کو بادشاہ نے اس خلق کی حالت میں حکم کہا کہ اس کم بخت بھوند پیری دلہن کا بھی سر کاٹ ڈالو۔ یہ بات بادشاہ کی زبان سے جو نکلی، پھر ویسا ہی ہنگامہ برپا ہوا۔ بادشاہ اور اپنی جان کے خطرے سے نکل بھاگا اور فرمایا کہ اسے محل سے باہر نکال دو۔ خواصوں نے اس لڑکی کو میرے گھر میں پہنچا دیا۔ یہ چرچا دنیا میں مشہور ہوا۔ جن نے سنا حیران ہوا اور شہزادے کے مارے جانے کے سب سے خود بادشاہ جتنے باشندے اس شہر کے ہیں میرے جانی دشمن ہوئے۔\n\nجب ماتم داری سے فراغت ہوئی اور چہلم ہو چکا۔ بادشاہ نے ارکان دولت سے صلاح پوچھی کہ اب کیا کیا چاہیے سبھوں نے کہا کہ اور تو کچھ نہیں ہو سکتا پر ظار میں دل کی تسلی اور صبر کے واسطے اس لڑکی کو اس کے باپ سمیت مروا ڈالیے اور گھر بر ضبط کر لیجئے۔ جب میری یہ سزا مقرر کی کوتوال کو حکم ہوا۔ اس نے اگر چاروں طرف سی میری حویلی کو گھیر لیا اور نرسنگا دروازے پر بجایا، اور چاہا کہ اندر گھسیں اور بادشاہ کا حکم بجا لاویں، غیب سے اینٹ پتھر ایسے برسنے لگے کہ تمام فوج تاب نہ لا سکی اپنا سر منہ بچا کر جیدھر تیدھر بھاگی۔ اور ایک آواز مہیب بادشاہ نے محل میں اپنے کانوں سنی کہ کیوں کم بختی آئی ہے، کیا شیطان لگا ہے۔ بھلا چاہتا ہے تو اس نازنین کے احوال کا معرض نہ ہوا۔ نہیں تو جو کچھ تیرے بیٹے نے اس سے شادی کر کر دیکھا تو بھی اس کی دشمنی سے دیکھے گا۔ اب اگر ان کو ستاوے گا تو سزا پاوے گا۔\n\nبادشاہ کو مارے دہشت کے تپ چڑھی۔ وونہیں حکم کیا۔ ان بدبختوں سے کوئی مزاحم نہ ہو۔ کچھ کہو نہ سنو۔ حویلی میں پڑا رہنے دو۔ زور ظلم ان پر نہ کرو۔ اس دن سے عامل باؤ بتاس جان کر دعا، تعویذ اور سیانے جنتر منتر کرتے ہیں اور سب باشندے اس شہر کے اسم اعظم اور قرآن مجید پڑھتے ہیں۔ مدت سے یہ تماشا ہو رہا ہے لیکن اب تک کچھ اسرار معلوم نہیں ہوتا۔ اور مجھے بھی ہرگز اطلاع نہیں۔ مگر اس لڑکی سے ایک بار پوچھا تم نے اپنی آنکھوں سے کیا دیکھا تھا؟ یہ بولی کہ اور تو کچھ نہیں جانتی، لیکن یہ نظر آیا کہ جس وقت میرے خاوند نے قصد مباشرت کا کیا، چھت پھٹ کر ایک تخت مرصع کا نکلا۔ اس پر ایک جوان خوبصورت شاہانہ لباس پہنے بیٹھا تھا اور سات بہت سے آدمی اہتمام کرتے ہوئے اس مکان میں آئے اور شہزادے کے قتل کے مستعد ہوئے۔ وہ شخص سردار میرے نزدیک آیا اور بولا کہ کیوں جانی! ہم سے کہاں بھاگو گی؟ ان کی صورتیں آدمی کی سی تھیں لیکن پاؤں بکریوں کے سے نظر آئے۔ میرا کلیجہ دھڑکنے لگا اور خوف سے غش میں آ گئی۔ پھر مجھے کچھ سدھ نہیں کہ آخر کیا ہوا۔\n\nتب سے میرا یہ احوال ہے کہ اس پھوٹے مکان میں ہم دونوں جی پڑے رہتے ہیں۔ بادشاہ کے غصے کے باعث اپنے رفیق سب جدا ہو گئے۔ اور میں کدائی کرنے جو نکلتا ہوں تو کوڑی نہیں دیتا بلکہ دکان پر کھڑے رہنے کے روا دار نہیں۔ اس کم بخت لڑکی کے بدن پر لتا نہیں کہ سر چھپاوے اور کھانے کو میسر نہیں جو پیٹ بھر کھاوے۔ خدا سے یہ چاہتا ہوں کہ موت ہماری آوے یا زمین پھاٹے اور یہ ناشدنی سماوے۔ اس جینے سے مرنا بھلا ہے۔ خدا نے شاید ہمارے ہی واسطے تجھے بھیجا ہے جو تو نے رحم کھا کر ایک مہر دی۔ کھانا بھی مزے دار پکا کر کھایا اور بیٹی کی خاطر کپڑا بھی بنایا۔ خدا کی درگاہ میں شکر کیا اور تجھے دعا دی۔ اگر اس پر آسیب جن یا پری کا نہ ہوتا تو تیری خدمت میں لونڈی کی جگہ دیتا اور اپنی سعادت جانتا۔ یہ احوال اس عاجز کا ہے۔ تو اس کے درپے مت ہوا اور اس قصد سےدرگزر۔\n\nیہ سب ماجرا سن کر میں نے بہت منت و زاری کی کہ مجھے اپنی فرزندی میں قبول کر، جو میری قسمت بدا ہو گا سو ہو گا۔ وہ پیر مرد ہرگز راضی نہ ہوا۔ شام جب ہوئی اس سے رخصت ہو کر سرا میں آیا۔ مبارک نے کہا لو شہزادے مبارک ہو، خدا نے اسباب تو درست کیا ہے۔ بارے یہ محنت اکارت نہ گئی۔ میں نے کہا آج کتنی خوشامد کی، پر وہ اندھا بے ایمان راضی نہ ہوا۔ خدا جانے دیوے گا یا نہیں پر میرے دل کی یہ حالت تھی کہ رات کاٹنی مشکل ہوئی کہ صبح ہو تو پھر جا کر حاضر ہوں۔ کبھو یہ خیال آتا، اگر وہ مہربان ہو اور قبول کرے تو مبارک ملک صادق کی خاطر لے جائے گا۔ پھر کہتا بھلا ہاتھ تو آوے۔ مبارک کو منا ونا کر میں عیش کروں گا پھر جی میں یہ خطرہ آتا کہ اگر مبارک بھی قبول کرے تو جنوں کے ہاتھ سے وہی نوبت میری ہو گی جو بادشاہ زادے کی ہوئی۔ اور اس شہر کا بادشاہ کب چاہے گا کہ اس کا بیٹا مارا جائے اور دوسرا خوشی منائے۔\n\nتمام رات نیند اچاٹ ہو گئی اور اسی منصوبے کے الجھیڑے میں کٹی۔ جب روز روشن ہوا، میں چلا۔ چوک میں سے اچھے اچھے تھان پوشاکی اور گوٹا کناری اور میوہ خشک و تر خرید کر اس بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نہایت خوش ہو کر بولا کہ سب کو اپنی جان سے زیادہ کچھ عزیز نہیں۔ پر اگر میری جان بھی تیرے کام آوے تو دریغ نہ کروں اور اپنی بیٹی ابھی تیرے حوالے کروں۔ لیکن یہی خوف آتا ہے کہ اس حرکت سے تیری جان کو خطرہ نہ ہو کہ یہ داغ لعنت کا میرے اوپر تا قیامت رہے میں نے کہا کہ اب اسی بستی میں بے کس واقع ہوں اور تم میرے دین دنیا کے باپ ہو، میں اس آرزو میں مدت سے کیا کیا تباہی اور پریشانی کھینچتا ہوا اور کیسے کیسے صدمے اٹھاتا ہوا یہاں تلک آیا اور مطلب کا بھی سراغ پایا۔ خدا نے تمہیں بھی مہربان کیا جو بیاہ دینے پر رضا مند ہوئے۔ لیکن میرے واسطے آگا پیچھا کرتے ہو۔ ذرا منصف ہو کر غور فرماؤ تو عشق کی تلوار سے سر بچانا اور اپنی جان کو چھپانا کس مذہب میں درست ہے؟ ہر چہ بادا باد۔ میں سب طرح اپنے تئیں برباد دیا ہے۔ معشوق کے وصال کو میں زندگی سمجھتا ہوں۔ اپنے مرنے جینے کی مجھے کچھ پروا نہیں، بلکہ اگر ناامید ہوں گا تو بن اجل مر جاؤں گا اور تمہارا قیامت میں دامن گیر ہوں گا۔\n\nغرض اس گفت و شنید اور ہاں نان میں قریب ایک مہینے کے خوف و رجا میں گزرا۔ ہر روز اس بزرگ کی خدمت میں دوڑا جاتا اور خوشامد برآمد کیا کرتا۔ غرض اس گفت و شنید اور ہاں نان میں قریب ایک مہینے کے خوف و رجا میں گزرا۔ ہر روز اس بزرگ کی خدمت میں دوڑا جاتا اور خوشامد برآمد کیا کرتا۔ اتفاقا وہ بوڑھا کا ہلا ہوا۔ اس کی بیمار داری میں حاضر رہا۔ ہمیشہ قارورہ حکیم پاس لے جاتا۔ جو نسخہ لکھ دیتا، اسی ترکیب سے بنا کر پلاتا۔ اور شولا اور غذا اپنے ہاتھ سے پکا کر کوئی نوالا کھلاتا۔ ایک دن مہربان ہو کر کہنے لگا اے جوان تو بڑا ضدی ہے۔ میں نے ہر چند ساری قباحتیں کہہ سنائیں اور منع کرتا ہوں کہ اس کام سے باز آ۔ جی ہے تو جہان ہے۔ پر خواہ مخواہ کنویں میں گرا چاہتا ہے۔ اچھا آج اپنی لڑکی سی تیرا مذکور کروں گا۔ دیکھوں وہ کیا کہتی ہے؟ یا فقر اللہ! یہ خوشخبری سن کر میں ایسا پھولا کہ کپڑوں میں نہ سمایا۔ آداب بجا لایا اور کہا کہ اب آپ نے میرے جینے کی فکر کی۔ رخصت ہو کر مکان پر آیا اور تمام شب مبارک یہی مذکور رہا۔ کہاں کی نیند اور کہاں کی بھوک؟ صبح کو نور کے وقت پھر جا کر موجود ہو۔ سلام کیا۔ فرمانے لگا کہ لو اپنی بیٹی ہم نے تم کو دی۔ خدا مبارک کرے۔ تم دونو کو خدا کے حفظ و امان میں سونپا۔ جب تلک میرے دم میں دم ہے، میری آنکھوں کے سامنے رہو۔ جب میری آنکھ مند ہو جائے گی جو تمہارے جی میں آوے گا سو کیجیو، مختار ہو۔\n\nکتنے دن پیچھے وہ بزرگ جاں بحق تسلیم ہوا۔ رو پیٹ کر تجہیز و تکفین کیا۔ بعد تیجے کے اس نازنین مبارک ڈولے کر کارواں سرا میں لے گیا اور مجھ کہا کہ یہ امانت ملک صادق کی ہے۔ خبر دار خیانت نہ کیجو اور یہ محنت مشقت برباد نہ دیجو۔ میں نے اے کاکا! ملک صادق یہاں کہاں ہے، دل نہیں مانتا میں کیونکر صبر کروں؟ جو کچھ ہو سو ہو، جیوں یا مروں، اب تو عیش کر لو۔ مبارک نے دق ہو کر ڈانٹا کہ لڑکپن نہ کرو۔ ابھی ایک دم کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔ ملک صادق کو دور جانتے ہو، جو اس کا فرمانا نہیں ہو؟ اس نے چلتے وقت پہلے ہی اونچ نیچ سب سمجھا دی ہے۔ اگر اس کے کہنے پر رہو گے اور صحیح سلامت اس کو وہاں لے چلو گی تو وہ بھی بادشاہ ہے۔ شاید تمہاری محنت پر توجہ کر کے تمہوں کو بخش دے تو کیا اچھی بات ہووے۔ پیت کی پیت رہے اور میت کا میت ہاتھ لگے۔ بارے اس کے ڈرانے اور سمجھانے سے میں حیران ہو کر چپکا ہو رہا۔ دو سانڈنیاں خرید کیں اور کجاؤں پر سوار ہو کر ملک صادق کے ملک کی راہ لی۔ چلتے چلتے ایک میدان میں آواز شور غل کی آنے لگی۔ مبارک نے کہا شکر خدا ہماری محنت نیک لگی۔ یہ لشکر جنوں کا آ پہنچا۔ بارے مبارک نے ان سے مل جل کر پوچھا کہ کہاں کا ارادہ کیا ہے؟ وہ بولے کہ بادشاہ نے تمہارے استقبال کے واسطے ہمیں تعینات کیا ہے۔ اب تمہاری فرماں بردار ہیں۔ اگر کہو تو ایک میں روبرو لے چلیں، مبارک نے کہا دیکھو کس کس محنتوں سے نے بادشاہ کے حضور میں ہمیں سرخ رو کیا اب جلدی ضرور ہے؟ اگر خدانخواستہ کچھ خلل ہو جاوے تو ہمارے محنت اکارت ہو، اور جہاں پناہ کی غضبی میں پڑیں۔ سبھوں نے کہا کہ اس کے ہم تم مختار ہو۔ جس طرح جی چاہے چلو۔ اگرچہ سب طرح کا آرام تھا پر رات دن چلنے سے کام تھا۔\n\nجب نزدیک جا پہنچے۔ میں مبارک کو سوتا دیکھ کر اس نازنین کے قدموں پر سر رکھ کر اپنے دل کی بے قراری اور ملک صادق کے سبب سے لاچاری نہایت منت و زاری سے کہنے لگا کہ جس روز سے تمہاری تصویر دیکھی ہے، خواب و خورش اور آرام میں نے اپنے اوپر حرام کیا ہے۔ اب جو خدا نے یہ دن دکھایا تو محض بے گانہ ہو رہا ہوں۔ فرمانے لگی کہ میرا بھی دل تمہاری طرف مائل ہے کہ تم نے میری خاطر کیا کیا ہرج مرج اٹھایا اور کس کس مشقتوں سے لے آئے ہو۔ خدا کو یاد کرو اور مجھے بھی بھول نہ جائیو۔ دیکھو تو پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے یہ کہہ کر ایسی بے اختیار دھاڑ مار کر روئی کہ ہچکی لگ گئی۔ ایدھر میرا یہ حال، ادھر اس کا وہ احوال۔ اس گفتگو میں مبارک کی نیند ٹوٹ گئی۔ وہ ہم دونوں مشتاقوں کا رونا دیکھ کر رونے لگا اور بولا کہ خاطر جمع رکھو۔ ایک روغن میرے پاس ہے اس گل بدن کے بدن میں مل دوں گا۔ اس کی بو سے ملک صادق کا جی ہٹ جائے گا۔ غالب ہے کہ تمہیں بخش دے۔\n\nمبارک سے یہ تدبیر سنکر دل کا ڈھارس ہو گئی۔ اس کے گلے سے لگ کر لاڈ کیا اور کہا اے دادا اب تو میرا باپ کی جگہ ہے۔ تیرے باعث میری جان بچی۔ اب بھی ایس کام کر جس میں زندگانی ہو۔ نہیں تو اس غم میں مر جاؤں گا۔ اس نے ڈھیر سی تسلی دی۔ جب روز روشن ہوا آواز جنوں کی معلوم ہونے لگی دیکھا تو کئی خواص ملک صادق کے آتے ہیں۔ اور دوسری پاو بھاری ہمارے لئے لائے ہیں اور ایک چودول موتیوں کی توڑ پڑے ہوئی ان کے ساتھ ہے۔ مبارک نے اس نازنین کو وہ تیل مل دیا۔ اور پوشاک پہنا، بناؤ کروا کر ملک صادق کے پاس لے چلا۔ بادشاہ نے دیکھ کر مجھے بہت سرفراز کیا اور عزت و حرمت سے بٹھایا اور فرمانے لگا کہ تجھ سے میں ایسا سلوک کروں گا کہ کسو نے آج تک نہ کیا ہو گا۔ بادشاہت تو تیرے باپ کی موجود ہے، علاوہ اب تو میرے بیٹے کی جگہ ہو۔ یہ توجہ کی باتیں کر رہا تھا، اتنے میں وہ نازنین بھی رو برو آئی۔ اور روغن کی بو سے یک بہ یک دماغ پراگندہ ہوا اور حال بے حال ہو گیا۔ تاب اس باس کی نہ لا سکا۔ اٹھ کر باہر چلا اور ہم دونوں کو بلوایا اور مبارک کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ کیوں جی، خوب شرط بجا لائے۔ میں نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر خیانت کرو گے تو خفگی میں پڑو گی۔ یہ بو کیسی ہے اب دیکھو تمہارا کیا حال کرتا ہوں۔ بہت جزبز ہوا۔ مبارک نے مارے ڈر کے اپنا ازار بند کھول کر دکھایا کہ بادشاہ سلامت جب حضور کے حکم سے اس کام کے ہم متعین ہوئے تھے، غلام نے پہلے اپنی اپنی علامت کاٹ کر ڈبیا میں بند کر کے ربہ مہر سکرار کے خزانچی کے سپرد کر دی تھی اور ہم مرہم سلیمانی لگا کر روانہ ہوا تھا۔\n\nمبارک سے یہ جواب سن کر تب میری طرف آنکھیں نکال کے گھور اور کہنے لگا تو یہ تیرا کام ہے اور طیش میں آ کر منہ سے برا بھلا بکنے لگا۔ اس وقت اس کے بت کہاو سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ شاید جان سے مجھ مروا ڈالے گا۔ جب میں نے اس کے بشرے یہ وقت دریافت کیا، اپنے جی سے ہاتھ دھو کر اور جان رکھو کر سر غلاف مبارک کی کمر سے کھینچ کر ملک صادق کی توند میں ماری۔ چھری کے لگتے ہی نہوڑا اور جھوما۔ میں نے حیران ہو کر جانا کہ مقرر مر گیا۔ پھر اپنے دل میں خیال کیا کہ زخم ایسا کاری نہیں لگا۔ یہ کیا سبب ہوا؟ میں کھڑا دیکھتا تھا کہ وہ زمین پر لوٹ لاٹ گیند کی صورت بن کر آسمان کی طرف اڑ چلا۔ ایسا بلند ہوا کہ آخر نظروں سے غائب ہو گیا۔ پھر ایک پل کے بعد بجلی کی طرح کڑکتا اور غصے میں کچھ بے معنی بکتا ہوا نیچے آیا۔ اور مجھ ایک لات ماری کہ میں تیورا کر چاروں شانے چت گر پڑا اور جی ڈوب گیا۔ خدا جانے کتنی دیر میں ہوش آیا۔ آنکھیں کھول کر جو دیکھا تو ایک ایسے جنگل میں پڑا ہوں کہ جہاں سوائے کیکر اور سیٹے اور جھڑبیری کے درختوں کے کچھ اور نظر نہیں آتا۔ اب اس گھری عقل کچھ کام نہیں کرتی کہ کیا کروں اور کہاں جاؤں؟ ناامید سے ایک آہ بھر کر ایک طرف کی راہ لی۔ اگر کہیں کوئی آدمی کی صورت نظر پڑتی تو ملک صادق کا نام پوچھتا۔ وہ دیوانہ جان کر جواب دیتا تو یہ کہ ہم نے اس کا نام بھی نہیں سنا۔\n\nایک روز پہاڑ پر جا کر میں نے یہی ارادہ کیا کہ اپنے تئیں گرا کر ضائع کروں جو مستعد گرنے کا ہوا، وہی سوار صاحب ذوالفقار برقع پوش آ پہنچا اور بولا کہ کیوں تو اپنی جان کھوتا ہے؟ آدمی پر دکھ درد سے ہوتا ہے۔ اب تیری برے دن گئے اور بھلے دن آئے۔ جلد روم کو جا۔ تین شخص ایسی ہی آگے گئے ہیں۔ اس سے ملاقات کر اور وہاں کے شیطان سے مل۔ تم پانچوں کا مطلب ایک ہی جگہ ملے گا۔\n\nاس فقیر کی سیر کا یہ ماجرا ہے، جو عرض کیا۔ بارے بشارت سے اپنے مولا مشکل کشا کی مرشدوں کی حضور میں آ پہنچا ہوں اور بادشاہ ظل اللہ کی بھی ملازمت حاصل ہوئی چاہیے کہ اب سب کی خاطر جمع ہو۔\n\nیہ باتیں چار درویش اور بادشاہ آزاد بخت میں ہو رہی تھی کہ اتنے میں ایک محل بادشاہ کے محل میں سے دوڑتا ہوا آیا اور مبارک باد کی تسلیمیں بادشاہ کے حضور بجا لایا اور عرض کی کہ اس وقت شاہ زادہ پیدا ہوا کہ آفتاب و مہتاب اس کے حسن کے روبرو شرمندہ ہیں۔ بادشاہ نے متعجب ہو کر پوچھا کہ ظاہر میں تو کسو کو حمل نہ تھا۔ یہ آفتاب کس برج حمل سے نمود ہوا؟ اس نے التماس کیا کہ ماہ رو خواص جو بہت دنوں سے غضب بادشاہی میں پڑی تھی بے کسوں کی مانند ایک کونے میں رہتی تھی۔ اور مارے ڈر کے اس کے نزدیک کوئی نہ جاتا نہ احوال پوچھتا تھا اس پر یہ فضل الٰہی ہوا کہ چاند سا بیٹا اس کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ بادشاہ کو ایسی خوشی حاصل ہوئی کہ شاید شادی مرگ ہو جائے۔ چاروں فقیر نے بھی دعا دی کہ بھلا بابا تیرا گھر آباد رہے اور اس کا قدم مبارک ہے۔ تیرے سائے کے تلے بوڑھا بڑا ہو۔ بادشاہ نے کہا یہ تمہارے قدم کی برکت ہے۔ والا تو اپنے سان گمان میں بھی یہ بات نہ تھی۔ اجازت ہو تو جا کر دیکھوں درویشوں نے کہا بسم اللہ سدھاریے بادشاہ محل میں تشریف لے گئے، شہزادے کو گود میں لیا اور شکر پروردگار کی جناب میں کیا کلیجہ ٹھنڈا ہوا وونہیں چھاتی سے لگائے ہوئے لا کر فقیروں کے قدموں پر ڈالا۔ درویشوں نے دعائیں پڑھ کر جھاڑ کر پھونک دیا۔ بادشاہ نے جشن کی تیاری کی۔ دہری نوبتیں چھڑنے لگیں۔ خزانے کا منہ کھول دیا۔ داد دہش سے ایک کوڑی کے محتاج کو لکھ پتی کر دیا۔ ارکان دولت جتنے تھے۔ سب کو دوچند جاگیر و منصب کے فرمان ہو گئے۔ جتنا لشکر تھا، انہیں پانچ برس کی طلب انعام ہوئی۔ مشائخ اور اکابر کو مدد معاش اور المعنا عنایت ہوا، بے نواؤں کے میتے اور ٹکڑ گداؤں کے چملے اشرفی اور روپیوں کی کھچڑی سے بھر دیئے، اور تین برس کا خزانہ رعیت کو معاف کیا کہ جو کچھ بوویں جوتیں، دونوں حصے اپنے گھروں میں اٹھا لے جائیں۔ تمام شہر میں ہزاری بزاری کے گھروں میں جہاں دیکھوں وہاں تھئی تھئی ناچ ہو رہا ہے، مارے خوشی کے ہر ایک ادنی اعلی بادشاہ وقت بن بیٹھا۔ عین شادی میں ایک بارگی اندرون محل سے رونے پیٹنے کا غل اٹھا۔ خواصیں اور ترکنیاں اور اردا بیگساں اور محلی، خوجے سر میں خاک ڈالتے ہوئے باہر نکل آئے اور بادشاہ سے کہا کہ جس وقت شہزادے کو نہلا دھلا کر دائی کی گود میں دیا ایک ابر کا ٹکڑا آیا اور دائی کو گھیر لیا۔ بعد ایک دم کے دیکھیں تو انگا بے ہوش پڑی ہے اور شہزادہ غائب ہو گیا۔ یہ کیا قیامت ٹوٹی! بادشاہ تعجبات سن کر حیران ہو رہا اور تمام ملک میں واویلا پڑی۔ دو دن تلک کسو کے گھر میں ہانڈی نہ چڑھی۔ شہزادے کا غم کھاتے اور اپنا لہو پیتے تھے۔\n\nغرض زندگی سے لاچار تھے جو اس طرح جیتے تھے۔ جب تیسرا دن ہوا، وہی بادل کھول کر پڑھا تو شقے کا تھا۔ یہی دو سطریں لکھی تھیں کہ ہمیں بھی اپنا مشتاق جانیئے، سواری کے لئے تخت جاتا ہے۔ اس وقت اگر تشریف لایئے تو بہتر ہے۔ باہم ملاقات ہو۔ سب اسباب عیش و طرب کا مہیا ہے صاحب ہی کی جگہ خالی ہے، بادشاہ آزاد بخت درویشوں کو ہمراہ لے کر تخت پر بیٹھے۔ وہ تخت حضرت سلیمان کے تخت کے مانند ہوا چلا۔ رفتہ رفتہ ایسے مکان پر جا اترے کہ عمارت عالی شان اور تیاری کا سامان نظر آتا ہے لیکن معلوم نہیں ہوتا کہ یہاں کوئی ہے یا نہیں۔ اتنے میں کسو نے ایک ایک سلائی سلیمانی سرمے کی ان پانچوں کی آنکھوں میں پھیر دی۔ دو دو بوندیں آنسو کی ٹپک پڑیں۔ پریوں کا اکھاڑا دیکھا کہ استقبال کی خاطر گلاب پاشیں لئے ہوئے اور رنگ برنگ کے جوڑے پہنے ہوئے کھڑا ہے۔ آزاد بخت آگے چلے تو وہ رویہ ہزاروں پری زاد مودب کھڑے ہیں اور صدر میں ایک ایک تخت زمرد کا دھرا ہے۔ اس پر ملک شہبال شاہ رخ کا بیٹا تکیے لگائے بڑے تزک سے بیٹھا ہے اور ایک پری زاد لڑکی رو برو بیٹھی شہزادہ بختیار کے ساتھ کھیل رہی ہے اور دونوں بغل میں کرسیاں اور صندلیاں قرینے سے بچھی ہیں۔ ان پر عمدہ زاد بیٹھے ہیں۔ ملک شہبال بادشاہ کو دیکھتے ہی سروقد اٹھا اور تخت سے اتر کر بغل گیر ہوا اور ہاتھ میں ہاتھ پکڑے اپنے برابر تخت پر لا بٹھایا اور بڑے تپاک اور کرم جوشی سے باہم گفتگو ہونے لگی۔ تمام دن ہنسی خوشی، کھانے اور میوے اور خشبوؤں کی ضیافت رہی اور راگ رنگ سنا کئے دوسرے دن پھر دونوں بادشاہ جمع ہوئے۔ شہبال نے بادشاہ سے درویشوں کے ساتھ لانے کی کیفیت پوچھی۔\n\nبادشاہ نے چاروں بے نواؤں کا ماجرا جو سنا تھا مفصل بیان کیا۔ اور سفارش کی اور مدد چاہی کہ انہوں نے محنت اور مصیبت کھینچی ہے۔ اب صاحب کی توجہ سے اگر اپنے اپنے مقصد کو پہنچیں تو ثواب عظیم ہے۔ اور یہ مخلص بھی تمام عمر شکر گزار رہے گا۔ آپ کی نظر توجہ سے ان سب کا بیڑا پار ہوتا ہے۔ ملک شہبال نے سن کر کہا پھر آیا اور ایک پنگھولا جڑاؤ موتیوں کی توڑ پڑے ہوئی لایا۔ اسے محل میں رکھ کر آپ ہوا ہوا لوگوں نے شہزادے کو اس میں انگوٹھا چوستے ہوئے پایا۔ بادشاہ بیگم نے جلدی بلائیں لے ہاتھوں میں اٹھا کر چھاتی سے لگا لیا۔ دیکھا تو کرتا آب رواں کا موتیوں کا درد امن ٹکا ہوا گلے میں ہے اور اس پر شلوکا تمامی کا پہنایا ہے، اور ہاتھ پاؤں میں کھڑدے مرصع کے اور گلے میں ہیکل نورتن کی پڑی ہے جھنجھنا، چسنی، چٹے پٹے جڑاؤ دھرے ہیں۔ سب مارے خوشی کے واری پھری ہونے لگیں اور دعائیں دینے لگیں کہ تیری ماں کا پیٹ ٹھنڈا رہے اور تو بوڑھا آڑھا ہو۔\n\nبادشاہ نے ایک بڑا محل تعمیر کروا کر اور فرش بچھوا اس میں درویشوں کو رکھا جب سلطنت کے کام سے فراغت ہوئی تب آ بیٹھے اور سب طرح سے خدمت اور خبر گیری کرتے۔ لیکن ہر چاند کی نو چندی جمعرات کو وہی پارہ ابر آتا اور شہزادے کو لے جاتا۔ بعد دو دن کے تحفہ کھلونے اور سوغاتیں ہر ایک ملک کی اور ہر ایک قسم کے شہزادے کے ساتھ لے آتا۔ جن کے دیکھنے سے عقل انسان کی حیران ہو جاتی۔ اسی قاعدے سے بادشاہ زادے نے خیریت سے ساتویں برس میں پاؤں دیا۔ عین سالگرہ کے روز بادشاہ آزاد بخت نے فقیروں سے کہا کہ سائیں اللہ! کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ شہزادے کو کون لے جاتا ہے اور پھر دے جاتا ہے؟ بڑا تعجب ہے دیکھئے انجام اس کا کیا ہوتا ہے؟ درویشوں نے کہا ایک کام کرو ایک شقہ شوقیہ اس مضمون کا لکھ کر شہزادے کے گہوارے میں رکھ دو کہ تمہاری مہربانی اور محبت دیکھ کر اپنا بھی دل مشتاق ملاقات کا ہوا ہے۔ اگر دوستی کی راہ سے اپنے احوال کی اطلاع دیجئے تو خاطر جمع ہو اور حیرانی بالکل رفع ہو۔ بادشاہ نے موافق اصلاح درویشوں کے افشانی کاغذ پر ایک رقعہ اسی عبارت کا رقم کیا اور مہد زریں میں رکھ دیا۔\n\nشہزادہ بہ موجب قاعدہ قدیم کے غائب ہوا۔ جب شام ہوئی آزاد بخت درویشوں کے بستروں پر آ بیٹھے اور کلمہ کلام ہونے لگا۔ ایک کاغذ لپٹا ہوا بادشاہ کے پاس آ پڑا۔\n\nبہ سرو چشم، میں تمہارے فرمانے سے قاصر نہیں۔ یہ کہہ کر نگاہ کرم سے دیوؤں اور پریوں کی طرف دیکھا اور بڑے بڑے جن جو جہاں سردفار تھے، ان کو نامے لکھی کہ اس فرمان کو دیکھتے ہی اپنے تئیں حضور پر نور میں حاضر کرو۔ اگر کسی کے آنے میں توقف ہو گا تو اپنی سزا پاوے گا اور پکڑا ہوا آوے گا۔ اور آدم زاد خواہ عورت، خواہ مرد جس کے پاس ہو اسے اپنے ساتھ لئے آوے۔ اگر کوئی پوشیدہ کر رکھے گا اور ٹافی الحال ظاہر ہو گا تو اس کا زن و بچہ کولہو میں پیڑا جائے گا اور اس کا نام نشان باقی نہ رہے گا۔\n\nیہ حکم نامہ لے کر دیو چاروں طرف متعین ہوئے۔ یہاں دونوں بادشاہ میں صحبت گرم ہوئی اور باتیں اختلاط کی ہونے لگیں۔ اس میں ملک شہبال درویشوں سے مخاطب ہو کر بولا کہ اپنے تئیں بھی بڑی آرزو لڑکے ہونے کی تھی اور دل میں عہد کیا تھا کہ اگر خدا بیٹا دے یا بیٹی تو اس کی شادی بنی آدم کے بادشاہ کے یہاں جو لڑکا پیدا ہو گا۔ اس سے کروں گا۔ اس نیت کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ بادشاہ کے بیگم پیٹ سے ہیں۔ بارے دن اور گھڑیاں اور مہینے گنتے گنتے پورے دن ہوئے اور یہ لڑکی پیدا ہوئی موافق وعدے کے تلاش کرنے کے واسطے عالم جنیات کو میں نے حکم کیا کہ چار دانگ دنیا میں جستجو کرو۔ جس بادشاہ یا شہنشاہ کے یہاں فرزند پیدا ہوا ہو، اس کو بہ جنس احتیاط سے جلد اٹھا کر لے آؤ۔ وونہیں بہ موجب فرمان کے پری زاد چاروں سمت پراگندہ ہوئے۔ بعد دیر کے اس شہزادہ کو میرے پاس لے آئے۔ میں نے شکر خدا کا کیا اور اپنی گود میں لے لیا۔ اپنی بیٹھی سے زیادہ اس کی محبت میرے دل میں پیدا ہوئی۔ جی نہیں چاہتا کہ ایک دم نظروں سے جدا کروں۔ لیکن اس خاطر بھیج دیتا ہوں کہ اگر اس کے ماں باپ نہ دیکھیں گے تو ان کا کیا احوال ہو گا۔ لہٰذا ہر مہینے میں ایک بار منگا لیتا ہوں۔ کئی دن اپنے نزدیک رکھ کر پھر بھیج دیتا ہوں۔ انشا اللہ تعالیٰ اب ہمارے تمہارے ملاقات ہوئی۔ اس کی کتخدائی کر دیتا ہوں۔ موت حیات سب کو لگی پڑی ہے۔ بھلا جیتے جی اس کا سہرا دیکھ لیں۔\n\nبادشاہ آزاد بخت یہ باتیں ملک شہبال کی سن کر اور اس کی خوبیاں دیکھ کر نہایت محظوظ ہوئے اور بولے۔ پہلے ہم کو شہزادے کے غائب ہو جانے اور پھر آنے سے عجب عجب طرح کے خطرے دل میں آتے تھے۔ لیکن اب صاحب کی گفتگو سے تسلی ہوئی۔ یہ بیٹا اب تمہارا ہے۔ جس میں تمہاری خوشی ہو سی کیجئے۔ غرض دونوں بادشاہوں کی صحبت مانند شکر شیر کے رہتی اور عیش کرتے۔ دس پانچ کے عرصے میں بڑے بڑے بادشاہ گلستان ارم کے اور کوہستان کے اور جزیروں کے، جن کے طلب کی خاطر لوگ تعینات ہوئے تھے، سب آ کر حضور میں حاضر ہوئے۔ پہلے ملک صادق سے فرمایا کہ تیرے اس جو آدم زاد ہے حاضر کر۔ اس نے نپٹ غم و غصہ کھا کر لاچار اس گل عذار کو حاضر کیا۔ اور ولایت عمان کے بادشاہ سے زادی جن کی جس کے واسطے شہزادہ ملک نیم روز کا گاؤ سوار ہو کر سودائی بنا تھا، مانگی اس نے بہت سی عذر معذرت کر کے حاضر کی۔ جب بادشاہ فرنگ کی بیٹی اور بہزاد خان کو طلب کیا سب منکر پاک ہوئے اور حضرت سلیمان کی قسم کھانے لگے۔ آخر دریائے قلزم کے بادشاہ سب جب پوچھنے کو نوبت آئی تو وہ سر نیچا کر کے چپ ہو رہا۔ ملک شہبال نے اس کی خاطر کی اور قسم دی اور امیدوار سرفرازی کا کیا اور کچھ دھونس دھڑکا بھی دیا۔ تب وہ بھی ہاتھ جوڑ کر عرض کرنے لگا کہ بادشاہ سلامت حقیقت یہ ہے کہ جب بادشاہ اپنے بیٹے کے استقبال کی خاطر درپا پر آیا اور شہزادے نے مارے جلدی کے گھوڑا دریا میں ڈالا۔ اتفاقا میں اس روز سیر و شکار کی خاطر نکلا تھا۔ اس جگہ میرا گزر ہوا۔ سواری کھڑی کر کے یہ تماشا دیکھ رہا تھا۔ اس میں شہزادی کو بھی گھوڑی دریا میں لے گئی۔ میری نگاہ جو اس پر پڑی، دل بے اختیار ہوا۔ پری زادوں کو حکم کیا کہ شہزادی کو مع گھوڑی لے آؤ۔ اس کے پیچھے بہزاد خان نے گھوڑا پھینکا۔ جب وہ غوطے کھانے لگا۔ اس کی دلاوری اور مردانگی پسند آئی۔ اس کو بھی ہاتھوں ہاتھ پکڑ لیا۔ ان دونوں کو لیکر میں نے سواری پھیری۔ سو وہ دونوں صحیح سلامت میرے پاس موجود ہیں۔\n\nیہ احوال کہہ کر دونوں کو روبرو بلایا۔ اور سلطان شام کی شہزادی کی تلاش بہت کی اور سبھوں سے بہ سختی و ملائمت استفسار کیا لیکن کسو نے حامی نہ بھوری اور نہ نام و نشان بتایا۔ تب ملک شہبال نے فرمایا، کہ کوئی بادشاہ یا سردار غیر حاضر بھی ہے یا سب آ چکے؟ جنوں نے عرض کی کہ جہاں پناہ سب حضور میں آئے ہیں، مگر ایک مسلسل جادوگر جس نے کوہ قاف کے پردے میں ایک قلعہ جادو کے علم سے بنایا ہے وہ اپنے غرور سے نہیں آیا ہے۔ اور ہم غلاموں کو طاقت نہیں جو بہ زور اس کو پکڑ لاویں وہ بڑا قلب مکان ہے اور خود بھی بڑا شیطان ہے۔\n\nیہ سن کر ملک کو طیش آیا اور لڑکی فوج جنوں اور عفریتوں اور پری زادوں کی تعینات کی اور فرمایا۔ اگر راستے میں اس شہزادی کو ساتھ لیکر حاضر ہو۔ فبہا والانہ، اس کو زیر و زیر کر کے مشکیں باندھ کر لے آؤ۔ اور اس کے گڑھ اور ملک کو نیست و نابود کر کے گدھے کا ہل پھروا دو۔ وونہیں حکم ہوتے ہی ایسی کتنی فوج روانہ ہوئی کہ ایک آدھ دن کے عرصے میں ویسے جوش خروش والے سرکش کو حلقہ بگوش کر کے پکڑ لائے اور حضور میں دست بستہ کھڑا کیا۔ ملک شہبال نے ہر چند سرزش کر کر پوچھا لیکن اس مغرور نے سوائے ناں کے ہاں نہ کی۔ نہایت غصے ہو کر فرمایا کہ اس مردود کے بند بند جدا کرو اور کھال کھینچ کر کر بھس بھرو۔ اور پری زاد کے لشکر کو تعین کیا کہ کوہ قاف میں جا کر ڈھونڈ ڈھانڈھ کر پیدا کرو۔ وہ لشکر متغیہ، شہزادی کو بھی تلاش کر کے لے آیا۔ اور حضور میں پہنچایا۔ اس سب اسیروں نے اور چاروں فقیروں نے ملک شہبال کا حکم اور انصاف دیکھ کر دعائیں دیں اور شاد ہوئے۔ بادشاہ آزاد بخت بھی بہت خوش ہوا۔ تب ملک شہبال نے فرمایا کہ مردوں کو دیوان خاص میں اور عورتوں کو بادشاہی محل میں داخل کرو اور شہر میں آئینہ بندی کا حکم کرو اور شادی کی تیاری جلدی کرو۔ گویا حکم کی دیر تھی۔\n\nایک روز نیک ساعت مبارک مہورت دیکھ کر شہزادہ بختیار کا عقد اپنی بیٹی روشن اختر سے باندھا اور خواجہ یمن کی دمشق کی شہزادی سے بیاہا۔ اور ملک فارس کے شہزادے کا نکاح بصرے کی شہزادی سے کر دیا۔ اور عجم کے بادشاہ زادے کے فرنگ کی ملک سے منسوب کیا، اور نیم روز کے بادشاہ کی بیٹی کو بہزاد خان کو دیا۔ اور شہزادہ نیم روز کو جن کی شہزادی کے حوالے کی اور چین کے شہزادے کو اس پیر مرد عجمی کی بیٹی سے، جو ملک صادق کے قبضے میں تھی، کتخدا کیا۔ مگر ایک نامراد بدولت ملک شہبال کے اپنے اپنے مقصد اور مراد کو پہنچا۔ بعد اس کے چالیس دن تلک جشن فرمایا اور عیش و عشرت میں رات دن مشغول رہے۔ آخر ملک شہبال نے ہر ایک بادشاہ زادے کو تحفے و خاطر سوغاتیں اور مال اسباب دے دے کر اپنے اپنے وطن کو رخصت کیا۔ سب بہ خوشی بہزاد خان اور خواجہ زادہ یمن کا اپنی خوشی سے بادشاہ آزاد بخت کی رفاقت میں رہے، یعنی بختیار کی فوج کا کیا۔ جب تلک جیتے رہے، عیش کرتے رہے الٰہی! جس طرح ہر ایک نامراد کا مقصد دلی اپنے کرم اور فضل سے برلا۔ بہ طفیل پنج تن پاک، دوازادہ امام چہاردہ معصوم علیہم الصلوۃ والسلام کے۔ آمین یا الٰہ العالمین۔\n\nجب یہ کتاب فضل الٰہی سے اختتام کو پہنچی، جی میں آیا کہ اس کا نام بھی ایسا رکھوں کہ اُسی میں تاریخ نکلے۔ جب حساب کیا تو بارہ سو پندرہ ہجری کے آخر سال میں کہنا شروع کیا تھا۔ باعث عدم فرصت کے بارہ سو سترہ سنہ کی ابتدا میں انجام ہوئی۔ اس فکر میں تھا کہ دل نے کہا “باغ و بہار” اچھا نام ہے کہ ہم نام و ہم تاریخ اِس میں نکلتی ہے۔ تب میں نے یہی نام رکّھا۔ جو کوئی اس کو پڑھے گا، گویا باغ کی سیر کرے گا۔ بلکہ باغ کو آفت خَزاں کی بھی ہے اور اِس کو نہیں۔ یہ ہمیشہ سرسبز رہے گا:\n\nمرتب ہوا جب یہ باغ و بہار\n\nکرو سیر اب اس کی تم رات دن\n\nخزاں کا نہیں اس میں آسیب کچھ\n\nمرے خونِ دل سے یہ سیراب ہے\n\nمجھے بھول جاویں گے سب بعد مرگ\n\nاسے جو پڑھے یاد مجھ کو کرے\n\nخطا گر کہیں تو رکھیو معاف\n\nہے انسان مُرکّب ز سہو و خطا\n\nمیں اِس کے سوا چاہتا کچھ نہیں\n\nتری یاد میں مَیں رہوں دم بہ دم\n\nنہ پرسش کی سختی ہو مجھ پر کبھو\n\nتھی سنہ بارہ سو سترہ در شمار\n\nکہ ہے نام و تاریخ باغ و بہار\n\nہمیشہ تر و تازہ ہے یہ بہار\n\nاور لختِ جگر کے ہیں سب برگ و بار\n\nرہے گا مگر یہ سخن یادگار\n\nیہی قاریوں سے مرا ہے قرار\n\nکہ پھولوں میں پوشیدہ رہتا ہے خار\n\nیہ چوکے گا، ہر چند ہو ہوشیار\n\nیہی ہے دعا میری اے کردگار\n\nکٹے اِس طرح میرا لیل و نہار\n\nنہ شب گور کی اور نہ زورِ شمار\n\nتو کونین میں لُطف پر لطف رکھ\n\nخدایا! بہ حقّ رسولِ کِبار", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1/%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%86%D9%88%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%B4_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "باغ و بہار/عرضی میر امن دلی والے کی", "poet_page": "مصنف:میر امّن دہلوی", "kind": "prose", "section": "تصنیفات > باغ و بہار", "year": null, "text_ur": "جو مدرسے کے مختار صاحبوں کے حضور میں دی گئی۔\nصاحبان والا شان نجیبوں کے قدر دانوں کو خدا سلامت رکھے۔ اس بے وطن نے حکم اشتہار کا سن کر چار درویش کے قصے کو ہزار جد و کد سے اردوئے معلا کی زبان میں باغ و بہار بنایا۔ فضلِ الٰہی سے سب صاحبوں کے سیر کرنے کے باعث سر سبز ہوا۔ اب امیدوار ہوں کہ اسکا پھل مجھے بھی ملے، تو میرا غنچۂ دل مانند گل کے کھلے۔ بقول حکیم فردوسی کے کہ شاہ نامے میں کہا ہے۔\nبسے رنج بر دریں سال سی\nعجم زندہ کردم بہ ایں پارسی\nسو اردو کی آراستہ کر زباں\nکیا، میں نے بنگالہ ہندوستاں\nخداوند آپ قدر دان ہیں، حاجت غرض کرنے کی نہیں۔\nالٰہی تارا اقبال کا چمکتا رہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1/%D8%B9%D8%B1%D8%B6%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%85%D9%86_%D8%AF%D9%84%DB%8C_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "باغ و بہار/مقدمہ", "poet_page": "مصنف:میر امّن دہلوی", "kind": "prose", "section": "تصنیفات > باغ و بہار", "year": null, "text_ur": "(ڈاکٹر جان گلکرسٹ)\n\nیہ قصہ اردو میں ترجمہ ہونے سے پہلے فارسی زبان میں قصۂ چہار درویش کے نام سے ایک زمانے میں مقبولِ خاص و عام رہا ہے۔ اسکی تصنیف کا سبب یہ ہے کہ ایک دفعہ امیر خسرو کے پیر و مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کی طبیعت ناساز ہوئی، تب ان کا دل بہلانے کیلیے امیر خسرو نے یہ قصہ فارسی زبان میں کہا۔ اردو میں اس کا ترجمہ سب سے پہلے میر حسین عطا خان تحسین نے کیا اور اس کا نام نو طرز مرصع رکھا۔ لیکن اردو زبان کے ایک معیاری نمونے کی حیثیت سے ان کا یہ ترجمہ ناقص قرار پایا کیونکہ اس میں عربی اور فارسی کے فقروں اور محاوروں کی بہتات ہے۔ اس نقص کو دور کرنے کیلیے میر امن عالم و فاضل، دلی والے جو کہ فورٹ ولیم کالج سے وابستہ ہیں، عطا خان تحسین کے ترجمے سے یہ نیا اسلوب (version) نکالا ہے۔ میر امن ایک سہل و سادہ اور صاف اسلوب کے نکالنے میں کس قدر کامیاب ہوئے ہیں اس کا اندازہ ہندوستانی زبان کا کوئی بھی عالم کرسکتا ہے۔ وہ ریختہ کے محاوروں کو ایسی صحت اور عفت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں کہ اس کے دیکھنے سے اس بات کا یقینِ کامل ہوتا ہے کہ ان کی واقفیت اردو زبان سے بڑی گہری تھی۔\n\nاس قصے میں ایشیائی رسم و رواج کا مذکور بہت خوب ہے اور ان کے بیان میں ایک ایسی کلاسیکی طہارت پائی جاتی ہے کہ اس سے یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ یہ قصہ ان کا اپنا طبع زاد ہے۔ یہ کتاب اپنی اس خصوصیت کے باعث ہندوستان کی ان کتابوں کے سرمائے میں ایک بیش بہا اضافہ کرتی ہے جو کہ حال ہی میں وہاں کی معروف اور مقبول زبان میں شائع ہوئی ہیں۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1/%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81"} {"title": "باغ و بہار/مقدمہ میر امن دہلوی", "poet_page": "مصنف:میر امّن دہلوی", "kind": "prose", "section": "تصنیفات > باغ و بہار", "year": null, "text_ur": "سبحان اللہ، کیا صانع ہے کہ جس نے ایک مٹھی خاک سے کیا کیا صورتیں اور مٹی کی مورتیں پیدا کیں باوجود رنگ کے ایک گورا اور ایک کالا۔ اور یہی ناک، کان، ہاتھ پاؤں سب کو دیے ہیں۔ تس پر، رنگ بہ رنگ کی شکلیں جدی، جدی بنائیں کہ ایک کی سج دھج سے دوسرے کا ڈیل ڈول ملتا نہیں۔ کروڑوں خلقت میں جس کو چاہیے، پہچان لیجیے۔ آسمان اس کے دریائے وحدت کا ایک بلبلا ہے اور زمین پانی کا بتاشا، لیکن یہ تماشا ہے کہ سمندر ہزاروں لہریں مارتا ہے پر اس کا بال بیکا نہیں کرسکتا۔ جسکی یہ قدرت اور سکت ہو اسکی حمد و ثنا میں زبان انسان کی گویا گونگی ہے، کہیے تو کیا کہیے، بہتر یوں ہے کہ جس بات میں دم نہ مار سکے، چپکا ہو رہے۔\n\nعرش سے لے کر فرش تک جس کا یہ سامان ہے\n\nحمد اس کی اگر لکھا چاہوں تو کیا امکان ہے\n\nجب پیمبر نے کہا ہو میں نے پہچانا نہیں\n\nپھر جو کوئی دعویٰ کرے اس کا، بڑا نادان ہے\n\nرات دن یہ مہر و مہ پھرتے ہیں صنعت دیکھتے\n\nپر ہر اک واحد کی صورت دیدۂ حیران ہے\n\nجس کا ثانی اور مقابل ہے نہ ہووے گا کھبو\n\nایسے یکتا کو خدائی سب طرح شایان ہے\n\nلیکن اتنا جانتا ہوں خالق و رزاق ہے وہ\n\nہر طرح سے مجھ پر اس کا لطف اور احسان ہے\n\nاور درود اس کے دوست پر جس کی خاطر، زمین و آسمان کو پیدا کیا اور درجہ رسالت کا دیا۔\n\nجسم پاک مصطفیٰ، اللہ کا اک نور ہے\n\nاس لیے پرچھائیں اس قد کہ نہ تھی، مشہور ہے\n\nحوصلہ میرا کہاں اتنا، جو نعت اس کی کہوں\n\nپر سخن گویوں کا یہ بھی قاعدہ دستور ہے\n\nاور اس کی آل پر صلوٰۃ و سلام، جو ہیں بارہ امام\n\nحمدِ حق اور نعتِ احمد کو یہاں کر انصرام\n\nاب میں آغاز اس کو کرتا ہوں جو ہے منظور کام\n\nیا الٰہی واسطے اپنے نبی کی آل کے\n\nکر یہ میری گفتگو مقبول طبع خاص و عام", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1/%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%85%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%D9%88%DB%8C"} {"title": "باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے\nسایۂ شاخ گل افعی نظر آتا ہے مجھے\n\nجوہر تیغ بہ سر چشمۂ دیگر معلوم\nہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے\n\nمدعا محو تماشائے شکست دل ہے\nآئنہ خانہ میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے\n\nنالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کف خاک\nآسماں بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے\n\nزندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے\nدیکھوں اب مر گئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے\n\nباغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے\nچاہوں گر سیر چمن آنکھ دکھاتا ہے مجھے\n\nشور تمثال ہے کس رشک چمن کا یا رب\nآئنہ بیضۂ بلبل نظر آتا ہے مجھے\n\nحیرت آئنہ انجام جنوں ہوں جیوں شمع\nکس قدر داغ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے\n\nمیں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال\nبہ فسون نگۂ ناز ستاتا ہے مجھے\n\nحیرت فکر سخن ساز سلامت ہے اسدؔ\nدل پس زانوئے آئینہ بٹھاتا ہے مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AE%D9%81%D9%82%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%DA%88%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "باغی مُرید", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ہم کو تو میسّر نہیں مٹّی کا دِیا بھی\nگھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن\nشہری ہو، دہاتی ہو، مسلمان ہے سادہ\nمانندِ بُتاں پُجتے ہیں کعبے کے برہمن\nنذرانہ نہیں، سُود ہے پیرانِ حرم کا\nہر خرقۂ سالوس کے اندر ہے مہاجن\nمیراث میں آئی ہے انھیں مسندِ ارشاد\nزاغوں کے تصّرف میں عقابوں کے نشیمن!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%BA%DB%8C_%D9%85%D9%8F%D8%B1%DB%8C%D8%AF"} {"title": "باقی جہاں میں قیس نہ فرہاد رہ گیا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باقی جہاں میں قیس نہ فرہاد رہ گیا\nافسانہ عاشقوں کا فقط یاد رہ گیا\n\nیہ سخت جاں تو قتل سے ناشاد رہ گیا\nخنجر چلا تو بازوئے جلاد رہ گیا\n\nپابندیوں نے عشق کی بیکس رکھا مجھے\nمیں سو اسیریوں میں بھی آزاد رہ گیا\n\nچشم صنم نے یوں تو بگاڑے ہزار گھر\nاک کعبہ چند روز کو آباد رہ گیا\n\nمحشر میں جائے شکوہ کیا شکر یار کا\nجو بھولنا تھا مجھ کو وہی یاد رہ گیا\n\nان کی تو بن پڑی کہ لگی جان مفت ہاتھ\nتیری گرہ میں کیا دل ناشاد رہ گیا\n\nپر نور ہو رہے گا یہ ظلمت کدہ اگر\nدل میں بتوں کا شوق خداداد رہ گیا\n\nیوں آنکھ ان کی کر کے اشارہ پلٹ گئی\nگویا کہ لب سے ہو کے کچھ ارشاد رہ گیا\n\nناصح کا جی چلا تھا ہماری طرح مگر\nالفت کی دیکھ دیکھ کے افتاد رہ گیا\n\nہیں تیرے دل میں سب کے ٹھکانے برے بھلے\nمیں خانماں خراب ہی برباد رہ گیا\n\nوہ دن گئے کہ تھی مرے سینے میں کچھ خراش\nاب دل کہاں ہے دل کا نشاں یاد رہ گیا\n\nصورت کو تیری دیکھ کے کھنچتی ہے جان خلق\nدل اپنا تھام تھام کے بہزاد رہ گیا\n\nاے داغؔ دل ہی دل میں گھلے ضبط عشق سے\nافسوس شوق نالہ و فریاد رہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%82%DB%8C%D8%B3_%D9%86%DB%81_%D9%81%D8%B1%DB%81%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "باقی نہ رہی ہاتھ میں جب قوت و زور", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "باقی نہ رہی ہاتھ میں جب قوت و زور\nبن جائے نہ کیوں عقدۂ خاطر ہر پور\nپیری ہے اگر شب جوانی کی سحر\nاس صبح کی شام کیا ہے تاریکیٔ گور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D9%82%D9%88%D8%AA_%D9%88_%D8%B2%D9%88%D8%B1"} {"title": "بال بکھیرے آج پری تربت پر میرے آئے گی", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بال بکھیرے آج پری تربت پر میرے آئے گی\nموت بھی میری ایک تماشہ عالم کو دکھلائے گی\n\nمحو ادا ہو جاؤں گا گر وصل میں وہ شرمائے گی\nبار خدایا دل کی حسرت کیسے پھر بر آئے گی\n\nکاہیدہ ایسا ہوں میں بھی ڈھونڈا کرے نہ پائے گی\nمیری خاطر موت بھی میری برسوں سر ٹکرائے گی\n\nعشق بتاں میں جب دل الجھا دین کہاں اسلام کہاں\nواعظ کالی زلف کی الفت سب کو رام بنائے گی\n\nچنگا ہوگا جب نہ مریض کاکل شب گوں حضرت سے\nآپ کی الفت عیسیٰ کی اب عظمت آج مٹائے گی\n\nبہر عیادت بھی جو نہ آئیں گے نہ ہمارے بالیں پر\nبرسوں میرے دل کی حسرت سر پر خاک اڑائے گی\n\nدیکھوں گا محراب حرم یاد آئے گی ابروئے صنم\nمیرے جانے سے مسجد بھی بت خانہ بن جائے گی\n\nغافل اتنا حسن پہ غرہ دھیان کدھر ہے توبہ کر\nآخر اک دن صورت یہ سب مٹی میں مل جائے گی\n\nعارف جو ہیں ان کے ہیں بس رنج و راحت ایک رساؔ\nجیسے وہ گزری ہے یہ بھی کسی طرح نبھ جائے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D9%84_%D8%A8%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D8%A8%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "بالائے بام غیر ہے میں آستان پر", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بالائے بام غیر ہے میں آستان پر\nچاہیں جسے چڑھائیں حضور آسمان پر\n\nکیوں نامراد آہ گئی آسمان پر\nٹوٹے نہ آسمان کہیں میری جان پر\n\nرسوائیاں ہیں ساتھ وہ چھپ کر ہزار جان\nسو سو کے سر جھکے ہیں قدم کے نشان پر\n\nآنا اسے ضرور گو ہوں لاکھ اہتمام\nعاشق ہے ان کی نیند مری داستان پر\n\nتھا راز دار حسن وہ کافر جو کہہ گیا\nمعشوق دل کی بات نہ لائیں زبان پر\n\nان کی گلی میں رات میں اس وضع سے گیا\nگھبرا کے پاسبان گرے پاسبان پر\n\nنازک سی تیغ یار ہے کیا زہر کی بجھی\nکھائے ہوئے ہے زہر مرے امتحان پر\n\nبنتے ہیں شوخیوں سے وہ سورج بھی چاند بھی\nنقش قدم بھی آپ کے ہیں آسمان پر\n\nخلوت میں بھی چلی ہیں کہیں سینہ زوریاں\nاس طرح آپ تن کے اٹھے کس گمان پر\n\nذکر مے طہور نے تڑپا دیا ریاضؔ\nجانا پڑا ہمیں کسی اونچی دکان پر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%85_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب\nہشیار انیس تو مسافر ہے اب\nپیدا ہے سپیدی سحر پیری کی\nلے خواب سے چونک رات آخر ہے اب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D8%BA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%DB%8C%D8%A8_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8"} {"title": "بالیں پہ ہو اے جان جو رعنائی سے گزرے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بالیں پہ ہو اے جان جُو رعنائی سے گزرے\nمردہ میرا دیکھے جُو مسیحائی سے گزرے\n\nغم مرنے کا اپنے تُو نہ تھا گور میں جاکر\nاندیشہ ہزاروں تیری رعنائی سے گزرے\n\nدیوانہ سے پرسش ہے نہ ویرانے سے حاصل\nنادانی میں کیوں ہوئے تُو دانائی سے گزرے\n\nبھریے وہیں تک جس میں نہ چھلکے میرے صاحب\nاِس طرح کی ہم لاف شکیبائی سے گزرے\n\nکہتے تھے وُہ کل سن کہ نسیمؔ آپ کا چرچا\nاکثر ہیں ادھر سے بھی وُہ سودائی سے گزرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D8%B9%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92"} {"title": "بام پر آئے کتنی شان سے آج", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بام پر آئے کتنی شان سے آج\nبڑھ گئے آپ آسمان سے آج\n\nجب کہا ہم خفا ہیں جان سے آج\nبولے خوش کر دیں امتحان سے آج\n\nکس مزے کی ہوا میں مستی ہے\nکہیں برسی ہے آسمان سے آج\n\nبے تکلف نہ ہو کوئی ان سے\nبنے بیٹھے ہیں میہمان سے آج\n\nمیں نے چھیڑا تو کس ادا سے کہا\nکچھ سنو گے مری زبان سے آج\n\nدل کے ٹکڑوں کی طرح ہم نے چنے\nٹکڑے کچھ دل کی داستان سے آج\n\nنیچی داڑھی نے آبرو رکھ لی\nقرض پی آئے اک دکان سے آج\n\nاونچے کوٹھوں کے بیٹھنے والے\nباتیں کرتے تھے آسمان سے آج\n\nناتواں دل کی بے زباں دل کی\nآپ نے سن لی اپنے کان سے آج\n\nکوئی جا کر ریاضؔ کو سمجھائے\nکچھ خفا ہیں وہ اپنی جان سے آج", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%AA%D9%86%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "بام پر آتا ہے ہمارا چاند", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بام پر آتا ہے ہمارا چاند\nآسماں سے کرے کنارا چاند\n\nآپ ہی کی تلاش میں صاحب\nگردشیں کرتا ہے گوارا چاند\n\nخال اور رخ سے کس کو دوں نسبت\nایسے تارے نہ ایسا پیارا چاند\n\nآگ بھڑکی جو آتشیں رخ کی\nابھی اڑ جائے ہو کے پارا چاند\n\nہونے تو دو مقابلہ ان سے\nغل کریں گے ملک کہ ہارا چاند\n\nچرخ سے ان کو تاکتا ہے سخیؔ\nجائے گا ایک روز مارا چاند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"} {"title": "بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگا", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگا\nاب تو اظہارِ محبت برملا ہونے لگا\n\nکیا کہا میں نے جو ناحق تم خفا ہونے لگے\nکچھ سنا بھی یا کہ یونہی فیصلہ ہونے لگا\n\nاب غریبوں پر بھی ساقی کی نظر پڑنے لگی\nبادۂ پس خوردہ ہم کو بھی عطا ہونے لگا\n\nکچھ نہ پوچھو حال کیا تھا خاطرِ بیتاب کا\nاُن سے جب مجبور ہو کر میں جدا ہونے لگا\n\nیاد اُس بے وفا کی ہر گھڑی رہنے لگی\nپھر اُسی کا تذکرہ صبح و مسا ہونے لگا\n\nکیا ہوا حسرت وہ تیرا ادّعائے ضبطِ غم\nدو ہی دن میں رنجِ فرقت کا گلا ہونے لگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7"} {"title": "بانجھ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "میری اور اس کی ملاقات آج سے ٹھیک دو برس پہلے اپولو بندر پر ہوئی۔ شام کا وقت تھا۔ سورج کی آخری کرنیں سمندر کی ان دراز لہروں کے پیچھے غائب ہو چکی تھیں جو ساحل کے بنچ پر بیٹھ کر دیکھنے سے موٹے کپڑے کی تہیں معلوم ہوتی تھیں۔ میں گیٹ آف انڈیا کے اس طرف پہلا بنچ چھوڑ کر جس پر ایک آدمی چمپی والے سے اپنے سر کی مالش کرا رہا تھا، دوسرے بنچ پر بیٹھا تھا۔ اور حدِ نظر تک پھیلے ہوئے سمندر کو دیکھ رہا تھا۔ دور بہت دور جہاں سمندر اور آسمان گھل مل رہے تھے۔ بڑی بڑی لہریں آہستہ آہستہ اٹھ رہی تھیں۔ اور ایسا معلوم ہوتا تھاکہ بہت بڑا گدلے رنگ کا قالین ہےجسے ادھر سے ادھر سمیٹا جا رہا ہے۔\n\nساحل کے سب قمقمے روشن تھے جن کا عکس کنارے کے لرزاں پانی پر کپکپاتی ہوئی موٹی لکیروں کی صورت میں جگہ جگہ رینگ رہا تھا۔ میرے پاس پتھریلی دیوار کے نیچے کئی کشتیوں کے لپٹے ہوئے بادبان اور بانس ہولے ہولے حرکت کر رہے تھے۔ سمندر کی لہریں اور تماشائیوں کی آواز ایک گنگناہٹ بن کر فضا میں گھلی ہوئی تھی۔ کبھی کبھی کسی آنے یا جانے والی موٹر کے ہارن کی آواز بلند ہوتی اور یوں معلوم ہوتا کہ بڑی دلچسپ کہانی سننے کے دوران میں کسی نے زور سے ’ہوں‘ کی ہے۔\n\nایسے ماحول میں سگریٹ پینے کا بہت مزہ آتا ہے، میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر سگریٹ کی ڈبیا نکالی۔ مگر ماچس نہ ملی۔ جانے کہاں بھول آیا تھا۔ سگریٹ کی ڈبیا واپس جیب میں رکھنےہی والا تھاکہ پاس سے کسی نے کہا، ’’ماچس لیجیے گا۔‘‘\n\nمیں نے مڑ کر دیکھا۔ بنچ کے پیچھے ایک نوجوان کھڑا تھا۔ یوں تو بمبئی کے عام باشندوں کا رنگ زرد ہوتا ہے۔ لیکن اس کا چہرہ خوفناک طور پر زرد تھا۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا، ’’آپ کی بڑی عنایت ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا، ’’آپ سگریٹ سلگا لیجیے مجھے جانا ہے۔‘‘\n\nمجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس نے جھوٹ بولا ہے۔ کیونکہ اس کے لہجے سے اس بات کا پتہ چلتا تھا کہ اسے کوئی جلدی نہیں ہے اور نہ اسے کہیں جانا ہے۔ آپ کہیں گے کہ لہجے سے ایسی باتوں کا پتہ کیسے چل سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس وقت ایسا محسوس ہوا چنانچہ میں نے ایک بار پھر کہا، ’’ایسی جلدی کیا ہے۔۔۔ تشریف رکھیے۔‘‘ اور یہ کہہ کر میں نے سگریٹ کی ڈبیا اس کی طرف بڑھا دی، ’’شوق فرمائیے‘‘\n\nاس نے سگریٹ کی چھاپ کی طرف دیکھا۔ اور جواب دیا، ’’شکریہ، میں صرف اپنابرانڈ پیا کرتا ہوں۔‘‘\n\nآپ مانیں نہ مانیں۔ مگر میں قسمیہ کہتا ہوں کہ اس بار اس نے پھر چھوٹ بولا۔ اس مرتبہ پھر اس کے لہجے نے چغلی کھائی۔ اور مجھے اس سے دلچسپی پیدا ہو گئی۔ اس لیے کہ میں نے اپنے دل میں قصد کر لیا تھاکہ اسے ضرور اپنے پاس بٹھاؤں گا۔ اور اپنا سگریٹ پلواؤں گا۔ میرے خیال کے مطابق اس میں مشکل کی کوئی بات ہی نہ تھی۔ کیونکہ اس کے دو جملوں ہی نے مجھے بتا دیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہے۔ اس کا جی چاہتا ہے کہ میرے پاس بیٹھے اور سگریٹ پیے۔ لیکن بیک وقت اس کے دل میں یہ خیال بھی پیدا ہوا تھا کہ میرے پاس نہ بیٹھے اور میرا سگریٹ نہ پیے ۔چنانچہ ہاں اور نہ کا یہ تصادم اُس کے لہجے میں صاف طور پر مجھے نظر آیا تھا۔ آپ یقین جانیے کہ اس کا وجود بھی ہونے اور نہ ہونے کے بیچ میں لٹکا ہوا تھا۔\n\nاس کا چہرہ جیساکہ میں بیان کر چکا ہوں بے حد پیلا تھا۔ اس پر اس کی ناک، آنکھوں اور منہ کے خطوط اس قدر مدھم تھے جیسے کسی نے تصویر بنائی ہے اور اس کو پانی سے دھو ڈالا ہے۔ کبھی کبھی اس کی طرف دیکھتے دیکھتے اس کے ہونٹ ابھر سے آتے لیکن پھر راکھ میں لپٹی ہوئی چنگاری کے مانند سو جاتے۔ اس کے چہرے کے دوسرے خطوط کا بھی یہی حال تھا۔ آنکھیں گدلے پانی کی دو بڑی بڑی بوندیں تھیں جن پر اس کی چھدری پلکیں جھکی ہوئی تھیں۔ بال کالے تھے۔ مگر ان کی سیاہی جلے ہوئے کاغذ کے مانند تھی جن میں بھوسلا پن ہوتا ہے۔ قریب سے دیکھنے پر اس کی ناک کا صحیح نقشہ معلوم ہو سکتا تھا۔ مگر دور سے دیکھنے پر وہ بالکل چپٹی معلوم ہوتی تھی۔ کیونکہ جیسا کہ میں اس سے پیشتر بیان کر چکا ہوں۔ اس کے چہرے کے خطوط بالکل ہی مدھم تھے۔\n\nاس کا قد عام لوگوں جتنا تھا۔ یعنی نہ چھوٹا نہ بڑا۔ البتہ جب وہ ایک خاص انداز سے یعنی اپنی کمر کی ہڈی کو ڈھیلا چھوڑ کے کھڑا ہوتا۔ تو اس کے قد میں نمایاں فرق پیدا ہو جاتا۔ اس طرح جب کہ وہ ایک دم کھڑا ہوتاتو اس کا قد جسم کے مقابلے میں بہت بڑا دکھائی دیتا۔\n\nکپڑے اس کے خستہ حالت میں تھے۔ لیکن میلے نہیں تھے۔ کوٹ کی آستینوں کے آخری حصّے کثرتِ استعمال کے باعث گھس گئے تھے اور پھُوسڑے نکل آئے تھے۔ کالر کھلا تھا۔ اور قمیص بس ایک اور دھلائی کی مار تھی۔ مگر ان کپڑوں میں بھی وہ خود کو ایک باوقار انداز میں پیش کرنے کی سعی کر رہا تھا۔ میں نے سعی کر رہا تھا! اس لیے کہاکیونکہ جب میں نے اس کی طرف دیکھا تھا تو اس کے سارے وجود میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی تھی اور مجھے ایسا معلوم ہوا تھاکہ وہ اپنے آپ کو میری نگاہوں سے اوجھل رکھنا چاہتا ہے۔\n\nمیں اٹھ کھڑا ہوا اور سگریٹ سلگا کر اس کی طرف ڈبیا بڑھا دی، ’’شوق فرمائیے۔‘‘ یہ میں نے کچھ اس طریقے سے کہا اور فوراً ماچس سلگا کر اس انداز سے پیش کی کہ وہ سب کچھ بھول گیا۔ اس نے ڈبیا میں سے سگریٹ نکال کر منہ میں دبا لیا۔ اور اسے سلگا کر پینا بھی شروع کر دیا۔ لیکن ایکا ایکی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اور منہ میں سے سگریٹ نکال کر مصنوعی کھانسی کے آثار حلق میں پیدا کرتے ہوئے اس نے کہا، ’’کیو نڈر مجھے راس نہیں آتے ان کا تمباکو بہت تیز ہے۔ میرے گلے میں فوراً خراشیں پیدا ہو جاتی ہیں۔‘‘ میں نے اس سے پوچھا، ’’آپ کون سے سگریٹ پسند کرتے ہیں؟‘‘ اس نے تتلا کر جواب دیا، ’’میں۔۔۔ میں۔۔۔ دراصل سگریٹ بہت کم پیتا ہوں۔ کیونکہ ڈاکٹر اروکر نے منع کر رکھا ہے۔ ویسے میں تھری فائیوپیتا ہوں جن کا تمباکو تیز نہیں ہوتا۔‘‘\n\nاس نے جس ڈاکٹر کا نام لیا وہ بمبئی کا بہت بڑا ڈاکٹر ہے۔ اس کی فیس دس روپے ہے۔ اور جن سگریٹوں کا اس نے حوالہ دیااس کے متعلق آپ کو بھی معلوم ہو گا کہ بہت مہنگے داموں پر ملتے ہیں۔ اس نے ایک ہی سانس میں دو جھوٹ بولے۔ جو مجھے ہضم نہ ہوئے۔ مگر میں خاموش رہا۔ حالانکہ سچ عرض کرتا ہوں اس وقت میرے دل میں یہی خواہش چٹکیاں لے رہی تھی کہ اس کا غلاف اتار دوں اور اس کی دروغ گوئی کو بے نقاب کر دوں۔ اور اسے کچھ اس طرح شرمندہ کروں کہ وہ مجھ سے معافی مانگے۔ مگر میں نے جب اس کی طرف دیکھا تو اس فیصلے پر پہنچا کہ اس نے جو کچھ کہا ہے اس کا جزو بن کر رہ گیا ہے۔ جھوٹ بول کرچہرے پر جو ایک سرخی سی دوڑ جایا کرتی ہے مجھے نظر نہ آئی بلکہ میں نے یہ دیکھا کہ وہ جو کچھ کہہ چکا ہے اس کو حقیقت سمجھتا ہے۔ اس کے جھوٹ میں اس قدر اخلاص تھا۔ یعنی اس نے اتنے پرخلوص طریقے پر جھوٹ بولا تھاکہ اس کی میزانِ احساس میں ہلکی سی جنبش بھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ خیر اس قصّے کو چھوڑیے۔ ایسی باریکیاں میں آپ کو بتانے لگوں تو صفحوں کے صفحے کالے ہو جائیں گے۔ اور افسانہ بہت خشک ہو جائے گا۔\n\nتھوڑی سی رسمی گفتگو کے بعد میں نے اس کو راہ پر لگایا۔ اور ایک اور سگریٹ پیش کرکے سمندر کے دلفریب منظر کی بات چھیڑ دی۔ چونکہ افسانہ نگار ہوں۔ اس لیے کچھ اس دلچسپ طریقے پر اسے سمندر، اپولوبندر اور وہاں آنے جانے والے تماشائیوں کے بارے میں چند باتیں سنائیں۔ کہ چھ سگریٹ پینے پر بھی اس کے حلق میں خرخراہٹ پیدا نہ ہوئی۔ اس نے میرا نام پوچھا۔ میں نے بتایا تو وہ اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا، ’’آپ مسٹر۔۔۔ ہیں۔ میں آپ کے کئی افسانے پڑھ چکا ہوں۔ مجھے۔۔۔ مجھے معلوم نہ تھا۔ کہ آپ۔۔۔ ہیں۔۔۔ مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے واللہ بہت خوشی ہوئی ہے۔‘‘\n\nمیں نے اس کا شکریہ ادا کرنا چاہا۔ مگر اس نے اپنی بات شروع کر دی۔۔۔ ’’ہاں خوب یاد آیا ابھی حال ہی میں آپ کا ایک افسانہ میں نے پڑھا ہے۔ عنوان بھول گیاہوں۔ اس میں آپ نے ایک لڑکی پیش کی ہے جو کسی مرد سے محبت کرتی تھی۔ مگر وہ اسے دھوکہ دے گیا۔ اسی لڑکی سے ایک اور مرد بھی محبت کرتا تھا۔ جو افسانہ سناتا ہے جب اس کو لڑکی کی افتاد کا پتہ چلتا ہے تو وہ اس سے ملتا ہے اور اس سے کہتا ہے۔ زندہ رہو۔۔۔ ان چند گھڑیوں کی یاد میں اپنی زندگی کی بنیادیں کھڑی کرو۔ جو تم نے اس کی محبت میں گزاری ہیں۔ اس مسّرت کی یاد میں جو تم نے چند لمحات کے لیے حاصل کی تھی۔ مجھے اصل عبارت یاد نہیں رہی۔ لیکن مجھے بتائیے۔ کیا ایسا ممکن ہے۔ممکن کو چھوڑیے۔ آپ یہ بتائیے کہ وہ آدمی آپ تو نہیں تھے؟ مگر کیا آپ ہی نے اس سے کوٹھے پر ملاقات کی تھی اور اس کی تھکی ہوئی جوانی کو اونگھتی ہوئی چاندنی میں چھوڑ کر نیچے اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلے آئے تھے۔۔۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ ایک دم ٹھہر گیا۔ ’’مگر مجھے ایسی باتیں نہیں پوچھنی چاہئیں۔۔۔ اپنے دل کا حال کون بتاتا ہے۔‘‘\n\nاس پر میں نے کہا، ’’میں آپ کو بتاؤں گا۔۔۔ لیکن پہلی ملاقات میں سب کچھ پوچھ لینا اور سب کچھ بتا دینا اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ وہ جوش جو گفتگو کرتے وقت اس کے اندر پیدا ہو گیا تھا ایک دم ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس نے دھیمے لہجے میں کہا، ’’آپ کا فرمانا بالکل درست ہے مگر کیا پتہ ہے کہ آپ سے پھر کبھی ملاقات نہ ہو۔‘‘\n\nاس پر میں نے کہا، ’’اس میں شک نہیں بمبئی بہت بڑا شہر ہے لیکن ہماری ایک نہیں بہت سی ملاقاتیں ہو سکتی ہیں بیکار آدمی ہوں یعنی افسانہ نگار۔۔۔ شام کو ہر روز اسی وقت بشرطیکہ بیمار نہ ہو جاؤں آپ مجھے ہمیشہ اسی جگہ پر پائیں گے۔۔۔ یہاں بے شمار لڑکیاں سیر کو آتی ہیں۔ اور میں اس لیے آتا ہوں کہ خود کو کسی کی محبت میں گرفتار کر سکوں۔۔۔ محبت بری چیز نہیں ہے!‘‘\n\n’’محبت۔۔۔ محبت!‘‘ اس نے اس سے آگے کچھ کہنا چاہا مگر نہ کہہ سکا۔ اور جلتی ہوئی رسّی کی طرح آخری بل کھا کر خاموش ہو گیا۔\n\nمیں نے از راہِ مذاق اس سے محبت کا ذکر کیا تھا۔ دراصل اس وقت فضا ایسی دلفریب تھی کہ اگر کسی عورت پر عاشق ہو جاتا تو مجھے افسوس نہ ہوتا جب دونوں وقت آپس میں مل رہے ہوں۔ نیم تاریکی میں بجلی کے قمقمے قطار اندر قطار آنکھیں جھپکنا شروع کر دیں۔ ہوا میں خنکی پیدا ہو جائے اور فضا پر ایک افسانوی کیفیت سی چھا جائے تو کسی اجنبی عورت کی قربت کی ضرورت محسوس ہوا کرتی ہے۔ ایک ایسی جس کا احساس تحت شعور میں چھپا رہتا ہے۔\n\nخدا معلوم اس نے کس افسانے کے متعلق مجھ سے پوچھا تھا۔ مجھے اپنے سب افسانے یاد نہیں۔ اور خاص طور پر وہ تو بالکل یاد نہیں جو رومانی ہیں۔ میں اپنی زندگی میں بہت کم عورتوں سے ملا ہوں۔ وہ افسانے جو میں نے عورتوں کے متعلق لکھے ہیں یا تو کسی خاص ضرورت کے ماتحت لکھے گئے ہیں یا محض دماغی عیاشی کے لیے۔ میرے ایسے افسانوں میں چونکہ خلوص نہیں ہے اس لیے میں نے کبھی ان کے متعلق غور نہیں کیا۔ ایک خاص طبقے کی عورتیں میری نظر سے گزر ی ہیں۔ اور ان کے متعلق میں نے چند افسانے لکھے ہیں۔ مگر وہ رومان نہیں ہیں۔ اس نے جس افسانے کا ذکر کیا تھاوہ یقیناًکوئی ادنیٰ درجے کا رومان تھا۔ جو میں نے اپنے چند جذبات کی پیاس بجھانے کے لیے لکھا ہو گا۔۔۔لیکن میں نے تو اپنا افسانہ بیان کرنا شروع کر دیا۔\n\nہاں تو جب وہ محبت کہہ کر خاموش ہو گیاتو میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ محبت کے بارے میں کچھ اور کہوں۔ چنانچہ میں نے کہنا شروع کیا، ’’محبت کی یوں تو بہت سی قسمیں ہمارے باپ دادا بیان کر گئے ہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ محبت خواہ ملتان میں ہو یا سائبیریا کے یخ بستہ میدانوں میں۔ سردیوں میں پیدا ہو یا گرمیوں میں، امیر کے دل میں پیدا ہو یا غریب کے دل میں۔۔۔ محبت خوبصورت کرے یا بدصورت، بدکردار کرے یا نیکوکار۔۔۔ محبت محبت ہی رہتی ہے۔ اس میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا جس طرح بچے پیدا ہونے کی صورت ہمیشہ ہی ایک سی چلی آرہی ہے، اسی طرح محبت کی پیدائش بھی ایک ہی طریقے پر ہوتی ہے۔ یہ جدا بات ہے کہ سعیدہ بیگم ہسپتال میں بچہ جنے اور راجکماری جنگل میں۔ غلام محمدکے دل میں بھنگن محبت پیدا کر دے، اور نٹور لال کے دل میں کوئی رانی جس طرح بعض بچے وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں اور کمزور رہتے ہیں اسی طرح وہ محبت بھی کمزور رہتی ہے جو وقت سے پہلے جنم لے بعض دفعہ بچے بڑی تکلیف سے پیدا ہوتے ہیں بعض دفعہ محبت بھی بڑی تکلیف دے کر پیدا ہوتی ہے۔ جس طرح عورتوں کا حمل گر جاتا ہے اسی طرح محبت بھی گر جاتی ہے بعض دفعہ بانجھ پن پیدا ہو جاتا ہے۔ ادھر بھی آپ کو ایسے آدمی نظر آئیں گے جو محبت کرنے کے معاملہ میں بانجھ ہیں۔۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ محبت کرنے کی خواہش ان کے دل سے ہمیشہ کے لیے مٹ جاتی ہے، یا ان کے اندر وہ جذبہ ہی نہیں رہتا، نہیں، یہ خواہش ان کے دل میں موجود ہوتی ہے۔ مگر وہ اس قابل نہیں رہتے کہ محبت کر سکیں۔ جس طرح عورت اپنے جسمانی نقائص کے باعث بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتی اسی طرح یہ لوگ چند روحانی نقائص کی وجہ سے کسی کے دل میں محبت پیدا کرنے کی قوت نہیں رکھتے۔۔۔ محبت کا اسقاط بھی ہو سکتا ہے۔۔۔‘‘\n\nمجھے اپنی گفتگو دلچسپ معلوم ہو رہی تھی۔ چنانچہ میں اس کی طرف دیکھے بغیر لیکچر دیے جا رہا تھا۔ لیکن جب میں اس کی طرف متوجہ ہواتو وہ سمندر کے اس پار خلا میں دیکھ رہا تھااور اپنے خیالات میں گم تھا۔ میں خاموش ہو گیا۔\n\nجب زور سے کسی موٹر کا ہارن بجا تو وہ چونکا اور خالی الذہن ہو کر کہنے لگا، ’’جی۔۔۔ آپ نے بالکل درست فرمایا ہے!‘‘\n\nمیرے جی میں آئی کہ اس سے پوچھوں۔۔۔ درست فرمایا ہے؟ اس کو چھوڑیے آپ یہ بتائیے کہ میں نے کیا کہا ہے؟‘‘ لیکن میں خاموش رہا۔ اور اس کو موقع دیا کہ اپنے وزنی خیالات دماغ سے جھٹک دے۔\n\nوہ کچھ دیر سوچتا رہا۔ اس کے بعد اس نے پھر کہا، ’’آپ نے بالکل ٹھیک فرمایا ہے۔ لیکن۔۔۔ خیر چھوڑئیے اس قصّے کو۔‘‘\n\nمجھے اپنی گفتگو بہت اچھی معلوم ہوئی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ کوئی میری باتیں سنتا چلا جائے۔ چنانچہ میں نے پھر سے کہنا شروع کیا، ’’تو میں عرض کر رہا تھا کہ بعض آدمی بھی محبت کے معاملے میں بانجھ ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے دل میں محبت کرنے کی خواہش تو موجود ہوتی ہے لیکن ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس بانجھ پن کا باعث روحانی نقائص ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘\n\nاس کا رنگ اوربھی زرد پڑ گیا جیسے اس نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔ یہ تبدیلی اس کے اندر اتبی جلدی پیدا ہوئی کہ میں نے گھبرا کر اس سے پوچھا، ’’خیریت تو ہے۔۔۔ آپ بیمار ہیں۔‘‘\n\n’’نہیں تو۔۔۔ نہیں تو‘‘ اس کی پریشانی اور بھی زیادہ ہو گئی ۔\n\n’’مجھے کوئی بیماری و یماری نہیں ہے۔۔۔ لیکن آپ نے کیسے سمجھ لیا کہ میں بیمار ہوں۔‘‘ میں نے جواب دیا، ’’اس وقت آپ کو جو کوئی بھی دیکھے گا،یہی کہے گاکہ آپ بہت بیمار ہیں۔ آپ کا رنگ خوفناک طور پر زرد ہو رہا ہے۔۔۔ میرا خیال ہے آپ کو گھر چلے جانا چاہیے۔ آئیے میں آپ کو چھوڑ آؤں۔‘‘\n\n’’نہیں میں چلا جاؤں گا۔ مگر میں بیمار نہیں ہوں۔۔۔بھی کبھی میرے دل میں معمولی سا درد پیدا ہو جایا کرتا ہے۔ شاید وہی ہو۔۔۔ میں ابھی ٹھیک ہو جاؤں گا آپ اپنی گفتگو جاری رکھیے۔‘‘\n\nمیں تھوڑی دیر خاموش رہا۔ کیونکہ وہ ایسی حالت میں نہیں تھا کہ میری بات غور سےسن سکتا۔ لیکن جب اس نے اصرار کیاتو میں نے کہنا شروع کیا، ’’میں آپ سے یہ پوچھ رہا تھا کہ ان لوگوں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے جو محبت کرنے کے معاملے میں بانجھ ہوتے ہیں۔۔۔ میں ایسے آدمیوں کے جذبات اور ان کی اندرونی کیفیات کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ لیکن جب میں اس بانجھ عورت کا تصور کرتا ہوں جوصرف ایک بیٹی یا بیٹا حاصل کرنے کے لیے دعائیں مانگتی ہے۔ خدا کے حضور میں گڑگڑاتی ہے اور جب وہاں سے کچھ نہیں ملتا تو ٹونے ٹوٹکوں میں اپنا گوہر مقصود ڈھونڈتی ہے۔ شمشانوں سے راکھ لاتی ہے کئی کئی راتیں جاگ کر سادھوؤں کے بتائے ہوئے منتر پڑھتی ہے۔ منتیں مانتی ہے۔ چڑھاوے چڑھاتی ہے۔ تو میں خیال کرتا ہوں کہ اس آدمی کی بھی یہی حالت ہوتی ہو گی جو محبت کے معاملے میں بانجھ ہو۔۔۔ ایسے لوگ واقعی ہمدردی کے قابل ہیں۔مجھے اندھوں پر اتنا رحم نہیں آتا جتنا ان لوگوں پر آتا ہے۔‘‘\n\nاس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اور وہ تھوک نگل کر دفعتا اٹھ کھڑا ہوا۔ اور پرلی طرف منہ کر کے کہنے لگا، ’’اوہ بہت دیر ہو گئی۔ مجھے ضروری کام کے لیے جانا تھا یہاں باتوں باتوں میں کتنا وقت گزر گیا۔‘‘\n\nمیں بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ پلٹا اور جلدی سے میرا ہاتھ دبا کر لیکن میری طرف دیکھے بغیر اس نے ’’اب رخصت چاہتاہوں‘‘ کہا اور چل دیا۔\n\nدوسری مرتبہ اس سے میری ملاقات پھر اپولوبندر ہی پر ہوئی۔ میں سیر کا عادی نہیں ہوں۔ مگر اس زمانے میں ہر شام اپولو بندر پر جانا میرا دستور ہو گیا تھا۔ ایک مہینے کے بعد جب مجھے آگرہ کے ایک شاعر نے ایک لمبا چوڑا خط لکھا جس میں اس نے نہایت ہی حریصا نہ طور پر اپولوبندر اور وہاں جمع ہونے والی پریوں کا ذکر کیا۔ اور مجھے اس لحاظ سے بہت خوش قسمت کہا کہ میں بمبئی میں ہوں تو اپولوبندر سے میری دلچسپی ہمیشہ کے لیے فنا ہو گئی۔ اب جب کبھی کوئی مجھے اپولوبندر جانے کو کہتا ہے تو مجھے آگرے کے شاعر کا خط یاد آجاتا ہے اور میری طبیعت متلا جاتی ہے۔ لیکن میں اس زمانے کا ذکر کر رہا ہوں جب خط مجھے نہیں ملا تھا۔ اور میں ہر روز جاکر شام کو اپولوبندر کے اس بنچ پر بیٹھا کرتا تھا جس کے اُس طرف کئی آدمی چمپی والوں سے اپنی کھوپڑیوں کی مرمت کراتے رہتے ہیں۔\n\nدن پوری طرح ڈھل چکا تھا۔ اور اجالے کا کوئی نشان باقی نہیں رہا تھا۔ اکتوبر کی گرمی میں کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔ ہوا چل رہی تھی۔۔۔ تھکے ہوئے مسافر کی طرح۔ سیر کرنے والوں کا ہجوم زیادہ تھا۔ میرے پیچھے موٹریں ہی موٹریں کھڑی تھیں۔بنچ بھی سب کے سب پُر تھے۔ جہاں بیٹھا کرتا تھا وہاں دو باتونی ایک گجراتی اور ایک پارسی نہ جانے کب کے جمے ہوئے تھے۔ دونوں گجراتی بولتے تھے۔ مگر مختلف لب و لہجہ سے۔ پارسی کی آواز میں دو سُر تھے۔ وہ کبھی باریک سُر میں بات کرتا تھا کبھی موٹے سُر میں۔ جب دونوں تیزی سے بولنا شروع کر دیتے تو ایسا معلوم ہوتا جیسے طوطے مینا کی لڑائی ہو رہی ہے۔\n\nمیں ان کی لامتناہی گفتگو سے تنگ آکر اٹھا اور ٹہلنے کی خاطر تاج محل ہوٹل کا رخ کرنے ہی والا تھا کہ سامنے سے مجھے وہ آتا دکھائی دیا۔ مجھے اس کا نام معلوم نہیں تھا۔ اس لیے میں اسے پکار نہ سکا۔ لیکن جب اس نے مجھے دیکھا۔ تو اس کی نگاہیں ساکن ہو گئیں۔ جیسے اسے وہ چیز مل گئی ہو جس کی اسے تلاش تھی۔\n\nکوئی بنچ خالی نہیں تھا۔ اس لیے میں نے اس سے کہا، ’’آپ سے بہت دیر کے بعد ملاقات ہوئی۔۔۔ چلیے سامنے ریستوران میں بیٹھتے ہیں،یہاں کوئی بنچ خالی نہیں۔‘‘\n\nاس نے رسمی طور پر چند باتیں کیں اور میرے ساتھ ہو لیا۔ چند گزوں کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ہم دونوں ریستوران میں بید کی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ چائے کا آرڈر دیکر میں نے اس کی طرف سگرٹوں کا ٹین بڑھا دیا۔ اتفاق کی بات ہے۔ میں نے اسی روز دس روپے دے کر ڈاکٹر ارولکر سے مشورہ لیا تھا۔ اور اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اوّل تو سگریٹ پینا ہی موقوف کر دو۔ اور اگر تم ایسا نہیں کر سکتے تو اچھے سگریٹ پیا کرو۔ مثال کے طور پر پانچ سو پچپن۔۔۔ چنانچہ میں نے ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق یہ ٹین اسی شام خریدا تھا۔ اس نے ڈبے کی طرف غور سے دیکھا۔ پھر میری طرف نگاہیں اٹھائیں، کچھ کہنا چاہا مگر خاموش رہا۔\n\nمیں ہنس پڑا۔ ’’آپ یہ نہ سمجھیے گاکہ میں نے آپ کے کہنے پر یہ سگریٹ پینا شروع کیے ہیں۔۔۔ اتفاق کی بات ہےکہ آج مجھے بھی ڈاکٹر ارولکر کے پاس جانا پڑا۔ کیونکہ کچھ دنوں سے میرے سینے میں درد ہو رہا ہے چنانچہ اس نے مجھ سے کہا کہ یہ سگریٹ پیا کرو لیکن بہت کم۔۔۔‘‘ میں نے یہ کہتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور محسوس کیا کہ اس کو میری یہ باتیں ناگوار معلوم ہوئی ہیں۔ چنانچہ میں نے فوراً جیب سے وہ نسخہ نکالاجو ڈاکٹر ارولکر نے مجھے لکھ کر دیا تھا۔ یہ کاغذ میز پر میں نے اس کے سامنے رکھ دیا، ’’یہ عبارت مجھ سے پڑھی تو نہیں جاتی۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے وٹامن کا سارا خاندان اس نسخے میں جمع کر دیا ہے۔‘‘\n\nاس کاغذ کو جس پر ابھرے ہوے کالے حروف میں ڈاکٹر ارولکر کا نام اور پتہ مندرج تھا اور تاریخ بھی لکھی ہوئی تھی۔ اس نے چورنگاہوں سے دیکھا اور وہ اضطراب جو اس کے چہرے پر پیدا ہو گیا تھا فوراً دور ہو گیا۔ چنانچہ اس نے مسکرا کر کہا، ’’کیا وجہ ہے کہ اکثر لکھنے والوں کے اندر وٹامنز ختم ہو جاتی ہیں؟‘‘\n\nمیں نے جواب دیا، ’’اس لیے کہ انھیں کھانے کو کافی نہیں ملتا۔ کام زیادہ کرتے ہیں۔ لیکن اجرت بہت کم ملتی ہے۔‘‘\n\nاس کے بعد چائے آگئی اور دوسری باتیں شروع ہو گئیں۔\n\nپہلی ملاقات اور اس ملاقات میں غالباً ڈھائی مہینے کا فاصلہ تھا۔ اس کے چہرے کا رنگ پہلے سے زیادہ پیلا تھا۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پیدا ہو رہے تھے۔ اسے غالباً کوئی تکلیف تھی جس کا احساس اسے ہر وقت رہتا تھا۔ کیونکہ باتیں کرتے کرتے بعض اوقات وہ ٹھہر جاتا۔ اور اس کے ہونٹوں میں سے غیر ارادی طور پر آہ نکل جاتی۔ اگر ہنسنے کی کوشش بھی کرتاتو اس کے ہونٹوں میں زندگی پیدا نہیں ہوتی تھی۔\n\nمیں نے یہ کیفیت دیکھ کر اس سے اچانک طور پر پوچھا، ’’آپ اداس کیوں ہیں؟‘‘\n\n’’اداس۔۔۔ اداس‘‘ ایک پھیکی سی مسکراہٹ جو ان مرنے والوں کے لبوں پر پیدا ہوا کرتی ہے جو ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ موت سے خائف نہیں،اس کے ہونٹوں پر پھیلی۔ ’’میں اداس نہیں ہوں۔ آپ کی طبیعت اداس ہو گی۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ایک ہی گھونٹ میں چائے کی پیالی خالی کر دی اور اٹھ کھڑا ہوا، ’’اچھا تو میں اجازت چاہتا ہوں۔۔۔ ایک ضروری کام سے جانا ہے۔‘‘\n\nمجھے یقین تھا کہ اسے کسی ضروری کام سے نہیں جانا ہے۔ مگر میں نے اسے نہ روکا اور جانے دیا۔ اس دفعہ پھر اس کا نام دریافت نہ کر سکا۔ لیکن اتنا پتہ چل گیا کہ وہ ذہنی اور روحانی طور پر بے حد پریشان تھا۔ وہ اداس تھا۔ بلکہ یوں کہیے کہ اداسی اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کر چکی تھی۔ مگر وہ نہیں چاہتا تھاکہ اس کی اداسی کا دوسروں کو علم ہو۔ وہ دو زندگیاں بسر کرنا چاہتا تھا۔ ایک وہ جو حقیقت تھی اور ایک وہ جس کی تخلیق میں ہر گھڑی، ہر لمحہ مصروف رہتا تھا۔ لیکن اس کی زندگی کے یہ دونوں پہلو ناکام تھے۔ کیوں؟ یہ مجھے معلوم نہیں۔\n\nاس سے تیسری مرتبہ میری ملاقات پھر اپولو بندر پر ہوئی۔ اس دفعہ میں اسے اپنے گھر لے گیا۔ راستے میں ہماری کوئی بات چیت نہ ہوئی لیکن گھر پر اس کے ساتھ بہت سی باتیں ہوئیں۔ جب وہ میرے کمرے میں داخل ہواتو اس کے چہرے پر چند لمحات کے لیے اداسی چھا گئی۔ مگر وہ فوراً سنبھل گیا۔ اور اس نے اپنی عادت کے خلاف اپنے آپ کو بہت تروتازہ اور باتونی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ اس کو اس حالت میں دیکھ کر مجھے اس پر اور بھی ترس آگیا۔ وہ ایک موت جیسی یقینی حقیقت کو جھٹلا رہا تھا۔ اور مزا یہ ہے کہ اس خود فریبی سے کبھی کبھی وہ مطمئن بھی نظر آتا تھا۔\n\nباتوں کے دوران میں اس کی نظر میرے میز پر پڑی۔ شیشے کے فریم میں اس کو ایک لڑکی کی تصویر نظر آئی۔ اٹھ کر اس نے تصویر کی طرف جاتے ہوئے کہا، ’’کیا میں آپ کی اجازت سے یہ تصویر دیکھ سکتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا، ’’بصد شوق۔ ’’اس نے تصویر کو ایک نظر دیکھا اور دیکھ کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ اچھی خوبصورت لڑکی ہے۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی۔۔۔‘‘\n\n’’جی نہیں۔۔۔ ایک زمانہ ہوا۔ اس سے محبت کرنے کا خیال میرے دل میں پیدا ہوا تھا۔ بلکہ یوں کہیے کہ تھوڑی سی محبت میرے دل میں پیدا بھی ہو گئی تھی۔ مگر افسوس ہے کہ اس کو اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ اور میں۔۔۔ میں۔۔۔نہیں، بلکہ وہ بیاہ دی گئی۔۔۔ یہ تصویر میری پہلی محبت کی یادگار ہےجو اچھی طرح پیدا ہونے سے پہلے ہی مر گئی۔۔۔‘‘\n\n’’یہ آپ کی محبت کی یادگار ہے۔۔۔ اس کے بعد تو آپ نے اور بھی بہت سے رومان لڑائے ہوں گے۔‘‘ اس نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔ ’’یعنی آپ کی زندگی میں تو کئی ایسی نامکمل اور مکمل محبتیں موجود ہوں گی۔‘‘\n\nمیں کہنے ہی والا تھا کہ جی نہیں خاکسار بھی محبت کے معاملے میں آپ جیسا بنجر ہے۔ مگر جانے کیوں یہ کہتا کہتا رک گیا۔ اور خواہ مخواہ جھوٹ بول دیا۔ ’’جی ہاں۔۔۔ ایسے سلسلے ہوتے رہتے ہیں۔۔۔آپ کی کتابِ زندگی بھی تو ایسے واقعات سے بھر پور ہو گی۔‘‘\n\nوہ کچھ نہ بولااور بالکل خاموش ہو گیا۔ جیسے کسی گہرے سمندر میں غوطہ لگا گیا ہے۔ دیر تک جب وہ اپنے خیالات میں غرق رہا اور میں اس کی خاموشی سے اداس ہونے لگا۔ تو میں نے کہا، ’’اجی حضرت! آپ کن خیالات میں کھو گئے؟‘‘ وہ چونک پڑا، ’’میں۔۔۔ میں۔۔۔ کچھ نہیں میں ایسے ہی کچھ سوچ رہا تھا۔‘‘ میں نے پوچھا، ’’کوئی بیتی کہانی یاد آ گئی۔۔۔کوئی بچھڑا ہوا سپنا مل گیا۔۔۔پرانے زخم ہرے ہو گئے؟‘‘\n\n’’زخم۔۔۔ پرانے۔۔۔ زخم۔۔۔ کئی زخم نہیں۔۔۔ صرف ایک ہی ہے، بہت گہرا، بہت کاری۔۔۔ اور زخم میں چاہتا بھی نہیں۔ ایک ہی زخم کافی ہے‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اور میرے کمرے میں ٹہلنے کی کوشش کرنے لگا۔ کیونکہ اس چھوٹی سی جگہ میں جہاں کرسیاں، میز اور چارپائی سب کچھ پڑا تھا۔ ٹہلنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ میز کے پاس اسے رکنا پڑا۔ تصویر کو اب کی دفعہ گہری نظروں سے دیکھا اور کہا، ’’اس میں اور اس میں کتنی مشابہت ہے۔۔۔ مگر اس کے چہرے پر ایسی شوخی نہیں تھی۔ اس کی آنکھیں بڑی تھیں۔ مگر ان آنکھوں کی طرح ان میں شرارت نہیں تھی۔ وہ فکر مند آنکھیں تھی۔ ایسی آنکھیں جو دیکھتی بھی ہیں اور سمجھتی بھی ہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے ایک سرد آہ بھری اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ موت بالکل ناقابلِ فہم چیز ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب کہ یہ جوانی میں آئے۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ خدا کے علاوہ ایک طاقت اور بھی ہے جو بڑی حاسد ہے۔ جو کسی کو خوش دیکھنا نہیں چاہتی۔۔۔ مگر چھوڑیے اس قصّے کو۔‘‘\n\nمیں نے اس سے کہا، ’’نہیں نہیں، آپ سناتے جائیے۔۔۔ لیکن اگر آپ ایسا مناسب سمجھیں۔۔۔ سچ پوچھیے تو میں یہ سمجھ رہا تھاکہ آپ نے کبھی محبت کی ہی نہ ہو گی۔‘‘\n\n’’یہ آپ نے کیسے سمجھ لیا کہ میں نے کبھی محبت کی ہی نہیں اور ابھی ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کہ میری کتاب زندگی ایسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہو گی۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے میری طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ ’’میں نے اگر محبت نہیں کی تو یہ دکھ میرے دل میں کہاں سے پیدا ہو گیا ہے؟ میں نے اگر محبت نہیں کی تو میری زندگی کو یہ روگ کہاں سے چمٹ گیا ہے؟ میں روز بروز موم کی طرح کیوں پگھلا جا رہا ہوں؟‘‘\n\nبظاہر یہ تمام سوال وہ مجھ سے کر رہا تھا۔ مگر دراصل وہ سب کچھ اپنے آپ ہی سے پوچھ رہا تھا۔\n\nمیں نے کہا، ’’میں نے جھوٹ بولا تھاکہ آپ کی زندگی میں ایسے کئی واقعات ہوں گے۔ مگر آپ نے بھی جھوٹ بولا تھا کہ میں اداس نہیں ہوں اور مجھے کوئی روگ نہیں ہے۔۔۔کسی کے دل کا حال جاننا آسان بات نہیں ہے، آپ کی اداسی کی اور بہت سی وجہیں ہو سکتی ہیں۔ مگر جب تک مجھے آپ خود نہ بتائیں میں کسی نتیجے پر کیسے پہنچ سکتا ہوں۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ واقعی روز بروز کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ آپ کو یقیناًبہت بڑا صدمہ پہنچا ہے اور۔۔۔ اور۔۔۔ مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔‘‘\n\n’’ہمدردی۔۔۔‘‘ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ’’مجھے کسی کی ہمدردی کی ضرورت نہیں اس لیے کہ ہمدردی اسے واپس نہیں لا سکتی۔۔۔ اس عورت کو موت کی گہرائیوں سے نکال کر میرے حوالے نہیں کر سکتی جس سے مجھے پیار تھا۔آپ نے محبت نہیں کی۔ مجھے یقین ہے، آپ نے محبت نہیں کی، اس لیے کہ اس کی ناکامی نے آپ پر کوئی داغ نہیں چھوڑا۔ میری طرف دیکھیے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے خود اپنے آپ کو دیکھا۔ ’’کوئی جگہ آپ کو ایسی نہیں ملے گی جہاں میری محبت کے نقش موجود نہ ہوں۔۔۔ میرا وجود خود اس محبت کی ٹوٹی ہوئی عمارت کا ملبہ ہے۔۔۔ میں آپ کو یہ داستان کیسے سناؤں اور کیوں سناؤں جب کہ آپ اسے سمجھ ہی نہیں سکیں گے۔۔۔ کسی کا یہ کہہ دینا کہ میری ماں مر گئی ہےآپ کے دل پر وہ اثر پیدا نہیں کر سکتا جو موت نے بیٹے پر کیا تھا۔۔۔ میری داستان محبت آپ کو۔۔۔ کسی کو بھی بالکل معمولی معلوم ہو گی مگر مجھ پر جو اثر ہوا ہے اس سے کوئی بھی آگاہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ محبت میں نے کی ہے اور سب کچھ صرف مجھی پر گزرا ہے۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ اس کے حلق میں تلخی پیدا ہو گئی تھی۔ کیونکہ وہ بار بار تھوک نگلنے کی کوشش کر رہا تھا۔\n\n’’کیا وہ آپ کو دھوکا دے گئی۔‘‘ میں نے اس سے پوچھا، ’’یا کچھ اور حالات تھے؟‘‘\n\n’’دھوکا۔۔۔ وہ دھوکا دے ہی نہیں سکتی تھی۔ خدا کے لیے دھوکا نہ کہیے۔ وہ عورت نہیں فرشتہ تھی۔ مگربراہواس موت کا جو ہمیں خوش نہ دیکھ سکی۔ اور اسے ہمیشہ کے لیے اپنے پروں میں سمیٹ کر لے گئی۔۔۔ آہ! آپ نے میرے دل پر خراشیں پیدا کر دی ہیں۔ سنیے۔۔۔ سنیے، میں آپ کو درد ناک داستان کا کچھ حصّہ سناتا ہوں۔۔۔ وہ ایک بڑے اور امیر گھرانے کی لڑکی تھی جس زمانے میں اس کی اور میری پہلی ملاقات ہوئی۔ میں اپنے باپ دادا کی ساری جائیداد عیاشیوں میں برباد کر چکا تھا۔ میرے پاس ایک کوڑی بھی نہیں تھی۔ پھر بمبئی چھوڑ کر میں لکھنو چلا آیا۔ اپنی موٹر چونکہ میرے پاس ہوا کرتی تھی۔ اس لیے میں صرف موٹر چلانے کا کام جانتا تھا۔ چنانچہ میں نے اسی کو اپنا پیشہ قرار دینے کا فیصلہ کیا۔ پہلی ملازمت مجھے ڈپٹی صاحب کے یہاں ملی۔ جن کی اکلوتی لڑکی تھی۔۔۔‘‘ یہ کہتے کہتے وہ اپنے خیالات میں کھو گیا۔ اور دفعتا چپ ہو گیا، میں بھی خاموش رہا۔\n\nتھوڑی دیر بعد وہ پھرچونکا اور کہنے لگا۔\n\n’’میں کیا کہہ رہا تھا؟‘‘\n\n’’آپ ڈپٹی صاحب کے یہاں ملازم ہو گئے۔‘‘\n\n’’ہاں وہ انہی ڈپٹی صاحب کی اکلوتی لڑکی تھی ہر روز صبح نو بجے میں زہرہ کو موٹر میں اسکول لے جایا کرتا تھا۔ وہ پردہ کرتی تھی مگر موٹر ڈرائیور سے کوئی کب تک چھپ سکتا ہے۔ میں نے اسے دوسرے روز ہی دیکھ لیا۔۔۔ وہ صرف خوبصورت ہی نہیں تھی۔ اس میں ایک خاص بات بھی تھی۔۔۔ بڑی سنجیدہ اور متین لڑکی تھی۔ اس کی سیدھی مانگ نے اس کے چہرے پر ایک خاص قسم کا وقار پیدا کر دیا تھا۔۔۔ وہ۔۔۔ میں کیا عرض کروں وہ کیا تھی۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اس کی صورت اور سیرت بیان کر سکوں۔۔۔‘‘\n\nبہت دیر تک وہ اپنی زہرہ کی خوبیاں بیان کرتا رہا۔ اس دوران میں اس نے کئی مرتبہ اس کی تصویر کھینچنے کی کوشش کی۔ مگر ناکام رہا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خیالات اس کے دماغ میں ضرورت سے زیادہ جمع ہو گئے ہیں۔ کبھی کبھی بات کرتے کرتے اس کا چہرہ تمتما اٹھتا۔ لیکن پھر اداسی چھا جاتی۔ اور وہ آہوں میں گفتگو کرنا شروع کر دیتا ۔وہ اپنی داستان بہت آہستہ آہستہ سنا رہا تھا۔ جیسے خود بھی مزا لے رہا ہو۔ ایک ایک ٹکڑا جوڑ کر اس نے ساری کہانی پوری کی جس کا ماحصل یہ تھا۔\n\nزہرہ سے اسے بے پناہ محبت ہو گئی۔ کچھ دن تو موقع پا کر اس کا دیدار کرنے اور طرح طرح کے منصوبے باندھنے میں گزر گئے۔ مگر جب اس نے سنجیدگی سے اس محبت پر غور کیا تو خود کو زہرہ سے بہت دور پایا۔ ایک موٹر ڈرائیور اپنے آقا کی لڑکی سے محبت کیسے کر سکتا ہے؟ چنانچہ جب اس تلخ حقیقت کا احساس اس کے دل میں پیدا ہوا تو وہ مغموم رہنے لگا۔ لیکن ایک دن اس نے بڑی جرات سے کام لیا ،کاغذ کے ایک پرزے پر اس نے زہرہ کو چند سطریں لکھیں۔۔۔یہ سطریں مجھے یاد ہیں۔\n\n’’زہرہ! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تمہارا نوکر ہوں! تمہارے والد صاحب مجھے تیس روپے ماہوار دیتے ہیں۔ مگر میں تم سے محبت کرتا ہوں۔۔۔ میں کیا کروں، کیا نہ کروں، میری سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔‘‘\n\nیہ سطریں کاغذ پر لکھ کر اس نے کاغذ اس کی کتاب میں رکھ دیا۔ دوسرے روز جب وہ اسے موٹر میں اسکول لے گیا۔ تو اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ہینڈل کئی بار اس کی گرفت سے نکل نکل گیا۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ کوئی ایکسی ڈنٹ نہ ہوا۔ اس روز اس کی کیفیت عجیب رہی۔ شام کو جب وہ زہرہ کو اسکول سے واپس لا رہا تھا۔ تو راستے میں اس لڑکی نے موٹر روکنے کے لیے کہا۔ اس نے جب موٹر روک لی تو زہرہ نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ کہا، ’’دیکھو نعیم آئندہ تم ایسی حرکت کبھی نہ کرنا۔ میں نے ابھی تک ابّا جی سے تمہارے اس خط کا ذکر نہیں کیا جو تم نے میرے کتاب میں رکھ دیا تھا۔ لیکن اگر پھر تم نے ایسی حرکت کی۔ تو مجبوراً ان سے شکایت کرنا پڑے گی۔ سمجھے۔۔۔ چلو اب موٹر چلاؤ۔‘‘\n\nاس گفتگو کے بعد اس نے بہت کوشش کی کہ ڈپٹی صاحب کی نوکری چھوڑ دے اور زہرہ کی محبت کو اپنے دل سے ہمیشہ کے لیے مٹا دےمگر وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ ایک مہینہ اسی کشمکش میں گزر گیا۔ ایک روز اس نے پھر جرأت سے کام لے کر خط لکھا اور زہرہ کی ایک کتاب میں رکھ کر اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار کرنے لگا۔ اسے یقین تھا کہ دوسرے روز صبح کو اسے نوکری سے برطرف کر دیا جائے گا۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ شام کو اسکول سے واپس آتے ہوئے زہرہ اس سے ہم کلام ہوئی۔ ایک بار پھر اس کو ایسی حرکتوں سے باز رہنے کے لیے کہا، ’’اگر تمہیں اپنی عزت کا خیال نہیں تو کم از کم میری عزت کا تو کچھ خیال تمہیں ہونا چاہیے‘‘ یہ اس نے ایک بار پھر،اسے کچھ اس سنجیدگی اور متانت سے کہاکہ نعیم کی ساری امیدیں فنا ہو گئیں۔ اور اس نے قصد کر لیا کہ وہ نوکری چھوڑ دے گا۔ اور لکھنؤ سے ہمیشہ کے لیے چلا جائے گا۔ مہینے کے اخیر میں نوکری چھوڑنے سے پہلے اس نے اپنی کوٹھری میں لالٹین کی مدھم روشنی میں زہرہ کو آخری خط لکھا۔\n\nاس میں اس نے نہایت درد بھرے لہجے میں اس سے کہا، ’’زہرہ! میں نے بہت کوشش کی کہ میں تمہارے کہے پر عمل کر سکوں مگر دل پر میرا اختیار نہیں ہے۔ یہ میرا آخری خط ہے۔ کل شام کو میں لکھنؤ چھوڑ دوں گا۔ اس لیے تمہیں اپنے والد صاحب سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ تمہاری خاموشی میری قسمت کا فیصلہ کر دے گی۔ مگر یہ خیال نہ کرنا کہ تم سے دور رہ کر تم سے محبت نہیں کروں گا۔ میں جہاں کہیں بھی رہوں گا۔ میرا دل تمہارے قدموں میں ہو گا۔۔۔ میں ہمیشہ ان دنوں کو یاد کرتا رہوں گا۔ جب میں موٹر آہستہ آہستہ چلاتا تھا کہ تمہیں دھکا نہ لگے۔۔۔میں اس کے سوا اور تمہارے لیے کر ہی کیا سکتا تھا۔۔۔‘‘\n\nیہ خط بھی اس نے موقع پاکر اس کتاب میں رکھ دیا۔ صبح کو زہرہ نے اسکول جاتے ہوئے اس سے کوئی بات نہ کی۔ اور شام کو بھی راستے میں اس نے کچھ نہ کہا۔ چنانچہ وہ بالکل نا امید ہو کر اپنی کوٹھری میں چلا آیا۔ جو تھوڑا بہت اسباب اس کے پاس تھا باندھ کر اس نے ایک طرف رکھ دیا۔ اور لالٹین کی اندھی روشنی میں چارپائی پر بیٹھ کر سوچنے لگاکہ زہرہ اور اس کے درمیان کتنا بڑا فاصلہ ہے۔\n\nوہ بے حد مغموم تھا۔ اپنی پوزیشن سے اچھی طرح واقف تھا۔ اسے اس بات کا احساس تھا کہ وہ ایک ادنیٰ درجے کا ملازم ہے اور اپنے آقا کی لڑکی سے محبت کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی بے اختیار ا س سے محبت کرتا ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے اور پھر اس کی محبت فریب تو نہیں۔ وہ اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ آدھی رات کے قریب اس کی کوٹھری کے دروازے پر دستک ہوئی۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ لیکن پھر اس نے خیال کیاکہ مالی ہو گا ۔ممکن ہے اس کے گھر میں کوئی ایکا ایکی بیمار پڑ گیا ہو اور وہ اس سے مدد لینے کے لیے آیا ہو۔ لیکن جب اس نے دروازہ کھولا تو زہرہ سامنے کھڑی تھی۔۔۔جی ہاں زہرہ۔۔۔دسمبر کی سردی میں شال کے بغیر وہ اس کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کی زبان گنگ ہو گئی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھاکیا کہے، چند لمحات قبر کی سی خاموشی میں گزر گئے۔ آخر زہرہ کے ہونٹ وا ہوئے اور تھرتھراتے ہوئے لہجے میں اس نے کہا، ’’نعیم میں تمہارے پاس آگئی ہوں۔ بتاؤ اب تم کیا چاہتے ہو۔۔۔ لیکن اس سے پہلے کہ تمہاری اس کوٹھری میں داخل ہوں، میں تم سے چند سوال کرنا چاہتی ہوں۔‘‘\n\nنعیم خاموش رہا۔ لیکن زہرہ اس سے پوچھنے لگی، ’’کیا واقعی تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟‘‘\n\nنعیم کو جیسے ٹھیس سی لگی۔ اس کا چہرہ تمتما اٹھا۔ ’’زہرہ تم نے ایسا سوال کیا ہے جس کا جواب اگر میں دوں تو میری محبت کی توہین ہو گی۔۔۔‘‘ میں تم سے پوچھتا ہوں۔ ’’کیا میں محبت نہیں کرتا؟‘‘\n\nزہرہ نے اس سوال کا جواب نہ دیا۔ اور تھوڑی دیر خاموش رہ کر اپنا دوسرا سوال ’’میرے باپ کے پاس دولت ہے، مگر میرے پاس ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں، جو کچھ میرا کہا جاتا ہے میرا نہیں ہے، ان کا ہے۔ کیا تم مجھے دولت کے بغیر بھی ویسا ہی عزیز سمجھو گے؟‘‘\n\nنعیم بہت جذباتی آدمی تھا۔ چنانچہ اس سوال نے بھی اس کے وقار کو زخمی کیا، بڑے دکھ بھرے لہجے میں اس نے زہرہ سے کہا، ’’زہرہ خدا کے لیے مجھ سے ایسی باتیں نہ پوچھو جن کا جواب اس قدر عام ہو چکا ہے کہ تمہیں تھرڈ کلاس عشقیہ ناولوں میں بھی مل سکتا ہے۔‘‘ زہرہ اس کی کوٹھری میں داخل ہو گئی۔ اور اس کی چارپائی پر بیٹھ کر کہنے لگی۔ ’’میں تمہاری ہوں اور ہمیشہ تمہاری رہوں گی۔‘‘\n\nزہرہ نے اپنا قول پورا کیا جب دونوں لکھنو چھوڑ کر دہلی چلے آئے اور شادی کرکے ایک چھوٹے سے مکان میں رہنے لگے۔ تو ڈپٹی صاحب ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہاں پہنچ گئے۔ نعیم کو نوکری مل گئی تھی۔ اس لیے وہ گھر میں نہیں تھا۔ ڈپٹی صاحب نے زہرہ کو بہت برا بھلا کہا۔ ان کی ساری عزت خاک میں مل گئی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ زہرہ نعیم کو چھوڑ دے اور جو کچھ ہو چکا ہے اسے بھولا جائے۔ وہ نعیم کو دو تین ہزار روپیہ دینے کے لیے بھی تیار تھے۔ مگر انھیں ناکام لوٹنا پڑا۔ اس لیے کہ زہرہ نعیم کو کسی قیمت پر بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ اس نے اپنے باپ سے کہا، ’’ابّا جی! میں نعیم کےساتھ بہت خوش ہوں۔ آپ اس سے اچھا شوہر میرے لیے کبھی تلاش نہیں کر سکتے۔ میں اور وہ آپ سے کچھ نہیں مانگتے۔ اگر آپ ہمیں دعائیں دے سکیں تو ہم آپ کے ممنون ہوں گے۔‘‘\n\nڈپٹی صاحب نے جب یہ گفتگو سنی تو بہت خشم آلودہوئے۔ انھوں نے نعیم کو قید کرا دینے کی دھمکی بھی دی مگر زہرہ نے صاف صاف کہہ دیا، ’’ابّا جی! اس میں نعیم کا کیا قصور ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم دونوں بے قصور ہیں۔ البتہ ہم ایک دوسرے سے محبت ضرور کرتے ہیں اور وہ میرا شوہر ہے۔۔۔ یہ کوئی قصور نہیں ہے میں نابالغ نہیں ہوں۔‘‘\n\nڈپٹی صاحب عقلمند تھے، فوراً سمجھ گئے کہ جب ان کی بیٹی ہی رضامند ہے تو نعیم پر کیسے جرم عائد ہو سکتا ہے۔ چنانچہ وہ زہرہ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے گئے۔ کچھ عرصے کے بعد ڈپٹی صاحب نے مختلف لوگوں کے ذریعے سے نعیم پر دباؤ ڈالنے اور اس کو روپے پیسے سے لالچ دینے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔\n\nدونوں کی زندگی بڑے مزے میں گزر رہی تھی۔ گو نعیم کی آمدنی بہت ہی کم تھی اور زہرہ کو جو نازونعم میں پلی تھی، بدن پر کھُردرے کپڑے پہننے پڑتے تھے۔ اور اپنے ہاتھ سے سب کام کرنے پڑتے تھے۔ مگر وہ خوش تھی۔ اور خود کو ایک نئی دنیا میں پاتی تھی۔ وہ بہت سکھی تھی۔۔۔ بہت سکھی۔ نعیم بھی بہت خوش تھا۔ لیکن ایک روز خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ زہرہ کے سینے میں موذی درد اٹھا اور پیشتر اس کے کہ نعیم اس کے لیے کچھ کر سکے وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئی اور نعیم کی دنیا ہمیشہ کے لیے تاریک ہو گئی۔\n\nیہ داستان اس نے رک رک کر اور خود مزے لے لے کر قریباً چار گھنٹوں میں سنائی۔ جب وہ اپنا حال دل سنا چکا۔ تو اس کا چہرہ بجائے زرد ہونے کے تمتما اٹھا جیسے اس کے اندر آہستہ آہستہ کسی نے خون داخل کر دیا ہے۔ لیکن اس کی آنکھوں میں آنسوتھے اور اس کا حلق سوکھ گیا تھا۔\n\nداستان جب ختم ہوئی تو وہ فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔ جیسے اسے بہت جلدی ہے اور کہنے لگا، ’’میں نے بہت غلطی کی۔۔۔جو آپ کو اپنی داستانِ محبت سنا دی۔۔۔میں نے بہت غلطی کی۔۔۔ زہرہ کا ذکر صرف مجھی تک محدود رہنا چاہیے تھا۔۔۔لیکن۔۔۔ اس کی آواز بھرّا گئی۔۔۔ میں زندہ ہوں اور وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ اس سے آگے وہ کچھ نہ کہہ سکا اور جلدی سے میرا ہاتھ دبا کر کمرے سے باہر چلا گیا۔\n\nنعیم سے پھر میری ملاقات نہ ہوئی۔ اپولوبندر پر کئی مرتبہ اس کی تلاش میں گیا۔ مگر وہ نہ ملا ۔چھ یا سات مہینے کے بعد اس کا ایک خط مجھے ملا۔ جو میں یہاں پر نقل کر رہا ہوں۔\n\nصاحب!\n\nآپ کو یاد ہو گا۔ میں نے آپ کے مکان پر اپنی داستانِ محبت سنائی تھی۔ وہ محض فسانہ تھا۔ ایک جھوٹا فسانہ۔ کوئی زہرہ ہے نہ نعیم۔۔۔ میں ویسے موجود تو ہوں مگر وہ نعیم نہیں ہوں جس نے زہرہ سے محبت کی تھی۔ آپ نے ایک بار کہا تھا کہ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو محبت کے معاملے میں بانجھ ہوتے ہیں۔ میں بھی ان بدقسمت آدمیوں میں سے ایک ہوں جس کی ساری جوانی اپنا دل پرچانے میں گزرگئی۔ زہرہ سے نعیم کی محبت ایک دلی بہلاوا تھا اور زہرہ کی موت۔۔۔ میں ابھی تک نہیں سمجھ سکاکہ میں نے اسے کیوں مار دیا۔ بہت ممکن ہے کہ اس میں بھی میری زندگی کی سیاہی کا دخل ہو۔\n\nمجھے معلوم نہیں آپ نے میرے افسانے کو جھوٹا سمجھا یا سچا لیکن میں آپ کو ایک عجیب و غریب بات بتاتا ہوں کہ میں نے۔۔۔ یعنی اس جھوٹے افسانے کے خالق نے اس کو بالکل سچا سمجھا۔ سو فیصدی حقیقت پر مبنی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے واقعی زہرہ سے محبت کی ہےاور وہ سچ مچ مر چکی ہے۔ آپ کو یہ سن کر اور بھی تعجب ہو گا کہ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا۔ اس افسانے کے اندر حقیقت کا عنصر زیادہ ہوتا گیا۔ اور زہرہ کی آواز ، اس کی ہنسی بھی میرے کانوں میں گونجنے لگی۔ میں اس کے سانس کی گرمی تک محسوس کرنے لگا۔ افسانے کا ہر ذرہ جاندار ہو گیااور میں نے۔۔۔ اور میں نے یوں اپنی قبر اپنے ہاتھوں سے کھودی۔\n\nزہرہ فسانہ نہ سہی مگر میں تو فسانہ ہوں۔ وہ مر چکی ہے۔ اس لیے مجھے بھی مر جانا چاہیے۔ یہ خط آپ کو میری موت کے بعد ملے گا۔۔۔الوداع۔۔۔ زہرہ مجھے ضرور ملے گی۔۔۔ کہاں! یہ مجھے معلوم نہیں۔\n\nمیں نے یہ چند سطور صرف اس لیے آپ کو لکھ دی ہیں کہ آپ افسانہ نگار ہیں اگر اس سے آپ افسانہ تیار کر لیں تو آپ کو سات آٹھ روپے مل جائیں گے۔ کیونکہ ایک مرتبہ آپ نے کہا تھا کہ افسانے کا معاوضہ آپ کو سات سے دس روپے تک مل جایا کرتا ہے۔ یہ میرا تحفہ ہو گا۔ اچھا الوداع۔\n\nآپ کا ملاقاتی،\n\n’’نعیم‘‘\n\nنعیم نے اپنے لیے زہرہ بنائی اور مر گیا۔۔۔ میں نے اپنے لیے یہ افسانہ تخلیق کیا ہے اور زندہ ہوں۔۔۔ یہ میری زیادتی ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AC%DA%BE"} {"title": "بانو نے کہا قطرہ نہیں شیر کا ہے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بانو نے کہا قطرہ نہیں شیر کا ہے\nاور حال برا اصغر دلگیر کا ہے\nشہہ بولے کہ تم صبر کرو شکر کرو\nکوثر میں بھی اب فاصلہ اک تیر کا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D9%86%D9%88_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D9%82%D8%B7%D8%B1%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "بانی جور و جفا ہیں ستم ایجاد ہیں سب", "poet_page": "مصنف:امانت لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بانی جور و جفا ہیں ستم ایجاد ہیں سب\nراحت جاں کوئی دلبر نہیں جلاد ہیں سب\n\nکبھی طوبیٰ ترے قامت سے نہ ہوگا بالا\nباتیں کہنے کی یہ اے غیرت شمشاد ہیں سب\n\nمژہ و ابرو و چشم و نگہ و غمزہ و ناز\nحق جو پوچھو تو مری جان کے جلاد ہیں سب\n\nسرو کو دیکھ کے کہتا ہے دل بستۂ زلف\nہم گرفتار ہیں اس باغ میں آزاد ہیں سب\n\nکچھ ہے بیہودہ و ناقص تو امانتؔ کا کلام\nیوں تو کہنے کو فن شعر میں استاد ہیں سب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8"} {"title": "باہم بلند و پست ہیں کیف شراب کے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باہم بلند و پست ہیں کیف شراب کے\nآنکھوں میں ہیں طلوع و غروب آفتاب کے\n\nپیتے ہیں سرخ و زرد پیالے شراب کے\nکیا کیا ہیں اوج و پست میں رنگ آفتاب کے\n\nبرسوں سے ڈھونڈھتا ہے مضامیں شراب کے\nگردوں الٹ رہا ہے ورق آفتاب کے\n\nساقی انڈیل جام صبوحی سبو کی خیر\nمشتاق کب سے ہیں لب شب آفتاب کے\n\nاٹھے وہ دود دل کہ فلک ہو گیا سیاہ\nگل ہو گئے چراغ مہ و آفتاب کے\n\nلکھوں جو ان کے چہرۂ روشن کا وصف میں\nپیدا کروں زبان و دہن آفتاب کے\n\nدھو دے شراب سے مرے انگور زخم کو\nتا جلوے بخشیں زخم کہن آفتاب کے\n\nکھو دے گا دود آہ فلک کی برہنگی\nڈالے گی شام منہ پہ نقاب آفتاب کے\n\nخالی کہاں فلک ستم روزگار سے\nرکھتا ہے دل پہ داغ مہ و آفتاب کے\n\nجانے تو دو فلک پہ مرے نالۂ جنوں\nپرزے اڑائیں گے ورق آفتاب کے\n\nاے چرخ پیر دیکھ لیں اٹھکھیلیاں تری\nیاد آ گئے ہمیں بھی زمانے شباب کے\n\nپائی ہے میں نے زخم سے تعلیم خامشی\nگویا لب سکوت دہن ہیں جواب کے\n\nمحروم آرزو ہیں صدائے شکست میں\nرہ رہ گئے ہیں بھر کے پھپھولے حباب کے\n\nکس اعتبار میں نفس چند اے نسیمؔ\nشب ہر کے واسطے یہ تماشے ہیں خواب کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85_%D8%A8%D9%84%D9%86%D8%AF_%D9%88_%D9%BE%D8%B3%D8%AA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%81_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%92"} {"title": "باہم جو حسن و عشق میں یارانہ ہو گیا", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "باہم جو حسن و عشق میں یارانہ ہو گیا\nکوئی پری بنا کوئی دیوانہ ہو گیا\n\nاتنی سی بات پر کہ ہوئی شمع بے حجاب\nتیار جان دینے کو پروانہ ہو گیا\n\nتنگ آ گیا ہوں وسعت مفہوم عشق سے\nنکلا جو حرف منہ سے وہ افسانہ ہو گیا\n\nہر دل میں یاد بن کے چھپے ہیں بتان عشق\nاللہ تیرا گھر بھی صنم خانہ ہو گیا\n\nفارغ تکلفات سے ہیں رند بے ریا\nچلو ہی ان کے واسطے پیمانہ ہو گیا\n\nتفصیل اپنے جور و ستم کی نہ پوچھئے\nکیا کیا نہ آپ نے کیا کیا کیا نہ ہو گیا\n\nدیکھی ہے جب سے آنکھ کسی کی پھری ہوئی\nعالم مری نگاہ میں بیگانہ ہو گیا\n\nخوش ہوں کہ ہو رہا ہے یہ ارشاد لے کے دل\nاحسنؔ قبول تیرا یہ نذرانہ ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بت اپنے آپ کو کیا جانے کیا سمجھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بت اپنے آپ کو کیا جانے کیا سمجھتے ہیں\nمرا خدا انہیں سمجھے خدا سمجھتے ہیں\n\nادا شناس کی اپنے ادا سمجھتے ہیں\nکہ بے کہے وہ مرا مدعا سمجھتے ہیں\n\nسمجھنے والے تمہاری ادا سمجھتے ہیں\nوہ اور کچھ ہے جسے سب قضا سمجھتے ہیں\n\nفلک کا نام نہ لے کوئی سامنے ان کے\nوہ اس کے ذکر کو اپنا گلا سمجھتے ہیں\n\nمجھے یہ آپ کے سر کی قسم نہ تھا معلوم\nکہ آپ بھی رہ و رسم وفا سمجھتے ہیں\n\nیہ شوخیاں بھی حسینوں کی کیا قیامت ہیں\nشب وصال کو روز جزا سمجھتے ہیں\n\nیہ دن شباب کے ہیں کوئی کیا کہے ان کو\nابھی وہ کچھ نہیں اچھا برا سمجھتے ہیں\n\nتمہارے کھوئے ہوؤں کا عجیب مسلک ہے\nجو راہزن بھی ملے رہنما سمجھتے ہیں\n\nشب وصال مرے ہم نشیں سے فرمایا\nیہی تو ہیں جو ہمیں بے وفا سمجھتے ہیں\n\nخدا کرے کہیں موقع سے مجھ کو مل جائیں\nیہی حسیں جو مجھے پارسا سمجھتے ہیں\n\nہمیں یہ حق ہے ترا منہ بھی چومتے جائیں\nکہ تیرے شکوۂ بے جا بجا سمجھتے ہیں\n\nنہ منع کر مے و معشوق سے ہمیں واعظ\nکہ ہم شباب میں سب کچھ روا سمجھتے ہیں\n\nخدا کی شان یہ کوٹھوں کے بیٹھنے والے\nہماری آہ کو اب نارسا سمجھتے ہیں\n\nریاضؔ عشق میں کافر بتوں کے ہے بے خود\nمزا یہ ہے وہ اسے پارسا سمجھتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بت بھی اس میں رہتے تھے دل یار کا بھی کاشانہ تھا", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بت بھی اس میں رہتے تھے دل یار کا بھی کاشانہ تھا\nایک طرف کعبے کے جلوے ایک طرف بت خانہ تھا\n\nدلبر ہیں اب دل کے مالک یہ بھی ایک زمانہ ہے\nدل والے کہلاتے تھے ہم وہ بھی ایک زمانہ تھا\n\nپھول نہ تھے آرائش تھی اس مست ادا کی آمد پر\nہاتھ میں ڈالی ڈالی کے ایک ہلکا سا پیمانہ تھا\n\nہوش نہ تھا بے ہوشی تھی بے ہوشی میں پھر ہوش کہاں\nیاد رہی خاموشی تھی جو بھول گئے افسانہ تھا\n\nدل میں وصل کے ارماں بھی تھے اور ملال فرقت بھی\nآبادی کی آبادی ویرانے کا ویرانہ تھا\n\nاف رے باد جوش جوانی آنکھ نہ ان کی اٹھتی تھی\nمستانہ ہر ایک ادا تھی ہر عشوہ مستانہ تھا\n\nشمع کے جلوے بھی یارب کیا خواب تھا جلنے والوں کا\nصبح جو دیکھا محفل میں پروانہ ہی پروانہ تھا\n\nدیکھ کے وہ تصویر مری کچھ کھوئے ہوئے سے کہتے ہیں\nہاں ہاں یاد تو آتا ہے اس شکل کا اک دیوانہ تھا\n\nغیر کا شکوہ کیوں کر رہتا دل میں جب امیدیں تھیں\nاپنا پھر بھی اپنا تھا بیگانہ پھر بیگانہ تھا\n\nبیدمؔ اس انداز سے کل یوں ہم نے کہی اپنی بیتی\nہر ایک نے سمجھا محفل میں یہ میرا ہی افسانہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "بت بے‌ درد کا غم مونس ہجراں نکلا", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بت بے‌ درد کا غم مونس ہجراں نکلا\nدرد جانا تھا جسے ہم نے وہ درماں نکلا\n\nآنکھ جب بند ہوئی تب کھلیں آنکھیں اپنی\nبزم یاراں جسے سمجھے تھے وہ زنداں نکلا\n\nحسرت و یاس کا انبوہ فغاں کی کثرت\nمیں تری بزم سے کیا با سر و ساماں نکلا\n\nخون ہو کر تو یہ دل آنکھ سے برسوں ٹپکا\nنہ کوئی پر دل ناکام کا ارماں نکلا\n\nآئنہ پیکر تصویر نگاہ مشتاق\nجسے دیکھا تری محفل میں وہ حیراں نکلا\n\nمجھ کو حیرت ہے ہوا کیا دم رخصت ہمدم\nجان نکلی مرے پہلو سے کہ جاناں نکلا\n\nخوب دوزخ کی مصیبت سے بچے ہم حسرتؔ\nاس کا داروغہ وہی یار کا درباں نکلا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DB%92%E2%80%8C_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%D9%85%D9%88%D9%86%D8%B3_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "بت خانے سے دل اپنے اٹھائے نہ گئے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بت خانے سے دل اپنے اٹھائے نہ گئے\nکعبے کی طرف مزاج لائے نہ گئے\nطور مسجد کو برہمن کیا جانے\nیاں مدت عمر میں ہم آئے نہ گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "بت غنچہ دہن پہ نثار ہوں میں نہیں جھوٹ کچھ اس میں خدا کی قسم", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بت غنچہ دہن پہ نثار ہوں میں نہیں جھوٹ کچھ اس میں خدا کی قسم\nمرا طائر دل اسی قید میں ہے مجھے زلف کے دام بلا کی قسم\n\nنہیں بھاتا مجھے کوئی رشک پری کوئی لاکھ حسیں ہو بلا سے مری\nمرا دل ترا عاشق شیفتہ ہے مجھے تیرے ہی ناز و ادا کی قسم\n\nمرے دل کو ذرا نہیں تاب و تعب کہ اٹھاؤں تمہارا یہ قہر و غضب\nمرے قتل میں دیر نہ چاہئے اب تمہیں اپنے ہی جور و جفا کی قسم\n\nنہ تو حور ہی کو یہ ملا ہے نمک نہ پری ہی کے رخ میں ہے ایسی چمک\nترے سامنے پھیکے ہیں شمس و قمر مجھے ترے ہی رخ کی ضیا کی قسم\n\nمجھے عطر حنا کی نہیں ہے ہوا مجھے پھولوں سے ہوتا ہے داغ سوا\nکبھی نکہت زلف سنگھا دے صبا تجھے نافۂ مشک خطا کی قسم\n\nمرے بعد سہے گا نہ کوئی بھی غم نہ اٹھے گا کسی سے یہ رنج و الم\nکرو ترک تم آج سے ظلم و ستم تمہیں اپنی ہی مہر و وفا کی قسم\n\nکبھی درد سے روتا ہو آغاؔ اگر تو ہنسی سے یہ کہتا ہے وہ گل تر\nمرا مان کہا ارے نالہ نہ کر تجھے بلبل نغمہ سرا کی قسم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA_%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%81_%D8%AF%DB%81%D9%86_%D9%BE%DB%81_%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85"} {"title": "بت پرستی سے نہ طینت مری زنہار پھری", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بت پرستی سے نہ طینت مری زنہار پھری\nصبح سو بار خریدی گئی سو بار پھری\n\nبارہا قہقہوں میں تو نے اڑایا ہے اسے\nشمع روتی تری محفل سے ہے سو بار پھری\n\nچل بسی فصل خزاں موسم گل آ پہنچا\nلے مبارک ہو ہوا بلبل گل زار پھری\n\nایک جا بھی نظر آئی نہ اثر کی صورت\nگرتی پڑتی نہ کہاں آہ‌ دل زار پھری\n\nزلف جاناں کے جو سودے میں ہوا سرگشتہ\nسائے کی طرح مرے ساتھ شب تار پھری\n\nبھیک منگوائی فقیروں کی طرح شاہوں کو\nایسی نیت تری اے چرخ ستم گار پھری\n\nاے صباؔ دیکھ لیا ہم نے اسی تک سب تھے\nپھر گیا سارا جہاں جب نظر‌ یار پھری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B7%DB%8C%D9%86%D8%AA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%8C"} {"title": "بت پرستی کے صنم خانے کا آثار نہ توڑ", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بت پرستی کے صنم خانے کا آثار نہ توڑ\nکعبۂ دل مرا مست مئے پندار نہ توڑ\n\nعہد‌ میثاق کا لازم ہے ادب اے واعظ\nہے یہ پیمان وفا رشتۂ زنار نہ توڑ\n\nمحتسب سنگ پہ تو شیشۂ مے کو نہ پٹک\nدل رندان مے آشام کو زنہار نہ توڑ\n\nرحم کر رحم کہ یہ چشم چمن کا ہے چراغ\nجلوۂ گل سے ہے زینت اسے اے یار نہ توڑ\n\nتوبہ کرنی تجھے واجب ہی نہ تھی اے ساحرؔ\nوہ جو ہونا تھا ہوا اب اسے بے کار نہ توڑ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%88%DA%91"} {"title": "بت کافر جو تو مجھ سے خفا ہے", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بت کافر جو تو مجھ سے خفا ہو\nنہیں کچھ خوف میرا بھی خدا ہے\n\nیہ در پردہ ستاروں کی صدا ہے\nگلی کوچہ میں گر کہیے بجا ہے\n\nرقیبوں میں وہ ہوں گے سرخ رو آج\nہمارے قتل کا بیڑا لیا ہے\n\nیہی ہے تار اس مطرب کا ہر روز\nنیا اک راگ لا کر چھیڑتا ہے\n\nشنیدہ کے بود مانند دید\nتجھے دیکھا ہے حوروں کو سنا ہے\n\nپہنچتا ہوں جو میں ہر روز جا کر\nتو کہتے ہیں غضب تو بھی رساؔ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "بت کدہ میں نہ تجھے کعبے کے اندر پایا", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بت کدہ میں نہ تجھے کعبے کے اندر پایا\nدونوں عالم سے جدا ہم نے ترا گھر پایا\n\nیوں تو دنیا میں قیامت کے پری رو دیکھے\nسب سے بڑھ کر تجھے اے فتنۂ محشر پایا\n\nاپنی اپنی ہے یہ تقدیر سبھی تھے سائل\nایک کو شیشہ ملا ایک نے پتھر پایا\n\nبے خودی نے مجھے دیدار دکھایا تیرا\nتجھ کو پایا تو مگر آپ کو کھو کر پایا\n\nچشمۂ فیض ہے کیا ذات مرے ساقی کی\nایک قطرہ کو کہا جس نے سمندر پایا\n\nخوش نصیب آپ بھی دنیا میں ہیں کیا اے جوہرؔ\nمنتظر یار کو پہلے ہی سے در پر پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%AF%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بت کدہ نزدیک کعبہ دور تھا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بت کدہ نزدیک کعبہ دور تھا\nمیں ادھر ہی رہ گیا مجبور تھا\n\nشام ہی سے ہم کہیں جاتے تھے روز\nمدتوں اپنا یہی دستور تھا\n\nوہ کیا جس میں خوشی تھی آپ کی\nوہ ہوا جو آپ کو منظور تھا\n\nکچھ ادب سے رہ گئے نالے ادھر\nکیا بتائیں عرش کتنی دور تھا\n\nجس گھڑی تھا اس کے جلوے کا ظہور\nعرش کا ہم سنگ کوہ طور تھا\n\nاک حسیں کا آ گیا جو تذکرہ\nدیر تک محفل میں ذکر حور تھا\n\nوصل کی شب تھی شب معراج کیا\nدور تک پھیلا ہوا اک نور تھا\n\nہر کس و ناکس سے کیا ملتی نگاہ\nاپنی آنکھوں میں بت مغرور تھا\n\nعمر بھر فکر سخن میں تھا حفیظؔ\nشاعری کا دل میں اک ناسور تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%AF%DB%81_%D9%86%D8%B2%D8%AF%DB%8C%DA%A9_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں\nہم بھی دیکھیں تو اسے دیکھ کے کیا کہتے ہیں\n\nجو بھلے ہیں وہ بروں کو بھی بھلا کہتے ہیں\nنہ برا سنتے ہیں اچھے نہ برا کہتے ہیں\n\nبزم احباب و مے ناب وصال معشوق\nاب کسی شے میں نہیں جس کو مزہ کہتے ہیں\n\nمیں گناہ گار اگر عشق مجازی ہے گناہ\nمیں خطا‌ وار اگر اس کو خطا کہتے ہیں\n\nپہلے تو داغؔ کی تعریف ہوا کرتی تھی\nاب خدا جانے وہ کیوں اس کو برا کہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بتا تو دل کے بچانے کی کوئی راہ بھی ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "بتا تو دل کے بچانے کی کوئی راہ بھی ہے\nتری نگاہ کی ناوک فگن پناہ بھی ہے\n\nسزا کے واسطے اقرار بھی گناہ بھی ہے\nاور ایک تم سا کوئی دوسرا گواہ بھی ہے\n\nخدا کا گھر بھی ہے دل میں بتوں کی چاہ بھی ہے\nصنم کدہ بھی ہے دل اپنا خانقاہ بھی ہے\n\nعجیب حال ہے دنیا پرست لوگوں کا\nمعاد کا بھی خیال اور فکر جاہ بھی ہے\n\nالٰہی خضر کہوں عشق کو کہ غول طریق\nکہ راہ بر بھی یہ ہے اور سد راہ بھی ہے\n\nاسی پہ مرتے ہیں ہم اور اسی کو چاہتے ہیں\nوہی ہے عالم و دانا وہی گواہ بھی ہے\n\nگلے سے آ کے لپٹ جا خدا کو مان او بت\nہے آج تجھ پہ بھی جوبن عروج ماہ بھی ہے\n\nمراد تجھ سے نہ مانگوں تو کس سے مانگوں میں\nٹکڑ گدا ترے در کا گدا بھی شاہ بھی ہے\n\nاگرچہ دل سے ہوں بندہ بتوں کا میں لیکن\nزباں پہ کلمۂ تحریم لاالٰہ بھی ہے\n\nگناہ بخش دے انجمؔ کے اے رحیم و کریم\nکہ پر گناہ بھی ہے اور عذر خواہ بھی ہے\n\nدکھائے گا کسے محشر میں اپنا منہ انجمؔ\nسیاہ کار بھی ہے اور رو سیاہ بھی ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%86%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "بتاؤں کیا کسی کو میں کہ تم کیا چیز ہو کیا ہو", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتاؤں کیا کسی کو میں کہ تم کیا چیز ہو کیا ہو\nمری حسرت مرے ارمان ہو میری تمنا ہو\n\nمحبت میں قلق ہو رنج ہو صدمہ ہو ایذا ہو\nیہ سب کچھ ہو کوئی پردہ نشیں لیکن نہ رسوا ہو\n\nتم اپنے حسن کی کیا بوالہوس سے داد پاؤ گے\nاسے پوچھو مرے دل سے کہ تم کیا چیز ہو کیا ہو\n\nمرے دل کو نہ مل تلووں سے اپنے میں یہ ڈرتا ہوں\nکہیں ایسا نہ ہو اس میں کوئی خار تمنا ہو\n\nنہ دیکھوں کس طرح حسن خداداد ان حسینوں کا\nبھلا ان زاہدوں کی طرح کون آنکھوں کا اندھا ہو\n\nتری تصویر بھی ہے باعث دل بستگی لیکن\nاسے تسکین کیا ہو جو تری باتوں پہ مرتا ہو\n\nحفیظؔ آنا ہوا ہے پھر عظیم آباد میں اپنا\nپھر اگلے ولولے پیدا ہوئے اب دیکھیے کیا ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%DB%8C%D8%B2_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "بتاؤں کیا کہ مرے دل میں کیا ہے", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتاؤں کیا کہ مرے دل میں کیا ہے\nسوا تیرے تری محفل میں کیا ہے\n\nبتاؤں کیا کہ میرے دل میں کیا ہے\nتو ہی تو ہے بھری محفل میں کیا ہے\n\nکسی کے بجھتے دل کی ہے نشانی\nچراغ سرحد منزل میں کیا ہے\n\nبجز نقش پشیمانیٔ قاتل\nنگاہ حسرت بسمل میں کیا ہے\n\nجفاؤں کی بھی حد ہوتی ہے کوئی\nخدا معلوم اس کے دل میں کیا ہے\n\nمآل ہستی موہوم معلوم\nعزیزؔ اس شغل لا حاصل میں کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "بتائیں تم سے کیا ہم عاشق بیمار کس کے ہیں", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتائیں تم سے کیا ہم عاشق بیمار کس کے ہیں\nہمارے دیدۂ تر طالب دیدار کس کے ہیں\n\nنہ کیوں ہم شکل بلبل مدح میں نغمہ سرا ہوں میں\nتمہیں مجھ کو بتا دو پھول سے رخسار کس کے ہیں\n\nکوئی بے خود کوئی با خود ہوئے تیری محبت میں\nجو ہیں غافل وہ کس کے ہیں جو ہیں ہشیار کس کے ہیں\n\nاٹھا کر ہاتھ میں تسبیح مجھ سے دل یہ کہتا ہے\nبرہمن کس کے ہیں ہم صاحب زنار کس کے ہیں\n\nنہ کیوں بہر شہادت سر جھکائیں شوق سے عاشق\nبسان تیغ کہیے ابروئے خم دار کس کے ہیں\n\nکہا یہ طائر دل نے الجھ کر زلف پر خم میں\nپھنسایا کس نے مجھ کو اور یہ کردار کس کے ہیں\n\nنہیں معلوم زخمی ہو گیا ہے کون شیدائی\nگل تازہ جمیلہؔ زخم دامن دار کس کے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بتائیں کیا تجھ کو چشم پر نم ہوا ہے کیا خوں آرزو کا", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتائیں کیا تجھ کو چشم پر نم ہوا ہے کیا خوں آرزو کا\nبنا گل داغ یاس و سرت جو دل میں قطرہ بچا لہو کا\n\nدبے جو گھٹ گھٹ کے دل میں ارماں وہ برق بن کر فلک پہ تڑپے\nجو ولولہ جی میں رہ گیا تھا وہ بلبلہ اب ہے آب جو کا\n\nعبث ہے تو چارہ گر پریشاں نہ تجھ سے کچھ بن پڑے گا درماں\nکہ ہو تو تار نفس سے ساماں جراحت دل کے ہو رفو کا\n\nکھلا لب گور سے یہ عقدہ کہ خواب تھی سب نمود ہستی\nوقوف نا محرمیٔ منزل کمال ہے میری جستجو کا\n\nنہ تجھ کو مست ہوائے گلشن خزاں میں اے عندلیب دیکھا\nنہیں تو شیدائی باغ و گل کا مگر فدائی ہے رنگ و بو کا\n\nاسے نہ پھر کچھ دیا دکھائی نظر پڑا وہ جمال جس کو\nکھلا حقیقت کا راز جس پر نہ اس کو یارا تھا گفتگو کا\n\nہے نفع ذات اور نسخ ہستی وصال جاناں کی شرط اول\nبھرا مناظر سے ہے جہاں سب جو صرف درشن کا تو ہے بھوکا\n\nطلسم دیر و حرم ہے تجھ پر ہنوز دلی ہے دور ناداں\nوہاں ترا خاک دل لگے گا وہ ہے سراسر مکان ہو کا\n\nخبر کسے صبح و شام کی ہے تعینات اور قیود کیسے\nنماز کس کی وہاں کسی کو خیال تک بھی نہیں وضو کا\n\nنہیں محیط رسوم و ملت ہے بے نشاں منزل حقیقت\nوہاں نہ سمرن کی ہتکڑی ہے نہ طوق زنار ہے گلو کا\n\nہیں غرق بحر مے محبت وہاں ہے کیفیؔ یہ سب کی حالت\nہے دخل ساقی کی بزم میں کیا صراحی و ساغر و سبو کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "بتائیں کیا عمل عشق حقیقی کا کہاں تک ہے", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتائیں کیا عمل عشق حقیقی کا کہاں تک ہے\nزمیں کیا آسماں تک ہے مکاں کیا لا مکاں تک ہے\n\nتعین سے بری ہو گر ہے لا محدود کا طالب\nکہ حد ملک و دنیا تو وہیں تک ہے جہاں تک ہے\n\nنہ ہو آزاد دور چرخ کی حلقہ بگوشی سے\nترا مرکوز دل ماؤ شما اور این و آں تک ہے\n\nتو بسم اللہ کے گنبد میں کیا ہے معتکف زاہد\nسکون خاطر مضطر حواسوں سے اماں تک ہے\n\nپہنچ سکتا ہے کب سچی خوشی کو عیش نفسانی\nکہ وہ تو آب رکنا باد و جوئے مولیاں تک ہے\n\nہے شیخ و برہمن کے دین کی حد دیر و کعبہ تک\nسواد دین عشق بے غرض کون و مکاں تک ہے\n\nیقیں سے اور عمل سے پختگی پائی عقیدت نے\nپہنچ تیری تو اے نادان بس وہم و گماں تک ہے\n\nحقیقت حسن کی آئینہ تجھ پر کیونکہ ہو جاتی\nنظر تیری تو زلف و خال و ابروئے بتاں تک ہے\n\nجو ہیں مست الست ان کو خمار و سکر کا ڈر کیا\nنگاہ تشنہ کام عشق ہی دست مغاں تک ہے\n\nحصیر عشق کو کب دخل اس محفل میں ہے کیفیؔ\nبساط اس کی فقط بین و بکا آہ و فغاں تک ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B9%D9%85%D9%84_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%DB%81%DB%92"} {"title": "بتائیں کیا کہ آئے ہیں کہاں سے ہم کہاں ہو کر", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتائیں کیا کہ آئے ہیں کہاں سے ہم کہاں ہو کر\nنشاں اب ڈھونڈتے پھرتے ہیں گھر کا بے نشاں ہو کر\n\nلبھانے کو دل شیدا کے ساری پردہ داری تھی\nعیاں ہو تم نہاں ہو کر نہاں ہو تم عیاں ہو کر\n\nہماری خاک کے ذرے فنا ہو کر بھی چمکیں گے\nعروج اپنا دکھائیں گے یہ نجم آسماں ہو کر\n\nدل آوارہ کیوں تجھ کو خیال کوئے جاناں ہے\nارے ناداں کہاں جا کر رہے گا بے نشاں ہو کر\n\nیہ دور مے کشی ہر وقت محو دید رکھتا ہے\nکہاں آنکھوں میں یہ غفلت رہے خواب گراں ہو کر\n\nمسلماں ہو کے ترک بت پرستی اے معاذ اللہ\nخدا کو ہم نے پہچانا ہے شیدائے بتاں ہو کر\n\nیہ بار معصیت منزل کڑی اور شام تنہائی\nچلے ہیں کیا سمجھ کر ہم بھی رسوائے جہاں ہو کر\n\nابھی کیا جانے کیا کیا رنگ وہ اے شوقؔ بدلے گا\nزمیں پر اک کرے گا حشر برپا آسماں ہو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "بتائے دیتی ہے بے پوچھے راز سب دل کے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتائے دیتی ہے بے پوچھے راز سب دل کے\nنگاہ شوق کسی کی نگاہ سے مل کے\n\nنکالے حوصلے مقتل میں اپنے بسمل کے\nنثار تیغ کے قربان ایسے قاتل کے\n\nمیں اس پہ صدقے جو جائے کسی کی یاد میں جاں\nکسی کو چاہے میں قربان جاؤں اس دل کے\n\nبڑی اداؤں سے لی جان اپنے کشتے کی\nہزار بار میں قربان اپنے قاتل کے\n\nغبار قیس نہیں ہے تو کون ہے لیلیٰ\nکوئی تو ہے کہ جو پھرتا ہے گرد محمل کے\n\nوہ پھوٹ بہنے میں مشاق ہیں یہ رونے میں\nرہیں گے دب کے نہ آنکھوں سے آبلے دل کے\n\nمہار ناقۂ لیلیٰ تو کھینچ لے اے آہ\nہٹا دے دست طلب بڑھ کے پردے محمل کے\n\nوہ دل میں ہیں مگر آنکھوں سے دور ہیں بیدمؔ\nپڑا ہوا ہوں میں پیاسا قریب ساحل کے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92"} {"title": "بتان ماہ وش اجڑی ہوئی منزل میں رہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتان ماہ وش اجڑی ہوئی منزل میں رہتے ہیں\nکہ جس کی جان جاتی ہے اسی کے دل میں رہتے ہیں\n\nہزاروں داغ پنہاں عاشقوں کے دل میں رہتے ہیں\nشرر پتھر کی صورت ان کی آب و گل میں رہتے ہیں\n\nزمیں پر پاؤں نفرت سے نہیں رکھتے پری پیکر\nیہ گویا اس مکاں کی دوسری منزل میں رہتے ہیں\n\nمحبت میں مزا ہے چھیڑ کا لیکن مزے کی ہو\nہزاروں لطف ہر اک شکوۂ باطل میں رہتے ہیں\n\nخدا رکھے سلامت جن کو ان کو موت کب آئے\nتڑپتے لوٹتے ہم کوچۂ قاتل میں رہتے ہیں\n\nہزاروں حسرتیں وہ ہیں کہ روکے سے نہیں رکتیں\nبہت ارمان ایسے ہیں کہ دل کے دل میں رہتے ہیں\n\nیہاں تک تھک گئے ہیں چلتے چلتے تیرے ہاتھوں سے\nکہ اب چھپ چھپ کے ناوک سینۂ بسمل میں رہتے ہیں\n\nنہ دیکھے ہوں گے رندوں سے بھی تو نے پاک اے زاہد\nکہ یہ بے داغ مے خانے کی آب و گل میں رہتے ہیں\n\nمحیط عشق کی ہر موج طوفاں خیز ایسی ہے\nوہ ہیں گرداب میں جو دامن ساحل میں رہتے ہیں\n\nخدا رکھے محبت نے کیے آباد دونوں گھر\nمیں ان کے دل میں رہتا ہوں وہ میرے دل میں رہتے ہیں\n\nجو ہوتی خوبصورت تو نہ چھپتی قیس سے لیلیٰ\nمگر ایسے ہی ویسے پردۂ محمل میں رہتے ہیں\n\nہمارے سائے سے بچتا ہے ہر اک بزم میں اس کی\nہمیں دیکھو کہ ہم تنہا بھری محفل میں رہتے ہیں\n\nسراغ مہر و الفت غیر کے دل میں نہ پائیں گے\nعبث وہ رات دن اس سعی بے حاصل میں رہتے ہیں\n\nبتوں کو محرم اسرار تو نے کیوں کیا یا رب\nکہ یہ کافر ہر اک خلوت سرائے دل میں رہتے ہیں\n\nفلک دشمن ہوا گردش زدوں کو جب ملی راحت\nزیادہ راہ سے کھٹکے مجھے منزل میں رہتے ہیں\n\nتن آسانی کہاں تقدیر میں ہم دل گرفتوں کی\nخدا پر خوب روشن ہے کہ جس مشکل میں رہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D9%88%D8%B4_%D8%A7%D8%AC%DA%91%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بتاں کے عشق نے بے اختیار کر ڈالا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "بتاں کے عشق نے بے اختیار کر ڈالا\nوہ دل کہ جس کا خدائی میں اختیار رہا\nوہ دل کہ شام و سحر جیسے پکا پھوڑا تھا\nوہ دل کہ جس سے ہمیشہ جگر فگار رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%DA%88%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "بتو خدا سے ڈرو سنگ دل سوا نہ کرو", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتو خدا سے ڈرو سنگ دل سوا نہ کرو\nیہ موم دل ہے ہمارا اسے جدا نہ کرو\n\nنہ ٹھنڈی سانسیں بھرو دور مے میں ہم نفساں\nیہ آگ بھڑکے گی مے خانے میں ہوا نہ کرو\n\nہم آنکھیں بند کریں پھر دکھاؤ رنگینی\nجو چور پکڑا ہے تم شوخئ حنا نہ کرو\n\nچکور ہم کو بنایا دکھا کے عریانی\nیہ کھیل چاندنی میں آ کے مہ لقا نہ کرو\n\nغزل میں شعر بہت نرم ہو گئے اخترؔ\nیہ کس زبان میں کہتے ہو بد مزا نہ کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D9%88_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DA%88%D8%B1%D9%88_%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "بتو خدا پہ نہ رکھو معاملہ دل کا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتو خدا پہ نہ رکھو معاملہ دل کا\nبرا بھلا یہیں ہو جائے فیصلہ دل کا\n\nبتوں سے ہے متعلق معاملہ دل کا\nخدا ہے حشر میں بھی ہو جو فیصلہ دل کا\n\nچلو بلا سے اگر ہے یہ آستین کا سانپ\nبغل میں پال کے میں کیا کروں گلہ دل کا\n\nخیال زلف میں سینے پہ سانپ لوٹتے ہیں\nدہان مار کا چھالا ہے آبلہ دل کا\n\nسنوں تمہاری کہ اپنی کہوں حقیقت حال\nتمہیں ہے میری شکایت مجھے گلہ دل کا\n\nخدا یہ نالہ و فریاد ساز وار کرے\nکہ دل لگی ہے ہماری یہ مشغلہ دل کا\n\nبھٹک کے کوئی گیا دیر کو کوئی کعبے\nعجیب بھول بھلیاں ہے مرحلہ دل کا\n\nمیں عشق قد میں الف کھینچ کر ہوا ہوں فقیر\nمیں زلف یار سے رکھتا ہوں سلسلہ دل کا\n\nکسی کے زلف نے برہم کیے ہیں ہوش و حواس\nلٹا ہے شام کے رستے میں قافلہ دل کا\n\nخزاں رسیدوں کو باغ و بہار سے کیا کام\nنہ اب وہ جوش طبیعت نہ ولولہ دل کا\n\nزمانہ اور ہے اوباشوں کا وقت نہیں\nنہ وہ مزاج ہمارا نہ حوصلہ دل کا\n\nیہ کس صنم کی محبت میں مرتبہ پایا\nہوا جو عرش خدا سے مقابلہ دل کا\n\nکمال یار کے ہاتھوں جلا ہوں میں اے بحرؔ\nہتھیلی کا ہے پھپھولا یہ آبلہ دل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D9%88_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%BE%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%85%D9%84%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیے", "poet_page": "مصنف:شیخ علی بخش بیمار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیے\nجو سنگ دل ہو تو کیا چاہیئے جفا کے لیے\n\nسوال یار سے کیسا کمال الفت کا\nکہ ابتدا بھی تو ہے شرط انتہا کے لیے\n\nخدا سے تجھ کو صنم مانگتے تو مل جاتا\nمگر ادب نے اجازت نہ دی دعا کے لیے\n\nعذاب آتش فرقت سے کانپتا تھا دل\nہزار شکر جہنم ملا سزا کے لیے\n\nنہ دل لگا کے ہوا مجھ سے عشق میں پرہیز\nبگڑ گیا جو کسی نے کہا دوا کے لیے\n\nملا انہیں بھی تلون مجھے بھی یک رنگی\nخصوصیت نہ رہی صرصر و صبا کے لیے\n\nخدا نے کام دئے ہیں جدا جدا سب کو\nصنم جفا کے لیے ہیں تو ہم وفا کے لیے\n\nجہاں نورد رہے ہم تلاش مطلب میں\nچلے نہ ایک قدم غیر مدعا کے لیے\n\nمشاعرہ میں پڑھو شوق سے غزل بیمارؔ\nکہ مستعد ہیں سخن سنج مرحبا کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%82_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D9%88%DA%91_%D8%AF%D9%88_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہے\nیہ کافر وہ قیامت ہیں طبیعت آ ہی جاتی ہے\n\nیہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہم ان کو چھوڑ بیٹھیں ہیں\nجب آنکھیں چار ہوتی ہیں مروت آ ہی جاتی ہے\n\nوہ اپنی شوخیوں سے کوئی اب تک بعض آتے ہیں\nہمیشہ کچھ نہ کچھ دل میں شرارت آ ہی جاتی ہے\n\nہمیشہ عہد ہوتے ہیں نہیں ملنے کے اب ان سے\nوہ جب آ کر لپٹتے ہیں محبت آ ہی جاتی ہے\n\nکہیں آرام سے دو دن فلک رہنے نہیں دیتا\nہمیشہ اک نہ اک سر پر مصیبت آ ہی جاتی ہے\n\nمحبت دل میں دشمن کی بھی اپنا رنگ لاتی ہے\nوہ کتنے بے مروت ہوں مروت آ ہی جاتی ہے\n\nظہیرؔ خستہ جاں شب سو رہا کچھ کھا کے سنتے ہیں\nتعجب کیا ہے انساں کو حمیت آ ہی جاتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%86_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D8%A2_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "بتوں کا ذکر کرو واعظ خدا کو کس نے دیکھا ہے", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتوں کا ذکر کرو واعظ خدا کو کس نے دیکھا ہے\nشرار سنگ موسیٰ کے لیے برق تجلیٰ ہے\n\nیہ ہندوستان ہے یاں پربتوں کا روز میلا ہے\nخدا جانے وہ بت اے مہرؔ دیبی ہے کہ درگا ہے\n\nیہ ہندوستان ہے یاں پربتوں کا روز میلا ہے\nکوئی کالی بھوانی کوئی دیبی کوئی درگا ہے\n\nبتان ہند میں نام خدا کب کوئی تجھ سا ہے\nتری زلفیں ہیں کالی اے صنم تو آپ درگا ہے\n\nدل نالاں تمہارے حلقۂ گیسو میں کہتا ہے\nمیں ہندوستان میں ہوں کافروں نے مجھ کو گھیرا ہے\n\nیہ کس کافر کی خاطر مہرؔ چکر میں تو رہتا ہے\nیہ کس کے واسطے گردش فلک کے چرخ پوجا ہے\n\nسیہ رومال گوری گوری گردن میں لپیٹا ہے\nگلے ملوا دیا شام سحر کو کیا تماشا ہے\n\nگلا وہ گورا گورا اس پہ اک رومال کالا ہے\nوہی عالم مری آنکھوں میں اب دن رات پھرتا ہے\n\nتصور اس صنم کا ہے ہمیں کعبہ سے کیا مطلب\nچراغ اپنا ہے داغ دل ہے جو مندر میں جلتا ہے\n\nکیا ہے خوں مرے دل کا بلدان اس کو کہتے ہیں\nغم فرقت وہ کافر ہے کہ درگا پاٹھ کرتا ہے\n\nجدا ہے نعمت دنیا سے لذت بوسۂ لب کی\nوہ جوگی ہو گیا جس نے یہ موہن بھوگ چکھا ہے\n\nشرارت سے شرارت ہے بتو للہ باز آؤ\nجلاتے ہو جو میرے دل کو تم کیا یہ بھی لنکا ہے\n\nحلال اس نے کیا خون مسلماں وائے بے دردی\nترا دست حنائی کافر اب یہ رنگ لایا ہے\n\nہمیشہ ہے یہ نالاں اس صنم کی یاد میں یا رب\nجسے ہم دل سمجھتے تھے وہ ناقوس کلیسا ہے\n\nبڑا اندھیر ہے کیوں کر نہ ہو دل کو پریشانی\nسراسر پیچ کرتی ہے بلا زلف چلیپا ہے\n\nعجب عالم نظر آیا ترے کوچہ میں او قاتل\nکہیں کوئی سسکتا ہے کہیں کوئی تڑپتا ہے\n\nکہاں وہ قد کہاں یہ کندہاے نا تراشیدہ\nنہ سرو ایسا ہے نے شمشاد ایسا ہے نہ طوبیٰ ہے\n\nبتا جائز ہے کس مذہب میں خون بے گنہ ظالم\nتو ہندو ہے مسلماں ہے یہودی ہے کہ ترسا ہے\n\nسنے مردہ تو جی اٹھے بدن میں روح پھر آئے\nگلے میں اے صنم نام خدا کیا تان پلٹا ہے\n\nخدا عالم ہے مضمون خیالی ہیں تصور میں\nنہ مجھ کو کچھ تعلق ہے نہ میری اس کو پروا ہے\n\nخدا جانے کیا کس بت نے کافر اک مسلماں کو\nجنیو ہے گلے میں مہرؔ کے ماتھے پہ ٹیکا ہے\n\nکیا کافر نے کافر مہرؔ سے مرد مسلماں کو\nجنیو رشتۂ تسبیح داغ سجدہ ٹیکا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%88_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "بتوں کا سامنا ہے اور میں ہوں", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتوں کا سامنا ہے اور میں ہوں\nخدا کا آسرا ہے اور میں ہوں\n\nیہاں آ کر کریں کیا یاس و امید\nدل بے مدعا ہے اور میں ہوں\n\nملا جو خاک میں قدموں سے چھٹ کے\nوہ تیرا نقش پا ہے اور میں ہوں\n\nخدا جانے بتو ہوتا ہے کیا حال\nیہی گر دل مرا ہے اور میں ہوں\n\nذرا آنے تو دے روز قیامت\nصنم تو ہے خدا ہے اور میں ہوں\n\nستم ہے ظلم ہے ان کی طرف سے\nمحبت ہے وفا ہے اور میں ہوں\n\nپسند اے مہرؔ ہے یہ قول استاد\nصنم کوچہ ترا ہے اور میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "بتوں کو بھول جاتے ہیں خدا کو یاد کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتوں کو بھول جاتے ہیں خدا کو یاد کرتے ہیں\nبرہمن جب سفر سوئے الہ آباد کرتے ہیں\n\nنہ گردن مارتے ہیں وہ نہ دیتے ہیں کبھی پھانسی\nحسینوں کو یہ سب مشہور کیوں جلاد کرتے ہیں\n\nستم ایجاد کہتے ہیں یہ کیوں معشوق کو شاعر\nستم بھی کیا کوئی شے ہے جسے ایجاد کرتے ہیں\n\nہمیں بتلا نہ دیں عاشق جو ہیں روئے کتابی پر\nسبق ہے کیا کوئی معشوق جس کو یاد کرتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بتوں کی اگر خود نمائی نہ دیکھوں", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتوں کی اگر خود نمائی نہ دیکھوں\nان آنکھوں سے یا رب خدائی نہ دیکھوں\n\nمحبت سے کہتا ہوں سی رکھوں آنکھیں\nپلک سے پلک کی جدائی نہ دیکھوں\n\nبھلا میں برا جانتا ہوں جو تم کو\nبرائی ہے اپنی بھلائی نہ دیکھوں\n\nمرا عکس تک صاف مجھ سے نہیں ہے\nمیں حیراں ہوں کس منہ سے آئینہ دیکھوں\n\nنسیمؔ اس چمن کے جو کانٹوں سے الجھوں\nمیں اس گل کی رنگیں ادائی نہ دیکھوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA"} {"title": "بتوں کی مجلس میں شب کو مہ رو جو اور ٹک بھی قیام کرتا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتوں کی مجلس میں شب کو مہ رو جو اور ٹک بھی قیام کرتا\nکنشت ویراں صنم کو بندہ برہمنوں کو غلام کرتا\n\nخراب خستہ سمجھ کے تو نے پیارے مجھ کو عبث نکالا\nجو رہنے دیتا تو گل رخوں میں قسم ہے میری میں نام کرتا\n\nکروڑوں دل جو موے پڑے ہیں نکلتے خونیں کفن سے نالاں\nقیامت آ جاتی جو وہ قامت گلی میں اپنی خرام کرتا\n\nنہ اتنے قصے نہ جنگ ہوتی پیارے تیرے ملاپ اوپر\nرقیب آپی سے زہر کھانے جو وصل کا تو پیام کرتا\n\nوہ سرو قامت جو مسکرا کر چمن میں جاتا تو مسکرا کر\nتڑپتی بلبل سسکتی قمری گلوں پہ ہنسنا حرام کرتا\n\nبھلا ہوا جو نقاب تو نے اٹھایا چہرے سے ہے پری رو\nوگرنہ سینے سے دل تڑپ کر نگہ میں آ کر مقام کرتا\n\nجو زلفیں مکھڑے پہ کھول دیتا صنم ہمارا تو پھر یہ گردوں\nنہ دن دکھاتا نہ شب بتاتا نہ صبح لاتا نہ شام کرتا\n\nوہ بزم اپنی تھی مے خوری کی فرشتے ہو جاتے مست بے خود\nجو شیخ جی واں سے بچ کے آتے تو پھر میں ان کو سلام کرتا\n\nنظیرؔ تیری اشارتوں سے یہ باتیں غیروں کی سن رہا ہے\nوگرنہ کس میں تھی تاب و طاقت جو اس سے آ کر کلام کرتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%81_%D8%B1%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%B9%DA%A9_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7"} {"title": "بتوں کی کاکلوں کے دیکھ کر پیچ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتوں کی کاکلوں کے دیکھ کر پیچ\nپڑے ہیں دل پہ کیا کیا پیچ پر پیچ\n\nطریق عشق بے رہبر نہ ہو طے\nکہ ہے یہ رہ نہایت پیچ در پیچ\n\nنہ ہووے دل کی تکل کٹ کے برباد\nاگر ڈالے نہ وہ تار نظر پیچ\n\nوہ زلف اس کی جو ہے پر پیچ و پر خم\nکمند جاں ہے اے دل اس کا ہر پیچ\n\nنظیرؔ اک روز اپنے زخم سر کو\nجو باندھا ہم نے دے کر بیشتر پیچ\n\nنظر کرتے ہی اس سرکش نے اک بار\nکہا کر کے سخن کا مختصر پیچ\n\nدعا دیجے ہماری تیغ کو آج\nکہ جس نے آپ کو بخشا یہ سر پیچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%DA%A9%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%DA%86"} {"title": "بتوں کے واسطے تو دین و ایماں بیچ ڈالے ہیں", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتوں کے واسطے تو دین و ایماں بیچ ڈالے ہیں\nیہ وہ معشوق ہیں جو ہم نے کعبے سے نکالے ہیں\n\nوہ دیوانہ ہوں جس نے کوہ و صحرا چھان ڈالے ہیں\nانہیں تلووں سے تو ٹوٹے ہوئے کانٹے نکالے ہیں\n\nتراشی ہیں وہ باتیں اس ستم گر نے سر محفل\nکلیجے سے ہزاروں تیر چن چن کر نکالے ہیں\n\nجگر دل کے ورق ہیں وعدۂ دیدار سے روشن\nانہیں کیوں دوں کسی کو یہ تو جنت کے قبالے ہیں\n\nاگر منہ سے کہا کچھ تو بکھر ہی جائیں گے ٹکڑے\nبڑی مشکل سے ہم ٹوٹے ہوئے دل کو سنبھالے ہیں\n\nہمیں ہیں موجد باب فصاحت حضرت شاعرؔ\nزمانہ سیکھتا ہے ہم سے ہم وہ دلی والے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D9%88_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%DA%86_%DA%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بتوں کے گھر کی طرف کعبہ کے سفر سے پھرے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بتوں کے گھر کی طرف کعبہ کے سفر سے پھرے\nہزار شکر کہ جیتے خدا کے گھر سے پھرے\n\nمریض ہجر کا کوئی علاج کر دیکھے\nاثر دوا سے دوا حکم چارہ گر سے پھرے\n\nمہینے بھر کا تو رستہ ہے پر دعا یہ ہے\nکہ پیشتر وہ قمر دورۂ قمر سے پھرے\n\nنگاہ لطف سے دیکھو شباب آ جائے\nشب گزشتہ ابھی گردش نظر سے پھرے\n\nوہ رشک مہر جو ساقی ہو عمر باقی ہو\nزیادہ ساغر مے چرخ فتنہ گر سے پھرے\n\nنگاہ پھیرنے میں لطف کیا ہے رہنے دو\nیہ تیر کس لئے الٹا مرے جگر سے پھرے\n\nکہیں گے بعد فنا ہم سے دوستان عدم\nبھرے پرے کہ تہی دست اس سفر سے پھرے\n\nنہ مانگیں بوسۂ رخسار چھاتیاں نہ چھوئیں\nطبیعت اپنی جو اے بت گل و ثمر سے پھرے\n\nفلک نے کوچۂ مقصد کی بند کی راہیں\nبھلا بتاؤ کہ قسمت مری کدھر سے پھرے\n\nدکھائے موج زنی بحر اشک اگر اپنا\nہر آسیائے فلک آب چشم تر سے پھرے\n\nمنیرؔ کو ہے وہ دوران سر معاذ اللہ\nکہ سننے والوں کا سر ذکر درد سر سے پھرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%92"} {"title": "بجا کہ ہے پاس حشر ہم کو کریں گے پاس شباب پہلے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بجا کہ ہے پاس حشر ہم کو کریں گے پاس شباب پہلے\nحساب ہوتا رہے گا یا رب ہمیں منگا دے شراب پہلے\n\nفضائے شب ہنس کے جگمگائی وہ نازنیں صبح بن کے آئی\nہوا ہے روشن مرے شبستاں میں چاند سے آفتاب پہلے\n\nزباں پہ آیا نہ حرف مطلب کہ کہہ گئیں کچھ شریر نظریں\nسوال کرنے نہ پائے ہیں ہم کہ مل گیا ہے جواب پہلے\n\nجناں میں پہلے پہل پیے گا تو لڑکھڑاتا پھرے گا زاہد\nسرور کوثر کی ہے اگر دھن جہاں میں پی لے شراب پہلے\n\nہے خسرو عشق کا یہ فرماں کہ دل لگانا نہیں ہے آساں\nجسے ہو کوئے بتاں کا ارماں وہ کو بہ کو ہو خراب پہلے\n\nغم و الم رنج و یاس و حسرت اٹھاؤں گا سب کے رخ سے پردے\nتمہیں قسم ہے دل حزیں کی اٹھاؤ تو تم نقاب پہلے\n\nالٰہی وہ بوئے پیرہن سے بھی پہلے ہو ہمکنار آ کر\nچمن میں ہوتا ہے جلوہ افروز پھول سے ماہتاب پہلے\n\nیہ کس کے رنگ رخ بہاریں نے بخش دی ہے طراوت نو\nشگفتہ ہوتا نہ تھا گلستاں میں اس ادا سے گلاب پہلے\n\nنگاہ ساقی کی مسکرائی کہا جب اخترؔ نے اپنی دھن میں\nپئیں گے پیتے رہیں گے میکش مگر یہ خانہ خراب پہلے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92"} {"title": "بجز سایہ تن لاغر کو میرے کوئی کیا سمجھے", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بجز سایہ تن لاغر کو میرے کوئی کیا سمجھے\nمری صورت کو محفل میں وہ نقش بوریا سمجھے\n\nہم اس کو اپنے حق میں آفت جاں اور بلا سمجھے\nبتان بے وفا ہیں جن کو اک اپنی ادا سمجھے\n\nکوئی کیا خاک راز مشکل ذات خدا سمجھے\nاگر نور خدا کو ذات انساں سے جدا سمجھے\n\nوہاں جا کر کرے گر قتل تو بیمار ہجراں کو\nترے کوچہ کو اپنے حق میں وہ دار الشفا سمجھے\n\nسیہ بختی پہ سایہ گر ہو تیری زلف شب گوں کا\nاسے وہ اپنے سر پہ سایۂ بال ہما سمجھے\n\nوہی کرتا ہے انساں کام جو قسمت کراتی ہے\nکوئی چاہے اسے سمجھے روا یا ناروا سمجھے\n\nلٹکتے دیکھا سینہ پر جو تیرے تار گیسو کو\nاسے دیوانے وحشت میں ترا بند قبا سمجھے\n\nنہ ہرگز خوں رلائے بلبلوں کو باغ میں اے گل\nجو اپنے حسن کو تو طائر رنگ حنا سمجھے\n\nترے آئینۂ رخ کو سکندر دیکھنے آیا\nتری محفل میں ہم اس کو گدائے بے نوا سمجھے\n\nکوئی کیا جانتا ہے کس قدر بوسے لیے ہم نے\nسمجھتے ہیں ہم اس کو یا ہمارا دل ربا سمجھے\n\nبتوں سے ہم نے جوڑا رشتۂ دل کو وہ کافر ہے\nاگر اس رشتہ کو کوئی ہمارے ناروا سمجھے\n\nتو جا کر چھیڑ گل کو یا کسی کی زلف پیچاں کو\nچل اے باد صبا تو کیا مری ناز و ادا سمجھے\n\nکبھی بیٹھا بھی گر دیکھا انہوں نے اپنے کوچہ میں\nتن لاغر کو میرے وہ کسی کا نقش پا سمجھے\n\nبیاباں میں جو آیا کوئی جھونکا باد‌ صر‌صر کا\nتری ہم سرد مہری سے نسیم جاں فزا سمجھے\n\nوہی ہیں ہم بنایا جو ہمیں حق نے نہیں پروا\nکوئی ہم کو برا سمجھے کوئی ہم کو بھلا سمجھے\n\nبھلے کو گر برا سمجھے نہ ہرگز وہ برا ہوگا\nبھلا اس میں برا کیا ہے برے کو گر برا سمجھے\n\nہے انساں کے لیے لازم جہاں میں دیکھ کر چلنا\nوہ ہے حیواں نہ دل میں جو زمانے کی ہوا سمجھے\n\nاگر اس نے کبھی توڑا ہمارے گوہر دل کو\nہم اس کے حق میں اس کے ٹوٹنے کو مومیا سمجھے\n\nپگھل کر شمع خود پروانہ کو پہلے جلاتی ہے\nکسی کے موم ہونے کو نہ کوئی مومیا سمجھے\n\nگریباں ہم نے دکھلایا انہوں نے زلف دکھلائی\nہمارا سمجھے وہ مطلب ہم ان کا مدعا سمجھے\n\nخدا کو سمجھے تم پتھر جو پتھر کو خدا سمجھے\nاگر سمجھے اسے پتھر تو پھر تم اس کو کیا سمجھے\n\nطریق خاکساری سلم بام بزرگی ہے\nاسی کو مشرقیؔ انساں جہاں میں کیمیا سمجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AC%D8%B2_%D8%B3%D8%A7%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D9%86_%D9%84%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "بجلیاں ٹوٹ پڑیں جب وہ مقابل سے اٹھا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بجلیاں ٹوٹ پڑیں جب وہ مقابل سے اٹھا\nمل کے پلٹی تھیں نگاہیں کہ دھواں دل سے اٹھا\n\nجلوہ محسوس سہی آنکھ کو آزاد تو کر\nقید آداب تماشا بھی تو محفل سے اٹھا\n\nپھر تو مضراب جنوں ساز انا لیلیٰ چھیڑ\nہائے وہ شور انا القیس کہ محمل سے اٹھا\n\nاختیار ایک ادا تھی مری مجبوری کی\nلطف سعی عمل اس مطلب حاصل سے اٹھا\n\nعمر امید کے دو دن بھی گراں تھے ظالم\nبار فردا نہ ترے وعدۂ باطل سے اٹھا\n\nخبر قافلۂ گم شدہ کس سے پوچھوں\nاک بگولہ بھی نہ خاک رہ منزل سے اٹھا\n\nہوش جب تک ہے گلا گھونٹ کے مر جانے کا\nدم شمشیر کا احساں ترے بسمل سے اٹھا\n\nموت ہستی پہ وہ تہمت تھی کہ آساں نہ اٹھی\nزندگی مجھ پہ وہ الزام کہ مشکل سے اٹھا\n\nکس کی کشتی تہ گرداب فنا جا پہنچی\nشور لبیک جو فانیؔ لب ساحل سے اٹھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AC%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%B9%D9%88%D9%B9_%D9%BE%DA%91%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "بجھ گئی شمع حرم باب کلیسا نہ کھلا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بجھ گئی شمع حرم باب کلیسا نہ کھلا\nکھل گئے زخم کے لب تیرا دریچہ نہ کھلا\n\nدر توبہ سے بگولوں کی طرح گزرے لوگ\nابر کی طرح امڈ آئے جو مے خانہ کھلا\n\nشہر در شہر پھری مری گناہوں کی بیاض\nبعض نظروں پہ مرا سوز حکیمانہ کھلا\n\nنازنینوں میں رسائی کا یہ عالم تھا کبھی\nلاکھ پہروں میں بھی دروازے پہ دروازہ کھلا\n\nہم پری زادوں میں کھیلے شب افسوں میں پلے\nہم سے بھی تیرے طلسمات کا عقدہ نہ کھلا\n\nایک اک شکل کو دیکھا ہے بڑی حسرت سے\nاجنبی کون ہے اور کون شناسا نہ کھلا\n\nریت پر پھینک گئی عقل کی گستاخ لبی\nپھر کبھی کشف و کرامات کا دریا نہ کھلا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AC%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%84%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7"} {"title": "بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا\nوہ صحن باغ نہیں سیر ماہتاب نہیں\n\nبسے ہوئے ہیں نگاہوں میں وہ حسیں کوچے\nہر ایک ذرہ جہاں کم ز آفتاب نہیں\n\nوہ باغ و راغ کے دلچسپ و دل نشیں منظر\nکہ جن کے ہوتے ہوئے خلد مثل خواب نہیں\n\nوہ جوئبار رواں کا طرب فزا پانی\nشراب سے نہیں کچھ کم اگر شراب نہیں\n\nبرنگ زلف پریشاں وہ موج ہائے رواں\nکہ جن کی یاد میں راتوں کو فکر خواب نہیں\n\nسما رہے ہیں نظر میں وہ مہوشان حرم\nحرم میں جن کے ستارے بھی باریاب نہیں\n\nوطن کا چھیڑ دیا کس نے تذکرہ اخترؔ\nکہ چشم شوق کو پھر آرزوئے خواب نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D8%B7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%AF%D8%A7"} {"title": "بجھائیں پیاس کہاں جا کے تیرے مستانے", "poet_page": "مصنف:خوشی محمد ناظر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بجھائیں پیاس کہاں جا کے تیرے مستانے\nجو ساقیا در مے خانہ تو نہ باز کرے\n\nنہیں وہ لذت آزار عشق سے آگاہ\nستم میں اور کرم میں جو امتیاز کرے\n\nانہیں کے حسن سے ہے گرم عشق کا بازار\nدعا خدا سے ہے عمر بتاں دراز کرے\n\nخدا کا نام بھی لو بازوؤں سے کام بھی لو\nتو فکر کار خداوند کار ساز کرے\n\nہوا و حرص سے ناظرؔ رہے جو پاک نظر\nتو ہم سری نہ حقیقت کی کیوں مجاز کرے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "بجھے بجھے سے شرارے مجھے قبول نہیں", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بجھے بجھے سے شرارے مجھے قبول نہیں\nسواد شب میں ستارے مجھے قبول نہیں\n\nیہ کوہ و دشت بھی آئینۂ بہار بنے\nفقط چمن کے نظارے مجھے قبول نہیں\n\nتمہارے ذوق کرم پر بہت ہوں شرمندہ\nمراد یہ ہے سہارے مجھے قبول نہیں\n\nمثال موج سمندر کی سمت لوٹ چلو\nسکوں بہ دوش کنارے مجھے قبول نہیں\n\nمیں اپنے خوں سے جلاؤں گا رہ گزر کے چراغ\nیہ کہکشاں یہ ستارے مجھے قبول نہیں\n\nشکیبؔ جس کو شکایت ہے کھل کے بات کرے\nڈھکے چھپے سے اشارے مجھے قبول نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A8%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%82%D8%A8%D9%88%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بحث اس کی میری وقت ملاقات بڑھ گئی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بحث اس کی میری وقت ملاقات بڑھ گئی\nباتیں ہوئیں کچھ ایسی کہ بس بات بڑھ گئی\n\nبولا نہ مرغ صبح نہ آئی صدائے آہ\nیارب شب فراق کی کیا رات بڑھ گئی\n\nاصلاح بھی ضروری ہے اب اس کی شیخ جی\nداڑھی تمہاری قبلۂ حاجات بڑھ گئی\n\nپہنچے تھا اپنا دست ہوس جس پہ گاہ گاہ\nوہ شاخ میوہ دار بھی ہیہات بڑھ گئی\n\nشملہ رکھا جو دوش پہ لنگور کی سی دم\nکیا اس میں شیخ جی کی کرامات بڑھ گئی\n\nجس دن سے ان پہ پردۂ پوشیدگی پڑا\nاس دن سے قدر عالم جنات بڑھ گئی\n\nدیں گالیاں جو تو نے صنم اک غریب کو\nکیا گالیاں دیے سے تری ذات بڑھ گئی\n\nدے مصحفیؔ کو نعمت و دولت تو اے کریم\nتا سب کہیں کہ اس کی اب اوقات بڑھ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AD%D8%AB_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "بحث و تکرار", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "جب کتے آپس میں مل کر بیٹھتے ہیں تو پہلے تیوری چڑھا کر ایک دوسرے کو بری نگا ہ سے آنکھیں بدل بدل کر دیکھنا شروع کرتے ہیں، پھر تھوڑی تھوڑی گونجیلی آواز ان کے نتھنوں سے نکلنے لگتی ہے۔ پھر تھوڑا سا جبڑا کھلتا ہے اور دانت دکھائی دینے لگتے ہیں اور حلق سے آواز نکلنی شروع ہوتی ہے، پھر باچھیں چر کر کانوں سے جا لگتی ہیں اور ناک سمٹ کر ماتھے پر چڑھ جاتی ہے، ڈاڑھوں تک دانت باہر نکل آتے ہیں، منہ سے جھاگ نکل پڑتے ہیں اور عنیف آواز کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے چمٹ جاتے ہیں۔ اس کا ہاتھ اس کے گلے میں اور اس کی ٹانگ اس کی کمر میں، اس کا کان اس کے منہ میں اور اس کا ٹینٹوا اس کے جبڑے میں، اس نے اس کو کاٹا اور اس نے اس کو پچھاڑ کر بھنبوڑا، جو کمزور ہوا دم دبا کر بھاگ نکلا۔\n\nنامہذب آدمیوں کی مجلس میں بھی آپس میں اسی طرح تکرار ہوتی ہے۔ پہلے صاحب سلامت کر کر آپس میں مل بیٹھتے ہیں، پھر دھیمی دھیمی بات چیت شروع ہوتی ہے۔ ایک کوئی بات کہتا ہے، دوسرا بولتا ہے، واہ یوں نہیں یوں ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’واہ تم کیا جانو۔‘‘ وہ بولتا ہے، ’’تم کیا جانو۔‘‘ دونوں کی نگاہ بدل جاتی ہے، تیوری چڑھ جاتی ہے، رخ بدل جاتا ہے، آنکھیں ڈراؤنی ہو جاتی ہیں، باچھیں چر جاتی ہیں، دانت نکل پڑتے ہیں، تھوک اڑنے لگتا ہے، باچھوں تک کف بھر آتے ہیں، سانس جلدی چلتا ہے، رگیں تن جاتی ہیں، آنکھ، ناک، بھوں، ہاتھ، عجیب عجیب حرکتیں کرنے لگتے ہیں۔ عنیف عنیف آوازیں نکلنے لگتی ہیں، آستین چڑھا ہاتھ پھیلا، اس کی گردن اس کے ہاتھ میں اور اس کی داڑھی اس کی مٹھی میں۔ لپا ڈکی ہونے لگتی ہے۔ کسی نے بیچ بچاؤ کر کر چھڑا دیا تو غراتے ہوئے ایک ادھر اور ایک ادھر، اور اگر کوئی بیچ بچاؤ کرنے والا نہ ہوا تو کمزور نے لپٹ کر کپڑے جھاڑتے سر سہلاتے اپنی راہ لی۔\n\nجس قدر تہذیب میں ترقی ہوتی ہے اسی قدر اس تکرار میں کمی ہوتی ہے۔ کہیں غرفش ہوکر رہ جاتی ہے، کہیں توں تکار تک نوبت آ جاتی ہے، کہیں آنکھیں بدلنے اور ناک چڑھانے اور جلدی جلدی سانس چلنے ہی پر خیر گذر جاتی ہے، مگر ان سب میں کسی نہ کسی قدر کتوں کی مجلس کا اثر پایا جاتا ہے۔ پس انسان کو لازم ہے کہ اپنے دوستوں سے کتوں کی طرح بحث و تکرار کرنے سے پرہیز کرے۔ انسانوں میں اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے اور اس کے پرکھنے کے لیے بحث و مباحثہ ہی کسوٹی ہے اور اگر سچ پوچھو تو بے مباحثہ اور دل لگی کے آپس میں دوستوں کی مجلس بھی پھیکی ہے، مگر ہمیشہ مباحثہ اور تکرار میں تہذیب و شائستگی، محبت اور دوستی کو ہاتھ سے دینا نہ چاہیے۔\n\nپس اے میرے عزیز ہم وطنو! جب تم کسی کے بر خلاف کوئی بات کہنی چاہو یا کسی کی بات کی تردید کا ارادہ کرو تو خوش اخلاقی اور تہذیب کو ہاتھ سے مت دو۔ اگر ایک ہی مجلس میں دو بدو بات چیت کرتے ہو تو اور بھی زیادہ نرمی اختیار کرو۔ چہرہ، لہجہ، آواز، وضع، لفظ اس طرح رکھو جس سے تہذیب اور شرافت ظاہر ہو مگر بناوٹ بھی نہ پائی جاوے۔ تردیدی گفتگو کے ساتھ ہمیشہ سادگی سے معذرت کے لفظ استعمال کرو، مثلاً یہ کہ میری سمجھ میں نہیں آیا یا شاید مجھے دھوکا ہوا یا میں غلط سمجھا، گو بات تو عجیب ہے، مگر آپ کے فرمانے سے باور کرتا ہوں۔ جب دو تین دفعہ بات کا الٹ پھیر ہو اور کوئی اپنی رائے کو نہ بدلے تو زیادہ تکرار مت بڑھاؤ۔ یہ کہہ کر کہ میں اس بات کو پھر سوچوں گا یا اس پر پھر خیال کروں گا، جھگڑے کو کچھ ہنسی خوشی دوستی کی باتیں کہہ کفر ختم کرو۔\n\nدوستی کی باتوں میں اپنے دوست کو یقین دلاؤ کہ اس دو تین دفعہ کی الٹ پھیر سے تمہارے دل میں کچھ کدورت نہیں آئی ہے اور نہ تمہارا مطلب باتوں کی اس الٹ پھیر سے اپنے دوست کو کچھ تکلیف دینے کا تھا، کیونکہ جھگڑا یا شبہ زیادہ دنوں تک رہنے سے دونوں کی محبت میں کمی آجاتی ہے اور رفتہ رفتہ دوستی ٹوٹ جاتی ہے اور ایسی عزیز چیز (جیسے کہ دوستی) ہاتھ سے جاتی رہتی ہے۔\n\nجب کہ تم مجلس میں ہو جہاں مختلف رائے کے آدمی ملے ہوئے ہیں تو جہاں تک ممکن ہو جھگڑے اور تکرار اور مباحثے کو آنے مت دو، کیونکہ جب تقریر بڑھ جاتی ہے تو دونوں کو ناراض کردیتی ہے۔ جب دیکھو کہ تقریر لمبی ہوتی جاتی ہے اور تیزی اور زور سے تقریر ہونے لگی ہے تو جس قدر ممکن ہو اس کو ختم کر دو اور آپس میں ہنسی خوشی مذاق کی باتوں سے دل کو ٹھنڈا کر لو۔ میں چاہتا ہو ں کہ میرے ہم وطن اس بات پر غور کریں کہ ان مجلسوں میں آپس کے مباحثے اور تکرار کا انجام کیا ہوتا ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AD%D8%AB_%D9%88_%D8%AA%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D8%B1"} {"title": "بحث کرنے کی نہیں ہے مجھے عادت واعظ", "poet_page": "مصنف:منشی ٹھاکر پرساد طالب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان طالب مانکپوری (1933)", "year": "1933", "text_ur": "بحث کرنے کی نہیں ہے مجھے عادت واعظ\nمے و معشوق ہیں میرے لئے جنت واعظ\n\nدختر رز ہی مری راحت جاں روح حیات\nاس سے ممکن نہیں ہو ترک محبت واعظ\n\nبزم رنداں میں ترا وعظ ہے اک فعل عبث\nکس کو فرصت جو کرے تیری سماعت واعظ\n\nآپ جس عشق بتاں کو ہیں گنہ بتلاتے\nوہی زینہ ہے پئے بام حقیقت واعظ\n\nاس کو رغبت تجھے نفرت ہے مے ایسی شے ہے\nبخت طالبؔ وہ ہے یہ ہے تیری قسمت واعظ", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AD%D8%AB_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کی", "poet_page": "مصنف:بہرام جی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کی\nسب ہے قدرت داور دوار کی\n\nہم صف قالوا بلیٰ میں کیا نہ تھے\nکچھ نئی خواہش نہیں دیدار کی\n\nڈھونڈھ کر دل میں نکالا تجھ کو یار\nتو نے اب محنت مری بیکار کی\n\nشکل گل میں جلوہ کرتے ہو کبھی\nگاہ صورت بلبل گل زار کی\n\nآپ آتے ہو کبھی سبحہ بکف\nکرتے ہو خواہش کبھی زنار کی\n\nلن ترانی آپ کی موسیٰ سے تھی\nہر جگہ حاجت نہیں انکار کی\n\nخاص ہیں مقتول شمشیر جفا\nکچھ تو لذت ہے تری تلوار کی\n\nدیر و کعبہ میں کلیسا میں پھرے\nہر جگہ ہم نے تلاش یار کی\n\nسب کی ہے تقدیر تیرے ہاتھ میں\nکیا شکایت مسلم و کفار کی\n\nہم میں جوہر تھے عبادت خاص کے\nکر دیا انساں یہ مٹی خوار کی\n\nمہر و مہ کو عمر بھر دیکھا کئے\nتھی تمنا روئے پر انوار کی\n\nاور اے بہرامؔ اک لکھو غزل\nآپ کو قلت نہیں اشعار کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AD%D8%AB_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "بحر غم میں دل کا قرینہ", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بحر غم میں دل کا قرینہ\nلاکھوں موجیں ایک سفینہ\n\nٹوٹا ہے دل شق ہے سینہ\nدیکھ کر اس ظالم کا قرینہ\n\nبھیگ گئی دنیائے محبت\nآیا تھا کچھ مجھ کو پسینہ\n\nشاخیں پھوٹیں کلیاں چٹکیں\nآ پہنچا پھاگن کا مہینہ\n\nحال بھی میرا آپ نہ پوچھیں\nاتنی رنجش اتنا کینہ\n\nمر جانا تکمیل وفا میں\nہے معراج کا پہلا زینہ\n\nمیری گردن تیرا خنجر\nتیری برچھی میرا سینہ\n\nبرق بلا یا برق ادا ہو\nدونوں کا ہے ایک قرینہ\n\nکیا ہو سکوں اے بحر محبت\nساحل سے ہے دور سفینہ\n\nجلتا ہوں تیری محفل میں\nجنت میں دوزخ کا قرینہ\n\nہجر کا عالم یاد ہے مجھ کو\nاک اک دن ایک ایک مہینہ\n\nموت کی سختی میں نے سمجھی\nماتھے پر نکلا جو پسینہ\n\nشمع کے دم سے بزم منور\nکہنے کو مہمان شبینہ\n\nکوئی جابر کوئی صابر\nاک میرا اک ان کا قرینہ\n\nہل جاؤ بھی کھل کھیلو بھی\nاچھا دن اچھا ہے مہینہ\n\nانہیں میرے دل سے امنگیں\nغرق کیا موجوں نے سفینہ\n\nدل کو فغاں پہنچائے فلک تک\nنیچی چھت ہے اونچا زینہ\n\nپھر اٹھا طوفان محبت\nنوحؔ کریں تیار سفینہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AD%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%82%D8%B1%DB%8C%D9%86%DB%81"} {"title": "بحر ہستی میں صحبت احباب", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بحر ہستی میں صحبت احباب\nیوں ہے جیسے بروئے آب حباب\n\nگردش آسماں میں ہم کیا ہیں\nپر کاہے میانۂ گرداب\n\nبادۂ ناب کیا ہے خون جگر\nزردئ رنگ ہے شب مہتاب\n\nجس کو رقص و سرود کہتے ہیں\nوہ بھی ہے اک ہوائے خانہ خراب\n\nعمر کہتے ہیں جس کو وہ کیا ہے\nمثل تحریر موج نقش بر آب\n\nجسم کیا روح کی ہے جولا نگاہ\nروح کیا اک سوار پا بہ رکاب\n\nحسن اور عشق کیا ہیں یہ بھی ہیں\nخطفہ برق و قطرۂ سیماب\n\nزندگانی و مرگ بھی کیا ہیں\nایک مثل خیال و دیگر خواب\n\nفرصت عمر قطرۂ شبنم\nوصل محبوب گوہر نایاب\n\nکیوں نہ عشرت دو چند ہو جو ہے\nیار مہ چہرہ اور شب مہتاب\n\nسب کتابوں کے کھل گئے معنی\nجب سے دیکھی نظیرؔ دل کی کتاب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AD%D8%B1_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8"} {"title": "بحریؔ پچھانے نیں اسے گل کے سو وہ دم ساز تھے", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "بحریؔ پچھانے نیں اسے گل کے سو وہ دم ساز تھے\nچنچل چھبیلے چلبلے مغرور صاحب ناز تھے\n\nنیں خوب دیکھے تم اسے وہ عاشقوں کا تخت تھا\nمثل سلیماں بر ہوا در نیم-شب پرواز تھے\n\nکیا پارسا کا پیرہن اور تجھ گدا کی گودڑی\nمل کے سو اپنے پاؤں تل جسمانیاں سوں پاز تھے\n\nتأمل کے تم کو دور سے جو بھول گئے اپنا پسر\nوہ گوش و ابرو کھینچ کر مژگان تیر انداز تھے\n\nنادر علیمؔ اللہ کہا یہ شعر بحریؔ کا جواب\nعشاق دلبر سوں سدا خود ہمدم و ہمراز تھے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%94_%D9%BE%DA%86%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%85_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "بخت نے پھر مجھے اس سال کھلائی ہولی", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بخت نے پھر مجھے اس سال کھلائی ہولی\nسوز فرقت سے ز بس مجھ کو نہ بھائی ہولی\nشعلۂ عشق بھڑکتا ہے تو کہتا ہوں رساؔ\nدل جلانے کے لیے آہ یہ آئی ہولی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%D9%86%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C"} {"title": "بخت کو رویا کئے اور آشیاں دیکھا کئے", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بخت کو رویا کئے اور آشیاں دیکھا کئے\nبجلیاں گرتی رہیں ہم بے زباں دیکھا کئے\n\nالتفات یار شکل دشمناں دیکھا کئے\nرات بھر محفل میں سوئے آسماں دیکھا کئے\n\nکر دیا صیاد نے قید قفس تو کیا ہوا\nہم اسیری میں بھی خواب گلستاں دیکھا کئے\n\nپتے پتے سے خزاں نے کھینچ لی جان بہار\nگلستاں لٹتا رہا اور باغباں دیکھا کئے\n\nغیر اس کی بزم میں آتے رہے جاتے رہے\nہم بڑی حسرت سے روئے پاسباں دیکھا کئے\n\nرفتہ رفتہ جان بھی نذر الم کرنی پڑی\nہر مسرت جب نصیب دشمناں دیکھا کئے\n\nمٹنے والوں کے لئے اسباب کی حاجت نہیں\nکیا کہیں ہم کیوں کسی کا آستاں دیکھا کئے\n\nبخت نے کب ایک حالت پر ہمیں رہنے دیا\nعمر بھر ہم انقلابات جہاں دیکھا کئے\n\nان کی آنکھوں ان کے دل کو آفریں صد آفریں\nدوست بن کر جو مری بربادیاں دیکھا کئے\n\nوجہ کچھ ہو ہم نے جب سے آنکھ کھولی ہے منیرؔ\nروز و شب بربادیٔ ہندوستاں دیکھا کئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%A6%DB%92"} {"title": "بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ\nایک دو لاکھ سواروں میں بہادر تھا حُرؔ\nنارِ دوزخ سے ابوذرؔ کی طرح حُر تھا حُرؔ\nگوہرِ تاجِ سرِ عرش ہو، وہ دُر تھا حُرؔ\nڈھونڈھ لی راہِ خدا کام بھی کیا نیک ہوا\nپاک طینت تھی تو انجام بھی کیا نیک ہوا\n\nواہ رے طالعِ بیدار، رہے عزت و جاہ\nحُرؔ پہ کیا فضلِ خدا ہو گیا، اللہ اللہ\nپیشوائی کو گئے آپ، شہِ عرش پناہ\nخضرِ قسمت نے بتا دی اسے فردوس کی راہ\nمدتوں دور رہے جو وہ قریب ایسا ہو\nبخت ایسے ہوں، اگر ہو تو نصیب ایسا ہو\n\nنار سے نور کی جانب اسے لائی تقدیر\nابھی ذرہ تھا ابھی ہو گیا خورشیدِ منیر\nشافعِ حشر نے خوش ہو کے بحل کی تقصیر\nتکیۂ زانوئے شبیرؔ ملا وقتِ اخیر\nاوج و اقبال و حشم فوجِ خدا میں پایا\nجب ہوا خاک تو گھر خاکِ شفا میں پایا\n\nاللہ اللہ حرِؔ صفدر و غازی کا نصیب\nجانِ محبوبِ الٰہی جسے فرمائے حبیب\nہجر میں لطف ملاقات کا دوری میں قریب\nوہی کام آتے ہیں محسن کے، جو ہوتے ہیں نجیب\nصدقے ہو جائے اسے عشقِ ولی کہتے ہیں\nاس کو دنیا میں سعیدِ ازلی کہتے ہیں\n\nآیا کس شوق سے کعبے کی طرف چھوڑ کے دَیر\nکوئی حضرت کا یگانہ بھی نہ سمجھا اسے غیر\nحق نے لکھ دی تھی جو تقدیر میں فردوس کی سیر\nفتنہ و شر سے بچا، ہو گیا انجام بخیر\nذکرِ خیر اس کے موے پر بھی ہوئے جاتے ہیں\nعملِ نیک ہر اک وقت میں کام آتے ہیں\n\nکفر کی راہ سے کارہ تھا، جو وہ نیک طریق\nکس بشاشت سے ہوا، رہبرِ ایماں کا رفیق\nتھے تو لاکھوں، پہ کسی کو بھی ہوئی یہ توفیق\nخُلق طینت میں ہے جس کے وہی ہوتے ہیں خلیق\nاوج دیندار کو، بے دیں کو سدا پستی ہے\nاصل جس تیغ کی اچھی وہی کستی ہے\n\nکیوں نہ بالیدہ ہو اس کا چمنِ جاہ و جلال\nجس کو سر سبز کرے خود اسد اللہ کا لال\nہو گیا فاطمہؔ کے باغ میں آتے ہی نہال\nوہ ثمر پائے کہ پہونچے نہ جہاں دستِ خیال\nکِھِل گیا غنچۂ دل عذر جو منظور ہوئے\nصورتِ برگِ خزاں دیدہ، گنہ دور ہوئے\n\nحُرؔ کہاں، اور کہاں احمدِؔ مرسل کا خلف\nبخت نے دَیر سے پہونچا دیا کعبے کی طرف\nدل صفا ہو گیا سینے میں تو پائے یہ شرف\nجب کہ آنکھیں ہوئی حق بیں، تو ملا درِّ نجف\nنیک جو امر ہیں، دل پر وہی ٹھن جاتے ہیں\nجب خدا چاہے تو بگڑے ہوئے بن جاتے ہیں\n\nوصفِ حُر میں ہے زباں معترفِ عجز و قصور\nآمد آمد کی بہادر کا، سنو اب مذکور\nجب ہوئی مستعدِ جنگ، سپاہِ مقہور\nمہر افلاک امامت نے کیا رن میں ظہور\nغل ہوا جنگ کو، اللہ کے پیارے نکلے\nاے فلک دیکھ، زمیں پر بھی ستارے نکلے\n\nکیا کہوں شانِ جوانانِ جنودِ اللہ\nکوئی ہم طلعتِ خورشید، کوئی غیرتِ ماہ\nباندھی شیروں نے صفِ جنگ میانِ جنگاہ\nچمنِ خُلد سے کرنے لگیں حوریں بھی نگاہ\nواں لعینوں نے درِ ظلم و ستم کھول دیا\nبڑھ کے عباسؔ نے یاں سبز علم کھول دیا\n\nہو گئے سرخ شجاعت سے رخِ آلِ نبیؐ\nآئی ٹھنڈی جو ہوا بھول گئے تشنہ لبی\nرن میں کڑکا ہوا، بجنے لگے باجے عربی\nیکہ تازوں نے کیا شورِ مبارز طلبی\nاک گھٹا چھا گئی ڈھالوں سے سیہ کاروں کی\nبرق ہر صف میں چمکنے لگی تلواروں کی\n\nبرچھیاں تول کے ہر غول سے خوں خوار بڑھے\nنیزے ہاتھوں میں سنبھالے ہوئے اسوار بڑھے\nتیر جوڑے ہوئے چلوں میں، کماں دار بڑھے\nبولے شہ یاں سے ابھی کوئی نہ زنہار بڑھے\nاسدِ حق کے گھرانے کا یہ دستور نہیں\nمیں نبی زادہ ہوں سبقت مجھے منظور نہیں\n\nیہ سخن سن کے مخاطب ہوئے اعدا سے امام\nاے سپاہِ عرب و روم و رے و کوفہ و شام\nتم پہ کرتا ہے حسینؔ آخری حجت کو تمام\nپسرِ مصحفِ ناطق ہوں سنو میرا کلام\nسخنِ حق کی طرف کانوں کو مصروف کرو\nشو باجوں کا مناسب ہو تو موقوف کرو\n\nیہ صدا سنتے ہی خود رک گیا، قرنا کا خروش\nتھم گیا، طبلِ وغا کی بھی وہ آواز کا جوش\nہو گیا جوڑ کے ہاتھوں کو، جلاجل خاموش\nکیا بجاتے کہ بجا تھے نہ کسی شخص کے ہوش\nچھیڑنا ان کو سرودوں کا بھی ناساز ہوا\nرعب فرزند نبیؐ سرمۂ آواز ہوا\n\nکم ہوا غلغلۂ فوج ستم جب اک بار\nیوں گہر بار ہوئے شہ کے لبِ گوہر بار\nصف کشی کس پہ ہے، یہ اے سپہِ ناہنجار\nقتل سادات کی، لشکر میں یہ کیسی ہے پکار\nوطن آواروں پہ، یہ قرق ہے کیوں پانی کا\nکیا زمانے میں یہی طور ہے مہمانی کا\n\nمجھ کو لڑنا نہیں منظور، یہ کیا کرتے ہو\nتیر جوڑے ہیں جو مجھ پر تو خطا کرتے ہو\nکیوں نبی زادے پہ غربت میں جفا کرتے ہو\nدیکھو اچھا نہیں یہ ظلم، برا کرتے ہو\nشمع ایماں ہوں، اگر سر مرا کٹ جائے گا\nیہ مرقعِ ابھی اک دم میں الٹ جائے گا\n\nمیں ہوں سردارِ شبابِ چمنِ خلد بریں\nمیں ہوں خالق کی قسم دوشِ محمد کا مکیں\nمیں ہوں انگشتر پیغمبر خاتم کا نگیں\nمجھ سے روشن ہے فلک مجھے سے منور ہے زمیں\nابھی نظروں سے نہاں نور جو میرا ہو جائے\nمحفلِ عالمِ امکاں میں اندھیرا ہو جائے\n\nقلزم عز و شرف کا درِ شہوار ہوں میں\nسب جہاں زیرِ نگیں ہے وہ جہاندار ہوں میں\nآج گو مصلحتاً، بیکس و ناچار ہوں\nورثۂِ احمدِ مختار کا، مختار ہوں میں\nبخدا دولتِ ایماں اسی دربار میں ہے\nسب بزرگوں کا تبرک مری سرکار میں ہے\n\nیہ قبا کس کی ہے بتلاؤ یہ کس کی دستار\nیہ زرہ کس کی ہے، پہنے ہوں جو میں سینہ فگار\nبر میں کس کا ہے یہ چار آئینۂ جوہر دار\nکس کا رہوار ہے یہ آج میں جس پر ہوں سوار\nکس کا یہ خود ہے، یہ تیغِ دوسر کس کی ہے\nکس جری کی یہ کماں ہے، یہ سپر کی کی ہے\n\nتنگ آئے گا تو رکنے کا نہیں پھر شبیرؔ\nایک حملے میں فنا ہوں گے یہ دو لاکھ شریر\nچل سکیں گے نہ تبر مجھ پہ، نہ تلوار نہ تیر\nکاٹ جائے گی گلے سب کے یہ برّاں شمشیر\nشیر ہوں لختِ دل غالبِ ہر غالب ہوں\nمیں جگر بند علیؔ ابنِ ابی طالبؔ ہوں\n\nمجھ کو ہوتا نہ اگر بخششِ امت کا خیال\nروک لیتا مجھے رستہ میں، یہ حر کی تھی مجال\nتھام سکتا تھا، لجامِ فرسِ برق مثال\nپوچھ لو دیکھا ہے اس نے، مرے شیروں کا جلال\nگفتگو میں سپر اس کی جو نہ ہم، ہو جاتے\nہاتھ اِک وار میں، پہونچوں سے قلم ہو جاتے\n\nغیظ سے ہاتھ چباتے تھے علیؔ کے دلدار\nنیمچے تولتے تھے عون و محمد ہر بار\nاگلی پڑتی تھی جگر بند حسنؔ کی تلوار\nمیں نے جب سر کی قسم دی تو رکے وہ جرار\nچلتی تلوار تو جنگل تہ و بالا ہوتا\nپھر نہ حُرؔ خلق میں ہوتا نہ رسالہ ہوتا\n\nتھا یہ بپھرا ہوا عباسؔ مرا شیر جواں\nسینۂ حُرؔ پہ رکھے دیتا تھا، نیزے کی سناں\nمیں یہ کرتا تھا اشارہ کہ، نہ اے بھائی جاں\nرحم لازم ہے ہمیں، ہم ہیں امامِ دو جہاں\nکچھ تردد نہیں، سر تن سے اتارا جائے\nکوئی بندہ نہ مرے ہاتھ سے مارا جائے\n\nگرچہ یہ امر نہیں، اہل سخا کے شایاں\nکہ کسی شخص کو کچھ دے کے کرے سب پہ عیاں\nپوچھ لو حرؔ تو ہے موجود، عیاں راچہ بیاں\nاسی جنگل میں، مع فوج تھا، یہ تشنہ دہاں\nشور تھا آج، چلیں جسم سے جانیں سب کی\nمنہ کے باہر نکل آئی تھیں زبانیں سب کی\n\nزیست ہر شے کی ہے، پانی سے، شجر ہو کہ بشر\nمجھ سے دیکھا نہ گیا، میں تو سخی کا ہوں پسر\nمیں نے عباسؔ دلاور سے کہا، گھبرا کر\nمشکوں والے ہیں کہاں، اونٹ ہیں پانی کے کدھر\nکرم ساقیٔ کوثر کو دکھا دو بھائی\nجتنا پانی ہے وہ پیاسوں کو پلا دو بھائی\n\nرہ نہ جائے کوئی گھوڑا کوئی ناقہ بے آب\nچھاگلیں جلد منگاؤ، مرا دل ہے بے تاب\nسقے مشکیزوں کا منہ کھول کے آ پہونچے شتاب\nمتوجہ ہوا میں خود کہ، وہ تھا، کارِ ثواب\nچین آیا نہ مجھے، بے انہیں آرام دیئے\nتھا جو اک جام کا پیاسا، اسے دو جام دیئے\n\nتھی یہی فصل یہی دھوپ یہی گرم ہوا\nٹھنڈے پانی پہ گرے پڑتے تھے، حُرؔ کے رفقا\nتشنہ کاموں کا یہ مجمع تھا کہ ملتی نہ تھی جا\nسقے بھر بھر کے کٹوروں کو یہ دیتے تھے صدا\nبھائیو آؤ، جو پانی کی طلب گاری ہے\nچشمۂ فیضِ حسینؔ ابنِ علیؔ جاری ہے\n\nآبِ شیریں کا جو دریا ہوا جنگل میں رواں\nفرس و اشتر، و قاطر نہ رہے تشنہ دہاں\nشکر کرنے لگے تر ہو گئی، ہر خشک زباں\nپانی پی پی کے دعائیں مجھے دیتے تھے جواں\nشور تھا ابنِ یداللہ نے جاں بخشی کی\nدین و دنیا کے شہنشاہ نے جاں بخشی کی\n\nایک دن وہ تھا اور اک دن یہ ہے، اللہ اللہ\nکہ اسی طرح، ہمیں پیاس میں، پانی کی ہے چاہ\nچشم امید ہو کیا، سب نے پھرالی ہے نگاہ\nکوئی اک جام بھی بھر کر ہمیں دیتا نہیں آہ\nہر مسلماں پہ نبیؐ زادے کا حق ہوتا ہے\nبچے روتے ہیں تو سینہ مرا شق ہوتا ہے\n\nکئی معصوم ہیں کمسن جو موئے جاتے ہیں\nدم اکھڑتا ہے مرا جب انہیں غش آتے ہیں\nپانی پانی جو وہ کہتے ہیں تو شرماتے ہیں\nپاس دریا ہے پہ اک بوند نہیں پاتے ہیں\nسچ ہے غربت کی عجب شام و سحر ہوتی ہے\nتیسرا دن ہے، کہ فاقوں میں بسر ہوتی ہے\n\nشہ کہ مظلومی پہ گریاں ہوئی ظالم کی سپاہ\nعمرِ سعدؔ نے کی، مڑ کے رخِ حُرؔ پہ نگاہ\nبولا وہ اشہد باللہ، بجا کہتے ہیں شاہ\nمحسن و منعم و آقا ہے مرا یہ ذی جاہ\nاِن کے احسان کا کیوں کر کوئی منکر ہو جائے\nسخن حق میں جو شک لائے وہ کافر ہو جائے\n\nایک میں کیا ہوں، زمانے پہ ہے احساں اِن کا\nابرِ رحمت ہیں خطا پوش ہے داماں، اِن کا\nخشک و تر پر ہے کرم، خلق میں، یکساں ان کا\nہے خوشا حال جو غربت میں ہو مہماں ان کا\nجنّتی ہے جسے حاصل یہ شرف ہوجائے\nجو ادھر ہو گا خدا اس کی طرف ہو جائے\n\nیہ ابھی ہاتھ اٹھا کر جو دعا فرمائیں\nجتنے عالم کے گنہگار ہیں بخشے جائیں\nحق سے جس شے کے طلب گار ہوں، فوراً پائیں\nجامِ کوثر یہیں فردوس سے حوریں لائیں\nمثلِ خورشید ہے روشن وہ شرف ان کا ہے\nیہ وہ بندے ہیں، کہ اللہ پہ حق جن کا ہے\n\nان سے قطرہ کوئی مانگے تو گہر دیتے ہیں\nہیں سخی ابنِ سخی بات پہ سر دیتے ہیں\nپیٹ سائل کا یہ فاقوں میں بھی بھر دیتے ہیں\nیاں تور زر دیتے ہیں، فردوس میں گھر دیتے ہیں\nآس مجرم کی، گنہ گار کی امید ہیں یہ\nذرہ پرور جنہیں کہتے ہیں، وہ خورشید ہیں یہ\n\nحُرؔ سے گھبرا کے یہ بولا عمرِؔ سعدِ شریر\nیہ تو ہے صاف طرفداریِٔ شہ کی تقریر\nاپنے حاکم کا نہ کچھ ذکر نہ تعریفِ امیر\nاللہ اللہ یہ اوصاف، یہ مدحِ شبیر\nسن چکا ہوں میں، کہ مضطر ہے کئی راتوں سے\nالفتِ شاہ ٹپکتی ہے تری باتوں سے\n\nنہ وہ آنکھیں، نہ وہ چتون، نہ وہ تیور، نہ مزاج\nسیدھی باتوں میں بگڑنا یہ نیا طور ہے آج\nتخت بخشا ہے محمدؐ کے نواسے نے کہ تاج\nجن کو سمجھا ہے غنی دل میں، وہ خود ہیں محتاج\nکون سا باغ تجھے شاہ نے دکھلایا ہے\nکہیں کوثر کے تو چھینٹوں میں نہیں آیا ہے\n\nکیا کسی حور کا، دکھلا دیا، حضرت نے جمال\nملک گیا سایۂ طوبیٰ کہ جو ایسا ہے نہال\nقصرِ یاقوت میں پہونچا، جو ترا رنگ ہے لال\nکون سے میوۂ شیریں پہ ٹپکتی ہے رال\nدفعتہً حقِّ نمک کو بھی فراموش کیا\nکیا تجھے بادۂ تسنیم نے بے ہوش کیا\n\nمیں جہاں دیدہ ہوں، سب مجھکو خبر ہے تیری\nقرّۃالعین محمدؐ پہ نظر ہے تیری\nہونٹ بھی خشک ہیں اور چشم بھی تر ہے تیری\nجسم خاکی ہے اِدھر، جان اُدھر ہے تیری\nراہ میں کچھ جو سلوک اور نوازش کی ہے\nتو نے فرزندِ ید اللہ سے سازش کی ہے\n\nخیر مخفی نہ رہے گا یہ قصور اور فتور\nلکھیں گے عہدۂ اخبار پہ جو ہیں مامور\nحاکمِ شام ہے جابر، وہ سزا دے گا ضرور\nگر تجھے دار پہ کھینچے، تو کچھ اس سے نہیں دور\nسب تری قوم کے سر تن سے جدا ہوئیں گے\nزن و فرزند، گرفتارِ بلا ہوئیں گے\n\nنفع اس امر میں جس میں میں ہو مردم کا ضرر\nآنکھیں نکلیں گی، محبت سے جو دیکھے گا اُدھر\nشجرِ قامتِ سرور پہ، جو ڈالے گا نظر\nسر چڑھے گا ترا برچھی پہ، یہ ہے اس کا ثمر\nالفتِ زلف سے بھی پیچ میں تو آئے گا\nخال رخ دیکھا، تو گھر خانصے لگ جائے گا\n\nبدرِ پیشانیٔ سرور کا ہے جو سر میں خیال\nتو اسی ماہ میں نقصاں ترا ہوئے گا کمال\nسب میں ہو جائے گا انگشت نما شکل ہلال\nتیر و شمشیر ہے، ابرو کی محبت کا مآل\nعشق رخسار میں، رتبہ ترا گھٹ جائے گا\nمنہ پہ کہتا ہوں کہ چہرہ ابھی کٹ جائے گا\n\nخوف کس بات کا پیاسوں سے یہ تھرّانا کیا\nلب پہ ہر مرتبہ، بیکس کی ثنا لانا کیا\nننگ کی بات ہے دشمن کی طرف جانا کیا\nہو نبی یا کہ وصی جنگ میں شرمانا کیا\nابھی لے جائیں جو شبیر کا سر ہاتھ لگے\nخلد ہم اس کو سمجھتے ہیں کہ زر ہاتھ لگے\n\nحرؔ پکارا کہ زباں بند کراو نا ہموار\nقابلِ لعن ہے تو اور وہ تیرا سردار\nابن زہراؔ ہے جگر بند رسولِ مختار\nمیرا کیا منہ جو کروں مدحِ امامِ ابرار\nاک زمانہ صفِت آلِ عبا کرتا ہے\nآپ قرآں میں خدا ان کی ثنا کرتا ہے\n\nوصف ایسوں کا زباں پر کوئی کیونکر لائے\nتین سو آئے ہوں، تعریف میں جن کی، آئے\nکسی انساں نے یہ دنیا میں ہیں رتبے پائے\nاپنا محبوب و ولی جس کو خدا فرمائے\nالفتِ آل میں مریئے تو خوش اقبالی ہے\nسنگ ہے ان کی محبت سے جو دل خالی ہے\n\nاسفلوں سے ہے محبت تجھے اور سفلہ مزاج\nخاک پا اس کی ہوں میں ہے جو سرِ عرش کا تاج\nجس کو کاندھے پہ محمدؔ کے ملی ہے معراج\nمیرے آقا سا سخی کون ہے کونین میں آج\nکیوں ترے سامنے مکروں کو نہیں بخشا ہے\nہاں، مجھے شاہ نے، فردوس بریں بخشا ہے\n\nباغ جو مجھ کو دکھایا اسے کیا جانے تو\nراحتِ روح ہے، جس باغ کے ہر پھول کو بو\nمجھ کو اللہ نے بخشیں ہیں وہ حوریں خوش رو\nکہ جنہیں تیرے فرشتوں نے نہ دیکھا ہو کبھو\nنام کوثر کا نہ لے تو مجھے جوش آتا ہے\nانہیں چھینٹوں سے تو بیہوش کو ہوش آتا ہے\n\nعزتِ دیں شرفِ کون و مکاں ہیں شبیرؔ\nجانِ زہراؔ ہیں محمدؐ کی زباں ہیں شبیرؔ\nسنگ پانی ہو، وہ اعجاز بیاں ہیں شبیرؔ\nجان کیوں ہو نہ ادھر، جانِ جہاں ہیں شبیرؔ\nمہرباں ہوں تو ابھی عقدہ کشائی ہووے\nوہ نہ بخشیں تو خدا تک نہ رسائی ہووے\n\nکیا میں اور کیا وہ ریاست مری، کیا میرے عیال\nجبکہ آفت میں پھنسے احمدِ مختار کی آل\nداں کی املاک و زراعت کا ہو کیا مجھ کو خیال\nیاں ہوئی جاتی ہے سادات کی کھیتی پامال\nگھر کا اب دھیان نہ بچوں کا الم ہے مجھ کو\nخانہ بربادیِٔ شبیرؔ کا غم ہے مجھ کو\n\nدولتِ حاکم دوں پر ہے ترا دار و مدار\nدارِ دنیا سے تعلق نہیں رکھتے، دیں دار\nکیا مجھے دار پہ کھنیچے گا، وہ ظالم غدار\nخوابِ غفلت ہے اسے او مرے طالع بے دار\nکسی سردار نے یہ اوج نہ پایا ہوگا\nدارِ طوبیٰ کا مرے فرق پہ سایہ ہوگا\n\nہے سر افراز سدا عاشق پیشانیِٔ شاہ\nسجدے کیجے کہ ہے بیت ابروؤں کی بیت اللہ\nعشق آنکھوں کا ہے مردم کے لئے نورِ نگاہ\nہے وہ یوسف جسے ہو مصحفِ رخسار کی چاہ\nعاشق لب کو خدا لعل و گہر دیتا ہے\nوہ دہن، چشمۂ کوثر کی خبر دیتا ہے\n\nخالِ رخسار نہیںِ گوئے سعادت ہے یہ\nمجھ سے مجرم کے لئے مہر شفاعت ہے یہ\nہوں جو آشفتۂ گیسو تو عبارت ہے یہ\nبخدا سلسلۂ بخششِ امت ہے یہ\nشب معراجِ رسولِ دو جہاں سمجھا ہوں\nاس کے ہر تار کو میں رشتۂ جاں سمجھا ہوں\n\nوصفِ دنداں میں زبان جس کی رہے گوہر بار\nموتیوں سے دہن اس شخص کا بھر دے غفار\nشوق میں سیب ذقن کے جسے آئے نہ قرار\nحوریں غرفے سے دکھائیں اسے رنگِ رخسار\nدم بہ دم چاہنے والوں کے لہو گھٹتے ہیں\nیہ گلا وہ ہے گلے، جس کے لئے کٹتے ہیں\n\nصدقے اُس سینے پہ ہیں، عاشقِ صافی سینا\nخاک اس دل پہ جو اس سینے سے رکھے کینا\nحق نما ہے تو جہاں میں ہے یہی آئینا\nاس کا عاشق ہو تو، ہوں کور کی آنکھیں بینا\nفیض پاتا ہے وہ دل جس میں ولا ہوتی ہے\nچشم کو اس کی زیارت سے جلا ہوتی ہے\n\nپاؤں یہ وہ ہیں کہ ان پاؤں کو جو ہاتھ لگائے\nتو سر دست سر افرازیِٔ کونین وہ پائے\nگردِ نعلین مبارک، جو اثر اپنا دکھائے\nتوتیا ہوئے خجل، کحلِ جواہر شرمائے\nصدقے کر دیں گے سر ان پاؤں پہ ہم ایسے ہیں\nدوشِ احمدؔ پہ رہے جو، یہ قدم ایسے ہیں\n\nعملِ خیر سے بہکا نہ مجھے او ابلیس\nیہی کونین کا مالک ہے یہی راس و رئیس\nکیا مجھے دے گا ترا حاکم ملعون و خسیس\nکچھ تردد نہیں کہہ دے کہ لکھے پرچہ نویس\nہاں سوئے ابنِ شہنشاہ عرب جاتا ہوں\nلے ستمگر، جو نہ جاتا تھا تو اب جاتا ہوں\n\nکہہ کے ڈاب سے غازی نے نکالی تلوار\nسرخ آنکھیں ہوئی ابرو پہ بل آئے اک بار\nتن کے دیکھا طرفِ فوجِ امامِ ابرار\nپاؤں رکھنے لگا بن بن کے زمیں پر رہوار\nغل ہوا سیدِ والا کا ولی جاتا ہے\nلو طرف دار حسینؔ ابنِ علیؔ جاتا ہے\n\nحرؔ نے نعرہ کیا، یا حیدرؔ صفدر مددے\nوقتِ امداد ہے، یا فاتحِ خیبر مددے\nزوجِ زہراؔ مددے، نفس پیمبر مددے\nبندۂ آل ہوں، یا خواجۂ قنبر مددے\nتنِ تنہا ہے غلام، اور بہت اظلم ہیں\nآئی آواز کہ اے حرؔ ترے حامی ہم ہیں\n\nمل گئی راہِ خدا واہ رے اقبال ترا\nپاک عصیاں سے ہوا نامۂ اعمال ترا\nجرمِ ماضی ہوئے سب عفو خوشا حال ترا\nجلد جا جلد کہ شائق ہے مرا لال ترا\nمرد ہے جس کی یہ ہمت یہ ارادہ ہووے\nہاں بہادر تری توفیق زیادہ ہووے\n\nمنتظر ہیں ترے سب فوجِ حسینی کے جواں\nدرِ فردوس پہ مشتاق کھڑا ہے رضواں\nراہ تکتی ہیں تری دیر سے حورانِ جناں\nشور کوثر پہ ہے شبیرؔ کا مہماں ہے کہاں\nفوجِ قدسی تری ہمت کی ثنا کرتی ہے\nفاطمہؔ آج ترے حق میں دعا کرتی ہے\n\nتو بہشتی ہے، یہ کافر ہیں کنشتی اے حرؔ\nمٹ گئی سب ترے اعمال کی زشتی اے حرؔ\nدیکھ اب صورتِ حورانِ بہشتی اے حرؔ\nکس تلاطم میں بچی ہے تری کشتی اے حرؔ\nغضب اللہ کا شبیرؔ کی ناراضی ہے\nپنجتن تجھ سے ہیں راضی تو خدا راضی ہے\n\nاور بالیدہ ہوا سن کے یہ مژدہ وہ حزبر\nدل بیتاب پکارا کہ نہیں طاقتِ صبر\nاب تو اس فوج میں اک دم کی بھی تعویق ہے جبر\nقعرِ دوزخ ہے، مسلماں کے لئے صحبت گبر\nہاں اٹھا باگ، جو شیدائے شہِ عالی ہے\nفوج اللہ و نبی میں تری جا خالی ہے\n\nسن کے یہ باگ جو لی، اسپ سبک تاز اڑا\nڈر سے رنگِ عمرِ شعبدہ پرواز اڑا\nکیا اڑا رخش، کہ طاؤس بصد ناز اڑا\nدی پرندوں نے یہ آواز کہ شہباز اڑا\nباغِ زہراؔ میں، نسیم سحری جاتی ہے\nغل تھا دربار سلیماں میں پری جاتی ہے\n\nکیا دو تین رسالوں نے تعاقب ہر چند\nحرؔ کا ہاتھ آنا تو کیسا نہ ملی گردِ سمند\nکہتے تھے شرم سے وہ لے کے جو دوڑے تھے کمند\nیہ چھلاوا تھا کہ آندھی، یہ فرس تھا کہ پرند\nکیا سبک سوئے چمن بادِ بہاری پہونچی\nہم یہیں رہ گئے واں حرؔ کی سواری پہونچی\n\nیاں ہوئے علمِ امامت سے شہِ دیں آگاہ\nہنس کے عباسؔ سے فرمایا کہ اے غیرتِ ماہ\nمیرے لشکر کی طرف ہے رخِ حرّ ذی جاہ\nسب سے کہہ دو کہ نہ روکے کوئی اس شخص کی راہ\nجاؤ لینے کو عجب رتبہ شناس آتا ہے\nمیرا مہماں، مرا عاشق، مرے پاس آتا ہے\n\nذکر یہ تھا کہ صدا دور سے آئی اِک بار\nالغیاث اے جگر و جانِ رسولِ مختار\nمجرم ایسا ہوں، کہ عصیاں کا نہیں جس کے شمار\nعفو کر عفو کر، اے چشمۂ فیضِ غفار\nپار دریائے خطا سے مری کشتی ہو جائے\nدوزخی بھی ترے صدقے سے بہشتی ہو جائے\n\nکئی روزوں سے تلاطم میں ہوں، اے شاہنشاہ\nمدد اے نوحِ غریباں، مرا بیڑا ہے تباہ\nدست و پا گم ہیں کچھ ایسے کہ نہیں سوجھتی راہ\nشور کرتا ہوں کہ بتلائے کوئی جائے پناہ\nابرِ رحمت کی طرف جا یہ صدا دیتے ہیں\nسب ترے دامنِ دولت کا پتا دیتے ہیں\n\nترے دامن کے نثار اے مرے آقائے جلیل\nرحم کر رحم کہ شرمندہ ہے یہ عبد ذلیل\nدل خنک ہوئے جو نکلے کوئی کوثر کی سبیل\nجان آ جائے جو مولائے دو عالم ہوں کفیل\nنہ وزیروں میں یہ ہمت نہ شہنشاہ میں ہے\nسب مرے درد کا درماں، تری درگاہ میں ہے\n\nخلق میں آپ کے والد کا کرم ہے مشہور\nبات میں بخش دیئے سینکڑوں بندوں کے قصور\nمجھ سے ہیں باگ پکڑ لینے پہ آزردہ حضور\nبخش دیجے تو کرم سے نہیں کچھ آپ کے دور\nیہ تو کیونکر کہوں، میں لائقِ تعزیر نہیں\nمگر اسود سے زیادہ مری تقصیر نہیں\n\nاے مددگار و معین الضعفا، ادرکنی\nاے خبر گیر گروہ غربا، ادرکنی\nپاؤں لغزش میں ہیں اے دست خدا ادرکنی\nہاتھ باندھے ہوں میں اے عقدہ کشا، ادرکنی\nدیجئے حر کو سند نار سے آزادی کی\nآیئے جلد خبر لیجئے فریادی کی\n\nمرے اعمال میں ہر چند سراسر ہے بدی\nہوں گہنگارِ خدائے ازلی و ابدی\nآپ ہیں مالکِ سرکارِ جنابِ احدی\nاے خداوندِ جہاں خُذ بیدی خُذ بیدی\nجو تہی دست ہیں تکتے ہیں شہنشاہ کا ہاتھ\nآپ کا ہاتھ زمانے میں ہے اللہ کا ہاتھ\n\nایک یہ خستہ تن اور درپئے جاں لاکھ حریف\nاے سلیماں کہیں پامال نہ ہو مورِ ضعیف\nچھوڑ کر آپ کی سرکار، کہاں جائے نحیف\nکیجئے اب نظر لطف، کہ ہوتا ہے خفیف\nہوں سرافراز جو اتنا ہی کرم ہو جائے\nنام قنبرؔ کے غلاموں میں رقم ہو جائے\n\nاستغاثہ یہ کیا حُرؔ نے جو بادیدۂ نم\nآ گیا جوش میں اللہ کا دریائے کرم\nخود بڑھا ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے شہنشاہِ امم\nحرُ کو یہ ہاتفِ غیبی نے صدا دی اس دم\nشکر کر سبط رسول الثقلین آتے ہیں\nلے بہادر ترے لینے کو حسین آتے ہیں\n\nحرُ نے دیکھا کہ چلے آتے ہیں پیدل شبیرؔ\nدوڑ کر چوم لئے پائے شہ عرشِ سریر\nشہ نے چھاتی سے لگا کر کہا اے با توقیر\nمیں نے بخشی، مرے اللہ نے بخشی تقصیر\nمیں رضا مند ہوں کس واسطے مضطر ہے تو\nمجھ کو عباسؔ دلاور کے برابر ہے تو\n\nکس کے کیوں باندھا ہے ہاتھوں کو میں ہوتا ہوں خجل\nسہل کر دیں اسے گر اور کوئی ہو مشکل\nبھائی آ، مجھ سے بغل گیر تو ہو، کھول کے دل\nغافر و راحم و تواب ہے ربِ عادل\nجرم سب محو کئے حق نے ترے دفتر سے\nآج پیدا ہوا گویا شکمِ مادر سے\n\nحرؔ پکارا بابیِ انت و امی یا شاہ\nقابل عفو نہ تھے بندۂ آثم کے گناہ\nمجھ سے گمراہ کو اک آن میں مل جائے یہ راہ\nسب ہے صدقہ انہیں قدموں کا خدا ہے آگاہ\nمہر ذرے پہ جو ہو نیرِ تاباں ہو جائے\nآپ جس مور کو چاہیں وہ سلیماں ہو جائے\n\nکون مقدادؔ تھے سلمانؔ و آباذرؔ تھے کون\nآپ فرمائیں کہ عمارِؔ دلاور تھے کون\nشور عالم میں جو ہے، مالکِؔ اشتر تھے کون\nاے خداوندِ جہاں حضرتِ قنبرؔ تھے کون\nانہیں قدموں کا تصدق تھا کہ ممتاز ہوئے\nاسی سرکار کے خلعت سے سر افراز ہوئے\n\nشہ نے فرمایا کہ خالق کی عنایت ہے یہ سب\nدے کسی شخص کو بندے میں یہ مقدور ہے کب\nاس مسبب کی عنایت کے یہ سارے ہیں سبب\nوہی منعم، وہی محسن، وہی رازق، وہی رب\nاپنے کیسے سے نہ دام اور درم دیتے ہیں\nجب وہ خالق ہمیں دیتا ہے تو ہم دیتے ہیں\n\nلاکھ ہاتھ اس کے ہیں دینے کے وہ ایسا ہے جواد\nہم اسے بھولیں تو بھولیں، وہ ہمیں رکھتا ہے یاد\nرزق وہ حوصلۂ حرص سے دیتا ہے زیاد\nشکر کرتے نہیں معبود کا اس پر بھی عباد\nوہ غنی ہے کہ ہے محتاج زمانہ اس کا\nکبھی خالی نہیں ہوتا ہے خزانہ اس کا\n\nجس قدر اس سے طلب کیجئے خوشنود ہے وہ\nصاحبِ جود ہے وہاب ہے، محمود ہے وہ\nہاتھ پھیلائے جو سو بار تو، موجود ہے وہ\nبخش دیتا ہے کہ ہم عبد ہیں، معبود ہے وہ\nپرورش جرم پہ بھی، صبح و مسا ہوتی ہے\nیاں سے ہوتی ہے خطا واں سے عطا ہوتی ہے\n\nکہہ کے یہ ساتھ لئے حُرؔ کو چلے شاہِ امم\nہاتھ میں ہاتھ تھا مہمان کا، اللہ رے کرم\nراس و چپ قاسمؔ و اکبرؔ تھے، زہے شان و حشم\nسر پہ کھولے ہوئے تھے حضرتِ عباس علم\nدورسے اہلِ خطا، تیر جو برساتے تھے\nرفقا سائے میں ڈھالوں کے لئے آتے تھے\n\nلائے اس عزت و حرمت سے جو مہماں کو امام\nبولے عباس کمر کھول، اب اے نیک انجام\nشہ نے فرمایا مناسب ہے کوئی دم آرام\nعرض کی حُرؔ نے کمر خلد میں کھولے گا غلام\nفاتحہ پڑھ کے، یہ شمشیر و سپر باندھی ہے\nآج اس عزم پہ خادم نے کمر باندھی ہے\n\nہے بہت شمر و عمر سے مجھے لڑنے کی امنگ\nایک ہی وار میں دونوں کا کروں گا چورنگ\nلشکرِ شام سے پہیم چلے آتے ہیں، خدنگ\nشاہزادوں کے سپر ہوں، کہ عبادت ہے جنگ\nلیکن ایسا نہ ہو بچہ کوئی بے جاں ہو جائے\nپہلے یہ تازہ غلام آپ پہ قرباں ہو جائے\n\nشہ نے فرمایا کہ دشوار ہے فرقت تیری\nمجھکو مر کر بھی نہ بھولے گی محبت تیری\nوا دریغا، ہوئی کچھ ہم سے نہ خدمت تیری\nخیر فردوس میں ہو جائے گی دعوت تیری\nآج رتبہ ترا خیلِ شہدا میں ہوگا\nشب کو تو صحبتِ محبوب خدا میں ہوگا\n\nتجھ پہ مخفی نہیں ہفتم سے جو کچھ ہے مرا حال\nراہیں ہر سمت کی روکے ہوئے ہیں اہلِ ضلال\nقحط پانی کا ہے اس دشت میں گندم کا ہے کال\nنانِ جو کا بھی ہے ملنا کسی قریے میں محال\nسب کو ایذا عوضِ آب و غدا ملتی ہے\nدودھ اصغرؔ کو نہ عابدؔ کو دوا ملتی ہے\n\nحُرؔ نے رو کر سرِ تسلم جھکایا بہ ادب\nشہ نے رومال رکھا آنکھوں پہ رونے لگے سب\nجب چڑھا گھوڑے پہ وہ عاشقِ سلطانِ عرب\nشاہ بولے کہ عجب دوست چھٹا ہائے غضب\nدم بہ دم یاں سے جو آوازِ بکا جاتی تھی\nگریۂ آلِ محمد کی صدا آتی تھی\n\nحُرؔ چلا فوج مخالف پہ اڑا کے توسن\nچوکڑی بھول گئے جس کی تگاپو سے ہرن\nوہ جلال اور وہ شوکت، وہ غضب کی چتون\nہاتھ میں تیغ، کماں دوش پہ بر میں جوشن\nدوسرے دوش پہ شملے کے جو بل کھاتے تھے\nکاکلِ حور کے سب پیچ کھلے جاتے تھے\n\nزور بازو کا نمایاں تھا بھرے شانوں سے\nدستِ فولاد دبا جاتا تھا دستانوں سے\nبرچھیوں اڑتا تھا دب دب کے فرس رانوں سے\nآنکھ لڑ جاتی تھی، دریا کے نگہبانوں سے\nخودِ رومی کی، جو ضو، تابہ فلک کھاتے تھے\nچشمِ خورشید میں بجلی سی چمک جاتی تھی\n\nنیزۂ حُرؔ کی سناں پر نہ ٹھہرتی تھی نگاہ\nتھا یہ ظاہر کہ نکالے ہے زباں مارِ سیاہ\nقبضۂ تیغ پہ رکھے تھی سر عجز پناہ\nآفتابی وہ سپر، جس سے خجل گردۂ ماہ\nقدر اندازوں کو جانوں کے ادھر لالے تھے\nتیر ترکش میں نہ تھے آگ کے پرکالے تھے\n\nرن میں جب شہ کی طرف سے حُرِؔ دیں دار آیا\nکس بشاشت سے اڑاتا ہوا رہوار آیا\nغل ہوا سید مظلوم کا، غم خوار آیا\nجاں نثارِ خلفِ حیدرِ کرّار آیا\nتتّق نور سرِ راہ نظر آتا ہے\nجلوۂ قدرتِ اللہ نظر آتا ہے\n\nآنے جانے کا بہادر کے کروں کیا مذکور\nپہلے کچھ اور ہی جلوہ تھا، پر اب اور ظہور\nاے خوشا رتبہ فیضِ قدمِ پاک حضور\nغل تھا آتا ہے ملک پہنے ہوئے خلعتِ نور\nصحبت اہلِ ولا، دل کو جلا کرتی ہے\nمس کو اک آن مین اِکسیر طلا کرتی ہے\n\nواہ کیا فیض ہے، سرکارِ شہِ عالم میں\nذرۂِ خاک کو خورشید کیا، اک دم میں\nنور یہ حور میں دیکھا، نہ بنی آدم میں\nیہ وہی حُرِؔ جری ہے جو ابھی تھا ہم میں\nتن ہے خوش بو، رخِ گل رنگ تر و تازہ ہے\nخاک نعلینِ مبارک کی عجب غازہ ہے\n\nمہر ذرہ ہے جہاں، چہرۂ روشن ایسا\nچاند بھی جس سے کرے کسبِ ضیا، تن ایسا\nحرز ہو، بازوئے داؤد کا، جوشن ایسا\nہوش پریوں کے اڑے جاتے ہیں توسن ایسا\nگلشنِ دہر میں لو بادِ بہاری آئی\nقاف میں غل ہے، سلیماں کی سواری آئی\n\nحُرؔ پکارا کہ بجا کہتے ہو بے شک لاریب\nدامنِ حضرتِ شبیرؔ نے ڈھانپے مرے عیب\nدولتِ دیں سے نہ دامن مرا خالی ہے نہ جیب\nبارک اللہ کی دیتا ہے صدا ہاتفِ غیب\nفیض پا کر پئے شمشیر زنی آیا ہوں\nیاں سے محتاج گیا واں سے غنی آیا ہوں\n\nمجھکو خورشید کیا نورِ خدا کی ضو نے\nنور بخشا قمرِ فاطمہؔ کے پرتو نے\nبخت پائے ہیں سکندرؔ کے غلامِ نو نے\nگنج وہ لایا ہوں دیکھا جو نہ تھا خسرو نے\nدَور دَور آج سے میرا ہے، زمانہ میرا\nکبھی خالی نہیں ہونے کا خزانہ میرا\n\nرخِ روشن کو مرے تکتے ہو کیا حسرت سے\nمَل کے آیا ہوں منہ اپنا قدمِ حضرت سے\nنور وہ ہے جسے دیکھیں، نظرِ رغبت سے\nوائے وہ لوگ، جو محروم ہیں اس دولت سے\nمجھکو بھی دیکھ کے بیدار نہیں ہوتے ہو\nہے غضب آنکھیں تو کھولے ہو، مگر سوتے ہو\n\nجانِ سلطانِ رسالت کو غنیمت جانو\nپسرِ شاہِ ولایت کو غنیمت جانو\nنورِ خالق کی زیارت کو غنیمت جانو\nقمر برج امامت کو غنیمت جانو\nساتھ اس کے برکت خلق سے اٹھ جائے گی\nپھر جو ڈھونڈو گے یہ دولت تو نہ ہاتھ آئے گی\n\nایک سید کے مٹا دینے میں ہے کون سا نام\nاس ہوا پر ہو کہ بجھ جائے چراغِ اسلام\nگر ہو دانا تو کہو بد ہے کہ ہے نیک یہ کام\nخوش نما کب ہے وہ تسبیح، نہ ہو جس میں امام\nشکرِ احسانِ جناب احدی کرتے ہیں\nپیشوا سے، کہیں پیرو بھی بدی کرتے ہیں\n\nیہ سخن سن کے پکارا پسرِ سعد شریر\nہاں طرف دارِ شہِ دیں پہ چلیں نیزہ و تیر\nلئے حربوں کو بڑھا فوج کا انبوہِ کثیر\nفاتحہ پڑھ کے جواں مرد نے کھینچی شمشیر\nحُرؔ کا منہ سرخ ہوا، فوجِ ستم زرد ہوئی\nشعلۂ تیغ سے بجلی کی چمک گرد ہوئی\n\nرعد تھرا گیا نعرے جو سنے ضیغم کے\nاستخواں کانپ گئے زیرِ زمیں رستم کے\nتہ و بالا ہوئیں لشکر کی صفیں جم جم کے\nبرقِ شمشیر سے ڈر ڈر کے فرس بھی چمکے\nنوبتِ جنگ نہ آئی تھی کہ دل ٹوٹ گئے\nبیرقیں گر گئیں ہاتھوں سے نشاں چھوٹ گئے\n\nچھیڑ کر باگ، فرس کو جو ذرا گرمایا\nغیظ میں آن کے گھوڑا بھی غضب کف لایا\nشیر سا فوجِ مخالف پہ جھپٹ کر آیا\nروند ڈالا اسے دم میں جسے سرکش پایا\nاس کا قاتل تھا جو دشمن شہِ عالی کا تھا\nکاٹ ہر نعل میں شمشیر ہلالی کا تھا\n\nحشر برپا تھا کہ تیغِ حُؔرِ ذی جاہ چلی\nآگ برسانے کو بجلی سوئے جنگاہ چلی\nکس کرشمے سے وہ لیلیٰ ظفر، راہ چلی\nگہ تھمی گاہ بڑھ گاہ رکی گاہ چلی\nزخم سینوں کے گریباں کی طرح پھٹتے تھے\nچال کیا تھی کہ ہزاروں کے گلے کٹتے تھے\n\nکیں صفیں صاف، مگر منہ کی صفائی نہ گئی\nکج ادائی کو نہ چھوڑا، وہ لڑائی نہ گئی\nکاٹ چھانٹ اور وہ لگاوٹ وہ رُکھائی نہ گئی\nسیکڑوں خون کئے اور کہیں آئی نہ گئی\nشور تھا برق، پئے جلوہ گری نکلی ہے\nجان لینے کو اجل بن کے پری نکلی ہے\n\nجس طرف دیدۂ جوہر سے نظر کرتی ہے\nپل نہ گذرے کہ صفیں، زیر و زبر کرتی ہے\nچشم ہر چند کہ پتلی کو، سپر کرتی ہے\nہے وہ طرار، کہ آنکھوں میں یہ گھر کرتی ہے\nاس کے افسوں سے جو ساحر ہو تو جل جاتا ہے\nسحر پریوں کا اسی طرح سے چل جاتا ہے\n\nپھونکے بجلی کو یہ اس آگ کی ہے، پرکالا\nکاٹ جائے تو کبھی لہر نہ لے پھر کالا\nبرچھیاں چل گئیں اس پر جسے دیکھا بھالا\nآ گیا دام میں جس شخص پہ ڈورا ڈالا\nاس کے پانی مین کفِ مارِ سیہ گھولا ہے\nباڑھ ہے یا ملک الموت نے منہ کھولا ہے\n\nآئی جس غول پہ لاشوں سے زمیں پاٹ گئی\nدست و پا، صدر و کمر، گردن و سر کاٹ گئی\nچاٹ ایسی تھی لہو کی، کہ صفیں چاٹ گئی\nدیکھی تیغوں کی جدھر باڑھ، اسی گھاٹ گئی\nجس پہ جاتی تھی، نہ بے جان لئے پھرتی تھی\nایک بجلی تھی، مگر لاکھ جگہ گرتی تھی\n\nگل نئے پھولے جو برچھی پہ لگا پھل اس کا\nزور دکھلاتا تھا، ہر ضرب میں کس بل، اس\nڈھیر تھا خاک پہ کاٹا ہوا جنگل، اس کا\nجو بڑھا جنگ میں قصہ ہوا فیصل اس کا\nشور تھا دیکھئے کیوں کر یہ بلا ٹلتی ہے\nاس قدر جلد تو سیفی بھی نہیں چلتی ہے\n\nجنگ میں تیغ کو دعویٰ تھا کہ یکتا ہوں میں\nسر اٹھایا تھا یہ گھوڑے نے کہ عنقا ہوں میں\nچرخ کہتا تھا کہ یارب تہ و بالا ہوں میں\nبرق کہتی تھی کہ تلوار ہے یہ، یا ہوں میں\nکس میں ہے یہ جو تڑپ زیر فلک میری ہے\nتیغ کرتی تھی اشارہ یہ چمک میری ہے\n\nنہ تھمی سنگ سے وہ اور نہ رکی آہن سے\nہاتھ اڑا لے گئی پہونچوں سے تو سر گردن سے\nنہ اٹھی اس کی کڑی ضرب، کسی جوشن سے\nچل گئی بادِ مخالف جدھر آئی، سن سے\nجوش طوفاں کا دکھا کر وہ خوش اسلوب گئی\nخوں کے دریا میں ہر اک کشتیٔ تن ڈوب گئی\n\nکثرتِ جوہرِ ذاتی سے گو وہ جال میں تھی\nپر تڑپ صورتِ ماہی وہی ہر حال میں تھی\nتھی چمک جانے میں بجلی، تو پری چال میں تھی\nکبھی مغفر میں، کبھی سر میں، کبھی ڈھال میں تھی\nکہیں دم لینے کی مہلت تھی نہ بسمل کے لئے\nتھی جگر کے لئے برچھی تو چھری دل کے لئے\n\nصید کرنے کو جدھر صورتِ شہباز آئی\nلاکھ تڑپا پہ نہ بے جان لئے باز آئی\nغل ہوا شہپرِ شاہیں کے تلے، قاز آئی\nاڑ گیا طائرِ جاں اور نہ آواز آئی\nگرچہ قبضے میں لئے تھی اسے پر چھوڑ دیا\nتھا زبس صیدِ زبوں، کاٹ کے سر چھوڑ دیا\n\nآب نے آتش سوزاں کا اثر دکھلایا\nتاب نے مرگ مفاجات کا گھر، دکھلایا\nباڑھ نے جادۂ صحرائے سقر، دکھلایا\nکھاٹ نے آئینۂِ فتح و ظفر دکھلایا\nتیغ کہتی تھی در فتح کی مفتاح ہوں میں\nقول قبضے کا یہ تھا قابضِ ارواح ہوں میں\n\nخم وہ پایا تھا کہ شرمائے ہلالِ مہِ عید\nحُرؔ کے ہاتھ آ گئی تھی گلشنِ جنت کی کلید\nبرش ایسی تھی کہ کٹ کٹ گئی سب فوجِ یزید\nجامۂ کفر کے پرزے تھے زہے قطع و برید\nنہ بچا تارِ نفس خلق میں، جینے کے لئے\nچاک زخموں کے فقط رہ گئے سینے کے لئے\n\nکئی حملے کئے پیہم جو کمانداروں پر\nچل گئے تیر ملامت کے خطا کاروں پر\nچٹکیاں سب کی دھری رہ گئیں سوفاروں پر\nرخ پھرا تھا کہ گری برق ستم گاروں پر\nجل کے خرمن ہوا یوں خاک کو خوشہ نہ ملا\nکشمکش میں کہیں چھپنے کا بھی گوشہ نہ ملا\n\nنیزۂ فوجِ ستمگار تھے دیکھے بھالے\nدم میں اس شیر نیستاں نے قلم کر ڈالے\nگرچہ تھے جان لڑائے ہوئے لڑنے والے\nآفتِ مرگ کو سر سے کوئی کیوں کر ٹالے\nجب سواروں کے پرے جنگ پہ تُل جاتے تھے\nبند سب ناخنِ شمشیر سے کُھل جاتے تھے\n\nالف گرز کو کر دیتی تھی ہر ضرب میں، دال\nتھی ئی آمد و رفت اور نئی طرح کی چال\nکہیں برچھی کی اَنی تھی تو کہیں تیر کی بھال\nکہیں تلوار، کہیں خنجرِ برّاں، کہیں ڈھال\nضرب کو روک کے دشمن کو فنا کرتی تھی\nدم بہ دم فوج ستم گر بھی ثنا کرتی تھی\n\nشور تھا آگ ہے تلوار میں یا پانی ہے\nجل بجھی کشتیٔ تن خون میں طوفانی ہے\nضرب میں فرد ہے یہ زور میں لاثانی ہے\nکہتا تھا حُرؔ یہ فقط قوتِ ایمانی ہے\nزور تھا مجھ میں نہ ایسا، نہ وغا کی طاقت\nسب ہے یہ سبطِ پیمبر کی دعا کی طاقت\n\nکہہ کے یہ فوج میں پھر تشنہ جگر ڈوب گیا\nورطۂ قلزم آفت میں گہر ڈوب گیا\nلشکرِ شام کے بادل میں قمر ڈوب گیا\nکشمکش تھی کہ عرق میں گلِ تر ڈوب گیا\nتھا کبھی شیر سا بپھرا ہوا شمشیروں میں\nکبھی نیزوں کے نیستاں میں کبھی تیروں میں\n\nگہ چھپا اور کبھی نکلا وہ مہ برج شرف\nکبھی اس صف میں در آیا کبھی روندی وہ صف\nکبھی دریا کے کنارے کبھی صحرا کی طرف\nکبھی نعرہ تھا کہ صدقے ترے یا شاہِ نجف\nجتنے مجروح تھے دم ان کے نکل جاتے تھے\nشیر بھی نامِ علی سن کے دہل جاتے تھے\n\nنخل تھراتے تھے سب گونج رہا تھا جنگل\nسرکی جاتی تھی زمیں رن کی غضب تھی ہل چل\nکوند جاتی تھی، سروں پر جو وہ شمشیر اجل\nمنہ کے بل گرتا تھا کوئی تو کوئی سر کے بل\nحشر برپا تھا سواروں پہ فرس لوٹتے تھے\nدو پہ چار، ایک پہ دو، پانچ پہ دس لوٹتے تھے\n\nبڑھ کے فرماتے تھے عباسؔ، زہے عزت و جاہ\nبارک اللہ کی دیتا تھا صدا دلبرِ شاہ\nکہتے تھے ابنِ حسنؔ، واہ حرِ غازی واہ\nشاہ ہر ضرب پہ فرماتے تھے، ماشاء اللہ\nاپنی جاں بازی کا غازی جو صلہ پاتا تھا\nمسکراتا ہوا تسلیم کو جھک جاتا تھا\n\nحیف جھکنے میں لعینوں نے جو فرصت پائی\nسامنا چھوڑ کے سب فوج عقب سے آئی\nلاکھ خوں ریز اُدھر، اور اِدھر تنہائی\nباگ گھوڑے کی پھرانا تھا کہ برچھی کھائی\nآ گیا موت کے پنجے میں نہ کچھ دیر لگی\nفرق پر گرز لگا دوش پہ شمشیر لگی\n\nسینہ غربال ہوا، تیر چلے اعدا کے\nرکھ دیا شیر نے قربوس پہ سر نہوڑا کے\nعلیؔ اکبر نے یہ حضرت سے کہا چلا کے\nگر ہو ارشاد تو مہماں کو سنھالوں جا کے\nخانۂ زیں سے عدم کا سفری گرتا ہے\nخاک پر گھوڑے سے اب حرِّ جری گرتا ہے\n\nشاہ رونے لگے یہ سنتے ہی مہماں کی خبر\nہو گئی آنسوؤں سے ریشِ مبارک سب تر\nعلیؔ اکبر سے کہا تم ابھی ٹھہرو دلبر\nحُرؔ کی امداد کو ہم جائیں گے اے نورِ نظر\nکس سے اس وقت کہوں میں جو قلق مجھ پر ہے\nلاش مہماں کی اٹھاؤں گا کہ حق مجھ پر ہے\n\nعرض کی حضرتِ عباس نے جاتا ہے غلام\nجوشِ رقت میں کہا شہ نے نہیں اے گلفام\nمیری الفت میں ہوا قتل حرِ نیک انجام\nدوست کیسے، جو برے وقت میں ہم آئیں نہ کام\nاس پہ جب سخت گھڑی ہو گی تو کام آئیں گے\nلاش کیا قبر میں مہمان کی ہم جائیں گے\n\nاس کے لاشے پہ نہ جائیں، یہ مروت سے ہے دور\nاس سے ہم شاد ہوئے، وہ بھی تو ہو کچھ مسرور\nقصرِ خلد اس کو دکھائیں کہ ہوئے عفوِ قصور\nسرخ رو جاتا ہے دنیا سے وہ خالق کے حضور\nایسا ذی رتبہ کوئی خلق میں کم نکلے گا\nمیرے مہماں کا مری گود میں دم نکلے گا\n\nیہ سخن کہہ کے چلے رن کو، جنابِ شبیرؔ\nواں گِرا خاک پہ گھوڑے سے، حُرِ با توقیر\nدیکھ کر شاہ کو آتے ہوئے بھاگے بے پیر\nپہونچے لاشے پہ امامِ دو جہاں وقتِ اخیر\nچمنِ ہستیِٔ مہماں کو اجڑتے دیکھا\nایڑیاں خاک پہ زخمی کو رگڑتے دیکھا\n\nگر کے لاشے کے برابر یہ پکارے سرور\nہائے اے میرے مددگار و معین و یاور\nگرز کیا تجھ کو لگا ٹوٹ گئی میری کمر\nگر پڑے گھوڑے سے اور آہ نہ کی ہم کو خبر\nدوست کے ہجر میں کس دوست کو چین آیا ہے\nکھول دے آنکھوں کو بھائی کہ حسینؔ آیا ہے\n\nوہ رے حُرِّ جری میں تری ہمت کے فدا\nاس کو کہتے ہیں محبت اسے کہتے ہیں وفا\nہے یہ بیکس ترا شرمندۂ احساں بہ خدا\nبس یہی بھائی بھی کرتے ہیں جو کچھ تو نے کیا\nحق تعالیٰ چمنِ خلد میں گھر، دے بھائی\nاس ریاضت کا خدا تجھ کو ثمر دے بھائی\n\nحُرؔ کو چونکا کے حبیبؔ ابنِ مظاہر نے کہا\nآپ، بیتاب ہیں اے حؔرِ جری ہوش میں آ\nدیکھ دیدارِ جگر بندِ جنابِ زہراؔ\nکوچ در پیش ہے یہ وقت نہیں غفلت کا\nدم رکا ہے تو اشارے سے وصیت کر لے\nنزع میں نورِ الٰہی کی زیارت کر لے\n\nکسی آقا نے کبھی کی ہے یہ توقیرِ غلام\nدیکھ تو رحم، ترے واسطے، روتے ہیں امام\nبھائی فرماتے ہیں شفقت سے شہِ عرش مقام\nاے خوشا حال خدا سب کا کرے نیک انجام\nحشر تک خلق میں یہ ذکرِ غم انگیز رہا\nتو تو بچپن کے غلاموں سے بھی کچھ تیز رہا\n\nنیم وا چشم سے حُر نے، رخِ مولا دیکھا\nزیرِ سر، زانوئے شبیرؔ کا تکیا دیکھا\nمسکرا کر طرفِ عالمِ بالا دیکھا\nشہ نے فرمایا کہ اے حُرِ جری کیا دیکھا\nعرض کی حسن رخِ حور نظر آتا ہے\nفرش سے عرش تلک نور نظر آتا ہے\n\nباغ فردوس دکھاتا ہے مجھے اپنی بہار\nصاف نہریں ہیں رواں جھوم رہے ہیں اشجار\nشاخوں سے میری طرف بڑھتے ہیں میوے ہر بار\nحوریں لاتی ہیں جواہر کے طبق بہرِ نثار\nہے یہ رضواں کی صدا دھیان کدھر تیرا ہے\nدیکھ اے شاہ کے مہمان یہ گھر تیرا ہے\n\nمجھ کو لینے چلے آتے ہیں فرشتے یا شاہ\nملک الموت بھی کرتا ہے محبت کی نگاہ\nخلد سے شیرِ خدا نکلے ہیں اللہ اللہ\nلو برآمد ہوئے شبّر بھی پدر کے ہمراہ\nننگے سر احمد مختار کی پیاری آئی\nدیکھئے آپ کے نانا کی سواری آئی\n\nقبلہ رو کیجئے لاشہ مرا اے قبلۂ دیں\nپڑھئے یٰسین کہ اب ہے یہ دم باز پسیں\nکوچ نزدیک ہے، اے باد شہِ عرش نشیں\nلیجئے تن سے نکلتی ہے مری جانِ حزیں\nبات بھی اب تو زباں سے نہیں کی جاتی ہے\nکچھ اڑھا دیجئے مولا، مجھے نیند آتی ہے\n\nکہہ کے یہ گود میں شبیرؔ کے لی انگڑائی\nآیا ماتھے پہ عرق چہرے پہ زردی چھائی\nشہ نے فرمایا ہمیں چھوڑ چلے کیوں بھائی\nچل بسے حُرِّ جری پھر نہ کچھ آواز آئی\nطائرِ روح نے پرواز کی طوبیٰ کی طرف\nپتلیاں رہ گئیں پھر کر شہِ والا کی طرف\n\nبس انیسؔ اب یہ دعا مانگ کہ اے ربِّ عباد\nلکھنؤ کے طبقے کو تو سدا رکھ آباد\nرونے والے، شہِ والا کے رہیں خلق میں شاد\nان کے سائے میں، برومند ہوں ان کی اولاد\nعشرۂ ماہِ عزا نالہ کشی میں گزرے\nسال بھر شہ کے غلاموں کو خوشی میں گزرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%81%D8%A7%D8%B1%D8%B3%D9%90_%D9%85%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%AA%DB%81%D9%88%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AD%D9%8F%D8%B1%D8%94"} {"title": "بد طالعی کا علاج کیا ہو", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بد طالعی کا علاج کیا ہو\nآزار بھی ہو تو لا دوا ہو\n\nآئینے کی شکل خود نمائی ہو\nبے دید ہو صورت آشنا ہو\n\nحسن نمکین کو لے کے چاٹیں\nجب اپنی ہی زیست بے مزا ہو\n\nاے درد فراق کے مریضوں\nگھرا لگے اس طرح کراہو\n\nمحرم کے جو بند کھول دے یار\nبنگلہ مرے حق میں دل کشا ہو\n\nکیا ہے مجھے دیتے ہو گلوری\nچونے میں کہیں نہ سنکھیا ہو\n\nدیکھے نہ مژہ کی سوزن ایسے\nسے وے جو کسی کا دل پھٹا ہو\n\nقاضی کو جو رند کچھ چٹا دیں\nمسجد کی بغل میں مے کدہ ہو\n\nپایا نہ مزاج مر مٹے ہم\nکیا جانیے کس کے آشنا ہو\n\nمغرور ہو اپنے حسن پر یار\nکیا غم کوئی خوش ہو یا خفا ہو\n\nیار آئے جو میرے گھر مراد آئے\nجاگیں جو نصیب رت جگا ہو\n\nسائے سے تمہارے بچ کے چلیے\nدیوانہ بنانے کو بلا ہو\n\nمشعل نہ سواری میں رہے سانہ\nگھوڑا نہ کہیں چراغ پا ہو\n\nوہ چال چلو کہ دل ہو تسخیر\nحب کا تعویذ نقش پا ہو\n\nچاہوں جو فلک سے فرش ماتم\nٹوٹا بھی نہ گہر میں نہ بوریا ہو\n\nپھر میری طرف پھرا وہ قاتل\nتسمہ نہ کہیں لگا رہا ہو\n\nجو ایک کہو گے دو سنو گے\nپرواہ نہیں خوش ہو یا خفا ہو\n\nممتاز ہیں کشتگان معشوق\nہے عین کرم اگر جفا ہو\n\nوہ میری جو بوٹیاں اڑائیں\nجرجیس کا مرتبہ عطا ہو\n\nدم نکلے ہجوم غم میں کیوں کر\nکچھ بھیڑ چھٹے تو راستہ ہو\n\nدنیا سے اٹھے مریض فرقت\nاے دار مسیح تو عصا ہو\n\nسبزے میں چہ ذقن ہے خس پوش\nایسا نہ ہو خضر سے دغا ہو\n\nہم زخم جگر نہیں دکھاتے\nآنکھیں نہ چراؤ خوش نگاہو\n\nپیش آؤ ہر اک سے آئینہ دار\nبیگانہ ہو یا کہ آشنا ہو\n\nسیکھو یہ طریق آدمیت\nجو چال چلو اسے نباہو\n\nتلوار ابرو کی وہ خریدی\nجو مفت سر اپنا بیچتا ہو\n\nچمکے جو ستارۂ بلندی\nطاؤس فلک مجھے ہما ہو\n\nاے بحرؔ نہیں ہے ان تلون تیل\nمفتوں نہ کسی کے خال کا ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF_%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%B9%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا\nہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا\n\nرہ تو گئی فریب مسیحا کی آبرو\nہر چند غم کے ماروں کا چارہ نہ ہو سکا\n\nخوش ہوں کہ بات شورش طوفاں کی رہ گئی\nاچھا ہوا نصیب کنارا نہ ہو سکا\n\nبے چارگی پہ چارہ گری کی ہیں تہمتیں\nاچھا کسی سے عشق کا مارا نہ ہو سکا\n\nکچھ عشق ایسی بخش گیا بے نیازیاں\nدل کو کسی کا لطف گوارا نہ ہو سکا\n\nفرط خوشی میں آنکھ سے آنسو نکل پڑے\nجب ان کا التفات گوارا نہ ہو سکا\n\nالٹی تو تھی نقاب کسی نے مگر شکیبؔ\nدعووں کے باوجود نظارہ نہ ہو سکا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B3%DA%A9%D8%A7"} {"title": "بد گماں کیا قبر میں ارماں ترے لے جائیں گے", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بد گماں کیا قبر میں ارماں ترے لے جائیں گے\nہم اکیلے آئے ہیں جیسے اکیلے جائیں گے\n\nکس قدر ثابت قدم ہیں رہ روان کوئے دوست\nجائیں گے پھر ان کی کوئی جان لے لے جائیں گے\n\nحضرت دل اور پھر جائیں نہ اس کی بزم میں\nجھڑکیاں دے لے کوئی الزام دے لے جائیں گے\n\nتم ستا لو مجھ کو لیکن یوں نہ ہر اک سے ملو\nظلم سہہ لوں گا مگر صدمے نہ جھیلے جائیں گے\n\nاس گلی میں ڈال دو تا سنبھلیں ٹھوکر کھا کے غیر\nیوں بھی اک دن خاک میں آنکھوں کے ڈھیلے جائیں گے\n\nہے دعاؤں کا اثر سنگ حوادث ہی اگر\nاپنے ہاتھوں پھر تو یہ صدمے نہ جھیلے جائیں گے\n\nخیر خواہوں راز داروں کی بہت نیت دیکھ لی\nآج سے ہم اس کی محفل میں اکیلے جائیں گے\n\nبے کسی میں کون کس کا ساتھ دیتا ہے صفیؔ\nملنے والے ہیں تماشے کے یہ میلے جائیں گے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%82%D8%A8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "بدصورتی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "پھندنے", "year": "1955", "text_ur": "ساجدہ اورحامدہ دو بہنیں تھیں۔ ساجدہ چھوٹی اور حامدہ بڑی۔ ساجدہ خوش شکل تھی۔ ان کے ماں باپ کو یہ مشکل درپیش تھی کہ ساجدہ کے رشتے آتے مگر حامدہ کے متعلق کوئی بات نہ کرتا۔ ساجدہ خوش شکل تھی مگر اس کے ساتھ اسے بننا سنورنا بھی آتا تھا۔\n\nاس کے مقابلے میں حامدہ بہت سیدھی سادی تھی۔ اس کے خدوخال بھی پرکشش نہ تھے۔ ساجدہ بڑی چنچل تھی۔ دونوں جب کالج میں پڑھتی تھیں تو ساجدہ ڈراموں میں حصہ لیتی۔ اس کی آواز بھی اچھی تھی،سر میں گا سکتی تھی۔ حامدہ کو کوئی پوچھتا بھی نہیں تھا۔\n\nکالج کی تعلیم سے فراغت ہوئی تو ان کے والدین نے ان کی شادی کے متعلق سوچنا شروع کیا۔ ساجدہ کے لیے کئی رشتے تو آچکے تھے، مگر حامدہ بڑی تھی، اس لیے وہ چاہتے تھے کہ پہلے اس کی شادی ہو۔اسی دوران میں ساجدہ کی ایک خوبصورت لڑکے سے خط و کتابت شروع ہوگئی، جو اس پربہت دنوں سے مرتا تھا۔ یہ لڑکا امیر گھرانے کا تھا۔ ایم اے کر چکا تھا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ جانے کی تیاریاں کررہا تھا۔ اس کے ماں باپ چاہتے تھے کہ اس کی شادی ہو جائے تاکہ وہ بیوی کو اپنے ساتھ لے جائے۔\n\nحامدہ کو معلوم تھا کہ اس کی چھوٹی بہن سے وہ لڑکا بے پناہ محبت کرتا ہے۔ ایک دن جب ساجدہ نے اسے اس لڑکے کا عشقیہ جذبات سے لبریز خط دکھایا تووہ دل ہی دل میں بہت کڑھی، اس لیے کہ اس کا چاہنے والا کوئی بھی نہیں تھا۔ اس نے اس خط کا ہر لفظ بار بار پڑھا اور اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کے دل میں سوئیاں چبھ رہی ہیں، مگر اس نے اس درد و کرب میں بھی ایک عجیب قسم کی لذت محسوس کی، لیکن وہ اپنی چھوٹی بہن پر برس پڑی:\n\n’’تمہیں شرم نہیں آتی کہ غیر مردوں سے خط و کتابت کرتی ہو!‘‘\n\nساجدہ نے کہا، ’’باجی۔۔۔ اس میں کیا عیب ہے؟‘‘\n\n’’عیب۔۔۔! سراسر عیب ہے۔ شریف گھرانوں کی لڑکیاں کبھی ایسی بیہودہ حرکتیں نہیں کرتیں۔۔۔ تم اس لڑکے حامد سے محبت کرتی ہو؟‘‘\n\n’’ہاں! ‘‘\n\n’’لعنت ہے تم پر۔‘‘\n\nساجدہ بھنا گئی، ’’دیکھو باجی مجھ پر لعنتیں نہ بھیجو۔۔۔محبت کرنا کوئی جرم نہیں۔‘‘\n\nحامدہ چلائی، ’’محبت، محبت۔۔۔آخر یہ کیا بکواس ہے۔‘‘\n\nساجدہ نے بڑے طنزیہ انداز میں کہا،’’جو آپ کو نصیب نہیں۔‘‘\n\nحامدہ کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کہے۔ چنانچہ کھوکھلے غصے میں آکر اس نے چھوٹی بہن کے منہ پر زور کا تھپڑ مار دیا۔۔۔ اس کے بعد دونوں ایک دوسرے سے الجھ گئیں۔دیر تک ان میں ہاتھا پائی ہوتی رہی۔ حامدہ اس کو یہ کوسنے دیتی رہی کہ وہ ایک نامحرم مرد سے عشق لڑا رہی ہے، اور ساجدہ اس سے یہ کہتی رہی کہ وہ جلتی ہے، اس لیے کہ اس کی طرف کوئی مرد آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔\n\nحامدہ ڈیل ڈول کے لحاظ سے اپنی چھوٹی بہن کے مقابلے میں کافی تگڑی تھی، اس کے علاوہ اسے خار بھی تھی جس نے اس کے اندر اور بھی قوت پیدا کردی تھی۔۔۔ اس نے ساجدہ کو خوب پیٹا۔ اس کے گھنے بالوں کی کئی خوبصورت لٹیں نوچ ڈالیں اور خود ہانپتی ہانپتی اپنے کمرے میں جا کر زار و قطار رونے لگی۔\n\nساجدہ نے گھر میں اس حادثے کے بارے میں کچھ نہ کہا۔۔۔ حامدہ شام تک روتی رہی۔ بے شمار خیالات اس کے دماغ میں آئے۔ وہ نادم تھی کہ اس نے محض اس لیے کہ اس سے کوئی محبت نہیں کرتا، اپنی بہن کو، جو بڑی نازک ہے، پیٹ ڈالا۔وہ ساجدہ کے کمرے میں گئی۔ دروازے پر دستک دی اور کہا،’’ساجدہ!‘‘\n\nساجدہ نے کوئی جواب نہ دیا۔\n\nحامدہ نے پھر زور سے دستک دی اور رونی آواز میں پکاری، ’’ساجی! میں معافی مانگنے آئی ہوں۔۔۔ خدا کے لیے دروازہ کھولو۔‘‘\n\nحامدہ دس پندرہ منٹ تک دہلیز کے پاس آنکھوں میں ڈبڈبائے آنسو لیے کھڑی رہی، اسے یقین نہیں تھا کہ اس کی بہن دروازہ کھولے گی، مگر وہ کھل گیا۔ساجدہ باہر نکلی اور اپنی بڑی بہن سے ہم آغوش ہوگئی، ’’کیوں باجی۔۔۔آپ رو کیوں رہی ہیں؟‘‘\n\nحامدہ کی آنکھوں میں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے، ’’مجھے افسوس ہے کہ تم سے آج بےکار لڑائی ہوگئی۔‘‘\n\n’’باجی۔۔۔ میں بہت نادم ہوں کہ میں نے آپ کے متعلق ایسی بات کہہ دی جو مجھے نہیں کہنی چاہیے تھی۔‘‘\n\n’’تم نے اچھا کیا ساجدہ۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ میری شکل و صورت میں کوئی کشش نہیں۔۔۔ خدا کرے تمہارا حسن قائم رہے۔‘‘\n\n’’باجی۔۔۔! میں قطعاً حسین نہیں ہوں۔ اگر مجھ میں کوئی خوبصورتی ہے تو میں دعا کرتی ہوں کہ خدا اسے مٹا دے۔۔۔میں آپ کی بہن ہوں۔۔۔ اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اپنے چہرے پر تیزاب ڈالنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘\n\n’’کیسی فضول باتیں کرتی ہو۔۔۔ کیا بگڑے ہوئے چہرے کے ساتھ تمہیں حامد قبول کرلے گا؟‘‘\n\n’’مجھے یقین ہے۔‘‘\n\n’’کس بات کا؟‘‘\n\n’’وہ مجھ سے اتنی محبت کرتا ہے کہ اگر میں مر جاؤں تو وہ میری لاش سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوگا۔‘‘\n\n’’یہ محض بکواس ہے۔‘‘\n\n’’ہوگی۔۔۔ لیکن مجھے اس کا یقین ہے۔۔۔ آپ اس کے سارے خط پڑھتی رہی ہیں۔۔۔کیا ان سے آپ کو یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ مجھ سے کیا کیا پیمان کر چکا ہے۔‘‘\n\n’’ساجی۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر حامدہ رک گئی۔ تھوڑے وقفے کے بعد اس نے لرزاں آواز میں کہا، ’’میں عہد و پیمان کے متعلق کچھ نہیں جانتی۔۔۔۔‘‘ اور رونا شروع کردیا۔\n\nاس کی چھوٹی بہن نے اسے گلے سے لگایا۔ اس کو پیار کیا اور کہا،’’باجی۔۔۔آپ اگر چاہیں تو میری زندگی سنور سکتی ہے۔‘‘\n\n’’کیسے؟‘‘\n\n’’مجھے حامد سے محبت ہے۔۔۔ میں اس سے وعدہ کرچکی ہوں کہ اگر میری کہیں شادی ہوگی تو تمہیں سے ہوگی۔‘‘\n\n’’تم مجھ سے کیا چاہتی ہو؟‘‘\n\n’’میں یہ چاہتی ہوں۔۔۔ کہ آپ اس معاملے میں میری مدد کریں۔ اگر وہاں سے پیغام آئے تو آپ اس کے حق میں گفتگو کیجیے۔۔۔امی اور ابا آپ کی ہر بات مانتے ہیں۔‘‘\n\n’’میں انشاء اللہ تمہیں ناامید نہیں کروں گی۔‘‘\n\nساجدہ کی شادی ہوگئی، حالانکہ اس کے والدین پہلے حامدہ کی شادی کرنا چاہتے تھے۔۔۔ مجبوری تھی، کیا کرتے۔ ساجدہ اپنے گھر میں خوش تھی۔ اس نے اپنی بڑی بہن کو شادی کے دوسرے دن خط لکھا جس کا مضمون کچھ اس قسم کا تھا:\n\n’’میں بہت خوش ہوں۔۔۔ حامد مجھ سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔ باجی۔۔۔محبت عجیب وغریب چیز ہے۔۔میں بے حد مسرور ہوں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کا صحیح مطلب اب میری سمجھ میں آیا ہے۔۔۔ خدا کرے کہ آپ بھی اس مسرت سے محظوظ ہوں۔۔۔‘‘\n\nاس کے علاوہ اور بہت سی باتیں اس خط میں تھیں، جو ایک بہن اپنی بہن کو لکھ سکتی ہے۔\n\nحامدہ نے یہ پہلا خط پڑھا اور بہت روئی۔ اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کا ہرلفظ ایک ہتھوڑا ہے جو اس کے دل پر ضرب لگا رہا ہے۔\n\nاس کے بعد اس کو اور بھی خط آئے جن کو پڑھ پڑھ کے اس کے دل پر چھریاں چلتی رہیں۔رو رو کر اس نے اپنا براحال کرلیا تھا۔۔۔۔ اس نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ کوئی راہ چلتا جوان لڑکا اس کی طرف متوجہ ہو، مگر ناکام رہی۔\n\nاسے اس عرصے میں ایک ادھیڑ عمر کا مرد ملا۔ بس میں مڈبھیڑ ہوئی۔ وہ اس سے مراسم قائم کرنا چاہتاتھا مگر حامدہ نے اسے پسند نہ کیا۔ وہ بہت بد صورت تھا۔\n\nدو برس کے بعد اس کی بہن ساجدہ کا خط آیا کہ وہ اور اس کا خاوند آرہے ہیں۔\n\nوہ آئے۔ حامدہ نے مناسب و موزوں طریقہ پر ان کا خیر مقدم کیا۔ ساجدہ کے خاوند کو اپنے کاروبار کے سلسلے میں ایک ہفتے تک قیام کرنا تھا۔\n\nساجدہ سے مل کر اس کی بڑی بہن بہت خوش ہوئی۔۔۔ حامد بڑی خوش اخلاقی سے پیش آیا۔ وہ اس سے بھی متاثر ہوئی۔\n\nوہ گھر میں اکیلی تھی، اس لیے کہ اس کے والدین کسی کام سے سرگودھا چلے گئے تھے۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ حامدہ نے نوکروں سے کہا کہ وہ بستروں کا انتظام صحن میں کردیں اور بڑا پنکھا لگا دیا جائے۔\n\nیہ سب کچھ ہوگیا۔۔۔ لیکن ہوا یہ کہ ساجدہ کسی حاجت کے تحت اوپر کوٹھے پر گئی اور دیر تک وہیں رہی۔ حامد کوئی ارادہ کرچکا تھا۔ آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں۔ اٹھ کر ’’ساجدہ‘‘ کے پاس گیا اور اس کے ساتھ لیٹ گیا۔۔۔ لیکن اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ غیر سی کیوں لگتی ہے۔ کیوں کہ وہ شروع شروع میں بے اعتنائی برتتی رہی۔۔۔ آخر میں وہ ٹھیک ہوگئی۔\n\nساجدہ کوٹھے سے اتر کر نیچے آئی اور اس نے دیکھا۔۔\n\nصبح کو دونوں بہنوں میں سخت لڑائی ہوئی۔۔۔ حامد بھی اس میں شامل تھا۔ اس نے گرما گرمی میں کہا،’’تمہاری بہن، میری بہن ہے۔۔۔ تم کیوں مجھ پر شک کرتی ہو۔‘‘\n\nحامد نے دوسرے روز اپنی بیوی ساجدہ کو طلاق دے دی اور دو تین مہینوں کے بعد حامدہ سے شادی کرلی۔۔۔ اس نے اپنے ایک دوست سے جس کو اس پر اعتراض تھا، صرف اتنا کہا،’’خوبصورتی میں خلوص ہونا ناممکن ہے۔۔۔ بدصورتی ہمیشہ پرخلوص ہوتی ہے۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%DB%8C"} {"title": "بدظن ہیں اہل کعبہ مجھ دیر آشنا سے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بدظن ہیں اہل کعبہ مجھ دیر آشنا سے\nکہتے ہیں مجھ کو کافر فریاد ہے خدا سے\n\nبیداد محتسب کی فریاد ہے خدا سے\nبرسے شراب گھر گھر مے خوار کی دعا سے\n\nچتون بدل رہی ہے نام آ گیا وفا کا\nتیور بگڑ رہے ہیں افسانۂ وفا سے\n\nہم کیوں تمہیں بتائیں ہم کیوں تمہیں جتائیں\nروز جزا نہ جانے مانگیں گے کیا خدا سے\n\nوہ پوچھتے ہیں مجھ سے کیسے ہو تم مبارکؔ\nمیں کہہ رہا ہوں اچھا سرکار کی دعا سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF%D8%B8%D9%86_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%81%D9%84_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D8%B3%DB%92"} {"title": "بدعت مسنون ہو گئی ہے", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بدعت مسنون ہو گئی ہے\nامت مطعون ہو گئی ہے\n\nکیا کہنا تری دعا کا زاہد\nگردوں کا ستون ہو گئی ہے\n\nرہنے دو اجل جو گھات میں ہے\nمجھ پر مفتون ہو گئی ہے\n\nحسرت کو غبار دل میں ڈھونڈو\nزندہ مدفون ہو گئی ہے\n\nوحشت کا تھا نام اول اول\nاب تو وہ جنون ہو گئی ہے\n\nواعظ نے بری نظر سے دیکھا\nمے شیشے میں خون ہو گئی ہے\n\nعارض کے قرین گلاب کا پھول\nہم رنگ کی دون ہو گئی ہے\n\nبندہ ہوں ترا زبان شیریں\nدنیا ممنون ہو گئی ہے\n\nحیدرؔ شب غم میں مرگ ناگاہ\nشادی کا شگون ہو گئی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF%D8%B9%D8%AA_%D9%85%D8%B3%D9%86%D9%88%D9%86_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "بدل دے", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کب تک وطن آلام و مصائب میں خدایا\nاب اس کی مصیبت کو مسرت سے بدل دے\nکب تک یہ تباہ ستم نکبت داد بار\nاب اس کی نحوست کو سعادت سے بدل دے\nکب تک یہ شکار الم فاقہ و افلاس\nاب اس کی فلاکت کو امارت سے بدل دے\nکب تک یہ گرفتار قتال و جدل و جنگ\nاب اس کی عداوت کو محبت سے بدل دے\nکب تک یہ پشیمان بلا نذر حوادث\nاب اس کے غم و رنج کو راحت سے بدل دے\nکب تک یہ پرستار وفا وقف خوشامد\nاب اس کی اطاعت کو بغاوت سے بدل دے\nحد ہو گئی بس اس کی تباہی کی خدایا\nاب اس کی غلامی کو حکومت سے بدل دے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%92"} {"title": "بدل لذت آزار کہاں سے لاؤں", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بدل لذت آزار کہاں سے لاؤں\nاب تجھے اے ستم یار کہاں سے لاؤں\n\nپرسش حال پہ ہے خاطر جاناں مائل\nجرأت کوشش اظہار کہاں سے لاؤں\n\nہے وہاں شان تغافل کو جفا سے بھی گریز\nالتفات نگہ یار کہاں سے لاؤں\n\nنور عنقا ہے شب ہجر کی تاریکی میں\nجلوۂ صبح کے آثار کہاں سے لاؤں\n\nصحبت اہل صفا خوب ہے مانا لیکن\nرونق خانۂ خمار کہاں سے لاؤں\n\nشعر میرے بھی ہیں پر درد ولیکن حسرتؔ\nمیرؔ کا شیوۂ گفتار کہاں سے لاؤں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF%D9%84_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%84%D8%A7%D8%A4%DA%BA"} {"title": "بدلا نہیں کوئی بھیس ناچاری سے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بدلا نہیں کوئی بھیس ناچاری سے\nہر رنگ ہے اختیار سرکاری سے\nبندہ شاہد ہے اور طاعت زیور\nیہ سانگ بھرا گیا ہے عیاری سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%B3_%D9%86%D8%A7%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92"} {"title": "بدلنے رنگ سکھلائے جہاں کو", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بدلنے رنگ سکھلائے جہاں کو\nکہوں کیا سرمہ کو وسمہ کو پاں کو\n\nدیا ہے دین و دل تاب و تواں کو\nنگہ کو زلف کو تل کو دہاں کو\n\nکیا پھیکا مرے رشک چمن نے\nسمن کو یاسمن کو ارغواں کو\n\nمرے خوں کے نشاں ہیں دھو چکے شرم\nجبیں کو آستیں کو آسماں کو\n\nخرام مہوشاں چکر میں لائے\nزمانہ کو زمیں کو آسماں کو\n\nطلسم صنعت بیچوں ہے دیکھو\nکفل کو ساق کو موئے میاں کو\n\nلب نوشیں نے سکھلائی حلاوت\nشکر کو شہد کو قند کلاں کو\n\nکیا روپوش شرم روئے بت نے\nجناں کو چشمۂ حیواں کو جاں کو\n\nکہاں ہیں اہل فن لاؤں کہاں سے\nنظیریؔ کو ظہوریؔ کو بیاںؔ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF%D9%84%D9%86%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%B3%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88"} {"title": "بدلی ہوئی ہے چرخ کی رفتار آج کل", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "بدلی ہوئی ہے چرخ کی رفتار آج کل\nہو بند راست گوئی کا بازار آج کل\n\nعلم و ہنر ہے ملک کو درکار آج کل\nہم خود بھلے برے کے ہیں مختار آج کل\n\nہے اور ہی طریقۂ بازار آج کل\nجنس نفیس کے ہیں خریدار آج کل\n\nغفلت کا دور ملک سے شاید گزر گیا\nمخلوق ہوتی جاتی ہے بیدار آج کل\n\nگل گونۂ ترقیٔ تہذیب و علم سے\nشکر خدا کہ سرخ ہیں رخسار آج کل\n\nکیوں جانتے ہیں صنعت و حرفت کو باغ خلد\nغیروں کی ہم نگاہ میں ہیں خار آج کل\n\nروشن ہے اپنی بے ہنری آفتاب سے\nہے صبح کے قریب شب تار آج کل\n\nبگڑی ہوئی ہے مے کدۂ دہر کی ہوا\nہو جائیں شیخ جی بھی نہ مے خوار آج کل\n\nکیا کام ان سفید چڑیلوں کا ہند میں\nکیوں ایسی شادیوں کی ہے بھر مار آج کل\n\nہر چیز کی گرانی نے ویران کر دیا\nصرف خزاں ہے ہند کا گل زار آج کل\n\nاس باغ میں ہے باد خزاں و باد قحط\nہر گل کے دل میں ہے خلش خار آج کل\n\nبھولے ہیں اپنے فرض کو یہ خواجگان ہند\nحق دینے میں بھی کرتے ہیں انکار آج کل\n\nشکر خدا کہ ظلم سے معذور ہے فلک\nبرطانیہ ہے خلق کی غم خوار آج کل\n\nیا رب ہمارے دل کو تو اپنی پناہ دے\nدل دار ہو گئے ہیں دل آزار آج کل\n\nمخصوص ہو چکی ہیں ارادی غلامیاں\nہے اک انار سیکڑوں بیمار آج کل\n\nایک ایک کر کے جتنے ہنر تھے وہ چھن گئے\nہم زندگی سے کیوں نہ ہوں بیزار آج کل\n\nاک جرم اور فرد جرائم میں بڑھ گیا\nیعنی نہ درد دل کا ہو اظہار آج کل\n\nجینے کی فکر کیجئے اور پیٹ کا خیال\nموقوف کیجے عشق کا آزار آج کل\n\nپابندیاں بھی چاہئیں انسان کو ضرور\nآزادیوں کی کیوں ہے یہ بھر مار آج کل\n\nملتا نہیں کہیں دہن یار ہے اناج\nفاقوں سے جسم ہے کمر یار آج کل\n\nہے تنگ دستیوں کے سبب ضعف اس قدر\nسب کی ہیں آنکھیں نرگس بیمار آج کل\n\nلاکھوں محال عقلی و عادی سہی مگر\nکسب معاش سب سے ہے دشوار آج کل\n\nکیا کیجے تر نوالوں کا موسم نہیں رہا\nچپکے ہوئے ہیں یار کے رخسار آج کل\n\nفاقوں سے ہے یہ حال اگر تول کر بٹھائیں\nآدھے ٹکٹ میں جائے تن زار آج کل\n\nگل کر دیا چراغ معیشت تو اے ہوا\nمعدہ کے بھی نہ گھس گئے کیوں خار آج کل\n\nچاروں طرف بلند ہے فریاد ہائے ہائے\nماتم کدہ ہے قہقۂ دیوار آج کل\n\nدولت جب آئے گی کہ وہی چیز ہم بنائیں\nجو چیز چاہتے ہوں خریدار آج کل\n\nبہتر ہے کارخانوں سے ہو ملک کا بھلا\nاگلیں گڑے خزانوں کو زردار آج کل\n\nصنعت کا نام گنج ہے حرفت کا نام زر\nعلم شکم ہے ملک کو درکار آج کل\n\nپرویںؔ کی یہ دعا ہے رہے امن ملک میں\nرب غفور تو ہی ہے غم خوار آج کل", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%D9%84"} {"title": "بدلے نہ صداقت کا نشاں ایک رہے", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بدلے نہ صداقت کا نشاں ایک رہے\nہر حال میں پنہاں و نہاں ایک رہے\nانساں ہے وہی جو اس دور دو رنگی سے بچے\nلازم ہے کہ دل اور زباں ایک رہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D9%82%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "بدن سے روح رخصت ہو رہی ہے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بدن سے روح رخصت ہو رہی ہے\nمکمل قید غربت ہو رہی ہے\n\nمیں خود ترک تعلق پر ہوں مجبور\nکچھ ایسی ہی طبیعت ہو رہی ہے\n\nجفا ان کی دل زود آشنا پر\nبہ مقدار محبت ہو رہی ہے\n\nخدا سے مل گیا ہے حسن کافر\nخدائی پر حکومت ہو رہی ہے\n\nنہیں تنہائی زنداں مکمل\nمجھے سایہ سے وحشت ہو رہی ہے\n\nیہ تم ہنس ہنس کے باتیں کر رہے ہو\nکہ تقسیم جراحت ہو رہی ہے\n\nاگر مشرب نہیں بدلا ہے سیمابؔ\nتو کیوں تجدید بیعت ہو رہی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%AD_%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "بدن یار کی بو باس اڑا لائے ہوا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بدن یار کی بو باس اڑا لائے ہوا\nجان آئے جو وہاں ہو کے یہاں آئے ہوا\n\nبدن یار کو بس چھو کے نہ اترائے ہوا\nعطر کی بن کے لپٹ مجھ سے لپٹ جائے ہوا\n\nان کے کوچہ میں غبار اپنا اڑا کر لے جائے\nمجھ پہ احسان کرے میرے بھی کام آئے ہوا\n\nہو ہوا دار سواری کا مرے دوش صبا\nناتواں وہ ہوں کہ اس تک مجھے پہنچائے ہوا\n\nبندھ گئی باغ میں تیری تو ہوا باد صبا\nان کے کوچہ میں مری آہ کی بندھ جائے ہوا\n\nاک نگہ باد ہوائی بھی تمہاری ہے ستم\nجان اس تیر ہوائی سے نہ ہو جائے ہوا\n\nکیوں نہ ہو باد بہاری مجھے یہ فرمائش\nکیوں نہ باندھوں میں ہوا یار جو بندھوائے ہوا\n\nکتنی نازک وہ پری ہے کہ ہوا دار اس کا\nصورت تخت سلیماں رہا بالائے ہوا\n\nتو ملے مہرؔ سے ایما یہی تاریخ ہو سچ\nگلشن و بادہ و گل میں تجھے گرمائے ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF%D9%86_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%DA%91%D8%A7_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "بدنام ہو رہا ہوں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "فریادئی جفائے ایام ہو رہا ہوں\nپامال جور بخت ناکام ہو رہا ہوں\nسرگشتۂ خیال انجام ہو رہا ہوں\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں\nبد نام ہو رہا ہوں\nسلمیٰ سے دل لگا کر\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں\n\nسلمیٰ سے دل لگا کر سلمیٰ سے دل لگا کر\nاس حوروش کے غم میں دنیا و دیں گنوا کر\nہوش و حواس کھو کر صبر و سکوں لٹا کر\nبیٹھے بٹھائے دل میں غم کی خلش بسا کر\nہر چیز کو بھلا کر\nسلمیٰ سے دل لگا کر\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں\n\nکہتی ہیں سب یہ کس کی تڑپا گئی ہے صورت\nسلمیٰ کی شاید اس کے من بھا گئی ہے صورت\nاور اس کے غم میں اتنی مرجھا گئی ہے صورت\nمرجھا گئی ہے صورت کمھلا گئی ہے صورت\nسنولا گئی ہے صورت\nسلمیٰ سے دل لگا کر\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں\n\nپنگھٹ پہ جب کہ ساری ہوتی ہیں جمع آ کر\nگاگر کو اپنی رکھ کر، گھونگھٹ اٹھا اٹھا کر\nیہ قصہ چھیڑتی ہیں مجھ کو بتا بتا کر\nسلمیٰ سے باتیں کرتے دیکھا ہے اس کو جا کر\nہم نے نظر بچا کر\nسلمیٰ سے دل لگا کر\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں\n\nراتوں کو گیت گانے جب مل کر آتی ہیں سب\nتالاب کے کنارے دھومیں مچاتی ہیں سب\nجنگل کی چاندنی میں منگل مناتی ہیں سب\nتو میرے اور سلمیٰ کے گیت گاتی ہیں سب\nاور ہنستی جاتی ہیں سب\nسلمیٰ سے دل لگا کر\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں\n\nکھیتوں سے لوٹتی ہیں جب دن چھپے مکاں کو\nتب راستے میں باہم وہ میری داستاں کو\nدہرا کے چھیڑتی ہیں سلمیٰ کو میری جاں کو\nاور وہ حیا کی ماری سی لیتی ہے زباں کو\nکہ چھیڑے اس بیاں کو\nسلمیٰ سے دل لگا کر\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں\n\nکہتی ہے رحم کھا کر یوں ایک ماہ طلعت\nیہ شہری نوجواں تھا کس درجہ خوبصورت\nآنکھوں میں بس رہی ہے اب بھی وہ پہلی رنگت\nدو دن میں آہ کیا ہے کیا ہو گئی ہے حالت\nاللہ تیری قدرت\nسلمیٰ سے دل لگا کر\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں\n\nاس شمع رو کا جب سے پروانہ بن گیا ہوں\nبستی کی لڑکیوں میں افسانہ بن گیا ہوں\nہر ماہ وش کے لب کا پیمانہ بن گیا ہوں\nدیوانہ ہو رہا ہوں دیوانہ بن گیا ہوں\nدیوانہ بن گیا ہوں\nسلمیٰ سے دل لگا کر\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں\n\nان کی زباں پہ میری جتنی کہانیاں ہیں\nکیا جانیں یہ کہ دل کی سب مہربانیاں ہیں\nکمسن ہیں بے خبر ہیں اٹھتی جوانیاں ہیں\nکیا سمجھیں غم کے ہاتھوں کیوں سر گرانیاں ہیں\nکیوں خوں فشانیاں ہیں\nسلمیٰ سے دل لگا کر\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں\n\nہر اک کے رحم کا یوں اظہار ہو رہا ہے\nبے چارے کو یہ کیسا آزار ہو رہا ہے\nدیکھے تو کوئی جانے بیمار ہو رہا ہے\nکس درجہ زندگی سے بیزار ہو رہا ہے\nناچار ہو رہا ہے\nسلمیٰ سے دل لگا کر\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں\n\nاک پوچھتی ہے آ کر تم بے قرار کیوں ہو\nکچھ تو ہمیں بتاؤ یوں دل فگار کیوں ہو\nکیا روگ ہے کہو تو تم اشک بار کیوں ہو\nدیوانے کیوں ہوئے ہو دیوانہ وار کیوں ہو\nبا حال زار کیوں ہو\nسلمیٰ سے دل لگا کر\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں\n\nجاؤں شکار کو گر باہمرہان صحرا\nکھیتوں سے گھورتی ہیں یوں دختران صحرا\nبجلی کی روشنی کو جیسے میان صحرا\nتاریک شب میں دیکھیں کچھ آہوان صحرا\nحیرت کشان صحرا\nسلمیٰ سے دل لگا کر\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں\n\nاک شوخ چھیڑتی ہے اس طرح پاس آ کر\nدیکھو وہ جا رہی ہے سلمیٰ نظر بچا کر\nشرما کے مسکرا کر آنچل سے منہ چھپا کر\nجاؤ نا پیچھے پیچھے دو باتیں کر لو جا کر\nکھیتوں میں چھپ چھپا کر\nسلمیٰ سے دل لگا کر\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں\n\nگویا ہمیں حسد سے کچھ نازنین نگاہیں\nسلمیٰ کی بھا گئی ہیں کیوں دل نشیں نگاہیں\nان سے زیادہ دل کش ہیں یہ حسیں نگاہیں\nالقصہ ایک دل ہے سو خشمگیں نگاہیں\nشوق آفریں نگاہیں\nسلمیٰ سے دل لگا کر\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں\n\nاک شوخ تازہ دارد سسرال سے گھر آ کر\nسکھیوں سے پوچھتی ہے جس دم مجھے بتا کر\nیہ کون ہے تو ظالم کہتی ہیں مسکرا کر\nتم اس کا حال پوچھو سلمیٰ کے دل سے جا کر\nیہ گیت اسے سنا کر\nسلمیٰ سے دل لگا کر\nبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF%D9%86%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "بدگمانی", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "بدگمانی انسان کی ایک ایسی بد خصلت ہے جس سے اکثر خود بدگمانی کرنے والے کو نیز اس شخص کو جس پر وہ بدگمانی کرتا ہے تھوڑا یا بہت نقصان ضرور پہنچتا ہے۔ اسی واسطے کلام الہی میں ارشاد ہوتا ہے کہ یاایھا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم یعنی ’’اے دیندارو! بہت بدگمانیوں سے بچو بیشک بعضے گمان گناہ ہیں۔‘‘\n\nبدگمانی کرنے کی عادت اکثر نکمی تعلیم اور ناقص سوسائٹی سے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً ایک سچا مسلمان محض انصاف کی رو سے عیسائی پادریوں کے اخلاق کی تعریف تمہارے سامنے کرتا ہے۔ اب اگر تم سدا سے ایسی صحبتوں میں رہے ہو جہاں غیر مذہب کے آدمیوں کا نام ہمیشہ حقارت سے لیا جاتاہے تو تم کو غالبا یہ گمان ہوگا کہ یہ شخص عیسائی مذہب کی طرف میلان رکھتا ہے یا درپردہ عیسائی ہے۔ یامثلا ایک شخص شیعی اپنے ہم مذہبوں سے کہتا ہے کہ ائمہ علیہم السلام نے تبرا کرنے سے منع کیا ہے۔ اب اگر وہ لوگ ہمیشہ سے خود بھی تبرا کرتے رہے ہیں اور اپنے مجتہدوں سے بھی سنتے رہے ہیں تو ضرور اس کو شیعوں کامخالف اورسنیوں کاطرف دار خیال کریں گے۔\n\nاکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی دوسرے شخص کو اپنے نفس پرقیاس کرکے اس سے بدگمان ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص اپنے ملک یاقوم کی بھلائی میں بے غرضانہ کوشش کرتا ہے مگر اس ملک یا اس قوم کے وہ آدمی جو خودغرضی میں ڈوبے ہوئے ہیں، اس کی کوشش کو بھی خودغرضی ہی پر محمول کرتے ہیں۔ یا مثلاً ایک شخص اہل یورپ کو جوکہ حاکم وقت ہیں سچا اوراست باز اور خوش معاملہ سمجھ کر ان سے زیادہ میل جول رکھتاہے مگر وہ لوگ ان سے اس حیثیت سے نہیں ملتے تو وہ اس کو بھی اپنی طرح ایک خوشامدی اور گوں گیرا اور گھاتیا سمجھتے ہیں۔ بعض اوقات ناواقفیت اور بے علمی سے بھی سخت بدگمانی پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً ایک شخص انگریز ی طریقے پر کھانے پینے کو اس لئے پسند کرتا ہے کہ اس کے تجربے میں وہ طریقہ صحت کے واسطے نہایت مفید ثابت ہوا ہے مگر جن لوگوں کو اس طریقہ کا تجربہ نہیں ہوا وہ اس شخص کی نسبت طرح طرح کی بدگمانیاں کرتے ہیں۔ یا مثلاً ایک دانا گورنمنٹ جو مختلف قوم ومذہب کی رعایا پر حکمراں ہے اپنے مدارس میں کسی خاص مذہب کی تعلیم کوجاری نہیں رکھتی مگر جو لوگ اس گورنمنٹ کے دانشمندانہ اصول سے ناواقف ہیں، وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ گورنمنٹ ہمارے مذہب کونیست و نابود کرنا چاہتی ہے۔\n\nکبھی بدگمانی کاسبب یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے اخلاق و عادات قوم کے عام اخلاق وعادات کے برخلاف ہوتے ہیں ان کی نسبت سوءظن پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً ایک قوم میں حد سے زیادہ بناوٹ، تکلف، ساختگی اور ظاہرداری کا دستور ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس قوم میں روکھا پھیکا، بے تکلف، سادہ مزاج اور کھرا پایا جائےگا وہ ضرور ایک متکبر، مغرور، بدمزاج اور اکل کھرا تصور کیا جائےگا۔ یا مثلاً ایک خاندان کے آدمی اکثر مسرف، فضول خرچ، لہو و لعب میں زندگی بسر کرنے والے اور نمائش پر مرنے والے ہیں۔ اب اگران میں کوئی شخص اس روش کے خلاف پایا جائےگا تو گو وہ کیساہی فیاض، جواں مرد، بامروت اور کنبہ پرور مگر کفایت شعار اورمنتظم ہو، خاندان کے تمام آدمی اس کو خسیس، دنی الطبع، کنٹک اور مکھی چوس خیال کریں گے۔\n\nبعض لوگ اس دھوکہ میں کہ ہمارا ذہن دور دور پہنچتا ہے اور ہم لوگوں کے دل کی بات سمجھ لیتے ہیں، اکثر بدگمانیاں کیا کرتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص گورنمنٹ کے کسی قانون یا کسی پالیسی کو رعایا کے حق میں مضر سمجھ کر اس پر آزادانہ اعتراض یا نکتہ چینی کرتا ہے مگر وہ ’’دل کی بات سمجھنے والے لوگ‘‘ یہ کہتے ہیں کہ چونکہ یہ شخص گورنمنٹ کو آزادی پسند جانتا ہے لہٰذا اس پردہ میں گورنمنٹ پر اپنی لیاقت اور دانشمندی ظاہر کرنی چاہتا ہے۔\n\nیا مثلاً ایک شخص مذہب اور حکمت میں اس لئے تطبیق کرتا ہے کہ جب قوم میں حکمت شائع ہو جائے تو قوم کے تعلیم یافتہ نوجوان مذہب کو عقل کے خلاف سمجھ کر اس سے تجاوز نہ کریں، مگر وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شخص گورنمنٹ کے ایما سے یا گورنمنٹ کے خوش کرنے کے لئے لوگوں کو لامذہب اور ملحد بنانا چاہتا ہے تاکہ سلطنت کو مذہبی مخالفت اور تعصبات کا کھٹکا نہ رہے۔ اکثر بدگمانی کا سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی ایک برائی یا ایک غلطی کی وجہ سے جوکہ بشریت کا خاصہ ہے، انسان کی تمام خوبیوں پر خاک ڈال دی جاتی ہے اور اس کی کسی بات پر نیک گمان نہیں کیا جاتا۔ مثلاً ایک سچا، راست باز اور دیانتدار آدمی کسی معاملے میں غلطی سے کوئی ایسی بات کر بیٹھا جو راستی کے خلاف معلوم ہوتی ہے تواس کے بعد اب وہ کسی معاملے میں راست باز نہیں سمجھا جاتا۔ یا مثلاً ایک لائق اور دانشمند آدمی سے کوئی ایسی لغزش ہوگئی جو عقل کے خلاف معلوم ہوتی ہے تو پھر اس کی رائے پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔\n\nبعض لوگ بات کامحل اور موقع نہ سمجھنے سے بھی بدگمان ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص سچی محبت اور بے ریاعشق کے جوش میں حضور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی صرف محمدؐ کبھی صرف ابوالقاسم کبھی آمنہ کا اکلوتا بیٹا اور کبھی بنی سعد کی بکریاں چرانے والا اپنی بے ساختہ تحریروں میں لکھ جاتاہے اور تعظیم کے رسمی اور عرفی الفاظ نہیں لکھتا۔ وہ لوگ جو حسن بیان اورلطف تحریر کی گھاتوں سے واقف نہیں ہیں اور تعظیم کو انہیں رسمی اور عرفی الفاظ میں منحصر جانتے ہیں، ضرور خیال کریں گے کہ اس شخص کے دل میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ عظمت نہیں ہے۔ یا مثلاً اسلام کاایک ظریف رفارمر دوسرے رفارمر کو اپنی پرائیویٹ تحریر میں لکھتا ہے کہ ’’میں نے یہاں بہتیرے جال ڈالے مگر کوئی پنچھی دام میں نہ آیا۔‘‘ تو سادہ لوح مسلمان یا زاہد خشک اگر وہ خط دیکھ پائیں گے توان کو اس بات کا پختہ یقین ہو جائےگا کہ ان لوگوں نے اسلام کے برخلاف سازش کر رکھی ہے اور یہ مسلمانوں کو مرتد کرنا چاہتے ہیں مگر ایک سمجھدار آدمی صرف یہ کہہ کر خاموش ہو جائےگا کہ ایسی ظرافت رفارمر کی شان سے بعید ہے۔\n\nابلہانہ حزم و احتیاط بھی اکثر بدگمانی کا باعث ہوتی ہے۔ مثلا ًایک خوش معاملہ اور دانا گورنمنٹ ملکی معاملات کی صفائی کے لئے ہمسایہ ملک میں اپنا مشن بھیجنا چاہتی ہے مگر اس ملک کے ارکان سلطنت یہ سمجھ کر مبادا اس مشن کے آنے سے ہماری حکومت یا اقتدار میں کچھ فرق آجائے مشن کو اپنے ملک میں نہیں آنے دیتے۔ یا مثلاً ایک ہائی اسکول یا کالج سے اکثر طالب علم لائق، نیک چلن اور صاحب علم ہوکر نکلتے ہیں۔ مگر ایک وہمی مزاج رئیس اس خیال سے کہ مبادا امیری اولاد وہاں جاکر غیر جنس لڑکوں کی صحبت میں آوارہ ہو جائے اپنی اولاد کو وہاں نہیں بھیجتا۔\n\nیہ تمام اسباب بدگمانی کے جو لکھے گئے، سرسری نظر میں سب ایک دوسرے سے جدا معلوم ہوتے ہیں مگر غور کرنے کے بعد ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب ایک عام سبب سے پیدا ہوتے ہیں جس کو بدگمانی کا اصل اصول سمجھنا چاہئے۔ جس بدبخت قوم کا اخلاقی قوام بگڑ جاتا ہے اور اس کے تمام فرقوں میں ناراستی اور بے دیانتی شائع ہو جاتی ہے تو اس قوم کے خاص وعام کو مجبوراً نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ ساری دنیا سے بدگمان ہونا پڑتا ہے۔\n\nجب لوگ متواتر دوستوں سے بے وفائی اور بھائی بندوں سے دغا اوربے مہری دیکھتے ہیں اور خود بھی ان کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ برتتے ہیں تو ان کو تمام جہاں میں کوئی صادق دوست نظرنہیں آتا۔ جب وہ علما کی بددیانتی اور مشائخوں کا مکر و فریب اور زاہدوں کی ریاکاری اور عابدوں کی جو فروشی اور گندم نمائی دیکھتے ہیں تو ان کو ساری دنیا مکرو زور سے بھری ہوئی معلوم ہوتی ہے اور فرشتہ پر بھی ان کو نیک گمان نہیں ہوتا۔ وہ نہ صرف غیروں سے بلکہ خود اپنے سے بھی بدگمان ہو جاتے ہیں۔ جس طرح وہ سب کو جھوٹا اور مکار اور خود غرض سمجھتے ہیں اسی طرح وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ لوگ ہم کو جھوٹا اور مکار اور خود غرض سمجھتے ہیں اور اسی لئے وہ کوئی وعدہ بغیر تاکید شدید کے زبان سے نہیں نکالتے اور کوئی روایت بغیر سوگند اور قسم کے نہیں بیان کرتے اور کوئی بات بغیر سند اور شہادت کے نہیں کہتے، خواہ مخاطب کی طرف سے درخواست ہو یا نہ ہو۔ گویا وہ یہ جتاتے ہیں کہ ہماری کوئی بات اعتبار کے قابل نہیں ہے۔ ان کو جا بجا خوشامد اور تملق کرنا پڑتا ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہماری خیر خواہی اور دوستی پر بغیر ایسی باتوں کے یقین نہیں آ سکتا۔\n\nتم نے اکثر نمود اورشیخی کرنے والوں کو دیکھا ہوگا کہ ایک آدھ جھوٹا سچا گواہ ان کے ساتھ ہر وقت لگا رہتا ہے۔ جب وہ کوئی واقعہ بیان کرتے ہیں تو با ت بات پر اس گواہ کاحوالہ دیتے جاتے ہیں کہ ’’یہ بھی وہاں وہ موجود تھے ان سے پوچھئے۔‘‘ گویا وہ اپنے کو ایسا جھوٹا سمجھتے ہیں کہ ان کی کوئی بات بغیر شہادت کے قابل تسلیم نہیں۔ تم نے بعض مصنفوں کو دیکھا ہوگا کہ وہ حد سے زیادہ بدیہی اور مسلم الثبوت دعوے پر بھی جب کسی کا قول سنداً نقل کرتے ہیں تو اس مصنف کا نام، کتاب کا نام، باب اور فصل کاپتہ، صفحہ اور سطر کا شمار، سنہ طباعت، مقام طبع، مطبع کا نام اور سوائے اس کے اور بھی پتے مفصل لکھتے ہیں۔ حالانکہ ان دعوؤں کے تسلیم کرنے میں جن کی تائید میں، وہ یہ مفصل سندیں لکھتے ہیں کسی کوبھی کلام نہیں ہوتا۔ مگر ان کواپنی بے اعتباری کا ایسا پختہ یقین ہوتا ہے کہ اگر ان کی کتاب ضروری مقدار سے دس گنی زیادہ ہو جائے تو بھی وہ اس تفصیل سے باز نہیں آ سکتے۔\n\nیہ اور ایسی ہی بے شمار مثالیں اس بات کی ہیں کہ جب کسی قوم کے عام اخلاق بگڑ جاتے ہیں تو اس قوم کے لوگ نہ صرف اوروں سے بلکہ اپنے نفس سے بھی بدگمان ہو جاتے ہیں۔ ہم اپنے ملک میں اورخاص کر اپنی قوم میں بدگمانی کا حال ایسا ہی دیکھتے ہیں۔ گاہک سچے دکانداروں کو بھی سچا نہیں جانتے، کیوں کہ انہوں نے بڑے بڑے یک سخنوں سے دھوکے کھائے ہیں۔ دنیادار آپس میں ایک دوسرے کوخائن اور بددیانت سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے بڑے بڑے دینداروں کو ایسا ہی پایا ہے۔ اگر کوئی دیانتدار کمیٹی قوم کی بہبودی اور اصلاح کے لئے کھڑی ہوتی ہے تو قوم کی طرف سے بجائے اعانت و امداد کے اس کی مخالفت اور مزاحمت ہوتی ہے کیونکہ قوم کے سرگروہوں کی متواتر خیانتوں نے کسی کو اعتبار اور اعتماد کے لائق نہیں چھوڑا۔ ایک شخص کی بدگمانی سے جومضر نتیجے پیدا ہوتے ہیں وہ اکثر ایک یا چند آدمیوں سے زیادہ کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ لیکن جب کسی ملک یا قوم کی عام طبیعتوں میں بدگمانی کا بیج بویا جاتا ہے تو اس سے تمام ملک یا تمام قوم کو مضرت پہنچتی ہے۔ عام بدگمانی سے اکثر ایسا ہوا ہے کہ فوج اپنے بادشاہ سے منحرف اور رعایا باغی ہو گئی ہے اور اس کے برے ثمرے فوج اور رعایا دونوں کو سالہا سال تک بھگتنے پڑے ہیں۔\n\nافسوس ہے اور نہایت افسوس ہے کہ ہماری قوم میں بھی یہی عام بدگمانی پھیلی ہوئی ہے جس کے سبب سے اس کو طرح طرح کے نقصان اٹھانے پڑے ہیں۔۔۔ اور اٹھانے پڑیں گے۔ ابتدا میں وہ گورنمنٹ سے بدگمان تھے اور ان کویہ خیال تھا کہ ’’سرکار ہم کو عیسائی بنانا چاہتی ہے۔ پادری لوگ جو جا بجا تبلیغ عیسائیت کرتے پھرتے ہیں۔ یہ سرکار ہی کی طرف سے اس کام پر مامور ہیں اور انگریزی مدارس بھی اسی لئے قائم کئے گئے ہیں کہ ہم لوگ رفتہ رفتہ اپنے دین سے بے خبر ہوکر آخر کو دین عیسوی اختیار کر لیں۔‘‘ اس بے ہودہ اور باطل خیال سے جو بےشمار نقصان انہوں نے اٹھائے ہیں ان کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ اگر یہ پو چھا جائے کہ،\n\nکیوں سرکار ی دفتر مسلمانوں سے خالی ہیں؟\n\nکیوں تجارت اور صنعت کی فہرست میں مسلمانوں کانام نہیں پایا جاتاہے؟\n\nکیوں ان کی ناداری اور افلاس روز بروز بڑھتا جاتاہے؟\n\nکیوں ان کے خاندان پر ابر بٹتے چلے جا رہے ہیں؟\n\nکیوں ان کی اولاد میں بدخصلتیں سب سے زیادہ پائی جاتی ہیں؟\n\nکیوں ان کے رئیس اور امیر نالائق اور کندہ ناتراش ہوتے ہیں؟\n\nتو شاید ان سب سوالات کا جواب یہی ہوگا کہ ’’ان کی بدگمانی سے۔‘‘\n\nاب چند سال سے قوم کی ایک خیر خواہ جماعت نے قوم کی تعلیم و تربیت کا سامان مہیا کرنے پر کمر باندھی ہے اور علی گڑھ میں ایک ایسا قومی مدرسہ قائم کیا ہے جس کی نظیر ایشیا کی تاریخ میں نہیں پائی جاتی۔ اس نے قوم کی بدگمانی رفع کرنے میں بھی حتی الامکان کوشش کی ہے اورکوئی عقدہ ان کی دلجمعی کا فروگزاشت نہیں کیا مگر قوم کی بدگمانی بدستور چلی جاتی ہے وہ برابر آنکھوں سے دیکھتے اور کانوں سے سنتے ہیں کہ ہرسال اس مدرسہ میں طالب علموں کی ایک معتدبہ مقدار توقع سے زیادہ کامیاب ہوتی ہے (حالانکہ اس کے قیام کو کچھ بھی زمانہ نہیں گزرا۔ ) وہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت میں بھی بہت زیادہ اہتمام کیا جاتاہے۔ جس سے مسلمانوں کی اولاد کے واسطے ہمیشہ کے لئے اخلاق کی جڑ قائم ہوتی ہے۔ وہاں طالب علموں کی حفظ صحت کا خیال بھی جوکہ نہایت ضروری چیز ہے حد سے زیادہ کیا جاتاہے۔ ان کومذہبی قواعد کا بھی کمال قدغن کے ساتھ پابند کیا جاتا ہے۔ ان کو دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔\n\nغرض تعلیم و تربیت کاسامان وہاں اس قدر مہیا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی اولاد کے لئے اس سے بڑھ کر ہرگز نہیں ہو سکتا لیکن باوجود ان سب باتوں کے بہت سے بے پروائی سے، بہت سے عناد سے اور سب سے زیادہ بدگمانی سے اس چشمہ فیض سے محروم ہیں اور اس سے قوم کی ترقی کی طرف سے ایسی سخت مایوسی ہوتی ہے جس کا تدارک ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ بھوکے کو کھانا اور پیاسے کو پانی میسر نہ آنے سے بھی سخت مایوسی ہوتی ہے لیکن یہ اس مایوسی سے بہت کم ہے کہ کھانا اور پانی موجود ہو لیکن بیمار نہ کھانا کھا سکے نہ پانی پی سکے۔ ایسا بیمار کوئی دم کامہمان ہوتا ہے۔ نہ طبیب اس کے کام آ سکتا ہے نہ تیماردار اس کی مدد کر سکتا ہے۔ ہم نہیں کہتے کہ ہمارے مسلمان بھائی اس باب میں کسی کے کہنے سننے پر التفات کریں بلکہ ان کو چاہئے کہ انصاف اور بے تعصبی سے مدرسۃ العلوم کاحال دیکھیں اور سمجھیں کہ جو کچھ ہم اس کی نسبت کہتے ہیں وہ صحیح ہے یا غلط،\n\nآفتاب آمد دلیل آفتاب\nگرد لیلے بایدت زور و مہتاب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%AF%DA%AF%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "بر سر لطف آج چشم دل ربا تھی میں نہ تھا", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بر سر لطف آج چشم دل ربا تھی میں نہ تھا\nڈھونڈھتی مجھ کو نگاہ آشنا تھی میں نہ تھا\n\nیار کو مد نظر مشق جفا تھی میں نہ تھا\nوائے قسمت کل وہاں میری قضا تھی میں نہ تھا\n\nمیرے ہوتے بے تکلف ہاتھا پائی غیر سے\nقابل اس رتبے کے ظالم کیا حنا تھی میں نہ تھا\n\nآہ میری نارسا فریاد میری بے اثر\nنیند اڑا دی جس نے تیری وہ ہوا تھی میں نہ تھا\n\nیاد فرمانا تھا مجھ کو بھی دم گلگشت باغ\nساتھ چلنے کو جلو میں کیا صبا تھی میں نہ تھا\n\nاے پری پابوس سے محروم کیوں رکھا مجھے\nخوں گرفتہ اس چمن میں کیا حنا تھی میں نہ تھا\n\nوائے قسمت ڈھونڈتی تھی کل مجھے شمشیر یار\nرحمت عام اس کی سر گرم عطا تھی میں نہ تھا\n\nجام مینا بادہ ساقی چنگ دف بربط رباب\nنہر گلشن چاندنی سبزہ فضا تھی میں نہ تھا\n\nاپنے کوچے میں کیا ہوتا مجھے جاروب کش\nصاحب اس خدمت کے قابل کیا صبا تھی میں نہ تھا\n\nتوڑ کر افلاک جو پہنچی سر عرش بریں\nقدسیو وہ میری آہ نارسا تھی میں نہ تھا\n\nعمر رفتہ تو ہی مجھ واماندہ کا سن لے پیام\nقافلے والوں سے کہہ دینا کہ ساتھی میں نہ تھا\n\nصبح وصل آزردگی مجھ سے ہی کس تقصیر پر\nوجہ ناراضی تو میری التجا تھی میں نہ تھا\n\nجب گلہ آشوب پردازوں کا اس بت سے کیا\nبول اٹھا شوخی سے چشم فتنہ زا تھی میں نہ تھا\n\nجام مینا بادہ ساقی تھا یہ سب ناظمؔ وہاں\nپر مری قسمت کہ خالی میری جا تھی میں نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%D8%B1_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%A2%D8%AC_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "برا خاوند", "poet_page": "مصنف:میر باقر علی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "اکثر عورتیں شکایت کرتی ہیں کہ خاوند برا ہے، یہ وہ سچ کہتی ہیں، لیکن میں ان کو اس طرف متوجہ کرتی ہوں کہ پہلے وہ یہ تو دیکھیں کہ وہ بھی، بُرائی کے مادۂ حسد، غصہ، خود غرضی، خود بینی سے پاک ہیں یا نہیں۔ انسان کو شک اور شبہ مکدر نہیں کرتا جو جیسا ہوتا ہے، وہ دوسروں کو بھی ویسا ہی دیکھتا ہے، ہاں اگر تم دوسروں سے مہربانی چاہتی ہو، تو پہلے خود مہربان بنو اور انکو اگر اپنے سے سچا چاہتی ہو تو سچی پہلے خود بنو، جیسا دو گی ویسا لو گی تمہاری دنیا تمہارے خیالات کا آئینہ ہے، جیسی تمہاری صورت ہوگی ویسی ہی تمہارے سامنے آئے گی۔ اگر ہاتھ کو آگ میں ڈال دو گی، تو کیا ہو گا، جل ہی جائے گا، دنیا میں بڑی بدبختی غصہ اور حسد ہے، ان کو جتنا بڑھاتی رہو گی، یہ آگ تیز ہوتی جائے گی، جو تمہاری ذات کو جلا کر خاک کر دے گی۔ اس کے خلاف محبت شرافت نیک نیتی یہ سب فرحت بخش ہیں، جس وقت انسان سمجھ گیا ان مسائل کو اس وقت اس میں مضبوطی پیدا ہو جاتی ہے۔ جو شخص ہر حالت میں صابر رہتا ہے اور تمام حالتوں کو ضروری لوازم زندگی جانتا ہے وہ تمام تکلیفوں کو قابو میں لے آتا ہے تو یہ تکلیفیں اس وقت نیست و نابود ہو جاتی ہیں۔ جس طرح سے مصیبت اندر پیداہوتی ہے، آرام بھی اسی طرح اندر پیدا ہوتاہے۔\n\nمیں یہ سب تمہارے ہی واسطے لکھ رہی ہوں اور تم ہی سے یہ گفتگو کررہی ہوں، غور سے سنو اور دل میں جگہ دو اگر تم ان باتوں کو اختیار کرنے کا مصمم ارادہ کرلوگی تو تمہاری زندگی میں غضب کی تبدیلیاں نظر آئیں گی، اور تم اس سے فائدہ اٹھاؤ گی۔ اکثر عورتیں ما ں باپ کو الزام دیتی ہیں کہ وہ بدبختی کا باعث ہوتے ہیں، نہیں بلکہ تم ہی اپنی تکالیف کا سبب ہو کیونکہ تم ہر وقت اپنی زندگی کو بدل سکتی ہو۔\n\nاگر تم کسی بیدرد اور ظالم آقا کی نوکر ہو اور وہ تم سے بری طرح سے پیش آتا ہے تم اس کو اپنا سبق سمجھو اور اس کے ساتھ تم شرافت سے پیش آؤ اور صبر اور تحمل سے کام لو اور جو نقصان تمہیں پہنچا ہے اس سے یہ کام لو کہ اپنے میں دینی اور روحانی طاقت حاصل کرو اور اس سے اپنے آقا کو نہایت نرمی سے سبق دو کہ وہ خود شرمندہ ہوگا اور تم میں روحانی قوت حاصل ہوگی۔ اپنے قصور ڈھونڈنے میں اپنے اوپر رحم نہ کرو، شاید غلامانہ علامتیں مل جائیں، جب تم اپنے نفس کی غلام نہ ہوگی تو کسی کی مجال نہیں جو تم کو غلام بنائے۔ جب تم نفس اماّرہ کو جیت لوگی تو تمام مصیبتوں پر غالب آجاؤ گی، پھر تم خود دیکھ لو گی کہ جو تم کو ستا رہا ہے، وہ خود شرمندہ ہو کر تمہاری غلامی اختیار کرے گا، تم اس مغالطہ کو دور کرو۔ دوسرا تم پر ظلم نہیں کر سکتا تم خود اپنے اوپر ظلم کررہی ہو، دوسرے پر الزام نہ لگاؤ، اپنے اوپر الزام لگاؤ، نیکی سے باز نہ آؤ، اگر تم نیکی کے خلاف کروگی تو صبر کی قوت تم میں سے جاتی رہے گی، جو کچھ تم کو میسر ہو اس میں مستعدی سے کام لو، ورنہ ہمیشہ کے لیے تم مصیبت میں مبتلا رہو گی، اگر تم آقا کی موافقت کروگی، تو تمہاری قوت دوگنی اور کام کی ہو جا ئے گی، یہ تمہارا رات دن کا مشاہدہ ہے کہ ایک لکڑی چو لہے میں لگاؤ تو شعلہ نہیں دیتی جب دو لکڑیاں مل جائیں گی توشعلہ پیدا ہوگا۔\n\nتم اپنے خاوند کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کرواور جو میسر ہو اس پر قناعت کرو۔ اگر تمہارے پاس محل نہیں ہے تو تم اپنی جھونپڑی کو فردوس بنا سکتی ہو، اگر قالین نہیں ہے تو ہنسی خوشی اور مہر و محبت کی باتوں کا فرش ایسا بچھا سکتی ہو کہ اوپر لیٹے سے ہر کروٹ اور ہر پہلو آرام ہی آرام ہے، اور یہ وہ فرش ہے کہ نہ جس کو بارش خراب کر سکتی ہے اور نہ دھوپ۔ تم زندگی کے تھوڑے وقت سے مفید کام لو، اگر ایسا نہ کرو گی تو زیادہ وقت تم کو میسر نہ آئے گا اور تم کاہل اور بے پرواہ بن جاؤ گی۔ تمہاری سلطنت تمہارے اندر موجود ہے، جب طبیعت کو ادھر متوجہ کرو گی تو تمہاری مصیبتیں آسان ہو جائیں گی، جس قدر تم اپنے نفس کی قوتوں پر غالب رہو گی اسی قدر دنیا کے معاملات کو سمجھ سکو گی، جہالت ہی باعث تکلیف ہوتی ہے، جہالت سے تم ہر چیز کو قوت دیکر اپنے اوپر طاری کر لیتی ہو، تم دیکھو جس وقت تم کو غصہ آتا ہے تو تم اس کو رفع تو نہیں کرتیں، بلکہ یہ کوشش کرتی ہو کہ میں بڑھ کر بات کروں، تو تم ہی انصاف کرو کہ دوسرا بھی تم ہی جیسا ہے، وہ بھی ایسا ہی چاہے گا، تو کیاہوگا کہ جھگڑا بڑھ جائے گا اور جھگڑے میں سوائے نقصان کے کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ غصہ کی ابتدا جنوں اور انتہا پشیمانی، پھر یہ بتاؤ کہ اس خرابی کا باعث کون ہوا، تم یا دوسرا اور پھر تم خاوند کو بُرا کہو، غصہ کا زہر بدن میں سرائیت کرتا ہے، جو شخص نیک بن جاتاہے، وہ دنیا کو زیر کرلیتا ہے، جب انسان ناداری اورکمزوری کو مغلوب کر لیتا ہے تو اندر سے خود بخود ایک غیر مغلوب اور عالمگیر طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔\n\nنیک دنیا کو زیر کر لیتاہے اور دولت مند اکثر خوشی سے محروم رہتا ہے، اکثر میری بہنیں شکایت کرتی ہیں کہ نوکر ہمارے پاس نہیں ٹھہرتا، بُوا کچھ ہمارے نمک ہی کی یہ تاثیر ہے۔\n\nسنو بھاگ جانے کا عیب ان میں نہیں ہے، بلکہ تم اگر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ وہ عیب تم ہی میں ہے اس عیب کو اپنے ہی میں ڈھونڈو اور دریافت کرو کہ وہ کیا شے ہے جو دوسروں کے دلوں کو بگاڑ دیتی ہے۔ تم تو نوکروں کے ساتھ مہربانی سے پیش آؤ، ان کے آرام کا خیال رکھو، ان کی بساط سے زیادہ کام نہ لو، جو خدمت اس پر جائز ہے وہ خدمت لو بلکہ اس کے ساتھ وہ کرو کہ جبسا تم کو تمہارا سچا خیال بتائے، پھر وہ تم سے اچھی طرح سے پیش آئے گا۔ بس یہی رمز ہے، اگر اس رمز کو سمجھ گئیں تو بیڑے پارہیں۔\n\nاکثر کا قول ہے کہ ہمارا کوئی دوست نہیں، یہ کہہ کر وہ اوروں پر الزام تھوپتے ہیں، بلکہ وہ عیب خود ان کی ذات میں ہے۔ تم دشمنوں سے محبت کرو تو دوست خود تمہارے پاس آجائیں گے، جو شخص خود غرضی اختیار کرتا ہے وہ اپنے دشمن آپ پیدا کرتاہے اور جو اس کے خلاف ہے وہ دوستوں سے گھرا رہتاہے۔ لڑائی، طاعون، قحط، یہ تمہارے بیجا خیال سے پیداہوتے ہیں۔ نفرت، غصہ، خودبینی، غرور، طمع، نفس پرستی، ضد یہ سب افلاس کی جڑیں ہیں اور اس کے خلاف محبت، شرافت، رحم، فیاضی یہ سب دولت کی سوتیں ہیں۔ ہر شخص کا اندازہ اس کی محبت سے کرو، جو شخض جذبوں کو قابو میں کر لیتا ہے وہ سب کے ساتھ محبت سے پیش آتاہے، جیسے سمندر کی تہہ سنسان ہے جہاں کسی طوفان کا اثر نہیں ہوتا، اسی طرح دل ہے، اگر اس کے اندر تم غور کرو تو تم کو معلوم ہوگا کہ دل کی تہہ امن سے بھری ہوئی ہے۔ بُری باتوں کا اثر بعد تک رہتا ہے جب آدمی قدرت کو سمجھ لیتاہے تو اپنے کو مٹی کا پتلا نہیں جانتا، بلکہ اس کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ میں کون ہوں اور کس واسطے پیدا کیا گیا ہوں، اور جسم کو جانتاہے کہ یہ میرا مکان ہے اور میں اس کا مالک ہوں۔ تم خاوند کی ذات سے اپنے کو الگ نہ سمجھو۔ دیکھو ٹہنی درخت سے الگ ہو کر گو ساری صفات اس میں درخت کی سی، صورت، پتے، کوپل موجود ہیں لیکن تھوڑی دیرمیں وہ مرجھا کر فناہو جائے گی۔ اسی طرح سے جب تم اپنے آپ کو الگ رکھو گی تو کیا ہوگا، جیسا ٹہنی کا حشرہوا۔ آگ جب تک چولہے میں ہے انگارہ باہر راکھ فقیر گھر کے اندر شاہ باہر گدا۔ جو شخص غصے او ر جذبوں سے کام لیتاہے وہ اپنی طاقت کم کردیتاہے۔ خواہش مثل سمندر کے لاانتہا شے ہے۔ تم جتنا اس کے پورا کرنے کی خواہش کرو گی وہ اور بھی زیادہ ہوتی جائے گی کیونکہ پانی جتنا سمندرمیں آئے گا اس کا شور سوا ہوتا جائے گا۔ خواہش دوزخ کا ملک ہے کہ تمام مصیبتیں وہیں آکر جمع ہوتی ہیں اور ترک خواہش جنت ہے او ریہ دونوں تمہارے اختیار میں ہیں۔ جب تم یہ سمجھنے لگو گی کہ خواہش کی حقیقت کیا ہے تو تمام جذبوں پر غالب آجاؤ گی۔ یہ سمجھ کر تم اپنے ارادہ پر قائم رہو، دو دِلا شخص کامیاب نہیں ہوتا۔ تم اب تک جن وحشیانہ خواہشوں کا شکار بنی رہیں اب تم ان پر اقتدار پیدا کرو اور بدگوئی، کہل کہلا کر بلا کسی سبب کے ہنسنا لغو اور بے معنی باتیں کہ ان میں سوائے نقصان کے کوئی فائدہ نہیں ہے، ترک کرو، جوش یا جذبہ سے کام لینا گویا قوت کا کم کرنا ہے۔ جس قدر تم اپنے نفس کی قوتوں پر غالب رہو گی، اسی قدر تم دنیا کے معاملات کو سمجھ سکو گی۔ تمہارا خیال تمہاری ایک تصویر ہے جو دوسروں کے آئینہ دل پر پڑ کر اور وہاں سے منعکس ہو کر تم پر برا یا بھلا اثر پیدا کرے گی۔ دشمنی اور فساد اور کینہ یہ سب بدی کے گویا قاصد ہیں، جو برے خیالات کو تمہارے دلوں میں اکساتے ہیں، جب تم ان قاصدوں کو دوسروں کی طرف بھیجتی ہو تو دوسرا ان کو زبردست کرکے اورخلعت پہنا کر تمہاری طرف روانہ کرتے ہیں اور جو نیک ہیں وہ اس کے خلاف، اچھا وہ ہے جو بری قوتوں پر قادر ہو، اور برا وہ ہے جو ان قوتوں کے بس میں ہو۔ اس کے حاصل کرنے کی صورت اس سے بہتر نہیں کہ انسان اپنے کو قابو میں رکھے۔ اگر تم اندرونی قوتوں کے بس میں رہو گی تو بیرونی مدد کی محتاج رہوگی۔ دنیا میں کوئی شے ایسی نہیں جوروح سے پیدا نہ ہو تی ہو۔ ان سب مصیبتوں کی جڑ گناہ ہیں اور یہ کیوں ہیں کہ تم کو مختلف اشیاء کاعلم نہیں، جب تک کسی شے کاعلم نہیں ہوتا اس وقت تک آدمی بے قرار رہتا ہے۔ ایک بچہ شمع پکڑنے کی ضد کیا کرتا تھا اور اس کی ماں اس کو روکتی رہتی تھی۔ ایک روز ماں اس کی کسی کام کو گئی ہوئی تھی اور بچہ کا قابو چل گیا، اور اس نے دوڑ کرشمع کو پکڑ لیا، نتیجہ معلوم ہوگیا، پھراس نے ضد نہ کی۔ جب تک اس کو شمع کے جلانے کا علم نہ ہوتا بے قرار رہتا، جب علم ہو گیا بے قراری جاتی رہی۔ تم حسد، طمع، غصہ کی تو مطیع رہو اور کامل صحت کی امید کرو تو کیا ہوگا کہ ہمیشہ بیماری کے پیچ میں مبتلا رہو گی۔ غصہ میں صحیح فیصلہ کی قوت نہیں ہوتی۔ اگر تم اپنے نفس کو نیک خیال میں لگاؤ گی خود نیک ہو جاؤ گی، جب فضول خیالات تمہارے ذہن سے نکل جائیں گے تو راحت ہی راحت ہے۔ ہم ایک جسم کے اعضاء ہیں، اگر جسم میں کسی اعضاء کو تکلیف ہوگی تو کیا ہوگا کہ تمام جسم بے چین ہوگا۔ جاہل اپنا مقصد نکالنے میں تمام دنیا کو اگر نقصان پہنچے تو دریغ نہیں کرتا، محبت تمہاری ضرورت کے وقت تمہاری پشت پناہ ہو جائے گی۔ اگر تم دل سے کام کو کرناچاہتے ہو تو اپنی سمجھ سے فائدہ اٹھاؤ اور جو تمہارے خیال میں آیا ہے شروع کرو، جرأت یا حوصلہ جادو کا اثر رکھتاہے اور اس کے ساتھ ذہانت اور طاقت سب کچھ آجاتی ہے۔ شروع کرنے کی دیر ہے، انشاء اللہ اختتام کو پہنچ جاوے گا۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D9%88%D9%86%D8%AF"} {"title": "برا ہو گیا یا بھلا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برا ہو گیا یا بھلا ہو گیا\nمحبت میں جو ہو گیا ہو گیا\n\nنہ پوچھو سر حشر زاہد کا حال\nسمجھتے تھے کیا اور کیا ہو گیا\n\nیہیں ختم ہے بحث معیار حسن\nجو دل لے گیا دل ربا ہو گیا\n\nالٰہی ترا بندہ اور بت پرست\nمگر یہ کہ مجبور سا ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "برابر سے بچ کر گزر جانے والے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برابر سے بچ کر گزر جانے والے\nیہ نالے نہیں بے اثر جانے والے\n\nنہیں جانتے کچھ کہ جانا کہاں ہے\nچلے جا رہے ہیں مگر جانے والے\n\nمرے دل کی بیتابیاں بھی لیے جا\nدبے پاؤں منہ پھیر کر جانے والے\n\nترے اک اشارے پہ ساکت کھڑے ہیں\nنہیں کہہ کے سب سے گزر جانے والے\n\nمحبت میں ہم تو جیے ہیں جئیں گے\nوہ ہوں گے کوئی اور مر جانے والے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%86_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ\nہاں میری محبت کا جواب اور زیادہ\n\nروئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے\nہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ\n\nآوارہ و مجنوں ہی پہ موقوف نہیں کچھ\nملنے ہیں ابھی مجھ کو خطاب اور زیادہ\n\nاٹھیں گے ابھی اور بھی طوفاں مرے دل سے\nدیکھوں گا ابھی عشق کے خواب اور زیادہ\n\nٹپکے گا لہو اور مرے دیدۂ تر سے\nدھڑکے گا دل خانۂ خراب اور زیادہ\n\nہوگی مری باتوں سے انہیں اور بھی حیرت\nآئے گا انہیں مجھ سے حجاب اور زیادہ\n\nاسے مطرب بیباک کوئی اور بھی نغمہ\nاے ساقیٔ فیاض شراب اور زیادہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D9%BE%DB%81_%D8%B9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B2%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DB%81"} {"title": "برباد نہ کر اس کو ذرا ہاتھ پہ دھر لا", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برباد نہ کر اس کو ذرا ہاتھ پہ دھر لا\nاے باد صبا خاک در یار ادھر لا\n\nصیاد سے کیا فکر ہے اے طائر مضموں\nکاغذ کے تجھے پر بھی لگیں کام تو کر لا\n\nلے جا دل بے تاب نشانی مری قاصد\nسیماب سے ہے مرتبۂ عشق خبر لا\n\nیہ کان ہیں مشتاق خبر قاصد جاناں\nآنکھوں کو بھی دیدار ہے منظور نظر لا\n\nحسرت ہے کہیں حسرت دل اس کی نکالے\nاس اخترؔ غمگیں کے لئے دیدۂ تر لا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%84%D8%A7"} {"title": "بربط شکستہ", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اس نے جب کہا مجھ سے گیت اک سنا دو نا\nسرد ہے فضا دل کی آگ تم لگا دو نا\nکیا حسین تیور تھے کیا لطیف لہجہ تھا\nآرزو تھی حسرت تھی حکم تھا تقاضا تھا\n\nگنگنا کے مستی میں ساز لے لیا میں نے\nچھیڑ ہی دیا آخر نغمۂ و فا میں نے\nیاس کا دھواں اٹھا ہر نوائے خستہ سے\nآہ کی صدا نکلی بربط شکستہ سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%B7_%D8%B4%DA%A9%D8%B3%D8%AA%DB%81"} {"title": "برسات", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا\nہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا\nگھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی\nہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی\nگھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی\nتو بے جان مٹی میں جان آ گئی\nزمیں سبزے سے لہلہانے لگی\nکسانوں کی محنت ٹھکانے لگی\nجڑی بوٹیاں پیڑ آئے نکل\nعجب بیل پتے عجب پھول پھل\nہر اک پیڑ کا یک نیا ڈھنگ ہے\nہر اک پھول کا اک نیا رنگ ہے\nیہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا\nکہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا\nجہاں کل تھا میدان چٹیل پڑا\nوہاں آج ہے گھاس کا بن پڑا\nہزاروں پھدکنے لگے جانور\nنکل آئے گویا کہ مٹی کے پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%AA"} {"title": "برسات (برج نرائن چکبست, I)", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بندھ گئی ہے رحمت حق سے ہوا برسات کی\nنام کھلنے کا نہیں لیتی گھٹا برسات کی\n\nاگ رہا ہے ہر طرف سبزہ در و دیوار پر\nانتہا گرمی کی ہے اور ابتدا برسات کی\n\nدیکھنا سوکھی ہوئی شاخوں میں بھی جان آ گئی\nحق میں پودوں کے مسیحا ہے ہوا برسات کی\n\nخود بخود تازہ امنگیں جوش پر آنے لگیں\nدل کو گرمانے لگی ٹھنڈی ہوا برسات کی\n\nوہ دعائیں مے کشوں کی اور وہ لطف انتظار\nہائے کن نازوں سے چلتی ہے ہوا برستا کی\n\nمیں یہ سمجھا ابر کے رنگین ٹکڑے دیکھ کر\nتخت پریوں کے اڑا لائی ہوا برسات کی\n\nناز ہو جس کو بہار مصر و شام و روم پر\nسر زمین ہند میں دیکھے فضا برسات کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%AA_%28%D8%A8%D8%B1%D8%AC_%D9%86%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%86_%DA%86%DA%A9%D8%A8%D8%B3%D8%AA%2C_I%29"} {"title": "برسات (برج نرائن چکبست, II)", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہے دلاتی یاد مے نوشی فضا برسات کی\nدل بڑھا جاتی ہے آ آ کر گھٹا برسات کی\n\nبندھ گئی ہے رحمت حق سے ہوا برسات کی\nنام کھلنے کا نہیں لیتی گھٹا برسات کی\n\nاگ رہا ہے ہر طرف سبزہ در و دیوار پر\nانتہا گرمی کی ہے اور ابتدا برسات کی\n\nدیکھنا سوکھی ہوئی شاخوں میں بھی جان آ گئی\nحق میں پودوں کے مسیحا ہے ہوا برسات کی\n\nہوں شریک بزم مے زاہد بھی توبہ توڑ کر\nجھومتی قبلہ سے اٹھی ہے گھٹا برسات کی\n\nاصل تو یہ ہے مے و معشوق کا جب لطف ہے\nچاندنی ہو رات کو دن کو گھٹا برسات کی\n\nوہ پپیہوں کی صدائیں اور وہ موروں کا رقص\nوہ ہوائے سرو اور کالی گھٹا برسات کی\n\nپار اتر جائیں گے بحر غم سے رند بادہ نوش\nلے اڑے گی کشتیٔ مے کو ہوا برسات کی\n\nخود بخود تازہ امنگیں جوش پر آنے لگیں\nدل کو گرمانے لگی ٹھنڈی ہوا برسات کی\n\nوہ دعائیں مے کشوں کی اور وہ لطف انتظار\nہائے کن نازوں سے چلتی ہے ہوا برسات کی\n\nمیں یہ سمجھا ابر کے رنگین ٹکڑے دیکھ کر\nتخت پریوں کے اڑ لائی ہوا برسات کی\n\nناز ہو جس کو بہار مصر و شام و روم پر\nسر زمین ہند میں دیکھے فضا برسات کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%AA_%28%D8%A8%D8%B1%D8%AC_%D9%86%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%86_%DA%86%DA%A9%D8%A8%D8%B3%D8%AA%2C_II%29"} {"title": "برسات (سیماب اکبرآبادی, I)", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "برکھا آئی بادل آئے\nاوڑھے کالے کمبل آئے\nٹھنڈی ٹھنڈی آئیں ہوائیں\nکالی کالی چھائیں گھٹائیں\nگرمی نے ڈیرا اٹھوایا\nدھوپ پہ سایہ غالب آیا\nبادل سے امرت جل برسا\nامرت جل کیسا کومل برسا\nہو گئی زندہ مردہ کھیتی\nڈھل گئے ذرے چمکی کھیتی\nدریا اور سمندر ابھرے\nتازہ موجیں لے کر ابھرے\nباغوں میں سبزہ لہرایا\nپھولوں کلیوں میں رس آیا\nپھر شاخوں نے خلعت پہنی\nپھر پائے ہریالے گہنے\nپھول کھلے کلیاں لہرائیں\nکونپلیں پھر شاخوں میں آئیں\nموتی بادل نے برسائے\nپتوں نے دامن پھیلائے\nتالابوں میں مینڈک بولے\nسیپوں نے منہ اپنے کھولے\nبادل گرجا بجلی چمکی\nآئی صدا رم جھم رم جھم کی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%AA_%28%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%2C_I%29"} {"title": "برسات (سیماب اکبرآبادی, II)", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "برکھا آئی بادل آئے\nاوڑھے کالے کمبل آئے\nٹھنڈی ٹھنڈی آئیں ہوائیں\nکالی کالی چھائیں گھٹائیں\nگرمی نے ڈیرا اٹھوایا\nدھوپ پہ سایہ غالب آیا\nپھیلا دن کے ساتھ دھندلکا\nبھورا بھورا ہلکا ہلکا\nبدلی آئی شور مچاتی\nبھیگے بھیگے نغمے گاتی\nبادل سے امرت جل برسا\nامرت جل کیا کومل برسا\nہو گئی زندہ مردہ کھیتی\nدھل گئے ذرے چمکی ریتی\nدریا اور سمندر ابھرے\nتازہ موجیں لے کر ابھرے\nتازگیاں ہیں جنگل جنگل\nہر جنگل میں ہے اب منگل\nیہ رت یا برسات کا موسم\nہے گویا جذبات کا موسم", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%AA_%28%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%2C_II%29"} {"title": "برسات اور شاعر", "poet_page": "مصنف:عظیم الدین احمد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "تھا درختوں کو ابھی عالم حیرت ایسا\nجیسے دلبر سے یکایک کوئی ہو جائے دو چار\nڈالیاں ہلنے لگیں تیز ہوائیں جو چلیں\nپتے پتے میں نظر آنے لگی تازہ بہار\nسنسناہٹ ہوئی جھونکوں سے ہوا کے ایسی\nچھٹ گئیں ہوں کہیں لاکھوں ہی ہوائی یکبار\nرعد گرجا ارے وہ دیکھنا بجلی چمکی\nہلکی ہلکی سی وہ پڑنے لگی بوندوں کی پھوار\nرات تاریک ہے آیا ہے امنڈ کر بادل\nمیں اکیلا نہ کوئی یار نہ کوئی غم خوار\nسرد جھونکوں میں ہوا کے ہے لطافت اور دل\nاس کا خواہاں ہے نہیں ملنے کے جس کے آثار\nایسی بے چینی خدایا نہ ہو دشمن کو نصیب\nاس سے بد تر نہ کسی کو ہو الٰہی آزار", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1"} {"title": "برسات کا مزا ترے گیسو دکھا گئے", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برسات کا مزا ترے گیسو دکھا گئے\nعکس آسمان پر جو پڑا ابر چھا گئے\n\nآئے کبھی تو سیکڑوں باتیں سنا گئے\nقربان ایسے آنے کے کیا آئے کیا گئے\n\nسن پائی میری آبلہ پائی کی جب خبر\nچاروں طرف وہ راہ میں کانٹے بچھا گئے\n\nہم وہ نہیں سنیں جو برائی حضور کی\nیہ آپ تھے جو غیر کی باتوں میں آ گئے\n\nمیں نے جو تخلیہ میں کہا حال دل کبھی\nمنہ سے نہ کچھ جواب دیا مسکرا گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B2%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "برسات کی بہاریں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہیں اس ہوا میں کیا کیا برسات کی بہاریں\nسبزوں کی لہلہاہٹ باغات کی بہاریں\nبوندوں کی جھمجھماوٹ قطرات کی بہاریں\nہر بات کے تماشے ہر گھات کی بہاریں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nبادل ہوا کے اوپر ہو مست چھا رہے ہیں\nجھڑیوں کی مستیوں سے دھومیں مچا رہے ہیں\nپڑتے ہیں پانی ہر جا جل تھل بنا رہے ہیں\nگلزار بھیگتے ہیں سبزے نہا رہے ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nمارے ہیں موج ڈابر دریا ڈونڈ رہے ہیں\nمور و پپہیے کوئل کیا کیا رمنڈ رہے ہیں\nجھڑ کر رہی ہیں جھڑیاں نالے امنڈ رہے ہیں\nبرسے ہے منہ جھڑا جھڑ بادل گھمنڈ رہے ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nجنگل سب اپنے تن پر ہریالی سج رہے ہیں\nگل پھول جھاڑ بوٹے کر اپنی دھج رہے ہیں\nبجلی چمک رہی ہے بادل گرج رہے ہیں\nاللہ کے نقارے نوبت کے بج رہے ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nبادل لگا ٹکوریں نوبت کی گت لگاویں\nجھینگر جھنگار اپنی سرنائیاں بجاویں\nکر شور مور بگلے جھڑیوں کا منہ بلاویں\nپی پی کریں پپیہے مینڈک ملاریں گاویں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nہر جا بچھا رہا ہے سبزہ ہرے بچھونے\nقدرت کے بچھ رہے ہیں ہر جا ہرے بچھونے\nجنگلوں میں ہو رہے ہیں پیدا ہرے بچھونے\nبچھوا دیے ہیں حق نے کیا کیا ہرے بچھونے\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nسبزوں کی لہلہاہٹ کچھ ابر کی سیاہی\nاور چھا رہی گھٹائیں سرخ اور سفید کاہی\nسب بھیگتے ہیں گھر گھر لے ماہ تا بماہی\nیہ رنگ کون رنگے تیرے سوا الٰہی\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکیا کیا رکھے ہیں یا رب سامان تیری قدرت\nبدلے ہے رنگ کیا کیا ہر آن تیری قدرت\nسب مست ہو رہے پہچان تیری قدرت\nتیتر پکارتے ہیں سبحان تیری قدرت\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکوئل کی کوک میں بھی تیرا ہی نام ہے گا\nاور مور کی زٹل میں تیرا پیام ہے گا\nیہ رنگ سو مزے کا جو صبح و شام ہے گا\nیہ اور کا نہیں ہے تیرا ہی کام ہے گا\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nبولیں بئے بٹیریں قمری پکارے کو کو\nپی پی کرے پپیہا بگلے پکاریں تو تو\nکیا حدحدوں کی حق حق کیا فاختوں کی ہو ہو\nسب رٹ رہے ہیں تجھ کو کیا پنکھ کیا پکھیرو\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی ماریں\n\nجو مست ہوں ادھر کے کر شور ناچتے ہیں\nپیارے کا نام لے کر کیا زور ناچتے ہیں\nبادل ہوا سے کر کر گھنگھور ناچتے ہیں\nمینڈک اچھل رہے ہیں اور مور ناچتے ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nپھولوں کی سیج اوپر سوتے ہیں کتنے بن بن\nسو ہیں گلابی جوڑے پھولوں کے ہار ابرن\nکتنوں کے گھر ہے کھانا سونا لگے ہے آنگن\nکونے میں پڑ رہی ہیں سر منہ لپیٹ سوگن\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nجو خوش ہیں وہ خوشی میں کاٹے ہیں رات ساری\nجو غم میں ہیں انہوں پر گزرے ہے رات بھاری\nسینوں سے لگ رہی ہیں جو ہیں پیا کی پیاری\nچھاتی پھٹے ہے ان کی جو ہیں برہ کی ماری\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nجو وصل میں ہیں ان کے جوڑے مہک رہے ہیں\nجھولوں میں جھولتے ہیں گہنے جھمک رہے ہیں\nجو دکھ میں ہیں سو ان کے سینے پھڑک رہے ہیں\nآہیں نکل رہی ہیں آنسو ٹپک رہے ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nاب برہنوں کے اوپر ہے سخت بے قراری\nہر بوند مارتی ہے سینے اپر کٹاری\nبدلی کی دیکھ صورت کہتی ہیں باری باری\nہے ہے نہ لی پیا نے اب کے بھی سدھ ہماری\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nجب کوئل اپنی ان کو آواز ہے سناتی\nسنتے ہی غم کو مارے چھاتی ہے امنڈی آتی\nپی پی کی دھن کو سن کر بے کل ہیں کہتی جاتی\nمت بول اے پپیہے پھٹتی ہے میری چھاتی\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nہے جن کی سیج سونی اور خالی چارپائی\nرو رو انہوں نے ہر دم یہ بات ہے سنائی\nپردیسی نے ہماری اب کے بھی سدھ بھلائی\nاب کے بھی چھاؤنی جا پردیس میں ہے چھائی\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکتنوں نے اپنی غم سے اب ہے یہ گت بنائی\nمیلے کچیلے کپڑے آنکھیں بھی ڈبڈبائی\nنے گھر میں جھولا ڈالا نے اوڑھنی رنگائی\nپھوٹا پڑا ہے چولہا ٹوٹی پڑی کڑھائی\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nگاتی ہے گیت کوئی جھولے پہ کر کے پھیرا\nمارو جی آج کیجیے یاں رین کا بسیرا\nہے خوش کسی کو آ کر ہے درد و غم نے گھیرا\nمنہ زرد بال بکھرے اور آنکھوں میں اندھیرا\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nاور جن کو اب مہیا حسنوں کی ڈھیریاں ہیں\nسرخ اور سنہرے کپڑے عشرت کی گھیریاں ہیں\nمحبوب دلبروں کی زلفیں بکھیریاں ہیں\nجگنو چمک رہے ہیں راتیں اندھیریاں ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکتنے تو بھنگ پی پی کپڑے بھگو رہے ہیں\nباہیں گلوں میں ڈالے جھولوں میں سو رہے ہیں\nکتنے برہ کے مارے سدھ اپنی کھو رہے ہیں\nجھولے کی دیکھ صورت ہر آن رو رہے ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nبیٹھے ہیں کتنے خوش ہو اونچے چھوا کے بنگلے\nپیتے ہیں مے کے پیالے اور دیکھتے ہیں جنگلے\nکتنے پھرے ہیں باہر خوباں کو اپنے سنگ لے\nسب شاد ہو رہے ہیں عمدہ غریب کنگلے\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکتنوں کو محلوں اندر ہے عیش کا نظارا\nیا سائبان ستھرا یا بانس کا اسارا\nکرتا ہے سیر کوئی کوٹھے کا لے سہارا\nمفلس بھی کر رہا ہے پولے تلے گزارا\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nچھت گرنے کا کسی جا غل شور ہو رہا ہے\nدیوار کا بھی دھڑکا کچھ ہوش کھو رہا ہے\nدر در حویلی والا ہر آن رو رہا ہے\nمفلس سو جھوپڑے میں دل شاد سو رہا ہے\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nمدت سے ہو رہا ہے جن کا مکاں پرانا\nاٹھ کے ہے ان کو مینہ میں ہر آن چھت پہ جانا\nکوئی پکارتا ہے ٹک موری کھول آنا\nکوئی کہے ہے چل بھی کیوں ہو گیا دوانا\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکوئی پکارتا ہے لو یہ مکان ٹپکا\nگرتی ہے چھت کی مٹی اور سائبان ٹپکا\nچھلنی ہوئی اٹاری کوٹھا ندان ٹپکا\nباقی تھا اک اسارا سو وہ بھی آن ٹپکا\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nاونچا مکان جس کا ہے پچ کھنا سوایا\nاوپر کا کھن ٹپک کر جب پانی نیچے آیا\nاس نے تو اپنے گھر میں ہے شور غل مچایا\nمفلس پکارتے ہیں جانے ہمارا\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nسبزوں پہ بیر بھوٹی ٹیلوں اپر دھتورے\nپسو سے مچھروں سے روئے کوئی بسورے\nبچھو کسی کو کاٹے کیڑا کسی کو گھورے\nآنگن میں کنسلائی کونوں میں کھن کھجورے\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nپھنسی کسی کے تن میں سر پر کسی کے پھوڑے\nچھاتی یہ گرمی دانے اور پیٹھ میں دودڑے\nکھا پوریاں کسی کو ہیں لگ رہے مروڑے\nآتے ہیں دست جیسے دوڑیں عراقی گھوڑے\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nپتلی جہاں کسی نے دال اور کڑھی پکائی\nمکھی نے ووہیں بولی آ اونٹ کی بلائی\nکوئی پکارتا ہے کیوں خیر تو ہے بھائی\nایسے جو کھانستے ہو کیا کالی مرچ کھائی\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nجس گل بدن کے تن میں پوشاک سوسنی ہے\nسو وہ پری تو خاصی کالی گھٹا بنی ہے\nاور جس پہ سرخ جوڑا یا اودی اوڑھنی ہے\nاس پر تو سب گھلاوٹ برسات کی چھنی ہے\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nبدنوں میں کھب رہے ہیں خوبوں کے لال جوڑے\nجھمکیں دکھا رہے ہیں پریوں کے لال جوڑے\nلہریں بنا رہے ہیں لڑکوں کے لال جوڑے\nآنکھوں میں چبھ رہے ہیں پیاروں کے لال جوڑے\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nاور جس صنم کے تن میں جوڑا ہے زعفرانی\nگلنار یا گلابی یا زرد سرخ دھانی\nکچھ حسن کی چڑھائی اور کچھ نئی جوانی\nجھولوں میں جھولتے ہیں اوپر پڑے ہے پانی\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکوئی تو جھولنے میں جھولے کی ڈور چھوڑے\nیا ساتھیوں میں اپنے پاؤں سے پاؤں جوڑے\nبادل کھڑے ہیں سر پر برسے ہیں تھوڑے تھوڑے\nبوندوں میں بھیگتے ہیں لال اور گلابی جوڑے\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکتنوں کو ہو رہی ہے اس عیش کی نشانی\nسوتے ہیں ساتھ جس کے کہتی ہے وہ سیانی\nاس وقت تم نہ جاؤ اے میرے یار جانی\nدیکھو تو کس مزے سے برسے ہے آج پانی\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکتنے شراب پی کر ہو مست چھک رہے ہیں\nمے کی گلابی آگے پیالے چھلک رہے ہیں\nہوتا ہے ناچ گھر گھر گھنگھرو جھنک رہے ہیں\nپڑتا ہے مینہ جھڑا جھڑ طبلے کھڑک رہے ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nہیں جن کے تن ملائم میدے کی جیسے لوئی\nوہ اس ہوا میں خاصی اوڑھے پھرے ہیں لوئی\nاور جن کی مفلسی نے شرم و حیا ہے کھوئی\nہے ان کے سر پہ سر کی یا بوریے کی کھوئی\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکتنے پھرے ہیں اوڑھے پانی میں سرخ پٹو\nجو دیکھ سرخ بدلی ہوتی ہے ان پہ لٹو\nکتنوں کی گاڑی رتھ ہیں کتنوں کے گھوڑے ٹٹو\nجس پاس کچھ نہیں ہے وہ ہم سا ہے نکھٹو\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nجو اس ہوا میں یارو دولت میں کچھ بڑھے ہیں\nہے ان کے سر پہ چھتری ہاتھی پہ وہ چڑھے ہیں\nہم سے غریب غربا کیچڑ میں گر پڑے ہیں\nہاتھوں میں جوتیاں ہیں اور پائنچے چڑھے ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nہے جن کنے مہیا پکا پکایا کھانا\nان کو پلنگ پہ بیٹھے جھڑیوں کا خط اڑانا\nہے جن کو اپنے گھر میں یاں لون تیل لانا\nہے سر پہ ان کے پنکھا یا چھاج ہے پرانا\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکتنے خوشی سے بیٹھے کھاتے ہیں خوش محل میں\nکتنے چلے ہیں لینے بنئے سے قرض پل میں\nکاندھے پہ دال آٹا ہلدی گرہ نے مل میں\nہاتھوں میں گھی کی پیالی اور لکڑیاں بغل میں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nجو کسبیاں جوانیں حسنوں میں پرتیاں ہیں\nسینوں میں لال انگیاں اور لال کرتیاں ہیں\nنظریں بھی بدلیاں ہیں دل میں بھی سرتیاں ہیں\nاک اک نگہ میں کافر بجلی کی پھرتیاں ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nجو نوجواں ہیں ان کی تیاریاں بڑی ہیں\nہاتھوں میں لال چھڑیاں کوٹھوں پہ وہ کھڑی ہیں\nاور وہ جو آشنا سے جھگڑی ہیں یا لڑی ہیں\nمنہ کو چھپا پلنگ پر مچلی ہوئی پڑی ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکوئی اپنے آشنا سے کر ناز کا جھپٹا\nکہتی ہے ہنس کے کافر چٹکی لے یا نہٹا\nتم سے تو دل ہمارا اب ہو گیا ہے کھٹا\nتم آج بھی نہ لائے رنگوا مرا دوپٹا\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکہتی ہیں کوئی مجھ کو جوڑا سوہا بنا دو\nیا ٹاٹ بافی جوتا یا کفش سرخ لا دو\nکوئی کہے ہے میری کرتی ابھی رنگا دو\nیا گرم سے اندرسے اک سیر بھر منگا دو\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nجو ان کے مبتلا ہیں سب چیز لا رہے ہیں\nکرتی بنا رہے ہیں انگیا رنگا رہے ہیں\nجو جو ہیں ان کی باتیں سب کچھ اٹھا رہے ہیں\nباہیں گلے میں ڈالے عشرت منا رہے ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکتنوں نے قول باندھا معمولی دے کے پیسے\nکہتے ہیں شاد ہو کر یوں اپنے آشنا سے\nبرسات بھر تو مل کے سنتے ہو جان پیارے\nاحمق ہو جو پلنگ سے اب موتنے کو اترے\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nیہ سن کے ان سے ہنس ہنس کہتی ہے شوخ رنڈی\nمعمولی اب تو لے کر بندی بھی ہے گھمنڈی\nہم پہنیں لال جوڑا تم پہنو خاصی بنڈی\nخندی ہو جو تمہاری چھاتی کرے نہ ٹھنڈی\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nزردار کی تو ان میں ہے بچھ رہی پلنگڑی\nدلبر پری سی بیٹھی جھمکائے چوڑی نبگڑی\nمفلس کی ٹوٹی پٹی یا ٹاٹ کی جھلنگڑی\nرنڈی ملی تو کالی یا کنجی لولی لنگڑی\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکرتی گلابی جن میں گوٹے لگے ہوئے ہیں\nانگیاں کے گرد جھوٹے گوٹے ٹکے ہوئے ہیں\nکہتی ہیں ان سے ہنس ہنس جو جو کٹے ہوئے ہیں\nلا اب تو میرے تجھ پر بارہ ٹکے ہوئے ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nجو بیگمی ہے گھر میں آرام کر رہی ہے\nپردوں میں دوستوں سے پیغام کر رہی ہے\nچتون لگاوٹوں سے سو دام کر رہی ہے\nچپکے ہی چپکے اپنا سب کام کر رہی ہے\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکہتا ہے کوئی اپنے محبوب سیم بر سے\nوہ اس مینہ میں نہ جاؤ پیارے ہمارے برسے\nکوئی کہے ہے اپنے دل دار خوش نظر سے\nہاتھوں سے میرے جانی کھا لے یہ دو اندرسے\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکہتا ہے کوئی پیاری جو کچھ کہو سو لا دیں\nزر دوزی ٹاٹ بافی جوتا کہو پہنا دیں\nپیڑا جلیبی لڈو جو کھاؤ سو منگا دیں\nچیرا دوپٹہ جامہ جیسا کہو رنگا دیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nجن دلبروں کے تن پر ہیں گرمی دانے آلے\nکہتے ہیں ان کو عاشق یوں پیار سے بلا لے\nکیا مینہ برس رہا ہے پیارے ذرا نہا لے\nچھاتی نہیں تو پیارے ٹک پیٹھ ہی ملا لے\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nاس رت میں ہیں جہاں تک گلزار بھیگتے ہیں\nشہر و دیار کوچے بازار بھیگتے ہیں\nصحرا و جھاڑ بوٹے کہسار بھیگتے ہیں\nعاشق نہا رہے ہیں دل دار بھیگتے ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکہتی ہے جب وہ سن کر یہ بات بھیگ احمق\nماروں گی تیرے آ کر اک لات بھیگ احمق\nمجھ کو بھی ضد چڑھی ہے دن رات بھیگ احمق\nیوں ہی تو اب کے ساری برسات بھیگ احمق\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nزردار کی تو سن کر آواز وہ پری رو\nکہتی ہے لونڈیوں سے جلدی کواڑ کھولو\nمفلس کوئی پکارے تو اس سے کہتی ہے وہ\nہرگز کوئی نہ بولو احمق کو بھیگنے دو\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکوئی یار سے کہے ہے اے دل ستان آؤ\nبدلی بڑی اٹھی ہے کہنے کو مان آؤ\nکیا مینہ برس رہا ہے ہر اک مکان آؤ\nراتیں اندھیریاں ہیں اے میری جان آؤ\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکوئی رات کو پکارے پیارے میں بھیگتی ہوں\nکیا تیری الفتوں کے مارے میں بھیگتی ہوں\nآئی ہوں تیری خاطر آ رے میں بھیگتی ہوں\nکچھ تو ترس تو میرا کھا رے میں بھیگتی ہوں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکوئی پکارتی ہے دل سخت بھیگتی ہوں\nکانپے ہے میری چھاتی یک لخت بھیگتی ہوں\nکپڑے بھی تر بہ تر ہیں اور سخت بھیگتی ہوں\nجلدی بلا لے مجھ کو کمبخت بھیگتی ہوں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nشیشہ کہیں گلابی بوتل جھمک رہی ہے\nرابیل موتیا کی خوشبو مہک رہی ہے\nچھاتی سے چھاتی لگ کر عشرت چھلک رہی ہے\nپائے کھٹک رہے ہیں پٹی چٹک رہی ہے\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکوئی پکارتی ہے کیا کیا مجھے بھگویا\nکوئی پکارتی ہے کیسا مجھے بھگویا\nناحق قرار کر کے جھوٹا مجھے بھگویا\nیوں دور سے بلا کر اچھا مجھے بھگویا\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nجن دلبروں کی خاطر بھیگے ہیں جن کے جوڑے\nوہ دیکھ ان کی الفت ہوتے ہیں تھوڑے تھوڑے\nلے ان کے بھیگے کپڑے ہاتھوں میں دھر نچوڑے\nچیرا کوئی سنگھاوے جامہ کوئی نچوڑے\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکیچڑ سے ہو رہی ہے جس جا زمیں پھسلنی\nمشکل ہوئی ہے واں سے ہر اک کو راہ چلنی\nپھسلا جو پاؤں پگڑی مشکل ہے پھر سنبھلنی\nجوتی گری تو واں سے کیا تاب پھر نکلی\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکتنے تو کیچڑوں کی دلدل میں پھنس رہے ہیں\nکپڑے تمام گندی دلدل میں بس رہے ہیں\nکتنے اٹھے ہیں مرمر کتنے اکس رہے ہیں\nوہ دکھ میں پھنس رہے ہیں اور لوگ ہنس رہے ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nکہتا ہے کوئی گر کر یہ اے خدائے لیجو\nکوئی ڈگمگا کے ہر دم کہتا ہے وائے لیجو\nکوئی ہاتھ اٹھا پکارے مجھ کو بھی ہائے لیجو\nکوئی شور کر پکارے گرنے نہ پائے لیجو\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nگر کر کسی کے کپڑے دلدل میں ہیں معطر\nپھسلا کوئی کسی کا کیچڑ میں منہ گیا بھر\nاک دو نہیں پھسلتے کچھ اس میں آن اکثر\nہوتے ہیں سیکڑوں کے سر نیچے پاؤں اوپر\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں\n\nیہ رت وہ ہے کہ جس میں خرد و کبیر خوش ہیں\nادنیٰ غریب مفلس شاہ و وزیر خوش ہیں\nمعشوق شاد و خرم عاشق اسیر خوش ہیں\nجتنے ہیں اب جہاں میں سب اے نظیرؔ خوش ہیں\nکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "برسوں آنکھوں میں رہے آنکھوں سے پھر کر دل میں آئے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برسوں آنکھوں میں رہے آنکھوں سے پھر کر دل میں آئے\nراہ سیدھی تھی مگر پہنچے بڑے چکر سے آپ\n\nکٹ گئے لاکھوں گلے اس تیزیٔ رفتار سے\nاب تو چل نکلے زیادہ اپنے بھی خنجر سے آپ\n\nاپنے سینہ سے دبا دیجے ذرا سینہ مرا\nچور کیجے شیشہ دل کو اسی پتھر سے آپ\n\nحضرت زاہد نکل آیا فلک پر آفتاب\nپیر و مرشد اب تو اٹھیے میکدے کے در سے آپ\n\nکیوں جناب داغؔ یاد اللہ میری یاد ہے\nبھیس بدلے رات کو آتے تھے کس کے گھر سے آپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "برشکال گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برشکالِ گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے\nکھِل گئی مانندِ گُل سَو جا سے دیوارِ چمن\n\nاُلفتِ گل سے غلط ہے دعوئی وارستگی\nسرو ہے با وصفِ آزادی گرفتارِ چمن\n\nہے نزاکت بس کہ فصلِ گل میں معمارِ چمن\nقالبِ گل میں ڈھلی ہے خشتِ دیوارِ چمن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D9%84_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%82_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "برف کا پانی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "رتی، ماشہ، تولہ", "year": "1956", "text_ur": "’’یہ آپ کی عقل پر کیا پتھر پڑ گئے ہیں؟‘‘\n\n’’میری عقل پر تو اسی وقت پتھر پڑ گئے تھے جب میں نے تم سے شادی کی۔ بھلا اس کی ضرورت ہی کیا تھی اپنی ساری آزادی سلب کرالی۔‘‘\n\n’’جی ہاں آزادی تو آپ کی یقیناً سلب ہوئی اس لیے کہ آپ اب کھلے بندوں عیاشی نہیں کرسکتے شادی سے پہلے آپ کو کون پوچھنے والا تھا، جدھر کو منہ اٹھایا چل دئیے جھک مارتے رہے۔‘‘\n\n’’دیکھو میں تم سے کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ مجھ سے جو کچھ کہنا ہو چند لفظوں میں صاف صاف کہہ دیا کرو، مجھے یہ جھک جھک پسند نہیں۔ جس طرح میں صاف گو ہوں اسی طرح میں چاہتا ہوں کہ دوسرے بھی صاف گو ہوں۔‘‘\n\n’’آپ کی صاف گوئی تو ضرب المثل بن چکی ہے۔‘‘\n\n’’تمہاری یہ طنز خدا معلوم تم سے کب جدا ہوگی اتنی بھونڈی ہوتی ہے کہ طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔‘‘\n\n’’آپ کی طبیعت تو شگفتہ گفتگو سن کر بھی خراب ہو جاتی ہے اب اس کا کیا علاج ہے۔اصل میں آپ کو میری کوئی چیز بھی پسند نہیں۔ ہر وقت مجھ میں کیڑے ڈالنا آپ کا شغل ہوگیا ہے۔ اگر میں آپ کے دل سے اتر گئی ہوں تو صاف صاف کہہ کیوں نہیں دیتے۔ بڑے صاف گوبنے پھرتے ہیں آپ، ایسا ریا کار شاید ہی دنیا کے تختے پر ہو۔‘‘\n\n’’اب میں ریا کار بھی ہوگیا؟ کیا ریاکاری کی ہے میں نے تم سے؟ یہی کہ تمہاری نوکروں کی طرح خدمت کرتا ہوں۔‘‘\n\n’’بڑی خدمت کی ہے آپ نے میری۔۔۔‘‘\n\n’’سر پرقرآن اٹھاؤ اور بتاؤ کہ جب سے ہماری شادی ہوئی ہے کبھی تم نے میرا سر تک سہلایا ہے۔ میں بخار میں پھنکتا رہا ہوں، کبھی تم نے میری تیمار داری کی۔ پچھلے دنوں میرے سر میں شدت کا درد تھا، میں نے رات کو تمھیں آواز دی اور کہا مجھے بام دے دو مگر تم نے کروٹ بدل کر کہا۔ میری نیند نہ خراب کیجیے، آپ اُٹھ کر ڈھونڈ لیجیے کہاں ہے۔ اور یاد ہے جب تمھیں نمونیہ ہوگیا تھا تو میں نے سات راتیں جاگ کر کاٹی تھیں، دن اور رات مجھے پل بھر کا چین نصیب نہیں تھا۔ ‘‘\n\n’’دن بھر سوئے رہتے تھے آپ ،میری بیماری کا ایک بہانہ مل گیا تھا، سات چھٹیاں لیں اور دفتر کے کام سے نجات پا کر آرام کرتے رہے ہیں۔ آپ کے سارے حیلے بہانے جانتی ہوں ،میرا علاج آپ نے کیا تھا یا ڈاکٹروں نے۔۔۔‘‘\n\n’’جان ڈاکٹروں کو تم بلا کر لائی تھیں کیا؟ اور دوائیں بھی کیا تم نے خود جا کر خریدی تھیں؟ اور جو روپیہ خرچ ہوا کیا فرشتوں نے اوپر سے پھینک دیا تھا؟ کتنے سفید جھوٹ بولتی ہو کہ میں دن کو سویا رہتا تھا۔ قسم خدا کی جو ایک لمحے کے لیے بھی ان دنوں سویا ہوں،تم بیمار ہو جاؤ تو گھر کی اینٹیں بھی جاگتی رہتی ہیں تم اس وقت کس کو سونے دیتی ہو۔ آہ و پکار کاتانتا بندھا رہتا ہے جیسے کسی پر بہت بڑا ظلم ڈھایا جارہا ہے۔ ‘‘\n\n’’جناب بیماریاں ظلم نہیں ہوتیں تو کیا ہوتی ہیں،جو میں نے برداشت کیا ہے وہ آپ کبھی نہ کرسکتےاور نہ کبھی کر سکتے ہیں۔ میں نے کتنی بیماریاں خندہ پیشانی سےسہی ہیں۔ آپ کو تو خیر اس وقت کچھ یاد نہیں آئے گا،اس لیے کہ آپ میرے دشمن بنے بیٹھے ہیں۔‘‘\n\n’’دن ہی کو میں تمہارا دشمن بن جاتا ہوں، رات کو تو تم نے ہمیشہ بہترین دوست سمجھا ہے۔‘‘\n\n’’شرم نہیں آتی آپ کو ایسی باتیں کرتے، رات اور دن میں فرق ہی کیا ہے۔‘‘\n\n’’اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔‘‘\n\n’’یہ کہہ کر آپ نے میرا گلا گھونٹ دیا کہ میں آپ سے کچھ اور نہ کہہ سکوں۔‘‘\n\n’’لو بھئی اب میں اطمینان سے یہاں بیٹھ جاتا ہوں۔ آرام جائے جہنم میں،تم جو کچھ کہنا چاہتی ہو ایک ہی سانس میں کہتی چلی جاؤ۔۔۔‘‘\n\n’’میری سانس اتنی لمبی نہیں۔۔۔‘‘\n\n’’عورتوں کی سانس کے متعلق تو یہی سنا تھا کہ بہت لمبی ہوتی ہے اور زبان بھی ماشاء اللہ کافی دراز۔۔۔‘‘\n\n’’آپ یہ مہین مہین چٹکیاں نہ لیجیے، میں نے اگر کچھ کہہ دیا تو آپ کے تن بدن میں آگ لگ جائے گی۔‘‘\n\n’’اس تن بدن میں کئی بار آگ لگ چکی ہے چلو ایک فائر کرو اور قصہ تمام کر دو۔‘‘\n\n’’قصہ تو آپ میرا تمام کر کے رہیں گے۔‘‘\n\n’’کس لیے؟ مجھے تم سے کیا بغض ہے؟ اللہ کے واسطے کا بیر تو نہیں مجھ سے؟‘‘\n\n’’محبت اور اطاعت کو آپ بیر سمجھتے ہیں اس لیے تو میں نے کہا تھا کہ آپ کی عقل پر پتھر پڑ گئے ہیں۔‘‘\n\n’’میری عقل پر پتھر پڑیں یا کوہ ہمالیہ کا پہاڑ لیکن تمہاری محبت اور اطاعت میری سمجھ میں نہیں آئی۔ اطاعت کو فی الحال چھوڑو۔۔۔ لیکن میں یہ پوچھتا ہوں کہ اب تک تم محبت بھری گفتگو کر رہی تھیں؟‘‘\n\n’’تو میں نے آپ کو کون سی گالی دی ہے؟‘‘\n\n’’گالی دینے میں تم نے کوئی کسر تو اٹھا نہیں رکھی، ریا کار تک تو بتا دیا مجھ کو، اس سے بد تر گالی اور کیا ہو سکتی ہے؟‘‘\n\n’’یہ لو کھلا گریبان ہے۔ میں نے اپنا سارا سر اس میں ڈال دیا۔ اب تم بتاؤ۔ صرف تمہاری شکل نظر آتی ہے۔ خوفناک، بڑی ہیبت ناک۔‘‘\n\n’’تو کوئی دوسری کر لیجیے جو خوش شکل ہو۔‘‘\n\n’’ایک ہی کر کے میں نے بھرپایا ہے۔ خدا نہ کرے زندگی میں دوسری آئے۔‘‘\n\n’’آپ مجھ سے اس قدر تنگ کیوں آ گئے ہیں۔‘‘\n\n’’میں قطعاً تنگ نہیں آیا۔۔۔ بس تم دل جلاتی رہتی ہو۔‘‘\n\n’’میرا دل تو جل کر کوئلہ ہو چکا ہے، سچ پوچھیے تو میں چاہتی ہوں کہ کچھ کھا کے مر جاؤں۔۔۔ میں جا رہی ہوں۔‘‘\n\n’’کہاں؟‘‘\n\n’’میں نے ایک من برف منگوائی ہے،اسے چار بالٹیوں میں پانی کے اندر ڈال رکھا ہے، اس ٹھنڈے پانی سے نہاؤں گی اور پنکھے کے نیچے بیٹھ جاؤں گی۔ایک مرتبہ مجھے پہلے نمونیہ تو ہو ہی چکا ہے اب ہوگا تو پھیپھڑے یقیناً جواب دے جائیں گے۔‘‘\n\n’’خدا حافظ۔۔۔‘‘\n\n’’خدا حافظ۔۔۔ خودکشی کا یہ طریقہ تم نے بہت اچھا ڈھونڈا ہے جو آج تک کسی کو سوجھا نہیں ہوگا۔۔۔‘‘\n\n’’ آپ کے پہلو میں تو دل ہی نہیں۔‘‘\n\n’’جوکچھ بھی ہے بہر حال موجود ہے اور دھڑکتا بھی ہے۔ جاؤ یخ آلود پانی سے نہا کر پنکھے کے نیچے بیٹھ جاؤ۔۔۔‘‘\n\n’’جا رہی ہوں،آپ سے چند باتیں کرنی ہیں۔‘‘\n\n’’ضرور کرو۔۔۔‘‘\n\n’’ میرے بچوں کا آپ ضرور خیال رکھیئے گا۔۔۔‘‘\n\n’’ کیا وہ میرے بچے نہیں ہیں۔‘‘\n\n’’ہیں۔۔۔ لیکن شاید میری وجہ سے اچھا سلوک نہ کریں۔‘‘\n\n’’نہیں نہیں۔۔۔ تم کوئی فکر نہ کرو۔۔۔میں انھیں بورڈنگ میں داخل کرانے لے جاتا ہوں۔۔۔ خدا حافظ۔‘‘\n\n’’خدا تمہارا حافظ ہو، مجھے تو فی الحال خودکشی نہیں کرنی لیکن سنو نمونیہ ہو تو ڈاکٹر کو بُلا لاؤں؟‘‘\n\n’’ہرگز نہیں۔۔۔ میں مرنا چاہتی ہوں۔‘‘\n\n’’تو میں نہیں بلاؤں گا لیکن نمونیہ کے مریض فوراً نہیں، مرتے پانچ چھ روز تو لگاتے ہیں۔‘‘\n\n’’آپ اس عرصہ تک انتظار کیجیے گا۔‘‘\n\n’’بہت بہتر۔۔۔‘‘\n\n’’میری کہی سنی معاف کر دیجیے گا۔۔۔‘‘\n\n’’وہ تو میں نے اسی روز کر دی تھی جب تم سے نکاح ہوا تھا۔‘‘\n\n’’میں آپ سے صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ آپ کی عقل پر جو پتھر پڑ گئے ہیں انھیں دورکردیجیے گا۔‘‘\n\n’’میں وعدہ کرتا ہوں۔ اگر تم کہو تو قسم اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔ اچھا تو میں چلا ۔بچے باہر کھیل رہے ہیں انھیں ہوسٹل لے جاتا ہوں واپس دو تین گھنٹے میں آ جاؤں گا۔ اگر اس دوران میں تم مر گئیں تو بہت اچھا، تجہیز و تکفین کا سامان کر دوں گا،مجھے ابھی کل ہی تنخواہ ملی ہے۔‘‘\n\n’’جائیے میں بھی چلی۔‘‘\n\n’’الوداع۔۔۔‘‘\n\n’’الوداع۔۔۔‘‘\n\n’’کبھی کبھی مجھ نابکار کو یاد کر لیا کیجیے۔‘‘\n\n’’ضرور ضرور تم نابکار کیوں کہتی ہو خود کو۔‘‘\n\n’’میں کس کام کی ہوں؟‘‘\n\n’’خیر چھوڑو۔ بحث اس پر الگ شروع ہو جائے گی اور تمہاری خریدی ہوئی ایک من برف پگھل کر گرم پانی میں تبدیل ہو جائے گی۔‘‘\n\n’’یہ تو آپ نے درست کہا۔ اچھا۔۔۔ میں چلی۔‘‘\n\n’’میں آ گیا ہوں بچوں کو بورڈنگ ہاؤس میں داخل کرا کے، تم غسل خانے میں ابھی تک کیا کر رہی ہو؟‘‘\n\n’’کچھ نہیں۔۔۔ سوچ رہی تھی۔‘‘\n\n’’کیا سوچ رہی تھیں؟‘‘\n\n’’میں نے وہ خط دوبارہ پڑھا۔‘‘\n\n’’کونسا خط؟‘‘\n\n’’جو آپ کی میز کی دراز میں پڑا تھا کسی لڑکی کی طرف سے تھا۔ اب میں نے جو غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ آپ کے نام نہیں بلکہ اس اخبار کے ایڈیٹر کے نام ہے جہاں آپ کام کرتے ہیں۔ مجھے افسوس ہے میں نے آپ پر شک کیا۔‘‘\n\n’’تم ہمیشہ شک کیا کرتی ہو۔۔۔ اب تو میری عقل کے پتھر ہٹ گئے۔ وہ لڑکی نہیں کوئی مرد ہے اسی لیے میں تفتیش کی غرض سے اسے اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ خیر چھوڑو ٹھنڈا پانی تو پلاؤ ایک من برف تم نے منگوائی تھی۔‘‘\n\n’’اس کا سب پانی میں نے غسل خانے میں ڈال دیا۔ بڑا ٹھنڈا ہوگیا ہے آپ بھی یہاں آ جائیے۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D9%81_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "برق رخسار یار پھر چمکی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برق رخسار یار پھر چمکی\nاس چمن کی بہار پھر چمکی\n\nتو نے پھر اس کو سان پر رکھا\nتیرے خنجر کی دھار پھر چمکی\n\nمیرے گریے سے آب و تاب آیا\nصورت روزگار پھر چمکی\n\nخون عاشق سے وہ زہ دامن\nدم شمشیر وار پھر چمکی\n\nدیکھیو پانو رکھ دیا کس نے\nآج کیوں نوک خار پھر چمکی\n\nوہ جو اک ٹیس سی ہے دل میں مرے\nرہ کے بے اختیار پھر چمکی\n\nمصحفیؔ کی جو تو نے در ریزی\nشاعری تیری یار پھر چمکی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%86%D9%85%DA%A9%DB%8C"} {"title": "برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئی", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئی\nکچھ جو خاکستر بچا آندھی اڑا کر لے گئی\n\nاس کے قدموں تک نہ بیتابی بڑھا کر لے گئی\nہائے دو پلٹے دئیے اور پھر ہٹا کر لے گئی\n\nناتوانی ہم کو ہاتھوں ہاتھ اٹھا کر لے گئی\nچیونٹی سے چیونٹی دانہ چھڑا کر لے گئی\n\nصبح رخ سے کون شام زلف میں جاتا تھا آہ\nاے دل شامت زدہ شامت لگا کر لے گئی\n\nخون سے فرہاد کے رنگیں ہوا دامان کوہ\nکیوں نہ موج شیر یہ دھبا چھڑا کر لے گئی\n\nتم نے تو چھوڑا ہی تھا اے ہم رہان قافلہ\nلیکن آواز جرس ہم کو جگا کر لے گئی\n\nنوک مژگاں جب ہوئی سینہ فگاروں سے دو چار\nپارہ ہائے دل سے گلدستہ بنا کر لے گئی\n\nدیکھی کچھ دل کی کشش لیلیٰ کہ ناقے کو ترے\nسوئے مجنوں آخرش رستہ بھلا کر لے گئی\n\nواہ اے سوز دروں کوچے میں اس کے برق آہ\nرات ہم کو ہر قدم مشعل دکھا کر لے گئی\n\nوہ گئے گھر غیر کے اور یاں ہمیں دم بھر کے بعد\nبدگمانی ان کے گھر سو گھر پھرا کر لے گئی\n\nجو شہید ناز کوچے میں تمہارے تھا پڑا\nکیا کہوں تقدیر اسے کیونکر اٹھا کر لے گئی\n\nدشت وحشت میں بگولا تھا کہ دیوانہ ترا\nروح مجنوں بہر استقبال آ کر لے گئی\n\nآگ میں ہے کون گر پڑتا مگر پروانے کو\nآتش سوز محبت تھی جلا کر لے گئی\n\nاے پری پہلو سے میرے کیا کہوں تیری نگاہ\nدل اڑا کر لے گئی یا پر لگا کر لے گئی\n\nذوقؔ مر جانے کا تو اپنے کوئی موقع نہ تھا\nکوئے جاناں میں اجل ناحق لگا کر لے گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "برق کلیسا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "رات اس مس سے کلیسا میں ہوا میں دو چار\nہائے وہ حسن وہ شوخی وہ نزاکت وہ ابھار\nزلف پیچاں میں وہ سج دھج کہ بلائیں بھی مرید\nقدر رعنا میں وہ چم خم کہ قیامت بھی شہید\nآنکھیں وہ فتنۂ دوراں کہ گنہ گار کریں\nگال وہ صبح درخشاں کہ ملک پیار کریں\nگرم تقریر جسے سننے کو شعلہ لپکے\nدلکش آواز کہ سن کر جسے بلبل جھپکے\nدل کشی چال میں ایسی کہ ستارے رک جائیں\nسرکشی ناز میں ایسی کہ گورنر جھک جائیں\nآتش حسن سے تقوے کو جلانے والی\nبجلیاں لطف تبسم سے گرانے والی\nپہلوئے حسن بیاں شوخیٔ تقریر میں غرق\nترکی و مصر و فلسطین کے حالات میں برق\nپس گیا لوٹ گیا دل میں سکت ہی نہ رہی\nسر تھے تمکین کے جس گت میں وہ گت ہی نہ رہی\nضبط کے عزم کا اس وقت اثر کچھ نہ ہوا\nیا حفیظ کا کیا ورد مگر کچھ نہ ہوا\nعرض کی میں نے کہ اے گلشن فطرت کی بہار\nدولت و عزت و ایماں ترے قدموں پہ نثار\nتو اگر عہد وفا باندھ کے میری ہو جائے\nساری دنیا سے مرے قلب کو سیری ہو جائے\nشوق کے جوش میں میں نے جو زباں یوں کھولی\nناز و انداز سے تیور کو چڑھا کر بولی\nغیرممکن ہے مجھے انس مسلمانوں سے\nبوئے خوں آتی ہے اس قوم کے انسانوں سے\nلن ترانی کی یہ لیتے ہیں نمازی بن کر\nحملے سرحد پہ کیا کرتے ہیں غازی بن کر\nکوئی بنتا ہے جو مہدی تو بگڑ جاتے ہیں\nآگ میں کودتے ہیں توپ سے لڑ جاتے ہیں\nگل کھلائے کوئی میداں میں تو اترا جائیں\nپائیں سامان اقامت تو قیامت ڈھائیں\nمطمئن ہو کوئی کیوں کر کہ یہ ہیں نیک نہاد\nہے ہنوز ان کی رگوں میں اثر حکم جہاد\nدشمن صبر کی نظروں میں لگاوٹ آئی\nکامیابی کی دل زار نے آہٹ پائی\nعرض کی میں نے کہ اے لذت جاں راحت روح\nاب زمانے پہ نہیں ہے اثر آدم و نوح\nشجر طور کا اس باغ میں پودا ہی نہیں\nگیسوئے حور کا اس دور میں سودا ہی نہیں\nاب کہاں ذہن میں باقی ہیں براق و رفرف\nٹکٹکی بندھ گئی ہے قوم کی انجن کی طرف\nہم میں باقی نہیں اب خالد جاں باز کا رنگ\nدل پہ غالب ہے فقط حافظ شیراز کا رنگ\nیاں نہ وہ نعرۂ تکبیر نہ وہ جوش سپاہ\nسب کے سب آپ ہی پڑھتے رہیں سبحان اللہ\nجوہر تیغ مجاہد ترے ابرو پہ نثار\nنور ایماں کا ترے آئینۂ رو پہ نثار\nاٹھ گئی صفحۂ خاطر سے وہ بحث بد و نیک\nدو دلے ہو رہے ہیں کہتے ہیں اللہ کو ایک\nموج کوثر کی کہاں اب ہے مرے باغ کے گرد\nمیں تو تہذیب میں ہوں پیر مغاں کا شاگرد\nمجھ پہ کچھ وجہ عتاب آپ کو اے جان نہیں\nنام ہی نام ہے ورنہ میں مسلمان نہیں\nجب کہا صاف یہ میں نے کہ جو ہو صاحب فہم\nتو نکالو دل نازک سے یہ شبہ یہ وہم\nمیرے اسلام کو اک قصۂ ماضی سمجھو\nہنس کے بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D9%82_%DA%A9%D9%84%DB%8C%D8%B3%D8%A7"} {"title": "برق کو اس پر عبث گرنے کی ہیں تیاریاں", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برق کو اس پر عبث گرنے کی ہیں تیاریاں\nبرگ گل ہی آشیاں کو اپنے ہے چنگاریاں\n\nعہد طفلی میں بھی تھا میں بسکہ سودائی مزاج\nبیڑیاں منت کی بھی پہنیں تو میں نے بھاریاں\n\nموت کے آتے ہی ہم کو خود بخود نیند آ گئی\nکیا اسی کی یاد میں کرتے تھے شب بیداریاں\n\nاے خط اس کے گورے گالوں پر یہ تو نے کیا کیا\nچاندنی راتیں یکایک ہو گئیں اندھیاریاں\n\nخندۂ گل سے صدائے نالہ آتی ہے مجھے\nخون بلبل سے مگر سینچی گئی ہیں کیاریاں\n\nخاک کا پتلا بھی آہن سے ہے سختی میں فزوں\nجسم پر انساں کے تلواریں ہوئی ہیں آریاں\n\nخوف خالق ہے وگرنہ محتسب کیا مال ہے\nخانۂ قاضی میں جا کر کیجئے مے خواریاں\n\nکچھ ہمیں خالی نہیں کرتے ہیں یہ دیر خراب\nپھر گئے ہیں یار یوں ہی اپنی اپنی باریاں\n\nحکم کر آتشؔ کہ بازار محبت بند ہو\nاب کریں ٹٹپوجئے گرم اپنی دوکاں داریاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%B1_%D8%B9%D8%A8%D8%AB_%DA%AF%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "برقع اٹھا تھا رخ سے مرے بد گمان کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برقع اٹھا تھا رخ سے مرے بد گمان کا\nدیکھا تو اور رنگ ہے سارے جہان کا\n\nمت مانیو کہ ہوگا یہ بے درد اہل دیں\nگر آوے شیخ پہن کے جامہ قرآن کا\n\nخوبی کو اس کے چہرے کی کیا پہنچے آفتاب\nہے اس میں اس میں فرق زمین آسمان کا\n\nابلہ ہے وہ جو ہووے خریدار گل رخاں\nاس سودے میں صریح ہے نقصان جان کا\n\nکچھ اور گاتے ہیں جو رقیب اس کے روبرو\nدشمن ہیں میری جان کے یہ جی ہے تان کا\n\nتسکین اس کی تب ہوئی جب چپ مجھے لگی\nمت پوچھ کچھ سلوک مرے بد زبان کا\n\nیاں بلبل اور گل پہ تو عبرت سے آنکھ کھول\nگل گشت سرسری نہیں اس گلستان کا\n\nگل یادگار چہرۂ خوباں ہے بے خبر\nمرغ چمن نشاں ہے کسو خوش زبان کا\n\nتو برسوں میں کہے ہے ملوں گا میں میرؔ سے\nیاں کچھ کا کچھ ہے حال ابھی اس جوان کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B1%D8%AE_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%AF_%DA%AF%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "برقعے (افسانہ)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "برقعے", "year": "1955", "text_ur": "ظہیر جب تھرڈ ایئر میں داخل ہوا تو ایک دن اس نے محسوس کیا کہ اسے عشق ہوگیا ہے۔۔۔ اور عشق بھی بہت اشد قسم کا جس میں اکثر انسان اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔\n\nوہ کالج سے خوش خوش واپس آیا کہ تھرڈایئر میں یہ اس کا پہلا دن تھا۔ جونہی وہ اپنے گھر میں داخل ہونے لگا، اس نے ایک برقع پوش لڑکی دیکھی جو ٹانگے میں سے اتر رہی تھی۔۔۔ اس نے ٹانگے میں سے اترتی ہوئی ہزار ہا لڑکیاں دیکھی تھیں۔۔۔ مگر وہ لڑکی جس کے ہاتھ میں چند کتابیں تھیں، سیدھی اس کے دل اتر گئی۔ لڑکی نے ٹانگے والے کو کرایہ ادا کیا اور ظہیر کے ساتھ والے مکان میں چلی گئی۔ ظہیر نے سوچنا شروع کردیا کہ اتنی دیر وہ اس کی موجودگی سے غافل کیسے رہا؟\n\nاصل میں ظہیر آوارہ منش نوجوان نہیں تھا، اس کو صرف اپنی ذات سے دلچسپی تھی۔ صبح اٹھے، کالج گئے، لیکچر سنے، گھر واپس آئے، کھانا کھایا، تھوڑی دیر آرام کیا، اور آموختہ میں مصروف ہوگئے۔\n\nیوں تو کالج میں کئی لڑکیاں تھیں اس کی ہم جماعت مگر ظہیر نے کبھی ان سے بات چیت نہیں کی تھی۔ یہ نہیں کہ وہ بڑا روکھا پھیکا انسان تھا۔ اصل میں وہ ہر وقت اپنی پڑھائی میں مشغول رہتا تھا۔ مگر اس روز جب اس نے اس لڑکی کو ٹانگے پر سے اترتے دیکھا تو وہ پولیٹیکل سائنس کا تازہ سبق بالکل بھول گیا۔ خواجہ حافظ کے تمام نئے اشعار کے معانی اس کے ذہن سے پھسل گئے اور وہ ان ہاتھوں کے متعلق سوچنے لگا جن میں کتابیں تھیں۔۔۔ پتلی پتلی سفید انگلیاں۔۔۔ ایک انگلی میں انگوٹھی۔۔۔ دوسرا ہاتھ جس نے ٹانگے والے کو کرایہ ادا کیا وہ بھی ویسا ہی خوبصورت تھا۔\n\nظہیر نے اس کی شکل دیکھنے کی کوشش کی، مگر نقاب اتنی موٹی تھی کہ اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔ لڑکی تیز تیز قدم اٹھاتی اس کے ساتھ والے مکان میں داخل ہوگئی اور ظہیر کھڑا دیر تک سوچتا رہا کہ اتنا کم فاصلہ ہونے کے باوجود وہ کیوں اس کی موجودگی سے غافل رہا۔\n\nاپنے گھر میں جا کر اس نے پہلا سوال اپنی ماں سے یہ کیا، ’’ہمارے پڑوس میں کون رہتے ہیں؟‘‘\n\nاس کی ماں کے لیے یہ سوال بہت تعجب خیزتھا،’’کیوں؟‘‘\n\n’’میں نے ایسے ہی پوچھا ہے۔‘‘\n\nاس کی ماں نے کہا،’’مہاجر ہیں، ہماری طرح۔‘‘\n\nظہیر نے پوچھا، ’’کون ہیں،کیا کرتے ہیں؟‘‘\n\nماں نے جواب دیا، ’’باپ بیچاروں کا مر چکا ہے۔۔۔ ماں تھی، وہ عمر کے ہاتھوں معذور ہے۔ اب تین بہنیں اور ایک بھائی ہے۔۔۔ بھائی سب سے بڑا ہے۔ وہی باپ سمجھو، وہی ماں۔۔۔ بہت اچھا لڑکا ہے۔ اس نے اپنی شادی بھی اس لیے نہیں کہ اتنا بوجھ اس کے کاندھوں پر ہے!‘‘\n\nظہیر کو تین بہنوں کے اس بوجھ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی جو اس کے اکلوتے بھائی کے کاندھوں پر تھا۔ وہ صرف اس لڑکی کے بارے میں جاننا چاہتا تھا جوہاتھ میں کتابیں لیے ساتھ والے گھر میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ یہ تو ظاہر تھا کہ وہ ان تین بہنوں میں سے ایک تھی۔کھانے سے فارغ ہو کر وہ پنکھے کے نیچے لیٹ گیا۔ اس کی عادت تھی کہ وہ گرمیوں میں کھانے کے بعد ایک گھنٹے تک ضرور سویا کرتا تھا۔ مگر اس روز اسے نیند نہ آئی۔۔۔ وہ اس لڑکی کے متعلق سوچتا رہا جو اس کے پڑوس میں رہتی تھی۔\n\nکئی دن گزر گئے، مگر ان کی مڈبھیڑ نہ ہوئی۔ کالج سے آکر اس نے سیکڑوں مرتبہ کوٹھے پرگھنٹوں دھوپ میں کھڑے رہ کر اس کی آمد کا انتظار کیا۔ مگر وہ نہ آئی۔۔۔ ظہیر مایوس ہوگیا۔ وہ بہت جلد مایوس ہوجانے والا آدمی تھا۔ اس نے سوچا کہ یہ سب بیکار ہے۔ مگر عشق کہتا تھا کہ یہ بیکاری ہی سب سے بڑی چیز ہے۔ عشق میں سب سے پہلے عاشق کو اس چیز سے واسطہ پڑتا ہے، جو گھبرایا، وہ گیا۔چنانچہ ظہیر نے اپنے دل میں عہد کرلیا کہ پہاڑ بھی ٹوٹ پڑیں تو وہ گھبرائے گا نہیں، اپنے عشق میں ثابت قدم رہے گا۔\n\nبہت دنوں کے بعد جب وہ سائیکل پر کالج سے واپس آرہا تھا، اس نے اپنے آگے ایک ٹانگہ دیکھا، جس میں ایک برقع پوش لڑکی بیٹھی تھی۔ اس کا قیاس بالکل درست نکلا، کیونکہ یہ وہی لڑکی تھی۔۔۔ ٹانگہ رکا۔۔۔ ظہیر سائیکل پر سے اتر پڑا۔۔۔ لڑکی کے ایک ہاتھ میں کتابیں تھیں، دوسرے ہاتھ سے اس نے ٹانگے والے کو کرایہ ادا کیا اور چل پڑی مگر ٹانگے والا پکارا، ’’اے بی بی جی۔۔۔ یہ کیا دیا تم نے؟‘‘ اس کے لہجے میں بدتمیزی تھی۔۔ لڑکی رکی، پلٹ کر اس نے ٹانگے والے کو اپنے برقعے کی نقاب میں سے دیکھا،’’کیوں، کیا بات ہے؟‘‘\n\nٹانگے والا نیچے اتر آیا اور ہتھیلی پر اٹھنی دکھا کر کہنے لگا،’’یہ آٹھ آنے نہیں چلیں گے۔‘‘لڑکی نے مہین لرزاں آواز میں کہا،’’میں ہمیشہ آٹھ آنے ہی دیا کرتی ہوں۔‘‘ ٹانگے والا بڑا واہیات قسم کا آدمی تھا۔ بولا،’’وہ آپ سے رعایت کرتے ہوں گے۔۔۔ مگر۔۔۔‘‘ یہ سن کر ظہیر کو طیش آگیا، سائیکل چھوڑ کر آگے بڑھا، آؤ دیکھا نہ تاؤ۔۔۔ ایک مکا ٹانگے والے کی ٹھوڑی کے نیچے جما دیا، وہ ابھی سنبھلا بھی نہیں تھا کہ ایک اور اس کی داہنی کنپٹی پر۔۔۔ اس زور کا کہ وہ بلبلا اٹھا۔\n\nاس کے بعد ظہیر اس لڑکی سے جو ظاہر ہے کہ گھبرا گئی تھی، مخاطب ہوا،’’آپ تشریف لے جائیے، میں اس حرامزادے سے نمٹ لوں گا۔‘‘\n\nلڑکی نے کچھ کہنا چاہا، شاید شکریے کے الفاظ تھے جو اس کی زبان کی نوک پر آکر واپس چلے گئے۔۔۔ وہ چلی گئی۔۔۔ دس قدم ہی تو تھے، مگر ظہیر کو پورے بیس منٹ اس ٹانگے والے سے نمٹنے میں لگے۔ وہ بڑا ہی لیچڑ قسم کا ٹانگے والا تھا۔ ظہیر بہت خوش تھا کہ اس نے اپنی محبوبہ کے سامنے بڑی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ اس نے ٹانگے والے کو خوب پیٹا تھا اور اس نے یہ بھی دیکھا تھا کہ وہ برقع پوش لڑکی اپنے گھر سے ، چق لگی کھڑکی کے پیچھے سے اس کو دیکھ رہی ہے۔ یہ دیکھ کر ظہیر نے دو گھونسے اور اس کوچوان کی ٹھوڑی کے نیچے جما دیے تھے۔\n\nاس کے بعد ظہیر سر سے پیر تک اس برقع پوش کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔ اس نے اپنی والدہ سے مزید استفسار کیا تو اسے معلوم ہوا کہ اس لڑکی کا نام یاسمین ہے۔ تین بہنیں ہیں، باپ ان کا مر چکا ہے، ماں زندہ ہے، معمولی سی جائیداد ہے جس کے کرائے پر ان سب کا گزارہ ہورہا ہے۔\n\nظہیر کو اب اپنی معشوقہ کا نام معلوم ہو چکا تھا۔ چنانچہ اس نے یاسمین کے نام کئی خط کالج میں بیٹھ کر لکھےمگر پھاڑ ڈالے۔ لیکن ایک روز اس نے ایک طویل خط لکھا اور تہیہ کرلیا کہ وہ اس تک ضرور پہنچا دے گا۔\n\nبہت دنوں کے بعد جب کہ ظہیر سائیکل پر کالج سے واپس آرہا تھا اس نے یاسمین کو ٹانگے میں دیکھا۔ وہ اتر کر جارہی تھی، لپک کر وہ آگے بڑھا، جیب سے خط نکالا اور ہمت اور جرأت سے کام لے کر اس نے کاغذ اس کی طرف بڑھا دیے۔۔۔’’یہ آپ کے کچھ کاغذ ٹانگے میں رہ گئے تھے۔‘‘\n\nیاسمین نے وہ کاغذ لے لیے۔۔۔ نقاب کا کپڑا سرسرایا۔۔۔ ’’شکریہ!‘‘\n\nیہ کہہ کروہ چلی گئی۔ ظہیر نے اطمینان کا سانس لیا۔ لیکن اس کا دل دھک دھک کرہا تھا۔ اس لیے کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کے خط کا کیا حشر ہونے والا ہے، وہ ابھی اس حشر کے متعلق سوچ ہی رہا تھا کہ ایک اور ٹانگہ اس کی سائیکل کے پاس رکا، اس میں سے ایک برقع پوش لڑکی اتری۔۔۔ اس نے ٹانگے والے کو کرایہ ادا کیا۔ یہ ہاتھ جس سے کرایہ ادا کیا گیا تھا، ویسا ہی تھا، جیسا اس لڑکی کا تھا، جس کو پہلی مرتبہ ظہیر نے دیکھا تھا۔\n\nکرایہ ادا کرنے کے بعد، یہ لڑکی اس مکان میں چلی گئی جہاں یاسمین گئی تھی۔۔۔ ظہیرسوچتا رہ گیا۔ لیکن اس کو معلوم تھا کہ تین بہنیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ لڑکی یاسمین کی چھوٹی بہن ہو۔\n\nخط دے کر ظہیر نے یہ سمجھا تھا کہ آدھا میدان مار لیا ہے۔۔۔ پر جب دوسرے روز اسے کالج جاتے وقت ایک چھوٹے سے لڑکے نے کاغذ کا ایک پرزدہ دیا تو اسے یقین ہوگیا کہ پورا میدان مار لیا گیا ہے۔ لکھا تھا،’’آپ کا محبت نامہ ملا۔۔۔ جن جذبات کا اظہار آپ نے کیا ہے، اس کے متعلق میں آپ سے کیا کہوں۔۔۔ میں۔۔۔ میں۔۔۔ میں اس سے آگے کچھ نہیں کہہ سکتی۔۔۔ مجھے اپنی لونڈی سمجھیے۔‘‘ یہ رقعہ پڑھ کر ظہیر کی باچھیں کھل گئیں۔۔۔ کالج میں کوئی پیریڈ اٹنڈ نہ کیا۔ بس سارا وقت باغ میں گھومتا اور اس رقعے کو پڑھتا رہا۔\n\nدو دن گزر گئے، مگر یاسمین سے ظہیر کی مڈبھیڑ نہ ہوئی۔ اس کو بہت کوفت ہورہی تھی اس لیے کہ اس نے ایک لمبا چوڑا محبت بھرا خط لکھ دیا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ جلد از جلد اس تک پہنچا دے۔تیسرے روز آخر کار وہ ظہیر کو ٹانگے میں نظر آئی جب وہ کرایہ ادا کررہی تھی، سائیکل ایک طرف گرا کر وہ آگے بڑھا، اور یاسمین کا ہاتھ پکڑ لیا،’’حضور! یہ آپ کے چند کاغذات ٹانگے میں رہ گئے تھے!‘‘یاسمین نے ایک جھٹکے۔۔۔ غصے سے بھرے ہوئے جھٹکے کے ساتھ اپنا ہاتھ چھڑایا اور تیز لہجے میں کہا،’’بدتمیز کہیں کے۔۔۔ شرم نہیں آتی تمہیں؟‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ چلی گئی۔۔۔ اور ظہیر کے محبت بھرے خط کے کاغذ سڑک پر پھڑپھڑانے لگے۔ وہ سخت حیرت زدہ تھا کہ وہ لڑکی جس نے یہ کہا تھا کہ مجھے اپنی لونڈی سمجھیے، اتنی رعونت سے کیوں پیش آئی ہے لیکن پھر اس نے سوچا کہ شاید یہ بھی اندازِ دلربانہ ہے۔دن گزرتے گئے، مگر ظہیر کے دل و دماغ میں یاسمین کے یہ الفاظ ہر وقت گونجتے رہتے تھے،’’بدتمیز کہیں کے۔۔۔ شرم نہیں آتی تمہیں۔۔۔‘‘ لیکن اس کے ساتھ ہی اسے اس رقعے کے الفاظ یاد آتے جس میں یہ لکھا تھا،’’مجھے اپنی لونڈی سمجھیے۔‘‘ظہیر نے اس دوران میں کئی خط لکھے اور پھاڑ ڈالے، وہ چاہتا تھا کہ مناسب و موزوں الفاظ میں یاسمین سے کہے کہ اس نے بدتمیز کہہ کر اس کی اور اس کی محبت کی توہین کی ہے۔ مگر اسے ایسے الفاظ نہیں ملتے تھے۔ وہ خط لکھتا تھامگر جب اسے پڑھتا تو اسے محسوس ہوتا کہ وہ غیر معمولی طور پر درشت ہے۔\n\nایک دن جب کہ وہ باہر سڑک پر اپنی سائیکل کے اگلے پہیے میں ہوا بھر رہا تھا، ایک لڑکا آیااور اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ دے کر بھاگ گیا۔ ہوا بھرنے کا پمپ ایک طرف رکھ کر اس نے لفافہ کھولا، ایک چھوٹا سا رقعہ تھا جس میں یہ چند سطریں مرقوم تھیں،’’آپ اتنی جلدی مجھے بھول گئے۔۔۔ محبت کے اتنے بڑے دعوے کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔۔۔ خیر۔۔۔ آپ بھول جائیں تو بھول جائیں۔۔۔ آپ کی کنیز آپ کو کبھی بھول نہیں سکتی۔‘‘ظہیر چکرا گیا۔۔۔ اس نے یہ رقعہ بار بار پڑھا۔۔۔ سامنے دیکھا تو یاسمین ٹانگے میں سوار ہورہی تھی۔ سائیکل وہیں لٹا کر وہ اس کی طرف بھاگا۔ ٹانگہ چلنے ہی والا تھا کہ اس نے پاس پہنچ کر یاسمین سے کہا،’’تمہارا رقعہ ملا ہے۔۔۔ خدا کے لیے تم اپنے کو کنیز اور لونڈی نہ کہا کرو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔‘‘یاسمین کے برقعے کی نقاب اچھلی۔ بڑے غصے سے اس نے ظہیر سے کہا،’’بدتمیز کہیں کے۔۔۔ تمہیں شرم نہیں آتی۔۔۔ میں آج ہی تمہاری ماں سے کہوں گی کہ تم مجھے چھیڑتے ہو۔‘‘\n\nٹانگہ چل ہی رہا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر میں نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔۔۔ ظہیر رقعہ ہاتھ میں پکڑے سوچتا رہ گیا کہ یہ معاملہ کیا ہے؟ مگرپھر اسے خیال آیا کہ معشوقوں کا رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے ،وہ سر بازار اس قسم کے مظاہروں کو پسند نہیں کرتے۔ خط و کتابت کے ذریعے ہی سے، کہ یہ ایک خاموش طریقہ ہے،ساری باتیں طے ہو جایا کرتی ہیں۔\n\nچنانچہ اس نے دوسرے روز ایک طویل خط لکھا اور جب وہ کالج سے واپس آرہا تھا، ٹانگے میں یاسمین کو دیکھا۔ وہ اتر کر کرایہ ادا کر چکی تھی اور گھر کی جانب جارہی تھی، خط اس کے ہاتھ میں دے دیا۔۔۔ اس نے کوئی احتجاج نہ کیا۔ ایک نظر اس نے اپنے برقعے کی نقاب میں سے ظہیر کی طرف دیکھا اور چلی گئی۔ظہیر نے محسوس کیا تھا کہ وہ اپنی نقاب کے اندر مسکرا رہی تھی۔۔۔ اور یہ بڑی حوصلہ افزا بات تھی۔۔۔ چنانچہ دوسرے روز صبح جب وہ سائیکل نکال کر کالج جانے کی تیاری کررہا تھا، اس نے یاسمین کو دیکھا۔ شاید وہ ٹانگے والے کا انتظار کررہی تھی۔۔۔ داہنے ہاتھ میں کتابیں پکڑے تھی،بایاں ہاتھ جھول رہا تھا۔\n\nمیدان خالی تھا یعنی اس وقت بازار میں کوئی آمدورفت نہ تھی۔ ظہیر نے موقعہ غنیمت سمجھا، جرأت سے کام لے کر اس کے پاس پہنچا اور اس کا ہاتھ جو کہ جھول رہا تھا، پکڑ لیا اور بڑے رومانی انداز میں اس سے کہا،’’تم بھی عجیب لڑکی ہو۔۔۔ خطوں میں محبت کا اظہار کرتی ہو اور بات کریں تو گالیاں دیتی ہو۔‘‘ظہیر نے بمشکل یہ الفاظ ختم کیے ہوں گے کہ یاسمین نے اپنی سینڈل اتار کر اس کے سر پر دھڑادھڑ مارنا شروع کردی۔ ظہیر بوکھلا گیا۔۔۔ یاسمین نے اس کو بے شمار گالیاں دیں مگر وہ بوکھلاہٹ کے باعث سن نہ سکا۔ اس خیال سے کہ کوئی دیکھ نہ لے، وہ فوراً اپنے گھر کی طرف پلٹا۔ سائیکل اٹھائی اور قریب تھا کہ اپنی کتابیں وغیرہ اسٹینڈ کے ساتھ جما کرکالج کا رخ کرے کہ ٹانگہ آیا۔ یاسمین اس میں بیٹھی اور چلی گئی۔ ظہیر نے اطمینان کا سانس لیا۔ اتنے میں ایک اور بر قع پوش لڑکی نمودار ہوئی، اسی گھر میں سے جس میں سے یاسمین نکلی تھی۔۔۔ اس نے ظہیر کی طرف دیکھا اور اس کو ہاتھ سے اشارہ کیا۔۔۔ مگر ظہیر ڈرا ہوا تھا۔۔۔ جب لڑکی نے دیکھا کہ ظہیر نے اس کا اشارہ نہیں سمجھا تو وہ اس سے قریب ہو کے گزری اور ایک رقعہ گرا کر چلی گئی۔\n\nظہیر نے کاغذ کا وہ پرزہ اٹھایا، اس پر لکھا تھا،’’تم کب تک مجھے یونہی بے وقوف بناتے رہو گے۔۔۔؟ تمہاری ماں میری ماں سے کیوں نہیں ملتیں۔۔۔ آج پلازا سینما پر ملو۔ پہلا شو ۔۔۔ تین بجے۔۔۔ پروین!‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D9%82%D8%B9%DB%92_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29"} {"title": "برمی لڑکی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بادشاہت کا خاتمہ", "year": "1950", "text_ur": "گیان کی شوٹنگ تھی اس لیے کفایت جلدی سو گیا۔ فلیٹ میں اور کوئی نہیں تھا۔ بیوی بچے راولپنڈی چلے گئے تھے۔ ہمسایوں سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ یوں بھی بمبئی میں لوگوں کو اپنے ہمسایوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ کفایت نے اکیلے برانڈی کے چار پیگ پیے۔ کھانا کھایا۔ نوکروں کو رخصت کیا اور دروازہ بند کرکے سو گیا۔\n\nرات کے پانچ بجے کے قریب کفایت کے خمار آلود کانوں کو دھک کی آواز سنائی دی۔ اس نے آنکھیں کھولیں۔ نیچے بازار میں ایک ٹریم دندناتی ہوئی گزری۔ چند لمحات کے بعد دروازے پر بڑے زوروں کی دستک ہوئی۔ کفایت اٹھا۔ پلنگ سے اترا تو اس کے ننگے پیر ٹخنوں تک پانی میں چلے گئے ۔اس کو سخت حیرت ہوئی کہ کمرے میں اتنا پانی کہاں سے آیا اور باہر کوری ڈور میں اس سے بھی زیادہ پانی تھا۔ دروازے پر دستک جاری تھی، اس نے پانی کے متعلق سوچنا چھوڑا اور دروازہ کھولا۔\n\nگیان نے زور سے کہا، ’’یہ کیا ہے؟‘‘\n\nکفایت نے جواب دیا، ’’پانی‘‘\n\n’’پانی نہیں۔۔۔ عورت!‘‘ یہ کہہ کر گیان نیم اندھیرے کوری ڈور میں داخل ہوا ۔اس کے پیچھے ایک چھوٹے سے قد کی لڑکی تھی۔ گیان کو فرش پر پھیلے ہوئے پانی کا کچھ احساس نہ ہوا۔ لڑکی نے پائیجامہ اوپر اٹھا لیا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی گیان کے پیچھے چلی گئی۔کفایت کے ذہن میں پہلے پانی تھا۔ اب یہ لڑکی اس میں داخل ہوگئی اور ڈبکیاں لگانے لگی ۔سب سے پہلے اس نے سوچا کہ یہ کون ہے؟ شکل صورت اور لباس کے اعتبار سے برمی معلوم ہوتی ہے لیکن گیان اسے کہاں سے لے آیا؟\nگیان اندر کمرے میں جا کر کپڑے تبدیل کیے بغیر پلنگ پر لیٹا اور لیٹتے ہی سو گیا۔ کفایت نے اس سے بات کرنا چاہی مگر اس نے صرف ہوں ہاں میں جواب دیا اور آنکھیں نہ کھولیں۔ کفایت نے اس لڑکی کی طرف ایک نظر دیکھا جو سامنے والے پلنگ پر بیٹھی تھی اور باہر نکل گیا۔باورچی خانے میں جا کر اسے معلوم ہوا کہ ربڑ کا وہ پائپ جو رات کو بڑا ڈرم بھرا کرتا تھا باہر نکلا ہوا ہے۔ تین بجے جب نل میں پانی آیا تو اس نے تمام کمرے سیر اب کردیے۔ تینوں نوکر باہر گلی میں سو رہے تھے۔ کفایت نے ان کو جگا دیا اور پانی خارج کرنے کے کام پر لگا دیا وہ خود بھی ان کے ساتھ شریک تھا۔ سب چلووؤں سے پانی اٹھاتے تھے اور بالٹیوں میں ڈالتے جاتے تھے ۔اس برمی لڑکی نے جب ان کو یہ کام کرتے دیکھا تو جھٹ پٹ سینڈل اتار کر ان کا ہاتھ بٹانے لگی۔\n\nاس کے چھوٹے چھوٹے گورے ہاتھ انگلیوں کے ناخن بڑھائے ہوئے اور سرخی لگے نہیں تھے۔ چھوٹے چھوٹے کٹے ہوئے بال تھے جن میں ہلکی ہلکی لہریں تھیں۔ مردار موضع کا مگر کھلا ریشمی پاجامہ پہنے تھی۔ اس پر سیاہ رنگ کا ریشمی کرتا تھا جس میں اس کی چھوٹی چھوٹی چھاتیاں چھپی ہوئی تھیں۔\n\nجب اس نے ان لوگوں کا ہاتھ بنانا شروع کیا تو کفایت نے اسے منع کیا، ’’آپ تکلیف نہ کیجیے یہ کام ہو جائے گا۔‘‘اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ چھوٹے چھوٹے سرخی لگے ہونٹوں سے مسکرائی اور کام میں لگی رہی۔ آدھے گھنٹے کے اندر اندر تینوں کمروں سے پانی نکل گیا۔ کفایت نے سوچا چلو یہ بھی اچھا ہوا اسی بہانے سارا گھر دھل کرصاف ہوگیا۔\n\nوہ برمی لڑکی ہاتھ دھونے کے لیے غسل خانے میں چلی گئی۔ کفایت کمر سیدھی کرنے کے لیے بستر پرلیٹا، نیند پوری نہیں ہوئی تھی، سو گیا۔\n\nتقریباً نو بجے وہ جاگا اور جاگتے ہی اسے سب سے پہلے پانی کا خیال آیا۔ پھر اس نے برمی لڑکی کے متعلق سوچا جو گیان کے ساتھ آئی تھی،’’کہیں خواب تو نہیں تھا لیکن یہ سامنے گیان سو رہا ہے اور فرش بھی دھلا ہوا ہے۔‘‘\n\nکفایت نے غور سے گیان کی طرف دیکھا۔وہ پتلون کوٹ بلکہ جوتے سمیت اوندھا سو رہا تھا۔ کفایت نے اس کو جگایا۔ اس نے ایک آنکھ کھولی اور پوچھا، ’’کیا ہے؟‘‘\n\n’’یہ لڑکی کون ہے؟‘‘\n\nگیان ایک دم چونکا، ’’لڑکی۔۔۔ کہاں ہے؟‘‘ پھر فوراً ہی چت لیٹ گیا۔\n\n’’اوہ۔۔۔ بکواس نہ کرو۔۔۔ ٹھیک ہے۔‘‘\n\nکفایت نے اسے پھر جگانے کی کوشش کی مگر وہ خاموش سویا رہا۔ اس کو ساڑھے نو بجے اپنے کام پر جانا تھا۔ اس نے جلدی جلدی غسل کیا۔ شیو بھی غسل خانے کے اندر ہی کرلیا۔ باہر نکل کر ڈرائنگ روم میں گیا تو اس کو میز سجی ہوئی نظر آئی۔\n\nصبح ناشتہ پر عام طور پر کفایت کے ہاں بہت سی مختصر چیزیں ہوتی تھیں۔ دو ابلے ہوئے انڈے۔ دو توس۔ مکھن اور چائے۔۔۔ مگر آج میز رنگین تھی ۔اس نے غور سے دیکھا، چِھلے ہوئے انڈے عجیب وغریب انداز میں کٹے ہوئے تھے کہ پھول معلوم ہوتے تھے۔ سلاد تھا بڑے خوبصورت طریقے سے پلیٹ میں سجا ہوا۔ توسوں پر بھی مینا کاری کی ہوئی تھی۔ کفایت چکرا گیا۔ باورچی خانے میں گیا تو وہ برمی لڑکی چوکی پر بیٹھی سامنے انگیٹھی رکھے کچھ کہہ رہی تھی۔ تینوں نوکر اس کے اردگرد تھے اور ہنس ہنس کر اس سے باتیں کررہے تھے۔ کفایت کو دیکھ کروہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ برمی لڑکی نے آنکھیں گھما کر اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔\n\nکفایت نے اس سے بات کرنا چاہی لیکن وہ کیسے کرتا۔ اس سے کیا کہتا، وہ اس کو جانتا تک نہیں تھا۔ اس نے اپنے ایک نوکر سے صرف اتنا پوچھا، ’’یہ ناشتہ آج کس نے تیار کیا ہے بشیر؟‘‘\n\nبشیر نے اس برمی لڑکی کی طرف اشارہ کیا، ’’بائی جی نے۔‘‘\n\nوقت بہت کم تھا۔ کفایت نے جلدی بانکا سجیلا ناشتہ کھایا اور کپڑے پہن کر اپنے دفتر روانہ ہوگیا۔ شام کو واپس آیا تو وہ برمی لڑکی اس کے سلیپنگ سوٹ کا اکلوتا پاجامہ پہنے اپنا کرتہ استری کررہی تھی۔ کفایت پیچھے ہٹ گیا، کیونکہ وہ صرف پائجامہ پہنے تھی۔\n\n’’آجائیے۔‘‘\n\nلہجہ بڑا صاف ستھرا تھا۔ کفایت نے سوچا کہ برمی لڑکی کی بجائے شاید کوئی اور بولا ہے۔ جب وہ اندر گیا تو اس لڑکی نے چھوٹے چھوٹے ہونٹوں پر مسکراہٹ پیدا کرکے اس کو سلام کیا۔ کفایت کی موجودگی میں اس نے کوئی حجاب محسوس نہ کیا۔ بڑے سکون سے وہ اپنا سیاہ کرتا استری کرتی رہی۔ کفایت نے دیکھا اس کی چھوٹی چھوٹی گول چھاتیوں کے درمیانی حصے میں استری کی گرمی کے باعث پسینے کی ننھی ننھی بوندیں جمع ہوگئی تھیں۔\n\nکفایت نے گیان کے بارے میں پوچھنے کے لیے بشیر کو آواز دینا چاہی مگر رک گیا۔ اس نے مناسب خیال نہ کیا کیونکہ وہ لڑکی آدھی ننگی تھی۔ اس نے ہیٹ اتار کر ایک طرف رکھا۔ تھوڑی دیر اس نیم عریانی کو دیکھا مگر کوئی ہیجان محسوس نہ کیا۔۔۔ لڑکی کا بدن بے داغ تھا۔ جلد نہایت ہی ملائم تھی اتنی ملائم کہ نگاہیں پھسل پھسل جاتی تھیں۔\n\nکرتا استری ہوگیا تو اس نے سوئچ اوف کیا۔ ایک کرتا اور بھی تھا سفید بوسکی کا، جو تہہ کیا ہوا استری شدہ پائجامے پر رکھا، اس نے یہ سب کپڑے اٹھائے اور کفایت سے مخاطب ہوئی، ’’میں نہانے چلی ہوں۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ چلی گئی۔ کفایت ٹوپی اتار کرسر کھجلانے لگا، ’’کون ہے یہ؟‘‘\n\nاس کے دماغ میں بڑی کھدبد ہورہی تھی۔ جب وہ اس لڑکی کے متعلق سوچتا سارا واقعہ اس کے سامنے آجاتا۔ رات کو اس کا اٹھنا۔ پانی ہی پانی۔ اس کا دروازہ کھولنااور کہنا’’ پانی‘‘اور گیان کا یہ جواب دینا ’’پانی نہیں عورت‘‘ اور ایک ننھی سی گڑیا کا چھم سے اندر آجانا۔\n\nکفایت نے دل میں کہا:ہٹاؤ جی۔۔۔ گیان آئے گا تو سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔۔۔ لونڈیا ہے دلچسپ۔۔۔ اتنی چھوٹی ہے کہ جی چاہتا ہے کہ آدمی جیب میں رکھ لے۔۔۔ چلو برانڈی پئیں۔\n\nبشیر نے گلاس، برانڈی اور برف وغیرہ سب کچھ ملاقاتی کمرے میں تپائی پر رکھ دیا تھا۔ کفایت نے کپڑے بدلے اور پینا شروع کردی۔ پہلا پیگ ختم کیا تو اسے غسل خانے کا دروازہ کھلنے کی ’’چوں‘‘ سنائی دی۔ دوسرا پیگ ڈال کر وہ انتظار کرنے لگا کہ تھوڑی ہی دیر میں وہ برمی لڑکی ضرور ادھر آئے گی۔ اس کے مقررہ چار پیگ ختم ہوگئے مگر وہ نہ آئی۔ گیان بھی نہ آیا۔ کفایت جھنجھلا گیا۔ اندر بیڈ روم میں جا کر اس نے دیکھا وہ لڑکی استری کیے ہوئے کپڑے پہنے اپنی گول گول چھاتیوں پر ہاتھ رکھے بڑے اطمینان سے سو رہی تھی۔۔۔ استری والی میز پر اس کے سلیپنگ سوٹ کا اکلوتا پائجامہ بڑی اچھی طرح تہہ کیا ہوا رکھا تھا۔\n\nکفایت نے واپس جا کربرانڈی کا ایک ڈبل پیگ گلاس میں ڈالا اور نیٹ ہی چڑھا گیا۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کا سر گھومنے لگا۔ اس نے برمی لڑکی کے متعلق سوچنے کی کوشش کی مگر اس نے ایسا محسوس کیا کہ وہ چلوؤں میں پانی بھر بھر کے اس کے دماغ میں ڈال رہی ہے۔ کھانا کھائے بغیر وہ صوفے پر لیٹ گیا اور اس برمی لڑکی کے متعلق کچھ سوچنے کی کوشش کرتے ہوئے سو گیا۔\n\nصبح ہوئی تو اس نے دیکھا کہ وہ صوفے کی بجائے اندر اپنے پلنگ پر ہے اس نے حافظے پر زور دیا، ’’میں رات کب آیا یہاں۔۔۔ کیا میں نے کھانا کھایا تھا؟‘‘\n\nکفایت کو کوئی جواب نہ ملا۔ سامنے والا پلنگ خالی تھا۔ اس نے زور سے بشیر کو آواز دی۔ وہ بھاگا اندر آیا۔ کفایت نے اس سے پوچھا، ’’گیان صاحب کہاں ہیں؟‘‘\n\nبشیر نے جواب دیا، ’’رات کو نہیں آئے۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’معلوم نہیں صاحب۔‘‘\n\n’’وہ بائی جی کہاں ہیں؟‘‘\n\n’’مچھی تل رہی ہیں۔‘‘\n\nکفایت کے دماغ میں مچھلیاں تلی جانے لگیں ۔اٹھ کر باورچی خانے میں گیا تو وہ چوکی پر بیٹھی سامنے انگیٹھی رکھے مچھی تل رہی تھی۔ کفایت کو دیکھ کراس کے ہونٹوں پر ایک چھوٹی سی مسکراہٹ پیدا ہوئی۔ ہاتھ اٹھا کر اس نے سلام کیا اوراپنے کام میں مشغول ہوگئی۔۔۔ کفایت نے دیکھا تینوں نوکر بے حد مسرور تھے اور بڑی مستعدی سے اس لڑکی کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔\n\nبشیر کو کچھ دنوں کی چھٹی پر اپنے وطن جانا تھا ۔کئی دنوں سے وہ بار بار کہتا تھا کہ صاحب مجھے تنخواہ دے دیجیے، مجھے گھرسے کئی خط آچکے ہیں۔ و الدہ بیمار ہے۔ رات کو وہ اسے تنخواہ دینا بھول گیا تھا۔ اب اسے یاد آیا تو اس نے بشیر سے کہا، ’’ادھر آؤ بشیر! اپنی تنخواہ لے لو۔۔۔ میں کل دفتر سے روپے لے آیا تھا۔‘‘\n\nبشیر نے تنخواہ لے لی۔ کفایت نے اس سے پوچھا، ’’نو بجے گاڑی جاتی ہے۔ اس سے چلے جاؤ۔‘‘\n\n’’اچھا جی!‘‘ یہ کہہ کر بشیر چلا گیا۔\n\nناشتہ بے حد لذیذ تھا، خاص طور پر مچھلی کے ٹکڑے ۔اس نے کھانا شروع کرنے سے پہلے بشیر کے ذریعہ سے اس برمی لڑکی کو بلا بھیجا مگر وہ نہ آئی۔ بشیر نے کہا، ’’جی وہ کہتی ہیں کہ بعد میں کریں گی وہ ناشتہ‘‘\n\nکفایت کی مالی حالت بہت پتلی تھی۔ گیان بھی آسودہ حال نہیں تھا۔ دونوں ادھر ادھر سے پکڑ کر گزارہ کررہے تھے۔ برانڈی کا بندوبست گیان کردیتا تھا ۔باقی کھانے پینے کا سلسلہ بھی کسی نہ کسی طرح چل ہی رہا تھا۔ جس فلم کمپنی میں گیان کام کررہا تھا، اس کا دیوالہ نکلنے کے قریب تھا مگر اس کو یقین تھا کہ کوئی معجزہ ضروررونما ہوگا اور اس کی کمپنی سنبھل جائے گی۔ شوٹنگ ہورہی تھی غالباً اسی لیے گیان رات کو نہ آسکا تھا۔\n\nناشتہ کرنے کے بعد کفایت نے جھانک کر باورچی خانے میں دیکھا۔ لڑکی اپنے کام میں مشغول تھی۔ تینوں ملازم لڑکے اس سے ہنس ہنس کر باتیں کررہے تھے۔ کفایت نے بشیر نے سے کہا، ’’مچھلی بہت اچھی تھی۔‘‘\n\nلڑکی نے مڑ کر دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر چھوٹی سی مسکراہٹ تھی۔\n\nکفایت دفتر چلا گیا۔ اس کو امید تھی کہ کچھ روپوں کا بندوبست ہو جائے گا لیکن خالی جیب واپس آیا۔ برمی لڑکی اندر بیڈ روم میں لیٹی تصویروں والا رسالہ دیکھ رہی تھی۔ کفایت کو دیکھ کر بیٹھ گئی اور سلام کیا۔\n\nکفایت نے سلام کا جواب دیا اور اس سے پوچھا، ’’گیان صاحب آئے تھے؟‘‘\n\n’’آئے تھے دوپہر کو۔۔۔ کھانا کھا کر چلے گئے۔۔۔ پھر شام کو آئے چند منٹوں کے لیے’’ یہ کہہ کر اس نے ایک طرف ہٹ کرتکیہ اٹھایا اور کاغذ میں لپٹی ہوئی بوتل نکالی، ’’یہ دے گئے تھے کہ میں آپ کو دےدوں۔‘‘\n\nمیں نے بوتل پکڑی۔ کاغذ پر گیان کے یہ چند الفاظ تھے،’’ کم بخت یہ چیز کسی نہ کسی طرح مل جاتی ہے لیکن پیسہ نہیں ملتا۔۔۔ بہر حال عیش کرو۔۔۔ تمہارا گیان۔‘‘\n\nاس نے کاغذ کھولا۔ برانڈی کی بوتل تھی۔ برمی لڑکی نے کفایت کی طرف دیکھا اور مسکرائی۔ کفایت بھی مسکرا دیا، ’’آپ پیتی ہیں؟‘‘\n\nلڑکی نے زور سے اپنا سر ہلایا، ’’نہیں!‘‘\n\nکفایت نے نظر بھر کر اس کو دیکھا اور سوچا، ’’کیا چھوٹی سی ننھی منھی گڑیا ہے!‘‘\n\nاس کا جی چاہا کہ وہ اس کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرے ۔چنانچہ اس سے مخاطب ہوا، ’’ آئیے، ادھر دوسرے کمرے میں بیٹھتے ہیں۔‘‘\n\n’’نہیں۔۔۔ میں کپڑے دھوؤں گی۔‘‘\n\n’’اس وقت؟‘‘\n\n’’اس وقت اچھا ہوتا ہے۔۔۔ رات دھوئے، صبح سوکھ گئے۔ اٹھتے ہی استری کرلیے۔‘‘\n\nکفایت تھوڑی دیر کھڑا رہا۔ اسے کوئی بات نہ سوجھی تو ملاقاتی کمرے میں بیٹھ کر برانڈی پینا شروع کردی۔ کھانے کا وقت ہوگیا۔ اس نے برمی لڑکی کو بلایا مگر اس نے کہا، ’’میں گیان صاحب کے ساتھ کھاؤں گی۔‘‘\n\nکفایت نے کھانا کھایا اور اپنے پلنگ پر سو گیا۔ رات کے تقریباً ایک بجے اس کی آنکھ کھلی، چاندنی رات تھی۔ ہلکی ہلکی روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔ ہوا بھی بڑے مزے کی چل رہی تھی۔ کروٹ بدلی تو دیکھا سامنے پلنگ پر ایک چھوٹی سی سڈول گڑیا گیان کے چوڑے بالوں بھرے سینے کے ساتھ چمٹی ہوئی ہے۔ کفایت نے آنکھیں بند کرلیں۔ تھوڑے وقفے کے بعد گیان کی آواز آئی، ’’جاؤ اب مجھے سونے دو۔۔۔ کپڑے پہن لو۔‘‘\n\nاسپرنگوں والے پلنگ کی آواز کے ساتھ ساتھ ریشم کی سر سراہٹیں کفایت کے کانوں میں داخل ہوئیں۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد کفایت سو گیا۔ صبح چھ بجے اٹھا، کیونکہ وہ رات کو یہ سوچ کر سویا تھا کہ صبح جلدی اٹھے گا۔ اسے ٹرام کا بہت لمبا سفر طے کرکے ایک آدمی کے پاس جانا تھا جس سے اسے کچھ ملنے کی امید تھی۔ پلنگ پر سے اترا تو اس نے دیکھا کہ برمی لڑکی ننگے فرش پر اس کے سلیپنگ سوٹ کا اکلوتا پائجامہ پہنے اپنے چھوٹے سے سڈول بازو کو سر کے نیچے رکھے بڑے سکون سے سو رہی ہے۔ کفایت نے اس کو جگایا۔ اس نے اپنی کالی کالی آنکھیں کھولیں۔ کفایت نے اس سے کہا، ’’آپ یہاں کیوں لیٹی ہیں؟‘‘\n\nاس کے چھوٹے چھوٹے ہونٹوں پر ننھی سی مسکراہٹ پیدا ہوئی۔ اٹھ کر اس نے جواب دیا، ’’گیان کو عادت نہیں کسی کو اپنے ساتھ سلانے کی۔‘‘\n\nکفایت کو گیان کی اس عادت کا علم تھا۔ اس نے لڑکی سے کہا، ’’جائیے میرے پلنگ پر لیٹ جائیے۔‘‘\n\nلڑکی اٹھی اور کفایت کے پلنگ پر لیٹ گئی۔\n\nکفایت غسل خانے میں گیا وہاں رسی پر برمی لڑکی کے کپڑے لٹک رہے تھے۔ کفایت صابن مل کر نہانے لگا تو اس کا خیال اس لڑکی کے ملائم جسم کی طرف چلا گیا جس پرسے نگاہیں پھسل پھسل جاتی تھیں۔ غسل سے فارغ ہوکرکفایت نے کپڑے پہنے چونکہ جلدی میں تھا، اس لیے گیان کو جگا کر اس سے کوئی بات نہ کرسکا۔ صبح کا نکلا رات کے گیارہ بجے واپس آیا۔ جیبیں خالی تھیں۔ بیڈ روم میں گیا تو گیان اور برمی لڑکی دونوں اکٹھے لیٹے ہوئے تھے۔ کفایت نے ملاقاتی کمرے میں بیٹھ کر برانڈی پینی شروع کردی ۔بہت تھکا ہوا تھا۔ مایوس واپس آیا تھا۔ برمی لڑکی کے متعلق سوچتے سوچتے وہیں صوفے پر سو گیا۔ صبح پانچ بجے اٹھا۔ تپائی پر اس کا چوتھا پیگ پانی میں پڑا باسی ہورہا تھا۔\n\nکفایت اٹھا ۔بیڈ روم کے ننگے فرش پر برمی لڑکی سو رہی تھی۔ گیان الماری کے آئینے کے ساتھ کھڑا ٹائی باندھ رہا تھا۔ ٹائی کی گرہ ٹھیک کرکے اس نے دونوں ہاتھوں میں لڑکی کو اٹھایا اور اپنے پلنگ پر لٹا دیا۔ مڑا تو اس نے کفایت کو دیکھا، ’’کیوں بھئی۔ کچھ بندوبست ہوا روپوں کا؟‘‘\n\nکفایت نے بڑی مایوسی سے کہا، ’’نہیں۔‘‘\n\n’’تو میں جاتا ہوں۔۔۔ دیکھو شاید کچھ ہو جائے۔‘‘\n\nپیشتر اس کے کہ کفایت اسے روکے گیان تیزی سے باہر نکل گیا۔ دروازہ کھلا تو اس کی آوازئی، ’’تم بھی کوشش کرنا کفایت!‘‘\n\nکفایت نے پلٹ کر پلنگ کی طرف دیکھا۔ لڑکی بڑے سکون کے ساتھ سو رہی تھی۔ اس کے ننھے سے سینے پر چھوٹی چھوٹی گول چھاتیاں چمک رہی تھیں۔ کفایت کمرے سے نکل کر غسل خانے میں چلا گیا۔ اندر رسی پر لڑکی کے دھلے ہوئے کپڑے لٹک رہے تھے۔ غسل خانے سے فارغ ہو کر باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ لڑکی نوکروں کے ساتھ ناشتہ تیار کرنے میں مصروف تھی۔ ناشتہ کرکے باہر نکل گیا۔\n\nچار روز اسی طرح گزر گئے۔ کفایت کو اس لڑکی کے متعلق کچھ معلوم نہ ہوسکا۔ گیان کبھی رات کو دیر سے آتا تھا، کبھی دن کو بہت جلدی نکل جاتا تھا۔ یہی حال کفایت کا تھا۔ دونوں پریشان تھے۔ پانچویں روز جب وہ صبح اٹھا تو بشیر نے کفایت کو گیان کا رقعہ دیا۔ اس میں لکھا تھا ’’خدا کے لیے کسی نہ کسی طرح دس روپے پیدا کرکے برمی لڑکی کو دےدو۔‘‘\n\nلڑکی کھڑی استری کررہی تھی۔ بلاؤز کی صرف ایک آستین باقی رہ گئی تھی جس پر وہ بڑے سلیقے سے استری پھیر رہی تھی۔ کفایت نے اس کی طرف دیکھا جب اس کی نگاہیں چار ہوئیں تو لڑکی مسکرادی۔ کفایت سوچنے لگا کہ وہ دس روپے کہاں سے پیدا کرے۔ بشیر پاس کھڑا تھا۔ اس نے کفایت سے کہا، ’’صاحب ادھر آئیے!‘‘\n\nکفایت نے پوچھا، ’’کیا بات ہے؟‘‘\n\n’’جی کچھ کہنا ہے۔‘‘\n\nبشیر نے ایک طرف ہٹ کر دس روپے کا نوٹ نکالا اور کفایت کو دےدیا، ’’میں نہیں گیا ابھی تک صاحب۔‘‘\n\nکفایت نوٹ لے کر سوچنے لگا،’’نہیں نہیں۔۔۔ تم رکھو۔۔۔ لیکن تم گئے کیوں نہیں ابھی تک؟‘‘\n\n’’صاحب چلا جاؤں گا کل پرسوں۔۔۔ آپ رکھیے یہ روپے۔‘‘\n\nکفایت نے نوٹ جیب میں ڈال لیا،’’اچھا میں شام کو لوٹا دوں گا تمہیں۔‘‘\n\nکپڑے وپڑے پہن کر جب برمی لڑکی ناشتہ کر چکی تو کفایت نے اس کو دس روپے کا نوٹ دیا اور کہا، ’’گیان صاحب نے دیا تھا کہ آپ کو دےدوں۔‘‘\n\nلڑکی نے نوٹ لے لیا اور بشیر کو آواز دی۔بشیر آیا تو اس سے کہا، ’’جاؤ ٹیکسی لے آؤ۔‘‘\n\nبشیر چلا گیا تو کفایت نے اس سے پوچھا، ’’آپ جارہی ہیں؟‘‘\n\n’’جی ہاں!‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ اٹھی اور بیڈ روم میں چلی گئی۔ وہ اپنا رومال استری کرنا بھول گئی تھی۔ کفایت نے اس سے باتیں کرنے کا ارادہ کیا تو ٹیکسی آگئی۔ رومال ہاتھ میں لے کر وہ روانہ ہونے لگی۔ کفایت کو سلام کیا اور کہا، ’’اچھا جی۔۔۔ میں چلتی ہوں۔ گیان کو میرا سلام بول دینا۔‘‘پھر اس نے تینوں نوکروں سے ہاتھ ملایا اور چلی گئی۔ سب کے چہروں پر اداسی چھا گئی۔\n\nپونے گھنٹے کے بعد گیان آیا۔ وہ کچھ لے کر آیا تھا۔ آتے ہی اس نے کفایت سے پوچھا، ’’کہاں ہے وہ برمی لڑکی؟‘‘\n\n’’چلی گئی۔‘‘\n\n’’کیسے؟ دس روپے دیے تھے تم نے اسے؟‘‘\n\n’’ہاں!‘‘\n\n’’تو ٹھیک ہے۔۔۔ ٹھیک ہے!‘‘ گیان کرسی پر بیٹھ گیا۔\n\nکفایت نے پوچھا، ’’کون تھی یہ لڑکی؟‘‘\n\n’’معلوم نہیں۔‘‘\n\nکفایت سرتاپا حیرت بن گیا، ’’کیا مطلب؟‘‘\n\nگیان نے جواب دیا، ’’مطلب یہ کہ میں نہیں جانتا کون تھی۔۔۔‘‘\n\n’’جھوٹ!‘‘\n\n’’تمہاری قسم سچ کہتا ہوں۔‘‘\n\nکفایت نے پوچھا، ’’کہاں سے مل گئی تمہیں؟‘‘\n\nگیان نے ٹانگیں میز پررکھ دیں اور مسکرایا، ’’عجیب داستان ہے یار۔۔۔ پانی کا سیلاب آنے والی رات میں شنکر کے ہاں چلا گیا۔ وہاں بہت پی۔۔۔۔ اندھیری اسٹیشن سے گاڑی میں سوار ہوا تو سو گیا۔گاڑی مجھے سیدھی چرچ گیٹ لے گئی ،وہاں مجھے چوکیدار نے جگایا کہ اٹھو۔۔۔ میں نے کہا بھئی مجھے گرانٹ روڈ جانا ہے۔ چوکیدار ہنسا، آپ پانچ اسٹیشن آگے چلے آئے ہیں۔ اترا، دوسرے پلیٹ فارم پر اندھیری جانے والی آخری گاڑی کھڑی تھی۔ اس میں سوار ہوگیا۔ گاڑی چلی تو پھرمجھے نیند آگئی۔ سیدھی اندھیری پہنچ گئی۔‘‘\n\nکفایت نے پوچھا، ’’مگر اس سے لڑکی کا کیا تعلق؟‘‘\n\nتم سن تو لو، گیان نے سگریٹ سلگایا، ’’اندھیری پہنچا یعنی جب میری آنکھ کھلی تو کیا دیکھتا ہوں میں ایک چھوٹی سی لونڈیا کے ساتھ چمٹا ہوں۔ پہلے تو میں ڈرا، وہ جاگ رہی تھی میں نے پوچھا، کون ہو تم؟۔۔۔ وہ مسکرائی۔ میں نے پھر پوچھا، کون ہو بھئی تم۔۔۔ وہ مسکرائی اور کہنے لگی، لو اتنی دیر سے مجھے چومتےرہے اور اب پوچھتے ہو، میں کون ہوں۔۔۔ میں نے حیرت سے کہا، اچھا۔۔۔ وہ ہنسنے لگی میں نے دماغ پر زور دےکر سوچنا مناسب خیال نہ کیا اور اس کو اپنے ساتھ بھینچ لیا۔۔۔ صبح تین بجے تک ہم دونوں۔۔۔ پلیٹ فارم کی ایک بنچ پر سوئے رہے۔ ساڑھے تین بجے پہلی گاڑی آئی تو اس میں سوار ہوگئے۔ میرا ارادہ تھا کہ بندوبست کرکے اس کو کچھ روپے دوں گا۔۔۔ یہاں پہنچے تو پانی کا طوفان آیا ہوا تھا۔۔۔۔ ہے نا دل چسپ داستان۔‘‘\n\nکفایت نے کہا، ’’خاصی دلچسپ ہے۔۔۔ مگر وہ اتنے دن کیوں رہی یہاں؟‘‘\n\nگیان نے سگریٹ فرش پر پھینکا،’’وہ کہاں رہی۔۔۔ میں نے اسے رکھا۔۔۔ اصل میں وہ یوں رہی کہ میرے پاس کچھ تھا ہی نہیں جو اسے دیتا۔ بس دن گزرتے تھے۔۔۔ میں بے حد شرمندہ تھا، کل رات میں نے اس سے صاف کہہ دیا کہ دیکھو بھئی، دن بڑھتے جارہے ہیں۔ تم ایسا کرو مجھے اپنا ایڈریس دے دو، میں تمہارا حق وہاں پہنچا دوں گا۔ آج کل میرا حال بہت پتلا ہے۔‘‘\n\nکفایت نے پوچھا، ’’یہ سن کر اس نے کیا کہا؟‘‘\n\nگیان نے سر کو جنبش دی، ’’عجیب ہی لڑکی تھی۔۔۔ کہنے لگی، یہ کیا کہتے ہو۔۔۔ میں نے تم سے کب مانگا ہے۔۔۔ لیکن دس روپے مجھے دے دینا۔۔۔ میرا گھر یہاں سے بہت دور ہے، ٹیکسی میں جاؤںگی۔ میرے پاس ایک بھی پیسہ نہیں‘‘\n\nکفایت نے سوال کیا، ’’نام کیا تھا اس کا؟‘‘\n\nگیان سوچنے لگا۔\n\n’’بھول گئے؟‘‘\n\nگیان نے اپنی ٹانگیں میز پر سے ہٹائیں، ’’نہیں یار۔۔۔ میں نے اس سے نام نہیں پوچھا۔۔۔ حد ہوگئی۔۔۔ یہ کہہ کر وہ ہنسنے لگا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D9%85%DB%8C_%D9%84%DA%91%DA%A9%DB%8C"} {"title": "برنگ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برنگ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے\nکہ ہم راہ صبا ٹک سیر کرتے پھر ہوا ہوتے\n\nسراپا آرزو ہونے نے بندہ کر دیا ہم کو\nوگرنہ ہم خدا تھے گر دل بے مدعا ہوتے\n\nفلک اے کاش ہم کو خاک ہی رکھتا کہ اس میں ہم\nغبار راہ ہوتے یا کسو کی خاک پا ہوتے\n\nالٰہی کیسے ہوتے ہیں جنہیں ہے بندگی خواہش\nہمیں تو شرم دامن گیر ہوتی ہے خدا ہوتے\n\nتو ہے کس ناحیے سے اے دیار عشق کیا جانوں\nترے باشندگاں ہم کاش سارے بے وفا ہوتے\n\nاب ایسے ہیں کہ صانع کے مزاج اوپر بہم پہنچے\nجو خاطر خواہ اپنے ہم ہوئے ہوتے تو کیا ہوتے\n\nکہیں جو کچھ ملامت گر بجا ہے میرؔ کیا جانیں\nانہیں معلوم تب ہوتا کہ ویسے سے جدا ہوتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%A8%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92"} {"title": "برکتیں سب ہیں عیاں دولت روحانی کی", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برکتیں سب ہیں عیاں دولت روحانی کی\nواہ کیا بات ہے اس چہرۂ نورانی کی\n\nشوق دیکھے تجھے کس آنکھ سے اے مہر جمال\nکچھ نہایت ہی نہیں تیری درخشانی کی\n\nمجھ سے وہ سگ بھی ہے افضل جسے عزت ہو نصیب\nآستان حرم یار پہ دربانی کی\n\nجب سنا یاد کیا کرتے ہو تم بھی تو مجھے\nکیا کہوں حد نہ رہی کچھ مری حیرانی کی\n\nسعئ احباب کو ناحق ہے رہائی کا خیال\nاور ہی کچھ ہے تمنا ترے زندانی کی\n\nوہ تبسم بھی قیامت ہے ترا بعد جفا\nتو نے دی ہو جسے خدمت نمک افشانی کی\n\nمشکلوں سے جو مقابل ہوئی ہمت میری\nقدر باقی نہ رہی عیش تن آسانی کی\n\nرہ گیا جل کے تری بزم میں پروانہ جو رات\nکھینچ گئی شکل مری سوختہ سامانی کی\n\nرشک شاہی ہو نہ کیوں اپنی فقیری حسرتؔ\nکب سے کرتے ہیں غلامی شہ جیلانیؔ کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%D8%B1%D9%88%D8%AD%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "برکھا رت", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "گرمی کی تپش بجھانے والی\nسردی کا پیام لانے والی\nقدرت کے عجائبات کی کاں\nعارف کے لیے کتاب عرفاں\nوہ شاخ و درخت کی جوانی\nوہ مور و ملخ کی زندگانی\nوہ سارے برس کی جان برسات\nوہ کون خدا کی شان برسات\nآئی ہے بہت دعاؤں کے بعد\nوہ سیکڑوں التجاؤں کے بعد\nوہ آئی تو آئی جان میں جاں\nسب تھے کوئی دن کے ورنہ مہماں\nگرمی سے تڑپ رہے تھے جان دار\nاور دھوپ میں تپ رہے تھے کہسار\nبھوبل سے سوا تھا ریگ صحرا\nاور کھول رہا تھا آب دریا\nسانڈے تھے بلوں میں منہ چھپائے\nاور ہانپ رہے تھے چارپائے\nتھیں لومڑیاں زباں نکالے\nاور لو سے ہرن ہوئے تھے کالے\nچیتوں کو نہ تھی شکار کی سدھ\nہرنوں کو نہ تھی قطار کی سدھ\nتھے شیر پڑے کچھار میں سست\nگھڑیال تھے رود بار میں سست\nڈھوروں کا ہوا تھا حال پتلا\nبیلوں نے دیا تھا ڈال کندھا\nبھینسوں کے لہو نہ تھا بدن میں\nاور دودھ نہ تھا گئو کے تھن میں\nگھوڑوں کا چھٹا تھا گھاس دانہ\nتھا پیاس کا ان پہ تازیانہ\nگرمی کا لگا ہوا تھا بھبکا\nاور انس نکل رہا تھا سب کا\nطوفان تھے آندھیوں کے برپا\nاٹھتا تھا بگولے پر بگولا\nآرے تھے بدن پہ لو کے چلتے\nشعلے تھے زمین سے نکلتے\nتھی آگ کا دے رہی ہوا کام\nتھا آگ کا نام مفت بد نام\nرستوں میں سوار اور پیدل\nسب دھوپ کے ہاتھ سے تھے بے کل\nگھوڑوں کے نہ آگے اٹھتے تھے پاؤں\nملتی تھی کہیں جو روکھ کی چھاؤں\nتھی سب کی نگاہ سوئے افلاک\nپانی کی جگہ برستی تھی خاک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%B1%D8%AA"} {"title": "برکھا رت (اختر شیرانی)", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مسوری جاتے ہوئے\nآسماں پر چھا رہا ہے ابر پاروں کا ہجوم!\n\nنو بہاروں کا ہجوم\nآہ یہ رنگین آوارہ نظاروں کا ہجوم\n\nکوہساروں کا ہجوم\nبدلیاں ہیں یا کسی کے بھولے بسرے خواب ہیں\n\nبے خود و بیتاب ہیں!\nیا ہوا پر تیرتا ہے رود باروں کا ہجوم\n\nآبشاروں کا ہجوم\nپھرتی ہیں آوارہ متوالی گھٹائیں اس طرح\n\nاور ہوائیں اس طرح\nجھومتا پھرتا ہو جیسے مے گساروں کا ہجوم\n\nبادہ خواروں کا ہجوم\nوادیٔ گنگا ہے، برکھا رت ہے، کالی رات ہے\n\nرات ہے برسات ہے\nاور فضا میں تیرنے والے نظاروں کا ہجوم\n\nنشہ زاروں کا ہجوم\nنیلگوں پریاں افق میں پر ہیں پھیلائے ہوئے\n\nبال بکھرائے ہوئے\nیا امنڈ آیا ہے ساون کی بہاروں کا ہجوم\n\nابر پاروں کا ہجوم\nننھی ننھی بوندیں گرتی ہیں حجاب ابر سے\n\nیا نقاب ابر سے\nچھن رہا ہے قطرے بن بن کر ستاروں کا ہجوم\n\nنور پاروں کا ہجوم\nیہ گھٹائیں ہیں کہ خوابوں کے سفینے ہیں رواں\n\nبے قرینے ہیں رواں\nبادبانوں میں چھپائے چشمہ ساروں کا ہجوم\n\nجوے باروں کا ہجوم\nبجلی ہے یا نور کی زنجیر لہرائی ہوئی\n\nپیچ و خم کھائی ہوئی\nیا خمیدہ مرمریں پھولوں کے ہاروں کا ہجوم\n\nاور ستاروں کا ہجوم\nیہ سماں بجلی کا یہ مہتاب کی سی وادیاں\n\nخواب کی سی وادیاں\nنشے میں بھیگا ہوا یہ سبزہ زاروں کا ہجوم\n\nکوہساروں میں خوشی کی بستیاں آباد ہیں\nمستیاں آباد ہیں\n\nچار سو بکھرا پڑا ہے سبزہ زاروں کا ہجوم\nمرغزاروں کا ہجوم\n\nیوں نظر آتے ہیں کہسار مسوری دور سے\nمست سے مخمور سے\n\nجوں سمندر سے جزیروں کی قطاروں کا ہجوم\nسبزہ زاروں کا ہجوم\n\nیہ سفر، یہ رات، یہ برسات اور پھر ہم سفر\nالامان و الحذر\n\nایک حسن یاسمیں رنگیں بہاروں کا ہجوم\nماہ پاروں کا ہجوم\n\nیہ سہانے منظر اختر مدتوں یاد آئیں گے\nمدتوں تڑپائیں گے\n\nآہ یہ رات، اف یہ مستانہ نظاروں کا ہجوم\nیہ بہاروں کا ہجوم", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%B1%D8%AA_%28%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1_%D8%B4%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C%29"} {"title": "برگشتہ اور وہ بت بے پیر ہو نہ جائے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برگشتہ اور وہ بت بے پیر ہو نہ جائے\nالٹی کہیں دعاؤں کی تاثیر ہو نہ جائے\n\nدل جل کے خاک ہو تو پھر اکسیر ہو نہ جائے\nجاں سوز ہوں جو نالے تو تاثیر ہو نہ جائے\n\nکس سادگی سے مجرموں نے سر جھکا لیا\nمحجوب کیوں وہ مالک تقدیر ہو نہ جائے\n\nدست دعا تک اٹھ نہ سکے فرط شرم سے\nیا رب کسی سے ایسی بھی تقصیر ہو نہ جائے\n\nمستوں کی ٹھوکر اور مرا سر ہے ساقیا\nدشمن کسی کا یوں فلک پیر ہو نہ جائے\n\nاٹھنے ہی کو ہے بیچ سے پردہ حجاب کا\nمحفل تمام عالم تصویر ہو نہ جائے\n\nغفلت نہ کیجیو کبھی قاتل کی یاد میں\nاے دل کوئی کمی تہ شمشیر ہو نہ جائے\n\nبیٹھا ہے لو لگائے کوئی تیغ ناز سے\nقاتل کسی کے کام میں تاخیر ہو نہ جائے\n\nجلدی سبو کو توڑ کے ساغر بنا لے اب\nساقی اس امر خیر میں تاخیر ہو نہ جائے\n\nنالوں نے زور باندھا ہے پھر پچھلی رات سے\nاے چرخ چلتے چلتے کوئی تیر ہو نہ جائے\n\nدل سے بہت شکایتیں کرتے ہو یار کی\nدیکھو قلم سے کچھ کبھی تحریر ہو نہ جائے\n\nسیر چمن سے دل نہ لگاؤ چلے چلو\nفصل بہار پاؤں کی زنجیر ہو نہ جائے\n\nانجام کار پر نہیں کچھ اختیار یاسؔ\nتقدیر سے خجل مری تدبیر ہو نہ جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%DA%AF%D8%B4%D8%AA%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "برگشتہ طالعی کا تماشا دکھاؤں میں", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برگشتہ طالعی کا تماشا دکھاؤں میں\nگھر کو لگے جو آگ تو پانی بجھاؤں میں\n\nجنس گراں بہا کا خریدار کون ہے\nیکتا نہیں الٰہی جو چوری ہی جاؤں میں\n\nلالہ رخوں کے حسن کا بھوکا ہوں اس قدر\nدل ہو نہ سیر لاکھ اگر داغ کھاؤں میں\n\nآنکھیں مری کرے جو منور جمال یار\nگھی کے چراغ طور کے اوپر جلاؤں میں\n\nمردے کی طرح سوتے ہیں کیسے مرے نصیب\nٹھوکر سے پائے یار کے ان کو جگاؤں میں\n\nبوسہ ملے کماں کا جو ابروئے یار کی\nمحراب بیت کعبہ میں چلا چڑھاؤں میں\n\nجی چاہتا ہے شوق شہادت میں قبل مرگ\nبنوا کے قبر لالہ کو اس پر لگاؤں میں\n\nگھر میں جو مجھ فقیر کے وہ شاہ حسن آئے\nمژگاں کے بوریے جو کھڑے ہیں بچھاؤں میں\n\nکانٹا سکھا کے ہجر نے ہر چند کر دیا\nوہ گل بدن ملے تو نہ پھولا سماؤں میں\n\nتم تو غریب خانہ میں آئے نہ ایک روز\nفرمائیے تو شب کو کسی وقت آؤں میں\n\nباریک بیں ہوں شاعر نازک خیال ہوں\nمضموں جہاں کمر کا ملے باندھ لاؤں میں\n\nآتشؔ غلام ساقی کوثر ہوں چاہئے\nفردوس کا کھلا ہوا دروازہ پاؤں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%DA%AF%D8%B4%D8%AA%DB%81_%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%B9%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "برہان و دلیل عین گمراہی ہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "برہان و دلیل عین گمراہی ہے\nنفی و اثبات محض جاں کا ہی ہے\nاس رہ میں عبارت و اشارت ہے گم\nیاں ترک خودی اصول آگاہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%DB%81%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%AF%D9%84%DB%8C%D9%84_%D8%B9%DB%8C%D9%86_%DA%AF%D9%85%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "برہم کبھی قاصد سے وہ محبوب نہ ہوتا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برہم کبھی قاصد سے وہ محبوب نہ ہوتا\nگر نام ہمارا سر مکتوب نہ ہوتا\n\nخوبان جہاں کی ہے ترے حسن سے خوبی\nتو خوب نہ ہوتا تو کوئی خوب نہ ہوتا\n\nاسلام سے برگشتہ نہ ہوتے بخدا ہم\nگر عشق بتاں طبع کے مرغوب نہ ہوتا\n\nکیوں پھیر وہ دیتا مجھے لے کر مرے بر سے\nاتنا جو دل زار یہ معیوب نہ ہوتا\n\nاس بت کو خدا لایا ہے ہم پاس وگرنہ\nجینے کا ہمارے کوئی اسلوب نہ ہوتا\n\nدل آج کے دن پاس جو ہوتا مرے تو آہ!\nآنے سے میں اس شوخ کے محجوب نہ ہوتا\n\nہیں لازم و ملزوم بہم حسن و محبت\nہم ہوتے نہ طالب جو وہ مطلوب نہ ہوتا\n\nسر اپنا رہ عشق میں دیتا جو نہ جرأتؔ\nتو مجمع عشاق کا سرکوب نہ ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%85_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "برہم کن دل یوں کبھی برہم نہ ہوا تھا", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "برہم کن دل یوں کبھی برہم نہ ہوا تھا\nحیرت اثر ایسا مرا عالم نہ ہوا تھا\n\nان شوخ نگاہوں نے تڑپ اور بڑھا دی\nاللہ ابھی درد جگر کم نہ ہوا تھا\n\nاب بھی مجھے خودداریٔ جاناں میں نہیں شک\nپہلے بھی مرا دل متوہم نہ ہوا تھا\n\nاے پیر مغاں اس کی بقا میں مجھے شک ہے\nواقف اثر جام سے کیا جم نہ ہوا تھا\n\nوہ شوخ مجھے دیکھ کے یوں شرم سے جھک جائے\nجس کا سر مغرور کبھی خم نہ ہوا تھا\n\nاس کم نگہی نے تو مجھے مار ہی ڈالا\nایسا اثر اے پرسش پیہم نہ ہوا تھا\n\nمشہور وہ منظورؔ ہے جس کے لیے کل تک\nسرمایۂ شہرت ہی فراہم نہ ہوا تھا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%86_%D8%AF%D9%84_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "برہم ہیں وہ غیر بے حیا سے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برہم ہیں وہ غیر بے حیا سے\nمانگیں کچھ اور بھی خدا سے\n\nاچھا اچھا عدو سے ملیے\nجاؤ جاؤ جی بلا سے\n\nکیا حال کہیں دل و جگر کا\nٹکڑے ٹکڑے ہے جا بہ جا سے\n\nٹوٹے کانٹے تو زخم روئے\nآنسو ٹپکے خراش پا سے\n\nراحت طلبی سمجھ کے اے دل\nایسے بے درد بے وفا سے\n\nمطلوب وہی کہ جس کی فریاد\nنکلے گا کام کیا دعا سے\n\nرو لیں آؤ گلے لپٹ کر\nفرصت پھر ہو نہ ہو قضا سے\n\nہم تک بھی کوئی شمیم گیسو\nاتنا کہہ دیجیو صبا سے\n\nگزرے کیا جس سے جان دے دے\nپوچھو تو اپنے مبتلا سے\n\nدیکھا سب کو نسیمؔ دیکھا\nخاموش بیاں مدعا سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92"} {"title": "برہم ہے جہاں عجب تلاطم ہے آج", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "برہم ہے جہاں عجب تلاطم ہے آج\nسب روتے ہیں دنیا میں خوشی گم ہے آج\nچالیسویں تک گڑا نہ لاشہ جس کا\nاس بیکس و مظلوم کا چہلم ہے آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے\nکہیں ہیں جس کو سوداؔ وہ دل آگاہ کے صدقے\n\nجتا دیں جس جگہ ہم قدر اپنی ناتوانی کی\nاگر کہسار واں ہووے تو جاوے کاہ کے صدقے\n\nنہ دے تکلیف جلنے کی کسو کے دل کو میرے پر\nاثر سے دور رہتی ہیں میں اپنی آہ کے صدقے\n\nعجائب شغل میں تھے رات تم اے شیخ رحمت ہے\nمیں اس ریش بلند اور دامن کوتاہ کے صدقے\n\nنہیں بے وجہ کوچے سے ترے اٹھنا بگولے کا\nہماری خاک بھی جاتی ہے تیری راہ کے صدقے\n\nکبھو وہ شب بھی اے پروانہ حق باہم دکھاوے گا\nتو بل بل شمع پر جاوے میں ہوں اس ماہ کے صدقے\n\nدکھاتی ہے تجھے کس کس طرح سوداؔ کی نظروں میں\nجو ہو انصاف تو جاوے تو اس کی چاہ کے صدقے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%85%D9%86_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%A8%DB%8C%D8%AA_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%B5%D8%AF%D9%82%DB%92"} {"title": "برہمن لے کے جو میرے لیے زنار آیا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برہمن لے کے جو میرے لیے زنار آیا\nاس نے سمجھا کہ یہی بت کا خریدار آیا\n\nخود خریدار ہوا حسن بتاں کا وہ کبھی\nہو کے یوسف وہ کبھی بر سر بازار آیا\n\nشوق تھامے تھا کمر اور تمنا بازو\nکوئے جاناں میں مرا جب دل بیمار آیا\n\nلالہ رخ کیسا ہے دیکھوں تو ذرا چل کے اسے\nکس لیے دل کی عمارت میں نہ وہ یار آیا\n\nروز روشن سی شب تار ہوئی آنکھوں میں\nجس گھڑی یاد ترا گیسوئے خم دار آیا\n\nحسرت و یاس و تمنا کے ملے پشتارے\nکارواں عشق کا مجھ تک یہ لیے بار آیا\n\nکیا ڈراتا ہے مجھے تیغ دکھا کر قاتل\nمقتل عشق میں مرنے کو میں تیار آیا\n\nتلخیٔ مرگ بھی دینے لگی مجھ کو لذت\nسر بالیں دم مردن جو مرا یار آیا\n\nمیرے دلبر کے تصور نے کیا اس کو حسیں\nمیں نہ سمجھا یہ قضا آئی کہ وہ یار آیا\n\nکوئی لے جا کے مرے دل کو یہ کہتا اس سے\nلے ترے گیسوئے پر خم کا گرفتار آیا\n\nاے جمیلہؔ نہ ملا بت نہ ملا مجھ کو خدا\nمیں تو اس ہستئ موہوم میں بیکار آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%85%D9%86_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "برہمن مجھ کو بنانا نہ مسلماں کرنا", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "برہمن مجھ کو بنانا نہ مسلماں کرنا\nمیرے ساقی مجھے مست مے عرفاں کرنا\n\nداغ دل سینے میں آہوں سے نمایاں کرنا\nہم سے سیکھے شب غم کوئی چراغاں کرنا\n\nحرم و دیر میں جا جا کے چراغاں کرنا\nجستجو تیری ہمیں تا حد امکاں کرنا\n\nدل کے بہلانے کا وحشت میں یہ ساماں کرنا\nچشم خوں بار سے دامن کو گلستاں کرنا\n\nہوس سیر گلستاں نے قفس دکھلایا\nاب اسیرو نہ کبھی قصد گلستاں کرنا\n\nاہل بیداد کے جب نام پکارے جائیں\nتم نہ گھبرا کے سر حشر کہیں ہاں کرنا\n\nنہ کبھی میں نے کہا تھا کہ مجھے درد ملے\nنہ کہوں گا کہ مرے درد کا درماں کرنا\n\nان کے دیوانوں کو سر پھوڑ کے دیواروں سے\nآج منظور ہے آرائش زنداں کرنا\n\nشیخ کو کعبہ مبارک ہو برہمن کو کنشت\nہم کو سجدہ طرف کوچۂ جاناں کرنا\n\nاے صبا تجھ کو اسی زلف پریشاں کی قسم\nمیرا شیرازۂ ہستی بھی پریشاں کرنا\n\nان کے دیوانوں کی اعجاز نگاہی دیکھو\nآنکھ اٹھانا کہ گلستاں کو بیاباں کرنا\n\nداغ دل پردے میں رہ جائے نہ اے دست جنوں\nچاک کچھ اور ابھی میرا گریباں کرنا\n\nلا کے پھر مصر میں اے عشق کسی یوسف کو\nپھر نئے رنگ سے آرائش زنداں کرنا\n\nدشت غربت میں ترے خاک نشیں اچھے ہیں\nچاہئے اور انہیں بے سر و ساماں کرنا\n\nذوق سجدہ تجھے سنگ در جاناں کی قسم\nہوش کا مجھ کو نہ شرمندۂ احساں کرنا\n\nاٹھ رہے ہیں مرے نظروں سے دوئی کے پردے\nکچھ مدد اور خیال رخ جاناں کرنا\n\nبن گئے حیرت نظارہ کی صورت بیدمؔ\nراس آیا نہ ہمیں دید کا ارماں کرنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%85%D9%86_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7"} {"title": "بری اور بھلی سب گزر جائے گی", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بری اور بھلی سب گزر جائے گی\nیہ کشتی یونہیں پار اتر جائے گی\n\nملے گا نہ گلچیں کو گل کا پتا\nہر اک پنکھڑی یوں بکھر جائے گی\n\nرہیں گے نہ ملاح یہ دن سدا\nکوئی دن میں گنگا اتر جائے گی\n\nادھر ایک ہم اور زمانہ ادھر\nیہ بازی تو سو بسوے ہر جائے گی\n\nبناوٹ کی شیخی نہیں رہتی شیخ\nیہ عزت تو جائے گی پر جائے گی\n\nنہ پوری ہوئی ہیں امیدیں نہ ہوں\nیونہیں عمر ساری گزر جائے گی\n\nسنیں گے نہ حالیؔ کی کب تک صدا\nیہی ایک دن کام کر جائے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%D9%84%DB%8C_%D8%B3%D8%A8_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "بزدل", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آج اک افسروں کے حلقے میں\nایک معتوب ماتحت آیا\nاپنے افکار کا حساب لیے\nاپنے ایمان کی کتاب لیے\n\nماتحت کی ضعیف آنکھوں میں\nایک بجھتی ہوئی ذہانت تھی\nافسروں کے لطیف لہجے میں\nقہر تھا، زہر تھا، خطابت تھی\nیہ ہر اک دن کا واقعہ، اس دن\nصرف اس اہمیت کا حامل تھا\nکہ شرافت کے زعم کے با وصف\nمیں بھی ان افسروں میں شامل تھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B2%D8%AF%D9%84"} {"title": "بزرگو، ناصحو، فرماں رواؤ", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بزرگو، ناصحو، فرماں رواؤ\nہمیں تو مے کدے تک چھوڑ آؤ\n\nامیرانہ بھی اس کوچے میں آؤ\nلب و رخسار و مژگاں کے گداؤ\n\nابھرتی جا رہی ہے شمع کی لو\nبڑی نادان ہو ٹھنڈی ہواؤ\n\nہزاروں راز عریاں ہو رہے ہیں\nگراؤ آنکھ پر چلمن گراؤ\n\nوہ مجھ سے اور میں ان سے خفا ہوں\nندیمو آ کے دونوں کو مناؤ\n\nنہ جانے ہم کہاں گم ہو چکے ہیں\nجو ممکن ہو تو ہم کو ڈھونڈ لاؤ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B2%D8%B1%DA%AF%D9%88%D8%8C_%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD%D9%88%D8%8C_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%A4"} {"title": "بزم ایجاد میں بے پردہ کوئی ساز نہیں", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بزم ایجاد میں بے پردہ کوئی ساز نہیں\nہے یہ تیری ہی صدا غیر کی آواز نہیں\n\nکہہ سکے کون وہ کیا ہے مگر از روئے یقیں\nگل نہیں شمع نہیں سرو سرافراز نہیں\n\nدل ہو بے لوث تو کیا وجہ تسلی ہو دروغ\nطائر مردہ مگر طعمۂ شہباز نہیں\n\nبلبلوں کا تھا جہاں صحن چمن میں انبوہ\nآج چڑیا بھی وہاں زمزمہ پرداز نہیں\n\nبھاگ ویرانۂ دنیا سے کہ اس منزل میں\nنزل مہمان بجز مائدۂ آز نہیں\n\nدلبری جذب محبت کا کرشمہ ہے فقط\nکچھ کرامت نہیں جادو نہیں اعجاز نہیں\n\nدل کی تسخیر ہے شیریں سخنی پر موقوف\nکچھ کرامت نہیں جادو نہیں اعجاز نہیں\n\nدست قدرت نے مجھے آپ بنایا ہے تو پھر\nکون سا کام ہے میرا کہ خدا ساز نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بزم دشمن میں بلاتے ہو یہ کیا کرتے ہو", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بزم دشمن میں بلاتے ہو یہ کیا کرتے ہو\nاور پھر آنکھ چراتے ہو یہ کیا کرتے ہو\n\nبعد میرے کوئی مجھ سا نہ ملے گا تم کو\nخاک میں کس کو ملاتے ہو یہ کیا کرتے ہو\n\nہم تو دیتے نہیں کچھ یہ بھی زبردستی ہے\nچھین کر دل لیے جاتے ہو یہ کیا کرتے ہو\n\nکر چکے بس مجھے پامال عدو کے آگے\nکیوں مری خاک اڑاتے ہو یہ کیا کرتے ہو\n\nچھینٹے پانی کے نہ دو نیند بھری آنکھوں پر\nسوتے فتنے کو جگاتے ہو یہ کیا کرتے ہو\n\nہو نہ جائے کہیں دامن کا چھڑانا مشکل\nمجھ کو دیوانہ بناتے ہو یہ کیا کرتے ہو\n\nمحتسب ایک بلانوش ہے اے پیر مغاں\nچاٹ پر کس کو لگاتے ہو یہ کیا کرتے ہو\n\nکام کیا داغ سویدا کا ہمارے دل پر\nنقش الفت کو مٹاتے ہو یہ کیا کرتے ہو\n\nپھر اسی منہ پہ نزاکت کا کرو گے دعویٰ\nغیر کے ناز اٹھاتے ہو یہ کیا کرتے ہو\n\nاس ستم کیش کے چکموں میں نہ آنا بیخودؔ\nحال دل کس کو سناتے ہو یہ کیا کرتے ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "بزم دشمن میں جا کے دیکھ لیا", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بزم دشمن میں جا کے دیکھ لیا\nلے تجھے آزما کے دیکھ لیا\n\nتم نے مجھ کو ستا کے دیکھ لیا\nہر طرح آزما کے دیکھ لیا\n\nان کے دل کی کدورتیں نہ مٹیں\nاپنی ہستی مٹا کے دیکھ لیا\n\nکچھ نہیں کچھ نہیں محبت میں\nخوب جی کو جلا کے دیکھ لیا\n\nکچھ نہیں جز غبار کین و عناد\nہم نے دل میں سما کے دیکھ لیا\n\nنہ ملے وہ کسی طرح نہ ملے\nغیر کو بھی ملا کے دیکھ لیا\n\nکیا ملا نالہ و فغاں سے ظہیرؔ\nحشر سر پر اٹھا کے دیکھ لیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بزم سرود خوباں میں گو مردنگیں شاہین بجیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بزم سرود خوباں میں گو مردنگیں شاہین بجیں\nساتھ فقیر کی ڈھولک کے پر ڈھم ڈھمیاں رنگین بجیں\n\nنالہ کشی سے رات جو گلشن رشک بزم عشرت تھا\nمنقاریں مرغان چمن کی صبح تلک جوں بین بجیں\n\nتجھ سے نہ کہتا تھا میں زاہد مے خانے کی راہ نہ چل\nآخر تجھ پر رستے ہی میں تالیاں او بے دین بجیں\n\nمیں جو نشے میں رات ہوا غٹپٹ اس معشوق کی چھاتی ساتھ\nپازیبیں پاؤں کی اس کے کیا ہی بصد تمکین بجیں\n\nشمع رہی شب جب تک جلتی مجھ کو نہ آئی نیند ذرا\nجھانجھیں پروانے کے پروں کی بس کہ سر بالین بجیں\n\nبل بے مزاج نازک تیرا نیند اچٹ گئی اس گل کی\nبالیاں پتوں سے جو الجھ کر رات سر بالین بجیں\n\nوعدہ کر کے جب وہ نہ آیا سیر چمن کو دل نے کہا\nرات گئی چل باغ سے اب گھڑیاں تو کئی غمگین بجیں\n\nجی کا کڑھانا میرے تھا منظور مگر گھڑیالوں کی\nوصل کی شب جو تا بہ سحر گھڑیالیں بے آئین بجیں\n\nڈیڑھ پہر ٹھہروں گا یہ کہہ کہ یار مرے گھر آیا تھا\nپر گھبرا کے جانے کو اٹھا جوں ہی پہر پر تین بجیں\n\nبانگ حمیر سے کم وہ نہ سمجھا بس کہ نفیس مزاج تھا یار\nناقوسیں بت خانوں میں ہر چند بصد تزئین بجیں\n\nآئے بحتری ہو کے ملائک مر جو گیا عاشق تیرا\nنوبتیں کیا کیا شادی کی مرقد میں دم تلقین بجیں\n\nوصل کی شب آخر ہونے کا مصحفیؔ دھڑکا کیا میں کہوں\nجی ہی گیا بس تن سے نکل جب تین پہر پر تین بجیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%AF_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%88_%D9%85%D8%B1%D8%AF%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C%D9%86_%D8%A8%D8%AC%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بزم سے آخر شب ہے سفر جام شراب", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بزم سے آخر شب ہے سفر جام شراب\nشام غربت ہوئی ساقی سحر‌ جام شراب\n\nمست و سرشار کو سرشار سنبھالے کیا خاک\nنہ تھمی دست سبو سے کمر جام شراب\n\nکثرت مجمع اغیار سے محروم رہا\nنہ ہوا بزم میں مجھ تک گزر جام شراب\n\nمحتسب دے گا جواب اپنے ستم کا تو کیا\nکل جو کوثر پہ ہوا داد گر جام شراب\n\nیہ بھی اے محتسب اس لال پری کا ہے اثر\nاڑ کے پہنچی ہے جو تجھ تک خبر جام شراب\n\nبزم دشمن میں رہے آپ تو صوفی بن کر\nسرخ آنکھوں میں کہاں ہے اثر جام شراب\n\nنہیں معلوم کہ اے داغؔ ہے تو کس دھن میں\nنہ تلاش بت مہ وش نہ سر جام شراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%D8%B4%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا\nرکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا\n\nشب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا\nاِس تکلّف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا\n\nگرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب\nآستیں میں دشنہ پنہاں، ہاتھ میں نشتر کھلا\n\nگو نہ سمجھوں اس کی باتیں، گونہ پاؤں اس کا بھید\nپر یہ کیا کم ہے؟ کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا\n\nہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال\nخلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا\n\nمنہ نہ کھلنے پرہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں\nزلف سے بڑھ کر نقاب اُس شوخ کے منہ پر کھلا\n\nدر پہ رہنے کو کہا، اور کہہ کے کیسا پھر گیا\nجتنے عرصے میں مِرا لپٹا ہوا بستر کھلا\n\nکیوں اندھیری ہے شبِ غم، ہے بلاؤں کا نزول\nآج اُدھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا\n\nکیا رہوں غربت میں خوش، جب ہو حوادث کا یہ حال\nنامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا\n\nاس کی امّت میں ہوں مَیں، میرے رہیں کیوں کام بند\nواسطے جس شہ کے غالبؔ! گنبدِ بے در کھلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%B4%D8%A7%DB%81%D9%86%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7"} {"title": "بزم طرب وقت عیش ساقی و نقل و شراب", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بزم طرب وقت عیش ساقی و نقل و شراب\nکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب\n\nمجمع خوباں ولے زمزمۂ چنگ ولے\nکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب\n\nصحن چمن حسن گل ابر و ہوا شرب مل\nکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب\n\nعشرت صبح بہار سیر گل و لالہ زار\nکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب\n\nرقص بت غنچہ لب کثرت عیش و طرب\nکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب\n\nعشق کے عجز و نیاز حسن کے انداز و ناز\nکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب\n\nمستیٔ مے خانہ ہا گردش پیمانہ ہا\nکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب\n\nشادیٔ وصل بتاں صحبت مہ طلعتاں\nکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب\n\nغلغل کوس نشاط خوش دلی و انبساط\nکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب\n\nثروت مال و منال حشمت و جاہ و جلال\nکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب\n\nقصر و محل دل پذیر زینت و زیب اے نظیرؔ\nکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%B7%D8%B1%D8%A8_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%88_%D9%86%D9%82%D9%84_%D9%88_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "بزم عالم میں بہت سے ہم نے مارے ہاتھ پاؤں", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "بزم عالم میں بہت سے ہم نے مارے ہاتھ پاؤں\nتیری صورت کے نہ دیکھے پیارے پیارے ہاتھ پاؤں\n\nبحر الفت میں بہت سے ہم نے مارے ہاتھ پاؤں\nلگ رہے مانند خس آخر کنارے ہاتھ پاؤں\n\nعاشق موئے کمر کی لے خبر او بے خبر\nسوکھ کر تنکا ہوئے ہیں اس کے سارے ہاتھ پاؤں\n\nمیری خدمت سے نہایت خوش ہوا وہ بد مزاج\nوصل کی شب کام آئے اپنے بارے ہاتھ پاؤں\n\nبحر ہستی میں ملا ہم کو در مقصد نہ حیف\nموج کے مانند کیا کیا ہم نے مارے ہاتھ پاؤں\n\nوقت ذبح بولا یہ قاتل عاشق ناد شاد سے\nٹکڑے کر ڈالا کبھی تو نے جو مارے ہاتھ پاؤں\n\nکھیل رہتا ہے توکل پر مری اوقات کا\nچلتے پھرتے ہیں ہمارے بے سہارے ہاتھ پاؤں\n\nتیکھی تیکھی ان کی چتون بانکی بانکی ان کی چال\nبھولی بھولی ان کی صورت پیارے پیارے ہاتھ پاؤں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA"} {"title": "بزم میں جو ترا ظہور نہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بزم میں جو ترا ظہور نہیں\nشمع روشن کے منہ پہ نور نہیں\n\nکتنی باتیں بنا کے لاؤں ایک\nیاد رہتی ترے حضور نہیں\n\nخوب پہچانتا ہوں تیرے تئیں\nاتنا بھی تو میں بے شعور نہیں\n\nقتل ہی کر کہ اس میں راحت ہے\nلازم اس کام میں مرور نہیں\n\nفکر مت کر ہمارے جینے کا\nتیرے نزدیک کچھ یہ دور نہیں\n\nپھر جئیں گے جو تجھ سا ہے جاں بخش\nایسا جینا ہمیں ضرور نہیں\n\nعام ہے یار کی تجلی میرؔ\nخاص موسیٰ و کوہ طور نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہی", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہی\nوہیں معلوم کروں ہونٹ ہلائے تو سہی\n\nسنگ پر سنگ ہر اک کوچہ میں کھائے تو سہی\nپر بلا سے ترے دیوانے کھائے تو سہی\n\nگو جنازے پہ نہیں قبر پہ آئے وہ مری\nشکوہ کیا کیجے غنیمت ہے کہ آئے تو سہی\n\nکیونکہ دیوار پہ چڑھ جاؤں کوئی کہتا ہے\nپاؤں کاٹوں گا انگوٹھا وہ جمائے تو سہی\n\nپارۂ مصحف دل تھے ترے کوچہ میں پڑے\nآتے پاؤں کے تلے شکر کہ پائے تو سہی\n\nصاف بے پردہ نہیں ہوتا وہ غرفہ میں نہ ہو\nروزن در سے کبھی آنکھ لڑائے تو سہی\n\nگہ بڑھاتا ہے گہے مہ کو گھٹاتا ہے فلک\nپر شب ہجر کو ہم دیکھیں گھٹائے تو سہی\n\nکروں اک نالے سے میں حشر میں برپا سو حشر\nشور محشر مجھے سوتے سے جگائے تو سہی\n\nگر پڑے تھے کئی اس کوچے میں دل کے ٹکڑے\nآتے پاؤں کے تلے شکر کہ پائے تو سہی\n\nتھے تمہیں نکلے جو اس دام بلا سے اے ذوقؔ\nورنہ تھے پیچ میں اس زلف کے آئے تو سہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%DB%81_%D9%88%DB%81_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "بزمِ انجم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "سُورج نے جاتے جاتے شامِ سیہ قبا کو\nطشتِ اُفُق سے لے کر لالے کے پھُول مارے\nپہنا دیا شفَق نے سونے کا سارا زیور\nقُدرت نے اپنے گہنے چاندی کے سب اُتارے\nمحمل میں خامشی کے لیلائے ظُلمت آئی\nچمکے عروسِ شب کے موتی وہ پیارے پیارے\nوہ دُور رہنے والے ہنگامۂ جہاں سے\nکہتا ہے جن کو انساں اپنی زباں میں ’تارے‘\nمحوِ فلک فروزی تھی انجمن فلک کی\nعرشِ بریں سے آئی آواز اک ملَک کی\n\nاے شب کے پاسانو، اے آسماں کے تارو!\nتابندہ قوم ساری گردُوں نشیں تمھاری\nچھیڑو سرود ایسا، جاگ اٹھّیں سونے والے\nرہبر ہے قافلوں کی تابِ جبیں تمھاری\nآئینے قسمتوں کے تم کو یہ جانتے ہیں\nشاید سُنیں صدائیں اہلِ زمیں تمھاری\nرُخصت ہوئی خموشی تاروں بھری فضا سے\nوسعت تھی آسماں کی معمور اس نوا سے\n\n“حُسنِ ازل ہے پیدا تاروں کی دلبری میں\nجس طرح عکسِ گُل ہو شبنم کی آرسی میں\nآئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کُہن پہ اَڑنا\nمنزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں\nیہ کاروانِ ہستی ہے تیز گام ایسا\nقومیں کُچل گئی ہیں جس کی رواروی میں\nآنکھوں سے ہیں ہماری غائب ہزاروں انجم\nداخل ہیں وہ بھی لیکن اپنی برادری میں\nاک عمر میں نہ سمجھے اس کو زمین والے\nجو بات پا گئے ہم تھوڑی سی زندگی میں\nہیں جذبِ باہمی سے قائم نظام سارے\nپوشیدہ ہے یہ نُکتہ تاروں کی زندگی میں”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B2%D9%85%D9%90_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85"} {"title": "بس اب آپ تشریف لے جائیے", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "بس اب آپ تشریف لے جائیے\nجو گزرے گی مجھ پر گزر جائے گی\nطبیعت کو ہوگا قلق چند روز\nٹھہرتے ٹھہرتے ٹھہر جائے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3_%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D9%BE_%D8%AA%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81_%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "بس اس تقصیر پر اپنے مقدر میں ہے مر جانا", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بس اس تقصیر پر اپنے مقدر میں ہے مر جانا\nتبسم کو تبسم کیوں نظر کو کیوں نظر جانا\n\nخرد والوں سے حسن و عشق کی تنقید کیا ہوگی\nنہ افسون نگہ سمجھا نہ انداز نظر جانا\n\nمئے گلفام بھی ہے ساز عشرت بھی ہے ساقی بھی\nبہت مشکل ہے آشوب حقیقت سے گزر جانا\n\nغم دوراں میں گزری جس قدر گزری جہاں گزری\nاور اس پر لطف یہ ہے زندگی کو مختصر جانا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3_%D8%A7%D8%B3_%D8%AA%D9%82%D8%B5%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "بس اک شعاع نور سے سایہ سمٹ گیا", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بس اک شعاع نور سے سایہ سمٹ گیا\nوہ پاس آ رہا تھا کہ میں دور ہٹ گیا\n\nپھر درمیان عقل و جنوں جنگ چھڑ گئی\nپھر مجمع خواص گروہوں میں بٹ گیا\n\nکیا اب بھی تیری خاطر نازک پہ بار ہوں\nپتھر نہیں کہ میں ترے رستے سے ہٹ گیا\n\nیا اتنا سخت جان کہ تلوار بے اثر\nیا اتنا نرم دل کہ رگ گل سے کٹ گیا\n\nوہ لمحۂ شعور جسے جاں کنی کہیں\nچہرے سے زندگی کی نقابیں الٹ گیا\n\nاب کون جائے کوئے ملامت سے لوٹ کر\nقدموں سے آ کے اپنا ہی سایہ لپٹ گیا\n\nآخر شکیبؔ خوئے ستم اس نے چھوڑ دی\nذوق سفر کو دیکھ کے صحرا سمٹ گیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3_%D8%A7%DA%A9_%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B9_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%A7%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D9%85%D9%B9_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بس اے فلک نشاط دل کا انتقام ہو چکا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بس اے فلک نشاط دل کا انتقام ہو چکا\nہنسا تھا جس قدر کبھی زیادہ اس سے رو چکا\n\nنہ ذکر انبساط کر کہ دور عیش ہو چکا\nخوشی کی فکر کس لیے وہ دل کہاں جو کھو چکا\n\nیہ خندۂ طرب نما مبارک اہل دہر کو\nبہت زمانہ ہو گیا کہ میں ہنسی کو رو چکا\n\nوفا جو زندگی میں تھی وہی ہے بعد مرگ بھی\nیہ امتحان رہ گیا وہ امتحان ہو چکا\n\nنہ دم لے اے سرشک غم تجھے قسم ہے عشق کی\nفلک کو چھوڑتا ہے کیوں اگر مجھے ڈبو چکا\n\nرہے وہ دل میں مدتوں مگر سنبھل سکا نہ میں\nمزاج حسن و عشق کو بہت دنوں سمو چکا\n\nیہ آشیانۂ ستم چمن میں ہو تو خوب ہے\nیہ جی میں ہے کہ لے اڑوں قفس تو میرا ہو چکا\n\nخبر نہیں یہ جاگنا ہے زیست تک کہ بعد بھی\nجو ساتھ دل رہا یہی تو میں لحد میں سو چکا\n\nنکل کے راہ عشق سے کسی طرف چلوں تو کیا\nکہاں سے لاؤں جان و دل یہ دے چکا وہ کھو چکا\n\nیہ تو نہیں کہ وعدۂ وفا کو روندتا پھرے\nیہ میں ہوں سرفروش دل جو کہہ دیا وہ ہو چکا\n\nیہ ثاقبؔ ایک سلک ہے خزانہ ہائے راز کی\nگہر وہ شاہوار ہیں جنہیں میں یوں پرو چکا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3_%D8%A7%DB%92_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D8%B7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D9%82%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%D8%A7"} {"title": "بس تمنا ہے عشق مولیٰ میں", "poet_page": "مصنف:ماتم فضل محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بس تمنا ہے عشق مولیٰ میں\nکہ مروں میں یہی تمنا میں\n\nعشق خوباں نہیں ہے ایسی شے\nباندھ کر رکھئے جس کو پڑیا میں\n\nرخ افشاں میں تیرے عالم نور\nنم قمر میں ہے نم ثریا میں\n\nید بیضا کا ہے خیال آتا\nدیکھ مہندی ترے کف پا میں\n\nتیرے بیمار ہجر اے محبوب\nنہ تو موتی میں ہیں نہ احیا میں\n\nوحدہ لا شریک لہ ہے تو\nتجھ سا دنیا میں ہے نہ عقبیٰ میں\n\nتجھ کو کیوں کر کہیں ہم ہرجائی\nنور تو جلوہ گر ہے ہر جا میں\n\nکیا کہوں دن کو کس قدر رویا\nرات دلبر کو دیکھ رویا میں\n\nعشق لگتے ہی ہو گیا معلوم\nحال مجنوں عشق لیلیٰ میں\n\nمرض عشق حسن خوباں کا\nمرگ درماں ہے نام حکما میں\n\nحاصل الامر ہم ہوئے بدنام\nعشق حسن بتان زیبا میں\n\nرخ یوسف سے رخ مشابہ ہے\nلب ہیں ملتے لب مسیحا میں\n\nآب باراں سے گر نہ پائے مدد\nخاک پڑ جائے چشم دریا میں\n\nیہ دعا حق سے ہے مرا ماتمؔ\nدفن ہو کربلائے معلیٰ میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%B0_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بس حرص و ہوا سے میرؔ اب تم بھاگو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بس حرص و ہوا سے میرؔ اب تم بھاگو\nغفلت کب تک کہے ہمارے لاگو\nچلنے سے خبر دے ہے سفیدی مو کی\nہونے آئی ہے صبح اب تو جاگو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3_%D8%AD%D8%B1%D8%B5_%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%DA%AF%D9%88"} {"title": "بس خاک قدم دیجئے تکرار بہت کی", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بس خاک قدم دیجئے تکرار بہت کی\nمٹی مری اس خاک نے ہی خوار بہت کی\n\nچڑ مجھ کو تجھے ریجھ کے تکرار بہت کی\nخوش رہ کہ خوشامد تری اے یار بہت کی\n\nہرگز نہ گئی پیش نہ آیا مہ بے مہر\nہر چند کہ زاری پس دیوار بہت کی\n\nلائی کشش دل ہی تمہیں تم نے تو ورنہ\nیہاں آنے میں اک عمر تلک عار بہت کی\n\nاس چشم نے دیکھا دل بیمار کو میرے\nبیمار نے کل خاطر بیمار بہت کی\n\nابرو کی تصور میں ہوا قتل مرا دل\nپھل کیوں نہ ملے مرد تھا تلوار بہت کی\n\nعشاق میں میں ہی ہدف تیر ہوں اس کا\nعظمت ہی یہی خدمت سرکار بہت کی\n\nاس طرح کا بے دید تو غم ہوگا جہاں میں\nکی ہم نے بھی ہے دید طرحدار بہت کی\n\nصورت تری آگے ہی بھبوکا تھی ولیکن\nزلفوں کے بکھرنے نے دھواندھار بہت کی\n\nیہاں آٹھ پہر جنس سے وفا ہم نے دکھائی\nدیکھا نہ خریدار تو ناچار بہت کی\n\nیا رب نہ رہے نام جدائی کہ رہ عشق\nآسان تھی پر اس نے ہی دشوار بہت کی\n\nمعلوم کوئی دن کو تجھے ہوگی حقیقت\nکم اس ترے اقرار کی انکار بہت کی\n\nہر چند کہ خط سے بھی دھواں شکل ہے اے مہ\nپر خط کی نہ رکھنے نے نمودار بہت کی\n\nگھر میں نہ ترے کود سکا رات گئے میں\nہاں اپنی سی تدبیر تو اے یار بہت کی\n\nبہبود کے آثار نہ دیکھے کبھو ہرگز\nجس شخص نے اونچی تری دیوار بہت کی\n\nکم ہم سا خریدار بہم پہنچے گا اس کو\nکیوں عشق نے جنس غم بسیار بہت کی\n\nبولا سر منصور سر دار پہ احساںؔ\nحق ہے کہ سزا وار تھے پندار بہت کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%82%D8%AF%D9%85_%D8%AF%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D8%AA%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "بس دل کا غبار دھو چکے ہم", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بس دل کا غبار دھو چکے ہم\nرونا تھا جو کچھ سو رو چکے ہم\n\nتم خواب میں بھی نہ آئے پھر ہائے\nکیا خواب میں عمر کھو چکے ہم\n\nہونے کی رکھیں توقع اب خاک\nہونا تھا جو کچھ سو ہو چکے ہم\n\nکہسار پہ چل کے روئیے اب\nصحرا تو بہت ڈبو چکے ہم\n\nپھر چھیڑا حسنؔ نے اپنا قصہ\nبس آج کی شب بھی سو چکے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%BA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DA%BE%D9%88_%DA%86%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "بس کہ آغازِ محبت میں ہوا کام اپنا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بس کہ آغازِ محبت میں ہوا کام اپنا\nپوچھتے ہیں ملک الموت سے انجام اپنا\n\nعمر کٹتی ہے تصور میں رخ و کاکل کے\nرات دن اور ہے، اے گردشِ ایام اپنا\n\nواں یہ قدغن کہ نہ آوازِ فغاں بھی پہنچے\nیاں یہ شورش کہ گزارا ہو لبِ بام اپنا\n\nان سے نازک کو کہاں گرمیِ صحبت کی تاب\nبس کلیجا نہ پکا اے طمعِ خام اپنا\n\nتپشِ دل کے سبب سے ہے مجھے خواہشِ مرگ\nکون ہے جس کو نہ منظور ہو آرام اپنا\n\nبادہ نوشی سے ہماری، جو لہو خشک ہوا\nخونِ اغیار سے لبریز ہے کیا جام اپنا\n\nلطف سمجھوں تو بجا، جور بھی سمجھوں تو درست\nتم نے بھیجا ہے مرے پاس جو ہم نام اپنا\n\nذکرِ عشاق سے آتی ہے جو غیرت اس کو\nآپ عاشق ہے مگر وہ بتِ خود کام اپنا\n\nتاب بوسے کی کسے شیفتہ وہ دیں بھی اگر\nکر چکی کام یہاں لذتِ دشنام اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2%D9%90_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "بس کہ اک جنس رائیگاں ہوں میں", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بس کہ اک جنس رائیگاں ہوں میں\nجتنا ارزاں بکوں گراں ہوں میں\n\nنہ یہاں اور نہ اب وہاں ہوں میں\nکیا بتاؤں تمہیں جہاں ہوں میں\n\nیاد میں ہے کسی کی استغراق\nکون پہنچے وہاں جہاں ہوں میں\n\nمدد اے نغمہ سنجیٔ بلبل\nکب سے گم کردہ آشیاں ہوں میں\n\nڈھب ہے یہ یار تک پہنچنے کا\nکاش قاصد ہی کا بیاں ہوں میں\n\nنے کی مانند خشک ہیں اعضا\nکیوں نہ سر تا بہ پا فغاں ہوں میں\n\nلطف پایا ہے خاکساری میں\nہوں زمیں گو کہ آسماں ہوں میں\n\nکس نے جلوہ دکھا دیا ہے آج\nزمزمہ سنج الاماں ہوں میں\n\nتا کجا تیز گامیاں بس کر\nتوسن شوق ہم عناں ہوں میں\n\nگرد دیتی ہے کارواں کا پتا\nیادگار گزشتگاں ہوں میں\n\nجان کیوں کر نثار مقدم ہو\nاب وہ آئے کہ نیم جاں ہوں میں\n\nکیا نہیں یاد برق کا گرنا\nپھر بناتا جو آشیاں ہوں میں\n\nیہ سفر دیکھیے کہاں ہو تمام\nمثل ریگ رواں رواں ہوں میں\n\nکوئی اس عہد میں نہیں ہے شفیق\nآپ اپنے پہ مہرباں ہوں میں\n\nدیکھ پچھتائے گا نہ لے کے مجھے\nمایۂ نازش دکاں ہوں میں\n\nعشق میں سو بلائیں لیں سر پر\nاپنے حق میں خود آسماں ہوں میں\n\nقدر کیوں خوان دہر پر ہو مری\nسچ ہے نا خواندہ مہماں ہوں میں\n\nاول شب ہی ہجر میں ان کے\nڈھونڈھتا خنجر و سناں ہوں میں\n\nنہ ٹلا اس کے در سے اے مجروحؔ\nدوسرا سنگ آستاں ہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%DA%A9_%D8%AC%D9%86%D8%B3_%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بس کہ فعال ما یرید ہے آج", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "بس کہ فعال ما یرید ہے آج\nہر سلح شور انگلستاں کا\nگھر سے بازار میں نکلتے ہوئے\nزہرہ ہوتا ہے آب انساں کا\nچوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے\nگھر بنا ہے نمونہ زنداں کا\nشہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاک\nتشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا\nکوئی واں سے نہ آ سکے یاں تک\nآدمی واں نہ جا سکے یاں کا\nمیں نے مانا کہ مل گئے پھر کیا\nوہی رونا تن و دل و جاں کا\nگاہ جل کر کیا کیے شکوہ\nسوزش داغ ہائے پنہاں کا\nگاہ رو کر کہا کیے باہم\nماجرا دیدہ ہائے گریاں کا\nاس طرح کے وصال سے یا رب\nکیا مٹے دل سے داغ ہجراں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3_%DA%A9%DB%81_%D9%81%D8%B9%D8%A7%D9%84_%D9%85%D8%A7_%DB%8C%D8%B1%DB%8C%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "بس کہ نکلی نہ کوئی جی کی ہوس", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بس کہ نکلی نہ کوئی جی کی ہوس\nاب ہوں میں اور بے دلی کی ہوس\n\nکہ رہے دل نہ بے قراریِ دل\nعاشقی ہو نہ عاشقی کی ہوس\n\nوہ ستمگر بھی ہے عجیب کوئی\nکیوں ہوئی دل کو پھر اسی کی ہوس\n\nپھرتی رہتی ہے آدمی کو لئے\nخوار دنیا میں آدمی کی ہوس\n\nدونوں یکساں ہیں بے خودی میں ہمیں\nفکرِ غم ہے نہ خمریِ کی ہوس\n\nواقفِ لذّتِ جنوں جو ہوا\nنہ رہی اس کو آگہی کی ہوس\n\nان کو دیکھا ہے جب سے گرمِ عتاب\nآرزو کو ہے خود کشی کی ہوس\n\nکر سکیں بھی تو ہم فقیر ترے\nنہ کریں تاجِ خسرویِ کی ہوس\n\nہجرِ ساقی کے دور میں حسرت\nاب نہ مے ہے نہ مے کشی کی ہوس", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%B3"} {"title": "بس کہ چوں بدر زمانہ یہ گھٹاتا ہے مجھے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بس کہ چوں بدر زمانہ یہ گھٹاتا ہے مجھے\nدن بدن اور ہی عالم نظر آتا ہے مجھے\n\nحسن نیرنگی عالم کا عجب رنگ سے کچھ\nعین نیرنگی میں سو رنگ دکھاتا ہے مجھے\n\nاتنا معلوم تو ہوتا ہے کہ جاتا ہوں کہیں\nکوئی ہے مجھ میں کہ مجھ سے لئے جاتا ہے مجھے\n\nیاد میں کس کی کروں مجھ کو کہاں ہوش و حواس\nاپنی ہی یاد سے یہ عشق بھلاتا ہے مجھے\n\nطرفہ عالم ہے کہ ہر ایک سے وہ مایہ ناز\nآپ رہتا ہے الگ اور بھڑاتا ہے مجھے\n\nچھوڑ کر مجھ کو وہ تنہا کوئی جاتا ہے کہیں\nیہ بھی اک چھیڑ ہے اس کو کہ کڑھاتا ہے مجھے\n\nمجھ کو کیوں کھینچے لئے جائے ہے تقصیر مری\nعمر ٹک رہ تو سہی کون بلاتا ہے مجھے\n\nمجھ میں اور دل میں سدا ہے سبق عشق کا درس\nمیں سناتا ہوں اسے اور وہ سناتا ہے مجھے\n\nمیرے ناخونوں میں میں تجھ سے کئے چار ابرو\nاپنی کیا تیغ سے ہر دم تو ڈراتا ہے مجھے\n\nطائر رنگ حنا ہوں تو لگوں تیرے ہاتھ\nچٹکیوں میں تو عبث یار اڑاتا ہے مجھے\n\nتجھ کو منظور جفا مجھ کو ہے مطلوب وفا\nنہ یہ بھاتا ہے تجھے اور نہ وہ بھاتا ہے مجھے\n\nجو مری چڑھ ہے اسی بات کا ہے تجھ کو ذوق\nآہ تو دیدہ و دانستہ کھجاتا ہے مجھے\n\nپھر پھر آئینہ میں منہ دیکھنے لگتا ہے حسنؔ\nایک دم آپ میں وہ شوخ جو پاتا ہے مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3_%DA%A9%DB%81_%DA%86%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%AF%D8%B1_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%8C%DB%81_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "بس گیا جب سے یار آنکھوں میں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بس گیا جب سے یار آنکھوں میں\nتب سے پھولی بہار آنکھوں میں\n\nنظر آنے سے رہ گیا از بس\nچھا گیا انتظار آنکھوں میں\n\nچشم بد دور خوب لگتا ہے\nطوتیائے نگار آنکھوں میں\n\nچشم مست اس کی دیکھی تھی اک روز\nاس کا کھینچا خمار آنکھوں میں\n\nمجھ کو منظور ہے حسنؔ جو ملے\nخاک پائے نگار آنکھوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بس ہم ہیں شب اور کراہنا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بس ہم ہیں شب اور کراہنا ہے\nیہ اور طرح کا چاہنا ہے\n\nہے وعدۂ وصل آج مجھ کو\nاسباب طرب بساہنا ہے\n\nہیں ناوک غمزہ گرچہ کاری\nمیرا ہی جگر سراہنا ہے\n\nدنیا ہے سرائے فانی اس میں\nجو آیا ہے یاں سو پاہنا ہے\n\nچتون میں کہے ہے یوں وہ مغرور\nتجھ سے مجھے کیا نباہنا ہے\n\nاے مصحفیؔ دل رہا ہے پیچھے\nاس کو بھی ذرا نباہنا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3_%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A8_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "بسا اوقات آ جاتے ہیں دامن سے گریباں میں", "poet_page": "مصنف:سائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بسا اوقات آ جاتے ہیں دامن سے گریباں میں\nبہت دیکھے ہیں ایسے جوش اشک چشم گریاں میں\n\nنہیں ہے تاب ضبط غم کسی عاشق کے امکاں میں\nدل خوں گشتہ یا دامن میں ہوگا یا گریباں میں\n\nمبارک بادیہ گردو بہار آئی بیاباں میں\nنمود رنگ گل ہے ہر سر خار مغیلاں میں\n\nزیادہ خوف رسوائی نہیں ہے سوز پنہاں میں\nدھواں ہوتا ہے لیکن کم چراغ زیر داماں میں\n\nہمیشہ پی کے مے جام و صراحی توڑ دیتا ہوں\nنہ میرا دل ترستا ہے نہ فرق آتا ہے ایماں میں\n\nمزہ کیوں کاوش زخم جگر کا آج کم کم ہے\nنمک کی کوئی چٹکی رہ گئی ہوگی نمکداں میں\n\nجناب قیس نے دل سے بھلایا دونوں عالم کو\nجنوں کے چار حرفوں کا سبق لیکر دبستاں میں\n\nبہار آئی ملا یہ حکم مجھ کو اور بلبل کو\nکہ وہ کاٹے قفس میں خاک چھانوں میں بیاباں میں\n\nترنم ریزیاں بزم سخن میں سن کے سائلؔ کی\nگماں ہوتا ہے بلبل کے چہکنے کا گلستاں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D9%82%D8%A7%D8%AA_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی\nسو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی\n\nرہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلّف سے\nتکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی\n\nخیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشے\nمرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھی\n\nنہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم\nکہ ہو گا باعثِ افزائشِ دردِ دروں وہ بھی\n\nنہ اتنا بُرّشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤ\nمرے دریائے بیتابی میں ہے اک موجِ خوں وہ بھی\n\nمئے عشرت کی خواہش ساقیِ گردوں سے کیا کیجے\nلیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی\n\nمجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے\nکہیں ہو جائے جلد اے گردشِ گردونِ دوں، وہ بھی!\n\nنظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کو آنے کا\nکہ میری خواب بندی کے لیے ہو گا فسوں وہ بھی\n\nمرے دل میں ہے غالبؔ شوقِ وصل و شکوۂ ہجراں\nخدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں، وہ بھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3%D8%A7%D8%B7_%D8%B9%D8%AC%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%84_%DB%8C%DA%A9_%D9%82%D8%B7%D8%B1%DB%81_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "بست و یکم ماہ محرم ہے آج", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بست و یکم ماہ محرم ہے آج\nجس آنکھ کو دیکھیے وہ پر نم ہے آج\nعاشور سے بے دفن ہے لاشہ جس کا\nاس بے کفن و گور کا ماتم ہے آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3%D8%AA_%D9%88_%DB%8C%DA%A9%D9%85_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "بستر نرم پر وہ سوتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر مظفر حسین ضمیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بستر نرم پر وہ سوتا ہے\nیاں پس خیمہ کوئی روتا ہے\n\nدھیان مژگان آب دار کا آہ\nدل میں اک نیشتر چبھوتا ہے\n\nوصل اس کا نہ پائے گا اے دل\nکیوں عبث اپنی جان کھوتا ہے\n\nقطرۂ اشک کا اثر دیکھو\nکہ کدورت دلوں کی دھوتا ہے\n\nجسے کہتے ہیں یاں سمندر سب\nمیرے اشکوں کا ایک سوتا ہے\n\nتو تو غرق محیط عشق ہوا\nہاں دلا مجھ کو کیوں ڈبوتا ہے\n\nہو شب وصل طالب و مطلوب\nکیا زمانے میں یوں بھی ہوتا ہے\n\nشعر کہتا ہے اس طرح کے ضمیرؔ\nجیسے موتی کوئی پروتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%B1_%D9%86%D8%B1%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "بستی تجھ بن اجاڑ سی ہے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "بستی تجھ بن اجاڑ سی ہے\nکمبخت یہ شب پہاڑ سی ہے\n\nشاید کہ ہوئی سرایت عشق\nکچھ سینہ میں چیر پھاڑ سی ہے\n\nہر چند کہ بولتے نہیں وہ\nباہم پر چھیڑ چھاڑ سی ہے\n\nسو رہتے ہیں ایک ساتھ لیکن\nتلوار کے بیچ آڑ سی ہے\n\nانشا اللہ شاید آیا\nاس کوچہ میں بھیڑ بھاڑ سی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D9%86_%D8%A7%D8%AC%D8%A7%DA%91_%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "بستی کی لڑکیوں کے نام", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "چل اے نسیم صحرا روح و روان صحرا\nمیرا پیام لے جا سوئے بتان صحرا\n\nصحرائی مہوشوں کی خدمت میں جا کے کہنا\nبھولے نہیں تمہیں ہم اے دختران صحرا\n\nگر بس چلے تو آئیں اور درد دل سنائیں\nتم کو گلے لگائیں ہم پھر میان صحرا\n\nتم نجد میں پریشاں شہروں میں ہم ہیں حیراں\nاللہ کی اماں ہو تم پر بتان صحرا\n\nتم اس طرح غموں سے بے حال ہو رہی ہو\nہم اس طرف ہیں مضطر دامن کشان صحرا\n\nہم پاس آئیں کیوں کر تم کو بلائیں کیوں کر\nیہ دکھ مٹائیں کیوں کر واماندگان‌ صحرا\n\nبیتاب ہیں الم سے بے خواب رنج و غم سے\nکیا پوچھتی ہو ہم سے اے دلبران صحرا\n\nتم یاد کر رہی ہو بیداد کر رہی ہو\nبرباد کر رہی ہو اے گلرخان‌ صحرا\n\nیہ کیا کہا کہ تم ہو رنگینیوں کے خوگر\nغمگیں ہیں تم سے بڑھ کر اے غمکشان‌ صحرا\n\nیہ رات یہ گھٹائیں یہ شور یہ ہوائیں\nبچھڑے ہوئے ملیں گے کیوں کر میان صحرا\n\nشہروں کی زندگی سے ہم تنگ آ چکے ہیں\nصحرا میں پھر بلا لو اے ساکنان صحرا\n\nیاد‌ سموم ہو یا سرسر کے تند طوفاں\nڈرتے نہیں کسی سے دلدادگان صحرا\n\nآبادیوں میں حاصل آزادیاں نہیں ہیں\nآ جاؤ تم ہی اڑ کر او طائران صحرا\n\nصحرا کی وسعتوں میں ہم کو نہ بھول جانا\nاو دختران صحرا او آہوان صحرا\n\nاے ابر چپ نہ رہنا میرا فسانہ کہنا\nمل جائے گر کہیں وہ سرو روان صحرا\n\nدشتی کی دھن میں ساقی اک نغمۂ عراقی\nہاں پھر سنا بیاد گل چہرگان صحرا\n\nآنکھوں میں بس رہا ہے نقش بتان صحرا\nاو داستاں سرا چھیڑ اک داستان صحرا\n\nمستانہ جا رہا ہے پھر کاروان صحرا\nہاں جھوم کر حدی خواں اک داستان صحرا\n\nدیہات کی فضائیں آنکھوں میں پھر رہی ہیں\nدل میں سما رہی ہے یاد بتان صحرا\n\nنظروں پہ چھا رہا ہے وہ چاندنی کا منظر\nصحرا میں کھیلتی تھیں جب حوریان صحرا\n\nوہ چاندنی کا موسم وہ بے خودی کا عالم\nوہ نور کا سمندر ریگ روان صحرا\n\nجلوے مہ‌ جواں کے وہ رنگ کارواں کے\nوہ نغمے سارباں کے رقصاں میان صحرا\n\nکیوں کر نہ یاد آئیں وہ سیم گوں فضائیں\nوہ آسمان صحرا ماہ روان صحرا\n\nوہ کم سنوں کے گانے وہ کھیل وہ ترانے\nبے فکری کے فسانے ورد زبان صحرا\n\nکھیتوں میں گھومتے تھے ہر گل کو چومتے تھے\nمستی میں جھومتے تھے جب میکشان صحرا\n\nوہ گاؤں وہ فضائیں وہ فصل وہ ہوائیں\nوہ کھیت وہ گھٹائیں وہ آسمان صحرا\n\nپھر یاد آ رہی ہیں پھر دل دکھا رہی ہیں\nمجنوں بنا رہی ہیں لیلیٰ وشان صحرا\n\nراتوں کو چھپ کے آنا اور شانے کو ہلانا\nہے یاد وہ جگانا ہم کو میان صحرا\n\nوہ ان کی شوخ آنکھیں وہ ان کی سادہ نظریں\nبے خود بنا رہی ہیں دوشیزگان صحرا\n\nوہ عشق پیشہ ہوں میں جس کے جوان نغمے\nگاتا ہے چاندنی میں ہر نوجوان صحرا\n\nاک بدویت کا عاشق صحرائیت سے بے خود\nاخترؔ بھی اپنی دھن میں ہے اک جوان صحرا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%DA%91%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85"} {"title": "بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کی", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کی\nوسعتیں ان میں وہی لائے ہیں ویرانوں کی\n\nکل گنے جائیں گے زمرے میں ستم رانوں کے\nخیر مانگیں گے اگر آج ستم رانوں کی\n\nخواب باطل بھی تو ہوتے ہیں تن آسانوں کے\nسعیٔ مشکور بھی ہوتی ہے گراں جانوں کی\n\nزخم شاکی ہیں ازل سے نمک افشانوں کے\nبات رکھی گئی ہر دور میں پیکانوں کی\n\nوہ بنا ساز بھی ہوتے ہیں گلستانوں کے\nخاک جو چھانتے پھرتے ہیں بیابانوں کی\n\nٹکڑے جو گنتے ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے\nجان بن جاتے ہیں آخر وہی مے خانوں کی\n\nتیور آتے ہیں حقیقت میں بھی افسانوں کے\nکچھ حقیقت بھی ہوا کرتی ہے افسانوں کی\n\nہو بھی جاتے ہیں رفو چاک گریبانوں کے\nتنگ بھی ہوتی ہے پہنائیاں دامانوں کی\n\nعبرت آباد بھی دل ہوتے ہیں انسانوں کے\nداد ملتی بھی نہیں خوں شدہ ارمانوں کی\n\nذرے زندان ملامت بھی ہیں ویرانوں کے\nدر بنا کرتی ہیں دیواریں ہی زندانوں کی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%85%D9%86%D9%88%D9%86_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہے", "poet_page": "مصنف:ماہ لقا بائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہے\nخدا کے فضل سے عیش و طرب کی اب کمی کیا ہے\n\nبیاں میں کیا کروں اس کے شبستاں کا تعالی اللہ\nقضا و قدر جس کے جشن کا اب کار فرما ہے\n\nسخاوت میں کوئی ہم سر نہ ہو اس کا زمانہ میں\nوہی کرتا ہے پورا جس کے دل میں جو ارادہ ہے\n\nخضر کی عمر ہو اس کی تصدق سے ائمہ کے\nنظام الدولہ آصف جاه جو سب کا مسیحا ہے\n\nبہی خوان کرم سے ہے صدا امید چنداؔ کو\nکسی کی بھی نہ ہو محتاج تم سے یہ تمنا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3%D9%86%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%AC_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%B5%DB%81%D8%A8%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "بسنت اور ہولی کی بہار", "poet_page": "مصنف:افق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ساقی کچھ آج تجھ کو خبر ہے بسنت کی\nہر سو بہار پیش نظر ہے بسنت کی\n\nسرسوں جو پھول اٹھی ہے چشم قیاس میں\nپھولے پھلے شامل ہیں بسنتی لباس میں\n\nپتے جو زرد زرد ہیں سونے کے پات ہیں\nصدبرگ سے طلائی کرن پھول مات ہیں\n\nہیں چوڑیوں کی جوڑ بسنتی کلائی میں\nبن کے بہار آئی ہے دست حنائی میں\n\nمستی بھرے دلوں کی امنگیں نہ پوچھیے\nکیا منطقیں ہیں کیا ہیں ترنگیں نہ پوچھئے\n\nماتھے پہ حسن خیز ہے جلوہ گلال کا\nبندی سے اوج پر ہے ستارہ جمال کا\n\nگیندوں سے مائل گل بازی حسین ہیں\nسر کے ابھار پر سے دوپٹے مہین ہیں\n\nعکس نقاب زینت رخسار ہو گیا\nزیور جو سیم کا تھا طلا کار ہو گیا\n\nسرسوں کے لہلہاتے ہیں کھیت اس بہار میں\nنرگس کے پھول پھول اٹھے لالہ زار میں\n\nآواز ہے پپیہوں کی مستی بھری ہوئی\nطوطی کے بول سن کے طبیعت ہری ہوئی\n\nکوئل کے جوڑے کرتے ہیں چہلیں سرور سے\nآتے ہیں تان اڑاتے ہوئے دور دور سے\n\nبور آم کے ہیں یوں چمن کائنات میں\nموتی کے جیسے گچھے ہوں زر کار پات میں\n\nبھیروں کی گونج مست ہے ہر کشت زار میں\nبنسی بجاتے کشن ہے گویا بہار میں\n\nکیسر کسوم کی خوب دل افزا بہار ہے\nگیندوں کی ہر چمن میں دو رویہ قطار ہے\n\nاک آگ سی لگائی ہے ٹیسو نے پھول کے\nکیا زرد زرد پھول کھلے ہیں ببول کے\n\nہے اسٹ دیوتاؤ کے مندر سجے ہوئے\nہیں زرد زرد پھولوں سے کل در سجے ہوئے\n\nبس دیو جی کے لال کی جھانکی عجیب ہے\nآنند بے حساب دلوں کو نصیب ہے\n\nبنسی جڑاؤ سونے کی لب سے ملی ہوئی\nدل کی کلی کلی ہے نظر میں کھلی ہوئی\n\nپیتامبر نفیس کمر میں کسا ہوا\nخوشبو سے ہار پھول کی مندر بسا ہوا\n\nشانوں پہ بل پڑے ہوئے زلف سیاہ کے\nرادھا سے بار بار اشارے نگاہ کے\n\nبانکی ادائیں دیکھ کے دل لوٹ پوٹ ہے\nرتکام استری کے کلیجے پہ چوٹ ہے\n\nکانوں میں کنڈلوں کی چمک ہے جڑاؤ سے\nرادھا لجائی جاتی ہے چنچل سبھاؤ سے\n\nپیاری کا ہاتھ اپنی بغل میں لیے ہوئے\nآنکھیں شراب حسن جوانی پیے ہوئے\n\nدل رادھکا کا بادۂ الفت سے چور ہے\nکہنی سے ٹھیلنے کی ادا کا ظہور ہے\n\nچپکی کھڑی ہے کشن کے رخ پر نگاہ ہے\nہے پہلوئے جگر میں جگہ دل میں راہ ہے\n\nالفت بھری جو بنسی کی جانب نظر گئی\nگویا بسنت کی راگ کی دھن مست کر گئی\n\nاس چھب پہ اس سنگار پہ دل سے نثار افقؔ\nقربان ایک بار نہیں لاکھ بار افقؔ\n\nاے کشن ناظریں کو مبارک بسنت ہو\nکھیلا جو اپنے وہ ابد تک بسنت ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3%D9%86%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1"} {"title": "بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا\nآدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا\n\nگریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی\nدر و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا\n\nوائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو\nآپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا\n\nجلوہ از بس کہ تقاضائے نگہ کرتا ہے\nجوہر آئنہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا\n\nعشرت قتل گہہ اہل تمنا مت پوچھ\nعید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا\n\nلے گئے خاک میں ہم داغ تمنائے نشاط\nتو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا\n\nعشرت پارۂ دل زخم تمنا کھانا\nلذت ریش جگر غرق نمکداں ہونا\n\nکی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ\nہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا\n\nحیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ\nجس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D8%B4%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہے", "poet_page": "مصنف:اشرف علی فغاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہے\nدامن وصل بھی آلودۂ مایوسی ہے\n\nہے کہاں بوئے وفا اس دہن شیریں میں\nغنچہ لب تیری زباں ہم نے بہت چوسی ہے\n\nیار گو خون مرا مثل حنا ہو پامال\nلیکن اپنے تئیں منظور قدم بوسی ہے\n\nدل مرا خاک شگفتہ ہو چمن میں جا کر\nگل میں یہ رنگ کہاں ایک تری بو سی ہے\n\nایک دن زلف کے منہ پر نہ چڑھی یہ کافر\nیاد کاکل کو فقط شیوۂ جاسوسی ہے\n\nوہ سجی تیغ کہ دم میں کرے لاکھوں کو قتل\nکون کہتا ہے میاں تیری کمر مو سی ہے\n\nشیخ روتا ہے اسے سن کے برہمن یکسو\nپر اثر بس کہ مرا نالۂ ناقوسی ہے\n\nچشم نمناک نے از بسکہ بجھایا اس کو\nآتش عشق کہاں دل میں مگر لو سی ہے\n\nاے فغاںؔ عشق کہاں دل میں بقول منتؔ\nہاں یہ سچ ملنے کی خوباں سے تو اک خو سی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B3%DA%A9%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D9%82%D8%AF%D9%88%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "بشر روز ازل سے شیفتہ ہے شان و شوکت کا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بشر روز ازل سے شیفتہ ہے شان و شوکت کا\nعناصر کے مرقع میں بھرا ہے نقش دولت کا\n\nازل کے دن سے غم مشتاق تھا جو میری خلقت کا\nبنایا آنسوؤں سے گوندھ کر پتلا کدورت کا\n\nمقدر نے دیا ہے ہاتھ میں کاسہ ہلاکت کا\nگدا ہوں اس پری پیکر کا جو ٹکڑا ہے آفت کا\n\nرہے سینہ سپر ہر دم یہ جوہر ہے محبت کا\nکبھی لوہا نہ مانا یار کی تیغ عداوت\n\nدکھایا اس نے بن ٹھن کر وہ جلوہ اپنی صورت کا\nکہ پانی پھر گیا آئینے پر دریاے حیرت کا\n\nخدا آباد رکھے لکھنؤ کے خوش مزاجوں کو\nہر اک گھر خانۂ شادی ہے ہر کوچہ ہے عشرت کا\n\nشب وصلت تو جاتے جاتے اندھا کر گئی مجھ کو\nتم اب بہرا کرو صاحب سنا کر نام رخصت کا\n\nمرے جس پر نہ چار آنسو بہائے اس نے مردے پر\nہوا ثابت کہ پانی بہہ گیا چشم مروت کا\n\nجلائے دوست یا ٹھنڈا کرے دل جو رضا اس کی\nنہ دوزخ سے مجھے نفرت نہ میں مشتاق جنت کا\n\nنہ ہوگا فرق نقطے کا ملا کر دیکھ لے کوئی\nمرے اعمال نامے سے نوشتہ میری قسمت کا\n\nجو شامل ہے کرم اس کا تو کیا غم کشت عقبیٰ کا\nسیہ نامی سے اپنے کام لوں گا ابر رحمت کا\n\nخدا نے دی ہے لذت غم خوری کی خوش مذاقوں کو\nلہو کی گھونٹ پینے میں مزا ملتا ہے شربت کا\n\nہر اک تصویر ہے ثانیٔ یوسف اپنے عالم میں\nذرا یعقوب دیکھے تو مرقع اس کی قدرت کا\n\nید بیضا کے دستے آگے آگے لے چلے موسیٰ\nشب معراج کو روشن ہوا حال اس کی عظمت کا\n\nزیادہ چاند سورج سے ترا نور آشکارا ہے\nنہ دیکھیں تیرا جلوہ ہم قصور اپنی بصارت کا\n\nوہ عالم ہے نہ غم سے غم نہ شادی سے مجھے شادی\nبرابر میرے میزاں میں ہے پلہ رنج و راحت کا\n\nتمہاری فتنۂ قامت نے ایسا رعب باندھا ہے\nقدم بھر بھی قدم آ کے نہیں بڑھتا قیامت کا\n\nشہیدان خدا مجھ کو بھی تھوڑی سے جگہ دینا\nنہ ہو برباد میری خاک صدقہ اپنی تربت کا\n\nشب وصل صنم کا خاتمہ بالخیر ہو یا رب\nنہ آنکھوں پر کہیں پھر جائے چونا صبح فرقت کا\n\nحلاوت زندگی کی ہے ملاقات احبا میں\nمزا مردے کو تنہائی کا ہے زندے کو صحبت کا\n\nمزا عشق حقیقی میں نہ کچھ عشق مجازی میں\nخدا سے غم دوئی کا ہے صنم سے رنج فرقت کا\n\nچھری نا قدردانوں کی رواں ہے اہل جوہر پر\nکفن کو یاد کرنا بحرؔ دھیان آئے جو خلقت کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B4%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%A7%D8%B2%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D9%81%D8%AA%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%B4%D9%88%DA%A9%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "بطرز دلبری بیداد کیجے", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "بطرز دلبری بیداد کیجے\nجفاؤں میں ادا ایجاد کیجے\n\nہماری عاجزی اعجاز ہو جائے\nپیمبر ہوں اگر آزاد کیجے\n\nیہ کیسا عالم بالا کا جھگڑا\nاجی پہلو مرا آباد کیجے\n\nلہو مل کر شہیدوں میں ملے ہیں\nہمارے نام پر بھی صاد کیجے\n\nتمنا بڑھ نہ جائے حد سے زائد\nہمیں شاہ نجف اب یاد کیجے\n\nہماری خاک سے صحرا بھرے ہیں\nجہاں تک چاہئے برباد کیجے\n\nاشاروں نے تو لے لی جان صاحب\nذرا منہ سے بھی کچھ ارشاد کیجے\n\nپریشان ہے بہت انجمؔ خدارا\nشہید کربلا امداد کیجے\n\nمزاج یار ہو جائے نہ برہم\nنہ اے انجمؔ بہت فریاد کیجے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B7%D8%B1%D8%B2_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92"} {"title": "بطرز منقبت حضرت امام حسینؓ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اللہ کیا جگر تھا جفا میں حسین کا\nجی ہی گیا ندان رضا میں حسین کا\nاس تشنہ لب کا عرش سے برتر ہے مرتبہ\nخوں تھا سبیل راہ خدا میں حسین کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B7%D8%B1%D8%B2_%D9%85%D9%86%D9%82%D8%A8%D8%AA_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D8%93"} {"title": "بطور یادگار زہد مے خانے میں رکھ دینا", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بطور یادگار زہد مے خانے میں رکھ دینا\nمری ٹوٹی ہوئی توبہ کو پیمانے میں رکھ دینا\n\nکہا تھا اے دل نافہم و ناداں تجھ سے یہ کس نے\nخدا خانے کی حرمت کو صنم خانے میں رکھ دینا\n\nپسند آئے نہ آئے منحصر ہے یہ طبیعت پر\nکسی کے سامنے دل ہم کو نذرانے میں رکھ دینا\n\nدوبارا پھر کسی دن میرے کام آئے گی اے ساقی\nجو مے پینے سے بچ جائے وہ پیمانے میں رکھ دینا\n\nکہیں آئیں کہیں جائیں کہیں اٹھیں کہیں بیٹھیں\nقدم ہر پھر کر اپنا ہم کو بت خانے میں رکھ دینا\n\nچراغ انجمن اپنی ضیا پھیلانے والا ہے\nاٹھا کر شعلۂ الفت کو پروانے میں رکھ دینا\n\nکہاں ہم ڈھونڈتے تجھ کو پھریں گے اس گھڑی ساقی\nصبوحی کے لئے تھوڑی سی پیمانے میں رکھ دینا\n\nنظر آتے ہیں کچھ انگور مجھ کو اے مرے ساقی\nلہو توبہ کا ان کے ایک اک دانے میں رکھ دینا\n\nخطائے عشق پر کیوں نوحؔ اپنی جان کھو بیٹھے\nرقم اتنی بڑی اور اس کو جرمانے میں رکھ دینا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B7%D9%88%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B2%DB%81%D8%AF_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "بعد از اتمام بزم عید اطفال", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بعد از اِتمامِ بزمِ عیدِ اطفال\nایّامِ جوانی رہے ساغر کَش حال\nآ پہنچے ہیں تا سوادِ اقلیم عدم\nاے عُمرِ گُذشتہ یک قدم استقبال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D8%A7%D8%B2_%D8%A7%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D8%B7%D9%81%D8%A7%D9%84"} {"title": "بعد مجنوں کیوں نہ ہوں میں کار فرمائے جنوں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بعد مجنوں کیوں نہ ہوں میں کار فرمائے جنوں\nعشق کی سرکار سے ملبوس رسوائی ملا\n\nخوب سا سیدھا بنے گا دیکھ اے سرو چمن\nاس کی رعنائی سے مت تو اپنی زیبائی ملا\n\nجل گیا پروانہ جس دم محفل آرائی کے ساتھ\nخاک میں سب شمع نے دی محفل آرائی ملا\n\nطالع بیدار کی منت اٹھانے بھی نہ دی\nاس سے شب ہم کو تمنا خواب میں لائی ملا\n\nاپنی قسمت میں ازل سے تھی لکھی سرگشتگی\nگرد و باد آسا جو کار دشت پیمائی ملا\n\nواہ وا رحمت ہے اس کو اور مجھ کو آفریں\nراہ میں بن کر عصا جو خار صحرائی ملا\n\nدستگیری بھی نہ کی تو نے کہ جو نقش قدم\nخاک میں میں تیری خاطر اے توانائی ملا\n\nسرکشی اے چرخ مت کر دیکھ پیش آفتابؔ\nخاک میں دے گا یہ ساری تیری خود آرائی ملا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA"} {"title": "بعد مدت جو میں اے چرخ کہن یاد آیا", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بعد مدت جو میں اے چرخ کہن یاد آیا\nکیا ستم کوئی نیا مشفق من یاد آیا\n\nشعر کہتا تھا کہ مضمون دہن یاد آیا\nاک معمہ یہ دم فکر سخن یاد آیا\n\nاہل دنیا کو کسی دن نہ ہوئی فکر عدم\nکیا مسافر ہیں کہ جن کو نہ وطن یاد آیا\n\nدیکھ کر ابر بہاری مری نسبت بدلی\nصحن گلشن میں دل توبہ شکن یاد آیا\n\nرشتۂ جاں میں گرہ پڑ گئی الجھن کے سبب\nدل کو جب گیسوئے پر پیچ و شکن یاد آیا\n\nپا کے سر چشمۂ حیواں جو پھر آیا الٹا\nکیا سکندرؔ کو ترا چاہ ذقن یاد آیا\n\nمٹ گئی دل کے نہ ہونے سے وہ داغوں کی بہار\nاے نظرؔ وقت خزاں ہم کو چمن یاد آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D9%85%D8%AF%D8%AA_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%DB%81%D9%86_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بعد مردن کی بھی تدبیر کیے جاتا ہوں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بعد مردن کی بھی تدبیر کیے جاتا ہوں\nاپنی قبر آپ ہی تعمیر کیے جاتا ہوں\n\nچین مطلق نہیں پڑتا شب ہجراں میں مجھے\nصبح تک نالۂ شب گیر کیے جاتا ہوں\n\nعفو پر عفو کی ریزش ہے ادھر سے ہر دم\nاور میں تقصیر پہ تقصیر کیے جاتا ہوں\n\nاس کے کوچے میں جو دیکھے گا کرے گا مجھے یاد\nاپنی صورت کی میں تصویر کیے جاتا ہوں\n\nاٹھ کے تا کوچۂ لیلیٰ سے نہ جاوے یہ کہیں\nپانو میں قیس کے زنجیر کیے جاتا ہوں\n\nکوئی لے جائے اسے یا کہ نہ لے جائے پہ میں\nنامۂ شوق کی تحریر کیے جاتا ہوں\n\nاس کا کیا جرم مرے ہوش گئے ہیں کیسے\nجو علم غیر پہ شمشیر کیے جاتا ہوں\n\nپیش جاتی نہیں یوں بھی مری اس سے ہر چند\nشر و مکر و فن و تزویر کیے جاتا ہوں\n\nنقش حب چال سے نکل ہے مری اس خاطر\nمیں پری زادوں کی تسخیر کیے جاتا ہوں\n\nمصحفیؔ یار تو سنتا نہیں اور وحشی سا\nحال کی اپنے میں تقریر کیے جاتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D9%85%D8%B1%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "بعد مکیں مکاں کا گر بام رہا تو کیا ہوا", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بعد مکیں مکاں کا گر بام رہا تو کیا ہوا\nآپ ہی جب رہے نہیں نام رہا تو کیا ہوا\n\nچشم سے کیا ہے فائدہ دل میں نہ ہو جو ذوق دید\nشیشے میں مے نہ جب رہے جام رہا تو کیا ہوا\n\nہم سے غریب بھی بھلا مجرے کے باریاب ہوں\nاذن تیرا کبھی کبھی عام رہا تو کیا ہوا\n\nغیر وفا میں پختہ ہیں یوں ہی سہی پہ مجھ سا بھی\nایک تری جناب میں خام رہا تو کیا ہوا\n\nرم تو ترا سبھوں سے ہے اے بت من ہرن بھلا\nاپنے حضورؔ سے کبھی رام رہا تو کیا ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D9%85%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%85_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "بعض اہل وطن سے اب بھی دکھ پاتا ہوں", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بعض اہل وطن سے اب بھی دکھ پاتا ہوں\nتحصیل کمال کر کے پچھتاتا ہوں\nایسوں کی صداؤں کا کچھ اتنا نہیں وزن\nکیا عرض کروں اس پہ دبا جاتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B9%D8%B6_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D9%88%D8%B7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%DA%A9%DA%BE_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق", "poet_page": "مصنف:سید سلیمان ندوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "لغت کا کام عام طور پر لفظوں کے معنی بتانا سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ قوموں کی طرح قومو ں سے متعلق ہر چیز مستقل تاریخ رکھتی ہے، زبان قوم کی تاریخ کا نہایت اہم جز ہے اس لئے زبان اوراس کے لفظوں کی تاریخ بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے اوریہ تاریخ ہمارے لغت کا بڑا اہم باب ہے لیکن افسوس ہے کہ اس طرف ابھی تک ہماری زبان کے لغت نویسوں نے توجہ نہیں دی ہے۔قومیں اپنی تاریخوں میں کتنی ہی خیانت کریں اوراس کے واقعات کو الٹ پلٹ ڈالیں مگرزبان اوراس کے الفاظ کا ذخیرہ ایک سچے امانت دار کی طرح پچھلی روداد کا ریکارڈ یا مسل ہمارے لئے تیار رکھتا ہے جس سے اس زبان کے محقق ضرورت کے وقت پوری طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ چنانچہ اگر ہم یہ جاننا چاہیں کہ کسی قوم سے تعلقات اوررابطے دنیا کی کن کن قوموں سے رہے ہیں تو اس قوم کے لفظوں کے خزانے میں ہمارے لئے معلومات کا بڑا سرمایہ محفوظ ملےگا۔ہماری ہندوستانی اردو زبان کی عمر چاہے کتنی ہی چھوٹی ہو پھر بھی اس کی ملکیت میں ایسے لفظوں کی کمی نہیں جو اپنی مستقل تاریخ رکھتے ہیں اور اپنی خاموش زبان سے ہم کو سنانے کے لئے بہت سے ایسے واقعات یاد رکھتے ہیں جن کو کاغذی تاریخ کے اوراق بھلا چکے ہیں۔ ہم اپنی زبان کے اس قیمتی سرمایہ کا آغاز سکوں سے کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ لفظی دولت مضمون کی معنوی دولت کے لئے فال نیک بن سکے۔دامہماری زبان کا ایک پامال لفظ دام ہے۔ ایک تواس کے معنی قیمت کے ہیں اور دوسرے معنی ایک معمولی سکہ کے ہیں جس کی ایک ذلیل ترین صورت ہماری زبان میں چھدام کی ہے، جو چھے او ر دام لفظوں سے بنا ہے۔ اس لفظ کی تاریخ کے لئے آج سے دوہزار سال پہلے ہم کو لوٹ کر جانا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ یونان کے کشورکشا اور سوداگر پورے ایشیا پر چھا گئے تھے۔ مصر وشام وعراق سے ایران اور ہندوستان تک کے ڈانڈے مل گئے تھے۔ ان ملکوں میں یونانی حکم اور یونانی سکے چلتے تھے اوران کے یونانی نام زبانوں پر تھے۔یونانیوں کے چاندی کے سب سے کم قیمت سکہ کا نام درہم تھا۔ اس نے عربی میں درہم اور فارسی میں بیچ سے ایک حرف گراکے درم کی صورت اختیار کی اور ہندوستانی میں ایک حرف گراکر اوراس کی جگہ ایک لمبی آواز بڑھ کر دام ہو گیا۔ یہ لفظ جس طرح سکہ کو بتاتا ہے، سکہ کے وزن کو بھی بتاتا ہے۔ چنانچہ عربی طب میں دواؤں کا وزن درہم اور فارسی طب میں درم سے بتایا جاتا ہے۔ اسی لفظ نے جب فرنگستان کی ٹوپی پہنی تو ڈرام ہو گیا جواب ہمارے انگریزی طبی کالجوں، دواخانوں او ر شفاخانوں میں ایک بیگانے کی حیثیت سے وارد ہے اورشاید اب کوئی پہچانے بھی نہیں کہ دام ڈرام دونوں کی شخصیت ایک ہی ہے، صرف آب و ہوا، لہجہ اور شکل وصورت کا فرق ہو گیا ہے۔اکبرکے زمانے میں دام چاندی کے سب سے چھوٹے سکے کے بجائے تانبے کے سکہ کا نام تھا (ص ۱۸ نول کشوری ۲) اس کو پہلے پیسہ کہتے تھے اوراب بھی کہتے ہیں۔ یہ روپیہ کا چالیسواں حصہ تھا، پھر ایک دام کے پچیس حصے کرکے ہر حصہ کو چیتل کہتے تھے اب اس کو گنڈہ کہتے ہیں۔ اکبر کے زمانے میں بھی اس کا نام ملتا ہے۔ (ص۱۲)اسی تقسیم سے ایک محاورہ یورپ کی زبان میں اور چلا ہے۔ ہر گاؤں یا ہر زمیندار کی ملکیت ۱۶ آنے فرض کی جاتی ہے اوریہ آنے پھر پائی اور دام پر بانٹے جاتے ہیں۔ ایک دام کا آدھا ادھیلہ اور ۱/ ۴، پاو لہ، اور۱ /۸ دمڑی کہلاتا ہے اوریہ اخیر لفظ دام کی تسخیر یا تحقیر ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوگا کہ جو دام قیمت کے معنی میں ہم بولتے ہیں وہ اسی سکہ کی یادگار ہے جس سے پہلے چیزوں کی قیمت کا اندازہ اور لین دین کا کاروبارکرتے تھے۔ آئین اکبری کے مطابق ایک من تانبے میں ایک ہزار چوالیس دام (پیسے) تیار ہوتے تھے۔ تغلقوں کے زمانہ میں ’’درم سنگ‘‘ خرید وفروخت کی تول میں باٹ کے معنی میں بولا جاتا تھا۔ (فیروزشاہی ضیا برنی ص ۳۱۹)کیرانتاودھ کے دیہاتی کاغذوں میں ۱۶ آنے کی تقسیم آنوں پر اور آنوں کی پائیوں پر اور اس کے بعد کیرانت اورجو پر ہوتی ہے۔ لفظی بہروپیوں کے پہچاننے والوں کو اس کے پہچاننے میں دقت نہیں ہوسکتی کہ یہ کیرانت عربی قیراط کی خرابی ہے، ایک عربی دینار میں بیس یا چوبیس قیراط ہوتے تھے، اور عربی زبان میں یہ لفظ قراط یونانی سے آیا ہے۔ ۳، آج کل انگریزی میں یہی لفظ کیرت (Carat) کی صورت میں مستعمل ہے اور انگریزی سونے کے بنے ہوئے زیوروں اور چیزوں میں اتنے کیرٹ گولڈ کی اصطلاح کا عام رواج ہے۔\n\nاشرفی\n\nدرم اور قیراط جس طرح باہر سے آئے ہوئے نام ہیں اسی طرح ہمارے سب سے قیمتی سکہ اشرفی کا نام بھی باہر سے آیا ہوا ہے۔ مجھے بہت دنوں سے اس کی اصلیت کی تلاش تھی اور پتہ نہ چلنے پر اس کو یہ کہہ کر تسکین دے لی کہ چونکہ یہ طلائی سکہ سب سکوں میں اشرف ہے اس لئے اشرفی کہلایا مگر دفعتاً ایک غیر متوقع ماخذ سے اس کی اصلیت دریافت ہوئی تومعلوم ہوا کہ سکہ اشرف نہ تھا بلکہ جس بادشاہ کی طرف وہ منسوب ہے وہ اشرف تھا۔طلائی سکہ کے لئے سب سے پرانا نام دینار ہے اور یہ بھی یونانی۴، ہے مگر چونکہ عربوں میں یہ سکہ جاری تھا، اس لئے انہوں نے عبدالملک کے زمانے میں ۷۴ھ؍ ۶۹۳ء یا ۷۵ھ؍۶۹۴ء ۵، جب اپنا طلائی سکہ ڈھالا تو اس کا نام دینار ہی رہنے دیا۔ جب ان کے قدم ہندوستان پہنچے تو ان کا دینار بھی ان کے ساتھ آیا اور آج تک خاندانی مسلمانوں میں دین مہر کی تعداد میں سکہ رائج الوقت کے ساتھ چند ’دینارسرخ‘رسمی طور سے جاری ہے۔ تغلق کے زمانے میں ہم کو اشرفی کے لئے دولفظ ملتے ہیں ایک تنکۂ زر۔ یہ تنکہ سکہ کے معنی میں عام طور سے بولا جاتا تھا۔ ۵، (برنی ص ۳۱۴، ص۳۱۵) اوراسی سے تنخواہوں کی تعیین ہوتی تھی۔ پیادے کی ماہانہ تنخواہ ۲۴ تنکہ اور سوار کی ۷۸تنکہ تھی۔ (برنی ص ۳۱۹) مخدوم زادہ بغداد کے لئے دس لاکھ تنکہ وظیفہ مقرر ہوا۔ (برنی ص ۴۹۶) مصری خلیفہ کا سفیر جب سلطان محمد تغلق کے دربار میں آیا ہے اور جمعہ کے دن خلیفہ کا نام خطبہ میں پہلی بار پڑھا گیا ہے تو، چندیں طبقہا پراز تنکہ زرو نقرہ برآں نثارشد (برنی ص ۴۹۲)اس سے معلوم ہوا کہ اشرفی کے لئے اس زمانہ میں تنکہ زر بولا جاتا تھا۔ خلجی کے زمانے میں ایک تنکہ زر ایک تولہ سونے کا ہوتا تھا اور تنکہ نقرہ ایک تولہ چاندی کا (فرشتہ ص ۱۱۴) روپیہ کو تنکہ نقرہ اور اس سے کم درجہ سکہ کوصرف تنکہ کہتے تھے۔ یہ لفظ قدیم یادگار کے طور پر آج بھی بعض بعض پرانے خاندانی مسلمانوں میں دین مہر کی تعیین میں بولا جاتا ہے۔ (دیکھو مولانا حالی کا خط بنام سید سلیمان ندوی درمعارف) خیال ہوتا ہے کہ یہی تنکہ تو آج ’ٹکے کی صورت میں ہمارے سامنے نہیں۔دوسرا لفظ مہر زر ہے اس کو مہر اس لئے کہتے ہیں کہ اس پر شاہی نام نقش ہوتا تھا۔ مہرزر کی اصطلاح برنی میں ملتی ہے۔ سلطان محمد مہرمس پیدا آورد فرمان داد کہ مہر مس خرید و فروخت چنانچہ مہرزر ونقرہ جاری ست۔ (ص ۴۷۵) یہی مہر زر اکبر کے زمانہ میں بھی زبان و قلم پر تھا۔ آئین اکبری میں اکبری سکوں کے بیان میں بھی یہ لفظ ملتا ہے۔ (ص۱۷) اگرچہ اکبر نے اشرفی کے لئے سہنسہ، رئیس، آتمہ، چگل، بعل، جلال، آفتابی وغیرہ بنائے اور چلائے۔ مگر مہر کا نقش بھی مٹا نہیں بلکہ پرانی شاہی اشرفی کو آج بھی مہر کہتے ہیں۔دکن میں طلائی سکہ کا نام ’’ہون‘‘ تھا جو آخر میں مخفف ہوکر ہن رہ گیا، اور آج ہماری زبان میں اس نسبت سے دولت کی کثرت کے معنی میں ’ہن برسنا‘ ایک یادگار رہ گیا ہے۔ روپیہ کا لفظ اور سکہ شیرشاہ کا چلایا ہوا ہے۔ (آئین اکبری ص ۱۸) اور عجب نہیں ہے کہ روپا سے بنا ہو۔ سونے کے سکے کے لئے اشرفی کا لفظ ہندوستان میں نورالدین جہانگیر کے زمانہ میں استعمال میں آیا ہے۔ چنانچہ فرشتہ نے اپنی تاریخ میں حسن گنگوہی بہمنی کے خزانہ پا نے کی اتفاقی سرگزشت کے بیان میں لکھا ہے، زنجیررا در گردن ظرفے مملواز اشرفی علائی و طلائے غیرمسکوک دید۔ (فرشتہ نول کشوری ص ۲۷۴) فرشتہ کی تصنیف کا زمانہ ۱۰۱۵ھ؍ ۱۶۰۶ء سے ۱۰۳۳ھ ؍ ۱۶۲۳ء تک ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گجرات و دکن کی راہ سے یہ اشرفی مسافرانہ ہندوستان وارد ہوئی ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ سونے کے لئے افریقہ کی طلاخیز اور زر ریز زمین ہی سب سے زیادہ موزوں ثابت ہوئی ہے۔ انگریزی گنی کا مولد افریقہ کا ملک گا ینایا گینی قرار پایا ہے جس کو عرب غانہ کہتے ہیں۔ اور بلادالتبر (سونے کا ملک) کے نام سے پکارتے تھے اور وہیں سے سونا لاتے تھے۔ وہم ہوتا ہے کہ غانہ کا تعلق عربی کے غنی اور غنا سے تو نہیں بہر حال ہماری اشرفی کا مولد ومنشا بھی ہندوستان نہیں بلکہ ایشیا بھی نہیں افریقہ کا ہی ایک گوشہ ہے۔ مگر دوسری طرف کا یعنی مصر۔مصر کے چرکسی بادشاہوں میں سے ایک برسبائی تھا۔ اس نے ۸۲۵ھ؍ ۱۴۲۹ء سے ۸۴۱ھ؍ ۱۴۳۷ء تک حکومت کی ہے اس کا شاہی لقب الملک الاشرف تھا۔ یہی اشرف اشرفی کا مصدر ومعدن ہے، مشہور عرب جہاز راں ابن ماجد اسدالبحر نے جس نے ۹۰۴ھ ؍۱۴۹۸ء) میں واسکوڈگاما کو ہندوستان پہنچایا تھا، الفوائد فی البحر والقواعد کے نام سے جہازرانی پر ایک کتاب لکھی ہے جو چند سال ہوئے کہ فرانس سے چھپ کر شائع ہو چکی ہے۔ اس کا زمانہ نویں صدی ہجری کا اخیر اور دسویں صدی ہجری کا شروع تھا۔ یہ بحرہند اور بحر عرب کا ایک نڈر جہاز راں تھا، گجراتی ہندو بیوپاریوں کی طرف سے اس کو کنکا کا سنسکرت خطاب ملا تھا جس کے معنی ماہرریاضی داں کے ہیں۔ (دیکھو میری کتاب عربوں کی جہازرانی ص ۱۶۳۔ ۱۳۷) اس کی اسی کتاب کے مطالعہ سے اشرفی کا بھید مجھے معلوم ہوا۔ ابن ماجد ایک خاص سلسلہ میں لکھتا ہے، والحادی عشر برسبی الاشرف ضارب سکۃ الاشرفی (ص ۰۴ طبع پیرس) گیارہواں بادشاہ برسا بی اشرف ہے جو اشرفی سکہ کا چلانے والا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اشرفی سکہ مصر سے چل کر بحرہند میں داخل ہوا تھا اور وہاں سے پورے ہندوستان میں پھیل گیا۔ ابن ماجد نے اپنی یہ کتاب ۸۹۵ھ؍ ۱۴۸۹ء میں لکھی ہے اور اس سکے کے بانی کا ذکر کیا ہے۔ اور فرشتہ نے اپنی اصل کتاب اس کے بیس برس بعد ۹۱۵ھ میں لکھی اور ’’اشرفی علائی‘‘ کا نام لیا ہے یعنی علاء الدین خلجی کے وقت کی اشرفی، حالانکہ خلجی کے زمانہ میں اشرفی کا نام بھی پیدا نہیں ہوا تھا مگر یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم پرانے زمانے کے بادشاہوں کے سونے کے سکے کویا انگریزی پونڈ کو اشرفی کہہ دیتے ہیں۔بیمہ روپے اور اشرفی کی تقریب سے وہ طریقہ یاد آیا جس سے قیمتی چیزیں محفوظ کرکے ایک شہر سے دوسرے شہر بذریعہ ڈاک بھیجتے ہیں جس کو ہم آپ بیمہ کہتے ہیں۔ خیال یہ تھا کہ یہ ڈاک کے نئے طریقوں میں سے ہے اور جہاں سے یہ نئے طریقے آئے ہیں وہیں سے یہ لفظ بھی بگڑ کر آیا ہے۔ مگر اتفاق سے سجان رائے کی خلاصۃ التواریخ کا قلمی نسخہ نظر سے گزرا جوعالمگیر کے عہد کی تصنیف ہے۔ ۱۱۰۷ھ؍ ۱۶۹۵ء میں عالمگیر کی تخت نشینی کے چالیسویں سال مرتب ہوئی ہے۔ سجان رائے اہل ہند کی دیانت اور امانت داری کی دلیل میں یہاں کے مہاجنوں کے ذریعہ سے ترسیل زر کا حال لکھتا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے،لین دین میں یہاں کے لوگوں کی سچائی کا یہ حال ہے کہ کوئی کتنا ہی ناآشنا اورانجان ہو، گواہی اور شہادت کے بغیر ہزاروں روپے امانت صرافوں کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہ صراف بھی ایسے سچے ہوتے ہیں کہ جب ان سے امانت واپس مانگئے بلاحیلہ حوالہ کئے بے توقف واپس کر دیتے ہیں اور طرفہ یہ کہ اگر کوئی دوردراز راستوں کے ڈر سے اپنا نقد روپیہ اپنے ساتھ نہ لے جاسکے تو وہ ان کے حوالہ کر دیتا ہے، یہ دیانت دار صراف ان روپیوں کو اپنی تحویل میں لے کر ہندی میں اپنے کارندوں کے نام جو ہر شہر میں ان کی طرف سے سچائی کی دوکان کھولے رہتے ہیں، ایک پرچہ لکھ کر دے دیتے ہیں اس کویہاں کی زبان میں ہنڈی کہتے ہیں۔ یہ کارندے اگرچہ سیکڑوں میل کی مسافت ہو، اس پرچہ کو دیکھنے کے ساتھ بلا حجت اس کو روپیہ دے دیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر ہے کہ اس پرچہ کو جو کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے، اگر مقررہ مقام کے علاوہ مالک کسی دوسری جگہ بیچنا چاہے تواتنے ہی روپے اس کو فوراً مل جائیں گے۔ صرف یہ ہوگا کہ خریدنے والا تھوڑا کمیشن (تمتع) اس سے لے لے گا۔\n\nاب اس کے بعد اصلی فقرہ آتا ہے، ’’عجب تر آنکہ اگرتاجران بسبب طرق ہائلہ اقمشہ وامتعہ و دیگر اموال آنہا بجنس درقرار گاہ سلامت رسانیدہ بمالکان عائد می نمایند وآں را بزبان ایں دوم بیما گویند۔‘‘ اس عبارت سے یہ معلوم ہو گیا کہ پرانے ہندوستان میں منی آرڈر بھیجنے، بینک کا چیک استعمال کرنے اور قیمتی چیزوں کو ہمیشہ کسی دوسری جگہ بیمہ کرکے بھیجنے کا کیا طریقہ تھا اور اس سے لفظ بیمہ کی قدامت کا حال بھی معلوم ہوا۔\n\n’’بزبان ایں دوم بیما گویند‘‘سے خیال ہوتا ہے کہ کوئی ہندی یا سنسکرت کا لفظ ہوگا، مگر میں نے ہندی اور سنسکرت کے عالموں سے اس کی تحقیق چاہی تو کوئی اس کا پتہ نہ بتا سکا۔ اس سے وہم ہوجاتا ہے کہ یہ فارسی لفظ بیم بمعنی خوف سے نہ لیا گیا ہو۔ سجان رائے نے اس بیان کا آغاز بھی ان لفظوں سے کیا ہے، ’’وطرفہ آنکہ اگر بنابرخوف مسالک ممالک شخصے مبغلہائے نقد بمسافت دور ونزدیک نتواند برد۔‘‘اس لفظ خوف سے بھی ادھر ہی خیال جاتا ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ فارسی لغت کی کتابوں میں یہ لفظ نہیں ملتا۔ انیسویں صدی عیسوی کے آخر میں سید تصدق حسین نامی ایک بزرگ نے لغات کشوری کے نام سے ایک فارسی لغت منشی نول کشور صاحب کے نام سے لکھا ہے اورنول کشور پریس میں ۱۹۰۰ء میں چھپا ہے۔ مؤلف نے مقدمہ میں یقین دلایا ہے کہ تمام لغات دیکھ کر بڑی احتیاط سے یہ لغت لکھا گیا ہے۔ اس میں بیمہ کے لفظ کے نیچے اس کو فارسی بتاکر یہ تشریح لکھی ہے، ’’بخوف رہ زنی جو کسی ساہوکار کو محصول کسی نقد یا مال کے پہنچانے کا دیں اور وہ اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہو۔‘‘ لغات کشوری کی امانت ودیانت کا اگر اعتبار کیا جائے تو پھر بیمہ کے فارسی ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا۔ڈاک بیمہ کے ذکر سے سب کا خیال ڈاک، ڈاکخانہ اور ڈاک گھر کی طرف چلا گیا ہوگا۔ موقع ہے کہ آپ کے اس حسن التفات سے ہم فائدہ اٹھائیں۔ تعجب ہوگا کہ اس ڈاک کا ہمارے لغت میں پتہ نہیں۔ عربی میں ڈاک کے لئے برید کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں امیر معاویہ نے سب سے پہلے اس نظام کو قائم کیا اور برید اس کا نام پڑا۔ ہمارے عجمی اہل لغت نے اس کو فارسی بریدن سے لیا اور بتایا کہ چونکہ ڈاک کے لئے دم بریدہ یعنی دم کٹے گھوڑے کام میں لائے جاتے تھے اس لئے ڈاک کو برید کہنے لگے۔ حالانکہ اگریہ اشتقاق درست بھی ہوتا تو زیر کے بجائے ب کو پیش ہونا چاہئے تھا۔ اب نئی تحقیق یہ ہے کہ یہ یونانی اور لاطینی سے عربی میں آیا ہے اور وریڈاس کی اصل ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ پہلے یہی لفظ آیا پھر ترکی لفظ اولا غ چلا۔ (برنی ص ۴۴۷کلکتہ) مگر فوراً ہی اس کی جگہ ایک ہندوستانی لفظ نے رواج پایا اور وہ لفظ دھاوا ہے۔ چنانچہ تغلقوں کی تاریخ میں یہ لفظ بولا گیا ہے۔ ابن بطوطہ نے سفرنامہ میں بعینہ یہی لفظ لکھا ہے (۲ ص ۱ مصر) برنی نے فیروزشاہی میں اس لفظ کا استعمال کیا ہے۔ (ص ۴۴۷ کلکتہ)مگراس کو دھاوا کیوں کہتے تھے، اس کا پتہ اپنوں سے نہیں بلکہ ابن بطوطہ جیسے بیگانے سے چلتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دھاوا کے معنی اہل ہند میں تہائی میل کے ہیں۔ چونکہ یہ ہرکارے ہر تہائی میل پر مقرر ہوتے تھے اس لئے اس کو دھاوا کہتے تھے اور استعمال سے راستے کے بجائے خود راستے والے پیادے کو دھاوا کہنے لگے۔ لیکن غریب ناآشنا ئے زبان کو اس میں غلط فہمی ہوئی ہے۔ دھاوا کے معنی سنسکرت میں دوڑنے کے ہیں، چونکہ یہ دوڑ کر چلتے تھے اس لئے ان کی چال کو دھاوا کہنے لگے۔ پھر خود دھاوا ہوگئے اورہر تہائی میل پر جہاں ٹھہرتے تھے، وہ دھاوا۷، ہو گیا۔ دھاوے کے ان پیادوں کی چوکیاں ہر تہائی میل پر دلی سے لے کر دولت آباد تک بنی ہوئی تھیں۔ پیادہ گھنگھرودار لاٹھی کو کندھے پر رکھ کر تیزی سے دوڑتا ہوا اگلے دھاوے تک پہنچتا تھا وہاں دوسرا پیادہ گھنگھرو کی آواز سن کر تیار رہتا تھا۔ وہ فوراً اس سے ڈاک لے کر آگے کے دھاوے کو دوڑتا تھا۔ اس طرح سندھ سے دلی ۵ دن میں ڈاک پہنچتی تھی۔ (ابن بطوطہ)اس دھاوے کی یادگار ہماری زبان میں دھاوا کرنا، دھاوے پر چڑھنا، دھاوا بول دینا آج بھی موجود ہے اور دھاوے کے پیادے کو پایک کہتے تھے جو پیک کی صورت میں محرم کی تقریب میں امام کے نقلی قاصدوں کا ہم نے نام رکھا ہے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ آل تیمور نے جب ہندوستان پر دھاوا کیا تویہ لفظ یہاں سے مٹ چکا تھا۔ چنانچہ اکبر کے زمانہ میں جب بدایونی نے اس لفظ کو استعمال کیا تواس کوترجمہ کی ضرورت ہوئی۔ سلطان محمدتغلق کے حال میں کہتا ہے، ’’در ۷۲۷ء سلطان محمدتغلق عزیمت دیوگیر کردہ از دہلی تا آنجا برسر کر دہے دھاوا یعنی پایکاں خبردار نشاندہ۔‘‘فرشتہ نے جہانگیر کے زمانے میں اپنی کتاب لکھی تو دھاوا کا لفظ مٹ کر ڈاک چوکی کا لفظ پیدا ہوچکا تھا۔ مگرکہتا ہے کہ اس کو پہلے یام (ی ام) کہتے تھے۔ سلطان علاؤ الدین کے حال میں لکھتا ہے، ’’از دہلی تا آنجا ڈاک چوکی کہ بزبان سلف یام می گفتند می نشاندہ۔‘‘ یہ یام فارسی استعمال میں ہے، دکن میں مدراس سے لے کر پوناتک اس کے لئے ٹپ ٹپال اور ٹپہ خانہ بولا جاتا ہے۔ ریاست حیدرآباد کا سرکاری لفظ یہی ہے۔بہرحال ڈاک کا لفظ جہانگیر کے زمانہ میں یا اس سے پہلے سے بولا جانے لگا۔ اس کی اصلیت پر میں غور کرتا رہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اس کے معنی منزل کے ہوں گے چونکہ یہ منزل بہ منزل جاتے تھے اس لئے اس کو ڈاک کہنے لگے اوراس کے ہر پڑاؤ کو ڈاک چوکی بمعنی پہرہ جس کی ایک یادگار چوکیدار ہمارے پاس موجود ہے۔ اسی لئے انگریزوں نے اسی اصول سے بنگال سے الہ آباد تک اپنے منزل بہ منزل سفروں کے لئے جو مختصر قیام گاہیں بنائیں ان کو ڈاک بنگلہ کہا اوراب بھی وہ یہی کہے جاتے ہیں اور اگر لغت گڑھنے کا الزام نہ قائم کیا جائے توجی چاہتا ہے کہ یہ کہوں کہ ہندوسان اور افغانستان کی سرحد پر ڈکہ اور بنگال کی حد پر ڈھاکہ اور دوسری طرف موتی ہاری سے نیپال کے پاس دوسرا ڈھاکہ اسی منزل گاہ کے باقی نشان ہیں۔ بہرحال منزل نے راستے کی اور راستے نے خط و لفافہ اور اشیائے ڈاک کی صورت اختیار کی اور اب وہ ڈاک کے پچھلے معنی کی صورت ڈاک بٹھانا، ڈاک لگانا، یعنی جلدی جلدی منزل بمنزل یا ہاتھوں ہاتھ چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا رہ گیا ہے۔فیض ساقی نے مرے ڈاک لگا رکھی ہےراسخؔروح ہے ہرجسم میں مشتاق اخبار اجلاس لئے یہ آمدورفت نفس کی ڈاک ہےناسخؔاسی سے ڈاک بولنا بھی ایک محاورہ ہے یعنی نیلام میں منزل بمنزل کسی چیز کی قیمت بڑھانا۔کچھ دن ہوئے ایک قلمی ہندوستانی فارسی لغت برادرم پروفیسر سید نجیب اشرف ندوی (اسماعیل کالج بمبئی) کے پاس نظر سے گزرا۔ یہ لغت کسی ایرانی یا پارسی نے لکھا ہے۔ تالیف کا سنہ نہیں معلوم۔ اس میں ایک لفظ ڈانکیہ دیکھا جس کے معنی نقیب کے لکھے ہیں۔ نقیب شاہی درباروں میں درباریوں کو با ادب رہنے کے لئے زور سے آواز لگایا کرتے تھے۔ ڈانکنا کے معنی زور سے آواز لگانے کے ہیں۔ اس سے دوسرا خیال یہ ہوتا ہے کہ ڈاک کی اصل ڈانک اور ڈاکیہ کی ڈانکیہ ہے، چونکہ ڈاک کا چوب دار آواز دیتا ہوا چلتا تھا، اس لئے اس کو ڈانکیہ اور اس کے کام کو ڈانک کہا گیا اور ڈانک نے ڈاک کی صورت بدل کر منزل بمنزل رفتار کے معنی اختیار کرلئے۔ اگلے زمانہ میں مصر وغیرہ اور ہمارے ملک میں بھی جہانگیر نے ڈاک کے کبوتر اڑا دیے تھے۔ اس لئے ایک اڑتی سی بات کبوتر ہی سے ملتے جلتے پرندے کی نسبت سن لیجئے۔قمری ہماری زبان میں ایک خوش نواپرندے کا نام قمری ہے۔ یہ نام عربی و فارسی سے آیا ہے مگراس کی اصلیت کے بتانے سے یہ دونوں زبانیں قاصر ہیں۔ فارسی کے خالص لغتوں میں یہ لفظ سرے سے نہیں۔ موید الفضلا میں جو عربی آمیز فارسی الفاظ کا پرانا لغت ہے، یہ ملتا ہے۔ اور تاج نام کسی حوالے سے لکھا ہے کہ فاختہ کو کہتے ہیں، پھر اس سے اختلاف کیا ہے کہ فاختہ اور چڑیا ہے اور قمری اور فاختہ کا رنگ خاکستری ہوتا ہے اوراس کی آواز یکے تو یاکوکوکو کی ہوتی ہے۔ گلے میں طوق ہوتا ہے اور قمری کی دوقسمیں ہوتی ہیں ایک سفید کافوری اور دوسری صندل، اوراس کی آواز سے یا غفور کی صدا نکلتی ہے۔تاج کے مشہور نام سے توجوہری کی تاج اللغہ کی طرف خیال جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جوہری نے قمری کا ذکر کیا ہے، مگر یہ نہیں لکھا ہے کہ فاختہ کوکہتے ہیں۔ بہرحال یہ لفظ فارسی نہیں ہے، عربی بھی نہیں، کیونکہ اول تو عرب اس سے واقف نہ تھے، ان کے شعروں میں اس کا ذکر نہیں، قدیم عربی لغت میں یہ مذکور نہیں، اس کی ساخت اصل عربی لفظ کی نہیں۔ اس کے اخیر میں جویائے مشدد ہے وہ نسبت کوظاہر کرتی ہے اوراسی نسبت کی طرف اکثر اہل لغت گئے ہیں۔ جوہری کی تحقیق یہ ہے کہ یہ قمر سے مشتق ہے جس کے معنی سپیدی کے ہیں۔ اوراس سے صفت بنی اقمر اس اقمر کی جمع ہوئی قمر، جیسے احمر سے حمر، اور اب یہ ہوا کہ سفید پرندوں کو جمع کے ساتھ یوں بولے طیر قمر۔ اب اس جمع کا واحد جب مراد ہوا توجمع کی طرف یائے نسبت لے کر قمری واحد بنا لیا، جیسے روم سے رومی، زنج (زنگ) سے زنجی (زنگی) مگر اس تحقیق میں بڑی کھینچ تان معلوم ہوتی ہے۔ عربی میں اس محنت سے کسی اورپرندے کا نام نہیں رکھا گیا۔مجد فیروزآبادی نے قاموس میں قمریہ لکھا ہے اور بتایا ہے کہ کبوتر کی ایک قسم ہے۔ مرتضیٰ زبیدی (بلگرامی) نے تاج العروس میں لکھا ہے کہ مجد نے یہ محکم زمخشری سے لیا ہے۔ بعضوں کا دعویٰ ہے کہ قمری عربی کا قدیم لفظ ہے، اس کی جمع قمر۔ ابوعامر نامی ایک جاہل عرب شاعر کے کلام میں ہے۔ ماقرقرقمر الواد بالشاہق۔ مگراس کا کوئی دوسرا شاہد نہیں۔ قمری کے آخر میں جوی ہے، اس کو کوئی صاحب یائے مبالغہ سمجھتے ہیں، مگراکثروں کی رائے یہی ہے کہ یہ یائے نسبت ہے۔ اب رہی یہ بات کہ کس کی طرف نسبت ہے تو بعض لوگ اس کو اس نام کے ایک پہاڑ کی طرف نسبت سمجھتے ہیں اور بعض اس نام کے کسی مقام کا ذکر کرتے ہیں، علامہ مرتضیٰ زبیدی نے تاج العروس میں اوپر کی تفصیل بتا کر لکھا ہے کہ ان کے استاد نے شرح کفایہ میں اس کی تحقیق کی ہے۔اب اہل لغت کے دربار سے اٹھ کر ہم آوارہ گرد جغرافیہ نویسوں کے مسافر خانوں میں پہنچتے ہیں، یاقوت رومی، معجم البلدان میں قمرنام کے ایک مصری شہر کا ذکر کرتا ہے اورابن الفارس سے نقل کرتا ہے کہ قمرپرندہ اسی شہر کی طرف منسوب ہے۔ مقر یزی خطط مصر میں دریائے نیل کے منبع کی تلاش میں نکلتا ہے اور بحرہند کے جزیروں کو دیکھتا بھالتا جاتا ہے اوراسی اثنا میں جزیرۂ قمر کا ذکر کرتا ہے اورجس کا دوسرا نام جزیرۂ ملائی بتاتا ہے، جس کو آج ہم ملایا کہتے ہیں انہی میں سے ایک جزیرہ قمریہ بتایا ہے اوراس کے بعدکہتا ہے کہ، والیہا ینسب الطائر القمری۔ اوراسی جزیرہ کی طرف قمری پرندہ منسوب ہے۔ (ص ۸۱ مصر) البیرونی نے کتاب الہند میں ملایا کے کچھ جزیروں کا نام قمیر۸، بتایا ہے۔ (ص ۱۰۳)پرندوں کے نام ان مقاموں کی نسبت سے رکھنا جہاں پہلے پہل وہ پرندے کسی خوش مذاق کو ہاتھ آئے ہوں، عام بات ہے، ترکی، چینی، شیرازی وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔ اتنی مسافت طے کرنے کے بعد ذرا سستانے کے لئے غالبؔ کے اس شعر کا مطلب حل کیجئے،قمری کف خاکستر وبلبل قفس رنگاے نالہ نشان جگر سوختہ کیا ہےفارسی شاعروں نے گل و بلبل کی طرح سرد و قمری میں محبت کا رشتہ جوڑا ہے۔قمریاں پاس غلط کردۂ خود می دارندورنہ یک سرودریں بام باندام تو نیستایک اور یائے نسبت حل طلب ہے۔سوسی ہمارے ملک میں رنگین باریک دھاریوں کا ایک سوتی کپڑا ہوتا ہے، جس کو سوسی کہتے ہیں۔ اسلامی زمانہ کے اکثر بنے ہوئے کپڑے کے نام یا تو کاریگر کے نام یا مقام یا اس امیر بادشاہ کے نام یا اس کام کے نام پر رکھے جاتے تھے جو اس کپڑے میں خاص طور سے کیا جاتا تھا۔ جیسے تافتہ بافتہ، زری، کارچوبی وغیرہ۔ انگریزی میں ململ کو جو مسلین کہتے ہیں وہ موصل کی طرف نسبت ہے۔سوسی نہ تو شخص کا نام ہے نہ ہندوستان کے کسی مقام کا، یہ تو ظاہر ہے کہ اس کی نسبت سوسی کی طرف ہے۔ سوس کے نام سے ایک شہر ترکستان میں ہے اور دوسرا مغرب اقصیٰ یعنی ملک مراکش میں ہے مگر یہ دونوں پارچہ بافی سے کوئی نسبت نہیں رکھتے۔ لیکن ہے یہ واقعی شمالی افریقہ کے ایک صنعتی مقام کا نام، اس کا نام سوسہ ہے، یہ عربوں کی ترقی کے عہد میں پارچہ بافی کا بڑ ا مرکز تھا اوریہاں کے بنے ہوئے کپڑوں کوسوسی کہتے تھے۔ پھر اس نمونہ پر جہاں جہاں کپڑے بنے جانے لگے ان کو سوسی ہی کہنے لگے۔ یہ گویا ایک طرز کا نام ہو گیا۔ یہ کپڑے کبھی اس شان کے بنے جاتے تھے کہ ان کے ایک ایک تھان کی قیمت آٹھ آٹھ اشرفی ہوتی تھی۔ جغرافی ڈکشنری معجم البلدان کا مصنف یاقوت حموی رومی جس نے ۶۲۶ھ؍۱۲۲۹ء میں وفات پائی ہے۔ سوسہ کے ذکر میں لکھتا ہے،لفظ سوسہ صحیح یہ ہے کہ سوسا ایک چھوٹا شہرافریقہ کے اطراف میں ہے۔ یہاں کے اکثر باشندے کپڑا بننے والے ہیں۔ یہ بیش قیمت (یا باریک) سوسی کپڑے بنتے ہیں اور جوکپڑا دوسری جگہوں پر ویسا بنا جاتا ہے، وہ ان ہی کی نقل ہے (یا ان ہی کے مشابہ ہے۔) ان میں سے ایک تھان کی قیمت دس دینار ہے۔ اور جو دھاگا وہاں کتتا ہے اس کے ایک مثقال کی قیمت دومثقال سونا ہے۔لیکن ہماری ہندوستانی سوسی بہت سستی ہے اور غریبوں کی سترپوشی ہے۔ اکثر غریب عورتوں کے پاجاموں میں کام آئی ہے۔ چیز وہ نہیں رہی طرز وہی ہے، وہ ریشمی ہوگی یہ سوتی ہے۔ ایک مجہول یائے نسبت ہمارے خوش ذائقہ کھانوں میں بھی ہے۔فیرنی یہ ہمارے کھانے کی ایک لذیذ قسم ہے جس کے مزے سے ہم سب واقف ہیں، مگر اس کی لفظی اصلیت سے ہم سب ناواقف ہیں۔ پتہ چلتا ہے کہ فیرنی اصل میں فرنی (بالضم) ہے، چوتھی صدی کا مصنف محمدخوارزمی جو غزنیوں کا معاصر تھا، اپنی کتاب مفاتیح العلوم (ص ۱۶۶ لیڈن) میں بیماروں کی غذاؤں کے سلسلہ میں فرانی نام لیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس غذا کی تیاری کی صورت یہ ہے کہ وہ مختلف شکلوں کی موٹی تنوری پھولی ہوئی (پاؤ روٹی سمجھئے) روٹی کو دودھ میں بھگوکر شکرڈال کر تیار کی جاتی ہے۔ (نان بہ شیرکہئے) اس کا واحد فرنی ہے۔ اس کو فرنی اس لئے کہتے ہیں کہ یہ موٹی روٹی تنور میں جس کو عربی میں فرن کہتے ہیں، تیار ہوتی ہے گویا تنوری کوفرن کے معنی میں سمجھئے۔ ہندوستان کا اثر یہ ہے کہ موٹی پھولی ہوئی روٹی کے بجائے اس میں چاول ڈالنے لگے، اوراب شکرقند ہو، سابودانہ ہو، جس چیز کو آپ دودھ شکر میں پتلا کرکے بنائیں وہ فرنی ہے مگر اسی کے ساتھ اتنی ترمیم کیجئے کہ ف کو پیش کی جگہ زیر دیجئے۔یہی مصنف ہمارے بھات کا ذکر ایسے لفظوں میں کرتا ہے جن سے کھیر کی خوشبو آتی ہے۔ وہ کہتا ہے بھتہ (بہطہ) سندھی لفظ ہے۔ چاول میں گھی اور دودھ ڈال کر بناتے ہیں، کھیر اور شیر (دودھ) ایک ہی چیز ہے۔ سنسکرت میں دودھ کو کشیر اور سندھی میں کھیر کہتے ہیں، جس سے ہماری یہ کھیر پکتی ہے اوراسی لئے کھیر کہلاتی ہے، بھات سے بھاتی کا لفظ نکلا ہے جو میت کو کھانے کوکہتے ہیں۔ کیوں صاحبو انگریزی ملازموں کا بھتہ اسی بھات سے تو نہیں ہے، جس کا آغاز بنگال کے انگریزی نوکروں سے ہوا اور اس کے معنی خرچ خوراک کے ہیں۔ ۱۷۶۵ء ۱۷۶۷ء میں لارڈکلایو نے جواصطلاحات کیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی سپاہیوں کوتنخواہ کے علاوہ بھتہ دیا کرتی تھی۔ کلایو نے اس زمانہ میں اس کوبند کردیا۔ اس واقعہ سے بھی اس لفظ کا اصل تعلق بنگال سے ثابت ہوتا ہے۔رقم اس بھتہ سے لوگوں کو اچھی خاصی رقم ہاتھ آتی ہے، کبھی آپ دوسروں کے ذمہ اپنی رقم نکالتے ہیں اور کبھی دوسرے آپ کے ذمہ، مگر کبھی آپ نے سوچا کہ یہ ’’رقم‘‘ آپ کو کہاں سے ہاتھ آیا۔ آج ہم رقم روپے کی ایک مقدار کو کہتے ہیں، رقم کا لفظ یقیناً عربی ہے، مگر اس معنی میں نہ عربی میں مستعمل ہے نہ فارسی میں بلکہ یہ خالص ہندوستانی ہے۔رقم کے معنی عربی میں نشان بنانے اور کپڑے کی دھاری کے ہیں۔ حدیث میں ہے الارقمافی ثوب۔ اس سے لکھنے کے معنی ہوئے جیسے کالر قم علی الماء۔ عربی میں حساب اور ریاضیات کی کتابوں کے ترجمے ہوئے توعدد کے نشان کے لئے رقم کا لفظ پسند کیا گیا اور اس پسندیدگی کی وجہ شاید یہ ہے کہ رقم اور قلم ایک قافیہ کے لفظ ہیں اور قلم خط یا اسکرپٹ کے معنی میں استعمال ہو چکا تھا، اس لئے اسی کے وزن کا لفظ رقم اعداد کے لئے مناسب معلوم ہوا، جمع کے ساتھ اقلام اور ارقام بولے جاتے تھے۔ بیرونی نے کتاب الہند میں خطوط اور ارقام استعمال کیا ہے۔ (ص ۷۸) اسی سے اعداد کے علامات خصوصاً روپے کے اعداد کے علامات کے لئے جو خاص ہندوستان کی چیز ہے، ارقام ہندیہ مستعمل ہوا اورجب حساب کی اصطلاح میں ارقام اور رقم کا لفظ آ گیا تو نقد روپے کے لئے اس کا استعمال پاجانا کتنی بڑی بات تھی۔ہندسہ رقم سے ہندسہ کی طرف خیال گیا چونکہ ارقام، ہند سے عربی میں لئے گئے ہیں اس لئے عوام ہندسہ کو زیر کے بجائے زبر دے کر ہندسہ بولتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ چونکہ یہ ہندسے ہے، اس لئے ہندسہ ہے اور تعجب ہے کہ خوارزمی کے الجبر والمقابلہ کا انگریزی مترجم فریڈرک روزن تک اس وہم میں مبتلا ہے۔ (ص ۱۹۶، ۱۹۷مقدمہ انگریزی (۱۸۳۱ء) فارسی لغت برہان قاطع کے مصنف بھی اسی غلطی میں گرفتار ہیں۔ کہتے ہیں، ہندسہ بکسراول وثالث و فتح سین بے نقطہ بمعنی اندازہ و شکل باشد وارقامے را نیز گویند کہ درزیرحروف کلمات نویسند ہمچو ابجد ہوزحطی۔یہ بیان تمام تر غلط درغلط ہے۔ ہندسہ بفتح اول وثالث ورابع بروزن فعللہ فارسی لفظ انداز کا عربی بنایا ہوا مصدر ہے، معنی اندازہ کرنا اوراس سے مراد عمارت کا ناپنا اور نقشہ بنانا یعنی فن تعمیر ہے جس کو آج انجینئرنگ کہتے ہیں۔ بعضوں نے اس کو فارسی اندیشہ کا معرب بنایا ہے، مگریہ صحیح نہیں، خوارزمی (چوتھی صدی) مفاتیح العلوم میں کہتا ہے، اماالہندسۃ فکلمۃ فارسیہ معرب و فی الفار سیتہ اندازہ ای المقادیر قال الخلیل المہندس الذی یقدر مجاری القنی ومواضعہا حیث تحتفروہی مشتقۃ من الہند زہ وھی فارسیۃ فصیرت الزای سینا لانہ لیس بعدالدال زای فی کلام العرب۔ (ص ۲۰۲ لیڈن)(لیکن ہندسہ تویہ فارسی لفظ کا معرب ہے فارسی میں اندازہ ہے۔ یعنی مقدار، خلیل نے کہا ہے کہ مہندس وہ ہے جو نہروں کے نکالنے کا اندازہ و پیمائش کرتا ہے تاکہ نہریں کھو دی جائیں اور ہندزہ سے بنا ہے اور وہ فارسی ہے، توزکی جگہ س نے لے لی ہے، کیونکہ عربی میں دال کے بعد ز نہیں ہے۔)ریاضیات ہندسہ سے ریاضیات کی طرف ذہن نے کروٹ لی، عربی میں روض کے دومعنی ہیں۔ زمین کی سرسبزی وشادابی، اس نے باغ و بہار کا مفہوم پیدا کیا اور ریاض جنت کے پھول کھلائے۔ دوسرا مفہوم سواری کے جانوروں کے اور خصوصاً گھوڑے کے سدھانے، سکھانے اورپھیرنے کا ہے۔ عربی میں فعالہ کا وزن پیشہ، فن اور صنعت کے کام آتا ہے اس سے ریاضہ بن کر گھوڑا پھیرنے کا فن یا پیشہ پیدا ہوا۔ گھوڑے کو پھیر کر سیدھا اور شائستہ بنانے سے صوفیاء نے نفس کو رام کرکے شائستہ بنایا اور ریاضت روحانی اس کا نام رکھا۔ ادھر گوشت وپوست اور جوڑ بند کے حسن کے شائقوں نے جسمانی مشق وورزش کو ریاضت جسمانی کہا۔ اہل علم کیوں چپ رہتے، انہوں نے حساب وہندسہ وغیرہ مشقی علوم کو ریاضیات کا خطاب دیا۔ جاہل اہل پیشہ نے کہا کہ ہم کو بھی اپنے کاموں میں محنت کم نہیں پڑتی۔ انہوں نے بھی اپنی صنعت کاری اور دیدہ ریزی کا نام ریاض رکھا لیکن اس معنی میں یہ خالص ہندوستانی ہے۔عربی حکیموں نے ریاضیات کو ریاضیات کا لقب کیوں دیا؟ جبکہ ریاضیات کی یہ خصوصیت نہیں۔ ہر فن مشق کا محتاج ہے۔ اصلیت یہ ہے کہ ہندیوں کی طرح یونانیوں میں بھی بچوں کی تعلیم کا آغاز ریاضیات سے ہوتا تھا اسی لئے جب شروع شروع میں عربی میں یونانی علوم آئے توریاضیات کا نام تعلیمات پڑا، کیونکہ تعلیم کا آغاز اسی سے ہوتا ہے، اب عربی فلسفہ میں اس اصطلاح کا اثر اتنا ہی رہ گیا ہے کہ مقدار مطلق کا نام اس میں اب بھی جسم تعلیمی ہے لیکن تعلیمات کی جگہ بہت جلد اس سے بہتر لفظ ریاضیات نے لے لی۔ اس لئے بچوں کی مشقی تعلیم اسی سے شروع ہوتی ہے۔ علامہ شریف جرجانی اپنی تعریفات میں جسم تعلیمی کے نیچے لکھتے ہیں، ویسمی جسما تعلیمیا اذیحبث عنہ فی العلوم التعیلیمۃ ای الریاضیہ۔۔۔ منسو بۃ الی التعلیم والریاضیہ فانہم کانوا یبدؤن بہا فی تعالیمہم وریاضتہم لنفوس الصبیان۔سیاست ریاضت کے وزن پر سیاست ہے اور آج کل کا کیا کہنا کہ ساری دنیا میں اسی کی بہار ہے، مگر معلوم ہے کہ اس کی اصلیت کیا ہے؟ لغت میں اس کے اصلی معنی جانوروں کی دیکھ بھال اور نگرانی ہے اوراسی سے امیر کی اپنی جماعت کی اور بادشاہ کی اپنی رعایا کی نگرانی اور خدمت کا مفہوم پیدا ہوا۔ ظالم بادشاہوں کے ظلم نے اس کے معنی بدل دیے۔ اسی سے سیاست کردن، سزا دینے کے اور اردو میں قہر وغضب کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔عوض اللہ اس کا محکمہ میں حشر کے لے گاکرے گا جو سیاست حاکم ظالم رعیت پرصباؔسیاست کے لفظ کویہاں ذکر کرنا کچھ اتنا ضروری نہ تھا، مگرمجھے پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ (ماسوف علیہ) کی تحقیق سے اختلاف مقصود تھا، سواء السبیل فی معرفۃ المولد والدخیل میں وہ کہتے ہیں کہ سیاست ترکی ہے۔ چنگیز خاں نے اپنی اولاد کے لئے جو چند ملکی قاعدے بنائے تھے ان کا نام’’سہ یا سہ‘‘تھا اسی سے عربی میں سیات آیا ہے۔ مگر یہ خیال قطعاً غلط ہے۔ یہ لفظ عربی میں اتنا پرانا ہے کہ حدیث تک میں موجود ہے۔ ان الناس کان یسوسہم الانبیا (صحیح مسلم) پہلی صدی ہجری کے آخر میں محمد بن قاسم نے جب سترہ برس کی عمر میں سندھ فتح کیا تو ایک شاعر نے اس کی مدح میں کہا، ساس الرجال لسابع عشرۃ حجۃ، اس نے ۱۷ برس کی عمر میں لوگوں کی سیاست کی۔ ابن ندیم نے فہرست میں جو ۳۷۵ء تاتاریوں سے صدیوں پہلے لکھی گئی سیاسیات کا لفظ سیاسی ملکی کتابوں کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ پھر قدیم کتب لغت میں اس کی اصل موجود ہے۔ہاں اپنی زبان کے تعلق سے یہ کہنا رہ گیا کہ ہماری زبان میں سائیس اور سئیس کا لفظ اسی سیاست سے بنا ہے۔ اس کی اصل سائس ہے مگر پیشے اور نوکری کے لحاظ سے سائیس کا یہ مفہوم خالص ہندوستانی ہے۔ نہ عربی ہے نہ فارسی مگر شوخی معاف، آپ نے یہ دیکھا کہ سیاسی اور سائیس دونوں کی اصل ایک ہی ہوئی۔ دونوں نگرانی اورنگہبانی کرتے ہیں، سیاسی آج کل جس کوکہتے ہیں، ہمارے تازہ دکھنی نوجوانوں نے اس کے لئے سیاس کا ایک نیا لفظ گھڑا ہے، مگر بالکل بے اصل اور بے قیاس ہے، یہ لفظ واوی ہے یائی نہیں۔ دھوکا سیاست اور سیاسی کی ’ی‘ سے ہوا ہے مگر واؤ کی جگہ یہ ی قاعدے سے ہے اور سیاس میں واؤ کی جگہ ی بے قاعدہ ہے۔ اگریہ لفظ بن بھی سکتا تو سواس ہوتا، سیاس نہیں۔ اب یہ سیاس جب تک چل نہ جائے، غلط العام فصیح کے حکم میں نہیں آسکتا۔ بحث سیاسیات کی خطرناک الجھنوں میں پڑ کر خطرناک ہو رہی ہے اس لئے خاموشی ہی بہتر ہے۔(۲)لیکن کافی غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ اب سیاسیات وہ پہلے کے سیاسیات نہیں رہے۔ اب یہ سننے میں آتا ہے کہ سیاسیات کا اصلی میدان لاکھوں مربع میل کا وہ میدان نہیں ہے جس کو اگلے لوگ سلطنت وحکمت کہتے تھے۔ بلکہ یہ دوبالشت کا پیٹ ہے، اسی کی خاطر سب کچھ ہے۔ اگلے زمانے کے بھولے بھالے بزرگ کہا کرتے تھے، خوردن برائے زیستن است نہ زیستن برائے خوردن۔ یعنی کھانا جینے کے لئے ہے نہ کہ جینا کھانے کے لئے۔ حضرت مسیح کہتے تھے کہ آدمی روٹی ہی سے نہیں جیتا لیکن آج کل کی سیاسیات نے ان دونوں مقولوں کو جھٹلا دیا ہے۔ اب یہ ہے کہ جینا کھانے کے لئے ہے نہ کھانا جینے کے لئے اوریہ کہ آدمی روٹی ہی سے جیتا ہے۔ چنانچہ آج کل کے بولشزم، کمیونزم، سوشلزم وغیرہ کی بنیاد زمین پر نہیں پیٹ پر ہے۔پیٹ کے کھانوں میں سب سے ضروری کھانا کون سا ہے؟ لوگ اپنے اپنے تجربے اور عادات کے مطابق اس کے کئی جواب دے سکتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جومیرا خیال ہے وہی اکثروں کا ہے۔ یعنی یہ کہ کھانوں میں سب سے زیادہ ضروری کھانا ناشتہ ہے۔ صبح سویرے اٹھ کر منہ میں کچھ پڑ جانے سے سارے دن کے لئے ڈھارس ہو جاتی ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ ناشتہ کے لئے اکثر زبانوں میں بھوک توڑنے کی اصطلاح بن گئی ہے۔ میں دوزبانیں جانتا ہوں ایک پورب کی اور ایک پچھم کی۔ یعنی عربی اور انگریزی، دونوں میں یہی بات ہے۔ اس سے سمجھتا ہوں کہ اور زبانوں میں بھی کچھ ایسا ہی حال ہوگا، عربی میں اس کو فطور کہتے ہیں اسی سے مسلمانوں کا افطار نکلا ہے اورجس سے افطارکریں اس کو افطاری کہتے ہیں۔ فطور کے معنی توڑنے کے ہیں یعنی روزہ کی بھوک کو توڑنا، ہمارا ناشتا بھی اسی قسم کا لفظ ہے فارسی میں اس کے معنی اس بھوکے کے ہیں جس نے صبح سے کچھ نہ کھایا ہو۔ (موئدالفضلاء و برہان قاطع) اب دیکھئے کہ یہ نام تواس آدمی کا تھا جس کے منہ میں صبح سے کچھ نہ پڑا ہواور اب ہم اس چیز کو کہتے ہیں جو صبح سویرے ایسے آدمی کوکھلا دی جائے یعنی شخص کے بجائے چیز کا نام ہو گیا۔اس معنی میں ایک اور لفظ نہار آپ بولتے ہیں، نہار منہ۔ یہ فارسی ہے، مگر دیکھئے کہ یہ فارسی ہندوستانی سے ایسا مل گیا ہے کہ گویا ہندوستانی ہی ہے۔ اس کی اصلیت ’’ناہار‘‘ہے۔ نانفی کے لئے ہے اور ہار کے معنی غذا کے ہیں۔ ’’ناہار‘‘ یعنی نہیں کھایا ہوا (برہان قاطع) اب اس سے ناہاری یعنی نہاری ہوئی جو صبح کو نہارمنہ کھائی جائے اور لکھنؤ دلی میں یہ خاص چیز ہوگئی، جو بازاروں میں پکی پکائی چٹ پٹ ملتی ہے۔نہار سے آبار یاد آیا، آبار آٹے کی اس لیئی کو کہتے ہیں جوکاغذ اور کپڑے پر اس لئے چڑھائی جاتی ہے کہ وہ مضبوط ہو جائے۔ آپ سن چکے کہ آبار غذا کو کہتے ہیں جو بدن کی تقویت کا باعث ہوتی ہے، اسی سے اس لیئی کوبھی کہنے لگے جوکاغذ اورکپڑے کی قوت کو بڑھا دیتی ہے۔ (برہان قاطع)ناشتے کے طورپر جلدی جلدی جو کھانا پہلے تیار کرکے مہمان کے سامنے رکھ دیا جائے، عربی میں اس کو سُلفہ کہتے ہیں، اسی سے سلف (اگلے لوگ) کا لفظ نکلا ہے۔ عربی کا یہ سلفہ ہمارے ملک میں کھانے کے دسترخوان پر توبار نہ پاسکا، مگرپینے کی یارانہ محفل میں ایک ہزار برس کے بعد اس کو جگہ مل گئی۔ نورالدین جہانگیر کے زمانہ میں تمباکو امریکہ سے ہندوستان آیا اورحکیم گیلانی کی پرحکمت ترکیبوں سے توا، چلم، حقہ اور نے کی شکل پیدا ہوئی۔ یہ توا میروں کی باتیں تھیں۔ اس حقہ کی تیاری کے لئے بڑا وقت، بڑا سامان اور ایک دو ملازم چاہئیں اور غریبوں کے پاس نہ اتنا وقت نہ اتنا سامان نہ ملازم، انہوں نے اپنے ہاتھ سے بھر کر سلفہ جلدی جلدی تیار کر لیا اور پی پلاکر اپنے کام پر روانہ ہو گئے۔تکلف کے کھانوں کو قابو ں میں نکالتے ہیں، عربی لفظ قعب ہے اس کے معنی لکڑی کے پیالہ کے ہیں جو لکڑی کے بیچ میں کھود کر بنایا جائے (لسان) لیکن ترکی میں اور اس سے فارسی میں قاب کے معنی مطلق ظرف یا خانہ کے ہیں۔ اسی لئے عینک کے خانہ کو اور قلم دان کو قاب کہتے ہیں اور پھر اسی سے کھانے کے بڑے برتن کو بھی ہمارے ملک میں قاب کہنے لگے۔ یہی حال رکابی کا بھی ہے، رکاب فارسی میں ہشت پہل پیالہ کوکہتے ہیں اسی سے رکابی بنی اوراب وہ پھیلے ہوئے چوڑے ظرف کو کہتے ہیں اور اسی سے ہندوستانی امراء کے لئے رکاب دار پیدا ہوئے جو کھانے کا انتظام کرتے تھے یا عمدہ عمدہ کھانے تیار کرتے تھے۔روز مرہ کے کھانوں میں قلیہ قورمہ بہت عام چیزیں ہیں، قلیہ کی شکل عربی ہے مگرمعنی عربی نہیں، قلیہ کی عربی شکل قلیتہ ہو سکتی ہے، عربی میں قلی بھوننے کو کہتے ہیں۔ اس سے قلیہ بن سکتا ہے اور بھونے ہوئے گوشت کو کہہ سکتے ہیں۔ ہماری زبان میں قلیہ اس شوربہ دار گوشت کو کہتے ہیں جس میں کوئی ترکاری پڑی ہو۔ بلکہ اس ترکاری کو قلیہ کہنے لگے ہیں قورمہ توترکی معلوم ہوتا ہے۔ شوربا توصاف عربی کا شُربہ ہے مگر معنی بدل گئے ہیں۔ عربی میں شربۃً اس کو کہتے ہیں جتنا ایک دفعہ پی لیا جائے، اس سے ایرانیوں نے شوربا بنا لیا اور گوشت کے پانی کوکہنے لگے۔ انہوں نے شوربا کو پھر شورباج بنا لیا مگر ہماری ہندوستانی میں شوربا ہی رہا، بگڑا توشروا۱۰، ہوگیا۔اسی عرب شُرب (پینا) سے ایرانیوں نے شراب اورشربت تیار کیا اور ہم ہندوستانیوں نے قبول کرلیا۔ شراب کے عربی معنی ہیں جو چیز پی جائے یہاں تک کہ قرآن میں دودھ کو بھی شراب کہا ہے۔ ایرانیوں نے جس کو شراب کہا اس سے متوالی شراب مراد لی۔ اس سے یورپی زبانوں میں سیرپ SYRUP تیار ہوا جو شکر پڑ کر میٹھا ہو گیا۔ لیکن ایرانیوں کے اثر سے ہم نے پانی میں شکر گھول کر جو چیز تیار کی اس کو شربت کا نام دیا۔ لفظ عربی ہے اور معنی عجمی، عربی میں اس کے معنی فقط پینے کے ہیں۔ میٹھے کے بعد نمکین چیز یادآئی کباب۔ صورت عربی ہے، معنی عربی نہیں۔ کب عربی میں اوندھے کرنے کوکہتے ہیں، اب جس گوشت کو اوندھا کرکے آگ پر رکھئے اس کو کباب کہئے۔کھانے کے بعد تکلفات کی دوسری قسم فرش فروش ہیں۔ قالین سے بڑھ کر خوشنما، خوبصورت اور مضبوط فرش شاید ہی کوئی دوسرا ہو۔ جو زمین کے فرش پر نہیں بیٹھتے وہ بھی کرسیوں کے نیچے اس کو بچھاتے اور اس سے لطف اٹھاتے ہیں مگریہ کوئی نہیں بتاتا کہ یہ آیا کہاں سے۔ ہندوستان میں اس کو مسلمان لائے۔ مگرمسلمانوں کو یہ ملا کہاں؟ تاریخ کا یہ بھید خود اسی لفظ کے اندرچھپا ہے۔ایشیائے کوچک میں آرمینیہ کے علاقے میں ایک شہر کا نام قالیقلا ہے۔ چوتھی صدی ہجری میں یہ اسلامی حکومت کا آخری شہر تھا۔ اس طرف جب نسبت کی جاتی تھی توقالی کہتے تھے۔ عربی زبان کا ایک مشہور ادیب اور لغوی اسی نسبت سے ابوعلی قالی کہلاتا ہے۔ یہ فرش قالین اسی شہر کی صنعت اور کاریگری ہے، اسی لئے اس ’فرش قالی‘ پہلے نسبت کے ساتھ کہا گیا، پھر استعمال کی کثرت سے اس کا نام ہی قالی پڑ گیا۔ یاقوت رومی متوفی ۶۲۶ء اپنے جغرافیہ معجم البلدان میں قالیقلا کے نیچے لکھتا ہے، وتعمل بقالیقلا ہذہ البسط المسماۃ بالقالی، اختصروا فی النسبۃ الی بعض اسمہ لثقلہ۔ (ج۷، ص ۱۷ مصر) یہ فرش جس کا نام قالین ہے قالیقلا میں بنایا جاتا ہے لفظ میں ہلکاپن کے لئے نسبت میں اختصار مدنظر رکھا ہے (یعنی قالیقلائی کی جگہ صرف قالی کہا ہے)موئد الفضلاء میں جو فارسی کا قدیم لغت ہے اس کو ’قالی‘ لکھا ہے اور ایک شعر نقل کیا ہے۔ فارسی شعرا نے بھی قالی ہی باندھا ہے اورجس چیز کو ہم غالیچہ کہتے ہیں، عجب نہیں کہ وہ قالیچہ ہو یعنی چھوٹا قالی، اب آخر کانون، جو قالین میں ہے وہ ’ین‘ ہے وہ نسبت کے معنی بخشتا ہے جیسے رنگ سے رنگین، قالین کے معنی وہ فرش جوقالی کی طرح ہو، ایک ی چونکہ پہلے سے موجود تھی، اس لئے دوسری میں نہیں لگی۔ یہ تحقیق میری ایجاد ہے، معلوم نہیں صحیح ہے یا غلط۔تکلفات کی تیسری قسم مکانات ہیں۔ پہلے بڑے محلوں اور ایوانوں میں اور اب بڑی بڑی کوٹھیوں میں اس حصہ کو جو نوکروں کے لئے بنایا جاتا ہے، ہماری زبان میں شاگرد پیشہ کہتے ہیں۔ بے چارے مولوی نورالحسن صاحب نیر مرحوم (نوراللغات کے مصنف) نے ایک دفعہ مجھ سے استفسار فرمایا کہ اس کو شاگرد پیشہ کیوں کہتے ہیں۔ میں نے ظرافت سے کہا کہ مغل درباروں میں جب بادشاہ پیری مریدی کرنے لگے تو نوکر چاکر چیلہ کہلانے لگے جس کی شہادت تاریخوں کے علاوہ دہلی کا ’کوچہ چیلاں ‘ دے رہا ہے۔ اسی چیلے کی فارسی شاگرد بنائی گئی اور شاگرد پیشہ اس گروہ خدام کا نام پڑا اوراس سے ان کے رہنے کے حصے کو بھی شاگرد پیشہ کہنے لگے۔کچھ دنوں کے بعد اپنی بڑی بچی شمیمہ بانو سلمہا کو گلستاں پڑھا رہا تھا، اس میں وہ حکایت آئی جس میں پردہ اور عَلم کا مناظرہ ہے،ایں حکایت شنو کہ در بغداد رایت و پردہ را خلاف افتادعلم شاہی نے جھک کر پردہ شاہی سے شکایت کی کہ سفر میں اور لڑائیوں میں تو مارا مارا میں پھرتا ہوں اور قرب سلطانی تم کو حاصل ہے، تم نازنیں کنیزوں کے ہاتھوں میں رہتے ہو اور، من فتادہ بدست شاگرداں۔ اس سے خیال آیا کہ شاہی ملازمین اور خدم وحشم کے معنوں میں یہ پرانا لفظ ہے اوراسی سے شاگرد پیشہ ہے اورہماری زبان میں محلوں کے اس حصے کو کہنے لگے جو خاص طور سے ان کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ ۱۱،ایک ہندوستانی لفظ کی اصلیت پر مجھے بڑا تعجب آیا۔ ایک بار میں عربی کا مشہورلغت تاج العروس دیکھ رہا تھا کہ لفظ راز پر نظر پڑی۔ اس کے معنی اس میں استاداورماہر کے لکھے تھے، دفعتاً میرا دھیان اپنے ہندی راج اور جاگیر (معمار) کی طرف گیا، لیکن یقین نہیں آتا تھا کہ عربی کا ایسا لفظ جو عربی میں بھی کتابوں اور تحریروں میں برتا نہ گیا ہو، وہ ہماری ہندوستانی کیسے آ گیا ہوگا لیکن دل یہی کہتا تھا۔ کتابیں الٹیں پلٹیں، دیکھیں مگر سراغ نہ لگا۔ اس سال کی گرمیوں کی تعطیل میں برادر عزیز پروفیسر نجیب اشرف ندوی سے پٹنہ میں نصاب الصبیاں کی طرح کا ایک قلمی رسالہ فارسی عربی ہندی کا ملا، جس میں فارسی اور عربی الفاظ کے مقابل ہندی الفاظ جمع کئے گئے ہیں اور شایدکسی ایرانی یا پارسی کی تصنیف ہو، مصنف کا نام اور زمانہ نہیں دیا ہے۔ رسالہ کا نام ’’لسان فارسیات‘‘ لکھا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ہندوستان کے کسی نووارد ایرانی کے لئے لکھا گیا ہو۔ تصنیف کا مقام گجرات ہے، اس میں پیشہ وروں کا باب دیکھ رہا تھا کہ لفظ جاگیر پر نظر پڑی جس کے معنی اس نے کریا یعنی کرنے والے کے لکھے تھے، دل نے کہا مدت کا کانٹا آج نکل گیا اورمعلوم ہوا کہ صحیح لفظ راجگیر ہے۔ پھر بھی پوری تشفی نہیں ہوئی، خدا بخش خاں کے کتب خانہ میں چلا گیا۔ فارسی لغت کی کئی کتابیں نکلوا کر دیکھیں، مطلب کا پتہ نہ پایا۔ آخر فرہنگ رشیدی عبدالرشید ٹھٹوی میں یہ عبارت نکلی، ’’راز معمار وسرداران گل کاران بہ ہندی راج گویند لیکن بدیں معنی عربی است۔ عسجدی گوید،بہ یکے تیر ہمہ فاش کند سر حصار در برد کردہ بود قیر گل کا ر راز۔‘‘اس عبارت نے پوری تشفی کردی، واپس آکر برہان قاطع میں دیکھا تویہ لکھا پایا، وگل کار را گویند وبعربی طیان خوانند و بعضے گفتہ اندر از در عربی کلانترو بزرگ نبایاں باشد۔ یعنی جس معنی میں ہم مستری کا لفظ بولتے ہیں۔ اچھا تو پھر مستری کیا لفظ ہے؟ خیال جاتا ہے کہ یہ اصل مسطری ہے۔ مسطر اس آلہ کو کہتے ہیں جس سے سطر سیدھی کی جاتی ہے، پرانے زمانے میں ایک موٹے کاغذ پر موٹے تاگے کو سیدھ سے ناپ کر آج کل کے رول دار کاغذ کی طرح سی دیتے تھے اوراس پر لکھنے کے کاغذ کو دبا کر سطروں کو ابھارتے تھے تاکہ لکھنے میں سطریں سیدھی ہوں، یہ تو کاغذ کی بات ہوئی۔ عمارتوں میں دیواروں کی سیدھ قائم کرنے کے جس آلہ سے کام لیا جاتا تھا وہ بھی مسطر ہوا اور اس مسطر سے جوماہر فن دیکھ بھال اور ناپ کر عمارت کی دیواروں کی سیدھ درست کرتا تھا، وہ مسطری کہلایا اور پھر جب وہ ہندوستانی زبانوں سے ادا ہوا تو مسطری کا مستری ہو گیا اوراب ہماری زبانوں کا لفظ ہے اور ماہر کاری گر کے معنی میں بولا جاتا ہے۔بڑھیوں کی بول چال میں ایک لفظ خراد اور خرادنا ہے۔ میز، کرسی، یا پلنگ وغیرہ کے پایوں کو چھیل کر کہیں موٹا کہیں پتلا کہیں گاؤ دم وغیرہ شکلیں بناتے ہیں۔ یہ خالص عربی لفظ خرط ہے، عربی میں اس کے معنی لکڑی کے اس طرح چھیلنے کے ہیں کہ اس کی اوپری پرت اتر جائے۔ اس سے خراط بنا یعنی وہ آلہ جس سے لکڑی کو اس طرح چھیلا جائے، وہ خراط ہمارے یہاں خراد ہوا اوراس سے خراد پر چڑھانا محاورہ خرادنا مصدر بنا۔ ۱۳، یہ لفظ اس حقیقت کا پتہ دیتا ہے کہ لکڑی کی یہ صنعت کاری مسلمانوں کے ذریعہ ہندوستان میں آئی اورپھیلی۔معماروں کے ایک ضروری آلہ کا نام ہماری زبان میں ساحول ہے، لمبے تاگے میں ایک وزنی لوہا یا اورکوئی دھات گول سی بندھی ہوتی ہے۔ اس کو نیچے لٹکاکر اونچائی سے دیوار کی سیدھ دیکھتے ہیں، خوارزمی نے مفاتیح العلوم میں ایک آلہ کا نام شاقول لکھا ہے اور اس کی یہ تشریح کی ہے ’ھوثقل یشدبہ فی طرف حبل یمدہ سفلایحتاج الیہ النجارون والبناؤون۔ ‘ (لیڈن ص ۲۵۵) یعنی وہ ایک بوجھل چیز جو رسی کے کنارے باندھ کر نیچے لٹکائیں اوراس کی ضرورت بڑھیوں اور معماروں کوہوتی ہے۔ اس تشریح سے یہ تومعلوم ہوگیا کہ ہندی ساہول کی عربی صورت شاقول ہے۔ عربی میں ثقل کے معنی وزن کے لکھے ہیں مگر کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شاقول ش سے نہیں بلکہ ثاقول ث سے ہو یعنی ثقل اور بوجھ کے معنی مگرہیئت کی کتابوں میں بھی شاقول ہی دیکھا گیا ہے۔ کیا وہاں بھی تصحیف ہوئی ہے۔اس کتاب میں بڑھیوں کے ایک اوزار کا نام الکونیا بتایا گیا ہے اوراس کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ یقدرون بہا الزاویۃ القائمۃ (ص ۲۵۵)، یعنی اس سے زاویہ قائمہ نکالتے ہیں۔ کوئی کچھ کہے، ہو نہ ہو لفظ ہمارا کونیا ہے جس کو آج بھی ہمارے کاریگر بولتے اور برتتے ہیں اوراس کا تلفظ کنیا ہے یعنی وہ آلہ جس سے کونہ (زاویہ) ناپیں۔ یہ ہاتھ ڈیڑھ ہاتھ کی دولکڑیاں ہوتی ہیں جن کو خط مستقیم جوڑ کر کونہ (زاویہ قائمہ) نکالتے ہیں۔یہ کتاب چوتھی صدی ہجری میں لکھی گئی ہے۔ یہ لفظ اتنے پرانے زمانے میں ہندوستان سے غزنویوں کے زمانہ میں وسط ایشیا تک کیسے چلا گیا۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا لفظ ہے جو وسط ایشیا سے ہندوستان آیا ہے۔ یہ جہاز کا لفظ ہے۔ جہاز دیکھنے میں عربی ہے مگر جس معنی میں یہ ہماری زبان میں بولا جاتا ہے وہ قطعاً ہندوستانی یا ہندوستانی فارسی ہے۔ اصل میں اس کے لفظی معنی تو سامان کرنے کے ہیں، اس سے تجہیزبنا، جس کے جہازیوں میں یہ معنی پیدا ہوئے کہ کشتی میں سامان رکھ کر کہیں بھیجنا۔ یہ اصطلاح تیسری صدی ہجری میں پھیل چکی تھی، بزرگ بن شہریار کے سفرنامہ میں ہے، انہ جہز مرکب لہ الی الزابج (ص۸) اس نے اپنا ایک جہاز سامان لاد کر جاوہ بھیجا۔یہ تو دریائی اصطلاح ہوئی لیکن اس کے سوبرس بعد یہ لفظ وسط ایشیا میں خشکی کے سامان تجارت کے معنوں میں سننے میں آتا ہے، حدود العالم میں جو ۳۷۱ھ کی تصنیف ہے۔ یہ لفظ ان معنوں میں بار بار آیا ہے، شروع شروع میں تومجھے تعجب ہوا کہ یہ جہاز خشکی میں کیسے چلا بعد میں سمجھ میں آیا کہ ابھی یہ لفظ سامان کرنے کے معنی سے قطع مسافت کرکے سامان کی منزل میں پہنچا ہے۔ وجہاز ہاے ہندوستان بدیں شہر افتاد۔ وآنجا بردۂ ہند وجہاز ہندوستان افتد (ص ۱۴۴ایران) اس سے یہ بات سمجھ میں آگئی کہ یہی جہاز بعد کو خشکی سے تری میں آ گیا اور سامان تجارت کے بجائے سامان تجارت لے جانے والے جہازوں کو خود جہاز کہنے لگے۔ ہندوستان میں اکبر کے زمانے میں فرشتہ نے اس لفظ کو اس معنی میں استعمال کیا ہے۔و بگفتۂ فرنگیاں جہازات متردد ساختند (ج۲ ص ۳۷۲ نول کشور) اب ہماری زبان میں یہ لفظ مطلق جہاز کے معنی میں بولا جانے لگا اور سامان تجارت اس سے رخصت ہو گیا۔اس سے ہماری زبان میں خوشی اور غم کے دو لفظ نکلے ہیں ایک جہیز اور دوسرا تجہیز۔ جہیز اس سامان کو کہتے ہیں جو شادی میں باپ کی طرف سے لڑکی کو ملتا ہے۔ اس معنی میں یہ لفظ بھی خالص ہندوستانی ہے، اس کی اصل جہاز ہے۔ سامان دینا یا سامان کرنا، عربی اور فارسی کے قاعدے سے الف میں امالہ ہوکر جہاز سے جہیز ہو گیا اوراب جہیز پر کسی عرب یا ایرانی کا قبضہ نہیں رہا۔ جہاز، مردہ کے کفن دفن کے سامان کو بھی عربی میں کہتے ہیں جس سے مصدر تجہیز بنا، یعنی سامان کرنا۔ اس سے ہماری زبان میں تجہیز و تکفین کا لفظ پیدا ہو گیا۔ذرا ذرا سی مناسبت سے دیکھئے تو کیسے کیسے لفظ بنتے اور معنی بدلتے ہیں۔ ذرا ا سی ’’ذرا‘‘پر غور کیجئے، کیا یہ عربی کا ذرہ نہیں جس کو آپ ذرۂ بے مقدار کی صورت میں اچھی طرح پہچانتے ہیں مگراستعمال کی کثرت سے مخفف ہوکر ذرا کے بہت ہی تھوڑے معنی ہو گئے اور ایسے ہوگئے کہ اب اس کو ذرہ سے ذرا بھی تعلق نہیں رہا۔ہماری زبان میں لفظ مضمون کی سرخی یعنی عنوان ہے۔ دیکھئے تویہ سیاہی سے سرخی کیسے بن گیا۔ بات یہ ہے کہ پہلے زمانے میں قلمی کتابوں میں بات اور عنوان کو امتیاز کے لئے سرخی سے لکھا کرتے تھے، اب ہمارے زمانہ میں جب چھاپا ایجاد ہوا تو خود باب کے یا مضمون کے عنوان کو سرخی کہنے لگے۔ چاہے آپ اس کو سیاہی سے لکھیں۔ اس لفظ کی یہ توجیہہ توپہلے ہی سے ذہن میں آرہی تھی مگر اتفاق سے ایک پرانی قلمی کتاب سے سند ہاتھ آ گئی تواپنے ذہنی الہام پر تصدیق کی مہر لگ گئی۔ شیخ محمود چراغ دہلی کے مرید سید محمدحسن اپنے مکتوبات میں ایک جگہ لکھتے ہیں، ’’کیفیت دیباچہ کہ بقلم مبارک آں محبوب بنشتہ بودند برائے سرخی بنشتن آں سپیدی بنشتہ عین فرستادہ شدہ است ور دیباچہ نبویسند۔۔۔ ذات لفظ صلوۃ سرخی بنویسند۔‘‘ (کتب خانہ حکیم عبدالعزیز مشرقی جالندھر شہر)کاغذات کی مسل (م س ل) ایک عام دفتری اصطلاح ہے۔ اس کی اصل عربی لفظ ’مثال‘ ہے۔ سرکاری شاہی کاغذات کی اصل تو دفتر میں رہتی تھی اوراس کی بعینہ نقل (مثال) لوگوں کے پاس بھیجی جاتی تھی۔ اس سے مثال کے دوسرے معنی فارسی میں شاہی فرمان کے پیدا ہوئے اور اس کی جمع امثلہ اور مثل بنی۔ مثال اور مثل نے مسلسل ہندی شکل اختیار کی۔ مثال اورامثلہ کا استعمال غالباً سلجوقیوں کے زمانہ سے رواج پایا، تاریخوں میں کثرت سے یہ لفظ آتا ہے۔ مثال کے لئے غزنوی عہد کے مبارک شاہ معروف بہ فخرمدیر کی کتاب آباد الحرب و الشجاعۃ ص ۱۲ کا ایک ٹکڑا پیش ہے، ’’مثال توقیع برسانند کہ ہرچہ تعجیل تربیاید۔‘‘نستعلیق ایک خاص فارسی خط کا نام ہے۔ یہ اصل میں نسخ اور تعلیق کی ہندی ترکیب ہے۔ ہندی ترکیب کا خاصہ ہے کہ جب دو لفظ ملاکر ایک بنائے جاتے ہیں توبیچ کا ایک آدھ حرف لفظ کو ہلکا کرنے کے لئے گرا دیتے ہیں۔ اس طرح نسخ وتعلیق مل کر نستعلیق بنا۔ عرب میں نسخ لکھنے اور نقل کرنے کو کہتے ہیں۔ اسی مناسبت سے اہل عجم نے عربی خط کا نام نسخ رکھا، تعلیق اور تعلیقہ کے نام سے اس نے فارسی شکل اختیارکی اوران دونوں سے مل کر نستعلیق خط بابر کے زمانے میں بنا۔ یہ وہی خط ہے جس میں آج کل اردو لکھی جاتی ہے۔ یہ خط دوسرے شکستہ وغیرہ خطوں کے مقابلہ میں بہت بنا کر نہایت تکلف سے ٹھہر ٹھہر کر لکھا جاتا ہے۔ اس سے نستعلیق آدمی اور نستعلیق چال کی شکلیں پیدا ہوئیں۔ چراغ ہدایت میں ہے، نستعلیق گوئی حرفہا را ساختد گفتن و عبارت را بتکلف ادا ساختن اشرف گوید۔ ز نستعلیق گویا قوت لب، ریحال خط واعم۔ اس سے ہماری زبان میں یہ وسعت پیدا ہوئی کہ نستعلیق لباس، نستعلیق چال اور نستعلیق بول چال کہنے لگے۔بعض لفظوں کی ظاہری شکل وصورت کیسا دھوکا دیتی ہے کتنے ہندوستانی لفظ ایسے گورے چٹے ہوتے ہیں کہ ولایتی معلوم ہوتے ہیں اور بعض سانولے رنگ کے ایرانی بھی دیکھے ہیں۔ ہماری زبان کا ایک بہت ہی خوبصورت لفظ چلبلا ہے جو غزل گوشاعروں کے ہاں خوب خوب کام آتا ہے۔ اس کی شکل توہندی ہے مگر ہے ایرانی، برہان قاطع میں ہے، ’’چلبلہ بضم اول وبائے ابجد بروزن سنبلہ شتاب واضطراب را گویند۔‘‘ ہم سمجھتے تھے کہ اس کا تعلق ہمارے ہندی لفظ چھل بل سے ہے۔ اب غور کرنا پڑے گا۔لفظ بھی کیا کیا صورت بدلتے ہیں، موٹے کپڑے کوہم گفش کہتے ہیں۔ مگر یہ آیا کہاں سے۔ فارسی میں اس کی صورت گبز ہے۔ بفتح اول و سکون ثانی وزائے نقطہ دار۔ ہر چند گندہ قوی وسطر را گویند (برہان قاطع) اس کی ودسری شکل غفص کی ہے۔ صورت تو عربی ہے مگر عربی نہیں۔احُدی کے معنی ہماری زبان میں سست اور کاہل کے ہیں۔ مگران سست کاہلوں کی پیداوار تاریخی ہے۔ احُدی احَدی ہے، احد کے معنی عربی میں ایک ہیں۔ وہ سپاہی جو فوج سے اکیلا ڈیوڑھی کی خدمت پر مامور رہتا تھا۔ اکبرؔ نے اس کواحدی (اکیلا) کا لقب بخشا۔ یہ احدی کھاتے تھے اور ڈیوڑھی پر پڑے رہتے تھے۔ کوئی کام کاج ان سے متعلق نہ تھا۔ اس لئے زبان خلق نے اس کو سست وکاہل کے معنوں میں کہہ کر پکارا۔ زبان خلق کو کون روک سکتا ہے۔ہماری زبان میں ایک لفظ قلعی ہے۔ آیئے اس کی بھی قلعی کھولیں۔ ہم لکھتے تو قلعی ہیں مگر بولتے قلئی ہیں۔ ہماری زبان میں اس کے معنی سپیدی اور صفائی کے ہیں، برتنوں پر قلعی کی جاتی ہے اور مکانوں پر قلعی پھیری جاتی ہے۔ یہ لفظ گوپرانی عربی کا نہیں مگرپھر بھی عربی لغتوں میں ملتا ہے۔ قلعی عربی میں (لسان) اور اسے فارسی میں (موئد الفضلا) رانگے کو کہتے ہیں۔ مگررانگے کو قلعی کیوں کہتے ہیں؟ لسان العرب کا بیان ہے کہ قلع ایک کان کا نام ہے جس سے رانگے کی بہترین قسم نکلتی تھی۔ اس لئے اس کی طرف نسبت کرکے اچھے رانگے کو قلعی کہتے ہیں اور چونکہ اسی رانگے سے تانبے کے برتنوں میں سپیدی پھیری جاتی ہے، اس لئے اس کو قلعی کرنا کہنے لگے۔ پھر چونے سے بھی اگرمکانوں میں سپیدی پھیری گئی تواس کو بھی قلعی پھیرنا کہہ دیا۔ ہماری زبان میں ان استعمالوں سے یہ معنی پیدا ہوئے کہ کسی داغ دھبے یا کسی کے عیب کو اگر چھپایا جائے تووہ اس پر قلعی کرنا ہوا اور اگراس داغ دھبے کو ظاہر کرکے سب کو دکھایا جائے تو وہ قلعی کھولنا ہوا۔تماشا بھی عجیب تماشے کا لفظ ہے۔ لفظ تو عربی ہے لیکن معنی عجمی ہیں۔ یہ مشی سے بنا ہے جس کے معنی چلنے کے ہیں۔ اس کو باب تفاعل میں لے گئے توتماشی ہوا اورمعنی باہم مل کر چلنا ہوئے، عجمیوں نے تماشی کو اپنے قاعدے سے تماشا بنالیا، جیسے تمنی کو تمنا بنا دیا۔ چونکہ سیر وتفریح کے لئے چند احباب ساتھ مل کر چلتے ہیں، اس لئے خود سیروتفریح کو تماشا کہنے لگے۔ اس کے بعد آگے بڑھے تو سیر وتفریح کے سامان کا بھی تماشا نام رکھا۔بجرم عشق تو را ماکشند غوغائیستتو نیز بر سر بام آکہ خود تماشا ئیست\n\nحاشیے\n\n(۱) یہ مقالہ ہندوستانی اکاڈمی کے ادبی کانفرنس الہ آباد پڑھا گیا۔\n\n(۲) آئین اکبری جلد اول۔\n\n(۳) لسان العرب لفظ قرط ج ۹\n\n(۴) جرجی زیدان نے اس کو لاطینی لکھا ہے، تاریخ تمدن اسلامی ص ۱۱۹ج\n\n(۵) مقدمہ ابن خلدون ص ۲۱۸\n\n(۶) ڈاکٹر تاراچند نے بتایا کہ تنکہ سنسکرت میں سکہ کوکہتے ہیں۔\n\n(۷) مولوی غلام مصطفی خاں لکچرر ایڈورڈ کالج امراوتی مطلع فرماتے ہیں کہ برامہ میں دھاوے کے معنی دومنزلہ مکان کے ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ چوکیاں دومنزلہ ہوتی ہوں۔\n\n(۸) ہمارے دوست تارا چند نے بتایا ہے کہ انگریزی و فرنچ میں کھمیر Khmer کہتے ہیں۔\n\n(۹) افسوس ہے کہ میری کتاب عرب و ہند کے مصحح نے اپنی غلط تصحیح سے صحیح کو غلط کردیا ہے۔ (دیکھو کتاب مذکور ص ۱۴۵)\n\n(۱۰) ڈاکٹر عبدالستار صدیقی نے معارف کے ایک مضمون میں بڑی تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ عربی نہیں فارسی لفظ ہے۔ شور اور با سے مرکب ہے۔ شور نمکین اور با فارسی میں کھانے کوکہتے ہیں۔ شوربا نمکین کھانا کھانے کے معنی میں شکنبا باورچی اور نانبائی کے لفظو ں میں ہے۔\n\n(۱۱) مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی کا ارشاد ہے کہ اس شاگرد کی اصل ’’شاہ گرد‘‘ ہے۔ بادشاہ کے اردگرد جو لوگ رہتے تھے ان کو شاہ گرد کہتے تھے اور کثرت استعمال سے وہ شاگرد ہو گیا۔ (س)\n\n(۱۲) ڈکٹر عبدالستار صدیقی صاحب مستری کو پرتگالی فرماتے ہیں اور اس کی اصل بتاتے ہیں۔ مگر پرتگالی میں خود بہت سے عربی لفظ ہیں۔ (س)\n\n(۱۳) پروفیسر غلام مصطفی خان لکھتے ہیں کہ شاید ظہوری نے نثرسوم میں سب سے پہلے خراط کی جگہ خراد استعمال کیا ہے۔ وہ کہتا ہے، فرور از استقا تش خراد رندہ کردہ است کج روی زنیہار (معارف مارچ ۱۹۴۱ء ص ۲۰۰)", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%B9%D8%B6_%D9%BE%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%84%D9%81%D8%B8%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82"} {"title": "بغاوت نفس", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "زندگی محبوب ہے پھر بھی دعائیں موت کی\nمانگتا ہے دل مرا دن رات کیوں\nقسمت غم گیں کے ہونٹوں پر کبھی\nآ نہیں سکتی خوشی کی بات کیوں\nکیوں نگاہوں پر مری چھائے ہیں آنسو کے نقاب\nاس سوال مستقل کا کیوں نہیں ملتا جواب\nکیا خودی کی الجھنیں میرے ارادے توڑ کر\nکر رہی ہیں مجھ کو اس دنیا میں ناکام حیات\nکیوں نہیں آتی وہ رات\nجس کی خرم تر سحر\nآرزو ہے مجھ سے ہو اب ہم کلام\nراحتیں معدوم ہیں میرے تخیل سے تمام\nراستہ مجھ کو نظر آتا نہیں\nراستہ مجھ کو خوشی کا کیوں نظر آتا نہیں\nچل مرے دل آج اس محدود خلوت سے نکل\nہاں سنبھل قعر خموشی میں نہ گر ہاں اب سنبھل\nبے خودی مسلک بنا لے بھول جا سب آج کل\nچھوڑ دے مرکز کی چاہت مضطرب ہو اور مچل\nسینۂ آتش فشاں کی طرح گرمی سے ابل\nچل مرے دل راستہ خوشیوں کا دیکھ\nاور شعلہ عیش کے لمحوں کا دیکھ\nدل گرفتہ آنسوؤں کو خشک کر\nدیکھ رستہ آنسوؤں کو خشک کر\nچھوڑ دے مرکز کی چاہت مضطرب ہو اور مچل\nچل مرے دل آج اس محدود خلوت سے نکل", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%BA%D8%A7%D9%88%D8%AA_%D9%86%D9%81%D8%B3"} {"title": "بغل میں ہم نے رات اک غیرت مہتاب دیکھا ہے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بغل میں ہم نے رات اک غیرت مہتاب دیکھا ہے\nتمہیں اس خواب کی تعبیر ہو کیا خواب دیکھا ہے\n\nتڑپ بجلی کی بھی دیکھی ہے وہ دل تھام لیتے ہیں\nتری بے تابیوں کو بھی دل بے تاب دیکھا ہے\n\nوہ الفت دوست ہوں ناصح دعا ہی دل سے نکلی ہے\nاگر دشمن کے گھر بھی مجمع احباب دیکھا ہے\n\nخدا کے سامنے اے محتسب سچ بولنا ہوگا\nمرے ساغر میں مے دیکھی ہے یا خوں ناب دیکھا ہے\n\nمبارکؔ اضطراب شوق کا عالم نہیں چھپتا\nکہ جب دیکھا ہے ہم نے آپ کو بے تاب دیکھا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%BA%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%DA%A9_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے\nبس اب ذلیل نہ کر اے نگاہ یاس مجھے\n\nیہ دل ہے شوق میں بے خود وہ آنکھ نشہ میں چور\nجھکا نہ دے سوۓ ساغر بھڑکتی پیاس مجھے\n\nادھر ملامت دنیا ادھر ملامت نفس\nبڑا عذاب ہے آئے ہوئے حواس مجھے\n\nپلٹ دو بات نہ لو منہ سے نام رخصت کا\nابھی سے گھر نظر آنے لگا اداس مجھے\n\nجو ملتفت ہیں یہ نظریں بدل بھی سکتی ہیں\nبنا چکا ہے زمانہ ادا شناس مجھے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%BA%D9%88%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%B3_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "بغیر اجازت (افسانہ)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بغیر اجازت", "year": "1955", "text_ur": "نعیم ٹہلتا ٹہلتا ایک باغ کے اندر چلا گیا۔۔۔ اس کو وہاں کی فضا بہت پسند آئی۔۔۔ گھاس کے ایک تختے پر لیٹ کر اس نے خود کلامی شروع کر دی۔\n\n’’کیسی پر فضا جگہ ہے۔۔۔ حیرت ہے کہ آج تک میری نظروں سے اوجھل رہی۔۔۔ نظریں۔۔۔ اوجھل۔‘‘\n\nاتنا کہہ کر وہ مسکرایا۔\n\n’’نظر ہو تو چیزیں نظر بھی نہیں آتیں۔۔۔ آہ کہ نظر کی بے نظری!‘‘ دیر تک وہ گھاس کے اس تختے پر لیٹا اور ٹھنڈک محسوس کرتا رہا۔ لیکن اس کی خود کلامی جاری تھی۔\n\n’’ یہ نرم نرم گھاس کتنی فرحت ناک ہے!آنکھیں پاؤں کے تلووں میں چلی آئیں۔۔۔ اور یہ پھول۔۔۔ یہ پھول اتنے خوبصورت نہیں جتنی ان کی ہرجائی خوشبو ہے۔۔۔ ہر شے جوہر جائی ہو۔۔۔خوبصورت ہوتی ہے۔۔۔ ہر جائی عورت۔۔۔ ہر جائی مرد۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ یہ خوبصورت چیزیں پہلے پیدا ہوئی تھیں۔۔۔ یا خوبصورت خیال۔۔۔ ہر خیال خوبصورت ہوتا ہے۔۔۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ ہر پھول خوبصورت نہیں ہوتا۔۔۔ مثال کے طور پر یہ پھول۔۔۔‘‘\n\nاس نے اٹھ کر ایک پھول کی طرف دیکھا اور اپنی خود کلامی جاری رکھی، ’’یہ اس ٹہنی پر اکڑوں بیٹھا ہے ۔۔۔ کتنا سفلہ دکھائی دیتا ہے بہر حال، یہ جگہ خوب ہے۔۔۔ ایک بہت بڑا دماغ معلوم ہوتی ہے۔۔۔ روشنی بھی ہے۔۔۔ سائے بھی ہیں۔۔۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت میں نہیں بلکہ یہ جگہ سوچ رہی ہے ۔یہ پرفضا جگہ جو اتنی دیر میری نظروں سے اوجھل رہی۔‘‘ اس کے بعد نعیم فرطِ مسرت میں کوئی غزل گانا شروع کر دیتا ہے۔۔۔ کہ اچانک موٹر کے ہارن کی کرخت آواز اس کے سازِ دل کے سارے تار جھنجھوڑ دیتی ہے۔\n\nوہ چونک کر اٹھتا ہے۔۔۔ دیکھتا ہے کہ ایک موٹر پاس کی روش پر کھڑ ی ہے اور ایک لمبی لمبی مونچھوں والا آدمی اس کی طرف قہرآلود نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔۔۔ اس مونچھوں والے آدمی نے گرج کر کہا:\n\n’’اے تم کون ہو؟‘‘\n\nنعیم جو اپنے ہی نشے میں سر شار تھا، چونکا، ’’یہ موٹر اس باغ میں کہاں سے آگئی؟‘‘\n\nمونچھوں والا جو اس باغ کا مالک تھا، بڑ بڑایا۔\n\n’’وضع قطع سے تو آدمی شریف معلوم ہوتا ہے مگر یہاں کیسے گھس آیا۔۔۔ کس اطمینان سے لیٹا تھا جیسے اس کے باوا کا باغ ہے۔‘‘ پھر اس نے بلند آواز میں للکار کے نعیم سے کہا :\n\n’’اماں۔۔۔ کچھ سنتے ہو؟‘‘\n\nنعیم نے جواب دیا، ’’حضور سن رہا ہوں۔۔۔ تشریف لے آئیے۔۔۔ یہاں بہت پر فضا جگہ ہے۔۔۔‘‘\n\nباغ کا مالک بھنّا گیا، ’’تشریف کا بچہ۔۔۔ اِدھر آؤ۔۔۔‘‘\n\nنعیم لیٹ گیا۔\n\n’’بھئی مجھ سے نہ آیا جائے گا ،تم خود ہی چلے آؤ۔۔۔ واللہ ! بڑی دل فریب جگہ ہے تمہاری سب کوفت دور ہو جائے گی۔۔۔‘‘\n\nباغ کا مالک موٹر سے نکلا۔۔۔ اور غصے میں بھرا ہوا نعیم کے پاس آیا:\n\n’’اُٹھو یہاں سے!‘‘\n\nنعیم کے کانوں میں اس کی تیکھی آواز بہت ناگوار گزری، ’’اتنے اونچے نہ بولو۔۔۔ آؤ، میرے پاس لیٹ جاؤ۔۔۔ بالکل خاموش جس طرح کہ میں لیٹا ہوا ہوں۔۔۔ آنکھیں بند کر لو۔۔۔ اپنا سارا جسم ڈھیلا چھوڑ دو۔۔۔ دماغ کی ساری بتیاں گل کر دو۔۔۔ پھر جب تم اس اندھیرے میں چلو گے تو ٹٹولتی ہوئی تمہاری انگلیاں غیر ارادی طور پر ایسے قمقمے روشن کریں گی جن کے وجود سے تم بالکل غافل تھے۔ آؤ میرے ساتھ لیٹ جاؤ۔۔۔‘‘\n\nباغ کے مالک نے ایک لحظہ سوچا۔۔۔ نعیم سے کہا، ’’دیوانے معلوم ہوتے ہو۔۔۔‘‘\nنعیم مسکرایا، ’’نہیں۔۔۔ تم نے کبھی دیوانے دیکھے ہی نہیں۔۔۔ میری جگہ یہاں اگر کوئی دیوانہ ہوتا تو وہ ان بکھری ہوئی جھاڑیوں اور ٹہنیوں پر بچوں کے گالوں کے مانند لٹکے ہوئے پھولوں سے کبھی مطمئن نہ ہوتا۔۔۔ دیوانگی اطمینان کا نام نہیں میرے دوست۔۔۔ لیکن آؤ! دیوانگی کی باتیں کریں۔‘‘\n\n’’بکواس بند کرو۔۔۔ نکل جاؤ یہاں سے۔‘‘\n\nباغ کے مالک کو طیش آگیا۔۔۔ اس نے اپنے ڈرائیورکو بلایا اور کہا کہ نعیم کو دھکے مار کر باہر نکال دے۔\n\n’’ارے تم کون ہو ؟ بڑے بد تمیز معلوم ہوتے ہو۔‘‘\n\nجب نعیم باہر جارہا تھا تو اس نے گیٹ پر ایک بورڈ دیکھا جس پر یہ لکھا تھا، ’’بغیر اجازت اندر آنا منع ہے۔‘‘\n\nوہ مسکرایا۔\n\nحیرت ہے کہ یہ میری نظروں سے اوجھل رہا۔۔۔ نظر ہو تو بعض چیزیں نظر نہیں بھی آتیں۔۔۔ آہ نظر کی یہ بے نظری۔\n\nیہاں سے نکل کر وہ ایک آرٹ کی نمائش میں چلا گیا تاکہ اپنا ذہنی تکدر دور کرسکے۔ہال میں داخل ہوتے ہی اس کو عورتوں اور مردوں کا جھرمٹ نظر آیا جو دیواروں پر لگی پینٹنگز دیکھ رہا تھا۔\n\nایک مرد کسی پارسی عورت سے کہہ رہا تھا، ’’مسز فوجدار۔۔۔ یہ پینٹنگ دیکھی آپ نے؟‘‘\n\nمسز فوجدار نے تصویر کو ایک نظر دیکھنے کے بعد ایک عورت شیریں کی طرف بڑے غور سے دیکھا اور اس مرد سے جو غالباً اس کا ہونے والا شوہر تھا کہا، ’’تم نے دیکھا ، شیریں کتنی سج بن کر آئی ہے!‘‘\n\nایک نوجوان عورت ایک نو عمر لڑکی سے کہہ رہی تھی،’’ثریا ! ادھر آ کے تصویریں دیکھ۔۔۔ تو وہاں کھڑی کیا کر رہی ہے؟‘‘\n\nثریا کو تصویروں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، اصل میں اس کو ایک بوائے فرینڈ سے ملنا تھا۔\n\nایک ادھیڑ عمر کا مرد جسے پینٹنگ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، اپنے ادھیڑ عمر کے دوست سے کہہ رہا تھا، ’’بلی زکام کی وجہ سے نڈھال ہے، ورنہ ضرور آتی۔۔۔ آپ جانتے ہی ہیں پینٹنگز سے اسے کتنی دلچسپی ہے، اب تو وہ بہت اچھی تصویریں بنا لیتی ہے، پرسوں اس نے پنسل کاغذ لے کر اپنے چھوٹے بھائی کی سائیکل کی تصویراتاری۔۔۔ میں تو دنگ رہ گیا۔‘‘\n\nنعیم پاس کھڑا تھا۔۔۔ اس نے ہلکے سے طنز کے ساتھ کہا، ’’ہو بہو سائیکل معلوم ہوتی ہوگی!‘‘\n\nدونوں دوست بھونچکے سے ہو کر رہ گئے کہ یہ کون بد تمیز ہے۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے نعیم سے پوچھا، ’’آپ کون۔۔۔؟‘‘\n\nنعیم بوکھلا گیا۔\n\n’’ میں۔۔۔ میں۔۔۔‘‘\n\n’’میں میں کیا کرتے ہو۔۔۔ بتاؤ تم کون ہو؟‘‘\n\nنعیم نے سنبھل کر کہا، ’’آپ ذرا آرام سے پوچھیے۔۔۔ میں آپ کو بتا سکتا ہوں۔۔۔‘‘\n\n’’تم یہاں آئے کیسے؟‘‘\n\nنعیم کا جواب بڑا مختصر تھا، ’’جی پیدل۔۔۔‘‘\n\nعورتوں اور مردوں نے جو آس پاس کھڑے تصویریں دیکھنے کی بجائے خدا معلوم کن کن چیزوں پر تبصرہ کر رہے تھے، ہنسنا شروع کر دیا۔۔۔ اتنے میں اس نمائش کا ناظم آیا۔ اس کو نعیم کی گستاخی کے متعلق بتایا گیا تو اس نے بڑے کڑے انداز میں اس سے پوچھا، ’’تمہارے پاس کارڈ ہے؟‘‘\n\n’’بغیر اجازت تم اندر چلے آئے۔ جاؤ بھاگ جاؤ یہاں سے۔‘‘\n\nنعیم ایک تصویر کو دیر تک دیکھنا چاہتا تھا مگر اسے بادل ناخواستہ وہاں سے نکلنا پڑا۔۔۔ سیدھا اپنے گھر گیا، دروازے پر دستک دی۔ اس کا نوکر فضلو باہر نکلا ۔نعیم نے اس سے درخواست کی، ’’کیا میں اندر آسکتا ہوں؟‘‘\n\nفضلو بوکھلا گیا، ’’حضور۔۔۔ حضور۔۔۔ یہ آپ کا اپنا گھر ہے۔ اجازت کیسی؟‘‘\n\nنعیم نے کہا، ’’نہیں فضلو۔۔۔ یہ میرا گھر نہیں۔۔۔ یہ گھر جو مجھے راحت بخشتا ہے، کیسے میرا ہوسکتا ہے۔۔۔ مجھے اب ایک نئی بات معلوم ہوئی ہے۔‘‘\n\nفضلو نے بڑے ادب سے پوچھا، ’’کیا سرکار؟‘‘\n\nنعیم نے کہا، ’’یہی کہ یہ میرا گھر نہیں۔۔۔ البتہ اس کا گرد و غبار۔۔۔ اس کی تمام غلاظتیں میری ہیں۔۔۔ وہ تمام چیزیں جن سے مجھے کوفت ہوتی ہے، میری ہیں، لیکن وہ تمام چیزیں جن سے مجھے راحت پہنچتی ہے کسی اور کی ۔۔۔ خدا جانے کس کی۔۔۔ میں اب ڈرتا ہوں۔۔۔ کسی اچھی چیز کو اپنانے سے خوف لگتا ہے ۔ یہ پانی میرا نہیں۔۔۔ یہ ہوا میری نہیں۔۔۔ یہ آسمان میرا نہیں۔۔۔ وہ لحاف جو میں سردیوں میں اوڑھتا ہوں، میرا نہیں۔۔۔ اس لیے کہ میں اس سے راحت طلب کرتا تھا۔۔۔ فضلو جاؤ۔۔۔ تم بھی میرے نہیں۔۔۔‘‘\n\nنعیم نے فضلو کو کوئی بات کرنے نہ دی۔\n\nوہ چلا گیا۔\n\nرات کے دس بج چکے تھے۔\n\nہیرا منڈی کے ایک کوٹھے سے ’’پیابن ناہیں آوت چین‘‘ کے بول باہر اڑ اڑ کے آرہے تھے\n\nنعیم اس کوٹھے پر چلا گیا۔\n\nاندر مجرا سننے والے تین چار مردوں کی طرف دیکھا۔۔۔ اور طوائف سے کہا، ’’ان اصحاب کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا؟ ‘‘\n\nطوائف مسکرائی، ’’انہیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔۔۔؟ ادھر مسند پر بیٹھیے گاؤ تکیہ لے لیجیے!‘‘\n\nنعیم بیٹھ گیا۔۔۔ اس نے کمرے کا جائزہ لیا اور اس طوائف سے کہا، ’’یہ کتنی اچھی جگہ ہے!‘‘\n\nطوائف سنجیدہ ہوگئ، ’’آپ کیا میرا مذاق اڑانے آئے ہیں۔۔۔ یہ اچھی جگہ ہے۔۔۔ جسے تمام شرفا حد سے زیادہ گندی جگہ سمجھتے ہیں۔۔۔‘‘\n\nنعیم نے اس سے کہا، ’’یہ اچھی جگہ اس لیے ہے کہ یہاں ’’بغیر اجازت کے آنا منع ہے‘‘ کا بورڈ آویزاں نہیں ہے۔۔۔‘‘\n\nیہ سن کر طوائف اور اس کا مجرا سننے والے تماش بین ہنسنے لگے۔ نعیم نے ایسا محسوس کیا کہ دنیا ایک اس قسم کی طوائف ہے جس کا مجرا سننے کے لیے اس قسم کے چغد آتے ہیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D8%B2%D8%AA_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29"} {"title": "بغیر اس کے یہ حیراں ہیں بغل دیکھ اپنی خالی ہم", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بغیر اس کے یہ حیراں ہیں بغل دیکھ اپنی خالی ہم\nکہ کروٹ لے نہیں سکتے ہیں جوں تصویر قالی ہم\n\nکوئی آتش کا پرکالہ جو وقت خواب یاد آوے\nتو سمجھیں کیوں نہ انگارے یہ گل ہائے نہالی ہم\n\nارادہ گر کیا دشنام دینے کا اب اے پیارے\nتو لب سے لب ملا کر بس تری کھا لیں گے گالی ہم\n\nنہ ہو پہلو میں اپنے جب وہ سبزہ رنگ ہی ظالم\nتو پھر کس رنگ کاٹیں یہ بلا سے رات کالی ہم\n\nلڑی ہے آنکھ اس سے جو یہ چتون میں جتاتا ہے\nکسی کی کیا ہمیں پروا ہیں اپنے لاابالی ہم\n\nنہ ہو وہ سیم تن پاس اپنے جب سیر شب مہ میں\nکریں تو دیکھ کیا بس ایک پیتل کی سی تھالی ہم\n\nجو ہو دور از خیال مانیؔ و بہزادؔ ہر صورت\nبغیر از مو قلم کھینچیں وہ تصویر خیالی ہم\n\nکریں وصف جمال یار میں اک شعر گر موزوں\nتو سمجھیں انتخاب جملہ اشعار جمالی ہم\n\nبہ کنج بے کسی پڑھتے ہیں جو ہم مرثیہ دل کا\nتو ہیں آپ ہی جوابی اور آپ ہی ہیں سوالی ہم\n\nوہ ڈوبا عطر میں ہو مست مئے مصروف سیر گل\nاور اس کو اس روش دیکھیں درون باغ خالی ہم\n\nگل امید تو شاید کہ اپنا بھی شگفتہ ہو\nتعجب کچھ نہیں گر پائیں پھل پاتے سہالی ہم\n\nزبس حالات عشق اب ہم پہ طاری ہے سدا جرأتؔ\nبہ طرز عاشقانہ کہتے ہیں اشعار حالیؔ ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%BA%D9%84_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DB%81%D9%85"} {"title": "بغیر دل کہ یہ قیمت ہے سارے عالم کی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بغیر دل کہ یہ قیمت ہے سارے عالم کی\nکسو سے کام نہیں رکھتی جنس آدم کی\n\nکوئی ہو محرم شوخی ترا تو میں پوچھوں\nکہ بزم عیش جہاں کیا سمجھ کے برہم کی\n\nہمیں تو باغ کی تکلیف سے معاف رکھو\nکہ سیر و گشت نہیں رسم اہل ماتم کی\n\nتنک تو لطف سے کچھ کہہ کہ جاں بہ لب ہوں میں\nرہی ہے بات مری جان اب کوئی دم کی\n\nگزرنے کو تو کج و واکج اپنی گزرے ہے\nجفا جو ان نے بہت کی تو کچھ وفا کم کی\n\nگھرے ہیں درد و الم میں فراق کے ایسے\nکہ صبح عید بھی یاں شام ہے محرم کی\n\nقفس میں میرؔ نہیں جوش داغ سینے پر\nہوس نکالی ہے ہم نے بھی گل کے موسم کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D9%82%DB%8C%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "بغیر ساغر و یار جواں نہیں گزرے", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بغیر ساغر و یار جواں نہیں گزرے\nہماری عمر کے دن رائیگاں نہیں گزرے\n\nہجوم گل میں رہے ہم ہزار دست دراز\nصبا نفس تھے کسی پر گراں نہیں گزرے\n\nنمود ان کی بھی دور سبو میں تھی کل رات\nابھی جو دور تہ آسماں نہیں گزرے\n\nنقوش پا سے ہمارے اگے ہیں لالہ و گل\nرہ بہار سے ہم بے نشاں نہیں گزرے\n\nغلط ہے ہم نفسو ان کا زندگی میں شمار\nجو دن بخدمت پیر مغاں نہیں گزرے\n\nظفرؔ کا مشرب رندی ہے اک جہاں سے الگ\nمری نگاہ سے ایسے جواں نہیں گزرے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92"} {"title": "بغیر یار گوارا نہیں کباب شراب", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بغیر یار گوارا نہیں کباب شراب\nگزک ہے داغ مجھے اور خون ناب شراب\n\nاگر ہے شوق طہارت شراب پی زاہد\nترے نجاست قلبی کو ہوگی آب شراب\n\nدماغ اہل خرابات کے معطر ہیں\nکباب نافۂ مشک ختن گلاب شراب\n\nپیوں نجات سمجھ کے جو عشق ساقی ہے\nدرود پڑھ کے تپاؤں پئے ثواب شراب\n\nبغیر سکر ہوا ہے یہ عالم سکرات\nہمارے منہ میں چواؤ بجاے آب شراب\n\nچمن پہ جھوم رہا ہے سیاہ مستی میں\nعجب بہار ہے برسائے جو سحاب شراب\n\nشب وصال ہے انجم کھلائیں نقل مجھے\nپلائے اپنے پیالے میں ماہتاب شراب\n\nبہت مذمت مے خوار لکھ رہا ہے شیخ\nخدا کرے کہ بنے جدول کتاب شراب\n\nچلے بہار کے ایام ساقیٔ گل رو\nمرا شباب ہے مہمان لا شتاب شراب\n\nکوئی گزک گزک حسن سے نہیں اعلیٰ\nشرابوں میں ہے مئے عشق انتخاب شراب\n\nہے نور نشا ضیا بخش دیدۂ عرفاں\nدر یگانۂ دل کی ہے آب و تاب شراب\n\nخدا کے گھر میں وہ برّا رہا ہے اے رندو\nجگاؤ شیخ کو چھڑکو بہ روئے خواب شراب\n\nنہ دیکھے بغض سے مانند شپرک زاہد\nہے اپنے نور سے ہم جام آفتاب شراب\n\nنشاط و عیش جہاں پر نہ بحرؔ لہرانا\nکہ باغ سبز گلستان ہے سراب شراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "بقدر جوش جنوں تار تار بھی نہ کیا", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بقدر جوش جنوں تار تار بھی نہ کیا\nوہ پیرہن جسے نذر بہار بھی نہ کیا\n\nکوئی جواب ہے اس طرز دلربائی کا\nسکوں بھی لوٹ لیا بے قرار بھی نہ کیا\n\nدل خراب سر کوئے یار لے آیا\nخیال گردش لیل و نہار بھی نہ کیا\n\nگزر گیا یونہی چپ چاپ کاروان بہار\nنوید گل بھی نہ دی دل فگار بھی نہ کیا\n\nخیال خاطر احباب اور کیا کرتے\nجگر پہ زخم بھی کھائے شمار بھی نہ کیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بقدر شوق اقرار وفا کیا", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بقدر شوق اقرار وفا کیا\nہمارے شوق کی ہے انتہا کیا\n\nدعا دل سے جو نکلے کارگر ہو\nیہاں دل ہی نہیں دل سے دعا کیا\n\nجو کہتے ہیں اب اس میں کچھ نہیں ہے\nکوئی ان سے یہ پوچھے مجھ میں تھا کیا\n\nنہ اس پر اختیار اپنا نہ اس پر\nسر آغاز و فکر انتہا کیا\n\nسلامت دامن امید سیمابؔ\nمحبت میں کسی کا آسرا کیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بقول سوز جرأتؔ کیا کہیں ہم فکر کو اپنی", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "بقول سوز جرأتؔ کیا کہیں ہم فکر کو اپنی\nہمارا شعر ہے گا بادۂ وحدت کا پیمانہ\nولے جیسا کوئی ہو اس کو ویسا نشہ کرتا ہے\nزنانے کو زنانا اور مردانے کو مردانہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%82%D9%88%D9%84_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%AC%D8%B1%D8%A3%D8%AA%D8%94_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C"} {"title": "بقید وقت یہ مژدہ سنا رہا ہے کوئی", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بقید وقت یہ مژدہ سنا رہا ہے کوئی\nکہ انقلاب کے پردے میں آ رہا ہے کوئی\n\nخودی کو راہ خدائی پہ لا رہا ہے کوئی\nابھی دماغ بشر آزما رہا ہے کوئی\n\nجہاں خرابۂ ہستی مٹا رہا ہے کوئی\nوہیں کہیں نئی دنیا بنا رہا ہے کوئی\n\nابھی نقاب کشائی حسن ہے دشوار\nوہی اٹھے ہوئے پردے اٹھا رہا ہے کوئی\n\nجو ذہن میں ہے وہ تصویر بن نہیں چکتی\nبنا بنا کے ہیولے مٹا رہا ہے کوئی\n\nبھلا رہا ہے کسی کو تو بر بنائے مآل\nیہ غور کر کہ بھلایا بھی جا رہا ہے کوئی\n\nدل فسردہ کی باتوں پہ یہ تبسم ناز\nکلی کو پھول بنانا سکھا رہا ہے کوئی\n\nوفا کی داد ہے کوتاہیٔ وفا کی دلیل\nمیں جانتا ہوں کہ ہمت بڑھا رہا ہے کوئی\n\nحدیث کہنہ ہے روداد انقلاب چمن\nسنی ہوئی سی کہانی سنا رہا ہے کوئی\n\nمری وفاؤں کا ہے اعتراف میرے بعد\nخوشا نصیب مجھے کھو کے پا رہا ہے کوئی\n\nہے اپنے سائے سے وحشت میں کس قدر تسکیں\nسمجھ رہا ہوں مرے ساتھ آ رہا ہے کوئی\n\nنصیب ذوق ہو سیمابؔ قسمت موسیٰ\nہمیں بھی طور کی جانب بلا رہا ہے کوئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D9%88%D9%82%D8%AA_%DB%8C%DB%81_%D9%85%DA%98%D8%AF%DB%81_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "بل پڑنے لگا ابروئے خم دار کے اوپر", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بل پڑنے لگا ابروئے خم دار کے اوپر\nآ جائے نہ آفت کہیں دو چار کے اوپر\n\nقطرات عرق ہیں نہیں یہ سلک گہر ہیں\nکیا عکس فگن اس رخ گلنار کے اوپر\n\nخوں ریزی پہ باندھے گا کمر جب کہ وہ سفاک\nگلزار بنا دے گا تن زار کے اوپر\n\nبوسہ جو طلب میں نے کیا بولے یہ اغیار\nتلوار چلے گی اسی تکرار کے اوپر\n\nوعدہ کیا آنے کا پر آئے نہیں ہرگز\nکیا ہوئے یقین آپ کے اقرار کے اوپر\n\nخوبوں کو محبت ہے بروں سے بھی کہ جوں گل\nرہتا ہے سدا سایہ فگن خار کے اوپر\n\nتاثیر ہے تقریر میں اس شوخ کی اتنی\nخاموش ہوئیں بلبلیں گفتار کے اوپر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84_%D9%BE%DA%91%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%85_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%88%D9%BE%D8%B1"} {"title": "بلا سے خلق ہو بے درد عشق کیا غم ہے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بلا سے خلق ہو بے درد عشق کیا غم ہے\nجراحت دل محزوں کا درد مرہم ہے\n\nجہاں میں غم سے کوئی عشرت کدہ نہیں خالی\nہے شمع بزم میں گریاں چمن میں شبنم ہے\n\nہوں آب دیدہ میں نرگس پہ دیکھ کر شبنم\nکہ آہ چشم کی صورت بھی اشک سے نم ہے\n\nرکھے ہے لطف شبستان بزم منعم لیک\nسواد شام غریباں کا اور عالم ہے\n\nگلوں کا چاک گریباں ہیں بلبلیں نالاں\nچمن میں عشقؔ خدا جانے کس کا ماتم ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%84%D9%82_%DB%81%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوار\nنگاہِ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار\n\nوفورِ اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگ\nکہ ہو گئے مرے دیوار و در در و دیوار\n\nنہیں ہے سایہ، کہ سن کر نوید مَقدمِ یار\nگئے ہیں چند قدم پیشتر در و دیوار\n\nہوئی ہے کس قدر ارزانیِ مئے جلوہ\nکہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار\n\nجو ہے تجھے سرِ سودائے انتظار، تو آ\nکہ ہیں دکانِ متاعِ نظر در و دیوار\n\nہجومِ گریہ کا سامان کب کیا میں نے\nکہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیوار\n\nوہ آ رہا مرے ہم سایہ میں، تو سائے سے\nہوئے فدا در و دیوار پر در و دیوار\n\nنظر میں کھٹکے ہے بِن تیرے گھر کی آبادی\nہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوار\n\nنہ پوچھ بے خودیِ عیشِ مَقدمِ سیلاب\nکہ ناچتے ہیں پڑے سر بسر در و دیوار\n\nنہ کہہ کسی سے کہ غالبؔ نہیں زمانے میں\nحریف رازِ محبت مگر در و دیوار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%B4_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%AF%D8%B1_%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1"} {"title": "بلا ہی عشق لیکن ہر بشر قابل نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بلا ہی عشق لیکن ہر بشر قابل نہیں ہوتا\nبہت پہلو ہیں ایسے بھی کہ جن میں دل نہیں ہوتا\n\nنشان بے نشانی مٹ نہیں سکتا قیامت تک\nیہ نقش حق جفائے دہر سے باطل نہیں ہوتا\n\nجہاں میں ناامیدی کے سوا امید کیا معنی\nسبھی کہتے ہیں لیکن دل مرا قائل نہیں ہوتا\n\nتڑپنا کس کا دیکھو گے جو زندہ ہوں تو سب کچھ ہو\nبلائے عشق کا مارا کبھی بسمل نہیں ہوتا\n\nصدائیں دے رہا ہوں مدتوں سے اہل مرقد کو\nسبھی سوتے ہیں لیکن یوں کوئی غافل نہیں ہوتا\n\nسرشک غم کی حد شام و سحر میں مل نہیں سکتی\nامنڈتے ہیں جو یہ دریا تو پھر ساحل نہیں ہوتا\n\nدعا دے عشق کو اے ظلم تو بھی زیب پہلو ہے\nوگرنہ کیسا ہی پیکاں ہو لیکن دل نہیں ہوتا\n\nفراموشی ہے لیکن یاد رکھتا ہے ترے در کو\nدر اغیار پر ثاقبؔ کبھی سائل نہیں ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86_%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D8%B4%D8%B1_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں\nہم اپنے ہاتھوں کا مژگاں سے کام لیتے ہیں\n\nہم ان کی زلف سے سودا جو وام لیتے ہیں\nتو اصل و سود وہ سب دام دام لیتے ہیں\n\nشب وصال کے روز فراق میں کیا کیا\nنصیب مجھ سے مرے انتقام لیتے ہیں\n\nقمر ہی داغ غلامی فقط نہیں رکھتا\nوہ مول ایسے ہزاروں غلام لیتے ہیں\n\nہم ان کے زور کے قائل ہیں ہیں وہی شہ زور\nجو عشق میں دل مضطر کو تھام لیتے ہیں\n\nقتیل ناز بتاتے نہیں تجھے قاتل\nجب ان سے پوچھو اجل ہی کا نام لیتے ہیں\n\nترے اسیر جو صیاد کرتے ہیں فریاد\nتو پھر وہ دم ہی نہیں زیر دام لیتے ہیں\n\nجھکائے ہے سر تسلیم ماہ نو پر وہ\nغرور حسن سے کس کا سلام لیتے ہیں\n\nترے خرام کے پیرو ہیں جتنے فتنے ہیں\nقدم سب آن کے وقت خرام لیتے ہیں\n\nہمارے ہاتھ سے اے ذوقؔ وقت مے نوشی\nہزار ناز سے وہ ایک جام لیتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AF%D8%A7%D9%85_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہوا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہوا\nچھری جو تیز ہوئی پہلے میں حلال ہوا\n\nگرو ہوا تو اسے چھوٹنا محال ہوا\nدل غریب مرا مفلسوں کا مال ہوا\n\nکمی نہیں تری درگاہ میں کسی شے کی\nوہی ملا ہے جو محتاج کا سوال ہوا\n\nدکھا کے چہرۂ روشن وہ کہتے ہیں سر شام\nوہ آفتاب نہیں ہے جسے زوال ہوا\n\nدکھا نہ دل کو صنم اتحاد رکھتا ہوں\nمجھے ملال ہوا تو تجھے ملال ہوا\n\nبجھایا آنکھوں نے وہ رخ تلاش مضموں میں\nخیال یار مرا شعر کا خیال ہوا\n\nترے شہید کے جیب کفن میں اے قاتل\nگلال سے بھی ہے رنگ عبیر لال ہوا\n\nبلند خاک نشینی نے قدر کی میری\nعروج مجھ کو ہوا جب کہ پائمال ہوا\n\nغضب میں یار کے شان کرم نظر آئی\nبنایا سرو چراغاں جسے نہال ہوا\n\nیقیں ہے دیکھتے صوفی تو دم نکل جاتا\nہمارے وجد کے عالم میں ہے جو حال ہوا\n\nوہ ناتواں تھا ارادہ کیا جو کھانے کا\nغم فراق کے دانتوں میں میں خلال ہوا\n\nکیا ہے زار یہ تیری کمر کے سودے نے\nپڑا جو عکس مرا آئینہ میں بال ہوا\n\nدکھانی تھی نہ تمہیں چشم سرمگیں اپنی\nنگاہ ناز سے وحشت زدہ غزال ہوا\n\nدہان یار کے بوسہ کی دل نے رغبت کی\nخیال خام کیا طالب محال ہوا\n\nرہا بہار و خزاں میں یہ حال سودے کا\nبڑھا تو زلف ہوا گھٹ گیا تو خال ہوا\n\nجنوں میں عالم طفلی کی بادشاہت کی\nکھلونا آنکھوں میں اپنی ہر اک غزال ہوا\n\nسنا جمیل بھی تیرا جو نام اے محبوب\nہزار جان سے دل بندۂ جمال ہوا\n\nلکھا ہے عاشقوں میں اپنے تو نے جس کا نام\nپھر اس کا چہرہ نہیں عمر بھر بحال ہوا\n\nگنہ کسی نے کیا تھرتھرایا دل اپنا\nعرق عرق ہوئے ہم جس کو انفعال ہوا\n\nترے دہان و کمر کا جو ذکر آیا یار\nگمان و وہم کو کیا کیا نہ احتمال ہوا\n\nکمال کون سا ہے وہ جسے زوال نہیں\nہزار شکر کہ مجھ کو نہ کچھ کمال ہوا\n\nتمہاری ابرو کج کا تھا دوج کا دھوکا\nسیاہ ہوتا اگر عید کا ہلال ہوا\n\nدیا جو رنج ترے عشق نے تو راحت تھی\nفراق تلخ تو شیریں مجھے وصال ہوا\n\nوہی ہے لوح شکست طلسم جسم آتشؔ\nجب اعتدال ناصر میں اختلال ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "بلادِ اسلامیہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "سرزمیں دلّی کی مسجودِ دلِ غم دیدہ ہے\nذرّے ذرّے میں لہُو اسلاف کا خوابیدہ ہے\nپاک اس اُجڑے گُلستاں کی نہ ہو کیونکر زمیں\nخانقاہِ عظمتِ اسلام ہے یہ سرزمیں\nسوتے ہیں اس خاک میں خیرالامم کے تاجدار\nنظمِ عالم کا رہا جن کی حکومت پر مدار\nدل کو تڑپاتی ہے اب تک گرمیِ محفل کی یاد\nجل چُکا حاصل مگر محفوظ ہے حاصل کی یاد\n\nہے زیارت گاہِ مسلم گو جہان آباد بھی\nاس کرامت کا مگر حق دار ہے بغداد بھی\nیہ چمن وہ ہے کہ تھا جس کے لیے سامانِ ناز\nلالۂ صحرا جسے کہتے ہیں تہذیبِ حجاز\nخاک اس بستی کی ہو کیونکر نہ ہمدوشِ اِرم\nجس نے دیکھے جانشینانِ پیمبرؐ کے قدم\nجس کے غُنچے تھے چمن ساماں، وہ گلشن ہے یہی\nکانپتا تھا جن سے روما، اُن کا مدفن ہے یہی\n\nہے زمینِ قُرطُبہ بھی دیدۂ مسلم کا نور\nظلمتِ مغرب میں جو روشن تھی مثلِ شمعِ طُور\nبُجھ کے بزمِ ملّتِ بیضا پریشاں کر گئی\nاور دِیا تہذیبِ حاضر کا فروزاں کر گئی\nقبر اُس تہذیب کی یہ سر زمینِ پاک ہے\nجس سے تاکِ گلشنِ یورپ کی رگ نم ناک ہے\n\nخطّۂ قُسطنطنیّہ یعنی قیصر کا دیار\nمہدیِ اُمّت کی سَطوت کا نشانِ پائدار\nصورتِ خاکِ حرم یہ سر زمیں بھی پاک ہے\nآستانِ مسند آرائے شہِ لولاکؐ ہے\nنکہتِ گُل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی ہوا\nتُربتِ ایّوب انصاریؓ سے آتی ہے صدا\nاے مسلماں! ملّتِ اسلام کا دل ہے یہ شہر\nسینکڑوں صدیوں کی کُشت و خُوں کا حاصل ہے یہ شہر\n\nوہ زمیں ہے تُو مگر اے خواب گاہِ مُصطفیٰؐ\nدید ہے کعبے کو تیری حجِّ اکبر سے سوا\nخاتمِ ہستی میں تُو تاباں ہے مانندِ نگیں\nاپنی عظمت کی ولادت گاہ تھی تیری زمیں\nتُجھ میں راحت اُس شہنشاہِ معظّمؐ کو مِلی\nجس کے دامن میں اماں اقوامِ عالم کو مِلی\nنام لیوا جس کے شاہنشاہ عالم کے ہوئے\nجانشیں قیصر کے، وارث مسندِ جم کے ہوئے\nہے اگر قومیّتِ اسلام پابندِ مقام\nہند ہی بنیاد ہے اس کی، نہ فارس ہے، نہ شام\nآہ یثرِب! دیس ہے مسلم کا تُو، املاء ہے تُو\nنُقطۂ جاذب تاثّر کی شعاعوں کا ہے تُو\nجب تلک باقی ہے تُو دنیا میں، باقی ہم بھی ہیں\nصُبح ہے تو اِس چمن میں گوہرِ شبنم بھی ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%AF%D9%90_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C%DB%81"} {"title": "بلال (لِکھّا ہے ایک مغربیِ حق شناس نے)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "لِکھّا ہے ایک مغربیِ حق شناس نے\nاہلِ قلم میں جس کا بہت احترام تھا\nجولاں گہِ سکندرِ رومی تھا ایشیا\nگردُوں سے بھی بلند تر اُس کا مقام تھا\nتاریخ کہہ رہی ہے کہ رومی کے سامنے\nدعویٰ کِیا جو پورس و دارا نے، خام تھا\nدنیا کے اُس شہنشہِ انجم سپاہ کو\nحیرت سے دیکھتا فلکِ نیل فام تھا\nآج ایشیا میں اُس کو کوئی جانتا نہیں\nتاریخ دان بھی اُسے پہچانتا نہیں\n\nلیکن بِلالؓ، وہ حبَشی زادۂ حقیر\nفطرت تھی جس کی نُورِ نبوّت سے مُستنیر\nجس کا امیں ازل سے ہُوا سینۂ بِلالؓ\nمحکوم اُس صدا کے ہیں شاہنشہ و فقیر\nہوتا ہے جس سے اسوَد و احمر میں اختلاط\nکرتی ہے جو غریب کو ہم پہلوئے امیر\nہے تازہ آج تک وہ نوائے جگر گداز\nصدیوں سے سُن رہا ہے جسے گوشِ چرخِ پیر\nاقبالؔ! کس کے عشق کا یہ فیضِ عام ہے\nرومی فنا ہُوا، حبَشی کو دوام ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A7%D9%84_%28%D9%84%D9%90%DA%A9%DA%BE%D9%91%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%85%D8%BA%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D9%90_%D8%AD%D9%82_%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92%29"} {"title": "بلال (چمک اُٹھا جو ستارہ ترے مقدّر کا)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "چمک اُٹھا جو ستارہ ترے مقدّر کا\nحبَش سے تجھ کو اُٹھا کر حجاز میں لایا\nہُوئی اسی سے ترے غم کدے کی آبادی\nتری غلامی کے صدقے ہزار آزادی\nوہ آستاں نہ چھُٹا تجھ سے ایک دم کے لیے\nکسی کے شوق میں تو نے مزے ستم کے لیے\nجفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں\nستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں\n\nنظر تھی صورتِ سلماںؓ ادا شناس تری\nشرابِ دید سے بڑھتی تھی اور پیاس تری\nتجھے نظارے کا مثلِ کلیمؑ سودا تھا\nاویسؓ طاقتِ دیدار کو ترستا تھا\nمدینہ تیری نگاہوں کا نور تھا گویا\nترے لیے تو یہ صحرا ہی طُور تھا گویا\nتری نظر کو رہی دید میں بھی حسرتِ دید\nخُنَک دلے کہ تپید و دمے نیا سائید\nگری وہ برق تری جانِ ناشکیبا پر\nکہ خندہ زن تری ظُلمت تھی دستِ موسیٰ پر\nتپش ز شعلہ گر فتند و بر دلِ تو زدند\nچہ برقِ جلوہ بخاشاکِ حاصلِ تو زدند!\n\nادائے دید سراپا نیاز تھی تیری\nکسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری\nاذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی\nنماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بنی\nخوشا وہ وقت کہ یثرِب مقام تھا اس کا\nخوشا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A7%D9%84_%28%DA%86%D9%85%DA%A9_%D8%A7%D9%8F%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%91%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%29"} {"title": "بلبل اور گلاب", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بلبل\nاے رنگ بھرے گلاب کے پھول\nاس شان اس آب و تاب کے پھول\nدلچسپ بہت ہیں رنگ تیرے\nہیں مجھ کو پسند ڈھنگ تیرے\nکھلتا ہے جو تو اس انجمن میں\nلگتی ہے اک آگ سی چمن میں\nکیا یہ اثر ہے پنکھڑی میں\nکیسی ہے چٹک کلی کلی میں\nکس نے تجھے اسقدر سجایا\nکس نے تجھے باغ میں کھلایا\nکیوں تجھ میں ہے دل کشی زیادہ\nکس ملک کا تو ہے شاہزادہ\n\nگلاب\nاے رنگ بھرے ترانے والی\nگلشن میں بہار گانے والی\nاے باغ کی لا جواب چڑیا\nاے شیفتۂ گلاب چڑیا\nجس نے تجھے چہچہے دئے ہیں\nدلچسپ یہ زمزمے دیے ہیں\nاس نے مجھے پھول ہے بنایا\nاک پیڑ کی شاخ سے اگایا\nسب پھول ہیں میرے آگے سادہ\nاس باغ کا ہوں میں شاہزادہ\nمجھ سا نہیں اور کوئی خوش بخت\nہے میرے لئے بہار کا تخت\n\nبلبل\nپیارے مرے اے گلاب کے پھول\nاے گلشن لا جواب کے پھول\nرنگین خموش سیدھے سادے\nاے ملک چمن کے شاہزادے\nکرتی ہے بہار جب کنارا\nہو جاتا ہے زرد باغ سارا\nآتا نہیں کیوں مجھے نظر تو\nجاتا ہے چھپا چھپا کدھر تو\nمرجھاتی ہیں تیری ساری کلیاں\nرہتی نہیں پھر یہ رنگ رلیاں\nاڑ جاتی ہے بو حنا کی مانند\nہوتا ہے فنا ہوا کی مانند\n\nگلاب\nاے مطربۂ بہار بلبل\nاے عاشق بیقرار بلبل\nہوتا ہوں میں خاک ہی سے پیدا\nآخر کو ہوں خاک ہی میں ملتا\nغم خوار بھی غم گسار بھی ہے\nماں بھی ہے یہی مزار بھی ہے\nدنیا میں ہیں جتنے پھول کلیاں\nہے سب میں بقا فنا نمایاں\nمرجھا کے ہر ایک پھول پتا\nہوتا ہے پھر اس زمیں سے پیدا\nہر پھول میں ہے خدا کی قدرت\nہر خار میں ہے اسی کی حکمت", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%AF%D9%84%D8%A7%D8%A8"} {"title": "بلبل تو بہت ہیں گل رعنا نہیں کوئی", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بلبل تو بہت ہیں گل رعنا نہیں کوئی\nبیمار ہزاروں ہیں مسیحا نہیں کوئی\n\nکام آئے برے وقت میں ایسا نہیں کوئی\nتم کیا ہو زمانے میں کسی کا نہیں کوئی\n\nہم عشق میں ہیں فرد تو تم حسن میں یکتا\nہم سا بھی نہیں ایک جو تم سا نہیں کوئی\n\nتم کیا کرو قسمت ہی اگر اپنی بری ہو\nتقدیر کے لکھے کو مٹاتا نہیں کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D8%B9%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "بلبل سنے نہ کیونکہ قفس میں چمن کی بات", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بلبل سنے نہ کیونکہ قفس میں چمن کی بات\nآوارۂ وطن کو لگے خوش وطن کی بات\n\nمت پوچھ حال اپنے تو بیمار عشق کا\nہونے لگی اب اس کے تو گور و کفن کی بات\n\nہے موسم بہار میں با صد زباں خموش\nغنچے نے کیا سنی تھی کسی کے دہن کی بات\n\nعیش و طرب کا ذکر کروں کیا میں دوستو\nمجھ غمزدہ سے پوچھئے رنج و محن کی بات\n\nناصح میں کیا کہوں کہ ہوا کس طرح سے چاک\nدست جنوں سے پوچھو مرے پیرہن کی بات\n\nتھا عاقل زمانہ پہ دیوانہ ہو گیا\nجس شخص نے سنی مرے دیوانہ پن کی بات\n\nسر دیجے راہ عشق میں پر منہ نہ موڑیئے\nپتھر کی سی لکیر ہے یہ کوہ کن کی بات\n\nبزم چمن بھی اس سے خجل ہے بہار میں\nکیا پوچھنے ہے یار تری انجمن کی بات\n\nیارو میں کیا کہوں کہ جلا کس طرح پتنگ\nپوچھو زبان شمع سے اس کی لگن کی بات\n\nشاید اسی کا ذکر ہو ہر رہ گزر میں میں\nسنتا ہوں گوش دل سے ہر اک مرد و زن کی بات\n\nوہ شے نہیں ہے ہم میں کہ جس سے ملے وہ یار\nآتی ہے یوں تو ہم کو بھی ہر ایک فن کی بات\n\nجرأتؔ خزاں کے آتے چمن میں رہا نہ کچھ\nاک رہ گئی زباں پہ گل و یاسمن کی بات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D8%B3%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%DB%81_%D9%82%D9%81%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا\nہم نے اسے ہر خار بیابان میں دیکھا\n\nروشن ہے وہ ہر ایک ستارے میں زلیخا\nجس نور کو تو نے سر کنعان میں دیکھا\n\nبرہم کرے جمعیت کونین جو پل میں\nلٹکا وہ تری زلف پریشان میں دیکھا\n\nواعظ تو سنے بولے ہے جس روز کی باتیں\nاس روز کو ہم نے شب ہجران میں دیکھا\n\nاے زخم جگر سودۂ الماس سے خو کر\nکتنا وہ مزا تھا جو نمک دان میں دیکھا\n\nسوداؔ جو ترا حال ہے اتنا تو نہیں وہ\nکیا جانیے تو نے اسے کس آن میں دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "بلبل و پروانہ", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "گرا رہا ہے ترا شوق شمع پر تجھ کو\nمجھے یہ ڈر ہے نہ پہنچے کہیں ضرر تجھ کو\nفروغ شعلہ کہاں اور فروغ حسن کہاں\nہزار حیف کہ اتنی نہیں خبر تجھ کو\nتڑپ تڑپ کے جو بے اختیار کرتا ہے\nنہیں ہے آگ کے شعلہ سے آہ ڈر تجھ کو\nیہ ننھے ننھے پر و بال یہ ستم کی تپش\nملا ہے آہ قیامت کا کیا جگر تجھ کو\nقریب شمع کے آ کر جو تھرتھراتا ہے\nنہیں ہے جان کے جانے کا غم مگر تجھ کو\nملے گی خاک بھی ڈھونڈے نہ تیری محفل میں\nصبا اڑائے پھرے گی دم سحر تجھ کو\nسمجھ نہ شمع کو دل سوز عافیت دشمن\nجلا کے آہ رہے گی یہ مشت پر تجھ کو\nنہیں ہے تو ابھی سوز و گداز کے قابل\nنہیں ہے عشق کی عرض و نیاز کے قابل\nتپش یہ بزم میں فانوس پر نہیں اچھی\nکہ آگ لاگ کی او بے خبر نہیں اچھی\nکڑی ہے آنچ محبت کی شمع محفل سے\nلگاوٹیں ارے تفتہ جگر نہیں اچھی\nتڑپ تڑپ کے نہ دیوانہ وار شمع پہ گر\nتپش یہ شوق کی، او مشت پر نہیں اچھی\nیہ جاں گدازئ سوز وفا سر محفل\nکہیں نہ ہو ترے جی کا ضرر نہیں اچھی\nلڑا نہ شمع سے آنکھیں کہ ہے عدو تیری\nتری نگاہ محبت اثر نہیں اچھی\nیہ ننھے ننھے پروں کی تڑپ یہ بیتابی\nحریف شوخئ برق نظر نہیں اچھی\nیہ پر سمیٹ کے فانوس پر ترا گرنا\nیہ بے خودی ارے شوریدہ سر نہیں اچھی\nچمن میں چل کہ دکھاؤں بہار شاہد گل\nنظر فریب ہیں نقش و نگار شاہد گل\nمیں بو الہوس نہیں سمجھا ہے تو نے کیا مجھ کو\nپسند شاہد گل کی نہیں ادا مجھ کو\nفراق گل میں میں منت کش فغاں ہوں دریغ\nیہ داغ سوز جدائی نہ دے خدا مجھ کو\nدل گداختہ لے کر ازل سے آیا ہوں\nبنایا بزم میں ہے سوز آشنا مجھ کو\nجلے وہ بزم میں چپ چاپ اور میں نہ جلوں\nبعید عشق سے ہے ہو غم فنا مجھ کو\nتری نگاہ میں جاں سوز ہے جو اے بلبل\nوہ آہ آگ کا شعلہ ہے جاں فزا مجھ کو\nکھلا ہے تجھ پہ ابھی آہ راز عشق کہاں\nتو بو الہوس ہے، تجھے امتیاز عشق کہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D9%88_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "بلبل کا دل خزاں کے صدمے سے ہل رہا ہے", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بلبل کا دل خزاں کے صدمے سے ہل رہا ہے\nگل زار کا مرقع مٹی میں مل رہا ہے\n\nعالم میں جس نے جس نے دیکھا ہے عالم ان کا\nکوئی تو ہم سے کہہ دے قابو میں دل رہا ہے\n\nرخصت بہار کی ہے کہرام ہے چمن میں\nغنچے سے غنچہ بلبل بلبل سے مل رہا ہے\n\nہرگز شباب پر تم نازاں شرفؔ نہ ہونا\nملنے کو خاک میں ہے جو پھول کھل رہا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B5%D8%AF%D9%85%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%84_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "بلبل کو بھی نہیں ہے دماغِ صدائے گل", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بلبل کو بھی نہیں ہے دماغِ صدائے گل\nبگڑی ہے تیرے دور میں ایسی ہوائے گل\n\nہنگامِ غش جو غیر کو اس نے سنگھائے گل\nجنت میں لے چلی مری جاں کو ہوائے گل\n\nایما ہے بعدِ مرگ بھی ہم بے وفا رہے\nاس واسطے مزار پہ میرے چڑھائے گل\n\nمرتی ہیں گل کے نام پہ ہی بلبلیں کہ اب\nپھرتی ہیں ساتھ ساتھ مرے جب سے کھائے گل\n\nکھٹکوں عدو کی آنکھ میں تا بعدِ مرگ بھی\nکانٹے مرے مزار پہ رکھنا بجائے گل\n\nکس کس طرح سے کھوئے گئے غیر کیا کہوں\nروزِ جزا بھی سینے پہ میرے جو پائے گل\n\nجلتی ہے تیرے حسنِ جہاں سوز سے بہار\nنکلیں گے شعلے خاکِ چمن سے بجائے گل\n\nآخر دو رنگی اس گلِ رعنا پہ کھل گئ\nلوگوں کو دیکھ کر جو عدو نے چھپائے گل\n\nعاشق سے پہلے راہِ محبت میں جان دے\nکیوں کر نہ عندلیب کرے جاں فدائے گل\n\nخاموش عندلیب، کہ طاقت نہیں رہی\nہیں چاک پردے کان کے مثلِ قبائے گل\n\nشاید دکھانے لائے گا اس کو کہ غیر نے\nبستر پہ میرے کانٹوں کے بدلے بچھائے گل\n\nجس گل میں ہے ادا وہ چمن میں بھلا کہاں\nاے بلبلو، تمہیں کو مبارک ادائے گل\n\nمیرا انہیں کو غم ہے کہ بلبل کی آہ پر\nکرتا ہے کون چاک گریباں، سوائے گل\n\nجنت میں پہنچیں بلبلیں، پروانے جل گئے\nاب کون شمع گور پر اور کون لائے گل\n\nاک گل کا شوق تھا سبب اپنی وفات کا\nپھولوں کے دن مرے رفقا نے منگائے گل\n\nلکھی یہ ہم نے وہ غزلِ تازہ شیفتہ\nہر شعر جس میں داغ دہِ دستہ ہائے گل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA%D9%90_%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D9%84"} {"title": "بلبل کو خار خار دبستاں ہے ان دنوں", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بلبل کو خار خار دبستاں ہے ان دنوں\nہر طفل کی بغل میں گلستاں ہے ان دنوں\n\nزنار عشق بت میں رگ جاں ہے ان دنوں\nناقوس برہمن دل نالاں ہے ان دنوں\n\nآباد میرا خانۂ ویراں ہے ان دنوں\nسیلاب مجھ غریب کا مہماں ہے ان دنوں\n\nدامن ہے اپنے ہاتھ میں اک رشک ماہ کا\nپیش نظر ہلال گریباں ہے ان دنوں\n\nباغ جہاں میں جو ہے گرفتار ہے ترا\nآزاد ایک سرو گلستاں ہے ان دنوں\n\nکہتے ہیں ہم زمین میں مجنوں کی اب غزل\nہر بیت اپنی خانۂ زنداں ہے ان دنوں\n\nکافر ہو اے صنم جو خریدے نہ تو اسے\nمہندی کے مول خون مسلماں ہے ان دنوں\n\nہنگامہ حسن و عشق کا ہے گرم آج کل بہت\nدیوانہ پری ہے جو انساں ہے ان دنوں\n\nمستی کا ان لبوں کے فسانہ کہاں نہیں\nمجلس نہیں وہ جو نہیں حیراں ہے ان دنوں\n\nصدقے چکور ہوتے ہیں رخسار یار کے\nوہ ماہ چار دہ مہ تاباں ہے ان دنوں\n\nآتا ہے سیر باغ کو وہ گوہر مراد\nپھیلائے گل کے پاس جو داماں ہے ان دنوں\n\nقد سرو چہرہ گل ہے تو سنبل ہیں موئے یار\nگھر خانہ باغ ہے جو وہ مہماں ہے ان دنوں\n\nجوہر شناس جمع ہیں آتشؔ ہے معرکہ\nشمشیر ہے وہی کہ جو عریاں ہے ان دنوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%86%D9%88%DA%BA"} {"title": "بلبل کہو گل کی کیا خبر ہے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بلبل کہو گل کی کیا خبر ہے\nگلشن میں بہار کس قدر ہے\n\nمنظور نظر ہے جب سے خوش چشم\nاپنی نہ کسو طرف نظر ہے\n\nگر شیخ نے آہ کی تو مت بھول\nدل میں پتھر کے بھی شرر ہے\n\nنرگس جو کھڑی ہے عشقؔ حیران\nکس جانئے کس کی راہ پر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%81%D9%88_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "بلبل کی ہزار آشنائی دیکھی", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بلبل کی ہزار آشنائی دیکھی\nاور گل کی کروڑ بے وفائی دیکھی\nکچھ اپنا برا بھلا نہ دیکھا ناحق\nاور دل کی برائی بھلائی دیکھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C"} {"title": "بلبل گلوں سے دیکھ کے تجھ کو بگڑ گیا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بلبل گلوں سے دیکھ کے تجھ کو بگڑ گیا\nقمری کا طوق سرو کی گردن میں پڑ گیا\n\nچیں بر جبیں نہ اے بت چین رہ غرور سے\nتصویر کا ہے عیب جو چہرہ بگڑ گیا\n\nآئی تو ہے پسند اسے چال یار کی\nسن لیجو پاؤں کبک دری کا اکھڑ گیا\n\nپیچھے ہٹا نہ کوچۂ قاتل سے اپنا پاؤں\nسر سے تڑپ کے چار قدم آگے دھڑ گیا\n\nکھینچی جو میری طرح سے قمری نے آہ سرد\nجاڑے کے مارے سرو چمن میں اکڑ گیا\n\nشیریں کے شیفتہ ہوئے پرویز و کوہ کن\nشاعر ہوں میں یہ کہتا ہوں مضمون لڑ گیا\n\nاللہ رے شوق اپنی جبیں کو خبر نہیں\nاس بت کے آستانہ کا پتھر رگڑ گیا\n\nدرماں سے اور درد ہمارا ہوا دو چند\nمرہم سے داغ سینہ میں ناسور پڑ گیا\n\nگلدستہ بن کے رونق بزم شہاں ہوا\nکوڑا جو اس فقیر کے تکیے سے جھڑ گیا\n\nنکلا نہ جسم سے دل نالاں شریک روح\nمنزل میں رنگ ناقہ سے اپنے بچھڑ گیا\n\nپہنچا مجاز سے جو حقیقت کی کنہ کو\nیہ جان لے کہ راستے میں پھیر پڑ گیا\n\nفرقت کی شب میں زیست نے اپنی وفا نہ کی\nقبل سحر چراغ ہمارا نہ بڑھ گیا\n\nپاتا ہوں شوق وصل میں احباب کی کمی\nحسن و جمال یار میں کچھ فرق پڑ گیا\n\nلاشوں کو عاشقوں کے نہ اٹھو گلی سے یار\nبسنے کا پھر یہ گاؤں نہیں جب اجڑ گیا\n\nدیکھا تجھے جو خون شہیداں سے سرخ پوش\nترک فلک زمیں میں خجالت سے گڑ گیا\n\nبرسوں کی راہ آ کے عزیزاں نکل گئے\nافسوس کارواں سے میں اپنے بچھڑ گیا\n\nآیا جو شرح لعل لب یار کا خیال\nجھنڈا قلم کا اپنے بدخشاں میں گڑ گیا\n\nمیں نے لیا بغل میں پری رو وصال کو\nدیو فراق کشتی میں مجھ سے بچھڑ گیا\n\nآتشؔ نہ پوچھ حال تو مجھ درد مند کا\nسینہ میں داغ داغ میں ناسور پڑ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%DA%AF%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%AF%DA%91_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بلبلا پھوٹے پہ ہو جاتا ہے آب", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بلبلا پھوٹے پہ ہو جاتا ہے آب\nجان و جاناں میں ہے یہ ہستی حجاب\n\nکیا جھلکتے ہیں در دنداں ترے\nایسی موتی میں کہاں ہے آب و تاب\n\nہے گا نورانی رخ روشن ترا\nرات کو مہتاب دن کو آفتاب\n\nبے طرح اس گھر بسے کی یاد میں\nاب تڑپتا ہے دل خانہ خراب\n\nشاد آنکھوں سے کیا ہے دیکھ عشقؔ\nابروئے جاناں کی بیت انتخاب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%B9%DB%92_%D9%BE%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%A8"} {"title": "بلبلو باغباں کو کیوں چھیڑا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بلبلو باغباں کو کیوں چھیڑا\nتم نے ساز فغاں کو کیوں چھیڑا\n\nمجھ کو اس ترک سے یہ شکوہ ہے\nدل پہ رکھ کر سناں کو کیوں چھیڑا\n\nنہ بلا لائے مجھ سا دیوانہ\nسنگسار جہاں کو کیوں چھیڑا\n\nاے ہما! اور کھانے تھے مردے\nمیرے ہی استخواں کو کیوں چھیڑا\n\nبہلہ نادم ہو جی میں کہتا ہے\nمیں نے اس مومیاں کو کیوں چھیڑا\n\nپھر گیا مجھ سے جو مزاج اس کا\nگردش آسماں کو کیوں چھیڑا\n\nدور سے اس نے میری صورت دیکھ\nتوسن خوش عناں کو کیوں چھیڑا\n\nداستاں اپنی مجھ کو کہنی تھی\nقصۂ این و آں کو کیوں چھیڑا\n\nقصہ خواں اور لاکھ قصے تھے\nتو نے ذکر بتاں کو کیوں چھیڑا\n\nجس سے کل مجھ کو آ گئی تھی غشی\nپھر اسی داستاں کو کیوں چھیڑا\n\nمصحفیؔ گھر کے گھر جلا دے گا\nایسے آتش زباں کو کیوں چھیڑا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%BA%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91%D8%A7"} {"title": "بلشویک رُوس", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "روِش قضائے الہیٰ کی ہے عجیب و غریب\nخبر نہیں کہ ضمیرِ جہاں میں ہے کیا بات\nہُوئے ہیں کسرِ چلیپا کے واسطے مامور\nوہی کہ حفظِ چلیپا کو جانتے تھے نجات\nیہ وَحی دہریتِ رُوس پر ہوئی نازل\nکہ توڑ ڈال کلیسائیوں کے لات و منات!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D8%B4%D9%88%DB%8C%DA%A9_%D8%B1%D9%8F%D9%88%D8%B3"} {"title": "بلقیس پاسباں ہے یہ کس کی جناب ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "بلقیس پاسباں ہے یہ کس کی جناب ہے\nمریم درود خواں ہے یہ کس کی جناب ہے\nشان خدا عیاں ہے یہ کس کی جناب ہے\nدہلیز آسماں ہے یہ کس کی جناب ہے\nکرسی زمیں سے لیتی ہے گوشے پناہ کے\nبیٹھا ہے عرش سائے میں اس بارگاہ کے\n\nحوران ہشت خلد ہیں اک اہتمام کو\nدار السلام در پہ جھکا ہے سلام کو\nسجدہ یہیں حلال ہے بیت الحرام کو\nسورج نثار صبح کو ہے چاند شام کو\nدیکھا کرے کھڑے ہوئے اس آستان کو\nیاں بیٹھنے کا حکم نہیں آسمان کو\n\nصحرائے لامکاں کی فضا اس سے تنگ ہے\nجنت کا نام اس کی بزرگی کا ننگ ہے\nفضل خدا کے سایہ کا ہر جا پہ ڈھنگ ہے\nیاں دھوپ میں بھی کاغذ ابیض کا رنگ ہے\nزائر کو اس حریم کے عیش و نشاط ہے\nاس کا بچھونا رحمت حق کی بساط ہے\n\nعفت پکارتی ہے مقام حجاب ہے\nشیعو، جناب فاطمہؑ کی یہ جناب ہے\nحوا و آسیہ کا یہ باہم خطاب ہے\nزہرا کے رعب و دبدبہ سے زہرہ آب ہے\nجاری ہے منہ سے جاریۂ فاطمہؑ ہیں ہم\nمخدومہ جہاں کی وہ اک خادمہ ہیں ہم\n\nہر خشت روضہ دفتر حکمت کی فرد ہے\nمعدوم یاں زمانے کا ہر گرم و سرد ہے\nیاں غم کا ہے غبار نہ کلفت کی گرد ہے\nپر صاحب رواق کے پہلو میں درد ہے\nہم تم یہ جانتے تھے کہ سوتی ہیں فاطمہؑ\nاس کی خبر نہیں ہے کہ روتی ہیں فاطمہؑ\n\nشان خدا ہے صل علیؑ ٰ شان فاطمہؑ\nحیدر کی جا نماز ہے دامان فاطمہؑ\nروزہ ہر ایک روز ہے مہمان فاطمہؑ\nکہتی ہے عید فطر میں قربان فاطمہؑ\nبہر نماز قوت کی تقلیل کرتی ہیں\nتسبیح حق میں آپ کو تہلیل کرتی ہیں\n\nمدہوش ہیں فضائل زہراؑ میں چشم و گوش\nخود بے لباس اور خلایق کی پردہ پوش\nعسرت سے بے حواس مگر یاد حق کا ہوش\nفاقہ سے چہرہ خشک پہ دریا دلی کا جوش\nمستغنی المزاج ہیں عالم نواز ہیں\nزیور سے مثل ذات خدا بے نیاز ہیں\n\nباغ فدک جو غصب ستم گار نے کیا\nتپ کو مطیع فاطمہؑ غفار نے کیا\nحاکم ہر ایک درد کا مختار نے کیا\nزہراؑ نے جو کہا وہ ہر آزار نے کیا\nصادق سے اس بیان کی صحت حصول ہے\nروشن دعائے نور سے شان بتول ہے\n\nرخ جلوہ گاہ قدرت پروردگار ہے\nدل رازدار خلوت پروردگار ہے\nسر جاں نثار رحمت پروردگار ہے\nتن خاکسار طاعت پروردگار ہے\nتسبیح سے عیاں شرف فاطمہؑ ہوا\nذکر خدا کا فاطمہؑ پر خاتمہ ہوا\n\nباغوں میں خلد نہروں میں کوثر ہے انتخاب\nقبلوں میں کعبہ مصحفوں میں آخری کتاب\nتاروں میں آفتاب مبیں پھولوں میں گلاب\nسب عورتوں میں فاطمہؑ مردوں میں بوتراب\nشاہ زنان وقت مسیحا کی ماں ہوئیں\nزہرا ہر ایک عصر میں شاہ زناں ہوئیں\n\nالفت خدا کے بعد حبیب خدا کی ہے\nمنصب کے آگے یہ بھی دلا کبریا کی ہے\nپروا نہ فاقہ کی نہ شکایت جفا کی ہے\nایذا فقط جدائی خیرالورا کی ہے\nآب و غذا کی فکر نہ سونے کا دھیان ہے\nآنکھوں میں شکل باپ کی رونے کا دھیان ہے\n\nکچھ نوش کر لیا جو کسی نے کھلا دیا\nلیکن عزا میں کچھ نہ غذا نے مزا دیا\nغش میں کسی نے آ کے جو پانی پلا دیا\nقطرہ پیا اور آنکھوں سے دریا بہا دیا\nنسبت ہے کس سے فاطمہؑ کے شور و شین کو\nزہراؑ کے بعد روئی ہیں زینب حسینؑ کو\n\nسن کم قلق زیادہ قلق سے فغاں سوا\nسینہ سے دل تو دل سے جگر ناتواں سوا\nرونے سے چشم پاک ہوئی خوں فشاں سوا\nتپ وہ کہ نبضوں سے طپش استخواں سوا\nجب فاطمہؑ نے ہائے پدر کہہ کے آہ کی\nہلنے لگی ضریح رسالت پناہ کی\n\nفضہ کنیز فاطمہؑ کرتی ہے یہ بیاں\nگھر سے ہوا جنازہ پیمبر کا جب رواں\nبیٹھی کی بیٹھی رہ گئی مخدومۂ جہاں\nاک ہفتہ رات دن رہیں حجرے میں نیم جاں\nدیکھا جو میں نے جھانک کے تو آنکھ بند ہے\nآواز آہ آہ کی دل سے بلند ہے\n\nبیٹے پکارتے ہیں یہ للٰلہ باہر آؤ\nاماں نہ اتنا روؤ غلاموں پہ رحم کھاؤ\nنانا کہاں گئے ہیں بلا لائیں ہم بتاؤ\nہم کرتے پھاڑتے ہیں نہیں تو گلے لگاؤ\nنانا کے بعد ہائے یہ بے قدر ہم ہوئے\nسب کی طرف حضور کے بھی پیار کم ہوئے\n\nہمسائیاں یہ کہتی تھیں اے عاشق پدر\nدیدار مصطفی تو ہے موقوف حشر پر\nان کے عوض تو اپنی زیارت سے شاد کر\nحجرے میں پیٹتی ہے یہ کہہ کر وہ نوحہ گر\nاب میں ہوں اور ہر ایک حقارت ہے صاحبو\nمجھ بے پدر کی خاک زیارت ہے صاحبو\n\nالقصہ بعد ہفتہ کے دن آٹھواں ہوا\nاور نیل پوش ظلمت شب سے جہاں ہوا\nیاں مہر برج حجرۂ ماتم عیاں ہوا\nپر اس طرح کہ مردہ کا سب کو گماں ہوا\nیہ شکل ہوگئی تھی عزا میں رسول کی\nپہچانی بیٹیوں نے نہ صورت بتول کی\n\nوہ وقت شام اور اندھیرا ادھر ادھر\nششدر ہر ایک رہ گیا منہ دیکھ دیکھ کر\nزینب نے جا کے حجرہ میں ڈھونڈا بچشم تر\nچلائی وہ کہ ہائے نکل جاؤں میں کدھر\nماں میری کیا ہوئیں میں قلق سے ملول ہوں\nمڑ کر پکاریں آپ میں ہی تو بتول ہوں\n\nفضہ بیان کرتی ہے اس وقت کا یہ حال\nتن زار ہو کے بن گیا تھا صورت ہلال\nماتم کے نیل سینے پہ رونے سے آنکھیں لال\nمنہ زرد ہونٹ خشک پریشان سر کے بال\nروتی چلیں مزار رسول انام کو\nجس طرح شمع گور غریباں ہو شام کو\n\nاندھیر فاطمہؑ کے نکلنے سے ہوگیا\nطوفان نوح اشکوں کے ڈھلنے سے ہوگیا\nبرہم زمانہ ہاتھوں کے ملنے سے ہوگیا\nعاجز فلک بھی راہ کے چلنے سے ہوگیا\nحوا کفن سے قبر میں منہ ڈھانپنے لگی\nآدم لحد میں تڑپے زمیں کانپنے لگی\n\nجز اشک دونوں آنکھوں میں ہر شے تھی خار خار\nگر کر ردا الجھتی تھی قدموں سے بار بار\nتھا ماتمی قبا کا گریبان تار تار\nدل تھا نحیف و زار پہ روتی تھی زار زار\nجب آہ کی تو چار طرف بجلیاں گریں\nتھرا کے یاں گریں کبھی غش کھا کے واں گریں\n\nقدسی کھڑے تھے عرش معلیؑ کے آس پاس\nتسبیح کی خبر تھی نہ تجلیل کے حواس\nدوزخ جدا خروش میں مالک جدا اداس\nغلمان و حور و جن و پری پر ہجوم یاس\nغل تھا کہ سب کے دل کو ہلاتی ہیں فاطمہؑ\nقبر رسولؐ پاکؑ پر آتی ہیں فاطمہؑ\n\nرستہ سے لوگ فضہ نے بڑھ کر ہٹا دیے\nہمسائیوں نے غرفوں کے پردے گرا دیے\nمردوں کے منہ پہ دوڑ کے داماں اڑھا دیے\nسب نے چراغ اپنے گھروں کے بجھا دیے\nکہتی تھیں فاطمہؑ کے پدر کا یہ شہر ہے\nنامحرموں نے بی بی کو دیکھا تو قہر ہے\n\nیثرب میں وقت شام یہ زہراؑ کا تھا ادب\nدن کو پھرایا بلوے میں زینب کو ہے غضب\nالقصہ آئی قبر پہ وہ کشتۂ تعب\nپر کس گھڑی کہ ہلتی تھی قبر رسولؐ رب\nتربت کے گرد پھرنے سے طاقت جو گھٹ گئی\nلے کر بلائیں قبر سے زہراؑ لپٹ گئی\n\nچلائی آہ و ابتا و محمدؐا\nنورالہ وا ابتا وا محمداؐ\nشاہوں کے شاہ و ابتا و محمداؐ\nوا سیداہ وا ابتا وا محمداؐ\nبابا بتول آئی ہے تسلیم کے لیے\nاٹھیے یتیم بیٹی کی تعظیم کے لیے\n\nگزرے ہیں آٹھ دن کی زیارت نہیں ہوئی\nاس بے نصیب سے کوئی خدمت نہیں ہوئی\nمنبر ہے سونا وعظ و نصیحت نہیں ہوئی\nمسجد میں بھی نماز جماعت نہیں ہوئی\nحضرتؐ کے منہ سے وحیٔ خدا بھی نہیں سنی\nجبریلؑ کے پروں کی صدا بھی نہیں سنی\n\nحجرہ وہی ہے گھر ہے وہی ایک تم نہیں\nتارے وہی قمر ہے وہی ایک تم نہیں\nشب ہے وہی سحر ہے وہی ایک تم نہیں\nہے ہے یہ بے ہےپدر ہے وہی ایک تم نہیں\nدیتے ہیں سب دعا کہ شفا پائے فاطمہؑ\nاور فاطمہؑ یہ کہتی ہے مر جائے فاطمہؑ\n\nتسلیم میری اے پدر ہےنامدار لو\nتربت پہ اپنی تم مجھے صدقے اتار لو\nقربان تم پہ ہوں خبر دل فگار لو\nمشتاق ہوں کہ فاطمہؑ کہہ کر پکار لو\nپوچھو یہ تم مزاج تمہارا بخیر ہے\nلونڈی کہے کہ حال جدائی سے غیر ہے\n\nدل کس کا غم میں آپ کے نوحہ کناں نہیں\nوہ کون گھر ہے جس میں کہ آہ و فغاں نہیں\nآنسو وہ کون ہے جو مسلسل رواں نہیں\nامت پہ آپ سا تو کوئی مہرباں نہیں\nخالق کے بعد بندوں کے جو کچھ تھے آپ تھے\nبیوؤں کے پردہ دار یتیموں کے باپ تھے\n\nخواہاں ہر ایک دم رہے امت کے چین کے\nکی مہر تم نے قتل پہ میرے حسینؑ کے\nاحساں ہیں شیعوں پر نبیؐ مشرقین کے\nنعرے بلند کرتے ہیں سب شور و شین کے\nبے حشر کے تمہاری زیارت نہ ہوئے گی\nہو گی وہ کون آنکھ جو تم پر نہ روئے گی\n\nآساں پسر کا داغ ہے مشکل پدر کا داغ\nوہ کچھ دنوں کا داغ ہے یہ عمر بھر داغ\nیہ تن بدن کا داغ ہے وہ اک جگر کا داغ\nپیدا ہوا پسر تو مٹا اس پسر کا داغ\nاولاد کا بدل ہے پدر کا بدل نہیں\nیہ درد ہے کہ جس کی دوا جز اجل نہیں\n\nاور باپ بھی وہ باپ کہ سر تاج انبیا\nنور خدا جلال خدا رحمت خدا\nروز ازل سے تا بہ ابد کل کا پیشوا\nبیٹی پہ صدقے بیٹی کے بچوں پہ بھی فدا\nکیوں کر نہ اپنی موت تجھے اب قبول ہو\nدنیا میں ایسا باپ نہ ہو اور بتول ہو\n\nکیا سو رہے ہو قبر میں تنہا جواب دو\nچلا رہی ہے آپ کی زہراؑ جواب دو\nمولا جواب دو مرے آقا جواب دو\nدل مانتا نہیں میں کروں کیا جواب دو\nبولو میں صدقے جاؤں بہت دل ملول ہوں\nبابا بتول ہوں میں تمہاری بتول ہوں\n\nپھرتے تھے جب سفر سے مرے پاس آتے تھے\nلونڈی سے بے ملے کبھی باہر نہ جاتے تھے\nفاقہ مرا جو سنتے تھے کھانا نہ کھاتے تھے\nجو جو میں ناز کرتی تھی حضرتؐ اٹھاتے تھے\nکیسی حقیر بعد رسول کریم ہوں\nدر یتیم آگے تھی اب تو یتیم ہوں\n\nبابا اذاں بلال کے منہ کی مجھے سناؤ\nبابا نمازی آئے ہیں مسجد میں تم بھی جاؤ\nبابا وصی کواپنے بلا کر گلے لگاؤ\nبابا نواسے ڈھونڈھتے پھرتے ہیں منہ دکھاؤ\nاک اک گھڑی پہاڑ ہے مجھ دل ملول کو\nبابا کہو بلاؤ گے کس دن بتول کو\n\nپھرتی ہے یاں سکینہؑ کی عزت نگاہ میں\nزہراؑ نبیؐ کی قبر پہ تھی اشک و آہ میں\nآئے جو اونٹ بیوؤں کے مقتل کی راہ میں\nبے ساختہ سکینہؑ گری قتل گاہ میں\nبیداد اہل ظلم نے کی شور و شین پر\nرونے دیا نہ بیٹی کو لاش حسینؑ پر\n\nالقصہ فاطمہؑ ہوئی بے ہوش قبر پر\nزینب کے پاس دوڑی گئی فضہ ننگے سر\nزینب نے پوچھا خیر تو ہے بولی پیٹ کر\nجامہ نبیؐ کا دو تو سنگھاؤں میں نوحہ گر\nہمسائیاں ہیں گرد ہراساں کھڑی ہوئیں\nبی بی کی اماں جان ہیں غش میں پڑی ہوئیں\n\nنانا کا خاص جامہ نواسی نے لا دیا\nفضہ نے جا کے بی بی کو غش میں سنگھا دیا\nخوشبو نے اس کی روح کو ایسا مزا دیا\nجامہ پہ بوسہ فاطمہؑ نے جا بہ جا دیا\nپڑھ کر درود بات سنائی وہ یاس کی\nتو بیبیاں تڑپنے لگیں آس پاس کی\n\nدل کا سخن ہے آہ پکاری وہ بے پدر\nیعقوب نے جو سونگھا تھا پیراہن پسر\nیوسف کے دیکھنے کی توقع تھی کس قدر\nمیری امید قطع ہے بابا سے عمر بھر\nپوچھوں کہاں تلاش کروں کس دیار میں\nیوسف تو میرا سوتا ہے لوگو مزار میں\n\nرونے لگیں یہ کہہ کے وہ خاتون نیک ذات\nگھر میں زنان ہاشمیہ لائیں ہاتھوں ہاتھ\nکافر بھی رحم کھائے جو دیکھے یہ واردات\nامت کا اب سلوک سنو فاطمہؑ کے ساتھ\nنظروں سے نور چشم نبیؐ کو گرا دیا\nدروازۂ علیؑ دلی کو گرا دیا\n\nآگے نہ سن سکیں گے غلامان فاطمہؑ\nدر کے تلے بلند ہے افغان فاطمہؑ\nکیا وقت بے کسی ہے میں قربان فاطمہؑ\nرکتی ہے سانس ہونٹوں پہ ہے جان فاطمہؑ\nمحسن جدا تڑپتا ہے پہلو میں دل جدا\nماں مضمحل جدا ہے پسر مضمحل جدا\n\nسہمے ہوئے حسینؑ و حسن پاس آتے ہیں\nدروازہ ننھے ہاتھوں سے مل کر اٹھاتے ہیں\nگھبرائیو نہ والدہ یہ کہتے جاتے ہیں\nاٹھتا نہیں جو در تو علیؑ کو بلاتے ہیں\nزہراؑ پکارتی تھی وصیٔ رسولؐ کو\nاے ابن عم کہاں ہو بچاؤ بتول کو\n\nسن کر یہ استغاثۂ خاتون دوسرا\nیوں دوڑے مرتضیٰ کہ گری دوش سے عبا\nدروازے کو اٹھایا تو اے وا مصیبتا\nپہلو شکستہ لاشۂ محسن جدا ملا\nدریا لہو کے دیدۂ حق بیں سے بہ گئے\nاللہ رے صبر شکر خدا کر کے رہ گئے\n\nاس پر بھی ظالموں نے نہ خوف خدا کیا\nسامان قتل نائب خیر الورا کیا\nانبوہ گرد حضرتؐ مشکل کشا کیا\nاچھا علاج پہلوے خیر النسا کیا\nگھر سے کنندۂ در خیبر کو لے چلے\nچادر گلے میں باندھ کے حیدر کو لے چلے\n\nبولا فلک میں بندۂ احساں ہوں یا علیؑ\nقدرت پکاری تابع فرماں ہوں یا علیؑ\nکی عرض موت نے میں نگہباں ہوں یا علیؑ\nدل نے کہا میں صبر کا خواہاں ہوں یا علیؑ\nبے جا نہیں گلے میں گرہ ریسماں کی ہے\nہشیار یا علیؑ یہ گھڑی امتحاں کی ہے\n\nکیا کیا گلا رسن میں گھٹا دم خفا ہوا\nپر شکر حق میں بند نہ مشکل کشا ہوا\nغل تھا خدا کا شیر اسیر جفا ہوا\nخیر الامم کے مرتے ہی ہے ہے یہ کیا ہوا\nرسی گلے میں ہے ستم تازہ دیکھنا\nایمان کی کتاب کا شیرازہ دیکھنا\n\nپہنچا جو بزم کفر میں وہ دیں کا کبریا\nدیکھا نبیؐ کی قبر کو اور آیا یہ پڑھا\nموسیٰ کے آگے ورد جو ہارون نے کیا\nنکلا لرز کے پنجۂ خورشید برملا\nاعجاز سے رسولؐ کے روشن جہاں ہوا\nیعنی لحد سے دست مبارک عیاں ہوا\n\nآئی ندا ارے یہ ہمارا وزیر ہے\nحیدر نہیں اسیر پیمبر اسیر ہے\nتم سب غلام ہو یہ تمہارا امیر ہے\nکیا قہر ہے کہ دست خدا دستگیر ہے\nشر کرتے ہو برادر خیرالورا سے تم\nکیوں بت پرستو پھر گئے آخر خدا سے تم\n\nہم نے غدیر خم میں کیا تھا وصی کسے\nکہتی ہے خلق صاحب ناد علیؑ کسے\nمشکل کے وقت ڈھونڈتے تھے سب نبیؐ کسے\nقدرت ہے یہ سوائے علیؑ ولی کسے\nاول مدد سے خوش دل آدم کو کر دیا\nپھر غم سے تم کو تم سے جدا غم کو کر دیا\n\nکعبہ میں پہلے کس نے اذاں دی ہے برمحل\nسویا ہے کون فرش پہ میرے مرے بدل\nکس بندہ کا خدا کے لیے ہے ہر اک عمل\nکس کی عطا کا عقدہ ہوا ہل اتی سے حل\nتوریت میں خدا نے انوشنطیا کہا\nانجیل میں جو نام لیا ایلیا کہا\n\nتشریح قل کفیٰ کی ہے کیا مرتضی علیؑ\nتصریح انما کی ہے کیا مرتضی علیؑ\nتفسیر لا فتا کی ہے کیا مرتضیٰ علیؑ\nتاثیر ہر دعا کی ہے کیا مرتضیٰ علیؑ\nگنجینۂ علوم خدا داد کون ہے\nجبریل سے فرشتے کا استاد کون ہے\n\nسب سن رہے تھے یہ کہ ہوا حشر جا بہ جا\nدیکھا زنان ہاشمیہ ہیں برہنہ پا\nاور ام سلمہؓ زوجۂ پیغمبر خدا\nپہلو سنبھالے فاطمہؑ کا وا مصیبتا\nزہراؑ خموش آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے\nجامہ رسول پاک کا منھ پر دھرے ہوئے\n\nپہنچیں قریب حاکم ظالم جو وہ جناب\nلہجے میں مصطفےٰ کے کیا اس سے یہ خطاب\nآ ہوش میں کہ صابروں کو اب نہیں ہے تاب\nہاں بال کھولتی ہوں الٹتی ہوں میں نقاب\nدنیا تباہ ہوگی مرا گھر تو لٹ گیا\nبس بس بہت گلا مرے والی کا گھٹ گیا\n\nکانپی یہ سن کے مسجد پیغمبر خدا\nدیواریں سب زمیں سے یکایک ہوئیں جدا\nتعظیم آہ فاطمہؑ اٹھ اٹھ کے کی ادا\nکھولا مخالفوں نے گلوئے شہ ہدا\nگھر کو روانہ سیدۂ فاقہ کش ہوئیں\nآتے ہی گر پڑیں صف ماتم پہ غش ہوئیں\n\nقرآن لے کے بیٹیاں دوڑیں برہنہ سر\nمنہ پر ورق ورق کی ہوا دی بچشم تر\nتب چشم نیم وا سے یہ بولی وہ بے پدر\nاے بیٹیو نہ انس کرو مجھ سے اس قدر\nرویت تھی جس پدر سے وہ سر پر رہا نہیں\nدیکھو میں گھر میں رہنے بھی پاتی ہوں یا نہیں\n\nکیا کیا کہوں میں دختر خیرالامم کا درد\nپہلو کا درد ہاتھ کا درد اور شکم کا درد\nبچوں کی بے کسی کاعلی کے الم کا درد\nہر اک غضب کا حادثہ ہر اک ستم کا درد\nدو ماتم اور آہ وہ غربت بتولؔ کی\nمحسن کا چہلم اور سہ ماہی رسولؐ کی\n\nمنہ سے پدر کا نام لیا اور رو دیا\nقرآن پڑھ کے ہدیہ کیا اور رو دیا\nفرش نبی کی دیکھی ضیا اور رو دیا\nتکیوں کو سونگھا بوسہ دیا اور رو دیا\nصرفہ نہ آہ میں نہ بکا میں نہ بین میں\nبے غش ہوئے افاقہ نہ تھا شور و شین میں\n\nآخر وفور گریہ سے عاجز ہوئے عرب\nحیدر کے پاس رونے کی فریاد لائے سب\nکی عرض فاطمہؑ سے کہو اے ولیٔ رب\nیا سیدی تمہاری رعایا ہے جاں بہ لب\nکھانے کا کوئی وقت نہ سونے کا وقت ہے\nجو وقت ہے وہ آپ کے رونے کا وقت ہے\n\nماں باپ نے ہماری بھی دنیا سے کی قضا\nہم تو نہ ایسا روئے نہ پیٹے نہ کی عزا\nفرمایا مرتضیٰ نے کہ بتلاؤ تو بھلا\nتم میں سے کس کا باپ ہوا ہے رسولؐ سا\nالزام کوئی دے نہیں سکتا بتولؑ کو\nسمجھاتا ہوں میں خیر یتیم رسولؐ کو\n\nباہر سے مرتضیٰ گئے گھر میں جھکائے سر\nمنہ ڈھانپے رو رہی تھی اکیلی وہ خوش سیر\nدینے لگے پیام عرب شاہ بحر و بر\nگھبرا کے بولی ہائے کروں کیا میں نوحہ گر\nقابو میں موت ہووے تو مرجاؤں یا علیؑ\nبابا کا سوگ لے کے کدھر جاؤں یا علی\n\nمیری طرف سے اہل مدینہ کو دو پیام\nلوگو خفا نہ ہو مری رخصت ہے صبح و شام\nدو چار دن تمہارے محلہ میں ہے قیام\nرونے کی دھوم ہو چکی اب کام ہے تمام\nدل جس کا مردہ ہو اسے جینے سے کام کیا\nبابا سدھارے مجھ کو مدینے سے کام کیا\n\nرونے میں اختیار نہیں بے پدر ہوں میں\nدل کو مرے نہ توڑو کہ خستہ جگر ہوں میں\nامیدوار موت کی آٹھوں پہر ہوں میں\nگر شام کو بچی تو چراغ سحر ہوں میں\nماتم ہے غیر کا کہ تمہارے رسولؐ کا\nپر تم کو نا گوار ہے رونا بتولؑ کا\n\nسب کے نبیؐ کا سوگ ہے کُل کے نبیؐ کا غم\nیہ بھی نصیب اپنا کہ الزام پائیں ہم\nیہ کیا سمجھ کے منہ سے نکالا کہ روؤ کم\nبے رونقی رسولؐ کے ماتم کی ہے ستم\nبے جا تمہاری یہ خفگی ہے میں روؤں گی\nکچھ ہو مری تو جی کو لگی ہے میں روؤں گی\n\nحیدر کا اس بیان سے ٹکڑے ہوا جگر\nبیت الحزن بنایا بقیعہ میں جلد تر\nلکھا ہے ہاتھ تھام کے بیٹوں کا ہر سحر\nواں جا کے رویا کرتی تھی دن بھر وہ بے پدر\nہنگام شام حیدر کرار جاتے تھے\nروح نبیؐ کی دے کے قسم ان کو لاتے تھے\n\nاک دن نگاہ کرتے ہیں کیا شاہ لا فتا\nمطبخ ہے گرم آرد جو ہے گندھا ہوا\nنہلا رہی ہیں بچوں کو مل مل کے دست و پا\nپھیلا دیے ہیں گرتے بھی دھو کر جدا جدا\nپوچھا کہ اتنے کاموں کا جو شغل آج ہے\nاس وقت کچھ بحال تمہارا مزاج ہے\n\nبولیں کہ آج رات کو ہوجاؤں گی بحال\nکل میرے کاروبار میں خود ہو گے تم نڈھال\nخدمت کا میرے بچوں کی ہو گا کسے خیال\nنہلا دھلا دیا کہ پریشاں تھے سر کے بال\nکرتے بھی دھوئے قوت بھی کل تک کا دے چلی\nسہرا نہ دیکھا ایک یہ ارمان لے چلی\n\nپوچھا علیؑ نے تم کو یہ کیوں کر ہوا یقیں\nصدیقہ نے کہا شدنی ہے یہ شک نہیں\nپچھلے کو روتے روتے جو سوئی میں دل حزیں\nدیکھا کہ ایک باغ میں ہیں شاہ مرسلیں\nمحسنؑ کو میرے اپنے گلے سے لگاتے ہیں\nبہلاتے تھے نہ رو تری ماں کو بلاتے ہیں\n\nمجرے کو میں جھکی تو کہا ہو کے بے قرار\nزہراؑ کہاں تھی تو ترا بابا ترے نثار\nآ جلد ڈھونڈھتا ہے یہ معصوم بار بار\nیاں پر رہے گی چین سے میرا ہے اختیار\nیاں غاصب فدک نہ کبھی آنے پائے گا\nیاں تازیانہ تجھ کو نہ کوئی لگائے گا\n\nیہ سن کے ننگے پاؤں میں اس باغ سے پھری\nبس دیکھنا تھا آپ کا دیدار آخری\nسہواً اگر ہوئی ہو کچھ آزردہ خاطری\nبخشو مجھے کہ موت ہے نزدیک اب مری\nرو کر کہا علیؑ نے کہ ہم عذر خواہ ہیں\nواللہ بے قصور ہو تم سب گواہ ہیں\n\nمعصومہ سے بھی ہوتی ہے بی بی خطا کبھی\nعسرت کا تم زباں پہ نہ لائیں گلا کبھی\nاچھا لباس مانگا نہ اچھی غذا کبھی\nبیمار جب پڑیں نہ طلب کی دوا کبھی\nکیا خوب تم نے مجھ سے نباہی ہے فاطمہؑ\nکیوں کر نہ ہو کہ نور الٰہی ہے فاطمہؑ\n\nدنیا کے مال و جاہ پہ تم نے نظر نہ کی\nفرمائش ایک شے کی بھی مجھ سے مگر نہ کی\nیوں صبر سے جہاں میں کسی نے بسر نہ کی\nفاقے کئے اور اپنے پدر کو خبر نہ کی\nپہلو پہ در گرا میں حمایت نہ کر سکا\nشرمندہ ہوں کہ حق رعایت نہ کرسکا\n\nوہ بولی یہ کنیز نوازی ہے سر بسر\nفرمائیے وصیت اول پہ اب نظر\nہر بے پدر کے بعد نبیؐ آپ ہیں پدر\nسبطین تو حضور کے ہیں پارۂ جگر\nگر چاہتے ہو قبر میں زہراؑ کے چین کو\nدینا نہ رنج میرے حسنؑ اور حسینؑ کو\n\nمغرب تلک بس اور ہے ماں ان کے سر پہ اب\nکل صبح یہ گھریں گے یتیمی میں ہے غضب\nپروانہ رہیو میرے چراغوں پہ روز و شب\nبن ماں کا جان گر کوئی گھڑکے نہ بے سبب\nیہ دونوں ہیں سپرد جناب امیر کے\nجوشن ہیں آپ میرے صغیر و کبیر کے\n\nوالی یتیم بچوں کا ہوتا ہے دل حباب\nچلا کے ان کی بات کا دینا نہ تم جواب\nبہنوں کی ان کی ان سے سوا ہو گا اضطراب\nدل جوئی ان کی کیجیو بے حد و بے حساب\nزینب سے ہوشیار کہ نازوں کی پالی ہے\nاور دوسرے حسینؑ کی یہ رونے والی ہے\n\nعرض دوم یہ ہے مجھے شب کو اٹھائیو\nاور قبر کا نشان کئی جا بنائیو\nتربت میں خود اتاریو اور خود لٹائیو\nپھر کانپ کر کہا کہ الٰہی بچائیو\nآنکھوں کے آگے قبر کی تنہائی پھر گئی\nموتی کی اک لڑی تھی کہ آنکھوں سے گر گئی\n\nبولی کہ یا علیؑ یہ قیامت کا وقت ہے\nمرنے سے سخت قبر کی وحشت کا وقت ہے\nمیت پہ بعد دفن یہ آفت کا وقت ہے\nاس وقت وارثوں کی محبت کا وقت ہے\nہمدم نہیں رفیق نہیں مہرباں نہیں\nیہ وہ جگہ ہے کوئی کسی کا جہاں نہیں\n\nوہ اجنبی مکاں وہ اندھیرا ادھر ادھر\nپہلے پہل وہ بستی سے ویرانے کا سفر\nنے شمع روشنی کے لیے نے شگاف در\nہم سایہ وہ کہ دوسرے سے ایک بے خبر\nکس کو کوئی پکارے کہاں جائے کیا کرے\nآسان سب پہ قبر کی مشکل خدا کرے\n\nاکثر تمہاری شان میں فرماتے تھے پدر\nتربت میں اپنے شیعوں کی لیتے ہیں یہ خبر\nامید وار میں بھی ہوں یا شاہ بحر و بر\nقرآن پڑھیو قبر کے پہلو میں بیٹھ کر\nمردے لحد میں بے کس و بے یار ہوتے ہیں\nزندوں سے انس کے یہ طلب گار ہوتے ہیں\n\nآئی ندا رسولؐ کی بیٹی میں آؤں گا\nہوتے ہی دفن تجھ کو گلے سے لگاؤں گا\nآغوش میں لیے ہوئے جنت میں جاؤں گا\nفاقہ کے بدلے میوۂ طوبیٰ کھلاؤں گا\nمحبوبۂ خدا و نبی تیرا نام ہے\nمدفن ترے محبوں کا دارالسلام ہے\n\nناگاہ مہر نے کیا دنیا سے انتقال\nمسجد میں مرتضیٰ گئے محزوں و خستہ حال\nحجرے میں باپ کے گئی خاتون خوش خصال\nاسما سے بولی مظہر اسمائے ذوالجلال\nکافور خلد فاطمہؑ زہرا کے پاس لا\nپانی ہمارے غسل کو لا اور لباس لا\n\nحجرے میں غسل کر کے پڑھی آخری نماز\nسجدے میں سرجھکا کے کہے اپنے دل کے راز\nآواز ارجعی سے کیا حق نے سرفراز\nزہرا نے اپنے پاؤں کئے قبلہ کو دراز\nحوروں نے پھر بہشت میں برپا یہ غل کیا\nپیٹو قضا نے شمع پیمبر کو گل کیا\n\nیاں سب کھڑے تھے حجرے کے نزدیک بے قرار\nکلمہ کے بعد جب نہ صدا آئی زینہار\nحجرے میں پیٹتے ہوئے دوڑے سب ایک بار\nچلائی ام سلمہ لٹی میں جگر فگار\nاپنا بھی سوگوار رنڈاپے میں کر گئیں\nجیتی رہی میں آپ جہاں سے گزر گئیں\n\nپھر تو ہر ایک کوچہ میں محشر بپا ہوا\nاپنے پرائے دوڑے کہ ہے ہے یہ کیا ہوا\nفضہ پکاری سیدہ کا واقعا ہوا\nحجرہ بتول پاک کا ماتم سرا ہوا\nسینے میں دم قلق سے رکا سانس الٹ گئی\nمنہ رکھے منہ پہ مردے کے زینب لپٹ گئی\n\nلے کر بلائیں کہتی تھی بیٹی نثار ہو\nاماں میں ہول کھاتی ہوں تم ہوشیار ہو\nبھیا زمیں پہ لوٹتے ہیں ہمکنار ہو\nتم آنکھ کھول دو تو سبھوں کو قرار ہو\nہے ہے یہ چپکے رہنے کی کیا بات ہو گئی\nنانا کا فاتحہ نہ دیا رات ہو گئی\n\nاٹھیے چراغ قبر نبیؐ پر جلائیے\nسونی پڑی ہے نانا کی صف جلد جائیے\nپہلو کا درد کیسا ہے یہ تو بتائیے\nدیکھوں میں نبض ہاتھ تو اپنا بڑھائیے\nکیوں آپ کھولتی نہیں چشم پر آب کو\nکیا غش میں دیکھتی ہیں رسالتؐ مآب کو\n\nہمسائیاں ہیں آپ کی بالیں پہ بے قرار\nاور پائینتی زنان قریشی کی ہے قطار\nہے پہلوؤں میں آپ کا کنبہ سب اشکبار\nسب پوچھتے ہیں آپ کو زینب سے بار بار\nبی بی کہو کہاں کا پتہ دوں کدھر گئیں\nیہ تو نہیں زباں سے نکلتا کہ مرگئیں\n\nمیں دودھ بخشوا بھی نہ پائی کہ چل بسیں\nشربت بنا کے لانے نہ پائی کہ چل بسیں\nسجادے سے اٹھانے نہ پائی کہ چل بسیں\nمیں بے نصیب آنے نہ پائی کہ چل بسیں\nکیا جانتی تھی وقت یہ ہے انتقال کا\nباعث سوا ہے یہ مرے رنج و ملال کا\n\nاے میری فاقہ کش مری نادار والدہ\nاے میری بے دوا مری بیمار والدہ\nکنبہ کی آبرو مری سردار والدہ\nاے میری صابرہ مری ناچار والدہ\nنانا کی سوگوار کو تازہ خطاب دو\nاماں جواب دو مری اماں جواب دو\n\nہمسائے عذر کے لیے ڈیوڑھی پہ ہیں بہم\nکہتے ہیں آپ روئیں مزاحم نہ ہوں گے ہم\nخاطر ہو ان کی جمع ندامت ہو ان کی کم\nمنہ ڈھانپ کر جو بین کریں آپ ایک دم\nاتنا تو ان سے کہیے کہ احسان کیجیو\nزینب جو مجھ کو روئے اسے رونے دیجیو\n\nناگاہ آئے روتے ہوئے شاہ اوصیا\nغسل و حنوط فاطمہؑ خود حجرے میں کیا\nاستبرق بہشت بریں کا کفن دیا\nمیت کے نور سے ہوا تابوت پر ضیا\nبوئے کفن میں کھول کے رخسار فاطمہؑ\nمشتاقو آؤ دیکھ لو دیدار فاطمۂ\n\nپھرنے لگیں کنیزیں جنازے کے آس پاس\nجھک کر بلائیں بیٹیوں نے لیں بہ حال یاس\nاب کیا کہوں کہ شدت غم سے ہے دل اداس\nنزدیک ہے وہ وقت کہ سب ہوئیں بے حواس\nگھر میں علیؑ لحد میں نبیؐ تھرتھراتے ہیں\nبن ماں کے بیٹے ماں کے جنازے پر آتے ہیں\n\nننھے سے کرتوں کے ہیں گریبان چاک چاک\nگیسو کھلے ہیں ڈالے ہوئے ہیں سروں پہ خاک\nنزدیک ہے کہ والدہ کے غم میں ہوں ہلاک\nجاری زبان پر یہی نوحہ ہے درد ناک\nجاتی ہو تم نبیؐ کی زیارت کے واسطے\nاماں غلام آئے ہیں رخصت کے واسطے\n\nنانا جو پوچھیں خادموں کی خیر و عافیت\nکہنا زمانہ خون کا پیاسا ہے بے جہت\nبابا کے قتل کی ہے نمازوں میں مشورت\nنانا ہمارے دل کو ہو اب کس کی تقویت\nشفقت کا ہاتھ آپ نے سر سے اٹھا لیا\nایک والدہ تھیں پاس انہیں بھی بلا لیا\n\nہونے لگے وداع یہ کہہ کر وہ نیک نام\nننھے سے سر جھکا کے کیا آخری سلام\nپھر تو وہ میت جگر سیدالانام\nتھرائی یوں کہ بند کفن کھل گئے تمام\nعاشق کو بے ملے ہوئے کس طرح کل پڑے\nزہراؑ کے دونوں ہاتھ کفن سے نکل پڑے\n\nباہیں گلے میں پیار سے بیٹوں کے ڈال دیں\nاور سینہ سے لپٹ گئے جھک کر وہ نازنیں\nہاتف نے دی علیؑ کو ندا اے امیر دیں\nروتے ہیں ہر فلک پہ ملک ہلتی ہے زمیں\nتسکین عرش اعظم رب ہدا کرو\nبیٹوں کو ماں کی لاش سے جلدی جدا کرو\n\nمنہ چوم کر یتیموں کا بولے یہ مرتضا\nپیارو فرشتے روتے ہیں اب ماں سے ہو جدا\nفضہ پکاری بی بی کے اعجاز پر فدا\nبس عاشق حسینؑ و حسنؑ پیار ہو چکا\nباہیں نکالو دفن میں اب دیر ہوتی ہے\nآئی ندا کہ روح نہیں سیر ہوتی ہے\n\nاب نذر دے یہ مرثیہ اور عرض کر دبیرؔ\nیا سیدہ تمہیں قسم خالق قدیر\nبہر رسول پاک و پئے حضرت امیر\nتم پر فدا تھی والدۂ ذاکر حقیر\nفرمائیے یہ لطف کہ وہ رستگار ہو\nحلہ کفن ہو روضۂ رضواں مزار ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D9%82%DB%8C%D8%B3_%D9%BE%D8%A7%D8%B3%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "بلونت سنگھ مجیٹھیا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سرکنڈوں کے پیچھے", "year": "1955", "text_ur": "شاہ صاحب سے جب میری ملاقات ہوئی تو ہم فورًا بے تکلف ہوگئے۔ مجھے صرف اتنا معلوم تھا کہ وہ سیّد ہیں اور میرے دوردراز کےرشتہ داربھی ہیں۔ وہ میرے دور یا قریب کے رشتہ دار کیسے ہو سکتے تھے، اس کےمتعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ سیّد تھے اور میں ایک محض کشمیری۔\n\nبہر حال، ان سے میری بے تکلفی بہت بڑھ گئی۔ ان کو ادب سے کوئی شغف نہیں تھا۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوا کہ میں افسانہ نگار ہوں تو انھوں نے مجھ سے میری چند کتابیں مستعار لیں اور پڑھیں۔یہ کتابیں جو افسانوں کے مجموعے تھیں، انھوں نے پڑھیں، اور مجھے بہت تعجب ہوا کہ انھوں نے چند افسانوں کی بہت تعریف کی۔ اتفا ق سے یہ افسانے ایسے تھے جو دنیا میں شاہکار تسلیم کیے جاچکے تھے۔\n\nشاہ صاحب میرے پڑوسی تھے۔ انھوں نے ایک مکان الاٹ کرارکھاتھا، لیکن خاندان کے افراد چونکہ زیادہ تھے اس لیے انھوں نے اپنے فلیٹ کے نیچے موٹر گیراج پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔ اس میں انھوں نے اپنی بیٹھک کا انتظام کیا تھا۔ اوپر زنانہ تھا۔ شاہ صاحب کے دوست بے شمار تھے اس لیے اس گیراج میں وہ ان کی خاطر مدارت کرتے تھے۔\n\nایک دن ان سے افسانوں کے بارے میں باتیں ہوئیں تو انھوں نے مجھ سے کہا،’’میری زندگی میں ایسی کئی حقیقتیں ہیں جن کو تم افسانے بنا کر پیش کرسکتے ہو۔‘‘\n\nمیں ہر وقت افسانوں کی تلاش میں رہتا ہوں، چنانچہ میں فوراً متوجہ ہوا اور شاہ صاحب سے کہا،’’مجھے امید ہے کہ آپ اچھا مواد دیں گے۔‘‘\n\nشاہ صاحب نے جواباً کہا،’’میں افسانہ نگار نہیں۔۔۔لیکن میری زندگی میں ایک ایسا واقعہ ہوا ہے جو قابل ذکر ہے۔۔۔ میں نے قابل ذکر اس لیے کہا ہے کہ آپ بہت بڑے افسانہ نگار ہیں، ورنہ یہ واقعہ جو اب میں بیان کرنے والا ہوں، میرے نزدیک بے حد حیرت انگیز ہے۔‘‘\n\nمیں نے شاہ صاحب سے کہا،’’ایسا بھی کیا حیرت انگیز ہوگا!‘‘ پھر تھوڑے سے وقفے کے بعد اس میں تھوڑی سی اصلاح کی،’’لیکن ہوسکتا ہے کہ آپ کے لیے وہ واقعی حیرت انگیز ہو۔‘‘\n\nشاہ صاحب نے کہا،’’جی! میں نہیں کہہ سکتا کہ جو واقعہ میں آپ کو سنانے والا ہوں، ہر شخص کے لیے حیرت کا باعث ہوگا۔۔۔ میں اپنی ذات کےمتعلق آپ سےعرض کررہا ہوں۔۔۔ اور یہ حقیقت ہے کہ میں جو داستان آپ کو سناؤں گا، اس وقت تک میری زندگی میں محیر العقول حیثیت رکھتی ہے۔‘‘\n\nشاہ صاحب نے’’نیل کٹر‘‘ سے اپنے ناخن کاٹنے شروع کیے۔ میں ان کی داستان سننے کے لیے بے تاب تھا، مگر شاید وہ آغاز کے متعلق سوچ رہے تھے کہ اپنی داستان کو کہاں سے شروع کریں۔ میرا خیال درست تھا کہ جو کچھ ان پر بیتا تھا، اس کو کئی برس ہوچکے تھے۔ وہ تمام واقعات کی یاد اپنے ذہن میں تازہ کررہے تھے۔\n\nمیں نے سگریٹ سلگایا۔ انھوں نے اپنی دس انگلیوں کے ناخن کاٹ کر’’نیل کٹر‘‘ تپائی پر رکھا اور مجھ سے مخاطب ہوئے۔’’میں ان دنوں کابل میں تھا‘‘۔یہ کہہ کر چند لمحات خاموش رہے،اس کے بعد بولے۔۔۔’’میری وہاں بہت بڑی دکان تھی جس میں بڑھیا سے بڑھیا سامان موجود رہتا تھا۔‘‘\n\nمیں نے شاہ صاحب سے پوچھا،’’آپ جنرل مرچنٹ تھے؟‘‘\n\nشاہ صاحب نے جواب دیا،’’جی ہاں۔۔۔ کابل کا سب سے بڑا۔‘‘\n\nجنرل مرچنٹ۔۔۔ میری دکان میں کابل کی قریب قریب ہر عورت سودا لینے آتی تھی۔۔۔ آپ سے ایک بات عرض کروں۔۔۔ ساتھ کے دکاندار جب یہ دیکھتے تھے کہ کسی روز عورتوں کے بجائے میری دکان میں مرد گاہک آئے ہیں تو وہ مجھ سے فارسی زبان میں افسوس کا اظہار کرتے تھے کہ آغا آج یہ کیا ہوا۔۔۔کابل کی عورتیں اور لڑکیاں مر گئیں یا تمہارے نصیب سو گئے۔‘‘\n\nشاہ صاحب مسکرا دیتے تھے۔۔۔ اس کےعلاوہ اور وہ کیا جواب دے سکتے تھے لیکن ان کو اس بات کا پورا احساس تھا کہ ان کی دکان میں گاہکوں کی اکثریت عورتوں اور لڑکیوں کی ہوتی ہے، اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ یہ سب ان کی چرب زبانی کا معجزہ ہے۔\n\nانھوں نے مجھ سے کہا،’’منٹو صاحب! میں بہترین سیلز مین ہوں۔۔۔ خاص طور پر عورتوں کے ساتھ تو میں اس طرح سودا کرسکتا ہوں کہ یہاں لاہور میں کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ بی اے ہوں۔۔۔ تھوڑی بہت سائیکالوجی بھی میں نے پڑھی ہے، اس لیے مجھے معلوم ہےکہ عورتوں سے کس طرح’’ڈیل‘‘ کیا جاسکتا ہے۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ سارے کابل میں ایک میری دکان ہی ایسی تھی جس میں ہر وقت کوئی نہ کوئی گاہک موجود ہوتا تھا۔‘‘\n\nمیں نے شاہ صاحب کی یہ خود تعریفی سنی اور ان سے کہا،’’یقیناً آپ بہترین سیلز مین ہیں کہ آپ کی گفتگو کا انداز ہی اس کا ثبوت ہے۔‘‘\n\nشاہ صاحب مسکرائے،’’مگر مجھے افسوس ہے کہ میں اپنی داستان بہترین سیلز مین کے انداز بیان میں بیان نہیں کرسکوں گا۔‘‘\n\nمیں نے ان سے کہا،’’آپ شروع تو کیجیے!‘‘\n\nشاہ صاحب نے چند لمحات اپنے حافظے کو پھر ٹٹولا اور اپنی داستان شروع کی،’’منٹو صاحب! جیسا کہ میں آپ سے پہلے عرض کرچکا ہوں کہ میں کابل میں تھا۔ یہ کوئی دس برس پہلے کی بات ہے جب میری صحت بہت اچھی تھی۔ یوں تو میں اب بھی تنومند کہلاتا ہوں، مگر اس زمانے میں میرا جسم آج کے مقابلے میں دگنا تھا۔ ہر روز ورزش کرتا تھا، سیکڑوں ڈنٹر پیلتا تھا، مگدر گھماتا تھا۔سگریٹ پیتا تھا نہ شراب، بس ایک اچھا کھانے کی عادت تھی۔ افغانی نہیں، ہندوستانی۔ چنانچہ میں امرتسر سے اپنے ساتھ ایک بہت اچھا کشمیری باورچی لے گیا تھا جو ہر روز میرے لیے لذیذ سے لذیذ کھانے تیار کرکے میز پررکھتا تھا۔ میری زندگی بڑی ہموار گزرتی تھی۔ آمدنی بہت معقول تھی۔ بینک میں لاکھوں افغانی روپے جمع تھے۔۔۔ لیکن۔۔۔‘‘\n\nشاہ صاحب تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔میں نے ان سے پوچھا۔’’ لیکن کہہ کر آپ چپ ہوگئے۔۔۔ اس کا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ آپ پھر بھی ناخوش تھے۔‘‘ شاہ صاحب نے اعتراف کیا،’’جی ہاں!میں ان تمام آسائشوں کے باوجود ناخوش تھا۔ اس لیے کہ میں اکیلا تھا۔۔۔ مجرد تھا۔۔۔ اگر میری دکان میں عورتیں اور لڑکیاں زیادہ نہ آتیں تو بہت ممکن ہے کہ مجھے اپنے تجرد کا احساس نہ ہوتا۔۔۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس تھا۔ کابل کی ہر صاحب ثروت عورت میری دکان میں آتی تھی۔۔۔ دکان میں داخل ہوتے ہی یہ عورتیں اور لڑکیاں اپنا برقع اتار کر ایک طرف رکھتیں اور سودا خریدنے میں مصروف ہو جاتیں۔\n\nمنٹو صاحب! آپ کا شاید یہ خیال ہو کہ وہ بڑا شرعی قسم کا لباس پہنتی ہوں گی، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یوں تو وہاں کی عورتیں اور لڑکیاں پردہ کرتی ہیں مگر لباس ٹھیٹ یورپین پہنتی ہیں۔ سکرٹ، کٹے ہوئے بال، رنگے ہوئے ناخن، پنڈلیاں ننگی۔۔۔ جب وہ میری دکان میں آتی تھیں تو اپنے برقعے اتار کر ایک طرف رکھ دیتی تھیں اور مال دیکھنے میں مصروف ہو جاتی تھیں۔‘‘\n\nشاہ صاحب نے بولنا بند کیا تو میں نے ان سے پوچھا،’’آپ کو ان میں سےکسی سے محبت تو یقیناً ہو گئی ہوگی؟‘‘\n\nشاہ صاحب بہت سنجیدہ ہوگئے،’’جی ہاں! ایک لڑکی سے ہوگئی تھی جو اپنا برقع نہیں اتارتی تھی، حتیٰ کہ نقاب بھی نہیں اٹھاتی تھی۔‘‘\n\nمیں نے ان سے پوچھا،’’ کون تھی وہ؟‘‘\n\nانھوں نے جواب دیا،’’ایک بہت بڑے گھرانے سے متعلق تھی۔ اس کا باپ فوج کا اعلیٰ افسر تھا۔ بڑا سخت گیر۔۔۔ مجھے اس سے صرف اس لیے محبت ہوئی کہ وہ ہاتھوں کے علاوہ اپنے جسم کا کوئی حصہ نہیں دکھاتی تھی۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا،’’اس کی کیا وجہ؟‘‘\n\nشاہ صاحب نے کہا،’’مجھے معلوم نہیں، اور نہ میں نے اس سے کبھی اس بارے میں استفسار ہی کیا۔۔۔ لیکن میرے تصور میں وہ انتہا درجے کی حسین تھی۔ گوری چٹی۔۔۔ جسم خواہ برقع میں لپٹا ہو، لیکن اس کے تناسب کے متعلق اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں تھا۔۔۔ میں نے چور آنکھوں سے دیکھ لیا تھا کہ وہ جوانی کا آدرش مجسمہ ہے۔۔۔ لیکن مصیبت یہ تھی کہ وہ چند منٹوں کے لیے میری دکان میں آتی تھی۔ چیزیں خریدنے اور ان کی قیمتوں کے بارے میں فیصلہ کرنے میں چند منٹ صرف کرتی تھی اور چلی جاتی تھی۔\n\nمیں نے شاہ صاحب سے کہا، ’’یہ سلسلہ کب تک جاری رہا۔۔۔‘‘\n\nقریب قریب چھ مہینے تک مجھ میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ میں اس سے اپنی محبت کا اظہار کروں۔ میں اس سے بہت مرعوب تھا اس لیے کہ وہ دوسروں سے مختلف تھی۔ اس میں ایک عجیب قسم کی رعونت تھی۔۔۔ میں اس کو بے طرح گھورتا تھا، حالانکہ یہ شائستگی نہیں تھی لیکن میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھا۔۔۔ منٹو صاحب! ایک دن میں دکان میں بیٹھااس کے متعلق سوچ رہا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ نوکر نے ریسیور اٹھایا اور مجھ سے کہا کہ کوئی خاتون آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں۔۔۔ میں نے سوچا کہ کوئی گاہک ہوگی اور نئے مال کے متعلق پوچھنا چاہتی ہوگی۔ اٹھ کر میں نے ریسیور ہاتھ میں لیا اور پوچھا۔ مادام! آپ کیا چاہتی ہیں؟ ادھر سے آواز آئی کیا آپ سید مظفر علی ہیں؟ میں نے جواب دیا، جی ہاں۔۔۔ ارشاد!\nاب میں نے آواز پہچان لی تھی۔۔۔یہ اسی کی تھی۔۔۔ اسی کی جو میری دکان میں برقع نہیں اتارتی تھی۔۔۔ میں گھبرا گیا۔۔۔ منٹو صاحب! یہ عاشق ہونا بھی ایک عجیب لعنت ہے۔‘‘\n\nیہ سن کر میں مسکرا دیا،’’آپ ٹھیک فرماتے ہیں شاہ صاحب۔۔۔ لیکن افسوس ہے کہ میں اس لعنت میں ابھی تک گرفتار نہیں ہوا۔‘‘\n\nشاہ صاحب کو بہت افسوس ہوا،’’ حد ہوگئی۔۔۔ انسان اپنی جوانی میں کم از کم ایک مرتبہ تو ضرور عشق میں گرفتار ہوتا ہے۔۔۔ خیر، آپ کو ابھی تک عشق نہیں ہوا تو خدا کرے کہ بہت جلد ہو جائے، کیوں کہ یہ مرض بہت دلچسپ ہے۔‘‘\n\nمیں نے مسکراکر شاہ صاحب سے کہا،’’آپ اپنی داستان بیان کیجیے۔۔۔ مجھے عشق ہوگا تو میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کو اس کی پوری روداد سنا دوں گا۔‘‘\nشاہ صاحب کرسی پر سے اٹھ کر پلنگڑی پر لیٹ گئے اور آنکھیں بند کرلیں،’’منٹو صاحب۔۔۔ میں اس لڑکی کے عشق میں اس بری طرح گرفتار ہوا کہ ورزش کرنا بھول گیا۔۔۔ وہ میری دکان پر اکثر آتی تھی۔۔۔ میں اس کو گھورتا تھا۔۔۔ لیکن دیکھیے میرا دماغ کتنا خراب ہوگیا ہے، یہ اسی عشق خانہ خراب کا باعث ہے۔۔۔ میں آپ سے اس کے ٹیلی فون کی بات کررہا تھا۔۔۔ جب میں نے ریسیور اٹھایا اور اس کی آواز پہچان لی تو اس نے مجھ سے کہا۔’’ دیکھو میں جب بھی تمہاری دکان پر آتی ہوں، تم مجھے گھورتے ہو۔ اگر اپنی خیریت چاہتے ہو، تو ٹھیک ہو جاؤ ورنہ تمہارے حق میں برا ہو گا۔۔۔ منٹو صاحب! میں جواب سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے ٹیلی فون کا سلسلہ منقطع کردیا۔ میں دیر تک گونگے ریسیور کو کان کے ساتھ لگائے کھڑا رہا، اور سوچتا رہا کہ اس دھمکی کا مطلب کیا ہے؟‘‘\n\nمیں نے شاہ صاحب سے پوچھا،’’کیا وہ دھمکی اصلی تھی؟‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ چوتھے روز وہ میری دکان میں آئی تو میں نے اس کی نقاب کی طرف پھر انہی نگاہوں سے دیکھا تو اس نے جھنجھلا کر میرے ملازموں کے سامنے مجھ سے کہا۔۔۔’’تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم مجھے اس طرح دیکھتے ہو‘‘ میں سن ہو گیا۔۔۔لیکن اس نے چند چیزیں خریدیں، دام دیے اور اپنی موٹر میں بیٹھ کر چلی گئی۔‘‘\n\nمیں شاہ صاحب کی داستان میں کافی دلچسپی لے رہا تھا،’’عجیب لڑکی تھی۔۔۔ آپ سے اسےنفرت بھی تھی، مگر اس کے باوجود آپ کی دکان میں آتی تھی۔‘‘\n\nشاہ صاحب نے آنکھیں کھولیں،’’منٹو صاحب! یہی وجہ تھی کہ میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اس کی نفرت و حقارت مصنوعی ہے، دراصل وہ میری محبت سے متاثر ہو چکی ہے اورمحض بناوٹ کے طور پر غصے کا اظہار کرتی ہے۔لیکن جب ایک روز اس نے مجھے بہت زور سے لعن طعن کی تو میں سرد ہو گیا۔۔۔ پر اس کی محبت تھی جو میرے دل سے جاتی ہی نہیں تھی۔۔۔ میں نے بہت کوشش کی کہ اس کو بھول جاؤں۔ میں نے خود کو سمجھایا کہ تم عجیب بے وقوف ہو۔ ایک لڑکی جس کی تم نے شکل نہیں دیکھی۔۔۔ جو تم سے نفرت کرتی ہے، تم اس سے عشق فرما رہے ہو۔ باز آؤ، تمہارا کاروبار ماشاء اللہ بہت اچھا ہے۔ سارے افغانستان میں تمہاری ساکھ ہے۔ یہ کیا جھک مار رہے ہو۔لیکن منٹو صاحب! عشق بہت بری بلا ہے۔ میں اس سے اپنا پیچھا نہ چھڑا سکا۔۔۔‘‘\n\nمیں نے ان سے کہا،’ آپ خواہ مخواہ داستان طویل بناتے جارہے ہیں،انجام پر پہنچیے۔‘‘\n\nشاہ صاحب پلنگڑی پر سے اٹھے اور کرسی پر بیٹھ گئے،’’حضرت! ایسی داستانیں اکثر طویل ہوا کرتی ہیں۔ عشق ایک مرض ہے اور جب تک طول نہ پکڑے، مرض نہیں ہوتا۔ محض ایک مذاق ہوتا ہے۔ خیر! اب جب کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنی داستان طویل نہ بناؤں تو مختصر طورپر عرض کرتا ہوں کہ میرا عشق جب بہت شدت اختیار کرگیا تو ایک روز میں بے اختیار رونے لگا۔\n\nمیرے شہر امرتسر کا ایک باشندہ سردار بلونت سنگھ تھا جو مجیٹھ کے ایک اچھے خاندان کا فرد تھا۔ وہ کابل میں ایک انجینئرنگ فرم میں ملازم تھا۔ کھانے پینے والا آدمی تھا، اس لیے وہ ہر مہینے مجھ سے پچاس ساٹھ روپے قرض لے جاتا تھا۔ مزید قرض لینے کی غرض ہی سے وہ اس وقت میری دکان میں آیا، جب کہ میری آنکھیں نمناک تھیں۔ وہ میرے پاس کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس نے معلوم نہیں مجھ سے کیا پوچھا اور میں نے جانے کیا جواب دیا۔ لیکن جب اس نے مجھ سے یہ کہا،’’دوست! تم کو کوئی روگ لگ گیا ہے۔‘‘ تو میں چونک پڑا، نہیں نہیں۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔سردار بلونت سنگھ مجیٹھیااپنی گھنی مونچھوں کے اندر مسکرایا۔۔۔ تم جھوٹ بولتے ہو، صاف صاف بتاؤ، تمہیں یہاں کسی سے عشق ہوا ہے۔۔۔ میں خاموش رہا تو وہ پھر بولا، دیکھو اگر کوئی مشکل درپیش ہے تو ہم سب ٹھیک کردیں گے۔۔۔ جب اس نے اسی قسم کی چند اور باتیں کیں تو میں نے سارا معاملہ اس کو بتا دیا۔‘‘\nمیں نے پوچھا،’’ تو اس نے مشکل آسان کرنے کا کیا گُر بتایا؟‘‘\n\nشاہ صاحب نے کہا،’’اس نے مجھے ایک منتر بتایا۔‘‘\n\n’’منتر!‘‘\n\n’’جی ہاں۔‘‘\n\n’’آپ سیّد ہیں۔۔۔کیا آپ منتر جنتر یر ایمان لا سکتے ہیں؟‘‘\n\nشاہ صاحب نے کہا،’’لانا تو نہیں چاہیے تھا کہ یہ ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔۔۔ لیکن اس وقت سردار بلونت سنگھ کا مشورہ ماننا ہی پڑا، اس لیے کہ عشق بری بلا ہے۔۔۔ اس نے مجھے ایک منتر بتایا کہ سات رنگوں کے پھول لو۔ ان میں سے ہر ایک پر یہ منتر پڑھ کر پھونکو اور منگل کے روز اسی لڑکی کو کسی نہ کسی طریقے سے سنگھا دو۔۔۔ یہ منتر مجھے ابھی تک یاد ہے۔‘‘\n\nمیں نے ان سے کہا’’ذرا سنائیے تو!‘‘\n\nشاہ صاحب نے ایک لحظے کے لیے اپنے حافظے کو ٹٹولا اور کہا؛\n\nکو رو دس مکھیا دیوی\n\nپُھل کِھڑے پُھل ہسے\nپُھل چگے نا ہر سنگھ پیارے\n\nجو کوئی لے پھولوں کی باس\nکبھی نہ چھوڑے ہمارا ساتھ\n\nہمیں چھوڑا کسی اور کو کرے\nپیٹ پُھول بھسم ہو مرے\n\nدہائی سلیمان پیر پیغمبرکی!\n\nمیں نے یہ منتر سنا تو مجھے اپنا لڑکپن یاد آگیا جب میں نے منتروں کی ایک کتاب خریدی تھی اور اس میں سے ایک منتر ازبر اس غرض سے کیا تھا کہ میں اسکول کے تمام امتحانوں میں پاس ہوتا چلا جاؤں۔۔۔ یہ منتر مجھے اب تک یاد ہے۔۔۔\n\nاونگ نما کامشیری اُٰتما دے بھرینگ پراسواہ۔۔۔\n\nلیکن اس کے پڑھنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں نویں جماعت میں فیل ہوگیا تھا۔\n\nمیں نے اس منتر کا ذکر شاہ صاحب سے نہ کیا اور ان سے پوچھا، ’’تو آپ نے سات رنگ کے پھولوں پر یہ منتر پڑھا؟‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ میں نے سات رنگ کے پھول سوموار کو اکٹھے کیے۔ ان پر یہ منتر پڑھا اور اس لڑکی کو ٹیلی فون کیا کہ میری دکان میں چیکوسلوا کیا سے بہت اچھا مال آیا ہے،منگل کو وہ آکے دیکھ لے۔‘‘\n\nمیں نے شاہ صاحب سے پوچھا،’’کیا وہ آئی؟‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ وہ آئی۔۔۔ اس نے مجھے ٹیلی فون پر کہہ دیا تھا کہ وہ آئے گی۔ شام کو پانچ بجے کے قریب۔ میں اس کا انتظار کرتا رہا۔ وہ ٹھیک پانچ بج کر پانچ منٹ پر آئی اور اس نے چیکوسلواکیا کے مال کے متعلق استفسار کیا۔ غرض یہ ہے کہ مال وال کا قصہ بالکل فراڈ تھا۔۔۔ میں نے اس سے کہا کہ ملازموں نے ابھی تک پیٹیاں نہیں کھولیں،آپ کل تشریف لائیے گا۔ وہ بہت جز بز ہوئی۔ میں منتر پڑھے پھولوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ اتفاق کی بات کہ اس نے بھی ان پھولوں کی طرف دیکھا اور مجھ سے کہا یہ پھول تمہاری میز پر کہاں سے آگئے؟ میں نے جواب دیا یہ میں نے آپ کے لیے خریدے تھے۔ اگر آپ کو پسند ہوں۔۔۔ میرا مطلب ہے اگر آپ کو ان کی خوشبو پسند ہوتو آپ انھیں قبول فرمائیں۔۔۔ اس نے وہ سات پھول اٹھائے اور انھیں سونگھا۔‘‘\n\nمیں نے ان سے پوچھا،’’اس لڑکی کا رد عمل کیا تھا؟‘‘\n\nشاہ صاحب نے جواب دیا،’’اس نے ناک بھوں چڑھا کر کہا۔۔۔یہ پھول ہیں؟ ان میں نہ تو خوشبو ہے نہ بدبو۔۔۔ بہر حال، اس نے وہ پھول سونگھے۔۔۔ چند چیزیں خریدیں اور چلی گئی۔۔۔ شام کو سردار بلونت سنگھ مجیٹھیا میری دکان پر آیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہو،وہ پھول سنگھا دیے؟ میں نے اس سے کہا سنگھا تو دیے لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، یہ مجھے معلوم نہیں۔ سردار بلونت سنگھ ہنسا۔ اس نے بڑے زور سے میرا ہاتھ دبایا اور کہا دوست! اب تمہارا کام سمجھو کہ پندرہ آنے ہوگیا ہے۔‘‘\n\nمجھے بڑی حیرت تھی کہ منتر کے ذریعے ایسا کام پندرہ آنے کیوں کر ہوسکتا ہے، مگر سیّد صاحب نے کہنا شروع کیا،’’منٹو صاحب! آپ یقین مانیے کہ میرا کام پندرہ آنے مکمل ہوگیا۔۔۔ دوسرے دن کوکو جان کا ٹیلی فون آیا کہ وہ کچھ چیزیں خریدنے کے لیے آرہی ہے۔ میں نے اس کا استقبال کیا۔۔۔ وہ کوئی چیز خریدنا نہیں چاہتی تھی۔ بہت دیر تک وہ میری دکان میں ادھر ادھر پھرتی رہی۔ اس کے بعد وہ مجھ سے مخاطب ہوئی، تم سے میں کئی مرتبہ کہہ چکی ہوں کہ مجھے گھورا نہ کرو۔۔۔ اور وہ جو تم نے پھول سنگھائے تھے، اس کا کیا مطلب تھا۔۔۔؟‘‘\n\nمیں نے کوکو جان سے لکنت بھرے لہجے میں کہا،’’میں۔۔۔ میں۔۔۔ وہ پھول جو تھے۔۔۔ پھول تھے۔۔۔ میں نے۔۔۔ میں نے۔۔۔ مال جو چیکوسلواکیہ سے آیا تھا، کھلا ہوا نہیں تھا، اس لیے میں نے وہ پھول آپ کی خدمت میں پیش کردیے۔ کوکو جان برقع میں سخت مضطرب تھی۔ اس نے اضطراب بھرے لہجے میں کہا،’’تم نے مجھے پھول کیوں سنگھائے؟‘‘ میں نے اس سے بڑے معصومانہ انداز میں پوچھا،’’کیا آپ کو اس سے کوئی تکلیف ہوئی۔۔۔‘‘وہ بڑےگرم اندازمیں بولی،’’تکلیف۔۔۔؟ میں ساری رات وہ سات پھول دیکھتی رہی ہوں۔۔۔ پھول آتے تھے اور جب میں انھیں حاصل کرنا چاہتی تھی تو وہ مجھ سے پرے ہٹ جاتے تھے۔۔۔ یہ کیسے پھول تھے؟‘‘\n\nمیں نے جواب دیا،’’میرے وطن کے تھے۔۔۔ چونکہ میرے وطن کے تھے، اس لیے میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیے۔۔۔ لیکن مجھے حیرت ہے کہ وہ رات بھر آپ کو کیوں نظر آتے اور ستاتے رہے۔‘‘\n\nمیں نے شاہ صاحب سے پوچھا،’’یہ پھول آپ نے کہاں سے منگوائے تھے؟‘‘\n\nشاہ صاحب نے جواب دیا،’’جی! منگوائے کہاں سے تھے، وہیں افغانستان کے تھے۔۔۔ نہایت واہیات قسم کے پھول جن میں خوشبو نام کو بھی نہیں تھی۔۔۔شام کوسردار بلونت سنگھ آیا، مزید قرض لینے کے لیے۔ اس نے مجھ سےقرض لینے سے پہلے دریافت کیا،’’کہیے شاہ صاحب! اس معاملے کا کیا ہوا؟‘‘ میں نے اس کو ساری بات بتا دی۔۔۔وہ قرض لینا بھول گیا۔ اپنا بالوں بھرا ہاتھ میرے کندھے پر زور سے مار کر چلایا۔۔۔’’شاہ جی! آپ کا کام سولہ آنے ہوگیا ہے۔۔۔ وسکی کی ایک بوتل منگائیے۔‘‘\n\nشاہ صاحب نے مجھے بتایا کہ انھوں نے وسکی کی بوتل کے علاوہ ایک ڈبہ سگریٹوں کا بھی منگوایا، جس میں سے سردار بلونت سنگھ مجیٹھیا تمباکو نوشوں کے ٹھیٹ انداز میں پے در پے کئی سگریٹ پھونکتے رہے۔ جب جانے لگے تو انھوں نے شاہ صاحب سے کہا کہ دیکھو ابھی تھوڑی سی کسر باقی ہے۔ اگلے منگل کو تم اور سات پھول لو اور ان پر وہی منتر پڑھ کر اس لڑکی کو سنگھا دو۔۔۔ بیڑا پار ہو جائے گا۔\n\nشاہ صاحب بہت پریشان ہوئے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اب کی کوکو جان کو پھول کیسے سنگھاسکیں گے جب کہ وہ اس معاملے کے متعلق شاکی تھی۔ لیکن معاملہ عشق کا تھا، اس لیے شاہ صاحب موت کے منہ میں جانے کے لیے بھی تیار تھے۔\nشاہ صاحب نے پشاور سے پھول منگوائے۔۔۔ ان میں سے سات منتخب کیے اور ہر ایک پر منتر پڑھا اور اپنے میز کے گلدان میں رکھ دیے۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنی دکان میں جا بجا گلدان رکھوائے اور ان میں پھول سجا دیے۔\n\nپیر کوشاہ صاحب نے کوکو جان کو ٹیلی فون کیا اور اس سے پھر جھوٹ بولا کہ چیکوسلواکیہ کا مال کھل گیا ہے۔ آپ آئیے اور دیکھ لیجیے۔ کوکو جان آئی، مگر مال وال موجود نہیں تھا۔۔۔ شاہ صاحب تھوڑی دیر کے لیے بوکھلائے، پھر ذرا ہوش سنبھال کر اپنے نوکروں کو لعن طعن کی کہ تم نے ابھی تک مال کیوں نہیں کھولا۔\n\n’’کوکو جان کے ساتھ اس کی والدہ بوبو جان بھی تھی۔ وہ ایک طرف ٹائلٹ کا سامان دیکھنے میں مصروف تھی۔ کوکو جان نے جب دکان میں جا بجا پھول دیکھے تو وہ متعجب ہونے کے علاوہ مضطرب بھی ہوئی۔‘‘ میری میز پر وہ خاص پھول پڑے تھے۔ وہ ان کے پاس آئی، گلدان میں سے اٹھا کر اس نے انھیں سونگھا اور مجھ سے کہا،’’یہ افغانستان کے پھول نہیں۔‘‘\n\nمیں نے جواب دیا،’’جی ہاں، یہ میرے وطن کے ہیں۔ اور میں نے خاص آپ کے لیے منگوائے ہیں۔ بوبو جان خرید و فروخت میں مشغول تھی۔ اس دوران میں کوکو جان سے میں نے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا۔ وہ سخت ناراض ہوئی اور اپنی ماں کے ساتھ چلی گئی۔۔۔ شام کو سردار بلونت سنگھ مجیٹھیا آیا۔۔۔ اس سے بات چیت ہوئی۔ میں نے اس کودس روپے قرض دیے۔ جب اس نے روپے اپنی جیب میں ڈالے تو مجھ سے پوچھا آج منگل ہے۔ وہ پھول سنگھا دیے تھے آپ نے؟میں نے سارا واقعہ بیان کردیا۔۔۔ سردار بلونت سنگھ نے اپنا بالوں بھرا ہاتھ زور سے میرے ہاتھ پرمارا اور کہا شاہ جی، اب کام سترہ آنے پورا ہوگیا ہے۔۔۔ وسکی کی ایک بوتل منگاؤ۔‘‘\n\nشاہ صاحب نے وسکی کی بوتل منگوائی۔ سردار بلونت سنگھ مجیٹھیا نے آدھی دکان میں پی اور آدھی اپنے ساتھ لے گیا۔ میں نے شاہ صاحب سے پوچھا، ’’دوسری دفعہ پھول سنگھانے سے کیا نتیجہ برآمد ہوا؟‘‘\n\nشاہ صاحب نے جواب دیا،’’وہ بہت بے چین ہوگئی۔ اسے دن رات اتنے پھول نظر آنے لگے کہ ایک دن وہ سخت اضطراب کی حالت میں آئی۔ برقع جو اس نے کبھی اتارا نہیں تھا، کیلے کے چھلکے کی طرح اتار کر ایک طرف پھینکا اور مجھ سے مخاطب ہوئی،’’دیکھو شاہ! تم نے مجھ پر کوئی جادو کردیا ہے۔ میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو مجھے پہلی بار نظر آیا تھا۔ منٹو صاحب! میں نے اپنی زندگی میں اس جیسی حسین لڑکی اب تک نہیں دیکھی۔میں اس کو دیکھتا رہا۔۔۔ اس نے بڑے تیز و تند لہجے میں کہا،’’تم نے مجھے پھول کیوں سنگھائے تھے۔میں پاگل ہوئی جارہی ہوں۔۔۔ دن ہو یا رات، ہر وقت مجھے وہ تمہارے پھول دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں ایک شریف گھرانے کی لڑکی ہوں۔ میرے والدین عنقریب میری شادی کررہے ہیں۔ تم نے مجھ پر کیا جادو پھونکا ہے۔۔۔‘‘یہ کہہ کر اس نے میری میز پر سے گلدان میں سے پھول نکالے اور فرش پر پھینک کر اپنی سینڈل سے مسل دیے۔ لیکن مجھے محسوس ہوتا تھا کہ وہ ناراض ہونے کے باوجود ناراض نہیں تھی اور چاہتی تھی کہ میں اس سے باتیں کروں۔ لیکن مجھے اس کا یقین نہیں تھا اس لیے خاموش رہا۔۔۔ وہ کچھ دیر غصے کی حالت میں کھڑی رہی۔ اس کے بعد اس نے برقع پہنا اور چلی گئی۔‘‘\n\nمیں نے شاہ صاحب سے پوچھا،’’تو سردار بلونت سنگھ مجیٹھیا کا منتر کام کرگیا؟‘‘\n\n’’جی ہاں، کام کر گیا۔۔۔‘‘ اس کو پھول ہی پھول نظر آتے تھے۔ میں نے کئی مرتبہ سوچا کہ یہ سب بکواس ہے، مگر کوکو جان کی باتوں سے مجھے یقین ہوگیا کہ منتر اپنا اثر کر گیا ہے، حالانکہ جو منتر آپ سن چکے ہیں، اس میں ایسی کوئی بات نہیں جس سے آدمی کو یہ معلوم ہو کہ وہ اثر کرے گا۔۔۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ جب پھر میری دکان میں آئی تو برقع اتار کر مجھ سے بغل گیر ہوگئی اور رونا شروع کردیا۔۔۔ میں نے اس کو کئی مرتبہ چوما۔ اس نے کوئی مزاحمت نہ کی۔ تھوڑی دیر کے بعد میری میز پر گلدان میں جو پھول پڑے تھے، اس نے نکالے اور انھیں نوچ کر ایک طرف پھینک دیا۔ اس کے بعد وہ برقع پہن کر تیزی سے باہر نکل گئی۔\n\nداستان کافی طوالت پکڑ رہی تھی۔ میں نے شاہ صاحب سے کہا، ’’ آپ مختصر فرمائیے کہ انجام کیا ہوا۔۔۔ کیا وہ لڑکی آپ کو مل گئی؟‘‘\n\nشاہ صاحب نے ایک آہ بھری،’’جی نہیں! اس کی شادی ہوگئی۔ مگر حجلہء عروسی میں داخل ہوتے ہی معلوم نہیں کیا ہوا کہ وہ گری اور گرتے ہی مر گئی۔۔۔ اس کے ہاتھ میں سات پھول تھے مختلف رنگوں کے۔\n\nمیں نے دیکھا کہ شاہ صاحب کی پلنگڑی کے ساتھ تپائی پر پیتل کے پھولدان میں سات مختلف رنگوں کے پھول اڑسے ہوئے تھے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%84%D9%88%D9%86%D8%AA_%D8%B3%D9%86%DA%AF%DA%BE_%D9%85%D8%AC%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بن آئی تیری شفاعت سے رو سیاہوں کی", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "بن آئی تیری شفاعت سے رو سیاہوں کی\nکہ فرد داخل دفتر ہوئی گناہوں کی\n\nترے فقیر دکھائیں جو مرتبہ اپنا\nنظر سے اترے چڑھی بارگاہ شاہوں کی\n\nذرا بھی چشم کرم ہو تو لے اڑیں حوریں\nسمجھ کے سرمہ سیاہی مرے گناہوں کی\n\nخوشا نصیب جو تیری گلی میں دفن ہوئے\nجناں میں روحیں ہیں ان مغفرت پناہوں کی\n\nفرشتے کرتے ہیں دامان زلف حور سے صاف\nجو گرد پڑتی ہے اس روضے پر نگاہوں کی\n\nرکے گی آ کے شفاعت تری خریداری\nکھلیں گی حشر میں جب گٹھڑیاں گناہوں کی\n\nمیں ناتواں ہوں پہنچوں گا آپ تک کیونکر\nکہ بھیڑ ہوگی قیامت میں عذر خواہوں کی\n\nنگاہ لطف ہے لازم کہ دور ہو یہ مرض\nدبا رہی ہے سیاہی مجھے گناہوں کی\n\nخدا کریم محمد شفیع روز جزا\nامیر کیا ہے حقیقت میرے گناہوں کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D9%81%D8%A7%D8%B9%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%88_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "بن بلائے مہمان", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1942", "text_ur": "غالب کہتا ہے،\nمیں بلاتا تو ہوں ان کو مگر اے جذبہ دل\nان پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے\n\nیعنی اگر اسے بن بلائے مہمانوں سے کد ہوتی تو یہ شعر ہمیں اس کے دیوان میں ہرگز نہ ملتا۔ غالب کہتا ہے میں بلاتا تو ہوں ان کو، مگر میرا جی تو یہ چاہتا ہے کہ کوئی ایسی بات ہو جائے کہ وہ بن بلائے چلے آئیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ بلا کر کسی کے آ جانے میں وہ مزا کہاں ہے، جو بن بلائے آ جانے میں ہے، لیکن سمجھ میں نہیں آتا کیوں لوگوں کو بن بلائے مہمانوں سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ آپ کہیں گے کہ صاحب غالب نے تو معشوقوں کے متعلق کہا تھا کہ ان کا بن بلائے آ جانا عاشقوں کے لئے ایک بہت ہی بڑی بات ہے۔ آپ نے زبردستی یہ شعر مہمانوں کے ساتھ چپکا دیا۔ اچھا صاحب یوں ہی سہی، لیکن نفسیات کی روشنی تو موجود ہے۔ چلیئے اسی میں بن بلائے مہمانوں کو دیکھ لیتے ہیں۔\n\nیہ نفسیات کا زمانہ ہے۔ ہر چیز آج کل اسی ترازو میں تولی اور اسی کسوٹی پر پرکھی جاتی ہے لیکن بن بلائے مہمانوں کا نفسیاتی تجزیہ کرنے سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ آیا ہر مہمان کو بلانا ضروری ہے، یعنی کیا وہی آدمی قابل برداشت مہمان ہوتا ہے جس کو مدعو کیا جائے، خط لکھ کر، دعوتی کارڈ بھیج کر، تار دے کر یا ٹیلیفون کر کے اپنے گھر بلایا جائے۔ اس کا جواب منطق کی رو سے یہی ہوگا کہ ایسے بلائے ہوئے مہمان ضروری نہیں کہ سو فیصدی قابل برداشت ثابت ہوں۔ اسی طرح ہم اس نتیجے پر بھی آسانی کے ساتھ پہنچ جائیں گے کہ بن بلائے مہمان ضروری نہیں کہ سو فیصدی ناقابل برداشت ثابت ہوں۔۔۔ واضح یہ ہوا کہ ہر بن بلائے مہمان پر ناقابل برداشت اور ناقابل قبول کا لیبل لگا دینا بہت بڑی زیادتی ہے۔\n\nاور یہ بھی زیادتی ہے یعنی آپ ساری عمر نہیں بلائیں گے تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ آپ کے ہاں کوئی آئے ہی نہیں۔ اسی انتظار میں آدمی سوکھتا رہے کہ آپ کب بلاتے ہیں اور بفرض محال مہربان ہو کے آپ نے ایک دفعہ بلا لیا تو اس کے بعد آس لگائے بیٹھے ہیں کہ دیکھئے آپ پھر کب مہربان ہو کے بلاتے ہیں۔۔۔ ناصاحب، بلانا ولانا کوئی ضروری نہیں، جب بھی کسی کا جی چاہے چلا آئے۔ دوستوں میں ایسی بھی کیا غیریت۔\n\nعربوں کی مہمان نوازی مشہور ہے، لیکن ہم نے کبھی یہ نہیں سنا کہ انہوں نے اونٹ روانہ کر کے مہمانوں کو بلایا ہو۔ اصل میں وہ مہمان نوازی ہی کیا جو بلا کر کسی آدمی پر عائد کی جائے۔ ہم تو عربوں کے متعلق یہی سنتے آئے ہیں کہ ان کے مہمان اکثر بن بلائے ہی ہوتے تھے۔۔۔ دن کو یا رات کو کسی وقت بھی آ نکلتے، دروازے کھلے پاتے۔ حاتم طائی کبھی پیدا نہ ہوتا اگر وہاں مہمانوں کو بلا کر ان کا میزبان بننے کا دستور ہوتا۔\n\nانگریزوں کی روزہ مرہ کی زندگی بڑی نپی تلی ہے۔ منٹوں اور سیکنڈوں کا حساب کیا جاتا ہے بن بلائے کسی کے یہاں جانا ان کے نزدیک بہت بڑی بدتمیزی ہے، یہی وجہ ہے کہ حاتم طائی کے قدو قامت کی ایک بھی شخصیت ان کی تاریخ میں نظر نہیں آتی، لیکن یہاں حاتم طائی کے قدوقامت کی شخصیتیں پیدا کرنے کا سوال نہیں۔ ہمیں تو صرف یہ دیکھنا ہے کہ بن بلائے مہمان کو سوسائٹی کیوں ایسی بری نظروں سے دیکھتی ہے اور معاشرے میں اس کی حیثیت کیوں ایک خارش زدہ کتے سے بھی بدتر ہے۔ مان نہ مان میں تیرا مہمان۔۔۔ یہ بالکل اور چیز ہے لیکن بن بلایا مہمان ہر گز ہر گز ملعون و مطعون نہیں ہونا چا ہیئے، بلکہ میزبانوں کو الٹا ان کا شکرگزار ہونا چاہیئے کہ یہ ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے موجب ہوتے ہیں اور خود اعتمادی جیساکہ آپ جانتے ہیں، انسان کے کردار میں بہت ہی ضروری ہے۔\n\nذرا غور فرمایئے۔۔۔ اگر آپ کسی بن بلائے مہمان کو برداشت نہیں کر سکتے، جو زیادہ سے زیادہ چار پانچ روز آپ کے پاس ٹھہر کر اپنی راہ لے گا، تو آپ ایک ایسے بڑے ناگہانی حادثے کو کیونکر برداشت کر سکیں گے جس کا ردعمل برسوں جاری رہتا ہے۔ ملک کی سیاست میں کسی اچانک تبدیلی کو آپ کا ذہن کیسے برداشت کرے گا اور آپ کیوں کراس تبدیلی کے ساتھ خود کو سمو سکیں گے۔۔۔ اگر آپ بن بلائے مہمان کو برداشت نہیں کر سکتے تو معاف کیجئے، موت کے فرشتے کا کیا کیجئے گا جو ہمیشہ بن بلائے آتا ہے۔ دنیا کچھ بھی کہے لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ ہر بن بلائے مہمان کی آمد نہ بلانے والے میزبان میں خوداعتمادی پیدا کرتی ہے۔ دعوت کا اعلان کر کے اور خوردونوش کا جملہ سامان تیار کر کے ایک، دس یا بیس آدمیوں کو مہمان بنا لینا کوئی بڑی بات تو نہیں، بڑی بات تو اس وقت ہوگی جب آپ کے فرشتوں کو بھی خبر نہ ہوگی اور تین چار دوست بیک وقت یا یکے بعد دیگرے آپ کے گھر آ دھمکیں گے اور آپ کو افراتفری میں ان کے کھانے پینے اور رہنے سہنے کا انتظام کرنا پڑے گا۔\n\nصاحب خانہ یا میزبان کے سلیقے کا اندازہ اعلان کر کے دی ہوئی دعوتوں اور بلا کر بنائے ہوئے مہمانوں کی خاطر مدارت سے بطریق احسن کبھی نہیں ہو سکتا۔ آپ کے، آپ کی بیگم صاحبہ کے، آپ کے نوکروں کے حسن انتظام، خوش سلیقگی اور رکھ رکھاؤ کا صحیح اندازہ صرف اسی وقت ہوگا جب آپ امتحان کے لئے تیار نہ ہوں گے۔ انسپکٹر صاحب بتا کرا سکولوں کا دورہ کرتے ہیں کہ وہ فلاں دن، فلاں ا سکول کا معائنہ کریں گے تو اس دن اس اسکول کا غلیظ ترین کونہ بھی صاف ہوتا ہے۔ صحیح معائنہ تو اصل میں اس وقت ہوگا جب انسپکٹر SURPRISE VISIT پر آ نکلے گا۔ انسپکٹر تو محض اپنے فرائض سے سبکدوش ہونے کے لئے معائنے پر آتے ہیں لیکن بن بلائے مہمان غیر شعوری طور پر میزبانوں کو اپنے فرائض سے سبکدوش ہونے کا موقعہ بہم پہنچاتے ہیں۔ سوسائٹی انہیں ملعون و مطعون گردانتی ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، اس لئے کہ ان کا وجود سوسائٹی کے حق میں بے حد مفید ہے۔\n\nیہاں تک کہہ چکنے کے بعد میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں اور بے جھجک بتانا چاہتا ہوں کہ میں بلانے پر کسی کے یہاں آج تک نہیں گیا۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ میرے اکثر و بیشتر میزبان مجھ سے نالاں ہیں کہ میں بن بلائے آ دھمکتا ہوں لیکن اس کے باوجود میں نے اپنی عادت نہیں بدلی۔ اس لئے کہ مجھے اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔ میں شاعر مزاج ہوں، ٹھس واقعات اور سپاٹ چیزوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں، شادی، بیاہ اور سالگرہ وغیرہ کی دعوتیں میرے لئے بالکل بے کیف ہیں۔ وہ کھیل اور تماشے بھی میری نظروں میں کوئی وقعت نہیں رکھتے جن کو دیکھنے کے لئے آدمی کو وقت کا پابند ہونا پڑے۔ مجھے اس بستر پر کبھی نیند نہیں آ سکتی جو میرے لئے خاص طور پر تیار کیا گیا ہو۔ وہ مہمان نوازی مجھے کھٹکتی ہے جس میں پہلے کی تیاری کی ہلکی سی جھلک بھی ہو۔\n\nوہ لوگ جو مجھے یا میرے مزاج کے آدمیوں کو حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں ان کے متعلق مجھے افسوس سے کہنا پڑے گا کہ وہ شعریت سے یکسر خالی ہیں۔ ڈرامے کو سمجھنے اور اس سے حظ اٹھانے کی صلاحیت ان میں ذرا بھر نہیں۔ حادثات کا مقابلہ کرنے کی تاب تو معاف کیجئے ان میں سرے سے ہوتی ہی نہیں۔\n\nاونچی سوسائٹی کی ایک خاتون تھیں جن کے متعلق اونچی سوسائٹی ہی میں یہ مشہور تھا کہ وہ پرلے درجے کی مہمان نواز ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ وہ ہر ہفتے بلاناغہ ایک پارٹی دیا کرتی تھیں۔ جس میں شہر کی تمام اونچی شخصیتوں کو مدعو کیا جاتا تھا۔ میں ان کے یہاں جب بھی گیا بن بلائے گیا۔ وہ مجھے بہت اونچے درجے کا بدتمیز سمجھتی تھیں اور میں سمجھتا تھا کہ وہ بہت ہی اونچے درجے کی خاتون ہیں لیکن ان کے دل کا نچلا حصہ جہاں درد، منت کش دوا نہیں ہوتا، جہاں تیر تمام کش پر تیر نیم کش کو ترجیح دی جاتی ہے، سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک رات وہ ایک بن بلائی چوہیا کو دیکھ کر بے ہوش ہو گئیں اور یہ صدمہ انہیں تا دم آخر رہا کہ ان کے گھر میں جہاں ایک مچھر نکال دینے پر وہ دس ہزار روپے ہار دینے کے لئے تیار تھیں، ایک چوہیا نکل آئی۔\n\nمیں عرض کر چکا ہوں کہ ایسے لوگوں میں حادثات کا مقابلہ کرنے کی تاب بالکل نہیں ہوتی۔ اس خاتون کی جگہ جن کا ذکر میں نے ابھی ابھی کیا ہے اگر کوئی ایسی عورت ہوتی، جس کے دل کے نچلے حصے میں ’’اگر خواہی حیات اندر خطرزی‘‘ کا جذبہ موجزن ہوتا تو میں سمجھتا ہوں اس رات محفل درہم برہم ہونے کے بجائے اور جم جاتی اور ایسے لطیفے ہوتے جو سب کو تا دم آخر فرحان و شاداں رکھتے۔ آپ یقین نہیں کریں گے، مگر آپ کبھی ایسے میزبان کو جسے بن بلائے مہمانوں سے چڑ ہو، شیکسپیئر کے ڈرامے پڑھنے کے لئے دیجئے۔ دوسرے پڑھ پڑھ کر سر دھنیں گے مگر اس پر ذرہ برابر اثر نہیں ہوگا۔ اسی طرح فنون لطیفہ سے بھی ایسے شخص لطف اندوز نہیں ہو سکتے کیونکہ ان میں شئے لطیف کی کمی ہوتی ہے، اگر یہ کمی نہ ہوتی تو وہ ان تمام لطافتوں کو سمجھ سکتے جو بن بلائے مہمانوں کی آمد کے ساتھ ان کے گھر میں داخل ہوتی ہیں۔\n\nآپ کی اپنی بیوی کے ساتھ زبردست چخ ہوئی ہے۔ وہ مصر تھی کہ میکے جائے گی اور ضرور جائے گی۔ آپ اس کے خلاف تھے، نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ آپ نے پورا ڈنر سیٹ غصے میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تھا اور آپ کی بیوی نئی ساڑھی کی چندی چندی کر کے بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ تین بار طلاق کہنے والے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی یا زور سے گھنٹی بجی۔ آپ نے اٹھ کر دروازہ کھولا اور کیا دیکھا کہ میں اپنی بیوی بچوں سمیت کھڑا ہوں۔ آپ چلائے، ’’ارے، تم کہاں۔۔۔ ؟‘‘ آپ نے پھر میری بیوی کی طرف دیکھا اور اپنے چہرے پر سے کدورت کے تمام آثار دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس کو آداب عرض کیا۔۔۔ تھوڑی دیر ٹھٹکے پھر زور سے میرے کندھے پر ہاتھ مارا اور کہا، ’’چلو بھئی اندر، باہر سردی میں کیا کھڑے ہو۔‘‘\n\nچلیئے صاحب، ہم اندر داخل ہو گئے۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا اور پوچھا، ’’بیگم صاحبہ کہاں ہیں۔۔۔ سو رہی ہیں؟‘‘ آپ نے کھٹ سے جھوٹ بولا، ’’نہیں اندر ہیں۔ ذرا طبیعت خراب ہے۔‘‘ میری بیوی نے جھٹ سے برقعہ اتارتے ہوئے تشویش بھرے لہجے میں کہا، ’’ہائیں۔۔۔ کیا ہوا دشمنوں کو؟‘‘ آپ کی بیگم صاحبہ نے اندر کمرے میں یہ باتیں سنیں تو جلدی جلدی نچی ہوئی ساڑھی کی چندیاں بکس میں ڈالیں اور آنسو پونچھتی ہوئی باہر نکل آئیں اور جھٹ سے میری بیوی کو اپنے گلے لگا لیا اور کچھ اس خوبصورتی سے اپنے بچے ہوئے آنسو نکالے کہ اس غریب کو بھی رونا پڑا۔\n\nرات بہت دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ میں نے ٹوٹے ہوئے ڈنر سیٹ کے متعلق پوچھا تو آپ کو ایک نہایت ہی دردناک داستان گڑھ کے سنانا پڑی کہ نوکر نے لاکھ منع کرنے پر بھی سارے برتن ایک ہی طشت میں اٹھائے اور اندھا دھند میز کے ساتھ ٹکرا کر سب کے سب فرش پر گرا دیئے۔ غریب نوکر کو میں بھی آپ کے ساتھ گالیاں دیتا رہا۔ حالانکہ صاف دیکھ رہا تھا کہ سیٹ شکنی آپ ہی کا کام ہے کیونکہ فرش پر گر کر پلیٹوں کے ٹکڑے الماری تک کیسے پہنچ سکتے ہیں۔ پھر سونے کے وقت آپ کی بیگم صاحبہ نے غلطی سے اپنا بکس کھولا اور میری بیوی دھنی ہوئی ساڑھی دیکھ کر چلائی، ’’ہائیں، بہن یہ کیا؟‘‘ تو آپ کی بیگم صاحبہ کو ایک فرضی کہانی سنانا پڑی، ’’ان کم بخت چوہوں نے تو ناک میں دم کر رکھا ہے۔ پچھلے مہینے میرا ساٹن کا سوٹ غارت ہوا۔ آج یہ نئی ساڑھی! گولیاں ڈالیں، توسوں پر زہر لگا کر رکھا، مگر ان سے نجات ہی نہیں ہوتی۔‘‘ میری بیوی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ساڑھی کو غارت کرنے والی خود آپ کی بیگم ہیں کیونکہ چوہے پھاڑتے نہیں بوٹیاں نوچتے ہیں، لیکن وہ بیچاری آپ کی بیگم کو چوہے مارنے کی کئی ترکیبیں سمجھاتی رہی۔\n\nہم دس دن آپ کے یہاں رہے، آپ کو بہت کوفت ہوئی، اس لئے کہ ہم بن بلائے مہمان تھے۔ کئی دفعہ ہم نے آپ میاں بیوی کو آپس میں ہمارے متعلق کھسر پھسر کرتے سنا کہ یہ کم بخت ٹلتے کیوں نہیں، لیکن افسوس ہے کہ آپ نے ہماری بروقت آمد کے فوائد پر غور نہ کیا۔ میں ایسی ہزاروں مثالیں پیش کر سکتا ہوں۔\n\nایک صاحب کے یہاں ہم دس روز ٹھہرے۔ ان کی بیوی، ان کی دو سالیاں، ان کے تین بچے سب بلا کے چٹورے تھے۔ بلڈنگ کے پاس سے کوئی بھی خوانچہ والا گزرے ٹھہرا لیا جاتا تھا اور سیکڑوں روپے ماہوار ہر ماہ یوں برباد کر دیے جاتے تھے۔ صاحب خانہ کو سخت شکایت تھی کہ کھانا کوئی نہیں کھاتا، لیکن الم غلم چیزیں دن بھر کھائی جاتی ہیں، ہم صرف دس روز ان کے یہاں ٹھہرے، آپ یقین مانئے چوتھے روز ان سب کا چٹوراپن غائب ہو گیا اور وہ باقاعدہ گھر کا پکا ہوا کھانا کھانے لگے، لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری آمد کے اس افادی پہلو کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے اور ہم پر بن بلائے مہمان کا لیبل چسپاں ہو گیا۔\n\nبن بلائے مہمانوں کے متعلق میرا روّیہ بہت ہی اچھا ہے، جو آتا ہے بڑے شوق سے آئے، جب جی چاہے آئے، ایک روز رہے، دس روز رہے، دس مہینے رہے، مجال ہے جو میرے ماتھے پر ہلکی سی شکن بھی آ جائے۔۔۔ زیادہ آ جائیں گے تو میں ان سے کہوں گا، دیکھئے جناب ہمارے پاس دو پلنگ ہیں، آپ انہیں اپنی عقل کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں۔ ہماری فکر نہ کیجئے، صوفہ ہے، اس پر میں سو جاؤں گا۔ گدا ہے، اس پر میری بیوی آرام سے سو سکتی ہے، بچے ہیں ان کا بھی انتظام ہو جائے گا۔ وہ کہیں گے، نہیں نہیں، اس قدر تکلف کی کیا ضرورت ہے۔ تو میں کہوں گا، بہتر۔۔۔ آپ صوفہ اور گدا سنبھال لیجئے، لیکن دیکھئے، یہ ریڈیو میں اپنے کمرے میں لئے جاتا ہوں، اس لئے کہ رات کو اگر آپ میں سے کوئی بجائے تو ممکن ہے باقیوں کو ناگوار معلوم ہو۔۔۔ جس چیز کی ضرورت ہو آپ باہر سے خود لا سکتے ہیں۔ سگریٹ والے کی دکان گلی کے نکڑ پر ہے، دودھ کا شوق ہے تو دس قدم اور آگے چلے جایئے گا، بڑا اچھا حلوائی ہے۔\n\nجب تک جیب اجازت دے گی میں اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کرتا رہوں گا، لیکن جب وہ جواب دے جائے گی تو میں ان سے ایک روز اچانک کہوں گا، ’’لیجئے جناب! آج سے تصویر کا دوسرا رخ شروع ہوگا۔ ہم آپ کے مہمان، آپ ہمارے میزبان۔۔۔‘‘ اور اگر معاملہ بہت ہی نازک صورت اختیار کر گیا تو ہم اپنے مہمانوں کو وہیں گھر میں چھوڑ کر کسی دوسرے کے یہاں بن بلائے چلے جائیں گے۔ اللہ اللہ، خیر صلا! آخر میں ان لوگوں سے جو کہ بن بلائے مہمانوں سے خدا واسطے کا بیر رکھتے ہیں، میری درخواست ہے کہ وہ اور کچھ نہیں تو محض تفریح کے طور پر ہی مہینے میں ایک بار کسی بن بلائے مہمان کو اپنے ہاں ضرور بلوایا کریں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86_%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%DB%81%D9%85%D8%A7%D9%86"} {"title": "بن بن کے بگڑ جائے گی تدبیر کہاں تک", "poet_page": "مصنف:مرزا مائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بن بن کے بگڑ جائے گی تدبیر کہاں تک\nچکر میں رکھے گی مجھے تقدیر کہاں تک\n\nکچھ غیر کی جانب نگہ ناز کی حد بھی\nکھاتا رہے محفل میں کوئی تیر کہاں تک\n\nجاتا ہوں اسے ڈھونڈنے محفل میں عدو کی\nدیکھوں تو بگڑتی ہے یہ تقدیر کہاں تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%AF%DA%91_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "بن ترے کیا کروں جہاں لے کر", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بن ترے کیا کروں جہاں لے کر\nیہ زمیں اور یہ آسماں لے کر\n\nاشک چھلکائے بال بکھرائے\nوہ گئے میری داستاں لے کر\n\nدو جہاں کی طلب سے فارغ ہوں\nتیرا در تیرا آستاں لے کر\n\nاڑ گئے سب چمن کو رہ گئے ہم\nچار تنکوں کا آشیاں لے کر\n\nرنگ محفل ترا بڑھانے کو\nآئے ہم چشم خوں فشاں لے کر\n\nسب گئے پوچھنے مزاج ان کا\nمیں گیا اپنی داستاں لے کر\n\nسب پھرے لے کے اپنے یوسف کو\nمیں پھرا گرد کارواں لے کر\n\nسب اڑے لے کے پھول گلشن سے\nاور ہم اپنا آشیاں لے کر\n\nمیری تقدیر کیا بتاؤں جلیلؔ\nجا رہی ہے کہاں کہاں لے کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "بن ترے کیا کہیں کیا روگ ہمیں یار لگا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بن ترے کیا کہیں کیا روگ ہمیں یار لگا\nڈر لگے نام لیے جس کا وہ آزار لگا\n\nسب یہ کہتے ہیں مجھے تجھ سے جو دل یار لگا\nہائے کیا اس کو جوانی میں یہ آزار لگا\n\nہم دوانوں کا یہ ہے دشت جنوں میں رتبہ\nکہ قدم رکھتے ہی آ پاؤں سے ہر خار لگا\n\nکہیے کیوں کر نہ اسے بادشہ کشور حسن\nکہ جہاں جا کے وہ بیٹھا وہیں دربار لگا\n\nقدر پھر اپنی ہو کیا اس کے خریداروں میں\nروز و شب جس کی گلی میں رہے بازار لگا\n\nکون سا دن وہ کٹا مجھ پہ کہ اے تیغ فراق\nزخم اک تازہ مرے دل پہ نہ ہر بار لگا\n\nدل میں اب اس کے جو لہر آئی ہے گھر جانے کی\nتو بھی رونے کی جھڑی دیدۂ خوں بار لگا\n\nمتصل تو جو مرا خون جگر پیتا ہے\nکیوں غم عشق یہ کیا تجھ کو مزے دار لگا\n\nتیز دستیٔ جنوں آج ہے ایسی ہی کہ بس\nنہ رہا اپنے گریباں میں کوئی تار لگا\n\nاس زمیں میں غزل اک اور بھی پڑھ اے جرأتؔ\nخوب انداز کے اب کہنے تو اشعار لگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D9%88%DA%AF_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%84%DA%AF%D8%A7"} {"title": "بن دیکھے اس کے جاوے رنج و عذاب کیوں کر", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بن دیکھے اس کے جاوے رنج و عذاب کیوں کر\nوہ خواب میں تو آوے پر آوے خواب کیوں کر\n\nپاس اس نے جو بٹھایا دل اور تلملایا\nاب جائے گا خدایا یہ اضطراب کیوں کر\n\nوہ جب سے ہے سفر میں دل مضطرب ہے بر میں\nبیٹھیں ہم اپنے گھر میں خانہ خراب کیوں کر\n\nساقی فراق جاناں حلق اپنے کا ہے درباں\nاترے گلے سے پھر یاں قرط شراب کیوں کر\n\nغمگیں ہیں جس کے غم سے واقف نہیں وہ ہم سے\nیا رب پھر اس الم سے ہو صبر و تاب کیوں کر\n\nواں ہے سوال ہر دم رکھیے ملاپ کم کم\nحیران ہیں کہ دیں ہم اس کا جواب کیوں کر\n\nچھوٹا ہے سن تمہارا مکھڑا ہے پیارا پیارا\nپھر ہو بھلا گوارا شرم و حجاب کیوں کر\n\nمجھ کو تو ہے یہ حیرت ایسی رہی جو عصمت\nتو ہوگا صرف عشرت عہد شباب کیوں کر\n\nاب طور کی تو اپنے جرأتؔ غزل سنا دے\nدیکھیں تو اس کے ہوں گے شعر انتخاب کیوں کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%92_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "بن سنور کر ہو جو وہ جلوہ نما کوٹھے پر", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بن سنور کر ہو جو وہ جلوہ نما کوٹھے پر\nچرخ چارم کا نظر آئے سما کوٹھے پر\n\nطشت از بام نہ کرنا کہیں راز الفت\nنہ اشارے کرو اے شوخ ادا کوٹھے پر\n\nڈورے ڈالیں نہ کہیں یار اڑانے والے\nبے تکلف نہ یوں کنکوے اڑا کوٹھے پر\n\nسب کو مہتاب کا دھوکا ہوا مہتابی پر\nکل سر شام وہ مہ رو جو چڑھا کوٹھے پر\n\nوہ کہا کرتے ہیں کوٹھوں چڑھی ہونٹوں نکلی\nدل میں ہی رکھنا جو کل رات ہوا کوٹھے پر\n\nچاندنی ہو بچھی اور چاند نے ہو کھیت کیا\nاور پہلو میں ہو وہ مہ لقا کوٹھے پر\n\nآفتاب لب بام اب تو ہوئے ہیں کیفیؔ\nآنکھیں پھر اس سے لڑائیں بھلا کیا کوٹھے پر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86_%D8%B3%D9%86%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%86%D9%85%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "بنا کے آئینۂ تصور جہاں دل داغدار دیکھا", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "بنا کے آئینۂ تصور جہاں دل داغدار دیکھا\nفراق میں لطف وصل پایا خزاں میں رنگ بہار دیکھا\n\nتمام کاموں کا راستے پر ہمیشہ دار و مدار دیکھا\nفساد طینت میں جن کی پایا ہر ایک صحبت میں خار دیکھا\n\nسنبھالا جس دن سے ہوش ہم نے وطن کو کل چند بار دیکھا\nنہ کی عزیزوں کی غم گساری نہ پھر کے اپنا دیار دیکھا\n\nہوئے جو مانوس کج روی سے پھرے رہ صدق و راستی سے\nنہ بیٹھے اک روز وہ خوشی سے نہ کچھ بجز انتشار دیکھا\n\nبساط عیش و طرب ہے برہم یہ ہے نشیب و فراز عالم\nپیادہ ہیں ان کو دیکھتے ہم جنہیں ہمیشہ سوار دیکھا\n\nپڑی ہے پیچھے کچھ ایسی شامت مٹا رہے ہیں نشان ثروت\nبہت عزیزوں کو بہر شہرت گنواتے اپنا وقار دیکھا\n\nجما تھا جس وقت رنگ صحبت تھا نیک و بد میں بھی لطف خلت\nمگر خزاں آئی یا قیامت نہ پھول دیکھا نہ خار دیکھا\n\nدل و جگر کو ہوا گوارا کہاں سرور شراب ہستی\nملا کبھی اضطرار میں یہ کبھی اسے بے قرار دیکھا\n\nگیا وہ دور سیاہ مستی رہا فقط نام مے پرستی\nجو ضعف پیری میں آنکھ کھولی تو کچھ طبیعت پہ بار دیکھا\n\nحبیبؔ ہم ہم صفیر بلبل ہمیشہ تھے گلشن جہاں میں\nوفا کی خو بو ہو جس میں وہ گل نظر نہ آیا ہزار دیکھا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%82_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "بنا ہے اپنے عالم میں وہ کچھ عالم جوانی کا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بنا ہے اپنے عالم میں وہ کچھ عالم جوانی کا\nکہ عمر خضر سے بہتر ہے ایک اک دم جوانی کا\n\nنہیں بوڑھوں کی داڑھی پر میاں یہ رنگ وسمے کا\nکیا ہے ان کے ایک ایک بال نے ماتم جوانی کا\n\nیہ بوڑھے گو کہ اپنے منہ سے شیخی میں نہیں کہتے\nبھرا ہے آہ پر ان سب کے دل میں غم جوانی کا\n\nیہ پیران جہاں اس واسطے روتے ہیں اب ہر دم\nکہ کیا کیا ان کا ہنگامہ ہوا برہم جوانی کا\n\nکسی کی پیٹھ کبڑی کو بھلا خاطر میں کیا لاوے\nاکڑ میں نوجوانی کے جو مارے دم جوانی کا\n\nشراب و گل بدن ساقی مزے عیش و طرب ہر دم\nبہار زندگی کہئے تو ہے موسم جوانی کا\n\nنظیرؔ اب ہم اڑاتے ہیں مزے کیا کیا اہا ہا ہا\nبنایا ہے عجب اللہ نے عالم جوانی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "بنارس", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہر اک کو بھاتی ہے دل سے فضا بنارس کی\nوہ گھاٹ اور وہ ٹھنڈی ہوا بنارس کی\nوہ مندروں میں پجاریوں کا ہجوم\nوہ گھنٹیوں کی صدا وہ فضا بنارس کی\nتمام ہند میں مشہور ہے یہاں کی سحر\nکچھ اس قدر ہے سحر خوش نما بنارس کی\nپجاریوں کا نہانا وہ گھاٹ پر آ کر\nوہ صبح دم کی فضا دل کشا بنارس کی\nوہ کشتیوں کا سماں اور وہ سیر گنگا کی\nوہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا جاں فزا بنارس کی\nہمارے دل سے نکلتی ہے یہ دعا اخترؔ\nکہ پھر بھی شکل دکھائے خدا بنارس کی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%B1%D8%B3"} {"title": "بنایا ایک کافر کے تئیں اس دم میں دو کافر", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بنایا ایک کافر کے تئیں اس دم میں دو کافر\nمرے منہ سے جو نکلا ناگہاں او کافر او کافر\n\nمسلماں دیکھ کر اس بت کی صورت کو یہ کہتا ہے\nمسلمانی کہاں کی؟ باندھ لے زنار، ہو کافر\n\nتجھے پروا نہیں ہرگز کسی کی تو ہے بے پروا\nترے اس حسن کافر پر پری ہو جائے گو کافر\n\nشب ہجراں میں جو دل دم بہ دم فریاد کرتا ہے\nخفا ہو کر کہوں میں کوئی ساعت تو تو سو کافر\n\nکہاں تک اے دل شوریدہ تو آنسو بہاوے گا\nشب آئی صبح ہونے پر بس اتنا بھی نہ رو کافر\n\nہم اپنا دین و ایماں پہلے اس کو نذر کرتے ہیں\nہمارے سامنے اس شکل سے آتا ہے جو کافر\n\nتری باتوں سے تو اے مصحفیؔ جی اپنا تنگ آیا\nخدا کے واسطے چپ رہ نہ میری جان کھو کافر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1"} {"title": "بنت بہادر شاہ", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "یہ ایک بے چاری درویشنی کی سچی کہانی ہے، جوزمانہ کی گردش سے ان پر گذری۔ ان کا نام کلثوم زمانی بیگم تھا۔ یہ دہلی کے آخری مغل بادشاہ ابو ظفر بہادر شاہ کی لاڈلی بیٹی تھیں۔ چند سال ہوئے ان کا انتقال ہوگیا۔ میں نے بارہا شہزادی صاحبہ سے خود ان کی زبانی ان کے حالات سنے ہیں کیونکہ ان کو ہمارے حضور خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی ؒ کی خانقاہ سے خاص عقیدت تھی، اسی لیے اکثر حاضر ہوتی تھیں اور مجھ کو ان کی دردناک باتیں سننے کا موقع ملتا تھا۔ نیچے جس قدر واقعات لکھے گئے ہیں وہ یا تو خود ان کے بیان کردہ ہیں یا ان کی صاحبزادی زینب زمانی بیگم کے، جواب تک زندہ ہیں اور پنڈت کے کوچہ میں رہتی ہیں اور وہ حالات یہ ہیں،\n\nجس رات میرے بابا جان کی بادشاہت ختم ہوئی اور تاج و تخت لٹنے کا وقت قریب آیا، تو دلی کے لال قلعہ میں ایک کہرام مچا ہوا تھا۔ درودیوار پر حسرت برستی تھی۔ اجلے اجلے سنگ مرمر کے مکان کالے سیاہ نظر آتے تھے۔ تین وقت سے کسی نے کچھ نہ کھایا تھا۔ زینب میری گود میں ڈیڑھ برس کا بچہ تھی اور دودھ کے لیے بلکتی تھی۔ فکر اور پریشانی کے مارے نہ میرے دودھ رہا تھا نہ کسی انا کے۔ ہم سب اس یاس و ہر اس کے عالم میں بیٹھے تھے کہ حضرت ظل سبحانی کا خاص خواجہ سرا ہم کو بلانے آیا۔\n\nآدھی رات کا وقت، سناٹے کا عالم، لوگوں کی گرج سے دل سہمے جاتے تھے لیکن حکم سلطانی ملتے ہی حاضری کے لیے روانہ ہوگئے۔ حضور مصلے پر تشریف رکھتے تھے۔ تسبیح ہاتھ میں تھی۔ جب میں سامنے پہنچی، جھک کر تین مجرے بجا لائی۔ حضور نے نہایت شفقت سے قریب بلایا اور فرمانے لگے، ’’کلثوم! لو اب تم کو خدا کو سونپا۔ قسمت میں ہے تو پھر دیکھ لیں گے۔ تم اپنے خاوند کو لے کر فوراً کہیں چلی جاؤ، میں بھی جاتا ہوں۔ جی تو نہیں چاہتا کہ اس آخری وقت میں تم بچوں کو آنکھ سے اوجھل ہونے دوں، پر کیا کروں، ساتھ رکھنے میں تمہاری بربادی کا اندیشہ ہے۔ الگ رہوگی تو شاید خدا کوئی بہتری کا سامان پیدا کر دے۔‘‘\n\nاتنا فرما کر حضور نے دست مبارک دعا کے لیے بلند کیے جو رعشہ کے سبب کانپ رہے تھے۔ دیر تک آواز سے بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے رہے، ’’خداوندا! یہ بے وارث بچے تیرے حوالے کرتا ہوں۔ یہ محلوں کے رہنے والے جنگل ویرانوں میں جاتے ہیں۔ دنیا میں ان کا کوئی یار و مددگار نہیں۔ تیمور کے نام کی عزت رکھیو اور ان بے کس عورتوں کی آبرو بچائیو۔ پروردگار یہی نہیں بلکہ تمام ہندوستان کے ہندو مسلمان میری اولاد ہیں اور آج کل سب پر مصیبت چھائی ہے۔ میرے اعمال کی شامت سے ان کو رسوا نہ کر اور سب پریشانیوں سے نجات دے۔‘‘ اس کے بعد میرے سر پر ہاتھ رکھا۔ زینب کو پیار کیا اور میرے خاوند میرزا ضیاء الدین کو کچھ جواہرات عنایت کر کے نور محل صاحبہ کو بھی ہمراہ کر دیا، جو حضور کی بیگم تھیں۔\n\nپچھلی رات کو ہمارا قافلہ قلعہ سے نکلا، جس میں دو مرد اور تین عورتیں تھیں۔ مردوں میں ایک میرے خاوند میرزا ضیاء الدین اور دوسرے مرزا عمر سلطان بادشاہ کے بہنوئی تھے۔ عورتوں میں ایک میں، دوسری نواب نو ر محل، تیسری حافظہ سلطان بادشاہ کی سمدھن تھیں۔ جس وقت ہم لوگ رتھ میں سوار ہونے لگے، صبح صادق کا وقت تھا۔ تارے سب چھپ گئے تھے مگر فجر کا تارا جھلملا رہا تھا۔ ہم نے اپنے بھرے پرے گھر پر اور سلطانی محلوں پر آخری نظر ڈالی تو دل بھر آیا اور آنسو امڈنے لگے۔ نواب نور محل کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے اور پلکیں ان کے بوجھ سے کانپ رہی تھیں۔ گویا صبح کے ستارے کا جھلملانا نور محل کی آنکھوں میں نظر آتا تھا۔\n\nآخر لال قلعہ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوکر کورالی گاؤں میں پہنچے اور وہاں اپنے رتھ بان کے مکان پر قیام کیا۔ باجرے کی روٹی اور چھاچھ کھانے کو میسر آئی۔ اس وقت بھوک میں یہ چیزیں بریانی متنجن سے زیادہ مزیدار معلوم ہوئیں۔ ایک دن رات تو امن سے بسر ہوا مگر دوسرے دن گرد و نواح کے جاٹ گوجر جمع ہو کر کو رالی کو لوٹنے چڑھ آئے۔ سینکڑوں عورتیں بھی ان کے ساتھ تھیں جو چڑیلوں کی طرح ہم لوگوں کو چمٹ گئیں۔ تمام زیور اور کپڑے ان لوگوں نے اتار لیے۔ جس وقت یہ سڑی بسی عورتیں اپنے موٹے موٹے میلے ہاتھوں سے ہمارے گلے کو نوچتی تھیں تو ان کے لہنگوں سے ایسی بو آتی تھی کہ دم گھٹنے لگتا تھا۔\n\nاس لوٹ کے بعد ہمارے پاس اتنا بھی باقی نہ رہا جو ایک وقت کی روٹی کو کافی ہوسکتا۔ حیران تھے کہ دیکھئے اب کیا پیش آئے گا۔ زینب پیاس کے مارے رو رہی تھی۔ سامنے سے ایک زمیندار نکلا۔ میں نے بے اختیار ہو کر آواز دی۔ بھائی تھوڑا پانی اس بچی کو لا دے۔ زمیندار فوراً ایک مٹی کے برتن میں پانی لایا اور بولا، ’’آج تو میری بہن اور میں تیرا بھائی۔‘‘ یہ زمیندار کورالی کا کھاتا پیتا آدمی تھا۔ اس کا نام بستی تھا۔ اس نے اپنی بیل گاڑی تیار کر کے ہم کو سوار کیا اور پوچھا کہ جہاں تم کہو پہنچا دوں۔ ہم نے کہا کہ اجاڑہ ضلع میرٹھ میں میر فیض علی شاہی حکیم رہتے ہیں جن سے ہمارے خاندا ن کے خاص مراسم ہیں۔ وہاں لے چل۔ بستی ہم کو اجاڑہ لے گیا مگر میر فیض علی نے ایسی بے مروتی کا برتاؤ کیا جس کی کوئی حد نہیں۔ صاف کانوں پر ہاتھ رکھ لیے کہ تم لوگوں کو ٹھہرا کر اپنا گھر بار تباہ کرنا نہیں چاہتا۔\n\nوہ وقت بڑی مایوسی کا تھا۔ زمین آسمان میں کہیں ٹھکانا نظر نہ آتا تھا۔ ایک تو یہ خطرہ کہ پیچھے سے انگریزی فوج آتی ہوگی۔ اس پر بے سروسامانی کا یہ عالم۔ ہر شخص کی نگاہ پھری ہوئی تھی۔ وہ لوگ جو ہماری آنکھوں کے اشاروں پر چلتے اور ہر وقت دیکھتے رہتے تھے کہ ہم جو کچھ حکم دیں، فوراً پورا کیا جائے، وہی آج ہماری صورت سے بیزار تھے۔ شاباش ہے بستی زمیندار کو کہ اس نے زبانی بہن کہنے کو آخر تک نباہا اور ہمارا ساتھ نہ چھوڑا۔ لاچار اجاڑہ سے روانہ ہوئے۔ حیدرآباد کا رخ کیا۔ عورتیں بستی کی گاڑی میں سوار تھیں اور مرد پیدل چل رہے تھے۔ تیسرے روز ایک ندی کے کنارے پہنچے، جہاں کوئل کے نواب کی فوج پڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے سنا کہ شاہی خاندان کے آدمی ہیں تو بڑی خاطر کی اور ہاتھی پر سوار کر کے ندی سے پار اتارا۔ ابھی ہم ندی کے پار اترے ہی تھے کہ سامنے سے انگریزی فوج آگئی اور نواب کی فوج سے لڑائی ہونے لگی۔\n\nمیرے خاوند اور مرزا عمر سلطان نے چاہا کہ نواب کی فوج میں شامل ہوکر لڑیں مگر رسالدار نے کہلا بھیجا کہ آپ عورتوں کو لے کر جلدی چلے جائیے۔ ہم جیسا موقع ہوگا بھگت لیں گے۔ سامنے کھیت تھے جن میں پکی ہوئی تیار کھیتی کھڑی تھی۔ ہم لوگ اس کے اندر چھپ گئے۔ ظالموں نے خبر نہیں دیکھ لیا تھا یا نہ گہانی طور پر گولی لگی۔ جو کچھ بھی ہو، ایک گولی کھیت میں آئی، جس سے آگ بھڑک اٹھی اور تمام کھیت جلنے لگا۔ ہم لوگ وہاں سے نکل کر بھاگے۔ پر ہائے کیسی مصیبت تھی۔ ہم کو بھاگنا بھی نہ آتا تھا۔ گھاس میں الجھ الجھ کر گرتے تھے۔ سر کی چادریں وہیں رہ گئیں۔ برہنہ سر، حواس باختہ ہزار دقت سے کھیت کے باہر آئے۔ میرے اور نور محل کے پاؤں خونم خون ہو گئے۔ پیاس کے مارے زبانیں باہر نکل آئیں۔ زینب پر غشی کا عالم تھا۔ مرد ہم کو سنبھالتے تھے مگر ہمارا سنبھلنا مشکل تھا۔\n\nنواب نور محل تو کھیت سے نکلتے ہی چکرا کر گر پڑیں اور بے ہوش ہوگئیں۔ میں زینب کو چھاتی سے لگائے اپنے خاوند کا منہ تک رہی تھی اور دل میں کہتی تھی کہ الٰہی ہم کہاں جائیں۔ کہیں سہارا نظر نہیں آتا۔ قسمت ایسی پلٹی کہ شاہی سے گدائی ہوگئی، لیکن فقیروں کو چین اور اطمینان ہوتا ہے۔ یہاں وہ بھی نصیب نہیں۔\n\nفوج لڑتی ہوئی دور نکل گئی تھی۔ بستی ندی سے پانی لایا۔ ہم نے پیا اور نواب نور محل کے چہرہ پر چھڑکا۔ نور محل رونے لگیں اور بولیں، ’’ابھی خواب میں تمہارے بابا جان حضرت ظل سبحانی کو دیکھا ہے کہ طوق و زنجیر پہنے ہوئے کھڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج ہم غریبوں کے لیے یہ کانٹوں بھرا خاک کا بچھونا فرش مخمل سے بڑھ کر ہے۔ نور محل گھبرانا نہیں۔ ہمت سے کام لینا۔ تقدیر میں لکھا تھا کہ بڑھاپے میں یہ سختیاں برداشت کروں۔ ذرا میری کلثوم کو دکھا دو۔ میں جیل خانہ جانے سے پہلے اس کو دیکھوں گا۔‘‘\n\nبادشاہ کی یہ باتیں سن کر میں نے ہائے کا نعرہ مارا اور آنکھ کھل گئی۔ کلثوم کیا سچ مچ ہمارے بادشاہ کو زنجیروں میں جکڑا ہوگا۔ کیا واقعی وہ قیدیوں کی طرح جیل خانے بھیجے گئے ہوں گے۔ مرزا عمر سلطان نے اس کا جواب دیا کہ یہ خواب و خیا ل ہے۔ بادشاہ لوگ بادشاہوں کے ساتھ ایسی بدسلوکیاں نہیں کیا کرتے۔ تم گھبراؤ نہیں۔ وہ اچھے حال میں ہوں گے۔ حافظ سلطان بادشاہ کی سمدھن بولیں، یہ موئے فرنگی بادشاہوں کی قدر کیا خاک جانیں گے۔ خود اپنے بادشاہ کا سر کاٹ کر سولہ آنے کو بیچتے ہیں۔ بوا نور محل تم نے طوق اور زنجیر پہنے دیکھا ہے۔ میں کہتی ہوں کہ بنیوں سے تو اس سے زیادہ بدسلوکی دور نہیں ہے، مگر میرے شوہر میرزا ضیاء الدین نے تسکین و دلا سے کی باتیں کر کے سب کو مطمئن کر دیا۔\n\nاتنے میں بستی ناؤ میں گاڑی کو اس پار لے آیا اور ہم سوار ہوکر روانہ ہوئے۔ تھوڑی دورجاکرشام ہوگئی اور ہماری گاڑی ایک گاؤں میں جاکر ٹھہری، جس میں مسلمان راجپوتوں کی آباد تھی۔ گاؤں کے نمبردار نے ایک چھپر ہمارے واسطے خالی کرا دیا، جس میں سوکھی گھاس اور پھوس کا بچھونا تھا۔ وہ لوگ اسی گھاس پر جس کو پیال یا پرال کہتے ہیں، سوتے ہیں۔ ہم کو بھی بڑی خاطر داری سے (جوان کے خیال میں بڑی خاطر تھی) یہ نرم بچھونا دیا گیا۔ میرا تو اس کوڑے سے جی الجھنے لگا، پر کیا کرتے۔ اس وقت سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا تھا۔ ناچار اسی میں پڑ رہے۔ دن بھر کی تکلیف اور تکان کے بعد اطمینان اور بے فکری میسر آئی تھی۔ نیند آگئی۔\n\nآدھی رات کو ایکا ایکی ہم سب کی آنکھ کھل گئی۔ گھاس کے تنکےسوئیوں کی طرح بدن میں چبھ رہے تھے اور پسو جگہ جگہ کاٹ رہے تھے۔ اس وقت کی بے کلی بھی خدا کی پناہ۔ پسوؤں نے تمام بدن میں آگ لگادی تھی۔ مخملی تکیوں، ریشمی نرم نرم بچھونوں کی عادت تھی، اس لیے تکلیف ہوئی، ورنہ ہم ہی جیسے وہ گاؤں کے نرم آدمی تھے جو بے غل و غش اسی گھاس پر پڑے سوتے تھے۔ اندھیری رات میں چاروں طرف گیدڑوں کی آوازیں آ رہی تھیں اور میرا دل سہما جاتا تھا۔ قسمت کو پلٹتے دیر نہیں لگتی۔ کون کہہ سکتا تھا کہ ایک دن شہنشاہ ہند کے بال بچے یوں خاک پر بسیر ے لیتے پھریں گے۔\n\nقصہ مختصر اسی طرح منزل بمنزل تقدیر کی گردشوں کا تماشہ دیکھتے ہوئے حیدرآباد پہنچے اور سیتارام پیٹھ میں ایک مکان کرایہ کو لے کر ٹھہرے۔ جبل پور میں میرے شوہر نے ایک جڑاؤ انگوٹھی جو لوٹ کھسوٹ سے بچ گئی تھی، فروخت کی۔ اسی میں راستہ کا خرچ چلا اور چند روز یہاں بھی بسر ہوئے۔ آخر تابہ کے۔ جو کچھ تھا ختم ہوگیا۔ اب فکر ہوئی کہ پیٹ بھرنے کا کیا حیلہ کیا جائے۔ میرے شوہر اعلیٰ درجہ کے خوش نویس تھے۔ انہوں نے درود شریف خط حیران میں لکھا اور چار سنار پر ہدیہ کرنے لے گئے۔ لوگ اس خط کو دیکھتے تھے اور حیرت میں رہتے تھے۔ اول روز پانچ روپیہ کو درود شریف ہدیہ ہوا۔ اس کے بعد یہ قاعدہ ہوا کہ جو کچھ لکھتے، کمتی بڑھتی فوراً بک جاتا۔ اس طرح ہماری گذر اوقات بہت عمدگی سے ہونے لگی، لیکن موسیٰ ندی کے چڑھاؤ سے ڈر کر شہر میں داروغہ احمد کے مکان میں اٹھ آئے۔ یہ شخص حضور نظام کا خاص ملازم تھا۔ اس کے بہت سے مکان کرایہ پر چلتے تھے۔\n\nچند روز بعد خبر اڑی کہ نواب لشکر جنگ جس نے شہزادوں کو اپنے پاس پناہ دی تھی، انگریزوں کے عتاب میں آ گیا ہے اور اب کوئی شخص دہلی کے شہزادوں کو پناہ نہیں دے گا، بلکہ جس کو کسی شہزادہ کی خبر ملے گی اس کو گرفتار کرانے کی کوشش کرے گا۔ ہم سب اس خبر سے گھبرا گئے اور میں نے شوہر کو باہر نکلنے سے منع کر دیا کہ کہیں کوئی دشمن پکڑوا نہ دے۔ گھر میں بیٹھے بیٹھے فاقوں کی نوبت آگئی تو ناچار ایک نواب کے لڑکے کو قرآن پڑھانے کی نوکری میرے شوہر نے بارہ روپیہ ماہوار پر کر لی۔ چپ چاپ اس کے گھر چلے جاتے اور پڑھا کر آجاتے، مگر وہ نواب اس قدر بد مزاج تھا کہ ہمیشہ معمولی نوکروں کی طرح میرے شوہر کے ساتھ برتاؤ کرتا تھا، جس کی برداشت وہ نہ کر سکتے تھے اور گھر میں آکر رو رو کر دعا مانگتے کہ الٰہی اس ذلت کی نوکری سے تو موت لاکھ درجہ بڑھ کر ہے۔ تو نے اتنا محتاج بنا دیا کہ کل تو اس نواب جیسے سینکڑوں ہمارے غلام تھے اور آج ہم اس کے غلام ہیں۔\n\nاسی اثناء میں کسی نے میاں نظام الدین صاحب سے ہماری خبر کر دی۔ میاں کی حیدرآباد میں بڑی عزت تھی، کیوں کہ میاں حضرت کالے میاں صاحب چشتی نظام فخری کے صاحبزادے تھے جن کو بادشاہ دہلی اور نظام اپنا پیر تصور کرتے تھے۔ میاں رات کے وقت میانہ میں سوار ہو کر ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم کو دیکھ کر بہت روئے۔ ایک زمانہ تھا جب وہ قلعہ میں تشریف لاتے تھے تو مسند زرنگا پر بٹھائے جاتے تھے۔ بادشاہ بیگم اپنے ہاتھ سے لونڈیوں کی طرح مگس رانی کرتی تھیں۔ آج وہ گھر میں آئے تو ثابوت بوریہ بھی نہ تھا جس پروہ آرام سے بیٹھ جاتے۔ پچھلا زمانہ آنکھوں میں پھر نے لگا۔ خداکی شان! کیا تھا اور کیا ہو گیا۔ میاں بہت دیر تک حالات دریافت فرماتے رہے۔ اس کے بعد تشریف لے گئے۔\n\nصبح پیام آیا کہ ہم نے خرچ کا انتطام کروا دیا ہے۔ اب تم حج کا ارادہ کر لو۔ یہ سن کر جی باغ باغ ہو گیا اور مکہ معظمہ کی تیاریاں ہونے لگیں۔ القصہ حیدرآباد سے روانہ ہو کر بمبئی آئے اور یہاں اپنے سچے رفیق بستی کو خرچ دے کر اس کے گھر رخصت کر دیا۔ جہاز میں سوار ہوئے۔ جو مسافر یہ سنتا تھا کہ ہم شاہ ہند کے گھرانے کے ہیں تو ہمارے دیکھنے کا شوق ظاہر کرتا تھا۔ اس وقت ہم سب درویشانہ رنگین لباس میں تھے۔ ایک ہندو نے جس کی شاید عدن میں دکان تھی اور جو ہمارے حال سے بے خبر تھا، پوچھا کہ تم لو گ کس پنتھ کے فقیر ہو۔ اس کے اس سوال نے زخمی دل کو چھیڑ دیا۔ میں بولی ہم مظلوم شاہ گرو کے چیلے ہیں۔ وہی ہمارا باپ تھا اور وہی ہمارا گرو۔ پاپی لوگوں نے اس کا گھر بار چھین لیا اور ہم کو اس سے جدا کر کے جنگلوں میں نکال دیا۔ اب وہ ہماری صورت کو ترستا ہے اور ہم اس کے درشنوں بغیر بے چین ہیں۔ اس سے زیادہ اور کیا اپنی فقیری کی حقیقت بیان کریں۔\n\nجب اس نے ہماری اصلی کیفیت لوگوں سے سنی تو بچارا رونے لگا اور بولا بہادر شاہ ہم سب کا باپ اور گرو تھا۔ کیا کریں رام جی کی یہی مرضی تھی کہ وہ بے گناہ برباد ہو گیا۔ مکہ پہنچے تو اللہ میاں نے ٹھہرنے کا ایک عجیب ٹھکانا پیدا کردیا۔ عبد القادر نامی میرا ایک غلام تھا جس کو میں نے آزاد کر کے مکہ بھیج دیا تھا۔ یہاں آکر اس نے بڑی دولت کمائی اور زمزم کا داروغہ ہوگیا۔ اس کو جو ہمارے آنے کی خبر ملی، دوڑ ہوا آیا اور قدموں میں گر کر خوب رویا۔ اس کا مکان بہت اچھا اور آرام کا تھا۔ ہم سب وہیں ٹھہرے۔ چند روز کے بعد سلطان روم کے نائب کو جو مکہ میں رہتا ہے، ہماری خبر ہوئی تو وہ بھی ہم سے ملنے آیا۔ کسی نے اس سے کہا تھا کہ شاہ دہلی کی لڑکی آئی ہے، جو بے حجابانہ باتیں کرتی ہے۔\n\nنائب سلطان نے عبد القادر کے ذریعہ سے ملاقات کا پیام دیا، جو میں نے منظور کیا۔ دوسرے دن وہ ہمارے گھر پر آیا اور نہایت ادب قاعدہ سے بات چیت کی۔ آخر میں اس نے خواہش کی کہ میں آپ کے آنے کی اطلاع حضور سلطان کو دینی چاہتا ہوں۔ میں نے اس کا جواب بہت بے پروائی سے دیا کہ اب ہم ایک بڑے سلطان کے دربار میں آگئے ہیں۔ اب ہمیں کسی دوسرے سلطان کی پرواہ نہیں ہے۔ نائب نے ایک معقول رقم ہمارے اخراجات کے لیے مقرر کردی اور ہم نوبرس وہاں مقیم رہے۔ اس کے بعد ایک سال بغداد شریف، ایک سال نجف و کربلائے معلیٰ میں بسر ہوا۔\n\nاتنی مدت کے بعد دہلی کی یاد نے بے چین کیا اور روانہ ہوکر دہلی آگئے۔ یہاں انگریزوں کی سرکار نے بہت بڑا ترس کھا کردس روپے ماہوار پنشن مقرر کر دی۔ اس پنشن کی رقم کو سن کر اول مجھے ہنسی آئی کہ میرے باپ کا اتنا بڑا ملک لے کر دس روپے معاوضہ دیتے ہیں، مگر پھر خیال آیا کہ ملک تو خدا کا ہے کسی کے باوا کا نہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے، جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ انسان کو دم مارنے کی مجال ہیں۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%AA_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AF%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%DB%81"} {"title": "بنجارہ نامہ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے مارا\nقزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارا\nکیا بدھیا بھینسا بیل شتر کیا گو میں پلا سر بھارا\nکیا گیہوں چانول موٹھ مٹر کیا آگ دھواں اور انگارا\nسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا\nگر تو ہے لکھی بنجارا اور کھیپ بھی تیری بھاری ہے\nاے غافل تجھ سے بھی چڑھتا اک اور بڑا بیوپاری ہے\nکیا شکر مصری قند گری کیا سانبھر میٹھا کھاری ہے\nکیا داکھ منقی ٰ سونٹھ مرچ کیا کیسر لونگ سپاری ہے\nسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا\nتو بدھیا لادے بیل بھرے جو پورب پچھم جاوے گا\nیا سود بڑھا کر لاوے گا یا ٹوٹا گھاٹا پاوے گا\nقزاق اجل کا رستے میں جب بھالا مار گراوے گا\nدھن دولت ناتی پوتا کیا اک کنبہ کام نہ آوے گا\nسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا\nہر منزل میں اب ساتھ ترے یہ جتنا ڈیرا ڈانڈا ہے\nزر دام درم کا بھانڈا ہے بندوق سپر اور کھانڈا ہے\nجب نایک تن کا نکل گیا جو ملکوں ملکوں ہانڈا ہے\nپھر ہانڈا ہے نہ بھانڈا ہے نہ حلوا ہے نہ مانڈا ہے\nسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا\nجب چلتے چلتے رستے میں یہ گون تری رہ جاوے گی\nاک بدھیا تیری مٹی پر پھر گھاس نہ چرنے آوے گی\nیہ کھیپ جو تو نے لادی ہے سب حصوں میں بٹ جاوے گی\nدھی پوت جنوائی بیٹا کیا بنجارن پاس نہ آوے گی\nسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا\nیہ کھیپ بھرے جو جاتا ہے یہ کھیپ میاں مت گن اپنی\nاب کوئی گھڑی پل ساعت میں یہ کھیپ بدن کی ہے کفنی\nکیا تھال کٹوری چاندی کی کیا پیتل کی ڈبیا ڈھکنی\nکیا برتن سونے چاندی کے کیا مٹی کی ہنڈیا چینی\nسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا\nیہ دھوم دھڑکا ساتھ لیے کیوں پھرتا ہے جنگل جنگل\nاک تنکا ساتھ نہ جاوے گا موقوف ہوا جب ان اور جل\nگھر بار اٹاری چوپاری کیا خاصا نین سکھ اور ململ\nچلون پردے فرش نئے کیا لال پلنگ اور رنگ محل\nسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا\nکچھ کام نہ آوے گا تیرے یہ لعل و زمرد سیم و زر\nجب پونجی باٹ میں بکھرے گی ہر آن بنے گی جان اوپر\nنوبت نقارے بان نشان دولت حشمت فوجیں لشکر\nکیا مسند تکیہ ملک مکاں کیا چوکی کرسی تخت چھتر\nسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا\nکیوں جی پر بوجھ اٹھاتا ہے ان گونوں بھاری بھاری کے\nجب موت کا ڈیرا آن پڑا پھر دونے ہیں بیوپاری کے\nکیا ساز جڑاؤ زر زیور کیا گوٹے تھان کناری کے\nکیا گھوڑے زین سنہری کے کیا ہاتھی لال عماری کے\nسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا\nمفرور نہ ہو تلواروں پر مت پھول بھروسے ڈھالوں کے\nسب پٹا توڑ کے بھاگیں گے منہ دیکھ اجل کے بھالوں کے\nکیا ڈبے موتی ہیروں کے کیا ڈھیر خزانے مالوں کے\nکیا بغچے تاش مشجر کے کیا تختے شال دوشالوں کے\nسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا\nکیا سخت مکاں بنواتا ہے خم تیرے تن کا ہے پولا\nتو اونچے کوٹ اٹھاتا ہے واں گور گڑھے نے منہ کھولا\nکیا رینی خندق رند بڑے کیا برج کنگورا انمولا\nگڑھ کوٹ رہکلہ توپ قلعہ کیا شیشہ دارو اور گولا\nسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا\nہر آن نفع اور ٹوٹے میں کیوں مرتا پھرتا ہے بن بن\nٹک غافل دل میں سوچ ذرا ہے ساتھ لگا تیرے دشمن\nکیا لونڈی باندی دائی دوا کیا بندا چیلا نیک چلن\nکیا مندر مسجد تال کنواں کیا کھیتی باڑی پھول چمن\nسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا\nجب مرگ پھرا کر چابک کو یہ بیل بدن کا ہانکے گا\nکوئی ناج سمیٹے گا تیرا کوئی گون سئے اور ٹانکے گا\nہو ڈھیر اکیلا جنگل میں تو خاک لحد کی پھانکے گا\nاس جنگل میں پھر آہ نظیرؔ اک تنکا آن نہ جھانکے گا\nسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81"} {"title": "بند بھی آنکھوں کو ذری کیجیے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بند بھی آنکھوں کو ذری کیجیے\nچند پریشاں نظری کیجیے\n\nاک نظر ایدھر بھی ذری کیجیے\nگر نہیں اچھی، نظری کیجیے\n\nدل کے عوض دیجیے بوسہ ہی ایک\nخوب نہیں مفت بری کیجیے\n\nآئینے میں دیکھیے مکھڑا میاں\nآئینے کو رشک پری کیجیے\n\nگر نہیں قاصد تو بدل کر کے بھیس\nآپ ہی پیغمبری کیجیے\n\nقدر ہنر کی جو ہوئی دیکھ لی\nاب ہنر بے ہنری کیجیے\n\nکون ہے ان باتوں کا مانع میاں\nخوب سی بیداد گری کیجیے\n\nدل کی کچھ اس کو سے نہ آئی خبر\nماتم یار سفری کیجیے\n\nمصحفیؔ ہے وقت وداع جہاں\nمثل چراغ سحری کیجیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B0%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%8C%DB%92"} {"title": "بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گے\nخمیازہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریں گے\n\nرونا یہی ہے مجھ کو تیری جفا سے ہر دم\nیہ دل دماغ دونوں کب تک وفا کریں گے\n\nہے دین سر کا دینا گردن پہ اپنی خوباں\nجیتے ہیں تو تمہارا یہ قرض ادا کریں گے\n\nدرویش ہیں ہم آخر دو اک نگہ کی رخصت\nگوشے میں بیٹھے پیارے تم کو دعا کریں گے\n\nآخر تو روزے آئے دو چار روز ہم بھی\nترسا بچوں میں جا کر دارو پیا کریں گے\n\nکچھ تو کہے گا ہم کو خاموش دیکھ کر وہ\nاس بات کے لیے اب چپ ہی رہا کریں گے\n\nعالم مرے ہے تجھ پر آئی اگر قیامت\nتیری گلی کے ہر سو محشر ہوا کریں گے\n\nدامان دشت سوکھا ابروں کی بے تہی سے\nجنگل میں رونے کو اب ہم بھی چلا کریں گے\n\nلائی تری گلی تک آوارگی ہماری\nذلت کی اپنی اب ہم عزت کیا کریں گے\n\nاحوال میرؔ کیوں کر آخر ہو ایک شب میں\nاک عمر ہم یہ قصہ تم سے کہا کریں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D9%82%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%B3_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "بند کر روزن در چاہو کہ رخنہ نہ رہے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بند کر روزن در چاہو کہ رخنہ نہ رہے\nتاک پر دیکھے نہیں جھانکنے والے تم نے\n\nمنہ کی کھاؤ گے مری جان خدا خیر کرے\nمنہ لگا رکھے ہیں جس طرح رزالے تم نے\n\nاف کروں دل کے جلن سے تو کلیجہ پھٹ جائے\nبلبلو کیسے ہزاروں کئے نالے تم نے\n\nدامن اشک نہ چھوڑوں گا میں اے دیدۂ تر\nدل کیا میرا حسینوں کو حوالے تم نے\n\nدست و پا وادئ وحشت کی تمنا تھی تمہیں\nآبلے توڑ چکے خار نکالے تم نے\n\nکب شکست ایسے سند ہے کہ دغا کی اے خار\nہاتھ سے پھوڑ لیے پاؤں کے چھالے تم نے\n\nزلف زنجیر جنوں سمجھے بھی اے حضرت دل\nکیا پڑا پیچ کہ پاؤں اپنے نکالے تم نے\n\nکس گلستاں کی چمن بندی ہے اے مردم چشم\nنخل مژگاں سے بھرے اشکوں سے تھالے تم نے\n\nبلبلیں پھولوں سے نالاں ہیں کہ شبنم کے عوض\nقطرہ سیماب کے کانوں میں ہیں ڈالے تم نے\n\nچشم و ابرو سے کسی مست کی بے شک بہہ کے\nمے کشو طاق پہ کیوں رکھے ہیں پیالے تم نے\n\nکہیں صورت نہ بندھی نقش تمنا کی نسیمؔ\nسیکڑوں سیم بدن سانچے میں ڈھالے تم نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%AF_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%B2%D9%86_%D8%AF%D8%B1_%DA%86%D8%A7%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D8%B1%D8%AE%D9%86%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "بندگی ہم نے تو جی سے اپنی ٹھانی آپ کی", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "بندگی ہم نے تو جی سے اپنی ٹھانی آپ کی\nبندہ پرور خیر آگے قدر دانی آپ کی\n\nتھی جو وہ لاہی کی ٹوپی زعفرانی آپ کی\nسو ہمارے پاس ہے اب تک نشانی آپ کی\n\nدم بدم کہہ بیٹھنا بس جاؤ اپنی ان کے پاس\nکیوں نہیں جاتی وہ اب تک بد گمانی آپ کی\n\nکیا کہوں مارے خوشی کے حال میرا کیا ہوا\nآمد آمد جو ہوئی کل ناگہانی آپ کی\n\nہے کسی سے آج وعدہ کچھ اجی خالی نہیں\nیہ دھڑے مسی کی ہونٹوں پر جمانی آپ کی\n\nہم نے سو راتیں جگائیں تب ہوا یہ اتفاق\nسو اسی دن کو دھری تھی نیند آنی آپ کی\n\nمیرے حق میں اب جو یہ ارشاد فرمایا کہ ہے\nخوب یاں منقوش خاطر جانفشانی آپ کی\n\nلیک میں اوڑھوں بچھاؤں یا لپیٹوں کیا کروں\nروکھی پھیکی ایسی سوکھی مہربانی آپ کی\n\nکیوں نہ عشق اللہ بولوں حضرت دل آپ کو\nپیشواؤں نے بھی اپنی آن مانی آپ کی\n\nدید کر ڈالا بس ان سے عالم لاہوت ثبت\nجس نے لگدی بنک کی صافی میں چھانی آپ کی\n\nاپنی آنکھوں میں پڑی پھرتی ہے اب تک روز و شب\nعرش پر داتا وہی صورت دکھانی آپ کی\n\nاے جنوں استاد بس خم ٹھونک کر آ جائیے\nہاں خلیفہ ہم بھی دیکھیں پہلوانی آپ کی\n\nصدقہ صدقہ کیوں نہ ہو جاؤں بھلا غش کھا کے میں\nدیکھ گدرائی ہوئی اٹھتی جوانی آپ کی\n\nسبزہ آغازی سو یہ کچھ تسپہ آفت سادگی\nقہر پھر اس بات پر گردن ہلانی آپ کی\n\nاپنی آنکھوں میں تراوٹ آ گئی یک بارگی\nدیکھ کر یہ لہلہے پوشاک دھانی آپ کی\n\nکیوں نہ لڑکی سب کہیں حوا تمہیں اے شیخ جیو\nہے جھموخی کی سی صورت یہ ڈرانی آپ کی\n\nگول پگڑی نیلی لنگی مونچھ منڈی تکیہ ریش\nپھر وہ رومال اور وہ آخ تھو ناسدانی آپ کی\n\nدو گلابی لا کے ساقی نے کہا انشاؔ کو رات\nزعفرانی میرا حصہ ارغوانی آپ کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "بندہ اب ناصبور ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بندہ اب ناصبور ہوتا ہے\nعفو ہووے قصور ہوتا ہے\n\nوہ زمیں پر قدم نہیں رکھتے\nحسن کا کیا غرور ہوتا ہے\n\nدولت حسن کے لٹانے میں\nخرچ کیا اے حضور ہوتا ہے\n\nسرمہ آنکھوں میں وہ لگاتے ہیں\nدیکھیے کیا فتور ہوتا ہے\n\nہم ہیں مجبور آپ ہیں مختار\nکہئے کس سے قصور ہوتا ہے\n\nسایہ اس آفتاب طلعت کا\nدیدۂ مہ کا نور ہوتا ہے\n\nخاک حاصل ہے اس سے مردوں کو\nزر جو صرف قبور ہوتا ہے\n\nمیکشوں میں مدام اے زاہد\nنعرۂ یا غفور ہوتا ہے\n\nوصل ہو ٹالیے نہ بوسے پر\nاس سے کیا اے حضور ہوتا ہے\n\nفکر رکھتے نہیں ہیں دیوانے\nباعث غم شعور ہوتا ہے\n\nپرتو رخ سے ان کا جیب قبا\nدامن کوہ طور ہوتا ہے\n\nخوب عاشق کا پاس کرتے ہو\nہر گھڑی دور دور ہوتا ہے\n\nایک ہی نور کا زمانے میں\nسو طرح سے ظہور ہوتا ہے\n\nمجھ کو ناحق حلال کرتے ہے\nخون یہ بے قصور ہوتا ہے\n\nکشتیٔ مے چلی تو اے ساقی\nبحر غم سے عبور ہوتا ہے\n\nاے صباؔ جب بہار آتی ہے\nہم کو سودا ضرور ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%A8%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "بندہ اگر جہاں میں بجائے خدا نہیں", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بندہ اگر جہاں میں بجائے خدا نہیں\nلیکن نظر کرو تو خدا سے جدا نہیں\n\nنقطے کا فرق ہے گا خدا اور جدا میں دیکھ\nصورت میں گر چھپا ہے بمعنی چھپا نہیں\n\nہر شے کے بیچ آپ نہاں ہو عیاں ہوا\nدیکھا تو ہم نے اس سا کوئی خود نما نہیں\n\nحیران عقل کل کی ہے اس کی صفت کو دیکھ\nسب جا میں جلوہ گر ہے مگر ایک جا نہیں\n\nلذت چکھا کے دل کے تئیں ہجر و وصل کی\nحاتمؔ سے مل رہا ہے اور اب تک ملا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%81_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بندہ پرور جو نہ پچھتائیے گا", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بندہ پرور جو نہ پچھتائیے گا\nبندہ خانہ پہ کبھی آئیے گا\n\nیاد کیجے گا محبت اگلی\nغیر کے ملنے سے شرمائیے گا\n\nبوسہ دیجے گا گلے لگ لگ کر\nزیادہ اور مجھ کو نہ بکوائیے گا\n\nمیرے غماز کو اپنے در سے\nدھکے یکبار تو دلوائیے گا\n\nحسن کے صدقے مری خاطر سے\nکدر دل ذرا دھلوائیے گا\n\nستم و جور و جفا کا شیوہ\nچھوڑ دیجے گا نہ بل کھائیے گا\n\nطاقت و صبر تحمل میرا\nلے کے کچھ اور ہی فرمائیے گا\n\nزندگی ہجر میں ہونا معلوم\nجی میں آتا ہے کہ مر جائیے گا\n\nزلف میں دل کو پھنسا کر میرے\nآپ شانے سے نہ سلجھائیے گا\n\nصید مطلوب ہو تو بندہ کا سر\nاپنے فتراک سے لٹکائیے گا\n\nعرض افریدیؔ کی کیجے منظور\nآپ تشریف ادھر لائیے گا\n\nگر نہ مانو گے مری بات سنو\nپھر نہ میرے تئیں سمجھائیے گا\n\nیاں پہ موقوف ہے کیا افریدیؔ\nمنہ نہ پھر حشر کو دکھلائیے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%81_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DA%86%DA%BE%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "بندہ ہوں تو اک خدا بناؤں اپنا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بندہ ہوں تو اک خدا بناؤں اپنا\nخالق ہوں تو اک جہاں دکھاؤں اپنا\nہے بندگی وہم اور خدائی پندار\nمیں وہ ہوں کہ خود پتا نہ پاؤں اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DA%A9_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "بندۂ عشق ہوں جز یار مجھے کام نہیں", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "بندۂ عشق ہوں جز یار مجھے کام نہیں\nخواہش ننگ نہیں کچھ ہوس نام نہیں\n\nمذہب عشق کا یہ ڈھنگ نرالا دیکھا\nکچھ وہاں تذکرۂ کفر اور اسلام نہیں\n\nعشق کو جانتا ہوں دین و ایمان اپنا\nغیر معشوق پرستی مجھے کچھ کام نہیں\n\nکعبۂ جاں ہے مرا کوچۂ جاناں یارو\nسجدۂ دیر و حرم سے مجھے کچھ کام نہیں\n\nصید مرغ دل عاشق لیے اے دلبر\nخال ہے دانہ اور یہ زلف کم از دام نہیں\n\nدرد دل نے ہمیں کیا کیا ہے چکھائی لذت\nاس لیے دل کو مرے خواہش آرام نہیں\n\nمذہب عشق میں آ کر کے ہمیں اے آثمؔ\nشاہ خادم کے سوا اور سے کچھ کام نہیں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%82_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%B2_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بندے ہیں تیری چھب کے مہ سے جمال والے", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بندے ہیں تیری چھب کے مہ سے جمال والے\nسب گل سے گال والے سنبل سے بال والے\n\nسیدھی ادا بھی بھولے گئے داغ ہو چھبیلے\nاے ٹیڑھی چال والے ٹھوڑی کے خال والے\n\nمت ہو تو نیلا پیلا بخت سیہ کر اجلے\nاے الفی شال والے بھگوے رومال والے\n\nکر سرمہ خاکساری دل کے نین سے دیکھا\nچل گئے وہ حال والے رہ گئے ہیں قال والے\n\nدھوپوں میں پی جو نکلے تب آب پاشی کرنے\nدنگ و دوال والے ہوویں پکھال والے\n\nعزلتؔ کی آہوں آگے تیری نگاہوں آگے\nکیا شعلے جھال والے کیا نیزے بھال والے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%86%DA%BE%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "بنک کی جلوہ‌ گری پر غش ہوں", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "بنک کی جلوہ‌ گری پر غش ہوں\nیعنی اس سبز پری پر غش ہوں\n\nگرچہ دنیا کے ہنر ہیں لیکن\nاپنے میں بے ہنری پر غش ہوں\n\nبرق کی طرح نہ تڑپوں کیوں کر\nتیری پوشاک زری پر غش ہوں\n\nاس کی پشواز کی سے لائی باس\nاس کی میں گود بھری پر غش ہوں\n\nغش نسیم سحری ہے مجھ پر\nمیں نسیم سحری پر غش ہوں\n\nاسے کچھ ہو نہ سکا انشاؔ میں\nآہ کی بے اثری پر غش ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%DA%A9_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81%E2%80%8C_%DA%AF%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%D8%BA%D8%B4_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "بنی تھی دل پہ کچھ ایسی کی اضطراب نہ تھا", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بنی تھی دل پہ کچھ ایسی کی اضطراب نہ تھا\nغشی کو آپ نے سمجھا تھا خواب خواب نہ تھا\n\nیہ حسن ظن ہے کہ بیخودؔ کبھی خراب نہ تھا\nکسر تھی اتنی کہ آلودۂ شراب نہ تھا\n\nہماری آنکھ سے تم دیکھتے تو کھل جاتا\nکہ آئینے میں بھی اس شکل کا جواب نہ تھا\n\nہزاروں اس دل بے آرزو نے ڈھائے ستم\nبھلے کو اور مرے ساتھ کچھ عذاب نہ تھا\n\nمجھے یہ رشک کہ دشمن کا ذکر کیوں آئے\nانہیں یہ ناز مری بات کا جواب نہ تھا\n\nیہ بت سمجھتے تھے بیخودؔ کو بار خاطر کیوں\nکسی کے دل میں تو وہ خانماں خراب نہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد\nسو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد\n\nجدائی کے حالات میں کیا کہوں\nقیامت تھی ایک ایک ساعت کے بعد\n\nموا کوہ کن بے ستوں کھود کر\nیہ راحت ہوئی ایسی محنت کے بعد\n\nلگا آگ پانی کو دوڑے ہے تو\nیہ گرمی تری اس شرارت کے بعد\n\nکہے کو ہمارے کب ان نے سنا\nکوئی بات مانی سو منت کے بعد\n\nسخن کی نہ تکلیف ہم سے کرو\nلہو ٹپکے ہے اب شکایت کے بعد\n\nنظر میرؔ نے کیسی حسرت سے کی\nبہت روئے ہم اس کی رخصت کے بعد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AF%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "بنے ہو خاک سے تو خاکساری ہو طبیعت میں", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بنے ہو خاک سے تو خاکساری ہو طبیعت میں\nطبیعت ایسی بنتی ہے تو بنتی ہے محبت میں\n\nبہائے جاؤ آنسو عمر بھر اس کی محبت میں\nکہ ایسے لوگ موتی کے محل پاتے ہیں جنت میں\n\nکہا حاضر میں کچھ حجت نہیں پھر مدعا پوچھا\nستم گر نے پلٹ دی بات اب حاضر ہے حجت میں\n\nکسی سے اپنے حق میں کچھ سنا بھی ہے تو جانے دو\nبرا تو بادشاہ کو بھی کہا کرتے ہیں غیبت میں\n\nمحبت کی ذرا سی بات پر اتنے خفا کیوں ہو\nہوا کرتی ہیں آخر سیکڑوں باتیں محبت میں\n\nنہیں لا سکتا ہر اک کوہ کن فرہاد کی قسمت\nخدا بخشے بڑا انسان گزرا چھوٹی امت میں\n\nتری ہر ایک تصویر اک ادائے خاص رکھتی ہے\nکرے کیا فرق اب کوئی ضرورت اور زینت میں\n\nیہ کیا سائل کے منہ پر توڑ کر ٹکڑا سا رکھ دینا\nارے بندے خدا کو منہ دکھانا ہے قیامت میں\n\nجو بدلے دوست کا بھیس اس کو دشمن کس طرح جانوں\nگیا حضرت کلیم اللہ کا نقال جنت میں\n\nمحبت بے اطاعت ایک دھوکہ ہے محبت کا\nمحبت کا جو دعویٰ ہے تو کوشش کر اطاعت میں\n\nمحبت اور محنت کوہ کن نے یہ بھی کی وہ بھی\nالٹ ہے ایک نقطے کی محبت اور محنت میں\n\nصفیؔ دنیا میں جینے کا مزہ کچھ بھی نہیں پایا\nہماری عمر کچھ غفلت میں گزری کچھ ندامت میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بو کہ ہو سوئے باغ نکلے ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بو کہ ہو سوئے باغ نکلے ہے\nباؤ سے اک دماغ نکلے ہے\n\nہے جو اندھیر شہر میں خورشید\nدن کو لے کر چراغ نکلے ہے\n\nچوب کاری ہی سے رہے گا شیخ\nاب تو لے کر چماغ نکلے ہے\n\nدے ہے جنبش جو واں کی خاک کو باؤ\nجگر داغ داغ نکلے ہے\n\nہر سحر حادثہ مری خاطر\nبھر کے خوں کا ایاغ نکلے ہے\n\nاس گلی کی زمین تفتہ سے\nدل جلوں کا سراغ نکلے ہے\n\nشاید اس زلف سے لگی ہے میرؔ\nباؤ میں اک دماغ نکلے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%88_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "بوئیے مزرع دل میں جو عنایات کے بیج", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بوئیے مزرع دل میں جو عنایات کے بیج\nتو نہ ہوں سبز کبھی اپنی شکایات کے بیج\n\nہم نے اس مزرع ہستی میں کیے ہیں جو عمل\nایک دن کھینچیں گے سر ان کی مکافات کے بیج\n\nآہ دہقان فلک کی کہوں کیا بد تخمی\nخاک آدم میں یہ نت بووے ہے آفات کے بیج\n\nباغباں جب تئیں ہاتھ آوے ترے بذر البنج\nمیری تربت پہ نہ بو اور نباتات کے بیج\n\nولد القحبہ سے پوچھو نہ، تری ذات ہے کیا\nبیج میں اس کے ہیں مخلوط کئی ذات کے بیج\n\nداغ سینے کے مرے طرفہ دکھاتے ہیں بہار\nہیں یہ بوئے ہوئے کس نخل طلسمات کے بیج\n\nبستر شیخ پہ جو کونچ کی پھلیاں نکلیں\nتھے چھپائے ہوئے شاید اسی بد ذات کے بیج\n\nان کو کیا ہووے ہے جز رزق پریشاں حاصل\nجا بجا بوتے پھریں ہیں جو ملاقات کے بیج\n\nمصحفیؔ اس سے بھی بہتر غزل اک اور سنا\nوادیٔ فکر میں بو کر تو خیالات کے بیج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%88%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D9%85%D8%B2%D8%B1%D8%B9_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%B9%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%AC"} {"title": "بوئے مے پا کے میں چلتا ہوا مے خانے کو", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بوئے مے پا کے میں چلتا ہوا مے خانے کو\nاک پری تھی کہ لگا لے گئی دیوانے کو\n\nمیرے ساقی سا کہاں کوئی پلانے والا\nآنکھیں کہتی ہیں لٹا دیجئے مے خانے کو\n\nسختیٔ عشق اٹھانے کا زمانہ نہ رہا\nاب تو ہے پھول بھی پتھر ترے دیوانے کو\n\nہاتھ میں آتے ہی کیا پاؤں نکالے ساقی\nآفریں ہے ترے چلتے ہوے پیمانے کو\n\nاس میں اے اہل وطن رائے تمہاری کیا ہے\nکہتی ہے وحشت دل گھر سے نکل جانے کو\n\nچل گیا کام یہاں جام چلے یا نہ چلے\nبادہ کش لوٹ گئے دیکھ کے مے خانے کو\n\nدل سلگتے رہیں پروا نہیں ہوتی کچھ انہیں\nشمع اچھی کہ جلا دیتی ہے پروانے کو\n\nشامل دور ہوں اغیار ستم ہے ساقی\nاپنے پیمانے سے بڑھنے دے نہ پیمانے کو\n\nحسن خدمت کا صلہ دیکھیے یوں پاتے ہیں\nرخ ملا آئنے کو زلف ملی شانے کو\n\nچال ہے مست نظر مست ادا میں مستی\nجیسے آتے ہیں وہ ٹوٹے ہوئے مے خانے کو\n\nابر میں برق کا رہ رہ کے چمکنا کیسا\nیہ بھی اک اس کی ہے شوخی مرے تڑپانے کو\n\nاس میں اے پردہ نشیں پردہ دری کس کی ہے\nدیکھنے آتی ہے خلقت ترے دیوانے کو\n\nخوب انصاف ہے اے بادہ کشو کیا کہنا\nتم کو تسکین ہو گردش ہو جو پیمانے کو\n\nہے بڑی چیز لگی دل کی خدا جس کو دے\nآگ میں کود پڑا دیکھیے پروانے کو\n\nہو کے پابند جنوں سب سے رہائی پائی\nبیڑیاں لپٹی تھیں لاکھوں ترے دیوانے کو\n\nکھنچ چکی تیغ تو اب ہے یہ رکاوٹ کیسی\nآپ تڑپانے کو آئے ہیں کہ ترسانے کو\n\nکوئی ایسی بھی ہے صورت ترے صدقے ساقی\nرکھ لوں میں دل میں اٹھا کر ترے مے خانے کو\n\nبت پندار کو توڑو تو ہو دل پاک جلیلؔ\nتم خدا خانہ بناؤ اسی بت خانے کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%85%DB%92_%D9%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88"} {"title": "بوئے گل سونگھ کر بگڑتے ہیں", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بوئے گل سونگھ کر بگڑتے ہیں\nیہ پری رو ہوا سے لڑتے ہیں\n\nکیوں جوانی کے پیچھے پڑتے ہیں\nبھاگتے کو نہیں پکڑتے ہیں\n\nایک دن وہ زمین دیکھیں گے\nاے فلک آج کو اکڑتے ہیں\n\nمل رہے ہیں وہ اپنے گھر مہندی\nہم یہاں ایڑیاں رگڑتے ہیں\n\nنامہ بر ناامید آتا ہے\nہائے کیا سست پاؤں پڑتے ہیں\n\nجس کے ہیں اس کے ہیں ہم اے جوہر\nیار بن کر کہیں بگڑتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D8%B3%D9%88%D9%86%DA%AF%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DA%AF%DA%91%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بوسہ دیتے ہو اگر تم مجھ کو دو دو سب کے دو", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بوسہ دیتے ہو اگر تم مجھ کو دو دو سب کے دو\nجیبھ کے دو سر کے دو رخسار کے دو سب کے دو\n\nلے کے دو رخسار کے بوسہ جو مانگے سب کے دو\nاور تو دے دیں گے بولے پر یہ ہیں بے ڈھب کے دو\n\nمانگتے تجھ سے نہیں اے گل بدن کچھ اور ہم\nہے اگر توفیق تم بوسہ دو نام رب کے دو\n\nروزوں میں گر پاس اپنے آئے وہ رشک قمر\nبوسہ ہم افطار کو مانگیں لب اطیب کے دو\n\nمثل‌ یوسف ہو رہا ہوں میں اسیر‌ چاہ غم\nبوسہ اے رشک زلیخا دو مجھے عبعب کے دو\n\nمیں نہیں ہوں مانگتا دس بیس تم سے یا پچاس\nصرف دو بوسہ لب شیریں کے ہنس کر اب کے دو\n\nہے خوشی یہ آپ کی اے ماہ رو دو یا نہ دو\nکون کہتا ہے کہ تم بوسے کسی سے دب کے دو\n\nدو دو کر کے بوسۂ موعود جب میں نے گنے\nہنس کے پوچھا ہیں اکٹھے یہ کیے کب کب کے دو\n\nتب کہا میں نے کہ سن لو شعر میں کیا شرم ہے\nصبح کے دو شام کے دو دن کے دو اور شب کے دو\n\nدونوں رخساروں کے بوسہ لیں گے ہم اے سیم تن\nدو ہمیں اس ڈھب کے دو تم اور دو اس ڈھب کے دو\n\nمشرقیؔ معشوق دو پچھم کے محفل میں ہو گر\nدو دکن کے چاہئیں اتر کے دو پورب کے دو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%85_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%88_%D8%AF%D9%88_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%88"} {"title": "بوسہ زلف دوتا کا دو", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بوسہ زلف دوتا کا دو\nروحوں بلائیں صدقہ دو\n\nرد و بدل کیا بوسہ دو\nلیتا ایک نہ دیتا دو\n\nزلف سیہ کے مجرم ہیں\nکالے پانی بھجوا دو\n\nیہ جائیں گے مثل حباب\nچھوٹنے دل کا چھالا دو\n\nمشرک کیا ہو وحدت میں\nایک کو دیکھے جھٹکا دو\n\nگھر میں بلا کے قتل کرو\nدروازے میں تیغا دو\n\nہم پہ کھلا ہے راز کمر\nاور کسی کو دھوکا دو\n\nچاہئے ہم کو غسل و کفن\nکپڑے بدلیں نہلا دو\n\nگل کھا کھا کر دی ہے جان\nقبر میں میری چھلا دو\n\nتربت واعظ تک چلو شادؔ\nجھوٹے کو حد تک پہنچا دو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%81_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%AF%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%88"} {"title": "بوسہ لیا جو چشم کا بیمار ہو گئے", "poet_page": "مصنف:حیرت الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بوسہ لیا جو چشم کا بیمار ہو گئے\nزلفیں چھوئیں بلا میں گرفتار ہو گئے\n\nسکتہ ہے بیٹھے سامنے تکتے ہیں ان کی شکل\nکیا ہم بھی عکس آئینۂ یار ہو گئے\n\nبیٹھے تمہارے در پہ تو جنبش تلک نہ کی\nایسے جمے کہ سایۂ دیوار ہو گئے\n\nہم کو تو ان کے خنجر ابرو کے عشق میں\nدن زندگی کے کاٹنے دشوار ہو گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%81_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D8%B4%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "بول! اری او دھرتی بول!", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بول! اری او دھرتی بول!\nراج سنگھاسن ڈانواڈول\nبادل بجلی رین اندھیاری\nدکھ کی ماری پرجا ساری\nبوڑھے بچے سب دکھیا ہیں\nدکھیا نر ہیں دکھیا ناری\nبستی بستی لوٹ مچی ہے\nسب بنیے ہیں سب بیوپاری\nبول! اری او دھرتی بول!\nراج سنگھاسن ڈانواڈول\nکلجگ میں جگ کے رکھوالے\nچاندی والے سونے والے\nدیسی ہوں یا پردیسی ہوں\nنیلے پیلے گورے کالے\nمکھی بھنگے بھن بھن کرتے\nڈھونڈے ہیں مکڑی کے جالے\nبول! اری او دھرتی بول!\nراج سنگھاسن ڈانواڈول\nکیا افرنگی کیا تاتاری\nآنکھ بچی اور برچھی ماری\nکب تک جنتا کی بے چینی\nکب تک جنتا کی بے زاری\nکب تک سرمایہ کے دھندے\nکب تک یہ سرمایہ داری\nبول! اری او دھرتی بول!\nراج سنگھاسن ڈانواڈول\nنامی اور مشہور نہیں ہم\nلیکن کیا مزدور نہیں ہم\nدھوکا اور مزدوروں کو دیں\nایسے تو مجبور نہیں ہم\nمنزل اپنے پاؤں کے نیچے\nمنزل سے اب دور نہیں ہم\nبول! اری او دھرتی بول!\nراج سنگھاسن ڈانواڈول\nبول کہ تیری خدمت کی ہے\nبول کہ تیرا کام کیا ہے\nبول کہ تیرے پھل کھائے ہیں\nبول کہ تیرا دودھ پیا ہے\nبول کہ ہم نے حشر اٹھایا\nبول کہ ہم سے حشر اٹھا ہے\nبول کہ ہم سے جاگی دنیا\nبول کہ ہم سے جاگی دھرتی\nبول! اری او دھرتی بول!\nراج سنگھاسن ڈانواڈول", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%88%D9%84%21_%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D9%88_%D8%AF%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%D8%A8%D9%88%D9%84%21"} {"title": "بولئے کرتا ہوں منت آپ کی", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بولئے کرتا ہوں منت آپ کی\nکیوں مکدر ہے طبیعت آپ کی\n\nپھونکے دیتی ہے کلیجا سینے میں\nشعلہ بن بن کر محبت آپ کی\n\nاتنی بے پروائیاں اچھی نہیں\nلوگ کرتے ہیں شکایت آپ کی\n\nچاندنی منہ پر نہ پڑنے دیجیے\nمیلی ہو جائے گی رنگت آپ کی\n\nایک دل رکھتے تھے وہ بھی کھو چکے\nہو گئے مفلس بدولت آپ کی\n\nداغ ہم کو خال صاحب کو ملا\nیہ نصیب اپنا وہ قسمت آپ کی\n\nمر کے پھر زندہ ہوئے سمجھیں گے ہم\nجھیل جائیں گے جو فرقت آپ کی\n\nمنہ لگا کر پھر نہ ہرگز پوچھنا\nواہ کیا اچھی ہے عادت آپ کی\n\nحوریں جنت سے تو پریاں قاف سے\nدیکھنے آتی ہیں صورت آپ کی\n\nمیری صورت سے اگر نفرت نہیں\nکیوں بدل جاتی ہے رنگت آپ کی\n\nایک بوسے پر ہزاروں حجتیں\nمانیے کیوں کر سخاوت آپ کی\n\nسن کے مطلب صاف آنکھیں پھیر لیں\nدیکھ لی ہم نے مروت آپ کی\n\nپھول کی جا پنکھڑی اے باغ حسن\nداغ دل پر ہے عنایت آپ کی\n\nہر کسی کے سامنے روتے ہو بحرؔ\nبہہ گئی آنکھوں سے غیرت آپ کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D9%86%D8%AA_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "بولنا بادہ کشوں سے نہ ذرا اے واعظ", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بولنا بادہ کشوں سے نہ ذرا اے واعظ\nکان پکڑوں گا جو قلقل کو سنا اے واعظ\n\nدختر رز کو جو کہتا ہے برا اے واعظ\nاس عفیفہ نے ترا کیا ہے کیا اے واعظ\n\nجام کوثر کی جو خواہش ہے دم بادہ کشی\nبزم رندان قدح نوش میں آ اے واعظ\n\nجوشش شیشہ و ساغر شکنی کا ہے بیاں\nمنہ توڑے کوئی بدمست ترا اے واعظ\n\nجام مے دور میں لا چرخ کہن کی صورت\nدیکھتا ہے جو تجھے رنگ نیا اے واعظ\n\nٹوٹ جائے نہ کہیں تیرے کڑے ہاتھوں سے\nدل مرا شیشۂ نازک ہے سنا اے واعظ\n\nلوٹ ہو تو جو نہ مستوں کی طرح کیا معنی\nمنہ لگا بنت عنب کو تو ذرا اے واعظ\n\nپارسائی تو ذرا زاہد مکار کی دیکھ\nرہن مے خرقہ سالوس ہوا اے واعظ\n\nچڑھ کے منبر پہ نہ مکار دروغ اتنا بول\nمنہ میں بو آتی ہے جھوٹے کے سنا اے واعظ\n\nہر نفس شادؔ یہی قول ہے متوالوں کا\nہم نے سونپا تجھے شیطان کو جا اے واعظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%88%D9%84%D9%86%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%B4%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "بوند اشکوں سے اگر لطف روانی مانگے", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بوند اشکوں سے اگر لطف روانی مانگے\nبلبلہ آنکھوں سے خونابہ فشانی مانگے\n\nبحر الفت میں چلا ہے تو پہلے مستول\nتیر سے آہ کے کشتئ دخانی مانگے\n\nنکتۂ وصل دم عرض قلم پر رکھے\nبوسہ چاہے تو لب شوق زبانی مانگے\n\nتا قیامت دل بیدار سنائے ہر روز\nخواب راحت ترا گر روز کہانی مانگے\n\nدل تو دل افعئ گیسو وہ بلا ہے کافر\nاس کا کاٹا کوئی افعی بھی نہ پانی مانگے\n\nترے قدموں کی بدولت ہے نشاں تربت پر\nاس سے بڑھ کر کوئی کیا مر کے نشانی مانگے\n\nاس جواں کے غم ہجراں نے کیا ہے بوڑھا\nخضر بھی دیکھ کے جس بت کو جوانی مانگے\n\nچاہ میں اس مہ نخشب کے شب و روز ہیں غرق\nقاز جس کا مہ کنعاں سے شبانی مانگے\n\nخارج امکاں سے ہے شہبازؔ شہیدوں کا شمار\nکوئی کس کس کے لیے مرثیہ خوانی مانگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%88%D9%86%D8%AF_%D8%A7%D8%B4%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%92"} {"title": "بُڈھّے بلوچ کی نِصیحت بیٹے کو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا\nاس دشت سے بہتر ہے نہ دِلّی نہ بخارا\nجس سمت میں چاہے صفَتِ سیلِ رواں چل\nوادی یہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہمارا\nغیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں\nپہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا\nحاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہُنَر کر\nکہتے ہیں کہ شیشے کو بنا سکتے ہیں خارا\nافراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر\nہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا\nمحروم رہا دولتِ دریا سے وہ غوّاص\nکرتا نہیں جو صُحبتِ ساحل سے کنارا\nدِیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّت\nہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا\nدنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش\nتہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا\nاللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا\nاِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا\nتقدیرِ اُمَم کیا ہے، کوئی کہہ نہیں سکتا\nمومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارا\nاخلاصِ عمل مانگ نیا گانِ کُہن سے\n’شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را!‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%8F%DA%88%DA%BE%D9%91%DB%92_%D8%A8%D9%84%D9%88%DA%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D9%90%D8%B5%DB%8C%D8%AD%D8%AA_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DB%92_%DA%A9%D9%88"} {"title": "بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک\nبنے رہو گے تم اس ملک میں میاں کب تک\n\nحرم سرا کی حفاظت کو تیغ ہی نہ رہی\nتو کام دیں گی یہ چلمن کی تیلیاں کب تک\n\nمیاں سے بی بی ہیں پردہ ہے ان کو فرض مگر\nمیاں کا علم ہی اٹھا تو پھر میاں کب تک\n\nطبیعتوں کا نمو ہے ہوائے مغرب میں\nیہ غیرتیں یہ حرارت یہ گرمیاں کب تک\n\nعوام باندھ لیں دوہر تو تھرڈ وانٹر میں\nسکنڈ و فرسٹ کی ہوں بند کھڑکیاں کب تک\n\nجو منہ دکھائی کی رسموں پہ ہے مصر ابلیس\nچھپیں گی حضرت حوا کی بیٹیاں کب تک\n\nجناب حضرت اکبرؔ ہیں حامئ پردہ\nمگر وہ کب تک اور ان کی رباعیاں کب تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%8C_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "بچ کر کہاں میں ان کی نظر سے نکل گیا", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بچ کر کہاں میں ان کی نظر سے نکل گیا\nاک تیر تھا کہ صاف جگر سے نکل گیا\n\nخود رفتگی ہی چشم حقیقت جو وا ہوئی\nدروازہ کھل گیا تو میں گھر سے نکل گیا\n\nمحو جمال رہ گئے ہم کچھ خبر نہیں\nآیا کدھر سے یار کدھر سے نکل گیا\n\nکیسا ہوا ہوا مرے رونے کو دیکھ کر\nدامان ابر دیدۂ تر سے نکل گیا\n\nرونے سے ہجر یار میں تسکین ہو گئی\nدل کا بخار دیدۂ تر سے نکل گیا\n\nآخر کیا اخیر شب وصل نے مجھے\nدم پہلی بانگ‌ مرغ سحر سے نکل گیا\n\nآہوں نے مجھ کو آتش غم سے نجات دی\nمانند دود نار سقر سے نکل گیا\n\nدکھلایا ناتوانی نے گھر یار کا مجھے\nمثل نگاہ روزن در سے نکل گیا\n\nساقی کی چشم مست نے ایسے دھوئیں اڑائے\nشعلہ سا ایک آتش تر سے نکل گیا\n\nجوبن سے ڈھل چلی ہیں کہاں اب لٹک کی چال\nوہ پیچ ان کے موئے کمر سے نکل گیا\n\nاس گل کے داغ عشق نے ایسا کیا گداز\nگھل گھل کے مغز شمع کے سر سے نکل گیا\n\nمشکل ہے اے صباؔ پہ کرو جبر اختیار\nہے خیر دل جو عشق کے شر سے نکل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%86_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بچا گر ناز سے تو اس کو پھر انداز سے مارا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بچا گر ناز سے تو اس کو پھر انداز سے مارا\nکوئی انداز سے مارا تو کوئی ناز سے مارا\n\nکسی کو گرمیٔ تقریر سے اپنی لگا رکھا\nکسی کو منہ چھپا کر نرمیٔ آواز سے مارا\n\nہمارا مرغ دل چھوڑا نہ آخر اس شکاری نے\nگہے شاہین پھینکے اس پہ گاہے باز سے مارا\n\nغزل پڑھتے ہی میری یہ مغنی کی ہوئی حالت\nکہ اس نے ساز مارا سر سے اور سر ساز سے مارا\n\nنکالی رسم تیغ و طشت دلی میں جزاک اللہ\nکہ مارا تو ہمیں تو نے پر اک اعزاز سے مارا\n\nنہ اڑتا مرغ دل تو چنگل شاہیں میں کیوں پھنستا\nگیا یہ خستہ اپنی خوبیٔ پرواز سے مارا\n\nجہاں تک ساز داری ہے لکھی دشمن کے طالع میں\nہمیں بد نام کر کے طالع نا ساز سے مارا\n\nہزاروں رنگ اس کے خون نے یاروں کو دکھلائے\nجب اس نے مصحفیؔ کو اپنی تیغ ناز سے مارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%86%D8%A7_%DA%AF%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "بچتے ہیں اس قدر جو اُدھر کی ہوا سے ہم", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بچتے ہیں اس قدر جو اُدھر کی ہوا سے ہم\nواقف ہیں شیوۂ دلِ شورش ادا سے ہم\n\nافشائے رازِ عشق میں ضرب المثل ہے وہ\nکیوں کر غبار دل میں نہ رکھیں صبا سے ہم\n\nچلتے ہیں مے کدے کو کہاں یہ عزیز واں\nرخصت تو ہو لیں کبر و نفاق و ریا سے ہم\n\nاے جوشِ رشکِ قربِ عدو، اب تو مت اٹھا\nبیٹھے ہیں دیکھ بزم میں کس التجا سے ہم\n\nہے جامہ پارہ پارہ، دل و سینہ چاک چاک\nدیوانہ ہو گئے گلِ جیبِ قبا سے ہم\n\nکیا جانتے تھے صبح وہ محشر قد آئے گا\nشامِ شبِ فراق نہ مرتے بلا سے ہم\n\nہر بات پر نگاہ ہماری ہے اصل پر\nلیتے ہیں مشکِ زخم کو زلفِ دوتا سے ہم\n\nبے گانہ جب سے یار ہوا ہے، رقیب ہے\nاُمید قطع کر چکے ہر آشنا سے ہم\n\nبلبل یہ کہہ رہی ہے سرِ شاخسار پر\nبدمست ہو رہے ہیں چمن کی ہوا سے ہم\n\nکم التفات ہم سے سمجھتے ہیں اہلِ بزم\nشرمندہ ہو گئے تری شرم و حیا سے ہم\n\nہاں شیفتہ پھر اس میں نصیحت ہی کیوں نہ ہو\nسنتے ہیں حرفِ تلخ کو سمعِ رضا سے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%8F%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "بچنی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سرکنڈوں کے پیچھے", "year": "1955", "text_ur": "بھنگنوں کی باتیں ہورہی تھیں۔ خاص طور پر ان کی جو بٹوارے سے پہلے امرتسر میں رہتی تھیں۔ مجید کا یہ ایمان تھا کہ امرتسر کی بھنگنوں جیسی کراری چھوکریاں اور کہیں نہیں پائی جاتیں۔ خدا معلوم تقسیم کے بعد وہ کہاں تتر بتر ہوگئی تھیں۔\n\nرشید ان کے مقابلے میں گجریوں کی تعریف کرتاتھا۔ اس نے مجید سے کہا، ’’تم ٹھیک کہتے ہوکہ امرتسری بھنگنیں اپنی جوانی کے زمانے میں بڑی پرکشش ہوتی ہیں، لیکن ان کی یہ جوانی کھترانیوں کی طرح زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتی۔۔۔ بس ایک دن جوان ہوتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ادھیڑ ہو جاتی ہیں۔۔۔ ان کی جوانی معلوم نہیں کون سا چور چرا کے لے جاتا ہے۔ خدا کی قسم۔۔۔ ہمارے ہاں ایک بھنگن کوٹھا کمانے آتی تھی۔۔۔ اتنی کڑیل جوان تھی کہ میں اپنی کمزورجوانی کو محسوس کرکے اس سے کبھی بات نہ کرسکا۔۔۔ عیسائی مشنریوں نے اسے اپنے مذہب میں داخل کرلیا تھا۔ نام اس کا فاطمہ تھا۔ پہلے گھر والے اسے پھاتو کہتے تھے۔۔۔ مگر جب وہ عیسائی ہوئی تو اسے مس پھاتو کے نام سے پکارا جانے لگا ۔۔۔ صبح کو وہ بریک فاسٹ کرتی تھی، دوپہر کو لنچ اور شام کو ڈنر۔۔۔ لیکن چند مہینوں کے بعد میں نے اسے دیکھا کہ اس کی ساری کڑیل جوانی جیسے پگھل گئی ہے۔۔۔ اس کی چھاتیاں جو بڑی تندخو تھیں اور اس طرح اوپر اٹھی رہتی تھیں جیسے ابھی اپنا سارا جوان بدن آپ پر داغ دیں گی، اس قدر نیچے ڈھلک گئی تھیں کہ ان کا نام و نشان بھی نہیں ملتا تھا۔\n\nلیکن اس کے مقابلے میں ہمارے گھر میں وہ گجری جو اپلے لے کر آتی تھی، تیر کی طرح سیدھی تھی۔ اس کی عمر بھی اتنی ہوگی جتنی اس بھنگن کی تھی۔۔۔ مگر وہ تین برس کے بعد بھی ویسی ہی جوان تھی۔۔۔ سروقد۔۔۔ اپلوں کا ٹوکرا اس کے سر پرہوتا تھا۔۔۔ ایک پہاڑ سا بنا ہوا۔ مگر مجال ہے کہ اس کی گردن میں ہلکی سی جنبش آجائے یا اس کی کمر میں خفیف سا خم آجائے۔۔۔ تین برس وہ ہمارے یہاں آتی رہی۔ اس کے بعد اس کی شادی ہوگئی۔۔۔ اس کے یکے بعد دیگرے تین لڑکے پیدا ہوئے۔۔۔ اور مجید! میں خدا کی قسم کھا کرکہتا ہوں کہ اس کی کمر ویسی ہی مضبوط تھی۔۔۔ تم میری مان لو کہ بھنگنیں، گوجریوں کا مقابلہ کسی صورت بھی نہیں کرسکتیں۔‘‘\nمجید تلملا رہا تھا۔ اس نے پان کی گلوری پندنیا میں سے نکال کر اپنے کلّے میں دبائی۔ چھوٹی ڈبیا سے ماچس کی تیلی کی مدد سے تھوڑا سا قوام نکالا اور منہ میں ڈال کر بڑے تحمل سے کہا، ’’رشید بھائی۔۔۔ تم ٹھیک کہتے ہو۔۔۔ لیکن جس بھنگن کا تصور میرے دماغ میں ہے، اور جس کی دراصل میں بات کرنا چاہتا تھا۔۔۔ ایک فتنہ تھا۔۔۔ اب تم ایسا کرو کہ میری ساری داستان سن لو تاکہ تمہیں اس فتنہ و قیامت کے متعلق کچھ معلوم ہوسکے۔\n\nجوبن ڈھلنے کی تم جو بات کرتے ہو، اس کو میں اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ گجریوں کاقد لمبا ہوتا ہے۔ قدرتی طور پر انھیں جلدی ڈھلنا چاہیے، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ وہ ننگے پاؤں رہتی ہیں اور اپنے سر پر بقول تمہارے پہاڑ سا اپلوں کا ٹوکرا اٹھائے اٹھائے پھرتی ہیں۔۔۔ لیکن لعنت بھیجو فی الحال گجریوں پر، کیوں کہ مچھے بچنی کی بات کرنا ہے جو ہمارے محلے کی بڑی کراری بھنگن تھی۔۔۔ اس کا قد تو انگشتانہ بھرکا تھا مگر زبان اسکندری گز تھی۔ شادی شدہ تھی، مگر خاوند سے ہر روز لڑتی جھگڑتی رہتی تھی۔ ہمارے کمپاؤنڈ میں یہ دونوں میاں بیوی ہر روز صبح سویرے آتے اور ایک بڑکے درخت کے ساتھ جھولا لٹکا دیتے۔ اس میں وہ اپنا لڑکا ڈال دیتے تھے۔ مگر مصیبت یہ تھی کہ اس کو جھلانے والا کوئی نہیں تھا، چنانچہ دونوں میاں بیوی جھاڑو چھوڑ کر اسے جھولا جھلاتے یا گود میں اٹھائے پھرتے تھے۔‘‘\n\nرشید نے مجید سے کہا، ’’یہ جھولے کی بات کہاں سے آگئی۔۔۔ تم تو ایک کراری بھنگن کی بات کررہے تھے۔۔۔ جو بقول تمہارے بہت خوبصورت تھی۔‘‘\n\nمجید نے فوراً کہا، ’’یار تم جھولے کے ساتھ کیوں اٹک گئے۔۔۔ میری پوری کہانی تو سن لو۔۔۔ یہ جھولے کی نہیں بچنی کی بات ہے۔۔۔ اس بچنی کی جسے میں ساری عمر فراموش نہیں کرسکتا۔۔۔ وہ ایک آفت تھی۔۔۔ صبح اپنے خاوند کے ساتھ آتی تھی۔۔۔ ہاتھ میں لمبی سی جھاڑو لیے۔۔۔ ماتھے پرسیکڑوں تیوریاں۔۔۔ ایسا معلوم ہوتا کہ ابھی جھاڑو آپ کے سر پر دے مارے گی۔۔۔ مگر ایسا موقع کبھی نہیں آیا۔۔۔ میں نے ہزاروں بار اس کو گھورا، لیکن اس نے میرے سر پر جھاڑو نہیں ماری۔۔۔ اس کی تیوریاں اس کے ماتھے پر بدستور قائم رہیں اور وہ حسب سابق اپنا کام کرتی رہیں۔ اس کا خاوند جس کا نام معلوم نہیں کیا تھا، اول درجے کا زن مرید تھا۔ اس کا قد اپنی بیوی سے بھی چھوٹا تھا۔ وہ اس کو کام کے دوران میں ہمیشہ گالیاں دیا کرتی تھی۔۔۔ محلے کے سب لوگ سنتے تھے اور آپس میں چہ میگوئیاں کرتے تھے۔‘‘\n\nرشید اتنی لمبی داستان سن کر بھنا گیا، ’’تم اصل بات کی طرف آؤ۔۔۔ یہ کیا چہ مے گوئیاں بک رہے ہو۔۔۔ بچنی نام بڑا اچھا ہے، ورنہ خدا کی قسم! میں تمہاری یہ خرافات کبھی نہ سنتا۔۔۔ معلوم نہیں۔۔۔ یہ تمہاری جوڑی ہوئی کہانی ہے۔۔۔ بہر حال، تمہیں چند منٹ دیتا ہوں۔۔۔ سنالو۔‘‘\n\nمجید تاؤ میں آگیا، ’’الو کے پٹھے۔۔۔ تم نے صرف بچنی کا نام سنا ہے، کبھی تم نے اسے دیکھا ہوتا تو دل نکال کر اس کے ٹوکرے میں ڈال دیا ہوتا۔۔۔ میں تم سے اگر ایک واقعہ بیان کررہا ہوں تو اس میں نمک مرچ لگانے کی مجھے اجازت ہونی چاہیے۔۔۔ تم اگر اکتا گئے ہو تو جہنم میں جاؤ۔‘‘\n\nرشید کو اور کوئی کام نہیں تھا۔ اس کے پاس اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ کسی سینما میں چلا جاتا، اس لیے اس نے مناسب سمجھا کہ مجید کی داستان سن لے’’جہنم میں جانے کا سوال نہیں۔۔۔ تم ذرا اختصار سے کام لو۔۔۔ اصل میں مجھے بچنی سے دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔‘‘\n\nمجید غصے میں آگیا، ’’تمہاری دلچسپی کی ایسی کی تیسی۔۔۔ سالے، تم کون ہوتے ہو اس میں دلچسپی لینے والے۔۔۔ اس میں دلچسپی لینے والے تم ایسے ہزاروں تھے، مگر وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھی۔۔۔ میں تم سے کروڑ مرتبہ زیادہ خوبصورت ہوں، لیکن میں اس نگہ التفات کا ہروقت منتظر رہتا تھا۔۔۔ وہ بڑی ہٹیلی تھی۔۔۔ میرے دوست رشید، خدا کی قسم! اس جیسی لڑکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔ نام اس کا بچنی تھا۔۔۔ یعنی بچن سے تعلق رکھتا تھا۔۔۔ مگر وہ تو پھاپھا کٹنی تھی۔۔۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ اس کو اپنے قبضے میں لے آؤں، پرناکام رہا۔ وہ پٹھے پر ہاتھ ہی نہیں دھرنے دیتی تھی۔‘‘\n\nیہ سن کر رشید بولا، ’’تم یار ہمیشہ ایسے معاملوں میں کور ے رہے ہو۔‘‘\n\nمجید کے گہری چوٹ لگی،’’بکواس کرتے ہو۔۔۔ میں نے ایک روز اسے پکڑ لیا۔۔۔ میرے گھر کے باہر وہ جھاڑو دے رہی تھی کہ میں نے اس کا بازو پکڑ لیا اور اپنے ساتھ چمٹا لیا۔‘‘\n\n’’پھر کیا ہوا؟‘‘رشید نے ازراہ مذاق سگریٹ سلگایا اور ماچس کی تیلی بجھا کر اس کے کئی ٹکڑے کرکے ایش ٹرے میں ڈال دیے۔مجید کو ایسا محسوس ہوا کہ رشید نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے ہیں۔ بہت جزبز ہوا، لیکن آدمی سچا تھا اس لیے جھوٹ نہ بول سکا، ’’رشید! تم مذاق اڑاتے ہو۔۔۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ اس روز ہوا، اس کا مذاق اڑانا ہی چاہیے۔۔۔ میں نے اسے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔۔۔ لیکن اس حرام زادی نے کھینچ کے اپنی جھاڑومیرے منہ پر دے ماری۔ میں شرم کے مارے اندر بھاگ گیا۔۔۔ لیکن فوراً باہر نکلا۔۔۔ دیکھا کہ وہ میرے مکان کے باہر جھاڑو دے رہی ہے۔۔۔ میں نے اسے پھر پکڑا۔۔۔ اس نے کوئی مزاحمت نہ کی۔۔۔ میں نے سوچا۔۔۔‘‘\n\nرشید نے مجید کا فقرہ مکمل کردیا، ’’کہ معاملہ درست ہوگیا ہے۔‘‘\n\nمجید بوکھلا گیا، ’’خاک درست ہوا۔۔۔ وہ میری گرفت سے نکل کر سیدھی میری بیوی کے پاس چلی گئی۔۔۔ لیکن اس سے کوئی شکایت نہ کی۔۔۔ میں ڈر کے مارے دبکا ہوا تھا۔۔۔ میں نے صرف یہ سنا اور میری جان کا بوجھ ہلکا ہوا،’’بی بی جی آج پانی نہیں آیا۔۔۔ یہ ان لوگوں کو جو آپ سے ہر مہینے دس روپے وصول کرتے ہیں، کیا ہوگیا ہے۔۔۔ کیوں وہ اتنا خیال نہیں کرتے کہ آپ کو ہر روز ماشکی کو دس مشکوں کے چار آنے فی مشک کے حساب دو روپے آٹھ آنے دینا پڑیں۔۔۔‘‘ میں نے خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اس نے میری عزت و آبرو رکھ لی۔۔۔ لیکن میں نے بعد میں سوچا کہ میری عزت و آبرو رکھنے والی اصل میں بچنی۔۔۔ لیکن جب زیادہ سوچا تو احساس ہوا کہ ایسا سوچنا کفر ہے۔‘‘\n\nرشید قریب قریب تنگ آچکا تھا۔ اس نے اپنے دوست کی خاطر آواز دبا کرکہا، ’’کافر کے بچے۔۔۔بات تو کر کہ تیرا اس بچنی کی بچنی سے کیاہوا۔۔۔ کیا تم نے اسے پٹالیا؟‘‘\nمجید نے رشید کی پندنیا میں سے ایک گلوری لی اور کہا، ’’دیکھو رشید۔۔۔ تم بچنی کو جانتے نہیں۔۔۔ افسوس ہے کہ میں افسانہ نگار نہیں ورنہ میں اس کا کردار بہت اچھی طرح۔۔۔ جیتا جاگتا پیش کرسکتا۔۔۔ وہ معلوم نہیں شے کیا تھی۔۔۔ عمر اس کی زیادہ سے زیادہ۔۔۔ یہ سمجھو کہ سترہ اٹھارہ برس کے قریب ہوگی۔۔۔ قد اس کا ساڑھے چار فٹ ہوگا۔۔۔ چھاتی ایسی تھی جیسے لوہے کی بنی ہے، حالانکہ ایک بچے کی ماں تھی۔‘‘\n\nرشید بہت تنگ آگیا، ’’ایک بچے کی ماں کے بچے۔۔۔ تو اپنی داستان کے انجام کوپہنچ۔۔۔ مجھے ایک بہت ضروری کام سے جانا ہے۔۔۔ ساڑھے سات بج چکے ہیں ، لیکن تمہاری د استان ہی ختم ہونے میں نہیں آتی۔‘‘\n\nمجیدسنجیدہ رہا، ’’شید لالے۔۔۔ معاملہ بڑا نازک ہے۔‘‘\n\n’’کس کا۔۔۔ تمہارا یا میرا؟‘‘\n\n’’میں نہیں کہہ سکتا، لیکن جس وقت کی میں بات کررہا ہوں، اس وقت معاملہ میرا تو بہت نازک تھا۔۔۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کیا کروں، کیا نہ کروں۔۔۔ اب تم یہ خیال کرو کہ میں ہزاروں کا مالک تھا۔۔۔ تم جانتے ہو کہ ماں باپ مر کھپ چکے تھے۔۔۔ ساری جائیداد کا میں وارث تھا۔ جہاں چاہتا، لٹا دیتا۔۔۔ اس روز جب میں نے بچنی کو اپنے سینے کے ساتھ بھینچا اور وہ میری گرفت سے یوں الگ ہٹی جیسے میرا کام تمام کردے گی، لیکن میری بیوی سے اس نے اس سلسلے کا ذکر تک نہ کیا تو مجھے امید ہوگئی کہ چند ایسے معاملوں کے بعد میں کامیاب ہو جاؤں گا۔‘‘\n\nرشید نے اس سے پوچھا، ’’تجھے کامیابی ہوئی؟‘‘\n\n’’خاک۔۔۔ تم اسے جانتے ہی نہیں۔۔۔ بڑی تیزخو لڑکی ہے۔۔۔ اپنے خاوند کو کچھ نہیں سمجھتی۔۔۔ لیکن ایک عجیب بات ہے کہ میں نے اس سے اتنی چھیڑ خانی کی، لیکن اس نے کسی سے بات تک نہ کی، ورنہ اگر چاہتی تو میرا گھر نکالا کرسکتی تھی۔‘‘\n\nرشید مسکرایا۔ ’’میں تمہاری بچنی کو جانتا ہوں۔۔!‘‘\n\nمجید نے بڑی حیرت سے پوچھا، ’’تم کیسے جانتے ہو اس کو؟‘‘\n\n’’جس طرح تم جانتے ہو۔۔۔ کیا تم نے ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ وہ تمہارے ہی محلے کے کام کیا کرے۔۔۔ میں اس کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔‘‘\n\nمجید کو یقین نہ آیا، ’’بکواس کرتے ہو۔۔۔ اس کی عمر ہی کتنی ہے کہ تم اسے جانو۔۔۔ دو برس سے کچھ مہینے اوپر ہوگئے ہیں کہ وہ ہمارے محلے میں بلاناغہ آتی ہے۔ اس کے لڑکے کی عمر بھی دو سال کے قریب ہوگی۔۔۔ یعنی جب وہ ہمارے ہاں ملازم ہوئی تو اس کے کوئی بچہ نہیں تھا۔۔۔ لیکن دو تین مہینے کے بعد اس کی گود میں ایک لڑکا تھا۔‘‘\n\nرشید پھر مسکرایا، ’’تمہارا؟‘‘\n\n’’میرا!‘‘ مجید گھبرا گیا، لیکن فوراً سنبھل کر اس نے مذاق کا جواب مذاق میں دیا، ’’میرا ہوتا تو کیا کہنے تھے۔۔۔ کم از کم میں یہ تو کہنے کے قابل ہو جاتا کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا ہوں۔‘‘\n\nرشید کی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ایک عجیب رنگ اختیار کرگئی،’’تمہیں اپنی بچنی کے شوہر کا نام معلوم نہیں؟‘‘\n\n’’نہیں‘‘!\n\n’’میں بتاتا ہوں تمہیں۔۔۔ اس کے شوہر کا نام رشید ہے۔‘‘\n\nمجید بوکھلا گیا، ’’رشید۔۔۔۔۔۔ کیا اس کا نام رشید ہے؟‘‘\n\nرشید نے بڑے وثوق اور بڑی سنجیدگی سے جواب دیا،’’ہاں۔۔۔ اس کا نام رشید ہے۔۔۔ اصل میں وہی اس کا شوہر ہے۔‘‘\n\n’’وہ جو اس کے ساتھ ہمارے محلے میں جھاڑو دیتا ہے اور اپنے بچے کو جھولا جھلاتا ہے؟‘‘ مجید کی بوکھلاہٹ اسی طرح قائم تھی۔\n\nرشید کی سنجیدگی میں کچھ اور اضافہ ہوگیا، ’’وہ الو کا پٹھا اپنے بچے کو جھولا نہیں جھلاتا!‘‘\n\n’’تو کسے جھلاتا ہے۔۔۔ کیا وہ اس رشید کا بچہ نہیں؟‘‘\n\n’’نہیں!‘‘\n\n’’تو کس کا بچہ ہے؟‘‘\n\n’’ایک غریب اور نادارآدمی کا۔۔۔ جو خوبصورت بھی نہیں۔۔۔ تم سے ہزاروں درجے نیچے ہے۔‘‘\n\n’’کون ہے وہ؟‘‘\n\n’’پوچھ کے کیا کرو گے؟‘‘\n\n’’کروں گا کیا۔۔۔ بس ایسے ہی جاننا چاہتا ہوں۔‘‘\n\nرشید نے ایک سگریٹ سلگایا اور بڑے اطمینان سے کہا، ’’جاننا چاہتے ہو تو جان لو۔۔۔ وہ رشید میں ہوں۔۔۔ تمہاری بچنی سے میری آشنائی بچپن کی ہے۔۔۔ وہ گیارہ برس کی تھی۔۔۔ میں تیرہ برس کا۔۔۔ جب سے میرا اس کا معاملہ چل رہا ہے۔۔۔ وہ لڑکا جو تم اس کی گود میں دیکھتے ہو اور جسے اس کا الو کا پٹھا شوہر ہر روز جھولا جھلاتا ہے، اس خاکسار کی اولاد ہے۔۔۔ شکر ہے خداوند کریم کا کہ لڑکی نہ ہوئی، ورنہ میں تو اسے دوسرے ہی روز مار ڈ التا۔۔۔‘‘\n\nیہ کہہ کر رشید فوراً اٹھا اور چلا گیا۔۔۔ مجید سوچتا رہ گیا کہ خدا وند کریم نے اس پر کون سا کرم کیا تھا جو وہ اس کا شکر گزار تھا۔۔۔!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%86%D9%86%DB%8C"} {"title": "بچوں کی باتیں", "poet_page": "مصنف:لطیف فاروقی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آئے ہیں آسمان پر بادل\nچھائے ہیں آسمان پر بادل\nابر ہی ابر دیکھتے ہیں ہم\nہے برسنے کو جو ابھی چھم چھم\nاور معلوم ایسا ہوتا ہے\nچھپ کے خورشید جیسے سوتا ہے\nگھر کے کوٹھے پہ ایک دو بچے\nچارپائی پہ ہیں ڈٹے بیٹھے\nبولیاں بھانت بھانت ہیں ان کی\nمیٹھی میٹھی ہیں بھولی بھالی سی\n\nایک بولا کہ جانتے ہو کیا\nکیا ہے یہ آسمان پر چھایا\nروئی کے گالے نام ہے ان کا\nآنا اور جانا کام ہے ان کا\nجب پہاڑوں سے لوگ آتے ہیں\nروئی کے گالے ساتھ لاتے ہیں\nکر کے اچھی طرح سے ان کو صاف\nلمبے چوڑے بناتے ہیں وہ لحاف\n\nبات سچ یہ ہے دوسرا بولا\nآسمان پر لگا ہے اک خیمہ\nہے غلط یہ بھی تیسرے نے کہا\nاصل میں ہے یہ دودھ کا دریا\nآسماں والے اس کو پیتے ہیں\nاس کو پی کر فرشتے جیتے ہیں\n\nمل کے یوں سب نے ایسی باتیں کیں\nننھے ننھوں نے ننھی باتیں کیں\nدیکھتے دیکھتے ہوا پھر کیا\nموسلا دھار مینہ برسنے لگا\nپیارے بچے یہ لاڈلے بچے\nاپنے اپنے گھروں کو بھاگ گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بچپنے کی یاد", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے بچپنے کی دنیا تو یاد آ رہی ہے\nدل سے مری صدائے فریاد آ رہی ہے\nراحت سنا رہی تھی افسانہ سلطنت کا\nتھی ماں کی گود مجھ کو کاشانہ سلطنت کا\nوہ گھر کہ دور جس سے تھی گردش زمانہ\nآزادیوں کا میری آباد آشیانہ\nپھرتی ہے اب نظر میں تصویر اس مکاں کی\nعرش بریں سے بہتر تھی سرزمیں جہاں کی\nنازک مزاج بن کر وہ روٹھنا مچلنا\nصحن مکاں میں دن بھر وہ کودنا اچھلنا\nاللہ رے وہ تخیل اللہ رے ساز و ساماں\nدنیا کی سلطنت تھی اس زندگی پہ قرباں\nاس عہد عافیت میں اک بار پھر سلا دے\nاے میرے عہد ماضی پھر اک جھلک دکھا دے\nباغ جہاں میں رکھا ان شادیوں نے مجھ کو\nراحت کی لوریاں دیں آزادیوں نے مجھ کو\nبے فکر زندگی تھی خود ہوش مجھ کو کب تھا\nاک کیف بے خودی تھا مست مے طرب تھا\nاے عمر رفتہ تو نے کی مجھ سے بیوفائی\nآ جا پلٹ کے دم بھر میں ہوں ترا فدائی\nدل میں شرارتیں تھیں کیسے غضب کی پنہاں\nرگ رگ میں بجلیاں تھیں جوش طرب کی پنہاں\nہوں اپنی زندگی کا اندازہ کرنے والا\nجنت سے لا کے تو نے دوزخ میں مجھ کو ڈالا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%86%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "بچھا رکھوں میں آنکھیں رہ گزر میں", "poet_page": "مصنف:جگرؔ بسوانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بچھا رکھوں میں آنکھیں رہ گزر میں\nکبھی آ جائیں شاید میرے گھر آپ\n\nہمارا دل نہیں قابو میں رہتا\nادا سے دیکھتے ہیں جب ادھر آپ\n\nخبر سارے زمانے کی ہے لیکن\nہمارے حال سے ہیں بے خبر آپ\n\nکہا مانیں گلے ہم کو لگا لیں\nہماری زندگی چاہیں اگر آپ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بچھڑے ہیں کب سے قافلۂ رفتگاں سے ہم", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بچھڑے ہیں کب سے قافلۂ رفتگاں سے ہم\nمل جائیں گے کبھی نہ کبھی کارواں سے ہم\n\nرہ رہ کے پوچھتے ہیں یہی باغباں سے ہم\nلے جائیں چار تنکے کہاں آشیاں سے ہم\n\nمجبور کس قدر ہیں دل بد گماں سے ہم\nدیکھے کوئی کہ چپ ہیں کھڑے بے زباں سے ہم\n\nاللہ رے عروج تخیل کے حوصلے\nچل کر مکاں سے بڑھ گئے کچھ لا مکاں سے ہم\n\nباد خزاں نے رنگ چمن کیا اڑا دیا\nآخر کو نکلے خاک بسر بوستاں سے ہم\n\nکس منہ سے ہاتھ اٹھائیں دعائیں ہیں بے اثر\nپھر بھی ہے دل میں چھیڑ کریں آسماں سے ہم\n\nوہ مے پلائی ساقی نے ہیں جس سے ہوش غم\nجاگیں نہ جاگیں دیکھیے خواب گراں سے ہم\n\nوہ سرزمیں کہاں کہ نہ ہو گردش فلک\nممکن نہیں کہ بچ کے رہیں آسماں سے ہم\n\nآخر جنوں میں مل گئیں دامن کی دھجیاں\nلے آئے ان کو وادی وحشت نشاں سے ہم\n\nکم مائیگی میں نازل ہے عجز و نیاز پر\nاب کیا اٹھائیں سر کو ترے آستاں سے ہم\n\nکیسی چمک کہاں کی کھٹک اف رے بے حسی\nہیں مست ذوق لذت درد نہاں سے ہم\n\nمجبور دل تھا حکم قضا و قدر سے شوقؔ\nاب کیا بتائیں آئے یہاں پھر کہاں سے ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%86%DA%BE%DA%91%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%82%D8%A7%D9%81%D9%84%DB%82_%D8%B1%D9%81%D8%AA%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "بچہ مزدور", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میں ہوں اک بچہ مزدور\nبچپن سے ہوں کوسوں دور\nصبح سے کام پہ جاتا ہوں\nشام کو واپس آتا ہوں\nمیں بھی پڑھنا چاہتا ہوں\nآگے بڑھنا چاہتا ہوں\nکھیل کود کو وقت نہیں\nکیا جی میں بد بخت نہیں\nچاہتا ہوں غبارے لوں\nہم سن یاروں سے کھیلوں\nلیکن کیا کر سکتا ہوں\nدن بھر کام پہ رہتا ہوں\nکس سے دل کی بات کہوں\nکب تک میں خود پہ روؤں\nحالت سے مجبور ہوں میں\nاور بچہ مزدور ہوں میں\nکاش کوئی مجھ کو سمجھے\nمجھ سے نہ بچپن چھینے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%86%DB%81_%D9%85%D8%B2%D8%AF%D9%88%D8%B1"} {"title": "بچہّ اور شمع", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "کیسی حیرانی ہے یہ اے طفلکِ پروانہ خُو!\nشمع کے شعلوں کو گھڑیوں دیکھتا رہتا ہے تو\nیہ مری آغوش میں بیٹھے ہوئے جُنبش ہے کیا\nروشنی سے کیا بغَل گیری ہے تیرا مدّعا؟\nاس نظارے سے ترا ننھّا سا دل حیران ہے\nیہ کسی دیکھی ہُوئی شے کی مگر پہچان ہے\n\nشمع اک شعلہ ہے لیکن تُو سراپا نور ہے\nآہ! اس محفل میں یہ عُریاں ہے تُو مستور ہے\nدستِ قُدرت نے اسے کیا جانے کیوں عُریاں کیا!\nتُجھ کو خاکِ تِیرہ کے فانوس میں پنہاں کیا\nنور تیرا چھُپ گیا زیرِ نقابِ آگہی\nہے غبارِ دیدۂ بینا حجابِ آگہی\nزندگانی جس کو کہتے ہیں فراموشی ہے یہ\nخواب ہے، غفلت ہے، سرمستی ہے، بے ہوشی ہے یہ\n\nمحفلِ قُدرت ہے اک دریائے بے پایانِ حُسن\nآنکھ اگر دیکھے تو ہر قطرے میں ہے طوفانِ حُسن\nحُسن، کوہستاں کی ہیبت ناک خاموشی میں ہے\nمِہر کی ضوگستری، شب کی سِیہ پوشی میں ہے\nآسمانِ صبح کی آئینہ پوشی میں ہے یہ\nشام کی ظُلمت، شفَق کی گُل فرو شی میں ہے یہ\nعظمتِ دیرینہ کے مِٹتے ہُوئے آثار میں\nطفلکِ ناآشنا کی کوششِ گُفتار میں\nساکنانِ صحنِ گُلشن کی ہم آوازی میں ہے\nننھّے ننھّے طائروں کی آشیاں سازی میں ہے\nچشمۂ کُہسار میں، دریا کی آزادی میں حُسن\nشہر میں، صحرا میں، ویرانے میں، آبادی میں حُسن\nرُوح کو لیکن کسی گُم گشتہ شے کی ہے ہوس\nورنہ اس صحرا میں کیوں نالاں ہے یہ مثلِ جرس!\nحُسن کے اس عام جلوے میں بھی یہ بے تاب ہے\nزندگی اس کی مثالِ ماہیِ بے آب ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%86%DB%81%D9%91_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B4%D9%85%D8%B9"} {"title": "بچے کی دُعا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1902", "text_ur": "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری\nزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری\n\nدور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے\nہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے\n\nہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت\nجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت\n\nزندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب\nعلم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب\n\nہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا\nدرد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا\n\nمرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو\nنیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%8F%D8%B9%D8%A7"} {"title": "بڑھ چلا عشق تو دل چھوڑ کے دنیا اٹھا", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بڑھ چلا عشق تو دل چھوڑ کے دنیا اٹھا\nخود بخود جوش مے ناب سے شیشہ اٹھا\n\nدست نازک سے زر گل کا بھی اٹھنا ہے محال\nیہ تو فرمائیے کس وجہ سے توڑا اٹھا\n\nجب پکارے لب جاں بخش سے وہ مر گئے ہم\nنا توانوں سے نہ بار دم عیسیٰ اٹھا\n\nخاکساروں میں نہیں ایسے کسی کی توقیر\nقد آدم مری تعظیم کو سایا اٹھا\n\nیاد اس بت کی نمازوں میں جو آئی مجھ کو\nتپش شوق سے ہر بار میں بیٹھا اٹھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%86%D9%84%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "بڑھ گئی مے پینے سے دل کی تمنا اور بھی", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بڑھ گئی مے پینے سے دل کی تمنا اور بھی\nصدقہ اپنا ساقیا یک جام صہبا اور بھی\n\nایک تو میں آپ ناصح ہوں پریشاں خستہ جاں\nدل دکھا دیتی ہے تیری پند بے جا اور بھی\n\nداستان شوق دل ایسی نہیں تھی مختصر\nجی لگا کر تم اگر سنتے میں کہتا اور بھی\n\nکچھ تو پہلے سے دل بے تاب تھا وحشی مزاج\nبے ترے دن رات گھبراتا ہے تنہا اور بھی\n\nدیکھتے ہی دیکھتے تسلیمؔ وہ چھپنے لگے\nبڑھ گیا بے پردگی میں مجھ سے پردہ اور بھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D9%85%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "بڑھ گئیں گستاخیاں میری سزا کے ساتھ ساتھ", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بڑھ گئیں گستاخیاں میری سزا کے ساتھ ساتھ\nپیار آتا ہے تری جور و جفا کے ساتھ ساتھ\n\nضعف سے راہ محبت میں قدم اٹھتے نہیں\nپاؤں جمتے ہیں زمیں پر نقش پا کے ساتھ ساتھ\n\nچھوٹ کر کنج قفس سے نکہت گل کی طرح\nہم بھی اڑ کر جائیں گے باد صبا کے ساتھ ساتھ\n\nسرد آہوں سے پھنکا جاتا ہے سینے میں جگر\nآتش غم تیز ہوتی ہے ہوا کے ساتھ ساتھ\n\nمیرے آنسو بھی بہے جوش محبت میں عزیزؔ\nمیرے نالے بھی رہے میری دعا کے ساتھ ساتھ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AE%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D8%B2%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "بڑھا دی اک نظر میں تو نے کیا توقیر پتھر کی", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "بڑھا دی اک نظر میں تو نے کیا توقیر پتھر کی\nبنا کحل البصر اللہ رے تقدیر پتھر کی\n\nاسیر زلف کیوں کر چھٹ سکیں گے قید وحشت سے\nکہ ہے ہر جادۂ دشت جنوں زنجیر پتھر کی\n\nیہ جلوہ ہے کنشت و دیر میں صانع کی قدرت کا\nکہ دعوی خدائی کرتی ہے تصویر پتھر کی\n\nتلاش رزق میں ہو آسیا کی طرح سرگرداں\nاگر دانا ہے تو بھی سیکھ لے تدبیر پتھر کی\n\nبتا سنگ جراحت آ کے زخم تیغ ابرو پر\nہوا اچھا ترے عاشق کو دی تعزیر پتھر کی\n\nفسون چشم قاتل سے بنا ہوں سحر کا پتلا\nجو چھو لے میری گردن کو تو ہو شمشیر پتھر کی\n\nشب فرقت میں جو سوچے تھے کرتے وہ شکایت کیا\nنظر کرتے ہی ان پر بن گئے تصویر پتھر کی\n\nنہ نکلی ہے نہ نکلے گی جمی ہے دل میں جو ان کے\nمٹانے سے بھی مٹتی ہے کہیں تحریر پتھر کی\n\nسزائے عشق مژگان بتان سنگ دل پائی\nہوئی بارش ہر اک جانب سے ہم پر تیر پتھر کی\n\nنہ فرق آیا حبیبؔ صابر و شاکر کی راحت میں\nبنا دنیا میں قسمت کا لکھا تحریر پتھر کی", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%8C_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88%D9%82%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "بڑھا یہ شک کہ غیروں کہ تن میں آگ لگی", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بڑھا یہ شک کہ غیروں کہ تن میں آگ لگی\nہم آئے کیا کہ تری انجمن میں آگ لگی\n\nذرا جو اس نے ہٹائی نقاب چہرے سے\nگری وہ برق کی سب انجمن میں آگ لگی\n\nبرابر آج خبر اشک گرم لاتے ہیں\nغضب کی قصر دل پر محن میں آگ لگی\n\nیہ تیرا وحشیٔ آتش نفس جہاں پہنچا\nپہاڑ جل کے ہوئے خاک بن میں آگ لگی\n\nجلا رہا ہے یہ کہہ کہہ کے دم بہ دم صیاد\nتجھے خبر بھی ہے بلبل چمن میں آگ لگی\n\nکمال حسن کی گرمی سے مجھ کو حیرت ہے\nکہ آج تک نہ مرے پیرہن میں آگ لگی\n\nجب آہ گرم چلی دل سے ساتھ دوڑے اشک\nہوا یقین کہ کام و دہن میں آگ لگی\n\nچہار سمت سے لے لے کے پانی ابر آیا\nکھلے جو پھول تو جانا چمن میں آگ لگی\n\nجہاں پڑھے گئے اشعار تیرے گرما گرم\nرشیدؔ محفل اہل سخن میں آگ لگی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%B4%DA%A9_%DA%A9%DB%81_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%DA%AF_%D9%84%DA%AF%DB%8C"} {"title": "بڑھتی جاتی ہے میری اس کی چاہ", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بڑھتی جاتی ہے میری اس کی چاہ\nسچ ہے ہوتی ہے دل کو دل سے راہ\n\nاس دہان و کمر کی مت پوچھو\nکام کرتی نہیں کسی کی نگاہ\n\nمرتے ہیں انتظار میں اس کے\nآ بھی جائے کہیں وہ یا اللہ\n\nاس کی زلف سیہ ہے ایک بلا\nاس بلا سے خدا ہی دیوے پناہ\n\nکھینچ کر مجھ پہ غیر کو ماری\nآفریں آفریں جزاک اللہ\n\nہے شب زلف کا تماشائی\nکیوں نہ ؔجوشش کا ہووے روز سیاہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%AA%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81"} {"title": "بڑھے چلو", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اٹھو اٹھو اٹھو اٹھو\nکمر کسو کمر کسو\nسحر سے پہلے چل پڑو\nکڑی ہے راہ دوستو\nتھکن کا نام بھی نہ لو\nبڑھے چلو بڑھے چلو\n\nجھجھک نہ دل میں لاؤ تم\nبس اب قدم اٹھاؤ تم\nذرا نہ ڈگمگاؤ تم\nخدا سے لو لگاؤ تم\nملول و مضطرب نہ ہو\nبڑھے چلو بڑھے چلو\n\nاٹھا دیا قدم اگر\nتو ختم ہے بس اب سفر\nہے راہ صاف و بے خطر\nنہ کوئی خوف ہے نہ ڈر\nچلو چلو بڑھو بڑھو\nبڑھے چلو بڑھے چلو\n\nتمہارے ہم سفر جو تھے\nوہ منزلوں پہ جا لگے\nسب آگے تم سے بڑھ گئے\nمگر ہو تم پڑے ہوئے\nذرا سمجھ سے کام لو\nبڑھے چلو بڑھے چلو\n\nدلوں میں ہے جو ولولہ\nتو ڈال دو گے زلزلہ\nرہے بلند حوصلہ\nوہ سامنے ہے مرحلہ\nوہیں پہنچ کے سانس لو\nبڑھے چلو بڑھے چلو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%91%DA%BE%DB%92_%DA%86%D9%84%D9%88"} {"title": "بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہ", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہ\nکہ جوں کر گرم ہو ہے آفتاب آہستہ آہستہ\n\nکیا خط نیں ترے مکھ کوں خراب آہستہ آہستہ\nگہن جوں ماہ کوں لیتا ہے داب آہستہ آہستہ\n\nلگا ہے آپ سیں اے جاں ترے عاشق کا دل رہ رہ\nکرے ہے مست کوں بے خود شراب آہستہ آہستہ\n\nدل عاشق کا کلی کی طرح کھلتا جائے خوش ہو ہو\nادا سیں جب کبھی کھولے نقاب آہستہ آہستہ\n\nلگا ہے آبروؔ مجھ کوں ولیؔ کا خوب یہ مصرع\nسوال آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%91%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%86_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%85%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81"} {"title": "بڑی دلچسپیوں سے صبح شام زندگی ہوگی", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بڑی دلچسپیوں سے صبح شام زندگی ہوگی\nمیں دیکھوں گا انہیں اور ساری دنیا دیکھتی ہوگی\n\nکچھ ایسے درد سے فرقت میں میں نے ہاتھ اٹھائے ہیں\nدعا بھی کامیابی کی دعائیں مانگتی ہوگی\n\nسر محشر حجاب و شوق کا اک معرکہ ہوگا\nانہیں اپنی پڑی ہوگی مجھے اپنی پڑی ہوگی\n\nنہ کرتے حشر کو رسوا کبھی دن کے اجالے میں\nخبر کیا تھی تری فرقت کی رات اتنی بڑی ہوگی\n\nتعجب کیا لگے گر آگ اے سیمابؔ سینے میں\nہزاروں دل میں انگارے بھرے تھے لگ گئی ہوگی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%91%DB%8C_%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C"} {"title": "بڑے شباب پہ درد فراق مستی ہے", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بڑے شباب پہ درد فراق مستی ہے\nنہ ہو شراب تو پہروں گھٹا برستی ہے\n\nنہ شمع روتی ہے آ کر نہ برق ہنستی ہے\nمیں جب سے قبر میں ہوں بیکسی برستی ہے\n\nسنے تو کون سنے میکدے میں واعظ کی\nیہاں وہی ہیں جنہیں شغل مے پرستی ہے\n\nمیں سخت جاں نہیں خنجر بھی تیز ہے لیکن\nنگاہ یاس ہے قاتل کی تیز دستی ہے\n\nبھرے ہوؤں کو بھرا کرتے ہیں کرم والے\nجہاں ہے سبزہ گھٹا بھی وہیں برستی ہے\n\nغلط ہے زیر نگیں ہو کے دعویٔ وسعت\nبس ایک حلقۂ خاتم فضائے ہستی ہے\n\nہزار خواہش دل ہے مگر نہ مانگوں گا\nسبوئے‌ مے کدہ پر وقت تنگدستی ہے\n\nمیں سن کے آیا تھا آبادیٔ عدم لیکن\nکوئی نظر نہیں آتا یہ کیسی بستی ہے\n\nچمن نہ دیکھ نشیمن کو دیکھ اے بلبل\nبہار ہی میں کبھی آگ بھی برستی ہے\n\nجلاؤں شمع تو آخر جلا کے دیکھوں کیا\nہر ایک رات یہاں شغل‌‌ غم پرستی ہے\n\nنہیں ہے دہر میں یار اے دم زدن ثاقبؔ\nبس ایک سانس میں طے ماجرائے ہستی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%91%DB%92_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%BE%DB%81_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "بڑے شرم کی بات", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "اماں جان نے خوشخبری سنائی کہ ’’افضل آ رہا ہے۔۔۔‘‘\n\n’’ارے!‘‘ میرے منہ سے نکلا مگر میں چپ ہوکر سیدھی اٹھی اور چلی گئی۔ یہ واقعہ تھا کہ بھائی افضل آ رہے تھے۔ کون بھائی افضل؟ بس نہ پوچھئے۔ جب کا ذکر ہے کہ بھائی افضل ہمارے ہاں رہتے تھے۔ بخدا کیا زمانہ تھا۔ بھائی افضل توتلے ہیں۔ ایک علیحدہ صاف ستھری کوٹھری تھی، جس میں وہ رہتے تھے۔ دلہن کی طرح سجی رکھتے اور اس کو ’’تمرہ‘‘ یعنی کمرہ کہتے اور کوٹھری کوئی کہے تو خفا ہوتے۔ طبیعت میں غصہ بے حد تھا اور ان کو ہم سب بہنیں اور بھائی اپنی شرارتوں کا مرکز بنا لیتے اور خوب پٹتے بھی تھے۔ کیا مزہ رہا جب افضل بھائی فیل ہوئے ہیں۔ میں سو رہی تھی کہ رفیق آئی، مارے خوشی کے اس نے دو ہتڑ مار کر کہا، ’’اری مردی افضل بھائی فیل ہوگئے۔۔۔‘‘ معلوم ہوا کہ خاتون جو ہنسی تو وہ پٹ گئی اور خانساماں کا لڑکا بھی پٹ گیا اور حامد خاں بھی پٹ گئے۔ بقیہ بچے بھاگ گئے۔\n\nیہ خبر ملنی تھی کہ میں بھی بے تحاشا دوڑی۔ دور سے ایک دروازے سے ہم نے جھانک کر دیکھا۔ مگر اتنے میں افضل بھائی دوسری طرف سےآگئے اور اپنے عجیب و غریب انداز میں بولے، ’’تون۔۔۔!‘‘ (کون) ہم سب نے ان کی طرف دیکھا۔ بولے، ’’چڑیلو۔ رونے تا متام ہے۔۔۔ اور توئی ہنسا تو تھوب سمجھ لو۔۔۔ (ہاتھ اٹھا کر بولے) ایتوں ایت تو تتل (قتل) تردوں دا!‘‘ اور ہمارا یہ حال کہ اِدھر انہوں نے ’’تتل‘‘ کرنے کو کہا ہے اور مارے ہنسی کے بے تاب ہو کر ہم سب کی سب بھاگیں اور افضل بھائی لپکے کہ ’’پترو۔‘‘ (پکڑو) والدہ صاحبہ سے شکایت کی تو وہ ہم سب پر خفا ہوئیں اور انہوں نے جتا دیا کہ ’’اگر تم ہنسیں تو وہ رنجیدہ ہے اور تم سب کو مارے گا۔‘‘\n\nمگر باوجود اس کے بھلا کون سنتا ہے۔ دوپہر کو جب افضل بھائی غم میں چور پڑے سو رہے تھے تو ہم نے کوئلوں سے ان کے کمرے کے باہر دیواروں پر لکھ دیا ’’افضل بھائی فیل شد۔ خوب شد۔۔۔ افضل بھائی فیل شد۔ خوب شد۔‘‘ اس خوب شد کے موجد بھی خود افضل بھائی تھے۔ ہم لوگوں میں سے کوئی مارا جائے، کسی کا کوئی نقصان ہو تو بقیہ بچوں کو سکھاتے کہ خوب شد کا ورد کرکے دق کرو۔ چنانچہ یہ خوب شد ان کی ایجاد تھی۔ اب مزہ تو جب آیا ہے کہ افضل بھائی سو کر اٹھے اور ’’فیل شد خوب شد‘‘ پڑھا، سارے گھر میں مارے غصے کے ناچے ناچے پھرے۔ پھر ہم سب کو گرفتار کر کے اپنے کمرہ میں لائے۔ ایک بڑا سا چاقو نکالا۔ کہنے لگے، ’’ایتوں ایت تو تتل تردوں دا۔۔۔ یہ لتھا تسنے۔۔۔؟ یہ تھاتوں۔۔۔؟‘‘ ہم سب نے لاعلمی ظاہر کی تو قسم کو کہا اور ہم نے قسمیں کھائیں تو کہنے لگے، ’’یوں نہیں۔۔۔ لاؤ ترآن (قرآن) تھاؤ تسم۔‘‘\n\nویسے جھوٹی قسم تو نہ کھانا چاہیے تھی مگر پھر کرتے بھی کیا۔ سب نے قرآن اٹھا لیا کہ ہم نے نہیں لکھا۔ افضل بھائی جل کر رہ گئے اور یہ کہہ کر نکال دیا، ’’چڑیلو۔۔۔ نتلو یہاں سے۔ تمہارے سب تے اوپر بجلی درے دی۔۔۔ ترآن تی مار پرے دی۔۔۔‘‘ یہ نہیں معلوم کہ قرآن کی مار کی بہ نسبت ان کی مار کا زیادہ خوف تھا۔ نہ ہماری طبیعت بدلی اور نہ بھائی افضل کی طبیعت بدلی۔ سب بہن بھائی رشتہ دار سہیلیاں ساتھ کی کھیلنے والیاں، افضل بھائی کو اپنا سمجھتیں، حتی کہ بعض کی شادی ہوگئی اور افضل بھائی نہ چھوٹے۔ عزیز رشتہ داروں کا ذکر نہیں افضل بھائی سب کے بھائی تھے اور افضل بھائی کی طبیعت بھی کم و بیش وہی رہی۔ وہی ہم تھے اور وہی افضل بھائی تھے۔ اب وہ کوئی تین سال بعد آ رہے تھے اب وہ بالفاظ خود اپنے ’’داؤں‘‘ (گاؤں) میں رہتے تھے۔\n\nدوسرے روز کا ذکر ہے۔ بڑے کمرہ میں بیٹھے سچ مچ بھائی افضل کے ساتھ چائے پی رہے تھے۔ بھائی افصل بہنوں سے مل کر بے حد خوش تھے۔ کتنی بھولی اور مزیدار باتیں تھیں۔ کسی کو بھولے نہیں تھے۔ کسی کا نام بھول گئے تو صورت یاد اور کسی کی صورت اور نام بھول گئے تو شرارت یاد۔ کیا مزے میں سوال کر رہے تھے۔\n\n’’تس تس تی سادی ہوئی۔۔۔؟ اور وہ تہاں دئی۔۔۔؟ وہ لمبی نات والی۔۔۔؟ اور وہ تہاں ہے۔۔۔؟ لا حول بلا تب بت۔۔۔ اجی۔۔۔ سدرا! ارے! سادی ہووئی۔۔۔! تب۔۔۔؟ تے بچے ہیں۔۔۔؟ لڑتا ہے تے لرتی؟۔۔۔ تھوب! ابھی تل تی بات ہے، بادی پھرتی تھی۔۔۔ وہ تہاں ہے جس نے میری لتری چرائی تھی۔۔۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ غرض اسی قسم کے سوال کر رہے تھے کہ سامنے کے دروازے سے رفیق شیشے میں سے جھانکی۔ افضل بھائی نے دیکھ پایا۔ آہستہ سے اس طرف آنکھ کا اشارہ کرکے ہم سے پوچھا، ’’تون ہے یہ۔۔۔؟ یہ جھانت تون رہا ہے۔۔۔؟‘‘\n\nمیں نے مڑ کر دیکھا اور ہنس کر بولی، ’’رفیق ہے۔۔۔ (اور پکاری۔۔۔) آؤنا۔ کم بخت۔۔۔‘‘\n\n’’ارے!‘‘ افضل بھائی احتجاج کے طورپر بولے، ’’پترو اس چریل تو۔۔۔! پردہ ترے دی یہ۔۔۔ مجھ سے! نالایت تہیں تی۔۔۔ ارے پتر۔۔۔‘‘ مارے ہنسی کے ہمارا برا حال ہو گیا۔ پر رفیق کو ذرا جھجک معلوم ہو رہی تھی۔ میں نے اور حشمت نے اسے گھسیٹ کر اور گرفتار کر کے افضل بھائی کی خدمت میں پیش کر دیا۔\n\n’’چریل۔۔۔‘‘ افضل بھائی نے کہا، ’’قسم تھدا تی!‘‘ رفیق نے اطمینان کر دیا کہ پردہ کا ارادہ نہیں تھا اور افضل بھائی مطمئن ہوئے۔ ہم دونوں بہنیں صوفے پر بیٹھی تھیں، پاس ہی رفیق کو بٹھایا۔ اتنے میں نہ معلوم کس نے برآمدے سے آواز دی کہ افضل بھائی بولے، ’’تون۔۔۔؟‘‘ جب کوئی نہ بولا تو بولے، ’’اونہہ! تدہر سے آن مرا؟ نہ معلوم تون الو ہے یہ۔۔۔ دوہا نہیں تو۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر اٹھے اور باہر گئے۔ یہاں جلدی جلدی ہم تینوں بہنیں تجویز کرنے لگیں کہ کوئی حرکت ایسی افضل بھائی کے ساتھ کی جائے جو پرانی باتیں یاد آ جائیں۔ ہم تینوں باتوں ہی میں لگے تھے اور مجھے تو خبر نہیں کون آتا ہے کہ پاؤں کی آہٹ فرش پر معلوم نہ دی تا وقتیکہ افضل بھائی نے کرسی گھسیٹ کر یہ نہ کہا، ’’ارے بیتھ بھی۔۔۔‘‘\n\nاور میں جو مڑکر دیکھتی ہوں تو حامد خاں! آنکھیں چار ہوئی تھیں کہ جھک گئیں اور منہ موڑ کر آہستہ سے اٹھتی جو ہوں تو دوپٹے کا آنچل رفیق کے نیچے دبا اور اس کمبخت نے اور بھی زور سے دبا لیا اور میرا دامن الگ پکڑ لیا۔ وہ بھی اس زور سے کہ چھڑائے نہ چھوٹے۔ میں کیا عرض کروں کیسی گھبرائی۔ گھبرا کر اور گھٹ کر بیٹھ گئی اور کم بختی اور شرارت دیکھیے کہ گدگدایا اس بدتمیز نے۔ مگر میرے اوپر شرم کا اس قدر غلبہ تھا کہ ہنسی کہاں۔ رہ گیا غصہ تو وہاں پروا کسے۔ اور یہ ممکن نہیں کہ زور لگاکر میں دوپٹہ چھوڑ کر چلی جاؤں۔ داہنی طرف علیحدہ کو، حامد خاں بیٹھے تھے، میری طرف انہوں نے نہیں دیکھا۔ ان کا دل جانتا ہوگا اور افضل بھائی نے ان سے باتیں شروع کر دیں۔\n\nیہ حامد خاں کون تھے؟ میں کیا عرض کروں۔ ذرا سوچئے۔ ساتھ کھیلے، پلے، بڑھے، ساتھ ہی پٹے۔ خود انہی افضل بھائی کے ہاتھوں مگر وقت گزرنے جو لگا تو پہلے بے تکلفی بتقاضائے عمر و جوانی دور ہوئی، پھر باتوں میں خاموشی اور تکلف پیدا ہوا۔ پھر والدہ صاحبہ کے سامنے سوائے علیک سلیک کے کچھ نہ رہ گیا۔ نظریں ملتیں تو خودبخود جھک جاتیں۔ پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھنا مارے شرم کے دل میں جرم معلوم ہونے لگا۔ حتی کہ اب یہ تھا کہ اِدھر حامد خاں کی آواز سنی نہیں کہ میں آہستہ سے سائے کی طرح اٹھ کر چلی گئی۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ والدہ صاحبہ نے یا والد صاحب نے کہا کہ آؤ، یا اب کی طرح آنے کا پتہ نہ چلا، تو فوراً ہی آہستہ سے اٹھ کر چلی گئی، اسے پردہ کہہ لیجیے۔ یہ سب جب سے ہوا جب سے طے ہوگیا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ہیں۔ حامد خاں سے ہمارا کچھ بھی رشتہ نہ تھا۔ رفیق کے چچا کے بیٹے بھائی تھے اور والد صاحب اور ان کے مرحوم سب ایک جدی تھے اور اس نسبت سے دونوں قریبی تھے۔\n\nمرتے وقت ان کے والد صاحب کے سپرد کیا اور قریبی رشتہ دار نہ ہونے کے باوجود ہماری ان کی جائیداد ایک مورثِ اعلیٰ ہونے کی وجہ سے ایک ہی تھی۔ حامد خاں کی والدہ بھی مر چکی تھیں اور کوئی بھائی بہن نہ تھا اور وہ اپنے باپ کی جائیداد کے تنہا وارث تھے۔ کچھ عرصے سے علیحدہ ہوئے تھے ورنہ ہمارے یہاں رہتے تھے، لیکن جب پڑھنے کا سلسلہ ہوا، باہر رہنے لگے۔ صرف چھٹیوں میں آتے اور زیادہ وقت چھٹیوں کا بھی باہر دوست احباب میں گزارتے یا سیر و شکار میں۔ ایسے کہ عرصے سے ہمارے یہاں سے علیحدہ تھے۔\n\nاب افضل بھائی کو دیکھیے۔ کر رہے ہیں چوطرفہ باتیں۔ بھلا حامد خاں کو کیا دلچسپی ہوسکتی ہے کہ فلاں کی شادی ہوگئی اور فلاں کی نہیں ہوئی۔ ان کو معلوم ہی تھا سب۔ پھر میری وجہ سے وہ بھی خاموش تھے۔ میں قدرے مڑی ہوئی بیٹھی تھی اور رفیق نے کہہ دیا کہ ’’اگر ذرا بھی اٹھی تو بس خیریت نہیں۔۔۔‘‘ میں جانتی تھی لہٰذا چپ۔ اور اِدھر بھائی افضل نے ایسی باتیں کرنی شروع کیں کہ خواہ مخواہ ہنسی آئے۔ انتہا یہ کہ حامد خاں کے لیے پیالی میں چائے ڈلوا رہے ہیں رفیق سے اور واللہ اعلم دماغ کہاں ہے۔ اب دماغی کیفیت بھائی افضل کی ملاحظہ ہوکہ رفیق سے پوچھتے ہیں، ’’اور۔۔۔ تیا نام تے۔۔۔ تیرا میاں ترتا تیا ہے۔۔۔؟ نوتر ہے نہیں۔‘‘ یہ کم بخت بغیر اٹھے ہوئے میرے دوپٹے کو دبائے چائے دانی سے چائے پیالی میں انڈیل رہی تھیں کہ افضل بھائی کا یہ دلچسپ سوال ہوا۔ حالانکہ اس کی شادی چھوڑ منگنی بھی نہیں ہوئی۔ اسے خود کو جوہنسی آئی تو چائے پیالی کی بجائے پرچ میں آئی اور چونک کے آپ فرماتے ہیں، ’’ارے۔۔۔ اندھی۔۔۔‘‘\n\nآپا حشمت کے حلق میں چائے کا پھندا پڑا۔ میرے منہ سے دبی زبان سے نکل گیا، ’’گھاس کھودتا ہے۔۔۔‘‘ مارے ہنسی کے برا حال تھا کہ آپ گھاس کو سمجھے گارڈ۔۔۔ کہنے لگے۔ ’’دارد ہے۔۔۔‘‘ بہن حشمت بولیں، ’’افضل بھائی تمہیں ہو کیا گیا ہے۔‘‘ مگر میری جان چھوٹی۔ خود رفیق گھبراکر ہنسی کو ضبط کر کے چلی اور میں اس کے پیچھے اور لپک کے ہم دونوں برابر کے کمرے میں۔ اور وہاں پہنچ کر جو ہم دونوں پر ہنسی کا دورہ پڑا ہے تو الامان۔ گھنٹہ بھر تک یہ حالت رہی کہ بھائی افضل کی طرف دیکھا تک نہیں جاتا تھا۔ ایک ہنسی کا سیلاب ہے کہ چلا آتا ہے۔ حتی کہ شام کی تفریح کا پروگرام بگڑ گیا۔ خود افضل بھائی کہنے لگے، ’’تیا لرتیاں ہیں۔ تھد تو تہتی ہیں ایت بات۔۔۔ پھر کوئی بات بھی ہو۔ اتی بری ہووئیں مدر عقل ندارد۔۔۔! تبھی تچھ تبھی تچھ!‘‘\n\nاسی روز رات کا ذکر ہے کہ معلوم ہوا کہ حامد خاں اپنی جائیداد کے جھگڑے میں آئے تھے اور آج والد صاحب سے کچھ ایسی باتیں ہوئیں کہ بدمزگی ہوگئی۔ جائیداد میں ان کا سوا پانچ آنہ حصہ ہوتا تھا۔ میرے ساتھ نسبت ہونے سے قبل وہ اپنا حصہ علیحدہ کر کے کھیت اور بٹوارہ اور اس پر قبضہ چاہتے تھے کہ یہ رشتہ قرار پایا اور کم بختی میری ملاحظہ ہو کہ ایک دفعہ جو یونہی ذکر آیا تھا، تو میں نے کہا تھا کہ میں جو ہوتی حامد خاں کی جگہ تو اپنا حصہ الگ کر کے علیحدہ رہتی۔ رفیق نے جاکر حامد خاں سے کہہ دیا۔ حامد خاں نے بھی سوچا کہ ہے تو ٹھیک اور انہوں نے نےسوچا کہ شادی سے پہلے ہی اپنی جائیداد کے مالک و مختار ہوکر علیحدہ ہو جانا ٹھیک ہے اور پھر اس کو وہ میری طرف سے اشارہ بھی سمجھے۔ در حالیکہ میرا کچھ مطلب نہ تھا۔ لیکن مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ رفیق نے ان سے جا کر یہ کہہ دیا کہ اب وہ اس میں میری خوشنودی کے متلاشی ہیں۔\n\nلیکن واقعہ یہ بھی ہے کہ والد صاحب ان پر ضرورت سے زیادہ نگرانی رکھتے تھے۔ یہ نہیں چاہتے تھے کہ جائیداد کے معاملہ میں ذرہ بھر بھی وہ دخل دیں۔ اکثر کاشتکار اور کرایہ دار حامد خاں سے بے جا طور پر شکایت کرتے مگر وہ کچھ دخل نہ دے سکتے۔ گویا ویسے بھی حامد خاں علیحدگی ہی چاہتے تھے۔ پھر کارندوں اور کار پردازوں کے بے جا مظالم یا سختیوں کے حامد خاں قطعی خلاف تھے اور ان کی بے ضابطہ حرکتوں سے نالاں تھے اور یہ کارندے حامد خاں کی مطلق پروا نہ کرتے تھے۔ والد صاحب کا جی چاہا جتنا روپیہ ہاتھ اٹھا کر دے دیا۔ اگر کسی کارندے کا جی چاہا اس نے کہہ دیا کہ روپیہ نہیں ہے۔ کیا کسی کی مجال کہ کاغذ دیکھ سکیں۔ ظاہر ہے کہ حامد خاں سے زیادہ ان کو کون عزیز تھا۔ بیٹے کی طرح وہ ان کی نگرانی فرض سمجھتے اور چاہتے یہ تھے کہ بیٹے ہی کی طرح شادی کے بعد بھی گھر پر ہی رہیں اور یہ تمنا کچھ بیجا نہ تھی۔ مگر صورت حال اب دوسری تھی۔ ابتدا یا انتہا اس کی یہ سمجھیے کہ حامد خاں کب سے مجھ سے اکیلے میں ملنے کا موقع ڈھونڈھ رہے تھے اور جیب میں کوٹھی کا نقشہ لیے پھرتے تھے۔ اِدھر مجھ کم بخت کو معلوم تک نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔\n\nافضل بھائی کے آنے سے ان کو موقع مل گیا اور تیسرے روز وہ موقع پاکر سیدھے باغ میں چلے آئے جہاں افضل بھائی بیڈمنٹن فرما کر ہم لوگوں کا ہنسی کے مارے برا حال کیے دے رہے تھے۔ میں ایک لمبی سی بنچ پر ایک ہاتھ باہر کی طرف رکھے بیٹھی تھی۔ پاس ہی بہن حشمت بیٹھی تھیں کہ پیچھے سے حامد آئے۔ یہ باغ کا وسیع احاطہ زنان خانے ہی میں تھا مگر دوسرا دروازہ باہر بھی تھا جو کھلا رہتا تھا۔ مگر کوئی یہاں نہیں آتا تھا۔ حامد خاں ادھر سے آگئے۔ میرا داہنا ہاتھ بنچ کے تکیہ پر اس طرح تھا کہ میں کروٹ سے بیٹھی تھی۔ پیچھے سے حامد خاں آئے اور کھڑے ہی کھڑے انہوں نے ایک رقعہ میرے ہاتھ میں چپکے سے دیا ایسے کہ میں چونک پڑی۔ ایک دم سے مڑ کر جو دیکھتی ہوں تو حامد خاں! حشمت آپا نے بھی مڑ کر دیکھا۔ میں نے گھبرا کر جھٹ سے رقعہ مٹھی میں بند کر لیا۔ حشمت آپا نے کہا، ’’آؤ۔۔۔‘‘\n\n’’نہیں نہیں۔۔۔ میں جا رہا ہوں۔‘‘ کہہ کر حامد خاں چلائے، ’’میں تو افضل بھائی سے ملنے آیا تھا۔۔۔‘‘ افضل بھائی چیختے رہ گئے۔ مگر حامد خاں نے کہا کہ ’’ابھی آتا ہوں۔‘‘ مگر وہ پھر نہ آئے۔ میں نے یہ رقعہ چھپا لیا۔ حامد خاں کا یہ پہلا خط تھا۔ میں نے پڑھا نہیں لیکن پڑھنے کے لیے بیتاب تھی۔ کچھ عجیب ہی طرح کا احساس تھا۔ مجھ سے نہ رہا گیا اور میں اٹھ کر چل دی، یہ کہہ کر کہ ابھی آئی۔ دوڑی ہوا کی طرح اور اپنے کمرے پر پہنچی۔ رقعے کو کھولا۔ بہت مختصر تھا۔ انگریزی میں تھا، مائی ڈیئر سلیم، کل شب کھانے سے قبل مجھ سے تم اسی جگہ ضرور مل لو۔ مجھے تم سے بے حد ضروری کام ہے۔ مجھے امید ہے کہ ناامید نہ کروگی۔ تمہارا حامد۔\n\nمیں نے فوراً طے کر لیا کہ ملوں گی اور ضرور ملوں گی۔ کیوں نہ ملوں۔ شام کی تفریح کے بعد اور کھانے سے قبل افضل بھائی والدہ صاحبہ کے پاس ہوتے ہیں یا اپنے کمرے میں اور میں اپنی طرف۔ یہی موقع ہو سکتا ہے۔ اس خط کو میں نے بار بار پڑھا۔ کس قدر سادہ اور دلکش تھا۔ ایک چچا ہیں۔ جب میں چھوٹی سی تھی تو انہوں نے مجھے چھیڑنے کو میرا نام سلمیٰ سے سلیم رکھ دیا۔ میں نے کہا میرا نام سلیم نہیں ہے مگر وہ مجھے سلیم کہتے تھے۔ یہ بات بالکل عارضی تھی مگر حامد خاں کو یاد تھی۔ جو انہوں نے سلیم لکھا۔ در اصل یہ بھی میرے گواہوں میں تھے کہ سلیم نہیں ہوں۔ مگر اس وقت انہوں نے خود سلیم لکھا تھا۔ کیا اس لفظ میں کچھ جذبات بھی پوشیدہ تھے؟ میں نہیں کہہ سکتی۔ لیکن میرے لیے اس ایک لفظ میں دفتر تھا۔ ایسا کہ میں دیر تک نہیں بلکہ رات گئے تک اور دن بھر اسی لفظ کے تخیل میں ڈوبی رہی۔ سوچتی اور دل ہی دل میں لفظ دہراتی ’’سلیم!‘‘ معلوم ہوتا کہ لبوں نے بھی اس لفظ کو دہرایا ہے۔ اس خط میں کچھ بھی نہ تھا۔ اگر تھا تو یہی لفظ سلیم جس نے اسے میرے لیے ایک دلچسپ خط بنا دیا۔\n\nکھانے سے کوئی آدھ گھنٹہ قبل میں نے اِدھر اُدھر دیکھا اور افضل بھائی والدہ صاحبہ کے ساتھ باتوں میں مشغول تھے اور مہمان کوئی تھا نہیں۔ میں تیزی سے اتر کر باغ میں چلی گئی۔ بیڈمنٹن کورٹ کے پاس لکڑی کی بنچ تھی۔ میں جا کر اس پر بیٹھ گئی۔ وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ باغ میں اندھیرا تھا مگر سڑک کی روشنی اورگھر کی بلند روشنی کی شعاعیں ایک عجیب نظارہ پیش کر رہی تھیں۔ میں دو منٹ ہی بیٹھی ہوں گی اور دل میں قدرے گھبراہٹ سی تھی، لمحے گھنٹہ معلوم ہوئے اور میں حیرت سے دروازے والی سمت کی روش پر نظر جمائے تھی کہ پشت کی طرف سے آہستہ سے دلکش لہجہ میں آواز آئی، ’’سلیم۔۔۔‘‘ میں اندھیرے میں کھڑی ہوگئی۔ یہ آواز تیرتی ہوئی روح میں گرمی سی پیدا کرتی چلی گئی۔\n\n’’السلام علیکم!‘‘ قریب آکر آہستہ سے کہا۔ میں کچھ نہ بولی تو پھر کہا۔ میں نے جواب دیا، ’’وعلیکم السلام۔‘‘ میں قطعی نہیں سمجھی تھی کہ میں اس قدر پریشان ہو جاؤں گی۔ شرم کے مارے ایسی حالت ہو جائے گی۔ نہ میں مصافحہ کر سکی، نہ باوجود اندھیرے کے سر اٹھا سکی۔\n\n’’لا حول و لا قوۃ۔‘‘ حامد خاں نے مصافحہ کے لیے ہاتھ پکڑ کر جھٹک کر کہا، ’’خدا کی قسم یہ کیا حماقت ہے۔‘‘ مجھے اتنی شرم آئی کہ بائیں ہاتھ سے میں نے آنکھ ملتے ہوئے ذرا مڑتے ہوئے کہا، ’’مجھے جانے دیجیے۔۔۔‘‘ اب ذرا صورت حال کی نزاکت پر غور کیجیے اور افضل بھائی کی ’’سیر کہسار‘‘ اور زندہ دلی پر ایک نہایت ہی سریلی آواز آتی ہے، قریب ہی سے، ’’اور ہم بادبان ہو۔۔۔ و۔ و۔ و۔ تے۔۔۔ اے۔ اے تو دُل۔۔۔ سن تو لتادے۔۔۔ تے۔‘‘ (اگر ہم باغ بان ہوتے تو گلشن کو لٹا دیتے۔ )\n\n(کسی کی آہٹ سن کر) ’’تون؟۔۔۔‘‘ خاموشی۔ حامد خاں تو اس دخل در معقولات سے گھبرائے لیکن میرے لیے ہنسی کا ضبط کرنا دشوار ہوگیا۔ افضل بھائی کو شبہ تھا کہ کوئی ہے۔ اس لیے اپنا مخصوص تحقیقاتی لفظ ’’تون‘‘ فرمایا تھا۔ مگر شبہ جاتا رہا تو فوراً الاپے، ’’اور ہم بادباں ہوتے۔۔۔‘‘ اندھیرے میں قریب ہی سے کسی جھاڑی میں سے رفیق نے جملہ پورا کیا، ’’تو کشتی میں بندھے ہوتے۔‘‘\n\nافضل بھائی کے منہ سے ایک عظیم الشان ’’تون‘‘ نکلا اور اندھیرے میں رفیق کی ہنسی کی آواز۔ میں بھی ضبط نہ کرسکی۔ چھڑا کر بھاگی اور ادھر حامد خاں جل بھن کر کوئلہ ہوکر لا حول بھیجتے ہوئے بھاگے کیونکہ ہنسی کے سبب ہنگامہ ہونے لگا۔ میں اسی چپقلش میں چاہتی تھی کہ چپکے سے نکل جاؤں مگر بھائی افضل نے برآمدے میں داخل ہوتے مجھے دیکھ لیا۔ کہنے لگے، ’’معلوم ہو دیا۔۔۔ تون ہے۔‘‘\n\nدوسرے روز صبح کا ذکر ہے۔ ناشتہ ہم دونوں بہنوں نے اپنے کمرے میں کیا۔ رفیق والدہ صاحبہ کے پاس چلی گئی، میں تنہا بیٹھی تھی کہ کمرے کا پردہ اٹھا اور بھائی افضل آگئے۔ میں نے ہنس کر کہا، ’’آئیے آئیے۔ بھائی آئیے۔‘‘ افضل بھائی نے محبت سے ہاتھ بڑھایا۔ میں نے گرمجوشی سے ہاتھ میں ہاتھ لے کر ان کو اصرار کر کے ایک نیچی سی گدی دار کرسی پر بٹھایا۔ افضل بھائی نے اپنے دلچسپ انداز میں باتیں شروع کردیں اور بہت جلد رات والے یعنی ’’بادبان‘‘ والے قصے کو شروع کر کے مجھے شوخ، شریر، چلبلی وغیرہ وغیرہ کہہ کر اول تو بڑی محبت سے مارنے کو کہہ کر میری گردن دبائی اور جب میں نے ہنس کر کہا کہ ’’افضل بھائی اب نہیں چھیڑوں گی۔‘‘ تو میری گردن چھوڑ کر ہلکے سے میرے گال پر محبت سے طمانچہ مارا۔ میں نے کندھے سے بچانے کی کوشش کی تو کہنے لگے، ’’تیرا بدن دَرَم ہے‘‘ یہ کہہ کر ہاتھ میری پیشانی پر رکھا۔ میں نے سوکھا منہ بنا کر کہا، ’’بخار ہے‘‘ اور ہاتھ پیش کیا۔ افضل بھائی نے میری نبض دیکھی۔ بولے، ’’چل جھوتی۔‘‘ یہ کہہ کر پھر ماتھے کو میرے دیکھا۔ میں نے ہنس کر کہا، ’’افضل بھائی مجھے ٹھنڈا بخار ہے۔‘‘\n\n’’تھندا بتھار!‘‘ تعجب کے لہجہ میں افضل بھائی نے کہا۔ مجھ سے ہنسی ضبط نہ ہوئی تو آپ نےپھر میرے گال پر طمانچہ مارا۔ میں نےافضل بھائی کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور ان کا چہرہ دیکھ کر میرے تعجب کی انتہا نہ رہی! مجھے کچھ شبہ سا ہوا۔ بیان نہیں کر سکتی۔ کچھ پریشان سی ہوگئی اور بیٹھ گئی۔ افضل بھائی نے آہستہ سے کہا، ’’سلمیٰ۔۔۔‘‘ میرا ہاتھ گرمجوشی سے اپنے ہاتھ میں لیا اور۔۔۔ خدا کی پناہ! یہ واقعہ تھا کہ انہوں نے ایک زریں تجویز پیش کردی یعنی یہ کہ ان کو مجھ سے محبت ہے، بقول ان کے سچی محبت ہے۔ میرے ہوش جاتے رہے۔ افضل بھائی مجھ سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔\n\nپہلے تو میں صدمے کے سبب سے کچل کر رہ گئی۔ ذرا امکان پر جو غور کیا تو ایک زریں پہلو نظر آیا تو عرض نہیں کر سکتی کہ کس طرح صدمہ جاتا رہا۔ خوش قسمت ہوگی وہ لڑکی جس سے افضل بھائی کی شادی ہو۔ بھلا ایسا مشغلہ کبھی ہاتھ آتا ہے۔ اس تجویز کی نوعیت اور حماقت پر غور نہ کرنا ہی ستم ہو گیا۔ سب شرم و حجاب جاتا رہا۔ ہنسی کی سوجھی۔ میں نے کہا، ’’افضل بھائی آپ مجھ سے شادی کریں گے! مجھے منظور ہے مگر ایک شرط پر۔‘‘\n\nیہ کہا ہی تھا کہ رفیق نے پردہ اٹھاکر جھانکا۔ افضل بھائی فوراً بولے، ’’تون؟‘‘ اور میں نے جملہ پورا کیا، ’’وہ شرط یہ کہ اس مردی سے بھی کرنا پڑے گی۔‘‘ میں نے رفیق کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ رفیق اندر آئی۔ اس نے کہا، ’’اور کیا۔۔۔؟‘‘ اب نہ پوچھئے افضل بھائی کا حال۔ سخت گھبرائے۔ پھر میں بھلا ماننے والی تھی۔ میں نے کہا، ’’کم بخت۔ افضل بھائی سے شادی کرتی ہے۔۔۔؟‘‘ رفیق نے واقعی بگڑ کر کہا، ’’کیا بدتمیزی ہے۔۔۔‘‘ افضل بھائی پھٹ پڑے، ’’چپ چپ۔۔۔ تھبردار۔۔۔ اچھا تو میں جاتا ہوں۔۔۔ بات سنو۔‘‘ میں نے یہ بات سنی کہ مجھے خاموش رہنا چاہیے۔ میں نے کہا، ’’میں خاموش تو رہوں گی مگر۔۔۔‘‘\n\nاتنا ہی کہا تھا کہ افضل بھائی بھاگ گئے۔ میں نے رفیق سے جو کہا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ پہلے تو یقین نہ کیا۔ لیکن جب پوری بات سنی تو اس نے کہا، ’’مرن جوگنی۔ اس خبر کو اپنے ہی تک رکھیو۔ نہیں یاد رکھ ایک انار اور سو بیمار والا معاملہ ہوجائے گا۔ تجھ میں کیا لال لگے ہیں۔‘‘ اس کے بعد جو غور کیا تو واقعی ہم دونوں کو بہت رنج پہنچا۔ افضل بھائی سے ہمیں ایسی توقع نہیں تھی۔ انہوں نے ایسی بدتمیزی اور بیہودگی کی ہے جس کو ہمارے لیے برداشت کرنا دشوار تھا۔ اس سے ہمیں روحانی تکلیف پہنچی۔ ایسا معلوم ہوا کہ جیسے کوئی اپنا پیارا مر گیا۔ سوال یہ تھا کہ اب کیا کیا جائے۔ بہت سوچا۔ ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر تدبیر سوچی۔\n\nبالآخر ایک نہایت ہی قابل اعتراض تدبیر ذہن میں آئی۔ یہ سوچتے ہوئے کہ لڑکیوں کو ایسے نہیں کرنا چاہیے اور انتہا سے زیادہ بے شرمی اور بے حیائی ہوگی۔ لیکن سوال یہ تھا کہ ہم تو یہی چاہتے تھے کہ افضل بھائی ہمارے بارے میں سوا اس کے کوئی دوسری رائے نہ قائم کریں۔ لہٰذا ہم دونوں نے سوچ لیا کہ خواہ کچھ ہو ہم دونوں چل کر افضل بھائی سےکیوں نہ کہیں کہ شادی ہم سے کرنا پڑے گی۔ ہمارے حقوق آپ پر زیادہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ سوچنے اور کرنے میں فرق ہے۔ مگر نہیں۔ ہمیں کرنا تھا۔ چنانچہ ہم دونوں نے پہنچ کر افضل بھائی کو گھیر کر ان کو جتا دیا۔ رفیق نے کہا کہ ’’پہلا حق میرا ہے اور مجھ سے شادی کرنا پڑے گی اور اس چڑیل سے مت کیجیے گا۔‘‘ میں نے کہا، ’’اس مردی سے بھول کر شادی نہ کیجیے گا۔ روٹی پکانا یہ نہیں جانتی۔ کام چور الگ ہے اور کیا فائدہ جو ناک چوٹی کاٹ کر اسے نکالنا پڑے۔‘‘ اور پھر میں نے زور دے کر کہا، ’’میں آپ کو روزانہ میٹھے ٹکڑے پکا کر کھلاؤں گی۔‘‘\n\nرفیق نے کہا، ’’جھوٹی چڑیل کہیں کی، سب خود کھا جائے گی۔۔۔ آپ اس کی باتوں میں نہ آئیے گا۔‘‘ افضل بھائی کے ہوش اڑ گئے۔ رفیق نے وہ ملامت کی ہے کہ توبہ ہی بھلی۔ ’’میں نہیں سمجھتی تھی کہ آپ مجھے اس لائق نہ سمجھیں گے اور اس مردی پر عاشق ہو جائیں گے۔ صورت نہ شکل۔ بھاڑ میں سے نکل۔ پھوہڑ یا کہیں کی۔ جہاں جائے گی مار جوتیاں نکالی جائے گی، بڑی آئی وہاں سے۔‘‘ افضل بھائی بچے نہ تھے۔ ان کے ہوش جاتے رہے۔ اٹھ کر بھاگنے جو لگے تو میں نے ہاتھ پکڑا لیکن اماں جان کی آواز جو آئی تو ہم نے چھوڑ دیا۔ ہم دونوں اپنے کمرہ میں آئے۔ ہنسنے کی کوشش کی مگر بجائے ہنسی کے غصہ اور رنج تھا۔ رفیق اپنے گھر جانے والی تھی۔ مگر اس وقت رک گئی اور ہم دونوں نے تہیہ کر لیا اور اس بیہودہ افضل بھائی سے اب نہ ملیں گے۔ شام کو رفیق چلی گئی۔\n\nشام کا ذکر ہے کہ گھر میں ایک اضطراب و ہیجان کی صورت پیش ہو گئی۔ والد صاحب بار بار کہہ رہے تھے ’’بڑے شرم کی بات ہے۔‘‘ عجلت اور پریشانی سے ٹہل رہے تھے۔ میں کچھ نہ سمجھ سکی سوا اس کے کہ حامد خاں کا معاملہ ہے۔ اسی وجہ سےمیں چپ رہی۔ مگر میرے دل کو فکر لگ گئی۔ ابا جان امی جان کو لے کر علیحدہ باغ کی طرف والے برآمدہ میں گئے۔ افضل بھائی اپنے کمرے میں بند تھے اور میں چپکے سے غسل خانے میں پہنچ کر لگی کان لگا کر باتیں سننے۔ جو کچھ بھی میں نے سنا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ’’بڑی شرم کی بات ہے!‘‘ کیونکہ حامد خاں دو دن سے تقسیم جائیداد کے لیے جھگڑ رہے تھے جس کا نتیجہ آج یہ نکلا کہ ان کے وکیل کانوٹس آیا ہے کہ تین یوم کے اندر اندر حساب فہمی کرکے چپے چپے کا بٹوارہ کر دو۔ بڑے شرم کی بات ہے۔\n\nذرا غور فرمائیے کہ ایک شخص بیٹے کی طرح ایک لڑکے کو پرورش کرتا ہے۔ اس کی جائیداد اپنی جائیداد سمجھ کر دیکھتا بھالتا ہے۔ حد یہ کہ اپنی بیٹی دینا منظور کر لیتا ہے اور لڑکے کی بدتمیزی ملاحظہ ہو کہ اس محسن کے احسانات کو تسلیم کر کے کہتا ہے کہ ’’اکبر کے ساتھ جو بیرم خاں نے کیا۔ اس سے انکار نہیں مگر اس کے یہ معنی تو نہیں کہ بجائے اکبر کے دلی کے تخت کے مالک خانخاناں رہیں۔ غضب ہے خدا کا۔‘‘ والد صاحب نے کہا، ’’اس بدتمیز چھوکرے نے میرا نام بیرم خان رکھ دیا۔ لوگوں سے کہتا ہے کہ میں بیرم خاں ہوں!‘‘\n\nنتیجہ ظاہر ہے، ’’ہم اپنی لڑکی ایسے سرکش لڑکے کو کیوں دیں!‘‘\n\nیہ الفاظ کتنے تکلیف دہ تھے۔ مجھے تسلیم ہے کہ حامد خاں نے بدتمیزی کی۔ مگر۔۔۔ میں کیا کہہ سکتی تھی کیونکہ واقعی ’’بڑے شرم کی بات تھی۔‘‘ سوال اب یہ تھا کہ ہم اپنی لڑکی کیوں دیں؟ ظاہراً کوئی وجہ نہیں تھی اور والد صاحب نے بھی پوری زمیندارانہ شان کے ساتھ طے کر لیا کہ حامد خاں کو اس محسن کشی کا صلہ اچھی طرح دیں گے۔ زمینداروں کی آپس کی لڑائی اور مقدمہ بازی کے نتیجوں سے میں خوب واقف تھی۔ زیادتی تھوڑی بہت والد صاحب کی بھی تھی۔ کوئی وجہ نہیں کہ روپیہ جو حامد خاں کا امانت ہے کیوں نہ حامد خاں کے حوالے ہو۔\n\nایک خود مختار نوجوان پیسے پیسے کے لیے ہاتھ پھیلائے۔ مقررہ مہینے تک یکمشت نہ ملے۔ ضرورت اب ہے اور بنک سے نکال کر دینے کے بجائے انتظار ہے کہ گاؤں سے رقم آئے، جب ملے۔ کارندوں کے پاس رقعہ لیے دوڑ رہے ہیں اور روپیہ نہیں ملتا۔ حد ہوگئی۔ حامد خاں کہتے ہیں کہ مجھے مقررہ رقم مہینے کے مہینے دے دیجیے مگر ناممکن۔ قسطیں کر کے ملتی ہے۔ یہ سب کیوں؟ محض حامد خاں کے فائدے کے لیے۔ میں سن کر جلدی سے اپنے کمرہ میں چلی آئی اور گھنٹوں اسی فکر میں رہی۔ افضل بھائی دوسرے ہی روز چلے گئے، اپنی شادی کا میرے ساتھ طے کر کے اس شرط پر کہ اپنی کل جائیداد مہر میں دے دیں گے۔ مگر اس کا کسی کو علم نہیں ہوا۔\n\nاب قصے کو بیچ سے چھوڑ کر مختصر کرتی ہوں۔ مقدمہ بازی شباب پر پہنچی۔ ادھر ابا جان نے روپیہ بند کر دیا اور ادھر کاشتکاروں نے انکار کر دیا۔ دوران مقدمہ خرچہ ملنے کے معاملے کو وکیلوں نے دھکیل دھکیل کر التوا میں ڈالا۔ نتیجہ یہ حامد خاں جل کر دیہات پہنچے، وہاں کاشتکاروں نے گستاخی کی۔ حامد خاں نے مارا تو ابا جان نے فوجداری کا مقدمہ کاشتکاروں سے چلوا دیا اور مقدموں سے مقدمے پیدا ہونے کی بنیاد پڑی۔ حامد خاں نے بھلا یہ زکیں کب اٹھائی تھیں۔ مارے غصے کے دیوانے ہوگئے اور اسی دوران میں ان کو اور ان کو کیا، سب کو یہ معلوم ہوا کہ میری شادی افضل بھائی سے ہوگی۔ میرے اوپر تو گویا بجلی گری۔ افضل بھائی نہ تو غریب تھے نہ بدصورت تھے مگر بخدا افضل بھائی تھے۔ میرے ہوش ٹھکانے نہ رہے، ماں باپ کی اکلوتی لڑکی۔ جس کے ساتھ شادی ٹھہری وہ بھی اکیلا۔ دونوں مل کر رئیسوں کے رئیس ہو جائیں۔ ساتھ کے کھیلے ہوئے، ایک دوسرے سے واقف۔ یہ تو ستم سا معلوم ہوا۔ مگر میں کیا کر سکتی تھی، دیوانی ہوئی جاتی تھی جب ان جھگڑوں پر غور کرتی تھی۔\n\nکئی دفعہ سوچا کہ حامد خاں کو خط لکھوں۔ مگر کیا لکھوں؟ بارہا کوشش کی مگر بیکار۔ حتی کہ ادھر تو یہ خبر آئی کہ حامد خاں ایک آزاد خیال عیسائی افسر کی لڑکی کے ساتھ موٹروں پر دوڑے پھرتے ہیں اور عجیب نہیں کہ نکاح کر لیں گے اور ادھر افضل بھائی کے یہاں سے منگنی کے تحائف وغیرہ بھی آگئے اور اعلان بھی کر دیا گیا۔ طے یہ پایا کہ ڈیڑھ مہینے بعد شادی! کیا یہ ممکن تھا۔ میں بغاوت پر آمادہ ہوگئی مگر کیا کر سکتی تھی۔ شریف گھرانے کی لڑکی تھی، ’’بڑے شرم کی بات‘‘ ہوتی۔ اب والدین بیچاروں کی کیا خطا۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ افضل ایسا لڑکا ہے کہ کسی لڑکی کو ناپسند ہی نہیں ہو سکتا۔ سب پسند کرتی ہیں، وہ ہے بھی ایسا۔ بڑا بھولا (یعنی احمق؟) لڑکیاں تو اس پر سب فدا ہیں۔ جب میں نے دیکھا کہ اب کوئی چارہ نہیں تو میں نے ہمت کر کے ایک خط حامد خاں کو لکھا،\n\nجناب خان صاحب! السلام علیکم۔ ’’بڑے شرم کی بات ہے‘‘ کہ آپ نے نہ تو ابا جان کا خیال کیا اور نہ میرا۔ میں آپ کے ساتھ کھیلی ہوئی تھی اور کچھ نہیں تو ساتھ کھیلے کے پاس کے سبب میرا بھی کچھ آپ پر حق تھا۔ مگر ’’بڑے شرم کی بات ہے‘‘ کہ نہ تو آپ کو اپنی بات کا پاس ہے اور نہ میری بات کا پاس ہے۔ کیا یہ آپ کی مقدمہ بازی کسی طرح بھی میرے لیے مفید ہوسکتی ہے؟آپ کی سلمیٰ۔\n\nاس کا جواب آیا، ڈیئر سلیم۔ تمہارا خط مجھ کو ملا۔ بہتر ہے کہ زخموں کو یونہی رہنے دو۔ چچا صاحب سے میری صلح ناممکن۔ خواہ مر جاؤں مگر صلح ناممکن۔ تم مجھے بدستور عزیز ہو اور مجھے الزام دینا بے کار ہے۔ خطا میری مگر غلطی چچا صاحب کی ہے۔ مگر کیا ہوا۔ بقول کسی کے خدا کی مصلحت سے کون واقف ہے۔ اس میں بھی کوئی بہتری تھی اور ہے۔ خدا مبارک کرے۔ تمہارا بہی خواہ حامد۔\n\nمیں نے یہ خط دیکھا تو عرض نہیں کر سکتی۔ جان ہی تو میری جل گئی۔ صدمہ کم اور غصہ زیادہ آیا۔ میں نے بھی حسب ذیل خط لکھ مارا، جناب من! آپ کا گرامی نامہ ملا۔ ’’بڑے شرم کی بات ہے‘‘ کہ آپ ایسی ناشائستہ بات ایک بیچاری لڑکی کو لکھتے ہیں۔ معاف کیجیے گا میری بے شرمی کو، کیا نوجوانوں کا یہی شیوہ ہے۔ آپ کو شرم نہ آئی لکھتے کسی کو؟ اپنی ساتھ کھیلی اور اپنی منسوبہ کو یہ لکھتے ہیں کہ مبارک ہو۔ کاش آپ زندہ نہ ہوتے۔ کوئی غیور نوجوان اس کو گوارا کر سکتا ہے۔ کیا اس ذلت کو گوارا کر سکتا ہے جس کے آپ اہل ثابت ہوئے۔ کاش کہ مجھے موت آ جاتی۔ قبل اس کے کہ میں اس شخص کا دل آزار خط پڑھوں جو میرے خیالات کا مرکز رہ چکا ہو۔ مجھ سے زیادہ بدقسمت لڑکی غالباً کوئی نہیں ہوگی۔ مجھے سرد مہری کی شکایت اتنی نہیں ہوئی جتنی یہ معلوم کر کے کہ آپ کی حمیت کیا ہوئی۔ کاش کہ مجھ کو موت آجائے۔ آپ کی خیر اندیش۔\n\nاس کا جواب ایک پھٹے ہوئے کاغذ پر بغیر آداب و القاب کے آیا، ’’یہ تو ٹھیک ہے۔ مگر میں کر ہی کیا سکتا ہوں۔ مجھے خود افسوس ہے۔ کسی کی جان تو لینے سے رہا۔ فولاد جھک نہیں سکتا۔ میں خود عاجز ہوں۔‘‘\n\nمیں نے اس کا جواب دیا، خاں صاحب! السلام علیکم۔ فولاد نہ جھکے مگر ٹوٹ سکتا ہے اور رہ گئے لاچار اور بیچارے جو کچھ نہیں کر سکتے۔ بہتر ہے کہ وہ نوجوان لڑکیوں کے خیالوں کی بستی کو ویران رہنے دیں۔ ’’بڑے شرم کی بات ہے۔‘‘ حیف ہے کہ ایک غیور نوجوان عذر خواہاں اچھی جانتا ہے۔ کاش میں تمہاری جگہ ہوتی اور تم میری جگہ۔ تب غالباً کچھ بتا سکتی۔ خیر غالباً میری موت کی خبر تسکین کا باعث ہوگی۔ غلطی ہوئی۔ اب نہ لکھوں گی، خدا حافظ۔ خاکسار سلمیٰ۔\n\nاس خط کو لکھنے کے بعد ہر ممکن صورت سے میں نے اپنی رضامندی کا اظہار والدین سے کروا دیا تھا۔ مگر اس کی اہمیت کیا تھی میں خاموش تھی۔ کیا غل مچانے لگتی۔ میں عجیب مایوسی کے عالم میں تھی۔ سوچتی تھی کہ حامد خاں کر بھی کیا سکتے ہیں۔ وہ اور بات ہے کہ میں ان کی جگہ ہوتی تو کہہ نہیں سکتی کیا کرتی۔ مگر یہ طے ہے کہ یہ صورت ہرگز نہ پیش آتی۔ خواہ کچھ ہوجاتا۔ میں اسی شش و پنج میں تھی کہ حامد خاں کا پھر ایک مختصر سا پرزہ آیا، ’’آپ نے اپنے ایک گزشتہ خط میں لکھا تھا کہ آپ کے خیالات کا مرکز رہ چکا ہوں۔ براہ کرم مطلع فرمائیں اب کون ہے؟‘‘ میری زبان سے یہ جملہ پڑھتے ہی نکل گیا، ’’تم۔‘‘ اور یہی میں نے خط کے حاشیہ پر لکھ دیا اور واقعہ بھی یہی تھا۔ یہ خط و کتابت اس طرح ہوتی تھی کہ پہلا خط جو میں نے بھیجا تھا۔ اس کا جواب باغ کی دیوار پر اینٹ سے دبا دینا اور اسی جگہ میں خط رکھ دیتی تھی۔ اس خط کا جواب آیا،\n\nمائی ڈیئر سلیم۔ تم میری ہو اور اب دیکھنا ہے کہ کس میں ہمت ہے جو مجھے روک سکے۔ میں کل ہی چچا صاحب کو الٹی میٹم دیتا ہوں۔ اگر نامنظور ہو تو بہتر ہے کہ رات کو باغ کے کمپاؤنڈ والا دروازہ کھول دینا اور باغ کی طرف کے غسل خانے کا دروازہ بھی کھول دینا۔ بولو کھول دوگی؟ اگر ہاں تو ابھی جواب لکھ دو۔ فقط۔ میں نے اسی خط کےحاشیہ پر لکھ دیا۔ ’’دروازہ کھول دوں گی مگر یہ تو بتاؤ کہ کہاں ملوگے؟ جواب جلد دیجیے۔‘‘ صرف آپ کی سلمیٰ۔\n\nدوسرے روز کا ذکر ہے کہ حامد خاں نے اپنے وکیل کو اور دو دوستوں کو بھیجا کہ شادی کی تاریخ مقرر کریں۔ نیز یہ کہ میری شادی دوسری جگہ ناممکن ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ یعنی والد صاحب نے ان پیغامبروں کو بغیر پٹوائے نکالا۔ میں نے حسب وعدہ رات کو کھانا کھانے کے بعد باغ کا دروازہ کھول دیا اور غسل خانے کا دروازہ کھول دیا۔ رات گئے بلکہ ایک بجے رات تک نظر جمائے دیکھتی رہی۔ مگر کچھ پتہ نہ چلا نہ جواب آیا۔ رات کے ایک بجے بعد میں سوگئی۔ سردی کا زمانہ تھا۔ ایک چھوٹا سا لیمپ میرے کمرہ میں جل رہا تھا اور میں غافل پڑی سو رہی تھی۔ کروٹ سے سوتی تھی کہ میری آنکھ کھلی۔ حامد نے میری پیشانی پر ہاتھ رکھ کر میرا منہ چوم لیا اور میں اٹھ بیٹھی۔ میرے حواس باختہ ہوگئے۔ جلدی سے میں نے دوپٹہ اوڑھا۔\n\n’’یہ کیا؟‘‘ میں نے برا مانتے ہوئے کہا، ’’بڑے شرم کی بات ہے۔‘‘ میں نے تیوری پر بل ڈال کر سختی سے کہا۔\n\n’’جلدی چلو۔‘‘ حامد خاں نے کہا۔\n\n’’کہاں؟‘‘ میں نے پوچھا۔\n\nوہ بولے، ’’موٹر پر۔ موٹر تیار ہے۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’بڑے شرم کی بات ہے۔ غالباً آپ شریف ہیں۔‘‘\n\nحامد خاں نے کہا، ’’غالباً آپ کو چلنا پڑے گا۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’ناممکن۔ بہتر ہے کہ آپ چلے جائیں۔‘‘\n\nحامد خاں نے کہا، ’’بہتر ہے آپ چلی چلیں۔ ورنہ۔۔۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’ورنہ کیا۔۔۔؟‘‘\n\nحامد خاں نے کہا، ’’پھر تم نے غلط لکھ دیا۔ تمہارے خیالوں کا مرکز کون۔۔۔‘‘ میں نے شرم سے سر جھکا لیا۔\n\nحامد خاں نے ہاتھ جھٹک کر کہا، ’’بولو۔ بولو۔۔۔‘‘ میں نے کہا دبی زبان سے، ’’تم۔‘‘\n\nحامد خاں نے کہا، ’’بخدا میں تم کو ابھی لے جاؤں گا۔ چلو۔۔۔‘‘ میں نے ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا، ’’خدا کے واسطے جائیے۔ بڑے شرم کی بات ہے۔۔۔‘‘\n\nحامد خاں نے جملہ پورا کیا کہ ’’میری پیاری بیوی کو کوئی اور لے جائے! ناممکن۔‘‘ یہ کہہ کر مجھے پھول کی طرح اٹھا لیا اور ملازمہ کی آواز دالان سے آئی، ’’کون؟‘‘ میرے منہ سے چیخ نکل گئی۔ خدا کی پناہ! ملازمہ نے گھر سر پر اٹھا لیا تو چل میں چل۔ مگر حامد خاں کے ساتھ تیرہ چودہ مسلح آدمی تھے۔ دم کے دم میں بھاگڑ مچ گئی، چیخوں سے کوٹھی گونج اٹھی۔ دوفیر ہوئے سب کے سب ڈر گئے۔ والد صاحب کے کمرے میں اور جگہ جگہ نوکروں کے سر پر پستول لیے ساتھی کھڑے تھے۔ پستول کی آواز جو ہوئی تو نوکروں نے اپنی اپنی کوٹھریوں کو بند کرکے چیخنا شروع کیا۔ اس دوران میں حامد خاں مجھے لے اڑے۔ باوجود یکہ میں خوب چیخی، تڑپی، چلائی۔ مگر توبہ کیجیے کون چھوڑتا تھا۔ چشم زدن میں موٹر میں ڈال کر جو لے کے مجھے چلے ہیں تو اپنے ایک دوست کے یہاں بارہ میل پر پہنچے۔ یہ ایک قصبہ اور ریلوے اسٹیشن تھا۔ یہاں قاضی وغیرہ سب موجود تھے۔\n\nصبح چار بجے تھے۔ میں روتی جاتی تھی اور کہتی تھی، ’’بڑے شرم کی بات ہے۔‘‘ مگر نکاح تو ہونا ہی تھا۔ نکاح کا رجسٹر آیا تو میں نے دستخطوں سے انکار کر دیا۔ جب حامد خاں نے میرے پیر پکڑ لیے اور کہا، ’’ظالم۔ کیا بغیر نکاح کے رہنا ہے۔‘‘ میں نے دستخط کردیے۔ حامد خاں اسی وقت مجھے واپس اپنے گھر لے آئے۔ شہر میں تہلکہ بپا تھا۔ میں رو رہی تھی۔ ’’بڑے شرم کی بات ہے کہ مجھے حامد خاں اس طرح پکڑ لائے۔‘‘\n\nکوئی بارہ بجے گھر پر مجسٹریٹ اور مسلح سپاہی اور ابا جان آگئے۔ حامد خاں نے کہا کہ میں برضا و رغبت آئی ہوں۔ مجسٹریٹ نے بیانات لینے کو کہا۔ ایک بند کمرہ میں مجسٹریٹ نے بیان لیے۔ والد صاحب موجود تھے۔ خود سوچیے۔ میں کیا بیان دیتی۔ میں نے سچ سچ بیان دے دیے، وہ یہ کہ حامد خاں مجھے جبراً گھر سے اٹھا لائے، زبردستی مجھ سے نکاح کر لیا۔ مجسٹریٹ نے حکم دیا کہ میں والد صاحب کے ساتھ جا سکتی ہوں۔ والد صاحب نے مجھے ساتھ لیا اور ادھر حامد خاں پولیس حراست میں آگئے۔ گھر پر والد صاحب اور والدہ صاحبہ نے ساری کیفیت پوچھی۔ میں نے سب بتا دیا رو رو کر۔ یہ کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ دروازے کس نے کھولے۔ پولیس والوں نے ملازموں کو شبے میں کھینچا مگر بیکار تھا۔ لہٰذا پھر رہنے دیا۔\n\nقصہ کو بہت مختصر کرتی ہوں۔ حامد خاں کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ میں نہیں بیان کرسکتی کہ میرے لیے کیا مصیبت تھی۔ والد صاحب حامد خاں کی تباہی کے درپے تھے۔ میری عقل کام نہ کرتی تھی کہ کیا کروں۔ حامد خاں کا عذر یہ تھا کہ وہ مجھے برضا و رغبت لائے۔ مقدمے میں عمر کا سوال اٹھایا گیا۔ والد صاحب نے حتی الوسع پوری کوشش کی کہ میری عمر سولہ سے کم قرار دی جائے مگر سترہ سے اوپر قرار دی گئی اور اب سوال محض اس کا رہا کہ آیا مجھے زبردستی لے گئے یا برضا و رغبت گئی۔ والد صاحب کو حقیقت نہیں معلوم تھی۔ ورنہ وہ مقدمے میں اس قدر انہماک نہ لیتے۔ ان کو نہیں معلوم تھا کہ حامد خاں کے قبضے میں میرے ایسے خطوط ہیں جن سے بخوبی ثابت ہو سکتا ہے کہ میں راضی خوشی گئی اور ادھر میرا یہ حال کہ مقدمے کے خیال سے روح کانپتی تھی۔\n\nیہی خیال آتا کہ الٰہی جب میرے خطوط پیش ہوں گے تب کیا ہوگا۔ والدین اور دنیا کو کیا منہ دکھاؤں گی۔ اور پھر یہ کہ اس مقدمے بازی کا کیا نتیجہ ہوگا۔ والد صاحب مقدمے میں ایسی دلچسپی لیتے تھے کہ اندازہ ناممکن ہے۔ وکیلوں کو لا کر میرے بیان سنوائے گئے۔ قلمبند کیے گئے۔ اور پھر مجھ سے جرح کے سوال کر کر کے پختہ کیا گیا۔ مجھے بتایا گیا کہ مخالف وکیل جب میں یہ کہوں گی تب کیا سوال کرے گا اور مجھے کیا جواب دینا چاہیے۔ آخر وہ تاریخ آئی کہ میرے بیانات قلمبند ہوں۔ میں نے حامد خاں کو خط لکھنے کا کئی مرتبہ ارادہ کیا مگر ہمت نہ پڑی۔ حتی کہ تاریخ آگئی اور وقت آگیا۔ والد صاحب نے بڑے اعلیٰ پیمانے پر مجسٹریٹ اور وکلاء کے لیے پان شربت کا انتظام کیا اور مجھے بیانات کے لیے پختہ کر دیا۔\n\nکوئی ایک بجے حاکم اور وکیل آگئے۔ مجسٹریٹ کی کرسی کے قریب ہی کر مچ کا پردہ رکھوا دیا گیا اور ایک کرسی ڈال دی گئی۔ میں اس پر آکر بیٹھی۔ آزمائش سخت تھی۔ حامد خاں اور ان کا وکیل آگے بڑھا، میں نے حامد خاں کو دیکھ کر نظر نیچی کرلی۔ مجسٹریٹ نے مجھے حلف دیا اور نام پوچھا۔ نام میں جب یہ سوال آیا کہ بنت لکھا جائے تو حامد خاں کے وکیل نے زوجیت کا سوال اٹھا دیا کہ مجھے زوجہ حامد خاں لکھا جائے۔ اس پر وکیلوں میں خوب بحث اور رد و قدح ہوئی۔ آخر کو زوجہ نہیں لکھا گیا۔ پھر حامد خاں کے وکیل نے سوال اٹھایا کہ والد صاحب کو علیحدہ کیا جائے۔ یہ بھی سوال رد کر دیا گیا۔ میرے بیان ہوئے اور میں نے من و عن جیسے بیان بتائے گئے تھے، دے دیے۔ یعنی یہ کہ مجھے حامد خاں زبردستی اور مرضی کے خلاف پکڑ کر لے گئے۔ زبردستی اور دھمکیاں دے کر مجھ سے نکاح کے رجسٹر پر دستخط کرائے۔ میں نے ڈر کے سبب بوقت نکاح گواہوں اور قاضی سے رضامندی ظاہر کی وغیرہ وغیرہ۔\n\nاس کے بعد حامد خاں کا وکیل جرح کے لیے آگے بڑھا۔ اس نے پوچھا اور میں نے جواب دیے کہ میں نے حامد خاں کو کبھی کوئی خط نہیں لکھے۔ میں کسی طرح نہیں لکھ سکتی تھی۔ میں نے کبھی نہیں چاہا کہ مجھے حامد خاں زبردستی لے جائیں۔ نہ میں نے کبھی ایسا لکھا۔ میں نے دروازہ کبھی نہیں کھولا۔ میں نے حامد خاں کو کبھی نہیں بلایا کہ مجھے لے جائیں۔ اس کے بعد ہی حامد خاں کے وکیل نے میرے خطوط کا پلندہ اپنی جیب سے نکالا۔ میں دیکھ کر لرز گئی۔ وکیل نے بڑھ کر میرے ہاتھ میں ایک رقعہ دیا۔ والد صاحب نے بڑھ کر دیکھنا چاہا تو حامد خاں کے وکیل نے اعتراض کر دیا اور والد صاحب روک دیے گئے۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے رقعہ لیا۔ یہ وہ خط تھا جس میں حامد خاں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ ’’تمہارے خیالوں کا مرکز کون؟‘‘ اور میں نے جواب دیا تھا کہ ’’تم۔‘‘\n\nحامد خاں کے وکیل نے کہا، ’’دیکھیے۔ جتنا سوال پوچھا جائے اتنا ہی جواب دیجیے گا۔ جب تک نام نہ پوچھا جائے۔ مت بتائیے گا اور یہ کاغذ کا پرزہ مجھے ہی واپس دیجیے گا۔۔۔‘‘ میرے لیے وقت سخت تھا اور حامد خاں کی اور میری نظریں چار ہوئیں تو میں نے نظر بچا کر ان کے آگے ہاتھ جوڑے۔ حامد خاں پر ایک بجلی سی گری۔ ایسی کہ وہ ہل گئے۔ اپنے وکیل کے ہاتھ سے خط لے لیے۔ بغیر عدالت کے پوچھے آہستہ سے میری طرف بڑھے اور رقعہ واپس مانگتے ہوئے بھوؤں کی جنبش سے رقعے کی طرف اشارہ کر کے آہستہ سے کہا، ’’کون؟‘‘ یعنی تمہارے خیالوں کا مرکز اب کون ہے؟ میں نے ایک نظر بھر کر ان کو دیکھا۔ گردن نیچی کرلی اور میرے لبوں کو جنبش ہوئی، ’’تم۔‘‘\n\nحامد خاں نے خطوط اپنی جیب میں رکھے اور اپنے وکیل کو اشارہ کیا۔ وکیل نے عدالت سے کہا۔ ’’مقدمہ ختم کیجیے۔ ملزم اقبال جرم قلم بند کرانا چاہتا ہے۔‘‘ جس نے سنا۔ مارے حیرت کے کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔ شروع سے اخیر تک انہوں نے میرے بیان کی تائید کردی اور اقبال جرم کر لیا کہ میں خلاف مرضی اس کو جبراً پکڑ کر لے گیا اور میں نے جرم کیا ہے۔ فوراً مقدمہ ختم ہوا اور کچھ لکھا پڑھی ہوکر دوسرے دن پر فیصلہ رکھا گیا۔ والد صاحب نےمجھے کرید کرید کر ان خطوط کے بارے میں پوچھا۔ میں نے لاعلمی ظاہر کی۔ اس خط کے بارے میں پوچھا کہ کیا لکھا تھا جو میرے ہاتھ میں دیا تو میں نے کہا کہ پڑھا نہ گیا۔ نہ معلوم کیا لکھا تھا اور کس کے ہاتھ کا تھا۔ حامد خاں کے غیرمعمولی رویے کے بارے میں پوچھا تو اس سے بھی میں نے لاعلمی ظاہر کی۔\n\nوالد صاحب حامد خاں کی سزا کا خیال کر کر کے خوش ہو رہے تھے۔ انہوں نے پوری زمیندارانہ آن کے ساتھ مقدمہ بازی کی تھی، جیل والوں سے یہ انتظام کیا کہ جیل لے جائیں تو ہماری کوٹھی کے سامنے ہو۔ میں عجیب سناٹے میں تھی۔ معلوم نہ تھا کیا ہوگا۔ حتی کہ والد صاحب خوشی خوشی گھر میں داخل ہوئے اور پکار کر انہوں نے والدہ صاحبہ سے کہا، ’’لو مبارک ہو، ڈھائی سال کی قید اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا ہوئی ہے۔‘‘ میں دم بخود رہ گئی۔۔۔ کوئی آدھ گھنٹہ بعد میں نے دیکھا، اپنی آنکھوں سے، اپنے خیالوں کے اصلی مرکز کو، ہتھکڑیاں پڑی ہوئی سامنے سڑک پر سے گزرتے۔ والد صاحب اور ان کے دوست احباب یہ نظارہ دیکھ کر خوش ہوئے۔ حامد خاں نے سر اٹھا کر نہ دیکھا۔ میرا سکتہ کا سا عالم تھا۔\n\nاس کے تیسرے روز کا ذکر ہے کہ حامد خاں کے وکیل نے دعویٰ کردیا کہ قرار دیا جائے کہ سلمیٰ میری جائز منکوحہ بیوی ہے اور جو نکاح کیا گیا وہ برضا و رغبت تھا۔ علاوہ اس کے انہوں نے سزا کے خلاف بھی اپیل کیا۔ اپیل میں جرمانہ بحال رہا مگر سزا چھ ماہ کی رہ گئی اور اب والد صاحب نے آگے اپیل کر دیا۔ دیوانی دعویٰ نے افضل بھائی کے ساتھ جو شادی کی تاریخ مقرر ہوئی تھی اس میں گڑبڑ ڈال دی۔ حامد خاں جیل کاٹ کر واپس آئے۔ والد صاحب سزا بڑھوانے میں ناکام رہے تھے اور اب دیوانی مقدمہ اس نوبت پر پہنچا کہ میرے بیان قلم بند ہوں۔ حامد خاں اپنے موٹر پر مع اپنے دوستوں کے آئے۔ کمرے میں منصف صاحب بیان لینے آئے۔ لیکن قبل اس کے کہ بیان قلم بند ہوں حامد خاں نے جھپٹ کر مجھے کرسی سے اٹھا لیا۔ ان کے تین دوست دن دہاڑے پستول نکال کر والد صاحب کو روک کر کھڑے ہوگئے۔ میں چیختی کی چیختی رہ گئی مگر زور قطعی نہ لگایا کہ کچھ تو تلافی کر دوں۔\n\nموٹر میں ڈال کر مجھے لے اڑے۔ گھر پر پہنچے ہی تھے کہ والد صاحب پولیس کا دستہ مع مجسٹریٹ کے لے کر آگئے۔ میں رو رہی تھی، مجسٹریٹ لینے آئے تو حامد خاں نے والد صاحب کو علیحدہ کروا دیا۔ میں نے جواب دیا کہ ’’خود آئی ہوں۔ منکوحہ بیوی ہوں۔ پہلے بھی خود ہی گئی تھی۔ نکاح راضی خوشی ہوا تھا۔ میں اپنے شوہر کے پاس رہنا چاہتی ہوں۔ باپ کے پاس نہیں رہنا چاہتی۔ اگر میرے شوہر کے پاس پستول نہ ہوتے تو میں حبس بیجا سے آزاد نہیں ہو سکتی تھی۔ مجھے بچانے اور میری حفاظت کے لیے ایسا کیا گیا۔ اس سے پہلے مقدمے میں جو بیان میں نے دیے وہ غلط اور جھوٹے تھے اور دباؤ سے دیے تھے۔۔۔‘‘ والد صاحب باہر ہی تھے اور مجسٹریٹ نے والد صاحب سے جو یہ کہا تو وہ سناٹے میں آگئے۔\n\nجس طرح پہلے حامد خاں کو شکست خوردہ ہتھکڑی پہنے جاتے دیکھا تھا تو رنج کے سبب سکتہ کا عالم سا ہو گیا تھا۔ اسی طرح میں نے اپنے عزیز اور پیارے باپ کو دیکھا۔ حامد خاں سے زیادہ قابل رحم حالت تھی۔ میں مقدمے سے نڈھال ہو رہی تھی۔ حامد خاں کے دوست احباب فقرہ چست کر رہے تھے۔ تیسرے دن معلوم ہوا کہ دیوانی مقدمہ جو حامد خاں نے میرے اوپر چلایا تھا، وہ حامد خاں کے وکیل کی عدم حاضری کے سبب ہار گیا۔ میرا اور والد صاحب کا وکیل موجود تھا۔ چنانچہ میں جیت گئی اور حامد خاں کا مقدمہ مع خرچہ خارج ہو گیا۔\n\nیہ تو سب کچھ ہوگیا مگر میں سخت پریشان تھی۔ اس سے زیادہ اور کیا شرم کی بات ہو سکتی تھی کہ دن دہاڑے ایک شخص ایک لڑکی کو حاکم کی ناک کے تلے سے پکڑ لے جائے اور وہ لڑکی خود باپ کے خلاف بیان دے دے۔ میں نے پریشان ہو کر حامد خاں سے کہا، ’’خاں صاحب، میں اس طرح زندہ نہیں رہ سکتی۔‘‘ حامد خاں نے کہا؛ ’’اول نمبر کی مکار ہو تم۔‘‘ میں نے کہا، ’’کیوں؟‘‘ وہ بولے، ’’تم نے مجھے جیل کرائی اور کتنی مشکلوں میں ڈالا۔‘‘ میں نے کہا، ’’اور تم سمجھے کہ چاہنے والی بیوی یونہی مل جاتی ہوگی۔ کچھ بھی ہو۔ سن لو کان کھول کر۔ تم مجھے زبردستی پکڑ لائے۔ میں تو گھر جاتی ہوں۔ پھر بڑے شرم کی بات ہے کہ میں باپ کے خلاف مجسٹریٹ کے سامنے بیان دوں۔‘‘\n\nحامد خاں نے کہا، ’’پھر کیوں دیے۔‘‘ میں نے کہا، ’’کچھ راضی خوشی دیے؟‘‘\n\n’’پھر؟‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’ڈر کے مارے دیے۔‘‘\n\nکہنے لگے، ’’شاید کہ تمہاری شامت پھر آئے۔‘‘ میں نے کہا، ’’نہ شامت نہ آمت۔ بندی تو جاتی ہے۔ نکٹی ہو کر جینے سے رہی۔‘‘ وہ بولے، ’’اور جو پھر بات بڑھی۔‘‘ میں نے کہا، ’’میں نہیں جانتی۔ ایسا ہی ہے تو پھر تم مجھے پکڑ لانا۔ مگر میں نکٹی ہو کر نہیں جی سکتی۔‘‘ حامد خاں بولے، ’’اب جو تم اپنی ناک جوڑنے کی فکر میں پڑیں تو اچھی طرح سمجھ لو۔ میں دیوانہ ہو جاؤں گا۔‘‘ میں نے کہہ دیا کہ دیوانگی کا تو سوال فضول ہے۔ رہ گئی میری ناک تو وہ بے جڑے نہیں رہ سکتی۔ بدقسمتی سے حامد مذاق ہی سمجھا کیے او رمیں جیسا کہ کہہ چکی تھی چپکے سےدوسرے روز شام کو ایک تانگہ منگا کر سیدھی گھر پہنچی۔ ایک خط لکھ کر رکھتی گئی کہ جھگڑا نہ کھڑا کرنا بلکہ اُدھر کا رخ نہ کرنا۔\n\nگھر پہنچی تو جھٹپٹا وقت تھا۔ تانگے سے اتر کر سیدھی اپنے کمرہ میں چلی گئی۔ گھر میں کھلبلی پڑ گئی۔ والدہ صاحبہ آئیں تو ان سے گلے مل کر میں خوب روئی۔ ابا جان کی شکایت کی کہ مجھے بے بسی میں چھوڑ آئے۔ مجھے مار ڈالنے کی دھمکی دی گئی اور ڈر کے مارے مجھے بیان دینے پڑے۔ غضب ہے خدا کا مجھے کوئی بچانے والا نہیں۔ میں نے وہ فیل مچائے کہ ہرکس و ناکس کو مجھ سے ہمدردی ہوگئی۔ والد صاحب کہیں باہر تھے، انہیں بلانے دوڑایا اور رشتے کنبے میں جلد تر خبر کی گئی۔ والد صاحب آئے اور جب انہوں نے سنا کہ میں چپکے سے بھاگ آئی اور یہ کہ مجھ سے زبردستی بیان لیے گئے تھے تو باغ باغ ہوگئے۔ مجھے سینہ سے لگا لیا اور مارے محبت کے بیچارے رونے لگے اور پھر جو خیال آیا ہے تو فوراً عدالت کی سوجھی۔ تو چل اور میں چل۔\n\nپولیس اور مجسٹریٹی میں موٹر دوڑنے لگے۔ آناً فاناً میں استغاثہ تیار ہوگیا۔ وکیل آگئے۔ پولیس میں رپورٹ لکھا دی گئی۔ دوسرے ہی دن مجسٹریٹ کے یہاں استغاثہ پیش ہوگیا۔ مجسٹریٹ نے گھر پر آکر میرے بیان لیے۔ میں نے بیان دیے کہ مجھے جبراً پکڑ لے گئے۔ زبردستی بیان دلوائے۔ وہ بیان جھوٹے تھے اور دباؤ سے دیے تھے۔ دیوانی مقدمے کے فیصلے کی نقل پیش کی گئی اور فوراً ثابت کردیا گیا کہ میں حامد خاں کی بیوی نہیں ہوں۔ مجھ سے جو اس بارے میں پوچھا تو میں نے کہہ دیا کہ ’’مجھے پتہ نہیں۔‘‘ مجسٹریٹ بیان لے کر چلا گیا۔ والد صاحب بے حد خوش تھے مگردوسرے روز تمام خوشیاں خاک میں مل گئیں۔ مجسٹریٹ نے میرا استغاثہ خارج کر دیا اور تمام واقعات پر سرسری طور پر تبصرہ کرتے ہوئے فیصلہ میں یہ رائے ظاہر کی کہ میں جھوٹی ہوں اور ساری شرارت میری ہی ہے۔ کبھی کچھ بیان دیتی ہوں اور کبھی کچھ اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا ’’تو یہ لڑکی اپنے ہر گزشتہ بیان کی تکذیب کرتی رہے گی۔ لہٰذا یہ مقدمہ خارج کیا جاتا ہے۔‘‘ والد صاحب آگ بگولا ہوگئے اور طے ہوا کہ اس فیصلہ کے خلاف اپیل کریں گے۔\n\nیہ تو سب کچھ ہوا، لیکن اب ٹھوس حقیقت بھی سامنے تھی۔ سب رشتے دار اور کنبے دار جمع ہوئے اور معاملات پر غور کیا، تو بوڑھیاں سر ہلانے لگیں۔ ذرا دیر تو چپ رہیں پھر دو ایک پھٹ پڑیں۔ بولیں، ’’نابابا۔ بیوی تو یہ حامد کی ہے اور کہیں اس کی دوسری جگہ شادی ہو تو ہم شریک نہیں۔‘‘ والد صاحب نے جو سنا تو پھر وہی عدالت اور کچہری۔ کسی طرح قابو میں نہ آئے۔ سب رشتے داروں کنبے داروں نے صلاح مشورہ کیا کہ حامد معافی مانگیں۔ مگر والد صاحب رضامند نہ ہوئے۔\n\nجب کسی طرح راضی نہ ہوئے تو لوگوں نے کیا کیا کہ حامد خاں کے ہاتھ باندھ ابا جان کے سامنے لا کھڑا کیا اور ان کے پیروں پر گرا دیا۔ ایسا کہ ابا جان کو چار و ناچار حامد خاں کو گلے لگانا پڑا۔ کرتے بھی کیا اور اسی ہفتے باضابطہ شادی اور رخصت بھی کر دی۔ گویا عید پیچھے ٹر۔ نکاح وہی قائم رکھا گیا۔ اور اس طرح جاکر یہ جھگڑا بخیر و خوبی ختم ہو گیا اور اللہ نے میری آبرو اور شرم رکھ لی۔ ورنہ آپ خود غور کریں کہ ’’بڑے شرم کی بات‘‘ تھی۔ اس چپقلش میں افضل بھائی ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے گئے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%91%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "بڑے نازوں سے دل میں جلوۂ جانانہ آتا ہے", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بڑے نازوں سے دل میں جلوۂ جانانہ آتا ہے\nیہ گھر جس نے بنایا ہے وہ وہ صاحب خانہ آتا ہے\n\nخدا کے واسطے منہ سے لگا دے خم کے خم ساقی\nبڑا گھنگھور بادل جانب مے خانہ آتا ہے\n\nنکل جاتا ہے منہ سے نام ان کا باتوں باتوں میں\nزباں پر جو نہ آنا تھا وہ بیتابانہ آتا ہے\n\nنکلتی ہے کسی پر جھوم کر وہ مجھ پہ گرتی ہے\nتمہاری تیغ کو کیا شیوۂ مستانہ آتا ہے\n\nبہار آخر ہوئی ہے قدرؔ کی تربت پہ میلا ہے\nیہاں بیڑی بڑھانے کو ہر اک دیوانہ آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%91%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "بکتے ہیں شہر میں گل بے خار ہر طرف", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بکتے ہیں شہر میں گل بے خار ہر طرف\nہے باغباں کی گرمئ بازار ہر طرف\n\nکیا فصل گل پھر آئی جو کرتے ہیں زمزمہ\nدام قفس میں مرغ گرفتار ہر طرف\n\nکوٹھے پہ اس کے پھینکوں میں کس راہ سے کمند\nکم بخت پاسباں تو ہیں بیدار ہر طرف\n\nتودے جہاں تھے اس کے شہیدوں کی خاک کے\nتیر اس نے مارے ناز سے دو چار ہر طرف\n\nجب اس کی برق حسن سے پردہ ہوا ہے وا\nضائع ہوئے ہیں طالب دیدار ہر طرف\n\nعاشق کو اس گلی سے نکالیں تھے جب بہ زور\nپڑتی تھی چشم حسرت دیدار ہر طرف\n\nدعوت ہے کس کی بزم فلک میں جو کب سے ہیں\nآنکھیں لگائے رخنۂ دیوار ہر طرف\n\nثابت بچا نہ کافر و دیں دار تک کوئی\nتیغ نگہ نے اس کی کیے وار ہر طرف\n\nسودے میں جستجو کے تری اے متاع حسن\nسر مارتے پھریں ہیں خریدار ہر طرف\n\nپرواز کا جو شوق ہے بلبل کے مشت پر\nکنج قفس میں اڑتے ہیں ناچار ہر طرف\n\nحیراں ہوں میں کہ کس کا یہ کوچہ ہے جس کے بیچ\nٹکڑے ہوئے پڑے ہیں طرح دار ہر طرف\n\nغوغا ہے شرق و غرب و جنوب و شمال میں\nفتنے جگا گئی تری رفتار ہر طرف\n\nگو میں ہوا مقیم تو کیا ڈر ہے مصحفیؔ\nسیر و سفر میں ہیں مرے اشعار ہر طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%A9%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "بکھری ہوئی ہے یوں مری وحشت کی داستاں", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بکھری ہوئی ہے یوں مری وحشت کی داستاں\nدامن کدھر کدھر ہے گریباں کہاں کہاں\n\nنکلے اس انجمن سے تو پہلو میں دل نہ تھا\nآئے جو ڈھونڈنے تو وہ بولے یہاں کہاں\n\nایسے میں کیا چلے ہو مبارکؔ چمن کو تم\nبلبل کہاں بہار کہاں باغباں کہاں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%A9%DA%BE%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA"} {"title": "بگولے اٹھ چلے تھے اور نہ تھی کچھ دیر آندھی میں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بگولے اٹھ چلے تھے اور نہ تھی کچھ دیر آندھی میں\nکہ ہم سے یار سے آ ہو گئی مڈبھیڑ آندھی میں\n\nجتا کر خاک کا اڑنا دکھا کر گرد کا چکر\nوہیں ہم لے چلے اس گل بدن کو گھیر آندھی میں\n\nرقیبوں نے جو دیکھا یہ اڑا کر لے چلا اس کو\nپکارے ہائے یہ کیسا ہوا اندھیر آندھی میں\n\nوہ دوڑے تو بہت لیکن انہیں آندھی میں کیا سوجھے\nزبس ہم اس پری کو لائے گھر میں گھیر آندھی میں\n\nچڑھا کوٹھے پہ دروازے کو موند اور کھول کر پردے\nلگا چھاتی لیے بوسے کیا ہت پھیر آندھی میں\n\nوہ کوٹھے کا مکاں وہ کالی آندھی وہ صنم گل رو\nعجب رنگوں کی ٹھہری آ کے ہیرا پھیر آندھی میں\n\nاٹھا کر طاق سے شیشہ لگا چھاتی سے دلبر کو\nنشوں میں عیش کے کیا کیا کیا دل سیر آندھی میں\n\nکبھی بوسہ کبھی انگیا پہ ہاتھ اور گاہ سینے پر\nلگے لٹنے مزے کے سنگترے اور بیر آندھی میں\n\nمزے عیش و طرب لذت لگے یوں ٹوٹ کر گرنے\nکہ جیسے ٹوٹ کر میووں کے ہوویں ڈھیر آندھی میں\n\nرقیبوں کی میں اب خواری خرابی کیا لکھوں بارے\nبھری نتھنوں میں ان کے خاک دس دس سیر آندھی میں\n\nکسی کی اڑ گئی پگڑی کسی کا پھٹ گیا دامن\nگئی ڈھال اور کسی کی گر پڑی شمشیر آندھی میں\n\nنظیرؔ آندھی میں کہتے ہیں کہ اکثر دیو ہوتے ہیں\nمیاں ہم کو تو لے جاتی ہیں پریاں گھیر آندھی میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%AF%D9%88%D9%84%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%A2%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بگڑ جاتے تھے سن کر یاد ہے کچھ وہ زمانہ بھی", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بگڑ جاتے تھے سن کر یاد ہے کچھ وہ زمانہ بھی\nکوئی کرتا تھا جب میری شکایت غائبانہ بھی\n\nوہ جس پر مہرباں ہوتے ہیں دنیا اس کی ہوتی ہے\nنظر ان کی پلٹتے ہی پلٹتا ہے زمانہ بھی\n\nسنا کرتا ہوں طعنے ہجر میں کیا کیا رقیبوں کے\nبنا ہوں اس محبت میں ملامت کا نشانہ بھی\n\nیہاں بھی فرض ہے زاہد ادب سے سر جھکا لینا\nمرے نزدیک کعبہ ہے کسی کا آستانہ بھی\n\nفریب دام میں لائی ہے کچھ صیاد کی خاطر\nقفس میں کھینچ کر لایا ہمیں کچھ آب و دانہ بھی\n\nجلا کر دل مرا صیاد کا ٹھنڈا کلیجہ کر\nکہیں اے برق جلدی پھونک میرا آشیانہ بھی\n\nبگڑتے دیر ہوتی ہے نہ بنتے دیر ہوتی ہے\nمزاج یار سے کچھ ملتا جلتا ہے زمانہ بھی\n\nحسیں پڑھ کر غزل میری مرے مشتاق ہوتے ہیں\nمسخر دل کو کرتا ہے کلام عاشقانہ بھی\n\nنہ بھولے گی حفیظ احباب کو یہ سرگزشت اپنی\nجہاں میں یاد رہ جائے گا کچھ اپنا فسانہ بھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%AF%DA%91_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%88%DB%81_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "بگڑ کر عدو سے دکھاتے ہیں آپ", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بگڑ کر عدو سے دکھاتے ہیں آپ\nبناوٹ کی باتیں بناتے ہیں آپ\n\nبڑھانے کو قصے شب وصل میں\nفسانے عدو کے سناتے ہیں آپ\n\nکسی کو تجلی کسی کو جواب\nعجب کچھ لگاتے بجھاتے ہیں آپ\n\nبگڑنے کے اسباب لازم نہیں\nنئی بات دل سے بناتے ہیں آپ\n\nنہ آنا تھا گر آئے کیوں خواب میں\nمگر سوتے فتنے جگاتے ہیں آپ\n\nبندھے کیا کسی سے امید وصال\nنظر سے نظر کب ملاتے ہیں آپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%AF%DA%91_%DA%A9%D8%B1_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "بگڑنے سے تمہارے کیا کہوں میں کیا بگڑتا ہے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بگڑنے سے تمہارے کیا کہوں میں کیا بگڑتا ہے\nکلیجا منہ کو آ جاتا ہے دل ایسا بگڑتا ہے\n\nشب غم میں پڑے تنہا تسلی دل کی کرتے ہیں\nیہی عالم کا نقشہ ہے سدا بنتا بگڑتا ہے\n\nوہ یاد آتا ہے عالم وصل کی شب کا وہ آرائش\nوہ کہنا چھو نہ اس دم زلف کا حلقا بگڑتا ہے\n\nہمارے اٹھ کے جانے میں تری کیا بات بنتی ہے\nہمارے یاں کے رہنے میں ترا کیا کیا بگڑتا ہے\n\nوہ کچھ ہو جانا رنجش اس پری سے باتوں باتوں میں\nوہ کہنا پھیر کر منہ یہ تو کچھ اچھا بگڑتا ہے\n\nجو بعد از عمر خط لکھا تو یہ تقدیر کا لکھا\nعبارت گر کہیں بنتی ہے تو معنا بگڑتا ہے\n\nاگر خاموش رہتا ہوں تو جی پر میرے بنتی ہے\nاگر کچھ منہ سے کہتا ہوں تو وہ کیسا بگڑتا ہے\n\nسفارش پر بگڑ کر ہائے وہ اس شوخ کا کہنا\nمنا لیتا اسے میں پر مرا شیوہ بگڑتا ہے\n\nنظامؔ اس کی عنایت ہے تو پھر کس بات کا غم ہے\nبناتا ہے وہ جس کا کام کب اس کا بگڑتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%AF%DA%91%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DA%AF%DA%91%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "بگڑے وہ لاکھ طرح مگر گل نہ ہو سکا", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بگڑے وہ لاکھ طرح مگر گل نہ ہو سکا\nمیں اپنے صدقے یاں بھی تامل نہ ہو سکا\n\nگو ہچکیاں رہیں مجھے مینا کی یاد میں\nلیکن ادا ترانۂ قلقل نہ ہو سکا\n\nممکن نہیں مرا دل پژمردہ شاد ہو\nکمھلا گیا جو غنچہ وہ پھر گل نہ ہو سکا\n\nاللہ رے جوش آپ کی بخشش کے بعد بھی\nاشکوں سے میرے ترک تسلسل نہ ہو سکا\n\nبگڑا ہوا مزاج سنبھلتا نہیں نسیمؔ\nطعنوں کا ان کے مجھ سے تحمل نہ ہو سکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%AF%DA%91%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%DA%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B3%DA%A9%D8%A7"} {"title": "بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار\nجاویں گے مارے آنکھوں کے آگے سب ایک بار\nناچار اپنے مرنے کا ہوگا امیدوار\nہے آج رات اور یہ مہمان روزگار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nیک دم کہ تیری ہستی میں ہوجائے گا غضب\nسادات مارے جائیں گے دریا پہ تشنہ لب\nبرسوں فلک کے رونے کا پھر ہے یہی سبب\nمت آ عدم سے عالم ہستی میں زینہار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nماریں گے تیر شام کے نامرد سارے لوگ\nدیویں گے ساتھ اس کا جنھوں نے لیا ہے جوگ\nتا حشر خلق پہنے رہے گی لباس سوگ\nہوگا جہاں جوان سیہ پوش و سوگوار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nاکبر مرے گا جان سے قاسم بھی جائے گا\nعباس دل جہان سے اپنا اٹھائے گا\nاصغر بغل میں باپ کے اک تیر کھائے گا\nشائستہ ایسے جور کا وہ طفل شیرخوار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nاے کاش کوئی روز شب تیغ شب رہے\nتا اور بھی جہاں میں وہ عالی نسب رہے\nلیکن عزیز جس کے مریں سب وہ کب رہے\nبے چارہ سینہ خستہ و بے یار و بے دیار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nذات مقدس ابن علی کی ہے مغتنم\nاک دم میں اس کے ہوویں الٰہی ہزار دم\nکیا شب رہے تو ہووے ہے ایام میں سے کم\nآتا ہے کون عالم خاکی میں بار بار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nکاکل میں تیرے فتنے ہیں ہر اک شکن کے ساتھ\nہنگامہ کب رہا ہے ترے دم زدن کے ساتھ\nرہ کوئی دن عدم ہی میں رنج و محن کے ساتھ\nیہ بات دونوں جمع میں رکھتی ہے اشتہار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nجلوے میں تیرے سیکڑوں جلووں کی ہے فنا\nیعنی سحر پہ آنا قیامت کا ہے رہا\nدن ہوگیا کہ سبط نبی مرنے کو چلا\nساتھ اپنے دے چکا ہے تلف ہونے کا قرار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nآب فرات پر تو یہ شب دن نہ ہو کبھی\nخوں ریز ورنہ ہونے لگے گا بہم ابھی\nسید تڑپ کے پیاس سے مر جائیں گے سبھی\nپیغمبر خدا ہی کا پروردۂ کنار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nدن شب کو کس امید کے اوپر کرے بھلا\nجو جانتا ہو یہ کہ ستم ہوگا برملا\nنکلے گی تیغ جور کٹے گا مرا گلا\nاے واے دل میں اپنے لیے حسرتیں ہزار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nایسا نہ ہو کہیں کہ نکل آوے آفتاب\nجو وہ غیور مرنے میں اپنے کرے شتاب\nدے بیٹھے سر کو معرکے میں کھا کے پیچ و تاب\nتر خوں میں دونوں گیسو ہوں تن پر پڑے غبار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nجس دم خط شعاعی ہوئے رونق زمیں\nافگار ہوگی نیزۂ خطی سے وہ جبیں\nہوویں گے جمع پیادے سوار آن کر وہیں\nہوگا جدا وہ گھوڑے سے مجروح بے شمار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nلوہو جبیں کے زخم سے جاوے گا کرکے جوش\nفرق مبارک اس کے میں مطلق نہ ہوگا ہوش\nسجدے میں ہو رہے گا جھکا سر کے تیں خموش\nآنے کا اپنے آپ میں کھینچے گا انتظار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nخورشید کی بلند نہ ہو تیغ خوں فشاں\nہے درمیاں نبیؐ کے نواسے کا پاے جاں\nایسا اگر ہوا تو قیامت ہوئی عیاں\nوہ حلق تشنہ ہوگا تہ تیغ آبدار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nروشن ہوا جو روز تو اندھیر ہے ندان\nمیداں میں صاف ہو کے کھڑا دے چکے گا جان\nناموس کی پھر اس کے نہ عزت ہے کچھ نہ شان\nاک شش جہت سے ہوگی بلا آن کر دوچار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nپھر بعد قتل اس کے غضب ایک ہے یہ اور\nبختی چرخ راہ چلے گا انھوں کے طور\nشیوہ جفا شعار ستم طرز جن کی جور\nعابد کے دست بستہ میں دی جائے گی مہار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nمردان اہل بیت جو ہوں گے مریں گے سب\nاس کے اثاث بیت کو غارت کریں گے سب\nناموس کے جو لوگ ہیں سو دکھ بھریں گے سب\nان قیدیوں کی لوہو میں ہووے گی رہگذار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nخورشید سا سر اس کا سناں پر چڑھائیں گے\nعالم کو دن دیے ہی سیہ کر دکھائیں گے\nبیٹے کے تیں سوار پیادہ چلائیں گے\nہوگا عنان دل پہ نہ کچھ اس کا اختیار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nپیکر میں ایک کشتہ کے ہوگی نہ نیم جاں\nخیل و حشم کا اس کے نہ پاویں گے کچھ نشاں\nشوکت کہاں سر اس کا کہاں جاہ وہ کہاں\nیہ جاے اعتبار ہے کیا یاں کا اعتبار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nصاحب موئے اسیر ہوئے شام جائیں گے\nسر کو جھکائے شرم سے ہر گام جائیں گے\nناچار رنج کھینچتے ناکام جائیں گے\nلطف خداے عزوجل کے امیدوار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nلازم ہے خونچکاں روش گفتگو سے شرم\nکر اس نمود کرنے کی ٹک آرزو سے شرم\nتجھ کو مگر نہیں ہے محمدؐ کے رو سے شرم\nبے خانمان و بے دل و بے خویش و بے تبار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nراہ رضا میں عاقبت کار سر گیا\nایسی گھڑی چلا کہ مدینے نہ پھر گیا\nجوں آفتاب جانب شام آکے گھر گیا\nخاطرشکستہ غم زدہ آزردہ دل فگار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید\n\nآثار دکھ کے ہیں در و دیوار سے عیاں\nچھایا ہے غم زمین سے لے تا بہ آسماں\nکچھ میرؔ ہی کے چہرے پہ آنسو نہیں رواں\nآیا ہے ابر شام سے روتا ہی زار زار\nفردا حسین می شود از دہر ناامید\nاے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D8%AA%DB%8C%D8%AC%DB%92_%D8%AE%D9%88%DB%8C%D8%B4_%D9%88_%D9%BE%D8%B3%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1"} {"title": "بھائے جو نگاہ کو وہی رنگ اچھا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بھائے جو نگاہ کو وہی رنگ اچھا\nلائے جو راہ پر وہی ڈھنگ اچھا\nقرآن و نماز سے اگر دل نہ ہو گرم\nہنگامۂ رقص و مطرب و چنگ اچھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7"} {"title": "بھاتی ہیں دل کو پیارے ناز و ادائیں تیری", "poet_page": "مصنف:میراں شاہ جالندھری", "kind": "poetry", "section": "رچناواں/تصانیف > اردو > غزل", "year": null, "text_ur": "بھاتی ہیں دل کو پیارے ناز و ادائیں تیری\nدل میں یہ آرزو ہے لے لوں بلائیں تیری\n\nاک پل پلک اٹھا کر دیکھو بہ نظر رحمت\nاسرار گنج مخفی آنکھیں لبھائیں تیری\n\nزلف سیہ کے بل میں عالم تو مبتلا ہے\nعاشق بھلا یہ کس کو باتیں سنائیں تیری\n\nدیدار حق نما ہے پیارے جمال تیرا\nمستانہ جلوہ گریاں کیا کیا بتائیں تیری\n\nروز ازل سے ہم ہیں حسن و لقا کے شائق\nشرم و حیا کی باتیں کیا کیا سنائیں تیری\n\nبس میں نہیں ہوں تو ہے پھر کیا حجاب باقی\nکب تک بھلا یہ رمزیں دل میں سمائیں تیری\n\nیہ عشق سوز مستی ہے میراں شاہؔ کو حاصل\nکیا کیا یہ حالتیں ہیں مجھ کو سجھائیں تیری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D9%88_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "بھاشا، زبان اور مسلمان", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ناظرین کو یاد ہوگا کہ ایک سربرآوردہ ہندو ایڈیٹر نے ایک مضمون لکھا تھا جس میں دعویٰ کیا تھا کہ ’’مسلمانوں نے تعصب مذہبی کی وجہ سے ہندی علم وادب پر کبھی توجہ نہیں کی اور اگر اتفاقیہ کسی نے کچھ کی تو اس کو مسلمانوں نے کافر کہہ کے پکارا۔‘‘ اس کا جواب الندوہ کے پرچہ میں ’’مسلمانوں کی بے تعصبی‘‘ کے عنوان سے لکھا گیا تھا، جس میں مسلمانوں کی ان فیاضیوں کو بہ تفصیل دکھا گیا تھا، جو سنسکرت اور بھاشا کی تصنیفات کی حفاظت اور ترجمےاور اشاعت کے متعلق ان سے ظہور میں آئیں۔ یہ مضمون اسی کا دوسرا حصہ ہے، اس میں یہ دکھایا ہے کہ ترجمے اور اشاعت کے علاوہ مسلمانوں نے خود بھاشا زبان میں کیا کیا تصنیفات کیں اور بھاشا کی شاعری میں کس درجے کا کمال پیدا کیا۔\n\nیہ امر بھی اس موقع پر لحاظ کے قابل ہے کہ سنسکرت زبان ایک مدت سے متروک ہے، یعنی ایک زمانہ دراز سے خود ہندو بھی اس زبان میں تصنیف و تالیف نہیں کرتے اور اسلام کے زمانے سے تو غالباً کوئی کتاب اس زبان میں نہیں لکھی گئی۔ ہندوؤں کی تصنیفات یا شاعری جو کچھ ہے، بھاکھا زبان میں ہے، اس لئے مسلمانوں نے بھی جو کچھ لکھا اسی بھاشا زبان میں لکھا۔ عام طور پر مشہور ہے کہ سب سے پہلے جس شخص نے بھاکھا زبان میں شعر و شاعری کی وہ امیر خسرو ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سلسلے کا پتا آگے تک چلتا ہے۔ مسعود سعد سلمان جو سلطنت غزنویہ کا مشہور شاعر گزرا ہے، اور جو امیر خسرو سے تقریبا ًدو سو برس پہلے تھا، اس کی نسبت تمام تذکرے متفق اللفظ ہیں کہ ہندی زبان میں بھی اس نے ایک دیوان لکھا تھا، تذکرہ مجمع الفصحا میں لکھا ہے، ’’الحاصل دی راسہ دیوان بود تازی، ہندی و پارسی۔‘‘ اس واقعے سے صرف والہ داغستانی نے اس بنا پر انکار کیا ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے ملک کی زبان میں اس قدر کمال پیدا نہیں کر سکتا کہ اس میں شاعری کر سکے۔ لیکن مولوی غلام علی آزاد نے اس شبہے کو اس طرح رفع کر دیا کہ مسعود سعد سلمان گوخاندان کے لحاظ سے ایرانی تھا، لیکن پیدا لاہور میں ہوا تھا، اس لئے ایک ہندوستان زا کا ہندی میں اس درجے کا کمال پیدا کرنا کچھ بعید نہیں۔ حضرت امیر خسرو نے سنسکرت اور بھاکھا میں جو کمال پیدا کیا وہ محتاج اظہار نہیں، مثنوی نہ سپہر میں انہوں نے خود اپنی سنسکرت دانی کا ذکر کیا ہے، افسوس ہے کہ ان کے بھاکھا کے خالص اشعار آج ناپید ہیں، عام زبانوں پرصرف وہ اشعار ہیں، جن میں انہوں نے فارسی اور بھاکھا کو پیوند دیا ہے، مثلاً،\n\nچوں شمع سوزاں، چو ذرہ حیراں زمہر ِ آن مہ بگشتم آخر نہ نیند نینان نہ انگ چیناں نہ آپ آویں نہ بھیجیں پتیاں (آنکھ، بدن، آرام، خط)\n\nاس طرز کے ان کے اشعار عام طور پر مشہور ہیں اس لئےہم ان کو قلم انداز کرتے ہیں۔ امیر خسرو کے بعد شیر شاہی عہد میں ملک محمد جائسی پیدا ہوئے۔ وہ بھاکھا زبان کے ایسے بڑے زبردست شاعر تھے کہ خود ہندوؤں میں آج تک ان کا ہمسر نہیں پیدا ہوا۔ پدماوت ان کی مثنوی آج موجود ہے اور گھرگھر پھیلی ہوئی ہے، ہندوؤں میں سب سے بڑا شاعرآخر زمانے کا کالیداس گزرا ہے، جس نے رامائن کا بھاکھا میں ترجمہ کیا ہے۔ نکتہ شناسوں کا بیان ہے، کہ قدرت زبان کے لحاظ سے پدماوت کسی طرح رامائن سے کم نہیں اور اس قدر تو ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ پدماوت کے صفحے کے پڑھتے چلے جاؤ، عربی فارسی کے الفاظ مطلق نہیں آتے اور یوں شاذ و نادر تو رامائن بھی ایسے الفاظ سے خالی نہیں، ملاحظہ ہو۔ رامائن کے بعض اشعار۔\n\nرام انیک گریب نواجے لوگ بر بر برو براجے غریب نواز\nگنی، گریب، گرام، نرناگر پنڈت موٹے ملیں اوجاگر غنی غریب\n\nملک محمد جائسی نے پدماوت کے سوا بھاکھا میں اور بھی دو مثنویاں لکھیں، جو ان کے خاندان میں اب بھی موجود ہیں، لیکن افسوس کہ ان کے چھپنے کی نوبت نہیں آئی۔\n\nاکبر کے زمانے میں ہندی زبان کو اور بھی قبول عام حاصل ہوا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ امرا اور شہزادے تک ہندی زبان میں شاعری کرتے تھے۔ شہزادہ دانیال (پسر اکبرشاہ) کے ضمنی تذکرے میں جہانگیر اپنی تزک میں لکھتا ہے، ’’بہ نغمہ ہندی مائل بود، گاہے بہ زبان اہل ہندو باصطلاح ایشان شعرے می گفت، بد نبودے۔‘‘\n\nعبدالرحیم خان خاناں جو دربار اکبری کا گل سر سبد تھا، ہندی شاعری میں کمال کا درجہ رکھتا تھا، اسی کتاب میں خان خاناں کی وفات کے ذکر میں لکھا ہے، ’’خان خاناں در قابلیت و استعداد یکتائے روزگار بود و زبان عربی و ترکی و فارسی و ہندی می دانست و از اقسام دانش عقلی و نقلی حتی علوم ہندی بہرہ وافی داشت و بزبان فارسی و ہندی شعر نکو گفتے۔‘‘ جہانگیر کے زمانے میں غواصی نامی ایک شاعر تھا، اس نے طوطی نامہ کو جو نثر میں تھا، اس طرح نظم کیا کہ ایک مصرع فارسی اور ایک ہندی میں تھا۔ اس سے اس کی قدرت زبان کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ میر حسن صاحب اپنے تذکرہ شعرا میں لکھتے ہیں،\n\n’’غواصی تخلص دروقت جہانگیر بادشاہ بود، طوطی نامہ بخشی رانظم نمودہ است بزبان قدیم نصفے فارسی و نصفے ہندی بطور بکٹ کہانی۔ سرسری دیدہ بودم شعرآن نظم بہ یاد نیست۔‘‘ اسی زمانے میں ملا نوری ایک بزرگ تھے، قصبہ اعظم پورکے قاضی زادوں میں تھے اور فیضی سے نہایت اتحاد رکھتے تھے، وہ اگرچہ فارسی کہتے تھے، لیکن کبھی کبھی ہندی میں بھی طبع آزمائی کرتے تھے۔ ریختہ یعنی اردو زبان کی ترکیبیں بھی ان کے کلام میں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ میر حسن صاحب نے اپنے تذکرے میں ان کا ایک شعرنقل کیا ہے،\n\nہر کس کہ خیانت کند البتہ نبرسد بیچارہ نوری نہ کرے ہے نہ ڈرے ہے اکبری اور جہانگیری دور میں سب سے زیادہ جس نے اس فن میں نام پیدا کیا وہ شیخ شاہ محمد بن شیخ معروف فربلی تھے۔ یہ بلگرام کے رہنے والے تھے۔ اور حصار کی حکومت پر ممتاز تھے، ایک دفعہ سفر میں ایک ہندو لڑکی کی حاضر جوابی ان کو بہت پسند آئی، اس کو ساتھ لائے اور تربیت کی، چنانچہ ان کے اکثر دوہے اور کبت اسی کے ساتھ سوال و جواب میں ہیں۔ ایک دفعہ سفر سے آئے، اس نے ان کو مدت کے بعد دیکھا تو جوش محبت سے اس کی آنکھوں سے آنسونکل آئے۔ انہوں نے کہا،\n\nکم ورگ دھری سنار مم آیو بھار یو نہیں\n\n(کیوں تیری آنکھ آبدیدہ ہوئی اے نازنین، کیا میرا آنا پسند نہیں ہوا؟)\nاس نے برجستہ کہا،\n\nلینھن نین پکھار لمن ہتی تو کو درس بن (آنکھ صاف کرنا، گرد آلود تیرے دیدار کے بغیر)\n\nیعنی چونکہ میری آنکھیں تمہاری جدائی میں گرد آلود ہو رہی تھیں، اس لئے میں نے ان کو آنسوؤں سے دھو لیا۔\n\nشیخ محمد کے اشعار نہایت کثرت سے سرو آزاد کے دوسرے حصے میں نقل کئے ہیں۔ تیموری سلاطین بھاشا زبان کی شاعری کی اسی طرح قدردانی کرتے تھے، جس وہ اپنی شاہی زبان (فارسی) کے قدر دان تھے۔ اور یہ اس بات کا بڑا سبب تھا کہ ہندی شاعری بھی روز بروز ترقی کرتی جاتی تھی۔ راجہ سورج سنگھ نے جب ایک ہندو شاعر کو جہانگیر کے دربار میں پیش کیا اوراس نے ایک اچھوتے مضمون کی نظم پڑھی تو جہانگیر نے ایک ہاتھی انعام میں دیا، چنانچہ خود تزک میں لکھتا ہے، ’’بایں تازگی مضمونے از شعرائے ہند کم بگوش رسیدہ بہ جلد دے ایں مدح فیلے بہ او مرحمت کردم۔‘‘ جہانگیر کے حکم سے ان اشعار کا فارسی میں ترجمہ بھی کیا گیا۔\n\nگر پسر داشتے جہان افروز شب نہ گشتے ہمیشہ بودے روز زان کہ چوں او نہفت افسرزر بہ نمودے کلاہ گوشہ پسر شکرکز بعد او چنان پدرے جانشین گشت این چنین پسرے کہ زشنقار گشتن آن شاہ کس بہ ماتم نہ کرد جامہ سیاہ ان اشعار کا حاصل یہ ہے کہ اگر آفتاب کے کوئی بیٹا ہوتا تو کبھی رات نہ ہوتی کیوں کہ جب آفتاب چھپ جاتا ہے تو اس کا بیٹا، اس کے بجائے عالم افروزی کرتا، خدا کا شکر ہے کہ آپ کے والد (اکبرشاہ) کو خدا نے ایسا بیٹا دیا کہ لوگوں نے ان کے انتقال کا غم نہ کیا۔ ہندی تصنیفات کے ساتھ مسلمانوں کی توجہ کی یہ نوبت پہنچی کہ لوگ ہندی کی مشہور کتابوں کو زبانی یاد کرتے تھے۔ امین رازی تذکرہ ہفت اقلیم میں میر ہاشم محترم کے حال میں لکھتے ہیں، ’’امروز درہندست، تمام کتاب مہابھارت را کہ مستجمع اسامی غریبہ و حکایات عجیب است در ذکر دارد۔‘‘ اس مسئلے میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عالمگیر کو نہایت متعصب کہا جاتا ہے، اورعام خیال ہے کہ وہ ہندوؤں کے علوم اور زبان سے نہایت نفرت رکھتا تھا، لیکن مسلمانوں نے بھاشا زبان پر جس قدر اس کے زمانے میں توجہ کی، پہلے کبھی نہیں کی تھی۔ ضمیر ایران کا ایک مشہور شاعر تھا، وہ عالمگیر کے زمانے میں ایران سے آیا اور شاہی منصب داروں میں مقرر ہوا۔ اس نے بھاشا زبان میں انتہا درجے کا کمال پیدا کیا۔ اگر چہ بھاشا و سنسکرت کے الفاظ کا وہ صحیح تلفظ نہیں کر سکتا تھا، تاہم اس زبان میں نہایت برجستہ اشعار کہتا تھا۔ ہندی میں اس کا تخلص پتھی تھا۔ یارجا تک جو موسیقی میں ہندی زبان کی مشہور کتاب ہے، اس کا ترجمہ اسی نے فارسی زبان میں کیا۔ مولوی غلام علی آزاد بلگرامی یدبیضا میں اس کے حالات کے ذیل میں لکھتے ہیں، ’’درعہد عالمگیر بادشاہ از ولایت ایران بہ ہند آمدہ و در مسلک منصب داران شاہی انتظام داشت و باوجود آں کہ بہ ہند آمدہ زبان ایں ولایت آموخت اما بواسطہ حدت ذہن در نظم ہندی طبع او آن قدر دخیل شد کہ از جملہ استادان فن برآمد زبانش بہ تلفظ ایں زبان خوب نمی گردید، اما نظم بسیار پختہ واقع می شد در ہندی پتھی تخلص می کرد۔ ترجمہ یا رجاتک در فن رقص و نغمات ہندی ازوست۔‘‘ عالمگیر ہی کے متوسلین میں ایک شاعر دانا تخلص تھا، اس کی نسبت مولوی غلام علی آزاد بلگرامی ید بیضا میں لکھتے ہیں، ’’نظم ہندی بسیار خوب گفتہ۔‘‘ بھاشا کی زبان دانی اور شاعری کا ذوق اس زمانے میں اس قدرعام ہوا کہ بڑے بڑے علما اور حضرات صوفیہ اس میں کمال پیدا کرتے تھے۔ شیخ غلام مصطفے متخلص بہ انسان بہت بڑے پایے کے شخص گزرےہیں۔ وہ قوم کے کنبو اور مرادآباد کے رہنے والے تھے۔ معقولات کی تحصیل حضرت ملا قطب الدین شہید سہالوی (جد مولانا بحر العلوم) کی خدمت میں کی، حدیث کا فن محدث دہلوی کے خاندان سے حاصل کیا، تصوف میں شیخ جان محمد شاہجہاں آبادی کے مرید تھے۔ طب، نجوم، خوش نویسی، فن جنگ، ان تمام چیزوں میں کمال رکھتے تھے، عالمگیر کے زمانے میں منصب داری کے عہدے پر مامور ہو کر دکن گئے لیکن چند روز کے بعد استعفا دے کر چلے آئے۔ ۱۱۴۲ میں بہ مقام ایچلپور وفات پائی۔ ہندی زبان اور بھاشا کی شاعری میں ان کا جو درجہ تھا اس کا اندازہ مولوی غلام علی آزاد کی عبارت ذیل سے ہو سکتا ہے۔ ’’علم ہندی بحیثیتے کہ اکثر براہمہ حل غوامض ازخدمت شیخ می کردند و شعر ہندی نیز خوب می گفت، صنادید شعرائے ہندی برہمن درحضور او سر فرود می آوردند و اصلاح کبت و دوہا می گرفتند۔‘‘\n\nسرو آزاد عبدالجلیل بلگرامی\n\n(مولوی غلام علی آزاد کے نانا) جو عالمگیر کے درباری تھے، ہندی زبان کے ممتاز شاعر تھے۔ فارسی قصیدوں میں بھی کہیں کہیں بھاشا بول جاتے ہیں، چنانچہ ایک قصیدے میں لکھتے ہیں،\n\nاسیس دیکے، کہے ہندوی میں یوں سمت رہے جگت میں اچل باس یہ وزیرسدا\nیہ ذوق اس قدرترقی کرتا گیا کہ محمد شاہ کے زمانے میں جب راجہ جے سنگھ والی جے پور نے بیس لاکھ کے صرف سے رصد خانہ قائم کیا اور فن ریاضی کے ساتھ نہایت اہتمام کیا تو علمائے اسلام نے اس کے حکم سے شرح چغمنی اور ہیئت کی اور کتابوں کا ترجمہ بھاشا زبان میں کیا۔ چانچہ آزاد، سبحۃ المرجان میں لکھتے ہیں، و قد نقل العلما الاہاند بامرجی سنگھ شرح الچغنی و غیرہ من کتب للھیئۃ والہندسۃ من العربیہ الی الہندیۃ۔\n\n(سبحۃ المرجان ص ۱۳۴)\n\n(ہندوستان کے علما نے جے سنگھ کے حکم سے شرح چغمنی وغیرہ کتابوں کا جوعلم ہیئت اور ہندسہ میں تھی، عربی زبان سے ہندی زبان میں ترجمہ کیا۔) شرح چغمنی اس درجے کی مشکل کتاب ہے کہ اردو میں اس کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا، اس سے قیاس کرنا چاہئے کہ جوعلما بھاشا زبان میں اس کا ترجمہ کرسکے، ان کی بھاشا دانی کا کیا رتبہ ہوگا۔ اسی زمانے میں سید نظام الدین بلگرامی نے سنسکرت اور بھاشا کے علم وادب میں نہایت شہریت حاصل کی، سنسکرت کے حاصل کرنے کے لئے بنارس کا سفر کیا اور وہاں رہ کر اس علم کی تکمیل کی، ہندی موسیقی میں اس درجے کا کمال پیدا کیا کہ لوگ ان کو نایک کہتے تھے۔ چنانچہ اس فن کے متعلق بھاشا میں دو کتابیں تصنیف کیں، ناؤ چندر کا اور مدھنایک سنگار، بھاشا میں مدھنایک تخلص کرتے تھے۔ ۱۰۰۹ میں وفات پائی، کلام کا نمونہ یہ ہے،\n\nجو چترانن چت چڈھے، نہ بڈھے، بدھ بیدن، گرنتھ نہ گائے (فرشتہ، دل، ترکیب و صورت، عقلا کتب آسمانی قدیم کتابیں)\n\nبھارتھی، بھوری کری، بھرین، جپ، جوگن، جوگ اتھیہ گنائے (گویائی، سجہ گردانی، ریاضت، مرتاض)\n\nجو مکھ جوت جگی، نہ تھگی، مدھنایک گھونگھٹ چنچل تائے (چہرہ، روشنی، نام شاعر، شوخی)\n\nجھنین، دوکول، چھے جھلکی، ابچھ، براجت، اچھ رجھائے (باریک، دوپٹا، زیب دینا، بے مثل، فریفتہ کرنا)\n\nمطلب یہ ہے کہ تیری آنکھیں نقاب کے اندر جس قدر خوش نما ہیں، اس کی خوبی فرشتوں کے خیال میں بھی نہیں آسکتی اور نہ آسمان کی کتابوں میں ان کی توصیف پائی جاتی ہے۔ قوت نطق خود محو حیرت ہے اور زاہد مرتاض سجہ گردانی سے بھی زیادہ اس کا مداح ہے۔ نقاب تک ان آنکھوں کی خوبی کو چھپا نہیں سکتی بلکہ باریک دوپٹا اس کی خوبی اور بھی دوبالا کر دیتا ہے۔ ان کا بہت سا کلام سرو آزاد میں نقل کیا ہے۔ لیکن چونکہ ناظرین کے لئے وہ نامانوس صدا ہوگی، اس لئے ہم اس کو قلم انداز کرتے ہیں۔ سید رحمت اللہ پسر سید خیر الدین بلگرامی بھاشا زبان کے مشہور استاد تھے۔ سلطنت کی طرف سے دوصدی منصب اور جاگیر مقرر تھی۔ اس زمانے میں بھاشا کا مشہور چنتامن ایک ہندو تھا، اس کا ایک شاگرد رحمت اللہ کا شہرہ سن کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور چنتامن کا دوہا ان کے سامنے پڑھا۔\nہیوھرت ارکرت ات چنتامن چت چین وامرگ نینے کی لکھی واہی کی سی نین\nسید رحمت اللہ نے اس دوہے میں غلطی نکالی اور چنتامن نے سنا تو غلطی تسلیم کرکے اس کی اصلاح کردی۔ چنتامن نے سید رحمت اللہ کی مدح میں ایک دوہا بھی لکھا جس کا مطلع یہ ہے،\n\nگرب، گھ سنگ، جیون، سبل، کل گاج من، پربل گج باج، دل، ساج، دھاپو\n\n(غرور، شیر، بطور قوی اظہار دلیری، زبردست ہاتھی، گھوڑا، فوج، آراستہ، حملہ کیا)\nبجت اک جمک گھن گھمک دندبھن کی ترنگ، کھر، دھمک، بھوتل ہلایو (ایک طرح پر، گردون شگاف، نقارہ، گھوڑے کاسم، زمین)\n\nسید رحمت اللہ نے ۱۳ربیع الاول ۱۱۱۸میں وفات پائی۔ ان کے بہت سے دوہے سرو آزاد میں نقل کئے ہیں، ہم صرف ایک پراکتفا کرتے ہیں۔\n\nکراچائے جھائے تیر دھاری بھج یہ بھائے (ہاتھ بلند کرنا، انگڑائی، بازو، خوش نما معلوم ہوئے)\n\nمنوچیلا دوی چمک ہوئے گری بھوم پر آئے ( گویا ِبجلی، زمین)\n\nیعنی محبوب نے جمائی لیتے ہوئے جب دونوں ہاتھ اٹھا کر نیچے کرلیے تو یہ معلوم ہوا کہ گویا دو بجلیاں چمک کر زمین پر گر پڑیں۔ سیدغلام نبی پسر سید محمد باقر، سید عبد الجلیل بلگرامی کے بھانجے تھے، ۲ محرم ۱۱۱۱ھ میں پیدا ہوئے۔ سیدعبد الجلیل اس زمانے میں عالمگیر کے ساتھ دکن کی مہم پر تھے۔ بھانجے کے پیدا ہونے کی خبر سنی تو سال تاریخ کی فکر ہوئی، اسی حالت میں سوگئے اور خواب میں یہ مادہ ہاتھ آیا۔ نور چشم باقر عبد الحمیدم۔\n\nتفاول کے طور پر پیشین گوئی کی کہ یہ لڑکا شاعر ہوگا۔ خدا کی قدرت پیشین گوئی صحیح اتری، اگرچہ عربی و فارسی میں مہارت رکھتے تھے، لیکن بھاشا کی شاعری میں نہایت کمال پیدا کیا۔ ۱۱۶۳ میں نواب وزیر اور افاغنہ کی لڑائی میں نواب کے ہمرکاب تھے، اورعین معرکہ جنگ میں مارے گئے۔ مولوی غلام علی آزاد سے نہایت درجے کا اتحاد تھا۔ چنانچہ آزاد نے تاریخ کہی، رقم کرد ہے ہے غلام نبی۔ بھاشا زبان میں ایک دیوان لکھا جس میں ۱۷۷ دوہے ہیں، اس کا نام انگ درپن رکھا، بھاشا میں ان کا تخلص درس لین ہے، درس کے معنی بھاشا میں دیدار کے ہیں اور لین کے معنی محو کے ہیں اور درسلین کا لفظی ترجمہ محو دیدار ہے، ان کے کلام کا نمونہ یہ ہے۔ توحید تیری منورتھ کوہوت ہے سین لوک توں ہی ہوئی اکاش کمرت نکہت اودت ہے (مطلب، اشارہ، دینا، آسمان، ستارہ، روشنی)\n\nتوں ہی چاروتتو، سیل تنرپس،پنچھی، ہوت تون ہی میگھ پوجی کوت اور اکوت ہے (اربعہ، عناصر، پہاڑ، درخت، چرندپرند، بادل، دیتا ہے، حساب بے حساب)\n\nتوں ہی بن ناری بھرتا کی رسلیں موت توں ہی ہوئی کی سترلب این تن لوت ہے (عورت، شوہر، خو، دشمن)\n\nجاگ پڑی جھونٹوں جیون سیں لوگ ہوت تیونہیں اتمابچاری لوک جاگت کو موت ہے (بیداری، خواب، روح) یعنی تیرے ہی اشارے سے دنیا پیدا ہوتی ہے، تو ہی آسمان بن کر ستاروں کو روشن کرتا ہے، توہی اربعہ عناصر اور پہاڑ، درخت، چرند اور پرند بن جاتا ہے، تو ہی بادل بن کر بے حساب بارش کرتا ہے، تو ہی عورت کے قالب میں آکر مرد کا راحت رساں ہے، تو ہی بالآخر موت کی صورت میں جان کا دشمن ہے، تو جس طرح کہ جاگنے کے بعد خواب بالکل وہم معلوم ہوتا ہے اسی طرح خدا شناسوں کے نزدیک یہ دنیا تمام تر خواب ہے۔ سید برکت اللہ بہت بڑے فقیہ تھے۔ بھاشا میں شعر کہتے تھے۔ اور پیمی تخلص کرتے تھے۔ بھاشا میں جو ان کی نظموں کا مجموعہ ہے، اس کا نام خود پیہم پرس رکھا تھا، سرو آزاد میں ان کا بہت سا کلام نقل کیا ہے، ہم صرف ایک دوہے پر اکتفا کرتے ہیں۔\n\nچکہ جوگی کنتھا گرین، ارن، سیام اور سیت (آنکھ، گلا، سرخ، سیاہ، سفید)\n\nآنسو بوند سمرن لیں درسن بھچا ہیت (قطرہ، تسبیح، دیدار، خیرات)\n\nیعنی آنکھیں ایک ریاضت کش جوگی ہیں، جوسرخ، سیاہ اور سفید دانوں کا مالا پہنے ہوئے اور آنسوؤں کی تسبیح لئے ہوئے دیدار کی بھیک کی طالب ہیں۔\n\nان بزرگوں کے سوا اوربہت سے اہل کمال گزرے ہیں جنہوں نے بھاشا زبان کی انشا پردازی اور شاعری میں نام وری حاصل کی، اور جن کے حالات مختلف تذکروں میں مل سکتے ہیں۔ کیا ان واقعات کے بعد بھی ہمارے ہندو دوست کا یہ بیان قابل تسلیم ہے کہ مسلمانوں نے کبھی ہندو لٹریچر پر توجہ نہیں کی۔ اور جو کرنا چاہتا تھا وہ کافر قرار پاتا تھا۔ ہمارے ہندو دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں سے زیادہ بے تعصب قوم، نہ صرف دنیا کی پچھلی تاریخ بلکہ موجودہ اور آئندہ زمانہ بھی قیامت تک نہ پیش کرسکے گا۔\n\nحاشیے (۱) میر حسن مصنف بدر منیر کا تذکرہ شعرا ہمارے کتب خانے میں موجود ہے۔ (۲) یہ بات جتا دینے کے قابل ہے کہ مولوی غلام آزاد نے سرو آزاد جو تذکرہ لکھا اس سے دو حصے کئے۔ ایک فارسی شعرا کے ذکر میں اور دوسرے ہندی یعنی بھاشا کہنے والوں کے حالات میں، اس دوسرے حصے کی تمہید میں لکھتے ہیں، ’’فصل ثانی در ذکر قافیہ سنجان ہندی جزاہم اللہ بجائزۃ الخیر من ہیچمدان با زبان عربی و فارسی و ہندی آشنائیم و از ہر سہ میکدہ بقدر حوصلہ قدمے می پیمایم، مشق سخن ہندی ہر چند اتفاق نیفتاد، اما سامعہ راز نوائے طوطیان ہند حظے وافر است و ذائقہ راز چاشنی شکر فروشاں ایں گل زمیں نصیبے متکاثر، افسوس خوانان ہند ہم دریں مادی پائے کمی ندارند بلکہ درفن نایکا بید قدم سحرسازی پیش می گزارند، موزونان زبان ہندی در بلگرام فراوان جلوہ نمودہ اند، لہٰذا فصل ایں جماعہ علاحدہ بہ تحریر رسید و شمامہ معطرے بدست بوشناسان حوالہ گردید۔‘‘ پھر اس حصے کے خاتمہ میں لکھتے ہیں، ’’بہ اقتضائے ترتیبے کہ دریں تالیف اختیار افتادہ ختم کتاب بر نظم ہندی دست بہم دادہ چہ مضائقہ بعض الفاظ ہندی جزو فرقان عظیم است۔‘‘سرو آزاد کا یہ حصہ ہمارے دوست نواب نورالحسن خاں خلف اکبر جناب نواب صدیق الحسن خاں مرحوم نے اپنے تذکرہ طور کلیم میں شامل کر لیا، چنانچہ فروغ دوم میں جہاں سے ہندی شعرا کا تذکرہ ہے عبارت تمہیدی بھی وہی سرو آزاد کی ہے۔ میں اس مضمون میں بلگرامی شعرائے بھاکھا کا جو تذکرہ لکھوں گا اور ان کے اشعار نقل کروں گا وہ طور کلیم سے منقول ہوں گے، لیکن طور کلیم کا یہ حصہ در اصل سرو آزاد ہے۔ طور کلیم چھپ گیا ہے اور ہر جگہ ملتا ہے۔ اس لئے ناظرین کو وہ بہ آسانی ہاتھ آسکتا ہے۔ (۱) تزک جہانگیری مطبوعہ علی گڑھ ص۔۶۷", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86"} {"title": "بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا\nان لاکھوں ہی مرنے والوں میں کیا جلد مجھے پہچان لیا\n\nجب قتل ہوا میں تڑپا بھی چھینٹیں بھی اڑائیں مان لیا\nالزام خود اس پر کیا یہ نہیں دامن کو نہ کیوں گردان لیا\n\nتو عام فریبی مجھ سے نہ کر ہم مرد ہیں سن لے اے دنیا\nجو منہ سے کہا وہ کر گزرے جو ٹھان لیا وہ ٹھان لیا\n\nاقسام تھے یاس و حسرت کے اصناف امید بے حد کے\nجب چلنے لگے ہم دنیا سے ساتھ اپنے بہت سامان لیا\n\nجس ہاتھ سے مجھ کو قتل کیا اس ہاتھ کا کلمہ پڑھوایا\nلی جان تو خیر احسان کیا قاتل نے مگر ایمان لیا\n\nمے خانہ ہے جائے عیش و طرب یاں بیٹھ کے رونا کیا معنی\nکیا مفت کا اپنے سر تو نے اے دیدۂ تر طوفان لیا\n\nاس گھر میں کرم جب تو نے کیا کچھ دیر ٹھہر اے تیر نظر\nبوسہ ترے قدموں کا دل نے کس شوق سے اے مہمان لیا\n\nآرام طلب ہونے کا گماں جویا پہ ترے لاحول ولا\nتب پاؤں کو توڑے بیٹھا ہوں جب دشت و جبل کو چھان لیا\n\nجس بھیس میں تو ہو کیا پروا آئندہ نہ کھائے گی دھوکا\nاے طالب دنیا دنیا نے ہر طرح تجھے پہچان لیا\n\nتھی دھار رگ گردن پہ مری سینہ بھی دبا تھا قدموں سے\nخنجر کا ترے بوسہ ہم نے منہ پھیر کے تا امکان لیا\n\nاے شادؔ عبث ہے اس کا گلا وہ ہجو کرے یا تجھ سے پھرے\nتا حشر رہا شاگرد ترا استاد تجھے جب مان لیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%DA%AF%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D9%88%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%85_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%D9%86%DB%92_%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86_%D8%A2%D9%86_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بھاگے اچھی شکلوں والے عشق ہے گویا کام برا", "poet_page": "مصنف:شوق قدوائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھاگے اچھی شکلوں والے عشق ہے گویا کام برا\nاپنی حالت کیا میں بتاؤں بد اچھا بدنام برا\n\nگیسو و رخ کو جب سے چاہا تب سے میرا رنگ یہ ہے\nشام اچھا تو صبح برا اور صبح اچھا تو شام برا\n\nقدر ہو کیا خاک اس کے گھر میں آندھی کے سی آم ہیں دل\nعاشق ٹوٹے پڑتے ہیں ہر روز کا اذن عام برا\n\nباندھ کے حلقے گھیریں گے اب میرے دل کی خیر نہیں\nگھونگھر والے گیسو اس کے باندھ رہے ہیں لام برا\n\nسر پہ عمامہ ہاتھ میں سبحہ شوقؔ نہ جا بت خانے کو\nبت ہیں بڑے کافر رکھ دیں گے سر الزام برا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%DA%AF%DB%92_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D8%B4%DA%A9%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D8%B1%D8%A7"} {"title": "بھرا کمال وفا سیں خیال کا شیشہ", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھرا کمال وفا سیں خیال کا شیشہ\nکہ ہوئے بدر سیں پورا ہلال کا شیشہ\n\nوو خوش دہن کی جدائی سیں نرم گلشن میں\nہر ایک غنچہ ہے رنگ ملال کا شیشہ\n\nخیال عارض گل رنگ کی تجلی سیں\nہے آئنہ عرق انفعال کا شیشہ\n\nتمام بو قلمونی کا ہے تجلی گاہ\nنہیں خدائی میں دل کی مثال کا شیشہ\n\nچمن میں عازم ہولی ہے وو بسنت پوش\nہوا ہے غنچہ لالا گلال کا شیشہ\n\nخوشی سیں چرخ میں ہے آفتاب کی مانند\nملا جسے مے نور جمال کا شیشہ\n\nنبی کی آل کا احوال سن ہوا پرخوں\nسراجؔ دل ہے مرا رنگ آل کا شیشہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%81"} {"title": "بھری آتی ہیں ہر گھڑی آنکھیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھری آتی ہیں ہر گھڑی آنکھیں\nگویا ساون کی ہیں جھڑی آنکھیں\n\nنرگس آٹھ آٹھ آنسو روتی ہے\nیاد کر وہ بڑی بڑی آنکھیں\n\nشرر افشانیٔ سرشک سے رات\nتھیں مری جیسے پھلجھڑی آنکھیں\n\nجوں قلمرو رہی ہیں اشک سیاہ\nدیکھ اس مسی کی دھڑی آنکھیں\n\nمصحفیؔ دیکھ بد بلا ہے وہ شوخ\nنہ ملا اس سے ہر گھڑی آنکھیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں\nسنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوں\n\nجو تو ہو صاف تو کچھ میں بھی صاف تجھ سے کہوں\nترے ہے دل میں کدورت کہوں تو کس سے کہوں\n\nنہ کوہ کن ہے نہ مجنوں کہ تھے مرے ہمدرد\nمیں اپنا درد محبت کہوں تو کس سے کہوں\n\nدل اس کو آپ دیا آپ ہی پشیماں ہوں\nکہ سچ ہے اپنی ندامت کہوں تو کس سے کہوں\n\nکہوں میں جس سے اسے ہووے سنتے ہی وحشت\nپھر اپنا قصۂ وحشت کہوں تو کس سے کہوں\n\nرہا ہے تو ہی تو غم خوار اے دل غمگیں\nترے سوا غم فرقت کہوں تو کس سے کہوں\n\nجو دوست ہو تو کہوں تجھ سے دوستی کی بات\nتجھے تو مجھ سے عداوت کہوں تو کس سے کہوں\n\nنہ مجھ کو کہنے کی طاقت کہوں تو کیا احوال\nنہ اس کو سننے کی فرصت کہوں تو کس سے کہوں\n\nکسی کو دیکھتا اتنا نہیں حقیقت میں\nظفرؔ میں اپنی حقیقت کہوں تو کس سے کہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "بھرے موتی ہیں گویا تجھ دہن میں", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھرے موتی ہیں گویا تجھ دہن میں\nکہ در ریزی تو کرتا ہے سخن میں\n\nبہار آرا وہی ہے ہر چمن میں\nاسی کی بو ہے نسرین و سمن میں\n\nنہ پھر ایدھر ادھر ناحق بھٹکتا\nکہ ہے وہ جلوہ گر تیرے ہی من میں\n\nجہاں وہ ہے نہیں واں کفر و اسلام\nعبث جھگڑا ہے شیخ و برہمن میں\n\nہوئی جاتی ہے پانی شرم سے شمع\nمگر وہ ماہ آیا انجمن میں\n\nچھڑایا تھا نپٹ مشکل سے پھر آہ\nدل اٹکا اس کی زلف پر شکن میں\n\nجنوں نے دست کاری ایسی بھی کی\nنہ تھا گویا گریباں پیرہن میں\n\nمرا جاتا ہے جس غیرت میں دریا\nگرا کس کا ہے دل چاہ ذقن میں\n\nمگر پروانہ جل کر ہو گیا خاک\nکہ رو رو شمع جلتی ہے لگن میں\n\nجو سنتے تھے دم عیسیٰ کا اعجاز\nسو دیکھا ہم نے وہ تیرے سخن میں\n\nنہ دیکھا اس پری جلوہ کو بیدارؔ\nرہا مشغول تو یاں ما و من میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%AF%DB%81%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بھرے ہیں اس پری میں اب تو یارو سر بسر موتی", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھرے ہیں اس پری میں اب تو یارو سر بسر موتی\nگلے میں کان میں نتھ میں جدھر دیکھو ادھر موتی\n\nکوئی بندوں سے مل کر کان کے نرموں میں ہلتا ہے\nیہ کچھ لذت ہے جب اپنا چھداتے ہیں جگر موتی\n\nوہ ہنستے ہیں تو کھلتا ہے جواہر خانۂ قدرت\nادھر لعل اور ادھر نیلم ادھر مرجاں ادھر موتی\n\nفلک پر دیکھ کر تارے بھی اپنا ہوش کھوتے ہیں\nپہن کر جس گھڑی بیٹھے ہے وہ رشک قمر موتی\n\nجو کہتا ہو ارے ظالم ٹک اپنا نام تو بتلا\nتو ہنس کر مجھ سے یہ کہتی ہے وہ جادو نظر موتی\n\nوہ دریا موتیوں کا ہم سے روٹھا ہو تو پھر یارو\nبھلا کیونکر نہ برسا دے ہماری چشم تر موتی\n\nنظیرؔ اس ریختے کو سن وہ ہنس کر یوں لگی کہنے\nاگر ہوتے تو میں دیتی تجھے اک تھال بھر موتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D8%B3%D8%B1_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%D9%85%D9%88%D8%AA%DB%8C"} {"title": "بھلا ہو جس کام میں کسی کا تو اس میں وقفہ نہ کیجئے گا", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "بھلا ہو جس کام میں کسی کا تو اس میں وقفہ نہ کیجئے گا\nخیال زحمت نہ کیجئے گا ملال ایذا نہ کیجئے گا\n\nوہ مجھ سے فرما رہے ہیں ہنس کر ہمیشہ ملنے کی آرزو پر\nملال ہوگا محال شے کی کبھی تمنا نہ کیجئے گا\n\nحباب ہے زندگی کا نقشہ کہاں کا دن ماہ و سال کیسا\nہوا ہے یہ دم کا کیا بھروسہ امید فردا نہ کیجئے گا\n\nکیا تو ہے عشق حضرت دل لیا ہے سر پر یہ بار مشکل\nہوا اگر مدعا نہ حاصل تو راز افشا نہ کیجئے گا\n\nجو آپ آئیں پئے عیادت یقیں ہے ہو جائے مجھ کو صحت\nمگر برائے خدا یہ زحمت کبھی گوارہ نہ کیجئے گا\n\nجو اہل دنیا کے تھے مخالف ہوئے وہ دنیا کے اور نہ دیں کے\nسمجھیے اب خاتمہ ہے دیں کا جو فکر دنیا نہ کیجئے گا\n\nیہ قاعدہ رسم و راہ کا ہے خیال دونوں طرف ہو یکساں\nکسی کو پروا نہ ہوگی جس دم کسی کی پروا نہ کیجئے گا\n\nتعلق اہل جہاں سے ہو گر تو رکھیے بیم و رجا برابر\nسوا خدا کے کسی کے اوپر کبھی بھروسہ نہ کیجئے گا\n\nعزیز ہے جوہر امانت کسی سے الفت ہو یا عداوت\nاگر ہے کچھ غیرت شرافت تو راز افشا نہ کیجئے گا\n\nبیان کی احتیاج ہے کب رہا ہے صرف ایک حرف مطلب\nحبیبؔ کا درد دل سنا سب اب اس کا چارہ نہ کیجئے گا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D9%82%D9%81%DB%81_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "بھلا ہو پیر مغاں کا ادھر نگاہ ملے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھلا ہو پیر مغاں کا ادھر نگاہ ملے\nفقیر ہیں کوئی چلو خدا کی راہ ملے\n\nکہاں تھے رات کو ہم سے ذرا نگاہ ملے\nتلاش میں ہو کہ جھوٹا کوئی گواہ ملے\n\nقریب مے کدہ مجھ کو جو خانقاہ ملے\nگلے ثواب کے کیا کیا مرے گناہ ملے\n\nوہ روز حشر ہے دنیا نہیں کہ راہ ملے\nکہاں چھپوگے جو دو چار داد خواہ ملے\n\nمری خرابی میں آ کر وہ چوکڑی بھولے\nکہ پھر نہ خانہ خرابی کو گھر کی راہ ملے\n\nترا دل آئے کسی پر تو عرش ہل جائے\nاثر تلاش میں ہے اس طرح کی آہ ملے\n\nتمہارے کوچے میں ہر روز وہ قیامت ہے\nکہ سایہ ڈھونڈ رہا ہے کہیں پناہ ملے\n\nترا غرور سمایا ہے اس قدر دل میں\nنگاہ بھی نہ ملاؤں جو بادشاہ ملے\n\nسر برہنہ مجنوں پہ آشیاں ہے تاج\nنہ رکھے سر پہ جو فغفور کی کلاہ ملے\n\nفلک کی طرح جفائیں نہ کیجیے ہر روز\nاسی قدر ہے یہ نعمت جو گاہ گاہ ملے\n\nتمہارے حسن سے کیا رتبہ ماہ کنعاں کو\nوہی تو چاند جسے ڈوبنے کو چاہ ملے\n\nسب اہل حشر جب اپنے کئے کو پائیں گے\nبڑا مزا ہو جو مجھ کو مرا گناہ ملے\n\nکروں میں عرض اگر جان کی اماں پاؤں\nکہوں پتے کی اگر قہر سے پناہ ملے\n\nیہ ہے مزے کی لڑائی یہ ہے مزے کا ملاپ\nکہ تجھ سے آنکھ لڑی اور پھر نگاہ ملے\n\nہوا ہے درد جگر سے یہ گھر مرا تاریک\nکہ موت ڈھونڈتی پھرتی ہے کوئی راہ ملے\n\nنہ اس کو صبر نہ تاثیر کا پتا یا رب\nجلا دیا ہے مجھے خاک میں یہ آہ ملے\n\nبلا سے دعوئ الفت نہ پیش کرتے ہم\nملے ہوئے ہیں جو دشمن سے وہ گواہ ملے\n\nٹھہر نہ آہ مری جان لے کے چلتے ہو\nسفر کرے جو مسافر کو زاد راہ ملے\n\nمثل سنی ہے کہ ملنے سے کوئی ملتا ہے\nملو تو آنکھ ملے دل ملے نگاہ ملے\n\nقمر کو جامہ شب تو بصر کو پردۂ چشم\nکئی لباس ترے نور کو سیاہ ملے\n\nاثر کہاں سے ملے جب یہ پھوٹ ہو باہم\nالگ الگ رہے دونوں نہ حرف آہ ملے\n\nلگا کے پاؤں میں اس کے اڑاؤں قاصد کو\nاگر مجھے ترے توسن کی گرد راہ ملے\n\nاس انقلاب میں ڈھونڈو جو مشک اور کافور\nتو یہ سفید ملے اور وہ سیاہ ملے\n\nنوید بخشش عصیاں اسے سنا دینا\nجو شرمسار کہیں داغؔ رو سیاہ ملے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%85%D9%84%DB%92"} {"title": "بھلا ہوگا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہوگا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھلا ہوگا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہوگا\nمآل اپنا ترے غم میں خدا جانے کہ کیا ہوگا\n\nتفحص فائدہ ناصح تدارک تجھ سے کیا ہوگا\nوہی پاوے گا میرا درد دل جس کا لگا ہوگا\n\nکسو کو شوق یا رب بیش اس سے اور کیا ہوگا\nقلم ہاتھ آ گئی ہوگی تو سو سو خط لکھا ہوگا\n\nدکانیں حسن کی آگے ترے تختہ ہوئی ہوں گی\nجو تو بازار میں ہوگا تو یوسف کب بکا ہوگا\n\nمعیشت ہم فقیروں کی سی اخوان زماں سے کر\nکوئی گالی بھی دے تو کہہ بھلا بھائی بھلا ہوگا\n\nخیال اس بے وفا کا ہم نشیں اتنا نہیں اچھا\nگماں رکھتے تھے ہم بھی یہ کہ ہم سے آشنا ہوگا\n\nقیامت کر کے اب تعبیر جس کو کرتی ہے خلقت\nوہ اس کوچے میں اک آشوب سا شاید ہوا ہوگا\n\nعجب کیا ہے ہلاک عشق میں فرہاد و مجنوں کے\nمحبت روگ ہے کوئی کہ کم اس سے جیا ہوگا\n\nنہ ہو کیوں غیرت گلزار وہ کوچہ خدا جانے\nلہو اس خاک پر کن کن عزیزوں کا گرا ہوگا\n\nبہت ہم سایے اس گلشن کے زنجیری رہا ہوں میں\nکبھو تم نے بھی میرا شور نالوں کا سنا ہوگا\n\nنہیں جز عرش جاگا راہ میں لینے کو دم اس کے\nقفس سے تن کے مرغ روح میرا جب رہا ہوگا\n\nکہیں ہیں میرؔ کو مارا گیا شب اس کے کوچے میں\nکہیں وحشت میں شاید بیٹھے بیٹھے اٹھ گیا ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں\nالٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں\n\nنہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانے\nشراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں\n\nرہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے ناکامی\nوہ دشت خود فراموشی کے چکر یاد آتے ہیں\n\nنہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی\nمگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں\n\nحقیقت کھل گئی حسرتؔ ترے ترک محبت کی\nتجھے تو اب وہ پہلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بھلے آدمی کہیں باز آ ارے اس پری کے سہاگ سے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "بھلے آدمی کہیں باز آ ارے اس پری کے سہاگ سے\nکہ بنا ہوا ہو جو خاک سے اسے کیا مناسبت آگ سے\n\nبہت اپنی تاک بلند تھی کوئی بیس گز کی کمند تھی\nپر اچھال پھاندا وہ بند تھی ترے چوکیداروں کی جاگ سے\n\nبہت آئے مہرے کڑے کڑے وہ جو منڈ جی تھے بڑے بڑے\nولے ایسے تو نہ نظر پڑے کہ جو صاف پاک ہوں لاگ سے\n\nوہ سیاہ بخت جو رات کو ترے دام زلف میں پھنس گیا\nاسے آ کے وہم و خیال کے لگے ڈسنے سیکڑوں ناگ سے\n\nبھرا میں نے بندرابن میں جو ارے کشن ہوپ کا نعرہ تو\nمہاراج ناچتے کودتے چلے آئے لٹ پٹی پاگ سے\n\nلگے کہنے کھیم کُسل اسے جو علیؔ کے دھیان کے بیچ ہے\nتورے دکھ دلدر جتی تھے گئے بھاگ آپ کے بھاگ سے\n\nہوئے عاشق ان کے ہیں مرد و زن یہ انوکھی ان کی بھی کچھ نہیں\nکوئی تازہ آئے ہیں برہمن یہ جو کاشی اور پراگ سے\n\nتجھے چاہتے نہیں ہم ہیں بس انہوں کو بھی تو تری ہوس\nوہ جو بھکڑے بیر سے سو برس کے پرانے بوڑھے ہیں داگ سے\n\nاے لو آئے آئے سوائے کچھ نہیں بات دھیان میں چڑھتی کچھ\nکچھ اک ان فقیروں کی مجلسیں بھی تو ملتی جلتی ہیں بھاگ سے\n\nمجھے کام ان کے جمال سے نہ تو ٹپّے سے نہ خیال سے\nنہ تو وجد سے نہ تو حال سے نہ تو ناچ سے نہ تو راگ سے\n\nیہ سعادت اس کو علیؔ نے دی جو وزیر اعظم ہند ہے\nکہ بدولت اس کی جہان میں نہیں خوف بکری کو باگ سے\n\nمجھے رحم آتا ہے ایسوں پر بسر اپنے کرتے ہیں وقت جو\nکسی پھل سے یا کسی پھول سے کسی پات سے کسی ساگ سے\n\nگتھی ان سروں ہی میں آ گئی مجھے اک عروس کے باس سے\nابھی انشاؔ اپنا ہو بس اگر تو لپٹ ہی جاؤں بہاگ سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%84%DB%92_%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B2_%D8%A2_%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%DB%81%D8%A7%DA%AF_%D8%B3%DB%92"} {"title": "بھنورے کی بے قراری", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "نہ وہ کیتکی کی پھبن رہی\nنہ وہ موتیا کی ادا رہی\nنہ وہ نسترن نہ سمن رہی\nنہ وہ گل رہے نہ فضا رہی\nنہ گلوں کے اب ہیں وہ قہقہے\nنہ وہ بلبلوں کے ہیں چہچہے\nنہ غزل سرا وہ کوئی رہے\nنہ وہ قمریوں کی صدا رہی\nنہ وہ سرو ہے نہ وہ آب جو\nنہ وہ ہم صفیر ہیں خوش گلو\nنہ بنفشہ ہے نہ وہ ناز بو\nنہ وہ جعفری نہ جفا رہی\nنہ وہ صبح کی ہیں تجلیاں\nنہ شفق کی آہ وہ جھلکیاں\nنہ وہ اودی اودی ہیں بدلیاں\nنہ وہ بھینی بھینی ہوا رہی\nنہ امنگیں ہیں وہ شباب کی\nنہ وہ پتیاں ہیں گلاب کی\nنہ ہوا میں بو ہے شراب کی\nمجھے مست تھی جو بنا رہی\nوہ کنول غضب کے تھے دل ربا\nجہاں اڑتے تھے مرے ہم نوا\nمگر اب نہ ان کی ہے وہ ادا\nنہ وہ بو رہی نہ صفا رہی\nلب آب جو تھی فضا غضب\nوہ بہار کی تھی ہوا عجب\nمرے کنج میں مجھے روز و شب\nمے بے خودی تھی پلا رہی\nوہ غضب کی کو‌ کو وہ زمزمہ\nوہ سریلی درد بھری صدا\nسر شام سرو پہ فاختہ\nمجھے لوریاں تھی سنا رہی\nہیں کنول کی خشک جو پتیاں\nمری خواب گہ تھی کبھی یہاں\nیہیں شب کو دے دے کے تھپکیاں\nتھی نسیم مجھ کو سلا رہی\nنہ گلوں میں بوئے وفا رہی\nنہ وہ دل ربا ہی ادا رہی\nنہ چمن رہا نہ فضا رہی\nنہ وہ دن رہے نہ ہوا رہی\nنہ روش ہے اب وہ سپہر کی\nنہ گلوں میں بو ہے وہ مہر کی\nکہ ہوا ہے گلشن دہر کی\nمجھے سبز باغ دکھا رہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%86%D9%88%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "بھنگن", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سرکنڈوں کے پیچھے", "year": "1955", "text_ur": "’’پرے ہٹیے۔۔۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’مجھے آپ سے بوآتی ہے۔‘‘\n\n’’ہر انسان کے جسم کی ایک خاص بو ہوتی ہے۔۔۔ آج بیس برسوں کے بعد تمہیں اس سے تنفر کیوں محسوس ہونے لگا؟‘‘\n\n’’بیس برس۔۔۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ میں نے اتنا طویل عرصہ کیسے بسر کیا ہے۔‘‘\n\n’’میں نے کبھی آپ کو اس عرصے میں تکلیف پہنچائی؟‘‘\n\n’’جی کبھی نہیں۔‘‘\n\n’’تو پھر آج اچانک آپ کو مجھ سے ایسی بو کیوں آنے لگی جس سے آپ کی ناک جو ماشاء اللہ کافی بڑی ہے،اتنی غضب ناک ہورہی ہے؟‘‘\n\n’’آپ اپنی ناک تو دیکھیے۔۔۔ پکوڑاسی ہے۔‘‘\n\n’’میں اس سے انکار نہیں کرتا۔۔۔ پکوڑے،تم جانتی ہو، مجھے بہت پسند ہیں۔‘‘\n\n’’آپ کو تو ہر واہیات چیز پسند ہوتی ہے۔۔۔ کوڑے کرکٹ میں بھی آپ دلچسپی لیتے ہیں۔‘‘\n\n’’کوڑا کرکٹ ہمارا ہی تو پھیلا یا ہوا ہوتا ہے۔۔۔ اس سے آدمی دلچسپی کیوں نہ لے۔۔۔ اور تم جانتی ہو، آج سے دس سال پہلے جب تمہاری ہیرے کی انگوٹھی گم ہوگئی تھی تو اسی کوڑے کے ڈھیر سے میں نے تمہیں تلاش کرکے دی تھی۔‘‘\n\n’’بڑا کرم کیا تھا آپ نے مجھ پر۔‘‘\n\n’’بھئی کرم کا سوال نہیں۔۔۔ فارسی کا ایک شعر ہے؂\n\nخاکساراں را بہ حقارت منگر\n\nتوچہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد\n\n’’میں خاک بھی نہیں سمجھی۔‘‘\n\n’’یہی وجہ ہے کہ تم نے ابھی تک مجھے نہیں سمجھا۔۔۔ ورنہ بیس برس ایک آدمی کو پہچاننے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔‘‘\n\n’’ان بیس برسوں میں آپ نے کون سا سکھ پہنچایا ہے مجھے؟‘‘\n\n’’تم دکھ کی بات کرو۔۔۔ بتاؤ میں نے کون سا دکھ تمہیں اس عرصے میں پہنچایا؟‘‘\n\n’’ایک بھی نہیں۔‘‘\n\n’’تو پھر یہ کہنے کا کیا مطلب تھا۔۔۔ ان بیس برسوں میں آپ نے کون سا سکھ پہنچایا ہے مجھے؟‘‘\n\n’’آپ میرے قریب نہ آئیے۔۔۔ میں سونا چاہتی ہوں۔‘‘\n\n’’اس غصے میں نیند آجائے گی تمہیں؟‘‘\n\n’’خاک آئے گی۔۔۔ بہر حال۔۔۔ آنکھیں بند کرکے لیٹی رہوں گی اور۔۔۔‘‘\n\n’’اور کیا کریں گی؟‘‘\n\n’’لیٹی اس روز پر آنسو بہاؤں گی جب میں آپ کے پلے باندھی گئی۔‘‘\n\n’’تمہیں یاد ہے وہ دن کیا تھا۔۔۔۔ سن کیا تھا۔۔۔ وقت کیا تھا؟‘‘\n\n’’میں کبھی وہ دن بھول سکتی ہوں۔۔۔ خدا کرے وہ کسی لڑکی پر نہ آئے۔‘‘\n\n’’تم بتا تو دو۔۔۔ میں تمہاری یادداشت کا امتحان لینا چاہتا ہوں۔‘‘\n\n’’اب آپ میرا امتحان کیا لیں گے۔۔۔ پرے ہٹیے۔۔۔ مجھے آپ سے بو آرہی ہے۔‘‘\n\n’’بھی حد ہوگئی ہے۔۔۔ تمہاری اتنی لمبی ناک جو کہیں ختم ہونے ہی میں نہیں آتی، اس کو آخر کیا ہوگیا ہے۔۔۔ مجھ سے تو اس کو بڑی بھینی بھینی خوشبو آنا چاہیے۔۔۔ تم نے مجھ سے ان بیس برسوں میں ہزاروں مرتبہ کہا کہ آپ جب کسی کمرے میں داخل ہوں اور وہاں سے نکل جائیں تو میں پہچان جایا کرتی ہوں کہ آپ وہاں آئے تھے۔‘‘\n\n’’آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔‘‘\n\n’’دیکھو۔۔۔ میں نے اپنی زندگی میں آج تک جھوٹ نہیں بولا۔۔۔ تم مجھ پر یہ الزام نہ دھرو۔‘‘\n\n’’واہ جی واہ، بڑے آئے آپ کہیں کے سچے۔۔۔ میرا سو روپے کا نوٹ آپ نے چرایا اور صاف مکر گئے۔‘‘\n\n’’یہ کب کی بات ہے؟‘‘\n\n’’دو جون سن انیس سو بیالیس کو۔۔۔ جب سلمیٰ میرے پیٹ میں تھی۔‘‘\n\n’’یہ تاریخ تمہیں خوب یاد رہی۔‘‘\n\n’’کیوں یاد نہ رہتی۔ جب آپ سے میری اتنی زبردست لڑائی ہوئی تھی۔ میں اندر کمرے میں پڑی تھی۔ آپ نے چابی بڑی صفائی سے میرے تکیے کے نیچے سے نکالی۔ دوسرے کمرے میں جا کر الماری کھولی اور اس میں جو سات سو پڑے تھے، ان میں سے ایک نوٹ اڑا کر لے گئے۔ میں نے جب دو ڈھائی گھنٹوں کے بعد اٹھ کر دیکھا تو آپ سے چخ ہوئی، مگر آپ تھے کہ پروں پر پانی ہی نہیں لیتے تھے۔آخر میں خاموش ہوگئی۔‘‘\n’’یہ دو جون سن انیس سو بیالیس کی بات ہے۔۔۔ آج کل سن چون چل رہا ہے۔ اب اس کے ذکر کا کیا فائدہ؟‘‘\n\n’’فائدہ تو ہر حالت میں آپ ہی کا رہتا ہے۔۔۔ میری ایک نیلم کی انگوٹھی بھی آپ نے غائب کردی تھی، لیکن میں نے آپ سے کچھ نہیں کہا تھا۔‘‘\n\n’’دیکھو، میں تمہاری جان کی قسم کھا کر کہتا ہوں،اس نیلم کی انگوٹھی کے متعلق مجھے کچھ معلوم نہیں۔۔۔‘‘\n\n’’اور اس سو روپے کے نوٹ کے متعلق۔‘‘\n\n’’اب تمہاری جان کی قسم کھائی توسچ بتانا ہی پڑے گا۔۔۔ میں نے۔۔۔ میں نے چرایا ضرور تھا، مگر صرف اس لیے کہ اس مہینے مجھے تنخواہ دیر سے ملنے والی تھی اور تمہاری سالگرہ تھی۔ تمہیں کوئی تحفہ تو دینا تھا۔ ان بیس برسوں میں تمہاری ہر سالگرہ پر میں اپنی استطاعت کے مطابق کوئی نہ کوئی تحفہ پیش کرتا رہا ہوں۔‘‘\n\n’’بڑے تحفے تحائف دیے ہیں آپ نے مجھے۔‘‘\n\n’’ناشکری تو نہ بنو!‘‘\n\n’’میں کئی دفعہ کہہ چکی ہوں، آپ پرے ہٹ جائیے۔۔۔ مجھے آپ سے بو آتی ہے۔‘‘\n\n’’کس کی؟‘‘\n\n’’یہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔‘‘\n\n’’میں نے خود کو کئی مرتبہ سونگھا ہے، مگر میری پکوڑا ایسی ناک میں ایسی کوئی بو نہیں گھسی جس پر کسی بیوی کو اعتراض ہو سکے۔‘‘\n\n’’آپ باتیں بنانا خوب جانتے ہیں۔‘‘\n\n’’اور باتیں بگاڑناتم۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتا، آج تم اس قدر ناراض کیوں ہو؟‘‘\n\n’’اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیے!‘‘\n\n’’میں اس وقت قمیص پہنے نہیں ہوں۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’سخت گرمی ہے۔‘‘\n\n’’سخت گرمی ہو یا نرم۔۔۔ آپ کو قمیص تو نہیں اتارنا چاہیے تھی، یہ کوئی شرافت نہیں۔‘‘\n\n’’محترمہ!آپ نے بھی تو قمیص اتار رکھی ہے۔۔۔ اپنے ننگے بدن کو ملاحظہ فرمائیے۔‘‘\n\n’’اوہ۔۔۔ یہ میں نے کیا واہیات پن کیا ہے!‘‘\n\n’’یہ واہیات پن تو آپ گرمیوں میں بیس بر س سے کررہی ہوں۔‘‘\n\n’’آپ جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘\n\n’’خیر،جھوٹ تو ہر مرد کی عادت ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’آپ مجھ سے دور ہی رہیں۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’توبہ۔۔۔ لاکھ بار کہہ چکی ہوں کہ مجھے آپ سے بہت گندی بو آرہی ہے۔‘‘\n\n’’پہلے صرف بو تھی۔۔۔ اب گندی ہوگئی۔‘‘\n\n’’خبردار! جو آپ نے مجھے ہاتھ لگایا!‘‘\n\n’’اس قدر بیزاری آخر کیوں؟‘‘\n\n’’میں اب آپ سے قطعاً بیزار ہو چکی ہوں۔‘‘\n\n’’ان بیس برسوں میں تم نے کبھی ایسی بیزاری کا اظہار نہیں کیا تھا۔‘‘\n\n’’اب تو کردیا ہے۔‘‘\n\n’’لیکن مجھے معلوم تو ہو کہ اس کی وجہ کیا ہے؟‘‘\n\n’’میں کہتی ہوں، مجھے مت چھوئیے۔‘‘\n\n’’تمہیں مجھ سے اتنی کراہت کیوں ہورہی ہے؟‘‘\n\n’’آپ ناپاک ہیں۔۔۔ بے حد ذلیل ہیں۔‘‘\n\n’’دیکھو، تم بہت زیادتی کررہی ہو۔‘‘\n\n’’آپ نے کم کی ہے۔کوئی شریف آدمی آپ کی طرح ایسی ذلیل حرکت نہیں کرسکتا تھا۔‘‘\n\n’’کون سی؟‘‘\n\n’’آج صبح کیا ہوا تھا؟‘‘\n\n’’آج صبح۔۔۔ بارش ہوئی تھی۔‘‘\n\n’’بارش ہوئی تھی۔۔۔ لیکن اس بارش میں آپ نے کس کو اپنی آغوش میں دبایا ہوا تھا؟‘‘\n\n’’اوہ!‘‘\n\n’’بس اس کا جواب اب ’اوہ‘ ہی ہوگا۔۔۔ میں نے پکڑ جو لیا تھا آپ کو۔‘‘\n\n’’دیکھو میری جان۔۔۔‘‘\n\n’’مجھے اپنی جان وان مت کہیے۔۔۔ آپ کو شرم آنی چاہیے۔‘‘\n\n’’کس بات پر۔۔۔کس گناہ پر؟‘‘\n\n’’میں کہتی ہوں آدمی گناہ کرے۔۔۔ لیکن ایسی گندگی میں نہ گرے۔‘‘\n\n’’میں کس گندگی میں گرا ہوں؟‘‘\n\nآج صبح آپ نے اس۔۔۔ اس۔۔۔‘‘\n\n’’کیا؟‘‘\n\n’’اس بھنگن کو۔۔۔ جوان بھنگن کو جو مٹھائی والے کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔‘‘\n\n’’لاحول ولا۔۔۔ تم بھی عجیب عورت ہو۔۔۔ وہ غریب حاملہ ہے۔بارش میں جھاڑو دیتے ہوئے اس کو غش آیا اور گر پڑی۔ میں نے اس کو اٹھایا اور اس کے کوارٹر میں لے گیا۔‘‘\n\n’’پھر کیا ہوا؟‘‘\n\n’’تمہیں معلوم نہیں کہ وہ مر گئی؟‘‘\n\n’’ہائے۔۔۔ بے چاری۔۔۔ میں تو ٹھنڈی برف ہو گئی ہوں۔‘‘\n\n’’میرے قریب آجاؤ۔‘‘\n\n’’میں قمیص پہن لوں؟‘‘\n\n’’اس کی کیا ضرورت ہے، تمہاری قمیص میں ہوں۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%86%DA%AF%D9%86"} {"title": "بھول نہ اس کو دھن ہے جدھر کی چونک مسافر رات نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھول نہ اس کو دھن ہے جدھر کی چونک مسافر رات نہیں ہے\nشکل نمایاں ہوگی سحر کی چونک مسافر رات نہیں ہے\n\nآنکھیں ملتے صحن چمن میں جھوم کے اٹھے نیند کے ماتے\nدیکھ صبا نے آ کے خبر کی چونک مسافر رات نہیں ہے\n\nنیلے نیلے رنگ کے اوپر بڑھتی ہی جاتی ہے سفیدی\nہو گئی رنگت زر و قمر کی چونک مسافر رات نہیں ہے\n\nزور نہ طاقت سنگ نہ ساتھی پاؤں سے اپنے آپ ہے چلنا\nتجھ پہ ہے بھاری راہ سفر کی چونک مسافر رات نہیں ہے\n\nتجھ پہ میں قرباں جانی پیارے ہم نفس و ہم درد ہمارے\nتجھ سے ہے الفت میں نے خبر کی چونک مسافر رات نہیں ہے\n\nپنکھ پکھیرو خواب سے چونکے سب نے خوشی کے نعرے مارے\nآئی صدا مرغان سحر کی چونک مسافر رات نہیں ہے\n\nکوچ کی ساعت آ گئی سر پر شادؔ اٹھا لے جھولی بستر\nنیند میں ساری رات بسر کی چونک مسافر رات نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DA%BE%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D9%88%D9%86%DA%A9_%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "بھول کر بھی ادھر نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھول کر بھی ادھر نہیں آتا\nوہ کبھی راہ پر نہیں آتا\n\nکس کا جلوہ نظر سے گزرا ہے\nکہ مجھے کچھ نظر نہیں آتا\n\nچرخ گردش سے تھک گیا شب ہجر\nدن نکلتا نظر نہیں آتا\n\nبہہ گیا دل تو غم نہیں اے چشم\nکام میں کیا جگر نہیں آتا\n\nہوں شب وصل اس قدر بے خود\nبیم مرگ سحر نہیں آتا\n\nکس گلی میں چلا ہوں مرنے کو\nشوق میں کچھ نظر نہیں آتا\n\nتیرا کوچہ اگر بہشت نہیں\nجا کے کیوں نامہ بر نہیں آتا\n\nپھیر دینی چھری تو آتی ہے\nلطف صیاد اگر نہیں آتا\n\nنو گرفتاری مصیبت دیکھ\nہم کو نالہ بھی کر نہیں آتا\n\nدل کو کیا جانے کیا ہوا سالکؔ\nچین کیوں رات بھر نہیں آتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "بھول کر پہلوئے امید میں آیا نہ گیا", "poet_page": "مصنف:عبد الہادی وفا", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وفا (1923)", "year": "1923", "text_ur": "بھول کر پہلوئے امید میں آیا نہ گیا\nجو پتا ہم کو بتایا تھا وہ پایا نہ گیا\n\nقلم انداز فنا ہوں مری وقعت دیکھو\nمیں ہوں وہ حرف مکرر جو مٹایا نہ گیا\n\nاس تکلف پہ کہاں لطف ہم آغوشی کا\nآپ سے پہلوئے تصویر میں آیا نہ گیا\n\nوہ ادا اور تھی یہ اور ہے پھر اور سہی\nبے نیازی سے کوئی رنگ جمایا نہ گیا\n\nاس رکاوٹ میں بھی نیرنگ دل آویزی ہے\nروٹھ جانے کی ہے خوبی کہ منایا نہ گیا\n\nدے دیا طاق سے آئینہ اٹھا کر ان کو\nحال مجھ سے دل حیراں کا دکھایا نہ گیا\n\nورق حشر لگایا ہے عدم کے پیچھے\nجب مرا حال خموشی سے جتایا نہ گیا\n\nربط و بے ربطیٔ انفاس سے کچھ بھی نہ ہوا\nیہ غبار غم دل تھا کہ اڑایا نہ گیا\n\nبیکس ہائے تمنا سے حیا آنے لگی\nتیری تصویر کو سینہ سے لگایا نہ گیا\n\nدیکھنا چرخ جفا کار کی مجبوری کو\nاس طرح ہم کو گرایا کہ اٹھایا نہ گیا\n\nاے وفاؔ آرزوئے مرگ نے جی چھوڑ دیا\nدست احباب سے اب زہر بھی کھایا نہ گیا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بھول کر ہرگز نہ لیتے ہم زباں سے نام عشق", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھول کر ہرگز نہ لیتے ہم زباں سے نام عشق\nگر نظر آتا ہمیں آغاز میں انجام عشق\n\nواے قسمت دل لگاتے ہی جدائی ہو گئی\nصبح ہوتے ہی ہوئی نازل بلائے شام عشق\n\nناصح ناداں تری قسمت میں یہ وقعت کہاں\nخوش نصیبوں کے لیے ہے ذلت و دشنام عشق\n\nحال میرا سن کے پیغامی سے وہ کہنے لگے\nگر نہ تھی تاب جدائی کیوں لیا تھا نام عشق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D8%B1%DA%AF%D8%B2_%D9%86%DB%81_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "بھولا ہوں میں عالم کو سرشار اسے کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:امانت لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھولا ہوں میں عالم کو سرشار اسے کہتے ہیں\nمستی میں نہیں غافل ہشیار اسے کہتے ہیں\n\nگیسو اسے کہتے ہیں رخسار اسے کہتے ہیں\nسنبل اسے کہتے ہیں گلزار اسے کہتے ہیں\n\nاک رشتۂ الفت میں گردن ہے ہزاروں کی\nتسبیح اسے کہتے ہیں زنار اسے کہتے ہیں\n\nمحشر کا کیا وعدہ یاں شکل نہ دکھلائی\nاقرار اسے کہتے ہیں انکار اسے کہتے ہیں\n\nٹکراتا ہوں سر اپنا کیا کیا در جاناں سے\nجنبش بھی نہیں کرتی دیوار اسے کہتے ہیں\n\nدل نے شب فرقت میں کیا ساتھ دیا میرا\nمونس اسے کہتے ہیں غم خوار اسے کہتے ہیں\n\nخاموش امانتؔ ہے کچھ اف بھی نہیں کرتا\nکیا کیا نہیں اے پیارے اغیار اسے کہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%B1%D8%B4%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بھولا ہے بعد مرگ مجھے دوست یاں تلک", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھولا ہے بعد مرگ مجھے دوست یاں تلک\nسگ بھی نہ اس کا آیا مری استخواں تلک\n\nگو ہم قفس سے جا نہ سکے بوستاں تلک\nاڑ اڑ کے رنگ چہرہ گیا پر وہاں تلک\n\nبلبل ہجوم گل ہے چمن میں یہاں تلک\nپھولوں سے چھا گیا ہے ترا آشیاں تلک\n\nکب پہنچی آہ ضعف سے گوش بتاں تلک\nسو جا ٹھہر کے سینے سے آئی زباں تلک\n\nپرواز پیش ازیں تھی مری آسماں تلک\nاب تو چمن سے جا نہ سکوں آشیاں تلک\n\nایسا کیا ضعیف غم انتظار نے\nآنکھوں کو میری بار ہے خواب گراں تلک\n\nعالم ہوں علم عشق کا میں کر نہ ہم سری\nاے عندلیب تو ہے پڑی بوستاں تلک\n\nاس مہ کے وصف سے یہ ہوا مرتبہ بلند\nپہنچی مری غزل کی زمیں آسماں تلک\n\nپاس ادب رہا ہے جنوں میں بھی اس قدر\nآتا ہوں سجدے کرتا ترے آستاں تلک\n\nاس مست کے ہیں گیسوؤں کے سلسلے میں ہم\nساقی مرید جس کا ہے پیر مغاں تلک\n\nرکھیں ادب سے پاؤں نہ ہم تیری راہ میں\nباہر جب آپ سے ہوں تو پہنچیں وہاں تلک\n\nفصل خزاں میں گل کا تو آنا محال ہے\nبجلی ہی کاش آئے مری آشیاں تلک\n\nکیوں کر نہ سر پھرے مرا اس تیغ کے لیے\nگردش سی جستجو میں ہے مرگ نشاں تلک\n\nسو بار اپنی فکر عدم سے پرے گئی\nلیکن نہ پہنچی یار کے موئے بیاں تلک\n\nاس حور کا مکان ہے جنت سے بھی پرے\nرضواں پہنچ سکے نہ کبھی پاسباں تلک\n\nاس درجہ فرط ضعف سے ہم پیچھے رہ گئے\nپہنچی نہ آہ بھی جرس کارواں تلک\n\nدل میں ہمارے اس کی محبت نے گھر کیا\nپہنچا ہے اس مکان سے جو لا مکاں تلک\n\nاللہ رے دماغ ذرا دیکھ اے ہما\nآیا نہ بے طلب سگ یار استخواں تلک\n\nاس ماہ نے جو سر مرا ٹھکرایا پاؤں سے\nپہنچا دماغ آج مرا آسماں تلک\n\nنخل مراد یار ہوا آج بارور\nصد شکر کٹ کے سر مرا پہنچا سناں تلک\n\nپھر جائے تیر آ کے وہ برگشتہ بخت ہوں\nرخ پھیرے دیکھ کر مجھے اس کی کماں تلک\n\nمرنے کے بعد ہے سگ جاناں کا انتظار\nکہہ دو ہما نہ آئے مری استخواں تلک\n\nسو بار آ کے موت بھی فرقت میں پھر گئے\nبرگشتگی نصیب کی کہیے کہاں تلک\n\nگویاؔ یہ ناتوانی کا احسان مجھ پہ ہے\nآنے دیا نہ یار کا شکوہ زباں تلک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D9%85%D8%B1%DA%AF_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%84%DA%A9"} {"title": "بھولتا جاتا ہے یورپ آسمانی باپ کو", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بھولتا جاتا ہے یورپ آسمانی باپ کو\nبس خدا سمجھا ہے اس نے برق کو اور بھاپ کو\nبرق گر جائے گی اک دن اور اڑ جائے گی بھاپ\nدیکھنا اکبرؔ بچائے رکھنا اپنے آپ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%AA%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%BE_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D9%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "بھولوں تمہیں وہ بشر نہیں ہوں", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھولوں تمہیں وہ بشر نہیں ہوں\nاتنا بھی بے خبر نہیں ہوں\n\nاللہ رے فرط کاہش تن\nہر چند کہ ہوں مگر نہیں ہوں\n\nدکھلائی نہ دوں یہ غیر ممکن\nکچھ آپ کی میں کمر نہیں ہوں\n\nبے حال کہے نہ جانے دوں گا\nعاشق ہوں نامہ بر نہیں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%B4%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو\nجس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو\n\nرسمیں اس اندھیر نگر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیں\nمہر پہ ڈالو رات کا پردہ ماہ کو روشن رہنے دو\n\nروح نکل کر باغ جہاں سے باغ جناں میں جا پہنچے\nچہرے پہ اپنے میری نگاہیں اتنی دیر تو رہنے دو\n\nخندۂ گل بلبل میں ہوگا گل میں نغمہ بلبل کا\nقصہ ایک زبانیں دو ہیں آپ کہو یا کہنے دو\n\nاتنا جنون شوق دیا کیوں خوف جو تھا رسوائی کا\nبات کرو خود قابل شکوہ الٹے مجھ کو رہنے دو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%92_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%88"} {"title": "بھولے سے بھی نہ جانب اغیار دیکھنا", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھولے سے بھی نہ جانب اغیار دیکھنا\nشرط وفا یہی ہے خبردار دیکھنا\n\nمانند شمع بیٹھ کے طے کی رہ عدم\nیارو معجزہ ہے کہ رفتار دیکھنا\n\nکہتی ہے روح دل سے دم نزع ہوشیار\nہم تو عدم کو جاتے ہیں گھر بار دیکھنا\n\nاللہ رے اضطراب تمنائے دید یار\nفرصت میں اک نگاہ کی سو بار دیکھنا\n\nتسلیمؔ روئے یار کو حسرت کی آنکھ سے\nاچھا نہیں ہے شوق میں ہر بار دیکھنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A8_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "بھولے پن سے یہ اسے محفل جاناں سمجھا", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھولے پن سے یہ اسے محفل جاناں سمجھا\nحشر کی خوب حقیقت دل ناداں سمجھا\n\nزندگانی کو خیال شب ہجراں سمجھا\nموت آئی تو اسے خواب پریشاں سمجھا\n\nگھر سے تن کر نکل آیا ہو کوئی مست شباب\nکون کمبخت گریباں کو گریباں سمجھا\n\nروز آفت ہے نئی روز قیامت ہے نئی\nآج تک میں نہ مزاج شب ہجراں سمجھا\n\nمیں گنہ گار دم حشر بڑھاتا کیوں ہاتھ\nابر رحمت کو مگر آپ کا داماں سمجھا\n\nایک مدت ہوئی کہتے ہوئے افسانۂ غم\nآج تک وہ نہ مرا حال پریشاں سمجھا\n\nدامن اس شوخ کا سمجھا شفق گلگوں کو\nماہ نو کو کسی مہ وش کا گریباں سمجھا\n\nعکس اس میں نظر آئے جو تری محفل کے\nدل حیراں کو میں آئینۂ حیراں سمجھا\n\nمیں جو رہ رہ کے سناتا ہوں بیان شب غم\nمسکرا کر کوئی کہتا ہے کہ ہاں ہاں سمجھا\n\nخوف کچھ عہد تباہی کا نہ اس کو صفدرؔ\nاپنے اللہ کو جو اپنا نگہباں سمجھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%92_%D9%BE%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7"} {"title": "بھوکے پیٹ", "poet_page": "مصنف:میکش حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "رکتی سانسیں ہیں اور سینا\nموت کے پاؤں تلے ہے جینا\nاوگھٹ گھاٹ بھنور کے چکر\nڈگ مگ ہے جیون کا سفینہ\nغم اور آنسو آنسو اور غم\nغم کھانا اور آنسو پینا\n\nبرکھا رت ویرانوں کی ہے\nچاندنی قبرستانوں کی ہے\nمن میں لہر کبھی اٹھتی تھی\nبات یہ اب افسانوں کی ہے\nجیسے سائے رینگ رہے ہوں\nحالت یہ انسانوں کی ہے\n\nہم سے غافل تقدیریں ہیں\nبے دست و پا تدبیریں ہیں\nخشک لبوں کی مردہ آہیں\nبھوکے پیٹ کی تفسیریں ہیں\nکیسے کہیں ہم بھی جیتے تھے\nاب تو بے جاں تصویریں ہیں\n\nجیتے ہیں اور مر نہیں سکتے\nبے بس ہیں کچھ کر نہیں سکتے\nپھولوں کی خوشبو آتی ہے\nدامن ان سے بھر نہیں سکتے\nدنیا دنیا کہنے والے\nدنیا اپنی کر نہیں سکتے\n\nسب کا پالنہار کدھر ہے\nدنیا اس کا ہی تو ہنر ہے\nبنے کھلونے ٹوٹ رہے ہیں\nاف یہ گھروندا زیر و زبر ہے\nکچھ روتے ہیں کچھ ہنستے ہیں\nاور پھر دونوں کا یہ گھر ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%88%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D9%B9"} {"title": "بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں\nکسی سے آج بگڑی ہے کہ وہ یوں بن کے بیٹھے ہیں\n\nدلوں پر سیکڑوں سکے ترے جوبن کے بیٹھے ہیں\nکلیجوں پر ہزاروں تیر اس چتون کے بیٹھے ہیں\n\nالٰہی کیوں نہیں اٹھتی قیامت ماجرا کیا ہے\nہمارے سامنے پہلو میں وہ دشمن کے بیٹھے ہیں\n\nیہ گستاخی یہ چھیڑ اچھی نہیں ہے اے دل ناداں\nابھی پھر روٹھ جائیں گے ابھی تو من کے بیٹھے ہیں\n\nاثر ہے جذب الفت میں تو کھنچ کر آ ہی جائیں گے\nہمیں پروا نہیں ہم سے اگر وہ تن کے بیٹھے ہیں\n\nسبک ہو جائیں گے گر جائیں گے وہ بزم دشمن میں\nکہ جب تک گھر میں بیٹھے ہیں وہ لاکھوں من کے بیٹھے ہیں\n\nفسوں ہے یا دعا ہے یا معمہ کھل نہیں سکتا\nوہ کچھ پڑھتے ہوئے آگے مرے مدفن کے بیٹھے ہیں\n\nبہت رویا ہوں میں جب سے یہ میں نے خواب دیکھا ہے\nکہ آپ آنسو بہاتے سامنے دشمن کے بیٹھے ہیں\n\nکھڑے ہوں زیر طوبیٰ وہ نہ دم لینے کو دم بھر بھی\nجو حسرت مند تیرے سایۂ دامن کے بیٹھے ہیں\n\nتلاش منزل مقصد کی گردش اٹھ نہیں سکتی\nکمر کھولے ہوئے رستے میں ہم رہزن کے بیٹھے ہیں\n\nیہ جوش گریہ تو دیکھو کہ جب فرقت میں رویا ہوں\nدر و دیوار اک پل میں مرے مدفن کے بیٹھے ہیں\n\nنگاہ شوخ و چشم شوق میں در پردہ چھنتی ہے\nکہ وہ چلمن میں ہیں نزدیک ہم چلمن کے بیٹھے ہیں\n\nیہ اٹھنا بیٹھنا محفل میں ان کا رنگ لائے گا\nقیامت بن کے اٹھیں گے بھبوکا بن کے بیٹھے ہیں\n\nکسی کی شامت آئے گی کسی کی جان جائے گی\nکسی کی تاک میں وہ بام پر بن ٹھن کے بیٹھے ہیں\n\nقسم دے کر انہیں یہ پوچھ لو تم رنگ ڈھنگ اس کے\nتمہاری بزم میں کچھ دوست بھی دشمن کے بیٹھے ہیں\n\nکوئی چھینٹا پڑے تو داغؔ کلکتے چلے جائیں\nعظیم آباد میں ہم منتظر ساون کے بیٹھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%88%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%86%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%86%D8%AC%D8%B1_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بھویں چڑھی ہیں اور ہے تیور جھکا ہوا", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھویں چڑھی ہیں اور ہے تیور جھکا ہوا\nکچھ آج بولتا ہے وہ ہم سے رکا ہوا\n\nجو چاہتا ہے دل کو مرے دل دہی کرے\nسودا یہ ہے قدیم سے یوں ہی چکا ہوا\n\nاوسوں گئی ہے پیاس کہیں دیدۂ نمیں\nبجھتا ہے آنسوؤں سے کہاں دل پھنکا ہوا\n\nایوب صابر اور وو کنعاں کے پیر سے\nمیرے سے زور و شور کا صبر و بکا ہوا\n\nان چتونوں چرائے دبے پاؤں اظفریؔ\nدیکھو کدھر چلا ہے چھپا اور لُکا ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%88%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%91%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D9%88%D8%B1_%D8%AC%DA%BE%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "بھٹکا ہوا خیال ہے عقبیٰ کہیں جسے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھٹکا ہوا خیال ہے عقبیٰ کہیں جسے\nبھولا ہوا سا خواب ہے دنیا کہیں جسے\n\nدیکھے شب فراق میں کوئی تو ہم دکھائیں\nدل کا وہ داغ چاند کا ٹکڑا کہیں جسے\n\nظالم کی آرزو نے جگہ لی ہے اس طرح\nدل میں چھپا ہوا کوئی کانٹا کہیں جسے\n\nان آرسی کے دیکھنے والوں کو کیا پرکھ\nاچھا ہے وہ حسین ہم اچھا کہیں جسے\n\nگلزار میں وہ پھول ہے جس کا ہے نام مے\nزاہد وہ سرد باغ ہے مینا کہیں جسے\n\nواقف نہیں وہ روز قیامت کے طول سے\nوعدہ کیا ہے وعدۂ فردا کہیں جسے\n\nحاصل اگر ہوئی بھی تو حاصل نہیں ہے کچھ\nبے اعتبار چیز ہے دنیا کہیں جسے\n\nاتنی تو ہو بیان میں واعظ شگفتگی\nہم رند سن کے قلقل مینا کہیں جسے\n\nاہل حرم میں جا کے بنا آج شیخ وقت\nکافر ریاضؔ پیر کلیسا کہیں جسے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%D9%B9%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D9%82%D8%A8%DB%8C%D9%B0_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%DB%92"} {"title": "بھڑک اٹھیں گے شعلے ایک دن دنیا کی محفل میں", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھڑک اٹھیں گے شعلے ایک دن دنیا کی محفل میں\nکہاں تک جذب ہوں گی بجلیاں صبر آزما دل میں\n\nلہو رونے لگیں گے ساز عشرت چھیڑنے والے\nارے یہ درد آواز شکست شیشۂ دل میں\n\nیہ چھینٹیں خون کی کافی ہیں میرے بخشوانے کو\nنظر آتی ہے جنت وسعت دامان قاتل میں\n\nابد تک کوکب بخت سعادت بن کے چمکیں گے\nہوئے ہیں جذب جو قطرے لہو کے تیغ قاتل میں\n\nجنون بے سر و ساماں کی زینت دیکھنے والے\nمبادا فرق آئے عشق کی تدبیر منزل میں\n\nہزاروں سال سوز دل نے کی تھی دوزخ آشامی\nقدم رکھتے ہی میرے لگ گئی اک آگ محفل میں\n\nمگر بھولے نہیں ہو یاد اب تک ابرؔ و حامدؔ کی\nعزیزؔ آخر وہ قوت کیوں نہیں باقی رہی دل میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%DA%91%DA%A9_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%92_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%86_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بھڑکی ہوئی ہے شمع شبستان زندگی", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھڑکی ہوئی ہے شمع شبستان زندگی\nشعلہ نہ چوم لے کہیں دامان زندگی\n\nمرنے کے بعد پھولوں سے تربت نواز دی\nہوتا ہے کون زیست میں پرسان زندگی\n\nعیش و خوشی نشاط و طرب راحت و سکوں\nہیں ان سے بڑھ کے کون حریفان زندگی\n\nبار الم اٹھانے کے قابل بنا دیا\nکیا کم ہوا ہے مجھ پہ یہ احسان زندگی\n\nآغاز باب نو ہے مری موت اے امینؔ\nتبدیل کر رہا ہوں میں عنوان زندگی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%DA%91%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%B4%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C"} {"title": "بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوں", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوں\nشعلہ نمط جلا دل تجھ حسن شعلہ زا سوں\n\nگل کے چراغ گل ہو یک بار جھڑ پڑیں سب\nمجھ آہ کی حکایت بولیں اگر صبا سوں\n\nنکلی ہے جست کر کر ہر سنگ دل سوں آتش\nچقماق جب پلک کی جھاڑا ہے توں ادا سوں\n\nسجدہ بدل رکھے سر سر تا قدم عرق ہو\nتجھ با حیا کے پگ پر آ کر حنا حیا سوں\n\nیاں درد ہے پرم کا بیہودہ سر کہے مت\nیہ بات سن ولیؔ کی جا کر کہو دوا سوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%DA%91%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%86%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B3%D9%88%DA%BA"} {"title": "بھکارن", "poet_page": "مصنف:اعظم کریوی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "من ہری کے ماں باپ کا نام کسی کو نہ معلوم تھا۔ جس زمانہ میں وہ پریاگ راج میں آئی اس کی عمر آٹھ سال کی رہی ہوگی۔ بڑی موہنی صورت پائی تھی، ناممکن تھا کہ کوئی اسے دیکھے اور رحم نہ آئے۔ دن بھر تو بھیک مانگتی رہتی اور رات کو کسی دھرم شالہ میں جاکر سو رہتی۔ وہ یتیم تھی۔ ماں باپ کا پیار کیسا ہوتا ہے یہ اس کو معلوم نہیں۔ ’’ایک پیسہ دو خدا کی راہ میں‘‘ یہ کہہ کر بری منت سے راہ چلنے والوں سے وہ بھیک مانگتی اس کی آواز میں عجیب طرح کا درد بھرا تھا۔ سننے والے بیتاب ہوجاتے اور اسے بھیک دے دیتے۔ اگر کوئی سخت دل فرعون خصلت بھیک نہ دیتا تو من ہری کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے۔ آسمان کی طرف دیکھ کر ایک ٹھنڈی آہ بھر کر خاموش ہوجاتی۔ اس کے ساتھ والے بھکاری اس سے بہت جلتے۔ دنیا میں کوئی کسی کو دیکھ کر خوش نہیں رہ سکتا۔ اگر امیر کو دیکھ کر امیر جلتا ہے تو فقیر بھی فقیر سے نفرت کرتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب من ہری سوتی ہوتی تو اس کے پاس جو کچھ دو چار پیسے ہوتے چوری ہوجاتے۔ اور اس فلک کی ستائی ہوئی یتیم لڑکی کو فاقہ کرناپڑتا۔ اس کا معمول تھا کہ وہ صبح کے وقت تو خلیفہ منڈی کے پاس ہسپتال کے سامنے بھیک مانگا کرتی اور شام کے وقت گھنٹہ گھر کی طرف چلی جاتی۔ وہ جب کسی سفید پوش شریف صورت کو گاڑی پر سوار اپنی طرف آتے دیکھتی تو دوڑ کر ہاتھ پھیلادیتی۔ مگر نام نمود کے شیدائی دولت کے غلام اس بھکارنی کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی نہ دیکھتے تھے۔ حکام کی دعوتوں میں خطاب کے جلسوں پر سرکار کے چندوں میں روپیہ دینا ثواب کا کام سمجھتے تھے۔ لیکن ایک دکھیا بھکارن کو بھیک دینا درکنار اس سے سیدھے منہ بات کرنا بھی کسرِ شان سمجھتے تھے۔\n\nسندر لعل کی عمر دس برس کی تھی۔ جب وہ گورنمنٹ اسکول میں پانچویں جماعت میں داخل ہوا اس کے والد کشمیری پنڈت تھے اور الہ آباد میں بیرسٹری کرتے تھے۔ سندر ان کااکلوتا بیٹا تھا۔ سندر لعل بڑا ہنس مکھ اور خوب صورت تھا۔ اسکول کے تمام اساتذہ اس کی ذہانت اور قابلیت سے بہت خوش تھے۔ بیجا کھیل کود سے اسے نفرت تھی۔ اسکول آتے جاتے اس کو من ہری ملتی تھی۔ مگر اس نے لڑکا سمجھ کر کبھی سندر کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کیا۔ رئیسوں کے لڑکے عموماً خود پرست اور بددماغ ہوتے ہیں۔ لیکن سندر بڑا نیک اور رحم دل لڑکا تھا۔ اس کو من ہری پر بہت رحم معلوم ہوتا۔ اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے جیب خرچ سے جو بیرسٹر صاحب دیتے من ہری کو بھی حصہ دیتا۔ اس نے کئی مرتبہ من ہری سے اس کے ماں باپ کا حال دریافت کیا لیکن وہ کچھ جواب نہ دے سکی۔\n\nاسکول کے لڑکے جب سندر کو من ہری سے باتیں کرتے دیکھتے تو مذاق اڑاتے لیکن شریف النفس رحم دل سندر کو جو مزا اس غریب بھکارنی سے باتیں کرنے میں آتا تھا۔ وہ لطف کسی کی بات چیت سے اسے حاصل نہ ہوتا تھا۔\n\nجب من ہری نے سندر کو اپنے اوپربہت مہربان پایا تو اسے بہت خوشی حاصل ہوئی۔ بھیک دینے والا تو کوئی نہ کوئی مل ہی جاتا تھا۔ مگر پیار و محبت کی باتیں کرنے والا، اس کو تسلی دینے والا سندر کے سوا کوئی نہ تھا۔\n\nتھوڑے ہی دنوں میں اس میل جول کا یہ اثر ہوا کہ سندر ہی کے خیال میں وہ رات دن مگن رہتی۔ رفتہ رفتہ یہ حال ہوگیا کہ وہ بھیک مانگنے کے لیے بھی دربدر نہ ماری پھرتی۔ بلکہ صرف سندر ہی کے آسرے پر رہتی تھی۔ اس میں ایک تغیر بھی ضرور ہوا۔ اب وہ میلی کچیلی دھوتی نہ پہنتی تھی۔ بلکہ صاف و شفاف ساری اس کے زیب تن رہتی تھی۔ اس کا روزانہ کا یہ معمول تھا کہ جب سندر اسکول میں ہوتا تو وہ کمپنی باغ میں جاکر رنگ برنگ کے پھولوں کا تاج بناتی اور کبھی ہار گوندھتی۔ باغ کے مالی اس کی بھولی بھالی صورت پر رحم کرتے اور اس سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہوتی۔ جب سندر اسکول سے واپس آتا تو من ہری اسے پھولوں کا ہار یا تاج پہنادیتی۔ سالانہ امتحان میں سندر اوّل نمبر میں پاس ہوا۔ وہ دوڑتا ہوا من ہری کے پاس پہنچا اور کہا، ’’من ہری! میں پاس ہوگیا۔‘‘ من ہری نے جوش مسرت میں آکر کہا، ’’تو اب مجھے مٹھائی کھلائیے۔‘‘ کہنے کی دیر تھی سندر نے مسکراکر ایک روپیہ اس کی گود میں ڈال دیا۔ اور کہا، ’’میرے پاس اس وقت اس سے زیادہ نہیں ہے، اب گھر جارہا ہوں۔ جب بابو جی سنیں گے کہ میں پاس ہوگیا تو وہ مجھے بہت انعام دیں گے۔ اس میں سے میں تم کو بھی حصہ دوں گا۔ من ہری یہ تو بتاؤ تم بھیک کیوں مانگتی ہو! من ہری نے شرماکر کہا، ’’بھیک نہ مانگوں تو کیا کروں۔‘‘\n\nسندر۔ نوکری کرلو۔\n\nمن ہری، ’’میں تو تیار ہوں۔ مگر مجھے نوکر کون رکھے گا۔‘‘\n\nسندر۔ آج میں ماں جی سے جاکر کہوں گا۔ وہ تم کو ضرور نوکر رکھ لیں گی۔\n\nجب سندر گھر پہنچا تو بیرسٹر صاحب نے یہ سن کر کہ ان کا لڑکا سندر پاس ہوگیا اسے گود میں لے کر خوب پیار کیا۔ ماں نے بلائیں لیں۔ سندر جو وعدہ من ہری سے کر آیا تھا اسے نہ بھولا۔ اپنی ماں سے اس کی نوکری کے لیے کہا۔ پہلے تو اس کی ماں نے یہ سمجھ کر کہ بچوں کی باتیں ہیں کچھ خیال نہ کیا۔ مگر جب سندر نے ضد کی تو کہا، ’’اچھا تو کل اس لڑکی کو یہاں لانا۔ میں دیکھ کر کوئی رائے قائم کروں گی۔‘‘ سندر یہ سن کر بہت خوش ہوا اور یہ کہتاہوا، ’’ماں جی تم اسے ضرور رکھ لینا۔ وہ بڑی اچھی لڑکی ہے۔‘‘ دوڑتا ہوا باہر نکل گیا۔\n\nدوسرے دن سندر من ہری کو اپنے گھر بلا لے گیا اور اس کی ماں نے بھولی بھالی سندر گجریا کو دیکھتے ہی نوکر رکھ لیا۔ سندر کو کپڑے پہنانا۔ اس کے جوتے صاف کرنا اور اس کے ساتھ کھیلنا اس کے علاوہ من ہری کا اور کوئی کام نہ تھا۔ اب من ہری نے سندر سے پڑھنا بھی شروع کیا۔ کسی وقت اس کے ہاتھ سے کتاب جدا نہ ہوتی تھی۔ تعلیم کے لیے لاگ کی خاص ضرورت ہے۔ چند ہی دنوں میں من ہری ہندی اور انگریزی کی ابتدائی کتابیں پڑھ گئی۔ اس سے اس کی طبیعت میں اَور بھی جولانی پیدا ہوئی۔ اب ضرورت تھی کہ وہ کسی اسکول میں داخل ہوکر اپنی قابلیت کاثبوت دےاور ترقی پائے۔ مگر یہ بات ذرا مشکل معلوم ہوتی تھی۔ اس کے لیے کیا کم تھا کہ وہ سندر کی مہربانی سے بھکارن سے برائے نام خادمہ بن گئی تھی۔ وہ اسکول جاتی تو اس کی عدم موجودگی میں اس کا کام کون کرتا۔ اور روز جب سندر اسکول گیا ہوا تھا من ہری باغیچہ میں ایک پیڑ کے نیچے بیٹھی ہوئی حسن کے خاموش نغموں کو گوشِ دل سے سن رہی تھی۔ بیرسٹر صاحب اپنے ایک دوست کے ہمراہ اس طرف سے نکلے اور من ہری کی طرف اشارہ کرکے بہت آہستہ سے انھوں نے اپنے دوست سے کہا، ’’یہ وہی بھکارنی ہے جس کا میں نے تم سے ذکر کیا تھا۔‘‘ ان کے دوست من ہری کو دیکھتے ہوئے بولے، ’’دیکھنے سے تو شریف خاندان کی یادگار معلوم ہوتی ہے۔‘‘ بیرسٹر صاحب نے اس پر کہا، ’’شریف خاندان کی ہوتی تو بھیک کیوں مانگتی۔ ایسا ذلیل پیشہ شریفوں کا کام نہیں ہے۔‘‘ یہ سب باتیں آہستہ آہستہ ہوئی تھیں لیکن من ہری نے سُن ہی لیا۔ اس نے سر اٹھاکر حسرت بھری نگاہوں سے بیرسٹر صاحب کی طرف دیکھا، لیکن انھوں نے شاید اس بات کاخیال نہ کیا اور آگے بڑھ گئے۔\n\nتھوڑی بہت تعلیم نے من ہری کے خیالات بلند کردیے تھے۔ خدا جانے بیرسٹر صاحب کی گفتگو میں کون سی ایسی بات تھی جس سے اس کا دل تڑپ اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ رات کے پردے میں جس طرح کنول سمٹ کر غنچہ کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اسی طرح پریشانی اور فکر تردد کی تاریکی میں اس کا دل بھی بند ہوگیا۔ فکر سے انسان پریشان ہوجاتا ہے اور پریشانی ولولوں کی دشمن ہے۔ من ہری نے سوچنا شروع کیا، ’’کیاواقعی میں کسی شریف خاندان کی یادگار ہوں۔ میں نے یہ بات آج سے پہلے کیوں نہ سوچی! بیرسٹر صاحب کہتے ہیں اگر میں شریف ہوتی تو بھیک نہ مانگتی۔ لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ میں شریف النسل ہوں۔ جس کا ثبوت مجھے دینا ہوگا۔ میں دنیا کو دکھادوں گی کہ شریف ذلت کی اور غلامی کی زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اپنی عزت اور شرافت کے آگے وہ کسی کی کچھ ہستی نہیں سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے پیدا کرنے والے کے سوا کسی دوسرے کے آگےہاتھ پھیلانا معیوب سمجھتے ہیں۔ اپنی کوشش اور محنت پر انھیں بھروسہ ہوتا ہے۔ اور وہ اس دنیا میں اپنے خاندان و قوم اور ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ اتنا سوچ کر وہ اٹھی۔ اس کے من کی نیّا سوچ اور چنتا کے ساگر میں بہہ نکلی۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور کہا، ’’میں اس گھر میں نہیں رہ سکتی۔‘‘ پھر اس کے دل میں سندر کا خیال آیا، ’’میرے اچھے سندر تیری جدائی میں میرا برا حال ہوگا۔ آہ جب تجھے معلوم ہوگا کہ تیری بھکارن بھاگ گئی تو تجھے بہت صدمہ ہوگا۔‘‘ وہ اسی قسم کی باتیں کرتی ہوئی سندر کے کمرہ میں پہنچی اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اس مضمون کا خط لکھا،\n\n’’پیارے سندر! میں ایک خاص وجہ سےتم سے جُدا ہو رہی ہوں۔ اگر پرماتما کو منظور ہوا تو پھر کبھی ملیں گے۔‘‘\n\nآپ کی داسی ’’من ہری‘‘\n\nیہ خط لکھ کر من ہری نے سندر کی میز پر رکھ دیا۔ اور دبے پاؤں کمرے سے باہر نکل کر بنگلہ سے باہر ہوگئی۔ وہ تھوڑی دور جاکر راہ چلنے والوں سے گرلز اسکول کا پتہ پوچھ کر اسی طرف چل دی۔ دن کے دوبجے ہوں گے جب وہ اسکول کی استانی کے پاس پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔ اور کچھ ایسے دردبھرے لفظوں میں اپنا حال بتایا کہ استانی کا بھی دل بھر آیا۔ صداقت اور سچائی کا ضرور اثر ہوتا ہے، من ہری کی قابل رحم حالت اور تعلیم سے اس کی محبت اور لگاؤ دیکھ کر ان کے دل پر اثر ہوا۔ انھوں نے من ہری کو اپنی سرپرستی میں لے لیا اور دل لگاکر پڑھانے لگیں۔\n\nادھر جب سندر اسکول سے واپس ہوا اور اس نے من ہری کاخط دیکھا تو رنج کے مارے رونے لگا۔ تھوڑی دیر میں من ہری کے بھاگنے کی خبر بنگلے میں مشہور ہوگئی۔ بیرسٹر صاحب نے بہت تلاش کرایا۔ مگر من ہری کا کہیں سراغ نہ ملا۔ کچھ دنوں تک سندر کا معمول رہا کہ وہ شہر کے گلی کوچوں میں ’’من ہری کو ڈھونڈتا پھرتا لیکن وہ کہیں نہ ملی۔ کبھی کبھی سندر کو ڈاک سے من ہری کا کوئی خط مل جاتا تھا لیکن وہ اپنا پتہ نہ لکھتی۔ جس سے نہ تو سندر جواب ہی دے سکتا اور نہ من ہری سے مل ہی سکتا تھا۔\n\nاوپر کے لکھے ہوئے واقعات کو کئی سال ہوگئے۔ اس عرصہ میں سندر اسکول کی تعلیم ختم کرکے ولایت چلا گیا۔ اور وہاں سے بیرسٹری کی اعلیٰ ڈگری پاس کرکے الہ آباد واپس آگیا۔ سندر کے والد اور اس کی ضعیفہ ماں کی بڑی تمنا یہ تھی کہ سندر کا جلد ہی بیاہ ہو۔ مگر سندر کے سامنے جب کبھی اس کا ذکر چھڑا تو اس نے ٹال دیا۔اب وہ خودمختار تھا۔ ہر قسم کا عیش و آرام میسر تھا۔ ایک خیال اسے اکثر ستاتا۔ وہ سوچا کرتا، ’’معلوم نہیں من ہری کہاں ہے۔ کس حالت میں ہے۔ اگر اب وہ مجھے مل جائے تو میں اسے خوشحال کردوں۔‘‘ ایک دن شام کی ڈاک میں سندر کومن ہری کاخط ملا۔ یہ خط بہت دنوں کے بعد آیا تھا۔ اس نے کھول کر پڑھنا شروع کیا۔ لکھا تھا،\n\n’’میرے آقا میرے محسن۔ بیرسٹر صاحب! پرماتما آپ کو خوش رکھے۔ میں اب تک زندہ ہوں۔ آپ کی یاد میرے دل میں ہے۔ کیا آپ بھی مجھے کبھی یاد کرتے ہیں؟ اب وہ دن دور نہیں جب میں آپ کا درشن کروں۔ میں ہوں آپ کی ’’بھکارنی‘‘\n\nزخم کہن ہرے ہوگئے۔ ایک ایک کرکے بچپن کے تمام واقعات سندر کی آنکھوں کے سامنے آگئے۔ دل میں جذبات لطیف کا ایک دریا موجذن ہوگیا۔ اس نے خط کو کوئی مرتبہ پڑھا تب بھی سیری نہ ہوئی۔ لفافہ پر الہ آباد کی مہر تھی۔ سندر نے سوچا، ’’من ہری الہ آباد میں ہے اور مجھ سے نہیں ملتی۔ آخر کیا بات ہے۔ میرے کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ کیا وہ عصمت فروش ہوگئی۔ کیا حسن اور جوانی نے اسے بری راہ پر لگادیا؟ جو وہ مجھے اپنا منہ دکھاتی شرماتی ہے۔ نہیں نہیں مجھے ایسا خیال نہ کرنا چاہیے۔ وہ شریف خاندان کی معلوم ہوتی ہے۔ ناممکن ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جس سے اس کی شرافت پر دھبہ آئے۔‘‘ سندر نے خفیہ طور پر مقام الہ آباد کو چھان مارا لیکن من ہری سندر کو کہیں بھی نہ دکھائی دی۔\n\nدن گذرتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ من ہری کو اسکول میں داخل ہوئے کئی برس ہوچکے۔ کسی کی محنت اور کوشش رائگاں نہیں جاتی۔ من ہری کی ذہانت اور قابلیت نے اسے کہیں سے کہیں پہنچادیا۔ بی-اے پاس کرنے کے بعد اسے سرکاری وظیفہ ملا۔ اور وہ ولایت جاکر ڈاکٹر پاس کر آئی اور الہ آباد میں پرائیویٹ پریکٹس کرنے لگی۔ اب وہ عالم شباب میں تھی۔ باغ جوانی میں بہارآئی ہوئی تھی۔ بڑے بڑے خاندانی تعلیم یافتہ لوگ من ہری کے خواہش مند تھے۔ لیکن من ہری کسی کی خواہش مند نہ تھی اور اگر رہی بھی ہوگی تو کسی کو معلوم نہیں۔\n\nاس کا معمول تھا کہ وہ سویرے اٹھتے ہی غریب اور نادار مریضوں کے گھر پر جاکر ان کو دیکھتی اور علاج کرتی۔ وہ غریبوں سے کبھی فیس نہ لیتی تھی۔ دوا بھی مفت دیتی۔ غریبوں کے سڑے گلے زخموں کی خود ہی مرہم پٹی کرتی۔ اس کو بالکل گھن نہ معلوم ہوتی تھی۔ اگر مظلوموں کی آہ سے، دکھی کی پکار سے، غریبوں کی فریاد سے خدا کا غضب نازل ہوتا ہے تو بیکسوں کی مدد سے، یتیموں اور فقیروں کی دعا سے دریائے رحمت بھی جوش میں آجاتا ہے۔ لیڈی ڈاکٹر مس ہری (من ہری اب اسی نام سے مشہور تھی) غریب مریضوں کی دعاؤں سے مالامال ہوگئی۔ تھوڑے ہی عرصہ میں اس کی شہرت ہوئی کہ ہندوستان کے ہر حصے میں مریض اپنا علاج کرانے الہ آباد آنے لگے۔ اعلیٰ نوکری ملنے پر بھی اس نے نوکری نہ کی۔ کیونکہ اسے جو لطف جو اطمینان اپنی بے زبان شرمیلی بہنوں، ماؤں، بچوں اور غریب فقیروں کی خدمت اور علاج میں ملتا تھا وہ نوکری میں کیا حاصل ہوتا۔\n\nمسٹر سندر لعل بیرسٹر کی ماں کی طبیعت کچھ ناساز ہوئی۔ مس ہری لیڈی ڈاکٹر کو بلا بھیجا۔ شام کے پانچ بجے مس ہری اپنی موٹر پر مسٹر سندر کے بنگلے پر پہنچی، مسٹر سندر برآمدہ میں بیٹھے ہوئے مشہور لیڈی ڈاکٹر کا انتظار کر رہے تھے۔ موٹر کو دیکھتے ہی وہ اٹھ کھڑے ہوئے، لیکن وہ ان سے مخاطب نہ ہوئی۔ موٹر سے اترتے ہی سیدھی زنانہ مکان میں چلی گئی۔\n\nمسٹر سندر کو اس بے رخی سےرنج ہوا۔ ان کو اس بات کابڑا تعجب ہوا کہ بغیر بتائے ہوئے وہ زنانہ مکان کا راستہ کیسے جان گئی۔ اندر جاکر مس ہری نے مسٹر سندر کی ماں کی نبض دیکھی۔ معمولی بخار تھا۔ رخصت ہوتے وقت جب ہری کو فیس پیش کی گئی تو اس نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کیا، ’’میں اس گھر کی ادنیٰ خادمہ ہوں۔ فیس نہیں لے سکتی۔ مجھے تو آپ لوگوں کی مہربانی چاہیے۔‘‘ سندر کی ماں نے بہت چاہا کہ وہ فیس لے لے لیکن اس نے نہ لی۔ جب وہ باہر نکلی تو مسٹر سندر اس وقت برآمدہ میں ٹہل رہے تھے۔ اس مرتبہ بھی وہ ان سے مخاطب نہ ہوئی۔ بلکہ ان کو نیچی نظروں سے دیکھتی ہوئی اپنی موٹر میں بیٹھ کر رخصت ہوگئی۔ مسٹر سندر نے سوچنا شروع کیا، ’’مس ہری کو روپیہ کا گھمنڈ ہے۔ میں تو سنتا تھا کہ وہ بڑی ملنسار ہے۔ خوش مزاج ہے۔ لیکن آج کے تجربہ سے معلوم ہوا کہ وہ بہت بددماغ ہے۔ اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو میں اسے ہرگز نہ بلاتا۔ نہ تو مجھ سے کوئی بات کی اور نہ نسخہ ہی لکھااور چل دی۔‘‘ بنگلہ پر پہنچ کر مس ہری نے مسٹر سندر کی ماں کے لیے دوا اور مسٹر سندر کے نام ایک خط بھیجا۔ دوا کو اندر بھیج کر مسٹر سندر نے خط پڑھا۔ لکھا تھا،\n\n’’میرے اچھے بیرسٹر صاحب! ماں جی کے لیے دوا بھیج رہی ہوں۔ آج آپ کے درشن ہوگئے۔ میرا جی خوش ہوا۔ آج میں نے بہت چاہا آپ سے کوئی بات چیت کروں لیکن ہمت نہ پڑی۔ کل میں سویرے پھر آؤں گی۔‘‘\n\n(میں ہوں آپ کی بھکارنی)\n\nمسٹر سندر خوشی کے مارے اچھل پڑے۔ انہیں یقین ہی نہ تھا کہ بھکارنی من ہری اب مشہور لیڈی ڈاکٹر ہے۔ مسٹر سندر نے جب یہ حال اپنی ماں اور بیرسٹر صاحب سے کہا تو انھیں بھی بہت خوشی ہوئی۔ لیکن من ہری کی اس عجیب و غریب قابل رشک ترقی سے سب کو بڑا تعجب ہوا۔ سندر کے والد نے دبی زبان سے کہا، ’’من ہری شرافت کی دیوی ہے۔ اس نے ثابت کردیا کہ وہ اور اس کا خاندان شریف ہے۔‘‘ رات بھر خوشی کے مارے مسٹر سندر کو نیند نہ آئی۔ وہ صبح اٹھتے ہی اپنی موٹر میں بیٹھ کر مس ہری کے بنگلے پر پہنچے۔ زمانہ انقلاب پذیر ہے۔ ایک دن وہ تھا جب مسٹر سندر کے بنگلے پر من ہری بھکارنی بن کر گئی تھی اور آج مسٹر سندر خود من ہری کے آستانۂ ناز پر بھکاری بن کر آئے ہیں۔ من ہری نے بڑھ کر بڑی گرم جوشی سے مسٹر سندر کااستقبال کیا۔ ایک نے دوسرے کو کچھ اس انداز سے دیکھا کہ لڑکپن کی پیار و محبت کی باتیں دونوں کے دلوں میں چٹکیاں لینے لگیں۔ دونوں کے پریم ساگر ایک ساتھ امنڈ کر ملنے کو تیار ہوئے۔ پہلے کچھ دیر تک تو خاموشی طاری رہی۔ پھر سندر کے لب ہلے اور اس نے کہا، ’’من ہری‘‘ من ہری نے ہاتھ جوڑ کر جواب دیا، ’’من ہروا۔‘‘\n\nاس واقعہ کو ایک ہفتہ بھی نہ ہوا تھا کہ مسٹر سندر نے مس ہری کے ساتھ شادی کرلی۔ اور من ہری مسٹر سندر ہی کے بنگلے پر جہاں وہ خادمہ بن کر رہی تھی، آج اپنی ذاتی محنت، کوشش اور استقلال سے مالکہ بنی ہوئی بڑے عیش و آرام سے اپنی زندگی بسر کر رہی ہے۔ دنیا میں کوئی ہر کسی کو خوش نہیں رکھ سکتا۔ جن لوگوں کو من ہری کا حال معلوم تھا انھوں نے کہا، ’’پنڈت سندر لعل نےایک بھکارنی سے جس کے ماں باپ کا بھی حال معلوم نہ تھا بیاہ کرکے اپنے خاندان کا نام ڈبودیا۔ ایک ایسی عورت ہے جس کی ذات بھی نہ معلوم تھی۔ شادی کرکے اپنے دھرم کا ناش کردیا۔\n\nلیکن مسٹر سندرلعل نے ان سب باتوں پر کچھ دھیان نہ دیا۔ ان کی نگاہوں میں ہری کی ذات سب سے اعلیٰ تھی۔ وہ اس کو سچائی اور دھرم کی دیوی سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہندوستان میں جب کوئی نئی بات کرتا ہے تو اس پر لوگ ہنستے ہیں۔ ان کو پورا یقین تھا کہ ایک عرصہ کے بعد جو لوگ اس کی برائی کرتے ہیں وہی تعریف کریں گے۔\n\nان کا کہنا سچ ہوا۔ آج من ہری اور سندر کی قومی و ملکی خدمتوں کے واقعات بڑی دلچسپی سے سنے جاتے ہیں اور ان دونوں کانام بڑی عزت سے لیا جاتا ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%86"} {"title": "بھکاری شہزادہ", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "میں قریشیہ بیگم کا لاڈلا بیٹا ہوں، جو بہادر شاہ بادشاہ کی مشہور صاحبزادی تھیں۔ بچپن میں، میں صاحب عالم میرزا قمر سلطان بہادر کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ مگر اب ذلیل گداگر کے سوا کوئی نام نہیں۔ پہلے بھی خوش تھا، اب بھی راضی ہوں۔ گردش و انقلاب کا کیا شکوہ؟\n\nسلطانی محلوں میں پیدا ہوا۔ آنکھ کھولی تو سامنے ایک خدائی کو ہاتھ باندھے سر جھکائے کھڑا دیکھا۔ ہوش سنبھالا تو عالم ہی اور نظر آیا۔ بڑے بڑے خود سر امیرالامراء آنکھ کے اشارے پر دوڑتے تھے۔ خیال تھا کہ ہم صرف اسی لیے پیدا ہوئے ہیں کہ سر اور آنکھوں پر بٹھائے جائیں۔ یہ خبر نہ تھی کہ دنیا میں کوئی دوسری زندگی بھی ہوتی ہے۔ مگر قدرت کے قربان جائیے۔ اس نے اپنی نیرنگی کے صدہا تماشے دکھائے۔ عروج بھی دیکھا اور زوال بھی۔ نسل شاہ ہونے کا وہ لطف بھی اٹھایا اور یہ مزا بھی چکھا۔ اپنی اپنی آن میں دونوں نرالے ہیں۔ حالت تو اس قابل نہ تھی مگر رحمدل انگریزوں نے رحم کھا کر پانچ روپے ماہوار پنشن مقرر کردی۔\n\nاب کیا تھا، چار دن کے لیے پھر وہی شہزادہ عالم پناہ بن گئے۔ تنخواہ پر اس قدر قرضہ بڑھا کہ قرض خواہ کی ملک بن گئی۔ اب ہمارے لیے سوائے اس کے کیا چارہ تھا کہ محنت مزدوری کر کے پیٹ پالیں لیکن شرم دامن گیر تھی۔ اسی اثناء میں آنکھوں کا نور جاتا رہا اور خاصے اندھے محتاج بن گئے۔ حیران تھا کہ الٰہی اب کیا کروں۔ مجبور ہو کر کا سہ گدائی ہاتھ میں لے لیا اور گدا گری کی ٹھہرا دی۔ رات کی تاریکی میں نکلتا ہوں اور صدائے عالم لگا کر بھیک مانگتا ہوں۔ لوگ کہتے ہیں، مرزا تم دن کو کیوں نہیں نکلتے؟ تو کہہ دیتا ہوں، بھائی غیرت کے سبب۔ جس شہر کی سڑکوں پر میری سواری کی سلامتی ہوتی تھی، وہاں دل نہیں چاہتا کہ دن کی روشنی میں دست طلب پھیلاؤں۔ بس یہی میری سرگذشت ہے۔ اس سے زیادہ اور کیا دکھڑا بیان کروں۔\n\nآہ صاحبو! یہ فرضی فسانہ نہیں۔ عبرت کی سچی کہانی ہے۔ مرزا قمر سلطان قریشیہ بیگم کے صاحبزادے ہر رات کو دہلی کے بازاروں میں صدا لگاتے نظر آتے ہیں، مگر ہائے! بھیک بھی ایک شان سے مانگتے ہیں۔ نہ کہیں ٹھہرتے ہیں، نہ کسی کو مخاطب بناتے ہیں۔ بس ایک آواز ہوتی ہے، ’’یا اللہ ایک پیسہ کا آٹا دلوا دے۔‘‘ جو مختلف بازاروں میں چکر لگا کر اپنے مقام پر پہنچ جاتے ہیں (کئی برس ہوئے یہ شہزادے صاحب انتقال فرماگئے۔)", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%81"} {"title": "بھکاری شہزادہ (۲)", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "دہلی کی جامع مسجد سے جو راستہ مٹیا محل اور چتلی قبر ہوتا ہوا دہلی دروازہ کی طرف گیا ہے، وہاں ایک محلہ کلو خواص کی حویلی کے نام سے مشہور ہے۔ اس محلے سے روزانہ رات کو اندھیرا ہو جانے کے بعد ایک فقیر باہر آتا ہے اور جامع مسجد تک جاتا ہے۔ پھر وہاں سے واپس چلا آتا ہے۔ اس فقیر کا قد بہت لمبا ہے۔ جسم دبلا ہے۔ داڑھی چگی ہے اور سفید ہے۔ کلے پچکے ہوئے ہیں۔ آنکھوں سے معذور ہے۔ میلا پیوند لگا ہوا ایک پاجامہ ہے۔ ٹوٹی ہوئی جوتیاں جن کو لیتڑا کہنا چاہئے، پیروں میں ہیں۔ کرتہ بہت میلا ہے اور اس میں بھی دس بارہ پیوند ہیں۔\nسر پر پٹھے ہیں لیکن بال بہت الجھے ہوئے ہیں۔ پھٹی ہوئی ایک ٹوپی تالو پر رکھی ہے۔ فقیر کے ایک ہاتھ میں بانس کی اونچی سی لکڑی ہے اور ایک ہاتھ میں مٹی کا پیالہ ہے، جس کا ایک کنارہ ٹوٹا ہوا ہے۔ فقیر کے چہرے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یاتو چنڈو پیتا ہے اور یا کئی مہینے کی بیماری کے بعد آج ہی اٹھا ہے کیونکہ چہرے پر زردی چھائی ہوئی ہے۔ جب چلتا ہے تو داہنے پاؤں کو گھسیٹ کر قدم اٹھاتا ہے، شاید اسے کبھی فالج ہوگیا ہو۔ درد ناک آوازاس کی آواز بہت بلند اور درد ناک ہے۔ جب وہ نہایت مایوس اور حسرت آمیز لہجے میں بلند آواز سے کہتا ہے، ’’یا اللہ ایک پیسے کا آٹا دلوا دے۔ تو ہی دے گا۔ تو ہی دلوائے گا۔ ایک پیسے کا آٹا دلوا دے۔‘‘ تو بازار والے اور بازار کے قریب جتنے گھر ہیں، ان کے رہنے والے اس آواز سے خود بخود متاثرہوجاتے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے سوائے دوچار کے کوئی بھی واقف نہیں ہے کہ فقیر کون ہے اور اس کی آواز میں اتنا درد کیوں ہے۔ بعض گھروں کی عورتیں تو یہ کہنے لگتی ہیں کہ شام ہوئی اور یہ منحوس آواز کانوں میں آئی۔ ہمارا تو کلیجہ پاش پاش ہوجاتا ہے، جب یہ آواز سنتے ہیں۔ خبر نہیں کون فقیر ہے جو ہمیشہ رات ہی کے وقت بھیک مانگنے نکلتا ہے۔ دن کو کبھی اس کی آواز نہیں آتی۔ فقیر جب کلو خواص کی حویلی سے بازار میں آتا ہے تو سیدھا جامع مسجد کی طرف لکڑی ٹیکتا ہوا اپنے داہنے مفلوج پاؤں کو کھینچتا ہوا ٹوٹے ہوئے لیتڑوں سے خاک اڑاتا ہواآہستہ آہستہ چلا جاتا ہے۔ ایک ایک منٹ کے وقفے کے وقفے کے بعد اس کی زبان سے بس یہ صدا بلند ہوتی ہے، ’’یااللہ! ایک پیسے کا آٹا دلوا دے۔ تو ہی دے گا۔ تو ہی دلوائے گا۔ ایک پیسے کا آٹا دلوا دے۔‘‘ فقیر کسی دکان پر یا کسی شخص کے سامنے ٹھہرتا نہیں۔ سیدھا چلتا رہتا ہے۔ اگر کسی راہ گیر کو یاد کان دار کو رحم آگیا اور اس نے فقیر کے پیالے میں پیسہ ڈال دیا یا اور کچھ کھانے کی چیز ڈال دی تو فقیر نے بس اتنا کہا، ’’بھلا ہو بابا۔ خدا تم کو برا وقت نہ دکھائے۔‘‘ اور آگے بڑھ گیا۔ آنکھوں کی معذوری کی وجہ سے دیکھ بھی نہیں سکتا کہ اس کو خیرات دینے والا کون تھا اور کون ہے۔ جامع مسجد سے واپسی کے وقت بھی یہی آواز لگاتا ہوا کلو خاص کی حویلی میں آجاتا ہے۔ اس حویلی میں غریب مسلمانوں کے بہت سے الگ الگ چھوٹے چھوٹے مکان ہیں۔ انہی مکانوں میں ایک بہت ہی چھوٹا اور ٹوٹا پھوٹا مکان اس فقیر کا بھی ہے۔ گھر کے دروازے پرواپس آتا ہے تو کواڑوں کی لگی ہوئی کنڈی کھول کر اندر جاتا ہے۔ ا س مکان میں صرف ایک دالان ہے اور ایک کوٹھری ہے اور ایک پاخانہ ہے اور چھوٹا سا صحن ہے۔ دالان میں ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی ہے اور فرش پر ایک پھٹا ہوا کمبل بچھا ہوا ہے۔ بادشاہ کا نواسہدہلی والوں کو معلوم ہی نہیں کہ یہ فقیر کون ہے۔ بس دو چار جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ بہادر شاہ بادشاہ کا حقیقی نواسہ ہے اور اس کا نام میرزا قمر سلطان ہے۔ غدر سے پہلے خوبصورت جوان تھا اور قلعہ میں اس کے حسن کی اور قدر عنا کی بڑی دھوم تھی۔ گھوڑے پر سوار ہو کر نکلتا تھا تو قلعہ کی عورتیں اور دہلی کے بازار والے راستہ چلتے چلتے کھڑے ہو جاتے تھے اور اس کی خوبصورتی کو دیکھتے تھے اور سب لوگ جھک جھک کر سلام کرتے تھے۔ یا آج یہ وقت ہے کہ غدر ۱۸۵۷ ء کے انقلاب نے اور مسلمانوں کی سلطنت اور تہذیب کی بربادی نے اس کو بھکاری بنا دیا۔ گورنمنٹ نے پانچ روپے ماہوار پنشن مقرر کی تھی۔ وہ بھی فضول خرچی کی وجہ سے بنیے کے ہاں رہن ہوگئی۔ اب رات کو گداگری کے لیے نکلتا ہے اور جو کچھ مل جاتا ہے، اس سے دونوں وقت کی گذر اوقات کرلیتا ہے۔ کسی نے پوچھا، ’’میرزا! تم دن کو باہر کیوں نہیں آتے؟‘‘ شہزادہ قمر سلطان نے جواب دیا، ’’جن بازاروں میں میری اچھی صورت اور شاندار سواری کی دھوم مچا کرتی تھی، ان بازاروں میں یہ بری حالت لے کر دن کے وقت نکلتے ہوئی شرم آتی ہے، اس لیے رات کو نکلتا ہوں اور صرف خدا سے مانگتا ہوں اور اسی کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہوں اور مجھے وہی دیتا ہے۔‘‘ پھر کسی نے کہا، ’’میرزا! کیا افیون کی عادت بھی ہے؟‘‘ تو شہزادہ قمر سلطان جواب دیتا ہے کہ’’ جی ہاں! بری صحبت کے سبب افیون کی عادت بھی پڑ گئی ہے اور کبھی کبھی چنڈو بھی پی لیتا ہوں۔‘‘ پھر پوچھا گیا کہ ’’غدر سے لے کر آج تک تم پر کیا گذری، ذرا اس کا حال بھی تو سناؤ۔‘‘ تو قمر سلطان ایک ٹھنڈا سانس لے کر چپ ہو جاتا ہے اور کچھ دیر کے بعد کہتا ہے، ’’ کچھ نہ پوچھو۔ خواب دیکھ رہا تھا، آنکھ کھل گئی۔ اب جاگ رہا ہوں اور وہ خواب پھر کبھی نظر نہیں آیا۔ نہ اس کے نظر آنے کی امید ہے۔‘‘", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%81_%28%DB%B2%29"} {"title": "بھیجی ہے جو مجھ کو شاہ جمجاہ نے دال", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بھیجی ہے جو مجھ کو شاہ جمجاہ نے دال\nہے لطف و عنایت شہنشاہ پہ دال\nیہ شاہ پسند دال بے بحث و جدال\nہے دولت و دین و دانش و داد کی دال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AC%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%AC%D9%85%D8%AC%D8%A7%DB%81_%D9%86%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D9%84"} {"title": "بہ جواب پند نامہ", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "پیر جوش شباب کیا جانے\nشورش اضطراب کیا جانے\nسینۂ انقلاب چھلنی ہے\nشاعر انقلاب کیا جانے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%BE%D9%86%D8%AF_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81"} {"title": "بہ خدا عشق کا آزار برا ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہ خدا عشق کا آزار برا ہوتا ہے\nروگ چاہت کا برا پیار برا ہوتا ہے\n\nجاں پہ آ بنتی ہے جب کوئی حسیں بنتا ہے\nہائے معشوق طرحدار برا ہوتا ہے\n\nیہ وہ کانٹا ہے نکلتا نہیں چبھ کر دل سے\nخلش عشق کا آزار برا ہوتا ہے\n\nٹوٹ پڑتا ہے فلک سر پہ شب فرقت میں\nشکوۂ چرخ ستم گار برا ہوتا ہے\n\nآ ہی جاتی ہے حسینوں پہ طبیعت ناصح\nسچ تو یہ ہے کہ دل زار برا ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "بہ خدا ہیں تری ہندو بت مے خوار آنکھیں", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہ خدا ہیں تری ہندو بت مے خوار آنکھیں\nنشہ کی ڈوری نہیں پہنے ہیں زنار آنکھیں\n\nچشم آہو سے غرض تھی نہ مجھے نرگس سے\nتیری آنکھوں سے جو ملتیں نہ یہ دو چار آنکھیں\n\nچار چشم اس لئے کہتا ہے مجھے اک عالم\nکہ مری آنکھوں میں پھرتی ہیں تری یار آنکھیں\n\nدیکھتے رہتے ہیں ہم راہ تمہاری صاحب\nآپ آتے نہیں آ جاتی ہیں ہر بار آنکھیں\n\nپیار سے میں نے جو دیکھا تو وہ فرماتے ہیں\nدیکھیے دیکھیے ہوتی ہیں گنہ گار آنکھیں\n\nچوم لیتے ہیں وہ آئینے میں آنکھیں اپنی\nلب مسیحائی کریں گے کہ ہیں بیمار آنکھیں\n\nآگرہ چھوٹ گیا مہرؔ تو چنار میں بھی\nڈھونڈا کرتی ہیں وہی کوچہ و بازار آنکھیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88_%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بہ صد آرزو جو وہ آیا تو یہ حجاب عشق سے حال تھا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہ صد آرزو جو وہ آیا تو یہ حجاب عشق سے حال تھا\nکہ ہزاروں دل میں تھیں حسرتیں اور اٹھانا آنکھ محال تھا\n\nرہا شب جو ہم سے جدا کوئی تو کہے یہ واقعہ کیا کوئی\nشب ہجر تھی کہ بلا کوئی جسے دیکھتے ہی وصال تھا\n\nرخ یار تا نہ پڑا نظر رہے ہم الم سے یہ نوحہ گر\nکہ ہمارے رنج و ملال پر تو ملال کو بھی ملال تھا\n\nکرے کون اس سے برابری مہ و زہرہ سب کو تھی ہم سری\nدم صبح دیکھ ستم گری رخ مہر ذرہ مثال تھا\n\nشب وصل دیکھ کے خواب میں میں پڑا تھا سخت عذاب میں\nتھے ہزار سوچ جواب میں عجب اس کا مجھ سے سوال تھا\n\nمرے جوش اشک سے بہرہ ور ہوئے کل جہان کے بحر و بر\nنہ برستی آج یہ چشم تر تو خدا نخواستہ کال تھا\n\nجو نمود کرتے ہی آپ سے لگے بیٹھنے وہ شتاب سے\nتو یہ پوچھے کوئی حباب سے کہ پھلائے اپنے یہ گال تھا\n\nہوا میں بھی داخل کشتگاں تو عبث تو ہووے ہے سر گراں\nکہ مرے گلے کی طرف میاں ترے آب تیغ کا ڈھال تھا\n\nدیا کھا کے آپ نے پان جو دل مبتلا ہوا سرخ رو\nاسے سمجھا پیٹ کا بوجھ وہ جو تمہارے منہ کا اگال تھا\n\nجو مریض تھا پڑا جاں بہ لب خبر اور کچھ نہیں اس کی اب\nمگر اتنا کہتے ہیں لوگ سب کہ بڑا یہ نیک خصال تھا\n\nجو چمن سے دور قفس ہوا تو میں اور اسیر ہوس ہوا\nیہ جو ظلم اب کے برس ہوا یہی قہر اگلے بھی سال تھا\n\nنہیں چاہتا ہے اب آسماں کہ ہم اور وہ ہوں بہ یک مکاں\nکہیں آ گیا جو وہ شب کو یاں کہ بلانا جس کا محال تھا\n\nتو یہ رنگ چنبر چرخ کا نظر آئے تھا مجھے برملا\nکبھی تھا سیہ کبھی زرد تھا کبھی سبز تھا کبھی لال تھا\n\nنہ کسی نے قدر کی جرأتؔ اب کہے شعر گرچہ عجب عجب\nجو نہ ہوں گے ہم تو کہیں گے سب کہ بڑا یہ اہل کمال تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81_%D8%B5%D8%AF_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "بہ لب چوسے ہوئے کیوں کر نہیں ہیں", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہ لب چوسے ہوئے کیوں کر نہیں ہیں\nکہ ہیں گلبرگ لیکن تر نہیں ہیں\n\nنصیب دشمناں ہاں کچھ تو گزرے\nکہ رخسارے ترے انور نہیں ہیں\n\nمبارک باد آزادی ہمیں کیا\nیہاں مدت سے بال و پر نہیں ہیں\n\nنہ پوچھو شمع سے تکلیف ہستی\nکہ شب بھر میں ہزاروں سر نہیں ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81_%D9%84%D8%A8_%DA%86%D9%88%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بہ نالہ حاصل دل بستگی فراہم کر", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہ نالہ حاصل دل بستگی فراہم کر\nمتاع خانۂ زنجیر جز صدا معلوم\n\nبہ قدر حوصلۂ عشق جلوہ ریزی ہے\nوگرنہ خانۂ آئینہ کی فضا معلوم\n\nاسدؔ فریفتۂ انتخاب طرز جفا\nوگرنہ دلبری وعدۂ وفا معلوم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DA%AF%DB%8C_%D9%81%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%85_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "بہ چشم حقیقت جہاں دیکھتا ہوں", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "بہ چشم حقیقت جہاں دیکھتا ہوں\nمیں جاناں کا جلوہ عیاں دیکھتا ہوں\n\nیہ جو کچھ کہ ظاہر ہے سب نور حق ہے\nمیں حق دیکھتا ہوں جہاں دیکھتا ہوں\n\nبہر رنگ و ہر شے و ہر جا و ہر سو\nتجھی کو میں جلوہ کناں دیکھتا ہوں\n\nہر اک قطرۂ بحر کثرت میں یارو\nمیں دریائے وحدت رواں دیکھتا ہوں\n\nجہاں دیکھتا ہوں میں جلوہ ہے تیرا\nترے غیر کو میں زیاں دیکھتا ہوں\n\nیہ تاثیر ہے راز الفت کا دل پر\nچو شادی و غم ایک ساں دیکھتا ہوں\n\nبجز ذات مرشد وہاں کچھ نہ پایا\nمیں شیخ و برہمن یہاں دیکھتا ہوں\n\nکھلا مجھ پہ ہے جب سے سر حقیقت\nمیں اپنے تئیں خود گماں دیکھتا ہوں\n\nہوا فیض خادم صفیؔ سے یہ آثمؔ\nکہ سب شان مولیٰ عیاں دیکھتا ہوں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "بہ چمن اب وہ کیا چاہے ہے مے نوش گزار", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہ چمن اب وہ کیا چاہے ہے مے نوش گزار\nجلد اے پیک صبا گل کے یہ کر گوش گزار\n\nنہیں معلوم کہاں جاتے ہیں جوں نشۂ مے\nجدھر ان روزوں میں ہم کرتے ہیں مدہوش گزار\n\nبزم میں مجھ کو جو دیکھا تو یہ جھنجھلا کے کہا\nایسی محفل میں کرے ہے مری پاپوش گزار\n\nسرنگوں کوچۂ رسوائی میں ہیں آج تلک\nسو خرابی سے جو اس در پہ کیا دوش گزار\n\nعاشق اس پردہ نشیں کے ہیں کہ گر سامنے سے\nکبھی گزرے ہے تو کرتا ہے وہ روپوش گزار\n\nچند روزہ ہے یہ مے خانۂ ہستی یاں تو\nعمر غفلت میں نہ اے بے خرد و ہوش گزار\n\nآ پھنسا عشوہ و انداز و ادا میں یوں دل\nرہزنوں میں کرے جوں راہ فراموش گزار\n\nہم سفر ہیں تو یہ حسرت ہے کہ کیجے کوسوں\nاک سواری میں ہوئے اس سے ہم آغوش گزار\n\nقدرداں کوئی سخن کا نہ رہا اے جرأتؔ\nکنج تنہائی میں اوقات تو خاموش گزار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%A7%D8%A8_%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%B4_%DA%AF%D8%B2%D8%A7%D8%B1"} {"title": "بہ گمان قطع زحمت نہ دو چار خامشی ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "بہ گمان قطع زحمت نہ دو چار خامشی ہو\nکہ زبان سرمہ آلود نہیں تیغ اصفہانی\nبہ فریب آشنائی بہ خیال بے وفائی\nنہ رکھ آپ سے تعلق مگر ایک بدگمانی\nنظرے سوے کہستاں نہیں غیر شیشہ ساماں\nجو گداز دل ہو مطلب تو چمن ہے سنگ جانی\nبہ فراز گاہ عبرت چہ بہارو کو تماشا\nکہ نگاہ ہے سیہ پوش بہ عزاے زندگانی\nبہ فراق رفتہ یاراں خط و حرف مو پریشاں\nدل غافل از حقیقت ہمہ ذوق قصہ خوانی\nتپش دل شکستہ پئے عبرت آگہی ہے\nکہ نہ دے عنان فرصت بہ کشاکش زبانی\nنہ وفا کو آبرو ہے نہ جفا تمیز جو ہے\nچہ حساب جانفشانی چہ غرور دلستانی\nبہ شکنج جستجوہا بہ سراب گفتگو ہا\nتگ و تاز آرزو ہا بہ فریب شادمانی\nنہیں شاہراہ اوہام بجز آں سوے سیدن\nتری سادگی ہے غافل در دل پہ پاسبانی\nچہ امید و نا امیدی چہ نگاہ و بے نگاہی\nہمہ عرض نا شکیبی ہمہ ساز جاں ستانی\nاگر آرزو ہے راحت تو عبث بہ خوں تپیدن\nکہ خیال ہو تعب کش بہ ہواے کامرانی\nشر و شور آرزو سے تب و تاب عجز بہتر\nنہ کرے اگر ہوس پر غم بیدلی گرانی\nہوس فروختن ہا تب و تاب سوختن ہا\nسر شمع نقش پا ہے بسپاس ناتوانی\nشرر اسیر دل کو ملے اوج عرض اظہار\nجو بہ صورت چراغاں کرے شعلہ نرد بانی\nہوے مشق جرأت ناز رہ و رسم طرح آداب\nخم پشت خوشنما تھا بہ گزارش جوانی\nاگر آرزو رسا ہو پے درد دل دوا ہو\nوہ اجل کہ خوں بہا ہو بہ شہید ناتوانی\nغم عجز کا سفینہ بہ کنار بیدلی ہے\nمگر ایک شہپر مور کرے ساز بادبانی\nمجھے انتعاش غم نے پے عرض حال بخشی\nہوس غزل سرائی تپش فسانہ خوانی\n\nدل نا امید کیونکر بہ تسلی آشنا ہو\nجو امیدوار رہیے نہ بہ مرگ ناگہانی\nمجھے بادۂ طرب سے بہ خمار گاہ قسمت\nجو ملی تو تلخ کامی جو ہوئی تو سرگرانی\nنہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی\nمجھے طاقت آزمانی تجھے الفت آزمانی\nبہ ہزار امیدواری رہی ایک اشک باری\nنہ ہوا حصول زاری بجز آستیں فشانی\nکروں عذر ترک صحبت سو کہاں وہ بے دماغی\nنہ غرور میر زائی نہ فریب ناتوانی\nہمہ یک نفس تپش سے تب و تاب ہجر مت پوچھ\nکہ ستم کش جنوں ہوں نہ بقدر زندگانی\nکف موجۂ حیا ہوں بہ گزار عرض مطلب\nکہ سر شک قطرہ زن ہے بہ پیام دل رسانی\nیہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ\nکروں خوان گفتگو پر دل و جاں کی میہمانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81_%DA%AF%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%82%D8%B7%D8%B9_%D8%B2%D8%AD%D9%85%D8%AA_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%88_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D9%85%D8%B4%DB%8C_%DB%81%D9%88"} {"title": "بہا کر خون میرا مجھ سے بولے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہا کر خون میرا مجھ سے بولے\nکہ لے جینے سے اپنے ہاتھ دھو لے\n\nجو دل پایا ہے تو چار اشک رو لے\nزمیں اچھی ملی ہے بیج بولے\n\nصدا اپنی ہے بازار جنوں میں\nدل اپنا مفت کا سودا ہے جو لے\n\nوہ جاتے ہیں اکیلے میرے گھر سے\nنکل کر جان تو ہی ساتھ ہو لے\n\nکھلے گی زلف سے خود دل کی چوری\nوہ جادو کیا نہ جو سر چڑھ کے بولے\n\nتجھے ہے اختیار آنا نہ آنا\nدل مضطر کا کہنا مان تو لے\n\nاجل بولی یہ تربت میں لٹا کر\nبہت جاگا ہے اب جی بھر کے سو لے\n\nگھٹائیں جھومتی ہیں میکدے پر\nکہ پریاں اڑ رہی ہیں بال کھولے\n\nکسی کو دے دیا دل مفت اپنا\nجلیلؔ ایسے ہی تو ہیں آپ بھولے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D9%86_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%92"} {"title": "بہادر شاہ اور پھول والوں کی سیر", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "poetry", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "نور الطاف و کرم کی ہے یہ سب اس کے جھلک\nکہ وہ ظاہر ہے ملک اور ہے باطن میں ملک\nاس تماشے کی نہ کیوں دھوم ہو افلاک تلک\nآفتابی سے خجل جس کے ہے خورشید فلک\nیہ بنا اس شہ اکبر کی بدولت پنکھا\n\nشائق اس سیر کے سب آج ہیں با دیدہ دل\nواقعی سیر ہے یہ دیکھنے ہی کے قابل\nچشم انجم ہو نہ اس سیر پہ کیوں کر مائل\nسیر یہ دیکھے ہے وہ بیگم والا منزل\nجس کے دیواں کا رکھے ماہ سے نسبت پنکھا\n\nرنگ کا جوش ہے ماہی سے زبس ماہ تلک\nڈوبے ہیں رنگ میں مدہوش سے آگاہ تلک\nآج رنگین ہے رعیت سے لگا شاہ تلک\nزعفران زار ہے اک بام سے درگاہ تلک\nدیکھنے آئی ہے اس رنگ سے خلقت پنکھا\n\nجھولا کن ڈارو، رے، امریاں\nجھولا کن ڈارو، رے، امریاں\n\nرین اندھیری، تال کنارے، مرلا جھنگارے\nبادل کارے، بوندیا پڑیں، پھنیاں پھنیاں\n\nجھولا کن ڈارو سے امریاں\nدو سکھی جھولیں، دو ہی جھولائیں\n\nچار مل گئیاں، بھول بھلیاں\nجھولا کن ڈارو، رے امریاں\n\nسنو سکھی سیاں جو گیا ہو گئے، سنو سکھی سیاں جو گیا ہو گئے\nمیں جو گن تیرے ساتھ، سنو سکھی سیاں جوگیا ہو گئے\n\nجو گیا بجائے بین بانسری، جو گیا بجائے بین بانسری\nجوگن گائے ہے ملار، سنو سکھی سیاں جو گیا ہو گئے\n\nجو گیا نے چھائی، جنگل جھونپڑی، جوگیا نے چھائی جنگل جھونپڑی\nجوگن نے چھایا ہے بدیس، سنو سکھی سیاں جو گیا ہو گئے\n\nجو گیا نے پہنے لال لال کپڑے، جوگیا نے پہنے لال لال کپڑے\nجو گن کے لمبے لمبے کیس، سنو سکھی سیاں جوگیا ہو گئے\n\nاماں، آڑو جامن گھلے دہرے\nاماں، میں نہیں کھاتی میری ماں\n\nاماں، تتا پانی بھرا دھرا\nاماں، میں نہیں نہاتی میری ماں\n\nاماں، دھانی جوڑا سلا دھرا\nاماں، میں نہیں پہنتی میری ماں\n\nاماں، بھائی بھاوج ملن کھڑے\nاماں، میں نہیں ملتی میری ماں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AF%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84_%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%B1"} {"title": "بہادر شاہ بادشاہ کی درویشی", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "دلی کے آخری بادشاہ ایک درویش صفت بادشاہ گذرے ہیں۔ ان کی فقیری اور فقیر دوستی کی سینکڑوں مثالیں دہلی اور اطراف ہند میں مشہور ہیں اور دہلی میں تو ابھی سینکڑوں آدمی موجود ہیں جنہوں نے اس خرقہ پوش سلطان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے ان کے درویشانہ کلام کو سنا۔\n\nبہادر شاہ بڑے عابد بادشاہ تھے۔ ملک کے کاروبار تو سب انگریز کمپنی کے ہاتھوں میں تھے، اس لئے بادشاہ کو سوائے یاد خدا اور صوفیانہ کلمہ کلام کے اور کچھ کام نہ کرنا پڑتا تھا۔ دربار آراستہ ہوتا تو اس میں بھی اقلیم باطن کے حکم احکام سنائے جاتے اور شاعرانہ پیرایہ میں تصوف کے حقائق و معارف کا چرچا رہتا۔ چنانچہ قاعدہ تھا کہ جب درباری لوگ دیوان عام یا دیوان خاص میں جمع ہو جاتے تو حضور ظل سبحانی دربار میں برآمد ہونے کے محل سے چلنے کی تیاری کرتے۔ جو نہی بادشاہ کا قدم اٹھتا، محل کی نقیب عورت آواز لگاتی، ’ہوشیار ادب قاعدہ نگاہ دار‘ یہ لال پردہ محل خاص کی ڈیوڑھی کا نام تھا، وہاں سے اس عورت کی آواز دربار کے مرد نقیب سنتے اور وہ بھی ’ہوشیار ادب قاعدہ نگاہ دار‘ کا نعرہ بلند کرتے تھے، جس کو سن کر تمام درباری سمٹ سمٹا کر قرینے قرینے سے اپنے مقام پر آن کھڑے ہوتے۔ اس وقت عجب عالم ہوتا تھا کہ تمام امراء و وزراء گردنیں جھکائے، آنکھیں نیچی کئے دست بستہ کھڑے ہیں۔ مجال نہیں کوئی نگاہ اٹھا کر دیکھ سکے یا اپنے جسم کو بیکار جنبش دے۔ تمام دربار میں ایک سکتے کی حالت ہوتی تھی۔ جس وقت حضور السلطان مخفی ڈیوڑھی سے تخت پر ظہور کر چکتے تو نقیب پکارتا، ’ظل الٰہی بر آمد کرد، مجرا ادب سے۔ ‘ یہ سنتے ہی ایک امیر سہما سہما اپنی جگہ سے آگے بڑھتا اور بادشاہ کے سامنے ایک مقام پر جا کر کھڑا ہوتا جس کو جائے ادب کہتے تھے اور وہاں جھک کر تین کو رنش بجا لاتا۔ جس وقت یہ کورنش ادا کی جاتی، چو بدار امیر کی حیثیت اور شان کے موافق تعارف کا لفظ پکارتا اور بادشاہ کو اس کو رنش کی جانب توجہ دلاتا۔ الغرض اسی طرح تمام درباری درجہ بدرجہ مجراو کورنش کے مراسم ادا کرتے تھے۔ جب یہ تمام مراسم ادا ہو چکتیں تو حضور السلطان ارشاد فرماتے، ’’ آج ہم نے ایک غزل کہی ہے اور غزل کا پہلا شعر فرماتے ہیں۔‘‘ شعر سنتے ہی ایک امیر اپنی جگہ سے پھر سہما سہما جائے ادب پر جاتا اور گردن جھکا کر عرض کرتا، ’’سبحان اللہ! کلام الملوک ملوک الکلام۔‘‘ اورپھر اپنے مقام پر آ کھڑا ہوتا۔ اسی طرح ہر شعر پر مختلف امراء جائے ادب پر جا کر حق مدح و ثنا ادا کرتے تھے۔ بہادر شاہ کا کلام ابتدا سے تصوف آمیز اور حسرت خیز تھا جس سے بوئے درد و عبرت آتی تھی۔ یہاں تک کہ ان کے شگفتہ مضامین میں بھی مایوسی و اداسی کی جھلک نظر آتی ہے۔ بہادر شاہ مرید بھی کرتے تھے اور جو شخص مرید ہوتا، پانچ روپیہ ماہوار اس کے مقرر ہو جاتے تھے۔ اس لیے کثرت سے لوگ ان کے مرید ہوتے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ بہادر شاہ کو حضرت مولانا فخر صاحب سے بیعت تھی مگر حضرت مولانا صاحب کے زمانے میں بہادر شاہ کم سن تھے۔ خیال نہیں ہو سکتا کہ اس عمر میں بیعت کی ہوگی۔ البتہ یہ ثابت ہے کہ ایام طفولیت میں ان کو حضرت مولانا صاحب کی گود میں ڈالا گیا تھا۔ حضرت مولانا صاحب کے وصال کے بعد آپ کے فرزند حضرت میاں قطب الدین سے بہادر شاہ کو بہت فیض پہنچا ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ بیعت بھی آپ ہی سے ہے۔ میاں قطب الدین صاحب کے صاحبزادے میاں نصیر الدین عرف میاں کالے صاحب سے بھی بادشاہ کو خاص عقیدت تھی۔ یہاں تک کہ اپنی لڑکی میاں کالے صاحب کو بیاہ دی تھی۔ بہادر شاہ کو یوں تو فقیروں اور درویشوں سے ملنے کا شوق تھا اور درویشی میں بصیرت کامل رکھتے تھے، مگر حضرت سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی ؒ سے ان کو دلی لگاؤ تھا۔ حضرت کے مزار مبارک پر اکثر حاضر ہوا کرتے تھے۔ میرے نانا حضرت شاہ غلام حسن چشتی سےبہادر شاہ کو دوستانہ عقیدت تھی۔ نانا صاحب اکثر قلعہ میں جاتے اور بہادر شاہ کی خاص خلوتوں میں شریک ہوتے تھے۔ میری والدہ ماجدہ بہادر شاہ کے صدہا قصے اپنے پدر بزر گوار حضرت شاہ غلام حسن چشتی کی زبانی بیان فرمایا کرتی تھیں، جن کو سن کر بچپن میں جب کہ مجھ کو بہادر شاہ کی عظمت و شان کی کچھ سمجھ اور خبر نہ تھی، خود بخود متاثر ہوتا تھا اور دل پر دنیا کی بے ثباتی کے نقش جمتے تھے۔ بہادر شاہ صاحب ِ باطن اور بڑے عارف تھے۔ انہوں نے غدر سے پہلے تمام واقعات غدر کو مکاشفہ سے معلوم کر لیا تھا مگر رضائے الٰہی پر شاکر تھے۔ چنانچہ جس زمانہ میں حضرت شاہ اللہ بخش صاحب چشتی سلیمانی تو نسویؒ پہلی مرتبہ دہلی تشریف لائے تو بہادر شاہ نے قلعہ میں آپ کی دعوت کی۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد تخلیہ کیا گیا اور بادشاہ نے حضرت صاحب تونسوی سے اپنی سلطنت کی کمزوری کا غیبی سبب دریافت کیا۔ حضرت صاحب تونسوی نے فرمایا کہ میرے خیال میں تمہارے بزرگوں سے کچھ خطائیں سرزد ہوئی ہیں جن میں سب سے بڑی یہ ہے کہ عاشق و معشوق کے آگے حجاب ڈالا گیا یعنی حضرت محبوب الٰہی ؒ اور حضرت امیر خسرو ؒ کے مزارات کے بیچ میں محمد شاہ بادشاہ کو دفن کیا گیا۔ حضرت محبوب الٰہی ؒ اور حضرت امیر خسروؒ کے ما بین جو محبت تھی، اس کا تقاضا یہ تھا کہ ان دونوں حضرات کے مزارات کے درمیان کوئی حجاب نہ کیا جاتا کیوں کہ حضرت محبوب الٰہی ؒ فرمایا کرتے تھے کہ اگر شریعت کا قدم درمیان نہ ہوتا تو ہم اور خسرو ایک قبر میں رہتے۔ ایسی صورت میں محمد شاہ کو بیچ میں دفن کر نا بہت براہوا اور تباہی سلطنت پر پڑی۔ نانا صاحب فرماتے تھے کہ بہادر شاہ پر اس بیان کا بہت بڑا اثر پیدا ہوا اور انہوں نے اس پر دل سے یقین کیا۔ گو ظاہری و باطنی اعتبار سے ان کے نزدیک زوال حکومت کے صدہا اسباب تھے، جن کو وہ بار ہا خلوت کی صحبت میں بیان کیا کرتے تھے۔ عرس کا جلوسبہادر شاہ جب حضرت محبوب الٰہی کے عرس شریف میں حاضر ہوتے تو بڑی کیفیت رہتی تھی۔ جب تک بادشاہ نہ آجاتے، ختم رکا رہتا۔ جو نہی ان کی سواری آتی، غل مچ جاتا کہ بادشاہ آئے۔ خلقت کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ ہوتے تھے مگر بادشاہ کے درگاہ میں داخل ہوتے ہی لوگ راستہ چھوڑ دیتے اور دروازے سے مزار مبارک تک ایک آدمی کے چلنے کے قابل راستہ بن جاتا تھا جس میں سے گذر کر بادشاہ پہلے مزار مبارک پر حاضر ہوتے۔ اس کے بعد محفل میں آجاتے۔ بادشاہ کے آتے ہی ختم شروع کر دیا جاتا اور ختم کے بعد قوالی شروع ہوتی۔ بادشاہ ایک غزل سنتے اس کے بعد محفل سے چلے جاتے۔ محفل سے اٹھتے وقت ایک عجیب بہار ہوتی تھی کہ جو نہی بادشاہ نے چلنے کا رخ کیا، فوراً تمام میلہ کائی کی طرح سے پھٹ گیا اور درواز ے تک راستہ بن گیا۔ شاہی سے گدائی اور بربادی کا زمانہبہادر شاہ اگر غدر کی بلا میں مبتلا نہ ہوتے تو ان کی درویشی بڑے لطف و اطمینان سے بسر ہوتی مگر بیچارے نا کردہ گناہ باغی لشکر کے وبال میں پھنس گئے اور عمر کا آخری حصہ ہزاروں مصائب میں گذرا۔ میری والدہ ماجدہ بروایت اپنے پدر بزرگوار حضرت شاہ غلام حسن صاحب بیان فرماتی تھیں کہ جس دن بہادر شاہ دہلی کے قلعے سے نکلے تو سیدھے درگاہ حضرت محبوب الٰہی ؒ صاحب میں حاضر ہوئے۔ اس وقت بادشاہ پر عجب مایوسی اور ہراس کا عالم تھے۔ چند مخصوص خواجہ سراؤں اور ہوادار کے کہاروں کے سوا کوئی آدمی ہمراہ نہ تھا۔ فکر و اندیشہ سے بادشاہ کا چہرہ اترا ہوا تھا اور گردو غبار سفید داڑھی پر جما ہوا تھا۔ بادشاہ کی آمد سن کر نانا صاحب درگاہ شریف میں حاضر ہوئے۔ دیکھا کہ مزار مبارک کے سرہانے در سے تکیہ لگائے بیٹھے ہیں۔ مجھ کو دیکھتے ہی حسب معمول بشرہ کو متبسم کر دیا۔ میں سامنے بیٹھ گیا اور خیریت دریافت کرنے لگا۔ جس کے جواب میں نہایت طمانیت سے بولے، میں نے تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ کمبخت باغی سپاہی خود سرے ہیں، ان پر اعتماد کرنا غلطی ہے۔ خود بھی ڈو بیں گے مجھ کو بھی ڈباویں گے۔ آخر وہی ہوا کہ بھاگ نکلے۔ بھائی اگر چہ میں ایک گوشہ نشین فقیر ہوں مگر ہوں اس خون کی یادگار جس میں آخر دم تک مقابلہ کرنے کی حرارت ہوتی ہے۔ میرے باپ داداؤں پر اس سے زیادہ آڑے وقت پڑے ہیں اور انہوں نے ہمت نہیں ہاری مگر مجھے تو غیب سے انجام دکھا دیا گیا ہے۔ اب اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ میں تخت ہند پر تیمور کی آخری نشانی ہوں۔ مغلئی حکومت کا چراغ دم تو ڑ رہا ہے اور کوئی گھڑی کا مہمان ہے۔ پھر جان بوجھ کر خواہ مخواہ کیوں خون ریزی کراؤں۔ اس واسطے قلعہ چھوڑ کر چلا آیا۔ ملک خدا کا ہے جس کو چاہے دے۔ سیکڑوں برس ہماری نسل نے سر زمین ہند میں ہیبت و جبروت سے سکہ جمایا۔ ا ب دوسروں کا وقت ہے۔ وہ حکمرانی کریں گے۔ تاجدار کہلائیں گے اور ہم ان کے مفتوح ٹھہریں گے۔ یہ کوئی رنج اور افسوس کی بات نہیں۔ آخر ہم نے بھی تو دوسروں کو مٹا کر اپنا گھر بسایا تھا۔ ان حسرتناک باتوں کے بعد بادشاہ نے ایک صندوقچہ دیا اور کہا، لو یہ تمہارے سپرد ہے۔ امیر تیمور نے جب قسطنطنیہ کو فتح کیا تھا تو سلطان یلدرم بایزید کے خزانے سے یہ نعمت ہاتھ لگی تھی۔ اس میں حضور سرور کائنات کی ریش مبارک کے پانچ بال ہیں جو آج تک ہمارے خاندان میں بطور تبرک خاص چلے آتے ہیں۔ اب میرے لیے زمین و آسمان میں کہیں ٹھکانا نہیں۔ ان کو لے کر کہاں جاؤں۔ آپ سے بڑھ کر کوئی اس کا اہل نہیں ہے۔ لیجئے ان کو رکھئے۔ یہ میرے دل و دیدہ کی ٹھنڈک ہیں، جن کو آج کے دن کی ہولناک مصیبت میں اپنے سے جدا کر تا ہوں۔ چنانچہ نانا صاحب نے وہ صندوقچہ لے لیا اور درگاہ شریف کے تو شہ خانہ میں داخل کر دیا جو اب تک موجود ہے۔ اس کے تبرکات کی ہر سال ربیع الاول کے مہینے میں زیارت کرائی جاتی ہے۔ نانا صاحب سے بادشاہ نے کہا کہ آج تین وقت سے کھانے کی مہلت نہیں ملی۔ اگر گھر میں کچھ تیار ہو تو لاؤ۔ نانا صاحب نے کہا ہم لوگ بھی موت کے کنارے کھڑے ہیں۔ کھانے پکانے کا ہوش نہیں۔ گھر جاتا ہوں، جو کچھ موجود ہے حاضر کرتا ہوں بلکہ آپ خود تشریف لے چلیں۔ جب تک میں زندہ رہوں اور میرے بچے سلامت ہیں، آپ کو کوئی شخص ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ پہلے ہم مرجائیں گے، اس کے بعد کوئی اور وقت آسکے گا۔ بادشاہ نے فرمایا آپ کا احسان جو ایسا کہتے ہو مگر اس بوڑھے جسم کی حفاظت کے لیے اپنے پیروں کی اولاد کو قتل گاہ بھیجنا مجھے کبھی گوارا نہ ہوگا۔ زیارت کر چکا۔ امانت سونپ دی۔ اب دو لقمے محبوبی لنگر سے کھا لوں تو مقبرۂ ہمایوں میں چلا جاؤں گا۔ وہاں جو قسمت میں لکھا ہے پورا ہو جائے گا۔ نانا صاحب گھر آئے۔ دریافت کیا کہ کچھ کھانے کو موجود ہے۔ کہا گیا کہ بیسنی روٹی اور سرکہ کی چٹنی ہے۔ چنانچہ وہی ایک خوان میں آراستہ کر کے لے آئے اور بادشاہ نے وہ چنے کی روٹی کھا کر تین وقت کے بعد پانی پیا اور خدا کا شکرانہ بھیجا۔ اس کے بعد ہمایوں کے مقبرے میں جاکر گرفتار ہوئے اور رنگون بھیج دیے گئے۔ رنگوں میں بھی بادشاہ کی درویشانہ معاشرت میں فرق نہ آیا۔ جب تک زندہ رہے، ایک صابر و متو کل درویش کی طرح بسر اوقات کرتے رہے۔ یہ وہ قصہ ہے جس میں عقل مند آدمی کے لیے عبرت کا بہت بڑا ذخیرہ ہے اور جس کے سننے سے انسان اپنے غرور و تکبر کو بھول جاتا ہے اور جب دماغ سے تکبر کی بو جاتی رہتی ہے تو آدمی اصل آدمی بن جاتا ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AF%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%B4%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%B4%DB%8C"} {"title": "بہار", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "گلشن عالم میں جب تشریف لاتی ہے بہار\nرنگ و بو کے حسن کیا کیا کچھ دکھاتی ہے بہار\nصبح کو لا کر نسیم دل کشا ہر شاخ پر\nتازہ تر کس کس طرح کے گل کھلاتی ہے بہار\nنونہالوں کی دکھا کر دم بدم نشو و نما\nجسم میں روح رواں کیا کیا بڑھاتی ہے بہار\nبلبلیں چہکارتی ہیں شاخ گل پر جا بجا\nبلبلیں کیا فی الحقیقت چہچہاتی ہے بہار\nحوض و فواروں کو دے کر آبرو پھر لطف سے\nکیا معطر فرش سبزے کا بچھاتی ہے بہار\nجنبش باد صبا سے ہو کے ہم دوش نشاط\nساتھ ہر سبزے کے کیا کیا لہلہاتی ہے بہار\nخلق کو ہر لحظہ اپنے حسن کی رنگت دکھا\nبے تکلف کیا ہی ہر دل میں سماتی ہے بہار\nمجمع خوباں ہجوم عاشقاں اور جوش گل\nدیکھ ان رنگوں کو کیا کیا کھلکھلاتی ہے بہار\nگل رخوں کی دیکھ کر گل بازیاں ہر دم نظیر\nگل ادھر خنداں ادھر دھومیں مچاتی ہے بہار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1"} {"title": "بہار آ کر جو گلشن میں وہ گائیں", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار آ کر جو گلشن میں وہ گائیں\nتو غنچہ ہر طرف چٹکی بجائیں\n\nیہ تم کو دیکھ کر گل پھول جائیں\nکہ جامہ میں نہ پھر پھولے سمائیں\n\nملے رستہ تو سوئے چرخ جائیں\nکہاں تک اس زمیں پر خاک اڑائیں\n\nمثال شمع اس پر لو لگائیں\nسحر تک شام سے آنسو بہائیں\n\nمرے مرنے سے یہ اندھیر کا سوگ\nکہو مسی ملیں سرمہ لگائیں\n\nچمن میں اس سے ہم چشمی یہ دیدہ\nتری آنکھیں نہ نرگس پھوٹ جائیں\n\nخدا کے پاس کیا جائیں گے زاہد\nگنہگاروں سے جب یہ بار پائیں\n\nتردد پھول کا کس واسطے ہے\nمری تربت پہ وہ تیوری چڑھائیں\n\nمرے لاشہ کو کاندھا دے کے بولے\nچلو تربت میں اب تم کو سلائیں\n\nسخیؔ روتے ہی روتے دم نکل جائے\nفراغت ہو کہیں گنگا نہائیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بہار آئی بتنگ آیا دل وحشت پناہ اپنا", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار آئی بتنگ آیا دل وحشت پناہ اپنا\nکروں کیا ہے یہی چاک گریباں دستگاہ اپنا\n\nٹپکتی جو طرح سنبل سے ہووے پے بہ پے شبنم\nہمارے حال پر رونے لگا اب دود آہ اپنا\n\nمرا دل لیتے ہی کر چشم پوشی مجھ سے منہ پھیرا\nنظر آتا نہیں کچھ مجھ کو دلبر سے نباہ اپنا\n\nستم سے دی تسلی اس کماں ابرو کے قرباں ہوں\nرگ جاں کر دیا دل کو مرے تیر نگاہ اپنا\n\nتو ہرجائی نہ ہو گھٹ جائے گا جوں زر عیاروں میں\nیہ عزلتؔ بندہ اپنا فدوی اپنا خیر خواہ اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%BE%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "بہار آئی جنوں لے گا ہمارا امتحاں دیکھیں", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار آئی جنوں لے گا ہمارا امتحاں دیکھیں\nنمک دے گا دل زخمی کو شور بلبلاں دیکھیں\n\nسیا ہے زخم بلبل گل نے خار اور بوئے گلشن سے\nسوئی تاگا ہمارے چاک دل کا ہے کہاں دیکھیں\n\nہمیں دل سوزی ہمیشہ یہاں تک دین و ایماں ہے\nکہ جی جلتا ہے جب ہم بلبل فصل خزاں دیکھیں\n\nگزر جاتی ہے دل سے تیر ہو کر یاد اس قد کی\nجہاں ہم دوش عاشق ہم کوئی ابرو کماں دیکھیں\n\nہما سے بچ کے مجھ مجنوں کو دولت عشق کی ہو جو\nسگ لیلیٰ کی قسمت ہوں گے میرے استخواں دیکھیں\n\nچلا ہوں عزلتؔ اب صحرا بگولے کی زیارت کو\nملے گا طوف کو مجنوں کا برباد آستاں دیکھیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بہار آئی کر اے باغباں گلاب قلم", "poet_page": "مصنف:پیر شیر محمد عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > کرشمۂ عشق (1922)", "year": "1922", "text_ur": "بہار آئی کر اے باغباں گلاب قلم\nکہ لکھے وصف رخ یار کی کتاب قلم\n\nنہ کھینچے چہرۂ پر نور پر نقاب قلم\nکرے نہ کاغذ تصویر کو خراب قلم\n\nجو قصد ہو رخ روشن کے وصف لکھنے کا\nفلک سے لے ورق ماہ و آفتاب قلم\n\nحکایت دل بیتاب طول رکھتی ہے\nنہ کر تو لکھنے میں اتنا بھی اضطراب قلم\n\nبیان زلف چلیپا میں قطعہ لکھ لکھ کر\nدکھائے خط شکستہ کا پیچ و تاب قلم\n\nحباب سے بھی بہت کم ہے زیست کا وقفہ\nحدیث کشتی مے میں چلے شتاب قلم\n\nلکھے نہ آتش مے کی حکایتیں آگے\nجگر نہ بادہ کشوں کے کرے کباب قلم\n\nشبیہ کھینچے گا اک گل کے قد موزوں کی\nلکھے گا مصرع شمشاد کا جواب قلم\n\nحکایت شب ہجراں لکھو نہ اے عاجزؔ\nہماری جان حزیں کا نہ ہو عذاب قلم", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%BA%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D9%84%D8%A7%D8%A8_%D9%82%D9%84%D9%85"} {"title": "بہار آئی گلی کی طرح دل کھول", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار آئی گلی کی طرح دل کھول\nگلوں کی بھانت ہنس بلبل کے جوں بول\n\nپیا تیرے زنخ میں چاہ کر کے\nہوئے سب عاشقاں کے دل ڈواں ڈول\n\nہمارے جان و دل سیں غم نیں ضد کی\nہوا دل تنگ و جامے میں پڑا جھول\n\nبلا ہے راہ بہکانے کوں یہ زلف\nگیا ہے بیچ اس کے دیکھ مرغول\n\nبکائی ہاتھ اس کے آپ زر دے\nبھلا یوسف زلیخا نیں لیا مول", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84"} {"title": "بہار آئی ہے آرائش چمن کے لیے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار آئی ہے آرائش چمن کے لیے\nمری بھی طبع کو تحریک ہے سخن کے لیے\n\nخیال تک نہ کیا اہل انجمن نے کبھی\nتمام رات جلی شمع انجمن کے لیے\n\nوطن میں آنکھ چراتے ہیں ہم سے اہل وطن\nتڑپتے رہتے ہیں غربت میں ہم وطن کے لیے\n\nچمن کے دام سے جائیں گے ہم کہاں صیاد\nقفس فضول ہے پروردۂ چمن کے لیے\n\nمیں قید اشک سے آزاد ہوں محبت میں\nکہ تجھ کو شمع بنانا ہے انجمن کے لیے\n\nزبان اہل بصیرت پہ عرض حیرت ہے\nسکوت داد ہے گویا مرے سخن کے لیے\n\nفروغ طبع خدا داد گرچہ تھا وحشتؔ\nریاض کم نہ کیا ہم نے کسب فن کے لیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D8%B4_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "بہار آئی ہے سوتے کو ٹک جگا دینا", "poet_page": "مصنف:اشرف علی فغاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار آئی ہے سوتے کو ٹک جگا دینا\nجنوں ذرا مری زنجیر کو ہلا دینا\n\nترے لبوں سے اگر ہو سکے مسیحائی\nتو ایک بات میں جیتا ہوں میں جلا دینا\n\nاب آگے دیکھیو جیتوں نہ جیتوں یا قسمت\nمری بساط میں دل ہے اسے لگا دینا\n\nرہوں نہ گرمیٔ مجلس سے میں تری محروم\nسپندوار مجھے بھی ذرا تو جا دینا\n\nخدا کرے تری زلف سیہ کی عمر دراز\nکبھی بلا مجھے لینا کبھی دعا دینا\n\nبرنگ غنچہ زر گل کے تئیں گرہ مت باندھ\nفغاںؔ جو ہاتھ میں آوے اسے اڑا دینا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%AA%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D9%B9%DA%A9_%D8%AC%DA%AF%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے\nمگر ان شوخ نظروں کی حیا کچھ اور کہتی ہے\n\nرہائی کی خبر کس نے اڑائی صحن گلشن میں\nاسیران قفس سے تو صبا کچھ اور کہتی ہے\n\nبہت خوش ہے دل ناداں ہوائے کوے جاناں میں\nمگر ہم سے زمانے کی ہوا کچھ اور کہتی ہے\n\nتو میرے دل کی سن آغوش بن کر کہہ رہا ہے کچھ\nتری نیچی نظر تو جانے کیا کچھ اور کہتی ہے\n\nمری جانب سے کہہ دینا صبا لاہور والوں سے\nکہ اس موسم میں دہلی کی ہوا کچھ اور کہتی ہے\n\nہوئی مدت کے مے نوشی سے توبہ کر چکے اخترؔ\nمگر دہلی کی مستانہ فضا کچھ اور کہتی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "بہار آئی ہے پھر وحشت کے ساماں ہوتے جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار آئی ہے پھر وحشت کے ساماں ہوتے جاتے ہیں\nمرے سینے میں داغوں کے گلستاں ہوتے جاتے ہیں\n\nمجھے بچپن کر کے دل دہی بھی ہوتی جاتی ہے\nجفائیں کرتے جاتے ہیں پشیماں ہوتے جاتے ہیں\n\nکہاں جاتا ہے اے دل شکوۂ مہر و وفا کرنے\nوہاں بیداد کرنے کے بھی احساں ہوتے جاتے ہیں\n\nنسیمؔ زندہ دل مرنے لگے ہیں خوب رویوں پر\nغضب ہے ایسے دانش مند ناداں ہوتے جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بہار آئی ہے پھر چمن میں نسیم اٹھلا کے چل رہی ہے", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار آئی ہے پھر چمن میں نسیم اٹھلا کے چل رہی ہے\nہر ایک غنچہ چٹک رہا ہے گلوں کی رنگت بدل رہی ہے\n\nوہ آ گئے لو وہ جی اٹھا میں عدو کی امید یاس ٹھہری\nعجب تماشا ہے دل لگی ہے قضا کھڑی ہاتھ مل رہی ہے\n\nبتاؤ دل دوں نہ دوں کہو تو عجیب نازک معاملہ ہے\nادھر تو دیکھو نظر ملاؤ یہ کس کی شوخی مچل رہی ہے\n\nتڑپ رہا ہوں یہاں میں تنہا وہاں عدو سے وہ ہم بغل ہیں\nکسی کے دم پر بنی ہوئی ہے کسی کی حسرت نکل رہی ہے\n\nگھٹا وہ چھائی وہ ابر اٹھا یہی تو ہے وقت مے کشی کا\nبلاؤ شاعرؔ کو ہے کہاں وہ شراب شیشے سے ڈھل رہی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "بہار آئی ہے کیا کیا چاک جیب پیرہن کرتے", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار آئی ہے کیا کیا چاک جیب پیرہن کرتے\nجو ہم بھی چھوٹ جاتے اب تو کیا دیوانہ پن کرتے\n\nتصور اس دہان تنگ کا رخصت نہیں دیتا\nجو ٹک دم مار سکتے ہم تو کچھ فکر سخن کرتے\n\nنہیں جوں پنجۂ گل کچھ بھی ان ہاتھوں میں گیرائی\nوگرنہ یہ گریباں نذر خوبان چمن کرتے\n\nمسافر ہو کے آئے ہیں جہاں میں تس پہ وحشت ہے\nقیامت تھی اگر ہم اس خرابہ میں وطن کرتے\n\nکوئی فرہاد جیسے بے زباں کو قتل کرتا ہے\nیقیںؔ ہم واں اگر ہوتے تو اک دو بچن کرتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%D8%AC%DB%8C%D8%A8_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%81%D9%86_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "بہار آدھی گزر گئی ہائے ہم قیدی ہیں زنداں کے", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار آدھی گزر گئی ہائے ہم قیدی ہیں زنداں کے\nگئے کچھ اور کچھ جاتے ہیں دن چاک گریباں کے\n\nہزاروں خوب رو گئے خاک میں گردش سے دوراں کے\nجھلکتے رنگ میں دیکھو مقیش ریزے افشاں کے\n\nگیا تو درد سر پر حسرت زخم دویم رہ گئی\nوگرنہ ہم تری شمشیر کے مارے ہیں احساں کے\n\nمرا لوہو بھی بعد از مرگ قاتل کے تصدق ہے\nسنجاف سرخ مت سمجھے کوئی گرد اس کے داماں کے\n\nہوا ہے داغ بے قدری سے ان کی مشت خوں میرا\nپڑے کوئلے ہی کب مہندی میں دست و پائے خوباں کے\n\nجنوں سے خاک ہو گئے پر بھی عاشق ہات ملتے ہیں\nبگولے سارے میں اٹکل کیا عزلتؔ بیاباں کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%AF%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92"} {"title": "بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو\nہوا ہو ابر ہو ساقی ہو اور دریا ہو\n\nروا ہے کہہ تو بھلا اے سپہر نا انصاف\nریائے زہد چھپے راز عشق رسوا ہو\n\nبھرا ہے اس قدر اے ابر دل ہمارا بھی\nکہ ایک لہر میں روئے زمین دریا ہو\n\nجو مہرباں ہیں وہ سوداؔ کو مغتنم جانیں\nسپاہی زادوں سے ملتا ہے دیکھیے کیا ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%DB%81%D9%88_%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%B5%DB%81%D8%A8%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "بہار بن کے چلی آ کہ جا رہی ہے بہار", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "فروغ ماہ سے کیا جگمگا رہی ہے بہار\nگلوں میں نور کی شمعیں جلا رہی ہے بہار\nزمین باغ کو جنت بنا رہی ہے بہار\nشراب حسن کے ساغر پلا رہی ہے بہار\nبہار بن کے چلی آ کہ جا رہی ہے بہار\n\nچمن بہشت ہے موج شراب زمزم کیف\nبرس رہی ہے گل مدعا پہ شبنم کیف\nیہی نشاط کے دن ہیں یہی ہے عالم کیف\nکہ ذرہ ذرہ ہے بزم جہاں کا محرم کیف\nبہار بن کے چلی آ کہ جا رہی ہے بہار\n\nفروغ رنگ سے گلزار شعلہ زار بھی ہیں\nفضائیں حسن کی نکہت سے مشک بار بھی ہیں\nدلوں میں درد کے انداز بے قرار بھی ہیں\nمسرتوں کے یہ دن جان روزگار بھی ہیں\nبہار بن کے چلی آ کہ جا رہی ہے بہار\n\nرباب عشق ہیں لرزاں ہے اک ترانۂ ناز\nجمی ہوئی ہے ابھی محفل شبانۂ ناز\nابھی زبان محبت پہ ہے فسانۂ ناز\nیہ تجھ سے کون کہے اے نگار خانۂ ناز\nبہار بن کے چلی آ کہ جا رہی ہے بہار\n\nگئی بہار زبانوں پہ نام باقی ہے\nخیال کی تپش ناتمام باقی ہے\nمئے نشاط کا بس ایک جام باقی ہے\nفروغ ماہ کی بس ایک شام باقی ہے\nبہار بن کے چلی آ کہ جا رہی ہے بہار", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%8C_%D8%A2_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1"} {"title": "بہار چشم ترے حسن کی بہار سے لوں", "poet_page": "مصنف:چندو لعل بہادر شادان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار چشم ترے حسن کی بہار سے لوں\nشمیم لوں تو تری زلف مشکبار سے لوں\n\nنہیں ہے کام کسی غیر سے مجھے ہرگز\nجو کچھ بھی لوں تو یہ لالچ ہے اپنے یار سے لوں\n\nمجھے ہے کام اسی سے کسی کو کب جانوں\nملے جو ایک سے تو کس لئے ہزار سے لوں\n\nنہیں لڑی ہے مری آنکھ دوسرے کی طرف\nمزہ نظارے کا اس چشم پر خمار سے لوں\n\nشب وصال میسر ہے کیوں نہ اے شاداںؔ\nایاغ بادۂ گل رنگ گل عزار سے لوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%84%D9%88%DA%BA"} {"title": "بہار کا روپ بھی نگاہوں میں اک فریب بہار سا ہے", "poet_page": "مصنف:نہال سیوہاروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار کا روپ بھی نگاہوں میں اک فریب بہار سا ہے\nحیات میں دل کشی نہیں ہے حیات میں انتشار سا ہے\n\nزمانہ کیا دیکھیے دکھائے نہ جانے کیا انقلاب آئے\nفلک کے تیور میں خشمگیں سے زمیں کے دل میں غبار سا ہے\n\nکمال دیوانگی تو جب ہے رہے نہ احساس جیب و دامن\nاگر ہے احساس جیب و دامن تو پھر جنوں ہوشیار سا ہے\n\nکچھ آج ایسی ہی جی پہ گزری دبی ہوئی تھی جو چوٹ ابھری\nجسے سنبھالے ہوا تھا دل میں وہ نالہ بے اختیار سا ہے\n\nابھی امید و وفا نہ توڑو سیاست دلبری نہ چھوڑو\nکبھی جو فردوس رنگ و بو تھا وہ ایک اجڑا دیار سا ہے\n\nنہالؔ کو بے پئے ہے مستی ہے مفت الزام مے پرستی\nہے عام اس شہر میں روایت یہ شخص کچھ بادہ خوار سا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D9%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%A9_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "بہار کے دن", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آیا ہے بہار کا زمانہ\nباغوں کے نکھار کا زمانہ\nکلیاں کیا کیا چٹک رہی ہیں\nساری روشیں مہک رہی ہیں\nہلکی ہلکی یہ ان کی خوشبو\nپھیلی ہوئی ہے چمن میں ہر سو\nچڑیاں گاتی ہیں گیت پیارے\nسنتے ہیں چمن میں پھول سارے\nشاخوں کا بنا لیا ہے جھولا\nپھولوں سے لدا ہوا ہے جھولا\nکونپل ہر اک ہے کیسی پیاری\nسبزی میں جھلک رہی ہے سرخی\nکتنی راحت فزا ہوا ہے\nگویا جنت کا در کھلا ہے\nخوش خوش ہر ایک آدمی ہے\nہر شے میں بلا کی دل کشی ہے\nیہ صبح کا دل فریب منظر\nیہ شام کا حسن روح پرور\nیہ رات کو چاندنی کا عالم\nاللہ رے بے خودی کا عالم\nکیسی دلچسپ چاندنی ہے\nچادر اک نور کی تنی ہے\nہر دل میں امنگ کس قدر ہے\nسب پر ہی بہار کا اثر ہے\nسڑکوں پہ جو لوگ جا رہے ہیں\nغزلیں افسرؔ کی گار رہے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%86"} {"title": "بہار گلشن ایام ہوں میں", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار گلشن ایام ہوں میں\nسحر نور و سواد شام ہوں میں\n\nشتاب آ اے مہ عیسیٰ نفس تو\nکہ خورشید کنار بام ہوں میں\n\nاگر منظور ہے آنا تو جلد آ\nکہ تجھ بن سخت بے آرام ہوں میں\n\nبجائے مے تری دوری میں اے گل\nبرنگ لالہ خوں آشام ہوں میں\n\nمحب و مخلص و فدوی ہوں تیرا\nسمجھ تو لائق دشنام ہوں میں\n\nتجھے دیکھ آپ میں رہتا نہیں میں\nغرض تجھ وصل سے ناکام ہوں میں\n\nبہار آئی چمن میں گو مجھے کیا\nگرفتار و اسیر دام ہوں میں\n\nنشاں اپنا کہیں پایا نہیں یاں\nفقط عنقا صفت یک نام ہوں میں\n\nنہ پیغام و سلام و نے ملاقات\nعبث تجھ عشق میں بد نام ہوں میں\n\nنہ ہوں پروانۂ ہر شمع بیدارؔ\nفدائے سرو گل اندام ہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بہار گلشن ہستی ہے قائم شادی و غم سے", "poet_page": "مصنف:نہال لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہار گلشن ہستی ہے قائم شادی و غم سے\nجو گل خنداں ہے گلشن میں تو گریاں شمع محفل میں\n\nجہاں معشوق ہو عاشق وہیں اس کا پہنچتا ہے\nچمن میں جائے پروانہ نہ بلبل آئے محفل میں\n\nنہالؔ اس کے کرم سے پار بیڑا ہوگا تیرا بھی\nبچایا نوح کو طوفاں سے جس نے عین مشکل میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%85_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "بہاریں لٹا دیں جوانی لٹا دی", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہاریں لٹا دیں جوانی لٹا دی\nتمہارے لیے زندگانی لٹا دی\n\nصبا نے تو برسائے گل فصل گل میں\nگھٹا نے مئے ارغوانی لٹا دی\n\nاداؤں پہ کر دی فدا ساری ہستی\nنگاہوں پہ دنیائے فانی لٹا دی\n\nعجب دولت حسن پائی تھی دل نے\nنہ مانی مری اک نہ مانی لٹا دی\n\nنہ کھونا تھا غفلت میں عہد جوانی\nعجب رات تھی یہ سہانی لٹا دی\n\nنہ کی حسن کی قدر اے ماہ کامل\nفقط رات بھر میں جوانی لٹا دی\n\nحسینوں نے رنگنیئی خواب شیریں\nسنی جب ہماری کہانی لٹا دی\n\nعجب حوصلہ ہم نے غنچہ کا دیکھا\nتبسم پہ ساری جوانی لٹا دی\n\nجلیلؔ آپ کی شاعری پر کسی نے\nنگاہوں کی جادو بیانی لٹا دی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D9%B9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%84%D9%B9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C"} {"title": "بہت دن بیتے پیا کو دیکھے", "poet_page": "مصنف:امیر خسرو", "kind": "poetry", "section": "کلام", "year": null, "text_ur": "بہت دن بیتے پیا کو دیکھے\nارے کوئی جاؤ پیا کو بلائے لاؤ\nمیں ہاری وہ جیتے پیا کو دیکھے بہت دن بیتے\n\nسب سکھین میں چنر موری میلی\nکیوں چنری نہیں رنگتے\nبہت دن بیتے\nخسروؔ نجام کے بلی بلی جئیے\nکیوں درس نہیں دیتے\nبہت دن بیتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%AF%D9%86_%D8%A8%DB%8C%D8%AA%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92"} {"title": "بہت دن درس الفت میں کٹے ہیں", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "بہت دن درس الفت میں کٹے ہیں\nمحبت کے سبق برسوں رٹے ہیں\n\nجنوں میں ہو گیا ہے اب یہ درجہ\nکہ ہے حالت ردی کپڑے پھٹے ہیں\n\nحرم سے واپسی پر میری دعوت\nہوئی مے خانہ میں میکش ڈٹے ہیں\n\nبہت پیر مغاں ذی حوصلہ ہے\nشراب ناب کے ساغر لٹے ہیں\n\nریاض و زہد کے جتنے تھے دھبے\nوہ سارے نقش باطل اب مٹے ہیں\n\nتبرک تھے مری توبہ کے ٹکڑے\nبجائے نقل محفل میں بٹے ہیں\n\nالم کے درد کے حسرت کے غم کے\nمزے جتنے ہیں سارے چٹپٹے ہیں\n\nنہیں بے وجہ واعظ رونی صورت\nیہ حضرت آج رندوں میں پٹے ہیں\n\nہوئے جاروب کش اس در کے پرویںؔ\nکہ سارے گرد مٹی میں اٹے ہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%AF%D9%86_%D8%AF%D8%B1%D8%B3_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%B9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی\nگزر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پر بھی\n\nعروس دہر کو آیا تھا پیار ہم پر بھی\nیہ بیسوا تھی کسی شب نثار ہم پر بھی\n\nبٹھا چکا ہے زمانہ ہمیں بھی مسند پر\nہوا کیے ہیں جواہر نثار ہم پر بھی\n\nعدو کو بھی جو بنایا ہے تم نے محرم راز\nتو فخر کیا جو ہوا اعتبار ہم پر بھی\n\nخطا کسی کی ہو لیکن کھلی جو ان کی زباں\nتو ہو ہی جاتے ہیں دو ایک وار ہم پر بھی\n\nہم ایسے رند مگر یہ زمانہ ہے وہ غضب\nکہ ڈال ہی دیا دنیا کا بار ہم پر بھی\n\nہمیں بھی آتش الفت جلا چکی اکبرؔ\nحرام ہو گئی دوزخ کی نار ہم پر بھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%84%D8%B7%D9%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟\nغُلامِ ساقیِ کوثر ہوں، مجھ کو غم کیا ہے\n\nتمھاری طرز و روش جانتے ہیں ہم، کیا ہے\nرقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے\n\nکٹے تو شب کہیں کاٹے تو سانپ کہلاوے\nکوئی بتاؤ کہ وہ زُلفِ خم بہ خم کیا ہے\n\nلکھا کرے کوئی احکامِ طالعِ مولود\nکسے خبر ہے کہ واں جنبشِ قلم کیا ہے؟\n\nنہ حشر و نشر کا قائل نہ کیش و ملت کا\nخدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے؟\n\nوہ داد و دید گراں مایہ شرط ہے ہمدم\nوگرنہ مُہرِ سلیمان و جامِ جم کیا ہے\n\nسخن میں خامۂ غالبؔ کی آتش افشانی\nیقین ہے ہم کو بھی، لیکن اب اس میں دم کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%B3%DB%81%DB%8C_%D8%BA%D9%85_%DA%AF%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "بہت سے زمیں میں دبائے گئے ہیں", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "بہت سے زمیں میں دبائے گئے ہیں\nبہت ان کے عاشق جلائے گئے ہیں\n\nہمیشہ سے عاشق ستائے گئے ہیں\nہمیں کیا نئے یاں جلائے گئے ہیں\n\nاندھیرا نہ ہونے دیا وصل کی شب\nوہ شمعوں پہ شمعیں جلائے گئے ہیں\n\nنہیں بے سبب ان کو مجھ سے رکاوٹ\nبہت ہی سکھائے پڑھائے گئے ہیں\n\nنہیں وصل کی ان سے فرمائش آساں\nبہت منہ بگاڑے بنائے گئے ہیں\n\nاداؤں کے ناموں کے غمزوں کے مجھ پر\nبہت چور پہرے بٹھائے گئے ہیں\n\nنگاہوں کی چھریاں اداؤں کے خنجر\nبہت میرے دل پر لگائے گئے ہیں\n\nلڑایا ہے شہ دے کے لوگوں نے ہم کو\nبہت روز نقشے جمائے گئے ہیں\n\nمیں نالاں نہ تھا تیرے جور و جفا سے\nزمانہ کے دل کیوں دکھائے گئے ہیں\n\nدل و دیدہ دو گھر ہیں تشریف لائیں\nسنوارے گئے ہیں سجائے گئے ہیں\n\nیہ دنیا ہے اس میں ہمیشہ سے انساں\nبگاڑے گئے ہیں بنائے گئے ہیں\n\nبنی آدم اعضائے یک دیگر اند\nکہ مٹی سے ہم تم بنائے گئے ہیں\n\nزمیں سے ہی آئے زمیں ہی میں جانا\nاسی سے بگاڑے بنائے گئے ہیں\n\nہمیں پر نہیں ظلم دنیا میں پرویںؔ\nبہت لوگ یاں آزمائے گئے ہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بہت سے مدعی نکلے مگر جاں باز کم نکلے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد ہادی رسوا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہت سے مدعی نکلے مگر جاں باز کم نکلے\nپس مجنوں ہزاروں عاشقوں میں ایک ہم نکلے\n\nنہیں ممکن کسی سے حسن کی باریکیاں حل ہوں\nترے ہر تار گیسو میں ہمارے پیچ و خم نکلے\n\nیہ صورت ہو تو اپنا خاتمہ بالخیر ہو جائے\nادھر ہم سر جھکائیں اور ادھر تیغ دو دم نکلے\n\nہمیں ارمان ہے اس آستاں پر زندگی گزرے\nاسی حسرت میں جیتے ہیں کہ ان قدموں پہ دم نکلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AF%D8%B9%DB%8C_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D9%85_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "بہت کچھ بھول ہو گئی بھولنے کا شادؔ سن آیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہت کچھ بھول ہو گئی بھولنے کا شادؔ سن آیا\nمری جاں غم عبث ہے جھڑکیاں سننے کا دن آیا\n\nضرور اس نے کیا قاصد سے وعدہ اپنے آنے کا\nگیا تھا مضطرب یاں سے وہاں سے مطمئن آیا\n\nدل صد پارہ سے نسبت نہیں زنہار اے بلبل\nچمن میں جا کے عاشق پتیاں پھولوں کی گن آیا\n\nبڑی عظمت سے خود ساقی نے جا کر پیشوائی کی\nشرابی کوئی مے خانہ کے اندر جب مسن آیا\n\nچلو واعظ سے ہرگز کچھ نہ بولو چپ رہو رندو\nہوا جوش غضب یا سر پہ اس ناداں کے جن آیا\n\nمریض غم کی صحت کی خبر اللہ سنوائے\nگیا جو پاس اس کے شادؔ وہ پھر مطمئن آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D8%94_%D8%B3%D9%86_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بہت ہی صاف و شفاف آ گیا تقدیر سے کاغذ", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "بہت ہی صاف و شفاف آ گیا تقدیر سے کاغذ\nتمہارے واسطے لایا ہوں میں کشمیر سے کاغذ\n\nہوا ہے ابروئے جاناں سے دل بے تاب صد پارہ\nمقابل ہو نہیں سکتا دم شمشیر سے کاغذ\n\nاگر لوہے کے گنبد میں رکھیں گے اقربا ان کو\nوہیں پہنچائے گا عاشق کسی تدبیر سے کاغذ\n\nمری قسمت لکھی جاتی تھی جس دن میں اگر ہوتا\nاڑا ہی لیتا دست کاتب تقدیر سے کاغذ\n\nبھلا سادہ ورق پر لکھتا کیا رنگیں مزاجوں کو\nمنقش کر لیا تھا پہلے ہی تقدیر سے کاغذ\n\nکچھ اس خوشبو کی حد بھی ہے معطر ہو گیا بالکل\nمرے ہاتھوں میں وصف گیسوئے شب گیر سے کاغذ\n\nعدو کا خط ہے یا تعویذ ہے جو یوں ہے سینہ پر\nیہ کیوں رکھا گیا ہے عزت و توقیر سے کاغذ\n\nخط تقدیر سے بہتر میں سمجھوں اس کو دنیا میں\nتو لکھوا لائے گر قاصد بت بے پیر سے کاغذ\n\nبتا ظالم مرے قاصد نے تیرا کیا بگاڑا تھا\nجو لے کر پھاڑ ڈالا دست بے تقصیر سے کاغذ\n\nمرے ہاتھ آ گیا پرویںؔ عدو کے نام کا خط تھا\nگرا تھا رہ میں جو دست بت بے پیر سے کاغذ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D8%B5%D8%A7%D9%81_%D9%88_%D8%B4%D9%81%D8%A7%D9%81_%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0"} {"title": "بہت ہی پردے میں اظہار آرزو کرتے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہت ہی پردے میں اظہار آرزو کرتے\nنگاہیں کہتی ہیں ہم ان سے گفتگو کرتے\n\nشراب ناب سے ساقی جو ہم وضو کرتے\nحرم کے لوگ طواف خم و سبو کرتے\n\nوہ مل کے دست حنائی سے دل لہو کرتے\nہم آرزو تو حسیں خون آرزو کرتے\n\nدروغ بافی دشمن کا حال کیا کھلتا\nجو پردہ چاک بھی ہوتا تو وہ رفو کرتے\n\nاتار لاتے انہیں بام طور سے دل میں\nہم اختیار وہ انداز گفتگو کرتے\n\nڈرے وہ کیوں مرے پھولوں میں آتی مل کے حنا\nیہ پھول خاک تمنائے رنگ و بو کرتے\n\nکلیم کو نہ غش آتا نہ طور ہی جلتا\nدبی زبان سے اظہار آرزو کرتے\n\nجو ظرف آب ہمیں میکدے میں مل جاتا\nنماز کعبے میں پڑھتے یہاں وضو کرتے\n\nمہ صیام میں موقع جو شب کو مل جاتا\nتو ایک سانس میں خالی خم و سبو کرتے\n\nشراب پیتے ہی سجدے میں ان کو گرنا تھا\nیہ شغل بیٹھ کے مے نوش قبلہ رو کرتے\n\nہر ایک قطرے سے بہتی ریاض جوئے شراب\nجو پی کے ہم سر زمزم کبھی وضو کرتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "بہتر ہے یہی کہ اب علی گڑھ چلئے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بہتر ہے یہی کہ اب علی گڑھ چلئے\nرکئے نہ کسی کے واسطے بڑھ چلئے\nجس فن کا ہو درس ہو جائیے اس میں شریک\nجو پیش ہے سبق اسے پڑھ چلئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%DA%AF%DA%91%DA%BE_%DA%86%D9%84%D8%A6%DB%92"} {"title": "بہشت بریں", "poet_page": "مصنف:حاجی لق لق", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "خدا سے دعا بہر دنیا کریں گے\nغلط ہے کہ ہم فکر عقبیٰ کریں گے\n\nبڑے ہو کے کونسل میں جایا کریں گے\nتو دل سے یہ اقرار پکا کریں گے\n\nکہ جنت کی خاطر نہ جھگڑا کریں گے\nبہشت بریں لے کے ہم کیا کریں گے\n\nبہشت بریں کیا ہے بس ایک گلشن\nفرشتوں کا دیدار حوروں کے درشن\n\nہر اک جنتی بے ہنر اور بے فن\nنہ بزم ادب اور نہ ریڈیو سٹیشن\n\nکہاں ہم غزل اپنی گایا کریں گے\nبہشت بریں لے کے ہم کیا کریں گے\n\nنہ ساماں وہاں کوئی وجہ مسرت\nنہ عشق و محبت کی واں کوئی صورت\n\nڈنر سوٹ کس وقت پہنا کریں گے\nبہشت بریں لے کے ہم کیا کریں گے\n\nفقط خشک ملا اور اللہ اکبر\nپرے زاہدوں کے سر حوض کوثر\n\nنہ گھوڑا نہ گاڑی نہ ٹانگہ نہ موٹر\nنہ شملہ پہاڑی نہ سنما نہ تھیٹر\n\nکہاں شام اپنی گزارا کریں گے\nبہشت بریں لے کے ہم کیا کریں گے\n\nسنا ہے وہاں شاعری بھی نہ ہوگی\nاور عشاق کی بے کلی بھی نہ ہوگی\n\nبلا سے جو یہ دل لگی بھی نہ ہوگی\nستم تو یہ ہے لانڈری بھی نہ ہوگی\n\nکہاں اپنے کپڑے دھلایا کریں گے\nبہشت بریں لے کے ہم کیا کریں گے\n\nوہاں ہوں گے بے کار قرطاس و خامہ\nنہ پیغام الفت نہ مکتوب نامہ\n\nنہ ناول نویسی نہ شعر اور ڈرامہ\nفقط ہاتھ میں ہوگا اک پائجامہ\n\nسئیں گے اسے اور ادھیڑا کریں گے\nبہشت بریں لے کے ہم کیا کریں گے\n\nزباں بھی وہاں ہوگی اہل عرب کی\nیہاں ہم نے سیکھی ہے انگلش غضب کی\n\nزباں کیسے حوروں کی سمجھا کریں گے\nبہشت بریں لے کے ہم کیا کریں گے\n\nحقیقت کو جنت کی ہم خاک جانیں\nکہ اتنی ہی باتیں ہیں جتنی زبانیں\n\nمگر آپ اس بات کو راست مانیں\nنہ ہوں گی کہیں ساڑھیوں کی دکانیں\n\nیہ مانا کہ جنت میں ہے خوب رونق\nکھلے ہیں چنبیلی گلاب اور زنبق\n\nمگر ہوگا اپنے لیے وہ لق و دق\nنہیں ہوں گے اس میں کبھی حاجی لق لقؔ\n\nفرشتے ہمیں کب ہنسایا کریں گے\nبہشت بریں لے کے ہم کیا کریں گے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%D8%B4%D8%AA_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بہے ساتھ اشک کے لخت جگر تک", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بہے ساتھ اشک کے لخت جگر تک\nنہ کی اس نے مری جانب نظر تک\n\nعبث صیاد کو ہے بد گمانی\nنہیں بازو میں اپنے ایک پر تک\n\nخبر آئی مریض درد و غم کی\nکہیں پہنچے خبر اس بے خبر تک\n\nنزاکت سے لگی بل کرنے کیا کیا\nابھی گیسو نہ پہنچے تھے کمر تک\n\nجئے جاتے ہیں شکل شمع سوزاں\nنہ کچھ باقی رہیں گے ہم سحر تک\n\nاگر میں یاد ہوتا تو نہ آتے\nمگر بھولے سے آئے میرے گھر تک\n\nدم گریہ تھی غالب ناتوانی\nپہنچتے لخت دل کیا چشم تر تک\n\nخدا جانے اثرؔ کو کیا ہوا ہے\nرہا کرتا ہے چپ دو دو پہر تک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%AE%D8%AA_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "بی زمانی بیگم", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "نمرود کی خدائی", "year": "1950", "text_ur": "’’زمین شق ہورہی ہے۔ آسمان کانپ رہا ہے۔ ہر طرف دھواں ہی دھواں ہے۔ آگ کے شعلوں میں دنیا ابل رہی ہے۔ زلزلے پر زلزلے آرہے ہیں۔ یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘\n\n’’تمہیں معلوم نہیں؟‘‘\n\n’’نہیں تو۔‘‘\n\n’’لو سنو۔۔۔ دنیا بھر کو معلوم ہے۔‘‘\n\n’’کیا؟‘‘\n\n’’وہی زمانی بیگم۔۔۔ وہ موٹی چڈو۔‘‘\n\n’’ ہاں ہاں، کیا ہوا اسے؟‘‘\n\n’’وہی جو ہوتا ہے لیکن اس عمرمیں شرم نہیں آئی بدبخت کو۔‘‘\n\n’’یہ بدبخت زمانی بیگم ہے کون؟‘‘\n\n’’ہائیں وہی اسکندر کی ہوتی سوتی۔موئی نکھیائی چنگیز کے پاس رہی۔ ہلاکو کی داشتہ بنی۔ کچھ دن اس لنگڑے تیمور کے ساتھ منہ کالا کرتی رہی۔ وہاں سے نکلی تو نپولین کی بغل میں جاگھسی۔ اب یہ موا ہٹلر باقی رہ گیا تھا۔‘‘\n\n’’تو کیا اب ہٹلر کے گھر ہے؟‘‘\n\n’’بوا،گھر گھاٹ کیسا۔ نباہ ہو سکتا ہے کبھی ایسی عورت کا۔‘‘\n\n’’طلاق ہوگئی ہے کیا؟‘‘\n\n’’تم کیسی باتیں کرتی ہو بوا۔۔۔ طلاق تو وہاں ہو جو سہرے جلوؤں کی بیاہی ہو اور پھر ایسے مردوں کا کیا اعتبار ہے۔ دو دن مزے کیے اور چلو چھٹی۔‘‘\n\n’’تو اب ہو کیا رہا ہے۔ یہ فضیحتا کس بات کا؟‘‘\n\n’’فضیحتاکیا ہے، پورے دنوں سے ہے۔ بچہ پیدا ہونے والا ہے۔‘‘\n\n’’تو ہو کیوں نہیں چکتا؟‘‘\n\n’’ہاں سچ تو ہے،کوئی پہلوٹھی کا تو ہے نہیں۔‘‘\n\n’’ڈاکٹر آرہے ہیں۔ دیکھو آج نہ کل ہو جائے گا۔‘‘\n\nڈاکٹر آتے رہے۔ لیکن بی زمانی کے بچہ پیدا نہ ہوا۔ درد و کرب کی لہروں میں اضافہ ہوگیا۔ زلزلے اور زیادہ زور سے آنے لگے۔ شعلوں کی زبانیں اور زیادہ تیز ہوگئیں۔ ڈاکٹروں نے کانفرنس کی ۔ حکمت کی ساری کتابیں چھانی گئیں۔ طے ہوا کہ حاملہ کو طہران لے جائیں۔ وہاں روس کے ماہر ڈاکٹرکو بلایا جائے اور اس سے مشورہ کیا جائے۔طہران میں خاص طور پر جلدی جلدی ایک میٹرنٹی ہوم تیار کیا گیا۔ بی زمانی بیگم درد سے تڑپتی رہی اور دنیا کے تین بڑے ڈاکٹر مشورہ کرتے رہے۔\n\nایک بولا، ’’صاحبان! اس میں کوئی شک نہیں کہ ہونے والا بچہ ہمارا نہیں لیکن انسانیت کے نام پر ہمیں مریضہ کو اس مشکل سے نجات دلانا ہی پڑے گی۔‘‘\n\nدوسرا بولا، ’’ہم تین بڑے ڈاکٹر تین قسم کے طریقہ علاج کے ماہر ہیں۔ سب سے پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک طریقہ علاج پر متفق ہوں۔ اگر ایسا ہوگیا تو بی زمانی بیگم کے بچہ پیدا ہونا کوئی مشکل کام نہیں۔‘‘\n\nتیسرا بولا، ’’بالکل درست ہے۔ آئیے ہم فوراً یہ نیک کام شروع کردیں۔‘‘\n\nتینوں طریقے ملا کر ایک اور طریقہ بنایا گیا۔ جس پر تینوں بڑے ڈاکٹر متفق ہوگئے۔دنیا کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔ مگر بی زمانی بیگم کے بچہ پیدا نہ ہوا۔\n\n’’یہ کیا ہورہا ہے۔۔۔ بچہ پیدا کیوں نہیں ہوا ابھی تک؟‘‘\n\n’’بچہ تو پیدا ہورہا تھا مگر اسے روک دیا گیا ہے۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’ڈاکٹر سوچ رہے ہیں کہ اسے گود کون لے گا۔‘‘\n\n’’ہوں!‘‘\n\n’’ تو فیصلہ کیا ہوا؟‘‘\n\n’’تم کیسی باتیں کرتی ہو بوا۔ ایسے معاملوں کا اتنی جلدی فیصلہ کیسے ہوسکتا ہے۔ خیر چھوڑو اس قصے کو۔ کچھ نہ کچھ ہو ہی جائے گا۔ جس کے ہاں اولاد نہیں وہ غریب گود لے لے گا۔‘‘\n\nاولاد ہر ایک کے تھی۔ کسی کے ہاں چار بچے تھے۔ کسی کے ہاں پانچ اور کسی کے ہاں سات۔ اب فیصلہ کیسے ہو۔\n\nایک اور کانفرنس ہوئی۔ ڈمبارٹن اوکس میں ایک اور میٹرنٹی ہوم افراتفری میں بنایا گیا۔ تینوں بڑے ڈاکٹر وہاں جمع ہوئے۔ ہر ایک نے سوچا۔ ہر ایک نے معاملہ کی اہمیت سمجھنے کی کوشش کی۔اور بی زمانی بیگم بستر پر پڑی درد سے کراہتی رہی۔\nایک بولا، ’’صاحبان! ہم صاحب اولاد ہیں۔ اس بچے کے وجود کے ہم ذمہ دار نہیں۔لیکن انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہم اس کی پیدائش میں ہر ممکن طریقے سے مدد کریں۔ آخر اس میں ہونے والے بچے کا کیا قصور ہے۔‘‘\n\nدوسرا، ’’ہم ڈاکٹر ہیں۔ ہمارا مذہب دوا ہے۔ ہم چاہیں تو اس ہونے والے ناخلف بچے ہی کو جس سے ہمارا کوئی رشتہ نہیں، ایک فرماں بردار، اطاعت شعار، آزادی پسند اور انسانیت دوست نوجوان بنا سکتے ہیں۔‘‘\n\nتیسرا بولا،بالکل درست ہے۔ اس بچے کی پیدائش سے دنیا کا ایک بہت بڑا بوجھ دور ہو جائے گا۔ ہم ڈاکٹر ہیں۔ اپنے فرض سے ہمیں غافل نہیں رہنا چاہیے۔‘‘\n\nطے ہوگیا۔۔۔ ایک دستاویز پر انگوٹھے لگا دیے گئے کہ ہونے والے بچے کو یہ تینوں ڈاکٹر گود لیں گے۔ تینوں مل کر اس کی پرورش کریں گے۔۔۔ لیکن بی زمانی بیگم کی تکلیف پھر بھی رفع نہ ہوئی۔ وہ پڑی درد سے کراہتی رہی۔\n\n’’آخر یہ مصیبت کیا ہے؟‘‘\n\n’’کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘\n\n’’قصہ یہ ہے کہ بچے کو گود لینے کا تو فیصلہ ہوگیا ہے لیکن اس بی زمانی کا بھی تو کچھ بندوبست ہونا چاہیے۔‘‘\n\n’’میں تو کہتی ہوں۔ سات جھاڑو اور حقہ کا پانی۔‘‘\n\n’’لعنت بھیجیں موئی حرافہ پر۔‘‘\n\n’’نہیں بوا۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ یہ کم بخت کہیں پھر۔۔۔‘‘\n\n’’اوہ۔۔۔‘‘\n\nایک اور کانفرنس ہوئی۔۔۔ تینوں بڑے ڈاکٹر آخری بار پوٹسڈم میں جمع ہوئے۔ جلدی جلدی ایک میٹرنٹی ہوم تیار کیا گیا۔ بی زمانی بیگم درد سے پیچ و تاب کھاتی رہی اور ادھر کانفرنس ہوتی رہی۔\n\nایک بولا، ’’صاحبان! دنیا کی فلاح اور بہبودی کے لیے آج اس بات کا قطعی طور پر فیصلہ ہو جانا چاہیے کہ بی زمانی بیگم کا یہ بچہ اس کا آخری بچہ ہو۔‘‘\n\nدوسرا بولا، ’’دنیا کے تھن اس عورت کے لاتعداد حرامی بچوں کو دودھ پلا پلا کر سوکھ گئے ہیں۔ اب ہمیں اس کو بانجھ کرنا ہی پڑے گا۔‘‘\n\nتیسرا بولا، ’’بالکل درست ہے۔ ہونے والے بچے کی صحت اور تندرستی کا خیال رکھتے ہوئے بھی ہمیں ایسا ہی کرنا چاہیے۔‘‘\n\nطے ہوگیا کہ بچہ فوراً پیدا کیا جائے اور بی زمانی بیگم کو ہمیشہ کے لیے بانجھ کردیا جائے۔عمل جراحی شروع ہوا۔ میٹرنٹی ہوم کے باہر دنیا کی ساری قومیں جمع ہوگئیں۔ بہت دیر تک سناٹا چھایا رہا۔ اس کے بعد میٹرنٹی ہوم کا دروازہ پھٹ سے کھلا۔ ایک سفید پوش نرس باہر نکلی اور اس نے اپنی باریک آواز میں اعلان کیا، ’’مبارک ہو ،بی زمانی بیگم کے بچہ پیدا ہوگیا ہے۔زچہ اور بچہ دونوں بےہوش ہیں۔‘‘\n\nدنیا کی ساری قومیں فکر و تردو میں غرق ہوگئیں۔ ایک بوڑھا لنگوٹی پہنے کھانستا کھنکارتا نرس کی طرف بڑھا۔ نرس نے پوچھا،’’ تم کون ہو۔۔۔؟‘‘\n\nبوڑھے نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور لرزاں آواز میں کہا،’’میرا نام ہندوستان ہے۔‘‘\n\n’’اوہ۔۔۔ کیا چاہتے ہو تم؟‘‘\n\n’’میں صرف یہ پوچھنے آیا ہوں کہ لڑکا ہوا ہے یا لڑکی؟‘‘\n\nدنیا کی ساری قومیں بے اختیار کھکھلا کر ہنس پڑیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D9%85"} {"title": "بی مینڈکی", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بادل اٹھا اور چھا گیا\nساون کا مینہ برسا گیا\nجنگل میں جل تھل ہو گیا\nنہروں میں پانی آ گیا\nاور آ گئیں بی مینڈکی\nبچوں نے جب دیکھا انہیں\nسبزے پہ لپکے گھیر کر\nبی مینڈکی نے جس گھڑی\nدیکھا انہیں منہ پھیر کر\nگھبرا گئیں بی مینڈکی\nبھاگیں کبھی اچھلیں کبھی\nدوڑیں کبھی اچکیں کبھی\nلپکیں کبھی کودیں کبھی\nپھاندیں کبھی پھدکیں کبھی\nتنگ آ گئیں بی مینڈکی\nسبزے کے اندر چھپ رہیں\nجب تھک گئیں اکتا گئیں\nبچوں کے ہاتھوں سے مگر\nجاتیں کہاں ہاتھ آ گئیں\nہاتھ آ گئیں بی مینڈکی\nمردہ بنی تھیں مکر سے\nبچے یہ سمجھے مر گئیں\nتنگ آ کے ان کے ظلم سے\nدنیا سے رحلت کر گئیں\nکام آ گئیں بی مینڈکی\nپھینکا پکڑ کر ایک نے\nبی مینڈکی کو نہر میں\nبی مینڈکی نے آپ کو\nبہتا جو پایا لہر میں\nلہرا گئیں بی مینڈکی\nپیاسی جو تھیں کچھ دیر سے\nسیروں ہی پانی پی گئیں\nپھر لپکیں خشکی کی طرف\nبچوں نے دیکھا جی گئیں\nاور آ گئیں بی مینڈکی\nچپکے سے اک لڑکا بڑھا\nاور ہاتھ مارا زور سے\nبی مینڈکی کا سر لگا\nپتھر کی چبھتی کور سے\nمرجھا گئیں بی مینڈکی\nبی مینڈکی میں دم نہ تھا\nدیکھا جو مٹھی کھول کر\nبچوں نے چلا کر کہا\nلو اب کے تو سچ مچ سفر\nفرما گئیں بی مینڈکی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D9%86%DA%88%DA%A9%DB%8C"} {"title": "بیاباں مرگ ہے مجنون خاک آلودہ تن کس کا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیاباں مرگ ہے مجنون خاک آلودہ تن کس کا\nسیے ہے سوزن خار مغیلاں تو کفن کس کا\n\nبہ گرد کارواں دل جوں جرس ہے نعرہ زن کس کا\nعزیزو کم ہوا ہے یوسف گل پیرہن کس کا\n\nپڑا رہنے دے اب ہے تجھ کو فکر غسل تن کس کا\nشہید ناز ہوں تیرا لحد کس کی کفن کس کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DA%AF_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%D9%86_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%A2%D9%84%D9%88%D8%AF%DB%81_%D8%AA%D9%86_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "بیان بخارات اور ابر اور مینہ کا", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ہوا میں جو گرد زمین کے ہے، یہ طاقت ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے ذروں پانی کو جذب کرتی ہے اور اپنے ساتھ ملا لیتی ہے۔ یہ سب حرارت کے پانی میں سے ذرے پانی کے اٹھ جاتے ہیں اور ہوائیں اوپر پھیل جاتی ہیں۔ ان سب ذروں کے اٹھنے کو اور ہوا میں مخلوط ہو جانے کو بخارات بن جانا کہتے ہیں۔ ہر جائے روئے زمین پر بخارات تھوڑے بہت ہمیشہ رہتے ہیں۔ مثلاً جس وقت تم پانی ایک گرم لوہے پر ڈالتے ہو، اس وقت پانی فوراً بخارات ہو جاتا ہے اور لوگ کہا کرتے ہیں کہ پانی جل گیا۔ حقیقت میں یہ ہوتا ہے کہ پانی بہت حرارت کے باعث سے بخارات بن جاتا ہے اور اڑ جاتا ہے، اور ہوا میں مل جاتا ہے۔\n\nغرض یہ کہ دریاؤں اور سمندروں اور کھیتوں اور حیوانات کے اجسام اور درختوں سے اور سب اشیاء سے بخارات تھوڑے بہت اڑتے ہیں اور ہوا میں مل جاتے ہیں۔ جب پانی کے بخارات بہت بلند چڑھ جاتے ہیں اور وہاں جمع ہو جاتے ہیں، ان کو بادل کہتے ہیں اور جو بادل ہلکے اور روئی کے گالوں کی مانند ہوتے ہیں ان میں بہت تھوڑا پانی ہوتا ہے اور جب یہ پریشان ہو جاتے ہیں تو بڑا مینہ برستا ہے۔ اب اگر کوئی پوچھے کہ بادلوں کا مینہ کیونکر بن جاتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ جب بادل کسی ایسی ہوا سے ملتے ہیں جس میں بہ نسبت ان بادلوں کے کم حرارت ہوتی ہے تو وہ ہوا کچھ حرارت بادلوں کی چوس لیتی ہے اور جب بادلوں میں سے حرارت نکل گئی تو بخارات پانی بن جاتا ہے اور چونکہ پانی میں وزن بہت ہوتا ہے اسی لئے اسے ہوا نہیں سہار سکتی اور پانی کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین کی طرف گرتے ہیں اور اس کو مینہ کہتے ہیں۔\n\nلیکن اگر بادل ایسی ہوا سے ملیں جس میں ان سے زیادہ حرارت ہو تو مارے حرارت کے بخارات بادل کے اور بھی باریک اور سبک ہو جاتے ہیں اور بادل اوپر کو صعود کرکے غائب ہو جاتا ہے۔ اکثر ملکوں ریگستان میں مینہ بہت کم برستا ہے اور اس کا باعث یہ ہوتا ہے کہ ریتی میں گرمی بہت دیر تک رہتی ہے۔ پس جب کوئی بادل ریگستان کے اوپر سے آتا ہے تو گرمی ریتی کی اس بادل کے بخارات کو اور بھی رقیق کر دیتی ہے اور بادل اوپر صعود کر کے غائب ہو جاتا ہے۔\n\nبادلوں سے بہت فائدے خلق خدا کو متصورہیں۔ ان کے ذریعہ سے وہ اشیاء جن میں نمی بہ سبب گرمی کے جاتی رہتی ہے، پھر سے مینہ سے حاصل کرتے ہیں۔ غرض کہ جو جو فائدے باران رحمت سے متصور ہیں وہ سب کو معلوم ہیں۔ آدمی پانی سے بخارات بنا سکتا ہے اور اس کی ترکیب یہ ہے کہ ایک برتن میں پانی بھر کے اس کے نیچے آگ روشن کرو اور جب پانی یہاں تک گرم ہوجائے گا کہ وہ جوش کھانے لگے تو اس وقت اس میں سے دخان پیدا ہوگا اور اس کو بخارات کہتے ہیں۔ واضح ہو کہ اس دخان کے ذریعہ سے بہت سی کلیں متحرک ہوتی ہیں اور ان کلون کو دخانی کلین کہتے ہیں۔ مثلاً دخانی جہاز اور دخانی گاڑی اسی قسم کی کلین ہیں۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D8%AE%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "بیان حکیم آرشمیدس کا", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "یہ فاضل یکتا زمان ہے۔ باشندہ شہر سریکیوز کا جوکہ جزیرہ صقلیہ میں واقع ہے، تھا اور جزیرہ مذکور جنوب مغرب میں ملک یونان کے ہے۔ آرشمیدس بڑا مشہور فاضل عالم علم ریاضی میں گذرا ہے۔ وہ علم ہیئت اور علم ہندسہ اور علم ادات اور جر ثقیل اور علم آب اور علم مناظرہ میں کمال مہارت اور دستگاہ رکھتا تھا۔ اس کی تیزی عقل اور رسائی ذہن ان علموں میں تھی کہ آج تک یونان میں ایسا حکیم کوئی نہیں گذرا ہے۔ اس نے علم جر ثقیل کے وسیلہ سے مصر میں جاکر ایسی کلین ایجاد کیں کہ ان کے وسیلہ سےاس نے پانی رود نیل میں سے بلند زمینوں مصر میں پہونچایا اس نے ایسی ایسی کلین ایجاد کیں، جن سے تھوڑی طاقت سے ہزاروں من بوجھ اٹھا سکیں۔\n\nآرشمیدس کو بادشاہ جزیرہ صقلیہ کا جس کا نام ہیرو تھا، بہت عزیز رکھتا تھا ہر وقت اس کی ملاقات اور حجت سے استفادہ حاصل کرتا تھا۔ ایک روز کا ذکر ہے کہ آرشمیدس نے حضور سے عرض کی کہ میں بوسیلہ علم جر ثقیل کے، اتنی طاقت رکھتا ہوں کہ ذرا سی طاقت سے ہزاروں من بوجھ اٹھا لوں بلکہ اگر مجھے کہیں بیٹھنے کو جگہ نہ ملے تو تمام تختہ زمین کو اٹھا سکتا ہوں۔ بادشاہ یہ سن کر بہت متعجب ہوا اور حکم دیا کہ کوئی بات اس علم میں سے ہم کو دکھا۔ اس نے یہ بات قبول کی اور ایک کل تیار کی اور کنارہ دریا پر ایک جہاز کلان کھڑا ہوا تھا۔ اس کو اس نے اس کل کے وسیلہ سے جہاز کو با آسانی تمام دریا میں سے خشکی پر کھینچ لیا اور کہا کہ یہ ایک ادنی نمونہ علم جر ثقیل کا ہے۔\n\nبادشاہ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا اور اس کی فضیلت اور دانائی کی بہت تحسین کی وآفرین کی۔ اس قسم کی کلون کو فاضلان فرنگ نے بہت رواج دیا ہے اور اس علم میں بڑی ترقی کی ہے اور اب یہ علم صاحبان انگریز کے وسیلہ سے ہندوستان کے مدارس میں سکھایا جاتا ہے۔ ایک دفعہ کا مشہور ذکر ہے کہ ہیرو بادشاہ سریکیوز نے ایک تاج بادشاہی سونے کا تیار کرایا تھا۔ جب وہ تیار ہوکر بادشاہ کے سامنے لایا گیا، بادشاہ نے اس کو تلوایا۔ معلوم ہوا کہ سونے میں کچھ غبن نہیں ہوا ہے، یعنی وہ تاج پورا اترا۔ مگر بادشاہ کے دل میں یہ شک گذرا کہ شاید کاریگر نے سونے میں کچھ کھوٹ ملایا ہو۔ اس واسطے حضور نے چاہا کہ کس طرح بغیر گلانے اور ٹکڑے کرنے تاج کے، حال کھوٹے کھرے ہونے سونے کا دریافت کروں۔\n\nاس مطلب کے واسطے بادشاہ نے حکیم آرشمیدس کو طلب کیا۔ آرشمیدس واسطے دریافت کرنے اس ترکیب کے مدت تک تفکر میں رہا۔ آخر کو ایک روز حکیم مذکور حمام میں غسل کر رہا تھا اور غسل کے وقت اس کو ایک قاعدہ یکا یک سوجھا۔ اس نے تب بادشاہ کے حضور میں حاضر ہو کر تاج کو منگوایا اور اس کے برابر خالص سونا منگوایا اور اس نے تاج اور سونے کو علیحدہ علیحدہ پانی میں ڈالا۔ تب دریافت ہوا کہ تاج بہ نسبت سونے خالص کے پانی میں ہلکا ہے۔ یعنی جس قدر سونا پانی میں ڈال کر تولنے سے گھٹتا ہے اس سے زیادہ تاج گھٹ جاتا ہے اور اسی سبب سے اس کے دل میں شک قوی پیدا ہوا کہ تاج میں کچھ کھوٹ ملا ہوا ہے اور در حقیقت جب بادشاہ نے اس تاج کو پگھلوا کر دیکھا تو اس میں کھوٹ نکلا اور اس سبب سے حکیم موصوف کی بہت تحسین اور آفریں ہوئی اور بموجب ایجاد اس حکیم کے کتب علوم و فلسفہ میں واسطے دریافت حال کھوٹ وغیرہ پر دھات کے بہ مسئلہ بھی درج ہوا۔\n\nآرشمیدس کے شہر سریکیوز کو رومیوں نے گھیر لیا اور اس کا محاصرہ کر لیا تو بادشاہ اس جگہ نے بہت دق ہوکر آرشمیدس سے کہا۔ اس نے ایسی ایسی کلین ایجاد کیں کہ رومیوں کو فتح کرنا شہر کا نہایت مشکل بلکہ ناممکن ہو گیا۔ آرشمیدس نے ایک آتشی شیشہ جس کی وسیلہ سے کرنیں معکوس ہوکر جاتی ہیں، تیار کیا اور اس کے وسیلہ سے اس نے تمام جہازوں رومیوں کو جلا دیا۔ غرض کے رومیوں کو شہر مذکور کو فتح کرنا ایک امر نہایت مشکل ہوگیا تھا لیکن آخر کار رومیوں نے شہر سری کیوز کو حملہ کر کے لے لیا اور دیکھا تو آرشمیدس بھی مقتولوں میں پایا گیا۔ یہ حادثہ دو سو بارہ برس پیشتر سنہ عیسوی کے واقع ہوا تھا۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85_%D8%A2%D8%B1%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%AF%D8%B3_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "بیان سن نہ سکا جب کوئی بیاں کی طرح", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیان سن نہ سکا جب کوئی بیاں کی طرح\nسنایا حال دل زار داستاں کی طرح\n\nیہ راز عشق ہمیشہ کو راز رہ جاتا\nنگاہ کام نہ کرتی اگر زباں کی طرح\n\nکہیں ہے بوئے تمنا گل مراد کہیں\nنہال دل کا ہے پھیلاؤ گلستاں کی طرح\n\nکسی کے خندۂ بیجا کا اب نہیں شکوہ\nفغاں بھی دل سے نکلتی نہیں فغاں کی طرح\n\nخیال میں ہیں بہاریں نگاہ میں گلشن\nگزر رہی ہے قفس میں بھی آشیاں کی طرح\n\nبنی ہے دشمن ہر آرزو وہی حسرت\nلگا کے سینے سے رکھتا ہوں اس کو جاں کی طرح\n\nجبین شوق بتائے گی لذت سجدہ\nنہ دیر ہے نہ حرم ان کے آستاں کی طرح\n\nزمانہ آج بھی ناواقف حقیقت ہے\nکبھی بہار چمن ہوں کبھی خزاں کی طرح\n\nمٹا کے ہستئ دل بھی سکون دل نہ ملا\nزمیں ہے سایہ فگن سر پہ آسماں کی طرح\n\nکبھی نہ جھک کے رہیں سر بلندیاں میری\nزمیں پہ عمر گزاری ہے آسماں کی طرح\n\nمنیرؔ ان کی نظر نے بدل دیا مجھ کو\nکہ اب ہنسی بھی جو آتی ہے تو فغاں کی طرح", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%B3%D9%86_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "بیتاب رہیں ہجر میں کچھ دل تو نہیں ہم", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیتاب رہیں ہجر میں کچھ دل تو نہیں ہم\nتڑپیں جو تجھے دیکھ کے بسمل تو نہیں ہم\n\nہیں یاد بہت مکر و فریب ایسے ہمیں بھی\nمٹھی میں جو آ جائیں تری دل تو نہیں ہم\n\nاب آپ کوئی کام سکھا دیجئے ہم کو\nمعلوم ہوا عشق کے قابل تو نہیں ہم\n\nکہنے کو وفادار تمہیں لاکھ میں کہہ دیں\nدل سے مگر اس بات کے قائل تو نہیں ہم\n\nکیوں خضر کے پیرو ہوں تری راہ طلب میں\nآوارہ و گم کردۂ منزل تو نہیں ہم\n\nکہتے ہیں تمنائے شہادت کو وہ سن کر\nکیوں قتل کریں آپ کو قاتل تو نہیں ہم\n\nہیں دل میں اگر طالب دیدار تمہیں کیا\nکچھ تم سے کسی بات کے سائل تو نہیں ہم\n\nوہ پوچھتے ہیں مجھ سے یہ مضموں تو نیا ہے\nتیری ہی طرح سے کہیں بیدل تو نہیں ہم\n\nہم جاتے ہیں یا حضرت دل آپ سدھاریں\nجائیں گے اب اس بزم میں شامل تو نہیں ہم\n\nان آنکھوں سے ہم نے بھی تو دیکھا ہے زمانہ\nہم سے نہ کہو غیر پہ مائل تو نہیں ہم\n\nمرنے کے لیے وقت کوئی تاک رہے ہیں\nاس کام کو سمجھے ابھی مشکل تو نہیں ہم\n\nکہتے ہیں تجھے دیکھ کے آتا ہے ہمیں رشک\nبیٹھے ہوئے دشمن کے مقابل تو نہیں ہم\n\nہر سانس میں رہتا ہے تری یاد کا کھٹکا\nبیخودؔ ہیں تو ہوں کام سے غافل تو نہیں ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "بیتاب ہیں کسی کی نگاہیں نقاب میں", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیتاب ہیں کسی کی نگاہیں نقاب میں\nہیں بجلیاں کہ کوند رہی ہیں سحاب میں\n\nلکھوں گا خط میں خوب عدو کی برائیاں\nہو کر خفا وہ کچھ نہ لکھیں گے جواب میں\n\nہم کو ہے ان کی فکر تو ان کو عدو کی فکر\nدونوں ہیں ایک سلسلۂ اضطراب میں\n\nاس چھیڑ کے نثار کہ سن کر سوال وصل\nآئینہ رکھ دیا مرے آگے جواب میں\n\nیاروں میں بوئے مہر و محبت نہیں نسیمؔ\nکیا خاک اڑ رہی ہے جہان خراب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے\nوقت شکیب خوش کہ گیا درمیان سے\n\nداغ فراق و حسرت وصل آرزوئے دید\nکیا کیا لیے گئے ترے عاشق جہان سے\n\nہم خامشوں کا ذکر تھا شب اس کی بزم میں\nنکلا نہ حرف خیر کسو کی زبان سے\n\nآب خضر سے بھی نہ گئی سوزش جگر\nکیا جانیے یہ آگ ہے کس دودمان سے\n\nجز عشق جنگ دہر سے مت پڑھ کہ خوش ہیں ہم\nاس قصے کی کتاب میں اس داستان سے\n\nآنے کا اس چمن میں سبب بیکلی ہوئی\nجوں برق ہم تڑپ کے گرے آشیان سے\n\nاب چھیڑ یہ رکھی ہے کہ عاشق ہے تو کہیں\nالقصہ خوش گزرتی ہے اس بد گمان سے\n\nکینے کی میرے تجھ سے نہ چاہے گا کوئی داد\nمیں کہہ مروں گا اپنے ہر اک مہربان سے\n\nداغوں سے ہے چمن جگر میرؔ دہر میں\nان نے بھی گل چنے بہت اس گلستان سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92"} {"title": "بیتی ہے یہ سب دل پہ ہے سب دل کی زبانی", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیتی ہے یہ سب دل پہ ہے سب دل کی زبانی\nہجراں کی جو دلبر سے میں کہتا ہوں کہانی\n\nتو یار عزیز آنکھوں میں ہے مہر وشوں کے\nنیں ہے مہ کنعاں بھی ترے حسن کے ثانی\n\nابرو کے ترے چین کے کیا وصف کہوں میں\nشمشیر میں جوہر سے ہے خوبی کی نشانی\n\nسر پر ہو سر بزم کہاں شمع میں ہے آب\nگر عشق کی آنکھیں جو کریں اشک فشانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "بیداد کے خوگر تھے فریاد تو کیا کرتے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیداد کے خوگر تھے فریاد تو کیا کرتے\nکرتے تو ہم اپنا ہی کچھ تم سے گلہ کرتے\n\nتقدیر محبت تھی مر مر کے جیے جانا\nجینا ہی مقدر تھا ہم مر کے بھی کیا کرتے\n\nمہلت نہ ملی غم سے اتنی بھی کہ حال اپنا\nہم آپ کہا کرتے اور آپ سنا کرتے\n\nنادم اسے چاہا تھا جان اس پہ فدا کر کے\nتدبیر تو اچھی تھی تقدیر کو کیا کرتے\n\nاحباب سے کیا کہئے اتنا نہ ہوا فانیؔ\nجب ذکر مرا آتا مرنے کی دعا کرتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D9%88%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "بیدار نہیں کوئی جہاں خواب میں ہے", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بیدار نہیں کوئی جہاں خواب میں ہے\nنیرنگ عجب عالم اسباب میں ہے\nکچھ خواب میں کچھ قید میں کچھ صحرا میں\nاک عمر سے کیا تفرقہ احباب میں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "بیدارؔ کروں کس سے میں اظہار محبت", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیدارؔ کروں کس سے میں اظہار محبت\nبس دل ہے مرا محرم اسرار محبت\n\nہر بو الہوس اس جنس کا ہوتا ہے گا خواہاں\nجاں باختہ خواں ہوویں خریدار محبت\n\nاے شیخ قدم رکھیو نہ اس راہ میں زنہار\nہے سبحہ شکن رشتۂ زنار محبت\n\nکرتے ہیں عبث مجھ دل بیمار کا درماں\nوابستہ مری جاں سے ہیں آزار محبت\n\nبچ جاؤں اس آزار سے بیدارؔ گر اب کی\nہوں گا نہ کبھی پھر میں گرفتار محبت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%94_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA"} {"title": "بیداری", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "جس بندۂ حق بیں کی خودی ہوگئی بیدار\nشمشیر کی مانند ہے بُرَّندہ و برّاق\nاُس کی نگہِ شوخ پہ ہوتی ہے نمودار\nہر ذرّے میں پوشیدہ ہے جو قُوّتِ اشراق\nاُس مردِ خدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ کو\nتُو بندۂ آفاق ہے، وہ صاحبِ آفاق\nتجھ میں ابھی پیدا نہیں ساحل کی طلب بھی\nوہ پاکیِ فطرت سے ہوا محرمِ اعماق", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش\nمجبور یاں تلک ہوئے اے اختیار حیف\n\nجلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے\nاے نا تمامی نفس شعلہ بار حیف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D9%85_%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%B9_%DB%81%D9%88%D8%B4"} {"title": "بیوی کیسی ہونا چاہیے", "poet_page": "مصنف:چودھری محمد علی ردولوی", "kind": "prose", "section": "طنز و مزاح", "year": null, "text_ur": "مجھ سے سوال کیا گیا کہ بی بی کیسی ہونا چاہیے، میں کہتا ہوں کہ کوئی بری بی بی مجھ کو دکھادے تو میں اس سوال کاجواب دوں۔ میرے خیال میں بی بی خدا کی نعمت ہے اور خدا کی نعمت کبھی بری نہیں ہوتی۔ بیوی کی وجہ سے گھر میں روشنی سی پھیلی رہتی ہے۔ چراغ کے نیچے ذرا سا اندھیرا بھی ہوتا ہے، جیسا کہ میں ایک مرتبہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں، اگر کوئی نادان مرد ذری سی تاریکی سے گھبراکر چراغ کی شکایت کرے تو اندھیرا ہی تو ہے۔ میں اس کا بھی دعوے دار ہوں کہ میں نے آج تک کوئی بدصورت عورت بھی نہیں دیکھی۔ آنکھیں رکھتا ہوں اور دنیا دیکھتی ہے، اگر کہیں ہوتی تو آخر میں نہ دیکھتا۔\n\nاس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ بدصورت سے بدصورت جو کہی جاسکتی ہے اس کا بھی چاہنے والا کوئی نہ کوئی نکل آتا ہے۔ پھر اگر وہ بدصورت تھی تو یہ پرستش کرنے والا کہاں سے پیدا ہوگیا۔ اس لیلیٰ کا مجنوں کہاں سے آگیا، نہیں صاحب عورت بدصورت نہیں ہوتی یہ میرا ایمان ہے او ریہی ایمان ہرشخص کا ہونا چاہیے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ عورت میں عمدہ ترشے ہوئے ہیرے کی طرح ہزاروں پہل ہوتے ہیں اور ہر پہل میں آفتاب ایک نئے رنگ سے مہمان ہوتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی پہل کسی (خاص شخص) کی آنکھ میں ضرورت سے زیادہ چکاچوندھ پیدا کردے، اور وہ پسند نہ کرے تو اس سے بی بی کی برائی کہاں سے ثابت ہوئی۔\n\nایک پرانے یونانی ڈرامہ نویس نے لکھا ہے کہ پہلے مرد اور عورتیں اس طرح ہوتے تھے کہ دونوں کی پیٹھ ایک دوسرے سے جڑی ہوتی تھی اور یہ لوگ راستہ اس طرح چلتے تھے کہ پہلے چاروں ہاتھ زمین پر لگے اور دونوں سر نیچے آگیے۔ اور چاروں پاؤں سر کی جگہ ہوا میں رہے۔ اس طرح کے بعد پلٹا کھایا اور چاروں پاؤں کے بل کھڑے ہوگیےاور اس طرح آگے بڑھتے گیے۔ ظاہر بات ہے کہ ایسی حالت میں یہ لوگ راستہ بہت تیز چلتے تھے اور چونکہ دو دو آدمی ملے ہوئے تھے اس لیے ان کی قوتیں بھی دوگنی تھیں۔ دیوتاؤں نے ان کی شورہ پشتی کی وجہ سے مشورہ کیا کہ کیا کرنا چاہیے، آخرکار یہ صلاح ٹھہری کہ یہ بیچ سے علیحدہ کردیے جائیں تاکہ ان کی قوتیں آدھی رہ جائیں اور ان کے چڑھاوے دوگنے ہوجائیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، تب سے ہر عورت اور ہر مرد اپنا اپنا جوڑا ڈھونڈھتے پھرتے ہیں، جن کو مل جاتا ہے وہ خوش رہتے ہیں، جن کو بدقسمتی سے نہ ملا وہ غریب عورت کو دکھ دیتے ہیں۔\n\nکسی کو بے زبان نموہی بیوی پسند ہے، کسی کو ایسی عورت اچھی لگتی ہے جس کی زبان ہر وقت کترنی کی طرح چلتی رہے، اگر خوش قسمتی سے وہی قدیم جوڑا مل گیا تو دونوں خوش ہیں، نہیں تو بی بی غریب کو برا کہتے ہیں، آخر اس غریب کا جوڑا بھی تو بچھڑ گیا ہے مگر اس کی کوئی بات بھی نہیں پوچھتا۔ یہ خیال غلط ہے کہ صرف اچھوں ہی اچھے کا ساتھ مزے دار ہوتا ہے۔ اگر تال میل ہوا اور پرگت مل گئی تو جن لوگوں کو ہم اپنے زعم ناقص میں براسمجھتے ہیں ان کی بھی زندگی لطف کی گزرتی ہے۔ آپ نے سنا نہیں\n\nخدا کے فضل سے اترا تھا کیا ہی عرش سے جوڑا\nنہ مجھ سا کوئی گرگا ہو نہ تم سی کوئی شفتل ہو\n\nہمارے پڑوس میں ایک میاں بی بی رہتے ہیں جن کا جوڑا پوری طور سے مل گیا ہے۔ یہ دونوں آدمی انتہا درجے کے کاہل، پرلے سرے کے جھوٹے اور حد کے نکارے ہیں، مگر جب دیکھیے دونوں قمریوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور گل بہیاں ڈالے بیٹھے ہیں۔ ان کے دو بچے ہیں، کسی نے ان بچوں کا دھویا ہوا منھ کبھی نہیں دیکھا۔ کپڑے ان لوگوں کے تن پر سے کٹ کے گرجاتے ہیں مگر دھوبی کو دینے کی توفیق نہیں ہوتی۔ بچوں کے کپڑوں میں ذرا سی پھونک بڑھ کے نیچے سے اوپر تک پہنچ جاتی اور پھٹ کر علیحدہ ہوجاتی ہے مگر سوئی تاگے کی شرمندہ نہیں ہوتی۔ میں نے ایک دن اس عورت سے پوچھا کہ تمہارے میاں تم کو چاہتے ہیں، کہنے لگی کہ اتنا چاہتے ہیں کہ کھانا لیے بیٹھے رہتے ہیں، مگر بغیر میرے نہیں کھاتے۔ دوسری مثال محبت کی دی کہ کل صبح بٹیر کے شکار کو جارہے تھے، میں نے کہا روز جاتے ہو مگر کبھی ایک پر بھی گھر میں نہ آیا۔ بس غصے میں ایک ڈنڈا میری پیٹھ پر رسید کیا، میں بھی دوپہر تک منھ پھلائے رہی اور نہیں بولی۔ تب دوڑے گیے، تیل کی جلیبیاں لے آئے، تب میں بولی، کبھی برابر کے جوڑ میں لطف آتا ہے، کبھی ایک نرم اور ایک گرم، زندگی کو آرام دہ بنادیتے ہیں۔\n\nکسی رانڈ بیوہ کے یہاں ایک طوطا پلا تھا۔ وہ ہروقت اس عورت کو مغلظات سنایا کرتا تھا۔ ایک دن ان کے یہاں ایک پیرصاحب تشریف لائے۔ طوطے کو سن کر کہنے لگے، ارے تیرا طوطا بڑا فحاش ہے، پنجرا کھول دے یہ اڑے جائے، کہنے لگی، رہنے دیجیے میاں صاحب گھر میں مردوے کی ایسی بولی تو سنائی دیتی ہے۔\n\nکوئی شخص شراب بہت پیتا تھا۔ اس نے پادری کے کہے سے شراب ترک کردی۔ کچھ دنوں کے بعد پادری صاحب اپنے پندونصائح پر ناز کرتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے اور پوچھا کہ کہو اب تمہارے میاں ماردھاڑ دنگافساد تو نہیں کرتے، نہایت مایوسی سے کہنے لگی، ارے حضور اب تو وہ میاں ایسے معلوم ہی نہیں ہوتے، کوئی دیکھے تو کہے مہمان طریق گھر میں آئے ہیں۔\n\nچارلس ڈکنس نے ایک شخص سائکس امےکا حال لکھا ہے کہ وہ بھی اپنی نیک شریف خصلت، محنتی، چاہنے والی بیوی کو نہ صرف مارتا ہی تھا بلکہ جو کچھ محنت مزدوری کرکے وہ کمالاتی تھی، وہ بھی شراب میں اڑا دیتا تھا اور خود اس میں دنیا کا کوئی عیب نہ تھا جو نہ ہو۔ چور پر لے سرے کا تھا، ایک ہمدرد نے اس عورت کو مشورہ دیا کہ اس کو چھوڑدے، اس نے کہا کہ افسوس ہے دنیا اس کی برائی سے واقف ہے، خوبی سے نہیں واقف۔ اب ان باتوں کے بعد کوئی کیا کہہ سکتا ہے کہ کون مرد اچھا ہےاور کون عورت۔\n\nمیرے ایک دوست ایک ڈپٹی صاحب کا حال بیان کرتے ہیں کہ وہ دورے پر تھے اور میں ان سے ملنے گیا۔ معلوم ہوا کہ ڈپٹی صاحب غسل فرمارہے ہیں۔ یہ بیٹھے رہے، جب دیر ہوئی تو انھوں نے پھر دریافت کیا معلوم ہوا ابھی تک غسل میں ہیں۔ سرکاری کام تھا جس کے ناتمام رہ جانے میں دونوں کی بدنامی تھی۔ اس وجہ سے سنگ آمد سخت آمد انتظار کرتے رہے۔ مگر ڈپٹی صاحب آج نکلنے کا نام لیتے ہیں نہ کل۔ ان کی آنتیں قل ہو اللہ پڑھ رہی ہیں، مگر ان کی برآمدگی کی کوئی صورت نہیں دکھائی دیتی۔ خیر کئی گھنٹوں کے بعد طلبی ہوئی تو یہ کیا دیکھتے ہیں کہ ڈپٹی صاحب دفتر کی میز کے پاس کرسی پر بڑی شان سے تشریف فرما ہیں۔ مسلوں کا ڈھیر لگا ہے مگر خالی پتلون اور کھڑاؤں پہنے بیٹھے ہیں۔ کاندھوں پر پتلون کی گیلس البتہ دکھائی دیتی ہے۔ کام پورا کرکے جب یہ باہر نکلے، نہ تاب ہوئی، اردلی سے انوکھی وضع کا سبب پوچھ ہی بیٹھے۔ معلوم ہوا بیگم کو کسی بات پر غصہ آگیا ہے۔ انھوں نے حکم دیا کہ آج اس مونڈی کاٹے کو کپڑے نہ دیے جائیں۔ خیال تو کیجیے جاڑوں کا مہینہ خیمہ کی زندگی لیکن اگر ڈپٹی صاحب کو یہ باتیں پسند ہیں تو ہم آپ برا ماننے والے کون۔\n\nپیٹر پنڈر نے لکھا ہے کہ اسکاٹ لینڈ میں میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اپنی بی بی کو مارتا ہے، مجھے ایسا جوش پیدا ہوا کہ میں گھر میں گھس گیا اور اس عورت کو بچانے لگا، میرا یہ کرنا تھا کہ دونوں میرے اوپر پلٹ پڑے اور مجھ کو مار کے باہر کردیا۔ لیجیے صاحب ہم تم راضی تو کیا کریں قاضی، غالب نے کہا ہے:\n\nکبھی جو یاد بھی آتا ہوں تو وہ کہتے ہیں\nکہ آج بزم میں کچھ فتنہ و فساد نہیں\n\nکیوں صاحب اگر کسی کو فتنہ وفساد ہی والا شریک زندگی پسند ہو تو ہماری آپ کی پسندیدگی ناپسندیدگی کیا چیز ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ یہ بی بی اچھی اور یہ بری ہے۔ اکثروں کو آس پاس کے گھروں سے اس طرح کی باتیں سننے کا اتفاق ہوا ہوگا کہ ارے یہ ہاتھ تھکیں، الٰہی تن تن کوڑھ ٹپکے، مچ مچاتی کھاٹ نکلے، تب میرے دل میں ٹھنڈک پڑے۔ اڑوسی پڑوسی ادھر ادھر کھڑے نفرین کر رہے ہیں کہ بھئی کیا برے لوگ ہیں۔ کیا کتے بلی کی زندگی بسر کر رہے ہیں لیجیے صاحب شور و شغب مٹ گیا۔ میاں نکل کر اپنے کام پر چلے گیے، بی ہمسائی کچھ تو ہمدردی کرنے کے خیال سے اور زیادہ تر ٹوہ لینے کو کھڑکی کی طرف سے اندر داخل ہوئیں۔ دیکھا کہ اک طرف کا گال سوجا ہوا ہے، آنکھوں کی لالی باوجود منھ دھونے کے ابھی مٹی نہیں ہے۔ حال تو سب پہلے ہی سے جانتی تھیں، مگر انجان بن کر پوچھنے لگی۔ اے بہن یہ کیا ہوا، جواب ملا بہن کیا کہیں، آپ ہی لڑے، آپ ہی خفا ہوکر چلے گیے، کھانا بھی نہیں کھایا، یہ دیکھو ویسے ہی رکھا ہے، پان کی ڈبیا بھی نہیں لے گیے، دل کڑھتا ہے کہ دن بھر بن پان کے رہیں گے، منھ صابن ہوجائے گا۔ لیجیے صاحب یہ تو گئی تھیں کہ وہ میاں کی اگر ایک برائی کریں گی تو ہم دس کریں گے۔ وہاں رنگ ہی دوسرا دیکھا۔ اپنا سا منھ لے کر چلی آئیں۔\n\nایک دوسرے مرحوم دوست کہا کرتے تھے کہ بی بی کے ناز وانداز ہر طرح کے اٹھائے جاسکتے ہیں، لیکن ایک بات ناقابل معافی ہے، وہ یہ کہ یہ لوگ کبھی کبھی مرجاتی ہیں۔ اسی کے مقابل یہ دوسرا لطیفہ سنیے۔\n\nایک صاحب نے بیان کیا کہ میری بی بی دو ہی برس کے اندر داغ مفارقت دے گئیں۔ ذرا سا لڑکا ایک پھوسڑا اپنی نشانی چھوڑ گئیں۔ میری ایک بڑی سالی تھیں جو شاید اسی انتظار میں پہلے ہی سے رنڈاپا کھے رہی تھیں۔ خوش دامن صاحبہ کہنے لگیں، میاں تمہاری سالی موجود ہے اگر عقد کرلیتے تو مردہ رشتہ پھر زندہ ہوجاتا۔ میں نے بھی سوچا کہ اب وہ جوان جہاں نہ رہی تو یہ ادھیڑ کیا رہے گی، لاؤ کر بھی لو۔ لڑکے کی خالہ ہے، بچہ بھی پل جائے گا، جہیز بھی اچھا خاصا ہاتھ لگے گا۔ ان کے مرنے کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ اپنی ہم سن ڈھونڈھ کر کرلیں گے۔\n\nلیجیے صاحب عقد ہونے کو تو ہوگیا مگر وہ آج مرتی ہیں نہ کل۔ وہ تو پہلے ہی سے بوڑھی تھیں، میرے بھی دانت گر گیے، مگر وہ جانے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ ادھر میں کہیں سفر کو تیار ہوا اور ادھر وہ امام ضامن لیے ڈیوڑھی کے پاس پہنچ گئیں۔امام ضامن کی ضمانت میں سونپا کہو قبول کیا۔ جس طرح پیٹھ دکھاتے جاتے ہو اسی طرح اصل خیر سے واپس آکر منہ دکھانا نصیب ہو۔ان صاحب کا بیان ہے کہ بڑی بی بی کے مرنے سے تو مایوسی ہوہی چکی ہے۔ میں نے یہ وطیرہ اختیار کیا ہے کہ ادھر انھوں نے امام ضامن باندھا، ادھر میں نے بھی ایک چیتھڑا لے کر ان کے داہنے بازو پر باندھ دیا اور کہنا شروع کیا،’’خدا تمہارے سائے میں ہمیں پروان چڑھائے۔‘‘وہ پوپلا منھ بٹوا سا لے کر ہنسنے لگیں، ہٹو بھی تمہاری مذاخ۔۔۔ کی باتیں کبھی نہ جائیں گی۔\n\nاب ذرا غور فرمائیے۔ اگر ان صاحب کو کہیں ہم نے صلاح دی ہوتی کہ بڑی سالی سے کرلو تو خدا واسطے کو، ہم ہی تو بدنام ہوتے۔ نہیں صاحب اس معاملے میں یہی ٹھیک ہے کہ اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ؛\n\nمذاق عشق یہ ہے نکتہ چیں نہ بن ناصح\nنگاہ میری، پرکھ میری، آنکھ میری ہے\n\nجنھیں نظر نہیں اے آرزو وہ کیا جانیں\nخزف سمیٹے ہیں یا موتیوں کی ڈھیری ہے؟", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D9%88%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "بیٹھ جا کر سر منبر واعظ", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیٹھ جا کر سر منبر واعظ\nہو گیا تو تو مرے سر واعظ\n\nمے تو جائز نہیں یہ جائز ہے\nروز کھاتا ہے مرا سر واعظ\n\nبند کرتا ہے در توبہ کیوں\nکھول کر وعظ کا دفتر واعظ\n\nواعظوں کی میں کروں کیا تعریف\nگھر میں مے خوار ہیں باہر واعظ\n\nمیکشوں ہی کے لئے ہے یہ بات\nجو ہے دل میں وہی لب پر واعظ\n\nدیکھ کس رنگ سے اٹھی ہے گھٹا\nتہہ کر اب وعظ کا دفتر واعظ\n\nکس طرح پیتے ہیں پینے والے\nدیکھ لینا لب کوثر واعظ\n\nموت بھی آتی ہے تو حیلے سے\nآ گیا رندوں میں کیوں کر واعظ\n\nسختیاں رندوں پہ کرتے کرتے\nعقل پر پڑ گئے پتھر واعظ\n\nآتش تر کا جو پڑ جائے مزہ\nپھونک دے وعظ کا دفتر واعظ\n\nرند آپے سے جو باہر ہیں تو ہوں\nتو نہ ہو جامے سے باہر واعظ\n\nشیشۂ دل کا خدا حافظ ہے\nتیری ہر بات ہے پتھر واعظ\n\nذکر مے وعظ میں جب آتا ہے\nجھومتا ہے سر منبر واعظ\n\nلے کے آنکھوں سے لگاتا ساغر\nپڑھ جو لیتا خط ساغر واعظ\n\nمحفل وعظ میں کیوں جاؤں جلیلؔ\nہیں مجھے شیشہ و ساغر واعظ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%D8%B1_%D9%85%D9%86%D8%A8%D8%B1_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے\nہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے\n\nنہیں مرتے ہیں تو ایذا نہیں جھیلی جاتی\nاور مرتے ہیں تو پیماں شکنی ہوتی ہے\n\nدن کو اک نور برستا ہے مری تربت پر\nرات کو چادر مہتاب تنی ہوتی ہے\n\nتم بچھڑتے ہو جو اب کرب نہ ہو وہ کم ہے\nدم نکلتا ہے تو اعضا شکنی ہوتی ہے\n\nزندہ در گور ہم ایسے جو ہیں مرنے والے\nجیتے جی ان کے گلے میں کفنی ہوتی ہے\n\nرت بدلتے ہی بدل جاتی ہے نیت میری\nجب بہار آتی ہے توبہ شکنی ہوتی ہے\n\nغیر کے بس میں تمہیں سن کے یہ کہہ اٹھتا ہوں\nایسی تقدیر بھی اللہ غنی ہوتی ہے\n\nنہ بڑھے بات اگر کھل کے کریں وہ باتیں\nباعث طول سخن کم سخنی ہوتی ہے\n\nلٹ گیا وہ ترے کوچے میں دھرا جس نے قدم\nاس طرح کی بھی کہیں راہزنی ہوتی ہے\n\nحسن والوں کو ضد آ جائے خدا یہ نہ کرے\nکر گزرتے ہیں جو کچھ جی میں ٹھنی ہوتی ہے\n\nہجر میں زہر ہے ساغر کا لگانا منہ سے\nمے کی جو بوند ہے ہیرے کی کنی ہوتی ہے\n\nمے کشوں کو نہ کبھی فکر کم و بیش رہی\nایسے لوگوں کی طبیعت بھی غنی ہوتی ہے\n\nہوک اٹھتی ہے اگر ضبط فغاں کرتا ہوں\nسانس رکتی ہے تو برچھی کی انی ہوتی ہے\n\nعکس کی ان پر نظر آئینے پہ ان کی نگاہ\nدو کماں داروں میں ناوک فگنی ہوتی ہے\n\nپی لو دو گھونٹ کہ ساقی کی رہے بات حفیظؔ\nصاف انکار سے خاطر شکنی ہوتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "بیٹھا ہوں سیہ بخت و مکدر اسی گھر میں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیٹھا ہوں سیہ بخت و مکدر اسی گھر میں\nاترا تھا مرا ماہ منور اسی گھر میں\n\nاے سانس کی خوشبو لب و عارض کے پسینے\nکھولا تھا مرے دوست نے بستر اسی گھر میں\n\nچٹکی تھیں اسی کنج میں اس ہونٹ کی کلیاں\nمہکے تھے وہ اوقات میسر اسی گھر میں\n\nافسانہ در افسانہ تھی مڑتی ہوئی سیڑھی\nاشعار در اشعار تھا ہر در اسی گھر میں\n\nہوتی تھی حریفانہ بھی ہر بات پہ اک بات\nرہتی تھی رقیبانہ بھی اکثر اسی گھر میں\n\nشرمندہ ہوا تھا یہیں پندار امارت\nچمکا تھا فقیروں کا مقدر اسی گھر میں\n\nوہ جن کے در ناز پہ جھکتا تھا زمانہ\nآتے تھے بڑی دور سے چل کر اسی گھر میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%D9%88_%D9%85%DA%A9%D8%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بیٹھا ہوں پاؤں توڑ کے تدبیر دیکھنا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیٹھا ہوں پاؤں توڑ کے تدبیر دیکھنا\nمنزل قدم سے لپٹی ہے تقدیر دیکھنا\n\nآوازے مجھ پہ کستے ہیں پھر بندگان عشق\nپڑ جائے پھر نہ پاؤں میں زنجیر دیکھنا\n\nمردوں سے شرط باندھ کے سوئی ہے اپنی موت\nہاں دیکھنا ذرا فلک پیر دیکھنا\n\nہوش اڑ نہ جائیں صنعت بہزاد دیکھ کر\nآئینہ رکھ کے سامنے تصویر دیکھنا\n\nپروانے کر چکے تھے سرانجام خودکشی\nفانوس آڑے آ گیا تقدیر دیکھنا\n\nشاید خدانخواستہ آنکھیں دغا کریں\nاچھا نہیں نوشتۂ تقدیر دیکھنا\n\nباد مراد چل چکی لنگر اٹھاؤ یاسؔ\nپھر آگے بڑھ کے خوبیٔ تقدیر دیکھنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%AA%D9%88%DA%91_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "بیٹھو یاں بھی کوئی پل کیا ہوگا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیٹھو یاں بھی کوئی پل کیا ہوگا\nہم بھی عاشق ہیں خلل کیا ہوگا\n\nدل ہی ہو سکتا ہے اور اس کے بغیر\nجان من دل کا بدل کیا ہوگا\n\nحسن کے ناز اٹھانے کے سوا\nہم سے اور حسن عمل کیا ہوگا\n\nکل کا اقرار جو میں کر کے اٹھا\nبولا بیٹھ اور بھی چل کیا ہوگا\n\nتو جو کل آنے کو کہتا ہے نظیرؔ\nتجھ کو معلوم ہے کل کیا ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%BE%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "بیٹھے بیٹھے جو ہم اے یار ہنسے اور روئے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیٹھے بیٹھے جو ہم اے یار ہنسے اور روئے\nآ گیا یاد تو اک بار ہنسے اور روئے\n\nشعر تر پڑھنے سے یاروں میں ہمیں کیا حاصل\nمگر اتنا ہے کہ دو چار ہنسے اور روئے\n\nشادی و غم کی جو اٹھ جائے جہاں سے رہ و رسم\nپھر تو کوئی بھی نہ زنہار ہنسے اور روئے\n\nناتوانی نے کیا اس کو تو نقش قالیں\nکیا تری چشم کا بیمار ہنسے اور روئے\n\nمصحفیؔ رات میں افسانۂ دل کہتا تھا\nسن کے ہمسائے کئی بار ہنسے اور روئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "بیٹھے تو پاس ہیں پر آنکھ اٹھا سکتے نہیں", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیٹھے تو پاس ہیں پر آنکھ اٹھا سکتے نہیں\nجی لگا ہے پہ ابھی ہاتھ لگا سکتے نہیں\n\nدور سے دیکھ وہ لب کاٹتے ہیں اپنے ہونٹھ\nہے ابھی پاس ادب ہونٹھ ہلا سکتے نہیں\n\nتکتے ہیں اس قد و رخسار کو حسرت سے اور آہ\nبھینچ کر خوب سا چھاتی سے لگا سکتے نہیں\n\nدل تو ان پاؤں پہ لوٹے ہے مرا وقت خرام\nشب کو دزدی سے بھی پر ان کو دبا سکتے نہیں\n\nچور سے رات کھڑے رہتے ہیں اس در سے لگے\nپر جو مطلوب ہے وہ جنس چرا سکتے نہیں\n\nریجھتے ان کی اداؤں پہ ہیں کیا کیا لیکن\nمارے اندیشے کے گردن بھی ہلا سکتے نہیں\n\nدیکھ رہتے ہیں وہ آئینۂ زانو اس کا\nپر کسی شکل سے زانو کو بھڑا سکتے نہیں\n\nقاعدے کیا ہمیں معلوم نہیں الفت کے\nبے کم و کاست مگر ان کو پڑھا سکتے نہیں\n\nچپکے تک رہتے ہیں رنگ اس کا بھبوکا سا ہم\nآہ پر دل کی لگی اپنی بجھا سکتے نہیں\n\nکیا غضب ہے کہ وہی بولے تو بولے از خود\nہم انہیں کیوں کہ بلاویں کہ بلا سکتے نہیں\n\nگرچہ ہم خانہ ہیں جرأتؔ پہ ہمارے ایسے\nبخت سوئے کہ کہیں ساتھ سلا سکتے نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بیٹھے جو شام سے ترے در پہ سحر ہوئی", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیٹھے جو شام سے ترے در پہ سحر ہوئی\nافسوس اے قمر کہ نہ مطلق خبر ہوئی\n\nارمان وصل یوں ہی رہا سو گئے نصیب\nجب آنکھ کھل گئی تو یکایک سحر ہوئی\n\nدل عاشقوں کے چھد گئے ترچھی نگاہ سے\nمژگاں کی نوک دشمن جانی جگر ہوئی\n\nپچھتاتا ہوں کہ آنکھ عبث تم سے لڑ گئی\nبرچھی ہمارے حق میں تمہاری نظر ہوئی\n\nچھانی کہاں نہ خاک نہ پایا کہیں تمہیں\nمٹی مری خراب عبث در بدر ہوئی\n\nدھیان آ گیا جو شام کو اس زلف کا رساؔ\nالجھن میں ساری رات ہماری بسر ہوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "بیٹھے ہوئے ہیں ہم خود آنکھوں میں دھول ڈالے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیٹھے ہوئے ہیں ہم خود آنکھوں میں دھول ڈالے\nاے روئے یار تو نے پردے فضول ڈالے\n\nجھگڑا ہی تم چکا دو جب تیغ کھینچ لی ہے\nآفت میں پھر نہ مجھ کو جان ملول ڈالے\n\nصورت تو ایک ہی تھی دو گھر ہوئے تو کیا ہے\nدیر و حرم کی بابت جھگڑے فضول ڈالے\n\nتربت سے کوئی پوچھے نیرنگئ زمانہ\nبعضوں نے خاک ڈالی بعضوں نے پھول ڈالے\n\nکہتے ہیں جس کو جلوہ وہ بھی کہیں رکا ہے\nآڑیں فضول کی ہیں پردے فضول ڈالے\n\nصدقے دل و جگر کو مژگاں پہ کر چکا ہوں\nمیں نے تو اپنے ہاتھوں کانٹوں پہ پھول ڈالے\n\nکیسے حساب جوڑوں اعمال معصیت کا\nجب اس کی شان رحمت گنتی میں بھول ڈالے\n\nمضطرؔ دلوں کے اندر رکھنے کے تھے یہ کافر\nدوزخ میں کیوں خدا نے جنت کے پھول ڈالے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "بیٹھے ہیں اب تو ہم بھی بولو گے تم نہ جب تک", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیٹھے ہیں اب تو ہم بھی بولو گے تم نہ جب تک\nدیکھیں تو آپ ہم سے ناخوش رہیں گے کب تک\n\nاقرار تھا سحر کا ایسا ہوا سبب کیا\nجو شام ہونے آئی اور وہ نہ آیا اب تک\n\nمحفل میں گل رخوں کے آیا جو وہ پری رو\nہو شکل حیرت اس کی صورت رہے وہ سب تک\n\nبوسہ نظیرؔ ہم کو دینے کہا تھا اس نے\nہم وقت پا کے جس دم لینے کی پہنچے ڈھب تک\n\nہر چند تھا نشے میں وہ شوخ تو بھی اس نے\nہرگز ہمارے لب کو آنے دیا نہ لب تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%D9%88%D9%84%D9%88_%DA%AF%DB%92_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "بیچنے آئے کوئی کیا دل شیدا لے کر", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیچنے آئے کوئی کیا دل شیدا لے کر\nدام دیتے ہی نہیں آپ تو سودا لے کر\n\nچار دن بھی تو نہ رکھا دل شیدا لے کر\nآپ نے ہم سے بھی کمبخت کو کھویا لے کر\n\nقتل کے بعد نزاکت سے جو تھک جاتے ہیں\nبیٹھ جاتے ہیں وہ کشتے کا سہارا لے کر\n\nغیر کا قتل کچھ ایسا تو نہیں ہے مشکل\nچھوڑ دو ہاتھ کوئی نام ہمارا لے کر\n\nسانس کے ساتھ جو ہوتی ہے کھٹک سینے میں\nضعف سے درد بھی اٹھتا ہے سہارا لے کر\n\nآ گیا مجھ کو نظر اپنی وفا کا انجام\nمیں نے تلوار کو قاتل سے جو دیکھا لے کر\n\nاب تو بیخودؔ کو یہ دعویٰ ہے بقول استاد\nآدمی عشق کرے نام ہمارا لے کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%DA%86%D9%86%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "بیکار یہ غصہ ہے کیوں اس کی طرف دیکھو", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیکار یہ غصہ ہے کیوں اس کی طرف دیکھو\nآئینے کی ہستی کیا تم اپنی طرف دیکھو\n\nمحدود ہے نظارہ جب ہیں یہی دو عالم\nیا اپنی طرف دیکھو یا میری طرف دیکھو\n\nملنے سے نگاہوں کے کیا فائدہ ہوتا ہے\nیہ بات میں سمجھا دوں تم میری طرف دیکھو\n\nمنہ پھیر لیا سب نے بیمار کو جب دیکھا\nدیکھا نہیں جاتا وہ تم جس کی طرف دیکھو\n\nمنظور عزیزؔ اس کا عرفان جو ہے تم کو\nدیکھو نہ کسی جانب اپنی ہی طرف دیکھو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D8%BA%D8%B5%DB%81_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "بیکسی عشق", "poet_page": "مصنف:عظیم الدین احمد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ایک دن اس نے جو مجھ سے پوچھا\nکیوں مرے ملنے کا ارمان ہوا\nاس کو دیکھا تو مگر آہوں کا\nموجزن سینے میں طوفان ہوا\n\nہوئی چہرے سے نمایاں وحشت\nدونوں ہاتھوں سے لیا دل کو تھام\nیاس ارمان تمنا حسرت\nدل سے آنکھوں میں اتر آئے تمام\n\nکچھ جواب اس کو جو دینا چاہا\nلب ملے پر نہ صدا نکلی آہ\nایک محشر تھا خیالوں کا بپا\nوہ لگی چپ کہ عیاذاً باللہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "بیکسیٔ شب ہجراں کی مجھے تاب نہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیکسیٔ شب ہجراں کی مجھے تاب نہیں\nکاش دشمن ہی چلے آئیں جو احباب نہیں\n\nتجھ کو اے بخت سیہ آگ لگا کر دیکھوں\nشب ہجراں میں اگر جلوہ مہتاب نہیں\n\nدیکھ بت خانے میں تصویر کا عالم اے شیخ\nیاں مصلیٰ نہیں منبر نہیں محراب نہیں\n\nنامہ بر مجھ سے یہ کہتا ہے کہ تم تو کیا ہو\nبادشہ بھی تو وہاں قابل القاب نہیں\n\nنہ ملے مجھ کو مرے حال پہ رونے والے\nعیش کیسا کہ یہاں غم کے بھی اسباب نہیں\n\nحال دل جس سے کہا اس نے کہا بس خاموش\nداغؔ اس درد کے سننے کی ہمیں تاب نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%DA%A9%D8%B3%DB%8C%D9%94_%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بیکلی سے مجھے راحت ہوگی", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیکلی سے مجھے راحت ہوگی\nچھیڑ دیں آپ عنایت ہوگی\n\nوصل میں ان کے قدم چومیں گے\nوہ بھی گر ان کی اجازت ہوگی\n\nبے قراری کے مزے لوٹیں گے\nآج پھر درد کی شدت ہوگی\n\nایک دن کھول کے جی رو لیں گے\nضبط غم کی جو اجازت ہوگی\n\nقصۂ غم نہ کہوں گا حسرتؔ\nجور کی ان کے شکایت ہوگی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%DA%A9%D9%84%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C"} {"title": "بیگانہ ادائی ہے ستم جور و ستم میں", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیگانہ ادائی ہے ستم جور و ستم میں\nہم چھپنے نہ پائے کہ چھپا آپ وہ ہم میں\n\nکچھ علم و خرد پر نہیں تقدیر کی مقدار\nاندازۂ پیماں نہ زیادہ میں نہ کم میں\n\nہے طرز محبت ہی دل آشوب وگرنہ\nکچھ بات عداوت کی نہ تم میں ہے نہ ہم میں\n\nہر قافلۂ درد رسیدہ کی ہے منزل\nکیا جانیے آرام ہے کیا ملک عدم میں\n\nیا رب ہو برا اس ہوس دل کا نہیں چین\nافلاس بھی کھویا طلب جاہ و حشم میں\n\nبے حس ہوس وصل میں ایسے تو ہوئے ہیں\nلذت ہے اذیت میں حلاوت ہے نہ سم میں\n\nافسانۂ مے خانہ ہے واعظ کی زباں پر\nاندازۂ پیمانہ ہے قندیل حرم میں\n\nمجھ کو ہی نہیں بے خود و بے ہوش کیا کچھ\nدیوانے بنے آپ بھی تشویش ستم میں\n\nاس زہد لباسی کے قلقؔ تیرے ہیں قائل\nکس ڈھنگ سے لایا پسر شیخ کو دم میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہے\nاہل وفا کا طور طریقہ ہی اور ہے\n\nدیر و حرم کی راہ میں رکھتے نہیں قدم\nہم رہروان شوق کا رستہ ہی اور ہے\n\nدل بے وفا کے ہاتھ نہ بیچے گا باوفا\nتم سے نہیں بنے گا یہ سودا ہی اور ہے\n\nاللہ دل نہ تم کو تڑپتا ہوا دکھائے\nدیکھا نہ جائے گا یہ تماشا ہی اور ہے\n\nجلوہ فروش آپ ہیں میں دل فروش ہوں\nایسوں سے کیا بنے گا یہ سودا ہی اور ہے\n\nٹکڑے ہیں دل جگر کے مبارکؔ کہ شعر ہیں\nغزلوں کا آپ کی تو سفینہ ہی اور ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%82_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%B4%DB%8C%D9%88%DB%81_%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "بیگو", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "’’تسلیاں اور دلاسے بیکار ہیں۔ لوہے اورسونے کے یہ مرکب میں چھٹانکوں پھانک چکا ہوں۔ کون سی دوا ہے جو میرے حلق سے نہیں اتاری گئی، میں آپ کے اخلاق کا ممنون ہوں مگر ڈاکٹر صاحب میری موت یقینی ہے۔ آپ کیسے کہہ رہے ہیں کہ میں دق کا مریض نہیں۔ کیا میں ہر روز خون نہیں تھوکتا؟ آپ یہی کہیں گے کہ میرے گلے اور دانتوں کی خرابی کا نتیجہ ہے مگر میں سب کچھ جانتا ہوں۔ میرے دونوں پھیپھڑے خانۂ زنبور کی طرح مشبک ہو چکے ہیں۔ آپ کے انجکشن مجھے دوبارہ زندگی نہیں بخش سکتے۔ دیکھیے میں اس وقت آپ سے باتیں کررہا ہوں مگرسینے پر ایک وزنی انجن دوڑتا ہوا محسوس کررہا ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کہ میں ایک تاریک گڑھے میں اتر رہا ہوں۔\n\nقبر بھی تو ایک تاریک گڑھا ہے۔ آپ میری طرف اس طرح نہ دیکھیے ڈاکٹر صاحب، مجھے اس چیز کا کامل احساس ہے کہ آپ اپنے ہسپتال میں کسی مریض کا مرنا پسند نہیں کرتے مگر جو چیز اٹل ہے وہ ہوکے رہے گی۔ آپ ایسا کیجیے کہ مجھے یہاں سے رخصت کردیجیے۔ میری ٹانگوں میں تین چار میل چلنے کی قوت ابھی باقی ہے۔ کسی قریب کے گاؤں میں چلا جاؤں گا۔ اور۔۔۔ مگر میں تو رو رہا ہوں۔ نہیں نہیں۔ ڈاکٹرصاحب یقین کیجیے۔ میں موت سے خائف نہیں۔ یہ میرے جذبات ہیں، جو آنسوؤں کی شکل میں باہر نکل رہے ہیں۔\n\nآہ! آپ کیا جانیں۔ اس مدقوق کے سینے سے کیا کچھ باہر نکلنے کومچل رہا ہے۔ میں اپنے انجام سے باخبر ہوں۔ آج سے پانچ برس پہلے بھی میں اس وحشت ناک انجام سے باخبر تھا۔ جانتا تھا۔ اور اچھی طرح جانتا تھا کہ کچھ عرصہ کے بعد میری زندگی کی دوڑ ختم ہو جائے گی۔ میں نے اس گیند کو جسے آپ زندگی کے نام سے پکارتے ہیں، خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارکر کاٹا ہے۔ اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں۔\n\nواقعہ یہ ہے کہ میں اس کھیل میں لذت محسوس کررہا ہوں۔ لذت۔۔۔ ہاں لذت۔۔۔ میں نے اپنی زندگی کی کئی راتیں حسن فروش عورتوں کے تاریک اڈوں پرگزاری ہیں۔ شراب کے نشے میں چورمیں نے کس بے دردی سے خود کو اس حالت میں پہنچایا۔ مجھے یاد ہے، انہی اڈوں کی سیاہ پیشہ عورت۔۔۔ کیا نام تھا اس کا۔۔۔؟ ہاں گلزار، مجھے اس بری طرح اپنی جوانی کو کیچڑ میں لت پت کرتے دیکھ کر مجھ سے ہمدردی کرنے لگ گئی تھی۔ بیوقوف عورت، اس کو کیا بتاتا کہ میں اس کیچڑ میں کس کا عکس دیکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ مجھے گلزار اور اس کی دیگر ہم پیشہ عورتوں سے نفرت تھی اور اب بھی ہے لیکن کیا آپ مریضوں کو زہر نہیں کھلاتے اگر اس سے اچھے نتائج کی امید ہو۔ میرے درد کی دوا ہی تاریک زندگی تھی۔ میں نے بڑی کوشش اور مصیبتوں کے بعد اس انجام کو بلایا ہے جس کی کچھ روئداد آپ نے میرے سرہانے ایک تختی پر لکھ کر لٹکا رکھی ہے۔ میں نے اس کے انتظار میں ایک ایک گھڑی کس بے تابی سے کاٹی ہے، آہ! کچھ نہ پوچھیے! لیکن اب مجھے دِلی تسکین حاصل ہو چکی ہے۔ میری زندگی کا مقصد پورا ہوگیا۔\n\nمیں دِق اور سِل کا مریض ہوں۔ اس مرض نے مجھے کھوکھلا کردیا ہے۔۔۔ آپ حقیقت کا اظہارکیوں نہیں کردیتے۔ بخدا اس سے مجھے اور تسکین حاصل ہوگی۔ میرا آخری سانس آرام سے نکلے گا۔۔۔ ہاں ڈاکٹر صاحب یہ تو بتائیے، کیا آخری لمحات واقعی تکلیف دہ ہوتے ہیں؟ میں چاہتا ہوں میری جان آرام سے نکلے۔ آج میں واقعی بچوں کی سی باتیں کررہا ہوں۔ آپ اپنے دل میں یقیناًمسکراتے ہوں گے کہ میں آج معمول سے بہت زیادہ باتونی ہوگیا ہوں۔۔۔ دیا جب بجھنے کے قریب ہوتا ہے تو اس کی روشنی تیز ہو جایا کرتی ہے۔ کیا میں جھوٹ کہہ رہا ہوں۔۔۔؟ آپ تو بولتے ہی نہیں اور میں ہوں کہ بولے جارہا ہوں۔ ہاں ہاں بیٹھیے، میرا جی چاہتا ہے آج کسی سے باتیں کیے جاؤں۔ آپ نہ آتے تو خدا معلوم میری کیا حالت ہوتی۔۔۔ آپ کا سفید سوٹ آنکھوں کو کس قدر بھلا معلوم ہورہا ہے۔ کفن بھی اسی طرح صاف ستھرا ہوتا ہے پھر آپ میری طرف اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں۔\n\nآپ کو کیا معلوم کہ میں مرنے کے لیے کس قدر بے تاب ہوں۔ اگر مرنے والوں کو کفن خود پہننا ہو تو آپ دیکھتے میں اس کو کتنی جلدی اپنے گرد لپیٹ لیتا۔ میں کچھ عرصہ اور زندہ رہ کرکیا کروں گا؟ جب کہ وہ مر چکی ہے۔ میرا زندہ رہنا فضول ہے۔ میں نے اس موت کو بہت مشکلوں کے بعد اپنی طرف آمادہ کیا ہے اور اب میں اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتا۔ وہ مر چکی ہے اور اب میں بھی مررہا ہوں۔ میں نے اپنی سنگ دلی۔۔۔ وہ مجھے سنگ دل کے نام سے پکارا کرتی تھی، کی قیمت ادا کردی ہے۔ اور خداگواہ ہے کہ اس کا کوئی بھی سکہ کھوٹا نہیں۔ میں پانچ سال تک ان کو پرکھتا رہا ہوں، میری عمر اس وقت پچیس برس کی ہے۔ آج سے ٹھیک سات برس پہلے میری اس سے ملاقات ہوئی تھی۔ آہ ان سات برسوں کی روئداد کتنی حیرت افزا ہے۔ اگر کوئی شخص اس کی تفصیل کاغذوں پرپھیلا دے تو انسانی دلوں کی داستانوں میں کیسا دلچسپ اضافہ ہو۔ دنیا ایک ایسے دل کی دھڑکن سے آشنا ہوگی جس نے اپنی غلطی کی قیمت خون کی ان تھوکوں میں ادا کی ہے۔ جنہیں آپ ہر روز جلاتے رہتے ہیں کہ ان کے جراثیم دوسروں تک نہ پہنچیں۔\n\nآپ میری بکواس سنتے سنتے کیا تنگ تو نہیں آگئے۔ خدا معلوم کیا کیا کچھ بکتا رہوں۔ تکلف سے کام نہ لیجیے، آپ واقعی کچھ نہیں سمجھ سکتے، میں خود نہیں سمجھ سکا۔ صرف اتنا جانتا ہوں کہ بٹوت سے واپس آکر میرے دل و دماغ کا ہر جوڑ ہل گیا تھا۔ اب یعنی آج جب کہ میرے جنون کا دورہ ختم ہو چکا ہے اور موت کو چند قدم کے فاصلے پر دیکھ رہا ہوں۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ وزن جو میری چھاتی کو دابے ہوئے تھا، ہلکا ہوگیا ہے اور میں پھرزندہ ہورہا ہوں۔ موت میں زندگی۔۔۔ کیسی دلچسپ چیز ہے! آج میرے ذہن سے دھند کے تمام بادل اٹھ گئے ہیں۔ میں ہر چیز کو روشنی میں دیکھ رہا ہوں۔ سات برس پہلے کے تمام واقعات اس وقت میری نظروں کے سامنے ہیں۔\n\nدیکھیے۔۔۔ میں لاہور سے گرمیاں گزارنے کے لیے کشمیر کی تیاریاں کررہا ہوں۔ سوٹ سلوائے جارہے ہیں۔ بوٹ ڈبوں میں بند کیے جارہے ہیں۔ ہولڈال اور ٹرنک کپڑوں سے پر کیے جارہے ہیں۔ میں رات کی گاڑی سے جموں روانہ ہوتا ہوں۔ شمیم میرے ساتھ ہے۔ گاڑی کے ڈبے میں بیٹھ کر ہم عرصہ تک باتیں کرتے رہتے ہیں۔ گاڑی چلتی ہے۔ شمیم چلا جاتا ہے۔ میں سو جاتا ہوں۔ دماغ ہر قسم کی فکر سے آزاد ہے۔ صبح جموں کے اسٹیشن پر جاگتا ہوں۔ کشمیر کی حسین وادی کی ہونے والی سیر کے خیالات میں مگن لاری پر سوار ہوتا ہوں۔ بٹوت سے ایک میل کے فاصلے پر لاری کا پہیہ پنکچر ہو جاتا ہے۔ شام کا وقت ہے اس لیے رات بٹوت کے ہوٹل میں کاٹنی پڑتی ہے۔ اس ہوٹل کا کمرہ بے حد غلیظ معلوم ہوتا ہے مگر کیا معلوم تھا کہ مجھے وہاں پورے دو مہینے رہنا پڑے گا۔ صبح سویرے اٹھتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ لاری کے انجن کا ایک پرزہ بھی خراب ہوگیا ہے۔ اس لیے مجبوراً ایک دن اور بٹوت میں ٹھہرنا پڑے گا۔ یہ سن کر میری طبیعت کس قدر افسردہ ہوگئی تھی! اس افسردگی کو دور کرنے کے لیے میں۔۔۔ میں اس روز شام کو سیر کے لیے نکلتا ہوں۔ چیڑ کے درختوں کا تنفس، جنگلی پرندوں کی نغمہ سرائیاں، سیب کے لدے ہوئے درختوں کا حسن اور غروب ہوتے ہوئے سورج کا دلکش سماں، لاری والے کی بے احتیاطی اور رنگ میں بھنگ ڈالنے والی تقدیر کی گستاخی کا رنج افزا خیال محو کردیتا ہے۔\n\nمیں نیچر کے مسرت افزا مناظر سے لطف اندوز ہوتا سڑک کے ایک موڑ پر پہنچتا ہوں۔۔۔ دفعتاً میری نگاہیں اس سے دو چار ہوتی ہیں۔ بیگو مجھ سے بیس قدم کے فاصلے پر اپنی بھینس کے ساتھ کھڑی ہے۔۔۔ جس داستان کا انجام اس وقت آپ کے پیش نظر ہے۔ اس کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے۔\n\nوہ جوان تھی۔ اس کی جوانی پر بٹوت کی فضا پوری شدت کے ساتھ جلوہ گر تھی۔ سبز لباس میں ملبوس وہ سڑک کے درمیان مکئی کا ایک دراز قد بوٹا معلوم ہورہی تھی۔ چہرے کے تانبے ایسے تاباں رنگ پر اس کی آنکھوں کی چمک نے ایک عجیب کیفیت پیدا کردی تھی۔ جو چشمے کے پانی کی طرح صاف اور شفاف تھیں۔۔۔ میں اس کو کتنا عرصہ دیکھتا رہا۔ یہ مجھے معلوم نہیں۔ لیکن اتنا یاد ہے کہ میں نے دفعتاً اپنا سینہ موسیقی سے لبریز پایااور پھرمیں مسکرا دیا۔ اس کی بہکی ہوئی نگاہوں کی توجہ بھینس سے ہٹ کر میرے تبسم سے ٹکرائی۔ میں گھبرا گیا۔ اس نے ایک تیز تجسس سے میری طرف دیکھاجیسے وہ کسی بھولے ہوئے خواب کو یاد کررہی ہے۔ پھر اس نے اپنی چھڑی کو دانتوں میں دبا کر کچھ سوچا اور مسکرا دی، اس کا سینہ چشمے کے پانی کی طرح دھڑک رہا تھا۔ میرا دل بھی میرے پہلو میں انگڑائیاں لے رہا تھا۔۔۔ اور یہ پہلی ملاقات کس قدر لذیذ تھی۔ اس کا ذائقہ ابھی میرے جسم کی ہر رگ میں موجود ہے۔۔۔ وہ چلی گئی۔۔۔ میں اس کو آنکھوں سے اوجھل ہوتے دیکھتا رہا۔ وہ اس انداز سے چل رہی تھی جیسے کچھ یاد کررہی ہے۔ کچھ یاد کرتی ہے مگر پھر بھول جاتی ہے۔ اس نے جاتے ہوئے پانچ چھ مرتبہ میری طرف مڑ کر دیکھا۔ لیکن فوراً سر پھیر لیا۔\n\nجب وہ اپنے گھرمیں داخل ہوگئی جو سڑک کے نیچے مکئی کے چھوٹے سے کھیت کے ساتھ بنا ہوا تھا، میں اپنی طرف متوجہ ہوا۔ میں اس کی محبت میں گرفتار ہو چکا تھا۔ اس احساس نے مجھے سخت متحیر کیا۔ میری عمر اس وقت اٹھارہ سال کی تھی۔ کالج میں اپنے ہم جماعت طلبہ کی زبانی میں محبت کے متعلق بہت کچھ سن چکا تھا۔ عشقیہ داستانیں بھی اکثر میرے زیرمطالعہ رہی تھیں۔ مگر محبت کے حقیقی معانی میری نظروں سے پوشیدہ تھے۔ اس کے جانے کے بعد جب میں نے ایک ناقابل بیان تلخی اپنے دل کی دھڑکنوں میں حل ہوتی ہوئی محسوس کی تو میں نے خیال کہ شاید اسی کا نام محبت ہے۔۔۔ یہ محبت ہی تھی۔۔۔ عورت سے محبت کرنے کا پہلا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ مرد کی ہو جائے یعنی وہ اس سے شادی کرلے اور آرام سے اپنی بقایا زندگی گزار دے۔ شادی کے بعد یہ محبت کروٹ بدلتی ہے۔ پھر مرد اپنی محبوبہ کے کاندھوں پر ایک گھر تعمیر کرتا ہے۔ میں نے جب بیگو سے اپنے دل کو وابستہ ہوتے محسوس کیا تو فطری طور پر میرے دل میں اس رفیقہ حیات کا خیال پیدا ہوا جس کے متعلق میں اپنے کمرے کی چار دیواری میں کئی خواب دیکھ چکا تھا۔\n\nاس خیال کے آتے ہی میرے دل سے یہ صدا اٹھی، ’’دیکھو سعید!یہ لڑکی ہی تمہارے خوابوں کی پری ہے۔‘‘ چنانچہ میں تمام واقعے پر غور کرتا ہوا ہوٹل واپس آیا اور ایک ماہ کے لیے ہوٹل کا وہ کمرہ کرائے پر اٹھا لیا جو مجھے بے حد غلیظ محسوس ہوا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہوٹل کا مالک میرے اس ارادے کو سن کر بہت متحیر ہوا تھا۔ اس لیے کہ میں صبح اس کی غلاظت پسندی پر ایک طویل لیکچر دے چکا تھا۔\n\nداستان کتنی طویل ہوتی جارہی ہے مگر مجھے معلوم ہے کہ آپ اسے غور سے سن رہے ہیں۔۔۔ ہاں ہاں آپ سگریٹ سلگا سکتے ہیں۔ میرے گلے میں آج کھانسی کے آثار محسوس نہیں ہوتے۔ آپ کی ڈبیا دیکھ کر میرے ذہن میں ایک اور واقعہ کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔ بیگو بھی سگریٹ پیا کرتی تھی۔ میں نے کئی بار اسے گولڈ فلیک کی ڈبیاں لا کردی تھیں۔ وہ بڑے شوق سے ان کو منہ میں دبا کر دھوئیں کے بادل اڑایا کرتی تھیں۔ دھواں۔۔۔! میں اس نیلے نیلے دُھوئیں کو اب بھی دیکھ رہا ہوں جو اس کے گیلے ہونٹوں پر رقص کیا کرتا تھا۔۔۔ ہاں تو دوسرے روز میں شام کو اسی وقت ادھر سیر کو گیا۔ جہاں مجھے وہ سڑک پر ملی تھی۔ دیر تک سڑک کے ایک کنارے پتھروں کی دیوار پر بیٹھا رہا مگر وہ نظر نہ آئی۔\n\nاٹھا اور ٹہلتا ٹہلتا آگے نکل گیا۔ سڑک کے دائیں ہاتھ ڈھلوان تھی۔ جس پر چیڑ کے درخت اگے ہوئے تھے۔ بائیں ہاتھ بڑے بڑے پتھروں کے کٹے پھٹے سر ابھر رہے تھے۔ ان پر جمی ہوئی مٹی کے ڈھیلوں میں گھاس اگی ہوئی تھی۔ ہوا ٹھنڈی اور تیز تھی۔ چیڑ کے تاگانماپتوں کی سرسراہٹ کانوں کوبہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔ جب موڑ مڑا تو دفعتاً میری نگاہیں سامنے اٹھیں۔ مجھ سے سو قدم کے فاصلے پر وہ اپنی بھینس کو ایک سنگین حوض سے پانی پلا رہی تھی۔ میں قریب پہنچا مگر اس کو نظر بھر کے دیکھنے کی جرأت نہ کرسکا اور آگے نکل گیا اور جب واپس مڑا تو وہ گھر جا چکی تھی۔ اب ہر روز اس طرف سیر کو جانا میرا معمول ہوگیا مگر بیس روز تک میں اس سے ملاقات نہ کرسکا۔\n\nمیں نے کئی بار باؤلی پر پانی پیتے وقت اس سے ہم کلام ہونے کا ارادہ کیا۔ مگر زبان گنگ ہوگئی۔ کچھ بول نہ سکا۔ قریباً ہر روز میں اس کو دیکھتا مگررات کو جب میں تصور میں اس کی شکل دیکھنا چاہتا تو ایک دھندسی چھا جاتی۔ یہ عجیب بات ہے کہ میں اس کی شکل کو اس کے باوجود کہ اسے ہر روز دیکھتا تھا بھول جاتا تھا۔ بیس دنوں کے بعد ایک روز چار بجے کے قریب جب کہ میں ایک باؤلی کے اوپر چیڑ کے سائے میں لیٹا تھا۔ وہ خورد سال لڑکے کو لے کر اوپر چڑھی۔ اس کو اپنی طرف آتا دیکھ کر میں سخت گھبرا گیا۔ دل میں یہی آئی کہ وہاں سے بھاگ جاؤں لیکن اس کی سکت بھی نہ رہی۔ وہ میری طرف دیکھے بغیر آگے نکل گئی۔ چونکہ اس کے قدم تیز تھے اس لیے لڑکا پیچھے رہ گیا۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کی پیٹھ میری طرف تھی۔ دفعتاً لڑکے نے ایک چیخ ماری اور چشم زدن میں چیڑ کے خشک پتوں پر سے پھسل کر نیچے آرہا۔ میں فوراً اٹھا اور بھاگ کر اسے اپنے بازوؤں میں تھام لیا۔ چیخ سن کر وہ مڑی اور دوڑنے کے لیے بڑھے ہوئے قدم روک کر آہستہ آہستہ میری طرف آئی۔ اپنی جوان آنکھوں سے مجھے دیکھا اور لڑکے سے یہ کہا، ’’خدا جانے تم کیوں گرپڑتے ہو؟‘‘\n\nمیں نے گفتگو شروع کرنے کا ایک موقع پا کر اس سے کہا، ’’بچہ ہے اس کی انگلی پکڑ لیجیے۔ ان پتوں نے خود مجھے کئی بار اوندھے منہ گرا دیا ہے۔‘‘\n\nیہ سن کر وہ کھکھلا کر ہنسی پڑی، ’’آپ کے ہیٹ نے تو خوب لڑھکنیاں کھائی ہوں گی۔‘‘\n\n’’آپ ہنستی کیوں ہیں؟ کسی کو گرتے دیکھ کر آپ کی طبیعت اتنی شاد کیوں ہوتی ہے اور جوکسی روز آپ گر پڑیں تو۔۔۔ وہ گھڑا جو ہر روز شام کے وقت آپ گھر لے جاتی ہے کس بری طرح زمین پر گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔‘‘\n\n’’میں نہیں گر سکتی۔۔۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے دفعتاً نیچے باؤلی کی طرف دیکھا۔ اس کی بھینس نالے پر بندھے ہوئے پل کی طرف خراماں خراماں جارہی تھی۔ یہ دیکھ کر اس نے اپنے حلق سے ایک عجیب قسم کی آواز نکالی۔ اس کی گونج ابھی تک میرے کانوں میں محفوظ ہے۔ کس قدر جوان تھی یہ آواز۔ اس نے بڑھ کر لڑکے کو کاندھے پر اٹھا لیا۔ اور بھینس کو ’’اے چھلاں، اے چھلاں‘‘ کے نام سے پکارتی ہوئی چشم زدن میں نیچے اتر گئی۔ بھینس کو واپس موڑ کر اس نے میری طرف دیکھا اور گھر کو چل دی۔\n\nاس ملاقات کے بعد اس سے ہم کلام ہونے کی جھجھک دور ہوگئی۔ ہر روز شام کے وقت باؤلی پر یا چیڑ کے درختوں تلے میں اس سے کوئی نہ کوئی بات شروع کردیتا۔ شروع شروع میں ہماری گفتگو کا موضوع بھینس تھا۔ پھرمیں نے اس سے اس کا نام دریافت کیا اور اس نے میرا۔ اس کے بعد گفتگو کا رخ اصل مطلب کی طرف آگیا۔ ایک روز دوپہر کے وقت جب وہ نالے میں ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھی اپنے کپڑے دھو رہی تھی۔ میں اس کے پاس بیٹھ گیا۔ مجھے کسی خاص بات کا اظہار کرنے پر تیار دیکھ کر اس نے جنگلی بلی کی طرح میری طرف گھور کر دیکھا۔ اور زور زور سے اپنی شلوار کو پتھر پر جھٹکتے ہوئے کہا، ’’آپ کشمیر کب جارہے ہیں۔ یہاں بٹوت میں کیا دھرا ہے جو آپ یہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔‘‘\n\nیہ سن کر میں نے مستفسرانہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔ گویا میں اس کے سوال کا جواب خود اس کی زبان سے چاہتا ہوں۔ اس نے نگاہیں نیچی کرلیں اور مسکراتے ہوئے کہا، ’’آپ سیر کرنے کے لیے آئے ہیں۔ میں نے سنا ہے کشمیر میں بہت سے باغ ہیں۔ آپ وہاں کیوں نہیں چلے جاتے؟‘‘\n\nموقع اچھا تھا۔ چنانچہ میں نے دل کے تمام دروازے کھول دیے۔ وہ میرے جذبات کے بہتے ہوئے دھارے کا شور خاموشی سے سنتی رہی۔ میری آواز نالے کے پانی کی گنگناہٹ میں جو ننھے ننھے سنگ ریزوں سے کھیلتا ہوا بہہ رہا تھا ڈوب ڈوب کر ابھر رہی تھی۔ ہمارے سروں کے اوپر اخروٹ کے گھنے درخت میں چڑیاں چہچہا رہی تھیں۔ ہوا اس قدر تروتازہ اور لطیف تھی کہ اس کا ہر جھونکا بدن پر ایک خوشگوار کپکپی طاری کردیتا تھا۔ میں اس سے پورا ایک گھنٹہ گفتگو کرتا رہا۔ اس سے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں اور شادی کا خواہش مند ہوں۔ یہ سن کروہ بالکل متحیر نہ ہوئی۔ لیکن اس کی نگاہیں جو دور پہاڑیوں کی سیاہی اور آسمان کی نیلاہٹ کو آپس میں ملتا ہوا دیکھ رہی تھیں، اس بات کی مظہر تھیں کہ وہ کسی گہرے خیال میں مستغرق ہے۔ کچھ عرصہ خاموش رہنے کے بعد اس نے میرے اصرار پر صرف اتنا جواب دیا۔\n\n’’اچھا آپ کشمیر نہ جائیں۔‘‘\n\nیہ جواب اختصار کے باوجود حوصلہ افزا تھا۔۔۔ اس ملاقات کے بعد ہم دونوں بے تکلف ہوگئے۔ اب پہلا سا حجاب نہ رہا۔ ہم گھنٹوں ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے رہتے۔ ایک روز میں نے اس سے نشانی کے طور پر کچھ مانگا تو اس نے بڑے بھولے انداز میں اپنے سر کے کلپ اتار کر میری ہتھیلی پر رکھ دیئے اور مسکرا کر کہا، ’’میرے پاس یہی کچھ ہے۔‘‘ یہ کلپ میرے پاس ابھی تک محفوظ ہیں۔\n\nخیر کچھ دنوں کی طول طویل گفتگوؤں کے بعد میں نے اس کی زبان سے کہلوا لیا کہ وہ مجھ سے شادی کرنے پر رضا مند ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب اس روز شام کو اس نے اپنے گھڑے کو سر پر سنبھالتے ہوئے اپنی رضا مندی کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا کہ’’ہاں میں چاہتی ہوں۔‘‘ تو میری مسرت کی کوئی انتہا نہ رہی تھی۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ہوٹل کو واپس آتے ہوئے میں کچھ گایا بھی تھا۔ اس پر مسرت شام کے چوتھے روز جب کہ میں آنے والی ساعتِ سعید کے خواب دیکھ رہا تھا، یکا یک اس مکان کی تمام دیواریں گرپڑیں جن کو میں نے بڑے پیار سے استوار کیا تھا۔ بستر میں پڑا تھا کہ صبح سیالکوٹ کے ایک صاحب جو بغرض تبدیلی آب و ہوا بٹوت میں قیام پذیر تھے۔ اور ایک حد تک بیگو سے میری محبت کو جانتے تھے۔ میری۔۔۔ چارپائی پر بیٹھ گئے اور نہایت ہی مفکرانہ لہجہ میں کہنے لگے۔\n\n’’وزیر بیگم سے آپ کی ملاقاتوں کا ذکر آج بٹوت کے ہر بچے کی زبان پر ہے۔ میں وزیر بیگم کے کیریکٹر سے ایک حد تک واقف تھا۔ اس لیے کہ سیالکوٹ میں اس لڑکی کے متعلق بہت کچھ سن چکا ہوں۔ مگر یہاں بٹوت میں اس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ ایک ہفتہ پہلے یہاں کا قصائی اس کے متعلق ایک طویل حکایت سنا رہا تھا۔ پرسوں پان والا آپ سے ہمدردی کا اظہار کررہا تھا کہ آپ عصمت باختہ لڑکی کے دام میں پھنس گئے ہیں۔ کل شام کو ایک اور صاحب کہہ رہے تھے کہ آپ ٹوٹی ہوئی ہنڈیا خرید رہے ہیں۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ بعض لوگ ا س سے آپ کی گفتگو پسند نہیں کرتے۔ اس لیے کہ جب سے آپ بٹوت میں آئے ہیں وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئی ہے۔ میں نے آپ سے حقیقت کا اظہار کردیا ہے۔ اب آپ بہتر سوچ سکتے ہیں۔\n\nعصمت باختہ لڑکی، ٹوٹی ہوئی ہنڈیا، لوگ اس سے میری گفتگو کو پسند نہیں کرتے، مجھے اپنی سماعت پر یقین نہ آتا تھا۔ بیگو اور۔۔۔ اس کا خیال ہی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ مگر جب دوسرے روز مجھے ہوٹل والے نے نہایت ہی راز دارانہ لہجے میں چند باتیں کہیں تو میری آنکھوں کے سامنے تاریک دھند سی چھا گئی، ’’بابو جی، آپ بٹوت میں سیر کے لیے آئے ہیں مگر دیکھتا ہوں کہ آپ یہاں کی ایک حسن فروش لڑکی کی محبت میں گرفتار ہیں، اس کا خیال اپنے دل سے نکال دیجیے۔ میرا اس لڑکی کے گھر آنا جانا ہے، مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اس کو کچھ کپڑے بھی خرید دیے ہیں۔ آپ نے یقیناًاور بھی روپے خرچ کیے ہوں گے، معاف کیجیے مگر یہ سراسر حماقت ہے۔ میں آپ سے یہ باتیں ہرگز نہ کرتا کیونکہ یہاں بیسیوں عیش پسند مسافر آتے ہیں مگر آپ کا دل ان سیاہیوں سے پاک نظر آتا ہے۔ آپ بٹوت سے چلے جائیں، اس قماش کی لڑکی سے گفتگو کرنا اپنی عزت خطرے میں ڈالنا ہے۔‘‘\n\nظاہر ہے کہ ان باتوں نے مجھے بے حد افسردہ بنا دیا تھا۔ وہ مجھ سے سگریٹ، مٹھائی اور اسی قسم کی دوسری معمولی اشیا طلب کیا کرتی تھی اور میں بڑے شوق اور محبت سے اس کی یہ خواہش پوری کیا کرتا تھا۔ اس میں ایک خاص لطف تھا۔ مگراب ہوٹل والے کی بات نے میرے ذہن میں مہیب خیالات کا ایک تلاطم برپا کردیا۔ گزشتہ ملاقاتوں کے جتنے نقوش میرے دل و دماغ میں محفوظ تھے اور جنھیں میں ہرروز بڑے پیار سے اپنے تصور میں لا کر ایک خاص قسم کی مٹھاس محسوس کیا کرتا تھا، دفعتاً تاریک شکل اختیار کرگئے۔ مجھے اس کے نام ہی سے عفونت آنے لگی۔ میں نے اپنے جذبات پر قابو پانے کی بہت کوشش کی مگر بے سود۔ میرا دل جو ایک کالج کے طالب علم کے سینے میں دھڑکتا تھا، اپنے خوابوں کی یہ بری اور بھیانک تعمیر دیکھ کرچلا اٹھا۔ اس کی باتیں جو کچھ عرصہ پہلے بہت بھلی معلوم ہوتی تھیں ریا کاری میں ڈوبی ہوئی معلوم ہونے لگیں۔\n\nمیں نے گزشتہ واقعات، بیگو کی نقل و حرکت، اس کی جنبش اور اپنے گردوپیش کے ماحول کو پیش نظر رکھ کر عمیق مطالعہ کیا تو تمام چیزیں روشن ہوگئیں، اس کا ہرشام کو ایک مریض کے ہاں دودھ لے کر جانا اور وہاں ایک عرصہ تک بیٹھی رہنا، باؤلی پر ہرکس و ناکس سے بیباکانہ گفتگو، دوپٹے کے بغیر ایک پتھر سے دوسرے پر اچھل کود، اپنی ہم عمر لڑکیوں سے کہیں زیادہ شوخ اور آزاد روی۔۔۔ وہ یقیناًعصمت باختہ لڑکی ہے۔‘‘\n\nمیں نے یہ رائے مرتب تو کرلی۔ مگر آنسوؤں سے میری آنکھیں گیلی ہوگئیں۔ خوب رویا مگر دل کا بوجھ ہلکا نہ ہوا۔ میں چاہتا تھا کہ ایک بار، آخری بار اس سے ملوں اوراس کے منہ پر اپنے تمام غصے کو تھوک دوں۔ یہی صورت تھی جس سے مجھے کچھ سکون حاصل ہو سکتا تھا۔ چنانچہ میں شام کوباؤلی کی طرف گیا۔ وہ پگڈنڈی پر انار کی جھاڑیوں کے پیچھے بیٹھی میرا انتظار کررہی تھی۔ اس کو دیکھ کر میرا دل کسی قدر کڑھا۔ میرا حلق اس روز کی تلخی کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ اس کے قریب پہنچا اور پاس ہی ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔ چھلاں اس کی بھینس اور اس کا بچھڑا چند گزوں کے فاصلے پر بیٹھے جگالی کررہے تھے۔ میں نے گفتگو کا آغاز کرنا چاہا مگر کچھ نہ کہہ سکا۔ غصے اور افسردگی نے میری زبان پر قفل لگا دیا تھا۔ مجھے خاموش دیکھ کر اس کی آنکھوں کی چمک ماند پڑ گئی، جیسے چشمے کے پانی میں کسی نے اپنے مٹی بھرے ہاتھ دھو دیئے ہیں۔ پھر وہ مسکرائی، یہ مسکراہٹ مجھے کسی قدرمصنوعی اور پھیکی معلوم ہوئی۔ میں نے سر جھکا لیا اور سنگ ریزوں سے کھیلنا شروع کردیا تھا۔ شاید میرارنگ زرد پڑ گیا تھا۔ اس نے غور سے میری طرف دیکھا اور کہا، ’’آپ بیمار ہیں؟‘‘\n\nاس کا یہ کہنا تھا کہ میں برس پڑا، ’ ’ہاں بیمار ہوں، اور یہ بیماری تمہاری دی ہوئی ہے، تمہیں نے یہ روگ لگایا ہے بیگو! میں تمہارے چال چلن کی سب کہانی سن چکا ہوں اور تمہارے سارے حالات سے باخبر ہوں۔‘‘\n\nمیری چبھتی ہوئی باتیں سن کر اور بدلے ہوئے تیور دیکھ کر وہ بھونچکا سی رہ گئی اور کہنے لگی، ’’اچھا تو میں اچھی لڑکی نہیں ہوں۔ آپ کو میرے چال چلن کے متعلق سب کچھ معلوم ہو چکا ہے، میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ آپ کیسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں۔‘‘\n\nمیں چلایا، ’’گویا تم کو معلوم ہی نہیں۔ ذرا اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو تو اپنی سیہ کاریوں کا سارا نقشہ تمہاری آنکھوں تلے گھوم جائے گا۔‘‘ میں طیش میں آگیا، کتنی بھولی بنتی ہو۔ جیسے کچھ جانتی ہی نہیں۔ پروں پر پانی پڑنے ہی نہیں دیتیں۔ میں کیا کہہ رہا ہوں، بھلا تم کیا سمجھو، جاؤ جاؤ بیگو، تم نے مجھے سخت دکھ پہنچایا ہے۔‘‘ یہ کہتے کہتے میری آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے۔ وہ بھی سخت مضطرب ہوگئی اور جل کر بول اٹھی، ’’آخر میں بھی تو سنوں کہ آپ نے میرے بارے میں کیا کیا سنا ہے۔ پر آپ تو رو رہے ہیں۔‘‘\n\n’’ہاں، رو رہا ہوں۔ اس لیے کہ تمہارے افعال ہی اتنے سیاہ ہیں کہ ان پر ماتم کیا جائے۔ تم پاکبازوں کی قدر کیا جانو۔ اپنا جسم بیچنے والی لڑکی محبت کیا جانے۔ تم صرف اتنا جانتی ہو کہ کوئی مرد آئے اور تمہیں اپنی چھاتی سے بھینچ کر چومنا چاٹنا شروع کردے اور جب سیر ہو جائے تو اپنی راہ لے۔ کیا یہی تمہاری زندگی ہے۔‘‘\n\nمیں غصے کی شدت سے دیوانہ ہوگیا تھا۔ جب اس نے میری زبان سے اس قسم کے سخت کلمات سنے تو اس نے ایسا ظاہر کیا جیسے اس کی نظر میں یہ سب گفتگو ایک معمہ ہے۔ اس وقت طیش کی حالت میں میں نے اس کی حالت کو نمائشی خیال کیا اور ایک قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، ’’جاؤ! میری نظروں سے دور ہو جاؤ۔ تم ناپاک ہو۔‘‘\n\nیہ سن کر اس نے ڈری ہوئی آواز میں صرف اتنا کہا، ’’آپ کو کیا ہوگیا ہے؟‘‘\n\n’’مجھے کیا ہوگیا۔۔۔ کیا ہوگیا ہے۔‘‘ میں پھر برس پڑا، ’’اپنی زندگی کی سیاہ کاریوں پر نظر دوڑاؤ۔۔۔ تمہیں سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔ تم میری بات اس لیے نہیں سمجھتی ہو کہ میں تم سے شادی کرنے کا خواہش مند تھا، اس لیے کہ میرے سینے میں شہوانی خیالات نہیں، اس لیے کہ میں تم سے صرف محبت کرتا ہوں۔ جاؤ مجھے تم سے سخت نفرت ہے۔‘‘\n\nجب میں بول چکا تو اس نے تھوک نگل کر اپنے حلق کو صاف کیا اور تھرتھرائی ہوئی آواز میں کہا، ’’شاید آپ یہ خیال کرتے ہوں گے کہ جان بوجھ کر انجان بن رہی ہوں۔ مگر سچ جانیے مجھے کچھ معلوم نہیں آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک شام آپ سڑک پر سے گزر رہے تھے، آپ نے میری طرف دیکھا تھا اور مسکرا دیئے تھے۔ یہاں بیسیوں لوگ ہم لڑکیوں کو دیکھتے ہیں اور مسکرا کر چلے جاتے ہیں۔ پھر آپ متواتر باؤلی کی طرف آتے رہے۔ مجھے معلوم تھا آپ میرے لیے آتے ہیں مگر اسی قسم کے کئی واقعے میرے ساتھ گزر چکے ہیں۔ ایک روز آپ نے میرے ساتھ باتیں کیں اور اس کے بعد ہم دونوں ایک دوسرے سے ملنے لگے۔ آپ نے شادی کے لیے کہا میں۔۔۔ مان گئی۔ مگر اس سے پہلے اس قسم کی کئی درخواستیں سن چکی ہوں۔ جو مرد بھی مجھ سے ملتا ہے دوسرے تیسرے روز میرے کان میں کہتا ہے، ’’بیگو دیکھ میں تیری محبت میں گرفتار ہوں۔ رات دن تو ہی میرے دل و دماغ میں بستی رہتی ہے۔‘‘ آپ نے بھی مجھ سے یہی کہا۔ اب بتائیے محبت کیا چیز ہے۔ مجھے کیا معلوم کہ آپ نے دل میں کیا چھپا رکھا ہے۔ یہاں آپ جیسے کئی لوگ ہیں جو مجھ سے یہی کہتے ہیں، بیگو تمہاری آنکھیں کتنی خوبصورت ہیں جی چاہتا ہے کہ صدقے ہو جاؤں۔ تمہارے ہونٹ کس قدر پیارے ہیں جی چاہتا ہے ان کو چوم لوں۔۔۔ وہ مجھے چومتے رہے ہیں کیا یہ محبت نہیں ہے؟\n\nکئی بار میرے دل میں خیال آیا ہے کہ محبت کچھ اور ہی چیز ہے مگر میں پڑھی لکھی نہیں، اس لیے مجھے کیا معلوم ہو سکتا ہے۔ میں نے قاعدہ پڑھنا شروع کیا مگر چھوڑ دیا۔ اگرمیں پڑھوں تو پھر چھلاں اور اس کے بچھڑے کا پیٹ کون بھرے، آپ اخبار پڑھ لیتے ہیں اس لیے آپ کی باتیں بڑی ہوتی ہیں۔ میں کچھ نہیں سمجھ سکتی چھوڑیئے۔ اس قصے کو آئیے کچھ اورباتیں کریں مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ میری ماں کہہ رہی تھیں کہ بیگو تو ہیٹ والے بابو کے پیچھے دیوانی ہوگئی ہے۔‘‘\n\nمیری نظروں کے سامنے سے وہ تاریک پردہ اٹھنے لگا تھا جو اس انجام کا باعث تھا۔ مگر دفعتاً میرے جوش اور غصے نے پھر اسے گرا دیا۔ بیگو کی گفتگو بے حد سادہ اور معصومیت سے پر تھی مگر مجھے اس کا ہر لفظ بناوٹ میں لپٹا نظر آیا۔ میں ایک لمحہ بھی اس کی اہمیت پر غور نہ کیا۔\n\n’’بیگو، میں بچہ نہیں ہوں کہ تم مجھے چکنی چیڑی باتوں سے بیوقوف بنالوگی۔‘‘ میں نے غصہ میں اس سے کہا، ’’یہ فریب کسی اور کو دینا۔ کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، تم نے ابھی ابھی اپنی زبان سے اس بات کا اعتراف کیا ہے اب میں کیا کہوں۔‘‘\n\n’’نہیں نہیں کہیے!‘‘ اس نے کہا۔\n\n’’کئی لوگ تمہارے منہ کو چومتے رہے ہیں۔ تمہیں شرم آنی چاہیے!‘‘\n\n’’ہاں آپ تو سمجھتے ہی نہیں۔ اب میں کیا جھوٹ بولتی ہوں۔ میں خود تھوڑا ہی ان کے پاس جاتی ہوں اور منہ بڑھا کر چومنے کو کہتی ہوں۔ اگر آپ اس روز میرے بالوں کو چومنا چاہتے جبکہ آپ ان کی تعریف کررہے تھے، تو کیا میں انکار کردیتی! میں کس طرح انکار کرسکتی ہوں، مجھے چھلاں بہت پیاری لگتی ہے اور میں ہر روز اس کو چومتی ہوں۔ اس میں کیا ہرج ہے میں چاہتی ہوں کہ لوگ میرے بالوں، میرے ہونٹوں اور میرے گالوں کی تعریف کریں اس سے مجھے خوشی ہوتی ہے، خبر نہیں کیوں؟ میں صبح سویرے اٹھتی ہوں اور چھلاں کو لے کر گھاس چرانے کے لیے باہر چلی جاتی ہوں، دوپہر کوروٹی کھا کر پھر گھر سے نکل آتی ہوں۔ شام کو پانی بھرتی ہوں۔ ہر روز میرا یہی کام ہے، مجھے یاد ہے کہ آپ نے مجھ سے کئی مرتبہ کہا تھاکہ میں پانی بھرنے نہ آیا کروں۔ بھینس نہ چرایا کروں۔ شاید آپ اسی وجہ سے ناراض ہورہے ہیں۔ مگر یہ تو بتائیے کہ میں گھر پر رہوں تو پھر آپ ملاقات کیونکر کرسکیں گے؟ میں نے سنا ہے کہ پنجاب میں لڑکیاں گھر سے باہر نہیں نکلتیں مگر ہم پہاڑی لوگ ہیں، ہمارا یہی کام ہے۔\n\n’’تمہارا یہی کام ہے کہ ہر رہ گذر سے لپٹنا شروع کردو۔ تم پہاڑی لوگوں کے چلن مجھ سے چھپے ہوئے نہیں، یہ تقریر کسی اور کو سنانا۔ گھر پر رہو یا باہر رہو۔ اب مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ان پہاڑیوں میں رہ کر جو سبق تم نے سیکھا ہے وہ مجھے پڑھانے کی کوشش نہ کرو‘‘\n\n’’آپ بہت تیز ہو جاتے جارہے ہیں، بہت چل نکلے ہیں۔‘‘ اس نے قدرے بگڑ کر کہا، ’’معلوم ہوتا ہے لوگوں نے آپ کے بہت کان بھرے ہیں۔ مجھے بھی تو پتہ لگے کہ وہ کون‘‘، ’’مرن جوگے‘‘ ہیں جو میرے متعلق آپ کو ایسی باتیں سناتے رہے ہیں۔ آپ خواہ مخواہ اتنے گرم ہوتے جارہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ میں مردوں کے ساتھ باتیں کرتی ہوں ملتی ہوں مگر۔۔۔ یہ کہتے ہوئے اس کے گال سرخ ہوگئے۔ مگر میں نے اس کی طرف دھیان نہ دیا۔\n\nایک لمحہ خاموش رہنے کے بعد وہ پھر بولی۔ آپ کہتے ہیں کہ میں بری لڑکی ہوں یہ غلط ہے۔ میں پگلی ہوں۔۔۔ سچ مچ پگلی ہوں۔ کل آپ کے چلے جانے کے بعد میں پتھر پر بیٹھ کر دیر تک روتی رہی۔ جانے کیوں۔ ایسا کئی دفعہ ہوا ہے کہ میں گھنٹوں رویا کرتی ہوں۔ آپ ہنسیں گے مگر اس وقت بھی میرا جی چاہتا ہے کہ یہاں سے اٹھ بھاگوں اور اس پہاڑی کی چوٹی پر بھاگتی ہوئی چڑھ جاؤں اور پھر کودتی پھاندتی نیچے اتر جاؤں۔ میرے دل میں ہر وقت ایک بے چینی سی رہتی ہے۔ بھینس چراتی ہوں، پانی بھرتی ہوں، لکڑیاں کاٹتی ہوں۔ لیکن یہ سب کام میں اوپرے دل سے کرتی ہوں۔ میرا جی کسی کو ڈھونڈتا ہے۔ معلوم نہیں کس کو۔۔۔ میں دیوانی ہوں۔‘‘\n\nبیگو کی یہ عجیب و غریب باتیں جو درحقیقت اس کی زندگی کا ایک نہایت الجھا ہوا باب تھیں اور جسے بغور مطالعہ کرنے کے بعد سب راز حل ہو سکتے تھے، اس وقت مجھے کسی مجرم کا غیر مربوط بیان معلوم ہوئیں، بیگو اور میرے درمیان اس قدر تاریک اور موٹا پردہ حائل ہوگیا تھا کہ حقیقت کی نقاب کشائی بہت مشکل تھی۔\n\n’’تم دیوانی ہو۔‘‘ میں نے اس سے کہا، ’’کیا مردوں کے ساتھ بیٹھ کر جھاڑیوں کے پیچھے پہروں باتیں کرتے رہنا بھی اس دیوانگی ہی کی ایک شاخ ہے۔۔۔؟ بیگو، تم پگلی ہو مگر اپنے کام میں آٹھوں گانٹھ ہوشیار!‘‘\n\n’’میں باتیں کرتی ہوں، ان سے ملتی ہوں، میں نے اس سے کب انکار کیا ہے۔ ابھی ابھی میں نے آپ سے اپنے دل کی سچی بات کہی تو آپ نے مذاق اڑانا شروع کردیا اب اگرمیں کچھ اور کہوں تو اس سے کیا فائدہ ہو گا۔ آپ کبھی مانیں گے ہی نہیں۔‘‘\n\n’’نہیں، نہیں، کہو، کیا کہتی ہو، تمہارا نیا فلسفہ بھی سن لوں۔‘‘\n\n’’سُنیے پھر۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے تھکی ہوئی ہرنی کی طرح میری طرف دیکھا اور آہ بھر کربولی، ’’یہ باتیں جو میں آج آپ کو سنانے لگی ہوں میری زبان سے پہلے کبھی نہیں نکلیں۔ میں یہ آپ کو بھی نہ سناتی مگر مجبوری ہے۔ آپ عجیب و غریب آدمی ہیں۔ میں بہت سے لوگوں سے ملتی رہی ہوں۔ مگر آپ بالکل نرالے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مجھے آپ سے۔۔۔ وہ ہچکچائی، ہاں آپ سے پیار ہو گیا ہے۔ آپ نے کبھی مجھ سے غیر بات نہیں کہی۔ حالانکہ میں جس سے ملتی رہی ہوں وہ مجھ سے کچھ اور ہی کہتا تھا۔ میری اماں جانتی ہے کہ میں گھر میں ہر وقت آپ ہی کی باتیں کرتی رہتی ہوں میرا منہ تھکتا ہی نہیں۔ آپ نے نہیں کہا، پر میں نے گاہکوں کے پاس دودھ لے جانا چھوڑ دیا۔ لوگوں سے باتیں کرنا چھوڑ دیں۔ پانی بھرنے کے لیے بھی زیادہ چھوٹی بہن ہی کو بھیجتی رہی ہوں۔ آپ کے آنے سے پہلے میں لوگوں سے ملتی رہی ہوں۔ اب میں آپ کو بتاؤں کہ میں ان سے کیوں ملتی تھی۔۔۔ مجھے کوئی مرد بھی بلاتا تو میں اسی سے باتیں کرنے لگتی تھی۔ اس لیے۔۔۔ نہیں نہیں میں نہیں بتاؤں گی۔۔۔ میرا دل جو چاہتا تھا وہ ان لوگوں کے پاس نہیں تھا، میں بری نہیں، اللہ کی قسم، بے گناہ ہوں، خدا معلوم لوگ مجھے برا کیوں کہتے ہیں۔ آپ بھی مجھے بُرا کہتے ہیں۔\n\nجس طرح آپ نے آج میرے منہ پر اتنی گالیاں دی ہیں اگر آپ کے بجائے کوئی اور ہوتا تو میں اس کا منہ نوچ لیتی مگر آپ۔۔۔ اب میں کیا کہوں، میں بہت بدل گئی ہوں، آپ بہت اچھے آدمی ہیں۔ میں خیال کرتی تھی کہ آپ مجھے کچھ سکھائیں گے، مجھے اچھی اچھی باتیں بتائیں گے۔ لیکن آپ مجھ سے خواہ مخواہ لڑ رہے ہیں۔۔۔ آپ کو کیا معلوم کہ میں آپ کی کتنی عزت کرتی ہوں۔ میں نے آپ کے سامنے کبھی گالی نہیں دی۔ حالانکہ ہمارے گھر سارا دن گالی گلوچ ہوتی رہتی ہے۔‘‘\n\nمیری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے ڈاکٹر صاحب! اس پہاڑی لڑکی کی گفتگو کس قدر سادہ تھی۔ مگر افسوس ہے کہ اس وقت میرے کانوں میں روئی ٹھنسی ہوئی تھی۔ اس کے ہر لفظ سے مجھے عصمت فروشی کی بو آرہی تھی۔ میں کچھ نہ سمجھ سکا۔\n\n’’بیگو! تم ہزار قسمیں کھاؤ۔ مگر مجھے یقین نہیں آتا۔ اب جو تمہارے جی میں آئے کرو۔ میں کل بٹوت چھوڑ کر جا رہا ہوں میں نے تم سے محبت کی، مگر تم نے اس کی قدر نہ کی۔ تم نے میرے دل کو بہت دکھ دیا ہے۔۔۔ خیر اب جاتا ہوں، مجھے اور کچھ نہیں کہنا۔‘‘\n\nمجھے جاتا دیکھ کر وہ سخت مضطرب ہوگئی اور میرا بازو پکڑ کر اور پھر اسے فوراً ڈرتے ہوئے چھوڑ کرتھرائی ہوئی آواز میں صرف اس قدر کہا، ’’آپ جارہے ہیں؟‘‘\n\nمیں نے جواب دیا، ’’ہاں جارہا ہوں تاکہ تمہارے چاہنے والوں کے لیے میدان صاف ہو جائے۔‘‘\n\n’’آپ نہ جائیے، اللہ کی قسم میرا کوئی چاہنے والا نہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھیں نمناک ہوگئیں، ’’نہ جانئے، نہ جائیے نہ۔۔۔‘‘ آخری الفاظ اس کی گلوگیر آواز میں دب گئے۔ اس کا رونا میرے دل پر کچھ اثر نہ کرسکا۔ میں چل پڑا۔ مگر اس نے مجھے بازو سے پکڑ لیا اور روتی ہوئی آواز میں کہا۔ ’’آپ خفا کیوں ہوگئے ہیں۔ میں آئندہ کسی آدمی سے بات نہ کروں گی۔ اگر آپ نے مجھے کسی مرد کے ساتھ دیکھا تو آپ اس چھڑی سے جتنا چاہیے پیٹ لیجیے گا۔ آئیے گھر چلیں۔ میں آپ کے لیے حقہ تازہ کرکے لاؤں گی۔‘‘\n\nمیں خاموش رہا اور اس کا ہاتھ چھوڑ کر پھر چل پڑا۔ اس وقت بیگو سے ایک منٹ کی گفتگو کرنا بھی مجھے گراں گزر رہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ وہ لڑکی میری نظروں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہو جائے، میں نے بمشکل دو گز کا فاصلے طے ہوگا کہ وہ میرے سامنے آکھڑی ہوئی۔ اس کے بال پریشان تھے، آنکھوں کے ڈورے سرخ اور ابھرے ہوئے تھے، سینہ آہستہ آہستہ دھڑک رہا تھا۔\n\nاس نے پوچھا، ’’کیا آپ واقعی جارہے ہیں؟‘‘\n\nمیں نے تیزی سے جواب دیا، ’’تو اور کیا جھوٹ بک رہا ہوں۔‘‘\n\n’’جائیے۔‘‘\n\nمیں نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے اشک رواں تھے اور گال آنسوؤں کی وجہ سے میلے ہورہے تھے مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب قسم کی چمک ناچ رہی تھی۔\n\n’’جائیے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ الٹے پاؤں مڑی۔ اس کا قد پہلے سے لمبا ہوگیا تھا۔\n\nمیں نے نیچے اترنا شروع کردیا۔ تھوڑی دور جا کر میں نے جھاڑیوں کے پیچھے سے رونے کی آواز سنی۔ وہ رو رہی تھی۔ وہ تھرائی ہوئی آواز ابھی تک میرے کانوں میں آرہی ہے۔ یہ ہے میری داستان ڈاکٹر صاحب، میں نے اس پہاڑی لڑکی کی محبت کو ٹھکرا دیا۔ اس غلطی کا احساس مجھے پورے دو سال بعد ہوا۔ جب میرے ایک دوست نے مجھے یہ بتایا کہ بیگو نے میرے جانے کے بعد اپنے شباب کو دونوں ہاتھوں سے لٹانا شروع کردیا اور دق کے مریضوں سے ملنے کی وجہ سے وہ خود اس کا شکار ہوگئی۔ بعد ازاں مجھے معلوم ہوا کہ اس مرض نے بالآخر اسے قبر کی گود میں سلا دیا۔۔۔ اس کی موت کا باعث میرے سوا اور کون ہو سکتا ہے۔ وہ زندگی کی شاہراہ پر اپنا راستہ تلاش کرتی تھی مگر میں اس کو بھول بھلیوں میں چھوڑ کر بھاگ آیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بھٹک گئی، میں مجرم تھا۔ چنانچہ میں نے اپنے لیے وہی موت تجویز کی جس سے وہ دوچار ہوئی۔ وہ وزن جو میں پانچ سال اپنی چھاتی پر اٹھائے پھرتا رہا ہوں، خدا کا شکر ہے کہ اب ہلکا ہوگیا ہے۔\n\nمیں مریض کی داستان خاموشی سے سنتا رہا۔ وہ بول چکا تو پھر بھی خاموش رہا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کے جذبات پررائے زنی کروں۔ چنانچہ وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ مجھے کئی مریضوں کی داستانیں سننے کا اتفاق ہوا ہے مگر یہ نہایت عجیب و غریب اور پر اثر داستان تھی۔ گو مریض بیماری کی وجہ سے ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا تھا۔ مگر حیرت ہے کہ اس نے اپنے طویل بیان کو کس طرح جاری رکھا۔\n\nصبح کے وقت میں اس کا ٹمپریچر دیکھنے کے لیے آیامگر وہ مر چکا تھا۔ سفید چادر اوڑھے وہ بڑے سکون سے سو رہا تھا۔ جب اس کو غسل دینے لگے تو ہسپتال کے ایک نوکر نے مجھے بلایا، ’’ڈاکٹر صاحب اس کی مٹھی میں کچھ ہے۔‘‘ میں نے اس کی بند مٹھی کو آدھا کھول کر دیکھا، لوہے کے دو کلپ تھے۔ اس کی بیگو کی یادگار!\n’’ان کو نکالنا نہیں، یہ اس کے ساتھ ہی دفن ہوں گے۔ میں نے غسل دینے والوں سے کہا اور دل میں غم کی ایک عجیب و غریب کیفیت لیے دفتر چلا گیا۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D9%88"} {"title": "بے اجل کام نہ اپنا کسی عنواں نکلا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے اجل کام نہ اپنا کسی عنواں نکلا\nدم تو نکلا مگر آزردۂ احساں نکلا\n\nآ گئی ہے ترے بیمار کے منہ پر رونق\nجان کیا جسم سے نکلی کوئی ارماں نکلا\n\nدل آگاہ سے کیا کیا ہمیں امیدیں تھیں\nوہ بھی قسمت سے چراغ تہ داماں نکلا\n\nدل بھی تھا منہ سے بس اک آہ نکل جانے تک\nآگ سینے میں لگا کر غم پنہاں نکلا\n\nچارہ گر ناصح مشفق دل بے صبر و قرار\nجو ملا عشق میں غم خوار وہ ناداں نکلا\n\nشکوہ منظور نہیں تذکرۂ عشق نہ چھیڑ\nکہ وہ درپردہ مرا حال پریشاں نکلا\n\nبجلیاں شاخ نشیمن پہ بچھی جاتی ہے\nکیا نشیمن سے کوئی سوختہ ساماں نکلا\n\nاب جنوں سے بھی توقع نہیں آزادی کی\nچاک داماں بھی باندازۂ داماں نکلا\n\nہائے وہ وعدۂ فردا کی مدد وقت اخیر\nہائے وہ مطلب دشوار کہ آساں نکلا\n\nشوق بیتاب کا انجام تحیر پایا\nدل سمجھتے تھے جسے دیدۂ حیراں نکلا\n\nاس نے کیا سینۂ صد چاک سے کھینچا فانیؔ\nدل میں کہتا ہوں وہ کہتا ہے کہ پیکاں نکلا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AC%D9%84_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B9%D9%86%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئے\nجتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے\n\nپنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے\nاڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے\n\nہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہے\nیاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قَسم ہوئے\n\nسختی کشانِ عشق کی پوچھے ہے کیا خبر\nوہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے\n\nتیری وفا سے کیا ہو تلافی؟ کہ دہر میں\nتیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے\n\nلکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خوں چکاں\nہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے\n\nاللہ ری تیری تندیِ خو جس کے بیم سے\nاجزائے نالہ دل میں مرے رزقِ ہم ہوئے\n\nاہلِ ہوس کی فتح ہے ترکِ نبردِ عشق\nجو پاؤں اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے\n\nنالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھے\nجو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے\n\nچھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگی\nسائل ہوئے تو عاشقِ اہلِ کرم ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%A8%DA%A9_%D8%B3%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "بے باک نہ دیکھا کوئی قاتل کے برابر", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے باک نہ دیکھا کوئی قاتل کے برابر\nشرم آنکھ میں پائی نہ گئی تل کے برابر\n\nدشمن کوئی اے یار مرا اور ترا دوست\nہوگا نہ زمانے میں مرے دل کے برابر\n\nدل متصل کوچۂ محبوب ہوا گم\nلٹنا تھا پہنچ کر مجھے منزل کے برابر\n\nکم بختیٔ واعظ ہے کہ ہو وعظ کی صحبت\nرندان قدح نوش کی محفل کے برابر\n\nہم پی گئے جو اشک قریب مژہ آیا\nکشتی ہوئی جب غرق تو ساحل کے برابر\n\nآہوں کے شرر گرد نہیں داغ جگر کے\nتابندہ ہیں اختر مہ کامل کے برابر\n\nپردہ نہ اٹھا قیس نے لیلیٰ کو نہ دیکھا\nجھونکا بھی نہ آیا کوئی محمل کے برابر\n\nمقتل میں یہ حسرت رہی اے ضعف پس ذبح\nپہنچے نہ تڑپ کر کسی بسمل کے برابر\n\nگھر تک در جاناں سے جلالؔ آئیے کیوں کر\nایک ایک قدم ہے کئی منزل کے برابر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DA%A9_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B1"} {"title": "بے برگ و نوا کی شعر خوانی معلوم", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بے برگ و نوا کی شعر خوانی معلوم\nبے دانہ و دام نکتہ دانی معلوم\nجس کی غم ناں ہی غذا ہو اس کی\nمیدان سخن میں پہلوانی معلوم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%B1%DA%AF_%D9%88_%D9%86%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%B9%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85"} {"title": "بے بلائے ہوئے جانا مجھے منظور نہیں", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے بلائے ہوئے جانا مجھے منظور نہیں\nان کا وہ طور نہیں میرا یہ دستور نہیں\n\nلن ترانی کے یہ معنی ہیں بجا ہے دعویٰ\nدیکھے بے پردہ تجھے کوئی یہ مقدور نہیں\n\nوہ کہاں تاج کہاں تخت کہاں مال و منال\nقابل اب بھیک کے بھی کاسۂ فغفور نہیں\n\nبے عبادت نہ خدا بخشے گا سبحان اللہ\nایسی فردوس سے ہم گزرے کہ مزدور نہیں\n\nمیں وہ مے کش ہوں نہ رکھوں کبھی بھولے سے قدم\nکوئی کہہ دے یہ اگر خلد میں انگور نہیں\n\nدم بہ دم اٹھتے ہیں طوفان جو برقؔ اشکوں کے\nنوح کا وقت نہیں آنکھ ہے تنور نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بے تاب پاس شمع کے پروانہ آ گیا", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے تاب پاس شمع کے پروانہ آ گیا\nکیا بات ہے کہ ہوش میں دیوانہ آ گیا\n\nساقی کی بارگاہ میں توبہ ہوئی قبول\nخود ڈھونڈھتا ہوا مجھے مے خانہ آ گیا\n\nسجدوں کا میرے ناز اٹھانے کے واسطے\nکعبے کے سامنے در جانانہ آ گیا\n\nدامن کو میرے دیکھ کے حسرت کے ہاتھ میں\nیاد ان کو اپنا لطف کریمانہ آ گیا\n\nمجھ کو مرے سوال پہ بخشا ہے دو جہاں\nاب اعتبار طرز فقیرانہ آ گیا\n\nتھی شیخ و برہمن کی مے و انگبیں پہ بحث\nاتنے میں بڑھ کے کیفیؔ دیوانہ آ گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بے تابئ دل نے زار پا کر", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے تابئ دل نے زار پا کر\nدے دے پٹکا اٹھا اٹھا کر\n\nگھر میں دعویٰ نہ حسن کا کر\nیوسف سے نکل کے سامنا کر\n\nزلفوں کو نہ چھوڑ تو بڑھا کر\nنازک ہے گرے گا جھونک کھا کر\n\nبیٹھے جو وہ شب نقاب اٹھا کر\nبجھنے لگی شمع جھلملا کر\n\nبرباد نہ کر تو آبرو کو\nمانند حباب سر اٹھا کر\n\nاس گل کی مژہ نے مار ڈالا\nکانٹے کی طرح سکھا سکھا کر\n\nبے تابئ دل اگر دکھاؤں\nبجلی رہ جائے تلملا کر\n\nسفاک نے بند بند کاٹا\nچوٹیں ماریں جھکا جھکا کر\n\nاللہ رے سوزش دل اے یار\nمارا کس آگ میں جلا کر\n\nپیرے کوئی خاک بحر غم میں\nآخر ڈوبا میں ڈھب ڈھبا کر\n\nپھبتی کہتی ہیں ابر تر کے\nاچھی سوجھی مجھے رلا کر\n\nوہ مست ہیں عرش پر ٹکے ہاتھ\nنشہ میں گرے جو لڑکھڑا کر\n\nگرد غم نے زمیں جھکائی\nچھوڑا مجھے خاک میں ملا کر\n\nبوسے کے سوال پر وہ بگڑے\nمنہ کی کھائی زباں ہلا کر\n\nنالہ کوئی بن پڑا جو ہم سے\nافلاک کو رکھ دیا مٹا کر\n\nخوف دوزخ سے کانپتا ہوں\nساقی مجھے جام دے تپا کر\n\nوہ نزع میں حال سن کے روئے\nکام آئی زباں لڑکھڑا کر\n\nقصہ دل سے اٹھا دوئی کا\nپرچھا ہو جائے فیصلہ کر\n\nجب کوچ کیا صباؔ عدم کو\nرہ جائیں گے یار خاک اڑا کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%A6_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%92_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "بے ترے جان نہ تھی جان مری جان کے بیچ", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے ترے جان نہ تھی جان مری جان کے بیچ\nآن کر پھر کے جلایا تو مجھے آن کے بیچ\n\nایک دن ہاتھ لگایا تھا ترے دامن کو\nاب تلک سر ہے خجالت سے گریبان کے بیچ\n\nتو نے دیکھا نہ کبھی پیار کی نظروں سے مجھے\nجی نکل جائے گا میرا اسی ارمان کے بیچ\n\nآج عاشق کے تئیں کیوں نہ کہے تو در در\nواسطہ یہ ہے کہ موتی ہے ترے کان کے بیچ\n\nہوئی زباں لال ترے ہاتھ سے کھا کے بیڑا\nکیا فسوں پڑھ کے کھلایا تھا مجھے پان کے بیچ\n\nکچھ تو مجنوں کو حلاوت ہے وہاں دیوانو\nچھوڑ شہروں کو جو پھرتا ہے بیابان کے بیچ\n\nدیکھ حاتمؔ کو بھلا تو نے برا کیوں مانا\nکیا خلل اس نے کیا آ کے تری شان کے بیچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%86"} {"title": "بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے\nنقد دل موجود ہے پھر کیوں نہ سودا لیجئے\n\nدل تو پہلے لے چکے اب جان کے خواہاں ہیں آپ\nاس میں بھی مجھ کو نہیں انکار اچھا لیجئے\n\nپاؤں پکڑ کر کہتی ہے زنجیر زنداں میں رہو\nوحشت دل کا ہے ایما راہ صحرا لیجئے\n\nغیر کو تو کر کے ضد کرتے ہیں کھانے میں شریک\nمجھ سے کہتے ہیں اگر کچھ بھوک ہو کھا لیجئے\n\nخوش نما چیزیں ہیں بازار جہاں میں بے شمار\nایک نقد دل سے یارب مول کیا کیا لیجئے\n\nکشتہ آخر آتش فرقت سے ہونا ہے مجھے\nاور چندے صورت سیماب تڑپا لیجئے\n\nفصل گل کے آتے ہی اکبرؔ ہوئے بے ہوش آپ\nکھولیے آنکھوں کو صاحب جام صہبا لیجئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AA%DA%A9%D9%84%D9%81_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%82_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%86%D9%84%DB%92%D9%BE%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "بے جا نوازشات کا بار گراں نہیں", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے جا نوازشات کا بار گراں نہیں\nمیں خوش ہوں اس لیے کہ کوئی مہرباں نہیں\n\nآغوش حادثات میں پائی ہے پرورش\nجو برق پھونک دے وہ مرا آشیاں نہیں\n\nکیوں ہنس رہے ہیں راہ کی دشواریوں پہ لوگ\nہوں بے وطن ضرور مگر بے نشاں نہیں\n\nگھبرائیے نہ گردش ایام سے ہنوز\nترتیب فصل گل ہے یہ دور خزاں نہیں\n\nکچھ برق سوز تنکے مجھے چاہئیں شکیبؔ\nجھک جائیں گل کے بار سے وہ ڈالیاں نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2%D8%B4%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بے جا نہیں مدح شہ میں غرا میرا", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بے جا نہیں مدح شہ میں غرا میرا\nبھرتی سے کلام ہے معرا میرا\nمرغان خوش الحان چمن بولیں کیا\nمر جاتے ہیں سن کے روزمرا میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%B4%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D8%B1%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "بے جا ہے رہ عشق میں اے دل گلۂ پا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے جا ہے رہ عشق میں اے دل گلۂ پا\nیہ اور ہی منزل ہے نہیں مرحلۂ پا\n\nہنگام خرام اس کے ہجوم دل عشاق\nغش کردہ ہیں ٹھوکر کے بہر فاصلۂ پا\n\nکل بوسۂ پا ہم نے لیا تھا سو نہ آیا\nشاید کہ وہ بوسہ ہی ہوا آبلۂ پا\n\nاس پا کی رہ رشک میں نازک قدموں کے\nپھرتے ہیں بھٹکتے ہوئے سو قافلۂ پا\n\nسو ناز سے ٹھوکر بہ سر عرش لگانا\nاس گل کے سوا کس کا ہے یہ حوصلۂ پا\n\nگلبرگ پہ رکھتے ہی قدم ہنس کے جو کھینچا\nشاید ہوئی سختی سے رگ گل خلۂ پا\n\nدل سے رہ دل بستگی کب طے ہو نظیرؔ آہ\nوہ زلف مسلسل جو نہ ہو سلسلۂ پا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B1%DB%81_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%AF%D9%84%DB%82_%D9%BE%D8%A7"} {"title": "بے جُرأتِ رِندانہ ہر عشق ہے رُوباہی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "بے جُرأتِ رِندانہ ہر عشق ہے رُوباہی\nبازُو ہے قوی جس کا، وہ عشق یدُاللّٰہی\nجو سختیِ منزل کو سامانِ سفر سمجھے\nاے وائے تن آسانی! ناپید ہے وہ راہی\nوحشت نہ سمجھ اس کو اے مَردکِ میدانی!\nکُہسار کی خلوَت ہے تعلیمِ خود آگاہی\nدُنیا ہے روایاتی، عُقبیٰ ہے مناجاتی\nدر باز دو عالم را، این است شہنشاہی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AC%D9%8F%D8%B1%D8%A3%D8%AA%D9%90_%D8%B1%D9%90%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%8F%D9%88%D8%A8%D8%A7%DB%81%DB%8C"} {"title": "بے خودی میں عجب مزا دیکھا", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "بے خودی میں عجب مزا دیکھا\nسر مخفی کو برملا دیکھا\n\nآپ ہی گل ہی آپ ہی بلبل\nاس کو ہر رنگ آشنا دیکھا\n\nکہتا ہے آپ سمجھے بھی ہے آپ\nاس کو ہر شے میں خود نما دیکھا\n\nصورت قیس میں ہوا مجنوں\nشکل لیلیٰ میں خوش نما دیکھا\n\nآپ ہی بن کے عیسیٰ اور مردہ\nآپ ہی آپ کو جلا دیکھا\n\nہو بر افروختہ بہ صورت شمع\nشکل پروانہ میں جلا دیکھا\n\nساغر بے خودی سے ہو سرشار\nہم نے ہر شے میں اب خدا دیکھا\n\nعالم عشق میں کہیں کیا ہم\nجلوۂ حسن جا بجا دیکھا\n\nفیض خادم صفی سے اے آثمؔ\nاس کو دیکھا جسے نہ تھا دیکھا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D8%B2%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "بے خودی پہ تھا فانیؔ کچھ نہ اختیار اپنا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے خودی پہ تھا فانیؔ کچھ نہ اختیار اپنا\nعمر بھر کیا ناحق ہم نے انتظار اپنا\n\nتاب ضبط غم نے بھی دے دیا جواب آخر\nان کے دل سے اٹھتا ہے آج اعتبار اپنا\n\nعشق زندگی ٹھہرا لیکن اب یہ مشکل ہے\nزندگی سے ہوتا ہے عہد استوار اپنا\n\nشکوہ برملا کرتے خیر یہ تو کیا کرتے\nہاں مگر جو بن پڑتا شکوہ ایک بار اپنا\n\nغم ہی جی کا دشمن تھا غم سے دور رہتے تھے\nغم ہی رہ گیا آخر ایک غم گسار اپنا\n\nلے گیا چمن کو بھی موسم بہار آ کر\nاب قفس کا گوشہ ہے حاصل بہار اپنا\n\nجھوٹ ہی سہی وعدہ کیوں یقیں نہ کر لیتے\nبات دل فریب ان کی دل امیدوار اپنا\n\nانقلاب عالم میں ورنہ دیر ہی کیا تھی\nان کے آستاں تک تھا خیر سے غبار اپنا\n\nدل ہے مضطرب فانیؔ آنکھ محو حیرت ہے\nدل نے دے دیا شاید آنکھ کو قرار اپنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%81%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%94_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "بے خودی ہے حسرتوں کی بھیڑ چھٹ جانے کے بعد", "poet_page": "مصنف:راغب بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے خودی ہے حسرتوں کی بھیڑ چھٹ جانے کے بعد\nآپ ہی گم ہو گئے ہم راستہ پانے کے بعد\n\nمیں ہوں وہ شعلہ بھڑکتا ہے جو بجھ جانے کے بعد\nمیں ہوں ایسا پھول کھلتا ہے جو مرجھانے کے بعد\n\nمل گئے ہم خاک میں پردے کے اٹھ جانے کے بعد\nکچھ نظر آنے سے پہلے کچھ نظر آنے کے بعد\n\nکس طرح جلوے کو دیکھا دیکھ کر کیا ہو گیا\nدیکھنے والوں کو دیکھو جلوہ دکھلانے کے بعد\n\nموت ہے جس کی سزا یہ زندگی ہے وہ گناہ\nان بلاؤں سے ملے گا امن مر جانے کے بعد\n\nیوں تو پردے ہی میں رہتی ہے تمہیں سب کی خبر\nکاش دیکھو پردے سے باہر نکل آنے کے بعد\n\nدیکھ کر مایوس دل کو دیکھتا ہوں سوئے عرش\nلا مکاں ہی سوجھتا ہے ایسے ویرانے کے بعد\n\nچھوڑ کر طوف حرم ہے کیا پشیمانی مجھے\nگردش قسمت میں اپنے آپ آ جانے کے بعد\n\nان کے روضے سے مجھے کیوں لے چلی ہے سوئے خلد\nاے اجل کیوں کر جیوں گا اس کے چھٹ جانے کے بعد\n\nکیا ہو ادراک تجلی سے وہ بے خود کامیاب\nجان سے جانا ہوں جس کو ہوش میں آنے کے بعد\n\nہائے یہ اپنی جوانی اور یہ بخت سیاہ\nیہ اندھیری کوٹھری پھر رات ہو جانے کے بعد\n\nتو نے اے ساقی کیا اندازۂ مستی غلط\nیوں ہی دیتا جا مجھے پیمانہ پیمانے کے بعد\n\nمرگ پر آمادہ تیری سرد مہری نے کیا\nنیند مجھ کو آ گئی ٹھنڈی ہوا کھانے کے بعد\n\nجذب الفت ہی سے پیدا ہوتی ہے شکل کشش\nورنہ کیوں جذب نظر ہو کچھ نظر آنے کے بعد\n\nاپنے جلوہ کے کرشمے یہ مرا ذوق نگاہ\nتم ذرا دیکھو مری آنکھوں میں پھر جانے کے بعد\n\nوہ عطائے اول ساقی بھی راغبؔ خوب تھی\nہم نے لاکھوں خم چڑھائے ایک پیمانے کے بعد", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%DA%91_%DA%86%DA%BE%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "بے خوف غیر دل کی اگر ترجماں نہ ہو", "poet_page": "مصنف:محمد علی جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے خوف غیر دل کی اگر ترجماں نہ ہو\nبہتر ہے اس سے یہ کہ سرے سے زباں نہ ہو\n\nہوں بے ہراس یہ مجھے رکھیں کسی جگہ\nڈر ہو وہاں کہ تیری حکومت جہاں نہ ہو\n\nاک تو جو مہرباں ہو تو ہر اک ہو مہرباں\nاور یوں نہ ہو بلا سے کوئی مہرباں نہ ہو\n\nہم کو تو ایک تجھ سے دو عالم میں ہے غرض\nسب بدگماں ہوا کریں تو بدگماں نہ ہو\n\nدیر و حرم میں ڈھونڈ کے سب تھک گئے اسے\nاب کون کہہ سکے کہ کہاں ہو کہاں نہ ہو\n\nکرنا ہی تھا حرام تو پھر وعدہ کس لیے\nیہ کیا کہ مے حلال وہاں ہو یہاں نہ ہو\n\nہمت نہ ہار دے کوئی منزل کے سامنے\nپروردگار یوں بھی کوئی ناتواں نہ ہو\n\nملنے تو پھر چلے ہو مشیخت پناہ سے\nقشقہ کا دیکھو آج جبیں پر نشاں نہ ہو\n\nجوہرؔ اس ایک دل کے لیے اتنے مشغلے\nکی ہے خدا کی چاہ تو عشق بتاں نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D9%81_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%D8%AC%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "بے درد ہو کیا جانو مصیبت کے مزے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بے درد ہو کیا جانو مصیبت کے مزے\nہیں رنج کے دم قدم سے راحت کے مزے\nدوزخ کی ہوا تو پہلے کھا لو صاحب\nکیا ڈھونڈتے ہو ابھی سے جنت کے مزے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%88_%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B2%DB%92"} {"title": "بے دلوں کی آبرو رہ جائے گی", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے دلوں کی آبرو رہ جائے گی\nدل نہ ہوگا آرزو رہ جائے گی\n\nطاقت دیدار کتنی ہی سہی\nپھر بھی تیرے روبرو رہ جائے گی\n\nڈھونڈنے والا ہی خود کھو جائے گا\nجستجو ہی جستجو رہ جائے گی\n\nخون دل کو کچھ اگر توفیق ہو\nچشم تر کی آبرو رہ جائے گی\n\nبے محابا اس کو اے ناطقؔ نہ دیکھ\nآرزوئے گفتگو رہ جائے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "بے دینوں کو مرتضیٰ نے ایماں بخشا", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بے دینوں کو مرتضیٰ نے ایماں بخشا\nدین داروں کو جنت کا گلستاں بخشا\nبخشش کا ہے خاتمہ کہ خاتم دے کر\nدرویش کو رتبہ سلیماںؔ بخشا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%B6%DB%8C%D9%B0_%D9%86%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%AE%D8%B4%D8%A7"} {"title": "بے دیے لے اڑا کبوتر خط", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے دیے لے اڑا کبوتر خط\nیوں پہنچتا ہے اوپر اوپر خط\n\nپرزے پرزے ہوا سراسر خط\nایک خط کے بنے بہتر خط\n\nقتل ہوتے ہیں نامہ بر ہر روز\nلاش پر لاش اور خط پر خط\n\nروز اک نامہ بر کہاں سے آئے\nیوں ہی رکھ چھوڑتا ہوں لکھ کر خط\n\nکیا قلم نے شرر فشانی کی\nپھلجڑی بن گیا مرا ہر خط\n\nچار ہیں گے کل ان کے ہم سایے\nلکھ کے دے آئے آج ہم سر خط\n\nجو کہ لیتے نہیں ہیں میرا نام\nوہ لکھیں گے مجھے مقرر خط\n\nکس طرح سر نوشت کو بدلوں\nخط میں مل جائے غیر کے گر خط\n\nپڑھ تو لیں گے وہ نامہ میرا بھی\nآتے رہتے ہیں اس کے اکثر خط\n\nدیکھ کر نام پھینک دیں گے ضرور\nپھر نہ لیں گے کبھی مکرر خط\n\nڈاک گھر میں ٹکٹ نہیں باقی\nناظمؔ اتنے گئے ہیں خط پر خط", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DB%92_%D9%84%DB%92_%D8%A7%DA%91%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%D9%88%D8%AA%D8%B1_%D8%AE%D8%B7"} {"title": "بے ذوق نظر بزم تماشا نہ رہے گی", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے ذوق نظر بزم تماشا نہ رہے گی\nمنہ پھیر لیا ہم نے تو دنیا نہ رہے گی\n\nایذا نہ رہے گی جو گوارا نہ رہے گی\nچھیڑا مجھے دنیا نے تو دنیا نہ رہے گی\n\nدل لے کے یہ کیا ضد ہے کہ اب جان بھی کیوں ہو\nیہ بھی نہ رہے گی بہت اچھا نہ رہے گی\n\nیہ درد محبت غم دنیا تو نہیں ہے\nاب موت بھی جینے کا سہارا نہ رہے گی\n\nایسا بھی کوئی دن مری قسمت میں ہے فانیؔ\nجس دن مجھے مرنے کی تمنا نہ رہے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%B0%D9%88%D9%82_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "بے رخ ہے وہ پری دل دیوانہ کیا کرے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے رخ ہے وہ پری دل دیوانہ کیا کرے\nرو رو کے آنکھ بھرتی ہے پیمانہ کیا کرے\n\nدست و زبان و دیدہ و دل دیتی ہیں دعا\nکرتے ہیں وہ یگانے کہ بیگانہ کیا کرے\n\nکہتا ہی مرغ دل سے وہ حال میان خط\nسبزہ جو دام ہو تو اسے دانہ کیا کرے\n\nبے بس کیا ہے مجھ کو سر زلف یار نے\nزنجیر پاؤں میں ہو تو دیوانہ کیا کرے\n\nجادو ہے آنکھ سرمہ نہ کیوں کر رہے خموش\nسرکش ہی زلف کاندھے نہ دے شانہ کیا کرے\n\nدل کو نہ داغ دیجئے بوسے کی چاٹ پر\nجو بیچتا نہ ہووے وہ بیعانہ کیا کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%B1%D8%AE_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "بے روی و زلف یار ہے رونے سے کام یاں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے روی و زلف یار ہے رونے سے کام یاں\nدامن ہے منہ پہ ابر نمط صبح و شام یاں\n\nآوازہ ہی جہاں میں ہمارا سنا کرو\nعنقا کے طور زیست ہے اپنی بہ نام یاں\n\nوصف دہن سے اس کے نہ آگے قلم چلے\nیعنی کیا ہے خامے نے ختم کلام یاں\n\nغالب یہ ہے کہ موسم خط واں قریب ہے\nآنے لگا ہے متصل اس کا پیام یاں\n\nمت کھا فریب عجز عزیزان حال کا\nپنہاں کیے ہیں خاک میں یاروں نے دام یاں\n\nکوئی ہوا نہ دست بسر شہر حسن میں\nشاید نہیں ہے رسم جواب سلام یاں\n\nناکام رہنے ہی کا تمہیں غم ہے آج میرؔ\nبہتوں کے کام ہو گئے ہیں کل تمام یاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%B1%D9%88%DB%8C_%D9%88_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "بے سبب ہاتھ کٹاری کو لگانا کیا تھا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے سبب ہاتھ کٹاری کو لگانا کیا تھا\nقتل عشاق پہ بیڑا یہ اٹھانا کیا تھا\n\nسر پہ اپنے تو نہ لے خون اب اک عالم کا\nفندق ہائے نگاریں کو دکھانا کیا تھا\n\nسر بلندی کو یہاں دل نے نہ چاہا منعم\nورنہ یہ خیمۂ افلاک پرانا کیا تھا\n\nاس لئے چین جبیں موج رہے ہے ہر دم\nاے حباب لب جو آنکھ چرانا کیا تھا\n\nساقیا اپنی بلا سے جو گھٹا اٹھی ہے\nدے کے اک جرعۂ مے دل کو گھٹانا کیا تھا\n\nسرزمیں زلف کی جاگیر میں تھی اس دل کی\nورنہ اک دام کا پھر اس میں ٹھکانا کیا تھا\n\nکہہ غزل دوسری اس بحر میں ایک اور نصیرؔ\nیک قلم لکھنے سے اب ہاتھ اٹھانا کیا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%B3%D8%A8%D8%A8_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DA%A9%D9%B9%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "بے سبب ہم سے جدائی نہ کرو", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے سبب ہم سے جدائی نہ کرو\nمجھ سے عاشق سے برائی نہ کرو\n\nخاکساراں کو نہ کریے پامال\nجگ میں فرعوں سی خدائی نہ کرو\n\nبے گناہاں کوں نہ کر ڈالو قتل\nآہ کوں تیر ہوائی نہ کرو\n\nایک دل تم سے نہیں ہے راضی\nجگ میں ہر اک سوں برائی نہ کرو\n\nمحو ہے فائزؔ شیدا تم پر\nاس سے ہر لحظہ بکھائی نہ کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%B3%D8%A8%D8%A8_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "بے سمجھے نہ جام غم پیا تھا میں نے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بے سمجھے نہ جام غم پیا تھا میں نے\nیہ کام تو جان کر کیا تھا میں نے\nانجام پہ تھی نظر جو رویا تھا بہت\nجس روز کہ تجھ کو دل دیا تھا میں نے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%BA%D9%85_%D9%BE%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92"} {"title": "بے سود ہے یہ جوش گریہ اے شمع سحر ہو جانے تک", "poet_page": "مصنف:دل شاہ جہانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے سود ہے یہ جوش گریہ اے شمع سحر ہو جانے تک\nچھینٹا ترے اشک پیہم کا پہنچا نہ کبھی پروانے تک\n\nاے اہل نظر میری ہستی سب کچھ تھی کبھی اب کچھ بھی نہیں\nزندہ ہوں مگر مہمان بقا اک سانس کے آنے جانے تک\n\nہاں غور سے اک خوددار نظر اپنے ہی گریباں پر ناصح\nکیا جانے رہے گا کس حد میں دیوانہ ترے سمجھانے تک\n\nاے خاک پریشاں کے ذرو آغوش میں تم مجھ کو لے لو\nتمکین و خودی کو ٹھکراتا پہنچا ہوں میں ویرانے تک\n\nآشفتہ نظام ہستی ہے کچھ اور نہ برہم ہو جائے\nمشاطہ فطرت کے ہاتھوں گیسوئے بتاں سلجھانے تک\n\nوعدہ ہے مگر کس عالم میں اک شوخ تغافل فطرت کا\nجب لیلئ شب کے بل کھاتے گیسو اتر آئیں شانے تک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%AF_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%81_%D8%A7%DB%92_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "بے شغل نہ زندگی بسر کر", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے شغل نہ زندگی بسر کر\nگر اشک نہیں تو آہ سر کر\n\nدے طول امل نہ وقت پیری\nہوئی صبح فسانہ مختصر کر\n\nکچھ طرفہ مرض ہے زندگی بھی\nاس سے جو کوئی چھٹا سو مر کر\n\nکعبہ کے سفر میں کیا ہے زاہد\nبن جائے تو آپ سے سفر کر\n\nکیا دیکھے ہے آئینہ کو پیارے\nایدھر بھی تو ایک دم نظر کر\n\nوہ باعث زیست شاید آ جائے\nاے جان تو جائیو ٹھہر کر\n\nفرصت ہے غنیمت آج غافل\nجو ہو سکے نفع یا ضرر کر\n\nیہ دہر ہے کارگاہ مینا\nجو پاؤں رکھے تو یاں سو ڈر کر\n\nتعمیر پہ گھر کی مر نہ اے دل\nقائمؔ کی طرح دلوں میں گھر کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%B4%D8%BA%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "بے طلب ایک قدم گھر سے نہ باہر جاؤں", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے طلب ایک قدم گھر سے نہ باہر جاؤں\nورنہ میں پھاند کے ہی سات سمندر جاؤں\n\nداستانیں ہیں مکانوں کی زبانوں پہ رقم\nپڑھ سکوں میں تو مکانوں سے بیاں کر جاؤں\n\nمیں منظم سے بھلا کیسے کروں سمجھوتا\nڈوبنے والے ستاروں سے میں کیوں ڈر جاؤں\n\nروح کیا آئے نظر جسم کی دیواروں میں\nان کو ڈھاؤں تو اس آئینے کے اندر جاؤں\n\nاور دو چار مصائب کی کسر باقی ہے\nیہ اٹھا لاؤں تو میں دنیا کے سفر پر جاؤں\n\nزہر ہے میرے رگ و پے میں محبت شاید\nاپنے ہی ڈنک سے بچھو کی طرح مر جاؤں\n\nتھک کے پتھر کی طرح بیٹھا ہوں رستے میں ظفرؔ\nجانے کب اٹھ سکوں کیا جانیے کب گھر جاؤں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%82%D8%AF%D9%85_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA"} {"title": "بے فائدہ رکھتا نہیں سر ہاتھوں پر", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بے فائدہ رکھتا نہیں سر ہاتھوں پر\nسر پر جو ہے ہاتھ اس میں ہے لطف دگر\nآقا کے سلام و نظر کی حسرت میں\nرہتا ہوں منیرؔ سر بکف و دست بسر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%81%D8%A7%D8%A6%D8%AF%DB%81_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%B1_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "بے قراروں کو کب قرار آیا", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے قراروں کو کب قرار آیا\nموت بھی آئی پر نہ یار آیا\n\nجب ہوا جسم خاک یار آیا\nگرد اٹھی تو شہسوار آیا\n\nلٹ گیا کاروان صبر و قرار\nقاصد اشک اشک بار آیا\n\nخس سے جیسے چراغ جلتا ہے\nداغ کے کام جسم زار آیا\n\nگر کوئی خاکسار خاک ہوا\nخاک اڑانے مرا غبار آیا\n\nکاسۂ چرخ واژگوں ہی رہا\nجا کے مجھ سا نہ بادہ خوار آیا\n\nزلف سے سیر روئے رنگیں کی\nدام میں موسم بہار آیا\n\nلوٹیے مثل ماہیٔ بے آب\nکہ سر تیغ آب دار آیا\n\nاس نے سو بار حال پوچھا عرشؔ\nشکوہ لب پر نہ ایک بار آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%A8_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بے لاگ ہیں ہم ہم کو رکاوٹ نہیں آتی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے لاگ ہیں ہم ہم کو رکاوٹ نہیں آتی\nکیا بات بناویں کہ بناوٹ نہیں آتی\n\nہے دھیان لگا در کی طرف پر کئی دن سے\nکانوں میں ترے پانو کی آہٹ نہیں آتی\n\nدندان ہوس سے اسے مسلہ ہے کسو نے\nبوسے سے تو لب پر یہ نلاہٹ نہیں آتی\n\nکاجل نے تری آنکھوں میں جو لطف دیا ہے\nہر ایک کے حصے یہ گھلاوٹ نہیں آتی\n\nکیا جامۂ چسپاں کا ترے وصف کروں میں\nتقریر میں کچھ اس کی سجاوٹ نہیں آتی\n\nہے رنگ سیاہی لیے جوں اس کی حنا کا\nہاتھوں پہ ہر اک کے یہ اداہٹ نہیں آتی\n\nاے مصحفیؔ بیٹھے ہیں ہم اس بزم میں خاموش\nکیا بات بناویں کہ بناوٹ نہیں آتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%84%D8%A7%DA%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D9%88%D9%B9_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C"} {"title": "بے لوث محبت کی نظر ڈھونڈ رہا ہوں", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے لوث محبت کی نظر ڈھونڈ رہا ہوں\nانجام تو ظاہر ہے مگر ڈھونڈ رہا ہوں\n\nاے دیکھنے والو مری افتاد تو دیکھو\nمیں اپنی دعاؤں میں اثر ڈھونڈ رہا ہوں\n\nجس سجدوں کی ہے عرش بریں کو بھی تمنا\nان سجدوں کے لائق کوئی در ڈھونڈ رہا ہوں\n\nخود جس نے مجھے ناز گناہوں پہ سکھایا\nیا رب وہی رحمت کی نظر ڈھونڈ رہا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%84%D9%88%D8%AB_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "بے مروت بے وفا نامہرباں نا آشنا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے مروت بے وفا نامہرباں نا آشنا\nجس کے یہ اوصاف کوئی اس سے ہو کیا آشنا\n\nتنگ ہو سائے سے اپنے جس کو ہو نا آشنا\nوہ بت وحشی طبیعت کس کا ہوگا آشنا\n\nواہ واہ اے دل بر کج فہم یوں ہی چاہئے\nہم سے ہو نا آشنا غیروں سے ہونا آشنا\n\nبد مزاجی ناخوشی آزردگی کس واسطے\nگر برے ہم ہیں تو ہو جئے اور سے جا آشنا\n\nیہ ستم یہ درد یہ غم اور الم مجھ پر ہوا\nکاش کہ تجھ سے میں اے ظالم نہ ہوتا آشنا\n\nنے ترحم نے کرم نے مہر ہے اے بے وفا\nکس توقع پر بھلا ہو کوئی تیرا آشنا\n\nآشنا کہنے کو یوں تو آپ کے ہوویں گے سو\nپر کوئی اے مہرباں ایسا نہ ہوگا آشنا\n\nخیر خواہ و مخلص و فدوی جو کچھ کہئے سو ہوں\nعیب کیا ہے گر رہے خدمت میں مجھ سا آشنا\n\nآشنائی کی توقع کس سے ہو بیدارؔ پھر\nہو گیا بیگانہ جب ایسا ہی اپنا آشنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%85%D8%B1%D9%88%D8%AA_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%A7_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7"} {"title": "بے مہر و وفا ہے وہ دل آرام ہمارا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے مہر و وفا ہے وہ دل آرام ہمارا\nکیا جانے کیا ہووے گا انجام ہمارا\n\nکیا قہر ہے اوروں سے وہ ملتا پھرے ظالم\nاور مفت میں اب نام ہے بد نام ہمارا\n\nاے آب دم تیغ ستم کیش بجھا پیاس\nہوتا ہے تری چاہ میں اب کام ہمارا\n\nلبریز کر اس دور میں اے ساقیٔ کم ظرف\nمت رکھ مئے گلگوں سے تہی جام ہمارا\n\nکس طرح نکل بھاگوں میں اب آنکھ بچا کر\nصد چشم سے یاں ہے نگراں دام ہمارا\n\nیہ زلف و رخ یار ہے اے شیخ و برہمن\nباللہ یہاں کفر اور اسلام ہمارا\n\nبیعت کا ارادہ ہے ترے سلسلے میں جوں\nشانہ ہے اب اے زلف سیہ فام ہمارا\n\nاس شوخ تلک کوئی نہ پہنچا سکا ہمدم\nجز حقہ یہاں بوسہ بہ پیغام ہمارا\n\nکیا کہئے کس انداز سے شرمائے ہے وہ شوخ\nتقریباً اگر لے ہے کوئی نام ہمارا\n\nصیاد سے کہتے تھے کہ بے بال و پری میں\nآزاد نہ کر بد ہے کچھ انجام ہمارا\n\nپرواز کی طاقت نہیں یاں تا سر دیوار\nکیوں کر ہو پہنچنا بہ لب بام ہمارا\n\nاس عشق میں جیتے نہیں بچنے کے نصیرؔ آہ\nہو جائے گا اک روز یوں ہی کام ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D9%88_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "بے مہر کہتے ہو اسے جو بے وفا نہیں", "poet_page": "مصنف:میر تسکینؔ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے مہر کہتے ہو اسے جو بے وفا نہیں\nسچ ہے کہ بے وفا ہوں میں تم بے وفا نہیں\n\nعقدہ جو دل میں ہے مرے ہونے کا وا نہیں\nجب تک کہ آپ کھولتے زلف دوتا نہیں\n\nعیاری دیکھنا جو گلے ملنے کو کہو\nکہتا ہے میں تو تم سے ہوا کچھ خفا نہیں\n\nاشکوں کے ساتھ قطرۂ خوں تھا نکل گیا\nسینے میں سے تو دل کو کوئی لے گیا نہیں\n\nجلتا ہے سادہ لوحی پہ کیا اپنی جی مرا\nدل لے کے اب جو بات وہ کرتا ذرا نہیں\n\nوہ پر خطر ہے وادئ الفت کہ راہ میں\nکہتے ہیں خضر ہائے کوئی رہنما نہیں\n\nکرتا ہوں تیری زلف سے دل کا مبادلہ\nہر چند جانتا ہوں یہ سودا برا نہیں\n\nکیسے وہ تلخ تر ہیں مرے شور عشق سے\nقسمت سے اپنا چاہنے میں بھی مزا نہیں\n\nجوش جنوں میں سر پہ اڑائیں کہاں سے خاک\nدل کیا گیا غبار ہی جی میں رہا نہیں\n\nدیکھوں تو لے ہے جان ملک الموت کس طرح\nتم وقت مرگ پاس سے اٹھنا ذرا نہیں\n\nتسکیںؔ نے نام لے کے ترا وقت مرگ آہ\nکیا جانے کیا کہا تھا کسی نے سنا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بے نیاز ہر تمنا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے نیاز ہر تمنا ہو گیا\nعشق میں اب حسن پیدا ہو گیا\n\nدرد دل خود ہی مسیحا ہو گیا\nمر گیا بیمار اچھا ہو گیا\n\nدل میں کوئی تو ادائے خاص تھی\nجلوہ خود محو تماشا ہو گیا\n\nاے نگاہ لطف پردہ چاہیے\nسوز دل ساز تمنا ہو گیا\n\nمیری خاموشی فسانہ بن گئی\nخود لب خاموش گویا ہو گیا\n\nپائمالی میں نہاں تھی زندگی\nدل مٹا مٹ کر تمنا ہو گیا\n\nسامنے ہیں اور نظر آتے نہیں\nجلوہ خود آنکھوں کا پردہ ہو گیا\n\nاس ادا سے آج اٹھی وہ نظر\nمیں بھری محفل میں رسوا ہو گیا\n\nمسکرا کر تم نے کیوں دیکھا مجھے\nبجلیوں کو اک بہانہ ہو گیا\n\nاس طرح جلوہ دکھاتے ہیں کہیں\nہر تماشائی تماشا ہو گیا\n\nہو گئی خاموش شمع زندگی\nختم سب دل کا فسانہ ہو گیا\n\nجو گرا دامن پہ آنسو اے منیرؔ\nآئنہہ دار تمنا ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D8%B1_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بے وجہ دل جلوں کو جلانے سے کیا غرض", "poet_page": "مصنف:احمد شاہ خاں شبنم", "kind": "poetry", "section": "غزل > گلدستۂ لطافت (1936)", "year": "1936", "text_ur": "بے وجہ دل جلوں کو جلانے سے کیا غرض\nمطلب ہی جب نہیں تو ستانے سے کیا غرض\n\nتم سے بگڑ گئی تو جہاں سے بگڑ گئی\nتم سے غرض نہیں تو زمانے سے کیا غرض\n\nمنظور اگر نہیں کشش عشق دیکھنا\nکھینچے سے کیا غرض ہے نہ آنے سے کیا غرض\n\nجب تم کو واسطہ ہی نہیں کچھ رقیب سے\nپھر روز اس کی بزم میں جانے سے کیا غرض\n\nشبنمؔ کی طرح کون ہو نالاں شب فراق\nہم کو کسی کی نیند اڑانے سے کیا غرض", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%88%D8%AC%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D8%B1%D8%B6"} {"title": "بے وجہ نئیں ہے آئنہ ہر بار دیکھنا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے وجہ نئیں ہے آئنہ ہر بار دیکھنا\nکوئی دم کو پھولتا ہے یہ گل زار دیکھنا\n\nنرگس کی طرح خاک میری اگیں ہیں چشم\nٹک آن کے یہ حسرت دیدار دیکھنا\n\nکھینچے تو تیغ ہے حرم دل کے صید پر\nاے عشق پر بھلا تو مجھے مار دیکھنا\n\nہے نقص جان دید ترا پر یہی ہے دھن\nجی جاؤ یار ہو مجھے یک بار دیکھنا\n\nاے طفل اشک ہے فلک ہفتمیں پہ عرش\nآگے قدم نہ رکھیو تو زنہار دیکھنا\n\nپوچھے خدا سبب جو مرے اشتیاق کا\nمیری زباں سے ہو یہی اظہار دیکھنا\n\nہر نقش پا پہ تڑپے ہے یارو ہر ایک دل\nٹک واسطے خدا کے یہ رفتار دیکھنا\n\nکرتا تو ہے تو آن کے سوداؔ سے اختلاط\nکوئی لہر آ گئی تو مرے یار دیکھنا\n\nتجھ بن عجب معاش ہے سوداؔ کا ان دنوں\nتو بھی ٹک اس کو جا کے ستم گار دیکھنا\n\nنے حرف و نے حکایت و نے شعر و نے سخن\nنے سیر باغ و نے گل و گلزار دیکھنا\n\nخاموش اپنے کلبۂ احزاں میں روز و شب\nتنہا پڑے ہوئے در و دیوار دیکھنا\n\nیا جا کے اس گلی میں جہاں تھا ترا گزر\nلے صبح تا بہ شام کئی بار دیکھنا\n\nتسکین دل نہ اس میں بھی پائی تو بہر شغل\nپڑھنا یہ شعر گر کبھو اشعار دیکھنا\n\nکہتے تھے ہم نہ دیکھ سکیں روز ہجر کو\nپر جو خدا دکھائے سو ناچار دیکھنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%88%D8%AC%DB%81_%D9%86%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "بے وجہ نہیں گرد پریشاں پس محفل", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے وجہ نہیں گرد پریشاں پس محفل\nآتا ہے کوئی بے سر و ساماں پس محفل\n\nاز بس کشش عشق سے آگاہ تھی لیلیٰ\nتھی دیکھتی وہ فتنۂ دوراں پس محفل\n\nکس سوختہ کی خاک سے اٹھا ہے بگولا\nاک شعلۂ جوالہ ہے پیچاں پس محفل\n\nفکر قدم ناقہ ہوا قیس کو پیدا\nدیکھا جو ہیں صحرائے مغیلاں پس محفل\n\nاے ناقہ کش اتنی بھی نہ تو تیز روی کر\nمجنوں ز خود و رفتہ ہے نالاں پس محفل\n\nشاید میں اسے دیکھوں ہوسؔ با لب خنداں\nجاتا ہوں اس امید پہ گریاں پس محفل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%88%D8%AC%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B3_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84"} {"title": "بے وفا تجھ سے کچھ گلا ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے وفا تجھ سے کچھ گلا ہی نہیں\nتو تو گویا کہ آشنا ہی نہیں\n\nیا خدا پاس یا بتاں کے پاس\nدل کبھو اپنے ہاں رہا ہی نہیں\n\nدل سے جو چاہئے سو باندھئے بات\nمیں نے واللہ کچھ کہا ہی نہیں\n\nتیرے کوچہ سے آہ جانے کو\nدل نہیں یا کہ اپنے پا ہی نہیں\n\nیاں تغافل میں اپنا کام ہوا\nتیرے نزدیک یہ جفا ہی نہیں\n\nنامے بلبل نے گو ہزار کئے\nایک بھی گل نے پر سنا ہی نہیں\n\nکچھ نہ ہوتا اثرؔ اثر اس کو\nبھلے کو نالہ تو کیا ہی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%AF%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بے وفا کہنے سے کیا وہ بے وفا ہو جائے گا", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے وفا کہنے سے کیا وہ بے وفا ہو جائے گا\nتیرے ہوتے اس صفت کا دوسرا ہو جائے گا\n\nشرط کر لو پھر مجھے برباد ہونا بھی قبول\nخاک میں مل کر تو حاصل مدعا ہو جائے گا\n\nسر نہ ہوگا دوش پر تو کیا نہ ہوگی گفتگو\nہچکیوں سے شکر قاتل کا ادا ہو جائے گا\n\nسینہ توڑا دل میں چٹکی لی جگر زخمی کیا\nکیا خبر تھی تیر بھی تیری ادا ہو جائے گا\n\nمیرے کہنے میں ہے دل جب تک مرے پہلو میں ہے\nآپ لے لیجے اسے یہ آپ کا ہو جائے گا\n\nساتھ ان کے جان بھی ارمان بھی جائیں گے آج\nصبح سے پہلے روانہ قافلہ ہو جائے گا\n\nمیں ملوں تلووں سے آنکھیں وہ کہیں سمجھوں گا میں\nیاد رکھ پھیکا اگر رنگ حنا ہو جائے گا\n\nپھر وہی جھگڑے کا جھگڑا ہے اگر قم کہہ دیا\nتیغ کا منسوخ سارا فیصلا ہو جائے گا\n\nکس خوشی میں ہائے کیسا رنج پھیلا کیا کروں\nکیا خبر تھی ہنستے ہنستے وہ خفا ہو جائے گا\n\nحشر تک کیوں بات جائے کیوں پڑے غیروں کے منہ\nگھر میں سمجھوتا ہمارا آپ کا ہو جائے گا\n\nآنکھ سے ہے وصل کا اقرار دل دگدا میں ہے\nتم زباں سے اپنی کہہ دوگے تو کیا ہو جائے گا\n\nظلم سے گر ذبح بھی کر دو مجھے پروا نہیں\nلطف سے ڈرتا ہوں یہ میری قضا ہو جائے گا\n\nاس نے چھیڑا تھا مجھے تم جان دوگے کب ہمیں\nکہہ دیا میں نے بھی جب وعدہ وفا ہو جائے گا\n\nیوں سوال وصل پر ٹالا کیا برسوں کوئی\nصبر کر مضطر نہ ہو تیرا کہا ہو جائے گا\n\nلاکھ دنیا میں حسیں ہوں لاکھ حوریں خلد میں\nمجھ کو جو تو ہے وہ کوئی دوسرا ہو جائے گا\n\nتوبہ بھی کر لی تھی یہ بھی نشہ کی تھی اک ترنگ\nآپ سمجھے تھے کہ بیخودؔ پارسا ہو جائے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "بے وفا گو ملے نہ تو مجھ کو", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے وفا گو ملے نہ تو مجھ کو\nبس ہے تیری یہ آرزو مجھ کو\n\nگردش چرخ سے نہیں پردا\nسر پہ چہیے وہ خاک کو مجھ کو\n\nزاہدا ہے مری نماز نیاز\nخون دل رونا ہے وضو مجھ کو\n\nناصحا جا کہ ذکر عشق سوا\nخوش نہیں آتی گفتگو مجھ کو\n\nبن رہا ہوں میں عشق کا مظلوم\nنہ ستا اے رقیب تو مجھ کو\n\nتجھ سے چاہوں ہوں ناز برداری\nہو گئی کچھ تری سی خو مجھ کو\n\nصحبت غیر سے ہوا مکروہ\nبیٹھنا تیرے روبرو مجھ کو\n\nتجھ سے محروم یوں رہوں صد حیف\nکیا کیا دل میں تھیں آرزو مجھ کو\n\nیار ہرجائی نے کیا حسرتؔ\nدر بدر اور کو بہ کو مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%AF%D9%88_%D9%85%D9%84%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "بے وقت جو گھر سے وہ مسیحا نکل آیا", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے وقت جو گھر سے وہ مسیحا نکل آیا\nگھبرا کے مرے منہ سے کلیجہ نکل آیا\n\nمدفون ہوا زیر زمیں کیا کوئی وحشی\nکیوں خاک سے گھبرا کے بگولا نکل آیا\n\nآئینہ میں منہ دیکھ کے مغرور ہوئے آپ\nدو شکلوں سے کیسا یہ نتیجہ نکل آیا\n\nزخمی جو کیا تم نے کھلے عشق کے اسرار\nجو کچھ کہ مرے دل میں نہاں تھا نکل آیا\n\nٹھکرانے لگے دل کو تو برپا ہوئے طوفاں\nقطرہ جو ہٹانے لگے دریا نکل آیا\n\nاب رک نہیں سکتی ہے منیرؔ آہ جگر سوز\nدم گھٹنے لگا منہ سے کلیجہ نکل آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B3%DB%8C%D8%AD%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں\nاکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا\nپوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا\nکہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D8%A8%DB%8C%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کی", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کی\nشاید کہ ہوئی کارگر اب آہ کسو کی\n\nاس چشم کا غمزہ جو کرے قتل دو عالم\nگوشے کو نگہ کے نہیں پرواہ کسو کی\n\nزلفوں کی سیاہی میں کچھ اک دام تھے اپنے\nقسمت کہ ہوئی رات وہ تنخواہ کسو کی\n\nکیا مصرف بے جا سے فلک کو ہے سروکار\nوہ شے کسو کو دے جو ہو دل خواہ کسو کی\n\nدنیا سے گزرنا ہی عجب کچھ ہے کہ جس میں\nکوئی نہ کبھو روک سکے راہ کسو کی\n\nچھینے سے غم عشق شکیبائی و آرام\nاے دل یہ پڑی لٹتی ہے بنگاہ کسو کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%DA%86%DB%8C%D9%86_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B3%D9%88_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "بے کار نہ وقت کو گزارو یارو", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بے کار نہ وقت کو گزارو یارو\nیوں سست پڑے پڑے نہ ہمت ہارو\nبرسات کی فصل میں ہے ورزش لازم\nکچھ بھی نہ کرو تو مکھیاں ہی مارو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D9%88%D9%82%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88"} {"title": "بے کسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے کسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہا\nاک دل غم خوار رکھتے تھے سو گلشن میں رہا\n\nپنجۂ گل کی طرح دیوانگی میں ہاتھ کو\nگر نکالا میں گریباں سے تو دامن میں رہا\n\nشمع ساں جلتے رہے لیکن نہ توڑا یار سے\nرشتۂ الفت تمامی عمر گردن میں رہا\n\nڈر سے اس شمشیر زن کے جوہر آئینہ ساں\nسر سے لے کر پاؤں تک میں غرق آہن میں رہا\n\nہم نہ کہتے تھے کہ مت دیر و حرم کی راہ چل\nاب یہ دعویٰ حشر تک شیخ و برہمن میں رہا\n\nدرپئے دل ہی رہے اس چہرے کے خال سیاہ\nڈر ہمیں ان چونٹوں کا روز روشن میں رہا\n\nآہ کس انداز سے گزرا بیاباں سے کہ میرؔ\nجی ہر اک نخچیر کا اس صید افگن میں رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AC%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D9%88%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "بے کسی میں اثر یگانہ ہے", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے کسی میں اثر یگانہ ہے\nدل بھی اس کا نہیں بیگانہ ہے\n\nغرض آئینہ داری دل سے\nتیرا جلوہ تجھے دکھانا ہے\n\nمثل نقش قدم میں جب تئیں ہوں\nآنکھیں ہیں اور یہ آستانا ہے\n\nیہی تار نفس کی آمد و شد\nجامۂ تن کا تانا بانا ہے\n\nگلے ملنا نہ گو کہ ہاتھ لگے\nلیک منظور دل ملانا ہے\n\nنام عنقا نشان تیرے کا\nجوں نگیں دل میں آشیانا ہے\n\nدوست دشمن سبھی ہوئے ہیں تیرے\nکیا برائی کا اب زمانا ہے\n\nدل گم گشتہ کو میں ڈھونڈوں کہاں\nنہ کہیں ٹھور نے ٹھکانا ہے\n\nہے دیوانہ بہ کار خود ہشیار\nیہ نہ سمجھو اثرؔ دیوانا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "بے کسی نے گھر بنایا میرے گھر کے سامنے", "poet_page": "مصنف:عبد الہادی وفا", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وفا (1923)", "year": "1923", "text_ur": "بے کسی نے گھر بنایا میرے گھر کے سامنے\nرو رہا ہوں بیٹھ کر دیوار و در کے سامنے\n\nبسکہ نیرنگ تغافل تھا نظر کے سامنے\nموت بھی کھوئی گئی کیا بنجر کے سامنے\n\nعبرت واماندگاں ہوں حسرت وارفتگاں\nاک طرف بیٹھا ہوا ہوں رہ گزر کے سامنے\n\nشوق رسوائی کو بھی خاکہ اڑانا تھا ضرور\nحشر اک تصویر عکسی ہے نظر کے سامنے\n\nبخت بد نے فتنۂ روز جزا کے پردہ میں\nآئنہ رکھا جنون بے خبر کے سامنے\n\nعمر بڑھتی ہے فریب آرزو کی یاد میں\nآرزو مٹتی ہے اس بیداد گر کے سامنے\n\nہوں وہ مست شیوۂ ساقی کہ ساغر کی طرح\nسینکڑوں میخانے پھرتے ہیں نظر کے سامنے\n\nانتظار شوق کی یہ ناتمامی ہائے ہائے\nمر گیا ہوں نامہ دے کر نامہ بر کے سامنے\n\nبخت محنت آزما کی نارسائی ہائے ہائے\nمٹ گیا ہوں جادۂ راہ سفر کے سامنے\n\nراہزن کو ڈھونڈھتا ہے شوق آزادی طلب\nشکوۂ باد گراں ہے راہبر کے سامنے\n\nآئنے سے کھنچتے ہیں گویا بہت ہی سادے ہیں\nوہ نہ ٹھہرے اپنی چشم فتنہ گر کے سامنے\n\nہاں ابھی بزم خیال غیر سے آیا ہوں میں\nتم نہ آنا میرے شوق پردہ در کے سامنے\n\nرہ گزار کاروان آرزو اب مٹ گیا\nمنزلیں تھیں دل کی پہلو میں جگر کے سامنے\n\nاے وفاؔ قطرہ بھی ہے شامل کمال بحر میں\nعیب ہو کر آئے ہم اہل ہنر کے سامنے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92"} {"title": "بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں\nخالی ہے شیشہ اور پیے جا رہا ہوں میں\n\nپیہم جو آہ آہ کیے جا رہا ہوں میں\nدولت ہے غم زکوٰۃ دئیے جا رہا ہوں میں\n\nمجبوری کمال محبت تو دیکھنا\nجینا نہیں قبول جیے جا رہا ہوں میں\n\nوہ دل کہاں ہے اب کہ جسے پیار کیجیے\nمجبوریاں ہیں ساتھ دئیے جا رہا ہوں میں\n\nرخصت ہوئی شباب کے ہم راہ زندگی\nکہنے کی بات ہے کہ جیے جا رہا ہوں میں\n\nپہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب\nکوئی پلا رہا ہے پیے جا رہا ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%81_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%DB%8C%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "بے گریہ کمال ترجبینی ہے مجھے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بے گریہ کمال ترجبینی ہے مجھے\nدر بزم وفا خجل نشینی ہے مجھے\nمحروم صدا رہا بغیر از یک تار\nابریشم ساز موے چینی ہے مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%AA%D8%B1%D8%AC%D8%A8%DB%8C%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "بے گور و کفن باپ کا لاشہ دیکھا", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "بے گور و کفن باپ کا لاشہ دیکھا\nپردیس میں مادر کا رنڈاپا دیکھا\nزنداں میں جفاے خار و طوق و زنجیر\nعابد نے پدر کے بعد کیا کیا دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%DA%AF%D9%88%D8%B1_%D9%88_%DA%A9%D9%81%D9%86_%D8%A8%D8%A7%D9%BE_%DA%A9%D8%A7_%D9%84%D8%A7%D8%B4%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "بے یار شہر دل کا ویران ہو رہا ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بے یار شہر دل کا ویران ہو رہا ہے\nدکھلائی دے جہاں تک میدان ہو رہا ہے\n\nاس منزل جہاں کے باشندے رفتنی ہیں\nہر اک کے ہاں سفر کا سامان ہو رہا ہے\n\nاچھا لگا ہے شاید آنکھوں میں یار اپنی\nآئینہ دیکھ کر کچھ حیران ہو رہا ہے\n\nگل دیکھ کر چمن میں تجھ کو کھلا ہی جا ہے\nیعنی ہزار جی سے قربان ہو رہا ہے\n\nحال زبون اپنا پوشیدہ کچھ نہ تھا تو\nسنتا نہ تھا کہ یہ صید بے جان ہو رہا ہے\n\nظالم ادھر کی سدھ لے جوں شمع صبح گاہی\nایک آدھ دم کا عاشق مہمان ہو رہا ہے\n\nقرباں گہ محبت وہ جا ہے جس میں ہر سو\nدشوار جان دینا آسان ہو رہا ہے\n\nہر شب گلی میں اس کی روتے تو رہتے ہو تم\nاک روز میرؔ صاحب طوفان ہو رہا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%A8%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تا بہ مقدور انتظار کیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تا بہ مقدور انتظار کیا\nدل نے اب زور بے قرار کیا\n\nدشمنی ہم سے کی زمانے نے\nکہ جفاکار تجھ سا یار کیا\n\nیہ توہم کا کارخانہ ہے\nیاں وہی ہے جو اعتبار کیا\n\nایک ناوک نے اس کی مژگاں کے\nطائر سدرہ تک شکار کیا\n\nصد رگ جاں کو تاب دے باہم\nتیری زلفوں کا ایک تار کیا\n\nہم فقیروں سے بے ادائی کیا\nآن بیٹھے جو تم نے پیار کیا\n\nسخت کافر تھا جن نے پہلے میرؔ\nمذہب عشق اختیار کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7_%D8%A8%DB%81_%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تا حشر تو فراق کا احساں ہے اور ہم", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تا حشر تو فراق کا احساں ہے اور ہم\nکیا بعد حشر بھی شب ہجراں ہے اور ہم\n\nدنیا تو جانتی ہے کہ زنداں ہے اور ہم\nہم جانتے ہیں خلوت جاناں ہے اور ہم\n\nپیری ہے اور کوشش درماں ہے اور ہم\nمیداں ہے اور عمر گریزاں ہے اور ہم\n\nکس کو بھلا نصیب ہوئی ایسی سلطنت\nحد خیال تک یہ بیاباں ہے اور ہم\n\nاک نام زندگی بھی ہے قید حیات کا\nتا مرگ آب و گل کا یہ زنداں ہے اور ہم\n\nمحشر ہے انتظار سوال و جواب ہے\nلیکن فسانۂ غم ہجراں ہے اور ہم\n\nلے دے کے رہ گیا ہے یہی ایک مشغلہ\nفکر جواب دفتر عصیاں ہے اور ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%85"} {"title": "تا حشر رہے یہ داغ دل کا", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تا حشر رہے یہ داغ دل کا\nیارب نہ بجھے چراغ دل کا\n\nہم سے بھی تنک مزاج ہے یہ\nپاتے ہی نہیں دماغ دل کا\n\nیاں آتش عشق سے شب و روز\nدہکے ہے پڑا ایاغ دل کا\n\nاس رشک چمن کی یاد میں ہے\nشاداب ہمیشہ باغ دل کا\n\nجینے کا مزا اسی کو ہے بس\nجس شخص کو ہو فراغ دل کا\n\nہے بادۂ غم سے تیرے دن رات\nلبریز یہاں ایاغ دل کا\n\nمعلوم نہیں کسی کو رنگیںؔ\nدے کون ہمیں سراغ دل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "تا دشت عدم آہ رسا لے گئی مجھ کو", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تا دشت عدم آہ رسا لے گئی مجھ کو\nجب خاک ہوا میں تو ہوا لے گئی مجھ کو\n\nکوسوں مئے گلگوں کی ہوا لے گئی مجھ کو\nیہ لال پری گھر سے اڑا لے گئی مجھ کو\n\nمدت سے نہ ملتی تھی کہیں راہ عدم کی\nاس شوخ کے کوچے میں قضا لے گئی مجھ کو\n\nتھا ضعف میں سودا کسی صحرائے جنوں کا\nوحشت مرے گھر آ کے بلا لے گئی مجھ کو\n\nجوہرؔ طرف کوچۂ جاناں جو گیا میں\nکیا جانے کدھر کی یہ ہوا لے گئی مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D8%B9%D8%AF%D9%85_%D8%A2%DB%81_%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "تا سحر کی ہے فغاں جان کے غافل مجھ کو", "poet_page": "مصنف:تعشق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تا سحر کی ہے فغاں جان کے غافل مجھ کو\nرات بھر آج پکارا ہے مرا دل مجھ کو\n\nدرد و غم سے جو تپاں تھا وہ ملا دل مجھ کو\nاس لیے دفن کیا ہے لب ساحل مجھ کو\n\nبار حسن آپ سے لیلیٰ کا اٹھایا نہ گیا\nنہ لیا قیس نے جس کو وہ ملا دل مجھ کو\n\nغیر پھر غیر ہیں آخر ہیں پھر اپنے اپنے\nیاد کرتا ہے ترے پاس مرا دل مجھ کو\n\nبار خاطر ہی اگر ہے تو عنایت کیجے\nآپ کو حسن مبارک ہو مرا دل مجھ کو\n\nفصل گل آتے ہی صحراے عدم کو پہونچا\nروکتے رہ گئے اغلال و سلاسل مجھ کو\n\nمر گیا اشک جو آنکھوں سے بہے آہ کے ساتھ\nآ گئی نیند ہوا میں لب ساحل مجھ کو\n\nکیا عداوت ہے کہ جس دن سے ہوا ہوں زخمی\nدیکھ جاتا ہے وہ رشک مہ کامل مجھ کو\n\nشب کو تم سوئی تھی کیا سوئے فلک منہ کر کے\nنظر آیا نہ سحر تک مہ کامل مجھ کو\n\nپاؤں تک زلف تری یار بڑھ آئی شاید\nآج بھاری نظر آتی ہے سلاسل مجھ کو\n\nاثر ضعف سے ہوں قطرۂ اشک خونی\nرحم کر دے کفن دامن قاتل مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "تا عمر آشنا نہ ہوا دل گناہ کا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تا عمر آشنا نہ ہوا دل گناہ کا\nخالق بھلا کرے تری ترچھی نگاہ کا\n\nتنہا مزا اٹھاتا ہے دل رسم و راہ کا\nبینا تو ہے پہ بس نہیں چلتا نگاہ کا\n\nجی بھر کے دیکھ لوں تو کر اس جرم پر شہید\nیوں اپنے سر پہ خون نہ لے بے گناہ کا\n\nرونا جو ہو تو رو لے بس اے چشم وقت نزع\nاب آج خاتمہ بھی ہے روز سیاہ کا\n\nپہنچا کے ہم کو قبر میں جاتے ہیں اپنے گھر\nلیجیے انھوں نے وعدہ کیا تھا نباہ کا\n\nتقدیر حشر سے ہمیں لائی بہشت میں\nارمان دل میں رہ گیا اس دادخواہ کا\n\nپاپوش ناز کرتی ہے ان کی زمین پر\nچشمک زن سپہر ہے گوشہ کلاہ کا\n\nدیکھا نہ کارواں نے پلٹ کر کہ کون ہوں\nمیری طرح نہ ہو کوئی واماندہ راہ کا\n\nمنزل کے قطع کرنے کا محکم ہوا جو قصد\nاک اک درخت خضر بنا میری راہ کا\n\nڈھوئے کہاں تک اس تن خاکی کو عمر بھر\nاب روح کو ملے کوئی گوشہ نباہ کا\n\nبہتر کہیں تھے مجھ سے وہ مے خوار ساقیا\nحیلہ جو ڈھونڈتے رہے عفو گناہ کا\n\nاشکوں کا سلسلہ کہیں ٹوٹے بھی اے فراق\nتھک بھی چکے قدم مری فریاد و آہ کا\n\nاک تجھ پہ منحصر نہیں اے خضر کر نہ ناز\nہر راہرو کو تکتا ہے واماندہ راہ کا\n\nرکھا جناں میں بھی ہمیں مغموم تا ابد\nاقرار ہم سے لے کے ہمارے گناہ کا\n\nاظہار غم کیا تو یہ اس نے دیا جواب\nچہرہ گواہی دیتا ہے جھوٹے گواہ کا\n\nغوغائے حشر دل میں سماتا نہیں مرے\nہنگامہ یاد ہے مجھے فرقت میں آہ کا\n\nبھجوا دیا بہشت میں پوچھا نہ دل کا حال\nکیا خوب فیصلہ کیا اس دادخواہ کا\n\nکیا جانیے تلاش اثر میں کہاں گئی\nاب تک کہیں پتہ نہ لگا میری آہ کا\n\nسینے میں اپنے نالہ و شیون کا شور ہے\nماتم ہمیشہ ہے دل غفراں پناہ کا\n\nیوسف کو اے سپہر کنویں میں گرا تو دے\nمنظور امتحاں ہے زلیخا کی چاہ کا\n\nکیونکر نہ اہل بزم میں اے شادؔ ہو رسوخ\nنعم البدل ہوں راسخؔ غفراں پناہ کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "تا ماہ صیام ہوئے باب امید", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تا ماہ صیام ہوئے باب امید\nاور واسطۂ جشن ہو یہ یوم سعید\nہر روز سے ہو تیرے شب قدر عیاں\nہر شب سے نمایاں ہو تری روز عید", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%B5%DB%8C%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF"} {"title": "تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں\nہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میں\n\nاور ہی رنگ آج ہے عارض گل عذار کا\nخون دل اپنا تھا مگر گو نہ رخ طراز میں\n\nکیونکہ نہ آدھی آدھی رات جاگے وہ جس کا دھیان ہو\nآہوئے نیم خواب میں نرگس نیم باز میں\n\nخسرو عیش وصل یار جاں کنی اور کوہ کن\nاپنا جگر تو خوں ہوا عشق کے امتیاز میں\n\nبن ترے بزم صور میں ہیں یہ قباحتیں کہ ہے\nنغمۂ صور کا اثر نغمۂ نے نواز میں\n\nان سے اب التفات کی غیر کو ہیں شکایتیں\nسن کے مرا مبالغہ منت احتراز میں\n\nکیا سبھی سینے جل چکے کیا سبھی دل پگھل چکے\nبوئے کباب اب نہیں آہ جگر گداز میں\n\nپردہ نشیں کے عشق میں پردہ دری نہ ہو کہیں\nہوتی ہیں بے حجابیاں جان نہفتہ راز میں\n\nرخنۂ در سے غیر پاس دیکھا کسے کہ آج ہے\nرخنہ گری کچھ اور ہی نالۂ رخنہ ساز میں\n\nیاد بتاں میں لاکھ بار فرط قلق سے ہم بھی تو\nبیٹھے اٹھے ہیں مومنؔ آپ گر رہے شب نماز میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DA%91%DB%92_%D8%AE%D9%84%D9%84_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تا چند سخن سازئ نیرنگ خرابات", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تا چند سخن سازئ نیرنگ خرابات\nیاں قصد خرابی ہے نہ آہنگ خرابات\n\nآ دل میں کہ اس در پہ جو بیٹھا ہے پھر ان نے\nفرسخ گنے کعبہ کے نہ فرسنگ خرابات\n\nدیکھیں تو تری دھوم ٹک اے شورش مستی\nپھر آج سر و سینہ ہے اور سنگ خرابات\n\nتشبیہ میں جس دل کو نہ دی کعبہ سے سو دل\nاب عشق مے و مغ سے ہے ہم رنگ خرابات\n\nاے غنچہ دہن بس لب میگوں کو تنک موند\nدل تنگ کہاں تک ہو دل تنگ خرابات\n\nسو سر کا جو ہو آئے تو مقبول نہیں یاں\nکھائی نہیں جس رند نے سرچنگ خرابات\n\nکس نام سے قائمؔ میں تجھے کہہ تو پکاروں\nاے عار در مسجد و اے ننگ خرابات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D8%B3%D8%A7%D8%B2%D8%A6_%D9%86%DB%8C%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا\nسن لیتے ہیں گو ذکر ہمارا نہیں کرتے\n\nغالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو\nوہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "تاب دل صرف جدائی ہو چکی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تاب دل صرف جدائی ہو چکی\nیعنی طاقت آزمائی ہو چکی\n\nچھوٹتا کب ہے اسیر خوش زباں\nجیتے جی اپنی رہائی ہو چکی\n\nآگے ہو مسجد کے نکلی اس کی راہ\nشیخ سے اب پارسائی ہو چکی\n\nدرمیاں ایسا نہیں اب آئینہ\nمیرے اس کے اب صفائی ہو چکی\n\nایک بوسہ مانگتے لڑنے لگے\nاتنے ہی میں آشنائی ہو چکی\n\nبیچ میں ہم ہی نہ ہوں تو لطف کیا\nرحم کر اب بے وفائی ہو چکی\n\nآج پھر تھا بے حمیت میرؔ واں\nکل لڑائی سی لڑائی ہو چکی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%DB%8C"} {"title": "تاب دیدار جو لائے مجھے وہ دل دینا", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تاب دیدار جو لائے مجھے وہ دل دینا\nمنہ قیامت میں دکھا سکنے کے قابل دینا\n\nنا توانوں کے سہارے کو ہے یہ بھی کافی\nدامن لطف غبار پس محمل دینا\n\nذوق میں صورت موج آ کے فنا ہو جاؤں\nکوئی بوسہ تو بھلا اے لب ساحل دینا\n\nہائے رے ہائے تری عقدہ کشائی کے مزے\nتو ہی کھولے جسے وہ عقدۂ مشکل دینا\n\nایک فتنہ ہے قیامت میں بہار فردوس\nجز ترے کچھ بھی نہ چاہے مجھے وہ دل دینا\n\nدرد کا کوئی محل ہی نہیں جب دل کے سوا\nمجھ کو ہر عضو کے بدلے ہمہ تن دل دینا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "تاب دیدار لا نہیں سکتے", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تاب دیدار لا نہیں سکتے\nان سے نظریں ملا نہیں سکتے\n\nراز دل اب چھپا نہیں سکتے\nاور زباں پر بھی لا نہیں سکتے\n\nدل میں رہتی ہے اک خلش پیہم\nجس کو ہم خود بتا نہیں سکتے\n\nجرأت دل کہاں کہاں جلوے\nہوش میں ہم اب آ نہیں سکتے\n\nدل میں ایسے بھی چند شکوے ہیں\nجو زباں پر بھی لا نہیں سکتے\n\nعرش رس تھے کبھی یہی نالے\nآج لب تک بھی آ نہیں سکتے\n\nچل رہی ہے ہوا وہ گلشن میں\nآشیاں تک بنا نہیں سکتے\n\nمصلحت کچھ تو ہے منیرؔ اس میں\nورنہ کیا خود وہ آ نہیں سکتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%92"} {"title": "تاب نہیں سکوں نہیں دل نہیں اب جگر نہیں", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تاب نہیں سکوں نہیں دل نہیں اب جگر نہیں\nاپنی نظر کدھر اٹھے کوئی ادھر ادھر نہیں\n\nروز شب اٹھتے بیٹھتے ان کی زبان پر نہیں\nکوئی نہیں کی حد نہیں شام نہیں سحر نہیں\n\nکوئی یہاں سے چل دیا رونق بام و در نہیں\nدیکھ رہا ہوں گھر کو میں گھر ہے مگر وہ گھر نہیں\n\nاتنی خبر تو ہے ضرور لے گئے دل وہ چھین کر\nکیا ہوا اس کا پھر مآل اس کی مجھے خبر نہیں\n\nکیوں وہ ادھر ادھر پھرے کیوں یہ حدود میں رہے\nتیری نظر تو ہے نظر میری نظر نظر نہیں\n\nمجھ سے بگڑ کر اپنے گھر جائیے خیر جائیے\nآپ نے یہ سمجھ لیا آہ میں کچھ اثر نہیں\n\nدیر کو ہم گھٹائیں کیوں کعبہ کو ہم بڑھائیں کیوں\nکیا ہے خدا کا گھر یہی کیا وہ خدا کا گھر نہیں\n\nپردے سے باہر آئیے رخ سے نقاب اٹھائیے\nتاب جمال لا سکے اتنی مری نظر نہیں\n\nمجھ کو خیال روز و شب خاک رہے مزار میں\nایسی جگہ ہوں جس جگہ شام نہیں سحر نہیں\n\nتیغ کہو سناں کہو قہر کہو بلا کہو\nاہل نظر کی راے میں ان کی نظر نظر نہیں\n\nڈر گئے اہل انجمن تیر جو آپ کا چلا\nاس نے کہا ادھر نہیں اس نے کہا ادھر نہیں\n\nروز کے غم نے اس طرح خوگر ضبط غم کیا\nدرد ہمارے دل میں ہے شکوہ زبان پر نہیں\n\nپوچھتے ہیں وہ حال دل طول سخن سے فائدہ\nسو کی یہ ایک بات ہے کہہ دوں مجھے خبر نہیں\n\nان میں کچھ اور بات تھی ان میں کچھ اور بات ہے\nحضرت نوحؔ کا گماں حضرت نوح پر نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تاب و طاقت کو تو رخصت ہوئے مدت گزری", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "تاب و طاقت کو تو رخصت ہوئے مدت گزری\nپند گو یوں ہی نہ کر اب خلل اوقات کے بیچ\nزندگی کس کے بھروسے پہ محبت میں کروں\nایک دل غم زدہ ہے سو بھی ہے آفات کے بیچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%88_%D8%B7%D8%A7%D9%82%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%AF%D8%AA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%8C"} {"title": "تاب کو آفتاب میں دیکھا", "poet_page": "مصنف:قمر ہلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل > بیاض عاشقان (1916)", "year": "1916", "text_ur": "تاب کو آفتاب میں دیکھا\nآب موج سراب میں دیکھا\n\nروئے زیبائے یار کو ہم نے\nشیخ جی کے نقاب میں دیکھا\n\nرنگ بیچوں و بیچگونی کو\nمثل دریا حباب میں دیکھا\n\nایک نکتے میں بحر علم جہاں\nتیرے رخ کی کتاب میں دیکھا\n\nمجھ میں اس طرح تو ہے پوشیدہ\nجیسے بو کو گلاب میں دیکھا\n\nخویش و بیگانہ کی خبر نہ رہی\nتم کو جیسے کہ خواب میں دیکھا\n\nتیری مستیٔ عشق میں ساقی\nجسم جام شراب میں دیکھا\n\nبرق کہتے ہیں اے قمرؔ جس کو\nوہی جلوہ عتاب میں دیکھا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے\nکس درجہ دل پذیر تماشائے عشق ہے\n\nارباب ہوش جتنے ہیں بیمار عقل ہیں\nان کے لیے ضرور مداوائے عشق ہے\n\nمیں کیا ہوں ایک ذرۂ صحرائے اشتیاق\nدل کیا ہے ایک قطرۂ دریائے عشق ہے\n\nشاہ و گدا کا فرق نہیں عہد حسن میں\nاب جس کو دیکھیے اسے دعوائے عشق ہے\n\nظاہر ہے بے قرارئ پیہم سے حال دل\nبے کار ہم کو دعوائے اخفائے عشق ہے\n\nپنہاں حجاب ناز میں ہے صورت جمال\nپیدا حروف شوق سے معنائے عشق ہے\n\nاے اہل عقل کیوں ہو اسے فکر نام و ننگ\nحسرتؔ خراب عشق ہے رسوائے عشق ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A8%DB%81_%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92"} {"title": "تابش حسن حجاب رخ پر نور نہیں", "poet_page": "مصنف:برق دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تابش حسن حجاب رخ پر نور نہیں\nرخنہ گر ہو نگہ شوق تو کچھ دور نہیں\n\nشب فرقت نظر آتے نہیں آثار سحر\nاتنی ظلمت ہے رخ شمع پہ بھی نور نہیں\n\nراز سربستۂ فطرت نہ کھلا ہے نہ کھلے\nمیں ہوں اس سعی میں مصروف جو مشکور نہیں\n\nصرف نیرنگئ نظارہ ہے خود اپنا وجود\nعین وحدت ہے کوئی ناظر و منظور نہیں\n\nنظر آتا نہیں گو منزل مقصد کا نشاں\nذوق صادق یہی کہتا ہے کہ کچھ دور نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B4_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D8%B1%D8%AE_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تاتاری کا خواب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کہیں سجّادہ و عمّامہ رہزن\nکہیں ترسا بچوں کی چشمِ بے باک!\nردائے دِین و ملّت پارہ پارہ\nقبائے ملک و دولت چاک در چاک!\nمرا ایماں تو ہے باقی ولیکن\nنہ کھا جائے کہیں شُعلے کو خاشاک!\nہوائے تُند کی موجوں میں محصور\nسمرقند و بخارا کی کفِ خاک!\n’بگرداگردِ خود چندانکہ بینم\nبلا انگشتری و من نگینم‘\n\nیکایک ہِل گئی خاکِ سمرقند\nاُٹھا تیمور کی تُربت سے اک نور\nشفَق آمیز تھی اُس کی سفیدی\nصدا آئی کہ “مَیں ہوں رُوحِ تیمور\nاگر محصُور ہیں مردانِ تاتار\nنہیں اللہ کی تقدیر محصور\nتقاضا زندگی کا کیا یہی ہے\nکہ تُورانی ہو تُورانی سے مہجور؟\n’خودی را سوز و تابے دیگرے دہ\nجہاں را انقلابے دیگرے دہ”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8"} {"title": "تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی\nاک لرزش خفی مرے سارے بدن میں تھی\n\nواں سے نکل کے پھر نہ فراغت ہوئی نصیب\nآسودگی کی جان تری انجمن میں تھی\n\nاک رنگ التفات بھی اس بے رخی میں تھا\nاک سادگی بھی اس نگہ سحر فن میں تھی\n\nمحتاج بوئے عطر نہ تھا جسم خوب یار\nخوشبوئے دلبری تھی جو اس پیرہن میں تھی\n\nکچھ دل ہی بجھ گیا ہے مرا ورنہ آج کل\nکیفیت بہار کی شدت چمن میں تھی\n\nمعلوم ہو گئی مرے دل کو راہ شوق\nوہ بات پیار کی جو ہنوز اس دہن میں تھی\n\nغربت کی صبح میں بھی نہیں ہے وہ روشنی\nجو روشنی کہ شام سواد وطن میں تھی\n\nعیش گداز دل بھی غم عاشقی میں تھا\nاک راحت لطیف بھی ضمن محن میں تھی\n\nاچھا ہوا کہ خاطر حسرتؔ سے ہٹ گئی\nہیبت سی اک جو خطرۂ دار و رسن میں تھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%AB%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "تاثیر صبر میں نہ اثر اضطراب میں", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تاثیر صبر میں نہ اثر اضطراب میں\nبیچارگی سے جان پڑی کس عذاب میں\n\nبے نالہ منہ سے جھڑتے ہیں بے گریہ آنکھ سے\nاجزائے دل کا حال نہ پوچھ اضطراب میں\n\nچرخ و زمیں میں توبہ کا ملتا نہیں سراغ\nہنگامۂ بہار و ہجوم سحاب میں\n\nاے زہرہ چہرہ دشمن منحوس کو نہ دیکھ\nنالے بہیں گے خون کے اس فتح یاب میں\n\nاتنی کدورت اشک میں حیراں ہوں کیا کہوں\nدریا میں ہے سراب کہ دریا سراب میں\n\nفکر مآل سے مے و شاہد رہے عزیز\nپیری میں موت یاد تھی پیری شباب میں\n\nتم نکلے بہر سیر تو نکلے گا مہر بھی\nہووے گا اجتماع شب ماہتاب میں\n\nڈوبی ہجوم اشک سے کشتی زمین کی\nماہی کو اضطراب ہوا جوش آب میں\n\nکھولا جو دفتر گلہ اپنا زیاں کیا\nگزری شب وصال ستم کے حساب میں\n\nاے حشر جلد کر تہہ و بالا جہان کو\nیوں کچھ نہ ہو امید تو ہے انقلاب میں\n\nقاتل جفا سے باز نہ آیا وفا سے ہم\nفتراک میں جو سر ہے تو جاں ہے رکاب میں\n\nبازیچہ کر دیا ستم یار و جور چرخ\nطفلی سے غلغلہ ہے مرا شیخ و شاب میں\n\nمومنؔ یہ عالم اس صنم جاں فزا کا ہے\nدل لگ گیا جہان سراسر خراب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%AB%DB%8C%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تاج", "poet_page": "مصنف:محمد صادق ضیا", "kind": "poetry", "section": "نظم > صبح مشرق (1938)", "year": "1938", "text_ur": "جان گلشن اور جانان بہار\nجاوداں شمع شبستان بہار\nافتخار روزگار بے ثبات\nیادگار بزم ویران بہار\nاک دماغ صنعت مرحوم ہند\nاک چراغ زیر دامان بہار\nعنبریں سبزے پہ مختار ارم\nمرمریں افسر پہ سلطان بہار\nواقعی تعبیر خواب حسن و عشق\nآخری تصویر طوفان بہار\nخامشی کا نغمۂ مواج ہے\nتاج اب بھی رفعتوں کا تاج ہے\n\nصبح جنت کی صباحت اس میں ہے\nشام گلشن کی لطافت اس میں ہے\nاس کے ہر لمحے میں اک تازہ بہار\nاک نئی ہر وقت جنت اس میں ہے\nمادیت اس کو چھو سکتی نہیں\nروح کی گویا حکومت اس میں ہے\nجلوہ کاری کم سے کم اتنی تو ہو\nدیکھیے جب ایک ندرت اس میں ہے\nحسن کی جو مایۂ ممتاز تھی\nاب بھی پنہاں وہ امانت اس میں ہے\nعشرت نظارہ کی معراج ہے\nتاج اب بھی عظمتوں کا تاج ہے\n\nتاج اک بجلی ہے لہراتی ہوئی\nاک تجلی کیف میں ڈوبی ہوئی\nیا جبین حور کی کوئی شکن\nاک بیاض نور میں لپٹی ہوئی\nبام و در سے گنبد و مینار سے\nہر طرف اک چاندنی پھیلی ہوئی\nآہ یہ محفل ضیا و حسن کی\nچاند تاروں سے مرتب کی ہوئی\nاس کے ہر گوشے میں ذروں کی طرح\nدولت کونین ہے بکھری ہوئی\nہے کہیں نیلم کہیں پکھراج ہے\nتاج اب بھی صنعتوں کا تاج ہے\n\nوسعت کون و مکاں کا آئنہ\nجلوہ زار کہکشاں کا آئنہ\nجس کو دنیا کھو کے روتی ہی رہی\nاس متاع رائیگاں کا آئنہ\nایک بزم رفتہ کا ماتم گسار\nاک نشان بے نشاں کا آئنہ\nدل کشا تصویر صبح انجمن\nداستان پاستاں کا آئنہ\nعظمت ممتاز کی اک جلوہ گاہ\nشوکت شاہ جہاں کا آئنہ\nیادگار محفل تاراج ہے\nتاج اب بھی حیرتوں کا تاج ہے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%AC"} {"title": "تاج جب مرد کے ماتھے پہ نظر آتا ہے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "تاج جب مرد کے ماتھے پہ نظر آتا ہے\nیک بیک خوں مری آنکھوں میں اتر آتا ہے\nجب نظر آتا ہے عورت کی جبیں پر مجھ کو\nعجز و تسلیم کا ہر نقش ابھر آتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%AC_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوست", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوست\nمثل تصویر نہالی میں ہوں ہم پہلوئے دوست\n\nچہرۂ رنگیں کوئی دیوان رنگیں ہے مگر\nحسن مطلع ہیں مسیں مطلع ہے صاف ابروئے دوست\n\nہجر کی شب ہو چکی روز قیامت سے دراز\nدوش سے نیچے نہیں اترے ابھی گیسوئے دوست\n\nدور کر دل کی کدورت محو ہو دیدار کا\nآئنے کو سینہ صافی نے دکھایا روئے دوست\n\nواہ رے شانے کی قسمت کس کو یہ معلوم تھا\nپنجۂ شل سے کھلیں گے عقدہ ہائے موئے دوست\n\nداغ دل پر خیر گزری تو غنیمت جانیے\nدشمن جاں ہیں جو آنکھیں دیکھتی ہیں سوئے دوست\n\nدو مریں گے زخم کاری سے تو حسرت سے ہزار\nچار تلواروں میں شل ہو جائے گا بازوئے دوست\n\nفرش گل بستر تھا اپنا خاک پر سوتے ہیں اب\nخشت زیر سر نہیں یا تکیہ تھا زانوئے دوست\n\nیاد کر کے اپنی بربادی کو رو دیتے ہیں ہم\nجب اڑاتی ہے ہوائے تند خاک کوئے دوست\n\nاس بلائے جاں سے آتشؔ دیکھیے کیوں کر بنے\nدل سوا شیشے سے نازک دل سے نازک خوئے دوست", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%81%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA"} {"title": "تاروں والی رات کا عالم پینے اور پلانے سے", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تاروں والی رات کا عالم پینے اور پلانے سے\nساقی نے مے کھینچ کے رکھ دی گویا دانے دانے سے\n\nتار گریباں سینے والے چاک بہ دامن آئے ہیں\nیعنی کچھ تقدیر نہ سلجھی الجھی تھی دیوانے سے\n\nرات نہیں یہ زیست کا دن ہے ہوش میں آ برباد نہ کر\nشمع فقط مہمان سحر ہے کون کہے پروانے سے\n\nدیر و حرم سے اٹھنے والے آئے ہیں میخانے میں\nاس پہ اگر تقدیر اٹھا دے جائیں کہاں میخانے سے\n\nجوش جنوں سا رہبر ہو تو ہوش کی منزل دور نہیں\nدیوانے نے راہ بنا دی بستی تک ویرانے سے\n\nساقی کے انداز کو دیکھو بے خود پینے والوں میں\nملتی ہے مے قسمت سے گو بٹتی ہے پیمانے سے\n\nظرف مری قسمت کا بھرا ہے آپ نگاہ ساقی نے\nپیمانے کو خم سے ملی اور خم کو ملی پیمانے سے\n\nعمر دو روزہ کیفیؔ کی یوں کٹ ہی گئی یوں کٹنی تھی\nکام رہا پیمانے سے اور ساقی کے میخانے سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%BE%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%BE%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92"} {"title": "تاریک ہے رات اور دنیا ذخار", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تاریک ہے رات اور دنیا ذخار\nطوفان بپا ہے اور کشتی بے کار\nگھبرائیو مت کہ ہے مددگار خدا\nہمت ہے تو جا لگاؤ کھیوا اس پار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DA%A9_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B0%D8%AE%D8%A7%D8%B1"} {"title": "تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں\nہم بھی نیند کی صورت اڑتے جاتے ہیں\n\nجب انداز بہاروں کے یاد آتے ہیں\nہم کاغذ پر کیا کیا پھول بناتے ہیں\n\nوقت کا پتھر بھاری ہوتا جاتا ہے\nہم مٹی کی صورت دیتے جاتے ہیں\n\nکیا ذروں کا جوش صبا نے چھین لیا\nگلشن میں کیوں یاد بگولے آتے ہیں\n\nدنیا نے ہر بات میں کیا کیا رنگ بھرے\nہم سادہ اوراق الٹتے جاتے ہیں\n\nدل ناداں ہے شاید راہ پہ آ جائے\nتم بھی سمجھاؤ ہم بھی سمجھاتے ہیں\n\nتم بھی الٹی الٹی باتیں پوچھتے ہو\nہم بھی کیسی کیسی قسمیں کھاتے ہیں\n\nبیٹھ کے روئیں کس کو فرصت ہے باقیؔ\nبھولے بسرے قصے یاد تو آتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تارے گنتے رات کٹتی ہی نہیں آتی ہے نیند", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تارے گنتے رات کٹتی ہی نہیں آتی ہے نیند\nدل کو تڑپاتا ہے ہجر آنکھوں کو ترساتی ہے نیند\n\nگھر میں آنکھوں کے قدم رکھنے نہیں پاتی ہے نیند\nدونوں پلکوں کے طمانچے رات بھر کھاتی ہے نیند\n\nفرش راحت پر مجھے جس وقت یاد آتا ہے یار\nمرغ دل ایسا پھڑکتا ہے کہ اڑ جاتی ہے نیند\n\nکون ہے راحت رساں اپنا شب اندوہ میں\nموت بھی آنکھیں چراتی ہے جو شرماتی ہے نیند\n\nسوؤں کیا آنکھوں کی ڈھیلے ہو گئی ہیں سنگ راہ\nآ کے تیرے خواب گہ میں ٹھوکریں کھاتی ہے نیند\n\nعین راحت ہے مجھے خدمت گزاری یار کے\nتلوے آنکھوں سے جو سہلاتا ہوں آ جاتی ہے نیند\n\nدن نکل آتا ہے اٹھنے کو نہیں جی چاہتا\nساتھ جب سوتا ہے وہ کیا پاؤں پھیلاتی ہے نیند\n\nخواہش دیدار آنکھوں میں بھری ہے سوؤں کیا\nپتلیوں میں اپنی جا تل بھر نہیں پاتی ہے نیند\n\nمرغ بسمل عاشق مہجور دونو ایک ہیں\nاس کو پھڑکاتی ہے مرگ اور اس کو تڑپاتی ہے نیند\n\nکیسے تکیے کیسے توشک کیسا ہوتا ہے پلنگ\nمیں وہ غافل ہوں مرے گھر آ کے پچھتاتی ہے نیند\n\nبھول جاتا ہوں میں غفلت میں خیال یار کے\nبدلے راحت کی اذیت مجھ کو پہنچاتی ہے نیند\n\nباغ جنت کو یوں ہی خواب عدم دکھلائے گا\nجس طرح کوئے صنم مجھ کو دکھا لاتی ہے نیند\n\nجب تھکے اس کی سواری دوڑ کر یوں سوئے ہم\nجیسے سوداگر کو گھوڑے بیچ کر آتی ہے نیند\n\nسوتے سوتے جب پکار اٹھتا ہوں اپنے یار کو\nمرقدوں کے سونے والوں کی اچٹ جاتی ہے نیند\n\nیار گل اندام کا زانو کہاں یہ سر کہاں\nبحرؔ میں سوتا ہوں مجھ کو خواب دکھلاتی ہے نیند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D9%86%D8%AA%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D9%B9%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%AF"} {"title": "تازہ آزار کا ارمان کہاں جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تازہ آزار کا ارمان کہاں جاتا ہے\nپھر ستا لے ترے قربان کہاں جاتا ہے\n\nکس پہ دل آیا کہاں آیا بتا اے ناصح\nتو مری طرح پریشان کہاں جاتا ہے\n\nخانقاہوں پہ ہوا پیر مغاں کا قبضہ\nآج مے خانے کا سامان کہاں جاتا ہے\n\nدل سلامت نہیں آنے کا مبارکؔ بخدا\nارے نادان کہا مان کہاں جاتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تازہ پھر دانشِ حاضر نے کیا سِحرِ قدیم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "تازہ پھر دانشِ حاضر نے کیا سِحرِ قدیم\nگزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوبِ کلیم\n\nعقل عیّار ہے، سَو بھیس بنا لیتی ہے\nعشق بے چارہ نہ مُلّا ہے نہ زاہد نہ حکیم!\n\nعیشِ منزل ہے غریبانِ محبّت پہ حرام\nسب مسافر ہیں، بظاہر نظر آتے ہیں مقیم\n\nہے گراں سیر غمِ راحلہ و زاد سے تُو\nکوہ و دریا سے گزر سکتے ہیں مانندِ نسیم\n\nمردِ درویش کا سرمایہ ہے آزادی و مرگ\nہے کسی اور کی خاطر یہ نصابِ زر و سیم", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B4%D9%90_%D8%AD%D8%A7%D8%B6%D8%B1_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D9%90%D8%AD%D8%B1%D9%90_%D9%82%D8%AF%DB%8C%D9%85"} {"title": "تازہ ہو دماغ اپنا تمنا ہے تو یہ ہے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تازہ ہو دماغ اپنا تمنا ہے تو یہ ہے\nاس زلف کی بو سونگھئے سودا ہے تو یہ ہے\n\nقینچی نہیں چلوائی مرے نامہ نے کس پر\nپروار کبوتر ہو جو عنقا ہے تو یہ ہے\n\nکچھ سرو کا رتبہ ہی نہیں قد سے ترے پست\nشمشاد او صنوبر سے بھی بالا ہے تو یہ ہے\n\nملتا جو نہیں یار تو ہم بھی نہیں ملتے\nغیرت کا اب اپنے بھی تقاضا ہے تو یہ ہے\n\nاے نور نظر معجزۂ حسن سے تیرے\nاندھے بھی کہیں گے کہ مسیحا ہے تو یہ ہے\n\nمحشر کو بھی دیدار کا پردہ نہ کرے یار\nعاشق کو جو اندیشۂ فردا ہے تو یہ ہے\n\nبینا ہوں جو آنکھیں تو رخ یار کو دیکھیں\nنظارہ کے قابل جو تماشا ہے تو یہ ہے\n\nمضموں دہن یار کا کیا فکر سے نکلے\nلاحل جو معموں میں معما ہے تو یہ ہے\n\nگہہ یاد صنم دل میں ہے گہہ یاد الٰہی\nکعبہ ہے تو یہ ہے جو کلیسا ہے تو یہ ہے\n\nمعشوق و مے و خانۂ خالی و شب ماہ\nعاشق کے لیے حاصل دنیا ہے تو یہ ہے\n\nدیوانے نہ کیوں کر خل و زنجیر پہنتے\nسرکار جنوں کا جو سراپا ہے تو یہ ہے\n\nدل کے لیے ہے عشق تو دل عشق کی خاطر\nمے ہے تو یہ ہے اور جو مینا ہے تو یہ ہے\n\nدیوانۂ قد کے کبھی نالوں کو تو سنیے\nہنگامۂ محشر کا سا غوغا ہے تو یہ ہے\n\nثابت دہن یار دلیلوں سے کر آتشؔ\nحجت کی جو شاعر کے لیے جا ہے تو یہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "تاچند تلف میرؔ حیا سے ہوگا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تاچند تلف میرؔ حیا سے ہوگا\nشائستۂ صدستم وفا سے ہوگا\nکر ترک ملاقات بتاں کعبے چل\nان سے ہوگا سو اب خدا سے ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%DA%86%D9%86%D8%AF_%D8%AA%D9%84%D9%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "تاکید ہے کہ دیدۂ دل وا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تاکید ہے کہ دیدۂ دل وا کرے کوئی\nمطلب یہ ہے کہ دور سے دیکھا کرے کوئی\n\nآتے ہی تیرے وعدۂ فردا کا اعتبار\nگھبرا کے مر نہ جائے تو پھر کیا کرے کوئی\n\nوہ جلوہ بے حجاب سہی ضد کا کیا علاج\nجب دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی\n\nکہتے ہیں حسن ہی کی امانت ہے درد عشق\nاب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی\n\nخالی ہے بزم ذوق طلب اہل ہوش سے\nاتنا نہیں کہ تیری تمنا کرے کوئی\n\nوہ درد دے کہ موت بھی جس کی دوا نہ ہو\nاس دل کو موت دے جسے اچھا کرے کوئی\n\nفانیؔ دعائے مرگ کی تکرار کیا ضرور\nغافل نہیں کہ ان سے تقاضا کرے کوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%DA%A9%DB%8C%D8%AF_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%AF%D9%84_%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "تب سے عاشق ہیں ہم اے طفل پری وش تیرے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "تب سے عاشق ہیں ہم اے طفل پری وش تیرے\nجب سے مکتب میں تو کہتا تھا الف بے تے ثے\n\nیاد آتا ہے وہ حرفوں کا اٹھانا اب تک\nجیم کے پیٹ میں ایک نکتہ ہے اور خالی حے\n\nحے کی پر شکل حواصل کی سی آتی ہے نظر\nنقطہ اس پر جو لگا خے ہوا یہ واہ بے خے\n\nدال بھی چھوٹی بہن اس کی ہے جوں آتوجے\nایک پرکالہ سا بیٹا بھی ہے گھر میں ان کے\n\nرے بھی خالی ہے اور زے پہ ہے وہ نکتہ ایک\nکہ مشابہ ہے جو تل سے مری رخسارے کے\n\nسین خالی ہے بڑی شین پہ ہیں نقطہ تین\nصاد اور ضاد میں بس فرق ہے اک نقطے سے\n\nطوے بن طرہ ہے اور ظوے پر اک نقطہ پھر\nعین بے عیب ہے اور کانے میاں غین ہوے\n\nفے پہ اک نقطہ ہے اور قاف پہ ہیں نقطہ دو\nکاف بھی خالی ہے اور لام بھی خالی، یہ لے\n\nمیم بھی یوں ہی ہے اور نون کے اندر نقطہ\nمفلسا بیگ ہے یہ واؤ بھی اور چھوٹی ہے\n\nکیا خلیفہ جی یہ ہے ہے ہے نہیں سے نکلے\nآگے چھٹی دو اے لو لام الف ہمزہ یے\n\nگالیاں تیری ہی سنتا ہے اب انشاؔ ورنہ\nکس کی طاقت ہے الف سے جو کہے اس کو بے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A7%DB%92_%D8%B7%D9%81%D9%84_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D9%88%D8%B4_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92"} {"title": "تبدیلی", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ایک تھا راجہ ایک تھی رانی\nکون سنائے اب یہ کہانی\nاب نہ شیر کو جال میں پکڑے\nاور نہ چوہا جال کو کترے\nاور نہ جیتے بازی کچھوا\nاور نہ رہے خرگوش بھی سوتا\nچاند کی بڑھیا چلی گئی ہے\nسوت کاتنا چھوڑ چکی ہے\nحاتم طائی اور علی بابا\nسکھی سخاوت اور مرجینہ\nکوئی سناتا نہیں کہانی\nنہ تو دادا اور نہ نانی\nختم ہوئے سب جادو ٹونے\nقصے پریوں کے بھوتوں کے\nہر دم ٹی وی پیش نظر ہے\nاب دنیا کا حال دگر ہے\nٹی وی میں کارٹون آتے ہیں\nبچوں کا دل بہلاتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A8%D8%AF%DB%8C%D9%84%DB%8C"} {"title": "تبلیغ پیام ہو گئی ہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تبلیغ پیام ہو گئی ہے\nحجت بھی تمام ہو گئی ہے\n\nجب موج صبا ادھر سے آئی\nتفریح مشام ہو گئی ہے\n\nکتنی بودی ہے طبع انساں\nعادت کی غلام ہو گئی ہے\n\nخواہش کہ تھی آدمی کو لازم\nبڑھ کر الزام ہو گئی ہے\n\nتمہید پیام ہی میں اپنی\nتقریر تمام ہو گئی ہے\n\nبچنا کہ وبائے صحبت بد\nاس دور میں عام ہو گئی ہے\n\nحلقے میں قلندروں کے آ کر\nتحقیق تمام ہو گئی ہے\n\nجرگہ میں لقندروں کے جا کر\nحکمت بدنام ہو گئی ہے\n\nشیریں دہنوں کی طرز گفتار\nمقبول انام ہو گئی ہے\n\nبے جا بھی نکل گئی ہے جو بات\nتحسین کلام ہو گئی ہے\n\nنامرد کے ہاتھ میں پہنچ کر\nشمشیر نیام ہو گئی ہے\n\nتکفیر برادران دیں بھی\nشرط اسلام ہو گئی ہے\n\nکیا شعر کہیں کہ شاعری کی\nترکی ہی تمام ہو گئی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "تجرید", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "زندگی میں ترے دروازے پر\nاک بھکاری کی طرح آیا تھا\nاپنے دامن کو بنا کر کشکول\nتیری ہر راہ پہ پھیلایا تھا\n\nایک مرحوم کرن کی خاطر\nمجھ کو تھوڑی سی ضیا بھی نہ ملی\nدم بہ دم ڈوبتے سیارے کو\nاپنے مرکز سے صدا بھی نہ ملی\n\nدفعتاً ایک دھماکے کے ساتھ\nکچے دھاگوں کے سرے چھوٹ گئے\nانگلیاں چھل گئیں ارمانوں کی\nیک بہ یک تار نفس ٹوٹ گئے\n\nاور پھر ایک گھنا سناٹا\nاور پھر رسم کہن کے گیسو\nکچھ دلاسے کی زبانی باتیں\nکچھ دکھاوے کے پرانے آنسو\n\nکہر میں ڈوب گئی تھیں شمعیں\nوقت ناراض تھا قسمت کی طرح\nرات کے رخ پہ تھے زخموں کے نشان\nمیری مجروح حمیت کی طرح\n\nاک خطرناک کگارے کے قریب\nتجھ سے لڑنے کا ارادہ لے کر\nمیں نے مہروں کو سکھائی شورش\nمیں نے موجوں کے بگاڑے تیور\n\nتو مگر آئی تو اک لمحے میں\nنہ وہ تیور تھے نہ وہ آہیں تھیں\nتیرے عارض پہ مرے آنسو تھے\nمیری گردن میں تری باہیں تھیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%D8%B1%DB%8C%D8%AF"} {"title": "تجھ بدن پر جو لال ساری ہے", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ بدن پر جو لال ساری ہے\nعقل اس نے مری بساری ہے\n\nبال دیکھے ہیں جب سوں میں تیرے\nزلف سی دل کوں بے قراری ہے\n\nقد الف سا ہوا مرا جیوں دال\nعشق کا بوجھ سخت بھاری ہے\n\nسب کے سینے کو چھید ڈالا ہے\nپلک تیری مگر کٹاری ہے\n\nاوڑھنی اودی پر کناری زرد\nگرد شب کے سرج کی دھاری ہے\n\nقہر و لطف و تبسم و خندہ\nتیری ہر اک ادا پیاری ہے\n\nترچھی نظراں سوں دیکھنا ہنس ہنس\nمور سے چال تجھ نیاری ہے\n\nزندہ فائزؔ کا دل ہوا تجھ سوں\nحسن تیرا بی فیض باری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D9%84%D8%A7%D9%84_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "تجھ بن آرام جاں کہاں ہے مجھے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ بن آرام جاں کہاں ہے مجھے\nزندگانی وبال جاں ہے مجھے\n\nگر یہی درد ہجر ہے تیرا\nزیست کا اپنی کب گماں ہے مجھے\n\nمثل طوطی ہزار معنی میں\nسحر ساز سخن زباں ہے مجھے\n\nہے خیال اس کا مانع گفتار\nورنہ سو قوت بیاں ہے مجھے\n\nخامشی بے سبب نہیں بیدارؔ\nباعث زیستن دہاں ہے مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D9%86_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرح", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرح\nجوں توں کے دن تو گزرے ہے پر رات بے طرح\n\nہوتی ہے ایک طرح سے ہر کام کی جزا\nاعمال عشق کی ہے مکافات بے طرح\n\nبلبل کر اس چمن میں سمجھ کر ٹک آشیاں\nصیاد لگ رہا ہے تری گھات بے طرح\n\nپوچھا پیام بر سے جو میں یار کا جواب\nکہنے لگا خموش کہ ہے بات بے طرح\n\nملنے نہ دے گا ہم سے تجھے ایک دم رقیب\nپیچھے لگا پھرے ہے وہ بد ذات بے طرح\n\nکوئی ہی مور ہے تو رہے اس میں شیخ جی\nداڑھی پڑی ہے شانے کے اب ہاتھ بے طرح\n\nسوداؔ نہ مل کر اپنی تو اب زندگی پہ رحم\nہے اس جواں کی طرز ملاقات بے طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D9%86_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D9%B9%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D9%82%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%DB%92_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "تجھ بن تو کبھی گل کے تئیں بو نہ کروں میں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ بن تو کبھی گل کے تئیں بو نہ کروں میں\nمر جاؤں پہ گلشن کی طرف رو نہ کروں میں\n\nگر جعد کو سنبل کی صبا بیچنے لاوے\nخاطر سے تری قیمت یک مو نہ کروں میں\n\nپلے میں ترے حسن کے گو ہو وہ گراں تر\nیوسف کو ترا سنگ ترازو نہ کروں میں\n\nیوں دل کو گرفتار رکھوں صید الم میں\nپر اور کا صید خم گیسو نہ کروں میں\n\nگر حور و پری دل کو لبھاوے مرے آ کر\nواللہ کہ اس پر کبھی جادو نہ کروں میں\n\nگر مرثیہ خوانی پہ دل آوے کبھی میرا\nتو ہووے تو داؤد کو بازو نہ کروں میں\n\nہوں بسکہ ہوا دار تری آتش غم کا\nپھنک جائے جو سینہ تو کبھو ہو نہ کروں میں\n\nیوں دیکھوں تو دیکھوں کسی خوش وضع کو لیکن\nخواہش کی نظر بر رخ نیکو نہ کروں میں\n\nبلبل کی طرح گل پہ نہ ہوں زمزمہ پرواز\nقمری کی طرح سرو پہ کو کو نہ کروں میں\n\nجب رات ہو زانو پہ رکھو اپنے سر اپنا\nپر تکیۂ سر غیر کا زانو نہ کروں میں\n\nمحراب کے کعبے کا نمازی ہوں تو واں بھی\nجز سجدۂ طاق خم ابرو نہ کروں میں\n\nجب تک نہ کھلیں مجھ سے ترے حسن کے عقدے\nہرگز ہوس نافۂ آہو نہ کروں میں\n\nہم خوابہ اگر ہووے مری حور بہشتی\nایدھر سے ادھر کو کبھی پہلو نہ کروں میں\n\nکوئی اور تو کب مجھ کو لبھا سکتا ہے لیکن\nڈرتا ہوں تصور سے ترے خو نہ کروں میں\n\nاے مصحفیؔ ہے عہد کہ جب تک نہ وہ گل ہو\nگلگشت گل و سیر لب جو نہ کروں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D9%86_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%88_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تجھ بن سرشک خوں کا ہے آنکھوں سے طغیاں اس قدر", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ بن سرشک خوں کا ہے آنکھوں سے طغیاں اس قدر\nبرسا نہیں اب تک کہیں ابر بہاراں اس قدر\n\nگلشن میں گر دیکھیں مجھے ہوئیں سنبل و نرگس خجل\nدل ہے پریشاں اس قدر آنکھیں ہیں حیراں اس قدر\n\nرکھتا ہے تو جس جا قدم ہوتا ہے لوہو کا نشاں\nپامال کرتا ہے کوئی خون شہیداں اس قدر\n\nڈھونڈھے جو تو دامن تلک پاوے نہ ثابت تو اسے\nمیں چاک پھرتا ہوں کئے ناصح گریباں اس قدر\n\nبیدارؔ کو دکھلا کے تو نے قتل اوروں کو کیا\nکرتا ہے اے ظالم کوئی ظلم نمایاں اس قدر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D9%86_%D8%B3%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1"} {"title": "تجھ بنا دل کو بے قراری ہے", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ بنا دل کو بے قراری ہے\nدم بدم مجھ کو آہ و زاری ہے\n\nہاتھ تیرے جو دیکھی ہے تلوار\nآرزو دل کو جاں سپاری ہے\n\nمجھ کو اوروں سے کچھ نہیں ہے کام\nتجھ سے ہر دم امیدواری ہے\n\nہم سے تجھ کو نہیں ملاپ کبھی\nیہ مگر جگ میں طور یاری ہے\n\nآہ کوں دل میں میں چھپاتا ہوں\nلازم عشق پردہ داری ہے\n\nگر رہا تیری راہ پر فائزؔ\nعشق کی شرط خاکساری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "تجھ بے وفا کی آہ کوئی چاہ کیا کرے", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ بے وفا کی آہ کوئی چاہ کیا کرے\nدل تجھ کو دے کے تو ہی بتا آہ کیا کرے\n\nجس دل جلے کی تجھ سے لگے شمع ساں لگن\nسر سے وہ گزرے اور تو واللہ کیا کرے\n\nزاری فغاں و نالہ سبھی بے اثر ہیں آہ\nاس سنگ دل کے دل میں کوئی راہ کیا کرے\n\nاس ماہ کوچہ گرد کے تئیں ڈھونڈھتا ہوا\nہر شب گلی گلی نہ پھرے آہ کیا کرے\n\nیعقوب کی طرح تو بہت روئے دیکھیے\nاے یوسف زمانہ تری چاہ کیا کرے\n\nجاتے ہیں سوئے دیر رہ کعبہ چھوڑ کر\nحق میں ہمارے دیکھیے اللہ کیا کرے\n\nکوئی ڈھونڈھتا کتاں کے تئیں یارو پر ہے غم\nملتا کہیں نہیں دل آگاہ کیا کرے\n\nکی دل نے دلبران جہاں کی بہت تلاش\nکوئی دل ربا ملا ہے نہ دل خواہ کیا کرے\n\nاس کوئے زلف میں اے جہاں دارؔ جا پھنسا\nدل کس طرح سے گم نہ کرے راہ کیا کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "تجھ رہ سے محال ہے اٹھانا مجھ کو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تجھ رہ سے محال ہے اٹھانا مجھ کو\nپھر جنی کہے کوئی سیانا مجھ کو\nسر میرا لگا ہے نقش پا سے تیرے\nسجدے کو خدا کے بھی بجانا مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B1%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "تجھ زلف کی شکن ہے مانند دام گویا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ زلف کی شکن ہے مانند دام گویا\nیا صبح پر ہماری آئی ہے شام گویا\n\nہیں صاد اس کی آنکھیں اور قد الف کے مانند\nابرو ہے نون نادر گیسو ہے لام گویا\n\nمسجد میں تجھ بھنؤں کی اے قبلۂ دل و جاں\nپلکیں ہیں مقتدی اور پتلی امام گویا\n\nرنگیں بہار جنت دوزخ ہے مجھ کو اس بن\nدوزخ ہے اس کے ہوتے دارالسلام گویا\n\nٹک ماہ نو کی جانب اے ماہ رو نظر کر\nخم ہو تری بھنؤں کوں کرتا سلام گویا\n\nگل رو کے قد مقابل ہو با ادب کھڑا ہے\nشمشاد ہے چمن میں اس کا غلام گویا\n\nشعر سراجؔ از بس عالم میں ہیں زباں زد\nدیوان کی زمیں ہے دیوان عام گویا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%DA%A9%D9%86_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%86%D8%AF_%D8%AF%D8%A7%D9%85_%DA%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تجھ سے بوسہ میں نہ مانگا کبھو ڈرتے ڈرتے", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ سے بوسہ میں نہ مانگا کبھو ڈرتے ڈرتے\nدیکھیے آب بقا پاؤں گا مرتے مرتے\n\nکیا ہے انصاف کہ جوں صبح تو ہنستا ہے ہنوز\nمر چکا شمع سا میں گریہ ہی کرتے کرتے\n\nاب تو منہ دے مجھے اے نور نظر آئینہ وار\nگر گئیں پلکیں سرشک آنکھ سے جھڑتے جھڑتے\n\nنہ ہوا درد سر ناز کا صندل تجھے ہائے\nگھس گیا ماتھا ترے پانو پہ دھرتے دھرتے\n\nجب سے دکھلا گیا جاں بخش تو جلوے کی بہار\nمر گئیں بلبلیں گل زار سے گرتے گرتے\n\nہم دوانوں کو نہیں حاجت زنداں طفلو\nچھپ گئے ڈھیر میں ہم سنگ کے پڑتے پڑتے\n\nذرہ کر مہر تو عزلتؔ پہ کہ مانند ہلال\nخالی ہوں آپ سے دن ہجر کے پھرتے پھرتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%DA%88%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DA%88%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "تجھ سے ظالم کو اپنا یار کیا", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ سے ظالم کو اپنا یار کیا\nہم نے کیا جبر اختیار کیا\n\nمثل سیماب بے قرار رہے\nایک جا ہم نے کب قرار کیا\n\nآنکھیں پتھرا گئیں اے سنگیں دل\nیاں تلک تیرا انتظار کیا\n\nتو جو کہتا ہے جلد آؤں گا\nمیں نے کیا تیرا اعتبار کیا\n\nجیب تو کیا ہے ناصحو ہم نے\nچاک سینے کو غنچہ وار کیا\n\nنظر آئے قیاس سے باہر\nدل کے زخموں کو جب شمار کیا\n\nآتش عشق نے بہ رنگ سپند\nدانۂ دل کو بے قرار کیا\n\nتو وفا سے نہ در گزر ؔجوشش\nاس نے گو جور اختیار کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تجھ سے کیا نسبت کہ تھے لیلیٰ کے کالے ہاتھ پاؤں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ سے کیا نسبت کہ تھے لیلی کے کالے ہاتھ پاؤں\nحق نے تیرے نور کے سانچے میں ڈھالے ہاتھ پاؤں\n\nہاتھ پکڑے مجھ کو کھینچے پھر سوئے دشت بلا\nاے جنوں اب کر دئے تیرے حوالے ہاتھ پاؤں\n\nخواہ باندھیں خواہ جکڑیں ان کو زنجیروں میں وہ\nہم نے ان زلفوں کے ہاتھوں بیچ ڈالے ہاتھ پاؤں\n\nہاتھ الجھے جیب سے پھر پاؤں لپٹے خار سے\nہم نے زنداں سے نکلتے ہی نکالے ہاتھ پاؤں\n\nسر سناں نے سینہ خنجر نے لیا ناوک نے دل\nہیں یہ تیری نذر اے تیغ جفا لے ہاتھ پاؤں\n\nکر دیا ہے چور ہم کو نشۂ الفت نے داغؔ\nاب بھلا کوئی سنبھلتے ہیں سنبھالے ہاتھ پاؤں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%B3%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%D9%B0_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA"} {"title": "تجھ سے گر وہ دلا نہیں ملتا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ سے گر وہ دلا نہیں ملتا\nزہر بھی تجھ کو کیا نہیں ملتا\n\nجس کو وہ زلف مار ڈالے ہے\nسر مو خوں بہا نہیں ملتا\n\nاور سب کچھ ملے ہے دنیا میں\nلیکن اک آشنا نہیں ملتا\n\nدل دیوانہ رات سے گم ہے\nکہیں اس کا پتا نہیں ملتا\n\nشیخ کلبے سے اٹھ نکل باہر\nگھر میں بیٹھے خدا نہیں ملتا\n\nدرد و غم کو بھی ہے نصیبہ شرط\nیہ بھی قسمت سوا نہیں ملتا\n\nاک نے پوچھا یہ مصحفیؔ سے بھلا\nکیوں تو اے بے وفا نہیں ملتا\n\nہنس کے بولا کہ او میاں اس سے\nکیا کروں دل مرا نہیں ملتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "تجھ سے گرویدہ یک زمانہ رہا", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ سے گرویدہ یک زمانہ رہا\nکچھ فقط میں ہی مبتلا نہ رہا\n\nآپ کو اب ہوئی ہے قدر وفا\nجب کہ میں لائق جفا نہ رہا\n\nراہ و رسم وفا وہ بھول گئے\nاب ہمیں بھی کوئی گلہ نہ رہا\n\nحسن خود ہو گیا غریب نواز\nعشق محتاج التجا نہ رہا\n\nبسکہ نظارہ سوز تھا وہ جمال\nہوش نظارگی بجا نہ رہا\n\nمیں کبھی تجھ سے بد گماں نہ ہوا\nتو کبھی مجھ سے آشنا نہ رہا\n\nآپ کا شوق بھی تو اب دل میں\nآپ کی یاد کے سوا نہ رہا\n\nاور بھی ہو گئے وہ غافل خواب\nنالۂ صبح نارسا نہ رہا\n\nحسن کا ناز عاشقی کا نیاز\nاب تو کچھ بھی وہ ماجرا نہ رہا\n\nعشق جب شکوہ سنج حسن ہوا\nالتجا ہو گئی گلہ نہ رہا\n\nہم بھروسے پہ ان کے بیٹھ رہے\nجب کسی کا بھی آسرا نہ رہا\n\nمیرے غم کی ہوئی انہیں بھی خبر\nاب تو یہ درد لا دوا نہ رہا\n\nآرزو تیری برقرار رہے\nدل کا کیا ہے رہا رہا نہ رہا\n\nہو گئے ختم مجھ پہ جور فلک\nاب کوئی مورد بلا نہ رہا\n\nجب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر\nنظم حسرتؔ میں بھی مزا نہ رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DB%8C%DA%A9_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "تجھ سے ہی کیا وفا کی نہیں خوش نگاہ چشم", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ سے ہی کیا وفا کی نہیں خوش نگاہ چشم\nجتنے سفید پوش ہیں سب ہیں سیاہ چشم\n\nاس مہروش کے ہونے نہ دے گریہ رو بہ رو\nجب تک سفید ہووے نہ مانند ماہ چشم\n\nاندھیر ہے دیار محبت میں ہمدماں\nتقصیر دل کی ٹھہرے کرے جو گناہ چشم\n\nدونوں مکان غیر سے خالی ہیں آ کے بیٹھ\nتیرے پسند خواہ یہ دل آئے خواہ چشم\n\nاس کی شب فراق میں اتنا تو رو کہ ہو\nدریائے اشک میں تری کشتی تباہ چشم\n\nمجھ کو جلا کے خاک کیا اور بہا دیا\nتم سے تو یہ نہ تھی مجھے اے اشک و آہ چشم\n\nؔجوشش وہ کون سا ہے جفا کار جس پر آج\nمنہ پر لہو ملے ہوئے ہے داد خواہ چشم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%86%D8%B4%D9%85"} {"title": "تجھ سے یوں یک بار توڑوں کس طرح", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ سے یوں یک بار توڑوں کس طرح\nمیں قدم تیرے یہ چھوڑوں کس طرح\n\nگھر سے بابر تو نہ نکلا تا ہنوز\nتیرے در پر سر نہ پھوڑوں کس طرح\n\nمے سے تائب تھا ولیکن آج پی\nہاتھ لگ جاوے تو چھوڑوں کس طرح\n\nآبروئے ابر یاں منظور ہے\nآہ میں دامن نچوڑوں کس طرح\n\nصاف دل کیوں کر کروں تجھ سے بھلا\nٹوٹی الفت پھر کے جوڑوں کس طرح\n\nشوق سے تو ہاتھ کو میرے مروڑ\nمیں ترا پنجا مروڑوں کس طرح\n\nوقت بوسہ کے یہ انشاؔ سے کہا\nتجھ سے میں پھر منہ نہ موڑوں کس طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%88%DA%91%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے\nلیکن شفا کو گردش تقدیر شرط ہے\n\nسودائی دل کو زلف گرہ گیر شرط ہے\nدیوانے کے علاج میں زنجیر شرط ہے\n\nنالے تو میں بہت کئے اس بت کے سامنے\nپتھر کے نرم کرنے کو تاثیر شرط ہے\n\nہو خاک راہ عشق میں تا قدر ہو تری\nمس کے طلا بنانے کو اکسیر شرط ہے\n\nکافی ہے اک اشارۂ ابرو ترا ہمیں\nکچھ عاشقوں کے قتل کو شمشیر شرط ہے\n\nدل کی شکست و ریخت کی میرے تو لے خبر\nہر گھر کی دیر پائی کو تعمیر شرط ہے\n\nکرتا ہے کس گنہ پہ عقوبت ہمیں تو یار\nتعزیر کے تو واسطے تقصیر شرط ہے\n\nسوداؔ میں اس چمن میں ہوں جوں غنچہ دل گرفت\nماتم سرا میں صورت دلگیر شرط ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%B6_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%B4%D8%B1%D8%B7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تجھ قبا پر گلاب کا بوٹا", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ قبا پر گلاب کا بوٹا\nدل بلبل گویا ابھی ٹوٹا\n\nسچ کہوں عہد ہے ترا جھوٹا\nتو سلامت رہے یہ دل ٹوٹا\n\nخط نے زلفوں کا قتل عام کیا\nفوج نادر نے ہند کو لوٹا\n\nدل ہوا بوئے گل سا صحرائی\nجب وہ پنجے سے غنچے کے چھوٹا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%82%D8%A8%D8%A7_%D9%BE%D8%B1_%DA%AF%D9%84%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D9%88%D9%B9%D8%A7"} {"title": "تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا\nلذت کو اسیری کی کر یاد بہت رویا\n\nتصویر مری تجھ بن مانیؔ نے جو کھینچی تھی\nانداز سمجھ اس کا بہزادؔ بہت رویا\n\nنالے نے ترے بلبل نم چشم نہ کی گل کی\nفریاد مری سن کر صیاد بہت رویا\n\nجوئیں پڑی بہتی ہیں جا دیکھ گلستاں میں\nتجھ قد سے خجل ہو کر شمشاد بہت رویا\n\nآئینہ جو پانی میں ہے غرق یہ باعث ہے\nتجھ سخت دلی آگے فولاد بہت رویا\n\nیاں تک مرے مشہد سے ہے تشنہ لبی پیدا\nاس سمت جو ہو گزرا جلاد بہت رویا\n\nسوداؔ سے یہ میں پوچھا دل میں بھی کسی کو دوں\nوہ کر کے بیاں اپنی روداد بہت رویا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا\nجادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گا\n\nدی بادشہی حق نے تجھے حسن نگر کی\nیو کشور ایراں میں سلیماں سوں کہوں گا\n\nتعریف ترے قد کی الف وار سریجن\nجا سرو گلستاں کوں خوش الحاں سوں کہوں گا\n\nمجھ پر نہ کرو ظلم تم اے لیلی خوباں\nمجنوں ہوں ترے غم کوں بیاباں سوں کہوں گا\n\nدیکھا ہوں تجھے خواب میں اے مایۂ خوبی\nاس خواب کو جا یوسف کنعاں سوں کہوں گا\n\nجلتا ہوں شب و روز ترے غم میں اے ساجن\nیہ سوز ترا مشعل سوزاں سوں کہوں گا\n\nیک نقطہ ترے صفحۂ رخ پر نئیں بے جا\nاس مکھ کو ترے صفحۂ قرآں سوں کہوں گا\n\nقربان پری مکھ پہ ہوئی چوب سی جل کر\nیہ بات عجائب مہ تاباں سوں کہوں گا\n\nبے صبر نہ ہو اے ولیؔ اس درد سوں ہرگز\nجلتا ہوں ترے درد میں درماں سوں کہوں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%84%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%81%D8%AA_%D9%84%D8%B9%D9%84_%D8%A8%D8%AF%D8%AE%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "تجھ میں تو ایک خوئے جفا اور ہو گئی", "poet_page": "مصنف:وحید الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ میں تو ایک خوئے جفا اور ہو گئی\nمیں اور ہو گیا نہ وفا اور ہو گئی\n\nگل کا کہیں نشاں ہے نہ بلبل کا ذکر ہے\nدو روز میں چمن کی ہوا اور ہو گئی\n\nآمد کی سن کے کھولی تھی بیمار غم نے آنکھ\nتم آ گئے امید شفا اور ہو گئی\n\nبنت عنب تو رندوں کو یوں ہی مباح تھی\nزاہد نظر پڑا تو روا اور ہو گئی\n\nشکل قبول ہو کے پھری آسمان سے\nتاثیر ہو گئی تو دعا اور ہو گئی\n\nیاد آ گئی جو کعبے میں آبرو کی اے وحیدؔ\nاپنی نماز عشق ادا اور ہو گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AE%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "تجھ میں جس دم دھیان جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ میں جس دم دھیان جاتا ہے\nہوش آیا اس آن جاتا ہے\n\nدل مرا گم ہوا صنم اللہ\nتجھ پہ میرا گمان جانا ہے\n\nتیرے مژگاں کی کیا کروں تعریف\nتیر یہ بے کمان جاتا ہے\n\nہائے ظالم ہوں نیم جاں ٹک دیکھ\nہاتھ سے اک جوان جاتا ہے\n\nسج مرے شوخ کی ذرا دیکھو\nجیسے بانکا پٹھان جاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D9%85_%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تجھ پر فدا ہیں سارے حسن و جمال والے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ پر فدا ہیں سارے حسن و جمال والے\nکیا صاف گال والے کیا خط و خال والے\n\nمجھ رنگ زرد اوپر غصے سیں لال مت ہو\nاے سبز شال والے اودے رومال والے\n\nتحقیق کی نظر سیں آخر کوں ہم نے دیکھا\nاکثر ہیں مال والے کم ہیں کمال والے\n\nسایہ کوں سرو قد کے ڈھونڈے پہ کہیں نہ پائے\nعالم کے فال والے اور کیا نہال والے\n\nگر حرف میرے غم کا لاؤں زباں کے اوپر\nہو جائیں قال والے یک دم میں حال والے\n\nموزوں نہیں کئے ہیں تجھ قد سا ایک مصرعہ\nجل گئے خیال والے مر گئے مثال والے\n\nگر شب کوں سیر کرنے نکلے سراجؔ مہ رو\nجاہ و جلال والے ہویں مثال والے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%B1_%D9%81%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%88_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "تجھ کو آتی ہے دلاسے کی نہیں بات کوئی", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ کو آتی ہے دلاسے کی نہیں بات کوئی\nکس طرح تجھ سے رکھے جان ملاقات کوئی\n\nلگ چلے تجھ سے وہ کھانی ہو جسے لات کوئی\nہاتھ کس طرح لگا دے تجھے ہیہات کوئی\n\nڈر سے میں چپ ہوں ترے ورنہ بھری مجلس میں\nبات کرتا ہے کوئی تجھ سے اشارات کوئی\n\nمل گئے راہ میں کل وہ تو کہا رنگیںؔ نے\nکس طرح تم سے کرے اب بسر اوقات کوئی\n\nکچھ تو انصاف بھلا کیجئے دل میں اپنے\nتم نے مانی بھی کبھی میری اجی بات کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "تجھ کو کس منہ سے بے وفا کہئے", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھ کو کس منہ سے بے وفا کہئے\nکوئی پوچھے سبب تو کیا کہئے\n\nہم سے کچھ وقت پر نہ بن آئی\nلے گئے دل وہ مفت کیا کہئے\n\nمجھ کو سمجھا کے گالیاں دیجے\nفقرہ فقرہ جدا جدا کہئے\n\nنہ میں عاشق نہ آپ کو کیا ہوں\nغیر سے اپنا مدعا کہئے\n\nجان دیتا ہوں کس خوشی سے میں\nآج تو آپ مرحبا کہئے\n\nآئنہ میں دکھا کے کہتا ہوں\nآپ ہی ہیں کہ دوسرا کہئے\n\nاب نہ کیجے موئے پہ سو درے\nاب نہ عاشق کو با وفا کہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B3_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا\nصدائے ساز ہوگی اور نہ ساز بے صدا ہوگا\n\nہمیں معلوم ہے ہم سے سنو محشر میں کیا ہوگا\nسب اس کو دیکھتے ہوں گے وہ ہم کو دیکھتا ہوگا\n\nسر محشر ہم ایسے عاصیوں کا اور کیا ہوگا\nدر جنت نہ وا ہوگا در رحمت تو وا ہوگا\n\nجہنم ہو کہ جنت جو بھی ہوگا فیصلہ ہوگا\nیہ کیا کم ہے ہمارا اور ان کا سامنا ہوگا\n\nازل ہو یا ابد دونوں اسیر زلف حضرت ہیں\nجدھر نظریں اٹھاؤ گے یہی اک سلسلا ہوگا\n\nیہ نسبت عشق کی بے رنگ لائے رہ نہیں سکتی\nجو محبوب خدا کا ہے وہ محبوب خدا ہوگا\n\nاسی امید پر ہم طالبان درد جیتے ہیں\nخوشا درد دے کہ تیرا اور درد لا دوا ہوگا\n\nنگاہ قہر پر بھی جان و دل سب کھوئے بیٹھا ہے\nنگاہ مہر عاشق پر اگر ہوگی تو کیا ہوگا\n\nسیانا بھیج دے گا ہم کو محشر سے جہنم میں\nمگر جو دل پہ گزرے گی وہ دل ہی جانتا ہوگا\n\nسمجھتا کیا ہے تو دیوانگان عشق کو زاہد\nیہ ہو جائیں گے جس جانب اسی جانب خدا ہوگا\n\nجگرؔ کا ہاتھ ہوگا حشر میں اور دامن حضرت\nشکایت ہو کہ شکوہ جو بھی ہوگا برملا ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%8C_%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%D9%86_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا\nبرابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا\n\nمرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہ\nکہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا\n\nیگانہ ہے تو آہ بیگانگی میں\nکوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا\n\nاذیت مصیبت ملامت بلائیں\nترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا\n\nکیا مج کو داغوں نے سرو چراغاں\nکبھو تو نے آ کر تماشا نہ دیکھا\n\nتغافل نے تیرے یہ کچھ دن دکھائے\nادھر تو نے لیکن نہ دیکھا نہ دیکھا\n\nحجاب رخ یار تھے آپ ہی ہم\nکھلی آنکھ جب کوئی پردا نہ دیکھا\n\nشب و روز اے دردؔ در پے ہوں اس کے\nکسو نے جسے یاں نہ سمجھا نہ دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "تجھے اے شعلہ رو کب چھوڑتا ہوں", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھے اے شعلہ رو کب چھوڑتا ہوں\nجلے دل کے پھپھولے پھوڑتا ہوں\n\nذرا چل دیکھ مجھ پر تیغ ابرو\nمڑے ہے تو کہ میں منہ موڑتا ہوں\n\nرفو جب تک نہ ہووے حسب صد چاک\nیہ رشتہ اشک کا کوئی توڑتا ہوں\n\nسرشتہ دم کا جب تک ہاتھ میں ہے\nاسی کو توڑتا ہوں جوڑتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D8%A8_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہے", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہے\nترا جلوہ تیرا ہے پردہ در تیرے رخ پہ کیوں یہ نقاب ہے\n\nتجھے حسن مایۂ ناز ہے دل خستہ محو نیاز ہے\nکہوں کیا یہ قصۂ راز ہے مرا عشق خانہ خراب ہے\n\nیہ رسالہ عشق کا ہے ادق ترے غور کرنے کا ہے سبق\nکبھی دیکھ اس کو ورق ورق مرا سینہ غم کی کتاب ہے\n\nتری جذب میں ہے ربودگی تیرے سکر میں ہے غنودگی\nنہ خبر شہود و وجود کی نہ ترنگ موج سراب ہے\n\nیہ وہی ہے ساقیؔٔ شیفتہ جو ہے دل سے تیرا فریفتہ\nیہ ہے تیرا بندہ گریختہ کہ جو خاکسار تراب ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AE%D9%84%D9%82_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%86%D9%85%D8%A7_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "تجھے نامہ بر قسم ہے وہیں دن سے رات کرنا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھے نامہ بر قسم ہے وہیں دن سے رات کرنا\nکوئی ایک بات پوچھے تو ہزار بات کرنا\n\nنہیں اور خوف قاصد مگر ایک بات کا ہے\nجو رقیب بھی وہاں ہو بہت التفات کرنا\n\nوہ ہو تیز رو نہ پائے کوئی تم کو حضرت دل\nرہ‌ دوست میں جو چلنا تو ہوا کو مات کرنا\n\nمرے دل کی قیمت اتنی نہ بڑھاؤ کون لے گا\nجو تمہیں نہ جانتا ہو یہ اسی سے گھات کرنا\n\nنکل آئیں گے وہ باہر وہیں شور سن کے اے دل\nکبھی ان کے کے گھر پہ جا کر کوئی واردات کرنا\n\nوہ کریم کیا نہیں ہے وہ رحیم کیا نہیں ہے\nکبھی داغؔ بھول کر بھی نہ غم نجات کرنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81_%D8%A8%D8%B1_%D9%82%D8%B3%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7"} {"title": "تجھے نقش ہستی مٹایا تو دیکھا", "poet_page": "مصنف:ممنونؔ نظام الدین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھے نقش ہستی مٹایا تو دیکھا\nجو پردہ تھا حائل اٹھایا تو دیکھا\n\nیہ سب تیرے ہی حسن کا پرتو ہے\nنہ دیکھا تجھے تیرا سایا تو دیکھا\n\nبرا مانیے مت مرے دیکھنے سے\nتمہیں حق نے ایسا بنایا تو دیکھا\n\nنہ ہوں کیونکہ ممنونؔ پیر مغاں کا\nیہ عالم جو ساغر پلایا تو دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%B4_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%85%D9%B9%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "تجھے کل ہی سے نہیں بے کلی نہ کچھ آج ہی سے رہا قلق", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھے کل ہی سے نہیں بے کلی نہ کچھ آج ہی سے رہا قلق\nتری عمر ساری یوں ہی کٹی تو ہمیشہ یوں ہی جیا قلقؔ\n\nہوا دل کے جانے کا اب یقیں کہ وہ درد بر میں مرے نہیں\nنہ وہ اضطراب قضا کہیں نہ وہ حشر خیز بلا قلقؔ\n\nمجھے حشر کر دیا بیٹھنا مجھے قہر ہو گیا ٹھہرنا\nہے بسان صبر گریز پا نہیں غم گسار مرا قلق\n\nانہیں نالہ کرنے کا رنج کیا انہیں آہ بھرنے کا رنج کیا\nانہیں میرے مرنے کا رنج کیا انہیں میرے جانے کا کیا قلق\n\nیہی رشک نے دیے مشورے کبھی پردہ ان کا نہ کھولیے\nمرے جی ہی جی میں پھرا کیے مرے دل ہی دل میں رہا قلق\n\nنہ تو روئے غیر نہ گھر رہے نہ شب فراق میں مر رہے\nنہ وفا کرے نہ ستم سہے نہ جفا ہوئی نہ ہوا قلق\n\nنہ وہ میں رہا نہ وہ تو رہا نہ وہ آرزو نہ وہ مدعا\nہوا زندگی کا بھی فیصلہ مگر ایک تیرا رہا قلق\n\nرہے لاکھ صدمے نفس نفس جیے کیوں کہ کوئی پرائے بس\nشب وصل مرنے کی تھی ہوس شب ہجر جینے کا تھا قلق\n\nنہیں چین ان کو بھی ایک دم کہ ہے فکر جور کا غم سا غم\nہوئے مجھ پہ روز نئے ستم رہا ان کو روز نیا قلق\n\nکرے ربط کوئی کسی سے کیا کہ اٹھا طریق نباہ کا\nنہ کرے گی تجھ سے وفا جفا نہ کرے گا مجھ سے وفا قلق\n\nمیں جلا تو شعلے میں جوش تھا جو ہوا میں خاک ہے زلزلہ\nمیں ہزار شکل بدل چکا پہ کسی طرح نہ چھپا قلق\n\nنہیں تیرے پھرنے کا کچھ گلہ کہ زمانہ سارا بدل گیا\nجو شب وصال میں چین تھا وہی روز ہجر بنا قلق\n\nوہ ہے التفات دم ستم کہ زیادہ اس سے نہیں کرم\nمرے چاک دل کا رفو الم مرے درد جاں کی دوا قلق\n\nگئے واں بھی پر نہ گھٹا الم چھٹے سب سے پر نہ چھٹا الم\nمرے پاس سے نہ ہٹا الم مرے ساتھ سے نہ ٹلا قلق\n\nابھی تھا صلاۓ زن سبق ابھی تھی کتاب ورق ورق\nکبھی مدرسے میں رہا قلقؔ کبھی میکدے میں رہا قلقؔ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A2%D8%AC_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%82%D9%84%D9%82"} {"title": "تجھے کچھ بھی خدا کا ترس ہے اے سنگ دل ترسا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھے کچھ بھی خدا کا ترس ہے اے سنگ دل ترسا\nہمارا دل بہت ترسا ارے ترسا نہ اب ترسا\n\nمیں اس پر مبتلا وہ غیر مذہب شوخ اب ترسا\nقیامت ہے مسلماں عاشق اور معشوق ہے ترسا\n\nفقط تیر نگہ سے تو نہ دل کی آرزو نکلی\nترے قرباں لگا اب کے کوئی اس سے بھی بہتر سا\n\nنہ جاؤں میں تو اس کے پاس لیکن کیا کروں یارو\nیکایک کچھ جگر میں آ کے لگ جاتا ہے نشتر سا\n\nپکارا دور سے دے کر صفیر اس نے تو کیا میرا\nدھڑک کر یک بیک سینے میں دل لوٹا کبوتر سا\n\nہوا بیمار تیرے عشق میں جو چرخ چارم پر\nمسیحا پڑھ رہا ہے کچھ بچھا کر اپنا بستر سا\n\nنظیرؔ اک دو گلے کرنے بہت ہوتے ہیں خوباں سے\nچلو اب چپ رہو بس کھول بیٹھے تم تو دفتر سا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D8%B1%D8%B3%D8%A7"} {"title": "تجھے کچھ یاد ہے پہلا وہ عالم عشق پنہاں کا", "poet_page": "مصنف:ممنونؔ نظام الدین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھے کچھ یاد ہے پہلا وہ عالم عشق پنہاں کا\nشگاف پردہ سے کیا تھا اشارہ چشم فتاں کا\n\nسنا ہے کب یہ چھٹتی ہے پکڑ گوشہ نہ داماں کا\nسمجھ کاجل نہ پھیلا سایہ ہے تیری ہی مژگاں کا\n\nیہاں دم کھینچنا دو دوپہر مشکل ہے ہو جاتا\nدھواں گھٹتا ہے جب سینہ میں اپنی آہ سوزاں کا\n\nنہ کی غمزہ نے جلادی نہ ان آنکھوں نے سفاکی\nجسے کہتے ہیں دل اپنا وہی قاتل ہوا جاں کا\n\nشگاف سینہ سے ازبسکہ دود دل نکلتا ہے\nسیہ اب جا بجا سے رنگ ہے اپنے گریباں کا\n\nیہ دل ہے قطرۂ خوں سے بھی کم اللہ ری جرأت\nہوا ہے تسپہ روکش اس خدنگ انداز مژگاں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%BE%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "تجھے کہتا ہوں اے دل عشق کا اظہار مت کیجو", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تجھے کہتا ہوں اے دل عشق کا اظہار مت کیجو\nخموشی کے مکاں میں بات اور گفتار مت کیجو\n\nمحبت میں دل و جاں ہوش و طاقت سب اکارت ہے\nکہو کوئی عقل کوں جا کر بڑا بستار مت کیجو\n\nعوض نقد دعا کے مفت ہے دشنام اس لب سیں\nارے دل عشق کے سودے میں پھر تکرار مت کیجو\n\nاسے اونچا ہے ظالم دام نے تجھ مہربانی کے\nہمارے صید دل اوپر ستم کا وار مت کیجو\n\nاگر خواہش ہے تجھ کوں اے سراجؔ آزاد ہونے کی\nکمند عقل کوں ہرگز گلے کا ہار مت کیجو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D9%88"} {"title": "تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ\nوہ ادب گہِ محبّت، وہ نِگہ کا تازیانہ\n\nیہ بُتانِ عصرِ حاضر کہ بنے ہیں مدرَسے میں\nنہ ادائے کافرانہ، نہ تراشِ آزرانہ\n\nنہیں اس کھُلی فضا میں کوئی گوشۂ فراغت\nیہ جہاں عجب جہاں ہے، نہ قفَس نہ آشیانہ\n\nرگِ تاک منتظر ہے تری بارشِ کرم کی\nکہ عجم کے مےکدوں میں نہ رہی مئے مغانہ\n\nمرے ہم صفیر اسے بھی اثَرِ بہار سمجھے\nانھیں کیا خبر کہ کیا ہے یہ نوائے عاشقانہ\n\nمرے خاک و خُوں سے تُونے یہ جہاں کِیا ہے پیدا\nصِلۂ شہید کیا ہے، تب و تابِ جاودانہ\n\nتری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں\nنہ گِلہ ہے دوستوں کا، نہ شکایتِ زمانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "تحدید اسلحہ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے مضامین", "year": "1942", "text_ur": "بین الاقوامی سیاست اتنی پیچ دار اور الجھی ہوئی ہے کہ اس کو سمجھنا کام رکھتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس بھول بھلیوں میں انسان گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ تحدید اسلحہ کے متعلق آپ نے بیسیوں مرتبہ اخباروں میں پڑھا ہوگا مگر سچ کہیئے کہ آپ نے اس کے متعلق کیا سمجھا؟ لیکن میں آپ کی عقل و دانش کا امتحان لینا نہیں چاہتا۔ میں نے اس کے متعلق جو کچھ سمجھا ہے، وہ نہایت سادہ الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے، یعنی اس طور پر کہ بچے کو بھی غلط فہمی نہ ہو سکے۔\n\nفرض کر لیجئے کہ آپ اور میں ذرا کم سمجھ والے واقع ہوئے ہیں۔ میرے پاس تکیہ ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ تکیہ میں آپ کے سر پر دے ماروں۔ آپ کے پاس ایک انڈہ ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ اسے میرے سر پر پھوڑ دیں۔ گویا تکیہ اور انڈہ ہمارے اسلحہ ہیں۔ امن قائم رکھنے کی خاطر ہم آپس میں سمجھوتہ کرنے کے لئے تحدید اسلحہ کی ایک مجلس منعقد کرتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ اپنے لئے ایک تکیہ رکھنے کے حقوق حاصل کریں گے اور میں ایک انڈہ رکھنے کا حق طلب کروں گا۔ گویا ہم دونوں کے پاس ایک دوسرے کو برابر کا ضرر پہنچانے کا سامان ہوگا۔ ہم دونوں میں سے کسی کو حق نہیں ہوگا کہ دوسرے کے مشورے کے بغیر اپنے ہتھیاروں میں اضافہ کر کے باہمی امن کو خطرے میں ڈالے۔\n\nاب کچھ دیر کے بعد میں آپ کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کراتا ہوں کہ آپ کے پاس ایک قلم تراش ہے، جو وقت پر مہلک ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ سن کر آپ میری توجہ اس امر کی طرف منعطف کراتے ہیں کہ میری ملکیت میں ایک کلہاڑی ہے جس سے میں ایک ہی ضرب میں گردن اڑا سکتا ہوں۔ اس پر ہمارے دلوں میں دفعتاً جذبۂ امن پسندی کروٹ لیتا ہے اور میں جھٹ سے ایک قلم تراش خرید لیتا ہوں اور آپ اولین فرصت میں کلہاڑی لے آتے ہیں۔\n\nاب حالات بین الاقوامی سیاسیات کی طرح ترقی پذیر ہو جاتے ہیں اور ایک روز میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ چونکہ میرے ہتھیاروں کے جواب میں آپ کے پاس بھی اس قسم کے ہتھیار موجود ہیں اس لئے مجھے بازار سے پستول خریدنے میں کوئی دیر نہ کرنی چاہیئے۔ بات باون تولے پاؤرتی کی ہے۔ جب میں پستول خرید لاتا ہوں تو آپ پستول کے ساتھ ساتھ ایک چمکیلی تلوار بھی لے آتے ہیں۔ اب فطری طور پر میں بھی تلوار خرید لیتا ہوں اور ساتھ ساتھ تحدید اسلحہ کے جذبے کے ماتحت ایک مشین گن بھی گاڑی پر لدوا کر لے آتا ہوں، تو سمجھ لیجئے کہ اب امن و امان قائم ہونے میں کوئی دیر نہیں۔ آپ دوڑ کر بہترین اسلحہ ساز کے یہاں سے ایک عمدہ قسم کا تباہ کن ٹینک لے آتے ہیں اور لگے ہاتھوں ایک بڑا سا بم بھی خرید لیتے ہیں، جس سے میرے گھر کی چھت بھک سے اڑائی جا سکتی ہے۔\n\nخاکسار بھی آپ کی دیکھا دیکھی دو ایک گولے گھر میں ڈال دیتا ہے اور بطور حفظ ماتقدم گیس بنانے والوں کو چند سلنڈر زہریلی گیس تیار کرنے کی فرمائش بھی کر ڈالتا ہے۔ اس گیس سے آپ کے بال بچوں کا رنگ پیلا پڑ سکتا ہے اور آپ کے چہرے پر سوکھے ہوئے بینگن کی طرح جھریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس پر آپ اس قسم کی گیس تلاش کر لیتے ہیں جو میرے سر، میری ٹانگوں اور میرے بازوؤں کو سرے سے غائب ہی کر دے، پھر آپ احتیاطاً ایک بمبار طیارہ بھی اپنے گھر میں لے آتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کچھ اس طرح ’’غیر مسلح‘‘ ہو جاتے ہیں کہ ہمارے درمیان جنگ کا خیال ہی نہیں کیا جا سکتا۔ تھوڑے دنوں کے بعد ہم ایک دوسرے کو بالکل فنا کر دیتے ہیں، مگر یہ تباہی اتفاقی ہوگی۔ اس کا کچھ خیال نہیں کرنا چاہیئے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%AD%DB%81"} {"title": "تحفۂ درویش", "poet_page": "مصنف:ز خ ش", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بحر غم میں ہے سخت طغیانی\nسر سے اوپر گزر گیا پانی\nکب تک اے نزہت برشتہ جگر\nشور یا رب سے عرش جنبانی\nرونے دھونے سے جان کھونے سے\nکہیں بنتے ہیں کام دیوانی\nدرد دل درد آفریں کو سنا\nکر گزر جی میں ہے جو کچھ ٹھانی\nدشت وحدت ہے دشت وحدت ہے\nدیکھ آہستہ کر فرس رانی\nبے خبر پہلے نقش کر دل پر\nعظمت بارگاہ یزدانی\nمایۂ رشک یاں بضاعت مور\nہیچ واں شوکت سلیمانی\nپہلے دے صدقہ ماسوا اللہ\nپہلے کر جان و دل کی قربانی\nچاہیے بہر نظر جنس گراں\nچاہیے خوں کو بسد افشانی\nصدف فکر سے نکال گہر\nتر بہ تر کر عرق سے پیشانی\nنزہت بینوا ہے ہدیہ بدست\nہو قبول جناب سلطانی\nہدیہ کیا ایک سادہ دفتر پر\nلکھ کے لائی ہوں لفظ لا ثانی\nدیں ہے الفت وطن فغانستاں\nعرف \"مجنوں\" ہے پیشہ حسانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AD%D9%81%DB%82_%D8%AF%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%B4"} {"title": "تحفۃ الہند", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "مسلمانوں کی توجہ برج بھاشا پر، برج بھاشا کا فن معانی و بیان یاد ہوگا کہ ہمارے ایک معزز ہندو دوست نے اردوئے معلیٰ میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں اس پرمعترضانہ افسوس ظاہر کیا تھا کہ مسلمانوں نے ۶ سو برس تک اس ملک میں حاکم رہ کر کبھی ملکی زبان کی طرف توجہ نہ کی۔ ہم نے اس کا جواب الندوہ میں بہ تفصیل دو نمبروں میں لکھا تھا، جس میں بتایا تھا کہ مسلمانوں نے ہندوؤں کی زبان کے ساتھ کس قدر اعتنا کیا، اور خود برج بھاشا میں کس درجے کی قابلیت پیدا کی۔ یہ مضمون بھی اس سلسلے کا گویا تتمہ ہے۔ تحفۃ الہند جو ہمارے مضمون کا عنوان ہے، ایک کتاب کا نام ہے جو اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں تصنیف ہوئی، مصنف کا نام میرزا خان بن فخر الدین محمد ہے۔ دیباچے میں لکھا ہے کہ میں نے یہ کتاب شہنشاہ عالمگیر کے زمانے میں شہزادہ اعظم شاہ کے مطالعے کے لئے تصنیف کی۔ کتاب کا موضوع ہندوؤں کا فن بلاغت اور عروض و قافیہ وغیرہ ہے، اس میں ۷ باب ہیں۔\n\n(۱) پنگل، یعنی علم عروض (۲) تک، یعنی قافیہ (۳) النکار، یعنی علم بدیع (۴) سر نگار رس، یعنی عشق و محبت (۵) سامدرک، یعنی علم قیافہ (۶) کوک، یعنی علم النساء (۷) لغات ہندی۔ اس میں برج بھاشا کے ضروری کثیر الاستعمال الفاظ لکھے ہیں اوران کے معنی بتائے ہیں۔ یہ کتاب عالمگیر کے زمانے میں تصنیف ہوئی ہے اوراس کے سب سے چہیتے اور منظور نظر فرزند کے لئے تصنیف ہوئی ہے، عالمگیر کی نسبت اس کے مخالفوں کا دعویٰ ہے کہ وہ تعصب کا دیوتا تھا اور اس نے ہندوؤں کی نہ صرف عمارات، بلکہ ان کے لٹریچر کو بھی مٹا دینا چاہا تھا اور اس لئے ان کی تمام درسگاہیں اور پاٹ شالے بند کرا دیے تھے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ تاریخ کا مسلمہ مسئلہ ہے کہ عالمگیر ملک کے ایک ایک جزئی واقعے سے اس قدر واقفیت رکھتا تھا کہ کسی حصہ ملک کا ادنیٰ سا واقعہ بھی اس کی نگاہ تجسس ے مخفی نہیں رہ سکتا تھا۔ باوجود اس کے برج بھاشا کو جس قدر اس کے زمانے میں ترقی ہوئی، مسلمانوں نے جس قدر اس کے زمانے میں ہندی کتابوں کے ترجمے کئے اور خود جس قدر برج بھاشا میں نظم و نثر لکھی، کسی زمانے میں اس قدر ہندی کی طرف التفات نہیں ظاہر کیا گیا تھا۔ چنانچہ اس کی تفصیل ہم ایک مستقل مضمون میں لکھ چکے ہیں۔ یہ کتاب (تحفۃ الہند) اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ عالمگیر جو اپنے بیٹوں کی ایک ایک حرکت سے خبر رکھتا تھا، اس کی نظرسے ایک کتاب جو اس کے محبوب ترین شہ زاویے کے لئے لکھی جائے، مخفی رہ جائے۔ نعمت خان عالی نے وقائع لکھی اور عالمگیر سے چھپانے کی بے انتہا کوشش کی، لیکن چھُپ نہ سکی۔ اس کتاب میں سے ہم صرف صنائع و بدائع کے حصے کا اقتباس درج کرتے ہیں۔ جس سے اندازہ ہوگا کہ ہندی زبان کے فن بدیع کوعربی سے کیا نسبت ہے؟ اس موقع پر یہ بات بھی اظہار کے قابل ہے کہ مصنف نے ہندی صنائع و بدائع کی تفصیل لکھ کر چند صفتیں خود اضافہ کی ہیں۔ ان کے خود نام رکھے ہیں اوران صفتوں میں خود ہندی اشعار کہہ کر درج کتاب کئے ہیں۔ جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ مصنف کو خود اس زبان میں کہاں تک قدرت تھی؟ یہ صنائع اکثر بلکہ قریبا ً کل عربی سے لئے ہیں اور عربی ناموں کا ترجمہ بھاشا میں کردیا ہے۔ بھاشا میں علم بدیع کو النکار کہتے ہیں، چونکہ بلاغت کا اصلی کام جذبات اور احساسات پر اثر ڈالنا ہے، اس لئے النکار کی تین قسمیں قرار دی ہیں۔\n\n(۱) نورس\n\nاس میں تمام احساسات کا استقصا کیا ہے اور ان کی نو قسمیں قرار دی ہیں، جن کی تفصیل حسب ذیل ہے،\n\nسر نگار رس، اس کی دوقسمیں ہیں، سنجوگ، بیوگ۔ یعنی وصال و فراق، ہاسیہ رس، مسرت و خوشی، کرنا رس، رحم و ہمدردی ویر رس، شجاعت و بہادری، رَود درس، غیظ و غضب بھے رس، خوف و بیم، بی بھس رس، نفرت و کراہت۔ شانت رس، سکون و اطمینان، ادبُھت رس، استعجاب\n\nعربی اور فارسی زبان میں اس قسم کی سائنٹفک تقسیم نہیں ہے اور اس لحاظ سے ہندی کو فارسی اور عربی پر ترجیح ہے۔\n\n(۲) بے ینگ\n\nکسی مضمون کو لطیف، نازک اور شوخ پیرائے میں ادا کرنے کو کہتے ہیں، مثلا عورت اپنے محبوب شوہر سے جو کسی اور عورت پر عاشق ہے کہتی ہے کہ پیارے! تیری پیشانی پر جو سرخی ہے یہ تیری سرخ ٹوپی کا عکس ہے، یا رقیبہ کی حنا کا اثر ہے۔ سوال سے بظاہر صرف اس قدر مفہوم ہوتا ہے کہ عورت کو اپنے شوہر سے رقیبہ کے پاس جانے اور اس سے ملنے کی شکایت ہے، لیکن در پردہ وہ یہ بات ثابت کرنا چاہتی ہے کہ شوہر نے رقیبہ کے پاؤں پر پیشانی رگڑی ہے، جس سے پیشانی میں سرخی آگئی ہے، یہ وہ صفت ہے جس کو عربی میں تعریض کہتے ہیں۔سنسکرت کا انشا پرداز اس صفت کو اس قدر وسعت دیتا ہے کہ الفاظ اور عبارت کی ضرورت نہیں۔ صرف حالت کا دکھا دینا بھی اس صفت میں داخل ہے، مثلا محبوب رات بھر کا جاگا ہوا کسی صحبت سے آیا ہے جس کی وجہ سے بال پریشان ہیں، آنکھیں مخمور ہیں، انگڑائیوں پر انگرائیاں آرہی ہیں، عاشق زبان سے کچھ نہیں کہتا، صرف آئینہ لا کر سامنے رکھ دیتا ہے کہ یہ سب کچھ کہہ دے گا، یہ بھی اسی صفت میں داخل ہے۔\n\n(۳) اُپماں\n\nاس کے معنی تشبیہ کے ہیں۔ تشبیہ ایک نہایت لطیف صفت ہے۔ عربی میں اس کو نہایت وسعت دی ہے اور اس کی بہت سی قسمیں کی ہیں۔ بھاشا میں بعض باتیں تو مشترک ہیں۔ مثلا ً اپماں یعنی جب تشبیہ کے الفاظ مذکور ہوں، مثل چوں، مثل وغیرہ۔\n\nبست اپماں\n\nحرف تشبیہ مذکور نہیں، لیکن مقدر ہے جیسے’’قندِ لب‘‘ یعنی لب چوں قند، اس کوعربی میں استعارہ کہتے ہیں۔ لیکن بعض باتوں میں جدت ہے مثلاً۔۔۔ مالو اپماں، تشبیہ کا یہ طریقہ عربی اور فارسی میں نہیں، یا ہے تو اس کا کوئی خاص نام نہیں، یہ وہ صورت ہے کہ مشبہ بہ کے اجزا اور عوارض سے تشبیہ دیتے ہیں۔ مثلا ًچاند کی تشبیہ میں کہا جائے کہ وہ ایک باغ ہے، اس میں جو سیاہی ہے وہ درختوں کی چھاؤں ہے، اس کی کرنیں درختوں کی ٹہنیاں ہیں، اس کو تشبیہ مرکب کہہ سکتے ہیں لیکن کسی قدر اس سے مختلف الصورت ہے۔\n\nشرنکھلا اپماں، اس میں سلسلہ بہ سلسلہ تشبیہ دیتے جاتے ہیں، یعنی ایک چیز کو ایک چیز سے تشبیہ دی، پھر اس کو کسی اور چیز سے تشبیہ دی، پھر اس کو بھی کسی اور چیز سے تشبیہ دی۔ انینتی اپماں\n\nیہ وہ صورت ہے جس کو فارسی میں تشبیہ الشئی بنفسہ کہتے ہیں، یعنی کسی شئے کو خود اسی شئے سے تشبیہ دینا، مثلا فارسی میں، چو تو گر کسی باشد آں ہم توئی۔ اردو میں آج کل کہتے ہیں، وہ شخص آپ اپنا نظیر ہے۔ حقیقت میں یہ مبالغے کی ایک صورت ہے، یعنی جب یہ کہنا ہوتا ہے کہ اس شخص کی نظیر نہیں تو یوں کہتے ہیں کہ وہ اپنا آپ ہی نظیر ہے اور کوئی اس کا نظیر نہیں، اس صفت کو فارسی میں اور بھی ترقی دی ہے، یعنی یوں کہتے ہیں کہ وہ خود بھی اپنا نظیر نہیں۔ اردومیں کسی کا مصرع ہے۔ تم سے جب تم ہی نہیں پھر کوئی تم سا کیا ہو۔ النکار\nیہ ایک عام لفظ ہے، جس کے معنی صنعت بدیع کے ہیں، سنسکرت میں اس کی بہت سی انواع ہیں، ان میں سے ۱۷ زیادہ متداول ہیں، جن کی تفصیل حسب ذیل ہیں۔\n\nوترکتا النکار\n\nیہ وہ صورت ہے کہ جس چیز سے ممدوح کو تشبیہ دیتے آئے ہیں اس میں عیب ثابت کیا جائے تا کہ ممدوح کی ترجیح ثابت ہو، مثلا سخاوت اور فیاضی میں ممدوح کو بادل سے تشبیہ دیتے ہیں، لیکن عنصری کہتا ہے،،\n\nاو ہمی بخشد ہم گرید تو ہمی بخشی و ہمی خندی\n\nیعنی بادل برستا ہے تو روتا جاتا ہے اور تو برستا ہے تو ہنستا ہے۔ وِرودھا بھاس النکار\n\nیعنی عبارت کے معنی واقع میں صحیح ہوں لیکن بظاہر غلط معلوم ہوں، جب ایک لفظ کے معنی مختلف ہوتے ہیں تو اس صفت سے کام لیتے ہیں۔ مثلا بھاشا میں سیام سیاہ کو بھی کہتے ہیں اور معشوق کو بھی۔ اسی طرح لال سرخ کو بھی کہتے ہیں اور محبوب کو بھی، اب اگر یہ کہا جائے کہ ’’سیام زرد‘‘ ہے تو بظاہر غلط ہوگا، کیونکہ سیاہ چیز زرد نہیں ہوسکتی، لیکن اگرسیام کے معنی محبوب کے لئے جائیں تو یہ جملہ صحیح ہوسکتا ہے۔ عربی میں اس صفت کو نہایت وسعت دی گئی ہے۔ مقامات حریری میں سو فقہی سوال اور جواب میں، جوابات تمام ترغلط معلوم ہوتے ہیں لیکن واقع میں صحیح ہیں، مثلا ایک سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص وضو کے بعد نعل کو چھوئے تو کیا حکم ہے، جواب دیا ہے کہ وضو ٹوٹ جائےگا۔ نعل عربی میں جوتی کو کہتے ہیں اور یہ معنی زیادہ متداول ہیں، لیکن نعل، عورت کو بھی کہتے ہیں اور شافعیوں کے نزدیک عورت کے چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ سکارن اُت پریچھا\nحسن تعلیل کو کہتے ہیں، یہ صفت عربی اور فارسی میں بہت مستعمل ہے۔ بھاشا میں اس کے نہایت لطیف نئے نئے پیرائے ملتے ہیں۔ مثلاً چاند معشوق کا حسن چرا کر آسمان پر بھاگ گیا، اسی وجہ سے ہمیشہ چوروں کی طرح رات کو نکلتا ہے، فارسی کا شاعر کہتا ہے۔\n\nاز شرم ابر وانِ بلند تو ماہ نو خود را چناں نمود کہ کس دید و کس نہ دید\nیعنی معشوق کے ابرو کی شرم سے، ماہ نو اس طرح چھپ کر نکلا کہ کسی نے دیکھا، کسی نے نہیں دیکھا۔ اکارن ات پریچھا\n\nمبالغہ اور اغراق کو کہتے ہیں۔\n\nانکرن النکار\n\nلف و نشر کو کہتے ہیں۔\n\nسندیہ النکار\n\nیعنی دو چیزوں میں جان بوجھ کر شک کرنا، مثلاً یوں کہیں کہ یہ چہرہ ہے یا چاند، زلف ہے یا سانپ، عربی میں اس کو تجاہل عارفانہ کہتے ہیں۔\n\nسچہمان النکار\n\nیعنی الفاظ و عبارت کے بغیر کسی مطلب کو محض اشارے و کنایے سے ادا کرنا، مثلاً عاشق معشوق سے سوال کرتا ہے کہ میں کب آؤں؟ معشوق کچھ جواب نہیں دیتا بلکہ اس کی بجائے ایک گورے چٹے آدمی کو نیلگوں برقع پہنا کر بھیجتا ہے، جس سے یہ اشارہ ہوتا ہے کہ جب چاند ڈوب جائے اور تاریکی چھا جائے تب آنا۔\n\nاینا اپدیسا النکار\n\nکسی پر بات ڈھال کے کہنا، مثلا ایک وفاکیش معشوقہ کا عاشق آیا ہے، وہ دوسرے شخص کی طرف مخاطب ہو کر کہتی ہے کہ آہ آج میرا شوہر ایک کام کو گیا ہے، ساس بھی کہیں گئی ہے، گائے بھینس کا باندھنا، مجھ پر کس قدر شاق ہے اور اندھیری رات میں مجھ کو سخت ڈر معلوم ہوتا ہے لیکن ان باتوں کا اصلی مخاطب در حقیقت عاشق ہے۔ اردو فارسی میں اس کی مثال نہایت کثرت سے مل سکتی ہیں، لیکن مصنف نے جو مثال دی ہے، اس سے ہندوستان کی قدیم طرز معاشرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ات شیوکت النکار\n\nاس کی چار قسمیں ہیں، یعنی نگر جادہ وسان، یعنی مشبہ بہ کو ذکر کرکے مشبہ مراد لیتے ہیں، مثلا یہ کہ چاند، سانپ، ہرن، چیتا، میرا دل اڑا لے گئے۔ رخسار، زلف، آنکھ، کمر کو چاند، سانپ، ہرن اور چیتے سے تشبیہ دیتے ہیں، لیکن اس جگہ خود ان چیزوں کو بول کر رخسار وغیرہ مراد لیا ہے۔ برکتسیا نتھابھان\n\nاس میں تشبیہ کا شائبہ بھی باقی نہیں رہتا، اور نہ مشبہ و مشبہ بہ کا ذکر ہوتا، بلکہ مشبہ کی نفی کر کے اس کو عین مشبہ بہ فرض کرتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ اب تم وہ نہیں رہے بلکہ دوسری چیز ہوگئے۔\n\nکارن کارج پرجی\n\nاس صنعت میں مسبب سبب سے پہلے واقع ہوتا ہے۔ مثلا جرم مواخذہ کا سبب ہے، لیکن یوں کہتے ہیں، اس شہر میں عجیب رسم ہے کہ گناہ کرنے سے پہلے مواخذہ کرتے ہیں۔\n\nجدیارتہ\n\nاس میں مشبہ کو مشبہ بہ پر ترجیح دیتے ہیں، مثلا چاند سے معشوق کو تشبیہ دیتے ہیں، لیکن اگر یوں کہیں کہ چاند معشوق کے برابر اس وقت ہو سکتا ہے کہ اس کے یاقوت کے مثل لب، موتی کی طرح دانت، سانپ کی طرح زلف اورہرن جیسی آنکھیں ہوں۔ عربی و فارسی میں اس کی مثالیں کثرت سے ہیں۔\n\nاچھر چتھکا النکار\n\nیعنی صنعت سوال و جواب، فارسی میں یہ صنعت نہایت کثرت سے مستعمل ہے، لیکن بھاشا میں یہ جدت ہے کہ مسلسل سوالات کئے جاتے ہیں، اس کے بعد صرف ایک ایسا مفرد لفظ بولتے ہیں جو کل سوالوں کا جواب ہوتا ہے۔ مثلا ان سوالات کے جواب میں کہ زمین و زمان کی روشنی، بینائی، انسان کے معاش کا سبب کیا ہے؟ صرف عین کا لفظ کافی ہوگا کیونکہ عین، آفتاب، آنکھ، سونا کو کہتے ہیں اور وہ ان سوالات پر حاوی ہے۔ بھرمان النکار\n\nمغالطہ میں پڑنا، مثلا یہ کہ میرا دل معشوق کے تل کو دانہ سمجھ کر اس کی زلف کے جال میں جا پھنسا، ایک ہندی شاعر نے اس مضمون کو عجیب لطیف پیرایے میں ادا کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک بھونرا توتے کی چونچ کو ڈھاک کا پھول سمجھ کر رس چوسنے کے لئے اس پر جا بیٹھا، توتے نے ا س کو جامن کا پھل سمجھا اور نگل گیا۔ ان صنائع میں سے ہم نے بہت سے چھوڑ دیے، جس کی وجہ یہ ہے کہ اولاً تو ان میں سے بہت سے فارسی اور عربی میں بہ کثرت مستعمل ہیں، دوسرے سنسکرت الفاظ کا تلفظ ہم سے صحیح ادا نہیں ہوتا۔ اس موقع پر یہ نکتہ خاص لحاظ کے قابل ہے کہ اگرچہ ہمارے انشا پردازوں نے سنسکرت اور برج بھاشا کے علم ادب کے نکتے نکتے کو سمجھا اور اس سے بہت فائدہ اٹھایا لیکن اس کے فیض سے وہی محروم رہ گیا، جوسب سے زیادہ حقدار تھا۔ یہ ظاہر ہے کہ اردو بھاشا سے نکلی اور اس کے دامن میں پلی، لیکن بھاشا سے جو سرمایہ اس کو ملا، صرف الفاظ تھے، مضامین اور خیالات سے اس کا دامن خالی رہا۔ بخلاف اس کے عربی زبان جس کو بھاشا سے کسی قسم کا تعارف نہ تھا، وہ سنسکرت اور بھاشا دونوں سے مستفید ہوئی۔ (تفصیل اس کے آگے آئے گی) اس کی وجہ یہ ہوئی کہ آج سے ۵۰ برس پہلے مسلمان اردو کو کوئی علمی زبان نہیں سمجھتے تھے، خط کتابت تک فارسی میں تھی، اردو شعرا جس قدر گزرے، ان میں سے ایک بھی عربی کا فاضل نہ تھا، یا یوں کہو کہ کوئی عالم اردو کو اس قابل نہیں سمجھتا تھا کہ اس میں انشا پردازی یا شاعری کا کمال دکھائے۔ علمی زبان اس وقت صرف عربی تھی۔ اس لئے جہاں سے جو سرمایہ ملتا تھا اسی کے خانے میں جمع کیا جاتا تھا۔ بہرحال ہندی شاعری کے مضامین، عربی زبان میں بعینہ نقل ہوئے، یعنی علمائے ادب نے سنسکرت اور بھاشا کی نظموں کا بعینہ عربی میں ترجمہ کیا۔ ہم چند مثالیں ذیل میں لکھتے ہیں۔ یہ مثالیں سبحۃ المرجان سے لی گئی ہیں۔ مولوی غلام علی آزاد نے ہر جگہ تصریح کردی ہے کہ وہ ہندی سے ترجمہ کی گئی ہیں۔ لقد نحلت فی یوم راج جیبھا الی ان ھوی من ساعدیھا نضارھا ولما اماھا مخبرعن قدومھا علی ساعد الملآن ضاق سوارھا\n\n(یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہندی میں عاشق عورت ہے اور مرد معشوق ہے) یعنی جس دن معشوق نے سفر کیا میں اس قدر دبلی ہو گئی کہ ہاتھ کے کڑے ڈھیلے ہوکر گر پڑے، لیکن جس دن قاصد نے آکر معشوق کے آنے کی خبر دی اور میں نے کڑوں کو پہننا چاہا تو اب وہ تنگ ہوگئے اور چڑھتے نہ تھے۔ مالاح فی شفتیک کحل راق انی ابینہ بحسن بیان ختمت علی شفتیک ذات تدلل کیلا تکلمنی علی الا حیان\n\nواقعہ یہ ہے کہ شوہر کسی اور محبوبہ سے مل کر آیا ہے اور چونکہ اس نے اس کی سرمگیں آنکھوں کو چوما تھا، اس لئے اس کے ہونٹوں پر سیاہی لگ گئی، اب عورت شوہر سے کہنے آئی ہے کہ تیرے ہونٹوں پر جو سیاہی ہے، میں بتاؤں کیوں ہے اور کہاں سے آئی ہے، کسی کافر ادا نے تیرے ہونٹوں پر مہر کر دی ہے کہ تو کبھی مجھ سے بات نہ کرے۔ رات المھاۃ العامریہ صدرہ بالظفر مکلوما فقالت مرحبا ھذا ھلال تبتغیہ طبعتی روحی فداک لا لعبا\n\nایک بھولی کم سن عورت نے اپنے شوہر کے سینے پر ناخن کا خراش دیکھا جو ناخن کے مشابہ تھا، بھولے پن سے شوہر سے کہتی ہے کہ یہ تو نئی رات کا چاند ہے، مجھ کو بہت پیارا معلوم ہوتا ہے، مجھ کو دے دو، میں اس سے کھیلوں گی۔ یات الحب مع الحسناء بارحۃ حتی یدی حاجب من اعظم الشھب ورار زوجتہ فی الصبح فانقبضت لما رات طرفہ الحمر کالسبک قالت فتاۃ لھا فی ا لعین منعکس یاقوت سیمک النقر عن لھب بسمت من سماع القول واضعۃ فضل الخمار علی ضوء من الشنب فصار یغضب للصھباء کیف غدت تحلی رضا بک و ازورت عن الادب قالت لہ لاتکن غضبان مرحمۃ فصت طرفک محمرعن الغضب شوخی ادا، عارفانہ تجاہل اور نزاکت خیال کی اس سے بہتر مثالیں نہیں مل سکتی۔ اور صر ف ان اشعار سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ بھاشا کی شاعری کس قدر لطیف اور نازک ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ شوہر رات بھر کا جاگا ہوا کہیں سے آیا ہے اور اس کی آنکھیں سرخ ہیں، عورت کو بدگمانی ہوتی ہے کہ کسی محبوبہ کے ہاں رات گزاری ہے، اس لئے آنکھیں سرخ ہیں۔ ایک سہیلی بدگمانی کو مٹانا چاہتی ہے اور کہتی ہے کہ نہیں، یہ تمہارے ہونٹوں کی سرخی کا عکس ہے۔ عورت شرما کر آنچل کا گوشہ منہ پررکھ لیتی ہے(اس سے اصل میں یہ غرض ہے کہ اگرہونٹوں کی سرخی تھی، تو وہ آنچل میں چھپ گئی، اب کیوں سرخی نظر آتی ہے) شوہر غصے کی صورت بنا کر کہتا ہے کہ شراب کو کیا حق ہے جو تیرے آب دہن کا مقابلہ کرے، عورت کہتی ہے آپ غصہ نہ ہوں، میں سمجھی، آپ کی آنکھیں غصے کی وجہ سے سرخ ہیں۔ اردو زبان میں اگراس لطافت کی کوئی نظیر ہے تو یہ شعر ہے۔\n\nنہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے پسینا پوچھئے اپنی جبیں سے\n\nجس زمانے میں مولوی غلام آزاد بلگرامی اورنگ آباد دکن میں تھے ان کے ماموں مولانا طفیل احمد نے بلگرام سے ایک ہندی نظم عربی میں ترجمہ کرنے کے لئے بھیجی۔ آزاد نے حسب ذیل اس کا ترجمہ کیا (سبحۃ المرجان ص ۲۵۰) زارت سعاد بلا وعد فقلت لھا یامرحبابک من القاک فی النعب قالت لقد جاءنی غیم و کلفنی انی اجوب الیک الارض بالھدب فقلت کیف طویت الارض ماشیہ وقت الدجی و سکوب الدمع من سحب قالت ھدانی شعاع البرق مرحمۃ فمثلہ سرت فی القیعان والنتب فقلت سیرک فی حنج الدجی غلط بلا رفیق شریک فی خطی الطلب قالت خیالک طول السیر کان سعی فی حالۃ عن تجاہ العین لم یغب یعنی معشوقہ میرے پاس اچانک آئی، میں نے کہا خیر ہے؟ اس وقت کیونکر تکلیف کی، بولی کہ بادل آگئے، انہوں نے مجھ کو آمادہ کیا کہ تیرے پاس آؤں، میں نے کہا رات اور بادل کی تاریکی میں راستہ کیوں کر نظر پڑا، بولی کہ بجلی نے رہ نما ساتھ کر دیا تھا، میں نے کہا، رات کو اکیلے سفر کرنا کسی طرح مناسب نہیں، بولی کہ میں تنہا نہیں آئی، تیرا خیال برابر میرے ساتھ رہا اور ساتھ آیا۔ واقعات مذکورہ بالا کو پڑھ کر ایک دفعہ اور ہمارے ہندو دوست کے وہ الفاظ یاد کرو کہ ’’مسلمانوں نے کبھی ہندوستان کے لٹریچر سے فائدہ نہیں اٹھایا۔‘‘ ہم وہ لوگ ہیں کہ،\nہیچ گہ ذوق طلب از جستجو بازم نہ داشت دانہ می چیدم من آں روز یکہ خرمن داشتم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AD%D9%81%DB%83_%D8%A7%D9%84%DB%81%D9%86%D8%AF"} {"title": "تحیات اے عزیزاں بابت آل پیمبرؐ ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "تحیات اے عزیزاں بابت آل پیمبرؐ ہے\nدرود اے دوستاں شائستۂ اولاد حیدر ہے\nنیاز اے حق پرستاں لائق شبیر و شبر ہے\nسلام اے مومناں ایسے جو ہوں ہر لحظہ ان پر ہے\n\nمحمدؐ جس کا نانا اس کو بیکس کرکے سب ماریں\nپدر ساقی کوثر جس کا اس کو تشنہ لب ماریں\nسبب جو بخشش عالم کا اس کو بے سبب ماریں\nحرم کا جو ہے عزت دار سو محتاج چادر ہے\n\nورق الٹا فلک نے یوں کہ دم میں مٹ گیا سب گھر\nچنانچہ اب سخن ہر پردگی کے ہے یہی لب پر\nعبارت گھر جنھوں سے تھا سو یارب کیا ہوئے یکسر\nنہ سرور ہے نہ قاسم ہے نہ اصغر ہے نہ اکبر ہے\n\nشہ ہر دوجہاں زیرنگیں معروف اور نامی\nامام عارف و عامی نبیؐ کے دین کا حامی\nسر اس صبح سعادت کا سناں پر لے چلے شامی\nکہاں حیدر کہ جو دیکھے وہی یہ نازپرور ہے\n\nستم جو دیکھتا تھا ہر زماں ان جورکیشاں سے\nکہے تھا عابد بیکس غم و اندوہ پنہاں سے\nکہوں امیدگاہا تجھ سے کیا حال پریشاں سے\nنگہ میں یاس ہر دم ہے لبوں پر شیون اکثر ہے\n\nبہت دلجوئی امت میں تھا صرف توانائی\nسو وہ امت ہمارے آج کے دن خوب کام آئی\nکیا گھر بار غارت مار ڈالے بیٹے اور بھائی\nخرابی آل کی دیکھے محمدؐ آہ کیدھر ہے\n\nجگر ٹکڑے ہوا ہے کب تلک یہ سختیاں دیکھیں\nنکلتی آنکھ سے یاقوت کی سی تختیاں دیکھیں\nتس اوپر شام کے لوگوں کی یہ بدبختیاں دیکھیں\nبلا لے پاس اپنے جلد ہم کو بھی تو بہتر ہے\n\nکوئی کہتی تھی اے شہ یہ ستم کیا ہم پہ ہوتا ہے\nنہیں کوئی پونچھتا آنسو گروہ اک غم سے روتا ہے\nتو کن نیندوں سحر سے قتل گہ میں آج سوتا ہے\nہمارا شام کی جانب کو لے جانا مقرر ہے\n\nمخاطب کرکے زہرا کو کوئی یوں غم سناتی تھی\nکہ تو اے مادر مشفق سبھوں کے ناز اٹھاتی تھی\nبگڑتا ٹک کسی کا حال تو ووہیں بناتی تھی\nتوجہ آج کیدھر ہے نہایت حال ابتر ہے\n\nسروں کا تاج تھا جو شہ ہوا ہے خاک سے یکساں\nترا جو خانۂ دولت تھا سو یکسر ہوا ویراں\nپھریں ہیں سربرہنہ عورتیں جنگل میں سرگرداں\nجدھر جاتے ہیں مضطر ہو ادھر دشمن کا لشکر ہے\n\nعجائب درہمی آئی ہے اس جمع پریشاں میں\nقیامت کا سا ہنگامہ ہے برپا اک بیاباں میں\nتری اس چین سے کیونکر لگی ہے آنکھ میداں میں\nبلا ہے فتنہ ہے آشوب ہے اک شور ہے شر ہے\n\nعلی کی اور روے حرف جو ہوتا تھا نسواں کا\nجگر پانی ہوا جاتا تھا سن کر انس اور جاں کا\nکہ کہتی تھیں ہوا کیا دست تیرے لطف و احساں کا\nسروں پر پنجۂ خورشید ہے جو سایہ گستر ہے\n\nغبار دل نہ ہو کیونکر بلند آفت رسیدوں کا\nنظر آتا نہیں زیر زمیں ہونا شہیدوں کا\nکھلے گا کس طرح دل وائے ہم محنت کشیدوں کا\nزمیں سے آسماں تک دیکھتے ہیں تو مکدر ہے\n\nجہاں تاریک ہے بیٹے بھتیجے مر گئے سارے\nرفیق ایک ایک گن کر دشمنوں نے جان سے مارے\nجفائیں سہتے سہتے بازماندے شاہ کے ہارے\nچراغ اک نیم کشتہ سا ہے باقی سو بھی مضطر ہے\n\nکبھی لیتا ہے چھاتی کوٹ منھ کر کر مدینے کو\nکبھو دل تنگ ہوکر نوچ لے ہے زور سینے کو\nرہے کیونکر نہ وہ ہموار دل کے لوہو پینے کو\nنہ جس کا کوئی ہمدم ہے نہ یاری گر نہ یاور ہے\n\nنہیں ان کلفتوں کی تاب لائی جاتی اب ہم سے\nلپٹ سی ہونٹ کو لگنے لگی ہے گرمی دم سے\nدرونے جل گئے شاید ہمارے آتش غم سے\nٹپکتا آنکھ سے آنسو جو ہے گویا کہ اخگر ہے\n\nکسے آتا ہے باور اب جو کہیے شہ یہ ایسا تھا\nترا اقبال جیسا چاہیے کل تک تو ویسا تھا\nسحر کو کچھ نہ تھا گویا تجھے دن آج کیسا تھا\nنہ قدر و منزلت وہ ہے نہ وہ سر ہے نہ افسر ہے\n\nنہ مانع جو ہوئے آنے کے تیرے یاں ہوا خواہاں\nنہ روکا جو مزاحم ہو کسو نے کھینچ کر داماں\nمگر آگہ نہ تھا کوئی کہ ہر ہر گام اوپر یاں\nسناں ہے تیر ہے تلوار ہے برچھی ہے خنجر ہے\n\nقیامت سختیاں دیکھیں ہوا احوال دل برہم\nتوقع رحم کی کس سے رکھیں برگشتہ ہے عالم\nنہیں کرتا مصیبت پر ہماری کوئی مژگاں نم\nمروت یاں نہیں ہے رسم دل ہر اک کا پتھر ہے\n\nموئے پر وارثوں کے رسم تھی آگے ترحم کی\nنہ استخفاف و استہزا و تعریض و تبسم کی\nدلوں میں لہر سی آتی ہے فریاد و تظلم کی\nسو عادل ہی نہ یاں کوئی نہ حاکم ہے نہ داور ہے\n\nگئے یوں دل کو خاکی کرکے وے سب ظلم کے مارے\nبلا کے مبتلا دشت غم و کربت کے آوارے\nچلے جاتے تھے رہ اور کہتے جاتے تھے یہی سارے\nکہ کیا چارہ ہے بے چاروں کا گریوں ہی مقدر ہے\n\nجو کچھ اے میرؔ آگے چل کے پیش آیا انھیں مت کہہ\nکہاں تک نوحہ و زاری کرے گا ہرگہ وبے گہ\nیہیں سے رنگ تیرے دل کا پیدا ہے بس اب چپ رہ\nکہ جو آنسو گرے ہے آنکھ سے یاقوت احمر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%DB%92_%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%A8%D8%AA_%D8%A2%D9%84_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A8%D8%B1%D8%90_%DB%81%DB%92"} {"title": "تخت جس بے خانماں کا دشت ویرانی ہوا", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تخت جس بے خانماں کا دشت ویرانی ہوا\nسر اپر اس کے بگولا تاج سلطانی ہوا\n\nکیوں نہ صافی اس کوں حاصل ہو جو مثل آرسی\nاپنے جوہر کی حیا سوں سر بسر پانی ہوا\n\nزندگی ہے جس کوں دائم عالم باقی منیں\nجلوہ گر کب اس انگے یو عالم فانی ہوا\n\nبیکسی کے حال میں یک آن میں تنہا نہیں\nغم ترا سینے میں میرے ہمدم جانی ہوا\n\nاے ولیؔ غیرت سوں سورج کیوں جلے نئیں رات دن\nجگ منیں وو ماہ رشک ماہ کنعانی ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AE%D8%AA_%D8%AC%D8%B3_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "تختۂ آب چمن کیوں نہ نظر آوے سپاٹ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تختۂ آب چمن کیوں نہ نظر آوے سپاٹ\nیاد آوے مجھے جس دم وہ نگمود کا گھاٹ\n\nزندگانی کا مزہ زیر فلک اب نہ رہا\nیارب ایسا ہو کہ مل جائے کہیں پاٹ سے پاٹ\n\nفن کشتی میں قیامت ہے وہ بت گاذر کا\nدھوم دیتا ہے مچا آوے ہے جب دھوبی پاٹ\n\nجاتے ہی وادئ وحشت میں قدم مارا میں\nچمن دہر سے دل اپنا ہوا جب کہ اچاٹ\n\nخاک دہلی میں کیا جب سے نصاریٰ نے عمل\nشور گوجر ہی رہا اور نہ ہنگامۂ جاٹ\n\nترک غمزے کا مگر بر سر سفاکی ہے\nاس کے کوچے سے چلی آتی ہے جب کھاٹ پہ کھاٹ\n\nقتل عاشق کا جو ہوتا ہے ارادہ اس کو\nپہلے دیکھے ہے خر و گاؤ پہ تلوار کا کاٹ\n\nکوئی سیکھے بھی قناعت کو تو سگ سے سیکھے\nپڑ رہے ہے وہ بہ یک گوشہ دیا رات کو چاٹ\n\nروز ہنگامہ ہے اس گنبد نیلی کے تئیں\nمصحفیؔ شک نہیں بگڑا ہے مگر نیل کا ماٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AE%D8%AA%DB%82_%D8%A2%D8%A8_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D9%88%DB%92_%D8%B3%D9%BE%D8%A7%D9%B9"} {"title": "تخلیق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود\nکہ سنگ و خِشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا\nخودی میں ڈُوبنے والوں کے عزم و ہمّت نے\nاس آبُجو سے کیے بحرِ بے کراں پیدا\nوہی زمانے کی گردش پہ غالب آتا ہے\nجو ہر نفَس سے کرے عُمرِ جاوداں پیدا\nخودی کی موت سے مشرق کی سر زمینوں میں\nہُوا نہ کوئی خُدائی کا رازداں پیدا\nہوائے دشت سے بُوئے رفاقت آتی ہے\nعجب نہیں ہے کہ ہوں میرے ہم عناں پیدا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%D9%82"} {"title": "تدبیر میں یارو نہیں تقصیر تمہاری", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تدبیر میں یارو نہیں تقصیر تمہاری\nتقدیر مری ہو گئی تدبیر تمہاری\n\nکیا مر گئے زنداں میں اسیران محبت\nآواز نہیں دیتی ہے زنجیر تمہاری\n\nتم آن کے سمجھاؤ مرے دل کو تو شاید\nکر جائے نصیحت کوئی تاثیر تمہاری\n\nرہتی ہے پریشاں جو سراسر یہ ہمیشہ\nکس پیچ میں ہے زلف گرہ گیر تمہاری\n\nجب داد سخن ملتی تمہیں حضرت عارفؔ\nسنتا جو غزل آج کو یہ میرؔ تمہاری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%82%D8%B5%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "تدبیر کریں تو اس میں ناکامی ہو", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تدبیر کریں تو اس میں ناکامی ہو\nتقدیر کا نام لیں تو بد نامی ہو\nالقصہ عجیب ضیق میں ہیں ہندی\nیورپ کا خدا کہاں پر جو حامی ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85%DB%8C_%DB%81%D9%88"} {"title": "تدبیر ہمارے ملنے کی جس وقت کوئی ٹھہراؤ گے تم", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تدبیر ہمارے ملنے کی جس وقت کوئی ٹھہراؤ گے تم\nہم اور چھپیں گے یہاں تک جی جو خوب ہی پھر گھبراؤگے تم\n\nبیزار کرو گے دل ہم سے یا منت در سے روکو گے\nوہ دل تو ہمارے بس میں ہے کس طور اسے سمجھاؤ گے تم\n\nگر جادو منتر سیکھو گے تو سحر ہماری نظروں کا\nاس کوچے میں بٹھلاویں گے پھر کہیے کیوں کر آؤ گے تم\n\nگر چھپ کر دیکھنے آؤ گے ہم اپنے بالا خانے کے\nسب پردے چھوڑے رکھیں گے پھر کیوں کر دیکھنے پاؤ گے تم\n\nگر جادو منتر سیکھو گے تو سحر ہماری نظروں کا\nتاثیر کو اس کی کھو دے گا کچھ پیش نہیں لے جاؤ گے تم\n\nتصویر اگر منگواؤ گے تو دیکھ ہماری صورت کو\nحیران مصور ہووے گا پھر رنگ کہو کیا لاؤ گے تم\n\nجو وقت نظیرؔ ان باتوں کی ہم خوب کریں گے ہشیاری\nجو حرف زباں پر لاؤ گے تم پھر کیوں کر دکھلاؤ گے تم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%B3_%D9%88%D9%82%D8%AA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1%D8%A7%D8%A4_%DA%AF%DB%92_%D8%AA%D9%85"} {"title": "تذکیر و تانیث", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "آج کل دیکھنے میں آتا ہے کہ عورتیں جنہیں ہر مہذب اور متمدن سوسائٹی میں صنف نازک جیسے نام دیے جاتے ہیں، اپنی کانفرنسیں کرتی ہیں جن میں حقوق کی مساوات کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ کیا اچھا ہوتا کہ یہ محذرات سیاسی اور اجتماعی معاملوں سے ذرا آگے بڑھتیں اور یہ قرار داد بھی پیش کرتیں کہ زبان میں بھی کلموں کی جنس ایک ہی استعمال ہو یعنی اس میں کلی مساوات ملحوظ رکھی جائے۔ اگر یہ ہو جاتا تو مجھے اردو کی تذکیر و تانیث پر آپ کی سمع خراشی کے لیے دو درجن کتابوں سے مشورہ نہ کرنا پڑتا۔\n\nچونکہ اب تک ایسا نہیں ہوا، اس واسطے صورت حال پر نظر ڈالنا واجب آتا ہے۔ اس ضمن میں مذکر اور مؤنث اسموں کی فہرستیں آپ کے سامنے نہیں رکھی جائیں گی۔ نہ ایسے قاعدے پیش کئے جائیں گے جن کے ساتھ مستثنیات کے طور مار نتھی ہوں۔ بلکہ بحث اس سے کی جائے گی کہ اردو کے متقدمین کے سامنے، اسی طرح دوسری زبان والوں کے سامنے تذکیر و تانیث سے متعلق آیا کوئی نظریہ یا نظریے تھے کہ انہوں نے فلاں لفظ کو مذکر اور فلاں لفظ کو مؤنث قرار دے دیا اور فلاں قاعدہ تذکیر و تانیث کا کیوں وضع کیا گیا۔ موضوع خشک ہے مگر اس کو دلچسپ اور مفید بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ قواعد کی کتابوں میں جو کچھ درج ہے، وہ یہاں نہیں دہرایا جائے گا جس کا ذہن نشیں ہونا فرض کر لیا گیا ہے۔گھبرا اور اکتا کر یہ کہہ دینا کہ ’’میاں اس میں کیا ہے۔ مذکر کو مؤنث اور مؤنث کو مذکر کہہ دیا تو ہرج ہی کیا ہوا۔ مقصود تو مطلب کا اظہار ہے، چاہے حکیم سے کہو میرا ناک ٹھسا ہوا ہے یا یہ کہ میری ناک ٹھسی ہوئی ہے۔ وہ سمجھ جائے گا کہ نزلہ بند ہو گیا اور اس کے جاری ہونے کی دوا دے گا۔‘‘جب ہر زبان میں تذکیر و تانیث حقیقی و غیر حقیقی کسی نہ کسی درجہ تک موجود ہے بلکہ بعض صرفی زبانوں میں اسما مذکر و مؤنث ہی نہیں بلکہ ایک تیسری جنس مخنث میں بھی شمار کئے جاتے ہیں، تو کیا وجہ ہے کہ ہم اردو قواعد کے باب جنس سے بیزار ہو جائیں۔ ہندوستان ہی کی دوسری زندہ زبانوں کو دیکھو جن میں جنس کی تینوں صورتیں اب تک موجود ہیں، جیسے گجراتی اور مرہٹی۔ ان میں مذکر اور مؤنث کے علاوہ ایک تیسری جنس مخنث بھی پائی جاتی ہے۔ جنسیت کے بارے میں استعمال کے شکمی اختلافات بھی اور زبانوں میں ملتے ہیں۔ مثال میں آئر لینڈ کی زبان کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس ملک میں زرد پھولوں کی ایک جھاڑی سی ہوتی ہے جیسی ہمارے ہاں ستیا ناسی ہے۔ اسے آئرش زبان میں فرز (Fureze) کہتے ہیں۔ اب سنیئے یہ لفظ جنوبی آئر لینڈ میں مذکر اور شمالی آئر لینڈ میں مؤنث بولا جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ اختلافات کم و بیش سبھی جگہ ہیں اور کلمات کا مذکر سے مؤنث اور مؤنث سے مذکر کی ذیل میں منتقل ہونا بھی پایا جاتا ہے۔اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ اردو غیر صرفی اور پنچ میل زبان ہے اور جنس کے بارے میں جو دقت زیادہ تر ہماری طرف مسکراتی ہے وہ اکثر ایسے کلمات ہیں جو غیر ذی روح اشیا کے نام ہیں اور عربی یا سنسکرت جیسی صرفی زبانوں سے آئے ہیں۔ ان سے کم فارسی مرکبات ہیں جو ہمیں مشکل میں ڈالتے ہیں۔ عربی تذکیر و تانیث کا اعتبار ابواب اور وزن پر ہے۔ سنسکرت میں یہ قضیہ نفسیاتی و صوتیاتی اصول پر طے پاتا ہے۔ یہ ہوا فروعی اختلاف، لیکن ان دو زبانوں میں اصولی مطابقت بھی ہے اور اگر آپ سننا پسند کریں تو بتایا جائے کہ ایک قوم کی دیو مالا، روایات اور نفسیاتی خواص اس کی زبان کی تدوین اور تنظیم میں بہت رسوخ رکھتے ہیں۔ادھر حیوان ناطق کی ذیل میں سب سے پہلے حضرت آدم کا اور ادھر برہما جی کا ظہور لازم گرداننا تھا کہ عربی اور سنسکرت عموماً مذکر سے مؤنث بننے لگے۔ مرد کی سبقت عورت پر مذکر سے مؤنث کی ساخت کی منتج ہوئی۔ یہی حالت اردو میں ٹھیٹھ ہندوستانی اسموں کی ہے۔ ہمارے ہاں صرف دو مذکر ایسے ہیں یا شاید تین جو مؤنث سے بنے۔ وہ یہ ہیں۔ رنڈوا سے رانڈ اور بھینسا بھینس سے۔ ان کی ایک تاریخ ہے اور ان کی کیا ہر لفظ نہیں، تو اکثر لفظوں کی ادبی، تصریفی تاریخ کے سوا اور تاریخ بھی ہوا کرتی ہے۔رانڈ اور رنڈوے کو پہلے لیجئے، رانڈ اس عورت کو کہتے ہیں جس کا شوہر مر گیا ہو۔ رنڈوا وہ مرد ہے جس کی بیوی مر گئی ہو۔ ان کلموں کی شکل اور حروف ترکیبی کی نشست سے ایک صرفی یہ تو کہہ گیا کہ رانڈ سے رنڈوا بنا اور سب نے مان لیا لیکن اس کی ایک اور تاریخ بھی ہے۔ وہ یہ کہ بیوہ عورتیں رنڈووں کے مقابلے میں ہر قوم میں زیادہ ہوتی ہیں، اور جن میں رانڈوں کے ازدواج ثانی پر کسی قسم کے قیود نہیں لگائے گئے ان میں بھی رنڈووں کی نسبت رانڈوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ شوہر کی وفات کے بعد اس کی رنڈاپے کی حالت ایک مرد کے رنڈوے پن کی حالت کی مدت کے مقابلے میں زیادہ لمبی ہوتی ہے۔یہ بھی ہے کہ عمر کی ایک خاص نوبت کے بعد رنڈوا تو دوسری شادی کر لیتا ہے لیکن رانڈو ں کی عموماً نہیں ہوتی۔ لہذا ایک سو سائٹی میں رانڈیں بمقابلہ رنڈووں کے زیادہ نمایاں حیثیت رکھتی ہیں اور چونکہ وضع الفاظ بالعموم اور کلموں کی تذکیر و تانیث (میرا مطلب اپنی دیسی زبان کے کلموں سے ہے) صرف ہی نہیں جماعت متعلقہ کی نفسیاتی اور سوشل خصوصیات سے بھی متاثر ہوتی ہے، اس لئے لازم تھا کہ رانڈ کا کلمہ پہلے بنے اور رنڈوا اس کے بعد۔ اب بھینس کو لیجئے۔ گھر میں دودھ کی ضرورت ہوئی۔ ایک جانور لایا گیا جس کو دیکھا کہ اپنے بچے کو دودھ پلا رہا ہے۔ اس کا دودھ نکالا گیا اور مزے سے استعمال ہونے لگا۔ اس دودھیل جانور کی آواز بھیں بھیں کے سوا کچھ نہ تھی، لہذا اسے بھینس کہنے لگے۔ بھینس دودھ دیتی گئی۔ رفتہ رفتہ دودھ کم ہوتا گی اور بچہ بڑا ہوتا گیا۔ وہ بچہ نر تھا۔ معلوم ہوا کہ اس کے دودھ سے ہاتھ دھو بیٹھنا چاہئے۔ خیر چونکہ مذکر کی عام شناخت الف آخر کلمہ تھا اسے بھینسا کہنے لگے۔ آپ نے اس استدلال پر غور کیا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ایسی سوانح عمری ہر کلمہ کی بیان کی جا سکتی ہے کیونکہ ایسا نہ ہونا اس کی دلیل ہے کہ ہماری تحقیقات صرفی ناقص ہے۔ماننا پڑے گا کہ بعض غیر ذی روح اسموں کی تذکیر و تانیث میں بہت گڑبڑ ہے۔ ایسے مقام پر لوگ ہیکڑی سے کام لیتے ہیں اور خواہ مخواہ اجتہاد اور تصرف بے جا کی ٹانگ توڑتے ہیں۔ مثال کے لئے قلم اور مالا کو لیجئے۔ قلم کو جلال مرحوم نے مختلف فیہ فرمایا ہے۔ فرہنگ آصفیہ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے اور ہے بھی ایسا ہی۔ غالب نے ایک خط میں قلم کو مؤنث لکھا ہے۔ اور ذوق کا مطلع دیوان اس کی تذکیر کا شاہد ہے، جب کہ شاہ ظفر اسے مؤنث باندھتے ہیں۔ شعر ہے۔ظفر جو خوف سے تیرا نہ کانپتا یہ ہاتھقلم تیری دم تحریر ہل گئی تھی کیوںاب دیکھنا یہ ہے کہ جس چیز کا یہ نام ہے۔ اس کی اصلیت کیا ہے۔ وہ ایک درخت کی شاخ کی ایک پور ہے۔ مروجہ استعمال تو یہ ہے جب ایک درخت کی ٹہنی دوسرے درخت میں پیوند کی جائے تو قلم مؤنث ہوگی۔ جب کنپٹی پر بالوں کا ایک حصہ استرے سے لمبا قلم کا سا تراش کر نیچے کان کی لو تک یا اس کے قریب لاکر چھوڑ دیا تو وہ قلم مؤنث ہوگی۔ رشک کا شعر ہے، ہیرے کی ہیں ہتھیلیاں تیریانگلیاں ہی بلور کی قلمیںخود جلال کا شعر ہے،ہے جام مے کہ پھول کھلا ہے گلاب کانرگس کی شاخ ہے کہ قلم ہے شراب کیزیادہ تشریح محض طوالت ہے۔ مختصر یہ کہ لفظ قلم ہر معنی اور ہر ترکیب میں مؤنث لیکن جب وہ لکھنے کے فعل پر دلالت کرے۔ آخر یہ کیوں؟ دہلی اور لکھنؤ بالاتفاق اس کو مختلف فیہ بتاتے ہیں پھر اس گڑبڑ کے کیا معنی۔ اگر اس صورت میں استدلال سے کام نہیں لے سکتے تو پھر کب لے سکتے ہیں۔ آئیے دیکھیں، معقولیت کیا حکم دیتی ہے۔ واقعات متعلقہ یہ ہیں کہ لفظ قلم ہر مفرد اور مرکب شکل میں مونث آتا ہے۔ لکھنے کے آلہ کی صورت میں مؤنث بھی آتا ہے اور مذکر بھی۔ یہ سوچئے کہ ہمارے قلمدان میں لکھنے کی کوئی اور چیز بھی ہے کہ نہیں اور وہ پنسل ہے اور پنسل بالاتفاق مؤنث ہے۔ غرض کہ قلم کو کسی طرح الٹ پلٹ کر دیکھئے، غلبہ اور زبر دست غلبہ اس کی تانیث کے حق میں ہے۔ پھر کیا وجہ کہ اس کو بالاتفاق مؤنث نہ اعلان کردیا جائے۔ ایک اور بات بھی ہے۔ قلم کے نام کے ساتھ دوات ذہن کے سامنے آ جاتی ہے۔ اس وجہ سے قلم کو مذکر کہنا ذم اور عریانی کا پہلو پیش کرتا ہے، جسے شائستہ سوسائٹی گوارا نہیں کر سکتی۔ آپ نے دیکھا کہ اسی طرح تمام نہیں تو اکثر بیشتر مختلف فیہ کلموں کی جنسیت کی تعین قطعی طور پر ہو سکتی ہے۔مالا کی نسبت سنا ہوگا کہ لکھنؤ میں مذکر ہے۔ یہ اطلاع بالکل صحیح نہیں۔ لکھنؤ کے بعض نامی اساتذہ مالا کو دلی والوں کی طرح مؤنث بھی باندھتے ہیں۔ جب مالا کو مردانہ جامہ پہنایا گیا تو کوئی وجہ اور دلیل ادبی یا علمی پیش نہیں کی گئی۔ جلال مرحوم نے فرمایا کہ لفظ مالا کی بھی تذکیر و تانیث میں اختلاف ہے۔ بعضے مؤنث بولتے ہیں اور بعضے مذکر۔ لیکن بہ قید نظم فصحائے لکھنؤ کے کلام میں مذکر ہی پایا جاتا ہے۔ مثال میں ناسخ، بحر اور برق کے شعر لکھ دیے۔ ان اشعار کا یہاں دہرانا طوالت نہیں، بلکہ نتیجہ خیز ہے۔ سنئے! ناسخؔ فرماتے ہیں،تیری مالا موتیوں کا قتل کرتا ہے مجھےاے پری مالا سرو ہی کا یہ مالا ہو گیا(کالا ہو گیا، بالا ہو گیا)برقؔ کے شعر کا آخری مصرعہ،بنے ہیں میرے لئے موتیوں کے مالے سانپ، کالے سانپ یہ دونوں شعر سند میں پیش کئے جانے کے قابل نہیں کیونکہ ناسخ کے شعر میں ردیف ہو گیا ہے۔ قافیہ لا محالہ مذکر ہی ہونا تھا اور برق کے ہاں سانپ ردیف ہے جو قافیہ کی تذکیر چاہتی ہے اور اگر شاعر مالا کو مذکر نہ قرار دیتا تو اس کی جمع مالے نہ بنتی جو لفظ قافیہ ہے۔ ناسخ جیسا مسلم الثبوت استاد ایک ہی لفظ کو حسب ضرورت شعری مذکر بھی باندھ گیا ہے اور مؤنث بھی۔ ملاحظہ ہو،سیر ہر کنج چمن کرتے ہو تم غیر کے ساتھبلبل دل مجھے اے جان خبر دیتا ہے(دیتا ہے، ردیف)دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے،بلبلیں چہچہے کرتی ہیں چمن میں ساقی طوطی شیشہ مے زمزمہ پرواز نہیںبلبل کی تذکیر و تانیث کا عقدہ اب کھل گیا ہوگا۔ہاں ذکر تھا مالا کا۔ حضرت جلال کا فرمانا کہ فصحائے لکھنؤ کے استعمال میں مالا مذکر ہی پایا جاتا ہے، قابل التفات نہیں، کیونکہ اسے کلمہ کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ منشی مظفر علی خاں اسیر کا جو درجہ اردو کے شعرا اور خصوصی طور پر لکھنؤ کے اساتذہ میں ہے، اس کی تشریح کی ضرورت نہیں، ان کا شعر ہے،سلسلہ اشک کو توڑے جو مرا دیدہ ترموتیوں کہ نہ کرو تم ابھی مالا ٹھنڈیثابت یہ ہوا کہ مالا کی جنسیت لکھنؤ میں مختلف فیہ ہے۔تذکیر و تانیث کی گڑبڑ نظم ہی تک محدود نہیں جس میں ضرورت شعری کا حیلہ چل سکتا ہے بلکہ یہ اختلاف نثرمیں اور بھی بھونڈی شکل پکڑتا ہے۔ کلمہ نشوو نما کو لیجئے اور دیکھے نظم و نثر میں کیا گل کھلاتا ہے۔ اس سے زیادہ کیا ہوگا کہ استاد اور شاگرد میں اختلاف ہو جاتا ہے۔ ناسخ کا شعر ہے،خط کو روئے یار پر نشو و نما ہوتا نہیںسبزۂ بیگانہ گل سے آشنا ہوتا نہیںمگر شیخ صاحب کے ارشد تلامذہ خواجہ وزیر کا ارشاد ہے،آنسو بہا تو رشتہ بہ پا مرغ دل ہوا دانہ نے کی جو نشو نما دام ہو گیااگر وزیر کے شعر میں نشو و نما کو مذکر ٹھیرائیے تو شعر مطلع نہیں رہتا جو کہ اصل میں ہے۔ اب اسی کلمہ کی افتاد کو نثر میں سنئے۔ تذکرہ گل رعنا حال کی تصنیف ہے۔ اس میں یہ کلمہ کئی بار آیا ہے۔ صفحہ 39 سطر 1 میں اس کی جنس مؤنث ہے لیکن اسی ورق یعنی صفحۃ 40 کی چوتھی سطر میں یہی مؤنث سے مذکر بن جاتا ہے۔ پھر صفحہ 94 سطر 4 میں مؤنث کے بھیس میں نظر آتا ہے۔ اور صفحہ 278 سطر 12 میں پھر مذکر ہو کر خم ٹھونکتا دکھائی دیتا ہے۔ عقل حیران ہے یا بوالعجب یہ کیا بوالعجبی ہے!انسانوں کی نسبت تو سننے میں آتا رہتا ہے کہ فلاں جگہ ایک شخص مرد سے عورت بن گیا۔ مانا کہ یہ نقل جنس مغربی ملکوں تک ہی محدود نہیں، ابھی کل کی بات ہے ضلع بجنور کے قصبہ چاند پور سے خبر آئی کہ ایک سترہ برس کی بیاہی ہوئی لڑکی کے جسم میں نرینہ علامتیں بہت سرعت سے نمایاں ہو رہی تھیں کہ ڈاکٹروں نے عمل جراحی سے اس انتقال جنسیت کو روکا۔ یہ کایا پلٹ انسانوں میں تو لاعلاج ہے، اگر چہ چاند پور کے ڈاکٹروں نے ایک مثال میں فی الحال اسے روک دیا ہے۔ لیکن اور مثالوں میں یوروپ بھر کے ماہر قاصر رہے۔ خیر یہ کچھ ہی ہو، لیکن الفاظ کی یہ کایا پلٹ ہمارے قابو کی بات ہے۔اگر ہم اہل اردو معقولیت اور سائنٹیفک نظریوں پر چلیں تو جنس کے یہ اختلاف جو اردو کے صاف چہرے پر بد نما داغ ہیں دور ہو سکتے ہیں۔ یہ کسی کا ارشاد یا اجتہاد نہیں ہے کہ تذکیر و تانیث حقیقی یا غیر حقیقی سے متعلق جو الفاظ اور زبانوں خصوصاً صرفی زبانوں سے اردو میں آئے ہیں ان کا حلیہ بگاڑ دو۔ مثال کے طور پر دیکھئے عربی میں ایک لغت جو مفرد میں مؤنث ہو، جمع سالم کی صورت میں مذکر ہو جاتا ہے۔ حالی مرحوم کا شعر ہے۔ترے احسان رہ رہ کر سدا یاد آئیں گے ان کوکریں گے ذکر ہر مجلس میں اور دہرائیں گے ان کوتری رایوں کو جو منسوب کرتے ہیں ضلالت سےزمانہ کے حوائج جلد تر شرمائیں گے ان کواس شعر میں حاجت مؤنث کی جمع حوائج مذکر بنائی گئی جو عربی کے قاعدے کے مطابق درست ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ لغت عورت مؤنث ہے۔ اس کی جمع عورات ہے اس کو بھی مذکر باندھئے۔ آپ ہی دیکھئے اردو میں عورات کی تذکیر کیسی معلوم ہوگی، معقولیت بھی اس کو گوارا نہیں کر سکتی کہ ایک لغت بصورت واحد تو مؤنث ہے لیکن اسی معنی میں بصورت جمع مذکر ہو جائے۔ اور سنئے۔بعضے کہتے ہیں، ’’کوشش کرنی پڑے گی۔‘‘ بعضے کہتے ہیں، ’’کوشش کرنا پڑے گا۔‘‘ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں سے کون سی شکل اختیار کی جائے۔ ’’جو کرنا پڑے گی۔‘‘ کے حق میں ہیں ان کا یہ قول ہے کہ اردو کا ہر مصدر مذکر ہے، اس کی جنسیت اور ہیئت میں تصرف ناجائز ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ اسے کلیہ نہیں بتا سکتے۔ کیا آپ نہیں کہتے، ’’وہاں جانے سے کیا فائدہ ہوگا۔‘‘ یہاں حرف عاملہ نے آپ کے مصدر کی ہئیت کذائی بدل دی کہ نہیں۔ اسی طرح کوشش کی جنسیت نے وہاں تبدیلی کر دی۔ میری تحقیق میں لکھنو بھی سارے کا سارا اس بحث میں مدعیوں سے اتفاق نہیں پیش کرتا۔ امانت کا یہ شعر قابل غور ہے۔سرشک دیدہ ہائے تر سے دھو ڈالوں گا عصیاں کوانہیں چشموں سے اے دل آبرو محشر میں پانی ہےاور قافیہ میں بانی فانی وغیرہ۔ جو سلوک ایک جملہ میں فعل ناقص یا کلمہ کے ساتھ کیا جاتا ہے، جب مبتدا اور خبر مختلف الجنس ہوں وہ نہایت ہی قبیح ہے۔ اس بارے میں جسے قاعدے کا نام دیا جاتا ہے یہ ہے کہ اگر فعل ناقص مبتدا کے قریب آ کے پڑا ہے تو اس کی جنس کے موافق ہوگا اور دوسری صورت میں خبر کے موافق۔ اب دیکھئے اساتذہ کے کلام میں اس قاعدے کی کیا گت بنتی ہے۔ ذوق کا شعر ہے،دریائے غم سے میرے گذرنے کے واسطے تیغ خمیدہ یار کی لوہے کا پل ہوااس شعر میں کہہ سکتے ہیں کہ پل جو مذکر ہے اس کی قربت کی وجہ سے فعل ناقص مذکر استعمال ہوا ہے۔ ا س کے ساتھ ہی غالب کا شعر ملاحظہ کے قابل ہے۔باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پرہر گل تر ایک چشم خوں فشاں ہو جائے گااس شعر میں بھی مبتدا اور خبر دونوں مختلف الجنس ہیں اور دونوں کے ساتھ کلمہ صفت مذکور ہے۔ فعل ناقص خبر سے قربت رکھتا ہے لیکن جنسیت میں اسے مبتدا کے موافق کیا گیا جو مصرع کے شروع میں دور جا کر بیٹھا ہے۔ آپ نے دیکھا وہ قربت و بعد کا قاعدہ تو پاور ہوا ہو گیا۔ آپ سوال کریں گے کہ اس صورت میں آخر کیا کیا جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اہمیت مبتدا کو ہے۔ اس کی جو بھی حالت یعنی نوعیت اور جنس وغیرہ ہے، وہ مستقل و مستحکم ہے۔ خیر جو ہے وہ محض ایک عارضی کیفیت ہے۔دیکھئے لٹھا جو ایک قماش ہے، اس کا آپ پائجامہ بھی بنا لیتے ہیں۔ اسی تھان میں سے اس کی واسکٹ بھی بنا لیتے ہیں، ایک ٹوپی بھی اس میں سے بنائی جاتی ہے اور ایک کرتا بھی۔ لیکن لٹھا کی جنسیت ان مختلف الجنس چیزوں سے متاثر نہیں ہوتی۔ یہی حال مبتدا کا ہے۔ اس کی جو شکل خبر کی صورت اختیار کرتی ہے وہ عارضی ہے۔ اصل چیز مبتدا کی جنس ہے۔ اس کا اتباع لازم ہے۔ ایک لڑکی اپنے بھائی سے کہتی ہے۔’’ اگر میں تیرا بڑا بھائی ہوتی تو بھی تو مجھ سے یہی کلام کرتا۔‘‘چونکہ قائل یعنی مبتدا کی حیثیت جنسی مستقل طور پر مؤنث ہے اس لئے کہ ربط مؤنث آیا اور خبر کی جنس نظر انداز کی گئی۔ ذوق کا ایک شعر ہے،گر سیہ بخت ہی ہونا تھا نصیبوں میں مرےزلف ہوتا ترے رخسار پہ یا تل ہوتاظاہر ہے کہ مصرعہ ثانی میں ضمیر واحد متکلم مقدر ہے اور شاعر کی طرف راجع ہے جو مذکر ہے۔ یعنی شیخ ابراہیم ذوق، اس لئے ہوتا زلف کے نہیں، ذوق کے مطابق بنایا گیا۔ نواب غوث محمد خاں غوث دہلوی میرے دوست اور دہلی کے عہد حاضر کے مشاہیر شعرا میں سے ہیں۔ ان کا شعر ہے،ہمارے خط کو وہ پڑ ھ کر نہ چاک کیوں کرتے کچھ آسماں سے اتری ہوئی کتاب نہ تھادیکھئے یہاں بھی ترجیح مبتدا کو دی گئی۔ آپ نے دیکھا ذرا سے غور سے مبتدا اور خبر کا قضیہ طے پا گیا۔ اسی طرح غور و فکر اور بحث و تمحیص سے اور عقدے بھی جو اس ذیل میں لاینحل دکھائی دیتے ہیں حل ہو سکتے ہیں۔تذبذب یعنی دبدا قوت عمل کی منافی ہے۔ اگر یہ اندیشہ ہو کہ اس طرح صغریٰ و کبریٰ چھانٹنے لگیں اور ایسے استدلال میں غرق ہو جائیں تو اصلاح زبان کے قضیوں کے تصفیہ کے لیے عمر خضر چاہئے۔ اصل میں ایسا نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ قدامت پرستی اور تقلید اور نیز انانیت ہماری ذہنیت پر مسلط ہیں جو ہمیں معقولیت کی طرف جانے سے روکتی ہیں۔ اب ایک عام لفظ ناک کو لیجئے اور فکر کیجئے کہ یہ لفظ مذکر ہو نا چاہئے یا مؤنث۔ ہر جگہ اس کی نانیث مسلم ہے لیکن پنجابی میں یہ لفظ مذکر مستعمل ہے۔ انسان کے جسم یا چہرے میں جو مہتم بالشان حیثیت آنکھ اور ناک کی تسلیم کی جاتی ہے، وہ اور حصہ جسم کی نہیں۔ اگر جنگ میں کسی کا سر کٹ گیا تو وہ شہید ہوا، سیدھا جنت کو گیا، اگر اس کی صرف ناک کاٹ دی جائے تو وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔ناک میں آخر کوئی تو بات ہے جو ناک کاٹنے کی وارداتیں آئے دن سننے میں آتی ہیں۔ نہ سمجھئے کہ یہ ناک کاٹنے کا عمل کہئے مرض ہندوستان اور عورتوں ہی سے تعلق رکھتا ہے بلکہ یورپ اور انگلستان بھی اس سے نہ بچ سکے۔ ہے توجملہ معترضہ لیکن بڑے مزے کی بات ہے سنیئے۔ سر جان کونٹری لنڈن کی پارلیمنٹ کے ممبر تھے، وہاں ان کی ایک تقریر سے بعض رئیس ممبر چڑھ گئے۔ کہا جاتا ہے بادشاہ وقت پر چوٹ تھی، وہ بھی برہم ہوا۔ القصہ ایک رات کو کہ سر جان کھانا کھا کر اپنے معمولی رسٹراں سے نکل رہا تھا جو سفک اسٹریٹ میں تھا کہ تین آدمیوں نے اسے گھیر لیا اور اس کی ناک اڑا دی۔ اس پر اینڈرو مارول نے ایک نظم کہی جس کے یہ دو شعر تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ (1) یہ 1670ء کا واقعہ ہے۔ If any bold Commoner Dare to oppose I’ll order my bravoes to cut off his nose I’ll wholly abandon all public affairs And pass all my time with baffons and players ہاں ہم ناک کی جنس سے بحث کر رہے تھے۔ آنکھ ناک سے درست ہونا جو اردو کا محاورہ ہے وہ آپ جانتے ہی ہیں۔ آنکھ ناک سے ڈرنا بھی اردو کا ایک محاورہ ہے، اس کے معنی ہیں غیبی مار سے ڈرنا یعنی اس سے ڈرتے رہنا کہ آنکھ ناک پر کوئی آفت نہ آئے۔ نواب مرزا کا شعر ہے۔ارے ظالم خدائے پاک سے ڈر جھوٹ مت بول آنکھ ناک سے ڈرکہاوت ہے نکٹا جیئے برے حال۔ جب ناک کو یہ حیثیت ودیعت ہوئی اور کل اردو دنیا اسے جنس تانیث دیتی ہے، پھر اس کی تانیث کے تسلیم کرنے میں کیا تذبذب ہو سکتا ہے۔مرکبات جو دو اجزا رکھتے ہوں اور وہ اجزا مختلف الجنس ہوں یا نہ ہوں، اور الف اتصال یا کسی حرف ربط سے مربوط ہوں یا نہ ہوں، وہ بھی اصول کے نیچے لائے گئے ہیں یعنی اگر دونوں جز ماضی ہوں تو مرکب مؤنث ہوگا جیسے گفت و شنید، خرید و فروخت۔ لیکن اگر ایک یا دونوں جز امر یا حاصل مصدر ہوں تو مرکب مذکر ہوگا۔ جیسے بندوبست، سوز و گداز۔ اسموں کی صورت میں آخری جز سے موافقت پر ترجیح ہے۔ خیر اسے جانے دیجئے اور صرف ایک مرکب کو دیکھئے۔ یہ ہے شیر برنج، اس کے دونوں اجز ابجائے خود مذکر ہیں مگر یہ مرکب مؤنث استعمال ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس کا مترادف کھیر جسے ہم پہلے سے چکھ چکے ہیں، مؤنث ہے۔بہت سے لفظ ایسے ہیں جو ہمیں اس وجہ سے دقت اور اختلاف میں ڈال رہے ہیں کہ ان کی موجودہ شکل ماخذ کی شکل سے بہت مختلف ہو گئی ہے۔ اپنے اصلی مقام پر جو جنس ان کو ملی تھی وہ وہاں کے قاعدے اور اصول کے مطابق ٹھیک تھی لیکن تبدیل صورت نے اب ان کی جنسیت کو اختلال میں ڈال دیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ گھی اور موتی کو لیجئے۔ یائے معروف اپ بھرنش میں تانیث کی علامت ہے لیکن اردو اور ہندی میں گھی اور موتی اس کلیہ کے مستثنیات میں شامل ہو کر مذکر مانے جاتے ہیں۔ یہ لفظ سنسکرت سے پراکرت میں گئے وہاں سے اپ بھرنش میں، پھر سورسینی میں پھر ہندی میں اور آخرکار اردو میں آئے۔ سب شکلوں کا ذکر محض طوالت ہے۔ سنیئے کہ سنسکرت میں ان کی شکل کیا تھی۔ یہ الفاظ سنسکرت میں گھرت اور موک تلم تھے اور اس زبان کے قاعدے کے مطابق ٹھیک طور پر مذکر استعمال ہوتے تھے۔ ہمارے ہاں رہے تو مذکر ہی لیکن شکل میں گھی اور موتی بن گئے۔افسوس ہے کہ اب تک اردو میں صرفی لغات بنانے کی کسی نے زحمت گوارہ نہیں کی۔ اگر ہماری کوئی اٹمولوجیکل ڈکشنری ہوتی اور ہر لفظ کی اصل کا اتا پتا ملتا تو وہ دقتیں ہمارے عارض حال نہ ہوتیں جو اس وقت ہیں۔ شمس کو آپ نے دیکھا کہ عربی میں مؤنث ہونے کے باوجود ہمارے ہاں مذکر استعمال ہوتا ہے۔ یہ کیوں؟ اس لئے کہ سورج جو ہماری زبان کے مطلع پر پہلے سے طلوع ہو چکا تھا، مذکر ہے۔ موسم کے ہم نے اعراب بدلے اور غالبا اس وجہ سے ہوا ہو کہ اس کے ہم قافیہ لغت ہمارے ہاں بہت ہی کم ہیں مگر اس کے ساتھ ہی اس کی جنس بھی بدل ڈالی۔ آپ کہتے ہیں،’’تم کہتے ہو سب صندوق بھر گئے، یہ کتابیں کن صندوقوں میں جائیں گی۔‘‘ اس جملے میں آپ نے کیا کیا۔ صندوق کی جمع ایک جگہ تو آپ نے بنائی ہی نہیں، مگر صندوق پھر بھی جمع ہی رہا۔ دوسری جگہ آپ نے اس کی جمع بنائی مگر اپنی زبان کے قاعدے سے عربی کے قاعدے پر چل کر، جس زبان سے کہ یہ لفظ آیا ہے صنادیق نہیں بنایا۔ اس طرح سے یہ لفظ اپنایا گیا۔ اسے تصرف لسانی کہئے جس کے بغیر کوئی زبان جیسی کہ ہماری ہے، نہیں بن سکتی۔ فارسی والوں نے اسی صندوق سے صندوقچہ بنا کر اسے اپنا کر لیا۔ آتما سنسکرت میں مذکر ہے مگر ہم روح کا مرادف ہونے کے اعتبار سے اسے مؤنث بولتے ہیں ہمیں ماخذ اور اصل سے دشمنی نہیں لیکن ہم پرائی بد شگونی کو اپنا گھر نہیں بگاڑ سکتے۔ طوالت کے خوف سے اب توجیہہ و استدلال سے ہاتھ اٹھا کر آپ کے غور کے لئے چند باتیں اصول کے طور پر پیش کرتا ہوں،(1) ایک لفظ جو کسی زبان سے خواہ سنسکرت یا عربی سے ہماری زبان میں داخل ہو، اس کی جنس اس کے مترادف یا قریب المعنی لفظ کی جنس کے موافق ہوگی جو پہلے سے ہمیں معلوم ہے۔(2) جن اسموں میں جمالی اوصاف پائے جائیں یا جن کے معنی میں آسودگی کا عنصر ہو، انہیں مؤنث قرار دیا جائے۔(3) جن اسموں کے معنی رعب، دہشت اور تشدد پر دلالت کریں انہیں مذکر جنس دی جائے۔(4) نمبر (2) اور (3) ان لفظوں پر عائد ہوں جو مختلف فیہ ہوں یا اردو میں نووارد ہوں۔ جو لفظ اردو میں بالاتفاق مذکر یا مؤنث ہیں انہیں بالکل نہ چھیڑا جائے۔یہ نہ کہئے کہ یہ طول امل ہے، یہ بھول بھلیاں راہ دینے والی ہرگز نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اردو جنس کو قاعدے اور اصول کے تحت لانے کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت روز بروز بڑھتی جائے گی، کم نہیں ہوگی۔ جس زبان کے قاعدے مستحکم نہیں اور خصوصی طور پر جنس کے اصول متزلزل ہوتے ہیں وہاں پھر وہی صورت آکے پڑتی ہے جو اپیسل آف جیمز کا چہرہ بگاڑ رہی ہے۔ ہے تو انگریزی کی عبارت لیکن ہم اردو والوں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے، وہ یہ ہے، If a brother or sister be naked… and one of you say unto them ,depart in peace، be ye warmed and filled.Epistle of james ,ii,15,16 یہاں واحد اسم بر ادر اور سسٹر کے لئے ضمائر Them اور Ye صیغہ جمع کے استعمال کرنے پڑے، ورنہ حرف ایراد ضمیر واحد چاہتا تھا۔ ایسی بے قاعدگیوں کو اس طرح رفع کیا گیا کہ اب بالاتفاق قرار دے دیا گیا کہ قانون اور مذہب کی زبان میں لفظ شخص یعنی پرسن اور فلسفہ و اخلاقیات میں لفظ انسان یعنی مین جو مذکر افعال وغیرہ کو چاہتے ہیں، تمام نوع انسان یعنی مرد اور عورت دونوں پر دلالت کرتے ہیں۔ اسی طرح اردو کے سمجھ بوجھ والے اگر ایک جگہ مل کر بیٹھیں اور ضرورت اور معقولیت کو مد نظر رکھیں تو میں سمجھتا ہوں کہ تمام اختلافات اور نقائص اردو زبان کے دور ہو سکتے ہیں۔\n\nحاشیہ\n\n(1) مفصل دیکھو، اے نیو ہسٹری آف دی انگلش اسٹیج، مصنفہ پرسی فٹنز چیرلڈ جلد 1 صفحہ 126-128", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B0%DA%A9%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%AB"} {"title": "ترا اندیشہ افلاکی نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ترا اندیشہ افلاکی نہیں ہے\nتری پرواز لولاکی نہیں ہے\nیہ مانا اصل شاہینی ہے تیری\nتری آنکھوں میں بےباکی نہیں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%A7%D9%81%D9%84%D8%A7%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ترا بے مدعا مانگے دعا کیا", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترا بے مدعا مانگے دعا کیا\nمرض ہے تندرستی میں دوا کیا\n\nکہیں کیا کیا کیا ہے ہم نے کیا کیا\nتجھے اے بے وفا قدر وفا کیا\n\nتبسم ہو جواب مدعا کیا\nکہا کیا آپ نے میں نے سنا کیا\n\nکہو آخر ذرا میں بھی تو سن لوں\nمری نسبت سنا ہے تم نے کیا کیا\n\nتمہاری مہربانی ہے تو سب ہے\nمرا ارمان میرا مدعا کیا\n\nنہ دیکھیں وہ تو اپنا گریہ بے سود\nنہ پوچھیں وہ تو اپنا مدعا کیا\n\nچلا تو بھی جو اے دل لینے والے\nہمارے پاس پھر باقی رہا کیا\n\nادائیں تم کو بخشیں ہم کو آنکھیں\nکرے گا اور بندوں سے خدا کیا\n\nجو مجھ کو آپ ہی در سے اٹھا دیں\nکوئی رکھے کسی کا آسرا کیا\n\nسمجھتے ہو جو اپنے آپ کو تم\nاسے سمجھے گا کوئی دوسرا کیا\n\nکھلاتے ہو قسم ضبط فغاں پر\nذرا سوچو مرض کیا ہے دوا کیا\n\nمرے گھر کو تم اپنا گھر نہ سمجھو\nتو ایسی میہمانی کا مزا کیا\n\nصفیؔ خود بینی ٹھہرے جن کا شیوہ\nنظر آئے گا ان کو دوسرا کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DB%92_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%92_%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ترا تن رُوح سے ناآشنا ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ترا تن رُوح سے ناآشنا ہے\nعجب کیا! آہ تیری نارسا ہے\nتنِ بے رُوح سے بیزار ہے حق\nخدائے زندہ، زندوں کا خدا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D9%86_%D8%B1%D9%8F%D9%88%D8%AD_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ترا جلوہ شام و سحر دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:فرحت کانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترا جلوہ شام و سحر دیکھتے ہیں\nسلیقے سے شمس و قمر دیکھتے ہیں\n\nپہنچنا ہے دل تک نظر دیکھتے ہیں\nکدھر دیکھنا تھا کدھر دیکھتے ہیں\n\nمحبت کا ان پر اثر دکھتے ہیں\nملا کر نظر سے نظر دیکھتے ہیں\n\nتجھے دیکھنے والے یوں تو بہت ہیں\nمگر ہم بہ رنگ دگر دیکھتے ہیں\n\nجو ہیں نکتہ چیں وہ کریں نکتہ چینی\nجو اہل ہنر ہیں ہنر دیکھتے ہیں\n\nابھی تک تو جی ہم نے کھویا نہیں ہے\nابھی ضبط غم کا اثر دیکھتے ہیں\n\nانہیں میری فرحتؔ خبر ہو تو کیوں کر\nجو اخبار پڑھ کر خبر دیکھتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ترا جوہر ہے نُوری، پاک ہے تُو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ترا جوہر ہے نُوری، پاک ہے تُو\nفروغِ دیدۂ افلاک ہے تُو\nترے صیدِ زبوں افرشتہ و حُور\nکہ شاہینِ شہِ لولاکؐ ہے تُو!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%86%D9%8F%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%8C_%D9%BE%D8%A7%DA%A9_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%8F%D9%88"} {"title": "ترا دل یار اگر مائل کرے ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترا دل یار اگر مائل کرے ہے\nتو جان اب تجھ کو صاحب دل کرے ہے\n\nتجلی کو نہیں تکرار ہرگز\nیہاں تکرار اب جاہل کرے ہے\n\nرعایت بوجھ تو معشوق کا جور\nکہ تجھ کو عشق میں کامل کرے ہے\n\nتو کھو مت دین کو دنیا کے پیچھے\nکوئی یہ کام بھی عاقل کرے ہے\n\nبڑی دشمن تری غفلت ہے ہر دم\nکہ تجھ کو موت سے غافل کرے ہے\n\nکوئی دن کو چلے اور قاصد عمر\nیہ رات اور دن میں دو منزل کرے ہے\n\nکسی کو کام میں تیرے نہیں درک\nعبث حاتمؔ کو تو شامل کرے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "ترا شوق دیدار پیدا ہوا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترا شوق دیدار پیدا ہوا ہے\nپھر اس دل کو آزار پیدا ہوا ہے\n\nسدا پان کھا کھا کے نکلے ہے باہر\nزمانے میں خوں خوار پیدا ہوا ہے\n\nیہ مدفن ہے کس کا جو ہر لالہ یاں سے\nجگر خوں دل افگار پیدا ہوا ہے\n\nاڑائے ہیں لخت جگر آہ نے جب\nہوا میں بھی گل زار پیدا ہوا ہے\n\nمیں کیوں کر نہ رکھوں عزیز اپنے دل کو\nکہیں دل سا بھی یار پیدا ہوا ہے\n\nکہے تھی یہ طفلی میں دیکھ اس کو دایہ\nیہ لڑکا طرح دار پیدا ہوا ہے\n\nمیں آیا ہوں مدت میں کوئی اس سے کہہ دو\nتمہارا گنہ گار پیدا ہوا ہے\n\nیہ دل مجھ سے لڑتا ہے تیری طرف سے\nکہاں کا طرف دار پیدا ہوا ہے\n\nمیاں مصحفیؔ بیچتے ہو جو دل کو\nتو لاؤ خریدار پیدا ہوا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ترا عاشق مرے سوا ہے کون", "poet_page": "مصنف:رنج حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > مخبر عشق (1895)", "year": "1895", "text_ur": "ترا عاشق مرے سوا ہے کون\nبے وفا مجھ سا با وفا ہے کون\n\nخیر میں آپ کا نہیں کوئی\nکہئے تو غیر آپ کا ہے کون\n\nسن کے لوگوں سے ذکر خیر مرا\nبولے کیا جانے وہ بلا ہے کون\n\nمجھ سے الفت تھی تجھ کو تجھ سے مجھے\nدیکھ ثابت قدم رہا ہے کون\n\nمیری تعریف سن کے کہتے ہیں\nایسا یہ شخص یا خدا ہے کون\n\nگر وہ دیں اپنے ہاتھ سے ساغر\nلوں میں یہ کہہ کے پارسا ہے کون\n\nجب کہا میں نے کوئی ہے عاشق\nسن کے کہنے لگے وہ کیا ہے کون\n\nمیں نہ چاہوں تجھے تو چاہوں کسے\nتجھ سا دل دار دل ربا ہے کون\n\nگر نہیں تو تو یہ بتا مجھ کو\nشوخ عیار پر جفا ہے کون\n\nکس کو مرنے کا غیر کے غم ہے\nرات دن اس میں مبتلا ہے کون\n\nدرد دل گر نہ میں کہوں تجھ سے\nدرد مندوں کی پھر دوا ہے کون\n\nخوش مزاجی میں وضع داری میں\nرنجؔ سا اور دوسرا ہے کون", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D9%86"} {"title": "ترا لب دیکھ حیواں یاد آوے", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترا لب دیکھ حیواں یاد آوے\nترا مکھ دیکھ کنعاں یاد آوے\n\nترے دو نین جب دیکھوں نظر بھر\nمجھے تب نرگسستاں یاد آوے\n\nتری زلفاں کی طولانی کوں دیکھے\nمجھے لیل زمستاں یاد آوے\n\nترے خط کا زمرد رنگ دیکھے\nبہار سنبلستاں یاد آوے\n\nترے مکھ کے چمن کے دیکھنے سوں\nمجھے فردوس رضواں یاد آوے\n\nتری زلفاں میں یو مکھ جو کہ دیکھے\nاسے شمع شبستاں یاد آوے\n\nجو کوئی دیکھے مری انکھیاں کو روتے\nاسے ابر بہاراں یاد آوے\n\nجو میرے حال کی گردش کوں دیکھے\nاسے گرداب گرداں یاد آوے\n\nولیؔ میرا جنوں جو کوئی کہ دیکھے\nاسے کوہ و بیاباں یاد آوے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%84%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AD%DB%8C%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D9%88%DB%92"} {"title": "ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے\nطلب میں ہوں تمنا کی قسم ہے\n\nسراپا ناز ہے تو اے پری رو\nمجھے تیرے سراپا کی قسم ہے\n\nدیا حق حسن بالا دست تجکوں\nمجھے تجھ سرو بالا کی قسم ہے\n\nکیا تجھ زلف نے جگ کوں دوانا\nتری زلفاں کے سودا کی قسم ہے\n\nدو رنگی ترک کر ہر اک سے مت مل\nتجھے تجھ قد رعنا کی قسم ہے\n\nکیا تجھ عشق نے عالم کوں مجنوں\nمجھے تجھ رشک لیلیٰ کی قسم ہے\n\nولیؔ مشتاق ہے تیری نگہ کا\nمجھے تجھ چشم شہلا کی قسم ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی", "poet_page": "مصنف:جلال الدین اکبر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی\nترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہے\n\nمیں ہوں در پر اس کے پڑا ہوا مجھے اور چاہیئے کیا بھلا\nمجھے بے پری کا ہو کیا گلا مری بے پری پر و بال ہے\n\nوہی میں ہوں اور وہی زندگی وہی صبح و شام کی سر خوشی\nوہی میرا حسن خیال ہے وہی ان کی شان جمال ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%81%DB%8C"} {"title": "ترا کشتہ اٹھایا اقربا نے", "poet_page": "مصنف:بیان یزدانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترا کشتہ اٹھایا اقربا نے\nچلے محشر کو مٹی میں دبانے\n\nنفس گم اور سخن باقی رہے گا\nنہ ہوگا تار اور ہوں گے ترانے\n\nخدا ٹھنڈا رکھے اے شمع تجھ کو\nکھڑی روتی ہے بیکس کے سرہانے\n\nترے چلنے سے سینے میں زمیں کے\nاٹھا اک درد محشر کے بہانے\n\nہمیں نے پنجۂ دست جنوں سے\nکئے ہیں کوہ کی چوٹی میں شانے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%B4%D8%AA%DB%81_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%D9%86%DB%92"} {"title": "ترا کیا کام اب دل میں غم جانانہ آتا ہے", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترا کیا کام اب دل میں غم جانانہ آتا ہے\nنکل اے صبر اس گھر سے کہ صاحب خانہ آتا ہے\n\nنظر میں تیری آنکھیں سر میں سودا تیری زلفوں کا\nکئی پریوں کے سائے میں ترا دیوانہ آتا ہے\n\nوفور رحمت باری ہے مے خواروں پہ ان روزوں\nجدھر سے ابر اٹھتا ہے سوئے مے خانہ آتا ہے\n\nلگی دل کی بجھائے بیکسی میں کون ہے ایسا\nمگر اک گریۂ حسرت کہ بے تابانہ آتا ہے\n\nانہیں سے غمزے کرتی ہے جو تجھ پر جان دیتے ہیں\nاجل تجھ کو بھی کتنا ناز معشوقانہ آتا ہے\n\nپریشانی میں یہ عالم تری زلفوں کا دیکھا ہے\nکہ اک اک بال پر قربان ہونے شانہ آتا ہے\n\nچھلک جاتا ہے جام عمر اپنا وائے ناکامی\nہمارے منہ تلک ساقی اگر پیمانہ آتا ہے\n\nوہ بت ہی مہرباں سب اپنا اپنا حال کہتے ہیں\nلب خاموش تجھ کو بھی کوئی افسانہ آتا ہے\n\nطلسم تازہ تیرا سایۂ دیوار رکھتا ہے\nبدلتا ہے پری کا بھیس جو دیوانہ آتا ہے\n\nیہ عظمت رہ کے زاہد ان بتوں میں ہم نے پائی ہے\nکہ کعبہ ہم کو لینے تا در مے خانہ آتا ہے\n\nدو رنگی سے نہیں خالی عدم بھی صورت ہستی\nکوئی ہشیار آتا ہے کوئی دیوانہ آتا ہے\n\nہما یوں استخوان سوختہ پر میرے گرتا ہے\nتڑپ کر شمع پر جیسے کوئی پروانہ آتا ہے\n\nادھر ہیں حسن کی گھاتیں ادھر ہیں عشق کی باتیں\nتجھے افسوں تو مجھ کو اسے پری افسانہ آتا ہے\n\nکلیجا ہاتھ سے اہل طمع کے چاک ہوتا ہے\nصدف آسا اگر مجھ کو میسر دانہ آتا ہے\n\nنمک جلاد چھڑکا چاہتا ہے میرے زخموں پر\nمزے کا وقت اب اے ہمت مردانہ آتا ہے\n\nزبردستی کا دھڑکا وصل میں تم کو سمایا ہے\nکدھر ہو ہوش میں آؤ کوئی آیا نہ آتا ہے\n\nالٰہی کس کی شمع حسن سے روشن ہے گھر میرا\nکہ بن جاتا ہے جگنو آج جو پروانہ آتا ہے\n\nوہ عاشق خال و خط کا ہوں نذر مور کرتا ہوں\nمیسر تیسرے دن بھی جو مجھ کو دانہ آتا ہے\n\nامیرؔ اور آنے والا کون ہے گور غریباں پر\nجو روشن شمع ہوتی ہے تو ہاں پروانہ آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D9%85_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ترا ہم نے جس کو طلب گار دیکھا", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترا ہم نے جس کو طلب گار دیکھا\nاسے اپنی ہستی سے بے زار دیکھا\n\nادا ہی کی حسرت میں سب مر گئے سچ\nتجلی کو کس نے بہ تکرار دیکھا\n\nتری آنکھ بھر جس نے تصویر دیکھی\nوہ تصویر سا نقش دیوار دیکھا\n\nعجب کچھ زمانے کی ہے رسم یارو\nجو ہے کام کا اس کو بیکار دیکھا\n\nولیکن اچنبھا بڑا مجھ کو یہ ہے\nکہ ٹک سوزؔ کا گرم بازار دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ترانۂ قومی", "poet_page": "مصنف:سفیر کاکوروی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مرحبا اے خاک پاک کشور ہندوستاں\nیادگار عہد ماضی ہے تو اے جان جہاں\nکیسے کیسے اولیا گزرے اور قطب زماں\nجن کے قدموں نے بنایا ہے تجھے جنت نشاں\nروشنی سے تیرے پھیلا ہے اجالا ہر طرف\nتیرا دنیا میں رہا ہے بول بالا ہر طرف\n\nکیوں نہ کہیے تجھ کو اک سرچشمۂ آب بقا\nہیں یہ آثار قدیمہ تیرے گنج بے بہا\nروز و شب نیرنگیاں تیری ہیں کیا کیا جاں فزا\nکس قدر ہے روح پرور یہ تری آب و ہوا\nگردش ایام سے گو میں پھروں نزدیک و دور\nہر جگہ یاد وطن ہے مایۂ عیش و سرور\n\nاب تو لازم ہے کہ ہوں بیدار ابنائے وطن\nہو دلوں میں جذبۂ ملت پرستی جوش زن\nغلغلہ تیری ستائش کا ہو تا چرخ کہن\nاور تیرے جاں نثاروں کے ہو لب پر یہ سخن\nمٹ نہیں سکتے کبھی تیرے اصول اتفاق\nکیوں نہ ہو اے ہند تجھ کو دور نو کا اشتیاق\n\nجبکہ جاری ہو زبانوں پر یہ کلمہ صبح و شام\nنغمہ ہائے ساز سے بڑھ کر ہے جو معجز نظام\nیعنی صلح و آشتی کا دیں ہم آپس میں پیام\nمشکلیں آسان ہوں بگڑے ہوئے بن جائیں کام\nرونما جس کی بدولت جلوۂ امید ہو\nدور ظلمت ہو دلوں سے اور گھر گھر عید ہو\n\nدین و آئیں ہیں جدا سب کے مگر اے خاک ہند\nگود میں تیرے رہیں شیر و شکر اے خاک ہند\nتیری خدمت پر جو باندھیں گے کمر اے خاک ہند\nہوں گے وہ تیرے لیے سلک گہر اے خاک ہند\nزیب و زینت میں تو اے جان جہاں مشہور ہے\nخیر و برکت سے تو اے ہندوستاں معمور ہے\n\nروز و شب قوموں کو ہوتی ہے ترقی یا زوال\nکر سکا لیکن نہ تجھ کو دور گردوں پائمال\nہر زمانے میں رہا تیرا عجب جاہ و جلال\nسایۂ رحمت نے دائم تجھ کو رکھا ہے نہال\nگر نظر آئے کبھی غم کی گھٹا چھائی ہوئی\nٹل گئی ہے سر سے تیرے ہر بلا آئی ہوئی\n\nاختلاف دین و ملت کے یہ جھگڑے ہوں تمام\nجو مصیبت بن گئے ہیں آج بہر خاص و عام\nہے مبارک جو تجھے حاصل ہے امن و انتظام\n\"با مسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام\"\nخاکساری میں تو اب تک شہرۂ آفاق ہے\nمخزن فضل و ہنر ہے معدن اخلاق ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%82_%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C"} {"title": "ترانۂ ملی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1910", "text_ur": "چِین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا\nمسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا\n\nتوحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے\nآساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا\n\nدنیا کے بُت‌کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا\nہم اُس کے پاسباں ہیں، وہ پاسباں ہمارا\n\nتیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں\nخنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا\n\nمغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری\nتھمتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا\n\nباطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم\nسَو بار کر چکا ہے تُو امتحاں ہمارا\n\nاے گلِستانِ اندلس! وہ دن ہیں یاد تجھ کو\nتھا تیری ڈالیوں پر جب آشیاں ہمارا\n\nاے موجِ دجلہ! تُو بھی پہچانتی ہے ہم کو\nاب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں ہمارا\n\nاے ارضِ پاک! تیری حُرمت پہ کٹ مرے ہم\nہے خُوں تری رگوں میں اب تک رواں ہمارا\n\nسالارِ کارواں ہے میرِ حجازؐ اپنا\nاس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا\n\nاقبالؔ کا ترانہ بانگِ درا ہے گویا\nہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%82_%D9%85%D9%84%DB%8C"} {"title": "ترانۂ ہندی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1904", "text_ur": "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا\nہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا\n\nغربت میں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن میں\nسمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا\n\nپربت وہ سب سے اونچا، ہمسایہ آسماں کا\nوہ سنتری ہمارا، وہ پاسباں ہمارا\n\nگودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاں\nگلشن ہے جن کے دم سے رشکِ جناں ہمارا\n\nاے آبِ رودِ گنگا! وہ دن ہیں یاد تجھ کو؟\nاترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا\n\nمذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا\nہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں ہمارا\n\nیونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے\nاب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا\n\nکچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری\nصدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا\n\nاقبال! کوئی محرم اپنا نہيں جہاں میں\nمعلوم کیا کسی کو دردِ نہاں ہمارا!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%82_%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C"} {"title": "تربت پہ وہ جو آئے تو عالم نیا ہوا", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تربت پہ وہ جو آئے تو عالم نیا ہوا\nپھولوں میں جان پڑ گئی سبزہ ہرا ہوا\n\nدیکھا گیا نہ اشکوں کا دریا بڑھا ہوا\nپانی برس رہا تھا کہ قاصد ہوا ہوا\n\nشامت ہے کس کی کون یہ پوچھے کہ کیا ہوا\nصفدرؔ کو جا رہا ہے کوئی کوستا ہوا\n\nآئے نکالنے وہ مرے دل کی حسرتیں\nآئے اجاڑنے کو مرا گھر بسا ہوا\n\nسنتا ہوں بے نقاب وہ آج آئے بام پر\nکیا جانے حشر دیکھنے والوں کا کیا ہوا\n\nکیا کیا بتاؤں بگڑے ہوئے تیوروں میں ہے\nغصے میں بھی ہے پیار کا نقشہ کھچا ہوا\n\nہے اور رنگ و بو گل عارض سے آپ کے\nدو پھولوں سے ہے گلشن عالم بسا ہوا\n\nواعظ کو کیا ہوا ہے کہ توبہ کے بعد بھی\nبیٹھا ہے خم کی طرح جو ہم سے بھرا ہوا\n\nآ آ کے جا چکے کئی موسم بہار کے\nاب تک اسیر دام نہ کوئی رہا ہوا\n\nحصہ میں آ گیا وہی سیماب و برق کے\nجو اضطراب تھا مرے دل سے بچا ہوا\n\nپوچھا کسی نے حال جو صفدرؔ کا یوں کہا\nزندہ تھا رات صبح کو کیا جانے کیا ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A8%D8%AA_%D9%BE%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "تربیت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "زندگی کچھ اور شے ہے، علم ہے کچھ اور شے\nزندگی سوزِ جگر ہے، علم ہے سوزِ دماغ\nعلم میں دولت بھی ہے، قُدرت بھی ہے، لذّت بھی ہے\nایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سُراغ\nاہلِ دانش عام ہیں، کم یاب ہیں اہلِ نظر\nکیا تعجب ہے کہ خالی رہ گیا تیرا ایاغ!\nشیخِ مکتب کے طریقوں سے کشادِ دل کہاں\nکس طرح کبریت سے روشن ہو بجلی کا چراغ!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D8%AA"} {"title": "ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "منقبت", "year": null, "text_ur": "قابل سجدہ ہے علی کا در\nباب تعظیم ہے علی کا گھر\nہے علی ہی کا نام موجودات\nہے علی افتخار نوع بشر\nفرش رہ عرش ہو نہیں سکتا\nمنزلت ہے علی کی بالاتر\nمنبع لطف و مظہر احساں\nمصدر صدہزار فضل و ہنر\nتھا پرآشوب جن کے شور سے دہر\nکردیے خاکوں میں انھوں کے سر\nقدرت اس کی خدا کی قدرت ہے\nزور اچنبھا عجیب زورآور\nاعتقاد اپنے کو چھپایا ہے\nیہ جو کہتے ہیں پاس ظاہر کر\nہم علی کو خدا نہیں جانا\nپر خدا سے جدا نہیں جانا\nہے علی جملہ عزت و اعزاز\nجان بھی اپنی ہے علی کی نیاز\nغم شریک محمدؐ عربی\nحرمت کعبہ آبروے حجاز\nخاک دروازۂ علی رہیے\nہوویں یاور جو طالع ناساز\nرو علی کی طرف ہی رکھ اس میں\nدر فردوس منھ پہ ہوگا باز\nہوسکے تو علی پرستی کر\nتو ہو اسلامیوں میں تو ممتاز\nہے علی وہ کہ چرخ و ماہ و مہر\nاس کی قدرت پہ سب کریں ہیں ناز\nمحو یاد علی ہیں جو ان کو\nنے سر سجدہ نے دماغ نماز\nہیں علی سے علی طلب شب و روز\nدوستی کشتگان قلب گداز\nقبلہ کعبہ خدا رسول علی\nگفتگو شوق کی بہت ہے دراز\nہم علی کو خدا نہیں جانا\nپر خدا سے جدا نہیں جانا\n\nہے علی جانشیں پیمبرؐ کا\nزیب مسجد ہے حسن منبر کا\nزور بازو سے اس کے کیا کہیے\nہے زباں زد فسانہ خیبر کا\nکر گیا گم بڑوں بڑوں کے حواس\nچیرنا کودکی میں اژدر کا\nجذب خورشید کس طرح سے کیا\nوقت کم تھا نماز دیگر کا\nسرکشان جہاں نے جھاڑے کان\nسن کے احوال عمرو و عنتر کا\nتیغ اس کی تھی برق ابر بہار\nکٹ گیا جس سے رنگ اکثر کا\nبارش ابر لطف بن اس کے\nرفع کیا ہو غبار دل پر کا\nکیا ہمارا شعور جو سمجھیں\nمرتبہ اس سبھوں سے برتر کا\nعقل کل پر بھی کرنا مشکل ہے\nفرق ظاہر سے ایسے مظہر کا\nہم علی کو خدا نہیں جانا\nپر خدا سے جدا نہیں جانا\n\nذات پاک اس کی ہے خدا کی ذات\nجمع واجب کے اس میں سب ہیں صفات\nعلم و قدرت نہ بابت مذکور\nدم زدن یہ نہ جاے حلم و ثبات\nوہ نہ ہوتا سبب تو پھر کیا تھا\nکیسے ہم تم کہاں کے موجودات\nنہ تو دس عقل و نہ فلک ہوتے\nنہ ستارے نمود کرتے سات\nحال روشن نہ روز کا ہوتا\nرہتی تاریکی عدم سے رات\nاس کے مقدم سے نور ہے ورنہ\nسوجھتا کس کو ہاتھ سے پھر ہات\nوہ مقوم سبھوں کا وہ سب کچھ\nیہی کہنے کی ایک ہے گی بات\nہم علی کو خدا نہیں جانا\nپر خدا سے جدا نہیں جانا\n\nہے مسبب کہیں کہیں ہے سبب\nہے وہی لطف بے نہایت اب\nہے علی قابل پرستیدن\nہے علی مظہر ہزار عجب\nعشق ہے ہم جو لیتے ہیں یوں نام\nورنہ سجدہ بھی یاں ہے ترک ادب\nدم الطاف سبز روے زمیں\nجگر چرخ چاک وقت غضب\nداب یکبارگی لیے دشمن\nدب کیا تونے جس گھڑی مرکب\nتو بنا پاے خاک میداں پر\nاستخوان مزار کا مطلب\nبارہا اے سوار شائستہ\nابلق چرخ نکلا تجھ سے دب\nہے تو بندہ تو اے مرے معبود\nپر خدا کے سے ہیں ترے سب ڈھب\nہے تفنن کے طور پر یہ شعر\nآشنا اپنے لب سے روز و شب\nہم علی کو خدا نہیں جانا\nپر خدا سے جدا نہیں جانا\n\nہے علی حامی و مقوم دیں\nہے علی پیشواے اہل یقیں\nہے علی برگزیدۂ عالم\nہے علی اشرف زمان و زمیں\nاس کی ہمت سے اس گلستاں میں\nجیسے شبنم پڑے ہیں در ثمیں\nاس کی جرأت سے قشعریرہ ہے\nان کو جو ہیں گے شیر بیشۂ کیں\nخوبی اس کی کہاں تلک کہیے\nخوب جانے جسے رسول امیں\nاللہ اللہ تیری عزت و قدر\nمجلس انبیا کا صدر نشیں\nجیتے جیتے ہمارے قلب پر اب\nنام اس کا ہے جیسے نقش نگیں\nکبریا اس کی ہے وراے قیاس\nوہم اپنا گیا کہیں سے کہیں\nمانو یہ بات اس کی قدرت سے\nنہیں بالقوۃ آدمی کا نہیں\nہم علی کو خدا نہیں جانا\nپر خدا سے جدا نہیں جانا\n\nسجدہ کرنے کے ہے علی قابل\nقبلہ اپنا ہے اس طرف مائل\nمرگ ہے مصلحت سے دشمن کو\nبے ولا اس کے زیست کیا حاصل\nدرس میں تیرے اے شہ علام\nپیر عقل ایک کودک جاہل\nتیری ہمت قبول یہ نہ کرے\nکہ مکرر ہلے لب سائل\nاصل مطلب کو دوستی تیری\nراہ مطلوب کو ہے یہ واصل\nدست بخشش سحاب بارندہ\nکف ہمت محیط بے ساحل\nسیر کر مجمع کمال تجھے\nدیکھ کر تیری قدرت کامل\nطفل و برنا و پیر سارے مقر\nعقل و ادراک و فہم سب قائل\nیہ عقیدہ نہیں ہے اپنا ہی\nکہتے ہیں سارے بالغ و عاقل\nہم علی کو خدا نہیں جانا\nپر خدا سے جدا نہیں جانا\n\nہے علی سایہ گستر دوجہاں\nدیوے خورشید حشر سے وہ اماں\nصورت ظاہر علی پہ نہ جا\nہے علی خلوتی راز نہاں\nوہ علی کی ہے ذات پاک جسے\nجپتے رہتے ہیں اہل عالم جاں\nکیا کریمی کی ہے صفت اللہ\nنہیں ہے یہ نہیں یہی ہے یاں\nشان ارفع ہے اپنے صاحب کی\nکام کرتے نہیں قیاس و گماں\nہے جہاں رتبۂ وجوب اس کا\nعقل کا درک وھاں ہے کیا امکاں\nخوگر اس نام لینے سے جو نہیں\nحیف صد حیف وہ دہان و زباں\nدونوں یکتا ہیں ذوالفقار و علی\nایسی شمشیر ہے نہ ایسا جواں\nسب ہیں حیران منزلت اس کے\nقدر اس کی کہاں سپہر کہاں\nہم علی کو خدا نہیں جانا\nپر خدا سے جدا نہیں جانا\n\nہے علی مدعا علی مقصود\nوہی مشہود ہے وہی موجود\nہے علی وہ کہ سارے صاحب دل\nلیتے نام اس کا بھیجتے ہیں درود\nکیا زمیں کیا سپہر کیا مہ و مہر\nکی علی کے لیے سبھوں نے نمود\nجمع رکھ دل علی سبب ہوگا\nکیا ہے اسباب اگر ہوئے مفقود\nبندگی کے مقام ہیں معلوم\nہے یہ صاحب ہمارا تو معبود\nمصطفےٰ مرتضےٰ خدا ہے ایک\nلیک آگاہ راز ہیں معدود\nجھک ہی جاتے ہیں سر سن اس کا نام\nیعنی سب اس کو جانے ہیں مسجود\nحشر ہوگا علی کے ساتھ اپنا\nکیا ہے واں کا ہمیں غم بہبود\nعندیہ اپنا اپنا ہے اے شیخ\nگوش کر اس کو تو اچھل یا کود\nہم علی کو خدا نہیں جانا\nپر خدا سے جدا نہیں جانا\n\nگاہ بے گاہ کر علی خوانی\nہے علی دانی ہی خدا دانی\nمہر کا اس کی رہ سرآشفتہ\nہے ولاے علی مسلمانی\nفرش راہ علی کر آنکھوں کو\nیوں بچھا تو بساط ایمانی\nمور بے زور ہو علی کا تو\nکہ جہاں میں کرے سلیمانی\nچاہ میں اس کی آپ کو گم کر\nتا کہیں تجھ کو ماہ کنعانی\nہے وہی مہر چرخ عرفاں کا\nہے وہی شاہ ظل سبحانی\nقامت آراے کبریا حق کا\nچہرہ پرداز نور یزدانی\nہاتھ اس کا وہی خدا کا ہاتھ\nبات اس کی کلام ربانی\nشوق مفرط سے ہے یہ طرز سخن\nگو برا مانے کوئی مروانی\nہم علی کو خدا نہیں جانا\nپر خدا سے جدا نہیں جانا\n\nہے علی یاں کا مالک و مختار\nآگہ کار واقف اسرار\nہے علی آفتاب سا روشن\nکچھ چھپا ہو تو کیجیے اظہار\nہے علی بہترین خلق خدا\nہے علی خویش سید ابرار\nکون اس کا مقر جود نہیں\nاس کی جرأت کا کس کو ہے انکار\nیہ شرف کس میں جمع ہوتے ہیں\nاشرف و حر و سید و سردار\nعہد کا فخر وقت کا سلطاں\nخوبی بزم و گرمی مضمار\nتیغ برکف اگر نمود کرے\nوہی قہار ہے وہی جبار\nحکم کے مرتبے میں ہو تو وہی\nپردہ پوش و غفور ہے ستار\nعشق پیشوں کو اس کے کیا وسواس\nکہتے ہیں اور پھر کہیں سو بار\nہم علی کو خدا نہیں جانا\nپر خدا سے جدا نہیں جانا\n\nہے علی وہ بلندقدر امیر\nدے دے ڈالے ہیں جس نے تاج و سریر\nاس کی یکتائی میں تردد کیا\nجس کا نکلا نہیں عدم سے نظیر\nخاک در ہو شہ ولایت کا\nشاہیاں لے گئے ہیں یاں سے فقیر\nیوں ہے درریز دست جود اس کا\nجیسے برسے ہے کوئی ابر مطیر\nصاحب ایسا ہی ہو تو صاحب ہے\nگنہ آمرز اور عذر پذیر\nہم سے بندوں کی ورنہ کیونکے نبھے\nدم بہ دم جن سے ہوتی ہے تقصیر\nکچھ محبوں کا معتقد مت پوچھ\nہے علی ہی ہوالعلی کبیر\nشان سے کہتے ہیں محیط کل\nقدر سے قادر و خداے قدیر\nتو موالی علی پرست نصیر\nچاہے سو ہم کو کہہ لے اب اے میرؔ\nہم علی کو خدا نہیں جانا\nپر خدا سے جدا نہیں جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%AC%DB%8C%D8%B9_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%93"} {"title": "ترسا نہ مجھ کو کھینچ کے تلوار مار ڈال", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترسا نہ مجھ کو کھینچ کے تلوار مار ڈال\nگر مار ڈالنا ہے تو یک بار مار ڈال\n\nعاشق جو تیری زلف کا ہو اس کو تو صنم\nلے جا کے تیرہ شب پس دیوار مار ڈال\n\nکبک دری کے لاکھ قفس ہوں جہاں دھرے\nدکھلا کے ان کو شوخی رفتار مار ڈال\n\nکچھ ہم نے تیرے ہاتھ تو پکڑے نہیں میاں\nگر جانتا ہے ہم کو گنہ گار مار ڈال\n\nصیاد تجھ کو کس نے کہا تھا کہ فصل گل\nمجھ کو قفس میں کر کے گرفتار مار ڈال\n\nجو جاں بہ لب ہو حسرت دیدار میں تری\nدکھلا کے اس کو جلوۂ رخسار مار ڈال\n\nسودائیان عشق کا جھگڑا چکا کہیں\nلے جا کے ان کو برسر بازار مار ڈال\n\nتیغ و کمند مانگ کر ابرو و زلف سے\nعاشق بہت ہوئے ہیں جفا کار مار ڈال\n\nگر یہ بھی ہو سکے نہ تو کہتا ہے مصحفیؔ\nدو چار کر لے قید میں دو چار مار ڈال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DA%88%D8%A7%D9%84"} {"title": "ترغیب", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "رسیلے جرائم کی خوشبو\nمرے ذہن میں آ رہی ہے\nرسیلے جرائم کی خوشبو\nمجھے حد ادراک سے دور لے جا رہی ہے\n\nجوانی کا خوں ہے\nبہاریں ہیں موسم زمیں پر!\nپسند آج مجھ کو جنوں ہے\nنگاہوں میں ہے میرے نشے کی الجھن\nکہ چھایا ہے ترغیب کا جال ہر اک حسیں پر\nرسیلے جرائم کی خوشبو مجھے آج للچا رہی ہے!\nقوانین اخلاق کے سارے بندھن شکستہ نظر آ رہے ہیں\nحسین اور ممنوع جھرمٹ مرے دل کو پھسلا رہے ہیں\nیہ ملبوس ریشم کے اور ان کی لرزش\nیہ غازہ..... یہ انجن\nنسائی فسوں کی ہر اک موہنی آج کرتی ہے سازش\nمرے دل کو بہکا رہی ہے!\nمرے ذہن میں آ رہی ہے\nرسیلے جرائم کی خوشبو!", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D8%BA%DB%8C%D8%A8"} {"title": "ترقی علوم", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "مسلمانوں میں ترقی علوم کی ایک عجیب سلسلہ سے ہوئی ہے۔ سب سے اول بنیاد ترقی علوم کی جنگ یمامہ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہوئی کہ انہوں نے زید بن ثابت کو متعین کیا کہ قرآن مجید کو اول سے آخر تک یک جا جمع کر کر بطور ایک کتاب کے لکھ دیں چناں چہ انہوں نے لکھا، جیسا کہ اب موجود ہے۔\n\nدوسری دفعہ مسلمانوں کے علوم کو اس وقت ترقی ہوئی جب کہ لوگوں نے حدیث کو جمع کرنے کا ارادہ کیا۔ اگر چہ اول اول لوگ اس کو برا جانتے تھے (اور شاید ان کی رائے صحیح ہو) مگر دوسری صدی میں سب نے اس کی ضرورت کو قبول کیا اور حدیثوں کو جمع کرنے اور حدیث کی کتابوں کے لکھنے کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اس بات میں اختلاف ہے کہ سب سے اول کس نے اس کام کو شروع کیا۔ بعضے کہتے ہیں سب سے اول امام عبد الملک ابن عبد العزیز ابن جریج بصری نے جنہوں نے ۱۵۵ ہجری میں وفات پائی کتاب تصنیف کی۔ اور بعضے کہتے ہیں کہ ابو نصر سعید ابن عروبہ نے جنہوں نے ۱۵۶ ہجری میں انتقال کیا، کتاب تصنیف کی، اور بعضے کہتے ہیں کہ ربیع ابن صبیح نے جو ۱۶۰ ہجری میں وفات پائی سب سے اول کتاب لکھی اور اسی زمانے کے قریب میں سفیان بن عیینہ اور مالک بن انس کی تصنیفات مدینہ میں، اور عبد اللہ ابن وہب کی تصنیفات مصر میں، اور معمر اور عبد الرزاق کی تصانیف یمن میں، اور سفیان ثور ی اور محمد ابن فضیل ابن غزوان کی کوفہ میں اور حماد ابن سلمہ اور روح ابن عبادہ کی بصرہ میں اور ہشیم واسط اور عبدا للہ ابن مبارک کی خراسان میں شائع ہوئیں۔\n\nتیسری دفعہ مسلمانوں کے علوم کی ترقی اس وقت ہوئی کہ بعض لوگوں نے عقاید مذہبی میں اختلاف کیا اور فرق بدع وا ہواء کا شیوع ہوا اور علم کلام میں کتابیں تصنیف ہونی شروع ہوئیں پھر اسی علم کلام کو اور زیادہ ترقی ہو گئی جب کہ تردید مسائل فلسفہ یونانیہ بھی، جو عقائد اسلام کے بر خلاف تھے اس میں شامل کیے گیے۔ سب سے اول اس علم میں حارث محاسبی نے کتاب تصنیف کی جو حضرت امام احمد بن حنبل ؒ کا ہم عصر تھا۔ اول اول علماء اور اتقیاء اس علم کو زندقہ و الحاد سمجھتے تھے پھر رفتہ رفتہ اس کی ایسی ضرورت معلوم ہوئی کہ فرض کفایہ تک نوبت پہنچ گئی۔\n\nپانچویں دفعہ مسلمانوں کے علوم کی ترقی اس وقت ہوئی جب کہ مسلمان عالموں نے معقول و منقول کی تطبیق کو ایک امر لازمی اور ضروری سمجھا اور یقین کیا کہ بغیر اس کے انسان کا ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔ اس فن میں سب سے زیادہ کمال امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے حاصل کیا۔ ان کی کتاب احیاء العلوم گویا سرچشمہ اس فن کا ہے۔ اگر چہ ابتدا میں امام غزالی ؒ کی نسبت بھی کفر کے فتوے ہوئے اور ان کی کتاب جلا دینے کے اشتہار کیے گیے مگر آخر کو حجۃ الاسلام ان کا لقب ہوا اور ان کی کتاب کو تمام عالم نے تسلیم کیا۔ اس کے بعد بہت کم کتابیں اس فن میں تصنیف ہوئیں مگر اخیر زمانہ میں مولانا شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس طرف متوجہ ہوئے اور کتاب حجۃ اللہ البالغہ لکھی جو بلحاظ اس زمانہ کے در حقیقت نہایت عمدہ اور عجیب لطیف کتاب تھی۔\n\nمگر اب یہ تمام وقت جن کی کہانی ہم نے بیان کی، گذر گئے اور اب بڑی ضرورت ہے کہ مسلمانوں میں دو طرح پر علوم کی ترقی ہو۔\n\nاول، جس طرح کہ قدیم یونانی فلسفہ اور حکمت ہم مسلمانوں نے حاصل کی تھی اب فلسفہ و حکمت جدیدہ کے حاصل کرنے میں ترقی کریں کیونکہ علوم یونانیہ کی غلطی اب علانیہ ظاہر ہو گئی ہے اور علوم جدیدہ نہایت عمدہ اور مستحکم بنیاد پر قائم ہوئے ہیں۔ دوسرے یہ کہ جس طرح علماء سابق نے معقول یونانیہ اور منقول اسلامیہ کی مطابقت میں کوشش کی تھی، اسی طرح حال کے معقول جدیدہ اور منقول اسلامیہ قدیمہ کی تطبیق میں کوشش کی جاوے تاکہ جو نتائج ہم کو پہلے حاصل ہوئے تھے وہ اب بھی حاصل ہوں\n\nاس کام کے کرنے میں بلا شبہ کچھ نادان برا کہیں گے اور زبان طعنہ دراز کریں گے مگر ہم کو اس پر کچھ خیال کرنا نہیں چاہیے کیونکہ جن اگلے لوگوں نے ایسا کیا تھا ان کا بھی یہی حال ہوا تھا مگرا ٓخر کو سب اس کی قدر کریں گے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D9%82%DB%8C_%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85"} {"title": "ترقی پسند", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "دھواں", "year": "1941", "text_ur": "جوگندر سنگھ کے افسانے جب مقبول ہونا شروع ہوئے تو اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ وہ مشہور ادیبوں اور شاعروں کو اپنے گھر بلائے اور ان کی دعوت کرے۔ اس کا خیال تھا کہ یوں اس کی شہرت اور مقبولیت اور بھی زیادہ ہو جائے گی۔\n\nجوگندر سنگھ بڑا خوش فہم انسان تھا۔ مشہور ادیبوں اور شاعروں کو اپنے گھربلاکر اور ان کی خاطر تواضع کرنے کے بعد جب وہ اپنی بیوی امرت کور کے پاس بیٹھتا تو کچھ دیر کے لیے بالکل بھول جاتا کہ اس کا کام ڈاک خانے میں چٹھیوں کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ اپنی تین گزی پٹیالا فیشن کی رنگی ہوئی پگڑی اتار کر جب وہ ایک طرف رکھ دیتا تو اسے ایسا محسوس ہوتا کہ اس کے لمبے لمبے کالے گیسوؤں کے نیچے جو چھوٹا سا سر چھپا ہوا ہے اس میں ترقی پسند ادب کوٹ کوٹ کر بھراہے۔ اس احساس سے اس کے دماغ میں ایک عجیب قسم کی اہمیت پیدا ہو جاتی اور وہ یہ سمجھتا کہ دنیا میں جس قدر افسانہ نگار اور ناول نویس موجود ہیں سب کے سب اس کے ساتھ ایک نہایت ہی لطیف رشتے کے ذریعے سے منسلک ہیں۔\n\nامرت کور کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ اس کا خاوند لوگوں کو مدعو کرنے پر اس سے ہر بار یہ کیوں کہا کرتا ہے،’’امرت، یہ جو آج چائے پر آرہے ہیں، ہندوستان کے بہت بڑے شاعر ہیں۔سمجھیں، بہت بڑے شاعر۔ دیکھو ان کی خاطرتواضع میں کوئی کسر نہ رہے۔‘‘ آنے والا کبھی ہندوستان کا بہت بڑا شاعر ہوتا تھا یا بہت بڑا افسانہ نگار۔ اس سے کم پائے کا کوئی آدمی وہ کبھی بلاتا ہی نہیں تھا۔ اور پھر دعوت میں اونچے اونچے سُروں میں جو باتیں ہوتی تھیں ان کا مطلب وہ آج تک نہ سمجھ سکی تھی۔ ان گفتگوؤں میں ترقی پسندی کا ذکر عام ہوتا تھا۔ اس ترقی پسندی کا مطلب بھی امرت کور کو معلوم نہیں ہوتا تھا۔\n\nایک دفعہ جب جوگندر سنگھ ایک بہت بڑے افسانہ نگار کو چائے پلاکر فارغ ہوا اور اندر رسوئی میں آکر بیٹھا تو امرت کور نے پوچھا، ’’یہ موئی ترقی پسندی کیا ہے؟‘‘\n\nجوگندر سنگھ نے پگڑی سمیت اپنے سرکو ایک خفیف سی جنبش دی اور کہا،’’ترقی پسندی۔۔۔ اس کا مطلب تم فوراً ہی نہیں سمجھ سکو گی۔ ترقی پسند اس کو کہتے ہیں جو ترقی پسند کرے۔ یہ لفظ فارسی کا ہے۔ انگریزی میں ترقی پسند کو ریڈیکل کہتے ہیں۔وہ افسانہ نگار، یعنی کہانیاں لکھنے والے، جو افسانہ نگاری میں ترقی چاہتے ہوں ان کو ترقی پسند افسانہ نگار کہتے ہیں۔ اس وقت ہندوستان میں صرف تین چار ترقی پسند افسانہ نگار ہیں جن میں میرا نام بھی شامل ہے۔‘‘\n\nجوگندر سنگھ عادتاً، انگریزی لفظوں اور جملوں کے ذریعے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا کرتا تھا۔ اس کی یہ عادت پک کر، اب طبیعت بن گئی تھی۔ چنانچہ اب وہ بلاتکلف ایک ایسی انگریزی زبان میں سوچتا تھا جو چند مشہور انگریزی ناول نویسوں کے اچھے اچھے چست فقروں پر مشتمل تھی۔ عام گفتگو میں وہ پچاس فیصدی انگریزی لفظ اور انگریزی کتابوں سے چنے ہوئے فقرے استعمال کرتا تھا۔ افلاطون کو وہ ہمیشہ پلیٹو کہتا تھا۔ اسی طرح ارسطو کو ارسٹوٹل۔ ڈاکٹر سگمنڈ فرائڈ ،شو پنہار اور نطشے کا ذکر وہ اپنی ہر معرکے کی گفتگو میں کیا کرتا تھا۔ عام بات چیت میں وہ ان فلسفیوں کا نام نہیں لیتا تھا اور بیوی سے گفتگو کرتے وقت وہ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھتا تھا کہ انگریزی لفظ اور یہ فلسفی نہ آنے پائیں۔\n\nجوگندر سنگھ سے جب اس کی بیوی نے ترقی پسندی کا مطلب سمجھا تو اسے بہت مایوسی ہوئی کیونکہ اس کا خیال تھا کہ ترقی پسندی کوئی بہت بڑی چیز ہوگی جس پر بڑے بڑے شاعر اور افسانہ نگار اس کے خاوند کے ساتھ مل کر بحث کرتے رہتے ہیں۔ لیکن جب اس نے یہ سوچا کہ ہندستان میں صرف تین چار ترقی پسند افسانہ نگار ہیں تو اس کی آنکھوں میں چمک سی پیدا ہوگئی۔ یہ چمک دیکھ کر جو گندرسنگھ کے مونچھوں بھرے ہونٹ ایک دبی دبی سی مسکراہٹ کے باعث کپکپائے، ’’امرت۔۔۔ تمہیں یہ سن کر خوشی ہوگی کہ ہندستان کا ایک بہت بڑا آدمی مجھ سے ملنے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس نے میرے افسانے پڑھے ہیں اور بہت پسند کیے ہیں۔‘‘\n\nامرت کور نے پوچھا،’’یہ بڑا آدمی کَوِی ہے یا آپ کی طرح کہانیاں لکھنے والا۔‘‘\n\nجوگندر سنگھ نے جیب سے ایک لفافہ نکالا اور اسے اپنے دوسرے ہاتھ کی پشت پر تھپتھپاتے ہوئے کہا،’’یہ آدمی کَوِی بھی ہے افسانہ نگار بھی ہے، لیکن اس کی سب سے بڑی خوبی جو اس کی نہ مٹنے والی شہرت کا باعث ہے ،اور ہی ہے۔‘‘\n\n’’وہ خوبی کیا ہے؟‘‘\n\n’’ وہ ایک آوارہ گرد ہے۔‘‘\n\n’’آوارہ گرد؟‘‘\n\n’’ ہاں، وہ ایک آوارہ گرد ہے جس نے آوارہ گردی کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا ہے۔۔۔ وہ ہمیشہ گھومتا رہتا ہے۔۔۔ کبھی کشمیر کی ٹھنڈی وادیوں میں ہوتاہے اور کبھی ملتان کے تپتے ہوئے میدانوں میں۔۔۔ کبھی لنکا میں کبھی تبت میں۔۔۔‘‘\n\nامرت کور کی دلچسپی بڑھ گئی،’’مگر یہ کرتا کیا ہے؟‘‘\n\n’’گیت اکٹھے کرتا ہے۔۔۔ ہندستان کے ہر حصے کے گیت۔۔۔ پنجابی، گجراتی،مرہٹی، پشاوری، سرحدی، کشمیری، مارواڑی۔۔۔ ہندستان میں جتنی زبانیں بولی جاتی ہیں، ان کے جتنے گیت اس کو ملتے ہیں اکٹھے کر لیتا ہے۔‘‘\n\n’’اتنے گیت اکٹھے کرکے کیا کرے گا؟‘‘\n\n’’کتابیں چھاپتا ہے، مضمون لکھتا ہے تاکہ دوسرے بھی یہ گیت سن سکیں۔ انگریزی زبان کے کئی رسالوں میں اس کے مضمون چھپ چکے ہیں۔ گیت اکٹھے کرنا اور پھر ان کو سلیقے کے ساتھ پیش کرنا کوئی معمولی کام نہیں۔ وہ بہت بڑا آدمی ہے امرت، بہت بڑا آدمی ہے اور دیکھو اس نے مجھے خط کیسا لکھا ہے۔‘‘\n\nیہ کہہ کر جوگندر سنگھ نے اپنی بیوی کو وہ خط پڑھ کر سنایا جو ہرندر ناتھ ترپاٹھی نے اس کو اپنے گاؤں سے ڈاک خانے کے پتے سے بھیجا تھا۔ اس خط میں ہرندرناتھ ترپاٹھی نے بڑی میٹھی زبان میں جوگندر سنگھ کے افسانوں کی تعریف کی تھی اور لکھا تھا کہ آپ ہندوستان کے ترقی پسند افسانہ نگار ہیں۔ جب یہ فقرہ جوگندر سنگھ نے پڑھا توبول اٹھا،’’لو دیکھو ترپاٹھی صاحب بھی لکھتے ہیں کہ میں ترقی پسند ہوں۔‘‘\n\nجوگندر سنگھ نے پورا خط سنانے کے بعد ایک دو سیکنڈ اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور اثر معلوم کرنے کے لیے پوچھا، ’’کیوں۔۔۔؟‘‘\n\nامرت کور اپنے خاوند کی تیز نگاہی کے باعث کچھ جھینپ سی گئی اور مسکرا کر کہنے لگی،’’مجھے کیا معلوم۔۔۔ بڑے آدمیوں کی باتیں بڑے ہی سمجھ سکتے ہیں۔‘‘\n\nجوگندر سنگھ نے اپنی بیوی کی اس ادا پرغور نہ کیا۔ وہ دراصل ہرندر ناتھ ترپاٹھی کو اپنے یہاں بلانے اور اسے کچھ دیر ٹھہرانے کی بابت سوچ رہا تھا، ’’امرت، میں کہتا ہوں ترپاٹھی صاحب کو دعوت دےدی جائے، کیا خیال ہے تمہارا۔۔۔ لیکن میں یہ سوچتا ہوں کیا پتہ ہے وہ انکار کردے۔۔۔ بہت بڑا آدمی ہے، ممکن ہے وہ ہماری اس دعوت کو خوشامد سمجھے۔‘‘\n\nایسے موقعوں پروہ بیوی کو اپنے ساتھ شامل کرلیا کرتا تھا تاکہ دعوت کا بوجھ دو آدمیوں میں بٹ جائے۔ چنانچہ جب اس نے ’’ہماری‘‘ کہا تو امرت کور نے جو اپنے خاوند جوگندرسنگھ کی طرح بے حد سادہ لوح تھی، ہرندر ناتھ ترپاٹھی سے دلچسپی لینا شروع کردی۔ حالانکہ اس کا نام ہی اس کے لیے ناقابل فہم تھا اور یہ بات بھی اس کی سمجھ سے بالاتر تھی کہ ایک آوارہ گرد گیت جمع کرکرکے کیسے بہت بڑا آدمی بن سکتا ہے۔ جب اس سے یہ کہا گیا تھا کہ ہرندر ناتھ ترپاٹھی گیت جمع کرتا ہے تو اسے اپنے خاوند کی ایک سنائی ہوئی بات یاد آگئی تھی کہ ولایت میں کئی لوگ تیتریاں پکڑنے کا کام کرتے ہیں اور یوں کافی روپیہ کماتے ہیں۔ چنانچہ اس نے خیال کیا تھا کہ شاید ترپاٹھی صاحب نے گیت جمع کرنے کا کام ولایت کے کسی آدمی سے سیکھا ہوگا۔\n\nجوگندر سنگھ نے پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا،’’ممکن ہے وہ ہماری اس دعوت کو خوشامد سمجھے۔‘‘\n\n’’اس میں خوشامد کی کیا بات ہے۔ اور بھی تو کئی بڑے آدمی آپ کے پاس آتے ہیں۔ آپ ان کو خط لکھ دیجیے، میرا خیال ہے وہ آپ کی دعوت ضرور قبول کرلیں گے اور پھر ان کو بھی تو آپ سے ملنے کا بہت شوق ہے۔۔۔ ہاں، یہ تو بتائیے کیا ان کی بیوی بچے ہیں؟‘‘\n\n’’بیوی بچے؟‘‘ جوگندر سنگھ نے خط کا مضمون انگریزی زبان میں سوچتے ہوئے کہا،’’ہونگے۔۔۔ ضرور ہوں گے۔۔۔ ہاں ہیں، میں نے ان کے ایک مضمون میں پڑھا تھا، ان کی بیوی بھی ہے اور ایک بچی بھی ہے۔‘‘\n\nیہ کہہ کر جوگندرسنگھ اٹھا، خط کا مضمون اس کے دماغ میں مکمل ہوچکا تھا۔ دوسرے کمرے میں جا کر اس نے چھوٹے سائز کا پیڈ نکالا جس پر وہ خاص خاص آدمیوں کو خط لکھا کرتا تھا اورہرندر ناتھ ترپاٹھی کے نام اردومیں دعوت نامہ لکھا۔ یہ اس مضمون کا ترجمہ تھا جو اس نے اپنی بیوی سے گفتگو کرتے وقت سوچ لیا تھا۔\n\nتیسرے روز ہرندرناتھ ترپاٹھی کا جواب آیا۔ جوگندر سنگھ نے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ لفافہ کھولا۔ جب اس نے پڑھا کہ اس کی دعوت قبول کرلی گئی ہے تو اس کا دل اور بھی دھڑکنے لگا۔ اس کی بیوی امرت کور دھوپ میں اپنے چھوٹے بچے کے کیسوں میں دہی ڈال کر مل رہی تھی کہ جوگندر سنگھ لفافہ ہاتھ میں لے کر اس کے پاس پہنچا، ’’انھوں نے ہماری دعوت قبول کرلی، کہتے ہیں کہ وہ لاہور یوں بھی ایک ضروری کام سے آرہے تھے۔۔۔ اپنی تازہ کتاب چھپوانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔ اور ہاں، انھوں نے تم کو پرنام کہا ہے۔‘‘ امرت کور اس احساس سے بہت خو شی ہوئی کہ اتنے بڑے آدمی نے جس کا کام گیت اکٹھے کرنا ہے اس کو پرنام کہا ہے۔ چنانچہ اس نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا کہ اس کا بیاہ ایسے آدمی سے ہوا جس کو ہندوستان کا ہر بڑا آدمی جانتا ہے۔\n\nسردیوں کا موسم تھا۔ نومبر کے پہلے دن تھے۔ جوگندر سنگھ صبح سات بجے بیدار ہوگیا اور دیر تک بستر میں آنکھیں کھولے پڑا رہا۔ اس کی بیوی امرت کور اور اس کا بچہ دونوں لحاف میں لیٹے پاس والی چارپائی پر پڑے تھے۔ جوگندر سنگھ نے سوچنا شروع کیا: ترپاٹھی صاحب سے مل کر اسے کتنی خوشی ہوگی اور خود ترپاٹھی صاحب کو بھی یقیناًاس سے مل کر بڑی مسرت حاصل ہوگی۔کیوں کہ وہ ہندوستان کا جواں افکار افسانہ نویس اور ترقی پسند ادیب ہے۔ ترپاٹھی صاحب سے وہ ہر موضوع پر گفتگو کرے گا۔ گیتوں پر، دیہاتی بولیوں پر، افسانوں پر اور تازہ جنگی حالات پر۔۔۔ وہ ان کو بتائے گا کہ دفتر کا ایک محنتی کلرک ہونے پربھی وہ کیسے اچھا افسانہ نگار بن گیا۔ کیا یہ عجیب سی بات نہیں کہ ڈاک خانے میں چٹھیوں کی دیکھ بھال کرنے والا انسان طبعاً آرٹسٹ ہو۔\n\nجوگندر سنگھ کو اس بات پر بہت ناز تھا کہ ڈاک خانے میں مزدوروں کی طرح چھ سات گھنٹے کام کرنے کے بعد بھی وہ اتنا وقت نکال لیتا ہے کہ ایک ماہانہ پرچہ مرتب کرتا ہے اور دو تین پرچوں کے لیے ہر مہینے ایک افسانہ بھی لکھتا ہے۔ دوستوں کو ہر ہفتے جو لمبے چوڑے خط لکھے جاتے تھے، ان کا ذکر الگ رہا۔\n\nدیر تک وہ بستر پر لیٹا ہرندرناتھ ترپاٹھی سے اپنی پہلی ملاقات کی ذہنی تیاریاں کرتا رہا۔ جوگندر سنگھ نے اس کے افسانے اور مضمون پڑھے تھے اور اس کا فوٹو بھی دیکھا تھا اور کسی کے افسانے پڑھ اور فوٹو دیکھ کر وہ عام طور پر یہی محسوس کیا کرتا تھا کہ اس نے اس آدمی کو اچھی طرح جان لیا ہے۔ لیکن ہرندرناتھ ترپاٹھی کے معاملے میں اس کو اپنے اوپر اعتبار نہیں آتا تھا۔ کبھی اس کا دل کہتا تھا کہ ترپاٹھی اس کے لیے بالکل اجنبی ہے ۔اس کے افسانہ نگار دماغ میں بعض اوقات ترپاٹھی ایک ایسے آدمی کی صورت میں پیش ہوتا تھا جس نے کپڑوں کے بجائے اپنے جسم پر کاغذ لپیٹ رکھے ہوں۔ اور جب وہ کاغذوں کے متعلق سوچتا تو اسے انارکلی کی وہ دیوار یاد آجاتی تھی جس پر سنیما کے اشتہار اوپر تلے اتنی تعداد میں چپکے ہوئے تھے کہ ایک اور دیوار بن گئی تھی۔\n\nجوگندر سنگھ بستر پر لیٹا دیر تک سوچتارہا کہ اگر وہ ایسا ہی آدمی نکل آیا تو اس کوسمجھنا بہت دشوار ہو جائے گا۔ مگر بعد میں جب اس کو اپنی ذہانت کا خیال آیا تو اس کی مشکلیں آسان ہوگئیں اور وہ اٹھ کر ہرندرناتھ ترپاٹھی کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہوگیا۔خط و کتابت کے ذریعے سے یہ طے ہوگیا تھا کہ ہرندرناتھ ترپاٹھی خود جو گندر سنگھ کے مکان پر چلا آئے گا۔ کیونکہ ترپاٹھی یہ فیصلہ نہیں کرسکا تھا کہ وہ لاری سے سفر کرے گا یا ریلوے ٹرین سے۔ بہرحال یہ بات تو قطعی طور پر طے ہو گئی تھی کہ جوگندر سنگھ سوموار کو ڈاک خانے سے چھٹی لے کر سارا دن اپنے مہمان کا انتظار کرے گا۔\n\nنہا دھو کر اور کپڑے بدل کر جوگندرسنگھ دیر تک باورچی خانےمیں اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا رہا۔ دونوں نے چائے دیر سے پی، اس خیال سے کہ شاید ترپاٹھی آجائے۔ لیکن جب وہ نہ آیا تو انھوں نے کیک وغیرہ سنبھال کر الماری میں رکھ دیے اور خود خالی چائے پی کر مہمان کے انتظار میں بیٹھ گئے۔\n\nجوگندرسنگھ باورچی خانے سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا آیا۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر جب اس نے اپنی داڑھی کے بالوں میں لوہے کے چھوٹے چھوٹے کلپ اٹکانے شروع کیے کہ وہ نیچے کی طرف تہہ ہو جائیں تو باہر دروازہ پر دستک ہوئی۔ داڑھی کو ویسے ہی نامکمل حالت میں چھوڑ کر اس نے ڈیوڑھی کا دروازہ کھولا۔ جیسا کہ اس کو معلوم تھا سب سے پہلے اس کی نظر ہرندرناتھ ترپاٹھی کی سیاہ گھنی داڑھی پر پڑی جو اس کی داڑھی سے بیس گنا بڑی تھی بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ۔\n\nہرندرناتھ کے ہونٹوں پرجو بڑی بڑی مونچھوں کے اندر چھپے ہوئے تھے، مسکراہٹ پیدا ہوئی۔ اس کی ایک آنکھ جو قدرے ٹیڑھی تھی زیادہ ٹیڑھی ہوگئی اور اس نے اپنی لمبی لمبی زلفوں کو ایک طرف جھٹک کر اپنا ہاتھ جو کسی کسان کا ہاتھ معلوم ہوتا تھا جوگندر سنگھ کی طرف بڑھا دیا۔جوگندر سنگھ نے جب اس کے ہاتھ کی مضبوط گرفت محسوس کی اور اس کو ترپاٹھی کا وہ چرمی تھیلا نظر آیا جو حاملہ عورت کے پیٹ کی طرح پھولا ہوا تھا تو وہ بہت متاثر ہوا۔ وہ صرف اس قدر کہہ سکا، ’’ترپاٹھی صاحب آپ سے مل کر مجھے بے حد ہوشی ہوئی ہے۔‘‘\n\nہرندرناتھ ترپاٹھی کو آئے اب پندرہ روز ہوچکے تھے۔ اس کی آمد کے دوسرے روز ہی اس کی بیوی اور بچی بھی آگئی تھیں۔ یہ دونوں ترپاٹھی کے ساتھ ہی گاؤں سے آئی تھیں مگر دو روز کے لیے مزنگ میں ایک دور کے رشتے دار کے ہاں ٹھہر گئی تھیں اور چونکہ ترپاٹھی نے اس رشتے دار کے پاس ان کا زیادہ دیر تک ٹھہرنا مناسب نہیں سمجھا تھا اس لیے اس نے ان کو اپنے پاس بلوالیا تھا۔\n\nپہلے چار دن بڑی دلچسپ باتوں میں صرف ہوئے۔ ہرندرناتھ ترپاٹھی سے اپنے افسانوں کی تعریف سن کر جوگندر بہت خوش ہوتا رہا۔ اس نے ایک مکمل افسانہ جو کہ غیر مطبوعہ تھا ،ترپاٹھی کو سنایا اور داد حاصل کی۔ دو نامکمل افسانے بھی سنائے جن کے متعلق ترپاٹھی نے اچھی رائے کا اظہار کیا۔ ترقی پسند ادب پربھی بحثیں ہوتی رہیں۔ مختلف افسانہ نگاروں کی فنی کمزوریاں نکالی گئیں۔ نئی اور پرانی شاعری کا مقابلہ کیا گیا۔ غرضیکہ یہ چار دن بڑی اچھی طرح گزرے اور جوگندر سنگھ ،ترپاٹھی کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا۔ اس کی گفتگو کا انداز جس میں بیک وقت بچپنا اور بڑھاپا تھا جوگندر کو بہت پسند آیا۔ اس کی لمبی داڑھی جو اس کی اپنی داڑھی سے بیس گنا بڑی تھی اس کے خیالات پر چھا گئی اور اس کی کالی کالی زلفیں جن میں دیہاتی گیتوں کی سی روانی تھی ہر وقت اس کی آنکھوں کے سامنے رہنے لگیں۔ ڈاک خانے میں چٹھیوں کی دیکھ بھال کرنے کے دوران میں بھی ترپاٹھی کی یہ زلفیں اسے نہ بھولتیں۔\n\nچار دن میں ترپاٹھی نے جوگندر سنگھ کو موہ لیا۔ وہ اس کا گرویدہ ہوگیا۔ اس کی ٹیڑھی آنکھ میں بھی اس کوخوبصورتی نظر آنے لگی، بلکہ ایک بار تو اس نے سوچا، ’’اگر ان کی آنکھ میں ٹیڑھا پن نہ ہوتا تو چہرے پر یہ بزرگی کبھی پیدا نہ ہوتی۔‘‘ ترپاٹھی کے موٹے موٹے ہونٹ جب ترپاٹھی کی گھنی مونچھوں کے پیچھے ہلتے توجوگندر ایسا محسوس کرتا کہ جھاڑیوں میں پرندے بول رہے ہیں۔ ترپاٹھی ہولے ہولے بولتا تھا اور بولتے بولتے جب وہ اپنی لمبی داڑھی پرہاتھ پھیرتا تو جوگندر کے دل کو بہت راحت پہنچتی۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس کے دل پر پیار سے ہاتھ پھیرا جارہا ہے۔\n\nچار روز تک جوگندر ایسی فضا میں رہا جس کو اگر وہ اپنے کسی افسانے میں بھی بیان کرنا چاہتا تو نہ کرسکتا۔ لیکن پانچویں روز ایکا ایکی ترپاٹھی نے اپنا چرمی تھیلا کھولا اور اس کو اپنے افسانے سنانے شروع کیے اور دس روز تک وہ متواتر اس کو اپنے افسانے سناتا رہا۔ اس دوران میں ترپاٹھی نے جوگندر کو کئی کتابیں سنا دیں۔\n\nجوگندر سنگھ تنگ آگیا۔ اب اس کو افسانوں سے نفرت پیدا ہوگئی۔ ترپاٹھی کا چرمی تھیلا جس کا پیٹ بنیوں کی توند کی طرح پھولا ہوا تھا، اس کے لیے ایک مستقل عذاب بن گیا۔ ہر روز شام کو دفتر سے لوٹتے ہوئے اسے اس بات کا کھٹکا رہنے لگا کہ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی ترپاٹھی سے ملاقات ہوگی۔ ادھر ادھر کی چند سرسری باتیں ہوں گی، وہ چرمی تھیلا کھولا جائے گا اور اس کو ایک یا دو طویل افسانے سنا دیے جائیں گے۔\n\nجوگندر سنگھ ترقی پسند تھا۔ یہ ترقی پسندی اگر اس کے اندر نہ ہوتی تو وہ صاف لفظوں میں ترپاٹھی سے کہہ دیتا، ’’بس۔۔۔ بس۔۔۔ ترپاٹھی صاحب بس۔۔۔ بس اب مجھ میں آپ کے افسانے سننے کی طاقت نہیں رہی۔‘‘ مگر وہ سوچتا، ’’نہیں نہیں۔۔۔ میں ترقی پسند ہوں۔ مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے۔ دراصل یہ میری کمزوری ہے کہ اب ان کے افسانے مجھے اچھے نہیں لگتے۔ ان میں ضرور کوئی نہ کوئی خوبی ہوگی۔۔۔ اس لیے کہ ان کے پہلے افسانے مجھے خوبیوں سے بھرے نظر آتے تھے۔۔۔ میں۔۔۔ میں۔۔۔ متعصب ہوگیا ہوں۔‘‘\n\nایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک جوگندر سنگھ کے ترقی پسند دماغ میں یہ کشمکش جاری رہی اور وہ سوچ سوچ کر اس حد تک پہنچ گیا جہاں سوچ بچار ہو ہی نہیں سکتا۔ طرح طرح کے خیال اس کے دماغ میں آتے مگر وہ ان کی ٹھیک طور پر جانچ پڑتال نہ کرسکتا۔ اس کی ذہنی افراتفری آہستہ آہستہ بڑھتی گئی اوروہ ایسا محسوس کرنے لگا کہ ایک بہت بڑا مکان ہے جس میں بے شمار کھڑکیاں ہیں۔ اس مکان کے اندر وہ اکیلا ہے۔ آندھی آگئی ہے،کبھی اس کھڑکی کے پٹ بجتے ہیں، کبھی اس کھڑکی کے، اور اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اتنی کھڑکیوں کو ایک دم بند کیسے کرے۔\n\nجب ترپاٹھی کو اس کے یہاں آئے بیس روز ہوگئے تو اسے بے چینی محسوس ہونے لگی۔ ترپاٹھی اب شام کو نیا افسانہ لکھ کر جب اسے سناتا تو جوگندر کو ایسا محسوس ہوتا کہ بہت سی مکھیاں اس کے کانوں کے پاس بھنبھنا رہی ہیں۔ وہ کسی اور ہی سوچ میں غرق ہوتا۔\n\nایک روز ترپاٹھی نے جب اس کو اپنا تازہ افسانہ سنایا جس میں کسی عورت اور مرد کے جنسی تعلقات کا ذکر تھا تو یہ سوچ کر اس کے دل کو دھکا سا لگا کہ پورے اکیس دن اپنی بیوی کے پاس سونے کے بجائے وہ ایک لم ڈڑھیل کے ساتھ ایک ہی لحاف میں سوتا رہا ہے۔ اس احساس نے جوگندر کے دل و دماغ میں ایک لمحہ کے لیے انقلاب برپا کردیا، ’’یہ کیسا مہمان ہے کہ جونک کی طرح چمٹ کر ہی رہ گیا ہے۔ یہاں سے ہلنے کا نام ہی نہیں لیتا۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔ میں ان کی بیوی صاحبہ کو تو بھول ہی گیا تھا اور ان کی بچی۔۔۔ سارا گھر اٹھ کر یہاں چلا آیا ہے۔ ذرّہ بھر خیال نہیں کہ ایک غریب آدمی کا کچومر نکل جائے گا۔۔۔ میں ڈاک خانے میں ملازم ہوں ،صرف پچاس روپے ماہوار کماتا ہوں، آخر کب تک ان کی خاطر تواضع کرتا رہوں گا اور پھر افسانے۔۔۔ اس کے افسانے جو کہ ختم ہونے ہی میں نہیں آتے۔ میں انسان ہوں۔ لوہے کا ٹرنک نہیں ہوں جو ہر روز اس کے افسانے سنتا رہوں۔۔۔ اور کس قدر غضب ہے کہ میں اپنی بیوی کے پاس تک نہیں گیا۔۔۔ سردیوں کی یہ راتیں ضائع ہورہی ہیں۔‘‘\n\nاکیس دنوں کے بعد جوگندر، ترپاٹھی کو ایک نئی روشنی میں دیکھنے لگا۔ اب اس کو ترپاٹھی کی ہر چیز معیوب نظر آنے لگی۔ اس کی ٹیڑھی آنکھ جس میں جوگندر پہلے خوبصورتی دیکھتا تھا اب صرف ایک ٹیڑھی آنکھ تھی۔ اس کی کالی زلفوں میں بھی اب جوگندر کو وہ ملائمی دکھائی نہیں دیتی تھی اور اس کی داڑھی دیکھ کر اب وہ سوچتا تھا کہ اتنی لمبی داڑھی رکھنا بہت بڑی حماقت ہے۔\n\nجب ترپاٹھی کو اس کے یہاں آئے پچیس دن ہوگئے تو ایک عجیب و غریب کیفیت اس کے اوپر طاری ہوگئی۔ وہ اپنے آپ کو اجنبی سمجھنے لگا، اسے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے وہ کبھی جوگندر سنگھ کو جانتا تھا مگر اب نہیں جانتا۔ اپنی بیوی کے متعلق وہ سوچتا، ’’جب ترپاٹھی چلا جائے گا اور سب ٹھیک ہو جائے گا تو میری نئے سرے سے شادی ہوگی۔۔۔ میری وہ پرانی زندگی جس کو ٹاٹ کے طور پر یہ لوگ استعمال کر رہے ہیں پھر عود کر آئے گی۔۔۔ میں پھر اپنی بیوی کے ساتھ سو سکوں گا۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔‘‘\n\nاس کے آگے جب وہ سوچتا تو جوگندر سنگھ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے اور اس کے حلق میں کوئی تلخ سی چیز پھنس جاتی۔ اس کا جی چاہتا کہ دوڑا دوڑا اندر جائے اور امرت کور کو جو کبھی اس کی بیوی ہوا کرتی تھی اپنے گلے سے لگالے اور رونا شروع کردے۔ مگر ایسا کرنے کی ہمت اس میں نہیں تھی کیونکہ وہ ترقی پسند افسانہ نگار تھا۔\n\nکبھی کبھی جوگندر سنگھ کے دل میں یہ خیال دودھ کے ابال کی طرح اٹھتا کہ ترقی پسندی کا لحاف جو اس نے اوڑھ رکھا ہے اتار پھینکے اور چلانا شروع کر دے۔ ’’ترپاٹھی، ترقی پسندی کی ایسی تیسی۔ تم اور تمہارے اکٹھے کیے ہوئے گیت سب بکواس ہیں۔۔۔ مجھے اپنی بیوی چاہیے۔۔۔ تمہاری خواہشیں تو ساری گیتوں میں جذب ہو چکی ہیں مگر میں ابھی جوان ہوں۔۔۔ میری حالت پر رحم کرو۔۔۔ ذرا غور تو کرو میں جوایک منٹ اپنی بیوی کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا پچیس دنوں سے تمہارے ساتھ ایک ہی لحاف میں سو رہا ہوں۔۔۔ کیا یہ ظلم نہیں۔‘‘\n\nجوگندر سنگھ بس گھول کے رہ جاتا۔ ترپاٹھی اس کی حالت سے بے خبر ہر روز شام کو اسے اپنا تازہ افسانہ سنا دیتا اور اس کے ساتھ لحاف میں سو جاتا۔ جب ایک مہینہ گزر گیا تو جوگندر سنگھ کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔ موقع پا کر غسل خانے میں وہ اپنی بیوی سے ملا۔ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اس ڈر کے مارے کہ ترپاٹھی کی بیوی نہ آجائے اس نے جلدی سے اس کا یوں بوسہ لیا جیسے ڈاک خانے میں لفافوں پر مہر لگائی جاتی ہے اور کہا، ’’آج رات تم جاگتی رہنا۔ میں ترپاٹھی سے یہ کہہ کر باہر جارہا ہوں کہ رات کے ڈھائی بجے واپس آؤں گا۔ لیکن میں جلدی آجاؤں گا۔ بارہ بجے۔۔۔ پورے بارہ بجے، میں ہولے ہولے دستک دو ں گا ،تم چپکے سے دروازہ کھول دینا اور پھر ہم۔۔۔ ڈیوڑھی بالکل الگ تھلگ ہے۔ لیکن تم احتیاط کے طور پر وہ دروازہ جو غسل خانےکی طرف کھلتا ہے بند کردینا۔‘‘\n\nبیوی کو اچھی طرح سمجھا کر وہ ترپاٹھی سے ملا اور اس سے رخصت لے کر چلا گیا۔ بارہ بجنے میں چار سرد گھنٹے باقی تھے جن میں سے دو جوگندر سنگھ نے اپنی سائیکل پر ادھر ادھر گھومنے میں کاٹے۔ اس کو سردی کی شدت کا بالکل احساس نہ ہوا اس لیے کہ بیوی سے ملنے کا خیال کافی گرم تھا۔دو گھنٹے سائیکل پر گھومنے کے بعد وہ اپنے مکان کے پاس میدان میں بیٹھ گیا اور محسوس کرنے لگا کہ وہ رومانی ہوگیا ہے۔ جب اس نے سرد رات کی دھندیالی خاموشی کا خیال کیا تو اسے یہ ایک جانی پہچانی چیز معلوم ہوئی۔ اوپر ٹھٹھرے ہوئے آسمان پر تارے چمک رہے تھے جیسے پانی کی موٹی موٹی بوندیں جم کر موتی بن گئی ہیں۔ کبھی کبھی ریلوے انجن کی چیخ خاموشی کو چھیڑ دیتی اور جوگندر سنگھ کا افسانہ نگاردماغ یہ سوچتا کہ خاموشی بہت بڑا برف کا ڈھیلا ہے اور سیٹی کی آواز میخ ہے جو اس کے سینے میں کھب گئی ہے۔\n\nبہت دیر تک جوگندر ایک نئے قسم کے رومان کو اپنے دل و دماغ میں پھیلاتا رہا اور رات کی اندھیاری خوبصورتیوں کو گنتا رہا۔ ایکا ایکی ان خیالات سے چونک کر اس نے گھڑی میں وقت دیکھا تو بارہ بجنے میں دو منٹ باقی تھے۔ اٹھ کر اس نے گھر کا رخ کیا اور دروازے پر ہولے سے دستک دی۔ پانچ سیکنڈ گزر گئے، دروازہ نہ کھلا۔ ایک بار اس نے پھر دستک دی۔\n\nدروازہ کھلا، جوگندر سنگھ نے ہولے سے کہا، ’’امرت۔۔۔‘‘ اور جب نظریں اٹھا کر اس نے دیکھا تو امرت کور کے بجائے ترپاٹھی کھڑا تھا۔ اندھیرے میں جوگندر سنگھ کو ایسا معلوم ہوا کہ ترپاٹھی کی داڑھی اتنی لمبی ہوگئی ہے کہ زمین کو چھو رہی ہے۔ اس کو پھر ترپاٹھی کی آواز سنائی، ’’تم جلدی آگئے۔۔۔ چلو یہ بھی اچھا ہوا۔۔۔ میں نے ابھی ابھی ایک افسانہ مکمل کیا ہے۔۔۔ آؤ سنو۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D9%82%DB%8C_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF"} {"title": "ترقی یافتہ قبرستان", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے مضامین", "year": "1942", "text_ur": "انگریزی تہذیب و تمدن کی خوبیاں کہاں تک گنوائی جائیں۔ اس نے ہم غیر مہذب ہندوستانیوں کو کیا کچھ عطا نہیں کیا۔ ہماری گنوار عورتوں کو اپنے نسوانی خطوط کی نمائش کے نت نئے طریقے بتائے۔ جسمانی خوبیوں کا مظاہرہ کرنے کے لئے بغیر آستینوں کے بلاؤز پہننے سکھائے۔ مسی کا جل چھین کر ان کے سنگار دانوں میں لپ اسٹک، روج، پاؤڈر اور افزائش حسن کی اور چیزیں بھر دیں۔ پہلے ہمارے یہاں موچنے صرف ناک یا موچھوں کے بال چننے کے کام آتے تھے، مگر تہذیب فرنگ نے ہماری عورتوں کو ان سے اپنی بھوؤں کے بال چننا سکھایا۔ یہ تہذیب ہی کی برکت ہے کہ اب جو عورت چاہے لائسنس لے کر کھلے بندوں اپنے جسم کی تجارت کر سکتی ہے، ترقی یافتہ مردوں اور عورتوں کے لئے سول میرج کا قانون موجود ہے، جب چاہیئے شادی کر لیجئے اور جب چا ہیئے طلاق حاصل کرلیجئے۔ ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری مگر رنگ چوکھا آتا ہے۔ ناچ گھر موجود ہیں، جہاں آپ عورتوں کے ساتھ سینے سے سینہ ملا کر کئی قسم کے ناچوں میں شریک ہو سکتے ہیں۔ کلب گھر موجود ہیں۔ جہاں آپ بڑے مہذب طریقے سے اپنی ساری دولت جوئے میں ہار سکتے ہیں۔ مجال ہے کہ آپ کبھی قانونی گرفت میں آئیں۔ شراب خانے موجود ہیں جہاں آپ غم غلط کر سکتے ہیں۔ انگریزی تہذیب و تمدن نے ہمارے وطن کو بہت ترقی یافتہ بنا دیا ہے۔ اب ہماری عورتیں پتلونیں پہن کر بازار میں چلتی پھرتی ہیں۔ کچھ ایسی بھی ہیں، جو قریب قریب کچھ بھی نہیں پہنتیں لیکن پھر بھی آزادانہ گھوم پھر سکتی ہیں۔۔۔ ہمارا ملک بہت ترقی یافتہ ہو گیا ہے، کیونکہ اب یہاں ’’ننگا کلب‘‘ کھولنے کی بھی تجویز ہو رہی ہے۔ وہ لوگ سر پھرے ہیں جو اپنے محسن انگریزوں سے کہتے ہیں کہ ہندوستان چھوڑ کر چلے جائیں، اگر یہ ہندوستان چھوڑ کر چلے گئے تو ہمارے یہاں ’’ننگا کلب‘‘ کون جاری کرے گا۔ یہ جو رقص خانے ہیں، ان کی دیکھ بھال کون کرے گا۔ ہم عورتوں کے ساتھ سینے سے سینہ ملا کر کیسے ناچ سکیں گے۔ ہمارے چکلے کیا ویران نہیں ہو جائیں گے۔ ہمیں ایک دوسرے سے لڑنا کون سکھائے گا۔ مانچسٹر سے جو کپڑے اب ہماری کپاس سے تیار ہوکر آتے ہیں پھر کون تیار کرے گا۔ یہ اچھے اچھے لذیذ بسکٹ جو ہم کھاتے ہیں ہمیں کون دے گا۔ جو ترقی ہمیں اور ہمارے ہندوستان کو انگریزوں کے عہد میں نصیب ہوئی ہے اور کسی کے عہد میں نصیب نہیں ہو سکتی، اگر ہم آزاد بھی ہو جائیں تو ہمیں حکومت کرنے کی وہ چالیں نہیں آ سکتیں جو ہمارے ان حاکموں کو آتی ہیں۔ ان حاکموں کی، جن کے عہد میں نہ صرف ہمارے ہوٹلوں، کلبوں، رقص خانوں اور سینماؤں کو بلکہ ہمارے قبرستانوں کو بھی کافی ترقی ہوئی ہے۔ غیرترقی یافتہ قبرستانوں میں مردے اٹھا کر گاڑ دیے جاتے ہیں، جیسے وہ کوئی قدر و قیمت ہی نہیں رکھتے، لیکن ترقی یافتہ قبرستانوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ مجھے اس ترقی کا احساس اس وقت ہوا جب بمبئی میں میری والدہ کا انتقال ہوا۔ میں چھوٹے چھوٹے نسبتاً غیر مہذب شہروں میں رہنے کا عادی تھا۔ مجھے کیا معلوم کہ بڑے شہروں میں مردوں پر بھی حکومت کی طرف سے پابندیاں عائد ہیں۔ والدہ کی لاش دوسرے کمرے میں پڑی تھی۔ میں غم کا مارا سر نیہوڑائے ایک صوفے پر بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اتنے میں ایک صاحب نے جو عرصے سے بمبئی میں رہتے تھے مجھ سے کہا، ’’بھئی اب تم لوگوں کو کچھ کفن دفن کی فکر کرنی چاہیئے۔‘‘ میں نے کہا، ’’سو یہ آپ ہی کریں گے، کیونکہ میں یہاں نووارد ہوں۔‘‘ انہوں نے جواب دیا، ’’میں سب کچھ کردوں گا مگر پہلے تمہیں کسی کے ہاتھ اطلاع بھجوا دینی چاہیئے کہ تمہاری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔‘‘ ’’کس کو؟‘‘ ’’یہاں پاس ہی میونسپلٹی کا دفتر ہے اس کو اطلاع دینی بہت ضروری ہے کیونکہ جب تک وہاں سے سرٹیفیکیٹ نہیں ملے گا قبرستان میں دفنانے کی اجازت نہیں ملے گی۔‘‘ اس دفتر کو اطلاع بھیج دی گئی۔ وہاں سے ایک آدمی آیا جس نے طرح طرح کے سوال کرنے شروع کئے، ’’کیا بیماری تھی، کتنے عرصے سے مرحومہ بیمار تھی، کس ڈاکٹر کا علاج ہو رہا تھا؟‘‘ حقیقت یہ تھی کہ میری عدم موجودگی میں ہارٹ فیل ہو جانے کی وجہ سے میری والدہ کا انتقال ہوا تھا۔ ظاہر ہے کہ وہ کسی کی زیرعلاج نہیں تھیں اور نہ مدت سے بیمار ہی تھیں، چنانچہ میں نے اس آدمی سے جو سچی بات تھی کہہ دی، اس کا اطمینان نہ ہوا اور کہنے لگا، ’’آپ کو ڈاکٹری سرٹیفیکیٹ دکھانا پڑے گا کہ موت واقعی ہارٹ فیل ہو جانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔‘‘ میں سٹپٹا گیا کہ ڈاکٹری سرٹیفیکٹ کہاں سے حاصل کروں، چنانچہ کچھ سخت کلمے میرے منہ سے نکل گئے، لیکن میرے وہ دوست جو ایک عرصے سے بمبئی میں قیام پذیر تھے، اٹھے اور اس آدمی کو ایک طرف لے گئے، کچھ دیر اس سے باتیں کرتے رہے، پھر آئے اور میری طرف اشارہ کر کے کہنے لگے، ’’یہ تو بالکل بیوقوف ہے، اس کو یہاں کی باتوں کا کچھ علم نہیں۔‘‘ پھر انہوں نے میری جیب سے دو روپے نکال کر اس آدمی کو دیے تو ایک دم ٹھیک ہو گیا اور کہنے لگا، ’’اب آپ ایسا کیجئے کہ دواؤں کی چند خالی بوتلیں مجھے دے دیجئے تاکہ بیماری کا کچھ تو ثبوت ہو جائے، پرانے نسخے وغیرہ پڑے ہوں تو وہ بھی مجھے دے دیجئے۔‘‘ اس نے اس قسم کی اور باتیں کیں جن کو سن کر مجھے تھوڑی دیر کے لئے ایسا محسوس ہوا کہ میں اپنی والدہ کا قاتل ہوں اور یہ آدمی جو میرے سامنے بیٹھا ہے مجھ پر ترس کھا کر اس راز کو اپنے تک ہی رکھنا چاہتا ہے اور مجھے ایسی ترکیبیں بتا رہا ہے جس سے قتل کے نشانات مٹ جائیں۔ اس وقت جی میں آئی تھی کہ دھکے دے کر اس کو باہر نکال دوں اور گھر میں جتنی خالی بوتلیں پڑی ہیں، ان سب کو ایک ایک کر کے اس کے بے مغز سر پر پھوڑتا چلاجاؤں لیکن اس تہذیب و تمدن کا بھلا ہو کہ میں خاموش رہا اور اندر سے کچھ بوتلیں نکلوا کر اس کے حوالے کر دیں۔ دو روپے رشوت کے طور پر ادا کرنے کے بعد میونسپلٹی کا سرٹیفیکٹ حاصل کر لیا گیا تھا۔ اب قبرستان کا دروازہ ہم پر کھلا تھا۔ لوہے کے بہت بڑے دروازے کے پاس ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جیسا کہ سینما کے ساتھ بکنگ آفس ہوتا ہے، اس کی کھڑکی میں سے ایک آدمی نے جھانک کر اندر جاتے ہوئے جنازے کو دیکھا اور کچھ کہنے ہی کو تھا کہ میرے دوست نے وہ پرچی جو میونسپلٹی کے دفتر سے ملی تھی، اس کے حوالے کر دی۔ قبرستان کے منیجر کو اطمینان ہو گیا کہ جنازہ بغیر ٹکٹ کے اندر داخل نہیں ہوا۔ بڑا خوبصورت قبرستان تھا۔ ایک جگہ درختوں کا جھنڈ تھا جس کے سائے تلے کئی پختہ قبریں لیٹی ہوئی تھیں۔ ان قبروں کے آس پاس موتیا، چنبیلی اور گلاب کی جھاڑیاں اگ رہی تھیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ قبرستان کا سب سے اونچا درجہ ہے جہاں ہائی کلاس آدمی اپنے عزیزوں کو دفن کرتے ہیں۔ ایک قبر کے دام مبلغ تین سو روپے ادا کرنے پڑے ہیں۔ یہ رقم دینے کے بعد قبرستان کی اس ٹھنڈی اور ہوادار جگہ میں آپ اپنی یا اپنے کسی عزیز کی پختہ قبر بنا سکتے ہیں، اس کی دیکھ بھال کرنا ہو تو آپ کو چھ روپے سالانہ اور دینا پڑیں گے، یہ رقم لے کر منیجر صاحب اس بات کا خیال رکھیں گے کہ قبر ٹھیک حالت میں رہے۔ وہ لوگ جو تین سو روپیہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، ان کی قبریں تین یا چار سال کے بعد کھود کھاد کر مٹا دی جاتی ہیں اور ان کی جگہ دوسرے مردے گاڑ دیے جاتے ہیں۔ ان قبروں کو درختوں کی چھاؤں اور موتیا چنبیلی کی خوشبو نصیب نہیں ہوتی۔ یہاں دفناتے وقت مٹی کے ساتھ ایک خاص قسم کا مصالحہ ملا دیا جاتا ہے تاکہ لاش اور اس کی ہڈیاں جلدی گل سڑ جائیں۔ چونکہ ایک ہی شکل صورت کی قبریں قطار اندر قطار چلی گئی ہیں، اس لئے ہر قبر پر نمبر لگا دیا گیا ہے تاکہ پہچاننے میں آسانی ہو۔ یہ نمبر چار آنے میں ملتا ہے۔ آج کل اچھے سینماؤں میں بھی ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ نمبر لگے ٹکٹ دیے جاتے ہیں تاکہ ہال میں گڑ بڑ نہ ہو اور آدمی اس نمبر کی سیٹ پر بیٹھے جس نمبر کا اس کے پاس ٹکٹ ہے۔ جب مردہ دفن کر دیا جاتا ہے تو قبرستان کا مہتمم ایک خاص نمبر جو لوہے کی تختی پر لکھا ہوتا ہے، قبر کے پہلو میں گاڑ دیتا ہے، یہ اس وقت تک گڑا رہتا ہے جب تک قبر کسی دوسرے مردے کے لئے خالی نہیں کی جاتی۔ نمبر ملنے سے کتنی آسانی ہو جاتی ہے یعنی آپ اپنی نوٹ بک میں اپنے عزیزوں کی قبروں کا نمبر بھی درج کر سکتے ہیں۔ جوتے کا نمبر، پانچجراب کا نمبر، ساڑھے نوٹیلی فون کا نمبر، ۴۴۴۵۷بیمہ کی پالیسی کا نمبر، ۲۲۵۶۸۹والدہ کی قبر کا نمبر، ۴۸۱۷اور اگر زمانہ زیادہ ترقی کر گیا تو پیدا ہوتے ہی آپ کو اپنی قبر کا نمبر مل جایا کرے گا۔ قبرستان میں داخل ہوتے ہی ایک خوبصورت مسجد دکھائی دی جس کے باہر ایک بہت بڑے بورڈ پر ’’ضروری اطلاع‘‘ کے عنوان سے یہ عبارت لکھی ہوئی تھی، ’’اگر کوئی شخص اپنے وارث کا کچا اوٹا بنانا چاہے تو وہ گور کھو دو بنا دیں اور کوئی نہیں بنا سکتا۔ بڑی قبر بنانے کے دو روپیہ چار آنے، جس میں سوا روپیہ گور کھودو کی مزدوری اور ایک روپیہ قبرستان کا حق، چھوٹی قبر کا سوا روپیہ جس میں گور کھودو کی مزدوری بارہ آنے اور قبرستان کا حق آٹھ آنے، اگر نہ دیں گے تو ان کا اوٹا نکال دیا جائے گا، قبرستان میں کسی کو رہنے کی اجازت نہیں۔ ہاں میت کے ساتھ آویں اور اپنا توشہ لے کر باہر چلے جاویں۔ خواہ مرد ہو یا عورت۔ اگر کوئی میت باہر سے بغیر غسل کے آوے اور اس کے ساتھ غسل دینے والا بھی ہو تو اس سے قبرستان کا حق چار آنے لیا جائے گا۔ جس میت کو غسل رات کو دیا جائے گا اس سے دو آنہ روشنی کا لیا جائے گا۔ کوئی شخص قبرستان میں دنگا فساد نہ کرے، اگر کرے گا تو اس کو پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ قبر کے وارث اپنے اوٹے پر پانی ڈالنے اور درخت لگانے کا کام گور کھودوں کے سپرد کر دیں تو ان کو چار آنہ ماہوار دینا ہوگا۔ جو صاحب نہ دیں گے ان کی قبر پر گور کھودو نہ پانی ڈالیں گے اور نہ درخت اگائیں گے۔ (منیجنگ ٹرسٹی) سینماؤں کے اشتہار اور قبرستان کے اس اعلان میں ایک گونہ مماثلت ہے کیونکہ وہاں بھی لکھا ہوتا ہے، ’’شراب پی کر آنے والوں اور دنگا فساد کرنے والوں کو حوالہ پولیس کر دیا جائے گا۔‘‘ بہت ممکن ہے کہ زمانے کی ترقی کے ساتھ اس اعلان میں ترمیمیں ہوتی جائیں اور کبھی ایسے الفاظ کا بھی اضافہ ہو جائے، بھونچال آنے یا بمباری کی صورت میں منتظم قبروں کے دام واپس نہیں کرے گا۔ جو صاحب اپنے عزیزواقارب کی قبر پر ائیر ریڈ شیلٹر بنوانا چاہیں، انہیں ڈھائی سو روپیہ زائد ادا کرنا پڑے گا، لیکن اس صورت میں بھی قبر کی حفاظت کی ذمہ داری منتظم پر عائد نہ ہوگی۔ قبر کو ائیرکنڈیشنڈ بنانے کے لئے چھوٹے چھوٹے پلانٹ دستیاب ہو سکتے ہیں، ہر ماہ جتنی بجلی خرچ ہو گی اس کا بل قبر کے وارث کو ادا کرنا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ایک بورڈ اور دکھائی دیا جس پر غسل وغیرہ کے نرخ مندرج تھے۔ ملاحظہ ہو، نماز جنازہ اور تلقین پڑھائی۔ ۶/غسل بڑی میت ایک روپیہ۔ ۴/غسل چھوٹی میت۔ ۱۴/میت کے لئےپانی گرم کرنے کی لکڑی۔ ۴/پانی بھرنے اور گرم کرنے کی مزدوری۔ ۲/بڑی میت کے برگے، فی برگہ ۲/۱-۲/چھوٹی میت کے برگے، فی برگہ ۴/۳-۱/نوٹ، برگہ لکڑی کے اس تختے کو کہتے ہیں جو قبر کے گڑھے میں میت کے اوپر رکھے جاتے ہیں تاکہ مٹی نیچے نہ دب جائے۔ کسی اچھے سیلون میں جایئے تو وہاں بھی گاہکوں کی سہولت کے لئے اس قسم کے بورڈ پر آپ کو مختلف چیزوں کے نرخ نظر آئیں گے۔ مردوں کی بال کٹوائی۔ ۸بچوں کی۔ ۴/عورتوں کی۔ ایک روپیہبچیوں کی۔ ۸/ڈاڑھی منڈائی۔ ۲/بال کٹوائی اور ڈاڑھی منڈائی۔ ۹/شامپو۔ ۲/بال کٹوائی، داڑھی منڈائی اور شامپو۔ ۱۰/اگر بال کٹوائے جائیں اور ساتھ ہی ساتھ داڑھی بھی منڈائی جائے، تو ایک دو آنے کی رعایت ہو جاتی ہے۔ بہت ممکن ہے آگے چل کر قبرستان والے بھی کچھ رعایت اپنے گاہکوں کو دے دیا کریں، کچھ اس قسم کا اعلان کر دیا جائے، ’’جو صاحب سال میں دو بڑی قبریں کھدوائیں گے ان کو ایک چھوٹی قبر مفت کھود کر دی جائے گی۔‘‘ یا، ’’جو حضرات بیک وقت دو قبریں کھدوائیں گے، ان کو گلاب کی دو قلمیں مفت دی جائیں گی۔‘‘ یا، ’’جو اصحاب کفن دفن کا سب سامان ہمارے ہاں سے خریدیں گے ان کو قبر کا نمبر ایک خوبصورت بلے پر تلے سے کڑھا ہوا مفت ملے گا۔‘‘ یہ بھی بہت ممکن ہے کہ آنے والے زمانے میں جب کہ ہمارے قبرستان اور زیادہ ترقی یافتہ ہو جائیں گے، قبروں کی ایڈوانس بکنگ ہوا کرے گی، یعنی ہم لوگ اپنے معمر عزیزوں کے لئے دو دو تین تین برس پہلے ہی کسی اچھے اور فیشن ایبل قبرستان میں سیٹ بک کرا لیا کریں گے تاکہ عین وقت پر تردد کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس وقت مردوں کو کفنانے اور دفنانے کا انتظام بھی جدید طریقوں پر ہوگا، چنانچہ بہت ممکن ہے کہ گورکنوں کی طرف سے اخباروں میں اس قسم کے اشتہار چھپا کریں۔\n\nعیسیٰ جی موسیٰ جی اینڈ سنز\n\nکفن دفن کے ماہرین، میتوں کو جدید آلات کی مدد سے بغیر ہاتھ لگائے غسل دیا جاتا ہے، اور بغیر ہاتھ لگائے کفن پہنایا جاتا ہے۔ قبرستانوں کی طرف سے بھی ایسے ہی اشتہار شائع ہوں تو کوئی تعجب نہ ہوگا، شہر کا سب سے جدید قبرستان\nجہاں مردے اسی طرح قبروں میں سوتے ہیں جس طرح آپ اپنے پرتکلف بستروں میں سوتے ہیں۔ بمبئی شہر میں اس وقت ایسی کئی انجمنیں موجود ہیں جو میتوں کے کفن دفن کا انتظام کرتی ہیں۔ آپ کو تکلیف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان انجمنوں میں سے کسی ایک کو اطلاع بھیج دیجئے۔ میت کو غسل دے دلا کر، کفن وغیرہ پہنا کر اس انجمن کے آدمی آپ کے گھر سے جنازے کو اٹھا کر قبرستان لے جائیں گے اور وہاں دفن کر دیں گے۔ کانوں کان خبر نہ ہوگی، جب سارا کام آپ کے اطمینان کے مطابق ہو جائے گا تو یہ انجمن آپ کو اپنا بل پیش کر دے گی۔ آپ بہت مصروف آدمی ہیں۔ اتفاق سے آپ کے نوکر کو موت آ دبوچتی ہے۔ آپ کو اس کی موت کا بہت افسوس ہے مگر آپ کو ساحل سمندر پر اپنے چند ایسے دوستوں کے ہمراہ پکنک پر جانا ہے، جن سے آپ کے کاروباری مراسم ہیں۔ اس لئے آپ فوراً کسی انجمن کے مہتمم کو بلائیں گے اور فیس وغیرہ طے کر کے اس کے کفن دفن کا انتظام کر دیں گے۔ جنازے کے ساتھ انجمن کے پیشہ ور کندھا دینے والے ہوں گے جو آپ کے مکان سے لے کر بلند آواز میں قرآن شریف کی آیت پڑھتے جائیں گے۔ وہاں نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ جس کی اجرت بل میں شامل ہوگی اور ایک بڑی قبر میں جس کی قیمت دو روپیہ چار آنے ہوتی ہے، آپ کا وفادار نوکر دفن کر دیا جائے گا۔ ساحل سمندر پر آپ بڑے اطمینان سے اپنے دوستوں کے ساتھ ہنستے کھیلتے رہیں گے اور یہاں بھی ہنستے کھیلتے آپ کے نوکر کی قبر تیار ہو جائے گی اور اگر آپ نے انعام دینے کا وعدہ کیا ہوگا تو اس پر انجمن کے آدمی پھولوں کی ایک چادر بھی چڑھا دیں گے۔ چند روز ہوئے مجھے پھر اسی قبرستان میں جانے کا اتفاق ہوا۔ نوٹس بورڈ پر ایک اعلان عام لکھا تھا، ’’مورخہ ۸ جون ۱۹۴۲ء سے بوجہ گرانی قبر کی کھدائی کی مزدوری میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ بڑی قبر کی کھدائی ایک روپیہ چار آنہ۔ چھوٹی قبر کی کھدائی چودہ آنے۔‘‘ جنگ نے قبریں بھی مہنگی کر دی ہیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%D9%82%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D9%81%D8%AA%DB%81_%D9%82%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"} {"title": "ترچھی نظر سے دیکھیے تلوار چل گئی", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترچھی نظر سے دیکھیے تلوار چل گئی\nزخم جگر کی راہ سے حسرت نکل گئی\n\nمل دل سے وصل میں تری محرم نکل گئی\nچٹکی سے اے پری بنت انگیا کی مل گئی\n\nبلبل کو مست کرتی ہے خوشبو لباس کی\nشاید نسیم عطر بہار آج مل گئی\n\nکنگھی سے اتنی دیر میں سلجھائی ایک زلف\nاے جان آدھی رات بکھیڑے میں ڈھل گئی\n\nمضمون تیری زرد حنا کا نہ بندھ سکا\nمنہد کی مچھلی ہاتھ میں آ کر نکل گئی\n\nاتنا نہ کیجئے گل رخسار پر غرور\nدو دن کی یہ بہار ہے آج آئی کل گئی\n\nانداز تیرے حال کی سیکھی جو رات کو\nتیغ ہلال کبک پر اے ماہ چل گئی\n\nسر سے ہمارے پھر گئی شمشیر برق دم\nاے جان گرتے گرتے یہ بجلی سنبھل گئی\n\nکیا صاف گال ہیں کہ نہ ٹھہرے نظر کہیں\nبے ساختہ نگاہ ہماری پھسل گئی\n\nرنگ وفا اڑا دل سخت رقیب سے\nبوتل میں یہ شراب نہ ٹھہری ابل گئی\n\nکیوں چشم مست ہو گئے جام شراب آج\nکیا ہو گیا جو آنکھ تمہاری بدل گئی\n\nمضمون گرم پر میرے طعنہ نہ کر سکے\nانگشت اعتراض حریفوں کی چل گئی\n\nمٹی مری خراب ہوئی راہ عشق میں\nبرباد کر کے ان کی سواری نکل گئی\n\nمجھ سے ہی پوچھتا ہے مرا نامہ بر پتا\nایسی فراق یار میں صورت بدل گئی\n\nاے شوخ تیری دست درازی سے نشہ میں\nگردوں تک آفتاب کی پگڑی اچھل گئی\n\nدے کر مئے دوآتشہ اس سے لپٹ گیا\nدو آنچوں میں رقیب کی کیا دال گل گئی\n\nجنت سے بہرہ ور ہوں ظفر گنج اے منیرؔ\nجو جو تھی آرزو مرے دل میں نکل گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%86%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ترچھی نظر نہ ہو طرف دل تو کیا کروں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترچھی نظر نہ ہو طرف دل تو کیا کروں\nلیلیٰ کے ناپسند ہو محمل تو کیا کروں\n\nٹھہرے نہ خوں بہا سوئے قاتل تو کیا کروں\nحق ہو جو خود بخود مرا باطل تو کیا کروں\n\nاک رنگ کو جہاں میں نہیں کوئی مانتا\nہر رنگ میں رہوں نہ میں شامل تو یا کروں\n\nپسواؤں بے گناہ جو دل کو حنا کے ساتھ\nپرسان حال ہو کوئی عادل تو کیا کروں\n\nپروانہ ہونے کی بھی اجازت نہیں مجھے\nعالم فریب ہے تری محفل تو کیا کروں\n\nجاتا گلو بریدہ بھی اڑ کر گلوں کے پاس\nبازو گیا ہے توڑ کے بسمل تو کیا کروں\n\nلیلہ یہ کہہ کے جلوہ دکھاتی ہے قیس کو\nاڑنے لگے جو پردۂ محمل تو کیا کروں\n\nخود چاہتا ہوں ضبط کروں درد شوق میں\nدل ہی مرا نہ ہو متحمل تو کیا کروں\n\nمنہ چوم لوں کہ گرد پھروں دوڑ دوڑ کے\nاے دل جو ہاتھ روک لے قاتل تو کیا کروں\n\nدم راہ شوق و ذوق میں لیتا نہیں کہیں\nاس پر بھی طے نہ ہو جو یہ منزل تو کیا کروں\n\nکیوں کر نہ جبر دل پہ کروں اپنے اختیار\nراحت میں آ پڑے کوئی مشکل تو کیا کروں\n\nاک اک سے پوچھتے ہیں وہ آئینہ دیکھ کر\nمعشوق پاؤں پیار کے قابل تو کیا کروں\n\nدے دوں میں راہ عشق میں جان اس کے نام پر\nناچار ہوں نہ ہو کوئی سائل تو کیا کروں\n\nٹانکے جگر کے زخم میں کیوں کر لگانے دوں\nگل تیرے باغ کا ہو مقابل تو کیا کروں\n\nآنے کو منع کرتے ہو اچھا نہ آؤں گا\nیہ تو کہو نہ مانے مرا دل تو کیا کروں\n\nشاید مجھے جمال دکھا دے وہ اے کلیم\nنظارے کا نہ ہوں متحمل تو کیا کروں\n\nمر جاؤں ڈوب کر شرفؔ اس پار یار ہے\nکشتی نہ ہو کوئی لب ساحل تو کیا کروں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "ترک ان دنوں جو یار سے گفت و شنید ہے", "poet_page": "مصنف:میاں داد خاں سیاح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترک ان دنوں جو یار سے گفت و شنید ہے\nہم کو محرم اور رقیبوں کو عید ہے\n\nشاید ہمارے قول پہ حبل الورید ہے\nہم سے خدا قریب ہے کعبہ بعید ہے\n\nگزرا مہ صیام نہ کیوں پنجۂ شراب\nخالی کا چاند یہ نہیں ہے ماہ عید ہے\n\nشغل اپنا بادہ خواری ہے اور تاک سلسلہ\nپیر مغاں بھی ایک ہمارا مرید ہے\n\nدل لے چکے ہیں جان بھی اب مانگتے ہیں وہ\nبیٹھے ہیں بگڑے اور تقاضا شدید ہے\n\nچل کھول قفل آبلۂ پا کے اے جنوں\nہر اک زبان خار بیاباں کلید ہے\n\nوحشت میں پیرہن کی اڑیں دھجیاں تمام\nتن پر قبائے داغ ہے سو نو خرید ہے\n\nسنتا ہوں روز حشر نہ ہوگی اسے نجات\nجو سیدوں سے بغض رکھے وہ یزید ہے\n\nایسا مزا بھرا ہے طبیعت میں فقر کا\nگنج شکر ہے سینہ مرا دل فرید ہے\n\nسیاحؔ بے نوا ہوں جہاں گرد ہے لقب\nگردش میں چرخ پیر بھی میرا مرید ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%81%D8%AA_%D9%88_%D8%B4%D9%86%DB%8C%D8%AF_%DB%81%DB%92"} {"title": "ترک جس دن سے کیا ہم نے شکیبائی کا", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "ترک جس دن سے کیا ہم نے شکیبائی کا\nجا بجا شہر میں چرچا ہوا رسوائی کا\n\nغیر داغ دل صد چاک نہ مونس نہ رفیق\nزور عالم پہ ہے عالم مری تنہائی کا\n\nپہروں ہی اپنے تئیں آپ ہوں بھولا رہتا\nدھیان آتا ہے جب اپنے مجھے ہرجائی کا\n\nزلزلہ گور میں مجنوں کی پڑا رہتا ہے\nاپنا یہ شور ہے اب بادیہ پیمائی کا\n\nجلوہ اس کا ہے ہر اک گھر میں بسان خورشید\nفرق ہے اپنی فقط آہ یہ بینائی کا\n\nکلمۂ حق بھی دم نزع نہ نکلا منہ سے\nشیخ کو دھیان تھا ایسا بت ترسائی کا\n\nکشش نالہ اسے کہتے ہیں اب وہ جو سرورؔ\nمحو نظارہ ہوا اپنے تماشائی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%B4%DA%A9%DB%8C%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ترک خواہش زر کر کیمیا گری یہ ہے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترک خواہش زر کر کیمیا گری یہ ہے\nدل میں رکھ خیال دوست شیشہ و پری یہ ہے\n\nدیکھ ہو گئی نرگس باغ میں تجھے حیراں\nشوخ چشم جادوگر تیری ساحری یہ ہے\n\nزلف تیری افسوں گر چشم تیری پر جادو\nوہ ہے سحر بنگالہ سحر سامری یہ ہے\n\nمیرے آہ بھرنے پر شب کو تو جو ہنستا ہے\nوہ عجب ہوائی ہے زور پھلجھڑی یہ ہے\n\nسال تب تھے پل جیسے آن اب قرن سی ہے\nوصل کے برس وہ تھے ہجر کی گھڑی یہ ہے\n\nماہ رو کے کانوں میں گوشوارے رخشاں ہیں\nدیکھ عشقؔ وہ زہرہ اور مشتری یہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B4_%D8%B2%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D9%85%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "ترک وفا گرچہ صداقت نہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترک وفا گرچہ صداقت نہیں\nپر یہ ستم سہنے کی طاقت نہیں\n\nترک کر اپنا بھی کہ اس راہ میں\nہر کوئی شایان رفاقت نہیں\n\nکوئی دوا مجھ سے کی کرتا ہے لیک\nاب کے طبیبوں میں حذاقت نہیں\n\nکسب ہنر کر نہ کہ اس وقت میں\nاس سے بڑی اور حماقت نہیں\n\nنام ہی قائمؔ کا گیا ہے نکل\nورنہ کچھ اتنی تو لیاقت نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D9%82%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ترک کر اپنے ننگ و نام کو ہم", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "ترک کر اپنے ننگ و نام کو ہم\nجاتے ہیں واں فقط سلام کو ہم\n\nخم کے خم تو لڑھائی یوں ساقی\nاور یوں ترسیں ایک جام کو ہم\n\nمیں کہا میں غلام ہوں بولا\nجانیں ہیں خوب اس غلام کو ہم\n\nدیر و کعبہ کے بیچ ہیں ہنستے\nخلق کے دیکھ اژدہام کو ہم\n\nمتکلم ہیں خاص لوگوں سے\nکرتے ہیں کب خطاب عام سے ہم\n\nروٹھنے میں بھی لطف ہے انشاؔ\nصبح گر روٹھے وہ تو شام کو ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%86%D9%86%DA%AF_%D9%88_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85"} {"title": "ترک کی جائے گی مدت کی رفاقت کیسے", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترک کی جائے گی مدت کی رفاقت کیسے\nچھوڑ دے گی مجھے تو اے شب فرقت کیسے\n\nان سے پرسش ہے مرے خوں کی ندامت مجھے ہے\nمنہ پر اب ڈال لوں دامان قیامت کیسے\n\nروز اک تازہ ستم روز نئی ایک جفا\nکہتے ہو لب پہ ترے آئی شکایت کیسے\n\nخانۂ دل سے کبھی اس نے نکالے نہیں پاؤں\nمرتے دم نکلے گی دیکھوں مری حسرت کیسے\n\nجوش پر ہیں وہ امنگیں ہیں جوانی کی ہے موج\nدیکھ کر ان کو نہ لہرائے طبیعت کیسے\n\nذکر تاریکیٔ قبر آیا کہ یہ یاد آئی\nبھولے دل سے شب فرقت کی مصیبت کیسے\n\nچال اڑا لی ہے جو تیری تو فلک پر ہے دماغ\nناز عشاق سے کرتی ہے قیامت کیسے\n\nاپنی ناداری پہ کیوں داغ لگائے تو نے\nتے پہ رکھ چھوڑے ہیں دو نقطے یہ عسرت کیسے\n\nذبح کے وقت بھی منہ مجھ سے وہ پھیرے ہی رہے\nدیکھ لیتا ہے کسی کی کوئی صورت کیسے\n\nشوق پھر مجھ کو مدینے کا ہوا اے اکبرؔ\nدیکھیے ہوتی ہے روضے کی زیارت کیسے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D9%85%D8%AF%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D9%81%D8%A7%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92"} {"title": "تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوں\nہوئے ہیں دل جگر بھی سامنے رستم ہیں یہ دونوں\n\nنہ کچھ کاغذ میں ہے تانے قلم کو درد نالوں کا\nلکھوں کیا عشق کے حالات نامحرم ہیں یہ دونوں\n\nلہو آنکھوں سے بہتے وقت رکھ لیتا ہوں ہاتھوں کو\nجراحت ہیں اگر وے دونوں تو مرہم ہیں یہ دونوں\n\nکسو چشمے پہ دریا کے دیا اوپر نظر رکھیے\nہمارے دیدۂ نم دیدہ کیا کچھ کم ہیں یہ دونوں\n\nلب جاں بخش اس کے مار ہی رکھتے ہیں عاشق کو\nاگرچہ آب حیواں ہیں و لیکن سم ہیں یہ دونوں\n\nنہیں ابرو ہی مائل جھک رہی ہے تیغ بھی ادھر\nہمارے کشت و خوں میں متفق باہم ہیں یہ دونوں\n\nکھلے سینے کے داغوں پر ٹھہر رہتے ہیں کچھ آنسو\nچمن میں مہر ورزی کے گل و شبنم ہیں یہ دونوں\n\nکبھو دل رکنے لگتا ہے جگر گاہے تڑپتا ہے\nغم ہجراں میں چھاتی کے ہماری جم ہیں یہ دونوں\n\nخدا جانے کہ دنیا میں ملیں اس سے کہ عقبیٰ میں\nمکاں تو میرؔ صاحب شہرۂ عالم ہیں یہ دونوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B2_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%AF%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA"} {"title": "تری اے شاہ خوباں ہو بلا چٹ", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "تری اے شاہ خوباں ہو بلا چٹ\nوہ بوسہ دے کہ ہو جس کی صدا چٹ\n\nمنڈا کر خط رخ اس مہ لقا نے\nکیا ہے آئنے کا گھر صفا چٹ\n\nمجھی کو گالیاں دیتے رہے وہ\nمگر لیتا رہا بوسے چٹا چٹ\n\nتمہاری زلف کا باندھا نہ چھوٹا\nڈسا کالے نے جس کو وہ موا چٹ\n\nمسلم مرغ دل ہے میہمان غم\nکرے جلد اے خدا وہ یہ غذا چٹ\n\nوقارؔ اس گل کو غنچہ نے جو دیکھا\nتو اوصاف دہن میں بول اٹھا چٹ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%DB%92_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DA%86%D9%B9"} {"title": "تری بھواں کی تیغ جب آئی نظر مجھے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری بھواں کی تیغ جب آئی نظر مجھے\nکرنا ہوا ضرور میاں ترک سر مجھے\n\nزینت ہے عاشقوں کو لب خشک و چشم تر\nحاصل ہوئی ہے سلطنت بحر و بر مجھے\n\nباریک بیں ہوں مجھ سے کہو اس میاں کی بات\nرہتا ہے بسکہ دل میں خیال کمر مجھے\n\nبے خود ہوں اس قدر کہ نہیں دل کو شوق مے\nاس مست کہ نگہ کا ہوا ہے اثر مجھے\n\nمیں کوہ و دشت ایک قدم میں کیا ہے طے\nمجنوں و کوہ کن کی نہیں کچھ خبر مجھے\n\nجب سیم بر کے غم سے ہوا رنگ جوں طلا\nتب سب نے جا عزیز کیا مثل زر مجھے\n\nحاتمؔ ہوا ہوں آل نبی کی پناہ میں\nدنیا و دیں کے غم سے نہیں کچھ خطر مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے گا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے گا\nدل اس کے ساتھ نکلے گا اگر یہ دل سے نکلے گا\n\nشب غم میں بھی میری سخت جانی کو نہ موت آئی\nترا کام اے اجل اب خنجر قاتل سے نکلے گا\n\nنگاہ شوق میرا مدعا تو ان کو سمجھا دے\nمرے منہ سے تو حرف آرزو مشکل سے نکلے گا\n\nکہاں تک کچھ نہ کہیے اب تو نوبت جان تک پہنچی\nتکلف بر طرف اے ضبط نالہ دل سے نکلے گا\n\nتصور کیا ترا آیا قیامت آ گئی دل میں\nکہ اب ہر ولولہ باہر مزار دل سے نکلے گا\n\nنہ آئیں گے وہ تب بھی دل نکل ہی جائے گا فانیؔ\nمگر مشکل سے نکلے گا بڑی مشکل سے نکلے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "تری تلاش میں ہر رہنما سے باتیں کیں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری تلاش میں ہر رہنما سے باتیں کیں\nخلا سے ربط بڑھایا ہوا سے باتیں کیں\n\nکبھی ستاروں نے بھیجا ہمیں کوئی پیغام\nتو مدتوں میں کسی آشنا سے باتیں کیں\n\nہماری خیر مناؤ کہ آج خود اس نے\nبڑے خلوص بڑی التجا سے باتیں کیں\n\nگناہگار تو رمز حریم تک پہنچے\nثواب والوں نے بانگ درا سے باتیں کیں\n\nبہت سے وہ تھے جنہوں نے بتوں سے فیض اٹھائے\nبہت سے وہ تھے جنہوں نے خدا سے باتیں کیں\n\nنہ جانے کب سے سناتے تھے اس کو ہم احوال\nنظر اٹھائی تو پھر ابتدا سے باتیں کیں\n\nہزار شعر کہے یوں تو کہنے والوں نے\nکسی کسی نے دل مبتلا سے باتیں کیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تری تیغ ابرو کی ٹک سامنے کر دیکھیں تو", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری تیغ ابرو کی ٹک سامنے کر دیکھیں تو\nبچے خورشید بھی رکھ منہ پہ سپر دیکھیں تو\n\nمیرے خورشید لقا دید کی ٹک رخصت دے\nتیرے دیدار کو پھر ایک نظر دیکھیں تو\n\nتیغ تولے ہوے کاندھے پہ جو آیا ہے سوار\nاو سجیلے مرے گھوڑے سے اتر دیکھیں تو\n\nمر گیا جو اسے کہتے ہیں ہوا آج وصال\nجی رچا زیست سے اس ہجر میں مر دیکھیں تو\n\nبہہ چکا خانۂ دل آنکھ تک آ پہنچی سیل\nروئے جا اور بھی اے دیدۂ تر دیکھیں تو\n\nآ کے آنکھوں کا شبستاں مرا روشن کر دے\nوہ دن آتا ہے کب اے نور بصر دیکھیں تو\n\nہے مثل غصہ اتر جاتا ہے پاؤں پہ گرے\nقدموں پر اس کے بھلا سر کو بھی دھر دیکھیں تو\n\nدن بہت بیت گئے گلیاں ہیں سونی تجھ بن\nجانی بن ٹھن ذری آ جاؤ ادھر دیکھیں تو\n\nسب کہیں گزری پہ گزری نہ کوئے دلبر میں\nرہے جاں اظفریؔ اس سے بھی گزر دیکھیں تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D9%B9%DA%A9_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88"} {"title": "تری جو زلف کا آیا خیال آنکھوں میں", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری جو زلف کا آیا خیال آنکھوں میں\nوہیں کھٹکنے لگا بال بال آنکھوں میں\n\nتری جو چشم کے گوشے میں تل ہے ایسا تل\nنظر پڑا ہے کہیں خال خال آنکھوں میں\n\nنشے میں سرخ ہیں ایسی طرح سے تیرے چشم\nگویا کھلا ہے کنول لال لال آنکھوں میں\n\nوہ خوش نگہ تری حاتمؔ نظر پڑا ہے آج\nچھپا لے اس کے تئیں حال حال آنکھوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تری دنیا جہانِ مُرغ و ماہی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "تری دنیا جہانِ مُرغ و ماہی\nمری دنیا فُغانِ صبح گاہی\nتری دنیا میں مَیں محکوم و مجبور\nمِری دنیا میں تیری پادشاہی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86%D9%90_%D9%85%D9%8F%D8%B1%D8%BA_%D9%88_%D9%85%D8%A7%DB%81%DB%8C"} {"title": "تری زلف زنار کا تار ہے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری زلف زنار کا تار ہے\nکہ جس تار میں دل گرفتار ہے\n\nکرشمے کے لشکر میں وو شاہ حسن\nصف خوب رویاں کا سردار ہے\n\nتلطف سیں پوچھے گا کب درد دل\nستمگر ہے سرکش ہے عیار ہے\n\nجسے دل خراشی نہیں عشق کی\nطریق محبت میں بے کار ہے\n\nسجن لطف کر نرگس باغ پر\nتری چشم مے گوں کا بیمار ہے\n\nشفا دے مجھے مرہم وصل سوں\nجگر پر مرے ہجر کا وار ہے\n\nشب ہجر میں گل بدن کے سراجؔ\nنظر میں مری شمع جیوں خار ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B2%D9%86%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہے\nبلا کے پیچ میں آیا ہوا ہے\n\nنہ کیوں کر بوئے خوں نامے سے آئے\nاسی جلاد کا لکھا ہوا ہے\n\nچلے دنیا سے جس کی یاد میں ہم\nغضب ہے وہ ہمیں بھولا ہوا ہے\n\nکہوں کیا حال اگلی عشرتوں کا\nوہ تھا اک خواب جو بھولا ہوا ہے\n\nجفا ہو یا وفا ہم سب میں خوش ہیں\nکریں کیا اب تو دل اٹکا ہوا ہے\n\nہوئی ہے عشق ہی سے حسن کی قدر\nہمیں سے آپ کا شہرا ہوا ہے\n\nبتوں پر رہتی ہے مائل ہمیشہ\nطبیعت کو خدایا کیا ہوا ہے\n\nپریشاں رہتے ہو دن رات اکبرؔ\nیہ کس کی زلف کا سودا ہوا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%84%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتا\nذرا سنبل کو لہرایا تو ہوتا\n\nرخ بے داغ دکھلایا تو ہوتا\nگل لالہ کو شرمایا تو ہوتا\n\nچلے گا کبک کیا رفتار تیری\nیہ انداز قدم پایا تو ہوتا\n\nکہے جاتے وہ سنتے یا نہ سنتے\nزباں تک حال دل آیا تو ہوتا\n\nسمجھتا یا نہ اے آتشؔ سمجھتا\nدل مضطر کو سمجھایا تو ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "تری طرف سے دل اے جان جاں اٹھا نہ سکے", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری طرف سے دل اے جان جاں اٹھا نہ سکے\nبہت ضعیف تھے بار گراں اٹھا نہ سکے\n\nہزار بار بہار آئی لیکن اے صیاد\nنگاہ ہم طرف بوستاں اٹھا نہ سکے\n\nاسیر زلف جو مرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں\nذرا بھی صدمۂ قید گراں اٹھا نہ سکے\n\nسنیں جو یار کی باتیں غش آ گیا ہم کو\nیہ ناتواں تھے کہ لطف بیاں اٹھا نہ سکے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%DB%92"} {"title": "تری طہارت کو شیخ کہہ تو کہاں سے لائیں اک آب جو ہم", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری طہارت کو شیخ کہہ تو کہاں سے لائیں اک آب جو ہم\nطواف دل کا ہے قصد ہم کو کریں ہیں آنسو سے نت وضو ہم\n\nبتنگ آئے ہیں زندگی سے رہیں گے خوف فنا میں کب تک\nجو ہونی ہو سو شتاب ہووے کھڑے ہیں قاتل کے رو بہ رو ہم\n\nرکھے تو جب تک جہاں میں یارب ترے کرم سے امید یہ ہے\nرہے نہ مطلق تلاش دولت کریں نہ دنیا کی جستجو ہم\n\nخزاں نے سب کی بہار کھو دی رہا نہ سنبل بچی نہ ریحاں\nگلوں کو دیکھا ہوئے پریشاں چمن سے نکلے برنگ بو ہم\n\nغم و الم نے تو کر رکھا ہے ہمارے چہرے کو زرد ؔجوشش\nلہو کے آنسو اگر نہ روئیں نہ ہوں محبت میں سرخ رو ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B7%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%A9_%D8%A2%D8%A8_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85"} {"title": "تری قدرت کی قدرت کون پا سکتا ہے کیا قدرت", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری قدرت کی قدرت کون پا سکتا ہے کیا قدرت\nترے آگے کوئی قادر کہا سکتا ہے کیا قدرت\n\nتو وہ یکتائے مطلق ہے کہ یکتائی میں اب تیری\nکوئی شرک دوئی کا حرف لا سکتا ہے کیا قدرت\n\nزمیں سے آسماں تک تو نے جو جو رنگ رنگے ہیں\nیہ رنگ آمیزیاں کوئی دکھا سکتا ہے کیا قدرت\n\nہزاروں گل ہزاروں گل بدن تو نے بنا ڈالے\nکوئی مٹی سے ایسے گل کھلا سکتا ہے کیا قدرت\n\nہوئے ہیں نور سے جن کے زمین و آسماں پیدا\nکوئی یہ چاند یہ سورج بنا سکتا ہے کیا قدرت\n\nہوا کے فرق پر کوئی بنا کر ابر کا خیمہ\nطنابیں تار باراں کی لگا سکتا ہے کیا قدرت\n\nجم و اسکندر و دارا و کیکاؤس و کیخسرو\nکوئی اس ڈھب کے دل بادل بنا سکتا ہے کیا قدرت\n\nکیا نمرود نے گو کبر سے دعویٰ خدائی کا\nکہیں اس کا یہ دعویٰ پیش جا سکتا ہے کیا قدرت\n\nنکالا تیرے اک پشتے نے کفشیں مار مغز اس کا\nسوا تیرے خدا کوئی کہا سکتا ہے کیا قدرت\n\nنکالے لکڑیوں سے تو نے جس جس لطف کے میوے\nکوئی پیڑوں میں یہ پیڑے لگا سکتا ہے کیا قدرت\n\nترے ہی خوان نعمت سے ہے سب کی پرورش ورنہ\nکوئی چیونٹی سے ہاتھی تک کھلا سکتا ہے کیا قدرت\n\nہماری زندگانی کو بغیر از تیری قدرت کے\nکوئی پانی کو پانی کر بہا سکتا ہے کیا قدرت\n\nترے حسن تجلی کا جہاں ذرہ جھمک جاوے\nتو پھر موسیٰ کوئی واں تاب لا سکتا ہے کیا قدرت\n\nدم عیسیٰ میں وہ تاثیر تھی تیری ہی قدرت کی\nوگرنہ کوئی مردے کو جلا سکتا ہے کیا قدرت\n\nتو وہ محبوب چنچل ہے کہ بار ناز کو تیرے\nبغیر از مصطفی کوئی اٹھا سکتا ہے کیا قدرت\n\nنظیرؔ اب طبع پر جب تک نہ فیضان الٰہی ہو\nکوئی یہ لفظ یہ مضموں بنا سکتا ہے کیا قدرت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D9%BE%D8%A7_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AA"} {"title": "تری نگاہ تلطف نے فیض عام کیا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری نگاہ تلطف نے فیض عام کیا\nخرد کے شہر کے سب وحشیوں کوں رام کیا\n\nاگرچہ تیر پلک نے کیا تھا دل برما\nولے نگاہ کے خنجر نے خوب کام کیا\n\nترے سلام کے دھج دیکھ کر مرے دل نے\nشتاب آ کہ مجھے رخصتی سلام کیا\n\nنہ جانوں عشق کی بجلی کدھر سیں آئی ہے\nکہ مجھ جگر کے کھلے کوں جلا تمام کیا\n\nاسی کے ہاتھ میں ہے خاتم سلیمانی\nنگین دل پہ جو نقش اس صنم کا نام کیا\n\nمجھے نگاہ تغافل رقیب پر الطاف\nادائے مصلحت آمیز نے غلام کیا\n\nاے آفتاب تری ظلمت جدائی میں\nسراجؔ آہ سحر کوں چراغ شام کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%AA%D9%84%D8%B7%D9%81_%D9%86%DB%92_%D9%81%DB%8C%D8%B6_%D8%B9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تری نگاہ فرومایہ، ہاتھ ہے کوتاہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "تری نگاہ فرومایہ، ہاتھ ہے کوتاہ\nترا گُنہ کہ نخیلِ بلند کا ہے گناہ\n\nگلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا\nکہاں سے آئے صدا ’لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ‘\n\nخودی میں گُم ہے خدائی، تلاش کر غافل!\nیہی ہے تیرے لیے اب صلاحِ کار کی راہ\n\nحدیثِ دل کسی درویشِ بے گِلیِم سے پُوچھ\nخدا کرے تجھے تیرے مقام سے آگاہ\n\nبرہنہ سر ہے تو عزمِ بلند پیدا کر\nیہاں فقط سرِ شاہیں کے واسطے ہے کُلاہ\n\nنہ ہے ستارے کی گردش، نہ بازیِ افلاک\nخودی کی موت ہے تیرا زوالِ نعمت و جاہ\n\nاُٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم‌ناک\nنہ زندگی، نہ محبّت، نہ معرفت، نہ نگاہ!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%81%D8%B1%D9%88%D9%85%D8%A7%DB%8C%DB%81%D8%8C_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%AA%D8%A7%DB%81"} {"title": "تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا\nدرخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیا\n\nبہت قریب سے آواز ایک آئی تھی\nمگر چلے تو بڑا فاصلہ نظر آیا\n\nیہ راستے کی لکیریں بھی گم نہ ہو جائیں\nوہ جھاڑیوں کا نیا سلسلہ نظر آیا\n\nیہ روشنی کی کرن ہے کہ آگ کا شعلہ\nہر ایک گھر مجھے جلتا ہوا نظر آیا\n\nکلی کلی کی صدا گونجنے لگی دل میں\nجہاں بھی کوئی چمن آشنا نظر آیا\n\nسنو تو کس لیے پتھر اٹھائے پھرتے ہو\nکہو تو آئینہ خانے میں کیا نظر آیا\n\nیہ دوپہر یہ پگھلتی ہوئی سڑک باقیؔ\nہر ایک شخص پھسلتا ہوا نظر آیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تری نگاہ کی انیاں جگر میں سلیاں ہیں", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری نگاہ کی انیاں جگر میں سلیاں ہیں\nنجانوں کون سے زہر آب بیچ پلیاں ہیں\n\nاُدھر سیں تند نگاہیں ادھر دل نازک\nکدھر کے تیر کی چوٹیں کدھر کوں چلیاں ہیں\n\nخیال غنچہ دہن میں ز بسکہ جاری ہے\nہمارے اشک کی لڑ موتیے کی کلیاں ہیں\n\nزبان حال سیں کہتا ہے ان کا نقش قدم\nبہشت دیدہ و دل خوش قدوں کی گلیاں ہیں\n\nنہ پوچھ سرو کا ان قمریوں کوں خاک نشیں\nوو شعلہ قد کے دکھوں اے سراجؔ جلیاں ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیں\nسر منزل تجھے بیگانۂ منزل سمجھتے ہیں\n\nاصول زندگی جاں دادۂ قاتل سمجھتے ہیں\nنہ سر کو سر سمجھتے ہیں نہ دل کو دل سمجھتے ہیں\n\nغریق بحر الفت آشنائے قلزم معنی\nجہاں پر ڈوب کر ابھریں اسے ساحل سمجھتے ہیں\n\nدیار عشق کے ساکن زمیں پر پاؤں کیا رکھیں\nیہاں کے ذرے ذرے کو جب اپنا دل سمجھتے ہیں\n\nکریں کیا ان سے شکوہ جو کسی کے دل جلانے کو\nفروغ گرمیٔ ہنگامۂ محفل سمجھتے ہیں\n\nجھکانا آستاں پر سر کوئی مشکل نہیں لیکن\nجبین بندگی کو ہم کب اس قابل سمجھتے ہیں\n\nشکستہ دل لیے یہ سوچ کر اس بزم سے نکلا\nشکایت کیجیے ان سے جو دل کو دل سمجھتے ہیں\n\nیہ دل حاضر ہے بسم اللہ وہ کھولیں گرہ اس کی\nاگر آسان حل عقدۂ مشکل سمجھتے ہیں\n\nلب فریاد اگر کھولوں تو کیا ہنگامہ برپا ہو\nخموشی کو مری جب گفتگوئے دل سمجھتے ہیں\n\nوہ خلوت ہو کہ جلوت ہو تجلی ہو کہ تاریکی\nجہاں تم ہو اسی کو ہم بھری محفل سمجھتے ہیں\n\nارادہ ہو تو دل مضبوط کر اے ڈوبنے والے\nجب ایسا وقت ہو دھارے کو بھی ساحل سمجھتے ہیں\n\nدم آخر رکا ہے ایک آنسو دیدۂ تر میں\nاسی کو ہستئ ناکام کا حاصل سمجھتے ہیں\n\nوفا کی حد دکھا کر جلنے والے دل خدا حافظ\nتجھے بھی اک چراغ کشتۂ منزل سمجھتے ہیں\n\nمٹا ڈالا مجھے پھر بھی یہ ہے بیداد کی حسرت\nابھی فہرست موجودات میں شامل سمجھتے ہیں\n\nمرا طرز سلوک اس راہ کے رہ رو نہ سمجھیں گے\nمگر جو راہ بر راہ حق و باطل سمجھتے ہیں\n\nنثار دوست ہے یہ موتیوں کا بے بہا مالا\nہر اک آنسو کو ہم ٹوٹا ہوا اک دل سمجھتے ہیں\n\nجنہیں معلوم ہے تیری نگاہ ناز کا عالم\nوہ اپنے ضبط کے دعووں کو خود باطل سمجھتے ہیں\n\nعزیزؔ افکار دنیا اور مشاغل شعر گوئی کے\nاحبا کی محبت ہے جو اس قابل سمجھتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%B4%D8%B4_%DB%81%D9%85_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D8%B9%D8%A6_%D9%84%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تری گالی مجھ دل کو پیاری لگے", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری گالی مجھ دل کو پیاری لگے\nدعا میری تجھ من میں بھاری لگے\n\nتدی قدر عاشق کی بوجھے سجن\nکسی ساتھ اگر تجھ کوں یاری لگے\n\nبھلا دیوے وو عیش و آرام سب\nجسے زلف سیں بے قراری لگے\n\nنہیں تجھ سا اور شوخ اے من ہرن\nتری بات دل کو نیاری لگے\n\nبھواں تیری شمشیر زلفاں کمند\nپلک تیری جیسے کٹاری لگے\n\nہوئے سرو بازار دامن کا دیکھ\nاگر گرد دامن کناری لگے\n\nنہ جانوں تو ساقی تھا کس بزم کا\nنین تیری مجھ کوں خماری لگے\n\nوہی قدر فائزؔ کی جانے بہت\nجسے عشق کا زخم کاری لگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "تری گلی میں ترے جاں نثار بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:عنایت اللہ روشن بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری گلی میں ترے جاں نثار بیٹھے ہیں\nنگاہ لطف کے امیدوار بیٹھے ہیں\n\nزمیں پہ سر کو جھکائے ہوئے تصور میں\nمثال نقش قدم خاکسار بیٹھے ہیں\n\nنہ چھیڑ ہم کو خدا کے لئے کہ اے واعظ\nہم اپنے فعلوں سے خود شرمسار بیٹھے ہیں\n\nفراق میں دل مضطر کا اضطراب نہ پوچھ\nجگر کو تھامے ہوئے بے قرار بیٹھے ہیں\n\nروانہ قافلے والے تو ہو چکے روشنؔ\nہم انتظار میں لیل و نہار بیٹھے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تری گلی میں جو آئے وہ گھر نہیں جاتے", "poet_page": "مصنف:نسیم میسوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری گلی میں جو آئے وہ گھر نہیں جاتے\nجو تیرے در پہ ہیں وہ در بدر نہیں جاتے\n\nوہ آئیں گے کبھی کوٹھے پہ امتحاں کر لو\nفلک سے بھاگے تو شمس و قمر نہیں جاتے\n\nمسیح و بو علی سینا کی کیا ہوئی تشخیص\nکسی علاج سے داغ جگر نہیں جاتے\n\nگلے لگاتے ہیں ان کو بہانے رخصت کے\nچلے شراب کہ اب ہم سفر نہیں جاتے\n\nوہ کون صبح نہیں کرتے شام کا وعدہ\nوہ شام کون سی ہے جو مکر نہیں جاتے\n\nپڑھایا طوطے کو اک عمر بے وفا نکلا\nازل کے بگڑے کسی سے سدھر نہیں جاتے\n\nیہ آگے آگے کنول لے کے چل رہے ہو کیوں\nوہ منزلوں میں قمر کے اگر نہیں جاتے\n\nتمہاری چشموں نے خط پر مگر نہ ڈالی آنکھ\nغزال کس لئے ریحاں کو چر نہیں جاتے\n\nفلک سے پوچھئے دریا کا شور کچھ بھی ہے\nجو نکلے دل سے یہ نالہ کدھر نہیں جاتے\n\nغبار آہ کا میرے ہے جلد ریل سے بھی\nکچھ آب برق روش تار پر نہیں جاتے\n\nلڑا کے آنکھ تم آنکھوں سے ہو گئے پنہاں\nپر آنکھ سے مری مثل نظر نہیں جاتے\n\nمکان اور تو لائق نظر نہیں آتا\nغریب خانہ تو ہے کیوں اتر نہیں جاتے\n\nخیال سبزۂ خط بھی ہو اے جناب خضر\nپئے ہیں آب بقا آپ مر نہیں جاتے\n\nدھڑی جماؤ ملو مہندی زلف سلجھاؤ\nغضب کا ناز ہے تم کیوں سنور نہیں جاتے\n\nتمہاری چوٹی کی ناگن سے کھیلتے ہیں مدام\nکسی بلا سے یہ عشاق ڈر نہیں جاتے\n\nخفا نسیم سے کتنے ہیں وہ الٰہی خیر\nہوا بھی کھانے کو شام و سحر نہیں جاتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D9%88%DB%81_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92"} {"title": "تری گلی میں جو دھونی رمائے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری گلی میں جو دھونی رمائے بیٹھے ہیں\nاجل رسیدہ ہیں مرنے کو آئے بیٹھے ہیں\n\nکرو ہماری بھی خاطر نکل کے پردے سے\nکہ میہماں ہیں تمہارے بلائے بیٹھے ہیں\n\nہماری بغلوں میں بوئے مراد آتی ہے\nتمہارے پہلو میں ہم جب سے آئے بیٹھے ہیں\n\nدیا جو عطر انہیں عاشقوں کو مٹی کا\nکہا کہ ہم نہ ملیں گے نہائے بیٹھے ہیں\n\nاٹھا کے بزم سے خلوت میں تم کو لے جاتے\nیہ سوچتے ہیں کہ اپنے پرائے بیٹھے ہیں\n\nوہ شب کو بزم میں ہنس ہنس کے پوچھتے تھے ہمیں\nیہ کون ہیں کہ جو آنسو بہائے بیٹھے ہیں\n\nازل سے ہے یہ دو عالم میں روشنی جس کی\nاسی چراغ سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیں\n\nبہار و نکہت گل ہوتی ہیں نثار ان پر\nچمن میں رنگ وہ اپنا جمائے بیٹھے ہیں\n\nیہاں بھی چین سے سونے نہ پائیں گے افسوس\nمزار میں بھی نکیرین آئے بیٹھے ہیں\n\nاٹھاؤ گے ہمیں اب کیا تم اپنی محفل سے\nہم آرزو و ہوس کے بٹھائے بیٹھے ہیں\n\nبہار میں نئی سوجھی ہے ان کو گستاخی\nعروس باغ کا گھونگٹ اٹھائے بیٹھے ہیں\n\nفریفتہ تری اس ترچھی ترچھی چتون کے\nچھری کلیجوں میں اپنے لگائے بیٹھے ہیں\n\nہمارے دفن و کفن کی بس اب کرو تدبیر\nخبر بھی ہے تمہیں ہم زہر کھائے بیٹھے ہیں\n\nیہ کچھ نہ سمجھیں گے سودائیوں پہ رحم کرو\nحواس و ہوش جنوں میں اڑائے بیٹھے ہیں\n\nفرشتے دیکھیے کرتے ہیں ہم سے کیا پرسش\nمرے پڑے تھے لحد میں جلائے بیٹھے ہیں\n\nفقیر کیوں یہ ہوئے ہیں شرفؔ سے پوچھو تو\nبھبھوت مل کے جو دھونی رمائے بیٹھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%86%DB%8C_%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تری ہنسی", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "فلک کا ایک تقاضا تھا ابن آدم سے\nسلگ سلگ کے رہے اور پلک جھپک نہ سکے\nترس رہا ہو فضا کا مہیب سناٹا\nسڈول پاؤں کی پائل مگر چھنک نہ سکے\nکلی کے اذن تبسم کے ساتھ شرط یہ ہے\nکہ دیر تک کسی آغوش میں مہک نہ سکے\n\nمیں سوچتا ہوں کہ یہ تیری بے حجاب ہنسی!\nمزاج زیست سے اس درجہ مختلف کیوں ہے\nیہ ایک شمع جسے صبح کا یقین نہیں\nجگر کے زخم فروزاں سے منحرف کیوں ہے\n\nبھرا ہوا ہے نگاہوں میں زندگی کے دھواں\nبس ایک شعلۂ شب تاب میں شرر کیوں ہے\nمرے وجود میں جس سے کئی خراشیں ہیں\nوہ اک شکن ترے ماتھے پہ مختصر کیوں ہے\nجمی ہوئی ہے ستاروں پہ آنسوؤں کی نمی\nترے چراغ کی لو اتنی تیز تر کیوں ہے\n\nنئے شوالے میں جا کر کسی کے تیشے نے\nبہت سے بت تو گرائے بہت سے بت نہ گرے\n\nبس ایک خندۂ بے باک ہی سے کیا ہوگا\nلہو کی زحمت اقدام بھی ضروری ہے\nذرا سی جرأت ادراک ہی سے کیا ہوگا\n\nگریز و رجعت و تخریب ہی سہی لیکن\nکوئی تڑپ، کوئی حسرت، کوئی مراد تو ہے\nتری ہنسی سے تو میری شکست ہے بہتر\nمری شکست میں تھوڑا سا اعتماد تو ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%8C"} {"title": "تری ہوس میں جو دل سے پوچھا نکل کے گھر سے کدھر کو چلیے", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تری ہوس میں جو دل سے پوچھا نکل کے گھر سے کدھر کو چلیے\nتڑپ کے بولا جدھر وہ نکلے شتاب اسی رہ گزر کو چلیے\n\nنہ چاہئے کچھ عدم کو لے کر نکلیے ہستی سے جان دے کر\nسفر جو لیجے رہ خدا میں لٹا کے زاد سفر کو چلیے\n\nازل سے اس کا ہی آسرا ہے جو دینے والا مرادوں کا ہے\nبرائے فی الفور امید دل کو جو چومنے اس کے در کو چلیے\n\nادھر تو تقدیر سو رہی ہے ادھر وہ نابود ہو رہی ہے\nوصال کی شب کو رو جو چکیے تو رونے شمع سحر کو چلیے\n\nجو ہاتھ اک پھول کو لگائیں یقیں ہے کانٹوں میں کھینچے جائیں\nہمارے حق میں وہ ہووے حنظل جو نوش کرنے ثمر کو چلیے\n\nعجیب مشکل ہے آہ اے دل کٹھن ہے بیم و رجا کی منزل\nقدم قدم پر یہ سوچتے ہیں کدھر نہ چلیے کدھر کو چلیے\n\nتری جدائی میں جان عالم کیا ہے دونوں کو غم نے بے دم\nبنائیے جا کے دل کی تربت کہ دفن کرنے جگر کو چلیے\n\nہوا ہے وہ شوق دید بازی کہ سمجھیں اس کو بھی سرفرازی\nبلائیں آنکھیں وہ پھوڑنے کو تو نذر کرنے نظر کو چلیے\n\nوصال کی شب گزر گئی ہے جو آرزو تھی وہ مر گئی ہے\nہمیں تو ہچکی لگی ہوئی ہے وہ فکر میں ہیں کہ گھر کو چلیے\n\nیہ قاف سے قاف تک ہے شہرت کریں گے وہ امتحان وحشت\nجنوں کا عالم یہ کہہ رہا ہے یہیں سے ٹکراتے سر کو چلیے\n\nجو صبح پیری ہوئی ہویدا صدا عدم سے ہوئی یہ پیدا\nنماز پڑھ کے نہ اب ٹھہریے سویرے کسیے کمر کو چلیے\n\nلٹا ہے گلشن میں آشیانہ کہیں ہمارا نہیں ٹھکانا\nقفس سے چھٹ کر بھڑک رہے ہیں کہ تنکے چننے کدھر کو چلیے\n\nکمی نہ درد جگر میں ہوگی یہ ہم سے ایسی نے گفتگو کی\nدوا کو پھر ڈھونڈئیے گا پہلے تلاش کرنے اثر کو چلیے\n\nہمیشہ ہر سانس نے ہماری شب جدائی میں آرزو کی\nکسی طرح سے ترے چمن میں نسیم ہو کر سحر کو چلیے\n\nچراغ بزم خدا ہوا ہے خدا نے محبوب اسے کہا ہے\nیہ شام سے لو لگی ہے دل کو کہ دیکھنے اس بشر کو چلیے\n\nہمارا آنسو وہ بے بہا ہے نگاہ حسرت میں جچ رہا ہے\nمنگا کے اب اس پہ چورہے میں نثار کرنے گہر کو چلیے\n\nسوئے فلک کیجے روئے تاباں کہ چودھویں شب پہ ہے یہ نازاں\nدکھا کے حسن شباب اپنا چکور کرنے قمر کو چلیے\n\nکسی طرح سے نہ ہونے پائے ہمارے نالوں کا فاش پردہ\nاگرچہ شور فغاں کا اپنے شریک کرنے گجر کو چلیے\n\nشرفؔ جو ہم ان پہ جان دیں گے خبر ہماری لحد میں لیں گے\nہلا کے شانہ جلا کے ہم کو کہیں گے اٹھیے بھی گھر کو چلیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگا", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگا\nجبین شوق ہوگی اور تیرا آستاں ہوگا\n\nزبان شمع محفل سے سنا ہے اہل محمل نے\nترا انجام کیا پروانۂ آتش بجاں ہوگا\n\nتلاطم ہے امیدوں کا تصادم آرزوؤں کا\nدل ہنگامہ پرور کون تیرا راز داں ہوگا\n\nرہیں یوں ہی اگر رنگینیاں طرز تبسم کی\nمرے زخم جگر پر خندۂ گل کا گماں ہوگا\n\nتجمل سے گزر ہوگا ترے کوچے میں عاشق کا\nتمناؤں کا لشکر کارواں در کارواں ہوگا\n\nکبھی توفیق ترک ماسوا کی ہو ہی جائے گی\nدل آزاد ہوگا اور عیش جاوداں ہوگا\n\nسرور افزا و مستی خیز و شورش آفریں ہوگی\nوہ بزم شعر جس میں وحشتؔ شیوا بیاں ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A2%D8%B4%D9%81%D8%AA%DB%81_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ترے آگے عدو کو نامہ بر مارا تو کیا مارا", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے آگے عدو کو نامہ بر مارا تو کیا مارا\nنہ مارا جاں سے جس دم اس کو گر مارا تو کیا مارا\n\nاگر دل مارتے اپنا تو کیوں یہ ذلتیں پاتے\nتری خواہش میں ظالم ہم نے سر مارا تو کیا مارا\n\nوہ ماریں قہقہہ سن کر مری سینہ زنی کا حال\nادھر مارا تو کیا مارا ادھر مارا تو کیا مارا\n\nتمہارے ہاتھ تو لے لیتا اپنے ہاتھ سے ہیہات\nدوپٹے سے جو پہونچے باندھ کر مارا تو کیا مارا\n\nنہ دیکھو دور سے ہی مجھ کو ان ٹیڑھی نگاہوں سے\nکسی کو تیر تم نے پھینک کر مارا تو کیا مارا\n\nصبا یہ کب جلن ہوتی جو شام ہجر گل ہوتی\nطپانچہ شمع کو وقت سحر مارا تو کیا مارا\n\nہوا ہے میری رسوائی سے تیرے حسن کا شہرہ\nجو مجھ کو جاں سے اے بیداد گر مارا تو کیا مارا\n\nتری دوری میں بے تاثیر گر روئے تو کیا روئے\nتری فرقت میں نعرہ بے اثر مارا تو کیا مارا\n\nکہیں ہوتا ہے دل کا جوش سودا کم عبث رگ زن\nرگوں میں میری تو نے نیشتر مارا تو کیا مارا\n\nنظامؔ اس نفس امارہ کی گردن بھی کبھی توڑی\nجواں مردی کا دم تم نے اگر مارا تو کیا مارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81_%D8%A8%D8%B1_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "ترے ابرو پہ بل آیا تو ہوتا", "poet_page": "مصنف:پیر شیر محمد عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > کرشمۂ عشق (1922)", "year": "1922", "text_ur": "ترے ابرو پہ بل آیا تو ہوتا\nذرا غیروں کو دھمکایا تو ہوتا\n\nبجائے فرش میں آنکھیں بچھاتا\nتو اپنے وعدے پر آیا تو ہوتا\n\nسمجھتے فرش پر ہم چادر گل\nترا اے رشک گل سایا تو ہوتا\n\nشکایت آئے گی اے جذب الفت\nجنازے پر اسے لایا تو ہوتا\n\nکیا تھا گر فلک تو نے سیہ بخت\nتو میں اس ماہ کا سایا تو ہوتا\n\nنہ ہوتا درد سر پھر تم کو عاجزؔ\nسر اس کے در پہ ٹکرایا تو ہوتا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D9%BE%DB%81_%D8%A8%D9%84_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ترے بیمار کی شاید وداع جان ہے تن سے", "poet_page": "مصنف:ممنونؔ نظام الدین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے بیمار کی شاید وداع جان ہے تن سے\nجنازے کی وگرنہ واں ہے تیاری کا کیا باعث\n\nکہیں وقت خطاب اے یار اپنے منہ سے نکلا تھا\nلگا کہنے کہ مجھ میں آپ میں یاری کا کیا باعث\n\nمریض اپنے کو دیکھا آہ خوں آلودہ کیا کیا تھے\nنہ تھا گر درد دل میں نالہ و زاری کا کیا باعث\n\nنہیں کچھ زور سے لیتا کوئی دل دو نہ دو ممنوںؔ\nیہ مجبوری کا کیا موجب یہ ناچاری کا کیا باعث\n\nمرے سینہ میں گر آتش کدہ پنہاں نہیں ظالم\nفغان و آہ سے ہر دم شررباری کا کیا باعث\n\nتصور چشم خوباں کا مقرر تم کو رہتا ہے\nوگرنہ حضرت دل اتنی بیماری کا کیا باعث\n\nہوا جب کام اپنا کام دل جب پوچھنے آئے\nمجھے غم کھا چکا اب میری غم خواری کا کیا باعث\n\nعجب دیوانگی ہے کوئی بھی یوں دل پھنساتا ہے\nبہت دانا تھے تم ممنوںؔ گرفتاری کا کیا باعث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%AF_%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%86_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ترے جلال سے خورشید کو زوال ہوا", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے جلال سے خورشید کو زوال ہوا\nترے جمال سے مہتاب کو کمال ہوا\n\nخرام ناز میں ان کو یہ کب خیال ہوا\nکہ دل کسی کا پسا کوئی پائمال ہوا\n\nشباب سے تری رنگت کا طرفہ حال ہوا\nسپید جوڑا جو پہنا بدن میں لال ہوا\n\nجو وصل یار کی تدبیر کی وصال ہوا\nخیال عیش کا آیا تو اک ملال ہوا\n\nہلال بدر ہوا بدر سے ہلال ہوا\nیہاں کمال کسی کا نہ بے زوال ہوا\n\nہزاروں سیکڑوں پیدا ہوئے ہوئے ناپید\nنہ ایک دم بھی زمانے کو اعتدال ہوا\n\nرقیب قتل ہوا اس کی تیغ ابرو سے\nحرام زادہ تھا اچھا ہوا حلال ہوا\n\nبتوں کا ظلم کسی نے سنا نہ محشر میں\nخدا سے بھی مرا جھگڑا نہ انفصال ہوا\n\nکئے ہیں خوں سے کسی کے یہ دست و پا رنگین\nشکار تازہ کوئی آج کیا حلال ہوا\n\nجلایا مجھ کو تو تجھ کو بھی لگ گیا دھبہ\nجگر پہ داغ مرے رخ پہ تیرے خال ہوا\n\nجو میں جنوں میں گیا سوئے دشت اے آغاؔ\nتو مجھ کو دیکھ کے دیوانہ ہر غزال ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D8%B2%D9%88%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "ترے جلووں کے آگے ہمت شرح و بیاں رکھ دی", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے جلووں کے آگے ہمت شرح و بیاں رکھ دی\nزبان بے نگہ رکھ دی نگاہ بے زباں رکھ دی\n\nمٹی جاتی تھی بلبل جلوۂ گل ہائے رنگیں پر\nچھپا کر کس نے ان پردوں میں برق آشیاں رکھ دی\n\nنیاز عشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظ ناداں\nہزاروں بن گئے کعبے جبیں میں نے جہاں رکھ دی\n\nقفس کی یاد میں یہ اضطراب دل معاذ اللہ\nکہ میں نے توڑ کر ایک ایک شاخ آشیاں رکھ دی\n\nکرشمے حسن کے پنہاں تھے شاید رقص بسمل میں\nبہت کچھ سوچ کر ظالم نے تیغ خوں فشاں رکھ دی\n\nالٰہی کیا کیا تو نے کہ عالم میں تلاطم ہے\nغضب کی ایک مشت خاک زیر آسماں رکھ دی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%84%D9%88%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%AA_%D8%B4%D8%B1%D8%AD_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%DB%8C"} {"title": "ترے جلوے تیرے حجاب کو میری حیرتوں سے نمو ملی", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے جلوے تیرے حجاب کو میری حیرتوں سے نمو ملی\nکہ تھا شب سے دن کبھی تیرہ تر کبھی شب ہی آئنہ رو ملی\n\nتری قربتوں سے بھی کیا ہوا تری دوریوں کا تو کیا گلہ\nوہ مقام میں ہی نہ پا سکا مجھے جس مقام پہ تو ملی\n\nوہ ہواؤں ہی سے برس پڑے وہ تری نگہ سے چھلک اٹھے\nکوئی بے خودی نہ ہمیں ملی کہ جو بے نیاز سبو ملی\n\nوہ ہو فصل گل کہ فضائے دل جو ملا کہیں تو جنوں ملا\nمگر اک خرد ہی نہ مل سکی جو ملی تو صرف رفو ملی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D9%85%D9%88_%D9%85%D9%84%DB%8C"} {"title": "ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی\nہزار بار نگہ کی مگر کبھی نہ ہوئی\n\nتری خوشی سے اگر غم میں بھی خوشی نہ ہوئی\nوہ زندگی تو محبت کی زندگی نہ ہوئی\n\nکہاں وہ شوخ ملاقات خود سے بھی نہ ہوئی\nبس ایک بار ہوئی اور پھر کبھی نہ ہوئی\n\nوہ ہم ہیں اہل محبت کہ جان سے دل سے\nبہت بخار اٹھے آنکھ شبنمی نہ ہوئی\n\nٹھہر ٹھہر دل بے تاب پیار تو کر لوں\nاب اس کے بعد ملاقات پھر ہوئی نہ ہوئی\n\nمرے خیال سے بھی آہ مجھ کو بعد رہا\nہزار طرح سے چاہا برابری نہ ہوئی\n\nہم اپنی رندی و طاعت پہ خاک ناز کریں\nقبول حضرت سلطاں ہوئی ہوئی نہ ہوئی\n\nکوئی بڑھے نہ بڑھے ہم تو جان دیتے ہیں\nپھر ایسی چشم توجہ ہوئی ہوئی نہ ہوئی\n\nتمام حرف و حکایت تمام دیدہ و دل\nاس اہتمام پہ بھی شرح عاشقی نہ ہوئی\n\nفسردہ خاطرئ عشق اے معاذ اللہ\nخیال یار سے بھی کچھ شگفتگی نہ ہوئی\n\nتری نگاہ کرم کو بھی آزما دیکھا\nاذیتوں میں نہ ہونی تھی کچھ کمی نہ ہوئی\n\nکسی کی مست نگاہی نے ہاتھ تھام لیا\nشریک حال جہاں میری بے خودی نہ ہوئی\n\nصبا یہ ان سے ہمارا پیام کہہ دینا\nگئے ہو جب سے یہاں صبح و شام ہی نہ ہوئی\n\nوہ کچھ سہی نہ سہی پھر بھی زاہد ناداں\nبڑے بڑوں سے محبت میں کافری نہ ہوئی\n\nادھر سے بھی ہے سوا کچھ ادھر کی مجبوری\nکہ ہم نے آہ تو کی ان سے آہ بھی نہ ہوئی\n\nخیال یار سلامت تجھے خدا رکھے\nترے بغیر کبھی گھر میں روشنی نہ ہوئی\n\nگئے تھے ہم بھی جگرؔ جلوہ گاہ جاناں میں\nوہ پوچھتے ہی رہے ہم سے بات بھی نہ ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ترے دانت سارے سفید ہیں پئے زیب پان سے مل کر آ", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے دانت سارے سفید ہیں پئے زیب پان سے مل کر آ\nنہیں دیکھے آج تک ابر میں مجھے اب دکھانے کو اختر آ\n\nشب وعدہ تو اگر آئے ہے تو درنگ کیا ہے مرے گھر آ\nکہ یہ آنکھیں لگ رہی در سے ہیں شب رشک مہ بخدا در آ\n\nمرے سر پہ ہر گھڑی فاختہ کرے کام کیونکہ نہ ارے کا\nقد دل ربا کے حضور تو نہ چمن میں بن کے صنوبر آ\n\nمرے تن سے سر کو جدا کر اب نہیں خوں بہا کی مجھے طلب\nکہ یہ تن یہ بار گراں ہے بس کہیں تیغ لے کے ستم گر آ\n\nیہ مکاں ہیں دونوں ترے لیے نہیں غیر کا ہے یہاں گزر\nجو تو چشم میں نہیں آئے ہے مرے دل میں یار سخنور آ\n\nتری راہ دیکھوں میں تا کجا کہوں کس سے یہ کہ خبر ہی لا\nمرا اس سے لے کے جواب خط کہیں جلد اڑ کے کبوتر آ\n\nبجز ابر دے بت بادہ کش نہیں دل کے واسطے جائے خوش\nکہ یہ شیشہ اور وہ طاق ہے تو نصیرؔ جا کے اسے دھر آ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%AA_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D9%81%DB%8C%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%A6%DB%92_%D8%B2%DB%8C%D8%A8_%D9%BE%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%A2"} {"title": "ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہے\nوہ راحت مصیبت ہے راحت نہیں ہے\n\nجنون محبت کا دیوانہ ہوں میں\nمرے سر میں سودائے حکمت نہیں ہے\n\nترے غم کی دنیا میں اے جان عالم\nکوئی روح محروم راحت نہیں ہے\n\nمجھے گرم نظارہ دیکھا تو ہنس کر\nوہ بولے کہ اس کی اجازت نہیں ہے\n\nجھکی ہے ترے بار عرفاں سے گردن\nہمیں سر اٹھانے کی فرصت نہیں ہے\n\nیہ ہے ان کے اک روئے رنگیں کا پرتو\nبہار طلسم لطافت نہیں ہے\n\nترے سرفروشوں میں ہے کون ایسا\nجسے دل سے شوق شہادت نہیں ہے\n\nتغافل کا شکوہ کروں ان سے کیونکر\nوہ کہہ دیں گے تو بے مروت نہیں ہے\n\nوہ کہتے ہیں شوخی سے ہم دل ربا ہیں\nہمیں دل نوازی کی عادت نہیں ہے\n\nشہیدان غم ہیں سبک روح کیا کیا\nکہ اس دل پہ بار ندامت نہیں ہے\n\nنمونہ ہے تکمیل حسن سخن کا\nگہر بارئ طبع حسرتؔ نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D8%B3%D8%A8%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ترے درسن کی میں ہوں سائیں ماتی", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے درسن کی میں ہوں سائیں ماتی\nمجے لاوو پیا چھاتی سوں چھاتی\n\nپیارے ہات دھر سنبھالو منج کوں\nکہ تل تل دوتی تج ماتی ڈراتی\n\nپرم پیالا پلاوو منج کوں دم دم\nکہ توں ہے دو جگت میں منج سنگاتی\n\nنہ راکھوں تج نین میں راکھوں دل میں\nکہ توں میرا پیارا جیو کا ساتی\n\nپیا کے دھیان سوں میں مست ہوں مست\nمنجے برہے کے بیناں کی سناتی\n\nاگر یک تل پڑے انتر پیا سوں\nنین جل سوں سپرت سمدر بھراتی\n\nنبی صدقے کہے قطباؔ کی پیاری\nرجھا دم دم ادھر پیالا پلاتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%A7%D8%AA%DB%8C"} {"title": "ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے\nخودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے\nعبَث ہے شکوۂ تقدیرِ یزداں\nتو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B7%D9%88%D9%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ترے رخ کا کسے سودا نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے رخ کا کسے سودا نہیں ہے\nگل لالہ تلک صحرا نشیں ہے\n\nپھرا ہے آپ وہ مہ رو ہمارا\nترا اے آسماں شکوہ نہیں ہے\n\nکہیں ایسا نہ ہو اٹھے نہ تلوار\nیہی ڈر ہے کہ قاتل نازنیں ہے\n\nنہ پوچھو میرے آنسو تم نہ پوچھو\nکہے گا کوئی تم کو خوشہ چیں ہے\n\nادب سے پا برہنہ پھرتے ہیں ہم\nجنوں فرش الٰہی یہ زمیں ہے\n\nبرا سب دشمنوں کا چاہتے ہیں\nمیں خوش ہوں جیسے دل اندوہ گیں ہے\n\nرہے مضمون غم کی طرح اس میں\nہمارا گھر ہے یا بیت حزیں ہے\n\nجہاں ہے جلوہ گر وہ غیرت ماہ\nالٰہی آسماں ہے یا زمیں ہے\n\nبنایا تجھ کو ایسا خوب صورت\nکہ نازاں تجھ پہ صورت آفریں ہے\n\nہیں عشق زلف میں اعضا بھی دشمن\nہمارا ہاتھ مار آستیں ہے\n\nنہ نکلا بے ترے میں گھر سے باہر\nنگہ تک چشم میں خلوت نشیں ہے\n\nفلک جو چاہے ہم پر ظلم کر لے\nابھی تو ضبط آہ آتشیں ہے\n\nپڑا ہے تفرقہ بے تابیوں سے\nوزیرؔ اب میں کہیں ہوں دل کہیں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ترے سوا مری ہستی کوئی جہاں میں نہیں", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے سوا مری ہستی کوئی جہاں میں نہیں\nیہ راز فاش ہے ہاں سے نہیں میں ہاں میں نہیں\n\nجو لا مکاں ہے مقید کسی مکاں میں نہیں\nتعینات نشاں میں ہیں بے نشاں میں نہیں\n\nصفات جلوہ گہ ذات ہے تجلی حسن\nیہ جسم جلوہ گہ جاں ہے نور جاں میں نہیں\n\nزبان حال سے ہے کیف بے خودی گویا\nیہ وہ زمیں ہے کہ جس کا نشاں زماں میں نہیں\n\nفروغ ہستیٔ مطلق ہے جلوۂ پندار\nحجاب ہستیٔ موہوم درمیاں میں نہیں\n\nنشاں یقیں کا دو عالم میں قلب ساکن ہے\nقرار وہم میں آسودگی گماں میں نہیں\n\nمری فسردہ دلی نے نئے کھلائے ہیں گل\nنہیں کہ موسم گل موسم خزاں میں نہیں\n\nمیں ننگ دہلی ہوں ننگ سخنوراں ساحرؔ\nاساتذہ کی زباں کیا کروں دہاں میں نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ترے سِینے میں دَم ہے، دل نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ترے سِینے میں دَم ہے، دل نہیں ہے\nترا دَم گرمیِ محفل نہیں ہے\nگزر جا عقل سے آگے کہ یہ نُور\nچراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D9%90%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%8E%D9%85_%DB%81%DB%92%D8%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے\nبتا، کیا تُو مرا ساقی نہیں ہے\nسمندر سے مِلے پیاسے کو شبنم\nبخِیلی ہے یہ رزّاقی نہیں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھا\nپر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھا\n\nخزاں التفات اس پہ کرتی بجا تھی\nیہ غنچہ چمن میں ابھی وا ہوا تھا\n\nکہاں تھا تو اس طور آنے سے میرے\nگلی میں تری کل تماشا ہوا تھا\n\nگئی ہوتی سر آبلوں کے پہ ہوئی خیر\nبڑا قضیہ خاروں سے برپا ہوا تھا\n\nگریباں سے تب ہاتھ اٹھایا تھا میں نے\nمری اور داماں صحرا ہوا تھا\n\nزہے طالع اے میرؔ ان نے یہ پوچھا\nکہاں تھا تو اب تک تجھے کیا ہوا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں\nمری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں\n\nستم ہو کہ ہو وعدۂ بے حجابی\nکوئی بات صبرآزما چاہتا ہوں\n\nیہ جنّت مبارک رہے زاہدوں کو\nکہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں\n\nذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا\nوہی لن ترانی سُنا چاہتا ہوں\n\nکوئی دَم کا مہماں ہوں اے اہلِ محفل\nچراغِ سحَر ہوں، بُجھا چاہتا ہوں\n\nبھری بزم میں راز کی بات کہہ دی\nبڑا بے ادب ہوں، سزا چاہتا ہوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "ترے فسوں کی نہیں میرے دل میں جا واعظ", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے فسوں کی نہیں میرے دل میں جا واعظ\nصنم پرست نہ ہو بندہ ریا واعظ\n\nکسی صنم نے مگر آپ کو جلایا ہے\nنہیں تو حوروں کی کیوں اس قدر ثنا واعظ\n\nتمہارے حسنِ جہاں سوز سے میں جلتا ہوں\nکہ ہیں رقیب مرے شیخ و پارسا، واعظ\n\nملا کے دیکھیں کہ ہے خوب کون دونوں میں\nہم اس کو لاتے ہیں تو حور کو بلا واعظ\n\nترے فسونِ اثر ریز سے رسا تر ہے\nفغانِ بے اثر و آہِ نارسا واعظ\n\nکمی تھی حالتِ رندی میں اس کو کیا یارو\nکوئی یہ پوچھے کہ کیوں شیفتہ ہوا واعظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%81%D8%B3%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "ترے قد تھے سرو تازہ ہے جم", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے قد تھے سرو تازہ ہے جم\nاو چایا ہے یا نو چمن میں علم\n\nتو ہے چند تارے ہیں لشکر ترے\nتوں ہے شاہ خوباں میں تیرا حشم\n\nورق صنع پرنیں لکھیا تج سا ہور\nازل کے مصور کا ہرگز قلم\n\nسکندر کوں تھی آرسی جم کوں جام\nترے ہست ہے درپن ہور جام جم\n\nترے مکھ کے پھل بن کوں دیکھ لاج تھے\nچھپایا ہے مکھ آپنے کوں ارم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%82%D8%AF_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%85"} {"title": "ترے لب بن ہے دل میں شعلہ زن مل جس کو کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے لب بن ہے دل میں شعلہ زن مل جس کو کہتے ہیں\nنشے کی موت کی ہچکی ہے قلقل جس کو کہتے ہیں\n\nجو پوچھے اتحاد حسن و عشق اس کو نظر آوے\nکہ نکلا بیضۂ غنچہ سے بلبل جس کو کہتے ہیں\n\nاے مالی خارج آہنگی نہ کر ساز محبت میں\nدل بلبل ہے ٹوٹا خوں ہوا گل جس کو کہتے ہیں\n\nگزرنے کا سبب ہے زندگی کے آب سے پیری\nقدم خم ہے محیط عمر کا پل جس کو کہتے ہیں\n\nبجا ہوتے ہیں عزلتؔ دل کباب ان عشق بازوں کے\nدھواں ہے حسن کی آتش کا کاکل جس کو کہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D8%A8%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81_%D8%B2%D9%86_%D9%85%D9%84_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ترے مریض کو اے جاں شفا سے کیا مطلب", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے مریض کو اے جاں شفا سے کیا مطلب\nوہ خوش ہے درد میں اس کو دوا سے کیا مطلب\n\nفقط جو ذات کے ہیں دل سے چاہنے والے\nانہیں کرشمہ و ناز و ادا سے کیا مطلب\n\nنہال تازہ رہیں نامیہ کے منت کش\nدرخت خشک کو نشوونما سے کیا مطلب\n\nمراد و مقصد و مطلب ہیں سب ہوس کے ساتھ\nہوس ہی مر گئی پھر مدعا سے کیا مطلب\n\nمجھے وہ پوچھے تو اس کا ہی لطف ہے ورنہ\nوہ بادشاہ ہے اسے مجھ گدا سے کیا مطلب\n\nجو اپنے یار کے جور و جفا میں ہیں مسرور\nانہیں پھر اور کے مہر و وفا سے کیا مطلب\n\nرضائے دوست جنہیں چاہئے بہ ہر صورت\nنظیرؔ پھر انہیں اپنی رضا سے کیا مطلب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%B6_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%B4%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8"} {"title": "ترے منہ چھپاتے ہی پھر مجھے خبر اپنی کچھ نہ ذری رہی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے منہ چھپاتے ہی پھر مجھے خبر اپنی کچھ نہ ذری رہی\nنہ فراق تھا نہ وصال تھا رہی اک تو بے خبری رہی\n\nتو ہمیشہ اے بت مہ لقا رہا محو اپنی ہی شکل کا\nترے عکس حسن کی آرسی ترے سامنے ہی دھری رہی\n\nترے عہد حسن میں یک زماں نہ جنوں سے مجھ کو ملی اماں\nوہی نالہ اور وہی فغاں وہی مشق جامہ دری رہی\n\nکوئی ہووے کیونکے نہ تنگ دل ترے دل میں اے بت سنگ دل\nاثر آہ اپنی نے یہ کیا کہ رہین بے اثری رہی\n\nنہ خط آئے پر بھی کمی پڑی تری شان حسن میں یک ذری\nوہی قد کی فتنہ گری رہی وہی رخ کی جلوہ گری رہی\n\nکبھی دل لیا کبھی دیں لیا کبھی زر لیا کبھی سر لیا\nیوں ہی اپنی مفت دہی رہی وہی اس کی مفت بری رہی\n\nنہ کمال اوج سے تو گرا کبھی فکر شعر میں مصحفیؔ\nغزل اور بھی کہی تو نے گر وہی تیری تیز پری رہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D8%B0%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%8C"} {"title": "ترے مژگاں کی فوجیں باندھ کر صف جب ہوئیں کھڑیاں", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے مژگاں کی فوجیں باندھ کر صف جب ہوئیں کھڑیاں\nکیا عالم کو سارے قتل لو تھیں ہر طرف پڑیاں\n\nدم اپنے کا شمار اس طرح تیرے غم میں کرتا ہوں\nکہ جیسے شیشۂ ساعت میں گنتا ہے کوئی گھڑیاں\n\nہمیں کو خانۂ زنجیر سے الفت ہے زنداں میں\nوگرنہ ایک جھٹکے میں جدا ہو جائیں سب کڑیاں\n\nتجھے دیکھا ہے جب سے بلبل و گل نے گلستاں میں\nپڑی ہیں رشتۂ الفت میں ان کے تب سے گل چھڑیاں\n\nفغاں آتا نہیں وہ شوخ میرے ہاتھ اے تاباںؔ\nلکیریں انگلیوں کی مٹ گئیں گنتے ہوے گھڑیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D9%88%D8%AC%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%B5%D9%81_%D8%AC%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "ترے واسطے جان پہ کھلیں گے ہم یہ سمائی ہے دل میں خدا کی قسم", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے واسطے جان پہ کھلیں گے ہم یہ سمائی ہے دل میں خدا کی قسم\nرہ عشق سے اب نہ ہٹیں گے قدم ہمیں اپنے ہی صدق و صفا کی قسم\n\nمرے پرزے اگرچہ اڑائیے گا تو گل زخم سے مہکے گی عشق کی بو\nکھنچے تیغ تری تو رگڑ دوں گلو مجھے تیرے ہی جور و جفا کی قسم\n\nمرا نام جو یار ہے پوچھ رہا میں بتا دوں تجھے جو لقب ہے مرا\nمجھے کہتے ہیں کشتۂ ناز و ادا ترے غمزۂ ہوش ربا کی قسم\n\nلب گور اگرچہ جدائی میں ہوں مگر آئنۂ دل کی صفائی میں ہوں\nترا محو خدا کی خدائی میں ہوں مجھے اپنے ہی عشق و وفا کی قسم\n\nکیے تم نے جو ظلم وہ میں نے سہے مری آنکھوں سے برسوں ہی اشک بہے\nکوئی غمزہ و عشوہ اب اٹھ نہ رہے تمہیں اپنے ہی ناز و ادا کی قسم\n\nشب ہجر میں آنکھ جو بند ہوئی تری زلف کی یاد دو چند ہوئی\nمری سانس الجھ کے کمند ہوئی مجھے تیری ہی زلف دوتا کی قسم\n\nتری چال سے حشر بپا جو کیا ترے خوف سے حال مری یہ ہوا\nہوئی جاتی تھی روح بدن میں فنا مجھے آمد روز جزا کی قسم\n\nمرے ہاتھوں میں خون ملو تو ذرا تمہیں دیکھو تو رنگ دکھاتا ہے کیا\nکرو آج نمود شہید ادا تمہیں شوخئ رنگ حنا کی قسم\n\nکہا لیلیٰ نے ہے مجھے قیس کا غم مرے دل کو ہے اس کے جنوں کا الم\nنہیں چین جدائی میں اب کوئی دم اسے وحشی بے سر و پا کی قسم\n\nتری بزم کا مثل ہی یار نہیں کہ جناں میں یہ نقش و نگار نہیں\nکہیں تیرے چمن سے بہار نہیں مجھے باغ ارم کی فضا کی قسم\n\nغم دولت وصل میں ہو کے حزیں رہ عشق و وفا میں ہیں خاک نشیں\nہوس اب ہمیں جاہ و حشم کی نہیں ہمیں تیرے ہی نشو و نما کی قسم\n\nیہ دعا ہے قفس میں برائے چمن کہ گلوں سے خدا نہ چھڑائے چمن\nمجھے رکھتی ہے زندہ ہوائے چمن گل و غنچہ و باد صبا کی قسم\n\nترا شیفتہ ہوں مری تجھ میں ہے جاں تہ تیغ نہ کر مجھے جان جہاں\nمرا غصے میں آ کے مٹا نہ نشاں تجھے جاہ و جلال خدا کی قسم\n\nیہ ہوس ہے کہ درد جگر میں مروں جو مسیح بھی آئے تو دم نہ بھروں\nکبھی تیرے سوا نہ علاج کروں مجھے تیرے ہی دست شفا کی قسم\n\nشرف اس نے دیے ہمیں سیکڑوں دم رہے طینت صاف سے پاک ہی ہم\nکہی بات اگر تو سچ ہی کہی کبھی جھوٹ نہ بولے خدا کی قسم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%85_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85"} {"title": "ترے وعدے کا ہر اک کو اگر اعتبار ہوتا", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے وعدے کا ہر اک کو اگر اعتبار ہوتا\nتو جہاں میں کچھ نہ ہوتا فقط انتظار ہوتا\n\nابھی کم ہے سوز الفت کہ نفس شرر فشاں ہے\nاگر آگ تیز ہوتی تو یہ شعلہ بار ہوتا\n\nدل و تیر خوں چکا کی وہ شبیہ کھینچ دیتا\nجو لہو کا کوئی قطرہ سر نوک خار ہوتا\n\nمجھے درد بھی تھا راحت مجھے غم بھی تھا مسرت\nجو وہ مجھ کو رنج دے کر کبھی غم گسار ہوتا\n\nجو بھرا ہے غم سے سینہ تو سکوت ہی ہے بہتر\nکہ لبوں پر آہ آتی تو اک اشتہار ہوتا\n\nکبھی یوں مٹا نہ سکتا اسے آسمان ظالم\nترے در پہ او ستم گر جو مرا مزار ہوتا\n\nیہ حجاب جسم خاکی کہ ہے دید کا منافی\nکبھی درمیاں سے اٹھتا تو وصال یار ہوتا\n\nنہ ہوا اثر کسی پر مرے نالۂ حزیں کا\nترا تیر تھا نہ ظالم کہ جگر کے پار ہوتا\n\nابھی اور طول دیتے غم عشق کو نظرؔ ہم\nاگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ترے کوچے کا رہ نما چاہتا ہوں", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے کوچے کا رہ نما چاہتا ہوں\nمگر غیر کا نقش پا چاہتا ہوں\n\nجہاں تک ہو تجھ سے جفا چاہتا ہوں\nکہ میں امتحان وفا چاہتا ہوں\n\nخدا سے ترا چاہنا چاہتا ہوں\nمیرا چاہنا دیکھ کیا چاہتا ہوں\n\nکہاں رنگ وحدت کہاں ذوق وصلت\nمیں اپنے کو تجھ سے جدا چاہتا ہوں\n\nبرابر رہی حد یار و محبت\nکسی کو میں بے انتہا چاہتا ہوں\n\nکہاں ہے تری برق جوش تجلی\nکہ میں ساز و برگ فنا چاہتا ہوں\n\nوہ جب کھو چکے مجھ کو ہستی سے اپنی\nتو کہتے ہیں اب میں ملا چاہتا ہوں\n\nجنون محبت میں پند عدو کیا\nبھلا میں کسی کا برا چاہتا ہوں\n\nطبیعت کی مشکل پسندی تو دیکھو\nحسینوں سے ترک وفا چاہتا ہوں\n\nجو دل میں نے چاہا تو کیا خاک چاہا\nکہ دل بھی تو بے مدعا چاہتا ہوں\n\nیہ حسرت کی لذت یہ ذوق تمنا\nشب وصل ان سے حیا چاہتا ہوں\n\nسوا اس کے میں کیا کہوں تم سے آسیؔ\nکہ درویش ہو تم دعا چاہتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%DB%81_%D9%86%D9%85%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "ترے ہے زلف و رخ کی دید صبح و شام عاشق کا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ترے ہے زلف و رخ کی دید صبح و شام عاشق کا\nیہی ہے کفر عاشق کا یہی اسلام عاشق کا\n\nپیا پے قدح لبریز دے اے ساقی مستاں\nتہی تجھ دور میں افسوس رہوے جام عاشق کا\n\nہر اک یاں منزل مقصود کو پہنچے ہے تجھ سے ہی\nمگر اک خلق میں فرقہ ہے سو ناکام عاشق کا\n\nکبھی معشوق کو مرتے نہ دیکھا در پہ عاشق کے\nیہی باقی ہے سر معشوق کے الزام عاشق کا\n\nہوا ہے خط نصیرؔ آغاز اس مہ رو کے چہرے پر\nدو چند اب یہ نظر آتا ہے کچھ انجام عاشق کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%88_%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "تسبیح کو مدتوں سنبھالا ہم نے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تسبیح کو مدتوں سنبھالا ہم نے\nخرقہ برسوں گلے میں ڈالا ہم نے\nاب آخر عمر میرؔ مے کی خاطر\nسجادہ گرو رکھنے نکالا ہم نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B3%D8%A8%DB%8C%D8%AD_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%AF%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D9%86%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92"} {"title": "تسلیم و رِضا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہر شاخ سے یہ نکتۂ پیچیدہ ہے پیدا\nپَودوں کو بھی احساس ہے پہنائے فضا کا\nظُلمت کدۂ خاک پہ شاکر نہیں رہتا\nہر لحظہ ہے دانے کو جُنوں نشوونَما کا\nفطرت کے تقاضوں پہ نہ کر راہِ عمل بند\nمقصود ہے کچھ اور ہی تسلیم و رِضا کا\nجُرأت ہو نمو کی تو فضا تنگ نہیں ہے\nاے مردِ خدا، مُلکِ خدا تنگ نہیں ہے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B3%D9%84%DB%8C%D9%85_%D9%88_%D8%B1%D9%90%D8%B6%D8%A7"} {"title": "تسنگ نامہ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "پاؤ توفیق ٹک تو سر کو دھنو\nیہ بھی اک سانحہ ہے میرؔ سنو\nہم کو درپیش تب سفر آیا\nجب کہ برسات سر ہی پر آیا\nابر ہونے لگے سپید و سیاہ\nپانی رستوں میں کیچ ساری راہ\nبیچ میں ہوتے کچھ اگر اسباب\nمنھ اٹھانے کی جی میں ہوتی تاب\nسو تو کمل نہ پٹو نے لوئی\nسایہ گستر نہ ابر بن کوئی\nابر ہی بیکسی پہ روتا تھا\nابر ہی سر کا سایہ ہوتا تھا\nکیچ پانی میں کپڑے خوار ہوئے\nووہیں گاڑی میں جا سوار ہوئے\nرہروی کا کیا جو ہم نے میل\nبھینس چہلے کے تھے بہل کے بیل\nآسماں آب سب زمیں سب کیچ\nخاک ہے ایسی زندگی کے بیچ\nشب کہ دریا پہ ہوکے راہ پڑی\nپانی کے سطح پر نگاہ پڑی\nلجے لطمے کا کیا کہوں میں اوج\nباتیں کرتی ہے آسماں سے موج\nدامن ابر پاٹ دریا کا\nدے گرہ توکہے کہ باندھا تھا\nہوش جاتا تھا دیکھ جوش آب\nگوش کرتا تھا کر خروش آب\nآب تہ دار اور تیرہ بہت\nلہر اٹھتی جو تھی سو خیرہ بہت\nپانی پانی تھا شور سے طوفان\nدیکھ دریا کو سوکھتے تھے جان\nہمرہ موج سیکڑوں گرداب\nساتھ تھی صد تری کے چشم حباب\nناؤ میں پاؤں ہم نے بارے رکھا\nخوف کو جان کے کنارے رکھا\nجزر و مد سب حواس کھوتا تھا\nخضر کا رنگ سبز ہوتا تھا\nجب کہ کشتی رواں ہوئی واں سے\nجسم گویا کہ تھا نہ تھی جاں سے\nموجہ اٹھنے لگا جو طوفاں زا\nلجہ آیا نظر سو عماں زا\nکیا کہیں ڈوب ہی چلے تھے ہم\nناخدائی خدا نے کی اس دم\nبلی لگتی نہ تھی نہ کچھ تھی تھاہ\nعقل گم کردہ لوگ تھے ہمراہ\nریلا پانی کا جب کہ آتا تھا\nخوف سے جی بھی ڈوبا جاتا تھا\nخطر غرق سے تھی طاقت طاق\nبے خودی سے ہوا تھا استغراق\nبہتا پھرتا تھا خضر کشتی پاس\nغوطے کھاتے تھے حضرت الیاس\nبدبلا سے تھے ہم کنار ہوئے\nتھا خدا ہی تو پلے پار ہوئے\nکسو درویش کا تھا یمن قدم\nجا کے پہنچے جو اس کنارے ہم\nورنہ اعمال نے ڈبویا تھا\nگوہر جاں سے ہاتھ دھویا تھا\nاس کنارے کا جو اثر پایا\nہم تلاطم کشوں میں جی آیا\nاس طرف اترے آب کے جاکر\nمیرؔ اور پیر صاحب و چاکر\nشکر لب پر دلوں سے محو گلہ\nکس و ناکس سبھوں سے خضر ملا\nپار کا گنج تھا جو شاہدرہ\nسب نے رہنا وہیں کا جی میں دھرا\nفاصلہ ایک کوس کا تھا بیچ\nراہ یاں سے تھی واں تلک سب کیچ\nتھے بہت بیچ میں نشیب و فراز\nپہنچے واں شام کھینچ رنج دراز\nسو نہ جاگہ تھی نہ مکان مبیت\nچار دوکانیں ایک پھوٹی مسیت\nجاکے حیراں ہوئے کدھر جاویں\nسر گھسیڑیں جو ٹک جگہ پاویں\nتگ و دو ہر طرف لگے کرنے\nتس پہ پڑتے تھے مینھ کے بھرنے\nکوئی میداں میں کوئی چھپر میں\nکوئی در میں کوئی کسو گھر میں\nگھر ملا صاحبوں کو ایسا تنگ\nجس سے بیت الخلا کو آوے ننگ\nبیٹھنے دیں نہ جب کہ صاحب کو\nکون پوچھے نفر مصاحب کو\nڈھونڈھتے ڈھونڈھتے سرا پائی\nویسے گھر چھوٹے ویسی جا پائی\nرہنا بھٹیاری کے غنیمت جان\nجو کہا ان نے ہم گئے سب مان\nکچھ پکانے کا جب سوال کیا\nمیں نے اظہار اپنا حال کیا\nیاں جو لائے ہیں مجھ کو اپنے ساتھ\nزندگانی مری ہے ان کے ہاتھ\nپہنچے ہے ان کے روبرو سے طعام\nصبح کا صبح مجھ کو شام کا شام\nاور پکوایئے تو زائد ہو\nخامی سے اپنے اور عائد ہو\nجو کچھ آیا سو کھا لیا میں نے\nکچھ رہا سو اٹھا دیا میں نے\nسن کے اک دل سے کھینچی ان نے آہ\nاور بولی کہ واہ صاحب واہ\nہم تو جانا تھا آدمی ہو بڑے\nچار پانچ آدمی ہیں پاس کھڑے\nکچھ یہ کھاویں گے کچھ کھلاویں گے\nہم کچھ ان کے سبب سے پاویں گے\nسو تو نکلے ہو کورے بالم تم\nہو گدا جیسے شاہ عالم تم\nکھانے پینے کی کچھ نہیں ہے بات\nدیکھیے کس طرح سے گذرے رات\nصدقے ہیں ایسے بھی اتارے کے\nسوگئے بخت گھر ہمارے کے\nمیں کہا مہترانی جی کچھ لو\nمجھ سے آزردہ دل نہ اتنی ہو\nبعضے کھاتے ہیں کچھ کھلاتے ہیں\nبعضے مجھ سے بھی آتے جاتے ہیں\nبارے جوں توں ہوئی وہ رات تمام\nصبح کو صاحبوں کا ٹھہرا مقام\nیہ بھی دن شب ہوا سحر تھا کوچ\nغازی آباد کو گئے سب پوچ\nراہ طے کر سرا میں جا اترے\nکچھ ستم دیدہ پاس آ اترے\nصاحب اترے حویلی میں آکر\nباغ میں اس کے سب نفر چاکر\nبارور تھے درخت و سایہ بھی\nپھل ولیکن کنھوں نے پایا بھی\nاس بھی منزل میں ایک روز رہے\nگذرے جس طور کوئی کس سے کہے\nلوگ جس دم سوار ہونے لگے\nاور اسباب بار ہونے لگے\nسوہنی اس روا روی میں گئی\nلوگ تھے مضطرب جگہ تھی نئی\nوحشت اس کو زبس کہ طاری ہوئی\nسر پٹک کر کسو طرف کو موئی\nایدھر اودھر تلاش کر دیکھا\nگمشدہ کو نہ بھر نظر دیکھا\nساری بستی میں جست و جو کو گیا\nدیر تک یہ خیال سب کو رہا\nجن کی آتی ہے ایسے جاتے ہیں\nکہ نہ پھر کھوج ان کا پاتے ہیں\nمرگ تھی اس کی اس جگہ تقدیر\nبلی تھی یاکہ گربۂ تصویر\nرنگ جیسے کہ وقت گرگ و میش\nیعنی سرخی تھی کم سیاہی بیش\nجن سے مالوف تھی وہیں رہتی\nان سے کچھ کچھ نگاہوں میں کہتی\nکیا نفاست مزاج کی کہیے\nستھری اتنی کہ دیکھ ہی رہیے\nخال جوں پھول گل کترتے ہیں\nیاکہ نقشوں میں رنگ بھرتے ہیں\nچوہے چڑیا پہ ان نے کب کی نظر\nحج کا کرنا نہ فرض تھا اس پر\nموہنی بھی تو تھی بہن اس کی\nنسبت اس کی تھی وہ بہت گھسکی\nپاوے جو کچھ سو مار کھاوے یہ\nایک کیا چار چار کھاوے یہ\nجانور مارنا تو ہے یکسو\nتیز پنجہ کیا نہ ان نے کبھو\nیہ نزاکت اسی کو بن آوے\nموش دشتی کو دیکھ ڈر جاوے\nان نے مارے ہیں ایسے کتنے ڈھونس\nگھونس دیکھی تو ہووے کوئی گھونس\nیہ چھچھوندر کے بولتے بھاگے\nوہ پڑی سوتی بھی ہو تو جاگے\nچھپکلی سے یہ پھیر منھ کو لے\nوہ جفاکار جیفہ پر جی دے\nیہ پری سی تھی جو خرام کرے\nوہ جو اچھلے تو دھوم دھام کرے\nکبک اس کی خرام کے عاشق\nجانور اس کے نام کے عاشق\nغرض افسوس کی جگہ بلی\nاب کہاں گوکہ چھانیے دلی\nایسی بیگم مزاج بلی کھو\nبیگم آباد ہم گئے یارو\nواں سے میرٹھ سبھوں نے کی منزل\nکیچ پانی اگرچہ تھا حائل\nگرتے پڑتے پہنچ گئے سارے\nہم جفاے سپہر کے مارے\nواں سے لاوڑ تسنگ پھر واں سے\nجاکے واں تنگ آگئے جاں سے\nاک گڑھی باش و بود کو پائی\nکچھ نہ کھانے کو جس میں نے کھائی\nپھوٹی پھاٹی سی چاردیواری\nاور میدان تھی گڑھی ساری\nپھر نہ میدان بھی برابر تھا\nہر قدم ایک غار و چقر تھا\nکھنڈر سے اس میں تین چار مکان\nجن کا گرنے پہ سخت ہے میلان\nوہ گڑھے سارے کھتے ناج کے تھے\nبرسوں سے تھے پڑے نہ آج کے تھے\nخاک مٹی سے ان گڑھوں کو بھرا\nبنگلا اک لا کے اس کے بیچ دھرا\nخشتی پائے اگر نہ بنواتے\nباؤ میں اس سمیت اڑ جاتے\nباؤ جنگل کی تند کچھ نہ رکاؤ\nمینھ میں چل پڑے تو کانپے جاؤ\nاک گڑھی جس کی سیکڑوں راہیں\nواں ٹھہرنے کو چاہیے باہیں\nوہ رہے جو رکھے بہت سے لوگ\nیا کوئی جوگی جو کرے واں جوگ\nورنہ مشکل بہت ثبات قدم\nدل میں اک ہول ہی رہے ہر دم\nباؤ سی دن کو سائیں سائیں کرے\nرات ہووے تو بھائیں بھائیں کرے\nگر شکستہ ہوئی کہیں دیوار\nبے زری سے بنانا ہے دشوار\nہفتہ ہفتہ تلک پڑی ہے خراب\nپردہ کاہے کا پھر ہے رفع حجاب\nکارپردازوں کو تقید ہے\nشور ہے گالی ہے تشدد ہے\nوے بچارے بہانے کرتے ہیں\nرات دن لوگ چوکی بھرتے ہیں\nکہتے ان سے تو یہ ملے ہے جواب\nکس کے گھر سے بناویں لاکے شتاب\nہم کو کھانے ہی کا تردد ہے\nصبح بقال کا تشدد ہے\nبنیا منھ کو چھپائے جاتا ہے\nروٹی کا فکر کھائے جاتا ہے\nحال کب پوچھنے کے ہے قابل\nہم فقیروں کے رنگ ہیں سائل\nسوچیں ہیں جب تو جھول جاتے ہیں\nبات کہتے ہیں بھول جاتے ہیں\nتم کو دیوار پاکھے ہیں گے یاد\nہم کو کرتا نہیں خدا آزاد\nکس کو موسیں کہاں سے کچھ لاویں\nدال آٹا جو تم کو پہنچاویں\nتم کہو دال ماش کی ہے زبوں\nیاں بہم پہنچے ہے جگر ہو خوں\nتم کہو آٹا کسکسا کھایا\nیاں کلیجہ چھنا تو ہاتھ آیا\nاور دوچار روز یہ بھی ہے\nایک غم سینہ سوز یہ بھی ہے\nفصل ہونے ابھی نہیں پائی\nپیشگی سب سے قرض لے کھائی\nجس سے جھوٹے ہوئے ہیں ہم دس بار\nچوٹٹا وہ کہے ہے ساہوکار\nماش کی دال کا نہ کریے گلہ\nگوشت یاں ہے کبھو کسو کو ملا\nچاہتے ہو تو مول لو اک بز\nورنہ بیٹھے رہو بنے جزبز\nبکری لینے کو پیسے ہیں کس پاس\nکھاؤ دال اور پادو بے وسواس\nجی اگر چاہے کوئی ترکاری\nگول کدو ملے بصد خواری\nبھنڈی بیگن کے ناؤں ڈھینڈس تھا\nاروی توری بغیر جی بس تھا\nجز کدو پاوے کلو مدھو کیا\nیعنی کچھ اور واں تھا کدو کیا\nدارو گولی کے کچھ نہ تھے اسباب\nماش کی دال کھاتے تھے احباب\nجو گڑھی میں نہ چھوٹتے یوں گوز\nبجتی رہتی تپک کہاں سے روز\nگھاس ہی گھاس اس مکاں میں تمام\nتس میں لساع جانور اقسام\nجیسے زنبور زرد ایسے ڈانس\nکاٹ کھاویں تو اچھلو دو دو بانس\nپشہ و کیک اور کھٹی تھی\nجن کے کاٹے اچھلتی پتی تھی\nہاتھ پنڈوں پہ سب چلے جاتے\nشب گزوں سے بدن جلے جاتے\nان کے کاٹے بدن پہ دانہ ہے\nمرچ جدوار پھر لگانا ہے\nایک دو دن جلا فراغ ہوا\nاس کی جاگہ سیاہ داغ ہوا\nنہ کھجاتے کھجاتے سارے گھسے\nچٹھے چٹھے ہوئے جو دانے پسے\nدن کو وہ صورت طعام ہوئی\nرات کو نیند یوں حرام ہوئی\nکتوں کے چاروں اور رستے تھے\nکتے ہی واں کہے تو بستے تھے\nدو کہیں ہیں کھڑے کہیں بیٹھے\nچار لوگوں کے گھر میں ہیں پیٹھے\nایک نے پھوڑے باسن ایکو نے\nکھود مارے گھروں کے سب کونے\nکوئی گھورا کرے کوئی بھونکے\nخفتہ خفتہ بھی شور سے چونکے\nسانجھ ہوتے قیامت آئی ایک\nشور عف عف سے آفت آئی ایک\nگلہ گلہ گھروں میں پھرنے لگے\nروٹی ٹکڑے کی بو پہ گرنے لگے\nایک نے آکے دیگچہ چاٹا\nایک آیا سو کھا گیا آٹا\nایک نے دوڑ کر دیا پھوڑا\nپھر پیا آکے تیل اگر چھوڑا\nگھورنے اک لگا اندھیرا کر\nایک نے اور ایک پھیرا کر\nگھر میں چھینکے اگر تھے توڑ دیے\nہانڈی باسن گرا کے پھوڑ دیے\nلوگ سوتے ہیں کتے پھرتے ہیں\nلڑتے ہیں دوڑتے ہیں گرتے ہیں\nجب کہ ہڈی پہ چار چار لڑیں\nگوشت پر بھیڑیے سے دوڑ پڑیں\nایک کے پیچھے ایک روز و شب\nلینڈھے سے واں نہ بندھ رہے تھے کب\nکتے ہی واں دوچار رہتے ہیں\nدو گئے بھی تو چار رہتے ہیں\nجاگتے ہو تو دوبدو کتے\nسو کر اٹھو تو روبرو کتے\nسر پہ دربان کے بلا ہی رہے\nکتا ایک آدھ گھر میں جا ہی رہے\nمنھ میں کف دور دور کرنے سے\nحال بے حال شور کرنے سے\nتوکہے سن کے وہ گلا پھاٹا\nباولے کتے نے اسے کاٹا\nکتوں کی کیا سماجتوں کو کہیں\nچچڑی سے رات دن لگے ہی رہیں\nباہر اندر کہاں کہاں کتے\nبام و در چھت جہاں تہاں کتے\nجھڑجھڑاوے ہے کان کو کوئی\nرووے ہے اپنی جان کو کوئی\nیک طرف ہے چپڑچپڑ کی صدا\nیعنی کتا ہے چکی چاٹ رہا\nایک چھنے کو منھ میں لے آیا\nایک چولھے کو کھودتا پایا\nایک کے منھ میں ہانڈی ہے کالی\nایک نے چلنی چاٹ ہے ڈالی\nتیل کی کپی ایک لے بھاگا\nایک چکنے گھڑے سے جا لاگا\nکتے یارو کہ جان کا تھا روگ\nجاں بلب ہوں نہ کس طرح سے لوگ\nآدمی کی معاش ہو کیوں کر\nکتوں میں بود و باش ہو کیوں کر\nبستی دیکھی سو ایسی تھی آباد\nکہ بیابان سخت سے دے یاد\nچار چھپر کہیں چماروں کے\nسو بھی ٹوٹے گرے بچاروں کے\nپھر چلو آگے تو نہیں ہے کچھ\nڈھنڈھ سا اور جو کہیں ہے کچھ\nپھوٹی ٹوٹی کوئی حویلی ہے\nسو بھی میدان میں اکیلی ہے\nایک دو مردے سے پڑے ہیں واں\nزرد ہو ہوگئے ہیں بے لب ناں\nلوگ ایسے مکان سب ایسے\nایسی جاگہ سے اچٹیں دل کیسے\nاور جو چار گھر نظر آئے\nان کی خوبی کھلے وہیں جائے\nوہ بھی کولی چمار تھے کوئی\nفاقوں کے زیر بار تھے کوئی\nصورتیں کالی سوکھے سوکھے سے\nسارے کنگال اور بھوکھے سے\nچار دانوں کے واسطے جی دیں\nجان کھا جائیں کچھ نہ جب تک لیں\nاس سے آگے بڑھے تو دھینور تھے\nاجڑے پجڑے انھوں کے کچھ گھر تھے\nاور آگے گئے تو تھا بازار\nاس میں بنیوں کی تھیں دکانیں چار\nایک کے پاس دال کچھ آٹا\nتس کو بھی مکھیوں نے تھا چاٹا\nایک کے سانواں اور تھوڑے چنے\nچھبڑوں میں خاک دھول ایک کنے\nجو تھا باقی رہا سو تھا کنگال\nناؤں کو کہتے تھے اسے بقال\nاس کا عامل کے یاں اٹھا مایہ\nان نے جیسا کیا تھا سو پایا\nایک کنجڑے کے چار گٹھی پیاز\nتس پہ اس کو ہزار فخر و ناز\nکیا کہوں مرچ تھی نہ ادرک تھی\nاس مچھندر میں کچھ بھی بھدرک تھی\nایک دوکان تھی پساری کی\nان نے ہم لوگوں سے بھی یاری کی\nاس سے جاکر جو مانگیے ہلدی\nزرد مٹی کو باندھ دے جلدی\nدیکھ کر کچھ کہو تو وہ یہ کہے\nبس تم اس بستی میں میاں جی رہے\nیاں جو کچھ ہے چلن سو دیتا ہوں\nمیں بھی پیسے لگا کے لیتا ہوں\nمانگو اس سے جو مرچ یا دھنیا\nدیوے لچا وہی بتا دھنیا\nان میں دو دانے اور سب کنکر\nدیے کاغذ میں ہاتھ لنباکر\nلونگ چورا نفر سے منگوایا\nلال مرچیں کٹی ہوئی لایا\nاور اشیا یہیں سے کریے قیاس\nآگے جاتا نہیں کہا مجھ پاس\nاور دس بیس گھر گنواروں کے\nاور دو چار فاقہ ماروں کے\nپھوٹی مسجد خطیب تھا نہ اذاں\nیہی خانہ خطیب کا تھا واں\nنہ تھی قید صلوٰۃ و رسم صوم\nاس پہ سید امام واں کے قوم\nبندے سب جن کا تھا خدا نہ کوئی\nاس طریقے سے آشنا نہ کوئی\nراہ و رسم و طریق سب بے ڈھب\nپہلے گالی تھی پیچھے حرف بہ لب\nکوسوں بھاگا اگر ملا کوئی\nصحبت ایسوں سے رکھے کیا کوئی\nایک تکیہ نہ جس میں فرش کاہ\nحال درویش قابل صد آہ\nٹکڑے ٹکڑے کی احتیاج اس کو\nمرض جوع لاعلاج اس کو\nبرسوں چلا کے ناامید ہوا\nچپکی سادھی جگر میں چھید ہوا\nآتے جاتے سے ان نے جو پایا\nاسی پر رہ گیا وہی کھایا\nگرد جو چار خاک کے سے ڈھیر\nجن کو کہتے تھے لیٹے ہیں یاں شیر\nاپنا تو اعتقاد تھا ہی کم\nپر کبھو بلی بھی نہ دیکھی ہم\nکچھ نہ دیکھا ہم ان بھی گوروں سے\nکام نکلا سو اپنے زوروں سے\nکی توجہ جو ٹک دروں کی اور\nدل جگر پر مرے پڑا کچھ زور\nجس سے چھاتی میں درد ہونے لگا\nرنگ چہرے کا زرد ہونے لگا\nپھر زمیں داروں میں نفاق ہوا\nیہ عجب اور اتفاق ہوا\nدونوں کا اک جدا ہی مطلب ہے\nیہ کہے روز وہ کہے شب ہے\nآس پاس اس گڑھی کے آئی جھیل\nگم تھے برسات میں طریق و سبیل\nایدھر اودھر اتر کے پانی جاؤ\nقہر ہے پھر جو ٹک بھی ہووے چڑھاؤ\nاس سے واں کی ہوا بہت مرطوب\nہووے نزلہ زکام بے اسلوب\nکتنے زوروں میں ہوتی ہے کھانسی\nایسی جیسے گلے میں دیں پھانسی\nپھر وہ درجہ ہے جس میں ہووے دق\nیہ کوئی نکلی ایک ثالث شق\nپڑی آفت خطر تھا سکھوں کا\nکیونکہ وہ ملک گھر تھا سکھوں کا\nاس میں آجاتے تو قیامت تھی\nمال و جاں غرض سب کی رخصت تھی\nنہ کوئی دادرس نہ وقت داد\nمفت ہی ہم گئے تھے سب برباد\nکیا کڈھب چرخ کج نے پھینکا تھا\nپر خدا کچھ ہمارا سیدھا تھا\nجس نے قدرت نمائی کی اپنی\nاس بلا سے رہائی کی اپنی\nبس قلم ہے صریر تیری تند\nشور سے تو پڑا جہاں میں دند\nبدزبانی کا مجھ کو کب ہے دماغ\nایسی باتوں سے میں کیا ہے فراغ\nہوچکی صاحبوں کی فرمائش\nچپ رہ اب ہے زمان آسائش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81"} {"title": "تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے\nاس سعئ کرم کو کیا کہیے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئے\n\nہم عرض وفا بھی کر نہ سکے کچھ کہہ نہ سکے کچھ سن نہ سکے\nیاں ہم نے زباں ہی کھولی تھی واں آنکھ جھکی شرما بھی گئے\n\nآشفتگیٔ وحشت کی قسم حیرت کی قسم حسرت کی قسم\nاب آپ کہیں کچھ یا نہ کہیں ہم راز تبسم پا بھی گئے\n\nروداد غم الفت ان سے ہم کیا کہتے کیوں کر کہتے\nاک حرف نہ نکلا ہونٹوں سے اور آنکھ میں آنسو آ بھی گئے\n\nارباب جنوں پر فرقت میں اب کیا کہئے کیا کیا گزری\nآئے تھے سواد الفت میں کچھ کھو بھی گئے کچھ پا بھی گئے\n\nیہ رنگ بہار عالم ہے کیوں فکر ہے تجھ کو اے ساقی\nمحفل تو تری سونی نہ ہوئی کچھ اٹھ بھی گئے کچھ آ بھی گئے\n\nاس محفل کیف و مستی میں اس انجمن عرفانی میں\nسب جام بکف بیٹھے ہی رہے ہم پی بھی گئے چھلکا بھی گئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B3%DA%A9%DB%8C%D9%86_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%AD%D8%B2%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%B9%D8%A6_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "تسکین دل کا یہ کیا قرینہ", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تسکین دل کا یہ کیا قرینہ\nروکوں جو نالہ پھٹ جائے سینہ\n\nبڑھتی امنگیں کیا پر بنیں گی\nہے کس ہوا میں دل کا سفینہ\n\nہیں کیا معمہ یہ آگ پانی\nپیتا ہوں آنسو جلتا ہے سینہ\n\nغم تجھ کو پیارا تو مجھ کو پیاری\nدل کی تمنا نازک حسینہ\n\nآج اس نے آنسو ہنس ہنس کے پونچھے\nخشکی میں ابھرا ڈوبا سفینہ\n\nتاریخ دل کی خود نقش دل ہے\nکھا کھا کے چوٹیں چٹکا نگینہ\n\nٹوٹا ہوا دل الفت بھرا تھا\nڈھا کر عمارت پایا دفینہ\n\nحد خرد سے ذات اس کی برتر\nاونچی ہے منزل نیچا ہے زینہ\n\nتم آرزوؔ ہو تم آرزوؔ ہو\nپھر کیسی رنجش پھر کیسا کینہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B3%DA%A9%DB%8C%D9%86_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%82%D8%B1%DB%8C%D9%86%DB%81"} {"title": "تسکین دل کے واسطے ہر کم بغل کے پاس", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "تسکین دل کے واسطے ہر کم بغل کے پاس\nانصاف کریے کب تئیں مخلص حقیر ہو\nیک وقت خاص حق میں مرے کچھ دعا کرو\nتم بھی تو میرؔ صاحب و قبلہ فقیر ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B3%DA%A9%DB%8C%D9%86_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92_%DB%81%D8%B1_%DA%A9%D9%85_%D8%A8%D8%BA%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3"} {"title": "تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے\nحورانِ خلد میں تری صورت مگر ملے\n\nاپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعدِ قتل\nمیرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے\n\nساقی گری کی شرم کرو آج، ورنہ ہم\nہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے\n\nتجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم\nمیرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے\n\nتم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کِیا\nفرصت کشاکشِ غمِ پنہاں سے گر ملے\n\nلازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں\nجانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے\n\nاے ساکنانِ کوچۂ دل دار دیکھنا\nتم کو کہیں جو غالبؔ آشفتہ سر ملے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B3%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%B0%D9%88%D9%82_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%D9%84%DB%92"} {"title": "تشبیہ", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ادبیات کا ماخذ ہے ادب۔ ادب عربی کا ایک لغت ہے جس کے معنی ہیں ہر چیز کی حد اور اندازہ کا لحاظ رکھنا۔ علمائے علوم لسان و انشا ادب یا آداب کی ذیل میں ان علموں کو شمار کرتے ہیں۔(1) علم لغت، (2) علم صرف، (3) علم اشتقاق، (4) علم نحو، (5) علم معانی، (6) علم عروض، (7) علم قافیہ، (8) علم رسم الخط، (9) علم فرض الشعر، (10) علم انشا، (11) علم تواریخ یا علم محاضرات اور علم بیان۔آپ نے دیکھا کہ ادب کتنا بسیط و عمیق سمندر ہے۔ ادبیات یا لٹریچر کو عموماً بمقابلہ سائنس و فلسفہ کے، نظر استحقار سے دیکھا جاتا ہے لیکن فی الواقع یہ بجائے خود ایک سائنس ہے اور ادیب فلسفی کا پایہ رکھتا ہے۔ آج کل یہ دیکھنے میں آیا کہ جو شخص معمولی نظم یا نثر لکھنے لگے اسے لٹریری آدمی کہہ دیتے ہیں اور جو اوروں کے لکھے ہوئے پر جا و بے جا ایراد و تعریض کرے، اسے نقاد اور ادیب کہنے لگتے ہیں، خواہ خود اس کی تحریر و انشا میں کلام زیر تنقید سے زیادہ پالغز اور سقائم موجود ہوں۔ میں اس صحبت میں نہ ادب پر گفتگو کروں گا نہ ان بارہ علوم میں سے کسی پر، بلکہ صرف آداب کی ایک قسم یعنی علم بیان کے ایک رکن یعنی تشبیہ اور اس کے لوازمات کے متعلق چند معمولی نکات پر کچھ کہوں گا۔ جن کا جاننا ہر لکھنے پڑھنے والے خصوصاً شاعروں کے لئے نہایت ضروری و لابد ی ہے۔اول جاننا چاہئے کہ علم بیان کسے کہتے ہیں۔ علم بیان وہ علم ہے جس کے ذریعہ سے ایک مطلب کومختلف عبارتوں میں ادا کر سکیں، مگر سب عبارتیں دلالت میں یکساں نہ ہوں بلکہ ان میں کوئی واضح اور مبرہن ہو اورکسی میں اس کی نسبت کسی قدر خفا ہو، کسی میں بہت خفا ہو۔کہا گیا ہے کہ انسان بالطبع محاکات کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے اور اس کا دل محاکات سے بہت انبساط پذیر ہوتا ہے۔ ایک جانفزا قدرتی منظر یا ایک عالیشان خوبصورت عمارت یا ایک نہایت حسین شخص کودیکھ کر اس کی جانفزائی یا خوبصورتی یا حسن کو اپنے ذہن میں بدرجہ کمال اخذ نہیں کر سکتے اور حدود تناسب و نقاط حسن و خوبصورتی کے ادراک اورذہنی اعتراف میں ہمارا دماغ پورے طور پر حاوی نہیں ہو سکتا، مگر اسی منظر یا عمارت یا شخص کی تصویر جب سامنے آ جاتی ہے تو اس کے تمام محاسن ہمیں ہر جہت سے محسوس ہوتے ہیں اور دماغ کواس کا پورا علم ہو کر دل کو تفریح و انبساط ہوتی ہے۔ غالباً اسی نسق پر بیان میں تشبیہ اور استعارہ کی ابتدا ہوئی لیکن جس طرح وہ شخص جو صرف نقشے اور پلین ہی بنا اور سمجھ سکتا ہو مگر ایک عمارت کے حسن و قبح اس کی نظر میں نہ سما سکتے ہوں، انجینئر نہیں کہلا سکتا۔ اسی طرح وہ ناثر یا شاعر جو صرف تشبیہ اور استعارہ کے تصدق سے ہی اپنے کلام کو سرسبز کر سکتا ہو اور حقائق نگاری و تحقیق میں قاصر ہو، انشا ئے نظم و نثر پر حاوی نہیں کہا جا سکتا۔تشبیہ و استعارہ کے جا و بے جا استعمال پر مولانا آزاد مرحوم نے آب حیات میں جو کچھ لکھا ہے اس سے مجھے کلی اتفاق ہے۔ ہندی اور فارسی ان دونوں زبانوں کا مبالغہ، استعارہ اور تشبیہ دو آتشہ کیا چند آتشہ ہو کرہماری اردو کی کچی گھڑیا میں آ بسے۔ کہئے بس ہی گئے اور ہمارے حواسوں پر ایسے مسلط ہو گئے کہ اب ان کے سوا اور کچھ نظروں میں جچتا ہی نہیں۔ مولانا کے یہ الفاظ ہمارے انشا پردازوں اور شاعروں کو غور سے سننے اور یاد رکھنے چاہئیں۔’’یہ افسوس دل سے نہیں بھولتا کہ انہوں نے ایک قدرتی پھول کو جو اپنی خوشبو سے مہکتا اور رنگ سے لہکتا تھا، مفت ہاتھ سے پھینک دیا۔ وہ کیا ہے؟ کلام کا اثر اور اظہار اصلیت۔ ہمارے نازک خیال اور باریک بیں لوگ استعاروں اور تشبہیوں کی رنگینی اور مناسبت لفظی کے ذوق شوق میں خیال سے خیال پیدا کرنے لگے اور اصلی مطلب کے ادا کرنے میں بے پرواہ ہو گئے۔ انجام اس کا یہ ہوا کہ زبان کا ڈھنگ بدل گیا اور نوبت یہ ہوئی کہ اگر کوشش کریں تو فارسی کی طرح پنچ رقعہ اور مینا بازار اور فسانہ عجائب لکھ سکتے ہیں۔ لیکن ایک ملکی معاملہ یا تاریخی انقلاب کواس طرح نہیں بیان کر سکتے جس سے معلوم ہوتا جائے کہ۔۔۔‘‘ الخلکھنے والوں کو احتیاط چاہئے کہ تشبیہات اور استعارے کلام میں صرف اسی قدر آئیں جس قدر کھانے میں نمک اور مسالا، نہ کہ مسالا اور نمک میں طعام۔ یہ اعتراض بلکہ تنبیہ کسی ایک ذات سے وابستہ نہیں۔ آپ اور میں سب اس بھول بلیاں میں سر گرداں ہیں۔بایں ہمہ جب لطف سخن کی بنیاد محاکات پر ٹھہری تو اس کے ارکان اعظم کی ماہیت معلوم کرنا ہمارا فرض ہے۔ جاننا چاہئے کہ محاکات یا تو ایک چیز کو دوسری چیز سے تشبیہ دینا ہے یا کسی چیز کو تبدیل کر کے دوسری چیز کی صورت میں ظاہر کرنا اور یہ مجاز مرسل اور کنایہ و استعارہ پر منقسم ہے۔ اس مضمون میں ہمارا موضوع محض تشبیہ ہوگا۔تشبیہ کے معنی ہیں یہ جتانا کہ ایک چیز ایک معنی میں بلا تجرید و بلا استعارہ دوسری چیز کے شریک ہے۔ مثلا ً اس کا قدر سرو جیسا ہے یعنی راستی میں دونوں مساوی ہیں، ان دو چیزوں میں اول چیز کو مشبہ کہتے ہیں یعنی مانند کیا گیا اور دوسری کو مشبہ بہ یعنی اس کے ساتھ مانند کیا گیا اور جو معنی دونوں میں مشترک ہیں اس کو وجہ شبہ یعنی مانند ہونے کی وجہ کہتے ہیں۔ اور جو کلمہ اس مانند ہونے کو ظاہر کرتا ہے اسے حرف تشبیہ کہتے ہیں۔ مثال مذکور میں یعنی ’’اس کا قدر سر وجیسا ہے۔‘‘ قد مشبہ ہے، سرو مشبہ بہ، راستی جو سرو اور قد دنوں میں پائی جاتی ہے وجہ شبہ یا وجہ تشبیہ، اور جیسا حرف تشبیہ ہے۔ حرف تشبیہ کو ادات بھی کہتے ہیں اور وہ یہ ہیں، مانند مثل، جیسا، کا، سا، گویا، وغیرہ۔ یاد رہے کہ بہت سے حروف تشبیہ اب وجوباً متروک ہیں، مثلا جوں، کہے، تو وغیرہ۔ بعض مقامی خصوصیت رکھتے ہیں جیسے، کا، ایسا لکھنو سے مخصوص ہے۔ یہ چار چیزیں یعنی مشبہ، مشبہ بہ، وجہ شبہ اور حرف تشبیہ، تشبیہ کے ارکان چہار گانہ کہلاتے ہیں۔ ان میں سے اول دو کو اطراف تشبیہ بھی کہتے ہیں۔اطراف تشبیہاطراف تشبیہ یا حسی ہوں گے یا عقلی۔ حسی سے مراد ہے محسوس ہونے والا اور عقلی سے مراد ہے وہ چیز جس کا ادراک عقل کے ذریعہ سے ہو سکے یعنی جو محسوس نہ ہو۔ میر حسن مرحوم کا یہ شعر دونوں قسم کی تمثیلیں رکھتا ہے،بدن آئینہ سا دمکتا ہوا نگہ آفت وچشم عین بلااول مصرعہ میں بدن اور آئینہ دونوں محسوس ہیں۔ وجہ شبہ ان میں چمک دمک ہے۔ دوسرے مصرعہ میں نگہ اور آفت محسوس نہیں بلکہ عقلی ہیں یعنی عقل کے ذریعے سے ان کا ادراک ہو سکتا ہے۔اطراف تشبیہ یعنی مشبہ اور مشبہ بہ کبھی دونوں حسی ہوتے ہیں اور کبھی دونوں عقلی، کبھی دونوں مختلف یعنی ایک حسی اور ایک عقلی۔ چونکہ اطراف کے بیان میں اور اس سے زیادہ وجہ شبہ کے ذیل میں حواس اور قوائے ذہنی کا ذکر اکثر آئے گا اس لئے ضروری ہے کہ فلسفہ کے اس مسئلہ پر بطور تشریح کچھ کہا جائے۔ حسوں اور قوائے ذہنی کا معاملہ علم الحس والقوی کے متعلق ہے۔ یہاں ہمارا روئے سخن صرف حواس خمسہ ظاہری و حواس خمسہ باطنی کی طرف ہے۔ پانچ حواس جو ظاہر کے ہیں، ان کی تفصیل حسب ذیل ہے،(1) باصرہ دیکھنے کی طاقت (2) سامعہ، سننے کی طاقت(3) شامہ۔ سونگھنے کی طاقت (4) ذائقہ، چکھنے کی طاقت(5) حس المس یالامسہ۔ یہ ہمارے تمام اعضا میں پائی جاتی ہے۔ اسی سے گرمی، سردی، سختی، نرمی کا حساس ہوتا ہے۔پانچ حواس باطنی کی مجمل تفصیل یہ ہے، (1) حس مشترک اس کا کام یہ ہے کہ جو شے حواس ظاہر سے محسوس ہوتی ہے یہ حس اس کو لے لیتی ہے۔ (2) خیال یہ حس مشترک کا خزانہ ہے۔ جو صور حس مشترک لیتی ہے، یہ اسے خیال میں محفوظ رکھتی ہے۔ (3) متخیلہ یا متفکرہ اس کا فعل منصبی یہ ہے کہ جو صورتیں خیال میں جمع ہیں کبھی ان کو ایک دوسرے سے مرکب کرتی ہے اور کبھی ایک دوسرے سے علاحدہ۔ اور ایسے ہی ان صورتوں میں معنی ہیں ان کو بھی کبھی مرکب اور کبھی علیحدہ کرتی ہے۔ یعنی مثلاً بھیڑیے کی دشمنی بھیڑ سے یا باپ کی محبت بیٹے سے۔ ان معنوں کو مرکب کرے یا علیحدہ کرے اور کبھی ان صورتوں اور معنوں میں تصرف بھی کرتی ہے۔ (4) واہمہ یا وہم اس کا کام ہے خاص صورتوں میں جو خاص معنی ہیں، انہیں دریافت کرنا۔ (5) حافظہ و متصرفہ یہ خزانہ وہم کا ہے، جیسے حس مشترک کا خزانہ خیال ہے۔ یہ تعریفیں بے شک جامع و مانع ہیں لیکن عام فہم بنانے کے لئے ان میں ایک قوت یعنی متخیلہ اور متفکرہ کے متعلق اس قدر اور کہنا ہے کہ اس کی خاصیت ہے کہ وہ صور و معانی کی ترکیب و تفصیل اور ان میں اپنے تصرف کے علاوہ کئی ایسی چیزیں اختراع کرتی ہے جو فی الواقع کچھ بھی نہیں ہوتیں اور وہ اختراع یا تو قوت وہمیہ کے وسیلہ سے ہوتا ہے جسے متخیلہ کہتے ہیں، یا قوت عقلیہ کے زریعہ سے جسے متفکرہ کہتے ہیں۔ پس جس معدوم قوت متخیلہ ایسے امور سے مرکب کرے، جو حواس ظاہری سے پہچانی جا سکیں وہ داخل حسیات ہے۔ مثلاً غالب کے اس شعر میں۔بنٹتے ہیں سونے روپے کے چھلے حضور میں ہے جن کے آگے سیم و زر مہر و ماہ ماندیوں سمجھئے کہ بیچ سے خالی کئے ہوئے لاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چانداول شعر محض بغرض سہولت سامع نقل کیا گیا۔ اصل مطلب دوسرے شعر سے ہے۔ یہ ایک قطعہ میں سے لیا گیا ہے جو مرزا غالب نے بتقریب آخری چہار شنبہ ماہ صفر بادشاہ کے حضور میں گزارنا تھا۔ یہاں چاندی اور سونے کے چھلوں کو رنگت، چمک اور ضو اور دور لمعان کے اعتبار سے چاند اور سورج کے ساتھ تشبیہ دی گئی اور قوت متخیلہ نے ان کو یعنی چاند اور سورج کو، بیچ میں سے خالی کیا ہوا خیال کر لیا اور اپنے اس تصرف سے تشبیہ کو درست کر لیا لیکن اس صورت کے پیٹ خالی سورج چاند حقیقت میں دیکھے نہیں جاتے۔ لہذا یہ تشبیہ حسی ٹھہری کیونکہ چھلے اور چاند سورج محسوس ہیں۔جس شے کو قوت متفکرہ اپنے پاس سے اختراع کرے وہ عقلیات میں داخل ہے۔ ذوق کا یہ شعر اس کی عمدہ مثال ہے،نحوست بھی سعادت ہو گئی سودا میں زلفوں کےگلیم تیرہ بختی سر پہ ہم ظل ہما سمجھےاب دیکھئے حقیقت میں ہما کوئی شے نہیں۔ صرف ایک فرضی نام ہے جسے اصطلاح میں مفروض ذہنی کہتے ہیں۔ پھر اس فرضی نام کے ساتھ چند صفات خاص وابستہ کیں۔ یہاں اس کی ایک صفت سے مطلب ہے، یعنی اس کا نہایت مبارک تصور کیا جانا لیکن چونکہ انسان نے سن رکھا ہے کہ وہ ایک مبارک شے ہے۔ اس لئے تیرہ بختی کو اس سے تشبیہ دی۔ یعنی کہہ دیا کہ گلیم تیرہ بختی کو جس سے نحوست مراد ہے، ہم ہما کا سایہ خیال کرتے ہیں۔ یعنی یہ تیرہ بختی ہما کے سایہ سے مشابہ ہے۔ پس تیرہ بختی مشبہ ہے اور ظل ہما مشبہ بہ، یعنی سایہ ہما معدوم الجسم اور معلوم الاسم ہے۔ جیسے کہ غول بیابانی۔ قوت متفکرہ نے اس کو موجود و تصور کر لیا، اور پھر اس کے لئے سایہ ثابت کیا۔ یہ دونوں یعنی مشبہ اور مشبہ بہ عقلی ہیں۔صاف ظاہر ہے کہ تیرہ بختی معقول ہے، محسوس نہیں، اور دوسرے یعنی ظل ہما کے حال سے ابھی بحث کی گئی کہ امر موہوم ہے۔ ایک اور بات یہ بتانی ہے کہ گلیم تیرہ بختی میں اضافت تشبیہی ہے یعنی تیرہ بختی جو گلیم کی مانند ہے، اس ضمنی تشبیہ میں طرفین یعنی مشبہ بہ مختلف ہیں یعنی گلیم حسی اور تیرہ بختی عقلی۔ اسی طرح سعادت اور نحوست میں بھی تشبیہ ہے یعنی ہماری نحوست مثل سعادت کے ہے کیونکہ اسی نحوست کو پہلے گلیم کے ساتھ مشابہ کیا پھر اس گلیم کو جو سیاہ تصور کیا گیا ہے ظل ہما سے مشابہ کیا اور یہ معلوم ہے کہ ظل یعنی سایہ ہر چیز کا سیاہ ہی ہوتا ہے، لیکن چونکہ یہ ظل ہما ہے اور وہ مبارک شے تصور کی جاتی ہے، لہذا وہ نحوست مبدل بہ سعادت ہو گئی۔ اور یہ سعادت اور نحوست دونوں عقلی ہیں۔آپ نے دیکھا کہ ایک شعر کی تشبیہ کے ارکان بیان کرنے میں کتنا وقت لگا اور کتنے مسائل فلسفے کے وارد ہوئے۔ ادیبوں نے جس شان سے فلسفیانہ نظر ان ادبی معاملات پر ڈالی ہے اور سائنٹفک طریق پر تنقیح سے بحث کی ہے، عوام کے نزدیک تعجب خیز ثابت ہوگی۔ چنانچہ انہی اطراف تشبیہ کی حسی یا عقلی حیثیت کے باب میں فرماتے ہیں کہ بہر کیف خیالی کو علم بلاغت والوں نے حسی میں داخل کیا۔ اس وجہ سے کہ حسی سے مراد ہے وہ چیز جو خود حواس سے مدرک ہو یا اس کا مادہ۔ پس خیالی کا مادہ حواس سے مدرک ہوتا ہے۔ چنانچہ معلوم ہوا، اور وہمی کو عقلی میں داخل کیا ہے اس لئے نہیں کہ وہ بھی مثل معقولات کے حواس سے ادراک نہیں کی جاتی ہے لیکن وہ ایسی ہے کہ اگر پائی جائے تو ضرور حواس سے مدرک ہو اور اسی امر کی جہت سے عقلی اور وہمی میں امتیاز ہوتا ہے و گرنہ دونوں ایک ہو جائیں۔ایک دلچسپ نکتہ صاحب حدائق البلاغت نے دس سر کے آدمی کا تصور غول کے تصور کے ساتھ مذکور کیا ہے۔ اس کے بعد خود یہ اعتراض گڑھا کہ بادی النظر میں ان دونوں قسموں یعنی وہمی اور خیالی میں فرق نہیں معلوم ہوتا، اس واسطے کہ دس سر کے آدمی کا تصور مثل علم یا قوت کے ہے کہ اجزا ان دونوں قسموں کے محسوسات سے ہیں۔ اس لیے علمائے متاخرین نے اختلاف کیا ہے۔ چونکہ بحث نہایت دقیق اور عالمانہ ہے اس لئے اس سے احتراز کیا جاتا ہے۔ اطراف تشبیہ کے دیگر تشبیہی تفصیلات اور باریک نکات کو نظر انداز کر کے اب میں وجہ شبہ کا ذکر کرتا ہوں۔ وجہ شبہ یا وجہ مشبہوجہ مشبہ کی جامع و مانع تعریف یوں بیان کی جا سکتی ہے کہ وجہ شبہ وہ معنی ہے کہ مشبہ اور مشبہ بہ سے بہت خصوصیت رکھتا ہو اور ان دونوں کا اس میں شریک ہونا قصد کیا جائے۔ صفت جس میں ان دونوں یعنی مشبہ اور مشبہ بہ کو اشتراک ہو یا فراق تین طرح پر ہے۔ اول صفت حقیقی یعنی ایسی ہئیت کہ ذات میں متمکن ہو۔ دوم صفت اضافی کہ ذات میں مثل اول کے نہ ہو، بلکہ دو چیزوں سے متعلق ہو، سوم صفت اعتباری کہ اس کا مفہوم واقع میں متحقق نہ ہو بلکہ محض عقل نے اس کو اعتبار کر لیا ہو۔صفت حقیقی کہ دو قسمیں ہیں۔ ایک حسی اور دوسری عقلی۔ حقیقت کے معنی علم منطق میں خواہ کچھ ہوں لیکن یہاں مراد ایک کیفیت ہے کہ جسم اس کے سبب اپنے محیط کی جانب مائل ہوتا ہے جیسے آگ اور حرارت یعنی گرمی۔ صفت عقلی کیفیات نفسیانیہ پر حاوی ہے یعنی وہ کیفیتیں جو ذی نفس کی ذات سے مختص ہوں، مثلاً ذکا یعنی فہم کی تیزی اور علم معرفت کرم، حلم، غضب و شجاعت وغیرہ کہ عقل سے ادراک کی جائیں۔ صفت اضافی وہ صفت ہے کہ ذات میں متمکن نہ ہو بلکہ دوچیزوں سے متعلق ہو مثلا ً کوئی شخص دلیل یار رائے کو آفتاب سے تشبیہ دے اس نظر سے کہ دونوں میں ازالہ حجاب کی صفت موجود ہے اور یہ صفت حجت اور آفتاب کی ذات میں موجود نہیں بلکہ ان سے متعلق ہے۔صفت اعتباری وہ ہے جس کا مفہوم واقع میں متحقق نہ ہو اور محض عقل نے اسے اعتبار کر لیا ہو جیسے غول کے واسطے درندہ کی شکل اور دانت اور پنجوں کا اختراع کر لینا، یہ مختص صورت وہمی کی ہے حالانکہ واقع میں تحقیق نہیں۔ صفت کا مرجع کبھی ایک چیز ہوتی ہے کبھی ایک سے زیادہ۔ اسی طرح بعض حقیقت مفرد ہوتی ہے اور بعض اجزائے مختلفہ سے مرکب۔ پس وجہ شبہ ان انواع کے اعتبار سے کئی نوع کی ہو جاتی ہے۔ ان نکات تفصیلی کو چھوڑ کر جو منتہی کے لئے مقصود ہیں اور جنہیں آپ کتب علمیہ میں شرح و بسط کے ساتھ پا سکتے ہیں، اب میں مبتدیوں کے لئے چند موٹی موٹی باتیں وجہ شبہ کے متعلق بیان کرتا ہوں۔(1) وجہ شبہ کبھی مفرد ہوتی ہے جیسے نسیم۔ دکھلاتا تھا وہ مکاں جادو محراب سے در سے چشم و ابرومحراب کو ابرو سے تشبیہ دی ہے اور در کو چشم سے۔ پہلے میں وجہ شبہ وہ گولائی ہے جو محراب اور ابرو میں پائی جاتی ہے دوسرے میں واشدگی جو دونوں میں محسوس ہے۔ اور یہ وجہ تشبیہ واحد ہے۔ اس پر یہ اعتراض وارد ہو سکتا ہے کہ مشبہ بہ کو مشبہ پر عرف حاصل ہوتا ہے (کس کا رتبہ قوی تر ہوتا ہے اس کا ذکر آگے آئے گا) اور محراب ہمیشہ مشبہ بہ ہوتی ہے اور ابر و مشبہ جب کہ یہاں معاملہ بر عکس ہے۔ پس مشبہ بہ یہاں ادنیٰ ہے اور مشبہ اعلیٰ۔ اس کا جواب ہے کہ اگر تسلیم بھی کر لیں کہ یہ ممنوع ہے تو اس میں ادعا ہے کہ محراب و در ایسے تھے کہ ان کو چشم ابرو سے تشبیہ دے سکتے تھے۔ اس ادعا کا نام اصطلاح میں ادعائے ناقص بدرجہ کامل ہے، یعنی ناقص کو کامل کہنا۔ غالب کے اس شعر میں اسی قبیل سے ادعائے ناقص بدرجہ کامل کہا گیا ہے۔کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشتیہی نقشہ ہے ولے اس قدر آباد نہیںکوچہ ہمیشہ مشبہ ہوتا ہے اور بہشت مشبہ بہ۔ مگر یہاں متکلم کو ادعا ہے کہ وہ مشبہ بہ ہے اوریہ مشبہ اسی واسطے اس کو ناقص ٹھہرا کہ کہہ دیا کہ اس میں یہ نقص ہے کہ اس قدر آباد نہیں جس قدر تیرا کوچہ ہے۔ اصول تشبیہ اور اس کی علل پر نظر غائر ڈالنے سے ثابت ہوگا کہ یقیناً مشبہ بہ اصل ہے اور مشبہ فرع۔ فرع کو اصل بنانا اور اصل کو فرع ماننا درست نہیں۔ مگر کسی ادعا کے واسطے جو خصوصیت مقام کے سبب سے ہو یا دیگر اسباب سے، اس قسم کی تشبیہ لانے سے متبدی کو بچنا چاہئے کیونکہ اس کو نباہنا اور ادعا ثابت کرنا سہل کام نہیں۔ مرزا غالب کو اس امر میں کمال حاصل تھا جو ہر ایک کا حصہ نہیں چنانچہ ایک اور شعر میں ایسی ہی تشبیہ لاتے ہیں۔نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیںشب فراق سے روز جزا زیاد نہیںعموماً تعین وقت کی درازی کو قیامت کے دن سے تشبیہ دیا کرتے ہیں مگر مرزا قیامت کو شب کا سا لمبا کہہ گئے اور کس خوبصورتی سے کہہ گئے۔جب یہ قرار پا چکا ہے کہ مشبہ بہ اعلیٰ ہو تو اصحاب فن کا قول ہے کہ محسوس کو معقول کے ساتھ تشبیہ دینا بروئے معقول جائز نہیں کیونکہ معقولات محسو سات سے مستفاد ہیں۔کبھی وجہ تشبیہ مرکب ہوتی ہے اس کی مثال وہی چاندی سونے کے چھلوں اور چاند سورج والا شعر غالب کا ہے۔ وجہ تشبیہ اس میں مرکب یعنی متعدد ہے۔ با اعتبار رنگ علو مرتبت، لمعان اور ہیئت حاصلہ کے اور ہیئت مشابہ کرنے کے، واسطے پہلے ادعا کرلیا ہے کہ چاند اور سورج بیچ میں سے خالی کئے ہوئے مطلوب ہیں، نہ مجرد۔ اگر یہ ادعا ہوتا تو تشبیہ درست نہ ہو سکتی۔ اس کو شاید آپ انتہائی نارک خیالی کہیں۔ میں انتہائی معقولیت کہتا ہوں۔ ایک نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے یعنی جہاں وجہ تشبیہ حسی ہو وہاں اطراف تشبیہ بھی وجوباً حسی ہوں گے جیسے،تھرائیں خواصیں صورت بید ایک ایک پوچھنے لگی بھیدخواصیں اور بھید حسی ہیں یعنی قوت باصرہ کے فعل کی حد کے اندر ہیں۔ تھرانا جو دونوں میں پایا جاتا ہے وہ بھی محسوس ہے لیکن جہاں تشبیہ عقلی ہوگی وہاں یہ قید نہیں۔ چنانچہ مرزا کے اس مقطع میں،میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبمفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہےکچھ نہیں کے معنی ہیں معدوم۔ موجود یعنی غالب کو معدوم کے ساتھ تشبیہ دی گئی اور یہ اس جہت سے کہ کوئی فعل معدوم سے سر زد نہی ہو سکتا۔ ایساہی غالب ہے جس سے کوئی فعل سرزد نہی ہوسکتا۔ یا یہ شعر میر تقی کا ہے،میر ان نیم باز آنکھوں میںساری مستی شراب کی سی ہےمرکبات کی قسم سے یہ تشبیہ مرکب حسی ہے۔ میر حسن کے ہاں ایسی تشبیہ سحر البیان کے کئی مسلسل اشعار میں آئی ہے جس کی تشریح خالی از لطف نہ ہوگی۔پر اس نے بھی اتنا تکلف کیاکہ اک دن میں جوڑے کو دھانی رنگاکہے تو کہ شب چاند نے آن کےنکالا ہے منہ کھیت سے دھان کےمعشوق کو (کئی شعروں کے بعد کہا ہے) جو دھانی لباس پہنے ہوئے ہے، چاند سے تشبیہ دی۔ مگر مطلق چاند سے نہیں بلکہ اس حالت میں کہ ہرے ہرے دھانوں کا کھیت لہلہا رہا ہو اور چاند بھی کمال روشنی کے ساتھ نکلے اور زمین سے تھوڑا ہی بلند ہوا ہو اور دھانوں کی سبزی بھلی نظر آتی ہو اور دیکھنے والا اس کھیت کے کنارے پر ہو اور چاند کی طرف منہ کر کے دیکھے تو یہ منظر اس کے مشاہدہ میں آئے گا کہ دھان کا ہرا بھرا کھیت لہلہا رہا ہے اور چاند اس سے اتنا قریب ہے کہ گویا اسی کھیت میں سے نکلا ہے۔ یہ ایسا مرکب حسی ہے کہ اس کے اطراف بھی مرکب ہیں۔ عجب نہیں کہ چاند کا کھیت کرنا جو ایک محاورہ اردو کاہے، اسی شعر کے مفہوم سے اخذ کیا گیا۔ یہ ہے نیچرل شاعری اگر کسی کودیکھنے کی آنکھ اور سمجھنے کا مذاق ہوا۔مرکبات حسی میں وہ بدیع اور نادرہ مرکب سمجھی جاتی ہے جس میں تشبیہ ایسی صورت سے واقع ہو کہ اس میں اور اوصاف و حرکات بھی پائے جائیں، مثلا ًمثنوی سحر البیان کے اس شعر میں،تمامی کی سنجاف جلوہ کناںکہ جوں عکس مہ زیر آب رواںتمامی کی سنجاف کو عکس مہ کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ چاند کا عکس اگر ٹھہرے ہوئے پانی پر پڑے تو بہت اچھا محسوس ہوتاہے اور اس کا لمعان دگنا ہو جاتا ہے مگر جب آب رواں کی قید لگا دی تو اس میں ہزارگونہ لطافت پیدا ہو گئی کیونکہ اول تو خود چمکدار چیز ہے پھر جب اس میں لہریں پڑتی ہوں تو لمعان کبھی دو بالا ہو جاتا ہے اور کبھی ایک لمحہ کے لئے گم ہو جاتا ہے اور یہ آفتاب یا چاند کی روشنی سے بخوبی نمودار ہے۔ اور سنجاف کی بھی لطافت ہے کہ جہاں عکس روشنی کا پڑتا ہے وہاں چمک زیادہ دکھائی دیتی ہے اور جہاں اس کی لپیٹوں کا سایہ پڑ جاتا ہے جیسے بہتے پانی میں لہروں کا وہاں کم۔ یہاں تشبیہ موج اور لمعان میں ہے اور اس کیفیت میں بھی کہ وہ لمعان یا چمک کبھی کم دکھائی دیتی ہے کبھی زیادہ۔ جب تک یہ تمام صفات ذہن میں حاضر نہ ہوں تشبیہ درست نہیں ہو سکتی۔وجہ تشبیہ کبھی محض حرکت میں ہوتی ہے۔ مگر ضرور ہے کہ اس میں اختلاط حرکتوں کا ہو، یعنی جیسی حرکت مشبہ میں ہو ویسی ہی مشبہ بہ میں ہو۔ اس کو اختلاط حرکات کہتے ہیں۔ ذوق،نفس کی آمد و شد ہے نماز اہل حیاتجو یہ قضا ہو تو اے غافلو قضا سمجھونفس کی آمد و شد کو نماز کے ساتھ تشبیہ ہے یعنی جس طرح نماز میں قیام و سجود ہوتا ہے، ایسا ہی ایک زندہ انسان کا نفس کبھی اوپر کو آتا ہے اور کبھی نیچے کو جاتا ہے۔ پس جب تک دونوں کی حرکتوں کا باہم اختلاط نہ ہوگا، وجہ تشبیہ پیدا نہیں ہو سکتی۔غرض تشبیہاب بحث اس سے کی جائے گی کہ تشبیہ سے کیا غرض ذہن کو ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ تشبیہ کی غرض اکثر و بالعموم مشبہ کی طرف راجع ہوتی ہے یعنی تشبیہ سے اکثر یہ غرض ہوتی ہے کہ مشبہ کا حسن یا قبح یا کوئی اور امر بیان کیاجائے لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ غرض مشبہ بہ کی طرف راجع ہوتی ہے۔میرے خیال میں اغراض تشبیہ کو سمجھنا اور ان پر حاوی ہونا شاعروں کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اس لئے اس پر ذرا وضاحت سے کہا جائے گا۔ غرض اول یعنی مشبہ کا حسن یا قبح وغیرہ واضح کیا جائے کئی قسم پر ہے۔ اول یہ کہ غرض تشبیہ سے اس امر کا بیان ہو کہ مشبہ کا وجود ممکن ہے اور یہ امر وہاں ہوتا ہے جہاں اس کے ممتنع ہونے کا ادعا بھی ہو سکتا ہو۔ ذوق کے یہ دو شعر اس کی مثال ہیں،تجھ سے دیکھا سب کو اور تجھ کو نہ دیکھا جوں نگاہتو رہا آنکھوں میں اور آنکھوں میں پنہاں ہی رہاعلم ہے کچھ اور شے اور آدمیت اور شےلاکھ طوطے کو پڑھایا پھر بھی حیواں ہی رہابغرض اختصار صرف اول شعر کی شرح کی جائے گی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ معشوق باوجود آنکھوں میں ہونے کے آنکھوں سے پوشیدہ ہے اور کہہ سکتے ہیں کہ یہ امر ممتنع ہے کیونکہ جو شے آنکھوں سے اتنی قریب ہو کہ خود آنکھوں میں رہے اور پھر دکھائی نہ دے، یہ بعید ہے۔ لیکن جب اسے یعنی معشوق کو نگاہ سے تشبیہ دی تو وہ دعویٰ ثابت اور اس کا امکان معلوم ہو گیا۔دوسرے یہ کہ مشبہ کا حال بیان کرنا مقصود ہو جیسے ایک کپڑے کو دوسرے کپڑے سے سیاہی یا سفیدی میں تشبیہ دی جائے۔ اس قسم میں مشبہ بہ میں وجہ شبہ بالکل ظاہر اور معروف ہونی چاہئے تاکہ مشبہ کا حال کمال وضاحت کے ساتھ ظاہر ہو جائے۔ نظیر سودا کا یہ شعر ہے جو آسمان کی منزلت میں ہے،رکھتا ہے پر غرور کو جوں نیزہ سر بلندجوں جادہ خاکسار کو دے ہے زمیں پہ ڈالپر غرور کو سر بلند رکھنے اور خاکسار کو زمیں پر ڈالنے کا حال نیزہ اور جادہ کی تشبیہ سے نہایت واضح ہو گیا۔ تیسرے یہ کہ مشبہ کے حال کی مقدار بیان کرنا مقصود ہو، زیادتی اور قوت و ضعف میں، جیسے کالے کپڑے کو سیاہی کی شدت میں کوے کے پر سے تشبیہ دیں یا سفید کپڑے کو برف سے یا زلف معشوق کو عمر خضر سے درازی کی زیادتی میں۔ چوتھے یہ کہ تشبیہ دینے سے غرض یہ ہو کہ مشبہ کاحال سامع کے دل نشیں کیا جائے، مثلاً سعی لا حاصل کوپانی پر کھنچی ہوئی لکیر سے تشبیہ دیں۔ چونکہ لکیر کابے فائدہ ہونا اور مٹ جانا ظاہر ہے اس لئے جب اس سے سعی کو تشبیہ دیں گے تو اس کا بے سود ہونا خوب ذہن نشیں ہو جائے گا۔ اس میں ایک فائدہ بھی ہے اور استدلالیوں کے بموجب ضرور یہی تشبیہ کا موجد ہوا ہوگا۔ جاننا چاہئے کہ انسان کا نفس عقلی کی نسبت حسی کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے۔ اسی قبیل سے ہوگا اگر کسی شخص کے ا قرار واثق کو پتھر کی لکیر سے تشبیہ دیں، راقم کا شعر ہے،منہ سے جو کہہ دیا سمجھو اسے پتھر کی لکیرفرق اس میں نہ کبھی بال برابر ہوگاپانچویں یہ غرض تشبیہ کی ہوتی ہے کہ سننے والے کی نظر میں مشبہ کی برائی یا بھلائی آئینہ ہو جائے جیسے دانتوں کی تشبیہ موتیوں سے، ہونٹوں کی یاقوت سے یا بد صورت کی دیو یا بھوت سے۔ چھٹے یہ کہ مشبہ کا نادر اور طرفہ ہونا ثابت ہو جائے یا مشبہ کی ایسی صورت بیان کی جائے جو موافق عادت کے محال ہو۔ مثلاً یہ شعر،چہرہ مہروش ہے ایک کاکل مشک فام دوحسن بتاں کے دور میں ہے سحر ایک شام دودو شام میں ایک سحر کا ہونا طرفہ اور نادر ہے اور یہ بیشتر تشبیہ وہمی و خیالی میں پایا جاتا ہے۔یہ نکتہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب مشبہ کے حال کو سامع کے خاطر نشیں کرنا منظور ہو تو لازم ہے کہ وجہ شبہ اکمل اور اشہر ہو۔ کس واسطے کہ طبیعت کامل اور مشہور کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے۔ تشبیہ کی بنیاد اگر چہ غوامض پسندی، دقت آفرینی، جدت پسندی اور تحسین کلام پر ہے لیکن اس کی علت غائی قصور اظہار حقیقت ہے۔ ذیل کی تاریخی مثال سے اس کی وضاحت ہوگی جو مولانا شبلی مرحوم کے شعر العجم سے لی گئی۔لکھا ہے حسان ابن ثابت کے چھوٹے بچے کوایک دفعہ بھڑ نے کاٹ کھایا۔ چہرہ پر ورم ہو گیا۔ حسان کو خبر ہوئی۔ لڑکے سے پوچھا کس جانور نے کاٹا؟ یہ لڑکا کچھ جواب نہ دے سکا کیونکہ یہ حقیقت اس پر ظاہر نہ تھی کہ جس جانور نے اسے کاٹا اس کو زنبور کہتے ہیں۔ پھر حسان نے پوچھا کہ وہ کس قطع کا جانور تھا۔ بچہ بول اٹھا، ’’کانہ ملتفا ببرد۔‘‘ یعنی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ’’وہ دھار ی دار چادروں میں لپٹا ہوا ہے۔‘‘ بھڑوں کے پروں پر رنگین خطوط ہوتے ہیں اس لئے اس کو دھاری دار چادر سے تشبیہ دی۔ حسان سمجھ گیا کہ بھڑ نے کاٹا۔ اس سے دو امر پایہ ثبوت کو پہنچے۔ ایک یہ کہ جب ہم حقیقت حال کے اظہار میں قاصر ہوتے ہیں تو تشبیہ سے کام لیتے ہیں اور دوسرے یہ کہ تشبیہ اصل حقیقت کو ظاہر کر دیتی ہے۔ اس کے ساتھا اغراض تشبیہ کی بحث کو ختم کیا جاتا ہے۔اقسام تشبیہاب مجمل طور پر چند اقسام تشبیہ کا ذکرمع مثالوں کے کریں گے۔ تشبیہ متعدداس کابیان آ چکا ہے۔ یہ دو قسم ہے، ایک متعدد حسی جیسے کہیں ’’یہ بیر سیب کی مانند ہے۔‘‘ یعنی رنگ مزے اور بو میں اور یہ تینوں وجوہ تشبیہ ہیں اور حسی ہیں۔ دوسرے متعدد عقلی، جیسے کہیں کہ فلاں طبیب بقراط ہے، یعنی تیزی فہم، تشخیص مرض، معالجہ وغیرہ میں۔تشبیہ مرکب میں تمام اجزا مشبہ بہ کے لئے لازمی ہیں، ورنہ تشبیہ درست نہ ہوگی، مگر تشبیہ متعدد میں اس کی قید نہیں۔ اسے کبھی تشبیہ ناقص بھی کہہ دیتے ہیں۔ تشبیہ متعدد میں کبھی ایک طرف مرکب اورایک مفرد ہوتی ہے، ذوق،تشبیہ ناقصنہیں یہ شیشہ مے ہے کسی میخوار کا دلمحتسب دیکھ نہ کر دل شکنی، خوب نہیںشیشہ کو صورت اور علوے مرتبت میں دل کے ساتھ تشبیہ ہے۔ چنانچہ دوسرے مصرعے میں بلاحظ علوے مرتبت اس کے توڑنے سے امتناع واقع ہوا۔ پس صورت تو حسی ہے مگر بلندی رتبہ عقلی۔سب کا اس پر اتفاق ہے کہ امور عامہ کو جو تمام موجودات میں بدیہی الاشتراک ہیں با ہم تشبیہ دینا لطف نہیں پیدا کرتا۔ مثلاً کوئی کہے، فلاں شخص بندہ خدا ہے۔ ہر چند دونوں وجود میں شریک ہیں لیکن یہ تشبیہ ٹھک نہیں کیونکہ تشبیہ میں ضرور ہے کہ اوصاف مخصوص بیان کئے جائیں کیونکہ اس موقع پر خصوصیت اوصاف ملحوظ ہے۔ اس لئے تلمیح یا تمسخر کے طور پر کسی بخیل کو یہ کہنا کہ ’وہ حاتم ہے‘ درست ہوتا ہے بلکہ ایسی تشبیہ کو تشبیہ بلیغ کہنا چاہئے، کیونکہ تشبیہ میں خصوصیت اوصاف ملحوظ ہے۔ اس وجہ سے طبیب کو مسیحا اور رہبر کو خضر سے تشبیہ دینا ابلغ تشبیہات ہے۔ علاوہ ازیں مقامات شعری میں اس قسم کے کلام قابل اعتراض نہیں۔ جیسے بخیل کو مزاحاً حاتم کہہ دینا یا دشمن کو مہربان کہنا بھی تعریف میں داخل ہے۔ ذوق ؔ فرماتے ہیں،کہاں ہم اور کہاں غم ہم کو غم سے کچھ غرض مطلبمگر اے حضرت عشق آپ نے یہ مہربانی کییہاں حضرت اور مہربانی صریح بطریق تعریض ہیں۔تشبیہ وقوعی و تشبیہ غیر وقوعییہ دونوں مشبہ کی طرف سے ہوتی ہیں کیونکہ وہ اصل ہے۔ اگر اس کا وقوع یا لا وقوع متحقق ہوگا تو اس کا بھی ہوگا۔ یہ اس طرح ہوگا کہ اگر مشبہ بہ کا وقوع میں آنا غیر ممکن ہے تو اس کے ساتھ کوئی ایسا لفظ ذکر کر دیں جس سے اس کا موقع میں آنا ممکن ہو جائے تو یہ ایک عجیب بات ہو جاتی ہے اور ایک قسم کی ندرت پیدا ہو جاتی ہے۔ مثلاً مرزا غالب کا مطلع ہے۔قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہواخط جام مے سراسر رشتہ گوہر ہواذیل کی تفسیر سے مرزا کا استاد فن ہونا کس وثوق کے ساتھ ثابت ہوتا ہے۔ قاعدہ ہے کہ پیالہ یا گلاس وغیرہ ظروف نوشیدنی میں اصل ساخت یا نقاشی کے خطوط مدورا ندر کے دور میں ہوتے ہیں۔ آپ نے چینی کے برتنوں میں اکثر ایسا دیکھا ہوگا۔ اگر فرض کیجئے کہ بلور کے پیالوں یا گلاسوں میں ایسے مدور خطوط نہیں پائے جاتے، یوں ہی سہی مگر مشاہدہ شاہد ہے کہ جب کوئی سیال چیز چینی یا بلور کے ایک بالکل سادے پیالے میں ڈالی جائے توخود وہ چیز اس پیالہ میں اپنی حد سطح سے ایک قسم کا خط نشان پید اکردیتی ہے۔ لیجئے خط جام مے کا ثبوت بہم پہنچ گیا۔ اب ایک اور بات دیکھئے جب پیالے میں شراب ڈالی جاتی ہے تو فوراً دورانی خط پیدا ہو جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اسی وقت اس کے دورانی خط میں بلبلے مسلسل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کی سائنٹفک وجہ یہ ہے کہ یہ صداقت بدیہی ہے کہ ہر خلا میں ہوا ہوتی ہے اور ایک خلا میں سے بھاری چیز ہلکی چیز کو نکال دیتی ہے۔ پیالہ میں دورانی خط کے ملحق یہ بلبلے ہوا کے اس بقیہ کو اپنے میں لئے ہوئے ہیں جو متن بطن سے خارج کر دی گئی۔حواشی کی ہوا کو پیالہ کی دیوار سے ایک قسم کی پشت پناہ ملی، اس لئے وہ مادہ مائی یعنی شراب سے ایک مدت خفیف کے لئے آمادہ مقابلہ ہو گئی اور شاعر کے ذہن رسا کے لئے سلک مروادید سی بن گئی۔ مگر سائنس نے کہا نہیں ابھی بلبلوں کا وہ حلقہ رشتہ گوہر نہیں ہوا کیونکہ موتی جسم جامد ہے اور بلبلہ جامد نہیں۔ شاعر پہلے ہی سائنس کی چوٹ بچانا چاہتا تھا۔ اول مصرعہ میں حیرت اور نفس پرور کو رکھ دیا۔ اس پر سائنس نے تو واہ واہ کہہ دی مگر فن نے اب بھی صاد نہیں کھینچا اور تیوری چڑھا کر فرمایا کہ لڑی کے سا تھ تشبیہ جب پوری ہو کہ وہ دانہ دانہ ہو، ااور یہ غیر ممکن الوقوع ہے۔ مگر استاد نے لفظ قطرہ کی طرف اشارہ کیا جس سے امکان وقوع ذہن نشیں ہوگیا۔ ایسی تشبیہات کا نباہنا سخت دشوار ہے۔ مبتدی کو ان ہفت خوانوں میں قدم نہ رکھنا چاہئے۔اظہار المطلوبوہ قسم تشبیہ کی ہے کہ متکلم کے نزدیک مشبہ بہ اہم ہوتا ہے جیسے بھوکا بدر کامل کو یا مہر نصف النہار کو روٹی سے تشبیہ دیتا ہے۔ ظفر فرماتے ہیں،تنور چرخ سے لیتے گرسنے کب کے اتارذرا بھی لگتی اگر قرص آفتاب میں سیخقرص مشبہ بہ ہے اور آفتاب مشبہ۔ متکلم کے نزدیک روٹی اہم تھی اس لئے اسی کو مشبہ بہ بنایا۔تشبیہ تسویہوہ ہے جس میں مشبہ بہ تنہا اور مشبہ متعدد ہوتا ہے جیسے یہ کہیں کہ میرا روز فراق اور تیری زلف برسات کی رات کی سی ہے۔تشبیہ جمعوہ ہے جس میں اس کا الٹ ہو یعنی مشبہ تنہا اور مشبہ بہ متعدد ہو، جیسے ذوق کے اس شعر میں،مژہ پیکاں کا ہے ٹکڑا کہ سری کا ٹکڑامکھڑا ہے چاند کا ٹکڑا کہ پری کا ٹکڑاتشبیہ با اعتبار وجہ کے کبھی تمثیل ہے، ذوق،بد خصلتوں کو کرتا ہے بالا نشیں فلکاونچی ہے آشیانہ زاق و زغن کی شاخیا ناسخ کا یہ شعر،جو کہ ظالم ہے، وہ ہرگز پھولتا پھلتا نہیںسبز ہوتے کھیت دیکھا ہے کبھی شمشیر کایہ طریقہ اردو میں کم رائج ہے، فارسی کے شعر میں مرزا محمد علی صائب اور ہندوستان میں ملا طاہر غنی نے اس کو بہت برتا ہے۔ اردو میں سب سے زیادہ ناسخ نے پھر ذوق نے اسے استعمال کیا۔ بعض اس طرز کو پسند نہیں کرتے کیونکہ ان کی طبیعت غوامض پسند ہوتی ہے اور تمثیل میں آسانی سے بات بن جاتی ہے۔ مرزا غالب ان میں سے ایک ہیں۔تشبیہ مجملمیں وجہ تشبیہ بیان نہیں کی جاتی جیسے،ترے سونے کے لئے مہ پارہمیری آنکھوں کا بنے گہوارہتشبیہ جو گہوارہ کو آنکھ سے ہے ظاہر ہے مگر بیان نہیں کی۔ کبھی یہ تشبیہ خفی ہوتی ہےتشبیہ مفصلوہ ہے جس میں وجہ تشبیہ مذکور ہومیر حسنؔ،وہ پیٹھ اس کی شفاف آئینہ دارپیٹھ کو شفافی اور صفائی میں آئینہ سے تشبیہ ہے جو ظاہر ہے۔تشبیہ قریب مبتذلیہ با اعتبار وجہ کے ہے۔ اس کی دوسری قسم کو غریب بعید کہتے ہیں۔ اس میں بہ سبب ظہور وجہ کے ذہن سامع کا مشبہ سے مشبہ بہ کی طرف بدون دقت فکر انتقال کر جاتا ہے، جیسے باپ کو بیٹے کے ساتھ صورت شکل میں تشبیہ دیں۔ بہ سبب قربت مناسبت کے ذہن بیٹے سے بہت جلد باپ کی طرف چلا جاتا ہے اور باپ بلا دقت فکر ذہن میں آ جاتا ہے۔ کبھی مطلق حضور مشبہ بہ کا ہوتا ہے بوجہ اس کے کہ حس میں تکرار پائی جاتی ہے اور تکرار حس کے یہ معنی ہیں کہ مشبہ بہ بار بار محسوس ہوتا ہے، مثلا آفتاب کو آئینہ مصقل کے ساتھ تشبیہ دیں۔ اس وجہ سے کہ وہ بھی گول اور روشن ہوتا ہے اور یہ بھی۔ اور دونوں اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔ لہذا قرب مناسبت اور تکرار حس سے تفصیل اورتفصیل سے فقدان غرابت پیدا ہو جاتا ہے حس سے ابتذال پیدا ہوتا ہے۔غریب بعیدما سبق کی ضد ہے۔ یہاں تو مشبہ بہ میں بہت سی تفصیل ہوتی ہے جیسی غالب کے سونے روپے کے چھلوں اورمیر حسن کے دھان کے کھیت والے شعر میں، یعنی مشبہ بہ امور چند در چند سے مرکب ہو یا کہ حصول اور حضور مشبہ بہ کامشبہ کے حضور کے وقت بہ سبب بعد مناسبت کے بطریق ندرت ہوتا ہے، یعنی مشبہ ذہن میں حاضرہو جاتا ہے تو مشبہ بہ کو بڑے خوض و فکر کے ساتھ ذہن نشین کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ذوق،مرغ دل نرگس میگوں کی ہے مژگاں میں اسیرتازہ مضمون ہے جو باندھوں قفس جام شرابجام شراب کو قفس سے تشبیہ نہایت بعید ہے۔ جب تک کہ لحاظ نرگس میگوں (مطلق نرگس نہیں) کا اس حیثیت سے نہ کیا جائے کہ اس کی مژگاں میں مرغ دل اسیر ہو، اس کا سمجھنا دشوار ہے۔ اس شعر میں کئی تشبیہیں ہیں۔ دل کو مرغ سے چشم کو بطور استعارہ نرگس سے اور نرگس کے ساتھ میگونی کی قید ہے۔ ان امور کے لحاظ سے نرگس میگوں کو جام شراب سے تشبیہ ہے اوریہ تشبیہ بدیع ہے۔ یعنی بعید بھی ہے اور غریب بھی۔ یہاں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ اساتذہ متاخرین کی اصطلاح میں مبتذل اس مضمون کوکہتے ہیں کہ تشبیہ مجمل یا مفصل کو بہت سے لوگ باندھیں چنانچہ معشوق کے قد کو سرو سے، عارض کو گل اور دانتوں کو موتی سے سب تشبیہ دیتے آئے ہیں۔تشبیہ مشروطوہ ہے کہ مشبہ یا مشبہ بہ دونوں کو کسی شرط وجودی یا عدم کے ساتھ مقید کریں،لب کو ترے ہم عقیق کہتےگر آب حیات اس میں ہوتا سرخی اور جانفزائی یہ صفات لب معشوق میں مان لئے۔ عقیق میں سرخی تو ہے لیکن دوسری صفت معدوم۔ اس لئے اس میں آب حیات کے وجود کی شرط لگا دی۔تشبیہ اضمارکبھی ایک چیز کو دوسری سے تشبیہ تو دیتے ہیں مگر ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تشبیہ دینا مقصود نہیں مگر تشبیہ فی الواقع ہوتی ہے،گل اگر تم ہو تو ہوں کس لئے میں ہمرہ خارشعلہ اگرتم ہو تو کیا جلنے سے مجھ کو سروکاراس قسم کی تشبیہ میں اتحاد طرفین کا دعویٰ ہوتا ہے۔ مشبہ بہ اور مشبہ گویا آپس میں ایک ہی ہیں اور جب خواص مشبہ بہ کے مشبہ میں پائے جاتے ہیں تو وہ اتحاد تشبیہی زائل ہو جاتا ہے اور فی الواقع تشبیہ دینی منظور ہوتی ہے ورنہ لطافت معنوی ظاہر نہیں ہوتی تاکہ ایہام عدم قصد تشبیہ کا اعلان بخوبی ہو جائے۔آپ نے دیکھا کہ تشبیہ مشروط اور تشبیہ اضمار کتنی قریب قریب جاتی ہیں مگر ان میں ایک باریک فرق ہے وہ یہ کہ مشروط میں شرط کی قید مشبہ اور مشبہ بہ دونوں میں ملحوظ ہوتی ہے اور اضمار میں شرط کا لحاظ نہیں ہوتا بلکہ تمام جملے کے ساتھ شرط کا علاقہ ہوتا ہے، علاوہ بر ایں اضمار میں شرط کا جواب وجوباً کلمہ استفہام کے ساتھ آتا ہے۔تشبیہ تفضیلوہ یہ کہ پہلے ایک چیز کو دوسری چیز سے تشبیہ دیں اور پھر مشبہ کو مشبہ بہ پر تفضیل دیں۔ تفضیل وجہ شبہ بیان نہیں کرتی تاکہ ایہام ہو جائے کہ مشبہ میں مشبہ بہ کے تمام اوصاف پائے جاتے ہیں۔ شعر،تو مسیحا ہے بلکہ اس کو بھیتیرے لب سے ہے مایہ اعجازتو مشبہ ہے اور مسیحا مشبہ بہ، وجہ شبہ دونوں میں احیائے موتی ہے جو مذکور نہیں اور ترقی کی وجہ لبوں کا فیض دینا ہے یہ اور وجہ شبہ دونوں ایک نہیں۔نوٹ یہ بھی اسی قبیل سے ہے کہ اول دعویٰ کریں کہ مشبہ مشبہ بہ کی جنس سے ہے پھر مشبہ کو مشبہ بہ پر ترجیح دیں۔ یہ تشبیہ الطف اس صورت میں ہوتی ہے کہ اضمار بھی اس میں کیا جائے یعنی ظاہراً معلوم ہو کہ تشبیہ دینا مقصود نہیں۔تمام رات ہوئی کر گیا کنارا چاندلو اترو بام سے تم جیتے اور ہارا چاندپہلے دعویٰ کیا کہ تم اور چاند یکساں ہو۔ پھر رات بھر بمقابل ہم دگران کا امتحان کیا۔ آخر شب چاند کو ناقص اور معشوق کو کامل ٹھہرایا۔ ظاہراً معلوم نہیں ہوتا کہ متکلم نے اس میں تشبیہ کا قصد کیا بھی ہے۔تشبیہ کے اور بھی کئی اقسام ہیں۔ مثلاً تشبیہ مؤکد و غیر مؤکد وغیرہ وغیرہ، مگر بہ خوف طوالت ان کے ذکر کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ایک اور ضروری بات بتانی ہے قبل اس سے کہ اس بحث کو ختم کروں۔ یاد رہے کہ تشبیہ اس جگہ متحقق ہوتی ہے جہاں مشبہ بہ باعتبار وجہ شبہ، مشبہ سے کامل تر ہو، خواہ از روئے ادعا خواہ حقیقتاً اور جہاں وجہ شبہ میں مشبہ اورمشبہ بہ دونوں کی مساوات مراد ہو اور یہ مقصود نہ ہو کہ ایک کامل ہے اور دوسرا ناقص عام ہے تو وہاں تشبیہ نہیں ہو سکتی، اور اس کا ترک کرنا ہی انسب ہے، کیونکہ تشبیہ میں ایک کی زیادتی اور ایک کے نقصان کا قصد ہوتا ہے جہاں مساوات کا قصد ہو اسے تشابہ کہتے ہیں یعنی ایک چیز کا دوسری چیز کے مشابہ ہونا۔ تشبیہ اور تشابہ کے امتیاز باہمی کا خیال رکھنا چاہئے۔ مرزا سودا کے ان اشعار میں تشابہ ہے تشبیہ نہیں،جس کے تو پاس نہ ہو وے تو اسے عالم میںمجلس و شادی و تنہائی و غم چاروں ایک کر دیا پل میں کرشمہ نے تری آنکھوں کےمسجد و میکدہ و دیر و حرم چاروں ایکیہاں تشبیہ مجلس کی تنہائی سے اور شادی کی غم سے منظور نہیں بلکہ ان کی مساوات مقصود ہے۔ غالباً ذیل کے اشعار تشابہ کی واضح تر مثال ہیں،تیرے روئے عرق آلودہ اور کانوں کے موتی کابیاں کیا کیجئے ہے لطف دونوں میں برابر کاگہر ہے تیرے کانوں میں دیا قطرہ عرق کا ہےیہ ہے قطرہ عرق کا یا کہ ہے دانہ یہ گوہر کاکبھی ایک لطیف مبالغہ کو غلطی سے تشبیہ سمجھ لیا جاتا ہے،آتش غم ایسی کچھ بھڑکی کہ پل میں ہو گیاداغ دل سے آفتاب روز محشر آشکاریہاں داغ دل کی سوزش میں مبالغہ منظور ہے۔ یعنی دل کا داغ جلن میں اس مرتبہ کو پہنچا کہ قیامت کے دن کا آفتاب بن گیا جو روئے زمین سے صرف سوا نیزے اوپر ہوگا۔ پس ظاہر ہے کہ کس مرتبہ تپش اور سوزش اس میں ہوگی۔ بادی النظر میں یہ شبہ ہوتا ہے کہ داغ دل کو آفتاب سے تشبیہ دی ہے لیکن چونکہ بطریق تجرید کے ہے اس لئے تشبیہ نہیں۔ تجرید علم بدیع کی ایک اصطلاح ہے جس کے ذکر کی یہاں ضرورت نہیں۔تشبیہ اور دیگر صنائع کی کماحقہ واقفیت کے علم بیان کے ابتدائی رسالوں کے مطالعہ کے بعد ایسی منتہی الفن کتب کا دیکھنا اور سمجھنا ضروری ہے جیسے مصطلحات الشعرا از خان آرزوؔ، مصطلحات وارستہ، نہر الفصاحت قتیلؔ، حدائق البلاغت، اسرارالبلاغت مصنفہ شیخ عبد القادر جرجانی، کتب مصنفہ حکیم سکا کی، کتب ظہوری عروضی وغیرہ وغیرہ۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B4%D8%A8%DB%8C%DB%81"} {"title": "تشنہ لب ہوں مدتوں سے دیکھیے", "poet_page": "مصنف:محمد علی جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تشنہ لب ہوں مدتوں سے دیکھیے\nکب در مے خانۂ کوثر کھلے\n\nطاقت پرواز ہی جب کھو چکی\nپھر ہوا کیا گر ہوا میں پر کھلے\n\nچاک کر سینہ کو پہلو چیر ڈال\nیوں ہی کچھ حال دل مضطر کھلے\n\nرات تلچھٹ تک نہ چھوڑی تب کہیں\nراز ہائے بادہ و ساغر کھلے\n\nلو وہ آ پہنچا جنوں کا قافلہ\nپاؤں زخمی خاک منہ پر سر کھلے\n\nہوں جو کثرت ہی کے قائل ان پہ کیا\nراز فتح سبط پیغمبر کھلے\n\nرونمائی کے لیے لایا ہوں جاں\nاب تو شاید چہرۂ انور کھلے\n\nاب تو کشتی کے موافق ہے ہوا\nناخدا کیا دیر ہے لنگر کھلے\n\nیہ نظر بندی تو نکلی رد سحر\nدیدہ ہائے ہوش اب جا کر کھلے\n\nاب کہیں ٹوٹا ہے باطل کا طلسم\nحق کے عقدے اب کہیں ہم پر کھلے\n\nاب ہوا ہے ماسوا کا پردہ فاش\nمعرفت کے اب کہیں دفتر کھلے\n\nفیض سے تیرے ہی اے قید فرنگ\nبال و پر نکلے قفس کے در کھلے\n\nجیتے جی تو کچھ نہ دکھلایا مگر\nمر کے جوہرؔ آپ کے جوہر کھلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B4%D9%86%DB%81_%D9%84%D8%A8_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AF%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92"} {"title": "تصور آپ کا ہے اور میں ہوں", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تصور آپ کا ہے اور میں ہوں\nیہی اب مشغلا ہے اور میں ہوں\n\nمری ضد سے ملا پھر دشمنوں سے\nبس اب وہ بے وفا ہے اور میں ہوں\n\nوہ ہو اور میں ہوں اور کوئی نہ ہو غیر\nیہی ہر دم دعا ہے اور میں ہوں\n\nتصور میں ہیں پہروں ان سے باتیں\nشکایت کا مزا ہے اور میں ہوں\n\nتمہاری خو ہے رنجش ہر گھڑی کی\nیہ جھگڑا روز کا ہے اور میں ہوں\n\nالٰہی وصل ہے یا خواب ہے یہ\nحصول مدعا ہے اور میں ہوں\n\nہزاروں غم تو دیکھے اس سے مل کر\nوہی پھر حوصلا ہے اور میں ہوں\n\nسہے کیا کیا ستم اور اب تلک بھی\nتمنا ہے وفا ہے اور میں ہوں\n\nگئے وہ تو جہاں جانا تھا ان کو\nاب ان کا نقش پا ہے اور میں ہوں\n\nہر اک سے حال دل کہتا ہوں اپنا\nیہ چرچا جا بہ جا ہے اور میں ہوں\n\nدو عالم کی خوشی سے کچھ نہیں کام\nفقط اک غم ترا ہے اور میں ہوں\n\nوہ ہے اور عہد نامے ہیں عدو سے\nنصیبوں کا لکھا ہے اور میں ہوں\n\nغم دوری قیامت ہے کہ ہر دم\nاجل کا سامنا ہے اور میں ہوں\n\nخدا کی جنتیں ہیں اور ہے خلق\nصنم کوچہ ترا ہے اور میں ہوں\n\nسحر ہوتے ہی جاتے ہی کسی کے\nوہی آہ و بکا ہے اور میں ہوں\n\nنظامؔ اس بت کے غم میں ہو تسلی\nبس اک ذات خدا ہے اور میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "تصور باندھتے ہیں اس کا جب وحشت کے مارے ہم", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تصور باندھتے ہیں اس کا جب وحشت کے مارے ہم\nتو پھر کرتے ہیں آپ ہی آپ کیا کیا کچھ اشارے ہم\n\nکہے ہے یوں دل مضطر سے اس بن جان غم دیدہ\nچلو تم رفتہ رفتہ آتے ہیں پیچھے تمہارے ہم\n\nکئی بار اس نے دیکھا آج چشم قہر سے ہم کو\nسزا وار عقوبت تو ہوئے اے بخت بارے ہم\n\nنہ مانی دل نے اپنی اور نہ ہم نے بات ناصح کی\nہمیں کہہ کہہ کے ہارا وہ اسے کہہ کے ہارے ہم\n\nوہ جب آئینہ دیکھے ہے تو کیا کیا مسکراتا ہے\nسمجھ کر یہ کہ یعنی ہیں قیامت پیارے پیارے ہم\n\nملا لطف سخن کیا خاک ہم کو اس کی محفل میں\nکہ چپ بیٹھے رہے جوں نقش دیوار اک کنارے ہم\n\nہوئے ہیں چاہنے والے تمہارے سیکڑوں پیدا\nیہ سچ ہے جی کہ کس گنتی میں ہیں یاں اب بچارے ہم\n\nکسی مہوش کے غم نے کر دیا نا طاقت ایسا ہی\nکہ چھٹتے دیکھتے ہیں اکثر آنکھوں آگے تارے ہم\n\nاٹھا کر آنکھ تو تم دیکھ لو یاں کوئی دیکھے ہے\nذرا قربان ہونے دو ہمیں صدقے تمہارے ہم\n\nکریں کیا آہ اور کس سے کہیں ہم اپنی بے چینی\nکہیں چین اب ترے ہاتھوں نہیں پاتے ہیں پیارے ہم\n\nقرار اک جا نظر آتا نہیں ہے بے قراری میں\nگل بازی کی صورت پھرتے ہیں بس مارے مارے ہم\n\nہمیں کیا خطرۂ جاں ہے کہ ہم ہیں نام کو جرأتؔ\nنہ ہوں پھر کیوں کہ میدان محبت میں اتارے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "تصور تیری صورت کا مجھے ہر شب ستاتا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تصور تیری صورت کا مجھے ہر شب ستاتا ہے\nکبھو پاس آئے ہے میرے کبھو پھر بھاگ جاتا ہے\n\nخدا جانے تجھے اس کی خبر ہے یا نہیں ظالم\nکہ وہ اک آن میں کیا کیا سمیں مجھ کو دکھاتا ہے\n\nبلائیں اس کی میں لیتا ہوں چٹ چٹ اٹھ کے جس ساعت\nمری چالاکیوں کو دیکھے ہے اور مسکراتا ہے\n\nجو اٹھتا ہوں تو کہتا ہے \"کدھر جاتا ہے ایدھر آ\"\nجو بیٹھوں ہوں تو کہتا ہے کہ \"میں جاتا ہوں آتا ہے\"\n\nجو روتا ہوں تو کہتا ہے تو کیوں روتا ہے دیوانے\nجو سر زانو پہ رکھتا ہوں تو ہاتھوں سے اٹھاتا ہے\n\nجو جاگوں ہوں تو کہتا ہے \"کہیں اب سو بھی رہ ناداں\"\nجو سوتا ہوں تو چٹکی لے کے اک دل میں جگاتا ہے\n\nکبھی ہو جائے ہے غائب نظر سے بات کے کہتے\nکبھی پھر سامنے ہو کر کھڑا باتیں بناتا ہے\n\nکبھی دکھلائے ہے پنڈے کا لطف اور گات کا عالم\nکبھی نزدیک آ بالوں کی اپنے بو سنگھاتا ہے\n\nغرض اے مصحفیؔ میں کیا کہوں شب تا سحر یو ہیں\nنہ اس کو چین آتا ہے نہ مجھ کو چین آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%B4%D8%A8_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں\nرہی ہے ایک تصویر خیالی روبرو برسوں\n\nہوا مہمان آ کر رات بھر وہ شمع رو برسوں\nرہا روشن مرے گھر کا چراغ آرزو برسوں\n\nبرابر جان کے رکھا ہے اس کو مرتے مرتے تک\nہماری قبر پر رویا کرے گی آرزو برسوں\n\nچمن میں جا کے بھولے سے میں خستہ دل کراہا تھا\nکیا کی گل سے بلبل شکوۂ درد گلو برسوں\n\nاگر میں خاک بھی ہوں گا تو آتشؔ گرد باد آسا\nرکھے گی مجھ کو سرگشتہ کسی کی جستجو برسوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA"} {"title": "تصور ہم نے جب تیرا کیا پیش نظر پایا", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تصور ہم نے جب تیرا کیا پیش نظر پایا\nتجھے دیکھا جدھر دیکھا تجھے پایا جدھر پایا\n\nکہاں ہم نے نہ اس درد نہانی کا اثر پایا\nیہاں اٹھا وہاں چمکا ادھر آیا ادھر پایا\n\nپتا اس نے دیا تیرا ملا جو عشق میں خود گم\nخبر تیری اسی سے پائی جس کو بے خبر پایا\n\nدل بے تاب کے پہلو سے جاتے ہی گیا سب کچھ\nنہ پائیں سینے میں آہیں نہ آہوں میں اثر پایا\n\nوہ چشم منتظر تھی جس کو دیکھا آ کے وا تم نے\nوہ نالہ تھا ہمارا جس کو سوتے رات بھر پایا\n\nمیں ہوں وہ ناتواں پنہاں رہا خود آنکھ سے اپنی\nہمیشہ آپ کو گم صورت تار نظر پایا\n\nحبیب اپنا اگر دیکھا تو داغ عشق کو دیکھا\nطبیب اپنا اگر پایا تو اک درد جگر پایا\n\nکیا گم ہم نے دل کو جستجو میں داغ حسرت کی\nکسی کو پا کے کھو بیٹھے کسی کو ڈھونڈھ کر پایا\n\nبہت سے اشک رنگیں اے جلالؔ اس آنکھ سے ٹپکے\nمگر بے رنگ ہی دیکھا نہ کچھ رنگ اثر پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%B4_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تصوّف", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "یہ حکمتِ ملکوتی، یہ علمِ لاہُوتی\nحرم کے درد کا درماں نہیں تو کچھ بھی نہیں\nیہ ذکرِ نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سُرور\nتری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں\nیہ عقل، جو مہ و پرویں کا کھیلتی ہے شکار\nشریکِ شورشِ پنہاں نہیں تو کچھ بھی نہیں\nخِرد نے کہہ بھی دیا ’لااِلہ‘ تو کیا حاصل\nدل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں\nعجب نہیں کہ پریشاں ہے گفتگو میری\nفروغِ صبح پریشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%91%D9%81"} {"title": "تصویر خیالی", "poet_page": "مصنف:عظیم الدین احمد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جب اندھیرا ہوا ہر سو ہوئی خلقت خاموش\nجب تعقل سے گئی چھوٹ حکومت کی عناں\nمٹ چلا تھا ترے ارمان کا جب جوش و خروش\nصبر کا یاس نے جب آن کے پکڑا داماں\n\nغم کے باعث ہوا جب مثل شب تار دماغ\nدل میں اور عقل میں برپا ہوئی جنگ و تکرار\nلہریں لینے لگا جس وقت تمنا کا چراغ\nیاس کا دیو جب آ کر ہوا سینے پہ سوار\n\nجیب ہستی کے اڑا چاہتے ہی تھے پرزے\nاس گھڑی قلب کے اندر ہوئی تو جلوہ نما\nایسی چمکی تری تصویر خیالی جیسے\nآسماں پر شب تاریک میں تنہا تارا\n\nاے منور کن تاریکیٔ چشم عاشق\nاے مداوا کن آلام دل ہجر نصیب\nاے بہ یک شعبدہ زائل کن خشم عاشق\nاے بظاہر تو بہت دور مگر دل سے قریب\n\nمہر و مہ سے ہے مبارک کہیں تیری تصویر\nچھید سکتیں نہیں بدلی کو شعاعیں ان کی\nایسی ظلمت کو مٹا دیتی ہے تیری تنویر\nجو مٹائے نہ مٹے روشنی ہو کوئی سی\n\nآئے طوفان گرے برق کہ بادل برسے\nتیری الفت کا شجر ٹل نہیں سکتا ہے کبھی\nزلزلہ آئے زمیں کو کہ فلک ٹوٹ پڑے\nپر یہ ممکن نہیں ہو تیری محبت میں کمی\n\nہاں مگر سن لے تو اے حسن کی مے سے سرشار\nخار خار الم ہجر سے ہوں سخت حزیں\nیاں یہ سن لے مرے سرمست ادا خوش گفتار\nگھلتے گھلتے ترے غم میں ہوں میں اب مرگ قریں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "تصویر زلف و عارض گلفام لے گیا", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تصویر زلف و عارض گلفام لے گیا\nمرغان قدس کے لئے گل دام لے گیا\n\nدنیا سے داغ زلف سیہ فام لے گیا\nمیں گور میں چراغ سر شام لے گیا\n\nکی ترک میں نے شیخ و برہمن کی پیروی\nدیر و حرم میں مجھ کو ترا نام لے گیا\n\nکیا کیا دکھائی سیر سفید و سیاہ دہر\nکس کس طرف کو ابلق ایام لے گیا\n\nاعجاز میں نے رجعت خورشید کا کیا\nبالائے بام اس کو سر شام لے گیا\n\nبھٹکے پھرے دو عملۂ دیر و حرم میں ہم\nاس سمت کفر اس طرف اسلام لے گیا\n\nچہلے کے گل چڑھائے کوئی میری قبر پر\nمیں آرزوئے وصل گل اندام لے گیا\n\nپستان نو دمیدہ نے ملوائے خوب ہاتھ\nمیں داغ حسرت ثمر خام لے گیا\n\nدیدار دوستان وطن کا دکھا دیا\nمجھ کو عدم میں ابلق ایام لے گیا\n\nپہنا کفن تو کوچۂ قاتل میں پائی راہ\nکعبہ میں مجھ کو جامۂ احرام لے گیا\n\nراہ عدم میں سیر چراغاں نظر پڑی\nتربت میں داغ غم دل ناکام لے گیا\n\nدوزخ میں جل گیا کبھی جنت میں خوش رہا\nمر کر بھی ساتھ گردش ایام لے گیا\n\nنفرت ہوئی دورنگئ لیل و نہار سے\nمیں صبح و شام اس کو لب بام لے گیا\n\nزیر زمیں غروب ہوا آفتاب آج\nتربت میں داغ بادۂ گلفام لے گیا\n\nتیر ستم سے مل کے اڑا جانب عدم\nپر آپ کے خدنگ سے میں دام لے گیا\n\nمیں جستجوئے کفر میں پہنچا خدا کے پاس\nکعبہ تک ان بتوں کا مجھے نام لے گیا\n\nساقی کے پاس وسعت مشرب نے راہ دی\nمیں کاسۂ فلک عوض جام لے گیا\n\nکچھ لطف عشق کا نہ ملا جیتے جی منیرؔ\nناحق کا رنج مفت کا الزام لے گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D8%B6_%DA%AF%D9%84%D9%81%D8%A7%D9%85_%D9%84%DB%92_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیں", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیں\nکر غور تو اپنے دل میں ذرا تو اور نہیں میں اور نہیں\n\nتسبیح نے جس دم فخر کیا دانوں میں وہیں ڈورے کو دکھا\nزنار نے اس رشتے سے کہا تو اور نہیں میں اور نہیں\n\nاس باغ میں تو اے برگ حنا ہنسنے پہ مرے زخموں کے نہ جا\nرونے میں لہو خنداں ہوں کیا تو اور نہیں میں اور نہیں\n\nہر ایک جواہر بیش بہا چمکا تو یہ پتھر کہنے لگا\nجو سنگ ترا وہ سنگ مرا تو اور نہیں میں اور نہیں\n\nاے شادؔ مرا پتلا جو بنا مل آتش و خاک و آب و ہوا\nہر چار عناصر نے یہ کہا تو اور نہیں میں اور نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تصویر و تصور", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وہ کب کے آئے بھی اور گئے بھی نظر میں اب تک سما رہے ہیں\nیہ چل رہے ہیں، وہ پھر رہے ہیں، یہ آ رہے ہیں وہ جا رہے ہیں\n\nوہی قیامت ہے قد بالا وہی ہے صورت، وہی سراپا\nلبوں کو جنبش، نگہ کو لرزش، کھڑے ہیں اور مسکرا رہے ہیں\n\nوہی لطافت، وہی نزاکت، وہی تبسم، وہی ترنم\nمیں نقش حرماں بنا ہوا تھا وہ نقش حیرت بنا رہے ہیں\n\nخرام رنگیں، نظام رنگیں، کلام رنگیں، پیام رنگیں\nقدم قدم پر، روش روش پر نئے نئے گل کھلا رہے ہیں\n\nشباب رنگیں، جمال رنگیں، وہ سر سے پا تک تمام رنگیں\nتمام رنگیں بنے ہوئے ہیں، تمام رنگیں بنا رہے ہیں\n\nتمام رعنائیوں کے مظہر، تمام رنگینیوں کے منظر\nسنبھل سنبھل کر سمٹ سمٹ کر سب ایک مرکز پر آ رہے ہیں\n\nبہار رنگ و شباب ہی کیا ستارہ و ماہتاب ہی کیا\nتمام ہستی جھکی ہوئی ہے، جدھر وہ نظریں جھکا رہے ہیں\n\nطیور سرشار ساغر مل ہلاک تنویر لالہ و گل\nسب اپنی اپنی دھنوں میں مل کر عجب عجب گیت گا رہے ہیں\n\nشراب آنکھوں سے ڈھل رہی ہے، نظر سے مستی ابل رہی ہے\nچھلک رہی ہے اچھل رہی ہے، پئے ہوئے ہیں پلا رہے ہیں\n\nخود اپنے نشے میں جھومتے ہیں، وہ اپنا منہ آپ چومتے ہیں\nخراب مستی بنے ہوئے ہیں، ہلاک مستی بنا رہے ہیں\n\nفضا سے نشہ برس رہا ہے، دماغ پھولوں میں بس رہا ہے\nوہ کون ہے جو ترس رہا ہے؟ سبھی کو میکش پلا رہے ہیں\n\nزمین نشہ، زمان نشہ، جہان نشہ، مکان نشہ\nمکان کیا؟ لا مکان نشہ، ڈبو رہے ہیں پلا رہے ہیں\n\nوہ روئے رنگیں و موجۂ یم، کہ جیسے دامان گل پہ شبنم\nیہ گرمیٔ حسن کا ہے عالم، عرق عرق میں نہا رہے ہیں\n\nیہ مست بلبل بہک رہے ہیں، قریب عارض چہک رہے ہے\nگلوں کی چھاتی دھڑک رہی ہے، وہ دست رنگیں بڑھا رہے ہیں\n\nیہ موج و دریا، یہ ریگ و صحرا یہ غنچہ و گل، یہ ماہ و انجم\nذرا جو وہ مسکرا دیئے ہیں وہ سب کے سب مسکرا رہے ہیں\n\nفضا یہ نغموں سے بھر گئی ہے کہ موج دریا ٹھہر گئی ہے\nسکوت نغمہ بنا ہوا ہے، وہ جیسے کچھ گنگنا رہے ہیں\n\nاب آگے جو کچھ بھی ہو مقدر، رہے گا لیکن یہ نقش دل پر\nہم ان کا دامن پکڑ رہے ہیں، وہ اپنا دامن چھڑا رہے ہیں\n\nیہ اشک جو بہہ رہے ہیں پیہم، اگرچہ سب ہیں یہ حاصل غم\nمگر یہ معلوم ہو رہا ہے، کہ یہ بھی کچھ مسکرا رہے ہیں\n\nذرا جو دم بھر کو آنکھ جھپکی، یہ دیکھتا ہوں نئی تجلی\nطلسم صورت مٹا رہے ہیں، جمال معنی بنا رہے ہیں\n\nخوشی سے لبریز شش جہت ہے، زبان پر شور تہنیت ہے\nیہ وقت وہ ہے جگرؔ کے دل کو وہ اپنے دل سے ملا رہے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1"} {"title": "تصویر و مُصوّر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "تصویر\nکہا تصویر نے تصویر گر سے\nنمائش ہے مری تیرے ہُنر سے\nولیکن کس قدر نا مُنصفی ہے\nکہ تُو پوشیدہ ہو میری نظر سے!\n\nمُصوّر\nگراں ہے چشمِ بینا دیدہ وَر پر\nجہاں بینی سے کیا گُزری شرَر پر!\nنظر، درد و غم و سوز و تب و تاب\nتُو اے ناداں، قناعت کر خبر پر\n\nتصویر\nخبر، عقل و خِرد کی ناتوانی\nنظر، دل کی حیاتِ جاودانی\nنہیں ہے اس زمانے کی تگ و تاز\nسزاوارِ حدیثِ ’لن ترانی‘\n\nمُصوّر\nتو ہے میرے کمالاتِ ہُنر سے\nنہ ہو نومید اپنے نقش گر سے\nمرے دیدار کی ہے اک یہی شرط\nکہ تُو پِنہاں نہ ہو اپنی نظر سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D9%85%D9%8F%D8%B5%D9%88%D9%91%D8%B1"} {"title": "تصویرِ درد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "نہیں منّت کشِ تابِ شنیدن داستاں میری\nخموشی گفتگو ہے، بے زبانی ہے زباں میری\nیہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں\nیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری\nاُٹھائے کچھ وَرق لالے نے، کچھ نرگس نے، کچھ گُل نے\nچمن میں ہر طرف بِکھری ہُوئی ہے داستاں میری\nاُڑالی قُمریوں نے، طُوطیوں نے، عندلیبوں نے\nچمن والوں نے مِل کر لُوٹ لی طرزِ فغاں میری\nٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سے\nسراپا درد ہوں، حسرت بھری ہے داستاں میری\nالٰہی! پھر مزا کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کا\nحیاتِ جاوداں میری، نہ مرگِ ناگہاں میری!\nمرا رونا نہیں، رونا ہے یہ سارے گُلستاں کا\nوہ گُل ہوں مَیں، خزاں ہر گُل کی ہے گویا خزاں میری\n“دریں حسرت سرا عمریست افسونِ جرس دارم\nز فیضِ دل تپیدنہا خروشِ بے نفَس دارم”\n\nریاضِ دہر میں ناآشنائے بزمِ عشرت ہوں\nخوشی روتی ہے جس کو، مَیں وہ محرومِ مسرّت ہوں\nمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائی\nمَیں حرفِ زیرِ لب، شرمندۂ گوشِ سماعت ہوں\nپریشاں ہوں میں مُشتِ خاک، لیکن کچھ نہیں کھُلتا\nسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گردِ کدُورت ہوں\nیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قُدرت کا\nسراپا نور ہو جس کی حقیقت، مَیں وہ ظلمت ہوں\nخزینہ ہُوں، چھُپایا مجھ کو مُشتِ خاکِ صحرا نے\nکسی کو کیا خبر ہے مَیں کہاں ہوں کس کی دولت ہوں!\nنظر میری نہیں ممنونِ سیرِ عرصۂ ہستی\nمَیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوں\nنہ صہباہوں نہ ساقی ہوں، نہ مستی ہوں نہ پیمانہ\nمَیں اس میخانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوں\nمجھے رازِ دو عالم دل کا آئینہ دِکھاتا ہے\nوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے\n\nعطا ایسا بیاں مجھ کو ہُوا رنگیں بیانوں میں\nکہ بامِ عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میں\nاثر یہ بھی ہے اک میرے جُنونِ فتنہ ساماں کا\nمرا آ ئینۂ دل ہے قضا کے رازدانوں میں\nرُلاتا ہے ترا نظّارہ اے ہندوستاں! مجھ کو\nکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں\nدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویا\nلِکھا کلکِ ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میں\nنشانِ برگِ گُل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گُلچیں!\nتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میں\nچھُپاکر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردُوں نے\nعنادِل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں\nسُن اے غافل صدا میری، یہ ایسی چیز ہے جس کو\nوظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میں\nوطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے\nتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں\nذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے\nدھَرا کیا ہے بھلا عہدِ کُہن کی داستانوں میں\nیہ خاموشی کہاں تک؟ لذّتِ فریاد پیدا کر\nزمیں پر تُو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں\nنہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو!\nتمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں\nیہی آئینِ قدرت ہے، یہی اسلوبِ فطرت ہے\nجو ہے راہِ عمل میں گام زن، محبوبِ فطرت ہے\n\nہوَیدا آج اپنے زخمِ پنہاں کر کے چھوڑوں گا\nلہُو رو رو کے محفل کو گُلستاں کر کے چھوڑوں گا\nجلانا ہے مجھے ہر شمعِ دل کو سوزِ پنہاں سے\nتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا\nمگر غنچوں کی صورت ہوں دلِ درد آشنا پیدا\nچمن میں مُشتِ خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گا\nپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کو\nجو مشکل ہے، تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گا\nمجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغلِ سینہ کاوی میں\nکہ مَیں داغِ محبّت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گا\nدِکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہے\nتجھے بھی صورتِ آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گا\nجو ہے پردوں میں پنہاں، چشمِ بینا دیکھ لیتی ہے\nزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہے\nکِیا رفعت کی لذّت سے نہ دل کو آشنا تو نے\nگزاری عمر پستی میں مثالِ نقشِ پا تو نے\nرہا دل بستۂ محفل، مگر اپنی نگاہوں کو\nکِیا بیرونِ محفل سے نہ حیرت آشنا تو نے\nفدا کرتا رہا دل کو حَسینوں کی اداؤں پر\nمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نے\nتعصّب چھوڑ ناداں! دہر کے آئینہ خانے میں\nیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے بُرا تو نے\nسراپا نالۂ بیدادِ سوزِ زندگی ہو جا\nسپندآسا گرہ میں باندھ رکھّی ہے صدا تو نے\nصفائے دل کو کیا آرائشِ رنگِ تعلّق سے\nکفِ آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نے\nزمیں کیا، آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہے\nغضب ہے سطرِ قرآں کو چلیپا کر دیا تو نے!\nزباں سے گر کِیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصل!\nبنایا ہے بُتِ پندار کو اپنا خدا تو نے\nکُنویں میں تُو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھا\nارے غافل! جو مطلق تھا مقیّد کر دیا تو نے\nہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کی\nنصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کی\n\nدِکھا وہ حسنِ عالم سوز اپنی چشمِ پُرنم کو\nجو تڑپاتا ہے پروانے کو، رُلواتا ہے شبنم کو\nنِرا نظّارہ ہی اے بوالہوس مقصد نہیں اس کا\nبنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشمِ آدم کو\nاگر دیکھا بھی اُس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھا\nنظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کو\nشجر ہے فرقہ آرائی، تعصّب ہے ثمر اس کا\nیہ وہ پھل ہے کہ جنّت سے نِکلواتا ہے آدم کو\nنہ اُٹھّا جذبۂ خورشید سے اک برگِ گُل تک بھی\nیہ رفعت کی تمنّا ہے کہ لے اُڑتی ہے شبنم کو\nپھرا کرتے نہیں مجروحِ اُلفت فکرِ درماں میں\nیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کو\nمحبّت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے\nذرا سے بیج سے پیدا ریاضِ طُور ہوتا ہے\n\nدوا ہر دُکھ کی ہے مجروحِ تیغِ آرزو رہنا\nعلاجِ زخم ہے آزادِ احسانِ رفو رہنا\nشرابِ بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میری\nشکستِ رنگ سے سیکھا ہے مَیں نے بن کے بُو رہنا\nتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میں\nعبادت چشمِ شاعر کی ہے ہر دم باوضو رہنا\nبنائیں کیا سمجھ کر شاخِ گُل پر آشیاں اپنا\nچمن میں آہ! کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہنا\nجو تُو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبّت میں\nغلامی ہے اسیرِ امتیازِ ماوتو رہنا\nیہ استغنا ہے، پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کو\nتجھے بھی چاہیے مثلِ حبابِ آبجو رہنا\nنہ رہ اپنوں سے بے پروا، اسی میں خیر ہے تیری\nاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو! رہنا\nشرابِ رُوح پرور ہے محبت نوعِ انساں کی\nسِکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنا\nمحبّت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے\nکِیا ہے اپنے بختِ خُفتہ کو بیدار قوموں نے\n\nبیابانِ محبّت دشتِ غربت بھی، وطن بھی ہے\nیہ ویرانہ قفس بھی، آشیانہ بھی، چمن بھی ہے\nمحبّت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے، صحرا بھی\nجرَس بھی، کارواں بھی، راہبر بھی، راہزن بھی ہے\nمرَض کہتے ہیں سب اس کو، یہ ہے لیکن مرَض ایسا\nچھُپا جس میں علاجِ گردشِ چرخِ کُہن بھی ہے\nجَلانا دل کا ہے گویا سراپا نُور ہو جانا\nیہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمعِ انجمن بھی ہے\nوہی اک حُسن ہے، لیکن نظر آتا ہے ہر شے میں\nیہ شیریں بھی ہے گویا، بیستوُں بھی، کوہکن بھی ہے\nاُجاڑا ہے تمیزِ ملّت و آئِیں نے قوموں کو\nمرے اہلِ وطن کے دل میں کچھ فکرِ وطن بھی ہے؟\nسکُوت آموز طولِ داستانِ درد ہے ورنہ\nزباں بھی ہے ہمارے مُنہ میں اور تابِ سخن بھی ہے\n“نمیگردید کوتہ رشتۂ معنی رہا کردم\nحکایت بود بے پایاں، بخاموشی ادا کردم”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1%D9%90_%D8%AF%D8%B1%D8%AF"} {"title": "تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے\nمیں رو رہا ہوں تم ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے\n\nمجھے تو اس درجہ وقت رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو\nمگر کچھ اپنے لیے بھی سوچا میں یاد آیا تو کیا کرو گے\n\nابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاق جنوں پہ لیکن\nتمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے\n\nتمہارے جلووں کی روشنی میں نظر کی حیرانیاں مسلم\nمگر کسی نے نظر کے بدلے جو دل آزمایا تو کیا کرو گے\n\nاتر تو سکتے ہو یار لیکن مآل پر بھی نگاہ کر لو\nخدا ناکردہ سکون ساحل نہ راس آیا تو کیا کرو گے\n\nکچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاؤ مرے لہو کی بہار کب تک\nمجھے سہارا بنانے والو میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے\n\nابھی تو دامن چھڑا رہے ہو بگڑ کے قابلؔ سے جا رہے ہو\nمگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کرو گے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B6%D8%A7%D8%AF_%D8%AC%D8%B0%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%B2%DA%A9_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88_%DA%AF%DB%92"} {"title": "تضمین بر اشعار غالب", "poet_page": "مصنف:ز خ ش", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "درد الفت یوں ہی تھا رگ رگ میں ساری ہائے ہائے\nکیوں لگایا پھر وفا کا زخم کاری ہائے ہائے\nتجھ سا بے فکر اور کسی کی غم گساری ہائے ہائے\nدرد سے میرے ہو تجھ کو بے قراری ہائے ہائے\nکیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری؟ ہائے ہائے\n\nکچھ ہنسی تھا شرکت رنج و الم کا حوصلہ\nآہ یہ ایک خوگر ناز و نعم کا حوصلہ\nکیوں کیا بے قوت دل اس ستم کا حوصلہ\nتیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ\nتو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے\n\nتھا مرا غم خوار بن کر پھولنا پھلنا محال\nکٹ گیا آخر نہ تیرا نخل عمر اے نونہال\nآہ ناداں کیوں نہ سوچا میری الفت کا مآل\nکیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال\nدشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے\n\nجیتے جی ہم تم رہے گر یک دل و یکجا تو کیا\nتا دم آخر بھرا گر دم محبت کا تو کیا\nعمر بھر پیماں رہا منت کش ایفا تو کیا\nعمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیا\nعمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے\n\nچھوڑ کر زنداں میں مجھ کو تو نے راہ خلد لی\nتیرے زخم ناوک فرقت سے میں جیتی بچی\nہو چکی بس اعتماد دل کی شیخی کرکری\nخاک میں ناموس پیمان محبت مل گئی\nاٹھ گئی دنیا سے راہ رو رسم یاری ہائے ہائے\n\nوا دریغا تھا دل بیمار غم کو آسرا\nآب تیغ ناز سے اک دن مجھے ہوگی شفا\nحسرت اے شوق جراحت رخصت اے ذوق فنا\nہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہا\nدل پہ اک لگنے نہ پایا زخم کاری ہائے ہائے\n\nغم ہرے کرتی ہے فصل اشک بار برشگال\nمثل قسمت تار ہیں لیل و نہار برشگال\nکب کھلے گا ہائے یہ اب سایہ دار برشگال\nکیسے کاٹوں ہائے میں شب ہائے تار برشگال\nہے نظر خو کردۂ اختر شماری ہائے ہائے\n\nایک دن وہ بھی تھا جب دم بھر کی فرقت تھی محال\nآہ اک دن یہ بھی ہے جب رونما ہے انفعال\nیہ الم کب تک سہوں کب تک نہ ہو جینا وبال\nگوش مہجور پیام و چشم محروم جمال\nایک دل تس پر یہ نا امیدواری ہائے ہائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B6%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1_%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%A8"} {"title": "تضمین بر شعرِ ابوطالب کلیم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "خوب ہے تجھ کو شعارِ صاحبِ یثرِبؐ کا پاس\nکہہ رہی ہے زندگی تیری کہ تُو مسلم نہیں\n\nجس سے تیرے حلقۂ خاتم میں گردُوں تھا اسیر\nاے سلیماں! تیری غفلت نے گنوایا وہ نگیں\n\nوہ نشانِ سجدہ جو روشن تھا کوکب کی طرح\nہوگئی ہے اُس سے اب ناآشنا تیری جبیں\n\nدیکھ تو اپنا عمل، تجھ کو نظر آتی ہے کیا\nوہ صداقت جس کی بے‌باکی تھی حیرت آفریں\n\nتیرے آبا کی نِگہ بجلی تھی جس کے واسطے\nہے وہی باطل ترے کاشانۂ دل میں مکیں\n\nغافل! اپنے آشیاں کو آ کے پھر آباد کر\nنغمہ زن ہے طُورِ معنی پر کلیمِ نکتہ بیں\n\n“سرکشی باہر کہ کردی رامِ او باید شدن\nشعلہ ساں از ہر کجا برخاستی، آنجانشیں\"", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B6%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%A8%D8%B1_%D8%B4%D8%B9%D8%B1%D9%90_%D8%A7%D8%A8%D9%88%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85"} {"title": "تضمین بر شعرِ انیسی شاملو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ہمیشہ صورتِ بادِ سحَر آوارہ رہتا ہوں\nمحبّت میں ہے منزل سے بھی خوشتر جادہ پیمائی\n\nدلِ بے تاب جا پہنچا دیارِ پیرِ سنجر میں\nمیسّر ہے جہاں درمانِ دردِ ناشکیبائی\n\nابھی ناآشنائے لب تھا حرفِ آرزو میرا\nزباں ہونے کو تھی منّت پذیرِ تابِ گویائی\n\nیہ مرقد سے صدا آئی، حرم کے رہنے والوں کو\nشکایت تجھ سے ہے اے تارکِ آئینِ آبائی!\n\nترا اے قیس کیونکر ہوگیا سوزِ درُوں ٹھنڈا\nکہ لیلیٰ میں تو ہیں اب تک وہی اندازِ لیلائی\n\nنہ تخمِ ’لا الہ‘ تیری زمینِ شور سے پھُوٹا\nزمانے بھر میں رُسوا ہے تری فطرت کی نازائی\n\nتجھے معلوم ہے غافل کہ تیری زندگی کیا ہے\nکُنِشتی ساز، معمورِ نوا ہائے کلیسائی\n\nہُوئی ہے تربیت آغوشِ بیت اللہ میں تیری\nدلِ شوریدہ ہے لیکن صنم خانے کا سودائی\n\n“وفا آموختی از ما، بکارِ دیگراں کر دی\nربودی گوہرے از ما نثارِ دیگراں کر دی”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B6%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%A8%D8%B1_%D8%B4%D8%B9%D8%B1%D9%90_%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D9%85%D9%84%D9%88"} {"title": "تضمین بر شعرِ صائب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "کہاں اقبالؔ تُو نے آ بنایا آشیاں اپنا\nنوا اس باغ میں بُلبل کو ہے سامانِ رُسوائی\n\nشرارے وادیِ ایمن کے تُو بوتا تو ہے لیکن\nنہیں ممکن کہ پھوٹے اس زمیں سے تُخمِ سِینائی\n\nکلی زورِ نفَس سے بھی وہاں گُل ہو نہیں سکتی\nجہاں ہر شے ہو محرومِ تقاضائے خود افزائی\n\nقیامت ہے کہ فطرت سو گئی اہلِ گلستاں کی\nنہ ہے بیدار دل پِیری، نہ ہمّت خواہ برنائی\n\nدلِ آگاہ جب خوابیدہ ہو جاتے ہیں سینوں میں\nنوا گر کے لیے زہراب ہوتی ہے شکرخائی\n\nنہیں ضبطِ نوا ممکن تو اُڑ جا اس گُلستاں سے\nکہ اس محفل سے خوشتر ہے کسی صحرا کی تنہائی\n\n“ہماں بہتر کہ لیلیٰ در بیاباں جلوہ گر باشد\nندارد تنگناے شہر تابِ حُسنِ صحرائی”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B6%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%A8%D8%B1_%D8%B4%D8%B9%D8%B1%D9%90_%D8%B5%D8%A7%D8%A6%D8%A8"} {"title": "تضمین در مثلث", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "تزمین", "year": null, "text_ur": "ٹک یہ بھی رکھو سن تم اے ارباب تعلق\nاوقات خوش آں بود کز اسباب تعلق\nآزردہ دلے داشتم آنہم دگرے داشت\n\nکیا کہوں میں عاشق و معشوق کا راز و نیاز\nناقہ را میراند لیلیٰ سوے خلوت گاہ ناز\nسارباں در رہ حدی می خواند و مجنوں می گریست\n\nمر ہی جاؤں کسی گلخن میں جو میں غم سے بھرا\nنخل بندی بگلے کن سر تابوت مرا\nکہ بدوران تو از گلشن عالم چیدم\n\nکل تک تو فریبندہ ملاقات تھی پہلی\nامروز یقیں شد کہ نداری سر اہلی\nبے چارہ ز لطف تو بدل داشت گمانہا\n\nاے وفاے گل کے عاشق سب میں ہے یہ راز فاش\nچوں صبا بیہودہ سرگردان ایں گلشن مباش\nمن چہ گل چیدم کہ عمرے باغبانی کردہ ام\n\nمیرؔ اس وادی میں بیدردانہ گذرا تو بہ ذوق\nگر دلت می داشت شورے چوں جرس در راہ شوق\nبر کف خاکے کہ طے می گشت جاے نالہ بود\n\nباب ذلت رہوں کہاں تک میرؔ\nبہ کجا سر نہم کہ چوں زنجیر\nہر درے حلقۂ در دگر است\n\nنالہ بلبل غنچہ غم شمشاد آہ دل فگار\nباغباں جاروب و گل خمیازہ و من انتظار\nہر کسے چیزے بیادت در گلستاں می کشد\n\nآئی تھی ملاقات کی راہ اس کے ولے سود\nتا چشم کنم باز شب وصل سحر بود\nعمر گذراں بر سر انصاف نیامد\n\nجہاں سے اے کہ تمنا ہے تجھ کو مجھ سے سن\nیکے بگور غریبان شہر سیرے کن\nببیں کہ نقش بلاہا چہ باطل افتادہ است\n\nاگرچہ اب دم آخر ہے لیکن اے غم خوار\nبہ ہجر زندہ ام آئینہ پیش من مگذار\nجدا ز یار بخود روبرو شدن ستم است\n\nہے بھی جو کوئی یاں سو نہیں کے ہے وہ مانند\nنیک و بد عالم ہمہ عنقا صفتانند\nیعنی خبر ازہر کہ گرفتم خبرے بود", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B6%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AB%D9%84%D8%AB"} {"title": "تضمین در مخمس (I)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "تزمین", "year": null, "text_ur": "کیا کہوں مجھ پہ جو گذرے ہے جفاکاری دل\nدرپئے دشمنی جاں ہے یہی یاری دل\nایک شب ہو تو کروں شرح غم و زاری دل\nدوستاں چند کنم نالہ ز بیماری دل\nکس گرفتار مبادا بہ گرفتاری دل\n\nآتی ہے ایک نہایت ہی جگرسوز صدا\nیعنی پھر رات سے چھاتی میں مری درد اٹھا\nمہر خاموشی جو لب پر ہے مرے اس پہ نہ جا\nاے کہ بر زاری دل می کنی انکار بیا\nگوش بر سینۂ من نہ بشنو زاری دل\n\nآہ مت پوچھ کہ کیوں ٹپکے ہے ان آنکھوں سے خوں\nایسے قضیے سے چکوں کاش کہیں مر بھی چکوں\nمیں مصیبت زدہ حیران ہوں کیا فکر کروں\nصبر و آرام یکے نیست ازیں ہردو کنوں\nکہ دریں واقعۂ صعب کند یاری دل\n\nسیل سی پار گذر جاتی تھی آہ سحری\nاس لیے جان پہ میں کی ہے یہ بیدادگری\nہو سو ہو اس کو ہنر جانیے یا بے ہنری\nگر ہمہ نیزہ ببارد کہ من از بے سپری\nدادم اکنوں جگرے را بہ سپرداری دل\n\nنل دمن لیلی و مجنوں یہ جو ہیں مثنویاں\nایک مدت رہی ہیں میرے تئیں نوک زباں\nخود بہ خود کی یہ جگرخواری و بے تابی کہاں\nخواندہ ام قصۂ عشاق بسے نیست دراں\nجز جفاکاری دلدار و وفاداری دل\n\nیاں چلے گر کوئی آنکھوں سے بھی تاپا چہ رسد\nمذہب عشق میں لازم ہے اسے کرنا حد\nجیتے جی میں تو نہ جاؤں گا عبث مت کر کد\nکوے تو منزل دل ہاست کسے چوں گذرد\nکہ نیاید بہ زمیں پاے ز بسیاری دل\n\nمیرؔ اس دل سے ستم لوگوں پہ کیا کیا نہ ہوا\nکوئی آوارہ کوئی خستہ کوئی جی سے گیا\nآؤ خاموش ہو کوئی نہیں ہمدرد ترا\nعمر باشد کہ نشاں نیست ز جاے پیدا\nکہ کند با تو دمے شرح دل آزاری دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B6%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AE%D9%85%D8%B3_%28I%29"} {"title": "تضمین در مخمس (II)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "تزمین", "year": null, "text_ur": "بیخودانہ ہیں کئی حرف زباں پر کر گوش\nآج کہتا ہوں کہ ہے خم کدۂ دل میں جوش\nپاے رفتن تو نہ تھے لیک مجھے تھا کچھ ہوش\nسرخوش از کوے خرابات گذر کردم دوش\nبہ طلبگاری ترسا بچۂ بادہ فروش\n\nہوش و صبر و خرد و دین گئے یہ سارے\nمیں تھا سو مجھ میں بھی کچھ تھا نہ ستم کے مارے\nبعد یک چشم زدن پھر جو میں دیکھا بارے\nپیشم آمد بہ سر کوچہ پری رخسارے\nکافرے عشوہ گرے زلف چو زنار بدوش\n\nایک ساعت تو رہا محو نشست و برخاست\nبارے پھر ٹھہر گیا دل بھی مرا بے کم و کاست\nدرمیاں جس گھڑی آئے سخن راست بہ راست\nگفتم ایں کوچہ چہ کویست و ترا خانہ کجاست\nاے مہ نو خم ابروے ترا حلقہ بگوش\n\nتار اس دشمن ایمان کی زلفوں کے کمند\nپارسائی کو میں صد جان سے واں پایا بند\nآنکھیں سختی سے دکھا مجھ کو بہ آواز بلند\nگفت تسبیح بخاک افگن و زنار ببند\nسنگ بر سینۂ تقویٰ زن و پیمانہ بنوش\n\nرہیو ہشیار کہ ہے ضعف سے بیگانہ طلب\nقوت پا ہی تلک رکھتی ہے یارانہ طلب\nجاکے کر پیر مغاں سے کوئی خم خانہ طلب\nتوبہ یک سو بنہ و ساغر مستانہ طلب\nخرقہ بیروں فگن و کسوت رندانہ بپوش\n\nبسکہ نقاد ہیں یاں کھوٹے ہیں سب تیرے کھرے\nقابل خدمت مستاں نہیں تو رہیو پرے\nپہلے یہ باتیں ہیں ان پر تو عمل کرلے ارے\nبعد ازاں سوے من آ تا بتو گویم خبرے\nراہ بنمایم اگر بر سخنم داری گوش\n\nمجھ کو بھڑکا کے چلا واں سے وہ کافر سرکش\nپاؤں سے لے کے گئی سر تئیں جلتی آتش\nہاتھ سے جاتا ہی تھا گو تھی مجھے حالت غش\nمن برافتادۂ بیہودہ دویدم بہ پیَش\nتا رسیدم بہ مقامے کہ نہ دیں ماند و نہ ہوش\n\nجاے بے خدشۂ غیرے کہ نہ تھا غیر نمود\nخط باطل سے لکھا دیکھا ہے واں صفحۂ بود\nتو بھی واں ہو تو یہی منھ سے نکل جاوے زود\nمحو گشت از ورق کون و مکاں حرف وجود\nنہ پری ماند و نہ آدم نہ طیور و نہ وحوش\n\nبے خود و بے خبر و مست مئے صاف الست\nآتش مے سے برافروختہ کچھ بادہ پرست\nیک دگر پاؤں کی لغزش کے سبب دست بدست\nدیدم از دور گروہے ہمہ دیوانہ و مست\nاز تف بادۂ شوق آمدہ در جوش و خروش\n\nگرچہ ظاہر تھا خراب ان کا ولے سب معمور\nکاسۂ سر سے ہوئے پھرتے تھے سارے فغفور\nبے لباس طرب و جامۂ اندوہ سے عور\nبے دف و مطرب و ساقی ہمہ در عیش و سرور\nبے مے و جام و صراحی ہمہ در نوشانوش\n\nنام و ناموس کا دفتر تھا سب ان کا برہم\nدیکھ کر پہلے کیا میں نے تامل یک دم\nپھر جو دیکھا تو مجھے بد کہے گا کیا عالم\nچوں سر رشتۂ ناموس برفت از دستم\nخواستم تا خبرے پرسم ازو گفت خموش\n\nعقل رکھتا ہے تو ٹک رہیو ادب کا پابند\nیاں فراغت ہے دو عالم کی ہر اک جام میں بند\nیہ وہ جا ہے کہ نہ فردوس ہو اس کے مانند\nایں خرابات مغان است و درو مستانند\nاز دم صبح ازل تا بہ قیامت مدہوش\n\nمیرؔ ان مستوں میں کوئی نہیں پابستۂ زیست\nکیونکہ یہ زیست بہت ہووے تو دہ روز کہ بیست\nجتنے یہ ہست نظر آتے ہیں اب سب ہیں نیست\nگر ترا نیز بہ ایں فرقہ سر یک رنگی ست\nدین و دنیا بہ یکے جرعہ چو عصمت بہ فروش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B6%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AE%D9%85%D8%B3_%28II%29"} {"title": "تضمین مطلع خود با مطلع استاد", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "تزمین", "year": null, "text_ur": "نہ اسکندر نہ دارا ہے نہ کسریٰ ہے نہ قیصر ہے\nیہ بیت المال ملک بے وفا بے وارثا گھر ہے\nجہان کہنہ خلقے را بہ دل داغ ہوس ماندہ\nبیا ساقی کہ ایں ویرانہ از بسیار کس ماندہ\n\nخودبخود کھویا گیا ہے کتنے روزوں سے فقیر\nوہ نہیں ہے اب جو تم نے پیش ازیں دیکھا تھا میرؔ\nدوستاں ظلمے بحال نامرادم رفتہ است\nداشتم چیزے کہ من بودم زیادم رفتہ است\n\nنہ اپنے در سے مجھے دور کر شتابی سے\nکہ آہ یھاں تئیں پہنچا ہوں کس خرابی سے\nز ضعف دست بدیوار دادہ آمدہ ام\nبہر دو گام زمانے ستادہ آمدہ ام\n\nمشہور ہیں عالم میں تو کیا ہیں بھی کہیں ہم\nالقصہ نہ درپے ہو ہمارے کہ نہیں ہم\nعنقا سر و برگیم مپرس از فقرا ہیچ\nعالم ہمہ افسانۂ ما دارد و ما ہیچ\n\nمیں رہ گیا تھا لاجرم شکوے سے جب اے مہ ترے\nتب کی بھلا تب ہی گئی ہنگامہ تھا ہمرہ ترے\nاکنوں کہ تنہا دیدمت لطف ارنہ آزارے بکن\nتلخے بگو سنگے بزن تیغے بکش کارے بکن\n\nچمن میں دہر کے ہنستا نہ رہ برنگ گل\nکہ صبح شاخ پہ یہ بیت پڑھتی تھی بلبل\nدریں حدیقہ بہار و خزاں ہم آغوش است\nزمانہ جام بدست و جنازہ بر دوش است\n\nرہے ہم تشنگاں سے ذمے منت یار کے کیسی\nکہ پھر پانی نہ مانگا ہم لگائی ایک ہی ایسی\nبامید کسے نگذاشت بے دادش دل ما را\nخدا اجرے دہد در کشتن ما قاتل ما را\n\nدوری ہی میں طاقت نہ رہی بات کی آخر\nروزی نہ ہوئی رات ملاقات کی آخر\nزہر غم ہجر تو بجاں کارگر افتاد\nامید وصال تو بہ عمر دگر افتاد\n\nآشناے کفر و دیں عاشق نہیں ہوتے ہیں میرؔ\nجانتے ہیں طور میرے سب چنانچہ خرد و پیر\nکعبہ و بت خانہ را بیگانہ می دانیم ما\nیا در دل یا در مے خانہ می دانیم ما\n\nہے خوش وہ کہ یاں سر بگریباں ہی رہا ہے\nاس باغ میں وا ہونے کو بدیمن کہا ہے\nبسیار ز دل تنگی خود غنچہ غمین است\nغافل کہ شگفتن نفس بازپسین است\n\nمتاع دل نہ لے جاؤں جو واپس کیا کروں جاناں\nخریداری نہ کی تونے رہا میں دیر سرگرداں\nبسوداے ہوس عمرے دریں بازار گردیدم\nکنوں گرد سرم گرداں کہ من بسیار گردیدم\n\nحواس و ہوش و خرد جان و دل شکیب و تواں\nچلے ہیں عزم سفر کرنے سے ترے سب یاں\nز رفتن تو کسے بازپس نمی ماند\nتو می روی و دریں شہر کس نمی ماند\n\nکہاں کرنے میں خوں تیزی نہیں کی\nیہیں کچھ ان نے خوں ریزی نہیں کی\nسرش گردم کہ ہر جا جلوہ گر بود\nسر بازار او بازار سر بود\n\nاس آستانے کے سگ کے نہیں برابر ہم\nکہیں زیادہ سخن اپنے منھ سے کیوں کر ہم\nمیان ما و سگ یار فرق بسیار است\nچرا کہ ما سگ اوئیم و او سگ یار است\n\nمحرماں کیا کہوں میں اپنے نوشتے کی بدی\nبخت نے آہ مری بات تنک کہنے نہ دی\nدل کہ طومار وفا بود من محزوں را\nپارہ کردند ندانستہ بتاں مضموں را\n\nکہتے نہیں خلوت میں تو بار دے عالم کو\nیا آئینہ سا ہووے دیدار ترا ہم کو\nتاچند نہاں باشی جاناں نفسے بنما\nدیوانہ شدی تنہا خود را بکسے بنما\n\nنہ لاگے وہم جس جا کچھ وہاں ہو قادراندازی\nہدف ہونا خدنگ جور کا تیرے نہیں بازی\nز شست صاف اے ابروکماں ازبس خطر دارم\nتو می بینی بسوے تیر و من فکر دگر دارم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B6%D9%85%DB%8C%D9%86_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%B9_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A8%D8%A7_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%B9_%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AF"} {"title": "تعارف", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "خوب پہچان لو اسرار ہوں میں\nجنس الفت کا طلب گار ہوں میں\n\nعشق ہی عشق ہے دنیا میری\nفتنۂ عقل سے بے زار ہوں میں\n\nخواب عشرت میں ہیں ارباب خرد\nاور اک شاعر بیدار ہوں میں\n\nچھیڑتی ہے جسے مضراب الم\nساز فطرت کا وہی تار ہوں میں\n\nرنگ نظارۂ قدرت مجھ سے\nجان رنگینئ کہسار ہوں میں\n\nنشۂ نرگس خوباں مجھ سے\nغازۂ عارض و رخسار ہوں میں\n\nعیب جو حافظ و خیام میں تھا\nہاں کچھ اس کا بھی گنہ گار ہوں میں\n\nزندگی کیا ہے گناہ آدم\nزندگی ہے تو گنہ گار ہوں میں\n\nرشک صد ہوش ہے مستی میری\nایسی مستی ہے کہ ہشیار ہوں میں\n\nلے کے نکلا ہوں گہر ہائے سخن\nماہ و انجم کا خریدار ہوں میں\n\nدیر و کعبہ میں مرے ہی چرچے\nاور رسوا سر بازار ہوں میں\n\nکفر و الحاد سے نفرت ہے مجھے\nاور مذہب سے بھی بے زار ہوں میں\n\nاہل دنیا کے لیے ننگ سہی\nرونق انجمن یار ہوں میں\n\nعین اس بے سر و سامانی میں\nکیا یہ کم ہے کہ گہر بار ہوں میں\n\nمیری باتوں میں مسیحائی ہے\nلوگ کہتے ہیں کہ بیمار ہوں میں\n\nمجھ سے برہم ہے مزاج پیری\nمجرم شوخئ گفتار ہوں میں\n\nحور و غلماں کا یہاں ذکر نہیں\nنوع انساں کا پرستار ہوں میں\n\nمحفل دہر پہ طاری ہے جمود\nاور وارفتۂ رفتار ہوں میں\n\nاک لپکتا ہوا شعلہ ہوں میں\nایک چلتی ہوئی تلوار ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81"} {"title": "تعجب سے کہنے لگے بابو صاحب", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "تعجب سے کہنے لگے بابو صاحب\nگورنمنٹ سید پہ کیوں مہرباں ہے\nاسے کیوں ہوئی اس قدر کامیابی\nکہ ہر بزم میں بس یہی داستاں ہے\nکبھی لاٹ صاحب ہیں مہمان اس کے\nکبھی لاٹ صاحب کا وہ میہماں ہے\nنہیں ہے ہمارے برابر وہ ہرگز\nدیا ہم نے ہر صیغے کا امتحاں ہے\nوہ انگریزی سے کچھ بھی واقف نہیں ہے\nیہاں جتنی انگلش ہے سب بر زباں ہے\nکہا ہنس کے اکبر نے اے بابو صاحب\nسنو مجھ سے جو رمز اس میں نہیں ہے\nنہیں ہے تمہیں کچھ بھی سید سے نسبت\nتم انگریزی داں ہو وہ انگریز داں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%A8%D9%88_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8"} {"title": "تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا\nکیسی زمیں بنائی ، کیا آسماں بنایا\n\nپانوں تلے بچھایا کیا خوب فرش خاکی\nاور سر پہ لاجوردی اک سائباں بنایا\n\nمٹی سے بیل بو نٹے کیا خوش نما اگائے ،\nپہنا کے سبز خلعت ان کو جواں بنایا\n\nخوش رنگ اور خوشبو گل پھول ہیں کھلائے\nاس خاک کے کھنڈر کو کیا گلستاں بنایا\n\nمیوے لگائے کیا کیا خوش ذائقہ رسیلے\nچکھنے سے جن کے مجھ کو شیریں دہان بنایا\n\nسورج سے ہم نے پائی گرمی بھی روشنی بھی\nکیا خوب چشمہ تو نے اے مہرباں بنایا\n\nسورج بنا کے تو نے رونق جہاں کو بخشی\nرہنے کو یہ ہمارے اچھا مکاں بنایا\n\nپیاسی زمیں کے منہ میں مینھ کا چوایا پانی\nاور بادلوں کو تو نے مینھ کا نشاں بنایا\n\nیہ پیاری پیاری چڑیاں پھرتی ہیں جو چہکتی\nقدرت نے تیری ان کو تسبیح خواں بنایا\n\nتنکے اٹھا اٹھا کر لائیں کہاں کہاں سے\nکس خوبصورتی سے پھر آشیاں بنایا\n\nاونچی اڑیں ہوا میں بچوں کو پر نہ بھولیں\nان بے پروں کا ان کو روزی رساں بنایا\n\nکیا دودھ دینے والی گائیں بنائیں تو نے\nچڑھنے کو میرے گھوڑا کیا خوش عناں بنایا\n\nرحمت سے تیری کیا کیا ہیں نعمتیں میسر\nان نعمتوں کا مجھ کو ہے قدر داں بنایا\n\nآب رواں کے اندر مچھلی بنائی تو نے\nمچھلی کے تیرنے کو آب رواں بنایا\n\nہر چیز سے ہے تیری کاری گری ٹپکتی\nیہ کارخانہ تو نے کب رائے گاں بنایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81_%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تعریف بتاؤں شعر کی کیا کیا ہے", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تعریف بتاؤں شعر کی کیا کیا ہے\nنغموں کی صداقت اس سے خود پیدا ہے\nاصلیت حال جس سے مخفی رہ جائے\nہشیار کہ وہ شعر نہیں دھوکا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%B4%D8%B9%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تعصب", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "انسان کی خصلتوں میں سے تعصب ایک بدترین خصلت ہے۔ یہ ایسی بدخصلت ہے کہ انسان کی تمام نیکیوں اور اس کی تمام خوبیوں کو غارت اور برباد کرتی ہے۔ متعصب گو اپنی زبان سے نہ کہے، مگر اس کا طریقہ یہ بات جتلاتا ہے کہ عدل وانصاف اس میں نہیں ہے۔ متعصب اگر کسی غلطی میں پڑتا ہے تو اپنے تعصب کے سبب اس غلطی سے نکل نہیں سکتا، کیونکہ اس کا تعصب اُس کے برخلاف بات سننے، سمجھنے اور اُس پر غور کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اگر وہ کسی غلطی میں نہیں ہے، بلکہ سچی اور سیدھی راہ پر ہے تو اس کے فائدے اور اس کی نیکی کو پھیلنے اور عام ہونے نہیں دیتا۔\n\nتعصب انسان کو ہزار طرح کی نیکیوں کے حاصل کرنے سے باز رکھتا ہے۔ اکثر دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی کام کو نہایت عمدہ اور مفید سمجھتا ہے، مگر صرف تعصب سے اس کو اختیار نہیں کرتا اور برائی میں گرفتار اوربھلائی سے بیزار رہتا ہے۔\n\nانسان کو ہمیشہ مددگار وں کی جو دوستی اور محبت سے ہاتھ آتے ہیں ضرورت ہوتی ہے، مگر متعصب تمام لوگوں سے بیزار رہتا ہے اور کسی کو دوستی اور محبت کی طرف بجز اُن چند لوگوں کے جو اس کے ہم رائے ہیں مائل نہیں ہوتا۔\n\nوہ ان تمام دلچسپ اور مفید باتوں سے محض جاہل اور ناواقف رہتا ہے۔ اُس کی عقل اور اُس کے دماغ کی قوت بیکار ہو جاتی ہے اور جو کچھ اس میں سمائی ہوئی ہے اس کے سوا اور کسی بات کے سمجھنے کی اس میں طاقت اور قوت نہیں رہتی۔ وہ ایک ایسے جانور کی مانند ہو جاتاہے کہ اس کو جو کچھ آتا ہے اس کے سوا اور کسی چیز کی تعلیم و تربیت کے قابل نہیں ہوتا۔ بہت سی قومیں ہیں جو اپنے تعصب کے باعث سے تمام باتوں میں اعلیٰ درجے سے نہایت پست درجے کو پہنچ گئی ہیں اور بہت سے قومیں ہیں جنھوں نے اپنی بے تعصبی سے ہر جگہ اور ہر قوم سے اچھی اچھی باتیں اخذ کیں اورادنیٰ درجے سے ترقی کے اعلیٰ سے اعلیٰ درجے پر پہنچ گئیں۔\n\nمجھ کو اپنے ملک کے بھائیوں پر اس بات کی بدگمانی ہے کہ وہ بھی تعصب کی بد خصلت میں گرفتار ہیں اور اس سبب سے ہزاروں قسم کی بھلائیوں کے حاصل کرنے سے محروم اور ذلت اور خواری اور بے عملی اور بے ہنری کی مصیبت میں گرفتار ہیں اور اسی لیے میری خواہش ہے کہ وہ اس بد خصلت سے نکلیں اور اعلیٰ درجے کی عزت تک پہنچیں۔\n\nہم مسلمانوں میں ایک غلطی یہ پڑی ہے کہ بعض دفعہ ایک غلط نما نیکی کے جذبے سے تعصب کو اچھا سمجھتے ہیں اور جو شخص اپنے مذہب میں بڑا متعصب ہو اور تما م شخصوں کو جو اُس مذہب کے نہیں ہیں اور تمام اُن علوم و فنون جو اس مذہب کے لوگوں میں نہیں ہیں نہایت حقارت سے دیکھے اور برا سمجھے۔ اس شخص کو نہایت قابل تعریف اور توصیف کے اور بڑا پختہ اور پکا اپنے مذہب میں سمجھتے ہیں، مگر ایسا سمجھنا سب سے بڑی غلطی ہے۔\n\nاب ہم یہ بات بتاتے ہیں کہ اپنے مذہب میں پختہ ہونا جدابات ہے اور یہ ایک نہایت عمدہ صفت ہے جو کسی اہل مذہب کے لیے ہوسکتی ہے اور تعصب، گوکہ وہ مذہبی باتوں میں کیوں نہ ہو نہایت برا اور خود مذہب کو نہایت نقصان پہنچانے والا ہے۔\n\nغیر متعصب، مگر اپنے مذہب میں پختہ ہمیشہ سچا دانا دوست اپنے مذہب کا ہوتا ہے۔ اس کی خوبیوں اور نیکیوں کو پھیلاتا ہے، اس کے اصول کو دلائل سے ثابت کرتا ہے مخالفوں اور برا کہنے والوں کی باتوں کو ٹھنڈے دِل سے سنتا ہے اور خود بھی اس کے دفعیے پر مستعد ہوتا ہے اور لوگوں کو بھی اس کے دفیعے کا موقع دیتا ہے۔\n\nبرخلاف اس کے متعصب۔ نادان دوست اپنے مذہب کا ہوتا ہے۔ وہ سراسر اپنی نادانی سے اپنے مذہب کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اپنے مذہب کی خوبیوں کے پھیلنے اور لوگوں کو اس کی طرف راغب کرنے کے بدلے اُلٹا اس کا ہارج قوی ہوتا ہے۔ اپنے تعصب کے سبب بداخلاق اور مغرور اورسخت دِل ہو جاتا ہے۔\n\nغرضکہ تعصب خواہ دینی ہو یادنیاوی باتوں میں، نہایت برا اور بہت سی خرابیوں کو پیدا کرنے والاہے۔ مغرور ومتکبر ہو جانا اور اپنے ہم جنسوں کو سوائے چند کے نہایت حقیر و ذلیل سمجھنا متعصب کا خاصہ ہوتا ہے۔\n\nاس کے اصول کا مقتضایہ ہوتا ہے کہ تمام دنیا کے لوگوں سے سوائے چند کے کنارہ گزیں ہو، مگر ایسا کرنہیں سکتا اور بہ مجبوری ہر ایک سے ملتا ہے اور اوپری دل سے ان کا ادب اوراپنی جھوٹی نیازمندی بھی ظاہر کرتا ہے اور ایسا کرنے سے ایک اور بدخصلت فریب و مکاری کی صفت اپنے میں پیدا کرتا ہے۔\n\nدنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس نے خود ہی تمام کمالات اور تمام خوبیاں اور خوشیاں حاصل کی ہوں، بلکہ ہمیشہ ایک قوم نے دوسری قوم سے فائدہ اُٹھایا ہے مگر متعصب شخص ان نعمتوں سے بد نصیب رہتا ہے۔\n\nعلم میں اس کی ترقی نہیں ہوتی، ہنروفن میں اس کی دست گاہ نہیں ہوتی، دنیا کے حالات سے وہ ناواقف رہتا ہے، عجائبات قدرت سے محروم ہوتا ہے حصول معاش اور دنیاوی عزت اورتمول، مثل تجارت وغیرہ کے وسیلے جاتے رہتے ہیں اور رفتہ رفتہ تمام دنیا کے انسانوں میں روز بروز ذلیل و خوار ہوتا جاتاہے۔\n\nتعصب میں سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ جب تک وہ نہیں جاتا کوئی ہنرو کمال اُس میں نہیں آتا۔ تربیت و شایستگی، تہذیب وانسانیت کا مطلق نشان نہیں پایا جاتا اورجب کہ وہ مذہبی غلط نمانیکی کے پردے میں ظہور کرتا ہے تو اور بھی سم قاتل ہوتا ہے، کیونکہ مذہب سے اور تعصب سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ انسان کے خراب و برباد کرنے کے لیے شیطان کا سب سے بڑا داؤ تعصب کو مذہبی رنگت سے دل میں ڈالنا اور اس تاریکی کے فرشتے کو روشنی کا فرشتہ کرکے دکھلانا ہے۔\n\nپس میری التجا اپنے بھائیوں سے یہ ہے کہ ہماراخدا نہایت مہربان اور بہت بڑا منصف ہے اورسچا، سچائی پسند کرنے والا ہے، وہ ہمارے دلوں کے بھیدجانتا ہے، وہ ہماری نیتوں کو پہچانتا ہے۔ پس ہم کو اپنے مذہب میں نہایت سچائی سے پختہ رہنا، مگر تعصب کو جو ایک بُری خصلت ہے چھوڑنا چاہیے۔ تمام نبی نوع انساں ہمارے بھائی ہیں، ہم کو سب سے محبت اور سچا معاملہ رکھنا اور سب سے سچی دوستی اور سب کی سچی خیر خواہی کرنا ہمارا قدرتی فرض ہے۔ پس اسی کی ہم کو پیروی کرنی چاہیے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B9%D8%B5%D8%A8"} {"title": "تعلق مدتوں کا ترک اس سے ہو تو کیونکر ہو", "poet_page": "مصنف:فروغ حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تعلق مدتوں کا ترک اس سے ہو تو کیونکر ہو\nخدا کے واسطے ناصح نہ اتنا تو مرے سر ہو\n\nمرے رونے پہ کیوں بیداد اتنی اے ستم گر ہو\nنکل آتے ہیں آنسو آنکھ سے جب صدمہ دل پر ہو\n\nپری رخسار بھی ہو اور حوروں سے بھی بہتر ہو\nوفا ہی جب نہیں تم میں تو دشمن کے برابر ہو\n\nعدو فرقت میں تڑپے اور وہ مہماں مرے گھر ہو\nکبھی تو دور ایسا بھی سپہر کینہ پرور ہو\n\nکبھی دشمن کی حسرت ہے کبھی میری کدورت ہے\nجگہ میری وفا کی پھر تمہارے دل میں کیونکر ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B9%D9%84%D9%82_%D9%85%D8%AF%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%88"} {"title": "تعلیم", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "تعلیم سے ہماری مراد موافق عرف عام کے لکھنا پڑھنا سیکھنے سے ہے۔ ہر زمانہ میں لاکھوں کروڑوں آدمی مختلف مقاصد سے لکھنا پڑھنا سیکھتے رہے ہیں۔\n\nعام مقصد جس کے سبب سے تعلیم پر توجہ ہوتی ہے، خواہ تعلیم پانے والے خود اس پر متوجہ ہوں یا اطفال کے مربیوں نے اطفال کی تعلیم پر توجہ کی ہو، یہ ہے کہ ان کے ذہن میں یہ بات سمائی ہوئی ہوتی ہے کہ ایک جاہل کندۂ نا تراش سے لکھا پڑھا آدمی زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اور وہ تعلیم جس درجہ کی ہوئی ہو، زندگی کے کاروبار میں اس کے لیے نہایت مفید اور کار آمد ہوتی ہے۔\n\nان تعلیم پانے والوں میں لاکھوں آدمی تو ایسے ہوتے ہیں کہ ادنیٰ درجہ تعلیم تک پہونچ کر اور کچھ متوسط درجہ کی تعلیم تک پہونچ کر رہ جاتے ہیں اور چند ایسے ہوتے ہیں کہ متوسط درجہ کی تعلیم سے آگے بڑھتے ہیں اور اپنے مذاق کے موافق علم کی شاخوں میں سے کسی شاخ کی تکمیل پر مائل ہوتے ہیں۔ کوئی شاعر بننا چاہتا ہے، کوئی ادیب، کوئی فلسفہ میں ترقی کرتا ہے اور کوئی ریاضیات میں، اور کوئی دینیات میں، وعلی ھذا القیاس۔ مگر ہر ایک کے ساتھ حصول معاش کا خیال لگا رہتا ہے اور جو کچھ وہ حاصل کرتا ہے یا کرنا چاہتا ہے اس کو ذریعہ حصول معاش ضرور سمجھتا ہے۔\n\nتعلیم بغیر اس کے کہ اس کے حاصل کرنے کے لیے کوئی زبان اختیار کی جاوے غیر ممکن ہے۔ جس زمانہ میں جس زبان کا عروج ہوتا ہے وہی زبان اس کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔ یہ ایک کلیہ قاعدہ ہے کہ جس ملک میں جو زبان حکومت کرتی ہے اسی زبان کا عروج ہوتا ہے۔ خلفائے بنی امیہ اور بنی عباس کے زمانہ میں عربی زبان کا عروج تھا، ہر شخص اسی زبان میں علوم کو سیکھنا چاہتا تھا۔ ہندوؤں کے زمانے میں ہندوستان میں سنسکرت زبان کا عروج تھا، اسی کو لوگ اختیا ر کرتے تھے۔ جب مسلمانوں کی عملداری ہندوستان میں ہوئی تو فارسی کا عروج ہو ا۔ اور سب نے فارسی زبان میں تعلیم پانا اختیار کیا۔\n\nاب ہندوستان میں انگریز ی حکومت ہے جس کی زبان انگریزی ہے، اور اسی زبان کو عروج ہے۔ اس لیے ہر شخص اسی زبان کے اختیار کرنے پر مائل ہے۔ ہاں مسلمانوں نے انگریزی زبان کے حاصل کرنے میں بہت کچھ کوتاہی کی۔ اس کے کچھ ہی سبب ہوں، مگر اس کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ وہ اپنی غلطی سے انگریزی زبان پڑھنے کو مخالف مذہب اسلام سمجھتے تھے۔ مگر جب سے یہ خیال کم ہو گیا یا دنیوی ضرورت نے انہیں مجبور کیا، ا سی وقت سے مسلمانوں نے بھی انگریزی زبان میں تعلیم اختیار کرنی شروع کر دی ہے۔ مگر بہت سے مسلمان مذہب کو دنیوی ضرورت سے مقدم سمجھتے ہیں۔ اور اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ان میں یہ خیال کہ انگریزی پڑھنی مذہب اسلام کے بر خلاف ہے، کم ہو گیا ہے۔\n\nاکثر حکام کا اور نیز بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ لوگ صرف سرکاری نوکری حاصل کرنے کو انگریزی پڑھتے ہیں۔ مگر غور کرنے کی بات ہے کہ ہر سال ہندوستان کی یونیورسٹیوں سے سینکڑوں بی۔ اے اور ایم اے ڈگر ی پاتے ہیں اور ان کو یقین کامل ہوتا ہے کہ گورنمنٹ پاس اس قدر نوکریاں نہیں ہیں کہ وہ اس جم غفیر بی۔ اے اور ایم اے ڈگری یافتوں کو دے سکے۔ پس یقینی ڈگری یافتہ طالب علموں کو اس کا یقین ہے کہ سب کو سرکاری نوکری نہیں مل سکتی۔ با وصف اس یقین کے جو وہ انگریزی پڑھنے پر مشغول ہوتے ہیں تو ضرور ہے کہ سوائے ملازمت سرکاری کے اور کسی ذریعہ سے بھی ان کو معاش حاصل کرنے کا خیا ل ہے۔ یا اس بات کا یقین ہے کہ انگریزی پڑھا ہوا بن انگریزی پڑھے ہوئے سے دنیوی کاروبار کے لیے زیادہ مفید اور کار آمد ہے۔ بہر حال یہ بات غلط ہے کہ ہر ایک بی۔ اے اور ایم۔ اے سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لیے پڑھتا ہے اور نہ ملنے کے سبب سرکار سے ناراض ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کو پہلے سے یقین ہے کہ سرکار سب کو نوکری نہیں دے سکتی۔ ہاں جب موقع ہوتا ہے تو ہر ایک سرکار ی ملازمت ملنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کو ضرور کرنی چاہیے۔\n\nاس زمانہ کی تعلیم میں جو بذریعہ انگریزی زبان کے ہوتی ہے اور اگلے زمانہ کی تعلیم میں جو بذریعہ عربی زبان کے ہوتی تھی یہ فرق ہے کہ اگلے زمانہ میں تعلیم کا سامان ایسا موجود اور مہیا تھا کہ ہر شخص جو علم کی کسی شاخ میں یا شاخوں میں اس زمانہ کے موافق اعلی درجہ کی تعلیم پانا اور اس فن کا ماسڑ ہونا چاہے تو ہو سکتا تھا اور سوسائٹی جو اس زمانے میں ہوتی تھی اس تعلیم کی مدد کرتی تھی۔ اور اس پر عمدہ اخلاقی اثر ڈال کر اس کو اس سوسائٹی کے لائق کر لیتی تھی۔ اگلے زمانے کی سوسائٹی بلحاظ اخلاق اور حسن معاشرت ایسی عمدہ تھی کہ اس میں کوئی نقص اس زمانہ میں بھی نہیں نکالا جا سکتا مگر افسوس ہے کہ زمانہ کے انقلاب کے ساتھ وہ قائم نہ رہی۔\n\nاس زمانہ کی تعلیم جو انگریزی زبان کے ذریعہ سے ہندوستان میں ہوتی ہے اس کے لیے کوئی ایسا سامان نہیں ہے کہ جو شخص کسی علم کی شاخ میں اعلی درجہ کی تعلیم پانا چاہے تو اعلی درجہ کی تعلیم پاکر اس فن کا ماسٹر ہو سکے، ہندوستان میں اعلی تعلیم دینے والی وہ یونیورسٹیاں ہیں جو ہندوستان میں موجود ہیں۔ وہ بلا شبہ بی۔ اے اور ایم۔ اے کی ڈگریاں دیتی ہیں، مگر اس تعلیم کو اعلی تعلیم کہنا ہمارے نزدیک محض نا واجب ہے۔ بلکہ وہ علم کی بعض شاخوں میں اوسط درجے کی تعلیم ہے اور شاخوں میں ادنی درجہ کی تعلیم کا رتبہ رکھتی ہے۔\n\nبالفعل جو باتباع احکام یونیورسٹیوں کے اس کے ماتحت کالجوں میں دی جاتی ہے وہ زیادہ تر کتا بی اور دماغی تعلیم سے متعلق ہے۔ اس قسم کی تعلیم کا نتیجہ ضرور وہی ہونا چاہیے جو مسٹر کرول نے اپنے لکچر میں بیان کیا ہے اور جس کو اودھ اخبار نے اردو زبان میں لکھا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ’’تعلیم کا منشاء یہ نہیں ہے کہ چند آدمیوں کی دولت بڑھ جائے یا آنکہ غربا کے بمقابلہ باقی ماندہ اشخاص کی زیادہ رعایت کی جائے۔ اور نہ تعلیم کا منشاء یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے لوگ صرف اپنی باہمی محافظت کریں یا سوداگری اور تجارت کو ہی کو ترقی دیں۔ بلکہ تعلیم کی خاص غایت اور اصل منشاء یہ ہے کہ لوگ نیک محضر اور عمدہ قسم کے باشندے ہو جاویں، اور وہ خاموشی حاصل کریں جو زندگی کے بے داغ رہنے سے حاصل ہو سکتی ہے۔ اور لوگوں کے سوشیل اور اخلاقی خصائل کی تکمیل کریں۔ اور ان بھاری اور عمدہ کاموں کا حوصلہ دلائیں جن سے ملک کی عزّت اور زینت ہوتی ہے۔‘‘\n\nسر ولیم میکورتھ ینگ نے جو ڈگری یافتہ طالب علموں کو مخاطب کرکے فرما یا اس کا حاصل بھی وہی ہے جو مسٹر کرول نے اپنے لکچر میں کہا تھا۔ سر ولیم میکورتھ ینگ نے ڈگری یافتہ طالب علموں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ’’ان کی ڈگریاں اس بات کے لیے ہیں کہ وہ اپنے یومیہ معاملات اور گفتگو میں معزز برتاؤ اختیار کریں، اخلاق اور عمدہ تعلیم کی ترقی میں مدد دیں۔ سوشیل انتظام اور اپنے ہم جنسوں کی بہبودی کے قائم رکھنے میں کوشاں رہیں۔ المختصر ایک بھاری سلطنت کے بر آوردہ شہریوں کے فرائض ادا کرتے رہیں۔‘‘\n\nمگر ہماری رائے میں اخلاقی تعلیم صرف کتابوں کی تعلیم سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ عمدہ سوسائٹی اس کی تعلیم دیتی ہے۔ ہندوستان میں جو قدیم سوسائٹی علماء اور نیک خدا پرست رحم دل، نیک خصلت لوگوں سے مرکب تھی وہ مدت ہوئی کہ مردہ ہو گئی ہے اور نئی سوسائٹی جو زمانہ حال کے موافق ہو، اب تک قائم نہیں ہوئی، یا مکمل نہیں ہوئی۔ اس لئے وہ نتائج جس کا ذکر مسٹر کرول نے اپنے لکچر میں کیا یا سر ولیم میکوروتھ ینگ نے ڈگری یافتہ طالب علموں سے خواہش کی حاصل نہیں ہوتی۔\n\nہم اس بات کو جیسا کہ اودھ اخبار نے لکھاہے نہایت مفید اور ضروری سمجھتے ہیں کہ ’’اسکول ماسٹروں کو چاہیے کہ وہ اپنے شاگردوں کے نقش ذہن کرتے رہیں کہ وہ اعلی درجہ کا چلن اور شریفانہ اولوالعزمیاں اختیار کریں۔ اور اسی طرح ہمارے کالج کے پروفیسروں کو بھی منجملہ ایسے لوگوں کے ہونا چاہیے جن میں خیالات عالیہ پائے جاتے ہوں۔‘‘ مگر ہماری رائے میں جب تک کہ خود اسی قوم کے چند لوگ اس قوم کی سوسائٹی کے مہذب کرنے پر آمادہ نہ ہوں اور دلی سعی و کوشش نہ کریں، سوسائٹی کی حالت درست نہیں ہو سکتی۔ اور یہی سبب ہے کہ باوجود یہ کہ کئی قرن گورنمنٹ کو ہندوستانیوں کو تعلیم دیتے ہوئے گذرے مگر ان کی سوسائٹی کی حالت اب تک درست نہیں ہوئی۔\n\nنہایت مشکل یہ ہے کہ دنیا میں کسی قوم کی سوسائٹی اور سوشیل حالت ایسی نہیں ہے کہ جس میں ایسے امور بھی شامل نہ ہوں جن کی بنا غلط یا صحیح طور پر مذہبی امور پر مبنی ہونی نہ کہی جاتی ہو۔ پس اگر وہ امور ترقی سوسائٹی کے مانع ہیں اور غلطی سے ان کی بناء مذہبی امور پر کہی جاتی ہے تو جب تک اسی قوم کا کوئی شخص غلطی کو ظاہر نہ کرے اور اس مانع کے رفع کرنے میں کوشش نہ کرے تو وہ رافع نہیں ہو سکتی۔ غیر قوم کے شخص کا اس امر مانع پر متنبہ کرنا گو وہ کیسا ہی سچ کہتا ہو مخالف اثر پیدا کرتا ہے۔ اور خیال ہوتا ہے کہ وہ شخص بہ سبب اختلاف قومی یا مخالفت مذہب کے ایسا کہتا ہے۔ اگر چہ ہم قوم اور ہم مذہب والے پر بھی ہزاروں شخص طرح طرح کے اتّہام لگاتے ہیں اور اس کی بات کی سماعت نہ ہونے پر کوشش کرتے ہیں۔ اور گورنمنٹ تو ایسی کوئی بات جس سے مذہب میں مداخلت کرنے کا شبہ بھی ہو، اختیار نہیں کر سکتی۔ غرض یہ کہ اخلاقی اور شریف النفسی کی تعلیم عمدہ سوسائٹی پر منحصر ہے اور انگریزی گورنمنٹ سوائے تعلیم دینے کے اور کوئی طریقہ اختیار نہیں کر سکتی جس سے ہندوستانیوں میں سوسائٹی کی حالت اچھی ہو اور عمدہ سوسائٹی ان کی بن جاوے۔\n\nدماغی تعلیم جس کاہم نے ابھی اوپر ذکر کیا کچھ شبہ نہیں ہے کہ انسان کو انسان اور اس کی عقلی اور دماغی قوتوں کے کامل اور اس کے اخلاق کو عمدہ بنانے میں بہت کچھ مدد کرتی ہے۔ مگر جب مسئلہ حصول معاش پر نظر کی جاتی ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ یقینی امر ہے کہ محض علمی پیشیوں میں حصول معاش کی ذرا بھی گنجائش باقی نہیں ہے۔ اور اس لیے ان کا اور نیز ہمارے حکام کا اس طرف خیال جاتا ہے کہ حرفت اور فن کی تعلیم کو جسے سینز اور ٹیکنیکل ایجوکیشن سے تعبیر کیا جاتا ہے، زیادہ وسعت دی جاوے۔\n\nٹیکنیکل ایجوکیشن کے معنی تو ہم آج تک نہیں سمجھے کہ اس سے کیا مراد ہے؟ اگر اس کی مراد حرفوں کی تعلیم سے ہے جیسے لوہاری، نجاری، نور بافی وغیرہ وغیرہ تو اس کی ضرورت تو ہم ہندوستان میں بہت کم پاتے ہیں کیونکہ اس قسم کے تعلیم یافتہ لوگوں کی کمی ہندوستان میں نہیں ہے۔ اگر یورپ کو یا اور کسی ملک کو اس باب میں توفّق ہے تو وہ صرف اس وجہ سے ہے کہ جو کام ہندوستان میں ہاتھوں سے ہوتا ہے وہ ان ملکوں میں کلوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ مگر کلیں قائم کرنے والے وہ لوگ نہیں ہیں جو ان میں کام کرتے ہیں۔ بلکہ کلوں کو قائم کرنے والی ایک جدا جماعت ہے۔ ہندوستان میں اگرچہ کہیں کہیں ایسی جماعتیں قائم ہوئی ہیں، مگر ہندوستان میں عام طور پر ایسی جماعتوں کاقائم ہونا ظاہرا ًبہت دور، اور بعض وجوہ سے اگر نا ممکن نہیں تو مشکل تو ضرور معلوم ہوتا ہے۔\n\nسینز بلا شبہ نہایت عمدہ چیز ہے۔ اور سینز کا جاننے والا آج کل کے زمانے میں قریب قریب ہر حرفت پر پورا پورا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ اور معاش حاصل کرنے کے لیے نہایت عمدہ ذریعہ اس کے پاس ہوتا ہے۔ جیسا کہ یورپ کے ملکوں میں دیکھا جاتا ہے مگر یورپ کے ملکوں کا قیاس ہندوستان پر نہیں ہو سکتا۔ یورپ میں ہر قسم کے متعدد کارخانے موجود ہیں۔ اوراس لیے یورپ کی یونیورسٹیوں میں سینز کی تعلیم دینا فائدہ سے خالی نہیں۔ کیونکہ ہر قسم کے سینز جاننے والے کے لیے ہر قسم کے کارخانے موجود ہیں جن میں وہ جا سکتا ہے اور اپنی معا ش پیدا کر سکتا ہے۔ مگر ہندوستان میں اس قسم کے کارخانے نہیں ہیں اور نہ ابھی ان کے ہونے کی توقع ہے۔ پس سینز جاننے والا بجز اس کے کہ سینز کا عالم ہوکر اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور کوئی ذریعہ معاش کا حاصل نہیں کر سکتا۔ گورنمنٹ ڈاکٹری، انجینئری، نقشہ نویسی وغیرہ کی جو ٹیکنیکل ایجوکیشن یا سینز میں داخل ہیں، بقدر ضرورت اس ملک کے تعلیم دیتی ہے اور اس ذریعہ سے وہ لوگ معاش بھی پیدا کرتے ہیں۔ مگر اس سے زیادہ تعلیم کی نہ ہندوستان کی موجودہ حالت میں گنجائش ہے اور نہ وہ اس تعلیم سے کچھ معاش پیدا کر سکتے ہیں۔\n\nبڑی ضرورت ہندوستان میں اعلی درجہ کی دماغی تعلیم کی اور اخلاقی اور سوشیل حالت کی درستی کی ہے جو ابھی تک نہیں ہوئی یا پورے طور پر نہیں ہوئی۔ اس کے بعد باقی امور لحاظ کے قابل ہیں۔ پس ہم کو مناسب نہیں ہے کہ ہم دفعۃ سب امور کا ہونا چاہیں بلکہ جو کام ہم کو پہلے کرنا ہے اس کو مقدم سمجھیں اور اس کے بعد جو کام کرنے ہیں وہ کریں۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85"} {"title": "تعلیم اور اس کے نتائج", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقّی سے مگر\nلبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ\n\nہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم\nکیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ\n\nگھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نُما\nلے کے آئی ہے مگر تیشۂ فرہاد بھی ساتھ\n\n“تخمِ دیگر بکف آریم و بکاریم ز نو\nکانچہ کشتیم ز خجلت نتواں کرد درو”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%AA%D8%A7%D8%A6%D8%AC"} {"title": "تعلیم کی میزان میں ہیں تلتے جاتے", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تعلیم کی میزان میں ہیں تلتے جاتے\nہیں جوہر طبع روز کھلتے جاتے\nہے عقل کی بزم عالموں روشن\nخود گرچہ ہیں مثل شمع گھلتے جاتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92"} {"title": "تعلیمِ مغربی ہے بہت جُرأت آفریں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "تعلیمِ مغربی ہے بہت جُرأت آفریں\nپہلا سبَق ہے، بیٹھ کے کالج میں مار ڈِینگ\n\nبستے ہیں ہند میں جو خریدار ہی فقط\nآغا بھی لے کے آتے ہیں اپنے وطن سے ہِینگ\n\nمیرا یہ حال، بُوٹ کی ٹو چاٹتا ہوں میں\nاُن کا یہ حکم، دیکھ! مرے فرش پر نہ رِینگ\n\nکہنے لگے کہ اُونٹ ہے بھدّا سا جانور\nاچھّی ہے گائے، رکھتی ہے کیا نوک دار سِینگ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85%D9%90_%D9%85%D8%BA%D8%B1%D8%A8%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%AC%D9%8F%D8%B1%D8%A3%D8%AA_%D8%A2%D9%81%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تعمیر", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اپنے سینے میں دبائے ہوئے لاکھوں شعلے\nشبنم و برف کے نغمات سنائے میں نے\nزیست کے نوحۂ پیہم سے چرا کر آنکھیں\nگیت جو گا نہ سکے کوئی وہ گائے میں نے\n\nآج تشبیہ و کنایات کا دل ٹوٹ گیا\nآج میں جو بھی کہوں گا وہ حقیقت ہوگی\nآنچ لہرائے گی ہر بوند سے پیمانے کی\nمیرے سائے کو مری شکل سے وحشت ہوگی\n\nغم دوراں نے غم دل کا سکوں چھین لیا\nاب ترے پیار میں بھی پیار کے انداز نہیں\nشوق کے قلعۂ تاریک میں ہے سناٹا\nکوئی آواز نہیں کوئی بھی آواز نہیں\n\nکیسے سمجھاؤں کہ الفت ہی نہیں حاصل عمر\nحاصل عمر اس الفت کا مداوا بھی تو ہے\nزندگی حسرت خس خانہ و برفاب سہی\nکچھ دہکتے ہوئے شعلوں کی تمنا بھی تو ہے\n\nتو مرا خواب ہے آدرش ہے لیکن مجھ کو\nتیرے اس قصر طرب ناک سے جانا ہوگا\nآگ اور خون اگلتے ہوئے سیارے کو\nپھر ترا قصر طرب ناک بنانا ہوگا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B9%D9%85%DB%8C%D8%B1"} {"title": "تعمیر زندگی کو نمایاں کیا گیا", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تعمیر زندگی کو نمایاں کیا گیا\nتخریب کائنات کا ساماں کیا گیا\n\nگلشن کی شاخ شاخ کو ویراں کیا گیا\nیوں بھی علاج تنگیٔ داماں کیا گیا\n\nکھوئے ہوؤں پہ تیری نظر کی نوازشیں\nآئینہ دے کے اور بھی حیراں کیا گیا\n\nآوارگیٔ زلف سے آسودگی ملی\nآسودگی ملی کہ پریشاں کیا گیا\n\nوہ خوش نصیب ہوں کہ غم التفات سے\nمیرے غم حیات کا درماں کیا گیا\n\nتنہائیاں بچھا کے جہان خراب میں\nمیرے لئے نگاہ کا ساماں کیا گیا\n\nپھیلا کے بے ثباتیٔ عالم کی داستاں\nمجھ پر حرام کیف بہاراں کیا گیا\n\nبھڑکا کے آتش رخ جاناں کی آرزو\nمجھ کو رہین آتش دوراں کیا گیا\n\nنومیدیٔ طلب پہ چڑھا کے طلب کا رنگ\nامید دید دوست کو ارزاں کیا گیا\n\nیہ بھی کرم کہ مجھ کو شبان سیاہ میں\nمامور دلنوازیٔ ہجراں کیا گیا\n\nجمعیت جمال کا حسن کمال دیکھ\nآخر یہی ہوا کہ پریشاں کیا گیا\n\nدے کر چمن کو بہار و خزاں کا رنگ\nمیرے خیال و خواب پہ احساں کیا گیا\n\nآ اور کائنات کے پھولوں کی داد دے\nجن سے ترا جمال نمایاں کیا گیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B9%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D9%85%D8%A7%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تعین تسلسل ہے نقش بدن کا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تعین تسلسل ہے نقش بدن کا\nاسی سے تعلق ہے یہ جان و تن کا\n\nتصوف تبدل ہے عادات بد کا\nتعرف نتیجہ ہے خلق حسن کا\n\nوہی گل شجر ہے وہی بوستاں ہے\nوہی آپ ہے باغباں اس چمن کا\n\nوہ بے کیف و م ہے قدیم و ازل سے\nاسی سے ہے یہ نقش دہر کہن کا\n\nتولّا سمجھ ہم زبانی سے بہتر\nتعشق ہوا ہمدم و ہم سخن کا\n\nرم و شوق کی بھی عجائب کشش ہے\nبرا حال ہے عاشق خستہ تن کا\n\nجو سر خفی ہے وہ عین جلی ہے\nکھلا آج عقدہ یہ سر دہن کا\n\nلطائف میں مضمر ہے تصویر وحدت\nیہ خلوت میں پیدا ہے لطف انجمن کا\n\nنظر بر قدم ہے طریق تصور\nرم و شوق جادہ ہے سر و علن کا\n\nنہاں سے عیاں ہے عیاں میں نہاں ہے\nیہ جادہ ملا ہے سفر در وطن کا\n\nسلوک طریقت ہے آفاق و انفس\nکہ جلوہ ہے تنزیہہ میں سیم تن کا\n\nوہ بے پردہ بھی پردہ پوش نظر ہے\nحجاب آ گیا ہے ہمیں حسن ظن کا\n\nکبھی شاد و خنداں کبھی زار و نالاں\nتماشا ہے ساقیؔ کے دیوانہ پن کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%B9%DB%8C%D9%86_%D8%AA%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے\nاگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے\n\nرہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے\nبھرے ہیں جس قدر جام و سبو مے خانہ خالی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA_%D8%B9%D8%AC%D8%B2_%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "تغلق آباد کا سنار", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اس وقت کے کھنڈر تغلق آباد کا ذکر نہیں ہے، لیکن غیاث الدین تغلق کے عہد کا تغلق آباد، جس میں ساری دہلی کی آبادی سما رہی تھی اور جو آج اس شاہجہاں آباد اور رائے سینہ میں لہر بہر دیکھتے ہیں، یہ سب تغلق آباد میں پائی جاتی تھیں۔ مگر جمنا داس سنار کی بدنصیبی دیکھئے۔ سات پشت کا کاریگر جس کے باپ دادا بادشاہ زادیوں اور بیگموں کے لئے گہنے بناتے تھے اور انعام پاتے تھے، یہ فاقہ کرتا تھا۔ اس کی دکان بیچ جوہری بازار میں تھی۔ آس پاس کے بیٹھنے والے سنار جو بالکل اناڑی تھے، دن رات روپیہ رولتے تھے اور یہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہتا تھا۔\n\nدوسرے تیسرے دن اس کے پاس کام آتا تو بس اتنا کہ یہ اور اس کی جورو درگا بائی مشکل سے دو وقت کی جَو کی سوکھی روٹی کھا لیں۔ اور دو تین دن تابڑ توڑ فاقہ کریں۔ اور کپڑے لتے کا نصیب ہونا دشوار تھا۔ درگا بیچاری کے لہنگے میں پیوند، دوپٹہ بور بور، اور انگیا کرتی تو پہننی بھول ہی گئی تھی۔ ننگے گلے، ننگے پیٹ، پرانے دھرانے دوپٹہ سے آگا پیچھا ڈھانک لیتی تھی۔ جمنا داس کی دھوتی اورپگڑی تار تار، گلے میں پھٹا ہوا کرتہ، میلا کچیلا۔ پھر اس پر طرہ یہ کہ بے اولادی۔ پچاس برس کا جمنا داس ہوگیا اور چالیس برس کی درگا۔ ان کے یہاں چوہے کا بچہ بھی نہ ہوا۔\n\nجمنا داس جب رات کو آتا، چوتھے پانچویں دو تین آنے کے پیسے لاتا جو ان دونوں دموں کے لئے بہت ہوتے۔ مگر جیت یہ تھی کہ اناج اور ترکاری اور سب جنس سستی تھی۔ اسی تنگی ترشی میں درگا جی کا پاؤں بھاری ہوا۔ اور ایشور کی کرپا دیکھئے، نویں مہینے لڑکا پیدا ہوا۔ بوڑھے منہ مہانسے اور لوگ چلے تماشے۔ جب درگا پیٹ سے تھی تو پاس پڑوس کی عورتیں چپکے چپکے کہا کرتی تھیں۔ مالک خیر کرے۔ پچیس برس کی عمر تک اگر عورت کے یہاں بال بچہ نہیں ہوتا ہے تو اس کا ہاڑ سے ہاڑ جڑ جاتا ہے۔ جب اس عمر گئے پیٹ رہتا ہے تو عورت کو جننا مصیبت ہوتا ہے۔ یا تو پیٹ میں بچہ مر جاتا ہے یا زچہ سدھار جاتی ہے۔ کیونکہ اس پکی عمر میں تکلیف کی سہار نہیں ہوتی۔ مگر جسے خدا رکھے اسے کون چکھے۔ درگا دیوی پلنگ کو لات مارکر کھڑی ہوگئیں اور بال بھی بیکا نہ ہوا۔ پنڈت جی مہاراج نے بالک کا راس دیکھ کر جنم پترہ بنایا اور گوپال داس نام لکھ کر اور دو ٹکے لے کر تشریف لے گئے۔\n\nیہ بچہ ایسا دلدری ہوا کہ جمنا داس کے گھر کی رہی سہی برکت جاتی رہی۔ مکان ٹوٹ پھوٹ کر کھنڈر ہو گیا اور ا س کے باپ نے پھونس مانگ تانگ کر ایک چھپر ڈال لیا اور اس میں یہ بچہ اور اس کے ماں باپ اپنی زندگی کاٹتے۔ اس مصیبت اور تکلیفوں میں گوپال بارہ برس کا ہوگیا، اور اس کے ماں باپ بوڑھے ہوکر حلوہ بن گئے۔ سرسفید، داڑھی سفید، دانت ٹوٹ گئے۔ پنڈوں پر جھریاں پڑ گئیں، آنکھوں سے کم دکھائی دینے لگا۔ پھر اس پر روٹی کی مار۔ سردی اور گرمی اور خاص کر برسات پرانے چھپر تلے کاٹنی معاذ اللہ۔ درگا کی یہ مصیبت دیکھ کر ایک مسلما ن پڑوسن نے اس سے کہا، یہ پہاڑ جو تغلق آباد سے چکر کھاتا ہوا گوڑ گانوہ کی طرف چلا گیا ہے، اس میں دس میل پر ایک کھوہ ہے۔ اس میں ولی اللہ ایک مسلمان رہتے ہیں۔ جو وہ کہہ دیتے ہیں، وہ ہوجاتا ہے۔\n\nہزاروں ہندو، ہزاروں مسلمان ان کے پاس جاتے ہیں اور اپنی اپنی مرادیں پاتے ہیں۔ جسے وہ دعا دے دیتے ہیں وہ نہال ہوجاتا ہے۔ نگوڑی تو بھی ان کے پاس جا، اور اپنے گھر والے اور اپنے بچے کو بھی ساتھ لے جا۔ ہاتھ پاؤں جوڑنا اور اپنی رام کہانی انہیں سنانا۔ خدا چاہے تو سب بھرے پُرے پلٹ کر آؤگے۔ پڑوسن کی بات درگا کے جی کو لگ گئی۔ اور اس نے دو چار ہندو عورتوں سے بھی سنا کہ مسلمان فقیر سچ مچ پہنچے ہوئے آدمی ہیں۔ اور کچھ رات رہے بوڑھی سناری اپنے خاوند اور اپنے بچے کو لے کر پتہ پر چل دی۔ تینوں کے تینوں بھوکوں کے مارے کمزور اور بودے ہو رہے تھے۔ ایک ایک قدم انہیں منزل تھا۔ پہاڑیوں پر دوڑنے پھرنے سے پاؤں لہولہان ہوگئے۔ مگر گرتے پڑتے فقیر صاحب کی کھوہ تک پہنچ ہی گئے۔\n\nجو سناتھا، اس سے زیادہ وہاں حاجت مندوں کی بھیڑ لگی ہوئی دیکھی۔ فقیر صاحب پتھر کی چٹان پر ایک بوریا بچھائے بیٹھے تھے اور تعویذ گنڈے دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے، جس کسی کو کہنا سننا ہو وہ جلدی کہہ لے۔ میری اللہ اللہ میں ہرج ہوتا ہے۔ سنار اور سناری فقیر کی نورانی صورت دیکھ کر خوش ہو گئے۔ اور انہوں نے آپس میں کہا، بیشک یہ منہ مانگی مراد دیں گے۔ جب چھیڑ ہو گئی تو فقیر صاحب نے ان سے بھی کہا، بابا جو تمہارا مطلب ہو وہ کہہ ڈالو۔ جمنا داس نے کہا، حضور ہم اپنی بات اکیلے میں کہنی چاہتے ہیں۔\n\nفقیر صاحب نے کہا، تو ظہر کے وقت تک ٹھہرو۔ اس وقت تک یہاں کوئی نہ رہے گا۔ پھر جو تمہارا جی چاہے وہ کہنا۔ یہ کہہ کر فقیر صاحب لوگوں کو تعویذ فلیتہ بانٹنے لگے۔ یہاں تک کہ سب لوگ چلے گئے۔ فقیر صاحب نے ظہر کی نماز ادا کی اور جمنا داس سے کہا، ہوں! بولو۔۔۔ کیا چاہتے ہو۔ جمنا داس اور اس کی بیوی اور اس کا بارہ برس کا لڑکا فقیر صاحب کے قدموں پر گرپڑے اور سب نے مل کر اپنی بیکسی، نہوت کا حال اس طرح عرض کیا کہ فقیر صاحب کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے۔ اور آپ نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور مراقبہ میں مشغول ہوگئے۔ کچھ دیر بعد آنکھیں کھول کر ان سے کہا، اللہ تم تینوں کے حال پر رحم کرے گا۔ کان کھول کر سن لو۔ فقیروں کے بس میں کچھ نہیں ہوتا ہے۔ وہ نہ کسی کو دے سکتے ہیں، نہ کسی سے کچھ چھین سکتے ہیں۔ دینا او رنہ دینا یہ اسی داتا کے گن ہیں۔ جو سنسار کا پالنے والا ہے۔ مجھے تو بس اتنا حکم ملا ہے کہ ان تینوں آدمیوں سے کہہ دو کہ تم تینوں کی ایک ایک دعا قبول ہو سکتی ہے اور وہ بھی آن کی آن میں جو مانگوگے وہ فوراً پاؤگے، مگر دوبارہ دعا کام نہ دے گی۔ اب تم اپنے گھر جاؤ۔ اور سوچ سمجھ کر دھن دولت ہاتھی گھوڑے جو کچھ مانگنا ہو، مانگ لینا۔ اسی وقت مل جائےگا اور تمہارے دلدر پار ہو جائیں گے۔ لو اب سواری بڑھاؤ۔\n\nیہ تینوں فقیر صاحب کے ہاتھ پاؤں چوم کر تغلق آباد کو چل دیے، اور مارے خوشی کے اپنے جامے میں پھولے نہ سماتے تھے اور اپنے جی میں الگ الگ سوچتے چلے جاتے تھے کہ ہمیں خدا سے کیا مانگنا چاہئے۔ بوڑھیا سناری کے دھیان میں یہ بات آئی کہ میرا بوڑھا گھر والا دلی کی سلطنت خدا سے مانگے گا، اور اسے فوراً دلی کی سلطنت مل جائے گی۔ اور پھر اس کے اوپر سیکڑوں بادشاہ زادیاں اور کنواری کنیاں پری زاد سے پری زاد واری اور قربان ہوں گی، اور مجھ کھپٹ بوڑھیا کو جس کے منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت ہے، کبھی بھول کر نہ پوچھےگا، اور راجہ اندر بن جائے گا۔ اس لئے میرے لئے یہ مناسب ہے کہ پہلے اس کا توڑ کرو۔ اور دعا کی برکت سے راج دلاری اور خوبصورت اور کنواری لڑکی بن جاؤں تاکہ جمنا داس بادشاہ بنتے ہی میرے اوپر عاشق ہوجائے۔ اور مجھے اپنی بڑی رانی بنائے۔ اس خیال کے آتے ہی اس نے ہاتھ اٹھاکر دعا کی کہ ایشور! اے پرماتما! تو مجھے چودہ برس کی کنواری کنیا اور ابلہ پری بنا دے کہ جو مجھے دیکھے مجھ پر موہت ہوجائے۔ اور میرا دم بھرنے لگے۔\n\nکامل فقیر کا کہنا سچا تھا۔ دعا کرتے ہی بوڑھی سناری ایک حور بہشتی یا پرستان کی پری بن گئی۔ اور بوڑھے خاوند کو اپنے ناز و انداز دکھانے چلی۔ اتفاق کی بات ادھر سے شاہنشاہ دہلی کا ولی عہد بادشاہ زادہ ہرن کے پیچھے گھوڑا مارے چلا آتا تھا، جو ان کے پاس آن پہنچا۔ اور اس کی درگا دیوی سے آنکھیں چار ہوئیں۔ بادشاہ زادے نے درگا کے پاس گھوڑا لاکر کہا، بیا۔ درگا ہرنی کی طرح چھلانگ مار کر اس کے گھوڑے کے پاس پہنچی۔ بادشاہ زادے نے کہا۔ جان من! گھوڑے کی رکاب میں پاؤں رکھ کر اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے۔ اور نازنین سناری کو اپنے آگے گھوڑے پر بٹھا، گھوڑے کو ایڑ دیتا ہے تو یہ جاوہ جا۔\n\nبوڑھا سنار اور اس کا نادان لونڈا ہکّا بکّاکہ ابھی یہ چھلاوہ کہاں سے آیا، جو درگا کو چھین کر چمپت ہوا۔ بوڑھے سنار نے جورو کی جو یہ بے وفائی دیکھی جل مرا۔ اور اس نے کہا ٹھیر تو جا چڑیل! مجھے چھوڑ کر تو بادشاہ زادے کے ساتھ سیج پر سوئے، یہ نہیں ہوسکتا اور اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ چلا کر کہا اے خدا! اے داتا! بس میری یہی دعا ہے کہ یہ جو درگا بادشاہ زادے کے ساتھ گھوڑے پر چلی جاتی ہے، اس کو تو سورنی بنادے۔\n\nولی عہد اپنے گھوڑے کو بھگائے چلا جاتا ہے اور ارمان کے مارے اپنی معشوقہ کے مکھڑے کو دیکھتا جاتا تھا۔ جو ایک دفعہ اس نے دیکھا حور نہ پری میرے آگے زرین غاشیہ پر کالی کلوٹی کیچڑ میں لتھڑی لتھڑائی ایک سورنی بیٹھی ہے، اور میں اسے دونوں ہاتھوں سے تھام رہا ہوں، اور اس کے پنڈے کے سخت سخت بال ہاتھوں کو زخمی کئے دیتے ہیں۔ اس تماشے کو دیکھ کر ولی عہد نے گمان کیا کہ اس جنگل میں چھلاوہ رہتا ہے۔ پہلے ہرن بن کر میرے سامنے آیا۔ پھر پری بن گیا۔ اب سورنی بن کر ڈراتا ہے۔ یہ سوچ کر ولی عہد نے فوراً سورنی کو دھکیل کر نیچے گرا دیا اور گھوڑا بھگا کر لاحول پڑھتا ہوا چل دیا۔\n\nدرگا بائی سورنی کی جون میں جنگل کے اندر حیران کھڑی تھی۔ اور دن ڈگڈگیوں رہ گیا تھا۔ پہاڑوں پر جو درخت تھے ان کی پھننگ پر زرد مہین دھوپ کچھ باقی تھی، جو اس میں جمنا داس اور گوپال داس سورنی کے پاس پہنچے۔ جمنا داس کا جی جل رہا تھا۔ وہ غصہ میں بھرا ہوا تھا۔ اس نے آتے ہی دونوں ہاتھ سے ایک لٹھ سورنی کی کمر پر ٹکا دیا۔ اور وہ قیں قیں کر کے چیخی اور بوڑھے کے پاؤں پر لوٹنے لگی۔\n\nجب جمنا داس نے مارتے مارتے اس کا کچومر نکال لیاتو گوپال داس سے کہا، یہ تیری میا ہے، جس کے لئے تو پھڑکا جاتا تھا۔ اور یہ جوان مردوے کے ساتھ بھاگی تھی۔ اب ایک دعا تیری اور ہے۔ وہ تو اپنی ماں کے کام میں لا اور اسے آدمی بنا۔ یہ سن کر سورنی گوپال کے پاؤں پر آپڑی۔ اور اس کے صدقے واری ہونے لگی۔ جس کے یہ معنی تھے کہ میرے لئے دعا کر اور میں جیسی کہ تیسی سناری بن جاؤں۔ گوپال نے اپنی ماں پر ترس کھاکر دعا کی اور وہ بوڑھی سناری بن گئی۔\n\nرات کے بارہ بجے یہ تینوں اپنے جھونپڑے میں پہنچے۔ صبح کو مسلمان پڑوسن نے درگا سے پوچھا کہ تمہیں فقیر صاحب کے یہاں سے کیا ملا۔ درگا نے اپنی ساری کہانی اسے سنائی او رکہا، ’’بہن تم نے جو کہا تھا، وہ سب سچ نکلا۔ مگر پوت گئے دکھن اور وہی کرم کے لچھن۔ خدا کی بے مرضی نہ فقیر کسی کو کچھ دے سکتا ہے نہ بادشاہ، مگر لوگوں کو خبط ہوتا ہے کہ میں اور میرے سارا کنبہ کایا پلٹ ہوجائے۔ اور ہم دن رات جشن جمشیدی کیا کریں۔ مگر وہ منھ دھو رکھیں۔‘‘", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D8%BA%D9%84%D9%82_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%B1"} {"title": "تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے\nعشق کی آتش بلا ہے اس کی سوزش اور ہے\n\nکیوں نہ وحشت میں چبھے ہر مو بشکل نیش تیز\nخار غم کی تیرے دیوانے کی کاوش اور ہے\n\nمطربو باساز آؤ تم ہماری بزم میں\nساز و ساماں سے تمہاری اتنی سازش اور ہے\n\nتھوکتا بھی دختر رز پر نہیں مست الست\nجو کہ ہے اس فاحشہ پر غش وہ فاحش اور ہے\n\nتاب کیا ہمتاب ہووے اس سے خورشید فلک\nآفتاب داغ دل کی اپنے تابش اور ہے\n\nسب مٹا دیں دل سے ہیں جتنی کہ اس میں خواہشیں\nگر ہمیں معلوم ہو کچھ اس کی خواہش اور ہے\n\nابر مت ہم چشم ہونا چشم دریا بار سے\nتیری بارش اور ہے اور اس کی بارش اور ہے\n\nہے تو گردش چرخ کی بھی فتنہ انگیزی میں طاق\nتیری چشم فتنہ زا کی لیک گردش اور ہے\n\nبت پرستی جس سے ہووے حق پرستی اے ظفرؔ\nکیا کہوں تجھ سے کہ وہ طرز پرستش اور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%81%D8%AA%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC_%D8%A7%DB%92_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B4_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "تفضلات نہیں لطف کی نگاہ نہیں", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "تفضلات نہیں لطف کی نگاہ نہیں\nمعاملہ ابھی مطلق وہ رو بہ راہ نہیں\n\nغلط ہے آہ کہ ہے دل کو دل سے راہ نہیں\nکہ تیری چاہ مجھے تجھ کو میری چاہ نہیں\n\nغلام ہم تو ہیں ایسے مزاج والوں کے\nکسی کے ساتھ کسی ڈھب کی جن کو راہ نہیں\n\nہماری چوری جو ثابت ہوئی دلیل بھی کچھ\nمقر نہیں کوئی شاہد نہیں گواہ نہیں\n\nتواضع آپ کی ہم کیا کریں بھلا صاحب\nبقول شخصے اس اپنے جگر میں آہ نہیں\n\nرکھائیاں جو یہی ہیں تو اس طرح اپنا\nنہیں نہیں نہیں ہرگز نہیں نباہ نہیں\n\nحرم سے دیر میں یاں آب و دانہ لے آیا\nبہ رب کعبہ مرا اس میں کچھ گناہ نہیں\n\nنہ کچھ جہت نہ سبب قاہ قاہ ہنستے ہو\nتمہاری خوش مجھے آتی یہ قاہ قاہ نہیں\n\nکہوں بقید قسم لاالہ الا اللہ\nکہ تاب ہجر بس اب مجھ میں اے الٰہ نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%81%D8%B6%D9%84%D8%A7%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%B7%D9%81_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تقاضائے سن", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "حالیؔ کو جو کل فسردہ خاطر پایا\nپوچھا باعث تو ہنس کے یہ فرمایا\nرکھو نہ اب اگلی صحبتوں کی امید\nوہ وقت گئے اب اور موسم آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%82%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B3%D9%86"} {"title": "تقدیر (اِبلیس و یَزداں)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اِبلیس\nاے خدائے کُن فکاں! مجھ کو نہ تھا آدم سے بَیر\nآہ! وہ زندانیِ نزدیک و دُور و دیر و زُود\nحرفِ ’اِستکبار‘ تیرے سامنے ممکن نہ تھا\nہاں، مگر تیری مشیّت میں نہ تھا میرا سجود\n\nیزداں\nکب کھُلا تجھ پر یہ راز، انکار سے پہلے کہ بعد؟\n\nاِبلیس\nبعد، اے تیری تجلّی سے کمالاتِ وجود!\n\nیزداں\n(فرشتوں کی طرف دیکھ کر)\nپستیِ فطرت نے سِکھلائی ہے یہ حُجتّ اسے\nکہتا ہے ’تیری مشیّت میں نہ تھا میرا سجود،\nدے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نام\nظالم اپنے شُعلۂ سوزاں کو خود کہتا ہے دُود!\n\n(ماخوذ از محی الدّین ابنِ عربیؒ)", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%28%D8%A7%D9%90%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%B3_%D9%88_%DB%8C%D9%8E%D8%B2%D8%AF%D8%A7%DA%BA%29"} {"title": "تقدیر (نااہل کو حاصل ہے کبھی قُوّت و جبروت)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "نااہل کو حاصل ہے کبھی قُوّت و جبروت\nہے خوار زمانے میں کبھی جوہرِ ذاتی\nشاید کوئی منطق ہو نہاں اس کے عمل میں\nتقدیر نہیں تابعِ منطق نظر آتی\nہاں، ایک حقیقت ہے کہ معلوم ہے سب کو\nتاریخِ اُمَم جس کو نہیں ہم سے چھُپاتی\n’ہر لحظہ ہے قوموں کے عمل پر نظر اس کی\nبُرّاں صفَتِ تیغِ دو پیکر نظر اس کی!‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%28%D9%86%D8%A7%D8%A7%DB%81%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%82%D9%8F%D9%88%D9%91%D8%AA_%D9%88_%D8%AC%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%AA%29"} {"title": "تقدیر جب معاون تدبیر ہو گئی", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تقدیر جب معاون تدبیر ہو گئی\nمٹی پہ کی نگاہ تو اکسیر ہو گئی\n\nدل جاں نثار مے ہے زباں تائب شراب\nاس کشمکش میں روح کی تعزیر ہو گئی\n\nچھینٹیں جو خوں کی دامن قاتل میں رہ گئیں\nمحشر میں میرے قلب کی تفسیر ہو گئی\n\nیا قتل کیجئے مجھے یا بخش دیجیے\nاب ہو گئی حضور جو تقصیر ہو گئی\n\nشبنم اوڑھی گلوں سے مرا نقشہ کھنچ گیا\nمرجھا گئی کلی مری تصویر ہو گئی\n\nزندانیاں کاکل ہستی کدھر کو جائیں\nاک زلف سب کے پاؤں کی زنجیر ہو گئی\n\nمیں کہہ چلا تھا داور محشر سے حال دل\nاک سرمگیں نگاہ گلو گیر ہو گئی\n\nبس تھم گیا سفیر عمل کہہ کے یا نصیب\nجس جا پہ ختم منزل تدبیر ہو گئی\n\nتوڑا ہے دم ابھی ابھی بیمار ہجر نے\nآئے مگر حضور کو تاخیر ہو گئی\n\nجب اپنے آپ پر ہمیں قابو ملا رواںؔ\nآسان راز دہر کی تفسیر ہو گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%88%D9%86_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "تقدیر شمع جلوۂ جانانہ بن گیا", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تقدیر شمع جلوۂ جانانہ بن گیا\nشعلہ اٹھا جو اس سے تو پردا نہ بن گیا\n\nجو حال دل تھا کیف میں تاثیر درد تھا\nوہ کہتے کہتے شوق کا افسانہ بن گیا\n\nجنت کی آرزو سے ہے جنت کا کل وجود\nویرانہ کہہ دیا جسے ویرانہ بن گیا\n\nیک قطرہ دل تھا مست کا پیمانۂ نصیب\nساقی نے کی نگاہ تو مے خانہ بن گیا\n\nموقع شناس حسن محبت کے باب میں\nاپنا تھا اور حشر میں بیگانہ بن گیا\n\nاس کی طلب میں جب نہ رہا اس کا کچھ لحاظ\nانداز بے قرار گدایانہ بن گیا\n\nیوں اپنے در سے ٹال دیا اس کے ناز نے\nانداز لطف خاص کریمانہ بن گیا\n\nکیفیؔ حرم کے در پہ تھا جو کچھ وہ فیض تھا\nہاں بت کدے میں سجدۂ شکرانہ بن گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تقدیر میں اضافۂ سوز وفا ہوا", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تقدیر میں اضافۂ سوز وفا ہوا\nدل میں جو تم نے آگ لگا دی تو کیا ہوا\n\nکہتے ہیں جس کو موت ہے اک بے خودی کی نیند\nاس کو فنا کہاں ہے جو تجھ پر فنا ہوا\n\nاے خادمان حسن یہ کیا انتظام ہے\nاب تک چراغ طور پڑا ہے بجھا ہوا\n\nہستی و نیستی کی حدیں دور رہ گئیں\nیہ آ گیا کہاں میں تجھے ڈھونڈھتا ہوا\n\nمنہ سے دعا نکل ہی گئی وقت قتل بھی\nکہنا یہ تھا کہ حق محبت ادا ہوا\n\nبحث نیاز و ناز تھی کل بزم حسن میں\nسیمابؔ کچھ خبر نہیں کیا فیصلہ ہوا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D9%81%DB%82_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کر", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کر\nوا باب اجابت ہو کہ نہ ہو زنجیر ہلا تاخیر نہ کر\n\nغم بڑھنے دے اے دل اور ذرا جانچ آہ کی بے تاثیر نہ کر\nہے خواب ادھورا آپ ابھی بے سمجھے غلط تعبیر نہ کر\n\nجب ظلم کا بدلہ ظلم ہوا مظلوم کا حق کچھ بھی نہ رہا\nدے درد ہی میں لذت یا رب نالے کو عطا تاثیر نہ کر\n\nہو لاکھ کمان کڑی قاتل کچھ جذب نشانے میں بھی ہے\nبازو کے بل پہ نظر کر کے اندازۂ زخم تیر نہ کر\n\nاب تک جو نگاہیں سیدھی ہیں ممکن ہے کل یہ پلٹ جائیں\nجو کرنا ہو کرے ایسے میں کس سوچ میں ہے تاخیر نہ کر\n\nپیمان محبت ختم ہوا اب ذکر سے اس کے فائدہ کیا\nمنہ بکھری کڑیوں کے نہ ملا تیار نئی زنجیر نہ کر\n\nالفت کے عہد محکم میں بودے کاغذ کی ضمانت کیا\nیہ دل سے دل کی باتیں ہیں رکھ یاد فقط تحریر نہ کر\n\nہر دل ہے حیات کا سرمایہ ہر دل میں جوش محبت کا\nتو آرزوؔ اور کہے گا کیا بس رہنے بھی دے تقریر نہ کر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D8%B4%D8%A7%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "تقریر سے وہ فزوں بیان سے باہر", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تقریر سے وہ فزوں بیان سے باہر\nادراک سے وہ بری گمان سے باہر\nاندر باہر ہے وہ نہ پیدا پنہاں\nسرحد مکان و لا مکان سے باہر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%81%D8%B2%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1"} {"title": "تقریر صدارت اردو کانفرنس، ناگپور", "poet_page": "مصنف:مولوی عبد الحق", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(مولانا ڈاکٹر عبد الحق صاحب کا خطبۂ صدارت ۲۳/اکتوبر ۱۹۳۸ء)\n\nاے صاحبو! کسی حکیم کا قول ہے کہ جس چیز کو ہم ہر وقت دیکھتے رہتے ہیں، اسے کبھی نہیں دیکھتے۔ یہی نہیں بلکہ اس کی قدر بھی نہیں کرتے۔ یہی حال زبان کا ہے۔ ہم صبح سے شام تک اسے بولتے اور اس میں بات چیت کرتے رہتے ہیں لیکن ہم میں سے کتے ہیں جو کبھی اس پر غور کرتے ہوں کہ یہ کیا چیز ہے اور اس میں کیسے کیسے گن بھرے ہوئے ہیں۔حضرات اسے معمولی چیز نہ سمجھیے۔ یہ ایک زبردست قوت ہے۔ اس کی پشت پر ایک نہایت مستحکم فصیل اور قلعہ ہے۔ وہ مستحکم فصیل اور قلعہ تہذیب و تمدن ہیں، جن پر ہماری معاشرت اور ہماری سیاست، ہمارے مذہب اور ہماری ترقی کا دارومدار ہے۔ اگر ہم ابتدا سے اب تک زبان کے ارتقا کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ انسانی ترقی کا راز بہت کچھ زبان میں پنہاں ہے۔ علم بڑی قوت ہے لیکن اس قوت کا سہارا زبان پر ہے۔ یہ تو ہواعام زبان کاحال لیکن ہماری اردو زبان کی شان سب سے نرالی ہے۔ یوں تو ہندستان میں بیسیوں اور سینکڑوں زبانیں ہیں لیکن جو امتیازی خصوصیت اسے حاصل ہے، وہ یہاں کی کسی زبان میں نہیں پائی جاتی۔ یہ سنسکرت کی طرح باہر سے نہیں آئی۔ یہ بنگالی، مرہٹی، اڑیہ، ملیالم، تلنگی، تامل کی طرح کسی خاص فرقے یا کسی خاص علاقے کی زبان نہیں بلکہ یہ سب کی زبان ہے اور سارے ملک کی زبان ہے اور اسی لیے ہمارا دعویٰ ہے کہ اگر ہندستان کی کوئی زبان ملک کی عام مشترکہ زبان ہو سکتی ہے تو یہی زبان ہو سکتی ہے۔ یہ کیوں؟ اس لیے کہ یہ نہ باہر سے آئی نہ پہلے سے موجود تھی نہ کسی نے اسے بنایا بلکہ انسانی ضروریات اور زمانے کے اقتضانے اسے بنایا اور قانون قدرت کی بدولت جو اٹل ہے، یہ بڑھی، پھیلی اور پھلی پھولی۔ مسلمان جب اس ملک میں آئے تو یہاں نہ تو ایک حکومت تھی اور نہ ایک زبان۔ ہر علاقے کا الگ راج تھا اور ہر علاقے کی الگ زبان اور چونکہ آمدورفت کے وسائل مہیانہ تھے، اس لیے نہ ایک حکومت ہونے پائی اور نہ کسی ایک زبان کو ایسا فروغ ہوا کہ وہ سارے ملک کی یا ملک کے اکثر حصے کی زبان ہو جاتی۔ مسلمانوں کی بدولت رفتہ رفتہ حکومت بھی ایک ہو گئی اور زبان بھی خود بخود ایک بن گئی۔ اردو زبان کی پیدائش ہندستان کی تاریخ کا عجیب وغریب واقعہ ہے، جس پر مؤرخین نے بہت کم توجہ کی ہے۔ مسلمان جب یہاں آکر بس گئے اور انہیں اپنے وطن سے کوئی تعلق نہ رہاتو فطرتی طور پر ان کا میل جول ملک کے اصل باشندوں سے بڑھنا شروع ہوا۔ میل جول کا سب سے بڑا ذریعہ زبان ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کی زبان نہ سمجھیں تو آپس میں انس اور الفت بھی نہیں ہو سکتی اور نہ ہمارے تعلقات میں کوئی لطف پیدا ہو سکتا ہے اور نہ کوئی کاروبار کر سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے اپنی زبان میں ہندی لفظ داخل کرنے شروع کیے اور ہندوؤں نے اپنی زبان میں فارسی لفظ بولنے شروع کیے۔ اس زمانے میں دفتر فارسی مںز تھے۔ دربار، سرکار امراکی زبان فارسی تھی۔ مکتبوں اور مدرسوں میں فارسی پڑھائی جاتی تھی اور ہندو مسلمان دونوں ایک ہی دفتر میں کام کرتے اور ایک ہی مدرسے میں ساتھ ساتھ پڑھتے۔ اکبر کے زمانے تک سلطنت کا حساب کتاب ہندی میں رکھا جاتا تھا لیکن محکمۂ حساب کے افسر اعلیٰ راجہ ٹوڈرمل نے احکام جاری کیے کہ آئندہ سے تمام حساب کتاب فارسی میں رکھا جائے۔ ان تمام باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ فارسی ہندوؤں کی بول چال تحریر تقریر میں ایسی رچ گئی کہ انہوں نے دانستہ ونادانستہ فارسی کے ہزارہا لفظ بلاتکلف اپنی زبان میں داخل کر لیے۔ یہ جو ہمیں الزام دیا جاتا ہے کہ ہم نے ہندستانی زبان میں بہت سے عربی وفارسی الفاظ بھر دیے ہیں، یہ بالکل غلط اور بہتان ہے۔ عربی فارسی کے لفظوں کے داخل کرنے والے ہندو ہیں نہ کہ مسلمان۔ اس کی ایک صاف مثال میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ جب انگریزوں کا اس ملک پر تسلط ہوا اور ہمارے نوجوانوں نے انگریزی پڑھنی شروع کی، انگریزی دفتروں میں ملازمت کی اور انگریزی بولنے اور لکھنے کی مشق بہم پہنچائی تو جب وہ اپنی زبان بولتے تو آدھی انگریزی اور آدھی دیسی زبان ہوتی تھی۔ لیکن برخلاف اس کے جب کوئی انگریز اردو یادیسی زبان بولتا تو یہ کوشش کرتا کہ اس کی گفتگو میں کوئی انگریزی لفظ نہ آئے۔ اب جو اردو میں سینکڑوں انگریزی لفظ داخل ہو گئے ہیں تو کیا یہ انگریز نے داخل کیے ہیں؟ یہ سب ہم نے اپنی خوشی سے داخل کیے ہیں۔ یہی حال اس وقت ہندوؤں کا تھا کہ وہ خوشی خوشی بلکہ ازراہ فخر فارسی لفظ ہندی میں ملاتے چلے گئے۔ اس میں شک نہیں کہ اردو زبان پر ایک دور ایسا آیا کہ ایک خطے کے اہل زبان نے عربی فارسی لفظ دھڑا دھڑ داخل کرنے شروع کیے لیکن وہ دور بہت تھوڑے زمانے تک رہا اور بہت جلد پھر سادہ اردو کارواج شروع ہو گیا۔ اس معاملے میں سب سے بڑا اثر سرسید احمد خاں کا پڑا۔ اس وقت سے ہم برابر سادہ اردو بولتے اور لکھتے ہیں۔ جب مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا سلیمان ندوی جیسے عالم سلیس لکھنے لگے ہیں تو دوسروں کا کیا ذکر۔ لیکن برخلاف اس کے ہمارے ہندو بھائی اپنی ہندی میں بلا لحاظ موقع و محل سنسکرت کے غیرمانوس، ثقیل اور غلیظ لفظ داخل کرتے چلے جاتے ہیں۔ وہ ایک ایسی نئی زبان بنا رہے ہیں جوکسی انسان کی زبان نہیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اسے ہندستانی کہتے ہیں اور بقول سرتیج بہادر سپرو کے یہ لوگ ہندستانی کی آڑ میں شکار کھیل رہے ہیں اور اس زبان کو مٹانا چاہتے ہیں جو دونوں کے اتحاد اور یکجہتی سے بنی تھی اور دونوں کی زبانوں اور دونوں کی تہذیبوں کا بہترین خلاصہ ہے۔ گویا اپنے اسلاف کی محنت اور یادگار کو مٹاکر اتفاق کی بجائے نفاق پیدا کر رہے ہیں۔ غضب یہ ہے کہ عربی فارسی الفاظ ہی نکال کر سنسکرت نہیں داخل کر رہے ہیں بلکہ ہندی کے معمولی الفاظ، جنہںہ ادنیٰ اعلیٰ سب بولتے ہیں وہ بھی خارج کیے جارہے ہیں اور ان کی جگہ سنسکرت کے موٹے موٹے لفظ بھرے جا رہے ہیں۔ ابھی چند روز ہوئے، مجھے معلوم ہوا کہ یوپی کانگریس حکومت نے ایک سرکلر شائع کیا ہے، جس میں حکم دیا ہے کہ آئندہ سے مدعی کی جگہ ’’جھگڑو‘‘ اور مرافع یعنی اپیلانٹ کی جگہ ’’پلٹو‘‘ لکھا جائے۔ کیا یہی جناتی زبان ہے جسے وہ اردو جیسی مقبول خاص وعام زبان کی قائم مقام بنانا چاہتے ہیں۔ یہ اردو کی مخالفت نہیں بلکہ اتحاد و اتفاق کی مخالفت اور سراسر ملک کی دشمنی ہے۔ خیر سے اس پر دعویٰ قومیت کا بھی ہے! آپ کے صوبے میں تو اس سے بھی زیادہ غضب ہو رہا ہے یعنی یہاں اعلام یعنی اسمائے خاص کو بھی بدلا جا رہا ہے۔ مثلاً ہندستانی علاقے کو مہاکشل، برارکوودھروا، ناگپور کوناگیشور، حکومت کو رام راج اور ایک اچھے خاصے بھلے آدمی کو مہاتما بنا دیا گیا ہے۔ کیا اسی کے معنی قومیت کے ہیں؟ قومیت کا دعویٰ اور اس پر یہ لچھن! افسوس صد افسوس!آپ کے صوبے میں قومیت کے مبارک نام سے ایک اور شگوفہ چھوڑا گیا ہے۔ یہ وہ مشہور تعلیمی اسکیم ہے جس کا غلغلہ سارے ہندستان میں مچا ہوا ہے۔ ودیا مندر اسکیم پر اس قدر بحث ہو چکی ہے اور اس پر اس قدر لکھا جا چکا ہے کہ اس وقت اس کے متعلق کچھ کہنا تحصیل حاصل ہے۔ لیکن باوجود اس کے بہت کم لوگ ہیں جو اس کے حسب ونسب سے واقف ہیں۔ بظاہر آنریبل مسٹر شکلا کو اس کی ایجاد کا فخر ہے جس پر یہ مثل صادق آتی ہے کہ خشکہ باگندہ بروزہ اگرچہ گندہ مگر ایجاد بندہ۔ لیکن یہ حقیقت نہیں۔ اگر چہ یہ عام طور پر واردھا اسکیم کا بچہ کہلاتا ہے لیکن میں اپنے ذاتی علم کی بناپر یہ کہتا ہوں کہ یہ نومولود اپنی والدہ ماجدہ سے بہت پہلے پیدا ہو چکا تھا۔ اس کے حقیقی والد سیاسی مذہبی لیڈر اور ہمارے قدیم دوست پنڈت مدن موہن مالویہ اور مجازی والد ان کے شاگرد رشید آنریبل مسٹر شکلا ہیں۔ یہ اسکیم بہت سوچ سمجھ کر بنائی گئی ہے اور اس کا جو منشا ہے وہ ظاہر ہے یعنی ہماری تعلیم، ہماری تہذیب، ہمارے تمدن اور خاص کر ہماری زبان کا مٹانا۔ اس پر دعویٰ یہ ہے کہ ہم اقلیتوں کی زبان اور کلچر کے محافظ ہیں۔ یہ اپنے مدرسے کو ودیا مندر کہیں، اپنی حکومت کو رام راج کا نام دیں، معمولی اور مروجہ ناموں کو قدیم سنسکرت ناموں سے بدل دیں تو ان کی قوم پرستی میں کوئی فرق نہ آئے اور اگر ہم کوئی سیدھی سی بات بھی کہیں تو فرقہ پرست اور ملک کے دشمن ٹھہریں۔ گویا اس کے یہ معنی ہوئے کہ اکثریت جو کہے وہ تو قوم پرستی ہے اور اقلیت جو کہے وہ فرقہ پرستی ہے۔ اگر یہی قومیت ہے تو اس قومیت کو ہمارا دور ہی سے سلام ہے۔ یہ حضرات قومیت، جمہوریت، اکثریت اور اقلیت کے لفظوں سے کھیل رہے ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کھیل بہت خطرناک ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر حسین خاں صاحب نے رام راج کے بانی گاندھی جی کو میری کھلی چٹھی کی طرف بڑی التجا کے ساتھ توجہ دلائی اور بہت معقول اور اچھا خط لکھا۔ لیکن وہ اس معاملے کو ایسی خوش اسلوبی سے ٹال گئے کہ مجھے بھی تعریف کرتے ہی بنی۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالحق کا خط نہیں پڑھا، تم مجھ سے بہت زیادہ توقع رکھتے ہو۔ میں نے مسٹر شکلا کو لکھا ہے میری بڑی تمنا ہے کہ جب میں اس دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو لوگ مجھے صرف اس بات سے یاد رکھیں کہ میں نے اپنی ساری عمر اور محنت ہندومسلمانوں کے ملانے میں صرف کردی۔ سبحان اللہ! کیا جواب ہے! خیر اور کوئی یاد رکھے یا نہ رکھے ہم تو ضرور یاد رکھیں گے۔ مشکل تو یہ آ پڑی ہے کہ گاندھی نہ لڑنے دیتے ہیں نہ ملنے دیتے ہیں۔ حضرات! ہندی اردو کافساد کئی بار اٹھا اور بیٹھ بیٹھ گیا۔ اگر چہ اس کے اٹھانے والے بڑے بڑے مہاپرش نہ تھے لیکن اس کو اصلی قوت اور دائمی استقلال اس وقت حاصل ہوا ہے جب ملک اور قوم کے سچے بہی خواہ گاندھی جی نے اس کا بیڑا اٹھایا۔ اس بس 1بھرے شہر میں بھارتیہ ساہتیہ پرشد کے اجلاس کے موقع پر گاندھی جی اور ان کے ساتھیوں سے بڑا معرکہ ہوا۔ وہ ہندی کے حق میں تھے اور میں ہندستانی کی حمایت میں۔ میں نے بہت کہا کہ آپ ہندستانی فرمائیے مںی آپ کے ساتھ ہوں۔ میں نے کہا کہ نیشنل کانگریس کا رزولیوشن ہے کہ ملک کی زبان ہندستانی ہوگی۔ فرمانے لگے کہ وہ رزولیوشن بھی تو میں نے ہی بنایا تھا۔ اس جلسے میں انڈین نیشنل کانگریس کے تین جیتے جاگتے پرسیڈنٹ موجود تھے جو بت بنے بیٹھے تھے۔ ایک کے بھی منہ سے نہ پھوٹا اور کسی نے میری کیا کانگریس کے رزولیوشن کی بھی تائید نہ کی۔ آخر میں حضرت مہاتما نے فرمایا کہ میں ہندی نہیں چھوڑ سکتا تو میں نے کہا کہ پھر ہم اردو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ ہم ہندی اتھوا ہندستانی کے دھوکے میں نہیں آ سکتے، ہم لفظوں کو نہیں، عمل دیکھنا چاہتے ہیں اور عمل جیسا کچھ ہو رہا ہے وہ ظاہر ہے۔ وہ عمل جراحی ہے جس میں ہماری زبان ہی نہیں ہماری تہذیب کا بھی خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ حضرات! ہم اردو نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ ہمارے اسلاف (ہندو مسلمان دونوں کے اسلاف) کی یکجہتی اور اتحاد کی سب سے اہم، سب سے مبارک اور سب سے عظیم الشان یادگار ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اس کے بنانے اور سنوارنے میں محنتیں اور مشقتیں جھیلیں اور قربانیاں کی ہیں۔ اس کے ایک ایک حرف میں ان کا خون جھلکتا نظر آتا ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ ہماری تہذیب، ہماری تاریخ، ہمارے تمدن پر گواہی دے رہا ہے۔ وہ ناخلفی کریں تو کریں ہم ناخلف نہیں ہو سکتے۔ ہم اسے ہرگز نہںہ چھوڑ سکتے کیونکہ یہی ایک ایسی زبان ہے جس نے ہم سب کو ایک کر دیا تھا اور یہی پھر ساری قوموں کو ایک کر سکتی ہے۔ اس کو چھوڑنا اپنی تمام عزیز یادگاروں اور عزیز چیزوں کو خیر باد کہنا اور اپنی ہستی کو فنا کر دینا ہے۔ ابھی حال میں آپ کی حکومت کے ایک وزیر باتدبیر نے اسمبلی کے بھر ے اجلاس میں فرمایا تھا کہ مسلمان ایک حقیر اقلیت ہیں اور اس پر وہ ہمارے سامنے نامعقول اور بھاری بھر کم مطالبات پیش کرتے ہیں۔ یہ شخص اپنی اکثریت پر نازاں اور حکومت کے نشے میں مخمور تھا، ورنہ ایسی نامعقول بات نہ کہتا لیکن اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اقلیت اور اکثریت کوئی چیز نہیں ہمارے سامنے فرمان خداہے۔ (کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ) یعنی اکثر ایسا ہوا ہے (اور ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے) کہ اقلیتوں نے اکثریتوں کو نیچا دکھایا ہے۔ اصل چیز اقلیت یا اکثریت نہیں بلکہ ہمت و جواں مردی اور ایثار وقربانی ہے۔ اگر ہم میں یہ جوہر ہیں تو ہم اکثریت میں ہیں ورنہ ہر حال میں ہم اقلیت میں ہیں زمانہ اس کا فیصلہ بہت جلد کر دےگا۔ حضرات! آپ نے جس استقلال اور ہمت وجواں مردی سے اپنی زبان کی حمایت کی ہے، اس کی داد میں کیا دوں گا سارا ہندستان دےگا۔ دوسرے باتیں کرتے ہیں آپ نے کر دکھایا، دوسرے تقریریں کرتے ہیں اور آپ نے عمل کر کے بتایا۔ آپ کا یہ مسئلہ صرف سی پی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سارے ہندستان کا مسئلہ ہو گیا ہے اور آپ کی مثال سارے ہندستان کے مسلمانوں کے لیے نظیر ہوگی۔ یہ آپ کی وقت شناسی اور مصلحت اندیشی کی دلیل ہے کہ آپ نے ایےی وقت اردو کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔ دنیا میں قابل اور کامیاب وہی ہوئے ہیں جو وقت کو پہنچانتے اور اس کے مطابق کام کرتے ہیں۔ یہ عجیب اتفاق کی بات ہے کہ وہ مسئلہ جو سارے ہندستان کا مسئلہ ہے اور وہ زبان جس کا جنم بھوم شمالی ہند ہے اس کا فیصلہ سی۔ پی کی سرزمین مںپ ہو رہا ہے۔ سی۔ پی اکثر اعتبارات سے سیاسی، لسانی، تعلیمی، معاشیاتی مسائل کا مرکز ہو گیا ہے۔ اور یہاں سے چند میل کے فاصلے پر براعظم ہند کے نہایت سنجیدہ اور نازک مسائل طے ہوتے ہیں اور انشاء اللہ یہیں ہمارے لسانی اور تعلیمی مسائل بھی (علی الرغم شکلا) طے پائیں گے اور ہم طے کر کے رہیں گے اور جب تک انصاف اور عزت کے ساتھ طے نہ ہوں گے، ہم برابر جد وجہد کرتے رہیں گے اور لڑتے رہیں گے۔دست از طلب ندارم تاکام من برآیدیاجاں رسد بہ شکلا یا جاں زتن برآید\n\nحاشیہ\n\n(۱) ناگپور کی طرف اشارہ ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B1%D9%86%D8%B3%D8%8C_%D9%86%D8%A7%DA%AF%D9%BE%D9%88%D8%B1"} {"title": "تقریر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی", "poet_page": "مصنف:مولوی عبد الحق", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(یہ تقریر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ دسمبر ۳۸ء میں کی گئی تھی۔ جمیل احمد صاحب نقوی اسسٹنٹ لائبریرین یونیورسٹی نے بڑی چابک دستی سے اسے قلم بند کر لیا۔)\n\nجناب صدر اور صاحبو! میری زندگی کا صرف ایک ہی مقصد ہے یعنی زبان اردو کی اشاعت اور ترقی۔ مجھے یا انجمن ترقی اردو کو کسی سیاسی جماعت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ لیکن باوجود اس کے میں ہر جماعت سے تعاون کے لیے آمادہ ہوں، بشرطیکہ اسے ہمارے مقاصد سے ہمدردی ہو۔ میں جب کل یہاں حاضر ہوا تو ڈاکٹر عابد احمد علی صاحب نے مجھے وہ اشتہار دکھایا جس میں انہوں نے اپنی طرف سے میری تقریر کے لیے ایک موضوع کا اعلان کر دیا تھا۔ وہ موضوع ہے، ’’موجودہ سیاست اور اردو زبان۔‘‘ اسے دیکھ کر مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ جس زمانے میں کہ مسلم یونیورسٹی نہ تھی اور ایم۔ اے۔ او کالج تھا، اس وقت کالج میں ایک حجام عنایت اللہ نامی تھا۔ مولوی عزیز مرزا مرحوم جب تعلیم سے فارغ ہوئے تو اسے اپنے ساتھ حیدرآباد لے گئے۔ وہ بہت سمجھ دار اور وفادار شخص تھا۔ اس نے حیدرآباد میں خاص حیثیت حاصل کر لی تھی اور ہم سب اسے عزت سے دیکھتے تھے۔ کچھ دنوں بعد مولوی شبلی حیدرآباد تشریف لے گئے۔ انہیں وہی خیال رہا اور عنایت اللہ کی نئی حیثیت کی خبر نہ تھی۔ انہوں نے عنایت اللہ سے کہا کہ ’’میاں خلیفہ، ذرا ناخن تو لینا۔‘‘ یہ اسے ناگوار تو ضرور ہوا مگر خیر ان کے ناخن تولیے مگر ایک ناخن ذرا گہرا بھی کاٹ ڈالا، جس سے مولوی صاحب کو ذرا جھنجھلاہٹ ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا کہ اب تم کیا کرتے ہو۔ عنایت اللہ نے کہا کہ ’’مولوی صاحب اب میں پولیٹکل ہوں۔‘‘ اس زمانے میں حیدرآباد کی فضا کچھ ایسی ہی تھی۔ میں جب اس زمانے کا خیال کرتا ہوں اور آج کل کے زمانے کو دیکھتا ہوں تو ہر شخص حجام یعنی پولیٹکل نظر آتا ہے۔ اس زمانے میں ہمارے ملک پر سیاسیات کا برچھا یا ہوا ہے اور ہماری زندگی کا کوئی شعبہ اس سے نہیں بچا۔ زبان بھی اسی لپیٹ میں آ گئی ہے اور آج کل سب سے زیادہ آفت اسی پر ہے۔ اور یہ آج سے نہیں بلکہ ایک زمانے سے ہماری زبان کو سیاسیات نے گھیر رکھا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سیاسی اختلاف اور نزاع کی ابتدا اسی سے ہوئی اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ غدر سے پہلے اس کا کسی کو خیال بھی نہ تھا۔ چنانچہ جب ۱۸۳۷ء میں فارسی کی بجائے دفتروں اور عدالتوں میں اردو زبان کورائج کیا گیا تو کسی فردو بشر نے اس کی مخالفت نہ کی اور کہیں سے یہ آواز نہ اٹھی کہ نہیں، ہندی بھاشا ہونی چاہیے۔ اردو کوسب نے تسلیم کر لیا۔ یہ نہ کرتے تو کیا کرتے، دوسری کوئی زبان تھی ہی نہیں جو اس کے مقابلے میں آتی۔ لیکن ۵۷ء کے بعد سے رفتہ رفتہ زبان کی چھیڑ شروع ہوتی ہے۔ جب ایسٹ انڈیا کمپنی کا تسلط اٹھ گیا اور انگریزی حکومت قائم ہو گئی تو اس وقت ہندوؤں کی ایک جماعت میں قومیت کا ایک نیا احساس پیدا ہوا اور اپنی قدیم تہذیب کو پھر زندہ کرنا چاہا۔ اسی زمانے میں سوامی دیانند سرسوتی نے سنسکرت کے پڑھنے پڑھانے اور بولنے پر زور دیا اور ویدک زمانے کی یاد تازہ کی۔ گورکل قائم کیے اور ان میں ویدک زمانے کی تہذیب اور رسوم کو ازسر نو رواج دیا۔ اس کے بعد یورپ والوں نے اس خیال کو اور تقویت پہنچائی۔ خاص کر پروفیسر میکس مولر کی تحریروں اور میڈل بلوٹسکوی، اینی بسنٹ اور کرنل الکاٹ کی تحریروں اور تحریکوں نے اور شہ دی۔ قومیت کے لیے لازم ہے کہ زبان بھی ایک ہو۔ وہ زبان وہ ہے جسے آج ہندی کہا جاتا ہے مگر وہ ایسی ہندی ہے جسے نہ شہر والے سمےھتی ہیں نہ دیہات والے۔ غرض اس طرح زبان بھی الگ کر لینے کی کوشش کی گئی۔ یہیں سے اصل نزاع اور نفاق کی ابتدا ہوتی ہے۔ یہ پہلا قدم تھا جوفرقہ پرستی یعنی کمیونلزم کی طرف اٹھایا گیا۔ اور وہ فرقہ پرستی جس کے مجرم آج ہم قرار دیے جاتے ہیں اس کی بنا سب سے اول ان حضرات نے اپنے مبارک ہاتھوں سے ڈالی۔ سب سے پہلے اس کا بیج بہار میں بویا گیا، اس کے بعد اس کے کلے یوپی میں پھوٹے۔ بنارس اور الہ آباد میں سبھائیں قائم ہوئیں اور اس بات کی کوشش شروع ہوئی کہ عدالتوں اور دفتروں میں ہندی کو رواج دیا جائے۔ اس وقت سر سید احمد خاں نے اس نامبارک تحریک کی مخالفت کی اور اردو کی تائید میں مضامین لکھے۔ سرسید نہایت حسرت اور افسوس سے لکھتے ہیں کہ ’’تیس برس کے عرصے سے مجھ کو ملک کی ترقی اور اس کے باشندوں کی فلاح کا خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان، خیال پیدا ہوا اور ہمیشہ میری یہ خواہش تھی کہ دونوں مل کر دونوں کی فلاح میں کوشش کریں مگر جب سے بعض ہندو صاحبوں کویہ خیال پیدا ہوا کہ اردو زبان اور فارسی کو جو مسلمانوں کی حکومت اور ان کی شاہنشاہی ہندستان کی باقی ماندہ نشانی ہے، مٹا دیا جائے۔ اس وقت سے مجھ کو یقین ہو گیا کہ اب ہندو مسلمان باہم متفق ہوکر ملک کی ترقی اور اس کے باشندوں کی فلاح کا کام نہیں کر سکتے۔ میں نہایت درستی اور اپنے تجربے اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہندو مسلمانوں میں جو نفاق شروع ہوا ہے، اس کی ابتدا اسی سے ہوئی۔‘‘ یہ سلسلہ برابر جاری رہا، لیکن رفتہ رفتہ اس کا زور کسی قدر کم ہو گیا۔ اس کے بعد جب سرانٹونی میکڈانلڈ اس صوبے کے لفٹنٹ گورنر ہوکر آئے تو یہ شاخ جو کمھلا سی گئی تھی، پھر ہری ہونی شروع ہوئی۔ وہ بہار سے آئے تھے اور اردو ہندی کے جھگڑے میں بہت کچھ حصہ لے چکے تھے۔ ان کے یہاں پہنچنے پر ہندی والوں نے پھر ریشہ دوانیاں شروع کیں۔ یہ سرسید کی زندگی کے بالکل آخری دن تھے۔ اس موقع پر بھی انہوں نے ایک مضمون لکھا جو غالباً ان کی آخری تحریر تھی اور جس میں انہوں نے اس انجمن کو جو الہ آباد میں اردو کی حمایت کے لیے قائم ہوئی تھی، لکھا کہ میں اس معاملے میں ہر قسم کی مدد دینے کو تیار ہوں۔ اس کے بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا اور ہندی والوں کی بن آئی، جنہیں اپنی کوشش میں خاطر خواہ کامیابی ہوئی اور دفتروں اور عدالتوں میں ہندی کا رواج ہو گیا۔ پھر ایک اور دور آتا ہے۔ نواب محسن الملک نے جو سر سید کے جانشین تھے، اردو کی حمایت پر کمر باندھی۔ لکھنؤ میں ایک بڑا بھاری جلسہ کیا جس میں نواب صاحب نے بہت پرجوش اور پرزور تقریر کی۔ اس تقریر کا یہ مصرع اب تک زبان زد خاص وعام ہے۔ عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔ لیکن سرانٹونی میکڈانل اپنے حکم کی تعمیل پر تلے ہوئے تھے اور اس کی مخالفت کو اپنی ذاتی مخالفت سمجھتے تھے۔ انہوں نے نواب صاحب کو ڈرایا دھمکایا۔ سب سے بڑی دھمکی یہ تھی کہ اگر تم اس تحریک میں حصہ لیتے رہو گے تو کالج کے سیکرٹری نہیں رہ سکتے۔ کالج کا نقصان انہیں گوارانہ ہوا اور وہ اس دھمکی میں آگئے اور صبر کرکے بیٹھ رہے۔ اگر وہ سکرٹری کے عہدے سے مستعفی ہو جاتے اور اپنی ساری ہمت اردو کی ترقی اور اشاعت میں صرف کر دیتے تو ہماری زبان کو بڑی تقویت پہنچتی اور ہمیں یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔ اس کے بعد یہ معاملہ کچھ دنوں تک دھیما پڑ گیا۔ اس وقت تک ہندی میں ادب کا ذخیرہ کچھ بھی نہ تھا۔ چند معمولی کتابیں اور قصے کہانیاں تھیں، ان میں بھی اکثر اردو کے قصے تھے جوناگری حروف میں چھاپ لیے تھے۔ لیکن جب پنڈت مالویہ نے شدھی اور سنگھٹن کا قضیہ چھیڑا تو اس سلسلے میں ہندی زبان بھی آ گئی۔ اور اس مذہبی جوش میں ہندی زبان کو خوب فروغ ہوا۔ اب یہ ادبی چیز نہ رہی بلکہ سیاسی اور مذہبی ہو گئی۔ اور چونکہ وہ اپنی الگ ایک سیاسی جماعت اور نئی قومیت بنا رہے تھے، اس لیے اس پردے میں زبان کی ترقی ضرور ہو گئی۔ اس میں شک نہیں کہ پنڈت جی کی تحریک سے ہندی زبان کو بہت تقویت پہنچی اور خود انہوں نے اور ان کے ہم خیال اصحاب نے کوشش کر کے یہ نئی زبان بولنی اور لکھنی شروع کر دی اور ہندی ادب میں بھی ا س کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا گیا لیکن سب سے بڑی قوت اسے اس وقت پہنچی جب گاندھی جی نے ساہتیہ سمیلن کی صدارت قبول کی اور ہندی کو ہندستان کی عام زبان بنانے کا بیڑا اٹھا یا۔ اس سے سارے ملک میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہندی کا غلغلہ مچ گیا اور صوبہ مدراس، پنجاب اور سرحد جیےح علاقوں میں جہاں کی زبانوں سے ہندی کا کوئی تعلق نہ تھا، ہندی تیزی سے پھیلنی شروع ہو گئی اور وہاں کے ہندو اپنی اپنی حکومتوں سے ہندی کی تعلیم کا مطالبہ کرنے لگے جو بالکل ناواجب تھا، کیونکہ ہندی نہ کبھی وہاں کی زبان تھی اور نہ اب ہے۔ یہاں تک کہ اس جوش میں انڈین نیشنل کانگریس کا رزولیوشن بھی پس پشت ڈال دیا گیا۔ اور اس کی اشاعت میں لاکھوں روپئے صرف کیے جا رہے ہیں۔ ایک طرف تو یہ دعویٰ ہے کہ ہم ہندستان میں ایک قوم بنانا چاہتے ہیں اور اس قومیت کے دعویٰ کے ساتھ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ملک میں بول چال کی ایک زبان ہو اور وہ زبان ایسی ہو جو مشترک ہو اور دوسری طرف اس زبان کو جو مشترک ہے اور دونوں قوموں کی یکجہتی اور اتحاد سے بنی ہے، اسے خارج بھی کرنا چاہتے ہیں۔ ہندستان میں بہت سی زبانیں بولی جاتی ہیں، لیکن وہ زبان جو بہت پہلے سے مشترک چلی آتی ہے یعنی اردو زبان، اس کی حیثیت دوسری زبانوں سے بالکل جدا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ کسی خاص علاقے، قوم یا ذات میں محدود نہیں۔ ہندستان کے ہر علاقے میں کچھ نہ کچھ سمجھی اور بولی جاتی ہے اور اکثر علاقوں میں لکھی پڑھی جاتی ہے اور اس لیے دوسری زبانوں کے مقابلے میں اسے ہر لحاظ سے مشترک ہونے کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ حیثیت دوسری زبانوں کو حاصل نہیں۔ یہ اس تمدن اور تہذیب کی یادگار ہے جو ہندو مسلمانوں کے ربط ضبط سے پیدا ہوئی۔ یہ زبان خاص ہندستان کی ہے اور دو قوموں کی تہذیب کی عظیم الشان یادگار ہے اور اس لیے اس پر دونوں کو مساوی حق حاصل ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ مسلمان بادشاہوں نے اس زبان کو رواج دینے میں کوشش کی، سراسر بہتان ہے۔ مسلمان بادشاہوں کو کبھی توفیق نہ ہوئی کہ وہ اس طرف توجہ کریں۔ اور ایک بادشاہ ہی نہیں، ہمارے علما اور فضلا بھی اس کی طرف سے بےپروا رہے بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے تھے۔ یہ زبان نہ کسی بادشاہ کے خبط کا نتیجہ ہے نہ کسی حکیم کی حکمت کا نہ کسی کانگریس یا کانفرنس کے رزولیوشنوں سے پیداہوئی، نہ کسی مہاتما کے روحانی فیض سے اور نہ کسی مفتی کے فتوے سے، بلکہ اسے قدرتی اور معاشرتی ضرورت نے پیدا کیا اور یہ سراسر زمانے کا اقتضا تھا، اس لیے کہ جب مسلمان یہاں آئے تو یہاں نہ کوئی ایک حکومت تھی نہ کوئی ایک زبان۔ ہرعلاقے میں مختلف بولیاں جاتی تھیں، ہر جگہ انتشار اور ابتری پھیلی ہوئی تھی۔ جب مسلمانوں کی حکومت کو ذرا استقلال ہوا تو اس زبان نے بھی فروغ پایا اور جیسے جیسے اس کی فتوحات کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور جہاں جہاں اس کے صوبے داراور لشکر اور لشکری پہنچے، یہ بھی ان کے ساتھ پہنچی۔ اس زبان کا ملک پر بڑا احسان ہے اور وہ یہ کہ اس نے مختلف لوگوں اور قوموں کو ایک کر دیا۔ جہاں نفاق وانتشار تھا وہاں اتفاق ونظام پیدا کر دیا اور ایک نئی تہذیب کی بنیاد ڈالی، جس نے سب کو ایک رنگ میں رنگ دیا۔ یہ اس کا کچھ کم احسان نہیں۔ یہ زبان ہر حیثیت سے مشترک ہے اور بقول سرتیج بہادر سپرد کے ’’جائداد مشترکہ ناقابل تقسیم ہے۔‘‘ یہ زبان جیسا کہ میں نے عرض کیا، مخلوط زبان ہے اور مخلوط زبان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں طرفین کو کچھ نہ کچھ قربانی کرنی پڑتی ہے۔ جب دو مختلف زبانوں کے بولنے والے ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں تو ہر ایک کو اپنی زبان کی بعض ایسی خصوصیتیں ترک کرنی پڑتی ہیں جو اس زبان سے مخصوص ہیں اور جس کے سمجھنے یاقدر کرنے سے غیر زبان والا قاصر ہوتا ہے۔ اس لیے دونوں زبان والے ایک دوسرے کی خاطر اپنی بعض خصوصیتوں اور لفظی نزاکتوں کو قربان کرد یتے ہیں۔ مجھے خوب یاد ہے کہ ایک روز سر سید مسٹر بیک سے گفتگو کر رہے تھے تو اثنائے گفتگو میں فرمانے لگے، ’’ہی ڈڈود ضد ناٹ ود دل‘‘ (He did with zid not with dil)مسٹر بیک بھی اسی طرح کی مخلوط زبان میں اپنی اردو بگھار رہے تھے۔ میں نے جب یہ گفتگو سنی تو میرا خیال فوراً اردو زبان کی پیدائش کی طرف گیا۔ جب ہندو مسلمان آپس میں ملے ہوں گے اور انہوں نے آپس میں بات چیت کی ہوگی تو ان کی گفتگو کا ڈھنگ بھی یہی ہوگا اور ان کے متواتر میل جول سے رفتہ رفتہ نئی زبان بن گئی ہوگی اور اس میں مطلق شبہ نہیں کہ وہ اسی طرح سے وجود میں آئی۔ غرض اردو زبان دونوں زبانوں (یعنی دیسی اور بدیسی زبانوں) اور دونوں قوموں (یعنی ہندو مسلمانوں) کی قربانی سے پیدا ہوئی ہے۔ مسلمانوں نے قربانیاں کرکے یہ زبان بنائی ہے، پھر کس کا منہ ہے جو اس کی مخالفت کرے؟ جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ اپنے ملک اور قوم کی مخالفت کرتا ہے۔ اس کے بنانے، بڑھانے، سنوارنے اور فروغ دینے میں ہندو مسلمان دونوں کی کوشش شریک ہے۔ ہمارے اسلاف نے صدہا سال اس پر محنت کی ہے، تب جاکر اس نے یہ رنگ روپ نکالا ہے۔ اب جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے وہ کپوت ہے، ناخلف ہے، ناسعادت مند ہے۔ اب اس اختلاف کا یہ سلسلہ جس کی ابتدا سیاسی اختلاف سے ہوئی اور جس میں مذہبی جوش بھی شریک تھا، بڑھتا چلا۔ جب انڈین نیشنل کانگریس نے یہ دیکھا کہ دونوں فریق مخالفت پر تلے ہوئے ہیں تو اس نے کچھ اپنی مصلحت اور کچھ رفع شر کے خیال سے یہ کیا کہ ہندی اور اردو دونوں لفظ ترک کر دیے اور ان کی جگہ ہندستانی کا لفظ اختیار کیا اور اسی کو ملک کی زبان قرار دیا۔ مگر اس نے یہ نہیں بتایا کہ ہندستانی کسے کہتے ہیں۔ شاید یہ اچھا ہی ہوا، ورنہ یہ جھگڑا اور طول پکڑتا۔ لیکن بڑا معرکہ بھارتیہ ساہتیہ پرشد کے اجلاس میں ہوا۔ بحث یہ تھی کہ پرشد کی کاروباری زبان کیا ہو۔ گاندھی جی فرماتے تھے ہندی اور میں کہتا تھا ہندستانی۔ میری دلیل یہ تھی کہ جب انڈیل نیشنل کانگریس نے ہندستانی کے متعلق فیصلہ کر دیا ہے تو اسے ماننے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔ گاندھی جی نے فرمایا کہ وہ رزولیوشن بھی تو میرا ہی بنایا ہوا تھا۔ میں نے کہا اس وقت تو اس کا یہ مطلب نہ تھا۔ فرمایا کہ میں اب بتاتا ہوں۔ میں حیرت سے ان کا منہ تکنے لگا۔ اگر ہر دس بارہ برس بعد مفہوم بدلنے لگے تو پھر کوئی فیصلہ قابل اعتبار نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد انہوں نے ’’ ہندی ہندستانی‘‘ کا نیا لفظ گڑھا۔ مںر نے دریافت کیا کہ آپ کی ہندی سے کیا مراد ہے۔ کہنے لگے وہ زبان جو کتابوں میں ہے، بول چال میں نہیں۔ اور ہندستانی وہ زبان ہے جو بول چال میں ہے کتابوں میں نہیں۔ اس پر میں نے پوچھا کہ پھر ’’ہندی ہندستانی‘‘ کیا ہوئی۔ فرمایا کہ وہ ہندی جو آگے چل کر ہندستانی ہو جائےگی۔ میں نے کہا کہ جب ہندستانی پہلے سے موجود ہے تو اس طول عمل کی کیا ضرورت ہے۔ یہ سب بحث میں لکھ چکا ہوں اور آپ کو معلوم ہے۔ اسے دہرانا نہیں چاہتا۔ آخر زچ ہوکر انہوں نے یہ فرمایا کہ میں ہندی نہیں چھوڑ سکتا۔ اور فیصلہ ووٹ لے کر کر دیا۔ اب آپ ہی انصاف فرمائیے کہ جب گاندھی جی ہندی نہیں چھوڑ سکتے تو ہم اردو کیسے چھوڑدیں۔ اس کے بعد سے ہماری آنکھیں کھلیں۔ ہندی اردو کی بحث روز بروز نازک ہوتی جاتی ہے۔ جب ہماری طرف سے یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ہندی یا ہندستانی میں کثرت سے سنسکرت لفظ ملائے جارہے ہیں تو اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اردو میں بھی عربی فارسی الفاظ شامل کیے جا رہے ہیں۔ لیکن اس میں اور اس میں بہت فرق ہے۔ ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اردو میں عربی فارسی الفاظ ملائے جائیں۔ برخلاف اس کے گاندھی جی، بابو راجندر پرشاد، کاکاکالیلکر اور ان کے رفیقوں نے صاف طور پر اپنی اس پالیسی کا اعلان کیا ہے کہ سنسکرت لفظ زیادہ ملائے جائیں۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ ہمارا منشا اس سے یہ ہے کہ جنوبی ہند والے اس زبان کو سمجھ سکیں کیونکہ ان کی زبان میں زیادہ سنسکرت کے لفظ ہیں۔ اول یہ صحیح نہیں کہ ان کی عام زبان میں سنسکرت زیادہ ہے۔ دوسرے، بڑے لطف کی بات یہ ہے کہ جنوبی ہند والے اسی وجہ سے ان سے بدگمان اور ان کے مخالف ہیں کہ ان کو سنسکرت آمیز ہندی پڑھائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ’’یہ لوگ بڑے مکار ہیں۔ یہ ہندی کے نام سے ہمارے ملک میں سنسکرت پھیلانا چاہتے ہیں اور ہماری زبان اور کلچر کو مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ اس حالت میں ان کی یہ دلیل کیسے قابل قبول ہو سکتی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنوبی ہندوالوں کی بدگمانی کچھ بیجا نہیں۔ جس دلیل سے وہ ہمیں پھسلانا چاہتے ہیں وہ ان کے مخالف پڑتی ہے۔ اعتراض صرف یہی نہیں ہے کہ نئے نئے غیر مانوس اور ثقیل سنسکرت لفظ داخل کیے جا رہے ہیں، بڑاغضب یہ ہے کہ جو لفظ سالہا سال بلکہ صدہا سال سے زبان میں رائج ہیں، انہیں بھی خارج کیا جا رہا ہے۔ اور اس سے بھی بڑا غضب یہ ہے کہ ٹھیٹ عام فہم ہندی لفظ بھی مردود قرار دیے گئے ہیں اور ان کی جگہ یاتو اصل سنسکرت کا یا کوئی نیا غیرمانوس لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ لفظ جب ایک بار زبان میں آ گیا اور رائج ہو گیا تو وہ ہمارا ہو جاتا ہے، غیر نہیں رہتا۔ اسے غیر سمجھ کر نکالنا سخت بیدردی ہے۔ وہ اب جائے تو کہاں جائے۔ اپنے اصل وطن کو جانہیں سکتا کیونکہ اس کا رنگ روپ، خصلت، سیرت سب بدل گئی ہے، وہاں اسے کوئی نہیں پہچانتا۔ یہ فعل ایساہی سفاکانہ ہے جیسا ہٹلر کا بےگناہ یہودیوں کو خارج کرنا۔ مثلاً برس کا لفظ ہے جسے عام وخاص، پڑھا لکھا ان پڑھ، شہری دیہاتی سبھی بولتے ہیں۔ اب اگر اسے زبان سے نکال باہر کردیں اور اس کی جگہ اصل سنسکرت ورش استعمال کرنے لگیں تو یہ بے چارہ کہاں جائے۔ سنسکرت میں یہ داخل نہیں ہو سکتا، عربی، فارسی والے منہ نہیں لگائیں گے تو پھر یہ کہاں جائے۔ یہ تو ہمارا لفظ ہے اور اس ٹھکانہ ہماری ہی زبان میں ہے، ہمیں اس کے نکالنے کا کیا حق ہے۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ آخر برس کے لفظ میں کیا برائی ہے، یہ کیوں مردود قرار دیا گیا ہے اور ورش میں کیا خوبی ہے جو اس کی جگہ لاکر بٹھایا گیا ہے؟ برس کو ہر اعتبار سے ترجیح ہے۔ ایک تو اس لیے کہ صدہا سال سے رائج ہے اور ہر ایک کی زبان پر ہے۔ دوسرے وہ ہمارا لفظ ہے۔ ورش ہمارا لفظ نہیں، بالکل اجنبی اور غیر ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ اپنے پر غیر کو ترجیح دی جائے۔ مشترک الفاظ کو خارج کرکے مشترک زبان بنانا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ لفظ کا معیار رواج ہے اور یہی اس کے مستند ہونے کی سند ہے۔ مثلاً مدعی اور مدعی علیہ ایسے لفظ ہیں جنہیں ایک گنوار سا گنوار بھی سمجھتاہے۔ اب جو انہیں ہٹاکر ’’بادی‘‘ اور ’’پرتبادی‘‘ کے نامانوس الفاظ کو ٹھونسنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو یہ مشترک زبان کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ اردو میں سرسید کے زمانے سے آسان زبان لکھنے کا عام رواج ہو گیا ہے، اس میں شک نہیں کہ بعض مستثنیٰ بھی ہیں اور یہ ہرزبان میں ہوتا ہے۔ یا بعض علمی مضمون ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ادا کرنے میں زبان مشکل ہو جاتی ہے۔ لیکن عام طور پر رجحان سہل زبان لکھنے کی طرف ہے۔ انتہا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد مشہور الہلال کے اڈیٹرجن کی تحریر عربی اور فارسی کے پروں پر پرواز کرتی تھی، عامیانہ زبان پر اتر آئے ہیں۔ اب ان کی جگہ گفتگو میں بیٹھک، چناؤ جیے لفظ سن کر حیرت ہوتی ہے۔ اردوداں طبقے نے کبھی خاص ارادے اور اہتمام سے نامانوس عربی فارسی الفاظ زبان میں داخل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بیشک ایک زمانہ ایسا گزرا ہے کہ لوگ مقفی اور مسجع عبارتیں لکھتے تھے جن میں عربی فارسی الفاظ کثرت سے آتے تھے لیکن وہ ایک عارضی جنون تھا۔ اب کوئی ایسی عبارت نہیں لکھتا۔ اگر لکھے تو لوگ اس کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہمارے ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے اور جہالت بہت زیادہ ہے۔ انہیں پڑھنا لکھنا سکھا دیجیے اور پڑھنے کا شوق پیدا کر دیجیے، بہت سی مشکلیں آسان ہو جائیں گی اور آج جو چیزیں انہیں مشکل معلوم ہوتی ہیں کل آسان معلوم ہونے لگیں گی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نیا زمانہ ہے، حالات بھی بہت کچھ بدل گئے ہیں اور نئے خیالات کی رو بڑھتی چلی آرہی ہے، اس لیے نئے الفاظ کا آنا ناگزیر ہے۔ ہم اسے تسلیم کرتے ہیں کہ ایک زندہ زبان کے لیے لازم ہے کہ اس مںل نئے الفاظ کا اضافہ ہوتا رہے ورنہ وہ ایک روز مردہ ہو جائےگی۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ لغات میں سے بھدے، بے ڈھنگے اور ثقیل الفاظ چن چن کر بھر دیے جائیں۔ ہر زبان کی ایک فطرت اور ساخت ہوتی ہے اور جب تک لفظ اس کے سانچے میں نہیں ڈھلتا، قابل قبول نہیں ہوتا۔ ابھی حال میں آپ کے صوبے کے وزیر تعلیم کی ایک تقریر سرکاری طور پر چھپ کر شائع ہوئی تھی، اسے دیکھ کر یہ خیال نہیں ہوتا کہ یہ انسانوں کی زبان ہے بلکہ یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ شاید راکشسوں کی بولی ہے۔ یہ زبان کا بنانا نہیں، بگاڑنا ہے۔ یہ جو بار بار کہا جاتا ہے کہ آسان لکھو، یہ ذرا تفصیل طلب ہے۔ ہر زبان میں آسان لکھنے والے بھی ہوتے ہیں اور مشکل لکھنے والے بھی۔ ایک تو اپنا اپنا طرز بیان ہوتا ہے اور دوسرے مضمون کی نوعیت۔ طرز بیان کے معاملے میں کسی کو مجبور نہیں کر سکتے۔ مضمون کی نوعیت کا مسئلہ اور بھی ٹیڑھا ہے۔ سائنس، فلسفہ، شعروغیرہ ایسی چیزیں ہیں کہ ان میں اشکال آ ہی جاتا ہے۔ البتہ بچوں، لڑکوں لڑکیوں اور عام لوگوں کے لیے جو کتابیں لکھی جائیں، وہ ضرور آسان اور سلیس زبان میں ہونی چاہییں۔ اس بارے میں لوگ الفاظ پر زور دیتے ہیں کہ غیرمانوس اور ثقیل لفظ نہ ہوں۔ اشکال غیرمانوس لفظوں سے اتنانہیں پیدا ہوتا جتنا پیچیدہ اور مغلق بیان سے۔ اس سے زیادہ زور اس بات پر دینا چاہیے کہ بیان سادہ اور سہل ہو۔ رہا لفظ، تو اس کا پرکھنے والا ادیب ہی ہو سکتا ہے۔ وہ ہر لفظ کی نبض پہچانتا ہے اور خوب سمجھتا ہے کہ کون سا لفظ کہاں آنا چاہیے۔ اس میں موقع اور محل کو پہچاننا بڑی بات ہے۔ یہ انشاپردازی کا بڑا گرہے۔ لفظ میں ایک جادو ہوتا ہے جو بے محل استعمال سے پھیکا پڑ جاتا ہے اور اچھا خاصا لفظ بےجان اور بےاثر ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری آواز زیادہ سے زیادہ اشخاص تک پہنچے تو ہمیں ایسی زبان میں لکھنا یا بولنا چاہیے جسے زیادہ سے زیادہ اشخاص سمجھ سکیں۔ اور اگر ساتھ ہی آپ یہ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کی تحریر وتقریر میں اثر اور دل کشی بھی ہو تو اس کے لیے بڑی محنت، مشق اور مطالعہ کی ضرورت ہے ورنہ نری سادہ زبان زیادہ کارآمد نہیں ہو سکتی۔ میں اس موقع پر دو ایسی غلط فہمیوں کوبھی رفع کرنا چاہتا ہوں جو ہم لوگوں میں عام طور پر پائی جاتی ہیں۔ ہم اردو دانوں کو بڑا غرہ ہے کہ اردو زبان میں آگے بڑھنے اور پھیلنے کی فطری صلاحیت موجود ہے۔ وہ گزشتہ زمانہ میں بغیر کسی خاص کوشش کے خودبخود پھیلتی چلی گئی اور اسی طرح آئندہ بھی پھیلتی اور ترقی کرتی چلی جائےگی۔ اس میں مطلق شبہ نہیں کہ اردو میں یہ فطری صلاحیت موجود ہے لیکن اگر فطرت کو انسانی سعی کی مدد نہ ملے تو فطری صلاحیت بھی ٹھٹھر کررہ جاتی ہے اور اکثر اوقات ایسی چیزیں خودرو پودوں کی طرح پامال ہوکر رہ جاتی ہیں۔ اس لیے فطری صلاحیت کو ابھارنے اور ترقی دینے کے لیے آپ کی کوشش پیہم اور متواتر جاری رہنی چاہیے۔ دوسراایک یہ خیال بارہا سننے میں آیا ہے کہ زبان قدرتی چیز ہے اور بنانے سے نہیں بنتی۔ اس دھوکے میں نہ رہیےگا۔ انسانی کوشش بڑی بدبلاہے۔ یہ ہر مشکل پر غالب آ سکتی ہے۔ اگر وہ لوگ جو نئی سنسکرت آمیز ہندی کے حامی ہیں، عزم واستقلال سے کوشش کرتے رہے تو یاد رکھیے کہ وہی زبان جسے آپ حقارت سے دیکھتے ہیں اور جس پر ہنستے ہیں، ایک روز کامیاب ہوکر رہےگی۔ حضرات! علی گڑھ نے اردو زبان کی بڑی خدمت کی ہے۔ سرسید احمد خاں اور ان کے اثر سے ان کے رفقا نے اسے ادبی اور علمی رتبے تک پہنچانے اور اسے مقبول بنانے میں نہایت قابل قدر کام کیا ہے۔ سرسید کا یہ بہت بڑا احسان ہے۔ اب آپ اس کے وارث ہیں۔ یہ زبان ایک بڑی دولت ہے جو اسلاف ہمارے لیے چھوڑ گئے ہیں۔ انہوں نے اس کے لیے بڑی بڑی جانفشانیاں اور قربانیاں کی ہیں اور اپنے خون جگر سے اسے سینچا ہے۔ اب یہ ہم تک پہنچی ہے اور بےمشقت اور مفت ہم تک پہنچی ہے۔ ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے اور ہمارایہ فرض ہونا چاہیے کہ ہم موجودہ حالات کی رو سے اسے اور ترقی دیں اور اس دولت میں اضافہ کریں تاکہ جب یہ آئندہ نسلوں تک پہنچے تو آپ کو اسی شکرگزاری سے یاد کریں جیسے اب ہم اپنے اسلاف کا ذکر کرتے ہیں۔ آپ آئندہ نسلوں کے سامنے جواب دہ ہیں۔ اگر آپ نے اپنے فرض میں کوتاہی کی تو میرے کہنے کی ضرورت نہیں، آپ خود سمجھ جائیے کہ وہ آپ کو کن الفاظ سے یاد کریں گے اور آپ کے حق میں کیا کہیں گے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہماری طبیعتیں ہنگامہ پسند واقع ہوئی ہیں۔ ہم جلسے، مشاعرے، کانفرنسیں بڑی شان سے کرتے ہیں، تجویزیں بھی بڑی آب و تاب سے پیش کرتے ہیں، بحثیں بھی بڑے جوش و خروش سے ہوتی ہیں، لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو نہ معلوم وہ جوش و خروش کیوں ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ مجھے علی گڑھ کے طالب علموں سے یہ توقع ہے کہ وہ دھوم دھام کم اور کام زیادہ کریں گے اور اس یونیورسٹی کے بانی کی نظیر کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں گے اور جس خلوص، تندہی اور استقلال سے اس نے اس زبان کے رتبے کو بڑھایا، آپ بھی اسی طرح اس کے بنانے، بڑھانے اور سنوارنے میں کوشش کریں گے کیونکہ اس کی سلامتی میں ہماری سلامتی اور اس کے بگاڑ میں ہمارا بگاڑ ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%B1%D8%8C_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%DA%AF%DA%91%DA%BE_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85_%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%8C%D9%88%D8%B1%D8%B3%D9%B9%DB%8C"} {"title": "تقلیدِ عدو سے ہمیں ابرام نہ ہو گا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تقلیدِ عدو سے ہمیں ابرام نہ ہو گا\nہم خاص نہیں اور کرم عام نہ ہا گا\n\nصیاد کا دل اس سے پگھلنا متعذر\nجو نالہ کہ آتش فگنِ دام نہ ہو گا\n\nجس سے ہے مجھے ربط وہ ہے کون، کہاں ہے\nالزام کے دینے سے تو الزام نہ ہو گا\n\nبے داد وہ اور اس پہ وفا یہ کوئی مجھ سا\nمجبور ہوا ہے، دلِ خود کام نہ ہو گا\n\nوہ غیر کے گھر نغمہ سرا ہوں گے مگر کب\nجب ہم سے کوئی نالہ سرانجام نہ ہو گا\n\nہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام\nبدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا\n\nقاصد کو کیا قتل، کبوتر کو کیا ذبح\nلے جائے مرا اب کوئی پیغام، نہ ہو گا\n\nجب پردہ اٹھا تب ہے عدو دوست کہاں تک\nآزارِ عدو سے مجھے آرام نہ ہو گا\n\nیاں جیتے ہیں امیدِ شبِ وصل پر اور واں\nہر صبح توقع ہے کہ تا شام نہ ہو گا\n\nقاصد ہے عبث منتظرِ وقت، کہاں وقت\nکس وقت انہیں شغلِ مے و جام نہ ہو گا\n\nدشمن پسِ دشنام بھی ہے طالبِ بوسہ\nمحوِ اثرِ لذتِ دشنام نہ ہو گا\n\nرخصت اے نالہ کہ یاں ٹھہر چکی ہے\nنالہ نہیں جو آفتِ اجرام ، نہ ہو گا\n\nبرق آئینۂ فرصتِ گلزار ہے اس پر\nآئینہ نہ دیکھے کوئی گل فام، نہ ہو گا\n\nاے اہلِ نظر ذرے میں پوشیدہ ہے خورشید\nایضاح سے حاصل بجز ابہام نہ ہو گا\n\nاس ناز و تغافل میں ہے قاصد کی خرابی\nبے چارہ کبھی لائقِ انعام نہ ہو گا\n\nاس بزم کے چلنے میں ہو تم کیوں متردد\nکیا شیفتہ کچھ آپ کا اکرام نہ ہو گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%82%D9%84%DB%8C%D8%AF%D9%90_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "تقوے کے لئے جنت‌ و کوثر ہوئے مخصوص", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تقوے کے لئے جنت‌ و کوثر ہوئے مخصوص\nرندی کے لئے شیشہ و ساغر ہوئے مخصوص\n\nپابندئ احکام شریعت ہے وہاں فرض\nرندوں کو رخ ساقی و ساغر ہوئے مخصوص\n\nقائم ہے وہاں دین بھی دنیا بھی بہ امید\nہم کو کرم رحمت‌ داور ہوئے مخصوص\n\nشیخی ہے وہاں جبہ و دستار پہ موقوف\nرندی کو یہاں ترک تن و سر ہوئے مخصوص\n\nہے کشف و کرامات وہاں مایۂ پندار\nسودا اور زیاں ہم کو برابر ہوئے مخصوص\n\nہیں خرقہ‌ و عمامہ وہاں پیر طریقت\nیاں کفر و صنم ہادی و رہبر ہوئے مخصوص\n\nموقوف جو ایماں پہ رہے مسجد و منبر\nساحرؔ کو صنم خانہ و ساغر ہوئے مخصوص", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%82%D9%88%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D9%86%D8%AA%E2%80%8C_%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%AB%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%AE%D8%B5%D9%88%D8%B5"} {"title": "تقی کاتب", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بادشاہت کا خاتمہ", "year": "1950", "text_ur": "ولی محمد، جب تقی کو پہلی مرتبہ دفتر میں لایا تو اس نے مجھے قطعاً متاثر نہ کیا۔\nلکھنو اور دلی کے جاہل اور خود سرکاتبوں سے میرا جی جلا ہوا تھا۔ ایک تھا، اس کو جاو بے جا پیش ڈالنے کی بری عادت تھی۔ موت کو مُوت اور سوت کو سُوت بنا دیتا تھا۔ میں نے بہت سمجھایا مگر وہ نہ سمجھا۔ اس کو اپنے صاحب زبان ہونے کا بہت زعم تھا۔ میں نے جب بھی اس کو پیش کے معاملہ میں ٹوکا اس نے اپنی داڑھی کو تاؤ دے کرکہا،’’میں اہلِ زبان ہوں صاحب۔۔۔۔ اس کے تیس سپاروں کا حافظ ہوں۔ اعراب کے معاملہ میں آپ مجھ سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘‘\n\nمیں نے اسے اور کچھ نہ کہا اور رخصت کردیا۔\n\nاس کی جگہ ایک دلی کے کاتب نے لے لی۔۔۔ اور سب ٹھیک ہوگیا مگر اس کو اصلاح کرنے کا خبط تھا، اور اصلاح بھی ایسی کہ میری آنکھوں میں خون اتر آتا تھا۔ کوئی مضمون تھا، میں نے اس میں یہ لکھا، ’’اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، اس نے یہ اصلاح فرمائی۔ اس کے ہاتھ پاؤں کے طوطے اڑ گئے۔‘‘ میں نے اس کا مذاق اڑایا تو وہ خالص دہلوی لب و لہجہ میں بڑبڑاتا ملازمت سے علیحدہ ہوگیا۔\n\nرام پور کا ایک کاتب تھا۔ بہت ہی خوش خط تھا مگر اس کو اختصار کے دورے پڑتے تھے۔ سطریں کی سطریں اور پیرے کے پیرے غائب کرتا تھا۔ جب اس کو پورا صفحہ دوبارہ لکھنے کو کہتا تو وہ جواب دیتا، ’’اتنی محنت مجھ سے نہ ہوگی صاحب۔۔۔ پوٹ میں لکھ دوں گا‘‘ پوٹ میں لکھوانا مجھے سخت ناپسند تھا چنانچہ رام پوری کاتب بھی زیادہ دن دفتر میں نہ ٹِک سکے۔\n\nولی محمد ہیڈ کاتب جب تقی کو پہلی مرتبہ دفتر میں لایا تو اس نے مجھے قطعاً متاثر نہ کیا۔ خط کا نمونہ دیکھا۔ خاص اچھا نہیں تھا۔ دائروں میں پختگی ہی نہیں تھی۔ میں گنجان لکھائی کا قائل ہوں، وہ چھدرا لکھتا تھا۔ کم عمر تھا۔ اندازِ گفتگو میں عجیب قسم کی بوکھلاہٹ تھی ۔بات کرتے وقت اس کا ایک بازو ہلتا رہتا تھا۔ جیسے کلاک کا پنڈولم۔ رنگ سفید تھا۔ بالائی ہونٹ پر بھورے بھورے مہین بال تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس نے خود کتابت کی سیاہی سے یہ ہلکی ہلکی مونچھیں بنائی ہیں۔\n\nمیں نے اسے چند روز کے لیے رکھا۔ مگر اس نے اپنی شرافت، محنت اور تابعداری سے دفتر میں اپنے لیے مستقل جگہ پیدا کرلی۔ ولی محمد سے میرے تعلقات بہت بے تکلف تھے۔ جنسیات کے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے وہ اکثر مجھ سے گفتگو کیا کرتا تھا۔ اس دوران میں محمد تقی خاموش رہتا۔ عورت اور مرد کے جنسی تعلق کا ذکر کھلے الفاظ میں آتا تو اس کے کان کی لویں سرخ ہوجاتیں۔ ولی محمد جو کہ شادی شدہ تھا، اس کو خالص پنجابی انداز میں چھیڑتا۔\n\n’’منٹو صاحب اس کا مردہ خراب ہورہاہے اس سے کہیے کہ شادی کرلے۔۔۔ جب بھی کوئی فلم دیکھ کر آتا ہے۔ ساری رات کروٹیں بدلتا رہتا ہے۔‘‘ تقی عام طور پر جھینپتے ہوئے کہتا، ’’منٹو صاحب جھوٹ بولتا ہے۔‘‘ ولی محمد کی سیاہ نوکیلی مونچھیں تھرکنے لگیں، ’’اور یہ بھی جھوٹ ہے منٹو صاحب کہ یہ چالی بلڈنگ کی یہودی چھوکریوں کی ننگی ٹانگیں دیکھ کر ان کی نقشہ کشی کیا کرتا ہے۔‘‘ تقی کی ناک کی چونچ پر پسینے کے قطرے نمودار ہو جاتے، ’’میں تو۔۔۔ میں تو ڈرائنگ سیکھ رہا ہوں۔‘‘ ولی محمد اسے اور چھیڑتا، ’’ڈرائنگ چہرے کی سیکھو۔۔۔۔یہ کس ڈرائنگ ماسٹر نے تم سے کہا کہ پہلے ننگی ٹانگوں سے شروع کرو۔‘‘\n\nمحمد تقی قریب قریب رو دیتا، چنانچہ میں ولی محمد کومنع کرتا کہ وہ اسے نہ چھیڑا کرے۔ اس پر ولی محمد کہتا،’’منٹو صاحب، میں اس کے والد صاحب سے کہہ چکا ہوں آپ سے بھی کہتا ہوں کہ اس لونڈے کی شادی کرا دیجیے، ورنہ اس کا مردہ بالکل خراب ہو جائے گا۔‘‘\n\nمحمد تقی کے باپ سے میری ملاقات ہوئی۔ داڑھی والے بزرگ تھے۔ نماز روزے کے پابند۔ ماتھے پر محراب۔ بھنڈی بازار میں ولی محمد کی شراکت میں گھی کی ایک چھوٹی سی دکان کرتے تھے۔ محمد تقی سے ان کو بہت محبت تھی۔ باتیں کرتے ہوئے آپ نے مجھ سے کہا، ’’تقی دو برس کا تھا کہ اس کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔۔۔ خدا اس کو غریقِ رحمت کرے۔ بہت ہی نیک بی بی تھی۔ منٹو صاحب یقین جانیے، اس کی موت کے بعد عزیزوں اور دوستوں نے بہت زور دیا کہ میں دوسری شادی کرلوں مگر مجھے تقی کا خیال تھا۔ میں نے سوچا ہو سکتا ہے کہ میں اس کی طرف سے غافل ہوجاؤں۔ چنانچہ دوسری شادی کے خیال کو میں نے اپنے قریب تک نہ آنے دیا اور اس کی پرورش خود اپنے ہاتھوں سے کی۔ اللہ کا بڑا فضل و کرم ہے کہ اس نے مجھ گنہگار کوسرخرو کیا۔ خدا اس کو زندگی اور نیکی کی ہدایت دے!‘‘\n\nمحمد تقی اپنے باپ کے اس ایثار کی ہمیشہ تعریف کیا کرتا، ’’بہت کم باپ اتنی بڑی قربانی کرسکتے ہیں۔ اباّ جوان تھے۔ اچھا کھاتے تھے۔ چاہتے تو چٹکیوں میں ان کو اچھی سے اچھی بیوی مل جاتی، لیکن میری خاطر انھوں نے تجرد کی زندگی بسرکی۔ اتنی محبت اور اتنے پیار سے میری پرورش کی کہ مجھے ماں کی کمی محسوس ہی نہ ہونے دی۔‘‘\n\nولی محمد بھی تقی کے باپ کا معترف تھا مگر اسے صرف یہ شکایت تھی کہ مولانا ذرا سنکی ہیں، ’’منٹو صاحب آدمی بہت اچھا ہے، کاروبار میں سولہ آنے کھرا ہے۔ تقی سے بہت پیار کرتا ہے۔۔۔ لیکن یہ پیار۔۔۔ میں اب اپنے احساسات کن الفاظ میں پیش کروں۔۔۔ اس کا پیار حد سے بڑھا ہوا ہے۔۔۔ یعنی وہ اس طرح پیار کرتا ہے جس طرح کوئی حاسد عاشق اپنے معشوق سے کرتا ہے۔‘‘\n\nمیں نے ولی محمد سے پوچھا، ’’تمہارا مطلب؟‘‘ ولی محمد نے اپنی مونچھوں کی نوکیں درست کیں، ’’مطلب وطلب میں نہیں سمجھا سکتا۔ آپ خود سمجھ لیجیے۔‘‘ میں نے مسکرا کہا، ’’بھائی تم ذرا وضاحت سے کام لو، تو میں سمجھ جاؤں گا۔‘‘\nولی محمد نے سرخیاں لکھنے والے قلم کو کپڑے کے چیتھڑے سے صاف کرتے ہوئے کہا، ’’مولانا سنکی ہیں۔۔۔ مجھے معلوم نہیں کیوں۔ تقی کہتا ہے کہ پہلے ان کے پیار اور ان کی شفقت کا یہ رنگ نہیں تھا جو اب ہے۔۔۔ یعنی پچھلے چند برسوں سے آپ نے اپنے فرزند ارجمند سے پوچھ گچھ کا لامتناہی سلسلہ شروع کررکھا ہے۔۔۔ لامتناہی ٹھیک استعمال ہے نا منٹو صاحب؟‘‘\n\n’’ٹھیک استعمال ہوا ہے۔۔۔ ہاں یہ پوچھ گچھ کا سلسلہ کیا ہے؟‘‘\n\n’’یہی تم رات کو دیر سے کیوں آئے۔۔۔؟ سفید گلی میں کیا کرنے گئے تھے۔ وہ یہودن تم سے کیا بات کررہی تھی۔۔۔؟ اتنے فلم کیوں دیکھتے ہو۔۔ پچھلے ہفتے تم نے کتابت کی اجرت میں سے چار آنے کہاں رکھے۔۔۔؟ ولی محمد سے تم بائی کلمہ کے پل پر بیٹھے کیا باتیں کررہے تھے۔۔۔؟ کیا وہ تمہیں ورغلا تو نہیں رہا تھا کہ شادی کرلو۔‘‘\n\nمیں نے ولی محمد سے پوچھا، ’’ورغلانا کیا ہوا؟‘‘\n\n’’معلوم نہیں۔۔۔ لیکن مولانا سمجھتے ہیں کہ تقی کا ہر دوست اسے شادی کے لیے ورغلاتا ہے۔۔۔ میں اس کو ورغلاتا تو نہیں لیکن یہ ضرور کہتا ہوں اور اکثر کہتا ہوں کہ جانِ من شادی کرلو ورنہ تمہارا مردہ خراب ہو جائے گا۔۔۔ اور منٹو صاحب میں آپ کو خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ لڑکے کو ایک عدد بیوی کی اشد ضرورت ہے۔‘‘\n\nچار پانچ برس گزر چکے تھے۔ محمد تقی کی مونچھوں کے بھورے بال اب مہین نہیں تھے، ہر روز داڑھی مونڈتا تھا۔ ٹیڑھی مانگ بھی نکالتا تھا اور دفتر میں جب جذبات کے متعلق گفتگو چھڑتی تو وہ قلم دانتوں میں دبا کر غور سے سنتا۔ عورت اور مرد کے جنسی تعلق کا ذکر کھلے الفاظ میں ہوتا تو اس کے کانوں کی لویں سرخ نہ ہوتیں۔۔۔ محمد تقی کو بیوی کی ضرورت ہو سکتی تھی۔\n\nایک دن جبکہ اور کوئی دفتر میں نہیں تھا اور اکیلا تقی تخت پر دیوار کے ساتھ پیٹھ لگائے پرچے کی آخری کاپی مکمل کررہا تھا۔ میں نے اس کے خدوخال کا غور سے معائنہ کرتے ہوئے پوچھا،’’تقی تم شادی کیوں نہیں کرتے؟‘‘\n\nسوال اچانک کیا گیا تھا۔تقی چونک پڑا، ’’جی؟‘‘\n\n’’میرا خیال ہے تم شادی کرلو۔‘‘\n\nتقی نے قلم کان میں اڑسا اور کسی قدر شرما کر کہا، ’’میں نے ابا سے بات کی ہے۔‘‘\n\n’’کیا کہا انھوں نے؟‘‘\n\nتقی تفصیل سے کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر نہ کہہ سکا،’’جی وہ۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔ وہ کہتے ہیں ابھی اتنی جلدی کیا ہے؟‘‘\n\n’’تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘\n\n’’ جو ان کا ہے۔‘‘\n\nاس جواب کے بعد گفتگو کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ تقی نے پرچے کی آخری کاپی مکمل کی اور اسے جوڑ کر چلا گیا۔ چند دن کے بعد ولی محمد نے تقی کی موجودگی میں مجھ سے کہا، ’’منٹو صاحب!کل بڑا لفڑا ہوا۔۔۔ مولانا اور تقی میں دھیں پٹاس ہوتے ہوتے رہ گئی۔‘‘ ولی محمد یوں تو اردو بولتا تھا لیکن پنجابی اور بمبئی کی اردو کے کئی الفاظ مزاح پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے کا عادی تھا۔\n\nتقی نے اس کی بات سنی اور خاموش رہا۔\n\nولی محمد نے اپنی تھرکتی ہوئی نوکیلی مونچھوں کو آنکھوں کا زاویہ بدل کر دیکھا، پھر اس زاویے کو بدل اس نے تقی کی طرف دیکھا اور مجھ سے کہا، ’’لڑکے کو ایک عدد بیوی کی اشد ضرورت ہے، لیکن باپ اس ضرورت کو مانتا ہی نہیں۔۔۔ اس نے بہت سمجھایا منٹو صاحب مگر مولانا نے ایک نہ سنی۔۔۔ منٹو صاحب یہ کیا محاورہ ہے ایک نہ سنی۔۔۔ مولانا نے سنی تو ہزار تھیں لیکن سنی ا ن سنی کردیں۔۔۔ یہ محاورے بھی خوب چیز ہیں۔۔۔! اور مولانا بھی۔۔۔ اپنے وقت کے ایک لاجواب محاورہ ہیں۔‘‘ تقی بھنا کر مجھ سے مخاطب ہوا، ’’منٹو صاحب اس سے کہیے خاموش رہے۔‘‘\n\nولی محمد بولا، ’’منٹو صاحب اس سے کہیے کہ مولانا کے سامنے خاموش رہا کرے۔۔۔ وہ شادی کی اجازت نہیں دیتے ۔ٹھیک ہے۔۔۔ باپ ہیں ،وہ اس کا نفع نقصان سوچ سکتے ہیں۔‘‘ باپ بیٹے کی چخ ضرور ہوئی تھی۔ تقی نے مولانا سے درخواست کی تھی کہ وہ اس کی شادی کسی اچھے گھرانے میں کر دیں یہ سن کر وہ چڑ گئے اور تقی کو دوستوں پر برسنے لگے،’’تمہارے دوستوں نے تمہاری جڑوں میں پانی پھیر دیا ہے۔۔۔ جب میں تمہاری عمر کا تھا۔ مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ شادی بیاہ کس جانور کا نام ہے؟‘‘\n\nیہ سن کر تقی نے ڈرتے ڈرتے کہا، ’’لیں۔۔ آپ کی شادی تو چودہ برس کی عمر میں ہوئی تھی۔‘‘مولانا نے اسے ڈانٹا، ’’تمہیں کیا معلوم ہے؟‘‘ تقی خاموش ہوگیا۔۔۔ وہ بہت ہی کم گو اور فرماں بردار قسم کا لڑکا تھا۔ دو چار مرتبہ اس نے بے تکلف گفتگو کی اور اس کوکھلنے کا موقع دیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس کو بیوی کی واقعتاً ضرورت ہے۔\n\nاس نے مجھ سے ایک روز جھینپتے ہوئے کہا، ’’میرے خیالات آج کل بہت پراگندہ رہتے ہیں۔ ولی محمد شادی شدہ ہے۔ وہ جب اپنی بیوی کے ساتھ باہر جاتا ہے تو میرے دل کو جانے کیا ہوتا ہے۔۔۔ آپ نے ایک دفعہ احساس کمتری کے متعلق باتیں کی تھیں۔۔۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں عنقریب اس کا شکار ہونے والا ہوں۔ مگر کیا کروں۔ ابا مانتے ہی نہیں۔ میں شادی کی بات کرتا ہوں تو وہ چڑ جاتے ہیں۔۔۔ جیسے۔۔۔ جیسے شادی کرنا کوئی گناہ ہے۔۔۔ وہ اپنی مثال دیتے ہیں کہ دیکھو تمہاری ماں کے مرنے کے بعد اب تک میں نے شادی نہیں کی۔۔۔ لیکن منٹو صاحب۔۔۔ اس مثال کا میرے ساتھ کیا تعلق ہے۔۔۔انھوں نے شادی کی، اللہ کو یہ منظور نہیں تھاکہ ان کی بیوی زندہ رہتی انھوں نے بہت بڑی قربانی کی جو میری خاطر دوسری شادی نہ کی۔۔۔ لیکن وہ چاہتے ہیں کہ میں کنوارا ہی رہوں۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘\n\nتقی نے جواب دیا، ’’معلوم نہیں منٹو صاحب۔۔۔ وہ میری شادی کے بارے میں کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہیں۔۔۔ میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں۔ لیکن کل باتوں باتوں میں جذبات سے مغلوب ہو کر میں گستاخی کر بیٹھا۔‘‘\n\n’’کیا؟‘‘\n\nتقی نے انتہائی ندامت کے ساتھ کہا، ’’میں منت سماجت کرتے کرتے اور سمجھاتے سمجھاتے تنگ آگیا تھا۔۔۔ کل جب انھوں نے مجھ سے کہا کہ وہ میری شادی کے متعلق کچھ سننے کو تیار نہیں تو میں نے غصے میں آکر ان سے کہہ دیا۔۔۔ آپ نہیں سنیں گے تو میں اپنی شادی کا بندوبست خود کرلوں گا۔‘‘\n\nمیں نے اس سے پوچھا، ’’یہ سن کر انھوں نے کیا کہا۔‘‘ ابھی ابھی گھر سے نکل جاؤ۔۔۔ چنانچہ کل رات میں یہاں دفتر ہی میں سویا۔میں نے شام کو ولی محمد کے ذریعے سے مولانا کو بلوایا۔۔۔ چند جذباتی باتیں ہوئیں تو انھوں نے تقی کو گلے لگا کر رونا شروع کردیا۔ پھر شکوے ہونے لگے۔ مجھے معلوم نہیں تھاکہ یہ لڑکا جس کی خاطر میں نے تجرد برداشت کیا ایک روز میرے ساتھ ایسی گستاخی سے پیش آئے گا۔ میں نے ماؤں کی طرح اسے پالا پوسا، آپ سوکھی کھائی پر اس کے لیے خود اپنے ہاتھوں سے گھی میں گوندھ گوندھ کر پراٹھے پکائے۔۔۔‘‘\n\nمیں نے بات کاٹ کر کہا، ’’مولانا، یہ کب آپ کے ان احسانات کو نہیں مانتا۔ آپ کی تمام قربانیاں اس کے دل و دماغ پر نقش ہیں۔ آپ نے اتنا کچھ کیا۔ کیا آپ اس کی شادی نہیں کرسکتے۔ ماں باپ کی تو سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو پھلتا پھولتا دیکھیں۔ آپ کے گھر میں بہو آئے گی۔ بال بچے ہوں گے۔ دادا جان بن کر آپ کو پر فخر مسرت نہ ہوگی۔۔۔؟ میرا خیال ہے تقی کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ آپ شادی کے خلاف ہیں۔‘‘\n\nمولانا لاجواب ہوگئے۔ رومال سے اپنی آنکھیں خشک کرنے لگے۔ تھوڑے توقف کے بعد بولے، ’’پر کوئی ایسا رشتہ ہوتو۔۔۔‘‘\n\n’’آپ ہاں کردیجیے۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘\n\nولی محمد نے یہ کچھ ایسے انداز میں کہا، ’’چلیے انگوٹھا لگائیے۔‘‘ مولانا بدک گئے، ’’لیکن ایسی جلدی بھی کیا ہے؟‘‘ اس پر میں نے بزرگوں کا انداز اختیار کرتے ہوئے کہا، ’’کار خیر میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔۔ آپ اوروں کو چھوڑیئے، خود اپنی پسند کا رشتہ ڈھونڈھیے۔۔۔ ماشاء اللہ ڈونگری میں سب لوگ آپ کو جانتے ہیں۔۔۔ یہاں بمبئی میں پسند نہ ہو تو اپنے پنجاب میں سہی۔ کون سا کالے کوسوں دور ہے۔‘‘ مولانا نے سر ہلا کر صرف اتنا کہا، ’’جی ہاں!‘‘\n\nمیں نے تقی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا، ’’لو بھئی تقی۔۔۔ فیصلہ ہوگیا۔ مولانا کو تم ضدی بچوں کی طرح اب تنگ نہ کرنا۔۔۔ میں خود اس معاملے میں ان کی مدد کروں گا۔‘‘ یہ کہہ کر میں مولانا سے مخاطب ہوا، ’’یہاں کچھ خاندان ہیں۔ ان سے میری جان پہچان ہے۔ میں اپنی بیوی سے کہوں گا وہ لڑکیاں دیکھ لے گی۔‘‘تقی نے ہولے سے کہا،’’آپ کی بہت مہربانی۔‘‘\n\nکئی مہینے گزر گئے مگر تقی کی شادی کی بات چیت کہیں بھی شروع نہ ہوئی۔ ولی محمد اس دوران میں اسے برابر اکساتا رہا۔ وہ اپنے باپ کے پیچھے پڑا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک روز مولانا میرے پاس آئے اور کہا، ’’سانگلی اسٹریٹ کی تیسری گلی میں نکڑ کی بلڈنگ میں۔۔۔ شاید آپ جانتے ہی ہوں۔۔۔ یوپی کا ایک خاندان رہتا ہے۔۔۔‘‘\n\nمیں نے فوراً کہا، ’’آپ کہیے۔۔۔ میں جانتا ہوں!‘‘\n\nمولانا نے پوچھا، ’’کیسے لوگ ہیں؟‘‘\n\n’’بے حد شریف!‘‘\n\n’’جو سب سے بڑا بھائی ہے۔ اس کی بڑی لڑکی۔۔۔ میں نے سنا ہے خاصی اچھی ہے!‘‘\n\n’’میں پیغام بھجوا دیتا ہوں۔‘‘\n\nمولانا گھبرا گئے، ’’نہیں، نہیں۔۔۔ اتنی جلدی نہیں۔۔۔ یہ بھی تو دیکھنا ہے کہ لڑکی شکل و صورت کی کیسی ہے؟‘‘\n\n’’میں اپنی بیوی کے ذریعہ سے معلوم کرلوں گا۔‘‘\n\nمیری بیوی نے اس لڑکی کو دیکھا تو پسند کیا۔ قبول صورت تھی۔ تعلیم انٹرنس تک تھی۔ طبیعت کی بہت ہی اچھی تھی۔ یہ سب خوبیاں مولانا سے بیان کردی گئیں۔ وہ لڑکی کے باپ سے ملے جہیز اور حق مہر کے متعلق بات چیت ہوئی۔ یہ ابتدائی مراحل بخیر و خوبی طے ہوگئے۔ تقی بہت خوش تھا۔ لیکن تین مہینے گزر گئے اور بات وہیں کی وہیں رہی۔ آخر ایک روز معلوم ہوا کہ لڑکی والوں نے مزید گفتگوسے انکار کردیا ہے کیونکہ وہ تقی کے باپ کی مین میخ سے تنگ آچکے ہیں۔ بار بار وہ ان سے جا جا کر یہ کہتا تھا۔ دیکھیے لڑکی کے جہیز میں اتنے جوڑے ہوں، برتنوں کی تعداد یہ ہو۔ لڑکی نے اگر میری حکم عدولی کی تو اس کی سزا طلاق ہوگی۔ فلم دیکھنے ہرگز نہ جائے گی۔ پردے میں رہے گی۔میں نے جب ان بے جا باتوں کا ذکر تقی سے کیا۔ تو وہ اپنے باپ کی طرف ہوگیا۔\n\n’’نہیں منٹو صاحب۔ لڑکی والے ٹھیک نہیں۔ ابا کا یہ کہنا ٹھیک ہے کہ وہ مجھے زن مُرید بنانا چاہتے ہیں۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’ایسا ہے تو چھوڑو۔۔۔ کسی اور جگہ سہی۔‘‘\n\nتقی نے کہا، ’’ابا کوشش کررہے ہیں۔‘‘\n\nمولانا نے ڈونگری میں اپنے ایک واقف کار کے ذریعے سے بات چیت شروع کی سب کچھ طے ہوگیا۔ نکاح کی تاریخ بھی مقرر ہوگئی۔ مگر ایک دم کچھ ہوا اور سب کچھ ڈھے گیا۔۔۔ لڑکی والوں کو تقی پسند تھا، لیکن جب مولانا سے اچھی طرح ملنے جلنے کا اتفاق ہوا تو وہ پیچھے ہٹ گئے۔ اور لڑکی کا رشتہ کسی اور جگہ پکا کردیا۔ تقی نے پھر اپنے باپ کی طرف داری کی اور مجھ سے کہا،’’یہ لوگ بڑے لالچی تھے منٹو صاحب۔۔۔ ایک دولت مند کا لڑکا مل گیا تو اپنی بات سے پھر گئے۔۔۔ ابا شروع ہی سے کہتے تھے کہ یہ لوگ مجھے ایمان دار معلوم نہیں ہوتے۔ لیکن میں خواہ مخواہ ان کے پیچھے پڑا رہا۔ کہ جلدی معاملہ طے کیجیے۔‘‘\n\nکچھ عرصے کے بعد تیسری جگہ کوشش شروع ہوئی۔ یہاں بھی نتیجہ صفر۔ چوتھی جگہ بات چیت شروع ہوئی تو تقی نے مجھ سے کہا، ’’منٹو صاحب، وہ لوگ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘\n\n’’بڑے شوق سے ملیں۔‘‘\n\nمیں ان سے ملا۔ آدمی شریف تھے۔ مولانا سے ان کی چند مختصر باتیں ہوئیں۔ میں نے تقی کی تعریف کی۔ معاملے طے ہوگیا۔ لیکن چند ہی دنوں میں گڑ بڑ پیدا ہوگئی۔ لڑکی کے بڑے بھائی نے کسی سے سنا کہ مولانا دکان پر اپنے ایک دوست سے کہہ رہے تھے، ’’لڑکی میرے کہنے پر نہ چلی تومیں تقی کی دوسری شادی کردوں گا۔‘‘ وہ یہ سن کر میرے پاس آیا۔ میں نے مولانا کو بلوایا۔ ان سے پوچھا تو داڑھی پر ہاتھ پھیر کر کہنے لگے،’’میں نے کیا برا کہا۔۔۔ میں ایسی بہو گھر میں نہیں لانا چاہتا جو میرا کہا نہ مانے۔۔۔ میں تقی کی شادی اس لیے کررہا ہوں کہ مجھے آرام پہنچے۔‘‘\n\nعجیب و غریب منطق تھی۔ میں نے پوچھا، ’’آپ کو آرام ضرور پہنچنا چاہیے۔ مگر آپ کی یہ منطق میری سمجھ میں نہیں آئی۔۔۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خاوند اور بیوی کا رشتہ آپ کی سمجھ سے بالاتر ہے۔‘‘ مولانا نے کسی قدر خفگی کے ساتھ کہا، ’’میں خاوند رہ چکا ہوں منٹو صاحب۔۔۔ آپ کے خیالات میرے خیالات سے بہت مختلف ہیں۔۔۔ آپ کے ساتھ کام کرکے، مجھے افسوس ہے میرے لڑکے کے خیالات بھی بدل گئے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کروہ تقی سے مخاطب ہوئے، ’’سنا تم نے۔۔۔ میں ایسی لڑکی گھر میں نہیں لانا چاہتا ہوں جو میری اور تمہاری خدمت نہ کرے۔‘‘\n\nاس کے بعد دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ان سے جو میں نے نتیجہ نکالا وہ میں نے تقی کو بتادیا، ’’دیکھو بھئی۔۔۔ بات یہ ہے کہ تمہارے والد صاحب تمہاری شادی نہیں کرنا چاہتے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بار کوئی نہ کوئی شوشہ چھیڑ دیتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ نکالتے ہیں تاکہ معاملہ آگے نہ بڑھنے پائے۔‘‘\n\nمولانا خاموش اپنی داڑھی پرہاتھ پھیرتے رہے۔ تقی نے مجھ سے پوچھا، ’’کیوں۔۔۔ یہ میری شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے۔‘‘\n\nمیرے منہ سے بے اختیار نکل گیا، ’’مولانا کا دماغ خراب ہے۔‘‘\n\nمولانا کو اس قدر طیش آیا کہ منہ میں جھاگ بھر کر واہی تباہی بکنے لگے۔ میں نے تقی سے کہا، ’’جاؤ، مولانا کو کسی ذہنی شفاخانہ میں لے جاؤ۔۔۔ اور میری یہ بات یاد رکھو۔ جب تک ان کا دماغ درست نہیں ہوگا۔ تمہاری شادی ہرگز ہرگز نہیں کریں گے۔ ان کے دماغ کی خرابی کا باعث وہ قربانی ہے جو انھوں نے تمہارے لیے کی۔‘‘\n\nمولانا نے تقی کا بازو زور سے پکڑا اور مجھے صلواتیں سناتے چلے گئے۔ ولی محمد میرے پاس بیٹھا سب کچھ خاموشی سے سن رہا تھا۔ اتنی دیر وہ اپنی نوکیلی مونچھوں کے وجود سے بالکل غافل رہا۔ جب مولانا اور تقی چلے گئے تو اس نے آنکھوں کا زاویہ درست کرکے ان کی طرف دیکھا اور کہا،’’مردہ خراب ہورہا ہے بیچارے کا۔۔۔ لیکن منٹو صاحب آپ نے باون تولہ اور پاؤ رتی کی بات کہی۔۔۔ محاورہ درست استعمال ہوا ہے نا؟‘‘\n\n’’تم نے محاورہ درست استعمال ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ مولانا کی طبیعت صاف کرتے ہوئے میں نے مناسب و موزوں الفاظ استعمال نہیں کیے۔‘‘\n\n’’بڑا ملعون آدمی ہے!‘‘ ولی محمد نے یہ کہہ کر اپنی مونچھ کا ہٹیلا بال بڑے زور سے اکھیڑا اور بڑی سنجیدگی اختیارکرکے مجھ سے پوچھا،’’منٹو صاحب، کیا مطلب تھا آپ کا اس سے کہ مولانا کے دماغ کی خرابی کا باعث وہ قربانی ہے جو اس نے تقی کے لیے کی۔ بات ضرور باون تولہ اور پاؤ رتی کی ہے لیکن پوری طرح میرے ذہن میں بیٹھی نہیں۔‘‘\n\nمیں نے اس کو سمجھایا، ’’بیوی کی موت کے بعد ایک وقتی جذبہ تھا جس کے تحت مولانا نے تجرد کے دن گزارنے کا تہیہ کیا۔ یہ جذبہ اپنی طبعی موت مرا تو آپ کے لیے دو سوگ ہوگئے، ایک بیوی کی موت کا، دوسرا اس جذبے کی موت کا۔۔۔ وقت گزرتا گیا اور مولانا نیم کے کریلے بنتے گئے۔۔۔ مجھے تو بھئی ولی محمد بہت ترس آتا ہے اس غریب پر۔۔۔ ایک شخص جس نے پچیس برس تک اپنے اور عورت کے درمیان ایک دیوار حائل رکھی ہو، وہ کس طرح اپنے جوان بیٹے کے پہلو میں ایک جوان عورت دیکھ سکتا ہے۔۔۔ اور وہ بھی نظروں کے بہت قریب۔‘‘\n\nدوسرے دن تقی نہ آیا۔ ولی محمد کے ہاتھ اس نے کتابت کا بل بھجوا دیا جو ادا کردیا گیا۔۔۔ تقی کو بہت افسوس تھا کہ میں نے اس کے باپ کو برا بھلا کہا۔ میں نے ولی محمد سے کہہ دیا، ’’مجھے کوئی افسوس نہیں۔۔۔ تقی کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ اس کا باپ ذہنی اور روحانی طور پر بیمار ہے۔ لیکن مجھے یہ افسوس ضرور ہے کہ اس نے کام چھوڑ دیا ہے۔‘‘ ولی محمد نے تقی سے واپس آنے کو کہا۔ مگر وہ نہ مانا۔ اس نے کسی اور دفتر میں ملازمت نہ کی اور دکان پر بیٹھ کر گھی بیچنے لگا۔ ولی محمد نے جب زور دیا تو اس نے وہیں کتابت کا کام بھی شروع کردیا۔\n\nمیں ایک کام سے دہلی چلا گیا۔ تین چار مہینے وہاں رہ کر بمبئی لوٹا تو ولی محمد نے پلیٹ فارم ہی پر یہ خبر سنائی کہ تقی کی شادی ایک ہفتہ پہلے بخیرو خوبی ہو چکی ہے۔مجھے یقین نہ آیا لیکن ولی محمد نے قرآن کی قسم کھا کر کہا، ’’منٹو صاحب، میں جھوٹ نہیں کہتا۔۔۔ نکاح کے چھوارے میں نے سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔ جس کی شادی نہ ہوتی ہو۔ اس کے لیے اکسیر ثابت ہوں گے۔‘‘\n\nمیں نے تقی کو بلایا، مگر وہ نہ آیا۔\n\nتقریباً ڈیڑھ مہینے کے بعد ایک دن علی الصبح ولی محمد آیا۔ اس کی نوکیلی مونچھیں تھرک رہی تھیں، کہنے لگا، ’’منٹو صاحب۔ کل دھیں پٹاس ہوگئی باپ بیٹے میں۔ تقی اپنی بیوی کو لے کر چلا گیا کہیں۔‘‘\n\n’’کہاں؟‘‘\n\n’’معلوم نہیں‘‘ یہ کہہ کر آنکھوں کا زاویہ بدل کر ولی محمد نے اپنی نوکیلی مونچھوں کو دیکھا،’’کچھ سمجھ میں نہیں آتا منٹو صاحب۔۔۔ لڑائی کا باعث معلوم نہیں ہوسکا۔۔۔ مولانا بالکل خاموش ہیں۔۔۔ ‘‘مولانا بہت دیر تک خاموش رہے اور ان کا بیٹا محمد تقی بھی۔ بمبئی میں ولی محمد اور اس کے ساتھیوں نے تقی کو بہت تلاش کیا۔ مگر اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔\n\nبہت دنوں کے بعد دلی سے مجھے تقی کا ایک خط وصول ہوا۔ لکھا تھا، ’’بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ آپ کو خط لکھوں اور حالات سے آگاہ کروں۔ مگر جرأت ساتھ نہ دیتی تھی۔۔۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ یہ خط کسی اور کو نہ دکھائیے گا۔آپ نے میرے والد کے متعلق جو کچھ کہا تھا، ٹھیک نکلا۔ میں نے آپ کی باتوں کا برا مانا تھا۔ اس لیے کہ مجھے اصلیت کا علم نہیں تھا جو مجھے شادی کے بعد معلوم ہوئی۔\n\nمیرے والد کا دماغ واقعی درست نہیں۔ ہو سکتا ہے پہلے ٹھیک ہو۔ لیکن میری شادی کے بعد تو قطعاً ان کی دماغی حالت درست نہ تھی۔ ان کی یہی کوشش تھی کہ میں اپنی بیوی سے دور رہوں۔ مجھ میں اور اس میں دوری پیدا کرنے کے لیے وہ عجیب و غریب طریقے ایجاد کرتے تھے،جو ایک دیوانہ ہی کرسکتا ہے۔ میں نے بہت دیر تک برداشت کیا۔۔۔ مجھے تمام واقعات بیان کرتے ہوئے بہت شرم محسوس ہوتی ہے۔۔۔ ایک روز میری بیوی غسل خانے میں نہا رہی تھی۔ آپ نے دروازے میں سے جھانک کر دیکھنا شروع کردیا۔۔۔ میں اور کیا لکھوں۔۔۔ سمجھ میں نہیں آتا۔ ان کے دماغ کو کیا ہوگیا ہے۔ خدا ان کی حالت پر رحم کرے۔‘‘\n\n’’میں یہاں دہلی میں ہوں اور بہت خوش ہوں۔‘‘\n\nمیں یہ خط پڑھ رہا تھا کہ ولی محمد آیا۔ اس کے پاس تقی کا ایک اور خط تھا۔ میری طرف بڑھا کر اس نے کہا، ’’یہ خط تقی نے دہلی سے اپنے باپ کو لکھا ہے۔۔۔ صرف چند الفاظ ہیں۔‘‘\n\n’’میں نے پوچھا کیا؟‘‘\n\n’’ولی محمد نے کہا پڑھ لیجیے۔‘‘\n\nمیں نے یہ الفاظ پڑھے،’’قبلہ والد صاحب۔۔۔ میں یہاں خیریت سے ہوں۔۔۔ آپ نے میرا گھر آباد ہے۔۔۔ میری خواہش ہے کہ آپ بھی اپنا گھر آباد کرلیں۔۔۔‘‘\n\nولی محمد نے آنکھوں کا زاویہ بدل کر اپنی نوکیلی مونچھوں کو دیکھا اور کہا، ’’منٹو صاحب۔۔۔ لڑکا ہوشیار ہوگیا ہے۔۔۔ لیکن مولانا تو اپنی بات پکی کر چکے ہیں۔‘‘\n\n’’کہاں؟‘‘\n\nولی محمد کی مونچھیں تھرکیں، ’’ایک گھی بیچنے والی سے۔۔۔ پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں۔۔۔ محاورہ ٹھیک استعمال کیا نہ منٹو صاحب۔‘‘\n\nمیں ہنس پڑا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%82%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D8%AA%D8%A8"} {"title": "تلاش جس نور کی ہے تجھ کو چھپا ہے تیرے بدن کے اندر", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تلاش جس نور کی ہے تجھ کو چھپا ہے تیرے بدن کے اندر\nظہور عالم ہوا اسی سے وہ ہے ہر اک جان و تن کے اندر\n\nتجھے یہ بے صرفہ جد و کد ہے کشاکشی میں بھی شد و مد ہے\nنفس کی تجھ کو اگر مدد ہے سفر ہے اس جا وطن کے اندر\n\nتجھے وہاں سے گریز و رم ہے تلاش اب آہو حرم ہے\nچلا ہے وہ راہ جو بھرم ہے، ہے مشک نافہ ختن کے اندر\n\nجہاں میں سارا ہے نور تیرا ہر ایک شے میں ظہور تیرا\nمگر تخیل ہے دور تیرا پڑا ہے بیت الحزن کے اندر\n\nتو ہی محقق تو ہی مجدد بنا ہے تو آپ ہی مقلد\nتو رسم و رہ کا ہوا مقید پھنسا ہے خود ما و من کے اندر\n\nقدیم ویراں کدہ ہے ہستی سمجھ اسے ہے فنا کی بستی\nیہ تیری ہمت کی سب ہے پستی زبوں ہے دہر کہن کے اندر\n\nعجیب احمق ہے اور سادہ سوار ہو کر ہوا پیادہ\nکدھر چلا یہ نہیں ہے جادہ تو کیوں بھٹکتا ہے بن کے اندر\n\nیہ آتش عشق کی ہے جدت کہ دل میں پیدا ہوئی ہے رقت\nیہ سوز غم کی ملی ہے لذت مزہ ہے دل کی جلن کے اندر\n\nہوا ہے مست شراب گلگوں اکڑ رہا ہے وہ سرو موزوں\nدکھا کے ہم کو یہ جام واژوں خجل کیا انجمن کے اندر\n\nہوا ہے سرشار وہم ساقیؔ تجھے نہیں شوق وصل باقی\nہوائے دنیا کا ہے مراقی پڑا ہے آواگون کے اندر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B4_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%B1"} {"title": "تلاش رنگ میں آوارہ مثل بو ہوں میں", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تلاش رنگ میں آوارہ مثل بو ہوں میں\nگزر کے آپ سے اپنی ہی جستجو ہوں میں\n\nنفس ہے سختیٔ قید حیات کا ضامن\nنکل سکے جو نہ پھانسی سے وہ گلو ہوں میں\n\nنشان ہستی فانی ہے داغ ناکامی\nخود اپنی آنکھ سے ٹپکا ہوا لہو ہوں میں\n\nمثال پیکر سیماب اضطراب مدام\nپئے نگاہ کرم شرح آرزو ہوں میں\n\nمری زباں پہ ہیں اندیشہ ہائے ناکامی\nسمجھ رہے وہ دل میں کہ حیلہ جو ہوں میں\n\nابھی ہے آب ندامت سر جبیں باقی\nنماز ایسے میں پڑھ لوں کہ با وضو ہوں میں\n\nہوں کچھ نہ ہونے پہ بھی کائنات کا حاصل\nکہ اپنا شوق نہیں تیری آرزو ہوں میں\n\nمثال معنیٔ بے لفظ و لفظ بے معنی\nجو تیرے دل میں نہیں ہے وہ آرزوؔ ہوں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B4_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D9%85%D8%AB%D9%84_%D8%A8%D9%88_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تلاش قبر میں یوں گھر سے ہم نکل کے چلے", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تلاش قبر میں یوں گھر سے ہم نکل کے چلے\nکفن بغل میں لیا منہ پہ خاک مل کے چلے\n\nہوا کھلانی تھی دنیا کی میری میت کو\nاٹھانے والے جو کاندھا بدل بدل کے چلے\n\nجگہ نہ دی ہمیں اس شمع رو نے پہلو میں\nہوس بجھانے کو آئے تھے اور جل کے چلے\n\nاٹھا کے بزم سے ہم لے چلے جو خلوت میں\nقدم قدم پہ وہ روٹھے مچل مچل کے چلے\n\nیہاں تک آئے ہیں طے ہم دو منزلہ کر کے\nتمہاری بزم میں پہنچے ہیں آج کل کے چلے\n\nشہید ناز کی میت جو دیکھی گل در گل\nکفن کھسوٹ جو آئے تھے ہاتھ مل کے چلے\n\nکمند کاکل پیچاں سے دور دور رہے\nقضا ٹلے جو شرفؔ اس بلا سے ٹل کے چل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B4_%D9%82%D8%A8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "تلافی وفا کی جفا چاہتا ہوں", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تلافی وفا کی جفا چاہتا ہوں\nتمھیں خود یہ کہہ دو برا چاہتا ہوں\n\nکوئی مول لے تو بکا چاہتا ہوں\nمیں صاحب سے بندہ ہوا چاہتا ہوں\n\nتمھیں چاہو مجھ کو تو کیا چاہیے پھر\nمیں اس کے سوا اور کیا چاہتا ہوں\n\nمرا مدعا کیا سمجھتے نہیں ہو\nتمہیں چاہتا ہوں تو کیا چاہتا ہوں\n\nمسیحا ہو گر تم تو اپنے لیے ہو\nمیں اپنے مرض کی دوا چاہتا ہوں\n\nتمہیں چاہوں میں تم رقیبوں کو چاہو\nیہ انصاف پیش خدا چاہتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%84%D8%A7%D9%81%DB%8C_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیں\nگھول کر شہد میں وہ زہر پلا دیتے ہیں\n\nیوں تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار\nاور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں\n\nپردہ اٹھے کہ نہ اٹھے مگر اے پردہ نشیں\nآج ہم رسم تکلف کو اٹھا دیتے ہیں\n\nآتے جاتے نہیں کمبخت پیامی ان تک\nجھوٹے سچے یوں ہی پیغام سنا دیتے ہیں\n\nوائے تقدیر کہ وہ خط مجھے لکھ لکھ کے ظہیرؔ\nمیری تقدیر کے لکھے کو مٹا دیتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%84%D8%AE_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D8%B4%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B2%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیں", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیں\nاس نرگس بیمار کے بیمار بہت ہیں\n\nعالم پہ ہے چھایا ہوا اک یاس کا عالم\nیعنی کہ تمنا کے گرفتار بہت ہیں\n\nاک وصل کی تدبیر ہے اک ہجر میں جینا\nجو کام کہ کرنے ہیں وہ دشوار بہت ہیں\n\nوہ تیرا خریدار قدیم آج کہاں ہے\nیہ سچ ہے کہ اب تیرے خریدار بہت ہیں\n\nمحنت ہو مصیبت ہو ستم ہو تو مزا ہے\nملنا ترا آساں ہے طلب گار بہت ہیں\n\nعشاق کی پرواہ نہیں خود تجھ کو وگرنہ\nجی تجھ پہ فدا کرنے کو تیار بہت ہیں\n\nوحشتؔ سخن و لطف سخن اور ہی شے ہے\nدیوان میں یاروں کے تو اشعار بہت ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%84%D8%AE%DB%8C_%DA%A9%D8%B4_%D9%86%D9%88%D9%85%DB%8C%D8%AF%D8%A6_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تلسی داس", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہ عقیدہ ہندوؤں کا ہے نہایت ہی قدیم\nجب کبھی مذہب کی حالت ہوتی ہے زار و سقیم\nقادر مطلق جو ہے دانائے اسرار و کریم\nبھیجتا ہے رہنمائی کے لیے اپنا ندیم\nرہبران راہ حق جب رہبری فرماتے ہیں\nبھولے بھٹکے سب مسافر راہ پر آ جاتے ہیں\n\nاک زمانہ تھا کہ غارت ہو رہے تھے اہل ہند\nاپنا مذہب اپنے ہاتھوں کھو رہے تھے اہل ہند\nاک عجب خواب گراں میں سو رہے تھے اہل ہند\nاپنے ہی اعمال کو خود رو رہے تھے اہل ہند\nغرق ہونے پر تھا جب بیڑا ہماری قوم کا\nگوشۂ عزلت میں تلسیؔ ناخدا پیدا ہوا\n\nاپنی نادانی کہیں یا اپنی قسمت کا قصور\nدید کے زریں عقائد سے ہوئے جاتے تھے دور\nاپنے مذہب کے مسائل سے طبیعت تھی نفور\nرہتے تھے ذکر بتان سیم تن کی دھن میں چور\nتھا یہاں تک ہم پہ جور‌‌ گردش چرخ بلند\nموتیوں کے بدلے ہم کو کنکر آتے تھے پسند\n\nتھے پران و وید و گیتا کے مسائل جس قدر\nسلک رامائن میں رکھا تو نے سب کو باندھ کر\nجو خزانے تھے پرانے ان سے تھے ہم بے خبر\nآنکھیں تھیں لیکن نہ عظمت اپنی آتی تھی نظر\nہو سکے اے ملک کے محسن تری تعریف کیا\nتو نے اک کوزے کے اندر بند دریا کر دیا\n\nاک طرف ہنگام شام از بس تھکا ماندہ کساں\nدن کی محنت سے فراغت پا کے آیا ہے مکاں\nجمع کر کے اپنے گھر کے بچے بوڑھے اور جواں\nکہہ رہا ہے ہند کی ہندی میں ہندو داستاں\nجو سمجھتے ہیں عجب کیا گر انہیں آتا ہے لطف\nلفظ جو سنتا ہے کچھ اس کو بھی آ جاتا ہے لطف\n\nاک طرف عزلت میں ہے نقاد معنی مو شگاف\nیہ معانی ہیں موافق وہ مطالب ہیں خلاف\nاس سے ہوتا ہے کمال شاعری کا انکشاف\nاتنے پیچیدہ مطالب اور پھر بھی اتنے صاف\nاہل فن کہتے ہیں اس کو بحر نا پیدا کنار\nاور عوام الناس کہہ کے سہل اسے کرتے ہیں پیار\n\nدل دہل جاتا ہے جس بھی وقت کرتے ہیں خیال\nتیری رامائن نہ ہوتی گر تو ہوتا کیسا حال\nچند دن گر اور چلتا وہ زمانہ اپنی چال\nہم کو کر دیتی ضعیف الاعتقادی پائمال\nرائے یہ میری نہیں فتویٰ ہے ساری قوم کا\nتیری رامائن نہیں نغمہ ہے ساری قوم کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%84%D8%B3%DB%8C_%D8%AF%D8%A7%D8%B3"} {"title": "تلمیحات", "poet_page": "مصنف:وحید الدین سلیم", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "الفاظ کیا ہیں؟\n\nوہ آوازیں ہیں جن سے ہم اپنے خیالات ظاہر کرتے ہیں، یا ان کے ذریعہ سے اشیا کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ دنیا کی جن وحشی قوموں میں الفاظ نہیں ہیں وہ اپنے خیالات یا اشیا کے بتانے کے لیے ہاتھ پاؤں اور آنکھوں سے اشارہ کرتے ہیں۔ اگر اظہار خیالات کے وقت تم ان کو دیکھو، تو سخت حیرت ہوگی کہ وہ کیسی کیسی عجیب حرکتیں کرتے ہیں اور ان کو اپنے دل کی بات بتانے میں کتنی دقتوں کا سامنا ہوتا ہے۔ جب عقل انسانی نے ترقی کی اور الفاظ ایجاد ہوئے، تو یہ دقتیں دور ہو گئیں۔ ایک خاص آواز ایک خاص خیال یا چیز یا کام کی طرف اشارہ ہونے لگا اور ہر شخص اس اشارہ کو سمجھنے لگا۔ ترقی انسانی کا یہ دور نہایت اہم تھا، جس میں زبان کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔\n\nتلمیح اور اصطلاح سے کیا مراد ہے؟\n\nزبان کے ابتدائی دور میں چھوٹے چھوٹے سادہ خیالات اور معمولی چیزوں کے بتانے کے لیے الفاظ بنائے گئے تھے۔ رفتہ رفتہ انسان نے ترقی کا قدم اور آگے بڑھایا۔ لمبے لمبے قصوں اور واقعات و حالات کی طرف خاص خاص لفظوں کے ذریعہ سے اشارے ہونے لگے۔ جہاں وہ الفاظ زبان پر آئے فوراً قصے یا واقعے آنکھوں کے سامنے آ گئے جن کی طرف وہ اشارہ کرتے تھے۔ ایسا ہر اشارہ تلمیح کہلاتا ہے۔ پھر علمی مسئلوں یا اصولوں کے بتانے کے لیے بھی خاص خاص الفاظ معین کیے گئے۔ ان میں سے ہر لفظ اصطلاح کہلاتا ہے۔دنیا کی جو زبانیں ترقی یافتہ ہیں، ان میں تلمیحیں اور اصطلاحیں کثرت سے ہیں۔ تلمیحوں اور اصطلاحوں کی فرہنگیں الگ الگ تیار کی گئی ہیں، جن میں ہر تلمیح اور ہر اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔ طویل قصوں اور کہانیوں اور علمی مسئلوں اور اصولوں کے بار بار بیان کرنے میں جو وقت ضائع کرنا پڑتا ہے، اس سے ان تلمیحوں اور اصطلاحوں نے بچادیا ہے۔جو حضرات اصطلاحیں وضع کرنے کے وقت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر اصطلاحی لفظ سے پورا مفہوم ادا ہونا چاہئے، وہ سخت غلطی پر ہیں۔ دنیا میں کوئی اصطلاح ایسی نہیں ہے جس سے پورا مفہوم ادا ہوتا ہو اور وہ پورا علمی مسئلہ یا اصول سمجھ میں آتا ہو جس کے لیے وہ اصطلاح وضع کی گئی ہے۔ یہ حضرات ترقی زبان کے رستے سے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں اور اس منزل کی طرف پھر جانا چاہتے، جہاں پورے علمی مسئلے یا اصول کو بار بار دہرانے کی ضرورت پیش آتی تھی اور ہر دفعہ ایسا کرنے میں بے انتہا وقت ضائع کرنا پڑتا تھا۔ تضیع اوقات ہی سے بچنے کے لیے یہ اشارے ایجاد کیے گئے ہیں، جن کا نام اصطلاحات ہے اور یہ اس وقت کی ایجاد ہے جب کہ انسانی عقل کی ترقی کے ساتھ زبان بھی ترقی کی بلندی پر پہنچ گئی تھی۔جو حال اصطلاحوں کا ہے وہی تلمیحوں کا۔ طوفانِ نوح کہتے ہی وہ تمام طوفانی واقعات آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں، جو حضرت نوح کے زمانہ میں پیش آئے تھے۔ صور اسرافیل کا لفظ زبان پر لاتے ہی وہ تمام ہیبت انگیز واقعات دل میں پھرنے لگتے ہیں، جو آغازِ قیامت کے وقت پیش آئیں گے۔ ان میں سے پہلا اشارہ گزرے ہوئے واقعات کے ایک خوفناک منظر کو یاد دلاتا ہے۔ دوسرا اشارہ آنے والے واقعات کے ایک پرہول نظارہ کو آنکھوں کے سامنے لاتا ہے۔ ان اشاروں کے لیے جو الفاظ مقرر کیے گئے ہیں، وہ کسی طرح گزشتہ اور آئندہ واقعات کا پورا مفہوم ادا نہیں کرتے۔بلاغت کے معنی یہ ہیں کہ کم سے کم الفاظ سے زیادہ سے زیادہ معنی سمجھے جائیں۔ یہ بات جس قدر تلمیحات میں پائی جاتی ہے، الفاظ کی دیگر اقسام میں نہیں پائی جاتی۔ جس زبان میں تلمیحات کم ہیں یا بالکل نہیں ہیں، وہ بلاغت کے درجے سے گری ہوئی ہے۔ ایسی زبانوں میں بولنے والوں، لکھنے والوں اور شعر کہنے والوں کو اپنے مطالب کے ادا کرنے میں بہت زیادہ وقت ضائع کرنا پڑتا ہے۔ سننے والے ایک ہی واقعہ کو بار بار سننے سے اکتا جاتے ہیں۔ اگر وہ واقعہ ایک مختصر لفظ سے تعبیر کیا جائے، تو اس کا دہرانا اجیرن نہیں ہوتا بلکہ ایک خاص لطف محسوس ہوتا ہے۔ ضمیر اسم کے قائم مقام ہوتی ہے۔ وہ اسی لیے وضع کی گئی ہے کہ بار بار کسی اسم کو دہرانا نہ پڑے اور سننے والوں کو ناگوار نہ ہو۔ تلمیحات کو اور تلمیحات کے ساتھ اصطلاحات کواسی قدرتی ضرورت پر مبنی سمجھو۔\n\nتلمیحات سے ہم کیا کچھ جان سکتے ہیں؟\n\nاگر کسی زبان کی تلمیحات کا بغور مطالعہ کیا جائے، تو ان سے اس زبان کے بولنے والوں کے گزشتہ واقعات اور تاریخ پر روشنی پڑتی ہے۔ ان کے مذہبی عقائد، ان کے اوہام، ان کے معاشرتی حالات اور ان کی رسوم اور مشاغل معلوم ہوتے ہیں۔ کسی قوم نے جس طرح تمدنی منزلیں رفتہ رفتہ طے کی ہیں اور جو تبدیلیاں اس کی زندگی میں یکے بعد دیگرے ہوتی رہی ہیں، اس کی زبان کی تلمیحات کے مطالعہ سے سب نظر کے سامنے آجاتی ہیں۔ مثلاً اگر آپ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ جرمنوں، فرانسیسیوں اور انگریزوں کے آباؤ اجداد کن اوہام و خرافات پر ایمان رکھتے تھے، پھر ان کے مذہبی خیالات میں کیا تبدیلی ہوئی، کون سے اہم تاریخی واقعات انہیں پیش آئے، ان کے اسلاف میں سے کون کون اشخاص مشہور ہوئے اور وہ کن کن حالات و اوصاف سے متصف تھے، تو آپ جرمن، فرانسیسی یا انگریزی زبان کی کسی ایسی فرہنگ کو اٹھالیجیے جس میں اس زبان کی تلمیحات درج کی گئی ہوں۔ ایک سرسری نظر اس فرہنگ پر ڈالنے سے آپ پر سب کچھ منکشف ہو جائےگا۔فرضی قصوں میں جن اشخاص کے خاص حالات اور خاص صفات کی تصویر کھینچی گئی ہے، آج کل ان سے بھی تلمیح کا کام لیا جاتا ہے۔ جب کوئی انشا پرداز شاعر کسی ایسے شاعر کا ذکر اپنی انشاء یا نظم میں کرتا ہے جس کے صفات اور حالات قصے کے کسی مشہور شخص سے ملتے جلتے ہوں، تو وہ اپنے شخص کو اس سے تشبیہ دینا کافی سمجھتا ہے۔ نظم و انشاء کے پڑھنے والے اس تشبیہ سے فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ شخص مذکور میں کون سی صفات اور کون سے حالات پائے جاتے ہیں۔ فرصی قصوں کی تلمیحات سے اس قوم کے انشاء پردازوں کی قوتِ تخیل کا سراغ ملتا ہے، جس کی زبان میں اس قسم کی تلمیحوں سے کام لیا جاتا ہے۔ انسانی زندگی، انسانی اخلاق اور انسانی معاشرت کے اس قدر پہلو ہیں کہ ان کا شمار نہیں ہو سکتا۔ ہر پہلو کے لیے ایک نمونہ ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ہم جانتے ہیں کہ فلاں انسان اس قسم کی زندگی بسر کرتا ہے، فلاں آدمی میں اس قسم کے اخلاق موجود ہیں مگر یہ ضروری نہیں کہ ہماری گزشتہ تاریخ میں بھی کوئی نمونہ ایسا موجود ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس خاص نمونہ کے انسان کی صحیح تصویر قصے کے پیرایہ میں کھینچیں۔ پھر دیگر مصنفین جب اسی نمونہ کے اشخاص کا ذکر کریں تو اس قصے کے نمونے کو تلمیح بناکر اس سے کام لیں۔ شائستہ اور ترقی یافتہ قوموں کے انشاء پردازوں نے اسی ضرورت سے خاص خاص طریقہ زندگی اور خاص خاص اخلاق کے انسانوں کی تصویریں قصے کے پیرایے میں کھینچی ہیں اور قوت تخیل سے کام لے کر مکمل نمونے خاص خاص اخلاق اور خاص خاص صفات و حالات کے تیار کر دیے ہیں، پھر بعد کے مصنفین نے ان نمونوں سے تلمیحات کا کام لیا ہے۔امریکہ کا مشہور انشاء پرداز آسبورن لکھتا ہے، ’’تلمیحات کیا ہیں؟ ہماری قوم کے قدموں کے نشان ہیں جن پر پیچھے ہٹ کر ہم اپنے باپ دادا کے خیالات، مزعومات، اوہام، رسم و رواج اور واقعات وحالات کے سراغ لگا سکتے ہیں۔‘‘ فرانس کا نامور مضمون نگار شوئی کران تحریر کرتا ہے کہ ’’جب میں کسی فصیح البیان شخص کی زبان سے انقلاب فرانس کا لفظ سنتا ہوں تو میرا دل ان وحشت خیز اور دہشت انگیز حالات سے بھر جاتا ہے، جن کے سبب دریائے سین کی وادیاں خون سے لبریز ہو چکی ہیں مگر اس کے بعد فوراً میرے خیال کا رخ اس شاندار جمہوریت کی طرف پھر جاتا ہے جس کی بنیاد ان خون سے بھری وادیوں میں اٹھائی گئی ہے۔‘‘ایک گروہ جو تلمیحات کو ناپسند کرتا ہے\n\nغرض کہ تلمیحات شائستہ قوموں کی ادبیات کی جان ہیں۔ ان معنی خیز اشاروں سے وہ اپنی شاعری اور ادب میں بلاغت کی روح پھونکتی ہیں مگر دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنے تئیں تلمیحات کی الجھن میں ڈالنا پسند نہیں کرتے اور باوجود اس قدر فوائد کے ان سے گریز کرتے ہیں۔ انگریزی زبان کا ایک فرہنگ نگار، جس نے تلمیحات کی ایک بسیط فرہنگ لکھی ہے، ایسے لوگوں کے خیالات کا ان الفاظ میں ذکر کرتا ہے،’’جن واقعات پر چوبیس گھنٹے سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، ان کا علم حاصل کرنے سے آج کل کے بعض نوجوان گریز کرتے ہیں۔ وہ دیرینہ حالات کو تقویم پارینہ سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ وہ بس انہیں باتوں کو سننا چاہتے ہیں جو آج کل ان کے گردوپیش سنائی دیتی ہیں۔ تلمیحات جو ہماری قوم کے گزشتہ حالات وخیالات کے اشارے ہیں جب ان کی نظر سے گزرتی ہیں، تو وہ ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ کیونکہ ان کے حافظے میں وہ حالات و خیالات موجود نہیں ہیں۔ اس غرض سے کہ ان کے حافظے پر بار نہ پڑے، تلمیحات کی فرہنگیں مرتب کی گئی ہیں۔‘‘جب یورپ اور امریکہ میں تلمیحوں سے ناک بھوں چڑھانے والے موجود ہیں تو عجب نہیں کہ ہمارے ملک میں بھی اس خیال کے بزرگوار موجود ہوں۔ اصطلاحات کے متعلق تو ایسا خیال رکھنے والے حضرات ہماری نظر کے سامنے ہیں، جن سے خود ہمیں شرف نیاز حاصل ہے۔ یہ حضرات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی اصطلاح نہ بنائی جائے۔ ہر اصطلاح کا مطلب جملوں میں ادا کیا جائے۔ اِن کو اس بات کی مطلق پروا نہیں کہ اصطلاح کا مفہوم جملوں میں ادا کرنے سے کاغذ اور وقت کا کس قدر صرفہ ہوتا ہے اور ایک طویل مطلب کو بار بار دہرانا پڑھنے والوں کو کس قدر ناگوار گزرتا ہے۔بلاشبہ کوئی رائے ایسی نہیں ہے، جس کا ایک نہ ایک ماننے والا دنیا میں موجود نہ ہو اور کوئی خیال ایسا نہیں، جو کسی نہ کسی انسان کے دل میں نہ گزرتا ہو۔ یہی حال تلمیح اور اصطلاح سے نفرت رکھنے کا ہے، مگر جو خیال تلمیحات و اصطلاحات کو ناپسند کرنے والوں کا ہے، اگر وہ عام طور سے سب کے دلوں میں موج زن ہوتا تو آج دنیا کی شائستہ اور ترقی یافتہ زبانوں میں ادبیات کے لطیف ذخیرے اور علمی معلومات کے وسیع خزانے موجود نہ ہوتے۔ ہرزبان کا ادب بار بار کی دہرائی ہوئی خشک اور بے مزہ باتوں کا ایک طویل انبار ہوتا۔ کسی قوم کو اپنے علم اور اپنے ادب پر فخر و ناز کرنے کا موقع نہ ملتا۔\n\nتلمیحات کے ماخذ\n\nتلمیحیں کہاں سے لی جاتی ہیں۔ اگر آپ اس پر غور کریں تو حسب ذیل ماخذ معلوم ہوں گے۔(۱) مائتھالوجی (دیومالا) یعنی دیوتاؤں کی قصے کہانیاں۔ (۲) مذہبی قصے۔ مذہبی عقائد کی کتابیں۔ (۳) تاریخی واقعات(۴) عام فرضی قصے اور افسانے۔ (۵) شعرا کی نظمیں، خاص کردہ نظمیں جن میں قصے بیان کیے گئے ہیں۔ (۶) ڈراما یاناٹک کی کتابیں۔چنانچہ انگریزی زبان اور انگریزی ادب میں جو تلمیحات مستعمل ہیں ان کے ماخذوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حسب ذیل ذخیروں سے حاصل کی گئی ہیں: کتاب مقدس (توریت و انجیل وغیرہ کا مجموعہ) یہودیوں کی مذہبی کتاب تاملود۔ روم ویونان کے دیوتاؤں کے قصے۔ شیکسپیئر کے قصے۔ ملٹن کی پیراڈائیزلاسٹ (بہشت گم شدہ) گلیور کا سفرنامہ۔ مارکوپولو کا سفرنامہ۔ ڈان کؤ مکزٹ بینین کی پلگرمس پر اگرس وغیرہ۔ شیریڈن، ڈکنس، ڈرائڈن، مولیر، سروالٹر اسکاٹ، کوپر وغیرہ کے افسانے۔ کولرج، ورجل، ہومر، ملٹن، پوپ، ورڈس ورتھ، گولڈ سمتھ وغیرہ کی نظمیں۔ تاریخ انگلستان۔ تاریخ یورپ۔اس کے علاوہ بعض مشہور نظموں یا مضمونوں کی سرخیاں بھی تلمیح کے طور پر مستعمل ہیں۔ مثلاً کتابوں کی جنگ۔ مینڈکوں اور چوہوں کی جنگ۔ شاعروں کی جنگ۔ مختلف بادشاہوں، شاعروں، حکیموں اور مختلف مقامات کے وصفی نام بھی تلمیح کے طور پر لائے جاتے ہیں، جو شاعروں اور انشاپردازوں نے وضع کیے ہیں۔ مثلاً شمال کا سکندر، (سویڈین کے بادشاہ چارلس دوم کا لقب ہے) ایتھنز کی شہد کی مکھی (افلاطون) امریکہ کا ایتھنز (بوسٹن) سیک آف دی ایسٹ یعنی مریض مشرق (اس سے ٹرکی مراد ہے) بعض فرانسیسی اور لاطینی جملے بھی بطور تلمیح مستعمل ہیں۔ ان سب کے علاوہ الف لیلیٰ جومشرق میں تصنیف ہوئی ایک بڑاماخذ اسنہ یورپ کی تلمیحات کا ہے۔ یورپ کی کوئی زبان ایسی نہیں ہے جس میں اس عجیب اور دلکش کتاب کا ترجمہ نہ کیا گیا ہو۔ یہ کتاب اس قدر مشہور اور اس قدر مقبول و ہردل عزیز ہوئی ہے کہ کوئی خواندہ شخص اس کے مطالعہ سے محروم نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کے قصوں سے سینکڑوں تلمیحات لی گئیں اور وہ ادبیات یورپ میں داخل ہوئی ہیں اور بےتکلف بولی اور لکھی اور عام طور پر سمجھی جاتی ہیں۔\n\nاردو زبان کی تلمیحات\n\nانگریزی زبان کی تلمیحات کا ذکر بطور مثال کے کیا گیا ہے مگر ہمارا اصلی مقصود اردو زبان کی تلمیحات پر بحث کرنا ہے۔ ان تلمیحوں کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ (اول) ادبی تلمیحات یعنی وہ تلمیحیں جو اردو نثر و نظم میں مستعمل ہیں۔ (دوم) عام تلمیحات یعنی وہ تلمیحیں جو عام طور سے بول چال میں داخل ہیں۔اردو زبان کی ادبی تلمیحات کہاں سے آئیں، اس کاپتہ چلانے کے لیے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ جب اسلام نے عرب سے نکل کر گردوپیش کے ملکوں کو فتح کیا تھا، تو انہیں میں سے ایک ملک ایران بھی تھا۔ جب فاتحین کے حملوں سے ایران کو سر اٹھانے اور ہوش سنبھالنے کا موقع ملا تو ایرانیوں نے اپنے اپنے مٹے ہوئے ادب کو زندہ کرنا چاہا۔ تمام ایران مذہب اسلام قبول کر چکا تھا۔ آتش پرستی ناپید ہو چکی تھی۔ اس لیے ایران کے جدید ادب میں عربی کی مذہبی روح دوڑنے لگی۔ ایران کے جغرافیہ و تاریخ اور عرب کی مذہبیت نے مل کرایک نیا ادب پیدا کیا۔ جس کو نہ ہم خالص ایرانی ادب کہہ سکتے ہیں نہ عربی ادب، عربی ادب کے چمکتے ریگستان، کھجوروں کے جھنڈ، اونٹ، بادیہ نشینوں کے خیمے، ماردھاڑ اور لوٹ مار کے کینڈے، بہادرانہ عشق کے کارنامے سب کافور ہو گئے مگر انبیاء کے قصے، فرشتوں کے تذکرے، جنت و دوزخ اور قیامت کے نظارے اور بعض مشاہیر عرب کے حالات ایرانی ادب پر محیط ہو گئے۔عرب کے پہاڑوں میں سے صرف کوہِ طور کا ذکر باقی رہا۔ الوند، قاف، بستیوں اور البرز ایران ہی کے رہے۔ درخت اور پھول بھی ان ہی کی سرزمین سے لیے گئے، یعنی سرو، شمشاد، صنوبر، بید، چنار وغیرہ۔ پھول وہی جن سے ایران کی زمین گلزار ہے یعنی سوسن، سنبل، نارون، لالہ، نازبو، شبو، بنفشہ، ریحان، نرگس وغیرہ۔ حسن و عشق کی داستانوں میں سے سلمیٰ، لیلیٰ، قیس عذرا، وامق، یوسف، زلیخا کے نام لیے گئے اور فرہاد و شیریں کا اضافہ کیا گیا۔ دریاؤں میں مصر سے نیل اور عراق عرب سے دجلہ اور فرات لیے گئے۔ ان پر جیحوں وسیحوں کا اضافہ کیا گیا۔ عرب کے مغربی سمندر قلزم اور مشرقی سمندر عمان کا تذکرہ بھی ضروری سمجھا گیا مگر خلیج فارس کا نام نہیں لیا گیا۔ موتی عدن سے اور لعل یمن سے لیے گئے اور ان پر بدخشاں کے لعل کا اضافہ کیا گیا۔ پرند ایران ہی کے رہے یعنی بلبل، طوطی، قمری، کبک دری، تدرو، عقاب، سیمرغ، شہباز، وغیرہ۔بادشاہ اور پہلوان بھی ایرانیوں نے اپنے وطن کی تاریخ ہی سے لیے۔ یہی جدید ایرانی ادب جو نہ عربی ادب ہے نہ ایرانی ادب، بلکہ ایک نئے نام عربیرانی کہلانے کا مستحق ہے، ہندوستان کے مغربی حملہ آوروں کے ذریعہ سے ہندوستان پہنچا۔ غزنوی، غوری، تغلق، خلجی، سادات، لودھی، سوری اور مغل خاندان جنہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں ہندوستان پر حکومت کی، ان کی زبان فارسی تھی۔ ان زبانوں میں بھی یہی عربیرانی ادب جاری تھا۔ ہندی بھاشا پر فارسی زبان کا اثر پڑنے سے رفتہ رفتہ اردو زبان پیدا ہوئی۔ جب فارسی شاعری کو چھوڑ کر یہاں کے شعراء نے اردو زبان میں طبع آزمائی شروع کی، تو قدرتی طور سے اسی عربیرانی ادب کا خاکہ اتارا گیا۔ یہ شعراء حاکم اور فاتح قوم کے تھے۔ مغلوب و مفتوح قوم کی زبان یعنی ہندی اور سنسکرت کی طرف ان کی توجہ مائل نہیں ہوئی۔ ہندو راگ مالا، ہندو تاریخ، ہندو شاعری، ہندو مذہب کو وہ دلچسپی کی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ اس لیے لازم تھا کہ جو تلمیحیں اردو ادب میں آئیں، وہ ہندو ماخذوں سے نہ لی جائیں۔ بلکہ عرب اور ایران کے اسی مرکب ادب سے لی جائیں جس کو فاتح اپنے ساتھ لائے تھے۔اس موقع پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اردو شعراء کو اگر ہندو ادبیات سے شغف نہ تھا، تو انہوں نے بذات خود ہندوستان کا مشاہدہ کیوں نہ کیا؟ کیا ہندوستان کے شاندار پہاڑ ہمالیہ، بندھیاچل وغیرہ اور یہاں کے پر عظمت دریا گنگا، جمنا، سندھ، برہم پتر وغیرہ ان کے دلوں پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتے تھے؟ کیا یہاں کے خوبصورت اور خوش الحان پرند کویل، پپیہا، اگن، چنڈول وغیرہ ان کے جذبات کو اپنی طرف نہیں کھینچ سکتے تھے؟ کیا یہاں کے دلکش پھول اور حسین پودے، ہرے بھرے مرغزار، زرخیز میدان، جھلملاتے چشمے، اچھلتے کودتے چرند ان کے قالبوں میں زندگی اور مسرت کی روح پھونکنے کے لیے کافی نہیں تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آریا جب اپنا اصلی وطن چھوڑ کر یہاں آئے، تو انہوں نے اسی ملک کو اپنا وطن بنا لیا۔ یہاں کی تمام چیزوں کو انہوں نے دلچسپی کی نظر سے دیکھا بلکہ اکثر چیزوں کو مذہبی تقدس کا جامہ پہنا دیا۔ برخلاف اس کے مسلمان فاتح بن کر آئے۔ انہوں نے اس ملک کو اپنا وطن نہیں بنایا۔ وہ ہمیشہ جیحون وسیحوں اور فرات ودجلہ کے خواب دیکھتے رہے۔ یہاں کی زمین اور یہاں کے آسمان کو وہ ہمیشہ اجنبیت کی نظر سے دیکھا کیے۔ وہ اپنا ملجا و ماویٰ ہمیشہ انہیں ملکوں کو سمجھتے رہے، جن سے نکل کر یہاں آئے تھے۔ جن مسلمان بادشاہوں نے سیاست کو وطنیت کے تابع کرنے کی کوشش کی، ان پر علم بردارانِ مذہب کی طرف سے حملے کیے گئے۔ اس کا جونتیجہ ہوا وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ اب سے کچھ دنوں پہلے تک یہی خیالات عام و خاص، سب کے دلوں پر محیط تھے۔مولانا حالی نے اپنی مشہور نظم شکوہ ہند کی بنیاد انہیں خیالات پر رکھی ہے۔ جب مولانا سے اس کا تذکرہ آیا، تو انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ مگر اصلی اور سچی بات یہ ہے کہ شاعر اپنے زمانے کا ترجمان ہوتا ہے۔ اس کا درجہ مصلح کا نہیں ہے۔ وہ کسی عقیدہ یا خیال کو بدلنا نہیں چاہتا، بلکہ ان خیالات و واقعات کا نقشہ کھینچتا ہے، جو اس کے گردوپیش پھیلے ہوئے ہیں۔ مولانا حالی کی شاعری میں سیاست کی جھلک بھی جابجا نمایاں ہے۔ مگر یہ اسی حد تک ہے، جہاں تک کہ ان کے زمانے میں مسلمانوں کے سیاسی خیالات پہنچ چکے تھے۔ زمانہ حال کا یہ سیاسی نظریہ ان کے زمانہ میں پیدا نہیں ہوا تھا کہ مسلمان مذہب اور وطنیت پر ایک ساتھ عمل کر سکتے ہیں اور ان دونوں میں کوئی ٹکر نہیں ہو سکتی۔ اس بنا پر مولانا حالی معذور تھے اور اس خیال کا اظہار نہیں کر سکتے تھے۔غرض کہ یہی وجہ تھی کہ اردو ادب میں جو تلمیحات آئیں وہ عربیرانی ادب سے آئیں۔ ہندوستان کی قدیم تاریخ، قدیم ادب، یہاں کے مذہب یہاں کے رسم ورواج اور یہاں کے قدرتی مناظر سے ان کو کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اب ہم ایرانی تلمیحات کا ذکر کرتے ہیں۔ ان تلمیحات کی دو قسمیں ہیں: (اول) وہ تلمیحات جو عربی اثر سے داخل ہوئیں۔ (دوم) وہ تلمیحات جن میں خالص ایرانی اثر ہے۔\n\nاردو ادبی تلمیحات (قسم اول)\n\nادبی تلمیحات کی قسم اول میں سب سے پہلے انبیا کے متعلق تلمیحات ہیں، جس کو تمام اہل اسلام عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں،آدم کی پیدائش\n\nفرشتوں کو حکم دیا گیا کہ آدم کو سجدہ کریں۔ شیطان نے انکار کیا اور ملعون ہوا۔ خدا نے آدم کی پیدائش سے پہلے فرشتوں سے فرمایا تھا کہ میں زمین پر اپنا ایک نائب اور خلیفہ بھیجنا چاہتا ہوں، فرشتوں نے کہا کہ آدم کی اولاد زمین پر خون بہائےگی۔ وہ خلیفہ بنانے کے قابل نہیں۔ یہ حق ہم کو ہے کیونکہ ہم تیری عبادت کرتے اور تیری حمد و ثنا میں مشغول رہتے ہیں۔ خدا نے فرمایا تم میری مصلحتوں سے آگاہ نہیں۔ آدم پیدا ہوئے۔ فرشتوں کے ساتھ ان کا امتحان لیا گیا۔ جن باتوں کا جواب آدم سے بن پڑا، فرشتے ان کا جواب نہ دے سکے۔ آدم کی جو اولاد قیامت تک ہونے والی ہے، ان سب کی روحیں حاضر کی گئیں۔ خدا نے ان سے پوچھا الست بربکم یعنی کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ قالوا بلیٰ یعنی انہوں نے کہا ہاں بے شک تو ہمارارب ہے۔ اس قصہ کی تلمیحات میں بلیٰ، قالوا بلیٰ، الست، روزالست، عہد الست، مست الست وغیرہ الفاظ آتے ہیں۔حضرت آدم کو بہشت میں رہنے کا حکم ہوا۔ تنہائی سے ان کی طبیعت گھبرائی۔ حوا ان کی پسلی سے پیدا کی گئیں۔ بہشت میں گیہوں کا درخت تھا۔ حکم ہوا، اس درخت کے پاس نہ جانا۔ آدم کو شیطان نے بہکایا۔ گیہوں کا دانہ انہوں نے خود بھی کھایا اور آدم کو بھی کھلایا۔ نافرمانی کی سزا میں دونوں بہشت سے نکالے گئے اور زمین پر ڈالے گئے۔ اس قصہ کی تلمیح میں شیطان کے مددگاروں سانپ اور مور کا بھی ذکر آتا ہے۔ شیطان کی تلمیح میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ پہلے فرشتوں کا معلم تھا۔ جس کی تلمیح میں معلم الملکوت کا لفظ آتا ہے۔ وہ آگ سے پیدا کیا گیا تھا اور آدم خاک سے۔ جب شیطان نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو دلیل یہی پیش کی تھی کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور آدم خاک سے۔ اس بناپر میں اس کے آگے سجدہ نہیں کر سکتا۔ سرکشی کے سبب شیطان کے گلے میں لعنت کا طوق ڈالا گیا۔ اس نے اولاد آدم کو بہکانے کی اجازت طلب کی۔ اجازت دی گئی۔ مگر خدا نے فرمایا کہ میرے نیک بندوں پر تیرا قابو نہیں چلےگا۔ آدم کے بیٹوں میں سے قابیل نے ہابیل کو مار ڈالا۔ اس کاذکر بھی بطور تلمیح کے آتا ہے۔حضرت لوط کا ذکر بھی تلمیحاً آتا ہے، جن کی بیوی کافر تھی۔ ان کی قوم پر آگ اور پتھر بطور عذاب برسائے گئے۔ چونکہ آدم سے نسل انسانی چلی، اس لیے ان کو ابواالبشر کہتے ہیں۔حضرت نوع نے عمردراز پائی۔ اس کی تلمیح میں عمرنوح کا لفظ آتا ہے۔ وہ مدت دراز تک اپنی قوم کو سمجھاتے رہے مگر (۸۰) آدمیوں کے سوا کوئی ان پر ایمان نہیں لایا۔ انہوں نے اپنی قوم کے لیے بدعا کی۔ خدا نے پانی کا طوفان بھیجا۔ حضرت نوح کو پہلے سے خبر دی گئی۔ ہدایت الہی کے مطابق انہوں نے ایک کشتی تیار کی۔ اس میں ہرجانور کا ایک جوڑا رکھا، تاکہ طوفان کے بعد ان جانوروں کی نسل چلے۔ (۱۰۸) مریدوں کو بھی اسی کشتی میں جگہ دی۔ آغاز طوفان کے وقت آسمان سے موسلادھار پانی برسنے لگا اور ایک بڑھیا کے تنور سے بھی الغاروں پانی ابلنے لگا۔ کشتی پانی پر تیرنے لگی۔ درختوں اور ٹیلوں پر پانی پھر گیا۔ حضرت نوح کا بیٹا کنعان ان سے سرکش رہا۔ اس نے باوجود بار بار بلانے کے کشتی میں پناہ نہیں لی۔ ایک تندموج آئی اور اسے بہا لے گئی۔ حضرت نوح کی کشتی جو دی پہاڑ پر ٹھیری۔ کبوتر جو کشتی میں سے چھوڑا گیا تھا، زیتون کی ہری ٹہنی چونچ میں لایا۔ اور اس نے طوفان تھمنے کی خبردی۔ اس قصے کی طرف جب اشارہ کیا جاتا ہے تو حسب ذیل الفاظ آتے ہیں۔ کشتی نوح۔ طوفان نوح۔ کنعان کی تلمیح میں، جو حضرت نوح کا ناخلف بیٹا تھا، فرزند نوح اور پسر نوح کے الفاظ آتے ہیں۔ آدم کے بعد حضرت نوح سے دوبارہ نسل انسانی چلی۔ اس لیے ان کو آدم ثانی بھی کہتے ہیں۔عاد عرب کی ایک قوم تھی، جو اپنے تئیں عاد بن سام بن نوح کی نسل بتاتی ہے۔ حضرت ہود ا ن کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے تھے مگر انہوں نے نافرمانی کی اور آندھی کا عذاب ان پر بھیجا گیا اور سب ہلاک ہو گئے۔ اس قصہ کی تلمیح میں طوفانِ عاد یاصرصر عاد کا لفظ آتا ہے۔ثمود عرب کی ایک قوم تھی جو چار واسطوں سے اپنے تئیں حضرت نوح کی اولاد بتاتی تھی۔ ان کی ہدایت کے لیے حضرت صالح بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے بھی سرکشی کی اور حضرت صالح کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ نافرمانی کے سبب یہ بھی ہلاک کر دیے گئے۔ اس قصہ کی تلمیح میں ناقہ صالح کا لفظ مستعمل ہے۔ حضرت زکریا پیغمبر آرہ سے چیرے گئے۔ اس کا ذکر بھی شعرا نے بطور تلمیح کے بار بار کیا ہے۔ حضرت یونس کو ایک مچھلی نگل گئی تھی۔ وہ مچھلی کے پیٹ کے اندر بھی خدا کی حمد و ثنا میں مشغول رہے۔ آخر مچھلی نے ان کو دریا کے کنارے پر اگل دیا۔ یونس کے لفظ سے اسی قصہ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ حضرت ایوب پر امتحاناً خدا کی طرف سے طرح طرح کی تکلیفیں نازل ہوئیں مگر انہوں نے اف نہیں کی اور ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرتے رہے۔ صبر ایوب کی تلمیح اسی قصہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔حضرت داؤد نہایت خوش الحان تھے۔ وہ جب خدا کی حمد و ثنا کے راگ گاتے، تو پرندان کے گرد جمع ہوجاتے تھے۔ مزا میر داؤد، نغمہ داؤد، لحن داؤدی کے الفاظ سے یہی مراد ہے۔ ان پر زبور نازل ہوئی۔ معجزہ یہ تھا کہ لوہا ہاتھ میں آتے ہی موم بن جاتا تھا۔ وہ لوہے کی زرہ آسانی سے بنا لیتے تھے۔ اس معجزہ کا ذکر بھی شعراء نے بار بار کیا ہے۔حضرت سلیمان حضرت داؤد ہی کے بیٹے تھے۔ ان کو خدانے عظیم الشان سلطنت عطا کی۔ انسان، دیو پری، چرندپرند سب ان کے مطیع تھے۔ انہوں نے بیت المقدس کی عظیم الشان عمارت تعمیر کرائی۔ ہوا ان کے تخت کو جہاں وہ چاہتے اڑالے جاتی تھی۔ ان کے پاس ایک انگوٹھی تھی، جس پر اسم اعظم کندہ تھا۔ اسی کی برکت تھی کہ تمام مخلوق پر ان کو حکمرانی حاصل تھی۔ ایک دیواس انگوٹھی کو چرا لے گیا۔ سلطنت حضرت سلیمان کے ہاتھ سے نکل گئی۔ اس حالت میں وہ ایک ماہی گیر کے پاس ملازم ہو گئے۔ انگوٹھی چراکر دیو آسمان پر اڑ گیا مگر انگوٹھی اس کے ہاتھ سے سمندر میں گر پڑی۔ سمندرکی ایک مچھلی نے اس انگوٹھی کو نگل لیا۔ جب خدا کو منظور ہوا کہ حضرت سلیمان کی سلطنت پھر بحال ہو، تو ایک دن وہی مچھلی ماہی گیر کے جال میں آ گئی۔ مچھلی کا پیٹ چیرا تو انگوٹھی نکل آئی۔ حضرت سلیمان نے اس کو پھر پہن لیا اور تخت سلطنت پر پھر بدستور جلوہ افروز ہوئے۔ تخت سلیمانی، خاتم سلیمانی، انگشتری سلیمانی انہیں باتوں کو یاد دلاتے ہیں۔حضرت سلیمان کے زمانے میں ملک سبا پر حکمران بلقیس تھی۔ ہد ہد حضرت سلیمان کا پیغام بلقیس کے پاس لے گیا۔ اس نے اطاعت قبول کی اور دربار میں حاضر ہوئی۔ یہاں اس کے آنے سے پہلے اس کا تخت جو جواہر سے مرصع تھا، منگاکر دربار میں سجا دیا گیا تھا۔ قصر سلیمانی کے صحن میں شیشے کا فرش تھا۔ اس کے نیچے پانی کا حوض تھا۔ اسی فرش سے گزر کر دربارمیں سب لوگ جا سکتے تھے۔ بلقیس کو شبہ ہوا کہ محل کے صحن میں پانی بھرا ہے۔ اس نے پانی میں اترنے کے لیے اپنے پائچے چڑھا لیے۔ بلقیس دربار میں اپنے تخت کو رکھا دیکھ کر حیران رہ گئی اور حضرت سلیمان کی عظمت وقوت کی قائل ہوئی۔ بلقیس، سبا، ہد ہد اور حضرت سلیمان کے شیش محل کا ذکر باربار شعراء نے کیا ہے۔ ہد ہد کو مرغ سلیمان بھی کہتے ہیں۔ سلیمان کے ساتھ مور یعنی چیونٹی کا ذکر بھی ضرور آتا ہے۔ کہاں چیونٹی جو ایک حقیر مخلوق ہے اور کہاں سلیمان جو دنیا کے تمام بادشاہوں سے زیادہ صاحب عظمت واقتدار تھے۔ مورو سلیمان کے متعلق ایک چھوٹا سا قصہ بھی ہے۔ حضرت سلیمان پرندوں کی بولیاں سمجھتے تھے۔ اس کی طرف لفظ منطق الطیر سے اشارہ کیا جاتا ہے۔حضرت یوسف اور حضرت یعقوب دونوں کا ذکر اکثر ایک ساتھ آتا ہے۔ حضرت یوسف حضرت یعقوب کے بیٹے تھے۔ ایک ماں سے حضرت یوسف اور یامین اور دوسری ماں سے دس بیٹے اور تھے۔ حضرت یعقوب حضرت یوسف کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ بھائیوں کو یہ بات سخت ناگوار تھی۔ ایک بار حضر ت یوسف نے خواب دیکھا کہ چاند سورج اور گیارہ ستارے ان کو سجدہ کر رہے ہیں۔ اس خواب کو سن کر حضرت یعقوب نے منع کیا کہ اس کا ذکر بھائیوں سے نہ کرنا۔ ایک دن شکاروتفریح کے بہانے سے بہت اصرار کے ساتھ حضرت یوسف کو ان کے بھائی جنگل کو لے گئے اور ایک اندھے کنوئیں میں ان کو گرا دیا۔ ان کا کرتا پھاڑ ڈالا اور خون سے آلودہ کرکے باپ کے سامنے لائے اور کہا کہ یوسف کو ایک بھیڑیے نے پھاڑ کھایا ہے۔ یہ کرتا ان کا ہاتھ لگا ہے۔ حضرت یعقوب نہایت غمگین ہوئے۔مصر کو ایک تجارتی قافلہ جا رہا تھا۔ اس قافلہ کا ایک غلام کنوئیں پر پانی لینے کے لیے پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ کوئی آدمی کنوئیں میں ہے۔ فوراً ڈول ڈال کر ان کو کھینچا۔ حضرت یوسف حسن و جمال میں لاثانی تھے۔ عزیز مصر کی بیوی زلیخا ان پر عاشق ہوگئی۔ مصر کی عورتیں زلیخا کو طعنہ دیتی تھیں کہ وہ اپنے غلام پر فریفتہ ہے۔ زلیخا نے ایک بار مصری عورتوں کو جمع کیا۔ حضرت یوسف کو پردہ کے پیچھے چھپا دیا۔ ایک ایک چھری اور ایک ایک لیمو، ہر عورت کو دیا گیا۔ اور ان سے کہا گیا کہ جب یوسف پردہ کے پیچھے سے برآمد ہوں تو ہر عورت اپنا لیمو، چھری سے تراشے۔ جب حضرت یوسف باہر آئے تو مصری عورتوں کے ہوش و حواس گم ہو گئے اور انہوں نے بجائے لیمو کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ زلیخا نے ان سے کہا تم مجھ سے اس کنعانی غلام کے حسن پر فریفتہ ہونے کا طعنہ دیتی تھیں۔ اب تمہارے ہوش و حواس کیوں گم ہو گئے۔حضرت یوسف کو زلیخا نے بار بار اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ ایک دفعہ تنہائی میں مکان کے دروازے بند کرکے ان سے التجائیں کیں مگر حضرت یوسف پر کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ اس کے پاس سے بھاگے۔ دروازوں کے قفل خودبخود کھلتے گئے۔ زلیخا ان کے پیچھے دوڑتی چلی آئی۔ آخری دروازے پر پیچھے سے ان کا دامن پکڑ کر پھاڑ ڈالا۔ اتنے میں عزیر مصر بھی آ گیا۔ اپنی بیوی کو خفا ہوا۔ بیوی نے کہا یہ تمہارا غلام میری عصمت پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔ میں نے مشکل سے پیچھا چھڑایا۔ خدا نے ایک دودھ پیتے بچے کو، جو اس وقت وہاں موجود تھا، زبان گویا عطا کی۔ اس نے بآواز بلند کہا اگر یوسف کا دامن آگے سے پھٹا ہے، تو وہ خطاوار ہے اور اگر پیچھے سے پھٹا ہے تو زلیخا کی خطا ہے۔ دیکھا تو دامن پیچھے سے پھٹا تھا۔ عزیز نے یہ دیکھ کر اپنی بیوی کو سخت ملامت کی، مگر عشق کا بھوت جو سرپر سوار تھا، کب مانتا تھا۔ زلیخا حضرت یوسف کے ہمیشہ درپے رہی، مگر جب دیکھا کہ کوئی منتر کارگر نہیں ہوتا تو الزام لگاکر ان کو قید خانے میں بھجوا دیا۔حضرت یوسف قید خانے میں سخت تکلیفیں اٹھاتے تھے۔ مگر صابر شاکر تھے۔ ان کو تعبیر خواب میں خاص مہارت تھی۔ دو قیدیوں کے خواب کی تعبیر انہوں نے بتائی اور ویسا ہی ظہور میں آیا۔ ایک قیدی نے جس کے خواب میں تعبیر بتائی گئی تھی اور جو بادشاہ مصر کے دربارمیں ساقی گری کی خدمت پر مامور ہو گیا تھا، ایک موقع پر جب کہ بادشاہ نے آنے والے قحط کی نسبت ایک دہشت ناک خواب دیکھا تھا، حضرت یوسف کی تقریب کی۔ حضرت یوسف نے اس کے خواب کی صحیح تعبیر بتائی اور کہا کہ سات برس تک ملک میں سماں رہےگا، پھرسات برس کا کال پڑے گا۔ بادشاہ نے حضرت یوسف کو اپنا نائب السلطنت بناکر قحط کا انتظام ان کے سپرد کیا۔ حضرت یوسف نے اس وقت جب کہ سماں تھا، خوب غلہ جمع کیا اور قحط کے زمانہ میں لوگوں کو تقسیم کیا۔حضرت یوسف کے بھائی بھی قحط سے تنگ آکر مصر میں غلہ خریدنے کے لیے آئے۔ حضرت یوسف نے ان کو پہچان لیا۔ بہت ساغلہ دیا۔ سنا کہ ان کے غم میں حضرت یعقوب کی آنکھیں روتے روتے سفید ہو گئی ہیں، انہوں نے اپنی خبر بھیجی اور ان کو مصر میں بلایا۔ جب حضرت یوسف کے بھائی کنعان میں باپ کے پاس پہنچے، تو انہوں نے حضرت یوسف کا پیراہن پیش کیا۔ انہوں نے پیراہن کو چھوا اور یکایک بینائی عود کرآئی۔ حضرت یعقوب کو پیراہن سے حضرت یوسف کی خوشبو محسوس ہوئی۔ یہ قصہ نہایت دلچسپ ہے۔ قرآن مجید میں پوری ایک سورہ اسی قصہ میں ہے۔ بہت سی کتابیں نثرو نظم میں ہیں، جن میں یہ قصہ بیان کیا گیا ہے۔ شعراء نے اس قصہ کی تلمیحات کثرت سے بیان کی ہیں، جو حسب ذیل الفاظ سے اس قصے کے مختلف اجزاء کو یاد دلاتی ہیں۔ ماہ کنعاں (حضرت یوسف) چاہ کنعاں، چاہ یوسف، حسن یوسف، زندان یوسف، بیت الحزن (حضرت یعقوب کا غم خانہ، جس میں وہ بیٹھے رویا کرتے تھے۔) خواب یوسف، برادران یوسف، عزیز مصر، زلیخا۔ پیر کنعاں (حضرت یعقوب)حضرت ادریس کی نسبت مشہور ہے کہ وہ جیتے جی جنت میں پہنچا دیے گئے۔ شاعری میں ان کا ذکر بہت کم آتا ہے۔ اسی طرح حصرت یحیٰ کا بھی۔ حضرت الیاس کی نسبت مشہور ہے کہ سمندر کی خدمت ان کے سپرد ہے اور حضرت خضر خشکی کی خدمت پر مامور ہیں، مگر عام طور سے اردو اور فارسی ادب میں بجر و بر دونوں میں رہنمائی اور مشکل کشائی کا کام حضرت خضر ہی کے حوالے کیا گیا ہے۔ جہازوں اور کشتیوں کی رہنمائی، طوفان کے وقت مصیبت زدوں کی مدد کرنا، جنگلوں اور بیابانوں میں رستہ بھولنے والوں کو راہِ راست پر لگانا انہیں کا کام سمجھا جاتا ہے۔ سکندر اور خضر ایک ساتھ آب حیات کے چشمے کی طرف جاتے ہیں اور ظلمات کو طے کرتے ہیں مگر حضرت کامیاب ہوتے ہیں اور آب حیات پی کر زندہ جاوید ہو جاتے ہیں۔ سکندر ظلمات میں بھٹک کر واپس آتا ہے اور اپنی قسمت کی محرومی پر افسوس کرتا ہے۔ آب حیات، آب بقا، چشمہ حیواں، آبِ خضر، چشمہ خضر، آب حیواں، چشمہ زندگی، ظلمات راہِ ظلمات، اسی قصہ کی تلمیحات ہیں۔ حضرت خضر کو شعراء مبارک قدم خجستہ پے کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ لقمان کو بعض نے حکماء کے گروہ میں اور بعض نے پیغمبروں کے زمرہ میں شامل سمجھا، مگر ان کی حکمت کے سوا کوئی چیز مشہور نہیں۔حضرت ابراہیم کا لقب خلیل اللہ ہے۔ ان کی مہمان نوازی مشہور ہے۔ خوانِ خلیل کی تلمیح اسی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ حضرت ابراہیم کے نام کے ساتھ ان کے باپ آذر کا نام بھی بت تراش کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم جب ہوش سنبھالتے ہیں تو ان کو بتوں سے نفرت ہوتی ہے۔ وہ بت خانۂ آذر کے بتوں کو توڑ ڈالتے ہیں۔ بادشاہ وقت نمرود ان کا ذکر سن کر بگڑ جاتا ہے اور ان کو آگ میں ڈالنے کا حکم دیتا ہے مگر آگ گلزار ہو جاتی ہے۔ آتش نمرود، گلزار خلیل، گلزار ابراہیم۔نمرود ایک سرکش اور مغرور بادشاہ تھا۔ ایک مچھر اس کی ناک میں گھس کر اس کا کام تمام کرتا ہے۔ اور پشہ اور نمرود کی جنگ بھی ہماری شاعری کا ایک خاص مضمون ہے۔ حضرت ابراہیم کا امتحان لیا جاتا ہے۔ وہ اپنے محبوب بیٹے اسمعیل کو خدا کے رستے میں قربان کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں مگر ایک مینڈھا نمودار ہوتا ہے اور حکم ہوتا ہے کہ اسمعیل کے عوض اس کی قربانی کرو۔ عیدقرباں اسی واقعہ کی یادگار ہے۔ حضرت اسمعیل کو اسی قصہ کی وجہ سے ذبیح اللہ کا لقب دیا گیا ہے۔ ذبح عظیم کا لفظ بھی اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم اپنے بیٹے اسمعیل کو ان کی والدہ کے ساتھ مکہ میں چھوڑ آتے ہیں۔ یہاں پانی کا نام نہیں۔ حضرت اسمعیل کے لیے پانی کی تلاش میں ان کی والدہ حضرت ہاجرہ اس بیابان میں ہر طرف دوڑتی ہیں، مگر پانی کا نشان نہیں ملتا۔ حضرت اسمعیل پیاس کی شدت سے روتے اور ایڑیاں رگڑتے ہیں۔ یکایک ان کے قدموں کے نیچے چشمہ زمزم نمودار ہوتا ہے، جو آج تک متبرک خیال کیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم کعبہ کی بنیاد رکھتے ہیں۔ سنگ اسود جسے حجر اسود بھی کہتے ہیں، اسی زمانۂ تعمیر کی یاد گار ہے، جو اب تک کعبہ میں نصب ہے۔ ہر حاجی اس کو ادب سے بوسہ دیتا ہے۔ شعراء کعبہ بیت اللہ، بیت الحرام، مسجد حرام، بیت العتیق کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔حضرت موسیٰ بھی نہایت جلیل القدر پیغمبر تھے۔ ان پر توریت نازل ہوئی۔ ان کا لقب کلیم اللہ ہے۔ ان کے زمانہ میں جو فرعون مصر پر حکمراں تھا، وہ نہایت سرکش اور مغرور تھا اور خدائی کا دعویٰ کرتا تھا۔ کاہنوں اور نجومیوں نے پیشن گوئی کی تھی کہ اس کو ہلاک کرنے والابنی اسرائیل میں پیدا ہوگا۔ بنی اسرائیل کی حالت اس زمانہ میں نہایت زبوں تھی۔ وہ مصر میں غلامی اور مزدوری کی خدمتیں انجام دیتے تھے۔ فرعون نے پیشین گوئی سن کر بنی اسرائیل کے بچوں کو ہلاک کرنا شروع کیا۔ حضرت موسیٰ جب پیدا ہوئے تو ان کی والدہ نے ان کو ایک گہوراہ میں ڈال کر دریا کی نذر کر دیا۔ یہ گہوارہ بہتے بہتے فرعون کے محل تک پہنچا۔ فرعون کی بیوی نے اس کو دریا سے نکلوایا۔ بچے کی شکل دیکھ کر رحم آیا۔ پالنے کا عزم مصمم کر لیا۔ فرعون کو اس بچے پر اپنے قاتل کا شبہ ہوا۔ چاہا کہ ہلاک کر ڈالے مگر فرعون کی بیوی حائل ہوئی۔فرعون نے اس بچے کا امتحان عجیب طریقے سے کیا۔ ایک طشت لعلوں سے اور ایک طشت انگاروں سے بھرا سامنے لایا گیا۔ فرعون کا خیال تھا کہ اگر یہ بچہ وہی ہے جو میرا قاتل ہوگا تو انگاروں پر ہاتھ نہیں ڈالےگا۔ جب بچے نے ہاتھ لپکایا، تو قریب تھا کہ لعلوں کے طشت پر پڑے مگر فرشتے نے ہاتھ کھینچ کر انگاروں کے طشت پر رکھ دیا۔ ایک انگار اٹھایا اور جھپ سے منھ میں رکھ لیا۔ ہاتھ کی ہتھیلی اور زبان دونوں جل گئیں۔ ہاتھ کا سفید داغ بعد میں یدبیضا کے معجزہ سے تبدیل کر دیا گیا۔ مگر زبان میں لکنت ساری عمر باقی رہی۔ حضرت موسیٰ کے لیے دودھ پلانے والی عورت کی تلاش ہوئی، تو ان کی والدہ ہی کو یہ موقع ملا اور انہوں نے ماں ہی کے دودھ سے پرورش پائی۔ہوش سنبھالنے پر حضرت موسیٰ نے شہزادوں کی طرح تعلیم پائی۔ مصری کا ہنوں نے اپنے تمام علوم ان کو سکھائے۔ ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ دراصل فرعون کے بیٹے نہیں ہیں اور نہ قبطی ہیں، بلکہ اسرائیلی نسل کے ہیں۔ ان کو اپنی قوم سے ہمدردی اور قبطی قوم سے نفرت ہو گئی۔ ایک دن ایک قبطی ایک اسرائیلی پر ظلم کر رہا تھا۔ یہ واقعہ دیکھ کر انہیں غصہ آیا اور قبطی کو جان سے مار ڈالا۔ پھر مصر سے نکل کھڑے ہوئے۔ عرب کی سرحد پر پہنچے، تو مدین کے ایک کنویں پر چند نوجوان عورتوں کو انہوں نے پانی بھرتے دیکھا۔ پیاس شدت کی تھی۔ پانی مانگا۔ جواب ملا کہ ہم اپنے مویشیوں کو سیراب کر لیں تو تمہاری خبر لیں۔ حضرت موسیٰ نے کہاتم مجھے پانی پلادو، میں تمہارے مویشیوں کو پانی کھینچ کر پلا دوں گا۔ انہوں نے اس شرط کو منظور کر لیا۔یہ نوجوان لڑکیاں مدین کے پیغمبر شعیب کی بیٹیاں تھیں۔ انہوں نے اپنے والد بزرگوار سے اس نوجوان کا تذکرہ کیا۔ حضرت شعیب نے بلاکر کہا کہ اگر تم بارہ برس تک ہمارے قبیلے کی بکریاں چراؤ تو ہم اپنی لڑکی سے شادی کر دیں گے۔ حضرت موسیٰ نے منظور کر لیا۔ بارہ برس کی خدمت کے بعد شادی ہو گئی، اپنی بیوی کو ساتھ لے کر چلے۔ راستہ میں وادی ایمن ملی، جو کوہ طور کے دامن میں ہے۔ بیوی حمل سے تھیں۔ رات وہیں بسر کی، اسی وقت وضع حمل ہوا۔ آگ کی ضرورت تھی۔ سامنے پہاڑ پر روشنی دکھائی دی۔ آگ لینے اس طرف بڑھے۔ دیکھا ایک درخت سرتاپا روشن ہے، مگر آگ کا نام نہیں۔ درخت میں سے آواز آئی:میں تیرا خدا ہوں۔ تو وادی مقدس میں ہے۔ اپنی جوتیاں اتار دے۔ موسیٰ نے کہا رب ارنی یعنی اے خدا تو اپنا دیدار مجھے دکھا۔ جواب ملا: لن ترانی، یعنی تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکےگا۔ پھر جب تجلی ربانی کا ظہور ہوا، تو موسیٰ غش کھاکر گر پڑے، پہاڑ لرز گیا، بلکہ جل کر سرمہ ہو گیا۔اس واقعہ کی طرف حسب ذیل تلمیحات میں اشارہ کیا گیا ہے: تجلی طور۔ شعلہ طور۔ نخل طور۔ شمع طور۔ شجر طور۔ نخل موسی۔ جلوہ طور، نخل ایمن، شمع ایمن۔ وادیٔ ایمن۔ نور سینا۔ دادی سینا۔ شعلہ سینا۔ طور سینا۔ سرمہ طور۔ رب ارنی۔ لن ترانی۔ خر موسیٰ۔ (یعنی موسیٰ غش کھاکر گر پڑے) ہوش میں آئے تو حضرت موسیٰ کو حکم ہوا، تم اور تمہارے بھائی ہارون دونوں مل کر فرعون کو میرا پیغام پہنچاؤ۔ اسی وقت حضرت موسیٰ کو دو معجزے عطا ہوئے۔ ایک یہ کہ جب وہ اپنے عصا کو زمین پر ڈال دیتے تھے تو وہ اژدہا بن جاتا تھا۔ دوسرا یہ کہ جب وہ اپنا ہاتھ گریبان میں سے نکال لیتے تھے، تو آفتاب کی طرح چمکنے لگتا تھا۔ پہلے معجزے کی طرف عصائے موسیٰ اور عصائے کلیم کے الفاظ سے اور دوسرے معجزے کی طرف دستِ کلیم، دست موسیٰ اور یدبیضا کے الفاظ سے اشارہ کیا جاتا ہے۔کوہِ طور سے چل کر حضرت موسیٰ حضرت ہارون کے ساتھ مصر میں آئے۔ فرعون نے اپنے جادوگروں کو مقابلے کے لیے پیش کیا، مگر حضرت موسیٰ اپنے عصا اور یدبیضا کی مدد سے غالب آئے۔ بڑی دقتوں اور مقابلوں کے بعد انہوں نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے آزاد کرایا اور ان کو ساتھ لے کر دریا کے کنارے پہنچے۔ عصا کی ایک جنبش سے دریا پھٹ گیا اور پایاب ہو گیا۔ حضرت موسیٰ اپنی قوم کے ساتھ پار اتر گئے۔ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ان کے تعاقب میں عین اس وقت پہنچا جب کہ دریا پایاب تھا اور بنی اسرائیل پار ہو چکے تھے۔ وہ بھی اپنے لشکر کو ہمراہ لے کر دریا میں اتر گیا مگر جب بیچ میں پہنچا تو جو پانی سمٹ گیا تھا، پھر پھیل گیا اور فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہو گیا۔ شاعروں نے اس دریا کا نام نیل بتایا ہے، گو کہ وہ مؤرخین کے نزدیک بحر قلزم تھا۔دریا سے پار ہونے کے بعد حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو ہمراہ لیے اس جنگل میں پہنچے جس کو تیہ بنی اسرائیل کہتے ہیں۔ یہاں چالیس برس تک رہے۔ ہر چند بنی اسرائیل کو اکسایا کہ فلسطین پر حملہ کرو اور فرعون کے گورنروں کو نکال کر خود اپنے وطن پر قابض ہو، مگر مدت دراز تک غلامی کی زندگی بسر کرنے کے سبب ان کی ہمتوں اور جرأتوں نے جواب دے دیا تھا۔ اس جنگل میں بنی اسرائیل کی گزران جس چیز پر تھی، اس کا نام من وسلویٰ بتایا گیا ہے۔ عام خیال ہے کہ یہی بہشتی نعمتوں کا خوان تھا، جوہر روز فرشتوں کے ذریعہ بھیجا جاتا تھا اور اسی عام خیال پر شاعری کا مدار ہے۔ حضرت موسیٰ اکثر کوہِ طور پر جاتے اور خدا سے ہم کلام ہوا کرتے تھے۔ اسی مقدس پہاڑ پر ان کو توریت کے صحیفے عطا ہوئے۔ ایک دفعہ جب وہ کوہ طور پر گئے تھے، ایک شخص نے جس کا نام سامری تھا، سونے کا ایک بچھڑا بنایا، جس میں سے آواز نکلتی تھی۔ حضرت موسیٰ کی قوم نے اس کو پوجنا شروع کر دیا۔ حضرت موسیٰ جب واپس آئے تو غضبناک ہوئے اور بچھڑے کو جو شعرا کی زبان میں گوسالۂ سامری کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جلاکر خاک کر ڈالا۔حضرت عیسیٰ بے باپ کے پیدا ہوئے۔ حضرت مریم ان کی والدہ ماجدہ کا نام ہے۔ وضع حمل کی تکلیف میں جس درخت کا سہارا انہوں نے لیا وہ نخل مریم کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت مریم بڑی عابدہ و زاہدہ تھیں۔ رات کو نیت کرکے دن بھر کسی سے کلام نہیں کرتی تھیں اور خدا کی یاد میں مشغول رہتی تھیں۔ اسی کو صوم مریم اور روزہ مریم کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم او رروح اللہ کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ گدھا جو ان کی سواری میں رہتا تھا، وہ خر عیسیٰ کے نام سے مذکور ہوتا ہے۔ مسیح و مسیحا بھی حضرت عیسیٰ ہی کے نام ہیں۔ وہ قم باذنی (یعنی کھڑا ہو میرے حکم سے) کہہ کر مردوں کو زندہ کر دیتے تھے۔ اس معجزہ کا ذکر اعجاز عیسوی، دم عیسیٰ، اعجاز مسیحا، قم اور قم باذنی کے الفاظ سے کیا جاتا ہے۔حضرت عیسیٰ مٹی کے جانور بناکر ان میں روح پھونکتے اور ان کو اڑا دیا کرتے تھے۔ چمگادڑ اسی معجزہ کی یادگار ہے، جسے مرغ عیسیٰ اور مرغ مسیحا کہتے ہیں۔ بیماروں کو اچھا کرنا بھی حضرت عیسیٰ کا ایک معجزہ تھا۔ اس کا ذکر بھی بار بار شاعری میں آتا ہے۔ عیسائی ان کو ابن اللہ کہتے ہیں۔ ان پر انجیل نازل ہوئی۔ یہودیوں نے ان کو صلیب پر چڑھایا، مگر خدا نے ان کو زندہ اٹھا لیا اور وہ چوتھے آسمان پر جاپہنچے۔ قیامت کے قریب وہ دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے اور ایک کافر کا مقابلہ کریں گے جس کا نام دجال ہوگا اور جو گدھے پر سوار ہوگا۔ خر دجال سے اسی آنے والے واقعہ کی تلمیح سمجھی جاتی ہے۔ کہتے ہیں آسمانوں پر چڑھتے وقت ایک سوئی حضرت عیسیٰ کے پیرہن میں اٹکی رہ گئی۔ چونکہ یہ دنیوی چیز تھی، اس لیے ممدوح چوتھے آسمان سے آگے نہ بڑھ سکے۔ سوزنِ عیسیٰ اسی خیال کی تلمیح ہے۔زمانۂ انبیا کے متعلق چند تلمیحیں اور بھی آتی ہیں، جو انبیاکی ذیل میں بیان نہیں کی گئیں۔ ان میں سے ایک ہاروت و ماروت ہے۔ یہ دو فرشتوں کا نام ہے، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انسان جس طرح نفسانی خواہشوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اسی طرح ہم اگر دنیا میں جائیں تو کبھی مبتلا نہیں ہو سکتے۔ خدا نے ان کو دنیا میں امتحاناً بھیجا۔ وہ اول وعظ و عبادت میں مشغول رہے، پھر ایک رنڈی پر، جس کا نام زہرہ تھا، عاشق ہو گئے۔ کہتے ہیں یہ عورت نہایت حسین اور جادوگرنی تھی۔ اس نے ان فرشتوں سے آسمان پر جانے کا علم سیکھا اور ان کو جادو کا علم سکھایا۔ خدا نے ان فرشتوں کو بطور سزا کے بابل کے ایک کنوئیں میں لٹکنے کی سزا دی۔ کہتے ہیں، تمام دنیا کا دھواں وہیں جاتا اور ان کے نتھنوں میں داخل ہوتا اور ان کو ایذا دیتا ہے۔ اگر کوئی ان سے جادو سیکھنا چاہے تو وہ سکھادیتے ہیں۔ رنڈی اس واقعہ کے بعد آسمان پر چلی گئی اور زہرہ تارہ بن گئی۔ زہرہ اور چاہ بابل کے ساتھ یہ تلمیح وابستہ ہے۔ایک قصہ ذوالقرنین کا ہے، جس کو عام لوگوں نے سکندر سمجھا ہے۔ کہتے ہیں کہ دو پہاڑوں کے پیچھے ایک قوم یاجوج، ماجوج آباد ہے۔ ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ایک گھاٹی ہے جس سے یہ قوم باہر نکل کر لوگوں کو ستاتی تھی۔ اس قوم کی شکل و صورت اور قدوقامت کی نسبت عجیب عجیب روایتیں ہیں۔ مشہور ہے کہ سکندر ذوالقرنین نے لوہے اور تانبے کو گلاکر ایک دیوار ان پہاڑوں کے درمیان بنا دی، جس سے یہ لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ کہتے ہیں کہ ہر روز یہ لوگ اس دیوار کو چاٹ کر پتلا کر دیتے ہیں۔ شام کو جتنی باقی رہ جاتی ہے، چھوڑ دیتے ہیں۔ رات بھر میں یہ دیوار جتنی پتلی ہوتی ہے، اتنی ہی دبیز پھر ہو جاتی ہے۔ قیامت کے قریب یہ لوگ اس دیوار سے نکل آئیں گے۔ دیوار مذکور سد سکندری کے نام سے مشہور ہے۔ایک قصہ اصحاب کہف کا ہے۔ اس کے معنی ہیں غار والے آدمی۔ جب عیسائی مذہب کی اشاعت اول اول ہوئی تو جن سات آدمیوں نے بت پرست رومی بادشاہ دقیانوس کے زمانہ میں اس مذہب کو قبول کیا، انہیں کو اصحاب کہف کہتے ہیں۔ یہ اس بادشاہ کے ظلم سے بھاگ کر ایک پہاڑ کے غار میں جا چھپے اور تین سو برس تک سوتے رہے۔ پھر جاگے اور جاگ کر پھر سو گئے۔ ایک کتا ان کے ہمراہ غار کے منہ تک گیا اور وہ بھی وہیں سو رہا۔ اس کتے کا نام قطمیر بتایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اب وہ قیامت کے دن بیدار ہوں گے۔ کتا آدمی بن کر اٹھےگا اور وہ بھی ان کے ساتھ بہشت میں داخل ہوگا۔ایک قصہ عنقا کا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ ایک لمبی گردن کا عظیم الشان جانور تھا، جس کا چہرہ آدمی جیسا، پاؤں چار تھے اور پر کئی رنگ کے تھے۔ بچوں کو اٹھا لے جاتا تھا۔ جس زمانہ میں اس کا ظہور ہوا، حیطلہ اس زمانہ کے پیغمبر تھے۔ لوگوں نے ان سے شکایت کی۔ ان کی دعا سے یہ جانور ایک جزیرہ میں بھیج دیا گیا اور عام نظروں سے پوشیدہ ہو گیا۔ اب وہ اس جزیرہ میں ہاتھی اور اژدہے کا شکار کرکے اپنا گزارہ کرتا ہے۔ایک قصہ باغ ارم کا ہے، جس کو ایک کافر بادشاہ شداد نے بنوایا تھا۔ اس بادشاہ نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔ اس زمانہ کے پیغمبر نے نصیحت کی اور کہا کہ اگر تو راہِ حق پر آجائے، تو تجھے بہشت ملے گی۔ پھر بہشت کی کیفیت بیان کی۔ اس نے کہا کہ ایسی بہشت تو میں خود بنوا سکتا ہوں۔ چنانچہ اس نے مقام ارم میں ایک باغ بنوایا، جواہرات سے مرصع محل تیار کرائے، اس میں حسین عورتیں حوروں کی جگہ اور حسین خادم غلمان کی جگہ رکھے۔ باغ تیار ہو چکا تو گھوڑے پر سوارہوکر باغ کے دروازے پر پہنچا۔ رکاب سے پاؤں زمین پر رکھنے کی اجازت نہیں ملی۔ ملک الموت نے اس کا دم قبض کر لیا۔ کہتے ہیں کہ اس کے مرنے کے بعد یہ باغ زمین سے اٹھا لیا گیا اور بہشت اور دوزخ کے درمیان رکھ دیا گیا۔ اب اسی کو اعراف کہتے ہیں۔ باغ ارم، گلزار ارم، بہشت ارم، بہشت شداد، جنت شداد، باغ شداد اور ارم اسی قصہ کی تلمیحیں ہیں۔ایک قصہ عوج بن عنق کا ہے جو حضرت آدم کے زمانے میں پیدا ہوا اور حضرت موسیٰ کے زمانے تک زندہ رہا۔ یہ شخص بہت ہی دراز قد تھا۔ طوفان نوح اس کی کمر تک آیا تھا۔ حضرت موسیٰ کے زمانے میں اس نے بنی اسرائیل کے لشکر پر حملہ کرنا چاہا اور اس غرض کے لیے ایک دو میل لمبا پہاڑ سر پر اٹھا لیا اور چاہا کہ اس کو لشکر مذکور پر دے مارے۔ مگر خدا کے حکم سے ایک ہد ہد نے اس پہاڑ میں سوراخ کر دیا اور وہ پہاڑ عوج کے گلے میں اتر گیا۔ پھر حضرت موسیٰ نے اس کے ٹخنے کی ہڈی پر عصا مارا جس سے وہ ہلاک ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ اس کی پنڈلی کی ہڈی سے دریائے نیل کا پل باندھا گیا تھا۔ایک قصہ قارون کا ہے۔ کہتے ہیں کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا۔ اس کو کیمیا آتی تھی۔ وہ سونا چاندی بناتا اور خزانے پر خزانہ جمع کرتا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ اس کے پاس اتنے خزانے جمع ہو گئے کہ چالیس خچروں پر اس کے خزانوں کی کنجیاں لادی جاتی تھیں۔ حضرت موسیٰ نے اس سے کہا کہ ہزار دینار پر ایک دینار زکوٰۃ دیا کرو۔ اس نے انکار کیا اور حضرت موسیٰ کو ایذا پہنچانی چاہی۔ خدا نے اس کو یہ سزا دی کہ اب تمام خزانے اس کے سر پر ہیں اور وہ زمین میں برابر دھنستا چلا جاتا ہے۔ قارون کا بخل مشہور ہے۔ قارون کا خزانہ، گنج قارون، گنجینہ قارون، خزانۂ قارون، دولت قارون اس قصے کی تلمیحیں ہیں۔ایک قصہ اصحاب فیل کا ہے، جو رسول خدا کی ولادت باسعادت سے پہلے وقوع میں آیا۔ حبش کے بادشاہ کی طرف سے ایک شخص ابرہہ نامی یمن کا گورنر تھا۔ وہ کعبہ کی طرف لوگوں کی توجہ دیکھ کر حسد سے جل گیا۔ یمن میں ایک عالیشان عبادت گاہ تیار کرائی اور لوگوں کو اس کی طرف حج کی غرض سے آنے کی ہدایت کی، مگر سمندر کی طرف ابابیلوں کا ایک لشکر آکر آسمان پر منڈلانے لگا۔ ہر ابابیل کی چونچ میں ایک سنگ ریزہ تھا۔ جب یہ سنگ ریزے ابابیلوں نے اس لشکر پر چھوڑے تو ہاتھیوں پر بیٹھنے والوں کے جسموں سے پار نکل گے اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔ اصحاب فیل اور طیراً ابا بیل کے الفاظ اس قصے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔آنحضرت سب سے اخیر پیغمبر ہیں۔ آپ کے بے شمار وصفی نام بطور تلمیح کے آتے ہیں۔ مثلاً خاتم الانبیاؐ، خاتم النبیینؐ، ختم رسلؐ، شافع محشرؐ، شفیع روزقیامت، شاہِ اممؐ، رسول مقبولؐ، شافع امم، رحمتہ للعالمین، شفیع المذنبین، سرورکائنات، ماہ یثرب، خیرالوریٰ، مدینۃ العلم، مصطفے ٰ، مجتبیٰ، وغیرہ۔ لولاک ایک حدیث قدسی کا ٹکڑا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر تو نہ ہوتا، میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔ شرح صدر بھی ایک تلمیح ہے۔ قصہ یہ ہے کہ لڑکپن کے زمانے میں ایک دفعہ فرشتوں نے آپ کا سینہ چیر کر آپ کے دل کو دھویا اور صاف کیا اور نور معرفت سے بھر کر پھر آپ کے سینے کے اندر رکھ دیا۔ مہرنبوت ایک اور تلمیح ہے۔ یہ ایک خاص نشان حضور انور کے جسم مبارک پر تھا۔ اس مقام پر بالوں کا حلقہ اس شکل کا بن گیا تھا کہ اس میں کلمے کے حروف پڑھے جاتے تھے۔قاب قوسین کے معنی ہیں، ’’دو کمانوں کا فاصلہ۔‘‘ یہ تلمیح معراج کے متعلق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حضور انور معراج میں خدا سے اس قدر قریب ہوئے کہ دو کمانوں کا فاصلہ یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔ معراج خود ایک تلمیح ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک رات، جب کہ آپ سو رہے تھے۔ جبریل آئے اور انہوں نے آپ کو جگاکر براق پر سوار کر دیا۔ یہ ایک بہشتی چار پایہ تھا، جو خچر سے چھوٹا، گدھے سے بڑا تھا۔ اس پر سوار ہوکر آپ پہلے بیت المقدس میں پہنچے، جہاں تمام انبیا کی روحیں آپ کے استقبال کے لیے جمع تھیں۔ یہاں سے آپ نے آسمان کی طرف چڑھنا شروع کیا۔ جب آسمان پر بیت المعمور میں پہنچے تو روحوں نے آپ کا استقبال کیا۔ بیت المعمور آسمان پر فرشتوں کے لیے ایسا ہی مقام ہے جیسا کہ زمین پر انسانوں کے لیے کعبہ۔سدرۃ المنتہی جس کو سدرہ بھی کہتے ہیں، حضرت جبریل کے رہنے کا مقام ہے۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے کہا کہ میں اس مقام سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اگر آگے قدم بڑھاؤں گا تو میرے بال و پر تجلی الہی سے جل جائیں گے۔ براق نے بھی یہاں ساتھ چھوڑ دیا۔ یہاں ایک اور دوسری سواری ملی، جس کو رفرف کہتے ہیں۔ آپ اس پر سوار ہوکر آگے بڑھے۔ خدا سے خاص قرب حاصل کیا۔ حضور انور اس رات کو جس مقام تک پہنچے، اس کا نام مقام محمود ہے۔ جب واپس تشریف لائے تو آپ کے حجرہ مبارک کی زنجیر ابھی ہلتی تھی اور آپ کا بستر ابھی گرم تھا۔ گویا آپ نے چشم زدن میں افلاک، عرش، کرسی، جنت، دوزخ وغیرہ مقامات کی سیر کر لی۔ اس واقعہ کا ذکر معراج اسرا، شب معراج، لیلۃ الاسرا وغیرہ الفاظ سے کیا جاتا ہے۔غار حرا ایک اور تلمیح ہے۔ یہ ایک پہاڑی غار مکہ کے قریب ہے۔ یہاں آپ عبادت کے لیے اکثر جایا کرتے تھے۔ ایک تلمیح مسجد ضرار ہے۔ جب کہ مکہ سے ہجرت کرکے آپ مدینہ میں پہنچے تو آپ نے وہاں ایک مسجد کی بنیاد ڈالی۔ اس میں تمام مسلمان عبادت کافرض ادا کرتے تھے۔ مسجد نبوی سے دور ایک اور مسجد منافقوں نے بنائی۔ غرض یہ تھی کہ وہاں اسلام اور آنحضرت کے برخلاف سازش کے مشورے کریں۔ انہوں نے آنحضرت سے درخواست کی کہ ایک دفعہ آپ اس مسجد میں نماز پڑھیں اور جو مسلمان کمزور ہیں اور دوری کے سبب مسجد نبوی میں نہیں آ سکتے ان کو اس نئی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دیں۔ وحی کے ذریعے سے آپ کو ان کا ارادہ معلوم ہو گیا۔ آپ وہاں نماز کے لیے تشریف نہیں لے گئے۔ پھر آپ کے حکم سے وہ مسجد جلا دی گئی۔ اسی کومسجد ضرار کہتے ہیں۔خم غدیر جو اصل میں غدیر خم ہے، ایک جھیل کا نام ہے، جہاں آخری حج سے واپسی کے بعد آپ نے آخری تقریر فرمائی۔ اہل بیت آپ کے کنبے والوں کو کہتے ہیں۔ خاتون جنت آپ کی دختر اطہر حضرت فاطمہ زہرا کا لقب ہے۔ یار غار کی تلمیح سے حضرت ابوبکر صدیق مراد ہیں، جو ہجرت کے وقت ایک پہاڑ کے غار میں حضور انور کے رفیق تھے۔ فاروق یا فاروق اعظم حضرت عمر کا اور ذوالنورین اور جامع قرآن حضرت عثمان کا لقب ہے، جو جلیل القدر صحابی تھے۔ حضرت علی آپ کے داماد تھے۔ ان کے وصفی نام کثرت سے ہیں۔ مثلاً فاتح خیبر، خیبر شکن، حیدر کرار، حیدر صفدر، ابو تراب، مرتضیٰ، مشکل کشا، ساقی کوثر، شیر خدا، دلدل سوار شاہ مرداں، اسد اللہ وغیرہ۔ ان کی تلوار ذوالفقار کے نام سے مشہور ہے اور گھوڑا دلدل کے نام سے۔خالد بن ولید بھی ایک صحابی تھے۔ ان کا لقب سیف اللہ ہے۔ ایک صحابی ابوہریرہ کی کنیت سے ممتاز ہیں۔ انہوں نے ایک بلی پال رکھی تھی۔ گربہ ابوہریرہ کی تلمیح سے وہی بلی مراد ہے۔ آپ کے مخالفوں میں سے ایک کی کنیت ابوجہل اور ایک کی ابولہب ہے۔ باغ فدک کھجوروں کا ایک باغ تھا، جو یہودیوں سے صلح ہونے پر لیا گیا تھا۔ اسی کی آمدنی پر آنحضرت کی گذران تھی۔جن فرشتوں کا ذکر تلمیح میں آتا ہے، ان میں سے ایک جبریل ہیں۔ ان کے بہت سے وصفی نام ہیں۔ مثلاً مرغ سدرہ، بلبل سدرہ، طائر سدرہ، سدرہ نشین، جبریل امین، جوہر اول، عقل کل، روح قدس، طائر قدس، روح امیں، ناموس اکبر، ناموس اعظم، فرشتہ وحی وغیرہ۔ یہ آنحضرت کے پاس خدا کا پیام لاتے تھے۔ ان کا مقام سدرۃ المنتہیٰ ہے، جیسا کہ معراج کے ذکر میں بھی بیان ہو چکا ہے۔ ایک فرشتہ کا نام میکائیل ہے۔ روزی تقسیم کرنا ان کا کام ہے۔ ایک فرشتہ عزرائیل ہے، جو روحوں کے قبض کرنے پر مامور ہے، جسے ملک الموت یا قابض روح یا فرشتہ موت بھی کہتے ہیں۔ ایک کا نام اسرافیل ہے، جو قیامت کو صور پھونکیں گے۔ صور اسرافیل کی تلمیح انہیں کے نام کے ساتھ منسوب ہے۔ دوسرے کراماً کاتبین کے نام سے موسوم ہیں، ان کو کاتب اعمال بھی کہتے ہیں۔ دونوں انسانوں کے دائیں بائیں رہتے ہیں اور ہر ایک انسان کی نیکی بدی لکھتے رہتے ہیں۔ وہ دفتر جس میں نیکی بدی لکھی جاتی ہے اور جو قیامت کے دن خدا کے سامنے پیش ہوگا، صحیفۂ اعمال، دفتر اعمال، نامہ اعمال، اعمال نامہ کہلاتا ہے۔دو فرشتے ہیں جو قبر میں آتے ہیں اور مردے سے سوال و جواب کرتے ہیں۔ ان کو منکر نکیر یا نکیرین کہتے ہیں۔ ایک فرشتہ رعا کے نام سے موسوم ہے، جو بادلوں کو ہانکتا اور مینہ برساتا ہے۔ ایک فرشتہ جنت کا داروغہ ہے، اس کا نام رضوان ہے اور ایک فرشتہ ہے، جو دوزح کا نگہبان ہے۔ اس کو مالک کہتے ہیں۔ مرنے کے بعد قیامت تک جو زمانہ گزرےگا، اسے برزخ یا عالم برزخ کہتے ہیں۔ جنت وہ مقام ہے جہاں نیک آدمیوں کی روحیں رکھی جائیں گی۔ اس کے بہت سے نام ہیں۔ مثلاً بہشت، خلد، جنان، دارالسلام، باغ جنان، باغ رضواں، فردوس، فردوس بریں، باغ عدن، دارالقرار، علیین، باغ نعیم وغیرہ۔ دوزخ وہ مقام ہے، جہاں گنہگار رکھے جائیں گے اور آگ کے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ اس کے بھی بہت سے نام ہیں۔ مثلاً نار، جہنم، جحیم، سعیر، ہاویہ، سقر وغیرہ۔جنت میں ایک درخت کا نام طوبیٰ ہے، جس کی شاخیں ہر جنتی کے گھر میں پہنچی ہیں۔ کئی نہریں بھی ہیں، جن میں سے ایک کا نام کوثر ہے۔ اسے چشمہ کوثر اور حوض کوثر بھی کہتے ہیں۔ دیگر نہروں کے نام حسب ذیل ہیں: تسنیم، نہریں، سنسبیل، زنجبیل، کافور۔ دوزخ اور جنت کے درمیان جو مقام ہے اس کا نام اعراف ہے، جہاں ایسے لوگ رکھے جائیں گے جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہیں۔ دوزخ کے پشت پر ایک پل ہے جس کو پل صراط کہتے ہیں۔ یہ تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے۔ نیک آدمی اس پر سے بجلی کی طرح گزر جائیں گے اور بد آدمی کٹ کٹ کر دونوں طرف دوزخ میں گریں گے۔ نیکیوں اور بدیوں کا اندازہ کرنے کے لیے قیامت کے دن ایک ترازو کھڑی کی جائےگی، جس کو میزان یا میزان اعمال کہتے ہیں۔بہشت میں خوبصورت عورتیں بہشتیوں کی خدمت میں ہوں گی، وہ حوریں کہلاتی ہیں اور جو حسین خادم ان کی خدمت کریں گے وہ غلمان کے نام سے موسوم ہیں۔ بہشتیوں کو جو شراب پلائی جائےگی، اس کا نام شراب طہور ہے۔ دوزخ میں دوزخیوں کو ایک کانٹے دار پھل کھانے کو دیا جائے گا جو زقوم کہلاتا ہے۔ دوزخ میں بہت سے گنہگار جھونکے جائیں گے، مگر اس کا پیٹ نہیں بھرےگا۔ وہ بار باریہ صدا بلند کرےگی، ’’ہل من مزید۔‘‘ کیا میرے لیے کچھ اور بھی خوراک ہے؟ یہ آیت بھی بطور تلمیح کے بار بار آتی ہے۔ اس کے علاوہ حاتم کی فیاضیوں اور لیلی وقیس کی عشق بازی کے قصے بھی عرب سے ایران میں آئے اور ایرانی ادب میں گھل مل گئے۔ادبی تلمیحات قسم اول میں جو تلمیحات درج کی گئی ہیں، وہ بطور مثال کے ہیں۔ تمام تلمیحات کا استیعاب نہیں کیا گیا۔ یہ کام اس مصنف کا ہے جو تلمیحات کی فرہنگ مرتب کرے۔ ہم اب ان تلمیحات پر توجہ کی نظر ڈالتے ہیں جو قسم دوم میں داخل ہیں اور یہ وہ تلمیحات ہیں جن میں ایرانی اثر پایا جاتا ہے۔\n\nاردو ادبی تلمیحات قسم دوم\n\nجمشید ایران کا ایک مشہور بادشاہ تھا، جو عیش و عشرت اور شان و شوکت کے لحاظ سے بار بار مذکور ہوا ہے۔ اس کو جم بھی کہتے ہیں۔ مگر جم کے لفظ سے شعرا کبھی حضرت سلیمان مراد لیتے ہیں، کبھی سکندر اور کبھی ایران کے اس نامور بادشاہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ خاتم جم، نگین جم، انگشتر جم، تخت جم کی تلمیحوں میں اس لفظ سے حضرت سلیمان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ آئینہ جم سے سکندر مراد ہے۔ بزم جم، جام جم، جشن جم، ساغر جم میں ایران کے بادشاہ جمشید کی طرف اشارہ ہے۔ ان تلمیحات میں جم کی جگہ جمشید کا لفظ بھی لایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس بادشاہ کے پاس شراب کا ایک پیالہ تھا۔ اس کے گرد سات خط کھینچے ہوئے تھے۔ سب سے پہلے خط یعنی بالائی خط تک شراب بھری جاتی تو جمشید کے سوا کسی کی مجال نہ تھی کہ اس پیال کو پی سکے۔ پہلے خط یعنی کنارے کے خط کا نام خط جور ہے۔ باقی چھ خطوں کے نام ترتیب وار حسب ذیل ہیں، خط بغداد۔ خط بصرہ۔ خط ازرق جس کو خط سیاہ، خط شب اور خط سبز بھی کہتے ہیں۔ خط شکریہ۔ خط اشک۔ خط کا سہ گر۔ خط فرودینہ۔ تخت جمشید جو ایران کے آثار قدیمہ میں سے ایک عالی شان عمارت ہے، اسی بادشاہ کی یادگار ہے۔ایک اور بادشاہ جس نے ایران پر حکومت کی، ضحاک تھا۔ یہ اپنے ظلم و ستم او رخون ریزی کے سبب بدنام ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کے دونوں شانوں پر دوسانپ پیدا ہو گئے تھے۔ ان کی غذا کے لیے انسان کا گوشت درکار تھا۔ ضحاک ہر روز انسانوں کو ہلاک کرتا اور سانپوں کے لیے خوراک بہم پہنچاتا تھا۔ مارضحاک سے اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ بادشاہ فریدوں کے ہاتھ سے مارا گیا۔فریدوں اپنی عظمت و صولت کے سبب مشہور ہے۔ جب شاعر کسی بادشاہ کی تعریف کرتے ہیں تو اس کو فریدوں فر کہا کرتے ہیں۔ ضحاک کے عہد حکومت میں ایک لہار تھا جس کا نام کا وہ تھا۔ یہ لہار اصفہان کا باشندہ تھا۔ اس کے چار بچے ضحاک نے مروا ڈالے تھے۔ خلقت ضحاک کے جو روستم سے عاجز آ گئی تھی۔ کاوہ کے دل میں ان واقعات کو دیکھ کر جوش پیدا ہوا۔ اس نے دکان بند کر دی۔ جس چمڑے کو وہ اہرن کے نیچے بچھایا کرتا تھا، اس کو ایک لکڑی پر آویزاں کرکے پھر یرا بنایا اور ڈھول بجاتا ضحاک کے ظلم کے راگ گاتا نکل کھڑا ہوا۔ درفش کا ویانی، علم کاویانی، پرچم کاویانی، اختر کاویانی کے الفاظ سے بھی یہی جھنڈا مراد ہے۔ایران کے باشندے جو ضحاک کے ظلم و ستم سے تنگ آ گئے تھے، اس جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔ کاوہ اس لشکر کو اپنے ساتھ لے کر بڑھا۔ ضحاک کی فوجوں سے اس کی ٹکر ہوئی۔ ان فوجوں نے شکست کھائی، یہاں تک کہ تمام ایران کو کاوہ نے فتح کر لیا۔ اس نے بذات خود سلطنت کرنے سے انکار کیا۔ فریدوں جو جمشید کا بیٹا تھا اور جس کا باپ ضحاک کے ہاتھ سے قتل ہوا تھا، تخت ایران پر بٹھایا گیا۔ تمام لڑائیوں میں درفش کاویانی فوج کے آگے آگے رہتا تھا۔ پے درپے فتوحات نے یہ بات ذہن نشین کر دی کہ یہ جھنڈا بہت مبارک ہے۔ کاوہ کے مرنے کے بعد فریدوں نے اور فریدوں کے بعد ایران کے دیگر بادشاہوں نے اس جھنڈے کو جواہرات سے مرصع کیا۔ یزد جرد کے زمانہ تک یہ جھنڈا ہر لڑائی میں فوج کے آگے آگے چلتا تھا۔ حضرت عمر کے زمانے میں یہ جھنڈا مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ اس کے جواہرات تقسیم کر دیے گئے اور چمڑا جلاکر خاکستر کر دیا گیا۔کیخسرو ایران کا ایک اور نامور فرماں رواں تھا۔ کہتے ہیں کہ اس نے ایک پیالہ بنایا تھا۔ اس پر ہندسی خطوط کھچے ہوئے تھے۔ جس طرح اصطرلاب کے خطوط سے ستاروں کا ارتفاع وغیرہ معلوم ہوتا ہے، اسی طرح اس جام کے خطوط سے ستاروں کی گردش نمایاں ہوتی تھی، اور زمانے کے آیندہ واقعات اس سے معلوم کیے جاتے تھے۔ اس جام کی طرف جو اشارے ہمارے شعرا نے کیے ہیں، ان کے لیے حسب ذیل الفاظ تراشے گئے ہیں: جامِ کیخسرو، جام جہاں نما، جام جہاں بیں۔کیانیوں کے عہد حکومت میں ایران اور توران کے درمیان ہمیشہ معرکہ آرائیاں ہوتی تھیں۔ ایرانیوں کی حمایت میں سیستان یازابلستان کے ایک پہلوان نے اپنے شاندار کارناموں سے بڑی شہرت حاصل کی۔ اس پہلوان کا نام رستم تھا۔ رستم کو پیلتن اور تہمتن بھی کہتے ہیں۔ یہ زال کا بیٹا تھا اس لیے پورِ زال کے لفظ سے بھی یہی پہلوان مراد ہے۔ شاہ نامہ فردوسی کا ہیرو یہی رستم ہے۔ رستم کے ہاتھ میں گرز رہتا تھا، جو گرز رستم کے نام سے مشہور ہے۔ چونکہ یہ گرزبیل کے سرسے مشابہ تھا، اس لیے اسے گرزگاوسر بھی کہتے ہیں۔ اس کے گھوڑے کا نام رخش ہے۔ سہراب اسی کے بیٹے کا نام تھا۔ اتفاق سے دونوں باہم جنگ آزما ہوئے اور ایک کو دوسرے کی خبر نہ تھی۔ جب رستم کے ہاتھ سے سہراب زخمی ہو چکا تو اس راز سے آگاہ ہوا مگر واقعہ لاعلاج تھا۔افراسیاب جو توران کا بادشاہ تھا، اس کے لشکر سے بار بار رستم کے مقابلے ہوئے۔ کیکاوس جو ایران کا نہایت مشہور بادشاہ تھا، اسے ایک دفعہ دیووں نے گرفتار کرکے مازنداں کے قلعہ میں قید کر دیا تھا۔ رستم اس بادشاہ کو قید سے چھڑانے کے لیے گیا۔ رستہ نہایت دشوار گزار تھا۔ ہر منزل میں ایک نئی ہولناک مصیبت و تکلیف سے دوچار ہونا پڑا۔ یہ سات منزلیں شاہ نامہ کی زبان میں ہفت خواں کے نام سے مشہور ہیں۔ ہفت خوان رستم کے علاوہ ایک اور ہفت خواں بھی ہے، جو ہفت خوانِ اسفندیار کے نام سے موسوم ہے۔ ارجا سپ بادشاہ اسفندیار کی دوبہنوں کو پکڑ لے گیا تھا اور انہیں روئیں وژمیں، جو ایک قلعہ کا نام ہے، قید کر دیا۔ جب اسفندیار اپنی بہنوں کو چھڑانے کے لیے اس قلعہ کی طرف روانہ ہوا تو رستہ میں اسے بھی سات مصیبت خیز اور ہولناک واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسفندیار کی بھی ساتوں منزلیں، جن کو طے کرنے کے بعد وہ اپنی بہنوں کو چھڑا کر لایا، ہفت خوانِ اسفندیار کے نام سے مشہور ہیں۔ابھی بتایا جا چکا ہے کہ رستم کے باپ کانام زال تھا۔ زال کو دستاں بھی کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے رستم کو رستم دستاں کا لقب بھی دیا گیا ہے۔ زال کی پرورش پہاڑ کے ایک غارمیں سیمرغ نے کی تھی۔ جو ان ہونے پر سیمرغ نے اپنا ایک پراسے دے دیا تھا کہ جب میرے بلانے کی ضرورت ہو، اس پر کو آگ پر رکھنا، میں اس کی بو پر آ پہنچوں گا۔ رستم کو جب کبھی کوئی سخت واقعہ پیش آیا، اسی پر کی مدد سے سیمرغ بلایا گیا اور اس سے مشورہ کیا گیا۔ سام رستم کے دادا کا نام تھا اور نریمان پر دادا کا۔ شغادرستم کا ایک بھائی تھا، جو اس کی طرف سے دل میں حسد رکھتا تھا۔ اس نے سات کنویں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر تیار کرائے اور ان کو ہتھیاروں سے بھر دیا اور خس پوش کر دیا۔ پھر رستم کو سیروشکار کے بہانے سے اس موقع پر لے گیا، جہاں وہ خس پوش کنوئیں تھے۔رستم جو گھوڑے پر سوار تھا، پہلے کنوئیں میں گر گیا مگر گھوڑے نے جست کی، تو اس میں سے نکل آیا۔ پھر دوسرے کنوئیں میں جا گرا۔ جب چھ کنوؤں سے جست کر کر نکل چکا اور ساتویں کنوئیں میں گرا تو رستم اور اس کا گھوڑا دونوں بہت زخمی ہو گئے تھے۔ آخر رستم نے اسی کنوئیں میں جان دی۔ شعرا اس واقعہ کی طرف چاہ رستم کے لفظ سے اشارہ کرتے ہیں۔ چاہ رستم کی طرح ایک تلمیح چاہ بیزن بھی ہے۔ بیزن گیو کا بیٹا اور رستم کا بھانجا تھا۔ وہ افراسیاب کی بیٹی منیژ ہ پر عاشق ہو گیا تھا۔ اس کی پاداش میں وہ ایک چاہ تاریک کے اندر قید کر دیا گیا۔ یہی کنواں چاہ بیزن کہلاتا ہے۔ رستم اس کو آخر کار قید سے چھڑا لایا۔سیاوش کیکاؤس کا یبٹا تھا۔ اپنی سوتیلی ماں کے طعنوں سے تنگ آکر اپنے باپ کے دشمن افراسیاب کے پاس چلا گیا، جو توران کا بادشاہ تھا۔ وہ پہلے تو اس کے آنے سے بہت خوش ہوا اور اپنی لڑکی سے اس کی شادی کر دی۔ مگر پھر اپنے ایک اور داماد کے بہکانے سکھانے سے اسے ناحق قتل ک رڈالا۔ خون سیاوش اسی واقعہ کی تلمیح ہے۔ اس لفظ سے خون ناحق مراد لیتے ہیں۔ بہرام گور بھی ایران کا ایک مشہور بادشاہ تھا، جو شہسواری اور نیزہ بازی میں شہرت رکھتا تھا۔ یہ شکار کا بے حد شائق تھا اور اکثر گورخر کا شکار کرتا تھا۔ اسی لحاظ سے اسے بہرام گور کا لقب دیا گیا ہے۔ ہمارے شعرا اس بادشاہ کا ذکر بار بار کرتے ہیں۔نوشیرواں، ایران کا عادل بادشاہ مشہور ہے۔ اس کا محل ایوان کسری کے نام سے موسوم ہے، جو نہایت عالیشان تھا۔ اسی کو طاق کسریٰ بھی کہتے ہیں۔ ان تلمیحات میں کسریٰ کو نوشیرواں کا مرادف خیال کیجیے۔ جب یہ محل بننے لگا، تو محل کے ایک پہلو پر ایک بڑھیا کی جھونپڑی تھی۔ چاہا کہ اس جھونپڑی کی جگہ خیرید لی جائے، تاکہ محل اس گوشہ کی طرف ٹیڑھا نہ رہ جائے مگر بڑھیا نے جگہ دینے سے انکار کیا۔ عاملان شاہی نے بڑھیا پر جبر کرنا چاہا، مگر نوشیرواں نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا اور کہا کہ میں ظلم سے رعایا کی زمین پر قبضہ کرنا نہیں چاہتا۔ اگر میرا محل ٹیڑھا رہے تو کچھ پروا نہیں۔ عدل نوشیروانی کا ذکر جب ہمارے شعرا کرتے ہیں، تو اس بڑھیا کا ذکر ضرور آتا ہے۔ نوشیرواں کا بیٹا ہرمز تھا۔ ہرمز کا بیٹا پرویز، جس کو خسرو پرویز بھی کہتے ہیں۔ اس بادشاہ کا ذکر ہمارے شعرا نے بار بار کیا ہے۔ یہ بہ مقابلہ دیگر شاہان ایران کے زیادہ مال دار تھا۔ اس کے پاس آٹھ خزانے تھے۔ جن کے نام حسب ذیل ہیں: گنج عروس۔ گنج باد آور دیا گنج شایگاں۔ گنج دیبا خسروی۔ گنج افراسیاب۔ گنج سوختہ۔ گنج خضرا۔ گنج شاد آورد۔ گنج بار۔اس بادشاہ کے گھوڑے کا نام شب ویز تھا، جو ایک اعلیٰ درجہ کا مشکی گھوڑا تھا۔ کچھ دنوں تو اس بادشاہ نے عاقلانہ اور مدبرانہ طریقے سے سلطنت کی، مگر آخر میں وہ عیش پسند ہو گیا۔ اس نے اپنے محل میں حسین عورتیں کثرت سے جمع کر لیں۔ اسی زمانہ عیش میں اس نے شیریں کے حسن کا چرچا سنا۔ یہ ارمن کی ملکہ مہین بانو کی بھتیجی تھی۔ خسرو نے اپنے ایک مصاحب شاپور نامی سے اس باب میں امداد چاہی۔ شاپور کو مصوری میں کمال تھا۔ اس نے خسرو کی کئی تصویریں مختلف لباس اور مختلف وضع کی کھینچیں۔ پھر ان تصویروں کو بغل میں دبا ارمن پہنچا۔ ایک باغ میں، جس میں شیریں سیر و تفریح کے لیے آیا کرتی تھی، اس نے وہ تصویریں درختوں سے لٹکا دیں۔ شیریں کی نظر ان پر پڑی تو وہ فریفتہ ہو گئی۔ اس نے شاپور کو بھی دیکھا اور اس سے ان تصویروں کا حال پوچھا۔ اس نے خسرو کے حسن و جمال کا تذکرہ اس طرح نمک مرچ لگا کر کیا کہ وہ خسرو کے پاس جانے اور اس سے شادی کرنے پر راضی ہو گئی۔ آخر کار شیریں خسرو کے محل میں داخل ہوئی۔خسرو محل کی تمام حسین عورتوں سے زیادہ اسی سے محبت کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ شیریں کو تازہ دودھ سے بہت رغبت تھی۔ شہر کے کنارے ایک پہاڑ کوہ بے ستوں نامی کھڑا تھا۔ اس کی پشت پر بکریوں کے گلے چرتے تھے۔ انہیں کا دودھ شیریں کے محل میں لایا جاتا تھا، مگر اتنی دور سے لانے میں دقت تھی۔ ایک نامی سنگ تراش فرہاد سے کہا گیا کہ وہ کوہ مذکور سے ایک نہر کاٹ کر شیریں کے محل تک پہنچادے تاکہ چراگاہ سے بکریوں کا دودھ دُہ کر نہر میں ڈالا جائے اور وہ بہہ کر شیریں کے محل میں پہنچے۔ فرہاد مذکور بھی اتفاق سے شیریں پر فریفتہ تھا۔ اس کے عشق کے چرچے پھیل چکے تھے۔ خسرو نے اس خیال سے کہ اس سے پیچھا چھڑائے، یہ خدمت اس کے سپرد کی اور وعدہ کیا کہ اگر وہ اس خدمت کو سر انجام دے سکا تو شیریں اس کو بخش دی جائےگی۔خسرو کو یقین تھا کہ فرہاد اس سنگین خدمت کو انجام تک نہ پہنچا سکےگا، مگر عشق اور امید وصال محبوب نے فرہاد میں ہزاروں سنگ تراشوں کی قوت پیدا کر دی۔ وہ کمر باندھ کر اس کام میں مشغول ہو گیا۔ بے ستون کے پتھر کاٹنے کے وقت فرہاد عشق کی دھن میں جابجا شیریں کی مورتیں تراشتا جاتا تھا۔ کئی سال کے بعد جب یہ کام اختتام کے قریب پہنچا اور ایفائے وعدہ کا وقت آیا، تو خسرو نے ایک مکار بڑھیا کو فرہاد کے پاس بھیجا جو سر کے بال بکھرے ہوئے روتی پیٹتی اس کے پاس پہنچی اور اس نے یہ جھوٹی خبر سنائی کہ شیریں کا انتقال ہو گیا۔ فرہاد کو جو صدمہ اس خبر سے ہوا، وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔ اس کے ہاتھ میں تیشہ تھا، وہی تیشہ اپنے سرپر دے مارا اور ہلاک ہو گیا۔شیریں اور فرہاد کا افسانہ ایران میں بچے بچے کی زبان پر ہے۔ اس قصے پر مثنویاں لکھی گئیں۔ شاعروں نے لیلیٰ اور مجنوں کی طرح ان دوعاشق و معشوق کے تذکرہ کو بھی اپنے اشعار میں عاشقانہ شاعری کا محور بنا لیا ہے۔ فرہاد کا لقب کو ہ کن ہے۔ جوئے شیروہ نہر ہے جو فرہاد نے بے ستون سے کاٹ کر قصر شیریں تک پہنچائی۔ قصر شیریں کی جگہ قصر خسرو کا لفظ بھی لایا جاتا ہے۔ باربد اس بادشاہ کا خاص درباری بربط نواز تھا، جو موسیقی کے فن میں کمال رکھتا تھا۔ اس نے تیس راگنیاں ایجاد کیں، جو اسی لحن کے نام سے مشہور ہیں۔ ترانہ باربد یا ترانہ باربدی سے اسی بربط نواز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ خسرو پرویز کے تخت کا نام طاقدیس تھا۔ یہ تخت فریدوں سے اس کے ورثہ میں آیا تھا۔ اس کا طول (۱۷۰) گز اور عرض (۱۲۰) گز تھا۔ سر سے پاؤں تک جواہرات نصب کیے گئے تھے۔ اس کی چھتری میں بارہ برجوں اور سات ستاروں کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا تھا کہ فلکی اور نجومی حالات اس سے معلوم ہوتے رہتے تھے۔مانی اور بہزاد دو نقاشوں کے نام بار بار شاعری میں لائے جاتے ہیں۔ ان میں سے پہلا ایک رومی نقاش تھا۔ اس نے پیغمبری کا دعویٰ کیا تھا۔ مانوی فرقہ اس کی طرف منسوب ہے۔ اس نے تصویروں کا جو مجموعہ تیار کیا تھا، اس کو ارتنگ یا ارژنگ کہتے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ارژنگ ایک دوسرے مصور کا نام تھا۔ بہزاد شاہ اسمعیل صفوی کے زمانہ کا نقاش ہے۔ مرقع مانی، نقش بہزاد کے الفاظ انہیں دونوں نقاشوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔آتش پرستوں یعنی زردشتیوں کے مذہب سے جو تلمیحیں لی گئی ہیں، وہ حسب ذیل ہیں: اہرمن اور یزداں دو قوتوں کا نام ہے، جو دنیا پر حکمرانی کرتی ہیں۔ کبھی یہ قوت غالب آتی ہے اور کبھی وہ۔ ان میں سے پہلی قوت بدی کی ہے دوسری قوت نیکی کی۔ سدھ آگ کو کہتے ہیں۔ جمشید نے اول اول پتھر سے آگ نکلتی دیکھی تو اس خوشی میں ایک جشن کی بنیاد ڈالی۔ یہ جشن جشنِ سدھ کے نام سے مشہور ہے۔ زردشتی مذہب والے آگ کی پرستش کرتے ہیں۔ آتش کدوں میں آگ ہر وقت روشن رہتی ہے، کبھی بجھنے نہیں پاتی۔ آتش فارسی، اسی آگ کی طرف اشارہ ہے۔ آتش کدہ کی خدمت کے لیے جو خوبصورت نوجوان مقرر ہوئے تھے وہ مغ کہلاتے تھے اور ان کا افسر پیرمغاں کہلاتا تھا۔ یہی نوجوان مجلسوں میں ساقی گری کی خدمت بھی انجام دیتے تھے۔ کہتے ہیں کہ آتش کدوں میں ایک جانور چھپکلی کی شکل کا پیدا ہو جاتا ہے، جس کی زندگی کا مدار آگ کھانے پر ہے۔ اس کو سلمندر کہتے ہیں۔ سلمندر کا ذکر بھی ہماری شاعری میں بار بار آتا ہے۔ جب آفتاب برج حمل کے پہلے نقطہ پر پہنچتا ہے اور ماہ فردردین کا پہلا دن ہوتا ہے، پارسی خوشیاں مناتے ہیں۔ اس روز کو نوروز کہتے ہیں۔نخشب ترکستان کا ایک شہر ہے۔ جو سمرقند سے تین دن کے رستہ پر ہے۔ یہاں ایک حکیم ابن عطانامی نے جسے ابن مقنع بھی کہتے ہیں، کسی عجیب طریقے سے ایک مصنوعی چاند بنایا تھا، جونخشب کے ایک کنویں سے ہر روز شام کے وقت برآمد ہوتا تھا اور اتنا بلند ہوتا تھا کہ اس کی روشنی چاروں طرف بارہ میل تک پہنچتی تھی۔ دو مہینے تک یہ چاند برابر نکلتا رہا۔ اس چاند کو ماہ نخشب اور ماہ مقنع کہتے ہیں اور اس کوئیں کو جس میں سے وہ چاند نکلتا تھا، چاہ نحشب کہتے ہیں۔ ایک اور تلمیح سنگ یدہ ہے۔ ترکستان میں ایک مقدس پتھر تھا۔ جب بارش کا امساک ہوتا تھا، ترکستان کے لوگ جنگل میں نکل جاتے اور اس پتھر کو ہاتھ پر رکھ کر بارش کی دعا مانگتے تھے۔ اس کی برکت سے بارش ہونے لگتی تھی۔ اس پتھر کو سنگ یدہ کہتے ہیں۔کمان رستم جب ہماری شاعری میں آتا ہے، تو اس سے قوس قزح مراد لی جاتی ہے۔ لسان الغیب حافظ شیراز کا، بلبل آمل طالب آملی کا، بلبل شیراز سعدی شیرازی کا، حسان عجم اور اخلاق المعافی خاقانی شروانی کا اور عندلیب نیشا پوری نظیری کا لقب ہے۔ شاخ نبات حافظ شیراز کی محبوبہ کا نام ہے۔ ایاز سلطان محمود غزنوی کاایک عزیز و محبوب غلام تھا۔ حسن و عشق کے ذکر میں یہ دونوں نام بھی لیے جاتے ہیں۔ سکندر نے ایران کو فتح کیا تھا۔ شاعروں نے اس کی فتوحات کو آب و تاب سے بیان کیا۔ اس کے عجیب و غریب کارنامے لکھے گئے۔ اس کی تعریف کے گیت یہاں تک گائے گئے کہ لوگوں نے اس کو پیغمبر بھی سمجھ لیا۔ آب حیات کے چشمہ کی طرف اس کے جانے کا ذکر خضر کی تلمیح میں مذکور ہوا ہے۔ سد سکندری کا ذکر ذوالقرنین کی تلمیح میں کیا گیا ہے۔ ایک اور تلمیح سکندر کی نسبت یہ ہے کہ اس نے حکیم بلیناس کی ہدایت سے اسکندریہ میں ایک عظیم الشان مینار بنوایا تھا، جو تین سو گز بلند تھا۔ اس پر ایک آئینہ لگایا تھا، جس کا دور اکیس گز کا اور قطر سات گز کا تھا۔ یہ آئینہ دوربین کا کام دیتا تھا۔ جب اس میں سے دیکھتے تھے تو قسطنطنیہ کا سارا شہر آنکھوں کے سامنے نظر آتا تھا۔ آئینہ سکندر سے اسی بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔ادبی تلمیحات کے بعد اب ہم ذیل میں عام تلمیحات پر نظر ڈالتے ہیں،عام تلمیحات\n\nعام بول چال میں جو تلمیحات مستعمل ہیں، ان میں سے بعض تاریخ سے لی گئی ہیں۔ بعض ہندوؤں اور مسلمانوں کے عام مذہبی عقاید اور اوہام سے ماخوذ ہوئی ہیں۔ بعض ان دونوں قوموں کی خاص خاص رسموں کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور بعض کی بنیاد ان فرضی قصوں پر ہے، جو عام طور سے مشہور ہیں۔ ان میں سے بعض تلمیحیں محاوروں کی شکل میں ہیں اور بعض مثلوں کے پیرایے میں۔ ایسے محاوروں کو ہم تلمیحی محاورے اور ایس مثالوں کو ہم تلمیحی مثلین کہتے ہیں۔ ماخذوں کے لحاظ سے یہ تلمیحیں ملی جلی ہیں۔ ہندو مسلمان ان میں برابر کے شریک ہیں۔ مندرجہ بالا چاروں قسم کے تلمیحات کی مثالیں ہم پیش کرنا چاہتے ہیں، جو حسب ذیل ہیں،\n\n(اول) وہ تلمیحیں جو تاریخ سے لی گئی ہیں\n\nڈھائی دن کی بادشاہت یا اڑھائی دن کی بادشاہت سے تھوڑے دنوں کی حکومت یا ناپائدار حکومت مراد ہے۔ ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے اس واقعہ سے آگاہ ہیں کہ جب ہمایوں شیرہ شاہ سے شکست کھاکر دریا میں کود پڑا، تو نظام سقہ نے اس کو ڈوبتے ڈوبتے بچایا تھا اور اس کے صلہ میں اس نے ہمایوں بادشاہ سے ڈھائی دن کی حکومت مانگی تھی۔ نظام نے اس قلیل دور حکومت میں چمڑے کا گول روپیہ سونے کی کیل جڑ کر چلایا تھا۔ اس واقعہ سے ایک دوسری تلمیح پیدا ہوئی ہے۔ چام کے دام چلانا۔ اس محاورہ سے جوتے کے زور سے حکومت کرنا اور جبراً کام لینا مراد ہے۔ اورنگ زیبی ایک طبی تلمیح ہے۔ یہ ایک سوداوی مادہ کا پھوڑا ہے، جو اکثر کئی سال تک ہرا رہتا ہے اور اچھا ہونے میں نہیں آتا۔ جب اورنگ زیب عالمگیر نے گولکنڈہ کا محاصرہ کیا اور محاصرہ نے طول کھینچا، تو آب و ہوا کی خرابی سے اکثر اہل لشکر کے پھوڑے نکل آئے اور باجود علاج کے وہ مدت تک ہرے رہے، اسی پھوڑے کو اورنگ زیبی کہتے ہیں۔سلطنت مغلیہ کے زمانے میں بادشاہوں کے جلوس کے ساتھ بائیس اضلاع کی فوج رہتی تھی۔ یہ فوج بائیسی کہلاتی تھی۔ بائیسی ٹوٹنے کا محاورہ اسی سے نکالا گیا ہے، جس سے مراد ہے ساری فوج سے حملہ کرنا یا تمام زور صرف کر ڈالنا۔ ٹوپی والے وہ قزلباش سپاہی کہلاتے ہیں جو اول نادرشاہ کے ساتھ، پھر احمد شاہ ابدالی کے ساتھ آئے تھے۔ ترکی زبان میں قزل کے معنی سرخ اور باش کے معنی ہیں سر۔ یہ سپاہی سروں پر لال لال ٹوپیاں رکھتے تھے، اسی سبب سے قزلباش کہلاتے تھے۔ دلی والوں نے ان کا نام ٹوپی والے رکھا۔ ایک زمانہ میں دلی میں افغان بادشاہوں کی حکومت تھی۔ اس زمانے کی یادگار پٹھانوں کی وہ چھوٹی چھوٹی مسجدیں ہیں، جو پاس پاس بنائی گئی ہیں۔ پٹھان تند مزاجی کے سبب کسی کا احسان اپنے سر لینا اور غیر کی بنائی ہوئ مسجد میں نماز پڑھنا گوارا نہیں کرتے تھے۔ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانا ایک تلمیحی محاوہ ہے، جو اس واقعہ کو یاد دلاتا ہے۔رادھا کو یاد کرو ایک محاورہ ہے، جس کے معنی ہیں جاؤ اپنام کام کرو۔ سری کرشن کی ایک محبوبہ کا نام رادھا اور ایک کا نام کبجا تھا۔ کبجا بےتکلفی اور شوخی سے یہ کلمہ زبان پر لایا کرتی تھی۔ کالے کلوٹے آدمیوں کو محاورہ میں راون کی سینا کہتے ہیں۔ راون جو لنکا کا راجہ تھا اور جو رام چندر جی کے ساتھ نبرد آزما ہوا، اس کی فوج کے لوگ سیا ہ فام تھے، ان کی وردیاں سیاہ رنگ کی تھیں۔ اسی سبب سے رام لیلا میں جو اس واقعہ کی نقل ہے، راون کی فوج کے سپاہیوں کو سیاہ لباس پہنایا جاتا ہے۔ رستم محاورہ میں بہادر کے معنوں میں بولا جاتا ہے، جیسے بس ایک تم ہی تو رستم ہو۔ یہاں تمہاری رستمی کیوں نہ چلی، رستم کا بچہ خاں اور رستم کا سالا وغیرہ الفاظ بھی بولے جاتے ہیں۔ چھپا رستم ایک اور محاوہ ہے۔ جس کے دو معنی لیے جاتے ہیں۔ ایک تو وہ شریر آدمی جو ظاہر میں غریب نظر آتا ہو۔ دوسرے وہ شخص جو کامل الفن ہو اور وقت پر اس کا ہنر ظاہر ہو۔افلاطون جو یونان کا مشہور حکیم ہے، کشتی کے فن میں کامل تھا۔ اس بناپر جہاں زور آور، زبردست کے معنوں میں رستم کا لفظ بولا جاتا ہے، وہیں افلاطون اور افلاطون کا بچہ وغیرہ الفاظ بھی رائج ہیں۔ سکھا شاہی کے لفظ سے بے انصافی اور کس مپرسی کا زمانہ مراد لیتے ہیں۔ یہ تلمیح سکھوں کے عہد حکومت کو یاد دلاتی ہے۔ اسی طرح نادرشاہی یا نادر گردی سے بدانتظامی اور افراتفری کازمانہ مراد لیتے ہیں۔ یہ الفاظ نادرشاہ کے زمانہ میں اس ملک کی حالت کا پتہ دیتے ہیں۔ تانا شاہی مزاج کا لفظ اس نازک مزاجی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ابوالحسن تانا شاہ والی گول کنڈہ میں تھی۔ تخت طاؤس شاہ جہاں کے تخت کی تلمیح ہے، جس پر چھ کروڑ روپیہ صرف ہوا تھا اور جو جواہرات سے مرصع تھا اور جس کے اوپر ایک مور پنکھ پھیلائے کھڑا تھا۔اخفش ایک مشہور صرفی تھا۔ اس نے ایک بکری پال رکھی تھی۔ عربی افعال کی گردانیں اس بکری کے سامنے دہرایا کرتا تھا۔ اگر وہ بکری سر ہلا دیتی، تو سمجھتا تھا کہ سبق یاد ہو گیا، ورنہ پھر اس سبق کو رٹنا شروع کر دیتا تھا۔ جس وقت اس بکری کو ذبح کیا، تو معلوم ہوا کہ اس کے سر میں بھیجا ندارد ہے۔ اس سبب سے ایسے آدمی کو جو بے سمجھے گردن ہلادے، بزاخفش کہتے ہیں۔ لکھ بخش یا لکھ داتا اس شخص کو کہتے ہیں، جو انتہا درجے کا فیاض ہو۔ یہ اصل میں قطب الدین ایبک کا لقب ہے، جو شہاب الدین کا غلام تھا اور اس کے مرنے پر خود بادشاہ ہو گیا تھا۔ اس کی فیاضی کی داستانیں آج تک زبان زدعام ہیں۔ ہندو آج تک اسے پوجتے ہیں۔ ان میں سے اکثر جابجا تھان بناکر اس کی پوجا کراتے ہیں۔ہلاکو ظالم اور سفاک آدمی کو کہتے ہیں۔ یہ تلمیح ہولاکو خاں کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو چنگیز خاں کا پوتا تھا اور اسی نے بغداد کو تاخت و تاراج کیا۔ تور والی مغرور عورت کو کہتے ہیں۔ تورنا جتانا شیخی کرنا ہے۔ شروعِ تو رہ بھی محاورہ ہے جس سے دین داری کا اظہار اور بات بات میں مذہبی روک ٹوک مراد ہے۔ تو رہ اصل میں چنگیز خاں کے مجموعہ قوانین کا نام تھا، جس میں ہر قانون کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں مقرر کی گئی تھیں۔ یہ سب محاوے اسی لفظ تورہ سے لیے گئے ہیں۔گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔ یہ ایک تلمیحی مثل ہے۔ راون کے بھائی بھویشن نے راجہ رام چندر سے مل کر ان کو قلعہ لنکا کے بہت سے بھید بتائے تھے اور اس کے فتح کرنے میں مدد دی تھی۔ اب اس مثل سے مطلب یہ ہے کہ رازدار کی دشمنی بڑانقصان پہنچاتی ہے۔\n\n(دوم) وہ تلمیحیں جو عام عقائد و اوہام سے ماخوذ ہوئی ہیں\n\nجب کوئی شخص سفر کو سدھارتا ہے تو مسافر کے بازو پر روپیہ وغیرہ باندھ دیا جاتا ہے، جب وہ خیر و عافیت سے منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہے تو وہ رقم سیدوں کو بانٹ دی جاتی ہے۔ اس کو امام ضامن کا روپیہ کہتے ہیں۔ یہاں امام سے حضرت علی رضا آٹھویں امام مراد ہیں۔ عام لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اگر آپ کے نام کا روپیہ مسافر کے بازو پر باندھ دیا جائے تو آپ اس کی سلامتی کے ضامن ہو جاتے ہیں۔ اندر کا اکھاڑا اس مقام کو کہتے ہیں، جہاں ناچنے گانے والی حسین عورتیں جمع ہوں۔ ہندو راجہ اندر کو سورگ پتی یعنی بہشت کا مالک مانتے ہیں، جس کے سامنے حوریں گاتی اور ناچتی رہتی ہیں۔ یہ محاورہ اسی خیال پر مبنی ہے۔ بجلی کی تلوار اس تلوار کو کہتے ہیں کہ جو بہت کاٹ کرنے والی ہو۔ عوام کا خیال ہے کہ بعض مقامات میں بجلی اکثر گرا کرتی ہے۔ وہاں کے لہار بہت سالوہا جمع کرکے میدان میں رکھ دیتے ہیں تاکہ اس پر بجلی گرے، اور وہ آبدار ہو جائے۔ کہتے ہیں کہ جو تلوار اس لوہے سے بنائی جاتی ہے، اس کا مقابلہ آبداری اور کاٹ میں کوئی تلوار نہیں کر سکتی۔عام لوگوں کا خیال ہے کہ جس رستے سے بلی نکلے، اگر کوئی شخص بجلی کے نکل جانے کے بعد اس رستے سے گزرے، تو اس کو لڑائی جھگڑا ضرور پیش آتا ہے۔ اسی سبب سے بلی الا نگنا ایک محاورہ ہو گیا ہے، جس کے معنی ہیں لڑنے جھگڑنے کو آنا۔ جو شخص آتے ہی ٹیڑھی ترچھی باتیں کرنے لگے، اس کی نسبت کہتے ہیں کہ تم بلی الانگ کر تو نہیں آئے۔ بھیرو ہندووں کے نزدیک شیوجی کا ایک نام ہے اور یہ اس وقت کے لیے ہے، جب کہ وہ غضبناک ہوں۔ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ ان کی خفگی سے تباہی اور بربادی آتی ہے۔ اسی عقیدہ سے بھیروں ناچنا ایک محاورہ بنایا گیا ہے، جس کے معنی ہیں ویرانی چھا جانا۔جاہل مسلمان عورتیں بہت سے پیروں، ولیوں اور پریوں کے نام لیتی اور ان کو مانتی ہیں۔ مثلاً: لال پری، سبز پری، زرد پری، سیاہ پری، آسمان پری، دریا پری، نور پری، زین خان، صدر جہان، ننھے میاں، شاہ دریا، شاہ سکندر، شیخ سدو، ماموں الہ بخش، سید برہنہ، پیر ہٹیلے، شاہ مدار، پیر غیب، چالیس تن یا چہل ابدال جن کے دم قدم سے یہ دنیا قائم ہے۔ عورتیں ان پریوں اور یا ان بزرگوں کی روحوں میں سے کسی روح کو اپنے سر پر بلاتی ہیں۔ جو عورت یہ کام کرتی ہے۔ وہ جمعرات کے دن خوشبو، زیور اور عمدہ پوشاک سے آراستہ ہوکر بیٹھ جاتی اور گاناسنتی ہے۔ جب کوئی پری یا روح اس کے سر پر آتی ہے، تو وہ اپنا سر ہلانے لگتی ہے۔ دوسری عورتیں اپنی اپنی حاجتیں اس کے سامنے پیش کرتی ہیں اور وہ ہر ایک کے سوال کا جواب دیتی جاتی ہے۔ اس طریقے سے روحوں کے بلانے کو بیٹھک دینا یا حاضرات کرنا کہتے ہیں۔ اس تلمیح میں عورتوں کے اس خاص عقیدے کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر کیا گیا۔ادنیٰ درجے کے ہندو بھی اسی طرح کسی دیوی دیوتا، یا بیر کو اپنے سر پر بلاتے ہیں۔ ان میں جو مرد اس کام کو انجام دیتا ہے، اس کو بھگت کہتے ہیں اور عورت کو بھگتانی۔ بیراس جن یا خبیث روح کو کہتے ہیں جس کو جادوگر کسی کو ضرر پہنچانے کے لیے اس پر مسلط کرتے ہیں۔ مسلمان اس روح کو مؤکل کہتے ہیں۔ اس سے بیر بٹھانا اور بیر ووڑ، دمی درے پیدا ہوئے ہیں۔ اڑن کھٹولا اور بوان یا بمان کے الفاظ ہندوؤں کے اس عقیدہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دیوتا ایک تخت رواں پر سوار ہوکر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچے تھے۔ اس تخت کو ہوا اڑاکر لے جایا کرتی تھی۔ پاتال ہندی میں زمین کے سب سے نیچے کے طبقے کو کہتے ہیں۔ ہندوؤں نے پاتال کے سات طبقے قرار دیے ہیں۔ ہر طبقے میں ایک زندہ مخلوق آباد ہے۔ پاتال تک کی خبر لانا اسی تلمیح سے ایک محاوہ بنایا گیا ہے۔ پارس ایک خیالی پتھر کانام ہے، جس کی نسبت عام لوگوں میں یہ خیال پھیلا ہوا ہے کہ اگر یہ پتھر لوہے سے چھوا جائے تو اسے سونا بنا دیتا ہے۔پچھلپائی کا لفظ، جس سے بھتنی یا چڑیل مراد ہے، عوام کے اس خیال کو یاد دلاتا ہے کہ چڑیلوں یا بھتنیوں کے پاؤں میں پنجہ پیچھے کی طرف اور ایڑی آگے کی طرف ہوتی ہے۔ پری ایک خیالی حسین مخلوق ہے جس کا سارا جسم عورتوں جیسا ہوتا ہے مگر بازو پردار ہوتے ہیں۔ پرستان اس جگہ کا نام رکھا گیا ہے جہاں پریاں آباد ہیں۔ پری مادہ اور دیویا پری زاد نر ہوتے ہیں۔ پرستان یا پریوں کا اکھاڑہ محاوہ میں اس محفل کو کہتے ہیں، جہاں بہت سے خوبصورت آدمی جمع ہوں۔ بیر کی طرح پون بھی ان خبیث روحوں کو کہتے ہیں جنہیں جادوگر کسی شخص کوضرر پہنچانے کے لیے بھیجتے ہیں۔ پون بٹھانا اور پون دوڑانا یا چلانا وہ محاورے ہیں، جو اس لفظ سے بنائے گئے ہیں۔ بھوت وہ روحیں ہیں جو جسموں سے جدا ہوکر دنیا میں بھٹکتی پھرتی ہیں۔ مرد کی روح بھوت اور عورت کی بھتنی کہلاتی ہے۔ بھوت لوگوں کے سروں پر آتے ہیں، یہ عام خیال ہے۔ بھوت چڑھنا کے ساتھ بھوت اتارنا بھی محاورہ میں آ گیا ہے، کیونکہ عام خیال یہ بھی ہے کہ منتر کے زور سے بھوت کسی کے سر سے اتارا بھی جا سکتا ہے۔مسلمانوں کے نزدیک سات سمندر سے مراد بحیرہ شام، بحیرہ قلزم، بحیرہ عرب، بحیرہ عمان، بحیرہ فارس، اور بحیرہ اسود ہیں۔ مگر ہندوؤں کے سات سمندروں میں سے ایک سمندر نمک کا ہے، دوسرا دودھ کا، تیسرا گھی کا، چوتھا دہی کا، پانچواں شراب کا، چھٹا گنے کے رس کا، ساتواں شہد کا ہے۔ سفلی عمل جادو کی وہ قسم ہے، جو شیاطین و جنات کی مدد سے عمل میں لائی جاتی ہے۔ برخلاف اس کے علوی عمل وہ ہے، جس میں ستاروں اور فرشتوں سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ جادو کی نسبت عام لوگوں کاجو عقیدہ ہے اس کو یہ دونوں الفاظ ظاہر کرتے ہیں۔ خدا کے اسماء دو قسم کے مانے جاتے ہیں۔ ایک جلالی جن سے غصہ اور جلال کا اظہار ہوتا ہے۔ دوسرے جمالی جن سے رحم و لطف نمایاں ہے۔ جب خدا کا کوئی جلالی اسم ننگی تلوار کی پشت پر پڑھ کر پھونکتے ہیں تو اس سے مقصدیہ ہوتا ہے کہ دشمن ہلاک ہو۔ اس عمل کو سفلی کہتے ہیں۔ اگر اسم مذکور کے پڑھنے میں بے احتیاطی ہو تو کہتے ہیں کہ یہ عمل الٹا عامل کے لیے تباہی کا باعث ہوتا ہے۔ اس حالت کو سفلی کا الٹ جانا کہتے ہیں۔سانپ کا من عوام کے اس خیال کو ظاہر کرتا ہے کہ جب سانپ خوش ہوتا ہے تو وہ ایک روشن جواہر منہ سے باہر نکال کر جنگل میں رکھ دیتا ہے۔ اس کی روشنی چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوتی ہے۔ سانپ اس روشنی میں کوسوں سیر کرتا پھرتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس سانپ کا من ہو، وہ تمام آفتوں سے محفوظ رہتا ہے۔ نہ آگ اسے جلا سکتی ہے، نہ پانی اسے ڈبو سکتا ہے۔ شب چراغ بھی ایک ایسا ہی لفظ ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ ایک جواہر ہے۔ دریائی گائے رات کے وقت چرنے نکلتی ہے، تو اس جواہر کو منھ سے نکال رک رکھ دیتی ہے اور اس کی روشنی میں چرتی پھرتی ہے۔ چرچکنے کے بعد اس کو اپنے منھ میں رکھ کر دریا میں غوطے لگا جاتی ہے۔ شب برات میں لفظ برات کے معنی روزی کے ہیں۔ اس لفظ سے یہ خیال ظاہر ہوتا ہے کہ اس رات کو یعنی شعبان کی چودھویں یا پندرہویں رات کو فرشتے انسانوں کی روزی اور عمر کا حساب آئندہ کے لیے لگاتے اور روزی تقسیم کرتے ہیں۔ست جگ ہندوؤں کے نزدیک دنیا کا پہلا دور ہے، جس میں سچ اور راستی کے سوا دوسری بات کا نام نہ تھا۔ اس دور کی میعاد سترہ لاکھ اٹھائیس ہزار برس قرار دی گئی ہے۔ اس کے مقابل ایک دور کلجگ کہلاتا ہے۔ یہ دور چار لاکھ بتیس ہزار برس کا ٹھیرایا گیا ہے۔ اس زمانے میں پاپ اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ تریتا جگ اور دواپر جگ ہیں، مگر عام لوگوں میں مشہور یہی جگ ہیں۔ لچھمی ہندوؤں کے اعتقاد میں دولت کی دیوی ہے۔ لچھمی گھر میں آنا ایک محاورہ ہے، جس کے معنی ہیں صاحب اقبال ہونا۔ لنکا میں جو چھوٹا سو باون ہی گز کا، یا لنکا سے جو نکلا سو باون گز کا، یہ ایک تلمیحی مثل ہے، اس موقع پر بولی جاتی ہے جہاں چھوٹے بڑے سب شریر اور فتنہ پرداز ہوں۔ ہندوؤں کاعقیدہ ہے کہ جزیرہ لنکا میں دیو رہتے تھے، جو بہت بڑے بڑے قد کے ہوتے تھے، یہاں تک کہ ان کے بچے بھی باون گز سے کم قد نہیں رکھتے تھے اور ان کا مزاج نہایت سرکش اور شریر واقع ہوا تھا۔میر بھجڑی کی کڑھائی، ایک تلمیح ہے، جو ہیجڑوں سے لی گئی ہے۔ میر بھجڑی جسے میر بھوجی بھی کہتے ہیں، ہیجڑوں کے سلسلے کا بانی تھا۔ ہیجڑے اس کی نیاز دلواتے ہیں۔ ان کا یقین ہے کہ اگر کوئی اس نیاز کی کڑھائی کا حلوا کھالے تو وہ ناچنے تھرکنے اور ہیجڑوں کی سی حرکتیں کرنے لگتا ہے اور جب تک ہیجڑا نہ بن جائے اسے کل نہیں پڑتی۔یوہا یا یوحیٰ عوام کے خیال میں ایک قسم کا سانپ ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک ہزار برس گزرنے پر وہ ایک آواز نکالتا ہے اور خاموش ہو جاتا ہے۔ پھر ہزار برس کے بعد ایک دفعہ چلاتا اور چپ ہو جاتا ہے۔ تیسری دفعہ یعنی تین ہزار برس کے بعد یہ قدرت اسے حاصل ہو جاتی ہے کہ جس شکل اور جس کا روپ چاہے، بن جائے یعنی انسان یا حیوان بننے کی طاقت اسے حاصل ہو جاتی ہے۔ عام لوگوں کاعقیدہ ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک جن پیدا ہوتا ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کو ہم زاد کہتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو خاص عمل کے ذریعے سے اس کو قابو میں لا سکتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق اس سے کام لے سکتے ہیں۔ہندوؤں کے خیال میں ایک فرضی وجود ہے جو دکھائی نہیں دیتا اور دنیا کے گرد حرکت کرتا رہتا ہے۔ کبھی کسی طرف ہوتا ہے کبھی کسی طرف۔ مثلاً شنبہ کے دن وہ مشرق میں ہوتا ہے، پنجشنبہ کے دن جنوب میں، منگل کے دن شمال میں، اتوار کے دن مغرب میں۔۔۔ علیٰ ہذالقیاس۔ اس فرضی وجود کا نام ہندوؤں نے دشاشول رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس روز وہ جس سمت میں ہو، اس روز اس سمت میں سفر کرنا نقصان اور تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ سفر کرنے والے پر واجب ہے کہ دشاشول کو بائیں طرف یا اپنی پشت کی طرف رکھے۔ اس کا سامنے پڑنا یا دائیں ہاتھ پر ہونا، ازحد منحوس خیال کیا جاتا ہے۔الوپ انجن ایک قسم کا سرمہ ہے، جس کے لگانے سے آدمی آپ تو سب کو دیکھتا ہے مگر اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ اسے سرمۂ سلیمان بھی کہتے ہیں۔ گنگا پارہ کی ایک طلسمی گولی ہے، جسے جوگی تیار کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس گولی کو منہ میں رکھنے سے قوت پرواز آ جاتی ہے اور اس کی مدد سے جوگی جہاں چاہتے ہیں، اڑ کر چلے جاتے ہیں۔\n\nسوم وہ تلمیحیں جو خاص رسموں کی طرف اشارہ کرتی ہیں\n\nمسلمان عورتوں میں دستور ہے کہ نکاح کے بعد وہ دولہا دولہن کو آمنے سامنے سر سے سر ملاکر اور ایک دوسرخ دوپٹہ اڑھاکر بٹھا دیتی ہیں اور ان دونوں کے بیچ میں ایک آئینہ اور قرآن شریف میں سے سورہ اخلاص نکال کر رکھ دیتی ہیں۔ اس رسم کو آرسی مصحف کہتے ہیں۔ آرسی سے مراد آئینہ ہے۔ آئینہ رکھنے سے مطلب یہ ہے کہ دولہا دولہن ایک دوسرے کاچہرہ دیکھ لیں۔ سورہ اخلاص سے غرض یہ ہے کہ میاں بیوی میں ہمیشہ اخلاص بنا رہے۔ دیوا ٹھان ہندوؤں کی ایک رسم ہے، جو کاتک سدی، اکادشی کو منائی جاتی ہے۔ وشنو ہندوؤں کے نزدیک چار مہینے سے اس تاریخ تک سوتے رہتے ہیں۔ ہندو اس تاریخ کو ایک معین جگہ لیپ پوت کر کھریا اور گیرو سے اس پر نقش ونگار بناتے ہیں اور وہاں پوجا کی چیزیں رکھ کر ان کو ایک تھالی سے ڈھک دیتے ہیں۔ گھر کی کوئی عورت یا کوئی برہمنی ہاتھوں سے اس تھالی کو بجاتی جاتی اور یہ کہہ کر، دیو اٹھو، وشنو کی تعریف کے فقرے گاتی جاتی ہے۔سوئمبر ہندوؤں کی ایک قدیم رسم کا نام ہے۔ جب راجاؤں یا عالی خاندان کے لوگوں میں کسی لڑکی کے لیے بر درکار ہوتا تھا، تو تمام راجاؤں یا امیروں کو پہلے اطلاع دی جاتی تھی۔ تاریخ معین پر سب جمع ہو جاتے تھے۔ لڑکی بھرے جلسے میں آکر شہزادوں اور امیرزادوں کے کرتب دیکھتی تھی اور ان میں سے جس کو اپنا شوہر بنانا پسند کرتی تھی، اس کے گلے میں اپنے ہاتھ سے پھولوں کا ہار ڈال دیتی تھی۔ موچھوں کا کونڈا مسلمان عورتوں کی ایک رسم کی تلمیح ہے۔ جب کسی لڑکے کی مسیں بھیگتی ہیں تو اس خوشی میں اس کی ماں حضرت خاتون جنت کی نیاز دلواتی ہے اور اس میں رشتہ دار جمع کیے جاتے ہیں۔آمین ایک رسم ہے، جو قرآن شریف کے ختم ہونے یا اس کا کوئی حصہ ہونے پر ادا کی جاتی ہے۔ لڑکا جس مکتب میں قرآن کی تعلیم پاتا ہے، اس کے تمام شاگرد اور استاد اس لڑکے کے مکان پر پہنچ کر ایک خاص نظم بہ آواز بلند پڑھتے ہیں۔ ایک لڑکا پڑھتا ہے، باقی سب لڑکے ہر شعر پر پکار کر آمین کہتے جاتے ہیں۔ نظم پڑھنے کے بعد دعا مانگی جاتی ہے۔ شیرینی تقسیم ہوتی ہے اور استاد کو لڑکے کے ماں باپ حسب توفیق نذر دیتے ہیں۔ رت جگا ایک اور رسم ہے جو بیاہ، سال گرہ، بسم اللہ یا کسی اور تقریب پر منائی جاتی ہے۔ اس موقع پر عورتیں جمع ہوتی ہیں اور رات بھر جاگتی ہیں۔ رات کو کڑھائی ہوکر، دن کو گللگلوں اور رحم پر اول اللہ میاں کی سلامتی پڑھی جاتی، پھر زردے یا خشکہ پر حضرت فاطمہؓ کی نیاز دلوائی جاتی ہے۔ مسلمان عورتوں میں شادی کے وقت کی ایک خاص رسم ہے، جسے نوباتیں حیوانا کہتے ہیں۔ نوبات نبات سے بگڑا ہے جس کے معنی ہیں مصری کی نوڈلیاں دلہن کے دونوں مونڈہوں، کہنیوں، گھٹنوں، پیٹھ اور ہاتھوں پر رکھی جاتی ہیں۔ دولہا سے کہا جاتا ہے کہ ان ڈلیوں کو ایک ایک کرکے منھ سے اٹھاؤ اور ہاتھ نہ لگاؤ۔ یہ حقیقت میں ایک ٹوٹکا ہے، جس سے غرض یہ ہے کہ دولہا ہمیشہ دلہن کا فرماں بردار ر ہے۔ تارے دکھانا ایک اور رسم ہے جو ایام زچگی میں ادا کی جاتی ہے۔ زچہ کو رات کے وقت چھٹی کے روز دالان سے باہر لاکر تارے دکھاتی ہیں۔ دوعوتوں کے ہاتھ میں تلواریں ہوتی ہیں اور وہ اس کے ساتھ محافظ بن کر آتی ہیں۔ زچہ بچے کو گود میں اور قرآن شریف کو سر پر رکھ کر آسمان کی طرف دیکھتی ہے اور سات تارے گنتی ہے۔ عورتوں کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے زچہ کو جن وپری کا خوف نہیں رہتا۔بیوی کی صحنک ایک اور رسم ہے۔ اکثر شادی یا کسی مراد کے برآنے پر عورتیں حضرت فاطمہ کے نیاز دلواتی ہیں۔ اس میں بڑی احتیاط کی جاتی ہے۔ سہاگن اور پارسا عورتیں شامل ہوتی ہیں۔ اگر کوئی عورت دو خاوند کر چکی ہو تو اس کو شریک نہیں کرتیں بلکہ سیدانیوں کو اس نیاز کا کھلانا اولی سمجھتی ہیں۔ جہانگیر کے زمانے سے یہ رسم جاری ہوئی ہے۔ پھول ہونا ایک اور رسم ہے، جو مرنے سے تیسرے دن ادا کی جاتی ہے۔ ہندوؤں میں دستور ہے کہ مرنے سے تیسرے دن مردے کی ہڈیاں، جنہیں وہ پھول کہتے ہیں، چنی جاتی اور دریائے گنگا میں بہائی جاتی ہیں۔ مسلمانوں میں بھی تیسرے دن مردہ کی فاتحہ ہوتی ہے۔ چنوں کے دانوں پر کلمہ پڑھا جاتا ہے تاکہ مردے کی روح کو ثواب پہنچایا جائے۔ فاتحہ کے وقت کچھ ارگجا اور کچھ پھول لائے جاتے ہیں۔ سورہ فاتحہ پڑھ کر ہر ایک حاضر مجلس ارگجے کے پیالے میں پھول ڈالتا ہے اور یہ پھول اور خوشبو مردے کی قبر پر بھیجی جاتی ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی رسمیں ہیں۔ مثلاً بسم اللہ، چھٹی، چوتھی، منگنی، ستوانسا، مہندی، بری یا ساچق، چالیسواں وغیرہ۔چہارم وہ تلمیحیں جن کی بنیاد فرضی قصوں پر ہے\nغتربود کرنا ایک محاورہ ہے، جسے عام آدمی بولتے ہیں۔ اس کے معنی ہیں مطلب خبط کرنا۔ اس کا قصہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ایک بیوقوف آدمی بوستاں پڑھتا تھا۔ جب سعدی کے اس شعر پر پہنچا،کہ سعدی کہ گوی بلاغت ربوددرایام بوبکر بن سعد بودتو اس نے استاد سے پوچھا غتربود کے کیا معنی ہیں۔ بلاغت میں سے اس نے بلا کو جدا کرکے دوسرے لفظ ربود سے ملا دیا اور غتربود کو ایک لفظ سمجھا۔ ٹیڑھی کھیر کے معنی ہیں مشکل کام۔ کہتے ہیں کہ ایک اندھے سے کسی شخص نے پوچھا، حافظ جی کھیر کھاؤگے۔ اس نے کہا کھیر کیسی ہوتی ہے۔ اس نے کہا سفید، پوچھا سفید کیسی، کہا جیسے بگلا۔ اس نے پوچھا، بگلا کیسا ہوتا ہے۔ اس نے ہاتھ ٹیڑھا کرکے دکھایا کہ ایسا۔ اندھے نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے ٹٹول کر کہا، یہ تو بڑی ٹیڑھی کھیر ہے۔ ہم سے نہیں کھائی جائےگی۔ چور کی داڑھی میں تنکا، یہ ایک تلمیحی مثل ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کسی زمیندار کے ہاں بھینس کی چوری کی تھی۔ قاضی نے تمام مشتبہ آدمیوں کو، جن میں چور بھی تھا، سامنے کھڑا کر دیا، پھر اپنے ایک پیادے سے کہا، میں جس کی طرف اشارہ کروں، تم اسے گرفتار کر لینا۔ پھر اس نے کہا دیکھ چور کی ڈاڑھی میں تنکا ہے۔ چور کے دل میں ڈبکا تھا ہی، اس نے فوراً اپنی داڑھی پر ہاتھ ڈالا اور اس حرکت سے وہ شناخت کرکے پکڑا گیا۔نیبو نچوڑ، ناخواندہ مہمان کو کہتے ہیں۔ ایک سرائے میں ایک مفت خور ٹھہرا ہوا تھا۔ اس کا دستور تھا کہ جب کوئی مسافر کھانا کھانے بیٹھتا، تو ایک نیبولے کر دسترخوان پر پہنچ جاتا۔ مسافر کے آگے سالن دیکھ کر کہتا کہ حضرت نیبواس کا بناؤ ہے۔ اس کو نچوڑ کر مزا دیکھیے۔ وہ بیچارہ مروت میں آکر اس کو بھی کھانے میں شریک کر لیتا۔ طفیلی کا لفظ بھی اسی طرح پیدا ہوا ہے۔ طفیل کوفہ کا ایک شاعر تھا۔ اس کی عادت تھی کہ جب لوگوں کو کسی دعوت میں جاتے دیکھتا تو یہ بھی ان کے ساتھ ہو لیتا تھا اور بے تکلف دعوت میں شریک ہو جاتا تھا۔ ناؤ میں خاک اڑانا ایک محاورہ ہے، جس کے معنی ہیں جھوٹا الزام لگانا۔ کہتے ہیں کہ ایک شیر اور بکری دونوں کشتی میں سوار تھے۔ شیر نے اس کو کھانے کی نیت سے کہا کہ تو کشتی میں کیوں خاک اڑاتی ہے۔ اس نے کہا جناب یہاں خاک کہاں ہے جسے میں اڑادوں۔ شیر نے غصے میں آکر کہا تو ہماری بات کو جھٹلاتی ہے۔ دیکھ تو میں تیری گستاخی کا کیا مزا چکھاتا ہوں۔ یہ کہہ کر حملہ کیا، اور پھاڑ چیر کر اسے کھا گیا۔نیکی کر اور دریا میں ڈال۔ اس کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ بے دریغ نیکی کر۔ اس بات کی پروا نہ کر کہ اس کا انعام بھی کچھ ملےگا، یا نہیں۔ حاتم طائی کے قصے میں لکھا ہے کہ ایک شخص دریا میں ہر روز روٹیاں ڈالا کرتا تھا۔ خدا نے اس کی محنت بھی ضائع نہیں کی۔ اس کا مفصل قصہ حاتم طائی کے قصے میں دیکھنا چاہیے۔ اود بلاؤ کی ڈھیری اس جھگڑے کو کہتے ہیں، جو کبھی فیصل نہ ہو۔ کہتے ہیں کہ جب کئی اودبلاؤ مل کر مچھلیاں مارتے پھرتے ہیں، تو دریا کے کنارے ڈھیر لگاتے جاتے ہیں۔ پھر ہر ایک کا حصہ الگ الگ لگاتے ہیں۔ مگر کوئی نہ کوئی اود بلاؤ اپنے حصے کو کم سمجھ کر سارے حصوں کو گڈمڈ کر دیتا ہے۔ پھر ازسرنو حصے لگائے جاتے ہیں اور اس تقسیم کا انجام بھی یہی ہوتا ہے۔ غرض کہ ان میں برابر جھگڑا ہوتا رہتا ہے اور کسی طرح فیصلہ ہونے میں نہیں آتا۔نمازی کا ٹکا اس ناشائستہ بات کو کہتے ہیں، جس کا بدلا کہیں نہ کہیں ضرور مل کر رہے۔ کہتے ہیں کہ ایک شریر لڑکا نماز پڑھنے میں لوگوں کی ٹانگیں گھسیٹ لیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ جب سجدہ کرتے وقت اس نے کسی نمازی کی ٹانگ گھسیٹی، تو اس نے ملامت کرنے کی بجائے سلام پھیر کر چپکے سے ایک ٹکا اس کے حوالے کیا، تاکہ یہ مزا پڑ جائے، تو وہ کہیں نہ کہیں اس کی سزا پائے۔ اسے تو ٹکے کی چاٹ لگ ہی گئی تھی، اتفاق سے ایک جلاد پٹھان کے ساتھ بھی اس نے یہی حرکت کی۔ اس نے سلام پھیرتے ہی تلوار میان سے نکالی اور اس شریر لڑکے کی گردن اڑا دی۔آنکھوں کی سوئیاں رہ گئی ہیں۔ اس فقرہ کا مطلب یہ ہے کہ بہت سا کام ہو چکا ہے، تھوڑا سا باقی رہ گیا ہے۔ کہتے ہیں ایک سوداگر بچے کی دوستی کسی جادوگرنی سے تھی۔ وہ اس کی بیوی کے نام سے جلا کرتی تھی۔ ایک روز اس نے جادو کی ایک پڑیا بجائے اس کے کہ اس کی نیک بخت بیوی کو کچھ ضرر پہنچائے، خود سوداگر بچے کے بدن پر جا پڑی۔ اس کا پڑنا تھا کہ اس کے سارے تن بدن میں سوئیاں ہی سوئیاں بھگ گئیں۔ سوداگر بچہ اس تکلیف کے مارے بیہوش ہو گیا۔ بیوی نے صبح کی نماز پڑھ کر میاں کی یہ حالت دیکھی تو وہ فوراً سوئیاں نکالنے میں مشغول ہو گئی۔ ہاتھ سے سوئیاں نکالنے میں تکلیف ہونے لگی تو اس نے ہونٹوں سے نکالنی شروع کیں۔ تھوڑی سی سوئیاں نکالنی باقی تھیں کہ ظہر کا وقت آگیا۔ اس نے باندی سے کہا کہ میں ظہر کی نماز پڑھتی ہوں، تھوڑا سا کام باقی رہ گیا ہے۔ اب میری جگہ تو کام کر۔ باندی سوئیاں نکالنے لگی، بیوی ظہر کی نماز سے فارغ نہیں ہوئی تھی کہ سوئیاں سب نکال لی گئیں۔ سوداگر بچہ کو ہوش آ گیا۔ اس نے آنکھ کھول کر دیکھا تو بیوی اس کے پاس نہ تھی۔ باندی اس کی خدمت کر رہی تھی۔ یہ دیکھ کر اس کو بیوی سے نفرت ہو گئی، اس نے باندی کو بیوی بنا لیا اور بیوی کو باندی کی خدمت پر مامور کر دیا۔بھیگی بلی بتانا ایک تلمیحی محاورہ ہے جس کے معنی ہیں بے جا عذر کرنا۔ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے مکان کے دالان میں شب کے وقت پر دے ڈالے سو رہا تھا۔ اسی دالان میں اس کا نوکر بھی ایک طرف پڑا تھا۔ نوکر کو اس کے آقا نے کئی دفعہ کام کے لیے دالان سے باہر بھیجنا چاہا۔ ہر دفعہ نوکر نیا عذر تراش کر بیان کر دیتا تھا، تاکہ اسے باہر نہ جانا پڑے۔ آخر میں آقا نے کہا باہر آنگن میں بارش ہو رہی تھی، ذرا باہر جاکر تو دیکھ، اب بارش تھم گئی ہے، یا ہو رہی ہے، نوکر نے جواب دیا، کہ ابھی بارش ہو رہی ہے۔ آقا نے پوچھا تو نے کس طرح معلوم کیا۔ اس نے کہا باہر سے بلی اندر آئی تھی، میں نے اس پر ہاتھ پھیر کر دیکھا تو وہ بھیگی ہوئی تھی۔جون پور کا قاضی محاورہ میں احمق آدمی کو کہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک شہر کے کسی مکتب میں استاد اپنے ایک شاگرد پر خفا ہو رہا تھا۔ اثنائے خفگی میں اس نے کہا نالائق تو میرا احسان نہیں مانتا کہ میں نے تجھے گدھے سے آدمی بنایا۔ ایک کمہار نے جو اس مکتب کے قریب گزر رہا تھا، یہ بات سنی۔ فوراً مکتب میں آیا اور اس نے استاد سے کہا کہ میر ے پاس بھی ایک گدھا ہے۔ اگر آپ اسے آدمی بنادیں، تو بڑااحسا ن ہو۔ استاد اس کی حماقت کو تاڑ گیا۔ اس نے ہنسی کے طور پر کہا اگر تم سو روپیہ دو اور اپنا گدھا میرے پاس چھوڑ جاؤ تو سال بھر کے بعد میں اس کو آدمی بنا دوں گا۔ کمہار اس شرط پر راضی ہو گیا۔ گدھا استاد صاحب کے پاس چھوڑ گیا اور سورپیہ بھی دے گیا۔سال بھر کے بعد آیا، تو استاد اس گدھے کو فروخت کرکے دام کھرے کر چکے تھے۔ اس نے کہا میرا گدھا جسے آپ نے آدمی بنایا ہوگا، واپس کیجیے۔ استاد صاحب نے کہا، میں نے اس کو آدمی ہی نہیں بنایا، لکھا پڑھا کر عالم بھی بنا دیا ہے۔ اب وہ جونپور میں قاضی کے عہدہ پر مامور ہے۔ یہ سن کر کمہار خوشی سے پھولا نہ سمایا۔ فوراً چھٹی پلانا ہم راہ لے جونپور کو روانہ ہوا۔ قاضی صاحب عدالت کر رہے تھے۔ کوئی مقدمہ ان کے سامنے پیش ہو رہا تھا۔ کمہار ان کے سامنے ذرا دور کھڑا ہو گیا اور قاضی صاحب کو چھٹی پلانا دکھانے لگا، تاکہ وہ اپنے مالک کو پہچان لیں اور اس کے پاس چلے آئیں۔ قاضی صاحب نے یہ عجیب حرکت دیکھی، تو آدمی بھیج کر اس حرکت کا سبب دریافت کیا۔ کمہار نے سارا ماجرا اول سے آخر تک کہہ سنایا۔ جب قاضی صاحب کو معلوم ہوا تو اس خیال سے کہ لوگوں میں ان کی ہنسی نہ اڑے، اس کو ایک معقول رقم دے کر ٹالا اور اس سے خدا خدا کرکے پیچھا چھڑایا۔شیخ چلی ایسے شخص کو کہتے ہیں جو دو راز کار منصوبے باندھے۔ یہ ایک فرضی شخص لوگوں نے گڑھ لیا ہے اور اس قسم کی تمام باتیں جو دو رازکار منصوبوں اور تجویزوں سے تعلق رکھتی ہیں، اس کے نام کے ساتھ چپکا دی ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ شیخ جی کو ایک شخص نے مزدوری پر لگایا۔ ایک ٹوکری میں شیشہ آلات بھر کر ان کو دیے کہ فلاں جگہ اس ٹوکرے کو پہنچا دو۔ شیخ جی نے رستے میں ایک جگہ ٹوکرے کو الگ رکھ کر سوچنا شروع کیا کہ آج جو مزدوری مجھے وصول ہوگی، اس سے ایک مرغا اور ایک مرغی خرید کروں گا۔ مرغی کو انڈوں پر بٹھاؤں گا، اس سے بہت سے بچے حاصل ہوں گے۔ جب بہت سی مرغیاں ہو جائیں گی تو ان کو بیچ کر ایک بکری اور ایک بکرا خریدوں گا اور اس کی نسل بڑھاؤں گا۔بکریوں کا گلہ جب بڑھ جائےگا تو اس کو فروخت کرکے گائے لوں گا۔ گائے کی نسل اسی طرح ترقی کرےگی۔ گایوں کا گلہ بیچ کر بھینسیں لوں گا۔ جب بہت سی بھینسیں ہو جائیں گی تو ان کی تجارت سے میں امیروکبیر ہو جاؤں گا۔ ایک بڑے گھرانے میں شادی کروں گا۔ بیوی ایسی تلاش کروں گا جو حسین ہو۔ میں اس کو ہمیشہ اپنے قابو میں رکھوں گا۔ اگر وہ نافرمانی کرےگی تو میں اس کی کمر پر زور سے ایک لات جڑوں گا۔ شیخ جی اس وقت غصے میں تھے۔ خیالی بیوی کی جگہ آپ کی لات ٹوکرے پرپڑی اور تمام شیشے چور چور ہو گئے۔لال بجھکڑ اس شخص کو کہتے ہیں جو ہر بات کا جواب دینے اور ہر معاملہ میں رائے دینے پر تیار رہتا ہو۔ اصل میں تو احمق ہو مگر اپنے تئیں سب سے زیادہ عقل مند خیال کرتا ہو۔ شیخ چلی کی طرح لال بجھکڑ بھی لوگوں نے ایک فرضی شخص تراش لیا ہے اور اس قسم کی تمام رائیں جو حماقت پر مبنی ہوں، اس کی طرف منسوب کر دی ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ جس گاؤں میں لال بجھکڑ رہتا تھا، اس کے رہنے والوں نے ہاتھی کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ایک دفعہ ایک ہاتھی اس گاؤں سے گزرا۔ اس کے پاؤں کے نشان زمین پر پڑے۔ گاؤں والوں نے ہاتھی کبھی نہیں دیکھا، اس کے پاؤں کے نشان ضرور دیکھے۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ نشان زمین پر کیوں ہو گئے۔ لال بجھکڑ کو وہ نشان لاکر دکھایا اور ان کی حقیقت دریافت کی۔ انہوں نے فرمایا کہ ارے بیوقوفو! میرے سوا کوئی اس معمے کو نہیں سمجھ سکتا۔ ہرن چکی کے پاٹ چاروں پاؤں سے باندھ کر کودا ہے۔ اور اس سے یہ نشان زمین پر بنے ہیں۔اسی طرح ایک دفعہ ایک لڑکا گھر کے ایک ستون کو ہاتھوں کے حلقے میں لیے کھڑا تھا۔ اس اثنا میں اس کا باپ باہر سے چنے چباتا آیا۔ لڑکے نے اسی حالت میں اس سے چنے مانگے۔ باپ نے اس کی مٹھی میں چنے دے دیے۔ مگر اب مشکل یہ پیش آئی کہ ستون سے ہاتھ کیوں کر نکالے۔ اگر ہاتھ جدا کرے تو چنے زمین پر گریں گے اور یہ اسے منظور نہ تھا۔ لڑکا رونے لگا۔ باپ کی سمجھ میں کوئی تدبیر نہ آئی۔ وہ دوڑا لال بجھکڑ کے پاس پہنچا اور اس کو سارا ماجرا کہہ سنایا۔ اس نے موچھوں کو تاؤدے کر کہا بھلا میرے سوا کون اس تدبیر کو بتا سکتا ہے۔ جاؤ گھر کی چھت کو ادھیڑ ڈالو۔ جب ستون پر چھت ہٹ جائےگی تو لڑکے کو آسانی سے تم چھت پر کھینچ لوگے۔ مٹھی سے چنے بھی گرنے نہ پائیں گے اور لڑکا بھی صحیح سلامت ستون سے نکل آئےگا۔یک نہ شد دوشد ایک تلمیحی مثل ہے۔ یہ اس موقع پر بولی جاتی ہے جب کہ ایک عجیب امر کے بعد دوسرا عجیب امر واقع ہو۔ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو ایک ایسا منتر معلوم تھا کہ اس کے ذریعہ سے وہ مردے کو جگا سکتا اور اس سے باتیں کر سکتا تھا۔ دوسرا ایک اور منتر بھی معلوم تھا کہ جس کے ذریعہ سے وہ مردے کو باتیں کرنے کے بعد پھر قبر میں سلا دیتا تھا۔ اگر کسی مردہ کے گھروالوں کو راز کی کچھ باتیں مردے سے پوچھنی ہوتیں تو اس عامل سے جاکر التجا کرتے تھے۔ وہ اپنے عمل سے مردہ کو جگاکر سب کچھ پوچھ دیتا، پھر اس کو دوبارہ سلا دیتا تھا۔ مرتے وقت اس نے شاگرد کووہ دونوں منتر بتائے۔ شاگرد نے بطور آزمائش کے ایک قبر پر پہلا منتر پڑھا۔ مردہ جاگ اٹھا اوراس سے باتیں کرنے لگا اور اس نے ہر سوال کا جواب دیا۔ مگر دوسرا منتر اتفاق سے یاد نہیں رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مردہ اس کے پیچھے ہو لیا۔ اس نے گھبراکر استاد کو قبر سے اٹھایا تاکہ وہ پہلے منتر کا اتار دوبارہ بتائے مگر اس عالم میں وہ بھی کچھ نہ بتا سکا۔ پہلے مردہ کی طرح یہ نیا مردہ بھی اب اس کے ساتھ چل پڑا۔ اس موقع پر بے ساختہ اس کی زبان سے یہ فقرہ نکلا۔اس مثل کی طرح ایک اور فارسی تلمیحی مثل اردو میں مستعمل ہے۔ گر بہ کشتن روز ازل۔ اس مثل کا مطلب یہ ہے کہ رعب پہلے ہی دن جمانا چاہئے۔ کہتے ہیں دو دوستوں نے ایک ساتھ شادی کی۔ دونوں کی بیویاں بدمزاج نکلیں۔ ایک کی بیوی خاوند پر غالب آئی اور دوسرے کی نہایت فرماں بردار ثابت ہوئی۔ پہلے دوست نے دوسرے سے دریافت کیا کہ تم نے اپنی بدمزاج بیوی کو کس طرح مطیع کیا۔ اس نے کہا اول ہی روز جب ہم میاں بیوی کھانے پر بیٹھے تو ایک بلی بھی دسترخوان پر آ بیٹھی۔ میں نے کہا چلی جا۔ وہ نہ گئی۔ تب میں نے فوراً اٹھ کر اسے مار ڈالا۔ اس واقعے سے میری بیوی پر میرا رعب چھا گیا۔ وہ ڈرنے لگی کہ جس نے ذرا سی بات نہ ماننے پر بلی کو مارڈالا، وہ خدا جانے میرا کیا حال کرےگا۔ یہ سن کر دوست نے بھی اس پر عمل کیا مگر چونکہ اس کی بیوی اس کی عادت سے واقف ہو چکی تھی اور اس کے مزاج پر غالب آ چکی تھی، اس لیے کچھ پیش نہ گئی۔ اس کا حال معلوم کرکے دوست نے کہا، بھائی گربہ کشتن روزاول، بعد کا رعب جمانا کام نہیں دیتا۔کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگو تیلی۔ یہ بھی ایک تلمیحی مثل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ امیر غریب کی نسبت نہیں مگر تقدیر کے نزدیک کوئی عجیب بات نہیں۔ کہتے ہیں کہ جب راجہ بھوج پر مصیبت پری اور راج پاٹ چھن گیا تو وہ مارا مارا پھرتا تھا۔ ایک دفعہ مانگتا کھاتا ایک رانی کے پاس جا نکلا۔ ابھی وہ محل میں ہی تھا کہ ایک کاٹ کی مورتی رانی کا کھونٹی پر لٹکا ہوا ہار نگل گئی۔ رانی نے بھوج کو چور سمجھ کر راجہ کے پاس بھیج دیا۔ اس نے چوری کی سزا میں اس کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیے۔ وہ اسی بیچارگی کی حالت میں تھا کہ گنگو تیلی ادھر آنکلا۔ گھر میں اولاد نہ تھی۔ اس لنڈ منڈہی کو غنیمت سمجھ کر اپنے گھر لے گیا۔ علاج کیا تو اچھا ہو گیا۔ کولہو چلانے کی خدمت سپرد ہوئی۔ایک دن رات کو کولہو چلا رہا تھا اور دیپک راگ گا رہا تھا۔ راجہ کی بیٹی نے اس وقت محل کا چراغ گل کرنے کا حکم دیا مگر چراغ جب بجھائے جاتے تو راگ کے سروں کے اثر سے جل اٹھتے تھے۔ معلوم ہوا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ گنگو تیلی کے گھرمیں کوئی شخص دیپک راگ گا رہا ہے۔ صبح کو اس نے راجہ کے سر ہوکر شادی کا پیغام گنگو تیلی کے گھر بھجوایا۔ چنانچہ شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد تقدیر سے ہاتھ پاؤں بھی نکل آئے۔ کاٹ کی مورتی نے ہار اگل دیا۔ راج پاٹ بھی دوبارہ نصیب ہوا۔ راج ملنے کے بعد راجہ بھوج نے گنگو تیلی کو ہمیشہ اپنا باپ سمجھا اور اس کو مالا مال کر دیا۔\n\nتلمیحات کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت\n\nاردو زبان کی ادبی اور غیر ادبی تلمیحات پر ہم کافی بحث کر چکے ہیں اور ہر قسم کی تلمیحات کی مثالیں بھی ہم نے تحریر کر دی ہیں۔ ہم نے اس مضمون میں تمام تلمیحات کو گھیر لینے کی کوشش نہیں کی تاہم اگر وہ تمام تلمیحیں جو ہماری زبان میں نظم و نثر میں مستعمل ہیں یا عام بول چال میں رائج ہیں، ایک جگہ جمع کر دی جائیں تو ان پر ایک نظر ڈال کر ہر شخص اس نتیجے پر پہنچ جائےگا کہ ان کی تعداد بہت کم ہے۔ ہزاروں خیالات ہیں جن کے ادا کرنے کے لیے ہمارے پاس موزوں قالب نہیں ہیں۔ یورپ کی ترقی یافتہ زبانوں میں تلمیحات کی یہ کثرت ہے کہ ان کے لیے مستقل فرہنگیں تیار کی جاتی ہیں، جن میں فرہنگ نگار ان تلمیحوں کو حروف تہجی کی ترتیب سے جمع کرتے ہیں اور ہر تلمیح کی تشریح کرتے ہیں۔اگرچہ تلمیحات کی کثرت کے سبب باشندگانِ یورپ ہر قسم کے خیالات کو مناسب سانچوں میں ڈھال سکتے ہیں تاہم ان کی پیاس نہیں بجھی۔ وہ دنیا کی مختلف قوموں کے دیوتاؤں کے قصے معلوم کرتے ہیں۔ ان کے مذہبی عقاید اور اوہام کا سراغ لگاتے ہیں۔ ان کی تاریخوں کو اپنی زبانوں میں ترجمہ کرتے ہیں۔ ان کے مذہبی اور غیرمذہبی افسانوں کو اپنی زبانوں کے سانچے میں ڈھالتے ہیں۔ ان کے شاعرانہ خیالات پر غبور حاصل کرتے ہیں۔ ان کے ناٹکوں کو ترجمہ کا لباس پہناتے ہیں اور اس تمام ذخیرہ سے ادبیات کے لیے تلمیحیں اخذ کرتے ہیں تاکہ ان کو ہر قسم کے خیالات و افکار کے ادا کرنے کا سامان پہلے سے زیادہ میسر ہو، برخلاف اس کے ہمارے ہم زبان قدامت پرست ہیں۔اگر غیر زبان کے کسی لفظ میں اہل فارس نے تغیر و تبدل کیا ہے یا عربوں نے کوئی تبدیلی کی ہے تو اس کو جایز سمجھتے ہیں۔ اگر ایرانیوں نے غیر زبان کے کسی لفظ کے ساتھ اپنا لاحقہ یا سابقہ لگا کر کوئی لفظ بنا لیا ہے تو اس کو بھی روا داری کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگر عربوں نے غیرزبان کے کسی لفظ سے کوئی مصدر بنا لیا ہے تو اس پر بھی ناک بھوں نہیں چڑھاتے۔ اگر اہل ایران یا اہل عرب میں سے کسی نے کوئی نئی تلمیح کسی تاریخ یا افسانہ کی بنیاد پر وضع کر لی ہے تو اس پر بھی رضامند رہتے ہیں۔لیکن اگر ہمارے ملک کا کوئی آدمی غیر زبان کے کسی لفظ میں تصرف کرے یا عربی فارسی کے کسی لفظ کے ساتھ ہندی زبان کا کوئی سابقہ یالاحقہ لگائے یا کسی لفظ پر مصدر کی علامت لگاکر کوئی نیا مصدر بنائے یا کوئی جدید تلمیح استعمال کرے، تو اس پر اعتراضات کی بوچھار ہوتی ہے اور قیامت ٹوٹی پڑتی ہے۔ یہ حضرات موجودہ زبان میں سے بہت سے الفاظ کو ترک کرتے جاتے ہیں اور اس پر فخر کا اظہار کرتے ہیں مگر ایسی کوئی تدبیر نہیں کرتے، جس سے ہماری زبان وسیع ہو، ہمارے ادبیات کا دامن فراخ ہو، ہماری لغات میں الفاظ کی تعداد زیادہ ہو، ہمارے ادائے خیالات کی قوت میں ترقی ہو۔اس میں ذرا شبہ نہیں ہے کہ زبان سے غفلت کرنا ایک ایسا گناہ ہے جو کسی طرح قابل معافی نہیں ہے۔ اخبار نویس، رسالوں کے مرتب کرنے والے، شاعر، انشا پرداز اور مصنف جنہوں نے اب تک زبان کی طرف سے غفلت کا اظہار کیا ہے، اگر چاہیں تو نئے الفاظ، نئے محاورات، نئے استعارات، نئی اصطلاحات اور نئی تلمیحات سے ہماری زبان کو مالامال کر سکتے ہیں۔ میں عام زبان کی توسیع پر یہاں اظہار خیالات نہیں کرتا، صرف تلمیحات پر بحث کرنی چاہتا ہوں۔ موجودہ تلمیحات کا بیشتر حصہ عرب وایران سے لایا گیا ہے۔ ہندوستانی تلمیحات عام بول چال میں کسی قدر ہیں، مگر وہ لائق شمار نہیں ہیں۔ ہندوستان کی زبانوں اور ان کے ادبیات سے نفرت و گریز کرنے کے بعد کوئی حق نہیں ہے کہ ہم اردو زبان کو ہندوستان کی مشترک زبان کا خطاب دیں۔اگر آپ جرمن، فرانسیسی یا انگریزی زبان کی لغات کھول کر دیکھیں، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انہوں نے تمام دنیا کی زبانوں اور ادبیات سے فائدہ اٹھایا ہے۔ کوئی مذہب، کوئی زبان، کوئی ملک اور کوئی قوم ایسی نہیں ملےگی جس کے عقائد، رسوم، اوہام، تاریخ اور ادب کے متعلق ضروری الفاظ ان ترقی یافتہ زبانوں میں موجود نہ ہوں۔ گویا انہوں نے اپنی زبانوں کے ادب کو ایک عالم گیر ادب بنا دیا ہے۔ کیا ہمارے لیے یہ بات شرم کی نہیں ہے کہ ہم نے اپنی زبان کو اب تک ہندوستانی زبان کہلانے کا مستحق بھی ثابت نہیں کیا۔ اگر ہم فراخ دل ہوتے، اگر ہم میں تعصب کی جھلک نہ ہوتی، اگر ہم کو اپنی زبان سے محبت ہوتی، اگر ہم اپنی زبان کے ساتھ اپنے وطن کی عزت بھی کرنا چاہتے تو پھر ہمارا فرض تھا کہ جتنی قومیں ہندوستان میں آباد ہیں، ان کے عقائد و اوہام، ان کے رسم و رواج اور ان کی تاریخ و ادب کے تمام ضروری الفاظ اپنی زبان میں داخل کر لیتے اور اس کا دائرہ اس قدر وسیع کرتے کہ ہندوستان کی کوئی موجودہ زبان اس کا مقابلہ نہ کر سکتی۔اگر عام بول چال میں تغیر و تبدل کرنے کا اختیار ہم نہیں رکھتے، تو یہ بات تو ہماری قدرت میں ہے کہ ہم اپنے ادبیات کا دائرہ وسیع کردیں اور اس کو ہندوستان کے تمام تعلیم یافتہ باشندوں کے لیے قابل مطالعہ اور لائق انس بنا دیں۔ اردو زبان کے بنانے میں ہندو مسلمان دونوں شریک ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ اس کے ادب میں صرف اسلامی ادبیات کے آثار موجود ہیں۔ ہندو قوم کے ادبیات کا کوئی نشان نہ ہماری نثر میں ہے نہ نظم میں۔شاید ایک معترض اس موقع پر یہ اعتراض اٹھائے کہ ہندوؤں کے مذہبی عقائد، ان کے دیوتاؤں کے قصے، ان کے شگون واوہام، ان کی تاریخ کی غیر معتبر کہانیاں اس قابل نہیں ہیں کہ مسلمان ان کو تسلیم کریں۔ حالانکہ وہ توحید کے ماننے والے ہیں اور معقول پسند ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اب بھی ہمارے ادب میں ایسی سینکڑوں باتیں داخل ہیں، جو نہ مذہب کے لحاظ سے قابل تسلیم ہیں نہ عقل کے لحاظ سے۔ اگر ہم مذہب یا عقل کا پاس کرتے ہیں، تو لازم ہے کہ ہم تمام ایسی باتوں کو اپنے ادبیات سے نکال دیں۔ یہ تو ایک الزامی جواب ہے۔ اصلی اور حقیقی جواب یہ ہے کہ شاعری اور انشاپردازی میں ایسی تمام باتیں اس لیے داخل نہیں کی گئیں کہ وہ مذہباً یا عقلاً لائق تسلیم ہیں، بلکہ اس لیے داخل کی گئی ہیں کہ وہ ادائے خیالات کے سانچے ہیں۔ مثلاً اگر کہا جائے کہ ایک دیو ہمالیہ پہاڑ کی طرح سینہ تانے کھڑا ہے اور ہندوستان کو اپنی آغوش میں لینے کے لیے تیار ہے، تو اس فقرہ سے یہ استدلال نہیں ہ وسکتا کہ اس کا کہنے والا دیو کے وجود کا قائل ہے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ ہمالیہ کے بلند سلسلہ نے ہندوستان کو ایک طرف سے گھیر رکھا ہے۔اسی طرح اگر کوئی کہے کہ ’’رزگار عنقا ہو گیا ہے۔‘‘ تو اس کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ روزگار نہیں ملتا، نہ یہ کہ اس فقرہ کا بولنے والا عنقا کے معدوم ہونے کا اظہار کر رہا ہے۔ ہر شخص جو کسی ناول یا ناٹک کو پڑھتا ہے، اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ میں ایک مصنوعی قصہ پڑھ رہا ہوں، تاہم جب کوئی ہنسی کی بات اس میں آتی ہے تو ہنس پڑتا ہے اور اگر کوئی دردانگیز واقعہ پڑھتا ہے تو اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگتے ہیں۔ فطرت انسانی کے اس گر سے ہر شاعر، ہر انشاپرداز، ہر قصہ نویس اور ہر واعظ اچھی طرح آگاہ ہوتا ہے، اس لیے وہ حقائق کو ان فرضی و خیالی باتو ں کے پیرایے میں پیش کرتا ہے، جن سے اس کے مخاطب مانوس ہوں۔ اس کو مطلق اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ لفافہ جس میں لپیٹ کر وہ اپنے خیالات نظر کے سامنے لاتا ہے، اصلی ہے یا نقلی۔ مولانا روم نے اسی نکتہ کو بیان کیا ہے، جہاں فرمایا ہے کہخوشترآں باشد کہ سرد لبراں گفتہ آید درحدیث دیگراںپس ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی زبان میں ادائے خیالات کے سانچوں کی تعداد بڑھائیں اور اس غرض سے ہندومذہب، ہندو دیومالا و ہندو تاریخ اور ہندو ادب کی تلمیحات کا اضافہ کریں، تو اس سے ہمارے مذہب اور عقل پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا۔ نہ کوئی چیز ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ان چیزوں کے وجود پر ہم یقین کریں، بلکہ اس اضافہ سے ہمیں حسب ذیل فوائد حاصل ہوں گے،(۱) مختلف خیالات کے ادا کرنے پرہم پہلے سے زیادہ قادر ہو جائیں گے۔ (۲) یہ الزام ہم پر سے دور ہوگا کہ ہم محض مذہبی تعصب کی بنا پر ہندو ادبیات سے گریز کرتے رہے۔ (۳) ہندو ہمارے ادبیات سے پیشتر کی نسبت زیادہ مانوس ہو جائیں گے۔ (۴) ہماری زبان صحیح معنوں میں ہندوستانی زبان اور ہمارا ادب صحیح معنوں میں ہندوستانی کہلانے کا مستحق ہوگا۔ (۵) ہندومسلمانوں کے اتحاد کی بنیاد مضبوط ہوگی اور حب وطن کے میدان میں آسانی سے دونوں قومیں ایک ساتھ دوڑیں گی۔اس نقطے پر پہنچنے کے بعد ہم کو لازم ہے کہ ہندوؤں کے مندرجہ ذیل ذخیرہ پر نظرڈالیں اور ان سے جدید تلمیحات حاصل کریں،(۱) رامائن (۲) مہابھارت (۳) ہندو عہد حکومت کی تاریخ (۴) ہندو افسانے، مثلاً شکنتلا، نلدمن، و کرم اروسی وغیرہ۔ (۵) ہندو دیومالا (۶) ہندو رسوم (۷) ہندو فرقوں کے حالات و خیالات۔اس کے علاوہ اسلامی ذخیرہ سے پیشتر کی نسبت زیادہ کام لینا چاہیے اور اس کے لیے ذیل کے ذخیرہ پر نظر ڈالنی اور اس سے تلمیحیں اخذ کرنی چاہئیں،(۱) قرآن مجید (۲) احادیث (۳) اسلام کی عام تاریخ(۴) اسلامی عہد حکومت ہند کی تاریخ(۵) مثنوی مولانا روم(۶) الف لیلہ(۷) شاہنامۂ فردوسی(۸) اردو زبان کے مشہور قصے (مثلاً مولانا نذیر احمد کے تصنیف کردہ قصے) بوستان خیال، داستان امیر حمزہ، چہار درویش، آرائش محفل یعنی قصہ حاتم طائی، فسانۂ عجائب، بدر منیر وغیرہ(۹) اسلامی تصوف کی کتابیںہندو اور اسلامی ذخیرہ کے علاوہ ذیل کے مواد سے بھی تلمیحیں مل سکتی ہیں،(۱) عیسائیوں کے مذہبی عقائد و رسوم(۲) انگریزوں کی عام تاریخ(۳) انگریزوں کے عہد حکومت ہند کی تاریخ(۴) سکھوں کے مذہبی عقائد و رسوم(۵) پارسیوں کے مذہبی عقائد و رسوم(۶) بودھ مت کے مذہبی عقائد و رسوم(۷) راجپوتوں کی تاریخ(۸) مرہٹوں کی تاریخجدید تلمیحات کی مثالیں\nیہاں ہم مثال کے طور پر چند ہی تلمیحات کا ذکر کرتے ہیں مثلاً ذیل کی تلمیحات پر غور کرو۔ کال کوٹھری یا بلیک ہول (انگریزی عہد حکومت ہند کی تاریخ سے) پادشاہ گر (اسلامی عہد حکومت ہند کی تاریخ سے) الہ دین کا چراغ، تسمہ پا (الف لیلہ سے) کالی موت (یورپ کی عام تاریخ سے) چالیس ٹھگ (الف لیلہ سے) کھل سم سم! بند ہو سم سم! (الف لیلہ سے) حمام باد گرد (قصہ حاتم طائی سے) خوجی (فسانہ آزاد سے) ظاہر دار بیگ (توبۃ النصوح سے) فطرت (توبۃ النصوح سے) کلیم (توبۃ النصوح سے) بود لامہ (اسلامی تاریخ سے) رستم یک دست (شاہنامہ فردوسی سے) رشک حمار (خدائی فوج دار سے) خواجہ سگ پرست (چہار درویش سے) دیو سفید (شاہنامۂ فردوسی سے) گلابو (خدائی فوجدار سے) دیوانی پارلیمنٹ (انگریزوں کی عام تاریخ سے) پگوڈا (بودھ مت والوں کے مذہب سے) جمیل فتا (راجپوتوں کی تاریخ سے) عشائے ربانی (عیسائیوں کے مذہب سے) نوشابہ (سکندر نامہ سے) جان عالم کا طوطا (فسانۂ عجائب سے) کل کا گھوڑا (بدر منیر سے) نروان (بودھ مت والوں کے مذہب سے) دخمہ (پارسیوں کے مذہب سے) امرت (سکھوں کے مذہب سے) کرپان (سکھوں کے مذہب سے) ژندہ بار (پارسیوں کے مذہب سے) مہ آباد (پارسیوں کی تاریخ سے) بہنام (پارسیوں کے مذہب سے) خوجی کی قرولی (فسانۂ آزاد سے۔)رستم و اسفندیار کی سرزمین سے ایران مراد ہے۔ طلوع آفتاب کی سرزمین سے جاپان مراد ہے۔ آسمانی سلطنت سے چین کی سلطنت مراد اور فراعنہ کی سرزمین سے مصر کا ملک مراد ہے۔ دیوتاؤں کی سرزمین سے ہندوستان سمجھو۔ روحانیت کی سرزمین ایشیا، مادیت کا گہوارہ یورپ، کروڑپتیوں کا ملک امریکہ، عہد ظلمت (یورپ کی تاریخ سے) عہد اصلاح (یورپ کی تاریخ سے) تاریک براعظم سے افریقہ مراد ہے۔\n\nہندو ادبیات کی تلمیحیں\n\nنئی تلمیحات کی جو مثالیں ہم نے دی ہیں وہ بہت ہی کم ہیں۔ اگر ہم عام ذخیرہ کو سامنے رکھ کر تلاش کریں، تو بلاشبہ بہت سی نئی تلمیحات ملیں گی، مگر ہم اس موقع پر خصوصیت کے ساتھ ان تلمیحات کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جو ہندو ادبیات سے لی جا سکتی ہیں اور جن سے ہمارے ادب کے قالب میں نئی روح پیدا ہو سکتی ہے اور جن کے اضافہ کے بعد ہم اپنی زبان اور ادب کو دونوں قوموں کا مشترک سرمایہ کہہ سکتے ہیں۔ ذیل کی تلمیحات پر غور کی نظر ڈالو اور دیکھو کہ شاعری اور انشاء پر دازی میں ان سے کیا کام لیا جا سکتا ہے اور کون سے خیالات ان سانچوں میں ڈھالے جا سکتے ہیں۔ساوتری راجہ اشوپتی کی لڑکی تھی۔ وہ اپنے شوہر ستیوان پر دل سے فریفتہ تھی۔ شادی کے بعد اسے معلوم ہوا کہ وہ ایک سال سے زیادہ زندہ نہ رہےگا۔ موت کے وقت اس نے فرشتہ موت یم سے اس قدر التجائیں کیں اور اس قدر اصرار کیا کہ وہ ستیوان کی روح قبض کرنے سے باز رہا۔ یم مردوں کی روحوں کا دیوتا ہے۔ اس کا رنگ سبز ہے۔ پوشاک سرخ ہے۔ ایک ہاتھ میں بھالا، دوسرے ہاتھ میں پھانسی کی رسی ہے۔ ایک بھینسے پر سوار رہتا ہے۔ یم پوری وہ مقام ہے، جہاں وہ رہتا ہے۔ کالی چی اس کے محل کا نام ہے۔ اس کے ملازم یم دوت کہلاتے ہیں۔ جب کوئی مرتا ہے تو، یم دوت اس کی روح کو لاحاضر کرتے ہیں۔ اس کی نیکیوں اور بدیوں کا دفتر کھولا جاتا ہے۔ پھر آخری حکم اس کی نسبت صادر کیا جاتا ہے کہ وہ پتھروں میں داخل ہو یا دوزخ میں جائے، یا دنیا میں کسی اور صورت میں پھر جنم لے، دو خوفناک کتے اس کی گزرگاہ کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی چار آنکھیں ہیں۔ نتھنے کشادہ ہیں۔ وہ یم کی طرف سے موت کا پیغام پہنچاتے ہیں۔شت روپا سب سے پہلی عورت ہے، جو دنیا میں پیدا ہوئی، جسے مسلمانوں کے نزدیک حوا کہتے ہیں۔ برہما جی نے اپنے جسم کے دو حصے کیے۔ ایک حصے سے ایک مرد بنایا جس کا نام وراج ہے۔ دوسرے حصے سے عورت اور وہ یہی شت روپا ہے۔شکنتلا راجہ بھرت کی والدہ کا نام ہے۔ یہ وہی بھرت ہے جس کے نام سے ہندوستان کا نام بھارت ورش ہوااور جس کی اولاد جنگ مہابھارت میں معرکہ آرا ہوئی۔ یہ نامور رشی وشوامتر کی لڑکی تھی، مگر رشی کنونے اس کی پرورش کی اور اب اسی کی بیٹی کہلاتی ہے۔ جب یہ جوان ہوئی، تو اتفاق سے راجہ دوشینت سیروشکار کی تقریب سے رشی کنو کے آشرم کے قریب جا نکلا اور اس کو دیکھ کر فریفتہ ہو گیا۔ شکنتلا نے اس کے ساتھ شادی کر لی، مگر اس کے ساتھ نہیں گئی۔ چلتے وقت راجہ نے اپنی انگشتری بطور محبت کی یادگار کے اس کو دی۔ راجہ کے جانے کے بعد شکنتلا اس کی محبت میں ازخود رفتہ رہنے لگی۔ ایک دن ایک رشی اس رشی سے ملنے کے لیے آیا، جس نے اس کی پرورش کی تھی۔ شکنتلا نے عاشقانہ بیخودی کے عالم میں رشی مذکور کی تعظیم نہیں کی۔ اس نے بددعا دی کہ تیرا شوہر تجھے بھول جائے گا۔ شکنتلا نے نادم ہوکر معافی مانگی۔ رشی مذکور نے اپنی بد دعا میں اس قدر ترمیم کی کہ جب راجہ دوشینت اپنی انگشتری دیکھےگا تو اس کے دل میں تیری یاد تازہ ہو جائےگی۔شکنتلا جب حاملہ ہوئی، تو اپنے خاوند کے پاس جانے لگی۔ رستے میں وہ ایک چشمے میں نہانے کے لیے اتری۔ اتفاق سے انگشتری اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور چشمے میں گر پڑی مگر اس کو خبر نہیں ہوئی۔ جب وہ راجہ کے پاس پہنچی تو اس نے نہیں پہچانا۔ مجبوراً اس کی والدہ اسے جنگل میں واپس لے آئی۔ یہاں اس کے بطن سے بھرت پیدا ہوا۔ کچھ عرصے کے بعد ایک ماہی گیر اس چشمے کے کنارے پہنچا، جہاں شکنتلا نے غسل کیا تھا۔ ایک مچھلی اس کے جال میں آئی۔ جب اس کا پیٹ چاک کیا، تو اس میں سے ایک انگشتری نکلی۔ ماہی گیر وہ انگشتری راجہ دوشینت کے پاس لے گیا۔ راجہ نے اپنی انگشتری کو پہچانا۔ فوراً اس کے دل میں شکنتلا کی یاد تازہ ہوئی۔ اس نے جنگل سے اس کو اور اس کے لڑکے بھرت کو اپنے پاس بلا لیا۔ارجن راجہ پانڈو کا بیٹا رانی کنتی کے بطن سے تھا۔ اس کی بہادری، سپہ گری اور تیراندازی کی داستانیں مشہور ہیں۔ وہ اپنے تیروں سے بارش اور ہوا کو روک دیتا تھا اور اگر چاہتا، تو ان سے آگ اور پانی برساتا تھا۔ جنگ کے وقت وہ کبھی بلند قامت نظر آتا تھا، کبھی پست قد، کبھی لاغر دکھائی دیتا تھا اور کبھی فربہ۔ دروپدی کے سوئمبر میں بہت سے شاہزادے اور بہادر آدمی حاضر تھے مگر دروپدی کو اس کے سوا کوئی حاصل نہ کرسکا۔ اگنی دیوتا نے اس کو اپنی کمان عطا کی تھی۔ شیوجی نے اپنا طاقتور ہتھیار پشوپت دیا ہے۔ خود ورن اور یم دیو تاؤں نے بھی اسے خاص اسلحہ عنایت کیے تھے۔ اندر دیوتا نے ایک سنکھ دیا تھا۔ پھونکنے کے وقت اس سے بادل کی گرج پیدا ہوتی تھی۔ مہابھارت کی جنگ میں اس نے کوروؤں کا ناطقہ بند کردیا تھا اور بہادری اور دلیری کے بڑے بڑے کارنامے دکھائے۔ایک عہد شکنی کے سبب اسے بارہ برس تک جلاوطن رہنا پڑا۔ جب راجہ یدھشٹر نے ایک گھوڑا اس غرض سے چھوڑا کہ وہ تمام ہندوستان میں ہر راجہ کی عملداری سے گزرے اور تمام راجہ یہ جان کر کہ راجہ یدھشٹر سب سے بڑا راجہ ہے، اس گھوڑے کے پیچھے چلا، تاکہ اگر کوئی راجہ یدھشٹر کے دعوے کو رد کرے اور گھوڑے کو گرفتار کرنا چاہے، تو اس سے جنگ کرے۔ چنانچہ بہت سے راجاؤں سے ارجن لڑا۔ اور گھوڑے کو بہ حفاظت تمام واپس لایا۔ گویا اس کی بہادری کے سبب سے راجہ یدھشٹر چکرورتی راجہ مان لیا گیا۔ سری کرشن جی مہابھارت کی جنگ میں ارجن کے رتھ بان تھے۔ اردوزبان کے قدیم شاعروں نے ارجن کی تیراندازی اور کمانداری کا ذکر تلمیحاً کیا ہے۔سدیومن کا ذکر پرانوں میں آتا ہے۔ لکھا ہے کہ منودئی دسوت کو بڑی آرزو تھی کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہو۔ اس خیال سے اس نے ورُن اور متردیوتاؤں کے نام پر ایک یگ کیا، مگر یک کے انتظام میں کچھ غلطی واقع ہوئی۔ اس لیے لڑکے کی جگہ لڑکی پیدا ہوئی۔ اس کا نام رلا رکھا گیا۔ منودیٔ دسوت نے جب بہت التجا کی تو دیوتاؤں نے رلا کو لڑکے کی شکل میں تبدیل کردیا۔ اب اس کا نام سدیومن ہوا۔ جوان ہونے پر سدیومن سیر و شکار کی غرض سے اتفاقاً اس جنگل میں جانکلا جس کو شیوجی نے بددعا دی تھی۔ بددعا کے اثر سے جنگل کا یہ خاصہ ہو گیا تھا کہ اگر کوئی مرد وہاں قدم رکھتا تھا، تو عورت بن جاتا تھا۔ چنانچہ سدیومن اس جنگل میں پہنچتے ہی پھر عورت ہو گیا۔ اس کے بعد شیوجی کی عنایت سے یہ بات حاصل ہو گئی کہ وہ ایک مہینے مرد رہتا تھا اور ایک مہینے عورت۔ دونوں حالتوں یعنی مردانی اور زنانی حالت میں اس سے اولاد ہوئی۔اروشی بہشت کی ایک اپسرا یعنی حور تھی۔ ورن اور متردیوتاؤں نے اس کی کسی حرکت سے ناراض ہوکر بددعا دی تھی۔ اس سبب سے وہ زمین پر پھینکی گئی۔ یہاں راجہ پورو جو وکرم کے نام سے مشہور ہے، اس پر فریفتہ ہوا۔ اس نے چند شرائط کے ساتھ راجہ کی بیوی بن کر رہنا منظور کیا۔ ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ بجز خاص وقت کے میرے سامنے کبھی برہنہ نہ ہونا۔ دوسری شرط یہ تھی کہ دو مینڈھے جن کو میں عزیز رکھتی ہوں میرے بستر کے قریب بندھے رہیں اور تمہیں ان کی حفاظت کرنی پڑے گی۔ کچھ عرصہ کے بعد راجہ اندر نے چاہا کہ اروشی بہشت میں واپس بلائی جائے۔ جو جاسوس اس کام کے لیے مامور ہوئے تھے، انہوں نے اندھیری رات میں آکر دونوں مینڈھے چرا لیے۔اروشی نے غل مچایا تو راجہ برہنگی ہی کی حالت میں تلوار ہاتھ میں لے کر چوروں کے تعاقب میں نکلا۔ راجہ اندر کے جاسوسوں نے عین اسی وقت بجلی چمکائی، جس کے سبب راجہ کابرہنہ جسم اروشی کو نظر آیا۔ عہد ٹوٹ گیا۔ وہ راجہ کی نظر سے فوراً غائب ہو گئی اور بہشت میں جا پہنچی۔ وکرم اس کے فراق میں سخت ملول رہتا تھا اور آوارہ پھرنے لگا۔ اتفاقاً اس نے کر کشیتر کے تالاب میں اروشی کو اپنی چار سہیلیوں کے ساتھ نہاتے دیکھا۔ اس وقت اس نے راجہ سے کہا کہ میں حاملہ ہوں۔ ایک سال گزرنے پر تمہارے پاس آؤں گی اور صرف ایک رات ٹھیروں گی۔ چنانچہ مدت مذکور گزرنے پر وہ راجہ کے پاس آئی۔ لڑکا جو اس کے بطن سے پیدا ہوا تھا، راجہ کے حوالے کیا۔ رات بھر ٹھیر کر واپس چلی گئی۔ آخر دیوتاؤں کے مشورہ سے راجہ نے ایک یگ کیا اور اس کے صلہ میں اروشی کے ساتھ رہنے کی اجازت مل گئی۔ اروشی اور وکرم کی محبت کا فسانہ ملک الشعراء کالی داس نے نہایت فصاحت سے اپنے ایک ناٹک میں بیان کیا ہے۔سوریہ سورج سے مراد ہے۔ یہ بھی ایک دیوتا ہے۔ اس کے بہت سے القاب ہیں۔ مثلاً روشن دن کا مالک، چشم عالم، سنہری کرنوں والا وغیرہ۔ اس کے رتھ کے آگے سات گھوڑے جوتے جاتے ہیں۔ اس کا قد کوتاہ، آنکھیں سرخ اور رنگ تانبے کا سا ہے۔ اس کی بیوی کا نام سنجنا ہے، جو وشوکرما کی لڑکی تھی۔ سنجنا اس کے جلوے کی تاب نہ لاکر اس سے جدا ہو گئی تھی مگر وشوکرما نے سوریہ کو خراد پر چڑھاکر پاؤں کے سوا ہر طرف سے چھیل ڈالا، جس سے اس کی روشنی کا آٹھواں حصہ کم ہو گیا۔ پھر سنجنا اس کے ساتھ رہنے لگی۔ سورج بنسی راجا سوریہ ہی کے نسل سے ہیں۔سوم چاند کو کہتے ہیں۔ یہ بھی دیوتا ہے۔ نباتات کا پرورش کرنے والا اور عابدوں کا نگہبان کہلاتا ہے۔ اس نے وکش کی ستائیس لڑکیوں سے بیاہ کیا۔ یہی لڑکیاں ہیں جنہیں نچھتر یعنی چاند کی منزلیں کہتے ہیں۔ چندر بنسیوں کا سلسلہ سوم ہی سے چلا ہے۔ جس رتھ پر وہ سوار ہوتا ہے، اس کے تین پہئے ہیں۔ سفید رنگ کے دس گھوڑے اس رتھ کو کھینچتے ہیں۔ اس کے بہت سے صفاتی نام ہیں۔ مثلاً ٹھنڈی کرنوں والا، سفید کرنوں والا، ستاروں کا مالک، رات کا روشن کرنے والا وغیرہ۔کام جسے کام دیو بھی کہتے ہیں، عشق کا دیوتا ہے۔ جب خدا نے چاہا کہ دنیا کو پیدا کرے، اس وقت کام خود اس کے دل میں پیدا ہو گیا۔ یہ بہشت کی حوروں اور آسمانی پریوں کا مالک ہے۔ تیر کمان اس کے ساتھ ہیں۔ حوروں اور پریوں کے جمگھٹ ہیں۔ ہاتھ میں سرخ رنگ کا ایک علم ہے، جس کے پھریرے پر مچھلی کانشان ہے۔ اس کے بہت سے صفاتی نام ہیں۔ مثلاً حسین، شعلہ زن، شادماں، شوخ و شنگ، سراپا خرمی، مردم فریب شمع بہار، چٹختا انگارہ، عصائے قہر، حسن کا ہتھیار، صلح شکن، عیاش، دنیا کا اتالیق، کان محبت، پھولوں سے مسلح۔لچھمی یا لکشمی دولت کی دیوی ہے، دیوتاؤں اور اسروں نے سمندر کو بلویا تھا، تو اور رتنوں کے ساتھ لچھمی بھی سمندر سے کنول کا پھول ہاتھ میں لیے نکلی تھی۔ جب سری رام چندر جی نے اوتار لیا تو یہ سیتاجی کی شکل میں نمایاں ہوئی، سری کرشن جی کے زمانے میں اس نے رکمنی کا قالب اختیار کیا۔ دولت وحشمت کی دیوی ہونے کے سبب ہر جگہ اس کی پرستش کی جاتی ہے۔ اس کو ہیرا، اندر اور چنچلا بھی کہتے ہیں۔ اگنی قدیم زمانہ کا دیوتا، اس کی تین شکلیں ہیں۔ آسمان پر سورج، ہوا پر بجلی، زمین پر آگ۔ اس کی سات زبانیں ہیں، ہون کے وقت آگ میں جو گھی ڈالا جاتا ہے، یہ ان زبانوں سے اس گھی کو چاٹتا ہے۔ اس کی پوشاک سیاہ رنگ کی ہے۔ سرپر دھوئیں کا تاج ہے۔ ایک روشن ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہے۔ سات ہوائیں اس کے رتھ کے پہئے ہیں۔ سرخ رنگ کی گھوڑی اس کے رتھ میں جوتی جاتی ہے۔ ایک مینڈھا اس کے ساتھ رہتا ہے۔ کبھی کبھی یہ دیوتا اس پر سوار ہوتا ہے۔اندر آسمان، ہوا، بادل، بہشت اور حوروں کا مالک ہے۔ اس کا درجہ سب دیوتاؤں سے بڑا ہے۔ اگنی کی طرح ویدوں کی بہت سی رچائیں اس کی طرف بھی منسوب ہیں۔ اس کا رنگ لال کندن جیسا ہے۔ بازو لمبے لمبے ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے جو شکل چاہے اختیار کر لیتا ہے۔ اس کی سواری کا رتھ چمکیلا ہے۔ دوسرخ رنگ کے گھوڑے اس میں جوتے جاتے ہیں۔ اس کاخاص ہتھیار وجر ہے۔ کمان اور جال بھی ساتھ رکھتا ہے۔ چونکہ وہ ہواؤں کا مالک ہے۔ اس لیے موسموں کا انتظام اور بارش کا اہتمام اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ برق اور رعد کو مناسب موقعوں پرمامور کرتا ہے۔ بارش برساتا ہے۔ بجلی چمکاتا ہے۔ زمینوں کو سرسبز کرتا ہے۔ بجلی اور طوفان پر حکمرانی کرتا ہے۔ اس کے بدن پر ہزار آنکھوں کے نشان ہیں۔راون والی لنکا کا بیٹا میگھ ناد اس کو گرفتار کرکے نکال لے گیا تھا۔ اسی سبب سے میگناد کو اندر جیت کہتے ہیں۔ لو دیوتا اسے لنکا سے چھڑا کر لائے۔ وہ رشیوں کی عبادت میں خلل ڈالنے کے لیے ان کو اندر کی پرستش سے منع کیا کرتا تھا۔ اندر نے ناراض ہوکر ان کی سزا کے لیے بارش کا طوفان بھیجا۔ سری کرشن جی گووردھن پہاڑ کو اپنی ایک انگلی پر لے کر کھڑے ہو گئے۔ تمام برج باشی اس پہاڑ کے نیچے آ گئے اور ان کو طوفان سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ وہ ایک سفید ہاتھی پر سوار ہوتا ہے، جس کا نام اراوت ہے۔ اس کے کئی صفاتی نام ہیں۔ مثلاً وجر والا، دیوتاؤں کا سردار، ہوا کا مالک، بہشت کا مالک۔ اس کے دارالحکومت کے نام امراوتی، اور اس کے رتھ کا نام ومان ہے۔مہادیوی یا پاربتی، شوجی کی بیوی کو کہتے ہیں۔ مختلف صفات و افعال کے لحاظ سے اس کے مختلف نام ہیں۔ مہربانی کی حالت میں وہ حسب ذیل ناموں سے پکاری جاتی تھی:مادر دنیا، زردفام اور درخشاں، ہر دم شادماں، متوالی آنکھوں والی۔ مگر جب غضب ناک ہوتی ہے تو حسب ذیل ناموں سے پکاری جاتی ہے: درگا، کالی، خوفناک، غضب ناک، لال دامنوں والی۔ اس کے دس ہاتھ ہیں۔ ہر ہاتھ میں ایک ہتھیار ہے۔ اس کا رنگ زرد ہے۔ حسن و جمال اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ یہ عام حالت ہے۔ مگر غصے کی حالت میں اس کا رنگ سیاہ ہوتا ہے۔ ہاتھوں اور دانتوں سے خون ٹپکتا ہے۔ سانپ اس کے جسم کو حلقہ کیے ہوتے ہیں۔ گلے میں سروں اور کھوپڑیوں کی مالا ہوتی ہے۔ اس کی پرستش اسی حالت میں کی جاتی ہے۔ اس کی مورتی کے سامنے خون کبھی خشک ہونے نہیں پاتا۔اہراون پاتال کا راجہ تھا۔ لنکا کی لڑائی میں جب میگھ ناد اور کمبھ کرن مارے جا چکے، تو راون نے اس سے مدد طلب کی۔ وہ بھویشن کے لباس میں سری رام چندر جی کے لشکر میں داخل ہو گیا۔ کسی نے اس کو نہیں پہچانا۔ سری رام چندر جی اور لچھمن جی دونوں اس وقت سو رہے تھے۔ وہ دونوں کو غفلت کی حالت میں اٹھا لے گیا۔ پاتال پہنچ کر اس نے چاہا کہ اپنے دیوتا کے سامنے دونوں کو ذبح کرے۔ ہنومان جی کو جب اس واقعہ کی خبر ہوئی تو فوراً پاتال گئے۔ وہاں یگ ہونے کو تھا۔ تمام سامان فراہم کر لیا گیا تھا۔ ہنومان جی یگ کا سارا سامان کھا گئے۔ اہراون کو قتل کیا۔ دونوں بھائیوں کو واپس لشکر میں لے آئے۔برہما، مخلوق کو پیدا کرنے والا دیوتا۔ رنگ سرخ ہے۔ چار سر اور چار منہ ہیں۔ چار ہاتھ اور آٹھ کان ہیں۔ ایک ہاتھ میں تلوار اور ایک ہاتھ میں کمان، ایک میں مالا اور ایک میں وید ہیں۔ برہما جی کی سواری ہنس ہے۔ یہ وشنو جی کی ناف سے پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا ایک دن دوارب سولہ کروڑ سال کے برابر ہے۔بلرام، سری کرشن جی کے بڑے بھائی ہیں۔ ان کا رنگ گورا تھا اور سری کرشن جی کا سانولا۔ دونوں وشنو جی کے اوتار ہیں جنہوں نے سفید اور سیاہ رنگ میں ظہور کیا ہے۔ مرتے وقت ان کے منھ سے ایک سانپ نکلا تھا۔ اس لیے ان کو شیش ناگ کا اوتار بھی کہتے ہیں۔ بلرام جی شراب پیا کرتے تھے۔ سری کرشن پرہیزگار تھے۔ بلرام جی نہایت تند مزاج تھے۔ مگر سری کرشن جی نرم طبیعت رکھتے تھے۔ بلرام جی کے ہتھیار ہل اور موسل ہیں۔رام یعنی سری رام چندر جی، راجہ دسرتھ کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ راجہ جنک کی بیٹی سیتا سے ان کی شادی ہوئی۔ راجہ جنک نے جب سوئمبر کا جلسہ منعقد کیا، تو شرط یہ کی کہ جو بہادر آدمی میری کمان کو خم کردے گا، سیتا کی شادی اسی سے کر دی جائےگی۔ یہ کمان راجہ مذکور کو وشنو نے عطا کی تھی۔ سری رام چندر جی نے اس کمان کے تین ٹکڑے کرڈالے۔ سوئمبر کی شرط کو پورا کر دیا۔ شادی کے بعد راجہ دسرتھ نے سری رام چندر جی کو تخت پر بٹھانا چاہا۔ مگر بھرت کی والدہ رانی کیکئی نے ایک باندی کے بہکانے سے راجہ کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ بھرت کو تخت پر بٹھائے اور رام چندر جی چودہ برس تک جلاوطن رہیں۔ سری رام چندر جی نے باپ کا کہنا منظور کیا۔ لچھمن جی اور سیتا کو ساتھ لے کر جنگل کو روانہ ہوئے۔ ان کی روانگی کے بعد راجہ دسرتھ کا انتقال ہو گیا۔ بھرت نے چترکوٹ پہنچ کر سری رام چندر جی کو واپس چلنے اور تخت نشین ہونے کی صلاح دی مگر انہوں نے یہ بات منظور نہیں کی۔ مجبوراً بھرت ان کی کھڑاؤں لے گیا اور ان کو تخت پر رکھ کر خود بطور نائب السلطنت کے راج کرنے لگا۔دریائے گوداوری کے کنارے پنچ وٹی میں راون والی لنکا کی بہن سری رام چندر جی پر عاشق ہو گئی۔ بہت چاہا کہ ان کو اپنی طرف مائل کرے مگر کچھ اثر نہیں ہوا۔ لچھمن جی نے اس گستاخی پر اس کے کان اور ناک کاٹ ڈالے۔ وہ روتی پیٹتی اپنے بھائی کے پاس پہنچی۔ نیز اس نے سیتاجی کے حسن و جمال کی تعریف اس قدر کی کہ راون ان کے بھگا لینے پر آمادہ ہو گیا۔ چنانچہ عین اس وقت جب کہ سری رام چندرجی اور لچھمن جی شکار کو گئے ہوئے تھے، راون آیا۔ سیتاجی کو جبر سے اپنے ساتھ لے گیا۔ دونوں بھائی جب شکار سے واپس آئے تو یہ واقعہ معلوم ہوا۔ راجہ سکھ دیو جو ان اطراف میں حکمران تھا، اس کے جنرل ہنومان نے لنکاپر چڑھائی کرنے میں مدد دی۔ ہنومان سمندر پھاند کر لنکا پہنچا اور سیتاجی کی خبر لایا۔ پھر سمندر پر پل باندھا گیا۔ بندروں اور ریچھوں کی فوج ہنومان کی سرکردگی میں لنکا پہنچی۔ راون کے ساتھ جنگ کی گئی۔ راون کے بیٹے اور اس کا بھائی اور خود راون اس لڑائی میں قتل ہوا۔ لنکا فتح ہوئی اور سیتاجی نے قید سے رہائی پائی۔راون والی لنکا بہت شریر، ظالم اور بدی کا پتلا تھا۔ اس کے دس سر تھے، بیس ہاتھ تھے۔ آنکھیں سرخ تھیں۔ صورت خوفناک تھی۔ اس میں اس قدر طاقت تھی کہ وہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہلا سکتا تھا۔ سمندر کو متحرک کر سکتا تھا۔ دیوتا اس کی خدمت انجام دیتے تھے۔ اگنی دیوتا باورچی کا کام کرتا تھا۔ ورن دیوتا پانی پہنچاتا تھا۔ کویر دیوتا دولت مہیا کرتا تھا۔ وایو دیوتا اس کے محلات میں جھاڑو دیتا تھا۔ لنکا جس میں وہ حکومت کرتا تھا، اس کے تمام مکانات سونے سے مغرق تھے اور جگ مگ جگ مگ کر رہے تھے۔گویر خزانوں کا دیوتا ہے۔ کوہ ہمالیہ پر ایک شہر الکا ہے، جہاں اس کا قیام ہے۔ سونا، چاندی اور جواہرات سب اس کے قبضہ میں ہیں۔ اس کا رنگ سفید ہے۔ اس کے تین پاؤں ہیں۔ آٹھ دانت ہیں۔ سارا جسم زیورات سے ڈھکا ہے۔ اس کو دھن پتی یعنی دولت کا مالک اور رتن پتی یعنی جواہرات کا مالک کہتے ہیں۔ وایو ہواؤں کا دیوتا ہے۔ اندر دیوتا کا رفیق ہے۔ اکثر اس کے ساتھ ایک ہی رتھ پر سوار ہوتا ہے۔ خود اس کا رتھ طلائی ہے، جس میں ہزار گھوڑے جوتے جاتے ہیں۔ خوشبویوں کا حامل اور دایم رواں اس کے صفاتی نام ہیں۔ ورن، سمندروں اور دریاؤں کا دیوتا ہے۔ اس کا صفاتی نام جل پتی ہے۔ اس کی سواری کا جانور مگرمچھ ہے۔ سرسوتی علم، عقل اور شاعری کی دیوی ہے۔ رنگ سفید ہے، ہاتھ میں کتاب ہے۔ سفید کنول کے پھول پر جلوہ افروز ہے، برہما جی اس کے شوہر ہیں۔کورم اوتار، اس اوتار کی شکل کچھوے جیسی ہے۔ ایک دفعہ دیوتاؤں کے مقابلے میں دیتوں نے غلبہ پایا۔ اندر کی حکومت میں بھی خلل آ گیا۔ برہما جی اور نارائن جی کی ہدایت سے دیوتاؤں نے مشورہ کیا کہ سمندر کو بلواکر اس میں امرت یعنی آب حیات نکالیں اور اس کو نوش کرکے دیتوں کا مقابلہ کریں اور ان کو مار کر آرام کی زندگی بسر کریں۔ چنانچہ سمندر کے بلونے کے لیے کوہِ بندھیاچل کی رئی بنائی گئی۔ شیش ناگ کی رسی بناکر اس کے گرد لپیٹی اور سمندر کو سب دیوتاؤں نے بلونا شروع کیا، مگر کوہ بندھیاچل اپنے وزن کے سبب سمندر میں ڈوبا جاتا تھا اور ایک مقام پر کھڑا نہیں رہتا تھا۔ کورم اوتار نے کچھوے کے روپ میں ظہور کیا۔ وہ سمندر میں اتر گیا اور کوہ بندھیاچل کو اپنی پشت پر جمالیا۔ سمندر بلونے سے حسب ذیل چودہ رتن برآمد ہوئے،(۱) امرت یعنی آب حیات۔ اسے دیوتاؤں نے پی لیا۔ (۲) دھنوتری طبیب۔ یہ ایک ہاتھ میں جونک اور ایک ہاتھ میں ہلیلہ لیے برآمد ہوا۔ (۳) لچھمی دیوی۔ یہ وشنو جی کے حصے میں آئی۔ (۴) شراب۔ اسے دیتوں نے نوش کیا۔ (۵) چاند۔ یہ شیوجی کے حصے میں آیا ہے۔ (۶) رمبھا۔ یہ ایک حسین بہشتی حور تھی۔ (۷) اچھی شرو۔ یہ ایک اعلیٰ صفت گھوڑے کا نام ہے۔ اسے سوریہ نے لیا۔ (۸) کوسنبہ منی۔ اسے وشنو جی نے لیا۔ (۹) پارجات جسے کلپ برکش بھی کہتے ہیں۔ یہ ایک بہشتی درخت تھا۔ (۱۰) سُربھی۔ یہ ایک اعلیٰ صفت گائے تھی، جو رشیوں کو دی گئی۔ (۱۱) اراوت۔ یہ ایک نایاب ہاتھی تھا۔ جو اندر کے حصے میں آیا۔ (۱۲) سنکھ۔ جس کو پھونکنے سے بادل کی گرج پیدا ہوتی تھی۔ یہ وشنوجی نے لیا۔ (۱۳) کمان، یہ ایک عجیب کمان تھی۔ (۱۴) وِش۔متسیہاس کے معنی ہیں مچھلی، یہ ایک اوتار کا نام ہے۔ راجہ منو جس نے دو لاکھ برس ریاضت کی تھی، ایک دفعہ دریائے کرت مالامیں اشنان کر رہا تھا۔ یکایک خوبصورت مچھلی اس کے ہاتھ آئی۔ راجہ اسے ایک رات دن ہاتھ میں لیے رہا اور اس کی خوبصورتی کو دیکھتا رہا، پھر اسے ایک گھڑے میں ڈالا، مگر وہ گھڑے میں نہ سمائی، راجہ نے اسے ایک کنویں میں ڈال دیا مگر کنوئیں میں بھی نہ سما سکی۔ کنوئیں سے نکال کر اسے ایک تالاب میں پہنچایا۔ جب تالاب میں بھی اس کی گنجایش نہ ہوئی تو دریائے گنگا میں ڈالی گئی۔ یہاں بھی اس نے ہاتھ پاؤں پھیلائے، اور سارے دریا میں نہ سما سکی۔ مجبوراً اسے سمندر میں پہنچایا۔ یہاں پہنچ کر وہ اس قدر پھیلی کہ تمام سمندر پر چھا گئی۔ اب راجہ سمجھا کہ یہ خدائی اسرار ہے۔ مچھلی نے راجہ سے کہا کہ ایک ہفتے کے بعد دریائے جلال موج زن ہوگا۔ طوفان کے سبب ساری دنیا پانی میں غرق ہو جائےگی۔ تم فلاں کشتی پر دیوتاؤں کے ساتھ بیٹھ جانا اور کشتی کو میرے اس سینگ سے جو پیشانی سے نکلا ہوا ہے، باندھ دینا۔ چنانچہ طوفان آیا اور سترہ لاکھ اٹھائیس ہزار برس تک رہا۔ تمام دنیا تباہ ہو گئی۔ صرف منو اور اس کے ہم راہی محفوظ رہے۔ پھر منو کی نسل سے دنیا دوبارہ آباد ہوئی۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک سرکش دیت جس کا نام سنکھا سر تھا، ویدوں کو چراکر سمندر میں چھپ گیا تھا۔ برہما جی کے فریاد کرنے پر یہ اوتار سمندر کی تہہ میں پہنچا اور دیت مذکور کو ہلاک کرکے ویدوں کو واپس لایا۔وامن اوتار جس کو باون اوتار بھی کہتے ہیں۔ اس اوتار کے ظہور کا واقعہ برہمنوں نے اس طرح بیان کیا ہے۔ دیتوں کا ایک راجہ تھا جسے راجہ بلی کہتے ہیں۔ اس نے تینوں لوک اپنے قبضہ میں کر لیے تھے۔ دیوتاؤں کو شکست دے کر ان کا ملک چھین لیا تھا۔ دیوتاؤں کی حمایت کے لیے یہ اوتار نمایاں ہوا۔ عین اس وقت جب کہ راجہ بلی یگ کر رہا تھا، یہ اوتار اس کے پاس پہنچا اور اس سے تین قدم کی زمین کا سوال کیا۔ راجہ نے اس سوال کو حقیر سمجھ کر کہا سوال میرے درجہ کے مطابق ہونا چاہیے۔ وامن نے اپنے سوال پر اصرار کیا۔ راجہ نے اجازت دی کہ تین قدم ناپ کر زمین لے لے۔ وامن نے ایک قدم اوپر کے لوک پر رکھا۔ دوسرے قدم سے درمیانی لوک کو ناپا۔ تیسرے قدم کے لیے کہا کہ ساری زمین میرے ایک قدم کے برابر ہے۔ راجہ اپنے اقرار پر ثابت قدم رہا اور اپنے تئیں اس کے قدموں پر ڈال دیا۔ وامن جی نے خوش ہوکر پاتال کا ملک اسے بخش دیا اور دیتوں کی صفات اس سے دور کر دیں۔وراہ اوتار اس اوتار کی ظہور کا سبب یہ ہے کہ ایک نہایت سرکش اور طاقتور دیت ہرناکش نامی زمین کو چراکر سمندر میں پاتال تک کھینچ لے گیا تھا۔ برہما جی کی التجاپر اس اوتار نے نمایاں ہوکر ہاتھی کی شکل اختیار کی۔ سمندر میں کود کر اپنے بڑے دانت پر زمین کو رکھ لیا اور سمندر سے کھینچ لایا۔ پھر ہرناکش سے جنگ ہوئی جو ایک ہزار سال تک رہی۔ آخر ہرناکش مارا گیا۔نرسنگھ اوتار ہرناکش کا توام بھائی۔ ہرناکا شپو بھی نہایت ظالم اور مغرور تھا۔ شیوجی کی عبادت کرنے سے اسے یہ عطیہ ملا کہ نہ کوئی انسان اسے ہلاک کر سکےگا نہ کوئی حیوان۔ اس کی موت نہ دن کے وقت ہوگی نہ رات کو، وہ نہ آسمان پر مارا جائےگا نہ زمین پر۔ اپنی موت کی طرف سے مطمئن ہوکر اس نے سرکشی اختیار کی۔ دیوتاؤں سے لڑ کر ان کا سارا ملک چھین لیا۔ اس نے سارے ملک میں منادی کر دی کہ میری حکومت میں کوئی شخص نارائن کا نام نہ لے۔ اس کا بیٹا پرہلاد خدا پرست تھا۔ اس کو بہت سمجھایا کہ وہ خدا پرستی چھوڑ دے مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ ایک دفعہ پرہلاد کے قتل کا ارادہ کرکے اس نے تلوار اٹھائی اور اس سے کہا کہ اب دیکھوں تجھے میرے ہاتھ سے کون بچاتا ہے۔ یہ کہہ کر اس نے تلوار چمکائی کہ یکایک اس کے قریب ایک ستون سے نرسنگھ اوتار نمایاں ہوئے۔ ان کا اوپر کا جسم شیر اور نیچے کا جسم انسان کا تھا۔ انہوں نے ہرناکا شپو کو پکڑ کر اپنے زانو پر بٹھا لیا اور پنجے اور ناخنوں سے اس کا پیٹ چیر ڈالا۔ اس وقت شام کا وقت تھا۔ نہ دن تھا نہ رات، اس کی موت نہ آسمان پر ہوئی نہ زمین پر اور نہ وہ کسی انسان کے ہاتھ سے مارا گیا نہ حیوان کے ہاتھ سے، غرض کہ شیوجی کا کہنا ہر طرح پورا ہوا۔پرسرام یہ وشنوجی کا چھٹا اوتار ہے۔ سری رام چندر جی ساتویں اوتار تھے۔ یہ چھتریوں کا دشمن اور برہمنوں کا دوست تھا۔ اس نے اکیس دفعہ چھتریوں سے جنگ کی اور ان کو قتل کیا۔ سبب یہ تھا کہ ایک چھتری راجہ کا نام کا رت ویریہ تھا اور جس کے ہزار ہاتھ تھے، ایک دفعہ اس کے مکان پر آیا اور اس کی غیبت میں اس کی ایک اعلیٰ صفت گائے جس کا نام کام دھینو تھا، چراکر لے گیا۔ پرسرام کو جب اس واقعہ کی خبر ہوئی، تو اس نے راجہ کا تعاقب کیا اور اس سے لڑ کر اس کے ہزار ہاتھ کاٹ ڈالے اور اسے قتل کر دیا۔ پھر غصے کی حالت میں بار بار چھتریوں سے جنگ کی اور پانچ جھیلیں ان کے خون سے بھر دیں۔ پرسرام کے ہاتھ میں ہتھیار کی جگہ ہمیشہ ایک کلہاڑی رہتی تھی۔کرشن یہ مشہور اوتار ہیں۔ والدہ کا نام دیوکی، والد کا نام واسدیو تھا۔ اس زمانے میں متھرا کا فرماں روا راجہ کنس تھا، جو نہایت ظالم تھا۔ نجومیوں نے خبر دی تھی کہ دیوکی کا لڑکا تجھے قتل کرےگا۔ یہ سن کر اس نے واسدیو اور دیوکی کو قید کر لیا۔ چنانچہ دیوکی کے کئی حمل کے لڑکے اس نے مار ڈالے۔ آخری حمل میں سری کرشن جی ظاہر ہوئے۔ خدا کو منظور تھا وہ اس کے ہاتھ سے محفوظ رہے۔ چناچنہ وہ عجیب طریقے سے محفوظ رہے۔ جوان ہونے پر بھی کنس نے بہت تدبیریں کیں کہ ان کو قتل کر ڈالے مگر اس کا بس نہیں چلا اور آخرکار وہ خود سری کرشن جی کے ہاتھ سے قتل ہوا۔ ان کے عجیب عجیب کارنامے مشہور ہیں۔ جنگ مہابھارت میں وہ پانڈوں کی طرف تھے اور ان کی فوج کوروں کی طرف سے لڑ رہی تھی، آٹھ رانیاں تھیں، مگر ان کی محبوب لایق کا نام رادھا تھا۔وشنو ہر دفعہ دنیا کے ظہور سے پہلے وشنوجی، شیش ناگ کے بستر پر لیٹے پانی پر تیرتے رہتے ہیں۔ اس حالت میں ان کا نام نارائن ہے یعنی پانی پر تیرنے والا۔ ان کی ناف کنول کے پھول سے مشابہ ہے۔ برہما جی انہیں کی ناف سے پیدا ہوئے۔ شیوجی ان کی پیشانی سے برآمد ہوئے۔ شیوجی نے مختلف صورتوں میں ظہور کیا ہے۔ ان صورتوں کو اوتار کہتے ہیں۔ نو اوتار ظاہر ہو چکے ہیں یعنی متسیہ کورم، وراہ، نرسنگھ، وامن، پرسرام، رام، کرشن، بدھ۔ نویں اوتار کا ظہور باقی ہے۔ اس آخری اوتار کو ہندو کلکی اوتار کہتے ہیں۔ گنگا وشنو جی کے پاؤں سے ظاہر ہوئی ہے، دنیا کی حفاظت اور پرورش کرتے ہیں۔ ان کے ہزار نام ہیں۔ ان کی بیوی کا نام لچھمی ہے۔ رنگت سانولی ہے، شکل حسین ہے۔ چار ہاتھ ہیں۔ پانچ ہتھیاروں سے مسلح رہتے ہیں۔ ان کی کمان کا نام شارنگ اور تلوار کا نام نندک ہے۔ ایک ہتھیار کا نام سدرشن اور ایک نام گئو مکھی ہے، چند صفاتی نام حسب ذیل ہیں۔ لافانی، لاانتہا، سانپ کے بستر والے، چار ہاتھ والے، گایوں کے محافظ، عنصروں کے مالک، پانی پر سونے والے، لچھمی کے شوہر، پانچ ہتھیاروں سے مسلح، کنول جیسی ناف والے، زردپوش، بہشت کے مالک وغیرہ۔شیو ان کو مہادیو بھی کہتے ہیں، یہ وشنو جی کی پیشانی سے ظاہر ہوئے۔ مختلف صفات کے سبب مختلف نام ہیں۔ تباہ اور غارت کرنے والی طاقت کے سبب ان کے نام ہیں: مہاکال، سراپا غضب، لال جٹاؤں والے۔ اس حالت میں ان کی سواری کتا ہے۔ جسم پر سانپ لپٹے رہتے ہیں، شراب پی کر مست نظر آتے ہیں۔ ان کا ایک نام بھوتیشور ہے یعنی بھوتوں کے مالک۔ اس صفت کے سبب وہ قبرستانوں اور مسانوں میں پھرتے نظر آتے ہیں۔ سرپر سانپوں کی جٹا، گلے میں کھوپڑیوں کی مالا ہوتی ہے۔ بھوتوں کی فوج ساتھ رہتی ہے، بھوت ان کے گرد مست ہوکر تیزی کے ساتھ ناچتے ہیں اور وہ خود بھی رقص کرتے ہیں۔ ان کے پانچ منہ ہیں۔ تین آنکھیں ہیں۔ تیسری آنکھ پیشانی کے درمیان ہے، جس سے غصہ اور جلال ٹپکتا ہے۔ پیشانی کے گرد چاند حلقہ کیے ہے۔ گلاز ہر نوش کرنے کے سبب نیلگوں نظر آتا ہے۔ ہاتھ میں ترسول ہے۔ پوشاک ہرن، شیریا ہاتھی کی کھال ہوتی ہے۔ نندی بیل ان کے ساتھ رہتا ہے، بعض صفاتی نام حسب ذیل ہیں: تین آنکھوں والا، نیلے گلے والا، چاند جیسے تاج والا، جٹاؤں والا وغیرہ۔ہنومان راجہ سگریو کا جنرل، جس نے سری رام چندرجی کی لنکا کی جنگ میں مدد دی۔ اس کی شکل بندر جیسی ہے۔ اس کی خدمات دیوتاؤں سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔ وہ ہندوستان کے جنوبی کنارے سے پھاند کر لنکا پہنچتا ہے، سیتاجی کو سری رام چندرجی کا پیغام پہنچاتا ہے، راون کے باغ کو ویران کرتا ہے، جب راچھیوں نے اس کی دم پر روئی لپیٹ کر آگ لگا دی۔ تو وہ اپنی دم کی آگ سے تمام لنکا کو پھونک دیتا ہے۔ اس کا رنگ زرد و سرخ دہکتے سونے کی طرح درخشاں ہے۔ چہرہ لعل رمانی کی طرح نہایت سرخ ہے۔ قد مثل بلند مینار یا پہاڑ کے ہے۔ وہ بڑے بڑے درختوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔ پہاڑ کو سر پر اٹھالیتا ہے، ہوا پر اڑتا ہے۔ بادلوں کو ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے۔ سورج کو اپنے منھ میں چھپا لیتا ہے۔ اثنائے جنگ میں وہ کوہ ہمالیہ سے دوائیں لاتا ہے، جس سے زخمی بندر تندرست ہوتے ہیں۔ جب لچھمن جی پر غشی طاری ہوتی ہے، تو وہ جیون بوٹی لاتا اور ان کی غشی دور کرتا ہے۔ اس کا صفاتی نام مرت پتر یعنی ہوا کا فرزند ہے۔ ہندوستان میں ہر جگہ اس کی پرستش کی جاتی ہے۔بھیشم راجہ شانتو والئ ہستناپور کا بڑا لڑکا تھا۔ اس کی ماں کا نام گنگا تھا۔ گنگا ایک عہد شکنی کے سبب راجہ سے ناراض ہوکر چلی گئی تھی۔ راجہ نے ایک جوان اور حسین عورت ستیہ وتی سے شادی کرنی چاہی۔ اس کے والدین نے کہا کہ تمہارے بعد ستیہ وتی کی اولاد وارثِ تخت نہیں ہوگی، بلکہ یہ حق تمہارے بڑے بیٹے بھیشم کا ہے۔ اگر تم اقرار کرو کہ ستیہ وتی کی اولاد کو تخت دیا جائےگا تو ہم اس کی شادی کرنے پر راضی ہیں۔ بھیشم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو باپ کی آرزو پوری کرنے کے لیے اس نے یہ اقرار کیا کہ نہ میں خود شادی کروں گا نہ تخت لوں گا۔ اس اقرار پر ستیہ وتی سے راجہ کی شادی ہو گئی۔ اس شادی سے راجہ کے ہاں دو لڑکے پیدا ہوئے۔ راجہ کے مرنے کے بعد بھیشم، نے بڑے لڑکے کو تخت پر بٹھایا مگر وہ ایک جنگ میں مارا گیا۔ اس نے اس کے بھائی کو تخت پر بٹھا دیا مگر وہ بھی جوان اور لاولد مر گیا۔بھیشم نے ستیہ وتی سے کہا کہ تم ویاس جی کو بلاکر اپنے آخری بیٹے کی بیواؤں سے اولاد پیدا کراؤ۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ دو لڑکے اس طرح پیدا ہوئے۔ ایک کا نام پانڈو اور ایک کا نام دھرتراشٹر رکھا گیا۔ ان دونوں کی اولاد کوروں پانڈو کے نام سے موسوم ہوئی۔ جب دونوں میں نفاق پیدا ہوا، تو وہ صلح کا مشورہ دیتا رہا، مگر کچھ اثر نہ ہوا۔ جنگ شروع ہوئی۔ یہ بھیشم کوروں کا طرف دار تھا، اس کا مقابلہ ارجن سے ہوا۔ اس کے تیروں سے اس کا سارا جسم چھد گیا۔ دوانگل جگہ بھی زخموں سے خالی نہ رہی۔ جب وہ رتھ سے نیچے گرا، تو تیروں کو کھڑا کرکے اس پر سلایا گیا۔ زخم مہلک تھے۔ مگر اس حالت میں بھی وہ (۵۸) دن تک زندہ رہا اور اپنے ساتھیوں کو نصیحت کرتا رہا۔ تیروں کا بسترا سی واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔بھیم پانڈو کا دوسرا شہزادہ۔ یہ نہایت طاقتور، تند مزاج، بےرحم اور دراز قد تھا۔ درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا تھا۔ طمانچہ مار کر ہاتھی کا مونھ پھیر دیتا تھا۔ گرز کی لڑائی اور کشتی میں بے نظیر تھا۔ اس کی خوراک بہت تھی۔ جتنا کھانا اس کے چار بھائی اور اس کی والدہ کھاتی تھی، اتنا یہ اکیلا کھا جاتا تھا۔ دُریودھن نے اس کو حسد سے زہر کھلایا تھا۔ یہ بچ نکلا۔ جنگ مہابھارت میں اس نے بڑے بڑے کارنمایاں دکھائے مگر دریودھن کے ساتھ قواعد جنگ کے خلاف فریب کی چال چلا۔ اس کا صفاتی نام دراز بازو ہے۔جٹایو گدوں کا پادشاہ تھا۔ جب راون سیتاجی کو لنکا لے جارہا تھا، تو اس نے رستے میں روکا۔ مگر راون کے ہاتھ سے زخمی ہوا۔ سری رام چندر جی جب شکار سے واپس آئے او رسیتاجی کو تلاش کرنے لگے، تو اس نے پتہ بتایا اور سارا حال کہہ سنایا۔ رودر طوفان اور ہواؤں کا دیوتا ہے۔ جو لوگ حیوانوں اور انسانوں کو ایذا پہنچاتے ہیں، ان کے لیے یہ دیوتا مہلک اور ان کے سوا اوروں پر مہربان ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ دیوتا برہما جی کی پیشانی سے پیدا ہوا۔ اس کاآدھا جسم عورتوں جیسا اور آدھا جسم مردوں جیسا ہے۔ جب برہما جی نے اسے حکم دیا کہ وہ خلقت کو پیدا کرے تو اس نے بھوت اور ر اچھس پیدا کیے۔ یہ دیکھ کر برہما جی ناراض ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اس بیہودہ مخلوق کو نابود کرکے اچھی مخلوق پیدا کرو۔ اس نے کہا میں ایسی مخلوق پیدا کرنا نہیں چاہتا، جو زندگی اور موت کے پنجے میں اسیر ہو۔ ایسی مخلوق آپ خود پیدا کریں۔کمبھ کرن راون کا بھائی تھا۔ اس کی طاقت اور بھوک کا اندازہ لگانا محال ہے۔ چھ مہینے سوتا اور ایک دن جاگتا تھا۔ راون نے اس کو بیدار کرنا چاہا تاکہ لڑائی میں مدد دے۔ بڑی مصیبت سے جاگا۔ شراب کے ہزار گھڑے بھائی سے لینے طے کیے اور اس اقرار پر آمادۂ جنگ ہوا۔ ہزاروں بندر اس نے کھاڈالے۔ بندروں کے سردار سگدیو کو گرفتار کرکے لنکا میں لے گیا۔ آخر کار قتل ہوا۔شیش ناگ سانپوں کا راجہ ہے۔ پاتال کے ساتویں طبقے میں رہتا ہے۔ جب دنیا فنا ہوتی ہے تو وشنو جی اس کو اپنا بستر بناکر پانی پر تیرتے ہیں اور یہ اپنے ہزار سروں سے ان پر سایہ کرتا ہے۔ زمین اسی پر ٹکی ہوئی ہے۔ جب وہ جمائی لیتا ہے، زلزلہ آتا ہے۔ جب دنیا کے خاتمہ کا وقت آتا ہے تو اپنی پھنکار سے آگ نکالتا اور دنیا کو نیست و نابود کر دیتا ہے۔ اس کی پوشاک ارغوانی رنگ کی ہے۔ گلے میں سفید مالا ہے۔ ایک ہاتھ میں ہل اور ایک ہاتھ میں موسل ہے۔ بلرام جی اسی کے اوتار تھے۔ اس کے محل کا نام منی منڈپ ہے۔ گنیش عقل کا دیوتا ہے۔ مصیبتوں کا دور کرنے والا ہے۔ اسی لیے ہر کتاب اس کے نام سے شروع کی جاتی ہے۔ اس کا جسم چھوٹا اور موٹا ہے۔ رنگ زرد ہے۔ پیٹ بڑا ہے۔ چار ہاتھ ہیں۔ سر ہاتھی کا ہے۔ مگر دانت صرف ایک ہے۔ ایک ہاتھ میں سنکھ، دوسرے ہاتھ میں چکر، تیسرے ہاتھ میں گدا اور چوتھے ہاتھ میں کنول کا پھول ہے۔ اس کی سواری کا جانور چوہا ہے۔ بعض صفاتی نام حسب ذیل ہیں: ایک دانت والا، فیل چہرہ، دراز گوش، کلاں شکم وغیرہ۔شنی سوریہ کا لڑکا ہے اور ستاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ رنگ سیاہ، پوشاک بھی سیاہ رنگ کی ہے۔ اگر شنی اوپر کی طرف نگاہ کرے تو تمام دنیا نیست ونابود ہو جائے، اسی خیال سے وہ ہمیشہ سرنگوں رہتا ہے۔ تاکہ اس کی نگاہ کسی پر نہ پڑے۔ امرت ہوا کے طوفانوں کے دیوتا ہیں۔ ان کی تعداد انچاس ہے۔ رعدد برق ان کے ہتھیار ہیں۔ آندھی ان کی سواری ہے۔دکش برہما جی کا لڑکا ہے۔ برہما جی نے اسے پرجاپتیوں کا سردار بنایا۔ اس خوشی میں اس نے ایک یگ کا اہتمام کیا، جس میں دیوتا اور شی بلائے گئے، مگر شیوجی نہیں بلائے گئے۔ شیوجی کی بیوی اُمایگ میں پہنچی، مگر اپنی اور اپنے شوہر کی بے حرمتی دیکھ کر غیرت سے آگ میں جل گئی۔ دکش کو شیوجی سے عداوت تھی، اسی لیے ان کو مدعو نہیں کیا گیا۔ شیوجی اس واقعے کو سن کر غضب ناک ہوئے۔ وہ اپنے ہونٹوں کو دانتوں سے چبانے لگے۔ سر سے بالوں کی ایک لٹ اکھاڑ کر پھینکی، جس سے ایک خوفناک آواز نکلی، ساتھ ہی ایک مہیب صورت نمایاں ہوئی، جس کا نام ویر بھدر مشہور ہے۔ اس کے ہزار سر تھے۔ ہزار آنکھیں تھیں۔ ہزار پاؤں تھے۔ ہزار ہتھیاراس کے ہاتھوں میں تھے۔ اس کی شکل خونخوار اور خوفناک اور دہکتی آگ کی طرح روشن تھی۔ سر پر ایک ہلال نمایاں تھا۔ شیر کی کھال جو خون سے آلودہ تھی، اس کے بدن میں تھی۔ شیوجی نے اس کو حکم دیا کہ وہ دکش کے یگ کو خراب کر ڈالے۔ جب ویر بھدر اپنی لاتعداد فوج لے کر چلا، تو زمین لرزنے لگی، پہاڑ آپس میں ٹکرا گئے۔ ہوا شوروغل سے بھر گئی، سمندر میں تلاطم پیدا ہوا۔اس نے یگ کو خراب کیا۔ دیوتاؤں میں سے جو اس یگ میں آئے تھے، اندر کو زمین پر گرا دیا، یم کو زدوکوب کیا، سرسوتی اور ماتری کی ناک کاٹ لی، مترکی آنکھیں نکال لیں، یوشن کے دانت حلق میں اتار دیے، اگنی کے ہاتھ کاٹ ڈالے، بھار گو کی داڑھی مونڈدی، چاند کے منہ پر ایک طمانچہ مارا، برہمنوں پر پتھر پھینکے، دکش کا سرکاٹ کر آگ میں جھونک دیا۔ یہ حالت دیکھ کر دیوتاؤں نے معافی مانگی اور التجائیں کیں۔ آخر کار ان کی خطا معاف کی گئی اور ان کے اعضا پھر درست کیے گئے۔ منودہ ہیں جن سے نسل انسان چلتی ہے۔ یہ تعداد میں چودہ ہیں، پہلا مون سوایم بھوتھا۔ برہما جی نے اپنے جسم کے دو حصے کیے۔ ان سے ایک مرد اور ایک عورت پیدا ہوئی، مرد وراج تھا اور عورت شت روپا۔ پھر ان دونوں سے سوایم بھوپیدا ہوا (دیکھو لفظ برہما) اسی منو کی طرف منوسمرتی منسوب ہے۔ زمانہ حال کی نسل ساتویں منو سے چلی ہے۔ اس منو کانام ئی دسوت ہے۔ متسیہ دیوتا نے اسی کو طوفان کی خبر دی تھی۔ (دیکھو لفظ متسیہ) چھ منو اس سے پہلے گزر چکے ہیں۔ ہر منو کی عمر ۴۳لاکھ ۲۰ ہزار سال کی ہوتی ہے۔شوی ایک زاہد اور سخی راجہ تھا۔ ایک دفعہ اگنی دیوتا نے کبوتر کی صورت اختیار کی، اندر دیوتا نے باز بن کر اس کا تعاقب کیا، کبوتر نے اس راجہ کی گود میں پناہ لی، بازنے راجہ سے کبوتر کا مطالبہ کیا۔ اس نے اپنے جسم سے گوشت کاٹ کر چاہا کہ اس کبوتر کے برابر تول کر دے مگر کبوتر کا وزن زیادہ نکلا۔ اس نے جسم سے پھر گوشت کاٹا مگر وہ بھی وزن میں پورا نہ اترا، مجبوراً اپنا سارا جسم کبوتر کے مقابل ترازو میں رکھ دیا! اب دونوں پلے برابر ہو گئے اور باز اڑ گیا۔ورادھ یہ ایک مہیب آدم خور راچھس تھا۔ دنڈک کے جنگل میں اس نے سری رام چندر جی کا مقابلہ کیا۔ اس کے جسم پر کوئی وار کارگر نہ ہوتا تھا۔ پہاڑ جیسا قد تھا۔ آنکھیں کھوکھلی تھیں۔ مونھ حد سے زیادہ چوڑا تھا۔ پیٹ ابھرا ہوا تھا۔ جسم لمبا اور شکل ہیبت ناک تھی۔ شیر کی خون آلودہ کھال اس کی پوشاک تھی۔ آواز میں گرج تھی۔ نیزہ ہاتھ میں تھا۔ شیر، چیتے، بھیڑیے اور ہاتھی کے سر لٹکائے ہوئے تھا۔ سری رام چندر جی نے تیر مارا تو کوئی اثر نہ ہوا۔ اس نے سری رام چندرجی اور لچھمن جی کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ انہوں نے اس کے بازو توڑ ڈالے۔ گھونسوں سے خبر لی، مگر اسے قتل نہ کر سکے۔ مجبوراً ایک گڑھا کھود کر اسے زندہ درگور کر دیا۔لوپا مدرارشی اگست کی نہایت حسین بیوی تھی۔ جب رشی مذکور نے چاہا کہ اپنی مرضی کے مطابق کسی عورت سے شادی کرے، تو اس نے مختلف حیوانات کے خوبصورت اعضا کو ترکیب دے کر ایک نہایت حسین لڑکی بنائی او رپوشیدہ طور پر ایک راجہ کے محل میں ڈلوادی۔ وہاں راجہ کی لڑکی سمجھی گئی اور شہزادیوں کی طرح اس کی پرورش کی گئی۔ جب وہ جوان ہوئی، تو رشی اگست نے راجہ سے شادی کی درخواست کی۔ راجہ کا د ل نہیں چاہتا تھا مگر رشی کا سوال رد کرنا گناہ تھا۔ چنانچہ اس رشی سے لوپا مدرا کی شادی کر دی۔نل دمن۔ نل عاشق اور دمن اس کی معشوقہ تھی۔ دونوں کا قصہ مشہور ہے۔ فیضی نے فارسی میں اس قصہ کو ایک مثنوی میں نہایت فصاحت سے بیان کیا ہے۔ دمن راجہ بھیم والئ برار کی لڑکی تھی، نل دوسری ریاست کا راجہ تھا۔ دونوں ایک دوسرے کا ذکر سن کر باہم عشق کرنے لگے۔ دمن نہایت حسین تھی۔ نل بہادر، حسین، نیک مزاج، شہ سواری اور سپہ گری کا ماہر تھا۔ ساتھ ہی قمار بازی کی لت بھی تھی۔ راجہ بھیم نے دمن کی شادی کے لیے سویمبر کی تیاری کی۔ امیدواروں میں نل بھی تھا۔ نل کے علاوہ چار دیوتا یعنی اگنی، اندر، ورن، اور یم بھی امیدوار تھے۔ اگرچہ دیوتاؤں نے نل ہی جیسی شکل بنا لی تھی، مگر دمن نے اپنے مطلوب کو پہچان لیا اور اسی کا انتخاب کیا۔ دونوں کی شادی ہو گئی۔راجہ نل کا ایک بھائی پشکر تھا، جو اس سے دل میں حسد رکھتا تھا۔ اس نے نل کے ساتھ جوا کھیلنے کی طرح ڈالی۔ پشکر کھیل میں فریب کرکے اس پر غالب آ گیا۔ نل کو اس بازی میں سب کچھ ہار دینا پڑا۔ اب تمام ملک پشکر کے ہاتھ میں آگیا۔ اس نے تخت پر بیٹھتے ہی اعلان کر دیا کہ میری رعایا میں سے کوئی نل اور دمن کو کسی قسم کی مدد نہ دے۔ ایک عرصے تک دونوں مصیبت زدہ جنگلوں میں پھرتے رہے۔ آخر کار نل نے اس خیال سے کہ دمن تکلیف نہ اٹھائے اور اپنے گھر چلی جائے، ایک دن سونے کی حالت میں اسے چھوڑ کر آگے کی طرف کوچ کر دیا۔ دمن اپنے گھر پر نہیں گئی، بلکہ چیدی کے شہزادے کے ہاں پناہ گزیں ہوئی مگر اس کو دمن کاحال معلوم ہو گیا۔ اس نے اس کے باپ کے گھر میں بھجوا دیا۔ نل کو ایک سانپ نے کاٹا۔ موت تو نہیں آئی مگر صورت بالکل بدل گئی۔ وہ بہت بدصورت اور کوتاہ قد ہو گیا۔ شدہ شدہ وہ راجہ رتوپرن والی اجودھیا کے ہاں ملازم ہو گیا۔ دمن کے باپ نے ہر چند نل کی جستجو کرائی مگر کامیابی نہیں ہوئی۔ایک برہمن نے خبر دی کہ نل زندہ ہے اور کسی جگہ موجود ہے۔ اس نے برہمن کا جھوٹ سچ معلوم کرنے کے لیے دوسری دفعہ سویمبر کی تیاری کی۔ راجہ تو پرن سویمبر میں شریک ہوا۔ نل اس کا رتھ بان تھا۔ دمن نے اسے کچھ کچھ پہچانا مگر یقین نہیں ہوا۔ جب اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا دمن نے کھایا تو فوراً اپنے شوہر کو پہچان لیا، دونوں باہم ملے۔ دیوتاؤں کی مدد سے نل اپنی اصلی صورت پر آیا، پھر اس نے اپنے بھائی پشکر سے چوسر کھیلنے کی تیاری کی۔ اس دفعہ وہ بازی جیت گیا۔ اپنی سلطنت واپس حاصل کی بلکہ پشکر کی بیوی بھی جیت لی، مگر نل نے اس کو معاف کر دیا اور کوئی ایذا نہیں پہنچائی۔خاتمہ مضمونہندو ادبیات سے بطور مثال کے جو تلمیحات ہم نے اخذ کی ہیں، ان کا اس قدر بیان غالباً کافی ہوگا، مگر جس ہندو ذخیرہ کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں، اگر اس کو ہمارے شاعر اور ہمارے انشاء پرداز غور کی نظر سے مطالعہ کریں گے تو ان کو اس ذخیرہ سے بہت سی دلچسپ تلمیحات مل سکیں گی، اسی طرح جس اسلامی اور غیراسلامی ذخیرہ کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ اگر ان سے بھی کام لیا گیا، تو ادائے خیالات کے بہت سے نئے سانچے ہاتھ آئیں گے۔ آخر میں ہم دو باتوں کی طرف ناظرین کی توجہ کو خصوصیت کے ساتھ مبذول کرنا چاہتے ہیں۔(پہلی بات) تو وہی ہے جس کو ہم شروع مضمون میں بیان کر چکے ہیں، یعنی انسانی زندگی، انسانی اخلاق اور انسانی معاشرت کے اس قدر پہلو ہیں کہ ان کا شمار نہیں ہو سکتا۔ ہر پہلو کے لیے ایک نمونہ ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ فلاں انسان اس قسم کی زندگی بسر کرتا ہے، فلاں آدمی میں اس قسم کے اخلاق موجود ہیں مگر یہ ضروری نہیں کہ ہماری گزشتہ تاریخ میں بھی کوئی ایسا نمونہ موجود ہو، اس لیے ضروری ہے کہ یا تو ہم ایک خاص نمونے کے انسان کی صحیح تصویر قصے کے پیرایہ میں کھینچیں۔ پھر دیگر مصنفین جب اس نمونے کے شخص کا ذکر کریں، اس قصے کے نمونے کو تلمیح بناکر اس سے کام لیں۔ یا (۲) اگر ہماری زبان کے مشہور قصوں میں کسی خاص نمونے کے انسان کا ذکر کیا گیا ہے تو اس نمونے کو تلمیح کا لباس پہنا دیں یا (۳) اگر ان قوموں کی تاریخ دیومالا اور ادبیات میں (جو ہمارے گردوپیش آباد ہیں) اور جن سے رات دن ہمارا سابقہ ہے (ہندو، سکھ، پارسی، عیسائی وغیرہ) خاص خاص نمونوں کے اشخاص کی تصویریں دیکھنے میں آئیں، تو ان نمونوں کو بے تکلف تلمیح بنا لیں۔(دوسری بات) یہ ہے کہ تلمیح کی بنیاد اکثر مشہورات پر ہوتی ہے، نہ کہ حقائق پر۔ اس لیے جن باتوں سے تلمیح اخذ کی جاتی ہے، ان پر یہ اعتراض کرنا سراسر حماقت ہے کہ ان باتوں کا ثبوت عقلاً یا نقلاً نہیں ہوتا۔ جب ہر تلمیح کسی خیال کے ادا کرنے کا ایک سانچہ ہے اور یہ سانچہ اس لیے کام میں لایا جاتا ہے کہ اس خیال کی تصویر سننے والوں کی نظر کے سامنے آجائے تو ضروری ہے کہ تلمیح کی بنیاد جس بات پر رکھی جائے، وہ لوگوں میں مشہور ہو۔ اس بات کی ہم کو مطلق پروا نہیں کرنی چاہیے کہ اصلی اور واقعی بات کیا ہے۔ کیونکہ جو بات اصلی اور واقعی ہے اور جو عام لوگوں میں مشہور نہیں ہے اور جو صرف محققین کے دماغ میں ہے، اگر ہم اپنے خیال کے چہرے پر نقاب ڈالیں گے تو اس نقاب سے اس کا حسن دوبالا نہیں ہوگا بلکہ ماند پڑ جائےگا، اور جو غرض تلمیح سے ہے، وہ بالکل فوت ہو جائےگی۔مثلاً سوریہ یعنی سورج کو عام ہندو ایک دیوتا مانتے ہیں، ان کے ادبیات میں یہ بات بیان کی جاتی ہے۔ اس دیوتا کے رتھ کے آگے سات گھوڑے جوتے جاتے ہیں۔ بس اسی خیال پر تلمیح کی بنیاد رکھنی چاہیے۔ ایک زیرک طبع تعلیم یافتہ ہندو کہہ سکتا ہے کہ سورج کے رتھ میں سات گھوڑوں کا جوتے جانا محض ڈھکوسلا ہے۔ اصلی بات یہ ہے کہ سورج کی شعاع سات رنگوں سے مرکب ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یورپ نے سائنس کی اس قدر ترقی کے بعد جس حقیقت کا سراغ لگایا ہے، ہمارے بزرگوں کی نظر اس پر ہزاروں سال پہلے پڑ چکی ہے۔ ممکن ہے کہ اس تعلیم یافتہ ہندو کا یہ خیال درست ہو، مگر جو شاعر اور انشا پرواز اس تلمیح سے کام لینا چاہتا ہے، اس کو اس موشگافی کی مطلق ضرورت نہیں ہے۔ وہ اسی عام اور مشہور خیال کو تلمیح کا لباس پہنانا پسند کرےگا۔ امید ہے کہ ہمارے شاعروں اور انشاپردازوں کے لیے یہ اشارہ کافی ہوگا۔ فقط۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%84%D9%85%DB%8C%D8%AD%D8%A7%D8%AA"} {"title": "تلوار تری رواں بہت ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تلوار تری رواں بہت ہے\nتھوڑا بھی تو امتحاں بہت ہے\n\nکچھ آہ کے حوصلہ نکلتے\nنیچا مگر آسماں بہت ہے\n\nدامن پہ ترے لگی رہی خاک\nاتنا ہی مرا نشاں بہت ہے\n\nدل تنگ سہی پر اے تمنا\nمر رہنے کو یہ مکاں بہت ہے\n\nاک کوہ گراں ہے عشق لیکن\nاس کو دل ناتواں بہت ہے\n\nالفت میں نہیں ہے صبر نایاب\nیہ چیز مگر گراں بہت ہے\n\nباطن کی خبر خدا کو ہے داغؔ\nظاہر میں وہ مہرباں بہت ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "تم آئینہ ہی نہ ہر بار دیکھتے جاؤ", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم آئینہ ہی نہ ہر بار دیکھتے جاؤ\nمری طرف بھی تو سرکار دیکھتے جاؤ\n\nنہ جاؤ حال دل زار دیکھتے جاؤ\nکہ جی نہ چاہے تو ناچار دیکھتے جاؤ\n\nبہار عمر میں باغ جہاں کی سیر کرو\nکھلا ہوا ہے یہ گلزار دیکھتے جاؤ\n\nیہی تو چشم حقیقت نگر کا سرمہ ہے\nنزاع کافر و دیں دار دیکھتے جاؤ\n\nاٹھاؤ آنکھ نہ شرماؤ یہ تو محفل ہے\nغضب سے جانب اغیار دیکھتے جاؤ\n\nنہیں ہے جنس وفا کی تمہیں جو قدر نہ ہو\nبنیں گے کتنے خریدار دیکھتے جاؤ\n\nتمہیں غرض جو کرو رحم پائمالوں پر\nتم اپنی شوخیٔ رفتار دیکھتے جاؤ\n\nقسم بھی کھائی تھی قرآن بھی اٹھایا تھا\nپھر آج ہے وہی انکار دیکھتے جاؤ\n\nیہ شامت آئی کہ اس کی گلی میں دل نے کہا\nکھلا ہے روزن دیوار دیکھتے جاؤ\n\nہوا ہے کیا ابھی ہنگامہ اور کچھ ہوگا\nفغاں میں حشر کے آثار دیکھتے جاؤ\n\nشب وصال عدو کی یہی نشانی ہے\nنشان بوسۂ رخسار دیکھتے جاؤ\n\nتمہاری آنکھ مرے دل سے لے سبب بے وجہ\nہوئی ہے لڑنے کو تیار دیکھتے جاؤ\n\nادھر کو آ ہی گئے اب تو حضرت زاہد\nیہیں ہے خانۂ خمار دیکھتے جاؤ\n\nرقیب برسر پرخاش ہم سے ہوتا ہے\nبڑھے گی مفت میں تکرار دیکھتے جاؤ\n\nنہیں ہیں جرم محبت میں سب کے سب ملزم\nخطا معاف خطاوار دیکھتے جاؤ\n\nدکھا رہی ہے تماشا فلک کی نیرنگی\nنیا ہے شعبدہ ہر بار دیکھتے جاؤ\n\nبنا دیا مری چاہت نے غیرت یوسف\nتم اپنی گرمئ بازار دیکھتے جاؤ\n\nنہ جاؤ بند کئے آنکھ رہروان عدم\nادھر ادھر بھی خبردار دیکھتے جاؤ\n\nسنی سنائی پہ ہرگز کبھی عمل نہ کرو\nہمارے حال کے اخبار دیکھتے جاؤ\n\nکوئی نہ کوئی ہر اک شعر میں ہے بات ضرور\nجناب داغؔ کے اشعار دیکھتے جاؤ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A4"} {"title": "تم اور فریب کھاؤ بیان رقیب سے", "poet_page": "مصنف:آغا حشر کاشمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم اور فریب کھاؤ بیان رقیب سے\nتم سے تو کم گلہ ہے زیادہ نصیب سے\n\nگویا تمہاری یاد ہی میرا علاج ہے\nہوتا ہے پہروں ذکر تمہارا طبیب سے\n\nبرباد دل کا آخری سرمایہ تھی امید\nوہ بھی تو تم نے چھین لیا مجھ غریب سے\n\nدھندلا چلی نگاہ دم واپسیں ہے اب\nآ پاس آ کے دیکھ لوں تجھ کو قریب سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A4_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%DB%92"} {"title": "تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو\nحذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے\n\nدلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخر\nنہ گریۂ سحری ہے نہ آہ نیم شبی ہے\n\nنظر بہ نقص گدایاں کمال بے ادبی ہے\nکہ خار خشک کو بھی دعواۓ چمن نسبی ہے\n\nہوا وصال سے شوق دل حریص زیادہ\nلب قدح پہ کف بادہ جوش تشنہ لبی ہے\n\nخوشا وہ دل کہ سراپا طلسم بے خبری ہو\nجنون و یاس و الم رزق مدعا طلبی ہے\n\nچمن میں کس کے یہ برہم ہوئی ہے بزم تماشا\nکہ برگ برگ سمن شیشہ ریزۂ حلبی ہے\n\nامام ظاہر و باطن امیر صورت و معنی\nعلیؔ ولی اسداللہ جانشین نبی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%AF_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88"} {"title": "تم اگر دو نہ پیرہن اپنا", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم اگر دو نہ پیرہن اپنا\nچرخ سے مانگ لوں کفن اپنا\n\nآگے کرتے تھے اس طرح پامال\nیاد تو کیجئے چلن اپنا\n\nآج ہم جان دینے آئے ہیں\nکچھ دکھاتے ہو بانکپن اپنا\n\nشانہ زلفوں میں واں نہیں الجھا\nسانپ دکھلا رہا ہے پھن اپنا\n\nیاد رکھیو ہماری پامالی\nبھولیو مت کبھی چلن اپنا\n\nیا کہو ہم کنویں میں ڈوب مریں\nیا دکھاؤ کوچۂ ذقن اپنا\n\nہم وہ بلبل نہیں جو باغ کو جائیں\nکوچۂ یار ہے چمن اپنا\n\nہم کو دکھلا کے تنگ کرتے ہیں\nگہ کمر اپنی گہ دہن اپنا\n\nجس کو کہتے ہیں لوگ شہر کڑا\nاے سخیؔ ہے وہی وطن اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%88_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%81%D9%86_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "تم بانکپن یہ اپنا دکھاتے ہو ہم کو کیا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم بانکپن یہ اپنا دکھاتے ہو ہم کو کیا\nقبضے پہ ہاتھ رکھ کے ڈراتے ہو ہم کو کیا\n\nآنکھیں تمہاری جھپکیں ہیں ایدھر کو بیشتر\nتم ان اشارتوں سے بلاتے ہو ہم کو کیا\n\nآویں ہماری گور میں گر منکر و نکیر\nاتنا کہیں: ابھی سے اٹھاتے ہو ہم کو کیا\n\nلا کر کبھی دیا ہے کوئی پھول پھل ہمیں\nتم سیر گلستاں کو جو جاتے ہو ہم کو کیا\n\nکہتے ہو ایک آدھ کی ہے میرے ہاتھوں موت\nہم بھی سمجھتے ہیں یہ سناتے ہو ہم کو کیا\n\nہم سے تو اب تلک وہی شرم و حجاب ہے\nگر ہر کسی کے سامنے آتے ہو ہم کو کیا\n\nکہتے ہو روز ہم سے یہی کل کو آئیو\nکیا خو نکالی ہے یہ ستاتے ہو ہم کو کیا\n\nدینا ہے کوئی بوسہ تو دے ڈالیے میاں\nکیوں پانو توڑتے ہو پھراتے ہو ہم کو کیا\n\nلے لے کے نام اس کی جفاؤں کا مصحفیؔ\nہم آپ جل رہے ہیں جلاتے ہو ہم کو کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%A8%D8%A7%D9%86%DA%A9%D9%BE%D9%86_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تم بھی آؤگے مرے گھر جو صنم کیا ہوگا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم بھی آؤگے مرے گھر جو صنم کیا ہوگا\nمجھ پر اک رات کروگے جو کرم کیا ہوگا\n\nایک عالم نے کیا ہے سفر ملک عدم\nہم بھی جاویں گے اگر سوئے عدم کیا ہوگا\n\nدم رخصت ہے مرا آج مری بالیں پر\nتم اگر وقفہ کروگے کوئی دم کیا ہوگا\n\nدیکھ اس چاک گریباں کو تو یہ کہتی ہے صبح\nجس کا سینہ ہے یہ کچھ اس کا شکم کیا ہوگا\n\nچین ہو جائے گا دل کو مرے از راہ کرم\nمیری آنکھوں پہ رکھوگے جو قدم کیا ہوگا\n\nصحبت غیر کا انکار تو کرتے ہو ولے\nکھاؤگے تم جو مرے سر کی قسم کیا ہوگا\n\nشانہ اک عمر سے کرتا ہے دو وقتی خدمت\nتجھ کو معلوم ہے اے دیدۂ نم کیا ہوگا\n\nمصحفیؔ وصل میں اس کے جو موا جاتا ہو\nاس پہ ایام جدائی میں ستم کیا ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D8%A4%DA%AF%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "تم بھی رہنے لگے خفا صاحب", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم بھی رہنے لگے خفا صاحب\nکہیں سایہ مرا پڑا صاحب\n\nہے یہ بندہ ہی بے وفا صاحب\nغیر اور تم بھلے بھلا صاحب\n\nکیوں الجھتے ہو جنبش لب سے\nخیر ہے میں نے کیا کیا صاحب\n\nکیوں لگے دینے خط آزادی\nکچھ گنہ بھی غلام کا صاحب\n\nہائے ری چھیڑ رات سن سن کے\nحال میرا کہا کہ کیا صاحب\n\nدم آخر بھی تم نہیں آتے\nبندگی اب کہ میں چلا صاحب\n\nستم آزار ظلم و جور و جفا\nجو کیا سو بھلا کیا صاحب\n\nکس سے بگڑے تھے کس پہ غصہ تھا\nرات تم کس پہ تھے خفا صاحب\n\nکس کو دیتے تھے گالیاں لاکھوں\nکس کا شب ذکر خیر تھا صاحب\n\nنام عشق بتاں نہ لو مومنؔ\nکیجئے بس خدا خدا صاحب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8"} {"title": "تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہے", "poet_page": "مصنف:ہجر ناظم علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہے\nدنیا ہمارے دیدۂ حسرت نگر میں ہے\n\nہاں جانتے ہیں جان کا خواہاں تمہیں کو ہم\nمعلوم ہے کہ تیغ تمہاری کمر میں ہے\n\nکیا رشک ہے کہ ایک کا ہے ایک مدعی\nتم دل میں ہو تو درد ہمارے جگر میں ہے\n\nگو غیر کی بغل میں سہی وہ پری جمال\nمیں تو یہی کہوں گا کہ میری نظر میں ہے\n\nدونوں نے درد عشق کو تقسیم کر لیا\nتھوڑا سا دل میں ہے تو ذرا سا جگر میں ہے\n\nمیں بھی ہوں آج میں کہ بر آئی مراد دل\nدل بھی ہے آج دل کہ وہ مہمان گھر میں ہے\n\nممنون ہوں خیال کا اپنے شب فراق\nجو سامنے نظر کے نہیں وہ نظر میں ہے\n\nدلبر ہو ایک تم کہ ہماری نظر میں ہو\nدل ہے ہمارا دل کہ تمہاری نظر میں ہے\n\nکہتے ہیں جس کو دل مرے پہلو میں اب کہاں\nہے بھی تو پائمال کسی رہ گزر میں ہے\n\nدیکھو تو دیکھتے ہیں تمہیں کس نگاہ سے\nحسرت ہے جس کا نام ہماری نظر میں ہے\n\nجس پر پڑی پسیج گیا موم ہو گیا\nڈوبی ہوئی نگاہ ہماری اثر میں ہے\n\nجچتا نہیں نگاہ میں کوئی حسیں بھی ہجرؔ\nجب سے کسی کی چاند سی صورت نظر میں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "تم بھی ہو خنجر خوشاب بھی ہے", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم بھی ہو خنجر خوشاب بھی ہے\nاور یہ خانماں خراب بھی ہے\n\nوہ بھی ہیں ساغر شراب بھی ہے\nچاند کے پاس آفتاب بھی ہے\n\nبولے وہ بوسہ ہائے پیہم پر\nارے کمبخت کچھ حساب بھی ہے\n\nپوچھتے جاتے ہیں یہ ہم سب سے\nمجلس وعظ میں شراب بھی ہے\n\nدیکھ آؤ مریض فرقت کو\nرسم دنیا بھی ہے ثواب بھی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%AE%D9%86%D8%AC%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%B4%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "تم تو اے مہربان انوٹھے نکلے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تم تو اے مہربان انوٹھے نکلے\nجب آن کے پاس بیٹھے روٹھے نکلے\nکیا کہیے وفا ایک بھی وعدہ نہ کیا\nیہ سچ ہے کہ تم بہت جھوٹے نکلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D9%86%D9%88%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "تم تیشۂ باغباں سے کیوں مضطر ہو", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تم تیشۂ باغباں سے کیوں مضطر ہو\nشاید یہ قلم ہی نخل بار آور ہو\nمقراض اجل ہے قاطع شاخ نبات\nممکن ہے اسی میں راز جاں مضمر ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%AA%DB%8C%D8%B4%DB%82_%D8%A8%D8%A7%D8%BA%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1_%DB%81%D9%88"} {"title": "تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو\nمجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو\n\nبچتے نہیں مواخذۂ روزِ حشر سے\nقاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو\n\nکیا وہ بھی بے گنہ کش و حق نا شناس ہیں\nمانا کہ تم بشر نہیں خورشید و ماہ ہو\n\nابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تار\nمرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو\n\nجب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید\nمسجد ہو، مدرسہ ہو، کوئی خانقاہ ہو\n\nسنتے ہیں جو بہشت کی تعریف، سب درست\nلیکن خدا کرے وہ تِرا جلوہ گاہ ہو\n\nغالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیں\nدنیا ہو یا رب اور مرا بادشاہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%88_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D8%B3%D9%85_%D9%88_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "تم جو کہتے ہو کہ آویں گے ترے ہاں کل تک", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم جو کہتے ہو کہ آویں گے ترے ہاں کل تک\nکون جیتا ہے جدائی میں مری جاں کل تک\n\nتیرے وحشی کا اگر خاک اڑانا ہے یہی\nکہیں ڈھونڈا بھی نہ پاوے گا بیاباں کل تک\n\nکچھ بھی کہتے ہیں جراحت کی میرے اے ہمدم\nاکتفا کیونکہ کرے ایک نمکداں کل تک\n\nدور سے گر اسے تصویر دکھا دوں تیری\nآپ میں آوے نہ پھر شاہد کنعاں کل تک\n\nخاک میں آج وہ سر ٹھوکریں کھاتے ہیں پڑے\nجو امارت کا کیا کرتے تھے ساماں کل تک\n\nدل لگاتی ہے عبث اپنے لیے اے بلبل\nڈھونڈے پاوے گی نہ گل ہائے گلستاں کل تک\n\nکیا نظر کام کرے اس کے دہن پر عارفؔ\nلاکھ دیکھا کرے یہ دیدۂ حیراں کل تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%D9%88%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%84_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "تم خفا ہو تو اچھا خفا ہو", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم خفا ہو تو اچھا خفا ہو\nاے بتو کیا کسی کے خدا ہو\n\nاپنے مستوں کی خیرات ساقی\nایک ساغر مجھے بھی عطا ہو\n\nکچھ رہا بھی ہے بیمار غم میں\nاب دوا ہو تو کس کی دوا ہو\n\nآؤ مل لو شب وعدہ آ کر\nصبح تک پھر خدا جانے کیا ہو\n\nتو نے مجھ کو کہیں کا نہ رکھا\nاے دل زار تیرا برا ہو\n\nغصے میں بھی رہا پاس دشمن\nکہہ رہے ہیں کہ تیرا بھلا ہو\n\nتم کو بیدمؔ ہمیں جانتے ہیں\nپارسا ہو بڑے پارسا ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "تم خوب اڑاتے رہو خاکہ مرے دل کا", "poet_page": "مصنف:مرزا مائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم خوب اڑاتے رہو خاکہ مرے دل کا\nپیدا نہیں دشمن کوئی تم سا مرے دل کا\n\nپھرتی ہے نظر میں کسی گیسو کی درازی\nبڑھتا ہی چلا جائے گا سودا مرے دل کا\n\nالٹی ہے نہ الٹیں گے نقاب رخ روشن\nمانا ہے نہ مانیں گے وہ کہنا مرے دل کا\n\nمائلؔ ترے اشعار سنوں بزم میں کیوں کر\nیہ راز کئے دیتے ہیں افشا میرے دل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%A7%DA%91%D8%A7%D8%AA%DB%92_%D8%B1%DB%81%D9%88_%D8%AE%D8%A7%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "تم سے اب کامیاب اور ہی ہے", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم سے اب کامیاب اور ہی ہے\nآہ ہم پر عذاب اور ہی ہے\n\nاس کو آئینہ کب پہنچتا ہے\nحسن کی آب و تاب اور ہی ہے\n\nرند واعظ سے کیوں کہ سربر ہو\nاس کی چھو، کی کتاب اور ہی ہے\n\nہجر بھی کم نہیں ہے دوزخ سے\nاس سفر کا عذاب اور ہی ہے\n\nاس کو لگتی ہے کب کوئی تلوار\nتیغ ابرو کی آب اور ہی ہے\n\nیوں تو ہے سرخ یار کا چہرا\nپر پئے جب شراب اور ہی ہے\n\nمجھ کو اس نیند سے نہیں آرام\nمجھ کو راحت کا خواب اور ہی ہے\n\nبحث علمی سے کب ہیں یہ قائل\nجاہلوں کا جواب اور ہی ہے\n\nیاد میں تیری زلف و کاکل کی\nدل کے تئیں پیچ و تاب اور ہی ہے\n\nاس ستم گر کا مجھ پہ ہر ساعت\nجور و ظلم و عذاب اور ہی ہے\n\nکس طرح سے گہر کہوں تاباںؔ\nاس کے دنداں میں آب اور ہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگی", "poet_page": "مصنف:مخمور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگی\nجسم سے اپنے کبھی سایہ جدا ہوتا نہیں\n\nاس طرح فریاد کرنے کو کلیجہ چاہئے\nاب کوئی گلشن میں میرا ہم نوا ہوتا نہیں\n\nوہ محبت آفریں دیتا ہے حسب ظرف عشق\nپھر کسی سے بھی طلب گار وفا ہوتا نہیں\n\nاک تخیل ہے کہ جس میں محو ہے میرا دماغ\nاک تصور یہ جو آنکھوں سے جدا ہوتا نہیں\n\nسعیٔ فہم ذات باری اور یہ محدود عقل\nجس کا حاصل کچھ بھی حیرت کے سوا ہوتا نہیں\n\nاشرف المخلوق کہتے ہیں اسی مجبور کو\nجس کا کوئی کام بے دست دعا ہوتا نہیں\n\nجتنے ارماں دل میں تھے مخمورؔ سب موجود ہیں\nایک بھی تو اپنے مرکز سے جدا ہوتا نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D9%88%D8%AA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C"} {"title": "تم سے کچھ کہنے کو تھا بھول گیا", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم سے کچھ کہنے کو تھا بھول گیا\nہاے کیا بات تھی کیا بھول گیا\n\nبھولی بھولی جو وہ صورت دیکھی\nشکوۂ جور و جفا بھول گیا\n\nدل میں بیٹھا ہے یہ خوف اس بت کا\nہاتھ اٹھے کہ دعا بھول گیا\n\nخوش ہوں اس وعدہ فراموشی سے\nاس نے ہنس کر تو کہا بھول گیا\n\nحال دل سنتے ہی کس لطف سے ہاے\nکچھ کہا کچھ جو رہا بھول گیا\n\nواں کس امید پہ پھر جاے کوئی\nاے دل اس بات کو کیا بھول گیا\n\nہوش میں آ کے سنا کچھ قاصد\nیاد کیا ہے تجھے کیا بھول گیا\n\nعہد کیا تھا مجھے کچھ یاد نہیں\nیہی گر بھول گیا بھول گیا\n\nمیں ادھر بھول گیا رنج فراق\nوہ ادھر عذر جفا بھول گیا\n\nیاد میں ایک صنم کی ناصح\nمیں تو سب کچھ بخدا بھول گیا\n\nخیر مجھ پر تو جو گزری گزری\nشکر وہ طرز وفا بھول گیا\n\nیاد اس کی ہے مری زیست نظامؔ\nموت آئی جو ذرا بھول گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تم عزیز اور تمہارا غم بھی عزیز", "poet_page": "مصنف:ہادی مچھلی شہری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم عزیز اور تمہارا غم بھی عزیز\nکس سے کس کا گلا کرے کوئی\n\nمانع عرض مجھ کو پاس وفا\nان کو ضد التجا کرے کوئی\n\nتم تغافل شعار دل مایوس\nآہ کیا حوصلہ کرے کوئی\n\nغم دل اب کسی کے بس کا نہیں\nکیا دوا کیا دعا کرے کوئی\n\nکون سنتا ہے غم نصیبوں کی\nکس کے در پر صدا کرے کوئی\n\nخیر سن لو مرا فسانۂ غم\nیہ تو کہہ دوگے کیا کرے کوئی\n\nسخت مشکل ہے شرح درد نہاں\nکس طرح ابتدا کرے کوئی\n\nجس کو دیکھو وہ ہے وفا دشمن\nکس سے عہد وفا کرے کوئی\n\nختم جور و جفا ہے مرگ وفا\nکاش پھر ابتدا کرے کوئی\n\nلطف تعزیر جب ہو جان حیات\nکیوں نہ ہادیؔ خطا کرے کوئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2"} {"title": "تم غیر سے ملو نہ ملو میں تو چھوڑ دوں", "poet_page": "مصنف:میر تسکینؔ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم غیر سے ملو نہ ملو میں تو چھوڑ دوں\nگر اس وفا پہ کوئی کہے بے وفا مجھے\n\nسچ ہے تو بدگماں ہے سمجھتا ہے کچھ کا کچھ\nبوسہ نہ لینا تھا ترے آئینے کا مجھے\n\nانصاف کر خراب نہ پھرتا میں در بدر\nملتی جو تیرے گوشۂ خاطر میں جا مجھے\n\nاس بت کی میں دکھاؤں گا تصویر واعظو\nپھر کیا کہے گا داور روز جزا مجھے\n\nکیوں ان سے وقت قتل کیا شکوہ غیر کا\nکرنی تھی مغفرت ہی کی اپنی دعا مجھے\n\nپوچھے جو تجھ سے کوئی کہ تسکیںؔ سے کیوں ملا\nکہہ دیجو حال دیکھ کے رحم آ گیا مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D9%88_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%D9%88%DA%BA"} {"title": "تم لے کے اپنے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھنا", "poet_page": "مصنف:مرزا مائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم لے کے اپنے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھنا\nاور دیکھنا تو تن پہ مرے سر نہ دیکھنا\n\nدشمن بھی میرے ساتھ ہی آتا ہے بزم میں\nتم کو قسم ہے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا\n\nگر دیکھتے نہیں ہو ندامت سے جور کی\nتم اب تو دیکھ لو دم محشر نہ دیکھنا\n\nدل پر رہے گی نقش یہ بے مہریاں تری\nجانا اور اس طرح سے کہ مڑ کر نہ دیکھنا\n\nمائلؔ جو توبہ کرتے ہو کیسا ہی ابر ہو\nپھر آنکھ اٹھا کے شیشہ و ساغر نہ دیکھنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%86%D8%AC%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرو", "poet_page": "مصنف:ماہ لقا بائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرو\nلگ چلنا ایسے دیسوں سے دستور مت کرو\n\nٹسوے بہا کے ہر گھڑی زاری نہیں ہے خوب\nیہ راز عشق ہے اسے مشہور مت کرو\n\nہر چند دل دکھانا کسی کا برا ہے پر\nرنجیدہ خاطروں کو تو رنجور مت کرو\n\nاے ہمدمو جو مجھ سے ہے منظور اختلاط\nجز ذکر یار تم کوئی مذکور مت کرو\n\nروشن رکھو جہان میں مولا مثال مہر\nچندہ کے منہ سے نور کو تم دور مت کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "تم نہ مانو مگر حقیقت ہے", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم نہ مانو مگر حقیقت ہے\nعشق انسان کی ضرورت ہے\n\nجی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ\nزندگی کو مری ضرورت ہے\n\nحسن ہی حسن جلوے ہی جلوے\nصرف احساس کی ضرورت ہے\n\nاس کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا\nاب در و بام سے ندامت ہے\n\nاس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو\nزندگی کتنی خوبصورت ہے\n\nراستہ کٹ ہی جائے گا قابلؔ\nشوق منزل اگر سلامت ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا\nجو یہ کہتے ہوئے جاتے ہو کہ دیکھا دیکھا\n\nطفل دل کو مرے کیا جانے لگی کس کی نظر\nمیں نے کمبخت کو دو دن بھی نہ اچھا دیکھا\n\nلے گیا تھا طرف گور غریباں دل زار\nکیا کہیں تم سے جو کچھ واں کا تماشا دیکھا\n\nوہ جو تھے رونق آبادیٔ گلزار جہاں\nسر سے پا تک انہیں خاک رہ صحرا دیکھا\n\nکل تلک محفل عشرت میں جو تھے صدر نشیں\nقبر میں آج انہیں بیکس و تنہا دیکھا\n\nبسکہ نیرنگی عالم پہ اسے حیرت تھی\nآئینہ خاک سکندر کو سراپا دیکھا\n\nسر جمشید کے کاسے میں بھری تھی حسرت\nیاس کو معتکف تربت دارا دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "تم نے دیوانہ کیا اچھا ہوا", "poet_page": "مصنف:اختر علی اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم نے دیوانہ کیا اچھا ہوا\nہر جگہ میرا جنوں رسوا ہوا\n\nاب تو دیوانوں کے دل کی ہو گئی\nموسم گل میں چمن صحرا ہوا\n\nجو بھی آیا حسن پنہاں دیکھ کر\nکوئی اندھا تو کوئی بہرا ہوا\n\nدیکھ لو اس میں مری تصویر ہے\nاشک غم پلکوں پہ ہے ٹھہرا ہوا\n\nفتح کیسے پائیں گے کفار پر\nقوم کا شیرازہ ہے بکھرا ہوا\n\nتھا جو اخترؔ زہر سا تیر نظر\nدن بہ دن زخم جگر گہرا ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "تم نے دیکھا ہی نہیں ہے وہ نظام مخصوص", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم نے دیکھا ہی نہیں ہے وہ نظام مخصوص\nکوئے جاناں میں ہمارا ہے قیام مخصوص\n\nمجتمع آج ہیں یاران سر پل سارے\nخلوت خاص میں ہے مجمع عام مخصوص\n\nجلسۂ عام میں دقت نہیں ہوتی ان کو\nجو سمجھتے ہیں اشاروں میں کلام مخصوص\n\nدل غم دیدہ ہوا ہمدم صد گونہ نشاط\nآج آیا ہے جو دل بر کا پیام مخصوص\n\nوہ مرا صبح نفس مخلص یک رنگ ہوا\nاب نہ وہ صبح مقرر ہے نہ شام مخصوص\n\nخوب اعزاز گرفتار محبت کا ہوا\nان کو ہے مد نظر قید دوام مخصوص\n\nعام سے خاص کی تمییز ہوا کرتی ہے\nہو گیا نوک زباں شوخ کو نام مخصوص\n\nنقص یہ وضع کا ہو جائے گا داغ عصمت\nکیوں وہ شب گرد ہوا ماہ تمام مخصوص\n\nراز داں جو ہیں سمجھتے ہیں وہ یہ راز و نیاز\nگفتگو خاص سے ہوتا ہے کلام مخصوص\n\nہے ترا بلبل کشمیر یگانہ میکش\nعام ہوتا ہی نہیں شرب دوام مخصوص", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D9%85%D8%AE%D8%B5%D9%88%D8%B5"} {"title": "تم نے پوچھا نہیں کبھی ہم کو", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "تم نے پوچھا نہیں کبھی ہم کو\nتم سے امید یہ نہ تھی ہم کو\n\nروتے دیکھا مجھے تو فرمایا\nآ نہ جائے کہیں ہنسی ہم کو\n\nجس نظر سے کہ چاہتے تھے ہم\nتم نے دیکھا نہیں کبھی ہم کو\n\nہائے کہنا کسی کا جاتے ہوئے\nکیجئے رخصت ہنسی خوشی ہم کو\n\nاو جوانوں کی جان ہم سے حجاب\nیاد ہے تیری کم سنی ہم کو\n\nہائے کیا بھولے پن سے کہتے ہیں\nگھورتی کیوں ہے آرسی ہم کو\n\nمدتوں میں حضور یار شرفؔ\nآج لائی ہے بے خودی ہم کو", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "تم وفا کا عوض جفا سمجھے", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم وفا کا عوض جفا سمجھے\nاے بتو تم سے بس خدا سمجھے\n\nپان کھا کر جو آئے مقتل میں\nکیا شہیدوں کا خون بہا سمجھے\n\nسر قلم کرنے کا تھا خط میں جو حال\nاس کا مضمون ہم جدا سمجھے\n\nکب وہ تلووں سے آنکھیں ملنے دے\nجو کہ مژگاں کو خار پا سمجھے\n\nہو گیا جب قلم ہمارا سر\nاپنی قسمت کا تب لکھا سمجھے\n\nدوڑے کیا ہو کے خوش سوئے مقتل\nاس کے ہم گھر کا راستہ سمجھے\n\nکسی صورت سے ہم کو آنے دے\nکاش دروازے کا گدا سمجھے\n\nیاد دنداں میں جو بہا آنسو\nاس کو ہم در بے بہا سمجھے\n\nچاندنی پر وہ پھر رکھے نہ قدم\nہم فقیروں کا بوریا سمجھے\n\nتیری ابرو کو جو ہلال کہا\nماہ نو سے بھی کچھ سوا سمجھے\n\nمروں تو وہ جواب نامہ لکھے\nخط نہ آنے کا مدعا سمجھے\n\nہاتھ اٹھا کر لگا جو کوسنے وہ\nواہ رے ہم اسے دعا سمجھے\n\nجو ہے بیگانہ آشنا ہے وہ\nہم جو کہتے ہیں کوئی کیا سمجھے\n\nہم کو نظروں سے پیستی ہیں آپ\nچشم بد دور توتیا سمجھے\n\nجب سے اوس کوچے میں قدم رکھا\nکیمیا کو بھی خاک پا سمجھے\n\nتجھ کو او نوجواں کہا بے مثل\nآج معنی لا فتا سمجھے\n\nہم نے جب دیکھی چاندنی چھٹکی\nتیری اتری ہوئی قبا سمجھے\n\nکاسۂ ماہ جب سے دیکھ لیا\nتب سے گردوں کو ہم گدا سمجھے\n\nاپنے فہمید پوچھ مت گویاؔ\nکچھ نہ سمجھے یہ بارہا سمجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D9%88%D8%B6_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموش", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموش\nیہ بھول نہیں ہوتی مری جان فراموش\n\nمحراب عبادت خم ابرو ہے بتوں کا\nکر بیٹھے ہیں کعبے کو مسلمان فراموش\n\nآباد رہے شاد رہے یاد تمہاری\nمجھ سے نہیں ہونے کی کسی آن فراموش\n\nکب بھولتے ہیں پاؤں مرے دشت نوردی\nکرتے ہیں کہاں ہاتھ گریبان فراموش", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4"} {"title": "تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول\nبر آئیں میرے دل کے بھی ارمان یا رسول\n\nکیوں دل پہ میں فدا نہ کروں جان یا رسول\nرہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسول\n\nرحمت دکھائے حشر میں وہ شان یا رسول\nشرمندہ ہوکے ہوں میں پشیمان یا رسول\n\nکشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے\nجاری مری زباں پہ ہو قرآن یا رسول\n\nجس دم کہ دم بدن سے نکلنے لگے مرا\nاس دم نہ ہوں حواس پریشان یا رسول\n\nمیں گھر گیا ہوں فوجِ معاصی میں المدد\nکوئی نہیں نجات کا سامان یا رسول\n\nمحشر میں دست بستہ کہوں گا حضور سے\nجی بھر کے نکلیں آج تو ارمان یا رسول\n\nبلوائیے مدینے میں جائے یہ تفرقہ\nاب ہند میں بہت ہوں پریشان یا رسول\n\nسختیِ نزع تنگیِ گور و حسابِ حشر\nیہ منزلیں کڑی نہوں سب آسان یا رسول\n\nدنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے\nلے جاؤں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسول\n\nکیا پیاری پیاری باتیں تھیں اصحابِ پاک کی\nلائے تھے جب سے آپ پر ایمان یا رسول\n\nہنگامِ عرض کرتے تھے ہاتھوں کو جوڑ کر\nماں باپ سب ہیں آپ پہ قربان یا رسول\n\nمیں بھی تو ہوں غلام اسی در کا حکم ہو\nروکیں نہ مجھ کو آپ کے دربان یا رسول\n\nخوانِ عطا سے مجھ کو بھی ہوں نعمتیں عطا\nسرکار میزباں ہیں میں مہمان یا رسول\n\nاولاد میں مری برکت کا ظہور ہو\nآباد گھر مرا نہ ہو ویران یا رسول\n\nاس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملے\nمیں چاک کر رہا ہوں گریبان یا رسول\n\nاب انبیا کی شان زمانے سے ہے بلند\nان سب سے برتر آپکی ہے شان یا رسول\n\nکافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطے\nعاصی تو ہوں مگر ہوں پشیمان یا رسول\n\nاس چاک میں مجھے درِ جنت نظر پڑے\nوحشت میں چاک ہو جو گریبان یا رسول\n\nحیرت زدہ ہے آنکھ تو رخسار دیئکھ کر\nدل کیوں ہے شکلِ آئینہِ حیران یا رسول\n\nمشکل کشا ہیں آپ امیؔر آپ کا غلام\nاب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسول", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86_%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84"} {"title": "تم پہ میں مر رہا ہوں مرنے دو", "poet_page": "مصنف:سید امیر حسن بدر", "kind": "poetry", "section": "غزل > خمخانۂ بدر (1928)", "year": "1928", "text_ur": "تم پہ میں مر رہا ہوں مرنے دو\nکام کرنے کا ہے یہ کرنے دو\n\nان کو اے ہم نشیں سنورنے دو\nکوئی مرتا جو ہے تو مرنے دو\n\nناروا ظلم ان کو کرنے دو\nخون ناحق میں ہاتھ بھرنے دو\n\nباندھی تلوار کھل پڑا جوڑا\nکھائے لچکے تری کمر نے دو\n\nخون بولے گا سر پہ چڑھ کے وہاں\nقتل کر کے یہاں مکرنے دو\n\nچھینٹے کوثر کے واعظو دینا\nابھی شیشہ میں تو اترنے دو\n\nبزم برخاست مے کشو نہ کرو\nمرا جام سفال بھرنے دو\n\nدیکھنا ٹھنڈی گرمیاں ان کی\nان کو حمام میں نکھرنے دو\n\nچپ ہوئی کیوں زبان کیوں روکی\nپھول جھڑنے دو گل کترنے دو\n\nخود پریشان رو سیہ ہوگی\nکان بھرتی ہے زلف بھرنے دو\n\nجوش پر سیل اشک ہے ٹھیرو\nہیں چڑھیں ندیاں اترنے دو\n\nفکر کیوں ہے نمک فشانی کی\nزخم آ لے ابھی ہیں بھرنے دو\n\nمحو شکر جفا رہو تم بدرؔ\nظلم کرتے ہیں وہ تو کرنے دو", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%D9%BE%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%88"} {"title": "تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں\nچھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا ہوں\n\nرہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گے\nبرسات میں کاغذ کی طرح بھیگ گیا ہوں\n\nسو بار گرہ دے کے کسی آس نے جوڑا\nسو بار میں دھاگے کی طرح ٹوٹ چکا ہوں\n\nجائے گا جہاں تو مری آواز سنے گا\nمیں چور کی مانند ترے دل میں چھپا ہوں\n\nاک نقطے پہ آ کر بھی ہم آہنگ نہیں ہیں\nتو اپنا فسانہ ہے تو میں اپنی صدا ہوں\n\nچھیڑو نہ ابھی شاخ شکستہ کا فسانہ\nٹھہرو میں ابھی رقص صبا دیکھ رہا ہوں\n\nمنزل کا پتا جس نے دیا تھا مجھے باقیؔ\nاس شخص سے رستے میں کئی بار ملا ہوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "تم کو اگر ہماری محبت نہیں رہی", "poet_page": "مصنف:منشی بہاری لال مشتاق دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم کو اگر ہماری محبت نہیں رہی\nہم کو بھی اب عدو سے عداوت نہیں رہی\n\nہر اک ادا پہ مرنے کی عادت نہیں رہی\nوہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی\n\nمضمون مدعا ابھی دل میں ہی تھا مرے\nکہتے ہیں اب تو تاب سماعت نہیں رہی\n\nواں ہے وہی وفور عتاب و جفا و قہر\nیاں ناز بھی اٹھانے کی طاقت نہیں رہی\n\nبے شک نقاب رخ سے اٹھایا کسی نے آج\nظلمت کدہ میں میرے جو ظلمت نہیں رہی\n\nمشتاقؔ تیرے عشق کی ہے دھوم آج کل\nاب قیس و کوہ کن کی وہ شہرت نہیں رہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%8C"} {"title": "تم کو کہتے ہیں کہ عاشق کی فغاں سنتے ہو", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم کو کہتے ہیں کہ عاشق کی فغاں سنتے ہو\nیہ تو کہنے ہی کی باتیں ہیں کہاں سنتے ہو\n\nچاہ کا ذکر تمہاری میں کیا کس آگے\nکون کہتا ہے کہو کس کی زباں سنتے ہو\n\nکشش عشق ہی لائی ہے تمہیں یاں ورنہ\nآپ سے تھا نہ مجھے یہ تو گماں سنتے ہو\n\nایک شب میرا بھی افسانۂ جاں سوز سنو\nقصے اوروں کے تو اے جان جہاں سنتے ہو\n\nوہ گل اندام جو آیا تو خجالت سے تمام\nزرد ہو جاؤ گے اے لالہ رخاں سنتے ہو\n\nایک کے لاکھ سناؤں گا خبردار رہو\nاس طرف آئی اگر طبع رواں سنتے ہو\n\nآج کیا ہے کہو کیوں ایسے خفا بیٹھے ہو\nاپنی کہتے ہو نہ میری ہی میاں سنتے ہو\n\nکون ہے کس سے کروں درد دل اپنا اظہار\nچاہتا ہوں کہ سنو تم تو کہاں سنتے ہو\n\nیہ وہی شوخ ہے آتا ہے جو بیدارؔ کے ساتھ\nجس کو غارت گر دل آفت جاں سنتے ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "تم کھل رہے تھے غیر سے چھاؤں تلے کھڑے", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم کھل رہے تھے غیر سے چھاؤں تلے کھڑے\nہم دست رشک دھوپ میں اپنے ملے کھڑے\n\nہم دیکھ تم کو دوڑے کہ مل لیں گلے کھڑے\nتم بھول ہم کو رہ گئے جانی بھلے کھڑے\n\nبیٹھو جی مل کے مہندی دکھاؤ اٹھا نہ ہاتھ\nہاتھوں سے ہم تمہارے بہت ہیں جلے کھڑے\n\nہے ہر نفس کے ساتھ ہوائی و پھلجھڑی\nیہ نخل آہ زور ہیں پھولے پھلے کھڑے\n\nہے ہم پہ تہمت مرض عشق اظفریؔ\nہم تم ہیں دیکھو ٹھنی سے چنگے بھلے کھڑے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%DA%A9%DA%BE%D9%84_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%AA%D9%84%DB%92_%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%92"} {"title": "تم گرم ملے ہم سے نہ سرما کے دنوں میں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم گرم ملے ہم سے نہ سرما کے دنوں میں\nپیش آئے بہ گرمی بھی تو گرما کے دنوں میں\n\nجب آئی خزاں ہم کو کہا \"باغ چلو ہو\"\nپوچھا نہ کبھی سیر و تماشا کے دنوں میں\n\nنے غرفے سے جھانکا نہ کبھی بام پر آئے\nپنہاں رہے تم حسن دل آرا کے دنوں میں\n\nجی ہی میں رکھی اپنے میاں جی سے جو اپجی\nکچھ ہم نے کہا تم سے تمنا کے دنوں میں\n\nلکھ لکھ کے اسے یاروں نے دیوان بنایا\nکچھ کچھ جو بکا کرتے تھے سودا کے دنوں میں\n\nدل اپنا الجھتا تھا تبھی جن دنوں پیارے\nتھی زلف تری طرۂ لیلیٰ کے دنوں میں\n\nمفلس ہوئے اے مصحفیؔ افسوس کہ ہم نے\nپیدا نہ کیا یار کو پیدا کے دنوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D9%85%D9%84%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D8%B1%D9%85%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تم ہجر کے جھگڑوں کو مٹا کیوں نہیں دیتے", "poet_page": "مصنف:نشتر چھپروی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نشتر (1930)", "year": "1930", "text_ur": "تم ہجر کے جھگڑوں کو مٹا کیوں نہیں دیتے\nبگڑی ہوئی تقدیر بنا کیوں نہیں دیتے\n\nدرد دل بیتاب گھٹا کیوں نہیں دیتے\nمحفل سے رقیبوں کو اٹھا کیوں نہیں دیتے\n\nکیوں ہے خفگی کس لئے ماتھے پہ شکن ہے\nتقصیر مری آپ بتا کیوں نہیں دیتے\n\nتم سے جو کیا کرتے ہیں ہر وقت دغائیں\nاے حضرت دل ان کو دعا کیوں نہیں دیتے\n\nمجبور ہوں میں کشمکش رنج و الم میں\nتم آ کے مری جان چھڑا کیوں نہیں دیتے\n\nتنگ آئے ہیں ہمسایہ جو فریاد سے میری\nاس شوخ فسوں گر کو بلا کیوں نہیں دیتے\n\nاک بوسۂ رخسار کا مدت سے ہوں سائل\nہیں آپ اگر اہل سخا کیوں نہیں دیتے\n\nوہ پوچھتے پھرتے ہیں کہ میں کس کو مٹاؤں\nتربت کو مری لوگ بتا کیوں نہیں دیتے\n\nمرتا ہوں میں تم پر جو کہا ان سے تو بولے\nیہ سچ ہے تو پھر مر کے دکھا کیوں نہیں دیتے\n\nوہ تذکرۂ صدمۂ ہجراں پہ شب وصل\nبولے کہ اسے دل سے بھلا کیوں نہیں دیتے\n\nجب میں نے کہا تم سے حسیں اور بہت ہیں\nکس ناز سے بولے کہ دکھا کیوں نہیں دیتے\n\nکیوں قتل کی پرسش پہ سر حشر ہو خاموش\nالزام رقیبوں پہ لگا کیوں نہیں دیتے\n\nہے نشترؔ ناشاد جھکائے ہوئے سر کو\nتم جوہر شمشیر دکھا کیوں نہیں دیتے", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%DA%BE%DA%AF%DA%91%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%B9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92"} {"title": "تم ہر اک رنگ میں اے یار نظر آتے ہو", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم ہر اک رنگ میں اے یار نظر آتے ہو\nکہیں گل اور کہیں خار نظر آتے ہو\n\nقابل دید تم اے یار نظر آتے ہو\nچشم بد دور طرحدار نظر آتے ہو\n\nصورتیں کرتے ہو اے جان ہزاروں پیدا\nتم نئی شکل سے ہر بار نظر آتے ہو\n\nبھول جاتا ہوں میں فرقت کے گلے اور شکوے\nشکر کرتا ہوں جب اے یار نظر آتے ہو\n\nآئنہ دیکھنے کو جب نہیں ملتا تم کو\nاپنی تم تشنہ دیدار نظر آتے ہو\n\nکہتے ہو ہم نہیں کرتے ہیں کوئی فرمائش\nجان تک لینے کو تیار نظر آتے ہو\n\nخوں کسی عاشق کشتہ کا چڑھا ہے سر پر\nرنگ لائے ہوئے اے یار نظر آتے ہو\n\nبند ہو جائیں نہ رستے کہیں دیوانوں سے\nبال کھولے سر بازار نظر آتے ہو\n\nرہتی ہیں آٹھ پہر آپ کو کنگھی چوٹی\nاپنی زلفوں میں گرفتار نظر آتے ہو\n\nخوف سے برج میں جلاد فک چھپتا ہے\nتم جو باندھے ہوئے تلوار نظر آتے ہو\n\nسنبلستاں ہیں مری جان سراسر زلفیں\nرخ گل رنگ سے گلزار نظر آتے ہو\n\nآبرو حسن کی دولت سے ملی ہے تم کو\nرنگ کندن سا ہے زردار نظر آتے ہو\n\nکیا ہے بے یار کھٹکتے ہو مری آنکھوں میں\nاے گلو باغ میں تم خار نظر آتے ہو\n\nشان ہے گیسوؤں سے آپ میں سرداری کی\nسبزۂ خط سے نمودار نظر آتے ہو\n\nایسے معشوق زمانے میں کہاں ملتے ہیں\nپیار کرنے کے سزاوار نظر آتے ہو\n\nدونو گیسو پئے عاشق ہیں کمندیں دوہری\nپیچ میں لاؤ گے عیار نظر آتے ہو\n\nتپ‌ الفت میں صباؔ ہے یہ تمہارا درجہ\nدق کے آثار ہیں بیمار نظر آتے ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "تم ہمارے دل شیدا کو نہیں جانتے کیا", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم ہمارے دل شیدا کو نہیں جانتے کیا\nاور غیروں کی تمنا کو نہیں جانتے کیا\n\nکہیں ہوتا بھی ہے جاں بخش لب عہد شکن\nتیرے اس جھوٹے مسیحا کو نہیں جانتے کیا\n\nپہلے دل تھام لو پھر آئینہ تم ہاتھ میں لو\nاپنے حسن رخ زیبا کو نہیں جانتے کیا\n\nکر نہ دیں اس کو مکدر کہیں آہ بیخودؔ\nآپ اس آئینہ سیما کو نہیں جانتے کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تم ہو بزم عیش ہے واں اور صحبت داریاں", "poet_page": "مصنف:مرزا علی لطف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم ہو بزم عیش ہے واں اور صحبت داریاں\nہم ہیں کنج غم ہے یاں اور جان سے بیزاریاں\n\nتم کو سیر باغ و گلگشت چمن کا واں ہے شوق\nیاں بدن پر ہیں ہجوم داغ سے گل کاریاں\n\nدھیان ہے آرائش زلف پریشاں کا تمہیں\nیاد ہیں حال پریشاں کی مری کچھ خواریاں\n\nتم صفائے ساعد و بازو دکھاتے ہو وہاں\nہم پہ یاں موئے بدن کرتے ہیں نشتر داریاں\n\nتم نے دکھلائی وہاں پیٹھ اور چوٹی کی پھبن\nیاں مری چھاتی پہ ہیں کالے نے لہریں ماریاں\n\nنیک و بد دونوں سے یاں ہم نے تو آنکھیں موند لیں\nتم وہاں چتون کی دکھلاتے ہو جادو کاریاں\n\nیاں برنگ پیکر تصویر ہم خاموش ہیں\nگفتگو کی تم دکھاتے ہو وہاں طراریاں\n\nقہقہے تم مارتے ہو واں بآواز بلند\nدشمنوں سے یاں چھپا کر ہم ہیں کرتے زاریاں\n\nہر مریض غم کی جاں بخشی کا ہے واں تم کو دھیان\nکھنچ گئیں یاں طول شدت سے مری بیماریاں\n\nاضطراب دل سے بے پردہ ہوا یاں راز عشق\nسوجھتی ہیں واں تمہیں ہر بات میں تہداریاں\n\nکیا کسی سے بات کیجے بھولتے اک دم نہیں\nان بھلاؤں سے وہ باتوں میں تری عیاریاں\n\nچھین کر باتوں میں دل کو لطفؔ سے وہ بت بنے\nیاد رکھنا غیر کی کرنا وہاں دال داریاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%DB%81%DB%92_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہے", "poet_page": "مصنف:محمد علی جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہے\nپر غیب سے سامان بقا میرے لیے ہے\n\nپیغام ملا تھا جو حسین ابن علی کو\nخوش ہوں وہی پیغام قضا میرے لیے ہے\n\nیہ حور بہشتی کی طرف سے ہے بلاوا\nلبیک کہ مقتل کا صلا میرے لیے ہے\n\nکیوں جان نہ دوں غم میں ترے جب کہ ابھی سے\nماتم یہ زمانہ میں بپا میرے لیے ہے\n\nمیں کھو کے تری راہ میں سب دولت دنیا\nسمجھا کہ کچھ اس سے بھی سوا میرے لیے ہے\n\nتوحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے\nیہ بندہ زمانے سے خفا میرے لیے ہے\n\nسرخی میں نہیں دست حنا بستہ بھی کچھ کم\nپر شوخی خون شہدا میرے لیے ہے\n\nراحل ہوں مسلمان بصد نعرۂ تکبیر\nیہ قافلہ یہ بانگ درا میرے لیے ہے\n\nانعام کا عقبیٰ کے تو کیا پوچھنا لیکن\nدنیا میں بھی ایماں کا صلا میرے لیے ہے\n\nکیوں ایسے نبی پر نہ فدا ہوں کہ جو فرمائے\nاچھے تو سبھی کے ہیں برا میرے لیے ہے\n\nاے شافع محشر جو کرے تو نہ شفاعت\nپھر کون وہاں تیرے سوا میرے لیے ہے\n\nاللہ کے رستہ ہی میں موت آئے مسیحا\nاکسیر یہی ایک دوا میرے لیے ہے\n\nاے چارہ گرو چارہ گری کی نہیں حاجت\nیہ درد ہی داروئے شفا میرے لیے ہے\n\nکیا ڈر ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف\nکافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے\n\nجو صحبت اغیار میں اس درجہ ہو بیباک\nاس شوخ کی سب شرم و حیا میرے لیے ہے\n\nہے ظلم ترا عام بہت پھر بھی ستم گر\nمخصوص یہ انداز جفا میرے لیے ہے\n\nہیں یوں تو فدا ابر سیہ پر سب ہی میکش\nپر آج کی گھنگھور گھٹا میرے لیے ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D9%81%D9%86%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "تماشا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "دو تین روز سے طیارے سیاہ عقابوں کی طرح پر پھلائے خاموش فضا میں منڈلا رہے تھے، جیسے وہ کسی شکار کی جستجو میں ہوں۔ سرخ آندھیاں وقتاً فوقتاً کسی آنے والے خونی حادثے کا پیغام لا رہی تھیں۔ سنسان بازاروں میں مسلح پولیس کی گشت ایک عجیب ہیبت ناک سماں پیش کر رہی تھی۔ وہ بازار جو صبح سے کچھ عرصہ پہلے لوگوں کے ہجوم سے پر ہوا کرتے تھے، اب کسی نامعلوم خوف کی وجہ سے سونے پڑے تھے۔۔۔ شہر کی فضا پر ایک پر اسرار خاموشی مسلط تھی۔ بھیانک خوف راج کر رہا تھا۔ خالد گھر کی خاموش و پرسکوت فضا سے سہما ہوا اپنے والد کے قریب بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔\n\n’’ابا، آپ مجھے اسکول کیوں نہیں جانے دیتے؟‘‘\n\n’’بیٹا آج سکول میں چھٹی ہے۔‘‘\n\n’’ماسٹر صاحب نے تو ہمیں بتایا ہی نہیں۔ وہ تو کل کہہ رہے تھے کہ جو لڑکا آج اسکول کا کام ختم کر کے اپنی کاپی نہ دکھائے گا، اسے سخت سزا دی جائے گی!‘‘\n\n’’وہ اطلاع دینی بھول گئے ہوں گے۔‘‘\n\n’’آپ کے دفتر میں بھی چھٹی ہو گی؟‘‘\n\n’’ہاں، ہمارا دفتر بھی آج بند ہے۔‘‘\n\n’’چلو اچھا ہوا۔ آج میں آپ سے کوئی اچھی سی کہانی سنوں گا۔‘‘\n\nیہ باتیں ہو رہی تھیں کہ تین طیارے چیختے ہوئے ان کے سر پر سے گزر گئے۔ خالد ان کو دیکھ کر بہت خوف زدہ ہوا، وہ تین چار روز سے ان طیاروں کو بغور دیکھ رہا تھا، مگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا تھا۔ وہ حیران تھا کہ یہ جہاز سارا دن دھوپ میں کیوں چکر لگاتے رہتے ہیں۔ وہ ان کی روزانہ نقل و حرکت سے تنگ آ کر بولا، ’’ابا مجھے ان جہازوں سے سخت خوف معلوم ہو رہا ہے۔ آپ ان کے چلانے والوں سے کہہ دیں کہ وہ ہمارے گھر پر سے نہ گزرا کریں۔‘‘\n\n’’خوب۔۔۔! کہیں پاگل تو نہیں ہو گئے خالد!‘‘\n\n’’ابا، یہ جہاز بہت خوف ناک ہیں۔ آپ نہیں جانتے، یہ کسی نہ کسی روز ہمارے گھر پر گولہ پھینک دیں گے۔۔۔ کل صبح ماما امی جان سے کہہ رہی تھی کہ ان جہاز والوں کے پاس بہت سے گولے ہیں۔ اگر انہوں نے اس قسم کی کوئی شرارت کی، تو یاد رکھیں میرے پاس بھی ایک بندوق ہے۔۔۔ وہی جو آپ نے پچھلی عید پر مجھے دی تھی۔‘‘\n\nخالد کا باپ اپنے لڑکے کی غیر معمولی جسارت پر ہنسا، ’’ماما تو پاگل ہے، میں اس سے دریافت کروں گا کہ وہ گھر میں ایسی باتیں کیوں کیا کرتی ہے۔۔۔ اطمینان رکھو، وہ ایسی بات ہرگز نہیں کریں گے۔‘‘\n\nاپنے والد سے رخصت ہو کر خالد اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اور ہوائی بندوق نکال کر نشانہ لگانے کی مشق کرنے لگا تاکہ اس روز جب ہوائی جہاز والے گولے پھینکیں، تو اس کا نشانہ خطا نہ جائے۔ اور وہ پوری طرح انتقام لے سکے۔۔۔ کاش! انتقام کا یہی ننھا جذبہ ہر شخص میں تقسیم ہو جائے۔\n\nاسی عرصے میں جبکہ ایک ننھا بچہ اپنے انتقام لینے کی فکر میں ڈوبا ہوا طرح طرح کے منصوبے باندھ رہا تھا، گھر کے دوسرے حصے میں خالد کا باپ اپنی بیوی کے پاس بیٹھا ہوا ماما کو ہدایت کر رہا تھا کہ وہ آئندہ گھر میں اس قسم کی کوئی بات نہ کرے جس سے خالد کو دہشت ہو۔\n\nماما اور بیوی کو اسی قسم کی مزید ہدایات دے کر وہ ابھی بڑے دروازے سے باہر جا رہا تھا کہ خادم ایک دہشت ناک خبر لایا کہ شہر کے لوگ بادشاہ کے منع کرنے پر بھی شام کے قریب ایک عام جلسہ کرنے والے ہیں اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ کوئی نہ کوئی واقعہ ضرور پیش آکر رہے گا۔\n\nخالد کا باپ یہ خبر سن کر بہت خوف زدہ ہوا۔ اب اسے یقین ہو گیا کہ فضا میں غیر معمولی سکون، طیاروں کی پرواز، بازاروں میں مسلح پولیس کی گشت، لوگوں کے چہروں پر اداسی کا عالم اور خونی آندھیوں کی آمد کسی خوف ناک حادثہ کا پیش خیمہ تھے۔\n\nوہ حادثہ کس نوعیت کا ہو گا۔۔۔؟ یہ خالد کے باپ کی طرح کسی کو بھی معلوم نہ تھا مگر پھر بھی سارا شہر کسی نامعلوم خوف میں لپٹا ہوا تھا۔\n\nباہر جانے کے خیال کو ملتوی کرکے خالد کا باپ ابھی کپڑے تبدیل کرنے بھی نہ پایا تھا کہ طیاروں کا شور بلند ہوا۔ وہ سہم گیا۔۔۔ اسے ایسا معلوم ہوا، جیسے سیکڑوں انسان ہم آہنگ آواز میں درد کی شدت سے کراہ رہے ہیں۔\n\nخالد طیاروں کا شور و غل سن کر اپنی ہوائی بندوق سنبھا لتا ہوا کمرے سے باہر دوڑا آیا اور انہیں غور سے دیکھنے لگا تاکہ وہ جس وقت گولہ پھینکنے لگیں، تو وہ اپنی ہوائی بندوق کی مدد سے انہیں نیچے گرا دے۔ اس وقت چھ سال کے بچے کے چہرے پر آہنی ارادہ و استقلال کے آثار نمایاں تھے، جو کم حقیقت بندوق کا کھلونا ہاتھ میں تھامے ایک جری سپاہی کو شرمندہ کر رہا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ آج اس چیز کو، جو اسے عرصے سے خوف زدہ کر رہی تھی، مٹانے پر تلا ہوا ہے۔\n\nخالد کے دیکھتے دیکھتے ایک جہاز سے کوئی چیز گری جو کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کے مشابہ تھی۔ گرتے ہی یہ ٹکڑے ہوا میں پتنگوں کی طرح اڑنے لگے، ان میں سے چند خالد کے مکان کی بالائی چھت پر بھی گرے۔ خالد بھاگا ہوا اوپر گیا اور کاغذ اٹھا لایا۔\n\n’’ابا جی۔۔۔ ماما سچ مچ جھوٹ بک رہی تھی۔ جہاز والوں نے تو گولوں کے بجائے یہ کاغذ پھینکے ہیں۔‘‘\n\nخالد کے باپ نے وہ کاغذ لے کر پڑھنا شروع کیا تو رنگ زرد ہو گیا۔ ہونے والے حادثے کی تصویر اب اسے عیاں طور پر نظر آنے لگی۔ اس اشتہار میں صاف لکھا تھا کہ بادشاہ کسی جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اگر اس کی مرضی کے خلاف کوئی جلسہ کیا گیا تو نتائج کی ذمہ دار خود رعایا ہوگی۔\n\nاپنے والد کو اشتہار پڑھنے کے بعد اس قدر حیران و پریشان دیکھ کر خالد نے گھبراتے ہوئے کہا، ’’اس کاغذ میں یہ تو نہیں لکھا کہ وہ ہمارے گھر پر گولے پھینکیں گے؟‘‘\n\n’’خالد، اس وقت تم جاؤ۔۔۔! جاؤ اپنی بندوق کے ساتھ کھیلو۔‘‘\n\n’’مگر اس پر لکھا کیا ہے؟‘‘\n\n’’لکھا ہے کہ آج شام کو ایک تماشا ہو گا۔‘‘ خالد کے باپ نے گفتگو کو مزید طول دینے کے خوف سے جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔\n\n’’تماشا ہو گا۔۔۔! پھر تو ہم بھی چلیں گے نا؟‘‘\n\n’’کیا کہا؟‘‘\n\n’’کیا اس تماشے میں آپ مجھے نہ لے چلیں گے؟‘‘\n\n’’لے چلیں گے۔۔۔ اب جاؤ جا کر کھیلو۔‘‘\n\n’’کہاں کھیلوں۔۔۔؟ بازار میں آپ جانے نہیں دیتے۔ ماما مجھ سے کھیلتی نہیں، میرا ہم جماعت طفیل بھی تو آج کل یہاں نہیں آتا۔ اب میں کھیلوں تو کس سے کھیلوں۔۔۔؟ شام کے وقت تماشا دیکھنے تو ضرور چلیں گے نا؟‘‘ کسی جواب کا انتظار کیے بغیر خالد کمرے سے باہر چلا گیا۔ اور مختلف کمروں میں آوارہ پھرتا ہوا اپنے والد کی نشست گاہ میں پہنچا، جس کی کھڑکیاں بازار کی طرف کُھلتی تھیں۔ کھڑکی کے قریب بیٹھ کر وہ بازار کی طرف جھانکنے لگا۔\n\nکیا دیکھتا ہے کہ بازار میں دکانیں تو بند ہیں مگر آمد و رفت جاری ہے۔۔۔ لوگ جلسے میں شریک ہونے کے لیے جا رہے تھے۔ وہ سخت حیران تھا کہ دو تین روز سے دکانیں کیوں بند رہتی ہیں۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے اس نے اپنے ننھے دماغ پر بہتیرا زور دیا مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ کر سکا۔\n\nبہت غور و فکر کے بعد اس نے یہ سوچا کہ لوگوں نے اس تماشا کو دیکھنے کی خاطر، جس کے اشتہار جہاز بانٹ رہے تھے، دکانیں بند کر رکھی ہیں۔ اب اس نے خیال کیا کہ وہ کوئی نہایت ہی دلچسپ تماشا ہوگا جس کے لیے تمام بازار بند ہیں۔ اس خیال نے خالد کو سخت بے چین کر دیا اور وہ اس وقت کا نہایت بے قراری سے انتظار کرنے لگا جب اس کا ابا اسے تماشا دکھلانے کو لے چلے۔\n\nوقت گزرتا گیا۔۔۔ وہ خونی گھڑی قریب تر آتی گئی۔\n\nسہ پہر کا وقت تھا۔ خالد، اس کا باپ اور والدہ صحن میں خاموش بیٹھے ایک دوسرے کی طرف خاموش نگاہوں سے تک رہے تھے۔۔۔ ہوا سسکیاں بھرتی ہوئی چل رہی تھی۔\n\nتڑ۔ تڑ۔ تڑ۔ تڑ۔\n\nیہ آواز سنتے ہی خالد کے باپ کے چہرے کا رنگ کاغذ کی طرح سفید ہو گیا۔ زبان سے بمشکل اس قدر کہہ سکا، ’’گولی!‘‘\n\nخالد کی ماں فرطِ خوف سے ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکال سکی۔ گولی کا نام سنتے ہی اسے ایسے معلوم ہوا جیسے خود اس کی چھاتی میں گولی اتر رہی ہے۔\n\nخالد اس آواز کو سنتے ہی اپنے والد کی انگلی پکڑ کر کہنے لگا:\n\n’’ابّا جی چلو چلیں! تماشا تو شروع ہو گیا ہے۔‘‘\n\n’’کون سا تماشا؟‘‘ خالد کے باپ نے اپنے خوف کو چھپاتے ہوئے کہا۔\n\n’’وہی تماشا جس کے اشتہار آج صبح ہوئی جہازبانٹ رہے تھے۔۔۔ کھیل شروع ہو گیا۔ تبھی تو اتنے پٹاخوں کی آواز سنائی دے رہی ہے۔‘‘\n\n’’ابھی بہت وقت باقی ہے، تم شور مت کرو۔۔۔ خدا کے لیے اب جاؤ، ماما کے پاس جا کر کھیلو!‘‘ خالد یہ سنتے ہی باورچی خانے کی طرف گیا۔ مگر وہاں ماما کو نہ پا کر اپنے والد کی نشست گاہ میں چلا گیا اور کھڑکی سے بازار کی طرف دیکھنے لگا۔ بازار آمد و رفت بند ہو جانے کی وجہ سے سائیں سائیں کر رہا تھا۔۔۔ دور فاصلے سے کتوں کی درد ناک چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔ چند لمحات کے بعد ان چیخوں میں انسان کی درد ناک آواز بھی شامل ہو گئی۔\n\nخالد کسی کو کراہتے سن کر بہت حیران ہوا۔ ابھی وہ اس آواز کی جستجو کے لیے کوشش ہی کر رہا تھا کہ چوک میں اسے ایک لڑکا دکھائی دیا، جو چیختا، چلاتا، بھاگتا چلا آ رہا تھا۔ خالد کے گھر کے عین مقابل وہ لڑکا لڑکھڑا کر گرا، اور گرتے ہی بے ہوش ہو گیا۔۔۔ اس کی پنڈلی پر ایک زخم تھا، جس سے فواروں خون نکل رہا تھا۔ یہ سماں دیکھ کر خالد بہت خوف زدہ ہوا۔ بھاگ کر اپنے والد کے پاس آیا اور کہنے لگا، ’’ابّا، ابّا، بازار میں ایک لڑکا گر پڑا ہے۔۔۔ اس کی ٹانگ سے بہت خون نکل رہا ہے۔‘‘\n\nیہ سنتے ہی خالد کا باپ کھڑکی کی طرف گیا اور دیکھا کہ واقعی ایک نوجوان لڑکا بازار میں اوندھے منہ پڑا ہے۔ بادشاہ کے خوف سے اسے جرأت نہ ہوئی کہ اس لڑکے کو سڑک پر سے اٹھا کر سامنے والی دکان کے پٹرے پر لٹا دے۔۔۔ بے سازو برگ افراد کو اٹھانے کے لیے حکومت کے اربابِ حل و عقد نے آہنی گاڑیاں مہیا کر رکھی ہیں۔ مگر اس معصوم بچے کی نعش جو ان ہی کی تیغ ستم کا شکار تھی، وہ ننھا پودا جو ان ہی کے ہاتھوں مسلا گیا تھا، وہ کونپل جو کھلنے سے پہلے ان ہی کی عطا کردہ بادِ سموم سے جھلس گئی تھی، کسی کے دل کی راحت جو ان ہی کے جور و استبداد نے چھین لی تھی، اب ان ہی کی تیار کردہ سڑک پر۔۔۔ آہ! موت بھیانک ہے، مگر ظلم اس سے کہیں زیادہ خوفناک اور بھیانک ہے۔\n\n’’ابا اس لڑکے کو کسی نے پیٹا ہے؟‘‘\n\nخالد کا باپ اثبات میں سر ہلاتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔\n\nجب خالد اکیلا کمرے میں رہ گیا تو سوچنے لگاکہ اس لڑکے کو اتنے بڑے زخم سے کتنی تکلیف ہوئی ہو گی۔ جبکہ ایک دفعہ اسے قلم تراش کی نوک چبھنے سے تمام رات نیند نہ آئی تھی اور اس کا باپ اور ماں تمام رات اس کے سرہانے بیٹھے رہے تھے۔ اس خیال کے آتے ہی اسے ایسا معلوم ہونے لگا کہ وہ زخم خود اس کی پنڈلی میں ہےاور اس میں شدت کا درد ہے۔۔۔ یکلخت وہ رونے لگ گیا۔ اس کے رونے کی آواز سن کر اس کی والدہ دوڑی آئی۔ اور اسے گود میں لے کر پوچھنے لگی، ’’میرے بچے، رو کیوں رہے ہو؟‘‘\n\n’’امی، اس لڑکے کو کسی نے مارا ہے؟‘‘\n\n’’شرارت کی ہو گی اس نے؟‘‘\n\nخالد کی والدہ اپنے خاوند کی زبانی زخمی لڑکے کی داستان سن چکی تھی۔\n\n’’مگر اسکول میں تو شرارت کرنے پر چھڑی سے سزا دیتے ہیں، لہو تو نہیں نکالتے۔‘‘ خالد نے روتے ہوئے اپنی والدہ سے کہا۔\n\n’’چھڑی زور سے لگ گئی ہو گی۔‘‘\n\n’’تو پھر کیا اس لڑکے کا والد اسکول میں جا کر اس استاد پر خفا نہ ہو گا، جس نے اس لڑکے کو اس قدر مارا ہے۔ ایک روز جب ماسٹر صاحب نے میرے کان کھینچ کر سرخ کر دئیے تھے تو ابّا جی نے ہیڈ ماسٹر کے پاس جا کر شکایت کی تھی نا؟‘‘\n\n’’اس لڑکے کا ماسٹر بہت بڑا آدمی ہے۔‘‘\n\n’’اللہ میاں سے بھی بڑا؟‘‘\n\n’’نہیں ان سے چھوٹا ہے۔‘‘\n\n’’تو پھر وہ اللہ میاں کے پاس شکایت کرے گا۔‘‘\n\n’’خالد، اب دیر ہو گئی ہے، چلو سوئیں۔‘‘\n\n’’اللہ میاں! میں دعا کرتا ہوں کہ تو اس ماسٹر کو جس نے اس لڑکے کو پیٹا ہے، اچھی طرح سزا دےاور اس چھڑی کو چھین لے جس کے استعمال سے خون نکل آتا ہے۔۔۔ میں نے پہاڑے یاد نہیں کیے۔ اس لیے مجھے ڈر ہےکہ کہیں وہی چھڑی میرے استاد کے ہاتھ نہ آ جائے۔۔۔ اگر تم نے میری باتیں نہ مانیں، تو پھر میں بھی تم سے نہ بولوں گا۔‘‘\n\nسوتے وقت خالد دل میں دعا مانگ رہا تھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7"} {"title": "تماشا ہو جو دل میں عکس روئے یار ہو پیدا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تماشا ہو جو دل میں عکس روئے یار ہو پیدا\nکہ اپنا عشق کا اک محرم اسرار ہو پیدا\n\nرخ و گیسو دکھا کر ناز سے کہتا ہے وہ دلبر\nکوئی کافر ہو پیدا اور کوئی دیں دار ہو پیدا\n\nتمہاری سلک دنداں کے تصور نے رلایا ہے\nنہ کیوں اشکوں سے میرے گوہر شہوار ہو پیدا\n\nکہیں منہ پھیرتا ہے جاں نثار عشق مرنے سے\nفدا وہ جان کر لے تجھ پہ گر سو بار ہو پیدا\n\nاگر گریہ کناں سرشار الفت ہوں تو اے ساقی\nانہیں کے آنسوؤں سے بادۂ گلنار ہو پیدا\n\nمداوا غیر ممکن ہے ترے بیمار الفت کا\nجو اک آزار اچھا ہو تو اک آزار ہو پیدا\n\nجمیلہؔ ناوک مژگان دلبر سے جو ہو زخمی\nنہ کیوں اس کی لحد پر نرگس بیمار ہو پیدا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7"} {"title": "تماشا ہے کہ سب آزاد قومیں", "poet_page": "مصنف:اسد ملتانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تماشا ہے کہ سب آزاد قومیں\nبہی جاتی ہیں آزادی کی رو میں\n\nوہ گرد کارواں بن کے چلے ہیں\nستارے تھے رواں جن کے جلو میں\n\nسفر کیسا فقط آوارگی ہے\nنہیں منزل نگاہ راہرو میں\n\nہے سوز دل ہی راز زندگانی\nحیات شمع ہے صرف اس کی لو میں\n\nبہت تھے ہم زباں لیکن جو دیکھا\nنہ نکلا ایک بھی ہمدرد سو میں\n\nاسدؔ ساقی کی ہے دوہری عنایت\nشراب کہنہ ڈالی جام نو میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%B3%D8%A8_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہے\nگرا ہے وہ پردہ کہ اٹھتا نہیں ہے\n\nیہ کس کی نظر دے گئی روگ یارب\nسنبھالے سے اب دل سنبھلتا نہیں ہے\n\nتڑپ جائیے گا تڑپ جائیے گا\nتڑپنا ہمارا تماشا نہیں ہے\n\nبہت پھانس نکلی بہت خار نکلے\nمگر دل کا کانٹا نکلتا نہیں ہے\n\nیہ ہر شخص کی لن ترانی ہے کیسی\nکہ ہر آنکھ تو چشم موسیٰ نہیں ہے\n\nسلامت مری وحشت دل سلامت\nکہاں میری وحشت کا چرچا نہیں ہے\n\nمری جان بھی ہے عنایت تمہاری\nیہ دل بھی تمہارا ہے میرا نہیں ہے\n\nبلائی گئی ان کی محفل میں دنیا\nمگر ایک میرا بلاوا نہیں ہے\n\nذرا آپ سمجھایئے دل کو ناصح\nمیں سمجھا رہا ہوں سمجھتا نہیں ہے\n\nتمہیں دیکھنے کو ترستی ہیں آنکھیں\nبہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں\nتجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں\n\nہماری طرف اب وہ کم دیکھتے ہیں\nوہ نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں\n\nزمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں\nہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں\n\nپھرے بت کدے سے تو اے اہل کعبہ\nپھر آ کر تمہارے قدم دیکھتے ہیں\n\nہمیں چشم بینا دکھاتی ہے سب کچھ\nوہ اندھے ہیں جو جام جم دیکھتے ہیں\n\nنہ ایمائے خواہش نہ اظہار مطلب\nمرے منہ کو اہل کرم دیکھتے ہیں\n\nکبھی توڑتے ہیں وہ خنجر کو اپنے\nکبھی نبض بسمل میں دم دیکھتے ہیں\n\nغنیمت ہے چشم تغافل بھی ان کی\nبہت دیکھتے ہیں جو کم دیکھتے ہیں\n\nغرض کیا کہ سمجھیں مرے خط کا مضموں\nوہ عنوان و طرز رقم دیکھتے ہیں\n\nسلامت رہے دل برا ہے کہ اچھا\nہزاروں میں یہ ایک دم دیکھتے ہیں\n\nرہا کون محفل میں اب آنے والا\nوہ چاروں طرف دم بدم دیکھتے ہیں\n\nادھر شرم حائل ادھر خوف مانع\nنہ وہ دیکھتے ہیں نہ ہم دیکھتے ہیں\n\nانہیں کیوں نہ ہو دل ربائی سے نفرت\nکہ ہر دل میں وہ غم الم دیکھتے ہیں\n\nنگہباں سے بھی کیا ہوئی بد گمانی\nاب اس کو ترے ساتھ کم دیکھتے ہیں\n\nہمیں داغؔ کیا کم ہے یہ سرفرازی\nکہ شاہ دکن کے قدم دیکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تمام عارف و عامی خودی سے بیگانہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "تمام عارف و عامی خودی سے بیگانہ\nکوئی بتائے یہ مسجد ہے یا کہ میخانہ\nیہ راز ہم سے چھُپایا ہے میر واعظ نے\nکہ خود حرم ہے چراغِ حرم کا پروانہ\nطلسمِ بے خَبری، کافری و دِیں داری\nحدیثِ شیخ و برہِمن فُسون و افسانہ\nنصیبِ خطّہ ہو یا رب وہ بندۂ درویش\nکہ جس کے فقر میں انداز ہوں کلیمانہ\nچھُپے رہیں گے زمانے کی آنکھ سے کب تک\nگُہر ہیں آبِ وُلر کے تمام یک دانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81_%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "تمام عمر نمک خوار تھے زمیں کے ہم", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمام عمر نمک خوار تھے زمیں کے ہم\nوفا سرشت میں تھی ہو رہے یہیں کے ہم\n\nنکل کے روح ڈنواڈول ہو نہ جائے کہیں\nہزار حیف نہ دنیا کے ہیں، نہ دیں کے ہم\n\nنظر اٹھا کے نہ دیکھا کسی طرف تا عمر\nرہے خیال میں اک چشم سرمہ گیں کے ہم\n\nزمیں چھڑائی گئی ہم سے جب بنا کر خاک\nیہاں پہ کیا نہ رہے اے صبا کہیں کے ہم\n\nیہاں مکاں ہے تو کیوں آسماں کی سیر کریں\nمکیں ہیں شادؔ ازل سے اسی زمیں کے ہم\n\nزمانہ شادؔ ہمیں کیوں بھلا نہیں دیتا\nنہ ہجو کے نہ سزاوار آفریں کے ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D9%86%D9%85%DA%A9_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "تمام عمر کی غفلت کے بعد خواب آیا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمام عمر کی غفلت کے بعد خواب آیا\nاٹھا جو پردۂ ہستی مجھے حجاب آیا\n\nاجل نصیب تھا شام وصال خواب آیا\nوہ بے حجاب ہوئے تو مجھے حجاب آیا\n\nبلا ہے عہد جوانی سے خوش نہ ہو اے دل\nسنبھل کہ عمر کی دنیا میں انقلاب آیا\n\nبڑھائے حوصلے دریا دلی نے ساقی کی\nذرا سے جام میں سو بار آفتاب آیا\n\nکوئی صدا نہیں آتی کہ کون ہے کیا ہے\nکہاں بھٹک کے دل خانماں خراب آیا\n\nامید و بیم میں رکھا تمام رات مجھے\nکبھی نقاب اٹھائی کبھی حجاب آیا\n\nزمانے والوں کو پہچاننے دیا نہ کبھی\nبدل بدل کے لباس اپنے انقلاب آیا\n\nسوائے یاس نہ کچھ گنبد فلک سے ملا\nصدا بھی دی تو پلٹ کر وہی جواب آیا\n\nاڑا کے ہوش ہوا ہو گئی تجلی طور\nسبھوں سے آنکھ چراتا ہوا حجاب آیا\n\nحریف مے نہیں سمجھا تو کیوں مری جانب\nلہو کے گھونٹ پئے ساغر شراب آیا\n\nہٹے نہ اپنی طبیعت سے حسن و عشق کبھی\nہزار بار زمانے میں انقلاب آیا\n\nسنائیں کیا تمہیں نیرنگ عشق کا قصہ\nتمام عمر نہ آنکھیں کھلیں نہ خواب آیا\n\nکھٹک وہ دل میں ہی پیدا جو آج تک نہ ہوئی\nسمجھ رہا ہوں کہ طفلی گئی شباب آیا\n\nکفن پنہا دیا ثاقبؔ صنم پرستی نے\nخدا کے سامنے جاتے ہوئے حجاب آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تمامی حجت کی خاطر امام", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "تمامی حجت کی خاطر امام\nلگا کہنے رو کر سوے اہل شام\nکہ اے قوم یہ طفل اصغر بنام\nمرے ہے مری گود میں تشنہ کام\n\nنہ کوئی مرا یار و یاور رہا\nنہ قاسم رہا ہے نہ اکبر رہا\nجسے دیکھتا ہوں سو وہ مر رہا\nمرے اقربا تم نے مارے تمام\n\nیہ پیمان کرتا ہوں میں تم سے اب\nکہ ناموس اپنے اٹھاؤں گا سب\nکسو اور جاؤں گا چھوڑا عرب\nحبش ہند اپنا کروں گا مقام\n\nنہ دعویٰ کروں گا قیامت کو بھی\nکیا پیشکش میں امامت کو بھی\nگوارا کیا سب ملامت کو بھی\nنہ یاں کی مصیبت کا واں لوں گا نام\n\nکس و کو کو اپنے لیے جاؤں گا\nنبیؐ کا نواسا نہ کہلاؤں گا\nجو قسمت میں ہوگا سو واں کھاؤں گا\nبدل ڈالوں گا اپنا حیدر کا نام\n\nمسافرعرب نام رکھوں گا میں\nکسو سے نہ کچھ کام رکھوں گا میں\nقدم آگے ہر گام رکھوں گا میں\nکہیں کر رہوں گا سحر اپنی شام\n\nادھر سے ادھر ہی کروں گا سفر\nنہ جانے گا کوئی چلا ہے کدھر\nکروں گا وطن کی نہ جانب نظر\nکیا میں مدینے کو یاں سے سلام\n\nرفیق اور یاور ہوئے سب تلف\nہوا تیغ کا میرا کنبہ علف\nنہ سجاد بن کوئی اب ہے خلف\nسو اس خستہ کو تپ رہے ہے مدام\n\nامام اپنا گو مجھ کو مت جانو تم\nعلی کے نہ رتبے کو پہچانو تم\nخدا کو تو اے قوم ٹک مانو تم\nکہ بندے کے ہاتھ آوے پانی کا جام\n\nگئے خویش و فرزند سب دردناک\nہوئے میرے بھائی جگر سینہ چاک\nرہا میں سو ہوں مستعد ہلاک\nگیا خاک میں مل مرا احتشام\n\nگرے کٹ کے یک لخت لخت جگر\nگئے مارے یعنی عزیز و پسر\nلڑائی تلک جمع تھے وے گہر\nلڑی ٹوٹی اب وہ گیا انتظام\n\nستم جو کیا تم نے ہم نے سہا\nمرے اقربا میں نہ کوئی رہا\nکمینوں نے کیا کیا نہ منھ پر کہا\nرہا کچھ نہ جب پھر کیا احترام\n\nخرابے سے بدتر ہوا میرا باغ\nگئے پھول گل مجھ کو دکھلا کے داغ\nکیا خوش نوا طائروں نے فراغ\nنپٹ شور زاغاں سے ہے دھوم دھام\n\nمروت کرو ٹک دم آب دو\nکہ تسکین دل ہووے اس طفل کو\nمرا کینہ اس بے خبر سے نہ لو\nنہ اس سے رکھو کچھ غم انتقام\n\nسنی سب نے یہ خونچکاں گفتگو\nسروں کو کیا شرم سے ٹک فرو\nمگر اک سیہ کار ہو روبرو\nلگا کہنے کیا ہے یہ طول کلام\n\nکہاں بات کرنے کی فرصت ہے یاں\nدم آب موقوف بیعت ہے یاں\nہے مہلت جو کچھ ہے غنیمت ہے یاں\nہمیں قتل و غارت کا ہے اہتمام\n\nنہ باتیں کر اتنی لڑائی ہے اب\nیزید اور عمر کی دہائی ہے اب\nبہم سب نے سوگند کھائی ہے اب\nکہ دیں آب تو ہم پہ کھانا حرام\n\nاگر آب ہو جائے سارا جہاں\nنہ معلوم ہو کچھ زمیں کا نشاں\nتجھے بوند پانی نہ دیں اے جواں\nمگر تو اطاعت کرے لاکلام\n\nیہ سن رکھ کہ ہم لوگ ہیں لشکری\nنہ جانیں ہیں دیں کو نہ پیغمبری\nہمیں کوئی کچھ دے کرے سروری\nاشارت کرے تو کریں قتل عام\n\nبس اب گفتگو وقت فرصت نہیں\nلڑائی ہے یاں کوئی صحبت نہیں\nبہت آب پر تیری قسمت نہیں\nیہی منھ پہ کہنا یہی ہے پیام\n\nروایت ہے واں اک فرنگی بھی تھا\nہوا گوش زد اس کے یہ ماجرا\nسبھوں سے مخاطب ہو ان نے کہا\nیہ ہے کون اے مردم زشت فام\n\nکہا ایک نے برگزیدہ ہے یہ\nمحمدؐ کا نور دودیدہ ہے یہ\nہوا کیا جو آفت رسیدہ ہے یہ\nعلی کا ہے فرزند خود ہے امام\n\nوہ بولا کہ اے قوم جاہل ہو تم\nشریر و سیہ کار و باطل ہو تم\nسب اس شخص کے خوں کے مائل ہو تم\nکہو جس کو فرزند خیر انام\n\nنبی زادہ ہے تشنگی سے نڈھال\nتمھیں اس کے جی مارنے کا خیال\nعتاب اس پہ کرتا ہے ہر بدخصال\nخطاب اس سے کرتا ہے اب ہرکدام\n\nزہے دین و آئین و خلق و ادب\nعجب اے محمدپرستاں عجب\nسب اس کے پئے خون ہو بے سبب\nسبب جس کے دیں کا تمھارے قیام\n\nاہانت ہو عیسیٰ کے خر کی جہاں\nکریں لوہو نصرانی اپنا رواں\nرہے تیغ خوں خوار ہی درمیاں\nنہ ہو واں کا جس دم تلک انہدام\n\nکیا ہے عمل تم نے وہ اختیار\nنہ جس کو کریں کافران تتار\nرہے گا ستم یہ بہت یادگار\nہوئے ہو سزاوار طعن دوام\n\nعبث دیں کو برباد تم نے کیا\nمحمدؐ کے منھ سے نہ کی کچھ حیا\nکسو سے بھی دنیا کرے ہے وفا\nطمع تم سیہ باطنوں کی ہے خام\n\nہوا واقعہ پھر سو جانیں ہیں سب\nستم گذرا ایسا کہاں اور کب\nقیامت غضب قہر رنج و تعب\nہوا بیکسانہ تمام اس کا کام\n\nاٹھایا جبیں پر جو زخم سناں\nہوا خاک پر خون ازبس رواں\nجھکا پشت زیں سے امام زماں\nگئی چھوٹ مرکب کی کف سے لگام\n\nغش آیا لہو جو بہت سا گیا\nجھکا یعنی سجدے کا مائل ہوا\nسر و تن ہوئے اتفاقاً جدا\nنہ چالیس دن تک ہوا التیام\n\nمندی آنکھ شہ کی ہوا طور اور\nستمگار کرنے لگے جور اور\nگیا وہ زمانہ ہوا دور اور\nگیا سوے سجاد وہ ازدحام\n\nلگا آگ خیمے جلانے لگے\nپدرمردہ کو کھینچ لانے لگے\nستائے ہوؤں کو ستانے لگے\nکھلے سر گئے مردمان خیام\n\nجگر میں بھری آگ آنکھوں میں آب\nمرض سے بدن کے تعب کی نہ تاب\nقدم کانپتے راہ چلنا شتاب\nبندھے ہاتھ میں اشتروں کی زمام\n\nنظر سوے اہل حرم دم بدم\nبہت باپ کے مرنے کا دل میں غم\nمصیبت بہت جان میں تاب کم\nدکھ اس کا کہیں میرؔ کیا ہم غلام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D8%AD%D8%AC%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85"} {"title": "تمدن عرب اور پروفیسر شبلی", "poet_page": "مصنف:مہدی افادی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "فاضل پروفیسر نے اپنی ایک جدید تالیف تہدیہ کی حیثیت سے سلسلۂ آصفیہ کی فہرست میں داخل کی ہے اور سلسلۂ آصفیہ کی تقریب ان الفاظ میں کی ہے،\n\n’’ہمارے معزز و محترم دوست شمس العلماء مولانا سید علی بلگرامی’ بجمیع القابہ‘ کو تمام ہندوستان جانتا ہے، وہ جس طرح بہت بڑے مصنف، بہت بڑے مترجم، بہت بڑے زبان داں ہیں، اسی طرح بہت بڑے علم دوست اور اشاعت علوم و فنون کے بہت بڑے مربی و سرپرست ہیں ۔ اس دوسرے وصف نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ انھوں نے نواب سروقار الامرا بہادر کی خدمت میں یہ درخواست کی کہ ہزہائنیس نظام کے سایۂ عاطفت میں علمی تراجم و تصنیفات کا ایک مستقل سلسلہ قائم کیا جائے۔ سلسلۂ آصفیہ کے لقب سے ملقب ہو اور وابستگان دولت آصفیہ کی جو تصنیفات خلعت قبول پائیں، وہ اس سلسلہ میں داخل کی جائیں۔ سروقارالامرا کو علوم و فنون کی ترویج و اشاعت میں جو التفات و توجہ رہی، اور جس کی بہت سی محسوس یادگاریں اس وقت موجود ہیں، اس کے لحاظ سے جناب ممدوح نے اس درخواست کو نہایت خوشی سے منظور کیا، چنانچہ کئی برس سے یہ مبارک سلسلہ قائم ہے اور ہمارے شمس العلماءکی کتاب ’تمدن عرب‘اسی سلک کا ایک بیش بہا گوہر ہے۔‘‘\n\nتمدن عرب اور اس کے مترجم کی نسبت یہ اس شخص کی رائے ہے جو باعتبار وسیع النظری اور مذاق تالیف، یورپ کے کسی مؤرخ سے پیچھے نہیں ہے اور ملک میں مؤرخانہ عظمت کے لحاظ سے غالباً معلم اول سمجھا جاتا ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ گذشتہ اشاعت کے سلسلہ میں تائیداً مجھ کو ایک زبردست رائے پیش کرنے کا موقع ملا، جو یقینی اکثر شائقین کے تاریخی مذاق کو ابھارےگی۔ یہ اقتباس اس حیثیت سے ’’عین وقت کی چیز‘‘ ہے کہ جو لوگ تمدن عرب سی کتاب کا (جس کے تاریخی اجزاء کم و بیش ہزار صفحوں پر قابض ہیں) بلحاظ فن کوئی صحیح اندازہ کرنے سے معذور ہیں، کسی حد تک ان کے خیالات پر اس سے روشنی پڑےگی اور وہ غیر طبعی سکون جو علمی دلچسپیوں کی طرف سے دیسی طبائع میں عموماً پایا جاتا ہے، آئے دن کی چھیڑ چھاڑ سے غالباً تحریک میں آئےگا۔\n\nاگر یہ ہوا تو میں سمجھوں گا کہ مجھ کو اپنی غایت میں امید سے زیادہ کامیابی ہوئی کیونکہ دراصل مقصود بالذات صرف یہی ہے، ورنہ کسی تالیف یا مؤلف کا کوئی ہو، نقیب بننا بنانا منظور نہیں۔ ملک کے اچھے لکھنے والے میرے آپ کے اعتراف سے، جو شاید ’تحسین ناسپاس‘ سے کچھ ہی بڑھ کر ہے، عموماً بے نیاز ہوتے ہیں، وقت اور مذاق صحیح آپ ان کے نتائج افکار کی قدر کرائےگا۔\n\nپروفیسر شبلی کی تالیف موعود (الفاروق) جس کا ذکر ضمناً آ گیا اور جس پر ریاض الاخبار میں ایک نوٹ دیاگیا ہے، نہایت خوشی کی بات ہے کہ شائع ہو گئی اور برسوں کے بعد حالت منتظرہ رفع ہوئی۔ یہ گوہر شب چراغ، اسی قیمتی سلک (سلسلۂ آصفیہ) کا ایک خوش آب موتی ہے، جس میں تمدن عرب کے اجزاء پروئے گئے ہیں، غالباً یہ عمروں کی کمائی ہے، بڑی کاوش و اہتمام سے سالہا سال کی مؤرخانہ تلاش اور تدقیق کے بعد ناموران اسلام کے سلسلہ میں خلیفۂ دوم (حضرت عمرؓ) کی لائف پر یہ ضخیم تالیف تیار کی گئی ہے۔ مؤرخ نے محض تحقیق واقعات کے لئے ممالک غیر یعنی ٹرکی و مصر وغیرہ کے مصائب سفر برداشت کئے۔ سیکڑوں قدیم ونایاب تاریخوں کے ہزاروں ورق الٹنے پڑے اور جہاں تک دسترس تھا، اصلی ماخذ کی چھان بین میں یورپ کا تاریخی سرمایہ بھی بچنے نہیں پایا۔\n\nغرضیکہ معلومات کا جو ذخیرہ جمع کیا گیا ہے وہ میرے خیال میں تاریخ فاروقی کے مہمات مسائل ہیں، جن کی نسبت یہ عام دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ کسی زبان میں اس قدر مواد یکجا نہیں مل سکتا۔ ایسی بے نظیر تالیف چاہتی ہے کہ مستقلاً ایک تفصیلی نظر اس پر ڈالی جائے مگر یہ لائق لوگوں کا کام ہے اور جس طرح ایک چلتا ہوا شاعر اور وں کی طبع آزمائی کے بعد قلم ٹھانا پسند کرتا ہے، میری خواہش ہے ذرا بڑے لوگ کچھ لکھ لیں پھر دیکھوں گا۔ مگر مشکل یہ ہے کہ آج جن کے قلم کا لوہا مانا جاتا ہے، وہ ہم عصر انہ کوششوں کے اعتراف میں عموماً ممسک ہوتے ہیں، اور صرف اس لئے کھل کر کسی چیز کی داد نہیں دیتے کہ وہ ان کے دماغ کی پیداوار نہیں ہے، حالانکہ یہ قابل افسوس اخلاقی کمزوری ہے۔\n\nیہ چند سطریں جہاں تک الفاروق کا تعلق ہے، صرف اشتہاری حیثیت سے ہیں، امید ہے ملک عام طور پر دست شوق بڑھائےگا، محض شبلی کا نام کافی ضمانت ہے۔\n\nمیری پہلی نظر بوجوہ اپنے پیارے دوست ڈاکٹر ابوظفر پر پڑتی ہے جو غالباً کتابی اوراق کو کرنسی نوٹ کے کاغذ سے قیمتی سمجھتے ہیں، کتاب بھی ایک مادی چیز ہے مگر بہ تبدیلی ہیئت۔ روشن خیال شیخ محمد کے ہوتے گورکھ پور کی بدنصیبی ہوگی، اگر کیلنن لائبریری کے آغوش میں سلسلۂ آصفیہ کے یہ قیمتی نمونے (تمدن عرب و الفاروق) پیش پیش نہ ہوئی۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D8%AF%D9%86_%D8%B9%D8%B1%D8%A8_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%B3%D8%B1_%D8%B4%D8%A8%D9%84%DB%8C"} {"title": "تمدن عرب پر ایک کھلی چٹھی", "poet_page": "مصنف:مہدی افادی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "میرے پیارے ریاض! گورکھپور کے ایک دوست کے خط میں میں نے افسوس کے ساتھ دیکھا کہ ریاض الاخبار میں ’’تمدن عرب‘‘ کی نسبت جو نوٹ لکھا گیا تھا، اس سے وہاں کے لوگ بدظن ہو گئے ہیں ۔ وہ استصواباً مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ’’ریاض کا ریمارک کہاں تک درست ہے؟‘‘\n\nمجھ کو نہایت افسوس ہے کہ آپ کا نوٹ اس وقت میرے پیش نظر نہیں ہے لیکن جہاں تک یاد آتا ہے آپ نے کسی اخبار کے حوالہ سے جو لکھا تھا، اس کی تفصیل غالباً یہ ہے۔\n\n(۱) شمس العلماء مسٹر سید علی بلگرامی نے تمدن عرب میں حیدرآباد کی پالی ٹیکس پر حملہ کیا ہے اور یہ امر اس تعلق کے لحاظ سے جو ممدوح کو ریاست سے ہے، کسی قدر ناموزوں تھا۔\n\n(۲) اسی ضمن میں ترجمہ یا ترجمہ کی زبان کی بھی شکایت تھی جو آپ نے کسی ہم عصر کے حوالہ سے لکھی تھی۔\n\nتمدن عرب کے صفحے میرے سامنے ہیں اور میں حیرت میں ہوں کہ باوصف کوشش، الزام اول کا کوئی ماخذ اس وقت تک نہ مل سکا، مجھے خوف ہے آپ نے جو کچھ لکھا، محض ایمان بالغیب کی حیثیت سے تھا، کیونکہ باوصف اس اعزاز کے جس کے آپ مستحق ہیں، میں مجبوراً اس خیال کی طرف مائل ہوں کہ آپ نے بہ نفس نفیس کتاب کے کسی حصہ کے دیکھنے کی تکلیف نہ اٹھائی ہوگی۔ اس لئے آپ کی طرف سے کسی رائے کا اظہار محض کسی غیروقیع ہم عصر کی لغزش خیال کی پیروی تھی جو آپ کے لئے ’’ہوئے بس است‘‘ سے زیادہ گئی گذری ثابت ہوئی۔\n\nجس امر کا الزامی حیثیت سے ابتداً کسی پرچہ نے نوٹس لیا اور بہ اتباع سنت آٖ پ نے بھی اظہار خیال کی ٹھہرادی، وہ اس سے زیادہ نہیں ہے کہ مترجم نے دیباچہ میں جہاں ترجمہ کی مشکلات کا ذکر کیا ہے، کسی فروگذاشت کے لئے اس بناء پر چشم پوشی کی خواہش کی ہے کہ ایک دیسی ریاست کے ملازوں کے لئے جہاں آئے دن کی دربار داریوں اور انقلابات سے فرصت نہیں ملتی، اپنے فرائض منصبی کے علاوہ بہت مشکل ہے کہ وہ اتنی بڑی ضخیم تالیف کے بار سے تھوڑی سی مدت میں بوجہ احسن سبکدوش ہو سکے، یہ ہے اصلیت اس الزام کی جس کو میں زیادہ سے زیادہ ’’مؤلفانہ گریز‘‘ کہوں گا۔\n\nزبان کی نسبت آپ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کہ اردو اس ابتدائی حالت میں نہیں ہے جب شعراء کا ایک خاص فرقہ (جن کو میں نہیں جانتا ناظم کہہ سکتا ہوں یا نہیں) جس کے دل و دماغ کے نتائج انتہائی پرواز فکر کے ساتھ بھی صرف دو مصرعوں کی صنعت تک محدود ہوتے تھے، خود کو اردو کا مربی سمجھتا تھا۔ ایک شکمی زبان کے لئے جو کوئی مستقل حیثیت نہ رکھتی ہو، جس کا رسم خط آج تک ٹھیک نہ ہو، بدنصیبی سے جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ زبان کے ساتھ خط کو کوئی مناسبت طبعی نہیں ہے، یعنی زبان میں فطرتاً جو اصوات ہیں، ان کو بہ بخوبی ادا نہیں کر سکتا۔\n\nبہ الفاظ دیگر ہر لکھا ہوا لفظ ایک خاص خیال کی تصویر ہے جس کی آواز کو اس کے اجزائے ترکیبی سے چنداں تعلق نہیں ہے۔ یعنی حرکات بالحروف کی جگہ صرف چند اختراعی علامات کی وجہ سے جو سمیاطبقی زبان کے خصائص میں سے ہے، ہم اردو کو جوآرین خاندان سے ہے، صحیح نہیں پڑھ سکتے اور اس لئے لازم سا ہے کہ کسی لفظ کے پڑھنے سے پہلے ہم اس کے مفہوم سے واقف ہوں ورنہ بے علمی میں صحیح تلفظ ناممکن ہوگا۔ غرض یہ کہ ایسی زبان کے لئے جس کا املا تک صحیح نہ ہو، متقدمین کی کوششیں کسی حیثیت سے ہوں، ہر طرح لائق ادب ہیں، لیکن زمانہ کا ہر قدم آگے ہے، ہم کو نری تک بندیوں کے سوا کچھ اور بھی کرنا ہوگا۔\n\nمیرا خیال ہے کسی مفتوح قوم کے لئے اپنی قومی زبان کو ترقی دینا صرف اس اصول پر ممکن ہے کہ زمانہ کی روز افرزوں ترقی کے لحاظ سے اس میں وہ وسعت پیدا کی جائے جو قوم فاتح کے لٹریچر اور اس کی مختلف النوع شاخوں سے مل سکتی ہے، یعنی زبان کو علوم نظری اور فلسفہ کے اکثر نہیں تو بعض اجزاء سے مانوس کیا جائے، اور گویہ ممکن نہیں کہ ابتداً علم کی اکثر شاخ میں متوازی ترقی ممکن ہو تاہم بعض اجزاء جن سے قوم کے اکثر افراد کو فطرتاً یا اکتساباً مناسبت ہو، اس قابل ہیں کہ وہ ہمارے ملکی لٹریچر میں جذب کرلئے جائیں، جس سے اردو زبان بھی علمی حیثیت سے یورپ کی زبانوں سے ہم ردیف ہو۔\n\nاس لئے ہماری کوششوں کا رجحان طبعی جہاں ہم علوم جدیدہ کو اصلی زبانوں سے حاصل کر سکتے ہیں، ملک کے عام فوائد کے لحاظ سے یہ بھی ہونا چاہئے کہ یورپ کے فلسفہ کی کسی شاخ کو جو ترتیباً ہمارے لئے موزوں اور مفید ہو، اپنی زبان میں وقتاً فوقتاً منتقل کرتے رہیں لیکن میں پہلے دیکھوں گا آیا ہم میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ ترجمہ کی حیثیت سے ہماری پیش دستیاں طفلانہ کوششوں سے کچھ زیادہ وقیع ہوں۔\n\nترجمہ، اگر میں غلطی نہیں کرتا تو بعض حالتوں میں کسی مستقل تصنیف سے زیادہ مشکل ہے، جس کی غایت اصلی یہ ہوتی ہے کہ مصنف نے اپنی زبان میں جس طرح اظہار خیال کیا ہے، مترجم بجنسہ ان خیالات کے سایہ میں اپنے الفاظ سے کام لے لیکن زور بیان ہاتھ سے نہ جائے۔ اس پابندی اور رکھ رکھاؤ کے ساتھ آپ دیکھیں گے کہ ہر زبان کے خصائص نوعی مختلف ہیں، جس طرح ایک روزمرہ یا محاورہ، استعارہ یا تلمیح میں ایک خیال کو ادا کر سکتے ہیں، یہ ضرور نہیں کہ دوسری زبان میں بھی اسی قبیل کے الفاظ موجود ہوں ۔ اس سے بھی زیادہ مشکل اصطلاحات کی ہے۔\n\nصرف ایشیائی یا یوروپین زبانوں سے اگر ایک کا ترجمہ دوسری زبان میں ہو تو بہتیری اصطلاحات بجنسہ یا کسی قدر تصرف کے ساتھ کارآمد ہوسکتی ہیں اور اکثر ایسی مشترک خصوصیات ملیں گی، جن سے ترجمہ میں نہایت آسانی ہوگی، لیکن یورپ کے فلسفہ کو اگر ہم ایشیائی زبان میں لینا چاہتے ہیں تو ہماری دشواریوں کی کوئی حد نہیں رہتی۔ خاص کر اردو جو بجائے خود مستقل زبان نہیں ہے، تاوقتیکہ عربی مصطلحات سے مدد نہ لی جائے، علمی حیثیت سے کسی ترجمہ کی کفیل نہیں ہو سکتی، یعنی ایک مترجم کی لئے اس کی ضرورت ہوگی کہ جہاں وہ مغربی زبانوں اور علوم جدیدہ میں کافی دستگاہ رکھتا ہے، صرف اردو کا ادیب نہ ہو، بلکہ اس کے اصلی ماخذ یعنی مشرقی علوم بالتخصیص سنسکرت اور عربی کا پورا علم ہو۔ اس کے ساتھ ہی علم اللسان کی موشگافیوں سے پورا مذاق رکھتا ہو۔ مختلف زبانوں میں اصطلاحات یا الفاظ مرادف کے اشتقاق، ان کے استخراج اور خواص طبعی سے واقف ہو۔ اس جامعیت کے ساتھ میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں، ملک کے علم دوست حضرات کے لئے کسی علمی ترجمہ کاکفیل ہندوستان میں یہ استحقاق سید علی بلگرامی کے سوا کون ہوسکتا ہے جو یورپ وایشیا کی متعدد السنہ کے اکثر خاندانوں کا زبردست فاضل ہے۔\n\nان مسلمات کے بعد جو تمہیداً بیان کئے گئے ہیں، میں تمدن عرب کو پیش کرنا چاہتا ہوں جو میرے خیال میں تاریخی فلسفہ کا بہترین نمونہ ہے اور میں اپنی اس رائے میں غالباً منفرد نہیں ہوں کہ ترجمہ کے لحاظ سے لائق سے لائق شخص کا انتہائی تخیل جو کچھ ہو سکتا ہے، کتاب اس کی پوری تصویر مرئی ہے۔ افسوس ہے کہ میں اپنی مصروفیت سے اس قدر وقت نہیں پاتا کہ اپنے دعویٰ کی دلیل میں اقتباسات کو پیش کر سکوں، یہ فرض ریویو نگار کا ہے جس کو غالباً مولوی وحید الدین سلیم معارف میں تفصیل کے ساتھ ادا کر چکے ہیں۔ میری غایت صرف یہ ہوگی کہ واقعی اوصاف کے ساتھ اس تالیف کی تقریب پبلک میں اس حیثیت سے کی جائے جس سے کسی غلط فہمی کا، اگر قبل از وقت پیدا ہو تو استیصال ممکن ہو۔\n\nبہرحال میرا دعویٰ یہ ہے کہ ترجمہ شستہ رفتہ، صاف اور اس قدر لطیف ہے کہ مستقل کتاب کا دھوکا ہوتا ہے یعنی اصل مصنف کے خیالات یا مسائل تاریخی اس طرح مترجم کے دماغ میں پیوست معلوم ہوتے ہیں کہ وہ مجدداً اپنی زبان اور اپنے الفاظ میں ان کو بے ساختہ ادا کرتا ہے اور یہی وہ امتیازی حیثیت ہے جو لائق مترجم کو مؤلفین کی عام رفتار سے بہت آگے ڈال دیتی ہے۔ لطف یہ ہے کہ ساری کتاب میں کہیں سے پیچیدگی نہیں، تعقید نہیں۔ نازک سے نازک فلسفیانہ بحثیں، معمولی روزمرہ جہاں تک ساتھ دے سکتا تھا، اس برجستگی کے ساتھ اردو قالب میں ڈھالی گئی ہیں کہ دماغ پر زور ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے والے کو کچھ اہتمام کرنا پڑا۔\n\nغرض دقیق سے دقیق مطالب بھی اجنبیت یا غربت الفاظ کے تابع نہیں ہیں ۔ مختصر یہ کہ تاریخی لٹریچر کے لئے جس اسٹائل یعنی خاص طرز تحریر کی ضرورت ہے، وہ ضرورت کامل احتیاط کے ساتھ پوری کی گئی ہے اور سخت چھان بین کے بعد بھی کوئی رکیک امر ایسا نہیں ملتا جو متانت تالیف سے گرا ہوا ہو۔ میں نہیں جانتا اس سے زیادہ ہماری توقعات کیا ہو سکتی ہیں۔\n\nمیں امید کرتا ہوں کہ میرے مخاطب صحیح وہ لوگ نہیں ہیں جو تمدن عرب میں وہ زبان ڈھونڈتے ہیں جو شوقؔ یا قلقؔ کی مثنویوں میں لکھی گئی ہے۔ یہ جاہلانہ گروہ سرے سے لائق التفات ہی نہیں ہے۔ سچ یہ ہے کہ تاریخی فلسفہ کے لئے جس طرز تحریر کی ضرورت ہے وہ خود ایک مستقل اسٹائل ہے جس کی اولیت کا فخر شبلیؔ اور سیدؔ علی کے حصہ میں رہےگا۔ جو حضرات اپنی لکیر پٹیے جاتے ہیں، ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ ’’عمارت کی ترمیم ہوگی یا عمارت خود نہ ہوگی۔‘‘\n\nمختصر یہ کہ میری رائے کا میلان طبعی یہ ہے کہ اردو زبان میں ایک قیمتی اضافہ کی حیثیت سے یہ کتاب مفروضہ نقائص کے ساتھ بھی اس لائق ہے کہ انیسویں صدی کے معظمات الامور میں محسوب ہو، بالتخصیص نفس مضمون کے لحاظ سے جو نہایت اہم اور قابل غور ہے لیکن کم سے کم نصف صدی کے بعد شاید یہ مذاق پیدا ہوگا کہ ہم اس قسم کی تالیف سے مانوس ہو سکیں، جو میرے خیال میں بہ ہیئت مجموعی اس قدر دقت نظر چاہتی ہے کہ میں مایوس ہوں، آیا ایک کم سواد شخص جس کا سرمایۂ ناز صرف اردو کی زبان دانی ہو، اس کی نگاہ ان فلسفیانہ نکات تک پہونچ سکتی ہے جو ترجمہ کے اجزائے کیمیائی ہیں۔\n\nان جزئیات کی تفصیل کے سلسلہ میں غالباً اس لائق ہوگیا ہوں کہ اختلافی مسئلہ میں ایک کافی حد تک آپ ہم سے اتفاق رائے کے لئے آمادہ ہوجائیں یعنی جس طرح ترجمہ کی ذمہ داریاں نہایت سخت ہیں، آپ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ صرف سیدؔعلی ہی اپنے عالمانہ اوصاف کے ساتھ ایسے ضخیم ترجمہ کا کفیل ہو سکتا تھا اور اس لئے یہ سخت ناشکری ہوگی کہ اس کی قابل قدر کوششوں کا فیاضانہ اعتراف نہ کیا جائے۔\n\nمیرا خیال ہے کہ آپ نے نہایت بے پروائی سے ایک غلط رائے کی پیروی، لائق مترجم کی حق تلفی کے سوا یہ ایک شرمناک لغزش تھی کہ ایک ذمہ دار ایڈیٹر کا قلم ذاتی تحقیق سے کوئی لگاؤ نہیں رکھتا، جس سے پبلک کو غالباً اخلاقی نقصان پہونچنے کا احتمال ہو سکتا ہے۔ میں نے آپ کی ذمہ داریوں کے لحاظ سے کسی قدر سختی سے آپ کو ٹوکا ہے، مگر یہ پیرایہ خود کے اعزاز کی تائید میں ہے جس کے لئے میں امید کرتا ہوں کہ آپ مجھے معاف فرمائیں گے۔\n\nمیں نے قصداً ایسے امور نظر انداز کر دیے ہیں جن سے انسانی تصنیف خالی نہیں ہوسکتی، کسی آئندہ موقع پر ’’تصویر کا رخ تیرگوں‘‘ بھی دکھلاؤں گا۔ سردست میں نے صرف کتاب کی تقریب پر قناعت کی ہے کیونکہ میرا خیال ہے، بہ ہیئت مجموعی یہ ترجمہ ایک نہایت عظیم الشان کوشش ہے۔\n\nاگر آپ پسند فرمائیں گے تو میں اپنی دوسری چٹھی میں تاریخی فلسفہ، اس کے موضوع اور اس کی ضرورت سے بحث کروں گا اور دکھاؤں گا کہ یورپ کے تمام سرمایۂ تاریخی میں جو اقوام دنیا سے متعلق ہیں، اصل تصنیف (یعنی ماخذ تمدن عرب) کس پایہ کی ہے جس سے میرے احباب اندازہ کرسکیں گے کہ تاریخ عالم کے سلسلہ میں مسلمان فلسفیانہ اور تمدنی حیثیت سے نسبتاً کس درجہ پر ہیں ۔ ایشیا کے لئے یہ بالکل ایک جدید بحث ہے، جس کے لئے ہم کو یورپ کا بہت ممنون ہونا چاہئے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D8%AF%D9%86_%D8%B9%D8%B1%D8%A8_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%8C_%DA%86%D9%B9%DA%BE%DB%8C"} {"title": "تمن روشنی بن ہمن روشنی ناہ", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمن روشنی بن ہمن روشنی ناہ\nتو دیدار بن سبھی دیدار ہیں کاہ\n\nسبھی جھاڑ کوں پت جھڑی باؤ آیا\nچکر کھانس پر ہے نظر تو دسوں شاہ\n\nتمن خیال سیتی ہمیں خیال باندھے\nرقیباں نہ بوجھیں یے بات آہ ہے آہ\n\nنمازاں کروں رات دن ملنے کیاں میں\nہوا منج کوں روزی ذو الحمدللہ\n\nاندہارے کے بادل منجے بیڑی چو پہر\nخدایا تو بھیجیں ہمن باد دل خواہ\n\nکتا صبر فریاد کر چپ نہ رہ توں\nکروں آہ آہاں توں نیں ہوتا آگاہ\n\nہوا بے قرار آہ آہاں تے میں اب\nنظر با منج اوپر دسونگا کہ جیوں ماہ\n\nکرے گا اگر یاد وو منج دکھی کوں\nکروں یاد اگر کس کوں استغفراللہ\n\nمعانیؔ ہے عاجز تری خدمتاں میں\nنہیں سد بد اس کوں توں کر سب تھے آگاہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D9%86_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C_%D8%A8%D9%86_%DB%81%D9%85%D9%86_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C_%D9%86%D8%A7%DB%81"} {"title": "تمنا ہے کسی کی تیغ ہو اور اپنی گردن ہو", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمنا ہے کسی کی تیغ ہو اور اپنی گردن ہو\nپھر اس کے بعد یا رب سر کٹے نالے میں مدفن ہو\n\nہجوم عام ہو اور مجتمع گوروں کی پلٹن ہو\nسمجھ لو لوٹ آئے ہیں جو اسٹیشن پہ دن دن ہو\n\nکہیں قاتل کو ہم محبوب اگر ہے عین نادانی\nحذر لازم ہے ایسے شخص سے جو اپنا دشمن ہو\n\nلب شیریں اگر معشوق کا قند مکرر ہے\nجبھی جانیں کہ بیٹھیں مکھیاں اور اس پہ بھن بھن ہو\n\nنہ تربت کی جگہ کوچے میں پائی تو شکایت کیا\nگلی ان کی کوئی تکیہ ہے جس میں اپنا مدفن ہو\n\nیہ سب لکڑی کے تختے خاک میں مل جائیں جل بھن کر\nغضب ہو جائے گر سچ مچ لحد میں داغ روشن ہو\n\nیہی دہشت اگر دست جنوں کی ہے تو اے بھائی\nدوپٹہ اوڑھ لو جس میں گریباں ہو نہ دامن ہو\n\nنگاہ شوق کیا ٹھہری وہ گویا بیلچہ ٹھہری\nمکان یار کی دیوار میں جس سے کہ روزن ہو\n\nمچائے شور و غل آہ شرر افشاں کرے ہر دم\nیہی اوصاف لازم ہے تو عاشق کیوں ہو انجن ہو\n\nہمارا جونجھ پھلواری میں ہو کوئی نہیں کہتا\nیہی کہتے ہیں یا رب باغ میں اپنا نشیمن ہو\n\nازل سے تا ابد لمبی یقیں ہے ٹانگ بھی ہوگی\nحسین شوخ وہ صحرائے محشر جس کا دامن ہو\n\nظریفؔ انصاف سے کہہ دو وہ عاشق ہے کہ چوہا ہے\nزمین قصر جاناں میں جو یہ چاہے کہ مسکن ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D9%86_%DB%81%D9%88"} {"title": "تمنا ہے یہ آنکھوں کی ترا دیدار آ دیکھیں", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "تمنا ہے یہ آنکھوں کی ترا دیدار آ دیکھیں\nکبھی روضہ ترا یا احمد مختار آ دیکھیں\n\nشفا ہو جائے دم میں کشتۂ ہجر محمد کو\nاگر وہ خواب میں بھی حالت بیمار آ دیکھیں\n\nیہ دل تھا ان کا مسکن مت اجاڑ اس کو غم ہجراں\nغضب آ جائے گا گر شاہ دیں مسمار آ دیکھیں\n\nنہ کچھ مرنے کا غم ہو اور نہ کچھ شکوہ ہو فرقت کا\nاگر حالت مری وہ سید ابرار آ دیکھیں\n\nجو مداح نبی پر طعنہ زن ممتاز ہوتے ہیں\nدکھائیں شعر اپنے اور مرے اشعار آ دیکھیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A2_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں\nکھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں\n\nہوں اس کوچے کے ہر ذرے سے آگاہ\nادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں\n\nنہیں اٹھتے قدم کیوں جانب دیر\nکسی مسجد میں بہکایا گیا ہوں\n\nدل مضطر سے پوچھ اے رونق بزم\nمیں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں\n\nسویرا ہے بہت اے شور محشر\nابھی بے کار اٹھوایا گیا ہوں\n\nستایا آ کے پہروں آرزو نے\nجو دم بھر آپ میں پایا گیا ہوں\n\nنہ تھا میں معتقد اعجاز مے کا\nبڑی مشکل سے منوایا گیا ہوں\n\nلحد میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپا کر\nبھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں\n\nعدم میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپائے\nبھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں\n\nکجا میں اور کجا اے شادؔ دنیا\nکہاں سے کس جگہ لایا گیا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%84%D8%AC%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں\nیہ شرمیلی نظر کہہ دے تو کچھ گستاخیاں کر لوں\n\nبہار آئی ہے بلبل درد دل کہتی ہے پھولوں سے\nکہو تو میں بھی اپنا درد دل تم سے بیاں کر لوں\n\nہزاروں شوخ ارماں لے رہے ہیں چٹکیاں دل میں\nحیا ان کی اجازت دے تو کچھ بیباکیاں کر لوں\n\nکوئی صورت تو ہو دنیائے فانی میں بہلنے کی\nٹھہر جا اے جوانی ماتم عمر رواں کر لوں\n\nچمن میں ہیں بہم پروانہ و شمع و گل و بلبل\nاجازت ہو تو میں بھی حال دل اپنا بیاں کر لوں\n\nکسے معلوم کب کس وقت کس پر گر پڑے بجلی\nابھی سے میں چمن میں چل کر آباد آشیاں کر لوں\n\nبر آئیں حسرتیں کیا کیا اگر موت اتنی فرصت دے\nکہ اک بار اور زندہ شیوۂ عشق جواں کر لوں\n\nمجھے دونوں جہاں میں ایک وہ مل جائیں گر اخترؔ\nتو اپنی حسرتوں کو بے نیاز دو جہاں کر لوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%81_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%D9%88%DA%BA"} {"title": "تمکیں ہے اور حسن گریباں ہے اور ہم", "poet_page": "مصنف:دل شاہ جہانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمکیں ہے اور حسن گریباں ہے اور ہم\nخودداریوں کا خواب پریشاں ہے اور ہم\n\nساحل سے دور غرق ہوئی کشتئ امید\nموجوں کو چھیڑتا ہوا طوفاں ہے اور ہم\n\nکس نے حریم ناز کا پردہ الٹ دیا\nنظروں میں ایک شعلۂ لرزاں ہے اور ہم\n\nتیری تجلیاں ہیں جہاں تک نظر گئی\nاسرار کائنات کا عرفاں ہے اور ہم\n\nبالیں سے کون محو تبسم گزر گیا\nاب ہر نظر بہار بد اماں ہے اور ہم\n\nوارفتگیٔ عشق نے پہنچا دیا کہاں\nخاموش اک فضائے بیاباں ہے اور ہم\n\nاے دلؔ یہ سن رہے ہیں کہ دنیا بدل گئی\nاب تک انہیں حدوں میں بیاباں ہے اور ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%85"} {"title": "تمہارا عشق جب سے کیا ہوا اے نازنیں ہم کو", "poet_page": "مصنف:عزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی", "kind": "poetry", "section": "غزل > چشمۂ کوثر (1934)", "year": "1934", "text_ur": "تمہارا عشق جب سے کیا ہوا اے نازنیں ہم کو\nپسند آتا نہیں ہے کوئی بھی اب مہ جبیں ہم کو\n\nکیا اظہار جب ہم نے غم فرقت تو وہ بولے\nتمہارے کہنے کا ہوتا نہیں ہے کچھ یقیں ہم کو\n\nپس مردن پئے پامال گورستاں میں پھرتے ہیں\nنشان تربت عشاق مل جائے کہیں ہم کو\n\nبتان سنگ دل سے کیا ہو امید وفا اے دل\nجہاں میں ڈھونڈ بیٹھے کچھ پتہ ملتا نہیں ہم کو\n\nنہ جائیں مر کے وہ ہیں عاشق جانباز اے ہمدم\nترے کوچے میں گر مل جائے تھوڑی سی زمیں ہم کو\n\nترے در پر کھڑے ہیں دید کو ہم ایک مدت سے\nدکھا دے شکل نورانی اب اے پردہ نشیں ہم کو\n\nعزیزؔ زار گر عشق بتاں میں یہ رہی صورت\nکسی دن مار ڈالے گا دل اندوہ گیں ہم کو", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2%D9%86%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "تمہاری اور مری کج ادائیاں ہی رہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہاری اور مری کج ادائیاں ہی رہیں\nرہے جو پاس تو باہم لڑائیاں ہی رہیں\n\nز بسکہ کرتے رہے بے کسوں پہ تم بیداد\nسدا گلی میں تمہاری دوہائیاں ہی رہیں\n\nہوئی نہ ساز مری اس کی صحبت اک شب ہائے\nادھر سے عجز ادھر سے رکھائیاں ہی رہیں\n\nدریغ یار سے بچھڑے تو ایسے ہم بچھڑے\nکہ تا بہ روز قیامت جدائیاں ہی رہیں\n\nاب اس کے ملنے کا کیا لطف مصحفیؔ باہم\nنہ وہ سلوک نہ وہ آشنائیاں ہی رہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%AC_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تمہاری جب سیں آئی ہیں سجن دکھنے کو لال انکھیاں", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہاری جب سیں آئی ہیں سجن دکھنے کو لال انکھیاں\nہوئی ہیں تب سیں دونی خوش نما صاحب جمال انکھیاں\n\nقیامت آن ہے اس وقت میں ان پر نزاکت کی\nدیکھو آئی ہیں دکھنے کس جھمک سیں یہ چھنال انکھیاں\n\nایسے کیوں ٹوٹ آئیں جوش سیں پیارے حرارت کے\nلگی تھی گرم ہو کر اس قدر یہ کس کے نال انکھیاں\n\nعلاج ان کا ہے پیارے عاشقوں کے سنگ کی ہلدی\nرنگیں اس میں کہو کپڑا کریں اپنا رومال انکھیاں\n\nمرا دل پوٹلی کی طرح ان پر لے کے ٹک پھیرو\nمجرب ٹوٹکا ہے اس میں آ جاں گی بحال انکھیاں\n\nضرر ہے تند ہو کر دیکھنا بیمار کوں پیارے\nٹک اک پرہیز کر عاشق پے دو دن مت نکال انکھیاں\n\nمرا دکھتا ہے جی یہ انمناہٹ دیکھ کر ان کا\nابلتا ہے بہت جب دیکھتا ہوں میں ملال انکھیاں\n\nنذر بدتا ہوں اپنی جان و جی کو میں کروں صدقے\nاگر دیویں مجھے اپنی شفا ہونے کی فال انکھیاں\n\nسزا ہے ان کے تئیں یہ درد تھوڑا سا کہ کرتی تھیں\nہمیشہ چشم پوشی آبروؔ کا دیکھ حال انکھیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%AC%D9%86_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D9%84%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "تمہاری زلف کا ہر تار موہن", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہاری زلف کا ہر تار موہن\nہوا میرے گلے کا ہار موہن\n\nتصور کر ترا حسن عرق ناک\nمری آنکھیں ہیں گوہر بار موہن\n\nدم آخر تلک ہوں کافر عشق\nہوا تار نفس زنار موہن\n\nبرہ کا جان کندن ہے نپٹ سخت\nدکھا اس وقت پر دیدار موہن\n\nہمارے مصحف دل کی قسم کھا\nکیا ہے ظلم کا انکار موہن\n\nگل عارض کوں تیرے یاد کر کر\nہوا ہے دل مرا گل زار موہن\n\nسراجؔ آتش میں ہے تیرے فراقوں\nبجھا جا مہر سیں یک بار موہن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D8%B1_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D9%88%DB%81%D9%86"} {"title": "تمہاری زلف کے چرچے پریشانیوں میں رہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:رادھے شیام رستوگی احقر", "kind": "poetry", "section": "غزل > نقشہاے رنگ رنگ (1929)", "year": "1929", "text_ur": "تمہاری زلف کے چرچے پریشانیوں میں رہتے ہیں\nمری دیوانگی کے ذکر دیوانوں میں رہتے ہیں\n\nنہیں پروائے ایماں کافران عشق کو ہرگز\nانہیں کعبہ سے کیا مطلب جو بت خانوں میں رہتے ہیں\n\nتلاش اس رشک لیلیٰ کی جو رہتی ہے ہمیں ہر دم\nاسی سے قیس کے مانند وہ ویرانوں میں رہتے ہیں\n\nمیان محفل احباب ہے وہ شمع کی صورت\nہم اس سے لو لگائے اس کے پروانوں میں رہتے ہیں\n\nفلک سے بڑھ کے رتبہ ہو نہ کیوں کر قصر جاناں کا\nملائک جس جگہ ادنیٰ سے دربانوں میں رہتے ہیں\n\nعجب ہے نیک صحبت کی نہ ہوتا سیر انساں میں\nمہذب بنتے ہیں حیوان جو انسانوں میں رہتے ہیں\n\nنہ ہو مضمون عالی کیوں بھلا اشعار احقرؔ میں\nسخن دانوں سے صحبت ہے زبان دانوں میں رہتے ہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D8%B1%DA%86%DB%92_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئی", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئی\nیہ کیا ہوئی تمہیں کہہ دو اگر جفا نہ ہوئی\n\nقدم قدم پہ قدم لڑکھڑائے جاتے تھے\nتمام عمر بھی طے منزل وفا نہ ہوئی\n\nتمہیں کہو تمہیں ناآشنا کہیں نہ کہیں\nکہ آشنا سے ادا رسم آشنا نہ ہوئی\n\nتری ادا کی قسم ہے تری ادا کے سوا\nپسند اور کسی کی ہمیں ادا نہ ہوئی\n\nہمیں کو دیکھ کے خنجر نکالتے تھے آپ\nہمارے بعد تو یہ رسم پھر ادا نہ ہوئی\n\nخدا نے رکھ لیا ناز و نیاز کا پردہ\nکہ روز حشر مری ان کی برملا نہ ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D8%B1%D8%B7_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:اثر صہبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیں\nسپہر الفت کے ہیں ستارے کہ شام غم میں چمک رہے ہیں\n\nعجیب ہے سوز و ساز الفت طرب فزا ہے گداز الفت\nیہ دل میں شعلے بھڑک رہے ہیں کہ لالہ و گل مہک رہے ہیں\n\nبہار ہے یا شراب رنگیں نشاط افروز کیف آگیں\nگلوں کے ساغر چھلک رہے ہیں گلوں پہ بلبل چہک رہے ہیں\n\nجہاں پہ چھایا سحاب مستی برس رہی ہے شراب مستی\nغضب ہے رنگ شباب مستی کہ رند و زاہد بہک رہے ہیں\n\nمگر اثرؔ ہے خموش و حیراں حواس گم چاک داماں\nلبوں پہ آئیں نظر پریشاں تو رخ پہ آنسو ٹپک رہے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%D9%B9%D9%BE%DA%A9_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تمہاری لن ترانی کے کرشمے دیکھے بھالے ہیں", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہاری لن ترانی کے کرشمے دیکھے بھالے ہیں\nچلو اب سامنے آ جاؤ ہم بھی آنکھ والے ہیں\n\nنہ کیونکر رشک دشمن سے خلش ہو خار حسرت کی\nیہ وہ کانٹا ہے جس سے پاؤں میں کیا دل میں چھالے ہیں\n\nیہ صدمہ جیتے جی دل سے ہمارے جا نہیں سکتا\nانہیں وہ بھولے بیٹھے ہیں جو ان پر مرنے والے ہیں\n\nہماری زندگی سے تنگ ہوتا ہے عبث کوئی\nغم الفت سلامت ہے تو کے دن جینے والے ہیں\n\nامیرؔ و داغؔ تک یہ امتیاز و فرق تھا احسنؔ\nکہاں اب لکھنؤ والے کہاں اب دلی والے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%84%D9%86_%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D8%B4%D9%85%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تمہاری چشم نے مجھ سا نہ پایا", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہاری چشم نے مجھ سا نہ پایا\nدیا سرمہ بھی اور چپکا نہ پایا\n\nخدا کو کیا کہوں پایا نہ پایا\nکہ وصل بے خودی اصلا نہ پایا\n\nبہت صورت کو میں ترسا نہ پایا\nنہ پایا وہ بہت ترسا نہ پایا\n\nسحاب تر نے بحر خشک سب نے\nہمارا دیدۂ تر سا نہ پایا\n\nچلے ہم دل جلے اس بزم سے یار\nجلے ہاتھوں سے اک بیڑا نہ پایا\n\nسدا سورج نے دن بھر اس کو ڈھونڈا\nکبھی وہ چاند کا ٹکڑا نہ پایا\n\nبہت اچھا ہوا اچھی ہے قسمت\nمریض عشق کو اچھا نہ پایا\n\nجو اس گردن کا نقشہ ہے وہ ہم نے\nصراحی دار موتی کا نہ پایا\n\nدر اشک مسلسل اے شہ عشق\nتری دولت سے یہ سہرا نہ پایا\n\nبہت سیدھا بناؤں گا فلک کو\nکہ اس کج کو کبھی سیدھا نہ پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تمہاری یاد میں دنیا کو ہوں بھلائے ہوئے", "poet_page": "مصنف:اثر صہبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہاری یاد میں دنیا کو ہوں بھلائے ہوئے\nتمہارے درد کو سینے سے ہوں لگائے ہوئے\n\nعجیب سوز سے لبریز ہیں مرے نغمے\nکہ ساز دل ہے محبت کی چوٹ کھائے ہوئے\n\nجو تجھ سے کچھ بھی نہ ملنے پہ خوش ہیں اے ساقی\nکچھ ایسے رند بھی ہیں مے کدے میں آئے ہوئے\n\nتمہارے ایک تبسم نے دل کو لوٹ لیا\nرہے لبوں پہ ہی شکوے لبوں پہ آئے ہوئے\n\nاثرؔ بھی راہرو دشت زندگانی ہے\nپہاڑ غم کا دل زار پر اٹھائے ہوئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا\nنہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا\n\nوہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں\nیہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا\n\nوفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے\nتمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا\n\nرہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا\nمقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا\n\nنہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت\nتمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا\n\nتمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق\nکہو وہ تذکرۂ ناتمام کس کا تھا\n\nہمارے خط کے تو پرزے کئے پڑھا بھی نہیں\nسنا جو تو نے بہ دل وہ پیام کس کا تھا\n\nاٹھائی کیوں نہ قیامت عدو کے کوچے میں\nلحاظ آپ کو وقت خرام کس کا تھا\n\nگزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوں\nخیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا\n\nہمیں تو حضرت واعظ کی ضد نے پلوائی\nیہاں ارادۂ شرب مدام کس کا تھا\n\nاگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھے\nتباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا\n\nوہ کون تھا کہ تمہیں جس نے بے وفا جانا\nخیال خام یہ سودائے خام کس کا تھا\n\nانہیں صفات سے ہوتا ہے آدمی مشہور\nجو لطف عام وہ کرتے یہ نام کس کا تھا\n\nہر اک سے کہتے ہیں کیا داغؔ بے وفا نکلا\nیہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AE%D8%B7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "تمہارے دید کی حسرت بہت مشکل سے نکلے گی", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہارے دید کی حسرت بہت مشکل سے نکلے گی\nدعا بن کر شب غم وہ ہمارے دل سے نکلے گی\n\nخبر کیا تھی کہ تیری کج ادائی سے بت رعنا\nبسان شمع رو کر آرزو محفل سے نکلے گی\n\nتمنا رفتہ رفتہ رنگ کچھ دکھلائے گی اپنا\nبنے گی نور جاں اور دیدۂ کامل سے نکلے گی\n\nبسان نکہت گل چھپ نہیں سکتی چھپانے سے\nیہ بوئے خون عاشق دامن قاتل سے نکلے گی\n\nنہاں کیا خاک ہوگی حسرت دیدار عاشق کی\nوہ اک دن یاس بن کر دیدۂ بسمل سے نکلے گی\n\nدکھائے گی محبت ایک دن ان کو اثر اپنا\nسمائی دل میں جو ان کے وہ میرے دل سے نکلے گی\n\nتصور جانب دل چاہیے مجنوں تجھے کرنا\nتو جس لیلیٰ کا عاشق ہے وہ اس محمل سے نکلے گی\n\nٹھہر جا ناقۂ دلبر کہ میں چوموں قدم تیرے\nصدا یہ مشت خاک عاشق بیدل سے نکلے گی\n\nزباں سے نالہ و فریاد کرنا ہے عبث تیرا\nجمیلہؔ وہ دعا کام آئے گی جو دل سے نکلے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "تمہارے دیکھنے کو حسرت حیرت فزا ٹھہری", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہارے دیکھنے کو حسرت حیرت فزا ٹھہری\nدل محزوں سے نکلی دیدۂ بسمل میں آ ٹھہری\n\nتصور یار کا تھا سامنے آتی قضا کیوں کر\nسر بالیں دم مردن بشکل دل ربا ٹھہری\n\nجھکایا بار عصیاں نے ہمارے دست حسرت کو\nپہنچ کر تا بلب جس کی ندامت سے دعا ٹھہری\n\nتمہاری جنبش ابرو سے گھائل ہو گئے عاشق\nبن آئی جان پر ان کی تمہاری اک ادا ٹھہری\n\nاسی انداز نے ویراں کیا ہے میرے پہلو کو\nدل عاشق کے لینے کو ان آنکھوں میں ضیا ٹھہری\n\nصبا کے تیز جھونکوں نے پھرایا در بدر اس کو\nزمیں پر چین سے کس دم یہ خاک مبتلا ٹھہری\n\nجلایا مسکرا کر اور ادا سے کر دیا مردہ\nکہیں تو یہ جفا ٹھہری کسی جا پر وفا ٹھہری\n\nبسان خون دل چسپاں ہوئی ہے تیرے تلووں سے\nہماری دشمن جاں اب یہ شوخئ ضیا ٹھہری\n\nالٰہی کیا مرے دلبر نے کھولا اپنے گیسو کو\nمشام جاں میں اپنے آ کے بوئے جاں فزا ٹھہری\n\nتمہاری بد دعا سے لطف ملتا ہے مرے دل کو\nمیں عاشق ہوں تمہارا وہ مرے حق میں دعا ٹھہری\n\nفرشتوں نے پکارا اے جمیلہؔ جلد حاضر ہو\nخدا کے روبرو آ کر صف اہل صفا ٹھہری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D9%81%D8%B2%D8%A7_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1%DB%8C"} {"title": "تمہارے عشق میں ہم ننگ و نام بھول گئے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہارے عشق میں ہم ننگ و نام بھول گئے\nجہاں میں کام تھے جتنے تمام بھول گئے\n\nنمازیوں نے تجھ ابرو کو دیکھ مسجد میں\nبہ سمت قبلہ سجود و قیام بھول گئے\n\nیہ وضع کیا ہے کہ ہوتے نہیں ہو دست بسر\nابھی سے اپنوں کا لینا سلام بھول گئے\n\nگئے تھے زعم میں اپنے پر اس کو دیکھتے ہی\nجو دل نے ہم سے کہے تھے پیام بھول گئے\n\nتری طرف ہوئی صورت گران چیں کی نگاہ\nقلم کو ہاتھ سے رکھ اپنا کام بھول گئے\n\nبتان چرب زباں سن کے خوبئ گفتار\nادب میں دب گئے حسن کلام بھول گئے\n\nتری اے سرو رواں دیکھ کر انوکھی چال\nجو خوش خرام تھے اپنا خرام بھول گئے\n\nتری یہ زلف گرہ گیر دیکھ کر صیاد\nشکار آپ ہوئے صید و دام بھول گئے\n\nبڑا غضب ہے کہ حاتمؔ کو تم نہ پہچانا\nوہی قدیم تمہارا غلام بھول گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%86%D9%86%DA%AF_%D9%88_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "تمہارے لوگ کہتے ہیں کمر ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہارے لوگ کہتے ہیں کمر ہے\nکہاں ہے کس طرح کی ہے کدھر ہے\n\nلب شیریں چھپے نہیں رنگ پاں سیں\nنہاں منقار طوطی میں شکر ہے\n\nکیا ہے بے خبر دونوں جہاں سیں\nمحبت کے نشے میں کیا اثر ہے\n\nترا مکھ دیکھ آئینا ہوا ہے\nتحیر دل کوں میرے اس قدر ہے\n\nتخلص آبروؔ بر جا ہے میرا\nہمیشہ اشک غم سیں چشم تر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%84%D9%88%DA%AF_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%85%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "تمہارے گھر سے پس مرگ کس کے گھر جاتا", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہارے گھر سے پس مرگ کس کے گھر جاتا\nبتاؤ آپ سے جاتا تو میں کدھر جاتا\n\nنہیں ہے کوئی بھی ساتھی تمہارے مجرم کا\nپکار اٹھتے سب اعضا جو میں مکر جاتا\n\nاجل کے بھیس میں میری تلاش کر لیتے\nوہ آپ ڈھونڈ کے خود لاتے میں جدھر جاتا\n\nتکلفات محبت نے قید کر رکھا\nہر ایک سمت تھی دیوار میں کدھر جاتا\n\nکبھی نہ سامنے آتا ذلیل کہلا کر\nجو وہ بلاتے تو میں اپنے نام پر جاتا\n\nبھلا چھپائے سے چھپتا لہو شہیدوں کا\nیہ خون بول ہی اٹھتا جو تو مکر جاتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%B3_%D9%85%D8%B1%DA%AF_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "تمہارے ہاتھ سے کل ہم بھی رو لیے صاحب", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہارے ہاتھ سے کل ہم بھی رو لیے صاحب\nجگر کے داغ جو دھونے تھے دھو لیے صاحب\n\nغلام عاشق و چاکر مصاحب و ہم راز\nغرض جو تھا ہمیں ہونا سو ہو لیے صاحب\n\nقرار و صبر جو کرنے تھے کر چکے برباد\nحواس و ہوش جو کھونے تھے کھو لیے صاحب\n\nہمارے وزن محبت میں کچھ ہو فرق تو اب\nپھر امتحاں کی ترازو میں تولیے صاحب\n\nکچھ انتہائے بکا ہو تو اور بھی یک چند\nسرشک چشم سے موتی کو رولیے صاحب\n\nکل اس صنم نے کہا دیکھ کر ہمیں خاموش\nکہ اب تو آپ بھی ٹک لب کو کھولیے صاحب\n\nیہ سن کے میں نے نظیرؔ اس سے یوں کہا ہنس کر\nجو کوئی بولے تو البتہ بولئے صاحب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%84_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%D9%88_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8"} {"title": "تمہارے ہاتھوں کی انگلیوں کی یہ دیکھو پوریں غلام تیسوں", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "تمہارے ہاتھوں کی انگلیوں کی یہ دیکھو پوریں غلام تیسوں\nغرض کہ غش ہے اگر نہ مانو تو جھٹ اٹھا لے کلام تیسوں\n\nامام بارہ بروج بارہ عناصر و جسم و روح اے دل\nیہی تو سرکار حق تعالی کی ہیں مدار المہام تیسوں\n\nنہیں عجائب کچھ آنکھ ہی میں رطوبتیں تین سات پردے\nعقول دس مدرکات دس ہیں سو کرتے رہتے ہیں کام تیسوں\n\nعلوم چودہ مقولہ دس اور جہات ستہ بنائے اس نے\nامور دنیا کو تاکہ پہنچایں خوب سا انصرام تیسوں\n\nبلائیں کالی ہیں اس پری بن یہ تیسوں راتیں کچھ ایسی انشاؔ\nکہ ہر مہینے کے دن بھی جن کو کرے ہیں جھک کر سلام تیسوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%84%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D9%88%DA%BA"} {"title": "تمہارے ہجر میں رہتا ہے ہم کو غم میاں صاحب", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہارے ہجر میں رہتا ہے ہم کو غم میاں صاحب\nخدا جانے جئیں گے یا مریں گے ہم میاں صاحب\n\nاگر بوسہ نہ دینا تھا کہا ہوتا نہیں دیتا\nتم اتنی بات سے ہوتے ہو کیا برہم میاں صاحب\n\nخطا کچھ ہم نے کی یا غیر ہے شاید تمہیں مانع\nسبب کیا ہے کہ تم آتے ہو اب کچھ کم میاں صاحب\n\nاگر تو شہرۂ آفاق ہے تو تیرے بندوں میں\nہمیں بھی جانتا ہے خوب اک عالم میاں صاحب\n\nتمہارے عشق سے تاباںؔ ہوا ہے شہر میں رسوا\nتم اس کے حال سے اب تک نہیں محرم میاں صاحب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8"} {"title": "تمہید (ضربِ کلیم)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "نہ دیر میں نہ حرم میں خودی کی بیداری\nکہ خاوراں میں ہے قوموں کی رُوح تریاکی\nاگر نہ سہل ہوں تجھ پر زمیں کے ہنگامے\nبُری ہے مستیِ اندیشہ ہائے افلاکی\nتری نجات غمِ مرگ سے نہیں ممکن\nکہ تُو خودی کو سمجھتا ہے پیکرِ خاکی\nزمانہ اپنے حوادث چھُپا نہیں سکتا\nترا حِجاب ہے قلب و نظر کی ناپاکی\nعطا ہُوا خس و خاشاکِ ایشیا مجھ کو\nکہ میرے شُعلے میں ہے سرکشی و بے باکی!\n\nترا گُناہ ہے اقبالؔ! مجلس آرائی\nاگرچہ تُو ہے مثالِ زمانہ کم پیوند\nجو کوکنار کے خُوگر تھے، اُن غریبوں کو\nتری نَوا نے دیا ذوقِ جذبہ ہائے بلند\nتڑپ رہے ہیں فضاہائے نیلگوں کے لیے\nوہ پَر شکستہ کہ صحنِ سرا میں تھے خورسند\nتری سزا ہے نوائے سحَر سے محرومی\nمقامِ شوق و سروُر و نظر سے محرومی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%D8%AF_%28%D8%B6%D8%B1%D8%A8%D9%90_%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%29"} {"title": "تمہیں ایسا بے رحم جانا نہ تھا", "poet_page": "مصنف:راسخ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہیں ایسا بے رحم جانا نہ تھا\nغرض کیا کہیں دل لگانا نہ تھا\n\nاگر اس گلی سے نکلتے تو پھر\nدو عالم میں اپنا ٹھکانا نہ تھا\n\nلیا امتحان وفا ہی میں جی\nہمیں یاں تلک آزمانا نہ تھا\n\nوہ تھا کون سا تیرا تیر ستم\nکہ میں آہ اس کا نشانا نہ تھا\n\nکیا کس کی آنکھوں نے راسخؔ پہ سحر\nوہ آگے تو ایسا دوانا نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%A8%DB%92_%D8%B1%D8%AD%D9%85_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "تمہیں بھی معلوم ہو حقیقت کچھ اپنی رنگیں ادائیوں کی", "poet_page": "مصنف:ہادی مچھلی شہری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہیں بھی معلوم ہو حقیقت کچھ اپنی رنگیں ادائیوں کی\nکبھی اسے چھیڑ کر تو دیکھو جو لے مرے دل کی ساز میں ہے\n\nابھی تو اک قطرہ ہی گرا تھا کہ جس سے ہلچل میں ہے زمانہ\nخدا ہی جانے کہ کتنی قوت دل حزیں کے گداز میں ہے\n\nالٰہی خیر اس کے سنگ در کی نہ ہو کہیں صرف شوق وہ بھی\nکہ ذوق سجدہ کی ایک دنیا مری جبین نیاز میں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "تمہیں جو میرے غم دل سے آگہی ہو جائے", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہیں جو میرے غم دل سے آگہی ہو جائے\nجگر میں پھول کھلیں آنکھ شبنمی ہو جائے\n\nاجل بھی اس کی بلندی کو چھو نہیں سکتی\nوہ زندگی جسے احساس زندگی ہو جائے\n\nیہی ہے دل کی ہلاکت یہی ہے عشق کی موت\nنگاہ دوست پہ اظہار بیکسی ہو جائے\n\nزمانہ دوست ہے کس کس کو یاد رکھوگے\nخدا کرے کہ تمہیں مجھ سے دشمنی ہو جائے\n\nسیاہ خانۂ دل میں ہے ظلمتوں کا ہجوم\nچراغ شوق جلاؤ کہ روشنی ہو جائے\n\nطلوع صبح پہ ہوتی ہے اور بھی نمناک\nوہ آنکھ جس کی ستاروں سے دوستی ہو جائے\n\nاجل کی گود میں قابلؔ ہوئی ہے عمر تمام\nعجب نہیں جو مری موت زندگی ہو جائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%81%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "تمہیں شب وعدہ درد سر تھا یہ سب ہیں بے اعتبار باتیں", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہیں شب وعدہ درد سر تھا یہ سب ہیں بے اعتبار باتیں\nیقیں نہ آئے گا ہم کو ہرگز بناؤ گو تم ہزار باتیں\n\nنہیں جو منظور تم کو ملنا تو کیوں نہیں صاف صاف کہتے\nسمجھ میں آتی نہیں ہمارے کرو نہ تم پیچ دار باتیں\n\nاٹھی ہے کالی گھٹا فلک پر ہے ساقیٔ ماہ وش بغل میں\nبہک بہک کر ہیں کیا مزے سے بنا رہے بادہ خوار باتیں\n\nہوئیں ہیں جس دن سے چار آنکھیں تمہاری اے یار مشرقیؔ سے\nیہی تمنا ہے بیٹھ کر تم سنو ہماری دو چار باتیں\n\nہے آئی مشکل سے وصل کی شب کہ جس کی مدت سے تھی تمنا\nجو میں نے شکوے کیے تھے اس کی کرو نہ تم بار بار باتیں\n\nیہ کیا محل ہے کہ آج کرتے ہو شیخ جی ذکر زہد و تقویٰ\nیہی ہے واجب کہ ہوں گل و مل کی وقت فصل بہار باتیں\n\nجو آج آئے ہو میرے گھر پر تو ہے یہ ذکر رقیب کیسا\nنہ کیجیے مشرقیؔ سے صاحب کہ ہیں یہ سب ناگوار باتیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B3%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%A8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تمہیں کیا کام نالوں سے تمہیں کیا کام آہوں سے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہیں کیا کام نالوں سے تمہیں کیا کام آہوں سے\nچھپایا ہو گناہ عشق تو پوچھو گواہوں سے\n\nمیں کشکول دل بے مدعا لے کر کہاں جاؤں\nیہ پیغام طلب کیوں اونچی اونچی بارگاہوں سے\n\nزباں ہو ایک الفت کی تو ممکن ہے زباں بندی\nہوئی جو بات چپکے کی وہ کہہ ڈالی نگاہوں سے\n\nمحبت اندر اندر زیست کا نقشہ پلٹتی ہے\nیہی چلتی ہوئی سانسیں بدل جائیں گی آہوں سے\n\nسند بے اعتمادی کی ہے قبل امتحاں گویا\nبیان حال کے پہلے حلف لینا گواہوں سے\n\nمحبت نیک و بد کو سوچنے دے غیر ممکن ہے\nبڑھی جب بے خودی پھر کون ڈرتا ہے گناہوں سے\n\nہوئے جب آپ سے باہر پھر احساس دوئی کیسا\nپتہ منزل کا ملتا ہے انہیں گم کردہ راہوں سے\n\nبتا سکتی نہیں روئیدگی سبزہ و گل بھی\nفقیروں سے پٹے تھے یہ گڑھے یا بادشاہوں سے\n\nچھلکتے ظرف کا کھلتا بھرم کھوتا ہے بات اپنی\nسکوں پاتا ہے دل کا درد نالوں سے نہ آہوں سے\n\nیہ پہلے سوچ لیں آنکھوں میں لہراتے ہوئے آنسو\nکہ وہ پھر اٹھ بھی سکتے ہیں جو گر جائیں نگاہوں سے\n\nملا بیٹھا ہے سب میں کچھ مگر منہ سے نہیں کہتا\nالگ سمجھو تم اپنے آرزوؔ کو دادخواہوں سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A2%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "تمہیں ہاں کسی سے محبت کہاں ہے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہیں ہاں کسی سے محبت کہاں ہے\nذرا دیکھیے تو وہ صورت کہاں ہے\n\nبھلا اب کسی سے سنو بات کیا تم\nتمہیں اپنی باتوں سے فرصت کہاں ہے\n\nہر اک بات پر روئے سے دیتے ہو اب\nوہ شوخی کہاں وہ شرارت کہاں ہے\n\nپڑے رہتے ہو پہروں ہی منہ لپیٹے\nوہ جلسہ کہاں ہے وہ صحبت کہاں ہے\n\nکوئی کچھ کہے اب تمہیں کچھ نہ بولو\nوہ تیزی کہاں وہ ظرافت کہاں ہے\n\nوہ لگ چلنا ہر اک سے آفت تمہارا\nوہ تندی وہ شوخی وہ فرحت کہاں ہے\n\nکوئی جانتا بھی نہیں اب تو تم کو\nوہ پہلی سی خوشبو میں شہرت کہاں ہے\n\nتمہیں دیکھو اور غیر کی باتیں سننا\nوہ شان اب کہاں ہے وہ شوکت کہاں ہے\n\nتمہیں ہو عدو ہی کا ملنا مبارک\nعدو کی سی ہم میں لیاقت کہاں ہے\n\nنظامؔ آپ ہی آپ آئے گا یاں پر\nیہاں رشک سہنے کی طاقت کہاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "تمہیں ہم چاہتے تو ہیں مگر کیا", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تمہیں ہم چاہتے تو ہیں مگر کیا\nمحبت کیا محبت کا اثر کیا\n\nوفا کا نام تو پیچھے لیا ہے\nکہا تھا تم نے اس سے پیشتر کیا\n\nہزاروں بار بگڑے رات بھر میں\nنبھے گی تم سے اپنی عمر بھر کیا\n\nنظر ملتی نہیں اٹھتی نہیں آنکھ\nکوئی پوچھے کہ ہے مد نظر کیا\n\nشکایت سن کے وہ بیخودؔ سے بولے\nتجھے اے بے خبر میری خبر کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تمیزِ خار و گُل سے آشکارا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "تمیزِ خار و گُل سے آشکارا\nنسیمِ صُبح کی رَوشن ضمیری\nحفاظت پھُول کی ممکن نہیں ہے\nاگر کانٹے میں ہو خُوئے حریری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%85%DB%8C%D8%B2%D9%90_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D9%88_%DA%AF%D9%8F%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "تن آسانی", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "غسل خانے میں وہ کہتی ہیں ہمیں چینی کی اینٹیں ہی پسند آتی ہیں\nچینی کی اینٹوں پہ وہ کہتی ہیں چھینٹا جو پڑے تو پل میں\nایک اک بوند بہت جلد پھسل جاتی ہے\nکوئی پوچھے کہ بھلا بوندوں کے یوں جلد پھسل جانے میں\nکیا فائدہ ہے\nجب ضرورت ہوئی جی چاہا تو چپکے سے گئے اور نہا کر لوٹے\nدھل دھلا کر یوں چلے آئے کہ جس طرح کسی جھیل کے پانی پہ کوئی مرغابی\nایک دم ڈبکی لگاتی ہے لگاتے ہی ابھر آتی ہے\nاور پھر تیرتی جاتی ہے ذرا رکتی نہیں\n\nوہ یہ کہتی ہیں مگر چینی کی اینٹوں کا اگر فرش ہو دیواریں ہوں\nدل یہ کہتا ہے کہ ہر چیز کا نکھرا ہوا رنگ\nآنکھوں کو کتنا بھلا لگتا ہے\nجیسے برسات میں تھم جاتے ہیں بادل جو برس کر تو ہر اک پھلواری\nیوں نظر آتی ہے\nجیسے جانا ہو اسے اپنے کسی چاہنے والے سے کہیں ملنے کو جانا ہو مگر\nابھی کچھ سوچ میں ہو\nکوئی پوچھے کہ بھلا چینی کی اینٹوں کو کسی سوچ سے کیا نسبت ہے\nچینی کی اینٹیں تو بے جان ہیں پھلواری میں ہر پھول کلی ہر پتہ\nزیست کے نور سے لہراتا ہے\nپھول مرجھائے کلی کھلتی ہے\nاور ہر پتہ نئے پھول کے گن گاتا ہے\nچینی کی اینٹیں کوئی گیت نہیں گا سکتیں\nچینی کی اینٹیں تو خاموش رہا کرتی ہیں\nایسی خاموشی سے اکتا کے نہانے والا\nکچھ اس انداز سے اک تان لگاتا ہے کہ لقمان ہی یاد آتا ہے\nجب میں یہ کہتا ہوں وہ پوچھتی ہیں\nکوئی پوچھے تو بھلا تان کو لقمان سے کیا نسبت ہے\nاور میں کہتا ہوں لقمان کو لقمان کو یا تان کو رہنے دو چلو\nاور کوئی بات کریں\nاور یوں لیٹے ہی رہتے ہیں کسی کے دل میں\nدھیان آتا ہی نہیں\nغسل خانے میں قدم رکھیں نہا کر سوئیں\nلیٹے لیٹے یوں ہی نیند آتی ہے سو جاتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86_%D8%A2%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "تن بہ تقدیر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اسی قُرآں میں ہے اب ترکِ جہاں کی تعلیم\nجس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر\n’تن بہ تقدیر‘ ہے آج اُن کے عمل کا انداز\nتھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر\nتھا جو ’ناخُوب، بتدریج وہی ’خُوب‘ ہُوا\nکہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86_%D8%A8%DB%81_%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1"} {"title": "تن بے جاں میں اب رہا کیا ہے", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تن بے جاں میں اب رہا کیا ہے\nدیکھیے مرضئ خدا کیا ہے\n\nاپنی حالت پہ آج روتا ہے\nدل دیوانہ کو ہوا کیا ہے\n\nاے طبیبو تمہیں خدا کی قسم\nسچ بتا دو کہ ماجرا کیا ہے\n\nمیں خطا وار ہی سہی لیکن\nسن تو لو پہلے ماجرا کیا ہے\n\nنہ کھلا آج تک کسی پر بھی\nخط تقدیر میں لکھا کیا ہے\n\nکیوں یہ چپ چپ گئے عدم والے\nیا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے\n\nلب زخم جگر تو ہنستے ہیں\nتو نے اے بخیہ گر سیا کیا ہے\n\nدل تو کیا جان عشق میں دے دی\nیہ نہ پوچھا کہ مدعا کیا ہے\n\nاٹھ کے پچھلے سے آہوں کا بھرنا\nشوقؔ تیرا یہ مشغلہ کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86_%D8%A8%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تن سے جاں کا قدم نکلتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تن سے جاں کا قدم نکلتا ہے\nاب کوئی دم میں دم نکلتا ہے\n\nسیر کر انقلاب عالم کی\nٹھیکرا لے کے جم نکلتا ہے\n\nاے پری شب جو حور کو دیکھا\nتیرا انداز کم نکلتا ہے\n\nخلق مرتی ہے کوئے قاتل میں\nطور ملک عدم نکلتا ہے\n\nچھوڑ بت خانے کو ترے ہاتھوں\nبرہمن اے صنم نکلتا ہے\n\nکوچۂ زلف سے ترے اے بت\nبچ کے شیخ حرم نکلتا ہے\n\nصاف اے حور تیرے کوچے میں\nرنگ باغ ارم نکلتا ہے\n\nجان جاں تجھ پہ جان جاتی ہے\nدم نکلتا ہے دم نکلتا ہے\n\nتیغ قاتل ہے عرشؔ زہر آلود\nمیرے زخموں سے سم نکلتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%82%D8%AF%D9%85_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تن عیش کا گھر ہے اس کا اسباب ہے روح", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تن عیش کا گھر ہے اس کا اسباب ہے روح\nمینا ہے یہ اور بادۂ ناب ہے روح\nیا چنگ معنئ ازل میں شہبازؔ\nیہ تن ہے رباب اس کی مضراب ہے روح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%AD"} {"title": "تن میں دم روک میں بہ دیر رکھا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تن میں دم روک میں بہ دیر رکھا\nآؤ جی کس نے تم کو گھیر رکھا\n\nہم گئے واں تو یاں وہ آیا واہ\nخوب قسمت نے ہیر پھیر رکھا\n\nکر گیا وہ ہی راہ عشق کو طے\nیاں قدم جس نے ہو دلیر رکھا\n\nسب کو عاجز کیا فلک نے پر ایک\nآہوئے دل پہ غم کو شیر رکھا\n\nجا کے بیٹھے جو کوئے یار میں ہم\nواں سے باہر قدم نہ پھیر رکھا\n\nبعد مدت وہ دیکھ کر بولا\nکس نے یاں خاک کا یہ ڈھیر رکھا\n\nشکر اے درد عشق تو نے سدا\nزندگانی سے ہم کو سیر رکھا\n\nکیسا گھبرا گیا وہ کل ہم نے\nٹک جو رستے میں اس کو گھیر رکھا\n\nخیر ہو یا الٰہی جرأتؔ نے\nعاشقی میں قدم کو پھیر رکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%85_%D8%B1%D9%88%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "تن پر اس کے سیم فدا اور منہ پر مہ دیوانہ ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تن پر اس کے سیم فدا اور منہ پر مہ دیوانہ ہے\nسر سے لے کر پاؤں تلک اک موتی کا سا دانہ ہے\n\nناز نیا انداز نرالا چتون آفت چال غضب\nسینہ ابھرا صاف ستم اور چھب کا قہر یگانہ ہے\n\nبانکی سج دھج آن انوٹھی بھولی صورت شوخ مزاج\nنظروں میں کھل کھیل لگاوٹ آنکھوں میں شرمانا ہے\n\nتن بھی کچھ گدرایا ہے اور قد بھی بڑھتا آتا ہے\nکچھ کچھ حسن تو آیا ہے اور کچھ کچھ اور بھی آنا ہے\n\nجب ایسا حسن قیامت ہو بیتاب نہ ہو دل کیونکہ نظیرؔ\nجان پر اپنی کھلیں گے اک روز یہ ہم نے جانا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D9%81%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "تنبیہ الجہال", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "صحبتیں جب تھیں تو یہ فن شریف\nکسب کرتے جن کی طبعیں تھیں لطیف\nتھے ممیز درمیاں انصاف تھا\nخار و خس سے کیا یہ عرصہ صاف تھا\nدخل اس فن میں نہ تھا اجلاف کو\nکچھ بتاتے تھے بھی سو اشراف کو\nتھے جو اس ایام میں استاد فن\nناکسوں سے وے نہ کرتے تھے سخن\nپھر حصول اس سے نہ دنیا ہے نہ دیں\nکوئی حاجت اس سے وابستہ نہیں\nگر چمار اس کارخانے میں نہ ہو\nٹوٹے جوتے کو کہاں لے کر پھرو\nچار ناچار اس کنے جانا پڑے\nکوڑیاں دے جوتی گٹھوانا پڑے\nحاجت اس فرقے سے مطلق یاں نہیں\nجو نہ ہو شاعر تو کچھ نقصاں نہیں\nیہ تو دنیا میں ہے اس فن کو کمال\nدین کا اس فرقے کے پوچھو نہ حال\nکذب ہو جس جاے رونق بخش سمع\nواں کی دینداری رکھو اور دل کو جمع\nجھوٹ آوے اس قدر جب درمیاں\nتو یقیں ایمان کیسا دیں کہاں\nہم تلک تھی بھی وہی رسم قدیم\nیعنی جن کے ہوتے تھے ذہن سلیم\nپیار کرتے تھے انھیں استاد فن\nان کے ہوتے رہبر راہ سخن\nجلف واں زنہار پاتے تھے نہ بار\nشاعری کاہے کو تھی ان کا شعار\nنکتہ پردازی سے اجلافوں کو کیا\nشعر سے بزازوں ندافوں کو کیا\nالغرض یاروں نے قیدیں دیں اٹھا\nجو کوئی آیا اسے دی پاس جا\nٹک نہ استعداد سے کی گفتگو\nکچھ نہ رکھی شاعری کی آبرو\nچار سکھیاں کہہ کے دیں ناکس کے ہاتھ\nپھر اسے مجلس میں لائے اپنے ساتھ\nآپ بیٹھے صدر میں وہ دست چپ\nکرنے لاگے شاعری سے حرف گپ\nبولے ان کو آج کل سے ہے خیال\nذہن ان کا تیزی رکھتا ہے کمال\nہو رہیں گے کچھ اگر صحبت رہی\nاور ہم سے بھی انھیں الفت رہی\nجو ہوا ثابت وہ ان کا مستفید\nسب نے جانا اس کو شاگرد رشید\nکی اشارت تاکہ وہ کھولے دہن\nآگے استادوں کے ہو گرم سخن\nان کے ایما سے وہ کچھ پڑھنے لگا\nصاحبان فن کے منھ چڑھنے لگا\nنیم قد اٹھ اٹھ کے یہ سننے لگے\nجا و بیجا سر کے تیں دھننے لگے\nوہ سراپا جہل ناگہ وقت کار\nہم سے تم سے کرنے لاگا اعتذار\nسر میں رکھ کر دعوی طبع لطیف\nمیرؔ و مرزاؔ کا ہوا آخر حریف\nکیسی کیسی یوں گئیں طبعیں بہ باد\nآفریں شاگرد و رحمت اوستاد\nجب تلک یاں تھی تمیز زشت و نیک\nکاہے کو یوں شعر کہتا تھا ہر ایک\nاہل فن کی رہتی تھی سب کو تلاش\nان کے ہاں کرتے تھے جاکر بودوباش\nجوکہ خودسر رکھتے استادوں سے عار\nان کے تیں ہرگز نہ ہوتا اعتبار\nزندگی بلکہ انھوں پر شاق تھی\nہاتھ گر لگ جاتی تھی شلاق تھی\n\nحکایت\n\nشائق فن تھا وزیر اصفہاں\nایک دن آیا ہلالی اس کے ہاں\nحاجبان در سے ہو آگاہ کار\nکی اشارت تا اسے دیں گھر میں بار\nعزت و تعظیم کی حد سے زیاد\nپاس لے مسند پہ بیٹھا شاد شاد\nان نے کھینچی اس کی مرزائی بہت\nبیٹھے بیٹھے رات جب آئی بہت\nشعر کی تقریب لاکر درمیاں\nکرنے لاگا شاعری کا امتحاں\nشعرخوانی کی پڑھا سو تھا غلط\nسنتے ہی بھڑکا وہ شعلہ کی نمط\nغصہ ہو بولا کہ ہاں فراش و چوب\nکھینچ لا میداں میں کی شلاق خوب\nاس قدر مارا کہ بے دم ہوگیا\nسوج دست و پا ہر اک تھم ہوگیا\nکھینچ کر ڈلوا دیا دربار میں\nیہ خبر پہنچی جو ہر بازار میں\nوارث اس کے لے گئے آ رات کو\nجب بخود آیا تو پایا بات کو\nیعنی دستور زماں دشمن نہ تھا\nیا وہ کچھ ناآشناے فن نہ تھا\nغالباً پایا غلط اشعار کو\nخوش نہ آیا اس کرم کردار کو\nورنہ شیوہ اس کا ہے لطف و کرم\nجائزے میں دے ہے دینار و درم\nمجھ کو کیوں شلاق کرتا اتنی شب\nکاہے کو بدنام ہوتا بے سبب\nپس مجھے ہے تربیت اپنی ضرور\nجا کے بیٹھوں اک سرآمد کے حضور\nصحبت اکثر رکھوں اس استاد سے\nشاید اس کی دولت ارشاد سے\nپہنچے اک رتبے کو میری قیل و قال\nہو مجھے اس فن میں یک گونہ کمال\nاٹھ کے آیا مولوی جامی کنے\nمشق کی یک چند اس نامی کنے\nجب ہوا کچھ شعر کا رتبہ بلند\nاور مولانا لگے کرنے پسند\nپھر گیا اک دن در دستور پر\nحاجب درگاہ نے کی جا خبر\nکاے امیر اس روز کا شلاق خوار\nآج در اوپر ہے پھر خواہان بار\nکی اشارت سد رہ کوئی نہ ہو\nقصد ہے برخورد کا تو آنے دو\nسامنے آیا تو کی نیچی نظر\nدھوپ میں جلتا رہا دو اک پہر\nبعد ازاں ایماے ابرو کی کہ ہاں\nصحن ہی میں سے ہوا وہ مدح خواں\nپھر وہیں سے دے صلہ رخصت کیا\nاک مصاحب نے جگر کر کر کہا\nاگلی صحبت کی تھی عزت اس قدر\nسو ہوئی شلاق حد سے بیشتر\nاب کی اس کو جائزہ دے کر گراں\nتونے فرمایا مرخص واں سے واں\nمیں نہ سمجھا یہ کہ وہ کیا تھا یہ کیا\nدر جواب اس برگزیدہ نے کہا\nایسی ہی ہوتی ہیں تضحیک سلف\nدست ہو تو ان کے تیں کریے تلف\nاس قدر اس کا تنبہ تھا ضرور\nتاکہ پہنچے یہ خبر نزدیک و دور\nجو سنے سو خودسری سے باز آئے\nتربیت ہونے کو استادوں کے جائے\nورنہ کرتا پوچ گوئی ہر دبنگ\nرفتہ رفتہ شاعری ہوجاتی ننگ\nتب جو میں شلاق کی یہ خام تھا\nاب جو آیا لائق انعام تھا\nقصہ کوتہ تھے ممیز درمیاں\nکاہے کو تھے گلہ گلہ شاعراں\nاب جو دیکھو ہر طرف ہے ازدحام\nننگ ہے کرم مزابل پر بھی کام\nبے تمیزی سے ہے رائج ابتری\nجس کو دیکھو خودنمائی خودسری\nنے بیاں کا ہے سلیقہ نے زباں\nاس پہ ہے ہر ایک سحبان زماں\nبس قلم وقت زباں بازی نہیں\nچپ کہ دوران سخن سازی نہیں\nکون حرف خوب کو کرتا ہے گوش\nبات کی فہمید کا ہے کس کو ہوش\nبے تمیزوں سے بھرا ہے سب جہاں\nاب دماغ حرف ہم کو بھی کہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86%D8%A8%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%84"} {"title": "تنخواہ تبر بہر درختان کہن ہے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تنخواہ تبر بہر درختان کہن ہے\nجو شاخ پھلی ہے وہ بر آورد چمن ہے\n\nگلشن سے عنادل کو قفس میں ہے سوا چین\nآرام جہاں ہو وہ غریبوں کا وطن ہے\n\nہے عالم طفلی سے عیاں موت کا ساماں\nغنچے کا جو ملبوس ہے وہ گل کا کفن ہے\n\nہے حکم کہ مرنے میں نہ اب دیر لگائیں\nیہ قید فقط بہر اسیران کہن ہے\n\nاے ضعف یہ چھٹنا ہے مجھے قید سے بد تر\nجو تار نفس ہے مری گردن میں رسن ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%D8%AA%D8%A8%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D8%AA%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%81%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "تندرستوں میں نہ بیماروں کے بیچ", "poet_page": "مصنف:ماتم فضل محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تندرستوں میں نہ بیماروں کے بیچ\nعشق کے ہوں میں دل افگاروں کے بیچ\n\nعشق ہے سیر خدا اے دوستاں\nاس لئے اشرف ہے اسراروں کے بیچ\n\nمنزل دور و دراز عشق میں\nغم کو پایا ہم نے غم خواروں کے بیچ\n\nدوستاں ہے لا دوا دور از شفا\nعشق کا آزار آزاروں کے بیچ\n\nاب تو ہے کنج قفس گھر پر کبھی\nبلبلو تھے ہم بھی گلزاروں کے بیچ\n\nکیا کہیں ہم کہہ نہیں سکتے ہیں یار\nاندکوں میں ہے کہ بسیاروں کے بیچ\n\nجس کے جویا مومن و مشرک ہیں وہ\nسبحوں میں ہے نہ زناروں کے بیچ\n\nرحم کر ہم پر بھی دل بر ہیں ترے\nعشق کے ہاتھوں سے آواروں کے بیچ\n\nگل نے تا دعویٰ کیا رخ سے ترے\nبے قدر بکتا ہے بازاروں کے بیچ\n\nیا حسین ابن علی ماتمؔ کو بھی\nکیجے داخل اپنے زواروں کے بیچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86%D8%AF%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%86"} {"title": "تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گے\nبھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے\n\nاب کے بگڑے گی اگر ان سے تو اس شہر سے جا\nکسو ویرانے میں تکیہ ہی بنا بیٹھیں گے\n\nمعرکہ گرم تو ٹک ہونے دو خوں ریزی کا\nپہلے تلوار کے نیچے ہمیں جا بیٹھیں گے\n\nہوگا ایسا بھی کوئی روز کہ مجلس سے کبھو\nہم تو ایک آدھ گھڑی اٹھ کے جدا بیٹھیں گے\n\nجا نہ اظہار محبت پہ ہوسناکوں کی\nوقت کے وقت یہ سب منہ کو چھپا بیٹھیں گے\n\nدیکھیں وہ غیرت خورشید کہاں جاتا ہے\nاب سر راہ دم صبح سے آ بیٹھیں گے\n\nبھیڑ ٹلتی ہی نہیں آگے سے اس ظالم کے\nگردنیں یار کسی روز کٹا بیٹھیں گے\n\nکب تلک گلیوں میں سودائی سے پھرتے رہیے\nدل کو اس زلف مسلسل سے لگا بیٹھیں گے\n\nشعلہ افشاں اگر ایسی ہی رہی آہ تو میرؔ\nگھر کو ہم اپنے کسو رات جلا بیٹھیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D8%AC%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "تنگ تھی جا خاطر ناشاد میں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تنگ تھی جا خاطر ناشاد میں\nآپ کو بھولے ہم ان کی یاد میں\n\nکیونکر اٹھتا ہے خدا رنج قفس\nمر گئے ہم تو کف صیاد میں\n\nوہ جو ہیں تاریخ سے واقف بتائیں\nفرق باد آہ و باد عاد میں\n\nیاں امید قتل ہی نے خوں کیا\nرہ گئی حسرت دل جلاد میں\n\nبے تعلق پن بھی آخر قید ہے\nقید پائی خاطر آزاد میں\n\nغمزۂ شیریں ہی کی دولت سے تھا\nجو اثر تھا تیشۂ فرہاد میں\n\nکیوں خبر پوچھی ترا بیمار ہائے\nمر گیا شور مبارک باد میں\n\nبے تکلف جی میں جو آئے کرو\nکیا دھرا ہے نالہ و فریاد میں\n\nدھیان تجھ کو ہو نہ ہو پر شیفتہؔ\nرات دن رہتا ہے تیری یاد میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تنگیٔ دہن سے ہے اڑی بات", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تنگیٔ دہن سے ہے اڑی بات\nچھوٹا سا ہے منہ ترا بڑی بات\n\nکیا چرب زباں وہ شعلہ رو ہے\nلب تک آ کر پھسل پڑی بات\n\nمطلب پر اگر زبان دو تم\nہو منہ سے ابھی نکل کھڑی بات\n\nدل شیشۂ ساعت اپنا بن جائے\nساقی نہ کرے جو دو گھڑی بات\n\nہیں پیٹ کی ہلکی وہ صدف ساں\nموتی کی طرح نکل پڑی بات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86%DA%AF%DB%8C%D9%94_%D8%AF%DB%81%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%91%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "تنہا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میں وہی قطرۂ بے بحر وہی دشت نورد\nاپنے کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے صحرا کا طلسم\nاپنے سینے میں چھپائے ہوئے سیلاب کا درد\nٹوٹ کر رشتۂ تسبیح سے آ نکلا ہوں\nدل کی دھڑکن میں دبائے ہوئے اعمال کی فرد\nمیرے دامن میں برستے ہوئے لمحوں کا خروش\nمیری پلکوں پہ بگولوں کی اڑائی ہوئی گرد\n\nلاکھ لہروں سے اٹھا ہے مری فطرت کا خمیر\nلاکھ قلزم مرے سینے میں دواں رہتے ہیں\nدن کو کرنیں مرے افکار کا منہ دھوتی ہیں\nشب کو تارے مری جانب نگراں رہتے ہیں\nمیرے ماتھے پہ جھلکتا ہے ندامت بن کر\nابن مریم کا وہ جلوہ جو کلیسا میں نہیں\n\nراندۂ موج بھی ہیں مجرم ذرات بھی ہیں\n\nمیرا قصہ کسی افسانۂ دریا میں نہیں\nمیری تاریخ کسی صفحۂ صحرا میں نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7"} {"title": "تنہا نہ دل ہی لشکر غم دیکھ ٹل گیا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تنہا نہ دل ہی لشکر غم دیکھ ٹل گیا\nاس معرکے میں پائے تحمل بھی چل گیا\n\nہیں گرم گفتگو گل و بلبل چمن کے بیچ\nہوگا خلل صبا جو کوئی پات مل گیا\n\nاس شمع رو سے قصد نہ ملنے کا تھا ہمیں\nپر دیکھتے ہی موم صفت دل پگھل گیا\n\nمنعم تو یاں خیال عمارت میں کھو نہ عمر\nلے کون اپنے ساتھ یہ قصر و محل گیا\n\nلاگی نہ غیر یاس حیات امید ہاتھ\nدنیا سے جو گیا کف افسوس مل گیا\n\nاس راہ رو نے دم میں کیا طے رہ عدم\nہستی کے سنگ سے جو شرر سا اچھل گیا\n\nدیکھا ہر ایک ذرے میں اس آفتاب کو\nجس چشم سے کہ بے بصری کا خلل گیا\n\nگزری شب شباب ہوا روز شیب اخیر\nکچھ بھی خبر ہے قافلہ آگے نکل گیا\n\nقابل مقام کے نہیں بیدارؔ یہ سرائے\nمنزل ہے دور خواب سے اٹھ دن تو ڈھل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C_%D9%84%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%B9%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تنہا نہیں ہوں گر دل دیوانہ ساتھ ہے", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تنہا نہیں ہوں گر دل دیوانہ ساتھ ہے\nوہ ہرزہ گرد ہوں کہ پری خانہ ساتھ ہے\n\nہنگامہ اک پری کی سواری کا دیکھنا\nکیا دھوم ہے کہ سیکڑوں دیوانہ ساتھ ہے\n\nدل میں ہیں لاکھ طرح کے حیلے بھرے ہوئے\nپھر مشورہ کو آئینہ و شانہ ساتھ ہے\n\nروز سیہ میں ساتھ کوئی دے تو جانیے\nجب تک فروغ شمع ہے پروانہ ساتھ ہے\n\nدیتا نہیں ہے ساتھ تہی دست کا کوئی\nجب تک کہ مے ہے شیشہ میں پیمانہ ساتھ ہے\n\nسیکھا ہوں میکدہ میں طریق فروتنی\nجب تک کہ سر ہے سجدۂ شکرانہ ساتھ ہے\n\nجو بے بصر ہیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں دور دور\nاور ہر قدم پہ جلوۂ جانانہ ساتھ ہے\n\nکیا خوف ہو ہمیں زن دنیا کے مکر کا\nاپنی مدد کو ہمت مردانہ ساتھ ہے\n\nغم کی کتاب سے دل صد پارہ کم نہیں\nجس بزم میں گئے یہی افسانہ ساتھ ہے\n\nمانند گرد باد ہوں خانہ بدوش میں\nصحرا میں ہوں مگر مرا کاشانہ ساتھ ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DB%81%DB%92"} {"title": "تنہا ہے چراغ دور پروانے ہیں", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تنہا ہے چراغ دور پروانے ہیں\nاپنے تھے جو کل آج وہ بیگانے ہیں\nبیرنگئی دنیا کا نہ پوچھو احوال\nقصے ہیں کہانیاں ہیں افسانے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تنہائی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "تنہائیِ شب میں ہے حزیں کیا\nانجم نہیں تیرے ہم نشیں کیا؟\n\nیہ رفعتِ آسمانِ خاموش\nخوابیدہ زمیں، جہانِ خاموش\n\nیہ چاند، یہ دشت و در، یہ کُہسار\nفطرت ہے تمام نسترن زار\n\nموتی خوش رنگ، پیارے پیارے\nیعنی ترے آنسوؤں کے تارے\n\nکس شے کی تجھے ہوَس ہے اے دل!\nقُدرت تری ہم نفَس ہے اے دل!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "تنہائی (عظیم الدین احمد)", "poet_page": "مصنف:عظیم الدین احمد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مجھ سا تنہا نہیں دنیا میں خدایا کوئی\nمیں نہ اپنا ہوں کسی کا بھی نہ میرا کوئی\nکیا ملا مجھ کو چہل سالہ رفاقت کرکے\nاب کسی پر نہ کرے آہ بھروسا کوئی\nتابش ہجر نے دل کی یہ بنا دی صورت\nجیسے ہو دھوپ میں تپتا ہوا صحرا کوئی\nآتش شوق کی اٹھتی ہیں کچھ ایسی لہریں\nجس طرح آگ کا بھڑکا ہوا دریا کوئی\nایک وہ دن تھا کہ روتوں کو ہنسا دیتا تھا\nاب تو روتا ہوں جو دیکھا کہیں ہنستا کوئی\nمیں ہوں نیرنگی عالم کی مجسم تصویر\nمجھ سے بہتر نہیں عبرت کا تماشا کوئی\nمیں وہ قطرہ ہوں سمندر سے جو محروم رہا\nمجھ کو کیا موج میں آیا کرے دریا کوئی\nبے رخی آہ یہ کیسی ہے کہ اس عالم میں\nملے لاکھوں نہ ہوا ایک بھی اپنا کوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%28%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85_%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF%29"} {"title": "تنہائی سے ہے صحبت دن رات جدائی میں", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تنہائی سے ہے صحبت دن رات جدائی میں\nکیا خوب گزرتی ہے اوقات جدائی میں\n\nرخصت ہو چلا تھا تب دامن نہ ترا تھاما\nافسوس کہ ملتے ہیں اب ہاتھ جدائی میں\n\nکیا ذکر ہے آنسو کا ظالم مری آنکھوں سے\nخوں ناب ہی ٹپکے ہے یک ذات جدائی میں\n\nجب وصل تھا ان روزوں یک دل ہی پہ آفت تھی\nاب جان کا ہے سودا ہیہات جدائی میں\n\nیہ نالہ و زاری یہ خستگی و خواری\nجیدھر کو چلوں ؔجوشش ہیں سات جدائی میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%AF%D9%86_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تنہائی کے سب دن ہیں تنہائی کی سب راتیں (غزل)", "poet_page": "مصنف:محمد علی جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تنہائی کے سب دن ہیں تنہائی کی سب راتیں\nاب ہونے لگیں ان سے خلوت میں ملاقاتیں\n\nہر آن تسلی ہے ہر لحظہ تشفی ہے\nہر وقت ہے دل جوئی ہر دم ہیں مداراتیں\n\nمعراج کی سی حاصل سجدوں میں ہے کیفیت\nاک فاسق و فاجر میں اور ایسی کراماتیں\n\nبیٹھا ہوا توبہ کی تو خیر منایا کر\nٹلتی نہیں یوں جوہرؔ اس دیس کی برساتیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%D8%AF%D9%86_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%A8_%D8%B1%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%28%D8%BA%D8%B2%D9%84%29"} {"title": "تنہائی کے سب دن ہیں تنہائی کی سب راتیں (نعت)", "poet_page": "مصنف:محمد علی جوہر", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "تنہائی کے سب دن ہیں، تنہائی کی سب راتیں\nاب ہونے لگیں ان سے ، خلوت میں ملاقاتیں\n\nہر لحظہ تشفی ہے، ہر آن تسلی ہے\nہر وقت ہے دل جوئِی ، ہر دم ہیں مدا راتیں\n\nکوثر کے تقاضے ہیں، تسنیم کے وعدے ہیں\nہر روز یہی چرچے ، ہر روز یہی باتیں\n\nمعراج کی سی حاصل ، سجدوں میں ہے کیفیت\nاک فاسق و فاجر ہیں، اور ایسی کراماتیں؟\n\nبے مایہ سہی لیکن، شاید وہ بلا بھیجیں\nبھیجی ہیں در ودوں کی کچھ ہم نے بھی سوغاتیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%D8%AF%D9%86_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%A8_%D8%B1%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%28%D9%86%D8%B9%D8%AA%29"} {"title": "تو آج آئینہ رو مجھ پاس آ جا", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو آج آئینہ رو مجھ پاس آ جا\nبہر صورت مجھے صورت دکھا جا\n\nتو آ اے آتش برق غم یار\nمرا یہ خرمن ہستی جلا جا\n\nمری آتی ہے بس نیند آئے تو آپ\nیہ اپنی چشم پوشی دیکھتا جا\n\nمری جاری ہیں آنسو آہ قاصد\nشتابی کہہ یہ اس کو ماجرا جا\n\nلکھا میں نے یہ اس یوسف کو کل خط\nعزیزا دلبرا نازک مزاجا\n\nرکھی ہے چاہ تیری آہ بیتاب\nقلق اس میرے دل کا تو مٹا جا\n\nخدا ہی ہے مری کشتی کا حافظ\nخدا کے واسطے تو ناخدا جا\n\nنہ سنوا غیر کی باتیں سن اے یار\nترے جو جی میں آوے تو سنا جا\n\nوہی ہے جا بجا بے جا نہیں یہ\nبجا ہے اس کی ہی ہر ایک جا جا\n\nاگر جاتا ہے اے میرے مسیحا\nعلاج اس درد دل کا تو بتا جا\n\nمری سینہ پہ رکھ دست نگاریں\nمری یہ آگ دل کی تو بجھا جا\n\nاگر بیٹھا ہے ناصح منہ کو سی بیٹھ\nوگرنہ یاں سے اٹھ اے بے حیا جا\n\nتری نوبت ہی احساںؔ کوئی دن یاں\nتو ڈنکا عشق کا ہر جا بجا جا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D8%AC_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%B1%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "تو آپ کو پوشیدہ و اخفا نہ سمجھنا", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو آپ کو پوشیدہ و اخفا نہ سمجھنا\nمیں دیکھ رہا ہوں مجھے اندھا نہ سمجھنا\n\nکم شیر ژیان سے مرا رتبہ نہ سمجھنا\nکتا ہوں علی کا سگ دنیا نہ سمجھنا\n\nگو زار ہوا ہوں مگر امداد جنوں سے\nہے دیو کی طاقت مجھے مردا نہ سمجھنا\n\nہمراہ مرے رہتی ہے ہر دم مدد غیب\nلاکھوں پہ ہوں بھاری مجھے تنہا نہ سمجھنا\n\nبزم غم شپیر میں جو چشم سے نکلے\nہر اشک کو تسبیح کا اک دانہ سمجھنا\n\nجو دل کہ مبرا ہو محبت سے جہاں کی\nاس دل کو دلا یار کا کاشانہ سمجھنا\n\nنامہ جو لکھا ہے اسے رکھ چھوڑیو صاحب\nوہ خط غلامی ہے نوشتا نہ سمجھنا\n\nکافر ہوں نہ پھونکوں جو ترے کعبہ میں اے شیخ\nناقوس بغل میں ہے مصلٰی نہ سمجھنا\n\nدیدار دکھا دیجئے غش آئیں تو آئیں\nعاشق ہوں میں عاشق مجھے موسیٰ نہ سمجھنا\n\nرکھنا نہ توقع دل ناداں تو کسی سے\nاس وقت میں اپنوں کو بھی بیگانہ سمجھنا\n\nحاصل نہیں سمجھانے سے ناصح تو سمجھ تو\nکیا سمجھے بھلا یہ دل دیوانہ سمجھنا\n\nبہکا ہوا عاشق نظر آ جائے جو کوئی\nاس چشم فسوں ساز کا دیوانہ سمجھنا\n\nچاہوں تو نکل جاؤں ابھی پیچ سے تیرے\nالجھا مجھے او زلف چلیپا نہ سمجھنا\n\nسر کٹ کے جو قدموں پہ گرے راہ وفا میں\nیہ بھی مدد ہمت مردانہ سمجھنا\n\nصحت تری ممکن نہیں سن رکھ دل بیمار\nیہ گورکن آیا ہے مسیحا نہ سمجھنا\n\nہر حال میں خورسند ہوں تم خوش ہو کہ ناخوش\nبندہ ہوں مجھے عاشق شیدا نہ سمجھنا\n\nپلوا دے مے ہوشربا دیکھ مرا ظرف\nساقی جو بہک جاؤں تو دیوانہ سمجھنا\n\nآ جائے کوئی ڈھیر اگر پاؤں کے نیچے\nاے شمع رخو مرقد پروانہ سمجھنا\n\nدیکھو کسی چہرہ پہ جو گیسو کوئی بل دار\nافعی ہے اسے زلف چلیپا نہ سمجھنا\n\nجویا ہے اگر رتبہ عالی کا جہاں میں\nادنیٰ سے بھی خود کو کبھی اعلیٰ نہ سمجھنا\n\nاے رندؔ نہ ٹکنا کبھی ارباب ورع پاس\nمل بیٹھنا اس سے جسے رندانہ سمجھنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D9%88_%D8%A7%D8%AE%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرح", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرح\nمیں ایک حرف ہوں مگر نشان آب کی طرح\n\nمجھے سمجھ کہ میں ہی اصل راز کائنات ہوں\nدھرا ہوں تیرے سامنے کھلی کتاب کی طرح\n\nمیں کوئی گیت ہوں مگر صدا کی بندشوں میں ہوں\nمرے لہو میں راگ ہے سم عذاب کی طرح\n\nمری پناہ گاہ تھی انہی خلاؤں میں کہیں\nمیں سطح آب پر رہا حباب آب کی طرح\n\nمیں اصغرؔ حزیں کبھی کسی کے دوستوں میں تھا\nوہ دن بھی مجھ کو یاد ہیں خیال خواب کی طرح", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "تو باتوں میں بگڑ جاتا ہے مجھ سے", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو باتوں میں بگڑ جاتا ہے مجھ سے\nپرائی پچ پہ لڑ جاتا ہے مجھ سے\n\nیہ کیا کج کاویاں اور ٹیڑھیاں ہیں\nکہ تپ تپ کو جھگڑ جاتا ہے مجھ سے\n\nہمیشہ ماش کا آٹا سا کیوں تو\nذری بھر میں اکڑ جاتا ہے مجھ سے\n\nبرا ہے عشق کا آزار یارو\nیہ اکثر وقت اڑ جاتا ہے مجھ سے\n\nطبابت میں مسیحا ہوں ولیکن\nمرض یہ تو چپڑ جاتا ہے مجھ سے\n\nہے جانی تجھ میں سب خوبی پہ جاں سا\nتو اک دم میں بچھڑ جاتا ہے مجھ سے\n\nہے دشمن من چلا پر اظفریؔ دیکھ\nنظر پڑتے سنکڑ جاتا ہے مجھ سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%AF%DA%91_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92"} {"title": "تو بھلا ہے تو برا ہو نہیں سکتا اے ذوقؔ", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "تو بھلا ہے تو برا ہو نہیں سکتا اے ذوقؔ\nہے برا وہ ہی کہ جو تجھ کو برا جانتا ہے\nاور اگر تو ہی برا ہے تو وہ سچ کہتا ہے\nکیوں برا کہنے سے تو اس کے برا مانتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%D8%B0%D9%88%D9%82%D8%94"} {"title": "تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہے\nآہ کیا چاہنا ایسا ہی برا ہوتا ہے\n\nتیرے ابرو سے مرا دل نہ چھٹے گا ہرگز\nگوشت ناخن سے بھلا کوئی جدا ہوتا ہے\n\nمیں سمجھتا ہوں تجھے خوب طرح اے عیار\nتیرے اس مکر کے اخلاص سے کیا ہوتا ہے\n\nہے کف خاک مری بسکہ تب عشق سے گرم\nپانو واں جس کا پڑے آبلہ پا ہوتا ہے\n\nدل مرا ہاتھ سے جاتا ہے کروں کیا تدبیر\nیار مدت کا مرا ہائے جدا ہوتا ہے\n\nراہبر منزل مقصود کو درکار نہیں\nشوق دل اپنا ہی یاں راہ نما ہوتا ہے\n\nغیر ہرجائی مرا یار لیے جاتا ہے\nمجھ پہ تاباںؔ یہ ستم آج بڑا ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DA%BE%D9%84%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تو بے نقاب ہے اے مہ یہ ہیں شراب کے دن", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو بے نقاب ہے اے مہ یہ ہیں شراب کے دن\nکہ ماہتاب کی راتیں ہیں آفتاب کے دن\n\nجوان تو بھی ہے اپنے بھی ہیں شباب کے دن\nبلا حساب دے بوسے نہیں حساب کے دن\n\nہوا سفید تری انتظار میں آخر\nعجب طرح سے پھرے دیدۂ پر آب کے دن\n\nترے لبوں سے ہے روکش عجب طرح کے ہیں مست\nلگے ہیں دن اسے کیوں کر پھریں شراب کے دن\n\nقرار یہ تھا کہ اتوار کے دن آؤں گا\nکہا تھا میں نے گئے میرے اضطراب کے دن\n\nہوا دو چند الم آہ روز یک شنبہ\nوہ آفتاب مرا آیا آفتاب کے دن\n\nوہ زلف مجھ پہ ہے بے وجہ رات دن برہم\nکسی طرح سے نہ بڑھتی نہیں عتاب کے دن\n\nجگر سے شعلے نکلتے ہیں چشم سے آنسو\nاس آب و تاب سے کٹتے پیچ و تاب کے دن\n\nنہ جاؤ شیخ جی آؤ قریب ہے ہولی\nخفا نہ ہو کہ چلے آتے ہیں خطاب کے دن\n\nپلائی مے رمضاں میں نہ مجھ کو اے ساقی\nبڑے عذاب سے کٹتے ہیں یہ ثواب کے دن\n\nعذاب ہجر بھی دوزخ سے کم نہیں احساںؔ\nالٰہی مجھ کو نہ دکھلائیو عذاب کے دن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%81_%DB%8C%DB%81_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%86"} {"title": "تو جو اللہ کا محبوب ہوا خوب ہوا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "تو جو اللہ کا محبوب ہوا ، خوب ہوا\nیا نبی خوب ہوا ، خوب ہوا ، خوب ہوا\n\nحشر میں امت عاصی کا ٹھکانا ہی نہ تھا\nبخشوانا تجھے مرغوب ہوا ، خوب ہوا\n\nحسن یوسف میں ترا نور تھا، اے نور خدا\nچارہ دیدہ یعقوب ہوا، خوب ہوا\n\nفخر آدم کو نہ ہوتا، جو فرشتہ ہوتا\nبنی آدم سے جو منسوب ہوا ، خوب ہوا\n\nداغ ہے روز قیامت، مری شرم اس کے ہاتھ\nمیں گناہوں سے جو محجوب ہوا ، خوب ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "تو جو پڑا پھرتا ہے آج کہیں کل کہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو جو پڑا پھرتا ہے آج کہیں کل کہیں\nاے دل خانہ خراب تجھ کو بھی ہے کل کہیں\n\nچاہ بھی کیا چیز ہے سوجھتا پھر کچھ نہیں\nگر وہ ہوا اک ذرا آنکھوں سے اوجھل کہیں\n\nدل نے تو حیراں کیا روز کہے ہے یہی\nرات کٹی اٹھ میاں صبح ہوئی چل کہیں\n\nجاتا ہوں جب اس کے پاس کہتا ہے وہ اے ہوسؔ\nآگے تو میرے نہ آ سامنے سے ٹل کہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%84_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تو جو کہتا ہے بولتا کیا ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو جو کہتا ہے بولتا کیا ہے\nامر ربی ہے روح مولا ہے\n\nجب تلک ہے جدا تو ہے قطرہ\nبحر میں مل گیا تو دریا ہے\n\nفی الحقیقت کوئی نہیں مرتا\nموت حکمت کا ایک پردا ہے\n\nاور شریعت کی پوچھتا ہے تو یار\nوحدہ لا شریک یکتا ہے\n\nہے گا وہم و قیاس سے باہر\nوہ نہ تجھ سا ہے اور نہ مجھ سا ہے\n\nجہاں ہو جو کہو سمیع و بصیر\nسب کو دیکھے ہے سب کی سنتا ہے\n\nنظر آتا نہیں وہ اعمیٰ کو\nورنہ اس کا ظہور سب جا ہے\n\nور طریقت کا تو کرے ہے سوال\nسو تو کہتا ہوں گر سمجھتا ہے\n\nغیر حق کے نہ دیکھ غیر طرف\nدیدۂ دل جو تیرا بینا ہے\n\nبات سنتا ہے تو اسی کی سن\nگر طریقت سے تجھ کو بہرا ہے\n\nاس کے تو ذکر بن نہ کر کچھ ذکر\nگر دہاں میں زبان گویا ہے\n\nہاتھ سے کام بھی اسی کا کر\nپاؤں سے چل جو راہ اس کا ہے\n\nکام اس میں بڑا ہے نفس کشی\nہو سکے تو عجب تماشا ہے\n\nمعرفت پوچھ کیا ہے عارف سے\nجس کو عرفان ہے سو تو گونگا ہے\n\nجس نے پایا اسے سو ہے خاموش\nجس نے پایا نہیں سو بکتا ہے\n\nآپ ہی آپ ہے جہاں دیکھو\nکل شی محیط پیدا ہے\n\nعشق کا مرتبہ ہے سب سے بلند\nسر سے پہلے قدم گزرتا ہے\n\nجو ہوا سر عشق سے آگاہ\nآگے مرنے سے آپ مرتا ہے\n\nجو فنا ہو ہوا بقا باللہ\nکب اسے زندگی کی پروا ہے\n\nاس کو ہر آن ہر قدم ہر دم\nاز ثریٰ سیر تا ثریا ہے\n\nرمز توحید کو سمجھ کر بول\nگر تو صاحب شعور و دانا ہے\n\nوہ نہ سمجھے گا یہ سخن حاتمؔ\nجس کو جہل اور خیال سودا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو دوست کسی کا بھی، ستم گر! نہ ہوا تھا\nاوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا\n\nچھوڑا مہِ نخشب کی طرح دستِ قضا نے\nخورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا\n\nتوفیق بہ اندازۂ ہمت ہے ازل سے\nآنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا\n\nجب تک کہ نہ دیکھا تھا قدِ یار کا عالم\nمیں معتقدِ فتنۂ محشر نہ ہوا تھا\n\nمیں سادہ دل، آزردگیِ یار سے خوش ہوں\nیعنی سبقِ شوقِ مکرّر نہ ہوا تھا\n\nدریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک\nمیرا سرِ دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا\n\nجاری تھی اسدؔ! داغِ جگر سے مِری تحصیل\nآتشکدہ جاگیرِ سَمَندر نہ ہوا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D8%B3%D9%88_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "تو دیکھ اسے سب جا آنکھوں کے اٹھا پردے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو دیکھ اسے سب جا آنکھوں کے اٹھا پردے\nمانند سویدا کے دل بیچ اسے گھر دے\n\nعالم کے مرقع میں تصویر اسی کی ہے\nسب حسن یہاں یارو اس حسن کے ہیں گردے\n\nصیاد کا شرمندہ ہوں بے پر و بالی سے\nاڑ کر ابھی جا پہنچوں جو مجھ کو خدا پر دے\n\nساقی تجھے کم ظرفی مستوں سے نہیں لازم\nترسا نہ مجھے کافر ساغر کے تئیں بھر دے\n\nبزم دل مشتاقاں جوں شام غریباں ہے\nیک جلوہ میں تو روشن آ شمع صفت کر دے\n\nہم عرض کیا اس کی خدمت میں کہ اے صاحب\nاتنے ترے بندوں میں ایک ہم بھی ہیں نو وردے\n\nدولت سے تری سب کچھ ہم پاس مہیا ہے\nلب خشک و جگر بریاں چشم تر و دل سر دے\n\nحاتمؔ وہ لگا کہنے غصے سے کہ چل جھوٹھے\nبندا میں اسے جانوں جو پہلے قدم سر دے\n\nہشیار کروں حاتمؔ مستوں کو نگاہوں میں\nقطرہ مئے وحدت سے جو ساقیٔ کوثر دے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%D8%AC%D8%A7_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92"} {"title": "تو دیکھے تو اک نظر بہت ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو دیکھے تو اک نظر بہت ہے\nالفت تری اس قدر بہت ہے\n\nاے دل تو نہ کر ہماری خصمی\nبس اک دل کینہ ور بہت ہے\n\nٹک اور بھی صبر کر کہ مجھ کو\nلکھنا ابھی نامہ بر بہت ہے\n\nہم آبلہ بن رہے ہیں ہم کو\nاک جنبش نیشتر بہت ہے\n\nشیشے میں ترے شراب ساقی\nٹک ہم کو بھی دے اگر بہت ہے\n\nاس رنگ سے اپنے گھر نہ جانا\nدامن ترا خوں میں تر بہت ہے\n\nافسانۂ عشق کس سے کہیے\nاس بات میں درد سر بہت ہے\n\nمجھ کو نہیں آہ کا بھروسہ\nیعنی کہ یہ بے اثر بہت ہے\n\nاس دل کی تو تو خبر رکھا کر\nیہ آپ سے بے خبر بہت ہے\n\nکیا بگڑی ہے آج مصحفیؔ سے\nاس کوچے میں شور و شر بہت ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "تو صبح دم نہ نہا بے حجاب دریا میں", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو صبح دم نہ نہا بے حجاب دریا میں\nپڑے گا شور کہ ہے آفتاب دریا میں\n\nچلو شراب پئیں بیٹھ کر کنارے آج\nکہ ہووے رشک سے ماہی کباب دریا میں\n\nتمہارے منہ کی صفائی و آب داری دیکھ\nبہا ہے شرم سے موتی ہو آب دریا میں\n\nمیں اس طرح سے ہوں مہماں سرائے دنیا میں\nکہ جس طرح سے ہے کوئی حباب دریا میں\n\nجہاں کے بہر میں ہر موج بوجھ سیل فنا\nبنا نہ گھر کو تو خانہ خراب دنیا میں\n\nکبھو جو عالم مستی میں تم نے کی تھی نگاہ\nبجائے آب بہے ہے شراب دریا میں\n\nمیں آب چشم میں ہوں غرق مجھ کو نیند کہاں\nکہیں کسو کو بھی آیا ہے خواب دریا میں\n\nاگر ہے علم جو تجھ کو عمل کے در پے ہو\nوگرنہ شیخ ڈبا دے کتاب دریا میں\n\nصنم کی زلف کی لہروں کے رشک سے حاتمؔ\nنہیں یہ موج یہ ہے پیچ و تاب دریا میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%AF%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%86%DB%81%D8%A7_%D8%A8%DB%92_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تو ضد سے شب وصل نہ آیا تو ہوا کیا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو ضد سے شب وصل نہ آیا تو ہوا کیا\nہم مر نہ گئے دل کو کڑھایا تو ہوا کیا\n\nتصویر نہالی سے ہم آغوش رہے ہم\nگر آ کے نہ ساتھ اپنے سلایا تو ہوا کیا\n\nدیکھا ہی کیے تیرے تصور میں قمر کو\nگر تا سحر اے یار! جگایا تو ہوا کیا\n\nپھولوں کی رہی سیج جو خالی تو بلا سے\nانگاروں پہ گر ہم کو لٹایا تو ہوا کیا\n\nمنہ لال ہوا غنچہ صفت خون جگر سے\nہاتھوں سے ترے پان نہ کھایا تو ہوا کیا\n\nبہتر یہ ہوا نامہ و پیغام سے چھوٹے\nگر آپ نہ آیا نہ بلایا تو ہوا کیا\n\nدشمن کا اڑانے کو دھواں یہ بھی بہت ہیں\nغیروں کے سکھانے سے جلایا تو ہوا کیا\n\nمر جانے سے تو ہم رہے جوں پنجۂ مرجاں\nہاتھ اپنا جو مہندی سے بندھایا تو ہوا کیا\n\nتو آپ ہی دیکھ انگلیوں کی فندقیں اودی\nجامن کے جو پودوں کو لگایا تو ہوا کیا\n\nدیکھا ہے بہت بھان متی کا یہ تماشا\nسرسوں کو ہتھیلی پہ جمایا تو ہوا کیا\n\nہم سرو چمن دل کی ہر اک آہ کو سمجھے\nاپنا قد موزوں نہ دکھایا تو ہوا کیا\n\nہم نے بھی محبت کو تری طاق پہ رکھا\nابرو جو سوئے غیر ہلایا تو ہوا کیا\n\nیہ یاد رہے ہم بھی نہیں یاد کریں گے\nگر تو نے ہمیں دل سے بھلایا تو ہوا کیا\n\nمینا بہ بغل آبلۂ دل سے رہے ہم\nجام مے گل گوں نہ پلایا تو ہوا کیا\n\nدم اور ہی اک دوستی کا یار بھریں گے\nمنہ جوں نئے قلیاں نہ لگایا تو ہوا کیا\n\nمت کہہ کہ تصور میں خط سبز کے میرے\nگر شاہؔ نصیرؔ اشک بہایا تو ہوا کیا\n\nہے دلنے کو چھاتی پہ تری مونگ خط سبز\nگر زہر غم ہجر کھلایا تو ہوا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%B6%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تو عاشقوں کے تئیں جب سے قتل ناز کیا", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو عاشقوں کے تئیں جب سے قتل ناز کیا\nخوشی ہیں منت جاں سے تو بے نیاز کیا\n\nکہاں کی عقل کدھر کے حواس کیسا ہوش\nخرد کے قصر پہ تو نے تو ترک ناز کیا\n\nہمارے کلبۂ احزاں میں کر قدم رنجہ\nنہال ہم کو تو اے سرو سرفراز کیا\n\nکیا تھا تیغۂ ابرو نے مختصر قصہ\nپہ تیری کاکل مشکیں نے پھر دراز کیا\n\nدل اور لاؤں کہاں سے لگے جو اوروں سے\nجو ایک دل تھا سو وہ تو تری نیاز کیا\n\nیہ طفل اشک مرا اظفریؔ ہے ناشدنی\nجوانا مرگ مری اس نے فاش راز کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%82%D8%AA%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تو مجھے کس کے بنانے کو مٹا بیٹھا ہے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو مجھے کس کے بنانے کو مٹا بیٹھا ہے\nمیں کوئی غم تو نہیں تھا جسے کھا بیٹھا ہے\n\nبات کچھ خاک نہیں تھی جو اڑائی تو نے\nتیر کچھ عیب نہیں تھا جو لگا بیٹھا ہے\n\nمیل کچھ کھیل نہیں تھا جو بگاڑا تو نے\nربط کچھ رسم نہیں تھا جو گھٹا بیٹھا ہے\n\nآنکھ کچھ بات نہیں تھی جو جھکائی تو نے\nرخ کوئی راز نہیں تھا جو چھپا بیٹھا ہے\n\nنام ارمان نہیں تھا جو نکالا تو نے\nعشق افواہ نہیں تھا جو اڑا بیٹھا ہے\n\nلاگ کچھ آگ نہیں تھی جو لگا دی تو نے\nدل کوئی گھر تو نہیں تھا جو جلا بیٹھا ہے\n\nرسم کاوش تو نہیں تھی جو مٹا دی تو نے\nہاتھ پردہ تو نہیں تھا جو اٹھا بیٹھا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%B9%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تو مری جان گر نہیں آتی", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو مری جان گر نہیں آتی\nزیست ہوتی نظر نہیں آتی\n\nدل ربائی و دلبری تجھ کو\nگو کہ آتی ہے پر نہیں آتی\n\nحال دل مثل شمع روشن ہے\nگو مجھے بات کر نہیں آتی\n\nہر دم آتی ہے گرچہ آہ پر آہ\nپر کوئی کارگر نہیں آتی\n\nکیا کہوں آہ میں کسو کے حضور\nنیند کس بات پر نہیں آتی\n\nنہیں معلوم دل پہ کیا گزری\nان دنوں کچھ خبر نہیں آتی\n\nکیجے نا مہربانی ہی آ کر\nمہربانی اگر نہیں آتی\n\nدن کٹا جس طرح کٹا لیکن\nرات کٹتی نظر نہیں آتی\n\nظاہراً کچھ سوائے مہر و وفا\nبات تجھ کو اثرؔ نہیں آتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C"} {"title": "تو مل اس سے ہو جس سے دل ترا خوش", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو مل اس سے ہو جس سے دل ترا خوش\nبلا سے تیری میں نا خوش ہوں یا خوش\n\nخوشی تیری جسے ہر دم ہو درکار\nکوئی اس سے نہیں ہوتا ہے نا خوش\n\nکوئی اب کے زمانہ میں نہ ہوگا\nالٰہی آشنا سے آشنا خوش\n\nفلک کے ہاتھ سے اے خالق خلق\nکوئی نہیں آ کے دنیا میں رہا خوش\n\nترا سایہ ہو جس پر اس کو ہرگز\nنہ آوے سایۂ بال ہما خوش\n\nقفس میں آہ حد ایذا ہے ہم کو\nنہ آتی کاش گلشن کی ہوا خوش\n\nاگر لاوے تو بو اس گل بدن کی\nتو ہوں تجھ سے نہایت اے صبا خوش\n\nکیا قتل ان نے مجھ کو غیر سے مل\nہوا دشمن جدا خوش وہ جدا خوش\n\nنصیحت کی تھی ان نے میکشوں کو\nبہت مستوں نے زاہد کو کیا خوش\n\nموئے آتش میں جل پروانہ و شمع\nمحبت سے میں ان کی حد ہوا خوش\n\nکیا چاک اے جنوں ترا بھلا ہو\nکبھو میں اس گریباں سے نہ تھا خوش\n\nگیا تھا سیر کو لے ساقی و مے\nنہ آئی باغ کی آب و ہوا خوش\n\nکیا قاتل نے بسمل کو مرے دیکھ\nمجھے لگتا ہے اس کا لوٹنا خوش\n\nسنے کیوں کر وہ لبیک حرم کو\nجسے ناقوس کی آئے صدا خوش\n\nستانا بے دلوں کے دل کو ہر دم\nتمہیں اے دلبرو آتا ہے کیا خوش\n\nسمود و قاقم و سنجاب ہے پشم\nمجھے آتا ہے ٹوٹا بوریا خوش\n\nصنم کے پاس سے قاصد پھرا ہے\nخدا جانے کہ میں نا خوش ہوں یا خوش\n\nکوئی خوش ہووے خوباں کی وفا سے\nمجھے تو ان کی آتی ہے جفا خوش\n\nنہ چھوڑوں گا کبھی میں بت پرستی\nنہ ہو گو مجھ سے اے تاباںؔ خدا خوش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D9%85%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%B4"} {"title": "تو نہ ہو ہم نفس اگر جینے کا لطف ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:ہادی مچھلی شہری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو نہ ہو ہم نفس اگر جینے کا لطف ہی نہیں\nجس میں نہ تو شریک ہو موت ہے زندگی نہیں\n\nعشرت دید ہے یہی اپنا بھی کچھ رہے نہ ہوش\nجلوہ بقید تاب دید اصل میں جلوہ ہی نہیں\n\nاول عشق ہی میں کیا دل کا مآل دیکھنا\nیہ تو ہے ابتدائے سوز آگ ابھی لگی نہیں\n\nعشق ہے کیف بے خودی اس کو خودی سے کیا غرض\nجس کی فضا ہو وصل و ہجر عشق وہ عشق ہی نہیں\n\nیہ بھی نہ ہو خبر کہ سر سجدے میں ہے جھکا ہوا\nجس میں ہو بندگی کا ہوش وہ کوئی بندگی نہیں\n\nکس کا سر نیاز تھا پائے ایاز پر جھکا\nمانع بندگئ شوق سطوت خسروی نہیں\n\nکر نہ سکون دل کا غم ہادئ مبتلا ذرا\nعشق کی بارگاہ میں درد کی کچھ کمی نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DB%81%D9%85_%D9%86%D9%81%D8%B3_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%84%D8%B7%D9%81_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تو نے اے انقلاب کیا خلق کیا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تو نے اے انقلاب کیا خلق کیا\nالٹا ہوا جو نکتہ نیا خلق کیا\nجب کہتا تھا بندوں کا خدا خالق ہے\nاب کہتا ہے بندوں نے خدا خلق کیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D9%84%D9%82_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تو نے جب بھی آنکھ ملائی", "poet_page": "مصنف:مجید لاہوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو نے جب بھی آنکھ ملائی\nدیدہ و دل پر آفت آئی\n\nیہ سناٹا یہ تنہائی\nلیکن تیری یاد تو آئی\n\nدیر و حرم میں جا بیٹھے ہیں\nدنیا جن کو راس نہ آئی\n\nٹوٹ گئیں ساری زنجیریں\nزلف ترے رخ پر لہرائی\n\nمنزل دور تھی لیکن ہم نے\nایک قدم میں ٹھوکر کھائی\n\nتجھ کو مبارک پھول اور کلیاں\nمیرا حصہ آبلہ پائی\n\nچھانی ہم نے نگری نگری\nصحرا صحرا خاک اڑائی\n\nکون مجیدؔ اس بھید کو جانے\nکیا شے کھوئی کیا شے پائی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "تو نے جو کچھ کہ کیا میرے دل زار کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو نے جو کچھ کہ کیا میرے دل زار کے ساتھ\nآگ نے بھی نہ کیا وہ تو خس و خار کے ساتھ\n\nآنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا کبھی تو نے ظالم\nسر پٹک مر گئے لاکھوں تری دیوار کے ساتھ\n\nیہ کئی تار ہیں وہ رشتۂ جاں ہے یکسر\nغلط اس زلف کی تشبیہ ہے زنار کے ساتھ\n\nرات دن رہتی ہے جوں دیدۂ تصویر کھلی\nآنکھ جب سے لگی اس آئنہ رخسار کے ساتھ\n\nدیکھیو گر نہ پڑے دیجو اسے اے قاصد\nدل بے تاب لپٹتا ہے میں طومار کے ساتھ\n\nکیا عجب یہ ہے کہ وہ مجھ سے ملا رہتا ہے\nگل کو پیوستگی لازم ہے کہ ہو خار کے ساتھ\n\nہے سزا وار اگر ایسے کو دیجے دل و دیں\nہم بھی دیکھا اسے کل دور سے بیدارؔ کے ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "تو نے خنجر مری گردن پہ نہ پھیرا اچھا", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو نے خنجر مری گردن پہ نہ پھیرا اچھا\nاچھا اچھا ارے او جان کے لیوا اچھا\n\nسیر اچھی ہے ہجوم اچھا ہے میلا اچھا\nحق تو یہ ہے کہ ہے دنیا کا تماشا اچھا\n\nسر مرا کاٹ کے کس ناز سے فرماتے ہیں\nکس لیا ہم نے یہ خنجر ہے ہمارا اچھا\n\nدرد جب اٹھتا ہے مجھ کو بھی اٹھا دیتا ہے\nناتوانی کے لئے ہے یہ سہارا اچھا\n\nپھر چلے غیر کی جانب نگہ ناز کے تیر\nکیوں نشانہ وہی پھر آپ نے تاکا اچھا\n\nواہ کیا خوب مرے دل کی لگی ہے قیمت\nکہتے ہیں مفت اگر دو تو ہے سودا اچھا\n\nایک وہ لاکھوں خریدار بڑھے نرخ نہ کیوں\nاور پھر نام خدا مال ہے کیسا اچھا\n\nصبح کو لطف ہے تفریح کا دریا کو چلو\nوقت خوش سیر خوش آیند تماشا اچھا\n\nمول لو تم مرا دل کھوٹے ہی داموں کو سہی\nمجھ کو تو فائدوں سے ہے یہ خسارا اچھا\n\nچار دیوار چمن اپنے لئے زنداں ہے\nہم سے دیوانوں کو ہے باغ سے صحرا اچھا\n\nمنقبض ہے جو طبیعت تو چمن جنگل ہے\nدل شگفتہ ہے تو گلزار سے صحرا اچھا\n\nدیکھ کر باغ کی دیواروں کو دم گھٹتا ہے\nبلبلوں کو یہ مبارک ہمیں صحرا اچھا\n\nمسئلہ ٹھیک ہے یہ جنس کو ہے جنس سے میل\nکیوں نہ چاہے تمہیں دل دل ہے ہمارا اچھا\n\nیہ ہے صورت اسے کہتے ہیں خدا داد جمال\nحوروں سے ہے تری تصویر کا خاکہ اچھا\n\nدل مرا لیتے ہو قیمت نہیں دیتے مجھ کو\nتم سکھی کیسے ہو لینے سے ہے دینا اچھا\n\nروح سے بڑھ کے ترا نیمچہ پیارا ہے مجھے\nرگ جاں سے تری تلوار کا ڈورا اچھا\n\nبزم ہستی سے اٹھے جو وہ یہی کہہ کے اٹھے\nدل لگا خوب یہاں ہے یہ تماشا اچھا\n\nشیخ ہو یا کوئی سید ہو کوئی ہو اکبرؔ\nخوش رہے جس سے خدا ہے وہی بندا اچھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%AE%D9%86%D8%AC%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D9%86_%D9%BE%DB%81_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7"} {"title": "تو نے صورت جو اپنی دکھلائی", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تو نے صورت جو اپنی دکھلائی\nمٹ گئی ساری یہ من و مائی\nاس سے ثابت ہے تو ہے ہرجائی\nخود تماشا و خود تماشائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "تو نے لگائی اب کی یہ کیا آگ اے بسنت", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "تو نے لگائی اب کی یہ کیا آگ اے بسنت\nجس سے کہ دل کی آگ اٹھے جاگ اے بسنت\n\nکیفیت بہار کے تو اس کو دے خبر\nموج نسیم کی طرح اڑ لاگ اے بسنت\n\nہر شاخ زرد و سرخ و سیہ ہجر یار میں\nڈستے ہیں دل کو آن کے جوں ناگ اے بسنت\n\nمنہ دیکھو عاشقوں کے مقابل ہوں رنگ میں\nباندھی ہے مجھ سے کس لیے تو لاگ اے بسنت\n\nتجھ میں کہاں یہ بوقلمونی کہاں یہ سنگ\nدشت و جبل کو خیر سے اب بھاگ اے بسنت\n\nجوں تار چنگ چھیڑ نہ انشاؔ کو بات میں\nتیرا سنا ہوا ہے یہ گھٹراگ اے بسنت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%DA%AF_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%B3%D9%86%D8%AA"} {"title": "تو نے مہجور کر دیا ہم کو", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو نے مہجور کر دیا ہم کو\nسخت رنجور کر دیا ہم کو\n\nاپنی برق نگاہ سے تم نے\nشجر طور کر دیا ہم کو\n\nدل بنا عاشقی میں خود مختار\nاور مجبور کر دیا ہم کو\n\nایسی تعریف کی کہ اے واعظ\nعاشق حور کر دیا ہم کو\n\nغم نہیں محتسب جو توڑ کے خم\nنشہ نے چور کر دیا ہم کو\n\nجس قدر ہم سے تم ہوئے نزدیک\nاس قدر دور کر دیا ہم کو\n\nکبھی بار غم فراق اتار\nتو نے مزدور کر دیا ہم کو\n\nہو گیا مے سے نشۂ عرفان\nنار نے نور کر دیا ہم کو\n\nتھے تو مقہور ہونے کے لائق\nبارے مغفور کر دیا ہم کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%AC%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "تو نے کیا کیا نہ اے زندگی دشت و در میں پھرایا مجھے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو نے کیا کیا نہ اے زندگی دشت و در میں پھرایا مجھے\nاب تو اپنے در و بام بھی جانتے ہیں پرایا مجھے\n\nاور بھی کچھ بھڑکنے لگا میرے سینے کا آتش کدہ\nراس تجھ بن نہ آیا کبھی سبز پیڑوں کا سایا مجھے\n\nان نئی کونپلوں سے مرا کیا کوئی بھی تعلق نہ تھا\nشاخ سے توڑ کر اے صبا خاک میں کیوں ملایا مجھے\n\nدرد کا دیپ جلتا رہا دل کا سونا پگھلتا رہا\nایک ڈوبے ہوئے چاند نے رات بھر خوں رلایا مجھے\n\nاب مرے راستے میں کہیں خوف صحرا بھی حائل نہیں\nخشک پتے نے آوارگی کا قرینہ سکھایا مجھے\n\nمدتوں روئے گل کی جھلک کو ترستا رہا میں شکیبؔ\nاب جو آئی بہار اس نے صحن چمن میں نہ پایا مجھے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D9%88_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "تو وہ ہندوستاں میں لالا ہے", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو وہ ہندوستاں میں لالا ہے\nجس کا داغی غلام لالا ہے\n\nہاتھ وحشت سے روک اے مجنوں\nپاؤں پڑتا ہر ایک چھالا ہے\n\nبے مے و نان ہوں میں وہ غیروں سے\nہم پیالہ ہے ہم نوالا ہے\n\nدل ہر شیخ و برہمن ہے جدا\nکہیں مسجد کہیں شوالا ہے\n\nاس کے آنے سے تن میں جان آئی\nدم آخر لیا سنبھالا ہے\n\nچپ رہوں کیا میں صورت ناقوس\nدل ہے شق جب لبوں پہ نالہ ہے\n\nکیوں نہ سمرن پڑھے بشر اے شادؔ\nآدمی ہڈیوں کا مالا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تو کہتا ہے خالق شر و خیر نہیں", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تو کہتا ہے خالق شر و خیر نہیں\nمیں کہتا ہوں خالی حرم و دیر نہیں\nسچ ہے ترا کہنا تو مجھے کچھ نہیں خوف\nسچ ہے مرا کہنا تو تری خیر نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%84%D9%82_%D8%B4%D8%B1_%D9%88_%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تو کیوں پاس سے اٹھ چلا بیٹھے بیٹھے", "poet_page": "مصنف:میر تسکینؔ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو کیوں پاس سے اٹھ چلا بیٹھے بیٹھے\nہوا تجھ کو کیا بے وفا بیٹھے بیٹھے\n\nوہ آتے ہی آتے رہے پر قلق سے\nمرا کام ہی ہو گیا بیٹھے بیٹھے\n\nاٹھاتے ہو کیوں اپنی محفل سے مجھ کو\nلیا میں نے کیا آپ کا بیٹھے بیٹھے\n\nکرے سعی کچھ اٹھ کے اس کو سے اے دل\nیہ حاصل ہوا مدعا بیٹھے بیٹھے\n\nوو اس لطف سے گالیاں دے گئے ہیں\nکیا کرتے ہیں ہم دعا بیٹھے بیٹھے\n\nذرا گھر سے باہر نکل مان کہنا\nنہ ہوگا کوئی مبتلا بیٹھے بیٹھے\n\nنہ اٹھا گیا دل کے ہاتھوں سے تسکیںؔ\nکہا اس نے جو سب سنا بیٹھے بیٹھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%86%D9%84%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92"} {"title": "تو ہم سے جو ہم شراب ہوگا", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو ہم سے جو ہم شراب ہوگا\nبہتوں کا جگر کباب ہوگا\n\nڈھونڈھے گا سحاب چھپنے کو مہر\nجس روز وہ بے نقاب ہوگا\n\nخوباں سے نہ کر محبت اے دل\nآمان کہاں خراب ہوگا\n\nاے مرگ شتاب کہہ تو مجھ سے\nاس زیست کو کب جواب ہوگا\n\nبوسہ دے سوزؔ کو مری جان\nمطلب تیرا شتاب ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "تو ہی انصاف سے کہہ جس کا خفا یار رہے", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو ہی انصاف سے کہہ جس کا خفا یار رہے\nاپنے جینے سے نہ کس طرح وہ بے زار رہے\n\nزخم دل چھیلے کبھی اور کبھی زخم جگر\nناخن دست جنوں کب مرے بیکار رہے\n\nان جفاؤں کا مزہ تم کو چکھا دیویں گے\nہاں اگر زندہ ہم اے چرخ جفاکار رہے\n\nمے کدے میں ہے بڑی یہ ہی مغاں کی پیری\nکہ بس اس چشم سیہ مست سے ہشیار رہے\n\nجلتے بھنتے رہے ہم بزم بتاں میں لیکن\nشمع ساں اس پہ بھی سر دینے کو تیار رہے\n\nیوں تو کیا خواب میں بھی یار کا ملنا معلوم\nاپنے گر آہ یہی طالع بیدار رہے\n\nایک جا سینے میں ان دونوں کا رہنا ہے محال\nیا یہ دل ہی رہے یا آہ شرربار رہے\n\nاس سے دل خاک ہو امید حصول مطلب\nجس سے اک بوسے پہ سو طرح کی تکرار رہے\n\nلے کے پیکاں سے ترے تیر بتا تو قاتل\nخون میں ڈوبے نہیں کب تا لب سوفار رہے\n\nجنس دل آتش الفت میں جلے جو چاہے\nپر کسی طرح تری گرمی بازار رہے\n\nبازی عشق میں چپکے رہو کیا خاک کہیں\nایک دل رکھتے تھے پاس اپنے سو بار رہے\n\nایسا دم ناک میں آیا ہے کہ ہم راضی ہیں\nعیشؔ گر سینے میں اس دل کے عوض خار رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D8%B5%D8%A7%D9%81_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "تو ہی انیس غم رہا نالۂ غمگسار شب", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو ہی انیس غم رہا نالۂ غمگسار شب\nیاس پسند جب ہوا بسمل انتظار شب\n\nرنگ شکست کیوں نہ ہو حال امیدوار شب\nتو ہی تو عشوہ گر ہوا باعث انتشار شب\n\nشوق لقائے روئے یار چشم براہ انتظار\nآہ سحر سے جا ملا دیدۂ اشکبار شب\n\nدرد شکیب سوز ہے کرب وہی ہنوز ہے\nدیکھ نہ ہو وہ بے وفا آج کہیں نثار شب\n\nلیل و نہار سازگار اپنے کبھی نہیں ہوئے\nدیکھتے کاش اے نگار وعدۂ استوار شب\n\nبہر خدا کبھی تو کر شاد شہید شوق کو\nروز سعید ہے وہی یار جو تو ہو یار شب\n\nوقفۂ عمر ایک دم حیف ہے وہ بھی صرف غم\nکس کو ہے اعتماد روز کس کو ہے اعتبار شب\n\nدن کو خیال وصل کا رات کو درد ہجر ہے\nشغل وہ روز کا ہوا اور یہ کاروبار شب\n\nیہ شب ماہتاب ہے صاف ہمیں جواب ہے\nماہ لقا ہیں منتظر مل کے دکھا بہار شب\n\nحسرت اشتیاق نے آج کیا شہید ہجر\nمیرے دل نگار کا دیکھ تو لے مزار شب\n\nباب قبول مدعا داعیٔ خیر ہے ترا\nہو دل شب میں نالہ کش اے دل بے قرار شب\n\nاب نہیں وقف انتظار رات کو مل گیا نگار\nمیرا کریم کار ساز ہو گیا پردہ دار شب\n\nدم کش عیش و خرمی تھا یہ فراق سینہ سوز\nدور نشاط ہو گیا شکر ہے ہمکنار شب\n\nبعد فراق رنگ وصل ہوتا ہے عین انبساط\nمیرا وہ راحت رواں دل سے ہوا دو چار شب\n\nاس کا شعار کیوں نہ ہو پاس حجاب عاشقاں\nشب ہے ہماری راز داں ہم جو ہیں راز دار شب\n\nچھپ نہ سکا حجاب میں عشوۂ حسن خود نما\nآیا جو ماہ اوڑھ کر چادر زرنگار شب\n\nجام شراب شوق کا دیتا ہے شوخ ماہرو\nمست سرور کیوں نہ ہوں ساقیؔ مے گسار شب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%B3_%D8%BA%D9%85_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%BA%D9%85%DA%AF%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%D8%A8"} {"title": "تو ہی نہ سنے جب دل ناشاد کی فریاد", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو ہی نہ سنے جب دل ناشاد کی فریاد\nپھر کس سے کریں ہم تری بیداد کی فریاد\n\nتیشے کی وہ کھٹ کھٹ کا نہ تھا غلغلہ یارو\nکی غور تو وہ تھی دل فرہاد کی فریاد\n\nکل رات کو اس شوخ کی جا کر پس دیوار\nاک درد فراہم نے جو بنیاد کی فریاد\n\nسنتے ہی کہا اس نے کہ ہاں دیکھو تو اس جا\nکس نے یہ بلکتی ہوئی ایجاد کی فریاد\n\nفریاد نظیرؔ آگے ہی اس کے ہے بہت خوب\nواں دیکھنے کا دیکھنا فریاد کی فریاد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "تو ہی ہے مری یہ بود و بقا تو اور نہیں میں اور نہیں", "poet_page": "مصنف:مردان صفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مردان صفی (1914)", "year": "1914", "text_ur": "تو ہی ہے مری یہ بود و بقا تو اور نہیں میں اور نہیں\nدیکھا جو اپنے کو تو ہی ملا تو اور نہیں میں اور نہیں\n\nتو ہی عدم کا تھا پردہ نشیں مرے دل کے مکاں کا ہے تو ہی مکیں\nمری ہستی ہے سب یہ ظہور ترا تو اور نہیں میں اور نہیں\n\nمرے ہوش ربا نے ہے فضل کیا مجھے راز خدائی اپنا دیا\nمری روح میں روح ملا کے کہا تو اور نہیں میں اور نہیں\n\nکہتا ہے یہ مجھ سے میرا صنم کہ ہیں ایک ہی یہ دونوں حدوث و قدم\nکچھ فرق نہیں اس میں ہے ذرا تو اور نہیں میں اور نہیں\n\nمردان صفیؔ مرا ماہ لقا ہے میری ہی شکل میں جلوہ نما\nمجھ سے یہ کہتا ہے کہہ دے کھلا تو اور نہیں میں اور نہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D9%88%D8%AF_%D9%88_%D8%A8%D9%82%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہے\nمیں ہوں اور رنج ہے اور گوشۂ تنہائی ہے\n\nسچ کہا ہے کہ بہ امید ہے دنیا قائم\nدل حسرت زدہ بھی تیرا تمنائی ہے\n\nدل کی فریاد جو سنتا ہوں تو رو دیتا ہوں\nچوٹ کمبخت نے کچھ ایسی ہی تو کھائی ہے\n\nبے نیازی کی ادائیں وہ دکھاتے ہیں بہت\nخوئے تسلیم مری ان کو پسند آئی ہے\n\nزلف برہم مژہ برگشتہ جبیں چین آلود\nمیری بگڑی ہوئی تقدیر کی بن آئی ہے\n\nادب آموز بلا کا ہے تغافل ان کا\nشوق پر حوصلہ نے خوب سزا پائی ہے\n\nکہے دیتا ہوں کسی اور کی جانب تو نہ دیکھ\nکیا یہ کچھ کم ہے کہ وحشتؔ ترا سودائی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "تو ہے کس منزل میں تیرا بول کھاں ہے دل کا ٹھار", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "تو ہے کس منزل میں تیرا بول کھاں ہے دل کا ٹھار\nدم ترا آتا ہے کھاں سوں بول کھاں جاتا ہے بھار\n\nدم کے تئیں بوجھا سو کہتے اس کے تئیں انسان ہے\nنہیں تو صورت آدمی سیرت میں ہے مثل حمار\n\nمیں کہتا سو کون ہے اور تو سمجھتا ہے کسے\nکیوں عبث میں تو میں پڑ کر بے عبث ہوتا ہے خوار\n\nراہ بر ہے کون تیرا بول تو کس کا فقیر\nفقر کا کیا حاصلا سمجھا مجھے مت ہو گنوار\n\nعاشقاں کے بزم میں اک رنگ ہو اے بو الہوس\nمت کہا بلبل نمن چونڈا پھلا کر تاجدار\n\nبحر کے غواص سے مت بحث کر اے خام طبع\nنہیں گیا ہے عمر میں اپنے تو دریا کے کنار\n\nکج بحث آتا ہے کرنے جنگ جب عشاق سوں\nجیوں کہ طیر ہفت رنگی ہو گیا آ کر شکار\n\nپوچھتا آیا ہوں جو کچھ سوال کا میرے جواب\nتھرتھراتا ہے عبث سیماب نمنے بے قرار\n\nتا کہے لگ جواب تجھ پر فقر کا لقمہ حرام\nبزم رنداں سوں نکل جا جلد تر ہو کر فرار\n\nشور اور غوغا عبث کرتا ہے کیوں رنگ کر لباس\nمنہ اٹھا جاتا ہے جیوں بے قید شتر بے مہار\n\nاے علیمؔ اللہ نہ کر کج بحث سوں سوال و جواب\nحاصلا طرفین نہیں ہوتا بجز غوغا پکار", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%D9%88%D9%84_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%B1"} {"title": "تو ہے کعبہ میں تو پھر دل میں گزر کس کا ہے", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تو ہے کعبہ میں تو پھر دل میں گزر کس کا ہے\nلا مکاں تیرا اگر ہے تو یہ گھر کس کا ہے\n\nروکنے آئیں فرشتے تو میں رک جاؤں گا\nطالب دید ہوں تیرا مجھے ڈر کس کا ہے\n\nصاف قدموں سے ترے جا کے لپٹ جائے گا\nتیرے عاشق کے سوا ایسا جگر کس کا ہے\n\nدل تو آغاز محبت میں ہوا ہے تیرا\nاپنی گردن پہ ہے جو بار یہ سر کس کا ہے\n\nقیس وحشی کا بنایا مجھے ثانی کس نے\nعشق صادق کا نہیں ہے تو اثر کس کا ہے\n\nتیرے انکار نے ڈالا ہے تحیر میں مجھے\nدل میں اور آنکھوں میں در پردہ گزر کس کا ہے\n\nکیا تماشا ہے جمیلہؔ کہ وہ پوچھے مجھ سے\nدشت غربت میں یہ دل خاک بسر کس کا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "توانا ہوں دل رنجور کی سوگند کیوں کھاؤں", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "توانا ہوں دل رنجور کی سوگند کیوں کھاؤں\nمیں جب مختار ہوں مجبور کی سوگند کیوں کھاؤں\n\nمجھے عرش بریں کے جلوۂ دائم سے نسبت ہے\nکوئی واعظ ہوں میں بھی حور کی سوگند کیوں کھاؤں\n\nمرا طور تجلی رات دن ہے میرے پہلو میں\nنہیں جب آگ لینا طور کی سوگند کیوں کھاؤں\n\nمرا ہر نا چکیدہ اشک کا قطرہ ہے بے ساحل\nمیں طوفان بلا تنور کی سوگند کیوں کھاؤں\n\nحقیقت میں مری خاموشیاں پردہ ہیں محشر کا\nہوں خورشید قیامت صور کی سوگند کیوں کھاؤں\n\nانا الحق کی بجائے میں علی الحق کا ہوں آوازہ\nپڑی ہے کیا مجھے منصور کی سوگند کیوں کھاؤں\n\nکلاہ فقر جب میں نے ازل سے اوڑھ رکھی ہے\nامیںؔ تو ہی بتا فغفور کی سوگند کیوں کھاؤں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D9%86%D8%AC%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D9%88%DA%AF%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA"} {"title": "توبہ زاہد کی توبہ تلی ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "توبہ زاہد کی توبہ تلی ہے\nچلے بیٹھے تو شیخ چلی ہے\n\nدل میں ہے مکر و ہاتھ میں تسبیح\nیہ عبادت نہیں چبلی ہے\n\nریش ہے یہ کہ شاخ شانہ ہے\nجس کی رندوں کے بیچ کھلی ہے\n\nپگڑی اپنی یہاں سنبھال چلو\nاور بستی نہ ہو یہ دلی ہے\n\nسگ شیر خدا ہے تو حاتمؔ\nخارجی تیرے آگے بلی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81_%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81_%D8%AA%D9%84%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "توبہ کا پاس رند مے آشام ہو چکا", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "توبہ کا پاس رند مے آشام ہو چکا\nبس ہو چکا تقدس اسلام ہو چکا\n\nشمع حرم تھا گاہ گہے دیر کا چراغ\nمیں زیب کفر و رونق اسلام ہو چکا\n\nکوٹھے پہ چلئے لطف شب ماہ دیکھیے\nسب چاندنی کا فرش لب بام ہو چکا\n\nدیں دار برہمن کہے کافر بتائے شیخ\nدونوں طرف سے مورد الزام ہو چکا\n\nاکثر مشاعرے پہ ہوا بزم غم کا شک\nکیا کیا مرے کلام پہ کہرام ہو چکا\n\nقرآں اٹھاتے ہیں طمع زر کے واسطے\nدیں دار اگر یہی ہیں تو اسلام ہو چکا\n\nکعبے کو جاتے جاتے پھرے سوئے دیر رندؔ\nلو حج کر آئے آپ اور احرام ہو چکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%B1%D9%86%D8%AF_%D9%85%DB%92_%D8%A2%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%D8%A7"} {"title": "توحید", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کانٹا ہے ہر اک جگر میں اٹکا تیرا\nحلقہ ہے ہر اک گوش میں لٹکا تیرا\nمانا نہیں جس نے تجھ کو جانا ہے ضرور\nبھٹکے ہوئے دل میں بھی ہے کھٹکا تیرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF"} {"title": "توحید (محمد اقبال)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "زندہ قُوّت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی\nآج کیا ہے، فقط اک مسئلۂ عِلم کلام\nروشن اس ضَو سے اگر ظُلمتِ کردار نہ ہو\nخود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام\nمَیں نے اے میرِ سِپہ! تیری سِپہ دیکھی ہے\n’قُلْ ھُوَ اللہ، کی شمشیر سے خالی ہیں نیام\nآہ! اس راز سے واقف ہے نہ مُلّا، نہ فقیہ\nوحدت افکار کی بے وحدتِ کردار ہے خام\nقوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے\nاس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF_%28%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84%29"} {"title": "توحید کی راہ میں ہے ویرانۂ سخت", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "توحید کی راہ میں ہے ویرانۂ سخت\nآزادی و بے تعلقی ہے یک لخت\nدنیا ہے نہ دین ہے نہ دوزخ نہ بہشت\nتکیہ نہ سرائے ہے نہ چشمہ نہ درخت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B3%D8%AE%D8%AA"} {"title": "توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا\nخاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہا\n\nکون سے دن ہاتھ میں آیا مرے دامان یار\nکب زمین و آسماں کا فاصلہ جاتا رہا\n\nخار صحرا پر کسی نے تہمت دزدی نہ کی\nپاؤں کا مجنوں کے کیا کیا آبلہ جاتا رہا\n\nدوستوں سے اس قدر صدمے اٹھائے جان پر\nدل سے دشمن کی عداوت کا گلہ جاتا رہا\n\nجب اٹھایا پاؤں آتشؔ مثل آواز جرس\nکوسوں پیچھے چھوڑ کر میں قافلہ جاتا رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88%DA%91_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DA%AF%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے\nبندہ پرور جائیے اچھا خفا ہو جائیے\n\nمیرے عذر جرم پر مطلق نہ کیجے التفات\nبلکہ پہلے سے بھی بڑھ کر کج ادا ہو جائیے\n\nخاطر محروم کو کر دیجئے محو الم\nدرپئے ایذائے جان مبتلا ہو جائیے\n\nراہ میں ملیے کبھی مجھ سے تو از راہ ستم\nہونٹ اپنا کاٹ کر فوراً جدا ہو جائیے\n\nگر نگاہ شوق کو محو تماشا دیکھیے\nقہر کی نظروں سے مصروف سزا ہو جائیے\n\nمیری تحریر ندامت کا نہ دیجے کچھ جواب\nدیکھ لیجے اور تغافل آشنا ہو جائیے\n\nمجھ سے تنہائی میں گر ملیے تو دیجے گالیاں\nاور بزم غیر میں جان حیا ہو جائیے\n\nہاں یہی میری وفائے بے اثر کی ہے سزا\nآپ کچھ اس سے بھی بڑھ کر پر جفا ہو جائیے\n\nجی میں آتا ہے کہ اس شوخ تغافل کیش سے\nاب نہ ملیے پھر کبھی اور بے وفا ہو جائیے\n\nکاوش درد جگر کی لذتوں کو بھول کر\nمائل آرام و مشتاق شفا ہو جائیے\n\nایک بھی ارماں نہ رہ جائے دل مایوس میں\nیعنی آخر بے نیاز مدعا ہو جائیے\n\nبھول کر بھی اس ستم پرور کی پھر آئے نہ یاد\nاس قدر بیگانۂ عہد وفا ہو جائیے\n\nہائے ری بے اختیاری یہ تو سب کچھ ہو مگر\nاس سراپا ناز سے کیونکر خفا ہو جائیے\n\nچاہتا ہے مجھ کو تو بھولے نہ بھولوں میں تجھے\nتیرے اس طرز تغافل کے فدا ہو جائیے\n\nکشمکش ہائے الم سے اب یہ حسرتؔ جی میں ہے\nچھٹ کے ان جھگڑوں سے مہمان قضا ہو جائیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88%DA%91_%DA%A9%D8%B1_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D9%86%D8%A7_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "توڑوں گا خم بادۂ انگور کی گردن", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "توڑوں گا خم بادۂ انگور کی گردن\nرکھ دوں گا وہاں کاٹ کے اک حور کی گردن\n\nخوددار کی بن شکل الف ہائے انا الحق\nنت چاہتی ہیں اک نئی منصور کی گردن\n\nکیوں ساقیٔ خورشید جبیں کیا ہے نشہ ہوں\nسب یوں ہی چڑھا جاؤں مے نور کی گردن\n\nاچھلی ہوئی ورزش سے تری ڈنڈ پہ مچھلی\nہے نام خدا جیسی سقنقور کی گردن\n\nتھا شخص جو گردن زدنی اس سے یہ بولے\nاب دیجئے ہے دینی جو منظور کی گردن\n\nآئینہ کی گر سیر کرے شیخ یہ دیکھے\nسر خرس کا منہ خوک کا لنگور کی گردن\n\nیوں پنجۂ مژگاں میں پڑا ہے یہ مرا دل\nجوں چنگل شہباز میں عصفور کی گردن\n\nتب عالم مستی کا مزا ہے کہ پڑی ہو\nگردن پہ مری اس بت مخمور کی گردن\n\nبیٹھا ہو جہاں پاس سلیمان کے آصف\nواں کیوں نہ جھکی قیصر و فغفور کی گردن\n\nبھینچی ہے بغل اپنی میں اس زور سے جو عشق\nتو توڑنے پر ہے کسی مجبور کی گردن\n\nاے مست یہ کیا قہر ہے خشت سر خم سے\nکیوں تو نے صراحی کی بھلا چور کی گردن\n\nمحفل میں تری شمع بنی موم کی مریم\nپگھلی پڑی ہے اس کی وہ کافور کی گردن\n\nاے دیو سفید سحری کاش تو توڑے\nاک مکے سے خور کے شب دیجور کی گردن\n\nجب کشتۂ الفت کو اٹھایا تو الم سے\nبس ہل گئی اس قاتل مغرور کی گردن\n\nبے ساختہ بولا کہ ارے ہاتھ تو ٹک دو\nڈھلکے نہ مرے عاشق مغفور کی گردن\n\nحاسد تو ہے کیا چیز کرے قصد جو انشاؔ\nتو توڑ دے جھٹ بلغم باعور کی گردن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%88%DA%91%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7_%D8%AE%D9%85_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%82_%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D9%86"} {"title": "تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزر\nمصر و حجاز سے گزر، پارس و شام سے گزر\n\nجس کا عمل ہے بے غرض، اُس کی جزا کچھ اور ہے\nحُور و خِیام سے گزر، بادہ و جام سے گزر\n\nگرچہ ہے دلکُشا بہت حُسنِ فرنگ کی بہار\nطائرکِ بلند بال، دانہ و دام سے گزر\n\nکوہ شگاف تیری ضرب، تجھ سے کُشادِ شرق و غرب\nتیغِ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر\n\nتیرا امام بے حضور، تیری نماز بے سُرور\nایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%8F%D9%88_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92%D8%8C_%D9%82%DB%8C%D8%AF%D9%90_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1"} {"title": "تُو اے اسیرِ مکاں! لامکاں سے دور نہیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "تُو اے اسیرِ مکاں! لامکاں سے دور نہیں\nوہ جلوہ‌گاہ ترے خاک‌داں سے دور نہیں\n\nوہ مرغزار کہ بیمِ خزاں نہیں جس میں\nغمیں نہ ہو کہ ترے آشیاں سے دور نہیں\n\nیہ ہے خلاصۂ علمِ قلندری کہ حیات\nخدنگِ جَستہ ہے لیکن کماں سے دور نہیں\n\nفضا تری مہ و پرویں سے ہے ذرا آگے\nقدم اُٹھا، یہ مقام آسماں سے دور نہیں\n\nکہے نہ راہ‌نُما سے کہ چھوڑ دے مجھ کو\nیہ بات راہروِ نکتہ‌داں سے دُور نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%8F%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D9%90_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA%21_%D9%84%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تِری دُعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "تِری دُعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی\nمگر ہے اس سے یہ ممکن کہ تُو بدل جائے\nتری خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا\nعجب نہیں ہے کہ یہ چار سُو بدل جائے\nوہی شراب، وہی ہاے و ہُو رہے باقی\nطریقِ ساقی و رسمِ کدُو بدل جائے\nتری دُعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری\nمری دُعا ہے تری آرزو بدل جائے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%90%D8%B1%DB%8C_%D8%AF%D9%8F%D8%B9%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%8C"} {"title": "تِیاتَر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "تری خودی سے ہے روشن ترا حریمِ وجود\nحیات کیا ہے، اُسی کا سُرور و سوز و ثبات\nبلند تر مہ و پرویں سے ہے اُسی کا مقام\nاُسی کے نُور سے پیدا ہیں تیرے ذات و صفات\nحریم تیرا، خودی غیر کی! معاذاللہ\nدوبارہ زندہ نہ کر کاروبارِ لات و منات\nیہی کمال ہے تمثیل کا کہ تُو نہ رہے\nرہا نہ توُ تو نہ سوزِ خودی، نہ سازِ حیات", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%90%DB%8C%D8%A7%D8%AA%D9%8E%D8%B1"} {"title": "تپ الم کو جگر میں چھپا کے دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:نبی بخش نایاب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نایاب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "تپ الم کو جگر میں چھپا کے دیکھتے ہیں\nہم آگ اپنے ہی گھر کو لگا کے دیکھتے ہیں\n\nخدا کو دیکھتے ہیں یوں ہم اس کی صورت میں\nکہ گویا سامنے اپنے بٹھا کے دیکھتے ہیں\n\nوہ بولے دیکھ کے شیشے میں اپنی صورت کو\nشبیہ حضرت یوسف منگا کے دیکھتے ہیں\n\nچرا لیا میرے پہلو سے دل جنہوں نے مرا\nاب ان کو دیکھو وہ آنکھیں چرا کے دیکھتے ہیں\n\nنہ پوچھ کوچۂ جاناں کی رہ گزر نایابؔ\nہنوز جذبۂ دل آزما کے دیکھتے ہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%BE_%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تپش سے میری وقف کشمکش ہر تار بستر ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تپِش سے میری، وقفِ کشمکش، ہر تارِ بستر ہے\nمِرا سر رنجِ بالیں ہے، مِرا تَن بارِ بستر ہے\n\nعیادت بسکہ تجھ سے گرمیِ بازارِ بستر ہے\nفروغِ شمعِ بالیں طالعِ بیدارِ بستر ہے\n\nبہ ذوقِ شوخیِ اعضاء تکلّف بارِ بستر ہے\nمعافِ پیچ تابِ کشمکش ہر تارِ بستر ہے\n\nمعمّائے تکلّف سر بمہرِ چشم پوشیدن\nگدازِ شمعِ محفل پیچشِ طومارِ بستر ہے\n\nمژہ فرشِ رہ و دل ناتوان و آرزو مضطر\nبہ پائے خفتہ سیرِ وادیِ پُر خارِ بستر ہے\n\nسرشکِ سر بہ صحرا دادہ، نورالعینِ دامن ہے\nدلِ بے دست و پا اُفتادہ برخوردارِ بستر ہے\n\nخوشا اقبالِ رنجوری! عیادت کو تم آئے ہو\nفروغِ شمع بالیں، طالعِ بیدارِ بستر ہے\n\nبہ طوفاں گاہِ جوشِ اضطرابِ شامِ تنہائی\nشعاعِ آفتابِ صبحِ محشر تارِ بستر ہے\n\nابھی آتی ہے بُو، بالش سے، اُس کی زلفِ مشکیں کی\nہماری دید کو، خوابِ زلیخا، عارِ بستر ہے\n\nکہوں کیا، دل کی کیا حالت ہے ہجرِ یار میں، غالبؔ!\nکہ بے تابی سے ہر یک تارِ بستر، خارِ بستر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%BE%D8%B4_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%88%D9%82%D9%81_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DA%A9%D8%B4_%DB%81%D8%B1_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "تپش عشق یا تیر کی گرمی", "poet_page": "مصنف:عصمت اللہ عصمت بیگ", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جس کسی نے ان دنوں کوئی دوا ایجاد کی\nبس یہ سمجھو اس نے اک بستی نئی آباد کی\nپھوڑ کر سر جیل میں بے چارہ مجنوں مر گیا\nاور صدائیں ہر طرف ہیں یار زندہ باد کی\nکیا بتاؤں اے طبیبو عشق کی تم کو تپش\nبس سمجھ لو جیسے گرمی تیر اور خورداد کی\nلیجئے آئے ہیں مجنوں مجھ کو دینے درس عشق\nآپ کی صورت تو دیکھو ہت ترے استاد کی\nقرض تو بے شک لیا پر ہم نے کس کس سے لیا\nیاد کچھ آتا نہیں یہ کیفیت ہے یاد کی\nقیس آخر مر گیا سوز درون عشق سے\nکھا گئی افسوس اس پودے کو گرمی کھاد کی\nدیکھنا آخر سر بازار رسوا کر دیا\nروز واعظ تم دعا مانگا کرو اولاد کی\nمادر گیتی نے عصمتؔ کچھ مری پروا نہ کی\nساس کرتی ہے خوشامد کہتے ہیں داماد کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%D9%BE%D8%B4_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C"} {"title": "تڑپ کے رات بسر کی جو اک مہم سر کی", "poet_page": "مصنف:صفی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تڑپ کے رات بسر کی جو اک مہم سر کی\nچھری تھی میرے لیے جو شکن تھی بستر کی\n\nعرق عرق ہیں جو گرمی سے روز محشر کی\nپناہ ڈھونڈتے ہیں میرے دامن تر کی\n\nہوا گمان اسی شوخ سست پیماں کا\nاگر ہوا سے بھی زنجیر ہل گئی در کی\n\nاسی طرف ترے قرباں نگاہ شرم آلود\nمجھی پہ تیز ہو یہ باڑھ کند خنجر کی\n\nخرام وہ جو ہلا دے جگر فرشتوں کا\nنگاہ وہ جو الٹ دے صفوں کو محشر کی\n\nسجائی حضرت واعظ نے کس تکلف سے\nمتاع زہد و ورع سیڑھیوں پہ منبر کی\n\nعبور بحر حقیقت سے جب نہیں ممکن\nکنارے بیٹھ کے لہریں گنوں سمندر کی\n\nسنے گا کون سنی جائے گی صفیؔ کس سے\nتمہاری رام کہانی یہ زندگی بھر کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%91%D9%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%DA%A9_%D9%85%DB%81%D9%85_%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "تڑپ کے لوٹ کے آنسو بہا کے دیکھ لیا", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "تڑپ کے لوٹ کے آنسو بہا کے دیکھ لیا\nلگی نہ دل کی تجھے دل لگا کے دیکھ لیا\n\nکسی نے داد نہ دی کچھ فسانۂ دل کی\nانہیں بھی درد محبت سنا کے دیکھ لیا\n\nکسے امید تھی آؤ گے تم دم آخر\nبڑا کمال کیا تم نے آ کے دیکھ لیا\n\nکہا تھا میں نے کہ دشوار دل کا لینا ہے\nوہ بولے دور سے مجھ کو دکھا کے دیکھ لیا\n\nغضب کیا کہ چکھا کر مے سخن کا مزا\nشرفؔ سے شخص کو بے خود بنا کے دیکھ لیا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%91%D9%BE_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D9%88%D9%B9_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تڑپ ہے قیس کے دل میں تہ زمیں اس سے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "تڑپ ہے قیس کے دل میں تہ زمیں اس سے\nغزال دشت نشان مزار پاتے ہیں\nوگرنہ خاک ہوئے کتنے ہی محبت میں\nکسی کا بھی کہیں مشت غبار پاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%91%D9%BE_%DB%81%DB%92_%D9%82%DB%8C%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%81_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92"} {"title": "تڑپا کیا جو یہ دل مضطر تمام رات", "poet_page": "مصنف:سید ہمایوں میرزا حقیر", "kind": "poetry", "section": "غزل > چمنستان فصاحت (1940)", "year": "1940", "text_ur": "تڑپا کیا جو یہ دل مضطر تمام رات\nکاٹی ہے میں نے کیا کہوں کیوں کر تمام رات\n\nاپنے مکاں پہ جب مہ پیکر نہیں ملا\nپھرتا رہا رقیبوں کے گھر گھر تمام رات\n\nلڑ کر جو مجھ سے وہ ستم آرا چلا گیا\nکاٹی ہے میں نے تارے ہی گن کر تمام رات\n\nپچھلے پہر سے آنکھ کھلی بے قرار ہوں\nآیا جو خواب میں مہ انور تمام رات\n\nاپنے مکاں سے اس نے نکالا جو رات کو\nلے کر پھرا میں کاندھے پہ بستر تمام رات\n\nاس درد دل سے میں جو کراہا کیا دلا\nبے چین میرے ساتھ بنا گھر تمام رات\n\nفرقت میں میری زندگی دشوار ہو گئی\nمیں کروٹیں بدلتا ہوں دن بھر تمام رات\n\nکیوں کر نہ ناز اپنے مقدر پہ ہو حقیر\nدیکھا جو خواب ساقیٔ کوثر تمام رات", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%91%D9%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا\nپٹک دے ساغر خالی شراب لیتا جا\n\nوہ ہاتھ مار پلٹ کر جو کر دے کام تمام\nبڑے عذاب میں ہوں میں ثواب لیتا جا\n\nوہ بن ہی گھر سے ہے اچھا سکون جس میں ملے\nمجھے بھی او دل خانہ خراب لیتا جا\n\nملے اک آہ کا وقفہ تو وقت پرشش حال\nہر اک سوال کا اپنے جواب لیتا جا\n\nنقاب اٹھا کے کیا سامنا تو منہ کو نہ پھیر\nدکھا کے خواب نہ آنکھوں سے خواب لیتا جا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%91%D9%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D9%84%DB%92_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%84%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "تڑپنا بھی دیکھا نہ بسمل کا اپنے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تڑپنا بھی دیکھا نہ بسمل کا اپنے\nمیں کشتہ ہوں انداز قاتل کا اپنے\n\nنہ پوچھو کہ احوال ناگفتہ بہ ہے\nمصیبت کے مارے ہوئے دل کا اپنے\n\nدل زخم خوردہ کے اور اک لگائی\nمداوا کیا خوب گھائل کا اپنے\n\nجو خوشہ تھا صد خرمن برق تھا یاں\nجلایا ہوا ہوں میں حاصل کا اپنے\n\nٹک ابرو کو میری طرف کیجے مائل\nکبھو دل بھی رکھ لیجے مائل کا اپنے\n\nہوا دفتر قیس آخر ابھی یاں\nسخن ہے جنوں کے اوائل کا اپنے\n\nبنائیں رکھیں میں نے عالم میں کیا کیا\nہوں بندہ خیالات باطل کا اپنے\n\nمقام فنا واقعے میں جو دیکھا\nاثر بھی نہ تھا گور منزل کا اپنے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%91%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92"} {"title": "تکرار تھی مزارع و مالک میں ایک روز", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "تکرار تھی مزارع و مالک میں ایک روز\nدونوں یہ کہہ رہے تھے، مرا مال ہے زمیں\n\nکہتا تھا وہ، کرے جو زراعت اُسی کا کھیت\nکہتا تھا یہ کہ عقل ٹھکانے تری نہیں\n\nپُوچھا زمیں سے مَیں نے کہ ہے کس کا مال تُو\nبولی مجھے تو ہے فقط اس بات کا یقیں\n\nمالک ہے یا مزارعِ شوریدہ حال ہے\nجو زیرِ آسماں ہے، وہ دھَرتی کا مال ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D8%B9_%D9%88_%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B1%D9%88%D8%B2"} {"title": "تکلف نہیں ہم سے زیبا تمہارا", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تکلف نہیں ہم سے زیبا تمہارا\nتمہارے ہمارے ہمارا تمہارا\n\nلیا دل تو لو جان بھی کیوں رہے جی\nتمنا ہماری تقاضا تمہارا\n\nیہ تصویر چہرہ اتر کیوں گیا ہے\nکھنچے کس سے ہو کیا ہے نقشہ تمہارا\n\nنہ تیر آہ کا دست قدرت میں اپنے\nنہ شمشیر ابرو پہ قبضہ تمہارا\n\nچلے ہم تو حسرت ہی لے کر رقیبو\nمبارک رہے تم کو پیارا تمہارا\n\nرقیبوں سے لڑنے کا قصہ نہ پونچھو\nفضیحت ہماری تماشا تمہارا\n\nنہ تحریر خط ہے نہ بیت ابرویں ہیں\nیہ مضموں ہمارا وہ فقرا تمہارا\n\nمیں اپنے ہی جذبہ کا قائل تھا لیکن\nغضب ہے مری جان غصہ تمہارا\n\nمجھے اور سے کیا میں عاشق ہوں پیارے\nتمہارا تمہارا تمہارا تمہارا\n\nسلیماں ہوں پر یوں اگر خاک ہو کر\nعمل میں ہو نقش کف پا تمہارا\n\nخفا ہوتے کیوں ہو کہ رکھتا ہے پیارے\nنہ جذبہ ہمارا نہ جلوہ تمہارا\n\nنسیمؔ اس چمن میں گل تر کی صورت\nپھٹے کپڑے رکھتے ہیں پردہ تمہارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%A9%D9%84%D9%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B2%DB%8C%D8%A8%D8%A7_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "تکلف ہے مراد دل کا دل پر بار ہو جانا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تکلف ہے مراد دل کا دل پر بار ہو جانا\nمحبت کیا ہے مرنے کے لئے تیار ہو جانا\n\nنہ کام آیا ان آہوں کا فلک کے پار ہو جانا\nمرے سونے سے مشکل تھا ترا بیدار ہو جانا\n\nنظر ملتے ہی ان سے آ گیا سارا اثر دل میں\nاسے آتا نہ تھا پہلے کبھی بیمار ہو جانا\n\nوفا کا راہبر ہے تودۂ خاکی کی جان اس کو\nکماں کش دل ہے آگے اک ذرا ہشیار ہو جانا\n\nیہ طوفاں اشک کا کم ہو تو سمجھوں ڈوب کر ابھرا\nاسی مطلب کو سب کہتے ہیں بیڑا پار ہو جانا\n\nتہ شمشیر جائے‌‌ مردم دیدہ ہے دیکھ اے دل\nیوں ہی تو بھی اسی دن کے لئے تیار ہو جانا\n\nذرا سی اک نگاہ عشق میں آنکھوں سے گرتا ہے\nبہت آسان ہے انسان کا بیکار ہو جانا\n\nدل صیاد سے شکوہ کروں کیا سہل ہے اس کو\nعدو پھولوں کا ہو کر ہمزیان خار ہو جانا\n\nہوا جو کچھ ہوا ممنون ہوں صہبائے غفلت کا\nقفس میں آ کے اب بیکار ہے ہشیار ہو جانا\n\nیہ کیسی ناتوانی ہے کہ دل محسوس کرتا ہے\nمرے کاندھوں پہ خود میرے ہی سر کا بار ہو جانا\n\nنظر کو ایک جنبش اور دے اے دیکھنے والے\nاشارے پر ہے ان زخموں کا دامن دار ہو جانا\n\nبہم ہیں بے حسی و حس کہ دل کو خواب آتا ہے\nکبھی شق ہو کے در ہونا کبھی دیوار ہو جانا\n\nتمہارے زعم میں رہرو کا رستے سے گزرنا ہے\nکسی چھوٹے ہوئے ناوک کا دل کے پار ہو جانا\n\nترا آوازۂ حسن سخن اچھا نہیں ثاقبؔ\nنظر پڑتی ہے تجھ پر اک ذرا ہشیار ہو جانا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%A9%D9%84%D9%81_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "تکلم جو کوئی کرتا ہے فانی", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تکلم جو کوئی کرتا ہے فانی\nہماری اور تمہاری ہے کہانی\n\nجنوں میں یاد ہے اک بیت ابرو\nکہاں ہے اب دماغ شعر خوانی\n\nمآل عاشق و معشوق ہے ایک\nسنا ہے شمع سوزاں کی زبانی\n\nنشاں ہم بے نشانوں کا نہ پایا\nصبا نے مدتوں تک خاک چھانی\n\nوہ عاشق ہوں نہ آئے نیند مجھ کو\nسنوں جب تک نہ یوسف کی کہانی\n\nنہیں بچتا ہے بیمار محبت\nسنا ہے ہم نے گویاؔ کی زبانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%A9%D9%84%D9%85_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%81%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "تکمیل میں ان علوم کے ہو مصروف", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تکمیل میں ان علوم کے ہو مصروف\nنیچر کی جو طاقتوں کو کر دیں مکشوف\nلیکن تم سے امید کیا ہو کہ تمہیں\nعہدہ مطلوب ہے وطن ہے مالوف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%A9%D9%85%DB%8C%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%88_%D9%85%D8%B5%D8%B1%D9%88%D9%81"} {"title": "تھا آدم خاکی غضب بے زنہار", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تھا آدم خاکی غضب بے زنہار\nپر موت کے ہاتھوں سے ہوا ہے ناچار\nسچ ہے قلقؔ انسان ہے کیا کچھ سرکش\nمر کر بھی تو ہوتا ہے یہ کاندھوں پہ سوار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A2%D8%AF%D9%85_%D8%AE%D8%A7%DA%A9%DB%8C_%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%D8%A8%DB%92_%D8%B2%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%B1"} {"title": "تھا اجل کا میں اجل کا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھا اجل کا میں اجل کا ہو گیا\nبیچ میں چونکا تو تھا پھر سو گیا\n\nلطف تو یہ ہے کہ آپ اپنا نہیں\nجو ہوا تیرا وہ تیرا ہو گیا\n\nکاٹے کھاتی ہے مجھے ویرانگی\nکون اس مدفن پہ آ کر رو گیا\n\nبحر ہستی کے عمق کو کیا بتاؤں\nڈوب کر میں شادؔ اس میں کھو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D8%AC%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AC%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تھا بند وہ در پھر بھی میں سو بار گیا تھا", "poet_page": "مصنف:شوق قدوائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھا بند وہ در پھر بھی میں سو بار گیا تھا\nمانند ہوا پھاند کے دیوار گیا تھا\n\nپھرتا ہوں میں بیدل مرا دل کیوں نہیں دیتے\nکیا تم سے جوا کھیل کے میں ہار گیا تھا\n\nسودے کو نہ پوچھ آیا تھا تو ناز سے جس دن\nگیسو ترا اس دن مرے سر مار گیا تھا\n\nدل سے نہ سہی آئے تو میت پہ وہ آخر\nآتے نہ تو مرنا مرا بے کار گیا تھا\n\nخود میں نے جتایا ہے اسے حشر کا میداں\nمشہد ہی سے میں اس کا طرف دار گیا تھا\n\nبرچھا تھا کہ تیر اپنی نظر سے یہ ذرا پوچھ\nسینے میں کچھ اس پار سے اس پار گیا تھا\n\nمجبور ہوا وہ جو پڑا زلف کا پھندا\nشوقؔ اس کے وہاں ہو کے گرفتار گیا تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "تھا بہانہ مجھے زنجیر کے ہل جانے کا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھا بہانہ مجھے زنجیر کے ہل جانے کا\nچھوڑ دیو اب تو ہوا شوق نکل جانے کا\n\nسنگ دل نے دل نازک کوں مرے چور کیا\nکیا ارادہ تھا اسے شیشہ محل جانے کا\n\nمت کرو شمع کوں بدنام جلاتی وو نہیں\nآپ سیں شوق پتنگوں کوں ہے جل جانے کا\n\nآفریں دل کوں مرے خوب بجا کام آیا\nسچ سپاہی کو بڑا ننگ ہے ٹل جانے کا\n\nشعلہ رو جام بکف بزم میں آتا ہے سراجؔ\nگردن شمع کوں کیا باک ہے ڈھل جانے کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AC%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "تھا جو شعر راست سرو بوستان ریختہ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھا جو شعر راست سرو بوستان ریختہ\nاب وہی ہے لالۂ زرد خزان ریختہ\n\nآگے کچھوے کی کماں کے قدر کیا اس کی رہی\nتھی فرید آبادی اپنی گو کمان ریختہ\n\nخشک کرتے ہیں جو فکر خشک سے اپنا دماغ\nجانتے ہیں اس کو مغز ستخوان ریختہ\n\nپیچ دے دے لفظ و معنی کو بناتے ہیں کلفت\nاور وہ پھر اس پہ رکھتے ہیں گمان ریختہ\n\nفہم میں اتنا نہیں آتا بحکم رائے پست\nاس بلندی سے گھٹی جاتی ہے شان ریختہ\n\nخوان یغما بن کے پہنچا ہر کس و ناکس کے ہاتھ\nنطع سلطاں جو تھا مخصوص خوان ریختہ\n\nہے رگ ابر بہاری ہاتھ میں میرے قلم\nرشک جنت جس سے ہے یہ گلستان ریختہ\n\nفارسی اب ہو گئی ہے ننگ اس کے واسطے\nفارسی کا ننگ تھا جیسے قرآن ریختہ\n\nچاند تارے کا دوپٹا میں دیا اس کو بنا\nورنہ اس زینت سے کب تھا آسمان ریختہ\n\nرفتہ رفتہ ہائے اس کا اور عالم ہو گیا\nنظم سے اپنی گرا نظم بیان ریختہ\n\nجب سے معنی بندی کا چرچا ہوا اے مصحفیؔ\nخلطے میں جاتا رہا حسن زبان ریختہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%B4%D8%B9%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA_%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D8%A8%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D8%B1%DB%8C%D8%AE%D8%AA%DB%81"} {"title": "تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہی\nآج اُن خانقہوں میں ہے فقط رُوباہی\n\nنظر آئی نہ مجھے قافلہ سالاروں میں\nوہ شبانی کہ ہے تمہیدِ کلیم اللّٰہی\n\nلذّتِ نغمہ کہاں مُرغِ خوش الحاں کے لیے\nآہ، اس باغ میں کرتا ہے نفَس کوتاہی\n\nایک سرمستی و حیرت ہے سراپا تاریک\nایک سرمستی و حیرت ہے تمام آگاہی\n\nصفَتِ برق چمکتا ہے مرا فکرِ بلند\nکہ بھٹکتے نہ پھریں ظُلمتِ شب میں راہی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AF%D8%B1%D8%B3%DB%82_%D8%B4%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%DB%81%D9%86%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C"} {"title": "تھا رنگ بہار بے نوائی کہ نہ تھا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تھا رنگ بہار بے نوائی کہ نہ تھا\nظاہر تھا زوال انتہائی کہ نہ تھا\nکہہ دو ایمان سے عید گہہ کے اندر\nگردش میں تھا کاسۂ گدائی کہ نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "تھا غیر کا جو رنجِ جدائی تمام شب", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھا غیر کا جو رنجِ جدائی تمام شب\nنیند ان کو میرے ساتھ نہ آئی تمام شب\n\nشکوہ مجھے نہ ہو جو مکافات حد سے ہو\nواں صلح ایک دم ہے لڑائی تمام شب\n\nیہ ڈر رہا کہ سوتے نہ پائیں کہیں مجھے\nوعدے کی رات نیند نہ آئی تمام شب\n\nسچ تو یہ ہے کہ بول گئے اکثر اہلِ شوق\nبلبل نے کی جو نالہ سرائی تمام شب\n\nدم بھر بھی عمر کھوئی جو ذکرِ رقیب میں\nکیفیتِ وصال نہ پائی تمام شب\n\nتھوڑا سا میرے حال پہ فرما کر التفات\nکرتے رہے وہ اپنی بڑائی تمام شب\n\nوہ آہ، تار و پود ہو جس کا ہوائے زلف\nکرتی ہے عنبری و صبائی تمام شب\n\nوہ صبح جلوہ، جلوہ گرِ باغ تھا جو رات\nمرغِ سحر نے دھوم مچائی تمام شب\n\nافسانے سے بگاڑ ہے، ان بن ہے خواب سے\nہے فکرِ وصل و ذکرِ جدائی تمام شب\n\nجس کی شمیمِ زلف پہ میں غش ہوں شیفتہ\nاس نے شمیمِ زلف سنگھائی تمام شب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%86%D8%AC%D9%90_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%A8"} {"title": "تھا قصدِ بوسہ نشے میں سرشار دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھا قصدِ بوسہ نشے میں سرشار دیکھ کر\nغش آ گیا مجھے انہیں ہشیار دیکھ کر\n\nکچھ بیمِ قتل سے نہیں آنکھوں میں اشکِ سُرخ\nکھاتا ہے جوش خوں تری تلوار دیکھ کر\n\nجاتے ہیں اور منع کی طاقت نہیں ، مگر\nرہ جائیں آپ وہ مجھے ناچار دیکھ کر\n\nپردہ کسی کا یاد، نہ بے پردگی ہے یاد\nغش ہو گیا میں کعبے کے استار دیکھ کر\n\nسرخیلِ عاشقاں مجھے کہتے ہیں بوالہوس\nعاشق کا اس کو مائلِ آزار دیکھ کر\n\nآتی ہیں یاد کاکل و دل کی حکایتیں\nروتا ہوں دام و مرغِ گرفتار دیکھ کر\n\nکیا بن گیا ہوں صورتِ دیوار دیکھنا\nصورت کسی کی میں سرِ دیوار دیکھ کر\n\nرحم ایسی سادگی پہ ستم گر ضرور ہے\nعاشق ہوئے ہیں ہم تجھے پُرکار دیکھ کر\n\nکم رغبتی سے لیتے ہیں دل، ہوشیار ہیں\nبڑھتا ہے مول شوقِ خریدار دیکھ کر\n\nکہتا تھا وقت مرگ کے ہر اک سے شیفتہ\nدینا کسی کو دل تو وفادار دیکھ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%82%D8%B5%D8%AF%D9%90_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%81_%D9%86%D8%B4%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%B1%D8%B4%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا\nخورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا\n\nہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا\nپیدا ہر ایک نالے سے شور نشور تھا\n\nپہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں\nمعلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا\n\nآتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم\nیک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا\n\nمجلس میں رات ایک ترے پرتوے بغیر\nکیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا\n\nاس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوا\nدیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا\n\nمنعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا\nاس رند کی بھی رات گزر گئی جو عور تھا\n\nہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر\nاس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا\n\nکل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آ گیا\nیکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا\n\nکہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر\nمیں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا\n\nتھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میرؔ\nسمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "تھا نجم بخت تیرہ مقابل تمام رات", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھا نجم بخت تیرہ مقابل تمام رات\nآنکھوں تلے پھرا مرے قاتل تمام رات\n\nہاروت ساں ذقن میں رہا دل تمام رات\nگزری میانۂ چہ بابل تمام رات\n\nکس گل نے گل کیا تھا مری شمع گور کو\nتھا قبر پر ہجوم عنادل تمام رات\n\nدھبہ لگے نہ رنگ سفید و سیاہ میں\nہے گو تمام دن کے مقابل تمام رات\n\nروشن تھی صبح تک مرے مدفن پہ شمع طور\nرویا کھڑے کھڑے مرا قاتل تمام رات\n\nاے رشک مہر و مہ ترے منہ پر نثار ہے\nسورج تمام دن مہ کامل تمام رات\n\nجاتی تھی یاد گیسو و رخ میں فلک پہ آہ\nمہتاب تھا اسیر سلاسل تمام رات\n\nکرتے ہیں گل جو چاک گریباں تمام دن\nسنتے ہیں نالہ ہائے عنادل تمام رات\n\nکہتا تھا عرشؔ سچ میں سمجھتا تھا جھوٹ یار\nکرتا رہا ہے حق کو وہ باطل تمام رات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%86%D8%AC%D9%85_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%81_%D9%85%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "تھا پاس ابھی کدھر گیا دل", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھا پاس ابھی کدھر گیا دل\nیہ خانہ خراب گھر گیا دل\n\nخوار ایسا ہوا بتاں کے پیچھے\nنظروں سے مری اتر گیا دل\n\nشبنم کی مثال روتے روتے\nاس باغ سے چشم تر گیا دل\n\nجوں خضر رہا ہمیشہ تنہا\nایسے جینے سے بھر گیا دل\n\nکیا پوچھتے ہو خبر تم اس کی\nیک عمر ہوئی کہ مر گیا دل\n\nمرتے مرتے بھی یہ جواں مرگ\nسوراخ جگر میں کر گیا دل\n\nتھا دشمن جاں بغل میں حاتمؔ\nجانے دے بلا سے گر گیا دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84"} {"title": "تھوڑا تھوڑا مل کر بہت ہو جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بنایا ہے چڑیوں نے جو گھونسلہ\nسو ایک ایک تنکا اکٹھا کیا\nگیا ایک ہی بار سورج نہ ڈوب\nمگر رفتہ رفتہ ہوا ہے غروب\nقدم ہی قدم طے ہوا ہے سفر\nگئیں لحظے لحظے میں عمریں گزر\nسمندر کی لہروں کا تانتا سدا\nکنارے سے ہے آ کے ٹکرا رہا\nسمندر سے دریا سے اٹھتی ہے موج\nسدا کرتی رہتی ہے دھاوا یہ فوج\nکراروں کو آخر گرا ہی دیا\nچٹانوں کو بالکل صفا چٹ کیا\nبرستا جو مینہ موسلا دھار ہے\nسو یہ ننھی بوندوں کی بوچھار ہے\nدرختوں کے جھنڈ اور جنگل گھنے\nیوں ہی پتے پتے سے مل کر بنے\nہوئے ریشے ریشے سے بن اور جھاڑ\nبنا ذرے ذرے سے مل کر پہاڑ\nلگا دانے دانے سے غلے کا ڈھیر\nپڑا لمحے لمحے سے برسوں کا پھیر\nجو ایک ایک پل کر کے دن کٹ گیا\nتو گھڑیوں ہی گھڑیوں برس گھٹ گیا\nلکھا لکھنے والے نے ایک ایک حرف\nہوئیں گڈیاں کتنی کاغذ کی صرف\nہوئی لکھتے لکھتے مرتب کتاب\nاسی پر ہر اک شے کا سمجھو حساب\nہر اک علم و فن اور کرتب ہنر\nنہ تھا پہلے ہی دن سے اس ڈھنگ پر\nیوں ہی بڑھتے بڑھتے ترقی ہوئی\nجو نیزہ ہے اب تھا وہ پہلے سوئی\nجلاہے نے جوڑا تھا ایک ایک تار\nہوئے تھان جس کے گزوں سے شمار\nیوں ہی پھوئیوں پھوئیوں بھرے جھیل تال\nیوں ہی کوڑی کوڑی ہوا جمع مال\nاگر تھوڑا تھوڑا کرو صبح و شام\nبڑے سے بڑا کام بھی ہو تمام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7_%D9%85%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تھوڑا ہے جس قدر میں پڑھوں خط حبیب کا", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھوڑا ہے جس قدر میں پڑھوں خط حبیب کا\nدیکھا ہے آج آنکھوں سے لکھا نصیب کا\n\nہم مے کشوں نے نشہ میں ایسے کیے سوال\nدم بند کر دیا سر منبر خطیب کا\n\nصیاد گھات میں ہے کہیں باغباں کہیں\nسارا چمن ہے دشمن جاں عندلیب کا\n\nاپنی زبان سے مجھے جو چاہے کہہ لیں آپ\nبڑھ بڑھ کے بولنا نہیں اچھا رقیب کا\n\nآنکھیں سفید ہو گئیں جب انتظار میں\nاس وقت نامہ بر نے دیا خط حبیب کا\n\nقسمت ڈبونے لائی ہے دریائے عشق میں\nاے خضر پار کیجئے بیڑا غریب کا\n\nوہ بے خطا ہیں ان سے شکایت ہی کس لیے\nجوہرؔ یہ سب قصور ہے اپنے نصیب کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%91%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D8%B7_%D8%AD%D8%A8%DB%8C%D8%A8_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "تھک تھک گئے ہیں عاشق درماندۂ فغاں ہو", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھک تھک گئے ہیں عاشق درماندۂ فغاں ہو\nیا رب کہیں وہ غفلت فریاد بے کساں ہو\n\nیا قہر ہے وہ شوخی یا پردہ ہے نظر کا\nدل میں تو اس کا گھر ہو اور آنکھ سے نہاں ہو\n\nیہ شور بھر رہا ہے فریاد کا جہاں میں\nجو بات لب پہ آئی الٹی پھری فغاں ہو\n\nکس کس دعا کو مانگیں کیا کیا ہوس نکالیں\nاک جاں کدھر کدھر ہو اک دل کہاں کہاں ہو\n\nبرگشتگیٔ قسمت یہ چھیڑ کیا نکالی\nجو مدعائے دل ہو وہ مدعیٔ جاں ہو\n\nمقدور تک تو اپنے تجھ سے نبھائیں گے ہم\nبے جان و دل ہیں حاضر گر قصد امتحاں ہو\n\nصیاد میں نہیں ہوں گم کردہ آشیاں ہوں\nاے ہم صفیرو بولو کس جا ہو اور کہاں ہو\n\nاے آہ دل سے اٹھ کر لب پر ہے کیا تأمل\nجا شورش زمیں ہو آشوب آسماں ہو\n\nمٹ مٹ کے بھی ہمارا اک بن رہے گا ساماں\nاجڑے اگر بہاراں آبادیٔ خزاں ہو\n\nجب بیٹھنے پہ آئے اے ضعف بیٹھ رہیے\nپھر کیا ہے یہ تکلف اس کا ہی آستاں ہو\n\nتو ہی رہے گی بلبل یا میں ہی اس چمن میں\nیا تیرا ہی ہو قصہ یا میری داستاں ہو\n\nمیرے سخن میں کیا ہے کچھ خال و خط بیاں ہے\nپر دل سے اس کے پوچھے جو کوئی نکتہ داں ہو\n\nمیرا سلام کہنا جھک کر قلقؔ وہی ہے\nاس کی گلی میں بیٹھا موزوں سا جو جواں ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%DA%A9_%D8%AA%DA%BE%DA%A9_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%AF%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%AF%DB%82_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88"} {"title": "تھک گئے تم حسرت ذوق شہادت کم نہیں", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھک گئے تم حسرت ذوق شہادت کم نہیں\nمجھ سے دم لے لو اگر تیغ ستم میں دم نہیں\n\nدردمندان ازل رکھتے نہیں درماں کا غم\nسینۂ صد چاک گل منت کش مرہم نہیں\n\nروز مرتے ہیں ہزاروں دیکھ کر نیرنگ حسن\nگر یہی عالم تمہارا ہے تو یہ عالم نہیں\n\nمر مٹے ہم عشق کے شہرے وہی ہیں چار سو\nشور رسوائی پس مردن بھی اپنا کم نہیں\n\nنالۂ آتش فشاں یوں ہی اگر ہے اوج پر\nتو نہیں اے آسمان فتنہ گر یا ہم نہیں\n\nبے ثباتی پر بہار باغ کی روتا ہے چرخ\nروئے گل پر قطرہ ہائے اشک ہیں شبنم نہیں\n\nخوش ہیں میرے مرنے سے تسلیمؔ خویش و اقربا\nخانۂ شادی ہے گویا خانۂ ماتم نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%DA%A9_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%85_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%B0%D9%88%D9%82_%D8%B4%DB%81%D8%A7%D8%AF%D8%AA_%DA%A9%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تھکا لے اور دور آسماں تک", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھکا لے اور دور آسماں تک\nپھر آخر گردش قسمت کہاں تک\n\nبڑی اس دل کی بیتابی یہاں تک\nہمیں ہمیں ہم ہیں زمیں سے آسماں تک\n\nدم وعدہ انہیں ہے بار ہاں تک\nزباں تھک جائے جو اے بے زباں تک\n\nمجھے پینا پڑے آخر وہ آنسو\nجو بھر جاتے زمیں سے آسماں تک\n\nکوئی سو بار اڑے سو بار بیٹھے\nقفس سے یوں ہم آئے آشیاں تک\n\nگلا بھی تھا کسی کا راز کوئی\nکہ آ کر رہ گیا میری زباں تک\n\nسلامت ہیں اگر میرے پر و بال\nقفس جائے گا اڑ کر آشیاں تک\n\nمری بیداریاں بیکار کیوں جائیں\nانہیں پہنچا دو چشم پاسباں تک\n\nکچھ اس نے اس طرح کاٹی مری بات\nکہ ٹکڑے ہو گئی میری زباں تک\n\nجنوں سے ہم نہ کوتاہی کریں گے\nہمارا ہاتھ پہنچے گا جہاں تک\n\nخدایا میرے سجدے دور ہی سے\nپہنچ جائیں کسی کے آستاں تک\n\nسہارا کچھ تو درماندوں کو ہوتا\nپہنچ جاتے جو گرد کارواں تک\n\nمری فریاد سن کر چپ رہیں گے\nاسے پہنچائیں گے وہ آسماں تک\n\nمجھی پر چھوڑ دو میری مئے تلخ\nمزا اس کا ہے کچھ میری زباں تک\n\nکلیسا و حرم دونوں ہیں آباد\nمرے ناقوس تک میری اذاں تک\n\nکچھ ایسا ربط ہے صیاد کے ساتھ\nہمیں ہم ہیں قفس سے آشیاں تک\n\nہمیں ٹھکراتے جائیں جو وہاں جائیں\nپہنچ جائیں یوں ہی ہم آستاں تک\n\nمعاصی کے سوا دو دو فرشتے\nانہیں لادے پھروں یا رب کہاں تک\n\nپہنچ جاؤں جو یا رب میکدے میں\nمرا پانی بھرے پیر مغاں تک\n\nوہ خوگر نالہ دشمن کا ہو جائے\nنہ سنتا ہو جو حرف داستاں تک\n\nریاضؔ آنے میں ہے ان کے ابھی دیر\nچلو ہو آئیں مرگ ناگہاں تک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%DA%A9%D8%A7_%D9%84%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "تھی آسماں پہ میری چڑھائی تمام رات", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھی آسماں پہ میری چڑھائی تمام رات\nپھینکا کیا ہوں تیر ہوائی تمام رات\n\nوہ مے پرست ہوں کہ نہ پائی اگر شراب\nکی خون دل سے کار روائی تمام رات\n\nہم خانۂ عدو ہے مبارک رہے اسے\nجھگڑا تمام روز لڑائی تمام رات\n\nکیا خوش رہا میں دوست کی تصویر جان کر\nتھی کل جو مہ کی جلوہ نمائی تمام رات\n\nبکھری رہی ہے شب مرے بازو پہ زلف یار\nکرتا رہا ہوں غالیہ سائی تمام رات\n\nبڑھتا رہا بدن میں مرے دم بہ دم لہو\nسینے پہ تھا وہ دست حنائی تمام رات\n\nتھا میرے حوصلے سے زیادہ غم فراق\nاک داستان اس کو سنائی تمام رات\n\nشرم ستم نے وصل میں کیسا ستم کیا\nشکل اس نے کل مجھے نہ دکھائی تمام رات\n\nسچے ہیں اپنے وعدے کے آتے وہ خواب میں\nناظمؔ مجھی کو نیند نہ آئی تمام رات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%86%DA%91%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "تھی تو سہی پر آج سے پہلے ایسی حقیر فقیر نہ تھی", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھی تو سہی پر آج سے پہلے ایسی حقیر فقیر نہ تھی\nدل کی شرافت ذہن کی جودت اتنی بڑی تقصیر نہ تھی\n\nسچ کہتے ہو ہم ایسے کہاں اور سوز و گداز عشق کہاں\nسچ ہے مرے آئینۂ دل میں کوئی کبھی تصویر نہ تھی\n\nاب جو اچاٹ ہوئی ہے طبیعت شاید اب ہم رخصت ہیں\nبن کارن بے بات وگرنہ ایسی کبھی دلگیر نہ تھی\n\nاہل جنوں کو فصل خزاں سے اب کے بھی گو نہ ربط رہا\nاب کے بہار وہ آئی کی جس کی بوئے گل بھی سفیر نہ تھی\n\nآخر غیرت نے سمجھایا نومیدانہ زیست کریں\nباقی ہر تدبیر تو کی جو اپنے خلاف ضمیر نہ تھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%DB%81%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%AC_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D8%B1_%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "تھی ظرف وضو میں کوئی شے پی گئے کیا آپ", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھی ظرف وضو میں کوئی شے پی گئے کیا آپ\nاے شیخ یہاں کون ہے میں چور ہوں یا آپ\n\nدیوانوں کے سر ہو گئی کیا زلف دوتا آپ\nوہ جا کے گلے اپنے لگا لائے بلا آپ\n\nہنس ہنس کے مجھے آپ عبث کوس رہے ہیں\nرو رو کے مرے واسطے مانگیں گے دعا آپ\n\nاڑتے بھی اگر ہم تو قفس لے کے نہ اڑتے\nصیاد قفس سوئے چمن اڑ کے چلا آپ\n\nجو اٹھ نہیں سکتے تھے گئے اٹھ کے لحد میں\nبیٹھے رہیں اب گھر میں لئے عذر حنا آپ\n\nجاتے نہیں ہم مست کبھی اٹھ کے حرم سے\nآتی ہے یہاں اڑ کے مئے ہوش ربا آپ\n\nکیوں پھر گئیں کمبخت کی آنکھیں دم آخر\nرکھتے تھے بہت غیر سے امید وفا آپ\n\nآواز مری بیٹھی ہے اے حضرت زاہد\nکیوں بہر اذاں آج دباتے ہیں گلا آپ\n\nہلکا سا غلاف ایک تھا صیاد قفس پر\nتھی اور نہ کچھ روک رکی مجھ سے صبا آپ\n\nہم دل میں اتاریں گے یہ کہتی ہیں نگاہیں\nآ جائیں کسی طرح لب بام ذرا آپ\n\nقابو کا تمہارے بھی نہیں جوش جوانی\nبے چھیڑے ہوئے ٹوٹتے ہیں بند قبا آپ\n\nمحتاط ریاضؔ آپ جوانی میں بہت ہیں\nپیری میں بھی لوٹیں گے جوانی کا مزا آپ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%B8%D8%B1%D9%81_%D9%88%D8%B6%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B4%DB%92_%D9%BE%DB%8C_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب\nوہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب\n\nواں طعنہ تیر یار یہاں شکوہ زخم ریز\nباہم تھی کس مزے کی لڑائی تمام شب\n\nرنگیں ہیں خون سر سے وہ ہاتھ آج کل رہے\nجس ہاتھ میں وہ دست حنائی تمام شب\n\nتالو سے یاں زبان سحر تک نہیں لگی\nتھا کس کو شغل نغمہ سرائی تمام شب\n\nیک بار دیکھتے ہی مجھے غش جو آ گیا\nبھولے تھے وہ بھی ہوش ربائی تمام شب\n\nمر جاتے کیوں نہ صبح کے ہوتے ہی ہجر میں\nتکلیف کیسی کیسی اٹھائی تمام شب\n\nگرم جواب شکوۂ جور عدو رہا\nاس شعلہ خو نے جان جلائی تمام شب\n\nکہتا ہے مہروش تمہیں کیوں غیر گر نہیں\nدن بھر ہمیشہ وصل جدائی تمام شب\n\nدھر پاؤں آستاں پہ کہ اس آرزو میں آہ\nکی ہے کسی نے ناصیہ سائی تمام شب\n\nمومنؔ میں اپنے نالوں کے صدقے کہ کہتے ہیں\nان کو بھی آج نیند نہ آئی تمام شب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%A8"} {"title": "تھی چھوٹی اس کے مکھڑے پر کل زلف مسلسل اور طرح", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھی چھوٹی اس کے مکھڑے پر کل زلف مسلسل اور طرح\nپھر دیکھا آج تو اس گل کے تھے کاکل کے بل اور طرح\n\nوہ دیکھ جھڑکتا ہے ہم کو کر غصہ ہر دم اور ہمیں\nہے چین اسی کے ملنے سے زنہار نہیں کل اور طرح\n\nمعلوم نہیں کیا بات کہی غماز نے اس سے جو ہم سے\nتھیں پہلی باتیں اور نمط اب بولے ہے چنچل اور طرح\n\nدل مجھ سے اس کے ملنے کو کہتا ہے تو اس کے پاس مجھے\nجب لے پہنچا تھا بھیس بدل پھر اب کے لے چل اور طرح\n\nہے کتنے دنوں سے عشق نظیرؔ اس یار کا ہم کو جس کی ہیں\nصبح اور برن شام اور پھبن آج اور دوش کل اور طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DA%86%DA%BE%D9%88%D9%B9%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%84_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%85%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "تھے زیست سے اپنی ہاتھ دھوئے سجاد", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تھے زیست سے اپنی ہاتھ دھوئے سجاد\nشب کو کبھی راحت سے نہ سوئے سجاد\nجب تک جیے ہنستے نہ کسی نے دیکھا\nچالیس برس باپ کو روئے سجاد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B3%D8%AC%D8%A7%D8%AF"} {"title": "تھے نوالے موتیوں کے جن کے کھانے کے لیے", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تھے نوالے موتیوں کے جن کے کھانے کے لیے\nپھرتے ہیں محتاج وہ اک دانے دانے کے لیے\n\nشمع جلواتے ہیں غیروں سے وہ میری قبر پر\nیہ نئی صورت نکالی ہے جلانے کے لیے\n\nدیر جاتا ہوں کبھی کعبہ کبھی سوئے کنشت\nہر طرف پھرتا ہوں تیرے آستانے کے لیے\n\nہاتھ میں لے کر گلوری مجھ کو دکھلا کر کہا\nمنہ تو بنوائے کوئی اس پان کھانے کے لیے\n\nاے فلک اچھا کیا انصاف تو نے واہ واہ\nرنج میرے واسطے راحت زمانے کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%AA%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%86_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "تہذیب کے مریض کو گولی سے فائدہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "تہذیب کے مریض کو گولی سے فائدہ!\nدفعِ مَرض کے واسطے پِل پیش کیجیے\n\nتھے وہ بھی دن کہ خدمتِ استاد کے عوَض\nدل چاہتا تھا ہدیۂ دِل پیش کیجیے\n\nبدلا زمانہ ایسا کہ لڑکا پس از سبَق\nکہتا ہے ماسٹر سے کہ “بِل پیش کیجیے!”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%81%D8%B0%DB%8C%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%B6_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%D9%88%D9%84%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D8%A7%D8%A6%D8%AF%DB%81"} {"title": "تہذیبِ حاضر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "حرارت ہے بلا کی بادۂ تہذیبِ حاضر میں\nبھڑک اُٹھّا بھبُوکا بن کے مُسلم کا تنِ خاکی\n\nکِیا ذرّے کو جُگنو دے کے تابِ مُستعار اس نے\nکوئی دیکھے تو شوخی آفتابِ جلوہ فرما کی\n\nنئے انداز پائے نوجوانوں کی طبیعت نے\nیہ رعنائی، یہ بیداری، یہ آزادی، یہ بے باکی\n\nتغیّر آگیا ایسا تدبّر میں، تخیّل میں\nہنسی سمجھی گئی گُلشن میں غُنچوں کی جگر چاکی\n\nکِیا گُم تازہ پروازوں نے اپنا آشیاں لیکن\nمناظر دِلکُشا دِکھلا گئی ساحر کی چالاکی\n\nحیاتِ تازہ اپنے ساتھ لائی لذّتیں کیا کیا\nرقابت، خودفروشی، ناشکیبائی، ہوسناکی\n\nفروغِ شمعِ نَو سے بزمِ مسلم جگمگا اُٹھّی\nمگر کہتی ہے پروانوں سے میری کُہنہ اِدراکی\n\n“تو اے پروانہ! ایں گرمی ز شمع محفلے داری\nچو من در آتشِ خود سوز اگر سوزِ دلے داری”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%81%D8%B0%DB%8C%D8%A8%D9%90_%D8%AD%D8%A7%D8%B6%D8%B1"} {"title": "تہمت حسرت پرواز نہ مجھ پر باندھے", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تہمت حسرت پرواز نہ مجھ پر باندھے\nوجہ کیا کھول کے صیاد نے پھر پر باندھے\n\nباغباں گھات میں صیاد ہمیشہ موجود\nآشیاں باغ میں بلبل کہو کیوں کر باندھے\n\nجو چھری دیکھ کے قصاب کی تھراتے تھے\nشان حق ہے وہی اب پھرتے ہیں خنجر باندھے\n\nکل کیا تھا جو مرے چاک گریباں میں رفو\nاس خطا پر گئے ہیں آج رفو گر باندھے\n\nہو چکا تھا جو مرے تیز پری سے آگاہ\nچست کر کے مرے صیاد نے شہ پر باندھے\n\nشعرا کھائیں گے کیا کیا نہ ابھی تو دھوکے\nسرو باندھے کوئی اس قد کو صنوبر باندھے\n\nمعجزہ لب ترا گویا کرے اے رشک کلیم\nجو زباں سحر سے یہ چشم فسوں گر باندھے\n\nمطمئن بیٹھ تو صیاد نہ کر قید شدید\nہوں میں پابند محبت ترا بے پر باندھے\n\nباغ عالم میں اسی کے لیے ہے نشو و نما\nصورت غنچہ رہے گانٹھ میں جو زر باندھے\n\nبوسہ مانگا جو شب وصل تو بولا ہنس کر\nکہیں ایسا نہ ہو ہر روز کی تو کر باندھے\n\nدل کی بیتابی سے ٹانکے مرے سب ٹوٹ گئے\nپٹی جراح کہو زخم پہ کیوں کر باندھے\n\nلے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے\nآشیاں بام پر اس کے نہ کبوتر باندھے\n\nامتی کیا کریں الجوع نہ چلائیں اگر\nبھوک میں جبکہ نبی پیٹ پہ پتھر باندھے\n\nافترا کرنے میں طوفان ہے وہ شوخ ظریف\nتوتیا تازہ کوئی اور نہ مجھ پر باندھے\n\nمجھ سا محرم ترے محرم کا نہ ہوگا کوئی\nبیشتر کھول دیے بند اور اکثر باندھے\n\nدست صنعت سے بنے اس کے اگر تجھ سا بت\nکیوں ہوا اپنی خدائی کی نہ آذر باندھے\n\nشاعری کے لئے لازم ہے تلازم نہ چھٹے\nلعل لب کو ترے تو دانتوں کو گوہر باندھے\n\nپائے رفتار اگر ہوتے تو چلتا پھرتا\nرندؔ مردا سا پڑا رہتا نہ یوں سر باندھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%81%D9%85%D8%AA_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%92"} {"title": "تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے\nجس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے\n\nزندگی ہے یا کوئی طوفان ہے\nہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے\n\nکیا ہمیں کام ان گلوں سے اے صبا\nایک دم آئے ادھر اودھر چلے\n\nدوستو دیکھا تماشا یاں کا سب\nتم رہو خوش ہم تو اپنے گھر چلے\n\nآہ بس مت جی جلا تب جانیے\nجب کوئی افسوں ترا اس پر چلے\n\nایک میں دل ریش ہوں ویسا ہی دوست\nزخم کتنوں کے سنا ہے بھر چلے\n\nشمع کے مانند ہم اس بزم میں\nچشم تر آئے تھے دامن تر چلے\n\nڈھونڈھتے ہیں آپ سے اس کو پرے\nشیخ صاحب چھوڑ گھر ،باہر چلے\n\nہم نہ جانے پائے باہر آپ سے\nوہ ہی آڑے آ گیا جیدھر چلے\n\nہم جہاں میں آئے تھے تنہا ولے\nساتھ اپنے اب اسے لے کر چلے\n\nجوں شرر اے ہستیٔ بے بود یاں\nبارے ہم بھی اپنی باری بھر چلے\n\nساقیا یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ\nجب تلک بس چل سکے ساغر چلے\n\nدردؔ کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب\nکس طرف سے آئے تھے کیدھر چلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%81%D9%85%D8%AA_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B0%D9%85%DB%92_%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "تہِ دام بھی غزل آشنا رہے طائرانِ چمن تو کیا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "تہِ دام بھی غزل آشنا رہے طائرانِ چمن تو کیا\nجو فغاں دلوں میں تڑپ رہی تھی، نوائے زیرِ لبی رہی\n\nترا جلوہ کچھ بھی تسلّیِ دلِ ناصبور نہ کر سکا\nوہی گریۂ سحَری رہا، وہی آہِ نیم شبی رہی\n\nنہ خدا رہا نہ صنَم رہے، نہ رقیبِ دَیر و حرم رہے\nنہ رہی کہیں اسَدُ اللّہی، نہ کہیں ابولہَبی رہی\n\nمرا ساز اگرچہ ستم رسیدۂ زخمہ ہائے عجم رہا\nوہ شہیدِ ذوقِ وفا ہوں مَیں کہ نوا مری عَربی رہی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%81%D9%90_%D8%AF%D8%A7%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%BA%D8%B2%D9%84_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D8%B1%D8%A7%D9%86%D9%90_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تہہ و بالا جہاں کو کر رکھا ہے اپنی اودھم سے", "poet_page": "مصنف:رنجور عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "تہہ و بالا جہاں کو کر رکھا ہے اپنی اودھم سے\nسوا اس کے کہیں ہم کیا خدا ہی سمجھے ویلیم سے\n\nبہار جرمنی اب کوئی دم میں ہوتی ہے آخر\nنہیں یہ وار اس کے حق میں کم ونڈ آف آٹم سے\n\nجو مارے جانے سے بچ بھی گئے اس جنگ یورپ میں\nوہ بے شک بہرے ہو جائیں گے توپوں کی دھما دھم سے\n\nہوئیں تعلیم پا کر بیبیاں اب لیڈیاں خاصی\nبدل ڈالیں نہ بیگم کو کیوں وہ میڈم سے\n\nہوئیں آزاد قید شرع سے تعلیم کے صدقے\nپکڑ کر دست نامحرم نہ کیوں اتریں وہ ٹمٹم سے\n\nپڑے یارب کسی دیو جفا جو سے اسے پالا\nاڑایا جس نے فوٹو اس پری کا میرے البم سے\n\nمیں جنٹلمین ہوں معشوقہ بھی مس مل ہو یا مس ہل\nغرض ہے زہرہ خانم سے نہ کام اقبال بیگم سے\n\nرہا ان کے سروں میں گر یہی سودا رقابت کا\nہلاک اک دن نہ کر ڈالیں کہیں اعدا مجھے بم سے\n\nاکیلا میں سب اعدا کی خبر لینے کو کافی ہوں\nمیں کیوں ڈرنے لگا اے یار ان کے الٹی میٹم سے\n\nبیاض اپنی نہیں پڑھ سکتے گو ضعف بصارت سے\nسناتے ہیں غزل ہم حافظے کی میمورنڈم سے\n\nجو میجر جائزہ لینے کو پہنچا اپنے لشکر میں\nہوئے کان اس کے بہرے ہر طرف کے شور ولکم سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%81%DB%81_%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%AF%DA%BE%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "تیر جو اس کمان سے نکلا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیر جو اس کمان سے نکلا\nجگر مرغ جان سے نکلا\n\nنکلی تھی تیغ بے دریغ اس کی\nمیں ہی اک امتحان سے نکلا\n\nگو کٹے سر کہ سوز دل جوں شمع\nاب تو میری زبان سے نکلا\n\nآگے اے نالہ ہے خدا کا ناؤں\nبس تو نہ آسمان سے نکلا\n\nچشم و دل سے جو نکلا ہجراں میں\nنہ کبھو بحر و کان سے نکلا\n\nمر گیا جو اسیر قید حیات\nتنگنائے جہان سے نکلا\n\nدل سے مت جا کہ حیف اس کا وقت\nجو کوئی اس مکان سے نکلا\n\nاس کی شیریں لبی کی حسرت میں\nشہد پانی ہو شان سے نکلا\n\nنا مرادی کی رسم میرؔ سے ہے\nطور یہ اس جوان سے نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "تیر قاتل کا یہ احساں رہ گیا", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیر قاتل کا یہ احساں رہ گیا\nجائے دل سینہ میں پیکاں رہ گیا\n\nکی ذرا دست جنوں نے کوتہی\nچاک آ کر تا بہ داماں رہ گیا\n\nدو قدم چل کر ترے وحشی کے ساتھ\nجادۂ راہ بیاباں رہ گیا\n\nقتل ہو کر بھی سبکدوشی کہاں\nتیغ کا گردن پہ احساں رہ گیا\n\nہم تو پہنچے بزم جاناں تک مگر\nشکوۂ بیداد درباں رہ گیا\n\nکیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے\nہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا\n\nدوسروں پر کیا کھلے راز دہن\nجبکہ خود صانع سے پنہاں رہ گیا\n\nجذبۂ دل کا ذرا دیکھو اثر\nتیر نکلا بھی تو پیکاں رہ گیا\n\nجامۂ ہستی بھی اب تن پر نہیں\nدیکھ وحشی تیرا عریاں رہ گیا\n\nضعف مرنے بھی نہیں دیتا مجھے\nمیں اجل سے بھی تو پنہاں رہ گیا\n\nاے جنوں تجھ سے سمجھ لوں گا اگر\nایک بھی تار گریباں رہ گیا\n\nحسن چمکا یار کا اب آفتاب\nاک چراغ زیر داماں رہ گیا\n\nلوگ پہنچے منزل مقصود تک\nمیں جرس کی طرح نالاں رہ گیا\n\nیاد رکھنا دوستو اس بزم میں\nآ کے شبلیؔ بھی غزل خواں رہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تیر مژگاں کو تو پیکان قضا کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:نشتر چھپروی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نشتر (1930)", "year": "1930", "text_ur": "تیر مژگاں کو تو پیکان قضا کہتے ہیں\nپر نگاہ غلط انداز کو کیا کہتے ہیں\n\nسامنے میرے تو دشمن کو برا کہتے ہیں\nدشمنوں میں مجھے کیا جانے وہ کیا کہتے ہیں\n\nجب کہا میں نے مجھے آپ برا کہتے ہیں\nکس ڈھٹائی سے ستم گر نے کہا کہتے ہیں\n\nچاہنے والوں کو اپنے جو برا کہتے ہیں\nسوچتے بھی ہیں کبھی آپ کہ کیا کہتے ہیں\n\nبے وفائی کا تری خلق گلہ کرتی ہے\nاور ہم ہیں کہ تجھے جان وفا کہتے ہیں\n\nلب ہلانا بھی تو اب مجھ کو ہوا ہے مشکل\nمیری ہر بات کو دشمن کا گلہ کہتے ہیں\n\nمسکرا کر مجھے دیکھا کہ مری جان گئی\nناز کہتے ہیں اسے اس کو ادا کہتے ہیں\n\nغیر جو چاہیں کہیں مجھ کو مگر یاد رہے\nخوبرو ہیں وہ جو اوروں کو برا کہتے ہیں\n\nزندگی ہے وہ حقیقت میں جو کہلاتی ہے موت\nہے وہی عین بقا جس کو فنا کہتے ہیں\n\nغیر کہتا ہے برا مجھ کو تو کہنے دیجے\nہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں\n\nہم جو کہتے ہیں وہ بے جا ہے سراسر ہے غلط\nاور اغیار جو کہتے ہیں بجا کہتے ہیں\n\nکیا ستم ہے نہیں سنتے وہ فسانہ میرا\nکہتے ہیں لوگ اسے ہوش ربا کہتے ہیں\n\nگھر رقیبوں کے ضرور آپ گئے تھے چھپ کر\nمجھ سے یہ آپ کے نقش کف پا کہتے ہیں\n\nآہ کو میری سمجھتے ہیں نسیم گلشن\nاور نالوں کو وہ اندوہ ربا کہتے ہیں\n\nمجھ سے کیا پوچھتے ہو کیا تمہیں معلوم نہیں\nکیوں مجھے کشتۂ انداز و ادا کہتے ہیں\n\nآپ تو جور کے موجد ہیں جفا کے بانی\nآپ کیا جانیں کہ کس شے کو وفا کہتے ہیں\n\nہے جنوں ان کو یہ آشفتہ سری ہے ان کی\nگیسوئے یار کو جو شام بلا کہتے ہیں\n\nہے سمجھ کا یہ تری پھیر بتوں کو زاہد\nکب خدا کہتے ہیں ہم شان خدا کہتے ہیں\n\nسنتے ہی نیند نہ آ جائے تو میرا ذمہ\nمیرے افسانے کو اندوہ ربا کہتے ہیں\n\nسر اڑا دیتے ہیں وہ تیغ جفا سے نشترؔ\nپیار سے ہم جو انہیں جان وفا کہتے ہیں", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D9%86_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تیر نظر سے چھد کے دل افگار ہی رہا", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیر نظر سے چھد کے دل افگار ہی رہا\nناسور اس میں صورت سوفار ہی رہا\n\nدنیا سے ہے نرالی عدالت حسینوں کی\nفریاد جس نے کی وہ گنہ گار ہی رہا\n\nسودائیوں کی بھیڑ کوئی دم نہ کم ہوئی\nہر وقت گھر میں یار کے بازار ہی رہا\n\nنرگس جو اس مسیح کی نظروں سے گر گئی\nاچھے نہ پھر ہوئے اسے آزار ہی رہا\n\nگل زار میں ہمیشہ کیے ہم نے چہچہے\nصیاد و باغباں کو صدا خار ہی رہا\n\nآئی نہ دیکھنے میں بھی تصویر یار کی\nآئینہ درمیان میں دیوار ہی رہا\n\nسرمے سے طور کے بھی نہ کچھ فائدہ ہوا\nآنکھوں کو انتظار کا آزار ہی رہا\n\nمجنوں نے میرا داغ جگر سر پہ رکھ لیا\nیہ گل وہ ہے جو طرۂ دستار ہی رہا\n\nکچھ بھی نہ مفسدوں کی دراندازیاں چلیں\nاک انس مجھ سے ان سے جو تھا پیار ہی رہا\n\nبولے وہ میری قبر جھروکے سے جھانک کر\nیہ شخص مر کے بھی پس دیوار ہی رہا\n\nممکن نہ پھر ہوئی قفس گور سے نجات\nجو اس میں پھنس گیا وہ گرفتار ہی رہا\n\nعالم میں حسن و عشق کا افسانہ رہ گیا\nیوسف ہی رہ گئے نہ خریدار ہی رہا\n\nصیاد کو کبھی نہ مصیبت نے دی نجات\nبلبل کے صبر میں یہ گرفتار ہی رہا\n\nکیا جانے اس غریب کو کس کی نظر ہوئی\nان انکھڑیوں کا شیفتہ بیمار ہی رہا\n\nتو رہ گیا فقط ترے سودائی رہ گئے\nیوسف رہے نہ مصر کا بازار ہی رہا\n\nراحت کسی حسیں سے بھی پائی نہ اے شرفؔ\nچاہا جسے وہ درپئے آزار ہی رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%86%DA%BE%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%81%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیا", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیا\nترکیب دل نے درد کو درماں بنا دیا\n\nصد شکر آج ہو گئی تکمیل عشق کی\nاپنے کو خاک کوچۂ جاناں بنا دیا\n\nکوتاہی کوئی دست جنوں سے نہیں ہوئی\nدامن کو ہم کنار گریباں بنا دیا\n\nچھوڑی ہے جب سے میں نے سلامت روی کی چال\nدشواریوں کو راہ کی آساں بنا دیا\n\nاے مشعل امید یہ احسان کم نہیں\nتاریک شب کو تو نے درخشاں بنا دیا\n\nحسن آفریں ہوا ہے تصور جمال کا\nدل کو ہوائے گل نے گلستاں بنا دیا\n\nزہد اور اتقا پہ مجھے اپنے ناز تھا\nخود میں نے تجھ کو دشمن ایماں بنا دیا\n\nآئینۂ جمال کو دیکھوں گا کس طرح\nاس نے تو پہلے ہی مجھے حیراں بنا دیا\n\nوہ امتیاز حسن ہے معنی و لفظ کا\nوحشتؔ کو جس نے غالبؔ دوراں بنا دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%B8%D9%84%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے\nسینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے\n\nخوف میزان قیامت نہیں مجھ کو اے دوست\nتو اگر ہے مرے پلے میں تو ڈر کس کا ہے\n\nکوئی آتا ہے عدم سے تو کوئی جاتا ہے\nسخت دونوں میں خدا جانے سفر کس کا ہے\n\nچھپ رہا ہے قفس تن میں جو ہر طائر دل\nآنکھ کھولے ہوئے شاہین نظر کس کا ہے\n\nنام شاعر نہ سہی شعر کا مضمون ہو خوب\nپھل سے مطلب ہمیں کیا کام شجر کس کا ہے\n\nصید کرنے سے جو ہے طائر دل کے منکر\nاے کماندار ترے تیر میں پر کس کا ہے\n\nمیری حیرت کا شب وصل یہ باعث ہے امیرؔ\nسر بہ زانو ہوں کہ زانو پہ یہ سر کس کا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A4_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تیر پر تیر لگے تو بھی نہ پیکاں نکلے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیر پر تیر لگے تو بھی نہ پیکاں نکلے\nیا رب اس گھر میں جو آوے نہ وہ مہماں نکلے\n\nنیک و بد میں جو نہیں جنگ عدم میں تو بھلا\nکیوں گل و خار بہم دست و گریباں نکلے\n\nدست چالاک جنوں سینہ کو بھی کر دے چاک\nتا کہیں پہلو سے میرے دل نالاں نکلے\n\nکون سی رات وہ ہووے کہ جو آوے شب وصل\nکون سا روز وہ ہو جو شب ہجراں نکلے\n\nگلشن دل میں بھی تھی اپنی کچھ الٹی تاثیر\nتخم امید جو بوئے گل حرماں نکلے\n\nکر نظر رخ کو ترے کفر سے نکلے کافر\nزلف کو دیکھ تری دیں سے مسلماں نکلے\n\nجتنا کہتے ہیں نکلتا ہے حسنؔ گھر سے ترے\nغصے ہو ہو یہی کہتا ہے ابھی ہاں نکلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D9%84%DA%AF%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%8C%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "تیر پہلو میں نہیں اے رفقائے پرواز", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیر پہلو میں نہیں اے رفقائے پرواز\nطائر جان کے یہ پر ہیں برائے پرواز\n\nیوں تو پر بند ہوں پر یار پروں پر میرے\nجو گرہ تیری ہے سو عقدہ کشائے پرواز\n\nایک پرواز کی طاقت نہیں اس جا سے مجھے\nاور جو حکم ہو صیاد سوائے پرواز\n\nدیکھیو نامہ نہ لایا ہو کبوتر اس کا\nکچھ مرے کان میں آتی ہے صدائے پرواز\n\nبے پر و بالی پہ غش ہوں کہ یہ ہر دم ہے رفیق\nتھی پر و بال ہی تک ہم سے وفائے پرواز\n\nاپنے نزدیک تو اس دام میں پھنس کر صیاد\nکسی کمبخت کو ہووے گا ہوائے پرواز\n\nتو بھی اس تک ہے رسائی مجھے احساںؔ دشوار\nدام لوں گر پر جبریل برائے پرواز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%B1%D9%81%D9%82%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2"} {"title": "تیرا اے دل یہ غم فرو بھی ہوگا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تیرا اے دل یہ غم فرو بھی ہوگا\nاندیشۂ رزق کم کبھو بھی ہوگا\nکھانے کو دیا ہے آج حق نے تجھ کو\nکل بھی دیوے گا کل جو تو بھی ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DB%8C%DB%81_%D8%BA%D9%85_%D9%81%D8%B1%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارا\nبوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا\n\nگر ہے یہ بے قراری تو رہ چکا بغل میں\nدو روز دل ہمارا مہمان ہے ہمارا\n\nہیں اس خراب دل سے مشہور شہر خوباں\nاس ساری بستی میں گھر ویران ہے ہمارا\n\nمشکل بہت ہے ہم سا پھر کوئی ہاتھ آنا\nیوں مارنا تو پیارے آسان ہے ہمارا\n\nادریس و خضر و عیسیٰ قاتل سے ہم چھڑائے\nان خوں گرفتگاں پر احسان ہے ہمارا\n\nہم وے ہیں سن رکھو تم مر جائیں رک کے یکجا\nکیا کوچہ کوچہ پھرنا عنوان ہے ہمارا\n\nہیں صید گہ کے میری صیاد کیا نہ دھڑکے\nکہتے ہیں صید جو ہے بے جان ہے ہمارا\n\nکرتے ہیں باتیں کس کس ہنگامے کی یہ زاہد\nدیوان حشر گویا دیوان ہے ہمارا\n\nخورشید رو کا پرتو آنکھوں میں روز ہے گا\nیعنی کہ شرق رویہ دالان ہے ہمارا\n\nماہیت دو عالم کھاتی پھرے ہے غوطے\nیک قطرہ خون یہ دل طوفان ہے ہمارا\n\nنالے میں اپنے ہر شب آتے ہیں ہم بھی پنہاں\nغافل تری گلی میں مندان ہے ہمارا\n\nکیا خانداں کا اپنے تجھ سے کہیں تقدس\nروح القدس اک ادنیٰ دربان ہے ہمارا\n\nکرتا ہے کام وہ دل جو عقل میں نہ آوے\nگھر کا مشیر کتنا نادان ہے ہمارا\n\nجی جا نہ آہ ظالم تیرا ہی تو ہے سب کچھ\nکس منہ سے پھر کہیں جی قربان ہے ہمارا\n\nبنجر زمین دل کی ہے میرؔ ملک اپنی\nپر داغ سینہ مہر فرمان ہے ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%B1%D8%AE_%D9%85%D8%AE%D8%B7%D8%B7_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "تیرا ستم جو مجھ سے گدا نے سہا سہا", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرا ستم جو مجھ سے گدا نے سہا سہا\nتو بادشہ ہے جو مجھے تو نے کہا کہا\n\nدامن تیرے سے لگ لوں اگر دے رضا مجھے\nیہ ناتواں غبار اگر یاں رہا رہا\n\nرکھ آستیں شتاب مری چشم تر پہ جاں\nورنہ پھرے ہے سیل میں عالم بہا بہا\n\nنکلے ہے لالہ خاک کے نیچے سے سرخ سرخ\nرنگیں ہوا شہیدوں کے خوں میں نہا نہا\n\nاب جی کے ڈر سے اس کو بیاںؔ تو نہ چھوڑیو\nہیں مرد وے کہ بانھ کو جس کی گہا گہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%81%D8%A7_%D8%B3%DB%81%D8%A7"} {"title": "تیرا نگاہ شوق کوئی راز داں نہ تھا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرا نگاہ شوق کوئی راز داں نہ تھا\nآنکھوں کو ورنہ جلوۂ جاناں کہاں نہ تھا\n\nعالم جز اعتبار نہاں و عیاں نہ تھا\nیعنی کہ تو عیاں نہ ہوا اور نہاں نہ تھا\n\nاب تک تری گلی میں یہ رسوائیاں نہ تھیں\nاب تک تو اس زمیں پہ کوئی آسماں نہ تھا\n\nکیا دن تھے جب مآل وفا کی خبر نہ تھی\nوہ دن بھی تھے کہ حال وفا داستاں نہ تھا\n\nتلقین صبر دل سے تو کوئی دشمنی نہ تھی\nدیکھا یہ حال قابل شرح و بیاں نہ تھا\n\nمفہوم کائنات تمہارے سوا نہیں\nتم چھپ گئے نظر سے تو سارا جہاں نہ تھا\n\nہر شاخ ہر شجر سے نہ تھا بجلیوں کو لاگ\nہر شاخ ہر شجر پہ مرا آشیاں نہ تھا\n\nآغوش موت میں تہ دامان یار ہوں\nوہ دن گئے کہ مجھ پہ کوئی مہرباں نہ تھا\n\nآزردہ تھا کہ ضبط فغاں میں اثر نہیں\nشرمندہ ہوں کہ ضبط فغاں رائیگاں نہ تھا\n\nہو بھی چکے تھے دام محبت میں ہم اسیر\nعالم ابھی بقید زمان و مکاں نہ تھا\n\nاللہ رے بے نیازئ آداب التفات\nدیکھا مجھے تو پائے نظر درمیاں نہ تھا\n\nمیرے دل غیور کا حسن طلب تو دیکھ\nگویا زباں پہ حرف تمنا گراں نہ تھا\n\nتو نے کرم کیا تو بہ عنوان رنج زیست\nغم بھی مجھے دیا تو غم جاوداں نہ تھا\n\nفانیؔ فسون موت کی تاثیر دیکھنا\nٹھہرا وہ دل کہ جس پہ سکوں کا گماں نہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%B4%D9%88%D9%82_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "تیرگی نام ہے دل والوں کے اٹھ جانے کا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرگی نام ہے دل والوں کے اٹھ جانے کا\nجس کو شب کہتے ہیں مقتل ہے وہ پروانے کا\n\nچل بیاباں کی طرف جی نہیں گھبرانے کا\nروح مجنوں سے گھر آباد ہے ویرانے کا\n\nدیدۂ دوست تری چشم نمائی کی قسم\nمیں تو سمجھا تھا کہ در کھل گیا میخانے کا\n\nدم آخر کی ملاقات میں کیا تم سے کہوں\nوقت ہی تنگ بہت ہجر کے افسانے کا\n\nدامن شمع پہ دھبا نہ رہا واہ رے عشق\nخون اب تک نظر آیا نہیں پروانے کا\n\nتنگ ہے صحن جہاں ساتھ نہ لے بار عمل\nراستہ ملتا ہے مشکل سے گزر جانے کا\n\nگل و آہو چمن‌ و دشت میں کہہ جاتے ہیں کچھ\nکہیں موقع نہیں اے دل ترے بہلانے کا\n\nروکے جاتے ہیں رہ‌ دوست کے چلنے والے\nوہی دشمن ہے جو ہمدرد ہے دیوانے کا\n\nقبر والے موے ممنون زیارت لیکن\nنام بدنام کیا آپ نے ویرانے کا\n\nہجر نے کون سا پیوند لگا رکھا تھا\nراستہ مل گیا خنجر کو گزر جانے کا\n\nتو شب غم کو نہ سمجھا ہو تو میں سمجھا دوں\nوہی میدان شہادت ترے پروانے کا\n\nقصۂ باغ ہے اور میری مسرت کی امید\nڈھنگ آتا نہیں صیاد کو بہلانے کا\n\nبزم رنگیں میں تری ذکر غم آیا تو سہی\nخوش رہے چھیڑنے والا مرے افسانے کا\n\nآشیاں آبلۂ باغ ہے اے سوختہ دل\nاک نشاں چھوڑ چلا ہوں ترے جل جانے کا\n\nعبرت عقل ہے وارفتگی اہل مذاق\nہوش والوں میں ہے چرچا ترے دیوانے کا\n\nحسب فرمائش گردش ہیں غریبوں کے مزار\nآسماں دوست ہے منظر مرے ویرانے کا\n\nحصۂ بخت کا مانع ہے یہی دور فلک\nبڑھ گیا گھوم کے رستہ مرے پیمانے کا\n\nہو گیا غرق سر شعلۂ شمع محفل\nخون اونچا ہوا اتنا کسی پروانے کا\n\nنزع کے وقت جو کہتا ہوں وہ سمجھے کہ نہیں\nباب اول تو یہیں ختم ہے افسانے کا\n\nلے پریشانئ دل اب ہے تری عمر دراز\nوقت کھنچنے لگا زلفوں کے سنور جانے کا\n\nچوٹ کھانے سے دبی آگ ابھر آئی ہے\nرنگ بدلا ہے مرے دل نے صنم خانے کا\n\nداغ دل قبر کی ظلمت میں ہے بے نور ایسا\nجیسے دیکھا ہو چراغ آپ نے ویرانے کا\n\nحسن اور عشق کے نیرنگ خدا ہی جانے\nشمع جلتی ہے کہ دل جلتا ہے پروانے کا\n\nدیکھ خون سر فرہاد کا رنگیں پتھر\nیہ نگینہ ہے بنایا ہوا دیوانے کا\n\nنزع اک عید ہے روتے ہوئے وہ آئے ہیں\nاے دل زار یہی وقت ہے مر جانے کا\n\nاہل دل جاگتے سوتے میں سنا کرتے ہیں\nوقت کوئی نہیں ثاقبؔ مرے افسانے کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DA%AF%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "تیرہ بختوں کو کرے ہے نالۂ غمگیں خراب (I)", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرہ بختوں کو کرے ہے نالۂ غمگیں خراب\nجس طرح ہو جا صبا سے کاکل مشکیں خراب\n\nجوں نسیم صبح غنچے گل کے سب برباد دے\nسرد مہری سے بتوں کی ہیں دل رنگیں خراب\n\nبے دماغی مت کر اے ظالم کہ جوں موج اور حباب\nدل مرا کر دے ہے پل میں ابروئے پر چیں خراب\n\nجوں جلے ہے شمع کا مشت زر اور تسبیح اشک\nجس طرح سرکش کا ہے دنیا خراب اور دیں خراب\n\nتھا بنا عزلتؔ وہ جب فولاد دل پرویز سے\nتب تو تیشے نے کیا یوں خانۂ شیریں خراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%81_%D8%A8%D8%AE%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%BA%D9%85%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%28I%29"} {"title": "تیرہ بختوں کو کرے ہے نالۂ غمگیں خراب (II)", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرہ بختوں کو کرے ہے نالۂ غمگیں خراب\nجس طرح ہو جا صبا سے کاکل مشکیں خراب\n\nجوں نسیم صبح غنچے گل کے سب برباد ہیں\nسرد مہری سے بتوں کی ہیں دل رنگیں خراب\n\nبے دماغی مت کر اے ظالم کہ جوں موج و حباب\nدل مرا کر دے ہے پل میں ابرو پر چیں خراب\n\nجوں جلے ہے شمع کا مشت زر اور تسبیح اشک\nجس طرح سرکش کا ہے دنیا خراب اور دیں خراب\n\nتھا بنا عزلتؔ وہ فولاد دل پرویز سے\nتب تو تیشے نے کیا یوں خانۂ شیریں خراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%81_%D8%A8%D8%AE%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%BA%D9%85%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%28II%29"} {"title": "تیرہ رنگوں کے ہوا حق میں یہ تپ کرنا دوا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرہ رنگوں کے ہوا حق میں یہ تپ کرنا دوا\nتیرگی جاتی رہی چہرے کی اور اپچی صفا\n\nکیا سبب تیرے بدن کے گرم ہونے کا سجن\nعاشقوں میں کون جلتا تھا گلے کس کے لگا\n\nتو گلے کس کے لگے لیکن کنھی بے رحم نے\nگرم دیکھا ہوئے گا تیرے تئیں انکھیاں ملا\n\nبو الہوس ناپاک کی ازبسکہ بھاری ہے نظر\nپردۂ عصمت میں تو اپنے تئیں اس سیں چھپا\n\nاشک گرم و آہ سرد عاشق کے تئیں وسواس کر\nخوب ہے پرہیز جب ہو مختلف آب و ہوا\n\nگرم خوئی سیں پشیماں ہو کے ٹک لاؤ عرق\nتپ کی حالت میں پسینا آؤنا ہو ہے بھلا\n\nدل مرا تعویذ کے جوں لے کے اپنے پاس رکھ\nتو طفیل حضرت عاشق کے ہو تجھ کوں شفا\n\nترش گوئی چھوڑ دے اور تلخ گوئی ترک کر\nاور کھانا جو کہ ہو خوش کا تری سو کر غذا\n\nبو علیؔ ہے نبض دانی میں بتاں کی آبروؔ\nاس کا اس فن میں جو نسخہ ہے سو ہے اک کیمیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%81_%D8%B1%D9%86%DA%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AD%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D9%BE_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%A7"} {"title": "تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبت", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبت\nنگہ کی گردشوں کو دور پیمانے سے کیا نسبت\n\nیہ جیوے ہجر میں وہ وصل میں بھی جی نہیں سکتا\nتکلف بر طرف بلبل کو پروانے سے کیا نسبت\n\nیہ وہ موتی ہیں جن کی سیپیاں آنکھیں ہیں عاشق کی\nمرے آنسو کو مروارید کے دانے سے کیا نسبت\n\nارے دل مت توقع دلبروں سے رکھ ترحم کی\nلہو پیتے ہیں جو شخص ان کو غم کھانے سے کیا نسبت\n\nگل اس کا داغ ہے اور سرو اس کا آہ موزوں ہے\nیقیںؔ سے نوحہ گر کو باغ میں جانے سے کیا نسبت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D9%81%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%B3%D8%A8%D8%AA"} {"title": "تیری آنکھیں بڑی سی پیاری ہیں", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری آنکھیں بڑی سی پیاری ہیں\nان کے پھر دیکھنے کی واری ہیں\n\nگالیاں تیں جو دے گیا تھا مجھے\nمجھ کو اب تک وہ یادگاری ہیں\n\nآتش عشق میں جو جل نہ مریں\nعشق کے فن میں وہ اناری ہیں\n\nرات جاگا ہے پی شراب کہیں\nتیری آنکھیں نپٹ خماری ہیں\n\nتم سے کہتا ہے جان سچ تاباںؔ\nجھوٹی باتیں سبھی تمہاری ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%91%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تیری ابرو پہ صنم کیا ہی یہ خال اچھا ہے", "poet_page": "مصنف:احمد شاہ خاں شبنم", "kind": "poetry", "section": "غزل > گلدستۂ لطافت (1936)", "year": "1936", "text_ur": "تیری ابرو پہ صنم کیا ہی یہ خال اچھا ہے\nایسے کعبہ کے لئے یہ ہی بلال اچھا ہے\n\nدل مرا دیکھ کے منہ پھیر کے نفرت سے کہا\nیہ تو کچھ بھی نہیں سنتے تھے کہ مال اچھا ہے\n\nغیر کے ساتھ وہ آتے ہیں عیادت کے لئے\nان سے کہہ دے کوئی جا کر مرا حال اچھا ہے\n\nآج اس بت کو دکھا لائے تجھے اے واعظ\nاب نہ کہنا کبھی حوروں کا جمال اچھا ہے\n\nجام جم چاہئے شبنمؔ کو نہ اے پیر مغاں\nجلد دے بھر کے یہی جام سفال اچھا ہے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D9%BE%DB%81_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D9%84_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تیری الفت شعبدہ پرواز ہے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری الفت شعبدہ پرواز ہے\nآرزو گر ہے تمنا ساز ہے\n\nپھر حدیث عشق کا آغاز ہے\nآج پھر گویا زبان راز ہے\n\nگنج اسرار ازل ہے باغ دہر\nپتا پتا دفتر صد راز ہے\n\nجان دے دی ان پہ اور زندہ رہے\nاپنے مرنے کا نیا انداز ہے\n\nہوشیار اے ناوک افگن ہوشیار\nطائر جاں مائل پرواز ہے\n\nرخصت اے عقل و خرد ہوش و حواس\nشوق وصل یار کا آغاز ہے\n\nمیرے نالے سن کے فرماتے ہیں وہ\nیہ اسی کی دکھ بھری آواز ہے\n\nجس کو سب سمجھے ہیں دشت کربلا\nوہ تو میدان نیاز و ناز ہے\n\nذرے ذرے میں عیاں ہونے کے بعد\nآج تک راز حقیقت راز ہے\n\nآپ جانچیں مجمع عشاق میں\nان میں بیدمؔ سا کوئی جاں باز ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D8%AF%DB%81_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92"} {"title": "تیری انکھیاں کے تصور میں سدا مستانہ ہوں", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری انکھیاں کے تصور میں سدا مستانہ ہوں\nدیکھ کر زنجیر تیرے زلف کی دیوانہ ہوں\n\nگاہ سیر بوستاں کرتا ہوں گاہے سیر بزم\nگاہ تیرے عشق میں بلبل ہوں گہہ پروانہ ہوں\n\nگاہ مثل برہمن ہوں اے صنم زنار بند\nہات میں زاہد کے گاہے سبحۂ صد دانہ ہوں\n\nکیا ہوا گر ہے دل صد چاک میرا تیرہ بخت\nحسن کی زینت ہوں تیرے سرمہ ہوں گر شانہ ہوں\n\nجب سوں ہے اس آشنا کی آشنائی کا خیال\nنیں رہا ہوں آپ میں، میں آپ سوں بیگانہ ہوں\n\nگوش رکھ میرا سخن سنتا ہے ہر اہل سخن\nجب سوں میں بحر سخن کی سیپ کا دردانہ ہوں\n\nہے ازل سوں جلوہ پیرا دل میں حب مرتضیٰ\nاس سبب داؤدؔ دائم دشمن بت خانہ ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%AF%D8%A7_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "تیری بھنووں کی تیغ کے جو روبرو ہوا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری بھنووں کی تیغ کے جو روبرو ہوا\nسب عاشقوں کی صف میں وو ہی سرخ رو ہوا\n\nتجھ زلف کے خیال سیں کیوں کر نکل سکوں\nہر پیچ و خم نمونۂ طوق گلو ہوا\n\nتیرے نگہ کا تیر ہے از بس کہ موشگاف\nممنوں ہر ایک زخم سیں میں ہو بہ ہو ہوا\n\nرشتے سیں موج گل کی ہوائے بہار میں\nسب بلبلوں کا چاک گریباں رفو ہوا\n\nسورج کا رنگ چاند سری کا ہوا سفید\nجس صبح کوں سوار وو خورشید رو ہوا\n\nجس کی زباں میں عشق کے افسوں کا ہے اثر\nہر حرف اس کا موج پری ہو بہ ہو ہوا\n\nبرجا ہے گر کہوں میں اسے شیشہ آتشی\nچشم سراجؔ آئینۂ شعلہ رو ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D9%86%D9%88%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "تیری جو یاد اے دل خواہ بھولا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری جو یاد اے دل خواہ بھولا\nباللہ بھولا واللہ بھولا\n\nفرقت کی شب میں جاں سوز دل نے\nاف اف کیا جو آہ آہ بھولا\n\nکج رکھ نہ پا کو جا دل سے غافل\nپھیر اس نے کھایا جو راہ بھولا\n\nزنار ڈالا تسبیح پھیکی\nعشق صنم میں اللہ بھولا\n\nخور نے گرایا اس کو نظر سے\nجو ذرہ تیری درگاہ بھولا\n\nزلف رسا کو سمجھا جو افعی\nچوکا وہ قصر کوتاہ بھولا\n\nدیکھے سے تیرا روئے منور\nہم مہر بھولا ہم ماہ بھولا\n\nمحروم رکھا ساقی نے ہم کو\nاپنے گدا کو جم جاہ بھولا\n\nبت خانہ چھوڑا باز آئے بت سے\nوہ شہر بھولا وہ شاہ بھولا\n\nشرط وفا کی کس بے وفا سے\nآتشؔ سا عارف آگاہ بھولا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%A7"} {"title": "تیری رنگت بہار سے نکلی", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری رنگت بہار سے نکلی\nپھوٹ کر لالہ زار سے نکلی\n\nدل جو دھویا تو تو نظر آیا\nکیا ہی صورت غبار سے نکلی\n\nچھیڑ کر آزما لیا ہم نے\nتیری آواز تار سے نکلی\n\nروح میری ترے تجسس میں\nجسم نا پائیدار سے نکلی\n\nمفت برباد ہے مری حسرت\nکیوں دل بے قرار سے نکلی\n\nبہر تعظیم حشر برپا ہے\nکس کی میت مزار سے نکلی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D9%86%DA%AF%D8%AA_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%8C"} {"title": "تیری زباں سے خستہ کوئی زار ہے کوئی", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری زباں سے خستہ کوئی زار ہے کوئی\nپیارے یہ نحو و صرف یہ گفتار ہے کوئی\n\nٹھوکر میں ہر قدم کی تڑپتے ہیں دل کئی\nظالم ادھر تو دیکھ یہ رفتار ہے کوئی\n\nجوں شاخ گل ہے فکر میں میری شکست کی\nمیرا گر اس چمن میں ہوا دار ہے کوئی\n\nظالم خبر تو لے کہیں قائمؔ ہی یہ نہ ہو\nنالان و مضطرب پس دیوار ہے کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%B3%D8%AA%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "تیری زلف میں دل پھنسا چاہتا ہے", "poet_page": "مصنف:سید ہمایوں میرزا حقیر", "kind": "poetry", "section": "غزل > چمنستان فصاحت (1940)", "year": "1940", "text_ur": "تیری زلف میں دل پھنسا چاہتا ہے\nیہ آباد گھر اب لٹا چاہتا ہے\n\nمرا دل اب ان کا ہوا چاہتا ہے\nیہ اپنا پرایا ہوا چاہتا ہے\n\nعیادت کو آتا ہے رشک مسیحا\nیہ بیمار اچھا ہوا چاہتا ہے\n\nنہ لے جا مجھے اس کے کوچہ میں اے دل\nتو ناحق کو رسوا ہوا چاہتا ہے\n\nجو چھیڑا حقیرؔ ان کو میں نے تو بولے\nتمہیں اب تو سودا ہوا چاہتا ہے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DA%BE%D9%86%D8%B3%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "تیری زلفیں غیر اگر سلجھائے گا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری زلفیں غیر اگر سلجھائے گا\nآنکھ والوں سے نہ دیکھا جائے گا\n\nسب طرح کی سختیاں سہہ جائے گا\nکیوں دلا تو بھی کبھی کام آئے گا\n\nایک دن ایسا بھی ناصح آئے گا\nغم کو میں اور غم مجھے کھا جائے گا\n\nاے فلک ایسا بھی اک دن آئے گا\nجب کیے پر اپنے تو پچھتائے گا\n\nوصل میں دھڑکا ہے ناحق ہجر کا\nوہ دن آئیں گے تجھے سمجھائے گا\n\nآ چکے احباب اٹھانے میری لاش\nناز اس کو دیکھیے کب لائے گا\n\nچوٹ کھائے دل کا ماتم دار ہے\nمیرا نالہ بھی تڑپتا جائے گا\n\nچھوڑ دے ہم وحشیوں کو اے غبار\nپیچھے پیچھے تو کہاں تک آئے گا\n\nمنتظر ہے جان بر لب آمدہ\nدیکھیے کب پھر کے قاصد آئے گا\n\nہجر میں نالے غنیمت جان لے\nپھر تو خود اے ضعف تو پچھتائے گا\n\nنیم کشتہ ہیں تو ہیں پھر کیا کریں\nکچھ اگر بولیں تو وہ شرمائے گا\n\nجوش وحشت تجھ پہ صدقے اپنی جان\nکون تلوے اس طرح سہلائے گا\n\nاور بھی تڑپا دیا غم خوار نے\nخود ہے وحشی کیا مجھے بہلائے گا\n\nراہرو تجھ سا کہاں اے خضر شوق\nکون تیری خاک پا کو پائے گا\n\nباغ میں کیا جائیں آتی ہے خزاں\nگل کا اترا منہ نہ دیکھا جائے گا\n\nمیری جاں میں کیا کروں گا کچھ بتا\nجب تصور رات بھر تڑپائے گا\n\nکیوں نہ میں مشتاق ناصح کا رہوں\nنام تیرا اس کے لب پر آئے گا\n\nدل کے ہاتھوں روح اگر گھبرا گئی\nکون اس وحشی کو پھر بہلائے گا\n\nکھو گئے ہیں دونوں جانب کے سرے\nکون دل کی گتھیاں سلجھائے گا\n\nمیں کہاں واعظ کہاں توبہ کرو\nجو نہ سمجھا خود وہ کیا سمجھائے گا\n\nتھک کے آخر بیٹھ جائے گا غبار\nکارواں منہ دیکھ کر رہ جائے گا\n\nدل کے ہاتھوں سے جو گھبراؤگے شادؔ\nکون اس وحشی کو پھر سمجھائے گا\n\nکم نہ سمجھو شوق کو اے شادؔ تم\nاک نہ اک بڑھ کے یہ آفت لائے گا\n\nہے خزاں گل گشت کو جاؤ نہ شادؔ\nگریۂ شبنم نہ دیکھا جائے گا\n\nکچھ نہ کہنا شادؔ سے حال خزاں\nاس خبر کو سنتے ہی مر جائے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B3%D9%84%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "تیری سی بھی آفت کوئی اے سوزش تب ہے", "poet_page": "مصنف:شوق قدوائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری سی بھی آفت کوئی اے سوزش تب ہے\nاک آگ ہے سو اتنی جلن آگ میں کب ہے\n\nمانا کہ تم امید وفا کے نہیں قائل\nپھر کیا مرے جینے کا کوئی اور سبب ہے\n\nخوش ہوں ترے کینے سے کہ شرکت سے ہوں محفوظ\nجتنا ترے دل میں ہے وہ میرے لئے سب ہے\n\nحاجت نہیں کچھ اور پس مرگ مگر ایک\nیعنی مجھے درکار تری جنبش لب ہے\n\nزندہ رہوں کیوں میں کہ زباں ان سے ہو گستاخ\nمرنے میں خموشی ہے خموشی میں ادب ہے\n\nہو ہجر تو پھر گور میں اور گھر میں ہے کیا فرق\nجو گور کی ظلمت ہے وہی ہجر کی شب ہے\n\nاظہار وفا ہے تو کس امید پہ اے شوقؔ\nتو داد طلب اس سے کہ بیداد طلب ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%B2%D8%B4_%D8%AA%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں\nاس کی قدرت کو دیکھتا ہوں میں\n\nجب ہوئی صبح آ گئے ناصح\nانہیں حضرت کو دیکھتا ہوں میں\n\nوہ مصیبت سنی نہیں جاتی\nجس مصیبت کو دیکھتا ہوں میں\n\nدیکھنے آئے ہیں جو میری نبض\nان کی صورت کو دیکھتا ہوں میں\n\nموت مجھ کو دکھائی دیتی ہے\nجب طبیعت کو دیکھتا ہوں میں\n\nشب فرقت اٹھا اٹھا کر سر\nصبح عشرت کو دیکھتا ہوں میں\n\nدور بیٹھا ہوا سر محفل\nرنگ صحبت کو دیکھتا ہوں میں\n\nہر مصیبت ہے بے مزا شب غم\nآفت آفت کو دیکھتا ہوں میں\n\nنہ محبت کو جانتے ہو تم\nنہ مروت کو دیکھتا ہوں میں\n\nکوئی دشمن کو یوں نہ دیکھے گا\nجیسے قسمت کو دیکھتا ہوں میں\n\nحشر میں داغؔ کوئی دوست نہیں\nساری خلقت کو دیکھتا ہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تیری محفل میں جتنے اے ستم گر جانے والے ہیں", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری محفل میں جتنے اے ستم گر جانے والے ہیں\nہمیں ہیں ایک ان میں جو ترا غم کھانے والے ہیں\n\nعدم کے جانے والو دوڑتے ہو کس لیے ٹھہرو\nذرا مل کے چلو ہم بھی وہیں کے جانے والے ہیں\n\nصفائی اب ہماری اور تمہاری ہو تو کیوں کر ہو\nوہی دشمن ہیں اپنے جو تمہیں سمجھانے والے ہیں\n\nکسے ہم دوست سمجھیں اس جہاں میں اور کسے دشمن\nکہ جو سمجھانے والے ہیں وہی بہکانے والے ہیں\n\nمرض بڑھ جائے جس سے اے طبیب اب وہ دوا دینا\nسنا ہے آج وہ میری خبر کو آنے والے ہیں\n\nنہ سنتے ہیں کسی کی اور منہ سے بات کرتے ہیں\nخدا جانے مسافر یہ کہاں کے جانے والے ہیں\n\nترے بیمار کب کھائیں دوا پرہیز کیا جانیں\nیہ ہیں خون جگر پیتے یہ غم کے کھانے والے ہیں\n\nقیامت تک نہ وہ اے مشرقیؔ منزل پہ پہنچیں گے\nخیالی گھوڑے جو میدان میں دوڑانے والے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%AA%D9%86%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تیری مخمور چشم اے مے نوش", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری مخمور چشم اے مے نوش\nجن نے دیکھی سو ہو گیا خاموش\n\nکئی فاقوں میں عید آئی ہے\nآج تو ہو تو جان ہم آغوش\n\nاپنے تئیں سر پہ ہاتھ جو نہ رکھے\nاس کے سر پہ نہ ماریے پاپوش\n\nعشق میں میں ترے ہوا مجنوں\nکس کو ہے عقل اور کہاں ہے ہوش\n\nپالکی بھی مجھے خدا نے دی\nتو بھی تاباںؔ رہا میں خانہ بدوش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%AE%D9%85%D9%88%D8%B1_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%B4"} {"title": "تیری مدد سے تیرا ادراک ہو سکے ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری مدد سے تیرا ادراک ہو سکے ہے\nورنہ اس آدمی سے کیا خاک ہو سکے ہے\n\nتو ہی سمجھ سمجھ کر کر دے معاف ہم کو\nتیرا حساب ہم سے کب پاک ہو سکے ہے\n\nخطرہ نہیں کسی کا جو چاہے کر سکے ہے\nتجھ سا کوئی جہاں میں بے باک ہو سکے ہے\n\nرونے کو میرے جلدی ٹک دیکھ کھول آنکھیں\nاب تک ہے چشم میری نمناک ہو سکے ہے\n\nلاکھوں کا دل جلایا لاکھوں کا جی کھپایا\nتجھ سے کوئی زیادہ سفاک ہو سکے ہے\n\nوہ جلد دستیوں کے جاتے رہے زمانے\nاب ہاتھ سے گریباں کب چاک ہو سکے ہے\n\nجو کچھ شراب میں ہیں کیفیتیں نشے کی\nتجھ میں مزا یہ کوئی تریاک ہو سکے ہے\n\nاس ماہرو کو باہم کر دے حسنؔ سے اک شب\nگردش سے تیری اتنا افلاک ہو سکے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%AF%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D8%AF%D8%B1%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D9%88_%D8%B3%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلے", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلے\nیوں ہی خدا جو چاہے تو بندے کی کیا چلے\n\nکس کی یہ موج حسن ہوئی جلوہ گر کہ یوں\nدریا میں جو حباب تھے آنکھیں چھپا چلے\n\nہم بھی جرس کی طرح تو اس قافلے کے ساتھ\nنالے جو کچھ بساط میں تھے سو سنا چلے\n\nکہہ بیٹھیو نہ دردؔ کہ اہل وفا ہوں میں\nاس بے وفا کے آگے جو ذکر وفا چلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%86%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "تیری ہر اک بات ہے نشتر نہ چھیڑ", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیری ہر اک بات ہے نشتر نہ چھیڑ\nپکا پھوڑا ہوں میں اے دل بر نہ چھیڑ\n\nمیں اگر رویا تو کیا ہاتھ آئے گا\nاشک کے قطرے نہیں گوہر نہ چھیڑ\n\nمنہ سے کہہ بیٹھیں گے جو ہو جائے گا\nہم سڑے سودائیوں سے ڈر نہ چھیڑ\n\nتیرے قدموں سے لگا ہوں رحم کر\nٹھوکروں سے او بت خود سر نہ چھیڑ\n\nشیشۂ دل چور ہو جائے گا یار\nہے کلام سخت بھی پتھر نہ چھیڑ\n\nخوف کر ہم دل جلوں کی آہ سے\nچھیڑنا ہم کو نہیں بہتر نہ چھیڑ\n\nبھڑ کا چھتا ہے دل سوراخ دار\nاس کی آہیں طیش ہیں دلبر نہ چھیڑ\n\nدست نازک کو نہ پہنچے کوئی رنج\nجھاڑ کانٹوں کا ہوں میں لاغر نہ چھیڑ\n\nبے مزا باتوں سے دل اکتا گیا\nچھیڑے سے اب دم ہے ہونٹوں پر نہ چھیڑ\n\nبوئے خوں آتی ہے اس تقریر سے\nذکر غیروں کا مرے منہ پر نہ چھیڑ\n\nوے کہ روئے گا ہنسی اچھی نہیں\nچھیڑ میں کچھ ہو نہ جائے شر نہ چھیڑ\n\nتیری آہیں یار کو ناساز ہیں\nساز اپنا اے دل مضطر نہ چھیڑ\n\nحشر برپا کر کے لیٹا ہوں ابھی\nسونے دے او فتنۂ محشر نہ چھیڑ\n\nکہہ وہ مشاطہ سے افعی ہے وہ زلف\nاس کے کاٹے کا نہیں منتر نہ چھیڑ\n\nروئے گا ڈاڑھی کو ڈاڑھیں مار کر\nمحتسب رندوں کو منہ چڑھ کر نہ چھیڑ\n\nخوش نہ ہوگا کوئی سوتا چونک کر\nبحرؔ تو غافل کو سمجھا کر نہ چھیڑ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%B4%D8%AA%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91"} {"title": "تیری یاد", "poet_page": "مصنف:نارائن داس پوری", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سحر و شام تجھے یاد کیا کرتے ہیں\nتیری ہی یاد سے دل شاد کیا کرتے ہیں\nحق تو یہ ہے کہ شب و روز تیری رحمت سے\nدل برباد کو آباد کیا کرتے ہیں\nتجھ کو منظور ہے آسائش خلقت یا رب\nتیرے بندے ستم ایجاد کیا کرتے ہیں\nبن کے پنچھی جو گرفتار بلا ہوتے ہیں\nوہ فقط شکوۂ بیداد کیا کرتے ہیں\nآگ لگ جائے مبادا کہیں صیاد کے گھر\nڈر کے آہ دل ناشاد کیا کرتے ہیں\nجو گلا پھاڑ کے مرغان سحر بولتے ہیں\nاپنے نالوں کو وہ برباد کیا کرتے ہیں\nعشق والے پوریؔ پروانہ صفت جلتے ہیں\nوہ تڑپتے ہیں نہ فریاد کیا کرتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں\nصبر و طاقت کے وہاں پاؤں اکھڑ جاتے ہیں\n\nاتنے بگڑے ہیں وہ مجھ سے کہ اگر نام ان کے\nخط بھی لکھتا ہوں تو سب حرف بگڑ جاتے ہیں\n\nکیوں نہ لڑوائیں انہیں غیر کہ کرتے ہیں یہی\nہم نشیں جن کے نصیبے کہیں لڑ جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D8%B2%D8%AF%DB%81_%D8%AC%D9%86_%D8%AF%D8%B4%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%91_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تیرے آنے کا احتمال رہا", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے آنے کا احتمال رہا\nمرتے مرتے یہی خیال رہا\n\nغم ترا دل سے کوئی نکلے ہے\nآہ ہر چند میں نکال رہا\n\nہجر کے ہاتھ سے ہیں سب روتے\nیاں ہمیشہ کسے وصال رہا\n\nشمع ساں جلتے ہلتے کاٹی عمر\nجب تلک سر رہا وبال رہا\n\nمل گئے خاک میں ہی طفل سرشک\nمیں تو آنکھوں میں گرچہ پال رہا\n\nسمجھئے اس قدر نہ کیجے غرور\nکوئی بھی حسن لا زوال رہا\n\nتیرے در سے کوئی بھی ٹلتا ہوں\nمجھ کو ہر چند تو تو ٹال رہا\n\nدل نہ سنبھلا اگرچہ میں تو اسے\nاپنے مقدور تک سنبھال رہا\n\nپھر نہ کہنا اثرؔ نہ کچھ سننا\nکوئی دن گر یوں ہی جو حال رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "تیرے آگے یار نو یار کہن دونوں ہیں ایک", "poet_page": "مصنف:مرزا علی لطف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے آگے یار نو یار کہن دونوں ہیں ایک\nزاغ زشت اور طوطئ شکر شکن دونوں ہیں ایک\n\nمیں سیہ بخت اور رقیب رو سیاہ ہم رنگ ہیں\nقیر تیرے پاس اور مشک ختن دونوں ہیں ایک\n\nنغمہ کش کیا داستاں اپنی سنائے واں جہاں\nصورت بلبل اور فریاد زغن دونوں ہیں ایک\n\nہو رقیب مردہ شو پر ہو نہ کیوں روشن بیاں\nیاں چراغ گور و شمع انجمن دونوں ہیں ایک\n\nلطفؔ کی آزاد وضعی سے مزا کیا خاک اٹھائیں\nیاں زقوم دوزخ و سرو چمن دونوں ہیں ایک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D9%86_%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9"} {"title": "تیرے ابرو کی عجب بیت ہے حالی اے شوخ", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے ابرو کی عجب بیت ہے حالی اے شوخ\nجس میں ہے مطلب دیوان ہلالی اے شوخ\n\nگوہر اشک کوں ہے حلقہ بگوشی کا خیال\nگر لگے ہات ترے کان کی بالی اے شوخ\n\nروح فرہاد بھی خوش ہو کے مٹھائی بانٹے\nگر سنے تجھ لب شیریں ستی گالی اے شوخ\n\nجب سیں دیکھی ہے خط سبز میں تیرے لب سرخ\nتب سیں سبزے میں چھپی پان کی لالی اے شوخ\n\nشہر میں الفت صحرا ہے مجھے دامن گیر\nکیا قیامت ہیں تری چشم غزالی اے شوخ\n\nمسند مطلب دل پر مرے کر مہر قبول\nمنصب لطف کا منگتا ہوں بحالی اے شوخ\n\nبس کہ تصویر تری نقش کیا دل میں سراجؔ\nپردۂ چشم ہے فانوس خیالی اے شوخ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%A8%DB%8C%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%A7%DB%92_%D8%B4%D9%88%D8%AE"} {"title": "تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسی", "poet_page": "مصنف:ناجی شاکر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسی\nمجھے سرتاج کر رکھ جان میں عاشق ہوں موروثی\n\nرفو کر دے ہیں ایسا پیار جو عاشق ہیں یکسو سیں\nپھڑا کر اور سیں شال اپنی کہتا ہے مجھے تو سی\n\nہوا مخفی مزا اب شاہدی سیں شہد کی ظاہر\nمگر زنبور نے شیرینی ان ہونٹوں کی جا چوسی\n\nکسے یہ تاب جو اس کی تجلی میں رہے ٹھہرا\nرموز طور لاتی ہے سجن تیری کمر مو سی\n\nسماتا نئیں ازار اپنے میں ابتر دیکھ رنگ اس کا\nکرے کمخواب سو جانے کی یوں پاتے ہیں جاسوسی\n\nبرنگ شمع کیوں یعقوب کی آنکھیں نہیں روشن\nزمانے میں سنا یوسف کا پیراہن تھا فانوسی\n\nنہ چھوڑوں اس لب عرفاں کو ناجیؔ اور لٹا دوں سب\nملے گر مجھ کو ملک خسروی اور تاج کاؤسی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%A7_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%8C"} {"title": "تیرے بھی منہ کی روشنی رات گئی تھی مہ سے مل", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے بھی منہ کی روشنی رات گئی تھی مہ سے مل\nتاب سے تاب رخ سے رخ نور سے نور ظل سے ظل\n\nیوسف مصر سے مگر ملتے ہیں سب ترے نشاں\nزلف سے زلف لب سے لب چشم سے چشم تل سے تل\n\nجتنے ہیں کشتگان عشق ان کے ازل سے ہیں ملے\nاشک سے اشک نم سے نم خون سے خون گل سے گل\n\nجب سے موا ہے کوہ کن کرتے ہیں اس کا غم سدا\nکوہ سے کوہ جو سے جو سنگ سے سنگ سل سے سل\n\nیار ملا جب اے نظیرؔ میرے گلے، تو مل گئے\nجسم سے جسم جاں سے جاں روح سے روح دل سے دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%85%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84"} {"title": "تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں\nہم بھی مضموں کی ہَوا باندھتے ہیں\n\nآہ کا کس نے اثر دیکھا ہے\nہم بھی اک اپنی ہوا باندھتے ہیں\n\nتیری فرصت کے مقابل اے عُمر!\nبرق کو پابہ حنا باندھتے ہیں\n\nقیدِ ہستی سے رہائی معلوم!\nاشک کو بے سروپا باندھتے ہیں\n\nنشۂ رنگ سے ہے واشُدِ گل\nمست کب بندِ قبا باندھتے ہیں\n\nغلطی ہائے مضامیں مت پُوچھ\nلوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں\n\nاہلِ تدبیر کی واماندگیاں\nآبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں\n\nسادہ پُرکار ہیں خوباں غالبؔ\nہم سے پیمانِ وفا باندھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D9%88%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تیرے حیرت زدگاں اور کہاں جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے حیرت زدگاں اور کہاں جاتے ہیں\nکہیے گر آپ سے جاتے ہیں تو ہاں جاتے ہیں\n\nوے نہیں ہم کہ ترے جور سے اٹھ جاتے ہیں\nجی ہے جب لگ نہیں اے جان جہاں جاتے ہیں\n\nکون وہ قابل کشتن ہے بتاؤ ہم کو\nآپ جو اس پہ لئے تیر و کماں جاتے ہیں\n\nجیوں نگیں رو سیہی نام سے یاں حاصل ہے\nنامور وے ہیں جو بے نام و نشاں جاتے ہیں\n\nسنگ ہستی سے کہ تھا مانع راہ مقصود\nجست کر مثل شرر گرم رواں جاتے ہیں\n\nتجھ کو فہمید کہاں شیخ کہ سمجھے یہ رمز\nواں نہیں بار ملک یار جہاں جاتے ہیں\n\nمجھ کو اس طفل پری رو نے کیا دیوانہ\nہوش سے دیکھ جسے پیر و جواں جاتے ہیں\n\nغیر جوہر نہیں اعراض سے ان کو کچھ کام\nرنگ و بو پر نہیں صاحب نظراں جاتے ہیں\n\nخواب بیدارؔ مسافر کے نہیں حق میں خوب\nکچھ بھی ہے تجھ کو خبر ہم سفراں جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D8%B2%D8%AF%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تیرے در سے میں اٹھا لیکن نہ میرا دل اٹھا", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے در سے میں اٹھا لیکن نہ میرا دل اٹھا\nچھوڑ کر ہو جس طرح کاسہ کوئی سائل اٹھا\n\nقیس کیا جانے کہ میرا دیکھنا منظور تھا\nخود بخود ہو جب ہوا سے پردۂ محمل اٹھا\n\nگریہ نے پہلے ہی اپنا کر رکھا تھا بندوبست\nمیں اٹھا بھی واں سے چلنے کو تو پا در گل اٹھا\n\nبوسۂ عارض مجھے دیتے ہوئے ڈرتا ہے کیوں\nلونگا کیا نوک زباں سے تری رخ کا تل اٹھا\n\nجب اٹھا خنجر نہ اس سے اس ادا پر مر گئے\nہم سے بھی گویا نہ بار منت قاتل اٹھا\n\nشکوۂ بار غم ہجراں ہے خط میں مندرج\nنامہ بر کب ہو کے میرے نامی کا حائل اٹھا\n\nغیر نے آ کر نہیں کی گدگدی گر خواب میں\nنیند سے کیوں اس طرح ہنستا ہوا کھل کھل اٹھا\n\nگرچہ رکھتا ہوں کہیں اور پاؤں پڑتا ہے کہیں\nپر غنیمت ہے کہ ہے منہ جانب منزل اٹھا\n\nاشک گو آتش نہیں ناظمؔ مگر تیزاب ہے\nدیکھ چشم تر سے اپنی آستیں غافل اٹھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86_%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "تیرے در پر مقام رکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے در پر مقام رکھتے ہیں\nقصد دار السلام رکھتے ہیں\n\nابتدا اپنی انتہا سے پرے\nناتمامی تمام رکھتے ہیں\n\nآسماں سے کسے امید نجات\nآشیاں زیر دام رکھتے ہیں\n\nایک یوسف کہ ساتھ غربت میں\nایسے لاکھوں غلام رکھتے ہیں\n\nبے بہا شے ہوں میں کہ وہ مجھ کو\nناخریدہ غلام رکھتے ہیں\n\nسب کی سنتے ہیں کرتے ہیں جی کی\nکام سے اپنے کام رکھتے ہیں\n\nوصل معشوق ہے سلیمانی\nوہ ہی جم ہیں جو جام رکھتے ہیں\n\nکچھ تری دوستی کی قدر نہیں\nدشمنی خاص و عام رکھتے ہیں\n\nقیس و فرہاد کہتے ہیں وہ مجھے\nکیسے گن گن کے نام رکھتے ہیں\n\nنالوں کو روک روک لیتے ہیں\nدل کو ہم تھام تھام رکھتے ہیں\n\nکعبے میں ایک دم کی مہمانی\nمے کدے میں مدام رکھتے ہیں\n\nدل ربا کہنے سے وہ چونک اٹھے\nگویا ہم اتہام رکھتے ہیں\n\nچشم بد دور عیش عہد شباب\nصبح ہم رنگ شام رکھتے ہیں\n\nاے قلقؔ بیٹھیے سر خم مے\nآپ عالی مقام رکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تیرے در پہ جلوہ جو ہم دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:احمد شاہ خاں شبنم", "kind": "poetry", "section": "غزل > گلدستۂ لطافت (1936)", "year": "1936", "text_ur": "تیرے در پہ جلوہ جو ہم دیکھتے ہیں\nخدا کی خدائی میں کم دیکھتے ہیں\n\nجو ہم شب کو خواب عدم دیکھتے ہیں\nتو ہر سمت سیر ارم دیکھتے ہیں\n\nپس مرگ خلوت میں بیٹھے ہیں ایسے\nنہ وہ دیکھتے ہیں نہ ہم دیکھتے ہیں\n\nتمہاری سی صورت تمہاری سی سیرت\nحسینوں کے جمگھٹ میں کم دیکھتے ہیں\n\nنظر کی نظر سے ہے حسرت بھرا دل\nنظر بھر کے ان کو نہ ہم دیکھتے ہیں\n\nنہ مانوں گا جاگے کہیں رات بھر ہو\nبھری نیند آنکھوں میں ہم دیکھتے ہیں\n\nشب ہجر روتے گزرتی ہے شبنمؔ\nفنا ہی فنا صبح دم دیکھتے ہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تیرے رہنے کو مناسب تھا کہ چھپر ہوتا", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے رہنے کو مناسب تھا کہ چھپر ہوتا\nکہ نہ چوکھٹ تری ہوتی نہ مرا سر ہوتا\n\nقسمت نجد کا گر قیس کمشنر ہوتا\nلیڈی لیلیٰ کی ہوا خوری کو موٹر ہوتا\n\nغیر مل جل کے اٹھا لیتے کہ تھے بے غیرت\nگو پہاڑ آپ کے احسان کا چھپر ہوتا\n\nچائے میں ڈال کر عشاق اسے پی جاتے\nدر حقیقت لب معشوق جو شکر ہوتا\n\nملک الموت پہ جھلنے کو بناتا میں چنور\nطائر روح کی دم میں جو کوئی پر ہوتا\n\nلے ہی لیتا لب دلدار کا بوسہ اڑ کر\nکاش عاشق جو بنایا تھا تو مچھر ہوتا\n\nٹھوکریں غیر کے مرقد پہ لگاتا کیوں کر\nبوٹ کی جا پہ جو تو پہنے سلیپر ہوتا\n\nچاٹتا ساری کتابوں کو بغیر از دقت\nعلم کا شوق جسے ہے جو وہ جھینگر ہوتا\n\nپاس کرتا رزولیوشن کہ حسینوں پہ ہو ٹیکس\nمیں کبھی میونسپلٹی کا جو ممبر ہوتا\n\nلکھنؤ سے شب یکشنبہ بریلی آتے\nپاؤں میں گر نہ ظریفؔ اپنے سنیچر ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%B3%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "تیرے سوا نگاہوں میں اے یار کون ہے", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے سوا نگاہوں میں اے یار کون ہے\nحیراں ہوں میں کہ طالب دیدار کون ہے\n\nہر قطرہ اشک شوق ہے ہر ذرہ چشم شوق\nکیا پوچھتے ہو طالب دیدار کون ہے\n\nسب حسرتوں کو راز محبت بنا چکا\nاب سوچتا ہوں لایق اظہار کون ہے\n\nناطقؔ کسی کو دے دو دل زار نذر میں\nاس جنس بے بہا کا خریدار کون ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "تیرے عاشق کو طلب گل کی نہ گلزار کی تھی", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے عاشق کو طلب گل کی نہ گلزار کی تھی\nجوش وحشت میں ہوس وادیٔ پر خار کی تھی\n\nتیرے جھونکوں نے اڑایا ہے جسے وقت سحر\nاے صبا خاک وہ میرے دل بیمار کی تھی\n\nچمن عشق و محبت میں بسان نرگس\nآنکھ حسرت سے کھلی طالب دیدار کی تھی\n\nشب تاریک سے فرقت کی میں کیوں گھبراتا\nوہ سیاہی بھی ترے گیسوئے خم دار کی تھی\n\nخواہش دید پہ بیکار بگڑ جاتے ہیں\nیہ تو فرمائیے کیا بات یہ تکرار کی تھی\n\nوہ جو اٹھے تو قیامت نے اٹھایا سر کو\nوہ بھی محتاج مگر قامت دل دار کی تھی\n\nضعف نے کر دیا خاموش جمیلہؔ ورنہ\nہم سے رونق تو کبھی کوچۂ دل دار کی تھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D9%84%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "تیرے عالم کا یار کیا کہنا", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے عالم کا یار کیا کہنا\nہر طرف ہے پکار کیا کہنا\n\nاف نہ کی درد ہجر ضبط کیا\nاے دل بے قرار کیا کہنا\n\nوعدۂ وصل ان سے لوں کیوں کر\nمیرا کیا اختیار کیا کہنا\n\nکیا ہی نیرنگیاں دکھائی ہیں\nمیرے باغ و بہار کیا کہنا\n\nکیسے عاشق ہیں ان سے جب پوچھا\nبولے بے اختیار کیا کہنا\n\nمشت پر بھی گلوں کے گرد رہے\nآفریں اے ہزار کیا کہنا\n\nترچھی نظریں چھری کٹاری ہیں\nچشم بد دور یار کیا کہنا\n\nگلشنوں میں یہ رنگ روپ کہا\nلا جواب اے نگار کیا کہنا\n\nدم عیسیٰ کو مات کرتی ہے\nاے نسیم بہار کیا کہنا\n\nامتحاں کر چکے تو وہ بولے\nاے مرے جاں نثار کیا کہنا\n\nاس کے کوچے میں بیٹھ کر نہ اٹھا\nواہ میرے غبار کیا کہنا\n\nجانتے ہیں کہ جان دوگے شرفؔ\nاس کو پھر بار بار کیا کہنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "تیرے قول و قرار کی باتیں", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے قول و قرار کی باتیں\nکچھ نہیں اعتبار کی باتیں\n\nآپ کا منہ ہے ورنہ ہم سنتے\nدشمن بد شعار کی باتیں\n\nپورا کرنا نہ کرنا وعدے کا\nہیں ترے اختیار کی باتیں\n\nدیکھنے کو تو بھولے بھالے ہو\nہیں مگر ہوشیار کی باتیں\n\nکام تیرے دغا فریب کے کام\nباتیں ایمان دار کی باتیں\n\nآپ کی باتیں اے صفیؔ صاحب\nسب کی سب ہیں خمار کی باتیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%82%D9%88%D9%84_%D9%88_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تیرے مژگاں ہی نہ پہلو مارتے ہیں تیرے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے مژگاں ہی نہ پہلو مارتے ہیں تیرے\nہم سری رکھتے ہیں ابرو بھی دم شمشیر سے\n\nدیکھ یہ کرتا ہے غم کی لذتیں ہم پر حرام\nہو سمجھ کر آشنا اے نالہ ٹک تاثیر سے\n\nہوں میں وہ دیوانۂ نازک مزاج گل رخاں\nکیجئے زنجیر جس کو سایۂ زنجیر سے\n\nسوز دل کیونکر کروں اس شوخ کے آگے بیاں\nشمع کی مانند جلتی ہے زباں تقریر سے\n\nگرچہ ہوں بیدارؔ غرق معصیت سر تا بہ پا\nپر امید مغفرت ہے شبر و شبیر سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92"} {"title": "تیرے وعدوں کا اعتبار کسے", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے وعدوں کا اعتبار کسے\nگو کہ ہو تاب انتظار کسے\n\nاک نظر بھی ہے دید مفت نظر\nاتنی فرصت بھی اے شرار کسے\n\nجوں نگیں یاں سوائے روسیہی\nدہر کرتا ہے نامدار کسے\n\nدل تو ڈوبا اب اور دیکھیں ڈبائیں\nیہ مری چشم اشکبار کسے\n\nتیرے وعدوں کو میں سمجھتا ہوں\nدھوکا دیتا ہے میرے یار کسے\n\nتو بغل سے گیا تھا دل بھی گیا\nاور لے بیٹھوں درکنار کسے\n\nمیں تو کیا اور بھی سوائے صبا\nتیرے کوچے تلک گزار کسے\n\nدیکھتا ہی نہیں وہ مست ناز\nاور دکھلاؤں حال زار کسے\n\nخوب دیکھے اثرؔ نے قول و قرار\nاب ترے قول پر قرار کسے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%88%D8%B9%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%92"} {"title": "تیرے وعدے کا اختتام نہیں", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے وعدے کا اختتام نہیں\nکہ قیامت پہ بھی قیام نہیں\n\nبے وفائی تمہاری عام ہوئی\nاب کسی کو کسی سے کام نہیں\n\nکس لیے دعویٔ زلیخائی\nغیر یوسف نہیں غلام نہیں\n\nوصل کے بعد ہجر کا کیا کام\nدور گردوں کا انتظام نہیں\n\nکون سنتا ہے نالہ و فریاد\nچرخ کو خوف انتقام نہیں\n\nخال لب دیکھ کر ہوا معلوم\nکوئی دانہ بغیر دام نہیں\n\nآپ میں کیوں کہ آؤں جب کہ تو آئے\nخلوت خاص بزم عام نہیں\n\nنالہ کرتا ہوں لوگ سنتے ہیں\nآپ سے میرا کچھ کلام نہیں\n\nجس جگہ ہے وہاں بھی ہے بہتان\nکہ کسی جا ترا مقام نہیں\n\nروز فرقت کو روز حشر نہ جان\nشام پر بھی تو اختتام نہیں\n\nہے خدا ہی قلقؔ جو آج بجھے\nصبح ہوتے نہیں کہ شام نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%AA%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح\nمیرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرح\n\nپھول جاگے ہیں کہیں تیرے بدن کی مانند\nاوس مہکی ہے کہیں تیرے پسینے کی طرح\n\nاے مجھے چھوڑ کے طوفان میں جانے والی\nدوست ہوتا ہے تلاطم میں سفینے کی طرح\n\nاے مرے غم کو زمانے سے بتانے والی\nمیں ترا راز چھپاتا ہوں دفینے کی طرح\n\nتیرا وعدہ تھا کہ اس ماہ ضرور آئے گی\nاب تو ہر روز گزرتا ہے مہینے کی طرح", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "تیرے کوچہ سے نہ یہ شیفتگاں جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے کوچہ سے نہ یہ شیفتگاں جاتے ہیں\nجھوٹ کہتے ہیں کہ جاتے ہیں کہاں جاتے ہیں\n\nآمد و رفت نہ پوچھ اپنی گلی کی ہم سے\nآتے ہیں ہنستے ہوئے کرتے فغاں جاتے ہیں\n\nکعبہ و دیر میں دیکھے ہیں اسی کا جلوہ\nکفر و اسلام میں کب دیدہ وراں جاتے ہیں\n\nنہیں مقدور کہ پہنچے کوئی اس تک پر ہم\nجوں نگہ دیدۂ مردم سے نہاں جاتے ہیں\n\nگر ہے دیدار طلب صاف کر اپنے دل کو\nروبرو اس کے تو آئینہ دلاں جاتے ہیں\n\nجذب تیرا ہی اگر کھینچے تو پہنچیں ورنہ\nتجھ کو سنتے ہیں پرے واں سے جہاں جاتے ہیں\n\nآہ کرتا ہے خراش ان کا دلوں میں نالہ\nکون یہ قافلہ میں نالہ زناں جاتے ہیں\n\nجی میں ہے کہئے غزل اور مقابل اس کے\nگہر اس بحر میں مضموں کے رواں جاتے ہیں\n\nتجھ کو بیدارؔ رکھا پیچھے گراں باری نے\nراہ رو جو ہیں سبک سار دواں جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D8%B4%DB%8C%D9%81%D8%AA%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تیرے کوچے میں جو ہم با دیدۂ تر بیٹھتے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے کوچے میں جو ہم با دیدہ تر بیٹھتے\nجوش طوفاں سے زمیں میں سینکڑوں گھر بیٹھتے\n\nچارہ گر بھی ہم نشیں تھا رات کو ناصح بھی تھا\nورنہ بیتابی سے ہم کیا جانے کیا کر بیٹھتے\n\nہو گئی محفل تری کیا بے ادب بے قاعدہ\nجو کھڑے رہتے تھے وہ اب ہیں برابر بیٹھتے\n\nجب کیا شکوہ کہ محفل میں رہے ہم تم سے دور\nاس نے جھنجھلا کر کہا کیا میرے سر پر بیٹھتے\n\nجس کی قسمت میں ہو گردش کس طرح بیٹھے کہیں\nہم سے آوارہ ترے کوچے میں کیوں کر بیٹھتے\n\nداغؔ تم نے کیوں کیا ہے نام وحشت کا خراب\nاس سے تو بہتر یہی تھا چین سے گھر بیٹھتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%A8%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%AA%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%AA%DB%92"} {"title": "تیرے کوچے کی ہوا لگ گئی شاید اس کو", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے کوچے کی ہوا لگ گئی شاید اس کو\nروز بے پر کی اڑاتا ہے کبوتر ہم سے\n\nہم سلیمان بنیں گے جو پری ہو گے تم\nہوش میں آؤ کہاں جاؤ گے اڑ کر ہم سے\n\nگالیاں کون سنے جب نہ رہا کچھ مطلب\nآج سے کیجئے گا بات سمجھ کر ہم سے\n\nہم کسی اور کو تاکیں گے تمہارے ہوتے\nکیا کہا پھر تو کہو آنکھ ملا کر ہم سے\n\nآپ ہو جائیں گے سیدھے کہیں دن ہوں سیدھے\nوہ بھی ٹیڑھے ہیں جو ٹیڑھا ہے مقدر ہم سے\n\nوہ بھی کیا دن تھے کہ جب رہتی تھیں نیچی نظریں\nچار آنکھیں جو ہوئیں پھر گئے تیور ہم سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%84%DA%AF_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88"} {"title": "تیرے گھر خواب میں گیا تھا غیر", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے گھر خواب میں گیا تھا غیر\nاپنی آنکھوں سے ہم نے دیکھا ہے\n\nکس قدر ہے مزاج میں گرمی\nشعلہ ہے آگ ہے بھبھوکا ہے\n\nاے بتو کعبہ کا کرو کچھ پاس\nدل نہ توڑو یہ گھر خدا کا ہے\n\nچپ رہو کیوں مزاج پوچھتے ہو\nہم جئیں یا مریں تمہیں کیا ہے\n\nاس گل تر کے آنے سے جوہرؔ\nخانۂ دل تمام مہکا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%BA%DB%8C%D8%B1"} {"title": "تیرے ہاتھوں سے مٹے گا نقش ہستی ایک دن", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیرے ہاتھوں سے مٹے گا نقش ہستی ایک دن\nباڑھ رکھ دے گی چھری پر تیز دستی ایک دن\n\nتیری آنکھوں سے دل نازک گرے گا نشہ میں\nطاق سے شیشہ گرا دے گی یہ مستی ایک دن\n\nزاہدو پوجا تمہاری خوب ہوگی حشر میں\nبت بنا دے گی تمہیں یہ حق پرستی ایک دن\n\nآنکھیں دوزخ میں بھی سینکے گا ترا دل سوختہ\nآگ بن جائے گی یہ آتش پرستی ایک دن\n\nخوبیٔ شمشیر ابرو کا تماشا دیکھتے\nدونوں باگوں آپ کی تلوار کستی ایک دن\n\nخون میرا رائیگاں ناحق بہاتے ہیں حضور\nکرنی ہے رنگ حنا کی پیش دستی ایک دن\n\nجلد پستاں تک مرا کب تک نہ ہوگا دسترس\nان ترنجوں کی بھی قیمت ہوگی سستی ایک دن\n\nزلف کافر کیش لپٹے گی قدم سے اے صنم\nہندو شب بھی کرے گا بت پرستی ایک دن\n\nجان بخشو سر مرے لاشہ کا ٹھکراؤ کبھی\nساغر خالی میں بھر دو شہد ہستی ایک دن\n\nنیل گوں کر دیں گے مل کر چھاتیاں اے رشک مہر\nتیری انگیا کی کٹوری ہوگی جستی ایک دن\n\nخوب کر تعریف نواب ظفر جنگ اے منیرؔ\nکام آ جائے گی یہ آقا پرستی ایک دن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%B9%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D9%86%D9%82%D8%B4_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%86"} {"title": "تیز مجھ پر جو ستم گر کی چھری ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیز مجھ پر جو ستم گر کی چھری ہوتی ہے\nکیجیے کیا کہ لگی دل کی بری ہوتی ہے\n\nمنع کرتا ہے تڑپنے سے قفس میں صیاد\nنالے کرتا ہوں تو گردن پہ چھری ہوتی ہے\n\nہر بدی کرتی ہے انسان کو دنیا میں ہلاک\nسم قاتل ہے وہ عادت جو بری ہوتی ہے\n\nاہل دل عشق میں دم مار سکیں کیا ممکن\nرگ جاں کے لئے ہر سانس چھری ہوتی ہے\n\nبیٹھ کیوں بادہ کشوں میں کہ ہوں گم ہوش و حواس\nصحبت اہل خرابات بری ہوتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B2_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%DA%BE%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "تیز ہے پینے میں ہو جائے گی آسانی مجھے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیز ہے پینے میں ہو جائے گی آسانی مجھے\nزمزمی سے دے دے زاہد تو ذرا پانی مجھے\n\nدیکھنا نازک بھی ہیں کمسن بھی ہیں بھولے بھی ہیں\nشام سے سمجھا رہی ہے ان کی نادانی مجھے\n\nبات بگڑی وصل میں بگڑی جو تو اے زلف یار\nکچھ پریشانی تجھے ہے کچھ پریشانی مجھے\n\nہاتھ اٹھا کر رہ گئے آنکھیں جھکا کر رہ گئے\nتیغ عریاں کی پسند آئی جو عریانی مجھے\n\nبن گیا ہوں آئنہ اے جلوہ ہائے برق طور\nمل گئی ہے ان کی آئینے کی حیرانی مجھے\n\nآپ اسے درباں بتائیں عذر مجھ کو کچھ نہیں\nسونپئے گھر غیر کو اپنی نگہبانی مجھے\n\nخوب روتا ہوں بگولوں سے لپٹ کر دشت میں\nیاد آتی ہے جو اپنے گھر کی ویرانی مجھے\n\nفصل گل میں رنگ لایا ہے شباب دخت رز\nچھیڑتی ہے آ کے راتوں کو یہ مستانی مجھے\n\nبول اٹھا جوبن کسی سے بھی نہیں دبنے کا میں\nسونپئے سرکار اب اپنی نگہبانی مجھے\n\nراز سربستہ رہا کب چاک دامانی کا حال\nاے صبا دکھلا نہ اپنی پاک دامانی مجھے\n\nوائے قسمت پڑ گئی کیسی گرہ تقدیر میں\nعقدۂ مشکل نظر آتی ہے آسانی مجھے\n\nاب کہاں تقدیر میں ہیں گھونٹ شہد و شیر کے\nیاد آتی ہے کسی شے کی فراوانی مجھے\n\nچشم رحم اے ساقیٔ کوثر کہ اب ملتا نہیں\nتشنگان کربلا کے نام پر پانی مجھے\n\nشاہ دوراں حضرت حامدؔ علی خاں کے سوا\nکون ہے جس کی توجہ سے ہو آسانی مجھے\n\nروز افزوں ہو ترقی دولت و اقبال کی\nاور مل جائے در دولت کی دربانی مجھے\n\nچاہتا ہے قیس سے اچھی رہے شکل ریاضؔ\nبن چکا میں کیوں بناتا ہے ارے مانی مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B2_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D8%A2%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "تیزی ترے مژگاں کی یہ نشتر سے کہوں گا", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "تیزی ترے مژگاں کی یہ نشتر سے کہوں گا\nابرو کی شکایت دم خنجر سے کہوں گا\n\nہم رنگ شمع عشق میں تیرے ہوں ولیکن\nیہ سوز جگر آتش مجمر سے کہوں گا\n\nدیکھا ہوں میں جس روز سے تجھ حسن کا جھلکا\nہے دل میں کبھی جامۂ انور سے کہوں گا\n\nتنگی جو ترے پستہ دہن کی ہے سراسر\nسربستہ سخن غنچۂ جوہر سے کہوں گا\n\nسیراب نہ ہوں تجھ لب شیریں سے اگر میں\nیہ تشنہ لبی چشمۂ کوثر سے کہوں گا\n\nبوجھا ہے علیمؔ آج کہ ہے حسن کا تو گنج\nیہ خوش خبری عاشق بے زر سے کہوں گا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B2%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D9%86%D8%B4%D8%AA%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "تیزی نہیں منجملۂ اوصاف کمال", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "تیزی نہیں منجملۂ اوصاف کمال\nکچھ عیب نہیں اگر چلو دھیمی چال\nخرگوش سے لے گیا ہے کچھوا بازی\nہاں راہ طلب میں شرط ہے استقلال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B2%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%84%DB%82_%D8%A7%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%81_%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84"} {"title": "تیس دن کے لئے ترک مے و ساقی کر لوں", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیس دن کے لئے ترک مے و ساقی کر لوں\nواعظ سادہ کو روزوں میں تو راضی کر لوں\n\nپھینک دینے کی کوئی چیز نہیں فضل و کمال\nورنہ حاسد تری خاطر سے میں یہ بھی کر لوں\n\nاے نکیرین قیامت ہی پہ رکھو پرسش\nمیں ذرا عمر گزشتہ کی تلافی کر لوں\n\nکچھ تو ہو چارۂ غم بات تو یک ہو جائے\nتم خفا ہو تو اجل ہی کو میں راضی کر لوں\n\nاور پھر کس کو پسند آئے گا ویرانۂ دل\nغم سے مانا بھی کہ اس گھر کو میں خالی کر لوں\n\nجور گردوں سے جو مرنے کی بھی فرصت مل جائے\nامتحان دم جاں پرور عیسی کر لوں\n\nدل ہی ملتا نہیں سفلوں سے وگرنہ شبلیؔ\nخوب گزرے فلک دوں سے جو یاری کر لوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B3_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D9%85%DB%92_%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%D9%88%DA%BA"} {"title": "تیسری جنس", "poet_page": "مصنف:چودھری محمد علی ردولوی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "مدی کا اصل نام احمدی خانم تھا۔ تحصیلدار صاحب پیار سے مدی مدی کہتے تھے، وہی مشہور ہوگیا۔ مدی کا رنگ بنگال میں سو دو سو میں اور ہمارے صوبہ میں ہزار دو ہزار میں ایک تھا۔ جس طرح فیروزے کا رنگ مختلف روشنیوں میں بدلاکرتا ہے اسی طرح مدی کا رنگ تھا۔\n\nتھی تو کھلتی ہوئی سانولی رنگت جس کو سبزہ کہتے ہیں۔مگر مختلف رنگ کے دوپٹوں یا ساڑیوں کے ساتھ مختلف رنگ پیدا ہوتا تھا۔ کسی رنگ کے ساتھ دمک اٹھتا تھا کسی رنگ کے ساتھ ٹمٹماہٹ پیدا کرتا تھا۔ بعض اوقات جلد کی زردی میں سبزی ایسی جھلکتی تھی کہ دل چاہتا تھا کہ دیکھا ہی کرے۔ شمع کی روشنی میں مدی کی رنگت تو غضب ہی ڈھاتی تھی۔ کبھی آپ نے دوسرے درجے کی مدقوق کو دیکھا ہے۔ اگر بیماری سے قطع نظر کیجیے تو رنگت کی نزاکت ویسے ہی تھی۔آنکھیں بڑی نہ تھیں مگر جب نگاہ نیچے سے اوپر کرتی تھی تو واہ واہ۔ معلوم ہوتا تھا مندر کادروازہ کھل گیا، دیبی جی کے درشن ہوگیے۔ مسکراہٹ میں نہ شوخی نہ شرارت، نہ بنوٹ کی شرم نہ لبھاوٹ کی کوشش۔ لکڑی لوہے کے قلم کو کیسے موقلم کردوں کہ آپ کے سامنے وہ مسکراہٹ آجائے۔\n\nبس یہ سمجھ لیجیے کہ خدا نے جیسی مسکراہٹ اس کے لیے تجویز کی تھی وہی تھی۔ مدی اپنی طرف سے اس میں کوئی اضافہ نہیں کرتی تھی۔ اس کے کسی انداز میں بنوٹ نہ تھی۔ ہاتھ پاؤں، قد، چہرے کے اعضا سب چھوٹے چھوٹے مگر واہ رےتناسب۔ آواز، ہنسی، چال ڈھال ہرچیز ویسی ہی۔ میں مدی سے بہت بے تکلف تھا مگر عشاق میں کبھی نہیں تھا۔ اور جہاں تک میں جانتا ہوں کوئی اور بھی نہیں سناگیا۔ ایسی خوبصورت عورت بلامرد کی حفاظت کے زندگی بسر کرے اورعشاق نہ ہوں، بڑے تعجب کی بات ہے۔ مگر واقعہ ہے۔ ایک روز میں نے کہا مدی اگر ہم جادوگر ہوتے تو جادو کے زور سے تم کو تتلی بناکر ایک چھوٹی سی ڈبیا میں بند کرکے اپنی پگڑی میں رکھ لیتے۔ اس فن شریف سے واقف کار حضرات جانتے ہیں کہ جوحربہ میں نے استعمال کیا تھا وہ کم خالی جانے والا تھا۔ مگر اس کے بھی جواب میں وہی بے تکلف مسکراہٹ کی ڈھال جو تلوار کے منہ موڑدے۔\n\nاس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا\nلڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں\n\nاکثر خیال گزرتا ہے کہ یہ استغنا تحصیلدار مرحوم کی سفید داڑھی کے سایہ میں پرورش پانے کا اثر ہے۔ مگر پھر عقل کہتی تھی کہ جوش حیات نے نہ معلوم کتنی سفید داڑھیوں میں پھونکا ڈالا ہے۔ وہ سفید داڑھی قبر میں بھی پہنچ گئی۔ اس کا اثر کہاں سے آیا۔ بہرحال قصہ سنتے جائیے اور رفتہ رفتہ رائے قائم کرتے جائیے۔ مدی کے ہرانداز میں نسوانیت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ ایک بات البتہ تھی جو گو عورتوں میں بھی ہوتی ہے۔ مگر ہم ایسے بورژوالوگ اس کو مرد ہی سے منسوب کرتے ہیں۔ یعنی اپنے ہم طبقہ عورتوں میں اور اسی طبقے کے مردوں میں مدی حکومت خوب کرلیتی تھی۔ ہرشخص عورت ہوکہ مرد،ان کا تابع فرمان رہتا تھا۔ اور ان کےاشارے پر چلنے کو تیار۔\n\nاب شروع سے قصہ سنیے۔ تحصیلدار صاحب کانام کیا کیجیے گا جان کر۔ مرحوم بڑے اچھے آدمی تھے مگر بے عیب خدا کی ذات۔ کچھ خاص خاص کمزوریاں کہی جاتی تھیں۔ پرانی وضع کے لوگ تھے۔ بڑی شان سے تحصیلداری کی۔ لاکھوں کمائے اور ہزاروں اڑائے۔ مگر اولاد نہ ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی کچھ بے مرکز کی سی ہوگئی تھی۔ بی بی بہت دن ہوئے مرچکی تھیں۔ کوئی قریب کا عزیز بھی نہ تھا۔ صرف ایک نوکر تھا وہی سیہ سپید کا مالک تھا۔ تنخواہ اسی کے ہاتھ آتی تھی اور جب پنشن ہوئی تو پنشن کابھی وہی حقدار ٹھہرا۔ میاں کے کپڑے اور کھانا بھی میاں حسن علی ہی پسند کرتے تھے۔ حسن علی کسی کام کو بازار گیے۔ دو تھان رادھا نگری ڈوریے کے لیے چلے آتے ہیں۔ میاں کے کرتے بنیں گے مگر میاں کو اس وقت خبر ہوئی جب درزی قطع کرنے لگا۔\n\n’’ارے میاں حسن علی یہ ڈور یہ کیسا لائے ہو؟‘‘\n\nحسن علی: ’’آپ کے کرتوں کے لیے۔ ڈوریہ وضعدار ہے۔ سلنے پر اور کھلے گا۔‘‘\n\n’’کھلے گا تو مگر کرتے تو میرے پاس تھے۔ ابھی اس دن شربتی لے آئے۔ آج ڈوریہ لیے چلے آتے ہیں، آخر پوچھ تو لیا ہوتا۔‘‘\n\n’’پوچھ کے کیا کرتا۔ آپ یہی تو کہتے کہ رہنے دو۔ گھر میں ایک چیز ہوگئی۔ برسات کازمانہ ہے۔ دھوبی دیر میں آیا کرے گا۔ دو جوڑے فاضل اچھے ہوتے ہیں۔‘‘\n\n’’خیر بھئی! ‘‘\n\nتحصیلدار کھانے پر بیٹھے ہیں۔ ’’میاں حسن علی آج کل بازار میں مچھلی نہیں آتی۔‘‘\n\n’’آتی تو ہے مگر گرمیوں کی وجہ سے میں نے نہیں منگوائی۔ اس فصل میں مچھلی نقصان کرتی ہے، صبح کو مرغ پک جائے گا۔‘‘ تحصیلدار صاحب پر حسن علی کی شخصیت ایسی غالب آئی تھی کہ جو بات وہ پسند کرتے تھے تحصیلدار سمجھتے تھے کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔ اسی وجہ سے غیرذمہ دار لوگ دونوں کا ذکر کرکے مسکراتے تھے۔ اور آپس میں آنکھیں مارتے تھے۔ میاں حسن علی کا استرے سے صفاچٹ چہرہ اور تحصیلدار صاحب کی بھبوڈاڑھی پر چہ میگوئیاں ہوتی تھیں۔ داڑھی مونچھوں کا صفایا صرف انگریزی داں حضرات کا حق ہے۔ اگر حسن علی ایسے اپنی چال چھوڑ کر ہنس کی چال چلیں گے تو اللہ ہی نےکہا ہے۔ لوگ کوئی نہ کوئی نی نکالیں گے۔بہرحال اصلیت کی خبر خدا کو ہے۔ ہم تو جو کچھ دیکھتے تھے وہ یہ تھا کہ تحصیلدار کا ہمدرد دنیا جہان میں حسن علی کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ حسن علی کو بھی اس سے اچھاآقا اگر چراغ لے کے ڈھونڈتے تو نہ ملتا۔\n\nاللہ میاں نے دو جنسیں بنائی تھیں۔ عورت اور مرد۔ یورپ کے ڈاکٹروں نے تحقیقات کرکے ایک اور جنس ایجاد کی ہے جو اپنے ہی جنس کی طرف راغب ہو۔ اس جنس میں عورتیں بھی شامل ہیں اور مرد بھی۔ اب نہ معلوم تحصیلدار اور حسن علی اس تیسری جنس میں سے تھے یا ویسے ہی تھے جیسے ہم آپ یا بعد کو کچھ اَدل بدل ہوئی۔ اس کو نہ ہم جانتے ہیں نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ جانیں اور ان کا کام۔ ظاہر بظاہر ان دونوں کے افعال سے دوسروں کی سماجی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ اس لیے ہم کو کھوج کی کوئی ضرورت بھی نہیں معلوم ہوتی۔ تحصیلدار صاحب بھاری بھرکم آدمی تھے۔ اولاد نہ ہونے کا دکھڑا کیا روتے مگر اولاد کی تمنا اس بات سے ظاہر ہوتی تھی کہ جب کھانا کھاتے تو حسن علی کی لڑکی احمدی کو بلوا بھیجتے تھےکہ دسترخوان پر بیٹھ جائے۔ اسی وجہ سے کھانا تنہائی میں کھانے لگے تھے۔ نوکر کی لڑکی کو دسترخوان پر کھلائے کچھ اچھا نہیں لگتا تھا۔ اس کے علاوہ اگر سب کے سامنے کھلاتے تو صاحب اولاد نہ ہونے کا رنج اور بچوں کی تمنا لوگوں پر کھل جاتی۔\n\nبی احمدی خانم عرف مدی بیگم کا سن چار برس کا رہا ہوگا۔ دسترخوان پر شوربا گرانا، لقمہ ڈبونے میں دال کا پورا پیالہ گھنگول دینا، بچوں کا شیوہ ہے۔ اور نفیس لوگ اسی وجہ سے بچوں کو الگ کھلاتے ہیں۔ گو کہتے یہی ہیں کہ جوانوں والا کھانا بچوں کو نقصان کرتا ہے۔ مگر تحصیلدار صاحب کو اس میں لطف آتا تھا۔ ادھر دسترخوان پر بیٹھے اور ادھر بی مدی کی طلب ہوئی۔ رفتہ رفتہ مدی خود وقت پہچان گئیں۔ تھوڑے دنوں میں مدی تحصیلدار صاحب ہی کے یہاں رہنے لگیں۔ یا تو گھر میں ایک طرف یہ، ایک طرف چھوٹا بھیا اور بیچ میں حسن علی کی بی بی تھیں یا ان کی پلنگڑی الگ بنی۔ صاف چادر لگائی گئی۔ چھوٹے چھوٹے تکیے بنوائے گیے۔ تحصیلدار صاحب کے پاس ان کی بھی پلنگڑی بچھنے لگی۔ جوتی پہنے رہنے کی تقید ہوئی کہ بچھونا میلا نہ ہو۔\n\nلڑکی تھی پیدائشی سلیقہ مند۔ ایک بار سے دوسری بار بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ پانچ چھ ہی برس کے سن میں ایسا سلیقہ آگیا کہ آدھی بی بی معلوم ہوتی تھیں۔ تحصیلدار صاحب کے پان خود بناتی تھی۔ دس گیارہ برس کے سن میں جنس تلوانا، کھانا پکوانا سب کچھ مدی کے ہاتھ ہوگیا تھا۔ دن جاتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ چودھویں برس بی مدی کاشباب دمک اٹھا۔ دیکھنے والوں کا دل چاہتا کہ دیکھا ہی کریں۔ مدی بھی جب بال بنانے کھڑی ہوتی تھیں تو آئینہ کے ساتھ خود بھی متحیر رہ جاتی تھیں۔ اب ماں کو شادی کی فکر ہوئی۔ تحصیلدار صاحب سے کہا گیا۔ انھوں نے کہا کیا جلدی ہے ہو جائے گی۔ مگر لڑکی حسن علی کے بھتیجے کو بچپن ہی سے مانگی تھی۔ ادھر سے بھی اصرار ہوا کہ جوان لڑکی کا امیروں کےگھر میں رہنا اچھا نہیں۔ لیجیے صاحب شادی ہوگئی۔ تحصیلدار صاحب نے خود تو اپنے گھر سے شادی نہیں کی مگر جہیز وغیرہ خوب سا دیا۔\n\nچوتھی چالے کے بعد پھر وہی تحصیلدار صاحب کے یہاں کا رہنا۔ مدی کے دولہا بھی تحصیلدار ہی صاحب کے یہاں آتے تھے۔ مدی سسرال کم جاتی تھیں۔ گئیں بھی تو کھڑی سواری۔ بہت رہیں تو ایک رات نہیں تو اسی دن واپس آگئیں۔ سسرال والے جاہل، شوہر بھی الف کےنام لٹھا نہیں جانتے۔ گومدی بھی بغدادی قاعدہ اور عم کے سیپارے کےآگے نہیں پڑھی تھیں، مگر پھر بھی پڑھے لکھے ہوئے کی پالی ہوئی تھیں۔ عمر بھر امیری کارخانہ دیکھا تھا۔ مدی کادل سسرال میں کم لگتا تھا۔ کم سنی میں بیاہ کا تجربہ کچھ اچنبھے میں ڈالے تھا۔ شادی کے بعد اگر عورت پر کنوار پنے کی آب نہیں رہ جاتی تو سہاگ کی رونق چہرہ چمکادیتی ہے۔ مگر احمد ی کے چہرہ پر نہ اسی بات کا پتہ چلتا تھا نہ اسی کا۔ میاں بی بی کے برتاؤ کا حال دو چار دن میں کیا کھلتا۔ مگر کسی خاص خوشی یا اطمینان کا انداز اس میں بھی نہیں دکھائی دیتاتھا۔ کچھ ہی دنوں میں یہ بھی نہ رہ گیا اور کھلم کھلا ناخوشی کے آثار ظاہر ہونے لگے۔\n\nشوہر صاحب بھی کچھ دبے دبے سے تھے۔ تحصیلدار صاحب کے یہاں اگر وہ بھی اپنی شوہریت کابرتر درجہ برت نہیں سکتے تھے۔ خود اپنی ہیچ مرزی اور بی بی کی بلندی ان کی نظر میں کھٹکتی تھی۔ ضرورتیں مجبور کرتی تھیں۔ نئی نئی بی بی۔ کچھ روپیہ پیسہ بھی ہاتھ آجاتا تھا۔ اس لیے چپ تھے۔ ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ مدی جو سوکر اٹھیں تو ایک چھڑا غائب۔ بستر پر ادھر ادھر دیکھا، دلائی جھاڑی، پائینتی جھک کے دیکھا، گھر میں ادھر ادھر تلاش کیا مگر کہیں نہ ملا۔ نہ معلوم کیا سمجھ کر چپ ہوگئیں۔ دوپہر کے قریب ماں سے ذکر کیا۔ ماں نے شور مچادیا۔ تحصیلدار صاحب تک خبر ہوئی۔ انھوں نے سنتے ہی کہہ دیا کہ یہ حرکت سوائے مدی کے دولہا کے اور کسی کی نہیں ہوسکتی۔ یہ بھی کہا کہ اس کے جوا کھیلنے کی خبر بھی مجھ تک پہنچ چکی ہے۔ لیجیے صاحب شوہر بھی روٹھ گیے۔ دوچار دن کے بعد رخصتی کا اصرار ہوا۔ مگر چھڑے والی بات پکڑ کر مدی کے ماں باپ نے انکار کردیا۔ ایک روز مدی کے شوہر نے حسن علی کے گھر آکر بہت سخت سست سنایا۔ اور غصہ میں یہ بھی کہا کہ حرام زادی کو جھونٹے پکڑ کر گھسیٹتا نہ لے جاؤں تب ہی کہنا۔ اس وقت تک مدی نے کسی کی جنبہ داری نہیں کی تھی۔ لیکن اب وہ بھی فرنٹ ہوگئی۔ اور ایسی فرنٹ ہوئی کہ مرتے دم تک پھر منہ نہ دیکھا۔ حسن علی نے بھی خیال کیا۔ داماد ممکن ہے کچھ شہدہ پن ہی کر بیٹھے اس لیے مدی کا پورے طور سے تحصیلدار ہی صاحب کے یہاں رہنا اچھا ہے۔ شوہر صاحب ہمیشہ کے لیے معطل کردیے گیے۔\n\nجب سے مدی کی شادی ہوگئی تھی، تحصیلدار صاحب کچھ چپ سے رہتے تھے۔ اس واقعہ کے بعد وہ بھی بحال ہوگیے۔ مدی کے شوہر نے اپنی سفاہت سے یہ بھی کہا کہ تحصیلدار صاحب نے اس سے آشنائی کر رکھی ہے۔ مگر اس کو کون باور کرتا۔ حسن علی والی بات پر تو لوگ ہنسی مذاق بھی کرتے تھے۔ مگر اس بات کو کسی نے جھوٹوں بھی یقین نہ کیا۔ البتہ تحصیلدار صاحب تجربہ کار آدمی تھے۔ انھوں نے موت زندگی کا خیال کرکے مدی کے لیے علیحدہ گھر اور کچھ بودگی کاانتظام کرنا شروع کیا۔ اس واقعہ کے دوسرے ہی سال کے اندر تحصیلدار صاحب کا انتقال ہوگیا۔ تحصیلدار صاحب مرحوم کے یا تو کوئی نہیں تھا یا یکبارگی نہ معلوم کتنی وارث پیدا ہوگیےاور آپس میں مقدمہ بازی شروع ہوگئی۔\n\nبی مدی نے بھاری پتھر چوم کے چھوڑا۔ اٹھ کر اپنے گھر چلی آئیں۔ تخت، چارپائیوں، الماریوں پر نہ ان کا حق تھا نہ انھوں نے دعویٰ کیا۔ نقد جو کچھ تحصیلدار صاحب ان کو دے گیے ہوں وہ کون لے سکتا تھا۔ ہاتھ ناک گلے میں جو کچھ تھا وہ ان کا تھا ہی۔ مدی نے حسن علی کی صلاح سے یہ طریق اختیار کیا کہ اپنے طبقے سے اونچی ہوکر رہنا پسند نہ کیا بلکہ جس حیثیت کے لوگ ان کے ماں باپ تھے اسی برادری میں رہیں۔ البتہ روپیہ پیسہ اور سلیقہ ہونے کی وجہ سے اپنے طبقے میں یوں رہیں جیسے مالی کی ڈالی میں سب پھولوں میں گلاب کا پھول ہوتا ہے۔\n\nتحصیلدار صاحب کے سال ہی بھر بعد طاعون بڑے زوروں کا پڑا۔ اس میں میاں حسن علی اور ان کی بی بی بھی چل بسیں۔ اب صرف بی مدی اور ان کا چھوٹا بھائی رہ گیے۔اس وقت تک مدی نے جو کچھ اچھا برا کیا ہوگا اس کی ذمہ داری صرف ان کے اوپر نہ تھی کیونکہ ہر معاملہ میں تحصیلدار مرحوم اور اس سے کم درجے تک ان کے باپ کی رائے شامل رہتی تھی۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا وہ البتہ ان کے دل و دماغ کا نتیجہ تھا۔ مدی کا برتاؤ ہر شخص سے عمدہ تھا۔ کوئی شاکی نہ تھا بلکہ اڑوس پڑوس کی عورتیں ہر وقت ان کی گھر میں موجود رہتی تھیں۔ ان سے بھی جو ہوسکتا تھا آنے جانے والیوں کے ساتھ سلوک کرتی تھیں۔ گھر میں کپڑا سینے کی مشین تھی۔ دن بھر لوگوں کے کپڑے مفت سیا کرتی تھیں۔ کسی کو اگر روپے دو روپے کی ضرورت ہوتی تو وہ بھی قرض کے نام سے دے دیے۔ جس کسی کا کہیں ٹھکانہ نہ لگے وہ بی مدی کے یہاں چلاآئے۔ روٹی اپنی پکائے ،دال بی مدی کی ہانڈی سے لے لے۔ پان پتا بھی بی مدی کے پاندان سے کھائے۔\n\nاسی زمانہ میں ایک عورت نہ معلوم کہاں کی باہر سے آئی۔ اس کو بھی بی مدی نے رکھ لیا، عورت سلیقہ مند تھی۔ اپنا بار بھی ان پر نہیں ڈالتی تھی۔ بلکہ پیسے دو پیسے کا سلوک خود ہی کردیتی تھی۔ کچھ انگوٹھیاں ،کچھ کیلیں، لیس، صابون وغیرہ بیچتی تھیں۔ صبح ہوئی اور برقع اوڑھ کر نکل گئیں۔ دوپہر کو آئیں۔ کھانا کھایا، آرام کیا۔ اس کے بعد پھر نکل گئیں۔ شام کو لوٹیں۔ یہ مسماۃ آئی تھیں تو یہ کہہ کر کہ دوچار دن میں سودا کرکے دوسری جگہ چلی جائیں گی، مگر مدی سے کچھ ایسی پرگت ملی کہ گھر کی طرح رہنےلگیں۔ محبت و یگانگی کی وہ پینگیں بڑھیں کہ سگی بہنیں مات تھیں۔ صورت شکل کی تو معمولی تھیں مگر قد کشیدہ تھا۔ جب برقع اوڑھ کر راستہ چلتی تھی تو معلوم ہوتا تھا کہ مرد بھیس بدلے ہوئے چلاآتا ہے۔ چال ڈھال قد کے علاوہ بھی کچھ اور باتیں مردوں کی ایسی تھیں۔ مثلاً ہاتھ پاؤں کے دیکھتے سینہ کم تھا۔ کمر، کولہے، پاؤں کی چوڑی چوڑی ایڑیاں بھی عورتوں کی ایسی نہ تھیں۔\n\nتھوڑے ہی دنوں میں یہ ہوگیا کہ دن کو تو ویسا ہی مجمع رہتا تھا مگر رات کو دوسری عورتیں کم رہنے لگیں۔ جب منہ نہیں پایا تو پرائے گھر میں کیسے ٹھہرتیں۔ پہلے تو عورتوں میں سرگوشیاں ہوئیں پھر محلے میں ہر شخص اسی کا ذکر کرنےلگا۔ مگر مدی اور اس عورت نے بجائے تردید کرنے کے ایک آزادانہ بے پروائی کا انداز اختیار کرلیا۔ اس عورت نے کہا ہم لوگ کسی کی بہو بیٹی ہیں یا پھرسے نکاح کرنا ہے جو ہرشخص کے آگے قسمیں کھاتے قرآن اٹھاتے پھریں۔ دنیا اپنی راہ ہم اپنی راہ۔ مدی نے کہا اگر ہمارے کوئی والی وارث ہوتا تو کسی کی مجال پڑی تھی کہ ایسی بات کہتا۔ زمانہ گزرتا گیا اور لوگوں کا شک یقین سے بدلتا گیا۔ قاعدہ ہے کہ پنچ برادری سے اگر دب جاؤ تو وہ اور دباتے ہیں۔ اگر مقابلہ پر تیار ہوجاؤ تو لوگ اپنی نیکی کی وجہ سےاکثر معاف بھی کردیتے ہیں۔ یہی حال ان دونوں کا ہوا کہ نہ کسی نے پھر پوچھ گچھ کی نہ انھوں نے انکار کی زحمت اٹھائی۔\n\nلکھنے والے کو اغلام مساحقے کے ذکر میں کوئی مزا نہیں آتا۔ مگر اسی کے ساتھ ان چیزوں کا ذکر کرنے سے ڈرتا بھی نہیں۔ اگر یہ چیزیں دنیا میں ہوتی ہیں تو چپ رہنے سے ان میں اصلاح نہ ہوگی۔ نہ یہ طے ہوسکے گا کہ کہاں تک یہ چیزیں فطری ہیں۔ اور کہاں تک اسباب زمانہ سے پیش آتی ہیں۔ کسی جولاہے کے پاؤں میں تیر لگاتھا۔ خون بہتا جاتا تھا۔ مگر دعائیں مانگ رہا تھا کہ اللہ کرے جھوٹ ہو۔\n\nہمارے قصے کے لوگ دراصل ہیولاک ایلس اور فرائڈ نہیں پڑھے ہیں۔ اس وجہ سے مجبوراً ہمیں ان مسائل پر بحث کرنا پڑی۔ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ ہر عورت میں کچھ جزو مرد کاہوتا ہے اور ہر مرد میں کچھ جزو عورت کا۔ جو جزو غالب ہوتا ہے اسی طرح کے خیالات اور افعال ہوتے ہیں۔ مردانہ قسم کی عورتیں اور زنانہ قسم کے مرد ہرجگہ دکھائی دیتے ہیں۔ ممکن ہے بعض ان میں ایسے ہوں جن کو فطرتاً اپنے ہی جنس سے تعلقات اچھی معلوم ہوتے ہوں۔ مگر اس میں بھی کلام نہیں کہ اسباب زمانہ سے بھی لوگ اس راہ لگ جاتے ہیں۔ بجائے اصلاح کی کوشش کے ہر معاملے میں یہی رائے قائم کرنا کہ یہ قدرتی تقاضہ سے ہے اور اسی لیے اصلاح کی ضرورت نہیں، ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ البتہ ایسے فعل کی جس میں سماج کا کوئی نقصان نہ ہوتا ہو تو قانونی سزا ہونی چاہیے یا نہیں یہ دوسرا مسئلہ ہے۔\n\nاچھا اب قصہ سنیے۔ مدی اور اس عورت سے دوسال دوستی رہی۔ اس کے بعد لڑائی ہوگئی۔ کس بات پر بگاڑ ہوگیا یہ کسی کو معلوم نہیں۔ وہ جس راہ آئی تھی اسی راہ چلی گئی۔ بی مدی اجڑی بجڑی رنڈایا کھیلنے لگیں۔ جوئندہ یا بندہ، تھوڑے دنوں کے بعد ایک اور ہم جنس مل گئیں۔ اس کے بعد اور بھی ملاکیں مگر\n\nنہ بیوفائی کا ڈر تھا نہ غم جدائی کا\nمزا میں کیا کہوں آغاز آشنائی کا\n\nوہ پہلی سی بات پھر نہ نصیب ہوئی۔ اب روپیہ بھی کم رہ گیا تھا۔ اس لیے آمدنی بڑھانے کی بھی فکر ہوئی۔ بی مدی نے تحصیلدار کے اعزا کے آگے ہاتھ بڑھایا نہ پھر سے شادی کی ہوس کی۔ بلکہ خود کام کرنے پر تیار ہوگئیں۔ پر اٹھے کباب بنانا شروع کیے، جاڑوں کی فصل میں انڈے اور گاجر کا حلوا بنانےلگیں۔ کچھ عورتوں کی ضرورت کا بساط خانہ بھی منگوالیا۔ چکن کروشیا کا بھی ڈھچرڈالا۔ بیچنے والوں کی کمی نہ تھی۔ ارد گرد کی لڑکیاں اور عورتیں سودابیچ لاتی تھیں۔ اور حق المحنت سے زیادہ حصہ پاتی تھیں۔ بی مدی کو سوداگری کا سب سے بڑا گر نہیں یاد تھا۔ یعنی جو آدمی بہت سے کام ساتھ ہی کرتاہے وہ کوئی کام نہیں کرسکتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خرچ آمدنی سے زیادہ ہی رہا۔ یہاں تک کہ مکان بھی گروی رکھنا پڑا۔\n\nروپیہ کے جانے کے بعد توقیر میں بھی فرق آجاتا ہے۔ مگر اس کی شائستگی، رکھ رکھاؤ ایسا تھا کہ پھر بھی لوگوں کی نظر میں ہلکی نہ ہوئی۔ کپڑے اب بھی سلیقے کے پہنتی تھی۔ گاڑھا پردہ کبھی نہیں تھا۔ آج بھی سڑک پر ماری ماری نہیں پھرتی تھی۔ تنخواہ والے نوکرکبھی نہیں تھے۔ آج بھی کام کاج کرنے والے آسانی سے مل جاتے تھے۔ مگر اقبال مندی میں گھن بہت دنوں سے لگ چکا تھا۔ اس لیے چہرے کی آب رخصت ہوچکی تھی۔ زمانہ بدل جانے سے مزاج میں بھی فرق آگیا تھا۔ ایک دن ان کے گھر میں کئی عورتیں جمع تھیں۔ کسی نے کہا بن مرد کی عورت کس گنتی شمار میں ہے۔ بی مدی بول اٹھیں۔ ’’سچ کہتی ہو بہن۔‘‘ ایسی بات ان کے منہ سے کبھی نہیں سنی گئی تھی۔ یہ سن کر بعض نے دوسروں کو اشارہ کیا۔ بعض نے اتفاق کیا۔ دو ایک ایسی بھی تھیں جو مدی کا منھ تعجب سے دیکھنے لگیں۔ یہ وہ تھیں جنھوں نے مدی کے منہ سے مرد کا نام بلاناک بھوں چڑھائے عمر میں نہیں سنا تھا۔\n\nزمانہ گزرتا گیا مگر بی مدی کے دن نہ پھرنا تھے نہ پھرے۔ کچھ دنوں کے بعد ایک شاہ صاحب آئے۔ بہت مرجع خلائق تھے۔ عقیدت مندوں کا ہجوم ہروقت لگا رہتا تھا۔ بی مدی بھی دوتین بار کباب پراٹھے کی نذر نیاز پیش کرچکی تھیں۔ اتنے میں خبراڑی کہ شاہ صاحب حج کو جائیں گے۔ ہمیشہ مرغ پلاؤ توکل پر کھایا کیے۔ اب حج بھی توکل پر کریں گے۔ جس دن شاہ صاحب چلے لوگوں نے دیکھامدی بھی دامن سے لگی چلی جارہی ہیں اور لوگوں سے کہا سنا معاف کرا رہی ہیں۔ جو کچھ بچی بچائی پونجی تھی وہ بیچ کر نقد کرلیا۔ باقی کے لیے شاہ صاحب کی ذات اور توکل کا توشہ کافی ٹھہرا۔ حج سے واپسی پر وطن نہیں آئیں بلکہ شاہ صاحب ہی کے قدموں سے لگی رہیں۔ شاہ صاحب اپنے وقت کے بلعم باعور تھے۔ جی چاہے الگنی پر ڈال دیجیے۔ چاہے چادر کی طرح کاندھے پر لٹکا لیجیے۔ مدی میں جوانی کی کنی گلنے میں اب بھی دیر تھی۔ مگر شاہ صاحب کو دیکھ کر خواب میں بھی آشنائی کا خیال نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اگر غور کیجیے تو پیر بھی ایک طرح کا شوہر ہی ہوتا ہے جس پر مرید اسی طرح تکیہ کرتا ہے جیسےعورت مرد پر۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%86%D8%B3"} {"title": "تیشے سے کوئی کام نہ فرہاد سے ہوا", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیشے سے کوئی کام نہ فرہاد سے ہوا\nجو کچھ ہوا وہ عشق کی امداد سے ہوا\n\nمیری طرف جو زلف سے پھینکا نکال کر\nایسا قصور کیا دل ناشاد سے ہوا\n\nاپنے خرام ناز کی ان کو خبر نہیں\nکہتے ہیں حشر تیری ہی فریاد سے ہوا\n\nبے حکم یوں کسی کو ستاتا نہیں فلک\nمجھ پر یہ ظلم آپ کے ارشاد سے ہوا\n\nبیخودؔ کی طرح کون تمہیں جان دے سکا\nیہ کام عشق میں اسی ناشاد سے ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%B4%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%81%D8%B1%DB%81%D8%A7%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "تیغ ابرو کا جو قتیل ہوا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیغ ابرو کا جو قتیل ہوا\nوہ شہیدوں میں بے عدیل ہوا\n\nچشمۂ اشک چشم پر نم تھا\nخلد میں جو کہ سلسبیل ہوا\n\nآبرو دی ہے انکساری نے\nخاکساری سے میں جلیل ہوا\n\nخود فرستندہ تھا فرستادہ\nوحی لا کر وہ جبرئیل ہوا\n\nہوں وہ عاصی کہ شعلۂ دوزخ\nنار ہی گلشن خلیل ہوا\n\nجز غم یار دشت غربت میں\nکون ایسا تھا جو کفیل ہوا\n\nاب خدا ہی سے لو لگاؤں گا\nدے کے دل بت کو میں ذلیل ہوا\n\nشب فرقت جو خط لکھا میں نے\nزلف جاناں سا وہ طویل ہوا\n\nاے جمیلہؔ یہ دل ہے دشمن جاں\nمرگ عاشق کا جو دلیل ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%82%D8%AA%DB%8C%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "تیغ بران نکالو صاحب", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیغ بران نکالو صاحب\nدل کے ارمان نکالو صاحب\n\nگھر سے رکھتے ہو قدم کیوں باہر\nنہ مری جان نکالو صاحب\n\nدیکھ رہنے سے خفا ہو تو مری\nچشم حیران نکالو صاحب\n\nہے یہ ناصور جگر کی بتی\nتم نہ پیکان نکالو صاحب\n\nرہنے دو گھر میں نہ مجھ پر ناحق\nرکھ کے بہتان نکالو صاحب\n\nبار اغیار کو خلوت میں نہ دو\nہیں بد انسان، نکالو صاحب\n\nہے مری طرح تمہارا کہیں دھیان\nدل سے یہ دھیان نکالو صاحب\n\nگالی ناحق نہ کسی کے حق میں\nمنہ سے ہر آن نکالو صاحب\n\nہائے یہ رنجش بے جا دل سے\nکسی عنوان نکالو صاحب\n\nسر بازار نہ بیٹھا کرو تم\nکچھ تو اب شان نکالو صاحب\n\nگرم بازاری کی خاطر سر راہ\nتم نہ دوکان نکالو صاحب\n\nحسرت وصل ہے جرأتؔ کو کمال\nلو یہ ارمان نکالو صاحب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%88_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8"} {"title": "تیغ ستم سے اس کی مرا سر جدا ہوا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیغ ستم سے اس کی مرا سر جدا ہوا\nشکر خدا کہ حق محبت ادا ہوا\n\nقاصد کو دے کے خط نہیں کچھ بھیجنا ضرور\nجاتا ہے اب تو جی ہی ہمارا چلا ہوا\n\nوہ تو نہیں کہ اشک تھمے ہی نہ آنکھ سے\nنکلے ہے کوئی لخت دل اب سو جلا ہوا\n\nحیران رنگ باغ جہاں تھا بہت رکا\nتصویر کی کلی کی طرح دل نہ وا ہوا\n\nعالم کی بے فضائی سے تنگ آ گئے تھے ہم\nجاگا سے دل گیا جو ہمارا بجا ہوا\n\nدر پے ہمارے جی کے ہوا غیر کے لیے\nانجام کار مدعی کا مدعا ہوا\n\nاس کے گئے پہ دل کی خرابی نہ پوچھیے\nجیسے کسو کا کوئی نگر ہو لٹا ہوا\n\nبد تر ہے زیست مرگ سے ہجران یار میں\nبیمار دل بھلا نہ ہوا تو بھلا ہوا\n\nکہتا تھا میرؔ حال تو جب تک تو تھا بھلا\nکچھ ضبط کرتے کرتے ترا حال کیا ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D8%B1_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "تیغ عریاں پہ تمہاری جو پڑی میری آنکھ", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیغ عریاں پہ تمہاری جو پڑی میری آنکھ\nچشم جوہر سے اجی خوب لڑی میری آنکھ\n\nنہ ہٹی پیٹ پر اس کے جو پڑی میری آنکھ\nبن گئی ناف شکم ایسے اڑی میری آنکھ\n\nاشک گل رنگ پروتی ہے مژہ میں کیا خوب\nکیا بناتی ہے یہ پھولوں کی چھڑی میری آنکھ\n\nتم رہے بام پہ یاں لگ گئیں آنکھیں چھت سے\nرات گنتی رہی ہر ایک کڑی میری آنکھ\n\nاس خجالت نے ابد تک مجھے سونے نہ دیا\nہجر میں لگ گئی تھی ایک گھڑی میری آنکھ\n\nدر دنداں کی بھلا آئنہ کیا جانے قدر\nاس کو دکھلاؤ مبصر ہے بڑی میری آنکھ\n\nخط رخسار نہیں پائے نگہ کے ہیں نشاں\nعارض صاف پہ سو بار پڑی میری آنکھ\n\nیاد آئے جو ترے تیغ کا مالا قاتل\nروکے پیدا کرے موتی کی لڑی میری آنکھ\n\nرخنہ دیوار میں معمار بنانا کیا تھا\nتو نے روزن کے عوض کیوں نہ جڑی میری آنکھ\n\nزندگی میں تو کیا مردم آبی مجھ کو\nدیکھوں اب کیا ہو مرے ساتھ گڑی میری آنکھ\n\nزلف کی طرح سے زنجیر ہوئی جاتی ہے نرم\nپڑتی ہے جوش جنوں میں یہ کڑی میری آنکھ\n\nکیا اسی نے یہ کیا مطلع ابرو موزوں\nتم جو کہتے ہو سخن گوئی بڑی میری آنکھ\n\nچشم میں سرمے کا دنبالہ بنا کر بولے\nکیوں عصا ٹیک کے ہو جائے کھڑی میری آنکھ\n\nنخل نرگس نہیں تربت پہ نظارے کے لیے\nآئنہ دیکھتی ہے راہ کھڑی میری آنکھ\n\nنظر آئے گی زمیں کشتیٔ دریاۓ فنا\nدیکھ لینا جو مرے ساتھ گڑی میری آنکھ\n\nباغباں نہر نہیں یاد میں اک کوچے کی\nرو رہی ہے یہ گلستاں میں پڑی میری آنکھ\n\nکرتے ہی ایک نگہ میں لب نازک کو کبود\nکیا بنا دیتی ہے مسی کی دھڑی میری آنکھ\n\nآئے تیرا جو تصور بھی تو بہر تعظیم\nکیا عجب پائے نگہ سے ہو کھڑی میری آنکھ\n\nدل پر داغ ہوا دفن تو لالہ نکلا\nاگی نرگس جو گلستاں میں گڑی میری آنکھ\n\nیاد آتے ہیں مجھے حضرت ناسخؔ جو وزیرؔ\nکیا لگا دیتی ہے اشکوں کی جھڑی میری آنکھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%DA%91%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE"} {"title": "تیغ نگہ دیدۂ خوں خار نکالی", "poet_page": "مصنف:مردان علی خاں رانا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیغ نگہ دیدۂ خوں خار نکالی\nکیوں آپ نے عشاق پہ تلوار نکالی\n\nبھولے ہیں غزالان حرم راہ خطا سے\nتم نے عجب انداز کی رفتار نکالی\n\nدھڑکا مرے نالہ کا رہا مرغ سحر کو\nآواز شب وصل نہ زنہار نکالی\n\nہر گھر میں کہے رکھتے ہیں کہرام پڑے گا\nگر لاش ہماری سر بازار نکالی\n\nآخر مری تربت سے اگی ہے گل نرگس\nکیا باد فنا حسرت دیدار نکالی\n\nمیں وصل کا سائل ہوں نہ وعدے کا طلبگار\nباتوں میں عبث آپ نے تکرار نکالی\n\nجل جائے گا یہ خرمن ہستی ابھی اے دل\nسینے سے اگر آہ شرربار نکالی\n\nدل لے کے بھی رعناؔ کا کیا پاس نہ افسوس\nکچھ حسرت دل تو نے نہ عیار نکالی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%D9%86%DA%AF%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "تیغ چڑھ اس کی سان پر آئی", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "تیغ چڑھ اس کی سان پر آئی\nدیکھیں کس کس کی جان پر آئی\n\nہم بھی حاضر ہیں کھینچیے شمشیر\nطبع گر امتحان پر آئی\n\nٹک شکایت کی اب اجازت ہو\nنہیں رکتی زبان پر آئی\n\nپوچھیے حال زار یہ نہ کبھو\nدل نامہربان پر آئی\n\nدل ہمارا کہ گھر یہ تیرا تھا\nکیوں شکست اس مکان پر آئی\n\nکٹ گئی دودمان تاک کی ناک\nدخت رز جب دکان پر آئی\n\nٹک تو ظالم سنبھال خنجر کیں\nکارد اب استخوان پر آئی\n\nعالم جاں سے تو نہیں آیا\nایک آفت جہان پر آئی\n\nغیر کے آگے دل کی بات بیاںؔ\nآہ میری زبان پر آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%DA%86%DA%91%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "تیمارداری", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "پانچ چھ سال انگلستان میں رہ کر میں واپسی کی تیاری کر رہا تھا۔ کچھ دن تک تو نتیجے کا انتظار رہا اور خوب ملک کی سیر کی۔ اب ارادہ ہو رہا تھا کہ کیوں نہ یورپ کے مشہور ممالک کی پہلی اور آخری مرتبہ سیر کی جائے۔ والد صاحب روپیہ جس تنگ دلی سے بھیجتے تھے، اس کا اندازہ اس سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ ہم پانچ بھائی ہیں اور آخر سب کو ہی ولایت دیکھنا تھا۔ میں نے چلنے سے پہلے لندن سے والد صاحب کو تار دیا کہ بس اب سو پونڈ اور بھیج دیجیے پھر نہ مانگیں گے۔ اس کا جواب خفگی کا تار آیا کہ نہیں بھیجیں گے۔ ادھر سے میں نے جواب دیا کہ خاکسار بغیر سو پونڈ کے آ ہی نہیں سکتا۔ مجبور ہے۔ حساب گھر آ کر دے گا۔ مجبوراً سو پونڈ ہمیں بھیجے گئے۔\n\nہم نے بیٹھ کر خوب لمبا چوڑا جتنا بھی ہماری وسعت میں تھا، یورپ کی سیر کا پروگرام بنایا اور جلد سے جلد اس پر عمل درآمد شروع کردیا۔ لندن سے پیرس اور وہاں سے برلن اور پھر وہاں سے ویانا، سوئٹزر لینڈ اور اٹلی کی سیر کرتے ہوئے قسطنطنیہ پہنچے۔ یہاں سے مصر پہنچ کر تمام عجائبات دیکھے اور پھر اسکندریہ سے سیدھے بیٹھ کر بمبئی کی راہ لی۔ اس سیر سپاٹے میں اتنا روپیہ خرچ ہوا کہ ہم نے جو حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ بمبئی پہنچ کر ہمارے پاس بمشکل اتنا رہ جائے گا کہ گھر تک کے کرایے کے لیے کافی ہو سکے۔ لہٰذا یہ سوچا کہ بمبئی میں زیادہ قیام نہ کریں گے۔\n\n(۱)\n\nجہاز بمبئی پہنچا تو اترنے چڑھنے کے جھنجھٹ سے فارغ ہو کر ایک تھرڈ کلاس ہوٹل میں پہنچے۔ ہوٹل پہنچ کر جیب سے روپیہ کا بٹوا جو نکالا تو غائب۔ ٹامس کک سے اپنا کل رپیہ خرچ کر کے قریب پینتیس روپے زائد لے چکے تھے اور اب اپنے پاس ایک کوڑی تک نہ تھی۔ خیال کیا کہ والد صاحب کو تار دے کر منگا لیں۔ ہوٹل کے مالک سے موٹر والے کا کرایہ دلوایا اور انہیں سے دام لے کر والد صاحب کو تار دیا کہ بمبئی آ گیا ہوں اور روپیہ کا بٹوا کھو گیا۔ براہ کرم پچاس روپیہ بذریعہ تار فوراً روانہ فرمائیے۔ وہاں والد صاحب کی بس جان ہی تو جل گئی، کیونکہ سو پونڈ کے علاوہ کرایہ وغیرہ بھی لے چکا تھا اور شام تک کچھ تار کا جواب نہ آیا۔ شام کو ٹہلنے چلا گیا۔ پاس کوڑی تک نہ تھی۔ کچھ جی الجھا سا رہا تھا۔ دیر تک سمندر کے کنارے بیٹھا رہا۔ یہی سوچا کیا کہ دیکھو تو والد صاحب کی کفایت شعاری کہ کسی بھائی کو بمبئی ہمیں لینے تک کو نہ بھیجا اور نہ کوئی رشتہ دار آیا اور پھر یہ کہ روپیہ تار سے منگوایا تب بھی نہ بھیجا۔\n\nرات گئے ہوٹل واپس آیا۔ سر میں کچھ خفیف سا درد تھا۔ صبح آنکھ کھلی تو حرارت تھی۔ اس پر غلطی یہ کی کہ حسب عادت نہا لیا۔ اخبار پڑھتے پڑھتے ہی تیز بخار آ گیا اور رات تک بخار کی تیزی میں بے ہوش سا ہو گیا۔ ہوٹل والے نے مجھ سے کہا کہ ڈاکٹر کو بلواؤں، مگر جب میں نے کہا کہ ’’میرے پاس روپیہ نہیں ہے تو اس نے کہا کہ ہم روپیہ نہیں دے سکتے۔‘‘ میں نے کہا کہ ’’آپ ایک جوابی تار میری طرف سے والد صاحب کو اس پتے پر دے دیجیے اور اس میں لکھ دیجیے کہ میں بیمار ہوں۔ جلد سو روپیہ بھیج دیں۔‘‘ یہ تار دیا گیا۔ اُدھر والد صاحب کا حال سنیے۔ تار جو پہنچا تو کہنے لگے کہ ’’یہ دیکھو ابھی تو تار دیا کہ بٹوا کھو گیا۔ اور اب یہ لکھتا ہے۔‘‘ جواب دیا کہ ’’روپیہ تو بڑی چیز ہے۔ ایک کوڑی نہ بھیجی جائے گی۔ خواہ آؤ خواہ بمبئی میں پڑے رہو۔‘‘\n\nنہیں کہہ سکتا میرا کیا حال ہوا۔ یہ میں سوچ رہا تھا کہ اپنی ایک گھڑی فروخت کر دوں گا، لیکن بخار کی شدت نے یہ حالت کر دی کہ مجھے تن بدن کا ہوش نہ رہا۔ ہوٹل والے نے جب یہ حالت دیکھی تو اس نے خیراتی ہسپتال میں پہنچانے کی فکر کی۔ اسباب اپنے قبضے میں رکھ کر مجھے غشی کے عالم میں ہسپتال پہنچا دیا گیا اور مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ کہاں تھا اور کہاں آ گیا۔ در اصل مجھے میعادی بخار ہو گیا تھا۔\n\n(۲)\n\nدوسرے دن رات بھر اتنا تو یاد ہے کہ نہ معلوم کیا بکا کیا۔ صبح کو ذرا طبیعت ٹھکانے جو ہوئی تو میں نے معلوم کیا کہ ہسپتال میں ہوں۔ جنرل وارڈ یعنی عام وارڈ میں ایک لوہے کے پلنگ پر ہسپتال کے کپڑے پہنے ہوئے پڑا تھا کہ اتنے میں ایک کم رو سانولے رنگ کی نرس آئی۔ اس نے حرارت وغیرہ دیکھی۔ میں نے اس سے اپنے آنے کی تفصیل دریافت کی۔ اس نے سب قصہ سنایا کہ کس طرح ہوٹل والے نے بھجوایا ہے۔ مجھے سخت غصہ آ رہا تھا اور میں نے بھی جھنجھلاہٹ میں طے کر لیا کہ اب والد صاحب کو کچھ نہ لکھوں گا۔ چنانچہ نرس سے میں نے کہا کہ ’’بڑی مہربانی ہو کہ اگر میرا اسباب ہوٹل سے منگا کر مجھے آپ بجائے خیراتی وارڈ کے پرائیویٹ وارڈ میں بھرتی کرا دیں اور یہ کہ میرے پاس روپیہ پیسہ نہیں ہے۔ لہٰذا یہ چاہتا ہوں کہ میرے بکس میں ایک سونے کی گھڑی کی زنجیر رکھی ہے۔ اس کو نکال کر کسی طرح فروخت کرادیں اور ہوٹل کا بل ادا کرا دیں اور بقیہ روپیہ میری دوا اور علاج پر پرائیویٹ وارڈ کا ایک الگ کمرہ لے کر خرچ کیا جائے۔‘‘\n\nحالانکہ یہ اس کی ڈیوٹی نہ تھی، لیکن اس نے ہوٹل والے کو کہلا بھیجا اور میرا اسباب بھی آ گیا اور ہم پرائیویٹ وارڈ میں بھی آگئے۔ اب میں نے غور کیا کہ اپنے بکس کی کنجی تو دی ہی نہیں تھی۔ زنجیر فروخت ہو کر یہ روپیہ کہاں سے آیا۔ نرس سے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ ’’میں نے اپنے پاس سے دے دیا ہے۔ آپ اطمینان سے دے دیجیے گا۔‘‘ میں نے اس ہمدردی کا بہت شکریہ ادا کیا اور کنجی دے کر پھر تاکید کر دی کہ زنجیر نکلوا لیجیے۔ اس نےکنجی واپس کر دی اور کہا کہ ’’ابھی مجھ کو زنجیر کے فروخت کرانے کی فرصت نہیں ہے۔‘‘\n\nجس کمرہ میں اب آیا۔ یہ ایک چھوٹا کمرہ تھا مگر بڑا صاف اور ستھرا تھا۔ نرس خاص طور پر تیمار داری کر رہی تھی، لیکن دو چار ہی روز میں مرض نے کچھ صورت ہی دوسری اختیار کر لی۔ مرض کا وہ زور ہوا کہ کروٹ لینا بھی ناممکن ہوگیا اور دو تین ہی روز میں غشی یا ہذیان کی حالت میں وقت گزرتا تھا، مگر نرس بیچاری دن رات ایسی تیمارداری کر رہی تھی کہ اگر یہ نہ ہوتی تو شاید ہم مر چکے ہوتے۔ دوا کے وقت دوا دینا اور غذا کے وقت غذا دینا، ضروریات کا خیال رکھنا اور بار بار گندے کپڑے بدلنا غرض ساری خدمت یہی انجام دیتی تھی۔ رات کو جب کبھی میری آنکھ کھلتی تو اس کو جھکا پاتا اور بڑی ہمدردی سے یہ حال پوچھتی اور پھر گھنٹوں سرد باتی اور بے کلی کو دور کرتی۔ اس حالت میں میں نے بار بار اس سے زنجیر کا تقاضا کیا، لیکن وہ ٹال ٹال دیتی تھی۔ میں نے کہا کہ ’’آخر یہ خرچ کہاں سے چل رہا ہے۔‘‘\n\nاس کا نام میری تھا اور اس نے کہا ’’میں نے اپنے پاس سے دیا ہے۔ آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں۔ میں خود آپ کی زنجیر خرید لوں گی۔‘‘\n\n’’اسے ابھی نکالو۔‘‘ میں نے کرب کی حالت میں کہا، ’’ابھی نکالو، ابھی نکالو۔‘‘\n\nمیری نے کنجی لی اور بکس کھول کر زنجیر نکالی۔\n\n’’یہ کتنے کی ہوگی؟‘‘ میں نے پوچھا۔\n\nمیری نے مسکرا کر کہا، ’’آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔ جتنے میں آپ نے خریدی ہے آپ مجھے دے دیجیے۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’سسٹر تم کیوں اتنے دام دو، جتنی قیمت لگے، اتنی دے دو۔‘‘\n\n’’مگر مجھ کو تو فرصت نہیں کہ خود لے جاکر اس کی قیمت معلوم کروں اور دوسرے پر مجھے اعتبار نہیں۔ جتنے میں آپ نے خریدی ہے۔ اتنے دام مجھ سے لے لیجیے اور اگر اس سے کم کی ہو تو بعد میں مجھے واپس کر دیجیے گا۔‘‘ یہ کہتی ہوئی وہ میرے پاس آئی اور اس نے میرے ماتھے پر سے بال ہٹاتے ہوئے کہا، ’’آپ متفکر نہ ہوں۔ آپ کو باتیں نہ کرنا چاہیے۔‘‘ اس کی ہمدردی کا میرے دل پر خاص اثر ہوا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دبایا اور کہا، ’’روپوں کے حساب سے میں نے تین سو میں لی تھی۔ تم کو دو سو میں دے دوں گا۔ اگر اس سے کم دام لگیں گے تو واپس کر دوں گا۔‘‘\n\n’’مجھے منظور ہے۔ میں نے لے لی۔ اب تم خاموش ہو جاؤ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے زنجیر اپنی جیب میں رکھ لی اور کہا، ’’میں تمہارے اخراجات کا حساب رکھتی جا رہی ہوں۔ جتنا کچھ بچے گا۔ وہ تمہیں واپس کر دوں گی۔ اب تو تم بات نہ کرو۔‘‘\n\nمیں کچھ بولنے ہی کو تھا کہ اس نے میرے منہ کو آہستہ سے اپنے ہاتھ سے بند کر دیا اور مسکرا کر کہا، ’’تم اچھے مریض ہو۔ بس بات نہ کرو۔ چپ ہو جاؤ۔‘‘ میں چپ ہو گیا۔ بخار بے چین کر رہا تھا اور میں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کی طرف بڑھا کر پکڑ لیا اور اس کو دیر تک اپنے بائیں ہاتھ میں دابے رہا۔ دوسرے ہاتھ سے وہ میری پیشانی اور سر سہلاتی رہی اور میں سو گیا۔\n\n(۳)\n\nرات کو عجیب حال ہوا۔ بے ہوشی کی حالت میں نہ معلوم کتنی دیر ہذیان کی سی حالت رہی۔ اتنا خیال ہے کہ بار بار میں اٹھتا تھا اور میری اور ایک اور نرس پکڑ پکڑ کر رکھتی تھیں۔ آج بجائے ایک کے دو نرسیں تھیں۔ میری کی ڈیوٹی ختم ہو جاتی تھی، مگر جب بھی وہ نہ جاتی تھی۔ بخار کی تیزی میں یہ دونوں پکڑ پکڑ کر لٹاتی تھیں۔ کبھی ہوش سا آ جاتا تھا اور کبھی پھر وہی بیہوشی اور بکنا اور اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کرنا۔ ایک دم سے زور دے کر میں اٹھ بیٹھا کہ میری نے سنبھال کر لٹایا۔ وہ پٹی پر بیٹھی ہوئی تھی تاکہ میں اٹھنے نہ پاؤں۔ اس نے چارپائی کی دوسری پٹی پکڑ رکھی تھی اور خالی ہاتھ سے وہ میرا ماتھا صاف کر رہی تھی۔ دوسری نرس نے کپڑا برف میں بھگو کر سر اور پیشانی پر رکھ دیا۔ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ ایک دم سے دماغ میں ٹھنڈک سی پہنچی۔ آنکھیں تھوڑی دیر میں کھل سی گئیں۔ میری بدستور پٹی پکڑے ہوئے میرا سیدھا ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ میں ایسے لیے بیٹھی تھی کہ اس کا سیدھا ہاتھ میرے اوپر سے گزر کر پٹی پکڑے ہوئے تھا۔ فی الفور دوسری نرس نے کوئی دوا مجھ کو دی۔ جو میں نے ہوش میں پی لی۔ ذرا دیر بعد وہ نرس میری سے یہ کہہ کر چلی گئی کہ ’’دیکھو یہ اٹھنے نہ پائیں۔ برابر موجود رہنا اور سر کا کپڑا ٹھنڈا کر کے بدلنا۔‘‘\n\nیہ دوا شاید نیند لانے کے لیے دی گئی تھی۔ تھوڑی سی دیر میں نیند کا غلبہ سا ہونے لگا۔ میری اس طرح جھکی ہوئی میری آنکھوں کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا سر بالکل سینے پر تھا۔ وہ شاید یہ دیکھ رہی تھی کہ میں آیا سو رہا ہوں یا جاگ رہا ہوں۔ میں نے ذرا آنکھیں کھولیں تو اس نے آہستہ سے کہا، ’’سو جاؤ۔‘‘ اور یہ کہتے ہوئے اپنے بائیں ہاتھ سے میری آنکھیں ڈھک دیں۔ شاید میں فوراً ہی سو گیا ہوں گا۔\n\nابھی صبح نہ ہوئی تھی کہ میری آنکھ کھلی۔ میری اسی طرح بیٹھی تھی، مگر اس کا سر میرے سینہ پر ٹھوڑی کے پاس ہی رکھا تھا اور وہ غافل سو رہی تھی۔ کئی دن سے برابر جاگ رہی تھی اور آج تو رات بھر اسی طرح اس کو گزر گئی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بیٹھے بیٹھے اس کو نیند آگئی او سر وہیں کا وہیں گر گیا۔ بخار اب بھی مجھے تیز تھا۔ مگر نیند لینے سے اور سر پر برف رکھنے سے ضرور اچھا اثر ہوا تھا۔ میں نے ہمدردی سے اس غریب کے چہرے کو دیکھا اور دل میں میں نے اس کی تیمارداری اور محنت کا اعتراف کیا۔ بوجہ کمزوری کے اور بخار کی تکلیف کے در اصل اس کے سر کا بوجھ میرے سینہ پر سخت گراں گزر رہا تھا، مگر میں چونکہ اس وقت بالکل ہوش میں تھا۔ لہٰذا میرا جی نہ چاہتا تھا کہ اس غریب کو آنکھ جھپکانے کا آرام بھی نہ لینے دوں۔\n\nجو شخص رات دن جاگتا رہے، اس کو تو سولی پر بھی نیند آجاتی ہے نہ کہ ایسے موقع پر۔ میں نےاس کو رہنے دیا، لیکن نہیں بیان کر سکتا کہ تھوڑی ہی دیر بعد میرا تکلیف کے مارے کیا حال ہونے لگا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ در اصل اس کو تھوڑی ہی دیر ہوئی ہوگی اور میری آنکھ بھی قبل از وقت شاید اس کے سر کے بوجھ سے گھبرا کر کھل گئی۔ قصہ مختصر وہ بیچاری کچھ آرام نہ کرنے پائی اور مجبور ہو کر میں نے ارادہ کیا کہ اس کو جگا دوں، مگر کس طرح جگاؤں۔ بہتر صورت یہ معلوم ہوئی کہ تھوڑا سا کلبلانا چاہیے۔ چنانچہ یہی کیا مگر وہ تو گویا گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی کیونکہ اس کو کئی دن سے متواتر سونا ہی نہ ملا تھا۔ جو وقت اس کی ڈیوٹی سے الگ ملتا تھا، وہ میری تیمارداری میں صرف کر دیتی تھی، جب مجھے زیادہ بے چینی ہوئی اور برداشت نہ ہو سکی تو میں نے آہستہ سے اپنا سیدھا ہاتھ اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور اس کو ذرا سا اوپر کو کیا، مگر وہ بے طرح غافل تھی۔ تکلیف سے پریشان ہوکر آخر کو میں نے اسی طرح اسے ہوشیار کیا۔ وہ ایک دم سے چونک پڑی اور گھبراہٹ اور جلدی میں کہنے لگی،\n\n’’میں سوگئی۔ مجھے نیند آگئی۔ معاف کیجیے گا۔‘‘ وہ کچھ شرمائی ہوئی سی تھی۔ اس نے گھڑی دیکھی اور پھر میرا ہاتھ اور ماتھا دیکھ کر کہا، ’’آپ کو نیند آرہی ہو تو سو جائیے۔ مجھے بہت افسوس ہے کہ میں نے اس بدتمیزی سے سوکر آپ کو جگا دیا۔ آپ کو اس سے بہت تکلیف پہنچی، معاف کیجیے گا۔‘‘ میں نے کہا، ’’نہیں مجھ کو کوئی خاص تکلیف نہیں پہنچی۔‘‘ میری نے پھر کہا، ’’کیا بتاؤں میری آنکھیں نیند کی وجہ سے درد کر رہی تھیں اور مجھے پتہ بھی نہیں کہ کب میرا سر آپ کے اوپر گر گیا۔‘‘\n\n’’آپ جا کر سو رہیے۔ میری طبیعت بہت ہلکی ہے۔‘‘ میں نےآرام کرسی کی طرف اشارہ کر کے کہا، ’’اس پر لیٹ جائیے۔‘‘ وہ آرام کرسی کی طرف چلی اور مسکرا کر کہنے لگی، ’’آپ اٹھ کے تو نہیں بھاگیں گے؟ رات کو آپ نے بہت کوشش کی ہے، مگر شکر ہے کہ آج آپ بہتر معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ میں نے شکریے کے لہجے میں کہا، ’’خدا آپ کو اس ہمدردی کا نیک بدلہ دے، جو آپ نے میرے ساتھ کی ہے اور کر رہی ہیں۔‘‘\n\n’’جو آتا ہے ہمیں دعائیں دیتا ہے۔ آپ اب خاموش ہو جائیے۔‘‘\n\nمجھ کو واقعی کچھ تکان سی معلوم ہو رہی تھی اور میں دل میں یہ کہہ کر خاموش ہوگیا کہ میں تجھے کوری دعائیں نہیں دوں گا۔ پانچ سو روپیہ بھی تیری ہمدردی کے صلہ میں دوں گا۔ میں نے دل میں پھر سوچا واقعی دنیا بھی کیا ہے۔ نقد کوئی نہیں دیتا اور صرف دعائیں دے کر اور زبانی جمع خرچ کر کے چلے جاتے ہیں۔ دوسرے روز طبیعت میں کچھ سکون تھا، مگر جوڑ جوڑ میں اور سارے بدن میں میٹھا میٹھا درد ہو رہا تھا۔ میری نے تھرما میٹر لگا کر دیکھا اور کہا، ’’شکر ہے کہ بخار آج آپ کو کم ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’کتنا ہے؟‘‘ میری نے مسکرا کر کہا، ’’مریض کو یہ باتیں بتائی نہیں جاتیں، ڈاکٹر صاحب کی سخت تاکید ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے سرہانے سے نقشے کی تختی لی اور اس پر اندراج کیا۔ اور پھر کہا، ’’آج آپ کی طبیعت بہت اچھی ہے۔‘‘ میں نے کمزور آواز میں کہا، ’’میں بدن کے درد کے مارے مرا جا رہا ہوں۔‘‘\n\n’’کیا زور سے ہو رہا ہے؟‘‘ میری نے پوچھا۔\n\n’’زور سے نہیں ہو رہا ہے بلکہ میٹھا میٹھا درداس طرح ہو رہا ہے کہ بیان میں نہیں آ سکتا اور خاص کر ہاتھ پیروں میں۔‘‘ یہ سن کر وہ قریب آ گئی اور میرا ہاتھ لے کر انگلی کے پوروں سے آہستہ آہستہ انگلیوں کو اس طرح بازو اور ہاتھوں پر چلاتے ہوئے کہا جیسے کہ کوئی ہارمونیم کو دھیرے دھیرے ذرا دباؤ سے بجائے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ سہلا کر مالش سی کرتی رہی۔ اس کے بعد وہ اٹھ کر پائنتی کی طرف گئی اور میرے پیروں کو دبانا چاہا۔ میں نے فوراً اپنا پیر گھسیٹ لیا اور کہا، ’’نہیں نہیں سسٹر یہ نہیں ہوگا۔‘‘ پاؤں کھینچنے سے اس کو وہاں بیٹھنے کی جگہ مل گئی اور اس نے بیٹھتے ہوئے کہا،\n\n’’آپ کے ساتھ کچھ مجھے خصوصیت نہیں ہے۔ مریض کی تکلیف ڈاکٹر اور نرسوں کے لیے باعث تکلیف ہے۔ مجھے اپنی تکلیف میں کمی محسوس ہوگی۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے پاؤں آہستہ سے گھسیٹ کر اپنی گود میں رکھ لیا۔ حالانکہ میں برابر نہیں نہیں کرتا رہا، مگر اس نے ایک نہ سنی اور بڑی دیر تک باوجود میرے مسلسل اور بار بار کے اعتراض کے اسی طرح میرے پیر بڑی محنت اور ہمدردی سے دابا کی، حتی کہ مجھے نیند آگئی۔ اس کے بعد اس کا روز کا دستور ہو گیا کہ میرے ہر طرح سے منع کرنے پر بھی وہ میرے ہاتھ اور پیر برابر دابا کرتی۔ اور میں دل میں یہی سوچتا کہ پانچ سو روپے اس کی محنت کا صلہ کم ہوں گے، لہٰذا اپنی سونے کی گھڑی بھی دوں گا۔\n\n(۴)\n\nاس بیماری سے مجھے یہ پتہ چلا کہ گھر پر علاج کرانےاور اسپتال میں رہ کر علاج کرانے میں کیا فرق ہے۔ وقت پر دوا اور وقت پر نپی تلی غذا، نہ زائد نہ کم اور پھر وقت مقررہ پر علاوہ اس کے سخت بیماری کی حالت میں بھی روزانہ وقت مقررہ پر غسل اور پھر صفائی، یہ چیزیں ایسی تھیں کہ دوا بھی ان کے آگے کوئی چیز نہیں۔ پھر اس پر تیمارداری۔ غرض بخار جاتا رہا اور محض کمزوری ہی رہ گئی۔ اس حالت میں اگر وقت مقررہ پر پاخانہ نہ آتا تو فوراً اس کی تدبیر ہوتی۔ دن میں چار مرتبہ چڑیا کی سی غذا ملتی تھی اور ہر وقت بھوک لگی رہتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کہتے تھے کہ بھوک سے آدمی تندرست ہو سکتا ہے مگر مر نہیں سکتا۔ یہ کہتے تھے اور ستم یہ کہ اس پر عمل کراتے تھے۔ میری اسی طرح میری خدمت کر رہی تھی۔\n\nایک روز کا ذکر ہے کہ میری میرے ہاتھ کی انگلیاں داب رہی تھی کہ اتنے میں اسٹاف نرس آگئی۔ میری اٹھنے لگی تو اس نے اشارہ سے منع کیا کہ بیٹھی رہو۔ بڑے اخلاق سے اس نے میرا سب حال پوچھا اور پھر مذاق کی باتیں ادھر ادھر کی کرتی رہی۔ میری نے لیمونیڈ اور برف کا گلاس دیا۔ وہ برف ہلا ہلا کر پیتی جا رہی تھی اور باتیں کرتی جا رہی تھی۔ ہوتے ہوتے میں نے میری کی ہمدردی اور تیمارداری کا قصہ چھیڑ دیا۔ اسٹاف اسی طرح ہنس ہنس کے باتیں کرتی جاتی تھی کہ بولی، ’’میری! یہ مریض بھی تمہارا کہیں ویسا ہی نہ نکلے۔‘‘ میری نے اسٹاف کی طرف دیکھا اور پھر میری طرف دیکھا۔ پھر نظر الگ کرلی اور کچھ نہ بولی، لیکن کچھ بے چین سی ضرور معلوم ہوئی کہ اسٹاف نے پھر کہا کہ ’’میری! کیوں! بولتی کیوں نہیں۔ کہیں یہ مریض بھی ویسا ہی نہ نکلے۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’کیسا؟‘‘ اسٹاف میری کی طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی اور اس نے مجھ سے اشارہ کر کے کہا، ’’میری سے پوچھو۔ میری سے پوچھو۔‘‘\n\n’’کیوں سسٹر کیسا مریض۔ اس سے مطلب کیا ہے؟‘‘ میں نےمیری سے دریافت کیا۔ اسٹاف نے گلاس کو الگ رکھتے ہوئے ایک قہقہہ لگایا، ’’شرما گئی، میری شرما گئی۔ یہ مریض ویسا نہیں ہے۔ میری ہر مریض کی بڑی خدمت کرتی ہے اور انہیں بھولتی بھی نہیں ہے۔ بلکہ ان کو خطوں۔۔۔‘‘\n\nمیری نےکہا، ’’خدا کے الیے اسٹاف صاحبہ رہنے دیجیے۔ آپ کیوں مجھے۔۔۔‘‘\n\n’’اچھا میں جاتی ہوں۔ میں جاتی ہوں۔‘‘ اسٹاف نے کہا۔ وہ کھڑی ہوئی اور میری کے گال پر محبت میں ہلکے سے دو انگلیوں سے طمانچہ مار کر کہا، ’’بے وقوف لڑکی۔‘‘ یہ کہہ کر اسٹاف چلی گئی۔ میری نے جاتی ہوئی اسٹاف کو دیکھا۔ پھر دوسری طرف منہ کرلیا۔ میں دل میں سوچ رہا تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے آخر اور مریض کیسے تھے۔ تاکہ میں اندازہ لگا سکوں کہ میں خود کیسا ہوں۔ میں نےمیری سے کہا، ’’سسٹر سسٹر۔‘‘ اس نے جھٹ سے رومال سے منہ پونچھتے ہوئے کہا،\n\n’’کہیے! کیا ہے؟‘‘ میں نے اس غریب کو غور سے دیکھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس نے کچھ آنسو پونچھ ڈالے اور بقیہ ضبط کر لیے۔ مجھے اپنے ہمدرد کواس طرح غمناک دیکھ کر بہت صدمہ ہوا۔ میں نے متاثر ہو کر کہا۔ ’’سسٹر یہاں آؤ۔ تم کچھ رنجیدہ معلوم ہوتی ہو۔‘‘ وہ کچھ نہ بولی اور اسی طرح گردن نیچی کیے بیٹھی رہی کہ میں نے پھر کہا، ’’سسٹر یہاں بیٹھو۔‘‘ وہ آ کر کرسی قریب کر کے بیٹھ گئی۔ وہ بے حد مغموم معلوم ہوتی تھی۔ میں نےاس کا بایاں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا، ’’کیا بات تھی۔ اسٹاف کیا کہہ رہی تھی؟‘‘\n\n’’کچھ نہیں وہ مذاق کرتی رہتی ہیں۔‘‘ میری نے کہا۔ میں نے اس کا ہاتھ دبا کر کہا، ’’شاید یہ مذاق نہیں تھا۔ یہ تو کچھ اور تھا۔ آخر میرا ذکر کیوں آیا۔ میں ویسا نہیں ہوں جیسے تمہارے پہلے مریض تھے۔ اس سے کیا مطلب؟ وہ کیسے تھے اور کون تھے؟‘‘\n\n’’آپ رہنے دیجیے۔‘‘ ایک ٹھنڈی سانس بھر کر میری نے کہا، ’’میں فلک کی ستائی ہوئی ہوں، نہیں آپ ویسے ہرگز نہیں ہیں۔ آپ تو بہت شریف اور اچھے آدمی ہیں۔‘‘\n\n’’وہ کیسے تھے؟‘‘ میں نے پوچھا۔\n\n’’بے ایمان اور دغاباز تھے۔‘‘ میری نے کچھ رک کر کہا۔\n\n’’کیا بے ایمانی کی؟‘‘\n\n’’نہیں کچھ بے ایمانی نہیں کی۔ ان کی کچھ خطا نہیں۔ میری قسمت ہی ایسی ہے۔‘‘ میری نے درد بھری آواز میں کہا۔ میں اس غریب کی شکل دیکھ رہا تھا۔ وہ رنج و غم کی تصویر ہو رہی تھی۔ میں نے متعجب ہو کر کہا، ’’آخر معاملہ کیا ہے؟ شاید۔۔۔ انہوں نے آپ سے وعدہ خلافی۔۔۔‘‘\n\n’’اور پھر مجھ سے معافی مانگ کر شکریہ ادا کر کے چلے گئے۔‘‘ میری نے کہا۔\n\n’’سسٹر تم میری ہمدرد ہو اور میں تم سے ہمدردی کروں گا کیونکہ در اصل تم نے ہی میری جان بچائی ہے۔ میرا خیال ہے تم بتا دوگی۔ کیا سب نے ہی ایسا کیا؟‘‘\n\n’’جی ہاں تین آدمیوں نے۔‘‘\n\n’’آخر کیوں؟‘‘\n\n’’اس لیے کہ میں بدصورت ہوں اور کالی ہوں اور غریب ہوں اور آگے پیچھے میرے اس دنیا میں کوئی نہیں جو مجھ سے ہمدردی یا اخلاص سے پیش آئے۔‘‘\n\n’’تم بدصورت ہرگز نہیں ہو اور نہ کالی ہو۔‘‘ میں نے اخلاقاً کہا، ’’سسٹر یہ تم سے کس نے کہا۔ تم تو بہت اچھی لڑکی ہو۔‘‘ میرے ہاتھ کی انگلیاں اس کے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسی ہوئی تھیں۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا، بلکہ اپنا اور میرا ہاتھ اسی طرح میرے سینہ پر رکھ دیا۔ میں سمجھ گیا کہ کیا مطلب ہے، لیکن پھر میں نے کہا، ’’سسٹر تم سے کس نے کہا کہ تم بدصورت ہو۔‘‘\n\nاس نے پھر کوئی جواب نہ دیا۔ میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا اور وہ نظر نیچی کیے مغموم سی بیٹھی تھی۔ اس نے اپنی انگلیاں میری انگلیوں میں سے نکالتے ہوئے کہا، ’’مجھے جانے دیجیے۔‘‘ اور یہ کہہ کر کھڑی ہوگئی۔ میں نے جھٹ سے ہاتھ پکڑ کے پھر اسی طرح انگلیوں میں انگلیاں ڈال لیں اور کہا، ’’نہیں تم بیٹھو۔‘‘ اس نے میری طرف سے پیٹھ موڑ لی اور بایاں ہاتھ اپنے منہ پر لے گئی۔\n\n’’ارے یہ کیا۔ یہ کیا! سسٹر تم کیوں مغموم ہو۔ یہ کیوں؟‘‘ یہ کہہ کر میں نے اس کو اپنے برابر پلنگ پر بٹھا لیا اور وہ اپنے بائیں ہاتھ کی کہنی سے اپنا منہ چھپائے ہوئے تھی۔ میں نے جلدی سے اس کا ہاتھ منہ پر سے ہٹانے کی کوشش کی اور ہمدردی سے کہا، ’’تم کیوں رنج کرتی ہو۔ تمہیں کیا تکلیف ہے؟‘‘ اس نے رومال سے منہ پونچھتے ہوئے کہا، ’’میرا دل کٹا جا رہا ہے۔ خدا کے واسطے مجھے اس وقت چلا جانے دیجیے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ جانے لگی۔ میں نے بھی مناسب نہ سمجھا کہ اس کو روکوں۔ وہ سیدھی اپنے کوارٹر کی طرف چلی گئی۔\n\nمیں اب دل ہی دل میں اس غریب لڑکی کی حالت پر غور کر رہا تھا۔ اس کا دنیا میں کوئی نہ تھا۔ جن کے ساتھ اس نے ہمدردی کی تھی، انہوں نے خواہ مخواہ اس کو دھوکہ دے کر اس کا دل توڑ دیا تھا۔ وہ سمجھتی تھی میں دنیا میں سب سے بدصورت لڑکی ہو ں اور مجھ کو کوئی نہیں پوچھتا۔ کس طرح اس نے میری خدمت کی تھی۔ میں نے غور کیا کہ کس طرح دن اور رات اس نے میرا پیشاب او رپاخانہ اٹھایا اور کس طرح لونڈیوں کی طرح میری خدمت کی۔ یہ سب اس کی سرشت میں داخل تھا۔ وہ دوسروں کے ساتھ بھی ایسا ہی برتاؤ کر چکی تھی جس کا اس کو کیا کچھ صلہ مل چکا تھا۔ میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ نرسوں کے وارڈ کی خادمہ آئی اور اس نے مجھے دو خط دیے کہ یہ مس صاحبہ نے دیے ہیں۔ میں نے خط لیتے ہوئے کہا، ’’وہ کیا کر رہی ہیں؟‘‘\n\n’’وہ تو بڑی بری طرح سے رو رہی ہیں اور اپنے بستر میں منہ دیے ہوئے بیٹھی ہیں۔‘‘\n\n’’کیوں رو رہی ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔ اس نے ہنس کر کہا، ’’آپ کو نہیں معلوم؟ وہ تو اکثر رویا کرتی ہیں۔ ان کی شادی دو تین جگہ لگ لگ کر چھوٹ گئی ہے اور ان کی ساتھ والیاں سب یہی کہہ کے انہیں چھیڑتی ہیں کہ اب تیری شادی کہیں نہ ہوگی اور تو کالی اور بدصورت ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’مذاق میں کہتی ہوں گی۔‘‘\n\n’’جی ہاں! مگر ان کو خواہ مخواہ دق کرنے سے انہیں سب باتیں یاد آجاتی ہیں کہ کس طرح انہیں کئی دفعہ دھوکا ہوا۔‘‘ اور یہ کہہ کر اس نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ کس طرح ایک مریض آیا اور اس کی انہوں نے خدمت کی اور کس طرح خود ہی اس نے ان سے شادی کی درخواست کی اور پھر کس طرح ان کی ایک دوسری نرس دوست سے اس نے ان کو چھوڑ کر شادی کرلی۔ ایک اور بھی شخص آیا جس کو انہوں نے مصیبت کے وقت روپیہ پیسہ بھی دیا اور پھر اس نے بھی چھوڑ دیا اور پھر ایک اور آیا جو عرصے تک خط و کتابت کرتا رہا اور پھر اس نے بھی وعدہ خلافی کی۔\n\nوہ یہ بیان کر کے چلی گئی۔ میں خط پڑھنے لگا۔ ایک تو بہن کا تھا جس میں یہ سب لکھا تھا کہ کس طرح والد صاحب خفا ہیں کہ پہلے تو یہ بہانہ کیا کہ بٹوا کھو گیا اور پھر یہ بہانہ کیا کہ بیمار ہوگیا۔ یہ خط میری بیماری کے زمانے میں آئے تھے اور ڈاکٹر صاحب کے حکم سے کھول کر پڑھ لیے گئے تھے، لیکن مجھے اب ملے تھے۔ کیونکہ بیماری کے زمانے میں خط مریض کو نہیں دیتے۔ میں نے بھی دل میں کہا کہ نہ بھیجیں خرچ۔ میں بھی اب کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے گھر نہ جاؤں گا۔ تھوڑی دیر اپنی حالت پر غور کرتا رہا اور پھر میری کی حالت پر غور کرتا رہا۔ پھر سو گیا۔\n\n(۵)\n\nمیں سو کر اٹھا ہی تھا کہ میری پہنچی۔ اس کے چہرے سے بشاشت ٹپک رہی تھی۔ اس نے آتے ہی مزاج پوچھا اور میرا منہ دھلانے کے لیے جگ اور صابون اٹھایا۔ میں منع کرتا رہا مگر وہ نہ مانی۔ میں نے ہاتھ منھ دھویا۔ پھر باتیں کرنے لگا۔ وہ اس وقت بہت خوش تھی۔ کرسی گھسیٹ کر بالکل میرے پلنگ کے قریب بیٹھ گئی اور میری انگلیاں چٹخا کر باتیں کر رہی تھی۔ کہنے لگی، ’’تم اب کل پرسوں تک کسی پہاڑ پر جانے کا انتظام کرلو۔‘‘ میں نے کہا، ’’تم سب قصہ سن ہی چکی ہو۔ میرے پاس روپیہ ہی نہیں ہے۔ زنجیر کے روپوں میں سے ساٹھ روپیہ تم نے کہا تھا اور رہ گئے ہیں۔‘‘\n\n’’مگر تمہاری تندرستی کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔‘‘ میری نے کہا۔\n\n’’مگر مجبوری ہے بلکہ میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ گھر تو جاؤں گا نہیں۔ آخر کہاں جاؤں اور کیونکر خرچ چلے گا۔‘‘\n\nمیری نے کہا، ’’تم ضرور پہاڑ پر جاؤ۔ روپیہ مجھ سے لے لینا۔ پھر جب ہو تو دے دینا۔‘‘\n\nمیں نے متحیر ہو کر شکریہ کے لہجہ میں کہا، ’’سسٹر تم کیسی باتیں کرتی ہو! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘ میری نے کہا، ’’تم پھر واپس کر دینا۔‘‘\n\n’’معلوم ہوتا ہے تم بڑی روپے والی ہو۔‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔\n\n’’میرے پاس تیرہ سو روپیہ ہے۔‘‘ میری نے بھی مسکرا کر کہا۔ میں نے کہا کہ ’’میں روپیہ لے کرتمہارا غائب ہو جاؤں تو کیا کروگی؟‘‘\n\n’’کچھ پروا نہیں۔‘‘ میری نے کہا، ’’تم سے بدتر لوگ لے کر چلے گئے۔ نہیں تم ایسا کر ہی نہیں سکتے۔ تم ایسا کر ہی نہیں سکتے۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘ میں نے پوچھا، ’’تم کو کیا خبر میں کیسا ہوں؟‘‘\n\n’’میرا دل گواہی دیتا ہے۔‘‘ میری نے کہا، ’’تم ضرور مجھ سے روپیہ لے لو۔ تمہاری تندرستی کے لیے از حد ضروری ہے۔‘‘ میں اس غریب کی طرف غور سے دیکھنے لگا اور مجھے معلوم ہوا کہ جو کچھ وہ کہہ رہی ہے، واقعی دل سے کہہ رہی ہے۔ وہ پھر بولی، ’’بولو کچھ ہرج ہے؟ میں نے تمہاری وہ تیمارداری کی ہے کہ بس میں ہی جانتی ہوں اور اگر تم بالکل تندرست نہ ہوئے تو میری محنت ادھوری رہ جائے گی۔ تم کو لینا پڑے گا۔‘‘\n\n’’ایک شرط پر۔‘‘ میں نے میری سے کہا۔\n\n’’وہ کیا؟‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔\n\n’’وہ یہ کہ تم کو دوگنا واپس لینا پڑے گا۔‘‘ میں نے کہا۔\n\n’’مجھے منظور ہے۔ اب بولو؟‘‘\n\n’’مجھے بھی منظور ہے۔ مگر یاد رکھنا میں مذاق نہیں کرتا۔‘‘\n\n’’میں نے پانچ سو روپیہ ڈاک خانہ سے کل ہی نکلوا کر رکھ لیا ہے۔ لے آؤں؟‘‘ یہ کہہ کر وہ دوڑی ہوئی گئی اور میں اس کو روکتا ہی رہا۔ ذرا دیر بعد وہ آگئی اور نوٹ میرے ہاتھ میں دے دیے۔ میری کی اس وقت عجیب حالت تھی۔ مجھ کو اول تو سخت شرمندگی سی تھی اور پھر نہ معلوم کس سوچ میں تھا۔ وہ اسی طرح بیٹھ گئی۔ میں نے سنجیدگی سے اس سے کہا کہ ’’تم نے اس خوفناک مرض سے میری جان بچائی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر میں نے شکریے کے طور پر اس کا ہاتھ دبایا اور دونوں ہاتھوں میں لے لیا اور کہا، ’’اور پھر اتنا روپیہ دے رہی ہو، میں قسم کھا کر کہتا ہوں۔ اس کا دوگنا تم کو لینا پڑے گا۔‘‘\n\n’’میں نے کہہ دیا نا کہ میں لے لوں گی۔ بس اب جھگڑا کیا رہا؟‘‘ میری نے مسکرا کر کہا۔ جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ سوچ بول رہی ہے اور لے لے گی۔ میں نے میری سے اس کا ہاتھ پکڑ کر غور سے اس کی طرف دیکھ کر کہا، ’’میری! خفا تو نہیں ہوگی۔ ایک بات کہتا ہوں۔ وہ یہ کہ تم سے جو شادی کرے گا وہ بڑا خوش قسمت ہوگا۔‘‘\n\n’’آپ اس کا ذکر نہ کیجیے۔‘‘ میری نے ایک دم سنجیدہ ہو کر مغموم لہجہ میں کہا۔\n\n’’آخر کیوں؟‘‘ میں نے اس سے کہا، ’’آخر کیوں؟ بتاؤ تو سہی۔‘‘\n\nمیری نے پھر مغموم ہو کر کہا، ’’آپ خود جانتے ہیں۔‘‘\n\n’’بیوقوف لڑکی۔‘‘ میں نے کہا، ’’تم کیوں مغموم رہتی ہو، تم یہ سمجھتی ہو کہ کیا اب تم سے کوئی شادی نہ کرے گا؟‘‘\n\n’’میں اس لیے ہرگز مغموم نہیں رہتی۔ آپ میرے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔ میں تو یہ کہتی ہوں کہ میرا کوئی نہیں ہے جو میر خوشی اور غم کا شریک ہو۔‘‘ یہ کہنے میں اس کی آواز کچھ بیٹھ سی گئی۔ میرا دل پسیج گیا اور میں نے کہا، ’’میری اگر دنیا میں تمہارا کوئی نہیں تو میں آج سے تمہارے لیے موجود ہوں۔ تم مجھے اپنا سمجھو۔ بولو مجھے اپنا سمجھوگی۔ تم آج سے میری ہو جاؤ۔‘‘ وہ پھر کچھ نہ بولی۔ بلکہ میری طرف عجیب معصومیت سے دیکھنے لگی۔ اس کی نظریں کہتی تھیں کہ وہ دل میں کہہ رہی تھی کہ میں اس کو دفع الوقتی کے لیے خوش کر رہا ہوں۔ میں دل کی بات سمجھ گیا اور میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف گھسیٹ کر آہستہ سے اس کے کان کے پاس اپنا منہ کر کے کہا، ’’میری تم مجھ سے شادی کر لو تو میری قسمت بن جائے۔‘‘\n\nوہ ایک دم سے چونک سی پڑی اور کہنے لگی، ’’نہیں نہیں۔ تم ضرورت سے زیادہ اچھے ہو۔ تم سے میں دوستی منقطع نہ کروں گی۔‘‘ میں نے اور متاثر ہو کر کہا، ’’تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ میری میں سچ کہتا ہوں۔ تم نے میری جان بچائی ہے اور ایسی خدمت کی ہے کہ مجھے زر خرید بنا لیا ہے۔ میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا اور کبھی دل میلا نہ ہونے دوں گا۔‘‘\n\n’’نہیں نہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ میری نے کہا۔\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’تم مجھے چھوڑ دوگے۔‘‘\n\n’’ہرگز نہیں بلکہ۔۔۔‘‘\n\n’’تمہارے ماں باپ چھڑا دیں گے۔ نہیں میں ایسا یقین نہیں کرتی۔ تم میرا دل نہ دکھاؤ۔ بس میرے ہمدرد دوست رہو۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں چاہتی۔‘‘ میں پریشان سا ہوگیا اور بے تاب ہو کر میں نے اس کو اپنی طرف کر کے کہا، ’’کیوں مجھے دیوانہ کیے دیتی ہو۔ میں بغیر تمہارے زندہ نہیں رہ سکتا اور۔۔‘‘\n\n’’خدا کے واسطے!‘‘ اس نے کھڑے ہو کر کہا، ’’میرے زخمی دل کو مت چھیڑو۔۔۔ اچھا تم پہلے خوب سوچ لو اور مجھے اس وقت جانے دو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ۔۔۔ ہاتھ چھڑا کر سیدھی چلی گئی اور مجھ کو ایک عجیب حال میں چھور گئی۔ میں واقعی اس کم رو لڑکی کے لیے اپنے دل میں ایک عجیب جگہ محسوس کر رہاتھا اور مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اگر اس نےانکار کر دیا تو میری زندگی تلخ ہو جائے گی۔ میں اسی سوچ میں تھا کہ اسٹاف آئی اور اس نے مجھ سے کہا، ’’کیا معاملہ ہے؟‘‘\n\n’’کیوں؟ کیا ہوا؟‘‘ میں نے کہا۔ اسٹاف نے مسکرا کر کہا، ’’میری رو رہی ہے اور کہتی ہے کہ میری قسمت خراب ہے۔‘‘\n\n’’کیا ہوا؟ آخر کچھ تو کہیے۔‘‘ اسٹاف نے مسکرا کر کہا، ’’وہ کہتی ہے کہ یہ مریض بھی ویساہی نکلا اور ویسی ہی باتیں کرتا ہے۔‘‘ میں نے کچھ جھنجھلا کر کہا، ’’ان کا خیال غلط ہے۔‘‘ اسٹاف نے کہا، ’’مسٹر آپ برا نہ مانیے گا۔ بہتر ہے کہ آپ اس قسم کی باتیں نہ کریں۔ کیا آپ واقعی اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں یا محض اس کو چھیڑ کر کھلونا بنا رہے ہیں؟‘‘ میں نے کچھ برا مان کر کہا، ’’آپ میری محسنہ ہیں اور آپ مجاز ہیں کہ جو کچھ بھی سخت و سست الفاظ چاہیں مجھے کہہ لیں۔‘‘\n\n’’تو پھر آپ کو چاہیے کہ آپ شریف آدمی کا سا وعدہ کریں نہیں، بلکہ کل ہی اس سے باضابطہ نکاح کرلیں ورنہ خواہ مخواہ اس کو۔۔۔‘‘\n\n’’میں ابھی تیار ہوں۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ کو یا ان کو خواہ مخواہ میری طرف سے شک ہوا۔‘‘\n\nاسٹاف نے کہا، ’’آپ بے انصافی کر رہے ہیں۔ میرا یا اس کا شبہ حق بجانب ہے۔ در اصل وہ ایک بہت غریب لڑکی ہے جس کے پاس خوبصورتی نہیں۔ لہٰذا جب آپ کا سا شخص اس سے کہے تو ضرور وہ یہی سمجھے گی کہ خواہ مخواہ کا اس سے مذاق کر رہے ہیں۔ وہ بھگتے ہوئے ہے اور اس کو تجربہ ہے۔‘‘\n\n’’ٹھیک، ٹھیک، ان کا شبہ حق بجانب ہے۔ مگر میں آپ سے بالکل صحیح عرض کرتا ہوں کہ مجھے خوبصورتی یا حسن قطعی درکار نہیں۔ مجھے وہ بے حد پسند ہے۔‘‘\n\n’’میں ابھی جاکر بھیجتی ہوں۔‘‘ یہ کہتی ہوئی وہ چلی گئی۔\n\n(۶)\n\n’’میری! یہاں آؤ۔‘‘ میں نےاسے دروازے پر دیکھ کر کہا۔ وہ آئی اور میں نے اس کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ ’’میں تمہیں بھلا دھوکا دوں گا۔ بولو کیا میں تمہیں دھوکا دوں گا؟‘‘ میں نے بااصرار پوچھا۔\n\n’’نہیں۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔\n\n’’پھر مجھ سے شادی کرنے میں تمہیں کیوں انکار ہے۔‘‘ میں نے پوچھا۔\n\n’’اس لیے کہ میں غریب ہوں۔ آپ امیر ہیں۔ میں کالی ہوں۔ بدصورت ہوں اور آپ کو خدا نے روپیہ پیسہ شکل اور صورت۔۔۔‘‘ میں نے اس کا منہ اپنے ہاتھ سے بند کر دیا اور کہا، ’’خدا کے واسطے میرے اوپر رحم کرو، میں تم کو اپنی آنکھوں پر رکھوں گا، کبھی تم کو رنج نہ پہنچاؤں گا اور ہمیشہ تمہاری خدمت کروں گا۔‘‘ وہ رو رہی تھی۔ میں نے اس کو گلے سے لگا لیا اور ہزاروں قسمیں کھا کھا کر اس کو خوشامد سے خاموش کر کے راضی کیا۔\n\n(۷)\n\nمیری سے شادی کرنے کے بعد میں کوہ آبو گیا۔ وہ بھی ساتھ تھی۔ قسمت کی خوبی دو مہینے کے اندر ہی اندر ریلوے انجینئرنگ محکمہ میں مجھ کو ملازمت مل گئی۔ گھر بھی جانا ہوگیا اور والدہ صاحبہ اور والد صاحب سے بھی ملنا ہو گیا، مگر ایک مصیبت درپیش ہے۔ دنیا کے زور پ ڑچکے اور پڑ رہے ہیں کہ میری کو چھوڑ دو۔ والدہ صاحبہ سے بات چیت ہوکر خاتمہ رسید ہوا کہ ’’مجھے دوزخ میں جانا منظور ہے اور آپ کے سب احکام منظور ہیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ میری چھوٹ جائے۔‘‘ والدہ صاحبہ خفا ہیں اور کہہ چکی ہیں کہ تیرا منہ اس وقت تک نہ دیکھوں گی جب تک کہ اس عیسائی لڑکی کو چھوڑ کر دوسری جگہ نہ شادی کرے گا، جہاں وہ طے کر چکی تھیں۔\n\nیہ سب کچھ ہے مگر میرا خیال ہے کہ اگر میری سی بیوی مجھ کو نہ ملتی تو میری زندگی ہیچ ہوتی۔ جو خدا کو اپنے بندوں کی عبادت سے لطف آتا ہوگا وہ مجھ کو اپنی بیوی کی خدمت اور محبت سے حاصل ہے۔ اگر کسی کو دیکھنا ہو کہ خدائے مجازی کون ہے تو وہ مجھے اور پھر میرے پرستار کو دیکھے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "تین میں نہ تیرہ میں", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "رتی، ماشہ، تولہ", "year": "1956", "text_ur": "’’میں تین میں ہوں نہ تیرہ میں، نہ ستلی کی گرہ میں۔‘‘\n\n’’اب تم نے اردو کے محاورے بھی سیکھ لیے۔‘‘\n\n’’آپ میرا مذاق کیوں اڑاتے ہیں؟ اردو میری مادری زبان ہے۔‘‘\n\n’’پدری کیا تھی؟ تمہارے والد بزرگوار تو ٹھیٹھ پنجابی تھے۔ اللہ انھیں جنت نصیب کرے، بڑے مرنجاں مرنج بزرگ تھے۔ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ اتنی دیر لکھنؤمیں رہے ،وہاں پچیس برس اُردو بولتے رہے لیکن مجھ سے ہمیشہ انھوں نے پنجابی ہی میں گفتگو کی۔ کہا کرتے تھے اردو بولتے بولتے میرے جبڑے تھک گئے ہیں اب ان میں کوئی سکت باقی نہیں رہی۔‘‘\n\n’’آپ جھوٹ بولتے ہیں۔ ‘‘\n\n’’میں تو ہمیشہ جھوٹ بولتا ہوں۔ کوئی بات بھی تم سے کہوں، تم یہی سمجھو گی کہ جھوٹ ہے، حالانکہ جھوٹ بولنا عورت کی فطرت ہے۔‘‘\n\n’’آپ عورت ذات پر ایسے رکیک حملے نہ کیا کریں، مجھے بڑی ہی کوفت ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’بہت بہتر! آئندہ محتاط رہنے کی کوشش کروں گا۔‘‘\n\n’’صرف کوشش کریں گے۔ یہ کیوں نہیں کہتے کہ آپ اپنی زبان ایسے معاملوں میں قطعی طور پر بند رکھیں گے۔‘‘\n\n’’یہ وعدہ میں نہیں کرسکتا۔ بندہ بشر ہے۔ ہوسکتا ہے سہواً میرے منہ سے کچھ نکل جائے جسے تم حملہ قرار دے دو۔‘‘\n\n’’میں یہ سوچتی ہوں کہ آپ۔۔۔ آپ کس قسم کے شوہر ہیں۔ بس ہر بات کو مذاق میں اڑا دیتے ہیں۔ پرسوں میں نے آپ سے کہا کہ منجھلی کو ٹائیفائیڈ ہو گیا ہے تو آپ نے مسکرا کر کہا فکر نہ کرو ٹھیک ہو جائے گی۔ لڑکا ہوتا تو فکر و تردد کی بات تھی، لڑکیاں نہیں مرا کرتیں۔‘‘\n\n’’میں اب بھی یہی کہتا ہوں۔ سب سے چھوٹی اوپر کی منزل سے نیچے گری اور بچ گئی۔ دو مرتبہ اسے ہیضہ ہوا، چیچک نکلی، نمونیا ہوا مگر وہ زندہ ہے اور اپنی بڑی بہنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تندرست ہے۔‘‘\n\n’’آپ کی یہ منطق میری سمجھ میں نہیں آتی۔‘‘\n\n’’یہ میری منطق نہیں میری جان۔۔۔ قدرت کو یہی منظور ہے کہ مرد دنیا میں کم ہو جائیں اور عورتیں زیادہ۔ تمھارا پہلا بچہ جو لڑکا تھا، اسے معمولی سا زکام ہوا اور وہ دوسرے دن اللہ کو پیارا ہوگیا۔۔۔ تمھاری بڑی لڑکی کو تو تین بار ٹائیفائیڈ ہوا لیکن وہ زندہ ہے۔ میرا خیال ہے وہ وقت آنے والا ہے جب اس دنیا میں کوئی مرد نہیں رہے گا، صرف عورتیں ہی عورتیں ہوں گی۔ لیکن میں سوچتا ہوں کہ مردوں کے بغیر تم عورتوں کا گزارا کیسے ہوگا؟‘‘\n\n’’یعنی جیسے آپ لوگوں کے بغیر ہمارا گزارا ہو ہی نہیں سکتا۔ ہم بہت خوش رہیں گی۔۔۔ مردوں کا خاتمہ ہوگیا تو یہ سمجھیے کہ ہمارے تمام دکھ درد کا خاتمہ ہوگیا۔۔۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔‘‘\n\n’’تم آج محاوروں کو بہت استعمال کر رہی ہو۔‘‘\n\n’’آپ کو کیا اعتراض ہے؟ ‘‘\n\n’’مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ اعتراض ہو بھی کیا سکتا ہے۔ محاورے میری املاک نہیں۔۔۔ میں نے تو ایسے ہی کہہ دیا تھا کہ تم آج محاورے زیادہ استعمال کررہی ہو۔‘‘\n\n’’دو ہی تو کیے ہیں، یہ زیادہ ہیں کیا؟‘‘\n\n’’زیادہ تو نہیں۔۔۔ لیکن اندیشہ ہے کہ تم دس پندرہ اور مجھ پر ضرور لڑھکادو گی۔‘‘\n\n’’تھوتھا چنا باجے گھنا۔۔۔ آپ اتنا گرج کیوں رہے ہیں۔ آپ کو معلوم نہیں کہ جو گرجتے ہیں برستے نہیں۔‘‘\n\n’’دو محاورے اور آ گئے۔ خدا کے لیے ان کو چھوڑو۔ مجھے یہ بتاؤ کہ آج ناراضی کی وجہ کیا ہے؟‘‘\n\n’’ناراضی کا باعث آپ کا وجود ہے۔ مجھے آپ کی ہر حرکت بری معلوم ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’میں اگر تم سے پیار محبت کی باتیں کرتا ہوں تو وہ بھی تمھیں بری لگتی ہیں۔‘‘\n\n’’مجھے آپ کی پیار محبت کی باتیں نہیں چاہئیں۔‘‘\n\n’’تو اور کیا چاہیے؟‘‘\n\n’’یہ تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔۔۔ میں کیا جانوں۔۔۔ شوہر کو اپنی بیوی کو سمجھنا چاہیے۔۔۔ وہ کیا چاہتی ہے، کیا نہیں چاہتی۔ اس کو اس کا علم پوری طرح ہونا چاہیے۔۔۔ آپ تو بالکل غافل ہیں۔‘‘\n\n’’میں کوئی قیافہ گیر، رمزشناس اور نفسیات کا ماہر نہیں کہ تمھیں پوری طرح سمجھ سکوں۔ اور تمھارے دماغ کے تلوّن کی ہر سلوٹ کے معنی نکال سکوں۔۔۔میں اس معاملے میں گدھا ہوں۔‘‘\n\n’’آپ اونٹ ہیں اونٹ۔‘‘\n\n’’کس لحاظ سے؟‘‘\n\n’’اس لیے کہ آپ کی کوئی کل سیدھی نہیں۔‘‘\n\n’’اچھا بھلا ہوں۔ میری کل سیدھی ہے۔ ابھی تم نے مجھ سے پرسوں کہا تھا کہ آپ چالیس برس کے ہونے کے باوجود ماشاء اللہ جوان دکھائی دیتے ہیں۔ تم نے میرے بدن کی بھی بہت تعریف کی تھی۔‘‘\n\n’’وہ تو میں نے مذاق کیا تھا۔ ورنہ آپ تو اب جھڑوس ہو چکے ہیں۔‘‘\n\n’’دیکھو ایسی بدزبانی مجھے پسند نہیں۔۔۔ تم بعض اوقات ایسی بکواس شروع کر دیتی ہو، جو کوئی شریف عورت نہیں کر سکتی۔‘‘\n\n’’تو گویا میں شریف نہیں۔۔۔ فاحشہ ہوں۔۔۔ بازاری عورت ہوں۔میں نے آپ کو کیا گالی دی جس پر آپ کو اتنا طیش آ گیا کہ آپ نے مجھ کو بدزبان کہہ دیا۔‘‘\n\n’’بھئی، میں اب جھڑوس ہو چکا ہوں۔ مجھ سے بات نہ کرو۔‘‘\n\n’’میں آپ سے بات نہ کروں گی تو اور کس سے کروں گی؟‘‘\n\n’’میں اس کے متعلق کیا کہہ سکتا ہوں۔۔۔ تم اپنے بھنگی سے گفتگو کر سکتی ہو۔ اس سے یہ بھی کہہ سکتی ہو کہ میں جھڑوس ہو گیا ہوں۔‘‘\n\n’’آپ کو شرم نہیں آتی۔ آپ نے یہ کیسی بات کہی ہے؟‘‘\n\n’’بھنگی اور مجھ میں کیا فرق ہے؟ جس طرح تم اس غریب سے پیش آتی ہو، اسی طرح کا سلوک مجھ سے کرتی ہو۔‘‘\n\n’’بڑے بیچارے غریب بنے پھرتے ہیں اور اب مجھ سے کہتے ہیں کہ میں بھنگی کے ساتھ بات کیا کروں۔ غیرت کا مادہ تو آپ میں رہا ہی نہیں۔‘‘\n\n’’میں نر ہوں۔ مادہ تم ہو۔‘‘\n\n’’اس سے کیا ہوا۔۔۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مرد عورتوں کو اتنا حقیر کیوں سمجھتے ہیں۔ ہم میں کیا برائی ہے؟کیا عیب ہے؟ یہی نا کہ ہمارے والدین نے غلطی سے آپ کے ساتھ میری شادی کر دی۔‘‘\n\n’’شادی تو آخر کسی جگہ ہونی ہی تھی۔ تم کیا کرتیں اگر نہ ہوتی؟‘‘\n\n’’میں بہت خوش رہتی۔ شادی میں آخر پڑا ہی کیا ہے؟‘‘\n\n’’کیا پڑا ہے؟‘‘\n\n’’خاک۔۔۔! میں تو کنواری رہتی تو اچھا تھا۔ اس بک بک میں تو نہ پڑتی۔‘‘\n\n’’کس بک بک میں؟‘‘\n\n’’یہی جو آئے دن ہوتی رہتی ہے۔‘‘\n\n’’تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ روز روز کی چخ صرف تمہاری وجہ سے ہوتی ہے، ورنہ میں نے ان پندرہ برسوں میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی کہ تمہاری خدمت کروں۔‘‘\n\n’’خدمت؟‘‘\n\n’’خدمت نہ کہو، میں اپنا فرض ادا کرتا رہا ہوں۔ خاوند کو یہی کرنا چاہیے۔ تمھیں مجھ سے کس بات کا گلہ ہے؟‘‘\n\n’’ہزار گلے ہیں، ایک ہو تو بتاؤں۔‘‘\n\n’’ان ہزار گلوں میں سے ایک گلہ تو مجھے بتا دو تاکہ میں اپنی اصلاح کر سکوں۔‘‘\n\n’’آپ کی اصلاح اب ہو چکی۔ آپ تو ازل سے بگڑے ہوئے ہیں۔‘‘\n\n’’یہ اطلاع تمھیں کہاں سے ملی تھی۔۔۔؟ میں تو اس سے بالکل بے خبر ہوں۔‘‘\n\n’’آپ کی بے خبری کا تو یہ عالم ہے کہ آپ کو خود اپنی خبر نہیں ہوتی۔‘‘\n\n’’غالب کا ایک شعر ہے:\n\nہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو ۔ خود اپنی خبر نہیں آتی!‘‘\n\n’’غالب جائے جہنم میں۔۔۔ اس وقت تو آپ مجھ پر غالب ہیں۔‘‘\n\n’’لاحول ولا۔ میں تو جھڑوس ہو چکا ہوں۔ ازل سے بگڑا ہوا ہوں۔‘‘\n\n’’آپ میری ہر بات کا مذاق اڑاتے ہیں۔‘‘\n\n’’میں یہ جرأت کیسے کر سکتا ہوں مجھ میں اتنی طاقت ہے نہ مجال۔۔۔ لیکن میں کیا پوچھ سکتا ہوں کہ آج آپ کی ناراضی کا باعث کیا ہے؟‘‘\n\n’’میری ناراضگی کا باعث کیا ہو سکتا ہے، یہی کہ آپ۔۔۔‘‘\n\n’’کیا؟‘‘\n\n’’آپ خود سوچیے۔ بڑے سمجھدار ہیں۔ کیا آپ کو معلوم نہیں؟‘‘\n\n’’میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ تمہارے کانوں کے لیے ’ٹوپس‘ لے کر آؤں گا۔ مگر میں جس دکان میں گیا وہاں مجھے دل پسند ٹوپس نہ ملے۔ تم نے مجھ سے کہا تھا کہ لٹھے کا ایک تھان لے کر آؤ۔ میں نے شہر بھر میں ہر جگہ کوشش کی مگر ناکام رہا۔ تمہارے ریشمی کپڑے جو لانڈری میں دھلنے کے لیے گئے تھے،میں ان کو وصول کرنے گیا۔ مگر لانڈری والے نے کہا کہ اس کے دھوبی بیمار ہیں،اس لیے دو دن انتظار کیجیے۔ تمہاری گھڑی جو خراب ہو گئی تھی، اس کے متعلق بھی میں نے پوچھا۔ گھڑی ساز نے کہا کہ اس کا ایک پرزہ بنانا پڑے گا جو وہ بنا رہا ہے۔‘‘\n\n’’آپ بہانے بنانا خوب جانتے ہیں۔‘‘\n\n’’خدا کی قسم سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔ تمہاری قمیصیں کل درزی سے آ جائیں گی، اس کو میں نے بہت ڈانٹا کہ تم نے اتنی دیر کیوں کر دی۔ اس نے کہا، حضور کل لے جائیے گا۔‘‘\n\n’’قمیصیں جائیں بھاڑ میں۔‘‘\n\n’’وہ کیوں؟‘‘\n\n’’آپ کو توکچھ ہوش ہی نہیں۔‘‘\n\n’’میں کیا بے ہوش رہتا ہوں۔۔۔ تمھیں جو کہنا ہے کہہ ڈالو۔ اتنی لمبی چوڑی تمہید کی کیا ضرورت تھی؟‘‘\n\n’’ضرورت اس لیے تھی کہ آپ پر کچھ اثر نہ ہوتا۔۔۔ اگر میں نے ایک جملے میں اپنا مدعا بیان کیا ہوتا۔‘‘\n\n’’تو ازراہِ کرم اب تم ایک جملے میں اپنا مدعا بیان کردو تاکہ میری خلاصی ہو۔‘‘\n\n’’میری داڑھ اتنی تکلیف دے رہی ہے۔۔۔ کئی مرتبہ سے آپ سے کہہ چکی ہوں ۔۔۔کسی ڈاکٹر کے پاس لے چلیے مجھے، مگر۔۔۔‘‘\n\n’’ابھی چلو! داڑھ کیا، تم چاہو تو میں سب دانت نکلوا دوں گا۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "تین پیسے کی چھوکری", "poet_page": "مصنف:قاضی عبدالغفار", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "(الف)\n\nآج سے پندہ سو برس پہلے!\n\nبائی زنطہ کے شاہی سرکر میں، بادشاہ کے وحشی جانوروں کا داروغہ ایک بوڑھا شخص تھا۔ بہت بوڑھا مگر اپنے کام میں بہت ہوشیار۔ اس نے اپنے بوڑھاپے کا سہارا ایک بارہ سالہ چھوکری کو بنالیا تھا۔ جس کو نہ معلوم وہ کہاں سے لایا تھا۔ وہ نہ اس کی بیٹی تھی نہ پوتی، نہ رشتہ دار نہ اس کی ہم وطن لیکن اس نے اس کو منہ بولی بیٹی بنا لیا تھا۔ اور بیٹی ہی کی طرح چاہتاتھا۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ اس چھوکری کی قوم کیا ہے۔ اس کا مذہب کیا ہے اور وہ کس طرح بڈھے کے پاس پہنچی۔\n\nبائی زنطہ کے عظیم الشان دارالسلطنت میں شہنشاہ جسٹنین کا پرچم اقبال بلند تھا۔ اس زمانہ کی تہذیب اور بائی زنعلی مخلوق کا تمدن، خصوصاً امراء اور عمائدین کی معاشرت، یونان و روما، کی قدیم تہذیب سے بھی دس پانچ قدم آگے تھی۔\n\nشہنشاہ اور اس کے امرا و اراکین سلطنت کےاسباب تفریح و تعیش میں سے ایک یہ سرکر بھی تھا جس میں ہزاروں قسم کے وحشی اور جنگلی جانور پالے جاتے تھے۔ ۱۲برس کی چھوکری کودنیا میں کوئی کام نہ تھا۔ سوائے اس کے کہ سرکس کے درندوں میں صبح سے شام تک کھیلتی رہتی۔ وہ حسین بھی تھی اور شوخ بھی۔ اور دل اس کاایسا ہی بے خوب تھا جیسا کہ وحشی درندوں کا۔ اسے معلوم ہی نہ تھا کہ خوف کس چیز کا نام ہے۔ وہ شیروں کی بال پکڑ کر لٹک جاتی تھی۔ اور دوپہر کو کھیلتے کھیلتے اکثر ہاتھی کے پیٹ کے نیچے لیٹ کر سوجاتی تھی۔ اس کی دنیا میں اس کے رفیق اور یار، شیر اور ہاتھی اور ریچھ ہی تھے۔\n\nدن بھر بڈھا سرکس کے جانوروں کی خدمت میں مصروف رہتا۔ اور چھوکری اپنے کھیل میں۔ شام کو وہ دونوں گھر چلے جاتے۔ مگر ایک دن شام کو چھوکری سرکس سے تو چلی گئی۔ لیکن گھر نہ پہنچی۔ رات بھر بڈھا اس کا انتظار کرتا رہا، رات بھر وہ غائب رہی۔ صبح کو وہ ہنستی ہوئی گھر آئی اور بڈھے کے ہاتھ پر تین چمکتی ہوئی اشرفیاں رکھ دیں۔ یہ اس کے حسن کا پہلا سودا تھا۔ یہ اس کی جوانی کاپہلا منافع تھا۔ گزری ہوئی شام اور موجودہ صبح کے درمیان، گزشتہ شب کی تاریکی میں، بڈھے کی چھوکری عورت بن گئی۔\n\nراتوں کو غائب رہنے کا سلسلہ جاری رہا۔ اور سرکس کے درندوں کے ساتھ جو کھیل کود ہوا کرتا تھا۔ وہ اب دوسری قسم کے حیوانوں کے ساتھ کھیلا جانے لگا!\n\nیہ آغاز تھا، ملکہ بازنطہ کی حکومت کا!تھوڈورا کی جوانی اب ہر طرف سے آنکھوں، نظروں اور دلوں کو کھینچ رہی تھی۔ وہ شاہی سرکس میں ناچا کرتی تھی، اور بائی زنطہ کےہزارہانظر باز ہر شام کو اس کے حسن کی خاطر سرکس میں جمع ہوا کرتے تھے۔ شاہی دربار کے رکن رکین بشب و جلیس نے تو ایک دن تھوڈورا کو ناچتے ہوئے دیکھ کر بے اختیار کہہ دیا،\n\n’’گھانس کا یہ پھدکتا ہوا کیڑا کسی دن سارے بائی زنطہ میں اچھلے گا۔۔۔ دیکھنا!‘‘\n\nلیکن اس وقت بشب کو بھی خبر نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ ستم ظریف قدرت اس ناچنے والی کو نہ معلوم کہاں سے کہاں تک اچھالنے والی تھی۔\n\nتھوڈورا سرکس کے نظربازوں سے تھک گئی۔ ایک ہی کھیل کا بار بار کھیلنا اس کو کبھی بھاتا نہ تھا۔ اب وہ منظرعام پر تھرکنے کی بجائے مخصوص خلوتوں میں ایک بلند نشین حسن فروش بن بیٹھی۔ حسن فروشی اس عہد کی تہذیب میں کوئی ایسی معیوب بات نہ تھی بلکہ حسن وہوس کے یہ کھیل تماشےتو بائی زنطی تہذیب کے جزولازمی تھے۔ امرا طوائفوں کی نگہ التفات کو سرمایہ افتخار سمجھتے تھے اور عوام کی زندگی ان رنگین تتلیوں کے بغیر بے رنگ ہوجاتی تھی۔ حسین تھوڈورا اپنی دوکان حسن کھولتے ہی دلوں کی مالک، آنکھوں کا تارا کلیجوں کی ٹھنڈک اور گھروں کا چراغ بن گئی۔ امرا اس کے سنگِ آستان پر جبین نیاز رکھتے۔ دل چلے سپاہی اورمیدانِ جنگ کے سورما اس کے اشارہ ابرو کا انتظار کرتے۔ ان کی خون آشام تلواریں، اس کے قدموں میں پڑی ٹھوکریں کھایا کرتیں! اہل علم اوراہل مذہب بھی اس دیوی کے استھان پر سرجھکاتے تھے۔ اور سرکس کی ناچنے والی چھوکری بائی زنطہ کی حسن پرست دنیا میں ایک ’’ملکۂ عالم‘‘ تھی۔ کہ اس کا سکہ ہر طرف جاری تھا۔\n\nنوجوان شہنشاہ جسٹینین بارہا اس کو تھیئٹر میں ناچتے، باغوں میں اٹھکیلیاں کرتے اور باسفورس کے ساحل پر ایک ہجوم عاشقال کے ساتھ چہل پہل کرتے دیکھ چکا تھا۔ اس کےدل میں خلش تھی۔ تیر اپنے نشانہ پر بیٹھ چکا تھا۔\n\nایک شب شہنشاہ نے اپنے محافظ دستہ کے کپتان کو موتیوں کا ایک بیش قیمت ہار دیکر تھوڈوراکے گھر بھیجا۔ اور پیام دیا کہ وہ شاہی خلوت میں آئے۔ آدھی رات کے قریب شاہی کپتان تھوڈورا کے دروازے پر آیا۔ اس وقت تھوڈورا کی خلوت میں اس کا کوئی چاہنے والا موجود تھا۔ اس نے کپتان کو گھر کے اندر نہ بلایا بلکہ خود دروازے پر آگئی۔ شہنشاہ کا پیام سن کر اس نے کہا،\n\n’’شہنشاہ کی یاد فرمائی کا بہت بہت شکریہ،مگر یہ ہار واپس لے جائیے۔ میں بکاؤ نہیں ہوں، شہنشاہ سے کہہ دیجیے کہ اس ہار سے کسی دوسری حسین چھوکری کاحسن خریدلیں۔۔۔ میری قیمت اس ہار سے بہت زیادہ ہے۔‘‘\n\nاب وہ سرکس کی بجائے ایک عظیم الشان سلطنت کے شیر اور ہاتھی سے بے خوف ہوکر کھیل رہی تھی!\n\nاسی شب پھر ایک شاہی مصاحب، شہنشاہ کا پیام، بہت سے تحائف اور اکرام و الطاف کے بہت سے وعدے لے کر آیا۔ تھوڈورانےدوسرا پانسہ پھینکا،\n\n’’شہنشاہ سے کہہ دیجیے کہ وہ اس کنیز کے طالب ہیں تو اس کے سیاہ خانہ پر تکلیف فرمائیں۔\n\n‘‘بائی زنطہ کے شہنشاہ سے، جس کی خاک پا بادشاہوں اور گردن کشوں کی سجدہ گاہ تھی، یہ گستاخانہ سوال و جواب، موت سے کھیلنا تھا۔ مگر تھوڈورا نے بہت بڑی بازی لگائی تھی۔۔۔\n\nشب کی آخری ساعتوں میں بالآخر شہنشاہ خود اس کے دروازے پر آیا۔ جس وقت وہ اندر داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ تھوڈورا ایک صلیب کے سامنے جھکی ہوئی عبادت میں مشغول ہے۔ بہت دیر بعد اس نے اس طرح کہ وہ گویا کسی دوسرے عالم میں ہے۔ نظر اٹھاکر شہنشاہ کی طرف دیکھا۔\n\n’’تم ہی تھوڈورا ہو؟‘‘ شہنشاہ نے سوال کیا۔\n\n’’ہاں حضور! میرا نام تھوڈورا ہے۔ میں شہنشاہ کے سرکس میں ناچا کرتی تھی۔‘‘\n\n’’تم وہی ہے جس کو ہرملاح تین پیسے میں خرید لیا کرتا ہے؟‘‘ شہنشاہ کے تیور بگڑے ہوئے تھے۔\n\nتھوڈورا نے کہا،\n\n’’جی ہاں! میں وہی ہوں!‘‘\n\n’’پھر تم شہنشاہ کی خلوت میں آنے سے کیوں انکار کرتی ہو؟‘‘ اب جسٹینن کا غصہ تیز ہوتا جاتا تھا۔\n\n’’حضور!‘‘ تھوڈورا نے دست بستہ عرض کیا۔ ’’ملاح کے پاس میں اس لیے جاتی ہوں کہ اس کی جیب میں تین ہی پیسے ہوتے ہیں۔ اور وہ سب میں لے لیتی ہوں۔ وہ تین پیسہ دے کر اپنا سارا سرمایہ مجھے دے ڈالتا ہے۔‘‘\n\n’’تو کیا تم اپنے چاہنے والوں سے جو کچھ ان کے پاس ہو سب ہی لے لیتی ہو؟‘‘\n\n’’ہاں حضور! میں یہی کرتی ہوں، اور یہی میری قیمت ہے!‘‘\n\n’’تو پھر مجھ سے تم کیا مانگتی ہو؟‘‘\n\n’’آپ کا تاج و تخت! اے بائی زنطہ کے شہنشاہ!‘‘\n\nاس طرح چند روز بعد یہ ’’تین پیسے کی چھوکری‘‘ شہنشاہ بائی زنطہ کی مشہور عالم ملکہ تھوڈورا بن کر اس زمانہ کی سب سے بڑی اور عظیم الشان سلطنت کے سیاہ و سفید کی مالک بنی۔\n\nوہ اپنا حسن بیچتے بیچتے ملکہ عالم بنی۔ اور ملکہ عالم بن کر، جب اس کو حسن فروشی کی ضرورت نہ رہی۔ تو اس نے بائی زنطہ کےخوبرو نوجوانوں کی جوانی خریدنا شروع کردی! اس کی ہوس پرستی کی داستانیں اسی قدر مشہور ہیں جن قدر اس کا حسن۔\n\n(ب)\n\nمسیح کی پیدائش کے پانچ سو برس بعد\n\nمائی زنطہ کے دارالسطنت میں\n\nشہنشاہ حسٹینن اور اس کی عیش پرست ملک تھوڈورا کا زمانہ\n\nبائی زنطہ کی شاہرا پر تماشائیوں کا ہجوم ہے۔ شنہشاہ اور ملکہ عالم کی رعایا سڑک کے دونوں طرف ہزاروں کی تعداد میں جمع ہے۔ یہ وہ سڑک ہے جو شاہی محل ایاصوفیہ کو جاتی ہے۔ دوزویہ سپاہی کھڑی ہیں۔ سپاہیوں کے عقب میں اہل شہر، امراء اور رؤسا سب سب ملکہ عالم کی سواری کے منتظر ہیں۔\n\nہفتہ میں ایک دفعہ ملکہ تھوڈورا۔ ایا صوفیہ میں عبادت کرنےجایا کرتی ہیں۔ یہ جلوس قابل دید ہوتا ہے۔ ملکہ عالم کے شاندار جلوس کو دیکھنےوالے گھنٹوں پہلے سے سڑکوں پر جمع ہوتے ہیں۔ اور دارالسطنت میں ہفتہ کا یہ ایک دن گویا ایک عام یوم تعطیل ہوتا ہے۔۔۔ وہ ملکہ عالم کی عباد ت کا دن ہے!\n\nدیگر یا کے محافظ دستہ کا ہراول، سرخ وردیاں پہنے، شاندار گھوڑوں پر سوار، آہستہ آہستہ چلا آتا ہے۔ سواوروں کی وردیاں اور ان کے چمکتے ہوئے اسلحہ دھوپ میں اس قدر چمک رہے ہیں کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں بند ہوجاتی ہیں۔ اس دستہ کے پیچھے ایک مرصع تخت رواں ہے۔ اور اس تختِ رواں پر ایک مطلا شامیانہ کے نیچے ملکہ عالم تشریف رکھتی ہیں۔ تختِ رواں کے سامنے امراء اور اراکین سلطنت کی نوجوان اور حسین لڑکیاں ہاتھوں میں پھولوں کے گجرے لیےہوئے اور آٹھ چھوکریاں ہاتھوں میں چاندی کی گھنٹیاں لیے ہوئے چل رہی ہیں۔ چاندی کی گھنٹیاں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد بجائی جاتی ہیں۔ تخت رواں کے سامنے شاہی منصب وار قرمزی رنگ کا لمبا کپڑا بچھاتے ہوئے آتے ہیں اور ملکہ کی سواری جب اس کپڑے پر گزر جتی ہے تو اس کو لپیٹ لیتے ہیں۔ منصب داروں کی جماعتیں یہ خدمت انجام دیتی آتی ہیں تاکہ ملکہ عالم کے تخت رواں کا سایہ ناپاک زمین پر نہ پڑنے پائے۔\n\nتخت رواں، جواہر اور سونے چاندی کی ضیا کاری کا ایک عجیب و غریب نمونہ ہے۔ اس کی چمک میں سورج کی شعاروں نے گویا آگ لگا دی ہے۔ اسطرح بائی زنطہ کی ملکہ، دورویہ خلائق کے سلاٹوں کا جواب سر کے اشارے سے دیتی ہوئی مسیح کی درگاہ میں جا رہی ہے۔\n\nسلطنت کے دیہاتی علاقہ کا رہنے والا ایک خوبصورت نوجوان اسیف جو چند روز ہوئے دارالسطنت کی سیر کرنے آیا تھا۔ اس وقت ایک کنویں کی دیوار پرکھڑا ہواشاہی جلوس کاتماشہ دیکھ رہا ہے۔ اس کے قریب اس کا ایک شہری دوست کھڑا ہے۔ سواری قریب آگئی۔ دفعتاً ملکہ عالم کی نظر اس دیہاتی نوجوان پر پڑی، مگر وہ نہ سمجھا، وہ سمجھا کہ یہ غلط انداز نظر برسر راہ تھی۔ مگر وہ خوش تھا کہ آج اس نے ملکہ عالم کو اچھی طرح دیکھ لیا۔ بادشاہوں کا دیدار عقیدتمند رعایا کے دلوں کو پھول کی طرح کھلا دیتا ہے۔\n\nاستیف بیچارے نے اپنی عمرمیں پہلے کبھی شاہانہ طنطنہ کا یہ مظاہرہ کب دیکھا تھا۔ وہ اس نظارہ میں محو تھا کہ ملکہ کی سواری بالکل اس کے سامنے آگئی۔ ایک لمحہ کے ہزارویں حصہ میں اس نے یہ محسوس کیا کہ گویا اس کی نظر ملکہ عالم کی نظر سے ملی ہے۔ گھبرا کر اس نے نظریں نیچی کرلیں۔ اتنی ہی دیر میں سواری آگے نکل گئی۔ استیف کادل دھڑک رہا تھا، اس کو پسینہ آگیا تھا۔\n\nشاہی سواری کے پیچھے پیچھے ایک منصب دار چاندی کے پھول لٹاتا ہوا جا رہا تھا۔ غریب اور امیر بڑھ بڑھ کر ان پھولوں کو لوٹ رہے تھے۔ جس کے ہاتھ ایک پھول آگیا اس کو گویا بڑی سعادت نصیب ہوئی۔ منصب دار جب بڑھتے بڑھتے استیف کے قریب پہنچا تو اس نے اپنا ہاتھ لوگوں کے اوپر سے استیف کی طرف بڑھایا۔ اس کے ہاتھ میں چاندی کے پھول اورایک تازہ گلاب تھا۔ استیف نے۔۔۔ جیسے کوئی مخمور ہو یا عالم خواب میں۔۔۔ ہاتھ بڑھاکر گلاب لے لیا، وہ چاہتاتھا کہ کچھ کہے، شکریہ ادا کرے لیکن اتنی ہی دیر میں منصب دار بہت آگے نکل چکا تھا۔\n\nسواری باد بہاری گزرگئی، مجمع منتشر ہو رہا ہے، استیف گلاب کاسرخ پھول ہاتھ میں لیے جا رہا ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر شاہی منصب دار خاص طور پر اس کی طرف کیوں مائل ہوا۔ ہزارہا آدمیوں کے مجمع میں گلاب کا پھول تنہا اسی کو کیوں دیا گیا؟\n\nگلاب بہت بڑا، اور بہت خوبصورت تھا۔ وہ اس قسم کا پھول تھا جس کے چند ہی درخت شاہی باغیچے میں تھے اورشاہی باغیچہ کے علاوہ کہیں نہ تھے۔ یہ گلاب بائی زنطہ میں شاہی محل کےعلاوہ کہیں میسر نہ آسکتا تھا۔\n\nمجمع سے باہر نکل کراستیف نے بغور اس پھول کو دیکھا۔ اس کی پتیوں کے نیچے ایک پرزہ بندھا ہوا تھا۔ اس پرزہ پر سرخ رنگ سے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے،\n\n’’شاہی محل کے جنوبی دروازے پر۔۔۔ آج دس بجے۔۔۔ یہ پھول لے کر آؤ۔۔۔ اس پھول سے تمہاری قسمت کادروازہ کھلے گا۔\n\nاستیف ششدر تھا، وہ کچھ بھی نہ جانتا تھا، کچھ نہ سمجھ سکتا تھا کہ اس واقعہ کے معنی کیا ہیں۔ وہ کیوں محل کے دروازے پر جائے۔ اس کی قسمت کا دروازہ کیونکر کھل سکے گا۔ اس کا دل کہتا تھا،\n\n’’جانا چاہیے۔ اگر یہ شاہی اکرام والطاف کا اشارہ ہے تو تیری قسمت جاگ جائے گی۔ کیا معلوم تو شاہی دربار میں منصب دار بنادیا جائے۔ کیا معلوم تو کیا ہوجائے۔۔۔ جانا چاہیے۔‘‘\n\nعقل کہتی تھی،\n\n’’کوئی دھوکہ، کوئی فریب تو نہیں۔ بھلا کہاں ملکہ عالم، کہاں تو غریب دہقانی، منصب دارنے تیرے گنوارپن کا مذاق نہ اڑایا ہو۔ یا کسی دشمن نے تجھے دھوکہ دے کر نہ بلایا ہو۔۔۔‘‘\n\nعقل اور دل کا جھگڑا ختم نہ ہوتا تھا۔ لیکن قدم دل کے فرمانبردارتھے، عقل کا زور ان پر نہ چل سکا۔ وقت مقررہ سے کچھ پہلے ستیف کے قدم بلا ارادہ شاہی محل کی طرف بڑھنے لگے۔ کبھی اپنے دل کی، کبھی اپنی عقل سے الجھتا ہوا وہ چلا جا رہا تھا۔۔۔ دل کہتا،\n\n’’تیرا انتظار کیا جا رہا ہے۔ قدم بڑھا۔‘‘\n\nعقل کہتی، ’’\n\nتو بے وقوف ہے، تیرا اور انتظار! دیوانے! سپاہیوں اور دربانوں کی ٹھوکریں کھائے گا!‘‘\n\nجوانی کا خون گرم تھا۔ دل کی حرکت تیز تھی، چہرہ پر سرخی جھلک رہی تھی۔ پیشانی پر پسینہ کے قطرات تھے۔ اس طرح استیف شاہی محل کے دروازہ پر پہنچا۔ اس کو یہ خبر نہ تھی کہ دروازہ مغربی ہے یا مشرقی! وہ بڑھا چلا گیا!\n\nشاہی محافظ کا ایک دستہ بڑے دروازہ میں داخل ہو رہا تھا۔ اس کے قدموں کی آواز و تلواروں کی چمک استیف کو اپنے ساتھ کھینچے ہوئے اندر لے گئی۔ وہ محل کے پہلے برآمدہ میں داخل ہوا۔ جہاں شاہی دربان مسلحہ کھڑے تھے۔ ایک قوی الحبثہ حبشی بارگاہ کے سرا پردے کے پاس ایک برہنہ تیغہ ہاتھ میں لیے کھڑا ہوا تھا۔ استیف نے آگے بڑھ کر سرخ گلاب اس کے سامنے پیش کیا۔۔۔ اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کہے کیا؟\n\nدربان مسکرایا، ’’بیوقوف آدمی! مجھے کوئی حسین چھوکری سمجھا ہے تونے؟ گدھا!‘‘\n\nاستیف کے بدن میں ان تحقیر آمیز الفاظ نے آگ لگا دی۔ وہ بے اختیار ہوگیا۔ اسے خبر نہتھی کہ کس طرح اس نے دربان کے سیاہ تاب گال پر ایک چانٹامارا!۔۔۔ سارے برآمدہ میں شور مچ گیا۔ محافظ دستہ کے سپاہیوں نے اپنی تلواروں کے قبضوں سےمار مار کر استیف کو فرش پر گرا دیا۔ چند منٹ میں اس کا خاتمہ ہو جاتا مگر ہنگامہ کی آواز سن کر دربانوں کا داروغہ کمرہ سے نکل آیا۔ اس کو دیکھ کر سپاہیوں نے ہاتھ روکا۔\n\n’’ارے تو کون ہے، دہقانی؟‘‘ داروغہ نے کہا۔\n\nاستیف جھنجھلایا ہوا اٹھا۔ اس کاگلاب زمین پر گر گیا تھا۔ اس کی چند پتیاں منتشر ہوچکی تھیں۔ جھک کر اس نے گلاب کو زمین سے اٹھالیا۔ اور اٹھاکر داروغہ کےسامنے پیش کردیا۔\n\n’’ہاں!‘‘ سرخ گلاب کو دیکھ کر داروغہ مسکرایا۔ ’’بے وقوف آدمی! اس پھول کو لے کر یہاں کیوں آئے؟‘‘پھر اس نے مجمع کی طرف دیکھ کر سپاہیوں کو جھڑکا،\n\n’’جاؤ اپنا کام کرو، کیا کچھ تماشہ بنایا ہے؟‘‘ جب سپاہی ہٹ گئے تو اس نے استیف کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر دبی زبان سے کہا،\n\n’’یہ حماقت کی تم نے، اس پھول کو لے کر یہاں گھس پڑے۔ تمہیں جہاں یہ پھول لے کرجانا چاہیے یہ وہ جگہ نہیں۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ استیف کواپنے ساتھ ایک دوسرے دروازہ پر لے گیا۔ اور وہاں کے چوبدار کو آواز دے کر کہا،\n\n’’لو یہ ایک بے وقوف پھول والا آیا ہے۔ اس کو اندر پہنچاؤ۔ یہ آدمی ہماری طرف کا نہیں ہے۔ تمہاری طرف کا ہے!‘‘\n\nملکہ کے چوبدار نے پھول پر نظر کی، اور استیف کو پیچھے آنے کا اشارہ کرکے ملکہ کے محل کے دروازے میں داخل ہوگیا۔\n\nآراستہ اور خوبصورت برآمدوں سے گزر کر۔۔۔ آگے آگے چوبدار اور اس کے پیچھے استیف۔۔۔ دونوں ایک پرفضا باغیچہ میں داخل ہوئے،جس کے وسط میں ایک فوارہ جاری تھا۔ اس کے پانی کی سطح پر سینکڑوں رنگین پھول تیر رہے تھے۔ باغیچہ سے گزر کر ملکہ عالم کی خاص محل سرا تھی۔ محل سرا کے برآمدوں میں نوعمر اورخوبصورت لڑکے، زرق برق لباس پہنے ہوئے، حسین مامائیں اور باندیاں،خوفناک شکل کے خواجہ سرا اور حبشی غلام جن کے سروں پر زرد پگڑیاں بندھی ہوئی تھیں۔ کچھ بیٹھے کچھ لیٹے کچھ ٹہل رہے تھے۔ کچھ چھوکریاں قدم بڑھائے ادھر ادھر جارہی تھیں۔ استیف کے دہقانی وضع اور پھر اس کے ہاتھ میں سرخ گلاب کے پھول کر جس نے دیکھا، وہ منھ پھیر کر مسکرا دیا۔ شاہی خواصیں اپنے ہاتھ کے پنکھوں کی آڑ میں ایک دوسرے کو اشارے کر رہی تھیں اور کم عمر لڑکے منہ پر ہاتھ رکھ رکھ کر اپنی ہنسی کو روک رہے تھے۔\n\nاستیف کو اپنے گرد و پیش ان حرکات کی کچھ خبر نہ تھی۔ وہ چوبدار کے پیچھے پیچھے پردہ اٹھا کر شاہی محل سرا کے خاص کمروں میں داخل ہوا۔\n\nایک مزین کمرہ کے ایک گوشے،میں، ریشم کے قرمزی پردوں کی آڑ میں، بڑے بڑے گدوں اور تکیوں پر ملکہ تھوڈورا آرام فرما رہی تھی۔ ایک رنگین فوارہ کمرے کے وسط میں جاری تھا۔ چھوٹی میزوں پر تازہ پھولوں کی ڈھیریاں رکھی ہوئی تھیں جن کی مہک سے تمام کمرہ معطر تھا۔\n\nکچھ ایسی ہلکی روشنی، ریشمیں پردوں سے چھن چھن کر کمرہ میں آرہی تھی جیسی کہ رات کے ختم ہوتے اور دن کے شروع ہونےکے وقت ہوتی ہے۔۔۔ وہ سب جنت کا ایک تخیل تھا۔ جس کو استیف نےآج اپنی عمر میں پہلی دفعہ اپنی آنکھوں سی دیکھا۔۔۔ ریشم کے پردوں کی آڑ سے اس دھندلی روشنی میں ملکہ نے اشارہ کیا۔ کمرہ کے سکون کامل میں، رومی قالینوں پر استیف کے قدموں کی آواز گم تھی۔ وہ ادب کے ساتھ آگے بڑھا اور اس نے ملکہ عالم تھوڈورا کا آغوش محبت اپنے لیے کھلا ہوا پایا!\n\n’’تمہارے جانے کا وقت آگیا۔‘‘ نظریں نیچی کئے ہوئے ملکہ نے فرمایا۔\n\nاستیف کے جسم میں ایک عجیب لرزش، ایک عجیب سنسناہٹ تھی۔ جو آج سے پہلے اس نے کبھی محسوس نہ کی تھی۔\n\nوہ ابھی تک ملکہ کے آغوش کی مستیوں سے مخمور تھا۔ اس کا دل دھڑک رہاتھا۔ جب اس نے کہا،\n\n’’کیا پھر کبھی ملاقات نصیب ہوگی؟‘‘\n\nملکہ مسکرائی! استیف اپنے سوال کے جواب کا منتظر تھا کہ یکایک وہی خواجہ سرا جو اس کو اندر لایا تھا، کمرہ میں داخل ہوا۔ استیف چونکا۔ اس کو محبت کی خلوت میں خواجہ سرا کی یہ دراندازی ناگوار گزری۔ گویا یہ سیاہ فام حبشی اسکی اس نئی محبت کے راز کو فاش کیے دیتا ہے۔ لیکن ملکہ سے اپنے سوال کا جواب نہ پاکر وہ یک گونہ مایوس ہوا۔ اور سرجھکائے دروازے کی طرف ہٹنے لگا۔ ملکہ کے ہونٹ ہلتے دیکھ کر وہ پھر ذرا رکا۔\n\n’’استیف کل پھر آؤ۔‘‘\n\nملکہ کے شیریں لبوں سے یہ شیریں پیام الفت کس قدر روح پروا اور دل نواز معلوم ہوا۔\n\nاس دھندلی روشنی میں ملکہ۔۔۔ نہ جانےکس طرح۔۔۔ اس کمرے سے جا چکی تھی۔ استیف نے اس کو جاتے نہ دیکھا۔ لیکن اس کی جگہ خالی تھی اور استیف ’’وعدہ فراد‘‘ کی مسرتوں سے جھومتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا۔\n\nاس کے اور دروازے کے درمیان چند قدم باقی تھے کہ ایک حبشی غلام کی نوک دارچھری اس کی پشت پر چمکی اور چشم و زن میں اس کی پشت کی طرف سے سینہ کے پار ہوگئی۔ وہ صرف ایک ہچکی لے کردروازے کے سامنے فرش پر اوندھا گر گیا۔\n\nغلام نےچند لمحے اپنی چھری کو اس کے گرم جسم میں آرام لینے دیا۔ اس کے بعد اس کے خون آلود پھل کو باہر کھینچ لیا۔ استیف کے سر کے لمبے بالوں سے اس حبشی نے اپنی چھری کاخون صاف کیا۔ پھر لاش کی ٹانگ پکڑ کر اس کو کھینچتا ہوا کمرہ کے باہر لے گیا۔\n\nاس کمرے کے فرش پر، جہاں استیف نے ایک لمحہ کے لیے تھوڈورا کے آغوش میں محبت کی ایک بازی لگائی تھی۔ سرخ گلاب کی پتیاں بکھری ہوئی رہ گئیں اور ان پتیوں میں سے ایک پر استیف کی جوانی کے گرم خون کا صرف ایک قطرہ جما ہوا رہ گیا۔\n\nاسی شام کو جب چند ملاح اپنی کشتیاں ساحل کی طرف لا رہے تھے۔ شاہی محل کے چور دروازے سے باسفورس کے پانی میں ایک سربند تھیلا، جو خون آلود بھی تھا، پھینکا گیا۔\n\nملاحوں نے دیکھا اور اپنے پتوار تیزی سے چلانے لگے۔ ان کے لیے اس قسم کے تھیلے کوئی نئی چیز نہ تھے۔ ہر روز صبح شام وہ دیکھا کرتے تھے کہ شاہی محل سےباسفورس کی بھوکی مچھلیوں کی یہ مخصوص غذا پانی پر پھینکی جاتی ہے۔ ان کو یہ بھی معلوم تھا، اور بائی زنطہ میں کس کو معلوم نہ تھا کہ رحم دل ملکہ عالم ’’حسن کی دعوت‘‘ کے بعد باسفورس کی مچھلیوں کے لیے اپنے حسن کے دسترخوان سے تازہ غذائیں پہنچایا کرتی ہیں!", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AA%DB%8C%D9%86_%D9%BE%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%A9%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ثابت رہا فلک مرے نالوں کے سامنے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ثابت رہا فلک مرے نالوں کے سامنے\nٹھہری سپر حباب کے بھالوں کے سامنے\n\nموسیٰ ہیں غش میں گیسوؤں والوں کے سامنے\nگل ہے چراغ طور بھی کالوں کے سامنے\n\nپھولوں کا رنگ زرد ہے گالوں کے سامنے\nسنبل میں بل نہیں ترے بالوں کے سامنے\n\nرکھوائے جھاڑ اس نے نہالوں کے سامنے\nقلمیں لگیں بلور کی ڈالوں کے سامنے\n\nجاتا ہوں جب خزاں میں نہالوں کے سامنے\nآنکھوں سے نہریں بہتی ہیں تھالوں کے سامنے\n\nپھولے شفق تو زرد ہو گالوں کے سامنے\nپانی بھرے گھٹا ترے بالوں کے سامنے\n\nتارے ہوئے غروب خط و خال دیکھ کر\nگوروں کے پاؤں اٹھ گئے گالوں کے سامنے\n\nآنکھوں میں پھرتے ہیں نہیں آتے ہیں روبرو\nپردے پڑے ہیں دیکھنے والوں کے سامنے\n\nدیکھا ہے عاشقوں نے برہمن کی آنکھ سے\nہر بت خدا ہے چاہنے والوں کے سامنے\n\nچھٹ جائیں گے اسیر چھپا زلف خم نجم\nکٹتی ہیں بیڑیاں ترے بالوں کے سامنے\n\nبیتاب دست شوق ہیں جوبن کے روبرو\nبوسہ میں جاں بلب ترے گالوں کے سامنے\n\nافراط مے سے مجھ کو یہ جوش سرور ہے\nبجواؤں جل ترنگ میں پیالوں کے سامنے\n\nجلد بدن ہے تختۂ مشق سپاہ غم\nرہتی ہے یہ کتاب رسالوں کے سامنے\n\nآنکھیں تمہاری دیکھ کے کچھ سوجھتا نہیں\nبھولا ہوں چوکڑی میں غزالوں کے سامنے\n\nدروازوں پر بتوں کے لگایا کئے الاؤ\nہولی جلائی ہم نے شوالوں کے سامنے\n\nزلفوں میں دیکھتا ہوں ترا چہرۂ صبیح\nلبریز جام شیر ہے کالوں کے سامنے\n\nتیرے گدا سے بند ہے عالم کا ناطقہ\nآتے نہیں جواب سوالوں کے سامنے\n\nکھینچے بتوں نے اپنی طرف زاہدوں کے دل\nقبلہ نما پھرے ہیں شوالوں کے سامنے\n\nچوری سے بوسۂ کف پا لیں جو اے پری\nہونٹ اپنے چوم لوں ترے گالوں کے سامنے\n\nپہنچا فلک کو فقر کا رتبہ حضور عیش\nکمبل چڑھے ہیں چرخ دو شالوں کے سامنے\n\nاہل کتاب ہیں صف مژگاں کے روبرو\nکاغذ کے دستے آئے رسالوں کے سامنے\n\nفیاض سائلوں سے نہیں کرتے سرکشی\nشیشوں کے سر جھکے ہیں پیالوں کے سامنے\n\nدست جفا اٹھائیں گے کیا جسم زار پر\nکانٹا ہوں تیغ ناز کے چھالوں کے سامنے\n\nشیشے کو حسن گرم نے پارہ بنا دیا\nآئینے اڑ گئے ترے گالوں کے سامنے\n\nتیغ نگہ کو موتیوں کی ڈاب چاہئے\nآئینہ رکھ کے دیکھیے چھالوں کے سامنے\n\nجلتے رہے بتوں کی حضوری میں شمع رو\nپریاں ستی ہوئی ہیں شوالوں کے سامنے\n\nہم چشموں پر لگائی ہیں اس بت نے گولیاں\nتوڑے ہوئے ہیں شیر غزالوں کے سامنے\n\nجادہ بنت بنا مری وحشت کے فیض سے\nگوٹے کے گو کہر ہوئے چھالوں کے سامنے\n\nمیرے ہنر کا کوئی نہیں قدرداں منیرؔ\nشرمندہ ہوں میں اپنے کمالوں کے سامنے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AB%D8%A7%D8%A8%D8%AA_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92"} {"title": "ثابت ہے تن میں بادشاہی دل کی", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ثابت ہے تن میں بادشاہی دل کی\nپر کی تری نخوت نے تباہی دل کی\nزاہد یہ غرور داغ پیشانی پر\nمنہ پر نکل آئی ہے سیاہی دل کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AB%D8%A7%D8%A8%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "جا بیٹھتے ہو غیروں میں غیرت نہیں آتی", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جا بیٹھتے ہو غیروں میں غیرت نہیں آتی\nاس وقت مری جان مروت نہیں آتی\n\nنزدیک بھی جا کر نہ ملا پردہ نشیں سے\nجا دور ہو اے دل تجھے چاہت نہیں آتی\n\nاک ہم ہیں کہ ہیں نام مبارک پہ تصدق\nتم کو تو کبھی دیکھ کے الفت نہیں آتی\n\nیا رنج ہے یا ہجر ہے یا حزن ہے یا غم\nکچھ شکل بنا کر تو مصیبت نہیں آتی\n\nکیا راہ روی یار کی سیکھے ہے تو اس سال\nاس طرح گئی جسم سے طاقت نہیں آتی\n\nہر شے کے لئے ظرف ہے درکار جہاں میں\nکم ظرف کے نزدیک تو ثروت نہیں آتی\n\nکلکتے نے نابود کیا خواب خوشی کو\nپل بھر مجھے اس شہر میں راحت نہیں آتی\n\nرہتا ہوں خیال رخ زیبا میں شب و روز\nاے جان تصور میں وہ صورت نہیں آتی\n\nکھلتے ہیں گل شعر ہر اک روز مہ و سال\nاخترؔ مرے گلزار پہ آفت نہیں آتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C"} {"title": "جا لڑی یار سے ہماری آنکھ", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جا لڑی یار سے ہماری آنکھ\nدیکھو کر بیٹھی فوجداری آنکھ\n\nشوخیاں بھول جائے آہوئے چیں\nدیکھ پائے اگر تمہاری آنکھ\n\nلاکھ انکار مے کشی سے کرو\nکہیں چھپتی بھی ہے خماری آنکھ\n\nہووے گا رنج یا خوشی ہوگی\nکیوں پھڑکنے لگی ہماری آنکھ\n\nجانب در نگاہ حسرت ہے\nکس کی کرتی ہے انتظاری آنکھ\n\nکر کے اقرار ہو گیا منکر\nسامنے آ کے کس نے ماری آنکھ\n\nمرغ دل پر نگاہ ہے ان کی\nایسی دیکھی نہیں شکاری آنکھ\n\nہے ستم نوک جھونک چتون میں\nلڑ رہی ہے چھری کٹاری آنکھ\n\nدل جگر دونوں ہو گئے مجروح\nبن گئی ہے چھری کٹاری آنکھ\n\nکوئی دم میں ابھارتے ہیں اسے\nاس نے دیکھا کہ ہم نے ماری آنکھ\n\nآغاؔ صاحب تمہارے دلبر کی\nکیا رسیلی ہے کیا ہے پیاری آنکھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7_%D9%84%DA%91%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE"} {"title": "جا کہے کوئے یار میں کوئی", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جا کہے کوئے یار میں کوئی\nمر گیا انتظار میں کوئی\n\nچھوڑ سو کام آ پہنچ ساقی\nجاں بہ لب ہے خمار میں کوئی\n\nوہ بھی کیا رات تھی کہ سوتا تھا\nسر رکھے اس کنار میں کوئی\n\nمت گزر خاک پر شہیدوں کی\nچین لے ٹک مزار میں کوئی\n\nکیوں بیاںؔ سیر باغ کی رخصت\nنہیں دیتا بہار میں کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "جاؤ بھی جگر کیا ہے جو بیداد کرو گے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاؤ بھی جگر کیا ہے جو بیداد کرو گے\nنالے مرے سن لو گے تو فریاد کرو گے\n\nتم بعد مرے غیر کا دل شاد کرو گے\nکیوں یاد مری آئے گی کیا یاد کرو گے\n\nپاؤ گے غلام ایک وفادار نہ ایسا\nپچھتاؤ گے ہم کو اگر آزاد کرو گے\n\nغصے کا سبب دیر سے میں پوچھ رہا ہوں\nدشنام ہی دو گے کہ کچھ ارشاد کرو گے\n\nپچھتاؤ نہ دل دے کے حفیظؔ ان کو تو کہنا\nوہ زک یہ حسیں دیں گے کہ تم یاد کرو گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%A4_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D9%88_%DA%AF%DB%92"} {"title": "جاؤں کیا منہ لے کے میں وہ بد گماں ہو جائے گا", "poet_page": "مصنف:راغب بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاؤں کیا منہ لے کے میں وہ بد گماں ہو جائے گا\nرنگ کے اڑنے سے عشق اس پر عیاں ہو جائے گا\n\nعیش بزم بے خودی جوش فغاں ہو جائے گا\nہم کہاں ہوں گے جو راز غم عیاں ہو جائے گا\n\nدوسرا عالم بنے تو ہو سکے تسکین حسن\nاب ہے جتنا یہ تو صرف امتحاں ہو جائے گا\n\nتا اجل پہنچائے گی یہ ناتوانی ہجر میں\nضعف بڑھتے بڑھتے زور ناتواں ہو جائے گا\n\nمیری خاموشی کو ظالم جور بے جا سے نہ چھیڑ\nورنہ ضبط دل تری ضد سے فغاں ہو جائے گا\n\nشوق سے غیروں میں جائے میں نہ ہوں گا بد گماں\nخوئے بد سے خود وہ اپنا پاسباں ہو جائے گا\n\nدل نشیں ہے عالم ذوق اسیری کا خیال\nاب دل صیاد اپنا آشیاں ہو جائے گا\n\nغم سے میرے گھر میں گنجائش نہیں ہے عیش کی\nنغمہ خواں بھی آئے گا تو نوحہ خواں ہو جائے گا\n\nموسم باراں میں کیوں ہے دشت کا قصد اے جنوں\nآج کل تو دشت اپنا ہی مکاں ہو جائے گا\n\nخوبئ گفتار سے سمجھے گا کون اس کا جواب\nحشر سارا محو انداز بیاں ہو جائے گا\n\nکیا یقیں تھا ہم جو پہنچیں گے وہاں اے جوش اشک\nوہم اپنا بڑھ کے اس کا پاسباں ہو جائے گا\n\nکہہ سکے گا کچھ بھی اے راغبؔ نہ اس خاموش سے\nبے دہن کے سامنے تو بے زباں ہو جائے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AF_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جائے آسودگی کہاں ہے آج", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جائے آسودگی کہاں ہے آج\nجو زمیں کل تھی آسماں ہے آج\n\nتم وہاں تھے تو دل وہاں تھا کل\nتم یہاں ہو تو دل یہاں ہے آج\n\nعشق کو ابتدا میں ہم سمجھے\nفتنہ آخر الزماں ہے آج\n\nکل ادا دل کا حال ہو کہ نہ ہو\nسن لو گویا مری زباں ہے آج\n\nآرزو وصل کی شہید ہوئی\nماتم مرگ نوجواں ہے آج\n\nاس ہدف پر لگائیں گے وہ تیر\nدل نشیں داغؔ کا نشاں ہے آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A2%D8%B3%D9%88%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشق", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشق\nقابل تعریف ہے تیرے فدائی کا عشق\n\nکیسی مصیبت ہے یہ گل کو خموشی کا شوق\nبلبل بیتاب کو ہرزہ سرائی کا عشق\n\nپڑ گئی بکنے کی لت ورنہ یہاں تک نہ تھا\nواعظ نافہم کو ہرزہ سرائی کا عشق\n\nکرتا ہوں جو بار بار بوسۂ رخ کا سوال\nحسن کے صدقے سے ہے مجھ کو گدائی کا عشق\n\nتم کو خدا نے دیا ساری خدائی کا حسن\nمجھ کو عطا کر دیا ساری خدائی کا عشق\n\nعاشق و معشوق کی ہائے نبھے کس طرح\nان کو کدورت کا شوق مجھ کو صفائی کا عشق\n\nپوچھ لے پرویںؔ سے یا قیس سے دریافت کر\nشہر میں مشہور ہے تیرے فدائی کا عشق", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%82%D9%84%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "جاتا ہے مرے گھر سے دل دار خدا حافظ", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاتا ہے مرے گھر سے دل دار خدا حافظ\nہے زندگی اب مشکل بے یار خدا حافظ\n\nوہ مست شراب حسن غصے سے نہایت ہی\nکھینچے ہوئے آتا ہے تلوار خدا حافظ\n\nمجھ پاس طبیب آ کے کہنے لگا اے یار\nبے طرح کا ہے اس کو آزار خدا حافظ\n\nحاصل نہیں درماں کا وہ ہے یہ مرض جس سے\nجاں بر نہ ہوا کوئی بیمار خدا حافظ\n\nبے طرح کچھ ایدھر کو وہ مست شراب حسن\nکھینچے ہوئے آتا ہے تلوار خدا حافظ\n\nاے شیخ تو اس بت کے کوچے میں تو جاتا ہے\nہو جائے نہ یہ سبحہ زنار خدا حافظ\n\nڈرتا ہوں کہ دل ہر دم ملتا ہے نہ ہو جاوے\nاس چشم ستم گر کا بیمار خدا حافظ\n\nیوں مہر سے فرمایا اس ماہ نے وقت صبح\nہم جانے ہیں اب تیرا بیدارؔ خدا حافظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%81%D8%B8"} {"title": "جاتا ہے کون آپ سے جلاد کی طرف", "poet_page": "مصنف:پیر شیر محمد عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > کرشمۂ عشق (1922)", "year": "1922", "text_ur": "جاتا ہے کون آپ سے جلاد کی طرف\nکھینچا اس آب و دانہ نے صیاد کی طرف\n\nناخوش ہے عاشقوں سے بہت آج کل وہ شوخ\nبدلے کرم کے طبع ہے بیداد کی طرف\n\nمشاطہ جذب دل سا کوئی دوسرا نہیں\nشیریں کو کھینچ لے گیا فرہاد کی طرف\n\nعشق بتاں ہے خواب فراموش اے خدا\nآیا ہے پھر خیال تری یاد کی طرف\n\nدیتی نہیں نزاکت اسے حکم قتل کا\nجاتا ہوں دوڑ دوڑ کے جلاد کی طرف\n\nآتا ہے قد یار چمن میں مجھے جو یاد\nحیرت سے تکنے لگتا ہوں شمشاد کی طرف\n\nیہ کیا سبب ہے کافر و دیں دار سب ہوئے\nیا رب اسی بت ستم ایجاد کی طرف\n\nعاجزؔ چھڑائے بخت اگر قید زیست سے\nآؤں کبھی نہ عالم ایجاد کی طرف", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%A2%D9%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "جاتری", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ایک آیا گیا دوسرا آئے گا دیر سے دیکھتا ہوں یوں ہی رات اس کی گزر جائے گی\nمیں کھڑا ہوں یہاں کس لیے مجھ کو کیا کام ہے یاد آتا نہیں یاد بھی ٹمٹماتا\nہوا اک دیا بن گئی جس کی رکتی ہوئی اور جھجکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہے\nمگر میرے کانوں نے کیسے اسے سن لیا ایک آندھی چلی چل کے مٹ\nبھی گئی آج تک میرے کانوں میں موجود ہے سائیں سائیں مچلتی ہوئی اور\nابلتی ہوئی پھیلتی پھیلتی دیر سے میں کھڑا ہوں یہاں ایک آیا گیا\nدوسرا آئے گا رات اس کی گزر جائے گی ایک ہنگامہ برپا ہے دیکھیں جدھر\nآ رہے ہیں کئی لوگ چلتے ہوئے اور ٹہلتے ہوئے اور رکتے ہوئے پھر سے\nبڑھتے ہوئے اور لپکتے ہوئے آ رہے جا رہے ہیں ادھر سے ادھر اور ادھر سے\nادھر جیسے دل میں مرے دھیان کی لہر سے ایک طوفان ہے ویسے آنکھیں\nمری دیکھتی ہی چلی جا رہی ہیں کہ اک ٹمٹماتے دئیے کی کرن زندگی کو پھسلتے\nہوئے اور گرتے ہوئے ڈھب سے ظاہر کیے جا رہی ہے مجھے دھیان\nآتا ہے اب تیرگی اک اجالا بنی ہے مگر اس اجالے سے رستی چلی جا رہی\nہیں وہ امرت کی بوندیں جنہیں میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہا ہوں ہتھیلی\nمگر ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی تھی لپک سے اجالا ہوا لو گری پھر اندھیرا سا\nچھانے لگا بیٹھتا بیٹھتا بیٹھ کر ایک ہی پل میں اٹھتا ہوا جیسے آندھی کے\nتیکھے تھپیڑوں سے دروازے کے طاق کھلتے رہیں بند ہوتے رہیں\nپھڑپھڑاتے ہوئے طائر زخم خوردہ کی مانند میں دیکھتا ہی رہا ایک آیا\nگیا دوسرا آئے گا سوچ آئی مجھے پاؤں بڑھنے سے انکار کرتے\nگئے میں کھڑا ہی رہا دل میں اک بوند نے یہ کہا رات یوں ہی گزر جائے گی\nدل کی اک بوند کو آنکھ میں لے کے میں دیکھتا ہی رہا پھڑپھڑاتے ہوئے طائر\nزخم خوردہ کی مانند دروازے کے طاق اک بار جب مل گئے مجھ کو آہستہ آہستہ\nاحساس ہونے لگا اب یہ زخمی پرندہ نہ تڑپے گا لیکن مرے دل کو ہر وقت\nتڑپائے گا میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہوں گا وہ امرت کی بوندیں جنہیں آنکھ\nسے میری رسنا تھا لیکن مری زندگی ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی جس کی رکتی ہوئی\nاور جھجکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہے کہ اس تیرگی میں کوئی بات ایسی نہیں\nجس کو پہلے اندھیرے میں دیکھا ہو میں نے سفر یہ اجالے اندھیرے کا چلتا\nرہا ہے تو چلتا رہے گا یہی رسم ہے راہ کی ایک آیا گیا دوسرا\nآئے گا رات ایسے گزر جائے گی ٹمٹماتے ستارے بتاتے تھے رستے کی\nندی بہی جا رہی ہے بہے جا اس الجھن سے ایسے نکل جا کوئی سیدھا منزل پہ جاتا\nتھا لیکن کئی قافلے بھول جاتے تھے انجم کے دور یگانہ کے مبہم اشارے مگر وہ\nبھی چلتے ہوئے اور بڑھتے ہوئے شام سے پہلے ہی دیکھ لیتے تھے مقصود کا بند\nدروازہ کھلنے لگا ہے مگر میں کھڑا ہوں یہاں مجھ کو کیا کام ہے میرا دروازہ\nکھلتا نہیں ہے مجھے پھیلے صحرا کی سوئی ہوئی ریگ کا ذرہ ذرہ یہی کہہ رہا ہے\nکے ایسے خرابے میں سوکھی ہتھیلی ہے اک ایسا تلوا کے جس کو کسی خار کی نوک چبھنے پہ بھی\nکہہ نہیں سکتی مجھ کو کوئی بوند اپنے لہو کی پلا دو مگر میں کھڑا ہوں یہاں کس لیے\nکام کوئی نہیں ہے تو میں بھی ان آتے ہوئے اور جاتے ہوئے ایک دو تین\nلاکھوں بگولوں میں مل کر یوں ہی چلتے چلتے کہیں ڈوب جاتا کے جیسے یہاں\nبہتی لہروں میں کشتی ہر ایک موج کو تھام لیتی ہے اپنی ہتھیلی کے پھیلے کنول\nمیں مجھے دھیان آتا نہیں ہے کہ اس راہ میں تو ہر اک جانے والے کے بس\nمیں ہے منزل میں چل دوں چلوں آئیے آئیے آپ کیوں اس جگہ\nایسے چپ چاپ تنہا کھڑے ہیں اگر آپ کہیے تو ہم اک اچھوتی سی ٹہنی سے\nدو پھول بس بس مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں اک\nدوست کا راستہ دیکھتا ہوں مگر وہ چلا بھی گیا ہے مجھے پھر بھی\nتسکین آتی نہیں ہے کہ میں ایک صحرا کا باشندہ معلوم ہونے لگا ہوں خود\nاپنی نظر میں مجھے اب کوئی بند دروازہ کھلتا نظر آئے یہ بات ممکن نہیں ہے\nمیں اک اور آندھی کا مشتاق ہوں جو مجھے اپنے پردے میں یکسر چھپا لے\nمجھے اب یہ محسوس ہونے لگا ہے سہانا سماں جتنا بس میں تھا میرے\nوہ سب ایک بہتا سا جھونکا بنا ہے جسے ہاتھ میرے نہیں روک سکتے\nکہ میری ہتھیلی میں امرت کی بوندیں تو باقی نہیں ہیں فقط ایک پھیلا ہوا\nخشک بے برگ بے رنگ صحرا ہے جس میں یہ ممکن نہیں میں کہوں\nایک آیا گیا دوسرا آئے گا رات میری گزر جائے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%B1%DB%8C"} {"title": "جاتی رہیں کدھر وہ محبت کی بانیاں", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاتی رہیں کدھر وہ محبت کی بانیاں\nاک آشنا رہیں تری باتیں بگانیاں\n\nسن کر جلا ہوں طور سا موسیٰ کمر میاں\nفرعونیٔ رقیب و تری لن ترانیاں\n\nکہتا ہوں جب میں سوتے نصیبوں کی سرگزشت\nہوتی ہیں خواب ناز کی تم کو کہانیاں\n\nجام حباب پر دم عیسیٰ بھی سنگ ہے\nنازک دلوں پہ ہلکے سخن ہیں گرانیاں\n\nاے جگ کے ٹھگ یہ نام نکالے سے ننگ نہیں\nعزلتؔ سے دل لئے پہ بھی آنکھیں چورانیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے\nزخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے\n\nمیں ہاتھ کی لکیریں مٹانے پہ ہوں بضد\nگو جانتا ہوں نقش نہیں یہ سلیٹ کے\n\nدنیا کو کچھ خبر نہیں کیا حادثہ ہوا\nپھینکا تھا اس نے سنگ گلوں میں لپیٹ کے\n\nفوارے کی طرح نہ اگل دے ہر ایک بات\nکم کم وہ بولتے ہیں جو گہرے ہیں پیٹ کے\n\nاک نقرئی کھنک کے سوا کیا ملا شکیبؔ\nٹکڑے یہ مجھ سے کہتے ہیں ٹوٹی پلیٹ کے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%BE_%D8%A7%D8%AC%D9%84%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%85%DB%8C%D9%B9_%DA%A9%DB%92"} {"title": "جاتے جاتے راہ میں اس نے منہ سے اٹھایا جوں ہی پردا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاتے جاتے راہ میں اس نے منہ سے اٹھایا جوں ہی پردا\nراہ کے جانے والوں نے بھی منہ اس کا پھر پھر کے دیکھا\n\nقیس ملے تو اس سے پوچھوں کیا ترے جی میں آئی دوانے\nشہر کو تو نے کس لیے چھوڑا کیوں کے خوش آیا تجھ کو صحرا\n\nصبح سے لے کر شام تلک یاں یہ وہ گلی ہے جس میں پھریں ہیں\nچاک گریباں موے پریشاں ہم سے ہزاروں عاشق رسوا\n\nاس نے مزا کیا پایا ہوگا دو چلو مے پینے کا یاں\nجس میکش کے ہاتھ نہ آیا غبغب ساغر ساعد مینا\n\nسوختگی نے غم کی اثر جو دل میں کیا ہے ہونے لگا ہے\nتھوڑا تھوڑا رنگ دھوئیں کے سبزہ ہماری خاک سے پیدا\n\nاک ٹھوکر میں مردے ہزاروں اٹھ بیٹھیں ہیں گور سے ووہیں\nلیتا ہے وہ وقت خرامش پانو سے اپنے کار مسیحا\n\nجاتے ہیں نا کسی کے گھر ہم اور نہ کوئی کچھ دیتا ہے ہم کو\nقطع کیے ہیں ہم نے دونوں پائے طلب اور دست تمنا\n\nآنکھ لڑانا سامنے آنا منہ دکھلانا اور چھپ جانا\nیہ بھی ادا ہے کوئی ظالم مان خدا کو مت دے ایذا\n\nمصحفیؔ اس دلچسپ زمیں میں طبع کرے گر تیری رسائی\nخامہ ترا کچھ کند نہیں ہے ایک غزل تو اور بھی لکھ جا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%D8%A7"} {"title": "جاتے ہو تم جو روٹھ کے جاتے ہیں جی سے ہم", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاتے ہو تم جو روٹھ کے جاتے ہیں جی سے ہم\nتم کیا خفا ہو خود ہیں خفا زندگی سے ہم\n\nکچھ ایسے بدحواس ہیں دل کی لگی سے ہم\nکہتے ہیں مدعائے دل مدعی سے ہم\n\nبے زار ہو چکے ہیں بہت دل لگی سے ہم\nبس ہو تو عمر بھر نہ ملیں اب کسی سے ہم\n\nیہ جانتے تو شکوے نہ کرتے رقیب کے\nکہتے ہیں تیری ضد سے ملیں گے اسی سے ہم\n\nمجرم ہے کون دونوں میں انصاف کیجیے\nچھپ چھپ کے آپ ملتے ہیں یا مدعی سے ہم\n\nہم اور چاہ غیر کی اللہ سے ڈرو\nملتے ہیں تم سے بھی تو تمہاری خوشی سے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "جاتے ہی ہو گر خواہ نخواہ", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاتے ہی ہو گر خواہ نخواہ\nفبہا بہتر بسم اللہ\n\nیک شب دیکھی جن نے وہ زلف\nلاکھوں دیکھے روز سیاہ\n\nاتنی تو مت ہو جلد نسیم\nہم بھی چمن تک ہیں ہمراہ\n\nدشمن رہویں بادہ بغیر\nتا ہے خرقہ اور کلاہ\n\nکوندے ہے دل پر برق سی آج\nپیش نظر ہے کس کی نگاہ\n\nوعدہ کر کے رات کا تم\nخوب ہی آئے واہ جی واہ\n\nقائمؔ سے کوئی ہو ہے خفا\nبندہ، خادم، دولت خواہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%D9%86%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81"} {"title": "جاتے ہے خانقاہ سے واعظ سلام ہے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاتے ہے خانقاہ سے واعظ سلام ہے\nہم دیر سے چلے صنم اب رام رام ہے\n\nصورت وہ سانولی کہ کنھیا غلام ہے\nمیرے صنم سے خوب تر اللہ کا نام ہے\n\nدر پیش ہے وہ منزل نا طاقتی ہمیں\nاٹھے جو ہم سفر ہے جو بیٹھے مقام ہے\n\nصیاد ہی بہار کے پردے میں بلبلو\nہر غنچہ ہے قفس رگ گل تار رام ہے\n\nکیوں کر نہ میری یاد فراموش ہو اسے\nسمجھا ہے یار ننگ جسے میرا نام ہے\n\nمیرا لہو چٹائے گا جب تک نہ تیغ کو\nقاتل کو دہنے ہاتھ کا کھانا حرام ہے\n\nساقی سے ہو جو دل شکنی بھی تو لطف ہے\nٹوٹا جو شیشہ میری بغل کا تو جام ہے\n\nفصل بہار بات کی بات اس چمن میں ہے\nآواز غنچہ رخصت گل کا پیام ہے\n\nمستی ٹپک رہی ہے یہاں بال بال سے\nتن میں لہو نہیں یہ مے لعل فام ہے\n\nتحریر حال کی کسے طاقت ہے نامہ بر\nہے جان ہونٹوں پر یہ زبانی پیام ہے\n\nوہ ماہ رو چھپا ہے محاق حجاب میں\nعاشق کے زندگی کا مہینہ تمام ہے\n\nسمجھے رہیں بہت مرے کم مائیگی حریف\nقطرہ وہ ہوں کہ آج مرا بحرؔ نام ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "جادو تھی سحر تھی بلا تھی", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جادو تھی سحر تھی بلا تھی\nظالم یہ تری نگاہ کیا تھی\n\nکیدھر ہے کہاں ہے خوش دلی تو\nہم سے بھی کبھو تو آشنا تھی\n\nشیریں بھی تجھی سی تھی ستم گر\nلیلیٰ بھی اگرچہ بے وفا تھی\n\nفرہاد پہ اس قدر نہ تھا ظلم\nمجنوں پہ نہ یہ غضب جفا تھی\n\nمارا ہے بیاںؔ کو جن نے اے شوخ\nکیا جانیے کون سی ادا تھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%AF%D9%88_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع\nچرخ وا کرتا ہے ماہ نو سے آغوش وداع\n\nشمع سے ہے بزم انگشت تحیر در دہن\nشعلۂ آواز خوباں پر بہ ہنگام سماع\n\nجوں پر طاؤس جوہر تختہ مشق رنگ ہے\nبسکہ ہے وہ قبلۂ آئینہ محو اختراع\n\nرنجش حیرت سرشتاں سینہ صافی پیشکش\nجوہر آئینہ ہے یاں گرد میدان نزاع\n\nچار سوئے دہر میں بازار غفلت گرم ہے\nعقل کے نقصاں سے اٹھتا ہے خیال انتفاع\n\nآشنا غالبؔ نہیں ہیں درد دل کے آشنا\nورنہ کس کو میرے افسانے کی تاب استماع", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%AF%DB%82_%D8%B1%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B9"} {"title": "جاسوس دوست", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "آ ادھر اے دوست آ تو مجھ سے چھپ سکتا نہیں\nسعیٔ خود پوشی ہے کیوں جب میں تجھے تکتا نہیں\nگرچہ پہلے صوفیانہ سوانگ نے دھوکا دیا\nلیکن آنکھوں کی چمک نے تجھ کو پہچنوا دیا\nتیری آنکھوں سے عیاں اب تک وہ برقی لہر ہے\nقہر ہے تیری نگاہ تیز ہاں ہاں قہر ہے\nالاماں یہ تیری آشفتہ نگاہی الاماں\nعمر و عیار کی بھی ہیچ ہیں چالاکیاں\nکیوں میں حیران ہوں جو ہر سو آج تیری دھوم ہے\nتیری فطرت ابتدا سے ہی تجھے معلوم ہے\nتجھ سے مل کر آج مجھ کو مدرسہ یاد آ گیا\nپھر وہ طفلی کا مرقع دل مرا تڑپا گیا\nمطمئن رہتی نہ تھی تیری نگاہ جستجو\nطور تیرے عارفانہ نرم تیری گفتگو\nمدرسے میں اپنے ہم عمروں سے وہ سرگوشیاں\nبر محل سرگوشیوں کے بعد وہ خاموشیاں\nہم جماعت دوست کہتے تھے تجھے اپنا وعدہ\nتجھ کو ان کے خانگی جھگڑوں کی بھی تھی جستجو\nیاد ہے مجھ سے بھی کچھ پوچھا تھا اک دن اے شریر\nاور پھر کہنے لگا تھا تو مجھے روشن ضمیر\nہر کسی استاد کا تو منہ چڑھا شاگرد تھا\nنام تیرا واقعی سب کی زباں کا ورد تھا\nہر کسی استاد کا تو منہ چڑھا شاگرد تھا\nنام تیرا واقعی سب کی زباں کا ورد تھا\nتیری فطرت قابلیت تیرے کام آ ہی گئی\nغیر ملکی حاکموں تک تجھ کو پہنچا ہی گئی\nہیں سیاہ اخبار سارے تیرے نام اور کام سے\nشاید اب تو آ رہا ہے خاص ملک شام سے\nکر رہا ہے سیر دنیا بن کے اب جاسوس تو\nآہ ابنائے وطن سے خاک ہو مانوس تو", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%B3%D9%88%D8%B3_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA"} {"title": "جال میں جس کے شوق آئی ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جال میں جس کے شوق آئی ہے\nاس کے دل کوں تڑپھ کماہی ہے\n\nجگ کے خوباں ہیں تجھ پے سب مفتوں\nتن میں یوسف بھی ایک چاہی ہے\n\nداغ سیں کیوں نہ دل اجالا ہو\nچشم کی روشنی سیاہی ہے\n\nاب تلک کھینچ کھینچ جور و جفا\nہر طرح دوستی نباہی ہے\n\nطور کیا پوچھتے ہو کافر کا\nشوخ ہے بانکہ ہے سپاہی ہے\n\nہاتھ میں کہربا کی سمرن دیکھ\nرنگ عاشق کا آج کاہی ہے\n\nحال عاشق کا کیا بیاں کیجے\nخوار ہے خستہ ہے تباہی ہے\n\nآبروؔ کیوں نہ ہو رہے خاموش\nدرد کہنے کی یاں مناہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جال میں زر کے اگر موتی کا دانا ہوگا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جال میں زر کے اگر موتی کا دانا ہوگا\nوہ نہ اس دام میں آوے گا جو دانا ہوگا\n\nدام زلف اور جہاں خال کا دانا ہوگا\nپھنس ہی جاوے گا غرض کیسا ہی دانا ہوگا\n\nدل کو ہم لائے تھے مژگاں کی صفیں دکھلانے\nیہ نہ سمجھے تھے کہ تیروں کا نشانا ہوگا\n\nآج دیکھ اس نے مری چاہ کی چتون یارو\nمنہ سے گو کچھ نہ کہا دل میں تو جانا ہوگا\n\nبھر نظر دیکھیں گے اس عہد شکن کی صورت\nدیکھیے کون سا یارب وہ زمانا ہوگا\n\nخوں بہانے کا مرے حشر میں جب ہوگا بہا\nدیکھیں کیا اس گھڑی قاتل کو بہانا ہوگا\n\nوہ بھی کچھ ایسی ہی کہہ دے گا کہ جس سے اس کو\nبات کی بات بہانے کا بہانا ہوگا\n\nتلخیٔ مرگ جسے کہتے ہیں افسوس افسوس\nایک دن سب کے تئیں زہر یہ کھانا ہوگا\n\nدیکھ لے اس چمن دہر کو دل بھر کے نظیرؔ\nپھر ترا کاہے کو اس باغ میں آنا ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جام جب تک نہ چلے ہم نہیں ٹلنے والے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جام جب تک نہ چلے ہم نہیں ٹلنے والے\nآج ساقی ترے فقرے نہیں چلنے والے\n\nنام روشن جو ہوا حسن میں پروانوں سے\nشمع کہتی ہے کہ ٹھنڈے رہیں جلنے والے\n\nکیا حکومت مرے ساقی کی ہے مے خانے میں\nجتنے ساغر ہیں اشارے پہ ہیں چلنے والے\n\nفتنے اٹھ اٹھ کے یہ کہتے ہیں کہ او مست خرام\nہم بھی سائے کی طرح ساتھ ہیں چلنے والے\n\nفائدہ کیا ہوس دل کے بڑھانے سے جلیلؔ\nوہی نکلیں گے جو ارماں ہیں نکلنے والے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D9%86%DB%81_%DA%86%D9%84%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%B9%D9%84%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "جام جم کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:عصمت اللہ عصمت بیگ", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کاٹی ہے عمر ابروئے تیغ دو دم کے ساتھ\nمیں اس کے دم کے ساتھ ہوں وہ میرے دم کے ساتھ\nدشت جنوں سمٹ کے کف پا سے جا ملا\nمنزل لپٹ کے رہ گئی نقش قدم کے ساتھ\nآوارہ گردی فاقہ کشی فکر روزگار\nیہ سب بلائیں لپٹی ہیں عاشق کے دم کے ساتھ\nافیوں کا دور بھی ہے مے ارغواں کے بعد\nجام سفال ہاتھ میں ہے جام جم کے ساتھ\nاے شیخ توبہ رم نہیں ہوگی کبھی حرام\nموجود رم ہے دیکھ حرم اور ارم کے ساتھ\nڈوبا ہوا ہوں خال دہن کی ریسرچ میں\nٹکرا رہا ہوں ساحل بحر عدم کے ساتھ\nایک کیو ہے آسماں سے زمیں تک لگا ہوا\nغم غم کے بعد اور الم ہے الم کے ساتھ\nایسے سلام کو ہے مرا دور سے سلام\nہوتا ہے جو سلام کئی پیچ و خم کے ساتھ\nکل تک بھی بات کرنے کا جن کو نہ تھا شعور\nوہ ہم سے بات کرنے لگے آج ہم کے ساتھ\nاتنا خمیدہ ہو گیا پیری کے ہاتھ سے\nکرتا ہوں اک سلام بھی سو پیچ و خم کے ساتھ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%AC%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "جام خالی جہاں نظر آیا", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جام خالی جہاں نظر آیا\nمیری آنکھوں میں خوں اتر آیا\n\nوہ بہت کم کسی نے دیکھا ہے\nمجھ کو جو کچھ یہاں نظر آیا\n\nجھک گئے آسمان سجدے میں\nکون یہ اپنے بام پر آیا\n\nکانپ اٹھا چرخ ہل گئی دنیا\nوہ جہاں اپنی بات پر آیا\n\nاس نے پوچھا مزاج کیسا ہے\nدل جو امڈا ہوا تھا بھر آیا\n\nجب کبھی اس نے کی نظر مجھ پر\nایک چھالا نیا ابھر آیا\n\nتیری جانب سے ہوشیار گیا\nاپنی جانب سے بے خبر آیا\n\nجب کیا قصد ضبط آہ عزیزؔ\nدل میں چھالا سا اک ابھر آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جام لا جام کہ آلام سے جی ڈرتا ہے", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جام لا جام کہ آلام سے جی ڈرتا ہے\nاثر گردش ایام سے جی ڈرتا ہے\n\nلب پہ اب عارض و گیسو کے فسانے کیا ہوں\nفتنہ ہائے سحر و شام سے جی ڈرتا ہے\n\nتجھ کو میں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں در و بام سے دور\nاب تجلئ در و بام سے جی ڈرتا ہے\n\nگل کھلائے نہ کہیں فتنۂ دوراں کچھ اور\nآج کل دور مے و جام سے جی ڈرتا ہے\n\nنگہ مست کے قربان مری سمت نہ دیکھ\nموجۂ بادۂ گلفام سے جی ڈرتا ہے\n\nچھوڑ کر راہ میں بت خانے گزر جاتا ہوں\nہوش میں جلوۂ اصنام سے جی ڈرتا ہے\n\nرات کی ظلمتیں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں\nاخترؔ اپنا تو سر شام سے جی ڈرتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%DA%88%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جام نہ رکھ ساقیا شب ہے پڑی اور بھی", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جام نہ رکھ ساقیا شب ہے پڑی اور بھی\nپھر جہاں کٹ گئے چار گھڑی اور بھی\n\nپہلے ہی ساغر میں تھے ہم تو پڑے لوٹتے\nاتنے میں ساقی نے دی اس سے کڑی اور بھی\n\nپلکیں تو چھیدے تھیں دل مارے تھی برچھی نگاہ\nابرو نے اس پر سے ایک تیغ جڑی اور بھی\n\nکچھ تپش دل تھی کچھ سنتے ہی فرقت کا نام\nآگ سی ایک آگ پر آن پڑی اور بھی\n\nمیری شب وصل کی صبح چلی آتی ہے\nروک لے اس دم فلک ایک گھڑی اور بھی\n\nگرچہ ابھر آئے ہیں تن پہ مرے پر میاں\nاتنی لگائیں جہاں ایک چھڑی اور بھی\n\nکیا کہوں اس شوخ کی واہ میں خوبی نظیرؔ\nسنتے ہی اس بات کے ایک جڑی اور بھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DA%91%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "جان آ بر میں کہ پھر کچھ غم و وسواس نہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان آ بر میں کہ پھر کچھ غم و وسواس نہیں\nتو نہیں پاس تو پھر کچھ بھی مرے پاس نہیں\n\nتو جلاوے تو جیوں تو ہی جو مارے تو مروں\nتجھ سوا مجھ کو تو دارین میں کچھ آس نہیں\n\nنام لینے سے ترا میں ہوں معطر ہوتا\nگل جنت میں بھی سنتے ہیں کہ یہ باس نہیں\n\nیارو ہے اظفریؔ اردو کی زباں کا وارث\nاہل دہلی ہے وہ باشندۂ مدراس نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A2_%D8%A8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%BA%D9%85_%D9%88_%D9%88%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جان آنکھوں میں رہی جی سے گزرنے نہ دیا", "poet_page": "مصنف:شیخ عبداللطیف تپش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان آنکھوں میں رہی جی سے گزرنے نہ دیا\nاچھی دیدار کی حسرت تھی کہ مرنے نہ دیا\n\nکیا قیامت ہے ستم گار بھری محفل میں\nدل چرا کر تری دزدیدہ نظر نے نہ دیا\n\nمدتوں کش مکش یاس و تمنا میں رہے\nغم نے جینے نہ دیا شوق نے مرنے نہ دیا\n\nناخدا نے مجھے دلدل میں پھنسائے رکھا\nڈوب مرنے نہ دیا پار اترنے نہ دیا\n\nکوئی تو بات ہے جو غیر کے آگے اس نے\nشکوہ کیسا کہ مجھے شکر بھی کرنے نہ دیا\n\nخاک آرام کی خواہش ہو وطن سے باہر\nجب ہمیں چین تپشؔ اپنے ہی گھر نے نہ دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D8%AC%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جان اردو", "poet_page": "مصنف:عشرت لکھنوی", "kind": "prose", "section": null, "year": null, "text_ur": "==دیباچہ==\n\nیہ میرا خیال ہے کہ زبانِ اردو اپنی ذاتی خوبیوں کے سبب سے روز افزوں ترقی کرکے دنیا کے سب سے بڑے حصے پر حکومت کرے گی اور ضرور علمی زبان بنے گی۔ اس لیے میں چاہتاہوں کہ ابتدائی حالت میں جبکہ اس کی بنیاد قائم ہوئی ہے، لوگ اس کے مرکز اعلیٰ دہلی و لکھنؤ کی تقلید کریں اور حد سے قدم آگے نہ رکھیں۔ اردو کی ہردلعزیزی سے ضرورت لاحق ہوئی کہ اسی زبان میں تمام ہند میں اخبار جاری ہوں۔ اس لیے لوگوں نے مجبور ہو کر اپنے اپنے ملک میں بعنوان مختلف اس کا استعمال شروع کردیا اور مرکز کی زبان سے سرتابی کی۔ ہر شہر میں مخصوص مخصوص محاورے بن گئے اور ایک شہر کی اردو سے دوسرے شہر کی اردو میں اتنا فرق ہونے لگا کہ لوگوں کو اس کاسمجھنا دشوار ہوتا جاتا تھا اور خیال ہوا کہ رفتہ رفتہ یہ زبان انقلاب پذیر ہوتے ہوتے فنا ہو جائے گی۔ اس خدشےکو ہر ایک خیر اندیش زبان نے محسوس کیا۔ چنانچہ بعض حضرات نے اس کے سدّباب میں ملک کے ثقات شعرا سے تحقیق کر کے غلط محاورات کی تردید شروع کی تو جو لوگ زبان سے اچھی طرح واقف نہ تھے، ان کو برا معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ آخر ہم بھی تو ہندوستان کے رہنے والے ہیں اور اردو تمام ہندوستان کی زبان ہے تو ہمارے مقابلے میں دہلی اور لکھنؤ کو کیوں شرف دیا جاتا ہے۔ ہم کہتے ہیں یہی صحیح ہے جو ہم بولتے ہیں۔ دو ایک بڑے شہروں میں یہ ہوا پھیلی ہوئی تھی اور زبان میں کچھ نقائص ہوچلے تھے۔ اور خوف تھا کہ ہوتے ہوتے ہندوستان کے بہت سے شہر اس مرض میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اس وقت سِوا اس کے کچھ چارہ نہ ہوگا کہ ہم اردو کو بھی دوسری کمزور اور غیر علمی زبانوں کی طرح مردہ سمجھ کر فاتحہ پڑھیں۔ میری سمجھ میں اس کا سبب یہ معلوم ہوا کہ اس زبان کی ماہیت اور معلومات خصوصیات زبان کی کچھ کتابیں نہیں ہیں جن سے لوگ مدد لے کر صحیح زبان بولنے کی قدرت حاصل کریں۔ اس لیے وہ لوگ معذور و مجبور ہیں کہ غلط زبان ہی بول کر اپنے مطالب پورا کریں۔ میں نے چاہا کہ ملک کی اس شکایت کو دفع کروں ۔ زبان کے جو معلومات میرؔ کے وقت سے میرے پاس سینہ بسینہ محفوظ تھے۔ میں نے لکھ کر کتاب کی صورت میں پیش کیا، تو لوگوں نے میری تصنیف کو بہت شوق سے دیکھا اور اردو کے سمجھنے میں انصاف کو دخل دیا اور غلط جملوں کے استعمال سے اجتناب کرنے لگے۔میں خدا کا شکر کرتا ہوں میری پہلی تصنیف زبان دانی بہت پسند ہوئی۔ اسی طرح اصلاح زبان اردو، قواعد میر، شاعری کی پہلی کتاب، شاعری کی دوسری کتاب، اصول زبان اردو مقبول خاص و عام ہیں۔ ان کی کثیر التعداد اشاعت نے مجھے اطمینان دلا دیا کہ ہندوستان کے لوگ صحیح اور فصیح اردو بولنے کی دلی خواہش رکھتے ہیں بشرطیکہ انہیں ایسی کتابیں ملتی رہیں۔ تو میں نے اپنا ایک رسالہ “جان اردو” جو اہل ملک کی ضرورت کے موافق ہے، لکھ کر شائع کیا۔\n\nخواجہ محمد عبد الرؤوف عشرت لکھنوی\n\n==اردو ہندی==\n\nبسم الرحمن الرحیم\n\nاردو ہندی\n\n اردو ہندی دو الگ الگ زبانیں نہیں ہیں۔ حقیقت میں ایک زبان کے دو نام رکھ لیے ہیں۔ سنسکرت زبان تعلیل اور تحریف کے بعد بھاکا بنی۔ بھاکا ترمیم تنسیخ تعلیل کے بعد ایک دوسری زبان بنی جس کو اردو کہو یا ہندی۔ اردو کا نام ہماری زبان پر ابھی چند برسوں سے آگیا۔ ورنہ ہندو تو ہندو، مسلمان بھی اس زبان کو ہندی کہتے تھے۔ چند عبارتیں ہمارت دعوے کی گواہ ہیں۔ قیامت نامہ کا مولف کہتا ہے:\n\n“بموجب فرمانے ان کے اس حقیر نے ۱۲۵۶ ہجری میں زبان ہندی میں ترجمہ کیا۔”\n\nنورنامے کا مصنف کہتا ہے:\nاگرچہ تھی افصح وہ عربی زباں\nسمجھ اُس کی ہر اک کو تھی بس گراں\nسمجھ اس کی ہر اک کو دشوارتھی\nکہ ہندی زباں یاں تو درکار تھی\nاسی کے سبب میں نے کر فکر و غور\nلکھا نورنامے کو ہندی کے طور\n\n اس سے معلوم ہوا کہ آج سے ۷۵برس پیشتر اسی زبان کو جسے ہم اردو کہتے ہیں، سارے مسلمان ہندی کہتے تھے۔ رفتہ رفتہ کچھ لوگوں نے اسے اردو کہنا شروع کیا۔ سبب یہ ہوا کہ بعض لوگوں نے اسی زبان کو ہندی خط میں لکھنا شروع کیا۔ ناگری کی ناقص تحریر کا نام ہندی تھا۔ پھر ناگری میں بھی اسی زبان کو لکھنے لگے۔ ناگری کا خط وہی ہے جو بھاکا زبان کا خط ہے۔\n\nاس میں شک نہیں کہ ہندوستان کی زبان کے لیے بھاکا خط میں لکھا جانامناسب اور موزوں ہے۔ مگر مشکل یہ ہےکہ بھاکا یعنی ناگری کا خط اتنا جامع اتنا وسیع اتنا مبسوط نہیں ہےکہ زبان کی وسعت اور ترقی کو مفصل دکھا سکے اور دخیل الفاظ کے رسم الخط کو برقرار رکھے اور پانچ پانچ سات سات حرفوں کو ایک میں ملا کر لکھے اور زیر زبر کی قید سے بری ہو جو ایک علمی زبان کے لیے لازمی اور ضروری ہے۔\n\nہندوستان کی زبان کے نیک نصیب تھے جو اس کے لیے ایسے قانون خطاطی تجویز کیے گئے جو ہر طرح مکمل ہیں۔ ناگری میں ث، س، ص میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کا ایک ایک حرف الگ الگ لکھا جاتا ہے۔ تیسرے یہ کہ ناگری میں زیر زبر کے حرف بھی لکھے جاتے ہیں۔ اس کے لکھنے میں بڑا وقت صرف ہوتا ہے۔ یہ دقتیں اور خط میں نہیں ہیں۔ اس لیے کہ ہرزبان کا لفظ اس میں داخل ہونے کے بعد اپنی جڑ بنیاد بے پوچھے بتا دیتا ہے۔ جیسے قرض میں قاف اور ضاد کہہ رہا ہے کہ میں عربی ہوں۔ حالت میں بڑی حے کہہ رہی ہے کہ میں عربستان سے آئی ہوں۔ مژدہ میں ژے کا حرف پکار رہا ہے کہ میں عجمی ہوں۔ گھڑا میں گھ اور ڑ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سدیشی ہیں۔ چاقو میں قاف بول رہا ہے کہ میں ترکی ہوں۔ بورڈ میں دو ساکنوں کا اجتماع ڈال کے ساتھ بتا رہا ہے کہ میں انگریزی ہوں۔\n\nاسی طرح جتنی زبان کے الفاظ ملتے جائیں گے اپنے املا، خال و خط،حرفوں کی آواز سے پہچان لیے جائیں گے کہ یہ لفظ کہاں سے آیا ہے۔ اس لحاظ سے ہندی زبان کا اردوحرفوں میں لکھا جانا محض مصلحت اندیشی ہے اور اس کے علمی بننے کی دلیل ہے۔ ہر ایک ہردلعزیز زبان جو وسعت حاصل کرنا چاہے اور جو کثرت سے استعمال کی جاتی ہے اور جو دوسری زبانوں کو اپنے میں شامل کرنے کی قوت رکھتی ہے اور اس کے قواعد خطاطی، املا نویسی سخت رسیوں میں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ جو لوگ زبان کی اہمیت سے ناواقف ہیں وہ ہمیشہ اس جوئے کو اپنی گردن سے اتارنا چاہتے ہیں اور اس کے متعلق کمزور تاویلیں پیش کرتے ہیں۔ زبان کی ترقی میں رخنہ انداز ہوتے ہیں۔ اسی ہندوستان میں دیکھ لیجیے، عوام نے اپنی غلط اور غیر فصیح اردو کا نام ہندی رکھ لیا ہے اور اسکو دیو ناگری میں لکھتے ہیں۔ اور وہ چاہتے ہیں ہماری کچی زبان کی کوئی اصلاح نہ کرے۔ اور کوئی ہم کو نام نہ رکھے۔ وہ شین کو سین اور خے کو کھے بولتے ہیں اور اسی کو اچھا اور فصیح بتاتے ہیں۔ بعض لوگ قاف کو کاف بولتے ہیں اور اسی کو اچھاسمجھتے ہیں۔ ایسی خودسری سے دوسری زبان کا امان جاتا رہتا ہے اور وہ علمی زبان نہیں بن سکتی۔ ہم سب ہندوستانیوں کو ایک زبان بولنا چاہیے کیونکہ ہندوستان کی ایک زبان ہے، دو رسم الخط ایک ہندی ایک اردو۔ اس لیے کہ ناگری خط ہماری زبان کی حفاظت نہیں کر سکتا تو اب بھی لازم ہے کہ ہم اپنی زبان کو اردو خط میں لکھیں جس میں ہم کو بے شمار الفاظ لینے کی گنجائش رہے۔\n\nلیکن پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ اردو زبان کو مستند بنانے کے لیے کس بات کی ضرورت ہے۔ بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی زبان کو باقاعدہ اور علمی زبان بنانے کے لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہماری زبان کا کوئی خاص شہر یا کوئی جگہ مرکز قرار پائے جس کی تقلید ہر زبان دان پر لازم ہو۔ جیسے عربی زبان کے لیے مکہ شریف مستند جگہ ہے اور اسی زبان کی تقلید کرنے سے کلام فصیح ہوتا ہے۔\n\nفارسی کے لیے شیراز، اصفہان، طہران مستند شہر ہیں۔ تمام عجم کو ان شہروں کی تقلید کرنا پڑتی ہے اور انہیں شہروں کی زبان معتبر مانی جاتی ہے اور ان کی مثال پیش کی جاتی ہے۔\n\nدوسرے شہروں کی زبان کو زبان لُر کہتے ہیں۔ ہاں جو لوگ ان شہروں کی تقلید کو لازمی اور ضروری سمجھتے ہیں اور جو کچھ نظم و نثر بتقلید لکھتے ہیں وہ مستند مان لیے جاتے ہیں اور ان کو زبان داں کہتے ہیں۔ زبان دانوں کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہر کی زبان کو مرکز کے مطابق بناتے ہیں۔ اردو میں بھی زبان دانوں کا یہی کام ہے، وہ اپنے مرکز کی تقلید کرکے اسی اصول پر لوگوں کو چلاتے ہیں۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو ہر شہر اپنے اپنے مقامی الفاظ اور محاورات کو استعمال کرکے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنائے اور ایک کو دوسرے کی زبان سمجھنا مشکل ہو جائے اور آخر کو سب جہالت کے دریا میں ڈوب کے مرجائیں اوراُن کی زندگی بھیڑ بکریوں کے مثال ہو۔\nبات یہ ہے کہ ہندوستان ان خرابیوں کا بہت دور تک شکار ہو چکا ہے۔ یہاں تین سو چھتیس زبانیں تھیں اور ہر ایک اپنی زبان کو دوسرے سے بہتر سمجھتا تھا۔ سب زبانیں علم سے خالی تھیں۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ایک زبان سب کی ہو مگر جاہلوں سے یہ کام نہ ہو سکتا تھا۔ اب گورنمنٹ نے اپنے مغربی علوم سے ہماری آنکھیں کھولیں اور ہم کو دکھایا کہ دیکھو خود تمہارے گھر میں ایک اردو زبان ایسی ہے جو تمام دنیا کی زبان بننے کی قوت رکھتی ہے مگر تم اس کے فضائل، اس کے مناقب سے بے خبر ہو۔ تم کو اس کی پرورش کا طریقہ نہیں معلوم۔ وہ خدا کی طرف سے پیدا ہوئی ہے اور خدا اس کا مددگار ہے۔ باوجود سخت مزاحمتوں کے وہ ہندوستان کے ہرگوشہ میں دفعتاً پھیل گئی اور پھیلتی جاتی ہے۔\n\nاس وقت موجودہ حالت میں زبان اردو کے دو ٹکسال ہیں، ایک دہلی اور ایک لکھنؤ۔ اس میں اولیت کا تاج دہلی کے سر ہے۔ اس لیے کہ سب سے پہلے دہلی کی زبان مستند و معتبر تھی اور لکھنؤ والے بھی دہلی کی تقلید کرتے تھے اور وہی زبان بولتے تھے۔ رفتہ رفتہ دہلی مِٹی اور جو فصحا، جو شرفا، جو والیان ملک، جو شہزادے دہلی کی جان تھے اپنے وطن کو خیرباد کہہ کر لکھنؤ میں آبسے۔ انہیں لوگوں کی زبان اردوئے معلیٰ تھی اور دہلی انہیں سے عبارت تھی۔ کچھ دنوں کے بعد لکھنؤ بھی دہلی ہو گیا اور اس کی زبان کے سکےرائج الوقت ہوگئے۔ دہلی کے سب ملک الشعرا شاعر، دہلی کے سب نجیب الطرفین شہزادے، دہلی کی بیگمیں، دہلی کے شرفا لکھنؤ کی خاک میں آرام کر رہے ہیں۔\n\nاب لکھنؤ کا دوسرا دور شروع ہوا اور زبان کا سکہ لکھنؤ میں ڈھلنے لگا۔ یہاں شاعروں میں ناسخ، آتش مستند اور مشہور ہوئے اور ان لوگوں نے زبان کے گلزار کو خار سے پاک کر کے گلشن بے خار بنا دیا۔ جب لکھنؤ اور دہلی مدمقابل ہوئے تو دونوں میں رقابت پیدا ہوئی۔ دہلی کے رہے سہے شاعر جو ہمیشہ آپس میں لڑا کرتے تھے، لکھنؤ کی مخالفت پر آمادہ ہوئے اور یہ جھگڑا طول پکڑتا گیا۔ پہلے تذکیر و تانیث کا سلسلہ شروع ہوا۔ دہلی والے سانس کو مذکر بولتے تھے، یعنی سانس آیا، سانس نکلا۔ لکھنؤ والے کہتے تھے اس قافیے کے جتنے الفاظ ہیں سب مونث ہیں۔ قرینہ یہی کہتا ہے کہ ہم اس کو مونث بولیں جیسے یاس، آس، ناس، گھانس، چپراس، مٹھاس، کھٹاس۔ اس لیے ہم سانس آئی اور سانس نکلی بولیں گے۔ بات یہ ہے کہ لکھنؤ میں بھی تو وہی لوگ تھے جن کے بزرگ دہلی سے آئے تھے اور ان کو اپنے باپ دادا استاد کی زبان پر ناز اور فخر تھا۔ کوئی ملک الشعرا کا بھانجا تھا، کوئی بیٹا۔ کوئی شہزادہ تھا۔ ان لوگوں کو نئی دہلی کی تقلید میں شرم آئی اور لکھنؤ کے پردے میں خوب خوب زبان کو صاف کیا اور چھانا۔ دہلی نے کہا ہم مالا مونث بولتے ہیں۔ لکھنؤ نے کہا یہ لفظ مذکر ہے، اس لیے کہ اس کے آخر میں الف ہے۔ دہلی نے کہا موتیا مونث ہے۔ لکھنؤ نے کہا موتیا مذکر ہے۔ دہلی نے کہا فکر مذکر ہے۔ لکھنؤ نے کہا نہیں، یہ مونث ہے۔ دہلی نے کہا قلم مونث ہے۔ لکھنؤ نے کہا یہ مذکر ہے۔ دہلی نے کہا املا مونث ہے۔ لکھنؤ نے کہا مذکر ہے۔\n\nاسی طرح اور لفظی جھگڑے ہیں جیسے دہلی والے بولتے ہیں مجھے روٹی کھانی تھی۔ لکھنؤ والے بولتے ہیں مجھے روٹی کھانا تھی۔ دہلی والے کہتے ہیں میرا دامن چل گیا۔ لکھنؤ والے بولتے ہیں میرا دامن نکل گیا۔ دہلی والے کہتے ہیں بوچھاڑ، لکھنؤ والے بولتے ہیں بوچھار۔ دہلی والے بولتے ہیں گھڑنا۔ لکھنؤ والے کہتے ہیں گڑھنا۔ دہلی والے کہتے ہیں گلتھی۔ لکھنؤ والے کہتے ہیں گتھی۔ اسی طرح اور بے شمار جھگڑے ہیں جنہوں نے بہت طول پکڑا۔\n\nدہلی والوں کا خیال تھا کہ اس جنگ میں ہمارا پلہ بھاری رہے گا اور لکھنؤ کو نیچا دیکھنا نصیب ہوگا مگر اب لکھنؤ وہ لکھنؤ نہیں رہا تھا جو اپنی مادری زبان میں کسی دوسرے کا محتاج رہتا۔ اس نے بھی خم ٹھونک کر مقابلہ کیا، بالآخر پالا اسی کے ہاتھ رہا۔ یہ جنگ نہ تھی، اختلاف علما تھا اور امت کے لیے رحمت بن گیا اور مقلدین اردو کے دو فرقے ہوگئے۔\n\nپنجاب والوں نے دہلی کے محاورات، اصطلاحات، تذکیر و تانیث کی اختلاف کی حالت میں پیروی کی۔ اور پورب دکھن اتّر والوں نے درصورت اختلاف لکھنؤ کی پیروی قبول کی۔ لکھنؤ کا دار السلطنت بہت وسیع تھا۔ اس لیے ضرورت تھی کہ یہاں عملہ بھی زیادہ ہو اور کام کرنے والے لوگ مستند ہوں۔ شاہانِ لکھنؤ نے اس خدمت میں لاکھوں روپیہ صرف کیا اور دربار میں ثِقات سخنداں ملازم ہوئے۔ ہرایک رئیس کے پہلو میں ایک فصیح شاعر یا نثّار ضرور بیٹھتا تھا۔\n\nریاستوں میں اچھی زبان کے سیکھنے کے لیے ادیب کی ضرورت ہوئی۔ بیاہ شادی میں شعرا کو قصیدہ خوانی پر انعام اکرام ملنے لگا۔ نثاروں نے اور شاعروں نے زبان کو خوب دل کھول پر مانجا اور اس میں نئے الفاظ بھرتی کیے۔ چنانچہ نمبر رفل وغیرہ انگریزی الفاظ شاہی میں شعرا اپنے کلام میں نظم کرتے تھے۔ نواب کلب علی خان والیٔ رامپور جو غدر کے بعد ریاست رامپور پر تخت نشین ہوئے۔ اس وقت دہلی اور لکھنؤ کے شعرا مٹ چکے تھے۔ ان کو علم و ادب کی حفاظت کا خیال ہوا تو لکھنؤ اور دہلی کے ثقات شعرا کی تلاش ہوئی۔\n\n دہلی سے فصیح الملک مرزا داغ و حیا دہلوی اور لکھنؤ سے بحر، امیر، قلق، منیر، تسلیم، جلال وغیرہ مقرر ہوئے۔ اب بھی دہلی اور لکھنؤ کا فیض جاری ہے۔ اب یہ بھی بتادینا چاہیے کہ ان مستند شہروں میں زبان کی حفاظت کا کیا انتظام ہے اور نظام سلطنت کیونکر ہے۔ یہ بات تو ظاہر ہے کہ ہر شہر میں تین طبقے کے لوگ ہوتے ہیں، ادنی، اوسط، اعلی۔ یہ مرتبہ بہ لحاظ دولت نہ سمجھنا چاہیے۔ بلکہ بہ اعتبار زبان ادنی وہ لوگ ہیں جو جاہل ہیں اور پڑھے لکھے نہیں ہیں اور گفتگو میں ان کا تلفظ بھی صحیح نہیں یعنی شین قاف درست نہیں۔ انہیں عوام کہتے ہیں اور ان کی زبان کی پابندی لازم نہیں۔\n\nدوسرے اوسط وہ لوگ ہیں جو جوہرِ علم رکھتے ہیں اور ان کا تلفظ صحیح ہے۔ اردو بولتے ہیں اور سمجھتے ہیں۔ انہیں اصطلاح زبان میں عام کہتے ہیں۔\n\nتیسرے اعلیٰ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ زبان کی خدمت میں اپنے اوقات صرف کرتے ہیں اور اس کے اصطلاحات اور محاورات کا تحفظ کرتے ہیں اور عام زبان سے قاعدے اور قانون اخذ کرتے ہیں اور عام زبان کی عزت کرتے ہیں اور اُن کی زبان سب سے زیادہ مستند اور معتبر جانتے ہیں۔ انہیں خاص کہتے ہیں۔\n\nتمام ہندوستان کے لوگ جو اردو بولتے ہیں اہل زبان اور تمام ہندوستان کے وہ لوگ جو اردو کی خدمت کرتے ہیں زبان داں ہیں۔ لیکن ان سب کی زبان کا سرچشمہ دہلی اور لکھنؤ ہے۔ گویا دہلی اور لکھنؤ ایک ایسا کالج ہے جہاں سے زبان کی سند ملتی ہے۔ مگر اس کالج کی عزت اس سبب سے نہیں ہے کہ اس کے پرنسپل اور پروفیسر کے ہاتھ میں قانون ہے۔ ایک اسکول میں اگر کوئی لڑکا پوفیسر سے گستاخی کرتا ہے تو اس کا نام کاٹ دیا جاتا ہے۔ پھر ہندوستان بھر میں کہیں اس کو تعلیم نہیں ملتی لیکن اردو کے پروفیسروں کی توہین کی جائے، دہلی اور لکھنؤ سے بائیکاٹ کیا جائے، پھر بھی جب کسی سے کوئی مسئلہ زبان دریافت کرنا چاہے تو وہ خندہ پیشانی سے بتانے کو مستعد ہو جاتا ہے۔ چوباز آمدی ماجرا در نوشت۔\n\nجو لفظ یا جو اصطلاح یا جو محاورہ ہندوستان کے کسی شہر میں یا کسی صوبے میں بولا جاتا ہےاور دہلی اور لکھنؤ میں وہ مستعمل نہیں ہے اور زبان دانانِ دہلی اور لکھنؤ نے اسے قبول نہیں کیا تو وہ ٹکسال باہر اور غلط ہے۔ یہی سبب ہے کہ بعض اجنبی الفاظ اخبارات میں مستعمل ہورہے ہیں یا دوسرے شہروں میں بکثرت بولے جاتے ہیں، مگر عام ہندوستان کے لوگ اُسے غلط مانتے ہیں اور اس سے احتراز کرتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کی صحت کا سارٹیفکٹ زبان کے کالج سے حاصل نہیں ہوا یعنی دہلی اور لکھنؤ کے فصحا کے نظم و نثر کلام میں دیکھنے میں نہیں آیا اور ان کی زبانوں پر اس کا استعمال نہیں ملتا۔\n\nمثال کے طور پر لکھا جاتا ہے، ایک لفظ ہے “ٹھہرنا” ،بفتح ہائے ہوّز۔ دہلی اور لکھنؤ میں بولا جاتا ہے اور دونوں جگہ کے مستند شعرا نے اسی طرح نظم کیا ہے۔ فصیح الملک مرزا داغ دہلوی مرحوم نے بھی اس کو ثمر، سفر، سحر کے قافیے میں لکھا ہے:\n\nکیونکر پڑے گا صبر الٰہی رقیب کو\nگر بعد مرگ میری طبیعت ٹھہر گئی\n\nراہ دیکھیں گے نہ دنیا سے گزرنے والے\nہم تو جاتے ہیں ٹھہر جائیں ٹھہرنے والے\n\nغم کھاتے کھاتے ہجر میں تو روح بھر گئی\nاب زہر کھائیں گے یہی دل میں ٹھہر گئی\n\nلیکن اس کو لاہور کے تمام لوگ ٹھیرنا بولتے ہیں اور پنجاب کی تمام کتابوں میں یہ لفظ اسی طرح لکھا جاتا ہے لیکن پنجاب کے سوا ہندوستان میں کوئی شہر اس کی تقلید نہیں کرتا اس لیے یہ لفظ ٹکسال باہر ہے۔\n\nاسی طرح حیدرآباد میں تقصیر کا لفظ صرف حضور کے معنی پر بولا جاتا ہے مگر لکھنؤ کے عوام عام خاص اس جدت کو غلط جانتے ہیں، اس لیے حیدرآباد کے سِوا تمام ہندوستان کے لوگ اسے غلط جانتے ہیں اور اس معنی پر اس کا استعمال نہیں کرتے۔ افسوس ہے کہ اس زمانے میں بعض نا آشنا نے خود روی اختیار کی ہے اور دہلی اور لکھنؤ کے اس اقتدار کو مٹانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں اور اُس کی لطافتِ زبان اور فصاحتِ کلام سے خار کھاتے ہیں۔\n\nاردو ادب ایسی سہل نہیں کہ بغیر کسی تحصیل کے کوئی اس کی معنوی خوبیوں سے آگاہ ہو سکے۔ لوگوں نے معیارِ ہمہ دانی انگریزی زبان کو بنا لیا ہے۔ ایک ہندوستانی ایم اے سمجھتا ہے کہ میں اردو کا بھی مالک ہوں۔ حالانکہ دو سطریں صحیح اردو کی نہیں لکھ سکتا۔ اس ضد میں زبان خراب ہو رہی ہے اور ہندوستان کے لوگ جس درخت پر بیٹھے ہیں اُس کی جڑ کاٹ رہے ہیں۔ اگر تمام ہندوستان جہالت کے دریا میں غرق ہو جائے جب بھی وہ عظمت اور وہ عزت جو خدا نے زبان کے بارے میں دہلی اور لکھنؤ کو دی ہے، کسی طرح کم نہیں ہو سکتی۔\n\nفرض کیجیے آج تمام ہندوستان کے لوگ اتفاق کرلیں کہ ہم دہلی اور لکھنؤ کی پیروی نہیں کریں گے اور اپنی اپنی زبان بولیں گے۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ ہر شہر کی بولی الگ الگ ہوگی۔ ایک شہر کا اخبار دوسرے شہر کے لوگوں کی سمجھ میں نہ آئے گا۔ کوئی کہے گا ٹوپی پہنی، کوئی کہے گا ٹوپی اوڑھی۔ کوئی کہے گا ٹوپی لٹکائی کوئی کہے گا ٹوپی باندھی، کوئی کہے گا ٹوپی چپکائی، کوئی کہے گا ٹوپی لٹکائی، کوئی کہے گا ٹوپی دھری، کوئی کہے گا ٹوپی لگائی، کوئی کہے گا ٹوپی سجی، کوئی کہے گا ٹوپی چڑھائی۔ اتنا بڑا فرق صرف ایک لفظ ایک معنی میں ہو گا تو پوری زبان کا کیا ذکر ہے۔ یہ ایک موٹی بات تھی جو ہم نے بیان کی۔ ورنہ زبان میں باریک پیچیدگیاں بہت ہیں۔ سب کے سب ایک قہار سمندر میں غوطہ کھا کر مرجائیں گے اور جو زندہ رہیں گے جہالت اور مزدوروں کی زندگی بسر کریں گے؛ اور اردو زبان کا جنازہ نکل جائے گا۔ لیکن دہلی اور لکھنؤ کی عظمت و فصاحت و بلاغت بیان و زبان کا نام ہمیشہ قائم رہے گا۔\n\nاس خیال سے میں نے چاہا کہ لکھنؤ کے محاورات کی خصوصیت کا کچھ بیان کروں اور بعض لوگ جو محاورے کا غلط استعمال دوسرے ملکوں میں کرجاتے ہیں ان کو بھی دکھا دوں تاکہ دیکھنے والوں کو احتیاط کا موقع ملے اور سب لکھنؤ کی زبان کے موافق اپنی زبان بھی درست کرلیں۔\n\nایک بات اور کہنے کی ہے، وہ یہ ہے کہ میں نے اوپر لکھا ہے کہ میں لکھنؤ کے محاورے کی خصوصیت کا بیان کروں گا۔ اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ لکھنؤ اور دہلی کے محاورات میں فرق ہے۔ بات یہ ہے کہ لکھنؤ اور دہلی کے محاورات میں کوئی فرق نہیں ہے۔ صرف بعض بعض الفاظ کی تذکیر و تانیث میں اختلاف ہے، جن کا مجمل ذکر میں اوپر کر چکا ہوں اور ایسا اختلاف خود اساتذۂ لکھنؤ کی تحقیق میں واقع ہو جاتا ہے۔ لکھنؤ میں ایک گروہ کہتا ہے اپیل مذکر ہے، دوسرا کہتا ہے اپیل مونث ہے۔ ایک کہتا ہے آبدست مذکر ہے، دوسرا کہتا ہے مونث ہے۔ ایک کہتا ہے آغوش مذکر ہے دوسرا کہتا ہے مونث ہے۔\n\nاسی طرح محاورات میں بھی جزئی اختلاف ہے اور یہ اختلاف حد تحقیق کی علامت ہے کہ اساتذۂ سخن زبان کی خدمت میں کسی کی پروا نہیں کرتے اور آپس میں بھی اختلاف کر جاتے ہیں۔ اسی طرح دہلی کے اختلاف کو بھی سمجھنا چاہیے کہ جس طرح لکھنؤ آپس میں اختلاف جزئی رکھتا ہے اسی طرح دہلی بھی اختلاف جزئی رکھتی ہے۔ اسی طرح دہلی اور لکھنؤ میں اختلاف جزئی ہے جو طالبانِ زبان کے حق میں مفید ہے۔ مگر میں نے اگرچہ زبان اردو کے قانون ملک الشعرا میر تقی میر کے خاندان سے حاصل کیے ہیں اور دہلی کے بعض اختلاف سے بھی واقف ہوں۔ لیکن کئی پشت سے میرے یہاں لکھنؤ کی زبان بولی جاتی ہے اور قدامت سے لکھنوی ہوں۔ جس طرح ایک دہلی کا مستند شاعر اپنے محاورات و زبان کی تحقیق رکھتا ہے، اُس طرح میں نہیں رکھتا۔ اس لیے میں نے اپنی ہیچمدانی کا اعتراف کر کے کہا، میں لکھنؤ کے محاورات کے متعلق بحث کروں گا۔ ورنہ حقیقت میں دونوں محاورے ایک ہیں۔\n\n===کوئی===\n\n· اسم عدد ہے۔ تذکیر و تانیث میں اپنے معدود کا تابع ہے۔ ایک کے معنی پر بولا جاتا ہے۔ جیسے کوئی آدمی نہیں ہے۔ گھر بالکل خالی ہے۔\n\n· تخمیناً کے معنی پر جیسے کوئی سو آدمی ہوگا۔ کوئی ہزار آدمی ہوگا۔ یعنی تخمیناً سو تخمیناً ہزار۔\n\n· خال خال کے معنی پر جیسے کوئی کوئی تارا آسمان پر معلوم ہوتا ہے۔\n\n· ایک آدمی کے معنی پر جیسے اس گھر میں کوئی ہے۔\n\n· نا معلوم آدمی کے معنی پر جیسے کوئی آیا تھا۔ آپ کو پوچھتا تھا۔\n\n قاعدہ: کوئی کا استعمال جب مفرد ہو گا تو اس سے آدمی مراد ہوگا۔ جب کسی چیز کے نام سے ساتھ ہو گا تو چیز مراد ہوگی۔ جیسے کوئی کھڑا ہے۔ یعنی آدمی۔ کوئی پیسہ دے دو۔ کوئی روٹی دے دو۔\n\n قاعدہ: کوئی کو واحد عدد کے ساتھ کچھ لوگ بولتے ہیں، یہ غلط ہے۔ جیسے کوئی ایک پیسہ ہوگا۔ کوئی ایک آدمی ہوگا۔ کیونکہ کوئی خود ایک کے معنی پر آتا ہے۔ اس لیے کوئی پیسہ ہوگا۔ یا ایک پیسہ ہوگا بولنا چاہیے۔ ہاں جمع کے ساتھ بولنا فصیح ہے۔ کوئی دس روٹیاں بچی ہوں گی۔ “کوئی کوئی” جمع کے معنی دیتا ہے۔ جیسے کوئی کوئی آدمی کہتا ہے۔ یعنی دو ایک آدمی۔\n\n===کۓ===\n\nکۓ اسم عدد جمع ہے۔ جیسے کۓ روپے ملے۔ کۓ آدمی آئے۔ بعض اس کا غلط استعمال کر جاتے ہیں۔ جیسے کۓ بجا ہے۔ یہ غلط ہے۔ بجے ہیں بولنا چاہیے۔\n\n ===کتنا===\n\nاسم مقدار ہے۔ جیسے اِس تالاب میں کتنا پانی ہے۔ یہ سُرمہ کتنا ہے۔ یہ آٹا کتنا ہے۔ یعنی کۓ سیر ہے۔ مگر اس کا استعمال محاورے میں اسم عدد کے معنی پر بھی خاص خاص موقع پر ہوتا ہے، جیسے آلو کتنے سیر دو گے۔ یعنی کۓ پیسے سیر۔ قلم کتنے کا دو گے، یعنی کۓ پیسے کا۔ سب کتنے آم ہیں، یعنی کۓ آم ہیں۔ اس طرح کا بھی بولتے ہیں۔ مگر افصح صورت یہ ہے کہ سب کۓ آم ہیں۔ کیونکہ یہاں غرض تعداد سے ہے نہ مقدار سے۔ گوشت کتنا ہے۔ چاول کتنے ہیں۔ آلو کتنے ہیں۔ دھنیا کتنا ہے۔ یہ محاورہ ہے کہ آلو کتنے ہیں بولتے ہیں۔ حالانکہ دونوں اسم جنس ہیں۔\n\nقاعدہ: جس چیز کو ہم گن نہیں سکتے اسے کتنا یا کتنی کہیں گے اور جس چیز کو تول بھی سکتے ہیں اور گن بھی سکتے ہیں، اسے کتنی کہیں گے۔ جیسے پانی کتنا ہے۔ رائی کتنی ہے۔ رائی کا لفظ مونث واحد ہے۔ مگر اس کی جمع نہیں کر سکتے۔ بخلاف روٹی کے اس لیے کہ اس کو گن سکتے ہیں، اس لیے کہیں گے روٹی کتنی ہے اور روٹیاں کتنی ہیں۔ کپڑا کتنا ہے۔ برف کتنی ہے۔ زیرہ کتنا ہے۔ میدا کتنا ہے۔ بعض ایسے جن کو گن سکتے ہیں لیکن گنتے نہیں ہیں، اُن کو دونوں طرح بولتے ہیں۔ جیسے چنا کتنا ہے۔ چاول کتنا ہے۔ بیج کتنا ہے۔ اور یوں بھی بولتے ہیں، چنے کتنے ہیں۔ چاول کتنے ہیں۔ بیج کتنے ہیں۔\n\n ===کچھ===\n\n· اسم مقدار و اسم عدد جیسے کچھ درد ہوتا ہے۔ کچھ پیسے دے دو۔ کچھ کہو تو سہی۔\n\n· دوسری بات جیسے تم کچھ کہتے ہو۔ وہ کچھ کہتے ہیں۔ یعنی تم دوسری بات کہتے ہو۔ وہ دوسری بات کہتے ہو۔ وہ کچھ کہتے ہیں۔ یعنی تم دوسری بات کہتے ہو۔ وہ دوسری بات کہتے ہیں۔\n\n· ذرا کے معنی پر جیسے کچھ دیر میں آنا۔\n\n· کوئی چیز کے معنی پر جیسے کچھ کھالیا۔\n\n· الٹ پلٹ کرنے کے معنی پر، کچھ کا کچھ کردیا۔\n\n· تھوڑا کے معنی پر جیسے کچھ کھالو۔ کچھ پی لو۔\n\n· زہر کے معنی پر جیسے کچھ کھا کے سو رہوں۔\n\n· کوئی کے معنی پر جیسے کچھ عیب نکالو تو تقادی کا دعوی کرنا۔\n\n ===کیا===\n\nحرف استفہام اور اسم مقدار ہے۔\n\n· استفہام: ١۔ کیا تم گھر جاوگے\n\n ٢۔ تم کیا سوچتے ہو\n\n· مقدار: رات کو وہ ذرا سی بات پر کیا کیا خفا ہوئے۔ یعنی کتنے خفا ہوئے۔\n\n· کس لیے: غربت میں وطن کی یاد کیا آئے۔\n\n· کیسا: تمہارے آنے سے دل کیا خوش ہوا ہے۔\n\n اور بہت سے پہلو ہیں جیسے کیا مجال، کیا طاقت۔ بعض محل استعمال لوگ خلاف فصاحت کرجاتے ہیں؏\n\n دل نہ دینے پر ہوئے ناشاد کیا\n\nیہاں کیا سے کیوں زیادہ فصیح ہے۔\n\n===کی===\n\nاردو میں مضاف الیہ کی تانیث میں بجائے اضافت یہ حرف آتا ہے۔ جیسے الہی میری جان کی خیر۔ کس قیامت کی گرمی ہے۔\n\nگل ہو گئی ہے شمع ہمارے مزار کی\nاچھی نہیں یہ چھیڑ نسیم بہار کی\n\nدوسرے کرنا کا صیغہ واحد مونث۔ سرکار نے بہت فوج جمع کی۔ تم نے کہیں نوکری نہیں کی۔ میں نے اس سے بات نہیں کی۔ بات کی کی، نہ کی نہ کی۔ اک نہ مانی ہزار منت کی۔\n\nاس کے سوا اور کوئی تیسری طرح اس کا استعمال نہیں ہوتا اور یہ لفظ تمام ہند میں صحیح بولا جاتا ہے۔\n\n===کَل===\n\nاس کے استعمال کی کئی صورتیں ہیں:\n\n· اسم زمان: گزشتہ اور آئندہ کے محل پر۔ جیسے کل آؤں گا۔ تم کل آنا۔\n\n· اسم نکرہ: ریل کی کچھ کَل بگڑ گئی ہے۔ مشین چھاپے کی کل ٹوٹ گئی۔\n\n· قرار کے معنی پر: کسی کروٹ کل نہیں پڑتی۔\n===لیے===\n\nلینا سے صیغہ جمع ہے۔ جیسے میں نے پانچ آم لیے۔ تم نے دو روپے لیے۔ اور کبھی جر کے معنی دیتا ہے، خدا کے لیے ایسا غضب نہ کرنا۔ روٹی کے لیے مار کھائی۔ ایسے موقع کے لیے بولتے ہیں۔\n\nاور کبھی محض لیے بھی بولتے ہیں جیسے اس لیے پہلے سے سمجھا دیا کہ پیچھے کہنے کو نہ ہو۔ ہم اپنے لیے نہیں کہتے۔ جس لیے تم آئے ہو ہم جانتے ہیں۔\n===سہی===\n\n· سہنا سے صیغہ واحد مونث ہے۔تم سے ایک بات بھی سہی نہیں جاتی۔\n\n· حرف تنبیہ: ١۔ذرا یہاں آؤ تو سہی کیا ٹھیک بناتا ہوں۔\n\n ٢۔ اپنی آہوں سے زمانے کو ہلادوں تو سہی۔\n===تو===\n\n· واؤ معروف سے ضمیر صیغہ واحد حاضر۔ جیسے کل تو کیا کرتا تھا جو غیر حاضر رہا۔\n\n· واو مجہول سے حرف تاکید۔ ذرا اس ڈھیٹ لڑکے کو تو دیکھو۔\n\n· حرف جزا: تم آو تو میں جاؤں۔ کبھی زید آتا ہے۔ یہ تو شدنی تھی۔\n\n· بفتح تا: بمعنی تب۔ اس وقت اسم زمان۔\n\nتو سہی کہ تیرا گھر میں آنا موقوف کرادوں۔ اگر یہ بات ہو تو تم اس وقت واپس آنا۔ لہو اپنا پیوں میں تو گنا جاؤں چٹوروں میں۔\n===بلکہ===\n\nترقی کا حرف ہے۔ جب کسی ادنیٰ چیز کو اعلیٰ یا اعلیٰ کو ادنیٰ بناتے ہیں تو بلکہ کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ آدمی نہیں بلکہ فرشتہ ہے۔ میں اکیلا نہیں بلکہ تمام قوم اِس خوشی میں شریک ہے۔ صرف دھمکی نہیں بلکہ مارا۔ اس موقع پر لوگ مگر اور لیکن بھی بول جاتے ہیں۔ یہ غیر فصیح ہے۔\n===مگر===\n\n· کبھی جزا کا حر ف ہوتا ہے جیسے اگرچہ مُدّعی راضی ہے مگر مُدّعا عَلیہ قبول نہیں کرتا۔ گو ہندوستان میں نیک کام کرنے سے روپیہ کافی مل سکتا ہے مگر قومی کام کرنے والوں کی سخت ضرورت ہے۔\n\n· کبھی اسم صفت بن کر عذر کے معنی پر بولا جاتا ہے۔ بس زیادہ اگر مگر نہ کرو یعنی عذر نہ کرو۔\n\n· کبھی حرف استثنا کے معنی دیتا ہے جیسے سب آئیں مگر وہ نہ آئے۔ اسی جگہ پر اِلّا بھی بولتے ہیں، جیسے سب بولے اِلّا میں خاموش رہا۔ لیکن بھی بولتے ہیں ولیکن بھی بولتے ہیں۔ ولیک قدما بولتے تھے مگر اب متروک ہے۔\n\n===پھر===\n\n· صفت عدد ہے۔\n\n· دوبارہ، جیسے پھر تو کہو۔ پھر سے شروع کرو۔\n\n· اور پھرنا سے صیغہ امر ہے ؏\n\nہر پھر کے دائرے ہی میں رکھتا ہوں میں قدم\n\n· کبھی اسم ظرف کے معنی پر بولتے ہیں جیسے یہ سب روپیہ ختم ہو جائے گا تو پھر کیا ہوگا۔ یعنی اس کے بعد کیا ہوگا۔\n===غرض===\n\nکبھی فائدہ کا ف بیانیہ کا دیتا ہے:\n\nفرشتہ کبھی ہے کبھی جانور\nغرض آدمی طرفہ معجون ہے\n\nیعنی کہ آدمی بھی طرفہ معجون ہے۔\n\nکبھی اسم نکرہ بن کر مقصد کے معنی دیتا ہے۔ جیسے اپنی غرض بیان کرو۔ تمہاری غرض اس بیان سے کیا ہے۔\n\nکبھی حاجت کے معنی پر بولا جاتا ہے۔ جیسے غرض بری بلا ہوتی ہے۔ ہماری اُن سے غرض اٹکی ہے۔\n\nکبھی کام کے معنی پر آتی ہے۔ جیسے ہم کو تم سے کیا غرض یعنی کیا کام۔ بعض موقع پر غرضکہ الغرض بھی بولتے ہیں۔\n\n===کہاں===\n\nحرف نفی کے معنی دیتا ہے جیسے ؏\n\nدل بیتاب یہ کہتا ہے مجھے تاب کہاں\n\nمیرے پاس اس قدر دولت کہاں ہے۔\n\nاور کبھی ظرف مکان کے معنی دیتا ہے جیسے تم کہاں جاتے ہو۔ یعنی کس جگہ جاتے ہو۔\n\n===اپنا===\n\nضمیر مضاف ہے، جو ضمیر یا حرف اشارہ لازمی کے ساتھ یا ضمیر فاعلی کے ساتھ آتی ہے۔ ضمیر مضاف مفعولی کے ساتھ بولنا غلط ہے۔ ایسی غلطی اکثر لوگ کر جاتے ہیں۔ اس کی تکرار بھی جائز ہے۔ جیسے:\n\nاپنا اپنا یہ نصیبہ ہے اجارا کیا ہے\nخالِ رُخ اس کو، مجھے داغِ جگر ہاتھ لگے\n\nاپنی اپنی گور اپنی اپنی منزل۔ میں اپنے آپ آیا۔ وہ اپنا خون جگر کھاتا ہے۔ تم نے اپنے بھائی کی قدر نہ کی۔\n\nکبھی ضمیر کے بدلے اسم کے ساتھ بھی بولتے ہیں۔ رستم اپنے بھائی کو دشمن سمجھتا ہے۔\n\n؏ سمجھا تھا تری زلف کو یہ مرغ دل اپنا\n\nاپنا خود ضمیر مضاف مفعولی ہے۔ اس لیے اس کو ضمیر مضاف مفعولی کے ساتھ ملا کر بولنا خطا ہے۔ جیسے میرا اپنا بھائی کھوگیا۔ تیرا اپنا مکان کیا ہوا۔ اس کا اپنا روپیہ برباد ہو گیا۔ اس کو اِس طرح بولنا چاہیے۔ میرا بھائی کھوگیا۔ تیرا مکان کیا ہوا۔ اس کا روپیہ برباد ہوگیا۔\n\n==صلوں کا بیان==\n\nہر ایک اسم چند الفاظ کے ساتھ مستعمل ہوتا ہے۔ اصطلاحِ فصحا میں ان افعال کو “صلہ” کہتے ہیں۔ بعض صلے تو روزمرہ میں داخل ہیں جیسے روٹی کھانا، پانی پینا، کپڑے پہننا اور بعض اصطلاح بن گئے ہیں جیسے تصویر بنانا کو لوگ تصویر کھینچنا بولتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اصطلاحاً کھینچنا کو بنانا کے معنی پر استعمال کیا ہے۔ لغت میں کھینچنا کے معنی بنانا کے نہیں ہیں۔ کھینچنا کے معنی پر رعایتاً لے لیا ہے اور خاص سے عام تک اسی طرح بولنے لگے۔ اس لیےان نئے معنوں کا نام “اصطلاحی معنی” رکھا گیا۔\n\nاصطلاح کے ساتھ جو جملہ آتا ہے اُس کو “مُحاوَرَہ” کہتے ہیں۔ محاورے کے پہچاننے کا عمدہ قاعدہ یہی ہے کہ ہم جملے کے فعل کو دیکھیں۔ اگر فعل اپنے لغوی معنی پر صرف نہیں ہوا ہے اور کسی دوسرے فعل کے معنی پر بولا گیا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ قطعی محاورہ ہے۔ شاذ و نادر محاورے ایسے ہیں جن کے فعل اپنے لغوی معنی میں صرف ہوئے ہیں، لیکن ان میں ایک قصہ طلب بات پوشیدہ رہتی ہے۔ جیسے اس کا مارا پانی نہیں مانگتا۔ اس کے لفظوں کے لغوی معنی تو یہ ہوئے کہ اس کا مارا ہوا آدمی پانی طلب نہیں کرتا۔ مگر اس میں ایک پوشیدہ معنی ہیں جس کے سبب سے سب لوگ اُسے محاورہ کہتے ہیں۔ یعنی قیاس یہ کہتا ہے کہ جب آدمی کی حالتِ نزع ہوتی ہے اور دم نکلنے لگتا ہے تو اُسے اس وقت بہت پیاس معلوم ہوتی ہے اور پانی مانگتا ہے۔ یہاں پر پانی مانگنا دم نکلنے کے وقت پانی مانگنا کے معنوں میں صرف ہوا ہے۔ اِس سے ہم اِس کو مُحاورہ کہتے ہیں۔ اس جملے کے پورے معنی یہ ہوئے کہ جس کو وہ مارتا ہے وہ فوراً مر جاتا ہے۔ اُسے اتنی بھی مہلت نہیں کہ دم نکلنے کے وقت پانی مانگے۔ اس بیان سے معلوم ہوا کہ محاورے کی پہچان یہ ہے کہ اُس کے افعال اپنے لغوی معنی میں نہ ہوں اور اصطلاحی معنی میں صرف ہوئے ہوں، اور اگر لغوی معنی میں صرف ہوئے ہوں تو وضاحت معنوی اور تاویل میں لغوی معنی سے کچھ زیادہ ہوں۔ اس لیے محاورے کے پہچاننے کے لیے افعال کے اصطلاحی معنی کا جاننا ضروری ہے۔ اور یہ افعال جب ایک اسم سے مل کر اپنے نئے معنی مستعمل ہوتے ہیں تو ان کو صلہ کہتے ہیں۔ حقیقت میں صلے محاورے کی بنیاد ہیں۔\n\nقاعدہ: بعض صلے اِسم کے ساتھ مل کر اسم صفت بن جاتے ہیں اور وہ بھی محاورے میں داخل ہیں۔ جیسے آنکھ لگنا مصدر مرکب ہے۔ اس کے معنی اصطلاحی سونا ہیں۔ میری ابھی آنکھ لگ گئی تھی کہ تم نے جگا دیا۔ رات بھر آنکھ سے آنکھ نہ لگنے پائی۔ بیمار کی ذرا آنکھ لگ جائے تو صحت کی نشانی ہے۔ بچہ آنکھ لگتے ہی چونک پڑا۔ اتنا شوروغل تھا کہ آنکھ لگنا مشکل ہوگیا۔ آنکھ لگا مرد آنکھ لگی عورت اسم صفت ہے۔ مرد و عورت موصوف ہیں۔ اس کے معنی آشنا کے ہیں۔ یعنی ناجائز واسطہ جو شادی بیاہ سے نہ ہو۔ بلکہ محض آشنائی سے ہو۔\n\nہاتھ لگنا مصدر لازم ہے۔ اس کے معنی لغوی چھوجانا کے ہیں۔ دیکھو خبردار ہاتھ نہ لگنے پائے، نہیں تو تصویر کا روغن اڑ جائے گا۔ محاورے میں اس کے معنی دستیاب ہونا کے ہیں۔ کوئی اصیل مرغ ہاتھ لگے تو ہم کو دکھانا۔ رونے لگنا بھی محاورہ ہے، اس کے معنی رونا شروع کرنا۔ باپ کے مرنے کا حال سنا تو بیٹا زار زار رونے لگا۔\n\nکانٹا لگنا: کانٹے کا بھنک جانا۔ چلتے چلتے پاؤں میں اس زور سے کانٹا لگا کہ وہ اف کر کے بیٹھ گیا۔\n\nروٹیاں لگنا: بے پروائی کرنا۔ اب ایسی روٹیاں لگیں کام کرنے سے جی چُراتے ہو۔\n\nچوری لگنا: چوری کا الزام اپنے اوپر عائد ہونا۔ ہم پہلے سے جانتے تھے کہ ایک دن چوری ضرور لگے گی۔\n\nچھت سے آنکھیں لگنا: مرنے کے قریب ہونا۔ چار دن کے بخار میں چھت سے آنکھیں لگ گئیں۔\n\nچارپائی سے لگنا: بیمار پڑنا۔ رات دن کی سوختی نے چارپائی سے لگا دیا۔\n\nشروع ہونا کے معنی پر جیسے آج سے منگل لگا ہے۔ کل سے بدھ لگے گا۔\n\nپانی لگنا: پانی کا نقصان کرنا۔ ریخیں کھل گئی ہیں۔ اس سبب سے دانتوں میں پانی لگتا ہے۔ کلکتہ کا پانی لگ گیا تو بیمار ہو کر گھر چلا آیا۔\n\nگرمی لگنا: گرمی معلوم ہونا۔ مجھے گرمی بہت لگتی ہے۔\n\nبُرا لگنا: بُرا معلوم ہونا۔ میں نے جو کہا تو بہت برا لگا۔\n\n دھبّا لگنا: الزام آنا، دامن آبرو پہ دھبّا لگ گیا۔ آپ کا کیا گیا، ہماری عزت میں دھبا لگ گیا۔\n\nمُنہ لگنا: برابری کرنا۔ میرے منہ نہ لگو ورنہ ساری آبرو خاک میں ملا دوں گا۔\n\nبھوک لگنا: اشتہائے طعام معلوم ہونا۔ کہنے لگا مجھے تو اس وقت شدت سے بھوک لگی ہے۔\n\nٹھٹھ لگنا: بھیڑ ہونا۔ میلے میں آدمیوں کا ٹھٹھ لگا ہوا تھا۔\n\nچھٹنا مصدر لازم ہے رِہا ہونے کے معنی پر۔ اور چھوٹنا بھی اسی معنی پر مصدر لازم ہے۔ اصطلاح میں اُس کے معنی اور بھی ہیں جیسے نبضیں چھٹنا، نبض کی حرکت بند ہونا:\n\nنبض میری دیکھ کر نبضیں طبیبوں کی چھٹیں\nبے مرض مرنے لگے کیونکر یہ حکمت کے خلاف\n\nانار چھٹنا : آتشبازی کے انار کا جلنا۔ رات کو انار چھٹا تو وہ ڈر گیا۔\n\nنوکری چھٹنا: برطرف ہونا، معزول ہونا۔ برسوں کی نوکری بات کی بات میں چُھٹ گئی۔\n\nجان چھٹنا: جان بچنا۔ اس مرض سے جان چھٹتے معلوم نہیں ہوتی۔\n\nسستے چھٹنا: معاملے کا بہ آسانی طے ہونا۔ دو چار روپے دے دلاکر جان بچ جائے تو سمجھیں کہ سستے چھٹے۔\n\nطوطے چھٹنا: حواس جاتے رہنا۔ یہ خبر سنتے ہی اُس کے ہاتھوں کے طوطے چھٹ گئے۔\n\nقاعدہ: محاورہ اور کنایہ میں فرق ہوتا ہے۔ محاورے میں مصدر کے اصطلاحی معنی لیے جاتے ہیں اور کنایہ میں نہ اصطلاحی معنی ہوتے نہ لغوی۔ بلکہ ان کا مطلب لفظوں کے خلا ف ہوتا ہے۔ جیسے اُلٹنا کے معنی اُلٹا کرنے کے ہیں۔ آستین الٹنا، اس کے لغوی معنی آستین کو الٹنا یعنی الٹا کرنے کے ہیں۔ لیکن کنایہ میں مراد ہے لڑائی کے لیے مستعد ہونے سے۔ وہ تو بات بات پر آستین الٹنے لگتا ہے یعنی جنگ کے لیے مستعد ہو جاتا ہے:\n\nمنظور عاشقوں کا اگر امتحان ہے\nپھر دیر کیا ہے میان سے لے آستین اُلٹ\n\nاٹھنا: کھڑا ہونا۔ مصدر لازم ہے، میں اٹھا تو وہ بھی اٹھے۔\n\nاچار اٹھنا: اچار کا پک جانا۔ تیار ہوجانا۔ دھوپ دکھانے سے چار دن میں اچار اٹھتا ہے۔\n\nاٹھنا: رونے لگنا۔ جب ماں یاد آتی ہے تو بچہ رو اٹھتا ہے۔\n\nگھبرا اٹھنا: گھبرا جانا۔ جب کام کرتے کرتے دل گھبرا اٹھتا ہے تو دو گھڑی باغ میں ٹہلنے نکل جاتا ہوں۔\n\nقیمت اٹھنا: دام لگنا۔ بازار میں جو قیمت اٹھے وہ میں بھی دوں گا۔\n\nآنکھیں اٹھنا: آنکھوں میں درد ہونا۔ مرزا کی کل سے آنکھیں اٹھی ہیں۔\n\nپھوڑنا مصدر متعدی ہے۔ اس کے معنی توڑنا کے ہیں۔ احمد نے رات کو رستم کا سر لکڑی سے پھوڑ ڈالا۔ لیکن محاورے میں اس کے معنی بدل جاتے ہیں۔ جیسے کلّو نے للّو کا بھانڈا پھوڑ دیا یعنی راز فاش کردیا۔ میں نے لاکھ سر پھوڑا، اس نے ایک نہ مانی۔ یعنی میں نے بہت سمجھایا۔\n\nبٹھانا متعدی ہے ؏\n\nمحفل میں مجھے رات کو یاروں نے بٹھایا\n\nقرق بٹھانا: رعب بٹھانا، حکومت کرنا کے معنی پر بولتے ہیں۔ وہ حق ناحق اپنا قرق بٹھاتے ہیں۔\n\nگٹا بٹھانا: گٹا جوڑنا۔ کمان گَرنے دم بھر میں گٹا بٹھا دیا۔\n\nگھر بٹھانا: کسی کو گھر میں ڈال لینا۔ راجہ نے ایک بازاری عورت کو گھر بٹھایا۔\n\nکرنا متعدی ہے۔ اس کے ساتھ تمام فارسی عربی الفاظ یا افعال مل کر مصدر متعدی بن جاتے ہیں۔ جیسے قبول کرنا، معلوم کرنا، گفتگو کرنا۔ لیکن بعض موقع پر کرنا کے معنی بدل جاتے ہیں۔ جیسے کان میں قُو کرنا۔\n\nلڑکے نے چار دن میں اپنے کپڑے گو کر دیے، یعنی میلے کردیے۔ میں نے کہا ذرا پھونک ڈال دیجیے، آپ نے دور سے چھو کردیا یعنی پھونک ڈال دیا۔ رات کو چاروں قل پڑھ کر اپنے اوپر دم کیے یعنی پھونکے۔\n\nتم نے میرے بچے کو ناحق شل کیا یعنی تھکایا۔\n\nکلیل کرنا: جانور کا خوش ہو کر کودنا۔ بچھڑا کھیت میں کلیل کررہا تھا۔\n\nجب یہ معلوم ہوچکا کہ اکثر صلوں سے محاورے بنتے ہیں اور صلہ ہمیشہ لغوی معنی کو چھوڑ کر اصطلاحی معنی میں صرف ہوتا ہے، ہم اب بعض مخصوص صلوں کے جملے لکھتے ہیں:\n\nڈھڈھانا: ہوا ہونا۔ ہر درخت ڈھڈھارہا تھا۔\n\nمنھ سے پھوٹنا: بولنا۔ کچھ تم بھی منھ سے پھوٹو۔\n\nناک چنے چبوانا: پریشان کرنا۔ برسوں اس نے ناک چنے چبوائے۔ میں نے منھ سے اف نہیں کی۔\n\nپاؤں کی بیڑی کٹ جانا: بے فکر ہوجانا، آزاد ہوجانا۔ ایک بڈھا باپ باقی تھا۔ جب اس کا بھی انتقال ہو گیا تو پاؤں کی بیڑی کٹ گئی۔\n\nانگلیوں پر نچانا: ہنسنا بنانا۔ کل کے لونڈے اسے انگلیوں پر نچاتے ہیں۔\n\nنہٹا لگنا: ناخن چبھنا۔ ہنسی ہنسی میں ناک پر نہٹا لگ گیا۔\n\nاجیرن ہونا: دوبھر ہونا۔ دو دن کی زندگی اجیرن ہوگئی۔\n\nایڑیاں رگڑنا: مصیبت جھیلنا۔ نوکری کے واسطے اس نے برسوں ایڑیاں رگڑیں۔\n\nکوڑی پھرنا: صلاح ہونا۔ شہر کے سوداگروں میں کوڑی پھر گئی کہ ان سے معاملہ نہ کرو۔ میں نے جھٹ بمبئی کو آڈر بھیج دیا۔\n\nدیکھ بھال کرنا: جانچ لینا۔ اپنے اسباب کی دیکھ بھال کر لو۔\n\nسر اٹھانا: غرور کرنا۔ جس نے سر اٹھایا، اُس نے نیچا دیکھا۔\n\nدانوں میں پُھکنا: پھنسیوں کا بدن پر نکل آنا۔ بچہ سر سے پیر تک دانوں میں پھکا ہے۔\n\nسر میں دھمک ہونا: سر میں درد ہونا۔ رات سے میرے سر میں دھمک ہوتی ہے۔\n\nکوپل پھوٹنا: کوپل کا نکلنا۔ کوپل پھوٹنے کے پیشتر ہی سے پودے آپس میں ملتے رہے ہیں۔\n\nبہرہ مند ہونا: فائدہ اٹھانا۔ اگر ہم سامعۂ باطنی سے بہرہ مند ہیں تو ہمیں وہ تمام مظہر دکھا دیے جائیں گے۔\n\nنشر ہونا: بدنام ہونا ۔ ایسی باتوں سے سارے عالم میں نشر ہو جاؤ گے۔ پھر کوئی بات نہ پوچھے گا۔\n\nٹالے بالے دینا: برسوں ٹالے بالے دیا کیے۔\n\nاظہار دینا: اپنا حال عدالت میں یا پولس میں ظاہر کرنا۔ جو اظہار پولیس میں دیے تھے وہی عدالت میں بھی دیے۔\n\nحواس باختہ ہونا: حواس جاتے رہنا۔ یہ سن کر میرے حواس باختہ ہوگئے۔\n\nآبرو بیچنا: آبرو ضائع کرنا۔ آبرو بیچ کے ٹکڑا فقرا لیتے ہیں۔\n\nمنھ آنا: برا کہنا ؏\n\nاب تو ہر بات میں منھ آتے ہو مجھ پر ایسا\nلوگ دانتوں میں زباں اپنی دبا لیتے ہیں\n\nپیش قدمی کرنا: شروع کرنا، آگے جانا ؏\n\nپیش قدمی رفقا کر گئے تو کیا غم ہے\n\nاندھیر کرنا: زبردستی کرنا، ظلم کرنا، لوٹنا۔ اتنا اندھیر نہ کرو، دال میں نمک کھایا کرو:\n\nمشک کافور خجالت سے ہوا جاتا ہے\nاتنا اندھیر نہ گیسوئے سیہ فام کریں\n\nہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں: بیکار ہیں، آج کل ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔\n\nوردی بولنا: دلیل کرنا۔ خلاف وقت نوکری لینا:\n\nکیا رموزِ عشق کہتا میں فرشتے ساتھ تھے\nبحر وردی کل یہ ہرکارے مقرر بولتے\n\nپاؤں سوجنا: پاؤں کا سُن ہوجانا۔ سوج جائیں اگر پاؤں تو راحت نہیں ہوتی۔\n\nپالا پڑنا: سابقہ پڑنا، معاملہ ہونا۔ ابھی ان کو مجھ سے پالا نہیں پڑا، ورنہ سب تین پانچ بھول جاتے۔\n\nپھٹ پڑنا: ٹوٹ جانا۔ کل ایسی آندھی آئی تھی کہ صدہا درخت پھٹ پڑے۔\n\nموس لینا: چُرا لینا، لوٹ لینا۔ دوستوں نے مل کر مجھے موس لیا۔\n\nاداسی ٹپکنا: مایوسی ظاہر ہونا۔ درودیوار سے اداسی ٹپک رہی تھی۔\n\nپرندہ پر نہیں مار سکتا: یعنی کوئی نہیں آسکتا۔ رات دن پہرہ رہتا ہے، پرندہ پر نہیں مار سکتا۔\n\nدور دورا ہونا: عروج ہونا۔ آج کل سرکار میں خاں صاحب کا بہت دور دورا ہے۔\n\nپھوٹ پھوٹ کے رونا: زار زار رونا۔ اتنا کہنے پر وہ خوب پھوٹ پھوٹ کے رویا۔\n\nآنکھ سے گرجانا: حقیر ہوجانا۔ ایسی باتیں کروگے تو دنیا کی آنکھ سے گر جاؤگے۔\n\nاپنی ٹکر کا سمجھنا: اپنے برابر کا سمجھنا۔ کیا مجھے اپنی ٹکر کا سمجھ لیا ہے۔\n\nکبھی تو میری انٹی پر چڑھوگے یعنی قابو میں آؤگے۔\n\nمیں تو ان کا دوست ہوں لیکن وہ ہمیشہ میری جڑ کاٹا کیے۔ یعنی مجھ کو نقصان پہونچایا کیے۔\n\nدونوں کبوتر دم بھر میں تارا ہو گئے یعنی بلند ہوگئے۔\n\nآدھی رات کو چراغ گل ہو گیا یعنی بجھ گیا۔\n\nطلبا کو مَطب میں تین برس تک حکیم صاحب کی چلمیں بھرنا پڑتی ہیں یعنی خدمت کرنا پڑتی ہے۔\n\nمیرے کہنے سے کیوں مرچیں لگتی ہیں یعنی کیوں بُرا معلوم ہوتا ہے۔\n\nنواب صاحب کی آنکھ بند ہونے کے بعد گھرتباہ ہو جائے گا یعنی مرنے کے بعد۔\n\nناک چوٹی میں گرفتار ہونا: وہ خود اپنی ناک چوٹی میں گرفتار ہے یعنی اپنے بچوں سے فراغت نہیں۔\n\nان لگنا: پچنا، ہضم ہونا۔ کیسی ہی نعمت کھاؤ، اَن نہیں لگتی۔\n\nکٹ جانا: گزر جانا۔ سارا دن کٹ گیا اور تم نہ آئے۔\n\nدَرّانہ جانا: نڈر جانا:\n\nلحد میں مہمانِ دہر یوں جاتے ہیں درّانہ\nمکان میں اپنے جیسے کوئی صاحب خانہ آتا ہے\n\nقدم لینا: قدم چومنا۔ تم نے وہ کام کیا ہے کہ تمہارے قدم لے۔\n\nکام چلنا: کام نکلنا۔ ان سے کسی کا کام نہیں چلتا۔\n\nآڑے آنا: کام آنا۔ میرے آڑے تیری رحمت آئی۔\n\nچوٹ آنا: چوٹ لگنا۔ کوٹھے سے گر پڑا، ٹانگ میں بہت چوٹ آئی۔\n\nجھرمٹ کرنا: بھیڑ لگانا۔ جُھرمُٹ درِمیخانہ پہ میخوار کریں گے۔\n\nسری ٹیک کرنا: خوشامد کرنا۔ ان کو غرض ہو گی تو سودفعہ سری ٹیک کریں گے۔\n\nانگشت نما ہونا: بدنام ہونا۔ ایسے کام کیے کہ ساری دنیا میں انگشت نما ہوا۔\n\nلاسخن سنانا: سخت بات کہنا:\n\nالٰہی یہ کیسا بت بے دہن ہے\nسناتا ہر اک بات پر لاسخن ہے\n\nآواز بیٹھ جانا: آواز بند ہو جانا۔ چیختے چیختے آواز بیٹھ گئی اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔\n\nکج ادائی کرنا: بے مروتی کرنا۔ اب تو بات بات پر وہ کج ادائی کرتے ہیں۔\n\nخود بین ہونا: مغرور ہونا۔ وہ بڑا خود بین ہے۔\n\nاصلاح زبان\n\nاب ہم الفاظ کے غلط استعمال کا بیان کر کے ان کی اصلاح کرتے ہیں، جو آج کل ہندوستان کے مشرقی اور مغربی ملکوں میں بسبب ناواقفیت استعمال کیے جاتے ہیں اور لوگوں کو الفاظ کی صحت نہیں ہے۔ اس سبب سے وہ غلط بولنے پر مجبور ہیں۔\nمغرب ہند کے الفاظ اور جملے\n\nپوتے کی شادی سے دادے کی عمردراز۔ دادے غلط استعمال ہے، فصحا دادا بولتے ہیں۔\n\nذرا انصاف سے کہیو خدا لگتی۔ کہیو غلط ہے۔ اس طرح بولنا چاہیے۔ ذرا انصاف سے خدا لگتی کہنا۔\n\nآپ ایک سے زیادہ انعامات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس جملے کی ترکیب اور محاورہ غلط ہے۔ اس طرح بولنا چاہیے، آپ کئی انعام بھی حاصل کر سکتے ہیں۔\n\nان انعامات کے دینے سے کیا مراد ہے۔ دینے سے زائد اور بے کار ہے۔ اِس کو “حشوِ قبیح” کہتے ہیں۔ اس طرح بولنا چاہیے، ان انعامات سے کیا مراد ہے۔\n\nبواسیر کس طرح پیدا ہوتا ہے۔ بواسیر مونث ہے۔ بواسیر کس طرح پیدا ہوتی ہے، بولنا چاہیے۔\n\nدانت خلال غلط ہے۔ خلال دندان یا دانتوں کا خلال بولنا چاہیے۔\n\nکارخانہ عطریات و روغنیات، یہ بھی غلط ہے۔ اردو کا قاعدہ ہے کہ مفرد لفظ بجائے جمع مستعمل ہوتا ہے۔ جیسے آدمی تھے، چور تھے، نوکر تھے۔ ان کے بے قاعدہ جمع بنانے کی ضرورت نہیں۔ ویسے ہی عطر روغن مفرد بجائے جمع بول سکتے ہیں۔ ان کو بے قاعدہ جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کافی ہے کہ کارخانہ عطر و روغن۔\n\nپشیمانی ہوئی ایسی انہیں فرط ندامت سے\nکہے کلمات سخت و سست آزردہ طبیعت ہے\n\nدوسرے مصرع میں آزردہ طبیعت غلط ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ صفت جب اپنے موصوف کے ساتھ آتی ہے اور موصوف صفت مل کر فاعل کی صفت بنجاتے ہیں، اس وقت “سے” کا استعمال مخصوص مفعول کے لیے فاعل کے ساتھ ناجائز ہے۔ کیونکہ یہاں صفت خود جزوِ فاعل ہے۔ جیسے میں نے آزردہ دل سے کہا۔ ا س کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ میں نے اپنے دل سے کہا جو آزردہ تھا۔ لیکن یہ مطلب نہیں ہو سکتا ہے کہ میرا دل جو آزردہ تھا اس نے کہا۔ اس کو اس طرح بولنا چاہیے، میں نے آزردہ دل ہو کر کہا۔ کلمات سخت میں نے آزردہ ہو کر کہے۔ یہی ثقاتِ لکھنؤ کا فیصلہ ہے۔\n\nبرطانیہ کلاں اور ممالک غیر کے پولٹیکل حلقوں میں یہ یقین پھیلایا گیا ہے کہ ہندو مسلمان ہمیشہ سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ یقین پھیلایا گیا ہے غلط محاورہ ہے۔ یقین دلایا گیا ہے بولنا چاہیے۔\n\nاس آدمی نے پوچھا تم کیا لوگے۔ پنڈت صاحب نے جواب دیا، جو آپ دوگے۔ آپ دوگے خلافِ محاورہ ہے۔ جو آپ دیں گے یا جو تم دوگے بولنا چاہیے۔\n\nکوڑی کی چیز ریٹھ سے بہت مرضوں کا علاج، ریٹھ غلط ہے، ریٹھا۔\n\nمسجد متصل مطبع رفاہ عام کا بھی امام پکڑا گیا۔ بھی حرف تاکید ہے، اسم سے پہلے اِس کا بولنا ناجائز ہے۔ اس طرح کہنا چاہیے، امام بھی پکڑا گیا۔\n\nاگر گورنمنٹ نے قانون وضع کردینے پر ہی اکتفا کر رکھا ہوتا، خلاف محاورہ ہے۔ قانون وضع کردینے پر ہی اکتفا کیا ہوتا۔\n\nمسلم لیگ کے بعض تقاروں نے نہایت جوش و خروش سے یہ بیان کیا، تقار غلط ہے۔ مقرروں نے چاہیے۔\n\nاسی شخص سے سال دو سال بعد آپ کی دشمنی ہو جائے گی۔ آپ کی دشمنی غلط ہے۔ آپ سے دشمنی ہو جائے گی۔\n\nمگر پھر آپس میں جوت پیزار پر اتر آتے ہیں۔ جوت پیزار غلط ہے۔ جوتی پیزار۔\n\nمیرے دو اپنے خاص مہربان دوست ہیں۔ غلط، میرے خاص مہربان دو دوست ہیں۔\n\nبیٹھے بٹھائے ان کو روزگار کا خبط ہوآیا۔ غلط ہے۔ روزگار کا خبط ہوگیا۔\n\nآپ ایک سولہ صفحہ کی کاپی بنالو۔ غلط ہے۔ آپ ایک سولہ صفحہ کی کاپی بنالیں۔\n\nچند ایسے اصحاب جنہوں نے اسٹیشن پر اترنا تھا۔ غلط ہے۔ چند اصحاب جن کو اسٹیشن پر اترنا تھا۔\n\nاور نیک و بد روح بھی شفایاب ہو کر پرواز کرگئیں۔ روح مونث واحد ہے۔ مونث لفظ کو واحد بولنا اور جمع مراد لینا ناجائز ہے، اس لیے روحیں بولنا چاہیے۔\n\nمجھ پر ہر طرف سے حیرانگی کا عالم طاری ہے۔ حیرانگی غلط ہے، حیرانی بولنا چاہیے۔\n\nخواب میں یا بیداری میں مَیں تو ہکی بکی رہ گئی ہوں۔ ہکی بکی غلط ہے،ہکا بکا چاہیے۔\n\nتمام بڑے شہروں میں چلت حساب بلا کسی اجرت کے رکھا جاتا ہے۔ چلت حساب غلط ہے، چلتا حساب صحیح ہے۔\n\nتقریباً ١٥٠ اخباریں مختلف قسم کی پڑھنے کے لیے رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اخبار لفظ مذکر ہے۔ جمع کی حالت میں بھی واحد استعمال ہوتا ہے۔ اس کو ین سے جمع کر کے مونث بنانا غلط ہے۔\n\nمشرق ہند کے غلط الفاظ اور جملے\n\nپتھر پر تھوک پھیکے اور ان کا دل دکھے، تھوک پھینکنا خلاف روزمرہ ہے۔ تھوکنا فصیح ہے۔\n\nاس ملک سے خاص اردو زبان میں کوئی ایسی تصنیف نہیں نکلی کہ مصنفوں کی اس پر آنکھیں اٹھ جاتیں۔ آنکھیں اٹھ جانا خلاف محاورہ ہے۔ نظریں پڑتیں بولنا چاہیے۔\n\nاس کی اطاعت اور فرماں برداری سے جہاز کے اہل خدمت کو سرتابی نہیں پہنچی۔ سرتابی پہنچنا خلاف محاورہ ہے۔ اس طرح بولنا چاہیے، اس کی اطاعت اور فرماں برداری سے جہاز کے اہل خدمت سرتابی نہیں کرتے۔\n\nکل سے میرا لڑکا بدمزہ ہے۔ اور اس سے مطلب یہ ہے کہ کل سے میرا لڑکا بیمار ہے۔ اول تو بدمزہ اسم صفت ہے۔ اس کا موصوف لڑکا نہیں ہو سکتا۔ دوسرے یہ کہ یہ محاورہ اس طرح نہیں ہے، یوں بولنا چاہیے۔ کل سے میرے لڑکے کی طبیعت بدمزہ ہے۔ طبیعت بدمزہ ہونا محاورہ ہے یعنی ناساز ہے۔\n\nبشرطیکہ وہ دھیان دے کرمیری بات سنیں۔ دھیان دیکر محاورہ نہیں ہے۔ دھیان رکھ کر بولتے ہیں۔\n\nاور قانون قدرت میں کوئی دفعہ ایسا نہیں ہے۔ دفعہ مونث ہے۔ کوئی دفعہ ایسی نہیں ہے۔\n\nجب شیر شاہ نے صوبہ بہار کو قبضہ کرلیا۔ اس میں کو غلط ہے۔ صوبہ بہار پر قبضہ کرنا بولنا چاہیے۔\n\nنیم کے درخت کی نمولیاں گرادیتے تھے۔ غیر فصیح جملہ ہے۔ نیم کے درخت کی نیمکولیاں گرادیتے تھے۔\n\nآخر میں سند کے لیے لکھنؤ جا کر تقی میر کو اپنا کلام دکھایا۔ مشرقی ہند کا خاصہ یہ ہے کہ وہ ناموں کو تعقید سے استعمال کرتا ہے۔ یہ میر تقی کی خرابی ہے، تقی میر لکھا گیا۔\n\nامتداد زمانہ نے ان کے سوانحات عمری کا آئینہ بنا کر۔ سوانحات جمع الجمع ہے۔ ایسے الفاظ اردو میں اب متروک ہو گئے ہیں۔ سوانح عمری بولنا چاہیے۔\n\nا ن کے کمال میں ہرج ڈالنے کا قصد کیا۔ ہرج ڈالنا محاورہ نہیں ہے۔ ایسے موقع پر خلل ڈالنا بولنا چاہیے۔ ہرج ہمیشہ کرنا کے ساتھ بولا جاتا ہے اور قیاس بھی اس کو مقتضی ہے کہ علامت مفعول ہے۔ علامت مضاف نہیں ہے اور جملہ مضاف الیہ و مضاف واقع ہوا ہے۔ اس لیے اسی کا مقتضی بولنا چاہیے۔\n\nجب تک عام خلقت کو اس طرف خیال نہ ہو، یہ بھی غلط ہے۔ جب تک عام خلقت کا اس طرف خیال نہ ہو۔ یا عام خلقت کو اس طرف رغبت نہ ہو بولنا چاہیے۔\n\nذرہ بھر کمی بیشی کا اس میں دخل ممکن نہ تھا۔ یا ذرہ بھر کمی بیشی کو اس میں دخل ممکن نہ تھا۔\n\n نوکروں کو بھی یوں ہی بتا بتا کر عادت دو۔ عادت دینا خلاف محاورہ ہے۔ عادت ڈالو بولنا چاہیے۔\n\nکچھ دنوں تقلید سے کام لو اور اسی قدم چلو جس قدم فصیح لوگ چلتے، بالکل غیر فصیح ہے۔ وہی قدم چلو جو فصیح لوگ چلتے ہیں بولنا چاہیے۔\n\nجن کی پوری توجہ فوائد عام کی طرف معلوم ہوتی ہو۔ توجہ معلوم ہونا خلاف محاورہ ہے۔ جن کی پوری توجہ فائدہ عام کی طرف ہو\n\nطرز یاران طریقت نہ فراموش رہا۔ اس میں رہا غیر فصیح ہے، ہوا لکھنا چاہیے۔\n\nجب قریش باخود ہا میں ملاقات کرتے ہیں تو خوش اور مسرور ہوتے ہیں۔ باخودہا میں غلط ہے، صرف باخودہا چاہیے۔\n\nتم کب آئے۔ رات آئے۔ ایسے جملے کا استعمال بہت ہے۔ خصوصاً مشرقِ ہند میں، عموماً ہند میں۔ مگر فصحائے حال اس سے احتیاط کرتے ہیں۔ سبب یہ ہے کہ رات ظرف مکان ہے اور مفعول فیہ ہے۔ اُس کی علامت (کو) حذف کر دی جاتی ہے۔ لیکن اس میں نقص یہ واقع ہوتا ہے کہ یہ جملہ ایک فعل مضارع کا شبہ پیدا کرتا ہے۔ جیسے رات آئے تو ہم سفر کریں۔ رات آئے تو داستان شروع ہو۔\n\nاور حقیقت میں متکلم کی غرض فعل ماضی ہے۔ اس لیے رات آئے بولنا اور اس سے فعل ماضی مراد لینا خلاف قاعدہ ہے۔\n\nبہتر یہ ہے کہ ایسے موقع پر علامت بولیں تاکہ سامع کو سمجھنے میں دقت نہ ہو۔ یعنی رات کو آئے کہیں اور مضارع کے محل پر رات آئے بولیں جس میں دونوں کا فرق قائم رہے۔\n\nاسی طرح دن آئے، شام آئے۔ ماضی کے معنی پر بغیر (کو) کے فصحا نہیں بولتے۔ دیر آئے بھی نہیں بولتے۔ دیر میں آئے یا دیر کو آئے بولتے ہیں۔ شہر آئے بھی نہیں بولتے۔ شہر میں آئے بولتے ہیں۔ سرائے آئے بھی نہیں۔ دوپہر آئے بھی نہیں بولتے۔ دوپہر کو آئے۔\n\nاسم عدد کے ساتھ بھی بعض جگہ بغیر علامت بولنا ناجائز ہے۔ جیسے دوگھنٹے آئے، چار گھنٹے آئے۔ اِسے بھی دو گھنٹے میں، چار گھنٹے میں آئے۔ اور سحر آئے، صبح آئے بھی ناجائز ہے۔\n\nلیکن بعض مفعول فیہ میں (کو) اور (میں) لانا غیر فصیح ہے۔ جیسے آج آئے، کل آئے، پرسوں آئے، دو بجے آئے، چار بجے آئے، اِس وقت آئے، اُس وقت آئے۔\n\nاسی طرح عرصے میں آئے، مدت میں آئے، دنیا میں آئے۔ ان میں آئے لانا فصیح ہے۔\n\nبعض ایسے ہیں جن کو دونوں طرح بولتے ہیں، جیسے گھر آئے اور گھر میں آئے۔ مکان آئے اور مکان میں آئے۔\n\nفصحا جس جس مقام پر علامت کو حذف کردیتے ہیں وہی صحیح ہے اگرچہ قاعدہ کے خلاف ہے۔ کیونکہ محاورے میں قاعدے کی پابندی لازم نہیں ہے۔ اس میں اطاعتِ جمہور کرنا پڑتی ہے۔\n\nتمام شد", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88"} {"title": "جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گی", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گی\nیہ چھیڑ جو چلتی ہے سو چلتی ہی رہے گی\n\nظالم کی تو عادت ہے ستاتا ہی رہے گا\nاپنی بھی طبیعت ہے بہلتی ہی رہے گی\n\nدل رشک عدو سے ہے سپند سر آتش\nیہ شمع تری بزم میں جلتی ہی رہے گی\n\nغمزہ ترا دھوکا یوں ہی دیتا ہی رہے گا\nتلوار ترے کوچے میں چلتی ہی رہے گی\n\nاک آن میں وہ کچھ ہیں تو اک آن میں کچھ ہیں\nکروٹ مری تقدیر بدلتی ہی رہے گی\n\nانداز میں شوخی میں شرارت میں حیا میں\nواں ایک نہ اک بات نکلتی ہی رہے گی\n\nوحشتؔ کو رہا انس جو یوں فن سخن سے\nیہ شاخ ہنر پھولتی پھلتی ہی رہے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "جان اپنی چلی جائے ہے جائے سے کسو کی", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان اپنی چلی جائے ہے جائے سے کسو کی\nاور جان میں جان آئے ہے آئے سے کسو کی\n\nوہ آگ لگی پان چبائے سے کسو کی\nاب تک نہیں بجھتی ہے بجھائے سے کسو کی\n\nبجھنے دے ذرا آتش دل اور نہ بھڑکا\nمہندی نہ لگا یار لگائے سے کسو کی\n\nکیا سوئیے پھر غل ہے در یار پہ شاید\nچونکا ہے وہ زنجیر ہلائے سے کسو کی\n\nکہہ دو نہ اٹھائے وہ مجھے پاس سے اپنی\nجی بیٹھا ہی جاتا ہے اٹھائے سے کسو کی\n\nجب میں نے کہا آئیے من جائیے بولے\nہم اور بھی روٹھیں گے منائے سے کسو کی\n\nچپی میں جو کچھ بات کی میں نے تو یہ بولے\nہم تو نہیں دبنے کے دبائے سے کسو کی\n\nیارو نہ چراغ اور نہ میں شمع ہوں لیکن\nہر شام کو جلتا ہوں جلائے سے کسو کی\n\nپاتا نہیں گھر اس کا سمجھتا ہی نہیں ہے\nاس بیت کے معنی بھی بتائے سے کسو کی\n\nجب اس سے کہا میری سفارش میں کسو نے\nحاصل بھی رلائے سے کڑھائے سے کسو کی\n\nاک طعن سے یہ ہنس کے لگا کہنے کہ بے شک\nہم رولتے موتی ہیں رلائے سے کسو کی\n\nکہتا ہے کہ احساںؔ نہ کہے گا تو سنے گا\nمطلع یہ کہا میں نے کہائے سے کسو کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DA%86%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B3%D9%88_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "جان ایام دلبری ہے یاد", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان ایام دلبری ہے یاد\nسیر گل زار و مے خوری ہے یاد\n\nدیکھتا نہیں سورج کوں نظراں بھر\nجس کوں تجھ جامۂ زری ہے یاد\n\nخوب پھولی تھی باغ میں نرگس\nگل صد برگ و جعفری ہے یاد\n\nوہ چراغاں و چاندنی کی رات\nسیر ہت پھول و پھلجھڑی ہے یاد\n\nوہ تماشا و کھیل ہولی کا\nسب کے تن رخت کیسری ہے یاد\n\nہو دوانا جنگل میں کیوں نہ پھرے\nجس کو وہ سایۂ پری ہے یاد\n\nاے سیہ مست میری انکھیوں کی\nلال بادل کی تجھ جھری ہے یاد\n\nجب تمن پاس فائزؔ آیا تھا\nبات کہنا بی سرسری ہے یاد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%85_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست\nہے یہی اک بات ہر مذہب کا تَت\n\nچَٹّے بَٹّے ایک ہی تھیلی کے ہیں\nساہُو کاری، بِسوہ داری، سلطنت", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D8%AA"} {"title": "جان جاتا ہے اب تو آ جانی", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان جاتا ہے اب تو آ جانی\nہجر کی آگ پر چھڑک پانی\n\nدامن و آستیں کوں رو رو کر\nخون دل سیں کیا ہوں افشانی\n\nزلف تیری سیں داد پاؤں گا\nہات آئی ہے اب پریشانی\n\nلالہ رو پھر بہار آئی ہے\nکیوں نہ ہوئے پھول کی فراوانی\n\nگنج مخفی سیں آشنا ہے سراجؔ\nجب سیں ہوئی ہے نگاہ رحمانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "جان جاتی ہے مری ان کو خبر کچھ بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:منشی شیو پرشاد وہبی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وہبی (1870)", "year": "1870", "text_ur": "جان جاتی ہے مری ان کو خبر کچھ بھی نہیں\nتجھ میں او نالۂ جاں سوز اثر کچھ بھی نہیں\n\nتیغ ابرو وہ دکھا کر یہی فرماتے ہیں\nاس کے آگے جو نہ ہو سینہ سپر کچھ بھی نہیں\n\nحالت نزع میں تم آئے ہو کیوں کر دیکھوں\nنور آنکھوں میں اب اے نور نظر کچھ بھی نہیں\n\nگو خطائیں نہیں ہیں کچھ مری پر سب کچھ ہیں\nظلم و جور آپ کے سب کچھ ہیں مگر کچھ بھی نہیں\n\nتپ فرقت نے یہاں اپنا کیا کام تمام\nبے خبر آج تلک تجھ کو خبر کچھ بھی نہیں\n\nرات دن اس رخ و گیسو کا تصور ہے مجھے\nمشغلہ اس کے سوا شام و سحر کچھ بھی نہیں\n\nعارضی حسن پہ نازاں ہیں عبث یہ مہوش\nرات بھر نور کا عالم ہے سحر کچھ بھی نہیں\n\nمنزل گور میں کیا دیکھیے ہم پر گزرے\nغم عصیاں کے سوا زاد سفر کچھ بھی نہیں\n\nکیوں یم اشک میں تو نے نہ ڈبویا مجھ کو\nآبرو اب تری او دیدۂ تر کچھ بھی نہیں\n\nہے بجا ہیچ جو سمجھے ہیں اسے سب شاعر\nغور سے دیکھتے ہیں تو وہ کمر کچھ بھی نہیں\n\nعالم خواب میں کس طرح جہاں کو سمجھوں\nکیوں یہ سب کچھ نظر آتا ہے اگر کچھ بھی نہیں\n\nعاشقی کر کے نہ پھل پاؤ گے ہرگز وہبیؔ\nنخل الفت میں بجز داغ ثمر کچھ بھی نہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جان دی ان پہ مر مٹے سسکے", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "جان دی ان پہ مر مٹے سسکے\nہیں حسیں لوگ آشنا کس کے\n\nان کو سکھلائی ہم نے آرائش\nروح پھونکی ہے شخص بے حس کے\n\nنالے پہنچے غریب کے تا عرش\nبچ گئے ڈنکے مرد مفلس کے\n\nرکھ کے خنجر گلے پہ کہتا ہے\nمار ڈالا اگر ذرا کھسکے\n\nبزم میں جا ملی رفیقوں کو\nکانٹے بوئے ہیں باغ میں بس کے\n\nکیا بتائیں کہ کس کے عاشق ہیں\nوہ نظر آئے تو کہیں اس کے\n\nنالہ کر کر کے دل ہوا خاموش\nرہ گیا ہے پہ پھوڑا رس رس کے\n\nکوئی کعبے گیا حرم کو کوئی\nبندے درگاہ اپنے گھر گھس کے\n\nگیسوئے یار اگر ہے دام بلا\nخال مشکیں بھی کانٹیں ہیں بس کے\n\nچھوڑا پیری میں روح نے تن زار\nجامہ اترا بدن سے گھس پس کے\n\nدیدۂ سرمہ سا کی الفت میں\nمنتہیؔ خاک ہو گئے پس کے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%D9%BE%DB%81_%D9%85%D8%B1_%D9%85%D9%B9%DB%92_%D8%B3%D8%B3%DA%A9%DB%92"} {"title": "جان دیتے ہی بنی عشق کے دیوانے سے", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان دیتے ہی بنی عشق کے دیوانے سے\nشمع کا حال نہ دیکھا گیا پروانے سے\n\nآتش عشق سے جل جل گئے پروانے سے\nپہلے یہ آگ لگی کعبہ و بت خانے سے\n\nساقیا گریۂ غم سے مجھے مجبور سمجھ\nخون رستا ہے یہ ٹوٹے ہوئے پیمانے سے\n\nرات کی رات چمن میں ہے نمود شبنم\nصبح ہوتے ہی بکھر جائیں گے سب دانے سے\n\nدم آخر تری آنکھوں کی بلائیں لے لوں\nاور دم بھر جو نہ چھلکے مرے پیمانے سے\n\nہائے کیا چیز تھیں وہ مست نگاہیں شاعرؔ\nجھومتا جھامتا نکلا ہوں پری خانے سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%A8%D9%86%DB%8C_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92"} {"title": "جان دے دیں گے کرشموں پہ قضا سے پہلے", "poet_page": "مصنف:عزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی", "kind": "poetry", "section": "غزل > چشمۂ کوثر (1934)", "year": "1934", "text_ur": "جان دے دیں گے کرشموں پہ قضا سے پہلے\nمر ہی جائیں گے ترے ناز و ادا سے پہلے\n\nرستے ہیں زخم جگر قبل نمک افشانی\nمینہ برستا ہے مرے گھر میں گھٹا سے پہلے\n\nبوسہ خود دیتے ہیں اور خود ہی بگڑ جاتے ہیں\nلطف فرماتے ہیں عاشق پہ جفا سے پہلے\n\nخود بہ خود آتے ہیں وہ پاس یہ تاثیروں کا\nجا لگا تیر نشانہ پہ دعا سے پہلے\n\nقصد بوسہ ہی پہ دل پھانستے ہیں گیسو میں\nپھانسی دیتے ہیں وہ مجرم کو خطا سے پہلے\n\nوہ صنم اور کے حصہ میں نہ آتا اے عزیزؔ\nمانگ لیتا جو اسے رو کے خدا سے پہلے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D8%B4%D9%85%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92"} {"title": "جان میں جان تبھی قیس کے بس آتی ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان میں جان تبھی قیس کے بس آتی ہے\nناقۂ لیلیٰ کی جب بنگ جرس آتی ہے\n\nساتھ دیکھوں ہوں کسی کے جو کسی دلبر کو\nمیں بھی جی رکھتا ہوں مجھ کو بھی ہوس آتی ہے\n\nقیس و فرہاد کے رونے کی جب آ جاتی ہے لہر\nکوہ و صحرا پہ گھٹا جا کے برس آتی ہے\n\nزندگی ہے تو خزاں کے بھی گزر جائیں گے دن\nفصل گل جیتوں کو پھر اگلے برس آتی ہے\n\nجب قفس میں تھے تو تھی یاد چمن ہم کو حسنؔ\nاب چمن میں ہیں تو پھر یاد قفس آتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%82%DB%8C%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B3_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جان نشاط حسن کی دنیا کہیں جسے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان نشاط حسن کی دنیا کہیں جسے\nجنت ہے ایک خون تمنا کہیں جسے\n\nاس جلوہ گاہ حسن میں چھایا ہے ہر طرف\nایسا حجاب چشم تماشا کہیں جسے\n\nیہ اصل زندگی ہے یہ جان حیات ہے\nحسن مذاق شورش سودا کہیں جسے\n\nمیرے وداع ہوش کو اتنا بھی ہے بہت\nیہ آب و رنگ حسن کا پردا کہیں جسے\n\nاکثر رہا ہے حسن حقیقت بھی سامنے\nاک مستقل سراب تمنا کہیں جسے\n\nاب تک تمام فکر و نظر پر محیط ہے\nشکل صفات معنی اشیا کہیں جسے\n\nہر موج کی وہ شان ہے جام شراب میں\nبرق فضائے وادئ سینا کہیں جسے\n\nزندانیوں کو آ کے نہ چھیڑا کرے بہت\nجان بہار نکہت رسوا کہیں جسے\n\nاس ہول دل سے گرم رو عرصۂ وجود\nمیرا ہی کچھ غبار ہے دنیا کہیں جسے\n\nسرمستیوں میں شیشۂ مے لے کے ہاتھ میں\nاتنا اچھال دیں کہ ثریا کہیں جسے\n\nشاید مرے سوا کوئی اس کو سمجھ سکے\nوہ ربط خاص رنجش بے جا کہیں جسے\n\nمیری نگاہ شوق پہ اب تک ہے منعکس\nحسن خیال شاہد زیبا کہیں جسے\n\nدل جلوہ گاہ حسن بنا فیض عشق سے\nوہ داغ ہے کہ شاہد رعنا کہیں جسے\n\nاصغرؔ نہ کھولنا کسی حکمت مآب پر\nراز حیات ساغر و مینا کہیں جسے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D8%B7_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%DB%92"} {"title": "جان نکلے گی مری جان بڑی مشکل سے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان نکلے گی مری جان بڑی مشکل سے\nہوگی مشکل مری آسان بڑی مشکل سے\n\nوہ مرے گھر رہے مہمان بڑی مشکل سے\nرات نکلے مرے ارمان بڑی مشکل سے\n\nآنکھیں تلووں سے ملیں لے کے قدم آنکھوں پر\nراہ پر آئے نگہبان بڑی مشکل سے\n\nتھا بہت ان کو گلوری کا اٹھانا مشکل\nدست نازک سے دیا پان بڑی مشکل سے\n\nبڑھ کے درباں نے لیا آج بھی دامن میرا\nکل چھڑایا تھا گریبان بڑی مشکل سے\n\nصحبت بد سے بچانے کا بتایا سب حال\nآج مانے مرے احسان بڑی مشکل سے\n\nظلم کو لطف سے تعبیر کریں گے دم حشر\nجور سے ہوں گے پشیمان بڑی مشکل سے\n\nکوئی کافر ہو جو کل جائے سوئے دیر بتاں\nکہ بچا آج ہی ایمان بڑی مشکل سے\n\nنہ رہے میں نے کلیجے میں جو رکھنا چاہا\nدل میں ٹھہرے ترے پیکان بڑی مشکل سے\n\nدور ابھی منزل مقصود ہے کالے کوسوں\nکچھ ہوئے قطع بیابان بڑی مشکل سے\n\nمان لیتے ہیں وہ مشکل سے بھی مشکل کوئی بات\nکبھی آساں سے بھی آسان بڑی مشکل سے\n\nمے بہت رک کے مرے حلق سے اترے دم نزع\nابھی مشکل ہوئی آسان بڑی مشکل سے\n\nبے شب وصل یہ انداز نکلتے ہی نہیں\nزلف ہوتی ہے پریشان بڑی مشکل سے\n\nدھار تلوار کی تھی جادۂ باریک نہ تھا\nہے ہوا حشر کا میدان بڑی مشکل سے\n\nرہتے ہیں ایسے ہی انسان فرشتے بن کر\nآدمی بنتے ہیں انسان بڑی مشکل سے\n\nدل بسمل میں کچھ اس طرح ہوئے تھے پیوست\nٹوٹ کر نکلے ہیں پیکان بڑی مشکل سے\n\nیہی انداز یہی وضع جو رکھوگے ریاضؔ\nلوگ سمجھیں گے مسلمان بڑی مشکل سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A8%DA%91%DB%8C_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%B3%DB%92"} {"title": "جان و تن", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "عقل مُدّت سے ہے اس پیچاک میں اُلجھی ہوئی\nرُوح کس جوہر سے، خاکِ تِیرہ کس جوہر سے ہے\nمیری مشکل، مستی و شور و سُرور و درد و داغ\nتیری مشکل، مے سے ہے ساغر کہ مے ساغر سے ہے\nارتباطِ حرف و معنی، اختلاطِ جان و تن\nجس طرح اخگر قبا پوش اپنی خاکستر سے ہے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%AA%D9%86"} {"title": "جان و دل سیں میں گرفتار ہوں کن کا ان کا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان و دل سیں میں گرفتار ہوں کن کا ان کا\nبندۂ بے زر و دینار ہوں کن کا ان کا\n\nصبر کے باغ کے منڈوے سے جھڑا ہوں جیوں پھول\nاب تو لاچار گلے ہار ہوں کن کا ان کا\n\nحوض کوثر کی نہیں چاہ زنخداں کی قسم\nتشنۂ شربت دیدار ہوں کن کا ان کا\n\nلب و رخسار کے گلقند سیں لازم ہے علاج\nدل کے آزار سیں بیمار ہوں کن کا ان کا\n\nمدتیں ہوئیں کہ ہوا خانۂ زنجیر خراب\nبستۂ زلف گرہ دار ہوں کن کا ان کا\n\nتشنۂ مرگ کوں ہے آب صراحی دم تیغ\nبسمل ابروئے خم دار ہوں کن کا ان کا\n\nناحق اس سنگ دلی سیں مجھے دیتے ہیں شکست\nمیں تو آئینۂ سرکار ہوں کن کا ان کا\n\nگلشن وصل میں رہتا ہوں غزل خوان فراق\nعندلیب گل رخسار ہوں کن کا ان کا\n\nمیں کہا رحم پتنگوں پہ کر اے جان سراجؔ\nتب کہا شمع شب تار ہوں کن کا ان کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "جان و دل ہیں اداس سے میرے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان و دل ہیں اداس سے میرے\nاٹھ گیا کون پاس سے میرے\n\nکوئی بھی اب امید باقی ہے\nپوچھیو داغ یاس سے میرے\n\nسب کی عرضی سے خوش ہو تم لیکن\nہو خفا التماس سے میرے\n\nشاید اٹھنے کا قصد تم نے کیا\nاڑ چلے کچھ حواس سے میرے\n\nعیش مجھ تک تو پہنچے تب جو ٹلے\nفوج غم آس پاس سے میرے\n\nدور ہی دور پھرتے ہیں کچھ بخت\nاب تو امید و یاس سے میرے\n\nکیا میں ٹھہراؤں اس کو دل میں حسنؔ\nہے وہ باہر قیاس سے میرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92"} {"title": "جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھے\nمدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے\n\nننگ مے خانہ تھا میں ساقی نے یہ کیا کر دیا\nپینے والے کہہ اٹھے یا پیر مے خانہ مجھے\n\nسبزہ و گل موج و دریا انجم و خورشید و ماہ\nاک تعلق سب سے ہے لیکن رقیبانہ مجھے\n\nزندگی میں آ گیا جب کوئی وقت امتحاں\nاس نے دیکھا ہے جگرؔ بے اختیارانہ مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%D9%85%D9%86_%D8%AC%D9%85%D9%84%DB%82_%D8%AE%D8%A7%D8%B5%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "جان کر کہتا ہے ہم سے اپنے جانے کی خبر", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان کر کہتا ہے ہم سے اپنے جانے کی خبر\nجی ڈوبا دیتی ہے میرا یہ بہانے کی خبر\n\nاس چمن میں کون ہے دل سوز اپنا تجھ سوا\nرکھیو ٹک اے برق میرے آشیانے کی خبر\n\nپوچھتا نیں اپنے کوچے میں تو میرا حال ہائے\nلے تھی لیلیٰ دشت میں اپنے دوانے کی خبر\n\nہیں قفس میں جب سے ہم اس سنگ دل صیاد کے\nاشک ہی لیتا ہے میرا آب و دانے کی خبر\n\nہم نہ جانیں کس طرف کعبہ ہے اور کیدھر ہے دیر\nایک رہتی ہے یہی اس در پہ جانے کی خبر\n\nہر گل داغ جنوں پر اور ہے کچھ آب و رنگ\nپھیر ہے گلشن میں گویا گل کے آنے کی خبر\n\nآج سینے میں مرے دل ہے نپٹ ہی بے قرار\nدے ہے حسرتؔ غیر کے گھر اس کے جانے کی خبر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A8%D8%B1"} {"title": "جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیں\nنام تیرا ہی لیا کرتے ہیں\n\nچاک کرنے کے لیے اے ناصح\nہم گریبان سیا کرتے ہیں\n\nساغر چشم سے ہم بادہ پرست\nمئے دیدار پیا کرتے ہیں\n\nزندگی زندہ دلی کا ہے نام\nمردہ دل خاک جیا کرتے ہیں\n\nسنگ اسود بھی ہے بھاری پتھر\nلوگ جو چوم لیا کرتے ہیں\n\nکل نہ دے گا کوئی مٹی بھی انہیں\nآج زر جو کہ دیا کرتے ہیں\n\nدفن محبوب جہاں ہیں ناسخؔ\nقبریں ہم چوم لیا کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%85_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جان ہی جائے تو جائے درد دل", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان ہی جائے تو جائے درد دل\nاک یہی ہے اب دوائے درد دل\n\nاب تڑپنے میں مزا ملتا نہیں\nہو چلی جاں آشنائے درد دل\n\nامتحان ضبط ہے منظور آج\nجس قدر چاہے ستائے درد دل\n\nبھاگتی ہے دور جس سے موت بھی\nوہ بلا ہے یہ بلائے درد دل\n\nرحم کب آیا کسی بے درد کو\nہو چکی جب انتہائے درد دل\n\nکھا کے کچھ سو رہتے ہیں حرماں نصیب\nایک یہ بھی ہے دوائے درد دل\n\nہم مریضوں کا نہیں ممکن علاج\nلا دوا ہیں مبتلائے درد دل\n\nرہتی ہے سینے ہی پر تصویر دوست\nہے یہ تعویذ اک برائے درد دل\n\nروتے روتے بندھ گئی ہچکی حفیظؔ\nجب کہا کچھ ماجرائے درد دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84"} {"title": "جان یا دل نذر کرنا چاہئے", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان یا دل نذر کرنا چاہئے\nکچھ نہ کچھ اس بت کو پوجا چاہئے\n\nدل شگافی چاہئے مثل قلم\nزخم سینے کا نہ سینا چاہئے\n\nکاٹ کر سر پار بیڑا کیجیئے\nتیغ کے گھاٹوں اتارا چاہئے\n\nمیں فدا ہوں گر تمہیں باور نہ ہو\nآزما دیکھو اسے کیا چاہئے\n\nکشتیٔ مے کا لب جو دور ہو\nکھیلنا مستوں نواڑا چاہئے\n\nمست سر جوش شہادت کیجیئے\nمثل مے تلوار کھینچا چاہئے\n\nوصل میں بیکار ہے منہ پر نقاب\nشرم کا آنکھوں پہ پردا چاہئے\n\nکوئی ہو پامال مثل نقش پا\nاپنے سر پر خاک اڑانا چاہئے\n\nوہ جو سمجھئے نہ سمجھے جی میں ہے\nاپنے ہی پر دل سے سمجھا چاہئے\n\nسب برے اغیار ہوں کچھ غم نہیں\nوہ حسیں بالذات اچھا چاہئے\n\nآنکھ کا پردہ اگر منظور ہے\nچلمنیں مژگاں کی چھوڑا چاہئے\n\nکیا طلسم حسن و عشق اے شادؔ ہے\nیہ کسی کامل سے پوچھا چاہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%B0%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "جان یہ کہہ کے بت ہوش ربا نے لے لی", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جان یہ کہہ کے بت ہوش ربا نے لے لی\nکوئی پوچھے تو یہ کہنا کہ خدا نے لے لی\n\nگل مقصود میں اول تو مہک تھی ہی نہیں\nاور جو تھی بھی وہ حسرت کی ہوا نے لے لی\n\nسب سے پہلے تو سیاہی مری قسمت کو ملی\nجو بچی تھی وہ تری زلف دوتا نے لے لی\n\nجان کمبخت محبت میں بچائے نہ بچی\nبت کافر سے جو چھوٹی تو خدا نے لے لی\n\nدم آخر بت بے درد کا دامن چھوٹا\nمیرے ہاتھوں سے بڑی چیز خدا نے لے لی\n\nچل بسی جان تو اس بات کا غم کیا مضطرؔ\nاک امانت تھی خدا کی سو خدا نے لے لی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%D9%86%DB%92_%D9%84%DB%92_%D9%84%DB%8C"} {"title": "جانا جانا جلدی کیا ہے ان باتوں کو جانے دو", "poet_page": "مصنف:صفی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جانا جانا جلدی کیا ہے ان باتوں کو جانے دو\nٹھہرو ٹھہرو دل تو ٹھہرے مجھ کو ہوش میں آنے دو\n\nپانو نکالو خلوت سے آئے جو قیامت آنے دو\nسیارے سر آپس میں ٹکرائیں اگر ٹکرانے دو\n\nبادل گرجا بجلی چمکی روئی شبنم پھول ہنسے\nمرغ سحر کو ہجر کی شب کے افسانے دہرانے دو\n\nہاتھ میں ہے آئینہ و شانہ پھر بھی شکن پیشانی پر\nموج صبا سے تم نہ بگڑو زلفوں کو بل کھانے دو\n\nکثرت سے جب نام و نشاں ہے کیا ہوں گے گمنام صفیؔ\nنقش دلوں پر نام ہے اپنا نقش لحد مٹ جانے دو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%88"} {"title": "جانا کہ شغل رکھتے ہو تیر و کماں سے تم", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جانا کہ شغل رکھتے ہو تیر و کماں سے تم\nپر مل چلا کرو بھی کسو خستہ جاں سے تم\n\nہم اپنی چاک جیب کو سی رہتے یا نہیں\nپھاٹے میں پاؤں دینے کو آئے کہاں سے تم\n\nاب دیکھتے ہیں خوب تو وہ بات ہی نہیں\nکیا کیا وگرنہ کہتے تھے اپنی زباں سے تم\n\nتنکے بھی تم ٹھہرتے کہیں دیکھے ہیں تنک\nچشم وفا رکھو نہ خسان جہاں سے تم\n\nجاؤ نہ دل سے منظر تن میں ہے جا یہی\nپچھتاؤ گے اٹھوگے اگر اس مکاں سے تم\n\nقصہ مرا سنو گے تو جاتی رہے گی نیند\nآرام چشم مت رکھو اس داستاں سے تم\n\nکھل جائیں گی پھر آنکھیں جو مر جائے گا کوئی\nآتے نہیں ہو باز مرے امتحاں سے تم\n\nجتنے تھے کل تم آج نہیں پاتے اتنا ہم\nہر دم چلے ہی جاتے ہو آب رواں سے تم\n\nرہتے نہیں ہو بن گئے میرؔ اس گلی میں رات\nکچھ راہ بھی نکالو سگ و پاسباں سے تم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%B4%D8%BA%D9%84_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%DA%A9%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%85"} {"title": "جاناں نے ہمیں کبھو نہ جانا افسوس", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جاناں نے ہمیں کبھو نہ جانا افسوس\nجو ہم نے کہا سو وہ نہ مانا افسوس\nتب آنے میں دیر کی قیامت اب سو\nآیا نزدیک جی کا جانا افسوس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3"} {"title": "جاناں پہ جی نثار ہوا کیا بجا ہوا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاناں پہ جی نثار ہوا کیا بجا ہوا\nاس راہ میں غبار ہوا کیا بجا ہوا\n\nمدت سے راز عشق مرے پہ عیاں نہ تھا\nیہ بھید آشکار ہوا کیا بجا ہوا\n\nتازے کھلے ہیں داغ کے گل دل کے باغ میں\nپھر موسم بہار ہوا کیا بجا ہوا\n\nدل تجھ پری کی آگ میں سیماب کی مثال\nآخر کوں بے قرار ہوا کیا بجا ہوا\n\nکشور میں دل کے تھا عمل صوبہ دار عیش\nاب غم کا اختیار ہوا کیا بجا ہوا\n\nآہوئے دل کہ وحشی صحرائے عقل تھا\nتجھ زلف کا شکار ہوا کیا بجا ہوا\n\nوو آفتاب آج مرے قتل پر سراجؔ\nشب دیز پر سوار ہوا کیا بجا ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%DB%8C_%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%AC%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "جاناں کو سر مہر و وفا ہے جھوٹ سب", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جاناں کو سر مہر و وفا ہے جھوٹ سب\nکچھ اس نے کہا ہے یا لکھا ہے جھوٹ سب\nوہ کب لکھتا ہے اور کب کہتا ہے\nقاصد کہتا ہے یوں کہا ہے جھوٹ سب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%B1_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D9%88_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9_%D8%B3%D8%A8"} {"title": "جانوں میں نہ جبکہ نام اس کا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جانوں میں نہ جبکہ نام اس کا\nپوچھوں کیا کہہ مقام اس کا\n\nہے دل کوں تپش کچھ اور ہی آج\nلاتا ہے کوئی پیام اس کا\n\nنامہ کہ تو کیا جگہ کہ قاصد\nلایا ہی نہ یاں سلام اس کا\n\nمت لیجیو دل تو چاہ کا نام\nقتل عاشق ہے کام اس کا\n\nہو جائے گا پائمال بیدارؔ\nدیکھے گا اگر خرام اس کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A8%DA%A9%DB%81_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "جانکی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "چغد", "year": "1948", "text_ur": "پونامیں ریسوں کا موسم شروع ہونے والا تھا کہ پشاور سے عزیز نے لکھا کہ میں اپنی ایک جان پہچان کی عورت جانکی کو تمہارے پاس بھیج رہا ہوں، اس کو یا تو پونہ میں یا بمبے کی کسی فلم کمپنی میں ملازمت کرادو۔ تمہاری واقفیت کافی ہے، امید ہے تمہیں زیادہ دقت نہیں ہوگی۔\n\nدقت کا تو اتنا زیادہ سوال نہیں تھا لیکن مصیبت یہ تھی کہ میں نے ایسا کام کبھی کیا ہی نہیں تھا۔ فلم کمپنیوں میں اکثر وہی آدمی عورتیں لے کر آتے ہیں جنہیں ان کی کمائی کھانی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ میں بہت گھبرایا لیکن پھر میں نے سوچا عزیز اتنا پرانا دوست ہے، جانے کس یقین کے ساتھ بھیجا ہے، اس کومایوس نہیں کرنا چاہیے۔ یہ سوچ کر بھی ایک گونہ تسکین ہوئی کہ عورت کے لیے اگر وہ جوان ہو، ہر فلم کمپنی کے دروازے کھلے ہیں۔ اتنی تردد کی بات ہی کیا ہے، میری مدد کے بغیر ہی اسے کسی نہ کسی فلم کمپنی میں جگہ مل جائے گی۔\n\nخط ملنے کے چوتھے روز وہ پونا پہنچ گئی۔ کتنا لمبا سفر طے کرکے آئی تھی، پشاور سے بمبئی اور بمبئی سے پونہ۔۔۔ پلیٹ فارم پر چونکہ اس کو مجھے پہچاننا تھا، اس لیے گاڑی آنے پر میں نے ایک سرے سے ڈبوں کے پاس سے گزرنا شروع کیا۔ مجھے زیادہ دور نہ چلنا پڑا کیونکہ سیکنڈ کلاس کے ڈبے سے ایک متوسط قدکی عورت جس کے ہاتھ میں میری تصویر تھی،اتری۔ میری طرف وہ پیٹھ کرکے کھڑی ہوگئی اور ایڑیاں اونچی کرکے مجھے ہجوم میں تلاش کرنے لگی۔ میں نے قریب جا کر کہا، ’’جسے آپ ڈھونڈ رہی ہیں وہ غالباً میں ہی ہوں۔‘‘\n\nوہ پلٹی، ’’اوہ، آپ!‘‘ ایک نظر میری تصویر کی طرف دیکھا اور بڑے بے تکلف انداز میں کہا، ’’سعادت صاحب،سفر بہت ہی لمبا تھا۔ بمبے میں فرنٹیر میل سے اتر کر اس گاڑی کے انتظار میں جو وقت کاٹناپڑااس نے طبیعت صاف کردی۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’اسباب کہاں ہے آپ کا؟‘‘\n\n’’لاتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ڈبے کے اندر داخل ہوئی۔ دو سوٹ کیس اور ایک بستر نکالا۔ میں نے قلی بلوایا۔ اسٹیشن سے باہر نکلتے ہوئے اس نے مجھ سے کہا، ’’میں ہوٹل میں ٹھہروں گی۔‘‘ میں نے اسٹیشن کے سامنے ہی اس کے لیے ایک کمرے کا بندوبست کردیا۔ اسے غسل وسل کرکے کپڑے تبدیل کرنے تھے اور آرام کرنا تھا، اس لیے میں نے اسے اپنا ایڈریس دیا اور یہ کہہ کر کہ صبح دس بجے مجھ سے ملے، ہوٹل سے چل دیا۔\n\nصبح ساڑھے دس بجے وہ پربھات نگر، جہاں میں ایک دوست کے یہاں ٹھہرا ہوا تھا، آئی۔ جگہ تلاش کرتے ہوئے اسے دیر ہوگئی تھی۔ میرا دوست اس چھوٹے سے فلیٹ میں، جو نیا نیا تھا موجود نہیں تھا۔ میں رات دیر تک لکھنے کا کام کرنے کے باعث صبح دیر سے جاگا تھا، اس لیے ساڑھے دس بجے نہا دھو کر چائے پی رہا تھا کہ وہ اچانک اندر داخل ہوئی۔\n\nپلیٹ فارم پر اور ہوٹل میں تھکاوٹ کے باوجود وہ جاندار عورت تھی مگر جوں ہی وہ اس کمرے میں جہاں میں، صرف بنیان اور پاجامہ پہنے چائے پی رہا تھا داخل ہوئی تو اس کی طرف دیکھ کر مجھے ایسا لگا جیسے کوئی بہت ہی پریشان اور خستہ حال عورت مجھ سے ملنے آئی ہے۔جب میں نے اسے پلیٹ فارم پر دیکھا تھا تو وہ زندگی سے بھرپور تھی لیکن جب پربھات نگر کے نمبر گیارہ فلیٹ میں آئی تو مجھے محسوس ہوا کہ یا تو اس نے خیرات میں اپنا دس پندرہ اونس خون دے دیا ہے یا اس کا اسقاط ہوگیا ہے۔\n\nجیسا کہ میں آپ سے کہہ چکا ہوں، گھرمیں اور کوئی موجود نہیں تھا، سوائے ایک بے وقوف نوکر کے۔ میرے دوست کا گھر جس میں ایک فلمی کہانی لکھنے کے لیے میں ٹھہرا ہوا تھا، بالکل سنسان تھا اور مجید ایک ایسا نوکر تھا جس کی موجودگی ویرانی میں اضافہ کرتی تھی۔میں نے چائے کی ایک پیالی بنا کر جانکی کو دی اور کہا،’’ہوٹل سے تو آپ ناشتہ کرکے آئی ہوں گی، پھر بھی شوق فرمائیے!‘‘\n\nاس نے اضطراب سے اپنے ہونٹ کاٹتے ہوئے چائے کی پیالی اُٹھائی اور پینا شروع کی۔ اس کی داہنی ٹانگ بڑے زور سے ہل رہی تھی۔ اس کے ہونٹوں کی کپکپاہٹ سے مجھے معلوم ہوا کہ وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہے لیکن ہچکچاتی ہے۔ میں نے سوچا شاید ہوٹل میں رات کو کسی مسافر نے اسے چھیڑا ہے چنانچہ میں نے کہا،’’آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی ہوٹل میں ؟‘‘\n\n’’جی۔۔۔؟ جی نہیں!‘‘\n\nمیں یہ مختصر جواب سن کر خاموش رہا۔ چائے ختم ہوئی تومیں نے سوچا اب کوئی بات کرنی چاہیے۔ چنانچہ میں نے پوچھا، ’’عزیز صاحب کیسے ہیں؟‘‘ اس نے میرے سوال کا جواب نہ دیا۔ چائے کی پیالی تپائی پررکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی اور لفظوں کو جلدی جلدی ادا کرکے کہا،’’منٹو صاحب آپ کسی اچھے ڈاکٹر کو جانتے ہیں؟‘‘\n\nمیں نے جواب دیا، ’’پونا میں تو میں کسی کو نہیں جانتا۔‘‘\n\n’’اوہ!‘‘\n\nمیں نے پوچھا، ’’کیوں، بیمار ہیں آپ؟‘‘\n\n’’جی ہاں۔‘‘ وہ کرسی پر بیٹھ گئی۔\n\nمیں نے دریافت کیا، ’’کیا تکلیف ہے؟‘‘\n\nاس کے تیکھے ہونٹ جو مسکراتے وقت سکڑ جاتے تھے یا سکیڑ لیے جاتے تھے واہوئے۔ اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن کہہ نہ سکی اور اٹھ کھڑی ہوئی پھر میرا سگریٹ کا ڈبہ اٹھایا اور ایک سگریٹ سلگا کر کہا،’’معاف کیجیے گا میں سگریٹ پیا کرتی ہوں۔‘‘مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ صرف سگریٹ پیا ہی نہیں کرتی بلکہ پھونکا کرتی تھی۔ بالکل مردوں کی طرح سگریٹ انگلیوں میں دبا کر وہ زور زور سے کش لیتی اور ایک دن میں تقریباً پچھتر سگریٹوں کا دھواں کھینچتی تھی۔\n\nمیں نے کہا، ’’آپ بتاتی کیوں نہیں کہ آپ کو تکلیف کیا ہے؟‘‘\n\nاس نے کنواری لڑکیوں کی طرح جھنجھلا کر اپنا ایک پاؤں فرش پر مارا۔ ’’ہائے اللہ! میں کیسے بتاؤں آپ کو‘‘ یہ کہہ کر وہ مسکرائی۔ مسکراتے ہوئے تیکھے ہونٹوں کی محراب میں سے مجھے اس کے دانت نظر آئے جو غیر معمولی طور پر صاف اور چمکیلے تھے۔ وہ بیٹھ گئی اور میری آنکھوں میں اپنی ڈگمگاتی آنکھوں کو نہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے کہا، ’’بات یہ ہے کہ پندرہ بیس دن اوپر ہوگئے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ۔۔۔‘‘ پہلے تو میں مطلب نہ سمجھا لیکن جب وہ بولتے بولتے رک گئی تو میں کسی قدر سمجھ گیا۔’’ ایسا اکثر ہوتا ہے۔‘‘\n\nاس نے زور سے کش لیا اور مردوں کی طرح زور سے دھویں کو باہر نکالتے ہوئے کہا، ’’نہیں۔۔۔ یہاں معاملہ کچھ اور ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں کچھ ٹھہر نہ گیا ہو۔‘‘\nمیں نے کہا، ’’اوہ!‘‘\n\nاس نے سگریٹ کا آخری کش لے کر اس کی گردن چائے کی طشتری میں دبائی،’’اگر ایسا ہو گیا ہے تو بڑی مصیبت ہوگی۔ ایک دفعہ پشاور میں ایسی ہی گڑ بڑ ہوگئی تھی۔ لیکن عزیز صاحب اپنے ایک حکیم دوست سے ایسی دوا لائے تھے جس سے چند دن ہی میں سب صاف ہوگیا تھا۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا،’’آپ کو بچے پسند نہیں؟‘‘\n\nوہ مسکرائی،’’پسند ہیں۔۔۔ لیکن کون پالتا پھرے۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’آپ کو معلوم ہے اس طرح بچے ضائع کرنا جرم ہے۔‘‘\n\nوہ ایک دم سنجیدہ ہوگئی۔۔۔ پھر اس نے حیرت بھرے لہجے میں کہا، ’’مجھ سے عزیز صاحب نے بھی یہی کہا تھا۔ لیکن سعادت صاحب میں پوچھتی ہوں اس میں جرم کی کون سی بات ہے۔ اپنی ہی تو چیز ہے اور ان قانون بنانے والوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ بچہ ضائع کراتے ہوئے تکلیف کتنی ہوتی ہے۔۔۔بڑا جرم ہے!‘‘\n\nمیں بے اختیار ہنس پڑا، ’’عجیب و غریب عورت ہو تم جانکی!‘‘\n\nجانکی نے بھی ہنسنا شروع کردیا،’’عزیز صاحب بھی یہی کہا کرتے تھے۔‘‘\n\nہنستے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میرا مشاہدہ ہے جو آدمی پر خلوص ہوں، ہنستے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو ضرور آجاتے ہیں۔ اس نے اپنا بیگ کھول کر رومال نکالا اور آنکھیں خشک کرکے بھولے بچوں کے انداز میں پوچھا،’’سعادت صاحب! بتائیے، کیا میری باتیں دلچسپ ہوتی ہیں؟‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’بہت۔‘‘\n\n’’جھوٹ!‘‘\n\n’’اس کا ثبوت؟‘‘\n\nاس نے سگریٹ سلگانا شروع کردیا، ’’بھئی شاید ایسا ہو،میں تو اتنا جانتی ہوں کہ کچھ کچھ بے قوف ہوں۔ زیادہ کھاتی ہوں، زیادہ بولتی ہوں، زیادہ ہنستی ہوں۔ اب آپ ہی دیکھیے نا ،زیادہ کھانے سے میرا پیٹ کتنا بڑھ گیا ہے۔ عزیز صاحب ہمیشہ کہتے رہے جانکی کم کھایا کرو پر میں نے ان کی ایک نہ سنی۔ سعادت صاحب !بات یہ ہے کہ میں کم کھاؤں تو ہر وقت ایسا لگتا ہے کہ میں کسی سے کوئی بات کہنا بھول گئی ہوں۔‘‘\n\nاس نے پھر ہنسنا شروع کیا۔ میں بھی اس کے ساتھ شریک ہوگیا۔اس کی ہنسی بالکل الگ قسم کی تھیں۔ بیچ بیچ میں گھنگھرو سے بجتے تھے۔\n\nپھر وہ اسقاط حمل کے متعلق باتیں شروع کرنے ہی والی تھی کہ میرا دوست، جس کے یہاں میں ٹھہرا ہوا تھا، آگیا۔ میں نے جانکی سے اس کا تعارف کرایا اور بتایا کہ وہ فلم لائن میں آنے کا شوق رکھتی ہے۔ میرا دوست اسے اسٹوڈیو لے گیا کیونکہ اس کو یقین تھا کہ وہ ڈائریکٹر جس کے ساتھ وہ بحیثیت اسسٹنٹ کے کام کررہا تھا، اپنے نئے فلم میں جانکی کو ایک خاص رول کے لیے ضرور لے لے گا۔\n\nپونا میں جتنے سٹوڈیو تھے، میں نے سب میں مختلف ذرائع سے جانکی کے لیے کوشش کی۔کسی نے اس کا ساؤنڈ ٹسٹ لیا، کسی نے کیمرہ ٹسٹ۔ ایک فلم کمپنی میں اس کو مختلف قسم کے لباس پہنا کر دیکھا گیا مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔ ایک تو جانکی ویسے ہی دن اوپر ہو جانے کے باعث پریشان تھی، چار پانچ روز متواتر جب اسے مختلف فلم کمپنیوں کے اکتا دینے والے ماحول میں بے نتیجہ گزارنے پڑے تو وہ اور زیادہ پریشان ہوگئی۔\n\nبچہ ضائع کرنے کے لیے وہ ہر روز بیس بیس گرین کونین کھاتی تھی۔ اس سے بھی اس کی طبیعت پر گرانی سی رہتی تھی۔ عزیز صاحب کے دن پشاور میں اس کے بغیر کیسے گزرتے ہیں، اس کے متعلق بھی اس کو ہر وقت فکر رہتی تھی۔ پونا پہنچتے ہی اس نے ایک تار بھیجا تھا۔ اس کے بعد وہ بلاناغہ ہر روز ایک خط لکھ رہی تھی۔ ہر خط میں یہ تاکید ہوتی تھی کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھیں اور دوا باقاعدگی کے ساتھ پیتے رہیں۔\n\nعزیز صاحب کو کیا بیماری تھی، اس کا مجھے علم نہیں۔۔۔ لیکن جانکی سے مجھے اتنا معلوم ہوا کہ عزیز صاحب کو چونکہ اس سے محبت ہے، اس لیے وہ فوراً اس کا کہنا مان لیتے ہیں گھر میں کئی بار بیوی سے ان کا جھگڑا ہوا کہ وہ دوا نہیں پیتے لیکن جانکی سے اس معاملے میں انھوں نے کبھی چوں بھی نہ کی۔\n\nشروع شروع میں میرا خیال تھا کہ جانکی عزیز کے متعلق جو اتنی فکر مند رہتی ہے، محض بکواس ہے، بناوٹ ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ میں نے اس کی بے تکلف باتوں سے محسوس کیا کہ اسے حقیقتاً عزیز کا خیال ہے۔ اس کا جب بھی خط آیا، جانکی پڑھ کرضرور روئی۔\n\nفلم کمپنیوں کے طواف کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ لیکن ایک روز جانکی کو یہ معلوم کرکے بہت خوشی ہوئی کہ اس کا اندیشہ غلط تھا۔ دن واقعی اوپر ہوگئے تھے لیکن وہ بات جس کا اسے کھٹکا تھا، نہیں تھی۔\n\nجانکی کو پونا آئے بیس روز ہو چلے تھے۔ عزیز کو وہ خط پر خط لکھ رہی تھی۔ اس کی طرف سے بھی لمبے لمبے محبت نامے آتے تھے۔ ایک خط میں عزیز نے مجھ سے کہا تھا کہ پونامیں اگر جانکی کے لیے کچھ نہیں ہوتا تو میں بمبے میں کوشش کروں کیونکہ وہاں بے شمار اسٹوڈیو ہیں۔ بات معقول تھی لیکن میں سینیریو لکھنے میں مصروف تھا، اس لیے جانکی کے ساتھ بمبے جانابہت مشکل تھا، لیکن میں نے پوناسے اپنے دوست سعیدکو جو ایک فلم میں ہیرو کا پارٹ ادا کررہا تھا، ٹیلی فون کیا ۔اتفاق سے وہ اس وقت اسٹوڈیو میں موجود نہ تھا۔ آفس میں نرائن کھڑا تھا اسے جب معلوم ہوا کہ میں پونا سے بول رہا ہوں تو ٹیلی فون لے لیا اور زور سے چلایا،’’ہلومنٹو۔۔۔ نرائن اسپیکنگ فرام دس اینڈ۔۔۔ کہوکیابات ہے؟ سعید اس وقت اسٹوڈیو میں نہیں ہے۔ گھر میں بیٹھا رضیہ سے آخری حساب کتاب کررہا ہے۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا، ’’کیا مطلب؟‘‘ نرائن نے ادھر سے جواب دیا، کھٹ پٹ ہوگئی ہے ان میں،اصل میں رضیہ نے ایک اور آدمی سے ٹانکا ملا لیا ہے۔ ‘‘میں نے کہا،’’ لیکن یہ حساب کتاب کیسا ہورہا ہے؟‘‘\n\nنرائن بولا، ’’بڑا کمینہ ہے یار، سعید۔۔۔ اس سے کپڑے لے رہا ہے جو اس نے خرید کر دیے تھے۔ خیر چھوڑو اس بات کو ،بتاؤبات کیا ہے؟‘‘\n\nمیں نے اس سے کہا، ’’بات یہ ہے کہ پشاور سے میرے ایک عزیز نے ایک عورت یہاں بھیجی ہےجسے فلموں میں کام کرنے کا شوق ہے۔‘‘\n\nجانکی میرے پاس ہی کھڑی تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ میں نے مناسب و موزوں لفظوں میں اپنا مدعا بیان نہیں کیا۔میں تصحیح کرنے ہی والا تھا کہ نرائن کی بلند آواز کانوں کے اندر گھسی، ’’عورت! پشاور کی عورت۔ خو، بیجو اس کو جلدی۔ خو ،ہم بھی قصور کا پٹھان ہے۔ میں نے کہا،’’بکواس نہ کرو نرائن!سنو، کل دکن کوئن سے میں انھیں بمبے بھیج رہا ہوں۔ سعید یا تم کوئی بھی اسے اسٹیشن پر لینے کے لیے آجانا، کل دکن کوئن سے۔ یاد رہے۔‘‘\n\nنرائن کی آواز آئی، ’’پر ہم اسے پہچانیں گے کیسے؟‘‘\n\nمیں نے جوا ب دیا، ’’وہ خود تمہیں پہچان لے گی۔۔۔ لیکن دیکھو کوشش کرکے اسے کسی نہ کسی جگہ ضرور رکھوا دینا۔‘‘\n\nتین منٹ گزر گئے۔ میں نے ٹیلی فون بند کیا اور جانکی سے کہا، ’’کل دکن کوئن سے تم بمبے چلی جانا۔ سعید اور نرائن دونوں کی تصویریں دکھاتا ہوں۔ لمبے تڑنگے خوبصورت جوان ہیں۔ تمہیں پہچاننے میں دقت نہیں ہوگی۔‘‘میں نے البم میں جانکی کو سعید اور نرائن کے مختلف فوٹو دکھائے۔ دیر تک وہ انھیں دیکھتی رہی۔ میں نے نوٹ کیاکہ سعید کا فوٹو اس نے زیادہ غورسے دیکھا۔ البم ایک طرف رکھ کر میری آنکھوں میں آنکھیں نہ ڈالنے کی ڈگمگاتی کوشش کرتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا،’’دونوں کیسے آدمی ہیں؟‘‘\n\n’’کیا مطلب؟‘‘\n\n’’ مطلب یہ کہ دونوں کیسے آدمی ہیں۔۔۔ ؟میں نے سنا ہے کہ فلموں میں اکثر آدمی برے ہوتے ہیں۔ ‘‘اس کے لہجے میں ایک ٹوہ لینے والی سنجیدگی تھی۔میں نے کہا،’’یہ تو درست ہے لیکن فلموں میں نیک آدمیوں کی ضرورت ہی کہاں ہوتی ہے!‘‘\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’دنیا میں دو قسم کے انسان ہیں۔ ایک قسم ان انسانوں کی ہے جو اپنے زخموں سے درد کا اندازہ کرتے ہیں۔ دوسری قسم ان کی ہے جو دوسروں کے زخم دیکھ کر درد کا اندازہ کرتے ہیں۔ تمہارا خیال کیاہے، کون سی قسم کے انسان زخم کے درد اور اس کی تہ کی جلن کو صحیح طور پرمحسوس کرتے ہیں۔‘‘\n\nاس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد جواب دیا، ’’وہ جن کے زخم لگے ہوتے ہیں۔‘‘ میں نے کہا،’’بالکل درست۔ فلموں میں اصل کی اچھی نقل وہی اتار سکتا ہے جسے اصل سے واقفیت ہو۔ ناکام محبت میں دل کیسے ٹوٹتا ہے، یہ ناکامِ محبت ہی اچھی طرح بتا سکتا ہے۔ وہ عورت جو پانچ وقت جا نماز بچھا کر نماز پڑھتی ہے اور عشق و محبت کو سور کے برابر سمجھتی ہے، کیمرے کے سامنے کسی مرد کے ساتھ اظہارِ محبت کیا خاک کرے گی!‘‘\n\nاس نے پھر سوچا،’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ فلم لائن میں داخل ہونے سے پہلے عورت کو سب چیزیں جاننی چاہئیں۔‘‘میں نے کہا،’’یہ ضروری نہیں۔ فلم لائن میں آکر بھی وہ چیزیں جان سکتی ہے۔‘‘ اس نے میری بات پر غور نہ کیا اور جو پہلا سوال کیا تھا، پھر اسے دہرایا۔’’سعید صاحب اور نرائن صاحب کیسے آدمی ہیں؟‘‘\n’’تم تفصیل سے پوچھنا چاہتی ہو؟‘‘\n\n’’تفصیل سے آپ کا کیا مطلب؟‘‘\n\n’’یہ کہ دونوں میں سے آپ کے لیے کون بہتر رہے گا!‘‘\n\nجانکی کو میری یہ بات ناگوار گزری۔\n\n’’کیسی باتیں کرتے ہیں آپ؟‘‘\n\n’’جیسی تم چاہتی ہو۔‘‘\n\n’’ہٹائیے بھی۔‘‘ یہ کہہ وہ مسکرائی۔’’ میں اب آپ سے کچھ نہیں پوچھوں گی۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’جب پوچھو گی تو میں نرائن کی سفارش کروں گا۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’اس لیے کہ وہ سعید کے مقابلے میں بہتر ا نسان ہے۔‘‘\n\nمیرا اب بھی یہی خیال ہے۔ سعید شاعر ہے، ایک بہت بے رحم قسم کا شاعر۔ مرغی پکڑے گا تو ذبح کرنے کی بجائے اس کی گردن مروڑ دے گا۔ گردن مروڑ کراس کے پر نوچے گا۔ پر نوچنے کے بعد اس کی یخنی نکالے گا۔یخنی پی کر اور ہڈیاں چبا کر وہ بڑے آرام اور سکون سے ایک کونے میں بیٹھ کر اس کی مرغی کی موت پر ایک نظم لکھے گا جو اس کے آنسوؤں میں بھیگی ہوگی۔\n\nشراب پیے گا تو کبھی بہکے گا نہیں؛ مجھے اس سے بہت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ شراب کا مطلب ہی فوت ہو جاتا ہے۔ صبح بہت آہستہ آہستہ بستر پر سے اُٹھے گا۔ نوکر چائے کی پیالی بنا کر لائے گا۔ اگر رات کی بچی ہوئی رم سرہانے پڑی ہے تو اسے چائے میں انڈیل لے گا اور اس مکسچر کو ایک ایک گھونٹ کرکے ایسے پیے گا جیسے اس میں ذائقے کی کوئی حس ہی نہیں۔\n\nبدن پرکوئی پھوڑا نکلا ہے؛ خطرناک شکل اختیار کرگیا ہے، مگر مجال ہے جو وہ اس کی طرف متوجہ ہو۔ پیپ نکل رہی ہے، گل سڑ گیا ہے، ناسور بننے کا خطرہ ہے، لیکن سعید کبھی کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جائے گا۔ آپ اس سے کچھ کہیں گے تو یہ جواب ملے گا،’’اکثر اوقات بیماریاں انسان کی جزو بدن ہو جاتی ہیں۔ جب مجھے یہ زخم تکلیف نہیں دیتا تو علاج کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ اور یہ کہتے ہوئے وہ زخم کی طرف اس طرح دیکھے گا جیسے کوئی اچھا شعر نظر آگیا ہے۔\n\nایکٹنگ وہ ساری عمر نہیں کرسکے گا، اس لیے کہ وہ لطیف جذبات سے قریب قریب عاری ہے۔ میں نے اسے ایک فلم میں دیکھا جو ہیروئن کے گانوں کے باعث بہت مقبول ہوا تھا۔ ایک جگہ اسے اپنی محبوبہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر محبت کا اظہار کرنا تھا۔ خدا کی قسم اس نے ہیروئن کا ہاتھ کچھ اس طرح اپنے ہاتھ میں لیا جیسے کتے کا پنجہ پکڑا جاتا ہے۔ میں اس سے کئی بار کہہ چکا ہوں ایکٹر بننے کا خیال اپنے دماغ سے نکال دو، اچھے شاعر ہو، گھر بیٹھو اور نظمیں لکھا کرو۔ مگر اس کے دماغ پر ابھی تک ایکٹنگ کی دھن سوار ہے۔\n\nنرائن مجھے بہت پسند ہے۔ اسٹوڈیو کی زندگی کے جو اصول اس نے اپنے لیے وضع کر رکھے ہیں، مجھے اچھے لگتے ہیں۔\n\n1۔۔۔ ایکٹر جب تک ایکٹر ہے، اسے شادی نہیں کرنی چاہیے۔ شادی کرلے تو فوراً فلم کو طلاق دے کر دودھ دہی کی دکان کھول لے۔ اگر مشہور ایکٹر رہا تو کافی آمدنی ہو جایا کرے گی۔\n\n2۔۔۔ کوئی ایکٹرس تمہیں بھیا یا بھائی صاحب کہے تو فوراً اس کے کان میں کہو، آپ کی انگیا کا سائز کیا ہے۔\n\n3۔۔۔ کسی ایکٹرس پر اگر تمہاری طبیعت آگئی ہے تو تمہیدیں باندھنے میں وقت ضائع نہ کرو۔ اس سے تخلیے میں ملو اور کہو کہ میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں، اس کا یقین نہ آئے تو پوری جیب باہر نکال کر دکھا دو۔\n\n4۔۔۔ اگرکوئی ایکٹرس تمہارے حصے میں آجائے تو اس کی آمدنی میں سے ایک پیسہ بھی نہ لو ۔ایکٹرسوں کے شوہروں اور بھائیوں کے لیے یہ پیسہ حلال ہے۔\n\n5۔۔۔ اس بات کا خیال رکھنا کہ ایکٹرس کے بطن سے تمہاری کوئی اولاد نہ ہو۔ سوراج ملنے کے بعد البتہ تم اس کی اولاد پیدا کرسکتے ہو۔\n\n6۔۔۔ یاد رکھو کہ ایکٹر کی بھی عاقبت ہوتی ہے۔ اسے ریزر اور کنگھی سے سنوارنے کے بجائے کبھی کبھی غیر مہذب طریقے سے بھی سنوارنے کی کوشش کیا کرو، مثال کے طور پر کوئی نیک کام کرکے۔\n\n7۔۔۔ اسٹوڈیو میں سب سے زیادہ احترام پٹھان چوکیدار کا کرو۔ صبح اسٹوڈیو میں آتے وقت اسے سلام کرنے سے تمہیں فائدہ ہوگا۔ یہاں نہیں تو دوسری دنیا میں، جہاں فلم کمپنیاں نہیں ہوں گی۔\n\n8۔۔۔ شراب اور ایکٹرس کی عادت ہرگز نہ ڈالو۔ بہت ممکن ہے کہ کسی روز کانگریس گورنمنٹ لہر میں آکر یہ دونوں چیزیں ممنوع قرار دے دے۔\n\n9۔۔۔ سوداگر، مسلمان سوداگر ہوسکتا ہے۔ لیکن ایکٹر ہندو ایکٹر، یا مسلم ایکٹر نہیں ہوسکتا۔\n\n10۔۔۔ جھوٹ نہ بولو۔\n\nیہ سب باتیں ’’نرائن کے دس احکام‘‘ کے عنوان تلے اس نے اپنی ایک نوٹ بک میں لکھ رکھی ہیں جن سے اس کے کیریکٹر کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ ان سب پر عمل نہیں کرتا۔ مگر یہ حقیقت نہیں۔ سعید اور نرائن کے متعلق جو میرے خیالات تھے۔ میں نے جانکی کے پوچھے بغیر اشارۃً بتا دیے اور آخر میں اس سے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ اگر تم اس لائن میں آگئیں تو کسی نہ کسی مرد کا سہارا تمہیں لینا ہی پڑے گا۔ نرائن کے متعلق میرا خیال ہے کہ اچھا دوست ثابت ہوگا۔\n\nمیرا مشورہ اس نے سن لیا اور بمبےچلی گئی۔ دوسرے روز خوش خوش واپس آئی کیونکہ نرائن نے اپنے اسٹوڈیو میں ایک سال کے لیے پانچ سو روپے ماہوار پر اسے ملازم کرادیا تھا۔ یہ ملازمت اسے کیسی ملی، دیر تک اس کے متعلق باتیں ہوئیں۔ جب اور کچھ سننے کو نہ رہا تو میں نے اس سے پوچھا،’’سعید اور نرائن، دونوں سے تمہاری ملاقات ہوئی، ان میں سے کس کو تم نے زیادہ پسند کیا؟‘‘\n\nجانکی کے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ پیدا ہوئی۔ لغزش بھری نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے اس نے کہا،’’سعید صاحب کو۔ ‘‘یہ کہہ کروہ ایک دم سنجیدہ ہوگئی،’’سعادت صاحب ،آپ نے کیوں اتنے پل باندھے تھے نرائن کی تعریفوں کے؟‘‘\n\nمیں نے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘\n\n’’بڑا ہی واہیات آدمی ہے۔ شام کو باہر کرسیاں بچھا کر سعید صاحب اور وہ شراب پینے کے لیے بیٹھے تو باتوں باتوں میں میں نے نرائن بھیا کہا۔ اپنا منہ میرے کان کے پاس لاکرپوچھا۔’’ تمہاری انگیا کا سائز کیا ہے۔۔۔؟ بھگوان جانتا ہے میرے تن بدن میں تو آگ ہی لگ گئی۔۔۔ کیسا لچر آدمی ہے۔‘‘ جانکی کے ماتھے پر پسینہ آگیا۔\n\nمیں زور زور سے ہنسنے لگا۔\n\nاس نے تیزی سے کہا، ’’آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟‘‘\n\n’’اس کی بیوقوفی پر۔‘‘ یہ کہہ کر میں نے ہنسنا بند کردیا۔\n\nتھوڑی دیر نرائن کو برا بھلا کہنے کے بعد جانکی نے عزیز کے متعلق فکر مند لہجے میں باتیں شروع کردیں۔ کئی دنوں سے اس کا خط نہیں آیا تھا۔ اس لیے طرح طرح کے خیال اسے ستا رہے تھے۔ کہیں انھیں پھر زکام نہ ہوگیا ہو۔ اندھا دھند سائیکل چلاتے ہیں، کہیں حادثہ ہی نہ ہوگیا ہو۔ پونا ہی نہ آرہے ہوں، کیونکہ جانکی کورخصت کرتے وقت انھوں نے کہا تھا ایک روز میں چپ چاپ تمہارے پاس چلا آؤں گا۔\n\nباتیں کرنے کے بعد اس کا تردد کم ہوا تو اس نے عزیز کی تعریفیں شروع کردیں۔ گھر میں بچوں کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ ہر روز صبح ان کو ورزش کراتے ہیں اور نہلا دھلا کرا سکول چھوڑنے جاتے ہیں۔ بیوی بالکل پھوہڑ ہے، اس لیے رشتہ داروں سے سارا رکھ رکھاؤ خود انھیں کو کرنا پڑتا ہے۔ ایک دفعہ جانکی کو ٹائی فائڈ ہوگیا تھا تو بیس دن تک متواتر نرسوں کی طرح اس کی تیمار داری کرتے رہےوغیرہ وغیرہ۔\n\nدوسرے روز مناسب و موزوں الفاظ میں میرا شکریہ ادا کرنے کے بعد وہ بمبئی چلی گئی۔ جہاں اس کے لیے ایک نئی اور چمکیلی دنیا کے دروازے کھل گئے تھے۔\n\nپونامیں مجھے تقریباً دو مہینے کہانی کا منظر نامہ تیار کرنے میں لگے۔ حق الخدمت وصول کرکے میں نے بمبئی کا رخ کیا جہاں مجھے ایک نیا کونٹریکٹ مل رہا تھا۔ میں صبح پانچ بجے کے قریب اندھیری پہنچا جہاں ایک معمولی بنگلے میں سعید اور نرائن دونوں اکٹھے رہتے تھے۔ برآمدے میں داخل ہوا تو دروازہ بند پایا۔ میں نے سوچا سو رہے ہوں گے، تکلیف نہیں دینا چاہیے۔ پچھلی طرف ایک دروازہ ہے جو نوکروں کے لیے اکثر کھلا رہتا ہے، میں اس میں سے اندر داخل ہوا۔ باورچی خانہ اور ساتھ والا کمرہ جس میں کھانا کھایا جاتا ہے، حسبِ معمول بے حد غلیظ تھے۔ سامنے والا کمرہ مہمانوں کے لیے مخصوص تھا۔ میں نے اس کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔ کمرے میں دو پلنگ تھے۔ ایک پر سعید اور اس کے ساتھ کوئی اور لحاف اوڑھے سو رہا تھا۔\n\nمجھے سخت نیند آرہی تھی۔ دوسرے پلنگ پر میں کپڑے اتارے بغیر لیٹ گیا ۔پائنتی پر کمبل پڑا تھا۔ یہ میں نے ٹانگوں پر ڈال لیا۔ سونے کا ارادہ ہی کررہا تھاکہ سعید کے پیچھے سے ایک چوڑیوں والا ہاتھ نکلا اور پلنگ کے پاس رکھی ہوئی کرسی کی طرف بڑھنے لگا۔ کرسی پر لٹھے کی سفید شلوار لٹک رہی تھی۔\n\nمیں اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔ سعید کے ساتھ جانکی لیٹی تھی۔ میں نے کرسی پر سے شلوار اٹھائی اور اس کی طرف پھینک دی۔\n\nنرائن کے کمرے میں جا کر میں نے اسے جگایا۔ رات کے دو بجے اس کی شوٹنگ ختم ہوئی تھی، مجھے افسوس ہوا کہ خواہ مخواہ اس غریب کو جگایا۔ لیکن وہ مجھ سے باتیں کرنا چاہتا تھا۔ کسی خاص موضوع پر نہیں۔ مجھے اچانک دیکھ کر بقول اس کے وہ کچھ بیہودہ بکواس کرنا چاہتا تھا، چنانچہ صبح نو بجے تک ہم بیہودہ بکواس میں مشغول رہے جس میں بار بار جانکی کا بھی ذکر آیا۔\n\nجب میں نے انگیا والی بات چھیڑی تو نرائن بہت ہنسا۔ ہنستے ہنستے اس نے کہا ،’’سب سے مزے دار بات تو یہ ہے کہ جب میں نے اس کے کان کے ساتھ منہ لگا کر پوچھا۔ تمہاری انگیا کا سائز کیا ہے تو اس نے بتا دیا؛ کہا، ’’چوبیس۔‘‘\n\n’’اس کے بعد اچانک اسے میرے سوال کی بیہودگی کا احساس ہوا۔مجھے کوسنا شروع کردیا۔ بالکل بچی ہے۔ جب کبھی مجھ سے مڈبھیڑ ہوتی ہے تو سینے پر دوپٹہ رکھ لیتی ہے۔ لیکن منٹو! بڑی وفادار عورت ہے۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا، ’’یہ تم نے کیسے جانا؟‘‘\n\nنرائن مسکرایا،’’عورت، جو ایک بالکل اجنبی آدمی کو اپنی انگیا کا صحیح سائز بتا دے، دھوکے باز ہرگز نہیں ہوسکتی۔‘‘\n\nعجیب و غریب منطق تھی۔ لیکن نرائن نے مجھے بڑی سنجیدگی سے یقین دلایا کہ جانکی بڑی پر خلوص عورت ہے۔ اس نے کہا، ’’منٹو تمہیں معلوم نہیں سعید کی کتنی خدمت کررہی ہے۔ ایسے انسان کی خبر گیری جو پرلے درجے کا بے پروا ہو، آسان کام نہیں۔ لیکن یہ میں جانتا ہوں کہ جانکی اس مشکل کو بڑی آسانی سے نبھا رہی ہے۔ عورت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک پر خلوص اور ایماندار آیا بھی ہے۔ صبح اٹھ کر اس خرذات کو جگانے میں آدھا گھنٹہ صرف کرتی ہے۔ اس کے دانت صاف کراتی ہے، کپڑے پہناتی ہے، ناشتہ کراتی ہے اور رات کو جب وہ رم پی کر بستر پر لیٹتا ہے تو سب دروازے بند کرکے اس کے ساتھ لیٹ جاتی ہے۔۔۔ اور جب اسٹوڈیو میں کسی سے ملتی ہے تو صرف سعید کی باتیں کرتی ہیں۔ سعید صاحب بڑے اچھے آدمی ہیں۔ سعیدصاحب بہت اچھا گاتے ہیں۔ سعید صاحب کا وزن بڑھ گیا ہے۔ سعید صاحب کا پل اوور تیار ہوگیا ہے۔ سعید صاحب کے لیے پشاور سے پوٹھوہاری سینڈل منگوائی ہے۔ سعید صاحب کے سر میں ہلکا ہلکا درد ہے۔ ایسپرو لینے جارہی ہوں۔ سعید صاحب نے آج مجھ پر ایک شعر کہا۔ اور جب مجھ سے مڈبھیڑ ہوتی ہے تو انگیا والی بات یاد کرکے تیوری چڑھا لیتی ہے۔‘‘\n\nمیں تقریباً دس دن سعید اور نرائن کا مہمان رہا۔ اس دوران میں سعید نے جانکی کے متعلق مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ شاید اس لیے کہ ان کا معاملہ کافی پرانا ہو چکا تھا۔ جانکی سے البتہ کافی باتیں ہوئیں۔ وہ سعید سے بہت خوش تھی لیکن اسے اس کی بے پروا طبعیت کا بہت گلہ تھا،’’سعادت صاحب! اپنی صحت کا بالکل ہی خیال نہیں رکھتے۔ بہت بے پرواہیں۔ ہر وقت سوچنا، جو ہوا اس لیے کسی بات کا خیال ہی نہیں رہتا۔ آپ ہنسیں گے، لیکن مجھے ہر روز ان سے پوچھنا پڑتا ہے کہ آپ سنڈاس گئے تھے یا نہیں؟‘‘\n\nنرائن نے مجھ سے جو کچھ کہا تھا، ٹھیک نکلا۔ جانکی ہر وقت سعید کی خبر گیری میں منہمک رہتی تھی۔ میں دس دن اندھیری کے بنگلے میں رہا۔ ان دس دنوں میں جانکی کی بے لوث خدمت نے مجھے بہت متاثر کیا۔ لیکن یہ خیال بار بار آتا رہا کہ عزیز کاکیا ہوا۔ جانکی کو اس کا بھی تو بہت خیال رہتا تھا۔ کیا سعید کو پا کروہ اس کو بھول چکی تھی۔\n\nمیں نے اس سوال کا جواب جانکی ہی سے پوچھ لیا ہوتا اگر میں کچھ دن اور وہاں ٹھہرتا۔ جس کمپنی سے میرا کونٹریکٹ ہونے والا تھا، اس کے مالک سے میری کسی بات پر چخ ہوگئی اور میں دماغی تکدر دور کرنے کے لیے پوناچلا گیا۔ دو ہی دن گزرے ہوں گے کہ بمبے سے عزیز کا تار آیا کہ میں آرہا ہوں۔پانچ چھ گھنٹے کے بعد وہ میرے پاس تھا۔ اور دوسرے روز صبح سویرے جانکی میرے کمرے پر دستک دے رہی تھی۔\n\nعزیز اور جانکی جب ایک دوسرے سے ملے تو انھوں نے دیر سے بچھڑے ہوئے عاشق معشوق کی سرگرمی ظاہر نہ کی۔ میرے اور عزیز کے تعلقات شروع سے بہت سنجیدہ اور متین رہے ہیں، شاید اسی وجہ سے وہ دونوں معتدل رہے۔\n\nعزیز کا خیال تھا ہوٹل میں اٹھ جائے لیکن میرا دوست جس کے یہاں میں ٹھہرا تھا، آؤٹ ڈور شوٹنگ کے لیے کولہا پور گیا تھا، اس لیے میں نے عزیز اور جانکی کو اپنے پاس ہی رکھا۔ تین کمرے تھے۔ ایک میں جانکی سو سکتی تھی ،دوسرے میں عزیز۔ یوں تو مجھے ان دونوں کو ایک ہی کمرہ دینا چاہیے تھا لیکن عزیز سے میری اتنی بے تکلفی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ اس نے جانکی سے اپنے تعلق کو مجھ پر ظاہر بھی نہیں کیا تھا۔\n\nرات کو دونوں سینما دیکھنے چلے گئے۔ میں ساتھ نہ گیا، اس لیے کہ میں فلم کے لیے ایک نئی کہانی شروع کرنا چاہتا تھا۔ دو بجے تک میں جاگتا رہا۔ اس کے بعد سو گیا۔ ایک چابی میں نے عزیز کو دے دی تھی۔ اس لیے مجھے ان کی طرف سے اطمینان تھا۔\n\nرات کو میں چاہے بہت دیر تک کام کروں، ساڑھے تین اور چار بجے کے درمیان ایک دفعہ ضرور جاگتا ہوں اور اٹھ کر پانی پیتا ہوں۔ حسب عادت اس رات کو بھی میں پانی پینے کے لیے اٹھا۔ اتفاق سے جو کمرہ میرا تھا،یعنی جس میں میں نے اپنا بستر جمایا ہوا تھا، عزیز کے پاس تھا اور اس میں میری صراحی پڑی تھی۔ اگر مجھے شدت کی پیاس نہ لگی ہوتی تو عزیز کو تکلیف نہ دیتا۔ لیکن زیادہ وسکی پینے کے باعث میرا حلق بالکل خشک ہورہا تھا، اس لیے مجھے دستک دینی پڑی۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا۔جانکی نے آنکھیں ملتے ملتے دروازہ کھولا اور کہا، ’’سعید صاحب!‘‘ اور جب مجھے دیکھا تو ایک ہلکی سی ’’اوہ‘‘ اس کے منہ سے نکل گئی۔ اندر کے پلنگ پر عزیز سو رہا تھا۔ میں بے اختیار مسکرایا۔ جانکی بھی مسکرائی اور اس کے تیکھے ہونٹ ایک کونے کی طرف سکڑ گئے۔ میں نے پانی کی صراحی لی اور چلا آیا۔\n\nصبح اٹھا تو کمرے میں دھواں جمع تھا۔ باورچی خانے میں جا کر دیکھا تو جانکی کاغذ جلا جلا کر عزیز کے غسل کے لیے پانی گرم کررہی تھی۔ آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر مسکرائی اور انگیٹھی میں پھونکیں مارتی ہوئی کہنے لگی،’’عزیز صاحب ٹھنڈے پانی سے نہائیں تو انھیں زکام ہو جاتا ہے۔ میں نہیں تھی پشاور میں تو ایک مہینہ بیماررہے، اور رہتے بھی کیوں نہیں جب دوا پینی ہی چھوڑ دی تھی۔۔۔ آپ نے دیکھا نہیں کتنے دبلے ہوگئے ہیں۔‘‘\n\nاور عزیز نہا دھو کر جب کسی کام کی غرض سے باہر گیا تو جانکی نے مجھ سے سعید کے نام تار لکھنے کے لیے کہا، ’’مجھے کل یہاں پہنچتے ہی انھیں تار بھیجنا چاہیے تھا۔ کتنی غلطی ہوئی مجھ سے۔ انھیں بہت تشویش ہورہی ہوگی۔‘‘ اس نے مجھ سے تار کا مضمون بنوایا جس میں اپنی بخیریت پہنچنے کی اطلاع تو تھی لیکن سعید کی خیریت دریافت کرنے کا اضطراب زیادہ تھا۔ انجکشن لگوانے کی تاکید بھی تھی۔\n\nچار روز گزر گئے۔ سعید کو جانکی نے پانچ تار روانہ کیے پر اس کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔بمبے جانے کا ارادہ کررہی تھی کہ اچانک شام کو عزیز کی طبیعت خراب ہوگئی۔ مجھ سے سعید کے نام ایک اور تار لکھوا کر وہ ساری رات عزیز کی تیمار داری میں مصروف رہی۔ معمولی بخار تھا لیکن جانکی کو بے حد تشویش تھی۔ میرا خیال ہے اس تشویش میں سعید کی خاموشی کا پیدا کردہ وہ اضطراب بھی شامل تھا۔ وہ مجھ سے اس دوران میں کئی بار کہہ چکی تھی، ’’سعادت صاحب میرا خیال ہے سعید صاحب ضرور بیمار ہیں ورنہ وہ مجھے میرے تاروں اور خطوط کا جواب ضرورلکھتے۔‘‘\n\nپانچویں روز شام کو، عزیز کی موجودگی میں سعید کا تار آیا جس میں لکھا تھا میں بہت بیمار ہوں فوراً چلی آؤ۔ تار آنے سے پہلے جانکی میری کسی بات پر بے تحاشا ہنس رہی تھی۔ لیکن جب اس نے سعید کی بیماری کی خبر سنی تو ایک دم خاموش ہوگئی۔ عزیز کو یہ خاموشی بہت ناگوار معلوم ہوئی کیونکہ جب اس نے جانکی کومخاطب کیا تو اس کے لہجے میں تیزی تھی۔ میں اٹھ کرچلا گیا۔\n\nشام کو جب واپس آیا تو جانکی اور عزیز کچھ اس طرح علاحدہ علاحدہ بیٹھے تھے جیسے ان میں کافی جھگڑا ہوچکاہے۔ جانکی کے گالوں پر آنسوؤں کا میل تھا جب میں کمرے میں داخل ہوا تو ادھر ادھر کی باتوں کے بعد جانکی نے اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا اور عزیز سے کہا، ’’میں جاتی ہوں، لیکن بہت جلد واپس آجاؤں گی۔‘‘ پھر مجھ سے مخاطب ہوئی، ’’سعادت صاحب ان کا خیال رکھیے، ابھی تک بخار دور نہیں ہوا۔‘‘\nمیں اسٹیشن تک اس کے ساتھ گیا۔ بلیک مارکیٹ سے ٹکٹ خرید کر اسے گاڑی پر بٹھایا اور گھر چلا آیا۔ عزیز کو ہلکا ہلکا بخار تھا۔ ہم دونوں دیر تک باتیں کرتے رہے لیکن جانکی کا ذکر نہ آیا۔\n\nتیسرے روز صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب مجھے باہر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ اس کے بعد جانکی کی ۔جلدی جلدی لفظوں کو اوپر تلے کرتی ہوئی وہ عزیز سے پوچھ رہی تھی کہ اس کی طبیعت اب کیسی ہے اور کیا اس کی غیر موجودگی میں اس نے باقاعدہ دوا پی تھی یا نہیں۔ عزیز کی آواز میرے کانوں تک نہ پہنچی لیکن آدھ گھنٹے بعد جب کہ نیند سے میری آنکھیں مندرہی تھیں، عزیز کی خفگی آمیز باتوں کا دبا دبا شور سنائی دیا۔ سمجھ میں تو کچھ نہ آیا لیکن اتنا پتہ چل گیا کہ وہ جانکی سے اپنی ناراضگی کا اظہار کررہا تھا۔\n\nصبح دس بجے عزیز نے ٹھنڈے پانی سے غسل کیا اور جانکی کا گرم کیا ہوا پانی ویسے ہی غسل خانے میں پڑا رہا۔ جب میں نے جانکی سے اس بات کا ذکر کیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ نہا دھو کر عزیز باہر چلا گیا۔ جانکی کمرے میں پلنگ پر لیٹی رہی۔ سہ پہر کو تین بجے کے قریب جب میں اس کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ اسے بہت تیز بخار ہے۔ ڈاکٹر بلانے کے لیے باہر نکلا تو عزیز اکےمیں اسباب رکھوا رہا تھا۔میں نے پوچھا،’’کہاں جارہے ہو۔ تو اس نے میرے ساتھ ہاتھ ملایااور کہا، بمبے! انشاء اللہ پھر ملاقات ہوگی۔ ‘‘یہ کہہ کروہ اکے میں بیٹھا اور چلا گیا۔ مجھے یہ بتانے کا موقع ہی نہ ملا کہ جانکی کو بہت تیز بخار ہے۔\n\nڈاکٹر نے جانکی کو اچھی طرح دیکھا اور مجھے بتایا کہ اسے برونکائٹس ہے، اگر احتیاط نہ برتی تو نمونیا ہونے کا خطرہ ہے۔ ڈ اکٹر نسخہ دے کر چلا گیا تو جانکی نے عزیز کے بارے میں پوچھا۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ اسے نہ بتاؤں لیکن چھپانے سے کوئی فائدہ نہیں تھا، اس لیے میں نے کہہ دیا کہ چلا گیا ہے۔ یہ سن کر اسے بہت صدمہ ہوا۔ دیر تک وہ تکیے میں سر دے کر روتی رہی۔\n\nدوسرے روز صبح گیارہ بجے کے قریب جب کہ جانکی کا بخار ایک ڈگری ہلکا تھا اور طبیعت بھی کسی قدر درست تھی، بمبے سے سعید کا تار آیا جس میں بڑے درشت لفظوں میں لکھا تھا،’’یاد رہے کہ تم نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔‘‘ میں بہت منع کرتا رہا لیکن وہ تیز بخار ہی میں پونا ایکسپریس سے بمبے روانہ ہوگئی۔\n\nپانچ چھ دنوں کے بعد نرائن کا تار آیا،’’ ایک ضروری کام ہے، فوراً بمبےچلے آؤ۔‘‘ میرا خیال تھا کہ کسی پروڈیوسر سے اس نے میرے کونٹریکٹ کی بات کی ہوگی، لیکن بمبےپہنچ کر معلوم ہوا کہ جانکی کی حالت بہت نازک ہے۔ برونکائٹس بگڑ کر نمونیا میں تبدیل ہوگیا تھا۔ اس کے علاوہ جب وہ پونا سے بمبے پہنچی تھی تو اندھیری جانے کے لیے چلتی ٹرین میں چڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے گر پڑی تھی جس کے باعث اس کی دونوں رانیں بہت بری طرح چھل گئی تھیں۔\n\nجانکی نے اس جسمانی تکلیف کو بڑی بہادری سے برداشت کیا۔ لیکن جب وہ اندھیری پہنچی اور سعید نے اس کے بندھے ہوئے اسباب کی طرف اشارہ کرکے کہا،’’مہربانی کرکے یہاں سے چلی جاؤ‘‘ تو اسے بہت روحانی تکلیف ہوئی۔ نرائن نے مجھے بتایا،’’سعید کے منہ سے یہ برف جیسے ٹھنڈے لفظ سن کر وہ ایک لحظے کے لیے بالکل پتھر ہوگئی۔ میرا خیال ہے اس نے تھوڑی دیر کے بعد یہ ضرور سوچا ہوگا میں گاڑی کے نیچے آکر کیوں نہ مر گئی۔ سعادت تم کچھ بھی کہو مگر سعید عورتوں سے جیسا سلوک کرتا ہے بہت ہی نامردانہ ہے۔ بے چاری کو بخار تھا۔ چلتی ریل سے گر پڑی تھی اور وہ بھی اس خر ذات کے پاس جلدی پہنچنے کے باعث۔۔۔ لیکن اس نے ان باتوں کا خیال ہی نہ کیا اور ایک بار پھر اس سے کہا۔ مہربانی کرکے یہاں سے چلی جاؤ۔۔۔ اس کے لہجے میں منٹو ،کسی جذبے کا اظہار نہیں تھا۔ بس ایسا تھا جیسے لائینوٹائپ مشین سے اخبار کی ایک سطر ڈھل کر باہر نکل آئے۔ مجھے بہت دکھ ہوا، چنانچہ میں وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ شام کو جب واپس آیا تو جانکی موجود نہیں تھی لیکن سعید پلنگ پر بیٹھا، رم کا گلاس سامنے رکھے ایک نظم لکھنے میں مصروف تھا۔\n\nمیں نے اس سے کوئی بات نہ کی اور اپنے کمرے میں چلا گیا دوسرے روز اسٹوڈیو سے معلوم ہوا کہ جانکی ایک اکسٹرا لڑکی کے گھر خطرناک حالت میں پڑی ہے۔ میں نے اسٹوڈیو کے مالک سے بات کی اور اسے ہسپتال بھجوا دیا۔ کل سے وہیں ہے، بتاؤ اب کیا کیا جائے۔ میں تو اسے دیکھنے جا نہیں سکتا اس لیے کہ وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے۔۔۔ تم جاؤ اور دیکھ کر آؤ کس حالت میں ہے؟‘‘\n\nمیں ہسپتال گیا تو اس نے سب سے پہلے عزیز اور سعید کے متعلق پوچھا۔ جو سلوک ان دونوں نے اس کے ساتھ کیا تھا، اس کے بعد اس کے پرخلوص استفسار نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اس کی حالت نازک تھی۔ ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ دونوں پھیپھڑوں پر ورم ہے اور جان کا خطرہ ہے لیکن مجھے حیرت ہے کہ جانکی اتنی بڑی تکلیف مردانہ وار برداشت کررہی تھی۔ہسپتال سے لوٹا اور اسٹوڈیو میں نرائن کو تلاش کیا تو معلوم ہوا وہ صبح ہی سے غائب ہے۔ شام کو جب وہ گھر واپس آیا تو اس نے مجھے تین چھوٹی چھوٹی شیشیاں دکھائیں جن کا منہ ربڑ سے بند تھا،’’جانتے ہو یہ کیا ہے؟‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’معلوم نہیں،انجکشن سے لگتے ہیں۔‘‘\n\nنرائن مسکرایا، ’’انجکشن ہی ہیں لیکن پنسلین کے۔‘‘\n\nمجھے سخت حیرت ہوئی کیونکہ پنسلین اس وقت بہت ہی قلیل مقدار میں تیار ہوتی تھی۔ امریکہ اور انگلستان میں جتنی بنتی ہے، تھوڑی تھوڑی ملٹری ہسپتالوں میں تقسیم کردی جاتی تھی۔ چنانچہ میں نے نرائن سے پوچھا،’’یہ تو بالکل نایاب چیز ہے، تمہیں کیسے مل گئی؟‘‘اس نے مسکرا کر جواب دیا،’’بچپن میں گھر کی تجوری کھول کر روپے چرانا میرے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ آج دائیں ہاتھ سے ملٹری ہوسپٹل کا ریفریجریٹر کھول کر میں نے یہ تین بلب چرائے ہیں۔۔۔ چلو جلدی کرو جانکی کو ہسپتال سے ہوٹل میں لے چلیں۔‘‘\n\nٹیکسی لے کر میں ہسپتال گیا اور جانکی کو اس ہوٹل میں لے گیا جس میں نرائن دو کمروں کا پہلے ہی بندوبست کر چکا تھا۔ جانکی نے مجھ سے کئی بار نحیف آواز میں پوچھا کہ میں اسے ہوٹل میں کیوں لایا ہوں۔ ہر بار میں نے یہی جواب دیا، ’’تمہیں معلوم ہو جائے گا۔‘‘ اور جب اسے معلوم ہوا، یعنی جب نرائن سرنج ہاتھ میں لیے اسے ٹیکہ لگانے کے لیے اس کمرے میں آیا تو نفرت سے ایک طرف اس نے منہ پھیر لیا اور مجھ سے کہا، ’’سعادت صاحب، اس سے کہئے چلا جائے یہاں سے۔‘‘\n\nنرائن مسکرایا، ’’جانِ من غصّہ تھوک دو۔ یہاں تمہاری جان کا سوال ہے۔‘‘ جانکی کو طیش آگیا۔ نقاہت کے باوجود اٹھ کر بیٹھ گئی،’’سعادت صاحب، میں جاتی ہوں یہاں سے یا آپ اس حرام خور کو نکالیے باہر۔‘‘\n\nنرائن نے دھکا دے کر اسے لٹا دیا اور مسکراتے ہوئے کہا،’’یہ حرام زادہ تمہیں انجکشن لگا کر ہی رہے گا۔۔۔ خبردار جو تم نے مزاحمت کی۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ایک ہاتھ سے مضبوطی کے ساتھ جانکی کا بازو پکڑا، سرنج مجھے دے کر اس نے اسپرٹ میں روئی بھگوئی اور اس کا ڈنٹر صاف کیا۔ اس کے بعد روئی مجھے دے کر اس نے سرنج کی سوئی اس کے بازو کی مچھلی میں داخل کردی وہ چیخی، لیکن پنسلین اس کے جسم میں جا چکی تھی۔جب نرائن نے جانکی کا بازو اپنی مضبوط گرفت سے علاحدہ کیا تو اس نے رونا شروع کردیا۔نرائن نے اس کی بالکل پروا نہ کی اور اسپرٹ لگی روئی سے انجکشن والا حصّہ پونچھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔\n\nپہلا انجکشن رات کے نو بجے دیا تھا۔ دوسرا تین گھنٹے بعد دینا تھا۔ نرائن نے مجھے بتایا اگر تین کے ساڑھے تین گھنٹے ہوگئے تو پنسلین کا اثر بالکل زائل ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ جاگتا رہا، تقریباً ساڑھے گیارہ بجے اس نے اسٹوو جلایا، سرنج ابالی اور اس میں دوا بھری۔جانکی خرخراہٹ بھرے سانس لے رہی تھی۔ آنکھیں بند تھیں۔ نرائن نے دوسرے بازو کو اسپرٹ سے صاف کیا اورسرنج کی سوئی اندرکھبو دی۔ جانکی کے ہونٹوں سے پتلی سی چیخ نکلی۔ نرائن نے دوا جسم کے اندر بھیج کر سوئی باہر نکالی اور اسپرٹ سے انجکشن والی جگہ صاف کرتے ہوئے مجھ سے کہا، ’’اب تیسرا تین بجے۔‘‘\n\nمجھے معلوم نہیں اس نے تیسرا اورچوتھا انجکشن کب دیا۔ لیکن جب بیدار ہوا تو اسٹوو جلنے کی آواز آرہی تھی اور نرائن ہوٹل کے بیرے سے برف کے لیے کہہ رہا تھا کیونکہ اسے پنسلین کو ٹھنڈا رکھنا تھا۔\n\nنو بجے پانچواں انجکشن دینے کے لیے جب ہم دونوں جانکی کے کمرے میں گئے تو وہ آنکھیں کھولے لیٹی تھی۔ اس نے نفرت بھری نگاہوں سے نرائن کی دیکھا لیکن منہ سے کچھ نہ کہا۔نرائن مسکرایا، ’’کیوں جان من! کیا حال ہے؟‘‘\n\nجانکی خاموش رہی۔\n\nنرائن اس کے پاس کھڑا ہوگیا، ’’یہ انجکشن جو میں تمہیں دے رہا ہوں عشق کے انجکشن نہیں۔ تمہارا نمونیہ دور کرنے کے انجکشن ہیں جو میں نے ملٹری ہوسپٹل سے بڑی صفائی کے ساتھ چرائے ہیں۔۔۔ لو، اب ذرا الٹی لیٹ جاؤ اور کولہے پر سے شلوار کو ذرا نیچے کھسکا دو۔۔۔ کبھی لیا ہے یہاں انجکشن؟‘‘ یہ کہہ کر اس نے جانکی کے کولہے پر ایک جگہ گوشت کے اندر انگلی کھبوئی جانکی کی آنکھوں میں مرعوب سی نفرت پیدا ہوئی۔ جب اس نے کروٹ بدلی تو نرائن نے کہا، ’’شاباش!‘‘ پیشتر اس کے کہ جانکی کوئی مزاحمت کرے نرائن نے ایک ہاتھ سے اس کی شلوار نیچے کھسکائی اور مجھ سے کہا، ’’اسپرٹ لگاؤ!‘‘ جانکی نے ٹانگیں چلانا شروع کیں تو نرائن نے کہا، ’’جانکی! ٹانگیں وانگیں مت چلاؤ۔۔۔ میں انجکشن لگاکے رہوں گا۔‘‘ غرضیکہ پانچواں انجکشن دے دیا گیا۔ پندرہ اور باقی تھے جو نرائن کو ہر تین گھنٹے کے بعد دینے تھے اور یہ پینتالیس گھنٹے کا کام تھا۔\n\nپانچ انجکشن سے گو جانکی کو بظاہر کوئی نمایاں فائدہ نہیں پہنچا تھا لیکن نرائن کو پنسلین کے اعجاز کا یقین تھا اور اسے پوری پوری امید تھی کہ وہ بچ جائے گی۔ ہم دونوں بہت دیر تک اس نئی دوا کے متعلق باتیں کرتے رہے۔ گیارہ بجے کے قریب نرائن کا نوکر میرے نام ایک تار لے کر آیا۔ پونا سے تھا۔ ایک فلم کمپنی نے مجھے فوراً بلایا تھا اس لیے مجھے جانا پڑا۔\n\nدس پندرہ دنوں کے بعد کمپنی ہی کے کام سے میں بمبئی آیا۔ کام ختم کرکے جب میں اندھیری پہنچا تو سعید سے معلوم ہوا کہ نرائن ابھی تک ہوٹل ہی میں ہے۔ ہوٹل بہت دور، شہر میں تھا اس لیے رات میں وہیں اندھیری میں رہا۔\n\nصبح آٹھ بجے وہاں پہنچا تو نرائن کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ اندر داخل ہوا تو کمرہ خالی پایا۔ دوسرے کمرے کا دروازہ کھولا تو ایک دم آنکھوں کے سامنے کچھ ہوا۔ جانکی مجھے دیکھتے ہی لحاف کے اندر گھس گئی۔ اور نرائن جو اس کے ساتھ لیٹا تھا،مجھے واپس جاتے دیکھ کر کہا، ’’آؤ منٹو آؤ۔۔۔ میں ہمیشہ دروازہ بند کرنا بھول جاتا ہوں۔۔۔ آؤ یار۔۔۔ بیٹھو اس کرسی پر، لیکن یہ جانکی کی شلوار دے دینا۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86%DA%A9%DB%8C"} {"title": "جانے دے ٹک چمن میں مجھے اے صبا سرک", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جانے دے ٹک چمن میں مجھے اے صبا سرک\nکیوں چھیڑتی ہے تو مجھے نا آشنا سرک\n\nجیسے اندھیری رات میں بجلی چمک گئی\nاس رخ سے شب گئی جو وہ زلف دوتا سرک\n\nآثار مرگ مجھ میں ہویدا ہوئے مگر\nجب پاس سے گئے مرے سب آشنا سرک\n\nکہتا ہے وقت نزع مریض اس کا اس سے یوں\nلگنے دے میری آنکھ تو اس دم ذرا سرک\n\nمیت سے میری گزرے ہے جس دم وہ بعد قتل\nلاشہ کہے ہے خون سے دامن بچا سرک\n\nپوروں پہ ڈورے باندھے ہیں اس پر شعور نے\nتا اس کے فندقوں کی نہ جاوے حنا سرک\n\nشب اختلاط سے وہ مرے کیا خفا ہوا\nحد سے گئی زیادہ جو انگشت پا سرک\n\nدھڑکے ہے بے طرح سے یہ پہلو میں رات دن\nڈرتا ہوں زخم دل کی نہ جاوے دوا سرک\n\nکرنے دے میرے خون کو آرام خاک میں\nاے شور حشر اس کو ابھی مت جگا سرک\n\nیہ کیا غضب ہوا کہ نہ خنجر لگا نہ تیر\nپہلو سے آپھی آپ مرا دل گیا سرک\n\nخواب عدم سے میں ابھی چونکا ہوں دور ہو\nاے صبح غم نہ اپنا مجھے منہ دکھا سرک\n\nپیچھے مرے پڑا ہے تو کیوں گھر کی راہ لے\nرسوا کرے گا کیا مجھے بہر خدا سرک\n\nکیا بے حیا ہے جو نہیں ٹلتا تو مصحفیؔ\nسو بار میں نے تجھ کو دوانے کہا سرک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%92_%D9%B9%DA%A9_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%B3%D8%B1%DA%A9"} {"title": "جانے لگے ہیں اب دم سرد آسماں تلک", "poet_page": "مصنف:مظفر علی اسیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جانے لگے ہیں اب دم سرد آسماں تلک\nٹھنڈی سڑک بنی ہے یہاں سے وہاں تلک\n\nجلتے ہیں غم سے جان و دل و سینہ و جگر\nچاروں طرف ہے آگ بجھاؤں کہاں تلک\n\nبیمار ہو گیا ہوں میں قحط شراب سے\nللہ لے چلو مجھے پیر مغاں تلک\n\nمسجد سے دور ہے یہ دکاں مے فروش کی\nآتی نہیں ہے کان میں بانگ اذاں تلک\n\nنکلا جو دم تو راحت و آرام ہے اسیرؔ\nآوارگی ہے جسم کی روح رواں تلک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D9%85_%D8%B3%D8%B1%D8%AF_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%84%DA%A9"} {"title": "جانے والا اضطراب دل نہیں", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جانے والا اضطراب دل نہیں\nیہ تڑپ تسکین کے قابل نہیں\n\nجان دے دینا تو کچھ مشکل نہیں\nجان کا خواہاں مگر اے دل نہیں\n\nتجھ سے خوش چشم اور بھی دیکھے مگر\nیہ نگہ یہ پتلیاں یہ تل نہیں\n\nرہتے ہیں بے خود جو تیرے عشق میں\nوہ بہت ہشیار ہیں غافل نہیں\n\nجو نہ سسکے وہ ترا کشتہ ہے کب\nجو نہ تڑپے وہ ترا بسمل نہیں\n\nہجر میں دم کا نکلنا ہے محال\nآپ آ نکلیں تو کچھ مشکل نہیں\n\nآئیے حسرت بھرے دل میں کبھی\nکیا یہ محفل آپ کی محفل نہیں\n\nہم تو زاہد مرتے ہیں اس خلد پر\nجو بہشتوں میں ترے شامل نہیں\n\nوہ تو وہ تصویر بھی اس کی جلالؔ\nکہتی ہے تم بات کے قابل نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جانے والے نہ ہم اس کوچے میں آنے والے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جانے والے نہ ہم اس کوچے میں آنے والے\nاچھے آئے ہمیں دیوانہ بنانے والے\n\nتو سلامت رہے دل میں اتر آنے والے\nترے صدقے مری آنکھوں میں سمانے والے\n\nایک ہم لاکھ حسینوں سے عوض لینے کو\nایک دل لاکھ حسیں دل کے ستانے والے\n\nجب ملے خضر ملے ہم سے اسی وضع کے ساتھ\nہائے کیا لوگ ہیں یہ اگلے زمانے والے\n\nتیر مژگاں میں چھدے کب جگر و دل دیکھے\nتیری ناوک تو ہیں بے پر کی اڑانے والے\n\nبن گیا میرے لئے حشر کا دن وصل کی رات\nمل گئے آج مجھے میرے ستانے والے\n\nنگہ ناز ادھر ہے نگہ شوق ادھر\nہم تو بجلی کو ہیں بجلی سے لڑانے والے\n\nباندھ دے گی یہ حنا ہاتھ جو رحم آئے گا\nکیا بجھائیں گے لگی آگ بجھانے والے\n\nبار عصیاں سے مرے ساتھ پسے اور بھی چار\nدب گئے ہائے جنازے کے اٹھانے والے\n\nساتھ صحبت کے وہ سب حرف و حکایات کئے\nسننے والے ہیں نہ افسانے سنانے والے\n\nکم سنی پر ترس آیا نہ شب وصل ریاضؔ\nاف رے بے درد حسینوں کے ستانے والے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "جاوداں غم عہد عشرت تیز پا", "poet_page": "مصنف:ہوش بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاوداں غم عہد عشرت تیز پا\nجانے کیا ہے زندگی کا مدعا\n\nاٹھ رہے ہیں دم بہ دم طوفان غم\nایک دل ہے میں ہوں اور میرا خدا\n\nہے غم دل منزل آغاز میں\nدیکھیے ہوتا ہے اب انجام کیا\n\nحال دل پر آپ کیوں ہیں نوحہ گر\nمیں نے پائی ہے محبت کی سزا\n\nڈوبتی ہے میری کشتی ڈوب جائے\nکون ہو منت پذیر ناخدا\n\nآپ بھی آخر نہ میرے ہو سکے\nاور اب کس سے ہو امید وفا\n\nہوشؔ میں ناآشنائے انتقام\nاپنے دشمن کو بھی دیتا ہوں دعا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%88%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%BA%D9%85_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%D8%AA%DB%8C%D8%B2_%D9%BE%D8%A7"} {"title": "جاوید سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "غارت گر دیں ہے یہ زمانہ\nہے اس کی نہاد کافرانہ\nدربارِ شہنشہی سے خوشتر\nمردانِ خدا کا آستانہ\nلیکن یہ دَورِ ساحری ہے\nانداز ہیں سب کے جادُوانہ\nسرچشمۂ زندگی ہُوا خشک\nباقی ہے کہاں مئے شبانہ!\nخالی اُن سے ہُوا دبِستاں\nتھی جن کی نگاہ تازیانہ\nجس گھر کا مگر چراغ ہے تُو\nہے اُس کا مذاق عارفانہ\nجوہر میں ہو ’لااِلہ‘ تو کیا خوف\nتعلیم ہو گو فرنگیانہ\nشاخِ گُل پر چہک ولیکن\nکر اپنی خودی میں آشیانہ!\nوہ بحر ہے آدمی کہ جس کا\nہر قطرہ ہے بحرِ بیکرانہ\nدہقان اگر نہ ہو تن آساں\nہر دانہ ہے صد ہزار دانہ\n“غافل منشیں نہ وقتِ بازی ست\nوقتِ ہُنر است و کارسازی ست”\n\nسینے میں اگر نہ ہو دلِ گرم\nرہ جاتی ہے زندگی میں خامی\nنخچیر اگر ہو زِیرک و چُست\nآتی نہیں کام کُہنہ دامی\nہے آبِ حیات اسی جہاں میں\nشرط اس کے لیے ہے تَشنہ کامی\nغیرت ہے طریقتِ حقیقی\nغیرت سے ہے فقر کی تمامی\nاے جانِ پدر! نہیں ہے ممکن\nشاہیں سے تدرَو کی غلامی\nنایاب نہیں متاعِ گُفتار\nصد انوریؔ و ہزار جامیؔ!\nہے میری بساط کیا جہاں میں\nبس ایک فغانِ زیر بامی\nاک صدقِ مقال ہے کہ جس سے\nمَیں چشمِ جہاں میں ہُوں گرامی\nاللہ کی دین ہے، جسے دے\nمیراث نہیں بلند نامی\nاپنے نورِ نظر سے کیا خوب\nفرماتے ہیں حضرتِ نظامیؔ\n“جاے کہ بزرگ بایدت بود\nفرزندی من نداردت سود”\n\nمومن پہ گراں ہیں یہ شب و روز\nدِین و دولت، قِمار بازی!\nناپید ہے بندۂ عمل مست\nباقی ہے فقط نفَس درازی\nہِمّت ہو اگر تو ڈھُونڈ وہ فقر\nجس فقر کی اصل ہے حجازی\nاُس فقر سے آدمی میں پیدا\nاللہ کی شانِ بے نیازی\nکُنِجشک و حمام کے لیے موت\nہے اُس کا مقام شاہبازی\nروشن اُس سے خِرد کی آنکھیں\nبے سُرمۂ بُوعلی و رازی\nحاصل اُس کا شکوہِ محمود\nفطرت میں اگر نہ ہو ایازی\nتیری دُنیا کا یہ سرافیل\nرکھتا نہیں ذوقِ نَے نوازی\nہے اس کی نگاہِ عالم آشوب\nدرپردہ تمام کارسازی\nیہ فقرِ غیُور جس نے پایا\nبے تیغ و سناں ہے مردِ غازی\nمومن کی اسی میں ہے امیری\nاللہ سے مانگ یہ فقیری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%AF_%D8%B3%DB%92"} {"title": "جاوید کے نام (خودی کے ساز میں ہے عُمرِ جاوداں کا سُراغ)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "خودی کے ساز میں ہے عُمرِ جاوداں کا سُراغ\nخودی کے سوز سے روشن ہیں اُمتوں کے چراغ\nیہ ایک بات کہ آدم ہے صاحبِ مقصود\nہزار گُونہ فروغ و ہزار گُونہ فراغ!\nہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی\nخراب کر گئی شاہیں بچے کو صُحبتِ زاغ\nحیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی\nخدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ\nٹھہَر سکا نہ کسی خانقاہ میں اقبالؔ\nکہ ہے ظریف و خوش اندیشہ و شگُفتہ دماغ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%28%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D9%8F%D9%85%D8%B1%D9%90_%D8%AC%D8%A7%D9%88%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D9%8F%D8%B1%D8%A7%D8%BA%29"} {"title": "جاوید کے نام (دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر\nنیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر\nخدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو\nسکُوتِ لالہ و گُل سے کلام پیدا کر\nاُٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں\nسفالِ ہند سے مِینا و جام پیدا کر\nمیں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر\nمرے ثمر سے میء لالہ فام پیدا کر\nمرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے\nخودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%28%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%90_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%29"} {"title": "جاڑے میں کیا مزہ ہو وہ تو سمٹ رہے ہوں", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "جاڑے میں کیا مزہ ہو وہ تو سمٹ رہے ہوں\nاور کھول کر رضائی ہم بھی لپٹ رہے ہوں\n\nاب آپ کی دموں میں ہم آ چکے ہٹو بھی\nخوش آوے پیارے کس کو جب دل ہی کٹ رہے ہوں\n\nکیوں کر زباں سے ان کی اپنا بچاؤ ہووے\nذات و صفات سب کے جب وہ اکٹ رہے ہوں\n\nآتے تھے ساتھ میرے دیکھو تو کیا ہوئے وہ\nایسا نہ ہو کہ پیچھے رشتہ میں کٹ رہے ہوں\n\nتب سیر دیکھے کوئی باہم لڑائیوں کے\nکھینچے ہوں وہ تو تیغا اور ہم بھی ڈٹ رہے ہوں\n\nکیا کر سکیں دوانے حال دل پریشاں\nزلفوں کے بال ان کے جب آپ لٹ رہے ہوں\n\nآپس میں روٹھنے کا انداز ہو تو یہ ہو\nوہ ہم سے پھٹ رہے ہوں ہم ان سے پھٹ رہے ہوں\n\nجی چاہتا ہے اے دل اک ایسی رات آوے\nمطلع ہو صاف شہرا بادل بھی پھٹ رہے ہوں\n\nسوتے ہوں چاندنی میں وہ منہ لپیٹے اور ہم\nشبنم کا وہ دوپٹہ پٹھے الٹ رہے ہوں\n\nپنجم غزل اب انشاؔ انداز کی سنا دی\nآغوش میں معانی جس کے لپٹ رہے ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%DA%91%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B2%DB%81_%DB%81%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D9%85%D9%B9_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "جاڑے کی بہاریں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جب ماہ اگھن کا ڈھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی\nاور ہنس ہنس پوس سنبھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی\nدن جلدی جلدی چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی\nاور پالا برف پگھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی\nچلا غم ٹھونک اچھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی\nتن ٹھوکر مار پچھاڑا ہو اور دل سے ہوتی ہو کشتی سی\nتھر تھر کا زور اکھاڑا ہو بجتی ہو سب کی بتیسی\nہو شور پھپو ہو ہو کا اور دھوم ہو سی سی سی سی کی\nکلے پہ کلا لگ لگ کر چلتی ہو منہ میں چکی سی\nہر دانت چنے سے دلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی\nہر ایک مکاں میں سردی نے آ باندھ دیا ہو یہ چکر\nجو ہر دم کپ کپ ہوتی ہو ہر آن کڑاکڑ اور تھر تھر\nپیٹھی ہو سردی رگ رگ میں اور برف پگھلتا ہو پتھر\nجھڑ باندھ مہاوٹ پڑتی ہو اور تس پر لہریں لے لے کر\nسناٹا باؤ کا چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی\nہر چار طرف سے سردی ہو اور صحن کھلا ہو کوٹھے کا\nاور تن میں نیمہ شبنم کا ہو جس میں خس کا عطر لگا\nچھڑکاؤ ہوا ہو پانی کا اور خوب پلنگ بھی ہو بھیگا\nہاتھوں میں پیالہ شربت کا ہو آگے اک فراش کھڑا\nفراش بھی پنکھا جھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی\nجب ایسی سردی ہو اے دل تب روز مزے کی گھاتیں ہوں\nکچھ نرم بچھونے مخمل کے کچھ عیش کی لمبی راتیں ہوں\nمحبوب گلے سے لپٹا ہو اور کہنی، چٹکی، لاتیں ہوں\nکچھ بوسے ملتے جاتے ہوں کچھ میٹھی میٹھی باتیں ہوں\nدل عیش وطرب میں پلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی\nہو فرش بچھا غالیچوں کا اور پردے چھوٹے ہوں آ کر\nاک گرم انگیٹھی جلتی ہو اور شمع ہو روشن اور تس پر\nوہ دلبر، شوخ، پری، چنچل، ہے دھوم مچی جس کی گھر گھر\nریشم کی نرم نہالی پر سو ناز و ادا سے ہنس ہنس کر\nپہلو کے بیچ مچلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی\nترکیب بنی ہو مجلس کی اور کافر ناچنے والے ہوں\nمنہ ان کے چاند کے ٹکڑے ہوں تن ان کے روئی کے گالے ہوں\nپوشاکیں نازک رنگوں کی اور اوڑھے شال دو شالے ہوں\nکچھ ناچ اور رنگ کی دھومیں ہوں عیش میں ہم متوالے ہوں\nپیالے پر پیالہ چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی\nہر ایک مکاں ہو خلوت کا اور عیش کی سب تیاری ہو\nوہ جان کہ جس سے جی غش ہو سو ناز سے آ جھنکاری ہو\nدل دیکھ نظیرؔ اس کی چھب کو ہر آن ادا پر واری ہو\nسب عیش مہیا ہو آ کر جس جس ارمان کی باری ہو\nجب سب ارمان نکلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%DA%91%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جاگ اور دیکھ ذرا عالم ویراں میرا", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاگ اور دیکھ ذرا عالم ویراں میرا\nصبح کے بھیس میں نکلا ہے گریباں میرا\n\nفطرت آرائے جنوں ہے تن عریاں میرا\nمیری بیچارگیاں ہیں سر و ساماں میرا\n\nغلبۂ یاس بجا شدت حرماں تسلیم\nمیں سمجھتا ہوں کہ مرنا نہیں آساں میرا\n\nتوڑ کلیاں مگر اے خانہ بر انداز چمن\nعرض یہ ہے کہ نشیمن نہ ہو عریاں میرا\n\nتمہیں کیوں مد نظر اب ہے خرابی اس کی\nتم تو کہتے تھے کہ گھر ہے دل انساں میرا\n\nتھا یہ فیض نگہ لطف و کرم اے سیمابؔ\nہو گیا حرف غلط دفتر عصیاں میرا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%DA%AF_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "جاگا وہاں نصیب عدو کا تمام رات", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاگا وہاں نصیب عدو کا تمام رات\nمیں بے قراریوں سے نہ سویا تمام رات\n\nمیری گلی سے اس کو لگا لے گیا رقیب\nمیں دیکھتا ہی رہ گیا رستہ تمام رات\n\nتھا بزم غیر میں جو وہاں شغل دور جام\nدرد جگر کا تھا یہاں دورا تمام رات\n\nمدت ہوئی کہ خواب سے واقف نہیں ہے آنکھ\nرہتا ہے زلف یار کا سودا تمام رات\n\nپایا نہ تیرگیٔ شب ہجر میں پتا\nمجھ کو اجل نے خوب ہی ڈھونڈا تمام رات\n\nدم بھر بھی میرے دل نے نہ سونے دیا اسے\nرویا کیا یہ ہجر کا دھڑکا تمام رات\n\nسوہان روح تھا شب وعدہ میں انتظار\nلیکن وہ حیلہ جو نہیں آیا تمام رات\n\nیہ حسن یار نے کیا حیراں شب وصال\nتکتا ہی رہ گیا رخ زیبا تمام رات\n\nمیرا خیال ہجر کی شب وصل بن گیا\nپیش نگاہ یار کو رکھا تمام رات\n\nاکبرؔ شب فراق میں جاگے مرے نصیب\nمیں نے اسی کو خواب میں دیکھا تمام رات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%DA%AF%D8%A7_%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "جاگیر اگر بہت نہ ملی ہم کوں غم نہیں", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاگیر اگر بہت نہ ملی ہم کوں غم نہیں\nحاصل ہمارے ملک قناعت کا کم نہیں\n\nاس ساتھ مہ رخاں کو نہیں کچھ برابری\nیوسف سے یہ نگار پری زاد کم نہیں\n\nخوش صورتاں سے کیا کروں میں آشنائی اب\nمجھ کو تو ان دنوں میں میسر درم نہیں\n\nدل باندھتے نہیں ہیں ہمارے ملاپ پر\nمہ‌ طلعتاں میں مجھ کو تو اب کچھ بھرم نہیں\n\nملتے ہو سب کے جا کے گھر اور ہم سوں ہو کنار\nکچھ ہم تو ان چکوروں سے اے ماہ کم نہیں\n\nظاہر کے دوست آتے نہیں کام وقت پر\nتلوار کاٹ کیا کرے جس کو جو دم نہیں\n\nفائزؔ کو بھایا مصرع یکرنگؔ اے سجن\nگر تم ملو گے ان ستی دیکھو گے ہم نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%DB%8C_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جاں اپنی وقف زحمت ہجراں کئے ہوئے", "poet_page": "مصنف:ناصری لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نذر احباب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "جاں اپنی وقف زحمت ہجراں کئے ہوئے\nعاشق ہر اک بلا کو ہیں مہماں کئے ہوئے\n\nسب منتشر ہیں میرے جنازے کو دیکھ کر\nتم ساتھ ہو جو حال پریشاں کئے ہوئے\n\nاب تو نفس کی آمد و شد بھی ہوئی ہے بند\nایسی جگہ ہے سینے میں پیکاں کئے ہوئے\n\nکس واسطے یہ محویت آئینہ دیکھ کر\nکیوں آپ اک جہاں کو ہیں حیراں کئے ہوئے\n\nہنگام احتزار ہے اے دم ذرا ٹھہر\nاس وقت ہوں تصور جاناں کئے ہوئے\n\nان مشکلوں پہ سب کی تن آسانیاں فدا\nجن کو تری نگاہ ہو آساں کئے ہوئے\n\nمجمع کا خوف روز قیامت ہے ناصریؔ\nبیکار ہو وصال کا ارماں کئے ہوئے", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%88%D9%82%D9%81_%D8%B2%D8%AD%D9%85%D8%AA_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "جاں بخش لب کے عشق میں ایذا اٹھائیے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاں بخش لب کے عشق میں ایذا اٹھائیے\nبیمار ہو کے ناز مسیحا اٹھائیے\n\nقدسی نگاہ لطف کے امیدوار ہیں\nآنکھیں تو سوئے عالم بالا اٹھائیے\n\nاب کے بہار میں جو ہمیں لے چلے جنوں\nچن چن کے داغ لالۂ صحرا اٹھائیے\n\nخامہ سے کام لیجئے ہنگام فکر شعر\nمیدان کارزار میں گھوڑا اٹھائیے\n\nدکھلائے حسن یار کا جلوہ ہمیں جو عشق\nکس کس طرح سے لطف تماشا اٹھائیے\n\nتجھ سا حسیں ہو یار تو کیوں کر نہ اس کے پھر\nناز بجا و غمزۂ بے جا اٹھائیے\n\nمفلس ہوں لاکھ پر یہی دل کو بندھی ہے دھن\nیوسف کو قرض لے کے تقاضا اٹھائیے\n\nفصل بہار آئی پیو صوفیو شراب\nبس ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے\n\nجام شراب ناب ہے ساقی لیے کھڑا\nگردن تو مثل گردن مینا اٹھائیے\n\nآواز کو سنا کے کئے کان مستفیض\nرحم آنکھوں پر بھی کیجئے پردا اٹھائیے\n\nجوش جنوں میں دیکھیے پیچھے نہ مڑ کے پھر\nمنہ جس طرف کو صورت دریا اٹھائیے\n\nشمشیر زن ہو یار بہادر جوان ہو\nآتشؔ جہاد عشق پہ بیڑا اٹھائیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%AE%D8%B4_%D9%84%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%D8%B0%D8%A7_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "جاں بھی بجاں ہے ہجر میں اور دل فگار بھی", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاں بھی بجاں ہے ہجر میں اور دل فگار بھی\nتر ہے مژہ بھی اشک سے جیب بھی اور کنار بھی\n\nطرفہ فسوں سرشت ہے چشم کرشمہ سنج یار\nلیتی ہے اک نگاہ میں صبر بھی اور قرار بھی\n\nکوچے میں اس کے بیٹھنا حسن کو اس کے دیکھنا\nہم تو اسی کو سمجھے ہیں باغ بھی اور بہار بھی\n\nدیکھیے کیا ہو بے طرح دل کی لگے ہیں گھات میں\nغمزۂ پر فریب بھی عشوۂ سحر کار بھی\n\nزلف کو بھی ہے دم بہ دم عزم کمند افگنی\nدام لیے ہے مستعد طرۂ تابدار بھی\n\nبیٹھے بتوں کی بزم میں جن کی ہے قدر جب وہ لوگ\nاپنے فریب و فن سے واں تھا یہ خراب و خوار بھی\n\nگننے لگے وہ اپنے جب چاہنے والوں کو نظیرؔ\nاٹھ کے یکایک اس گھڑی ہم نے کہا \"ہیں یار بھی\"", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%81%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "جاں جائے پر امید نہ جائے گی کبھی", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جاں جائے پر امید نہ جائے گی کبھی\nنیند آنکھ میں آرام نہ پائے گی کبھی\nغیر آئے گا کیوں خانۂ دل میں تو آ\nاے پردہ نشیں یاس نہ آئے گی کبھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "جاں سے ہے بدن لطیف و رو ہے نازک", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جاں سے ہے بدن لطیف و رو ہے نازک\nپاکیزہ تری طبع و خو ہے نازک\nبلبل نے سمجھ کے کیا تجھے نسبت دی\nگل سے تو ہزار پردہ تو ہے نازک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D9%84%D8%B7%DB%8C%D9%81_%D9%88_%D8%B1%D9%88_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2%DA%A9"} {"title": "جاں فشانی کا واں حساب عبث", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاں فشانی کا واں حساب عبث\nجو کہو اس کا ہے جواب عبث\n\nماہتاب اور کتاں کا عالم ہے\nعارض دوست پر نقاب عبث\n\nقفل در کی کلید نا پیدا\nاب تمناے فتح باب عبث\n\nزلف پر خم ہوا سے کیوں نہ ہلے\nآپ کھاتے ہیں پیچ و تاب عبث\n\nخط اسے بھیجنا ضرور مگر\nدوست سے خواہش جواب عبث\n\nمیرے اشعار سب بیاضی ہیں\nہم نشیں فکر انتخاب عبث\n\nہے ہماری نظر میں حرمت مے\nپیچش اہل احتساب عبث\n\nیاں نہیں کفر‌ و دین خوف و رجا\nلطف بے فائدہ عتاب عبث\n\nنہ ثواب اس میں ہے نہ اس میں اثر\nصبر بے ہودہ اضطراب عبث\n\nوعدہ اس نے کیا تو کیا ناظمؔ\nعبث اے خانماں خراب عبث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%81%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%A8_%D8%B9%D8%A8%D8%AB"} {"title": "جاں گداز اتنی کہاں آواز عود و چنگ ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جاں گداز اتنی کہاں آواز عود و چنگ ہے\nدل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے\n\nرو و خال و زلف ہی ہیں سنبل و سبزہ و گل\nآنکھیں ہوں تو یہ چمن آئینۂ نیرنگ ہے\n\nبے ستوں کھودے سے کیا آخر ہوئے سب کار عشق\nبعد ازاں اے کوہ کن سر ہے ترا اور سنگ ہے\n\nآہ ان خوش قامتوں کو کیونکے بر میں لائیے\nجن کے ہاتھوں سے قیامت پر بھی عرصۂ تنگ ہے\n\nعشق میں وہ گھر ہے اپنا جس میں سے مجنوں یہ ایک\nنا خلف سارے قبیلے کا ہمارے ننگ ہے\n\nچشم کم سے دیکھ مت قمری تو اس خوش قد کو ٹک\nآہ بھی سرد گلستاں شکست رنگ ہے\n\nہم سے تو جایا نہیں جاتا کہ یکسر دل میں واں\nدو قدم اس کی گلی کی راہ سو فرسنگ ہے\n\nایک بوسے پر تو کی ہے صلح پر اے زود رنج\nتجھ کو مجھ کو اتنی اتنی بات اوپر جنگ ہے\n\nپاؤں میں چوٹ آنے کے پیارے بہانے جانے دے\nپیش رفت آگے ہمارے کب یہ عذر لنگ ہے\n\nفکر کو نازک خیالوں کے کہاں پہنچے ہیں یار\nورنہ ہر مصرع یہاں معشوق شوخ و شنگ ہے\n\nسرسری کچھ سن لیا پھر واہ وا کر اٹھ گئے\nشعر یہ کم فہم سمجھے ہیں خیال بنگ ہے\n\nصبر بھی کریے بلا پر میرؔ صاحب جی کبھو\nجب نہ تب رونا ہی کڑھنا یہ بھی کوئی ڈھنگ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2_%D8%B9%D9%88%D8%AF_%D9%88_%DA%86%D9%86%DA%AF_%DB%81%DB%92"} {"title": "جاہل کی ہے میراث قلقؔ تخت و تاج", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جاہل کی ہے میراث قلقؔ تخت و تاج\nکامل ہے سدا بے ہنروں کا محتاج\nابلیس کا عصیاں نہیں جز کبر کمال\nبے قدریٔ فن کا ہے ازل ہی سے رواج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%DB%81%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D8%AB_%D9%82%D9%84%D9%82%D8%94_%D8%AA%D8%AE%D8%AA_%D9%88_%D8%AA%D8%A7%D8%AC"} {"title": "جب آفتاب ہو طالع سریر حشمت پر", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب آفتاب ہو طالع سریر حشمت پر\nتجلی نور خداوند کی نظر آوے\n\nولیک دیکھ سکے کون بھر نظر اس کو\nخدا کے نور جلالی سے سب کو ڈر آوے\n\nمجال کس کی جو ہر چار چشم اس کے حضور\nادب سے مجرے کو ہر اک جھکائے سر آوے\n\nہے تجھ میں بھی تو جہاں دارؔ اس کی شمع کا نور\nجو دیکھے خشم سے تو برق کر حذر آوے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88_%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%B9_%D8%B3%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%D8%AD%D8%B4%D9%85%D8%AA_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "جب آنکھ اس صنم سے لڑی تب خبر پڑی", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب آنکھ اس صنم سے لڑی تب خبر پڑی\nغفلت کی گرد دل سے جھڑی تب خیر پڑی\n\nپہلے کے جام میں نہ ہوا کچھ نشہ تو آہ\nدل بر نے دی تب اس سے کڑی تب خبر پڑی\n\nلائے تھے ہم تو عمر پٹا یاں لکھا ولے\nجب سیاہی پر سفیدی چڑی تب خبر پڑی\n\nداڑھیں لگیں اکھڑنے کو دنداں ہوے شہید\nمجلس میں چل بچل یہ پڑی تب خبر پڑی\n\nبن دانت بھی ہنسے پہ جب آنکھیں چلیں تو آہ!\nجب لاگی آنسوؤں کی جھڑی تب خبر پڑی\n\nشہتیر سا وہ قد تھا سو خم ہو کے جھک گیا\nگرنے لگی کڑی پہ کڑی تب خبر پڑی\n\nنیچا دکھایا شیر نے تو بھی یہ سمجھے جھوٹ\nجب چاب لی گلے کی نڑی تب خبر پڑی\n\nجب آئے اس گڑھے میں نظیرؔ اور ہزار من\nاوپر سے آ کے خاک پڑی تب خبر پڑی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%84%DA%91%DB%8C_%D8%AA%D8%A8_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%BE%DA%91%DB%8C"} {"title": "جب آنکھ بند ہوگی دیدار دیکھ لیں گے", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب آنکھ بند ہوگی دیدار دیکھ لیں گے\nکب تک چھپوگے ہم سے اے یار دیکھ لیں گے\n\nکھڑکی قفس کی چاہے صیاد بند کر دے\nہم روزن قفس سے گلزار دیکھ لیں گے\n\nواعظ نہ میکدے میں شیخی بگھار آ کر\nساقی الگ رہے گا مے خوار دیکھ لیں گے\n\nکوچے میں ان بتوں کے اے قدرؔ پھر پھرا کر\nہم قدرت خدا کے اسرار دیکھ لیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "جب آپ سے ہی گزر گئے ہم", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب آپ سے ہی گزر گئے ہم\nپھر کس سے کہیں کدھر گئے ہم\n\nکیا کعبہ و دیر و کیا خرابات\nتو ہی تھا غرض جدھر گئے ہم\n\nآئے تھے مثال شعلہ سرگرم\nجاتے ہوئے جوں شرر گئے ہم\n\nشبنم کی طرح سے اس چمن سے\nہوتے ہی دم سحر گئے ہم\n\nکچھ اپنے تئیں کیا نہ معلوم\nکیا آپ سے بے خبر گئے ہم\n\nجز حسرت عمر رفتہ افسوس\nکچھ آ کے یہاں نہ کر گئے ہم\n\nشیخی سے گزر ہوئے قلندر\nبگڑے تھے پر اب سنور گئے ہم\n\nاس درجہ ہوئے خراب الفت\nجی سے اپنے اتر گئے ہم\n\nفیض اس لب عیسوی کا حاتمؔ\nبالعکس ہوا کہ مر گئے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%A2%D9%BE_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "جب آیا وُہ یاں دِل ربائی جتانے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب آیا وُہ یاں دِل ربائی جتانے\nتُو کیا کیا لگا خُوش ادائی جتانے\n\nدکھانے لگی زلف اپنی درازی\nمژہ بھی لگی کچھ رسائی جتانے\n\nنظیرؔ ایک دِن اس پری رو کہ آگے\nگئے ہم جُو کچھ آشنائی جتانے\n\nدیا جام اُور ہم جُو ہچکے تُو بولا\nتم آئے ہو نفرت فزائی جتانے\n\nپلا دیں گے ہم تُو میاں فائدہ کیا\nلگے تم جُو یاں پارسائی جتانے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%88%D9%8F%DB%81_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%90%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "جب اس کا ادھر ہم گزر دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب اس کا ادھر ہم گزر دیکھتے ہیں\nتو کر دل میں کیا کیا حذر دیکھتے ہیں\n\nادھر تیر چلتے ہیں ناز و ادا کے\nادھر اپنا سینہ سپر دیکھتے ہیں\n\nستم ہے کن انکھیوں سے گر تاک لیجے\nغضب ہے اگر آنکھ بھر دیکھتے ہیں\n\nنہ دیکھیں تو یہ حال ہوتا ہے دل کا\nکہ سو سو تڑپ کے اثر دیکھتے ہیں\n\nجو دیکھیں تو یہ جی میں گزرے ہے خطرہ\nابھی سر اڑے گا اگر دیکھتے ہیں\n\nمگر اس طرح دیکھتے ہیں کہ اس پر\nیہ ثابت نہ ہو جو ادھر دیکھتے ہیں\n\nچھپا کر دغا کر نظیرؔ اس صنم کو\nغرض ہر طرح اک نظر دیکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%D9%85_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جب اس کی زلف کے حلقے میں ہم اسیر ہوئے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب اس کی زلف کے حلقے میں ہم اسیر ہوئے\nشکن کے عادی ہوئے خم کے خو پذیر ہوئے\n\nخدنگ وار جو غمزے تھے اس کے چھٹپن میں\nپر اب نظر میں جو آئے تو رشک تیر ہوئے\n\nجھڑک دیا ہمیں کوچے میں اس نے ہر دم دیکھ\nہم اپنے دل میں کچھ اس دم خجل کثیر ہوئے\n\nجو گاہ گاہ ادھر جاتے ہم تو رہتی قدر\nگھڑی گھڑی جو گئے اس سبب حقیر ہوئے\n\nنگہ کے لڑتے ہی ہنس کر کہا نظیرؔ اس نے\nیہ باتیں چھوڑ دو کچھ سمجھو اب تو پیر ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D9%84%D9%82%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "جب اس کے ہی ملنے سے ناکام آیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب اس کے ہی ملنے سے ناکام آیا\nتو یارب یہ دل میرا کس کام آیا\n\nکبھی اس تغافل منش کی طرف سے\nنہ قاصد نہ نامہ نہ پیغام آیا\n\nصد افسوس دم اپنا نکلا ہے کس دم\nکہ جب گھر سے گھر تک وہ گلفام آیا\n\nمجھے صبح کو قتل کر وہ مسیحا\nجو گھر اپنے فرخندہ فرجام آیا\n\nکسی نے مری بات بھی واں نہ پوچھی\nاگرچہ ہر اک خاص اور عام آیا\n\nغرض پھر اسی کو جو یاد آئی میری\nتو گھبرا کے جس دم ہوئی شام آیا\n\nجلایا اٹھایا گلے سے لگایا\nعزیزو پھر آخر وہی کام آیا\n\nگئی بے وفائی نظیرؔ اب جہاں سے\nوفاداریوں کا بھی ہنگام آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جب اصغر معصوم کی گردن پہ لگا تیر", "poet_page": "مصنف:میر مستحسن خلیق", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "جب اصغر معصوم کی گردن پہ لگا تیر\nاور شاہ کے بازو میں بھی پیوست ہوا تیر\nہاتھوں پہ تڑپنے لگا بچہ بھی جو کھا تیر\nشہہ ؑنے کہا اس پیاسے کو تھا مارنا کیا تیر\nکب ہم نے کہا تھا کہ زبردستی سے لیں گے\nاتنا ہی کہا ہوتا کہ ہم پانی نہ دیں گے\n\nیہ جانتے تو خیمے سے لاتے نہ اسے ہم\nتم نے ہمیں محجوب کیا بانو سے اس دم\nیہ کہتے تھے ملعونوں سے بادیدہ پرنم\nجو ہاتھوں یہ معصوم تڑپ کر ہوا بے دم\nفرمایا اسے پہلوئے اکبر میں لٹا کر\nتم ڈریو نہ اب ہم بھی یہیں سوتے ہیں آکر\n\nبن ماں تم اکیلے کبھی سوئے نہیں اصغر\nجنگل میں اکیلا تمہیں چھوڑوں گا میں کیوں کر\nپھر قبلے کی جانب یہ کہا ہاتھ اٹھا کر\nسب فانی ہیں تو باقی ہے اے خالق اکبر\nکیا کیا ہوئے مجھ پر ہیں ستم اہل جفا سے\nپر پاؤں نہیں میرا ڈگا راہ رضا سے\n\nکام آئے تری راہ میں انصار بھی سارے\nاور بیٹے جو زینب کے تھے بیٹوں سے بھی پیارے\nوہ دونوں مری آنکھوں کے آگے گئے مارے\nسرپر مرے سر بیٹوں نے مسلم کے بھی مارے\nگر کوئی میرا یار و مددگار نہیں ہے\nجز تیری مدد کچھ مجھے درکار نہیں ہے\n\nجب میرے عزیزوں پہ چلی ظلم کی تلوار\nبندہ یہی کہتا رہا جو مرضی غفار\nقاسم سے بھی جب پیارے بھتیجے کو لیا مار\nاور نہر پہ مارے گئے عباس علمدار\nبھائی کے لیے پہلے تو روتا تھا قلق میں\nپھر سمجھا کہ بہتر یہی ہوگا مرے حق میں\n\nنیزہ علی اکبر کی جو چھاتی میں لگا تھا\nروتا ہوا میں لاش یہ اس کی تو گیا تھا\nہمشکل محمدؐ کا وہ فرزند مرا تھا\nتیری ہی عنایت تھی مرا سچ ہے کہ کیا تھا\nتھی مجھکو جو منظور خوشی ابن علیؑ کی\nاٹھارہ برس اور زیارت کی نبیؐ کی\n\nاصغر بھی مرا ہوگیا تیروں کا نشانہ\nجنت کی طرف کردیا اس کو بھی روانہ\nصد شکر کسی کا نہیں اب داغ اٹھانا\nاپنا ہی گلا باقی ہے اب مجھکو کٹانا\nقاتل جو رواں خنجر بران کرے گا\nوہ بھی مری مشکل تو ہی آسان کرے گا\n\nکیا کرتا اگر صاحب اولاد نہ ہوتا\nہیں لاولد اکثر ترے بندے مرے مولا\nمجھ پر تو عنایت ہی ترا فضل و کرم تھا\nبیٹے بھی دیے رتبہ امامت کا بھی بخشا\nصابر بھی ہوئے اور انہیں جانباز بھی دیکھا\nرفعت سے شہادت کی سرافرار بھی دیکھا\n\nہر مو کی جگہ تن پہ اگر میرے زباں ہو\nکب بندہ نوازی کا تری مجھ سے بیاں ہو\nراحت ہے اگر حلق پہ خنجر بھی رواں ہو\nتیروں کے مزے سے کبھی خاطر نہ نشاں ہو\nعرفاں کے مزے کو ہے مرا دل ہی سمجھتا\nلذت کو تڑپنے کی ہے بسمل ہی سمجھتا\n\nکی بھوک میں اور پیاس میں خاطر مری کیا کیا\nفاقے میں طبق خلد سے نعمت کا ہے بھیجا\nچھٹپن میں جو روزہ رکھا ماہ رمضان کا\nتجھکو یہ گوارا ہوا پیاسا مرا رہنا\nرحم آیا تجھے دیکھ صغیری مرے سن کی\nخورشید چھپا رات وہیں ہوگئی دن کی\n\nاور آج کئی دن کا جوہوں بھوکا پیاسا\nکیا جانتے کیا مصلحت اس میں ہے سمجھتا\nبندہ ہوں ترے امر میں ہے دخل مجھے کیا\nتشویش بھی بے جا ہے تردد بھی ہے بے جا\nخوشنودی مجھے تیری ہی مطلوب ہے یارب\nجو کچھ تیری مرضی ہے وہی خوب ہے یارب\n\nاعدا سے پھر اس طرح سے کہنے لگے سرور\nکیا مجھکو سمجھتے نہیں تم سبط پیمبرؑ\nمیں جھوٹ ہوں کہتا؟ نہیں زہراؑ مری مادر؟\nملعونو! نہیں میں پسر حیدرؑ صفدر\nانکار ہے تم کو مری عالی نسبی کا؟\nکوئی نہیں شبیرؑ رسول عربی کا؟\n\nملعون سبھی ایک زباں ہوکے پکارے\nتم سچ ہے نواسے ہو پیمبرؑ کے ہمارے\nاور فاطمہ زہرا کے ہو تم بیٹے پیارے\nبابا ہیں چلیؑ اور حسنؑ بھائی تمہارے\nبچ جاؤ گے بیعت میں جو حجت نہ کرو گے\nاور اس میں تامل ہے جو جیتے نہ بچو گے\n\nیہ سن کے سر اس شاہ نے پہلے تو جھکایا\nپھر تو عمر و شمر ستمگر کو سنایا\nمیں تین سوال اس گھڑی تم پاس ہوں لایا\nاک ان میں سے یہ کہتا ہوں میں زہراؑ کا جایا\nناموس پیمبرؑ کہیں لے جانے دو مجھکو\nاب یاں سے کسی سمت نکل جانے دو مجھکو\n\nمارے ہیں جو تم نے مرے خویش و پسر و یار\nاس خوں کا عوض تم سے نہیں لینے کا زنہار\nاس واسطے اس امر کو کرتا ہوں میں اظہار\nتا خون میں اپنے نہ ہوں میں آپ گرفتار\nاکبرؑ نہ ہو قاسمؑ نہ ہو عباسؑ نہ ہوئے\nوہ خاک جئے جس کے کوئی پاس نہ ہوئے\n\nفرما چکے جب شاہ تو ایک ایک یہ بولا\nجانے دیں کہیں آپ کو یہ ہم سے نہ ہوگا\nمظلومی سے پھر کہنے لگا وہ شہہ والا\nگریہ نہ ہو تو پانی پلا دو مجھے تھوڑا\nوہ کہنے لگے یہ بھی نہیں ہوئے گا ہم سے\nہاں پانی پلادیں گے دم تیغ دو دم سے\n\nشہہ نے کہا ہونٹوں پہ زباں سوکھی پھرا کر\nحاضر ہوں کرو ذبح و لے پانی پلا کر\nتب بولے لعیں شمر ستمگر کو سنا کر\nاک جام پلا دیویں انہیں نہر سے لاکر\nوہ بولا جو پانی کی مدد ہوگی ادھر سے\nپھر لڑ سکو گے ساقی کوثر کے پسر سے ؟\n\nشہہ نے کہا گر پانی پلانا بھی ہے دشوار\nتو اس گھڑی حملہ نہ کرو مجھ پہ سب اک بار\nایک ایک لڑو مجھ سے تم اے قوم ستمگار\nوہ بولے کہ تم ہو خلف حیدرؑ کرار\nکثرت پہ ہے دم اس پہ کسی کے نہیں دم میں\nایک ایک لڑیں تم سے یہ طاقت نہیں ہم میں\n\nفرزند ہو تم اس کے جو تھا قاتل عنتر\nوالد نے تمہارے ہے اکھاڑا در خیبر\nپائی ہی نہیں فتح کسی فوج نے اس پر\nفرزند سے ایسے کے کوئی لڑ سکے کیوں کر\nجرات ہے وہی تم میں وہی شوکت و شاں ہے\nقبضے میں تمہارے وہی سیف دو زباں ہے\n\nشہہ سمجھے کہ ایک ایک نہیں لڑنے کا ہم سے\nکیا غم ہے کہ ہم سب سے اکیلے ہی لڑیں گے\nپھر سوئے فلک ہاتھ اٹھا کر لگے کہنے\nمیں کہہ چکا اعدا سے ترے حکم کے نکتے\nاے خالق اکبر کوئی منت نہیں باقی\nشاہد مرا تو رہیوکہ حجت نہیں باقی\n\nیہ کہہ کے پڑھا فاتحہ اور تیغ علم کی\nآنکھوں میں ستمگاروں کی اک بجلی سی چمکی\nبھاگی ہوئی سب جمع ہوئی فوج ستم کی\nاس وقت کی کیا شان کہوں شاہ امم کی\nخیبر میں جو کچھ حیدر کرار کی سج تھی\nاس روز وہی زہرا کے دلدار کی سج تھی\n\nعمامہ محبوب خدا سر پہ بندھا تھا\nپیشانی روشن نہ تھی مہ جلوہ نما تھا\nابرو کو عجب خم ید قدرت کے دیا تھا\nآنکھوں پہ دل فاطمہؑ سوجی سے فدا تھا\nافروختہ تھا صورت گل روئے مبارک\nسنبل سے پڑے دوش پہ گیسوئے مبارک\n\nگل برگ سے لب سوکھے ہوئے پیاس کے مارے\nکوثر کے قریب اور لب دریا سے کنارے\nہتھیار دلیرانہ لگائے ہوئے سارے\nپر دل کو یہ دھڑکا کہ سکینہ نہ پکارے\nپیاسی تھی وہ معصومہ جو چوبیس پہر سے\nخیمے کی طرف تکتے تھے حسرت کی نظر سے\n\nجب فوج نے نرغہ کیا اس شاہ پہ اک بار\nتب ان میں دھنسا وہ خلف حیدر کردار\nدریا بہا اک خون کا کی ایسی ہی تلوار\nگھبرا کے پکارا عمر سعد ستمگار\nیوں مت لڑو تلوار نہیں کھانے کا شبیر\nتیروں کے سوا مار نہیں کھانے کا شبیر\n\nیہ سن کے کمانداروں ہی پر جا پڑے شبیر\nاس شاہ پہ پہلے ہی چلے تھے کئی سو تیر\nبجلی سی چمکنے جو لگی حیدری شمشیر\nآگے سے کہیں بھاگنے پائے نہ وہ بے پیر\nکاہے کو کبھی ایسے بہادر سے لڑے تھے\nمیداں میں کماندار تہی دست پڑے تھے\n\nترکش کہیں بکھرے تھے کہیں تیر زمیں پر\nاور ساتھ کمانوں کے گرے ہاتھ بھی کٹ کر\nافتادہ کہیں بازو کہیں پاؤں کہیں سر\nکچھ پھینک کمانوں کے تئیں بھاگے بد اختر\nکچھ ایسے مسلح تھے کہ لوہوں پہ چھپے تھے\nپر خوف سے سہمے ہوئے گوشوں میں چھپے تھے\n\nتھے تیروں کے تو زخم تن شاہ پہ اکثر\nتلواریں بھی اور برچھیاں بھی پڑتی تھیں تن پر\nزخموں کے سبب خون میں گھوڑا بھی ہوا تر\nکہنے لگے اعدا سے مخاطب ہو یہ سرور\nہر کس بلب مالب ساغر برساند\nساغر بلبش ساقی کوثر برساند\n\nاعدا نے کہا پانی کا زنہار نہ لو نام\nہاتھ آوے گا فردوس میں کوثر کا تمہیں جام\nگوجان چلی جاتی ہے پر پیاس کو لو تھام\nاس بات کو بس سنتے ہی پھر تول کے صمصام\nایسے لڑے جو فوج کئی بار ہٹائی\nپانی جو ملا ہوتا تو تھی فتح لڑائی\n\nپیاسے نے جو حملے کئے لشکر پہ کئی بار\nتھی دھوپ کڑی سوکھ گئے لعل گہربار\nاور مارے پسینے کے لگا ہانپنے رہوار\nنزدیک تب آکر عمر سعد نے اک بار\nترغیب جو کی لشکر بے پیر کو آکر\nپھر گھیر لیا فوج نے شبیر کو آکر\n\nکہتا تھا سواروں سے پس پشت یہ ہر دم\nپھر تیر جوانو چلیں شبیر پہ پیہم\nبے حال ہے نہ پیاس ہے طاقت ہے بہت کم\nلڑسکنے کا نہ تم سے نہیں کیجو نہ کچھ غم\nگھوڑوں کو بڑھائے رہو پیچھے کو نہ سر کو\nغش آتا ہے کوئی آن میں زہرا کے پسر کو\n\nیہ سنتے ہی سب تیر لگے مارنے اک بار\nاور اس تن تنہا پہ ہوئی تیروں کی بوچھار\nتن چھن گیا ہر زخم سے لوہو کی چھٹی دھار\nسنبھلا نہ گیا گھوڑے پہ اس زخمی سے زنہار\nگہرے تھے زبس زخم تن سرور دیں پر\nغش آگیا مظلوم کو گرتے ہی زمیں پر\n\nزخمی نے بہت آپ کو اٹھ اٹھ کے سنبھالا\nپر ضعف جو تھا لیٹ گیا وہ شہہ والا\nغش میں بھی کئی بار لہو منہ سے جو ڈالا\nپھر ہل نہ سکا فاطمہ کی گود کا پالا\nدکھلا کے عمر کہنے لگا شمر لعیں کو\nاب تو حرکت بھی نہیں جسم شہہ دیں کو\n\nتو کاٹے اگر تن سے سر سید مظلوم\nاخبار میں ہو فتح تیرے نام پر مرقوم\nرتبہ جو ترا ہوگا وہ تجھکو نہیں معلوم\nحاکم کے جو سر کردے ہیں ہوں گے تیرے محکوم\nتو فرق بڑا پاوے گا آگے میں اور اب میں\nعزت تری ہوئے گی شجاعان عرب میں\n\nیہ سن کے وہ آگے بڑھا کھینچے ہوئے خنجر\nاور شہہ کی چڑھا چھاتی پہ گھوڑے سے اتر کر\nمظلوم کو جب ذبح لگا کرنے ستمگر\nکس بے کسی سے دیکھتا تھا ہائے وہ سرور\nقاتل تھا چڑھا سینۂ صد چاک کے اوپر\nخنجر سے ٹپکتا تھا لہو خاک کے اوپر\n\nجس وقت جدا ہوگیا تن سے سر شبیر\nتب گیسو پکڑ شاہ کے وہ ظالم بے پیر\nلٹکائے ہوئے سر کو اٹھا کر کے یہ تقریر\nخنجر سے ہوا ذبح عجب صاحب شمشیر\nدلبند نبی ابن ید اللہ کو مارا\nواللہ دو عالم کے شہنشاہ کو مارا\n\nیہ کہہ کے چڑھایا سر شبیر سناں پر\nوہ چاند سامنہ شاہ کا تھا خون میں سب تر\nگالوں یہ لٹکتے ہوئے گیسوئے معنبر\nسجدے کا نشاں ماتھے پہ تھا غیرت اختر\nنیزے پہ سرافراز تھا خیل شہدا میں\nآنکھیں تھیں مندی ہلتے تھے لب یاد خدا میں\n\nپھر رن سے چلے خیمہ شبیر پہ اعدا\nاور گھیر لیا بیبیوں کو باندھ کے حلقہ\nجب بھاگنے کو ان کے نہ رکھا کوئی رستہ\nتب آگ قناتوں کو لگا شمر یہ بولا\nاب ڈر نہ کوئی لوٹ نہیں منع کسی کو\nاب شوق سے سب لوٹ لو ناموس نبی کو\n\nناگاہ لگی آگ قناتوں میں بھڑکنے\nاور جل کے سراچوں کے لگے بانس کڑکنے\nبیوؤں کے کلیجے لگے سینوں میں دھڑکنے\nگرمی سے لگے گودیوں میں بچے پھڑکنے\nناموس نبی پر عجب آفت کی گھڑی تھی\nپر بی بی کا پردہ کیے ہر لونڈی کھڑی تھی\n\nسجاد یہ کہتا تھا کہ بابا گیا مارا\nبس سنتے ہی یہ بانو نے زیور کو اتارا\nاسباب ہر اک رانڈ کا لٹنے لگا سارا\nجا بیٹھے زرومال سے سب کر کے کنارا\nہاتھوں کے تلے چہرے تھے ناموس نبی کے\nچادر بھی رہی نام کو سر پرہ نہ کسی کے\n\nجب لوٹ چکے آل محمد کو جفا کار\nاور آگ سے بھی جل چکے سب خیمۂ اطہار\nپھر اونٹ سواری کے لیے لائے وہ اشرار\nسر ننگے ان اونٹوں پہ چڑھی عترت ناچار\nاب راہ کا احوال خلیقؔ آگے کہے کیا\nکیا ظلم ہوئے رنج اسیروں نے سہے کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D8%B5%D8%BA%D8%B1_%D9%85%D8%B9%D8%B5%D9%88%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D9%86_%D9%BE%DB%81_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1"} {"title": "جب ان سے دوستی نہ رہی دشمنی رہی", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب ان سے دوستی نہ رہی دشمنی رہی\nبگڑی تو بگڑی اور بنی تو بنی رہی\n\nصدمہ رہا ملال رہا بے کسی رہی\nلیکن کسی کی یاد ہمیشہ لگی رہی\n\nکیا کہئے دشمنی رہی یا دوستی رہی\nبگڑی تو بگڑی اور بنی تو بنی رہی\n\nپھر اس کو دوست جان رہا ہوں ہزار حیف\nمجھ سے تمام عمر جسے دشمنی رہی\n\nپہلو ہزار ہم نے کئے گرچہ اختیار\nلیکن جو اس کے دل میں ٹھنی تھی ٹھنی رہی\n\nآئینہ دیکھتا نہیں اپنے سے شرم ہے\nاچھا ہوا جو مجھ سے اسے بد ظنی رہی\n\nیوسف کو دیں دعائیں زلیخا نے سیکڑوں\nمحتاج ہو گئی بھی تو دل کی غنی رہی\n\nعاشق کو کوئے یار سے بہتر مقام کیا\nدیوانہ تھا جو قیس کی بن سے بنی رہی\n\nتاریکئ مزار تو مشہور بات ہے\nکچھ ہم بھی ڈھونڈھ لیں گے اگر روشنی رہی\n\nقدر سخن کے واسطے اب کیا کروں صفیؔ\nداڑھی بڑھائی پھر بھی وہی کم سنی رہی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%8C"} {"title": "جب اپنے دل پہ اپنا کچھ اختیار دیکھا", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "جب اپنے دل پہ اپنا کچھ اختیار دیکھا\nبیگانہ خو حسیں کو بیگانہ وار دیکھا\n\nپیہم تجلیوں کی مجھ میں سکت کہاں تھی\nنظریں چرا چرا کر سوئے نگار دیکھا\n\nآج اپنی بے خودی کو عرفاں کی روشنی میں\nاس ماہ سیم تن کا آئینہ دار دیکھا\n\nتیری عنایتوں سے انجام بیں نظر میں\nآغاز عشق ہی میں انجام کار دیکھا\n\nیہ بھولی بھولی صورت اے چاند پھر بھی تو نے\nمیری طرف سے اپنے دل میں غبار دیکھا\n\nحسن شباب پرور کس درجے سحر زا ہے\nدیکھا ترا زمانہ اے گل عذار دیکھا\n\nاس شوخ کی گلی میں منظور تفتہ جاں کو\nپھر بے قرار پایا پھر اشک بار دیکھا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جب باپ موا تو پھر ہے بیٹا کیا شے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جب باپ موا تو پھر ہے بیٹا کیا شے\nآگے پیچھے دھریں ہیں سب کے لاشے\nدنیا ہے قلقؔ کچھ تو یہی کچھ ہے بس\nہر چیز ہے نا چیز تو ہر شے لا شے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%A8%D8%A7%D9%BE_%D9%85%D9%88%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%DB%92"} {"title": "جب برق پاش جلوۂ جانانہ بن گیا", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب برق پاش جلوۂ جانانہ بن گیا\nفرزانہ تھا وہی کہ جو دیوانہ بن گیا\n\nشوق نمود نے اسے رکھا نہ عرش پر\nکعبہ کہیں بنا کہیں بت خانہ بن گیا\n\nافتاد گئی قلب کا اللہ رے عروج\nمحفل میں اس کی ٹوٹ کے پیمانہ بن گیا\n\nتکمیل عشق حسن کو بیتاب کر گئی\nخود ساز شمع سوزش پروانہ بن گیا\n\nاس دل نے اتنی کی ہے یگانوں کی جستجو\nاپنی نظر میں آپ ہی بیگانہ بن گیا\n\nتصویر انتظار بنا شوق دل تو کیا\nکمبخت اس کا وعدۂ ایفا نہ بن گیا\n\nہنگامۂ نزول تمنائے دل نہ پوچھ\nآباد ہو کے نازش ویرانہ بن گیا\n\nجو نالہ آج تک نہ ہوا لب سے آشنا\nدنیا میں کیوں منیرؔ وہ افسانہ بن گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D9%BE%D8%A7%D8%B4_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا\nتپشِ شوق نے ہر ذرّے پہ اک دل باندھا\n\nاہل بینش نے بہ حیرت کدۂ شوخیِ ناز\nجوہرِ آئینہ کو طوطیِ بسمل باندھا\n\nیاس و امید نے اک عرَبدہ میداں مانگا\nعجزِ ہمت نے طِلِسمِ دلِ سائل باندھا\n\nنہ بندھے تِشنگیِ ذوق کے مضموں، غالبؔ\nگرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%A8%DB%81_%D8%AA%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%AD%D9%85%D9%84_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جب تجھ عرق کے وصف میں جاری قلم ہوا", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تجھ عرق کے وصف میں جاری قلم ہوا\nعالم میں اس کا ناؤں جواہر رقم ہوا\n\nنقطے پہ تیرے خال کے باندھا ہے جن نے دل\nوو دائرہ میں عشق کے ثابت قدم ہوا\n\nتجھ فطرت بلند کی خوبی کوں لکھ قلم\nمشہور جگ کے بیچ عطارد رقم ہوا\n\nطاقت نہیں کہ حشر میں ہووے وو دادخواہ\nجس بے گنہ پہ تیری نگہ سوں ستم ہوا\n\nبے منت شراب ہوں سر شار انبساط\nتجھ نین کا خیال مجھے جام جم ہوا\n\nجن نے بیاں لکھا ہے مرے رنگ زرد کا\nاس کوں خطاب غیب سوں زریں رقم ہوا\n\nشہرت ہوئی ہے جب سے ترے شعر کی ولیؔ\nمشتاق تجھ سخن کا عرب تا عجم ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B9%D8%B1%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%B5%D9%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D9%84%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "جب ترا انتظار ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب ترا انتظار ہوتا ہے\nدل بہت بے قرار ہوتا ہے\n\nدل پہ چلتا ہے اختیار ان کا\nجب یہ بے اختیار ہوتا ہے\n\nعشق ہوتا ہے حسن کا ہم سر\nجب یہ خود اختیار ہوتا ہے\n\nوہ مجھے بے قرار کرنے کو\nپہلے خود بے قرار ہوتا ہے\n\nحرص شہرت نہیں تو رونا کیوں\nنالہ بھی اشتہار ہوتا ہے\n\nدوست کہہ کر نہ دے فریب اے دوست\nدوست پر اعتبار ہوتا ہے\n\nنازنیں ہیں کب ایسے لوگ صفیؔ\nجن کا احسان بار ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب تلک تیر ترا آوے ہے نخچیر تلک", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تلک تیر ترا آوے ہے نخچیر تلک\nلے یہ نخچیر ہی آ پہنچا ترے تیر تلک\n\nدست و پا مارے بہت چاہ زنخ میں دل نے\nہاتھ لیکن نہ گیا زلف کی زنجیر تلک\n\nشکر صد شکر کہ عقدے یوں ہی حل ہوتے گئے\nکام پہنچا نہ ہمارا کبھی تدبیر تلک\n\nاس کی صورت کا دوانا ہوں کہ جس کا خط و خال\nنہ گیا مانی و بہزاد کی تحریر تلک\n\nہے یہی شوق شہادت کا اگر دل میں تو عشق\nلے ہی پہنچے گا ہمیں بھی تری شمشیر تلک\n\nاک مسلمان کا جی جاتا ہے الفت میں تری\nجا کہے کوئی یہ اس کافر بے پیر تلک\n\nجب تلک زر ہے تو سب کوئی ہے پھر کوئی نہیں\nسچ ہے مکھی بھی رہے ہے شکر و شیر تلک\n\nاس طرح بیٹھ گیا خانۂ دل میرا کہ بس\nکام پھر اس کا نہ پہنچا کبھی تعمیر تلک\n\nخون ہو ہو کے ٹپکتا ہے یہ سو رنگ سے دل\nتا کسی رنگ میں پہنچے تری تصویر تلک\n\nمیں بھی اک معنیٔ پیچیدہ عجب تھا کہ حسنؔ\nگفتگو میری نہ پہنچی کبھی تقریر تلک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%A2%D9%88%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%AE%DA%86%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%D9%84%DA%A9"} {"title": "جب تلک چرب نہ جوں شمع زباں کیجئے گا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تلک چرب نہ جوں شمع زباں کیجئے گا\nسرگزشت اپنی کا کیا خاک بیاں کیجئے گا\n\nبرق ساں ہنس کے جو وا آپ دہاں کیجئے گا\nمعنی مخزن اسرار عیاں کیجئے گا\n\nدل کو جب مائل چشمان بتاں کیجئے گا\nطرفۃ العین میں سیر دو جہاں کیجئے گا\n\nدل صد پارہ مرا شیشۂ بشکستہ ہے\nاس کو پامال ذرا دیکھ کے ہاں کیجئے گا\n\nدل پر آبلہ لایا ہوں دکھانے تم کو\nبند اے شیشہ گرو! اپنی دکاں کیجئے گا\n\nکیوں لگاتے ہو مرے سینۂ صد چاک کو ہاتھ\nچشم سوزن سے نظر بخیہ گراں کیجئے گا\n\nتم کو اپنا دل پر داغ دکھاتے جو کبھی\nسیر گلشن نہ پھر اے لالہ رخاں کیجئے گا\n\nہاتھ سے محتسب دہر کے اک دن برپا\nسر پہ شیشے کے خرابی نہ یہاں کیجئے گا\n\nآبرو مد نظر ہم کو ہے تیری یاں تک\nاشک کو روکیے گا ضبط فغاں کیجئے گا\n\nکیونکہ نرگس تری آنکھوں سے کرے ہم چشمی\nجب تک اس کا نہ علاج یرقاں کیجئے گا\n\nروکشی دیکھ نہ کر گوشہ نشینوں سے فلک\nہر طرح سے تری خاطر پئے شاں کیجئے گا\n\nناوک آہ لگائیں گے پیاپے تجھ پر\nقد خم گشتہ کو جب اپنے کماں کیجئے گا\n\nابر نیساں کی بھی جھڑ جائے گی پل میں شیخی\nدیدۂ تر کو اگر اشک فشاں کیجئے گا\n\nدل میں کچھ یہ نہ سمجھنا کہ ہمارا ہے دور\nجامہ داری میں شک اے بادہ کشاں کیجئے گا\n\nدل میں رکھتے ہو خیال اس کی کمر کا جو نصیرؔ\nلا مکاں میں کہیں کیا جا کے مکاں کیجئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%DA%86%D8%B1%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جب تن نہ رہا میرا ہوں واصل جانانہ", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تن نہ رہا میرا ہوں واصل جانانہ\nدیوار کے گرنے سے ہم سایا ہو ہم خانہ\n\nآئینے میں دیکھ آ کر منہ اپنا اے جانانہ\nتا قدر مری جانے کاش اپنا ہو دیوانہ\n\nاس زلف میں کئی دن سے بیتابیٔ دل گم ہے\nزنجیر جھنکتی نئیں کیا مر چکا دیوانہ\n\nبجلی مرے نالے کی جوں چمکے تو موند آنکھیں\nاے آشنا آگے تو اتنا نہ تھا بیگانہ\n\nدل شرم محبت سے تر ہے تو نہ پھیر آنکھیں\nکیوں کر پسے چکی میں بھیگا ہوا ہے دانہ\n\nعزلتؔ گیا آنکھوں سے اس واسطے جی اس کا\nہے شمع کی چشم تر تربت پروانہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%D9%86_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%88%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "جب تو میں ہوں آہ میں ایسا اثر پیدا کروں", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تو میں ہوں آہ میں ایسا اثر پیدا کروں\nاے ستم گر تیرے دل میں اپنا گھر پیدا کروں\n\nیاں تو یہ عادت ہے کس کس کا کرے گا تو علاج\nروز بیماری سے میں دو چار اگر پیدا کروں\n\nیہ تغافل وصل کی شب پوچھتے ہیں میرا حال\nاب دعائیں مانگ کر درد جگر پیدا کروں\n\nآنکھ اٹھا کر جس طرف دیکھوں وہی آئے نظر\nآنکھ وہ پیدا کروں اور وہ نظر پیدا کروں\n\nفکر سے ایذاؤں کی الٹی سنا جائے ہیں غیر\nایسا دل پیدا کروں اور وہ جگر پیدا کروں\n\nجو تمہیں منظور ہے وہ کہہ نہ دو کیوں چپ رہو\nپھر خطا میری کوئی حجت اگر پیدا کروں\n\nتیری فرقت میں گوارا کر سکوں گا کس طرح\nکس کا دل لاؤں کہاں سے یہ جگر پیدا کروں\n\nہائے دل رنجش کا صدمہ ایک دم اٹھتا نہیں\nخود منائیں وہ میں اتنی بات گر پیدا کروں\n\nکچھ رکا دیکھا جو مجھ کو تو سنا کر یہ کہا\nیہ تو اچھی ٹھہری اب لوگوں کا ڈر پیدا کروں\n\nمیں ہی ہوں مجھ سا اگر ڈھونڈو جہاں میں مبتلا\nتو ہی ہو تجھ سا حسیں دنیا میں گر پیدا کروں\n\nاچھا اچھا در کو کر لو بند مجھ کو دیکھ کر\nسر کو ٹکراؤں ابھی دیوار و در پیدا کروں\n\nسب کچھ آتا ہے مگر یاں عقل حیراں ہے مری\nتیرے دل میں رہ کیوں کر فتنہ گر پیدا کروں\n\nاب تری جھوٹی لگاوٹ میں نہ آؤں گا کبھی\nمفت ایذا پاؤں ناحق درد سر پیدا کروں\n\nکہتے ہیں کیا تجھ پہ گزری تھی مرے جانے کے بعد\nکیا بتاؤں کیسے وہ وقت سحر پیدا کروں\n\nکیوں نظامؔ اس وقت تو تم مان جاؤ گے مجھے\nدوستی اس دشمن جاں سے اگر پیدا کروں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A2%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "جب تک اپنے دل میں ان کا غم رہا", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تک اپنے دل میں ان کا غم رہا\nحسرتوں کا رات دن ماتم رہا\n\nہجر میں دل کا نہ تھا ساتھی کوئی\nدرد اٹھ اٹھ کر شریک غم رہا\n\nکر کے دفن اپنے پرائے چل دیے\nبیکسی کا قبر پر ماتم رہا\n\nسیکڑوں سر تن سے کر ڈالے جدا\nان کے خنجر کا وہی دم خم رہا\n\nآج اک شور قیامت تھا بپا\nتیرے کشتو کا عجب عالم رہا\n\nحسرتیں مل مل کے روتیں یاس سے\nیوں دل مرحوم کا ماتم رہا\n\nلے گیا تا کوئے یار احسنؔ وہی\nمدعی کب دوستوں سے کم رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "جب تک تکلیف دل نہیں پاتا ہے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جب تک تکلیف دل نہیں پاتا ہے\nکیا کیا مانگوں سمجھ میں کب آتا ہے\nمیں اپنی ضرورتوں کے احساس میں گم\nاور تو ہے کہ بے مانگے دیے جاتا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%AA%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%81_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب تک خلش درد خدا داد رہے گی", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تک خلش درد خدا داد رہے گی\nدنیا دل ناشاد کی آباد رہے گی\n\nروح اپنی ہے بیگانۂ ہر جنت و دوزخ\nگم ہو کے ہر اک قید سے آزاد رہے گی\n\nجو خاک کا پتلا وہی صحرا کا بگولہ\nمٹنے پہ بھی اک ہستیٔ برباد رہے گی\n\nشیطان کا شیطان فرشتے کا فرشتہ\nانسان کی یہ بوالعجبی یاد رہے گی\n\nہاں وسعت زنجیر تک آزاد بھی ہوں میں\nہستی مری مجموعۂ ازداد رہے گی\n\nہر شام ہوئی صبح کو اک خواب فراموش\nدنیا یہی دنیا ہے تو کیا یاد رہے گی\n\nشہرہ ہے یگانہؔ تری بیگانہ روی کا\nواللہ یہ بیگانہ روی یاد رہے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%AE%D9%84%D8%B4_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی\nمشکل کہ تجھ سے راہِ سخن وا کرے کوئی\n\nعالم غُبارِ وحشتِ مجنوں ہے سر بسر\nکب تک خیالِ طرّۂ لیلیٰ کرے کوئی\n\nافسردگی نہیں طرب انشائے التفات\nہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی\n\nرونے سے اے ندیم ملامت نہ کر مجھے\nآخر کبھی تو عُقدۂ دل وا کرے کوئی\n\nچاکِ جگر سے جب رہِ پرسش نہ وا ہوئی\nکیا فائدہ کہ جَیب کو رسوا کرے کوئی\n\nلختِ جگر سے ہے رگِ ہر خار شاخِ گل\nتا چند باغبانیِ صحرا کرے کوئی\n\nناکامیِ نگاہ ہے برقِ نظارہ سوز\nتو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی\n\nہر سنگ و خشت ہے صدفِ گوہرِ شکست\nنقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی\n\nسَر بَر ہوئی نہ وعدۂ صبر آزما سے عُمر\nفُرصت کہاں کہ تیری تمنّا کرے کوئی\n\nہے وحشتِ طبیعتِ ایجاد یاس خیز\nیہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی\n\nبیکاریِ جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل\nجب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی\n\nحسنِ فروغِ شمعِ سُخن دور ہے اسدؔ\nپہلے دلِ گداختہ پیدا کرے کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%AF%DB%81%D8%A7%D9%86_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "جب تک غم الفت کا عنصر نہ ملا ہوگا", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تک غم الفت کا عنصر نہ ملا ہوگا\nانسان کے پہلو میں دل بن نہ سکا ہوگا\n\nمیں اور ترا سودا تو اور یہ استغنا\nشاید مجھے فطرت نے مجبور کیا ہوگا\n\nاک دائرہ ذروں کا خورشید طریقت تھا\nشاید وہ تمہارا ہی نقش کف پا ہوگا\n\nتم درد کے خالق ہو میں درد کا بندہ ہوں\nجب نام لیا ہوگا دل تھام لیا ہوگا\n\nسیمابؔ جب اس دل میں تصویر نہیں ان کی\nیہ آئینہ دھندلا ہے یہ آئینہ کیا ہوگا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D9%86%D8%B5%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جب تک غم جہاں کے حوالے ہوئے نہیں", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تک غم جہاں کے حوالے ہوئے نہیں\nہم زندگی کے جاننے والے ہوئے نہیں\n\nکہتا ہے آفتاب ذرا دیکھنا کہ ہم\nڈوبے تھے گہری رات میں کالے ہوئے نہیں\n\nچلتے ہو سینہ تان کے دھرتی پہ کس لیے\nتم آسماں تو سر پہ سنبھالے ہوئے نہیں\n\nانمول وہ گہر ہیں جہاں کی نگاہ میں\nدریا کی جو تہوں سے نکالے ہوئے نہیں\n\nطے کی ہے ہم نے صورت مہتاب راہ شب\nطول سفر سے پاؤں میں چھالے ہوئے نہیں\n\nڈس لیں تو ان کے زہر کا آسان ہے اتار\nیہ سانپ آستین کے پالے ہوئے نہیں\n\nتیشے کا کام ریشۂ گل سے لیا شکیبؔ\nہم سے پہاڑ کاٹنے والے ہوئے نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%BA%D9%85_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جب تک کہ تری گالیاں کھانے کے نہیں ہم", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تک کہ تری گالیاں کھانے کے نہیں ہم\nاٹھ کر ترے دروازے سے جانے کے نہیں ہم\n\nجتنا کہ یہ دنیا میں ہمیں خوار رکھے ہے\nاتنے تو گنہ گار زمانے کے نہیں ہم\n\nہو جاویں گے پامال گزر جاویں گے جی سے\nپر سر ترے قدموں سے اٹھانے کے نہیں ہم\n\nآنے دو اسے جس کے لیے چاک کیا ہے\nناصح سے گریباں کو سلانے کے نہیں ہم\n\nجب تک کہ نہ چھڑکے گا گلاب آپ وہ آ کر\nاس غش سے کبھی ہوش میں آنے کے نہیں ہم\n\nجاویں گے صبا باغ میں گلگشت چمن کو\nپر تیری طرح خاک اڑانے کے نہیں ہم\n\nاے مصحفیؔ خوش ہونے کا نہیں ہم سے وہ جب تک\nسر کاٹ کے نذر اس کو بھجانے کے نہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "جب تک کہ تو جلوہ گر نہ ہووے", "poet_page": "مصنف:میر مظفر حسین ضمیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تک کہ تو جلوہ گر نہ ہووے\nمیری شب غم سحر نہ ہووے\n\nافسوس کہ جس سے ہم گزر جائیں\nاور تیرا ادھر گزر نہ ہووے\n\nعاشق ترا اپنی جان کھو دے\nپر حیف تجھے خبر نہ ہووے\n\nمر جائیں ہم آہ کرتے کرتے\nاور دل میں ترے اثر نہ ہووے\n\nصد حیف ضمیرؔ ہم تو روئیں\nاس کی کبھی چشم تر نہ ہووے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92"} {"title": "جب تک کہ خوب واقف راز نہاں نہ ہوں", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "جب تک کہ خوب واقف راز نہاں نہ ہوں\nمیں تو سخن میں عشق کے بولوں نہ ہاں نہ ہوں\n\nخلوت میں تیری بار نہ جلوت میں مجھ کو ہائے\nباتیں جو دل میں بھر رہی ہیں سو کہاں کہوں\n\nگاہے جو اس کی یاد سے غافل ہو ایک دم\nمجھ کو دہن میں اپنے لگی ہے زباں زبوں\n\nشط عمیق عشق کو یہ چاہتا ہوں میں\nابر مژہ سے رو کے اسے بے کراں کروں\n\nطوفان نوح آنکھ نہ ہم سے ملا سکے\nآتی نظر ہیں چشم سے ہر پل عیاں عیوں\n\nناصح خیال خام سے کیا اس سے فائدہ\nکب میرے دل سے ہو ہوس دلبراں بروں\n\nیہ اختلاط کیجئے موقوف ناصحا\nمعقول یعنی دل اسے اے قدرداں نہ دوں\n\nانشاؔ کروں جو پیرویٔ شیخ و برہمن\nمیں بھی انہوں کی طرح سے جوں گمرہاں رہوں\n\nخلوت سرائے دل میں ہے ہو کر کے معتکف\nبیٹھا ہوں کیا غرض کہیں اے جاہلاں ہلوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DA%A9%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D9%88%D8%A7%D9%82%D9%81_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "جب تک کہ دل نہ لاگا ان بے مروتوں سے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تک کہ دل نہ لاگا ان بے مروتوں سے\nایام اپنے گزرے کیا کیا فراغتوں سے\n\nبالین پر بھی ظالم ٹک یک نظر نہ دیکھا\nعاشق نے جان دی تو پر کیا ہی حسرتوں سے\n\nمت پوچھ یہ کہ تجھ بن شب کس طرح سے گزری\nکاٹی تو رات لیکن کن کن مصیبتوں سے\n\nمضمون سوز دل کا کہتے ہی اڑنے لاگے\nحرف و نقط شرر ساں یکساں کتابتوں سے\n\nبیدارؔ سیر گلشن کیوں کر خوش آوے مجھ کو\nجوں لالہ داغ ہے دل یاروں کی فرقتوں سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D9%84%D8%A7%DA%AF%D8%A7_%D8%A7%D9%86_%D8%A8%DB%92_%D9%85%D8%B1%D9%88%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "جب تک کہ سبق ملاپ کا یاد رہا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جب تک کہ سبق ملاپ کا یاد رہا\nبستی میں ہر ایک شخص دل شاد رہا\nجب رشک و حسد نے پھوٹ ان میں ڈالی\nدونوں میں سے ایک بھی نہ آباد رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DA%A9%DB%81_%D8%B3%D8%A8%D9%82_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%BE_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "جب تک کہ طبیعت سے طبیعت نہیں ملتی", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تک کہ طبیعت سے طبیعت نہیں ملتی\nہوں پیار کی باتیں بھی تو لذت نہیں ملتی\n\nآرام گھڑی بھر کسی کروٹ نہیں ملتا\nراحت کسی پہلو شب فرقت نہیں ملتی\n\nجب تک وہ کھنچے بیٹھے ہیں دل ان سے رکا ہے\nجب تک نہیں ملتے وہ طبیعت نہیں ملتی\n\nجیتے ہیں تو ہوتی ہے ان آنکھوں سے ندامت\nمرتے ہیں تو اس لب سے اجازت نہیں ملتی\n\nاس زہد پر نازاں نہ ہو زاہد سے یہ کہہ دو\nتسبیح پھرانے ہی سے جنت نہیں ملتی\n\nکیا ڈھونڈھتے ہیں گور غریباں میں وہ آ کر\nکس کشتۂ رفتار کی تربت نہیں ملتی\n\nکس طرح مرے گھر وہ حفیظؔ آئیں کہ ان کو\nغیروں کی مدارات سے فرصت نہیں ملتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DA%A9%DB%81_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%8C"} {"title": "جب تک ہے شباب سازگار دولت", "poet_page": "مصنف:جارج پیش شور", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جب تک ہے شباب سازگار دولت\nہر قصر میں سو نقش و نگار دولت\nپیری آئی تو شورؔ صاحب پھر کیا\nسب خاک میں مل گئی بہار دولت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%D8%A7%D8%B2%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA"} {"title": "جب تک ہے ہم میں قومی خصلت باقی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جب تک ہے ہم میں قومی خصلت باقی\nبے شک پردے کی ہے ضرورت باقی\nچالیس برس کی بات ہے یہ شاید\nبعد اس کے رہے گی پھر نہ حجت باقی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C_%D8%AE%D8%B5%D9%84%D8%AA_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "جب تک یہ محبت میں بد نام نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تک یہ محبت میں بد نام نہیں ہوتا\nاس دل کے تئیں ہرگز آرام نہیں ہوتا\n\nعالم سے ہمارا کچھ مذہب ہی نرالا ہے\nیعنی ہیں جہاں ہم واں اسلام نہیں ہوتا\n\nکب وعدہ نہیں کرتیں ملنے کا تری آنکھیں\nکس روز نگاہوں میں پیغام نہیں ہوتا\n\nبال اپنے بڑھاتے ہیں کس واسطے دیوانے\nکیا شہر محبت میں حجام نہیں ہوتا\n\nملتا ہے کبھی بوسہ نے گالی ہی پاتے ہیں\nمدت ہوئی کچھ ہم کو انعام نہیں ہوتا\n\nساقی کے تلطف نے عالم کو چھکایا ہے\nلبریز ہمارا ہی اک جام نہیں ہوتا\n\nکیوں تیرگیٔ طالع کچھ تو بھی نہیں کرتی\nیہ روز مصیبت کا کیوں شام نہیں ہوتا\n\nپھر میری کمند اس نے ڈالے ہی تڑائی ہے\nوہ آہوئے رم خوردہ پھر رام نہیں ہوتا\n\nنے عشق کے قابل ہیں نے زہد کے درخور ہیں\nاے مصحفیؔ اب ہم سے کچھ کام نہیں ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%AF_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "جب تیغ کو پکڑ وہ خونخوار گھر سے نکلا", "poet_page": "مصنف:نواب سلیمان شکوہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب تیغ کو پکڑ وہ خونخوار گھر سے نکلا\nتب میں بھی جان سے ہو بیزار گھر سے نکلا\n\nہر مو کمر کے سو سو بل پڑ گئے کمر میں\nپٹکا جو باندھ کر وہ بل دار گھر سے نکلا\n\nکشتے کو تیرے در سے افسوس لے گئے کل\nاور تو نہ اک قدم بھی اے یار گھر سے نکلا\n\nچھوڑا نہ جب گریباں دست جنوں نے میرا\nتب چیر کر میں اس کو ناچار گھر سے نکلا\n\nروزن سے اس نے اوپر مجھ کو کھڑے جو دیکھا\nکھنکھار کر وہیں وہ عیار گھر سے نکلا\n\nاس بت کے دیکھنے کو کر ترک دین و ایماں\nمیں ڈال کر گلے میں زنار گھر سے نکلا\n\nچہروں پہ عاشقوں کے زردی سی پھر گئی تب\nجب باندھ وہ بسنتی دستار گھر سے نکلا\n\nلوگوں کے خوف سے پھر کل شب کو میری خاطر\nلاچار پھاند کر وہ دیوار گھر سے نکلا\n\nوہ شاہ حسن میرے اس ملک دل پہ یارو\nجس دم کہ دوڑنے کو یلغار گھر سے نکلا\n\nکھول آہ کا علم اور لے اشک کے قشوں کو\nیوں میں بھی ہو کے اس دم تیار گھر سے نکلا\n\nکچھ تو اثر کیا ہے دل کی ترے کشش نے\nپڑھتا جو وہ سلیمانؔ اشعار گھر سے نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DA%A9%DA%91_%D9%88%DB%81_%D8%AE%D9%88%D9%86%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "جب جنوں سے ہمیں توسل تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب جنوں سے ہمیں توسل تھا\nاپنی زنجیر پا ہی کا غل تھا\n\nبسترہ تھا چمن میں جوں بلبل\nنالہ سرمایۂ توکل تھا\n\nیک نگہ کو وفا نہ کی گویا\nموسم گل صفیر بلبل تھا\n\nان نے پہچان کر ہمیں مارا\nمنہ نہ کرنا ادھر تجاہل تھا\n\nشہر میں جو نظر پڑا اس کا\nکشتۂ ناز یا تغافل تھا\n\nاب تو دل کو نہ تاب ہے نہ قرار\nیاد ایام جب تحمل تھا\n\nجا پھنسا دام زلف میں آخر\nدل نہایت ہی بے تامل تھا\n\nیوں گئی قد کے خم ہوئے جیسے\nعمر اک رہرو سر پل تھا\n\nخوب دریافت جو کیا ہم نے\nوقت خوش میرؔ نکہت گل تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88%D8%B3%D9%84_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جب جوانی نہیں تو پھر کیا ہے", "poet_page": "مصنف:سید امیر حسن بدر", "kind": "poetry", "section": "غزل > خمخانۂ بدر (1928)", "year": "1928", "text_ur": "جب جوانی نہیں تو پھر کیا ہے\nزندگانی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nنظم وصف دہن جو کرتا ہوں\nغیب دانی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nحور کے ذکر پر بگڑتے ہو\nبد گمانی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nخوب دیکھی شبیہ یوسف کی\nنقش ثانی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nخوش نوایان باغ و کنج قفس\nدانہ پانی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nناز اٹھتے نہیں حسینوں کے\nناتوانی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nدی جگہ مجھ کو اپنے پہلو میں\nمہربانی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nارنی کا جواب اے موسیٰ\nلن ترانی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nدل مضطر میں داغ چھلے کا\nیہ نشانی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nہو پریشان مجھ سے خلوت میں\nبد گمانی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nآتش تر کو دیکھ اے واعظ\nآگ پانی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nترے ساقی سفید سینہ میں\nارغوانی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nتو سنے طور پر کلیم کی بات\nخوش بیانی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nزندگی جس کو لوگ کہتے ہیں\nبدرؔ فانی نہیں تو پھر کیا ہے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب حسن بے مثال پر اتنا غرور تھا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب حسن بے مثال پر اتنا غرور تھا\nآئینہ دیکھنا تمہیں پھر کیا ضرور تھا\n\nچھپ چھپ کے غیر تک تمہیں جانا ضرور تھا\nتھا پیچھے پیچھے میں بھی مگر دور دور تھا\n\nملک عدم کی راہ تھی مشکل سے طے ہوئی\nمنزل تک آتے آتے بدن چورچور تھا\n\nدو گھونٹ بھی نہ پی سکے اور آنکھ کھل گئی\nپھر بزم عیش تھی نہ وہ جام سرور تھا\n\nواعظ کی آنکھیں کھل گئیں پیتے ہی ساقیا\nیہ جام مے تھا یا کوئی دریائے نور تھا\n\nکیوں بیٹھے ہاتھ ملتے ہو اب یاسؔ کیا ہوا\nاس بے وفا شباب پر اتنا غرور تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A8%DB%92_%D9%85%D8%AB%D8%A7%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جب خدا کو جہاں بسانا تھا", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب خدا کو جہاں بسانا تھا\nتجھ کو ایسا نہیں بنانا تھا\n\nمیرے گھر تیرا آنا جانا تھا\nوہ بھی اے یار کیا زمانہ تھا\n\nپھر گئے آپ میرے کوچے سے\nدو قدم پر غریب خانہ تھا\n\nجو نہ سمجھے کہ عاشقی کیا ہے\nاس سے بیکار دل لگانا تھا\n\nآئے تھے بخت آزمانے ہم\nآپ کو تیغ آزمانا تھا\n\nاے ستم گار قبر عاشق پر\nچند آنسو تجھے بہانا تھا\n\nتو نے رہنے دیا پس دیوار\nورنہ اپنا کہاں ٹھکانا تھا\n\nاب جہاں پر ہے شیخ کی مسجد\nپہلے اس جا شراب خانہ تھا\n\nدخل اہل ریا نہ رکھتے تھے\nپاک بازوں کا آنا جانا تھا\n\nبزم میں غیر کو نہ بلواتے\nآپ کو جب ہمیں بلانا تھا\n\nوہ چمن اب خزاں رسیدہ ہے\nبلبلوں کا جہاں ترانہ تھا\n\nسنتے ہیں وہ شجر بھی سوکھ گیا\nجس پہ صیاد آشیانہ تھا\n\nدل نہ دیتے اسے تو کیا کرتے\nاے اثرؔ دکھ ہمیں اٹھانا تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جب خزاں آئی چمن میں سب دغا دینے لگے", "poet_page": "مصنف:بوم میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب خزاں آئی چمن میں سب دغا دینے لگے\nتنکے اڑا اڑ کر نشیمن کا پتہ دینے لگے\n\nجب مری گستاخیوں کی وہ سزا دینے لگے\nوصل کی شب لات گھونسہ بھی مزا دینے لگے\n\nمانجھ کر وہ دانتوں کو جب مسکرا دینے لگے\nچھوٹی موٹی سینکڑوں بجلی گرا دینے لگے\n\nقتل کرنے کے بجائے یہ سزا دینے لگے\nکھود کر گڈھا مجھے زندہ دبا دینے لگے\n\nبے تحاشہ قبر پر کسلے بجا دینے لگے\nمیری مٹی کو ٹھکانے سے لگا دینے لگے\n\nان کے اک تھپڑ سے جب میں دم چرا کر پڑ گیا\nایسے گھبرائے کہ دامن سے ہوا دینے لگے\n\nآپ تو مانگا کریں تھے میرے مرنے کی دعا\nاب لگا مرنے تو جینے کی دعا دینے لگے\n\nکیسا عاشق آپ تو مجھ کو سمجھتے ہیں قلی\nہر جگہ ہاتھوں میں میرے بسترہ دینے لگے\n\nہو گیا مجبور میں بھی اور دل ناکام بھی\nوصل کی شب جب خدا کا واسطہ دینے لگے\n\nکم نہیں ہے تارپیڈو سے ترے تیر نظر\nچھید کر دل آگ سینے میں لگا دینے لگے\n\nمحروموں سے آپ کے جوبن کا عقدہ کھل گیا\nآپ کی اٹھتی جوانی کا پتہ دینے لگے\n\nبومؔ ہونا چاہئے بزم سخن میں وہ کلام\nدوست کیا دشمن صدائے مرحبا دینے لگے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8_%D8%AF%D8%BA%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "جب دست بستہ کی نہیں عقدہ کشا نماز", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب دست بستہ کی نہیں عقدہ کشا نماز\nکاٹے گی میری پاؤں کی زنجیر کیا نماز\n\nبندوں کا تو یہ حال ہے لیتی نہیں سلام\nکیوں کر کہوں قبول کرے گا خدا نماز\n\nبوئے ریا ہر ایک گل بوریا میں ہے\nدنیا کی گھر کا فرش ہے زاہد کی جانماز\n\nروزہ ہماری فاقہ کشی کا نمونہ ہے\nاپنی فروتنی کا ہی اک پرتوا نماز\n\nفریاد کر رہا ہوں دو وقتی اذاں نہیں\nتکلیف مجھ کو دیتی ہیں صبح و مسا نماز\n\nمینائے مے امام ہو ماموم رند ہوں\nحسرت ہے پانچ وقت کی ہو یوں ادا نماز\n\nسارے نقوش سنگئ گلہائے باغ خلد\nجس بوریے پہ میں نے پڑھی بے ریا نماز\n\nمستی میں لغزش اپنی رکوع و سجود ہے\nنکلے جو میکدے سے تو ہوگی قضا نماز\n\nجاتے ہیں گرتے پڑتے ہوئے راہ شوق میں\nکیا جانیں ہم طریق ہے کیا اور کیا نماز\n\nلا تقربو الصلوٰۃ اسی امر پر ہے نہیں\nپی کر مے‌ٔ غرور نہ پڑھ واعظا نماز\n\nاللہ دے جو نیت خالص حضور قلب\nپھر عرش سجدہ گاہ ہے کرسی ہے جانماز\n\nہر دم جہاد نفس میں تکبیر ہے بلند\nسر پر ہے تیغ جبر مگر ہے بپا نماز\n\nدامان تر کی لو خبر اے زاہدان خشک\nاس جامۂ نجس سے نہیں ہے روا نماز\n\nہے اضطراب فاقے میں اٹھ بیٹھ بہر قوت\nزاہد کجا و روزہ کجا و کجا نماز\n\nتیر و کماں ہیں اس کے قیام و رکوع بحرؔ\nاک دن اڑائے گی ہدف مدعا نماز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D9%82%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%B4%D8%A7_%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2"} {"title": "جب دل میں ترے غم نے حسرت کی بنا ڈالی", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب دل میں ترے غم نے حسرت کی بنا ڈالی\nدنیا مری راحت کی قسمت نے مٹا ڈالی\n\nاب برق نشیمن کو ہر شاخ سے کیا مطلب\nجس شاخ کو تاکا تھا وہ شاخ جلا ڈالی\n\nاظہار محبت کی حسرت کو خدا سمجھے\nہم نے یہ کہانی بھی سو بار سنا ڈالی\n\nجینے بھی نہیں دیتے مرنے بھی نہیں دیتے\nکیا تم نے محبت کی ہر رسم اٹھا ڈالی\n\nجینے میں نہ اب فانیؔ مرنے میں شمار اپنا\nماتم کی بساط اس نے کیا کہہ کے اٹھا ڈالی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DA%88%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "جب دوبارہ کسی عاشق کا جنم ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "جب دوبارہ کسی عاشق کا جنم ہوتا ہے\nاک وفادار سگ کوئے صنم ہوتا ہے\n\nتان اور تال کی تشریح مغنی جانے\nجس کو کھا لیتے ہیں عشاق وہ سم ہوتا ہے\n\nتیرا عاشق ہے مگر ضبط کی الٹی تصویر\nچیخ اٹھتا ہے کبھی درد جو کم ہوتا ہے\n\nتین حرف اس پہ جو کرتے نہیں اتنی سی بات\nکاف رے میم کے ملنے سے کرم ہوتا ہے\n\nبے تکی خط میں اڑاتے ہیں حسینان فرنگ\nہاتھ میں ان کے جہاں پر کا قلم ہوتا ہے\n\nجو دکھاتے ہیں رہ عشق میں ثابت قدمی\nایسے عشاق کے پیروں میں ورم ہوتا ہے\n\nمجھ کو معلوم نہیں درد ہے یا کیا شے ہے\nکچھ مرے دل میں ترے سر کی قسم ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AF%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%86%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب دیکھتا ہوں تنہا تجھ کو سجن چمن میں", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب دیکھتا ہوں تنہا تجھ کو سجن چمن میں\nکس کس طرح کی باتیں آتی ہیں میرے من میں\n\nلڑکے کھڑے ہیں غمگیں پتھرے پڑے ہیں بیکس\nدیوانہ ہائے جب سے جاتا رہا ہے بن میں\n\nمجنوں کی خوش نصیبی کرتی ہے داغ دل کو\nکیا عیش کر گیا ہے ظالم دیوانہ پن میں\n\nاس داغدار دل کو گاڑو نہ ساتھ میرے\nڈرتا ہوں مت لگے اٹھ آتش مرے کفن میں\n\nخوباں یقیںؔ کو معذور اب تو رکھو کہ اس کے\nلوہو نہیں جگر میں آنسو نہیں نین میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%AC%D9%86_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جب ذرا نغموں سے بلبل گل فشاں ہو جائے گا", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب ذرا نغموں سے بلبل گل فشاں ہو جائے گا\nٹوکری پھولوں کی سارا آشیاں ہو جائے گا\n\nجب اٹھے گا جوش مے بن جائے گا وہ آفتاب\nجب اڑے گا خم کا سرپوش آسماں ہو جائے گا\n\nجسم و جاں کا فیصلہ سارا اسی کے ہاتھ ہے\nپاؤں تیری تیغ کا خود درمیاں ہو جائے گا\n\nمعجز شق القمر دکھلائے گی انگشت حسن\nچاند تیرے پرتوے سے خود کتاں ہو جائے گا\n\nرند ہاں عمامۂ زاہد پہ ہوں ہتھ پھیریاں\nکشتیٔ مے کا اک اچھا بادباں ہو جائے گا\n\nسر پہ چھن چھن کر بلائیں آئیں گی خاموش قدرؔ\nآہ کھینچو گے تو چھلنی آسماں ہو جائے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D8%BA%D9%85%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D9%81%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جب رقیبوں کا ستم یاد آیا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب رقیبوں کا ستم یاد آیا\nکچھ تمہارا بھی کرم یاد آیا\n\nکب ہمیں حاجتِ پرہیز پڑی\nغم نہ کھایا تھا کہ سم یاد آیا\n\nنہ لکھا خط کہ خطِ پیشانی\nمجھ کو ہنگامِ رقم یاد آیا\n\nشعلۂ زخم سے اے صید فگن\nداغِ آہوئے حرم یاد آیا\n\nٹھیرے کیا دل کہ تری شوخی سے\nاضطرابِ پئے ہم یاد آیا\n\nخوبیِ بخت کہ پیمانِ عدو\nاس کو ہنگامِ قسم یاد آیا\n\nکھل گئی غیر سے الفت اس کی\nجام مے سے مجھے جم یاد آیا\n\nوہ مرا دل ہے کہ خود بینوں کو\nدیکھ کر آئینہ کم یاد آیا\n\nکس لئے لطف کی باتیں ہیں پھر\nکیا کوئی اور ستم یاد آیا\n\nایسے خود رفتہ ہو اے شیفتہ کیوں\nکہیں اس شوخ کا رم یاد آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا\nفوجِ خدا پہ سایۂ ابرِ کرم ہوا\nچرخ زبر جدی پے تسلیم خم ہوا\nپنجے پہ سات بار تصدق حشم ہوا\nدیکھا نہ تھا کبھی جو علم اس نمود کا\nدونوں طرف کی فوج میں غل تھا درود کا\n\nوہ شان اس قلم کی وہ عباس کا جلال\nنخلِ زمردی کے تلے تھا علی کا لال\nپرچم پہ جان دیتی تھیں پریوں کا تھا یہ حال\nغل تھا کہ دوشِ حور پہ بکھرے ہوئے ہیں بال\nہر لہر آبدار تھی کوثر کی موج سے\nطوبیٰ بھی دب گیا تھا پھریرے کی اوج سے\n\nتھا پنجتن کا نور جو پنجے میں جلوہ گر\nاعمیٰ کی پتلیوں میں بھی تھا روشنی کا گھر\nذرے نثار کرتے تھے اٹھ اٹھ کے اپنا زر\nتکتے تھے فوق سے تو ملک تخت سے بشر\nاللہ ری چمک علمِ بوتراب کی\nتارِ نظر بنی تھی کرن آفتاب کی\n\nقربان احتشام علمدار نام ور\nرخ پر جلالت شہ مرداں تھی سر بسر\nچہرہ تو آفتاب سا اور شیر کی نظر\nقبضے میں تیغ بر میں زرہ دوش پر سپر\nچھایا تھا رعب لشکرِ ابنِ زیادؔ پر\nغل تھا چڑھے ہیں شیر الٰہی جہاد پر\n\nوہ اوج وہ جلال وہ اقبال وہ حشم\nوہ نور وہ شکوہ وہ توقیر وہ کرم\nپنجے کی وہ چمک وہ سر افرازیِ علم\nگرتی تی برق فوجِ مخالف پہ دم بہ دم\nکیا رفعتِ نشانِ سعادت نشان تھی\nسائے میں جس نشان کے طوبیٰ کی شان تھی\n\nپنجہ اٹھا کے ہاتھ یہ کہتا تھا بار بار\nعالم میں پنجتن کی بزرگی ہے آشکار\nیہ شش جہت انہیں کے قدم سے ہے برقرار\nکیوں ہفتہ دوست ہوتےہو اے قوم نابکار\nآٹھوں بہشت ملتے ہیں مولا کے نام سے\nبیعت کرو حسین علیہ السلام سے\n\nغرفوں سے جھانک جھانک کے بولی ہر ایک حور\nصلِ علیٰ علم کی چمک ہے کہ برق طور\nیارب رہے نگاہ بد اس کی ضیا سے دور\nپنجہ ہے یہ کہ ایک جگہ پنجتن کا نور\nجلوے ہیں سب محمد و حیدر کی شان کے\nقربان اس جواں کے نثار اس نشان کے\n\nآگے کبھی نہ دیکھی تھی اس حسن کی سپاہ\nدنیا بھی خوبیوں کا مرقع ہے واہ واہ\nدیکھیں کسے کسے کہ ہے ایک ایک رشکِ ماہ\nجاتی ہے جس کے رخ پہ تو پھرتی نہیں نگاہ\nدیکھو انہیں دموں سے ہے رونق زمین کو\nچن کر حسین لائے ہیں کس کس حسین کو\n\nشہرہ بہت تھا حسن میں کنعاں کے ماہ کا\nقصہ سنا ہوا ہے زلیخا کی چاہ کا\nیاں آفتاب کو نہیں یارا نگاہ کا\nیوسف ہے ایک ایک جواں اس سپاہ کا\nسنتے تھے ہم کہ عالمِ ایجادِ زشت ہے\nایسے چمن کھلے ہیں کہ دنیا بہشت ہے\n\nہم شکل مصطفیٰ کا ہے کیا حسن کیا جمال\nصبحِ جبیں بھی اور شبِ گیسو بھی بے مثال\nیہ لب یہ خط یہ چشم یہ ابرو یہ رخ یہ خال\nیاقوت و مشک و نرگس و نجم و مہ و ہلال\nاک گل پہ یاں ہزار طرح کی بہار ہے\nچہرہ نہ کہیے قدرتِ پروردگار ہے\n\nلخت دلِ حسن بھی ہے کس مرتبہ حسیں\nجس کے چراغ حسن سے روشن ہے سب زمیں\nیہ زلف مشک بیز یہ آئینہ جبیں\nسرمایۂ خطا و ختن کائنات چیں\nرخ کی بلائیں لیتی ہیں پریاں کھڑی ہوئی\nسہرے کی ہر لڑی سے ہیں آنکھیں لڑی ہوئی\n\nنامِ خدا میں عون و محمد بھی کیا شکیل\nاک مہرے بے نظیر ہے اک بدرِ بے عدیل\nافروختہ ہیں رخ یہ شجاعت کی ہے دلیل\nہمت بڑی ہے گو کہ ہیں عمریں ابھی قلیل\nمثلِ علی ہیں جنگ و جدل پر تلے ہوئے\nدونوں کے نیمچوں کے ہیں ڈورے کھلے ہوئے\n\nعباس نام ور بھی عجب سج کا ہے جوان\nنازاں ہے جس کے دوشِ منور پہ خود نشان\nحمزہ کا رعب صولت جفرؔ علی کی شان\nہاشم کا دل حسین کا بازو ، حسن کی جان\nکیوں کر نہ عشق ہو شہ گردوں جناب کو\nحاصل ہیں سیکڑوں شرف اس آفتاب کو\n\nاس مہر کو تو دیکھو یہ ذرے ہیں جس کے سب\nسرتاج آسمان و زمیں نورِ عرش رب\nابرِ کرم خدیو عجم خسرو عرب\nعالی ہمم امامِ امم شاہِ تشنہ لب\nجنباں زبانِ خشک ہے ذکر الٰہ میں\nگویا کھڑے ہیں ختم رسل رزمگاہ میں\n\nکیا فوج تھی حسین کی اس فوج کے نثار\nایک ایک آبروئے عرب فخرِ روزگار\nجرار و دیں پناہ نمودار نامدار\nلڑکوں میں سبزہ رنگ کوئی کوئی گل عذار\nفوجیں کوئی سماتی تھیں ان کی نگاہ میں\nوہ سب پلے تھے بیشہ شیر الہٰ میں\n\nایک ایک ملک جرأت و ہمت کا بادشاہ\nکیواں خدم سپہر حشم عرشِ بارگاہ\nآنکھیں غزالِ رشک مگر شیر کی نگاہ\nوہ رعب چتونوں میں کہ اللہ کی پناہ\nدیکھا تو دل کو توڑ کے برچھی نکل گئی\nابرو ذرا جو ہل گئے تلوار چل گئی\n\nوہ اشتیاقِ جنگ میں لڑکوں کے ولولے\nبے تاب تھے کہ دیکھیے تلوار کب چلے\nچہرے وہ آفتاب سے وہ چاند سے گلے\nسب فاطمہ کی بیٹیوں کی گود کے پلے\nاک اک رسولِ حق کی لحد کا چراغ تھا\nجس پر علی نے کی تھی ریاضت وہ باغ تھا\n\nاکبر سے عرض کرتے تھے سینہ سپر کیے\nیہ نیمچے نہ لیویں گے دم بے لہو پییے\nگر آج مر گئے تو قیامت تلک جیے\nصدقے ہوں اس قدم پہ یہ سر ہیں اسی لیے\nآقا کے آگے لطف ہے تیغ آزمائی کا\nآج آپ دیکھیے گا تماشا لڑائی کا\n\nبچپن پہ خادمانِ او لوالعزم کے نہ جائیں\nجب چاہیں معرکے میں ہمیں آپ آزمائیں\nتن تن کے روکیں برچھیاں ہنس ہنس کے زخم کھائیں\nبجلی گر ےتو منہ پہ جھجک کر سپر نہ لائیں\nجھپکے پلک کسی سے تو آنکھیں نکالیے\nبڑھ کر ہٹیں جو پانوں تو سر کاٹ ڈالیے\n\nکہتے تھے مسکرا کے یہ زینب کے دونوں لال\nکھلتے ہیں خود دلیروں کے جوہر دمِ جدال\nہر وقت چاہیے مددِ شیر ذو الجلال\nنعرے ابھی کریں تو ہلے عرصۂ قتال\nاتری ہے تیغ جن کے لیے وہ دلیر ہیں\nہم سب کو جانتے ہیں کہ شیروں کے شیر ہیں\n\nیہ چہچہے جو کرتے تھے باہم وہ گلعذار\nشپیر دیکھتے تھے کنکھیوں سے بار بار\nپاس آ کے عرض کرتے تھے عباسِ نامدار\nسنتے ہیں آپ کہتے ہٰن جو کچھ یہ جاں نثار\nجرأت ٹپک رہی ہے ہر اک کے کلام سے\nیہ نیمچے رکیں گے بھلا فوجِ شام سے\n\nیہ سن یہ زور شور یہ عمریں یہ آن بان\nیہ بھولے بھولے منہ پہ جواں مرد یا ں یہ شان\nباتیں رجز سے کم نہیں اللہ رے خوش بیان\nچلتی ہے ذوالفقار علی کی طرح زبان\nکس دبدبے سے کاندھوں پہ نیزے سنبھالے ہیں\nگویا چلن لڑائی کا سب دیکھے بھالے ہیں\n\nزینب کے لاڈلوں کی طرف دیکھیے حضور\nمثلِ عرق ٹپکتا ہے پیشانیوں سے نور\nرخ پر جلال شیر خدا کا ہے سب ظہور\nپر تو گلوں کا ہے کہ چمکتی ہے برقِ طور\nدونوں میں صاف حیدر و جعفر کے طور ہیں\nاللہ کی پناہ یہ تیوری ہی اور ہیں\n\nیہ ذکر تھا کہ بجنے لگا طبل اس طرف\nمشکل کشائی کی فوج نے باندھی ادھر بھی صف\nتیروں نے رخ کیا سوئے ابنِ شہ نجف\nسینوں کو غازیوں نے ادھر کر دیا ہدف\nتھا بسکہ شوقِ جنگ ہر اک رشکِ ماہ کو\nجوش آ گیا وغا کا حسینی سپاہ کو\n\nغصے سے آفتاب ہوئے مہ وشوں کے رنگ\nفوجوں پہ جا پڑیں یہ دلوں کی ہوئی امنگ\nتن تن کے برچھیاں جو سنبھالیں برائے جنگ\nبے چین ہو گئے فرسِ ابلق و سرنگ\nپاسِ ادب سے شاہ کے صف بڑھ کے تھم گئی\nپٹری ہر اک سوار کی گھوڑے پہ جم گئی\n\nتنتا ہوا بڑھا کوئی قبضے کو چوم کے\nبھالا کسی نے رکھ لیا کاندھے پہ جھوم کے\nبولا کوئی یہ غول ہیں کیا شام و روم کے\nٹکڑے اڑائیں گے عمر و شمر شوم کے\nنامرد ہیں جو آنکھ چراتے ہیں مرد سے\nدونوں کو چار کر کے پھریں گے نبرد سے\n\nدو لاکھ سے نظر کسی غازی کی لڑ گئی\nبل کھا کے رخ پہ زلف کسی کی اکڑ گئی\nچتون کسی کی شورِ دہل سے بگڑ گئی\nمنہ سرخ ہو گیا شکن آبرو پہ پڑ گئی\nنکلا کوئی سمند کو رانوں میں داب کے\nغصے سے رہ گیا کوئی ہونٹوں کو چاب کے\n\nبڑھ کر کسی نے تیر ملایا کمان سے\nنیزہ کوئی ہلانے لگا آن بان سے\nنعرہ کسی کا پار ہوا آسمان سے\nتلوار کھینچ لی کسی صفدر نے میان سے\nایک شور تھا کہ تلخ کیا ہے حیات کو\nلاشوں سے چل کے پاٹ دو نہرِ فرات کو\n\nسنتے ہی یہ کلام جو انانِ نام ور\nلڑکے الگ کھڑے ہوئے غول اپنا باندھ کر\nکہتے تھے نیمچے لیے وہ غیرتِ قمر\nیارب شکست کوفیوں کو دے ہمیں ظفر\nسر کے نہ پھر وغا میں جو بڑھ کے قدم گڑے\nجاکر درِ یزید پہ اپنا علم گڑے\n\nعباس شہ سے کہتے تھے بپھرے ہوئے ہیں شیر\nتیر اس طرف سے آ چکے اب کس لیے ہے دیر\nدو دن کی بھوک پیاس میں ہیں زندگی سے سیر\nمولا غلام سے کہیں رکنے کے یہ دلیر\nپاسِ ادب سے غیظ کو ٹالے ہوئے ہیں یہ\nشیر خدا کی گود کے پالے ہوئے ہیں یہ\n\nکس کو ہٹائے کس کو سنبھالے یہ جاں نثار\nمرنے پہ ایک دل ہیں بہتر وفا شعار\nہے مصلحت کو دیجیے اب اذن کار زار\nایسا نہ ہو کہ جا پڑیں شکر پہ ایک بار\nبرہم ہیں سر کشی پہ سوارانِ شام کی\nاکبر کی بات مانتے ہیں نہ غلام کی\n\nجب روکتا ہوں میں انہیں اے آسماں سریر\nکہتے ہیں کیوں امام کی جانب لگائے تیر\nباندھے ہے سر کشی پہ کمر لشکرِ شریر\nہنگام جنگ شیر کے بچے ہوں گوشہ گیر\nکس قہر کی نظر سے لعینوں کو تکتے ہیں\nبچوں کو ہے یہ غیظ کہ آنسو ٹپکتے ہیں\n\nاک اک جری کو تشنہ جرأت کا جوش ہے\nعالم ہے بے خودی کا پہ مرنے کا ہوش ہے\nہر صف میں یا علی ولی کا خروش ہے\nکہتے ہیں بار بار کہ سر بارِ دوش ہے\nمشتاق ہیں وہ پیاس میں تیغوں کے گھاٹ کے\nڈر ہے کہ مر نہ جائیں گلے کاٹ کاٹ کے\n\nحسرت سے کی سوئے رفقا شاہ نے نظر\nبولے حبیب نذر کو حاضر ہیں سب کے سر\nفرمایا شہ نے ہم بھی ہیں آمادۂ سفر\nاچھا بڑھے جہاد کو ایک ایک نام ور\nیہ راہِ حق ہے جو قدم آگے بڑھائے گا\nدربارِ مصطفی میں وہی پہلے جائے گا\n\nمژدہ یہ سن کے شاد ہوئے غازیانِ دیں\nاک اک دلیر جانے لگا سوئے فوج کیں\nجب نعرہ زن ہوئے صفتِ شیر خشمگیں\nتھرائے آسماں کے طبق ہل گئی زمیں\nبرپا تھا شورِ حشر دلیروں کی حرب سے\nفوجیں تو کیا جہاں تہہ و بالا تھا ضرب سے\n\nاللہ رے جہاد حبیب و زہیرقین\nگویا بپا تھا معرکۂ خندق و حنین\nجب مر گئے وہ عاشقِ سلطان مشرقین\nمقتل میں پیٹتے ہوئے دوڑے گئے حسین\nیوں جاکے روئے ان کے تنِ پاش پاش پر\nجس طرح بھائی روتا ہے بھائی کی لاش پر\n\nخالی ہوا قدیم رفیقوں کا جب پرا\nکانپا سپہر شہ نے دمِ سردیوں بھرا\nکٹنے لگا عزیزوں کا بھی جب چمن ہرا\nگہ روئے آپ ہاتھ جگر پر کبھی دھرا\nلڑکے جو یک بہ یک کئی ہاتھوں سے کھو گئے\nٹکڑے حسن کی طرح کلیجے کے ہو گئے\n\nتھی قہر حق عقیل کے پوتوں کی کارزار\nشمشیر حیدری کا نمونہ تھے جن کے وار\nعزت عرب کی رکھ گئے جعفر کے یادگار\nتھے تین چار شیر کہ جھپٹے سوئے شکار\nفتح و ظفر تھی مثلِ علی اختیار میں\nپنجے میں تھا وہی جسے تاکا ہزار میں\n\nنکلے برادران علمدارِ صف شکن\nدکھلا دیے علی کی لڑائی کے سب چلن\nبے سر تھے مورچوں میں جوانانِ پیل تن\nلاشوں پہ لاشیں گرتی تھیں پڑتا تھارن پہ رن\nآنکھوں میں پھر رہی تھی چمک زوالفقار کی\nعباس داد دیتے تھے ایک ایک دار کی\n\nتھا چھوٹے بھائیوں کے لیے مضطرب جو دل\nگہ شہ کے پاس تھے کبھی لشکر کے متصل\nنعرہ یہ تھا کہ شیر ہے ماں کا تمہیں بحل\nشیرو رکے نہ ہاتھ بدن گو ہے مضمحل\nیہ وقتِ آبرو ہے بڑی جد و کد کرو\nہاں بھائیو امام کی اپنے مدد کرو\n\nالٹو پروں کو بڑھ کے صفوں کو بچھا کے آؤ\nساحل کے پاس خون کا دریا بہا کے آؤ\nجب باگ اٹھاؤ فوج کے اس پار جا کے آؤ\nیا مر کے آؤ یا انہیں رن سے بھگا کے آؤ\nہاں صفدر و نشاں نہ رہے فوجِ شام کا\nبیٹوں کو پاس چاہیے بابا کے نام کا\n\nرہ کر حسین کہتے تھے بھائی سے دم بہ دم\nدولت پدر کی لٹتی ہے اور دیکھتے ہیں ہم\nجینے نہ دے گا آہ ہمیں بھایئوں کا غم\nعباس عرض کرتے تھے اے قبلۂ امم\nاب باپ کی جگہ شہ عالی مقام ہیں\nصدقے نہ کس طرح ہوں کہ ہم سب غلام ہیں\n\nبے جاں ہوئے جو راہِ خدا میں دو شیرِ نر\nحضرت ضعیف ہو گئے خم ہو گئی کمر\nماتم میں تھے کہ موت نے لوٹا حسن کاگھر\nاک دم میں قتل ہو گئے دونوں جواں پسر\nسب چل بسے نبی و علی پاس رہ گئے\nستر دو تن میں اکبر و عباس رہ گئے\n\nآیا نظر جو لاشۂ نوشاہِ نیک خو\nاکبر کی چشمِ تر سے ٹپکنے لگا لہو\nکی غیظ کی نظر طربِ لشکرِ عدو\nپہلے سے آئے روتے ہوئے شہ کے روبرو\nنکلی یہ بات جوشِ بکا میں زبان سے\nقاسم کے ساتھ جائیں گے ہم بھی جہان سے\n\nبچپن سے ہم سے یہ نہ ہوئے تھے کبھی جدا\nسوئے تو ایک فرش یہ کھیلے تو ایک جا\nطفلی کا ساتھ چھوٹ گیا وامصیبتا\nمرجائے ایسا بھائی تو جینے کا لطف کیا\nحسرت یہ ہے کہ تیغوں سے تن پاش پاش ہو\nپہلو میں ابنِ عم کے ہماری بھی لاش ہو\n\nشہ نے کہا کہ سچ ہے یہ ایسا ہی ہے الم\nخالق جہاں میں بھائی کا بھائی کو دے نہ غم\nبازو کا ٹوٹنا اجل آنے سے کیا ہے کم\nمر مر کے غم میں بھائی حسن کے جیے ہیں ہم\nتازہ تھا غم پدر کا خوشی دل سے فوت تھی\nعباسِ نامدار نہ ہوتے تو موت تھی\n\nبھائی کے بعد ان سے ملی لذتِ حیات\nبے کس کے غم گسار تھے یہ یا خدا کی ذات\nخالی نہ پائی مہرو مروت سے کوئی بات\nسویا جو میں تو ان کو کٹی جاگنے میں رات\nصدمے بھلائے دل سے حسن کی جدائی کے\nرونے نہیں دیا مجھے ماتم میں بھائی کے\n\nہے ان کے اتحاد کا سب سے جدا مزا\nبیٹے کا لطف بھائی کاحظ باپ کا مزا\nملتا ہے بات بات میں ہر دم نیا مزا\nاوجھل یہ آنکھ سے ہوں تو جینے کا کیا مزا\nقائم رکھے خدا کہ علی کے نشان ہیں\nمالک یہی ہیں گھر کے یہی تن کی جان ہیں\n\nقوت جگر کی تم ہو تو یہ بازوؤں کا زور\nبچھڑا جو دو میں ایک تو پھر میں کنار گور\nہوتا ہے زخمِ دل پہ نمک آنسوؤں کا شور\nجب پتلیاں جدا ہوں تو چشمِ بشر ہے کور\nتم پہلوؤں میں تھے جو یہ بے کس سنبھل گیا\nپھر خاتمہ ہے جسم سے جب دم نکل گیا\n\nان سے نشان علی کا ہے تم سے ہمارا نام\nگھر ہٹ گیا نبی کا جو دونوں ہوئے تمام\nمیت کے دفن کا بھی مقدم ہے انتظام\nمرنے کے بعد کوئی توآئے ہمارے کام\nتربت پہ تم سے گل ہوں تو دل باغ باغ ہو\nاندھیر ہے جو قبر پدر بے چراغ ہو\n\nکیجو نہ ذکر ہجر پہ صدمہ ہے دل خراش\nبہرِ پدر کرو کفن و گور کی تلاش\nہوگا یہ جسم ظلم کی تیغوں سے پاش پاش\nدو شخص چاہیے کہ اٹھائیں ہماری لاش\nرونے کوکوئی دوست نہ یارو سرہانے ہو\nفرزند پائینتی ہو برادر سرہانے ہو\n\nاکبر نے سن کے باپ سے یہ اشکِ خوں بہائے\nعباس بول اٹھے نہ خدا وہ گھڑی دکھائے\nہے زندگی یہی کہ ہمیں پہلے موت آئے\nخاک اس غلام پر کہ جو آقا کی لاش اٹھائے\nدستِ قوی ہیں نیزہ وصمصام کے لیے\nپائیں ہیں کیا یہ ہاتھ اسی کام کے لیے\n\nبس گر پڑا یہ کہہ کے قدم پر وہ باوفا\nجھک کر کہا حسین نے بھائی یہ کیا کیا\nقاسم کا ذکر کرتے تھے ہم شکلِ مصطفی\nباتیں تو ان سے تھٰں تمہیں کیوں غیظ آ گیا\nہم تم تو ساتھ گلشنِ ہستی سے جائیں گے\nاچھا ہماری لاش کو اکبر اٹھائیں گے\n\nاٹھے قدم سے آپ کی الفت کے میں نثار\nغصے میں بھول جاتے ہو بھیا ہمارا پیار\nآنکھیں قدم پر مل کے یہ بولا وہ نام دار\nبے اذن جنگ سر نہ اٹھائیں گا خاکسار\nایسا نہ ہوں خجل ہوں رسالت مآب سے\nپہلے مروں گا اکبرِ عالی جناب سے\n\nصدقہ علی کی روح کا اکبر کو رو کیے\nدے کر قسم شبیہ پیمبر کو روکیے\nنورِ نگاہِ بانوئے بے پر کو روکیے\nاے آفتابِ دیں مہِ انور کو روکیے\nپہلے رضا ملے تو بہت نیک نام ہوں\nآقا یہ شاہزادہ ہے اور میں غلام ہوں\n\nشہ نے کہا کہ سر تو قدم سے اٹھائیے\nلیجے رضائے جنگ نہ آنسو بہائیے\nفرقت میں ہم مریں کہ جئیں خیر جائیے\nاپنی سکینۂ جان سے جاکر مل آئیے\nزوجہ کو پیٹتے ہوئے سر دیکھ لیجیے\nبچوں کو اور ایک نظر دیکھ لیجیے\n\nعباس شہ کے گرد پھرے آٹھ کے سات بار\nبھائی کو گھر میں لے کےچلے شاہِ ذی وقار\nبولا یہ پیک شاطر فوجِ ستم شعار\nلو اذن جنگ پا چکے عباس نام دار\nخود دیکھ کر یہ حال پھرا ہوں میں راہ سے\nملنے گئے ہیں خیمے میں ناموسِ شاہ سے\n\nتھے آگے آگے ہاتھوں سے تھامے کمر امام\nنعرہ یہ دم بہ دم تھا کہ اب ہم ہوئے تمام\nتیغوں سے گھاٹ روک لو آیا وہ نیک نام\nاب معرکہ ہے قبر کا اے ساکنانِ شام\nدیکھو بچے رہو کہ لڑائی ہے شیر سے\nچھوٹے گی مشکلوں میں ترائی دلیر سے\n\nدل مل گئے سپاہ کے سنتے ہی یہ خبر\nکانپے مثالِ بید جو انانِ پر جگر\nہل چل میں اس طرف کے پرے ہو گئے ادھر\nساحل سے ہٹ کے نہر پکاری کہ الحذر\nپیچھے ہٹیں صفیں یہ تلاطم عیاں ہوا\nدریا جو باڑھ پر تھا وہ الٹا رواں ہوا\n\nٹوٹے وہ مورچے جو بندھے تھے پۓ جدال\nبرچھی گری زمیں پہ کسی کی کسی کی ڈھال\nاللہ ری ہیبتِ خلفِ شیر ذوالجلال\nکانپی زمیں کھڑے ہوئے روئیں تنوں کے بال\nمنہ زرد ہو کے رہ گیا ہر نوجوان کا\nدشتِ نبرد کھیت بنا زعفران کا\n\nتھا شش جہت میں غل کہ یہ ہے روزِ انقلاب\nالٹے گا اس زمیں کا ورق ابنِ بوتراب\nاس شیر پر نہ ہوگی کوئی فوج فتح یاب\nبس اب بنائے عالمِ امکاں ہوئی خراب\nحملہ غضب ہے بازوئے شاہِ حجاز کا\nلنگر نہ ٹو جائے زمیں کے جہاز کا\n\nڈر ہے ہوا تھی ایک طرف گرد اک طرف\nبھرتے تھے خیبری بھی دمِ سرد اک طرف\nسمٹے ہوئے تھے کوفے کے نامرد اک طرف\nتھے رو سیاہ شام کے سب زرد اکطرف\nبھاگے تھے نیزہ باز لڑائی کو چھوڑ کے\nضیغم نکل گئے تھے ترائی کو چھوڑ کے\n\nتھی ابتری سپاہِ ضلالت شعار میں\nاس صف میں تھی وہ صف یہ قطار اس قطار میں\nسو بار جو لڑے تھے اکیلے ہزار میں\nوہ جائے امن ڈھونڈھتے تھے کارزار میں\nچہرے تھے زرد خوف سے حیدر کے لال کے\nنامرد منہ چھپائے تھے گھونگھٹ میں ڈھال کے\n\nسر کو دہائے فوجِ مخالف تھے بے حواس\nکچھ شمر کے قریب تھے کچھ تھے عمرکے پاس\nسب کا یہ قول تھا کہ ہوئی زندگی سے یاس\nضرب علی ہے ضربِ علمدارِ حق شناس\nطاقت سے ہیں بھرے ہوئے بازو دلیر کے\nخیبر کشا کا زور ہے پنجے میں شیر کے\n\nاس فوج میں ہے گو یہ تزلزل یہ انتشار\nہتھیار ادھر لگاتے ہیں عباسِ نامدار\nمضطر ہیں بیبیاں شہِ والا ہیں بے قرار\nبھائی کے منہ کو دیکھ کے روتے ہیں زار زار\nبیٹا کھڑا ہے چاک گریباں کیے ہوئے\nروتی ہے سوکھی مشک سکینہ لیے ہوئے\n\nمنہ دیکھتی ہے باپ کا جب وہ بہ چشم تر\nکہتے ہیں یہ اشارے سے سلطانِ بحر و بر\nلٹتا ہے باپ تم کو سکینہ نہیں خبر\nجانے نہ دو چچا کو ہمیں چاہتی ہو گر\nآنسو بہا بہا کے نہ پانی کا نام لو\nدامن قبا کا ننھے سے ہاتھوں سے تھام لو\n\nبھائی کے اضطراب سے زینب کا ہے یہ حال\nڈھلکی ہوئی ہے سر سے روا اور کھلے ہیں بال\nعباس سے یہ کہتی ہے رو کر بہ صد ملال\nچھوڑو نہ شہ کو اے اسدِ کربیا کے لال\nکیا کہتے ہو سکینہ سے منہ موڑ موڑ کے\nبھیا کدھر چلے مرے بھائی کو چھوڑ کے\n\nدیکھو تو حال سبط رسول فلک اساس\nبیٹے کا غم بھتیجے کا ماتم ہجوم یاس\nہے کثرتِ سپاہ میں تنہا وہ حق شناس\nقربان جاؤں تم تو رہو بے وطن کے پاس\nعاشق ہو دلبرِ اسد ذوالجلال کے\nبازو قوی تمہیں سے ہیں زہرا کے لال کے\n\nعباس کہتے ہیں کہ نہ جاؤں تو کیا کروں\nکیوں کر نہ حق امامِ زماں کا ادا کروں\nالٹوں صفیں ہزاروں سے تنہا وغا کروں\nیہ سر ہے الیے کہ قدم پر فدا کروں\nپہونچا ہے فیض سیدِ خوشخو کے ہاتھ سے\nدنیا میں کچھ تو کام ہو بازو کے ہاتھ سے\n\nرخصت طلب ہے شاہ سے اکبر سالالہ فام\nشہزادہ مرے جائے سلامت رہے غلام\nللہ روکیے نہ اب اے خواہر امام\nوہ امر کیجیے کہ بڑھے جس سے میرا نام\nبیکس ہوں ساتھ ماں نہیں سر پر پدر نہیں\nمیں آپ کا غلام تو ہوں گو پسر نہیں\n\nباتیں یہ سن کے روتی ہیں زینب جھکا کے سر\nتھرا رہی ہے زوجہ عباس نام ور\nچہرہ تو فق ہے گود میں ہے چاند سا پسر\nمانع ہے شرم روتی ہے منہ پھیر پھیر کر\nموقع نہ روکنے کا ہے نے بول سکتی ہے\nحضرت کے منہ کو نرگسی آنکھوں سے تکتی ہے\n\nکہتی ہے رو کے بانوئے عالم سے بار بار\nہم کو تباہ کرتے ہیں عباسِ نام دار\nہے لونڈیوں کے باب میں بی بی کو اختیار\nکچھ آپ بولتی نہیں اس وقت میں نثار\nکہیے جو روکنے کی کوئی ان کے راہ ہو\nاب عنقریب ہے کہ مرا گھر تباہ ہو\n\nاکبر کا واسطہ کوئی تدبیر کیجیے\nامداد بہرِ حضرتِ شپیر کیجیے\nکچھ دل کو ہو قرار وہ تقریر کیجیے\nپٹکا وہ باندھتے ہیں نہ تاخیر کیجیے\nاک دل ہے میرا اور کئی غم کے تیر ہیں\nبی بی میں کیا کروں مرے بچے صغیر ہیں\n\nعباس دیکھتے ہیں جو زوجہ کا اضطرار\nہوتا ہے تیر غم جگر ناتواں کے پار\nروتے ہیں خود مگر یہ اشار ہے بار بار\nشوہر کے غم میں یوں کوئی ہوتا ہے بیقرار\nآؤ ادب سے دلبرِ زہرا کے سامنے\nروتی ہیں لونڈیاں کہیں آقا کے سامنے\n\nکھولا ہے گوندھے بالوں کو صاحب یہ کیا یہ کیا\nپیٹو نہ سر کو روتا ہے فرزند مہ لقا\nخیرالنسا کے لال پہ ہوتے ہیں ہم فدا\nشادی کا ہے مقام کہ ماتم کی ہے یہ جا\nایذا میں صبر صاحب ہمت کا کام ہے\nمیری بھی آبرو ہے تمہارا بھی نام ہے\n\nلو پونچھ ڈالو آنسوؤں کو بہرِ ذو الجلال\nدیکھو زیادہ رونے سے ہوگا ہمیں ملال\nمیر مفارفت کا نہ کیجو کبھی خیال\nقائم تمہارے سر پہ رہے فاطمہ کا لال\nغم چاہیے نہ آہ و بکا چاہیے تمہیں\nشہ کی سلامتی کی دعا چاہیے تمہیں\n\nصدقے ہیں ابنِ فاطمہ پر مجھ سے سو غلام\nدیکھو نہ روتے دیکھ لیں تم کو کہیں امام\nکیا اشکِ خوں بہا کے بگاڑوگی میرا کام\nہم ہاتھ جوڑتے ہیں یہ ہے صبر کا مقام\nپوچھیں حضورگر کہ تمہیں کیا قبول ہے\nصاحب یہ کہیو تم کہ رنڈاپا قبول ہے\n\nدیکھو کہ گھر میں اور بھی رانڈیں ہیں تین چار\nآدابِ شہ سے چپ ہیں نہیں کوئی بیقرار\nرہ جائے بات کرتے ہیں وہ امرا ہوشیار\nدنیا ہے بے ثبات زمانہ ہے بے مدار\nکیا کیا نہ تفرقے ہوئے ایک ایک آن میں\nصاحب سدا کوئی بھی جیا ہے جہان میں\n\nقاسم کو دیکھو جانبِ کبرا کرو نگاہ\nگذری جو شب تو صبح کو گھر ہو گیا تباہ\nدشمن کو بھی دکھائے نہ اللہ ایسا بیاہ\nکیا صابرہ ہے دخترِ شپیر واہ واہ\nسہتے ہیں یوں جہاں میں جفارانڈ ہونے کی\nآواز بھی بھلا کوئی سنتا ہے رونے کی\n\nآفت میں صبر کرتی ہیں اس طرح بیبیاں\nہوتا ہے صابروں کا مصیبت میں امتحاں\nجل جائے دل مگر نہ اٹھے آہ کا دھواں\nاف کیجیے نہ منہ سے جو پہونچے لبوں پہ جاں\nچرچا رہے کہ وقت پہ کیا کام کر گئی\nچھوٹی بہو علی کا بڑا نام کر گئی\n\nشوہر نے یہ کلام کیے جب بہ چشم تر\nچپ ہو گئی وہ صاحب ہمت جھکا کے سر\nہتھیار سج کے حضرتِ عباس نامور\nآئے قریب لختِ دل سیدالبشر\nصدمے سے رنگِ سبطِ نئی زرد ہو گیا\nکانپے یہ دست و پاک بدن سرد ہو گیا\n\nجوں جوں قریب آتے تھے عباس نامور\nبے تاب تھے حسین سنبھالے ہوئے جگر\nکہتے تھے اضطراب میں جھک کر ادھر ادھر\nجینے نہ دے گا آہ ہمیں صدمۂ کمر\nہے زیست تلخ فاطمہ کے نورِعین کو\nزینب کہاں ہو؟ آ کے سنبھالو حسین کو\n\nسب گھر کی بیٹیوں سے کہو میرے پاس آئیں\nبانو کہاں ہیں زوجۂ عباس کو بلائیں\nگودی میں تشنہ کام سکینہ کو جلد لائیں\nکوچ اب جہاں سے ہے ہمیں سب آکے دیکھ جائیں\nیہ نوجواں سنبھالے گا جس دم مروں گا میں\nعباس سے ہر اک کی سفارش کروں گا میں\n\nیہ سن کے ساری بیبیاں آئیں یہ حالِ زار\nبولے قدم پہ جھک کے یہ عباسِ نامدار\nاے آفتابِ عالمیاں نورِ کردگار\nہل من مبارز ًکا ادھر غل ہے بار بار\nہیں ذرہ پروری کے چلن آفتاب میں\nآقا یہ دیر کس لیے خادم کے باب میں\n\nلڑکوں نے معرکہ میں کیے اپنے اپنے نام\nکیا میں غلامِ خاص نہیں یا شہِ انام\nایسا دن اور بھی کوئی ہوئے گا یا امام\nکسا کام کا جو آج نہ کام آئے گا غلام\nمشکل ہے ایسے وقت میں رکنا دلیر کا\nآخر پسر ہوں شیر الٰہی سے شیر کا\n\nہوتا جو سب سے پہلے فدا خادمِ جناب\nخوش ہوتی خاکسار سے روحِ ابوتراب\nاب ہوں ہر اک کے آگے خجالت سے آب آب\nزہرا سے بھی حجاب ہے شبر سے بھی حجاب\nاب بھی نہ تیغ و تیر اگر تن پہ کھاؤں گا\nمولا بتائیے کسے پھر منہ دکھاؤں گا\n\nساتھ آپ کے سہوں گا نہ گر قتل کی جفا\nمجھ سے رسولِ پاک خوشی ہوں گے یا خفا؟\nبیزار کیا نہو ہوگا دلِ شاہ لافتا\nپھر فاطمہ کہیں گی مجھے صاحبِ وفا؟\nمرنے کا خط نہ جینے کا مطلق مزا رہا\nانساں کی آبرو نہ رہی جب تو کیا رہا\n\nپالا ہے مجھ کو یاشہ دل گیر آپ نے\nکی ہے ہمیشہ پیار سے تقریر آپ نے\nبندھوائی ہے کمر سے یہ شمشیر آپ نے\nبخشی ہے سب میں عزت و توقیر آپ نے\nوقتِ مدد ہے آج بھی امداد کیجیے\nبندہ سمجھ کے اب مجھے آزاد کیجیے\n\nگردن ہلا کے شہ نے کہا آہ کیا کروں؟\nمشکل ہے سخت اے مرے واللہ کیا کروں؟\nجینے نہ دے گا یہ غمِ جاں کاہ کیا کروں؟\nچھٹتا ہے اب برادرِ ذی جاہ کیا کروں؟\nدم بھر کی زندگی مجھے دشوار ہو گئی\nسب تو خفا تھے موت بھی بیزار ہو گئی\n\nغازی نے رکھ دیا قدم شاہِ دیں پہ سر\nبولے گلے لگا کے شہنشاہ بحرو بر\nاے تن کی جان اے سبب قوتِ جگر\nیوں ہے خوشی تو خیر جہاں سے کرو سفر\nبھائی نہ ہو تو بھائی کی مٹی خراب ہے\nاچھا تمہارا کوچ مرا پاتر اب ہے\n\nروتا ہوا جھکا پے تسلیم وہ جری\nسب روئے مشک دوشِ مبارک پہ جب دھری\nاک آہِ سرد زوجۂ عباس نے بھری\nصدمے سے رنگ زرد تھا اور تن میں تھرتھری\nسر سے روا بھی دوش تلک آ کے گر پڑی\nبانو کے پاس خاک پہ غش کھا کے گر پڑی\n\nنکلا وہ شیر خیمے سے باہر علم لیے\nمجرے کو آئی فتح سپاہ حشم لیے\nجرأت نے بڑھ کے بوسۂ تیغِ دو دم لیے\nنصرت نے چومے ہاتھ ظفر نے قدم لیے\nخورشید کا جلال نگاہو سے گر گیا\nاقبال سر کے گرد ہما بن کے پھر گیا\n\nآیا سجا ہوا وہ سمندبراق سیر\nتھا جو فلک پہ اڑنے کو تیار مثلِ طیر\nہوتا تھا اس کے ڈر سے غزالوں کا حال غیر\nرن میں سپاہِ شر اسے رو کے تو یہ بخیر\nصر صر قدم کی گرد کو پاتی نہیں کبھی\nڈھونڈھے بشر پری نظر آتی نہیں کبھی\n\nوہ زیب و زین زین کی وہ ساز وہ پھبن\nزیور سے جیسے ہوتی ہے آراستہ دلہن\nچشمِ سیاہ دیدۂآہوپہ طعنہ زن\nسرعت یہ تھی کہ بھولتے تھے چوکڑی ہرن\nجادو تھا معجزہ تھا پری تھی طلسم تھا\nپاکھر نہ تھی زرہ میں تہمتن کا جسم تھا\n\nرکھا قدم رکاب میں حیدر کے لال نے\nنعلین پاک فخر سے چوما ہلال نے\nبخشی جو صدرِ زیں کو ضیا خوش جمال نے\nدم کو چنور کیا فرس بے مثال نے\nکس ناز سے وہ رشکِ غزالِ ختن چلا\nطاؤس تھا کہ سیر کو سوئے چمن چلا\n\nخوشبو سے ارضِ پاک ریاضِ جناں بنی\nگرد اٹھ کے غازۂ رخ لیلیٰ نشاں بنی\nجلوے سے راہِ دشتِ بلا کہکشاں بنی\nذرے بنے نجوم زمیں آسماں بنی\nسم بدر تھے تو نعل بھی چاروں ہلال تھے\nنقشِ سم فرس سے ہزاروں ہلال تھے\n\nوہ دبدبہ وہ سطوتِ شاہانہ وہ شباب\nتھرا رہا تھا جس کی جلالت سے آفتاب\nوہ رعبِ حق کہ شیر کا زہرہ ہو آب آب\nصولت میں فرد دفترِ جرأت میں انتخاب\nتیور میں سارے طور خدا کے ولی کے ہیں\nشوکت پکارتی ہے کہ بیٹے علی کے ہیں\n\nپہونچے جو دشتِ کیں میں اڑاتے ہوئے فرس\nگھوڑے کو ہاتھ اٹھا کے یہ آواز دی کہ بس\nدیکھیں صفیں جمی جو چپ و راس و پیش و پس\nنعرہ کیا کہ نہر پہ جانے کی ہے ہوس\nروکے گا جو وہ موت کے پنجے میں آئے گا\nہٹ جاؤ سب کہ شیر ترائی میں جائے گا\n\nروکے ہمیں نکل کے جو طاقت کسی میں ہو\nلے تیغ میان سے جو شجاعت کسی میں ہو\nگرمائے رخش کو جو حرارت کسی میں ہو\nآئے جو حرب ضرب کی قدرت کسی میں ہو\nدو ہاتھ میں علی کے پسر آر پار ہیں\nدریا نہیں کہ رک گیا ہم ذوالفقار ہیں\n\nتم کیا پہاڑ بیچ میں گر ہو تو ٹال دیں\nشیروں کو ہم ترائی سے باہر نکال دیں\nمہلت نہ ایک کو دم جنگ و جدال دیں\nپانی تو کیا ہے آگ میں گھوڑے کو ڈال دیں\nمنہ دیکھتے ہیں جو ہیں نگہبان گھاٹ کے\nلے جائیں گھر پہ تیغ سے دریا کو کاٹ کے\n\nسرکش ہیں سب ہماری زبردستوں سے زیر\nدادا شجاع باپ الوالعزم ہم دلیر\nجب رن پڑا ہے کردیے ہیں زخمیوں کے ڈھیر\nلائے ہیں جا کے آگ سے پانی خدا کے شیر\nعفریت بھاگتے ہیں وہ چوٹیں ہماری ہیں\nبیر العلم میں کود کے تلواریں ماری ہیں\n\nجرأت جلو میں رہتی ہے نصرت رکاب میں\nلیتے ہیں گھاٹ پیر کے تیغوں کی آب میں\nلکھے ہوئے ہیں شیروں کے حملے کتاب میں\nفصلیں ہیں اپنے زور کی خیبر کے باب میں\nناصر ہیں بادشاہ فلک بارگاہ کے\nدفتر الٹ دیے ہیں عرب کی سپاہ کے\n\nبے مشک کے بھرے ہمیں آتا ہے چین کب\nگرمی میں پیاس سے کئی بچے ہیں جاں بلب\nاصفر کی گودیوں میں تڑپتے کٹی ہے شب\nکیا وقت ہے حسین کے بچوں پہ ہے عضب\nلالے پڑے ہوئے ہیں سکینہ کی جان کے\nکانٹے مجھے دکھائے تھے سوکھی زبان کے\n\nعبرت کی یہ جگہ ہے کہ ہم اورسوالِ آب\nسقہ بنے ہیں دیکھ کے بچوں کا اضطراب\nاس مشک نے کیا ہمیں عقبیٰ میں کامیاب\nاللہ ری آبرو کہ بہشتی ملا خطاب\nشہ سے نشانِ فوجِ پیمبر بھی مل گیا\nطوبیٰ کے ساتھ چشمہ ٔ کوثر بھی مل گیا\n\nیہ ذکر تھا کہ فوج کی جانب سے تیر آئے\nنیزے اٹھا کے شیر کے منہ پر شریر آئے\nیہ بھی جھپٹ کے مثلِ شہِ قلعہ گیر آئے\nگیتی ہلی غضب میں جناب امیر آئے\nگھوڑا اڑا پروں کو سواروں کے توڑ کے\nلپکی صفوں پہ سیف بھی کاٹھی کو چھوڑ کے\n\nآمد تھی تیغ کی کہ اجل کا پیام تھا\nیہ صف اخیر تھی وہ رسالہ تمام تھا\nبجلی سا ہر جگہ فرس تیز گام تھا\nششدر تھی موت چار طرف قتلِ عام تھا\nاس غول پر کبھی تھی کبھی اس قطار پر\nپڑتا تھا ایک تیغ کا سایہ ہزار پر\n\nوہ تیغ کی چمک وہ تڑپ راہوار کی\nرفرف کی اک شبیہ تو اک ذوالفقار کی\nشوکت سوار میں شہ دلدل سوار کی\nحملوں میں شان سب اسدِ کردگار کی\nچتون وہی غضب وہی بے باکیاں وہی\nپھرتی وہی جھپٹ وہی چالاکیاں وہی\n\nتوڑا یہ مورچہ یہ صف الٹی ادھر پھرے\nتلوار خوں میں آپ پسینے میں تر پھرے\nیوں خاک پہ گرا کے لعینوں کے سر پھرے\nجیسے شکار کھیلے ہوئے شیرِ نر پھرے\nتھی قہر کی نگاہ غضب کا جلال تھا\nآنکھیں بھی سرخ سرخ تھیں چہرہ بھی لال تھا\n\nمنہ پھر گئے سپاہ کے جس سمت رخ کیا\nیاں سے وہاں گئے اسے مارا اسے لیا\nباقی رہے ہزار میں سو دس میں ایک جیا\nاللہ رے دم لہو پہ لہو تیغ نے پیا\nاس پر بھی تشنگی کو نہ تسکیں ذری ہوئی\nگو یا تھی آگ پیٹ میں اس کے بھری ہوئی\n\nبے شک تھا ان کا ہاتھ امیرِ عرب کا ہاتھ\nپہونچا وغا میں سو طرف اک تشنہ لب کا ہاتھ\nآئی اجل اٹھا جو کسی بے ادب کا ہاتھ\nشیرِ خدا کے شیر نے مارا غضب کا ہاتھ\nبازو پہ آئی تیغ دو دم شانہ کاٹ کے\nپہنچے کو بھی قلم کیا دستا نہ کاٹ کے\n\nچلتا تھا مثلِ برق یمین و یسار ہاتھ\nڈر ڈر کے جوڑتے تھے ضلالت شعار ہاتھ\nان کی نہ ایک ضرب نہ ان کے ہزار ہاتھ\nکافی تھے سب کو تیغِ دو دستی کے چار ہاتھ\nآواز شش جہت مین بگیروبزن کی تھی\nاللہ کا کرم تھا مدد پنجتن کی تھی\n\nنعرہ جدا صدائے بگیرِ و برہ جدا\nگوشہ کماں سے دور تھے گوشوں سے رہ جدا\nبکتر جدا زمین پہ ٹکڑے زرہ جدا\nنیزوں کو دیکھیے تو گرہ سے گرہ جدا\nاللہ رے فرق گردن وسر بھی بہم نہ تھے\nکشتوں کا ذکر کیا ہے کہ تیغوں میں دم نہ تھے\n\nجس کی طرف نظر دمِ جنگ و جلد پھری\nکچھ ہٹ کے تیغ سے اسی جانب اجل پھری\nرہواریوں پھرا کہ اشارے میں کل پھری\nتلوار بھی گلوں کی طرف بر محل پھری\nایسے جری سے کس کو مجالِ مصاف تھی\nیوں پھر کے صف کی صف کو جو دیکھا تو صاف تھی\n\nچل پھر کے کاٹتی تھی وہ تلواریں ہاتھ پاؤں\nڈر سے بڑھا نہ سکتے تھے خونخوار ہاتھ پاؤں\nسر بچ گیا تو ہو گئے بیکار ہاتھ پاؤں\nچمکی گری تو آٹھ ہوئے چار ہاتھ پاؤں\nروحیں پکاریں تیغ پھر آئی نکل چلو\nبولی اجل اب اٹھ کے تو پنجوں کے بل چلو\n\nتیرے ادھر قلم تو ادھر برچھیاں قلم\nترکش دو نیم ٹکڑے کمانیں نشاں قلم\nہر ہاتھ میں قلم کی طرح استخواں قلم\nمنہ تیغ کا خراب سناں کی زباں قلم\nجب سن سے آئی سر پہ کسی بد خصال کے\nگویا سموم چل گئی پھولوں پہ ڈھال کے\n\nکی جس نے سر کشی وہی فتنہ فروہوا\nظالم ہزار میں تھا جو یکتاوہ دو ہوا\nافشاں لہو سے شیر کا دستِ نکو ہوا\nٹھنڈا وہی تھا جنگ پر سرگرم جو ہوا\nتھا خاتمہ سپاہ جہنم مقام کا\nشعلے بجھائے دیتا تھا پانی حسام کا\n\nوہ تیغ کھول دیتی تھی لوہے کا بھی حصار\nتھا اس کے ہاتھ سے دلِ چار آئینہ فگار\nآری تھیں منہ پہ تیغوں کے ایسے پڑے تھے دار\nخود اپنے سر پٹکتے تھے گر گر کے بار بار\nپانی وہ زہر تھا کہ پیا اور فنا ہوا\nہے آج تک زرہ کا کلیجہ چھنا ہوا\n\nجاتی تھی ہر سرے کی طرف سن کے بار بار\nچڑھ کے سوار گرتے تھے تو سن کے بار بار\nاٹھتی تھی الاماں کی صدا رن سے بار بار\nہر سر کا بار اترتا تھا گردن سے بار بار\nغارت ہوئے تباہ ہوئے بے تزک ہوئے\nضربِ گراں جو اٹھ نہ سکی کیا سبک ہوئے\n\nثابت رہی نہ ڈھال نہ مغفر نہ سر بچا\nسینے میں دل کو کاٹ گئی گر جگر بچا\nدو ٹکڑے ہو گیا وہ ادھر جو ادھر بچا\nبے زخم کھائے ایک نہ بیداد گر بچا\nتلوار سے کوئی کوئی ڈر سے ہلاک تھا\nسالم تھا جس کا جسم جگر اس کا چاک تھا\n\nسر سے کمر میں تھی تو کمر سے تہ فرس\nآفت کا منہ تھا قہر کا دم خم ستم کا کس\nکشتے تڑپ رہے تھے چپ و راس پیش و پس\nدو تھے اگر تو چار ہوئے پانچ تھے تو دس\nغل تھا وہی لڑے جسے سر تن پہ بار ہو\nآفت بپا ہے کون اجل سے دو چار ہو\n\nغل تھا شرارتوں سے اس آتش زبان کی\nپریاں پکارتی تھیں کہ ہو خیر جان کی\nدنیا میں شعلہ بار ہے آگ اس جہان کی\nبدلی ہوئی ہے آج ہوا آسمان کی\nبجلی خجل ہے نازیہ اس شعر خو کے ہیں\nبوچھاڑ ہے سروں کی در یڑے لہو کے ہیں\n\nجب بڑھ کے سن سے صورتِ تیغ علی چلی\nثابت ہوا کہ ضربتِ دستِ ولی چلی\nدل پر خفی چلی تو گلوں پر جلی چلی\nتن سے نکل کے روح پکاری چلی چلی\nدی تیغ نے صدا کہ ارادہ کدھر کا ہے\nچلائی موت چل یہی رستا سقر کا ہے\n\nخشکی میں تھی جو آپ تو آتش تری میں تھی\nہم نام ذوالفقار علی صفدری میں تھی\nتلوار تھی کہ برق لباس پری میں تھی\nبے باک اس لیے تھی کہ دستِ جری میں تھی\nخوں بھی اسے حلال دیت بھی معاف تھی\nکاٹا تھا سو گلوں کو مگر پاک صاف تھی\n\nسارے رسالہ دار تباہی میں پڑ گئے\nاب منہ کسے دکھائیں کہ چہرے بگڑ گئے\nنامی جو تھے جواں قدم ان کے اکھڑ گئے\nبھاگے جو سب نشاں بھی خجالت سے گڑ گئے\nعلموں کے پاس ڈھیرے پھریروں کے رن میں تھے\nریتی پہ بیرقیں تھیں کہ مردے کفن میں تھے\n\nپہنے ہوئے تھے جسم میں زر ہیں جو چست چست\nچوٹیں کڑی پڑیں تو ہوئے وہ بھی سخت سست\nخوفِ اجل سے بھول گئے وعدۂ نخست\nٹوٹی صفوں میں ہاتھ کسی کے نہ تھے درست\nاک شور تھا کہ جان گئی اس لڑائی میں\nگھوڑے بھگاؤ آگ لگی ہے ترائی میں\n\nگھیرے تھے ایک جان کو دو لاکھ اہلِ شہر\nٹھہرے کہاں قرار کہاں لیں تھمیں کدھر\nچھاتی کے پاس برچھیاں تیغیں قریبِ سر\nپہلو میں اس طرف تو سنائیں ادھر تبر\nملتی نہ تھی اماں سپہ تیرہ بخت سے\nگوشوں سے تیر چلتے تھے پتھر درخت سے\n\nجب مشک کی طرف کوئی آتا تھا سن سے تیر\nکہتے تھے یا حفیظ کبھی گاہ یا قدیر\nچلا رہا تھا شمر جفا پیشہ و شریر\nجانے نہ پائے لختِ دلِ شاہ قلعہ گیر\nرخ اس جری کا خیمہ کی جانب سے موڑ دو\nہاں برچھیوں سے شیر کے سینہ کو توڑ دو\n\nسن کر زباں درازیِ شہرِ ستم شعار\nعباس مثلِ شیر جھپٹتے تھے بار بار\nتلواریں سیکڑوں تھیں ہزاروں تھے نیزہ دار\nتوڑی اگر یہ صف تو جمی دوسری قطار\nتنہا سنبھالے مشک و علم یاوغا کرے\nبلوہ ہو ساری فوج کا جس پر وہ کیا کرے\n\nمشہور ہے کہ ایک پہ بھاری ہیں دو بشر\nدر پے تھے اک جواں کے لیے لاکھ اہلِ شر\nکھائے ادھر سے زخم جو کی اس طرف نظر\nکس کس کا وار رد کریں دیکھیں کدھر کدھر\nجب دم لیا تو سینہ پہ سو تیر چل گئے\nپہلو کو توڑ توڑ کے نیزے نکل گئے\n\nسینہ سپر تھے مشک پہ رو کے ہوئے تھے ڈھال\nلڑنے میں بھی حسین کے بچوں کا تھا خیال\nکہتا تھا ڈگمگا کے فرس پردہ خوش خصال\nفرزند کو سنبھالیے یا شیرِ ذوالجلال\nجا پہنچوں مشک لے کے جو تھوڑی سی راہ ہو\nایسا نہ ہو کہ پیاسوں کی کشتی تباہ ہو\n\nیہ کہتے تھے کہ ٹوٹ پڑا لشکرِ کثیر\nبس چور ہو گیا پسرِ شاہ قلعہ گیر\nآکر لگا میان دوا ابرو جو ایک تیر\nتیور اگیا علی ٔولی کا مہ منیر\nچھوٹی جو باگ پاؤں فرس کے بھی رک گئے\nپھیلا کے ہاتھ مشک سکینہ پہ جھک گئے\n\nاب یاں تو خاتمہ ہے سنو اس طرف کا حال\nڈیوڑھی پہ ننگے سر ہے رسولِ خدا کا لال\nغم سے کمر جھکی ہوئی رخ زرد جی نڈھال\nیہ کرب ہے کہ ہوتا ہے جو وقتِ انتقال\nگر گر اٹھے تڑپ کے ادھر سےادھر گئے\nجب آہ کی تو سب نے یہ جانا کہ مر گئے\n\nفریاد کر کے دل کبھی تھا ما جگر کبھی\nپکڑی طناب خیمے کی گہ اور کمر کبھی\nگھبرا کے پیارے بھائی کو پوچھی خبر کبھی\nروئے پسر کی دوش پہ رکھ کھر کے سر کبھی\nکی آہ سامنے کبھی زہرا کی جائی کے\nرو کر کبھی لپٹ گئے بیٹے سے بھائی کے\n\nفرماتے تھے کراہ کے اکبر سے بار بار\nشانے دباؤ اے علی اکبر پدر نثار\nکیسا یہ درد ہے کہ جگر کو نہیں قرار\nبازو کا زور لے گئے عباسِ نامدار\nواحسرتا کہ بے کس و بے یار ہو گئے\nسر پیٹیں کس سے ہاتھ تو بیکار ہو گئے\n\nچلاتے تھے کہ جانِ بر ادربس اب پھر آؤ\nپہونچا ہے دم لبوں پہ ہمٰیں آ کے دیکھ جاؤ\nبھیا خدا کے واسطے اب برچھیاں نہ کھاؤ\nعباس ہم اخیر ہیں تشریف جلد لاؤ\nپیاری تمہاری ننھے سے ہاتھوں کو ملتی ہے\nاب تم کو ڈھونڈھنے کو سکینہ نکلتی ہے\n\nحضرت تو پیٹتے ہیں یہ کہہ کر بہ صد ملال\nخیمے میں غش ہے زوجہ عباسِ خوش خصال\nڈیوڑھی پہ اہلِ بیت ہیں سب کھولے سر کے بال\nپردے سے منہ نکالے ہیں اطفالِ خورد سال\nلب ان کے اودے اودے ہیں منہ گورے گورے ہیں\nآنکھوں میں اشک ہاتھوں میں خالی کٹورے ہیں\n\nکہتے ہیں سب لبوں پہ زبانوں کو پھیر کر\nاب پانی لے کے آتے ہیں عباس نام ور\nحضرت سے پوچھتی ہے سکینہ بہ چشمِ تر\nمیرے چچا کب آئیں گے یا شاہِ بحر و بر\nکیا میں سفر کروں گی جہاں سے تب آئیں گے\nبہلاتے ہیں حسین کہ بی بی اب آئیں گے\n\nگھیرے ہیں لاکھ ان کو ستمگار ہائے ہائے\nمانگو دعا کہ بھائی کو میرے خدا بچائے\nوہ کہتی ہے میں پانی سے گذری نہ مشک آئے\nہے ہے بس اب چچا کو مرے کوئی پھیر لائے\nرکھے خدا جہاں میں علی کی نشانی کو\nمیں کیا کروں گی آگ لگے ایسے پانی کو\n\nیہ ذکر تھا کہ فتح کے باجے بجے ادھر\nتڑپے زمیں پہ گر کے شہنشاہِ بحر و بر\nچلائے بڑھکے فوج سے دو چار اہلِ شر\nحضرت کہاں ہیں مر گئے عباسِ نامور\nکیا کیا چلی ہیں تیغوں پہ تیغیں لڑائی میں\nوہ زخم کھائے شیر پڑا ہے ترائی میں\n\nافشاں ہیں سر کے خون کی چھینٹوں سے سب نشاں\nعباس کانپ جاتے تھے جھکتا تھا جب نشاں\nنام آوروں نے آج مٹایا عجب نشاں\nکیوں اے حسین کون اٹھائے گا اب نشاں\nلاش ان کی پائمال ہوئی زخم پھٹ گئے\nجن میں علی کا زور تھا وہ ہاتھ کٹ گئے\n\nآئی صدا یہ نہر کی جانب سے ایک بار\nآقا تمام ہوتا ہے یہ عبدِ جاں نثار\nتن سے نکل کے آنکھوں میں اٹکی ہے جانِ زار\nاب ہے فقط حضور کے آنے کا انتظار\nبابا کے ساتھ خلد سے تشریف لائی ہیں\nحضرت کی والدہ مرے لینے کو آئی ہیں\n\nشہ دوڑ کر پکارے کہ آتا ہوں بھائی جان\nگھر لٹ گیا ہے خاک اڑاتا ہوں بھائی جان\nطاقت بدن مین اب نہیں پاتا ہوں بھائی جان\nاک اک قدم پہ ٹھوکریں کھاتا ہوں بھائی جان\nدستِ شکستہ بیٹے کی گردن میں ڈالے ہیں\nبھیا ہمیں تو اکبر مہ رو سنبھالے ہیں\n\nدیکھا جو در سے بنتِ علی نے یہ شہ کا حال\nڈیوڑھی سے نکلی چند قدم کھولے سر کے بال\nچلاتی کون قتل ہوا اے علی کے لال\nمڑ کر کہا حسین نے عباس خوش خصال\nدریا پہ فوجِ شام نے مارا دلیر کو\nزینب اجل نے چھین لیا میرے شیر کو\n\nخورشید مشرقین زمانے سے اٹھ گیا\nسید کا نور عین زمانے نے سے اٹھ گیا\nوہ عاشقِ حسین زمانے سے اٹھ گیا\nزینب ہمارا چین زمانے سے اٹھ گیا\nآتا نہیں قرار دلِ بے قرار کو\nدریا پہ روئے جاتے ہیں خدمت گزار کو\n\nاکبر کو ہاتھ اٹھا کے پکاری وہ سوگوار\nہے ہے حسین ہو گئے بے یار و غم گسار\nماتم جوان بھائی کا ہے تم پہ میں نثار\nاکبر خدا کے واسطے بابا سے ہوشیار\nگرنے لگیں تو حیدرِ صفدر کا نام لو\nبیٹا پدر کے ہاتھ کو مضبوط تھام لو\n\nاکبر پدر کو تھامے ہوئے نہر پر جولائے\nغلطاں لہو میں بازوئے سرور کے ہاتھ پائے\nچلائے شاہ لاش کدھر ہے کوئی بتائے\nفرق آگیا ہماری بصارت میں ہائے ہائے\nرو لیں گلے لگا کے تنِ پاش پاش کو\nاکبر ہمیں دکھا دو برادر کی لاش کو\n\nاکبر نے شہ کے ہاتھ پکڑ کر بہ صد بکا\nرکھے چچا کے سینے پہ اور رو کے یہ کہا\nلیجے یہی ہے لاشِ علمدار باوفا\nچلائے جھک کے لاش پہ سلطانِ کربلا\nٹوٹی ہوئی کمر ہے سنبھالو حسین کو\nبھیا ذرا گلے سے لگالو حسین کو\n\nعباس ہاتھ کٹ گئے شانوں سے ہے غضب\nریتی پہ دو طرف یہ تمہارا لہو ہے سب\nلوٹا ہمیں رسول کی امت نے بے سبب\nبھیا ہماری جان نکلتی ہے تن سے اب\nمر جائیں گے جلا دو ہمیں منہ سے بول کر\nدو باتیں کر لو بھائی سے آنکھوں کو کھول کر\n\nکیوں خاک پر دھرے ہو یہ رخسار خوں میں تر\nآؤ ہم اپنے زانو پہ رکھیں تمہارا سر\nلیتے ہو کیوں کراہ کے کروٹ ادھر ادھر\nثابت ہوا کہ جلد ہے دنیا سے آب سفر\nہے ہے دلیلِ مرگ ہے لکنت زبان کی\nہچکی نہیں یہ جسم سے رخصت ہے جان کی\n\nغش میں سنی جو گریۂ شپیر کی صدا\nچونکے تڑپ کے حضرتِ عباس باوفا\nآہستگی پہ عرض کہ اے سبطِ مصطفا\nاس پیار کے نثار اس الطاف کے فدا\nزیبا ہے نکلے جان اگر پیشوائی کو\nگویا رسول آئے ہیں مشکل کشائی کو\n\nیہ کہہ کے روئے شہ کی طرف کی نظر بہ غور\nجھ کر پکارے شاہ کہ بھیا کہو کچھ اور\nتڑپا قدم پہ شہ کے وہ مقتولِ ظلم و جور\nلیں ہچکیاں بگڑنے لگے تیوروں کے طور\nپتھرا کے چشمِ اشک فشاں بند ہو گی\nتھرا ئے دونوں ہونٹ زباں بند ہو گئیں\n\nاکبر نے عرض کی کہ چچا جان مر گئے\nجھک کر پکارے شاہ کے بھیا کدھر گئے\nمنہ تو اٹھاؤ خاک سے رخسار بھر گئے\nواحسر تا حسین کو بے آس کر گئے\nاب کون دے گا دکھ میں نبی کے پسر کا ساتھ\nدم بھر میں تم نے چھوڑ دیا عمر بھر کا ساتھ\n\nہاں روؤ مومنو یہ بکا کا مقام ہے\nتم میں شریک روحِ رسولِ انام ہے\nاب رخصتِ حسین علیہ السلام ہے\nتاریخ آٹھویں ہے محرم تمام ہے\nموت آئی تو شریکِ عزا کون ہوئے گا؟\nجو سال بھر جیے گا وہ پھر شہ کو روئے گا\n\nآگے تمہارے مرتے جو عباس با وفا\nپرسا نہ دیتے سبط رسولِ خدا کو کیا\nتم سب کو دیکتے ہیں شنہشاہِ کربلا\nزہرا بھی ننگے سر ہیں قیامت کرو بپا\nسمجھو شریکِ بزمِ شہِ مشرقین کو\nدے لو جوان بھائی کا پرسا حسین کو\n\nپیٹو سروں کو ہوتا ہے اب مرثیہ تمام\nلپٹو ضریح پاک سے کہہ کہہ کے یا امام\nرخصت طلب ہے باپ سے اکبر سا لالہ فام\nخاموش ہیں حسین نہیں کرتے کچھ کلام\nمقتول ظلم و جور ہے اب رن میں فاطمہ\nہوتا ہے پنجتن میں کوئی دم میں خاتمہ\n\nبس اے انیسؔ روک لے اب خامہ کی عناں\nیہ غم ہے جاں گزا نہ کبھی ہوئے گا بیاں\nآنکھوں سے سامعین کے بھی اشک ہیں رواں\nخالق سے عرض کر کہ اے خلاقِ انس و جاں\nآنکھوں سے مس کروں میں مزار بتول کو\nدکھلا دے جلد مرقد سبطِ رسول کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B1%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%B1_%D8%A8%D9%84%D9%86%D8%AF_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D9%84%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے\nرومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے\n\nآہ سحر کی میری برچھی کے وسوسے سے\nخورشید کے منہ اوپر اکثر سپر رہے ہے\n\nآگہ تو رہیے اس کی طرز رہ و روش سے\nآنے میں اس کے لیکن کس کو خبر رہے ہے\n\nان روزوں اتنی غفلت اچھی نہیں ادھر سے\nاب اضطراب ہم کو دو دو پہر رہے ہے\n\nآب حیات کی سی ساری روش ہے اس کی\nپر جب وہ اٹھ چلے ہے ایک آدھ مر رہے ہے\n\nتلوار اب لگا ہے بے ڈول پاس رکھنے\nخون آج کل کسو کا وہ شوخ کر رہے ہے\n\nدر سے کبھو جو آتے دیکھا ہے میں نے اس کو\nتب سے ادھر ہی اکثر میری نظر رہے ہے\n\nآخر کہاں تلک ہم اک روز ہو چکیں گے\nبرسوں سے وعدۂ شب ہر صبح پر رہے ہے\n\nمیرؔ اب بہار آئی صحرا میں چل جنوں کر\nکوئی بھی فصل گل میں نادان گھر رہے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی\nپردیس میں سادات پہ، آفت عجب آئی\nفریاد کناں روح امیر عرب آئی\nغل تھا کہ شب قتل شہ تشنہ لب آئی\nسادات کو کیا کیا غمِ جانکاہ دکھائے\nرات ایسی مصیبت کی نہ اللہ دکھائے\n\nکاغذ پہ لکھے کیا قلم اس شب کی سیاہی\nہے چار طرف جس کی سیاہی سے تباہی\nمرغان ہوا بر میں طپاں، بحر میں ماہی\nتربت سے نکل آئے تھے محبوب الٰہی\nفریاد کا تھا شور رسولان سلف میں\nیثرب میں تزلزل تھا اداسی تھی نجف میں\n\nصدمے سے ہوا رنگ رخ ماہ کا کافور\nاختر بھی بنے مردمک دیدۂ بے نور\nغم چھا گیا، راحت دل عالم سے ہوئی دور\nتصویر الم بن گئی جنت میں ہر اک حور\nکہتے تھے ملک رات نہ ہووے گی اب ایسی\nتاروں نے بھی دیکھی نہ تھی تاریک شب ایسی\n\nشمع طرب محفل عالم تھی جو خاموش\nتھی رات بھی شبیرؔ کے ماتم میں سیہ پوش\nکیا غم تھا کہ شادی تھی ہر اک دل کو فراموش\nہر چشم کو تھا غم میں سمندر کی طرح جوش\nمضطر تھے علیؔ اشکوں سے منہ دھوتی تھی زہراؔ\nمقتل تھا جہاں شاہ کا، واں روتی تھی زہراؔ\n\nتھا خانۂ غم خیمۂ شاہنشہ والا\nآندھی یہ پریشاں تھی کہ دل تھا تہ و بالا\nمشعل نہ ٹھہرتی تھی، نہ شمعوں کا اجالا\nخیمہ بھی اندھیرے میں نظر آتا تھا کالا\nخاک اڑتی تھی منہ پر، حرم شیر خدا کے\nتھا چیں بجبیں فرش بھی جھونکوں سے ہوا کے\n\nجنگل کی ہوا، اور درندوں کی صدائیں\nتھراتی تھیں بچوں کو چھپائے ہوئے مائیں\nدھڑکا تھا کہ دہشت سے نہ جانے کہیں جائیں\nروتی تھی کوئی، اور کوئی پڑھتی تھی دعائیں\nگودوں میں بھی راحت نہ ذرا پاتے تھے بچے\nجب بولتے تھے شیر تو ڈر جاتے تھے بچے\n\nبچوں کے بلکنے پہ حرم کرتے تھے زاری\nغش ہو گئی تھی بالی سکینہؔ کئی باری\nچلاتی تھی رو رو کے وہ شبیرؔ کی پیاری\nیا حضرت عباسؔ چلی جان ہماری\nافسوس کہ پانی کا تو قطرہ نہیں گھر میں\nاور آگ لگی ہے مرے ننھے سے جگر میں\n\nتھی سب سے سوا، بنت علی، مضطر و بیتاب\nفق ہو گیا تھا شام سے منہ صورت مہتاب\nمژگاں سے رخ پاک پہ تھی، بارش خوں ناب\nتلوار کلیجے پہ چلے جب تو کہاں تاب\nاِک کرب تھا بسمل کی طرح جان حزیں پر\nاٹھتی تھی کبھی اور کبھی گرتی تھی زمیں پر\n\nکہتی تھی کبھی، آج پیمبر نہیں ہے ہے\nحال اپنا دکھاؤں کسے حیدرؔ نہیں ہے ہے\nبیٹی پہ فلک ٹوٹا ہے، مادر نہیں ہے ہے\nشبیرؔ مصیبت میں تھے، شبرؔ نہیں ہے ہے\nدیکھا نہ سنا یہ جو ستم آج ہے لوگو\nنازوں کا پلا پانی کو محتاج ہے لوگو\n\nدر پیش ہے کل فوج سمتگر سے لڑائی\nیاں تھوڑے سے پیاسے ہیں، ادھر ساری خدائی\nبے سر دیے رن سے نہ پھرے گا مرا بھائی\nہو جائے گی حیدرؔ کے بھرے گھر کی صفائی\nاس غم سے سدا اشکوں سے منہ دھوتی تھیں اماں\nکل دن وہ ہے جس دن کے لئے روتی تھی اماں\n\nتھے دوسرے خیمہ میں ادھر سبط پیمبر\nدربار میں حاضر تھے رفیقان دلاور\nاک پہلو میں قاسمؔ تھے اور اک پہلو میں اکبرؔ\nاکبرؔ کے ادھر لخت دل زینب مضطر\nشبیرؔ محبت سے سخن کرتے تھے سب سے\nعباسؔ علی سامنے بیٹھے تھے ادب سے\n\nسر گرم تھے مر جانے پہ، سب شاہ کے انصار\nعباس سے یہ کہتا تھا، وہ کل کا مدد گار\nتم رہیو ذرا خیمۂ ناموس سے ہشیار\nڈر ہے نہ کرے بے ادبی لشکر کفار\nبے دینوں کو راحت مری منظور نہیں ہے\nشب خوں جو ادھر سے ہو، تو کچھ دور نہیں ہے\n\nیہ ذکر ابھی تھا کہ یکایک خبر آئی\nاے چاند ید اللہ کے، شب دوپہر آئی\nحضرت کو ستاروں کی جو گردش نظر آئی\nدل یاد خدا کرنے لگا، چشم بھر آئی\nفرمایا بڑا اجر ہے، بیدارئ شب کا\nاے تشنہ لبو وقت ہے یہ طاعت رب کا\n\nاب عمر بھی آخر ہے، نمازیں بھی ہیں آخر\nبے توشہ پہونچتا نہیں، منزل پہ مسافر\nہر وقت ہے ربِ دو جہاں حاضر و ناظر\nاجر ان کے مضاعف ہیں جو ہیں صابر و شاکر\nمشکل نہ کسی رنج کو سمجھے نہ بلا کو\nبندہ وہی بندہ ہے جو بھولے نہ خدا کو\n\nنام اس کا رہے ورد، سفر ہو کہ حضر ہو\nموجود سمجھ لے اسے جنگل ہو کہ گھر ہو\nسجدے ہی کرے دکھ میں کہ راحت میں بسر ہو\nتسبیح میں شب ہو، تو نمازوں میں سحر ہو\nعشق گل تر ظلم کے خاروں میں نہ بھولے\nمعشوق کو تلواروں کی دھاروں میں نہ بھولے\n\nچومے لب سوفار، جو سینے پہ لگیں تیر\nدم عشق کا بھرتا رہے زیر دم شمشیر\nزخموں کو یہ سمجھے، کہ ملا گلشن توقیر\nتکبیر کا نعرہ ہو زباں پر، دم تکبیر\nکٹنے میں رگوں کے نہ صدا آہ کی نکلے\nہر رنگ میں بو الفت اللہ کی نکلے\n\nشہ نے سخن معرفت حق جو سنائے\nاشک آنکھوں میں ہر عاشق صادق کے بھر آئے\nکچھ پیاس کا شکوہ بھی زباں پر نہیں لائے\nسجادے وہیں لا کے دلیروں نے بچھائے\nتکبیریں ہوئیں لشکر اللہ و نبی میں\nسب محو ہوئے یاد جناب احدی میں\n\nتسبیح کہیں تھی کہیں سجدے کہیں زاری\nتھا صوت حسن سے کوئی قرآن کا قاری\nکرتا تھا کوئی عرض کہ یا حضرت باری\nاب صبح کو عزت ہے ترے ہاتھ ہماری\nحرمت سے شریک شہدا کیجیو یا رب\nتو حوصلۂ صبر، عطا کیجیو یا رب\n\nہم ہیں ترے محبوب کے پیارے کے مددگار\nمرنے کے لئے آئے ہیں یا چھوڑ کے گھر بار\nیہ بندۂ بے کس ہے مصیبت میں گرفتار\nکر رحم کہ ہے ذات تری راحم و غفار\nفاقوں کے سبب، جسم کی طاقت میں کمی ہے\nتجھ سے طلب قوت ثابت قدمی ہے\n\nبے کس ہیں مسافر ہیں، وطن دور ہے، گھر دور\nہفتم سے ہمیں گھیرے ہے یہ لشکر مقہور\nتیروں سے ہوں غربال کہ تیغوں سے بدن چور\nاحمدؔ کے نواسے سے جدائی نہیں منظور\nپھر منہ کسے دکھلائیں جو سردار کو چھوڑیں\nکیوں کر ترے مقبول کی سرکار کو چھوڑیں\n\nمردوں کے لئے ننگ ہے تلواروں سے لڑنا\nراحت ہو کہ ایذا، یہیں جینا، یہیں مرنا\nتو چاہے تو مشکل نہیں کچھ سر سے گزرنا\nاے کل کے مدد گار، مدد جنگ میں کرنا\nفاقوں میں ہزاروں سے وغا ہو تو مزا ہے\nکچھ حق نمک ہم سے ادا ہو تو مزا ہے\n\nکرتے تھے مناجات ادھر یاور و انصار\nپڑھتے تھے نماز شب ادھر، سید ابرار\nتھی نیت تسبیح بتول جگر افگار\nآواز بکا خیمے سے آنے لگی یک بار\nاکبرؔ سے اشارہ کیا مڑ کر، کہ یہ کیا ہے\nکہ عرض پھوپھی جان کے رونے کی صدا ہے\n\nیوں تو کئی راتوں سے وہ ہیں مضطر و بیتاب\nراحت کی نہ صورت ہے نہ آرام کا اسباب\nغش میں جو ذرا بند ہوئے، دیدۂ پر آب\nروتی ہوئی چونکی ہیں، ابھی دیکھ کے کچھ خواب\nنعلین کہیں، چادر پر نور کہیں ہے\nاس وقت سے بسمل کی طرح چین نہیں ہے\n\nسب بیبیاں ہیں رو رہیں بچوں کو لیے پاس\nایک ایک کو اندیشہ ہے، ایک ایک کو وسواس\nجو پوچھتا ہے وجہ تو کہتی ہیں بصد یاس\nلوگو مجھے شبیر کے بچنے کی نہیں آس\nمانگو یہ دعا غیب سے بے کس کی مدد ہو\nصدقے کرو مجھ کو کہ بلا بھائی کی رد ہو\n\nان کا تو یہ احوال ہے، اماں کا یہ عالم\nاشکوں کی جھڑی آنکھوں سے تھمتی نہ تھی اِک دم\nاصغرؔ کی بھی ہے فکر، سکینہ کا بھی ہے غم\nشش ماہ کا بچہ بھی ہوا جاتا ہے بے دم\nگودی میں اٹھائیں اُسے یا اس کو سنبھالیں\nدو روز کے فاقے میں وہ کس کس کو سنبھالیں\n\nرو آتی ہیں عابدؔ کے سرہانے کبھی جا کر\nگہوارۂ اصغرؔ پہ کبھی گرتی ہیں آ کر\nقرآں کی ہوا دیتی ہیں غش میں اسے پا کر\nبہلاتی ہیں، بیٹی کو کبھی اشک بہا کر\nوہ کہتی ہے تا صبح یوں ہی روؤں گی اماں\nبابا ہی جب آویں گے تو میں سوؤں گی اماں\n\nبتلاؤ شہ جن و بشر کیوں نہیں آتے\nاب رات بہت کم ہے، پدر کیوں نہیں آتے\nآزردہ ہیں کچھ مجھ سے، ادھر کیوں نہیں آتے\nکیا آج وہیں سوئیں گے، گھر کیوں نہیں آتے\nاب پیاسوں کی فریاد بھی بابا نہیں سنتے\nحضرت مرے رونے کی صدا کیا نہیں سنتے\n\nرو کر علیؔ اکبر نے جو کی شہ سے یہ تقریر\nپڑھتے ہوئے تسبیح گئے، حضرت شبیرؔ\nدیکھی جو نہ تھی دیر سے وہ چاند سی تصویر\nقدموں پہ محبت سے گری دوڑ کے ہمشیر\nبیتاب جو پایا بہت اس تشنہ دہن کو\nشبیرؔ نے لپٹا لیا چھاتی سے بہن کو\n\nفرمایا بہن تم نے بنایا ہے یہ کیا حال\nنہ سر پہ عصابہ ہے نہ چادر ہے نہ رومال\nماتھا ہے بھرا خاک سے بکھرے ہوئے ہیں بال\nپیٹو نہیں، جیتا ہے ابھی فاطمہؔ کا لال\nدم تن سے مرا کٹ کے نکل جائے گا زینبؔ\nرو لیجیو جب رونے کا وقت آئے گا زینبؔ\n\nجیتا ہوں میں اور آہ ابھی سے یہ تلاطم\nیہ کرب یہ دکھ درد، یہ زاری یہ تظلم\nہوتے ہیں مرے ہوش و حواس آئے ہوئے گم\nخنجر کے تلے دیکھو گی کس طرح مجھے تم\nبس صبر کرو جی سے گذر جائیں گے بچے\nتڑپو گی تم اس طرح تو مر جائیں گے بچے\n\nتلوار کسی نے ابھی تولی نہیں مجھ پر\nسینہ ابھی تیروں سے مشبک نہیں خواہر\nگردن پہ کسی نے ابھی پھیرا نہیں خنجر\nمر جائے گا بھائی تمہیں ثابت ہوا کیوں کر\nہر چند کہ ساعت نہیں ٹلتی ہے قضا کی\nبچ جاؤں تو کیا دور ہے قدرت سے خدا کی\n\nزینبؔ نے کہا خوش ہوں جو میری اجل آئے\nبھائی تمہیں اللہ اس آفت سے بچائے\nخالق مجھے عابدؔ کی یتیمی نہ دکھائے\nبھائی کی بلا لے کے بہن خلق سے جائے\nوسواس طبیعت کو بہلنے نہیں دیتا\nبے چین ہے دل مجھ کو سنبھلنے نہیں دیتا\n\nآتا ہے سکینہؔ کی یتیمی کا، مجھے دھیان\nہر وقت بھرا گھر نظر آ جاتا ہے، ویران\nسمجھانے سے کچھ دل جو بہلتا ہے، میں قربان\nپھر جاتا ہے آنکھوں کے تلے موت کا سامان\nبازو مرے کسنے کو رسن لاتا ہے کوئی\nسر پر سے ردا کھینچے لئے جاتا ہے کوئی\n\nمنہ ڈھانپ کے بستر پہ جو سو جاتی ہوں دم بھر\nتو چاک گریباں نظر آتے ہیں پیمبر\nاماں کبھی چلاتی ہیں یوں کھولے ہوئے سر\nبیٹی نہ بچے گا ترا مظلوم برادر\nکیا لیٹی ہے بستر پہ کدھر دھیان ہے زینبؔ\nشپیر اسی رات کا مہمان ہے زینبؔ\n\nیہ ذکر ابھی تھا کہ سکینہؔ نے پکارا\nسونا تو گیا آپ کے ہمراہ ہمارا\nمیں جاگتی ہوں اور جہاں سوتا ہے سارا\nگردوں پہ چمکنے نہ لگے صبح کا تارا\nنیند آئی ہے بیٹی کو سلا جایئے بابا\nبس ہو چکیں باتیں اب ادھر آیئے بابا\n\nحضرت نے کہا میں تِری آواز کے قرباں\nاللہ تم اب تک نہیں سوئی ہو مری جاں\nغربت میں کہاں راحت و آرام کا ساماں\nبن باپ کے تم کو تو نہیں چین کسی آں\nاچھی نہیں عادت یہ نہ رویا کرو بی بی\nپہلو میں کبھی ماں کے بھی سویا کرو بی بی\n\nکیا ہووئے جو ہم گھر میں کسی شب کو نہ آئیں\nمجبور ہوں ایسے کہ تمہیں چھوڑ کے جائیں\nتم پاؤ نہ ہم کو، نہ تمہیں ہم کہیں پائیں\nبی بی کہو پھر چھاتی پہ کس طرح سلائیں\nجنگل میں بہت قافلے لٹ جاتے ہیں، بی بی\nبرسوں جو رہے ساتھ وہ چھٹ جاتے ہیں، بی بی\n\nجب عمر تھی کم، ہم بھی چھٹے تھے یونہی ماں سے\nسوتے تھے لپٹ کر یوں ہی، خاتون جناں سے\nکوچ ان کا ہوا سامنے آنکھوں کے جہاں سے\nماتم سے ملیں وہ، نہ بکا سے، نہ فغاں سے\nیہ داغ یہ اندوہ و الم سب کے لئے ہیں\nماں باپ زمانے میں سدا کس کے جیے ہیں\n\nرستہ وہ اجل کا ہے کہ ہوتا ہی نہیں بند\nکوچ آج پدر کا ہے تو کل جائے گا فرزند\nہوتا ہے قلق فرقت اولاد میں وہ چند\nکیا زور ہے بندے کا، جو مرضیٔ خداوند\nجو آئے ہیں دنیا میں وہ سب کوچ کریں گے\nاس زیست کا انجام یہی ہے کہ مریں گے\n\nیہ کہتے تھے حضرت کی صدا آئی اذاں کی\nگلدستۂ اسلام پہ، بلبل نے فغاں کی\nاک دم میں بہار اور ہوئی باغ جہاں کی\nتلوار چلی گلشن انجم پہ خزاں کی\nمہتاب ہوا گم فلک نیلوفری سے\nپھولا گل خورشید، نسیم سحری سے\n\nگرمی کی سحر اور وہ پھولوں کا مہکنا\nمرغان چمن کا وہ درختوں پہ چہکنا\nانجم کا وہ چھپنا کبھی اور گاہ چمکنا\nوہ سرد ہوا اور وہ سبزے کا لہکنا\nاس دشت میں روتی تھی جو شبنم شہ دیں پر\nتھا موتیوں کا فرش زمرد کی زمیں پر\n\nجلوہ وہ دم صبح کا، وہ نور کا عالم\nدلچسپ صدا نوبت و شہنا کی، وہ باہم\nسرخی وہ شفق کی، افق چرخ پہ کم کم\nوہ گل کے کٹوروں پہ در افشانیٔ شبنم\nخشکی میں بھی سردی سے ترائی کا سماں تھا\nپر مالک گلزار جناں، تشنہ دہاں تھا\n\nلشکر میں ادھر مورچے بندی کی ہوئی دھوم\nیاں فرض ادا کرنے لگے عاشق قیوم\nپیچھے تو جماعت تھی اور آگے شہ مظلوم\nصف بستہ ملائک ہیں، یہی ہوتا تھا معلوم\nسب ساجد و راکع تھے شہنشاہ کے ہمراہ\nتاباں تھے بہتر مہ نو ماہ کے ہمراہ\n\nخیمہ تھا فلک، آپ قمر، دوست ستارے\nتارے بھی وہ تاروں کو فلک جن پہ اتارے\nخم ہو گیا تھا، پیر فلک شرم کے مارے\nکہتی تھی زمیں، اوج ہے طالع کو ہمارے\nخورشید نہیں روشنیٔ نیر دیں ہے\nخود عرش کو دھوکا تھا، یہ میں ہوں کہ زمیں ہے\n\nجو صف ہے وہ اک سطر ہے قران مبیں کی\nدیوار ہے قبلہ کی طرف، کعبۂ دیں کی\nکیا خوب جماعت ہے یہ ارباب یقیں کی\nافلاک کی زینت ہے تو رونق ہے زمیں کی\nکس طرح شہنشاہ سے وہ فوج جدا ہو\nمشکل ہے کہ دریا سے کہیں موج جدا ہو\n\nاس دم تھی یہ آواز پس پردۂ قدرت\nاے قدسیو دیکھو مرے بندوں کی عبادت\nنہ پیاس کا شکوہ ہے، نہ فاقوں کی شکایت\nیہ زہد، یہ تقویٰ، یہ اطاعت، یہ ریاضت\nکونین میں یہ صاحب اقبال و شرف ہیں\nعالم ہوں کہ ان لوگوں کے دل میری طرف ہیں\n\nکس عجز سے آگے مرے حاضر ہیں یہ بندے\nدیکھو مرے محبوب کے ناصر ہیں، یہ بندے\nمظلوم ہیں بے کس ہیں مسافر ہیں یہ بندے\nتھوڑے نہ ہوں کس طرح کے شاکر ہیں یہ بندے\nصادق ہیں ولی سے مرے ان سب کو ولا ہے\nان کا وہ صلہ ہے جو رسولوں کا ملا ہے\n\nپرسش نہ لحد میں نہ حساب اُن کے لئے ہے\nیہ لائق رحمت ہیں، ثواب اُن کے لئے ہے\nموتی سے جو ہے صاف، وہ آب اُن کے لئے ہے\nمیں جس کا ہوں ساقی، وہ شراب اُن کے لئے ہے\nاس نخل ریاضت کے ثمر اُن کو ملیں گے\nجو عرش کے نیچے ہیں وہ گھر اُن کے ملیں گے\n\nفارغ جو صلوٰۃ سحری سے ہوئے دیں دار\nپوشاک پہننے کو اٹھے سید ابرار\nفرمانے لگے حضرت عباسؔ علمدار\nہاں غازیو اب تم بھی سجو جنگ کے ہتھیار\nقرباں تمہیں ہونا ہے محمدؔ کے پسر پر\nکمروں کو کسو، گلشن جنت کے سفر پر\n\nآمادۂ شر لشکر کفار ہے کل سے\nہونا ہے تمہیں آج، ہم آغوش اجل سے\nدر پیش ہے جنگ و جدل اس فوج کے دَل سے\nآقا بھی کوئی دم میں نکلتے ہیں محل سے\nہاں صف شکنو وقت ہے نصرت کی دعا کا\nکھلتا ہے پھریرا علم فوج خدا کا\n\nہم لوگ اسی روز کے مشتاق ہیں، کب سے\nاب ہوگی ملاقات شہنشاہ عرب سے\nسیدانیاں تم سب کو دعا دیتی ہیں شب سے\nصف باندھ کے آؤ، درِ دولت پہ ادب سے\nفردوس میں نانا سے حضور آج ملیں گے\nکوثر پہ تمہیں خلعت نور آج ملیں گے\n\nاس مژدہ کو سنتے ہی مسلح ہوئے غازی\nاصطبل سے آنے لگے جراروں کے تازی\nشیر صف جنگاہ تھا، ایک ایک نمازی\nنعرے تھے کہ قربان شہنشاہ حجازی\nڈیوڑھی پہ شگفتہ تھا چمن خلد بریں کا\nخیمہ میں تلاطم تھا وداع شہ دیں کا\n\nتھے گرد حرم بیچ میں وہ عاشق حق تھا\nمانند سحر رنگ ہر اک بی بی کا فق تھا\nبانوے دو عالم کا جگر سینے میں شق تھا\nزینب یہ تڑپتی تھی کہ حضرت کو قلق تھا\nشبیرؔ کے پہلو سے نہ ہٹتی تھی سکینہؔ\nبڑھتے تھے تو دامن سے لپٹتی تھی سکینہؔ\n\nشہ کہتے تھے بی بی ہمیں اب جانے دو گھر سے\nسینہ مرا شق ہوتا ہے، لپٹو نہ پدر سے\nوہ کہتی تھی سایہ جو یہ اٹھ جائے گا سر سے\nہے ہے میں تمہیں ڈھونڈ کے لاؤں گی کدھر سے\nبیٹی کا سوا آپ کے کوئی نہیں بابا\nشب بھر میں اسی خوف سے سوئی نہیں بابا\n\nسمجھاتے تھے حضرت کہ میں صدقے مری پیاری\nمیداں سے ابھی آئیں گے ہم تو کئی باری\nوہ کہتی تھی میں آپ کی مظلومی کی واری\nساماں نظر آتا ہے یتیمی کا ہماری\nدر پیش لڑائی نہیں گر فوج شقی سے\nکیوں آپ سفارش مری کرتے تھے پھوپھی سے\n\nاب آپ کے جانے سے تو ثابت ہے نہ آنا\nکیوں کہتے تھے زینب اسے چھاتی سے سلانا\nبانو مرے پیچھے، نہ سکینہ کو رلانا\nپانی جو میسر ہو تو پیاس اس کی بجھانا\nبہلائیو جب رو کے مجھے یاد کرے گی\nتڑپوں گا لحد میں جو یہ فریاد کرے گی\n\nمیں سنتی تھی عابدؔ سے جو کچھ کی تھی وصیت\nاس گھر کی تباہی کی خبر دیتے تھے حضرت\nہے ہے یہ مری عمر یہ صدمہ یہ مصیبت\nلے لو مجھے ہمراہ، گوارہ نہیں فرقت\nساتھ آپ کے جاؤں گی جو اس دار محن سے\nکوئی مری گردن تو نہ باندھے گا رسن سے\n\nنادان کی ان باتوں پہ گھر روتا تھا سارا\nماتم میں کسی دل کو نہ تھا، صبر کا یارا\nحضرت کو بھی فرقت تھی نہ بیٹی کی گوارا\nڈیوڑھی تک اسے گود سے اپنی نہ اتارا\nجس دم وہ چھٹی، جیتے ہی جی مرگئے شپیرؔ\nکس درد سے روتے ہوئے باہر گئے شپیرؔ\n\nجس دم در دولت پہ امیر امم آیا\nپیٹے یہ حرم گھر میں کہ ہونٹوں پہ دم آیا\nتسلیم کو اسلام کا، لشکر بہم آیا\nکس صولت و اقبال و حشم سے علم آیا\nجاتی تھی لچکنے میں ضیا عرش تک اس کی\nخورشید کو پنجہ میں لئے تھی چمک اس کی\n\nآپس میں یہ کہتے تھے رفیقان دلاور\nدیکھیں یہ ہُما سایہ فگن ہوتا ہے کس پر\nاکبرؔ کے تو ہے نام پہ سالاریٔ لشکر\nعباسؔ کو دیں گے شہ دیں منصب جعفرؔ\nاِک عشق ہے اس شیر سے سلطان امم کو\nبھائی کو کبھی دیکھتے ہیں، گاہ علَم کو\n\nزینبؔ کے پسر مشورہ یہ کرتے تھے باہم\nکیوں بھائی علَم لینے کو ماموں سے کہیں ہم\nتائید خدا چاہئے گو عمر میں ہیں کم\nعہدہ تو ہمارا ہے یہ آگاہ ہے عالم\nواقف ہیں سبھی حیدرؔ و جعفرؔ کے شرف سے\nحق پوچھو تو حقدار ہیں ہم دونوں طرف سے\n\nدادا بھی علمدار ہے، نانا بھی علم دار\nہم اپنے بزرگوں کے ہیں، منصب کے طلب گار\nکہتا تھا بڑا عرض کا موقع نہیں زنہار\nہیں بادشہ کون و مکاں مالک و مختار\nعہدہ تو بڑا یہ ہے کہ ماموں پہ فدا ہوں\nچپکے رہو، اماں نہ کہیں سن کے خفا ہوں\n\nمطلب نہ علم سے نہ حشم سے ہمیں کچھ کام\nمٹ جائیں نشاں، بس یہی عہدہ ہے یہی نام\nیہ سر ہوں نثار قدم شاہ خوش انجام\nعزت رہے بھائی، یہ دعا ہے سحرو شام\nآقا جسے چاہیں علم فوج خدا دیں\nمشتاق اجل ہیں ہمیں مرنے کی رضا دیں\n\nروتی تھی جو پردے کے قریں زینبؔ دلگیر\nسب اس نے مفصل یہ سنی بیٹوں کی تقریر\nفضہؔ سے یہ کہنے لگی، وہ صاحب توقیر\nدونوں کو اشارے سے بلا لے کسی تدبیر\nکچھ کہنا ہے سن لیں اسے فرصت انہیں گر ہو\nعباسؔ نہ دیکھیں نہ شہ دیں کو خبر ہو\n\nیہ کہتی تھی زینبؔ کہ خود آئے وہ نکو کار\nچھوٹے سے یہ فرمانے لگیں زینبؔ ناچار\nکیا باتیں ابھی بھائی سے تھیں، اے مرے دلدار\nاس وقت میں ہو کون سے منصب کے طلب گار\nسمجھے نہ کہ مادر عقب پردہ کھڑی ہے\nگھر لٹتا ہے میرا، تمہیں منصب کی پڑی ہے\n\nاللہ بڑا عزم کیا، باندھ کے تلوار\nبچو! تمہیں ایسا نہ سمجھتی تھی میں زنہار\nدیکھو ابھی تم دونوں سے ہو جاؤں گی بے زار\nکچھ کہیو نہ ماموں سے خبردار! خبردار\nکیا دخل تمہیں امر میں سلطان امم کے\nدیکھوں گی نہ پھر منہ، جو گئے پاس علم کے\n\nکچھ اور ہی تیور ہیں علم نکلا ہے جب سے\nتم کون ہو جو آگے بڑھے جاتے ہو سب سے\nاستادہ ہو، جا کر عقب شاہ، ادب سے\nعہدہ ہے یہ جس کا مجھے معلوم ہے شب سے\nاس امر میں خاطر نہ کریں، اور کسی کی\nمیں خوش ہوں بجا لائیں وصیت کو علیؔ کی\n\nدو روز سے بھائی پہ مرے ظلم و ستم ہے\nتم فکر علم میں ہو مجھے سخت الم ہے\nچھوٹے سے ہیں قد، سِن بھی تمہارا ابھی کم ہے\nکھیل اس کو نہ سمجھو یہ محمدؔ کا علم ہے\nہرگز نہ ابھی کچھ شہِ ذی جاہ سے کہنا\nکہنا بھی تو رخصت کے لئے شاہ سے کہنا\n\nمانا کہ پہونچتا ہے تمہیں منصب جعفرؔ\nآقا کی غلامی سے ہے عہدہ کوئی بڑھ کر\nچھوٹا مرا بھائی بھی ہے، بیٹوں کے برابر\nعاشق کا تو عاشق ہے، برادر کا برادر\nبگڑوں گی گلہ گر کوئی اسلوب کرو گے\nعباس سے کیا تم مجھے ممجوب کرو گے\n\nزینبؔ نے عتابانہ جو کی ان سے یہ گفتار\nیوں کہنے لگے، جوڑ کے ہاتھوں کو وہ دلدار\nشاہوں سے غلاموں نے بھی کی ہے، کبھی تکرار\nمالک ہیں جسے چاہیں علم دیں، شہ ابرار\nرخصت کے لئے تیغ و سپر باندھے ہوئے ہیں\nہم صبح سے مرنے پہ کمر باندھے ہوئے ہیں\n\nزینبؔ نے کہا لے کے بلائیں کہ سدھارو\nبس اب مرا دل شاد ہوا اے مرے پیارو\nماں صدقے گئی، سر قدم شاہ پہ وارو\nہو عید مجھے گر عمرؔ و شمرؔ کو مارو\nیہ وقت ہے امداد امام ازلی کا\nدے چھوٹے سے ہاتھوں میں خدا زور علیؔ کا\n\nصدقے گئی سن لو کہ میں کہتی ہوں جتا کر\nتم پہلے فدا کیجیو سر شہ کے قدم پر\nمیدان میں زخمی ہوئے گر قاسمؔ و اکبرؔ\nپھر تم مرے فرزند نہ میں دونوں کی مادر\nجب دل ہوا ناراض تو فرزند کہاں کے\nکس کام کا وہ لعل جو کام آئے نہ ماں کے\n\nان میں سے اگر رن کی طرف ایک سدھارا\nزہراؔ کی قسم منہ نہ میں دیکھوں گی تمہارا\nجس وقت سنوں گی کہ سر ان دونوں نے وارا\nاس وقت تمہیں ہوگا مرا دودھ گوارا\nبے جاں ہوئے بعد ان کے، تو ماتم نہ کروں گی\nدیکھو جو مروں گی بھی تو ناراض مروں گی\n\nہیں دونوں بھتیجے، مرے پیارے مرے محبوب\nتم ان پہ تصدق ہو، یہی ہے مجھے مطلوب\nجینا نہیں بہتر کسی صورت، کسی اسلوب\nبے سر دیے دودھ اپنا میں بخشوں تمہیں، کیا خوب\nایذا جو اٹھاؤ گے تو راحت بھی ملے گی\nجب آئیں گی لاشیں تو یہ دولت بھی ملے گی\n\nدیکھو کہے دیتی ہوں خبردار! خبردار\nجیتے جو رہے دودھ نہ بخشوں گی میں زنہار\nشیروں کے یہ ہیں کام کھنچے جس گھڑی تلوار\nرکھ دیویں گلا بڑھ کے، تہِ خنجرِ خوں خوار\nتوڑی ہیں صفیں جنگ میں جب کھیت پڑے ہیں\nجنات کے لشکر سے علیؔ یوں ہی لڑے ہیں\n\nاعدا کو مرے دودھ کی تاثیر دکھاؤ\nاجلالِ حسن شوکتِ شبیر دکھاؤ\nجعفرؔ کی طرح جوہرِ شمشیر دکھاؤ\nتن تن کے ید اللہ کی تصویر دکھاؤ\nخورشیدِ امامت سے قرابت میں قریں ہو\nتم شیر ہو شیروں کے حسینوں کے حسیں ہو\n\nجعفر سے نمودار کے دلبر ہو دلیرو\nحیدر سے دلاور کے دلاور ہو دلیرو\nجرار ہو، کرار ہو، صفدر ہو دلیرو\nضرغام ہو، ضیغم ہو، غضنفر ہو دلیرو\nتیروں سے جوانوں کے جگر توڑ کے آؤ\nخیبر کی طرح کوفے کا در توڑ کے آؤ\n\nخندق کی لڑائی کی طرح جنگ کو جھیلو\nبچے اسد اللہ کے ہو، جان پہ کھیلو\nتیغوں میں دھنسو، چھاتیوں سے نیزوں کو ریلو\nکوفے کو تہِ تیغ کرو، شام کو لے لو\nدو اور جلا آئینۂ تیغِ عرب کو\nلو روم کو قبضے میں تو قابو میں حلب ہے\n\nخاقاںؔ کا رہا تخت نہ قیصرؔ کا رہا تاج\nہاں غازیو! چین و حبش و زنگ سے لو باج\nچڑھنا ہے لڑائی پہ جواں مردوں کو معراج\nگیتی تہ و بالا ہو وہ تلوار چلے آج\nیوں آئیو چار آئینہ پہنے ہوئے بر میں\nجس طرح علیؔ بعد ظفرؔ آتے تھے گھر میں\n\nمیلے نہ ہوں تیور، یہ سپاہی کے ہنر ہیں\nجس کے ہیں، بس اس کے ہیں، جدھر ہیں بس ادھر ہیں\nگہ عطر میں ڈوبے ہیں، گہے خون میں تر ہیں\nصحبت میں مصاحب ہیں، لڑائی میں سپر ہیں\nوہ اور کسی سے نہ جھکیں گے نہ جھکے ہیں\nعزت میں نہ فرق آئے کہ سر بیچ چکے ہیں\n\nیہ سن کے جو نکلے وہ جری خیمے سے باہر\nکس پیار سے منہ دونوں کا تکنے لگے سرور\nاکبرؔ نے یہ کی عرض کہ اے سبطِ پیمبر\nتیار ہے سب قبلۂ کونین کا لشکر\nجلدی ہے لڑائی کی ادھر فوجِ ستم کو\nارشاد جسے ہو وہ بڑھے لے کے علم کو\n\nشہ بولے کہ عباسِؔ دلاور کو بلاؤ\nپیارے مرے محبوب برادر کو بلاؤ\nعاشق کو مددگار کو یاور کو بلاؤ\nجلدی مرے حمزہؔ مرے جعفرؔ کو بلاؤ\nیہ اوج، یہ رتبہ، یہ حشم اس کے لئے ہے\nزیب اس سے علم کی ہے، علم اس کے لئے ہے\n\nسب تکنے لگے صورتِ عباس فلک جاہ\nنازاں ہوا خود اوج پہ اپنے علمِ شاہ\nیعنی مرا عامل ہے نشانِ اسد اللہ\nبالیدہ تھا پرچم، تو پھریرا تھا ہوا خواہ\nجان آ گئی تھی سنتے ہی اس خوشخبری کو\nپنجہ بھی اشارے سے بلاتا تھا جری کو\n\nخوش ہو کے یہ عمّو کو پکارے علیؔ اکبر\nجلد آیئے یاد آپ کو فرماتے ہیں سرور\nحاضر ہوا جوڑے ہوئے ہاتھوں کو ہو صفدر\nارشاد کیا شہ نے علم بھائی کو دے کر\nرکھیے اسے کاندھے پہ، یہ ہے آپ کا عہدہ\nلو بھائی مبارک ہو تمہیں باپ کا عہدہ\n\nبوسہ دیا عباسِؔ دلاور نے علم پر\nتسلیم کی اور رکھ دیا سر شہ کے قدم پر\nکی عرض کہ قربان اس الطاف و کرم پر\nسو سر ہوں تو صدقے میں شہنشاہِ امم پر\nادنیٰ جو ابھی تھا اسے اعلیٰ کیا مولا\nقطرے کو ترے فیض نے دریا کیا مولا\n\nاس چترِ فلک قدر کا سایہ مرے سر پر\nاس دھوپ میں ہوگا، پہ پھریرا مرے سرپر\nیہ ابر مِرے سر پہ، یہ طوبیٰ مرے سر پر\nقائم رہیں لاکھوں برس آقا مرے سر پر\nسلطانِ دو عالم کی غلامی کے صلے ہیں\nسب اوج یہ نعلین اٹھانے سے ملے ہیں\n\nحضرت نے کہا رو کے یہ کیا کہتے ہو پیارے\nحاضر ہے اگر جان بھی کام آئے تمہارے\nحصہ یہ تمہارا تھا سو پہونچا تمہیں بارے\nمالک ہو تمہیں، ہم تو ہیں اب گور کنارے\nتھا دل میں جو کچھ وہ بخدا ہو نہیں سکتا\nبھائی ترا حق مجھ سے ادا ہو نہیں سکتا\n\nیہ کہہ کے بڑھے سرورِ دیں جانبِ توسن\nہتیار لگائے ہوئے، پہنے ہوئے جوشن\nاسوار ہوئے آپ، جو گردان کے دامن\nاللہ رے ضیا، خانۂ زیں ہو گیا روشن\nوہ پاؤں رکابوں کے لئے باعثِ ضو تھے\nخورشید کے قدموں کے تلے دو مہِ نو تھے\n\nرانوں کے اشارے سے لگا کوندنے، شبدیز\nاسوار کے دل کا تھا اشارہ اسے مہمیز\nگرما کے جو شبیرؔ نے تازی کو کیا تیز\nاعدا پہ چلا غول سواروں کا، جلو ریز\nایک ایک جوانِ عربی، رشکِ ملک تھا\nاللہ کے لشکر کا علم، سر بہ فلک تھا\n\nکیا فیضِ سواری تھا کہ زر ریز تھی سب راہ\nطالع تھا ادھر مہر، ادھر تھا علم شاہ\nمابین دو خورشید تھی، فوجِ شہِ ذی جاہ\nپنجے پہ تجلی تھی، کہ اللہ ہی اللہ\nبالا تھی چمک، مہرِ منور کی چمک پر\nضو اس کی زمیں پر تھی، ضیا اس کی فلک پر\n\nایک ایک جواں، زیورِ جنگی کو سنوارے\nنیزوں کی چمک اور وہ سمندر کے طرارے\nجعفرؔ کے جگر بند، ید اللہ کے پیارے\nرستم سے ہر اک جنگ کرے شیر کو مارے\nسیاف ہو مرحبؔ سا، تو شمشیر سے ماریں\nارجنؔ سے کماندار کو، اک تیر سے ماریں\n\nکم سن کئی لڑکوں کا جدا غول تھا سب سے\nسوئے بھی نہ تھے، ولولۂ جنگ میں ، شب سے\nرو کے ہوئے باگوں کو، شہِ دیں کے ادب سے\nاعدا کی طرف دیکھتے تھے، چشمِ غضب سے\nہتھیار جو باندھے تھے تو کیا تن پہ کُھلے تھے\nسب نیمچے تولے ہوئے مرنے پہ تُلے تھے\n\nوہ چاند سا منہ، اور وہ گورے بدن، ان کے\nشرمندہ ہو غنچے بھی، وہ نازک دہن ان کے\nیوسف کی طرح عطر فشاں پیرہن ان کے\nمرکر وہی کپڑے ہوئے آخر کفن ان کے\nکیا حسنِ عقیدت تھا عجب دل کے جواں تھے\nآقا پہ فِدا ہونے کو سب ایک زباں تھے\n\nعمریں تو کم و بیش، یہ سب گیسوؤں والے\nاِک غول میں تھے چاند کئی اور کئی ہالے\nذی مرتبہ سیدانیوں کو گود کے پالے\nغنچہ تھا وہ سب، اکبرِؔ گل رو کے حوالے\nان تازہ نہالوں میں نمودار یہی تھے\nاس گلشنِ یک رنگ کے مختار یہی تھے\n\nمقتل کو جو پر نور کیا، عسکرِ دیں نے\nدیکھا طرفِ چرخ، حقارت سے زمیں نے\nاونچا نہ کیا سر فلکِ ماہِ جبیں نے\nکی فرش پہ حسرت سے نظر عرشِ بریں نے\nاٹھ اٹھ کے چمک اپنی دکھانے لگے ذرے\nخورشید کے پہلو کو دبانے لگے ذرے\n\nکھولا جو پھریرے کو علمدار جری نے\nلوٹے گلِ فردوس، نسیم سحری نے\nتاروں کو اتارا، فلکِ نیلوفری نے\nپرچم جو کھلا کھول دیے بال پری نے\nعیسی نے پکارا کہ نثار اس کے چشم کے\nخورشید نے منہ رکھ دیا پنجے پہ علم کے\n\nترتیبِ صفِ فوج کا جس دم ہوا اعلام\nباندھی علیؔ اکبر نے صفِ لشکرِ اسلام\nظاہر جو ہوئی شانِ جوانانِ گل اندام\nکوفے کے نشاں جھک گئے، کانپی سپہِ شام\nاللہ رے شوکت شرفا و نجبا کی\nاسلام کا لشکر تھا کہ قدرت بھی خدا کی\n\nناگاہ بجا طبل، بڑھا لشکرِ سفاک\nتا چرخ گیا، غلغلۂ کوسِ شغب ناک\nفریاد سے قرنا کی ہلا گنبد افلاک\nتھرا گیا آوازِ دہل سے کرۂ خاک\nنوبت تھی زبس قتلِ امامِ مدنی کی\nصاف آتی تھی تاشوں سے صدا سینہ زنی کی\n\nواں شور تھا باجوں کا ادھر نعرۂ تکبیر\nایک ایک جری جھومتا تھا تول کے شمشیر\nنگاہ سوئے فوجِ خدا آنے لگے تیر\nعباسؔ علمبدار نے دیکھا رخِ شبیر\nکی عرض کہ لڑنے کو شریر آتے ہیں مولا\nکیا حکم ہے اب پیاسوں پہ تیر آتے ہیں مولا\n\nشہ نے کہا شرم آتی ہے کیا حکم میں دوں آہ\nہفتادِ دو تن یاں ہیں، ادھر سیکڑوں گمراہ\nغازی نے یہ کی عرض کہ اے گل کے شہنشاہ\nیہ شیر نیستانِ علیؔ ہیں، تو وہ روبارہ\nلاکھوں ہیں تو کیا ڈرہے شجاعانِ عرب کو\nاقبال سے آقا کے بھگا دیتے ہیں سب کو\n\nفرمایا کہ فاقے سے ہے، سارا مرا لشکر\nپانی نہیں ملتا کہ لبِ خشک کریں تر\nبہتر ہے اگر پہلے کٹے تن سے مرا سر\nغازی نے کہا شیرِ گرسنہ ہیں، یہ صفدر\nحملوں سے الٹ دیں گے پرے فوج عدو کے\nبھوکے ہیں یہ زخموں کے، پیاسے ہیں لہو کے\n\nحضرت نے کہا خیر! لڑو فوجِ ستم سے\nمعلوم ہے سب آج جدا ہوویں گے ہم سے\nدنیا سے نہ مطلب ہے، نہ کچھ جاہ و حشم سے\nکٹ جائے گا اپنا بھی گلا، تیعِ دو دم سے\nمقبول ہیں وہ، جو مری امداد کریں گے\nاس جنگ کو بھی لوگ، بہت یاد کریں گے\n\nجس دم یہ سنی، قبلۂ کونین کی گفتار\nجانباز بڑھے، فوج سے چلنے لگی تلوار\nتھے پیاسوں کے حملے غضبِ حضرتِ قہار\nچوٹی کے جواں بھاگ گئے پھینک کے تلوار\nکون آنکھ ملا سکتا تھا، شیروں سے عرب کے\nجب کرتے تھے نعرے قدم اٹھ جاتے تھے سب کے\n\nلڑتا تھا غضب ایک کے بعد ایک وفادار\nدن چڑھتا تھا یاں، گرم تھا واں موت کا بازار\nسر بیچتے تھے، جنسِ شہادت کے طلبگار\nبڑھ بڑھ کے خریدار پہ گرتا تھا خریدار\nلیں پہلے، ہم ایک ایک کی جاں اس کی بڑی تھی\nعقبیٰ کا جو سودا تھا تو قیمت بھی کڑی تھی\n\nآیا جو عزیزوں کے لئے موت کا پیغام\nفرزندوں نے جعفرؔ کے بڑے رن میں کئے کام\nاولاد عقیل آ چکی شبیرؔ کے جب کام\nلڑنے کو گئے مسلمِ بیکس کے گل اندام\nتھا حشر بپا ندیاں بہتی تھیں لہو کی\nبچوں نے الٹ دی تھیں صفیں فوجِ عدو کی\n\nلشکر میں تلاطم تھا غضب چلتی تھی تلوار\nبیتاب تھے یاں، زینبِ ناشاد کے دلدار\nمنہ دیکھ کے حضرت کا یہی کہتے تھے ہر بار\nہم جائیں گے بعد ان کے سوئے لشکرِ کفار\nجی جائیں جو مولا ہمیں مرنے کی رضا دیں\nایسا نہ ہو قاسمؔ کو حضور اذنِ وِغا دیں\n\nکچھ ان سے کہا چاہتے تھے سرورِ ذی شان\nجو غل ہوا مارے گئے مسلمؔ کے دل و جان\nلاشے بھی ادھر آ چکے، جب خون میں غلطاں\nپھر ہاتھوں کو جوڑا کہ ملے رخصت میداں\nشہ نے کہا یہ داغ تو دشوار ہے ہم پر\nان دونوں نے سر رکھ دیے ماموں کے قدم پر\n\nحضرت نے کہا ماں سے بھی ہو آئے ہو رخصت\nکیا کہتے ہو لٹوا دوں میں ہمشیر کی دولت\nمایہ ہو تمہیں اس کا، تمہیں اس کی بضاعت\nچھوٹے نے یہ حضرت سے کہا تھام کے رقت\nجھوٹے نہیں ہم، آپ ابھی پوچھ لیں سب سے\nاماں تو رضا دے چکی ہیں، مرنے کی شب سے\n\nبچوں نے جو کی جوڑ کے ہاتھوں کو یہ تقریر\nان دونوں کا منہ دیکھ کے رونے لگے شبیرؔ\nفرمایا چھڑاتا ہے، تمہیں بھی فلکِ پیر\nاچھا میں رضا مند ہوں، جو مرضئِ ہمشیر\nوہ سیدۂ پاک نواسی ہے نبی کی\nفیاض کی ہمشیر ہے، بیٹی ہے سخی کی\n\nیہ سن کے جھکے آخری تسلیم کو ذی جاہ\nخورشید کے آگے مہ نو بن گئے دو ماہ\nکی سوئے فلک دیکھ کے شبیرؔ نے اک جاہ\nدو شیر چلے گھوڑوں پر چڑھ کر سوئے جنگاہ\nماں ڈیوڑھی سے چلائی کہ رخصت ہو مبارک\nسرکارِ شہنشاہ سے، خلعت ہو مبارک\n\nسلطانِ دو عالم نے مخلع کیا واری\nتم جاتے ہو یا جاتی ہے دولہا کی سواری\nپروان چڑھے، ختم ہوئیں شادیاں ساری\nلو دور سے لیتی ہوں بلائیں، تمہاری\nصدقے گئی نیزوں کو ہلاتے ہوئے جاؤ\nشکلیں مجھے پھر پھر کے دکھاتے ہوئے جاؤ\n\nتسلیم کو گھوڑوں سے جھکے، دونوں وہ گل رو\nدل ماں کا یہ امڈا کہ ٹپکنے لگے آنسو\nباگیں جو اٹھائیں تو فرس بن گئے، آہو\nپھر دیکھنے پائی نہ انہیں زینبِ خوش خو\nمیداں کی طرف یاس سے ماں رہ گئی تک کر\nپنہاں ہوئے بدلی میں ستارے سے چمک کر\n\nمیداں میں عجب شان سے وہ شیرِ نر آئے\nگویا کہ بہم حیدرؔ و جعفرؔ نظر آئے\nغل پر گیا حضرت کی بہن کے پسر آئے\nافلاک سے بالائے زمیں دو قمر آئے\nیوسف سے فزوں حسن گرانمایہ ہے ان کا\nیہ دھوپ بیاباں میں نہیں، سایہ ہے ان کا\n\nوہ چاند سے منہ، اور وہ گیسوئے معنبر\nوہ بدر سے رخسار، زہے قدرتِ داور\nسب شان یداللہ کی، سب شوکتِ حیدرؔ\nچتون وہی، غصہ وہی، سارے وہی تیور\nیہ دبدبہ کس صاحبِ شمشیر نے دیکھا\nدیکھا جسے، معلوم ہوا شیر نے دیکھا\n\nتن تن کے جو شان اپنی دکھاتے تھے وہ ذی جاہ\nچھاتی سے لگا لیتے تھے دونوں کو ید اللہ\nشمشاد سے قامت، نہ دراز اور نہ کوتاہ\nکھیلے ہوئے تیغوں میں فنِ جنگ سے آگاہ\nناخن سے دلیروں کے سب اندازِ وِغا تھے\nبچے تھے مگر بچۂ ضرغامِ خدا تھے\n\nتھے حسن میں ان دونوں کے آئینہ رو ایک\nپیشانی و ابرو و سر و صدر و گلو ایک\nشان ایک، شکوہ ایک، جو رنگ ایک، تو بو ایک\nدل ایک، جگر ایک، جسد ایک، لہو ایک\nاور ان سا کوئی غرب سے تا شرق نہیں ہے\nدو ٹکڑے ہیں اک سیب کے، کچھ فرق نہیں ہے\n\nپڑھنے لگے اشعارِ رجز جب وہ دلاور\nاللہ ری فصاحت فصحا ہو گئے ششدر\nہر بیت تھی دشمن کے لئے تیغِ دو پیکر\nہر مصرع برجستہ میں تھی تیزئِ خنجر\nدے کون جواب ان کا کہ دم بند تھا سب کا\nواں قافیہ تھا تنگ شجاعانِ عرب کا\n\nاظہارِ نسب میں جو محمدؔ کا لیا نام\nسب پڑھنے لگے صلِ علیٰ صاحبِ اسلام\nآگے جو بڑھے نامِ علیؔ کے کے وہ گلفام\nدل ہِل گئے تھرانے لگا روم سے تا شام\nجعفرؔ کا جو کچھ ذکر کیا بعد علیؔ کے\nمجرے کو علم جھک گئے سب فوجِ شقی کے\n\nآغاز تھا ذکرِ شرفِ حضرتِ شبیرؔ\nڈنکے پہ ادھر چوٹ لگی، چلنے لگے تیر\nاس وقت بڑے بھائی نے کی چھوٹے سے تقریر\nتلوار علم کیجئے اب کس لئے تاخیر\nکہتے تو جدا ہو کے ستمگاروں پہ جائیں\nاسواروں میں ہم، آپ کمانداروں پہ جائیں\n\nفرمایا بڑے بھائی نے ہنس کر، نہیں بھائی\nتم جان ہو، دشوار ہے دم بھر کی جدائی\nہو جاتی ہے اِک آن میں، ہر صف کی صفائی\nکر دیتے ہیں سر، کون سی ایسی ہے لڑائی\nبازو ہوں قوی، ہاتھ سے گر ہاتھ نہ چھوٹے\nسر تن سے اتر جائے، مگر ساتھ نہ چھوٹے\n\nنانا کی طرح، فوج پہ حملے کریں، آؤ\nتلواروں میں تن تن کے چلو، برچھیاں کھاؤ\nان چھوٹے سے ہاتھوں کا ہمیں، زور دکھاؤ\nہم سینہ سپر تم پہ ہوں، تم ہم کو بچاؤ\nہم شیروں پہ رستم کا بھی منہ پڑ نہ سکے گا\nجب دو ہوئے اک دل تو کوئی لڑ نہ سکے گا\n\nچھوٹے نے کہا جوڑ کے ہاتھوں کو کہ، بہتر\nبس کھینچ لئے نیمچے، دونوں نے برابر\nدو بجلیاں کوندیں کہ لرزنے لگے لشکر\nنیزوں کے نیستاں میںِ در آئے وہ غضنفر\nبرباد کیا رو میں سواروں کو دبا کے\nرہوار بھی اسوار تھے گھوڑوں پہ ہوا کے\n\nان چھوٹی سی تلواروں کے تھے کاٹ نرالے\nتھیں کہنیاں پہونچوں سے جدا، ہاتھوں سے بھالے\nمسل اپنی جمائے تھے جو بے مثل رسالے\nتھے جائزہ ان سب کا یہی دیکھنے والے\nناز اپنے ہنر پر تھا شجاعان عرب کو\nنیزوں کو قلم کر کے ندارد کیا سب کو\n\nموت آئی اُدھر، نیمچے دونوں جدھر آئے\nجب ہاتھ بڑھا، پاؤں پہ کٹ کٹ کے سر آئے\nگر سینے تک آئے تو، کبھی تا کمر آئے\nخالی نہ پھرے، جس پہ گئے، خوں میں بھر آئے\nہر نیمچہ، بجلی تھا ستمگاروں کے حق میں\nڈوبے ہوئے تھے دو مہِ نو، خوں کی شفق میں\n\nاٹھتی تھی نہ ڈر سے کسی خوں خوار کی گردن\nسر خود کا جھک جاتا تھا، تلوار کی گردن\nدو چار کے منہ کٹ گئے، دو چار کی گردن\nاسوار کا سر اڑ گیا، رہوار کی گردن\nدو نیمچے بجلی سے گزرتے تھے کمر سے\nآدھے ہوئے جاتے تھے لعیں جان کے ڈر سے\n\nدو چھوٹی سی تیغوں سے قیامت نظر آئی\nمعصوموں کے ہاتھوں سے کرامت نظر آئی\nسر کٹنے کی، اعدا کے علامت نظر آئی\nلو ہے کی سپر بھی نہ سلامت نظر آئی\nبے وجہ نہ پھر جاتے تھے منہ اہلِ جفا کے\nدریا کے تھپیڑے تھے، طمانچے تھے قضا کے\n\nگردن سے بڑھے کاٹ کے پیکر نکل آئے\nجوشن کو دکھاتے ہوئے جوہر نکل آئے\nچار آئینہ میں تیر کے باہر نکل آئے\nصابون سے دو تار برابر نکل آئے\nمحراب کے نیچے کسے جھکتے نہیں دیکھا\nمچھلی کو بندھے پانی میں رکتے نہیں دیکھا\n\nہر غول میں غلطاں و تپاں تھے سرو پیکر\nدستانے کہیں تھے، کہیں ڈھالیں، کہیں مغفر\nجب نیمچے ان دونوں کے اٹھتے تھے برابر\nمنہ خوف سے ڈھالوں میں چھپاتے تھے ستم گر\nروکے انہیں، طاقت یہ نہ تھی پیر و جواں کی\nصورت نظر آنے لگی تیغِ دو زباں کی\n\nغارت تھی وہ صف جس سے وِغا کرکے پھرے وہ\nدو ہاتھ میں سو سو کو فنا کرکے پھرے وہ\nسرداروں کے سر تن سے جدا کرکے پھرے وہ\nہر غول میں اک حشر بپا کرکے پھرے وہ\nغل تھا کہ پرے ٹوٹے ہوئے جم نہیں سکتے\nسر کٹنے کی دہشت سے قدم تھم نہیں سکتے\n\nگھوڑے تھے چھلاوا، کبھی یاں تھے کبھی واں تھے\nپتلی میں تو پھرتے تھے، پر آنکھوں سے نہاں تھے\nیاں تھے جو سبک رو تو ادھر گرم عناں تھے\nبجلی تھے کسی جا تو کہیں آبِ رواں تھے\nہو سکتی تھی بجلی سے یہ سرعت نہ ہرن سے\nجھونکے تھے ہوا کے کہ نکل جاتے تھے سَن سے\n\nبے آب تھے دو دن سے یہ جاندار تھے گھوڑے\nہر مرتبہ اڑ جانے پہ تیار تھے گھوڑے\nاس پار کبھی تھے، کبھی اس پار تھے گھوڑے\nنقطہ تھے وہ سب فوج کی پرکار تھے گھوڑے\nدس بیس جو مر جاتے تھے ٹاپوں سے کچل کر\nبڑھ سکتا نہ تھا اِک بھی احاطہ سے اجل کے\n\nتانے ہوئے سینوں کو جدھر جاتے تھے دونوں\nتلواروں کی موجوں سے گزر جاتے تھے، دونوں\nہر غول میں بے خوف و خطر جاتے تھے، دونوں\nسب ہوتے تھے پسپا تو ٹھہر جاتے تھے، دونوں\nالٹی ہوئی صف دیکھ کے ہنس دیتا تھا بھائی\nبھائی کی طرف دیکھ کے ہنس دیتا تھا بھائی\n\nدم لے کے جو گھوڑوں کو اڑاتے تھے وہ جرار\nاعدا کے رسالوں کو بھگاتے تھے وہ جرار\nشیروں کی طرح فوج پہ جاتے تھے وہ جرار\nدو کرتے تھے یکتا، جسے پاتے تھے وہ جرار\nشیروں نے جو مارا بھی تو رو داروں کو مارا\nجب آنکھ ملی چن کے نموداروں کو مارا\n\nجمعیتِ لشکر کو پریشاں کیا، دم میں\nجو فوج کی جاں تھے، انہیں بے جاں کیا دم میں\nتلواروں سے جنگل کو، گلستاں کیا دم میں\nسر کاٹ کے خونخواروں کو غلطاں کیا دم میں\nبے دست تھے علموں کو، جو بے دین لیے تھے\nبچوں نے جوانوں کے نشاں چھین لئے تھے\n\nدو لاکھ کو دونوں نے کیا تھا تہ و بالا\nتیغ ایک کی چلتی تھی، تو اِک بھائی کا بھالا\nاِک بڑھ گیا گر ایک نے گھوڑے کو نکالا\nدم اس نے لیا، اس نے لڑائی کو سنبھالا\nیک جا فرسِ تیز قدم ہو گئے دونوں\nجب بھیڑ بڑھی کچھ تو بہم ہو گئے دونوں\n\nوہ چھیڑ کے تازی کو سواروں میں در آیا\nدم بھر میں پیادوں کو پامال کر آیا\nجب شیر سا پہونچا وہ ادھر، یہ ادھر آیا\nجاں آ گئی بھائی کو جو بھائی نظر آیا\nبچ بچ کے نکلتے تھے جو نیزوں کے تلے سے\nاِک بھائی لپٹ جاتا تھا بھائی کے گلے سے\n\nکچھ بھائی سے بڑھ کر جو وِغا کرتا تھا بھائی\nبچ جانے کی بھائی کے دعا کرتا تھا بھائی\nحق بھائی کی الفت کا ادا کرتا تھا بھائی\nہر وار پہ بھائی کی ثنا کرتا تھا بھائی\nتم سا نہیں صفدر کوئی واللہ برادر\nکیا خوب لڑے سلمک اللہ برادر\n\nکہتا تھا بڑے بھائی سے چھوٹا بصد آداب\nبھائی میں بھگا دوں ابھی ان کو، جو ملے آب\nاب پیاس کی گرمی سے کلیجے کو نہیں تاب\nسینے میں مرا دل نہیں، آتش پہ ہے سیماب\nہم لوگ محق کیا نہیں اس آبِ رواں کے\nتالو میں خلش ہوتی ہے کانٹوں سے زباں کے\n\nکہتا تھا بڑا بھائی میں صدقے ترے گلفام\nہم خشک زبانوں کو، بھلا پانی سے کیا کام\nاب جلد اجل آئے تو کوثر کا پئیں جام\nغش ہم کو بھی آ جائے گا، پانی کا نہ لو نام\nآنکھیں تو ستمگاروں کی تیغوں سے لڑی ہیں\nچپکے رہو اماں درِ خیمہ پہ کھڑی ہیں\n\nاس نہر کا لینا تو کچھ ایسا نہیں مشکل\nروکیں ہمیں کیا تاب لعینوں کی ہے، کیا دل\nپل باندھ لیں لاشوں کے ابھی ہم سرِ ساحل\nبتلایئے، پھر نہر کے لے لینے سے حاصل\nدیکھو نہ ادھر پیاس سے گو لاکھ تعب ہے\nاماں ہمیں گر دودھ نہ بخشیں تو غضب ہے\n\nاشک آنکھوں میں بھر کر، کہا چھوٹے نے بہت خوب\nہر دم ہے رضامندئ مادر ہمیں مطلوب\nایسے تو نہیں ہم کہ بزرگوں سے ہوں محجوب\nمنظور یہ تھا فخر کا، نکلے کوئی اسلوب\nدریا کو بھی دیکھیں گے نہ اب آنکھ اٹھا کے\nپیتے بھی تو پہلے شہِ والا کو پلا کے\n\nجعفرؔ کے جو پوتے ہیں، تو حیدرؔ کے نواسے\nکچھ ہم علیؔ اکبر سے زیادہ نہیں پیاسے\nیہ کہتے ہی لڑنے لگے، پھر اہلِ جفا سے\nفریاد کہ بچوں پہ گری فوج قفا سے\nخوں سر کا بہا منہ پہ تو گھبرا گئے دونوں\nدو لاکھ کی تیغوں کے تلے آ گئے دونوں\n\nڈوبے ہوئے تھے شام کے بادل میں وہ دو ماہ\nپردے سے کھڑی تکتی تھی، زینبؔ سوئے جنگاہ\nعباسؔ سے کہتے تھے تڑپ کر شہِ ذی جاہ\nاب مجھ سے جدا ہوتے ہیں دو شیر مرے آہ\nکیوں کر متحمل ہو دل اس رنج و محن کا\nگھر لٹتا ہے بھائی مری نادار بہن کا\n\nاس بی بی کے فاقوں کے ہیں پالے ہوئے یہ لال\nدولت ہے یہی، اور یہی حشمت و اقبال\nسات آٹھ برس کے ہیں ابھی کیا ہے سن و سال\nسب ہاتھ ملیں گے جو یہ گل ہو گئے پامال\nتازہ یہی دو پھول ہیں جعفرؔ کے چمن میں\nمر جائے گا باپ ان کی خبر سن کے وطن میں\n\nرو کر دمِ رخصت وہ یہی کہتے تھے ہر بار\nمیں شاہ کا خادم ہوں، یہ دونوں ہیں نمک خوار\nآگاہ صعوباتِ سفر سے نہیں زنہار\nاے دخترِ زہرا مرے بیٹوں سے خبردار\nمیں رکھ نہیں سکتا ہوں کہ ماموں پہ فدا ہیں\nاب تو یہی دونوں مرے پیری کے عصا ہیں\n\nشوہر کا تڑپنا اسے کچھ بھی نہ رہا یاد\nہے ہے مری الفت میں لٹی زینبؔ ناشاد\nیوں بھائی پہ صدقے کوئی کرتا نہیں اولاد\nہم دیکھتے ہیں اور بہن ہوتی ہے برباد\nروئے گی وہ بیٹوں کو تو سمجھائیں گے کیوں کر\nمنہ زینبِؔ دلگیر کو دکھلائیں گے کیوں کر\n\nعباسؔ نے کی عرض، کلیجہ ہے دو پارا\nان کو تو کسی کی نہیں، امداد گوارا\nزخمی ہوئے، نہ مجھ کو نہ اکبرؔ کو پکارا\nجائے یہ غلام آپ جو فرمائیں اِشارا\nحضرت کی قسم دے کے میں سمجھاؤں گا ان کو\nمچلیں گے تو گودی میں اٹھا لاؤں گا ان کو\n\nحضرت نے کہا صاحبِ غیرت ہیں، وہ دونوں\nلختِ جگر شاہِ ولایت ہیں وہ دونوں\nضرغامِ نیستانِ شجاعت ہیں، وہ دونوں\nواللہ بڑے صاحبِ ہمت ہیں وہ ددنوں\nدو لاکھ تو کیا ہیں جو کروروں میں گھریں گے\nبے جان دیے، وہ نہ پھرے ہیں نہ پھریں گے\n\nبڑھنے لگے میداں کی طرف قاسمِ ذی جاہ\nاکبرؔ نے یہ کی عرض کہ میں جاتا ہوں یا شاہ\nہے دونوں کی فرقت کا، مجھے صدمۂ جانکاہ\nلاکھوں میں ہیں تنہا پھوپھی اماں کے پسر، آہ\nریتی پہ کہیں گر نہ پڑیں برچھیاں کھا کر\nمیں ساتھ انہیں لے آتا ہوں اعدا کو بھگا کر\n\nگھبرا کے درِ خیمہ سے زینبؔ یہ پکاری\nسر ننگے میں نکلوں گی، جو تم جاؤ گے واری\nاولاد مجھے تم سے زیادہ نہیں پیاری\nبتلاؤ کہ میں ان کی ہوں عاشق کہ تمہاری\nمیداں کی طرف قاسمِؔ بے پر بھی نہ جائیں\nتلواروں میں عباسِؔ دلاور بھی نہ جائیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%84%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "جب سجیلے خرام کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سجیلے خرام کرتے ہیں\nہر طرف قتل عام کرتے ہیں\n\nمکھ دکھا چھب بنا لباس سنوار\nعاشقوں کو غلام کرتے ہیں\n\nیہ چکورے مل اس سریجن سوں\nرات دن اپنا کام کرتے ہیں\n\nیار کو عاشقان صاحب فن\nایک دیکھے میں رام کرتے ہیں\n\nگردش چشم سوں سریجن سب\nبزم میں کار جام کرتے ہیں\n\nیہ نہیں نیک طور خوباں کے\nآشنائی کو عام کرتے ہیں\n\nجی کو کرتے ہیں عاشقاں تسلیم\nجب وہ ہنس کر سلام کرتے ہیں\n\nمرغ دل کے شکار کرنے کوں\nزلف و کاکل کو دام کرتے ہیں\n\nشوخ میرا بتاں میں جب جاوے\nاس کو اپنا امام کرتے ہیں\n\nخوب رو آشنا ہیں فائزؔ کے\nمل سبی رام رام کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%D8%AC%DB%8C%D9%84%DB%92_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جب سرنگوں ہوا علم کہکشان شب", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "جب سرنگوں ہوا علم کہکشان شب\nخورشید کے نشاں نے مٹایا نشان شب\nتیر شہاب سے ہوئی خالی کمان شب\nتانی نہ پھر شعاع قمر نے سنان شب\nآئی لو صبح زیور جنگی سنوار کے\nشب نے زرہ ستاروں کی رکھ دی اتار کے\n\nشمشیر مشرقی جو چڑھی چرخ پر شتاب\nپھر تیغ مغربی نے دکھائی نہ آب و تاب\nتھا بس کہ گرم خنجر بیضائے آفتاب\nباقی رہا نہ چشمۂ نیلوفری میں آب\nمحتاج ماہتاب ہوا آب و تاب کا\nباغ جہاں میں پھول کھلا آفتاب کا\n\nتھی جوش خوں کے عارضہ میں مبتلا شفق\nفصاد صبح آیا لیے نشتر و طبق\nکھولی شفق کی فصد تو رنگ افق تھا فق\nگل رنگ تھا صحیفۂ گردوں ورق ورق\nخون شفق میں سرخ قضا نے قلم کیا\nاور خط و خال روز شہادت رقم کیا\n\nصرف نگاہ داشت ہوا شاہ خوش نہاد\nدفتر کشا نے کھول دیا دفتر مراد\nچہرہ پہ صبح کے جو کیا آب زر سے صاد\nکافور ہوگئی شب تاریک کی مداد\nرتبہ سے سرفراز کیا ماہتاب کو\nعہدہ ہراولی کا دیا آفتاب کو\n\nطغرا نویس روز نے پھر جس قدر لکھا\nوہ حرف حرف موجب حکم قدر لکھا\nخورشید کو ہراول فوج سحر لکھا\nحرؔ کو ہراول شہ والا گہر لکھا\nچہرہ جو دوہر والوں کا ایک جا ہوا\nپر حرؔ کا نام مہر سے روشن سوا ہوا\n\nشب نے نکالا پنبۂ اختر جو کان سے\nغل نوبت سحر کا سنا آسمان سے\nاور شور کوس رحلت سرور جہان سے\nفریاد وا حسینؑ حرم کی زبان سے\nنعرہ سنا اذاں کا خیام امام سے\nاور اقتل الحسینؑ کا غل فوج شام سے\n\nمصروف دار و گیر میں تھا خسرو سحر\nدریا کے بندوبست میں تھی فوج بد گہر\nظاہر میں آب نہر پہ قبضہ تھا سربسر\nباطن میں سب کی ملک میں تھی آتش سقر\nآواز آرہی تھی مزار رسولؐ سے\nمہر بتولؑ چھن گیا ابن بتول سے\n\nچاروں طرف تھا بس کہ ہجوم سپاہ شام\nگویا سیاہ پوش تھا آب رواں تمام\nماتم پہ تھا کہ مالک کوثر ہے تشنہ کام\nغم سے الٹ دیئے تھے حبابوں نے اپنے جام\nدریا جو دور پیاس میں تھا شہ کی فوج سے\nمنہ پر طمانچے مارتا تھا دست موج سے\n\nخیمہ میں ابن سعد کے مجمع تھا بے شمار\nبیٹھا تھا زرد رو سر کرسئ زر نگار\nجاسوس پہلوؤں میں کھڑے تھے امیدوار\nاور حکم صف کشی کا نقیبوں کو انتظار\nجو قصد تھا وہ دین کے برباد ہونے کا\nجو ذکر تھا وہ فاطمہؑ زہرا کے رونے کا\n\nکہنے لگا رفیقوں سے خوش ہو کے وہ شریر\nاک خواب میں نے دیکھا ہے آج اے جوان و پیر\nکہنے لگے یہ دست ادب باندھ کر شریر\nارشاد ہو وہ دیکھا ہے کیا خواب اے امیر\nبولا وہ فکر جنگ سے تھا اضطراب میں\nاپنے نبیؐ کو ذبح کیا میں نے خواب میں\n\nسب نے کہا کہ فتح مبارک ہو اے عمر\nکاٹا سر حسینؑ تو کاٹا نبیؐ کا سر\nچلایا شمر خواب ہے اپنا عجیب تر\nگویا سوار ہوں شہ بیکس کے سینہ پر\nمطلق کیا نہ پاس رسولؐ انام کا\nخنجر سے میں نے قطع کیا سر امامؑ کا\n\nیہ سن کے حرملہ نے کہا خواب سن مرا\nگویا کیے ہیں تو نے دو خلعت مجھے عطا\nہیں دو نشانے تیر کے میرے جدا جدا\nاک بازوئے حسینؑ اور اک طفل کا گلا\nبیٹے کا اور پدر کا لہو مل کے بہ گیا\nوہ مرگیا تڑپ کے یہ چپ ہو کے رہ گیا\n\nبولا عدو ہے کہنے کی کیا اس میں احتیاج\nسب کچھ تمہارے واسطے ہے بعد فتح آج\nجس زخم کا رفو ہو نہ جس درد کا علاج\nآج ابن فاطمہؑ کے لیے اس کا ہو رواج\nسادات کی ردائیں بھی لوشہ کا سر بھی لو\nخلعت بھی لو خطاب بھی لو مال و زر بھی لو\n\nجاسوسوں کو قریب بلا کر کہی یہ بات\nلو تم بھی اب کہو خبر شاہ نیک ذات\nکیوں کر بغیر آب کٹی یہ تمام رات\nکیا گزری شب کو پیاسوں پہ اب کیا ہے واردات\nنامہ تو کوئی اہل وطن کو لکھا نہیں\nبہر کمک کسی کو طلب تو کیا نہیں\n\nکس کس کو شہ نے اسلحہ بخشا ہے کچھ سنا\nشمشیر حیدری ہوئی کس شیر کو عطا\nپچھلے کو خیمہ گاہ میں کیوں حشر تھا بپا\nہم کو تو دیتے ہوئیں گے شپیرؔ بد دعا\nمشتاقئ اجل ہے کہ شوق جہاد ہے\nجاسوس نے کہا کہ فقط حق کی یاد ہے\n\nہر سجدے میں شفاعت امت کی تھی دعا\nکیسی مدد حسینؑ کو ہے احتیاج کیا\nاکبرؑ سے شاہ کہتے تھے بیٹا وطن کو جا\nتنہائی کی اجل میں ہے پیارے بڑا مزا\nکب اسلحہ کسی کو دیا ہے حسینؑ نے\nتقسیم سب کو صبر کیا ہے حسینؑ نے\n\nپچھلے کے پہر رونے کا مضموں ہے دردناک\nشپیرؔ نے سکینہؔ کا کرتا کیا تھا چاک\nمنہ پر ملی پھر اس کے یتیموں کی طرح خاک\nکہتے تھے سب نہ صلح ہوئی اے امام پاک\nفرماتے تھے حسینؑ کہ کل صلح ہوئے گی\nلیکن وہ صلح ہوگی کہ سب خلق روئے گی\n\nحضرت نے بے کسی سے کہا جب کہ یہ سخن\nمل کر گلے سے بھائی کے رونے لگی بہن\nپہنائے اپنے بیٹوں کو چھوٹے سے دو کفن\nزینبؔ ہوئی جوانئ اکبر پہ نوحہ زن\nغش پر غش آیا بادشۂ بے نظیر کو\nاکبرؑ نے بخشوایا جو مادر سے شیر کو\n\nپیاسے تو ہیں حسینؑ پر اس ضبط پر فدا\nاک چشمہ خیمہ گاہ میں اس وقت تک رہا\nپینے دیا کسی کو نہ خود شاہ نے پیا\nدھویا کفن کو غسل کیا اور وضو کیا\nنہر بہشت بہر طہارت خود آئی تھی\nگویا رسول زادے کے گھرمیں خدائی تھی\n\nلیتے ہوئے خبر جو پھرے ہم ہر ایک جا\nپر سوئے پشت خیمہ نہ اپنا قدم بڑھا\nآتی تھی ہائے ہائے پسر کی وہاں ندا\nشپیرؔ کہتے تھے یہ مری ماں کی ہے صدا\nخیمہ کے گرد نعرۂ شیر آشکار تھا\nآئی صدا وہ شیر خدا بے قرار تھا\n\nہے آج تو ہر ایک طرح اپنی ہی ظفر\nہاں اب سلاح باندھیں جوانان ذی ہنر\nدوڑے نقیب باندھ کے دامن ادھر ادھر\nدو لاکھ مستعد ہوئے قتل حسینؑ پر\nانصاف کہہ رہا تھا کہ یہ کیا خیال ہے\nاے ظالمو بتولؑ کا یہ ایک لال ہے\n\nجب مورچے بندھے تو علم یک قلم کھلے\nتیر جفا کمانوں کی میزان میں تلے\nقرنا کا زور و شور وہ نوبت کے غلغلے\nجن کی صدا سے خون ہو خشک اور تن گھلے\nترکش کے تیر دیکھ کے آتا تھا دھیان میں\nغل کے سبب سے انگلیاں دیتے تھے کان میں\n\nجاروب کش نے آئینہ رن کو بنادیا\nسقوں نے حرب گاہ میں دریا بہا دیا\nپیغام صور شور دہل نے سنا دیا\nبانگ نقیب نے دل اعدا بڑھا دیا\nغل تھا کہ کوئی دم میں شہ دوسرا نہیں\nزینبؑ کا اب جہاں میں کوئی آسرا نہیں\n\nاب آن کر حسینؑ کا دیکھو جلال و جاہ\nبن میں شگفتہ ہے چمن قدرت الہٰ\nمیدان میں سپاہ ہے خیمہ میں بادشاہ\nانجم تو محو سیر ہیں برج شرف میں ماہ\nکیا باوفا سپاہ شہ دیں پناہ ہے\nدو دن کے پیاس ان کی وفا پر گواہ ہے\n\nتھی بس کہ آمد آمد ابن ابو تراب\nتھا ہاتھ میں خضر کے عصائے پر آب و تاب\nالیاسؑ آب پاش تھے با دیدۂ پر آب\nفرش زری بچھائے تھے فراش ماہتاب\nحالت تھی غیر بنت رسالت پناہ کی\nبالوں سے جھاڑتی تھی زمیں قتل گاہ کی\n\nقربان بارگاہ حسینؑ و نثار فوج\nخیمہ فلک شکوہ تو یہ فوج عرش اوج\nجنت رواق زینت آفاق حورو زوج\nدریا زرہ نہنگ سپر برق تیغ موج\nکیا ان کے ااگے صولت سہراب و زال ہے\nزال ان کے رعب و دبدبہ سے پیر زال ہے\n\nرخ ایک کا مفسر والشمس والضحٰے\nخال ایک کا مترجم و النجم اذا ہوا\nچہرہ کسی کا زلف میں کالبدر فی الدجا\nفرق بلند ایک کا تفسیر والسما\nخود اوج سر ہے خود کا سر سے عروج ہے\nہر خود سر مشرح ذات البروج ہے\n\nاکبر کھڑے ہیں ساغر عرفاں پیے ہوئے\nدوچار ہمسنوں کو جلو میں لیے ہوئے\nدست قضا میں نقد جوانی دیے ہوئے\nدل میں خدا سے عہد شہادت کیے ہوئے\nنقشہ تھا اک نبیؐ کا اس افلاک کے تلے\nاٹھارہویں برس میں چھپا خاک کے تلے\n\nچہرہ سے تابہ ناف ہے پیغمبر زمن\nمحبوب عصر ثانٔی محبوب ذوالمنن\nہے ناف یا کہ عکس فگن غنچۂ دہن\nبالکل خطا ہے کہیے اگر نافۂ ختن\nکب نافۂ ختن میں بھلا بوئے ناف ہے\nیہ ناف روح پرور عبد مناف ہے\n\nنیلے ہیں لب جو پیاس سے تو حسن ہے نیا\nغنچہ دہن کا غنچۂ نیلوفری بنا\nقاسم میں خلق و حلم ہے میراث مجتبا\nمظلومیت حسینؑ کی یاں سر سے تابہ پا\nیہ آفتاب حسن ہے وہ ماہ حسن ہے\nوہ شاہ حسن ہے یہ شہنشاہ حسن ہے\n\nشوکت نثار شوکت عباسؑ نامور\nاللہ کی ہے سیف تو شپیر کی سپر\nحمزہ حشم عقیل شیم صاحب ہنر\nتیار مثل جعفر طیار جنگ پر\nکہتے ہیں گو علم مرا نخل مراد ہے\nسقہ سکینہؑ کا ہوں یہ رتبہ زیاد ہے\n\nلہرا رہا ہے سبز پھر ہرہ بآب و تاب\nپنجے پہ اس علم کے ہے قربان آفتاب\nدو فتحہ ایک لفظ علم پر ہیں انتخاب\nدونو جہاں میں ہے یہ علم دار لاجواب\nکیوں کر گرہ کشائی میں بے مثل یہ نہیں\nشکل کلید چوب علم میں گرہ نہیں\n\nمڑ کر نجف کو کہتا ہے وہ شیر بے نظیر\nاماں حسینؑ کے لیے بخشو حقوق شیر\nسوئے نجف دعا ہے کہ ہوں آپ دست گیر\nآتی ہے یہ علی کی ندا اے مہ منیر\nکٹوا کے سر کو ہوجیو فدیہ حسینؑ کا\nعباسؑ تجھ پہ دین ہے یہ والدین کا\n\nہیں پاس پاس مسلم و زینب کے یادگار\nاک جا یہ چار چاند ہیں یا آفتاب چار\nذیقدر و ذی مراتب و ذی جاہ و ذی وقار\nجان باز و سر فروش و نمودار و نامدار\nعارض وہ پھول سے کہ تصدق بہار ہے\nوہ کمسنی کہ جس پہ جوانی نثار ہے\n\nمصحف ہے ان کا روئے مبیں غیرت قمر\nکچھ کچھ عیاں ہے سبزۂ خط روئے پاک پر\nجس حسن سے کہ سورۂ اخلاص مختصر\nسورہ تو مختصر پہ فضیلت زیادہ تر\nچہروں سے آشکار حسینؑ و حسن کا رنگ\nسوکھے ہوئے لبوں پہ تصدق چمن کا رنگ\n\nدیکھی شکوہ فوج سنو شہ کا ماجرا\nآخر ہوا وظیفۂ آخر جو شاہ کا\nکی ہاتھ اٹھا کے بار گہہ حق میں یہ دعا\nیارب رسول پاک کی امت کا ہو بھلا\nسہل است گر رود سر من برسر سنین\nزینبؑ اگر اسیر شودوائے بر حسینؑ\n\nزینب نے رو کے سبط پیمبر سے یہ کہا\nبھیا ہزار جان سے تم پر بہن فدا\nسایہ میں آپ کے مرا سر ہوئے بے ردا\nمیرا گلا بندھے نہ کٹے آپ کا گلا\nزنداں ہو بے ردائی ہو اور شور شین ہو\nزینب کو سب قبول ہے لیکن حسینؑ ہو\n\nبولے حسینؑ بس کہ ہوا ٹکڑے دل مرا\nمیں جانتا ہوں ماں کی طرح مجھ پہ ہو فدا\nجب صبر دے خدا تمہیں اور حشر میں جزا\nپر میری زندگی میں تو ہو تم نہ بے ردا\nکیوں کر خلاف مرضئ رب قدیر ہو\nشپیر ذبح ہوئے تو زینبؑ اسیر ہو\n\nباہیں گلے میں ڈال کے زینبؑ نے دی ندا\nلپٹی ہوں فضہ اکبرؑ و عباسؑ کو بلا\nآئے جو گھر میں اکبرؑ و عباس یہ کہا\nلو ہم سے بھائی جان بھی اب ہوگئے خفا\nاماں بھی مرگئیں مرے بابا بھی مر گئے\nمرجاؤں گی جو یہ بھی مجھے چھوڑ کر گئے\n\nمیں تو ابھی ہوں چار بزرگوں کی سوگوار\nناسور دل میں چار ہیں سینے میں داغ چار\nاب داغ پانچواں کیا قسمت نے روبہ کار\nکیوں ماں کے ساتھ مر نہ گئی میں جگر فگار\nجس کو کہ آسرا ہو فقط ایک بھائی کا\nحال اس بہن سے پوچھیے زہراؑ اکی جائی کا\n\nاس ذکر سے قیامت کبرا ہوئی عیاں\nبھائی بہن کے اشک تھے رخسار پر رواں\nسرکھولے گرد بیبیاں کرتی تھیں یہ بیاں\nلٹتے ہیں پر ہلا نہیں سکتا کوئی زباں\nشہ کہتے ہیں کہ آج کا دن امتحاں کا ہے\nجانا وہاں ضرور ہے وعدہ جہاں کا ہے\n\nفرما کے حکم صبر کا سب کو بصد شتاب\nعصمت سرا سے پھر تو برامد ہوئے جناب\nعباسؑ لائے مرکب ابن ابوتراب\nچومے عناں نے ہاتھ گری پاؤں پر رکاب\nیوں زیب زیں وہ سرور دنیا و دیں ہوا\nقرآن پاک رحل پہ جلوہ گزیں ہوا\n\nرخش حسینؑ قدرت حق صنع کبریا\nدل دل خرام برق لجام و براق پا\nخورشید زین بدر جبین و قمر ضیا\nگل کو نہ اس بدن کی نزاکت کہوں میں کیا\nگر بوسہ زن نسیم دم سیر باغ ہو\nفورا نمود جلد سے لالہ کا داغ ہو\n\nوہ رفرف و براق پہ کرتا تھا افتخار\nیعنی سوار دوش نبیؐ ہے مرا سوار\nمیکائیل و جبرئیل عناں بوس بار بار\nسرعت یہ تھی کہ باگ ہلی اور فلک کے پار\nہر گاہ بدر سم کی ضیا آسماں پہ تھی\nبرق لجام وہ کہ چمک کہکشاں پہ تھی\n\nحاضر حضور شہ میں ہوا لشکر خدا\nحضرت نے سب کو حکم صف آرائی کا دیا\nروح الا میں نے بڑھ کے کیا صاف راستا\nپھیلی جو شہ کے چہرۂ پر نور کی ضیا\nعالم تھا حسن رخ میں عجب آب و تاب کا\nچوتھے فلک پہ پھر گیا منہ آفتاب کا\n\nفوج عدد سے جنگ کا پیغام لائے تیر\nاہل ستم نے اہل وفا پر چلائے تیر\nدو دن کی بھوک پیاس میں پیاسوں نے کھائے تیر\nبولے حسینؑ ادھر سے نہ کوئی لگائے تیر\nپوچھا سبب جو شہ نے کہا کچھ خبر بھی ہے\nاک عاشق حسینؑ ہمارا ادھر بھی ہے\n\nیاں صبر تھا عروج پہ زوروں پہ واں ستم\nکی ابن سعد نحس نے تیغ زباں علم\nبولا کہاں ہے حُرّ جری صاحب حشم\nلایا ہے گھیر کر وہی شہ کو مع حرم\nاب تیغ ہو یزید کی اور حر کا ہاتھ ہو\nاور زیر تیغ حلق شہ خوش صفات ہو\n\nحر صبح سے علاحدہ گوشہ میں تھا کھڑا\nانگشت حیف لب کے تلے اور یہ تھی حیا\nاللہ توبہ آہ بڑی میں نے کی خطا\nسید کو گھیر کر یہاں لایا غضب کیا\nنرغہ ہے ظالموں کا شہ خوش خصال پر\nپانی ہے بند ساقئ کوثر کے لال پر\n\nحر سے کہا برادر و فرزند نے یہ کیا\nاے رستم زمانہ ہزاروں سے تو لڑا\nستردوتن سے تیرے لرزتے ہیں دست و پا\nحر نے کہا میں خوف سے کانپوں نہ کیوں بھلا\nیاں تو مقابلہ پسر مصطفی کا ہے\nاور بعد اس کے سامنا اک دن خدا کا ہے\n\nدل میں مرے ٹھنی ہوئی ہے رات سے یہ با ت\nحتما یہی ہے قصد جو فضل خدا ہے سات\nجاکر ملوں امام سے خود باندھ کر میں بات\nشاید اسی وسیلہ سے ہوئے مری نجات\nجی میں یہ ہے کہ صابر و شاکر کا ساتھ دوں\nہوں منحرف خدا سے جو کافر کا ساتھ دوں\n\nاب اپنی تم کہو کہ تمہارا ہے قصد کیا\nدونوں نے کی یہ عرض کہ جو آپ کی رضا\nحاضر غلام حر بھی ہوا اور یہ کہا\nیہ خانہ زاد بھی ہے فدائے شہ ہدا\nعشق دلی ہے مجھ کو شہ خوش صفات سے\nمجھ کو نہ چھوڑیے گا کہیں اپنے سات سے\n\nحر نے دیا یہ حکم سمندوں کو سج کے لاؤ\nجلدی کا ہے یہ وقت بسرعت قدم بڑھاؤ\nکثرت سے فوج شام کی ہرگز نہ خوف کھاؤ\nنام حسینؑ لے کے عنان فرس اٹھاؤ\nنکلو عذاب نار سے داخل جناں میں ہو\nحاظر جناب سرور کون و مکاں میں ہو\n\nحر اور پسر برادر و عید نکو شعار\nگھوڑوں پہ اپنے اپنے دلاور ہوئے سوار\nآئے دلیر پیش بن سعد نابکار\nفرمایا حر نے او ستم اطوار ہوشیار\nاب لمحہ بھر بھی یاں مجھے رہنا حرام ہے\nکیوں کفر سے جدا نہ ہوں حر میرا نام ہے\n\nاس حال جانگزا کی نہ تھی کچھ خبر مجھے\nمیں کیا کہوں ہوئی ہے یہ کیوں کر سحر مجھے\nتیری طرح نہیں ہوس مال و زر مجھے\nبار گراں ہے دوش پہ اپنے یہ سر مجھے\nدنیا کے جال میں کہیں دیں دار آتے ہیں\nدیکھ اس طرح سے حق کے طلبگار جاتے ہیں\n\nتھا شام سے یہ قصد کہیں جلد ہو سحر\nہوں داخل سپاہ شہنشاہ بحر و بر\nکہنے کو یہ نہ ہو کہ یہ غالب تھا دل پہ ڈر\nچھپ کر حجاب شب میں گیا حر بصد خطر\nاب جس میں دم ہو بڑھ کے غضنفر کو ٹوک لے\nتو حکم ساری فوج کو دے مجھ کو روک لے\n\nبولا یہ ابن سعد کہ اے آزمودہ کار\nچہرہ سے ہے نمود ترے خوف و اضطرار\nباتیں بنا رہا ہے بگڑ کر بہ انتشار\nہونے کو اب ہے جنگ رسالہ سے ہوشیار\nہے خون خشک برق دم ذوالفقار سے\nتو ڈر گیا حسینوں کی کارزار سے\n\nیہ جان لے کہ نوکری پر آئے گا زوال\nیہ یاد رکھ نہ چھوٹ کے ہوگا کبھی بحال\nہوں گے اسیر ظلم و ستم سےترے عیال\nافسوس کچھ نہیں تجھے ناموس کا خیال\nذلت کا سامنا ہو تو افسر کی موت ہے\nمنہ موڑنا وغا سے دلاور کی موت ہے\n\nکیا خوب واہ رشتۂ نوجوڑتا ہے تو\nبرسوں کا سلسلہ جو ہے وہ توڑتا ہے تو\nبیڑے کا اپنے ساتھ عبث چھوڑتا ہے تو\nحاکم سیایسے وقت میں منہ موڑتا ہے تو\nکیوں کر سنوں میں آج ترے اس کلام کو\nکل کی ہے بات گھیر کے لایا امام کو\n\nکیوں ہاتھ شہ کی باگ پہ ڈالا تھا یا نہیں\nجو حوصلہ تھا دل کا نکالا تھا یا نہیں\nغصہ علیؑ کے شیر نے ٹالا تھا یا نہیں\nتو تیغ حیدری کا نوالا تھا یا نہیں\nرہتا اگر وہ طور اسی دم تھا خاتمہ\nبڑھتا گیا کچھ اور اسی دم تھا خاتمہ\n\nحر نے کہا اسی کی ندامت یہ ہے مجھے\nمجھ سے یہ کیا خطا ہوئی حیرت یہ ہے مجھے\nہوں ان سے منحرف کہیں طاقت یہ ہے مجھے\nصدقے ہوں شہ کے قدموں پہ حسرت یہ ہے مجھے\nسرکاٹ لیں تو جرم کی میرے سزا یہ ہے\nاور بخش دیں خطا تو سراسر عطا یہ ہے\n\nبے حد ہے میرے دل پہ ہجوم غم وملال\nتا عمر یہ رہے گی ندامت مجھے کمال\nلشکر سمیت پیاس سے تھا غیر میرا حال\nمحفوظ شور و شر سے رہے مرتضا کا لال\nرکھا نہ اپنے واسطے پانی پلادیا\nمرتے ہووں کو ابر کرم نے جلادیا\n\nاحساں یہ ان کا دل سے بھلاؤں نہ ہوئے گا\nمنہ قبلۂ امم سے پھراؤں نہ ہوئے گا\nدوزخ میں اپنے پاؤں سے جاؤں نہ ہوئے گا\nبت کے لیے میں کعبہ کو ڈھاؤں نہ ہوئے گا\nسبط نبیؐ کے دل کو دکھایا نہ جائے گا\nمجھ سے تو دست ظلم اٹھایا نہ جائے گا\n\nتیری طرح نہیں ہے مجھے حرض ملک و مال\nلعنت ہے ایسے مال پہ جب ہو برا مآل\nبس کر چکا اطاعت بے دین و بد خصال\nتف ایسی نوکری پہ جو ایماں کا ہو زوال\nبھاتا نہیں یہ عہدۂ و منصب نگاہ کو\nپامال کر رہا ہوں اس اعزاز و جاہ کو\n\nحر کے سخن کو کاٹ کے بولا وہ پرفتن\nاے صف شکن یہ صف شکنوں کا نہیں چلن\nبیٹا بھی ترے ساتھ ہے اے مورد محن\nاس چاند کو لگاتا ہے خود ہاتھ سےگہن\nترا خیال کس طرف اے باتمیز ہے\nاولاد سے سوا کوئی دنیا میں چیز ہے\n\nحر نے کہا کہ اس کا نہیں کچھ مجھے خطر\nسو جاں سے ہوں فدائے شہنشاہ بحر وبر\nہمراہ اس لیے لیے جاتا ہوں یہ پسر\nصدقے کروں گا اس کو شبیہ رسولؐ پر\nلے کر رضا امام سے لڑنے کو آؤں گا\nمیں سب سے پہلے گلشن جنت میں جاؤں گا\n\nیہ کہہ کے حر نے باگ کو موڑا بہ عز و شاں\nنکلا چمک کے فوج سے رہوار خوش عناں\nہمراہ تھے برادر و فرزند نوجواں\nسایہ کی طرح عبد پس پشت تھا رواں\nلے کر علیؑ کا نام اس انبوہ عام سے\nوہ پیرو حسینؑ چلے فوج شام سے\n\nنکلا سپاہ شام سے یوں حر نامور\nجیسے گہن سے مہر مبیں ابر سے قمر\nمدح و ثنا زبان سے اور آنکھ سے نظر\nیوسف کنویں سے پردۂ شب سے رخ سحر\nغل تھا کہ رود نیل سے موسیٰ نکل گئے\nظلمت کا خضر پیر کے دریا نکل گئے\n\nپہنچا قریب فوج خدا جب وہ باوفا\nحر جری نے سبط پیمبر کو دی صدا\nاے شیر کبریا کے پسر تجھ پہ میں فدا\nوقت مدد ہے اے جگر و جان مرتضٰی\nمحجوب ہے کمال بہت شرمسار ہے\nمولا غلام عفو کا امیدوار ہے\n\nحاضر ہوا جو خدمت شہ میں وہ ذی وقار\nبس دوڑ کر لیے قدم شاہ نامدار\nسر رکھ کے شہ کے پاؤں پہ کی عرض بار بار\nامیدوار رحم و کرم ہے یہ خاکسار\nمیں قابل سزا ہوں سزا مجھ کو دیجئے\nیہ بات قطع کیجئے سر کاٹ لیجئے\n\nسینے سے سر لگا کے یہ بولے شہ امم\nاللہ جانتا ہے کہ راضی ہیں تجھ سے ہم\nکیسا گناہ کیسی خطا اے نکو شیم\nتیرا تو نام فرد شہادت میں ہے رقم\nیاں آکے مورد ستم و رنج و آہ ہوں\nتو عذر خواہ کیا ہے میں ہی عذر خواہ ہوں\n\nمہماں ہے تو حسینؑ کا اے حر باوفا\nحیران ہوں کہ تیری ضیافت کروں میں کیا\nیہ دن ہے تیسرا کہ نہ پانی ہے نے غذا\nمرتے ہیں مارے پیاس کے اطفال مہ لقا\nپانی ملا نہ دود ھ ملا بے زبان کو\nآتے ہیں غش پہ غش چھ مہینہ کی جان کو\n\nحر نے کہاں خطا بھی مری بخشی یا امام\nشہ بولے عفو ہوگئے تیرے گنہ تمام\nبھائی کو اور پسر کو دکھا کر وہ نیک نام\nبولا کہ اور تو کسی قابل نہیں غلام\nفدوی کا سر تو سبط پیمبرؐ کی نذر ہے\nعباسؑ کی یہ نذریہ اکبرؑ کی نذر ہے\n\nشہ سے رضا طلب ہوا پھر حر باوفا\nفرمایا شاہ دیں نے کہ جلدی ابھی ہے کیا\nکی حر نے عرض اے جگر و جان مرتضا\nدعوت کے بدلے کیجئے جنت مجھے عطا\nللہ روکیئے نہ اب اس تلخ کام کو\nاکبرؑ کا صدقہ دیجئے رخصت غلام کو\n\nلے کر رضا امام سے باصد شکوہ و شاں\nپیاسا چلا جہاد کو پیاسوں کا میہماں\nڈیوڑھی سے فضہ بولی کہ حیدر نگیبہاں\nاے حر دعائیں دیتی ہیں زہراؑ کی بیٹیاں\nخوش خوش چڑھا دلیر سمند دلیر پر\nگویا سوار شیر ہوا پشت شیر پر\n\nاب ہے یہاں اشارۂ تائید کبریا\nشکل ہراول شہ دیں کھینچ کر دکھا\nقربان اس اشارہ کے اس لطف پر فدا\nاب تک کسی نے حر کا سراپا نہیں لکھا\nگنجینہ فیض سے ہے خدا کا بھرا ہوا\nمضمون میرے حصہ کا یہ تھا بچا ہوا\n\nلکھتا ہو حسن چہرۂ حر وفا سرشت\nشیعہ تو داد دیں گے کے مجھے پنچتن بہشت\nجس نے لکھا یہ وصف ہوئی خلد سرنوشت\nرویا جو حر کو سبز ہوئی مغفرت کی کشت\nحر کی طرح بخیر ہوا کس کا خاتمہ\nسرزانوئے حسینؑ پہ بالیں پہ فاطمہؑ\n\nمہر مبین مشرق مہروفا ہے حر\nگنجینۂ محبت آل عبا ہے حر\nسرتاج شیعیان علی جو بنا ہے حر\nگویا کہ ابن فاطمہؑ کا نقش پا ہے حر\nہے فخر جو غلام حر نیک نام ہو\nآقا حسینؑ سا ہو تو حر سا غلام ہو\n\nمہمان کر بلا کا یہ مہماں ہے باوفا\nآیا تھا پیاسا پیاسا ہی مرنے کو یہ چلا\nپھر حق کے روبرو ہو نہ کیوں آبرو سوا\nپیاسا سوائے حر کوئی مہماں نہیں سنا\nدیکھو تو قدر الفت سبط رسولؐ کی\nاک خشک آب تیغ کی دعوت قبول کی\n\nحال حر شہید پہ اے صاحب شعور\nتحسین بھی ضرور ہے گر یہ بھی ہے ضرور\nتحسین تو وفا پہ جو کی شاہ کے حضور\nاور گریہ بے کسی پہ کہ ہے قبر کتنی دور\nاب بھی بتولؑ وارد مقتل جو روتی ہیں\nماں بھی نہ روئے جیسا کہ وہ حر کو روتی ہیں\n\nمانند صبح صاف کرو دل کو اب شتاب\nتاجلوہ گر ہو چہرۂ حر مثل آفتاب\nنظارۂ جمال غلام ابو تراب\nلاریب ہے زیارت شاہ فلک جناب\nلکھا ہوا تھا حر کی یہی سرنوشت میں\nدوزخ میں رات کو تھا سحر کو بہشت میں\n\nچہرہ ہے فرد دستخط منشی وفا\nطغرائے نقش دوستی سبط مصطفا\nآزار کفر کیلئے ہے نسخۂ شفا\nعارض دو آفتاب دو آئینہ ضیا\nاک آفتاب علم کا ہے اک یقین کا\nاک آئینہ ہے شرع کا اور ایک دین کا\n\nبڑھتا ہے تا دو ہفتہ ہر اک ماہ میں قمر\nعارض یہ حسن کرتے ہیں پیدا زیادہ تر\nاک شب بھی روئے حر کے مقابل نہیں مگر\nیہ بدر رخ تو اوج ابد پر ہے جلوہ گر\nوہ حسن عارضی ہے تو کیا اعتماد ہے\nداغی ہے وہ یہ صاف وہ کم یہ زیاد ہے\n\nکسی رو سے یاں ہو قدر مہ و آفتاب کو\nمصحف پہ ہے شرف رخ پر آب و تاب کو\nیہ مصحف وفا ہے رسالت مآب کو\nمثل پسر عزیز ہے ام الکتاب کو\nجاری ورق پہ چشم سے خوں ناب کیجئے\nسرخی سے اس صحیفہ پہ اعراب کیجئے\n\nاب وصف خط و خال قلمبند کیجئے\nاس بند پر ستاروں کو اسپند کیجئے\nدل مدح رخ کے لکھنے سے خرسند کیجئے\nنقطہ پہ فخر چاند سے دہ چند کیجئے\nوصف جبین و عارض و خال آشکارا ہے\nخورشید میں قمر ہے قمر میں ستارا ہے\n\nچہرہ ہے ماہ شان دو ابرو کرو خیال\nیہ کون سا مہینہ ہے جس میں ہیں دو ہلال\nاب تو یہ ہے ثنا در دنداں کی ہے محال\nپاؤں دہن تو کچھ در دنداں کی دوں مثال\nدنداں در عدن پہ دہن رشک درج ہے\nبتیس آفتاب ہیں اور ایک برج ہے\n\nاب مدح چشم حر کی نہ کیوں فرض عین ہو\nجس پر کہ عین عفو جناب حسینؑ ہو\nمد نظر جسے دل زہرا کا چین ہو\nیہ عین کیوں نہ شیعوں کو پھر فرض عین ہو\nابرو کا ہے اشارہ کہ حاصل مراد ہے\nمیں مد عرض داشت ہویہ عین صاد ہے\n\nفردوس کی نسیم جو آتی ہے خوشگوار\nہوتی ہے بند نرگس بیدار بار بار\nپر وقت جنگ بند ہے کیوں چشم ہوشیار\nعین عزائے سبط پیمبر ہے آشکار\nوضع زمانہ دیکھ کے حر کو جو خشم ہے\nمل کر پلک پلک سے سیہ پوش چشم ہے\n\nدونوں لبوں کے وصف کا مضموں نیا ہے واہ\nشیرینئ زباں پہ ہیں گویا یہ دو گواہ\nدو شغل ان لبوں کے ہیں ہر شام و ہر پگاہ\nذکر الٰہ و منقبت ضیغم اللہ\nشیرینی دہن کے رقم گر صفات ہوں\nہوں نیشکر قلم شکر ستاں دوات ہوں\n\nاک رمز ہے جو کاکل و رخ ہیں یہ آس پاس\nعالم کو صبح و شام کا کرتے ہیں روشناس\nکاکل پہ حسن مصرعۂ واللیل کا قیاس\nرخ سے ہوا ہے مطلع و الفجر اقتباس\nپیدا قریب چہرہ کے جاوید زلف ہے\nخورشید رخ ہے سایۂ خورشید زلف ہے\n\nپائے حسینؑ سے جو سر حر کو ہے نیاز\nیاں ہر بلند پست ہے ہنگام امتیاز\nکرنا ہے فرق حر پہ سر عرش فحر و ناز\nروز ازل سے حق نے کیا حر کو سرفراز\nزانوئے شاہ تکیۂ خواب بہشت ہے\nاس سر کے ہم نثار کہ کیا سرنوشت ہے\n\nرخ پر عرق کے قطروں کا ہے دھوپ میں وفور\nیا ہے گہر کا چشمۂ خورشید سے ظہور\nہے عازم جہاد جو گرمی میں یہ غیور\nقطرے نہ سمجھو منہ پہ برستا ہے آج نور\nپیاسا نثار ہوتا ہے اپنے امام پر\nنیساں گہر فشاں ہے حر نیک نام پر\n\nابرو ہیں یا دو مصرعۂ یک بیت ذوالفقار\nیا پھر عدود و فقرۂ شمشیر آبدار\nشان جبیں سے رفعت گردوں ہے آشکار\nہے واقعی ہلال یہ ابروئے باوقار\nیہ ماہ نو جبیں پہ جو بے اختلاف ہے\nرویت کا یہ سبب ہے کہ مطلع بھی صاف ہے\n\nحسن و جمال حر پہ ہے تائید کبریا\nماتھے کی وہ نمود وہ رخسار کی ضیا\nرخ کے عرق نے آب بقا کا مزا دیا\nچاہ ذقن میں چشمۂ حیواں نہاں کیا\nاس چاہ میں جو بینئ انور کا نور ہے\nروشن خضر کے چشمہ پہ یہ شمع طور ہے\n\nپیش بیاض گردن حر صبح فرد شام\nشمع حرم جھکاتی ہے گردن پئے سلام\nصبح گلو پہ نور کے درجے ہوئے تمام\nرومال فاطمہؑ کا بندھا ہے یہ وہ مقام\nبس نور میں تو نور کا پیوند چاہئے\nرومال فاطمہؑ کا گلو بند چاہئے\n\nلوح بقائے مہر وفا حر کا سینہ ہے\nباب علوم کی یہ ولا کا مدینہ ہے\nکیا خوب اس سے کعبۂ دل کا قرینہ ہے\nوہ کعبہ میں کہاں ہے جو دل کا خزینہ ہے\nکعبہ بھی دل بھی خانۂ رب جلیل ہے\nپر دل بنائے حق وہ بنائے خلیل ہے\n\nوہ آستیں میں ہاتھوں کی طلعت کا ہے ظہور\nفانوس کعبہ میں نظر آتی ہے شمع طور\nکیا نور کا ہے ناخن انگشت پر وفور\nتشیبہ ماہ نو سے جو دیں صاحب شعور\nتشبیہ سے ہلال میں یہ آب و تاب ہو\nبڑھ کر ہلال بدر نہ ہو آفتا ب ہو\n\nطوبیٰ سے قد حر کی نہ کیوں قدر ہو سوا\nتعظیم سرو قد کریں جس کی سب انبیا\nجوش تصور قد موزوں سے بارہا\nطوبیٰ کی یہ صدا ہے کہ طوبیٰ لکم فدا\nتصویر قد حر اسے استاد کہتے ہیں\nیہ وجہ ہے کہ سرو کو آزاد کہتے ہیں\n\nاب زیور سلاح کو دیکھیں جوان و پیر\nخود و سنان و جوشن و تیغ و کمان و تیر\nہے نقش نام اکبرؑ و اصغر کا دل پذیر\nکیا جوشن کبیر ہے کیا جوشن صغیر\nتیغ و سناں و تیر کا جوہر ہے آشکار\nلاسیف و لافتےٰ کا یہ محضر ہے آشکار\n\nوصف زرہ سے کھل گیا یہ راز سر بسر\nگن لو کہ چارآئینہ ہے اور اک سپر\nیہ پانچ مہریں صاف زرہ پر ہیں جلوہ گر\nسمجھو نہ تم زرہ سوئے شہ اس نے آن کر\nمحضر لکھا ہے الفت آل رسولؐ پر\nمہریں یہ پنچتن کی ہیں حسن قبول پر\n\nطوبیٰ کی شاخ نیزہ کے شاہد ہیں جبرئل\nقرص سپر ہے بدر شب قدر کی دلیل\nتیغ رواں ہے معجزۂ سید جلیل\nہے آب بے نظیر تو ہے تاب بے عدیل\nحیرت ہے ایک قبضہ میں برق و سحاب ہے\nقدرت یہ ہے خدا کی کہ آتش میں آب ہے\n\nوصف سمند حر میں ہے کلک قلم رواں\nجس کے حضور موج ہوا نبض ناتواں\nرکتا نہیں کہیں صفت تیغ دو زباں\nنظروں پہ چڑھ کے پھرتی ہیں آنکھوں میں پتلیاں\nبرق شرر فشاں دم رفتار رن میں ہے\nطاؤس مست ہے کہ خراماں چمن میں ہے\n\nگر بہر قبض جان عدؤے شہ زماں\nہمراہ اس سمند کے ہوئے اجل رواں\nراکب اشارہ باگ سے اتنا کرے کہ ہاں\nپھر ہاں کے بعد موت کہاں اوریہ کہاں\nدونوں کو گر تلاش کرو رزم گاہ میں\nتو سن سر عدو پہ ملے موت راہ میں\n\nشان و شکوہ آمد حر پر کیا خیال\nیہ دبدبہ یہ طظنہ یہ جاہ یہ جلال\nپڑھتا ہے یوں رجز وہ حضور صفت قتال\nیاروں میں ہوں غلام شہنشاہ خوش خصال\nان سے جدا ہوں کفر کا جن کو مزا ملا\nان سے ملا ہوں ملنے سے جن کے خدا ملا\n\nدیتا ہوں اس پہ جان جو زہراؑ کی جان ہے\nمہماں ہوں اس کا موت کا جو میہمان ہے\nاس کی امان میں ہوں جو کل کی امان ہے\nوہ جس پہ مہرباں ہے خدا مہربان ہے\nاب دامن حسینؑ ہے اور میرا ہاتھ ہے\nمیں اس کے ساتھ ہوں کہ خدا جس کے ساتھ ہے\n\nبولا یہ ابن سعد یہ سب ہے سنا ہوا\nہم کچھ نہیں سمجھتے کہ تو کہہ رہا ہے کیا\nتو آنکھ چار کرتا ہے آتی نہیں حیا\nوہ پرورش یزید کی اور یہ تری دغا\nحق نمک یزید کا کیا خوب اداکیا\nتو وہ ہے جس نے گوشت سے ناخن جدا کیا\n\nغصہ سے حر پکارا کہ بس بس زباں سنبھال\nحق کو نہ بھول اپنے گریباں میں منہ کو ڈال\nاور شور بخت کیسا نمک ہے کدھر خیال\nتو ہی نمک حرام ہے میں ہوں نمک حلال\nکیوں رحمت خدا کو تو لاتا ہے قہر میں\nآب و نمک تو آیا ہے زہراؑ کے مہر میں\n\nناموس پنچتن پہ یہ فاقہ ہے تیسرا\nکس نے انہیں بلایا ہے مہمان سچ بتا\nپاس نمک یہی ہے کہ حضرت پہ ہوں فدا\nدریا تھا مہر فاطمہ سو تم نے لے لیا\nملک یزید ہے کہ یہ ملک بتولؑ ہے\nاب کل یہ کہیو نانا بھی اس کا رسولؐ ہے\n\nپشتیں ہویں یزید تو کافر ہے اے عمر\nپر تیرا باپ کون تھا دل میں خیال کر\nحیرت ہے سعد کا پسر اور نحس اس قدر\nمیں بد نہیں ہوں نیک نہ تھا گو مرا پدر\nگل کرکے شمع مرقد خیرالانام کو\nروشن تو آج کرتا ہے کیا اپنے نام کو\n\nخندق میں میرا باپ تھا کفار کی طرف\nتیرا پدر تھا احمد مختار کی طرف\nتو آج ہے یزید بداطوار کی طرف\nاور میں ہوں ابن حیدر کرار کی طرف\nانصاف کر کہ صاحب عزو شرف ہے کون\nباطل کی سمت کون ہے حق کی طرف ہے کون\n\nبولا عمر غرور سے کرتا ہے کیا کلام\nماتم میں ترے روئے گا کنبہ ترا تمام\nمرنے کے بعد لاش سے بھی لیں گے انتقام\nجائے گا تیرا سر پئے نذر امیر شام\nحر نے کہا کہ دہشت بیجا نہیں مجھے\nمیں سر بکف ہوں فکر سرو پا نہیں مجھے\n\nیہ کہہ کے حر نے کھینچ لی شمشیر خوش غلاف\nاور کہہ کے یا حسینؑ ہوا عازم مصاف\nحر جری کے سر پہ کیا فتح نے طواف\nغصہ سے مثل مہر ہوا سرخ روئے صاف\nجنبش سوئے یسار جو قطب یمیں نے کی\nسکتے میں چرخ آگئے جنبش زمیں نے کی\n\nنکلا ادھر سے جنگ کو حجاج کا پسر\nسردار اہل میمنہ لشکر عمر\nتلوار ایک ہاتھ میں اک ہاتھ میں سپر\nبہر مدد گروہ مسلح ادھر ادھر\nحر نے کہا کہ اس میں تو آج امتحان ہے\nمیں حیدری جواں تو یزیدی جوان ہے\n\nوہ حملوں میں نہ ایک رہے گا ہزار میں\nوہ بولا بے مثال ہے تو روز گار میں\nغالب ہزار پر ہے صف کارزار میں\nحر نے کہا اب اور صفائی ہے وار میں\nاب ہوں غلام ابن شہ ذوالفقار کا\nتب زور تھا ہزار کا اب سو ہزار کا\n\nغصہ سے برق تیغ کا اس نے لگایا وار\nخورشید پر ہو کیا اثر برق بے مدار\nحر نے سپر پہ روک کے وہ تیغ آبدار\nتیغ اپنی تول کر کہا یا شاہ ذوالفقار\nچالاکی اس کو کہتے ہیں بس اتنی بات میں\nیہ تیغ اس کے سر پہ وہ تیغ اس کے ہات میں\n\nبیخود ہوا یہ تیغ جو ں ہی خود پر گئی\nسینہ میں خود کاٹ کے سن سےاتر گئی\nچلنے سے اس کے سانس عدو کی ٹھہر گئی\nظالم سے پوچھیے کہ جو دل پر گزر گئی\nتن پر گرہ گرہ سے بکس کر زرہ کھلی\nیہ کیا ہے بند بند کی پھر تو گرہ کھلی\n\nحاضر شریک نام تھا اس کا جواں پسر\nآکر ہوا شریک پدر نیزہ تان کر\nیاں نیزہ مارا اور چلا تیر سا ادھر\nللکارا حر ٹھہرتو جواں مرد ہے اگر\nرستے سے مثل طالع برگشتہ پھر پڑا\nپھرنا تھا بس کہ گھوڑے سے دو ہوکے گر پڑا\n\nبولی ظفر یہ ضربت ہوش و حواس ہے\nکیا بات ہے کہ حق ترا جوہر شناس ہے\nبشاش ہو اگر دل محزوں اداس ہے\nکوثر پہ کر نگاہ اگر تجھ کو پیاس ہے\nجرأت پکاری جنگ میں گھبرا نہ جائیو\nہاں اے دلیر شمر کا سر لے کے آئیو\n\nجوش دغا میں ہمت حر ہوگئی فزود\nآگے بڑھا حسینؑ پہ پڑھتا ہوا درود\nکیا بزدلوں کی اصل تھی لڑتے جو وہ حسود\nذرے تھے بے نمود تو قطرے تھے بے وجود\nپھر سر بدن پہ تھے نہ بدن راہوارپر\nتیغ آئی یا کہ برق گری پنبہ زار پر\n\nکرتی تھی تیغ حر تو سر تیغ زن جدا\nسہمے ہوئے تھے تیر سے ناوک فگن جدا\nزخموں کے تھے کھلے ہوئے تن پر چمن جدا\nمردم سے چشم چشم سے سر سر سے تن جدا\nتھی قہر ضرب گرز تن بے شکوہ کو\nکیا حر نے ریزہ ریزہ کیا کوہ کوہ کو\n\nاعدا حضور تیغ سے کر سکتے کیا فرار\nشکل کمند تھی خم جوہر سے آشکار\nیا گل کھلایا واں ہوئی جاکر گلے کی ہار\nمیداں میں باغیوں کی خزاں میں ہوئی بہار\nزخموں کے گل کھلاتی تھی ہر ایک وار میں\nکرتی تھی سیر خون کے یہ لالہ زار میں\n\nلڑتا تھا یوں یزیدیوں سے حیدری جواں\nبے خوف رن میں حملہ کناں تھا یہاں وہاں\nناگاہ اک شقی کی لگی سینہ پر سناں\nگھوڑے سے گر پڑا وہ جری ہو کے نیم جاں\nآقا کو دی ندا کہ یہ خادم فدا ہوا\nمولا غلام حق نمک سے ادا ہوا\n\nکس وقت حر کی لاش پہ پہنچا علیؑ کالال\nتھا وقت نزع توڑتا تھا دم وہ خوشخصال\nسینہ ذرا تھا گرم بدن برف کی مثال\nآغوش میں اٹھالیا شہ نے بصد ملال\nچہرہ کو صاف کردیا گردو غبار سے\nزانو پہ رکھ لیا سر حر شہ نے پیار سے\n\nکچھ حرنے آنکھیں کھول کے دیکھا ادھر ادھر\nپوچھا جو شاہ دیں نے تو بولا وہ خوش سیر\nاک بی بی رونے آئی ہے خادم کی لاش پر\nسنتا ہوں گر یہ ان کو نہیں دیکھتا مگر\nشہ بولے فاطمہؑ ترے قربان ہوتی ہیں\nاے حر یہ میری ماں ترے ماتم میں روتی ہیں\n\nیہ سن کے جاں بحق ہوا وہ حیدری جواں\nلاشے پہ حر کے روئے شہنشاہ انس و جاں\nفرماتے تھے حسینؑ کہ اے میرے میہماں\nمیں کر سکا نہ کوی ضیافت تری یہاں\nجب تو ملے گا بادشہ کائنات سے\nکوثر کا جام دیں گے علیؑ اپنے ہاتھ سے\n\nہر چند شہ کے ساتھ تھے اصحاب نیک ذات\nخود لائے حر کی لاش کو پر شاہ خوش صفات\nنزدیک خیمہ رکھ دیا اور کھینچ دی قنات\nرو کر حرم سے سبط نبی نے کہی یہ بات\nکوئی عزیزیاں نہیں اس خوش صفات کا\nپرسادو آ کے مجھ کو حر نیک ذات کا\n\nراضی علیؑ ہیں اس سے تو خوشنود مصطفی\nغربت میں بیکسوں کا دیا ساتھ مرحبا\nپیاسے تھے ہم تو اس نے بھی پانی نہیں پیا\nپہلے سبھو سے ہوگیا یہ فدیۂ خدا\nمحسن کو میرے مژدہ ہو جنت کی سیر کا\nبخشو ثواب تم اسے اعمال خیر کا\n\nیہ ذکر تھا کہ دیکھتے کیا ہیں شہ زمن\nحر کے گلے سے خون کا دریا ہے موج زن\nہاتھ اپنا رکھ کے واں کیا زینبؑ سے یہ سخن\nکھولو تبرکات کا صندوق اے بہن\nحر پر ہے صدق و مہر و محبت کا خاتمہ\nزخمی گلے پہ باندھوں گا رومال فاطمہؑ\n\nرومال فاطمہؑ کا جو زیب گلو ہوا\nافزوں گلوئے حر کی ہوئی زینت و ضیا\nتھا بضقۂ رسول خدا کا یہ معجزا\nنے زخم کا اثر تھا نہ تھا خون کا پتا\nامت نے کچھ نہ پردۂ آل عبا کیا\nزہراؑ کی بہووں بیٹیوں کو بے ردا کیا\n\nبس اے دبیرؔ چاک فرشتوں کی حبیب ہے\nاس نظم سے عیاں ہے کہ تائید غیب ہے\nاپنے سخن کی آپ ثنا سخت عیب ہے\nتجھ پر کرم حسینؑ کا بے شبہ و ریب ہے\nخالق سے کہہ کہ عرض یہ میری قبول ہو\nمرنے کے بعد شہ کی غلامی حصول ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%D8%B1%D9%86%DA%AF%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B9%D9%84%D9%85_%DA%A9%DB%81%DA%A9%D8%B4%D8%A7%D9%86_%D8%B4%D8%A8"} {"title": "جب سیں تجھ عشق کی گرمی کا اثر ہے من میں", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سیں تجھ عشق کی گرمی کا اثر ہے من میں\nتب سیں پھرتا ہوں اداسی ہو برہ کے بن میں\n\nآج کی رات مرا چاند نظر آیا ہے\nچاندنی دود سی چھٹکی ہے مرے آنگن میں\n\nاس کی ثابت قدمی پر ستی قربان ہوں میں\nکھیت چھوڑا نہیں مجھ دل نے پرت کے رن میں\n\nقطرۂ اشک مرا دانۂ تسبیح ہوا\nرات دن مجھ کوں گزرتا ہے تری سمرن میں\n\nجب سیں دستار رنگایا ہے صنم عباسی\nگل عباس کوں نیں رنگ رہا گلشن میں\n\nسیر دریا سیں نہیں ہم کوں تسلی ممکن\nغم کے طوفان ابلتے ہیں ہمارے من میں\n\nکیوں نہ ہوئے دل یاقوت لباں موم سراجؔ\nکام کرتا ہے مری آہ کا ہیرا کھن میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جب سیں دیکھا ہوں یار کی صورت", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سیں دیکھا ہوں یار کی صورت\nگل کوں بوجھا ہوں خار کی صورت\n\nکیوں نہ ہوئے قتل دم بدم عاشق\nہیں بھویں ذو الفقار کی صورت\n\nمجھ کوں آئینۂ تصور ہے\nدلبر گلعذار کی صورت\n\nدل نے میرے کیا ہے طوق گلو\nزلف گل رو ہے ہار کی صورت\n\nناامیدی میں جلوۂ دیدار\nہے خزاں میں بہار کی صورت\n\nصفحۂ دل پہ سینہ چاکوں کے\nنقش ہے اس نگار کی صورت\n\nکاغذ ابر پر لکھا ہے سراجؔ\nدیدۂ اشک بار کی صورت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "جب سے آباد کیا قیس نے ویرانے کو", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے آباد کیا قیس نے ویرانے کو\nچھیڑنے آتی ہے لیلیٰ ترے دیوانے کو\n\nپوچھ صیاد نہ کچھ روح کے گھبرانے کو\nقفس تن سے یہ کہتی ہے نکل جانے کو\n\nدیکھ مستانہ گھٹاؤں کو ذرا اے ساقی\nدوش پر آج صبا لاتی ہے میخانے کو\n\nہوش تو گم تھے گئی شرم بھی رسوائی بھی\nکون ہے اب جو سنبھالے ترے دیوانے کو\n\nداغ ایسے دئے یاران وطن نے صفدرؔ\nجی نہیں چاہتا اب سوئے وطن جانے کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%82%DB%8C%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88"} {"title": "جب سے اس بے وفا نے بال رکھے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے اس بے وفا نے بال رکھے\nصید بندوں نے جال ڈال رکھے\n\nہاتھ کیا آوے وہ کمر ہے ہیچ\nیوں کوئی جی میں کچھ خیال رکھے\n\nرہرو راہ خوفناک عشق\nچاہیے پاؤں کو سنبھال رکھے\n\nپہنچے ہر اک نہ درد کو میرے\nوہ ہی جانے جو ایسا حال رکھے\n\nایسے زر دوست ہو تو خیر ہے اب\nملیے اس سے جو کوئی مال رکھے\n\nبحث ہے ناقصوں سے کاش فلک\nمجھ کو اس زمرے سے نکال رکھے\n\nسمجھے انداز شعر کو میرے\nمیرؔ کا سا اگر کمال رکھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%84_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%92"} {"title": "جب سے ان سے اپنا یارانہ ہوا", "poet_page": "مصنف:قمر ہلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل > بیاض عاشقان (1916)", "year": "1916", "text_ur": "جب سے ان سے اپنا یارانہ ہوا\nاپنا دل اپنوں سے بیگانہ ہوا\n\nدل میں جب سے وہ ہوئے مسند نشیں\nیک بیک آباد ویرانہ ہوا\n\nیار کے در کی گدائی کیا ملی\nاب مزاج اپنا یہ شاہانہ ہوا\n\nجو فراق یار میں آنسو بہا\nگر کے دامن میں وہ دردانہ ہوا\n\nآپ کا عاشق فقط میں ہی نہیں\nاک زمانہ ہے جو دیوانہ ہوا\n\nمیرے گھر جب سے کہ تم آنے لگے\nغیرت جنت یہ کاشانہ ہوا\n\nشمع روئے احمد مختار پر\nیہ دل دیوانہ پروانہ ہوا\n\nجام مے لینے نہ پایا تھا ابھی\nدیکھ کر ساقی کو مستانہ ہوا\n\nاے صبا آتی ہے تجھ سے بوئے دوست\nیار کے گیسو میں کیا شانہ ہوا\n\nدم بدم آنے لگے دل میں مرے\nغم کدہ ان کا جلو خانہ ہوا\n\nبڑھ گیا ہے اس قدر جوش جنوں\nہر جگہ میرا ہی افسانہ ہوا\n\nدیکھ لی دنیا کی حالت اے قمرؔ\nآج کل اپنا یہی بیگانہ ہوا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا\nسارے گھر میں نور پھیلا ہے چراغ طور کا\n\nبخت واژوں سے جلے کیوں دل نہ مجھ محرور کا\nمرہم کافور سے منہ آ گیا ناسور کا\n\nاس قدر مشتاق ہوں زاہد خدا کے نور کا\nبت بھی بنوایا کبھی میں نے تو سنگ طور کا\n\nتجھ کو لائے گھر میں جنت کو جلایا رشک سے\nہم بغل تجھ سے ہوئے پہلو دبایا حور کا\n\nگور کافر کس لیے ہے تیرہ و تار اس قدر\nپڑ گیا سایہ مگر میری شب دیجور کا\n\nحسن یوسف اور تیرے حسن میں اتنا ہے فرق\nچوٹ یہ نزدیک کی ہے وار تھا وہ دور کا\n\nقصر تن بگڑا کسی کا گورکن کی بن پڑی\nگھر کسی کا گر پڑا گھر بن گیا مزدور کا\n\nچہرۂ جاناں سے شرما کر چھپایا خلد میں\nخامۂ تقدیر نے کھینچا جو نقشہ حور کا\n\nحاجت مشاطہ کیا رخسار روشن کے لیے\nدیکھ لو گل کاٹتا ہے کون شمع طور کا\n\nزلف و روئے یار سے نیرنگ قدرت ہے عیاں\nمہر کے پنجے میں ہے دامن شب دیجور کا\n\nخاکساری کر جو ہو منظور آنکھوں میں جگہ\nخاک ہو کر سرمہ بن جاتا ہے پتھر طور کا\n\nغافلوں کے کان کب کھلتے ہیں سن کر شور حشر\nسونے والوں کو جگا سکتا نہیں غل دور کا\n\nپوچھ لینا سب وطن کا حال اے اہل عدم\nبیٹھ لینے دو ذرا آتا ہوں اٹھا دور کا\n\nعجز کرتے ہیں عدوئے جان سے بھی خاصان حق\nجھک گیا سر آگے پائے دار پر منصور کا\n\nموت کیا آئی تپ فرقت سے صحت ہو گئی\nدم نکلنے سے بدن ٹھنڈا ہوا رنجور کا\n\nجاتے ہیں مے خانۂ عالم سے ہم سوئے عدم\nکہہ دو ازخود رفتگی سے ہے ارادہ دور کا\n\nموذیوں کو حادثوں سے دہر کے کیا خوف ہے\nبارش باراں سے گھر گرتا نہیں زنبور کا\n\nچشم ساغر بے سبب ہر دم لہو روتی نہیں\nمغبچوں سے ساقیا دل پھٹ گیا انگور کا\n\nجاتے ہیں مے خانۂ عالم سے ہم سوئے عدم\nکہہ دو ازخود رفتگی سے ہے ارادہ دور کا\n\nکی نظر جس پر کدورت سے رہا خاموش وہ\nہے اثر گرد نگاہ یار میں سیندور کا\n\nجلوۂ معشوق ہر جا ہے بصیرت ہو اگر\nکرمک شب تاب میں عالم ہے شمع طور کا\n\nمر کے یاران عدم کے پاس پہنچوں گا امیرؔ\nچلتے چلتے جان جائے گی سفر ہے دور کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D8%B1%D8%AE_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے\nٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے\n\nہے جوانی خود جوانی کا سنگار\nسادگی گہنہ ہے اس سن کے لیے\n\nکون ویرانے میں دیکھے گا بہار\nپھول جنگل میں کھلے کن کے لیے\n\nساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا\nمیں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے\n\nباغباں کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی\nبھیجنی ہے ایک کمسن کے لیے\n\nسب حسیں ہیں زاہدوں کو ناپسند\nاب کوئی حور آئے گی ان کے لیے\n\nوصل کا دن اور اتنا مختصر\nدن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے\n\nصبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیرؔ\nبھیجتے تحفہ موذن کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%88_%D8%AA%D9%86%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "جب سے تمہاری آنکھیں عالم کو بھائیاں ہیں", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے تمہاری آنکھیں عالم کو بھائیاں ہیں\nتب سے جہاں میں تم نے دھومیں مچائیاں ہیں\n\nجور و جفا و محنت مہر و وفا و الفت\nتم کیوں بڑھائیاں ہیں اور کیوں گھٹائیاں ہیں\n\nمل مل کے روٹھ جانا اور روٹھ روٹھ ملنا\nیہ کیا خرابیاں ہیں کیا جگ ہنسائیاں ہیں\n\nٹک ٹک سرک سرک کر آ بیٹھنا بغل میں\nکیا اچپلائیاں ہیں اور کیا ڈھٹائیاں ہیں\n\nزلفوں کا بل بناتے آنکھیں چرا کے چلنا\nکیا کم نگاہیاں ہیں کیا کج ادائیاں ہیں\n\nآئینہ روبرو رکھ اور اپنی سج بنانا\nکیا خود پسندیاں ہیں کیا خود نمائیاں ہیں\n\nآنچل اٹھا کے تم نے جو ڈھانک لیں یہ چھتیاں\nکس کو دکھائیاں ہیں کس سے چھپائیاں ہیں\n\nتم میں جو شوخیاں ہیں اور چنچلائیاں ہیں\nکن نے سکھائیاں ہیں کن نے بتائیاں ہیں\n\nحاتمؔ کے بن اشارہ سچ کہہ یہ چشم و ابرو\nکس سے لڑائیاں ہیں کس پر چڑھائیاں ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جب سے تیرا کرم ہے بندہ نواز", "poet_page": "مصنف:چراغ حسن حسرت", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے تیرا کرم ہے بندہ نواز\nسوز ہے سوز اور نہ ساز ہے ساز\n\nمیں ہوں اور میری بے پر و بالی\nدل ہے اور دل کی جرأت پرواز\n\nحسن کی برہمی معاذ اللہ\nگیسوؤں کے بکھرنے کا انداز\n\nزلف برہم جھکی ہوئی نظریں\nگردن ناز میں کمند نیاز\n\nقد بالا و دامن کوتاہ\nمنزل عشق کے نشیب و فراز\n\nقطع ہونے لگا ہے رشتۂ زیست\nاے غم یار تیری عمر دراز", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%81_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2"} {"title": "جب سے تیری آنکھ ہم سے پھر گئی", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے تیری آنکھ ہم سے پھر گئی\nحلقۂ غم میں طبیعت گھر گئی\n\nفوج مژگاں میں میرے خوں کے لیے\nچشم کی گردش سے کوڑی پھر گئی\n\nمحتسب کی آنکھ پر جب سے چڑھی\nدخت رز شیشہ کے دل سے گر گئی\n\nنا توانوں کے لئے طوفان کیا\nقطرۂ شبنم میں جوہی تر گئی\n\nساقیا کوئی بلا تھا محتسب\nخیریت گزری جو خم کے سر گئی\n\nمردہ میرا دیکھ کر بولا وہ شوخ\nکیوں نسیمؔ اب آنکھ تیری پھر گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "جب سے خط ہے سیاہ خال کی تھانگ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے خط ہے سیاہ خال کی تھانگ\nتب سے لٹتی ہے ہند چاروں دانگ\n\nبات عمل کی چلی ہی جاتی ہے\nہے مگر اوج بن عنق کی ٹانگ\n\nبن جو کچھ بن سکے جوانی میں\nرات تو تھوڑی ہے بہت ہے سانگ\n\nعشق کا شور کوئی چھپتا ہے\nنالۂ عندلیب ہے گلبانگ\n\nاس ذقن میں بھی سبزی ہے خط کی\nدیکھو جیدھر کنوئیں پڑی ہے بھانگ\n\nکس طرح ان سے کوئی گرم ملے\nسیم تن پگھلے جاتے ہیں جوں رانگ\n\nچلی جاتی ہے حسب قدر بلند\nدور تک اس پہاڑ کی ہے ڈانگ\n\nتفرہ باطل تھا طور پر اپنے\nورنہ جاتے یہ دوڑ ہم بھی پھلانگ\n\nمیں نے کیا اس غزل کو سہل کیا\nقافیے ہی تھے اس کے اوٹ پٹانگ\n\nمیرؔ بندوں سے کام کب نکلا\nمانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%B7_%DB%81%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%DA%AF"} {"title": "جب سے دلبر نے آنکھ پھیرا ہے", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے دلبر نے آنکھ پھیرا ہے\nمجھ کو دوران سر نے گھیرا ہے\n\nکوچۂ زلف نت اندھیرا ہے\nوہاں سیہ بخت دل کا ڈیرا ہے\n\nوجد میں ہیں دوانے ابر کو دیکھ\nلیلیٰٔ فصل گل کا ڈیرا ہے\n\nیکہ آزاد ہے دو عالم سے\nجو کہ بے دام تیرا چیرا ہے\n\nگال پر ہے کسی کے کاٹ کا نقش\nمنہ پہ زلفیں تبھی بکھیرا ہے\n\nنت بکے ہے کہ باؤلا عزلتؔ\nیہ نہ بولا کبھو کہ میرا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب سے دلبر کا آستاں دیکھا", "poet_page": "مصنف:میراں شاہ جالندھری", "kind": "poetry", "section": "رچناواں/تصانیف > اردو > غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے دلبر کا آستاں دیکھا\nتھا جو دشمن وہ مہرباں دیکھا\n\nجس نے اس در کی خاکساری کی\nاس گدا کو شہ زماں دیکھا\n\nجب سے دیکھا مقام وحدت کو\nنہ دوئی کا کہیں نشاں دیکھا\n\nکیا کہوں عشق کا میں لطف و کرم\nدل میں دلبر کو بے گماں دیکھا\n\nجس کو کہتے ہیں صورت انساں\nلا مکاں کا وہی مکاں دیکھا\n\nکیا ہیں دلبر کے خواب ناز و ادا\nکہیں ظاہر کہیں نہاں دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جب سے دیکھا ہے بنا گوش قمر میں تنکا", "poet_page": "مصنف:میاں داد خاں سیاح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے دیکھا ہے بنا گوش قمر میں تنکا\nپھانس کی طرح کھٹکتا ہے جگر میں تنکا\n\nنیزہ بازی پہ ہمیں اپنی نہ دھمکا اے ترک\nہم سمجھتے ہیں اسے اپنی نظر میں تنکا\n\nآتش نالۂ بلبل یہ چمن میں بھڑکی\nنہ بچا نام کو صیاد کے گھر میں تنکا\n\nخار مژگاں کو نظر بھر کے نہ دیکھا میں نے\nپڑ گیا اڑ کے مرے دیدۂ تر میں تنکا\n\nسن کے آمد تری آنکھوں سے اٹھا لیتے ہیں\nدیکھتے ہیں جو پڑا راہ گزر میں تنکا\n\nگرد اس بحر صفا کے میں پھرا کرتا ہوں\nرہتا ہے گردی میں جس طرح بھنور میں تنکا\n\nآہ سوزاں نے جلائے ترے جنگل سیاحؔ\nنام کو بھی نہ رہا ایک شجر میں تنکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DA%AF%D9%88%D8%B4_%D9%82%D9%85%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%86%DA%A9%D8%A7"} {"title": "جب سے سنا دہن ترے اے ماہرو نہیں", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے سنا دہن ترے اے ماہرو نہیں\nسب چپ ہیں اب کسی کی کوئی گفتگو نہیں\n\nنکلے جو قلب سے وہ مری آرزو نہیں\nتو مل ہی جائے گر تو میں سمجھوں کہ تو نہیں\n\nآنکھیں لڑا رہے ہو سر بزم غیر سے\nاور مجھ سے یہ بیان کہ ہم جنگ جو نہیں\n\nپیدا ہوا ہے ایک کی ضد ایک خلق میں\nعزت ہے غیر کی تو مری آبرو نہیں\n\nٹانکے نہ کھائیں زخمیٔ تیغ نگاہ ناز\nکہنے کو ہو کہ جامۂ تن میں رفو نہیں\n\nمعشوق کون سا ہے نہ ہو دل میں جس کی یاد\nاس مختصر سے باغ میں کس گل کی بو نہیں\n\nیہ حال تیری وعدہ خلافی سے ہو گیا\nاب تو قسم بھی کھانے کو مجھ میں لہو نہیں\n\nپیری ہے عاشقی کا مزہ جا چکا رشیدؔ\nوہ ہم نہیں وہ دل نہیں وہ آرزو نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%81%D9%86_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%A7%DB%81%D8%B1%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جب سے صانع نے بنایا ہے جہاں کا بہروپ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے صانع نے بنایا ہے جہاں کا بہروپ\nاپنی نظروں میں ہے سب کون و مکاں کا بہروپ\n\nمیں گیا بھیس بدل کر تو لگا یوں کہنے\nچل بے لایا ہے مرے آگے کہاں کا بہروپ\n\nچاند تارے ہیں یہ کیسے یہ شب و روز ہے کیا\nکچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے یہاں کا بہروپ\n\nچشم بینا ہوں تو داڑھی کی دو رنگی سمجھیں\nایک چہرے پہ ہے یہ پیر و جواں کا بہروپ\n\nپہنے جاتے ہیں کئی رنگ کے کپڑے دن میں\nکیا کہوں ہائے غضب ہے یہ بتاں کا بہروپ\n\nباغ میں طرۂ سنبل کی پریشانی سے\nصاف نکلا ترے شوریدہ سراں کا بہروپ\n\nمصحفیؔ سانگ سے کیا اکھڑے ہے پشم اس کی بھلا\nسو طرح سے ہو جسے یاد زباں کا بہروپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%B5%D8%A7%D9%86%D8%B9_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%81%D8%B1%D9%88%D9%BE"} {"title": "جب سے عطا ہوا ہمیں خلعت حیات کا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے عطا ہوا ہمیں خلعت حیات کا\nکچھ اور رنگ ڈھنگ ہوا کائنات کا\n\nشیشہ اتار، شکوے کو بالائے طاق رکھ\nکیا اعتبار زندگیِ بے ثبات کا\n\nلڑتے ہو جب رقیب سے کرتے ہو مجھ سے صلح\nمشتاق یاں نہیں کوئی اس التفات کا\n\nگر تیرے تشنہ کام کو دے خضر مرتے دم\nپانی ہو خشک چشمۂ آبِ حیات کا\n\nیاں خار و خس کو بے ادبی سے نہ دیکھنا\nہاں عالمِ شہود ہے آئینہ ذات کا\n\nکہتے ہیں جان، جانتے ہیں بے وفا مجھے\nکیا اعتبار ہے انہیں دشمن کی بات کا\n\nواعظ جنوں زدوں سے نہیں باز پرسِ حشر\nبس آپ فکر کیجئے اپنی نجات کا\n\nجوشِ سرشکِ خوں کے سبب سے دمِ رقم\nنامہ نہیں رہا یہ ورق ہے برات کا\n\nاے مرگ آ ، کہ میری بھی رہ جائے آبرو\nرکھا ہے اس نے سوگ عدو کی وفات کا\n\nایسے کے آگے شیفتہ کیا چل سکے جہاں\nاحسان ایک عمر رہے، ایک رات کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D8%B7%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%84%D8%B9%D8%AA_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "جب سے کہ بتوں سے آشنا ہوں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے کہ بتوں سے آشنا ہوں\nبیگانہ خدائی سے ہوا ہوں\n\nکیوں کر کہوں عارف خدا ہوں\nآگاہ نہیں کہ آپ کیا ہوں\n\nجب ہجر میں باغ کو گیا ہوں\nمیں آتش گل میں جل بجھا ہوں\n\nفرقت میں جو سر پٹک رہا ہوں\nمشغول نماز کبریا ہوں\n\nمنہ زرد ہے تنکے چن رہا ہوں\nاے وحشت کیا میں کہربا ہوں\n\nبیگانہ ہوں کیوں کر آشنا سے\nبیگانوں سے میں بھی آشنا ہوں\n\nمنہ ان کا نہیں ہے شکر ورنہ\nہر بت کہتا کہ میں خدا ہوں\n\nامید وصال اب کہاں ہے\nاس گل سے برنگ بو جدا ہوں\n\nکیوں دوست نہ خوش ہوں جائے ماتم\nسیماب کی طرح مر گیا ہوں\n\nخلقت خوش ہو جو میں ہوں پامال\nگلزار جہاں میں کیا حنا ہوں\n\nہنس دوں گا دم میں مثل گل آپ\nغنچے کی طرح سے گو خفا ہوں\n\nآتش قدمی سے جلتے ہیں خار\nاے قیس میں وہ برہنہ پا ہوں\n\nکرتے ہیں گریز مجھ سے منحوس\nبے شبہ میں سایۂ ہما ہوں\n\nہوں قافلۂ عدم سے آگے\nاس راہ میں نالۂ درا ہوں\n\nناسخؔ کی یہ التجا ہے یا رب\nمر جاؤں تو خاک کربلا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگی", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگی\nکافر ہو جس کے دل میں ہو ارمان زندگی\n\nحسرت وصال کی ہے گلو گیر ہجر میں\nورنہ ابھی میں پھاڑوں گریبان زندگی\n\nمرتا جو ہجر میں تو نہ ملتا میں یار سے\nمجھ پر حضورؔ بس کہ ہے احسان زندگی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C"} {"title": "جب سے ہوا ہے عشق ترے اسم ذات کا", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب سے ہوا ہے عشق ترے اسم ذات کا\nآنکھوں میں پھر رہا ہے مرقع نجات کا\n\nمالک ہی کے سخن میں تلون جو پائیے\nکہئے یقین لائیے پھر کس کی بات کا\n\nدفتر ہماری عمر کا دیکھو گے جب کبھی\nفوراً اسے کرو گے مرقع نجات کا\n\nالفت میں مر مٹے ہیں تو پوچھے ہی جائیں گے\nاک روز لطف اٹھائیں گے اس واردات کا\n\nسرخی کی خط شوق میں حاجت جہاں ہوئی\nخون جگر میں نوک ڈبویا دوات کا\n\nموجد جو نور کا ہے وہ میرا چراغ ہے\nپروانہ ہوں میں انجمن کائنات کا\n\nاے شمع بزم یار وہ پروانہ کون تھا\nلو میں تری یہ داغ ہے جس کی وفات کا\n\nمجھ سے تو لن ترانیاں اس نے کبھی نہ کیں\nموسی جواب دے نہ سکے جس کی بات کا\n\nاس بے خودی کا دیں گے خدا کو وہ کیا جواب\nدم بھرتے ہیں جو چند نفس کے حباب کا\n\nقدسی ہوے مطیع وہ طاعت بشر نے کی\nکل اختیار حق نے دیا کائنات کا\n\nایسا عتاب نامہ تو دیکھا سنا نہیں\nآیا ہے کس کے واسطے سورہ برات کا\n\nذی روح مجھ کو تو نے کیا مشت خاک سے\nبندہ رہوں گا میں ترے اس التفات کا\n\nناچیز ہوں مگر میں ہوں ان کا فسانہ گو\nقرآن حمد نامہ ہے جن کی صفات کا\n\nرویا ہے میرا دیدۂ تر کس شہید کو\nمشہور ہو گیا ہے جو چشمہ فرات کا\n\nآئے تو آئے عالم ارواح سے وہاں\nدم بھر جہاں نہیں ہے بھروسا ثبات کا\n\nدھوم اس کے حسن کی ہے دو عالم میں اے شرفؔ\nخورشید روز کا ہے وہ مہتاب رات کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D9%85_%D8%B0%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "جب شام ہوئی دل گھبرایا لوگ اٹھ کے برائے سیر چلے", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "جب شام ہوئی دل گھبرایا لوگ اٹھ کے برائے سیر چلے\nتفتیش صنم کو سوئے حرم ہم جان کے دل میں دیر چلے\n\nگو بحر الم طوفانی ہے ہر موج عدوئے جانی ہے\nاب پاؤں رکیں گے کیا اپنے اس دریا کو ہم پیر چلے\n\nاب کام ہمارا یاں کیا ہے یہ آنا جانا بے جا ہے\nجس وقت تمہاری صحبت میں ہم ہوں اور حکم غیر چلے\n\nہم سمجھے تھے یاں آئیں گے دن تھوڑا ہے رہ جائیں گے\nپر دل کی حسرت دل میں رہی جب سوئے مکان غیر چلے\n\nگو رنج جدائی ہے دل پر بے وقت ہے یہ دور ساغر\nبیٹھے ہیں حبیبؔ احباب مگر اب تم بھی کہہ دو خیر چلے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%84%D9%88%DA%AF_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "جب صنم کوں خیال باغ ہوا", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب صنم کوں خیال باغ ہوا\nطالب نشۂ فراغ ہوا\n\nفوج عشاق دیکھ ہر جانب\nنازنیں صاحب دماغ ہوا\n\nرشک سوں تجھ لباں کی سرخی پر\nجگر لالہ داغ داغ ہوا\n\nدل عشاق کیوں نہ ہو روشن\nجب خیال صنم چراغ ہوا\n\nاے ولیؔ گل بدن کوں باغ میں دیکھ\nدل صد چاک باغ باغ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی\nکھلتے ہيں غلاموں پر اسرار شہنشاہی\n\nعطار ہو ، رومی ہو ، رازی ہو ، غزالی ہو\nکچھ ہاتھ نہيں آتا بے آہ سحر گاہی\n\nنوميد نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ!\nکم کوش تو ہيں ليکن بے ذوق نہيں راہی\n\nاے طائر لاہوتی! اس رزق سے موت اچھی\nجس رزق سے آتی ہو پرواز ميں کوتاہی\n\nدارا و سکندر سے وہ مرد فقير اولی\nہو جس کی فقيری ميں بوئے اسد اللہی\n\nآئين جوانمردں ، حق گوئی و بے باکی\nاللہ کے شيروں کو آتی نہيں روباہی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A2%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%8C"} {"title": "جب عشق کا جنوں مرے سر پر سوار تھا", "poet_page": "مصنف:نشتر چھپروی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نشتر (1930)", "year": "1930", "text_ur": "جب عشق کا جنوں مرے سر پر سوار تھا\nدل کو قرار تھا نہ جگر کو قرار تھا\n\nدل بے قرار تھا نہ جگر بے قرار تھا\nتیرا خیال پاس شب انتظار تھا\n\nپھولوں کے ہار تربت اغیار پر چڑھے\nمشق ستم کے واسطے میرا مزار تھا\n\nکیوں کر نہ دیتے غم کو ترے دل میں ہم جگہ\nفرقت میں اپنا ایک ہی تو غم گسار تھا\n\nوہ پائمال کر کے مرے دل کو کہتے ہیں\nیہ دل وہی ہے ہجر میں جو بے قرار تھا\n\nملتا نہ تھا مزاج دل بے قرار کا\nتیر نگاہ ناز کا جب وہ شکار تھا\n\nمیں کیا کہوں کہ حال مرا کیا تھا ہجر میں\nدن رات لب پہ نالۂ بے اختیار تھا\n\nاب دل ہے اور ذلت و رسوائیٔ جنوں\nنشترؔ کبھی یہ مایۂ صد افتخار تھا", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جب عیاں صبح کو وہ نور مجسم ہو جائے", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب عیاں صبح کو وہ نور مجسم ہو جائے\nگوہر شبنم گل نیر اعظم ہو جائے\n\nمرثیہ ہو مجھے گانا جو سنوں فرقت میں\nبے ترے بزم غنا مجلس ماتم ہو جائے\n\nدیکھ کر طول شب ہجر دعا کرتا ہوں\nوصل کے روز سے بھی عمر مری کم ہو جائے\n\nدیکھ کر پھولوں کو انگاروں پہ لوٹوں اے گل\nبے ترے گلشن فردوس جہنم ہو جائے\n\nکم نہیں ملک سلیماں سے وصال ساقی\nگردش جام مجھے حلقۂ خاتم ہو جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%A9%D9%88_%D9%88%DB%81_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%AC%D8%B3%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے\nجلوہ کیاسحر کے رخِ بے حجاب نے\nدیکھا سوئے فلک شہ گردوں رکاب نے\nمڑ کر صدا رفیقوں کو دی اس جناب نے\nآخر ہے رات حمد و ثنائے خدا کرو\nاٹھو فریضۂ سحریٰ کو ادا کرو\n\nہاں غازیو یہ دن ہے جدال و قتال کا\nیاں خوں بہے گا آج محمد کی آل کا\nپرہ خوشی سے سرخ ہے زہرا کے لال کا\nگذری شبِ فراق دن آیا وصال کا\nہم وہ ہیں غم کریں گے ملک جن کے واسطے\nراتیں تڑپ کے کاٹی ہیں اس دن کے واسطے\n\nیہ صبح ہے وہ صبح مبارک ہے جس کی شام\nیاں سے ہوا جو کوچ تو ہے خلد میں مقام\nکوثر پہ آبرو سے پہونچ جائیں تشنہ کام\nلکھے خدا نماز گزاروں ممیں سب کے نام\nسب ہیں وحیدِ عصر یہ غل چار سو اٹھے\nدنیا سے جو شہید اٹھے سرخرو اٹھے\n\nیہ سن کے بستروں سے اٹھے وہ خدا شناس\nاک اک نے زیبِ جسم کیا فاخرہ لباس\nشانے محاسنوں میں کیے سب نے بے ہراس\nباندھے عمامہ آئے امامِ زماں کے پاس\nرنگیں عبائین دوش پہ کمریں کسے ہوے\nمشک و زبا دو عرت میں کپڑے بسے ہوئے\n\nسوکھے بسوں پہ حمدِ الٰہی رخوں پہ نور\nخوف و ہراس رنج و کدورت دلوں سے دور\nفیاض حق شناس اولو العزم ذی شعور\nخوش فکر و بزلہ سنج و ہنر پرور و غیور\nکانوں کو حسنِ صوت سے حظ برملا ملے\nباتوں میں وہ نمک کہ دلوں کو مزا ملے\n\nساونت برد بار فلک مرتبت دلیر\nعالی منش سبا میں سلیماں وغا میں شہ\nگرداں دہر ان کی زبردستیوں سے زیر\nفاقے سے تین دن کے مگر زندگی سے سیہ\nدنیا کو ہیچ پوچ سراپا سمجھتے ہیں\nدریا دلی سے بحر کو قطرا سمجھتے ہیں\n\nتقریر میں وہ رمز کنایہ کہ لاجواب\nنکتہ بھی منہ سے گر کوئی نکلا تو انتخاب\nگویا دہن کتابِ بلاغت کا ایک باب\nسوکھی زبانیں شہد فصاحت سے کامیاب\nلہجوں پہ شاعران عبر تھے مرے ہوئے\nپستے بسوں کے وہ کہ نمک سے بھرے ہوئے\n\nلب پر ہنسی گلوں سے زیادہ شگفتہ رو\nپیدا تنوں س پیرہن یوسفی کی بو\nغلماں کے دل میں جن کی غلامی کی آرزو\nپرہیز گار زاہدِ ابرار و نیک خو\nپتھر میں ایسے لعل صدف میں گہر نہیں\nروں کا قول تھا کہ ملک ہیں بشر نہیں\n\nپانی نہ تھا وضو جو کریں وہ فلک مآب\nپر تھی رخوں پہ خاکِ تمیم سے طرفہ آب\nباریک ابر میں نظر آتے تھے آفتاب\nہوتے ہیں خاکسار غلامِ ابوتراب\nمہتاب سے رخوں کی صفا اور ہو گئی\nمٹی یس آئتوں میں جلا اور ہو گئی\n\nخیمے سے نکلے شہ کے عزیزاں خوش خصال\nجن میں کئی تھے حضرتِ خیر النسا کے لال\nقاسم سا گلبدن علی اکبر سا خوش جمال\nاک جا عقیل و مسلم و جعفر کے نونہال\nسب کے رخوں کا نور سپہر بریں پہ تھا\nاٹھارہ آفتابوں کا غنچہ زمیں پہ تھا\n\nٹھنڈی ہوا میں سبزۂ صحرا کی وہ لہک\nشرمائے جس سے اطلسِ زنگاریِ فلک\nوہ جھومنا درختوں کا پھولوں کی وہ مہک\nہر برگِ گل پہ قطرہ شبنم کی وہ جھلک\nہیرے خجل تھے گوہر یکتا نثار تھے\nپتے بھی ہر شجر کے جواہر نگار تھے\n\nقرباں صنعتِ قلم آفریدگار\nتھی ہر ورق پہ صنعتِ ترصیع آشکار\nعاجز ہے فکرت شعرائے ہند شعار\nان صنعتوں کو پائے کہاں عقلِ سادہ کار\nعالم تھا محو قدرت رب عباد پر\nمینا کیا تھا وادیِ مینو سواد پر\n\nوہ نور اور وہ دشت سہانا وہ فضا\nدراج و کیک و تیہود طاؤس کی صدا\nوہ جوشِ گل وہ نالۂ مرغانِ خوش نوا\nسردی جگر کو بخشی تھی صبح کی ہوا\nپھولوں سے سبز سبز شجر سرخ پوش تھے\nتھا لے بھی نخل کے سبدِ گل فروش تھے\n\nوہ دشت وہ نسیم کے جھونکے وہ سبزہ زار\nپھولوں پہ جابجا وہ گہرہائے آبدار\nاٹھتا وہ جھوم جوھم کے شاخوں کا باربار\nبالائے نخل ایک جو بلبل تو گل ہزار\nخواہاں تھے زہرا گلشن زہرا جو آب کے\nشبنم نے بھر دیے تھے کٹورے گلاب کے\n\nوہ قمریوں کا چار طرف سرو کے ہجوم\nکو کو کا شور نالۂ حق سرہ کی دھوم\nسبحان رہنا کی صدا تھی علی العموم\nجاری تھے وہ جو ان کی عبادت کے تھے رسوم\nکچھ گل فقط نہ کرتے تھے رب علا کی حمد\nہر خار کو بھی نوکِ زباں تھی خدا کی حمد\n\nچیونٹی بھی ہاتھ اٹھا کے یہ کہتی تھی بار بار\nاے دانہ کش ضعیفوں کے رازق ترے نثار\nیا حی یاقدیر کی تھی ہر طرف پکار\nتہلیل تھی کہیں کہیں تسبیح کردگار\nطائر ہوا میں محو ہنر سبزہ زار میں\nجنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میں\n\nکانٹوں میں اک طرف تھے ریاضِ نبی کے پھول\nخوشبو سے جن کی خلد تھا جنگل کا عرض و طول\nدنیا کی زیب و زینتِ کا شانۂ بتول\nوہ باغ تھا لگا گئے تھے خود جسے رسول\nماہِ عزا کے عشرۂ اول میں کب گیا\nوہ باغیوں کے ہاتھ سے جنگل میں کٹ گیا\n\nاللہ رے خزاں کے دن اس باغ کی بہار\nپھولے سماتے تھے نہ محمد کے گلِ عذار\nدولہا بنے ہوئے تھے اجل تھی گلوں کا ہار\nجاگے وہ ساری رات کے وہ نیند کا خمار\nراہیں تمام جسم کی خوشبو سے بس گئیں\nجب مسکرا کے پھولوں کلیاں بکس گئیں\n\nوہ دشت اور خیمۂ زنگارگوں کی شان\nگویا زمیں پہ نصب تھا اک تازہ آسمان\nبے چوبہ سپہر بریں جس کا سائبان\nبیت العیق دین کا مدینہ جہاں کی جان\nاللہ کے حبیب کے پیارے اسی میں تھے\nسب عرشِ کبریا کے ستارے اسی میں تھے\n\nگردوں پہ ناز کرتی تھی اس دشت کی زمیں\nکہتا تھا آسمانِ دہم چرخ ہضمتیں\nپردے تھے رشک پردۂ چشمانِ حور میں\nتاروں سے تھا فلک اسی خرمن کا خوشہ چیں\nدیکھا جو نور شمسۂ کیواں جناب پر\nکیا کیا ہنسی ہے صبحِ گل آفتاب پر\n\nناگاہ چرخ پر خطِ ابیض ہوا عیاں\nتشریف جا نماز پہ لائے شہ زماں\nسجاد بچھ گئے عقبِ شاہ انس و جاں\nتاروں سے تھا فلک اسی خرمن کا خوشہ چیں\nدیکھا جو نور شمسۂ حسن سے اکبرِ مہر و نے دی اذاں\nہر اک کی چشم آنسوؤں سے ڈبڈبا گئی\nگویا صدا رسول کی کانوں میں آگئی\n\nچپ تھے طیور جھومتے تھے وجد میں شجر\nتسبیح خواں تھے برگ و گل غنچہ و ثمر\nمحوِ ثنا کلوخ دنبا تات و دشت دور\nپانی سے منہ نکالے تھے دریا کے جانور\nاعجاز تھا کہ دلبِ شپیر کی صدا\nہر خشک و تر سے آئی تھی تکبیر کی صدا\n\nناموس شاہ روتے تھے خیمے میں زار زار\nچپکی کھڑی تھی صحن میں بانو کے نامدار\nزینب بلائیں لے کے یہ کہتی تھی بار بار\nصدقے نمازیوں کے مؤذن کے میں نثار\nکرتے ہیں یوں ثنا وصف ذوالجلال کی\nلوگوں اذا سنو مرے یوسف جمال کی\n\nیہ حسنِ صوت اور یہ قرأت یہ شدو مد\nحقا کہ افصح الفصحا ہے انہیں کا جد\nگویا ہے لحن حضرتِ داؤد با خرد\nیارب رکھ اس صدا کو زمانے میں تا ابد\nشعبے صدا میں پنکھڑیاں جیسے پھول میں\nبلبل چہک رہا ہے ریاضِ رسول میں\n\nمیری طرف سے کوئی بلائیں تو لینے جائے\nعین الکمال سے تجھے بچے خدا بچائے\nوہ لو ذعی کی جس کی طلاقت دلوں کو بھائے\nدو دد دن ایک بوند بھی پانی کہ وہ نہ پائے\nغربت میں پڑ گئی ہے مصیبت حسین پر\nفاقہ یہ تیسرا ہے مرے نورِ عین پر\n\nصف میں ہوا جو نعرۂ قدقامت الصلوٰۃ\nقائم ہوئی نامز اٹھے شاہِ کائنات\nوہ نور کی صفیں وہ مصلی ملک صفات\nقدموں سے جن کی ملتی تھی آنکھیں رہِ نجات\nجلوہ تھا تابہ عرشِ معلیٰ حسین کا\nمصحف کی لوح تھی کہ مصلی حسین کا\n\nاک صف میں سب محمد و حیدر کے رشتہ دار\nاٹھارہ نوجواں تھے اگر کیجیے شمار\nپر سب جگر نگار حق آگاہ خاکسار\nپیرہ امام پاک کے داتائے رونار\nتسبیح ہر طرف تہ افلاک انہیں کی ہے\nجس پر درورد پڑھتے ہیں یہ خاک انہیں کی ہے\n\nدنیا سے اٹھ گیا وہ قیام اور وہ قعود\nان کے لیے تھی بندگی واجب الوجود\nوہ عجز وہ طویل رکوع اور وہ سجود\nطاعت میں نیست جانتے تھے اپنی ہست و بود\nطاقت نہ چلنے پھرنے کی تھی ہاتھ پاؤں میں\nگر گر کے سجدے کر گئے تیغوں کی چھاؤں میں\n\nہاتھ ان کے جب قنوت میں اٹھے سوئے خدا\nخود ہوگئے فلک پہ اچابت کے باب وا\nتھرائے آسماں بلا عرش کبریا\nشہ پر تھے دونوں ہاتھ پے طائر دعا\nوہ خاکسار محوِ تضرع تھے فرش پر\nروح القدس کی طرح دعائیں تھیں عرش پر\n\nفارغ ہوئے نماز سے جب قبلۂ انام\nآئے مصافحے کو جو انان تشنہ کام\nچومے کسی نے دستِ شہنشاہ خاص و عام\nآنکھٰں ملیں قدم پہ کسی نے با حترام\nکیا دل تھے کیا سپاہِ رشید و سعید تھی\nباہم مانقے تھے کہ مرنے کی عید تھی\n\nبیٹھے تھے جا نماز پہ شاہِ فلک سریر\nناگہ قریب آ کے گرے تین چار تیر\nدیکھا ہر اک نے مڑ کے سوئے لشکرِ شریر\nعباس اٹھے تول کے شمشیر بے نظیر\nپروانہ تھے سراج امامت کے نور پر\nروکی سپر حضور کرامت ظہور پر\n\nاکرب سے مڑکے کہنے لگے سرورِ زماں\nتم جا کے کہہ دو خیمے میں یہ اے پدر کی جاں\nباندھے ہے سر کشی پر کمر لشکرِ گراں\nبچوں کو لے کے صحن سے ہٹ جائیں بیبیاں\nغفات میں تیرے کوئی بچہ تلف نہ ہو\nڈر ہے مجھے کہ گردنِ اصغر ہدف نہ ہو\n\nکہتے تھے یہ پسر سے شۂ آسماں سریر\nفضہ پکاری ڈیوڑھی سے اے خلق کے امیر\nہے ہے علی کی بیٹیاں کس جا ہوں گو شہ گیر\nاصغر کے گاہوارے تک آکر گرے ہیں تیر\nگرمی میں ساری رات یہ گھٹ گھٹ کے روئے ہیں\nبچے ابھی تو سرد ہوا پا کے سوئے ہیں\n\nباقر کہیں پڑا ہے سکینہ کہیں ہے غش\nگرمی کی فصل یہ تب و تاب اور یہ عطش\nرو رو کے سو گئے ہیں صغیر ان ماہ وش\nبچوں کو لے کے یاں سے کہاں جائیں فاقہ کش\nیہ کس خطا پہ تیر پیا پے برستے ہیں\nٹھنڈی ہوا کے واسطے بچے ترستے ہیں\n\nٹھے یہ شور سن کے امامِ فلک وقار\nڈیوڑھی تک آئے تک ڈھالوں کو رد کے رفیق و یار\nفرمایا مڑکے چلتے ہیں اب بہرِ کارزار\nکمریں کسو جہاد پہ منگواؤ راہوار\nدیکھیں فضا بہشت کی دل باغ باغ ہو\nامت کے کام سے کہیں جلدی فراغ ہو\n\nفرما کے یہ حرم میں گئے شاہِ بحروبر\nہونے لگیں صفوں میں کمر بندیاں ادھر\nجو شن پہن کے حضرتِ عباس نامور\nدروازے پہ ٹہلنے لگے مثلِ شیرِ نر\nپرتو سے رخ کے برق چمکتی تھی پاک پر\nتلوار ہاتھ میں تھی سپرِ دوش پاک پر\n\nشوکت میں رشک تاج سلیمان تھا خودِ سر\nکلغی پہ لاکھ بار تصدق ہما کے پر\nدستانے دونوں فتح کا مسکن ظفر کا گھر\nوہ رعب الامان وہ تہور کہ الحذر\nجب ایسا بھائی ظلم کی تیغوں میں آر ہو\nپھر کس طرح نہ بھائی کی چھاتی پہاڑ ہو\n\nخیمے میں جا کے شہ نے یہ دیکھا حرم کا حال\nچہرے تو فق ہیں اور کھلے ہیں سردوں کے بال\nزینب کی یہ دعا ہے کہ اے رب ذوالجلال\nبچ جائے اس فساد سے خیر النسا کا لال\nبانوئے نیک نام کی کھیتی ہری رہے\nصندل سے مانگ بچوں سے گودی بھری رہے\n\nآفت میں ہے مسافرِ صحرائے کربال\nبے کس پہ یہ چڑھائی ہے سید پہ یہ جفا\nغربت میں ٹھن گئی جو لڑائے تو ہوگا کیا\nان ننھے ننھے بچوں پہ کر رہ اے خدا\nفاقوں سے جاں بلب ہیں عطش سے ہلاکِ ہیں\nیارب ترے رسول کی ہم آلِ پاک ہیں\n\nسر پر نہ اب علی نہ رسولِ فلک وقار\nگھر لٹ گیا گذر گئیں خاتونِ روزگار\nاماں کے بعد روئی حصن کو میں سوگار\nدنیا میں اب حسین ہے ان سب کا یادگار\nتو داد دے مری کہ عدالت پناہ ہے\nکچھ اس پہ بن گئی تو یہ مجمع تباہ\n\nبولے قریب جا کے شہِ آسماں جناب\nمضطر نہ ہو دعائیں ہیں تم سب کی مستجاب\nمغرور ہیں خطا پہ ہیں یہ خانماں خراب\nخود جا کے میں دکھاتا ہوں ان کو رہِ صواب\nموقع بہن نہیں ابھی فریاد و آہ کا\nلاؤ تبرکات رسالت پناہ کا\n\nمعراج میں رسول نے پہنا تھا جو لباس\nکشتی میں لائیں زینب اسے شاہِ دیں کے پاس\nسر پر رکھا عمامۂ سردارِ حق شناس\nپہنی قبائے پاکِ رسول فلک اساس\nبرمیں درست و چست تھا جامہ رسول کا\nرومال فاطمہ کا عمامہ رسول کا\n\nشملے دو سرے جو پڑے تھے بصد وقار\nثابت یہ تھا کہ دوش پہ گیسو پڑے ہیں چار\nبل کھا رہا تھا زلفِ سمن بو کا تار تار\nجس کے ہر ایک مو پہ خطا و ختن نثار\nمشک و عبیر و عود اگر ہیں تو ہیچ ہیں\nسنبل پہ کیا کھلیں گے یہ گیسو کے پیچ میں\n\nکپڑوں سے آ رہی تھی رسولِ زمن کی بو\nدولھا نے سونگھی ہوگی نہ ایسی دلہن کو بی\nحیدر کی فاطمہ کی حسین و حسن کی بو\nپھیلی ہوئی تھی چار طرف پنجتن کی بو\nلٹتا تھا عطر دادیِ عنبر سرشت میں\nگل جھومتے تھے اغ میں رضواں بہشت میں\n\nپوشاک سب پہن چکے جس دم شۂ زمن\nلیکر بلائیں بھائی کی رونے لگی بہن\nچلائی ہائے آج نہیں حیدر و حسن\nاماں کہاں سے لائے تمہیں اب یہ بے وطن\nرخصت ہے اب رسول کے یوسف جمال کی\nصدقے گئی بلائیں تولو اپنے لال کی\n\nصندوق اسلحہ کے جو کھلوائے شاہ نے\nپیٹا منہ اپنا زینبِ عصمت پناہ نے\nپہنی زرہ امامِ فلک بارگاہ نے\nبازو پہ جو شنین پڑھے عزو جاہ نے\nجوہر بدن کے حسن سے سارے چمک گئے\nحلقے تھے جتنے اتنے سارے چمک گئے\n\nیاد آگئے علی نظر آئی جو ذوالفقار\nقبضے کو چوم کر شۂ دیں روئے زار زار\nتولی جو لے کے ہاتھ میں شمشیرِ آبدار\nشوکت نے دی صدا کہ تری شان کے نثار\nفتح و ظفر قریب ہو نصرت قریب ہو\nزیب اس کی تجھ کو ضرب عدو کو نصیب ہو\n\nباندھی کمر سے تیغ جو زہرا کے لال نے\nپھاڑا فلک پہ اپنا گریباں ہلال نے\nدستانے پہنے سرورِ قدسی خصال نے\nمعراج پائی دوش پہ حمزہ کی ڈھال نے\nرتبہ بلند تھا کہ سعادت نشان تھی\nساری سپر میں مہر نبوت کی شان تھی\n\nہتھیار ادھر لگا چکے آقائے خاص و عام\nتیار ادھر ہوا علم سید انام\nکھولے سروں کو گرد تھی سیدانیاں تمام\nروتی تھی تھامے چوب علم خواہرِ امام\nتیغیں کمر میں دوش پہ شملے پڑے ہوئے\nزینب کے لال زیر علم آکھڑے ہوئے\n\nگردانے دامنوں کو قبا کے وہ گل عذار\nمرفق تک آشینوں کو الٹے بصد و قار\nجعفر کا رعب دبدبۂ شیر کردگار\nبوٹے سے ان کے قد پہ نمودار و نامدار\nآنکھیں ملٰن علم کے پھریرے کو چوم کے\nرایت کے گرد پھرنے لگے جھوم جھوم کے\n\nگہ ماں کو دیکھتے تھے گہ جانبِ علم\nنعرہ کبھی یہ تھا کہ نثارِ شۂ امم\nکرتے تھے دونوں بھائی کبھی مشورے بہم\nآہستہ پوچھتے کبھی ماں سے وہ ذی حشم\nکیا قصد ہے علی ولی کے نشان کا\nاماں کسے ملے گا علم نانا جان کا\n\nکچھ مشورہ کریں جو شہنشاہ خوش خصال\nہم بھی محق ہیں آپ کو اس کار ہے خیال\nپاس ادب سے عرض کی ہم کو نہیں مجال\nاس کا بھی خوف ہے کہ نہ ہو آپ کو ملال\nآقا کے ہم غلام ہیں اور جانثار ہیں\nعزت طلب ہیں نام کے امیدوار ہیں\n\nبے مثل تھے رسول کے لشکر کے سب جواں\nلیکن ہمارے جسد کو نبی نے دیا نشاں\nخیبر میں دیکھتا رہا منہ لشکرِ گراں\nپایا علم علی نے مگر وقتِ امتحاں\nطاقت میں کچھ کمی نہیں گو بھوکے پیاسے ہیں\nپوتے انہیں کے ہم ہیں انہیں کے نواسے ہیں\n\nزینب نے تب کہا تمہیں اس سے کیا ہے کام\nکیا دخل مجھ کو مالک و مختار ہیں امام\nدیکھو نہ کیجو بے ادبانہ کوئی کلام\nبگڑوں گی میں جو لوگے ظلم کا زباں سے نام\nلو جاؤ بس کھڑے ہو الگ ہاتھ جوڑ کے\nکیوں آئے ہو یہاں علی اکبر کو چھوڑ کے\n\nسر کو، ہٹو، بڑھو، نہ کھڑے ہو علم کے پاس\nایسا نہ ہو کہ دیکھ لیں شاہ فلک اساس\nکھوتے ہو اور آئے ہو تم مرے حواس\nبس قابل قبول نہیں ہے یہ التماس\nرونے لگوگے تم جو برا یا بھلا کہوں\nاس ضد کو بچنے کے سوا اور کیا کہوں\n\nعمریں قلیل اور ہوس منصب جلیل\nاچھا نکالو قد کے بھی بڑھنے کی کچھ سبیل\nماں صدقے جائے گرچہ یہ ہمت کی ہے دلیل\nہاں اپنے ہم سنوں میں تمہارا نہیں عدیل\nلازم ہے سوچے غور کرے پیش و پس کرے\nجو ہو سکے نہ کیوں بشر اس کی ہوس کرے\n\nان ننھے منھے ہاتھوں سے اٹھے گا یہ علم\nچھوٹے قدوں میں سب سے سنوں میں سبھوں سے کم\nنکلیں تنوں سے سبط نبی کے قدم پہ قدم\nعہدہ یہی ہے بس یہی منصب یہ حشم\nرخصت طلب اگر ہو تو یہ میرا کام ہے\nماں صدقے جائے آج تو مرنے میں نام ہے\n\nپھر تم کو کیا بزرگ تھے گر فخرِ روزگار\nزیبا نہیں ہے جو وصفِ اضافی افتخار\nجو ہر وہ ہیں جو تیغ کرے آپ آشکار\nدکھلا دو آج حیدر و جعفر کی کارزار\nتم کیوں کہو کہ لالہ خدا کے ولی کے ہیں\nفوجیں پکاریں خود کہ نواسے علی کے ہیں\n\nکیا کچھ علم سے جعفر طیار کا تھا نام\nیہ بھی تھی اک عطائے رسول فلک مقام\nبگڑی لڑائیوں میں بن آئے انہیں سے کام\nجب کھینچتے تھے تیغ تو ہلتا تھا روم و شام\nبے جاں ہوئے تو نخل وغانے ثمر دیے\nہاتھوں بدلے حق نے جواہر کے پردے\n\nلشکر نے تین روز ہزیمت اٹھائی جب\nبخشا علم رسول خدا نے علی کو تب\nمرحب کو قتل کرکے بڑھا جب وہ شیر رب\nدربند کرکے قلعہ کا بھاگی سپاہ سب\nاکھڑا وہ یوں گراں تھا جودر سنگِ سخت سے\nجس طرح توڑ لے کوئی پتا درخت سے\n\nنرغے میں تین دن سے ہے مشکل کشا کا لال\nاماں کا باغ ہوتا ہے جنگل میں پائمال\nپوچھا نہ یہ کہ کھولے ہیں تم نے سر کے بال\nمیں لٹ رہی ہوں اور تمہیں منصب کا ہے خیال\nغم خوار تم مرے ہو نہ عاشق امام کے\nمعلوم ہو گیا مجھے طالب ہو نام کے\n\nہاتھوں کو جوڑ جوڑ کے بولے وہ لالہ فام\nغصے کو آپ تما لیں اے خواہر امام\nواللہ کیا مجال جواب لین علم کا نام\nکھل جائے گا لڑیں گے جو یہ با وفا غلام\nفوجیں بھگا کے گنجِ شہیداں میں سوئیں گے\nتب قدر ہوگی آپ کو جب ہم نہ ہوئیں گے\n\nیہ کہہ کے بس ہٹے جو سعادت نشاں پسر\nچھاتی بھر آئی ماں نے کہا تھا کہ جگر\nدیتے ہو اپنے مرنے کی پایرو مجھے خبر\nٹھہرو ذرا بلائیں تو لے لے یہ نوحہ گر\nکیا صدقے جاؤں ماں کی نصیحت بری لگی\nبچو یہ کیا کہا کہ جگر پر چھری لگی\n\nزینب کے پاس آکے یہ بولے شۂ زمن\nکیوں تم نے دونوں بیٹوں کو باتیں سنیں بہن\nشیروں کے شیر عاقل و جرار و صف شکن\nزینب وحید عصر ہیں دونوں یہ گل بدن\nیوں دیکھنے کو سب میں بزرگوں کے طور ہیں\nتیور ہی ان کے اور ارادے ہی اور ہیں\n\nنو دس برس کے سن یہ جرأت یہ ولولے\nبچے کسی نے دیکھے ہیں ایسے بھی من چلے\nاقبال کیونکہ ار کے نہ قدموں سے منہ ملے\nکس گود میں بڑے ہوئے کس دودھ سے پلے\nبے شک یہ ورثہ دارِ جنابِ امیر ہیں\nپر کیا کہوں کہ دونوں کی عمریں صغیر ہیں\n\nاب تم جسے کہو اسے دیں فوج کا علم\nکی عرض جو صلاح شۂ آسماں حشم\nفرمایا جب سے اٹھ گئیں زہرائے باکرم\nاس دن سے تم کو ماں کی جگہ جانتے ہیں ہم\nمالک ہو تم بزرگ کوئی ہو کہ خرد ہو\nجس کہو اسی کو یہ عہدہ سپرد ہو\n\nبولیں بہن کہپ آپ بھی تولیں کسی کا نام\nہے کس طرف توجہ سردار خاص و عام\nگر مجھ سے پوچھتے ہیں شۂ آسماں مقام\nقرآں کے بعد ہے تو ہے بس آپ کا کلام\nشوکت میں قد میں شان میں ہم کسر کوئی نہیں\nعباس نام دار سے بہتر کوئی نہیں\n\nعاشق غلام خادمِ دیرینہ جاں نثار\nفرزند بھائی زینتِ پہلو وفا شعار\nجرار یادگارِ پدر فخر روزگار\nراحت رساں مطیع نمودار نام دار\nصفدر ہے شیر دل ہے بہادر ہے نیک ہے\nبے مثل سیکڑوں میں ہزاروں میں ایک ہے\n\nآنکھوں میں اشک بھر کے یہ بولے شہ رمن\nہاں تھی یہی علی کی وصیت ابھی اے بہن\nاچھا بلائیں آپ کدھر ہے وہ صف شکن\nاکبر چچا کے پاس گئے سن کے یہ سخن\nکی عرض انتظار ہے شاہِ غیور کو\nچلیے پھوپھی نے یاد کیا ہے حضور کو\n\nعباس آئے ہاتھوں کو جوڑے حضورِ شاہ\nجاؤ بہن کے پاس یہ بولا وہ دیں پناہ\nزینب وہیں علم لیے آئیں بہ عزو جاہ\nبولے نشاں کے لے کے شۂ عرش بارگاہ\nان کی خوشی وہ ہے جو رضا پنجتن کی ہے\nلو بھائی لو علم پہ عنایت بہن کی ہے\n\nرکھ کر علم پہ ہاتھ جھکا وہ فلک وقار\nہمشیر کے قدم پہ ملا منہ بہ افتخار\nزینب بلائیں لے کے یہ بولیں کہ میں نثار\nعباس فاطمہ کی کمائی سے ہوشیار\nہو جائے آج صلح کی صورت تو کل چلو\nان آفتوں سے بھائی کو لے کر نکل چلو\n\nکی عرض میرے جس پہ جس وقت تک ہے سر\nممکن نہیں ہے یہہ کہ بڑے فوج بد گہر\nتیغیں کھنچیں جو لاکھ تو سینہ کروں سپر\nدیکھیں اٹھا کے آنکھ یہ کیا تاب کیا جگر\nساونت ہیں پسر اسدِ ذوالجلال کے\nگر شیر ہو تو پھینک دیں آنکھیں نکال کے\n\nمنہ کر کے سوئے قبرِ علی پھر کیا خطاب\nذرے کو آج کردیا مولا نے آفتاب\nیہ عرض خاکسار کی ہے یا ابوتراب\nآقا کے آگے میں ہوں شہادت سے کامیاب\nسر تن سے ابنِ فاطمہ کے رو برو گرے\nشپیر کے پسینے پہ میرا لہو گرے\n\nیہ سن کے آئی زوجہ عباس نامور\nشوہر کی سمت پہلے کنکھیوں سے کی نظر\nلیں سبط مصطفیٰ کی بلائین بچشمِ تر\nزینب کے گرد پھر کے یہ بولی وہ نوحہ گر\nفیض آپ کا ہے اور تصدق امام کا\nعزت بڑھی کنیز کی رتبہ غلام کا\n\nسر کو لگا کے چھاتی زینب نے یہ کہا\nتو اپنی مانگ کوکھ سے ٹھنڈی رہے سدا\nکی عرض مجھ سے لاکھ کنیزیں تو ہوں فد\nبانوے نامور کہ سہاگن رکھے خدا\nبچے جییں ترقیِ اقبال و جاہ ہو\nسائے میں آپ کے علی اکبر کا بیاہ ہو\n\nقسمت وطن میں خیر سے پھر شہ کو لے کے جاہ\nیہ شرب میں شور ہو کہ سفر سے حسین آئے\nام البنین جاہ و حشم سے پسر کو پائے\nجلدی شبِ عروسیِ اکبر خدا دکھائے\nمہندی تمہارا لال ملے ہاتھ پاؤں میں\nلاؤ دلہن کو بیاہ کے تاروں کی چھاؤں میں\n\nناگاہ آ کے بالی سکینہ نے یہ کہا\nکیسا ہے یہ ہجوم کدھر ہیں مرے چچا\nعہدہ علم کا ان کو مبارک کرے خدا\nلوگو مجھے بلائیں تو لینے دوا اک ذرا\nشوقت خدا بڑھائے مرے عمو جان کی\nمیں بھی تو دیکھوں شان علی کے نشان کی\n\nعباس مسکراکے پکارے کہ آؤ آؤ\nعمو نچار پیاس سے کیا حال ہے بتاؤ\nبولی لپٹ کے وہ کہ مری مشک لیتے جاؤ\nاب تو علم ملا تمہیں پانی مجھے پلاؤ\nتحفہ کوئی نہ دیجیے نہ انعام دیجیے\nقربان جاؤں پانی کا جام دیجیے\n\nفرمایا آپ نے کہ نہیں فکر کا مقام\nباتوں پہ اس کی روتی تھیں سیدانیاں تمام\nکی عرض آکے ابنِ حسن نے کہ یا امام\nانبوہ ہے بڑھی چلی آتی ہے فوجِ شام\nعباس اب علم لیے باہر نکلتے ہیں\nٹھہرو بہن سے مل کے لگے ہم بھی چلتے ہیں\n\nناگہ بڑھے علم لیے عباس باوفا\nدوڑے سب اہلِ بیت کھلے سربرہنہ پا\nحضرت نے ہاتھ اٹھا کے یہ اک ایک سے کہا\nلو الوداع اے حرم پاک مصطفی\nصبحِ شبِ فراق ہے پیاروں کو دیکھ لو\nسب مل کے ڈوبت ہوئے تاروں کو دیکھ لو\n\nشہ کے قدم پہ زینبِ زار و حزیں گری\nبانو بچھاڑ کھا کے پسر کے قریں گری\nکلثوم تھرتھرا کے بروئے زمیں گری\nباقر کہیں گرا تو سکینہ کہیں گری\nاجڑا چمن ہر اک گلِ تازہ نکل گیا\nنکلا علم کہ گھر سے جنازہ نکل گیا\n\nدیکھی جو شانِ حضرتِ عباس عرش جاہ\nآگے بڑھی علم کے پس از تہنیت سپاہ\nنکلا حرم سرا سے دو عالم کا بادشاہ\nنشتر بلد تھی بنت علی کی فغا و آہ\nرہ رہ کے اشک بہتے تھے روئے جناب سے\nشبنم ٹپک رہی تی گل آفتاب سے\n\nمولا چڑھے فرس پہ محمد کی شان سے\nترکش لگایا ہرے نے پہ کس آن بان سے\nنکلا یہ جن و انس و ملک کی زبان سے\nاترا ہے پھر زمیں پہ براق آسمان سے\nسارا چلن خرام میں کبک روی کا ہے\nگھونگھٹ نئی دلہن کا ہے چہرہ پری کا ہے\n\nغصے میں انکھڑیوں کے ابلنے کو دیکھیے\nجو بن میں جھوم جھوم کے چلنے کو دیکھیے\nسانچے میں جوڑ بند کے ڈھنلنے کو دیکھیے\nتم کر کنوتیوں کے بدلنے کو دیکھیے\nگردن میں ڈالے ہاتھ یہ پریوں کو شوق ہے\nبالا ودی میں اس کو ہما پر بھی فوق ہے\n\nتھم کر ہوا چلی فرسِ خوش قدم بڑھا\nجوں جوں وہ سوئے دشتِ بڑھا اور دم بڑھا\nگھوڑوں کی لیں سواروں نے باگیں علم بڑھا\nرایت بڑھا کہ سروِ ریاضِ ارم بڑھا\nپھولوں کو لے کے بادِ بہاری پہونچ گئی\nبستانِ کربلا میں سواری پہونچ گئی\n\nپنجہ ادھر چمکتا تھا اور آفتاب ادھر\nآس کی ضیا تھی خاک پہ ضو اس کی عرش پر\nزر ریزی علم پہ ٹھہرتی نہ تھی نظر\nدولھا کا رخ تھا سونے کے سہرے میں جلوہ گر\nتھے دو طرف جو دو علم اس ارتقاع کے\nالجھے ہوئے تھے تار خطوطِ شعاع کے\n\nاللہ ری سپاہ خدا کی شکوہ و شاں\nجھکنے لگے جنود ضلالت کے بھی نشاں\nکمریں کسے علم کے تلے ہاشمی جواں\nدنیا کی زیبِ دین کی عزت جہاں کی جاں\nایک ایک دود ماں علی کا چراغ تھا\nجس کی بہشت پر تھا تفوق و باغ تھا\n\nلڑکے وہ سات آٹھ سہی قد سمن عذار\nگیسو کسی کے چہرے پہ دو اور کسی کے چار\nحیدر کا رعب نرگسی آنکھوں سے آشکار\nکھیلیں جو نیمچوں سے کریں شیر کا شکار\nنیزوں کے سمت چاند سے سینے تنے ہوئے\nآئے تھے عیدگاہ میں دولھا بنے ہوئے\n\nغرفوں سے حوریں دیکھ کے کرتی تھیں یہ کلام\nدنیا کا باغ بھی ہے عجب پرفضا مقام\nدیکھو درود پڑھ کے سوئے لشکرِ امام\nہم شکلِ مصطفی ہے یہی عرش اختتام\nرایت لیے وہ لال خدا کے ولی کا ہے\nاب تک جہاں میں ساتھ نبی و علی کا ہے\n\nدنیا سے اٹھ گئے تھے جو پیغمبرِ زماں\nہم جانتے تھے حسن سے خالی ہے اب جہاں\nکیونکر سوئے زمیں نہ جھکے پیر آسماں\nپیدا کیا ہے حق نے عجب حسن کا جواں\nسب خوبیوں کا خاتمہ بس اس حسیں پہ ہے\nمحبوب حق ہیں عرش پہ سایہ زمیں پہ ہے\n\nناگاہ تیر ادھر سے چلے جانب، امام\nنعرے کیے کہ خوف سے ہلنے لگی زمیں\nنکلے ادھر سے شہ کے رفیقانِ تشنہ کام\nبے سر ہوئے پرون میں سر ان سپاہ شام\nبالا کبھی تھی تیغ کبھی زیر تنگ تھی\nایک اک کی جنگ مالک اشتر کی جنگ تھی\n\nنکلے پے جہاد عزیزانِ شاہِ دیں\nنعرے کیے کہ خوف سے ہلنے لگی زمیں\nروباہ کی صفوں پہ چلے شیر خشم گیں\nکھینچی جو تیغ بھول گئے صف کشی لعیں\nبجلی گری پروں پہ شمال و جنوب کے\nکیا کیا لڑے ہیں شام کے بادل میں ڈوب کے\n\nاللہ رے علی کے نواسوں کی کارزار\nدونوں کے نیچے تھے کہ چلتی تھی ذوالفقار\nشانہ کٹا کسی نے جو روکا سپر پہ دار\nگنتی تھی زخمیوں کی نہ کشتوں کا کچھ شمار\nاتنے سوار قتل کیے تھوڑی دیر میں\nدونوں کے گھوڑے چھپ گئے لاشوں کے ڈھیر میں\n\nوہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ وہ گوری کلائیاں\nآفت کی پھرتیاں تھیں غضب کی صفائیاں\nڈر ڈر کے کاٹتے تھے کہاں کش کنائیاں\nفوجوں میں تھیں نبی و علی کی دہائیاں\nشوکت ہو ہوتھی جنابِ امیر کی\nطاقت دکھا دی شیروں نے زینب کے شیر کی\n\nکس حسن س حسن کا جوانِ حسیں لڑا\nگھر گھر کے صورت اسد خشم گیں لڑا\nوہ دن کی بھول پیاس میں وہ مہ جبیں لڑا\nسہرا الٹ کے یوں کوئی دولھا نہیں لڑا\nحملے دکھادیے اسدِ کردگار کے\nمقتل میں سوئے ازرق شامی کو مار کے\n\nچمکی جو تیغِ حضرت عباس عرش جاہ\nروح الامیں پکارکے اللہ کی پناہ\nڈھالوں میں چھپ گیا پسرِ سعد روسیاہ\nکشتوں سے بند ہو گی امن و اماں کی راہ\nچھٹا جو شیر شوق میں دریا کی سیر کے\nلے لی ترائی تیغوں کی موجوں میں تیر کے\n\nبے سر ہوئے موکلِ چشمہ فرات\nہل چل میں مثلِ موج صفوں کو نہ تھا ثبات\nدریا مین گر کے فوت ہوئے کتنے بد صفات\nگویا حباب ہو گئے تھے نقطۂ نبات\nعباس بھر کے مشک کو یاں تشنہ لب لڑے\nجس طرح نہر واں میں امیرِ عرب لڑے\n\nآفت بھی حرب و ضرب علی اکبر دلیر\nغصے میں جھپٹے صید پہ جیسے گرسنہ شیر\nسب سر بلند پست زبردست سب تھے زیر\nجنگل میں چار سمت ہوئے زخمیوں کے دھیر\nسر ان کے اترے تن سے جو تھے رن چڑھے ہوئے\nعباس سے بھی جنگ میں کچھ تھے بڑھے ہوئے\n\nتلواریں برسیں صبح سے نصف النہار تک\nہلتی رہی زمین لرزتے رہے فلک\nکانپا کیے پروں کو سمیٹے ہوئے ملک\nنعرے نہ پھیر وہ تھے نہ وہ تیغوں کی تھی چمک\nڈھالوں کا دور برچھیوں کا اوج ہوگیا\nہنگامِ ظہر خاتمہ فوج ہوگیا\n\nلاشے سبھوں کے سبطِ نبی خود اٹھا کے لائے\nقاتل کسی شہید کا سر کاٹنے نہ پائے\nدشمن کو بھی نہ دوست کی فرقت خدا دکھائے\nفرماتے تھے بچھڑ گئے سب ہم سے ہائے ہائے\nاتنے پہاڑ گر پڑیں جس پر وہ خم نہ ہو\nگر سو برس جیوں تو یہ مجمع بہم نہ ہو\n\nلاشے تو سب کے گرد تھے اور بیچ میں امام\nڈوبی ہوئی تھی خوں میں نبی کی قبا تمام\nافسردہ و حزیں و پریشان و تشنہ کام\nبرچھی تھی دل کو فتح کے باجوں کی دھوم دھام\nاعدا کسی شہید کا جب نام لیتے تھے\nتھرا کے دونوں ہاتھوں سے دل تھام لیتے تھے\n\nپوچھو اسی سے جس کے جگر پر ہوں اتنے داغ\nاک عمر کا ریاض تھا جس پر لٹا وہ باغ\nفرصت نہ اب بکا سے ہے فراغ\nجو گھر کی روشنی تھے وہ گل ہو گئے چراغ\nپڑتی تھی دھوپ سب کے تنِ پاش پاش پر\nچادر بھی اک نہ تھی علی اکبر کی لاش پر\n\nمقتل سے آئے خیمہ کے در پر شہ زمین\nپر شدِ عطش سے نہ تھی طاقتِ سخن\nپردے پہ ہاتھ رکھ کے پکارے بصد محن\nاصغر کو گاہوارے سے لے آئے اے بہن\nپھر ایک بار اس مہ انور کو دیکھ لیں\nاکبر کے شیرخوار برادر کو دیکھ لیں\n\nخیمے سے دوڑے آل پیمبر برہنہ سر\nاصغر کو لائیں ہاتھوں پہ بانئے نوحہ گر\nبچے کو لے کے بیٹھ گئے آپ خاک پر\nمنہ سے ملے جو ہونٹ تو چونکا وہ سیم بر\nغم کی چری چلی جگرِ چاک چاک پر\nبٹھلا لیا حسین نے زانوئے پاک پر\n\nبچے سے ملتفت تھے شۂ آسماں سریر\nتھا اس طرف کمیں میں بن کا بل شریر\nمارا جو تین بھال کا اس بے حیا نے تیر\nبس دفعتاً نشانہ ہوئی گردنِ صغیر\nتڑپا جو شیرخوار تو حضرت نے آہ کی\nمعصوم ذبح ہو گیا گودی میں شاہ کی\n\nجس دم تڑپ کے مر گیا وہ طفلِ شیر خوار\nچھوٹی سی قبر تیغ سے کھودی بحالِ زار\nبچے کو دفن کرکے پکارا وہ ذی وقار\nاے خاکِ پاک حرمتِ مہماں نگاہ دار\nدامن میں رکھ اسے جو محبت علی کی ہے\nدولت ہے فاطمہ کی امانت علی کی ہے\n\nیہ کہہ کے آئے فوج پہ تولے ہوئے حسام\nآنکھیں لہو تھیں رونے سے چہرہ تھا سرخ فام\nزیبِ بدن گئے تھے بصد عزو احتشام\nپیراہنِ مطہر پیغمبر انام\nحمزہ کی ڈھال تیغِ شۂ لافتا کی تھی\nبرمیں زرہ جناب رسول خدا کی تھی\n\nرستم تھا درع پوش کہ پاکھر میں راہوار\nجرار بردبار سبک رو وفا شعار\nکیا خوشمنا تھا زیں طلا کار و نقرہ کار\nاکسیر تھا قدم کا جسے مل گیا غبار\nخوش خو تھا خانہ زاد تھا دلد نژاد تھا\nشپیر بھی سخی تھے فرس بھی جواد تھا\n\nگرمی کا روزِ جنگ کی کیونکر کروں بیاں\nڈر ہے کہ مثلِ شمع نہ جلنے لگے زباں\nوہ لوں کہ الحذر وہ حرارت کہ الاماں\nرن کی زمیں تو سرخ تی اور زرد آسماں\nآبِ خنک کی خلق ترستی تھی خاک پر\nگویا ہوا سے آگ برستی تھی خاک پر\n\nوہ دونوں وہ آفتاب کی حدت وہ تاب و تب\nکالا تھا رنگ دھوپ دن کا مثالِ شب\nخود نہرِ حلقہ کے سبھی سوکھے ہوئے تھے لب\nخیمے تھے جو حبابوں کے تپتے تھے سب کے سب\nاڑتی تھی خاک خشک تھا چشمہ حیات کا\nکھولا ہوا تھا دھوپ سے پانی فرات کا\n\nجھیلوں سے چارپائے نہ اٹھتے تھے تابہ شام\nمسکن میں مچھلیوں کے سمندر کا تھا مقام\nآہو جو کاہلے تھے تو چیتے سیاہ فام\nپتھر پگھل کے رہ گئے تھے مثلِ مومِ خام\nسرخی اڑی تھی پھولوں سے سبزہ گیاہ سے\nپانی کنوؤں میں اترا تھا سائے کی چاہ سے\n\nکوسوں کسی شجر میں نہ گل تھے نہ برگ و بار\nایک ایک نخل جل رہا تھا صورتِ چنار\nہنستا تھا کوئی گل نہ مہکتا تھا سبزہ زار\nکانٹا ہوئی تھی پھول کی ہر شاخ باردار\nگرمی یہ تھی کی زیست سے دل سب کے سرد تھے\nپتے بھی مثل چہرۂ مدقوق زرد تھے\n\nآبِ رواں سے منہ نہ اٹھاتے تھے جانور\nجنگل میں چھپتے پھرتے طائر ادھر ادھر\nمردم تھی سات پروں کے اندر عرق میں تر\nخسخانۂ مژہ سے نکلتی نہ تھی نظر\nگرچشم سے نکل کے ٹھہر جائے راہ میں\nپڑ جائیں لاکھوں آبلے پائے نگاہ میں\n\nشیر اٹھتے تھے نہ دھوپ کے مارے کچھار سے\nآہو نہ منہ نکالتے تھے سبزہ زار سے\nآئینہ مہر کا تھا مکدر غبار سے\nگردوں کو تپ چڑھی تھی زمیں کے بخار سے\nگرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پر\nبھن جاتا تھا جو گرتا تھا دانہ زمین پر\n\nگرداب پر تھا شعلۂ جوالہ کا گماں\nانگارے تھے حباب تو پانی شرر فشاں\nمنہ سے نکل پڑی تھی ہر اک موج کی زباں\nتہ پہ تھے سب نہنگ مگر تھی بسوں پہ جال\nپانی تھا آگ گرمئ روزِ حساب تھی\nماہی جو سیخ موج تک آئی کباب تھی\n\nآئینہ فلک کو نہ تھی تاب تب کی تاب\nچھپنے کو برق چاہتی تھی دامنِ سحاب\nسب سے ہوا تھا گرم مزاجوں کو اضطراب\nکافورِ صبح ڈھونڈھتا پھرتا تھا آفتاب\nبھڑکی تھی آگ گنبد چرخِ اثیر میں\nبادل چھپے تھے سب کرہ زمہریر میں\n\nاس دھوپ میں کھڑے تھے اکیلے شہ امم\nنے دامن رسول تھانے سایۂ علم\nشعلے جگر سے آہ کے اٹھتے تھے دمبدم\nاودے تھے لب زبان میں کانٹے کمر میں خم\nبے آپ تیسرا تھا جو دن میہمان کو\nہوتی تھی بات بات میں لکنت زبان کو\n\nگھوڑوں کو اپنے کرتے تھے سیراب سب سوار\nآتے تھے اونٹ گھاٹ پہ باندھے ہوئے قطار\nپیتے تھے آبِ نہر پرند آکے بے شمار\nسقے زمیں پہ کرتے تھے چھڑکاؤ بار بار\nپانی کا دام و دد کو پلانا ثواب تھا\nاک ابن فاطمہ کے لیے قحطِ آب تھا\n\nسر پر لگائے تھا پسرِ سعد چتر زر\nخادم کئی تھے مروحہ جنباں ادھر ادھر\nکرتے تھے آب پاش مکرر زمیں کو تر\nفرزندِ فاطمہ پہ نہ تھا سایۂ شجر\nوہ دھوپ دشت کی وہ جلال آفتاب کا\nسونلا گیا تھا رنگ مبارک جناب کا\n\nکہتا تھا ابنِ سعد کہ اے آسماں جناب\nبیعت جو کیجیے اب بھی تو حاضر ہے جامِ آب\nفرماتے تھے حسین کہ اد خانماں خراب\nدریا کو خاک جانتا ہے ابنِ بوتراب\nفاسق ہے پاس کچھ تجھے اسلام کا نہیں\nآبِ بقا ہو یہ تو مرے کام کا نہیں\n\nکہہ دوں تو خوان لے کے خود آئیں ابھی خلیل\nچاہوں تو سلسبیل کو دم میں کروں سبیل\nکیا جام آب کا تو مجھے دے گا اور ذلیل\nبے آبرو خسیس ستمگردنی بخیل\nجس پھول پر پڑے ترا سایہ وہ بو نہ دے\nکھلوائے فصد تو تو یا کبھی رگ لہو نہ دے\n\nگر جم کا نام لوں تو ابی جام لے کے آئے\nکوثر یہیں رسول کا احکام لے کے آئے\nروح الامیں زمیں پہ مرا نام لے کے آئے\nلشکر ملک کا فتح کا پیغام لے کے آئے\nچاہوں جو انقلاب تو دنیا تمام ہو\nالٹے زمین یوں کہ نہ کوفہ نہ شام ہو\n\nفرما کے یہ نگاہ جو کی سوے ذوالفقار\nتھرا کے پچھلے پانوں ہٹا وہ ستم شعار\nمظلوم پر صفوں سے چلے تیر بے شمار\nآواز کوسِ حرب ہوئی آسماں کے پار\nنیزے اٹھا کے جنگ پہ اسوار تل گئے\nکالے نشان فوجِ سیہ رو کے کھل گئے\n\nوہ دھوم طبلِ جنگ کی وہ بوق کا خروش\nکر ہو گئے تھے شور سے کرد بیوں کے گوش\nتھرائی یوں زمیں کہ اڑے آسماں کے ہوش\nنیزے سے بلا کے نکلے سوار ان درع پوش\nڈھالیں تھیں یوں سروں پہ سوار ان شوم کے\nصحرا میں جیسے آئے گھٹا جھوم جھوم کے\n\nلو پڑھ کے چند شعرِ جز شاہ دیں بڑھے\nگیتی کے تھام لینے کو روح الامیں بڑھے\nمانندِ شیرِ نہ کہیں ٹھہرے کہیں بڑھے\nگویا علی الٹے ہوئے آستیں بڑھے\nجلوہ دیا جری نے عروسِ مصاف کو\nمشکل کشا کی تیغ نے چھوڑا غلاف کو\n\nکاٹھی سے اس طرح ہوئی وہ شعلہ خو جدا\nجیسے کنارِ شوق س ہو خوب رو جدا\nمہتاب سے شعاع جدا گل سے بو جدا\nسینے سے دم جدا رگِ جاں سے لہو جدا\nگرجا جو رعد ابر سے بجلی نکل پڑی\nمحمل میں دم جو گھٹ گیا لیلیٰ نکل پڑی\n\nآئے حسین یوں کہ عقاب آئے جس طرح\nآہو پہ شیرِ شہ زہ غاب آئے جس طرح\nتابندہ برق سوئے سحاب آئے جس طرح\nدوڑا فرس نشیب میں آب آئے جس طرح\nیوں تیغِ تیز کوند گئی اس گروہ پر\nبجلی تڑپ کے گرتی ہے جس طرح کوہ پر\n\nگرمی میں تیغ برق جو چمکی شرر اڑے\nجھونکا چلا ہوا کا جس سن سے تو سر اڑے\nپرکالۂ سپر جو ادھر اور ادھر اڑے\nروح الامیں نے صاف یہ جانا کہ پر اڑے\nظاہر نشان اسم عزیمت اثر ہوئے\nجن پر علی لکھا تھا وہی پر سپر ہوئے\n\nجس پر چلی وہ تیغ دو پارا کیا اسے\nکھینچتے ہی چار ٹکڑے دوبارا کیا کیا\nواں تھی جدھر اجل نے اشارا کیا اسے\nسختی بھی کچھ پڑی تو گوارا کیا اسے\nنے زین تھا فرس پہ نہ اسوار زین پر\nکڑیاں زرہ کی بکھری ہوئی تھیں زمین پر\n\nآئی چمک کے غول پہ جب سر گرا گئی\nدم میں جمی صفوں کو برابر گرا گئی\nایک ایک فقر تن کو زمین پر گرا گئی\nسیل آئی زور شور سے جب گھر گرا گئی\nآپہونچا اس کے گھاٹ پہ جو مرکے رہ گیا\nدریا لہو کا تیغ کے پانی سے بہ گیا\n\nیہ آبرو یہ شعلہ فشانی خدا کی شاں\nپانی میں آگ آگ میں پانی خدا کی شاں\nخاموش اور تیز زبانی خدا کی شاں\nاستادہ آب میں یہ روانی خدا کی شاں\nلہرائی جب اتر گیا دریا بڑھا ہوا\nلہرائی جب اتر گیا دریا بڑھا ہوا\nنیزوں تھا ذوالفقار کا پانی چڑھا ہوا\n\nقلب و جناح میمہ و میسرا تباہ\nگردن کشانِ امت خیر الور تباہ\nجنباں زمیں صفیں تہ و بالا پر اتباہ\nبے جان جسم روحِ مسافر سرا تباہ\nبازار بند ہو گئے اکھڑ گئے\nفوجیں ہوئی تباہ محلے اجڑ گئے\n\nاللہ ری تیزی و برش اس شعلہ رنگ کی\nچمکی سوار پر تو خبر لائی تنگ کی\nپیاسی فقط لہو کی طلب گار جنگ کی\nحاجت نہ سان کی تی اسے اور نہ سنگ کی\nخوں سے فلک کو لاشوں سے مقتل کو بھرتی تھی\nسو بار روم میں چرخ پہ چڑھتی اترتی تھی\n\nتیغِ خزاں تھی گلشنِ ہستی سے کیا اسے\nگھر جس خود اجڑ گیا بستی سے کیا اسے\nوہ حق نما تھی کفر پرستی سے کیا اسے\nجو آپ سر بلند ہو پستی سے کیا اسے\nکہتے ہیں راستی جسے وہ خم کے ساتھ ہے\nتیزی زبان کے ساتھ برش دم کے ساتھ\n\nسینے پہ چل گئی تو کلیجہ لہوا ہوا\nگویا جگر میں موت کا ناخن فرد ہوا\nچمکی تو الامان کا غل چار سو ہوا\nجو اس کے منہ پہ آگیا بے آبرو ہوا\nرکتا تھا ایک وار نہ دس سے نہ پانچ سے\nچہرے سیاہ ہو گئے تھے اس کی آنچ سے\n\nبچھ بچھ گئیں صفوں پہ صفیں وہ جہاں چلی\nچمکی تو اس طرف ادھر آئی وہاں چلی\nدونوں طرف کی فوج پکاری کہاں چلی\nاس نے کہا یہاں وہ پکارا وہاں چلی\nمنہ کس طرف ہے تیغ زنوں کو خبر نہ تھی\nسرگر رہے تھے اور تنوں کو خبر نہ تھی\n\nدشمن جو گھاٹ پر تھے وہ دھوتے تھے جاں سے ہاتھ\nگردن سے سر الگ تھا جدا تھے نشاں سے ہاتھ\nتوڑا کببھی جگر کبھی چھیدا سناں سے ہاتھ\nجب کٹ کے گر پڑیں تو پھر آئیں کہاں سے ہاتھ\nاب ہاتھ دستیاب نہیں منہ چھپانے کو\nہاں پاؤں رہ گئے ہیں فقط بھاگ جانے کو\n\nاللہ رے خوفِ تیغ شہ کائنات کا\nزہرہ تھا آب خوف کے مارے فرات کا\nدریا پہ حال یہ تھا ہر اک بد صفارت کا\nچارہ فرار کا تھا نہ یارا ثبات کا\nغل تھا کہ برق گرتی ہے ہر درع پوش پر\nبھاگو خدا کے قہر کا دریا ہے جوش پر\n\nہر چند مچھلیاں تھیں زرہ پوش سربسر\nمنہ کھولے چھپی پھرتی تھیں لیکن ادھر ادھر\nبھاگی تھی موج چھوڑ کے گرداب کی سپر\nتھے تہ نشیں نہنگ مگر آب تھے جگر\nدریا نہ تھمتا خوف سے اس برق تاب کے\nلیکن پڑے تھے پاؤں میں چھالے حباب کے\n\nآیا خدا کا قہر جدرھ سن سے آگئی\nکانوں میں الاماں کی صدا رن سے آگئی\nدو کرکے خود زین پہ جو شن سے آگئی\nکھنچتی ہوئی زمین پہ تو سن سے آگئی\nبجلی گری جو خاک پہ تیغِ جناب کی\nآی صدا زمین س یا بوتراب کی\n\nپس پس کے کشمکش سے کماندار مر گئے\nچلے تو سب چڑھے رہے بازو اتر گئے\nگوشے کٹے کمانوں کے تیروں کے پر گئے\nمقتل میں ہو سکا نہ گذرا گذر گئے\nدہشت سے ہوش اڑ گئے تھے مرغِ وہم کے\nسوفار کھول دیتے تھے منہ سہم سہم کے\n\nتیر افگنی کا جن کی ہر اک شہر میں تھا شور\nگوشہ کہیں نہ ملتا تھا ان کو سوائے گور\nتاریک شب میں جن کا نشانہ تھا پائے مور\nلشکر میں خوف جاں نے انہیں کردیا تھا کور\nہوش اڑ گئے تھے فوجِ ضلالت نشاں کے\nپیکاں میں زہ کو رکھتے تھے سوفار جاں کے\n\nصف پر صفیں پروں پر پرے پیش و پس گرے\nاسوار پر سوار فرس پر فرس گرے\nاٹھ کر زمیں سے پانچ جو بھاگے تو دس گرے\nمخبر پہ پیک پیک پر مرکر گرے\nٹوٹے پر شکست بنائے ستم ہوئی\nدنیا میں اس طرح کی بھی افتاد کم ہوئی\n\nغصے تھا شیرِ شہ زۂ صحرائے کربلا\nچھوڑے تھا گرگ منزل و ماوائے کربلا\nتیغ علی تھی معرکہ آرائے کربلا\nخالی نہ تھی سروں سے کہیں جائے کربلا\nبستی بسی تھی مردوں کے قریے اجاڑ تھے\nلاشوں کی تھی زمین سروں کے پیاز تھے\n\nغازی نے رکھ لیا تھا جو شمشیر کے تلے\nتھی طرفہ کشمکش فلک پیر کے تلے\nچلے سمٹ کے جاتے تھے رہ گیر کے تلے\nچھپتی تھی سر جھکا کے کماں تیر کے تلے\nاس تیغِ بے دریغ کا جلوہ کہاں نہ تھا\nسہمے تھے سب پہ گوشۃ امن و اماں نہ تھا\n\nچاروں طرف کمان کیانی کی وہ ترنگ\nرہ رہ کے ابرِشام سے تھی بارشِ خدنگ\nوہ شور و صیحہ ابلق و سرنگ\nوہ لوں وہ آفتاب کی تابندگی وہ جنگ\nپھنکتا تھا دشتِ کیں کوئی دل تھا نہ چین سے\nاس دن کی تاب و ترب کوی پوچھے حسین سے\n\nسقے پکارتے تھے یہ مشکیں لیے ادھر\nبازارِ جنگ گرم ہے ڈھلتی ہے دوپہر\nپیسا جو ہو وہ پانی سے ٹھنڈا کرے جگر\nمشکوں پہ دور دور کے گرتے تھے اہلِ شر\nکیا آگ لگ گئی تھی جہانِ خراب کو\nپیتے تھے سب حسین تڑپتے تھے آب کو\n\nگرمی میں پیاس تھی کہ پھینکا جاتا تھا جگر\nاف کبھی کہا کبھی چہرے پہ لی سپر\nآنکھوں میں ٹیس اٹھی جو پڑی دھوپ پر نظر\nجھپٹے کبھی ادھر کبھی حملہ کیا ادھر\nکثرت عرق کے قطروں کی تھی روئے پاک پر\nموتی برستے جاتے تھے مقتل کی خاک پر\n\nسیراب چھپتے پھرتے تھے پیاسے کی جنگ سے\nچلتی تھی ایک تیغِ علی لاکھ رنگ سے\nچمکی جو فرق پر تو نکل آئی تنگ سے\nرکتی تھی نے سپر سے نہ آہن نہ سنگ سے\nخالق نے منہ دیا تھا عجب آب و تاب کا\nخود اس کے سامنے تھا پھپھولا حباب کا\n\nسہمے ہوئے تھے یوں کہ کسی کو نہ تھی خبر\nپیکاں کدھر ہے تیر کا مزار ہے کدھر\nمردم کی کشمکش سے کمانوں کو تھا یہ ڈر\nگوشوں کی ڈھونڈھتی تھی زمیں پر جھکا کے سر\nترکش سے کھینچے تیر کوئی یہ جگر نہ تھا\nسیسر پہ جس نے ہاتھ رکھا تن پہ سر نہ تھا\n\nگھوڑوں کی وہ تڑپ وہ چمک تیغ تیز کی\nسوسو صفیں کچل گئین جب جست و خیز کی\nلاکھوں مین تھی نہ ایک کو طاقت ستیز کی\nتھی چار سمت دھوم گریزا گریز کی\nآری جو ہو گئی تھیں وہ سب ذوالفقار سے\nتیغوں نے منہ پھرا لیے تھے کارزار سے\n\nگھوڑوں کی جست و خیز سے اٹھا غبار زرد\nگردوں میں مثل شیشہ ساعت بھری تھی گرد\nتودا بنا تھا خاک کا مینائے لاجورد\nکوسوں سیاہ تار تھا شب وادی نبرد\nپنہاں نظر سے نیرگیتی فروز تھا\nڈھلتی تھی دوپہر کے نہ شب تھا نہ روز تھا\n\nاللہ ری لڑائی میں شوکت جناب کی\nسونلائے رنگ میں تھی ضیا آفتاب کی\nسوکھیوہ لب کہ پنکھڑیاں تھیں گلاب کی\nتصیور ذو الجناح پہ تی بو تراب کی\nہوتا تھا غل جو کرتے تھے نعرے لڑائی میں\nبھاگو کہ شیر گونج رہا ہے ترائی میں\n\nپھر تو یہ غل ہوا کہ دہائی حسین کی\nاللہ کا غضب تھا لڑائی حسین کی\nدریا حسین کا ہے ترائی حسین کی\nدنیا حسین کی ہے خدائی حسین کی\nبیڑا بچایا آپ نے طوفاں سے نوح کا\nاب رحم واسطہ ملے اکبر کی روح کا\n\nاکبر کا نام سن کے جگر پر لگی سناں\nآنسو بھر آئے روک لی رہوار کی عناں\nمڑکر پکارے لاش پسر گوشۂ زماں\nتم نے نہ دیکھی جنگِ پدر اے پدر کی جاں\nقسمیں تمہاری روح کی یہ لوگ دیتے ہیں\nلو اب تو ذوالفقار کو ہم روک لیتے ہیں\n\nچلایا ہاتھ مار کے زانو پہ ابنِ سعد\nاے وا فضیحاتا یہ ہزیمت ظفر کے بعد\nزیبا دلاوروں کو نہیں ہے خلافِ وعد\nاک پہلوان یہ سنتے ہی گر جا مثالِ رعد\nنعرہ کیا کہ کرتا ہوں حملہ امام پر\nاے ابنِ سعد لکھ لے ظفر میرے نام پر\n\nبالا قدو کلفت و تنو مند و خیرہ سر\nروئیں تن و سیاہ دروں، آہنی کمر\nناوک پیام مگر کے تکش اجل کا گھر\nتیغیں ہزار ٹوٹ گءٰن جس پہ وہ سپر\nدل میں بدی طبیعتِ بد میں بگاڑ تھا\nگھوڑے پہ تھا شقی کہ ہوا پر پہاڑ تھا\n\nساتھ اس کے اور اسی قد و قامت کا ایک پل\nآنکھیں کبود رنگ سیہ ابرووں پہ بل\nبدکار بد شعار ستمگار و پرد غل\nجنگ آزما بھگائے ہوئے لشکروں کے دل\nبھالے لیے کسے ہوئے کمریں ستیز پر\nنازاں وہ ضرب گرز پہ یہ تیغ تیز پر\n\nکھنچ جائے شکلِ حرب وہ تدبیر چاہیے\nدشمن بھی سب مقر ہوں وہ تقریر چاہیے\nتیزی زبان میں صورتِ شمشیر چاہیے\nفولاد کا قلم دمِ تحریر چاہیے\nنقشہ کھنچے گا صاف صفِ کار زار کا\nپانی دوات چاہتی ہے ذوالفقار کا\n\nلشکر میں اضطراب تھا فوجوں میں کھلبلی\nساونت بے حواس ہراسان دھنی بلی\nڈر تھا کہ لو حسین بڑھے تیغ اب چلی\nغل تھا ادھر ہیں مرحب و عنتر ادھر علی\nکون آج سر بلند ہو اور کون پست ہو؟\nکس کی ظفر ہو دیکھیے کس کی شکست ہو؟\n\nآوازی دی یہ ہاتفِ غیبی نے تب کہ ہاں\nبسم اللہ اے امیر عرب کے سرور جاں\nاٹھی علی کی تیغ دو دم چاٹ کر زباں\nبیٹھے درست ہو کے فرس پہ شۂ زماں\nواں سے وہ شور بخت بڑھا نعرہ مار کے\nپانی بھر آیا منہ میں ادھر ذوالفقار کے\n\nلشکر کے سب جواں تھے لڑائی میں جی لڑائے\nوہ بد نظر تھا آنکھوں میں آنکھیں ادھر گڑائے\nڈھالیں لڑیں سپاہ کی یا ابر گڑگڑا ئے\nغصے میں آئے گھوڑے نے کبھی دانت کڑکڑکائے\nماری جو ٹاپ ڈر کے ہٹے ہر لعیں کے پاؤں\nماہی پہ ڈگمگائے گادِ زمیں کے پاؤں\n\nنیزہ ہلا کے شاہ پر آیا وہ خود پسند\nبشکل کشا کے لال نے کھولے تمام بند\nتیر و کمالں سے بھی نہ وا جب وہ بہرہ مند\nچلا ادھر کھنچا کہ چلی تیغ سربلند\nوہ تیر کٹ گئے جو در آتے تھے سنگ میں\nگوشے نہ تھے کماں میں منہ پیکاں خدنگ میں\n\nظالم اٹھا کے گرز کو آیا جناب پر\nطاری ہوا غضب خلفِ بوتراب نے\nمارا جو ہاتھ پاؤں جماکر رکاب پر\nبجلی گری شقی کے سرِ پر عتاب پر\nبد ہاتھ میں شکست ظفر نیک ہاتھ میں\nہاتھ اڑ کے جا پڑا کئی ہاتھ ایک ہاتھ میں\n\nکچھ دست پاچہ ہو کے چلا تھا وہ نابکار\nپنجے سے پر اجل کے کہاں جا سکے شکار\nواں اس نے با میں ہاتھ میں لی تیغِ آبدار\nیاں سر سے آئی پشت کے فقروں پہ ذوالفقار\nقرباں تیغِ تیز شۂ نامدار کے\nدو ٹکڑے تھے سوار کے دو رہوار کے\n\nپھر دوسرے پہ گزر اٹھا کر پکارے شاہ\nکیوں ضرب ذوالفقار پہ تونے بھی کی نگاہ\nسرشار تھا شرابِ تکبر سے رو سیاہ\nجاتا کہاں کہ موت تو رو کے ہوئے تھی راہ\nغل تھا اسے اجل نے بڑھایا جو گھیر کے\nلو دوسرا شکار چلا منہ میں شیر کے\n\nآتا تھا وہ کہ اسپِ شۂ دین پلٹ پڑا\nثابت ہوا کہ شیرِ گرسنہ جھپٹ پڑا\nتیغہ شقی نے ڈھال پہ مارا تو پٹ پڑا\nضربت پڑی کی گنبد دوار پھٹ پڑا\nپیوندِ صدر زین جرو فرق ہوگیا\nگھوڑا زمین میں سینے تلک غرق ہوگیا\n\nپریوں سے قاف چھوٹ گیا اور جنوں سے گھر\nشیروں سے دشتِ گررگ سے بن اژدوں سے در\nشاہیں و کبک چھپ گئے اک جا ملا کے سر\nاڑ کر گرے جزیروں میں دریا کے جانور\nسمٹے پہاڑ منہ کو جا دامن سے ڈھانپ کے\nسیمرغ نے گرا دیے پر کانپ کانپ کے\n\nآئی صدائے غیب کہ شپیر مرحبا\nاس ہاتھ کے لیے تھی یہ شمشیر مرحبا\nیہ آبرو یہ جنگ یہ توقیر مرحبا\nدکھلا دی ماں کے دودھ کی تاثیر مرحبا\nغالب کیا خدا نے تجھے کائنات پر\nبس خاتمہ جہاد کا ہے تیری ذات پر\n\nبس اب نہ کردِ غا کی ہوس اے حسین بس\nدم بے ہوا میں چند نفس اے حسین بس\nگرمی سے ہانپتا ہے فرس اے حسین بس\nوقتِ نمازِ عصر ہے بس اے حسین بس\nپیاسا لڑا نہیں کوئی یوں اژدھام میں\nاب اہتمام چاہیے امت کے کام میں\n\nلبیک کہہ کے تیغ رکی شہ نے میان میں\nپلٹی سپاہ آئی قیامت جہان میں\nپر سرکشوں نے تیر ملائے میان میں\nپھر گل گئے لپٹ کے پھر ہرے نشان میں\nبیکس حسین ظلم شعاروں میں گھر گئے\nمولا تمہارے لاکھ سواروں میں گھر گئے\n\nسینے پہ سامنے سے چلے دس ہزار تیر\nچھاتی پہ لگ گئے کئی سو ایک بار تیر\nپہلو کے پار برچھیاں سینے کے پار تیر\nپڑتے دس جو کھینچتے تھے تن سے چار تیر\nیوں تھے خدنگ ظل الٰہی کے جسم پر\nجس طرح خانہ ہوتے ہیں ساہی کے جسم پر\n\nچلتے تھے چار سمت سے بھالے حسین پر\nٹوٹے ہوئے تھے برچھیوں والے حسین پر\nقاتل تھے خنجروں کو نکالے حسین پر\nیہ دکھ نبی ک گود کے پالے حسین پر\nتیرِ ستم نکالنے والا کوئی نہ تھا\nگرتے تھے اور سنبھالنے والا کوئی نہ تھا\n\nلاکھوں میں ایک بیکس و دلگیر ہائے ہائے\nفرزندِ فاطمہ کی یہ توقیر ہائے ہائے\nبھالے وہ اور وہ پہلو شپیر ہائے ہائے\nوہ زہر میں بجھائے ہوئے تیر ہائے ہائے\nغصے میں تھے جو فوج کے سرکش بھرے ہوئے\nخالی کیے حسین پہ ترکش بھرے ہوئے\n\nوہ گرد تھے جو بھاگتے تھے وقتِ جنگ\nاک سنگ دل نے پاس سے مارا جبیں پہ سنگ\nصدمے سے زرد ہو گیا سبطِ نبی کا رنگ\nماتھے پہ ہاتھ تھا کہ گلے پر لگا خدنگ\nتھا ما گلا جناب نے ماتھے کو چھوڑ کے\nنکلا وہ تیری حلقِ مبارک کو توڑ کے\n\nلکھا ہے تین پھال کا تھا ناوکِ ستم\nمنہ کھل گیا الٹ گئی گردن رکا جو دم\nکھینچی سری لگے کی طرف سے بچشم نم\nبھالیں نکالیں پشت کی جانب سے ہو کے خم\nابلا جو خوں نکلتا ہوا دم شہر گیا\nچلو رکھا ہو زخم کے نیچے تو بھر گیا\n\nدشمن تھا شہ کا اعور سلمیٰ عد دے دیں\nسر پر لگائی تیغ کہ شق ہو گئی جبیں\nماری جگر پہ ابنِ انس نے ستانِ کیں\nبھاگا کڑو کے کوکھ میں برچھی کو اک لعیں\nگھوڑے پہ ڈگمگا کے جو حضرت نے آہ کی\nتھرا گئی ضریح رسالت پناہ کی\n\nگرتے ہیں اب حسین فرس پر سے ہے غضب\nنکلی رکاب پائے مطہر سے ہے غضب\nپہلو شگافتہ ہوا خنجر سے ہے غضب\nغش میں جھکے عمامہ گرا سر سے ہے غضب\nقرآں رحل زیں سے سرِ فرش گر پڑا\nدیوارِ کعبہ بیٹھ گئی عرش گر پڑا\n\nجنگل سے آئی فاطمہ زہرا کی یہ صدا\nامت نے مجھ کو لوٹ لیا وا محمدا\nاس وقت کون حق محبت کرے ادا\nہے ہے یہ ظلم اور دو عالم کا مقتدا\nانیس سو ہیں زخم تن چاک چاک پر\nزینب نکل حسین تڑپتا ہے خاک پر\n\nپردہ الٹ کے بنتِ علی نکلی ننگے سر\nلرزاں قدم، خمیدہ کمر، غرق خون جگر\nچاروں طرف پکارتی تھی سر کو پیٹ کر\nاے کربلا بتا، ترا مہمان ہے کدھر\nاماں قدم اب اٹھتے نہیں تشنہ کام کے\nپہونچا دو الش پر مرے بازو کو تھا کے\n\nاس وقت سب جہاں مری آنکھوں میں ہے سیاہ\nلوگو! خدا کے واسطے مجھ کو بتاؤ راہ\nسید کدھر تڑپتا ہے اماں کدھر ہیں آہ؟\nکس سمت ہے نبی کے نواسے کی قتل گاہ؟\nشعلے دل و جگر سے نکلتے ہیں آہ کے\nیہ کون نام لیتا ہے میرا کراہ کے\n\nکس نے صدا یہ دی کہ بہن اس طرف نہ آؤ\nبس اب سفر قریب ہے للہ گھر میں جاؤ\nاب ڈوبتی ہے آل رسولِ خدا کی ناؤ\nیا مرتضیٰ غریبوں کے بیڑے کو تم بچاؤ\nاب چھوڑ یو نہ دشتِ بلا میں حسین کو\nیا فاطمہ چھپا لو روا میں حسین کو\n\nبنتِ علی تو پیٹتی پھرتی تھی ننگے سر\nکٹتا تھا نورِ چشم علی کا گلا ادھر\nزینب کو منع کرتے تھے ہر چند اہلِ شر\nلیکن وہ دوڑی جاتی تھی تھامے ہوئے جگر\nپہونچی جو قتل گاہ میں اس روک ٹوک پر\nدیکھا سرِ حسین کو نیزے کی نوک پر\n\nنیزے کے نیچے جا کے پاری وہ سوگوار\nسید تری لہو بھری صورت کے میں نثار\nہے ہے گلے پہ چل گئی بھیا چھری کی دھار\nبھولے بہن کو اے اسدِ حق کے یادگار\nصدقے گئی لٹا گئے گھر وعدہ گاہ میں\nجنبش لبوں کو ہے ابھی یاد آلہ میں\n\nبھیا سلام کرتی ہے خواہر جواب دو\nچلا رہی ہے دخترِ حیدر جواب دو\nسوکھی زبان سے بہرِ پیمبر جواب دو\nکیونکر جئے گی زینبِ مضطر جواب دو\nجز مرگ دردِ ہجر کا چارا نہیں کوئی\nمیرا تو اب جہاں میں سہارا نہیں کوئی\n\nبھیا میں اب کہاں سے تمہیں لاؤں کیا کروں\nکیا کہہ کے اپنے دل کو میں سمجھاؤں، کیا کروں؟\nکس کی دُہائی دوں کسے چلاؤں کیا کروں؟\nبستی پرائے ہے ، میں کدھر جاؤں کیا کروں؟\nدنیا تمام اجڑ گئی، ویرانہ ہو گیا\nبیٹھوں کہاں کہ گر تو عزا خانہ ہو گیا\n\nہے ہے تمہارے آگے نہ خواہر گذر گئی\nبھیا بتاؤ کیا تہ خنجر گذر گئی؟\nآئی صدا نہ پوچھو جو ہم پر گذر گئی\nصد شکر جو گذر گئی بہتر گذر گئی\nسر کٹ گیا ہمیں تو الم سے فراغ ہے\nگرہے تو بس تمہاری جدائی کا داغ ہے\n\nگھر لوٹنے کو آئے گی اب فوجِ نابکار\nکہیو نہ کچھ زباں سے، بجز شکرِ کردگار\nخیمہ میں جب کہ آگ لگادیں ستم شعار\nرہیو مری یتیم سیکنۂ سے ہوشیار\nبے زار ہے وہ خستہ جگر اپنی جان سے\nباندھے نہ کوئی اس کا گلا ریسمان سے\n\nبس اے انیسؔ ضعف سے لرزاں ہے بند بند\nعالم کو یادگار رہیں گے یہ چند بند\nنکلے قلم سے ضعف میں کیا کیا بلند بند\nعالم پسند بن ہیں سلطان پسند بند\nیہ فصل اور یہ بزمِ عزا یادگار\nپیری کے ولولے ہیں خزاں کی بہار ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%82%D8%B7%D8%B9_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%AA%D9%90_%D8%B4%D8%A8_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%92"} {"title": "جب مایوسی دلوں پہ چھا جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جب مایوسی دلوں پہ چھا جاتی ہے\nدشمن سے بھی نام تیرا جپواتی ہے\nممکن ہے کہ سکھ میں بھول جائیں اطفال\nلیکن انہیں دکھ میں ماں ہی یاد آتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D8%A7%DB%8C%D9%88%D8%B3%DB%8C_%D8%AF%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب مرا مہر جلوہ گر ہوگا", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب مرا مہر جلوہ گر ہوگا\nدوپہر ہوگا جو پہر ہوگا\n\nتم نہیں کرتے قتل تو نہ کرو\nزہر میں بھی تو کچھ اثر ہوگا\n\nاو رقیبوں کی رونق محفل\nاس طرف بھی کبھی گزر ہوگا\n\nحضرت دل مزاج کیسا ہے\nپھر بھی اس کوچہ میں گزر ہوگا\n\nکس کو مطلب ہے بے کسوں سے حسنؔ\nکون میرا پیام بر ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جب ملا یار تو اغیار ستی کیا مطلب", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب ملا یار تو اغیار ستی کیا مطلب\nگل میسر ہوا تب خار ستی کیا مطلب\n\nگل بدن کے گل رخسار کا جو ہے بلبل\nاس کوں نظارۂ گل زار ستی کیا مطلب\n\nگردش چشم نے ساقی کی لیا ہوش تمام\nاب مجھے خانۂ خمار ستی کیا مطلب\n\nمجھ کوں لکھنا ہے سریجن کوں مرے نامۂ سرخ\nنیں تو اس دیدۂ خوں بار ستی کیا مطلب\n\nجس نے داؤدؔ نجا ننگ ہو دیوانۂ عشق\nاس کوں رسوائی سنگسار ستی کیا مطلب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D9%84%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8"} {"title": "جب ملیں گے کہ اب ملیں گے آپ", "poet_page": "مصنف:بشیر الدین احمد دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب ملیں گے کہ اب ملیں گے آپ\nنہیں معلوم کب ملیں گے آپ\n\nجائیے جائیے خدا حافظ\nدیکھیے بچھڑے کب ملیں گے آپ\n\nحشر میں آپ ہی ملیں گے کیا\nایک سے ایک سب ملیں گے آپ\n\nہوگا میرے لیے وہ عید کا دن\nآپ سے آ کے جب ملیں گے آپ\n\nعہد کے ساتھ یہ بھی ہو ارشاد\nکس طرح اور کب ملیں گے آپ\n\nزندگی میں تو مل نہیں سکتے\nہوں گا جب جاں بلب ملیں گے آپ\n\nوعدۂ وصل پر نہ کیوں خوش ہوں\nمیں نے سمجھا کہ اب ملیں گے آپ\n\nنہیں دنیا میں جب بشیرؔ حزیں\nکس طرح اس سے اب ملیں گے آپ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "جب میں سنا کہ یار کا دل مجھ سے ہٹ گیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب میں سنا کہ یار کا دل مجھ سے ہٹ گیا\nسنتے ہی اس کے میرا کلیجہ الٹ گیا\n\nفرہاد تھا تو شیریں کے غم میں موا غریب\nلیلیٰ کے غم میں آن کے مجنوں بھی لٹ گیا\n\nمیں عشق کا جلا ہوں مرا کچھ نہیں علاج\nوہ پیڑ کیا ہرا ہو جو جڑ سے اکھٹ گیا\n\nاتنا کوئی کہے کہ دوانے پڑا ہے کیا\nجا دیکھ ابھی ادھر کوئی پریوں کا غٹ گیا\n\nچھینا تھا دل کو چشم نے لیکن میں کیا کروں\nاوپر ہی اوپر اس صف مژگاں میں پٹ گیا\n\nکیا کھیلتا ہے نٹ کی کلا آنکھوں آنکھوں میں\nدل صاف لے لیا ہے جو پوچھا تو نٹ گیا\n\nآنکھوں میں میری صبح قیامت گئی جھمک\nسینے سے اس پری کے جو پردہ الٹ گیا\n\nسن کر لگی یہ کہنے وہ عیار نازنیں\nکیا بولیں چل ہمارا تو دل تجھ سے پھٹ گیا\n\nجب میں نے اس صنم سے کہا کیا سبب ہے جان\nاخلاص ہم سے کم ہوا اور پیار گھٹ گیا\n\nایسی وہ بھاری مجھ سے ہوئی کون سی خطا\nجس سے یہ دل اداس ہوا جی اچٹ گیا\n\nآنکھیں تمہاری کیا پھریں اس وقت میری جان\nسچ پوچھئے تو مجھ سے زمانہ الٹ گیا\n\nعشاق جاں نثاروں میں میں تو امام ہوں\nیہ کہہ کے میں جو اس کے گلے سے لپٹ گیا\n\nکتنا ہی اس نے تن کو چھڑایا جھڑک جھڑک\nپر میں بھی قینچی باندھ کے ایسا چمٹ گیا\n\nیہ کشمکش ہوئی کہ گریباں مرا ادھر\nٹکڑے ہوا اور اس کا دوپٹہ بھی پھٹ گیا\n\nآخر اسی بہانے ملا یار سے نظیرؔ\nکپڑے بلا سے پھٹ گئے سودا تو پٹ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%B9_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جب میں نے کہا اے بت خودکام ورے آ", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب میں نے کہا اے بت خودکام ورے آ\nتب کہنے لگا چل بے او بد نام پرے جا\n\nہے صبح سے عاشق کا ترے حال نپٹ تنگ\nمعلوم یہ ہوتا ہے کہ تا شام مرے گا\n\nناصح مرے رونے کا نہ مانع ہو کہ عاشق\nگر یہ نہ کرے کام تو پھر کام کرے کیا\n\nآتا ہے گر اس ابر میں اے ساقیٔ گلفام\nتو بادۂ گل رنگ سے تو جام بھرے لا\n\nیاں زیست کا خطرہ نہیں ہاں کھینچیے تلوار\nوہ غیر تھا جو دیکھ کے صمصام ڈرے تھا\n\nمیں نے جو کہا ایک تو بوسہ تو مجھے دے\nبولا وہ زباں اپنی کو تو تھام ارے ہا!\n\nگر دیدہ و دل فرش کروں راہ میں جرأتؔ\nممکن ہی نہیں جو وہ دلآرام دھرے پا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%88%D8%B1%DB%92_%D8%A2"} {"title": "جب مے لالہ فام ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب مے لالہ فام ہوتی ہے\nمجھ کو توبہ حرام ہوتی ہے\n\nخوبرو وہ ہے جس کی خو اچھی\nشمع صورت حرام ہوتی ہے\n\nیہ سنا ہے کہ برہمن سے بھی\nشیخ کی رام رام ہوتی ہے\n\nتیرا وعدہ ہے کس قیامت کا\nرات دن صبح و شام ہوتی ہے\n\nہجر کا دن ڈھلے تو ہم جانیں\nصبح کے بعد شام ہوتی ہے\n\nپہلے اے داغؔ کچھ نہ ہوش آیا\nدل کی اب روک تھام ہوتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%85%DB%92_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%D9%81%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب ناز عشق حسن کے قابل نہیں رہا", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب ناز عشق حسن کے قابل نہیں رہا\nپھر وہ کچھ اور ہی ہے مرا دل نہیں رہا\n\nکہتی ہے دل کے حال پہ گھبرا کے بے خودی\nیہ آپ میں بھی آنے کے قابل نہیں رہا\n\nاک جلوہ پیش پیش ہے اور بڑھ رہے ہیں ہم\nاب کچھ خیال دوریٔ منزل نہیں رہا\n\nدنیا یہی ہے شک ہے تو اس کو مٹا کے دیکھ\nپھر کچھ نہیں جہان میں جب دل نہیں رہا\n\nپوری جزا ملے گی اسی دل کو حشر میں\nجس کو خیال شکوۂ قاتل نہیں رہا\n\nتمکیں غضب ہے ساقیٔ دور الست میں\nشاید خیال گرمیٔ محفل نہیں رہا\n\nدنیا سے پوچھ دیکھ کوئی ذرہ دہر کا\nتزئین کائنات سے غافل نہیں رہا\n\nزینت پہ کائنات کی جانے لگی نظر\nاب میں ترے خیال کے قابل نہیں رہا\n\nبس کر اجڑ چکی ہیں امنگوں کی بستیاں\nدنیا میں شاد آج کوئی دل نہیں رہا\n\nافسردگی کی جان ہے آزردگی کی روح\nجو ولولوں کی جان تھا وہ دل نہیں رہا\n\nہے کل کی بات تھا یہی دنیائے حسن و عشق\nویرانۂ ملال ہے اب دل نہیں رہا\n\nبیخودؔ کسی کے ناز دوئی سوز کی قسم\nکیسی نظر خیال بھی حائل نہیں رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوے\nاس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے\n\nتلوار کا بھی مارا خدا رکھے ہے ظالم\nیہ تو ہو کوئی گور غریباں میں در آوے\n\nمے خانہ وہ منظر ہے کہ ہر صبح جہاں شیخ\nدیوار پہ خورشید کا مستی سے سر آوے\n\nکیا جانیں وے مرغان گرفتار چمن کو\nجن تک کہ بصد ناز نسیم سحر آوے\n\nتو صبح قدم رنجہ کرے ٹک تو ہے ورنہ\nکس واسطے عاشق کی شب غم بسر آوے\n\nہر سو سر تسلیم رکھے صید حرم ہیں\nوہ صید فگن تیغ بکف تا کدھر آوے\n\nدیواروں سے سر مارتے پھرنے کا گیا وقت\nاب تو ہی مگر آپ کبھو در سے در آوے\n\nواعظ نہیں کیفیت مے خانہ سے آگاہ\nیک جرعہ بدل ورنہ یہ مندیل دھر آوے\n\nصناع ہیں سب خوار ازاں جملہ ہوں میں بھی\nہے عیب بڑا اس میں جسے کچھ ہنر آوے\n\nاے وہ کہ تو بیٹھا ہے سر راہ پہ زنہار\nکہیو جو کبھو میرؔ بلاکش ادھر آوے\n\nمت دشت محبت میں قدم رکھ کہ خضر کو\nہر گام پہ اس رہ میں سفر سے حذر آوے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D8%AC%DB%8C%DB%92_%D8%AA%D8%A8_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D9%88%DB%92"} {"title": "جب نبی صاحب میں کوہ و دشت سے آئی بسنت", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب نبی صاحب میں کوہ و دشت سے آئی بسنت\nکر کے مجرا شاہ مرداں کی طرف دھائی بسنت\n\nخواجہ قطب الدیں میں پھر گڑوا بنا کر لے گئی\nیعنی ان کی نذر کو سو پھول گل لائی بسنت\n\nواں سے پھر حضرت نظام الدیں کی خدمت میں چلی\nتربت خسرو پہ پھر ہو کے کھڑے گائی بسنت\n\nسوئے حضرت ترکماں آئی جو کر اس کا طواف\nہو گئی ووہیں بیابانی و صحرائی بسنت\n\nووہیں پھر دربار شاہ ہند میں رکھ کر قدم\nناچنے گانے لگی ہنس ہنس بہ زیبائی بسنت\n\nپھر جناب آصف دوراں میں باصد عیش و ناز\nہو گئی آ کر کے مصروف جبیں سائی بسنت\n\nمصحفیؔ اب اک غزل لکھ تو غزل کی طرح سے\nتا کرے عالم کا تاراج شکیبائی بسنت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%86%D8%A8%DB%8C_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%88_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%B3%D9%86%D8%AA"} {"title": "جب نظر اس کی آن پڑتی ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب نظر اس کی آن پڑتی ہے\nزندگی تب دھیان پڑتی ہے\n\nجھیل لیتے ہیں عاشق اے فرہاد\nجس کے سر جیسی آن پڑتی ہے\n\nہے جفا سے غرض اسے اتنی\nکہ وفا امتحان پڑتی ہے\n\nنظر ان مہ وشاں کی ہے ظالم\nکیا غضب آن بان پڑتی ہے\n\nقد زاہد نظر میں چلے بعد\nاتری سی کچھ کمان پڑتی ہے\n\nبات اس دل کے درد کی یارو\nگفتگو میں ندان پڑتی ہے\n\nایک کے منہ سے جس گھڑی نکلی\nپھر تو سو کی زبان پڑتی ہے\n\nلیکن اتنا کوئی کہے مجھ سے\nکبھو اس کے بھی کان پڑتی ہے\n\nبے ثباتی زمانے کی ناچار\nکرنی مجھ کو بیان پڑتی ہے\n\nگرم جوشیٔ دوستاں بہ نظر\nآتش کاروان پڑتی ہے\n\nدل سے پوچھا یہ میں کہ عشق کی راہ\nکس طرف مہربان پڑتی ہے\n\nکہا ان نے کہ نے بہ ہندستاں\nنے سوئے اصفہان پڑتی ہے\n\nیہ دوراہا جو کفر و دیں کا ہے\nدونوں کے درمیان پڑتی ہے\n\nمنزلت شعر کی ترے سوداؔ\nیوں بہ وہم و گمان پڑتی ہے\n\nنہیں عیسیٰؔ تو پر سخن سے ترے\nتن بے جاں میں جان پڑتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%86_%D9%BE%DA%91%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب نقاب چہرۂ قاتل کھلا", "poet_page": "مصنف:رفیع احمد عالی", "kind": "poetry", "section": "غزل > یادگار عالی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "جب نقاب چہرۂ قاتل کھلا\nتب دل وابستۂ بسمل کھلا\n\nجب چڑھایا دار پر منصور کو\nتب معمائے حق و باطل کھلا\n\nجانے والوں پر عدم کے کیا بنی\nکچھ نہ حال سختیٔ منزل کھلا\n\nمیری خاموشی کا اک چرچا ہوا\nبند لب رکھنے سے راز دل کھلا\n\nحسرت دیدار قاتل دیکھنا\nرہ گیا ہے دیدۂ بسمل کھلا\n\nظرف عالیؔ دیکھ اے پیر مغاں\nپی گیا خم اور نہ راز دل کھلا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%82_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7"} {"title": "جب نہ تب سنئے تو کرتا ہے وہ اقرار بغیر", "poet_page": "مصنف:رائے سرب سکھ دیوانہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب نہ تب سنئے تو کرتا ہے وہ اقرار بغیر\nگفتگو ہم سے اسے پر نہیں انکار بغیر\n\nبزم میں رات بہت سادہ‌ و پر فن تھے ولے\nگرمیٔ بزم کہاں اس بت عیار بغیر\n\nدیکھ بیمار کو تیرے یہ طبیبوں نے کہا\nہو چکی اس کو شفا شربت دیدار بغیر\n\nجان پر آ بنی ہمدم مری خاموشی سے\nبات کچھ بن نہیں آتی ہے اب اظہار بغیر\n\nجس کی خاطر کے لئے یار سب اغیار ہوئے\nکیوں کہ دیوانہؔ بھلا رہئے اب اس یار بغیر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%A8_%D8%B3%D9%86%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%BA%DB%8C%D8%B1"} {"title": "جب نہ جیتے جی مرے کام آئے گی", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب نہ جیتے جی مرے کام آئے گی\nکیا یہ دنیا عاقبت بخشائے گی\n\nجب ملے دو دل مخل پھر کون ہے\nبیٹھ جاؤ خود حیا اٹھ جائے گی\n\nگر یہی ہے اس گلستاں کی ہوا\nشاخ گل اک روز جھونکا کھائے گی\n\nداغ سودا ایک دن دے گا بہار\nفصل اس گل کی شگوفہ لائے گی\n\nکچھ تو ہوگا ہجر میں انجام کار\nبے قراری کچھ نہ کچھ ٹھہرائے گی\n\nصندلی رنگوں سے مانا دل ملا\nدرد سر کی کس کے ماتھے جائے گی\n\nخاکساروں سے جو رکھے گا غبار\nاو فلک بدلی تری ہو جائے گی\n\nجب کرے گا گرمیاں وہ شعلہ رو\nشمع محفل دیکھ کر جل جائے گی\n\nجاں نکل جائے گی تن سے اے نسیمؔ\nگل کو بوئے گل ہوا بتلائے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D8%AC%DB%8C%D8%AA%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "جب وہ بت ہم کلام ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب وہ بت ہم کلام ہوتا ہے\nدل و دیں کا پیام ہوتا ہے\n\nان سے ہوتا ہے سامنا جس دن\nدور ہی سے سلام ہوتا ہے\n\nدل کو روکوں کہ چشم گریاں کو\nایک ہی خوب کام ہوتا ہے\n\nآپ ہیں اور مجمع اغیار\nروز دربار عام ہوتا ہے\n\nزیست سے تنگ ہیں نہ چھیڑ ہمیں\nدیکھ غصہ حرام ہوتا ہے\n\nلیجے موسیٰ سے لن ترانی کی\nاب تو ہم سے کلام ہوتا ہے\n\nداغؔ کا نام سن کے وہ بولے\nآدمی کا یہ نام ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب وہ عالی دماغ ہنستا ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب وہ عالی دماغ ہنستا ہے\nغنچہ کھلتا ہے باغ ہنستا ہے\n\nہاتھ میں دیکھ کر ترے مرہم\nمیرے سینے کا داغ ہنستا ہے\n\nکیا ہوا پھر گئی ہے گلشن کی\nصوت بلبل کو زاغ ہنستا ہے\n\nشمع ہر شام تیرے رونے پر\nصبح دم تک چراغ ہنستا ہے\n\nشیخ کی دیکھ صورت تقویٰ\nآج حاتمؔ ایاغ ہنستا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA_%DB%81%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب وہ مہ رخسار یکایک نظر آیا", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب وہ مہ رخسار یکایک نظر آیا\nاس ماہ کی طلعت سوں سورج دل میں در آیا\n\nتیرے رخ روشن کوں سیہ خط میں سریجن\nدیکھا سو کہا ابر سیہ میں قمر آیا\n\nگلشن میں چل اے سرو سہی سیر کی خاطر\nتجھ واسطے لے گل طبق نقد زر آیا\n\nتجھ جام نین میں ہے عجب بادۂ سرشار\nیک دید ستی جس کے ہو دل بے خبر آیا\n\nمحتاج کبوتر نہیں مجھ شوق کا نامہ\nقاصد ہو مرا دل لے سجن کی خبر آیا\n\nکہتے ہیں سب اہل سخن اس شعر کوں سن کر\nتجھ طبع میں داؤدؔ ولیؔ کا اثر آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%81_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%DA%A9%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جب وہ نظریں دو چار ہوتی ہیں", "poet_page": "مصنف:آفتاب شاہ عالم ثانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب وہ نظریں دو چار ہوتی ہیں\nتیر سی دل کے پار ہوتی ہیں\n\nرنجشیں میری اور اس گل کی\nرات دن میں ہزار ہوتی ہیں\n\nعشق میں بے حجابیاں دل کو\nکیا ہی بے اختیار ہوتی ہیں\n\nتو جو جاتا ہے باغ میں اے گل\nبلبلیں سب نثار ہوتی ہیں\n\nقمریاں بندگی میں تجھ قد کی\nسر بسر طوق دار ہوتی ہیں\n\nآفتابؔ اس کے وصل کی باتیں\nباعث اضطرار ہوتی ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جب پرسش حال وہ فرماتے ہیں جانیے کیا ہو جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب پرسش حال وہ فرماتے ہیں جانیے کیا ہو جاتا ہے\nکچھ یوں بھی زباں نہیں کھلتی کچھ درد سوا ہو جاتا ہے\n\nاب خیر سے ان کی بزم کا اتنا رنگ تو بدلا میرے بعد\nجب نام مرا آ جاتا ہے کچھ ذکر وفا ہو جاتا ہے\n\nیکتائے زمانہ ہونے پر صاحب یہ غرور خدائی کا\nسب کچھ ہو مگر خاکم بدہن کیا کوئی خدا ہو جاتا ہے\n\nقطرہ قطرہ رہتا ہے دریا سے جدا رہ سکنے تک\nجو تاب جدائی لا نہ سکے وہ قطرہ فنا ہو جاتا ہے\n\nپھر دل سے فانیؔ سارے کے سارے نقش جفا مٹ جاتے ہیں\nجس وقت وہ ظالم سامنے آ کر جان حیا ہو جاتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%B4_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%88%DB%81_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب پری رو حجاب کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب پری رو حجاب کرتے ہیں\nدل کے درپن کوں آب کرتے ہیں\n\nگردش چشم کا دکھا یک دور\nہم کوں مست شراب کرتے ہیں\n\nآتش عشق کی اگن سوں جلا\nعاشقاں کوں کباب کرتے ہیں\n\nتاب دکھلا جمال روشن کا\nآرسی غرق آب کرتے ہیں\n\nبیت ابرو پہ تل سوں کاجل کے\nنقطۂ انتخاب کرتے ہیں\n\nعرق گل رخاں کو دیکھ عشاق\nمیل عطر گلاب کرتے ہیں\n\nدیکھ اس کے حنا کوں مردم چشم\nخون دل سوں خضاب کرتے ہیں\n\nسن سخنداں تری غزل داؤدؔ\nآفریں کر خطاب کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D9%88_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جب پیارا گلہ سناتا ہے", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "جب پیارا گلہ سناتا ہے\nعشق تازہ بدن میں آتا ہے\n\nہوش جاتا ہے سر سوں سب یک بار\nجب گھونگھٹ کھول مکھ دکھاتا ہے\n\nتب عدو دیکھ کر مجھے میرا\nمار کے مثل پیچ کھاتا ہے\n\nخاک ہوتا ہے بلکہ جل اس وقت\nمجھ کو خلوت میں جب بلاتا ہے\n\nمجھ کو لے جا پیاس اپس گھر میں\nبادۂ وصل پھر پلاتا ہے\n\nکر مجازی میں فن حقیقت کا\nحاسداں کے دلاں جلاتا ہے\n\nشعر تیرا عجب علیمؔ اللہ\nشعلۂ عشق کو چتاتا ہے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%AF%D9%84%DB%81_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب چلا وہ مجھ کو بسمل خوں میں غلطاں چھوڑ کر", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب چلا وہ مجھ کو بسمل خوں میں غلطاں چھوڑ کر\nکیا ہی پچھتاتا تھا میں قاتل کا داماں چھوڑ کر\n\nمیں وہ مجنوں ہوں جو نکلوں کنج زنداں چھوڑ کر\nسیب جنت تک نہ کھاؤں سنگ طفلاں چھوڑ کر\n\nپیوے میرا ہی لہو مانی جو لب اس شوخ کے\nکھینچے تو شنگرف سے خون شہیداں چھوڑ کر\n\nمیں ہوں وہ گمنام جب دفتر میں نام آیا مرا\nرہ گیا بس منشی قدرت جگہ واں چھوڑ کر\n\nسایۂ سرو چمن تجھ بن ڈراتا ہے مجھے\nسانپ سا پانی میں اے سرو خراماں چھوڑ کر\n\nہو گیا طفلی ہی سے دل میں ترازو تیر عشق\nبھاگے ہیں مکتب سے ہم اوراق میزاں چھوڑ کر\n\nاہل جوہر کو وطن میں رہنے دیتا گر فلک\nلعل کیوں اس رنگ سے آتا بدخشاں چھوڑ کر\n\nشوق ہے اس کو بھی طرز نالۂ عشاق سے\nدم بدم چھیڑے ہے منہ سے دود قلیاں چھوڑ کر\n\nدل تو لگتے ہی لگے گا حوریان عدن سے\nباغ ہستی سے چلا ہوں ہائے پریاں چھوڑ کر\n\nگھر سے بھی واقف نہیں اس کے کہ جس کے واسطے\nبیٹھے ہیں گھر بار ہم سب خانہ ویراں چھوڑ کر\n\nوصل میں گر ہووے مجھ کو رویت ماہ رجب\nروئے جاناں ہی کو دیکھوں میں تو قرآں چھوڑ کر\n\nان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخن\nکون جائے ذوقؔ پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%86%D9%84%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D9%84%D8%B7%D8%A7%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں\nفلس ماہی کو بتاتے ماہ روشن آپ ہیں\n\nسیتے ہیں سوزن سے چاک سینہ کیا اے چارہ ساز\nخار غم سینے میں اپنے مثل سوزن آپ ہیں\n\nپیار سے کر کے حمائل غیر کی گردن میں ہاتھ\nمارتے تیغ ستم سے مجھ کو گردن آپ ہیں\n\nکھینچ کر آنکھوں میں اپنی سرمۂ دنبالہ دار\nکرتے پیدا سحر سے نرگس میں سوسن آپ ہیں\n\nدیکھ کر صحرا میں مجھ کو پہلے گھبرایا تھا قیس\nپھر جو پہچانا تو بولا حضرت من آپ ہیں\n\nجی دھڑکتا ہے کہیں تار رگ گل چبھ نہ جائے\nسیج پر پھولوں کی کرتے قصد خفتن آپ ہیں\n\nکیا مزا ہے تیغ قاتل میں کہ اکثر صید عشق\nآن کر اس پر رگڑتے اپنی گردن آپ ہیں\n\nمجھ سے تم کیا پوچھتے ہو کیسے ہیں ہم کیا کہیں\nجی ہی جانے ہے کہ جیسے مشفق من آپ ہیں\n\nپر غرور و پر تکبر پر جفا و پر ستم\nپر فریب و پر دغا پر مکر و پر فن آپ ہیں\n\nظلم پیشہ ظلم شیوہ ظلم ران و ظلم دوست\nدشمن دل دشمن جاں دشمن تن آپ ہیں\n\nیکہ تاز و نیزہ باز و عربدہ جو تند خو\nتیغ زن دشنہ گزار و ناوک افگن آپ ہیں\n\nتسمہ کش طراز و غارت گر تاراج ساز\nکافر یغمائی و قزاق رہزن آپ ہیں\n\nفتنہ جو بیداد گر سفاک و اظلم کینہ ور\nگرم جنگ و گرم قتل و گرم کشتن آپ ہیں\n\nبدمزاج و بددماغ و بدشعار و بدسلوک\nبد طریق و بدزباں بدعہد و بدظن آپ ہیں\n\nبے مروت بے وفا نامہرباں نا آشنا\nمیرے قاتل میرے حاسد میرے دشمن آپ ہیں\n\nاے ظفرؔ کیا پائے قاتل کے ہے بوسے کی ہوس\nیوں جو بسمل ہو کے سرگرم طپیدن آپ ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%D8%B3%D8%A7%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%81%DA%AF%D9%86_%D8%A2%D9%BE_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جب کسی لائق نہیں ہم جب کسی قابل نہیں", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کسی لائق نہیں ہم جب کسی قابل نہیں\nموت بہتر ایسے جینے سے تو کچھ حاصل نہیں\n\nکھینچتے ہو کیسی بے دردی سے میرے دل سے تیر\nچارہ سازو کیا تمہارے پہلوؤں میں دل نہیں\n\nاڑ گئی ہے ہجر میں شاہد ہیں تارے چرخ کے\nیاد جاناں سے ہماری نیند تک غافل نہیں\n\nدیکھ کر صورت مری کہتے ہیں میرے چارہ ساز\nمر نہیں سکتا تو یہ جینے کے بھی قابل نہیں\n\nکچھ سمجھ کر مجمع محشر میں آ نکلے تھے ہم\nغور سے دیکھا تو یہ ظالم تری محفل نہیں\n\nآپ تھے صفدرؔ سر محفل کسی کے شکوہ سنج\nآپ کہتے تھے کہ سینے میں ہمارے دل نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%84%D8%A7%D8%A6%D9%82_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جب کسی نے آن کر دل سے مرے پرخاش کی", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کسی نے آن کر دل سے مرے پرخاش کی\nبات تب عاشق گری کی میں جہاں میں فاش کی\n\nکیا کہوں جس نے کیا اس حسن کو آراستہ\nچوم لیجے انگلیاں یارو اسی نقاش کی\n\nاے مصور جو ہوا منقوش تیرے ہاتھ سے\nوہ کہاں تصویر بن سکتی کسی سے قاش کی\n\nکل ترے کوچے میں میں جا کر کے سر اپنا پٹک\nرو پڑا تجھ کو نہیں پایا بہت تالاش کی\n\nیارو ساقی اور شراب و سبزہ موجود آج ہے\nآفریدیؔ ہے کباب دل پہ جا شاباش کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%A2%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AE%D8%A7%D8%B4_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "جب کسی نے حال پوچھا رو دیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کسی نے حال پوچھا رو دیا\nچشم تر تو نے تو مجھ کو کھو دیا\n\nداغ ہو یا سوز ہو یا درد و غم\nلے لیا خوش ہو کے جس نے جو دیا\n\nاشک ریزی کے دھڑلے نے غبار\nجب ذرا بھی دل پہ دیکھا دھو دیا\n\nدل کی پروا تک نہیں اے بے خودی\nکیا کیا پھینکا کہاں کس کو دیا\n\nکچھ نہ کچھ اس انجمن میں حسب حال\nتو نے قسام ازل سب کو دیا\n\nکشت دنیا کیا خبر کیا پھل ملے\nتخم غم ہم نے تو آ کر بو دیا\n\nیہ بھی نشہ مے کشو کچھ کم نہیں\nدے نہ دے ساقی پہ تم سمجھو دیا\n\nشادؔ کے آگے بھلا کیا ذکر یار\nنام ادھر آیا کہ اس نے رو دیا\n\nزمرۂ اہل قلم میں لکھ کے نام\nخود کو ناحق شادؔ تو نے کھو دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D8%B1%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جب کہ ایدھر تری نگاہ پڑی", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کہ ایدھر تری نگاہ پڑی\nمیرے ہی دل پہ میری آہ پڑی\n\nبے طرح کچھ مرے ہی جاتا ہے\nدل پہ حالت عجب تباہ پڑی\n\nتو کرے اب نباہ یا نہ کرے\nاپنے ذمے تو یاں نباہ پڑی\n\nدم بہ دم یوں جو بد گمانی ہے\nکچھ تو عاشق کی تجھ کو چاہ پڑی\n\nتیرے کوچہ میں جائے بن نہ رہے\nاب تو واں کی اثرؔ کو راہ پڑی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%DB%8C%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%BE%DA%91%DB%8C"} {"title": "جب کہ بے پردہ تو ہوا ہوگا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کہ بے پردہ تو ہوا ہوگا\nماہ پردے سے تک رہا ہوگا\n\nکچھ ہے سرخی سی آج پلکوں پر\nقطرۂ خوں کوئی بہا ہوگا\n\nمیرے نامے سے خوں ٹپکتا تھا\nدیکھ کر اس نے کیا کہا ہوگا\n\nگھورتا ہے مجھے وہ دل کی مرے\nمیری نظروں سے پا گیا ہوگا\n\nیہی رہتا ہے اب تو دھیان مجھے\nواں سے قاصد مرا چلا ہوگا\n\nجس گھڑی تجھ کو کنج خلوت میں\nپا کے تنہا وہ آ گیا ہوگا\n\nمصحفیؔ اس گھڑی میں حیراں ہوں\nتجھ سے کیوں کر رہا گیا ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جب کہ زلف اس کی گلے کھا بل پڑی", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کہ زلف اس کی گلے کھا بل پڑی\nلشکر عشاق میں ہلچل پڑی\n\nچتونوں نیچے کسے آنکھ آپ کی\nتکتی ہے پلکوں کے یوں اوجھل پڑی\n\nآہ کالی رات ہجراں کی پھنسی\nکرتی ہے کاکل ہی میں کل کل پڑی\n\nکل جو مدح و ذم تھی سانچ اور جھوٹ کی\nوہ پھبی ہم پر یہ تم پر ڈھل پڑی\n\nشعلہ خوئی سوچ تیری آج تک\nپکتی ہے چھاتی مری کھل کھل پڑی\n\nآہ بس سینے میں وہ رسوا نہ کر\nشمع ساں فانوس میں اب جل پڑی\n\nدوستی اس نے جو مجھ سے گرم کی\nدشمنوں کو اظفریؔ کچھ جھل پڑی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%92_%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%D9%84_%D9%BE%DA%91%DB%8C"} {"title": "جب کہ سر پر وبال آتا ہے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کہ سر پر وبال آتا ہے\nپیچ میں بال بال آتا ہے\n\nکب پیام وصال آتا ہے\nخواب ہے جو خیال آتا ہے\n\nتیغ عرفاں سے روح بسمل ہے\nحال پر اپنے حال آتا ہے\n\nشل ہے ہر چند پنچۂ مژگاں\nپر کلیجا نکال آتا ہے\n\nکیا عجب عشق ہو جو پیری میں\nدودھ میں بھی ابال آتا ہے\n\nخوب چلتی ہے ناؤ کاغذ کی\nگھر میں قاضی کے مال آتا ہے\n\nڈھیر ہے دل میں اب کدورت کا\nمٹی لینے کلال آتا ہے\n\nچل نکلتی ہے کشتی اعمال\nعرق انفعال آتا ہے\n\nہجر کے دن یوں ہی گزرتے ہیں\nماہ جاتے ہیں سال آتا ہے\n\nتیرے آنکھوں کے سامنے صیاد\nذبح ہونے غزال آتا ہے\n\nجس نے اس کی گلی میں پھل پایا\nکھا کے پتھر نہال آتا ہے\n\nسر کٹا کر شہید ہوتے ہیں\nعمر کھو کر کمال آتا ہے\n\nنہ ملے گا سوا مقدر سے\nجہل ہے جا ملال آتا ہے\n\nبہر زر گل ہے پلۂ میزاں\nتل کے کانٹے پہ مال آتا ہے\n\nبحرؔ کی سن کے عارفانہ غزل\nشاہ دریا کو حال آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D9%88%D8%A8%D8%A7%D9%84_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب کہ سید غلام بابا نے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "جب کہ سید غلام بابا نے\nمسند عیش پر جگہ پائی\nایسی رونق ہوئی برات کی رات\nکہ کواکب ہوے تماشائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D8%A7%D8%A8%D8%A7_%D9%86%DB%92"} {"title": "جب کہ فرقت میں موت آتی ہے", "poet_page": "مصنف:میر مظفر حسین ضمیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کہ فرقت میں موت آتی ہے\nحسرت وصل ساتھ جاتی ہے\n\nکیوں صبا قبر بے کساں پہ کبھی\nنہیں دو پھول بھی چڑھاتی ہے\n\nبھول جاتی ہے قبر کی ظلمت\nیاد زلف سیہ جو آتی ہے\n\nجو ترا غم ہمیشہ کھاتا تھا\nاب اسے خاک گور کھاتی ہے\n\nکون اس خاک پر خراماں ہے\nروح پھولے نہیں سماتی ہے\n\nیہاں نقشہ بگڑ گیا اپنا\nوہ پری آپ کو بناتی ہے\n\nنہ چراغاں ہو قبر پر تو کیا\nبے کسی تو جگر جلاتی ہے\n\nجا کے کر دو قدم تو استقبال\nتیرے کشتہ کی لاش آتی ہے\n\nنہ پدر کو خبر نہ مادر کو\nبے کسی کیا مزے دکھاتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%88%D8%AA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب کہ پہلو میں ہمارے بت خودکام نہ ہو", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کہ پہلو میں ہمارے بت خودکام نہ ہو\nگریے سے شام و سحر کیوں کہ ہمیں کام نہ ہو\n\nلے گیا دل کا جو آرام ہمارے یا رب\nاس دل آرام کو مطلق کبھی آرام نہ ہو\n\nجس کو سمجھے لب پاں خوردہ وہ مالیدہ مسی\nمردماں دیکھیو پھولی وہ کہیں شام نہ ہو\n\nآج تشریف گلستاں میں وہ مے کش لایا\nکف نرگس پہ دھرا کیونکہ بھلا جام نہ ہو\n\nکر مجھے قتل وہاں اب کہ نہ ہو کوئی جہاں\nتا مری جاں تو کہیں خلق میں بدنام نہ ہو\n\nدیکھ کر کھولیو تو کاکل پیچاں کی گرہ\nکہ مرا طائر دل اس کے تہ دام نہ ہو\n\nبن ترے اے بت خودکام یہ دل کو ہے خطر\nتیرے عاشق کا تمام آہ کہیں کام نہ ہو\n\nآج ہر ایک جو یارو نظر آتا ہے نڈھال\nاپنی ابرو کی وہ کھینچے ہوئے صمصام نہ ہو\n\nہے مرے شوخ کی بالیدہ وہ کافر آنکھیں\nجس کے ہم چشم ذرا نرگس بادام نہ ہو\n\nصبح ہوتی ہی نہیں اور نہیں کٹتی رات\nرخ پہ کھولے وہ کہیں زلف سیاہ فام نہ ہو\n\nاے ظفرؔ چرخ پہ خورشید جو یوں کانپے ہے\nجلوہ گر آج کہیں یار لب بام نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیں\nکیا ہی جھنجھلا کے وہ بولے کہ ہمیں اچھے ہیں\n\nکس بھروسے یہ کریں تجھ سے وفا کی امید\nکون سے ڈھنگ ترے جان حزیں اچھے ہیں\n\nخاک میں آہ ملا کر ہمیں کیا پوچھتے ہو\nخیر جس طور ہیں ہم خاک نشیں اچھے ہیں\n\nدل میں کیا خاک جگہ دوں ترے ارمانوں کو\nکہ مکاں ہے یہ خراب اور مکیں اچھے ہیں\n\nمجھ کو کہتے ہیں رقیبوں کی برائی سن کر\nوہ نہیں تم سے برے بلکہ کہیں اچھے ہیں\n\nبت وہ کافر ہیں کہ اے داغؔ خدا ان سے بچائے\nکون کہتا ہے یہ غارت گر دیں اچھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جب کہا تیر تری آنکھ نے اکثر مارا", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کہا تیر تری آنکھ نے اکثر مارا\nچتونیں پھیر کے بولے کہ برابر مارا\n\nقدر کچھ بھی مرے دل کی بت کافر نے نہ کی\nزلف پیچاں سے جو الجھا تو مرے سر مارا\n\nجان بے موت خدا بھی نہیں لیتا لیکن\nتو نے بے موت ہی لوگوں کو ستم گر مارا\n\nچند ذرے میری مٹی کے فقط ہاتھ آئے\nدشت غربت کے بگولوں نے جو چکر مارا\n\nاک مسلمان کا دل توڑ دیا کیا کہنا\nاپنے نزدیک بڑا آپ نے کافر مارا\n\nمضطرؔ ایسا کوئی اب تک نہ ہو اور نہ ہو\nموت نے ہائے عبث داغ سخنور مارا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%86%DB%92_%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "جب کہا میں نے اس سے الفت ہے", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "جب کہا میں نے اس سے الفت ہے\nہنس کے کہنے لگا اگر نہ ہوئی\n\nبید مجنوں کی ایک شاخ ہوئی\nوہ لچکتی ہوئی کمر نہ ہوئی\n\nوہ بھی گونگے بنے رہے ہم بھی\nگفتگو قصہ مختصر نہ ہوئی\n\nاس نے بیمار کا گلا گھونٹا\nجب دوا کوئی کارگر نہ ہوئی\n\nطائر دل کا جو شکار کرے\nوہ تو شکرہ ہوا نظر نہ ہوئی\n\nدختر رز کو لے گئے سب رند\nپیر مے خانہ کو خبر نہ ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہم", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہم\nہنس کے بولے تمہیں جینا تھا تو مر کیوں نہ گئے\n\nہم تو اللہ کے گھر جا کے بہت پچھتائے\nجان دینی تھی تو کافر ترے گھر کیوں نہ گئے\n\nسوئے دوزخ بت کافر کو جو جاتے دیکھا\nہم نے جنت سے کہا ہائے ادھر کیوں نہ گئے\n\nپہلے اس سوچ میں مرتے تھے کہ جیتے کیوں ہیں\nاب ہم اس فکر میں جیتے ہیں کہ مر کیوں نہ گئے\n\nزاہدو کیا سوئے مشرق نہیں اللہ کا گھر\nکعبے جانا تھا تو تم لوگ ادھر کیوں نہ گئے\n\nتو نے آنکھیں تو مجھے دیکھ کے نیچی کر لیں\nمیرے دشمن تری نظروں سے اتر کیوں نہ گئے\n\nسن کے بولے وہ مرا حال جدائی مضطرؔ\nجب یہ حالت تھی تو پھر جی سے گزر کیوں نہ گئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B1_%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%86%DB%92_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "جب کہا میں ہوں ترے عشق میں بدنام کہ تو", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کہا میں ہوں ترے عشق میں بدنام کہ تو\nہنس کے کس ناز سے بولا بت خود کام کہ تو\n\nکون سی راہ چلوں کفر محبت سچ کہہ\nکام آئے گا وہاں مذہب اسلام کہ تو\n\nدھوکے دے دے کہ مرا وقت کٹا ہے کہ ترا\nوعدے کر کر کے میں سویا ہوں سر شام کہ تو\n\nپردہ اٹھنے سے مرا راز کھلا ہے کہ ترا\nگھر سے نکلا ہے ترے ساتھ مرا نام کہ تو\n\nکچھ تو کہہ اے دل بے تاب ارادے کیا ہیں\nنامہ بر جائے گا لے کر مرا پیغام کہ تو\n\nخاتمہ ہجر کی شب کون کرے گا میرا\nحسرت وصل کا بگڑا ہوا انجام کہ تو\n\nساعت عیش دو روزہ تری حاجت کیا ہے\nغم جاوید نکالے گا مرا کام کہ تو\n\nکون پیتا ہے محبت کا پیالہ پی لے\nمدعی لے گا مرے ہاتھ سے اک جام کہ تو\n\nمیں نے سوچا کہ نگاہیں انہیں ڈھونڈیں کہ خیال\nناگہاں بول اٹھی گردش ایام کہ تو\n\nتجھ کو کیوں رنجش بے جا ہے عدو کا کھٹکا\nمیں اٹھاؤں گا محبت میں یہ الزام کہ تو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%AF%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%88"} {"title": "جب کہو کیوں ہو خفا کیا باعث", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کہو کیوں ہو خفا کیا باعث\nکہتے ہیں پوچھنے کا کیا باعث\n\nبھولی صورت کی ہے خوبی ورنہ\nہو عدو دوست نما کیا باعث\n\nمیں نے کی آہ تو بولے ناگاہ\nہو گئے گرم ہوا کیا باعث\n\nآتا ہے دیکھ کے انجم کو خیال\nہے فلک آبلہ پا کیا باعث\n\nوعدہ کرنے کی ضرورت کیا تھی\nپھر نہ آنے کا بھلا کیا باعث\n\nگر نہ تھی ہجر میں امید وصال\nجیتے رہنے کا ہوا کیا باعث\n\nدم نکلتا ہے مرا رک رک کر\nکند ہے تیغ قضا کیا باعث\n\nچشمۂ خضر میں مے ہی بے شک\nآب ہو عمر فزا کیا باعث\n\nتم کرو ترک جفا کیا امکان\nہم کریں ترک وفا کیا باعث\n\nنالہ کرتا نہیں ناظمؔ تاثیر\nتیر ہوتا ہے خطا کیا باعث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B9%D8%AB"} {"title": "جب کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیا\nاے صنم لطف ہے پردے کی ملاقات میں کیا\n\nکوئی اندھا ہی تجھے ماہ کہے اے خورشید\nفرق ہوتا نہیں انسان سے دن رات میں کیا\n\nیار نے وعدۂ فردائے قیامت تو کیا\nشک ہے اے نالۂ دل تیری کرامات میں کیا\n\nکوئی بت خانے کو جاتا ہے کوئی کعبہ کو\nپھر رہے گبر و مسلماں ہیں تری گھات میں کیا\n\nایک مدت سے ہوں سائل ترے دروازے پر\nبوسہ یا گالی ملے گا مجھے خیرات میں کیا\n\nایسی اونچی بھی تو دیوار نہیں گھر کی ترے\nرات اندھیری کوئی آوے گی نہ برسات میں کیا\n\nدو گھڑی کی جو ملاقات تھی وہ بھی موقوف\nایسا پڑتا تھا خلل یار کی اوقات میں کیا\n\nپڑھ کے خط اور بھی مایوس ہوئے وصل سے ہم\nیار نے بھیجا سفر سے ہمیں سوغات میں کیا\n\nآتش مست جو مل جائے تو پوچھوں اس سے\nتو نے کیفیت اٹھائی ہے خرابات میں کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%B3%DA%86_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جب گوئے زمیں نے اس پہ ڈالا سایہ", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جب گوئے زمیں نے اس پہ ڈالا سایہ\nتو ماہ شب چار دہم گہنایا\nاللہ کی ذات ہے تغیر سے بری\nشمس اور قمر کا ہے فرو تر پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%AF%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%DB%81_%DA%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%DB%8C%DB%81"} {"title": "جب گھر سے وہ بعد ماہ نکلے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب گھر سے وہ بعد ماہ نکلے\nمنہ سے مرے کیوں نہ آہ نکلے\n\nدل وہ ہے کہ جس سے چاہ نکلے\nمنہ وہ ہے کہ جس سے آہ نکلے\n\nزنداں کی تو اپنے سیر تو کر\nشاید کوئی بے گناہ نکلے\n\nمانیؔ سے کھنچی نہ خط کی تصویر\nلاکھوں ورق سیاہ نکلے\n\nخجلت یہ ہوئی کہ محکمے سے\nشرمندہ مرے گواہ نکلے\n\nرستے مسدود ہو گئے ہیں\nاب دیکھیے کیونکے راہ نکلے\n\nپلکیں نہیں چھوڑتیں کہ اک دم\nآنکھوں سے تری نگاہ نکلے\n\nاے آہ تو لے تو چل علم کو\nتا آنسوؤں کی سپاہ نکلے\n\nنکلا میں گلی سے اس کی اس طرح\nجیسے کوئی دادخواہ نکلے\n\nوہ سوختہ میں نہیں کہ جس کی\nتربت سے گل و گیاہ نکلے\n\nشعر اپنے جو مصحفیؔ پڑھوں میں\nمنہ سے ترے واہ واہ نکلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "جب ہم بغل وہ سرو قبا پوش ہو گیا", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب ہم بغل وہ سرو قبا پوش ہو گیا\nقمری کا طوق حلقۂ آغوش ہو گیا\n\nاشعار میرے سن کے وہ خاموش ہو گیا\nغنچہ برنگ گل ہمہ تن گوش ہو گیا\n\nپی غیر نے شراب مجھے بے خودی ہوئی\nنشہ چڑھا کسی کو میں بے ہوش ہو گیا\n\nاس درجہ بے خودی نے دکھائیں تعلیاں\nگردوں غبار قافلۂ ہوش ہو گیا\n\nتیغ اجل کی کاٹ سے ڈرتا نہیں ہوں میں\nزخموں سے جسم زار ذرہ پوش ہو گیا\n\nاے بت خیال وصف دہن میں نہ پائی راہ\nبھٹکا پھرا سخن جو میں خاموش ہو گیا\n\nخوں خواروں کے حضور نہ آیا ہماری طرح\nآئینہ جوہروں سے ذرہ پوش ہو گیا\n\nطالع جگائے آپ نے ارباب عشق کے\nیوسف کا حسن خواب فراموش ہو گیا\n\nپنہاں ہے زیر سبزۂ خط آتش عذار\nشعلہ فسون حسن سے خس پوش ہو گیا\n\nحوریں گلے لپٹتی ہیں آ آ کے رات دن\nجنت کی راہ کوچۂ آغوش ہو گیا\n\nاس مست حسن کی نگہ گرم کے حضور\nآئینۂ جام بادۂ سرجوش ہو گیا\n\nبے لطفیوں سے تم جو ملے میں نے جان دی\nپھانسی گلے میں حلقۂ آغوش ہو گیا\n\nابر سیہ کے سایہ نے سرمہ کھلا دیا\nسبزہ تمام طوطی خاموش ہو گیا\n\nکاندھوں سے میرے کاتب اعمال گر پڑے\nتڑپا میں اس قدر کہ سبک دوش ہو گیا\n\nکانوں کا حسن جلوۂ عارض سے پڑ گیا\nرخ آفتاب صبح بنا گوش ہو گیا\n\nاڑتا ہوں عشق میں لب لعلیں کے اے منیرؔ\nگویا شرار آتش خاموش ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DB%81%D9%85_%D8%A8%D8%BA%D9%84_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D9%82%D8%A8%D8%A7_%D9%BE%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جب ہم نشیں ہمارا بھی عہد شباب تھا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب ہم نشیں ہمارا بھی عہد شباب تھا\nکیا کیا نشاط و عیش سے دل کامیاب تھا\n\nحیرت ہے اس کی زود روی کیا کہیں ہم آہ\nنقش طلسم تھا وہ کوئی یا حباب تھا\n\nتھا جب وہ جلوہ گر تو دل و جاں میں دم بدم\nعشرت کی حد نہ عیش و طرب کا حساب تھا\n\nتھے باغ زندگی کے اسی سے ہی آب و رنگ\nدیوان عمر کا بھی وہی انتخاب تھا\n\nاپنی تو فہم میں وہی ہنگام اے نظیرؔ\nمجموعۂ حیات کا لب لباب تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر\nکس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر\n\nتھی جملہ تن لطافت عالم میں جاں کے ہم تو\nمٹی میں اٹ گئے ہیں اس خاکداں میں آ کر\n\nسعی و طلب بہت کی مطلب کے تئیں نہ پہنچے\nناچار اب جہاں سے بیٹھے ہیں ہاتھ اٹھا کر\n\nغیرت یہ تھی کہ آیا اس سے جو میں خفا ہو\nمرتے موا پہ ہرگز اودھر پھرا نہ جا کر\n\nقدرت خدا کی سب میں خلع العذار آؤ\nبیٹھو جو مجھ کنے تو پردے میں منہ چھپا کر\n\nارمان ہے جنہوں کو وے اب کریں محبت\nہم تو ہوئے پشیماں دل کے تئیں لگا کر\n\nمیں میرؔ ترک لے کر دنیا سے ہاتھ اٹھایا\nدرویش تو بھی تو ہے حق میں مرے دعا کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "جب ہو چکی شراب تو میں مست مر گیا", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب ہو چکی شراب تو میں مست مر گیا\nشیشے کے خالی ہوتے ہی پیمانہ بھر گیا\n\nنے قاصد خیال نہ پیک نظر گیا\nان تک میں اپنی آپ ہی لے کر خبر گیا\n\nروح روان و جسم کی صورت میں کیا کہوں\nجھونکا ہوا کا تھا ادھر آیا ادھر گیا\n\nطوفان نوح اس میں ہو یا شور حشر ہو\nہوتا جو کچھ ہے ہوگا جو گزرا گزر گیا\n\nسمجھا ہے حق کو اپنے ہی جانب ہر ایک شخص\nیہ چاند اس کے ساتھ چلا جو جدھر گیا\n\nشوریدگی سے میری یہاں تک وہ تنگ تھے\nروٹھا جو میں تو خیر منائی کہ شر گیا\n\nمیں نے بھی آنکھیں دیکھی ہیں پریوں کی جاؤ بھی\nتم نے دکھائی آنکھ مجھے اور میں ڈر گیا\n\nگزرا جہاں سے میں تو کہا سن کے یار نے\nقصہ گیا فساد گیا درد سر گیا\n\nکاغذ سیاہ کرتے ہو کس کے لیے نسیمؔ\nآیا جواب خط تمہیں اور نامہ بر گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D9%85%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جب ہوئے تم چمن میں آن کھڑے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب ہوئے تم چمن میں آن کھڑے\nووہیں ہو گئے گلوں کے کان کھڑے\n\nشکر غم ہے کہ دل کے میداں میں\nآہ و نالے کے ہیں نشان کھڑے\n\nبیٹھنے کی نہیں رہی طاقت\nہوویں کیا ہم سے ناتوان کھڑے\n\nاس تلک بال شوق لے پہنچا\nرہ گئے در پہ داربان کھڑے\n\nاس کے تیر نگاہ کی دولت\nہیں در دل پہ میہمان کھڑے\n\nبے سبب ہم سے روٹھے جاتے ہو\nسن لو ٹک ہو کے مہربان کھڑے\n\nدین و ایمان و جان دینے کو\nہم تو ہیں رو بہ رو ہر آن کھڑے\n\nآج وہ امتحان لے ؔجوشش\nہم بھی ہیں بہر امتحان کھڑے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%85_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86_%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%92"} {"title": "جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی\nمدتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئی\n\nمیرے نغمات کی تقدیر نہ پہنچے تجھ تک\nمیری فریاد کی قسمت کہ تجھے چھو آئی\n\nاپنی آنکھوں سے لگاتی ہیں زمانے کے قدم\nشہر کی راہ گزاروں میں مری خو آئی\n\nہاں نمازوں کا اثر دیکھ لیا پچھلی رات\nمیں ادھر گھر سے گیا تھا کہ ادھر تو آئی\n\nمژدہ اے دل کسی پہلو تو قرار آ ہی گیا\nمنزل دار کٹی ساعت گیسو آئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%AF%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "جب ہوا وعدہ اور وفا نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:محمود رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب ہوا وعدہ اور وفا نہ ہوا\nپھر برابر ہے وہ ہوا نہ ہوا\n\nکس سے ہوگی جو کی وفا میں نے\nکس کا ہوگا وہ جب مرا نہ ہوا\n\nتم سلامت رہو زمانے میں\nمیری کیا میں ہوا ہوا نہ ہوا\n\nغیر کے بدلے چھوڑتے ہو مجھے\nوہ اگر خوگر جفا نہ ہوا\n\nجان دینی قبول کی ہم نے\nدل لگانے کا جو صلہ نہ ہوا\n\nجب کہا اس نے آج کیوں چپ ہو\nپھر شکایت کا حوصلہ نہ ہوا\n\nجس کے محمودؔ وہ ہوئے دشمن\nاس کا پھر کوئی آشنا نہ ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "جب یاد کیا اس نے پھر کس کی فراموشی", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب یاد کیا اس نے پھر کس کی فراموشی\nیوں آتے ہیں ہوش اکبرؔ یوں جاتی ہے بے ہوشی\n\nبیٹھے ہوئے آنکھوں میں خود محو تماشا ہو\nدیکھا کرو تم ہم کو ہم دیکھیں تو روپوشی\n\nوہ تربت عاشق پر منہ ڈھانپ کر آئے ہیں\nاللہ رے شرم ان کی اللہ رے رو پوشی\n\nسنتے ہیں کہ تھا پہلے دریا میں نہاں قطرہ\nاب بحر نے چاہی ہے قطرے سے ہم آغوشی\n\nمحشر بھی ہوا برپا اٹھے نہ ترے کشتے\nبے ہوش ہے نام اس کا اللہ رے بے ہوشی\n\nبھولے گا نہ اے اکبرؔ استاد کا یہ مصرع\nساقی دئے جا ساغر جب تک نہ ہو بے ہوشی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4%DB%8C"} {"title": "جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے\nتب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے\n\nدو دن میں ہم تو ریجھے اے وائے حال ان کا\nگزرے ہیں جن کے دل کو یاں ماہ و سال باندھے\n\nتار نگہ میں اس کے کیونکر پھنسے نہ یہ دل\nآنکھوں نے جس کے لاکھوں وحشی غزال باندھے\n\nجو کچھ ہے رنگ اس کا سو ہے نظر میں اپنی\nگو جامہ زرد پہنے یا چیرہ لال باندھے\n\nتیرے ہی سامنے کچھ بہکے ہے میرا نالہ\nورنہ نشانے ہم نے مارے ہیں بال باندھے\n\nبوسہ کی تو ہے خواہش پر کہیے کیونکہ اس سے\nجس کا مزاج لب پر حرف سوال باندھے\n\nماروگے کس کو جی سے کس پر کمر کسی ہے\nپھرتے ہو کیوں پیارے تلوار ڈھال باندھے\n\nدو چار شعر آگے اس کے پڑھے تو بولا\nمضموں یہ تو نے اپنے کیا حسب حال باندھے\n\nسوداؔ جو ان نے باندھا زلفوں میں دل سزا ہے\nشعروں میں اس کے تو نے کیوں خط و خال باندھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%B2%D9%84%D9%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%84_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%92"} {"title": "جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیا\nاب خشک مزاج آنکھیں بھی ہوئیں دل نے بھی مچلنا چھوڑ دیا\n\nناوک فگنی سے ظالم کی جنگل میں ہے اک سناٹا سا\nمرغان خوش الحاں ہو گئے چپ آہو نے اچھلنا چھوڑ دیا\n\nکیوں کبر و غرور اس دور پہ ہے کیوں دوست فلک کو سمجھا ہے\nگردش سے یہ اپنی باز آیا یا رنگ بدلنا چھوڑ دیا\n\nبدلی وہ ہوا گزرا وہ سماں وہ راہ نہیں وہ لوگ نہیں\nتفریح کہاں اور سیر کجا گھر سے بھی نکلنا چھوڑ دیا\n\nوہ سوز و گداز اس محفل میں باقی نہ رہا اندھیر ہوا\nپروانوں نے جلنا چھوڑ دیا شمعوں نے پگھلنا چھوڑ دیا\n\nہر گام پہ چند آنکھیں نگراں ہر موڑ پہ اک لیسنس طلب\nاس پارک میں آخر اے اکبرؔ میں نے تو ٹہلنا چھوڑ دیا\n\nکیا دین کو قوت دیں یہ جواں جب حوصلہ افزا کوئی نہیں\nکیا ہوش سنبھالیں یہ لڑکے خود اس نے سنبھلنا چھوڑ دیا\n\nاقبال مساعد جب نہ رہا رکھے یہ قدم جس منزل میں\nاشجار سے سایہ دور ہوا چشموں نے ابلنا چھوڑ دیا\n\nاللہ کی راہ اب تک ہے کھلی آثار و نشاں سب قائم ہیں\nاللہ کے بندوں نے لیکن اس راہ میں چلنا چھوڑ دیا\n\nجب سر میں ہوائے طاعت تھی سرسبز شجر امید کا تھا\nجب صرصر عصیاں چلنے لگی اس پیڑ نے پھلنا چھوڑ دیا\n\nاس حور لقا کو گھر لائے ہو تم کو مبارک اے اکبرؔ\nلیکن یہ قیامت کی تم نے گھر سے جو نکلنا چھوڑ دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DB%8C%D8%A7%D8%B3_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D9%86%D8%A7_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جب یہ پوچھا کہ کب ملیں گے آپ", "poet_page": "مصنف:احمد شاہ خاں شبنم", "kind": "poetry", "section": "غزل > گلدستۂ لطافت (1936)", "year": "1936", "text_ur": "جب یہ پوچھا کہ کب ملیں گے آپ\nہنس کے بولے کہ جب ملیں گے آپ\n\nوصل میں بھی وہی کھنچاوٹ ہے\nہم نے جانا تھا اب ملیں گے آپ\n\nیہ لگی لپٹی باتیں خوب نہیں\nصاف کہئے کہ کب ملیں گے آپ\n\nکھینچنے والے جب ہی تک ہیں کھنچے\nمل گئے تم تو سب ملیں گے آپ\n\nدیکھ پایا ہے کچھ تو شبنمؔ میں\nکس سے یوں بے سبب ملیں گے آپ", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8_%DB%8C%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%D8%A8_%D9%85%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "جبریل واِبلیس", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "جِبریل\nہمدمِ دیرینہ! کیسا ہے جہانِ رنگ و بُو؟\n\nاِبلیس\nسوز و ساز و درد و داغ و جستجوے و آرزو\n\nجِبریل\nہر گھڑی افلاک پر رہتی ہے تیری گُفتگو\nکیا نہیں ممکن کہ تیرا چاکِ دامن ہو رُفو؟\n\nاِبلیس\nآہ اے جِبریل! تُو واقف نہیں اس راز سے\nکر گیا سرمست مجھ کو ٹُوٹ کر میرا سبُو\nاب یہاں میری گزر ممکن نہیں، ممکن نہیں\nکس قدر خاموش ہے یہ عالَمِ بے کاخ و کُو!\nجس کی نومِیدی سے ہو سوزِ دُرونِ کائنات\nاُس کے حق میں ’تَقنَطُوا‘ اچھا ہے یا ’لاتَقنَطُوا‘؟\n\nجِبریل\nکھو دیے انکار سے تُو نے مقاماتِ بلند\nچشمِ یزداں میں فرشتوں کی رہی کیا آبرو!\n\nابلیس\nہے مری جُرأت سے مشتِ خاک میں ذوقِ نمو\nمیرے فتنے جامۂ عقل و خِرد کا تاروپو\nدیکھتا ہے تُو فقط ساحل سے رزمِ خیر و شر\nکون طُوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے، مَیں کہ تو؟\nخِضر بھی بے دست و پا، الیاس بھی بے دست و پا\nمیرے طوفاں یم بہ یم، دریا بہ دریا، جُو بہ جُو\nگر کبھی خلوَت میَسّر ہو تو پُوچھ اللہ سے\nقِصّۂ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہُو!\nمَیں کھٹکتا ہُوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح\nتُو فقط اَﷲھوٗ، اَﷲھوٗ، اَﷲھوٗ!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D9%84_%D9%88%D8%A7%D9%90%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%B3"} {"title": "جبکہ غصے کے بیچ آتے ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جبکہ غصے کے بیچ آتے ہو\nلاکھ لاکھ ایک کی سناتے ہو\n\nکیسے ہر کھائے سے بنے پیارے\nبات کرتے ہی کاٹ کھاتے ہو\n\nاڑتی چڑیا کو ہم پرکھتے ہیں\nکسے باتوں میں تم اڑاتے ہو\n\nکہو مجھ سے بھی چل سکوگے کیا\nبیٹھو جی باتیں کیا بناتے ہو\n\nجس نہ تس پر نہ دیکھ دہ پڑنا\nبھلے متوالے مدھ کے ماتے ہو\n\nجب میں دیکھوں ہوں آنکھ بھر کے تمہیں\nبدل آنکھیں مجھے دھراتے ہو\n\nکیا تمہاری گدھی چرائی میں\nگالیاں دے جو منہ چراتے ہو\n\nجب نہ تب اٹھ کے اظفریؔ کا گلا\nداب دھمکاتے اور ڈراتے ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8%DA%A9%DB%81_%D8%BA%D8%B5%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%86_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "جبین شوق کو کچھ اور بھی اذن سعادت دے", "poet_page": "مصنف:عبدالعلیم آسی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جبین شوق کو کچھ اور بھی اذن سعادت دے\nکہ ذوق زندگی محدود سنگ آستاں تک ہے\n\nنوید رستگاری پر عبث دل شاد ہوتا ہے\nابھی صد دام اے بلبل قفس سے آشیاں تک ہے\n\nیہ احساس تعلق مجھ کو مٹنے بھی نہیں دیتا\nکہ تیری داستاں کا ربط میری داستاں تک ہے\n\nترانہ چھیڑ وہ مطرب کہ روح عشق چونک اٹھے\nخروش نالۂ غم کیا جو سوز جسم و جاں تک ہے\n\nسراپا آرزو بن کر کمال مدعا ہو جا\nوہ ننگ عشق ہے جو آرزو آہ و فغاں تک ہے\n\nزمانہ چاہیے تکمیل ذوق لذت غم کو\nابھی دنیائے دل محدود ذکر این و آں تک ہے\n\nبیابان محبت کی نوازش پوچھنا کیا ہے\nامید و بیم کی حالت فقط سود و زیاں تک ہے\n\nکہاں سے لائے گی دنیا ہماری ہمتیں آسیؔ\nمحبت میں قدم اپنا فقط کون و مکاں تک ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8%DB%8C%D9%86_%D8%B4%D9%88%D9%82_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%B0%D9%86_%D8%B3%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA_%D8%AF%DB%92"} {"title": "جبین پر کیوں شکن ہے اے جان منہ ہے غصہ سے لال کیسا", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "جبین پر کیوں شکن ہے اے جان منہ ہے غصہ سے لال کیسا\nہزار باتیں ہوں ایک ہیں پھر بھلا یہ باہم ملال کیسا\n\nنہیں ہے اب تاب درد فرقت کہاں کی عزت کہاں کی غیرت\nہیں مبتلا اپنے حال میں ہم کسی کا اس دم خیال کیسا\n\nبتاؤ مجھ کو یہ کیا ہوا ہے یہ کون سا درد لا دوا ہے\nیہ کیوں مرا دم الجھ رہا ہے ہے خود بخود جی نڈھال کیسا\n\nتمام عالم ہوا جو شیدا تو کچھ تعجب نہیں ہے اس کا\nبت ستم گار تجھ کو بخشا خدا نے حسن و جمال کیسا\n\nگنہ سے سیری ہوئی نہیں ہے یہ کہتے ہیں سب اجل قریں ہے\nقلق میں ہر دم دل حزیں ہے کہ ہوگا اپنا مآل کیسا\n\nیہ اس ستم گر سے کوئی کہہ دے مریض فرقت کی اب خبر لے\nہیں کٹ رہی زندگی کی گھڑیاں کہاں کا دن ماہ و سال کیسا\n\nغضب سے ہے واں جو چیں جبیں پر ہجوم غم ہے دل حزیں پر\nلہو کے دھبے ہیں آستیں پر ہے دامن اشکوں سے لال کیسا\n\nہوس ہے ہر ایک جی کی جی میں ہوئے جو غش وصل کی خوشی میں\nتمام شب گزری بے خودی میں جواب کیسا سوال کیسا\n\nجہان چھانا پڑا ہے کب کا فلک پہ وحشت کا اب ہے شہرا\nکہاں کا مغرب کہاں کا مشرق جنوب کیسا شمال کیسا\n\nوہ مہر ہوں میں ہوا جو طالع تو اک زمانہ نے خاک اڑائی\nچمکنے دیتے نہیں ہیں بد میں عروج کیسا زوال کیسا\n\nحبیبؔ کر کے بتوں کی الفت ابھی سے یہ ہجر کی شکایت\nرہے گا اب حشر تک یہ جھگڑا یہاں بھلا انفصال کیسا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8%DB%8C%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B4%DA%A9%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%85%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%BA%D8%B5%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%84%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7"} {"title": "جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کی", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کی\nبلائیں لے رہا ہوں اپنے سر کی\n\nابھر آئی ہیں پھر چوٹیں جگر کی\nسلامت برچھیاں ترچھی نظر کی\n\nقیامت کی حقیقت جانتا ہوں\nیہ اک ٹھوکر ہے میرے فتنہ گر کی\n\nکیا مجبور آئین وفا نے\nنہ کرنی تھی وفا تم سے مگر کی\n\nنہ مانو گے نہ مانو گے ہماری\nادھر ہو جائے گی دنیا ادھر کی\n\nہوئی ان بن کسی سے مجھ پہ برسے\nبلائیں میرے سر دشمن کے سر کی\n\nنہ تیرے حسن بے پروا کی غایت\nنہ کوئی حد مرے ذوق نظر کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "جتا نہ میرے تئیں اپنا تو ہنر واعظ", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جتا نہ میرے تئیں اپنا تو ہنر واعظ\nتو اپنے فعل سے منہ اپنا خاک بھر واعظ\n\nنصیحت اوروں کو کرتا ہے چڑھ کے ممبر پر\nمگر نہیں ہے ترے دل پہ کچھ اثر واعظ\n\nزباں پہ وعظ ہے اور دل ترا ہے استغلاظ\nبہ وعظ بیہودہ مت باندھ تو کمر واعظ\n\nعمل بہ وعظ کر اپنے بہ صدق و دل ورنہ\nتو اپنے حال کو دیکھے گا در حشر واعظ\n\nبڑھا کے ریش کو اپنی بھی جوں دم طاؤس\nیہ کس خیال پہ بھولا ہے ابلہ خر واعظ\n\nخدا کریم ہے چاہے گا جس کو بخشے گا\nکسی پہ طعن کی انگشت تو نہ دھر واعظ\n\nتو اپنے وعظ پہ واعظ نہ بھول سچ ہی نہیں\nکہ راز عشق سے تیرے تئیں خبر واعظ\n\nمقابلہ بہ بحث مت کر اہل رنداں سے\nکہ جس میں آپ کے ہو ریش کا ضرر واعظ\n\nکلام بے نمک و بے اثر سے تو اپنے\nخراب مت کرے خلقت خدا سے ڈر واعظ\n\nیہاں وہاں پہ تجھے گر نجات ہے منظور\nکسی فقیر کے قدموں پر سر کو دھر واعظ\n\nتو کہیو پیر مغاں سے سلام افریدیؔ\nاگر بہ کوئے خرابات ہو گزر واعظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%86%D8%B1_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "جتائے جاتے ہیں احسان بھی ستا کے مجھے", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جتائے جاتے ہیں احسان بھی ستا کے مجھے\nسکھا رہے ہیں وہ گویا چلن وفا کے مجھے\n\nرکھا نہ ہم کو کہیں کا تری محبت نے\nوہ کہہ رہے ہیں عدو سے سنا سنا کے مجھے\n\nتمیز عشق و ہوس پیشتر نہ تھی ان کو\nوہ اور ہو گئے مغرور آزما کے مجھے\n\nشب وصال ادائیں بھی ہیں جفائیں بھی\nدکھائے جاتے ہیں انداز کس بلا کے مجھے\n\nجو سیر دیکھنی منظور ہے تمہیں بیخودؔ\nبھڑا دو حضرت زاہد سے مے پلا کے مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "جتاتے رہتے ہیں یہ حادثے زمانے کے", "poet_page": "مصنف:سائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جتاتے رہتے ہیں یہ حادثے زمانے کے\nکہ تنکے جمع کریں پھر نہ آشیانے کے\n\nسبب یہ ہوتے ہیں ہر صبح باغ جانے کے\nسبق پڑھاتے ہیں کلیوں کو مسکرانے کے\n\nہزاروں عشق جنوں خیز کے بنے قصے\nورق ہوے جو پریشاں مرے فسانے کے\n\nہیں اعتبار سے کتنے گرے ہوے دیکھا\nاسی زمانے میں قصے اسی زمانے کے\n\nقرار جلوہ نمائی ہوا ہے فردا پر\nیہ طول دیکھیے اک مختصر زمانے کے\n\nنہ پھول مرغ چمن اپنی خوشنوائی پر\nجواب ہیں مرے نالے ترے ترانے کے\n\nاسی کی خاک ہے ماتھے کی زیب بندہ نواز\nجبیں پہ نقش پڑے ہیں جس آستانے کے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AA%D8%A7%D8%AA%DB%92_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D8%AF%D8%AB%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92"} {"title": "جتنا تھا سرگرم کار اتنا ہی دل ناکام تھا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جتنا تھا سرگرم کار اتنا ہی دل ناکام تھا\nہوش جس کا نام ہے وہ بھی جنون خام تھا\n\nہوش کا ضامن تھا ساقی کیف پرور دل کا شوق\nجام تھا پاس اور بے اندیشۂ انجام تھا\n\nختم کرتی جلد کیوں کر زیست کی منزل کو سانس\nپھیر کوسوں کا تھا لیکن فاصلہ اک گام تھا\n\nجوش شوریدہ سری تھا تا بہ وہم اختیار\nتھک کے دم ٹوٹا تو پھر آرام ہی آرام تھا\n\nاب کہاں وہ آمد و رفت نفس کی شاہ راہ\nاک کشاکش تھی کہ جس کا زندگانی نام تھا\n\nچونک کر خود منظر ہستی سے آنکھیں پھیر لیں\nہچکیاں کاہے کو تھیں پوشیدہ اک پیغام تھا\n\nگل ہوا آخر بھڑک کر شعلۂ جوش شباب\nتھی کف موج حوادث اور چراغ شام تھا\n\nبے جلے کس طرح بنتا شمع پروانے کا دل\nوہ اسے انجام کیا دیتے جو میرا کام تھا\n\nتم نے خود ناکام رکھ کے اس کی ہمت کی تھی پست\nآرزوئے بے گنہ پر مفت کا الزام تھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D8%B1%DA%AF%D8%B1%D9%85_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جتنا کوئی تجھ سے یار ہوگا", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جتنا کوئی تجھ سے یار ہوگا\nاتنا ہی خراب و خوار ہوگا\n\nہر روز ہو روز عید تو بھی\nتو مجھ سے نہ ہم کنار ہوگا\n\nبس دل اتنا تڑپ نہ چپ رہ\nتجھ کو بھی کہیں قرار ہوگا\n\nدیکھے جو کوئی چمن میں تجھ کو\nگل اس کی نظر میں خار ہوگا\n\nشکوے میں ہو جس کے خون کی بو\nتیرا ہی وہ دل فگار ہوگا\n\nناصح نہ ہو گریہ سے جو مانع\nمیرا وہی غم گسار ہوگا\n\nجا یار شتاب سوزؔ سے مل\nتیرا اسے انتظار ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AA%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جدا اس سے بھلا کب تک رہوں میں", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "ریختی", "year": null, "text_ur": "جدا اس سے بھلا کب تک رہوں میں\nبری اس سے بھلا کب تک رہوں میں\n\nطبیعت چاہتی ہے اس کو میری\nکھنچی اس سے بھلا کب تک رہوں میں\n\nلڑا کرتا ہے وہ مجھ سے ہمیشہ\nملی اس سے بھلا کب تک رہوں میں\n\nجھپٹتا ہے وہ سو سو بار آکر\nبچی اس سے بھلا کب تک رہوں میں\n\nبرا مجھ کو سمجھتا ہے جو رنگینؔ\nبھلی اس سے بھلا کب تک رہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%B1%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جدا جو پہلو سے وہ دلبر یگانہ ہوا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جدا جو پہلو سے وہ دلبر یگانہ ہوا\nتپش کی یاں تئیں دل نے کہ درد شانہ ہوا\n\nجہاں کو فتنے سے خالی کبھو نہیں پایا\nہمارے وقت میں تو آفت زمانہ ہوا\n\nخلش نہیں کسو خواہش کی رات سے شاید\nسرکش یاس کے پردے میں دل روانہ ہوا\n\nہم اپنے دل کی چلے دل ہی میں لیے یاں سے\nہزار حیف سر حرف اس سے وا نہ ہوا\n\nکھلا نشے میں جو پگڑی کا پیچ اس کی میرؔ\nسمند ناز پہ ایک اور تازیانہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "جدا نہیں ہے ہر اک موج دیکھ آب کے بیچ", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جدا نہیں ہے ہر اک موج دیکھ آب کے بیچ\nحباب بحر میں ہے بحر ہے حباب کے بیچ\n\nلگا ہے جس سے مرے دل میں عشق کا کانٹا\nہوں مثل ماہیٔ بے تاب پیچ و تاب کے بیچ\n\nکسو کے دل کی عمارت کا فکر کر منعم\nبنا نہ گھر کو تو اس خانۂ خراب کے بیچ\n\nہر ایک چلنے کو یاں مستعد ہے شاہ سوار\nزمیں پہ پاؤں ہے اک دوسرا رکاب کے بیچ\n\nبرنگ شمع چھپے حسن جلوہ گر کیوں کر\nہزار اس کو رکھیں برقع و نقاب کے بیچ\n\nنصیرؔ آنکھوں میں اپنی لگے ہے یوں دو جہاں\nخیال دیکھتے ہی جیسے شب کو خواب کے بیچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D9%85%D9%88%D8%AC_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%A2%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%86"} {"title": "جدا کریں گے نہ ہم دل سے حسرت دل کو", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جدا کریں گے نہ ہم دل سے حسرت دل کو\nعزیز کیوں نہ رکھیں زندگی کے حاصل کو\n\nنہاں اگرچہ ہے محفل سے سوز دل میرا\nمگر یہ راز ہے معلوم شمع محفل کو\n\nوہ طول کھینچا بلا کا ترے تغافل نے\nکہ صبر آ ہی گیا میرے مضطرب دل کو\n\nکٹھن ہے کام تو ہمت سے کام لے اے دل\nبگاڑ کام نہ مشکل سمجھ کے مشکل کو\n\nوہ کام میرا نہیں جس کا نیک ہو انجام\nوہ راہ میری نہیں جو گئی ہو منزل کو\n\nخبر ہوئی نہ انہیں میرے مضطرب دل کی\nغلط خیال ہے یہ دل سے راہ ہے دل کو\n\nبلا کی ہوتی ہے وحشتؔ کی بھی غزل خوانی\nکہ اک سرور سا ہوتا ہے اہل محمل کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88"} {"title": "جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو\nیہ داغ وہ ہے کہ دشمن کو بھی نصیب نہ ہو\n\nجدا جو ہم کو کرے اس صنم کے کوچے سے\nالٰہی راہ میں ایسا کوئی رقیب نہ ہو\n\nعلاج کیا کریں حکما تپ جدائی کا\nسوائے وصل کے اس کا کوئی طبیب نہ ہو\n\nنظیرؔ اپنا تو معشوق خوب صورت ہے\nجو حسن اس میں ہے ایسا کوئی عجیب نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%D8%AD%D8%A8%DB%8C%D8%A8_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "جدا ہو کے ہم سے بتوں سے ملا دل", "poet_page": "مصنف:عبد الغفور نساخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جدا ہو کے ہم سے بتوں سے ملا دل\nبھلا دل بھلا دل بھلا دل بھلا دل\n\nوہ کیوں خوش نہ ہوں لے کے مجھ سے مرا دل\nکہ ان کا تو ہم جنس ہے بے وفا دل\n\nنہایت ہی نازک ہے ڈر ہے نہ ٹوٹے\nدبا کر وہ مٹھی میں کیوں لے گیا دل\n\nہوئے صید سب تیرے ہی ناوک افگن\nہما باز شاہیں کبوتر عنادل\n\nنہ ہو دل کے ملنے پہ مغرور کافر\nکبھی تو ہمارا بھی تھا آشنا دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7_%D8%AF%D9%84"} {"title": "جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا\nہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا\n\nتری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلا\nرہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا\n\nدکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بت کافر\nتو چیخ اٹھے موذن جدا خطیب جدا\n\nجدا نہ درد جدائی ہو گر مرے اعضا\nحروف درد کی صورت ہوں اے طبیب جدا\n\nہے اور علم و ادب مکتب محبت میں\nکہ ہے وہاں کا معلم جدا ادیب جدا\n\nہجوم اشک کے ہم راہ کیوں نہ ہو نالہ\nکہ فوج سے نہیں ہوتا کبھی نقیب جدا\n\nفراق خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تک\nالٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جدا\n\nکیا حبیب کو مجھ سے جدا فلک نے مگر\nنہ کر سکا مرے دل سے غم حبیب جدا\n\nکریں جدائی کا کس کس کی رنج ہم اے ذوقؔ\nکہ ہونے والے ہیں ہم سب سے عن قریب جدا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8_%D8%AC%D8%AF%D8%A7"} {"title": "جدائی", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "نگار شام غم میں تجھ سے رخصت ہونے آیا ہوں\nگلے مل لے کہ یوں ملنے کی نوبت پھر نہ آئے گی\nسر راہے جو ہم دونوں کہیں مل بھی گئے تو کیا\nیہ لمحے پھر نہ لوٹیں گے یہ ساعت پھر نہ آئے گی\nکہ میں اب صرف ان گزرے ہوئے لمحوں کا سایہ ہوں\nاسی بازار میں بارہ برس ہونے کو آئے ہیں\nکہ میں نے فاسٹس کی طرح اپنی روح بیچی تھی\nمسرت کی مسلسل گردش یکساں سے اکتا کر\nتجھے حاصل کیا تھا اور ہر صورت بھلا دی تھی\nپرانے ساز و ساماں اب مجھے رونے کو آئے ہیں\nغضب کی تیرگی ہے راستہ دیکھا نہیں جاتا\nہوا کے شور میں دریا کی موجیں بڑھتی جاتی ہیں\nزمیں سے اکھڑے جاتے ہیں درختوں کے قدم پیہم\nچٹانیں روپ بدلے زیر لب کچھ پڑھتی جاتی ہیں\nاب اپنی انگلیوں کا فاصلہ دیکھا نہیں جاتا\nجرس کی نغمگی آواز ماتم ہوتی جاتی ہے\nوہی معمول کے بت ہیں وہی لمحوں کی ویرانی\nذرا سی دیر میں یہ دھڑکنیں بھی ڈوب جائیں گی\nمری آنکھوں تک آ پہنچا ہے اب بہتا ہوا پانی\nتری آواز مدھم اور مدھم ہوتی جاتی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "جدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے\nدہائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے\n\nتمہارے عشق میں دنیا ہے دشمن\nخدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے\n\nحسینوں کی گلی ہے اور میں ہوں\nگدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے\n\nتری جلاد آنکھوں کی ستم گر\nصفائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے\n\nاسیری میں مزا تھا فصل گل کا\nرہائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے\n\nخفا ہیں وہ دعاؤں کے اثر پر\nرسائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے\n\nکیے دیتا ہے قاتل ذبح مضطرؔ\nکلائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%88%D8%A7%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جدائی کے صدموں کو ٹالے ہوئے ہیں", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جدائی کے صدموں کو ٹالے ہوئے ہیں\nچلے جاؤ ہم دل سنبھالے ہوئے ہیں\n\nزمانے کی فکروں نے کھایا ہے ہم کو\nہزاروں کے منہ کے نوالے ہوئے ہیں\n\nگزند اپنے ہاتھوں سے پہنچا ہے ہم کو\nیہ سانپ آستینوں کے پالے ہوئے ہیں\n\nنہیں نام کو ان میں بوئے مروت\nیہ گل رو مرے دیکھے بھالے ہوئے ہیں\n\nنہیں اعتبار ایک دم زندگی کا\nازل سے قضا کے حوالے ہوئے ہیں\n\nہزاروں کو تھے سرفروشی کے دعوے\nتصدق فدا ہونے والے ہوئے ہیں\n\nہم آواز ہیں عیش و غم دونوں لیکن\nترانے یہ ٹھہرے وہ نالے ہوئے ہیں\n\nمنیرؔ اب رہ حق میں لغزش نہ ہوگی\nید اللہ مجھ کو سنبھالے ہوئے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B5%D8%AF%D9%85%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%B9%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جدھر دیکھ تمہاری بزم میں اغیار بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جدھر دیکھ تمہاری بزم میں اغیار بیٹھے ہیں\nادھر دس پانچ بیٹھے ہیں ادھر دو چار بیٹھے ہیں\n\nانہیں دنبالہ دار آنکھوں نے مجھ کو مار رکھا ہے\nانہیں چھریوں کے میرے دل پہ گہرے وار بیٹھے ہیں\n\nانہیں کی موت ہے جن کو تمہارے وصل کی دہن ہے\nوہی سکھ نیند سوتے ہیں جو ہمت ہار بیٹھے ہیں\n\nتمہیں کیا ہو گیا ہے بام پر تم کیوں نہیں آتے\nنسیمؔ مضطرب کب سے تہ دیوار بیٹھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جذب الفت نے دکھایا اثر اپنا الٹا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جذب الفت نے دکھایا اثر اپنا الٹا\nآہ جب ہونٹھوں پر آئی تو کلیجہ الٹا\n\nرات بھر بیٹھے رہے منتظری میں اس کی\nصبح جب ہو گئی حسرت سے بچھونا الٹا\n\nحق بہ جانب ہے اگر ہم سے وہ مہوش پھر جائے\nچلن افلاک کا اوندھا ہے زمانا الٹا\n\nجائے حیرت ہے جو نفرت نہ ہو خود بینی سے\nنظر آتا ہے اس آئینے میں چہرا الٹا\n\nزینت رنگ بقا چاہتے ہیں نقش فنا\nاس مرقع کا دکھائی دیا نقشہ الٹا\n\nملگجی چادر مہتاب نظر آنے لگی\nاس نے چہرے سے جو سوتے میں دوپٹا الٹا\n\nاب تو یاروں سے بھی یاری کی توقع نہ رہی\nحال پرسی کے عوض کرتے ہیں شکوا الٹا\n\nقفل دروازے میں کیوں آج نظر آتا ہے\nکون جھانکا تمہیں کس شخص نے پردا الٹا\n\nمر گیا میں جو مجھے پیار سے مارا اس نے\nسیدھی تلوار ہوا اس کا طمانچہ الٹا\n\nمے کدہ چھوڑ کے کیوں خم میں فلاطوں بیٹھا\nایسی ہی عقل نے یونان کا تختہ الٹا\n\nمرض عشق میں آرام کسی طور نہیں\nکبھی سیدھا جو دم آیا تو کلیجہ الٹا\n\nپھر الٹ کر نہ خبر لی ہوئے ایسے غافل\nاب تو آؤ کہ میں دم لیتا ہوں الٹا الٹا\n\nنہ تو وہ پھول نہ کلیاں نہ وہ سبزہ نہ بہار\nرت کی پھرتی ہے چمن زار کا تختہ الٹا\n\nایک جلوہ تو بھلا اور بھی وقت رخصت\nبہر گل باد بہاری کوئی جھونکا الٹا\n\nبحرؔ کیا کوچۂ جاناں سے پھرے گھر کی طرف\nکبھی دیکھا نہیں بہتے ہوئے دریا الٹا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B0%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%86%DB%92_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9%D8%A7"} {"title": "جذب دل جب بروئے کار آیا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جذب دل جب بروئے کار آیا\nہر نفس سے پیام یار آیا\n\nموت کا انتظار تھا آئی\nجائیے اب مجھے قرار آیا\n\nجب کسی نے لیا تمہارا نام\nگریہ بے قصد و اختیار آیا\n\nبے قراری میں اب یہ ہوش نہیں\nکس کے در پر تجھے پکار آیا\n\nفرش گل پھر بچھا رہی ہے نسیم\nآئیے موسم بہار آیا\n\nآج ہم پی سکے نہ وہ آنسو\nان کے آگے جو بار بار آیا\n\nخیر تو ہے کہ آپ کے در سے\nآج فانیؔ امیدوار آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B0%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D8%A8_%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جذبہ میں سلوک اور نفی میں ہے جو اثبات", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جذبہ میں سلوک اور نفی میں ہے جو اثبات\nاے سالک مجذوب یہ ہے سیر مقامات\n\nتجدید مثالی میں ہے تفرید مجرد\nتوحید ہے یہ اور ہیں بے صرفہ خیالات\n\nبے رنگ میں نیرنگ ہے وحدت میں ہے کثرت\nاعداد ہوں افراد جو ہو ترک اضافات\n\nخلوت میں ہوا جلوہ سفر میں بھی وطن ہے\nآفاق میں انفس ہے الوالعزم کمالات\n\nآغاز میں انجام ہے فرجام میں آرام\nاے سالک شطار بدایات نہایات\n\nتفریق میں ہے جمع تجلی میں ہوا ستر\nتحقیق میں تعریف ہے تقلید حکایات\n\nمستوری میں مستی ہے یہاں سہو میں ہے محو\nاے ساقیٔ شوریدہ و عریان خرابات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%D9%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%AB%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے\nگھنگھروؤں کی جانب در کچھ صدا آئی تو ہے\n\nعشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہے\nپر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے\n\nآپ کے سر کی قسم میرے سوا کوئی نہیں\nبے تکلف آئیے کمرے میں تنہائی تو ہے\n\nجب کہا میں نے تڑپتا ہے بہت اب دل مرا\nہنس کے فرمایا تڑپتا ہوگا سودائی تو ہے\n\nدیکھیے ہوتی ہے کب راہی سوئے ملک عدم\nخانۂ تن سے ہماری روح گھبرائی تو ہے\n\nدل دھڑکتا ہے مرا لوں بوسۂ رخ یا نہ لوں\nنیند میں اس نے دلائی منہ سے سرکائی تو ہے\n\nدیکھیے لب تک نہیں آتی گل عارض کی یاد\nسیر گلشن سے طبیعت ہم نے بہلائی تو ہے\n\nمیں بلا میں کیوں پھنسوں دیوانہ بن کر اس کے ساتھ\nدل کو وحشت ہو تو ہو کمبخت سودائی تو ہے\n\nخاک میں دل کو ملایا جلوۂ رفتار سے\nکیوں نہ ہو اے نوجواں اک شان رعنائی تو ہے\n\nیوں مروت سے تمہارے سامنے چپ ہو رہیں\nکل کے جلسوں کی مگر ہم نے خبر پائی تو ہے\n\nبادۂ گل رنگ کا ساغر عنایت کر مجھے\nساقیا تاخیر کیا ہے اب گھٹا چھائی تو ہے\n\nجس کی الفت پر بڑا دعویٰ تھا کل اکبرؔ تمہیں\nآج ہم جا کر اسے دیکھ آئے ہرجائی تو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%82_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%AB%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "جذبۂ عشق عجب سیر دکھاتا ہے ہمیں", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جذبۂ عشق عجب سیر دکھاتا ہے ہمیں\nاپنی جانب کوئی کھینچے لیے جاتا ہے ہمیں\n\nبزم میں تکتے ہیں منہ اس کا کھڑے اور وہ شوخ\nنہ اٹھاتا ہے کسی کو نہ بٹھاتا ہے ہمیں\n\nکیا ستم ہے کہ طریق اپنا رہ عشق میں آہ\nکوئی جس کو نہیں بھاتا وہ ہی بھاتا ہے ہمیں\n\nاس ترقی میں تنزل میں ہے کہ جوں قامت طفل\nآسماں عمر گھٹانے کو بڑھاتا ہے ہمیں\n\nبند کر بیٹھے ہیں اب آنکھ جو ہم تو اللہ\nنظر آتا جو نہیں سو نظر آتا ہے ہمیں\n\nٹھنڈے ہونے کا بھی تا سمجھیں مزا اتنے لیے\nچرخ مانند چراغ آہ جلاتا ہے ہمیں\n\nاے خوشا یہ کہ وہ ہنسنے کے لیے روتا ہے\nاپنی خورسندیٔ خاطر کو کڑھاتا ہے ہمیں\n\nمل کے ہم اس سے جو ٹک سوویں تو دکھ دینے کو\nبخت بد خواب جدائی کا دکھاتا ہے ہمیں\n\nہم ہیں وہ مرغ گرفتار کہ اپنے پر سے\nوارنا جس کو کہ ہووے وہ چھڑاتا ہے ہمیں\n\nلا کے اس شوخ ستم گر کے دو رنگی کے پیام\nنہ ہنساتا ہے کوئی اب نہ رلاتا ہے ہمیں\n\nسن سے جا بیٹھتے ہیں اس کے تصور میں ہم آہ\nبزم خوباں میں کوئی پاس بلاتا ہے ہمیں\n\nمحو نظارہ ہوں کیا ہم کہ بہ قول جرأتؔ\nاپنی جانب کوئی کھینچے لیے جاتا ہے ہمیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%82_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جرأت اے دل مے و مینا ہے وہ خود کام بھی ہے", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جرأت اے دل مے و مینا ہے وہ خود کام بھی ہے\nبزم اغیار سے خالی بھی ہے اور شام بھی ہے\n\nزلف کے نیچے خط سبز تو دیکھا ہی نہ تھا\nاے لو ایک اور نیا دام تہ دام بھی ہے\n\nچارہ گر جانے دے تکلیف مداوا ہے عبث\nمرض عشق سے ہوتا کہیں آرام بھی ہے\n\nہو گیا آج شب ہجر میں یہ قول غلط\nتھا جو مشہور کہ آغاز کو انجام بھی ہے\n\nکام جاناں میرا لب یار کے بوسے سے سوا\nخوگر چاشنی لذت دشنام بھی ہے\n\nشیخ جی آپ ہی انصاف سے فرمائیں بھلا\nاور عالم میں کوئی ایسا بھی بدنام بھی ہے\n\nزلف و رخ دیر و حرم شام و سحر عیشؔ ان میں\nظلمت کفر بھی ہے جلوۂ اسلام بھی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B1%D8%A3%D8%AA_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%92_%D9%88_%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جراح کے سامنے کھولا پھوڑا", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جراح کے سامنے کھولا پھوڑا\nمیزان نظر میں اس نے تولا پھوڑا\nپھوڑے کی جگہ بغل میں دیکھے جو منیرؔ\nسب کہنے لگے دل کا پھپھولا پھوڑا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B1%D8%A7%D8%AD_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7"} {"title": "جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغ جگر ہدیہ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغ جگر ہدیہ\nمبارک باد اسدؔ غم خوار جان دردمند آیا\n\nجنوں گرم انتظار و نالہ بیتابی کمند آیا\nسویدا تا بلب زنجیری دود سپند آیا\n\nمہ اختر فشاں کی بہر استقبال آنکھوں سے\nتماشا کشور آئینہ میں آئینہ بند آیا\n\nتغافل بدگمانی بلکہ میری سخت جانی سے\nنگاہ بے حجاب ناز کو بیم گزند آیا\n\nفضائے خندۂ گل تنگ و ذوق عیش بے پردا\nفراغت گاہ آغوش وداع دل پسند آیا\n\nعدم ہے خیر خواہ جلوہ کو زندان بیتابی\nخرام ناز برق خرمن سعی سپند آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%D8%AA%D8%AD%D9%81%DB%81_%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D8%AF%DB%8C%DB%81"} {"title": "جرس ہے کاروان اہل عالم میں فغاں میری", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جرس ہے کاروان اہل عالم میں فغاں میری\nجگا دیتی ہے دنیا کو صدائے الاماں میری\n\nتصور میں وہ کچھ برہم سے ہیں کچھ مہرباں سے ہیں\nانہیں شاید سنائی جا رہی ہے داستاں میری\n\nہر اک ذرہ ہے صحرا اور ہر صحرا ہے اک دنیا\nمگر اس وسعت عالم میں گنجائش کہاں میری\n\nمری حیرت پہ وہ تنقید کی تکلیف کرتے ہیں\nجنہیں یہ بھی نہیں معلوم نظریں ہیں کہاں میری\n\nمسلسل تھا فریب خواب گاہ عالم فانی\nمگر سوتا رہا چلتی رہی عمر رواں میری\n\nوہی لمحہ ورود ناگہاں کا ان کے ہو شاید\nجتا کر آئے جب بھی آئے مرگ ناگہاں میری\n\nمذاق ہم زبانی کو نہ ترسوں باغ جنت میں\nکوئی سیمابؔ حوروں کو سکھا دیتا زباں میری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B1%D8%B3_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ\nناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ\n\nاب کیسا چاک چاک ہو دل اس کے ہجر میں\nگتھواں تو لخت دل سے نکلتی ہے میری آہ\n\nشام شب وصال ہوئی یاں کہ اس طرف\nہونے لگا طلوع ہی خورشید رو سیاہ\n\nگزرا میں اس سلوک سے دیکھا نہ کر مجھے\nبرچھی سی لاگ جا ہے جگر میں تری نگاہ\n\nدامان و جیب چاک خرابی و خستگی\nان سے ترے فراق میں ہم نے کیا نباہ\n\nبیتابیوں کو سونپ نہ دینا کہیں مجھے\nاے صبر میں نے آن کے لی ہے تری پناہ\n\nخوں بستہ بارے رہنے لگی اب تو یہ مژہ\nآنسو کی بوند جس سے ٹپکتی تھی گاہ گاہ\n\nگل سے شگفتہ داغ دکھاتا ہوں تیرے تیں\nگر موافقت کرے ہے تنک مجھ سے سال و ماہ\n\nگر منع مجھ کو کرتے ہیں تیری گلی سے لوگ\nکیوں کر نہ جاؤں مجھ کو تو مرنا ہے خوا مخواہ\n\nناحق الجھ پڑا ہے یہ مجھ سے طریق عشق\nجاتا تھا میرؔ میں تو چلا اپنی راہ راہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B2_%D8%AC%D8%B1%D9%85_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AB%D8%A7%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81"} {"title": "جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار\nصحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا\n\nآشفتگی نے نقش سویدا کیا درست\nظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا\n\nتھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ\nجب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا\n\nلیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز\nلیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا\n\nڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی\nمیں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا\n\nتیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ\nسرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا\n\nعالم جہاں بہ عرض بساط وجود تھا\nجوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا\n\nبازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق\nہنگامہ گرم حیرت بود و نبود تھا\n\nعالم طلسم شہر خموشی ہے سربسر\nیا میں غریب کشور گفت و شنود تھا\n\nتنگی رفیق رہ تھی عدم یا وجود تھا\nمیرا سفر بہ طالع چشم حسود تھا\n\nتو یک جہاں قماش ہوس جمع کر کہ میں\nحیرت متاع عالم نقصان و سود تھا\n\nگردش محیط ظلم رہا جس قدر فلک\nمیں پائمال غمزۂ چشم کبود تھا\n\nپوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر\nکس کو دماغ منت گفت و شنود تھا\n\nخور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ\nسر تا قدم گزارش ذوق سجود تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B2_%D9%82%DB%8C%D8%B3_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%B1"} {"title": "جزو اور کل", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سمجھ لو کہ جو شے نظر آئے اور یہ کہے میں کہاں ہوں\nکہیں بھی نہیں ہے\nسمجھ لو کہ جو شے دکھائی دیا کرتی ہے اور دکھائی نہیں دیتی ہے\nوہ یہیں ہے\nیہیں ہے مگر اب کہاں ہے\nمگر اب کہاں ہے\nیہ کیا بات ہے ایسے جیسے ابھی وہ یہیں تھی\nمگر اب کہاں ہے\nکوئی یاد ہے یا کوئی دھیان ہے یا کوئی خواب ہے\nنہ وہ یاد ہے اور نہ وہ دھیان ہے اور نہ وہ خواب ہے\nمگر پھر بھی کچھ ہے\nمگر پھر بھی کچھ ہے\nوہ اک لہر ہے ہاں فقط لہر ہے\nوہ اک لہر ہے ایسی جیسی کسی لہر میں بھی کوئی بات ہی تو نہیں ہے\nاسی بات کو رو رہا ہوں\nاسی بات کو رو رہا ہے زمانہ\nزمانہ اگر رو رہا ہے تو روئے\nمگر میں ازل سے تبسم ہنسی قہقہوں ہی میں پلتا رہا ہوں\nازل سے مرا کام ہنسنا ہنسانا رہا ہے\nتو کیا جب زمانہ ہنسا تھا تو اس کو ہنسایا تھا میں نے\nیہ تم کہہ رہے ہو جو روتے رہے ہو\nاگر تم یہ کہتے ہو میں مانتا ہوں\nمگر جب زمانے کو رونا رلانا ملانا ہے تو روتا رہے گا زمانہ\nفقط میں ہنسوں گا\nیہ ممکن نہیں ہے\nزمانہ اگر روئے روؤں گا میں بھی\nزمانہ ہنسے گا تو میں بھی ہنسوں گا\nمگر یہ زمانے کا ہنسنا یہ رونا وہ شے ہے نظر آئے اور\nیہ کہے میں کہاں ہوں کہیں بھی نہیں ہوں\nزمانے کا ہنسنا زمانے کا رونا وہ شے ہے\nدکھائی دیا کرتی ہے اور دکھائی نہیں دیتی ہے اور یہیں ہے\nمیں ہنستا چلا جاؤں گا اور روتا چلا جاؤں گا اور پھر بھی\nزمانہ کہے گا تو روتا رہا ہے تو ہنستا رہا ہے\nمگر میں یہ کہتا ہوں تم سے کہ میں ہی وہ شے ہوں\nجو اب بھی نظر آئے اور یہ کہے میں کہاں ہوں تو پھر بھی دکھائی\nنہ دے اور کہے میں کہیں بھی نہیں ہوں\nمیں روتا رہا تھا میں ہنستا گیا ہوں\nمگر تم تو ہنستے گئے تھے\nبس اب تم ہی روؤ گے اور صرف\nاک میں ہوں جو اب بھی ہنستا رہوں گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B2%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%84"} {"title": "جزیرۂ مالٹا کے دو پھول", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "دل آشفتگان خالِ کنج دہن کےسویدا میں سیرِ عدم دیکھتے ہیںجزیرہ مالٹا فی زمانہ اس سبب سے مشہور ہے کہ یورپ سے ہندوستان آنے جانے والے جہازوں کا بندرگاہ ہے۔ اس پر گورنمنٹ عالیہ برطانیہ کا قبضہ ہے۔ دراصل مالٹا جزائر کے مجموعہ کا نام ہے۔ جس میں گوز و کومیشو وغیرہ وغیرہ چھوٹے چھوٹے ٹاپو شامل ہیں۔ مالٹا کا شمالی خط عرض البلد ۳۵ درجہ ۵۳ ثانیہ ۴۹ دقیقہ اور اس کا شرقی طول البلد ۱۴ درجہ ۳۰ ثانیہ ۲۸ دقیقہ ہے۔ باشندوں کی زبان عربی اور اٹالی ہے۔ یہ جزیرہ بہت شاداب ہے۔ اس میں رنگترے، انگور، انجیر قابل پسند ہوتے ہیں۔ ا س کے ایک باغ میں ۴۰ فٹ لمبے سرو آزاد ہیں، جنہیں دیکھ کر سیاح حیران ہوجاتا ہے۔ زراعت بھی یہاں خوب ہوتی ہے۔ انگریزی حکومت کے سبب سے اس وقت مالٹا گل و گلزار ہے۔ مگر اب سے ایک ہزار برس پہلے یہ جزیرہ برائے نام آباد تھا۔ کیونکہ اس زمانہ میں جہاز رانی کا فن یورپ میں بہت کم تھا۔ بادی جہاز چلتے تھے۔ اس واسطے ہر جزیرہ بندرگاہ نہ تھا اور نہ جزیروں کی اس زمانہ میں قدر و قیمت تھی۔مالٹا جین ڈی نام ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، جس کے رہنے والے عیسائی تھے۔ جین ڈی سے باہر مغرب کی طرف چار فرلانگ کے فاصلہ پر ایک گرجا تھا۔ اور گرجا کے قریب اس کے متولی پادری جے اے رابنسن مع اپنے اہل و عیال کے ایک حویلی میں رہتے تھے۔ اس گرجا میں اتوار کے دن صبح اور شام کے وقت نماز ہوتی تھی اور قصبہ کے رہنے والے جب تقاضہ کرتے تھے تو پادری صاحب وعظ بھی کہہ دیا کرتے تھے۔ قصبہ جین ڈی کے شرقی جانب سمندر کے کنارے آبادی سے ایک میل پر ایک بنگلہ میں میجر میکس ملر مع اپنے بال بچوں کے بستے تھے۔ میجر میکس ملر کے پردادا فرانس کی ایک فوج میں میجر تھے۔ اور اسی سبب سے میکس ملر کے باپ دادا اور خود میکس ملر کے لقب سے مشہور تھے۔ میجر صاحب کی بیوی بڑی نیک عورت تھیں۔ تیس برس کی عمر تک ان کے یہاں اولاد نہ ہوئی۔ مگر جب پادری جے اے رابنسن سے انہو ں نے رجوع کی، تو ان کی دعا سے خدا نے ایک لڑکا اور ایک لڑکی عنایت فرمائی۔ لڑکا لڑکی سے بڑا تھا اور اس کا نام پادری صاحب نے کیلی رکھا تھا۔ کیلی کی بہن کا نام گل۔کیلی پندرہ برس کا اور مس گل تیرہ برس کی ہوگئی۔ دونوں بہن بھائی گلعذار، گلرو، گلبدن، غنچہ دہن تھے۔ میجر صاحب کا بنگلہ جس پشتہ پر واقع ہوا تھا، اس کے نیچے ہی سمندر بہتا تھا اور چاندنی رات میں سمندر کا نظارہ اس بنگلہ سے طلسماتی بہار دکھایا کرتا تھا۔ مگر دسمبر جنوری کی ٹھنڈی ہوائیں جب سمندر سے گزر کر بنگلہ میں آتی تھیں، تو اس وقت بنگلہ کے رہنے والوں کو تکلیف پہنچتی تھی۔ گاہ بہ گاہ میجر صاحب کے بنگلہ سے کچھ دور سمندر میں بادبانی جہاز لنگر ڈال کر ٹھہرے ہوئے دکھائی دیا کرتے تھے۔ بنگلہ سے تین فرلانگ پر میجر صاحب کے باغ اور کھیت تھے۔ اور ان باغوں اور کھیتوں کی پیداوار پر ہی میجر صاحب اور ان کے گھرانے کا گزارہ تھا۔میجر صاحب کو کتوں کا بڑا شوق تھا، مگر ان کے صاحب زادے کیلی کو ان سے بھی زیادہ کتے پالنے کا شوق ہوا۔ نوجوان کیلی نے دو قوم دار کتے پالے، مگر ایک مگرمچھ رات کے وقت بنگلہ کے غلام گردش میں آ آکر ان دونوں کا دوبار میں نوالہ کر گیا۔ مگرمچھ، گھڑیال اور اس قسم کے دریائی جانوروں کو کتے کا گوشت بہت پسند ہے اور وہ ادبدا کر کتوں کا شکار کرتے ہیں۔ کیلی کے ایک کتے کا نام کرِپ اور دوسرے کا نام جیک تھا۔ کیلی اور میجر صاحب کو کتوں کے تلف ہوجانے کا بڑا رنج ہوا۔ ایک دن میجر صاحب نے مگرمچھ کو سمندر کی سطح پر پاکر بندوق بھی سر کی مگر اس ڈھیٹھ پر کچھ اثر نہ ہوا۔ایک دن میجر صاحب کے ایک دوست کا رقعہ قصبہ جین ڈی سے اس مضمون کا آیا کہ پیرس سے جناب بشپ صاحب تشریف لائے ہیں اور پادری جے اے کے دولت خانہ پر قیام فرمایا ہے۔ بعد غروب آفتاب گرجا میں مذہب پاک پر لیکچر دیں گے۔ امید ہے کہ آپ اور آپ کی اہلیہ بھی بشپ صاحب کی زیارت اور ان کی تقریر سے بہرہ یاب ہوں گے۔مس گل اماں جان! میں بھی آپ کے ساتھ گرجا چلوں گی۔ اور بشپ صاحب کے جوتہ کو بوسہ دوں گی۔مس گل کی ماں نہیں بیٹی! تم اور تمہارا بھائی کیلی گھر میں رہےگا، اور میں اور تمہارے بابا گرجا جائیں گے۔مس گل واہ بی اماں! آپ خوب ہیں، ہم اور بھائی تو گھر میں پڑے سڑا کریں، اور آپ جاکر بشپ صاحب کی قدم بوسی کریں۔ یہ تو خدائیوں بھی نہ ہوگا (یہ کہہ کر مس گل رونے لگی)کیلی بہن تم روؤ نہیں۔ تم اور اماں جان اور ابا شوق سے گرجا تشریف لے جائیں۔ میں اکیلا گھر میں رہوں گا۔میجر صاحب ہاں بابا کیلی تم بنگلہ میں رہو۔ تمہاری بہن ہمارے جانے میں بھی کھنڈت ڈالے گی۔(۲)میجر صاحب مع اپنی میم صاحبہ اور مس صاحبہ کے عصر کے وقت قصبہ جین ڈی میں پہنچ گئے۔ تاکہ سب دوستوں کے ساتھ گرجا میں حاضر ہوں۔ آفتاب غروب ہونے کے بعد کیلی نے السی کے تیل کا لیمپ روشن کر کے بڑے کمرے کی میز پر رکھا اور وہ ایک قلمی تاریخ کے مطالعہ میں مشغول ہو گیا، اور اس کا کتا جس کا نام تندر اور قوم کا بُلی تھا، اس کی کرسی کے نیچے بیٹھا تھا۔ رات کے نو بج گئے مگر میجر صاحب گرجا سے واپس نہ آئے۔ کیلی کو اس کا خیال بھی آیا، مگر اس کے دل نے کہا، ’’بشپ صاحب کی لمبی چوڑی تقریر ابھی ختم نہ ہوئی ہوگی اور یہی وجہ بابا کے آنے کی تاخیر کی ہے۔‘‘ اور وہ کتاب کے مطالعہ میں پھر ڈوب گیا۔ دفعتاً اس کے کان میں آدمی کے پاؤں کی آہٹ آئی اور اس نے دیکھا، پادری جے اے رابنسن صاحب کی لڑکی، جس کی عمر پندرہ سال کی اور نام کلفرڈ تھا، ہانپتی کانپتی کمرہ میں آئی اور اس نے سہمی ہوئی آواز میں کہا، ’’کیلی خدا کے لئے مجھے بچاؤ، چور، بدمعاش مجھے جیتا نہیں چھوڑیں گے۔‘‘کیلی تم اس وقت کہاں؟مس کلفرڈ بابا نے مجھے گاؤں بھیجا تھا، جو یہاں سے پانچ میل ہے تاکہ میں ایک زمیندار سے سو روپے وصول کر کے لاؤں جو اس نے بابا سے قرض لئے تھے، اور آج ان کے دے دینے کا وعدہ تھا۔ میں گاؤں گئی مگر وہ زمیندار نہ ملا اور مجھے اس کا انتظار کرتے کرتے گاؤں میں شام ہوگئی۔ بارے وہ سات بجے رات کے آ گیا اور اس نے سو روپے گن میرے حوالہ کئے۔ اس نے مجھے روکا کہ صبح چلی جانا۔ مگر میں نے کہا کہ بابا ساری رات پریشان رہیں گے۔ میں ایک گھنٹہ میں اپنے گھر پہنچ جاؤں گی۔ یہ کہہ کر میں گاؤں سے چل دی۔گاؤں کے بدمعاشوں نے تاڑ لیا کہ مس کلفرڈ روپیہ لے کر جاتی ہے۔ چپکے سے میرے پیچھے ہولئے۔ تاکہ میں جب جنگل میں پہنچوں تو روپیہ لوٹ کر لے جائیں۔ میں سر پر پاؤں رکھ کر بھاگی۔ انہو ں نے مجھے آلیا۔ اور ان میں سے ایک بدمعاش نے چلاکر کہا، ’’اگر اپنی جان اور آبرو سلامت لے جانا چاہتی ہے تو روپیہ ہمیں دے جا۔ نہیں اسی میدان میں ہم تجھے مار کر دبا دیں گے۔‘‘ ناگہاں مجھے آپ کے بنگلہ کا جلتا ہوا لیمپ نظر آیا۔ اور مجھے یاد آگیا کہ یہ میجر صاحب کا مکان ہے اور مجھے اس میں پناہ ملے گی۔ اس لئے میں بے تحاشہ بھاگی، اور یہاں تک آ گئی۔یہ باتیں مس کلفرڈ نے ختم ہی کی تھیں، جو پانچ آدمی بدصورت، دراز قد، بنگلہ کے کمرے میں داخل ہوئے۔ کیلی میجر میکس ملر کا بیٹا تھا۔ اس نے تلوار اٹھانی چاہی، مگر بدمعاشوں نے اس بے گناہ کو پلک مارنے کی مہلت نہ دی اورا س کے گلے میں تانت کا پھندا ڈال کر زور سے کھینچا اور ایک آن کی آن میں وہ بے جان ہوکر زمین پر گرا۔ کیلی کو مرتا دیکھ کر مس کلفرڈ کی چیخ نکل گئی اور وہ بھی دھڑام سے زمین پر گری۔ خدا جانے مری یا زندہ رہی، مگر بدمعاشوں نے اس کے اور کوٹ میں سے سو روپے نکال لئے اور چمپت ہو گئے۔ کیلی کے وفادار کتے نے ان کا پیچھا کیا اور وہ بھی بدمعاشوں کے ہاتھ سے مارا گیا۔ سمندر کے مگرمچھ نے جو کیلی کے دو کتے کھا چکا تھا، بنگلہ میں سناٹا پایا تو وہ چپکے چپکے بنگلہ میں آیا۔ اور اس نے لیمپ کی روشنی میں کیلی اور کلفرڈ کی لاشیں زمین پر پڑی پائیں، یہ لاشیں ا س کے لئے نعمت غیر مترقبہ تھیں۔ دونوں کو فوراً نگل گیا اور سمندر میں جاکودا۔(۳)رات کے دس بجے بشپ صاحب کا لیکچر ختم ہوا، اور میجر صاحب میم صاحبہ اور مس گل کو لے کر گیارہ بجے بنگلہ میں آئے۔ دیکھا کہ لیمپ کی بتّی بھڑک رہی ہے۔ سارے کمرے میں ایک قسم کا سناٹا ہے اور کیلی نہیں ہے۔ میجر صاحب اور ان کی میم صاحب کو سخت حیرانی ہوئی کہ اس وقت بچہ کہاں چلا گیا۔ خواب گاہ کے کمرہ میں بلکہ بنگلہ کے چپہ چپہ میں کیلی کو ڈھونڈا۔ آوزیں دیں۔ چیخے چلاّئے، مگر کیلی اس عالم میں تھا کب، جو انہیں مل جاتا، یا ان کی بات کا جواب دیتا۔ ساری رات تشویش میں گزری۔ صبح ہوتے ہی میجر صاحب نے اپنے باغ کے اور کھیت کے کمیروں کو بلاکر چاروں طرف کیلی کی جستجو میں بھیجا۔ خود جین ڈی کو آئے تاکہ لوگو ں سے تذکرہ اور مشورہ کریں۔ قصبہ میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ پادری صاحب کی اکلوتی بیٹی کلفرڈ جو گاؤں سے قرض کے روپے لینے گئی تھی، رات سے غائب ہے۔میجر صاحب کو یہ بھی خیال آیا کہ رات سے کتا بھی نہیں ہے۔ کئی مہینے پادری صاحب اور میجر صاحب نے اپنے نور نظر بچوں کی تلاش کی۔ اور سارے جزیرے کو تلپٹ کر ڈالا مگر ان غریبوں کا پتہ نہ چلا اور پتہ کیونکر لگتا۔ اگر اس واردات کو کہتے تومیجر صاحب کے بنگلہ کے در و دیوار یا لیمپ کی بتی، جن کے سامنے چوروں نے ان دونوں کو مارا اور مگرمچھ نے نگلا۔ مگر یہ سب چیزیں بے زبان تھیں۔ کیونکر کہہ سکتی تھیں۔ میجر صاحب اور پادری صاحب کا گھرانہ برسوں کیلی اور کلفرڈ کو روتا رہا، مگر انسان کا نازک دل غم سہتے سہتے پتھر بھی بن جاتا ہے۔ اس لئے اب ان لوگوں کو صبر آنے لگا اور کیلی او رکلفرڈ کی یاد کم ہونے لگی۔وقت گزرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ کیلی اور کلفرڈ کوناپید ہوئے سات برس ہو گئے۔ میجر صاحب بڑے تنومند آدمی تھے۔ مگر کیلی کے داغ نے ان کی کمر توڑ دی۔ ماں بیچاری کو آنکھوں سے کم دکھائی دینے لگا اور پادری صاحب اور ان کی بیوی کلفرڈ کے غم میں گھل گئے۔ مصیبت کے وقت خدا زیادہ یاد آتا ہے۔ اس واسطے میجر صاحب اور ان کی بیوی اتوار کے دن دونوں نمازوں کو قضا نہ کرتی تھیں، اور قربان گاہ کے سامنے حاضر ہوکر کیلی سے ملنے کے لئے دعا کیا کرتی تھیں۔ایک اتوار کو میجر صاحب اور ان کی میم صاحبہ اورمس گل گرجے میں حاضر تھیں۔ نماز ابھی شروع نہ ہوئی تھی کہ ناگہاں دو اجنبی آدمی گرجا میں داخل ہوئے۔ ایک مرد اور ایک عورت، دونوں کے دونوں اپنا منہ چھپائے ہوئے تھے۔ وہ جلدی سے پادری صاحب کی کرسی کے پاس پہنچے۔ پادری صاحب حیران تھے کہ یہ کون ہیں، اور اس بے باکی سے میرے پاس کیوں آئے ہیں۔ جو اُن میں سے مرد نے اپنا منہ کھول کر پادری صاحب کے قدموں کو بوسہ دیا اور چلاکر کہا کہ یہ آپ کی صاحب زادی مس کلفرڈ ہیں۔ انہیں اپنی آنکھوں میں جگہ دیجئے۔ پادری صاحب نے کہا، ’’اور نوجوان تم کون ہو۔‘‘ نوجوان میرا نام کیلی ہے۔ اور میں آپ کے دوست میجر میکس ملر کا بیٹا ہوں۔مس کلفرڈ نے اپنے بوڑھے باپ کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور ادھر سے کلفرڈ کی ماں نے آکر اپنی بچی کو گلے سے لگا لیا۔ میجر صاحب اور ان کی میم صاحبہ کو بھی تاب نہ ہوئی۔ یہ بھی سب کیلی سے لپٹ گئے۔قصبہ جین ڈی کے سب باشندوں کو ان گم شدہ کمسنوں کے ساتھ الفت تھی، اور ان کے غائب ہوجانے کا قلق رکھتے تھے۔ ان کو سلامت دیکھ کر ان لوگوں نے خوشی کے نعرے اس زور سے مارے کہ گرجا کا ہال گونج اٹھا۔ تعجب ہے کہ والدین اپنے بچوں کو دیکھ شادی مرگ کیوں نہ ہو گئے۔ نماز بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔ قصبہ کے مردو زن جو حاضر نہ تھے، اس خبر کو سن کر وہ بھی دوڑے چلے آئے اور سارا گرجا آدمیوں سے بھر گیا۔ اور عوام الناس نے کہا، ’’مسٹر کیلی ہم تمہیں گرجا سے اس وقت تک قدم نہیں نکالنے دیں گے جب تک تم اپنے غائب ہونے کا حال مفصل نہ سنا دوگے۔‘‘ (۴)کیلی اس طور پر رات کے نو بجے مس کلفرڈ ہمارے بنگلہ پر آئیں، اور وہ حال کہہ رہی تھیں، جو بدمعاش بھی بنگلہ میں گھس آئے، اور انہو ں نے میرے گلے میں پھانسی ڈال دی، اور مس کلفرڈ بھی اس صدمہ کو دیکھ کر بیہوش ہو گئیں۔ جب مجھے اور مس کلفرڈ کو ہوش آیا تو ہم نے اپنے تئیں ایک جہاز کے کمرے میں پایا۔ اور جہاز کے کپتان کی زبانی معلوم ہوا کہ ہمارے بنگلہ سے کچھ دور اسی شب کو اس جہاز نے تھوڑی دیر کے لئے لنگر ڈالا تھا اور کچھ ملاح صبح کے قریب قضائے حاجت کے لئے کشتی میں بیٹھ کر کنارہ پر گئے تھے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک مگرمچھ زمین پر پڑا ہے اور کچھ بے چین ہے۔ یکایک اس نے استفراغ کیا اور اس استفراع میں ایک آدمی اس کے منہ سے نکل کر زمین پر گرا۔ پھر دوسرے استفراغ میں دوسرا آدمی اس کے منہ سے نکلا اور وہ ہلکا ہوکر سمندرمیں بھاگ گیا۔ ملاح ان دونوں آدمیوں کو کشی میں لاد کر جہاز میں لے آئے۔ اور وہ دونوں آدمی تم دونوں زن و مرد تھے۔ مجھے ڈاکٹری میں بھی دخل ہے۔ میں نے تمہاری تیمارداری کی اور خدا نے تمہیں دوبارہ زندگی بخشی۔ہم نے کپتان صاحب کی اس مہربانی کا بڑا شکریہ ادا کیا۔ رفتہ رفتہ مجھے خیال آیا کہ وہ مگرمچھ جو ہمارے بنگلہ کے نیچے سمندر میں رہتا ہے اور کتوں کا خون اس کے منہ کو لگ گیا ہے اس شب کو بنگلہ میں آیا ہوگا اور ہمیں مردہ سمجھ کر نگل گیا ہوگا۔ مگر ہمارا ڈیل ڈول اس سے ہضم نہ ہوا ہوگا اور ہمیں اس نے اگل دیا ہوگا۔ اور یہ لوگ اپنے جہاز میں ڈال کر روانہ ہو گئے ہوں گے۔ کپتان صاحب ہم پر بہت عنایت کرتے تھے او راچھی اچھی غذائیں ہمیں کھلاتے تھے۔ مگر ہم سے جہاز کے ایک نوکر نے کہا، ’’کپتان صاحب تم دونوں کی خاطر مدارات اس وجہ سے کر رہے ہیں کہ تم دونوں گورے چٹے ہو۔ اور اس قسم کے غلام اور لونڈیوں کی قسطنطنیہ میں زیادہ قدرو قیمت ہے۔ تم بیچے جاؤگے۔‘‘جب مجھے اور مس کلفرڈ کو یہ بات معلوم ہوئی تو ہمارے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ اور مس کلفرڈ نے کہا، ’’اس لونڈی بننے سے میں اپنا مرنا اچھا جانتی ہوں۔ میں تو سمندر میں کود کر اپنی جان دوں گی۔‘‘ میں نے کہا۔ تم سمندر میں گروگی تو میں بھی تمہارا ساتھ دوں گا۔ اور صلاح کر کے ہم نے دریا میں ڈوبنے کا دن مقرر کرلیا۔ او رموقعہ پاکر ہم دونوں کے دونوں ایک رات کو دریا میں گر گئے۔ اس رات کو دریا میں طوفان تھا مگر وہ طوفان ہمارے لئے رحمت ہو گیا۔ ہمارے گرنے کے ساتھ ہی دریا میں ایک موج اٹھی اور اس نے ہم دونوں کو سمندرکے کنارے پھینک دیا۔زمین کو دیکھ کر ہم خوش ہوئے اور سمجھے کہ یہاں کے رہنے والوں سے ہم اپنی مصیبت کہیں گے اور وہ ہمیں ہمارے وطن پہنچا دیں گے مگرجب ہم چلے پھرے تو معلوم ہوا کہ ویران جزیرہ ہے، مگر خودرو میوے، انار، انگور، سیب، بہی، امرود، ناشپاتی، بادام، خوبانی، ترو خشک درختوں میں لد رہے تھے۔ شیریں چشمے جاری تھے۔ ہم خدا کا شکر بجالاتے اور میوا کھا کھا کر زندگی کے دن کاٹتے۔ دو برس میں ہمارے تن کے کپڑے پرزہ پرزہ ہو گئے اور ہمیں اپنے ننگے ہوجانے کا اندیشہ ہوا۔ ایک دن جو ہم سمندر کے کنارے پہنچے تو ہم نے دیکھا سمندر میں مردے بہے چلے آتے ہیں۔ کفن کے لالچ سے میں دریا میں کودا، اور مردوں کی ٹانگ پکڑ پکڑ کر کنارے پر لایا اور اب معلوم ہوا کہ وہ سپاہیوں کی لاشیں ہیں جو کسی بحری لڑائی میں مارے گئے ہیں اور جہاز والوں نے انہیں معہ وردی سپرد دریا کردیا ہے۔میں نے اور مس کلفرڈ نے ان مردوں کے بدن سے کپڑے اتار لئے۔ پانچ برس تک ہم ان کے ہی لباس سے اپنی تن پوشی کرتے رہے۔ اس جزیرے میں پڑے پڑے ہم گھبرا گئے، مگر کوئی صورت رہائی کی پیدا نہ ہوئی۔ ایک دن ہم ساحل پر بیٹھے تھے، جو دریا میں ہمیں ایک لائف بوٹ دکھائی دی، جو دھکے کھاتی چلی جاتی تھی اور اس میں کوئی سوار نہ تھا۔ میں فوراً دریا میں کودا اور اس کشتی کو جا پکڑا اور جس طرح ممکن ہوا اسے کنارے پر لایا۔ اس میں دو تین رسیاں بھی مل گئیں۔ میں نے ایک رسی دوسری رسی سے جوڑ کر اور کشتی کے قلابہ میں باندھ کر کشتی کو ایک درخت سے باندھ دیا جو ساحل کے قریب تھا۔ غالباً کوئی جہاز دریا میں غرق ہوا تھا اور یہ کشتی اس سے الگ ہوکر چلی آئی تھی۔مس کلفرڈ نے کہا، کیلی یہ خدا نے ہمیں اس جزیرہ سے نکالنے کا سامان کیا ہے۔ اب دیر نہ کرو اور کل صبح ہی سوار ہوکر چل دو۔ کیا عجب ہے کہ اسی طرح دل کھل کر ہم لوگ وطن پہنچ جائیں۔ ہم نے شاموں شام کئی من تر و خشک میوے لاکر کشتی میں لاد دیے۔ مگر پانی کے لئے کوئی ظرف نہ تھا اس لئے شیریں پانی کشتی میں نہ رکھ سکے اور دوسرے دن خدا کا پاک نام لے کر ہم کشتی میں سوار ہو گئے اور کشتی کو اسی کے بھروسہ پر چھوڑ دیا۔ آج تین مہینہ کے بعد ہماری کشتی اس جزیرہ مالٹا میں پہنچی۔ ہم خدا کا شکر بجا لائے۔ معلوم ہوا کہ آج اتوار کا دن ہے۔ اسی لئے ہم دونوں کشتی سے اترکر بھاگا بھاگ گرجا میں آئے تاکہ ہماری نماز قضا نہ ہو۔ جب کیلی نے اپنی داستان ختم کی تو پھر خوشی کے نعرے بلند ہوئے۔پادری صاحب بیٹی کلفرڈ! آسمانی باپ رحیم و کریم بھی ہے اور جبار و قہار بھی ہے۔ سچ بتا تو نے اس تنہائی میں اپنی عصمت پر تو حرف نہیں آنے دیا۔مس کلفرڈ بابا گناہ نہیں چھپا کرتا۔ آپ آسمانی باپ کے نائب ہیں۔ کیا آپ مجھ میں کوئی گناہ کی علامت پاتے ہیں۔پادری صاحب میں تو تیرے چہرہ پر وہی بھولا پن پاتا ہوں جو ایک کنواری پارسا کی شکل پر ہوا کرتا ہے، مگر کیا عجب ہے کہ مجھ سے زیادہ آنکھوں والا اس ہجوم میں ہو اور وہ تیرے حق میں کچھ اور فیصلہ کرے۔ پادری صاحب یہ کہہ رہے تھے جو تمام مخلوق نے چلاکر کہا ’’بیشک مس کلفرڈ اور کیلی پاک ہیں اور ان کی پاکیزگی ہی انہیں ان آفتوں سے بچاکر ہمارے سامنے لائی ہے۔ مگر مائی لارڈ اب آپ ہمارے سامنے کلفرڈ کا نکاح کیلی سے کر دیجئے۔‘‘ پادری صاحب میں پنچوں کے کہنے سے سرتابی نہیں کرسکتا۔اسی وقت مسٹر کیلی کا نکاح کلفرڈ سے ہو گیا اور قصبہ والوں نے مل کر میجر صاحب اور ان کی بیوی کو بیٹے اور بہو کے پانے کی مبارکباد دی اور خدا نے میجر صاحب کا بنگلہ پھر آباد کر دیا۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B2%DB%8C%D8%B1%DB%82_%D9%85%D8%A7%D9%84%D9%B9%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84"} {"title": "جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے\nجاں کالبدِ صورتِ دیوار میں آوے\n\nسائے کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبر\nتو اس قدِ دلکش سے جو گلزار میں آوے\n\nتب نازِ گراں مایگیِ اشک بجا ہے\nجب لختِ جگر دیدۂ خوں بار میں آوے\n\nدے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستمگر\nکچھ تجھ کو مزہ بھی مرے آزار میں آوے\n\nاس چشمِ فسوں گر کا اگر پائے اشارہ\nطوطی کی طرح آئینہ گفتار میں آوے\n\nکانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب\nاک آبلہ پا وادیِ پر خار میں آوے\n\nمر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تنِ نازک\nآغوشِ خمِ حلقۂ زُنّار میں آوے\n\nغارت گرِ ناموس نہ ہو گر ہوسِ زر\nکیوں شاہدِ گل باغ سے بازار میں آوے\n\nتب چاکِ گریباں کا مزا ہے دلِ نالاں\nجب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے\n\nآتش کدہ ہے سینہ مرا رازِ نہاں سے\nاے وائے اگر معرضِ اظہار میں آوے\n\nگنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے\nجو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%88%DB%92"} {"title": "جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہے\nنافہ دماغِ آہوئے دشتِ تتار ہے\n\nکس کا سراغِ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا\nآئینہ فرشِ شش جہتِ انتظار ہے\n\nہے ذرہ ذرہ تنگیِ جا سے غبارِ شوق\nگر دام یہ ہے و سعتِ صحرا شکار ہے\n\nدل مدّعی و دیدہ بنا مدّعا علیہ\nنظارے کا مقدّمہ پھر روبکار ہے\n\nچھڑکے ہے شبنم آئینۂ برگِ گل پر آب\nاے عندلیب وقتِ وداعِ بہار ہے\n\nپچ آ پڑی ہے وعدۂ دلدار کی مجھے\nوہ آئے یا نہ آئے پہ یاں انتظار ہے\n\nبے پردہ سوئے وادیِ مجنوں گزر نہ کر\nہر ذرّے کے نقاب میں دل بے قرار ہے\n\nاے عندلیب یک کفِ خس بہرِ آشیاں\nطوفانِ آمد آمدِ فصلِ بہار ہے\n\nدل مت گنوا، خبر نہ سہی سیر ہی سہی\nاے بے دماغ آئینہ تمثال دار ہے\n\nغفلت کفیلِ عمر و اسدؔ ضامنِ نشاط\nاے مرگِ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%AC%D8%A7_%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B4_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں\nغالباً سب میں نمودار ہمیں ہوتے ہیں\n\nدرد سر ان کے لئے کیوں ہے مرا عجز و نیاز\nمیرے سجدوں سے وہ کیوں چیں بہ جبیں ہوتے ہیں\n\nان کی محفل سے تصور کا تعلق ہے ہمیں\nآنکھ کر لیتے ہیں جب بند وہیں ہوتے ہیں\n\nتیرے جلووں نے مجھے گھیر لیا ہے اے دوست\nاب تو تنہائی کے لمحے بھی حسیں ہوتے ہیں\n\nاعتکاف ان دنوں ہے فرض سنا ہے سیمابؔ\nرمضاں آ گئے مے خانہ نشیں ہوتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%AC%DA%AF%DB%81_%D8%AC%D9%85%D8%B9_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جس جگہ دور جام ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس جگہ دور جام ہوتا ہے\nواں یہ عاجز مدام ہوتا ہے\n\nہم تو اک حرف کے نہیں ممنون\nکیسا خط و پیام ہوتا ہے\n\nتیغ ناکاموں پہ نہ ہر دم کھینچ\nاک کرشمے میں کام ہوتا ہے\n\nپوچھ مت آہ عاشقوں کی معاش\nروز ان کا بھی شام ہوتا ہے\n\nزخم بن غم بن اور غصہ بن\nاپنا کھانا حرام ہوتا ہے\n\nشیخ کی سی ہی شکل ہے شیطان\nجس پہ شب احتلام ہوتا ہے\n\nقتل کو میں کہا تو اٹھ بولا\nآج کل صبح و شام ہوتا ہے\n\nآخر آؤں گا نعش پر اب آہ\nکہ یہ عاشق تمام ہوتا ہے\n\nمیرؔ صاحب بھی اس کے ہاں تھے پر\nجیسے کوئی غلام ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%AC%DA%AF%DB%81_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جس درجہ ہو مشکلات کی طغیانی", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جس درجہ ہو مشکلات کی طغیانی\nہو اہل ہم کو اور بھی آسانی\nتیراک اپنا ہنر دکھاتا ہے خوب\nہوتا ہے جب اس کے سر سے اونچا پانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D8%B1%D8%AC%DB%81_%DB%81%D9%88_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "جس دل ربا سوں دل کوں مرے اتحاد ہے", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس دل ربا سوں دل کوں مرے اتحاد ہے\nدیدار اس کا میری انکھاں کی مراد ہے\n\nرکھتا ہے بر میں دلبر رنگیں خیال کوں\nمانند آرسی کے جو صاف اعتقاد ہے\n\nشاید کہ دام عشق میں تازہ ہوا ہے بند\nوعدے پہ گل رخاں کے جسے اعتماد ہے\n\nباقی رہے گا جور و ستم روز حشر لگ\nتجھ زلف کی جفا میں نپٹ امتداد ہے\n\nمقصود دل ہے اس کا خیال اے ولیؔ مجھے\nجیوں مجھ زباں پہ نام محمد مراد ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%92"} {"title": "جس دل میں تری زلف کا سودا نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس دل میں تری زلف کا سودا نہیں ہوتا\nوہ دل نہیں ہوتا نہیں ہوتا نہیں ہوتا\n\nعاشق جسے کہتے ہیں وہ پیدا نہیں ہوتا\nاور ہوئے بھی بالفرض تو مجھ سا نہیں ہوتا\n\nجو کشتۂ تیغ نگہ یار ہیں ان پر\nکچھ کارگر اعجاز مسیحا نہیں ہوتا\n\nمانا کہ ستم کرتے ہیں معشوق مگر آپ\nجو مجھ پہ روا رکھتے ہیں ایسا نہیں ہوتا\n\nجو مست ہے ساقی نگہ مست کا وہ تو\nمنت کش جام و مے و مینا نہیں ہوتا\n\nکہتا ہے کوئی شعلۂ جوالہ کوئی برق\nاس دل پہ گماں لوگوں کو کیا کیا نہیں ہوتا\n\nزاہد ہو دوچار نگہ مست تو دیکھیں\nآلودہ بہ مے کیونکہ مصلیٰ نہیں ہوتا\n\nہاں کچھ تو بیان ہوس دل میں ہے لذت\nجو لب سے جدا حرف تمنا نہیں ہوتا\n\nتسکین دل سوختۂ شمع کی خاطر\nکس شب پر پروانہ سے پنکھا نہیں ہوتا\n\nدل عشق نے اتنا بھی نہ چھوڑا کہ جو کہویں\nتقسیم جز لا یتجزا نہیں ہوتا\n\nدے بیٹھے ہو دل عیشؔ تم ان لوگوں کو جن کی\nبیداد کا واں بھی کوئی شنوا نہیں ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "جس دل میں غبار ہو وہ دل صاف کہاں", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جس دل میں غبار ہو وہ دل صاف کہاں\nپھر خلق کہاں وقار الطاف کہاں\nجس قوم میں آ گیا تعصب کا قدم\nاس قوم میں اے شادؔ پھر انصاف کہاں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%B5%D8%A7%D9%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "جس دم قفس میں موسم گل کی خبر گئی", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس دم قفس میں موسم گل کی خبر گئی\nاک بار قیدیوں پہ قیامت گزر گئی\n\nدھندلا گئے نقوش تو سایہ سا بن گیا\nدیکھا کیا میں ان کو جہاں تک نظر گئی\n\nبہتر تھا میں جو دور سے پھولوں کو دیکھتا\nچھونے سے پتی پتی ہوا میں بکھر گئی\n\nکتنے ہی لوگ صاحب احساس ہو گئے\nاک بے نوا کی چیخ بڑا کام کر گئی\n\nتنہائیوں کے شہر میں کون آئے گا شکیبؔ\nسو جاؤ اب تو رات بھی آدھی گزر گئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D9%85_%D9%82%D9%81%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "جس دم وہ صنم سوار ہووے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس دم وہ صنم سوار ہووے\nتا صید حرم شکار ہووے\n\nجو اٹھ نہ سکے تری گلی سے\nرہنے دے کہ تا غبار ہووے\n\nمحکم تو رزاق بن سکے ہے\nگو عمر کہ پائیدار ہووے\n\nوہ قصر تو چاہتا نہیں میں\nجس میں گل و گلعذار ہووے\n\nوسعت مرے سینے بیچ اے دہر\nٹک دل کو شگفتہ وار ہووے\n\nسوزن کی نہ جیب کیجو منت\nیوں پھٹیو کہ تار تار ہووے\n\nشبنم سے بھرے ہے ساغر گل\nگردوں تو خراب و خوار ہووے\n\nپانی نہیں دیتے اس کو ظالم\nجو زخمیٔ بے شمار ہووے\n\nناصح تو قسم لے ہم سے، دل پر\nاپنا کبھو اختیار ہووے\n\nکھینچے ہے کوئی بھی تیغ پیارے\nجمدھر کہ جب آب دار ہووے\n\nکن زخموں میں زخم ہے کہ جب تک\nچھاتی کے نہ وار پار ہووے\n\nکھینچی ہے بھواں نے تیغ مکھ پر\nسوداؔ سے کہو نثار ہووے\n\nویسے ہی کاہے یہ کام گل رو\nعاشق ہی نہ گو ہزار ہووے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D9%85_%D9%88%DB%81_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92"} {"title": "جس دن تم آ کے ہم سے ہم آغوش ہو گئے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس دن تم آ کے ہم سے ہم آغوش ہو گئے\nشکوے جو دل میں تھے سو فراموش ہو گئے\n\nساقی نہیں ہے ساغر مے کی ہمیں طلب\nآنکھیں ہی تیری دیکھ کے بے ہوش ہو گئے\n\nسننے کو حسن یار کی خوبی برنگ گل\nاعضا مرے بدن کے سبھی گوش ہو گئے\n\nکرتے تھے اپنے حسن کی تعریف گل رخاں\nاس لالہ رو کو دیکھ کے خاموش ہو گئے\n\nاے جان دیکھتے ہی مجھے دور سے تم آج\nیہ کون سی ادا تھی کہ روپوش ہو گئے\n\nرہتے تھے بے حجاب مرے پاس جن دنوں\nوے روز ہائے تم کو فراموش ہو گئے\n\nدنیا و دین کی نہ رہی ہم کو کچھ خبر\nہوتے ہی اس کے سامنے بے ہوش ہو گئے\n\nبیدارؔ بسکہ روئے ہم اس گل کی یاد میں\nسر تا قدم سرشک سے گل پوش ہو گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D9%86_%D8%AA%D9%85_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%BA%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "جس دن سیں میں یار بوجھتا ہوں", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس دن سیں میں یار بوجھتا ہوں\nکب صبر و قرار بوجھتا ہوں\n\nزنداں میں مجھے ہے سیر گلشن\nزنجیر کوں ہار بوجھتا ہوں\n\nگلشن میں بغیر وصل گل رو\nہر پھول کوں خار بوجھتا ہوں\n\nتجھ شوق میں دل ہوا ہے طبنور\nہر آہ کوں تار بوجھتا ہوں\n\nاز بس کہ ہوا ہوں سب سیں یک رنگ\nاغیار کوں یار بوجھتا ہوں\n\nمشتاق ہوں جب سیں سرو قد کا\nشمشاد کوں دار بوجھتا ہوں\n\nمانند سراجؔ سوز و غم میں\nجلنے کوں بہار بوجھتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D9%86_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D9%88%D8%AC%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گیا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گیا\nشاہی تو مل گئی دل شاہانہ چھٹ گیا\n\nکوئی تو غم گسار تھا کوئی تو دوست تھا\nاب کس کے پاس جائیں کہ ویرانہ چھٹ گیا\n\nدنیا تمام چھٹ گئی پیمانے کے لیے\nوہ مے کدے میں آئے تو پیمانہ چھٹ گیا\n\nکیا تیز پا تھے دن کی تمازت کے قافلے\nہاتھوں سے رشتۂ شب افسانہ چھٹ گیا\n\nاک دن حساب ہوگا کہ دنیا کے واسطے\nکن صاحبوں کا مسلک رندانہ چھٹ گیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%B7%D8%B1%D8%B2_%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%B9_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جس دن سے حرام ہو گئی ہے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس دن سے حرام ہو گئی ہے\nمے خلد مقام ہو گئی ہے\n\nقابو میں ہے ان کے وصل کا دن\nجب آئے ہیں شام ہو گئی ہے\n\nافتاد چمن یہ ہے کہ بلبل\nخود ہی تہ دام ہو گئی ہے\n\nتوبہ سے گھٹی یہ قدر و قیمت\nمے دام کے دام ہو گئی ہے\n\nآتی ہے قیامت اس گلی میں\nپامال خرام ہو گئی ہے\n\nتوبہ سے ہماری بوتل اچھی\nجب ٹوٹی ہے جام ہو گئی ہے\n\nکچھ زہر نہ تھی شراب انگور\nکیا چیز حرام ہو گئی ہے\n\nلب تک جو کبھی نہ آئے وہ آہ\nاونچی سو بام ہو گئی ہے\n\nمے نوش ضرور ہیں وہ نا اہل\nجن پر یہ حرام ہو گئی ہے\n\nبجھ بجھ کے جلی تھی قبر پر شمع\nجل جل کے تمام ہو گئی ہے\n\nآ جائے اسے جو آئے مجھ تک\nموت ان کا پیام ہو گئی ہے\n\nہر بات میں ہونٹھ پر ہے دشنام\nاب حسن کلام ہو گئی ہے\n\nسر خم ہے حرم میں سوئے طیبہ\nکچھ خوئے سلام ہو گئی ہے\n\nدولت دل کی بتو ہے محفوظ\nاللہ کے نام ہو گئی ہے\n\nپھر پھر کے نظر ہوئی ہے صدقے\nجم کر خط جام ہو گئی ہے\n\nہے دور ابھی ریاضؔ منزل\nدن ختم ہے شام ہو گئی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جس دن سے ہم جنوں کے ہیں داماں لگے ہوئے", "poet_page": "مصنف:مرزا علی لطف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس دن سے ہم جنوں کے ہیں داماں لگے ہوئے\nدامن کی جا یہاں ہیں گریباں لگے ہوئے\n\nاللہ رے قید خانۂ ہستی کہ دم کے ساتھ\nہر اک قدم پہ لاکھوں ہیں زنداں لگے ہوئے\n\nرویا میں دیکھ مرقد مجنوں کو دہاڑ مار\nتھے جائے گل درخت مغیلاں لگے ہوئے\n\nبارے چھٹے اسیر بلا اس گلی میں آج\nہیں تودہ ہائے گنج شہیداں لگے ہوئے\n\nیاران پیش رو ذرا ٹھہرو کہ جیوں جرس\nہم پیچھے پیچھے آتے ہیں نالاں لگے ہوئے\n\nرکھ سوچ کر قدم مری وادی میں گرد باد\nپاؤں سے اپنے ہیں یہ بیاباں لگے ہوئے\n\nکوئی تو میرے ناصح دانا سے یہ کہو\nدل چھوٹتے ہیں باتوں میں ناداں لگے ہوئے\n\nکیا دن تھے وہ بھی لطفؔ کہ رہتے تھے مثل زلف\nکانوں سے اس کے ہم سے پریشاں لگے ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "جس روشنی میں لوٹ ہی کی آپ ہمیں سوجھے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "جس روشنی میں لوٹ ہی کی آپ ہمیں سوجھے\nتہذیب کی میں اس کو تجلی نہ کہوں گا\nلاکھوں کو مٹا کر جو ہزاروں کو ابھارے\nاس کو تو میں دنیا کی ترقی نہ کہوں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D9%88%D9%B9_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%BE_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی\nلکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی\n\nاچّھا ہے سر انگشتِ حنائی کا تصوّر\nدل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی\n\nکیوں ڈرتے ہو عشّاق کی بے حوصلگی سے\nیاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی\n\nاے بے خبراں! میرے لبِ زخمِ جگر پر\nبخیہ جسے کہتے ہو شکایت ہے رفو کی\n\nگو زندگیِ زاہدِ بے چارہ عبث ہے\nاتنا تو ہے، رہتی تو ہے تدبیر وضو کی\n\nدشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کو\nخنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی\n\nصد حیف وہ نا کام کہ اک عمر سے غالبؔ\nحسرت میں رہے ایک بتِ عربدہ جو کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%B1%D9%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "جس زمیں پر ترا نقش کف پا ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس زمیں پر ترا نقش کف پا ہوتا ہے\nایک اک ذرہ وہاں قبلہ نما ہوتا ہے\n\nکاش وہ دل پہ رکھے ہاتھ اور اتنا پوچھے\nکیوں تڑپ اٹھتا ہے کیا بات ہے کیا ہوتا ہے\n\nبزم دشمن ہے خدا کے لیے آرام سے بیٹھ\nبار بار اے دل ناداں تجھے کیا ہوتا ہے\n\nمیری صورت مری حالت مری رنگت دیکھی\nآپ نے دیکھ لیا عشق میں کیا ہوتا ہے\n\nاے صبا خار مغیلاں کو سنا دے مژدہ\nعازم دشت کوئی آبلہ پا ہوتا ہے\n\nہم جو کہتے ہیں ہمیشہ ہی غلط کہتے ہیں\nآپ کا حکم درست اور بجا ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D9%82%D8%B4_%DA%A9%D9%81_%D9%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "prose", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس سر کو غرور آج ہےياں تاج وري کا\n\nکل اس پر يہيں شور ہے پھر نوحہ گري کا\n\nشرمندہ ترے رخ ہے رخسار پري کا\n\nچلتا نہيں کچھ آگے ترے کبک وري کا\n\nآفاق کي منزل سے گيا کون سلامت\n\nاسباب لٹا راہ ميں ياں سر سفري کا\n\nزنداں ميں بھي شورش نہ گئي اپنے جنوں کي\n\nاب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سري کا\n\nاپني تو جہاں آنکھ لڑي پھر وہيں ديکھو\n\nآسينے کو لپکا ہے پريشاں نظري کا\n\nصد موسم گل ہم کو تہ بال ہي گزرے\n\nمقدمہ ورنہ ديکھا کبھو بے بال و پري کا\n\nاس رنگ سے چمکے ہے پلک پر کہ کہے تو\n\nٹکڑا ہے بڑا اشک عقيق جگري کا\n\nکل سير کا ہم نے سمندر کو بھي جاکر\n\nتحادست نگر پنجہ مثر گاں کي تري کا\n\nلے سانس بھي آہستہ کہ نازک ہے بہت کام\n\nآفاق کي اس کار گہ شيشہ گري کا\n\nٹک ميرے جگر سوختہ کي جلد خبر لے\n\nکيا يار بھروسا بے چراغ سحري کا", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D8%A2%D8%AC_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D8%A7%D8%AC_%D9%88%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "جس سے تیری ہوئی ہے یکتائی", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جس سے تیری ہوئی ہے یکتائی\nاس نے وحدت سے آگہی پائی\nآپ وحدت ہے آپ کثرت ہے\nخود تماشا و خود تماشائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "جس شخص کی ہو زیست فقط نام سے تیرے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس شخص کی ہو زیست فقط نام سے تیرے\nاس شخص کا کیا حال ہو پیغام سے تیرے\n\nگالی ہے کہ ہے سحر کوئی یا کہ ہے افسوں\nجی شاد ہوا جاتا ہے دشنام سے تیرے\n\nہے اپنی خوشی اس میں کہ تو جس میں خوشی ہو\nآرام ہے اپنے تئیں آرام سے تیرے\n\nآہستہ قدم رکھیو تو اے ناقۂ لیلیٰ\nمجنوں کا بندھا آتا ہے دل گام سے تیرے\n\nجب کوچے میں جا بیٹھتے ہیں تیرے تو اپنی\nآنکھیں لگی رہتی ہیں در و بام سے تیرے\n\nہے اپنے ہمیں کام سے کام اے بت خودکام\nہم کام نہیں رکھتے ہیں کچھ کام سے تیرے\n\nکیا ہجر کی رات آئی کہ مانند چراغاں\nپھر جلنے لگے داغ حسنؔ شام سے تیرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%B4%D8%AE%D8%B5_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%D9%81%D9%82%D8%B7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92"} {"title": "جس طرح دو جہاں میں خدا کا نہیں شریک", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "جس طرح دو جہاں میں خدا کا نہیں شریک\nتیرے جمال میں نہیں کوئی حسیں شریک\n\nمیں بھی ترا فدائی ہوں مجھ پہ بھی رحم کھا\nجب تک ہے اس گمان میں کچھ کچھ یقیں شریک\n\nاس کے ستم ہی کم ہیں جو اوروں کا نام لوں\nہے آسماں شریک نہ اس میں زمیں شریک\n\nروز جزا امید ہے سب کو سزا ملے\nاقدام قتل میں ہیں مرے سب حسیں شریک\n\nاے بدر تیرا دعویٔ یکتائی سب غلط\nجملہ صفات میں ہے ترے وہ جبیں شریک\n\nسچ پوچھئے تو جان جہاں میرے قتل میں\nترچھی نظر کے ساتھ ہی چین جبیں شریک\n\nواعظ تو باغ حسن کی اک بار سیر کر\nممکن ہے دل کشی میں ہو خلد بریں شریک\n\nکیا وجہ تیرے ظلم و ستم میں مزا نہیں\nاے دور چرخ آج وہ شاید نہیں شریک\n\nبھیجا پیام جلسہ تو انداز سے کہا\nعرصہ ہوا کہ ہم نہیں ہوتے کہیں شریک\n\nپرویںؔ غلط ہے ان کو سمجھنا جدا جدا\nہیں جسم و جاں کی طرح سے دنیا و دیں شریک", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%AF%D9%88_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%DB%8C%DA%A9"} {"title": "جس طرح کوچے میں تیرے پھرتے ہیں ہم بر طرف", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جس طرح کوچے میں تیرے پھرتے ہیں ہم بر طرف\nاے ستم گاری ہماری طرز ہیں کم بر طرف\nدل سے افریدیؔ کے اپنے حسن کے صدقے سے یار\nکیجئے گا دو جہاں کے جتنے ہیں غم بر طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A8%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "جس علم سے اچھوں کی ہو خوبی ظاہر", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جس علم سے اچھوں کی ہو خوبی ظاہر\nہو اس سے رذیلوں کی برائی ظاہر\nہے دخل عظیم علم میں طینت کو\nمیووں میں ہے تاثیر زمیں کی ظاہر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A8%DB%8C_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1"} {"title": "جس قدر ضبط کیا اور بھی رونا آیا", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس قدر ضبط کیا اور بھی رونا آیا\nیہ طبیعت نہیں آئی کوئی دریا آیا\n\nکام کیا جذب تمنائے زلیخا آیا\nکارواں بھی چہہ یوسف ہی پہ ہوتا آیا\n\nکوچۂ یار میں آ کر نہیں جاتا کوئی\nیہ وہ جا ہے کہ یہاں جو کوئی آیا آیا\n\nرات کیا جانیے کس طرح گزاری ہم نے\nاپنے وعدے پہ شب وعدہ تو اچھا آیا\n\nآ گئے آج وہ اغیار کے بہکانے میں\nنہیں معلوم برا وقت یہ کس کا آیا\n\nکشش شوق نے مجبور کیا ہے سو بار\nمیں تو واں جانے کی ہر بار قسم کھا آیا\n\nہاتھ دونوں نہ ہوئے سینے سے اک جائے جدا\nمیں چمن میں دل ناشاد کو بہلا آیا\n\nواں سے یہ شکل بنائے ہوئے آیا قاصد\nمیں نے جانا مجھے پیغام قضا کا آیا\n\nہم نے در پردہ بھی کی تیری برائی نہ کبھی\nشکر کہہ کر بھی نہ لب پر کوئی شکوا آیا\n\nوعدۂ وصل پہ قسمیں تو نہ کھا عہد شکن\nباور آیا مجھے بس اور تو آیا آیا\n\nکہہ اٹھا آج کہ اس بت کو خدا لائے کہیں\nشکر ہے لب پہ مرے نام خدا کا آیا\n\nفتنے قدموں سے لگے رہتے ہیں گویا ہر دم\nآپ کیا آئے کہ اک مجمع اعدا آیا\n\nاشک آنکھوں میں بھرے لب پہ فغاں دامن چاک\nجو تماشے کو گیا واں سے تماشا آیا\n\nگریے کو ضبط کیا رک نہ سکے نالے آہ\nٹکڑے ہو ہو کے مرے منہ کو کلیجہ آیا\n\nجس نے دیکھا مجھے فریاد کناں واں سالکؔ\nرحم کیسا وہ برا مجھ کو ہی کہتا آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%B6%D8%A8%D8%B7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جس قدر ہیں حسن کی زیبائیاں", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس قدر ہیں حسن کی زیبائیاں\nاس قدر ہیں عشق کی رسوائیاں\n\nمیری جانب ہے رخ تصویر دوست\nلوٹ لیں اس نے مری تنہائیاں\n\nدینے والے اب تو دامن بھی نہیں\nاس قدر تیری کرم فرمائیاں\n\nحسن کا ناز پشیماں دیکھ کر\nعشق کو آنے لگیں انگڑائیاں\n\nہو گیا مشکل ترا پہچاننا\nروز افزوں ہیں تری رعنائیاں\n\nغم کی شب کیفیؔ مرا کوئی نہیں\nدور مجھ سے ہو گئیں پرچھائیاں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%DB%8C%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیں\nدرد جس میں نہیں جگر ہی نہیں\n\nلوگ کہتے ہیں وہ بھی ہیں بے چین\nکچھ یہ بے تابیاں ادھر ہی نہیں\n\nدل کہاں کا جو درد دل ہی نہ ہو\nسر کہاں کا جو درد سر ہی نہیں\n\nبے خبر جن کی یاد میں ہیں ہم\nخیر سے ان کو کچھ خبر ہی نہیں\n\nبیخودؔ محو و شکوہ ہائے عتاب\nاس منش کا تو وہ بشر ہی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جس نے آدم کے تئیں جاں بخشا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس نے آدم کے تئیں جاں بخشا\nخضر کو چشمۂ حیواں بخشا\n\nپیر کنعاں کو دیا درد فراق\nیوسف مصر کو زنداں بخشا\n\nتخت برباد سلیماں کا کیا\nدیو کو ملک سلیماں بخشا\n\nزینت افلاک کو دی انجم سے\nمہر کو نور درخشاں بخشا\n\nزیور حسن کیا چشم حیا\nعشق کو دیدۂ حیراں بخشا\n\nکوہ کن کو کمر کوہ دیا\nقیس کو دشت کا داماں بخشا\n\nرنگ و بو گل کو دیا گلشن میں\nسیر بلبل کو گلستاں بخشا\n\nکفر کافر کے نصیبوں میں لکھا\nاہل اسلام کو ایماں بخشا\n\nروز میثاق میں حاتمؔ کے تئیں\nچشم گریاں دل بریاں بخشا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%A2%D8%AF%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%AE%D8%B4%D8%A7"} {"title": "جس نے تجھ حسن پر نگاہ کیا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس نے تجھ حسن پر نگاہ کیا\nنور خورشید فرش راہ کیا\n\nحق نے اپنے کرم ستی مج کوں\nملک خوبی کا پادشاہ کیا\n\nمشق غفلت سے تیرہ باطن نے\nصفحۂ زندگی سیاہ کیا\n\nحوض کوثر کا تشنہ لب کب ہے\nاس زنخداں کی جس نے چاہ کیا\n\nکوچۂ زلف میں گیا جب دل\nبرگ سنبل کوں زاد راہ کیا\n\nبرق خرمن ہے جان دشمن کا\nدرد سیں جس نے ایک آہ کیا\n\nمت جلا اب سراجؔ کوں ظالم\nشعلۂ غم کوں عذر خواہ کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جس نے تجھے خلوت میں بھی تنہا نہیں دیکھا", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس نے تجھے خلوت میں بھی تنہا نہیں دیکھا\nاس دیکھنے والے کا کلیجہ نہیں دیکھا\n\nاف اف وہ اچٹتی سی نگاہ غلط انداز\nاس طرح سے دیکھا ہے کہ گویا نہیں دیکھا\n\nجس گل کو یہ سب ڈھونڈتی پھرتی ہیں ہوائیں\nتو نے تو اسے نرگس شہلا نہیں دیکھا\n\nدم آنکھوں میں اٹکا ہے خدا کے لیے آؤ\nپھر یہ نہ گلہ ہو مرا رستا نہیں دیکھا\n\nشاعرؔ یہ غزل لکھی ہے یا جڑ دیئے موتی\nدنیا میں قلم کار بھی ایسا نہیں دیکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جس نے تری بے باک ادا کو نہیں دیکھا", "poet_page": "مصنف:عبد الغفور نساخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس نے تری بے باک ادا کو نہیں دیکھا\nواللہ کہ آنکھوں سے فضا کو نہیں دیکھا\n\nکیوں مجھ کو سنائے نہ بھلا قصہ جنت\nواعظ نے ترے مہر و وفا کو نہیں دیکھا\n\nافسوس کہ سن ہی کے ابھی ہنستے ہو افسوس\nتم نے جو اگر آہ و بکا کو نہیں دیکھا\n\nگھبرائے ہوئے پھرتی ہے کیوں میرے طرح سے\nتاثیر نے کیا میری دعا کو نہیں دیکھا\n\nبیباکیاں دیکھیں ہیں تری بزم عدو میں\nآنکھوں میں تری شرم و حیا کو نہیں دیکھا\n\nکہتے ہیں غلط ہووے گا دشمن کا گزر خاک\nکوچے میں ترے باد صبا کو نہیں دیکھا\n\nمعلوم نہیں تم کو وفا کہتے ہیں کس کو\nتم نے ابھی ارباب وفا کو نہیں دیکھا\n\nکیا خاک ہو امید مجھے اس سے وفا کی\nمیں نے تو کبھی اس کی جفا کو نہیں دیکھا\n\nنازاں نہ ہوں کیوں خضر بھلا عمر پہ اپنی\nحضرت نے ترا زلف رسا کو نہیں دیکھا\n\nپردے سے نکلتے نہیں اور کہتے ہیں مجھ سے\nپہچانو گے کیا ہم کو خدا کو نہیں دیکھا\n\nآگے تری آنکھوں کے جھکائے ہوئے آنکھیں\nکب آہوئے باور بہ خطا کو نہیں دیکھا\n\nکیوں حضرت موسیٰ کی طرح نعش میں نساخؔ\nگر تم نے بت ہوش ربا کو نہیں دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جس وقت تو بے نقاب آوے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس وقت تو بے نقاب آوے\nہوگا کوئی جس کو تاب آوے\n\nکافی ہے نقاب زلف منہ پر\nعاشق سے اگر حجاب آوے\n\nکیونکر کہے کوئی حال تجھ سے\nہر بات میں جو عتاب آوے\n\nقاصد سے کہا ہے وقت رخصت\nجو وہ بت بے حجاب آوے\n\nلے آئیو گر جواب دیوے\nلازم ہے کہ تو شتاب آوے\n\nاے جاں بہ لب رسیدہ اتنا\nرہنا ہے کہ تا جواب آوے\n\nبیدارؔ کو تجھ بن اے دل آرام\nہوتا ہی نہیں کہ خواب آوے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D9%88%DB%92"} {"title": "جس وقت شروع یہ حکایت ہوگی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جس وقت شروع یہ حکایت ہوگی\nرنجیدگی یک دگر نہایت ہوگی\nاحوال وفا کا اپنے ہرگز مجھ سے\nمت پوچھ کہ کہنے میں شکایت ہوگی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B4%D8%B1%D9%88%D8%B9_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C"} {"title": "جس وقت کا ڈر تھا وہ شباب آ پہنچا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جس وقت کا ڈر تھا وہ شباب آ پہنچا\nہنگام رحیل و پا تراب آ پہنچا\nجاگو جاگو حشر تک سونا ہے\nچونکو چونکو کہ وقت خواب آ پہنچا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D9%88%D9%82%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%DA%88%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%A2_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7"} {"title": "جس پر کہ نظر لطف کی شبیر کریں", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جس پر کہ نظر لطف کی شبیر کریں\nادنیٰ اعلیٰ سب اس کی توقیر کریں\nجس سنگ کو چاہیں وہ بنا دیں پارس\nجس خاک کو چاہیں ابھی اکسیر کریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%84%D8%B7%D9%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہے", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہے\nاس کو دھیان میں لاؤں کیسے وہ سپنوں کا باسی ہے\n\nپھولوں کے گجرے توڑ گئی آکاش پہ شام سلونی شام\nوہ راجا خود کیسے ہوں گے جن کی یہ چنچل داسی ہے\n\nکالی بدریا سیپ سیپ تو بوند بوند سے بھر جائے گا\nدیکھ یہ بھوری مٹی تو بس میرے خون کی پیاسی ہے\n\nجنگل میلے اور شہروں میں دھرا ہی کیا ہے میرے لیے\nجگ جگ جس نے ساتھ دیا ہے وہ تو میری اداسی ہے\n\nلوٹ کے اس نے پھر نہیں دیکھا جس کے لیے ہم جیتے ہیں\nدل کا بجھانا اک اندھیر ہے یوں تو بات ذرا سی ہے\n\nچاند نگر سے آنے والی مٹی کنکر رول کے لائے\nدھرتی ماں چپ ہے جیسے کچھ سوچ رہی ہو خفا سی ہے\n\nہر رات اس کی باتیں سن کر تجھ کو نیند آتی ہے ظفرؔ\nہر رات اسی کی باتیں چھیڑیں یہ تو عجب بپتا سی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%B4%D8%A8%D9%88_%D8%AC%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D8%A7%D9%84_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جس کا تجھ سا حبیب ہووے گا", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کا تجھ سا حبیب ہووے گا\nکون اس کا رقیب ہووے گا\n\nبے وطن بے رفیق بے اسباب\nکون ایسا غریب ہووے گا\n\nدرد دل کی دوا ہو جس کے پاس\nکوئی ایسا طبیب ہووے گا\n\nمل رہے گا کبھی تو دنیا میں\nگر ہمارا نصیب ہووے گا\n\nسوزؔ کو وہ ملائے گا تجھ سے\nجو خدا کا حبیب ہووے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D8%A7_%D8%AD%D8%A8%DB%8C%D8%A8_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جس کا راہب شیخ ہو بت خانہ ایسا چاہیے", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کا راہب شیخ ہو بت خانہ ایسا چاہیے\nمحتسب ساقی بنے مے خانہ ایسا چاہیے\n\nرکھتا ہے سر خوش ہمیں ایک چشم میگوں کا خیال\nہو نہ جو پیماں شکن پیمانہ ایسا چاہیے\n\nہو خیال دیر دل میں اور نہ ہو پاس حرم\nعاشقوں کا مسلک رندانہ ایسا چاہیے\n\nاک نگاہ ناز پر قرباں کرے ہوش و خرد\nعشق بازی کے لیے فرزانہ ایسا چاہیے\n\nاس کے دل میں سوز ہو اور اس کے دل میں ہو گداز\nشمع ایسی چاہیے پروانہ ایسا چاہیے\n\nشمع ساں گھلتے رہیں ہم اور نہ ہو اس کو لگن\nمشرقیؔ معشوق بے پروانہ ایسا چاہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D8%A7%DB%81%D8%A8_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%DB%81%D9%88_%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "جس کا میسر نہ تھا بھر کے نظر دیکھنا", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کا میسر نہ تھا بھر کے نظر دیکھنا\nکہتا ہے خط آئے پر ٹک تو ادھر دیکھنا\n\nبولا وہ ہنس کے کہ ہاں دیکھے ہیں تجھ سے بہت\nمیں جو کہا ہے غرض مجھ کو مگر دیکھنا\n\nدیکھوں نہ وہ دن کہ میں منت احسان لوں\nشام مری اے فلک ہو نہ سحر دیکھنا\n\nروز وداع اس کو دیکھ اک دو نظر سیر ہو\nدیکھ لے پھر ہم کہاں اور کدھر دیکھنا\n\nیار ہوا بے دماغ سن مرا شور جنوں\nآہ و فغاں کا مری یارو اثر دیکھنا\n\nجس کی تو دیکھے ہے راہ میری نظر میں ہے خوب\nاک دم ادھر دیکھنا اک دم ادھر دیکھنا\n\nاتنا گیا گزرا بھی مجھ کو نہ واں سے سمجھ\nغیر تو اس کوچے سے پھر تو گزر دیکھنا\n\nخلقت خوباں کے بیچ قبح خدا نکلے ہے\nعیب ہے اسے منکرو حسن اگر دیکھنا\n\nدیدۂ باریک بیں راہ عدم پر ہو جوں\nمرگ پہ دل دھرنا ہے اس کی کمر دیکھنا\n\nحسرتؔ اسے دل کشا جیسے ہے دریا کی سیر\nمیرے لب خشک اور دیدۂ تر دیکھنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B3%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "جس کو خبر نہیں اسے جوش و خروش ہے", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کو خبر نہیں اسے جوش و خروش ہے\nجو پا گیا وہ راز وہ گم ہے خموش ہے\n\nہے ایک شور بلبل و صوت شگفتہ گل\nیہ صور عافیت ہے وہ یاسین ہوش ہے\n\nآئی تھی شکل دل کے جو آئنہ میں نظر\nبند آنکھ اس سے اور زباں بھی خموش ہے\n\nیہ حال ہو کہ آپ میں عالم کو دیکھ لے\nگر دل میں تیرے عشق کی کثرت کا جوش ہے\n\nکب ہے کمال عشق پہ حاوی غم فراق\nایک ایک ذرہ قیس کو محمل بہ دوش ہے\n\nوارفتۂ ہوائے طرب یاد رکھ اسے\nجو درد کی کھٹک ہے نوید سروش ہے\n\nبرق جمال نافئے ما و شما ہوئی\nکیا ذکر شمع طور کہ وہ بھی خموش ہے\n\nکیا ہے ترا حدوث و قدم ہم تو ہیں وہاں\nہستی جہاں عدم کے لئے خواب نوش ہے\n\nعشاق جامہ پہنے ہیں تسلیم عشق کا\nدستار و جبہ شیخ کا ہاں پردہ پوش ہے\n\nتیرے جہاں سے محفل رنداں جدا ہے شیخ\nہر ایک مغبچہ یہاں کثر فروش ہے\n\nساقی کی ایک نظر ہی ہمیں مست کر گئی\nکس کو صراحی و خم و ساغر کا ہوش ہے\n\nامرت کے جھالے مر کیا لا تقنطو کی ہیں\nاس بزم میں یہ مشغلۂ ناؤنوش ہے\n\nکیفیؔ یہ اہل دہر سے کہہ دو پکار کر\nاس بزم میں وہ آئے کہ جو سرفروش ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%88_%D8%AE%D8%B1%D9%88%D8%B4_%DB%81%DB%92"} {"title": "جس کو دیکھا سو یہاں دشمن جاں ہے اپنا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کو دیکھا سو یہاں دشمن جاں ہے اپنا\nدل کو جانے تھے ہم اپنا سو کہاں ہے اپنا\n\nقصۂ مجنوں و فرہاد بھی اک پردا ہے\nجو فسانہ ہے یہاں شرح و بیاں ہے اپنا\n\nوصف کہنے میں ترے حسن کے شرمندہ ہوں\nاس کے قابل نہ زباں ہے نہ دہاں ہے اپنا\n\nجس کو جانا ہو بھلا اس کو برا کیا کہیے\nگو کہ بد وضع ہے پر اب تو میاں ہے اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہے", "poet_page": "مصنف:مردان علی خاں رانا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہے\nقطرۂ اشک دیدۂ تر ہے\n\nابروئے یار دل کا خنجر ہے\nمژۂ یار نوک نشتر ہے\n\nچشم عاشق سے دو بہے دریا\nایک تسنیم ایک کوثر ہے\n\nخانۂ دل ہے غیر سے خالی\nشوق سے آؤ آپکا گھر ہے\n\nقطعی آج فیصلہ ہوگا\nتیری تلوار ہے مرا سر ہے\n\nاب تو دھونی رما کے بیٹھے ہیں\nدر جاناں پے اپنا بستر ہے\n\nطمع ہر اک کا دین و ایماں ہے\nجس کو دیکھو وہ بندۂ زر ہے\n\nخوب دل کھول کر جفا کر لو\nبندہ مدت سے اس کا خوگر ہے\n\nبام پر جلوہ گر ہے وہ شاید\nکوئے جاناں میں شور محشر ہے\n\nکرتا عالم کو آہ سے برہم\nلیک رعناؔ کو یار کا ڈر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D9%86%D8%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "جس کو عادت وصل کی ہو ہجر سے کیوں کر بنے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کو عادت وصل کی ہو ہجر سے کیوں کر بنے\nجب اٹھے یہ غم کہ دل کا آئنہ پتھر بنے\n\nاب جو وہ بنوائیں گہنا یاد رکھنا گل فروش\nپھول بچ جائیں تو میری قبر کی چادر بنے\n\nبعد آرائش بلائیں کون لے گا میرے بعد\nیاد کرنا مجھ کو جب زلف پری پیکر بنے\n\nہے تمہارے سامنے تو جان کا بچنا محال\nتم سے جب چھوٹیں تو دیکھیں غیر سے کیوں کر بنے\n\nدونوں عاشق تیرے اور دونوں کی یکجا بود و باش\nمیری جاں جان و جگر میں دیکھیے کیوں کر بنے\n\nآرزو مند شہادت کی وصیت سب سے ہے\nنام کھودا جائے میرا جب کوئی خنجر بنے\n\nدل مشبک ہو گیا تیر نگاہ خانہ سے\nاب تمہاری یاد کے آنے کو لاکھوں گھر بنے\n\nغیر سے کوئی تعلق ہی نہ رکھ اے جنگ جو\nگر بگڑ مجھ سے بگڑ جو کچھ بنے مجھ پر بنے\n\nخفتگان خاک چونک اٹھے چلے کچھ ایسی چال\nآج تو اے میری جاں تم فتنۂ محشر بنے\n\nچاہتے ہو تم رہوں مر کر بھی میں قدموں سے دور\nکہتے ہو قبر اس کی میرے کوچہ سے باہر بنے\n\nمر کے بھی پائیں لب ساقی کا بوسہ کیا مجال\nواں نہ پہنچے گر ہماری خاک کا ساغر بنے\n\nدامن قاتل کے دھبوں کی گواہی ہو ضرور\nگر ہمارے خون کا اے دوستو محضر بنے\n\nدل مجھے اچھا برا جیسا بنایا دے دیا\nسر تو کوئی پوچھتا کیسا بنے کیوں کر بنے\n\nقبر کا کونا ہو مسکن دم نکل جائے رشیدؔ\nخانۂ تن گر چکے جلدی کہ اپنا گھر بنے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%D9%86%DB%92"} {"title": "جس کو وہ نقش پا نہیں ملتا", "poet_page": "مصنف:نبی بخش نایاب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نایاب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "جس کو وہ نقش پا نہیں ملتا\nذرہ بھی خاک کا نہیں ملتا\n\nلوگ تو روتے ہیں غم دل کو\nہم کو دل کا پتا نہیں ملتا\n\nکس نجومی سے پوچھئے جا کر\nیار ملتا ہے یا نہیں ملتا\n\nکیوں مرے پاس آئے وہ جب تک\nجسم سے سر جدا نہیں ملتا\n\nدل کے دو حرف وہ بھی آپس میں\nایک سے دوسرا نہیں ملتا\n\nمرنا ہے خواب زیست کی تعبیر\nخواب میں جو ملا نہیں ملتا\n\nکر چکے سیر بھی دو عالم کی\nایک بھی آپ سا نہیں ملتا\n\nکس سرا میں مسافر آ اترا\nزندگی کا مزا نہیں ملتا\n\nجس نے دشمن بھلا دئے سارے\nہم کو وہ آشنا نہیں ملتا\n\nجو در کار ساز تک پہنچے\nاس کو نایابؔ کیا نہیں ملتا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%88%DB%81_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "جس کو پاس اس نے بٹھایا ایک دن", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "جس کو پاس اس نے بٹھایا ایک دن\nاس کو دنیا سے اٹھایا ایک دن\n\nوصل کی شب دیکھتے اس ماہ کو\nسال میں بھی وہ نہ آیا ایک دن\n\nصبح نومیدی ہماری شب کی ہے\nعمر گزری وہ نہ آیا ایک دن\n\nکام میں میرے ہمیشہ یار نے\nایک ساعت کا لگایا ایک دن\n\nمثل برق اک شب ہنسایا آپ نے\nابر کی صورت رلایا ایک دن\n\nیاد زلف و رخ میں بھولے خواب و خور\nایک شب سوئے نہ کھایا ایک دن\n\nوہ تپ لرزہ کا دورہ ہو گیا\nایک دن آیا نہ آیا ایک دن\n\nیاد جس خورشید رو کی ہے وقارؔ\nبھول کر بھی وہ نہ آیا ایک دن", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D9%B9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%86"} {"title": "جس کو پڑی ہو اپنے گریباں کے تار کی", "poet_page": "مصنف:بیتاب عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کو پڑی ہو اپنے گریباں کے تار کی\nروئے خزاں کو خیر منائے بہار کی\n\nمعراج اس کو کہیے ہمارے غبار کی\nورنہ یہ خاک اور ہوا کوئے یار کی\n\nپژمردہ پھول ہوں چمن روزگار کا\nتصویر ہوں دورنگئ لیل و نہار کی\n\nنیچی نگاہ آڑ میں مژگاں کی الامان\nصیاد جیسے گھات میں بیٹھے شکار کی\n\nچین جبین یار کی چھریاں وہیں چلیں\nجوں ہی تڑپ بڑھی نگہ‌ انتظار کی\n\nمنہ فق ہے اس طرح مری صبح فراق کا\nجیسے ہو پہلی شام غریب الدیار کی\n\nبیتابؔ ختم کر گئے استاد نامدار\nجادو نگاریاں قلم سحر کار کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DA%91%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "جس کو چاہو تم اس کو بھر دو", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کو چاہو تم اس کو بھر دو\nماہ کو نقرہ مہر کو زر دو\n\nپیر مغاں سے عرض یہ کر دو\nدکھن بخشو اگر ساغر دو\n\nآہ یہ دونوں آفت جاں ہیں\nناز و ادا لعنت بر ہر دو\n\nجی جلتا ہے آہ کے جھونکو\nشمع محبت کو گل کر دو\n\nقطرہ فشانی کیا اے آنکھو\nایسے برسو جل تھل بھر دو\n\nبلبلو صیاد آج خفا ہے\nحلق چھری کے نیچے دھر دو\n\nجان ان آنکھوں سے نہ بچے گی\nیہ ہے ادھر تنہا وہ ادھر دو\n\nدم کی آمد و شد کیا کہیے\nضعف کی راہ سے ہیں یہ سفر دو\n\nاپنا گلا خود کاٹتے ہیں ہم\nدم لو چھری کی تلے بے دردو\n\nجان و مال فدا کرنے میں\nفکر و تردد اے نا مردو\n\nعرض یہ ہے نقاش ازل سے\nحب کے نقش میں یار کو گھر دو\n\nدولت دل تم تو حاضر ہے\nخط عذار تمسک کر دو\n\nشکر گزار بہ ہر صورت ہیں\nزہر ہمیں دو یا شکر دو\n\nآنکھوں میں ہے مواد گریہ\nبحرؔ ان پھوڑوں کو نشتر دو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D8%A7%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%D9%88"} {"title": "جس کو کچھ دھن ہو کرے ہم سے حقیقت کی بحث", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "جس کو کچھ دھن ہو کرے ہم سے حقیقت کی بحث\nکہ ہمیں جانتے ہیں اہل طریقت کی بحث\n\nقاضیا ہاتھ بڑھا شیشۂ صہبا تو اتار\nطاق نسیاں پہ تو رہنے دے شریعت کی بحث\n\nکر دیا مجتہد وقت کو قاتل جھٹ پٹ\nہم نے مسجد میں کل ایسے ہی قیامت کی بحث\n\nبزم رندانہ میں کیا رند و ورع کا چرچا\nشیخ صاحب ہے بہت یہ تو حماقت کی بحث\n\nبوعلی ساتھ کوئی بولتے انشاؔ کو سنے\nروز ہوتی ہے بہم اہل بلاغت کی بحث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AF%DA%BE%D9%86_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%AD%D8%AB"} {"title": "جس کو کہ دسترس ہوئی دامان یار تک", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کو کہ دسترس ہوئی دامان یار تک\nگلشن میں دہر کے وہی پہنچا بہار تک\n\nجوں خار اس سے تو نہیں ہوتے جدا رقیب\nمجھ کو رسائی کیوں کہ ہو اس گلعذار تک\n\nابرو کہاں نے وضع نکالی ہے یہ نئی\nرہتا ہے تیر غمزہ مرے دل میں مار تک\n\nپیارے کہیں نظر نہ لگے آئنے کی آج\nبے طرح تجھ کو رہتا ہے وہ اے نگار تک\n\nغفلت میں تیری کام ہمارا تمام ہے\nکوئی کہہ دے اتنا یار تغافل شعار تک\n\nہم صرف دیکھنے کو ہیں محروم اور ہے\nغیروں کو دسترس ترے بوس و کنار تک\n\nساقی شتاب جام صبوحی پلا مجھے\nکیا جانئے بچوں نہ بچوں میں خمار تک\n\nدشمن ہے میری جان کا عالم ترے لیے\nیارو کوئی سناؤ یہ اس دوست دار تک\n\nتجھ بزم میں جو بار جہاں دارؔ کو نہیں\nرہتا ہے رہ گزر میں تجھے بار بار تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D8%B3%D8%AA%D8%B1%D8%B3_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "جس کو ہستی و عدم جانتے ہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کو ہستی و عدم جانتے ہیں\nہے وہ کچھ اور ہی ہم جاتے ہیں\n\nکوچۂ جنب سے ملحق ہے شیخ\nہم جسے راہ حرم جانتے ہیں\n\nجزو و کل ایک ہے جوں قطرۂ بحر\nبہت اس رمز کو کم جانتے ہیں\n\nشاہد خوب و مکان دلچسپ\nہم یہی حور و ارم جانتے ہیں\n\nکہہ نہ مت کھا مرے سر کی سوگند\nہم تو اک یہ ہی قسم جانتے ہیں\n\nکہتے ہو آؤں گا میں اک دم میں\nایسے ہم سیکڑوں دم جانتے ہیں\n\nدل جو تابع نہ ہو اپنے قائمؔ\nہم اسے چھاتی پہ جم جانتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%88_%D8%B9%D8%AF%D9%85_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جس کوں تجھ غم سیں دل شگافی ہے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کوں تجھ غم سیں دل شگافی ہے\nمرہم وصل اس کوں شافی ہے\n\nہوش کھونے کو مے نہیں درکار\nگردش چشم مست کافی ہے\n\nبے خطی میں عیاں ہے سبزۂ خط\nتیرے عارض میں بس کہ صافی ہے\n\nبخش میرے گناہ کوں آ مل\nخط نہیں یہ خط معافی ہے\n\nگل بدن کوں کہو کہ سیر کوں آ\nآج ہر گل چمن میں لافی ہے\n\nغضب یار سیں نہ ہو غمگیں\nجور نہیں مہر کی تلافی ہے\n\nرشتۂ آہ آتشیں سیں سراجؔ\nمج کوں ہر رات شعلہ بافی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%DA%AF%D8%A7%D9%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جس کوں درد جگر کی لذت ہے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کوں درد جگر کی لذت ہے\nزہر اس کوں مثال امرت ہے\n\nدیکھ تجھ ناز کی نزاکت کوں\nنگہت گل شہید حیرت ہے\n\nکم نمائی سیں اس قمر رو کوں\nماہ نو کی مثال شہرت ہے\n\nمیری آنکھوں میں یار کی تصویر\nعکس آئینۂ محبت ہے\n\nجھانجھ میں کیوں نہ آوے دل میرا\nتجھ جدائی کی مجھ کو نوبت ہے\n\nکیا چکا بو ہے زلف میں تیری\nآرسی جس کوں دیکھ چکرت ہے\n\nوصل میں اضطراب جاتا نہیں\nسو قرن مجھ کوں ایک ساعت ہے\n\nمثل آئینہ کر نمد پوشی\nصافیٔ سینہ ترک زینت ہے\n\nپھر پتنگوں کا شور اٹھا سراجؔ\nجلوۂ شمع رو قیامت ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "جس کوں ملک بے خودی کا راج ہے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کوں ملک بے خودی کا راج ہے\nہے زمیں تخت اور بگولا تاج ہے\n\nخواب میں وو زلف مشکیں دیکھناں\nحق میں میرے لیلۃ المعراج ہے\n\nدیکھ کر لشکر غنیم عشق کا\nکشور عقل و خرد تاراج ہے\n\nاے طبیب مہرباں بیمار ہجر\nشربت دیدار کا محتاج ہے\n\nیار کی آنکھوں میں ہے جیسی حیا\nچشم نرگس میں کہاں یہ لاج ہے\n\nاس کماں ابرو کے تیر ناز کا\nسینہ چاکوں کا جگر آماج ہے\n\nدل مرا تجھ غم سیں اے جان سراجؔ\nبیشتر بے تاب کل سیں آج ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D9%85%D9%84%DA%A9_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D8%A7%D8%AC_%DB%81%DB%92"} {"title": "جس کوں پی کا خیال ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کوں پی کا خیال ہوتا ہے\nاوس کوں جینا محال ہوتا ہے\n\nخم ابرو کی یاد سیں دل پر\nزخم ناخن ہلال ہوتا ہے\n\nچل چمن تیرے فیض قد سے سرو\nہر قدم میں نہال ہوتا ہے\n\nجب میں روتا ہوں کھول کر دل کوں\nشہر میں برشگال ہوتا ہے\n\nکون جانے ہے غیر حق تجھ بن\nجو کہ حاتمؔ کا حال ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جس کوں پیو کے ہجر کا بیراگ ہے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کوں پیو کے ہجر کا بیراگ ہے\nآہ کا مجلس میں اس کی راگ ہے\n\nکیوں نہ ہوئے دل جل کے خاکستر نمن\nآتشیں رو کی محبت آگ ہے\n\nاے دل اس کے زہر سیں وسواس کر\nزلف نیں ہے بلکہ کالا ناگ ہے\n\nجب سیں لایا عشق نے فوج جنوں\nعقل کے لشکر میں بھاگا بھاگ ہے\n\nطالع سکندری رکھتا سراجؔ\nروبرو آئینہ رو کیا بھاگ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D9%88_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%AF_%DB%81%DB%92"} {"title": "جس کی بخدا اس بت کافر پہ نظر ہے", "poet_page": "مصنف:منتظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کی بخدا اس بت کافر پہ نظر ہے\nچھاتی ہے پہاڑ اس کی تو پتھر کا جگر ہے\n\nاے دل در دنداں کو ذرا دیکھ تو اس کے\nکیا درج میں یاقوت کی یہ سلک گہر ہے\n\nکیا صاف کہوں یار کے رخسار کا اوصاف\nاک غیرت خورشید ہے ایک رشک قمر ہے\n\nبینائی کہاں اتنی نظر آئے جو مجھ کو\nباریک رگ جاں سے بھی کچھ اس کی کمر ہے\n\nکرتا ہے دلا کس لئے تو یار کو بدنام\nباعث تری رسوائی کا یہ دیدۂ تر ہے\n\nسمجھوں نہ جدائی کو میں کیوں وصل سے بہتر\nصورت تری آنکھوں کے تلے آٹھ پہر ہے\n\nروتا ہے وہ حسرت پہ تری سوختہ جاں کی\nجوں شمع سحر جو کوئی سرگرم سفر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "جس کے ایماں پر بت کافر ہنسے", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "جس کے ایماں پر بت کافر ہنسے\nاللہ اللہ وہ ہنسے کیونکر ہنسے\n\nحسن ماہ و ماہوش سحر آفریں\nہائے جادوگر پہ جادوگر ہنسے\n\nقلقل مینا دکھائے جب اثر\nمیں ہنسوں ساقی ہنسے ساغر ہنسے\n\nکیونکر آتی ہے ہنسی کس کو خبر\nان پہ میں حیراں ہوں جو مجھ پر ہنسے\n\nاک پتے کی بات کہتا ہوں سنو\nکوئی ہنس کر روئے یا رو کر ہنسے\n\nاک پتہ کی بات کہتا ہوں سنو\nکوئی ہنس کر روئے یارو کر ہنسے\n\nپھبتیاں کہنے پہ میں آؤں اگر\nواعظ ذیشاں سر منبر ہنسے\n\nکیا خبر منظورؔ ہے کس دھیان میں\nوہ تو وہ زاہد فرشتوں پر ہنسے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%92"} {"title": "جس کے طالب ہیں وہ مطلوب کہیں بیٹھ رہا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کے طالب ہیں وہ مطلوب کہیں بیٹھ رہا\nمنتظر ہم کو بٹھا خوب کہیں بیٹھ رہا\n\nبس کہ لکھی تھی میں حالت دل گم گشتہ کی\nکھو کے قاصد مرا مکتوب کہیں بیٹھ رہا\n\nدیکھیں کیا آنکھ اٹھا کر کہ ہمیں تو ناحق\nآنکھ دکھلا کے وہ محبوب کہیں بیٹھ رہا\n\nشام سے جیسے نہاں مہر ہو سو وصل کی رات\nمنہ چھپا کر وہ اس اسلوب کہیں بیٹھ رہا\n\nہے مری خانہ نشینی سے یہ گھر گھر مذکور\nخیل عشاق کا سرکوب کہیں بیٹھ رہا\n\nجانا میں اس کا نہ آنا کہ سمجھ کر وہ شوخ\nبیٹھنے کو مرے معیوب کہیں بیٹھ رہا\n\nبود و باش اپنی کہیں کیا کہ اب اس بن یوں ہے\nجس طرح سے کوئی مجذوب کہیں بیٹھ رہا\n\nاول عشق میں صورت یہ بنی جرأتؔ کی\nہو کے آخر کو وہ محجوب کہیں بیٹھ رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B7%D9%84%D9%88%D8%A8_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "جس کے پرتوَ سے منوّر رہی تیری شبِ دوش", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "جس کے پرتوَ سے منوّر رہی تیری شبِ دوش\nپھر بھی ہو سکتا ہے روشن وہ چراغِ خاموش\nمردِ بے حوصلہ کرتا ہے زمانے کا گِلہ\nبندۂ حُر کے لیے نشترِ تقدیر ہے نوش\nنہیں ہنگامۂ پیکار کے لائق وہ جواں\nجو ہُوا نالۂ مُرغانِ سحر سے مَدہوش\nمجھ کو ڈر ہے کہ ہے طفلانہ طبیعت تیری\nاور عیّار ہیں یورپ کے شکر پارہ فروش!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AA%D9%88%D9%8E_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%86%D9%88%D9%91%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D8%A8%D9%90_%D8%AF%D9%88%D8%B4"} {"title": "جس کے ہم بیمار ہیں غم نے اسے بھی راندہ ہے", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جس کے ہم بیمار ہیں غم نے اسے بھی راندہ ہے\nہو چکا درماں مسیحا آپ ہی درماندہ ہے\n\nجیتے جی کیا مر گئے پر بھی وبال دوش ہے\nجو مری میت اٹھاتا ہے وہ دیتا کاندھا ہے\n\nتا قیامت گردش تقدیر جانے کی نہیں\nاپنی برگشتہ نصیبی نے وہ چرخا ناندہ ہے\n\nہے عیاں ہر شے سے دکھلائی نہیں دیتا مگر\nواہ رے ڈھٹ بندی کیا سب کی نظر کو باندھا ہے\n\nہم ادھر بیتاب ادھر وہ برق وش بیتاب ہے\nکوندتی بجلی کسی جانب لپکتا کاندہ ہے\n\nاڑ گیا بک بک سے ہم نازک مزاجو کا دماغ\nپند گو چپ رہ کہاں کا قصہ ناندہ ہے\n\nڈر نہیں بے ماترے اے شادؔ ہندی لفظ کا\nاس غزل میں قافیہ دانستہ ہم نے باندھا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D9%86%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "جستجو", "poet_page": "مصنف:نارائن داس پوری", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "حقیقت کا تقاضا ہے ہو دل کو جستجو پہلے\nحصول مدعا کو چاہئے کچھ آرزو پہلے\nنگاہیں خود ہی آئیں گی چمن میں بہر نظارہ\nترے گلشن کے پھولوں میں مگر ہو رنگ و بو پہلے\nاگر شیشہ میں صہبا ہے تو مے کش مل ہی جائیں گے\nمہیا میکدے میں چاہئے جام و سبو پہلے\nسما جائے گا سرمہ بن کے خلقت کی نگاہوں میں\nتو اپنی ذات میں پیدا کرے گر آبرو پہلے\nہرے ہو جائیں گے اک دن تری امید کے بوٹے\nچمن میں آنسوؤں کی تو بہا دے آب جو پہلے\nگریباں چاک ہو مجنوں صفت گر شوق لیلیٰ ہے\nپھرا کر دشت وحشت میں مثال قیس تو پہلے\nخودی کو گر مٹائے گا خدا بھی مل ہی جائے گا\nاٹھایا چاہئے دل سے حجاب ما و تو پہلے\nضروری ہے کہ کھل جائیں قبولیت کے دروازے\nدعاؤں کو پوریؔ دل سے نکلنے کی ہو خو پہلے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88"} {"title": "جستجو کرتے ہی کرتے کھو گیا", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جستجو کرتے ہی کرتے کھو گیا\nان کو جب پایا تو خود گم ہو گیا\n\nکیا خبر یاران رفتہ کی ملے\nپھر نہ آیا اس گلی میں جو گیا\n\nجب اٹھایا اس نے اپنی بزم سے\nبخت جاگے پاؤں میرا سو گیا\n\nمجھ کو ہے کھوئے ہوئے دل کی تلاش\nاور وہ کہتے ہیں کہ جانے دو گیا\n\nخیر ہے کیوں اس قدر بیتاب ہیں\nحضرت دل آپ کو کیا ہو گیا\n\nوہ مری بالیں آ کر پھر گئے\nجاگ کر میرا مقدر سو گیا\n\nآج پھر بیدمؔ کی حالت غیر ہے\nمے کشو لینا ذرا دیکھو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DA%A9%DA%BE%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جستجوئے نشاط مبہم کیا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جستجوئے نشاط مبہم کیا\nدل میسر ہے لذت غم کیا\n\nمستئ ہوش کے فسانے ہیں\nجشن پرویز و عشرت جم کیا\n\nایک عالم کو دیکھتا ہوں میں\nیہ ترا دھیان ہے مجسم کیا\n\nاذن ہنگامۂ نگاہ نہ دے\nکیا ہماری بساط اور ہم کیا\n\nننگ رحمت ہے احتیاج دعا\nانتظار گدائے مبرم کیا\n\nمیری فطرت ہے گوش بر آواز\nسن رہا ہوں نوائے محرم کیا\n\nمٹ گیا نام عاشقی اب اور\nچاہتا ہے وہ حسن برہم کیا\n\nکاش پوچھو تو کچھ بتائیں ہم\nحاصل شکوہ ہائے باہم کیا\n\nدل کمال حیات ہے فانیؔ\nدل کے مارے ہوؤں کا ماتم کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D8%B7_%D9%85%D8%A8%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جسد نے جان سے پوچھا کہ قلب بے ریا کیا ہے", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جسد نے جان سے پوچھا کہ قلب بے ریا کیا ہے\nخطاب آیا کہ آئینہ میں جوہر کے سوا کیا ہے\n\nعیاں آئینہ میں ہے صورت معنی صفا کیا ہے\nنہاں تسکین میں ہے اضطراب دل ریا کیا ہے\n\nمٹانا آپ کو نابود ہو جانا فنا کیا ہے\nسمانا آپ میں اور خود بہ خود ہونا بقا کیا ہے\n\nدو عالم جلوہ گاہ حسن میں عین بصیرت میں\nیہ عکس شخص ہے آئینہ میں صورت نما کیا ہے\n\nوہ یکتا ذات ہے عین سرور علم و حق اے دل\nنہاں کثرت میں وحدت ہو گئی ہے ماسوا کیا ہے\n\nقدم ہے ذات واحد حال ہے ماضی و مستقبل\nازل سے تا ابد کی ابتدا کیا انتہا کیا ہے\n\nمٹا کر دل سے پندار خودی انصاف سے دیکھو\nکہ بے ذوق تمنا ہستی بیم و رجا کیا ہے\n\nنہ تھے آپے میں موسی ورنہ ان کا حوصلہ کیا تھا\nجو بول اٹھتے کہ آ پردہ سے باہر دیکھتا کیا ہے\n\nتجلی بن گئی ساحرؔ نقاب روئے جان جاں\nکہ دیدن حکم نادیدن ہے یا رب ماجرا کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3%D8%AF_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D9%82%D9%84%D8%A8_%D8%A8%DB%92_%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جسم اس کے غم میں زرد از ناتوانی ہو گیا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جسم اس کے غم میں زرد از ناتوانی ہو گیا\nجامۂ عریانی اپنا زعفرانی ہو گیا\n\nبے تکلف ہو جو بیٹھا کھول چھاتی کے کواڑ\nآئینہ ہو منفعل دیکھ اس کو پانی ہو گیا\n\nکیا ہوا بہکائے سے تیرے بھلا اب اے رقیب\nآخرش اس نے ہماری بات مانی ہو گیا\n\nجاگ اے غافل کہ پیری کی ہوئی تیری سحر\nکٹ گئی غفلت کی شب عہد جوانی ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%B1%D8%AF_%D8%A7%D8%B2_%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جسم اور روح", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بغیر اجازت", "year": "1955", "text_ur": "مجیب نے اچانک مجھ سے سوال کیا، ’’کیا تم اس آدمی کو جانتے ہو؟‘‘\n\nگفتگو کا موضوع یہ تھا کہ دنیا میں ایسے کئی اشخاص موجود ہیں جو ایک منٹ کے اندر اندر لاکھوں اور کروڑوں کو ضرب دے سکتے ہیں، ان کی تقسیم کرسکتے ہیں۔ آنے پائی کا حساب چشم زدن میں آپ کو بتا سکتے ہیں۔\n\nاس گفتگو کے دوران میں مغنی یہ کہہ رہا تھا، ’’انگلستان میں ایک آدمی ہے جو ایک نظر دیکھ لینے کے بعد فوراً بتا دیتا ہے کہ اس قطعہ زمین کا طول و عرض کیا ہے۔۔۔رقبہ کتنا ہے ۔۔۔اس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اپنی اس خداداد صلاحیت سے تنگ آ گیا ہے۔ وہ جب بھی کہیں باہر،کھلے کھیتوں میں نکلتا ہے تو ان کی ہریالی اور ان کا حسن اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور وہ اس قطعہ زمین کی پیمائش اپنی آنکھوں کے ذریعے شروع کر دیتا ہے۔ ایک منٹ کے اندر وہ اندازہ کر لیتا ہے کہ زمین کا یہ ٹکڑا کتنا رقبہ رکھتا ہے، اس کی لمبائی کتنی ہے چوڑائی کتنی ہے ، پھر اسے مجبوراً اپنے اندازے کا امتحان لینا پڑتا ہے۔ فیٹر سٹیپ کے ذریعے سے اس خطۂ زمین کو ماپتا اور وہ اس کے اندازے کے عین مطابق نکلتا۔ اگر اس کا اندازہ غلط ہوتا تو اسے بہت تسکین ہوتی۔ بعض اوقات فاتح اپنی شکست سے بھی ایسی لذت محسوس کرتا ہے جو اسے فتح سے نہیں ملتی۔ اصل میں شکست دوسری شاندار فتح کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔\n\nمیں نے مغنی سے کہا، ’’تم درست کہتے ہو۔۔۔دنیا میں ہر قسم کے عجائبات موجود ہیں۔۔۔‘‘\n\nمیں کچھ اور کہنا چاہتا تھا کہ مجیب نے جو اس گفتگو کے دوران کافی پی رہا تھا، اچانک مجھ سے سوال کیا، ’’کیا تم اس آدمی کو جانتے ہو؟‘‘\n\nمیں سوچنے لگا کہ مجیب کس آدمی کے متعلق مجھ سے پوچھ رہا ہے، حامد۔۔۔ نہیں، وہ آدمی نہیں میرا دوست ہے۔\n\nعباس، اس کے متعلق کچھ کہنے سننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوسکتی تھی۔ شبیر، اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ آخر یہ کس آدمی کا حوالہ دیا گیا تھا۔\n\nمیں نے مجیب سے کہا، ’’تم کس آدمی کا حوالہ دے رہے ہو؟‘‘\n\nمجیب مسکرایا، ’’تمہارا حافظہ بہت کمزور ہے۔‘‘\n\n’’بھئی، میرا حافظہ تو بچپن سے ہی کمزور رہا ہے۔ تم پہیلیوں میں باتیں نہ کرو۔۔۔ بتاؤ وہ کون آدمی ہے جس سے تم میرا تعارف کرانا چاہتے ہو۔‘‘\n\nمجیب کی مسکراہٹ میں اب ایک طرح کا اسرار تھا، ’’بوجھ لو!‘‘\n\n’’ میں کیا بوجھوں گا جبکہ وہ آدمی تمہارے پیٹ میں ہے۔‘‘\n\nعارف، اصغر اور مسعود بے اختیار ہنس پڑے۔ عارف نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا، ’’وہ آدمی اگر مجیب کے پیٹ میں ہے تو آپ کو اس کی پیدائش کا انتظار کرنا پڑے گا۔‘‘\n\nمیں نے مجیب کی طرف ایک نظر دیکھا اور عارف سے مخاطب ہوا، ’’میں اپنی ساری عمر اس مہدی کی ولادت کا انتظار نہیں کرسکتا ہوں۔‘‘\n\nمسعود نے اپنے سگریٹ کو ایش ٹرے کے قبرستان میں دفن کرتے ہوئے کہا، ’’دیکھیے صاحبان! ہمیں اپنے دوست مسٹرمجیب کی بات کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مجیب سے مخاطب ہوا، ’’مجیب صاحب فرمائیے آپ کو کیا کہنا ہے۔۔۔ ہم سب بڑے غور سے سنیں گے۔‘‘\n\nمجیب تھوڑی دیر خاموش رہا۔ اس کے بعد اپنا بجھا ہوا چرٹ سلگا کر بولا، ’’معذرت چاہتا ہوں کہ میں نے اس آدمی کے متعلق آپ سے پوچھا جسے آپ جانتے نہیں۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’مجیب تم کیسی باتیں کرتے ہو، بہر حال، تم اس آدمی کو جانتے ہو۔۔۔؟‘‘\n\nمجیب نے بڑے وثوق کے ساتھ کہا، ’’بہت اچھی طرح ۔۔۔جب ہم دونوں برما میں تھے تو دن رات اکٹھے رہتے تھے۔ عجیب و غریب آدمی تھا۔‘‘\n\nمسعود نے پوچھا، ’’کس لحاظ سے؟‘‘\n\nمجیب نے جواب دیا، ’’ہر لحاظ سے۔۔۔ اس جیسا آدمی آپ نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’بھئی مجیب اب بتا بھی دو وہ کون حضرت تھے؟‘‘\n\n’’بس حضرت ہی تھے۔‘‘\n\nعارف مسکرایا، چلو قصہ ختم ہوا۔۔۔ وہ حضرت تھے، اور بس۔۔۔‘‘\n\nمسعود یہ جاننے کے لیے بیتاب تھا کہ وہ حضرت کون تھا، ’’بھئی مجیب، تمہاری ہر بات نرالی ہوتی ہے۔ تم بتاتے کیوں نہیں ہو کہ وہ کون آدمی تھا جس کا ذکر تم نے اچانک چھیڑ دیا!‘‘\n\nمجیب طبعاً خاموشی پسند تھا۔ اس کے دوست احباب ہمیشہ اس کی طبیعت سے نالاں رہتے۔۔۔ لیکن اس کی باتیں جچی تلی ہوتی تھیں۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا، ’’معذرت خواہ ہوں کہ میں نے خواہ مخواہ آپ کو اس مخمصے میں گرفتار کر دیا۔۔۔ بات در اصل یہ ہے کہ جب یہ گفتگو شروع ہوئی تو میں کھو گیا۔ مجھے وہ زمانہ یاد آگیا جس کو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا، ’’وہ ایسا زمانہ کون سا تھا؟‘‘\n\nمجیب نے ایک لمبی کہانی بیان کرنا شروع کر دی، ’’اگر آپ سمجھتے ہوں کہ اس زمانے سے میری زندگی کے کسی رومان کا تعلق ہے تو میں آپ سے کہوں گا کہ آپ کم فہم ہیں۔‘‘\n\nمیں نے مجیب سے کہا، ’’ہم تو آپ کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کم فہم ہیں تو ٹھیک ہے۔ لیکن وہ آدمی۔‘‘\n\nمجیب مسکرایا، ’’وہ آدمی آدمی تھا۔۔۔ لیکن اس میں خدا نے بہت سی قوتیں بخشی تھیں۔‘‘\n\nمسعود نے پوچھا، ’’مثال کے طور پر۔۔۔‘‘\n\n’’مثال کے طور پر یہ کہ وہ ایک نظر دیکھنے کے بعد بتا سکتا تھا کہ آپ نے کس رنگ کا سوٹ پہنا تھا، ٹائی کیسی تھی، آپ کی ناک ٹیڑھی تھی یا سیدھی۔۔۔ آپ کے کس گال پرکہاں اور کس جگہ تل تھا، آپ کے ناخن کیسے ہیں، آپ کی داہنی آنکھ کے نیچے زخم کا نشان ہے، آپ کی بھنویں منڈی ہوئی ہیں،موزے فلاں ساخت کے پہنے ہوئے تھے ،قمیص پوپلین کی تھی مگر گھر میں دھلی ہوئی۔‘‘\n\nیہ سن کر میں نے واقعتا محسوس کیا کہ جس شخص کا ذکر مجیب کر رہا ہے، عجیب و غریب ہستی کا مالک ہے۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا، ’’بڑا معرکہ خیز آدمی تھا۔‘‘\n\n’’جی ہاں، بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ۔۔۔ اس کو اس بات کا زعم تھا کہ اگر وہ کوئی منظر، کوئی مرد ،کوئی عورت صرف ایک نظر دیکھ لے تو اسے من و عن اپنے الفاظ میں بیان کر سکتا ہے جو کبھی غلط نہیں ہوں گے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا اندازہ ہمیشہ درست ثابت ہوتا تھا۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا، ’’کیا یہ واقعی درست تھا۔‘‘\n\n’’سو فیصد۔۔۔‘‘ ایک مرتبہ میں نے اس سے بازار میں پوچھا، ’’یہ لڑکی جو ابھی ابھی ہمارے پاس سے گزری ہے ،کیا تم اس کے متعلق بھی تفصیلات بیان کرسکتے ہو؟‘‘\n\nمیں اس لڑکی سے ایک گھنٹہ پہلے مل چکا تھا۔ وہ ہمارے ہمسائے مسٹر لوجوائے کی بیٹی تھی۔ اور میری بیوی سے سلائی کے مستعار لینے آئی تھی۔ میں نے اسے غور سے دیکھا ،اس لیے بغرض امتحان میں نے مجیب سے یہ سوال کیا تھا۔\n\nمجیب مسکرایا، ’’تم میرا امتحان لینا چاہتے ہو؟‘‘\n\n’’ نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ یہ بات نہیں۔۔۔ میں۔۔۔ میں۔۔۔‘‘\n\n’’نہیں تم میرا امتحان لینا چاہتے ہو۔ خیرسنو! وہ لڑکی جو ابھی ابھی ہمارے پاس سے گزری ہے اور جسے میں اچھی طرح نہیں دیکھ سکا ، مگر لباس کے متعلق کچھ کہنا فضول ہے، اس لیے کہ ہروہ شخص جس کی آنکھیں سلامت ہوں اور ہوش و حواس درست ہوں کہہ سکتا ہے کہ وہ کس قسم کا تھا۔ ویسے ایک چیز جو مجھے اس میں خاص طور پر دکھائی دی، وہ اس کے داہنے ہاتھ کی چھنگلیا تھی۔ اس میں کسی قدر خم ہے، بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن مضروب تھا۔ اس کے لپ اسٹک لگے ہونٹوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ آرائش کے فن سے محض کوری ہے۔‘‘\n\nمجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اس نے ایک معمولی سی نظر میں یہ سب چیزیں کیسے بھانپ لیں۔۔۔ میں ابھی اس حیرت میں غرق تھا کہ مجیب نے اپنا سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا، ’’اس میں جو خاص چیز مجھے نظر آئی وہ اس کے داہنے گال کا داغ تھا۔۔۔ غالباً کسی پھوڑے کا ہے۔‘‘\n\nمجیب کا کہنا درست تھا۔۔۔ میں نے اس سے پوچھا، ’’یہ سب باتیں جو تم اتنے وثوق سے کہتے ہو، تمہیں کیونکر معلوم ہو جاتی ہیں؟‘‘\n\nمجیب مسکرایا، ’’میں اس کے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اس لیے کہ میں سمجھتا ہوں ہر آدمی کو صاحبِ نظر ہونا چاہیے۔ صاحبِ نظر سے میری مردا ہر اس شخص سے ہے جو ایک ہی نظر میں دوسرے آدمی کے تمام خدو خال دیکھ لے۔‘‘\n\nمیں نے اس سے پوچھا، ’’خدوخال دیکھنے سے کیا ہوتا ہے؟‘‘\n\n’’بہت کچھ ہوتا ہے۔۔۔ خدو خال ہی تو انسان کا صحیح کردار بیان کرتے ہیں۔‘‘\n\n’’کرتے ہوں گے۔ میں تمہارے اس نظریے سے متفق نہیں ہوں۔‘‘\n\n’’نہ ہو۔۔۔ مگر میرا نظریہ اپنی جگہ قائم رہے گا۔‘‘\n\n’’رہے۔۔۔ مجھے اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ بہر حال، میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انسان غلطی کا پتلا ہے۔۔۔ ہو سکتا ہے تم غلطی پر ہو۔‘‘\n\n’’یار، غلطیاں درستیوں سے زیادہ دلچسپ ہوتی ہیں۔‘‘\n\n’’یہ تمہارا عجیب فلسفہ ہے۔‘‘\n\n’’فلسفہ گائے کا گوبر ہے۔‘‘\n\n’’اور گوبر؟‘‘\n\nمجیب مسکرایا، ’’وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ اپلا کہہ لیجیے، جو ایندھن کے کام آتا ہے۔‘‘\n\nہمیں معلوم ہوا کہ مجیب ایک لڑکی کے عشق میں گرفتار ہوگیا ہے۔ پہلی ہی نگاہ میں اس نے اس کے جسم کے ہر خدوخال کا صحیح جائزہ لے لیا تھا۔ وہ لڑکی بہت متاثر ہوئی جب اسے معلوم ہوا کہ دنیا میں ایسے آدمی بھی موجود ہیں جو صرف ایک نظر میں سب چیزیں دیکھ جاتے ہیں تو وہ مجیب سے شادی کرنے کے لیےرضا مند ہوگئی۔\n\nان کی شادی ہوگئی۔۔۔ دلہن نے کیسے کپڑے پہنے تھے ، اس کی دائیں کلائی میں کس ڈیزائن کی دست لچھی تھی۔۔۔ اس میں کتنے نگینے تھے۔۔۔ یہ سب تفصیلات اس نے ہمیں بتائیں۔\n\nان تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ ان دونوں میں طلاق ہوگئی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%AD"} {"title": "جسم کے اس پار", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اندھیرے کمرے میں بیٹھا ہوں\nکہ بھولی بھٹکی کوئی کرن آ کے دیکھ پائے\nمگر سدا سے اندھیرے کمرے کی رسم ہے کوئی بھی کرن آ کے دیکھ پائے\nبھلا یہ کیوں ہو\nکوئی کرن اس کو دیکھ پائے تو اس گھڑی سے\nاندھیرا کمرہ اندھیرا نہیں رہے گا\nوہ ٹوٹ کر تیرگی کا اک سیل بے کراں بن کے بہہ اٹھے گا\nاور اس گھڑی سے اس اجالے کا کوئی مخزن بھی روک پائے بھلا یہ کیوں ہو\nہزار سالوں کے فاصلے سے یہ کہہ رہا ہوں\nہزاروں سالوں کے فاصلے سے مگر کوئی اس کو سن رہا ہے یہ کون جانے\n\nسیاہ بالوں کی تیرگی میں تمہارا ماتھا چمک رہا ہے\nتمہاری آنکھوں میں اک کرن ناچ ناچ کر مجھ سے کہہ رہی ہے\nکہ میرے ہونٹوں میں ہے وہ امرت\nہزاروں سالوں کے فاصلے سے جو رس رہا ہے\nمگر یہ سب سال نور کے سال تو نہیں تیرگی کے بھی سال یہ نہیں ہیں\nیہ سال تو فاصلے کی پیچیدہ سلوٹیں ہیں\nاندھیرا کمرہ اندھیرا کیوں ہے\nتمہارے بالوں کی تیرگی میں نگاہ گم ہے\nیہ بند جوڑا جو کھل کے بکھرے تو پھر کرن بھی سنور کے نکھرے\nتمہارا ملبوس اک سپیدی پہ دھاریوں سے سجھا رہا ہے\nاندھیرے کمرے میں جب کرن آئی تیرگی دھاریاں بنے گی\nاور اس کرن سے اندھیرا پل بھر اجالا بن کر پکار اٹھے گا\nکہ بھولی بھٹکی یہاں کبھی تیرگی بھی آئے\nہزاروں سالوں کا فاصلہ تیرگی بنا ہے\n\nتمہارے ہونٹوں پہ گیت کے پھول مسکرائے کہ تم نے اپنے لباس کو یوں اتار پھینکا\nکہ جیسے راگی نے تان لی ہو\nتمہاری ہر تان تیرگی کی سیاہ دھارا بنی ہوئی ہے\nکوئی کرن اس سے پھوٹ پائے بھلا یہ کیوں ہو\n\nسیاہ کمرہ تمہاری تانوں سے گونجتا ہے\nہزاروں سالوں سے گونجتا ہے\nسیاہ کمرہ تمہارے بالوں کی تیرگی سے چمک رہا ہے\nسیاہ کمرہ لباس کی ہر اچھوتی کروٹ سے کہہ رہا ہے\nیہاں تم آؤ یہاں کوئی تم کو دیکھ پائے نہیں یہ ممکن\nیہاں کرن آئی تو وہ فوراً اندھیرے کمرے میں جا چھپے گی\nاور اس پہ دھارا لباس کی یوں بہے گی جیسے\nاندھیرا کمرہ اندھیرا کمرہ کبھی نہیں تھا\nوہ اک کرن تھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%A7%D8%B1"} {"title": "جسے دیکھا ترا جویا ہے پیارے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جسے دیکھا ترا جویا ہے پیارے\nتجھی کو ڈھونڈھنے کھویا ہے پیارے\n\nقسم ہے دیدۂ گریاں کی مجھ کو\nکہ دنیا عالم رویا ہے پیارے\n\nنہال آہ ہوگا دانۂ اشک\nاوگے گا وہ جو کچھ بویا ہے پیارے\n\nتجھے دل دے کے میں نے آزمایا\nوہ سیکھا جس نے کچھ کھویا ہے پیارے\n\nکسی کے کان بھرنے پر نہ رکھ دھیان\nہر ایک منہ میں زباں گویا ہے پیارے\n\nمیں جاگا شب سر گیسو میں ورنہ\nجسے کالا ڈسے سویا ہے پیارے\n\nمرا دل جل بجھا شب سے یہاں کوں\nچراغ مردہ پر رویا ہے پیارے\n\nنظارہ کب کیا اس چشم تر نے\nعبث دامن ترا دھویا ہے پیارے\n\nملا دو لب کہاں کا آب حیواں\nخضر کا راستہ کھویا ہے پیارے\n\nکفن اپنے نسیمؔ کشتہ کا سونکھ\nہر ایک برگ گل بویا ہے پیارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D9%88%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "جسے عشق کا تیر کاری لگے", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جسے عشق کا تیر کاری لگے\nاسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے\n\nنہ چھوڑے محبت دم مرگ تک\nجسے یار جانی سوں یاری لگے\n\nنہ ہووے اسے جگ میں ہرگز قرار\nجسے عشق کی بے قراری لگے\n\nہر اک وقت مجھ عاشق پاک کوں\nپیارے تری بات پیاری لگے\n\nولیؔ کوں کہے تو اگر یک بچن\nرقیباں کے دل میں کٹاری لگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "جسے پالا تھا اک مدت تک آغوش تمنا میں", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جسے پالا تھا اک مدت تک آغوش تمنا میں\nوہی بانی ہوا میرے غم و درد و اذیت کا\n\nاسی کے ہاتھ سے کیا کیا سہا سہنا ہے کیا کیا کچھ\nالٰہی دو جہاں میں منہ ہو کالا اس مروت کا\n\nکریں انصاف کا دعویٰ اثر کچھ بھی نہ ظاہر ہو\nمزا چکھا ہے ایسے دوستوں سے بھی محبت کا\n\nمٹائیں تاکہ اپنے ظلم کرنے کی ندامت کو\nنکالیں ڈھونڈ کر ہر طرح سے پہلو شکایت کا\n\nحسد جی میں بھرا ہے لاگ ہے اک عمر سے دل میں\nکریں ظاہر اگر موقع ہے اظہار عداوت کا\n\nطمع میں کچھ نہ سمجھیں باپ اور بھائی کی حرمت کو\nعمل دیکھو تو یہ پھر کچھ کریں دعوا شرافت کا\n\nمری عمر دو روزہ بیکسی کے ساتھ کٹتی ہے\nنہ اپنوں سے نہ غیروں سے ملا ثمرہ ریاضت کا\n\nجسے دیکھا جسے پایا غرض کا اپنی بندہ تھا\nجہاں میں اب مزا باقی نہیں خالص محبت کا\n\nہمارا کلبۂ احزاں ہے ہم ہیں یا کتابیں ہیں\nرہا باقی نہ کوئی ہم نشیں اب اپنی قسمت کا\n\nخدا آباد رکھے شادؔ میرے ان عزیزوں کو\nمزا چکھوا دیا القرض مقراض المحبت کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D9%85%D8%AF%D8%AA_%D8%AA%DA%A9_%D8%A2%D8%BA%D9%88%D8%B4_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جسے ڈھونڈا اسے پایا اسے تدبیر کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جسے ڈھونڈا اسے پایا اسے تدبیر کہتے ہیں\nمگر خود کھو گئے آخر اسے تقدیر کہتے ہیں\n\nمسلسل کہتے رہنا درد دل آنکھوں ہی آنکھوں میں\nزبان عشق میں ناطقؔ اسے تقریر کہتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B3%DB%92_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%D8%A7_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جشن تجھ کو مرے نو شاہ مبارک ہوئے", "poet_page": "مصنف:مردان صفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مردان صفی (1914)", "year": "1914", "text_ur": "جشن تجھ کو مرے نو شاہ مبارک ہوئے\nبزم عشرت تری دل خواہ مبارک ہوئے\n\nشادماں باپ ہو اور بزم کے حاضر سب لوگ\nتجھ کو ثروت مرے جم جاہ مبارک ہوئے\n\nہویں فرزند سعید اور نشاطیں پیہم\nفرخ ہر سال ہو ہر ماہ مبارک ہوئے\n\nہم تو شادی کی مناتے ہیں ہمیشہ گھڑیاں\nدولہا دلہن تجھے ذی جاہ مبارک ہوئے\n\nدامن جامہ ہے پابوس ترا اے مرداںؔ\nجامہ زیبی تری نو شاہ مبارک ہوئے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B4%D9%86_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%86%D9%88_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھا", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھا\nیار کے پہلو میں خالی میری جا تھی میں نہ تھا\n\nاس نے کب برخاست اے دل محفل معراج کی\nکس سے پوچھوں رات کم تھی یا سوا تھی میں نہ تھا\n\nمیں تڑپ کر مر گیا دیکھا نہ اس نے جھانک کر\nاس ستم گر کو عزیز اپنی حیا تھی میں نہ تھا\n\nوعدہ لے لیتا کہ کھلوانہ نہ مجھ کو ٹھوکریں\nعالم ارواح میں جس جا قضا تھی میں نہ تھا\n\nصرف کرتا کس خوشی سے جا کے اس میں اپنی خاک\nکیا کہوں جس دن بنائی کربلا تھی میں نہ تھا\n\nمنہ نہ کھل سکتا نہ ہوتے ہم کلام ان سے کلیم\nعمر بھر حسرت ہی رہتی بات کیا تھی میں نہ تھا\n\nلے گئی تھی مجھ کو حسرت جانب خود رفتگی\nجس طرف کو منزل بیم و رجا تھی میں نہ تھا\n\nدل الٹ جاتا مرا یا دم نکل جاتا مرا\nشکر ہے جب لن ترانی کی صدا تھی میں نہ تھا\n\nلالہ و گل کو بچا لیتا خزاں سے اے شرفؔ\nباغ میں جس وقت نازل یہ بلا تھی میں نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B4%D9%86_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D9%88_%D8%B7%D8%B1%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جشن عید", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سبھی نے عید منائی مرے گلستاں میں\nکسی نے پھول پروئے کسی نے خار چنے\n\nبنام اذن تکلم بنام جبر سکوت\nکسی نے ہونٹ چبائے کسی نے گیت بنے\n\nبڑے غضب کا گلستاں میں جشن عید ہوا\nکہیں تو بجلیاں کوندیں کہیں چنار جلے\n\nکہیں کہیں کوئی فانوس بھی نظر آیا\nبطور خاص مگر قلب داغ دار جلے\n\nعجب تھی عید خمستاں عجب تھا رنگ نشاط\nکسی نے بادہ و ساغر کسی نے اشک پئے\n\nکسی نے اطلس و کمخواب کی قبا پہنی\nکسی نے چاک گریباں کسی نے زخم سیے\n\nہمارے ذوق نظارہ کو عید دن بھی\nکہیں پہ سایۂ ظلمت کہیں پہ نور ملا\n\nکسی نے دیدہ و دل کے کنول کھلے پائے\nکسی کو ساغر احساس چکنا چور ملا\n\nبہ فیض عید بھی پیدا ہوئی نہ یک رنگی\nکوئی ملول کوئی غم سے بے نیاز رہا\n\nبڑا غضب ہے خدا وند کوثر و تسنیم\nکہ روز عید بھی طبقوں کا امتیاز رہا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D8%B4%D9%86_%D8%B9%DB%8C%D8%AF"} {"title": "جفا دیکھنی تھی ستم دیکھنا تھا", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جفا دیکھنی تھی ستم دیکھنا تھا\nنصیبوں میں رنج و الم دیکھنا تھا\n\nوہ آتے نہ آتے شب وعدہ لیکن\nمجھے دے کے سر کی قسم دیکھنا تھا\n\nخجالت ہوئی اس کے کوچہ میں کیا کیا\nمجھے پہلے نقش قدم دیکھنا تھا\n\nمجھے دیکھنی تیری ہمت تھی ساقی\nبہت دیکھنا تھا نہ کم دیکھنا تھا\n\nکٹی شام فرقت عزیزؔ آہ کیوں کر\nذرا آئینہ صبح دم دیکھنا تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جفا سے وفا مسترد ہو گئی", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جفا سے وفا مسترد ہو گئی\nیہاں ہم بھی قائل ہیں حد ہو گئی\n\nنگاہوں میں پھرتی ہے آٹھوں پہر\nقیامت بھی ظالم کا قد ہو گئی\n\nازل میں جو اک لاگ تجھ سے ہوئی\nوہ آخر کو داغ ابد ہو گئی\n\nمری انتہائے وفا کچھ نہ پوچھ\nجفا دیکھ جو لا تعد ہو گئی\n\nمکرتے ہو اللہ کے سامنے\nاب ایسا بھی کیا جھوٹ حد ہو گئی\n\nتعلق جو پلٹا تو جھگڑا بنا\nمحبت جو بدلی تو کد ہو گئی\n\nوہ آنکھوں کی حد نظر کب بنے\nنظر خود وہاں جا کے حد ہو گئی\n\nجفا سے انہوں نے دیا دل پہ داغ\nمکمل وفا کی سند ہو گئی\n\nقیامت میں مضطرؔ کسی سے ملے\nکہاں جا کے گھیرا ہے حد ہو گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%B1%D8%AF_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "جفا میں نام نکالو نہ آسماں کی طرح", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جفا میں نام نکالو نہ آسماں کی طرح\nکھلیں گی لاکھ زبانیں مری زباں کی طرح\n\nفریب اثر کو کوئی دے مری فغاں کی طرح\nتراشتی ہے یہ فقرے تری زباں کی طرح\n\nیہ کس کی سایۂ دیوار نے مجھے پیسا\nیہ کون ٹوٹ پڑا مجھ پہ آسماں کی طرح\n\nضرور ڈھائیں گے آفت کچھ ان کے ناوک ناز\nچڑھے ہیں گوشہ ابرو کڑی کماں کی طرح\n\nرہ حیات کٹی اس طرح کہ اٹھ اٹھ کر\nمیں بیٹھ بیٹھ گیا گرد کارواں کی طرح\n\nبرنگ طائر بو میں ہوں غنچہ و گل ہیں\nمرے قفس کی طرح میرے آشیاں کی طرح\n\nنہ تیرے در سے ہٹے تیری ٹھوکریں کھا کر\nوہیں جمے رہے ہم سنگ آستاں کی طرح\n\nہمیں ہے گھر سے تعلق اب اس قدر باقی\nکبھی جو آئے تو دو دن کو مہمان کی طرح\n\nگیا چمن کو تو جھک کر بہت ملیں شاخیں\nلیا گلوں نے مجھے میرے آشیاں کی طرح\n\nبلا ہے یہ کوئی تھوڑا نہ جانے پیکاں کو\nلہو پیے گا ہمارا غم نہاں کی طرح\n\nذرا سی جان کو لاکھوں طرح کے کھٹکے ہیں\nچمن نہ لائے کہیں رنگ آسماں کی طرح\n\nمیں آؤں آپ کے گھر کیا مجھے ڈراتے ہیں\nعدو کے نقش قدم چشم قدم چشم پاسباں کی طرح\n\nشریک درد تو کیا باعث اذیت ہیں\nوہ لوگ جن سے تعلق تھا جسم و جاں کی طرح\n\nتمہیں بھی دے گی مزا کچھ مری مصیبت عشق\nکہیں کہیں سے سنو اس کو داستاں کی طرح\n\nرہے کبھی نہ الٰہی مرا قفس خالی\nکہ مجھ کو چین ملا اس میں آشیاں کی طرح\n\nمجھے شباب نے مارا بلائے جاں ہو کر\nبہار آئی مرے باغ میں خزاں کی طرح\n\nقفس میں لوٹ لئے کون سے مزے میں نے\nدکھائے آنکھ نے صیاد باغباں کی طرح\n\nکسی کو چین نہ قاتل کی شوخیوں سے ملا\nمرے ہوئے بھی تڑپتے ہیں نیم جاں کی طرح\n\nتری اٹھان ترقی کرے قیامت کی\nترا شباب بڑھے عمر جاوداں کی طرح\n\nجو اپنے گھر کوئی آ لے تو کون دے تکلیف\nستارے کون وہ بیٹھے ہیں مہماں کی طرح\n\nریاضؔ موت ہے اس شرط سے ہمیں منظور\nزمیں ستائے نہ مرنے پر آسماں کی طرح", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "جفا و جور کا اس سے گلہ کیا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جفا و جور کا اس سے گلہ کیا\nجو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیا\n\nوہ بے پروا جوابِ نامہ لکھے\nخدا جانے کہ دشمن نے لکھا کیا\n\nدیا کیوں ہونے اس بد خو پہ عاشق\nہمارا دوست کوئی بھی نہ تھا کیا\n\nشمیمِ گل میں بوئے پیرہن ہے\nغلط ہے یہ کہ احسانِ صبا کیا\n\nنہ لکھنا تھا غمِ ناکامیِ عشق\nجوابِ نامۂ بے مدعا کیا\n\nہمیں تھا آپ قصدِ عرضِ احوال\nجو وہ خود پوچھتے ہیں پوچھنا کیا\n\nتماشا ہے جلے گر خانۂ غیر\nوہ کہتے ہیں کہ آہِ شعلہ زا کیا\n\nفنائے عاشقاں عینِ بقا ہے\nدیت زندوں کی کیسی، خون بہا کیا\n\nاگر ہے بوالہوس تو قتل کر چک\nعدو سے وعدۂ شوق آزما کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D9%88_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%84%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جفا پر جان دیتے ہیں ستم پر تیرے مرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جفا پر جان دیتے ہیں ستم پر تیرے مرتے ہیں\nیہ ناکام محبت سچ تو یہ ہے کام کرتے ہیں\n\nکہیں کیا ہم پہ جو صدمہ گزرتے ہیں گزرتے ہیں\nلگایا جس گھڑی دل اس گھڑی کو یاد کرتے ہیں\n\nتماشہ جب سے دیکھا ہے مرے دل کے تڑپنے کا\nتماشہ ہے کہ وہ اپنی نظر سے آپ ڈرتے ہیں\n\nنہیں آتے نہ آئیں وہ گئے تاب و تواں جائیں\nتجھی پر آج ہم اے بے قراری صبر کرتے ہیں\n\nگلی کوچوں میں تم نے اشتہار عشق پھیلائے\nکہ اڑاڑ کر مرے مکتوب کے پرزے بکھرتے ہیں\n\nادا بے ساختہ ان گیسوؤں کی کچھ نرالی ہے\nبنائے سے بگڑتے ہیں سنوارے سے بکھرتے ہیں\n\nنہ پوچھو داغؔ ہم سے انتظار یار کی صورت\nیہ آنکھیں جانتی ہیں خوب جو نقشے گزرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جفا پہ شکر کا امیدوار کیوں آیا", "poet_page": "مصنف:شوق قدوائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جفا پہ شکر کا امیدوار کیوں آیا\nمری وفا کا اسے اعتبار کیوں آیا\n\nیہ دل کی بات ہی منہ سے ادا نہیں ہوتی\nمیں کیا کہوں کہ یہاں بار بار کیوں آیا\n\nخیال پرسش محشر سے وہ ہوا مغموم\nنظر کے سامنے میرا مزار کیوں آیا\n\nکہاں وہ ہاتھ میں پاؤں حسین لڑکوں کے\nسڑی نہیں تو سوئے کوہسار کیوں آیا\n\nتڑپ تھی مر کے بھی میت پہ شاید آیا وہ\nنہیں یہ بات تو دل کو قرار کیوں آیا\n\nہوا میں خاک تو وہ لڑ رہا ہے آندھی سے\nکہ تیرے ساتھ مرے گھر غبار کیوں آیا\n\nوہ انتظار کی لذت بھی لے گیا اے شوقؔ\nہوا کے گھوڑے پہ ظالم سوار کیوں آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D9%BE%DB%81_%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جفا کی اس سے شکایت ذرا نہیں آتی", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جفا کی اس سے شکایت ذرا نہیں آتی\nوہ یاد ہی ہمیں شکر خدا نہیں آتی\n\nنکل کے تا بہ لب آہ رسا نہیں آتی\nکراہتا ہے جو اب دل صدا نہیں آتی\n\nہماری خاک کی مٹی ہے کیا خراب اے چرخ\nکبھی ادھر کو ادھر کی ہوا نہیں آتی\n\nشب وصال کہاں خواب ناز کا موقع\nتمہاری نیند کو آتے حیا نہیں آتی\n\nعدو ہماری عیادت کو لے کے آئے انہیں\nکہاں یہ مر رہی اب بھی قضا نہیں آتی\n\nلحد پہ آئے تھے دو پھول بھی چڑھا جاتے\nابھی تک آپ میں بوئے وفا نہیں آتی\n\nمری لحد کو وہ ان کا یہ کہہ کر ٹھکرانا\nصدائے نعرۂ صد مرحبا نہیں آتی\n\nستم ہے اور مرے دل شکن کا یہ کہنا\nشکست شیشۂ دل کی صدا نہیں آتی\n\nجلالؔ ہم یہ نہ مانیں گے تو اسے نہیں یاد\nتجھے کبھی کوئی ہچکی بھی کیا نہیں آتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C"} {"title": "جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیں\nبھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں\n\nتری گلی سے سدا اے کشندۂ عالم\nہزاروں آتی ہوئی چارپائیاں دیکھیں\n\nگیا نظر سے جو وہ گرم طفل آتش باز\nہم اپنے چہرے پہ اڑتی ہوائیاں دیکھیں\n\nترے وصال کے ہم شوق میں ہوں آوارہ\nعزیز دوست سبھوں کی جدائیاں دیکھیں\n\nہمیشہ مائل آئینہ ہی تجھے پایا\nجو دیکھیں ہم نے یہی خود نمائیاں دیکھیں\n\nشہاں کہ کحل جواہر تھی خاک پا جن کی\nانہیں کی آنکھوں میں پھرتے سلائیاں دیکھیں\n\nبنی نہ اپنی تو اس جنگ جو سے ہرگز میرؔ\nلڑائیں جب سے ہم آنکھیں لڑائیاں دیکھیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جفائیں ہوتی ہیں گھٹتا ہے دم ایسا بھی ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جفائیں ہوتی ہیں گھٹتا ہے دم ایسا بھی ہوتا ہے\nمگر ہم پر جو ہے تیرا ستم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nعدو کے آتے ہی رونق سدھاری تیری محفل کی\nمعاذ اللہ انساں کا قدم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nرکاوٹ ہے خلش ہے چھیڑ ہے ایذا پہ ایذا ہے\nستم اہل وفا پر دم بدم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nحسینوں کی جفائیں بھی تلون سے نہیں خالی\nستم کے بعد کرتے ہیں کرم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nدل مہجور آخر انتہا ہے ہر نحوست کی\nکبھی سعدین ہوتے ہیں بہم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nنہ کر شکوہ ہماری بے سبب کی بد گمانی کا\nمحبت میں ترے سر کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nنہ ہو درد جدائی سے جو واقف اس کو کیا کہیے\nہمیں وہ دیکھ کر کہتے ہیں غم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nبتوں کے ملنے جلنے پر نہ جانا اے دل ناداں\nبڑھا کر ربط کر دیتے ہیں کم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nہمیں بزم عدو میں وہ بلاتے ہیں تمنا سے\nکرم ایسا بھی ہوتا ہے ستم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nجگہ دی مجھ کو کعبے میں خدائے پاک نے زاہد\nتو کہتا تھا کہ مقبول حرم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nہوا کرتا ہے سب کچھ اے اثرؔ اس کی خدائی میں\nکریں دعویٰ خدائی کا صنم ایسا بھی ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جل گیا خاک ہوا کب کا وہ پروانۂ دل", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جل گیا خاک ہوا کب کا وہ پروانۂ دل\nختم ہوتا نہیں اب تک مگر افسانۂ دل\n\nحشر کے دن پہ اٹھا رکھ کہ بڑا سودا ہے\nعالم حسن سے ممکن نہیں بیعانۂ دل\n\nآپ کی اک نگہ ناز اسے چھلکا دیتی\nقابل شربت دیدار تھا پیمانۂ دل\n\nہم جبھی سمجھے تھے انجام کہ جب فطرت نے\nخاک اور خون سے تیار کیا خانۂ دل\n\nجلنے والے سے الگ ہو گئے ہم مشرب جاں\nدے کے آگ اٹھ گئی وہ صحبت رندانۂ دل\n\nتشنۂ جام محبت سے ہمیں واقف ہیں\nقدر کیا ان کو جو توڑا کئے پیمانۂ دل\n\nدوہری زنجیروں میں جکڑا ہے مقدر نے مجھے\nاس کا دیوانہ ہے دل اور میں دیوانۂ دل\n\nضبط کرتا ہوں مگر ڈر ہے کہ شام غم میں\nکہیں تنگ آ کے نہ کھل جائے سلح خانۂ دل\n\nاب تو قطرہ نہیں ہاں وہ بھی کبھی دن تھے کہ ہم\nمست ہو جاتے تھے خود دیکھ کے میخانۂ دل\n\nجائے امید و تمنا کا پتا ملتا ہے\nاب بھی دل کش ہے مرے واسطے ویرانۂ دل\n\nہے تو مٹی کا مگر قدرت خالق بھی ہے\nحسن والے نہ بنا لیں کوئی پیمانۂ دل\n\nدیکھ کر تفرقۂ مہر و جفا ہم سمجھے\nایک ہی وضع کا بنتا نہیں کاشانۂ دل\n\nکائنات دو جہاں پاس ہے پھر تنگ نہیں\nاور بھی کچھ ہو تو خالی ہے ابھی خانۂ دل\n\nرخ رنگین حسیں ایک چمن ہے لیکن\nروندنے کے لئے ہو سبزۂ بیگانۂ دل\n\nحسن ہے خود ہیں زمانہ ہے وہ کیوں گھبرائیں\nاور یہاں کیا ہے مگر ہاں وہی ویرانۂ دل\n\nمٹ کے تصویر خرابات ہے اب تو ورنہ\nکعبہ کہتے تھے سب ایسا تھا صنم خانۂ دل\n\nکہئے قصہ کوئی ارباب وفا کا ثاقبؔ\nچھوڑیئے ذکر جفا کا کہ ہے بیگانۂ دل", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%AF%D9%84"} {"title": "جلا بلا ہوں گرفتار حال اپنا ہوں", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلا بلا ہوں گرفتار حال اپنا ہوں\nبرنگ شمع سراپا وبال اپنا ہوں\n\nاس اشک سرخ و رخ زرد سے سمجھ لے تو\nبیان کیا کروں خود عرض حال اپنا ہوں\n\nقرار پکڑے مرے دل میں کب کسی کی شکل\nبرنگ آئینہ محو جمال اپنا ہوں\n\nنہ ماہتاب ہوں نے آفتاب ہوں یارب\nیہ کیا سبب ہے کہ آپھی زوال اپنا ہوں\n\nجہان خواب تماشا جہان کا سب خواب\nخیال خوب کیا تو خیال اپنا ہوں\n\nبہ رنگ نقش قدم میں پڑا ہوں در پہ ترے\nنہ پائمال کر اے نونہال اپنا ہوں\n\nرہ سلوک میں ؔجوشش کسی کا مزرع دل\nجو پائمال کروں پائمال اپنا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D8%A7_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "جلا ہے کس قدر دل ذوق کاوش ہائے مژگاں پر", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلا ہے کس قدر دل ذوق کاوش ہائے مژگاں پر\nکہ سو سو نشتروں کی نوک ہے اک اک رگ جاں پر\n\nپڑا ہوگا مگر عکس عذار لالہ گوں ورنہ\nیہ گستاخی ہمارا خون اور قاتل کے داماں پر\n\nطریق عشق میں ہے رنج پہلے اور خوشی پیچھے\nمدار صبح روز وصل ہے اک شام ہجراں پر\n\nمری دیوانگی روز قیامت میرے کام آئی\nقلم رحمت کا کھینچا اس نے آخر میرے عصیاں پر\n\nاگر ان کے تغافل کو ہے دعویٰ اپنی تمکیں کا\nہماری خود فراموشی کو ہے ناز اپنے نسیاں پر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%B0%D9%88%D9%82_%DA%A9%D8%A7%D9%88%D8%B4_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "جلال و جمال", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مرے لیے ہے فقط زورِ حیدری کافی\nترے نصیب فلاطُوں کی تیزیِ ادراک\nمری نظر میں یہی ہے جمال و زیبائی\nکہ سر بسجدہ ہیں قُوّت کے سامنے افلاک\nنہ ہو جلال تو حُسن و جمال بے تاثیر\nنرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتش ناک\nمجھے سزا کے لیے بھی نہیں قبول وہ آگ\nکہ جس کا شُعلہ نہ ہو تُند و سرکش و بے باک!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84_%D9%88_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84"} {"title": "جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں\nشوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں\n\nکہتے ہیں تم کو ہوش نہیں اضطراب میں\nسارے گلے تمام ہوئے اک جواب میں\n\nپھیلی شمیم یار مرے اشک سرخ سے\nدل کو غضب فشار ہوا پیچ و تاب میں\n\nچین جبیں کو دیکھ کے دل بستہ تر ہوا\nکیسی کشود کار کشاد نقاب میں\n\nہم کچھ تو بد تھے جب نہ کیا یار نے پسند\nاے حسرت اس قدر غلطی انتخاب میں\n\nرہتے ہیں جمع کوچۂ جاناں میں خاص و عام\nآباد ایک گھر ہے جہان خراب میں\n\nآنکھ اس کی پھر گئی تھی دل اپنا بھی پھر گیا\nیہ اور انقلاب ہوا انقلاب میں\n\nبد نام میرے گریۂ رسوا سے ہو چکے\nاب عذر کیا رہا نگہ بے حجاب میں\n\nمطلب کی جستجو نے یہ کیا حال کر دیا\nحسرت بھی اب نہیں دل ناکامیاب میں\n\nگویا کہ رو رہا ہوں رقیبوں کی جان کو\nآتش زبانہ زن ہوئی طوفان آب میں\n\nناکامیوں سے کام رہا عمر بھر ہمیں\nپیری میں یاس ہے جو ہوس تھی شباب میں\n\nہے اختیار یار میں سود و زیاں مگر\nفاضل تھے ہم جہاں سے قضا کے حساب میں\n\nناصح ہے عیب جو و دل آزار اس قدر\nگویا ثواب ہے سخن ناصواب میں\n\nدونوں کا ایک حال ہے یہ مدعا ہو کاش\nوہ ہی خط اس نے بھیج دیا کیوں جواب میں\n\nتقدیر بھی بری مری تقریر بھی بری\nبگڑے وہ پرسش سبب اجتناب میں\n\nکیا جلوے یاد آئے کہ اپنی خبر نہیں\nبے بادہ مست ہوں میں شب ماہتاب میں\n\nہے منتوں کا وقت شکایت رہی رہی\nآئے تو ہیں منانے کو وہ پر عتاب میں\n\nتیری جفا نہ ہو تو ہے سب دشمنوں سے امن\nبدمست غیر محو دل اور بخت خواب میں\n\nپیہم سجود پائے صنم پر دم وداع\nمومنؔ خدا کو بھول گئے اضطراب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جلتا ہے جگر تو چشم نم ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلتا ہے جگر تو چشم نم ہے\nکیا جانے یہ کس کا مجھ کو غم ہے\n\nجاوے تو کنشت دل میں ہو کر\nتو کعبے کی راہ دو قدم ہے\n\nدیکھے ہے وہ دھکدھکی میں جب سے\nتب سے مرا دھکدھکے میں دم ہے\n\nتصویر تو اس کی زلف کی دیکھ\nنقاش یہ چین کا قلم ہے\n\nگر دیدۂ غور سے تو دیکھے\nہستی جسے کہتے ہیں عدم ہے\n\nاتنے جو ہوئے ہیں ہم بد احوال\nیہ حضرت عشق کا کرم ہے\n\nہر چند اس کی ہے ہر ادا شوخ\nمنظور اپنا جو اک صنم ہے\n\nپر دانتوں تلے زباں دبانا\nبیداد ہے قہر ہے ستم ہے\n\nسمجھو نہ فقیر مصحفیؔ کو\nیہ وقت کا اپنے محتشم ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%86%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "جلتے تھے تم کوں دیکھ کے غیر انجمن میں ہم", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلتے تھے تم کوں دیکھ کے غیر انجمن میں ہم\nپہنچے تھے رات شمع کے ہو کر برن میں ہم\n\nتجھ بن جگہ شراب کی پیتے تھے دم بدم\nپیالے سیں گل کے خون جگر کا چمن میں ہم\n\nلاتے نہیں زبان پے عاشق دلوں کا بھید\nکرتے ہیں اپنی جان کی باتیں نین میں ہم\n\nمرتے ہیں جان اب تو نظر بھر کے دیکھ لو\nجیتے نہیں رہیں گے سجن اس یتھن میں ہم\n\nآتی ہے اس کی بو سی مجھے یاسمن میں آج\nدیکھی تھی جو ادا کہ سجن کے بدن میں ہم\n\nجو کوئی کہ ہے گا آپ کوں رکھتا ہے آپ عزیز\nیوسف ہیں اپنے دل کے میاں پیرہن میں ہم\n\nکیوں کر نہ ہووے کلک ہمارا گہر فشاں\nکرتے ہیں آبروؔ یے تخلص سخن میں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "جلتے ہیں اور ہم سیں جب مانگتے ہو پیالہ", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلتے ہیں اور ہم سیں جب مانگتے ہو پیالہ\nہوتے ہیں داغ دل میں جوں جوں کتے ہو لا لا\n\nبکسا ہے تمام ظالم تجھ چشم کا دنبالا\nلاگا ہے اس کے دل میں دیکھا ہے جن میں بھالا\n\nاس شوخ سرو قد کوں ہم جانتے تھے بھولا\nمل اوپری طرح سیں کیا دے گیا ہے بالا\n\nاے سرد مہر تجھ سیں خوباں جہاں کے کانپے\nخورشید تھرتھرایا اور ماہ دیکھ ہالا\n\nجب سیں ترے ملائم گالوں میں دل دھنسا ہے\nنرمی سوں دل ہوا ہے تب سوں روئی کا گالا\n\nفوجاں سیں بڑھ چلے جوں یکا کوئی سپاہی\nیوں خال چھوٹ خط سیں مکھ پر رہے نرالا\n\nکیوں کر پڑے نہ میرے گریے کا شور جگ میں\nامڈا ہے مجھ نین سیں انجھواں کے ساتھ نالا\n\nجوگی ہوا پے ناتا لالچ کا چھوڑتا نہیں\nکہتا ہے سب کوں بابا جپتا پھرے ہے مالا\n\nجھمکی دکھا نگہ کی دل چھین لے چلی ہیں\nیہ کس تری انکھیوں کوں سکھلا دیا چھنالا\n\nاشعار آبروؔ کے رشک گہر ہوئے ہیں\nداغ سخن سیں اس کو لولو ہوا ہے لالا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%84%DB%81"} {"title": "جلد حسن و جمال جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلد حسن و جمال جاتا ہے\nنہیں رہتا یہ حال جاتا ہے\n\nجب تلک دیکھتا نہیں اس کو\nدل میں کیا کیا خیال جاتا ہے\n\nکون سے وقت عرض حال کروں\nوہ تو ہر وقت ٹال جاتا ہے\n\nجس کا ہوتا ہے غم سے دل بھاری\nوہ ترے در پہ ڈال جاتا ہے\n\nسرسوں آنکھوں میں کیوں نہ پھولے اب\nزرد اوڑھے دو شال جاتا ہے\n\nصاف سمجھا نہیں مجھے عاشق\nبات کہتے سنبھال جاتا ہے\n\nجان دیتا ہوں جلد دیکھوں تو\nنامہ بر کیسی چال جاتا ہے\n\nنکتہ چینوں نے کچھ کہا تو کیا\nکوئی اس میں کمال جاتا ہے\n\nکچھ رہائی نظر نہیں آتی\nیوں ہی اب کا بھی سال جاتا ہے\n\nآہ مثل شب جوانی جلد\nکیا یہ روز وصال جاتا ہے\n\nدلبری وہ صنم کرے میری\nکچھ بھلا احتمال جاتا ہے\n\nیوں خدا کی خدائی ہے معمور\nپر کب اپنا خیال جاتا ہے\n\nتو تو خوش ہو حسنؔ کے جانے سے\nتیرا رنج و ملال جاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D8%AF_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%88_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جلد و ماہ تو گھر سے نکلا", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلد و ماہ تُو گھر سے نکلا\nشکر ہے چاند کدھر سے نکلا\n\nسامنا چھوڑ نا دینا خورشید\nخنجر اس مہ کی کمر سے نکلا\n\nترا عاشق تُو نہ تھا او لیلہ\nکوئی مجنُوں سا ادھر سے نکلا\n\nمثل بو رخ نا کیا سوئے چمن\nپھر نا آیا میں جدھر سے نکلا\n\nدِل نے پھر تُجھ سے لگائی ہو نہ لو\nآہ پھر شعلہ جگر سے نکلا\n\nکس کی آنکھوں پہ چڑھا تھا کے یہ دِل\nہو کہ خوں دیدۂ تر ث نکلا\n\nزلف تک ہاتھ تُو پہونچا بارے\nسلسلہ موئے کمر سے نکلا\n\nسیر گل رویوں کی کرتا ہوگا\nہے نسیمؔ آج سحر سے نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D8%AF_%D9%88_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "جلسوں میں گزرنے لگی پھر رات تمہاری", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلسوں میں گزرنے لگی پھر رات تمہاری\nاس بھیڑ میں جاتی نہ رہے بات تمہاری\n\nہے جلوہ گر دیر و حرم ذات تمہاری\nٹھہری ہے دو عملہ میں ملاقات تمہاری\n\nجلوہ صفت شمع ہے گردن سے کمر تک\nکس نور کے سانچے میں ڈھلی گات تمہاری\n\nکھولے ہوئے گیسو نہ دکھائے مجھے صورت\nمہمان مرے گھر نہ ہوئے رات تمہاری\n\nپچیسی بہت کھیلتی ہو غیر سے اے جاں\nکوڑی کی نہ ہو جائے کہیں بات تمہاری\n\nآنکھوں میں نہیں سلسلۂ اشک شب و روز\nتسبیح پڑھا کرتے ہیں دن رات تمہاری\n\nکٹوا کے مرے دست تمنا کو وہ بولے\nدو ہاتھ گھٹی آج ملاقات تمہاری\n\nفرماتے ہیں ہنس ہنس کے مجھے دیکھ کے گریاں\nلے ڈوبے گی آخر تمہیں برسات تمہاری\n\nمستی جو لگا کر مجھے باتوں میں اڑاؤ\nاڑ جائے دھواں بن کے یہ ظلمات تمہاری\n\nپامالوں کی آنکھوں میں سبک مجھ کو نہ کرنا\nڈرتا ہوں کہ ہلکی نہ پڑے بات تمہاری\n\nکہتے ہیں تغافل سے مجھے زہر کھلا کر\nان روزوں بہت تلخ ہے اوقات تمہاری\n\nجو کچھ کہو برعکس کوئی کہہ نہیں سکتا\nکیا تاب ہے الٹے جو کوئی بات تمہاری\n\nکہتا ہوں کہ بوسہ بھی ملا جان بھی پائی\nوعدہ نہ کرو خیر عنایات تمہاری\n\nآنکھوں میں بھی سینہ میں بھی دل میں بھی تمہیں ہو\nکس پردہ میں پوشیدہ نہیں ذات تمہاری\n\nحوروں میں ہوا کرتی ہیں تقریر کی نقلیں\nڈر ہے نہ بگڑ جائے کہیں بات تمہاری\n\nپہنا کے کفن خاک کے پردے میں چھپایا\nدہرے دیے خلعت یہ عنایات تمہاری\n\nہونٹوں سے جو پھر جاتی ہے منہ کی طرف اے جان\nکیا نشہ میں بہکی ہوئی ہے بات تمہاری\n\nکی قطع عبث زلف نہ تھا کوئی گرفتار\nتنہا رہے بے لطف کٹی رات تمہاری\n\nبد گو ہو یہ افسانہ رہے اہل جہاں میں\nقصہ ہو بگڑ جائے اگر بات تمہاری\n\nزخم ایک کٹاری کا عنایت نہیں ہوتا\nکوڑی کوئی ملتی نہیں خیرات تمہاری\n\nالجھا ہے مگر زلف میں تقریر کا لچھا\nسلجھی ہوئی ہم نے نہ سنی بات تمہاری\n\nاللہ رے صفا منہ نظر آتا ہے بدن میں\nآئینہ ہے اے جان کرامات تمہاری\n\nفرمائشوں کا بوجھ رقیبوں سے نہ اٹھا\nصد شکر کہ ہلکی نہ ہوئی بات تمہاری\n\nشیریں سے نہ ہو دل کہیں فرہاد کا کھٹا\nڈرتا ہوں کہ شیریں ہے بہت بات تمہاری\n\nکیا شعر مزے دار منیرؔ آج پڑھے ہیں\nہر بات میں اعجاز ہے کیا بات تمہاری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "جلن دل کی لکھیں جو ہم دل جلے", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلن دل کی لکھیں جو ہم دل جلے\nزبان قلم میں پڑیں آبلے\n\nرہ صعب الفت میں گھبرا نہ دل\nبہت ایسے پیش آئیں گے مرحلے\n\nنہ دن وہ تمہارے نہ اپنا وہ سن\nتمہارے ہمارے وہ دن سن ڈھلے\n\nعدم کی بھی کیا راہ ہے بے نظیر\nچلے جاتے ہیں پیش و پس قافلے\n\nوہ اب نیمچا کر چکے ہیں علم\nاجل آ چکی سر پہ کیوں کر ٹلے\n\nٹھہر جا کوئی دم کے مہمان ہیں\nخبر لے ہماری چلے ہم چلے\n\nلکیریں بھی مٹ مٹ گئیں ہاتھ کی\nزبس ہم نے دست تأسف ملے\n\nرہے دل کے ارمان سب دل میں حیف\nنکلنے نہ پاے مرے حوصلے\n\nبڑا ہو بڑھاپے کا سب کھو دیا\nنہ میری جوانی نہ وہ ولولے\n\nگڑا کوئی لے کر دل مضطرب\nمزاروں میں آنے لگے زلزلے\n\nسیہ کاریوں میں کٹی عمر سب\nقلم کی طرح سر کے بل گو چلے\n\nمحبت بتوں کی یہ دل چھوڑ دے\nکسی طرح چھاتی سے پتھر ٹلے\n\nشکایت کا موقع نہ تھا وصل میں\nکہ تھی راہ تھوڑی بہت تھے گلے\n\nکوئی دم میں ہے نقش ہستی فنا\nکدھر دھیان ہے تیرا او باؤلے\n\nکنار لحد میں پڑے ہیں وہ آج\nجو آغوش مادر میں تھے کل پلے\n\nگلا تیغ قاتل سے رگڑا کیا\nنہ جھچکا ذرا واہ رے منچلے\n\nنہ لایا کوئی شمع و گل گور پر\nلحد میں بھی داغ محبت جلے\n\nچلے باغ ہستی سے ہم نامراد\nکسی رت میں اے گل نہ پھولے پھلے\n\nازل سے ہیں عشاق مذبوح حسن\nجو مانند ماہی کٹے ہیں گلے\n\nجو فریادی تیرے بھی آ نکلے واں\nزمیں ہوگی محشر کی اوپر تلے\n\nجو ابرو کے ہوں گے اشارے یوں ہی\nمری جان لاکھوں کٹیں گے گلے\n\nکئے جائے کاوش پلک یار کی\nابھی دل کے پھوٹے نہیں آبلے\n\nسرا میں نہ غافل ہو باندھو کمر\nچلو ساتھ والو چلو ہم چلے\n\nرہے میرا جسم مثالی صحیح\nبلا سے یہ پتلا سڑے یا گلے\n\nیہ سب سر زمیں فتنہ انگیز ہے\nہزاروں ہی اٹھتے ہیں یاں غلغلے\n\nنظر بھر کے پھر دیکھ لوں شکل یار\nجو آئی ہوئی میری دم بھر ٹلے\n\nہمیشہ رہا داغ داغ اپنا جسم\nسدا مثل سرو چراغاں جلے\n\nفلک کو ملانا تھا گر خاک میں\nتو پھر ناز و نعمت سے کیوں ہم پلے\n\nرہے بار ور شاخ نخل مراد\nالٰہی ہمیشہ تو پھولے پھلے\n\nزمانے پہ افسردگی چھا گئی\nنہ ہیں اب وہ چرچے نہ وہ مشغلے\n\nمسافر ہوں دلواؤں گا نذر خضر\nجو طے ہوں گے رستے کے سب مرحلے\n\nلہو شب سے آتا ہے اشکوں کے ساتھ\nکلیجے کے ناسور شاید چھلے\n\nبسر ہو گئی اس تمنا میں عمر\nکوئی دوست یک رنگ مجھ کو ملے\n\nیہ کیا روگ اب ہو گیا رندؔ کو\nکئی سال ادھر تک تھے چنگے بھلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%86_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%84%DB%92"} {"title": "جلوہ اس بت کا چراغ رہ عرفاں نکلا", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلوہ اس بت کا چراغ رہ عرفاں نکلا\nدیر سے ہو کے برہمن بھی مسلماں نکلا\n\nبیٹھ کر دل سے نہ پھر تیر کا پیکاں نکلا\nہائے اک پردہ نشیں جان کا خواہاں نکلا\n\nاف رے شوخی کی ادا بزم عزا سے میری\nمسکراتا ہوا وہ فتنۂ دوراں نکلا\n\nکس کی زلفوں کا تصور تھا دم فکر سخن\nدل سے مضمون جو نکلا وہ پریشاں نکلا\n\nآج اک جام پہ ساقی نے چڑھائی تیوری\nعید کے دن بھی ہلال مہ رمضاں نکلا\n\nراہ صحرائے جنوں قیس سے بھی طے نہ ہوئی\nایک اک ذرے میں ایک ایک بیاباں نکلا\n\nنام ہے معرکۂ شعر میں اپنا صفدرؔ\nہاتھ سے میرے نہ اب تک کوئی میداں نکلا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%D8%B1%DB%81_%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "جلوہ جب مجھ کو دکھایا یار نے", "poet_page": "مصنف:میراں شاہ جالندھری", "kind": "poetry", "section": "رچناواں/تصانیف > اردو > غزل", "year": null, "text_ur": "جلوہ جب مجھ کو دکھایا یار نے\nوہم ہستی کا اٹھایا یار نے\n\nجام وحدت جب کیا نذر عطا\nمست دیوانہ بنایا یار نے\n\nبول اٹھا مردہ زباں سے بے گماں\nقم باذنی جب سنایا یار نے\n\nحسن وحدت جلوہ گر ہے جا بجا\nلا مکاں مجھ کو بتایا یار نے\n\nکیا عجب ظاہر کیا ناز و ادا\nعشق میں مجھ کو پھنسایا یار نے\n\nجب کھلا عقدہ خفی اسرار کا\nبرسر محفل ہنسایا یار نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92"} {"title": "جلوہ دکھا کے گزرا وہ نور دیدگاں کا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلوہ دکھا کے گزرا وہ نور دیدگاں کا\nتاریک کر گیا گھر حسرت کشیدگاں کا\n\nغم یار کا نہ بھولے سو باغ اگر دکھا دیں\nکب دل چمن میں وا ہو ماتم رسیدگاں کا\n\nرنگ حنا پہ تہمت اس لالہ رو نے باندھی\nہاتھوں میں مل کے آیا خوں دل طپیدگاں کا\n\nاہل قبور اوپر وہ شوخ کل جو گزرا\nبیتاب ہو گیا دل خاک آرمیدگاں کا\n\nیوں میرؔ سے سنا ہے وہ مست جام بیدارؔ\nتہ کر گیا مصلٰی عزلت گزیدگاں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "جلوہ دکھلائے جو وہ اپنی خود آرائی کا", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلوہ دکھلائے جو وہ اپنی خود آرائی کا\nنور جل جائے ابھی چشم تماشائی کا\n\nرنگ ہر پھول میں ہے حسن خود آرائی کا\nچمن دہر ہے محضر تری یکتائی کا\n\nاپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن\nبھولتا ہی نہیں عالم تری انگڑائی کا\n\nاف ترے حسن جہاں سوز کی پر زور کشش\nنور سب کھینچ لیا چشم تماشائی کا\n\nدیکھ کر نظم دوعالم ہمیں کہنا ہی پڑا\nیہ سلیقہ ہے کسے انجمن آرائی کا\n\nکل جو گلزار میں ہیں گوش بر آواز عزیزؔ\nمجھ سے بلبل نے لیا طرز یہ شیوائی کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کا\nکیا دل کشا یہ سین ہے فصل بہار کا\n\nنازاں ہیں جوش حسن پہ گل ہائے دل فریب\nجوبن دکھا رہا ہے یہ عالم ابھار کا\n\nہیں دیدنی بنفشہ و سنبل کے پیچ و تاب\nنقشہ کھینچا ہوا ہے خط و زلف یار کا\n\nسبزہ ہے یا یہ آب زمرد کی موج ہے\nشبنم ہے بحر یا گہر آبدار کا\n\nمرغان باغ زمزمہ سنجی میں محو ہیں\nاور ناچ ہو رہا ہے نسیم بہار کا\n\nپرواز میں ہیں تیتریاں شاد و چست و مست\nزیب بدن کیے ہوئے خلعت بہار کا\n\nموج ہوا و زمزمۂ عندلیب مست\nاک ساز دلنواز ہے مضراب و تار کا\n\nابر تنک نے رونق موسم بڑھائی ہے\nغازہ بنا ہے روئے عروس بہار کا\n\nافسوس اس سماں میں بھی اکبرؔ اداس ہے\nسوہان روح ہجر ہے اک گل عذار کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "جلوہ فرما دیر تک دل بر رہا", "poet_page": "مصنف:عزیز الحسن غوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلوہ فرما دیر تک دل بر رہا\nاپنی کہہ لی سب نے میں ششدر رہا\n\nجسم بے حس بے شکن بستر رہا\nمیں نئے انداز سے مضطر رہا\n\nمیں خراب بادہ و ساغر رہا\nدل فدائے ساقیٔ کوثر رہا\n\nمیں رہا تو باغ ہستی میں مگر\nبے نوا بے آشیاں بے پر رہا\n\nسب چمن والوں نے تو لوٹی بہار\nاور مجھے صیاد ہی کا ڈر رہا\n\nکوئی سمجھا رند کوئی متقی\nلب پہ توبہ ہاتھ میں ساغر رہا\n\nتھم رہے آنسو رہی دل میں جلن\nنم رہیں آنکھیں کلیجہ تر رہا\n\nعمر بھر پھرتا رہا میں در بدر\nمر کے بھی چرچا مرا گھر گھر رہا\n\nسیکڑوں فکریں ہیں تم کو عاقلو\nتم سے تو مجذوبؔ ہی بہتر رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%DA%A9_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "جلوہ گاہ دل میں مرتے ہی اندھیرا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلوہ گاہ دل میں مرتے ہی اندھیرا ہو گیا\nجس میں تھے جلوے ترے وہ آئنہ کیا ہو گیا\n\nجب تصور نے بڑھا دی نالۂ موزوں کی لے\nساز بے آواز سے اک شعر پیدا ہو گیا\n\nنجد کے ہرنوں سے اعجاز محبت پوچھیے\nپڑ گئی جس پر نگاہ قیس لیلیٰ ہو گیا\n\nجان دے دی میں نے تنگ آ کر وفور درد سے\nآج منشائے جفائے دوست پورا ہو گیا\n\nاب کہاں مایوسیوں میں ضبط کی گنجائشیں\nوہ بھی کیا دن تھے کہ تیرا غم گوارا ہو گیا\n\nدل کھنچا جتنا قفس میں آشیانے کی طرف\nدور اتنا ہی قفس سے آشیانا ہو گیا\n\nرفتہ رفتہ ہو گئے جذب اس میں جلوے سینکڑوں\nدل مرا سیمابؔ تصویر سراپا ہو گیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جلوہ گر اس کا سراپا ہے بدن آئنے میں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلوہ گر اس کا سراپا ہے بدن آئنے میں\nنظر آتا ہے ہمیں سرو چمن آئنے میں\n\nسینہ صافوں سے خبر عالم علوی کی تو پوچھ\nعرش و کرسی ہے یہاں عکس فگن آئنے میں\n\nتاب آزردگی کب ہے دل عاشق کو یہاں\nچین پیشانی سے پڑتی ہے شکن آئنے میں\n\nچشم بیمار سے ٹپکے تھا لہو دیکھتے وقت\nپلکیں ہلیاں تو پڑا زور ہی رن آئنے میں\n\nلے لیا پیار سے عکس اپنے کا جھک کر بوسہ\nاس نے دیکھا جو وہ پاں خوردہ دہن آئنے میں\n\nابرق سوختہ سا کیوں نہ نظر آئے جو ہو\nآتش حسن تری صاعقہ زن آئنے میں\n\nدام میں لاویں وہ تا عکس کی تیرے تصویر\nزلفیں پھینکیں ہیں دو جانب سے رسن آئنے میں\n\nآب جو کا ہے یہ عالم کہ نظر آتا ہے\nلعل رمانی سا ہر گل کا برن آئنے میں\n\nدل مایوس کو پہنے ہوئے آتی ہیں نظر\nسیکڑوں حسرت دیدار کفن آئنے میں\n\nآئنہ دیکھتے پیچھے سے جو میں آ نکلا\nعکس پر عکس ہوا سایہ فگن آئنے میں\n\nتھی تو آزردگی مدت سے پہ وہ روٹھے ہوئے\nبن منائے گئے بے ساختہ من آئنے میں\n\nمصحفیؔ کیوں نہ کہے تجھ کو کوئی طوطیٔ ہند\nجب تو اس وضع کرے فکر سخن آئنے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جلوہ گر فانوس تن میں ہے ہمارا من چراغ", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلوہ گر فانوس تن میں ہے ہمارا من چراغ\nبے بتی اور تیل یہ ہے روز و شب روشن چراغ\n\nتا ابد اس کو نہیں باد مخالف سے خطر\nہے ہمارے ہاتھ پر بے پردۂ دامن چراغ\n\nآج کی شب لطف ہے سیر چمن اے عندلیب\nروغن گل سے ہوا ہے ہر گل گلشن چراغ\n\nڈر نہیں مجنوں کو پھرنے کا شب ہجراں کے بیچ\nحق میں اس کے دیدۂ آہو ہوئے بن بن چراغ\n\nیک نظر اس کی دل مشتاق ہے جن نے کہ آج\nایک جلوہ میں کیا ہے خانۂ درپن چراغ\n\nجب سے ہے روشن دلوں کے دل پر حاتمؔ کی نگاہ\nتب سے روشن ہے گا اس کے دل کا بے روغن چراغ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D9%81%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B3_%D8%AA%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D9%86_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA"} {"title": "جلوۂ ارباب دنیا دیکھیے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلوۂ ارباب دنیا دیکھیے\nسوانگ ہے یہ بھی تماشا دیکھیے\n\nسیر کو اٹھے تو ہیں وحشی مزاج\nباغ جاتے ہیں کہ صحرا دیکھیے\n\nگر‌ چہ تل ہے اس کے منہ پر خوش نما\nنحس ہے کیا ایک تارا دیکھیے\n\nروئیے جتنا رلائے ہجر یار\nگھر میں بیٹھے سیر دریا دیکھیے\n\nچرخ مینائی موافق ہو اگر\nدور دور جام صہبا دیکھیے\n\nیا الٰہی خیر پھر آئے بہار\nکیا حرارا لائے سودا دیکھیے\n\nکل جو کچھ صورت ہوئی تھی مٹ گئی\nاور ہی ہے آج نقشا دیکھیے\n\nابرووں میں پھر گرہ پڑنے لگی\nبل طبیعت میں پھر آیا دیکھیے\n\nدردمند چشم ہیں درماں طلب\nدیکھتے بھی ہیں مسیحا دیکھیے\n\nانتظار یار کہتا ہے یہی\nزندگی جب تک ہے رستا دیکھیے\n\nوصل ثابت ہے تفادل سے مگر\nکب وہ آتا ہے زمانا دیکھیے\n\nکیا بلائے بد ہے یہ باد خزاں\nہو گئی سب پھول پتا دیکھیے\n\nبزم نا پرساں میں قسمت لائی ہے\nبیٹھیے اپنی اگر جا دیکھیے\n\nبحرؔ اگر چمکا ستارہ عیش کا\nلیلیٔ گردوں کا مجرا دیکھیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92"} {"title": "جلوۂ جاں فزا دکھاتا رہ", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلوۂ جاں فزا دکھاتا رہ\nدل بے جان کوں جلاتا رہ\n\nدل ہمارا غریب خانہ ہے\nگاہ گاہ اس طرف بھی آتا رہ\n\nخشک ہوتے ہیں دم بدم لب زخم\nآب شمشیر کا پلاتا رہ\n\nعشق آتا ہے فوج غم لے کر\nتجھ کوں کہتا ہوں ہوش، جاتا رہ\n\nتاکہ خوش ہووے گل بدن بلبل\nاکثر اپنی غزل سناتا رہ\n\nمنصب عشق ہے اگر تجھ کوں\nنوبت آہ کوں بجاتا رہ\n\nشمع رو سیں سراجؔ جا کر بول\nکہ پتنگوں کوں مت جلاتا رہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%81%D8%B2%D8%A7_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81"} {"title": "جلوۂ حُسن", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "جلوۂ حُسن کہ ہے جس سے تمنّا بے تاب\nپالتا ہے جسے آغوشِ تخیّل میں شباب\n\nابَدی بنتا ہے یہ عالمِ فانی جس سے\nایک افسانۂ رنگیں ہے جوانی جس سے\n\nجو سِکھاتا ہے ہمیں سر بہ گریباں ہونا\nمنظرِ عالمِ حاضر سے گُریزاں ہونا\n\nدُور ہو جاتی ہے ادراک کی خامی جس سے\nعقل کرتی ہے تاثّر کی غلامی جس سے\n\nآہ! موجود بھی وہ حُسن کہیں ہے کہ نہیں\nخاتَمِ دہر میں یا رب وہ نگیں ہے کہ نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AD%D9%8F%D8%B3%D9%86"} {"title": "جلوۂ دربار دہلی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سر میں شوق کا سودا دیکھا\nدہلی کو ہم نے بھی جا دیکھا\nجو کچھ دیکھا اچھا دیکھا\nکیا بتلائیں کیا کیا دیکھا\n\nجمنا جی کے پاٹ کو دیکھا\nاچھے ستھرے گھاٹ کو دیکھا\nسب سے اونچے لاٹ کو دیکھا\nحضرت ڈیوک کناٹؔ کو دیکھا\n\nپلٹن اور رسالے دیکھے\nگورے دیکھے کالے دیکھے\nسنگینیں اور بھالے دیکھے\nبینڈ بجانے والے دیکھے\n\nخیموں کا اک جنگل دیکھا\nاس جنگل میں منگل دیکھا\nبرھما اور ورنگل دیکھا\nعزت خواہوں کا دنگل دیکھا\n\nسڑکیں تھیں ہر کمپ سے جاری\nپانی تھا ہر پمپ سے جاری\nنور کی موجیں لیمپ سے جاری\nتیزی تھی ہر جمپ سے جاری\n\nڈالی میں نارنگی دیکھی\nمحفل میں سارنگی دیکھی\nبیرنگی بارنگی دیکھی\nدہر کی رنگا رنگی دیکھی\n\nاچھے اچھوں کو بھٹکا دیکھا\nبھیڑ میں کھاتے جھٹکا دیکھا\nمنہ کو اگرچہ لٹکا دیکھا\nدل دربار سے اٹکا دیکھا\n\nہاتھی دیکھے بھاری بھرکم\nان کا چلنا کم کم تھم تھم\nزریں جھولیں نور کا عالم\nمیلوں تک وہ چم چم چم چم\n\nپر تھا پہلوئے مسجد جامع\nروشنیاں تھیں ہر سو لامع\nکوئی نہیں تھا کسی کا سامع\nسب کے سب تھے دید کے طامع\n\nسرخی سڑک پر کٹتی دیکھی\nسانس بھی بھیڑ میں گھٹتی دیکھی\nآتش بازی چھٹتی دیکھی\nلطف کی دولت لٹتی دیکھی\n\nچوکی اک چولکھی دیکھی\nخوب ہی چکھی پکھی دیکھی\nہر سو نعمت رکھی دیکھی\nشہد اور دودھ کی مکھی دیکھی\n\nایک کا حصہ من و سلویٰ\nایک کا حصہ تھوڑا حلوا\nایک کا حصہ بھیڑ اور بلوا\nمیرا حصہ دور کا جلوا\n\nاوج بریش راجا دیکھا\nپرتو تخت و تاج کا دیکھا\nرنگ زمانہ آج کا دیکھا\nرخ کرزن مہراج کا دیکھا\n\nپہنچے پھاند کے سات سمندر\nتحت میں ان کے بیسوں بندر\nحکمت و دانش ان کے اندر\nاپنی جگہ ہر ایک سکندر\n\nاوج بخت ملاقی ان کا\nچرخ ہفت طبقاقی ان کا\nمحفل ان کی ساقی ان کا\nآنکھیں میری باقی ان کا\n\nہم تو ان کے خیر طلب ہیں\nہم کیا ایسے ہی سب کے سب ہیں\nان کے راج کے عمدہ ڈھب ہیں\nسب سامان عیش و طرب ہیں\n\nاگزبشن کی شان انوکھی\nہر شے عمدہ ہر شے چوکھی\nاقلیدس کی ناپی جوکھی\nمن بھر سونے کی لاگت سوکھی\n\nجشن عظیم اس سال ہوا ہے\nشاہی فورٹ میں بال ہوا ہے\nروشن ہر اک ہال ہوا ہے\nقصۂ ماضی حال ہوا ہے\n\nہے مشہور کوچہ و برزن\nبال میں ناچیں لیڈی کرزن\nطائر ہوش تھے سب کے لرزن\nرشک سے دیکھ رہی تھی ہر زن\n\nہال میں چمکیں آ کے یکا یک\nزریں تھی پوشاک جھکا جھک\nمحو تھا ان کا اوج سما تک\nچرخ پہ زہرہ ان کی تھی گاہک\n\nگو رقاصۂ اوج فلک تھی\nاس میں کہاں یہ نوک پلک تھی\nاندر کی محفل کی جھلک تھی\nبزم عشرت صبح تلک تھی\n\nکی ہے یہ بندش ذہن رسا نے\nکوئی مانے خواہ نہ مانے\nسنتے ہیں ہم تو یہ افسانے\nجس نے دیکھا ہو وہ جانے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AF%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C"} {"title": "جلوۂ دیدار تو اک بات ہے", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلوۂ دیدار تو اک بات ہے\nلن ترانی عاشقوں کی گھات ہے\n\nآشنا جس کا ہے تو آرام جاں\nوہ جہاں میں مورد آفات ہے\n\nبوسۂ رخ دے زکات حسن ہے\nاے حسیں یہ داخل حسنات ہے\n\nآئنہ خانہ بنا ہے میرا دل\nدیکھ لے کیا خوش نما مرآت ہے\n\nجان و دل تھا نذر تیری کر چکا\nتیرے عاشق کی یہی اوقات ہے\n\nگریۂ عشاق پر ہیں خندہ زن\nکہتے ہیں کیا خوش نما برسات ہے\n\nہجر کی شب ہے ہجوم صد بلا\nمیں ہوں تنہا اور خدا کی ذات ہے\n\nخاتمہ با لخیر ہو جائے کہیں\nشرم اپنی اب خدا کے ہاتھ ہے\n\nزندگی ہے چار دن کی چاندنی\nپھر وہی ساقیؔ اندھیری رات ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "جلوۂ عشق حقیقت تھی حسن مجاز بہانہ تھا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلوۂ عشق حقیقت تھی حسن مجاز بہانہ تھا\nشمع جسے ہم سمجھے تھے شمع نہ تھی پروانہ تھا\n\nشعبدے آنکھوں کے ہم نے ایسے کتنے دیکھے ہیں\nآنکھ کھلی تو دنیا تھی بند ہوئی افسانہ تھا\n\nعہد جوانی ختم ہوا اب مرتے ہیں نہ جیتے ہیں\nہم بھی جیتے تھے جب تک مر جانے کا زمانہ تھا\n\nدل اب دل ہے خدا رکھے ساقی کو مے خانے کو\nورنہ کسے معلوم نہیں ٹوٹا سا پیمانہ تھا\n\nفانیؔ کو کیسا ہی سہی پھر بھی تجھی سے نسبت تھی\nدیوانہ تھا تھا کس کا تیرا ہی دیوانہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%85%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جلوے ترے جو رونق بازار ہو گئے", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلوے ترے جو رونق بازار ہو گئے\nخوبان خود فروش خریدار ہو گئے\n\nتلووں سے راستہ چمن دل کشا بنا\nجلووں سے آئنہ در و دیوار ہو گئے\n\nدل جاں بلب جگر میں تپک جان بے قرار\nہم تیرا نام لے کے گنہ گار ہو گئے\n\nگل زار ہے بہار یوں ہی حسن یار سے\nجیسے چمن بہار سے گل زار ہو گئے\n\nیہ حسن خود فروش عجب جنس ہے حسنؔ\nوہ بک گئے جو اس کے خریدار ہو گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88%D9%86%D9%82_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں\nمجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں\n\nکھلتے نہیں ہیں راز جو سوز نہاں کے ہیں\nکیا پھوٹنے کے واسطے چھالے زباں کے ہیں\n\nکرتے ہیں قتل وہ طلب مغفرت کے بعد\nجو تھے دعا کے ہاتھ وہی امتحاں کے ہیں\n\nجس روز کچھ شریک ہوئی میری مشت خاک\nاس روز سے زمیں پہ ستم آسماں کے ہیں\n\nبازو دکھائے تم نے لگا کر ہزار ہاتھ\nپورے پڑے تو وہ بھی بہت امتحاں کے ہیں\n\nناصح کے سامنے کبھی سچ بولتا نہیں\nمیری زباں میں رنگ تمہاری زباں کے ہیں\n\nکیسا جواب حضرت دل دیکھیے ذرا\nپیغام بر کے ہاتھ میں ٹکڑے زباں کے ہیں\n\nکیا اضطراب شوق نے مجھ کو خجل کیا\nوہ پوچھتے ہیں کہئے ارادے کہاں کے ہیں\n\nعاشق ترے عدم کو گئے کس قدر تباہ\nپوچھا ہر ایک نے یہ مسافر کہاں کے ہیں\n\nہر چند داغؔ ایک ہی عیار ہے مگر\nدشمن بھی تو چھٹے ہوئے سارے جہاں کے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D9%88_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جمالِ عشق و مستی نَے نوازی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "جمالِ عشق و مستی نَے نوازی\nجلالِ عشق و مستی بے نیازی\nکمالِ عشق و مستی ظرفِ حیدرؓ\nزوالِ عشق و مستی حرفِ رازی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84%D9%90_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%88_%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%86%D9%8E%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2%DB%8C"} {"title": "جمع ہیں سارے مسافر نا خدائے دل کے پاس", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جمع ہیں سارے مسافر نا خدائے دل کے پاس\nکشتیٔ ہستی نظر آتی ہے اب ساحل کے پاس\n\nسارباں کس جستجو میں ہے یہاں مجنوں کہاں\nاب بگولا بھی نہ بھٹکے گا ترے محمل کے پاس\n\nابتدائے عشق یعنی ایک مہلک حادثہ\nآ گئی ہستی یکایک موت کی منزل کے پاس\n\nنعمتوں کو دیکھتا ہے اور ہنس دیتا ہے دل\nمحو حیرت ہوں کہ آخر کیا ہے میرے دل کے پاس\n\nیہ ترے دست کرم کو کھینچ لے گا ایک دن\nاے خدا رہنے نہ دے دست دعا سائل کے پاس", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%85%D8%B9_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D9%86%D8%A7_%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3"} {"title": "جمعِیّتِ اقوام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "بیچاری کئی روز سے دم توڑ رہی ہے\nڈر ہے خَبرِ بد نہ مرے مُنہ سے نکل جائے\nتقدیر تو مبُرم نظر آتی ہے ولیکن\nپِیرانِ کلیسا کی دُعا یہ ہے کہ ٹل جائے\nممکن ہے کہ یہ داشتۂ پِیرکِ افرنگ\nاِبلیس کے تعویذ سے کچھ روز سنبھل جائے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%85%D8%B9%D9%90%DB%8C%D9%91%D8%AA%D9%90_%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%85"} {"title": "جمعیتِ اقوام مشرق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "پانی بھی مسخرّ ہے، ہوا بھی ہے مسخرّ\nکیا ہو جو نگاہِ فلکِ پِیر بدل جائے\nدیکھا ہے مُلوکِیّتِ افرنگ نے جو خواب\nممکن ہے کہ اُس خواب کی تعبیر بدل جائے\nطہران ہو گر عالَمِ مشرق کا جینوا\nشاید کُرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%D9%90_%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%85_%D9%85%D8%B4%D8%B1%D9%82"} {"title": "جمنا", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دھیمی دھیمی بہنے والی ایک نہر دل نشیں\nآب جو چھوٹی سی اک نازک خرام و نازنیں\nتشنگیٔ شوق گنگا میں بجھانے کے لیے\nجا رہی ہے اپنی ہستی کو مٹانے کے لیے\nیہ وہ جمنا ہے کہ دل کش جس کا ہے انداز حسن\nدیکھتے ہیں آہ عاشق جس کا خواب ناز حسن\nیہ وہ جمنا ہے کہ گاتی ہیں سخنور جس کے گیت\nمطربان خوش گلو کی ہیں زباں پر جس کے گیت\n\nیہ وہ جمنا ہے جہاں لے لے کے جلوت کے مزے\nلوٹے ہیں عشاق نے برسوں محبت کے مزے\nیہ وہ جمنا ہے کہ رادھا سی حسیں نے مدتوں\nبرج کی اک پاک دامن نازنیں نے مدتوں\nبنسی والے کی جدائی میں اڑا کر سر پہ خاک\nاپنے اشکوں سے کیا ہے دامن ساحل کو پاک\nیہ وہ جمنا ہے جہاں اک بانوے پردہ نشیں\nآگرہ میں محو آسائش ہے جو زیر زمیں\nرخ سے آہستہ الٹ کر چادر آب رواں\nدیکھتی تھی مسکرا کر منظر آب رواں\n\nآہ اے نہر لطافت آہ اے بحر جمال\nدل میں ہے پہلو نشیں اب تک ترا نقش خیال\nگرچہ تجھ میں اب نہیں وہ جلوۂ شان کہن\nوہ حسیں تو ہے کہ اے شمع شبستان کہن\nحسن رفتہ میں ہے تیرے اب بھی اک دل کش ادا\nتیرے کملائے ہوئے پھولوں میں ہے بوئے وفا\n\nتو ہے دریائے مقدس تو کہ ہے عصیاں سے پاک\nتیرا دامن ہے ابھی آلائش انساں سے پاک\nتیری شوکت کے ہیں شاہد اے وفادار کہن\nتیرے برجوں اور ترے قلعوں کے آثار کہن\nتیرے ساحل سے ٹپکتی اب بھی ہے شان بلند\nآسماں فرسا ہیں اب بھی تیرے ایوان بلند\nتیرے فرسودہ نشاں ہیں نقش ناز حسن و عشق\nتیری موجوں میں نہاں ہے آہ راز حسن و عشق\n\nآہ او رنگیں ادا او دلی والی نازنیں\nاو دو عالم کے حسینوں سے نرالی نازنیں\nیاد ایامے کہ دل کش تھے ترے نقش و نگار\nدن مرادوں کے تھے اور جوش جوانی کا ابھار\nچڑھ کے جب مینار پر اک لعبت ناز آفریں\nدیکھتی تھی تیری موجوں کی ادائے دل نشیں\nوہ کف سیلاب وہ شور تلاطم ہائے ہائے\nتیری موجوں کا وہ انداز تبسم ہائے ہائے\n\nدھیمی دھیمی وہ تری رفتار بل کھائی ہوئی\nوہ نظر جھینپتی ہوئی چتون وہ شرمائی ہوئی\nوہ سریلی نغمۂ جوش تلاطم کی صدا\nآہ وو دل کش ترے ساز ترنم کی صدا\nبرج کی او پاک دامن او مقدس نازنیں\nنقش ہے دل پر تری اک اک ادائے دل نشیں\n\nاب کہاں جمنا تری موجوں کی مستانہ وہ چال\nاب کہاں پانی کے جھرنے اور وہ لطف برشگال\nاب کہاں چھوٹا سا وہ رادھا کا کنج خوش گوار\nاب کہاں وہ آہ متھرا تیرے پھولوں کی بہار\nاب کہاں وہ بنسی والے کی ادائے جاں نواز\nاب کہاں وہ آہ مرلی کی صدائے جاں نواز\nاب کہاں وہ خلوت راز و نیاز حسن و عشق\nبے صدا زیر زمیں ہیں آہ ساز حسن و عشق\nاو تلون کیش او کافر ادا اور دوں شعار\nتو نے بدلے رنگ لاکھوں آہ وضع روزگار\nخاک اٹھ کر آہ سر پر دامن ساحل اڑا\nٹکڑے ٹکڑے کر جگر کو پارہ ہائے دل اڑا\nسوزش غم سے پگھل جا آہ اے ریگ رواں\nذرے ذرے میں تیرے تصویر عبرت ہے نہاں\nاب کہاں وہ کنج دل کش اب کہاں رادھا کا عیش\nہے برنگ خندۂ گل بے بقا دنیا کا عیش\n\nاے خوشا قسمت تری جمنا خوشا تیرے نصیب\nواہ وا تیرے مقدر واہ وا تیرے نصیب\nتو نے دیکھی ہے بہت دن مرلی والے کی ادا\nدونوں عالم کے حسینوں سے نرالے کی ادا\nاور سنی بنسی کی ہے برسوں صدائے دل نواز\nداستان درد دل افسانۂ سوز و گداز\nمحشرستان الم کمبخت ہے کر دل کو چاک\nچیر پہلو کو کہ نکلیں نالہ ہائے درد ناک\n\nتا کجا یہ سر گذشت داستان درد و غم\nچھیڑ اے جمنا کوئی تازہ بیان درد و غم\nہو نہ لیکن آہ تیرا شور ماتم دل خراش\nتیرے نالوں کی صدا یعنی ہو کم کم دل خراش\nاے لب ساحل سنا سیتوں کی عصمت کا بیاں\nپردۂ افسانہ میں سوز محبت کا بیاں\nتیرے پہلو میں ہے یہ کس حور وش کی یادگار\nجس سے راتوں کو اٹھا کرتے ہیں آہوں کے شرار\n\nآہ فرسودہ نشان عصمت جاں باز تو\nکس پری پیکر کا ہے نقش وفائے ناز تو\nہے تری تعمیر میں مضمر وہی شان وفا\nتیری ہر خشت کہن ہے جوہر کان وفا\nغل نہ کر آہستہ آہستہ ہو اے جمنا رواں\nتاج عصمت کا یہاں ہر اک در یکتا نہاں\n\nاے زہے شوکت تری جمنا زہے اعزاز و شاں\nتجھ پہ لہرایا کیا اسلام کا صدیوں نشاں\nہائے وہ ترکوں کے دستے اور سنگینوں کی شان\nترچھے بانکے وہ جواں وہ چار آئینوں کی شان\n\nبے صدا زیر زمیں ہے بزم شاہان غیور\nآہ جمنا تجھ میں لیکن ہے وہی شان غرور\nآہ او شکوہ طراز دست بیداد اجل\nرو نہ خون آرزو او محو فریاد اجل\nآہ اس دار فنا میں ہے بقا کس کے لیے\nچھوڑنے والا ہے شاہین قضا کس کے لیے\n\nآہ اس خواب شبانہ کا ہے مجھ کو انتظار\nاس سرور عاشقانہ کا ہے مجھ کو انتظار\nتیری اک اک موج تھی جب آہ طوفاں کوش شوق\nحلقۂ گرداب تھا جب ہالۂ آغوش شوق\nجب کسی کے گیسوئے پر خم کی سودائی تھی تو\nاور لب ساحل پہ روضہ کی تماشائی تھی تو\nآہ جمنا تجھ کو دور پاستانی کی قسم\nشوکت‌ دیرینۂ صاحب قرانی کی قسم\nکیا نہ ہوں گے تجھ کو وہ دل کش مناظر پھر نصیب\nعظمت اسلام کے اگلے مظاہر پھر نصیب\nہو کے مضطر آہ جوش اضطراب دل سے کیا\nیوں ہی ٹکرایا کرے گی سر کو تو ساحل سے کیا\n\nکون یہ پردہ نشیں ہے تیرے دامن میں نہاں\nکس کا چہرہ ہے نقاب زلف پر فن میں نہاں\nتیری موجوں میں ہے یہ کس کی صدائے دل فریب\nگا رہی ہے کون یہ غارت گر صبر و شکیب\nخانۂ دل میں ہے تیرے کون محو رقص ناز\nآ رہی ہے کس کی چھاگل کی صدائے جاں نواز\nوہ سمن اندام ہے یہ شاہد پردہ نشیں\nجس کے پھولوں میں ہے اب تک بوئے فردوس بریں\nحوریں آ کر خلد سے طوف مزار پاک کو\nجھاڑتی پلکوں سے ہیں گرد و خس و خاشاک کو\nآہ اے نقش و نگار شوکت عہد کہن\nآہ اے آئینہ دار شوکت عہد کہن\nہم نے نانا تجھ میں اب وہ شان برنائی نہیں\nوہ غرور حسن وہ تمکیں وہ رعنائی نہیں\n\nہم نے مانا تیرے چہرے کی ضیا جاتی رہی\nتیری موجوں کی وہ مستانہ ادا جاتی رہی\nمنہ پہ گمنامی کا آنچل لے نہ اے پردہ نشیں\nیوں ہی سرگرم خرام ناز رہ اے نازنیں\nسر کو ٹکرایا کرے ساحل سے سیل روزگار\nتیری شہرت کے نشاں صدیوں رہیں گے یادگار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%85%D9%86%D8%A7"} {"title": "جمنا میں کل نہا کر جب اس نے بال باندھے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جمنا میں کل نہا کر جب اس نے بال باندھے\nہم نے بھی اپنے دل میں کیا کیا خیال باندھے\n\nایسا شکوہ اس کی صورت میں ہے کہ ناگہ\nآوے جو سامنے سے دست مجال باندھے\n\nآنکھوں سے گر کرے وہ زلفوں کو ٹک اشارہ\nآویں چلے ہزاروں وحشی غزال باندھے\n\nعیسیٰ و خضر تک بھی پہنچے اجل کا مژدہ\nتو تیغ اگر کمر پر بہر قتال باندھے\n\nلالے کی شاخ ہرگز لہکے نہ پھر چمن میں\nگر سر پہ سرخ چیرا وہ نونہال باندھے\n\nلت عاشقی کی کوئی جائے ہے عاشقوں سے\nگو بادشاہ ڈانڈے گو کوتوال باندھے\n\nہم کس طرح سے دیکھیں جب دے دے پیچ لڑ کے\nچیرے کے پیچوں میں تو زلفوں کے بال باندھے\n\nبندہ ہوں میں تو اس کی آنکھوں کی ساحری کا\nتار نظر سے جس نے صاحب کمال باندھے\n\nہم ایک بوسے کے بھی ممنوں نہیں کسی کے\nچاہے سو کوئی تہمت روز وصال باندھے\n\nسوز دل اپنا اس کو کیا مصحفیؔ سناویں\nآگو ہی وہ پھرے ہے کانوں سے شال باندھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%85%D9%86%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%84_%D9%86%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%84_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%92"} {"title": "جمہُوریت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اس راز کو اک مردِ فرنگی نے کِیا فاش\nہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے\nجمہُوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں\nبُندوں کو گِنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%85%DB%81%D9%8F%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%AA"} {"title": "جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے\nاکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مر گئے\n\nہوتا نہیں ہے اس لب نوخط پہ کوئی سبز\nعیسیٰ و خضر کیا سبھی یک بار مر گئے\n\nیوں کانوں کان گل نے نہ جانا چمن میں آہ\nسر کو پٹک کے ہم پس دیوار مر گئے\n\nصد کارواں وفا ہے کوئی پوچھتا نہیں\nگویا متاع دل کے خریدار مر گئے\n\nمجنوں نہ دشت میں ہے نہ فرہاد کوہ میں\nتھا جن سے لطف زندگی وے یار مر گئے\n\nگر زندگی یہی ہے جو کرتے ہیں ہم اسیر\nتو وے ہی جی گئے جو گرفتار مر گئے\n\nافسوس وے شہید کہ جو قتل گاہ میں\nلگتے ہی اس کے ہاتھ کی تلوار مر گئے\n\nتجھ سے دو چار ہونے کی حسرت کے مبتلا\nجب جی ہوئے وبال تو ناچار مر گئے\n\nگھبرا نہ میرؔ عشق میں اس سہل زیست پر\nجب بس چلا نہ کچھ تو مرے یار مر گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86_%D8%AC%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "جن خاک کے ذروں پر وہ سایۂ محمل تھا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جن خاک کے ذروں پر وہ سایۂ محمل تھا\nجو خاک کا ذرہ تھا وحشت کدۂ دل تھا\n\nبیداد کی ہر تہ میں سو طرح سے شامل تھا\nوہ جان کا دشمن جو کہنے کو مرا دل تھا\n\nغم حسن مکمل تھا دل حیرت کامل تھا\nتصویر کا آئینہ تصویر کے قابل تھا\n\nہم جی سے گزر جانا آسان سمجھتے تھے\nدیکھا تو محبت میں یہ کام بھی مشکل تھا\n\nآئینہ و دل دونوں کہنے ہی کی باتیں تھیں\nتیری ہی تجلی تھی اور تو ہی مقابل تھا\n\nہر باطل و ہر ناحق اک راز حقیقت ہے\nجس شکل میں حق آیا وابستۂ باطل تھا\n\nہاں آپ کسی کو یوں برباد نہیں کرتے\nیہ فانیؔٔ ناکارا سچ ہے اسی قابل تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%DB%92_%D8%B0%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%A7%DB%8C%DB%82_%D9%85%D8%AD%D9%85%D9%84_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جن دنوں ہم اس شب حظ کے سیہ کاروں میں تھے", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جن دنوں ہم اس شب حظ کے سیہ کاروں میں تھے\nاس ایاغ چشم کے پیوستہ مے خواروں میں تھے\n\nچونک چونک اب کھینچو ہو دامن ہماری خاک سے\nوہ بھی سپنا ہو گیا تم گل تھے ہم خاروں میں تھے\n\nخار و خس محرم ہیں پر فن گرچہ ہم رہے جوں حباب\nہم ترے اے بحر حسن آخر ہوا داروں میں تھے\n\nخاک بھی ان کی ہے شکل سرو مثل گرد باد\nاس قدر آزاد کے جیتے گرفتاروں میں تھے\n\nخصم جو مقراض گل چیں ہیں ترے اے شمع قد\nجوں پتنگے جل گئے ہم جو ترے یاروں میں تھے\n\nاس عزیز خلق کی آنکھوں کے دو بادام پر\nبک گئے وہ سب جو یوسف کے خریداروں میں تھے\n\nایک پتھر بھی نہ آیا سر پہ عزلتؔ اب کی سال\nگئے کدھر طفلاں جو دیوانوں کے غم خواروں میں تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86_%D8%AF%D9%86%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D8%A8_%D8%AD%D8%B8_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "جن دنوں ہم کو اس سے تھا اخلاص", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جن دنوں ہم کو اس سے تھا اخلاص\nکھل رہا تھا وہ جا بجا اخلاص\n\nاس کو بھی ہم سے تھی بہت الفت\nاور ہمیں اس سے تھا بڑا اخلاص\n\nمل کے جب بیٹھتے تھے آپس میں\nتھا دکھاتا عجب مزا اخلاص\n\nایک دن ہم میں اور نظیرؔ اس میں\nہو کے خفگی جو ہو چکا اخلاص\n\nہم یہ بولے کدھر گئی الفت\nوہ یہ بولا کدھر گیا اخلاص", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86_%D8%AF%D9%86%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D8%B5"} {"title": "جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں\nدروازوں سے ٹکرا جاتے ہیں دیواروں سے باتیں ہوتی ہیں\n\nآشوب جدائی کیا کہیے ان ہونی باتیں ہوتی ہیں\nآنکھوں میں اندھیرا چھاتا ہے جب اجالی راتیں ہوتی ہیں\n\nجب وہ نہیں ہوتے پہلو میں اور لمبی راتیں ہوتی ہیں\nیاد آ کے ستاتی رہتی ہے اور دل سے باتیں ہوتی ہیں\n\nگھر گھر کے بادل آتے ہیں اور بے برسے کھل جاتے ہیں\nامیدوں کی جھوٹی دنیا میں سوکھی برساتیں ہوتی ہیں\n\nامید کا سورج ڈوبا ہے آنکھوں میں اندھیرا چھایا ہے\nدنیائے فراق میں دن کیسا راتیں ہی راتیں ہوتی ہیں\n\nطے کرنا ہیں جھگڑے جینے کے جس طرح بنے کہتے سنتے\nبہروں سے بھی پالا پڑتا ہے گونگوں سے بھی باتیں ہوتی ہیں\n\nآنکھوں میں کہاں رس کی بوندیں کچھ ہے تو لہو کی لالی ہے\nاس بدلی ہوئی رت میں اب تو خونیں برساتیں ہوتی ہیں\n\nقسمت جاگے تو ہم سوئیں قسمت سوئے تو ہم جاگیں\nدونوں ہی کو نیند آئے جس میں کب ایسی راتیں ہوتی ہیں\n\nجو کان لگا کر سنتے ہیں کیا جانیں رموز محبت کے\nاب ہونٹ نہیں ہلنے پاتے اور پہروں باتیں ہوتی ہیں\n\nجو ناز ہے وہ اپناتا ہے جو غمزہ ہے وہ لبھاتا ہے\nان رنگ برنگی پردوں میں گھاتوں پر گھاتیں ہوتی ہیں\n\nہنسنے میں جو آنسو آتے ہیں نیرنگ جہاں بتلاتے ہیں\nہر روز جنازے جاتے ہیں ہر روز براتیں ہوتی ہیں\n\nجو کچھ بھی خوشی سے ہوتا ہے یہ دل کا بوجھ نہ بن جائے\nپیمان وفا بھی رہنے دو سب جھوٹی باتیں ہوتی ہیں\n\nجب تک ہے دلوں میں سچائی سب ناز و نیاز وہیں تک ہیں\nجب خود غرضی آ جاتی ہے جل ہوتے ہیں گھاتیں ہوتی ہیں\n\nہمت کس کی ہے جو پوچھے یہ آرزوئے سودائی سے\nکیوں صاحب آخر اکیلے میں یہ کس سے باتیں ہوتی ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86_%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%AF_%D8%A7%DA%91_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%82%DB%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جن لوگوں کو ہے مجھ سے عداوت گہری", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جن لوگوں کو ہے مجھ سے عداوت گہری\nکہتے ہیں مجھے وہ رافضی و دہری\nدہری کیونکر ہو جو کہ ہووے صوفی؟\nشیعی کیونکر ہو ماوراء النہری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86_%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D9%88%D8%AA_%DA%AF%DB%81%D8%B1%DB%8C"} {"title": "جن و پری", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "سینہ کوبی سے زمیں ساری ہلا کے اٹھےکیا علم دھوم سے تیرے شہدا کے اٹھےمولوی تسلی صاحب غدر 1857 سے پہلے ایک بزرگ دہلی میں گزرے ہیں۔ قوم کے سید تھے۔ چشتیہ نظامیہ طریقہ اچھی طرح حاصل کیا تھا۔ دوسرا کمال ان کا شاعری تھا۔ حمد اور نعت اور منقبت کہتے تھے۔ اور ایسی خوب کہتے تھے، جسے سن کر جاہل اور قابل عورت اور مرد، بڑے اور بچے وجد کرتے تھے اور یہ قبولیت صرف شاہجہاں آباد اور اس کی فصیل کے اندر نہ تھی بلکہ تمام ہندوستان میں پھیل گئی تھی۔ ہرنی کا معجزہ اوربہت سی مناجاتیں جو بمبئی اور کلکتہ میں فقیر سڑکوں پر دوکان دوکان پڑھتے پھرتے ہیں، اس کامقطع بتا دیتا ہے اور تسلی تخلص جتا دیتا ہے کہ یہ مولانا تسلی صاحب دہلوی کا تبرک ہے۔ان کے عہد میں قلعہ آباد تھا۔ حضرت ابو ظفر بہادر شاہ بادشاہ دہلی حمد و نعت میں بھی خوب شعر کہتے تھے۔ شیخ ابراہیم ذوق، حکیم مومن خاں صاحب مومن، میرزا اسد اللہ خاں غالبؔ شاعری کے استاد موجود تھے۔ دہلی اہل ہنر سے بھری پڑی کٹورہ کی طرح پڑی چھلک رہی تھی۔ مگر جب ان کی تصنیف کسی میلاد کی محفل یا محرم کی مجلس میں یا کہیں آپ کا کلام پڑھا جاتا تھا، تو یہ حضرات مؤدب ہو جاتے تھے، اور اشارہ سے کہتے تھے، خدا کے لئے چپ ہوجائیے اور مولانا کی نظم سن لینے دیجئے۔ ایک بار کسی مجلس عزا میں مرثیہ خواں اور حدیث خواں لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کی شہادت خوب خوب بیان کی۔ سننے والوں کو رقت بھی ہوئی۔ واہ واہ بھی بہت ہوئی، مجلس کے خاتمہ پر ایک لڑکے نے جس کی بارہ برس کی عمر تھی، صف میں سے منہ نکال کر تسلی صاحب کا یہ شعر پڑھا،اب یہاں کہتا ہے جوشِ دل کہ لکھ ذکر حسینؑکربلا میں کیونکر آیا فاطمہ کا نور عینشعر سنتے ہی محفل میں قیامت برپا ہو گئی۔ پٹس مچ گئی۔ حاضرین چیخ اٹھے۔ پھر مولانا مناجاتیں کسی کو یاد بھی نہ کرواتے تھے۔ اور اپنی نام و نمود بھی نہیں چاہتے تھے۔ بلکہ نوجوان اور لڑکے جن کے گلے میں ذرا سا کھٹکا ہوتا تھا، بے بلائے مولانا کی خدمت میں آتے تھے، اور آپ کا کلام سر اور آنکھوں پر رکھ لے جاتے تھے، اور یاد کر کے لوگوں کو سناتے تھے اور اپنے پڑھنے کی داد پاتے تھے۔ مولوی تسلی میری خوش دامن صاحبہ کے بڑے چچا تھے۔ اور وہ انہیں بڑے ابا کہا کرتی تھیں۔ فرماتی تھیں، بڑے ابا نے اپنا بیاہ نہیں کیا۔ ساری عمر اکیلے پن میں کاٹی۔ کپڑا سفید پہنتے تھے، مگر ایک کالی کملی ضرور بغل میں رکھتے تھے۔ ساون کی اندھیری جھکی ہوئی تھی۔ ہاتھ کو ہاتھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ مینہ پڑتا ہوتا تھا۔ بجلی چمکتی، بادل گرجتا ہوتا، گھر میں بیٹھنے والوں کے دل کانپتے ہوتے تھے۔اور وہ ایکا ایکی اپنے پلنگ پر سے اٹھتے اور کہتے گھر والوں دروازے کی کنڈی اندر سے لگاؤ۔ میں قطب صاحب کو جاتا ہوں۔ گھر والے کہتے، بھلا حضرت یہ کون وقت قطب صاحب جانے کا ہے۔ مینہ کہتا ہے آج برس کے پھر نہ برسوں گا۔ اندھیرا گھپ ہے۔ خواجہ صاحب کی درگاہ یہاں سے گیارہ میل ہے۔ سڑک پر پانی ہی پانی ہوگا۔ مگر یہ کس کی سنتے۔ کملی سر پر ڈال یہ جا وہ جا۔ اور قطب صاحب کے آستانہ کو جا سلام کرتے۔ خواجہ صاحب اور سلطان جی صاحب اور روشن چراغ دہلی کی درگاہ کے صاحب زادہ ان کی خوبو سے خوب واقف ہو گئے تھے۔ انہیں ولی اللہ جانتے تھے۔ جب یہ بے وقت کسی درگاہ میں حاضر ہوتے تووہاں کے صاحب زادے ہاتھوں ہاتھ لیتے، اور انہیں آنکھوں پر بٹھاتے۔ کھانا کھلاتے، پانی پلاتے، سردی میں پہنچتے تو انگیٹھی میں آگ لاکر ان کے سامنے رکھتے۔حضرت مولانا تسلی صاحب نے اپنی زندگانی انہیں ہیرے پھیروں میں اور خواجگان چشت پرواری قربان ہونے میں پوری کردی۔ ایک بار محرم کے عشرہ کی رات کو شاہجہاں آباد سے سرشام ہی حضرت نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ کی طرف چل دیے۔ مگر اس سڑک سے نہیں جو دلی دروازہ سے سلطان جی کی طرف گئی ہے، بلکہ بٹیا کے غیر معمولی رستے سے جو شاہ عبد العزیز صاحب کی مہندیوں سے کھنڈروں اور ویرانوں میں سے اونچی نیچی ہوتی ہوئی گئی ہے۔ یہ کبھی کھنڈروں کا ایسا حصہ تھا، جس میں سے دن کے وقت گزرنا اکہ دوکہ کو دہلا دیتاتھا۔ اور اب کا کہنا ہی کیا ہے۔ یہ ویرانی نئی دہلی میں داخل ہوکر دولہن بن گئی ہے اور انجینئرنگ کے صیغہ کی مشاطہ نے اسے بنا سنوار کر گلستان ارم کا نمونہ کر دیا ہے۔الغرض مولانا تسلی صاحب چلتے چلتے اگر سین کی باؤلی تک پہنچ گئے۔ یہ باؤلی غدر سے لے کر اب تک اس بات میں بدنام ہے کہ یہاں جن اور پریاں رہتی ہیں۔ اور شہر کے رہنے والے ثقہ اور سچے لوگوں نے یہاں جن اور پریوں کے کرشمے دیکھے ہیں۔ وہ سیکڑوں اور ہزاروں ہیں، مگر میں نے انہیں کان دھر کر نہیں سنا، اور ان کا باور نہیں کیا۔ مگر مولانا تسلی صاحب کے ارشاد کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ ایسے باخدا لوگ جو کچھ کہتے ہیں، بجا کہتے ہیں۔(۲)مولوی تسلی صاحب اگر سین کی باؤلی کے پاس پہنچے تو اپنے تئیں چاندنی چوک میں پایا۔ دوکانیں ہر قسم کی چیزوں اور سامانوں سے آراستہ تھیں۔ آدمیوں کی ہجوم سے گہما گہمی، چہل پہل ہو رہی تھی۔ سقہ پانی پلارہے تھے، کٹورہ بجارہے تھے، آواز لگا رہے تھے۔ پیا سوسبیل ہے حسین کے نام کی۔ مولانا ہکا بکا چلے جاتے تھے، جو دو چوہداروں نے آگے بڑھ کر مولانا کو سلام کیا۔ اور ہاتھ باندھ کر کہا کہ حضور والا نے آپ کو یاد کیا ہے اور فرمایا ہے امام حسین علیہ السلام کی فاتحہ دیتے جائیے۔ مولوی صاحب نے کہا، کہاں؟ چوبداروں نے کہا۔ دیکھئے یہ سامنے بادشاہی محل سرائے ہے۔ اس کے اندر تشریف لے چلئے۔ مولانا نے چوبداروں کے کہنے سے نظر اٹھائی تو واقعی ایک دروازہ دکھائی دیا، جو شاہجہاں کے لال قلعہ کے دروازہ سے زیادہ اونچا اور عمدہ بنا ہوا تھا۔ مولانا نے چوبداروں سے کہامیں فقیر آدمی ہوں۔ مجھے بادشاہ کے ہاں آنے جانے سے کیا سروکار۔ مگر امام حسین علیہ السلام کے نام پر میں قربان ہوں۔ جہاں لے چلوگے چلوں گا۔چوبدار خوش ہو کے آگے ہولئے اور مولانا کو محل سرائے میں لے پہنچے۔ ڈیوڑھی طے کر کے جب محل سرائے میں پہنچے تو محل سرائے کی تیاری دیکھ کر حیران ہو گئے۔ صحن، باغ، باغ کے چمن اور ان کی بہار دل فریب تھی، پھولوں کی خوشبو نے دماغ معطر کر دیا۔ صحن چبوترہ پر پہنچے تو دیکھا صدر دالان میں ہزار آدمی سے زیادہ چپ بیٹھے ہیں اور سب سیاہ پوش ہیں۔ ایک شخص تاج پہنے بیچ دالان میں بیٹھا تھا۔ مولانا کو آتا دیکھ کر وہ اٹھا اور لب فرش آکر اور مولانا کے ہاتھ کو بوسہ دے کر آپ کو لے گیا اور آپ کو اپنے برابر سوزنی پر بٹھایا اور نوکروں سے کہا مٹھائی جلد حاضر کرو۔ اور نوکروں نے سیکڑوں سینیاں اور کشتیاں مٹھائی کی، جن پر تورہ پوش پڑے تھے، لاکر رکھ دیں۔تاجدار نے کہا، مولانا شہدائے کربلا اور آل مصطفیٰ کی فاتحہ اس شیرینی پر دیجئے۔ اگرچہ فاتحہ درو دہم لوگ بھی پڑھتے رہتے ہیں، مگر میرے ہاں کا دستور ہے کہ آج شب کو جو نیاز ہوتی ہے، اس پر آپ جیسے بزرگ انسان سے ہی فاتحہ پڑھواتے ہیں۔ مولوی تسلی صاحب نے کہا، کیا مضائقہ، یہ کہہ کر فاتحہ کو ہاتھ اٹھائے اور فاتحہ پڑھ کر اور اپنی کملی سنبھال کر اٹھ کھڑے ہوئے، اور بادشاہ بھی تعظیم کو کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا مولانا تبرک تو لیتے جائیے اور ایک بڑی چاندنی یا سفیدچادر میں دو من مٹھائی باندھ کر مولانا کی خدمت میں پیش کی گئی۔ مولانا نے کہا، نہ اس قدر تبرک کی ضرورت ہے، نہ میں گٹھر تبرک کا اٹھا کر لے جاسکوں گا۔ بادشاہ نے کہا یہ لڑکا لے جائےگا اور فوراً ہی ایک لڑکے نے جس کی عمر دس برس سے زیادہ نہ تھی، وہ گٹھر بغل میں مارا اور مولانا کے آگے آگے چلنے لگا۔چلتے چلتے جب مولانا حضرت کے آستانہ کی سڑک پر پہنچے، تو چونکہ شب شہادت تھی، بستی کے تعزیے گشت کے لئے اٹھے تھے، مشعلیں ساتھ تھیں، تاشے بج رہے تھے، جو مولوی صاحب کے ساتھی لڑ کے نے دومن کی گٹھری مولانا کے ہاتھ پر رکھ کر کہا، بس مجھے یہیں تک کا حکم تھا۔ اب میں آگے نہ جاؤں گا۔ یہ اپنا تبرک سنبھالئے۔ یہ کہہ کر لڑکا غائب ہو گیا۔ مولانا اس بوجھ کو کیا تھام سکتے تھے۔ تعزیوں کے ساتھ صاحب زادوں کو دیکھ کر مولانا نے کہا، دوڑو، دوڑو، نہیں تبرک کی بے ادبی ہوگی۔ صاحب زادے لوگ مولوی تسلی صاحب کی آواز پہچان کر بھاگے۔ مولانا دو قدم پر تو تھے ہی، جا پہنچے۔ کہا خیر ہے۔ مولانا صاحب نے فرمایا، ہاں خیر ہے۔ آج جنوں کے پھندے میں جا پھنسے تھے۔ یہ انہو ں دیا ہے۔ درگاہ شریف کے صاحب زادہ فرماتے تھے شیرینی بہت نفیس اور لطیف بنی ہوئی تھی۔ خدا مولانا کو جنت نصیب کرے۔ اب بھی آپ کی نظم میں یہ اثرہے کہ جس محفل میں پڑھی جاتی ہے، سن کر مسرور ہوتے ہیں اور سناٹا چھا جاتا ہے۔ مولانا کا دیوان قلمی شہر میں موجود ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86_%D9%88_%D9%BE%D8%B1%DB%8C"} {"title": "جن کو اس وقت میں اسلام کا دعویٰ ہے کمال", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "جن کو اس وقت میں اسلام کا دعویٰ ہے کمال\nغور سے دیکھو تو اے ذوقؔ ہے ان کا یہ حال\nجس طرح سے کہ ہنسا دینے کو بے دینوں کے\nنقل کرتا ہو مسلمان کی کافر نقال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%B9%D9%88%DB%8C%D9%B0_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84"} {"title": "جن کو ہر حالت میں خوش اور شادماں پاتا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جن کو ہر حالت میں خوش اور شادماں پاتا ہوں میں\nان کے گلشن میں بہار بے خزاں پاتا ہوں میں\n\nصبح کی منزل کا تاروں سے پتا کیا پوچھنا\nظلمت شب کارواں در کارواں پاتا ہوں میں\n\nچاند کے اس پار سورج سے ادھر تاروں سے دور\nرقص کرتے روز و شب لاکھوں جہاں پاتا ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D8%B1_%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں\nاس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں\n\nکیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھے\nجس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں\n\nمت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں\nتب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں\n\nکس کا ہے قماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارے\nدیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں\n\nگہ لوہو ٹپکتا ہے گہ لخت دل آنکھوں سے\nیا ٹکڑے جگر ہی کے ہر آن نکلتے ہیں\n\nکریے تو گلہ کس سے جیسی تھی ہمیں خواہش\nاب ویسے ہی یہ اپنے ارمان نکلتے ہیں\n\nجاگہ سے بھی جاتے ہو منہ سے بھی خشن ہو کر\nوے حرف نہیں ہیں جو شایان نکلتے ہیں\n\nسو کاہے کو اپنی تو جوگی کی سی پھیری ہے\nبرسوں میں کبھو ایدھر ہم آن نکلتے ہیں\n\nان آئینہ رویوں کے کیا میرؔ بھی عاشق ہیں\nجب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جنازہ دھوم سے اس عاشق جانباز کا نکلے", "poet_page": "مصنف:رنجور عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنازہ دھوم سے اس عاشق جانباز کا نکلے\nتماشے کو عجب کیا وہ بت دمباز آ نکلے\n\nاگر دیوانہ تیرا جانب کہسار جا نکلے\nقبور وامق و مجنوں سے شور مرحبا نکلے\n\nابھی طفلی ہی میں وہ بت نمونہ ہے قیامت کا\nجوانی میں نہیں معلوم کیا نام خدا نکلے\n\nکہاں وہ سرد مہری تھی کہاں یہ گرم جوشی ہے\nعجب کیا اس کرم میں بھی کوئی طرز جفا نکلے\n\nمرا افسانہ ہے مجذوب کی بڑ گر کوئی ڈھونڈے\nنہ ظاہر ہو خبر اس کی نہ اس کا مبتدا نکلے\n\nوہ میرے لاشے پر بولے نظر یوں پھیر کر مجھ سے\nچلے حوروں سے تم ملنے نہایت بے وفا نکلے\n\nہمارا دل ہماری آنکھ دونوں ان کے مسکن ہیں\nکبھی اس گھر میں جا دھمکے کبھی اس گھر میں آ نکلے\n\nپڑا کس کشمکش میں یار کے گھر رات میں جا کر\nنہ اٹھ کر مدعی جائے نہ میرا مدعا نکلے\n\nتڑپتا ہوں بجھا دے پیاس میری آب خنجر سے\nکہ میرے دل سے اے قاتل ترے حق میں دعا نکلے\n\nدکھا کر زہر کی شیشی کہا رنجورؔ سے اس نے\nعجب کیا تیری بیماری کی یہ حکمی دوا نکلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%B2%DB%81_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A8%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "جنبش ابروئے قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی", "poet_page": "مصنف:نسیم میسوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنبش ابروئے قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی\nبلبل جاں مری بسمل کبھی ایسی تو نہ تھی\n\nوعدۂ وصل کیا کس نے دیا دم کس نے\nبے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی\n\nاے شہ حسن رقیب آپ کا قادر نکلا\nفوج عشاق کی بیدل کبھی ایسی تو نہ تھی\n\nمہرباں آئے کدھر آج کدھر نکلا چاند\nرشک افلاک یہ محفل کبھی ایسی تو نہ تھی\n\nوہ مہ نو مگر آیا کسی مہتابی پر\nچاندنی اے مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی\n\nاپنے کاشانے سے کیوں غیر کے گھر ہو آئے\nماہ رو آپ کی منزل کبھی ایسی تو نہ تھی\n\nکس طرح وصل ہوا اس گل زیبا سے نسیمؔ\nخوش نصیبی مجھے حاصل کبھی ایسی تو نہ تھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D8%A8%D8%B4_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "جنبش دل نہیں بے جا تو کدھر بھولا ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنبش دل نہیں بے جا تو کدھر بھولا ہے\nکوئی لڑکا اسے گہوارہ سمجھ جھولا ہے\n\nخون تو نے جو بہایا ہے سیہ بختوں کا\nتیرے کوچے میں عجب شام و شفق پھولا ہے\n\nخوب رندوں نے اڑائے ہیں مزے دنیا کے\nہیز کو بکر ہے مردوں کی وہ مدخولا ہے\n\nبہتر ہے عشق مجازی تجھے بیکاری سے\nجب تلک عشق حقیقی ہو یہ مشغولا ہے\n\nپائے ہمت تو مرا لنگ نہیں ہے حاتمؔ\nگو مرے کام کے تئیں دست فلک لولا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D8%A8%D8%B4_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جنبش میں زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنبش میں زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف\nگردش میں چشم سحر فن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nعارض پہ زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف\nہیں آج دو سورج گہن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nمطلب اشاروں سے کہا میں ان اشاروں کے فدا\nآنکھیں بھی ہیں گرم سخن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nجس دم سکندر مر گیا حال تہی دستی کھلا\nتھے ہاتھ بیرون کفن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nجائے گا دو ہو کر یہ دل آدھا ادھر آدھا ادھر\nکھینچے گی زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nغیروں سے کھیل کھیلو نہ تم کر دیں گے رسوا حشر میں\nہیں دو فرشتے جان من ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nعارض پہ سمٹے خودبخود زلفوں کے گھونگر والے بال\nہے نافۂ مشک ختن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nشیریں کا خواہاں حشر میں خسرو بھی ہے فرہاد بھی\nکھینچیں گے دونوں پیرہن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nگھونگٹ جو گالوں سے اٹھا تار نظارہ جل گیا\nسورج تھے دو جلوہ فگن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nقاتل ادھر جراح ادھر میں نیم بسمل خاک پر\nاک تیر کش اک تیر زن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nآنکھوں کے اندر جائے غیر آنکھوں کے اوپر ہے نقاب\nخلوت میں ہیں دو انجمن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nوہ ہاتھا پائی ہم نے کی بستر پہ ٹوٹے اور گرے\nبازو کے دونوں نورتن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nپیش خدا روز جزا میں بھی ہوں چپ قاتل بھی چپ\nگویا کھڑے ہیں بے دہن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nرخسار پر خط کا نشاں گل پر ہوا سبزہ عیاں\nہیں دونوں عارض دو چمن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nکافر بھی ہوں مومن بھی ہوں جلنا بھی ہے گڑنا بھی ہے\nکھینچیں گے شیخ و برہمن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nگھبرا نہ جائیں دل جگر ہے بند تربت میں ہوا\nپنکھے ہوں دو نزد کفن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nیا رب اٹھوں جب قبر سے دو بت رہیں ہم رہ مرے\nغارت گر ہند و دکن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nکہتے ہیں انمول اس کو سب کہتے ہیں کچھ گول اس کو سب\nکیا چیز ہے اے جان من ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nجنت کی حوریں آئیں ہیں مائلؔ دبانے میرے پاؤں\nبیٹھی ہیں نزدیک کفن ایک اس طرف ایک اس طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D8%A8%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%BE%D8%B1_%D8%B4%DA%A9%D9%86_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "جنت الحمقاء", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "تمہید\n\nمضمون مفصلہ ذیل ایک مرقع خاص کی تصویر کا خاکہ ہے، جس کی صورت اصلی یہ ہے کہ ہم اور ابنائے جنس ہمارے کچھ اپنی غلط فہمی سے اور کچھ کوتاہ اندیشی سے اعمال قبیحہ یا حرکات ناپسندیدہ میں مبتلا ہیں اور باوجود کہ اس کے حال و مآل کی قباحتوں سے آگاہ ہیں بلکہ اور ہم صورتوں کو ان کے خمیازے بھرتے دیکھتے ہیں پھر بھی کنارہ کش نہیں ہوتے۔ تعجب یہ ہے کہ جب اپنی جگہ بیٹھتے ہیں تو اس ارتکاب کو داخل حسن سمجھ کر اس میں افراط اور زیادتی کرنی سرمایہ فخر سمجھتے ہیں۔ ایک شراب خوار آدمی یاروں میں بیٹھ کر فخریہ بیان کرتا ہے کہ میں کئی کئی بوتلیں برابر اڑا جاتا ہوں اور حواس میں بالکل فرق نہیں آتا۔ دوسرا اس سے بڑھ کر اچھلتا ہے کہ میں پانی تک نہیں ملاتا، مگر آواز میں اصلاً تغیر نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایک عیاش تماش بین اپنی روسیاہیوں کو کہتا ہے اور نہیں شرماتا، دوسرا اس میں اپنی شدتیں اور افراطیں بیان کرتا ہے اور خوشی سے رنگ رخ چمکاتا ہے۔ ایک دغا باز منشی یا دیوان غبن کرکے آقا کے گھر کو برباد اور اپنا گھر آباد کرتا ہے اور جو جو دغل فصل حساب میں کئے، انہیں مسائل افلاطون کی طرح فخریہ سمجھتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جیسا کرتے ہیں ویسا بھرتے ہیں مگر خدا جانے وہ کیا شئے ہے جس نے ایسا پردہ غفلت آنکھوں پر ڈال رکھا ہے کہ نہ وہ برائیاں معلوم ہوتی ہیں نہ ان سے باز آتے ہیں۔ یہی کوتاہ اندیشی کبھی ایک غلط فہمی کے لباس میں ظہور پاتی ہے یعنی اکثر اشخاص خاص خاص امور میں اپنے کمال پر مفتخر اور نازاں ہوتے ہیں۔ ہرچند امور مذکور بجائے خود قابل فخر و ناز کے ہیں مگر بشرطیکہ ان میں کمال نصیب ہو۔ فی الحقیقت اسے غلط فہمی کہنا چاہئے جوکہ نتیجہ حماقت اور ایک قسم کی کوتاہ اندیشی کا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ بھی ابتدا میں نا واقفیت عوام کے سبب سے رونق بازار پاتے ہیں، مگر چند درجے طے کرکے گر پڑتے ہیں اور سخت ندامت اٹھاتے ہیں۔ افسوس کہ زمانہ اس قسم کے گناہوں سے خالی نہیں بلکہ روز بروز حال ابتر نظر آ رہا ہے۔ اس لئے یہ مضمون ابنائے جنس کی عبرت کے لئے ایک استعارہ اور کنایہ کے رنگ میں لکھا جاتا ہے۔ ہرچند یہ رنگ صورت مضمون کے منہ پر ایک باریک نقاب ہے لیکن اگر اہل نظر چند ساعت کے لیے نظر غور کو تکلیف دیں گے تویہ استعارے اور کنایے صراحت اور وضاحت کے پہلو میں رکھے ہوئے پائیں گے۔ دل تیرا آپ پردہ ہے دیدار کے لئے ورنہ کوئی نقاب نہیں یار کے لئے دنیا میں اکثر قباحتیں اور حماقتیں ایسی ہیں کہ ہم سب ان میں آلودہ ہیں، مگر معلوم نہیں ہوتیں۔ درحقیقت وہ ہماری رسائی فہم سے بہت اونچے طاق پر رکھی ہیں اور کچھ ایسے ڈھب سے سجائی ہوئی ہیں کہ ہربدی عین خوبی نظر آتی ہے۔ لطف یہ ہے کہ وہ آلودگی ہمیں کچھ بری بھی نہیں معلوم ہوتی بلکہ بجائے اس کے رفع کرنے یا چھپانے کے خود دکھاتے ہیں اور آرزوئیں کرتے ہیں کہ اپنی قباحتوں میں ترقیاں کریں اورانہیں میں ہماری قدر دانیاں ہوں۔ چنانچہ سیکڑوں واہیات، ہزاروں لغو خیالات، نئے مسخراپن، ظرافتوں کے چمن ہیں کہ وہی ہماری تفریح طبع اور خوش دلی کا سرمایہ ہو رہے ہیں اور یہ رنگینیاں ہمیں ایسے ایسے رنگوں میں رنگین کرکے ابنائے جنس کے سامنے جلوہ دیتی ہیں کہ ہم بھی انہیں میں خلعت افتخار لیتے ہیں۔ اس فخر بے ہودہ اور خیال بے بنیاد کی خوشی میں خدا جانے کیا لطف دیکھا ہے کہ سیانے دنیاداروں نے اس کی دل فریبیوں کا اشارہ کرنے کے لئے ایک لطیف اصطلاح چھانٹی ہے یعنی جنت الحمقاء۔ لفظ آخر میں شاید لوگوں کو کچھ غلطی کا خیال ہو اور جو کچھ میں نے کہا، انہیں اس کی نسبت کچھ اور وضع دکھائی دیتی ہو لیکن مجھے اب اس کا امتحان کرنا بے جا ہے کیونکہ میں جو اس وقت آنکھیں مل رہا ہوں تو یہی خواب دیکھ رہا تھا۔ ابھی سوتے سوتے ایسا معلوم ہوا گویا کسی نے مجھے ایک پہاڑ پر پھینک دیا ہے۔ مگر عجیب پہاڑ ہے کہ سبزہ سے لہلہاتا، پھولوں سے چہچہاتا، جابجا پانی لہراتا ہے۔ چڑھائی اس کی ہمت بلندکانمونہ ہے۔ مگر باوجود اس کے اعتدال پر ہے کہ دم نہیں چڑھنے دیتی بلکہ ساعت بہ ساعت سینہ کو قوت حاصل ہوتی ہے۔ میں ادھر ادھر پھرنے لگا۔ اتنے میں ایک پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو میدان فراخ پایا اور دور سے نظر آیا کہ ایک جگہ آب رواں میں پاؤں لٹکائے کوئی شہزادی بیٹھی ہے کہ زیور اور لباس سے طاؤس مرصع کا عالم ہے۔ مگر آنکھ سے بھینگی ہے اور اس بھینگی آنکھ پر ایک رنگین عینک بھی لگائے ہے کہ اسی سبب سے اسے کوئی شئے حالت اصلی پر نظر نہیں آتی۔ چنانچہ معلوم ہوا کہ ملکہ غلط فہمی یہی ہے اور کل اہل عالم کی غلط فہمی گویا اسی کی نگاہ پر منحصر ہے۔ برابر اس کے ایک اور عجوبہ روزگار نظر آئی کہ اس کے بے انتہا سر ہیں اور دھڑ ایک۔ جس بات کی پسند ناپسند پر سر ہلاتی ہے، تمام جہان کے سراسی طرح ہل جاتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ پسند عام اسی کا نام ہے۔ ان میں سے ایک غلط نمائی کرتی ہے اور دوسری دل ربائی کرکے جس شئے پر چاہتی ہے، سب کو شیفتہ و فریفتہ کر لیتی ہے۔ یہ دونوں رات دن جادوگری میں مصروف ہیں اور تسخیر خلائق کے عمل میں شہرہ آفاق ہو گئی ہیں۔ لوگوں کایہ حال دیکھا کہ چاروں طرف سے انبوہ د رانبوہ امڈ ے چلے آتے ہیں اور اگرچہ آمد کے رستے بھی دور ہیں مگر ہر رستہ انہی دونوں کی طرف جاتا ہے۔ آنے والوں میں بعض آدمی جو خود آرائی کے رنگ سے رخ چمکائے ہوئے اور زیبائی کے روغن سے سر چکنائے ہوئے تھے، انہیں کچھ ہدایت یا اشارت کی حاجت نہ تھی، خود بخود غلط فہمی کی طرف چلے جاتے تھے اور وہ عالم فریب ایک ایک شخص کو اس کی طبیعت کے موافق اسی طرح لبھاتی تھی کہ لٹو ہو جاتا تھا۔ بعد ازاں کچھ ایسی کل مروڑتی تھی کہ خودپسندِ عام کے پھندے میں جاکر گلا رکھ دیتا تھا۔ غرض کہ اسی طرح پھر تے پھرتے ہم ایک میدان جانفرا میں جا نکلے۔ وہاں دیکھیں تو پسندِ عام چہل قدمی کر رہی ہے اور بہت سے لوگ جو ہم سے بھی پہلے وہاں پہنچے ہوئے تھے انہیں پھسلا رہی ہے۔ آواز اس کی ایسی رسیلی تھی کہ دل مست ہوئے جاتے تھے۔ جب بات کرتی تھی تو منہ سے پھول جھڑتے تھے۔ بولتی تھی تو سانس کے ساتھ خوشبو کی لپٹیں آتی تھیں۔ لطف یہ تھا جس شخص سے بات کرتی تھی، جدا زبان اور جداطرز بیان تھا اور جو سنتا تھا، یہی خیال کر رہا تھا کہ وہ جوہر بے مثل جو خاص میری ذات باکمال میں قابل قدر ہے، اسی کی بابت یہ گفتگو ہو رہی ہے۔ بس گویا اس جنت بے زوال کا فرمان ملا جس کے انعام کا استحقاق کلی مجھ میں موجود ہے۔ غرض اسی حال میں ہم سب کھچے کھچے اس کے پیچھے چلے جاتے تھے اور مسافت راہ میں یا تو اپنی خوبیوں کی خود آپس میں تعریف کرتے جاتے تھے یا اپنی خیالی خوبیوں پر آپ ہی اتراتے تھے، یا جنہیں اپنی وضع کا نہ پاتے ان کی ہجو کرتے جاتے تھے۔ کچھ اپنے اپنے مدارج کمال پر آپس میں لڑتے جھگڑتے چلے جاتے تھے۔ غرض اسی عالم میں چلتے چلتے ایک باغ نظر آیا جو کہ اسم بامسمی اندھیریا باغ تھا۔ اس کے دروازے پر دیکھیں تو غلط فہمی بیٹھی ہے۔ مگرجس مکان میں وہ بیٹھی تھی اسے عمدا ًایسی حکمت عملی سے بنایا تھا کہ صورت اس کی دھندلی سی نظر آتی تھی۔ اس نے کچھ سفیدسا لباس پہنا ہوا تھا کہ جس سے دیکھنے والوں کو ملکہ صداقت کا دھوکہ ہوتا تھا اور چونکہ شہزادی صداقت پری ایک مشعل بھی ساتھ رکھا کرتی ہے، جس سے اپنے عاشقوں کو حسن خدا آفریں کی خوبیوں کا جلوہ دکھاتی تھی، اس نے اس کے جواب میں داہنے ہاتھ پر شیشہ جادو اور بائیں ہاتھ پر سحرسامری کی چھڑی رکھی تھی۔ انہی ٹونے ٹوٹکوں سے دلوں کو لبھاتی تھی اور دھوکے دغا سے سب کو پر چاتی تھی۔ چنانچہ کبھی کبھی بڑی تمکنت سے ہاتھ بڑھا کر اس چھڑی کو اٹھاتی اور منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتی تھی۔ اس کے علاوہ نرگس جادو بہت ناز وانداز کے پھول اور نمود و نمائش کی کلیاں گودیں بھرے کھڑی تھی، انہیں اہل اشتیاق کے سامنے بکھیرتی جاتی تھی۔\n\nدفعتاً عصا کا اشارہ آسمان کی طرف ہوا اور ساتھ ہی اس کے سب کی نگاہیں اوپر اٹھ گئیں۔ ایک نیا قطعہ آسمان کا ایسا صاف و مصفا دکھائی دیا جیسے صبح بہار میں فلک فیروزی کا رنگ بکھرا ہوا ہو۔ اسی فضائے دلکشا میں ملکہ خام خیالی کا محل نظر آیاکہ آسمان سے باتیں کرتا تھا مگر نہ معلوم ہوتا تھا کہ کون سی بنیاد ہے جس پر یہ قائم ہے۔ فقط پیچ درپیچ بادلوں کاایک زنجیرہ تھا کہ جادو کے زور سے ادھر کھڑا تھا، اس کی چڑھائی کا راستہ جو ہمارے زیر قدم تھا، قوس قزح کی طرح خوش رنگ و خوشنما تھا۔ نسیم جاں بخش جو ادھر ادھر سبزہ پر لوٹتی تھی، ہر جھونکے میں عقل وحواس پر جادو کی پڑیاں مارتی تھی۔ تمام دیواریں طلسمات کے رنگ سے دم میں سنہری تھیں اور دم میں روپہلی۔ سب سے نیچے کے درجے کے ستون اگرچہ باغ ارم والی تراش پر اتارے تھے، مگر برف کے تراشے تھے۔ چھت کا گنبد نہایت عالیشان تھا۔ لیکن برج کی جگہ ایک شیشہ کا بلبلہ دھرا تھا اور اس کے کلس پر طائر خیال کا ہما پر پھیلائے تھرتھرا رہا تھا۔ مسافروں نے وہاں پہنچ کر نہ کوئی دربان پایا نہ کسی کا انتظار کیا۔ جو آیا اپنے جوہر قابلیت کو پروانہ اجازت سمجھے ہوئے بے دھڑک اندر داخل ہو گیا۔ دربار کے کمرے میں پہنچے تو دیکھتے ہیں کہ بہت سی نمودِ بےبود صورتیں ہیں کہ ہم ہی میں ملی جلی اہتمام کرتی پھرتی ہیں۔ اور اس انبوہ بے تمیزی میں اپنے اپنے خیالات کے بموجب ایک ایک درجے قائم کرکے صفیں ترتیب دیتی پھرتی ہیں۔ مدارج عزت بھی وہاں روشن ہوتے ہیں، مگر ساعت بہ ساعت دھوپ کی طرح ڈھلتے جاتے ہیں اور لوگ تھے کہ بتاشے کی طرح بیٹھے جاتے تھے۔ استحقاق پوچھو تو دادا پر دادا کے وقت کا ایک پھٹا پرانا سا چغہ تھا، اس کے سوا کچھ نہیں۔ ایک طرف لاف گزاف تھی جس نے خود اپنی ذات خوش صفات کا ایک قصیدہ بنا رکھا تھا۔ آپ ہی اس اعمال نامے کو پڑھتی تھی اور خوش ہوتی تھی۔ اسے اپنے سوا دوسرا ذکر نہ تھا۔ اکڑ تکڑ تھی کہ پنجوں کے بل چلتی تھی اور اینٹھتی پھرتی تھی۔ خودپرستی ایک طرف آئینہ کے سامنے کھڑی تھی۔ آپ ہی اپنے تئیں دیکھتی تھی اور پھولی نہ سماتی تھی۔ کمرے کے صدر میں تخت شاہانہ اور آگے ایک شامیانہ اس شان و شوکت سے سجا ہوا تھا کہ جس قدر سجاوٹ کے گمان میں گنجائش اور حوصلہ آرائش میں وسعت تھی، سب اس میں خرچ ہو گئی۔ تخت پر ہالہ ماہ کا چتر، اس کے نیچے ملکہ خام خیالی مہتاب آتش بازی کے دو پر لگائے پڑی بنی بیٹھی تھی۔ جو اس کے خیال پرست تھے وہ اسے پری حسن آفریں کہتے تھے اور زہرہ ثانی اعتقادکرتے تھے۔ ایک نوجوان تخت کے پہلو میں کھڑا تھا اور ہر ایک کو سامنے لاکر سجدے کرواتا تھا۔ معلوم ہوا کہ وہ اس کا رشید بیٹا ہے اور شہزادہ خودپرست اس کا نام ہے۔ اس کی خودپسندی اور خودبینی کایہ عالم تھا کہ اپنی نظر اپنے ہی بیچ میں غرق ہوئی جاتی تھی۔ ادھر ادھر کی شئے اسے اصلاً نظر نہ آتی تھی۔ اس پر بھی لوگوں کایہ حال تھا کہ ملکہ سے زیادہ اس کی طرف جھکتے تھے۔ ایک گلاب پاش اس کے ہاتھ میں تھا، بقدر حیثیت ہر شخص کے سر پر چھڑک دیتا تھا کہ خودپسندی اور بلندنظری کے خمار سے دماغ ان کے آسمان پر پہنچ جاتے تھے۔ تماشہ یہ تھا کہ شہزادہ جو جو ہتھیار فتوحات کے لئے کام میں لاتا تھا، وہ انہیں لوگوں سے لئے تھے جن کو شکار کرتا تھا۔ چنانچہ جس بہادر کو اپنے تیر کا نشانہ کرتا تھا اسی کے سر کی کلغی نوچ کر اپنے تیر کی پرگیری لگاتا تھا۔ جس نیزے سے اہل علم پروار کرتا تھا وہ انہیں کے لکھنے کا قلم تھا۔ جس تلوار سے دولت مندوں کو دو پارہ کرتا تھا اس کے قبضہ پر انہیں کے خزانوں سے لے کر سونا چڑھاتا تھا۔ ناظمان ملک کے لئے دام تزویر بناتا تھا کہ پھندے اس کے انہیں کی بندش تدبیر سے اڑائے ہوئے تھے۔ صاحب جمالوں کے رخساروں سے گرمی حسن لیتا تھا اور عاشقوں کے ساتھ اسی میں انہیں بھی گرماتا تھا۔ یہاں تک کہ حسن کے پھول خود بخود کمہلا کر رہ جاتے تھے۔ فصیحوں کی زبانوں سے بجلی کی تڑپ نکالتا تھا کہ اپنی آگ میں آپ ہی جل کر خاک ہو جاتے تھے۔ تخت کے نیچے تین چڑیلیں پریوں کا بھیس بھرے حاضرتھیں۔ اول تو خوشامد تھی کہ بڑی خوش ادائی سے رنگ آمیزی کا خول سنبھالے کھڑی تھی۔ دوسری ظاہر داری آئینہ سامنے رکھے اپنے فن کی مشق کر رہی تھی۔ بعداس کے خوش رواجی تھی جسے اب تک ہم بھیڑ چال کہتے تھے۔ مگر اسے دربار سے رعنائی اور خوشنمائی کا خطاب ملا تھا۔ اس کایہ عالم تھا کہ ہرنگاہ میں گرگٹ کی طرح نیار نگ بدلتی تھی اور ہزاروں شکاروں کو ایک جال میں گھسیٹتی تھی۔ غرض کہ شہزادہ خودپرست، شمشیر کے زور اور تدبیر کی لاگ سے برابر فتوحات حاصل کئے جاتا ہے اور یہ تینوں دولت خواہ اس کے استحکام اور محافظت میں برابر مصروف تھے۔ ہرکام کا مہتمم اپنا حق صدق دل سے ادا کر رہا تھا۔ چنانچہ خوشامد جس شئے پر ضرورت دیکھتی تھی، نئے سے نیا رنگ چڑھا دیتی تھی کہ ہردل کی آنکھ کو خوش آتا تھا۔ ظاہرداری ایسے ایسے ڈھنگ سے نمائش دیتی تھی کہ کیسی ہی بدنما شئے ہو خوشنما ہو جاتی تھی۔ خوش رواجی کا یہ عالم تھا کہ موٹے موٹے عیب ہوتے انہیں ڈھانک دیتی بلکہ ان پر ایسی خوبیاں چپکاتی کہ جنہیں اس سے کچھ لگاؤ بھی نہ ہوتا۔ میں ان حالات کو نگاہ غور سے دیکھ رہا تھا جوایک آواز دردناک کان میں آئی۔ گویا کوئی کہتا ہے، ’’ہائے آدم زاد، ہائے تیری غفلت! خودرائی سے ہدایت پاتا ہے، غلط فہمی کے دام میں آ جاتا ہے، خودپسندی کی اشتعالک سے چمک اٹھتا ہے، خام خیالی کے قدموں پرچل کر تعلیم پاتا ہے، یہاں تک کہ مفلسی اور خواری کی زنجیروں میں گرفتار ہو جاتا ہے۔‘‘ یہ کلمے ابھی زبان بہ زبان پھیلنے نہ پائے تھے جو دفعتاً ایسی ہلچل پڑی کہ تمام انبوہ تہہ و بالا ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد ایک طرف سے رستہ کھلتا معلوم ہوا۔ دیکھوں تو ایک بڈھا نورانی صورت، معقول وضع ہے جس کے چہرے پر سنجیدگی اور متانت برستی تھی۔ اسے گرفتار کئے لاتے ہیں اور جو کلام عبرت انگیز نصیحتاً اس نے زبان سے نکالا تھا اس کی سزا دینے کے لئے جاتے ہیں کیونکہ وہ ان کے آئین حکومت میں سراسر باعث خرابی تھا۔ یہ بھی معلوم ہواکہ اس نے جو کچھ کہا تھا فقط اپنے بری الذمہ ہونے کو کہا تھا۔ اس کا نام ناصح دانش تھا۔ مگر لوگ ایسے بپھرے ہوئے تھے کہ اس بے چارے کی بات سننی بھی گوارہ نہ تھی۔ بلکہ اسے ایسی خواری اور زاری میں دیکھ کر خام خیالی تو مسکراتی تھی، خودپسندی تیوری چڑھاتی تھی، خوشامد اسے ذرا راست باز سمجھتی تھی، اس نے اتنا لحاظ کیا کہ برقع اوڑھ کر برابر سے نکل گئی۔ ظاہر داری نے اپنا پنکھا اٹھا کر اس کی اوٹ میں منہ چڑا دیا۔ کسی نے اس بے چارے کا نام حاسد رکھا، کسی نے عیب جو کا خطاب دیا۔ رواج نے دھوم مچادی کہ بداطوار، سلطنت کے برخلاف بغاوت پھیلانی چاہتاہے۔ غرض اس پیر دیرینہ سال نے ہر طرف سے ذلت ہی ذلت اٹھائی اور اس جرم میں کہ ایسے ایسے لائق و فائق معززوں کے حق میں گستاخی کی، چاروں طرف سے دھکے کھائے بلکہ تحقیق خبر لگی کہ اگرچہ اس وقت نکالا گیا ہے مگر حکم ہے کہ آئندہ اگر کہیں صورت دکھائی تو اس کے حق میں بہت برا ہوگا۔ بڈھے بے چارے نے جو کچھ کہا اس میں سے بہت کچھ تو میں آنکھوں سے دیکھ چکا تھا۔ باقی باتوں کے لئے سوچ رہا تھا کہ دیکھئے کس رنگ سے پوری ہوں۔ اتنے میں باہر کی طرف سے ایک غل اٹھا اور ظلم وستم اور بے انصافیاں چڑیوں کے بَرَن میں اسی طرح اڑنے لگیں، گویا آندھی آئی۔ انہوں نے اس کثرت سے ہجوم کیا کہ دروازہ تیرہ و تار ہو گیا۔ بیوقوفی اور بے اعتباری نمودار ہوئیں۔ تکلیف، شرم، رسوائی، حقارت، مفلسی سب آگے پیچھے حاضر ہوئیں۔ ان کے آتے ہی ادھرتو خام خیالی جو سونے کی چڑیا بنی بیٹھی تھی، ادھر شہزادہ خود پرست ان کے ساتھ ساری پریاں دم کے دم میں ہوا ہو گئیں۔ ادھر تمام معتقد اور ہوا خواہ ان کے بھاگ بھاگ کر کونے گوشے اور سوراخوں میں گھس گئے۔ مگرایک شخص میرے پاس کھڑا تھا۔ اسے کہیں سے دوربین ہاتھ آ گئی۔ چنانچہ اس نے دیکھا اور دفعتا ً بولا کہ وہ گرفتاری کا حکم ہوا، وہ سو آدمیوں کا غول جیل خانے کو چلا، دو ہزار آدمی تہہ خانہ میں قید ہونے کو چلے، وہ سب اندھیری کو ٹھریوں میں بند ہو گئے۔ مراد اس قید سے زندگی کے عذاب، دنیا کے دھندے، مکر و فریب کے جھگڑے تھے۔ جن مکانوں میں وہ لوگ ڈالے گئے، ان کی خرابی دیکھنی چاہو تو دلہائے پریشاں کی بدحالی کو دیکھ لو۔ وہ لوگ اگرچہ یہاں ہائے وائے بہت سی کرتے تھے، مگر نکلنے کے رستے کی طرف کبھی خیال نہ کرتے تھے۔ چنانچہ اس شخص نے ناک چڑھا کر کہا کہ یہ کم بخت اپنی حماقت اور شامت اعمال سے آپ یہاں پڑے ہیں۔ نہیں تو نہ یہ مکان ان کی شان کے قابل ہیں نہ یہ اخراجات ان کے سامان کے لئے کافی ہیں۔ خیر ہم نے ایسے تماشے بہت دیکھے ہیں۔ اب یہ ہلچل ہو چکے گی تو پھر وہی بہار کا سماں ہوگا۔ جب میں نے یہ سنا تو اس کا رخانہ کی ناپائداری نے میرا دل بے زار کر دیا۔ میرے رفیق نے جو خبر دی تھی، میں نے اس کا شکریہ ادا کیا، مگر جب دیکھا کہ بغیر گرفتار ہوئے یہاں سے نہ سر کےگا تو میں چپکے سے دروازہ کی طرف کھسکا اور چند اور شخصوں میں جا ملا کہ جو صداقت اور واقعیت کو مانتے تو نہ تھے، مگران شامت اعمال کے گرفتاروں کو دیکھ کر ڈر گئے تھے۔ جب ہم دروازے کی دہلیز پر پہنچے تو دل پر صدمہ عظیم گزرا۔ یعنی وہاں آکرغلط نمائی کا پردہ آنکھوں سے اٹھ گیا۔ تب معلوم ہوا کہ اس محل کی بنیاد بالکل نہیں، معلق ہوا میں کھڑا ہوا ہے۔ اول تو ہم نے سوائے اس کے چارہ نہ دیکھا کہ موت کا کنواں ہے، آنکھیں بند کرو اور کود پڑو۔ مگر اس پہلی ہوس بے حاصل پر دل کو ہزار لعنت ملامت کی جس نے اس عذاب میں گرفتار کیا۔ اب مقام تعجب یہ ہے کہ جس قدر یہ سب اپنے اپنے دل میں غور کرتے جاتے تھے، اتنا ہی وہ محل ہمیں نیچے اتارتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ جو حالت ہم اپنے مناسب حال دیکھتے تھے اسی انداز پر آکر ٹھہر گیا۔ رفتہ رفتہ تھوڑی دیر میں جہاں ہم کھڑے تھے وہ مقام زمین سے لگ گیا۔ ہم سب نے نکل کر اپنا اپنا راستہ لیا اور محل آنکھوں سے غائب ہو گیا۔ اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ جو لوگ اس میں رہے ان پر کیا گزری اور انہیں ہمارے اتر جانے کی خبر بھی ہوئی یا نہیں۔ میں تو جانتا ہوں کہ نہیں ہوئی۔ خیر جو ہوا، سوہوا۔ اس سوچ میں دفعتاً میری آنکھ کھل گئی۔ خواب تو خواب و خیال ہو گیا، مگرنصیحت ہوئی کہ اب خام خیالی کے اشاروں پر کبھی نہ چلوں گا۔ اس راہ خطرناک میں پھر قدم نہ دھروں گا۔ حاشیہ(۱) بات تو سچ ہے، خام خیالی ہی سے خودپرستی پیدا ہوتی ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D8%AA_%D8%A7%D9%84%D8%AD%D9%85%D9%82%D8%A7%D8%A1"} {"title": "جنت کا سماں دکھا دیا ہے مجھ کو", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جنت کا سماں دکھا دیا ہے مجھ کو\nکونین کا غم بھلا دیا ہے مجھ کو\nکچھ ہوش نہیں کہ ہوں میں کس عالم میں\nساقی نے یہ کیا پلا دیا ہے مجھ کو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "جنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں\nوے روگ اپنے جی کو ناحق بساہتے ہیں\n\nاس میکدے میں ہم بھی مدت سے ہیں ولیکن\nخمیازہ کھینچتے ہیں ہر دم جماہتے ہیں\n\nناموس دوستی سے گردن بندھی ہے اپنی\nجیتے ہیں جب تلک ہم تب تک نباہتے ہیں\n\nسہل اس قدر نہیں ہے مشکل پسندی میری\nجو تجھ کو دیکھتے ہیں مجھ کو سراہتے ہیں\n\nوے دن گئے کہ راتیں نالوں سے کاٹتے تھے\nبے ڈول میرؔ صاحب اب کچھ کراہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D8%B3_%DA%AF%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%84%D9%88%DA%AF_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جنم اسٹمی", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "وزیر چند نے پوچھا ظفر علی خاں سے\nشری کرشن سے کیا تم کو بھی ارادت ہے\n\nکہا یہ اس نے وہ تھے اپنے وقت کے ہادی\nاسی لیے ادب ان کا مری سعادت ہے\n\nفساد سے انہیں نفرت تھی جو ہے مجھ کو بھی\nاور اس پہ دے رہی فطرت مری شہادت ہے\n\nہے اس وطن میں اک ایسا گروہ بھی موجود\nشری کرشن کی جو کر رہا عبادت ہے\n\nمگر فساد ہے اس کی سرشت میں داخل\nبچارے کیا کریں پڑ ہی چکی یہ عادت ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D9%85_%D8%A7%D8%B3%D9%B9%D9%85%DB%8C"} {"title": "جنم قیدی", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "اے ری سکھی سیاں ارہر میں جھانکیں\n\nشام کا سہانا وقت تھا۔ خوبصورت گدھے ریشمی کھیتوں میں کلیلیں کر رہے تھے۔ ان کی سریلی آوازوں کا پر کیف نغمہ ہوا میں ایک ارتعاش اور ترنم پیدا کر رہا تھا۔ گوبر اور سڑے ہوئے پتوں کی بھینی بھینی بدبو سے ہوا میں گرمی سی تھی۔ کیا ہی خوبصورت منظر تھا۔ ادھر کوڑے کے ڈھیر لگے ہیں۔ ادھر گوبر کے اونچے اونچے ٹیلے پہاڑوں کا منہ چڑا رہے ہیں۔ سامنے کچھ خوبصورت بھینسیں کیچڑ کے ملائم اوور کوٹ پہنے ٹہل رہی ہیں۔ ان کے بچے بھی کیچڑ کی خوبصورت جا کٹیں اور شلواریں پہنے ٹہل رہے ہیں۔ کیا ہی پر فضا اور روح پرور سماں ہے۔\n\nسامنے ارہر کے سرسبز کھیت تھے۔ میری گاڑی کے پہئے کی سی خوبصورت آنکھیں اس مخملی کیچڑ کی طرف متوجہ تھیں جو میں اپنی نازک انگلیوں سے، ہاں نازک انگلیوں سے، یعنی ان انگلیوں سے جن پر چکی کے ملائم دستے کی رگڑ سے گٹے پڑ گئے ہیں وہ انگلیاں جن پر ناخن کا گول تاج ہے، وہ ناخن جن کے کناروں میں گائے کا گوبر ٹھنس کر اس طرح وہیں کا وہیں رہ گیا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس ناخن کے تاج پر سینگ کی گوٹ لگی ہے، ہاں تو میں اپنی انہیں حسین انگلیوں سے تال میں سےمخملی کیچڑ نکال نکال کر ایک ٹوکری میں رکھ رہی تھی کہ میری نظر ارہر کے کھیت کی طرف کسی سرسراہٹ کی وجہ سے متوجہ ہوئی۔ کچھ شبہ سا ہوا کہ کوئی گائے یا بھینس یا کتا ہے مگر وہاں کچھ بھی نہ تھا۔\n\nمیں پھر اپنے دلچسپ کام کی طرف متوجہ ہوگئی۔ ایک دم سے میری کمر پر کوی تین پاؤ وزنی مٹی کا ڈھیلا اس زور سے آکر لگا کہ ٹوٹ کر کھیل کھیل ہوگیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا۔ غور سے دیکھا کہ کون ہے؟ موٹی موٹی اٹھارہ انیس گالیاں، اس نامعلوم ڈھیلا پھینکنے والے کو نہایت ہی کھری کھری سنائیں مگر وہاں تو کوئی نہ تھا۔ میں پھر اپنے کام میں مشغول ہوگئی۔\n\nلیکن تھوڑی دیر بعد کنوئیں کے رہٹ چلانے کا موٹا سا ڈنڈا میری اس نازک کمر پر آکر لگا جس کی امداد سے میں ڈیڑھ من کی گٹھری اٹھا لیتی ہوں۔ میں نے جل کر موٹی موٹی گالیاں دیں اور کھڑی ہوئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ وہاں تو کوئی اور ہی ہے! وہ جو مجھے اپنی بھینس اور تمام بیلوں سے زیادہ عزیز ہے، وہ جو اگر آج مجھ سے کہے کہ تو اپنے وہ تمام اپلے لٹادوں جو میں نے سال بھر میں سکھا کر رکھے ہیں، وہ جس کو کہ میرا جی چاہتا ہے کہ ناشتے کے لیے ڈھائی پاؤ مکی کی روٹی پیاز کی دو گٹھیوں کے ساتھ روز کھلاؤں۔ وہ جس کو کہ میرا جی چاہتا ہے کہ بھر بھر کر کلہیاں روز شیرہ پلاؤں۔۔۔ وہاں تو وہ کھڑا ہے جو مجھے بیل سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ کھرپے سے بھی زیادہ پیارا ہے۔ ہنسیا سے بھی زیادہ بانکا ہے۔ قصہ مختصر وہاں تو سیاں تھے جو ارہر میں سے جھانک رہے تھے!\n\nبس ان کے دیکھتے ہی میری حالت ہی عجیب ہوگئی۔ میری نازک جبین پر جو بھینس کے ماتھے کی طرح خوبصورت اور سجل ہے، شرم و حیا کی سراون چل گئی۔ میں نے سیاں کے چہرہ کو نظر بھر کر دیکھا۔ وہ خوبصورت چہرہ جو گول کدو کی طرح ہے اور جوانی اور محبت کے روپ سے نئے کھرپے کی طرح چمکتا ہے۔ وہ بیل کی سی بڑی بڑی آنکھیں جیسے معلوم ہو کہ اپلے تھاپنے والی ناند میں آج نیا پانی بھرا ہے۔ اس خوبصورت چہرے پر کھدر کی دوہری چادر کا پگڑ کیا بہار دے رہا تھا! گھڑے کے برابر پگڑ! وہ خوبصورت پگڑ جس کی وجہ سے زمیندار کا جوتا روئی کا گالہ بن کرسیاں کے سر کو ضرب پہنچانے کے بجائے گویا سہلاتا ہے۔ وہ پگڑ جس کی بدولت سیاں جب خان صاحب کے یہاں پٹنے جاتے ہیں تو لگان کا روپیہ جوں کاتوں باوجود مار کھانے کے واپس لے آتے ہیں۔\n\nمیں نے کیچڑ اپنے داہنے ہاتھ میں اٹھائی کہ جیسے ماروں گی۔ ایک مسکراہٹ سیاں کے چہرہ پر نمودار ہوئی جو چشم زدن میں پھیل کر دونوں کانوں تک پہنچی۔ انہوں نے اپنی آنکھیں کچھ مرکھنے بیل کی طرح مگر شرارتاً جھپکائیں کہ میں پاربتی کی طرف دیکھ کر چلائی۔۔۔ اے ری سکھی سیاں ارہر میں جھانکیں۔\n\nپاربتی اپلے تھاپ رہی تھی۔ اس نے کھیت کے کنارے سے مڑ کر مجھے دیکھا۔ سیاں میری طرف لپکے۔۔۔ اور اُدھر سے پاربتی نہایت ہی ملائم بغیر بنے ہوئے اپلے کا گولا لے کر دوڑی۔ سیاں کو میں نے کیچڑ کی بارش سے روکا۔ مگر جو شخص اتنا بہادر ہو کہ زمیندار کے جوتوں سے نہ رک سکتا ہو وہ کیچڑ کب شمار میں لاتا۔ انہوں نے دوڑ کر سب سے پہلے میری پیٹھ پر بڑے زور سے گھونسا مارا کہ اس گڑ کی بھیلی کی مٹھاس میرے دل و جگر میں بیٹھ گئی اور پھر میری سیاہ بھینس کے بچے کی سی خوبصورت کلائی کو پکڑ کر اس زور سے مروڑا ہے کہ میں درد کی تکلیف کی وجہ سے چیخ کر بیٹھ گئی۔ وہ درد جس کی لذت جب تک رہی، جب تک بازو درد کرتا رہا۔\n\nاتنے میں پاربتی گوبر کا پورا گولا لیے میری امداد کو پہنچی۔ سیاں ہنس تو رہے ہی تھے۔ بولنے کے لیے جو منہ کھولا ہے تو پاربتی نے گوبر کا پورا گولا سیا ں کے چہرہ پر اس زور سے مارا کہ آدھے گوبر سے تو آنکھیں بند ہو گئیں اور آدھا ان کے حلق کے پار اتر گیا۔ میراہاتھ چھوٹ گیا۔ پاربتی اور میں۔۔۔ ہم دونوں بھاگیں۔۔۔ دور سے ہم دونوں سکھیاں گا رہی تھیں، اے ری سکھی سیاں ارہر میں جھانکیں۔۔۔ اور سیاں تال کے میلے پانی سے کلیاں کر رہے تھے۔\n\nبرسورام جھڑاکے سے۔۔۔ برسات کا موسم یعنی دھان بونے کا موسم۔ یہ موسم بھی کس قدر خوشگوار اور پر بہار ہوتا ہے اور بالخصوص دیہات میں۔ وہ دیکھیے۔ کھیتوں میں کام ہو رہا ہے۔ لیڈیز اور جنٹلمین اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ جنٹلمین گاڑھے کی موٹی موٹی دھوتیوں میں پھولے نہیں سماتے۔ سب کام میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسے کہ کام تو کم مگر محنت زیادہ ہو۔ یہ محنتی ہیں۔ کالی کالی سیں رو پہلے کھرپے لیے جنلٹمینوں کے ہم دوش مصروف کار ہیں۔ کارخانہ سا جاری ہے۔ کام ٹھیٹ گاندھی جی والی سودیشی ترکیب پر ہو رہاہے۔ غل و شور بہت۔ محنت چوگنی، کام ادھورا۔ اور بیچ میں بھیانک بابا لوگ۔ جرمنی برہنہ کلب کے ممبر کھڑے مکئی اور باجرے کے ٹوسٹ کھا رہے ہیں اور ہر پانچ منٹ بعد ایک بابا لوگ ضرور پٹ جاتا ہے۔\n\nبادل جھوم جھوم کر آرہا ہے۔ بڑی برق رفتاری سے کام ہو رہا ہے کہ پانی برسنے سے پہلے کھیت تیار ہو۔ ’’اے تو میں آنار گھونس دوں۔۔۔‘‘ اپنے بیل کی دم مروڑ کر ایک جنٹلمین نے کہا اور ہل کی دھار زمین میں تیرتی چلی گئی اور بیل کی دم کی ہڈی ٹوٹنے کے قریب پہنچی۔ بیل نے پھنکار مار کر بدلا جو پینترا تو ’’ارے توئے کسائی کاٹے‘‘ کہہ کر جنٹلمین صاحب مع ہل کے ساز و سامان کے جھٹکا کھا کر ترچھے ہو کر رہ گئے اور بیل ہل کے جوئے کو کھینچ کر آپس میں لگے رساکشی کرنے۔ ہل ٹوٹ گیا۔ سب ہی کے ہاتھ ڈھیلے پڑگئے۔ سیوا چمار، رام دین اہیر وغیرہ سب اپنا اپنا کام چھوڑ کر آگئے۔ بیچ میں ٹوٹا ہوا ہل پڑا ہے جس کی مرمت کی تلاش کے لیے ببول کے درخت کی طرف بار بار دیکھا جا رہا ہے کہ اتنے میں آگئی بارش۔\n\nچشم زدن میں ہوا تیز ہوگئی۔ بوندیں بڑھ گئیں۔ کوئی کہیں چھپا کوئی کہیں۔ جنگل کی ہوا اور اس پر مینہ کا زور شور۔ اہاہاہا۔ بیل اپنےالگ چر رہے ہیں۔ لڑکے غل مچا رہے ہیں۔ سیاں ٹھراپی کر ناچ رہے ہیں بارش میں اور ہم۔۔۔ ہم سکھیاں سیاں کو دیکھتی ہیں اور گا رہی ہیں۔ برسو رام جھڑاکے سے برسو رام۔۔۔ متھرا کے پیڑے کھلادوں گی۔\n\nصبح کا وقت تھا اور ماں اندر بیٹھی تھی۔ میں باہر تھی۔ ہریا نےمجھ سے پھر وہی بدتمیزی کی۔ میں نے پکار کر کہا، ’’او ری ماں دیکھ یہ ہریا نہیں مانے۔ مجھے دق کرے ہے۔‘‘ نکلی گھر سے میری ماں جوش کھاتی اور ایک سانس میں ہزار گالیاں ہریا کو دے ڈالیں۔ ’’بھاگ یہاں سے۔‘‘ ماں بولی، ’’میں تجھے اپنی چھوری نہیں دوں گی، نکل یہاں سے۔ ہزار دفعہ کہہ چکی۔‘‘\n\nمگر ہریا اس وقت ہردیال سنگھ تھا۔ خان صاحب نے ہمیں بیگار میں بلوایا تھا گڈے کی دیوار لیپنے کو۔ زمیندار کی بیگار سرکاری کام ہے۔ ہریا نے ہم دونوں کو ڈانٹا اور اتنے میں سرکاری سپاہی لمبا سا برچھا لیے آ پہنچا۔ در اصل آدھے سے زیادہ چمار بیگار پر جا رہے تھے۔ ہم کیسے انکار کرتے۔ گڈے میں پہنچی تو کیا دیکھتی ہوں کہ سیاں کا منہ اس طرف، مرغا بنے ہوئے ہیں اور اپنی ٹانگوں کے درمیان سے انہوں نے مجھے آتے دیکھا۔ باچھیں کھل کر گز گز بھر پھیل گئیں۔ مجھے بے حد ہنسی آئی اور سیاں بھی ہنسے۔ ہم سب اپنے کام پر لگ گئے۔ سب ہی سکھیاں کام کر رہی تھیں اور ہریا گھومتا پھرتا میرے پاس آیا۔\n\nپھر وہی بدتمیزی۔ زمیندار کی نوکری کا گھمنڈ برا ہوتا ہے۔ میں نے ہریا سے کہا، ’’اب کے جو تونے چھیڑا تو خیر نہیں۔‘‘ مگر بھلا ہریا مانتا ہے۔ میرا ہاتھ پکڑ کر اس نے گالی دی کہ ایک دم سے برابر کی دیوار سے دھماکا ہوا۔ سیاں نےکود کر ہریا کے سر پر ایک گدا دیا کہ ہریا کا صافہ گردن میں اتر آیا۔ میرا ہاتھ چھوٹ گیا۔ شور و غل ہوا۔ سیاں کی چاند پر جوتے پڑے تڑاتڑ اور مرغا بنے۔ دیوار کی مرمت کے لیے مرغا بننے سے چھٹکارا ملا تھا۔ مگر وہ تو دیوار سے کود کر یہ کر گزرے۔\n\nشام کو سب سکھیاں بیگار سے فارغ ہو کر گڈہ سے تال پر ہاتھ دھونے پہنچیں۔ وہاں سے ہم سب آ رہی تھیں کہ نہ معلوم کدھر سے ایک طرف سے سیاں پہنچے۔ کاغد میں لپٹا ایک پاؤ بھر گڑ کا ڈھیلا تھا۔ میرا ہاتھ پکڑ کر پڑیا دی اور تیزی سے چلے گئے۔ ہم سب سکھیاں ہنس رہی تھیں۔ گڑ کی ڈلیاں منہ میں اور گا رہی تھیں،\n\nتو لے چل جمنا پار۔ تجھے متھرا کے پیڑے کھلا دوں گی،\n\nمیری سوت کا رجوا رنڈوا رے\n\nسیا ں کو اپنی پہلی بیوی روپلی سے بڑی محبت تھی۔ قریب قریب روز اسے مارتے تھے۔ وہ غصہ میں چوڑیاں توڑ ڈالتی اور اپنی مار کا بدلا ساس سے لیتی۔ ادھرسیاں اسے ٹھونک بجا کر گئے نہیں کہ لی اس نے سیاں کی ماں کی خبر۔ ساس بہو میں دن رات لڑائی ہوتی اور سیاں ہر قصے کو روپلی کی مار پر ختم کرتے۔ ساس روزانہ بہو کو پٹواتی۔ کہتی نکل جا میرے گھر سے۔ مگر روپلی کا چار دن کو میکے جانا قسم تھا۔ جاتی بھی تو دن کے دن بھاگ آتی۔ سیاں کے گھر رہتی، مار کھاتی اور روتی۔ خوب خوب پٹتی مگر سیاں کے قابو میں نہ آتی۔ گالیاں دیتی، مار کھاتی، روتی، پیٹتی اور غل مچاتی مگر شام کو جب سکھیاں مل کے ڈھولک بجاتیں تو سب سے لڑتی کہ پہلے میرے سیاں کا گیت گاؤ۔ غرض مار بھی کھاتی اور گیت بھی انہی کے گاتی۔ جب دیکھو رات کو ڈھولک پٹ رہی ہے،\n\n’’مچیا پہ بیٹھن میکا نیک ناہیں لاگیت\nموڑ پہ میکا بٹھاؤ مورے سیاں!‘‘\n\nایک روز کا ذکر ہے کہ سیاں نے روپلی کو خوب ٹھونکا اور کہا کہ تجھے مار ڈالوں گا۔ روپلی نےکہا میں ساس کو مار ڈالوں گی۔ اس پر جب اور پٹی تو ساس کے گلے میں چمٹ گئی، پھر اور بھی زیادہ پٹی۔ اس کے دوسرے دن کا ذکر ہے کہ روپلی کنوئیں کے پاس کام کر رہی تھی۔ اتفاقاً کنوئیں میں گر گئی۔ سیاں کے ہاتھ میں پھاوڑا تھا۔ وہ بھی ’’ہائے میری رانی‘‘ کہہ کر مع پگڑ اور پھاؤڑا کے کنوئیں میں کود پڑے۔ نتیجہ برا نکلا۔ لوگ جمع ہوگئے۔ دونوں کنوئیں میں سے نکالے گئے۔ روپلی مر چکی تھی۔ ہریا اور چوکیدار اور دوچار اور آدمی سیاں کو پکڑ کر جوتے مارتے مارتے خان صاحب کے پاس گڈے میں لے گئے کہ اس نے اپنی بیوی کو مار ڈالا۔ وہاں سیاں کا یہ حال کہ زخم پہ زخم۔ ایک تو روپلی گئی دوسرے مار۔\n\nخان صاحب نے کہا، ’’اِدھر گھسیٹ لاؤ بدمعاش کو۔‘‘ لوگوں نے سیاں کو گھسیٹا مگر سیاں اس طرح ’’ہائے دادا رے میری رانی۔‘‘ کہہ کر بھوں بھوں روئے ہیں کہ سب نے تصدیق کردی کہ مرگ اتفاقیہ تھی۔ خان صاحب نے کہا، ’’اس بدمعاش کو چھوڑ دو۔ بیچارہ بیوی کے غم میں مرا جا رہا ہے۔‘‘ سیاں کی ماں بھی ’’ہائے میری بہورانی‘‘ کہہ کہہ کر رات بھر روتی پیٹتی رہیں۔ اور اب تک گاؤں میں دیکھ لو اپنی مرحومہ کی سعادت مندی اور نیک بختی کا جب ذکر کرتی ہیں تو ایک ٹھنڈی سانس کے ساتھ آنکھیں تر ہو جاتی ہیں۔\n\nجب سیاں مجھے بیاہنےآئے تو اول تو سکھیوں نے ان کو خوب مارا، پھر ہم سب نے مل کر خوب گیت گائے۔ سیاں ٹھرے کے نشہ میں دھت مار کھا رہے تھے اور ہم سکھیاں گا رہی تھیں،\n\nمیری سوت کا رجوا رنڈوا رے\nگاندھی سنن سنن سنا دے جیسے انگریجی کا تار\n\nمیری شادی ہوئے تین چار ہی مہینے ہوئے ہوں گے کہ ہولی آئی۔ ہریا سے ہماری دشمنی تھی۔ وہ بدمعاش تھا اور مجھے برابر چھیڑتا رہتا تھا۔ میں نے سیاں سے کہا تو انہوں نے ہریا کے پیٹ میں ہنسیا گھنگولنے کو کہا۔ میں نےکہا پھانسی ہو جائے گی تو بولے کہ تجھے لے کر پردیس بھاگ جاؤں گا اور پولیس کے ہاتھ نہ آؤں گا۔ مگر میں نے ہمیشہ روک دیا اور ہریا کو سمجھایا۔ ہریا کہتا کہ مجھے قسم ہے میں تو نہ مانوں گا۔ وہ اکثر سیاں کو خان صاحب سے پٹواتا رہا اور بارہا سیاں کو گڈے کے سپاہی پکڑ کر لے گئے۔\n\nہولی کے دو روز بعد کا ذکر ہے کہ سیاں رنگ اور کیچڑ میں نہائے تاڑی کی ترنگ میں جھوم رہے تھے اور ڈھولک لیے گاندھی جی کے گیت گا رہے تھے کہ ہریا آ پہنچا اور لگا سیاں کو گالیاں دینے کہ گاندھی جی کے گیت مت گاؤ۔ سیاں بولے کہ ہم اس وقت خود راجہ ہیں اور ڈھول کوڈنڈے سے پیٹتے پیٹتے ہریا کی خبر لی۔ اس کے پاس بھی لٹھ تھا اور دونوں میں خوب لڑائی ہوئی اور دونوں کے سخت چوٹیں لگیں۔ دونوں کا سر پھوٹ گیا اور خوب خون میں ہولی کھیلی۔ دوسرے آدمیوں نے بیچ بچاؤ کیا۔ ہریا گالی دیتا کراہتا چلا گیا۔ سیاں نے کس کس کر ڈھولک پیٹی اور ناچے اور ہم سب سکھیاں گا رہی تھیں، ’’گاندھی سنن سنن سنا دے جیسے انگریجی کا تار۔‘‘\n\nہولی کے دو مہینے بعد کا ذکر ہے کہ سیاں نے مجھے ایک دن خوب پیٹا، اتنا پیٹا کہ میں کبھی اتنا نہ پٹی تھی۔ میں نے غصہ میں چوڑیاں اپنی پھوڑ ڈالیں، کھانا اپنا بیل کو کھلا دیا اور روٹھ کر بھوکی پڑ رہی اور خوب روئی۔ دوسرے روز سیاں نے مجھے منا لیا تو میں نے شرط رکھی کہ سنیچر کے بازار مجھے سیر کرانے لے چلو۔ دس میل کے فاصلے پر گاؤں تھا۔ اس میں ہرسنیچر کو بازار لگتا تھا۔ سیاں راضی ہوگئے اور میں بھی خوش ہوگئی۔ مارے خوشی کے مجھے رات بھر نیند نہ آئی۔ صبح اندھیرے اٹھ کر میں نے جلدی جلدی باجرے کی موٹی موٹی روٹیاں ساتھ لینے کو پکائیں۔ مانگ میں سیندور بھر کر ٹیکا لگایا اور آنکھوں میں کاجل بھر کے کپڑے پہنے۔ سیاں کا صافہ رنگ دیا تھا اور ہم دونوں ہنسی خوشی باتیں کرتے چل دیے۔\n\nسیاں نے مجھے بازار خرچ کے لیے دوآنہ دیے تھے۔ دن بھر ہم نے خوب بازار کی سیر کی۔ سیندور اور کاجل کی میں نے ڈبیا لی، چھوٹا سا گول آئینہ لیا۔ دو پیسے کا چمکتا ہوا گلے کا موتیوں کا کنٹھا لیا۔ دو سیاہ رنگ کی پھولدار چوٹیاں لیں۔ در اصل سیاں نے کہہ دیا تھا کہ ’’لیلیٰ تیرا جو جی چاہے خرید لے چاہے سارا بازار۔‘‘ اور واقعہ تھا کہ بازار کی سیر کا مزہ جب ہی ہے جب پیسہ کافی ہو، سیاں پورا چمکتا ہوا روپیہ لے کر چلے تھے اور میں نے بھی دل کھول کر خرچ کیا۔ چلتے چلتے تین پیسے کی لکڑی کی ایک کنگھی پر مچل کر رہ گئی اور سیاں کو دلانا پڑی۔ دن بھر ہنسی خوشی سے گزرا۔ شام ہوئے ہم دونوں ہنسی خوشی گھر کی طرف لوٹے۔\n\nمگر راستہ قریب کا جنگل میں سے تھا۔ تاک میں ہریا مع اپنے دوستوں کے لگا ہوا تھا اور جب سنسان جگہ آئی، ایک دم سے نعرہ مار کر ہریا مع اپنے ساتھیوں کے سیاں پر ٹوٹ پڑا۔ میرے منہ سے ایک دلدوز چیخ نکلی۔ سنبھلتے سنبھلتے ہریا نے سیاں کے سر پر ایک زبردست لاٹھی کا ہاتھ دیا اور تین آدمیوں کی لاٹھیاں جو پڑیں تو سیاں زمین پر گرے۔ مجھے دو آدمیوں نے پکڑ لیا۔ میں نے ان کو کاٹ کھایا اور خوب لڑی۔ مگر کہاں ایک کمزور عورت اور کہاں تین ظالم۔ سیاں کو ٹانگ پکڑ کر ایک اندھے کنوئیں میں ڈال دیا اور مجھے لے چلے جنگل میں گھسیٹ کر۔ میرے منہ میں کپڑا ٹھونسا ہوا تھا۔ مگر تھوڑی ہی دور ہم گئے ہوں کہ بازار سے لوٹنے والوں کا ایک گروہ اسی طرف آیا۔ کوئی چارہ نہ تھا سوا اس کے کہ بدمعاش ہریا اور اس کے ساتھی مجھے چھوڑ کر بھاگیں۔ میری جان چھوٹی۔ میرے منہ کا کپڑا ہٹا اور میں کراہ کر بیٹھ گئی۔ ’’ہائے میرے رام۔‘‘\n\nپھر میں نے حال بتایا۔ سب لوگ کنوئیں پر پہنچے۔ پولیس کو اطلاع ہوئی۔ کنواں اندھا تھا۔ سیاں نکالے گئے۔ میں غم کے مارے دیوانی ہوگئی، مگر سیاں کی سانس چل رہی تھی۔ سب لوگ اٹھا کر گاؤں لائے۔ وہاں رات بھر دوا دارو ہوئی، صبح آنکھ کھلی سیاں کی، پھر بند ہوگئی۔ پولیس نے اسی دن صدر ہسپتال میں پہنچا دیا۔ تین مہینے میں سیاں ٹھیک ہوئے۔ ہریا پر مقدمہ بھی نہ چل سکا۔ اس نے کہا کہ میری دشمنی ہے اور میں گڈے میں حاضر تھا۔ پولیس نے گڈے کے کاغذ دیکھے اور ہریا کو چھوڑ دیا۔\n\nسیاں جس روز اچھے ہو کر گھر آئے اس روز ہم نے خوب ڈھول بجایا۔ سیاں بھی ناچےاور ہم سب سکھیاں بھی خوب ناچیں مگر رات کو سیاں بوتل کی بوتل ٹھرّے پی گئے۔ ناچتے ناچتے بگڑ کھڑے ہوئے۔ ڈھولک پھاڑ ڈالی۔ سکھیوں کو گھسیٹ پھینکا اور مجھے جوتیوں سے جو مارنا شروع کیا ہے تو اپنی ماں کی بھی نہ سنی۔ رات کے ایک بجے تک بیٹھے گالیاں دیتے رہے۔ مگر میں تو باغ باغ تھی۔ کیا ہی خوشی کا دن تھا۔ اس کے بعد ہریا نے دوروز سیاں کو بقایا وصولی کے لیے گڈے میں قید رکھا اور مجھے اور میری بڑھیا ساس کو تنہا پا کر اس نےمجھے آٹھ آٹھ آنسو رلایا۔ تیسرے روز میں اپنا سب زیور مہاجن کے پاس رکھ کر سیاں کو چھڑا لائی۔\n\nمگر سیاں جب گھر پہنچے اور ان کو معلوم ہوا کہ میں نے زیور رہن رکھ کر چھڑایا ہے تو مجھے خوب ہی پیٹا، در اصل ان کا خیال تھا کہ زیادہ سے زیادہ خان صاحب دو ایک روز اور پٹواتے پھر چھوڑ دیتے اور اس کے لیے سیاں کبھی کمزور نہ تھے، زیور مفت میں گیا۔ لہٰذا اس خطا پر میں خوب پٹی۔ یہ مار بھی میری محبت ہی میں تھی، مگر میں کیا کروں۔ مجھ سے نہ دیکھا گیا پٹنا اور ہریا کی چھیڑ چھاڑ۔ سیاں کہہ رہے تھے کہ اب ہریا کی موت آئی ہے۔\n\nاس کے دو مہینے بعد کا ذکر ہے۔ سیاں بیلوں کی جوڑی بیچنے دور ایک گاؤں کے میلے پر جانے والے تھے۔ میں نے کہا میں بھی چلوں گی۔ پنڈت جی سے پوچھا تو وہ بولے دکھن کی سمت عورت لے کر گئے تو بیل نہ بکیں گے اور بکے تو اچھے دام نہ آئیں گے، لہٰذا میں تلملاتی رہ گئی۔ دونوں بیلوں کی میں نے خوب صفائی کی، ان کی دم کے بال برابر کر کے کاٹے اور توے میں تیل ڈال کر دم کے بالوں میں خوب لگایا۔ اسی طرح دونوں بیلوں کے سموں اور سینگوں پر سیاہی اور تیل کی مالش کی۔ نظر کا ٹیکا ماتھے پر لگایا اور گلے کی گھنٹیاں مانجھ کر چمکا دیں اور خوب بہت سی موٹی موٹی روٹیا ں تین دن کے لیے سیاں کے ساتھ کیں۔ بیل بکنے کی صورت میں سیاں نے تحفوں کا ڈھیر لگا دینے کو کہا۔ تڑکے سیاں بیلوں کو لے کر روانہ ہوگئے۔\n\nرات کے کوئی گیارہ یا بارہ بجے ہوں گے کہ ہمارے گھر میں ہریا چپکے سے تین آدمیوں کو لے کر گھس آیا۔ بڑھیا ساس کو چارپائی سے باندھ کر منہ میں کپڑا ٹھونس دیا اور مجھے دو آدمیوں نے دبا لیا اور میرا بھی گلا اور منہ دبا دیا۔ میں بے قابو ہوگئی اور میں تو سمجھی آج میرا خاتمہ ہوا کہ ایک دم سے پرمیشور نے میری سن لی۔ دروازے پر جو آدمی تھا وہ چلا کر بھاگ گیا۔ چشم زدن میں ہریا کے سر پر گنڈاسوں کی بارش ہونے لگی۔ تین گنڈاسوں میں وہ ڈھیر ہوگیا۔ ہوش میں جو آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ سیاں دشمن کے خون میں نہائے کھڑے ہیں۔ میں دوڑ کے چمٹ گئی اور سارا حال سنایا، انہوں نے اپنا حال سنایا۔ راستے ہی میں ایک پڑوس کے زمیندار سے بیلوں کا سودا ہوگیا اور وہ بیل اس کے گاؤں پہنچا کر آ رہے تھے۔\n\nسوال یہ تھا کہ اب لاش کہاں پھینکی جائے۔ ہم دونوں نے لاش اٹھا کر چپکے سے لے جا کر پچھواڑے کھیت میں ڈال دی اور سیاں سے میں نے کہا کہ تم بھاگ جاؤ۔ سیاں بھاگے تو نہیں مگر تیار رہے۔ دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ کوئی گھنٹہ بھر بعد ہی جو کھٹکا ہوا تو سیاں کو ہوش آیا۔ میں بھی گھبرائی، بھاگنے کے لیے پیچھے دیکھا تو ہر طرف سے مکان گھیر لیا تھا۔ میں نے سیاں کو اناج کی کوٹھی میں چھپنے کی رائے دی۔ اس کا ڈھکن کھول کر ان کو اندر بند کر دیا اور اٹھ کر دروازہ کھول دیا۔ دو پولیس کے کانسٹیبل تھے اور انہوں نے آتے ہی سیاں کو پوچھا۔ میں نے پوچھا کہ کیوں پوچھتے ہو، کیا ضرورت ہے ہمارے گھر میں آنے کی، تم جاؤ۔ اور جب انہوں نے وجہ بتائی تو میں نے کہا کہ ہریا کو تو میں نے مارا ہے۔ مجھے پکڑ لو۔ میں نے گنڈاسی دکھائی۔\n\nمگر پولیس والے نہ مانے۔ انہوں نے گھر میں دیکھ بھال کر اناج کی کوٹھی دیکھنا چاہی۔ میں نے کہا کہ اس میں میرا اناج بھرا ہے، اسے مت دیکھو۔ وہ نہ مانے اور لگے اس پر چڑھنے، میں نے بگڑ کر کہا تم وہاں نہ جاؤ میں کھولے دیتی ہوں۔ میں کوٹھی کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گئی۔ قریب ہی موسل رکھا تھا۔ میں نے ہاتھ میں موسل لیا اور سپاہیوں سے کہا، ’’تم جاؤ یہاں سے ورنہ میں موسل ماروں گی۔‘‘\n\nمگر کہاں میں تنہا اور کہاں سپاہی اور گاؤں والے۔ میں نے بہت کچھ مارا کوٹا۔ موسل چلا دیا۔ مگر آخرش مجھے لوگوں نے گرا لیا۔ میں نے غل مچایا۔ دہائی کھینچی۔ خوب چلائی اور سر پیٹ پیٹ کر کہا کہ ہریا کو میں نے مارا ہے۔ میرے سیاں نے نہیں مارا۔ مگر کوئی نہ مانا۔ سیاں کو پکڑ لیا گیا اور میری کسی نے نہ سنی۔ جب سپاہی سیاں کو پکڑ کر لے جانے لگے تو میں نے چھڑانے کی انتہائی کوشش کی۔ لڑی بھی، جھگڑی بھی، روئی بھی اور غل بھی مچایا۔ ہار کراینٹ پتھر بھی مارے اور ساتھ ساتھ تھانے گئی۔ تھانہ پہنچ کر میرے اور سیاں کے بیان لیے گئے۔ میں نے لکھایا کہ ہریا کو میں نے اپنی عزت و آبرو بچانے کو مارا ہے اور سرکار کی چور میں ہوں۔ اور سیاں نے سچ سچ بیان دیا کہ سرکار کا چور میں ہوں۔ میں نے ہریا کو مارا ہے اور اپنی گھر والی کی عزت بچانے کو مارا ہے۔ کوئی دوسری عینی شہادت نہ تھی۔\n\nمقدمہ چلا۔ عدالت میں بھی میں نے وہی بیان دیے اور سیاں نے بھی وہی بیان دیے۔ طول و طویل بحث کے بعد مجھے چھوڑ دیا گیا اور سیاں کو سزا دی گئی۔ حبس دوام بہ عبور دریائے شور۔ جب سے قید بھگت رہے ہیں۔ افسوس۔\n\nشہر کے غریب ترین مزور پیشہ لوگ جہاں رہتے ہیں، وہاں ایک مزدور بیوہ کے ٹوٹے پھوٹے جھونپڑے میں ایک عورت رہتی ہے۔ اس کے کپڑے چیتھڑے ہو رہے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی دکھ نہیں جو اسے نہ پہنچا ہو۔ انتہا سے زیادہ عسرت اور فاقہ کشی نے قبل از وقت اسے توڑ دیا ہے اور زمانے کے بے رحم ہاتھ اس کو سرعت کے ساتھ بڑھاپے کی طرف لیے جا رہے ہیں۔ یہ جنم قیدی کی بیوی ہے۔\n\nاپنا گاؤں چھوڑ کر عزیز و اقارب کو چھوڑ کر شہر میں چلی گئی ہے۔ شہر میں جہاں سنٹرل جیل میں اس کا شوہر قید بامشقت کی کڑیاں جھیل رہا ہے اور جھیلتا رہے گا۔ اپنی جوانی اس نے سخت محنت اور مشقت کی مزدوری میں صرف کردی۔ معمولی عورت اگر دوپیسہ یومیہ کماتی تو اس نے چار پیسے کمائے۔ دن بھر کی محنت کی کمائی جیل کے سپاہیوں کے ہاتھ پر لے جاکر دھرتی ہے۔ یہ لوگ بے حد ایماندار ہیں۔ صاف کہہ دیتے ہیں کہ روپے سے بارہ آنے ہمارے اور چار آنے کی جو چیز کہو تمہارے قیدی کو جیل میں پہنچا دیں۔ مٹھائی کھٹائی، سگرٹ بیڑی جو چیز اس کے رشتہ دار چاہیں قیدی کو اس نرخ پر مل سکتی ہے۔\n\nسال گزرتے گئے اور گزرتے جا رہے ہیں اور یہ محنتی عورت روکھی روٹی کھا کر زندگی کے دن طے کر رہی ہے اور کرتی رہے گی اور برابر اپنے عزیز از جان سیاں کو حتی الوسع جیل میں جو کچھ بھی آرام پہنچا سکتی ہے پہنچاتی رہی ہے اور پہنچاتی رہے گی، تا وقتیکہ دونوں ایک دوسرے سے مل نہ جائیں یا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا نہ ہو جائیں۔\n\nاس میلی اور گندی عورت کو آپ اتوار کے دن دیکھیے۔ یہ وہی عورت ہے جو کل کس لباس میں تھی اور آج دیکھیے کتنا اچھا اور رنگین لباس ہے۔ میلے اور بازار جانے کا لباس۔ وہی مانگ چوٹی۔ ہر تین مہینے بعد ایک اتوار کا دن آتا ہے جب قیدی اپنے رشتہ داروں سے مل سکتا ہے، تب یہ بھی جاتی ہے۔\n\nبیچ میں جیل کے سلاخچے ہیں، اس طرح یہ محبت کی ماری غریب اور اس طرف اس کا سیاں ہاتھ میں ہاتھ دیےایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے دونوں بیٹھے ہیں۔ باتیں کم کرتے ہیں دیکھتے زیادہ ہیں۔ اسی طرح بیٹھے رہیں گے، باتیں کیے جائیں گے، لازوال عشق و محبت کی کبھی ختم نہ ہونے والی باتیں۔ ایک دوسرے کا ہاتھ محبت کے جذبات سے مجبور ہوکر دباتے ہیں اور نظر بھر کر ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور پھر خاموش۔ یہ حالت محویت ہوتی ہے کہ ایک دم سے جیل کا گھنٹہ بجتا ہے۔ سنتری کہتا ہے بس باتیں ختم کرو۔ ایک خواب تھا کہ چونک پڑے۔ اب ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے رخصت۔ عورت وہاں سے نہیں ہلتی جب تک کہ قیدی سامنے رہتا ہے۔ پھرآہستہ آہستہ چلی جاتی ہے۔ مڑ مڑ کر اسی طرف پھر دیکھتی اور برابر دیکھتی رہتی ہے۔ جب تک سڑک کا موڑ نہیں آ جاتا اور وہ جیل آنکھ سے اوجھل ہو جاتی ہے اور پھر تین ماہ کا طویل انتظار ہوتا ہے۔۔۔!\n\nدنیا ہر چہار طرف خوشی کی چہل پہل میں مصروف ہے اور رہے گی مگر معلوم نہیں کہ ہمارے ملک کے قوانین کب تک دو دلوں کے درمیان آہنسی سلاخیں رکھیں گے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D9%85_%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%8C"} {"title": "جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے\nمگر وہ آج بھی برہم نہیں ہے\n\nبہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا\nتری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے\n\nبہت کچھ اور بھی ہے اس جہاں میں\nیہ دنیا محض غم ہی غم نہیں ہے\n\nتقاضے کیوں کروں پیہم نہ ساقی\nکسے یاں فکر بیش و کم نہیں ہے\n\nادھر مشکوک ہے میری صداقت\nادھر بھی بد گمانی کم نہیں ہے\n\nمری بربادیوں کا ہم نشینو\nتمہیں کیا خود مجھے بھی غم نہیں ہے\n\nابھی بزم طرب سے کیا اٹھوں میں\nابھی تو آنکھ بھی پر نم نہیں ہے\n\nبہ ایں سیل غم و سیل حوادث\nمرا سر ہے کہ اب بھی خم نہیں ہے\n\nمجازؔ اک بادہ کش تو ہے یقیناً\nجو ہم سنتے تھے وہ عالم نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D9%88%D9%86_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "جنوں آور شب مہتاب تھی پی کی تمنا میں", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنوں آور شب مہتاب تھی پی کی تمنا میں\nکہ بہہ کر ریل میں اشکوں کے ہم تھے سیر دریا میں\n\nہماری خاک پر آہستہ ٹھوکر مار اے ظالم\nمبادا شیشۂ دل ٹوٹ چبھ جاوے ترے پا میں\n\nتمہارے آبلہ پاؤں کو جنگل یاد کرتا ہے\nلہو ہر خار سے ٹپکے ہے اب لگ دست سودا میں\n\nبکیفیت تھا از بس رات مذکور اس کی آنکھوں کا\nبھری تھی بوئے نرگس یک قلم ہر جام صہبا میں\n\nغبار آہ طوفاں سے چھپی ہے خاک میں بستی\nیہ عزلتؔ شہر میں تھا جا رہا ناگاہ صحرا میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%A2%D9%88%D8%B1_%D8%B4%D8%A8_%D9%85%DB%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جنوں تعلیم کچھ فرما رہا ہے", "poet_page": "مصنف:نہال سیوہاروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنوں تعلیم کچھ فرما رہا ہے\nخرد کا ساتھ چھوٹا جا رہا ہے\n\nبڑھی جاتی ہے شمع بزم کی لو\nکوئی پروانہ شاید آ رہا ہے\n\nفنا کا پیش رو اس کو سمجھیے\nجو لمحہ زندگی کا جا رہا ہے\n\nالٰہی شرم رکھنا راز دل کی\nکسی کا نام لب پر آ رہا ہے\n\nتری روشن جبیں کا ہے وہ عالم\nچراغ ماہ بھی شرما رہا ہے\n\nنگہ نے شکل تک دیکھی نہیں ہے\nپس پردہ کوئی تڑپا رہا ہے\n\nنہالؔ آنکھیں اٹھا بہر نظارہ\nکوئی سوئے گلستاں آ رہا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی\nنمک پاشِ خراشِ دل ہے لذّت زندگانی کی\n\nکشاکش‌ ہائے ہستی سے کرے کیا سعیِ آزادی\nہوئی زنجیر، موجِ آب کو فرصت روانی کی\n\nپس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہ طفلاں ہے\nشرارِ سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی\n\nنہ کھینچ اے دستِ سعیِ نارسا زلفِ تمنّا کو\nپریشاں تر ہے موئے خامہ سے تدبیر مانیؔ کی\n\nکماں ہم بھی رگ و پے رکھتے ہیں، انصاف بہتر ہے\nنہ کھینچے طاقتِ خمیازہ تہمت ناتوانی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%AA%DB%81%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%B4_%D8%AA%D8%B3%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے\nقدم دشت پیما ہوا چاہتا ہے\n\nدم گریہ کس کا تصور ہے دل میں\nکہ اشک اشک دریا ہوا چاہتا ہے\n\nخط آنے لگے شکوہ آمیز ان کے\nملاپ ان سے گویا ہوا چاہتا ہے\n\nبہت کام لینے تھے جس دل سے ہم کو\nوہ صرف تمنا ہوا چاہتا ہے\n\nابھی لینے پائے نہیں دم جہاں میں\nاجل کا تقاضا ہوا چاہتا ہے\n\nمجھے کل کے وعدے پہ کرتے ہیں رخصت\nکوئی وعدہ پورا ہوا چاہتا ہے\n\nفزوں تر ہے کچھ ان دنوں ذوق عصیاں\nدر رحمت اب وا ہوا چاہتا ہے\n\nقلق گر یہی ہے تو راز نہانی\nکوئی دن میں رسوا ہوا چاہتا ہے\n\nوفا شرط الفت ہے لیکن کہاں تک؟\nدل اپنا بھی تجھ سا ہوا چاہتا ہے\n\nبہت حظ اٹھاتا ہے دل تجھ سے مل کر\nقلق دیکھیے کیا ہوا چاہتا ہے\n\nغم رشک کو تلخ سمجھے تھے ہمدم\nسو وہ بھی گوارا ہوا چاہتا ہے\n\nبہت چین سے دن گزرتے ہیں حالیؔ\nکوئی فتنہ برپا ہوا چاہتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جنوں کم جستجو کم تشنگی کم", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنوں کم جستجو کم تشنگی کم\nنظر آئے نہ کیوں دریا بھی شبنم\n\nبحمداللہ تو ہے جس کا ہمدم\nکہاں اس قلب میں گنجائش غم\n\nتوجہ بے نہایت اور نظر کم\nخوشا یہ التفات حسن برہم\n\nمری آنکھوں نے دیکھا ہے وہ عالم\nکہ ہر عالم ہے لغزش ہائے پیہم\n\nخطا کیونکر نہ ہوتی عافیت سوز\nکہ جنت ہی نہ تھی معراج آدم\n\nخوشا یہ نسبت حسن و محبت\nجہاں بیٹھے نظر آئے ہمیں ہم\n\nوہ اک حسن سراپا اللہ اللہ\nکہ جس کی ہر ادا عالم ہی عالم\n\nکہاں پہلوئے خورشید جہاں تاب\nکہاں اک نازنیں دوشیزہ شبنم\n\nمسرت زندگی کا دوسرا نام\nمسرت کی تمنا مستقل غم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%85_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%85_%D8%AA%D8%B4%D9%86%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%D9%85"} {"title": "جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی\nگریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر\n\nبہ رنگ کاغذ آتش زدہ نیرنگ بیتابی\nہزار آئینہ دل باندھے ہے بال یک تپیدن پر\n\nفلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے\nمتاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر\n\nہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے\nشعاع مہر سے تہمت نگہ کی چشم روزن پر\n\nفنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا\nفروغ طالع خاشاک ہے موقوف گلخن پر\n\nاسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے\nکہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر\n\nفسون یک دلی ہے لذت بیداد دشمن پر\nکہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر\n\nتکلف خار خار التماس بے قراری ہے\nکہ رشتہ باندھتا ہے پیرہن انگشت سوزن پر\n\nیہ کیا وحشت ہے اے دیوانہ پیش از مرگ واویلا\nرکھی بیجا بنائے خانۂ زنجیر شیون پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B3%D8%AA%DA%AF%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے\nمتاع درد تو ہم راہ میں لٹا آئے\n\nوہ گرد اڑائی کسی نے کہ سانس گھٹنے لگی\nہٹے یہ راہ سے دیوار تو ہوا آئے\n\nکسی مقام تمنا سے جب بھی پلٹے ہیں\nہمارے سامنے اپنے ہی نقش پا آئے\n\nنمو کے بوجھ سے شاخیں نہ ٹوٹ جائیں کہیں\nتم آؤ تو کوئی غنچہ کھلے صبا آئے\n\nیہ دل کی پیاس یہ دنیا کے فاصلے باقیؔ\nبہت قریب سے اب تو کوئی صدا آئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "جنوں کی فصل آئی بڑھ گئی توقیر پتھر کی", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنوں کی فصل آئی بڑھ گئی توقیر پتھر کی\nسر شوریدہ خود کرنے لگا تدبیر پتھر کی\n\nیہ مشکل کس طرح حل ہو نہیں شمشیر پتھر کی\nدل صیاد پتھر گردن نخچیر پتھر کی\n\nبنا آئینہ چمکی کس قدر تقدیر پتھر کی\nتمہارے روبرو آیا زہے توقیر پتھر کی\n\nہمارے جوش وحشت نے یہ ہم کو رنگ دکھلایا\nنہ کچھ تقصیر لڑکوں کی نہ کچھ تقصیر پتھر کی\n\nنشاں کچھ آپ بھی کر دیں ہوا دفن آپ کا مجنوں\nپئے تاریخ رحلت کیجیے تدبیر پتھر کی\n\nرگوں میں میری پیشانی کی جوش خوں ہوا پیدا\nحکایت لکھ چکا جب کاتب تقدیر پتھر کی\n\nجو تو سمجھے تو میرے تیرے دل کی ایک صورت ہے\nیہ ہے تصویر مٹی کی وہ ہے تصویر پتھر کی\n\nنہ جس میں لفظ و معنی ہوں کلام اس کو نہیں کہتے\nچٹکنا پتھروں کا کب ہوئی تقریر پتھر کی\n\nترا سودا جہاں پر تھا رسائی ہو گئی واں تک\nپڑا سر پر ہمارے لڑ گئی تقدیر پتھر کی\n\nلگایا سنگ اپنے ہاتھ سے تو نے مرے سر پر\nخوشا تقدیر میری اور زہے تقدیر پتھر کی\n\nقسم لوگو ادب سے آنکھ اٹھا کے میں نے دیکھا ہو\nتمہارے در میں لوہے کی ہے یا زنجیر پتھر کی\n\nدل سخت اے رشیدؔ زار اپنا ہے گراں ہم کو\nبجا ہے کس طرح بھاری نہ ہو تصویر پتھر کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D8%B5%D9%84_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D9%82%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "جنوں کے جوش میں انسان رسوا ہو ہی جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنوں کے جوش میں انسان رسوا ہو ہی جاتا ہے\nگریباں پھاڑنے سے فاش پردا ہو ہی جاتا ہے\n\nمحبت خوف رسوائی کا باعث بن ہی جاتی ہے\nطریق عشق میں اپنوں سے پردا ہو ہی جاتا ہے\n\nجوانی وصل کی لذت پہ راغب کر ہی دیتی ہے\nتمہیں اس بات کا غم کیوں ہے ایسا ہو ہی جاتا ہے\n\nبگڑتے کیوں ہو آپس میں شکایت کر ہی لیتے ہیں\nعدو کا تذکرہ دشمن کا چرچا ہو ہی جاتا ہے\n\nتمہاری نرگس بیمار اچھا کر ہی دیتی ہے\nجسے تم دیکھ لیتے ہو وہ اچھا ہو ہی جاتا ہے\n\nاکیلا پا کے ان کو عرض مطلب کر ہی لیتا ہوں\nنہ چاہوں تو بھی اظہار تمنا ہو ہی جاتا ہے\n\nمرا دعوئ عشق اغیار باطل کر ہی دیتے ہیں\nجسے جھوٹا بنا لیں یار جھوٹا ہو ہی جاتا ہے\n\nبتان بے وفا مضطرؔ دل و دیں کر ہی لیتے ہیں\nتمہیں پر کچھ نہیں موقوف ایسا ہو ہی جاتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جنوں کے جوش میں جس نے محبت کو ہنر جانا", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنوں کے جوش میں جس نے محبت کو ہنر جانا\nسبکدوشی سمجھتا ہے وہ اس سودا میں سر جانا\n\nکسی کا ناز تھا انداز تھا اب سر بسر جانا\nادھر چڑھنا نگاہوں میں ادھر دل میں اتر جانا\n\nتصور خال و عارض کا تماشائے دوعالم ہے\nیہاں آنکھوں میں رہنا ہے وہاں دل میں اتر جانا\n\nجنون عشق میں کب تن بدن کا ہوش رہتا ہے\nبڑھا جب جوش سودا ہم نے سر کو درد سر جانا\n\nہوس بازی نہیں یہ عشق بازی ہے خدا شاہد\nمحبت میں ہے شرط اولیں جی سے گزر جانا\n\nمٹائی اپنی ہستی ہم نے عشق جان جاناں میں\nفنا میں دیکھ کر رنگ بقا کو معتبر جانا\n\nسراپائے وفا اک زندۂ جاوید و بے غم ہے\nتکلف برطرف غم کیا ہے جینا اور مر جانا\n\nہماری عمر کا پیمانہ اب لبریز ہے ساحرؔ\nچھلکنا فرض ہو جاتا ہے پیمانے کا بھر جانا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%86%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "جنوں کے جوش میں پھرتے ہیں مارے مارے اب", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنوں کے جوش میں پھرتے ہیں مارے مارے اب\nاجل لگا دے کہیں گور کے کنارے اب\n\nگیا جو ہاتھ سے وہ وقت پھر نہیں آتا\nکہاں امید کہ پھر دن پھریں ہمارے اب\n\nعجب نہیں ہے کہ پھر آج ہم سحر دیکھیں\nکہ آسمان پہ گنتی کے ہیں ستارے اب\n\nجب اس کے ہاتھ میں دل ہے مری بلا جانے\nملے وہ پاؤں سے یا اپنے سر سے وارے اب\n\nعنایتوں کی وہ باتیں نہ وہ کرم کی نگاہ\nبدل گئے ہیں کچھ انداز اب تمہارے اب\n\nیہ ڈر ہے ہو نہ سر رہ گزار ہنگامہ\nسمجھ کے کیجئے درباں سے کچھ اشارے اب\n\nحفیظؔ سوچئے اس بات میں ہیں دو پہلو\nکہا ہے اس نے کہ اب ہو چکے تمہارے اب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%A8"} {"title": "جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کر", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کر\nتو اٹھے ہیں دھواں ہو کر گرے ہیں بجلیاں ہو کر\n\nکچھ آگے بڑھ چلے سامان راحت لا مکاں ہو کر\nفلک پیچھے رہا جاتا ہے گرد کارواں ہو کر\n\nکسی دن تو چلے اے آسماں باد مراد ایسی\nکہ اتریں کشتئ مے پر گھٹائیں بادباں ہو کر\n\nنہ جانے کس بیاباں مرگ نے مٹی نہیں پائی\nبگولے جا رہے ہیں کارواں در کارواں ہو کر\n\nوفور ضبط سے بیتابیٔ دل بڑھ نہیں سکتی\nگلے تک آ کے رہ جاتے ہیں نالے ہچکیاں ہو کر\n\nگلو گیر اب تو ایسا انقلاب رنگ عالم ہے\nکہ نغمے نکلے منقار عنادل سے فغاں ہو کر\n\nجو ہو کر ابر سے مایوس خود سینچے کبھی دہقاں\nجلا دیں کھیت کو پانی کی لہریں بجلیاں ہو کر\n\nجہاں میں واشد خاطر کے ساماں ہو گئے لاشے\nجگہ راحت کی نا ممکن ہوئی ہے لا مکاں ہو کر\n\nہنسے کوئی نہ بجلی کے سوا اس دار ماتم میں\nاگر رہ جائے سارا کھیت کشت زعفراں ہو کر\n\nالم میں آشیاں کے اس قدر تنکے چنے میں نے\nکہ آخر باعث تسکیں ہوے ہیں آشیاں ہو کر\n\nگھٹائیں گھر کے کیا کیا حسرت فرہاد پر روئیں\nچمن تک آ گئیں نہریں پہاڑوں سے رواں ہو کر\n\nدل شیدا نے پایا عشق میں معراج کا رتبہ\nیہاں اکثر بتوں کے ظلم ٹوٹے آسماں ہو کر\n\nجو ڈرتے ڈرتے دل سے ایک حرف شوق نکلا تھا\nوہ اس کے سامنے آیا زباں پر داستاں ہو کر\n\nنکل آئے ہیں ہر اقرار میں انکار کے پہلو\nبنا دیتی ہیں حیراں تیری باتیں مکر یاں ہو کر\n\nنزاکت کا یہ عالم پھول بھی توڑے تو بل کھا کر\nنہ جانے دل مرا کس طرح توڑا پہلواں ہو کر\n\nتدرو و کبک پر ہنس کر اٹھے خود لڑکھڑاتے ہیں\nسبک کرتے ہیں ان کو پائنچے بار گراں ہو کر\n\nگلا گھونٹا ہے ضبط غم نے کچھ ایسا کہ مشکل ہے\nکہ نکلے منہ سے آواز شکست دل فغاں ہو کر\n\nپتہ اندیشۂ سالک نے پایا منزل دل کا\nتو پلٹا لا مکاں سے آسماں در آسماں ہو کر\n\nہوئی پھر دیکھیے آ بستن شادی و غم دنیا\nابھی پیدا ہوئے تھے رنج و راحت تو اماں ہو کر\n\nجو نکلی ہوگی کوئی آرزو تو یہ بھی نکلے گا\nتمہارا تیر حسرت بن گیا دل میں نہاں ہو کر\n\nاتر جائے گا تو او آفتاب حسن کوٹھے سے\nگرے گا سایۂ دیوار ہم پر آسماں ہو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D9%84%D9%88%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%DA%AF%DA%BE%D9%B9_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "جنگ نامہ (میر تقی میر)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "اب کے نواب رام پور آیا\nناگہاں اس طرف خدا لایا\nآگے آتا تھا بہر سیر و شکار\nبازی یکسر روہیلی ہے اس بار\nگرد تھی فوج کی سپہر تلک\nبن گیا اور ایک تازہ فلک\nجمع افغاں پسر تھے اس جاگہ\nلیک سارے تھے جنگ نا آگہ\nیہ نہ سمجھے وزیر کوہ وقار\nہے تحمل سے رہ میں دیرگذار\nیعنی تخریب ایک آن میں ہے\nروکشی اس کی کسر شان میں ہے\nبے تہی سے وہ پیش جنگی کر\nدانتے دے دے گرے ہراول پر\nدیکھ کر لوگ تھوڑے ٹوٹ پڑے\nپکے پھوڑے کے رنگ پھوٹ پڑے\nچتھے تلواروں میں فرنگی سے\nمرے مارے بہت کڈھنگی سے\nتھا تہور نہ یہ شجاعت تھی\nساعت جنگ یا قیامت تھی\nتھے تلنگے روہیلے محو جنگ\nلوتھوں سے ہوگیا تھا عرصہ تنگ\nگورے کالے جدا جدا کیا تھے\nدونوں مردم گیا سے یکجا تھے\nدیو کا بھی نہ ٹھہرے پا اس جا\nتھا انھوں کا جہاں ثبات پا\nسہل سردار سمجھا یہ مرنا\nاللہ اللہ ترا جگر کرنا\nتوپ پر آن کر چلی تلوار\nجھیل کر زخم لڑ موا سردار\nصاحب اک اور اس کی جا آیا\nجن نے ایسی ہلاکو چنوایا\nجنگ مغلوبہ تھی گتھے باہم\nمرتے تھے دونوں اور کے رستم\nصاحب انگریز کے گرے اکثر\nتھک گئے لڑتے مرتے ہم دیگر\nتاک کر باڑھ پہلو سے ماری\nصف الٹ دی حریف کی ساری\nلشکری سب سراں سمیت رہے\nسبز جو کچھ ہوئے تھے کھیت رہے\nنعش پر نعش گر کے ڈھیر ہوئے\nبھوکے مرتے کہ جی سے سیر ہوئے\nپیچھے سردار تھا پٹھانوں کا\nدیکھا جانا جو ان نے جانوں کا\nخواب غفلت سے چونک اٹھا جاگا\nدست پاچہ ہوا گیا بھاگا\nمارے بھاگوں کو فوج نے لوٹا\nمرگیوں میں سے بھی نہ اک چھوٹا\nغارت ازبسکہ لشکری لائے\nنعشوں سے اشرفی روپئے پائے\nوہ جو بھاگا تھا معرکہ سے رئیس\nبھاگا یوں جیسے پیش اسپ سئیس\nہوتے جو ہیں روہیلے ظلم شعار\nلٹتے جاتے تھے شہر راہگذار\nرام پور میں بھی آکے رہ نہ سکا\nوہ خداگیر بات کہہ نہ سکا\nبھاگا واں سے ہے لے کے کچھ اسباب\nکہ لگا آیا لشکر نواب\nلی پناہ ان نے جا کے زیر کوہ\nواں بھی تھا ساتھ کوہ کوہ انبوہ\nتھا پہاڑی کے آگے جنگل بھی\nوہیں ناکہ پہ تھا یہ دنگل بھی\nوھاں روہیلے ہوئے اکٹھے سب\nبعد دو چار پنج روز و شب\nعجز کی راہ سے کیا پیغام\nہم ہیں نواب کے کمینے غلام\nبندے رہتے ہیں باوجود خطا\nتم سے صاحب امیدوار عطا\nلطف کریے امیدواروں پر\nرحم کریے گناہگاروں پر\nہم غلامی میں ہوتے ہیں حاضر\nاب نہ خدمت سے ہوویں گے قاصر\nکسو صاحب کو ہو حضور سے حکم\nموجب طوع وہ ہے دور سے حکم\nکہ مجھے اپنے ہاتھ لے جاوے\nپاؤں کتنے کے عاجز آ پاوے\nذات نواب ہے کرم سیرت\nکہا صاحب کو تم بصد عزت\nمعرفت اپنے جا کے لاؤ اسے\nپاس خیمے میں لا بٹھاؤ اسے\nیاکہ خیمہ جدا کرو استاد\nہم اسے وقت پر کریں گے یاد\nلایا صاحب چنانچہ خود جاکر\nپاس کرنا ہے تا نفر چاکر\nسر میں اس کے خیال باطل تھا\nآپ بھی وہ جوان جاہل تھا\nگفتگو میں کجی لگا کرنے\nہوا موجود مارنے مرنے\nچاہتا تھا کہ آپ کو مارے\nبارے ہتھیار چھن گئے سارے\nرفقا کے تئیں نکال دیا\nرنجہ کر ٹہلوؤں کو ٹال دیا\nاٹھ گئے جو حرام زادے تھے\nہو چکے دل میں جو ارادے تھے\nعاقبت اس کو باندھ کر بھیجا\nکہا پلٹن سے لکھنؤ لے جا\nجمع تھے لوگ سو پریشاں ہیں\nرہ گئے ہیں سو عجز کیشاں ہیں\nجنگ کی صبح کے تئیں ہے نہ شام\nآشتی کے ہیں اب پیام و سلام\nغالباً صبح آج کل ہووے\nبرطرف جملگی خلل ہووے\nلے کے اب ملک و مال سب نواب\nراہ لیتے ہیں لکھنؤ کی شتاب\nسال تاریخ کا تھا مجھ کو خیال\nلطف کے رو سے کی ملک نے مقال\nکاے سخن گستر و جہاں استاد\nفتح نواب سے کر اب دل شاد\nمیرؔ کوئی غزل کہو اب تم\nلذت شعر میں رہو خود گم\n\nغزل\n\nگرد سر پھر کے کرتے پہروں پاس\nسو تو ہم لوگ اس کے آس نہ پاس\n\nخط پہ خط بھیجتا تھا لکھوا کر\nجب تلک یار تھا نہ حرف شناس\n\nدل نہ باہم ملے تو ہجراں ہے\nہم وے رہتے ہیں گو کہ پاس ہی پاس\n\nعرش و دل میں رہے مگر برسوں\nوہم ہے پر کہیں کہیں ہے قیاس\n\nہے چلا جب سے وہ پریشاں ربط\nجمع اک دم رہے نہ میرے حواس\n\nناامیدی بھی حد رکھتی ہے\nجیتا کب تک رہے گا کوئی نراس\n\nجز خدا ہم کسو سے ڈرتے نہیں\nگھر ہمارا ہے واں جہاں ہے ہراس\n\nمیں تو حیران کار ہوں بے ہوش\nکیونکے نکلے گی میرے دل کی بھڑاس\n\nمیرؔ وحشی کا دل ہے بے طاقت\nچلتا پھرتا ہے پر اداس اداس\n\nغزل\n\nرہے عمر بھر دیکھتے سادگاں کو\nیہ جینے نہیں دیتے دل دادگاں کو\n\nخبر قاصدوں کو نہیں اپنی شاید\nبہت دور بھیجا فرستادگاں کو\n\nعجب سادگاں میں ہے قشقوں کی خوبی\nنہ ہو عجب کیوں برہمن زادگاں کو\n\nنہال اور سرو اس کے حیراں کھڑے ہیں\nکیا پاے گیر ان نے آزادگاں کو\n\nرہے زیر دیوار ہم میرؔ برسوں\nنہ پوچھا کبھی خاک افتادگاں کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%DA%AF_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81_%28%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%D9%82%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%29"} {"title": "جنگ کا انجام", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بہو کہے یہ بڑھیا میری جان کی لاگو بن کے رہے گی\nساس کہے گز بھر کی زباں ہے اپنی منہ آئی ہی کہے گی\nبہو کہے جب دیکھو جب ہی خواہی نخواہی بات بڑھانا\nساس پکارے اے مرے اللہ توبہ بھلی اب تو ہی بچانا\nبہو کہے اپنا گھر کیسا یاں تو اپنے بھی ہیں پرائے\nساس کہے جل بھن کے اسے تو راج محل بھی راس نہ آئے\nبہو کہے جس کے ہاتھوں ہے ڈوئی اسی کا سب کوئی ہے\nساس پکارے جاؤ جی جاؤ پاؤں کی جوتی سر پہ چڑھی ہے\nبہو کہے مجھ جنم جلی کو کس کے پلے باندھ دیا ہے\nساس کہے اب کون بتائے آگے جو آیا ہے کس کا کیا ہے\nبہو کہے یہ پوت کی دردی بس جو چلے تو بس ہی کھلا دے\nساس کہے وہ بات ہے اپنی گالی سنے اور پھر بھی دعا دے\nبہو کہے اب سر پہ پڑی ہے جیسے بھی ہو گزر جائے گی\nساس کہے جب دیکھو اس کو دودھ ملیدہ ہی کھائے گی\nبہو کہے جی جو آتا تھا ساس کے سامنے بول رہی تھی\nساس بھی لیکن ترکی بہ ترکی بھید بہو کے کھول رہی تھی\nننھے نے یہ موقع تاڑا جھٹ باورچی خانے پہنچا\nدودھ پہ آئی تھی جو ملائی چپکے سے اس کو کھانے پہنچا\nکھا کے جو لوٹا راہ میں اس نے کالی بلی جاتے پائی\nدیکھ کے اس کو ڈر کے مارے زور کی اس نے چیخ لگائی\nایک ہی چیخ نے اس کی پل میں ساس بہو کا جھگڑا چکایا\nدوڑی بہو مرے لال ہوا کیا ساس پکاری ہائے خدایا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%DA%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85"} {"title": "جنگلوں میں جستجوئے قیس صحرائی کروں", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جنگلوں میں جستجوئے قیس صحرائی کروں\nکب تلک ڈھونڈوں کہاں تک جادہ پیمائی کروں\n\nگر کوئی مانع نہ ہو واں سجدہ کرنے کا مجھے\nآستان یار پر برسوں جبیں سائی کروں\n\nبزم ہستی میں نہیں جز بیکسی اپنا رفیق\nکس کی خاطر دوستو میں محفل آرائی کروں\n\nغارت دل کا جو کرتا ہے ارادہ ترک چشم\nغمزہ کہتا ہے میں تاراج شکیبائی کروں\n\nلے گئے جب تیرے دیوانے کو عیسیٰ نے کہا\nہر گھڑی میں کیا علاج مرد سودائی کروں\n\nآشنا کوئی نظر آتا نہیں یاں اے ہوسؔ\nکس کو میں اپنا انیس کنج تنہائی کروں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%DA%AF%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%82%DB%8C%D8%B3_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "جنگِ یر موک کا ایک واقعہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "صف بستہ تھے عرب کے جوانانِ تیغ بند\nتھی منتظر حِنا کی عروسِ زمینِ شام\n\nاک نوجوان صُورتِ سیماب مُضطرب\nآ کر ہُوا امیرِ عساکر سے ہم کلام\n\nاے بُوعبیدہ رُخصتِ پیکار دے مجھے\nلبریز ہو گیا مرے صبر و سکُوں کا جام\n\nبے تاب ہو رہا ہوں فراقِ رسُولؐ میں\nاک دم کی زندگی بھی محبّت میں ہے حرام\n\nجاتا ہوں مَیں حضورِ رسالت پناہؐ میں\nلے جاؤں گا خوشی سے اگر ہو کوئی پیام\n\nیہ ذوق و شوق دیکھ کے پُرنم ہوئی وہ آنکھ\nجس کی نگاہ تھی صفَتِ تیغِ بے نیام\n\nبولا امیرِ فوج کہ “وہ نوجواں ہے تُو\nپِیروں پہ تیرے عشق کا واجب ہے احترام\n\nپُوری کرے خدائے محمدؐ تری مراد\nکتنا بلند تیری محبّت کا ہے مقام!\n\nپہنچے جو بارگاہِ رسُولِ امیںؐ میں تُو\nکرنا یہ عرض میری طرف سے پس از سلام\n\nہم پر کرم کِیا ہے خدائے غیور نے\nپُورے ہوئے جو وعدے کیے تھے حضورؐ نے”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%DA%AF%D9%90_%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D9%88%DA%A9_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%88%D8%A7%D9%82%D8%B9%DB%81"} {"title": "جنھیں مَیں ڈُھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "جنھیں مَیں ڈھُونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں\nوہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں\n\nحقیقت اپنی آنکھوں پر نمایاں جب ہوئی اپنی\nمکاں نکلا ہمارے خانۂ دل کے مکینوں میں\n\nاگر کچھ آشنا ہوتا مذاقِ جبَہہ سائی سے\nتو سنگِ آستانِ کعبہ جا مِلتا جبینوں میں\n\nکبھی اپنا بھی نظّارہ کِیا ہے تو نے اے مجنوں\nکہ لیلیٰ کی طرح تو خود بھی ہے محمل نشینوں میں\n\nمہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اُڑتے جاتے ہیں\nمگر گھڑیاں جُدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں\n\nمجھے روکے گا تُو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے\nکہ جن کو ڈوبنا ہو، ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں\n\nچھُپایا حُسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نے\nوہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میں\n\nجلا سکتی ہے شمعِ کشتہ کو موجِ نفَس ان کی\nالٰہی! کیا چھُپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں\n\nتمنّا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی\nنہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں\n\nنہ پُوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو\nیدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں\n\nترستی ہے نگاہِ نارسا جس کے نظارے کو\nوہ رونق انجمن کی ہے انھی خلوت گزینوں میں\n\nکسی ایسے شرر سے پھُونک اپنے خرمنِ دل کو\nکہ خورشیدِ قیامت بھی ہو تیرے خوشہ چینوں میں\n\nمحبّت کے لیے دل ڈھُونڈ کوئی ٹُوٹنے والا\nیہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں\n\nسراپا حُسن بن جاتا ہے جس کے حُسن کا عاشق\nبھلا اے دل حسیں ایسا بھی ہے کوئی حسیِنوں میں\n\nپھڑک اُٹھّا کوئی تیری ادائے ’مَا عَرَفْنا‘ پر\nترا رُتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرینوں میں\n\nنمایاں ہو کے دِکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنا\nبہت مدّت سے چرچے ہیں ترے باریک بینوں میں\n\nخموش اے دل!، بھری محفل میں چِلّانا نہیں اچھّا\nادب پہلا قرینہ ہے محبّت کے قرینوں میں\n\nبُرا سمجھوں انھیں، مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا\nکہ میں خود بھی تو ہوں اقبالؔ اپنے نُکتہ چینوں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%86%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%8E%DB%8C%DA%BA_%DA%88%D9%8F%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو آوے منہ پہ ترے ماہتاب ہے کیا چیز", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو آوے منہ پہ ترے ماہتاب ہے کیا چیز\nغرض یہ ماہ تو کیا آفتاب ہے کیا چیز\n\nیہ پیرہن میں ہے اس گورے گورے تن کی جھلک\nکہ جس کے سامنے موتی کی آب ہے کیا چیز\n\nبھلا دیں ہم نے کتابیں کہ اس پری رو کے\nکتابی چہرے کے آگے کتاب ہے کیا چیز\n\nتمہارے ہجر میں آنکھیں ہماری مدت سے\nنہیں یہ جانتیں دنیا میں خواب ہے کیا چیز\n\nنظیرؔ حضرت دل کا نہ کچھ کھلا احوال\nمیں کس سے پوچھوں یہ ندرت مآب ہے کیا چیز\n\nجو سخت ہووے تو ایسا کہ کوہ آہن کا\nجو نرم ہووے تو برگ گلاب ہے کیا چیز\n\nگھڑی میں سنگ گھڑی موم اور گھڑی فولاد\nخدا ہی جانے یہ عالی جناب ہے کیا چیز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D9%88%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%DB%8C%D8%B2"} {"title": "جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا\nتو بس ہاتھ ملتے ہی رہ جائیے گا\n\nنگاہوں سے چھپ کر کہاں جائیے گا\nجہاں جائیے گا ہمیں پائیے گا\n\nمرا جب برا حال سن پائیے گا\nخراماں خراماں چلے آئیے گا\n\nمٹا کر ہمیں آپ پچھتائیے گا\nکمی کوئی محسوس فرمائیے گا\n\nنہیں کھیل ناصح جنوں کی حقیقت\nسمجھ لیجئے گا تو سمجھائیے گا\n\nہمیں بھی یہ اب دیکھنا ہے کہ ہم پر\nکہاں تک توجہ نہ فرمائیے گا\n\nستم عشق میں آپ آساں نہ سمجھیں\nتڑپ جائیے گا جو تڑپائیے گا\n\nیہ دل ہے اسے دل ہی بس رہنے دیجے\nکرم کیجئے گا تو پچھتائیے گا\n\nکہیں چپ رہی ہے زبان محبت\nنہ فرمائیے گا تو فرمائیے گا\n\nبھلانا ہمارا مبارک مبارک\nمگر شرط یہ ہے نہ یاد آئیے گا\n\nہمیں بھی نہ اب چین آئے گا جب تک\nان آنکھوں میں آنسو نہ بھر لائیے گا\n\nترا جذبۂ شوق ہے بے حقیقت\nذرا پھر تو ارشاد فرمائیے گا\n\nہمیں جب نہ ہوں گے تو کیا رنگ محفل\nکسے دیکھ کر آپ شرمایئے گا\n\nیہ مانا کہ دے کر ہمیں رنج فرقت\nمداوائے فرقت نہ فرمائیے گا\n\nمحبت محبت ہی رہتی ہے لیکن\nکہاں تک طبیعت کو بہلایئے گا\n\nنہ ہوگا ہمارا ہی آغوش خالی\nکچھ اپنا بھی پہلو تہی پائیے گا\n\nجنوں کی جگرؔ کوئی حد بھی ہے آخر\nکہاں تک کسی پر ستم ڈھایئے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%81_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا\nتو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا\n\nمیں وہ رونے والا جہاں سے چلا ہوں\nجسے ابر ہر سال روتا رہے گا\n\nمجھے کام رونے سے اکثر ہے ناصح\nتو کب تک مرے منہ کو دھوتا رہے گا\n\nبس اے گریہ آنکھیں تری کیا نہیں ہیں\nکہاں تک جہاں کو ڈبوتا رہے گا\n\nمرے دل نے وہ نالہ پیدا کیا ہے\nجرس کے بھی جو ہوش کھوتا رہے گا\n\nتو یوں گالیاں غیر کو شوق سے دے\nہمیں کچھ کہے گا تو ہوتا رہے گا\n\nبس اے میرؔ مژگاں سے پونچھ آنسوؤں کو\nتو کب تک یہ موتی پروتا رہے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%B1%D9%88%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جو ان سے کہو وہ یقیں جانتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو ان سے کہو وہ یقیں جانتے ہیں\nوہ ایسے ہیں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں\n\nبڑے جنتی ہیں یہ مے خوار زاہد\nمئے تلخ کو انگبیں جانتے ہیں\n\nجوانی خود آتی ہے سو حسن لے کر\nجواں کوئی ہو ہم حسیں جانتے ہیں\n\nشب ماہ بنتی ہے ہر شب مرے گھر\nیہ سب بادہ وش مہ جبیں جانتے ہیں\n\nبناوٹ بھی اک فن ہے جو جانتا ہو\nتری سادگی کچھ ہمیں جانتے ہیں\n\nنگاہیں نہ آنکھوں کے گھونگھٹ سے نکلیں\nادائیں غضب شرمگیں جانتے ہیں\n\nتری کم نگاہی سے ابھرے ہیں فتنے\nتجھے غیر چیں بر جبیں جانتے ہیں\n\nمری جان پر رات بن بن گئی ہے\nمرا حال کچھ ہم نشیں جانتے ہیں\n\nجو واقف نہیں لطف تجدید سے کچھ\nوہ توبہ کی لذت نہیں جانتے ہیں\n\nوہ شرمیلی آنکھیں وہ شرمیلی باتیں\nوہ ہنسنا بھی کھل کر نہیں جانتے ہیں\n\nمری بت پرستی بھی ہے حق پرستی\nمرا مرتبہ اہل دیں جانتے ہیں\n\nبڑے پاک طینت بڑے صاف باطن\nریاضؔ آپ کو کچھ ہمیں جانتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%88_%D9%88%DB%81_%DB%8C%D9%82%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو انساں باریاب پردۂ اسرار ہو جائے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو انساں باریاب پردۂ اسرار ہو جائے\nتو اس باطل کدے میں زندگی دشوار ہو جائے\n\nیہ دنیائے وفا دنیائے بے آزار ہو جائے\nمجھی پر کیوں نہ تکمیل جفائے یار ہو جائے\n\nجو ظلمت میں بھی تنویر حقیقت دیکھنا چاہے\nوہ میری طرح پچھلی رات سے بیدار ہو جائے\n\nغرور حسن بھی میرے لئے جزو ادا دائرے\nمرا احساس بھی تیرے لئے پندار ہو جائے\n\nغم پنہاں سے دم گھٹتا ہے اے سیمابؔ کیا کہئے\nخدا ایسا کرے یہ قابل اظہار ہو جائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%A8_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%82_%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "جو اچھے ہیں ان کی کہانی بھی اچھی", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو اچھے ہیں ان کی کہانی بھی اچھی\nلڑکپن بھی اچھا جوانی بھی اچھی\n\nتری مہربانی نہ اچھی ہو کیوں کر\nکہ ہے تیری نا مہربانی بھی اچھی\n\nدر یار سے ہم کو اٹھنا ہے مشکل\nجو ایسی ہو تو ناتوانی بھی اچھی\n\nترے تیر کو اپنا دل کیوں نہ دیں ہم\nنشانہ بھی اچھا نشانی بھی اچھی\n\nجو ہو صدق دل سے کوئی سننے والا\nتو واللہ جھوٹی کہانی بھی اچھی\n\nکہیں عشق میں بد گمانی بری ہے\nکہیں عشق میں بد گمانی بھی اچھی\n\nمئے ناب کی قدر ہم جانتے ہیں\nنئی تو نئی یہ پرانی بھی اچھی\n\nنہ ہو دل میں لیکن مرے دل کے حق میں\nتمہاری محبت زبانی بھی اچھی\n\nاگر نوحؔ کی شعر گوئی ہے بہتر\nتو ہے نوحؔ کی شعر خوانی بھی اچھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C"} {"title": "جو بات تجھ سے چاہی ہے اپنا مزاج آج", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "جو بات تجھ سے چاہی ہے اپنا مزاج آج\nقربان تیری کل پہ نہ ٹال آج آج آج\n\nدہکی ہے آگ دل میں پڑے اشتیاق کی\nتیرے سوائے کس سے ہو اس کا علاج آج\n\nہے فوج فوج غمزہ و انداز تیرے ساتھ\nاقلیم ناز کا ہے تجھے تخت و تاج آج\n\nتیرا وہ حسن ہے کہ جو ہوتا تو بھیجتا\nیوسف زمین مصر سے تجھ کو خراج آج\n\nخوباں روزگار مقلد ترے ہیں سب\nجو چیز تو کرے سو وہ پاوے رواج آج\n\nآب زلال وصل سے اندوہ درد و ہجر\nناپید گھل کے ہوتا ہے کیا مثل زاج آج\n\nانشاؔ سے اپنے اور یہ انکار حیف ہے\nلایا ہے وہ کبھی نہ کبھی احتیاج آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "جو بات ہے تیری سو نرالی", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو بات ہے تیری سو نرالی\nعشاق کشی نئی نکالی\n\nتیر مژگان بھی ہے اس پر\nابرو کی تیغ بھی سنبھالی\n\nسمجھے ہے ظاہراً وہ دل کی\nدیتا ہے جو در جواب گالی\n\nناخن زن ہیں بدل یہ انگشت\nیہ صرف نہیں حنا کی لالی\n\nہیں روز ازل سے ہم گرفتار\nدیکھی نہ کبھو فراغ بالی\n\nتو تو ہے ہی پہ میں بھی پیارے\nہوں بے پروائی لاابالی\n\nکس طرح دکھاؤں آہ تجھ کو\nمیں اپنی یہ خراب حالی\n\nہم ہیں بندے دنی و اسفل\nاور آپ کا ہے مزاج عالی\n\nآئینۂ دل میں محو ہو کر\nصورت ہی کچھ اور اب نکالی\n\nہے تجھ سے ہی عاشقوں کی خوبی\nیا حضرت دردؔ میرے والی\n\nدیوان اثرؔ تمام دیکھا\nہے اس میں ہر ایک شعر عالی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D9%88_%D9%86%D8%B1%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "جو بت ہے یہاں اپنی جا ایک ہی ہے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو بت ہے یہاں اپنی جا ایک ہی ہے\nدوئی چھوڑ بندے خدا ایک ہی ہے\n\nیہ گل کھل رہا ہے وہ مرجھا رہا ہے\nاثر دو طرح کے ہوا ایک ہی ہے\n\nہیں اپنی ہی نیت کے پھل تلخ و شیریں\nوگرنہ مزہ درد کا ایک ہی ہے\n\nبھرے رنگ جتنے بدلتا زمانہ\nمگر عشق کا ماجرا ایک ہی ہے\n\nسبھی شکوے مٹتے ہیں چشم کرم سے\nمرض ہوں ہزاروں دوا ایک ہی ہے\n\nدو رنگی دنیا سے کیا کام ہم کو\nکہ فردوس دل کی فضا ایک ہی ہے\n\nبناتے ہیں بے خود سبھی حسن والے\nٹھکانے الگ راستہ ایک ہی ہے\n\nکوئی سمجھے نغمہ کوئی سمجھے نالہ\nمرے ساز دل کی صدا ایک ہی ہے\n\nوہ دار و رسن ہوں کہ ہوں زہر و خنجر\nبہانے ہزاروں قضا ایک ہی ہے\n\nمحبت کرے اور ہو بے غرض بھی\nلو پھر آرزوؔ آپ کا ایک ہی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D8%AA_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو بشر ہر وقت محو ذات ہے", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو بشر ہر وقت محو ذات ہے\nقلب اس کا لم یزل مرآت ہے\n\nجس کو شغل نفی و اثبات ہے\nوہ ہی صاحب دل ہے خوش اوقات ہے\n\nسہو ہوتا ہے کبھی ہوتا ہے محو\nکیا مزے کا اپنا یہ دن رات ہے\n\nنامراد دہر فرد دہر ہے\nوہ جہاں میں قاضی الحاجات ہے\n\nہوں صفات نفس جس کے قلب روح\nوہ بشر کب ہے وہ حسن ذات ہے\n\nصاحب نسبت کا رتبہ ہے بلند\nگرچہ زاہد صاحب الدعوات ہے\n\nبست میں جب قبض کا دورہ ہوا\nہے قیامت نزع کی سکرات ہے\n\nوہ تعین ہی کے پھندے میں رہا\nجو یہاں پابند محسوسات ہے\n\nمغبچو ہو جاؤ تم بھی بے نیاز\nپیر مغ تو قبلۂ حاجات ہے\n\nہم بھی ہیں ساقیؔ تلاش یار میں\nوہ جو مل جائے تو پھر کیا بات ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D8%B4%D8%B1_%DB%81%D8%B1_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%85%D8%AD%D9%88_%D8%B0%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو بعد مرگ بھی دل کو رہی کنار میں جا", "poet_page": "مصنف:ممنونؔ نظام الدین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو بعد مرگ بھی دل کو رہی کنار میں جا\nتو سو چکا میں فراغت سے بس مزار میں جا\n\nتمام درد ہوں معلوم کچھ نہیں کہ کہاں\nترے خدنگ نے کی ہے تن نزار میں جا\n\nیہی تو رزق ہے بعد فنا مرا ظالم\nسمجھ کے برق شرربار خارزار میں جا\n\nقدم سمجھ کے تو رکھ تشنگان حسرت سے\nتہی نہیں ہے ٹک الفت کی رہ گزار میں جا\n\nاٹھی جو کلفت دل کم ہو میری کلفت میں\nغبار جیسے کہ مل جائے ہے غبار میں جا\n\nنہ ہو کہیں کہ دو صد خون خفتہ ہوں بیدار\nصبا جو جائے تو آہستہ کوئے یار میں جا\n\nخدنگ غمزہ تو خار شگاف ہے اس کا\nچھپائے جی کو کوئی کون سے حصار میں جا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D9%85%D8%B1%DA%AF_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "جو بنے آئنہ وہ تیرا تماشہ دیکھے", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو بنے آئنہ وہ تیرا تماشہ دیکھے\nاپنی صورت میں ترے حسن کا جلوہ دیکھے\n\nہائے کس طرح تجھے عاشق شیدا دیکھے\nتیرا سایہ بھی نہیں ہے کہ جو سایہ دیکھے\n\nتیری شانیں ہیں ہزاروں ترے جلوے لاکھوں\nدو ہی آنکھیں ہوں ملی جس کو وہ کیا کیا دیکھے\n\nقیس کو ہوش نہیں لب پہ انا لیلیٰ ہے\nاپنے دیوانے کو آ کر ذرا لیلیٰ دیکھے\n\nدیکھنے والے ترے دیکھتے ہیں یوں تجھ کو\nجیسے دریا کی طرف پیاس کا مارا دیکھے\n\nکیا سمجھ رکھا ہے اللہ کو تو نے اکبرؔ\nآنکھیں کھولے ہوئے بیٹھا ہے کہ جلوہ دیکھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D9%86%DB%92_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92"} {"title": "جو بھر لیں ایک چٹکی صاحب تاثیر مٹی کی", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو بھر لیں ایک چٹکی صاحب تاثیر مٹی کی\nابھی شرمندۂ تاثیر ہو اکسیر مٹی کی\n\nبنا کر آدمی کیوں آب و گل میں عشق کو ڈالا\nنکالی ہے خدا نے یہ نئی تعزیر مٹی کی\n\nہماری قبر پر بھی اک ہجوم بے کسی ہوگا\nدکھا دیں گے پس مردن تجھے توقیر مٹی کی\n\nزمین کوچۂ دلدار نے کیا پاؤں پکڑے ہیں\nملی دیوانگان عشق کو زنجیر مٹی کی\n\nرہے گا ٹوٹ کر بھی خانۂ دل عالم حسرت\nاسے بھی آپ سمجھے ہیں مگر تعمیر مٹی کی\n\nیہی مٹی ہے جس سے سب بنائے جاتے ہیں یا رب\nبتوں میں کیوں بدل جاتی ہے پھر تاثیر مٹی کی\n\nوہ کشتہ ہوں کہ روئے خاک پر بھی آ گئی سرخی\nخوشی سے شکل بدلی ہے دم تکبیر مٹی کی\n\nجنون عشق میں تیرے زمانہ خاک برسر ہے\nبڑھی ہے ان دنوں توقیر سے توقیر مٹی کی\n\nزباں دی تھی خدا نے بولنے کے واسطے لیکن\nبنایا ناز و تمکیں نے تمہیں تصویر مٹی کی\n\nکہاں سیل حوادث میں پتا ہم خاکساروں کا\nکہیں ٹھہری ہے روئے آب پر تعمیر مٹی کی\n\nمسلط خاکیوں پر کیوں کیا ہے چرخ کو یا رب\nنہ تھا مقبول عذر اس کا تو کیا تقصیر مٹی کی\n\nوہ کیا کیا خاک اڑاتے ہیں زباں پر آ کے تو نے تو\nہماری بات بھی اے نالۂ شب گیر مٹی کی\n\nتم آئے میرے گھر کا ذرہ ذرہ ہو گیا روشن\nہوئی مہر درخشاں سے سوا تنویر مٹی کی\n\nاڑانے دیتے ہیں وحشت زدہ تیرے کوئی دن میں\nبڑھے گی جستجو اب صورت اکثیر مٹی کی\n\nوہ آئے خاک اڑانے کو پس مردن تو حسرت سے\nہماری روح کہتی ہے زہے تقدیر مٹی کی\n\nبنایا اس سے ہے دشمن کو اور ہم کو مگر سالکؔ\nکہیں توقیر مٹی کی کہیں تحقیر مٹی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%86%D9%B9%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%D8%AA%D8%A7%D8%AB%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D9%B9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "جو بھلے برے کی اٹکل نہ مرا شعار ہوتا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو بھلے برے کی اٹکل نہ مرا شعار ہوتا\nنہ جزائے خیر پاتا نہ گناہ گار ہوتا\n\nمے بے خودی کا ساقی مجھے ایک جرعہ بس تھا\nنہ کبھی نشہ اترتا نہ کبھی خمار ہوتا\n\nمیں کبھی کا مر بھی رہتا نہ غم فراق سہتا\nاگر اپنی زندگی پر مجھے اختیار ہوتا\n\nیہ جو عشق جاں ستاں ہے یہ جو بحر بیکراں ہے\nنہ سنا کوئی سفینہ کبھی اس سے پار ہوتا\n\nکبھی بھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا\nکہ جو کوئی تم سے کرتا تمہیں ناگوار ہوتا\n\nہے اس انجمن میں یکساں عدم و وجود میرا\nکہ جو میں یہاں نہ ہوتا یہی کاروبار ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A8%DA%BE%D9%84%DB%92_%D8%A8%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%B9%DA%A9%D9%84_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "جو بھی منجملۂ آشفتہ سرا ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو بھی منجملۂ آشفتہ سرا ہوتا ہے\nزینت محفل صاحب نظراں ہوتا ہے\n\nیہی دل جس کو شکایت ہے گراں جانی کی\nیہی دل کار گہ شیشہ گراں ہوتا ہے\n\nشاخ گلزار کے سائے میں کہاں دم لیجے\nکہ یہاں خون کا سیل گزراں ہوتا ہے\n\nکس کو دکھلائیے اپنوں کی ملامت کا سماں\nکہ یہ اسلوب حدیث دگراں ہوتا ہے\n\nکس کو بتلائیے وہ رابطۂ ناز و نیاز\nان کی محفل میں جو اے دیدہ وراں ہوتا ہے\n\nکبھی کرتی ہے تجلی نگرانی دل کی\nکبھی دل سوئے تجلی نگراں ہوتا ہے\n\nمجھ پہ ہوتے ہیں غم دل کے صحیفے نازل\nجن میں افسانۂ عالی گہراں ہوتا ہے\n\nدل بھی دیتا ہے مجھے مشورۂ ترک وفا\nکچھ تقاضائے جہان گزراں ہوتا ہے\n\nمیں تو ہوں شیفتۂ رنگ تغزل عابدؔ\nکہ یہی شاہد خونیں جگراں ہوتا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%84%DB%82_%D8%A2%D8%B4%D9%81%D8%AA%DB%81_%D8%B3%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو بیچ میں آئنہ ہو پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو بیچ میں آئنہ ہو پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے\nتو پھر ہوں باہم دگر نظارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے\n\nجو کچھ گزرتی ہے دل پہ پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے\nکہیں وہ کس سے عدو ہیں سارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے\n\nچلے وہ باد مراد ہمدم جو بحر غم سے نکالے باہم\nخوشی کے بجرے لگیں کنارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے\n\nخوشی تھی خلوت نشیں تھے باہم مخل ہوا غیر آ کے جس دم\nتو ہوش و عقل و خرد سدھارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے\n\nنصیب اگر پھر ہوئی وہ صحبت بہم جو گزری میان عشرت\nتو کام بگڑے خدا سنوارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے\n\nخدا دکھائے جو وصل کی شب خوشی سے گل گل شگفتہ ہوں سب\nجو داغ دل پر ہیں غم کے مارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے\n\nملا ہے تم کو جو شہر خوبی تو ملک غم کے ہیں ہم بھی والی\nہوئے ہیں کشور دو اجارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے\n\nجو بات کرتے نہ غیر دیتے جھکا کے آنکھیں ہی دیکھ لیتے\nکہ ہوتے باہم دگر اشارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے\n\nخبر نہ افشاں کی ہم جھلک سے نہ تم خبر درد کی چمک سے\nکچھ ان دنوں میں برے ستارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے\n\nنکالو وصلت کی تم جو راہیں کروں میں رہ رہ کے گرم آہیں\nجہاز دودی لگیں کنارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے\n\nخدا اٹھائے یہ پردۂ غم جو مل کے ہم تم ہوں شادؔ باہم\nتو کیسی شادی ہو گھر میں پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%A8%DB%8C%DA%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "جو تجھ سے شور تبسم ذرا کمی ہوگی", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو تجھ سے شور تبسم ذرا کمی ہوگی\nہمارے زخم جگر کی بڑی ہنسی ہوگی\n\nرہا نہ ہوگا مرا شوق قتل بے تحسیں\nزبان خنجر قاتل نے داد دی ہوگی\n\nتری نگاہ تجسس بھی پا نہیں سکتی\nاس آرزو کو جو دل میں کہیں چھپی ہوگی\n\nمرے تو دل میں وہی شوق ہے جو پہلے تھا\nکچھ آپ ہی کی طبیعت بدل گئی ہوگی\n\nبجھی دکھائی تو دیتی ہے آگ الفت کی\nمگر وہ دل کے کسی گوشے میں دبی ہوگی\n\nکوئی غزل میں غزل ہے یہ حضرت وحشتؔ\nخیال تھا کہ غزل آپ نے کہی ہوگی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D8%A8%D8%B3%D9%85_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D9%85%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C"} {"title": "جو تجھے امتحان دیتا ہے", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو تجھے امتحان دیتا ہے\nکس خوشی سے وہ جان دیتا ہے\n\nکیا دیا ہم نے جان دی جو اسے\nیہ تو سارا جہان دیتا ہے\n\nچاہئے آپ کو تو لے لیجے\nجان اک ناتوان دیتا ہے\n\nتجھ سے با وضع ہے ترا خنجر\nمرنے والوں پہ جان دیتا ہے\n\nنام سنتا ہے جب وہ بیخودؔ کا\nگالیاں بد زبان دیتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو تجھے دیکھ کے مبہوت ہوا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو تجھے دیکھ کے مبہوت ہوا\nخون دل اس کو سدا قوت ہوا\n\nجو موا دیکھ ترے عارض کوں\nشاخ گل کا اسے تابوت ہوا\n\nجو اٹھا مجلس ناسوتی میں\nمحرم خلوت لاہوت ہوا\n\nنوک مژگان صنم حق میں مرے\nتیز جوں نیزۂ رجپوت ہوا\n\nاشک خونیں شب ہجراں کا سراجؔ\nروغن شعلۂ یاقوت ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%A8%DB%81%D9%88%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "جو تصور سے ماورا نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:اقبال سہیل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو تصور سے ماورا نہ ہوا\nوہ تو بندہ ہوا خدا نہ ہوا\n\nدل اگر درد آشنا نہ ہوا\nننگ ہستی ہوا ہوا نہ ہوا\n\nرتبہ داں تھا جبین عشق کا میں\nحسن کے در پہ جبہہ سا نہ ہوا\n\nدل خطاوار اشتیاق سہی\nلب گنہ گار التجا نہ ہوا\n\nننگ ہے بے عمل قبول بہشت\nیہ تو صدقہ ہوا صلا نہ ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "جو تم نے پوچھا تو حرف الفت بر آیا صاحب ہمارے لب سے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو تم نے پوچھا تو حرف الفت بر آیا صاحب ہمارے لب سے\nسو اس کو سن کر ہوے خفا تم نہ کہتے تھے ہم اسی سبب سے\n\nنہ دیتے ہم تو کبھی دل اپنا نہ ہوتے ہرگز خراب و رسوا\nولے کریں کیا کہ تم نے ہم کو دکھائیں جھمکیں عجب ہی چھب سے\n\nوہ جعد مشکیں جو دن کو دیکھے تو یاد اس کی میں شام ہی سے\nیہ پیچ و تاب آ کے دل سے الجھے کہ پھر سحر تک نہ سلجھے شب سے\n\nلگائی فندق جو ہم نے اس کی کلائی پکڑی تو ہنس کے بولا\nیہ انگلی پہنچے کی یاں نہ ٹھہری بس آپ رہئے ذرا ادب سے\n\nکہا تھا ہم کچھ کہیں گے تم سے کہا تو ایسا کہ ہم نہ سمجھے\nسمجھتے کیوں کر کہ اس نے لب سے سخن نکالا کچھ ایسے ڈھب سے\n\nہوس تو بوسے کی ہے نہایت پہ کیجئے کیا کہ بس نہیں ہے\nجو دسترس ہو تو مثل ساغر لگاویں لب کو ہم ان کے لب سے\n\nکسی نے پوچھا نظیرؔ کو بھی تمہاری محفل میں بار ہوگا\nکہا کہ ہوگا وہ بولا کب سے کہا کبھو کا کبھی، نہ اب سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%AD%D8%B1%D9%81_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D8%B3%DB%92"} {"title": "جو تماشا نظر آیا اسے دیکھا سمجھا", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو تماشا نظر آیا اسے دیکھا سمجھا\nجب سمجھ آ گئی دنیا کو تماشا سمجھا\n\nاس کی اعجاز نمائی کا تماشائی ہوں\nکہیں جگنو بھی جو چمکا ید بیضا سمجھا\n\nمیں یہ سمجھا ہوں کہ سمجھے نہ مری بات کو آپ\nسر ہلا کر جو کہا آپ نے اچھا سمجھا\n\nاثر حسن کہوں یا کشش عشق کہوں\nمیں تماشائی تھا وہ مجھ کو تماشا سمجھا\n\nکیا کہوں میرے سمانے کو سمجھ ہے درکار\nخاک سمجھا جو مجھے خاک کا پتلا سمجھا\n\nایک وہ ہیں جنہیں دنیا کی بہاریں ہیں نصیب\nایک میں ہوں قفس تنگ کو دنیا سمجھا\n\nمیرا ہر شعر ہے اک راز حقیقت بیخودؔ\nمیں ہوں اردو کا نظیریؔ مجھے تو کیا سمجھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا\nاٹھ بھی جائے گا جہاں سے تو مسیحا ہوگا\n\nوہ تو موسیٰ ہوا جو طالب دیدار ہوا\nپھر وہ کیا ہوگا کہ جس نے تمہیں دیکھا ہوگا\n\nقیس کا ذکر مرے شان جنوں کے آگے\nاگلے وقتوں کا کوئی بادیہ پیما ہوگا\n\nآرزو ہے مجھے اک شخص سے ملنے کی بہت\nنام کیا لوں کوئی اللہ کا بندا ہوگا\n\nلعل لب کا ترے بوسہ تو میں لیتا ہوں مگر\nڈر یہ ہے خون جگر بعد میں پینا ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%AE%D8%B4_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جو تمہیں یاد کیا کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو تمہیں یاد کیا کرتے ہیں\nآہ و فریاد کیا کرتے ہیں\n\nکام ان کا ہے شب و روز یہی\nستم ایجاد کیا کرتے ہیں\n\nتیرے مے خانہ کو اے پیر مغاں\nہمیں آباد کیا کرتے ہیں\n\nاپنی وحشت سے ترے دیوانے\nدشت آباد کیا کرتے ہیں\n\nجام مے پی کے شب فرقت میں\nدل کو ہم شاد کیا کرتے ہیں\n\nمسئلے شیخ کے جو سنتے ہیں\nعمر برباد کیا کرتے ہیں\n\nمشرقیؔ کوئی سنے یا نہ سنے\nہم تو فریاد کیا کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو تنگ آ کر کسی دن دل پہ ہم کچھ ٹھان لیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو تنگ آ کر کسی دن دل پہ ہم کچھ ٹھان لیتے ہیں\nستم دیکھو کہ وہ بھی چھوٹتے پہچان لیتے ہیں\n\nبہ قدر حوصلہ صحرائے وحشت چھان لیتے ہیں\nمسافر ہیں سفر کے واسطے سامان لیتے ہیں\n\nخدا چاہے تو اب کے قتل گہہ میں مشکل آساں ہو\nترے بیمار ناحق موت کا احسان لیتے ہیں\n\nکہیں مرقد پہ جاتے ہیں کہیں گھر تک نہیں جاتے\nکسی کو جان دیتے ہیں کسی کی جان لیتے ہیں\n\nکدورت تاکہ رہ جائے سب اپنے دامن تر میں\nشراب شوق ہم پینے کے پہلے چھان لیتے ہیں\n\nہماری شاعری زندہ ہوئی اے شادؔ مرنے پر\nکہ شائق نقد جاں دے دے کے اب دیوان لیتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81_%DB%81%D9%85_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو تو ہو پاس تو دیکھوں بہار آنکھوں سے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو تو ہو پاس تو دیکھوں بہار آنکھوں سے\nوگرنہ کرتے ہیں گل کار خار آنکھوں سے\n\nکہاں ہے تو کہ میں کھینچوں ہوں راہ میں تیری\nبسان نقش قدم انتظار آنکھوں سے\n\nزبس کہ آتش غم شعلہ زن ہے سینہ میں\nگریں ہیں اشک کی جاگہ شرار آنکھوں سے\n\nمیں یاد کر در دندان یار روتا ہوں\nٹپکتے ہیں گہر آب دار آنکھوں سے\n\nٹک آ کے دیکھ تو اے سرو قد مرا احوال\nرواں ہے غم میں ترے جوئبار آنکھوں سے\n\nچڑھاؤں دستۂ نرگس مزار مجنوں پر\nجو دیکھوں آج میں روئے نگار آنکھوں سے\n\nچمن میں کل کوئی تجھ سا پری نظر نہ پڑا\nاگرچہ دیکھے ہیں جا کر ہزار آنکھوں سے\n\nہوا ہے دیدۂ بیدارؔ گل فشاں جب سے\nگرا ہے تب سے یہ ابر بہار آنکھوں سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہوگا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہوگا\nتو جینا ہمیں اپنا دشوار ہوگا\n\nغم ہجر رکھے گا بے تاب دل کو\nہمیں کڑھتے کڑھتے کچھ آزار ہوگا\n\nجو افراط الفت ہے ایسا تو عاشق\nکوئی دن میں برسوں کا بیمار ہوگا\n\nاچٹتی ملاقات کب تک رہے گی\nکبھو تو تہ دل سے بھی یار ہوگا\n\nتجھے دیکھ کر لگ گیا دل نہ جانا\nکہ اس سنگ دل سے ہمیں پیار ہوگا\n\nلگا کرنے ہجران سختی سے سختی\nخدا جانے کیا آخر کار ہوگا\n\nیہی ہوگا کیا ہوگا میرؔ ہی نہ ہوں گے\nجو تو ہوگا بے یار غم خوار ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%8C_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جو تھے ہاتھ مہندی لگانے کے قابل", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو تھے ہاتھ مہندی لگانے کے قابل\nہوئے آج خنجر اٹھانے کے قابل\n\nعنادل بھی کلیاں بھی گل بھی صبا بھی\nیہ صحبت ہے ہنسنے ہنسانے کے قابل\n\nحنا بن کے میں چوم لوں دست نازک\nترے ہاتھ ہیں رنگ لانے کے قابل\n\nجوانی کا اب رنگ کچھ آ چلا ہے\nوہ اب ہو چلے ہیں ستانے کے قابل\n\nمجھے دیکھ کر دخت رز تن رہی ہے\nیہ کھنچ کر ہوئی ہے اڑانے کے قابل\n\nقیامت میں دیکھیں گے کیوں کر انہیں ہم\nنہیں شرم سے آنکھ اٹھانے کے قابل\n\nبنائیں نہ اب اس کو اب شمع محفل\nجلا دل نہیں ہے جلانے کے قابل\n\nچمن میں اڑا ان کو اے باد صرصر\nمرے ٹوٹے پر ہیں اڑانے کے قابل\n\nبنے شعلے بجلی کے قسمت سے میری\nجو تنکے تھے کچھ آشیانے کے قابل\n\nبڑھاپے میں ثابت ہوئے دزد مے ہم\nنہ آنے کے قابل نہ جانے کے قابل\n\nیہ کہتی ہے حضرت کی ریش حنائی\nریاضؔ اب بھی ہیں رنگ لانے کے قابل", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84"} {"title": "جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہ", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہ\nتو رخ کرے سوئے آئینہ وار آئینہ\n\nکہے ہے دیکھ کے رخسار یار آئینہ\nکہ اس صفائی پہ صدقے نثار آئینہ\n\nسیاہ رو نہ کرے ترک الفت گلفام\nمیں بو الہوس کو دکھاؤں ہزار آئینہ\n\nصفائی دل کی کہاں قدر تیرہ روزی میں\nچراغ صبح ہے شب ہائے تار آئینہ\n\nسمجھ لیا مگر اس سبز رنگ کو طوطی\nکہ ہے نظارے کا امیدوار آئینہ\n\nوہ سخت جاں ہوں کہ دکھلائیں گر دم مردن\nتو توڑ دے کمر کوہسار آئینہ\n\nمقابل اس رخ روشن کے کھل گئی قلعی\nنہ ٹھہرا آگ پہ سیماب وار آئینہ\n\nسما رہے ہیں مگر تیرے نو بہ نو جلوے\nکہ بن گیا ہے طلسم بہار آئینہ\n\nشکست رنگ پہ مستی میں ہنستے ہیں ہم بھی\nدکھائیں گے انہیں وقت خمار آئینہ\n\nمجھے تو کہتے ہو مت دیکھ میری جانب تو\nاور آپ دیکھتے ہو بار بار آئینہ\n\nبلا ہے منع وفا نور اڑ گیا ناصح\nتو لے کے دیکھ تو رنگ عذار آئینہ\n\nسمجھ تو مومنؔ اگر ناروا ہو خود بینی\nتو دیکھیں کاہے کو پرہیزگار آئینہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B4%D8%B1%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81"} {"title": "جو تیز قدم تھے وہ گئے دور نکل", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جو تیز قدم تھے وہ گئے دور نکل\nدیکھے بھالے بہت مقامات و محل\nاس راہ کا پر کہیں نہ پایا انجام\nیعنی ہے وہی ہنوز روز اول", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%B2_%D9%82%D8%AF%D9%85_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%86%DA%A9%D9%84"} {"title": "جو جا کے نہ آئے پھر جوانی ہے یہ شے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جو جا کے نہ آئے پھر جوانی ہے یہ شے\nپر حیف نصیب رائیگانی ہے یہ شے\nکیا جان کی فکر لینی دینی ہے یہ چیز\nکیا دل کا خیال آنی جانی ہے یہ شے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%B4%DB%92"} {"title": "جو حروف لکھ گیا تھا مری آرزو کا بچپن", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو حروف لکھ گیا تھا مری آرزو کا بچپن\nانہیں دھو سکے نہ دل سے مری زندگی کے ساون\n\nوہ جو دن بکھر چکے ہیں وہ جو خواب مر چکے ہیں\nمیں انہی کا ہوں مجاور مرا دل انہی کا مدفن\n\nیہی ایک آرزو تھی کہ مجھے کوئی پکارے\nسو پکارتی ہے اب تک مجھے اپنے دل کی دھڑکن\n\nکوئی ٹوٹتا ستارہ مجھے کاش پھر صدا دے\nکہ یہ کوہ و دشت و صحرا ہیں سکوت شب سے روشن\n\nتری منزل وفا میں ہوا خود سے آشنا میں\nتری یاد کا کرم ہے کہ یہی ہے دوست دشمن\n\nترے روبرو ہوں لیکن نہیں روشناس تجھ سے\nتجھے دیکھنے نہ دے گی ترے دیکھنے کی الجھن\n\nظفرؔ آج دل کا عالم ہے عجب میں کس سے پوچھوں\nوہ صبا کدھر سے آئی جو کھلا گئی یہ گلشن", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%B1%D9%88%D9%81_%D9%84%DA%A9%DA%BE_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%86%D9%BE%D9%86"} {"title": "جو حسرت دل ہے وہ نکلنے کی نہیں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جو حسرت دل ہے وہ نکلنے کی نہیں\nجو بات ہے کام کی وہ چلنے کی نہیں\nیہ بھی ہے بہت کہ دل سنبھالے رہئے\nقومی حالت یہاں سنبھلنے کی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%86%DA%A9%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو حسن و عشق سے امن و اماں میں رہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو حسن و عشق سے امن و اماں میں رہتے ہیں\nکہاں کے لوگ ہیں وہ کس جہاں میں رہتے ہیں\n\nکلام پاک میں ہے ذکر حضرت یوسف\nیہ حسن و عشق ہر اک داستاں میں رہتے ہیں\n\nالٰہی اب سے حسینوں کو مہربان بنا\nکہ تیرے بندے انہیں کی اماں میں رہتے ہیں\n\nتمہیں تو ہو وہ جو درد و الم میں رکھتے ہو\nہمیں تو ہیں وہ جو آہ و فغاں میں رہتے ہیں\n\nمجھے تو آپ سے مطلب ہے چاند سورج کون\nوہ ان کو چاہیں گے جو آسماں میں رہتے ہیں\n\nکدھر کدھر کے چلے آتے ہیں یہ بے وحدت\nکہاں کہاں کے تمہارے مکاں میں رہتے ہیں\n\nامید رنج الم ضبط درد صبر قلق\nیہ سب ہمارے دل ناتواں میں رہتے ہیں\n\nہزاروں کام ہیں ایسے بھی دیکھ اے غافل\nکہ بعد مرگ بھی لوگ اس جہاں میں رہتے ہیں\n\nخدا سمجھ لے لگانے بجھانے والوں کو\nیہ خواہ مخواہ یہاں میں وہاں میں رہتے ہیں\n\nاشارے آپ کی ابرو کے کوئی کیا جانے\nکہ کتنے زہر کے تیر اس کماں میں رہتے ہیں\n\nہماری خاص ترقی ہے خانہ ویرانی\nکبھی مکاں میں تھے اب لا مکاں میں رہتے ہیں\n\nاگر سمجھ ہے تو دل دے کے لطف زیست اٹھا\nہزار فائدے اس اک زیاں میں رہتے ہیں\n\nخیال دوست میں رہتے ہیں اے صفیؔ جب تک\nتو اس جہاں میں نہ ہم اس جہاں میں رہتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%85%D9%86_%D9%88_%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو خاص بندے ہیں وہ بندۂ عوام نہیں", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو خاص بندے ہیں وہ بندۂ عوام نہیں\nہزار بار جو یوسف بکے غلام نہیں\n\nبھلا ہو کیا دل زاہد میں سوز الفت حق\nکبھی جلانے کے قابل چراغ خام نہیں\n\nگلا ہے چشم سخن گو سے خامشی کا ہمیں\nدہن کے ہونے نہ ہونے میں کچھ کلام نہیں\n\nتو آفتاب ہے زلف سیہ نہیں تو نہ ہو\nچراغ روز کو کچھ احتیاج شام نہیں\n\nعزیز عاشق گمنام کا ہے دل اس کو\nنگیں وہ ہاتھ میں رکھتا ہے جس میں نام نہیں\n\nبس ایک ہاتھ میں دو ہو کے پڑھ دوگانہ عشق\nجو بے نماز ہے وہ قابل سلام نہیں\n\nیہ سر جھکانا یہ منہ پھیرنا ہے مانع دید\nمری نماز میں سجدہ نہیں سلام نہیں\n\nوہ مجھ پہ مرنے لگی جو ہے مرے درپئے قتل\nالٰہی اس کے سوا اور انتقام نہیں\n\nفراق یار میں دست سبو اڑاتے ہیں خاک\nیہ گرد باد ہے گردش میں اپنا جام نہیں\n\nنہ ہنس رلائے گا تجھ کو خمار بادۂ عیش\nمے نشاط تو اس بزم میں مدام نہیں\n\nپھنسے نہ قید تعلق میں جو کہ ہے آزاد\nچمن میں طائر نکہت اسیر دام نہیں\n\nوہ دل ہو چاک نہیں عشق کا نشاں جس میں\nنگیں وہ ٹوٹے محبت کا جس میں نام نہیں\n\nرہے گا ہجر کا دن کب کٹے اگر شب وصل\nمدام روز قیامت کو بھی قیام نہیں\n\nبنے جو بال کا پھندا تمہاری تیغ کا بال\nتو مرغ جان کے لئے بہتر اس سے دام نہیں\n\nمے دو آتشۂ کفر و دیں سے خلق ہے مست\nمگر شراب یہ ہم مشربو حرام نہیں\n\nپکارا اپنا گدا کہہ کے مجھ کو اے شہ حسن\nفقیر ہوں ترے در کا وزیرؔ نام نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D8%A7%D8%B5_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%82_%D8%B9%D9%88%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو داغ ہے عشق دل نشیں کا جو دل نشیں ہیں دل حزیں کا", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو داغ ہے عشق دل نشیں کا جو دل نشیں ہیں دل حزیں کا\nوہی ہے تمغہ مری جبیں کا وہی سلیماں مرے نگیں کا\n\nگئی نہ مر کر بھی کینہ خواہی ملا کے مٹی میں کی تباہی\nمری طرح سے کہیں الٰہی فلک بھی پیوند ہو زمیں کا\n\nتڑپ نہ پوچھو دل حزیں کی کہوں میں تم سے کہاں کہاں کی\nاسی سے ہے گردش آسماں کی اسی سے ہے زلزلہ زمیں کا\n\nجہان سر پر اٹھا رہا ہوں جنوں میں دھومیں مچا رہا ہوں\nجو دشت میں خاک اڑا رہا ہوں دماغ گردوں پہ ہے زمیں کا\n\nکرم میں ہم کو غضب میں ہم کو کیا جو ممتاز سب میں ہم کو\nتمہاری دشنام و لب میں ہم کو مزہ ملا زہر و انگبیں کا\n\nیہ لاغری اب ہے خار دامن کہ اٹھ نہیں سکتا بار دامن\nجو پاؤں اپنا ہے تار دامن تو ہاتھ ہے تار آستیں کا\n\nمیان محشر ملالتوں سے میں شمع ہوں دل کی حالتوں سے\nکہ پاؤں تک سو خجالتوں سے عرق بہا ہے مری جبیں کا\n\nسخن کو قدرؔ اوج دے زباں سے کہ تخم افشاں ہو لا مکاں سے\nکیا ہے ناسخؔ نے آسماں سے بلند تر رتبہ اس زمیں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%AD%D8%B2%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "جو دل بر کی محبت دل سے بدلے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو دل بر کی محبت دل سے بدلے\nتو لوں امید لا حاصل سے بدلے\n\nمحال عقل کوئی شے نہیں ہے\nجو آسانی مری مشکل سے بدلے\n\nجہاں ہے کور اور خورشید محجوب\nکہاں تک شمع ہر محفل سے بدلے\n\nتہی دست محبت تو بھی سمجھو\nجو جم ساغر کو جام گل سے بدلے\n\nہر اک کو جان دینے کی خوشی ہو\nاجل گر ناوک قاتل سے بدلے\n\nاگر ہو چیں جبیں قاتل دم قتل\nقیامت قامت قاتل سے بدلے\n\nابھی ہم تو عدو سے بھی بدل لیں\nجو غم کو غم سے دل کو دل سے بدلے\n\nکھلے احوال دل جب ناصحوں پر\nتہہ دریا اگر ساحل سے بدلے\n\nشبستاں چھوڑ کر لیلیٰ ہو مجنوں\nمری آغوش گر محمل سے بدلے\n\nنہ جنبش اک قدم ہو آسماں سے\nمری منزل اگر منزل سے بدلے\n\nبتوں کا جلوہ کعبے میں دکھا دیں\nذرا تقویٰ دل مائل سے بدلے\n\nقلقؔ اس ظلم کا پھر کیا ٹھکانا\nاگر مقتول لے قاتل سے بدلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%92"} {"title": "جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہے\nوہ چھٹتا نہیں اور پاس آ رہا ہے\n\nہمیشہ کو پھولے پھلے گا یہ گلشن\nابھی دیکھنے کو تو مرجھا رہا ہے\n\nہر اک شام کہتی ہے پھر صبح ہوگی\nاندھیرے میں سورج نظر آ رہا ہے\n\nبڑھی جا رہی ہے اگر دھوپ آگے\nتو سایہ بھی دوڑا چلا جا رہا ہے\n\nستارے بنیں گے چمک دار آنسو\nیہ رونا ہنسی کی خبر لا رہا ہے\n\nاگر دکھ نہیں ہے نہیں پھر ہے سکھ بھی\nزمانہ یہ پہچان بتلا رہا ہے\n\nتھکن آرزوؔ کہتی ہے راستے کی\nکہ آرام بھی ساتھ ساتھ آ رہا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DA%86%DA%BE%D9%B9%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو\nخلش کیوں ہو تپش کیوں ہو قلق کیوں ہو فغاں کیوں ہو\n\nمزا آتا نہیں تھم تھم کے ہم کو رنج و راحت کا\nخوشی ہو غم ہو جو کچھ ہو الٰہی ناگہاں کیوں ہو\n\nیہ مصرع لکھ دیا ظالم نے میری لوح تربت پر\nجو ہو فرقت کی بیتابی تو یوں خواب گراں کیوں ہو\n\nہمیشہ آدمی کا آدمی غم خوار ہوتا ہے\nیہی بے اعتباری ہو تو کوئی راز داں کیوں ہو\n\nبہت نکلیں گے روز حشر تیرے جور کے خواہاں\nستم کا حوصلہ دنیا میں صرف امتحاں کیوں ہو\n\nغضب آیا ستم ٹوٹا قیامت ہو گئی برپا\nیہ پوچھا تھا کہ تم آزردہ مجھ سے میری جاں کیوں ہو\n\nانہیں کو رنجش بے جا ہے لیکن ہے تو ہم سے ہے\nمحبت گر نہ ہو باہم شکایت درمیاں کیوں ہو\n\nگئے ٹھکرا کے مجھ کو اور پھر کہتے گئے یہ بھی\nنصیب دشمناں تو پائمال آسماں کیوں ہو\n\nنئی تاکید ہے ضبط محبت کی وہ کہتے ہیں\nجگر ہو تو فغاں کیوں ہو دہن ہو تو زباں کیوں ہو\n\nشریک دور مے بزم عدو میں خاک ہوتے ہم\nکسی نے رات بھر اتنا نہ پوچھا تم یہاں کیوں ہو\n\nتحمل کر سکے کیا حسن نازک ان نگاہوں کا\nاسے میں نے چھپایا ہے وگرنہ وہ نہاں کیوں ہو\n\nخدا شاہد خدا شاہد ہے کیوں کہتے ہو وعدوں پر\nخدا کو کیا غرض میرے تمہارے درمیاں کیوں ہو\n\nجگر سے کم نہیں اے چارہ گر داغ جگر مجھ کو\nجو پیدا کی ہو مر مر کے وہ دولت رائیگاں کیوں ہو\n\nنوید جاں فزا ہے کیا خبر قاتل کے آنے کی\nبتاؤ تو سہی تم داغؔ ایسے شادماں کیوں ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88"} {"title": "جو دل مرا نہیں مجھے اس دل سے کیا غرض", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "جو دل مرا نہیں مجھے اس دل سے کیا غرض\nچلنی نہ ہو جو راہ تو منزل سے کیا غرض\n\nڈوبوں گا گر ہے میرے مقدر میں ڈوبنا\nغواص بحر عشق کو ساحل سے کیا غرض\n\nوہ دل کو دیکھتا ہے نہ اعمال ظاہری\nلیلیٰ کے خواست گار کو محمل سے کیا غرض\n\nسنتا ہے کون عاشقوں کی آہ و زاریاں\nگوش چمن کو شور عنادل سے کیا غرض\n\nہم اس کے شیفتہ ہیں رقیبوں سے واسطہ\nگل سے غرض ہے فوج عنادل سے کیا غرض\n\nمرتا ہوں اور جا نہیں سکتا سوئے عدم\nمجھ ناتواں کو طوق و سلاسل سے کیا غرض\n\nکیوں در پئے تلاش ہیں احباب و اقربا\nپرویںؔ شہید ناز کو قاتل سے کیا غرض", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D8%B1%D8%B6"} {"title": "جو دل میں خون تمنا کیا نہ کرتے ہم", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو دل میں خون تمنا کیا نہ کرتے ہم\nتو مثل شعلہ بھڑک کر جلا نہ کرتے ہم\n\nاگر نہ کشمکش وحشت جنوں ہوتی\nتو چاک جیب و گریباں کیا نہ کرتے ہم\n\nاگر نہ خاطر صیاد پر گراں ہوتے\nتو یوں تڑپ کے قفس سے اڑا نہ کرتے ہم\n\nامید نقش پہ آنے کی تیرے گر ہوتی\nتو اپنے جینے کی ہرگز دعا نہ کرتے ہم\n\nنہ ہوتے تیرے تغافل کے ہم اگر کشتے\nتو زیر تیغ کبھی دم لیا نہ کرتے ہم\n\nجو داغ سینۂ عاشق نہ مشعلی ہوتا\nتو آفتاب سے نسبت دیا نہ کرتے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D9%86_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "جو دل نہیں رکھتا کوئی مشکل نہیں رکھتا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو دل نہیں رکھتا کوئی مشکل نہیں رکھتا\nمشکل نہیں رکھتا کوئی جو دل نہیں رکھتا\n\nکھینچے لیے جاتا ہے کہیں شوق شہادت\nدم لینے کی تاب اب دل بسمل نہیں رکھتا\n\nہوں ریگ کے مانند شب و روز سفر میں\nآوارہ وحشت کوئی منزل نہیں رکھتا\n\nمجبور ہوں کیا زور چلے جوش جنوں سے\nزنجیر کوئی پاؤں کے قابل نہیں رکھتا\n\nکعبے سے ہو یا دیر سے منزل پہ پہنچ جاؤں\nاک دھن ہے تمیز حق و باطل نہیں رکھتا\n\nمے خانے کو دیکھے کوئی ان آنکھوں سے غافل\nاک نور کا دریا ہے کہ ساحل نہیں رکھتا\n\nکوثر بھی کھنچ آئے تو یہ نیت نہیں بھرتی\nدریائے ہوس وہ ہے کہ ساحل نہیں رکھتا\n\nآیا نہ کوئی خواب میں بھی ملک عدم سے\nافسوس کہ اتنی بھی کشش دل نہیں رکھتا\n\nلیلیٰ کو بھلا دیکھے گا کن آنکھوں سے مجنوں\nجب طاقت نظارۂ محمل نہیں رکھتا\n\nکیوں یاسؔ قفس میں بھی وہی زمزمہ سنجی\nایسا تو زمانے میں کوئی دل نہیں رکھتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7"} {"title": "جو دل کو دیجے تو دل میں خوش ہو کرے ہے کس کس طرح سے ہلچل", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو دل کو دیجے تو دل میں خوش ہو کرے ہے کس کس طرح سے ہلچل\nاگر نہ دیجے تو وو ہیں کیا کیا جتاوے خفگی عتاب اکڑ بل\n\nاگر یہ کہئے کہ ہم ہیں بے کل ذرا گلے مل تو ہنس کے ظالم\nدکھاوے ہیکل اٹھا کے یعنی بلا سے میری مجھے تو ہے کل\n\nجو اس بہانے سے ہاتھ پکڑیں کہ دیکھ دل کی دھڑک ہمارے\nتو ہاتھ چھپ سے چھڑا لے کہہ کر مجھے نہیں ہے کچھ اس کی اٹکل\n\nجو چھپ کے دیکھیں تو تاڑ جاوے وگر صریحاً تو دیکھو پھرتی\nکہ آتے آتے نگاہ رخ تک چھپا لے منہ کو الٹ کے آنچل\n\nکرے جو وعدہ تو اس طرح کا کہ دل کو سنتے ہی ہو تسلی\nجو سوچیے پھر تو کیسا وعدہ فقط بہانہ فریب اور چھل\n\nجو دل کو بوسے کے بدلے دیجے تو ہنس کے لیلیٰ بہت خوشی سے\nجو بوسہ مانگو تو پھر یہ نقشا کبھی تو آج اور کبھی کہے کل\n\nنہ جل میں آوے نہ بھڑ کے نکلے نہ پاس بیٹھے نظیرؔ اک دم\nبڑا ہی پر فن بڑا ہی سیانا بڑا ہی شوخ اور بڑا ہی چنچل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%AC%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%84%DA%86%D9%84"} {"title": "جو دم حقے کا دوں بولے کہ ”میں حقا نہیں پیتا”", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو دم حقے کا دوں بولے کہ ”میں حقا نہیں پیتا”\nبھروں جلدی سے گر سلفا، کہے ”سلفا نہیں پیتا”\n\nخدا کے واسطے کر تو ہی ساقی اس کی دل داری\nکہ میرے ہاتھ سے مے، یار بے پروا نہیں پیتا\n\nاگرچہ مے کدہ معمور ہے لیکن ترا کیفی\nبرنگ گل بہ جز یک ساغر صہبا نہیں پیتا\n\nمیں عالی ہمتی کا اس کی بندہ ہوں کہ جو میکش\nنہیں ملتی جو مے، تو بھنگ اور بوزا نہیں پیتا\n\nوزیر الملک کا از بس کہ مئے نوشاں پہ قدغن ہے\nبجائے مے، ہے وہ یاں کون جو کتھا نہیں پیتا\n\nلب سوفار میں سرخی کہاں سے اس کے آئی ہے؟\nجو تیرا تیر پیارے خون دل میرا نہیں پیتا\n\nکسی نے یہ فسوں کچھ پڑھ کے اس کافر پہ مارا ہے\nکہ ان روزوں وہ پانی بھی مرے گھر کا نہیں پیتا\n\nپیے ہے اس طرح دیوانہ، مل مل تاک کے پتے\nکہ تریاکی بھی یوں افیون کا گھولا نہیں پیتا\n\nکہے ہے مجھ سے یوں ہمدم کہ رت لاہن کی آئی ہے\nولے کیا فائدہ تجھ کو، تو ڈر ٹھرا نہیں پیتا\n\nچلے ہے روز غیروں کے گلے پر تیغ تیز اس کی\nلہو کے گھونٹ کس دن عاشق شیدا نہیں پیتا\n\nشراب دوستگانی کا قدح رکھ ہاتھ پر اپنے\nکہا میں نے جو ”پی” اس کو، وہ یوں بولا” نہیں پیتا”\n\nنہیں ملتا وہ جو شیریں دہن اے مصحفیؔ تجھ کو\nتو اس کے ہجر میں کیوں زہر کا پیالا نہیں پیتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%85_%D8%AD%D9%82%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%81_%E2%80%9D%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D9%82%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%AA%D8%A7%E2%80%9D"} {"title": "جو دیکھو مرے شعر تر کی طرف", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو دیکھو مرے شعر تر کی طرف\nتو مائل نہ ہو پھر گہر کی طرف\n\nکوئی داد دل آہ کس سے کرے\nہر اک ہے سو اس فتنہ گر کی طرف\n\nمحبت نے شاید کہ دی دل کو آگ\nدھواں سا ہے کچھ اس نگر کی طرف\n\nلگیں ہیں ہزاروں ہی آنکھیں ادھر\nاک آشوب ہے اس کے گھر کی طرف\n\nبہت رنگ ملتا ہے دیکھو کبھو\nہماری طرف سے سحر کی طرف\n\nبہ خود کس کو اس تاب رخ نے رکھا\nکرے کون شمس و قمر کی طرف\n\nنہ سمجھا گیا ابر کیا دیکھ کر\nہوا تھا مری چشم تر کی طرف\n\nٹپکتا ہے پلکوں سے خوں متصل\nنہیں دیکھتے ہم جگر کی طرف\n\nمناسب نہیں حال عاشق سے صبر\nرکھے ہے یہ دارو ضرر کی طرف\n\nکسے منزل دل کش دہر میں\nنہیں میل خاطر سفر کی طرف\n\nرگ جاں کب آتی ہے آنکھوں میں میرؔ\nگئے ہیں مزاج اس کمر کی طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B4%D8%B9%D8%B1_%D8%AA%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "جو ذوق ہے کہ ہو دریافت آبروئے شراب", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو ذوق ہے کہ ہو دریافت آبروئے شراب\nتو چشم جام سے اے شیخ دیکھ سوئے شراب\n\nکبھی تو دے گل دستار شیخ بوئے شراب\nقبا کی بیل میں یا رب لگے کدوئے شراب\n\nوہ مست ہیں جو ہیں مجروح تیغ موجۂ مے\nجگر کے چاک پہ اے گل بنے سبوئے شراب\n\nجو عاشق لب بے گون یار ہو فرہاد\nتو بے ستون سے بھی جائے شیر جوئے شراب\n\nوہ مست ہیں کہ جو تیجا پس فنا ہوگا\nہمارے پھول بنیں گے گل کدوئے شراب\n\nہمیشہ مے کدہ میں خوش قدوں کا مجمع ہے\nہزاروں سرو لگے ہیں کنارے جوئے شراب\n\nلگائیں تاک کے اس مست نے جو تلواریں\nدہان زخم بدن سے بھی آئی بوئے شراب\n\nڈبو دیا مجھے طوفان مے نے اے ساقی\nعمیق تر قد آدم سے نکلے جوئے شراب\n\nنماز شکر کی پڑھتا ہے جام توڑ کے شیخ\nوضو کے واسطے لیتا ہے ابروئے شراب\n\nوہ رشک حور مے مشکبو کا خواہاں ہے\nگل بہشت ہے مشتاق رنگ و بوئے شراب\n\nصدائے قلقل مینا سے ہو گیا ثابت\nکہ پیٹ بھر کے کریں مست گفتگوئے شراب\n\nبرنگ شیشۂ مے اب کی فصل بارش میں\nکریں گے بیٹھ کے کشتی میں سیر جوئے شراب\n\nکھلا یہ شیشوں کے جھکنے سے حال اے ساقی\nکہ سرکشی نہیں لازم ہے روبروئے شراب\n\nاسیر دام علائق ہوں کس طرح مے خوار\nکہ رسیوں میں نہیں باندھتے سبوئے شراب\n\nنہ ہو جو کشت عمل اپنی سبز اے ساقی\nریاض خلد سے ہم کاٹ لائیں جوئے شراب\n\nعلاج ضعف بصر نور مے ہے مستوں کو\nہماری آنکھوں کی چشمہ بنے گی جوئے شراب\n\nپتا لگا کے گیا سوئے گلشن جنت\nکہاں کہاں نہیں کی میں نے جستجوئے شراب\n\nکسی نے ساغر مے سے گلوں کو دی تشبیہ\nنسیم باغ سے آئی جو آج بوئے شراب\n\nملیں گے ساغر و مینا جو خالی اسے ساقی\nکریں گے دیدہ و دل اپنی جستجوئے شراب\n\nکیا جو میکشوں نے عزم سیر عالم آب\nتو بدلے تونبوں کے ہاتھ آ گئی کدوئے شراب\n\nخرید جنس شفاعت میں ہوگی کیفیت\nہماری گانٹھ میں ہے نقد آبروئے شراب\n\nبہک کے جاؤں جو مستی میں جانب کوثر\nتو مجھ کو دست سبو کھینچ لائے سوئے شراب\n\nیہ کس کے آنے سے مے خانہ میں ہوئی شادی\nدلہن کے عطر سے ملتی ہے آج بوئے شراب\n\nبدن جو ٹوٹ رہا ہے ظروف مے کے ساتھ\nبنا ہے کیا گل آدم سے ہر سبوئے شراب\n\nوہ رشک مے کرے بالائے بام مے خواری\nالٰہی آج خط کہکشاں ہو جوئے شراب\n\nظروف بادۂ گلگوں ہو میرے کاندھوں پر\nفرشتوں سے بھی میں اٹھواؤں ہر سبوئے شراب\n\nکھلا یہ پھولوں کے ہونے سے حال اے زاہد\nپس فنا بھی ہے رندوں کو آرزوئے شراب\n\nسنا ہے پاس مسیحا کے آفتاب بھی ہے\nکریں گے موت کے حیلے سے جستجوئے شراب\n\nنہ ہو سکی کوئی تعزیر مے کشی ثابت\nزیادہ حد سے بڑھی آج گفتگوئے شراب\n\nگدائے بادہ ہوں الفت میں چشم میگوں کے\nترے فقیر کا تونبا بنا کدوئے شراب\n\nحضور دختر زر ہاتھ پاؤں کانپتے ہیں\nتمام مستوں کو رعشہ ہے روبروئے شراب\n\nمنیرؔ ساقیٔ کوثر سے لوں شراب طہور\nکبھی میں آنکھ اٹھا کر نہ دیکھوں سوئے شراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B0%D9%88%D9%82_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D9%81%D8%AA_%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "جو راہ ملاقات تھی سو جان گئے ہم", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو راہ ملاقات تھی سو جان گئے ہم\nاے خضر تصور ترے قربان گئے ہم\n\nجمعیت حسن آپ کی سب پر ہوئی ظاہر\nجس بزم میں با حال پریشان گئے ہم\n\nاس گھر کے تصور میں جوں ہی بند کیں آنکھیں\nصد شکر کہ بے منت دربان گئے ہم\n\nکل واقف کار اپنے سے کہتا تھا وہ یہ بات\nجرأتؔ کے جو گھر رات کو مہمان گئے ہم\n\nکیا جانیے کم بخت نے کیا ہم پہ کیا سحر\nجو بات نہ تھی ماننے کی مان گئے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "جو رقیبوں نے کہا تو وہی بد ظن سمجھا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو رقیبوں نے کہا تو وہی بد ظن سمجھا\nدوست افسوس نہ سمجھا مجھے دشمن سمجھا\n\nناتواں وہ ہوں کہ بستر پہ مجھے دیکھ کے آہ\nتار بستر کوئی سمجھا کوئی سوزن سمجھا\n\nتیغ قاتل جو محبت سے لگی آ کے گلے\nتاب کو اس کی میں اپنی رگ گردن سمجھا\n\nاپنے پاجامۂ کمخواب کی ہر بوٹی کو\nشمع رو شب کو چراغ تہہ دامن سمجھا\n\nسرعت ابلق ایام سے غافل تھا آہ\nدم آخر میں اسے عمر کا توسن سمجھا\n\nخار صحرا سے چھدی جب کف پا مجنوں کی\nخاک بیزی کو وہ غربال کا روزن سمجھا\n\nکمر یار کا ازبسکہ جو رہتا ہے خیال\nدل کو میں چینیٔ مو دار کا برتن سمجھا\n\nگل کو معلوم نہ تھی ہستئ فانی اپنی\nاے نسیم سحری وقت شگفتن سمجھا\n\nبستر گل سے منقش جو ہوا اس کا بدن\nتن نازک پہ وہ پھلکاری کی چپکن سمجھا\n\nجیتے جی چاہئے ہے عاقبت کار کی فکر\nفائدہ کیا اگر انساں پس مردن سمجھا\n\nمیرزائی کو نہ فریاد نے چھوڑا تا مرگ\nجیغۂ سر تجھے اے تیشۂ آہن سمجھا\n\nعکس افگن ہے ترے ساغر صہبا میں یہ زلف\nتو عبث اے بت مے کش اسے ناگن سمجھا\n\nسایۂ زلف نے اس کے یہ دیا دھوکا رات\nچلنے والوں نے جسے افعی رہزن سمجھا\n\nچشم نے اپنی طرف سے تو سجھائی تھی نصیرؔ\nدل نہ پر اس ستم ایجاد کی چتون سمجھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%A8%D8%AF_%D8%B8%D9%86_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جو روئیں درد دل سے تلملا کر", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو روئیں درد دل سے تلملا کر\nتو وہ ہنستا ہے کیا کیا کھلکھلا کر\n\nیہی دیکھا کہ اٹھوائے گئے بس\nجو دیکھا ٹک ادھر کو آنکھ اٹھا کر\n\nبھلا دیکھیں یہ کن آنکھوں سے کیوں جی\nکسی کو دیکھنا ہم کو دکھا کر\n\nکھڑا رہنے نہ دیں وو اب کہ جو شخص\nاٹھاتے تھے مزے ہم کو بٹھا کر\n\nگیا وو دل بھی پہلو سے کہ جس کو\nکبھی روتے تھے چھاتی سے لگا کر\n\nچلی جاتی ہے تو اے عمر رفتہ\nیہ ہم کو کس مصیبت میں پھنسا کر\n\nخط آیا واں سے ایسا جس سے اپنا\nنوشتہ خوب سمجھے ہم پڑھا کر\n\nابھی گھر سے نہیں نکلا وہ تس پر\nچلا گھر بار اک عالم لٹا کر\n\nدیا دھڑکا اسے کچھ وصل میں ہائے\nبگاڑی بات گردوں نے بنا کر\n\nمحبت ان دنو جو گھٹ گئی واں\nتو کچھ پاتے نہیں اس پاس جا کر\n\nمگر ہم شوق کے غلبے سے ہر بار\nخجل ہوتے ہیں ہاتھ اپنا بڑھا کر\n\nنہیں منہ سے نکلتی اس کے کچھ بات\nکسی نے کیا کہا جرأتؔ سے آ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%84%D9%85%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیں\nآسماں پر دماغ رکھتے ہیں\n\nساقی بھر بھر انہیں کو دے ہے شراب\nجو کہ لبریز ایاغ رکھتے ہیں\n\nتیرے داغوں کی دولت اے گل رو\nہم بھی سینے میں باغ رکھتے ہیں\n\nحاجت شمع کیا ہے تربت پر\nہم کہ دل سا چراغ رکھتے ہیں\n\nآپ کو ہم نے کھو دیا ہے بیاںؔ\nآہ کس کا سراغ رکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو سالک ہے تو اپنے نفس کا عرفان پیدا کر", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو سالک ہے تو اپنے نفس کا عرفان پیدا کر\nحقیقت تیری کیا ہے پہلے یہ پہچان پیدا کر\n\nجہاں جانے کو سب دشوار ہی دشوار کہتے ہیں\nوہاں جانے کا کوئی راستہ آسان پیدا کر\n\nحقیقت کا کہے جو حال کر ایسی زباں پیدا\nمحبت کے سنیں جو گیت ایسے کان پیدا کر\n\nحدود عالم تکویں میں سب ممکن ہی ممکن ہے\nتو نا ممکن کے جھگڑے میں نہ پڑا امکان پیدا کر\n\nالٰہی بھید تیرے اس نے ظاہر کر دیئے سب پر\nکہا تھا کس نے تو سیمابؔ کو انسان پیدا کر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%84%DA%A9_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%86%D9%81%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%A7%D9%86_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "جو سامنا بھی کبھی یار خوب رو سے ہوا", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو سامنا بھی کبھی یار خوب رو سے ہوا\nزمانے بھر کا یرش مجھ پہ چار سو سے ہوا\n\nکہا اشاروں سے میں نے کہ تم پہ مرتا ہوں\nجو نطق بند مرا ان کی گفتگو سے ہوا\n\nکسی کو بھی نہ ہوس تھی حلال ہونے کی\nرواج شوق شہادت مرے گلو سے ہوا\n\nجدھر نگاہ کی جلوہ ترا نظر آیا\nکمال کشف مجھے تیری آرزو سے ہوا\n\nکھلا نہ حال کسی پر کہ کیا مزاج میں ہے\nخدائی میں کوئی واقف نہ اس کی خو سے ہوا\n\nعجب گھڑی سے گریباں پھٹا تھا مجنوں کا\nتمام عمر نہ واقف کبھی رفو سے ہوا\n\nبڑے بڑوں کو لگایا نہ منہ کبھی میں نے\nوہ ظرف ہوں کہ نہ واقف کبھی سبو سے ہوا\n\nوہ خود بھی کر گئے تر آنسوؤں سے تربت کو\nگلی میں یار کی مدفون اس آبرو سے ہوا\n\nبہار باغ کو آئے جو دیکھنے بے یار\nدماغ اور پریشاں گلوں کی بو سے ہوا\n\nچڑھائے گور غریباں پہ گل جو اس گل نے\nچمن بہشت کا پیدا مقام ہو سے ہوا\n\nحلال ہونے کو صیاد سے محبت کی\nقضا جو آئی تو مانوس میں عدو سے ہوا\n\nخدائی کرنے لگا یار بے نیازی سے\nبڑا غرور اسے میری آرزو سے ہوا\n\nجہاں سے محفل معراج میں ہوئی طلبی\nبشر کا مرتبہ یہ اس کی جستجو سے ہوا\n\nلگاتے ہیں جو سب آنکھوں سے آب زمزم کو\nشرفؔ یہ فیض کا چشمہ مری وضو سے ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%B1%D9%88_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "جو سرگزشت اپنی ہم کہیں گے کوئی سنے گا تو کیا کریں گے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو سرگزشت اپنی ہم کہیں گے کوئی سنے گا تو کیا کریں گے\nجو یاد آئیں گی تیری باتیں تو چپ ہی پہروں رہا کریں گے\n\nجو چاہو کہہ لو یہی خوشی ہے تو ہم بھی پھر کیوں گلا کریں گے\nجو کچھ سنائے گی اپنی قسمت تمہارے منہ سے سنا کریں گے\n\nکسے غرض ہے پھر آپ کو کیوں صنم کا بندا کہا کریں گے\nجو یوں ہی ہم کو بھلائیں گے وہ تو ہم بھی یاد خدا کریں گے\n\nعبث یہ ہر دم کا چونکنا ہے عبث یہ اٹھ اٹھ کے دیکھنا ہے\nبھلا وہ ایسے ہوئے تھے کس دن وہی تو وعدہ وفا کریں گے\n\nالٰہی قاصد ابھی نہ آئے کہ یہ توقع بھی ہے غنیمت\nکیا گر انکار صاف اس نے تو دل کی تسکین کیا کریں گے\n\nلو مل بھی جاؤ نہ کچھ تمہاری خطا تھی اس دم نہ کچھ ہماری\nجو یہ ہی دل کے معاملے ہیں تو یوں ہی جھگڑے رہا کریں گے\n\nہمیں تو دیکھو یہ کیا ہوا ہے کہ ان کے کہنے کا پھر یقیں ہے\nوہ جو جھوٹ یوں ہی کہا کریں گے عدو سے یوں ہی ملا کریں گے\n\nستم کی کیجے اگر شکایت تو کہتے ہیں بس تمہیں بھی دیکھا\nیہاں کچھ ایسی غرض ہے کس کو کسی پہ ہم کیوں جفا کریں گے\n\nیہ سچ ہے ناصح! نہ ہوگا ملنا نہیں ہے اچھا نہ ہوگا اچھا\nپھر آپ کو کیا برا کہیں گے تو اپنے حق میں برا کریں گے\n\nنظامؔ تقریر پھر عبث ہے جواب کچھ اس کا دے سکو گے\nوہ اس کا ہر بات پر یہ کہنا کہ ہم تو اپنا کہا کریں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%B1%DA%AF%D8%B2%D8%B4%D8%AA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D9%86%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "جو صاحب مکرمت تھے اور دانش‌‌ مند", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جو صاحب مکرمت تھے اور دانش‌‌ مند\nوہ لوگ تو ہو گئے زمیں کے پیوند\nپوچھو نہ انہیں جو رہ گئے ہیں باقی\nبدنام کنندۂ نکو نامے چند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%D9%85%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B4%E2%80%8C%E2%80%8C_%D9%85%D9%86%D8%AF"} {"title": "جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں\nوہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں\n\nنکھرتا آ رہا ہے رنگ گلشن\nخس و خاشاک جلتے جا رہے ہیں\n\nوہیں میں خاک اڑتی دیکھتا ہوں\nجہاں چشمے ابلتے جا رہے ہیں\n\nچراغ دیر و کعبہ اللہ اللہ\nہوا کی ضد پہ جلتے جا رہے ہیں\n\nشباب و حسن میں بحث آ پڑی ہے\nنئے پہلو نکلتے جا رہے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B7%D9%88%D9%81%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو عاشق ہو اسے صحرا میں چل جانے سے کیا نسبت", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو عاشق ہو اسے صحرا میں چل جانے سے کیا نسبت\nجز اپنی دھول اڑانا اور ویرانے سے کیا نسبت\n\nنہیں پہنچیں بلبلوں کی پختگی کو خام پروانے\nجو دائم سلگیں ان کو پل میں جل جانے سے کیا نسبت\n\nوہ زلفوں سے نہ گزرے بلکہ اپنے جی سے ٹل جاوے\nکہو میرے دل صد چاک کو شانے سے کیا نسبت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%B3%D8%A8%D8%AA"} {"title": "جو عالمِ ایجاد میں ہے صاحبِ ایجاد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "جو عالمِ ایجاد میں ہے صاحبِ ایجاد\nہر دَور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ\n\nتقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو\nکر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ\n\nاُس قوم کو تجدید کا پیغام مبارک!\nہے جس کے تصّور میں فقط بزمِ شبانہ\n\nلیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازۂ تجدید\nمشرق میں ہے تقلیدِ فرنگی کا بہانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%90_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D9%90_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF"} {"title": "جو عدوئے باغ ہو برباد ہو", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو عدوئے باغ ہو برباد ہو\nکوئی ہو گلچیں ہو یا صیاد ہو\n\nمجھ سا عاشق مورد بیداد ہو\nتم بڑے سفاک ہو جلاد ہو\n\nکوچۂ جاناں سے مطلب ہے ہمیں\nدیر ویراں ہو حرم برباد ہو\n\nقید مذہب واقعی اک روگ ہے\nآدمی کو چاہئے آزاد ہو\n\nدور دور محتسب ہے ساقیا\nہائے کیوں کر مے کدہ آباد ہو\n\nبک گئے ہیں آپ تو غیروں کے ہاتھ\nبندہ پرور اب غلام آزاد ہو\n\nیہ تمیز اللہ دے صیاد کو\nباغ ویراں ہو قفس آباد ہو\n\nسرو قدوں سے اگر پالا پڑے\nخوب سیدھا باغ میں شمشاد ہو\n\nآئنہ دل کا جو دکھلاؤں انہیں\nجائے حیرت ہو عجب روداد ہو\n\nتم وہ ہو مر جائیں تو بھی غم نہ ہو\nعیش ہو عشرت ہو خوش ہو شاد ہو\n\nگنبد گردوں پر اے دل آہ سے\nکچھ نہ کچھ آفت پڑے افتاد ہو\n\nموت ہنستی ہے خضر کے حال پر\nتا کجا ہستئ بے بنیاد ہو\n\nموسم گل ہو جنوں کا جوش ہو\nجا بہ جا حداد ہو فصاد ہو\n\nکان رکھ کر وہ مرے نالے سنے\nزلف دود شعلۂ فریاد ہو\n\nمیں وہ بلبل ہوں جسے دونو ہیں ایک\nباغ ہو یا خانۂ صیاد ہو\n\nنذر سر کرتا ہوں میں اے شاہ حسن\nحکم ہو جلاد کو ارشاد ہو\n\nرنگ لایا ہے لڑکپن آپ کا\nنوبہار گلشن ایجاد ہو\n\nکیا قیامت ہے برا ہو موت کا\nہم نہ ہوں یہ عالم ایجاد ہو\n\nبار الٰہا یوں اٹھیں محشر کو ہم\nہاتھ ہو اور دامن جلاد ہو\n\nظاہر و باطن میں اے دل فرق ہو\nبت بغل میں ہو خدا کی یاد ہو\n\nان رقیبوں کو خدا غارت کرے\nآپ ہوں یہ عاشق ناشاد ہو\n\nآپ کو اپنی خوشی سے کام ہے\nکوئی ناخوش ہو کوئی ناشاد ہو\n\nآہ آندھی ہے مٹانے کے لئے\nنقش ہستی چاہئے برباد ہو\n\nجائے گلشن میں جو تو اے نونہال\nکیا توارد مصرع‌ شمشاد ہو\n\nخوب ہے اس گل کو لائے راہ پر\nاے صباؔ تم بھی بڑے استاد ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B9%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%DB%81%D9%88_%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D9%88"} {"title": "جو عضو باطن خدا بناتا تو ہم دل بے قرار ہوتے", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو عضو باطن خدا بناتا تو ہم دل بے قرار ہوتے\nجو عضو ظاہر خدا بناتا تو دیدۂ اشک بار ہوتے\n\nجو گرد کر کے خدا اڑاتا تو اڑتے گرد ملال ہو کر\nجو سنگ کر کے خدا جماتا تو جم کے لوح مزار ہوتے\n\nخدا جو شانہ ہمیں بناتا تو ہم خلش ہوتے اپنے دل کی\nخدا جو آئینہ ہم کو کرتا تو اپنے حیران کار ہوتے\n\nجو روز ہم کو خدا بناتا تو بنتے روز فراق جاناں\nجو رات ہم کو خدا بناتا تو ہم شب انتظار ہوتے\n\nغرض کہ ایسا مصیبتوں کا ہمارے دل کو مزا پڑا ہے\nکہ قدرؔ ہم کو خدا بناتا تو ہو کے بے قدر خوار ہوتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B9%D8%B6%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92"} {"title": "جو علم مردوں کے لیے سمجھا گیا آب حیات", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جو علم مردوں کے لیے سمجھا گیا آب حیات\nٹھہرا تمہارے حق میں وہ زہر ہلاہل سربسر\nجب تک جیو تم علم و دانش سے رہو محروم یاں\nآئی ہو جیسی بے خبر ویسی ہی جاؤ بے خبر\nدنیا کے دانا اور حکیم اس خوف سے لرزاں تھے سب\nتم پر مبادا علم کی پڑ جائے پرچھائیں کہیں\nایسا نہ ہو مرد اور عورت میں رہے باقی نہ فرق\nتعلیم پا کر آدمی بننا تمہیں زیبا نہیں\nعلم و ہنر سے رفتہ رفتہ ہو گئیں مایوس تم\nسمجھا لیا دل کو کہ ہم خود علم کے قابل نہ تھیں\nآخر تمہاری چپ دلوں میں اہل دل کے چبھ گئی\nسچ ہے کہ چپ کی داد آخر بے ملے رہتی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B9%D9%84%D9%85_%D9%85%D8%B1%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA"} {"title": "جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں\nکچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں\n\nلگاؤ ہے مری تنہائیوں سے فطرت کو\nتمام رات ستارے لگائے جاتے ہیں\n\nسمائی جاتی ہیں دل میں وہ کفر بار آنکھیں\nیہ بت کدے مرے کعبے پہ چھائے جاتے ہیں\n\nسمجھ حقیر نہ ان زندگی کے لمحوں کو\nارے انہیں سے زمانے بنائے جاتے ہیں\n\nہیں دل کے داغ بھی کیا دل کے داغ اے سیمابؔ\nٹپک رہے ہیں مگر مسکرائے جاتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو عین وصل میں آرام سے نہیں واقف", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو عین وصل میں آرام سے نہیں واقف\nوہ مطلب دل خود کام سے نہیں واقف\n\nہنسا چمن میں جو دل دیکھ صورت صیاد\nیہ مرغ دانے سے اور دام سے نہیں واقف\n\nتمام شہر میں جس کے لیے ہوئے بد نام\nوہ اب تلک بھی مرے نام سے نہیں واقف\n\nہر ایک عشق کے کب قاعدے سے محرم ہے\nہنوز شیخ الف لام سے نہیں واقف\n\nہزار حیف یہاں چھت سے لگ گئیں آنکھیں\nوہاں وہ شوخ لب بام سے نہیں واقف\n\nدلا عبث طلب بوسہ ہے تجھے اس سے\nوہ لعل لب کہ لب جام سے نہیں واقف\n\nسجی ہے لیک اسے زر کلاہ گزری کی\nفقیر اطلس و پیلام سے نہیں واقف\n\nتپش سے دل کی خبر ہووے ہے یہاں معلوم\nمیں طرز نامہ و پیغام سے نہیں واقف\n\nنہ خوش وصال میں ہو رکھ تو یاد ہجر نصیرؔ\nمگر تو گردش ایام سے نہیں واقف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D8%B9%DB%8C%D9%86_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D8%A7%D9%82%D9%81"} {"title": "جو لا مذہب ہو اس کو ملت و مشرب سے کیا مطلب", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو لا مذہب ہو اس کو ملت و مشرب سے کیا مطلب\nمرا مشرب ہے رندی رند کو مذہب سے کیا مطلب\n\nکتاب درس مجنوں مصحف رخسار لیلیٰ ہے\nحریف نکتہ دان عشق کو مکتب سے کیا مطلب\n\nحسینان دو عالم میں ہے جلوہ حسن یکتا کا\nنظر میں حسن یکتا جب ہوا ان سب سے کیا مطلب\n\nہمارا ہوش ہر دم آشنائے نحن اقرب ہے\nحضوری جس کو حاصل ہو اسے یا رب سے کیا مطلب\n\nتمنائیں بر آئیں اپنی ترک مدعا ہو کر\nہوا دل بے تمنا اب رہا مطلب سے کیا مطلب\n\nہمارے عرصۂ شطرنج میں ہے شاہ دیوانہ\nجسے حاصل ہو آزادی اسے اردب سے کیا مطلب\n\nہمارا سجدہ ہے ہر گام پر پیر طریقت کو\nسلوک عشق میں سر ہے قدم مرکب سے کیا مطلب\n\nہمیں تو یار سے مطلب ہے ساحرؔ اور یاری سے\nہمارا یار اور اغیار کے مطلب سے کیا مطلب", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%84%D8%A7_%D9%85%D8%B0%DB%81%D8%A8_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%84%D8%AA_%D9%88_%D9%85%D8%B4%D8%B1%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8"} {"title": "جو لوگ طرف دار علی گڑھ کے رہیں گے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "جو لوگ طرف دار علی گڑھ کے رہیں گے\nاس دور میں بے شک وہی بڑھ چڑھ کے رہیں گے\nمفلس رہیں بے نام رہیں خیر جو کچھ ہو\nکالج کے یہ سب علم تو ہم پڑھ کے رہیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%84%D9%88%DA%AF_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%DA%AF%DA%91%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "جو مجھے مرغوب ہو وہ سوگواری چاہئے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو مجھے مرغوب ہو وہ سوگواری چاہئے\nمیرے سویم میں تمہیں پوشاک بھاری چاہئے\n\nتازہ ہو باغ تمنا آبیاری چاہئے\nآج تو اے چشم تر کچھ اشک باری چاہئے\n\nجب بہار آئے تو کب پرہیزگاری چاہئے\nسال بھر میں چار دن تو بادہ خواری چاہئے\n\nدل جگر سے جب میں کہتا ہوں نہیں آئے گا یار\nکہتے ہیں کچھ دیر تو اور انتظاری چاہئے\n\nہوں حواس و ہوش اگر باقی تو کیا لطف جنوں\nدل نہ قابو میں ہو وہ بے اختیاری چاہئے\n\nراس آئے تم کو ملک عشق کی آب و ہوا\nعاشقو ہر وقت شغل آہ و زاری چاہئے\n\nوصل کی شب ہے وہ پہلو میں ہیں تو سونے نہ دے\nہاں مرے دل اب زیادہ بے قراری چاہئے\n\nموت بیکار آتی ہے مرنا ہمارا ہے محال\nآپ کی تلوار کا اک زخم کاری چاہئے\n\nروتے روتے مر گئے ہیں جو فراق یار میں\nان کو بہر غسل میت آب جاری چاہئے\n\nسیکھی ان سے دل ربائی آ گئی فصل شباب\nآج کل دل کی طرف سے ہوشیاری چاہئے\n\nسر نہ اٹھے تیری چوکھٹ سے نہ کوچے سے قدم\nطوق بھاری چاہئے زنجیر بھاری چاہئے\n\nہو زیادہ روشنی اور دیر تک باقی رہے\nمیری شمع روح کو محفل تمہاری چاہئے\n\nآپ کے لاؤ نعم نے طرفہ دکھلایا طلسم\nنا امیدی کہتی ہے امیدواری چاہئے\n\nتیرے چہرے کے مقابل ہو اگر تو اس طرح\nآفتاب حشر کو آئینہ داری چاہئے\n\nیہ تمہاری جا نہیں آنکھوں کے وا سے ہیں یہ در\nدل میں دوں تم کو جگہ یہ پردہ داری چاہئے\n\nبخش دیتا ہے رشیدؔ اللہ اتنی بات پر\nکر کے عصیاں آدمی کو شرمساری چاہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%BA%D9%88%D8%A8_%DB%81%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D9%88%DA%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "جو محبان وفا ہیں وہ وفا کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو محبان وفا ہیں وہ وفا کرتے ہیں\nکچھ غرض اس سے نہیں کوئی جفا کرتے ہیں\n\nخوگر درد ہیں سب کچھ وہ سہا کرتے ہیں\nدشمنوں سے نہیں مطلب کہ وہ کیا کرتے ہیں\n\nہم جگر تھام کے جب آہ رسا کرتے ہیں\nاک قیامت میں قیامت ہی بپا کرتے ہیں\n\nچارہ گر کا ہو بھلا کون رہین منت\nہم تو خود اپنی ہی زخموں کو سیا کرتے ہیں\n\nساز ہو عیش کا یا سور مصیبت دم ساز\nاب تو ہر حال میں ہم شکر ادا کرتے ہیں\n\nآپ شرما گئے کیوں دیکھ کے رقص بسمل\nکیا کہیں تیر نظر چل کے خطا کرتے ہیں\n\nآتش عشق وطن رکھتے ہیں دل میں روشن\nاپنی ہی آگ میں جل جل کے بجھا کرتے ہیں\n\nہر حباب لب جو جلوہ گہہ ہستی ہے\nنقش بن بن کے زمانہ سے مٹا کرتے ہیں\n\nشوقؔ سا بندۂ آزاد زمانہ میں کہاں\nآج سنتے ہیں کہ وہ یاد خدا کرتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو مدتوں میں کسی شوخ کا شباب آیا", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو مدتوں میں کسی شوخ کا شباب آیا\nرہین دامن و منت کش حجاب آیا\n\nنمود شام ہوئی وقت اضطراب آیا\nجہان عشق و محبت میں انقلاب آیا\n\nجنوں میں زیست تھی اپنی طلسم بیداری\nقضا نے آ کے سلایا تو ہم کو خواب آیا\n\nنہ دل میں درد ہی باقی ہے اب نہ آنکھ میں اشک\nاخیر وقت ہے پایان اضطراب آیا\n\nبس اب تمام ہوا انتظار قاصد کا\nکہ زندگی کی طرف سے ہمیں جواب آیا\n\nغضب تھی بزم میں ساقی کی طرز مستانہ\nبھرا ہوا نہ کوئی ساغر شراب آیا\n\nنظام عالم فرقت خلاف قدرت تھا\nنہ ماہتاب ہی نکلا نہ آفتاب آیا\n\nنظرؔ اقامت دنیا کی ختم مدت ہے\nکہ ہم بھی پیر ہوئے وقت پا تراب آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AF%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جو مر گئے تری چشم سیاہ کے مارے", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو مر گئے تری چشم سیاہ کے مارے\nنہ حشر کو بھی اٹھیں گے نگاہ کے مارے\n\nمثال برگ خزاں صرصر فراق سے آہ\nپٹکتے پھرتے ہیں سر ہم تباہ کے مارے\n\nعزیزو دل نہ دو یوسف کی کر کے چاہ کبھی\nکہ جا کے چاہ میں گرتے ہیں چاہ کے مارے\n\nالٰہی حشر میں آواز صور سن کیوں کر\nاٹھوں گا آہ میں بار گناہ کے مارے\n\nحذر کر آہ دل ناتواں سے اے ظالم\nکہ کوہ ٹل گئے ہیں برگ کاہ کے مارے\n\nنہ سمجھیو کہ فلک پر ستارے ہیں روشن\nہیں رخنہ دار مرے تیر آہ کے مارے\n\nبسان نقش قدم تیرے در سے اہل وفا\nاٹھاتے سر نہیں ہرگز تباہ کے مارے\n\nاجڑ گئے خرد و صبر و ہوش و تاب و تواں\nاسی کے ناز و ادا کی سپاہ کے مارے\n\nجہان دل اے جہاں دارؔ ایک دن نہ بسا\nجفائے شاہ تغافل شعار کے مارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "جو مرتبہ احمد کے وصی کا دیکھا", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جو مرتبہ احمد کے وصی کا دیکھا\nہم نے نہیں رتبہ یہ کسی کا دیکھا\nکہتے ہیں نبی جب ہوئی معراج مجھے\nپہنچا جو وہاں ہاتھ علی کا دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%B5%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جو مرغ قبلہ نما بن کے آشیاں سے چلے", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو مرغ قبلہ نما بن کے آشیاں سے چلے\nتڑپ تڑپ کے وہیں رہ گئے جہاں سے چلے\n\nجگر شگاف ہو یا دل ہو چاک وحشت سے\nجنوں میں جامۂ تن دیکھیے کہاں سے چلے\n\nجو مر کے ریگ رواں بھی بنے ضعیفی میں\nیہاں پہ رہ گئے ہم ناتواں وہاں سے چلے\n\nثبات جامۂ ہستی ہو خاک پیری میں\nجو پیرہن ہو پرانا بہت کہاں سے چلے\n\nوہاں سے آئے اکیلے تھے نامرادانہ\nہزار حسرت و ارماں لیے یہاں سے چلے\n\nمرا ترا کی طرح شادؔ یہ بھی ایطا ہے\nیہ قافیہ نہ نہیں سے چلے نہ ہاں سے چلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1%D8%BA_%D9%82%D8%A8%D9%84%DB%81_%D9%86%D9%85%D8%A7_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "جو مرے ہم عصر ہم صحبت تھے سو سب مر گئے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو مرے ہم عصر ہم صحبت تھے سو سب مر گئے\nاپنی اپنی عمر کا پیمانہ ہر یک بھر گئے\n\nپوچھتے کیا ہو گناہوں کے گرفتاروں کا حال\nخشک زاہد تھے سو اس جاگہ سے دامن تر گئے\n\nہاتھ سے صیاد کے ثابت نہ چھوٹا ایک صید\nبال و پر رکھتے تھے سو بے بال اور بے پر گئے\n\nیہ قمار عشق ہے اے بو الہوس بازی نہ جان\nسر گئے بہتوں کے اور بہتوں کے اس میں گھر گئے\n\nہم نے ہستی اور عدم کی آ کے کی ہے خوب سیر\nرسم و آئیں دیکھ ان لوگوں کا از بس ڈر گئے\n\nایک جو آیا اسے لے گود میں دی گھر میں جا\nدوسرے کو کاڑھ کر گھر سے زمیں میں دھر گئے\n\nتم کہو اپنی میاں حاتمؔ کہ ہو کس فکر کی\nاور جو آئے جنے جیسی بنی سو کر گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B9%D8%B5%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%B3%D9%88_%D8%B3%D8%A8_%D9%85%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "جو مشت خاک ہو اس خاکداں کی بات کرو", "poet_page": "مصنف:عبد المجید سالک", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو مشت خاک ہو اس خاکداں کی بات کرو\nزمیں پہ رہ کے نہ تم آسماں کی بات کرو\n\nکسی کی تابش رخسار کا کہو قصہ\nکسی کے گیسوئے عنبر فشاں کی بات کرو\n\nنہیں ہوا جو طلوع آفتاب تو فی الحال\nقمر کا ذکر کرو کہکشاں کی بات کرو\n\nرہے گا مشغلۂ یاد رفتگاں کب تک\nگزر رہا ہے جو اس کارواں کی بات کرو\n\nیہی جہان ہے ہنگامہ زار سود و زیاں\nیہیں کے سود یہیں کے زیاں کی بات کرو\n\nاب اس چمن میں نہ صیاد ہے نہ ہے گلچیں\nکرو تو اب ستم باغباں کی بات کرو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B4%D8%AA_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%A7%DA%A9%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "جو معنیٔ مضموں ہے وہی عنواں ہے", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جو معنی مضموں ہے وہی عنواں ہے\nواجب ہی میں ایک صورت امکاں ہے\nمحشر ہو کہ قبر زندگی ہو کہ ہو موت\nجو یاں ہے وہاں ہے جو وہاں ہے یاں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C%D9%94_%D9%85%D8%B6%D9%85%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%B9%D9%86%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو ملتے وہ تو اتنا پوچھتا میں", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو ملتے وہ تو اتنا پوچھتا میں\nکہ تم ہو بے وفا یا بے وفا میں\n\nیہ حالت ہو گئی مرتے ہی میرے\nکبھی دنیا ہی میں گویا نہ تھا میں\n\nخدا جانے وہ سمجھے یا نہ سمجھے\nاشاروں میں بہت کچھ کہہ گیا میں\n\nمسافر بن کے آخر یہ کھلا راز\nہوں منزل میں سفر میں رہنما میں\n\nسر منزل ہمارا قافلہ ہے\nکہاں اللہ جانے رہ گیا میں\n\nسنا ہے مجھ میں خود موجود تھا وہ\nخبر ہوتی تو خود کو پوجتا میں\n\nوہ کہتے ہیں کہ اب باقی رہا کیا\nمٹایا تم نے دل کو دل میں تھا میں\n\nزمانہ ڈھونڈھتا ہے مجھ کو افسرؔ\nخدا جانے کہاں کھو گیا میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو مکتب ایجاد میں داخل ہوگا", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جو مکتب ایجاد میں داخل ہوگا\nاوج اس کو فروتنی سے حاصل ہوگا\nدیتا ہے تواضع کا سبق عجز ہلال\nناقص اسی مدرسہ میں کامل ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%DA%A9%D8%AA%D8%A8_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%AE%D9%84_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جو مہندی کا بٹنا ملا کیجئے گا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو مہندی کا بٹنا ملا کیجئے گا\nپسینے کو عطر حنا کیجئے گا\n\nستم کیجئے گا جفا کیجئے گا\nیہی ہوگا اور آپ کیا کیجئے گا\n\nپھڑک کر نکل جائے گا دم ہمارا\nقفس سے جو ہم کو رہا کیجئے گا\n\nجو کہتا ہوں اچھا نہیں ظلم کرنا\nتو کہتے ہیں وہ آپ کیا کیجئے گا\n\nقیامت میں دیدار کا کب یقیں ہے\nیوں ہی لن ترانی سنا کیجئے گا\n\nکہا حال دل تو وہ یہ کہہ کے اٹھے\nمیں جاتا ہوں بیٹھے بکا کیجئے گا\n\nشہنشاہ کہتے ہیں ان کے گدا سے\nہمارے لیے بھی دعا کیجئے گا\n\nگلوں کا وہی پیرہن ہوگا صاحب\nعنایت جو اپنی قبا کیجئے گا\n\nکنارہ بھلا تم سے اے بحر خوبی\nڈبونے ہی کو آشنا کیجئے گا\n\nمنجم نے ہاتھ ان کے دیکھے تو بولا\nگلوں کی قبا کو قبا کیجئے گا\n\nمری جان کے مدعی آپ ہوں گے\nسماعت اگر مدعا کیجئے گا\n\nبہت ناز پروردہ ہے دل ہمارا\nذرا لطف اس پر کیا کیجئے گا\n\nنہ دیوانہ بنتے جو معلوم ہوتا\nپری بن کے ہم سے اڑا کیجئے گا\n\nبتو برق ہیں درد مندوں کی آہیں\nخدا کے غضب سے ڈرا کیجئے گا\n\nبہت فیض بخشی کا سنتے ہیں شہرا\nہماری بھی حاجت روا کیجئے گا\n\nخدا کے لیے میرزا مہرؔ صاحب\nبتوں پر کہاں تک مٹا کیجئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D9%B9%D9%86%D8%A7_%D9%85%D9%84%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جو میرا لے گیا دل کون وہ انسان ہے کیا ہے", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو میرا لے گیا دل کون وہ انسان ہے کیا ہے\nپری ہے یا ملک یا حور یا غلمان ہے کیا ہے\n\nنظر زلفوں پہ اس کی جا پڑی جس کی لگا کہنے\nیہ دونوں سانپ ہیں یا کاکل پیچان ہے کیا ہے\n\nگیا ہوں بھول سب کچھ دختر رز جیسے ہاتھ آئی\nجگر ہے جان ہے ایمان ہے ایقان ہے کیا ہے\n\nہمارے یار کے کچھ درمیاں جو بات بول اٹھے\nرقیب رو سیہ غماز یا شیطان ہے کیا ہے\n\nزمیں پر جھانکتے ہیں روز و شب افلاک سے کس کو\nمہ و خور یا کسی کا دیدۂ حیران ہے کیا ہے\n\nمرے رونے کو دیکھا ہجر میں جس نے سو یوں بولا\nجھڑی برسات کی یا موجۂ طوفان ہے کیا ہے\n\nبہ جوش عشق لٹکے ہے نہیں مجھ کو تمیز اتنی\nبہ مژگاں لخت دل یا در ہے یا مرجان ہے کیا ہے\n\nمری چھاتی پہ رکھ کر دست کی تشخیص حکما نے\nیہ سینہ کان گندھک یا کہ آتش دان ہے کیا ہے\n\nجلے سینہ سے دود اٹھا دماغ آشفتہ کر ڈالا\nمکرر دل بھنا یا پھر جگر بریان ہے کیا ہے\n\nنہ بھول اے خضر مر جانا ہے آخر ٹک جیا تو کیا\nاگر مادام ہے کیا ہے وگر یک آن ہے کیا ہے\n\nفنا فی الشیخ ہو، تفریق افریدیؔ نہ کر ہرگز\nنبی ہے یا علی یا حافظ قرآن ہے کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%84%DB%92_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو میرے تنگنائے دل میں تجھ کو جلوہ گر دیکھا", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو میرے تنگنائے دل میں تجھ کو جلوہ گر دیکھا\nمری نظروں نے حیرت سے مجھی کو عمر بھر دیکھا\n\nتصور کی حدوں میں بھی سمانا جن کا مشکل تھا\nنظر والوں نے ان جلووں کو تا حد نظر دیکھا\n\nسب اپنے دل میں اک تیر نظر محسوس کرتے ہیں\nمگر کوئی بتا سکتا نہیں اس نے کدھر دیکھا\n\nتعین بر طرف مقصود مجھ کو سجدہ کرنا تھا\nنہ ہم نے رہ گزر دیکھی نہ ہم نے سنگ در دیکھا\n\nنظر آتا نہ تھا جو گرد افکار و حوادث میں\nوہ ساحل آنکھ نے طوفان غم میں ڈوب کر دیکھا\n\nتمہارے سنگ در کو سنگ در میں کس طرح سمجھوں\nکہ جب سجدہ کیا سر کو جبین عرش پر دیکھا\n\nعجب منزل تھی اے سیمابؔ اپنی منزل ہستی\nنہ موقع تھا ٹھہرنے کا نہ یارائے سفر دیکھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D9%86%DA%AF%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جو میرے دل میں سہو تری یاد سے ہوا", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو میرے دل میں سہو تری یاد سے ہوا\nنام اس کا محو عالم ایجاد سے ہوا\n\nبرباد خاک دل ہے تو احسان حسن کیا\nمیں سر بلند عشق کی افتاد سے ہوا\n\nایسے بھی ہیں کہ جن کو رہائی کی فکر ہے\nشرمندہ میں تو زحمت صیاد سے ہوا\n\nناقوس اور اذاں کی بنا عشق سے پڑی\nفریاد کا چلن مری فریاد سے ہوا\n\nعشق و ہوس نے مل کے بنائی ہے بزم حسن\nیہ اتحاد مجمع اضداد سے ہوا\n\nدنیائے بے ثبات کا قصہ تھا مختصر\nطول اتنا میری قید کی میعاد سے ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%81%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "جو میں نہ ہوں تو کرو ترک ناز کرنے کو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو میں نہ ہوں تو کرو ترک ناز کرنے کو\nکوئی تو چاہیے جی بھی نیاز کرنے کو\n\nنہ دیکھو غنچۂ نرگس کی اور کھلتے میں\nجو دیکھو اس کی مژہ نیم باز کرنے کو\n\nنہ سوئے نیند بھر اس تنگنا میں تا نہ موئے\nکہ آہ جا نہ تھی پا کے دراز کرنے کو\n\nجو بے دماغی یہی ہے تو بن چکی اپنی\nدماغ چاہیے ہر اک سے ساز کرنے کو\n\nوہ گرم ناز ہو تو خلق پر ترحم کر\nپکارے آپ اجل احتراز کرنے کو\n\nجو آنسو آویں تو پی جا کہ تا رہے پردہ\nبلا ہے چشم تر افشائے راز کرنے کو\n\nسمند ناز سے تیرے بہت ہے عرصہ تنگ\nتنک تو ترک کر اس ترک تاز کرنے کو\n\nبسان زر ہے مرا جسم زار سارا زرد\nاثر تمام ہے دل کے گداز کرنے کو\n\nہنوز لڑکے ہو تم قدر میری کیا جانو\nشعور چاہیے ہے امتیاز کرنے کو\n\nاگرچہ گل بھی نمود اس کے رنگ کرتا ہے\nولیک چاہیے ہے منہ بھی ناز کرنے کو\n\nزیادہ حد سے تھی تابوت میرؔ پر کثرت\nہوا نہ وقت مساعد نماز کرنے کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88"} {"title": "جو مے خانہ میں جاتا تھا قدم رکھتے جھجھکتا تھا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو مے خانہ میں جاتا تھا قدم رکھتے جھجھکتا تھا\nکہ ساغر آنکھ دکھلاتا تھا اور شیشہ بھبھکتا تھا\n\nتماشہ ہو رہا تھا ابر میں رونے سے کیا میرے\nادھر پانی برستا تھا ادھر لوہو ٹپکتا تھا\n\nبڑا احساں کیا جو دل کو میرے کھینچ کر کاڑھا\nکہ مدت سے مرے سینہ میں جوں کانٹا کھٹکتا تھا\n\nترے کوچہ میں میں نے آج دشت کربلا دیکھا\nکوئی مارا پڑا تھا اور پڑا کوئی سسکتا تھا\n\nگیا تھا تیلیا کپڑوں سے تو آئینہ خانہ میں\nکہ اب تک خانۂ آئینہ اس بو سے مہکتا تھا\n\nمزا لینے کے تئیں شیریں مقالی کا تری حاتمؔ\nکھڑا منہ کو ادب سے دور نادیدہ سا تکتا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%82%D8%AF%D9%85_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AC%DA%BE%D8%AC%DA%BE%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جو مے دل سے پئے کوئی تو پھر رخنے نہیں رہتے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو مے دل سے پئے کوئی تو پھر رخنے نہیں رہتے\nذرا یہ صاف کر لی جائے پھر تنکے نہیں رہتے\n\nہمارا مے کدہ محفوظ ہے تاثیر موسم سے\nیہاں شیشے بھرے جاڑوں میں بھی ٹھنڈے نہیں رہتے\n\nشراب ناب کے پینے سے ہاں اتنا تو ہوتا ہے\nپڑے رہتے ہیں جو آنکھوں پہ وہ پردے نہیں رہتے\n\nقیام مے کدہ کے واسطے اقرار کیوں ساقی\nپلائے گا تو رہ جائیں گے اور ویسے نہیں رہتے\n\nلباس ظاہری پر مے سے بے شک داغ پڑتے ہیں\nمگر پینے سے اندر قلب کے دھبے نہیں رہتے\n\nنہیں دیتا جو مے اچھا نہ دے تیری خوشی ساقی\nپیالے کچھ ہمیشہ طاق پر رکھے نہیں رہتے\n\nچھپائے کس طرح زاہد سے راز مے کشی کوئی\nیہ حضرت مے کشوں کا حال بے پوچھے نہیں رہتے\n\nنمازوں سے تھکے زاہد تو مے خانہ میں آ جانا\nیہ اٹھنے بیٹھنے کے اس جگہ جھگڑے نہیں رہتے\n\nخدا کے دامن رحمت سے اپنا دامن عصیاں\nوہ کیا ٹانکے گا جس کے آنکھ میں ڈورے نہیں رہتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B1%D8%AE%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92"} {"title": "جو نخل ہو خشک اس کا پھلنا کیا ہے", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جو نخل ہو خشک اس کا پھلنا کیا ہے\nدنیا ہی نہیں تو کار دنیا کیا ہے\nپیدا ہوا گر کوئی تو ناپید کوئی\nہوتا دن رات یہ تماشا کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%86%D8%AE%D9%84_%DB%81%D9%88_%D8%AE%D8%B4%DA%A9_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D9%84%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو نظر کیا میں صفات میں ہوا مجھ پہ کب یہ عیاں نہیں", "poet_page": "مصنف:یاسین علی خاں مرکز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مرکز (1926)", "year": "1926", "text_ur": "جو نظر کیا میں صفات میں ہوا مجھ پہ کب یہ عیاں نہیں\nمری ذات عین کی عین ہے وہاں دوسری کا نشاں نہیں\n\nوہی دو جہاں میں ہے مفتخر جیسے عینیت کی ہوئی خبر\nوہی حکمراں ہے جہان میں وہاں کفر و دیں کا گماں نہیں\n\nرہے غیریت کے حجاب میں جو خدا نما سے نہیں ملے\nجو خدا کو ان سے طلب کئے رہی بات ان پہ نہاں نہیں\n\nجسے ہو ثبوت وجود کا وہی حق شناس ہے با خبر\nانہیں جملہ آوے خدا نظر وہ خدا کو دیکھے کہاں نہیں\n\nمیں وطن میں آپ سفر کیا جو قدم کو اپنی نظر کیا\nملا اپنا آپ پتہ مجھے جہاں غیریت کا بیاں نہیں\n\nمیں تو ایک مرکزؔ دہر ہوں جو خدا نما کے نشان سے\nجو بتاؤں حق کا پتہ جسے رہے باقی اس کو گماں نہیں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%D8%A8_%DB%8C%DB%81_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہے\nپردے پہ مصور ہی تنہا نظر آتا ہے\n\nنیرنگ تماشا وہ جلوا نظر آتا ہے\nآنکھوں سے اگر دیکھو پردہ نظر آتا ہے\n\nلو شمع حقیقت کی اپنی ہی جگہ پر ہے\nفانوس کی گردش سے کیا کیا نظر آتا ہے\n\nاے پردہ نشیں ضد ہے کیا چشم تمنا کو\nتو دفتر گل میں بھی رسوا نظر آتا ہے\n\nنظارہ بھی اب گم ہے بے خود ہے تماشائی\nاب کون کہے اس کو جلوا نظر آتا ہے\n\nجو کچھ تھی یہاں رونق سب باد چمن سے تھی\nاب کنج قفس مجھ کو سونا نظر آتا ہے\n\nاحساس میں پیدا ہے پھر رنگ گلستانی\nپھر داغ کوئی دل میں تازہ نظر آتا ہے\n\nتھی فرد عمل اصغرؔ کیا دست مشیت میں\nاک ایک ورق اس کا سادا نظر آتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%86%D9%82%D8%B4_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DA%BE%D9%88%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں\nدل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیں\n\nبوتلیں خالی گئیں زیر عبا\nآج مے خانے میں مے فاضل نہیں\n\nمیری دشواری ہے دشواری مری\nمیری مشکل آپ کی مشکل نہیں\n\nکہہ رہی ہے ہر ادا قاتل تمہیں\nتم کہے جاؤ کہ ہم قاتل نہیں\n\nبہکی بہکی ہے مبارکؔ بات بات\nخیر تو ہے کیوں ٹھکانے دل نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو نہ نقد داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی\nتو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانی\n\nمجھے اس سے کیا توقّع بہ زمانۂ جوانی\nکبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی\n\nیوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتا\nکہ مرے عدو کو یا رب ملے میری زندگانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%86%DB%81_%D9%86%D9%82%D8%AF_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "جو نہ وہم و گمان میں آوے", "poet_page": "مصنف:غمگین دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو نہ وہم و گمان میں آوے\nکس طرح تیرے دھیان میں آوے\n\nتجھ سے ہمدم رکھوں نہ پوشیدہ\nحال دل گر بیان میں آوے\n\nمیری یہ آرزو ہے وقت مرگ\nاس کی آواز کان میں آوے\n\nمیں نہ دوں گا جواب تو کہہ لے\nجو کہ تیری زبان میں آوے\n\nیہ شب وصل خیر سے گزرے\nتو مری جان جان میں آوے\n\nہائے کیا ہو ابھی جو اے ہمدم\nوہ صنم اس مکان میں آوے\n\nگر کھلے چشم دل تو تجھ کو نظر\nوہ ہی سارے جہان میں آوے\n\nاس کی تعریف کیا کروں غمگیںؔ\nہل اتیٰ جس کی شان میں آوے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81%D9%85_%D9%88_%DA%AF%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%88%DB%92"} {"title": "جو نیش غم سے بے پروا نہ ہوگا", "poet_page": "مصنف:خوشی محمد ناظر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو نیش غم سے بے پروا نہ ہوگا\nتمہارا چاہنے والا نہ ہوگا\n\nجو تیری یاد میں آنسو بہے گا\nوہ جاناں گوہر یک دانہ ہوگا\n\nحسین و مہ جبیں ہوں گے جہاں میں\nمگر کافر ادا تجھ سا نہ ہوگا\n\nہے تو پردہ میں اور شور اک جہاں میں\nیہ پردہ جب اٹھا پھر کیا نہ ہوگا\n\nتڑپ جس دل میں یزداں کی نہ ہوگی\nتو اہریمن کا وہ کاشانہ ہوگا\n\nگلستاں آج سرمست نوا ہے\nچمن میں جلوۂ جانانہ ہوگا\n\nنہ ہو شاعر جو شمع بزم ہستی\nجہاں میں عشق کا جلوا نہ ہوگا\n\nنہ ہوں گے ہم نوا سنج بہاراں\nتو گلزار جہاں ویرانہ ہوگا\n\nنہ چھیڑیں ہم اگر تار رگ جاں\nنوائے زندگی پیدا نہ ہوگا\n\nرخ زیبا کی تصویر خیالی\nترے ناظرؔ کا یہ نذرانہ ہوگا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%86%DB%8C%D8%B4_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جو وہ بہار عذار خوبی چمن میں آتا خرام کرتا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو وہ بہار عذار خوبی چمن میں آتا خرام کرتا\nصنوبر و سرو ہر ایک آ کر ضرور اس کو سلام کرتا\n\nفگار تیغ ستم کے اب تک کریں ہیں نالہ برنگ بلبل\nقیامت اے گل عجب ہی ہوتی تو گر کسی سے کلام کرتا\n\nجو پاتا لذت بسان ساقی مے محبت سے تیری زاہد\nنکل حرم سے وہ بت کدے میں مقام اپنا مدام کرتا\n\nجو اوپری رو تجھے دکھاتا جمال اپنا تو ووہیں ناصح!\nہمارے مانند چھوڑ گھر کو گلی میں اس کی قیام کرتا\n\nخیال اس کے سے اتنی فرصت کہاں کہ فکر سخن کروں میں\nوگرنہ بیدارؔ اس غزل کو قصیدہ میں لا کلام کرتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A8%DB%8C_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7"} {"title": "جو وہ نظر بسر لطف عام ہو جائے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو وہ نظر بسر لطف عام ہو جائے\nعجب نہیں کہ ہمارا بھی کام ہو جائے\n\nشراب شوق کی قیمت ہے نقد جان عزیز\nاگر یہ باعث کیف دوام ہو جائے\n\nرہین یاس رہیں اہل آرزو کب تک\nکبھی تو آپ کا دربار عام ہو جائے\n\nجو اور کچھ ہو تری دید کے سوا منظور\nتو مجھ پہ خواہش جنت حرام ہو جائے\n\nوہ دور ہی سے ہمیں دیکھ لیں یہی ہے بہت\nمگر قبول ہمارا سلام ہو جائے\n\nاگر وہ حسن دل آرا کبھی ہو جلوہ فروش\nفروغ نور میں گم ظرف بام ہو جائے\n\nسنا ہے برسر بخشش ہے آج پیر مغاں\nہمیں بھی کاش عطا کوئی جام ہو جائے\n\nترے کرم پہ ہے موقوف کامرانی شوق\nیہ ناتمام الٰہی تمام ہو جائے\n\nستم کے بعد کرم ہے جفا کے بعد عطا\nہمیں ہے بس جو یہی التزام ہو جائے\n\nعطا ہو سوز وہ یا رب جنون حسرتؔ کو\nکہ جس سے پختہ یہ سودائے خام ہو جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%B9%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "جو پانچ وقت مصلے پہ قبلہ رو نکلے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو پانچ وقت مصلے پہ قبلہ رو نکلے\nانہیں بزرگوں کے زیر بغل سبو نکلے\n\nبڑا مزہ ہو بت کم سخن جو محشر میں\nخدا کے سامنے حاضر جواب تو نکلے\n\nوہ گو سنا کیے لیکن ادا یہ کہتی رہی\nنہ ذکر مہر و وفا میرے رو بہ رو نکلے\n\nکسی کو دیر کسی کو حرم مبارک ہو\nہمیں وہ در کہ جہاں دل کی آرزو نکلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%85%D8%B5%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D9%82%D8%A8%D9%84%DB%81_%D8%B1%D9%88_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "جو پری بھی روبرو ہو تو پری کو میں نہ دیکھوں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو پری بھی روبرو ہو تو پری کو میں نہ دیکھوں\nمری آنکھیں بند کر دو کہ کسی کو میں نہ دیکھوں\n\nدل گرم خون الفت مرے بر میں رکھ دیا ہے\nسوئے گل تو ملتفت ہوں جو کلی کو میں نہ دیکھوں\n\nمرا دل لگا ہے جس سے مرا جی گیا ہے جس پر\nمری کیوں کہ زندگی ہو جو اسی کو میں نہ دیکھوں\n\nمری تجھ سے زندگی ہے تو مرا جگر ہے جی ہے\nکسے دیکھ کر جیوں پھر جو تجھی کو میں نہ دیکھوں\n\nمری کیوں کہ ہو تسلی تو ہی مصحفیؔ بتا پھر\nدل شب بھی اس صنم کی جو گلی کو میں نہ دیکھوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA"} {"title": "جو پلائے وہ رہے یا رب مے و ساغر سے خوش", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو پلائے وہ رہے یا رب مے و ساغر سے خوش\nخوش رہے پیر مغاں جاتے ہیں اس کے در سے خوش\n\nسنگ خوں آلودہ کو سمجھے ہیں یہ گلشن کا پھول\nتوڑ کر سر تیرے دیوانے ہیں کیا پتھر سے خوش\n\nاس گلی کے رہنے والے بھی مزے کے لوگ ہیں\nفتنۂ محشر سے خوش ہنگامۂ محشر سے خوش\n\nیوں گلے سے کیوں لگاتا سخت جانوں کو کوئی\nہم گلے مل کر ہوئے کیا کیا ترے خنجر سے خوش\n\nخم کے خم بھر بھر کے جائیں کم نہ ہو مے بوند بھر\nزاہد و ہم ہیں تمہارے چشمۂ کوثر سے خوش\n\nخون پانی ایک میرا ہو گیا ان کے لیے\nاپنے زخم دل سے خوش ہوں اپنے چشم تر سے خوش\n\nدل میں گھر کرتی ہے وہ کافر مژہ کافر نگہ\nمیں ترے پیکاں سے خوش ہوں میں ترے نشتر سے خوش\n\nخانہ باغ غیر میں تھے یا کھلے میدان میں\nوہ کہیں سے آئے ہوں آئے ہیں کچھ باہر سے خوش\n\nمیکدے میں آ کے پیتے ہیں پلاتے ہیں ریاضؔ\nکہہ رہی ہے وضع ان کی ہیں یہ اپنے گھر سے خوش", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%BE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8_%D9%85%DB%92_%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%B4"} {"title": "جو پنہاں تھا وہی ہر سو عیاں ہے", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو پنہاں تھا وہی ہر سو عیاں ہے\nیہ کہیے لن ترانی اب کہاں ہے\n\nجو پہنچے ہاتھ زنجیروں کو توڑیں\nگرچہ پاؤں اپنا درمیاں ہے\n\nچمک لعل بدخشاں کی مٹا دے\nترے ہونٹوں پہ ایسا رنگ پاں ہے\n\nتجھے کہتا ہوں سن او وحشت دل\nوہاں لے چل جہاں وہ دل ستاں ہے\n\nوہ ہوں نازک مزاج اے ہم صفیرو\nرگ گل مجھ کو خار آشیاں ہے\n\nموا جاتا ہوں میں طرز نگہ سے\nترے لب کی مسیحائی کہاں ہے\n\nبلا کر اس سے دو باتیں تو سن لے\nیہ کہتے ہیں کہ گویاؔ خوش بیاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%BE%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%88%DB%81%DB%8C_%DB%81%D8%B1_%D8%B3%D9%88_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے\nتو بولے آپ جس دن حشر میں مدفن سے نکلیں گے\n\nجلے گا دل تمہیں بزم عدو میں دیکھ کر میرا\nدھواں بن بن کے ارماں محفل دشمن سے نکلیں گے\n\nاکٹھے کر کے تیری دوسری تصویر کھینچوں گا\nوہ سب جلوے جو چھن چھن کر تری چلمن سے نکلیں گے\n\nسیہ پوشاک دوش ناز پر بکھری ہوئی زلفیں\nمرے ماتم کی شرکت کو بڑے جوبن سے نکلیں گے\n\nہمیں پروا نہیں اس کی قیامت لاکھ بار آئے\nنہ تم مدفن پہ آؤ گے نہ ہم مدفن سے نکلیں گے\n\nترے دامن سے بدلا لیں گے ظالم خون ناحق کا\nوہ فوارے لہو کے جو مری گردن سے نکلیں گے\n\nیہی رشتہ جنون عاشقی کا ہے تو کچھ دن میں\nمرے تار گریباں یار کے دامن سے نکلیں گے\n\nہزاروں حسن والے اس زمیں میں دفن ہیں مضطرؔ\nقیامت ہوگی جب یہ سب کے سب مدفن سے نکلیں گے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D8%A8_%DA%86%D9%84%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "جو پوچھا میں نے یاں آنا مرا منظور رکھیے گا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو پوچھا میں نے یاں آنا مرا منظور رکھیے گا\nتو سن کر یوں کہا یہ بات دل سے دور رکھیے گا\n\nبہت روئیں یہ آنکھیں اور پڑی دن رات روتی ہیں\nاب ان کو چشم بھی کیجے گا یا ناسور رکھیے گا\n\nجو پردہ بزم میں منہ سے اٹھاتے ہو تو یہ کہہ دو\nکہ پھر یاں شمع کے جلنے کا کیا مذکور رکھیے گا\n\nدیا دل ہم نے تم کو اور تو اب کیا کہیں لیکن\nیہ ویرانہ تمہارا ہے اسے معمور رکھیے گا\n\nنظیرؔ اب تو دل و جاں سے تمہارا ہو چکا بندہ\nمیاں اپنے غلاموں میں اسے مشہور رکھیے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جو پوچھا کیا مریض غم کا درماں ہو نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:بوم میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو پوچھا کیا مریض غم کا درماں ہو نہیں سکتا\nتو سالے نے کہا ہنس کر کے ہاں ہاں ہو نہیں سکتا\n\nبس اب بارہ برس کے ہو گئے ختنہ کرا ڈالو\nمسلمانی نہ ہو جس کی مسلماں ہو نہیں سکتا\n\nنہ ہوگا قیس تو اس کی جگہ ہم جانشیں ہوں گے\nکہ دیوانوں سے یہ خالی بیاباں ہو نہیں سکتا\n\nکہو چارہ گروں سے ایک دم باہر نکل جائیں\nکبھی ان سے مریض غم کا درماں ہو نہیں سکتا\n\nپڑیں جوتے ہزاروں سر پہ لیکن میں نہ نکلوں گا\nتیرے کوچہ کے ہمسر باغ رضواں ہو نہیں سکتا\n\nابے صیاد کیوں جھوٹی تسلی مجھ کو دیتا ہے\nقفس میں پھول رکھنے سے گلستاں ہو نہیں سکتا\n\nشب وعدہ جو کرنا تھا میں کرتا ہی رہا ان سے\nوہ کہتے ہی رہے پورا یہ ارماں ہو نہیں سکتا\n\nلگا دے آگ ان کے گھر میں اور دشمن کے چھپر میں\nذرا سا کام تجھ سے آہ سوزاں ہو نہیں سکتا\n\nحکیم و ڈاکٹر کو بومؔ صاحب کیوں بلاتے ہو\nکبھی ان سے علاج درد ہجراں ہو نہیں سکتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%B6_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "جو چار آدمیوں میں گناہ کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "جو چار آدمیوں میں گناہ کرتے ہیں\nخدا کی دی ہوئی عزت تباہ کرتے ہیں\n\nبتوں کے ہوتے جو مہ پر نگاہ کرتے ہیں\nقسم خدا کی بڑا ہی گناہ کرتے ہیں\n\nبڑا ہی ظلم خدا کی پناہ کرتے ہیں\nہم آہ آہ تو وہ واہ واہ کرتے ہیں\n\nوہ بوسہ دیتے نہیں گورے گورے گالوں کا\nتمہیں گواہ ہم اے مہر و ماہ کرتے ہیں\n\nبتو تمہیں پہ فدا ہیں بتو تمہیں پہ نثار\nیقیں نہ ہو تو خدا کو گواہ کرتے ہیں\n\nکبھی وہ دیکھتے ہیں اپنے تیغ و بازو کو\nکبھی وہ غیظ سے مجھ پر نگاہ کرتے ہیں\n\nمجال کیا ہے جو لوں نام اپنے قاتل کا\nتمہیں پہ لوگ مگر اشتباہ کرتے ہیں\n\nخیال رکھتے ہیں ہر وقت دوستی کا شریف\nاسی طرح سے ہمیشہ نباہ کرتے ہیں\n\nگناہ کیا ہے جو دل سے عزیز رکھتے ہیں\nبنے ہو یوسف ثانی تو چاہ کرتے ہیں\n\nاگر ہو صبر و قناعت کی دولت اے پرویںؔ\nگدا بھی کرتے ہیں وہ ہی جو شاہ کرتے ہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو چاہئے دیکھنا نہ دیکھا میں نے", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جو چاہئے دیکھنا نہ دیکھا میں نے\nہر شے پہ کیا ہے غور کیا کیا میں نے\nاوروں کا سمجھنا تو بہت مشکل ہے\nخود کیا ہوں اسی کو نہیں سمجھا میں نے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92"} {"title": "جو چاہئے وہ تو ہے ازل سے موجود", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جو چاہئے وہ تو ہے ازل سے موجود\nحاصل ہے مراد اور مہیا مقصود\nکیا بات ہے اہتمام جہد و طاعات\nکیا چیز ہے امتیاز عبد و معبود", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B2%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF"} {"title": "جو چشم غم شہ میں سدا روتی ہے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جو چشم غم شہ میں سدا روتی ہے\nہر لمحہ فزوں اس میں ضیا ہوتی ہے\nاشک غم شبیر کا رتبہ دیکھو\nیاں اشک کا قطرہ ہے وہاں موتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%BA%D9%85_%D8%B4%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%AF%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو چپ رہوں تو بتائیں وہ گھنگنیاں منہ میں", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو چپ رہوں تو بتائیں وہ گھنگنیاں منہ میں\nجو کچھ کہوں تو کہیں قینچی ہے زباں منہ میں\n\nیہ ایک بات ہے قاصد جو بھیجتا ہوں تجھے\nوگرنہ دل میں جو ان کے ہے وہ یہاں منہ میں\n\nزمیں کا کر دیا پیوند ہم کو اے ظالم!\nنہ اب بھی خاک پڑے تیرے آسماں منہ میں\n\nنہ کان رکھ کے کسی نے سنی ہزار افسوس\nتمام عمر رہی غم کی داستاں منہ میں\n\nوہ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کہ دانت پیستے ہیں\nہم ایسے چپ ہیں کہ گویا نہیں زباں منہ میں\n\nیہ بات کیا ہے جو ہونٹوں میں بڑبڑاتے ہو\nکہو نہ شوق سے جو آئے میری جاں منہ میں\n\nڈرو اثر سے خدا جانے کیا ہو کیا کچھ ہو\nگھٹا ہوا ہے ابھی آہ کا دھواں منہ میں\n\nکبھی گرانے نہ دو آنسو حال پر میرے\nلو آؤ پانی تو ٹپکاؤ میری جاں منہ میں\n\nزبان پر ہے یہ کس کس کی تذکرہ اپنا\nپڑی ہے بات نہ میری کہاں کہاں منہ میں\n\nپھر ایسے وعدے سے تسکیں ہو کس طرح میری\nنہیں ہے دل میں تمہارے اگر ہے ہاں منہ میں\n\nاسی کا دھیان ہے جب تک کہ تن میں جاں ہے نظامؔ\nاسی کا ذکر ہے جب تک کہ ہے زباں منہ میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%86%D9%BE_%D8%B1%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%DA%AF%DA%BE%D9%86%DA%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو کوئی در پہ ترے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو کوئی در پہ ترے بیٹھے ہیں\nدونوں عالم سے پھرے بیٹھے ہیں\n\nجوں نم اشک تو کس سے ہے خفا\nیاں کوئی پل میں گرے بیٹھے ہیں\n\nدرد دل کیوں کہ کہوں میں اس سے\nہر طرف لوگ گھرے بیٹھے ہیں\n\nکوئی آیا ہی نہ بھولا ہم تو\nکب سے رستے کے سرے بیٹھے ہیں\n\nگرم کر دے تو ٹک آغوش میں آ\nمارے جاڑے کے ٹھرے بیٹھے ہیں\n\nقلزم عشق کا الٹا ہے طریق\nیاں جو ڈوبے سو ترے بیٹھے ہیں\n\nکس کو دوں دوش تری مجلس میں\nاپنے مشفق ہی نرے بیٹھے ہیں\n\nہم تو قائمؔ نہ ٹھہرتے یک دم\nلیک یاں دل کے گھرے بیٹھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو کوئی کہ آفت نہانی مانگے", "poet_page": "مصنف:مرزا علی لطف", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جو کوئی کہ آفت نہانی مانگے\nاور ملک عدم کی کچھ نشانی مانگے\nدکھلا دے اسے تو اپنی شمشیر نگاہ\nجس کا مارا کبھی نہ پانی مانگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D9%86%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%92"} {"title": "جو کوئی کہ یار و آشنا ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو کوئی کہ یار و آشنا ہے\nرخصت کی مری اسے دعا ہے\n\nکیا بیٹھا ہے راہ میں مسافر\nچلنا ہی یہاں سے پیش پا ہے\n\nامروز جو ہو سکے سو کر لے\nفردا کی خبر نہیں کہ کیا ہے\n\nمعشوق تو بے وفا ہیں پر عمر\nان سے بھی زیادہ بے وفا ہے\n\nدنیا میں تو خوب گزری حاتم\nعقبیٰ میں بھی دیکھیے خدا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%88_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیے\nنہیں ہے خواب سے بہتر کچھ ارمغاں کے لیے\n\nتمام علت درماندگی ہے قلت شوق\nتپش ہوئی پر پرواز مرغ جاں کے لیے\n\nشریک بلبل و قمری ہیں وہ زبوں فطرت\nجو بے قرار رہے سیر گلستاں کے لیے\n\nامید ہے کہ نباہیں گے امتحاں لے کر\nجو اس قدر متقاضی ہیں امتحاں کے لیے\n\nنہ خاکیوں سے تعلق نہ قدسیوں سے ربط\nنہ ہم زمیں کے لیے ہیں نہ آسماں کے لیے\n\nپیام دوست ہوا قاصدوں کو وجہ شرف\nنسیم مصر سے عزت ہے کارواں کے لیے\n\nقفس زمانہ و جاں مرغ و آشیاں ملکوت\nقفس میں مرغ ہے بیتاب آشیاں کے لیے\n\nفسانے یوں محبت کے سچ ہیں پر کچھ کچھ\nبڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لیے\n\nہماری نظم میں ہے شیفتہؔ وہ کیفیت\nکہ کچھ رہی نہ حقیقت مئے مغاں کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%D8%A7%D8%B3%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "جو کچھ بھی ہے نظر میں سو وہم نمود ہے", "poet_page": "مصنف:فرحت کانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو کچھ بھی ہے نظر میں سو وہم نمود ہے\nعالم تمام ایک طلسم وجود ہے\n\nآرائش نمود سے بزم جمود ہے\nمیری جبین شوق دلیل سجود ہے\n\nہستی کا راز کیا ہے غم ہست و بود ہے\nعالم تمام دام رسوم و قیود ہے\n\nعکس جمال یار سے وہم نمود ہے\nورنہ وجود خلق بھی خود بے وجود ہے\n\nاب کشتگان شوق کو کچھ بھی نہ چاہیئے\nفرش زمیں ہے سایۂ چرخ کبود ہے\n\nہنگامۂ بہار کی اللہ رے شوخیاں\nزاغ و زغن کا شور بھی صوت و سرود ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%88_%D9%88%DB%81%D9%85_%D9%86%D9%85%D9%88%D8%AF_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو کچھ تھا مقدر میں گوارا تو نہیں تھا", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو کچھ تھا مقدر میں گوارا تو نہیں تھا\nدر پردہ کہیں ان کا اشارا تو نہیں تھا\n\nجتنی تھی کھٹک سانس کی کل نغمۂ جاں تھی\nکیا تم نے مجھے ہنس کے پکارا تو نہیں تھا\n\nتا زیست مجھے جان حزیں بخشنے والے\nاس میں کوئی انداز تمہارا تو نہیں تھا\n\nرو رو کے قیامت کا لیا نام کسی نے\nکوئی تری امید کا مارا تو نہیں تھا\n\nٹوٹے ہوئے کیوں دل کو مرے دیکھ رہے ہو\nآنسو تھا مری صبح کا تارا تو نہیں تھا\n\nمدت سے بڑا نام ہے فردوس کا کیفیؔ\nگیسو کو کہیں اس نے سنوارا تو نہیں تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جو کچھ مصیبتیں ہیں تجھ پر کم ہیں", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جو کچھ مصیبتیں ہیں تجھ پر کم ہیں\nخوشیاں دنیا کی تیرے حق میں سم ہیں\nغم سے کیوں دور بھاگتا ہے امجد\nمعلوم نہیں تجھے کہ غم میں ہم ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو کچھ کہ تم سیں مجھے بولنا تھا بول چکا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو کچھ کہ تم سیں مجھے بولنا تھا بول چکا\nبیان عشق کے طومار کوں میں کھول چکا\n\nازل سیں مجھ کوں دیا درد صانع تقدیر\nمرے نصیب کے شربت میں زہر گھول چکا\n\nجنوں کے شہر میں نہیں کم عیار کوں حرمت\nمیں نقد قلب کوں کانٹے میں دل کے تول چکا\n\nمجھے خرید کیے تم نے کم نگاہی سیں\nکمینہ بندۂ بے زر کا آج مول چکا\n\nنہیں رہا سخن آب دار کا موتی\nسراجؔ طبع کے سب جوہروں کوں رول چکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A8%D9%88%D9%84%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%D9%88%D9%84_%DA%86%DA%A9%D8%A7"} {"title": "جو کچھ کہ تو نے سر پہ مرے دل ربا کیا", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو کچھ کہ تو نے سر پہ مرے دل ربا کیا\nدل ہی وہ جانتا ہے کہوں کیا میں کیا کیا\n\nمت پوچھ آہ عشق کے خوباں کے کیا کیا\nرسوا کیا خراب کیا مبتلا کیا\n\nیارو کہے رکھے ہوں میں دعویٰ نہ کیجیو\nقاتل کو اپنے میں نے بحل خوں بہا کیا\n\nملزم کیا ہے آہ کسی نے مجھے بہ عکس\nآئینہ رو کا اپنے میں جس سے گلہ کیا\n\nبن بیٹھتا ہے مفت مرے جی کا مدعی\nاظہار اس سے دل کا میں جب مدعا کیا\n\nبے مہری تیری کیا کہوں اے سنگ دل کہ چور\nمجھ دل کا شیشہ تو نے بہ سنگ جفا کیا\n\nاس بن نہ قبلہ سمجھوں نہ قبلہ نما کو میں\nقبلہ اسے دل اپنے کو قبلہ نما کیا\n\nملتا ہے اے نگار کف پا کوں اپنے آہ\nکیا تو نے میرے خون کو رنگ حنا کیا\n\nیہ چشم داشت تجھ سے جہاں دارؔ کو نہ تھی\nجو غیر کے لیے اسے تو نے جفا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جو کچھ کہ تھا وظائف و اوراد رہ گیا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو کچھ کہ تھا وظائف و اوراد رہ گیا\nتیرا ہی ایک نام فقط یاد رہ گیا\n\nظالم تری نگہ نے کئے گھر کے گھر خراب\nہوگا کوئی مکاں کہ وہ آباد رہ گیا\n\nجاتے ہیں ہم صفیر چمن کو پر ایک میں\nیاں کشتۂ تغافل صیاد رہ گیا\n\nجوں ہی دو چار آ کے ہوا وہ نظر فریب\nلے کر قلم کو ہاتھ میں بہزاد رہ گیا\n\nاس سرو گل عذار کی طرز خرام دیکھ\nخجلت سے گڑ زمین میں شمشاد رہ گیا\n\nکس کس کا دل نہ شاد کیا تو نے اے فلک\nاک میں ہی غمزدہ ہوں کہ ناشاد رہ گیا\n\nبیدارؔ راہ عشق کسی سے نہ طے ہوئی\nصحرا میں قیس کوہ میں فرہاد رہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%A6%D9%81_%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہے\nآراستہ یہ گھر اسی مہماں کے لیے ہے\n\nزلفیں تری کافر انہیں دل سے مرے کیا کام\nدل کعبہ ہے اور کعبہ مسلماں کے لیے ہے\n\nہو قید تفکر سے کب آزاد سخن ور\nمنظور قفس مرغ خوش الحاں کے لیے ہے\n\nاپنوں سے نہ مل اپنے ہیں سب اپنوں کے دشمن\nہر نے میں بھری آگ نیستاں کے لیے ہے\n\nکچھ بخت سے میرے جو سوا ہے وہ سیاہی\nباقی ہے تو میری شب ہجراں کے لیے ہے\n\nدیوانہ ہوں میں بھی وہ تماشا کہ مرا ذکر\nگویا سبق اطفال دبستاں کے لیے ہے\n\nہے بادہ کشوں کے لیے اک غیب سے تائید\nزاہد جو دعا مانگتا باراں کے لیے ہے\n\nچنگل میں ہے موذی کے دل اس چشم کے ہاتھوں\nگھیرا یہ غضب پنجۂ مژگاں کے لیے ہے\n\nمیں کس کی نگاہوں کا ہوں وحشی کہ مری خاک\nاک کحل بصر چشم غزالاں کے لیے ہے\n\nدل بھی ہے بلا قابل مشق ستم و ناز\nجو تیر ہے اس تودۂ طوفاں کے لیے ہے\n\nنکلے کوئی کیا قید علائق سے کہ اے ذوقؔ\nدر ہی نہیں اس خانۂ زنداں کے لیے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو کچھ کیا سو ہم نے کیا اپنی چاہ سے", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو کچھ کیا سو ہم نے کیا اپنی چاہ سے\nاب شکوہ کیجیے نہ کچھ اس رشک ماہ سے\n\nعاشق کے روزگار کو اس نے سیہ کیا\nکاکل سے خط سے زلف سے خالی سیاہ سے\n\nتاب و توان و دین و دل و عقل و صبر و ہوش\nوہ شوخ مجھ سے لے گیا سب اک نگاہ سے\n\nکی چرخ کج روش نے یہ کیا کج ادائی خرچ\nجو ہم کو آشنا کیا اس کج کلاہ سے\n\nکثرت نجوم کی نہ فلک پر یہ سمجھیو\nغربال ہو گیا ہے مرے تیر آہ سے\n\nاس شوخ خود پسند سے پوچھے کوئی سہی\nثابت ہوا ہے قتل مرا کس گناہ سے\n\nپیارے عبث ہوئے ہو جہاں دارؔ سے خفا\nبے دل نہ ہو تم ایسے دلی خیر خواہ سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92"} {"title": "جو کچھ ہوا سو ہوا اب سوال ہی کیا ہے", "poet_page": "مصنف:سہا مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو کچھ ہوا سو ہوا اب سوال ہی کیا ہے\nبیان حال کروں مجھ میں حال ہی کیا ہے\n\nکچھ اور چاہتی ہے ان سے شورش الفت\nہوا خیال تو ایسا خیال ہی کیا ہے\n\nزمانہ چاہئے وہ اعتراف شوق کریں\nابھی یہ روز و شب و ماہ و سال ہی کیا ہے\n\nکسی خیال میں بس زندگی گزر جائے\nغم فراق و امید وصال ہی کیا ہے\n\nبرا کیا نہ کریں گے کبھی ستم کا گلہ\nحضور دور ہی کر دیں ملال ہی کیا ہے\n\nقرار دل کو میسر نہیں کہیں جاؤ\nنظر فریبئ حسن و جمال ہی کیا ہے\n\nوہ سامنے ہیں مگر حسن اس کو کہتے ہیں\nکوئی نظر تو اٹھائے مجال ہی کیا ہے\n\nبڑا کمال کیا بھی تو چھو لیا دامن\nدراز دستئ دست سوال ہی کیا ہے\n\nہوئے وہ ہم سے پشیماں سہاؔ کرم ان کا\nوگرنہ آرزوئے پائمال ہی کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو کچھ ہے حسن میں ہر مہ لقا کو عیش و طرب", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو کچھ ہے حسن میں ہر مہ لقا کو عیش و طرب\nوہی ہے عشق میں ہر مبتلا کو عیش و طرب\n\nاگرچہ اہل نوا خوش ہیں ہر طرح لیکن\nزیادہ ان سے ہے ہر بے نوا کو عیش و طرب\n\nوہ میکدے میں حلاوت ہے رند میکش کو\nجو خانقاہ میں ہے پارسا کو عیش و طرب\n\nرکھے ہے ہر تن عریاں برہنہ پائی وہی\nجو کچھ ہے صاحب اسپ و قبا کو عیش و طرب\n\nکمال قدرت حق ہے نظیرؔ کیا کہئے\nجو شاہ کو ہے وہی ہے گدا کو عیش و طرب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%81_%D9%84%D9%82%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D9%88_%D8%B7%D8%B1%D8%A8"} {"title": "جو کہتے ہو چلیں ہم بھی ترے ہم راہ بسم اللہ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو کہتے ہو چلیں ہم بھی ترے ہم راہ بسم اللہ\nپھر اس میں دیر کیا اور پوچھنا کیا واہ بسم اللہ\n\nقدم اس ناز سے رکھتا ہوا آتا ہے محفل میں\nکہ اہل بزم سب کہتے ہیں بسم اللہ بسم اللہ\n\nلگائی اس نے جو جو تیغ ابرو کی مرے دل پر\nلب ہر زخم سے نکلی بجائے آہ بسم اللہ\n\nشب مہ میں جو کل ٹک ڈگمگایا وہ تو سب انجم\nوہیں بولے خدا حافظ پکارا ماہ بسم اللہ\n\nوہ جس دم نسخۂ ناز و ادا آغاز کرتا ہے\nتو ہم کہتے ہیں اک اک آن پر واللہ بسم اللہ\n\nجو اس کی چاہ کا جی میں ارادہ ہے تو بس اے دل\nمبارک ہے تجھے جا شوق سے تو چاہ بسم اللہ\n\nنظیرؔ اس دل ربا محبوب چنچل سے لگا کر دل\nہمیں کہنا پڑا ہے دم بہ دم اللہ بسم اللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%86%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%A8%D8%B3%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "جو کہو تم سو ہے بجا صاحب", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو کہو تم سو ہے بجا صاحب\nہم برے ہی سہی بھلا صاحب\n\nسادہ ذہنی میں نکتہ چیں تھے تم\nاب تو ہیں حرف آشنا صاحب\n\nنہ دیا رحم ٹک بتوں کے تئیں\nکیا کیا ہائے یہ خدا صاحب\n\nبندگی ایک اپنی کیا کم ہے\nاور کچھ تم سے کہیے کیا صاحب\n\nمہر افزا ہے منہ تمہارا ہی\nکچھ غضب تو نہیں ہوا صاحب\n\nخط کے پھٹنے کا تم سے کیا شکوہ\nاپنے طالع کا یہ لکھا صاحب\n\nپھر گئیں آنکھیں تم نہ آن پھرے\nدیکھا تم کو بھی واہ وا صاحب\n\nشوق رخ یاد لب غم دیدار\nجی میں کیا کیا مرے رہا صاحب\n\nبھول جانا نہیں غلام کا خوب\nیاد خاطر رہے مرا صاحب\n\nکن نے سن شعر میرؔ یہ نہ کہا\nکہیو پھر ہائے کیا کہا صاحب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%AC%D8%A7_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8"} {"title": "جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا\nبلا کشان محبت پہ جو ہوا سو ہوا\n\nمبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیر\nمرے لہو کو تو دامن سے دھو ہوا سو ہوا\n\nپہنچ چکا ہے سر زخم دل تلک یارو\nکوئی سبو کوئی مرہم رکھو ہوا سو ہوا\n\nکہے ہے سن کے مری سرگزشت وہ بے رحم\nیہ کون ذکر ہے جانے بھی دو ہوا سو ہوا\n\nخدا کے واسطے آ درگزر گنہ سے مرے\nنہ ہوگا پھر کبھو اے تند خو ہوا سو ہوا\n\nیہ کون حال ہے احوال دل پہ اے آنکھو\nنہ پھوٹ پھوٹ کے اتنا بہو ہوا سو ہوا\n\nنہ کچھ ضرر ہوا شمشیر کا نہ ہاتھوں کا\nمرے ہی سر پہ اے جلاد جو ہوا سو ہوا\n\nدیا اسے دل و دیں اب یہ جان ہے سوداؔ\nپھر آگے دیکھیے جو ہو سو ہو ہوا سو ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D9%85%D8%AA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "جو گزرے ہے بر عاشق کامل نہیں معلوم", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو گزرے ہے بر عاشق کامل نہیں معلوم\nجبریل ہے ہر آن میں نازل نہیں معلوم\n\nکیا پردۂ غفلت ہے کچھ اے دل نہیں معلوم\nرہتا ہے شب و روز وہ نازل نہیں معلوم\n\nہر دم یہی رہتا ہے یہاں دل میں پس و پیش\nجینے کا بجز مرگ کچھ حاصل نہیں معلوم\n\nرخ دیکھ کے حیراں ہوں ترا جوں گل خورشید\nچھٹ تیرے مجھے کوئی مقابل نہیں معلوم\n\nبخشش یہ جو رکھتا ہے بکف بحر ہے کشتی\nکیا جانیے یہ کس سے ہے سائل نہیں معلوم\n\nبے تھاہ ہو کیا بحر حقیقت کا شناور\nجس کا کہیں آخر لب ساحل نہیں معلوم\n\nکیوں رہتے ہیں نت ریوڑی کے پھیرے میں عاشق\nاس کے لب شیریں پہ کہیں تل نہیں معلوم\n\nجراح یہ کہتا ہے مجھے دیکھ کے بے دم\nکس تیغ نگہ کا ہے یہ گھائل نہیں معلوم\n\nجوں آئینہ حیرت زدہ یاں دیکھوں ہوں سب کو\nکیا جانیے کس پر ہوں میں مائل نہیں معلوم\n\nچل چل کے رہ عشق میں جوں نقش قدم ہم\nتھک بیٹھے نصیرؔ اب ہمیں منزل نہیں معلوم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%B1_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85"} {"title": "جو گل ہے یاں سو اس گل رخسار ساتھ ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو گل ہے یاں سو اس گل رخسار ساتھ ہے\nکیا گل ہے وہ کہ جس کے یہ گل زار ساتھ ہے\n\nتو مست شب اندھیری اور اغیار ساتھ ہے\nجو دل میں آوے کہہ یہ گنہ گار ساتھ ہے\n\nخاموش عندلیب چمن تجھ سے کیا ہے بحث\nاپنا سخن تو مرغ گرفتار ساتھ ہے\n\nپیغام اس نگہ کا کہ جس میں ہے بوئے مہر\nکیا جانے کس کے آخری دیدار ساتھ ہے\n\nعقدہ نہ یہ کھلا کہ مرے دل سا پہلوان\nتجھ زلف کے بندھا ہوا اک تار ساتھ ہے\n\nکرتے تو ہو مرے مرض دل کا تم علاج\nیارو جو دل یہی ہے تو آزار ساتھ ہے\n\nسوداؔ کے ہاتھ کیوں کے لگے وہ متاع حسن\nلے نکلیں جس کو گھر سے تو بازار ساتھ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DA%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو ہاتھ اپنے سبزے کا گھوڑا لگا", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "جو ہاتھ اپنے سبزے کا گھوڑا لگا\nتو سلفے کا اور اس کو کوڑا لگا\n\nمرے ہی جو بازو میں اک نیل سا\nسو تیرے ہے پاؤں کا توڑا لگا\n\nاجی چشم بد دور نام خدا\nتمہیں کیا بھلا سرخ جوڑا لگا\n\nبھلا آپ شرمائے کس واسطے\nکبوتر کا باہم جو جوڑا لگا\n\nیہ دکھتی نگاہوں سے گھورا مجھے\nکہ دکھنے مرے دل کا پھوڑا لگا\n\nلگی کہنے انشاؔ کو شب وہ پری\nمجھے بھوت ہو یہ نگوڑا لگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B3%D8%A8%D8%B2%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7_%D9%84%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جو ہم آئے تو بوتل کیوں الگ پیر مغاں رکھ دی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو ہم آئے تو بوتل کیوں الگ پیر مغاں رکھ دی\nپرانی دوستی بھی طاق پر اے مہرباں رکھ دی\n\nقفس میں شاخ گل صیاد نے اے آسماں رکھ دی\nبنا کر شاخ گل ہاں تیری شاخ کہکشاں رکھ دی\n\nیہ کیسی آگ بھر کر جام میں پیر مغاں رکھ دی\nجو توڑی مہر ساغر سے تو کچھ اٹھا دھواں رکھ دی\n\nذرا چھیڑا جو اس نے ہو گئی ایسی زخود رفتہ\nکہ شمع بزم نے گلگیر کے لب پر زباں رکھ دی\n\nخدا کے ہاتھ ہے بکنا نہ بکنا مے کا اے ساقی\nبرابر مسجد جامع کے ہم نے اب دکاں رکھ دی\n\nچمن کا لطف آتا ہے مجھے صیاد کے صدقے\nقفس میں لا کے اس نے آج شاخ آشیاں رکھ دی\n\nبنا ہے ایک ہی دونوں کی کعبہ ہو کہ بت خانہ\nاٹھا کر خشت خم میں نے وہاں رکھ دی یہاں رکھ دی\n\nیہ قیس و کوہ کن کے سے فسانے بن گئے کتنے\nکسی نے ٹکڑے ٹکڑے سب ہماری داستاں رکھ دی\n\nتعین سے منزہ شوخیاں ہیں اس کے جلوے کی\nہماری وسعت دل میں بنائے لا مکاں رکھ دی\n\nنظر مدت سے تھی اے شیخ جس پر مے فروشوں کی\nوہ دستار فضیلت رہین ہم نے مہرباں رکھ دی\n\nیہ کیا تھا جلوہ ان کا دیکھنا تھا ہم کو پردے میں\nلگا کر آنکھ سے ہم نے جو تصویر بتاں رکھ دی\n\nیہ عالم ہے ریاضؔ ایک ایک قطرے کو ترستا ہوں\nحرم میں اب بھری بوتل خدا جانے کہاں رکھ دی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D9%88%D8%AA%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%84%DA%AF_%D9%BE%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%DB%8C"} {"title": "جو ہم سے تو ملا کرے گا", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو ہم سے تو ملا کرے گا\nبندہ تجھ کو دعا کرے گا\n\nبوسہ تو دے کبھو مری جان\nمولا ترا بھلا کرے گا\n\nہم تم بیٹھیں گے پاس مل کر\nوہ دن بھی کبھو خدا کرے گا\n\nدل تیرے کام کا نہیں تو\nبندہ پھر لے کے کیا کرے گا\n\nپچھتائے گا مل کے سوزؔ سے ہاں\nہم کہتے ہیں برا کرے گا\n\nہے شوخ مزاج سوزؔ واللہ\nچھیڑے گا اسے برا کرے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جو ہمیں چاہے اس کے چاکر ہیں", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو ہمیں چاہے اس کے چاکر ہیں\nیار شاطر نہ بار خاطر ہیں\n\nیاد ہے ہم سے پیار سے کہنا\nتجھ سے ہم سب طرح سے حاضر ہیں\n\nدل اٹھاویں گے تجھ سے تا مقدور\nصبر کرنے پہ گو نہ قادر ہیں\n\nیار و عاشق بہم موافق ہوں\nاتفاق ایسے شاذ و نادر ہیں\n\nوصل کی بن نہ آئی کچھ تدبیر\nہم سے کم عاشقوں میں بد بر ہیں\n\nکچھ قصور اپنی بندگی میں نہیں\nبندگی سے اگر مقصر ہیں\n\nحسرتؔ عشق بتاں سے مانگ اماں\nجتنے ہیں سب یہ سخت کافر ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D8%A7%DA%A9%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا\nمگر دیکھو تو پھر کچھ آدمی سے ہو نہیں سکتا\n\nمحبت میں کرے کیا کچھ کسی سے ہو نہیں سکتا\nمرا مرنا بھی تو میری خوشی سے ہو نہیں سکتا\n\nالگ کرنا رقیبوں کا الٰہی تجھ کو آساں ہے\nمجھے مشکل کہ میری بیکسی سے ہو نہیں سکتا\n\nکیا ہے وعدۂ فردا انہوں نے دیکھیے کیا ہو\nیہاں صبر و تحمل آج ہی سے ہو نہیں سکتا\n\nیہ مشتاق شہادت کس جگہ جائیں کسے ڈھونڈیں\nکہ تیرا کام قاتل جب تجھی سے ہو نہیں سکتا\n\nلگا کر تیغ قصہ پاک کیجئے دادخواہوں کا\nکسی کا فیصلہ کر منصفی سے ہو نہیں سکتا\n\nمرا دشمن بظاہر چار دن کو دوست ہے تیرا\nکسی کا ہو رہے یہ ہر کسی سے ہو نہیں سکتا\n\nپرسش کہوگے کیا وہاں جب یاں یہ صورت ہے\nادا اک حرف وعدہ نازکی سے ہو نہیں سکتا\n\nنہ کہئے گو کہ حال دل مگر رنگ آشنا ہیں ہم\nیہ ظاہر آپ کی کیا خامشی سے ہو نہیں سکتا\n\nکیا جو ہم نے ظالم کیا کرے گا غیر منہ کیا ہے\nکرے تو صبر ایسا آدمی سے ہو نہیں سکتا\n\nچمن میں ناز بلبل نے کیا جو اپنی نالے پر\nچٹک کر غنچہ بولا کیا کسی سے ہو نہیں سکتا\n\nنہیں گر تجھ پہ قابو دل ہے پر کچھ زور ہو اپنا\nکروں کیا یہ بھی تو نا طاقتی سے ہو نہیں سکتا\n\nنہ رونا ہے طریقے کا نہ ہنسنا ہے سلیقے کا\nپریشانی میں کوئی کام جی سے ہو نہیں سکتا\n\nہوا ہوں اس قدر محجوب عرض مدعا کر کے\nکہ اب تو عذر بھی شرمندگی سے ہو نہیں سکتا\n\nغضب میں جان ہے کیا کیجئے بدلہ رنج فرقت کا\nبدی سے کر نہیں سکتے خوشی سے ہو نہیں سکتا\n\nمزا جو اضطراب شوق سے عاشق کو ہے حاصل\nوہ تسلیم و رضا و بندگی سے ہو نہیں سکتا\n\nخدا جب دوست ہے اے داغؔ کیا دشمن سے اندیشہ\nہمارا کچھ کسی کی دشمنی سے ہو نہیں سکتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "جو ہوئی سو ہوئی جانے دو ملو بسم اللہ", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو ہوئی سو ہوئی جانے دو ملو بسم اللہ\nجام مے ہاتھ سے لو میرے پیو بسم اللہ\n\nمنتظر آپ کے آنے کا کئی دن سے ہوں\nکیا ہے تاخیر قدم رنجہ کرو بسم اللہ\n\nلے چکے دل تو پھر اب کیا ہے سبب رنجش کا\nجی بھی حاضر ہے جو لیتے ہو تو لو بسم اللہ\n\nمیں تو ہوں کشتۂ ابروئے بت مصحف رو\nمو قلم سے مرے تربت پہ لکھو بسم اللہ\n\nذبح کرنا ہی مجھے تم کو ہے منظور اگر\nمیں بھی حاضر ہوں مری جان اٹھو بسم اللہ\n\nہوتے آزردہ ہو آنے سے ہمارے جو تم\nخوش رہو مت ہو خفا ہم چلے لو بسم اللہ\n\nعین راحت ہے مجھے بندہ نوازا اس میں\nقدم آنکھوں پہ مری آ کے رکھو بسم اللہ\n\nجن کی رہتے ہو شب و روز تم اب صحبت میں\nجاؤ اے جان اب ان کے ہی رہو بسم اللہ\n\nمست نکلا ہے مئے حسن میں بیدارؔ وہ شوخ\nدیکھنا گر نہ پڑے کہتے چلو بسم اللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%88_%D9%85%D9%84%D9%88_%D8%A8%D8%B3%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "جو ہوا ہے صورت باد مخالف تیز ہے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو ہوا ہے صورت باد مخالف تیز ہے\nدل کا میداں ہے کہ اک صحرائے آفت خیز ہے\n\nمیرے ساقی دم بہ دم کیوں کر بھرا آئے نہ دل\nدور ہوں میں اور ساغر بزم میں لبریز ہے\n\nدکھ اٹھانے کی بھی آخر ہوتی ہے کچھ انتہا\nبلبل دل کا مرے نغمہ بھی دردانگیز ہے\n\nآمد آمد ہے خزاں کی کیوں نہ روئے عندلیب\nگل ابھی نو کار ہیں سبزہ ابھی نوخیز ہے\n\nتیرے وحشی جاتے ہیں افتان و خیزاں سوئے دشت\nہو جنوں دیکھے سے ایسی چال وحشت خیز ہے\n\nکیوں نہ روئیں سیکڑوں طوفان اٹھے چاہ میں\nہم نہ واقف تھے کہ بحر عشق طوفاں خیز ہے\n\nآب خنجر تو ملا دے تو چھلک جائے ابھی\nعمر کا ساغر یہاں اک عمر سے لبریز ہے\n\nاس پہ مرتا ہوں مرے مرنے کی ہے جس کو خوشی\nعارضہ وہ ہے کہ جس سے موت کو پرہیز ہے\n\nتخم الفت کا زمین دل میں بونا کیا ضرور\nلوگ کہتے ہیں کہ یہ تو خود محبت خیز ہے\n\nہو جہاں معشوق واں عاشق بھی ہوتا ہے ضرور\nیاں یوں ہی روز ازل سے حسن و عشق آمیز ہے\n\nنزع میں بھی ماتم دل ہے تلاش یار ہے\nپاؤں ہیں چالاک اب تک ہاتھ اب تک تیز ہے\n\nکس تکلف سے نباہی میں نے الفت آپ کی\nفخر کرتا ہوں کہ میرا عشق حسن آمیز ہے\n\nکاٹ کے سر میرا تم نے ہاتھ میں لٹکا دیا\nدیکھو یہ میری وفاداری کی دستاویز ہے\n\nکر دیا ہے مست سارے خفتگان خاک کو\nکیا ہوا شہر خموشاں کی نشاط انگیز ہے\n\nہے رشیدؔ اب تک گیاہ لکھنؤ مردم گیاہ\nکیا زمیں ہے جو اجڑ جانے پہ مردم خیز ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D9%85%D8%AE%D8%A7%D9%84%D9%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B2_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو ہوتا آہ تری آہ بے اثر میں اثر", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو ہوتا آہ تری آہ بے اثر میں اثر\nتو کچھ تو ہوتا دل شوخ فتنہ گر میں اثر\n\nبس اک نگاہ میں معشوق چھین لیں ہیں دل\nخدا نے ان کی دیا ہے عجب نظر میں اثر\n\nنہ چھوڑی غم نے مرے اک جگر میں خون کی بوند\nکہاں سے اشک کا ہو کہیے چشم تر میں اثر\n\nہو اس کے ساتھ یہ بے التفاتی گل کیوں\nجو عندلیب کے ہو نالۂ سحر میں اثر\n\nکسی کا قول ہے سچ سنگ کو کرے ہے موم\nرکھا ہے خاص خدا نے یہ سیم و زر میں اثر\n\nجو آہ نے فلک پیر کو ہلا ڈالا\nتو آپ ہی کہیے کہ ہے گا یہ کس اثر میں اثر\n\nجو دیکھ لے تو جہنم کی پھیرے بندھ جائے\nہے میری آہ کے وہ ایک اک شرر میں اثر\n\nبگاڑیں چرخ سے ہم عیشؔ کس بھروسے پر\nنہ آہ میں ہے نہ سوز دل و جگر میں اثر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%D8%A2%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AB%D8%B1"} {"title": "جو ہونی تھی وہ ہم نشیں ہو چکی", "poet_page": "مصنف:حکیم محمد اجمل خاں شیدا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو ہونی تھی وہ ہم نشیں ہو چکی\nمرے مدعا پر نہیں ہو چکی\n\nبرا ہو مری ناتوانی ترا\nنگاہ دم واپسیں ہو چکی\n\nامید کرم کچھ نہ ساقی سے رکھ\nکہ اب وہ مے ساتگیں ہو چکی\n\nسناؤں اگر تا قیامت تو کیا\nکہانی مری دل نشیں ہو چکی\n\nکروں کس طرح اب میں عرض نیاز\nکہ باقی ہے در اور جبیں ہو چکی\n\nتراوش کہاں زخم دل میں وہ اب\nکہیں کچھ رہی ہے کہیں ہو چکی\n\nبس اب ہاتھ سے رکھ دو شیداؔ قلم\nتمہاری غزل کی زمیں ہو چکی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%DB%8C"} {"title": "جو ہے سو پست سب سے عالی تو ہے", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "جو ہے سو پست سب سے عالی تو ہے\nشایان صفات ذوالجلای تو ہے\nناقص ہے ہر اک کمال تیرے آگے\nسب کو ہے زوال لا یزالی تو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%88_%D9%BE%D8%B3%D8%AA_%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو ہے عرش پر وہی فرش پر کوئی خاص اس کا مکاں نہیں", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو ہے عرش پر وہی فرش پر کوئی خاص اس کا مکاں نہیں\nوہ یہاں بھی ہے وہ وہاں بھی ہے وہ کہیں نہیں وہ کہاں نہیں\n\nیہ نصیب تیرے شہید کا کہ کمال شوق تھا دید کا\nجو گلا بھی ہے تو وہ تر نہیں جو چھری بھی ہر تو رواں نہیں\n\nمیں وہ سرو باغ وجود ہوں میں وہ گل ہوں شمع حیات کا\nجسے فصل گل کی خوشی نہیں جسے رنج باد خزاں نہیں\n\nجو اٹھے تو سینہ ابھار کر جو چلے تو ٹھوکریں مار کر\nنئے آپ ہی تو جوان ہیں کوئی کیا جہاں میں جواں نہیں\n\nکدھر اڑ گیا مرا قافلہ کہ زمین پھٹ کے سما گیا\nنہ غبار اٹھا نہ جرس بجا کہیں نقش پا کا نشاں نہیں\n\nیہ مے فرنگ کی کشتیاں بھی سفینہ ہائے نجات ہیں\nکبھی اس کا بیڑا نہ پار ہو جو مرید پیر مغاں نہیں\n\nاٹھو قدرؔ ان پہ نہ جان دو اجی جان ہے تو جہان ہے\nکوئی کام ایسا بھی کرتا ہے ارے میاں نہیں ارے میاں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B1%D8%B4_%D9%BE%D8%B1_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D9%81%D8%B1%D8%B4_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%D8%B5_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو ہے یاں آسائش رنج و محن میں مست ہے", "poet_page": "مصنف:بہرام جی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو ہے یاں آسائش رنج و محن میں مست ہے\nکوچۂ جاناں میں ہم ہیں قیس بن میں مست ہے\n\nتیرے کوچے میں ہے قاتل رقص گاہ عاشقاں\nکوئی غلطاں سر بکف کوئی کفن میں مست ہے\n\nمیکدے میں بادہ کش بت خانے میں ہیں بت پرست\nجو ہے عالم میں وہ اپنی انجمن میں مست ہے\n\nنکہت زلف صنم سے یاں معطر ہے دماغ\nکوئی مشک چیں کوئی مشک ختن میں مست ہے\n\nہے کوئی محو نماز اور خمکدہ میں کوئی مست\nدل مرا عشق بتان دل شکن میں مست ہے\n\nہے مسلماں کو ہمیشہ آب زمزم کی تلاش\nاور ہر اک برہمن گنگ و جمن میں مست ہے\n\nعکس روئے شمع رو ہے میرے دل میں جا گزیں\nدل مرا اس آتش لمعہ فگن میں مست ہے\n\nہے مرا ہر شعر تر بہرامؔ کیسا پر اثر\nجس کو دیکھو مجلس اہل سخن میں مست ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D8%B4_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D9%85%D8%AD%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "جو یوں آپ بیرون در جائیں گے", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو یوں آپ بیرون در جائیں گے\nخدا جانے کس کس کے گھر جائیں گے\n\nشب ہجر میں ایک دن دیکھنا\nاگر زندگی ہے تو مر جائیں گے\n\nعبث گھر سے اپنے نکالے ہے تو\nبھلا ہم تجھے چھوڑ کر جائیں گے\n\nمسافر ہیں لیکن نہیں جانتے\nکہاں سے ہم آئے کدھر جائیں گے\n\nتمنا میں بوسہ کی کہتا ہے جی\nبدن سے نکل بھی اگر جائیں گے\n\nتو ہے ایک دم اور ہزاروں امید\nلبوں پہ کوئی دم ٹھہر جائیں گے\n\nبہ حرمت نبھی اب تلک جس طرح\nحضور اتنے دن بھی گزر جائیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A2%D9%BE_%D8%A8%DB%8C%D8%B1%D9%88%D9%86_%D8%AF%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "جو یہ جسم سر تا قدم دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:مردان صفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مردان صفی (1914)", "year": "1914", "text_ur": "جو یہ جسم سر تا قدم دیکھتے ہیں\nتمہیں تم کو ہم اے صنم دیکھتے ہیں\n\nیہ سب آپ ہی کی ہے گفت و شنید\nجو گوش و زبان و قلم دیکھتے ہیں\n\nاور آپی کا ہے سب یہ جلوہ میاں\nجو پیش نظر دم بدم دیکھتے ہیں\n\nجو ہیں محو دیدار ہم اس قدر\nیہ آپی کا لطف و کرم دیکھتے ہیں\n\nپیا جب سے جام شراب طہورا\nتبھی سے تو دم ہیں عدم دیکھتے ہیں\n\nتن و جان و دل جملہ حرکات میں\nشہہ قل ہو اللہ کو ہم دیکھتے ہیں\n\nتمہیں ہو صفیؔ شاہ مرداں کی دید\nنہ ہم بیش دیکھیں نہ کم دیکھتے ہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D8%B3%D8%B1_%D8%AA%D8%A7_%D9%82%D8%AF%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جو یہ دل ہے تو کیا سرانجام ہوگا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جو یہ دل ہے تو کیا سرانجام ہوگا\nتا خاک بھی خاک آرام ہوگا\n\nمرا جی تو آنکھوں میں آیا یہ سنتے\nکہ دیدار بھی ایک دن عام ہوگا\n\nنہ ہوگا وہ دیکھا جسے کبک تو نے\nوہ اک باغ کا سرو اندام ہوگا\n\nنہ نکلا کر اتنا بھی بے پردہ گھر سے\nبہت اس میں ظالم تو بدنام ہوگا\n\nہزاروں کی یاں لگ گئیں چھت سے آنکھیں\nتو اے ماہ کس شب لب بام ہوگا\n\nوہ کچھ جانتا ہوگا زلفوں میں پھنسنا\nجو کوئی اسیر تا دام ہوگا\n\nجگر چاکی ناکامی دنیا ہے آخر\nنہیں آئے جو میرؔ کچھ کام ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جواب", "poet_page": "مصنف:سجاد حیدر یلدرم", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "راولپنڈی 30 اکتوبر 1925\n\nمیری شریر عذرا! تم نے اپنے خط میں عقل والی عورت بننے کوشش تو بہت کی لیکن ہر سطر سے صاف ٹپک رہا ہے کہ تم وہی شریر عذرا ہو۔\n\nسب سے اول شادی کی دلی مبارکباد دیتی ہوں، یقین مانو، میں اپنی عمر کی چند برس اس بات پر فدا کرنے کو تیار ہوں کہ تمھارے سرخ رخساروں کو جن پر تمھارے سیاہ بال آپڑے ہوں، دیکھوں، ان رخساروں کو نہیں جو مدرسے میں تھے بلکہ ان رخساروں کو جنھیں ہوائے تاہل نے اور دمکادیا ہوگا، آہ! پیاری عذرا تمھیں چومنے، دیوانہ وار چومنے کی اور تم سے چومے جانے کی تمنا رکھتی ہوں، لو میں نے کاغذ پر اس جگہ ( \t) کو چوما ہے اور میں خیال کرتی ہوں کہ میری روح محبت کا ایک ٹکڑا اس جگہ چپک کر رہ گیا ہوگا، اس مقام کو تم بھی چومنا تاکہ اس طرح سے میرے ہونٹ تمھارے ہونٹوں سے ایک جگہ ملیں اور میری روح کو مسرت پہنچے۔\n\nتم نے اپنے خط میں کیا کیا لکھ ڈالا ہے۔ تمھارے خیالات نے (معاف کرنا بعض ان میں سے پراگندہ ہیں) تو مجھے حیرت میں ڈال دیا تم نے خذف اور الماس کو خوب ملایا ہے۔\n\nتمھارا خط پڑھتے وقت میں کسی قدر ہنستی ہوں۔ میری شوخ، شاطر عذرا! اسی پھڑک، اسی بھڑک، اسی چنچل پن سے میری آنکھوں میں پھر گئی، وہی عذرا جو اپنی شرارتوں اور ہٹوں سے کبھی مجھے غصہ دلادیا کرتی تھی اور کبھی بے تحاشا ہنسا دیا کرتی تھی۔\n\nلیکن یہ نہ سمجھنا کہ میں صرف ہنسی ہی ہنسی یا میں تمھارے خط کو لا ابالی تحریرسمجھی نہیں۔ مجھے اس خط سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تم نے حقیقت میں اپنا درد دل لکھا ہے اور اس لیے میں نے تمھاری تحریر پر جدا نظر ڈالی اور کئی دن تک اسی کے متعلق سوچتی رہی، تمھاری اور اپنی حالت کا موازنہ کرتی رہی میری اور تمھاری تربیت میں بہت ہی کم فرق ہے، ہم دونوں نے ایک ہی مدرسہ میں تعلیم پائی، لیکن ہاں چونکہ میرے والد خود شاعر اور اردو کے بڑے حامی اور دلدادہ تھے اس لیے کچھ ان کی کوشش سے، کچھ اپنے شوق سے مجھے اردو میں تم سے زیادہ مصروفیت رہی اور یہی وجہ ہے کہ انگریزی تو تمھارے برابر نہیں جانتی مگر اردو ضرور تم سے زیادہ جانتی ہوں، بولنے میں نہیں کیونکہ تمھاری رواں اور پیاری زبان بھی دلی کی کہاں سے لاؤں، ہاں لکھنے میں کیوں کہ والد کے مضامین اور ان کے کتب خانے کی کتابیں اکثر پڑھتی رہی ہوں اس لیے طبیعت تحریر کی اردو سے آشنا ہوگئی۔ پیانو، موسیقی، نقاشی اس میں ہم دونوں برابر ہیں، پھر بیاہ کا زمانہ آیا، قسمت نے بیاہ کے قرعہ میں میرے نام کے ساتھ ولایت کے پاس شدہ انجینئر مسٹر حامد کا نام نکال دیا، تمھارے نام کے ساتھ نواب غیاث الدین کی چٹھی نکلی اور ہمارے ماں باپوں نے ہمیں اپنی آغوش سے جد اکرکے ان لوگوں کے پہلو میں پھینک دیا۔\n\nدل چاہتا ہے کہ اس مسئلہ ازدواج پر کچھ تھوڑا سا وعظ کہوں، پہلے بیاہ شادیوں میں کیا دیکھا جاتا تھا، یہی کہ برہم کف ہے یا نہیں، ایک برادری کا ہے یا نہیں، اس کف اور برادری پر سب چیزیں قربان کردی جاتی تھیں۔ پھر اصلاح ہوئی، کف کا خیال ترک کردیا گیا، تعلیم کا زور ہوا، ’’بر، تعلیم یافتہ ہونا چاہیے، تعلیم یافتہ ہونا چاہیے‘‘ کا شور بلند ہوا، تھوڑے دنوں کے بعد اخلاق کی بھی چھان بین ہونے لگی، بس یہاں پہنچ کے اصلاح رخصت ہوئی، گویا اب کوئی کام باقی نہیں رہا، لیکن مجھ سے پوچھو تو کوئی کام ہوا ہی نہیں، اصلی اصلاح تو جب ہے، جب لڑکے لڑکی کے مزاج اور طبیعت کی مناسبت کی پوری پوری چھان بین کی جائے۔ خاوند اور بیوی دوہرے کپڑے کی ابری، استرہیں ابری، استر کے رنگ کی مناسبت کا کتنا خیال کیا جاتا ہے، یہ نہیں کہ دونوں ایک ہی رنگ کے ہوتے ہوں، نہیں ایک رنگی میں کوئی زینت نہیں، خیال یہ کیا جاتا ہے کہ ایک رنگ دوسرے سے جوڑ کھاتا ہو۔\n\nبس اسی طرح، لڑکے لڑکی کے مزاج کا خیال لازمی ہے، امتزاج کے اسباب موجود ہیں یا نہیں، طبیعتوں میں ایسا بین تضاد تو نہیں کہ میل کھانا مشکل ہو، میرے نزدیک تو سب سے زیادہ اہم یہ سوال ہیں، حسن و جمال، مال دولت، تعلیم و تربیت سب کو میں دوسرے درجہ پر رکھتی ہوں۔\n\nشاید تمھاری طبیعت اس وعظ سے گھبراتی ہوگی میں معافی چاہتی ہوں میں اس بحث کو ترک کیے دیتی ہوں۔ مگر کیسے ترک کروں، آنکھوں سے دیکھ رہی ہوں کہ تم جسے میں ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ مزاج میں سنجیدگی نہیں، الہڑ ہے اور میں جسے تم ہمیشہ خیال پرست (Sentimental) شاعر مزاج کہا کرتی تھیں، ہم دونوں ایسے خاوندوں کے پالے پڑے کہ ان لوگوں کے ساتھ شادی نہ ہوئی ہوتی تو چاہے یہ بھائی ہی ہوتے۔ ہم ان کے پاس دس منٹ بیٹھنے سے گھبراتے اور شاید وہ لوگ ہمارے لیے ایسا ہی خیال رکھتے ہوں گے۔ یہ عدالت ہے، یہ انصاف ہے؟ کہو ’’ہاں‘‘ سوائے اس کے اور کچھ کہنا منع ہے، لیکن اس تضاد کا سبب کون ہے؟ ان خرابیوں کا جواب دہ کس کو قرار دینا چاہیے؟ میں تو بلا پس و پیش کہتی ہوں، ہمارے ماں باپوں کو۔\n\nاگرچہ خط لمبا کرکے تمھیں پریشان کروں گی لیکن میں بھی تمھیں اپنی زندگی کا مرقع دکھاتی ہوں، مسٹر حامد کیسے آدمی ہیں؟ ان کے حسیات اور خیالات کیا ہیں؟ افکار کیا ہیں؟ ان کے حسیات اور خیالات یہ ہیں، ( 0 x 0 = 0)\n\nآہ تم ایسا خاوند چاہتی تھیں، جو رات دن تمھارے ساتھ ہنسا کرے، تمھارے کھیلوں میں شریک ہوا کرے، مجھے ایسے شوہر کی تمنا تھی، جو کسی باز کے پنجہ میں پھنسی ہوئی چڑیا یا کسی پژمردہ گل کو دیکھ کر میرے ساتھ روئے، میرے ساتھ ہر دم عالم خیال میں رہے۔\n\nحال یہ ہے کہ مسٹر حامد، جب رات کو گھر میں تشریف لاتے ہیں تو اس خوف سے کہ کہیں ان کی نیند نہ اڑجائے، میری باتوں کا جواب بھی نہیں دیتے، (اگر کسی دن تعطیل کے ایام ہیں) گھر میں کچھ ٹھہرے بھی اور میں ان کی خاطر کچھ بجانا شروع کیا تو وہ فوراً آرام کرسی پر بیٹھ کر سونا شروع کردیتے ہیں، ان کے اوقات کا نقشہ تمھیں لکھتی ہوں۔\n\nسونا۔۔۔ 9 گھنٹے\n\nسرکاری کام۔۔۔7 گھنٹے\n\nسیر وتفریح و ریاضت۔۔۔ 6 گھنٹے\n\nگھر میں۔۔۔ 2 گھنٹے\n\nمیزان 24\n\nذرا دیکھنا؟ 24 گھنٹوں میں دو گھنٹے مجھے دیتے ہیں کہ اس حساب سے سال بھر میں میری ان کی ملاقات صرف ایک مہینے ہوتی ہے، لیکن یہ یاد رہے کہ ان دو گھنٹوں میں گھر کے معاملات بچوں کا دیکھنا بھی شامل ہے، غرض کہ مسٹر انجینئر نے یہ حساب پورا پورا بنا رکھا ہے اور اس پر بہت باقاعدہ عمل ہوتا ہے۔\n\nعذرا! تمھیں بھی قسم ہے، اس تقسیم اوقات کے متعلق ذرا اپنی رائے دینا۔\n\nگھر کے تمام انتظامات اور معاملات میرے متعلق ہیں، خانہ داری کے متعلق وہ کسی چیز میں پھنسنا نہیں چاہتے ہیں، جو چاہوں کروں، مجھے پوری آزادی ہے، بچوں کو پالوں یا مارڈالوں، گھر تبدیل کردوں، اسباب بیچ ڈالوں اور خریدلوں، نوکروں کو مقرر کروں، برخاست کروں غرض کہ جو چاہوں کروں، مختار ہوں۔\n\nوہ گھر کو ہوٹل سمجھتے ہیں اور کھانے پینے اور سونے کے لیے یہاں آتے ہیں ان تین باتوں کے انتظام میں وہ دخل نہیں چاہتے، اگر میں بیمار بھی پڑ جاؤں تو ان کے مقررہ اوقات میں فرق نہیں پڑتا، خود طبیعت ناساز ہو تو ظاہر ہے کہ اس دستورالعمل میں تبدیلی ہوجاتی ہے۔\n\nکم سخنی کا وہ عالم ہے کہ بات ان کے وہاں موزوں سے اول تو کم نکلتی ہے اور جب نکلتی ہے تو تل تل کے رتی رتی نکلتی ہے۔ میری تعلیم و تربیت معمولی تعلیم و تربیت نہ تھی، مدرسے کے علاوہ گھر پر بھی مجھ پر تربیت کی بوچھاڑ رہی، گورنس اور کیا، اور کیا، سب سے گھری رہی، پھر دلہن بنی اور ایسے شخص کو سونپی گئی جو بڑا تعلیم یافتہ، سات سمندر پار سے پڑھ کے آیا تھا اور اللہ کن کن امیدوں کے ساتھ میں اپنے خاوند کے پاس پہنچ گئی۔ پہنچی تو عالم کچھ اور ہی پایا۔ کیا عالم امیداور عالم حقیقت، عالم خیالی اور عالم اصلی میں ہمیشہ اتنا فرق ہوتا ہے؟\n\nحامد نے تمھارے خاوند کی طرح ہر دم میرے ساتھ رہنے سے مجھے پریشان نہیں کیا، بلکہ وہ آزادی دی، جس سے میرے حق میں بے پروائی کی بو نکلتی تھی۔\n\nتم جانتی ہو میں ایسی بدشکل تو نہیں، میری ملاقاتیں اور آئینہ اس کی شہادت دیتے ہیں، جب یہ بات ہے تو کیوں میں اپنی تعلیم و تربیت و حسن کے شایاں باکمال عفت زندگی بسر نہ کروں، کیوں میری قسمت میں یہ بے پروائی لکھی ہوئی ہے؟ اسے سوچتے سوچتے میں کبھی چلا اٹھتی، ’’اگر یہی بے پروائی ہے تو میں بھی ناولوں کی سی زندگی شروع کیوں نہ کرودوں۔‘‘ یہ شخص جو میری تحقیر کرتا ہے اس کا جواب تحقیر سے دوں، میری معنویات اور میری مادیات میرا بازو پکڑتے تھے اور ایک اپنی طرف کھینچتی اور دوسری اپنی طرف، آدھی رات تک اپنے خاوند کا انتظار کرتے اپنی لڑکی کو تھپکاتی ہوئی، اسی کشمکش میں رہا کرتی تھی۔ میں سوچتی تھی، کہ میں اپنے خاوند کی اسیر، اس کی باندی ہوسکتی ہوں مگر اس کی طرف سے باندی کرنے کی کوشش تو دیکھوں وہ کیا؟ فداکاری، محبت، مگر اس کا وہاں نام و نشان نہیں تھا، شاید میں نے پڑھا لکھا نہ ہوتا تو یہ خیالات میرے ذہن میں نہ آتے، شاید میری نظر سطحی ہوتی اور اس لیے میں زیادہ متحمل، زیادہ صابر ہوتی، شاید میرے ذہن میں نہ آتا کہ حقارت کا مقابلہ حقارت سے کیا جاسکتا ہے، شاید میں یہ بھی نہ سمجھتی کہ میری حقارت کی جارہی ہے (مگر نہیں تعلیم نہ پاتی تو اور بھی زیادہ وحشی ہوتی، سوچنے، موازنہ کرنے اور طبعیت کو روکنے کا مادہ نہ ہوتا۔)\n\nایک روز ایک عورت اپنا دکھڑا سنارہی تھی، میں نے ہمدردی کے طریقہ سے کہا، ’’صبر کرو، صبر اچھی چیز ہے‘‘، وہ شکایت آمیز آواز سے کہنے لگی، ’’بیشک، صبر، مگر صبر کے بعد قبر‘‘، سوچتی ہوں تو اسے صحیح پاتی ہوں، انسان دو مرتبہ دنیا میں نہیں آتا، شباب عود نہیں کرتا، فرض کرو کہ یہ بے اعتنائی میری طرف سے ہوتی تو کیا انہیں شکایت کا موقع نہ ہوتا۔\n\n’’یہ باتیں تمھیں لکھ رہی تھی، کہ میری چھوٹی لڑکی جمیلہ دوڑی دوڑی میرے پاس آئی اور اپنی پیاری پیاری، ننھی ننھی آواز سے کہنے لگی۔ اماں جان! آج تم نے مجھے چوما نہیں‘‘ اور یہ کہہ کے کرسی پر چڑھ کر میری گود میں آبیٹھی، اور اس نے تمام میری دل کی جراحتوں پر مرہم کا کام دیا۔ عذرا! پیاری، خدا تمھیں بھی بال بچہ دے، اولاد بڑی نعمت ہے، ساری دنیا کے غم اس کے سامنے بھاگ جاتے ہیں، اپنی بچیوں کو دیکھ کر یہ زندان، مجھے بہشت معلوم ہوتا ہے، یا میں اپنے تئیں ایک باغ تصور کرتی ہوں، جس میں یہ پھول کھل رہے ہیں، جوں جوں پھول کھلتے ہیں، باغ کی مسرت بڑھتی جاتی ہے۔\n\nپیاری عذرا، میں دیکھتی ہوں کہ علم میں میرا خاوند چاہے مجھ سے بڑھ کر ہو چاہے میرے برابر، ایک بات میں تو قطعی طور پر میں اس سے بڑھی ہوئی ہوں اور وہ بات محبت اور شفقت ہے میں اپنی بچیوں کو چومتے وقت اپنی محرومیت اور بدنصیبی سب بھول جاتی ہوں، حامد میں شفقت اور محبت کا نشان تک نہیں۔ اس نے نہ اقلیدس میں اسے پڑھا، نہ جبر مقالہ میں اس لفظ کو دیکھا، آج ان لڑکیوں کو لے کر چلی جاؤں، تو اگر میری ضرورت اسے نہ ہو تو کبھی بھول کر بھی لڑکیوں کا خیال نہ کرے میں نے ابھی کہا تھا کہ یہ حس شفقت میرے لیے اپنے خاوند پر تفوق کا باعث ہے لیکن غور سے دیکھو تو یہی تفوق میری اور کل عورتوں کی ذلت کا باعث ہوتا ہے۔\n\nحامد کو گھر میں اگر کسی چیز سے دلچسپی ہے تو اس سے کہ لڑکیوں کو نقشہ کشی سکھائے، کسی دن تعطیل کا پورا دن اس میں صرف ہوجاتا ہے، بڑی لڑکی سعیدہ ابھی سال بھر ہوا علی گڑھ مدرسہ نسواں میں بھیج دی گئی، وہاں لوگوں نے اس کی نقشہ کشی اور مصوری کی لیاقت دیکھ کر بہت تعجب کیا۔ کبھی دونوں لڑکیوں کو ساتھ لے جاکر انھیں بائیسکل پر چڑھنا سکھاتے ہیں۔\n\nمیں دعا کرتی ہوں ان دونوں لڑکیوں کی قسمت میری سی نہ ہو۔ یہ تصویر کھینچنے والی، بائیسکل پر سوار ہونے والی لڑکیاں ساکن وراکدا اور ٹھوس طبیعت والے خاندان کے پالے نہ پڑیں۔\n\nبارہ برس سے میں حامد کی بی بی ہوں، مجھے تو یاد نہیں پڑتا مکانوں کے نقشے اور کھیلنے کےتاش کے علاوہ کوئی کاغذ میں نے ان کے ہاتھ میں دیکھا ہو، نقشے کھینچا ایک تاش کھیلنا، دو یہ ان کے شغل ہیں، کبھی کوئی بحث، کبھی کوئی بات، جس سے دل میں حرکت، دماغ میں چمک پیدا ہو، میں نے ان سے نہیں سنی، ان سے ملنے دوست بھی آتے ہیں تو چپکے چپکے تاش کھیل کے چلے جاتے ہیں۔ دنیا میں انھیں کسی چیز کے متعلق جوش نہیں آتا۔ ان دو مشغلوں کے علاوہ دنیا کے کسی واقعہ کا ان کے دماغ میں گزر نہیں ہوتا، ان کھیلوں، ان شغلوں کو بھی مقررہ اوقات میں کرتے ہیں، غرضیکہ ان کا فلسفہ حیات دنیا میں نبابات کی طرح خاموش زندگی بسر کرنا ہے، ہاں یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ زندہ ہیں، کبھی کبھی تاش کھیل لینا ہے۔\n\nوہ دن نہ بھولونگی، کئی برس ہوئے، اس سکوت مطلق سے عاجز آکر میں ایک دن ان سے خوب لڑی، اس طرح۔\n\n’’اس ٹھہرے پانی جیسی زندگی سے تو میں اکتا گئی، خدا کے لیے کچھ حرکت کرو، کوئی بات کہو اور نہ سہی مجھ سے لڑو، شور مچاؤ، مجھے معلوم تو ہو کہ تمھاری رگوں میں خون دوڑتا ہے اور میں ایک مرد کی رفیقہ ہوں، جاؤ کسی بیگانی عورت سے محبت کرو، تاکہ اس حالت کو دیکھوں اور اسی طرح اس یک رنگ، یک آہنگ زندگی میں کچھ فرق آئے، ورنہ یہ مکان قبرستان سے بدتر ہورہا ہے۔ یہ موت جیسی زندگی کب تک رہے گی، اچھا یہ نہیں تو آؤ مجھے مارو، میرے بال نوچو، آؤ کچھ تو کرو، میں کیا کیا تمھیں سنا رہی ہوں، سنتے ہو، سمجھتے ہو، کہ نہیں۔۔۔‘‘\n\nمیں اس چیخنے چلانے سے تھک کر چپ ہورہی، مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہ تھا، استہزاء، نہ غصہ، نہ حدت۔ کہا تو یہ کہا (وہ بھی نہایت آہستہ سے) ’’ذرا میرا کوٹ لادیجیے جمیل کے ہاں جانا ہے، ان سے آج تاش کھیلنے کا وعدہ کیا تھا۔‘‘ یہ کہہ کر باہر چلے گئے۔ میرں کرسی پر گرپڑی اور بڑی دیر تک رویا کی۔\n\nساتھ اس کے یہ خیال رہے، وہ میری کسی طرح کھلی کھلی تحقیر، تذلیل نہیں کرتے، کبھی ’’تم‘‘ کا لفظ میں نے ان کی زبان سے نہیں سنا، ہمیشہ ’’آپ‘‘ کا استعمال کرتے ہیں، نہایت عزت اور احترام کا برتاؤ کرتے ہیں۔\n\nلیکن یہ احترام کچھ مخصوص احترام نہیں، طبیعت کی افتاد اسی طرح ہوئی ہے، گویا ایک کل کا آدمی ہے جسے اسی طرح کی کوک ملی ہے اور اس کوک کے مطابق چل رہا ہے۔\n\nباہر والے ہمیں سمجھیں گے کہ ہماری زندگی بڑی اچھی اور قابل رشک زندگی ہے لیکن اگر اس پوشیدہ حقیقت کو دیکھیں تو۔۔۔\n\n’’پیاری عذرا! تم نے اپنے خاوند کے حالات میں لکھا ہے، خاموش نہیں بیٹھا جاتا، ہر بات میں دخل دیتا ہے، حرص بھری نظروں سے مجھے دیکھتا ہے، وغیرہ وغیرہ‘‘ میں اس کے جواب میں تمھیں مبارکباد دیتی ہوں، اس کی لالچی نظریں، غرور نسوانی کے لیے غذا ہیں، میں تم سے کہتی ہوں، خوشی خوشی زندگی بسر کرو تمھاری اور تمھارے خاوند کی تربیت میں اختلاف ہے مزاج میں تھوڑا سا اختلاف ہے، مگر نہ اتنا کہ کوشش کرکے ایک دوسرے کے موافق نہ ہوجائے۔ پس اس کے ساتھ ہنسی خوشی بسر کرو، تمھارے خاوند کی ایک زندگی تو ہے، کچھ پرواہ نہیں اگر وہ شور مچاتا ہے، ڈکار لیتا ہے، ناٹک کے گانے گاتا ہے، یہ باتیں اس قدر تحمل فرسا نہیں جیسی میرے گھر کی بے حرکت بے مآل زندگی۔ میں ان احترامات کی کیسی برداشت کروں۔ تمھیں یاد ہوگا شادی سے پہلے میں کہا کرتی تھی کہ میں اپنے خاوند پر حکم کیا کرونگی اس کی آمرو مجبر ہونگی، لیکن اب دیکھو میرے تمام خیالات بدل گئے۔ میں چاہتی ہوں وہ میرا احترام نہ کرے نہ کرے لیکن مجھ سے اپنا احترام کرائے، اور دل میں ایسا گھر کرلے کہ چاہے مجھے اذیتیں دے لیکن میں اس کی مطلوب مشتاق رہوں ان اذیتوں سے لذت اٹھاؤں۔۔۔\n\nاف! سنسان، بے صدا جینا کچھ نہیں، اردو کا شیکسپیئر، غالب، کیا صحیح کہہ گیا ہے۔\n\nایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق\n\nنوحہ غم ہی سہی، نغمہ شادی نہ سہی\n\nسکوں کی خواہش ہے تو اس کے لیے قبر موجود ہے۔ مرنے سے کوئی روکتا نہیں، یہ سمجھ لو کہ فکر کی لذت، خیال کی لذت، شور وشغب کی لذت سے بڑھ کر ہے، مگر نہ حس نہ حرکت، نہ عالم خیال میں میرے ساتھ شرکت، نہ عالم وجود میں میرے ساتھ شرکت! اس کو زندگی کہتے ہیں؟\n\nباقی تمھاری پیاری آنکھوں، تمھاری سیاہ بالوں، تمھارے سرخ گلگوں رخساروں سے، اشتیاق اور حسرت کے ساتھ لاکھوں کروڑوں بو سے لینے کی آرزو۔\n\nتمھاری مفتون\n\nسلما", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8"} {"title": "جوابِ شکوَہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے\nپَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے\nقُدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے\nخاک سے اُٹھتی ہے، گردُوں پہ گزر رکھتی ہے\nعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مرا\nآسماں چِیر گیا نالۂ بے باک مرا\n\nپیرِ گردُوں نے کہا سُن کے، کہیں ہے کوئی\nبولے سیّارے، سرِ عرشِ بریں ہے کوئی\nچاند کہتا تھا، نہیں! اہلِ زمیں ہے کوئی\nکہکشاں کہتی تھی، پوشیدہ یہیں ہے کوئی\nکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رِضواں سمجھا\nمجھے جنّت سے نکالا ہوا انساں سمجھا\n\nتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا\nعرش والوں پہ بھی کھُلتا نہیں یہ راز ہے کیا!\nتا سرِ عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیا!\nآگئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا!\nغافل آداب سے سُکّانِ زمیں کیسے ہیں\nشوخ و گُستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں!\n\nاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے\nتھا جو مسجودِ ملائک، یہ وہی آدم ہے!\nعالِمِ کیف ہے، دانائے رموزِ کم ہے\nہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے\nناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کو\nبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو\n\nآئی آواز، غم انگیز ہے افسانہ ترا\nاشکِ بے تاب سے لبریز ہے پیمانہ ترا\nآسماں گیر ہُوا نعرۂ مستانہ ترا\nکس قدر شوخ زباں ہے دلِ دیوانہ ترا\nشُکر شکوے کو کِیا حُسنِ ادا سے تو نے\nہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نے\n\nہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں\nراہ دِکھلائیں کسے، رہروِ منزل ہی نہیں\nتربیت عام تو ہے، جوہرِ قابل ہی نہیں\nجس سے تعمیر ہو آدم کی، یہ وہ گِل ہی نہیں\nکوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں\nڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں\n\nہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں\nاُمّتی باعثِ رُسوائیِ پیغمبرؐ ہیں\nبُت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بُت گر ہیں\nتھا براہیم پدر اور پِسر آزر ہیں\nبادہ آشام نئے، بادہ نیا، خُم بھی نئے\nحَرمِ کعبہ نیا، بُت بھی نئے، تُم بھی نئے\n\nوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھا\nنازشِ موسمِ گُل لالۂ صحرائی تھا\nجو مسلمان تھا، اللہ کا سودائی تھا\nکبھی محبوب تمھارا یہی ہرجائی تھا\nکسی یکجائی سے اب عہدِ غلامی کر لو\nملّتِ احمدِؐ مرسَل کو مقامی کر لو!\n\nکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے\nہم سے کب پیار ہے! ہاں نیند تمھیں پیاری ہے\nطبعِ آزاد پہ قیدِ رمَضاں بھاری ہے\nتمھی کہہ دو، یہی آئینِ وفاداری ہے؟\nقوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں\nجذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں\n\nجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن، تم ہو\nنہیں جس قوم کو پروائے نشیمن، تم ہو\nبجلیاں جس میں ہوں آسُودہ، وہ خرمن تم ہو\nبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو\nہو نِکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے\nکیا نہ بیچو گے جو مِل جائیں صنَم پتھّر کے\n\nصفحۂ دہر سے باطل کو مِٹایا کس نے؟\nنوعِ انساں کو غلامی سے چھُڑایا کس نے؟\nمیرے کعبے کو جبِینوں سے بسایا کس نے؟\nمیرے قُرآن کو سِینوں سے لگایا کس نے؟\nتھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو\nہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!\n\nکیا کہا! بہرِ مسلماں ہے فقط وعدۂ حور\nشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور\nعدل ہے فاطرِ ہستی کا ازل سے دستور\nمُسلم آئِیں ہُوا کافر تو مِلے حور و قصور\nتم میں حُوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں\nجلوۂ طُور تو موجود ہے، موسیٰ ہی نہیں\n\nمنفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک\nایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک\nحرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک\nکچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک\nفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں\nکیا زمانے میں پَنپنے کی یہی باتیں ہیں\n\nکون ہے تارکِ آئینِ رسُولِ مختارؐ؟\nمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟\nکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟\nہوگئی کس کی نِگہ طرزِ سلَف سے بیزار؟\nقلب میں سوز نہیں، رُوح میں احساس نہیں\nکچھ بھی پیغامِ محمّدؐ کا تمھیں پاس نہیں\n\nجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا، تو غریب\nزحمتِ روزہ جو کرتے ہیں گوارا، تو غریب\nنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا، تو غریب\nپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمھارا، تو غریب\nاُمَرا نشّۂ دولت میں ہیں غافل ہم سے\nزندہ ہے مِلّتِ بیضا غُرَبا کے دم سے\n\nواعظِ قوم کی وہ پُختہ خیالی نہ رہی\nبرق طبعی نہ رہی، شُعلہ مقالی نہ رہی\nرہ گئی رسمِ اذاں، رُوحِ بِلالی نہ رہی\nفلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی\nمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے\nیعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے\n\nشور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود\nہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!\nوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود\nیہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود\nیوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو\nتم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!\n\nدمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باک\nعدل اس کا تھا قوی، لوثِ مراعات سے پاک\nشجَرِ فطرتِ مسلم تھا حیا سے نم ناک\nتھا شجاعت میں وہ اک ہستیِ فوق الادراک\nخود گدازی نمِ کیفیّت صہبایش بود\nخالی از خویش شُدن صورتِ مینایش بود\n\nہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھا\nاُس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھا\nجو بھروسا تھا اُسے قوّتِ بازو پر تھا\nہے تمھیں موت کا ڈر، اُس کو خدا کا ڈر تھا\nباپ کا عِلم نہ بیٹے کو اگر اَزبر ہو\nپھر پِسر قابلِ میراثِ پدر کیونکر ہو!\n\nہر کوئی مستِ مئے ذوقِ تن آسانی ہے\nتم مسلماں ہو! یہ اندازِ مسلمانی ہے!\nحیدری فقر ہے نے دولتِ عثمانی ہے\nتم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے؟\nوہ زمانے میں معزّز تھے مسلماں ہو کر\nاور تم خوار ہوئے تارکِ قُرآں ہو کر\n\nتم ہو آپس میں غضب ناک، وہ آپس میں رحیم\nتم خطاکار و خطابیں، وہ خطاپوش و کریم\nچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوجِ ثریّا پہ مقیم\nپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلبِ سلیم\nتختِ فغفور بھی اُن کا تھا، سریرِ کَے بھی\nیونہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیّت ہے بھی؟\n\nخودکُشی شیوہ تمھارا، وہ غیور و خود دار\nتم اخوّت سے گُریزاں، وہ اخوّت پہ نثار\nتم ہو گُفتار سراپا، وہ سراپا کردار\nتم ترستے ہو کلی کو، وہ گُلستاں بہ کنار\nاب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت اُن کی\nنقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت اُن کی\n\nمثلِ انجم اُفُقِ قوم پہ روشن بھی ہوئے\nبُت ہندی کی محبت میں بَرہمن بھی ہوئے\nشوقِ پرواز میں مہجورِ نشیمن بھی ہوئے\nبے عمل تھے ہی جواں، دِین سے بدظن بھی ہوئے\nان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیا\nلا کے کعبے سے صنَم خانے میں آباد کیا\n\nقیس زحمت کشِ تنہائیِ صحرا نہ رہے\nشہر کی کھائے ہوا، بادیہ پیما نہ رہے!\nوہ تو دیوانہ ہے، بستی میں رہے یا نہ رہے\nیہ ضروری ہے حجابِ رُخِ لیلا نہ رہے!\nگلۂ جَور نہ ہو، شکوۂ بیداد نہ ہو\nعشق آزاد ہے، کیوں حُسن بھی آزاد نہ ہو!\n\nعہدِ نَو برق ہے، آتش زنِ ہر خرمن ہے\nایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گُلشن ہے\nاس نئی آگ کا اقوامِ کُہن ایندھن ہے\nملّتِ ختمِ رُسُلؐ شُعلہ بہ پیراہن ہے\nآج بھی ہو جو براہیمؑ کا ایماں پیدا\nآگ کر سکتی ہے اندازِ گُلستاں پیدا\n\nدیکھ کر رنگِ چمن ہو نہ پریشاں مالی\nکوکبِ غُنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی\nخس و خاشاک سے ہوتا ہے گُلستاں خالی\nگُل بر انداز ہے خُونِ شُہَدا کی لالی\nرنگ گردُوں کا ذرا دیکھ تو عُنّابی ہے\nیہ نِکلتے ہوئے سُورج کی اُفُق تابی ہے\n\nاُمّتیں گُلشنِ ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیں\nاور محرومِ ثمر بھی ہیں، خزاں دیدہ بھی ہیں\nسینکڑوں نخل ہیں، کاہیدہ بھی، بالیدہ بھی ہیں\nسینکڑوں بطنِ چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیں\nنخلِ اسلام نمونہ ہے برومندی کا\nپھل ہے یہ سینکڑوں صدیوں کی چمن بندی کا\n\nپاک ہے گردِ وطن سے سرِ داماں تیرا\nتُو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیرا\nقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیرا\nغیرِ یک بانگِ درا کچھ نہیں ساماں تیرا\nنخلِ شمع استی و درشعلہ دوَد ریشۂ تو\nعاقبت سوز بوَد سایۂ اندیشۂ تو\n\nتُو نہ مِٹ جائے گا ایران کے مِٹ جانے سے\nنشّۂ مے کو تعلّق نہیں پیمانے سے\nہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے\nپاسباں مِل گئے کعبے کو صنَم خانے سے\nکشتیِ حق کا زمانے میں سہارا تُو ہے\nعصرِ نَو رات ہے، دھُندلا سا ستارا تُو ہے\n\nہے جو ہنگامہ بپا یورشِ بلغاری کا\nغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کا\nتُو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کا\nامتحاں ہے ترے ایثار کا، خودداری کا\nکیوں ہراساں ہے صَہیِلِ فرَسِ اعدا سے\nنُورِ حق بُجھ نہ سکے گا نفَسِ اعدا سے\n\nچشمِ اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیری\nہے ابھی محفلِ ہستی کو ضرورت تیری\nزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیری\nکوکبِ قسمتِ امکاں ہے خلافت تیری\nوقتِ فُرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے\nنُورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے\n\nمثلِ بُو قید ہے غُنچے میں، پریشاں ہوجا\nرخت بردوش ہوائے چَمنِستاں ہوجا\nہے تنک مایہ تو ذرّے سے بیاباں ہوجا\nنغمۂ موج سے ہنگامۂ طُوفاں ہوجا!\nقُوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے\nدہر میں اسمِ محمّدؐ سے اُجالا کر دے\n\nہو نہ یہ پھُول تو بُلبل کا ترنُّم بھی نہ ہو\nچَمنِ دہر میں کلیوں کا تبسّم بھی نہ ہو\nیہ نہ ساقی ہو تو پھرمے بھی نہ ہو، خُم بھی نہ ہو\nبزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو\nخیمہ افلاک کا اِستادہ اسی نام سے ہے\nنبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے\n\nدشت میں، دامنِ کُہسار میں، میدان میں ہے\nبحر میں، موج کی آغوش میں، طوفان میں ہے\nچین کے شہر، مراقش کے بیابان میں ہے\nاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہے\nچشمِ اقوام یہ نظّارہ ابد تک دیکھے\nرفعتِ شانِ ’رَفَعْنَالَکَ ذِکرَْک‘ دیکھے\n\nمَردمِ چشمِ زمیں یعنی وہ کالی دنیا\nوہ تمھارے شُہَدا پالنے والی دنیا\nگرمیِ مہر کی پروَردہ ہلالی دنیا\nعشق والے جسے کہتے ہیں بِلالی دنیا\nتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرح\nغوطہ‌زن نُور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرح\n\nعقل ہے تیری سِپَر، عشق ہے شمشیر تری\nمرے درویش! خلافت ہے جہاں‌گیر تری\nماسِوَی اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری\nتُو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری\nکی محمّدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں\nیہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D9%90_%D8%B4%DA%A9%D9%88%D9%8E%DB%81"} {"title": "جوانوں کو مری آہِ سَحر دے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "جوانوں کو مری آہِ سحَر دے\nپھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے\nخدایا! آرزو میری یہی ہے\nمرا نورِ بصیرت عام کر دے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%DB%81%D9%90_%D8%B3%D9%8E%D8%AD%D8%B1_%D8%AF%DB%92"} {"title": "جوانی آئی مراد پر جب امنگ جاتی رہی بشر کی", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوانی آئی مراد پر جب امنگ جاتی رہی بشر کی\nنصیب ہوتے ہی چودھویں شب شکوہ رخصت ہوئی قمر کی\n\nوہ شوخ چتون تھی کس ستم کی کہ جس نے چشمک کہیں نہ کم کی\nکسی طرف کو جو برق چمکی تو سمجھے گردش اسے نظر کی\n\nترا ہی دنیا میں ہے فسانہ ترا ہی شیدائی ہے زمانہ\nترے ہی غم میں ہوئیں روانہ نکل کے روحیں خدائی بھر کی\n\nنہ آسماں ہے نہ وہ زمیں ہے مکاں نہیں وہ جہاں مکیں ہے\nپیمبروں کا گزر نہیں ہے رسائی ہے میرے نامہ بر کی\n\nکھنچا جو طول شب جدائی اندھیری مدفن کی یاد آئی\nنگاہ و دل پر وہ یاس چھائی امید جاتی رہی سحر کی\n\nجو عشق بازوں کو آزمایا لگا کے چھریاں یہ قہر ڈھایا\nیہاں یہاں تک لہو بہایا کہ نوبت آئی کمر کمر کی\n\nگرے جو کچھ سرخ گل زمیں پر کہا یہ بلبل نے خاک اڑا کر\nہوا ہے وعدہ مرا برابر یہ صورتیں ہیں مرے جگر کی\n\nمقام عبرت ہے آہ اے دل خدا ہی کی ہے پناہ اے دل\nنہیں ہے کچھ زاد راہ اے دل عدم سے تاکید ہے سفر کی\n\nیہ ہم نے کیسا سفر کیا ہے مسافروں کو رلا دیا ہے\nاجل نے آغوش میں لیا ہے خبر بھی ہم کو نہیں سفر کی\n\nوہ جلد یارب انہیں کو تاکے لگا دے دو تیر ان پر آ کے\nیہ دونوں رہ جائیں پھڑپھڑا کے میں دیکھوں لاشیں دل و جگر کی\n\nکسی کا معشوق چھوٹتا ہے سحر کا وقت اس کو لوٹتا ہے\nکوئی یہ سینے کو کوٹتا ہے نہیں ہے آواز یہ گجر کی\n\nکھچا ہے زرتار شامیانہ گلوں سے آتی ہے بو شہانہ\nدکھا کے قدرت کا کارخانہ لحد نے حسرت بھلا دی گھر کی\n\nغشی کا عالم وہ زور پر ہے مزاج صحت سے بے خبر ہے\nدوا کا غفلت زدہ اثر ہے خبر دوا کو نہیں اثر کی\n\nشباب نے خود نما بنایا یہ ناز خوش روئی نے جتایا\nحیا میں جس وقت فرق آیا تو ان کے مکھڑے سے زلف سرکی\n\nہوا ہوں چورنگ تیغ حسرت کہ دفن کی ہے مری یہ صورت\nکسی طرف کو ہے دل کی تربت کہیں ہے تربت مرے جگر کی\n\nجو اس نے ضد کی تو آفت آئی دہائی دینے لگی خدائی\nقیامت اس بے وفا نے ڈھائی ادھر کی دنیا شرفؔ ادھر کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AF_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D9%85%D9%86%DA%AF_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D8%A8%D8%B4%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "جوانی مئے ارغوانی سے اچھی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوانی مئے ارغوانی سے اچھی\nمئے ارغوانی جوانی سے اچھی\n\nبقا جس میں ہو شے وہ فانی سے اچھی\nہمیں موت اس زندگانی سے اچھی\n\nجوانی ہو اچھی سی اچھی کسی کی\nنہ ہوگی تمہاری جوانی سے اچھی\n\nیہ مے شیخ کو نار دوزخ سے بڑھ کر\nیہ مے ہم کو جنت کے پانی سے اچھی\n\nہمیشہ کو اب ہو گئی آنکھ موسیٰ\nصدا ہوگی کیا لن ترانی سے اچھی\n\nاگر پاسبانی ملے تیرے در کی\nتو خدمت نہیں پاسبانی سے اچھی\n\nملا ٹوٹ کر ہم نے توبہ جو توڑی\nنبھی چند دن شیخ فانی سے اچھی\n\nنشانہ بنے دل رہے تیر دل میں\nنشانی نہیں اس نشانی سے اچھی\n\nتری خوش بیانی کا کیا ذکر واعظ\nخموشی تری خوش بیانی سے اچھی\n\nجوانی تو گزری بڑھاپے سے بد تر\nگزر جائے پیری جوانی سے اچھی\n\nجو الفت میں حاصل ہوئیں قیس تجھ کو\nیہ ناکامیاں کامرانی سے اچھی\n\nریاضؔ آ رہو تم جو ساحر کے در پر\nرہے موت بھی زندگانی سے اچھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%B1%D8%BA%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C"} {"title": "جوانی کی حالت گزر جائے گی", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "جوانی کی حالت گزر جائے گی\nچڑھی ہے جو سر پر اتر جائے گی\n\nجدھر کو مری چشم تر جائے گی\nادھر کام دریا کا کر جائے گی\n\nزمانے کی ایذا کا شکوہ نہ کر\nگزرتے گزرتے گزر جائے گی\n\nکھلے گا تجھے عشق بازی کا حال\nیہ حرص ہوا جبکہ مر جائے گی\n\nمرے جسم خاکی سے ہو کے جدا\nیہ روح رواں پھر کدھر جائے گی\n\nمرے نغموں سے عندلیب چمن\nکہاں اڑ کے تو مشت پر جائے گی\n\nتوجہ تری او بت بے وفا\nمرا کام آخر کو کر جائے گی\n\nبہار چمن جبکہ ہوگی خزاں\nمری وحشت دل کدھر جائے گی\n\nاگر جذبۂ دل پہ قابو رہا\nشب وصل کی پھر ٹھہر جائے گی\n\nکھنچی ہے جو تیغ محبت دلا\nیہی ایک دن تیرے سر جائے گی\n\nچڑھی ہوگی کچے گھڑے کی جسے\nاترتے اترتے اتر جائے گی\n\nقمار محبت میں گر آہ کی\nیہ جیتی ہوئی بازی ہر جائے گی\n\nمری مرگ ایسی ہے اے منتہیؔ\nکہ جس کی عدم تک خبر جائے گی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%AA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "جوانی یاد ہم کو اپنی پھر بے اختیار آئی", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوانی یاد ہم کو اپنی پھر بے اختیار آئی\nہوا دیوانوں میں جب غل بہار آئی بہار آئی\n\nہوا تھا مرگ سے غافل میں کس دن جوش وحشت میں\nصبا کیوں لے کے میرے سامنے مشت غبار آئی\n\nدکھائے رنج پیری کے اجل تیرے تغافل نے\nتجھے آنا تھا پہلے آہ تو انجام کار آئی\n\nہمارے توسن عمر رواں کے تیز کرنے کو\nشمیم زلف دوش باد صرصر پر سوار آئی\n\nنہ پایا وقت اے زاہد کوئی میں نے عبادت کا\nشب ہجراں ہوئی آخر تو صبح انتظار آئی\n\nنہ کچھ خطرہ خزاں کا ہے نہ احسان بہار اس پر\nعدم سے اپنی شاخ آرزو بے برگ و بار آئی\n\nہماری دیکھیو غفلت نہ سمجھے وائے نادانی\nہمیں دو دن کے بہلانے کو عمر بے مدار آئی\n\nجو ننگ عشق ہیں وہ بو الہوس فریاد کرتے ہیں\nلب زخم ہوسؔ سے کب صدائے زینہار آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "جواں مردی", "poet_page": "مصنف:محمود الظفر", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "وہ میری بیوی جا رہی، مگر اس کے لبوں پر اس مسکراہٹ کا نام تک نہیں جیسا کہ لوگوں نے میری تسکین قلب کے لیے مجھ سے کہا تھا۔ بس ہڈیوں کا ایک ڈھانچا ہے۔ اس کی بھیانک صور ت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک مہلک بیماری کا شکار ہے اور موت کا خوف اس پر طاری ہے۔ اس کی آنکھوں میں میرے لیے اب لطف اور پیار کی جگہ بیگانگی اور نفرت ہے، میں مستحق ہی اس کا تھا۔ اس نفرت کی وجہ، وہ نازائیدہ بچہ ہے جس کا سر اس کے کولے ف کی ہڈیوں میں اب تک پھنسا دکھائی دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کی جان گئی۔ یہ بھلا کسے خیال ہو سکتا تھا کہ میری بیوی کو مرتے وقت مجھ سے نفرت ہو گی۔ میں نے اس کو تکلیف اور موت سے بچانے کے لیے کون سی بات اٹھا رکھی تھی، مگر نہیں۔ میں ہی اس کی موت کا باعث ہوا، میں نے ہی اس کو درد اور دکھ پہنچایا، مردوں کی جہالت اور حماقت کی کوئی انتہا نہیں۔ مگر یہ بھی کہنا صحیح نہییں کہ میں جہالت اور حماقت کا شکار تھا۔ ہاں یہ سراسر غلط ہے۔ دراصل میں غرور کے پنجہ میں گرفتار تھا جس کا مجھے اعتراف ہے۔\n\nہماری شادی ایسی عمر میں ہوئی تھی جب ہم میں ایک دوسرے کے جذبات سمجھنے کی صلاحیت تک نہ تھی۔ لیکن بعد میں جو حادثہ پیش آیا اس کا الزام میں قسمت، یا ایسے حالات پر جن پر مجھے کوئی قابو نہ تھا، نہیں رکھنا چاہتا۔\n\nمجھے اپنی بیوی سے کبھی محبت نہیں ہوئی اور ہوتی بھی کیسے؟ ہم دو مختلف دائرہ زندگی میں گرداں تھے۔ میری بیوی پرانے زمانے کی تنگ و تاریک گلیوں میں اور میں نئے زمانے کی صاف اور چوڑی پکی سڑکوں پر۔ لیکن جب میں دوسرے ملکوں میں گیا اور اس سے کئی برس تک جدا رہا تو کبھی کبھی میرا دل اس کے لیے بے چین ہوتا تھا۔ وہ اپنے چھوٹے سے مستحکم پرانے قلعہ میں تھی، اور میں زندگی کی دوا دوش فضول اور بے فیض عشق بازی سے تنگ آ کر کبھی کبھی اس پاک و باوفا عورت کا خواب دیکھا کرتا تھا جو بلا کسی معاوضہ کے مجھ پر سے سب کچھ نثار کرنے کے لیے تیار تھی۔ جب میری یہ کیفیت ہوتی۔۔۔ تو بیتابی کے ساتھ مجھے اس سے ملنے کی خواہش ہوتی۔ ایک دفعہ مجھ پر ایسی ہی کیفیت طاری تھی کہ مجھے اس کا ایک خط ملا۔ میں بیقرار ہو گیا اور فوراً چھ ہزار میل کے فاصلے سے وطن کی طرف چل پڑا۔ اس نے خط میں لکھا تھا،\n\n’’میں نے ابھی تکیہ کے نیچے سے آپ کا خط نکال کر پڑھا۔ بہت مختصر ہے۔ غالباً آپ اپنے میں مشغول ہوں گے، مگر خیر مجھے اس کی کوئی شکایت نہیں، بس آپ کی مجھے خیرت معلوم ہوتی رہے اور آپ اچھے رہیں اور خوش رہیں، میرے لیے یہی کافی ہے۔ جب سے میں بیمار ہوں سوائے اس کے کہ آپ کو یاد کروں اور ان عجیب عجیب چیزوں اور نئے نئے لوگوں کا خیال کروں جن سے آپ وہاں ملتے ہوں گے مجھے اور کام نہیں، مجھ سے چلا نہیں جاتا اس وجہ سے پلنگ پر پڑی پڑی طرح طرح کے خیال کیا کرتی ہوں۔ کبھی تو اس میں لطف آتا ہے اور کبھی اس سے سخت تکلیلف ہوتی ہے، جب لوگ میری صحت کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اور مجھ سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں اور یہ نصیحت کرتے ہیں تو مجھے بڑی کوفت ہوتی ہے، یہ لوگ یہ تک نہیں سمجھتے کہ مجھے کیا روگ ہے۔ انھیں صرف اپنی تسکین قلب کے لیے میری حالت پر رحم آتا ہے۔ اپنے والدین پر بھی بار ہوں، وہ اپنے جی میں خیال کرتے ہوں گے کہ باوجود میری شادی ہو جانے کے میں ایسی بدنصیب ہوں کہ ان کے گلے پڑی ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میں ہر وقت اس کوشش میں رہتی ہوں کہ بہت زیادہ مایوسی اور رنج کا اظہار نہ کروں اور میرے والدین ایسی کوشش کرتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں میری بیماری کی وجہ سے بڑا تردد اور فکر ہے۔ غرض دونوں طرف بناوٹ ہی بناوٹ ہے۔ میں آپ سے کسی بات کی شکایت کرنا نں او چاہتی اور نہ آپ کے کام میں ہارج ہونا چاہتی ہوں۔ آپ مجھے بھول نہ جائیں اور کبھی کبھی خط لکھ دیا کریں، میرے لیے یہی بہت ہے بلکہ کبھی کبھی تو مجھے یہ خیال ہوتا ہے کہ آپ کا مجھ سے دور ہی رہنا بہتر ہے۔ مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ جیسے بیماری کے بعد سے یہاں میں قریب قریب سب سے نا آشنا سی ہو گئی ہوں ویسے ہی میں کہیں آپ کو بھی نہ کھو بیٹھوں۔ دن رات میری بری حالت دیکھ کر کہیں آپ کا دل بھی میری طرف سے نہ ہٹ جائے۔ وہاں سے تو آپ محض اس کا تصور کر سکتے ہیں اور میں آپ کو اپنا وہ کامل دمساز تصور کر سکتی ہوں جس کی میرے دل کو تمنا ہے۔‘‘\n\nجب مجھے یہ خط ملا تو مجھ پر عشق و محبت کی ایک لہر سی دوڑ گئی، گو کہ وہ بیمار تھی اور اسے روگ لگ گیا تھا مگر اس کو سینے سے لگانا میرا فرض تھا، میں یہ ثابت کر دینا چاہتا تھا کہ میری محبت میں کوئی بات حائل نہیں ہو سکتی، میں چاہتا تھا کہ اسے معلوم ہو جائے کہ میں ہی وہ کامل دمساز ہوں جس کی اسے جستجو تھی، میں نے اپنے کو قصور وار اور برا قرار دیا اور اس کو معصوم اور نرمل، جیسی اس نے میرے ساتھ خاکساری برتی اور میری خدمت گزاری کی، میرا بھی فرض تھا کہ میں اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کروں۔ یہ تہیہ کر کے میں اپنا کام چھوڑ کر گھر کی طرف چل کھڑا ہوا۔\n\nمیں ابھی راستے ہی میں تھا میرے جذبات میں تبدیلیاں ہونے لگیں۔ وہ شروع کا سا پاک جذبہ بالکل غائب ہو گیا اور روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف میرے خیالات دوڑنے لگے، مثلاً روزی کمانے کی میں کون صورت نکالوں گا اپنے دوستوں مین سے کن کن سے ملاقات جاری رکھوں گا۔ اپنے سسر اور ساس سے کس طرح ملوں گا، ان سے صاف صاف باتیں کروں یایہ کہ ان کی طرف سے بے رخی برتوں، وغیرہ وغیرہ۔ صرف اپنی بیوی سے ملنے کی پہلے کی سی تمنا باقی نہ رہی، یہ ہی نہیں بلکہ ذرا ذرا سے روزانہ زندگی کے مسئلوں نے میری تمناؤں اور ولولوں کا خاتمہ کر دیا۔ گھر پہنچنے پر یہ مسایل مکروہ حقیقتوں سے بدل گئے جن سے گریز ناممکن تھا۔ پرانے زمانے کی جن جن دلفریبوں کی میں نے اپنے ذہن میں تصویر کھینچی تھی ان کا کہیں پتہ بھی نہ تھا بجائے اس کے میں نے خود کو ایک تنگ و تاریک، گندی، ظلم اور جہل سے لبریز دنیا میں بند پایا، اسٹیشن پر جو لوگ مجھ سے ملنے آئے ان میں اکثر بیہودہ، بدمعاش، تنگ نظر اور ناکارہ قسم کے آدمی تھے، ان سب نے بہت خوشی کے ساتھ میرا استقبال کیا، مجھے بٹھایا گیا، مجھ پر فقرے کسے گئے، وہی پرانے ناشائستہ مذاق ہوئے اور دوسروں کی عیب جوئی کی گئی۔ کئی دن تک جلسوں اور دعوتوں کا سلسلہ رہا۔ اس کے بعد کہیں ان لوگوں سے نجات ملی۔ اس درمیان میں میں اپنی بیوی سے صرف تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے مل سکا۔ لیکن اس کے تیل سے چپکے ہوئے بال، اس کا لاغر جسم اور زدر چہرہ؛ دعوتوں، رقص و سرود کے جلسوں اور ادھر ادھر بات چیت کے وقت بھی بار بار میری نظر کے سامنے آ جاتا تھا۔\n\nجب سب مہمان رخصت ہو گئے تو میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس کے قریب پلنگ پر جا کر بیٹھا۔ وہ ساکت لیٹی رہی اور میری طرف اس نے نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ میں تھوڑی دیر تک تو اس کی ہر سانس کے ساتھ اس کے سینہ کا اتار چڑھاؤ دیکھتا رہا۔ پھر میں نے اس کا نحیف ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور کچھ دیر تک ہم دونوں یوں ہی خاموش بیٹھے رہے۔ پھر میں بولا،\n\n’’لیجیے اب تو میں آپ کے پاس آ گیا، کچھ باتیں کیجیے، آپ اتنی چپ کیوں ہیں؟‘‘\n\nاس جواب دیا، ’’میں کیا باتیں کروں، خیر آپ آ گئے۔‘‘\n\nمیں نے دفعتاً یہ محسوس کیا کہ اس طرح کام نہیں چلنے کا۔ میں نے شروع میں جو تہیہ کیا تھا وہ مجھے یاد آ گیا اور میں نے جلدی سے کہا،\n\n’’واہ، آپ کو کہنا تو مجھ سے بہت کچھ ہے، اتنے دن جو میں یہاں نہیں رہا تو آپ کیا کرتی رہیں اور کیسی رہیں سب مجھے بتائیے، آخر اتنے دن تک آپ نے مجھ سے بات چیت نہیں کی اب اس کی کسر نکالیے، یاد ہے آپ کو آپ نے مجھے ایک دفعہ خط میں لکھا تھا کہ آپ کو ایک ہمدم و دمساز کی جستجو ہے۔ میں ہی وہ شخص ہوں اور اب آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ ہروقت آپ کے ساتھ رہوں اور کبھی آپ سے جدا نہ ہوں۔‘‘\n\nمگر میری تمام کوششیں بیکار ثابت ہوئیں۔ میری باتوں سے ظاہر تھا کہ رٹے ہوئے سبق کی طرح اوپری ہیں اور ان سے میری بیوی کی کوئی تسلی نہیں ہوئی۔ کچھ دیر تک مجھے یہ امید رہی کہ اسے اس کا شاید احساس نہیں ہوا۔ مگر وہ گھبراہٹ اور بے چینی سے میری ٹوپی اٹھاکر ہاتھوں سے ملنے دلنے لگی اور پھر ایسی گفتگو شروع کی کہ مجھے اپنی ناکامیابی کا یقین ہو گیا۔\n\nاس نے کہا، ’’بھلا میں کیا کہوں؟ یہاں تو جیسے دن ویسی رات لیکن آپ کیوں چپ ہیں؟ آپ کو نئے نئے تجربے ہوئے ہوں گے، اہم امور سے سابقہ پڑا ہوگا۔ آپ مجھ سے ان سب باتوں کا تذکرہ کیجیے، وہاں کی عجیب عجیب چیزیں، طرح طرح کی مشین، قسم قسم کے لوگ، نئی زندگی، آپ لکھا کرتے کہ آپ کو ان سب کے بارے میں مجھے لکھنے کا وقت نہیں، لیکن اب تو آپ میرے پاس ہیں، اب تو آپ کو وقت ہے۔‘‘\n\nیہ اس نے جان کر میری خود بینی پر حملہ کیا۔ اب مجھے معلوم ہو گیا کہ برسوں کی جدائی نے ہمارے تعلقات میں مطلقاً کوئی فرق پیدا نہیں کیا ہم پہلے کی طرح اب بھی ایک دوسرے سے نا آشنا تھے اور ایک دریا کے دو مختلف کناروں پر اجنبی کی طرح کھڑے ہوئے تھے، ہم نے پھر ایک دوسرے کے ساتھ ریا کاری شروع کر دی۔\n\nمیں نے کہا، ’’ہاں ہاں مجھے تو آپ سے بہت سی باتیں کرنی ہیں، ہم دونوں مل کر کیاکیا کریں گے، یہ طے کرنا ہے۔ لیکن پہلے آپ جلدی سے اچھی تو ہو جائیے، جب آپ اچھی ہو جائیں گی تب ہم اس کے بارے میں گفتگو کریں گے، ابھی تو آپ کو خاموشی سے آرام کرنا چاہیے، آپ اپنے دل و دماغ پر زور نہ ڈالیے، میرے آنے کی وجہ سے غالباً آپ کو تکان ہو گیا۔ آپ آرام کیجیے اور زیادہ سوچئے مت، اچھا مٰں ی اب جاتا ہوں آپ سو جائیے۔‘‘\n\nمیں نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور وہاں سے اٹھ کر چلا آیا۔\n\nاس کے بعد نہ تو میں نے اس سے زیادہ رابطہ بڑھانے کی کوشش کی اور نہ کسی خاص بات پر زیادہ دیر تک گفتگو ہی کی۔ دن میں ایک دو دفعہ اسے دیکھنے جایا کرتا، دریافت کرتا کہ اس کی صحت کیسی ہے اور ایسی ہی دو ایک باتیں کر کے چلا آتا اور اپنے کام میں مصروف ہو جاتا۔ اتفاق سے میرا کام بھی ان دنوں کچھ اچھا نہیں چل رہا تھا اور مجھے فرصت کافی تھی۔\n\nرفتہ رفتہ میں پھر اپنے پرانے دوستوں کی صحبت میں رہنے لگا اور ان کی لغو اور فضول عادتیں مجھ میں بھی آ گئیں۔ تاش، شراب اور بے سر و پا باتوں کا سلسلہ جاری رہنے لگا۔ ہم اپنے کو موسیقی کا بھی ماہر سمجھتے تھے اور شہر کی نامور گانے والیوں کے سر پرست بن بیٹھے۔ ایسی حالت میں ظاہر ہے کہ میں نے ایک عورت بھی رکھ لی تھی۔ ہم نے بے معنی اور بے مقصد زندگی بسر کرنے کی یہی ترکیبیں نکالی تھیں۔ ہم میں سے جو لوگ غیر ممالک کا سفر کر آتے تھے وہ اپنی جواں مردی اور عاشقی کی داستانیں دوسروں کو سنا سنا کر ان پر رعب جماتے تھے۔\n\nلیکن مجھے اپنی بیوی سے چھٹکارا پانا ناممکن تھا۔ اس کی صحت کی خرابی کی وجہ سے میرے پاس مزاج پرسی کے لیے خطوط اور دوستوں اور رشتہ داروں کا ایک سلسلہ قایم رہتا۔ کوئی مجھے نصیحت کرتا تو کوئی فضیحت، کوئی دلاسا دیتا تو کوئی اظہار ہمدردی کرتا، ان سب باتوں سے میری زندگی عزاب ہو گئی۔ میرے ساس اور سسر کو میری آزادہ روی بہت کھلتی تھی، وہ ڈرتے تھے کہ کہیں میں ان کی لڑکی کو بالکل چھوڑ نہ دوں۔ ادھر میری والدہ صبح شام مجھ سے دوسری شادی کر لینے پر مصر تھیں۔ خاندان میں دو ایسے گروہ بن گئے جنھیں ایک دوسرے سے سخت عداوت تھی۔ دونوں مجھے اپنی طرف کھینچنے کی ہر وقت کوشش کرتے رہتے تھے۔\n\nلیکن باوجود والدہ کے اصرار کے میں دوسری شادی کرنے پر راضی نہیں ہوا۔ آخر کار لوگوں نے میری مردانگی پر شک کرنا شروع کیا اور طرح طرح کی چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ اس پر تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے یہ تہیہ کر لیا کہ کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیے۔\n\nمیں اپنی سسرال گیا اور وہاں جا کر کہا،\n\n’’آپ کی لڑکی بیمار ویمار کچھ بھی نہیں، یہ سب خواہ مخواہ اسے اپنے یہاں روکنے کے بہانے ہیں۔ میں اسے اپنے ساتھ لیے جاتا ہوں۔‘‘\n\nاپنی بیوی سے بھی میں نے کہا،\n\n’’آپ بالکل بیمار نہیں، کم از کم ایسی بیمار نہیں جیسا یہاں لوگ آپ کو بتانا چاہتے ہیں، یہ سب آپ کے والدین کی چال ہے، یہ بات کچھ آپ سے چھپی ہوئی نہیں ہے، آپ میرے ساتھ چل کر رہیے تب پتہ چلے گا کہ آپ کو کیا بیماری ہے۔‘‘\n\nپہلے تو میری صاف گوئی اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آئی مگر تھوڑی بہت تکرار کے بعد وہ میرے ساتھ چلنے پر راضی ہو گئی۔\n\nہم دونوں نے ایک لمبا سفر کیا، اور دورپہاڑوں پر جا کر رہنے لگے برفستان کی خشک اور تازہ ہوا میں دور دور ٹہلنے کے لیے نکل جاتے۔\n\nجب تھوڑے دنوں بعد میری بیوی کی صحت ٹھیک ہو گئی تو میں اسے لے کر گھر آیا۔ میرے دوستوں اور رشتہ داروں نے جب ہمیں دیکھا تو میرے لیے یہ بڑے فخر کا موقع تھا۔ مگر ان کے دلوں میں شک باقی رہ گیا وہ پورے ثبوت کے لیے کسی اور چیز کے خواہاں تھے۔ لیکن مجھے اپنی فتحیابی کا پورا یقین تھا۔ ایک مہینے کے بعد دوسرا مہینہ آہستہ آہستہ گزرتا جاتا تھا اور میری بیوی کا پیٹ بڑھتا جاتا تھا۔\n\nمیری حالت اس مالی کی سی تھی جو اپنے لگائے ہوئے درختوں پر کلیوں کو کھلتے ہوئے دیکھ کر باغ باغ ہوتا ہے۔ ہر ہر دن، ہر ہر لمحہ کے بعد میری کامیابی زیادہ نمایاں ہوتی جاتی۔ لیکن میری بیوی خاموش رہتی۔ میں سمجھتا تام کہ اس کا سبب غالباً زچگی کی گھبراہٹ اور پریشانی ہے۔ آخر کار اس کو دردزہ شروع ہوا۔ گھنٹوں تک کرب اور بے چینی کا عالم رہا۔ جسم شدت تکلیف سے تڑپ رہا تھا اور کسی پہلو اسے چین نہیں تھا۔ روح تک معلوم ہوتا تھا کہ آہ و فریاد کر رہی ہے۔ لیکن اس کی بیکلی اور تڑپ، اس کی آہ و زاری ان سب سے میری جواں مردی کا ثبوت مل رہا تھا۔\n\nمعاذاللہ! میرے کانوں میں ابھی تک اس کا درد ناک کراہنا گونج رہا ہے۔ اور اس کے بعد چاروں طرف جو خاموشی چھا گئی اور جس نے میری اکڑ اور شان کو خاک میں ملا دیا، وہ سماں بھی ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ لیکن اس کے مرنے کے بعد جب لوگ مجھ سے یہ کہنے آئے کہ مرتے وقت اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی تو میرے دل کو کچھ سکون ہو گیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D8%AF%DB%8C"} {"title": "جوبن ان کا اٹھان پر کچھ ہے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوبن ان کا اٹھان پر کچھ ہے\nاب مزاج آسمان پر کچھ ہے\n\nکیا ٹھکانا ہے بات کا ان کی\nدل میں کچھ ہے زبان پر کچھ ہے\n\nوعدہ ہے غیر سے یہ حیلہ ہے\nکام مجھ کو مکان پر کچھ ہے\n\nحور کا ذکر کیوں کیا دم مرگ\nشبہ میرے بیان پر کچھ ہے\n\nگمشدہ دل نہ ہو کہیں میرا\nان کی محرم کی پان پر کچھ ہے\n\nہو کے رسوا کسے کیا رسوا\nذکر سب کی زبان پر کچھ ہے\n\nکیوں نہ ہو شوق جلوۂ لب بام\nاب جوانی اٹھان پر کچھ ہے\n\nکہو میہمان غم سے اب رخصت\nقرض کیا میزبان پر کچھ ہے\n\nبنگ ہی دے جو مے نہیں واعظ\nتیری اونچی دکان پر کچھ ہے\n\nمیں نے گھورا تو ہمدموں سے کہا\nدیکھو اس نوجوان پر کچھ ہے\n\nرکھ دیا ہاتھ ان سے یہ کہہ کر\nٹھہرو اے جان ران پر کچھ ہے\n\nکوئی چھپ کر گیا ہے غیر کے گھر\nشک قدم کے نشان پر کچھ ہے\n\nبالے پہنے الٹ کے کانوں میں\nاور گھبرائے کان پر کچھ ہے\n\nہوں یہاں اس لیے دکن کو ریاضؔ\nرشک ہندوستان پر کچھ ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%A8%D9%86_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%DB%92"} {"title": "جور افلاک بسکہ جھیلے ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "جور افلاک بسکہ جھیلے ہیں\nایسے پاپڑ بہت سے بیلے ہیں\n\nگہ حضوری ہے گاہ ہے دوری\nگہ اکیلے ہیں گہ دو کیلے ہیں\n\nاسپ تازی نظر نہیں آتے\nسو کھروں سے بھرے طویلے ہیں\n\nکہتے ہیں یاں جسے قمار عشق\nکھیل ایسے بہت سے کھیلے ہیں\n\nجیتے ہیں وہ قمار عشق میں یار\nجان پر اپنی جو کہ کھیلے ہیں\n\nٹھہرے کب جنگ حسن میں یہ شیخ\nایک مدت کے یہ بھگیلے ہیں\n\nپاس اپنے دوئی کا نام نہیں\nجب سے پیدا ہوئے اکیلے ہیں\n\nنہ دکھانا لحد میں آنکھیں نکیر\nپاس اپنے بھی قل کے ڈھیلے ہیں\n\nکفر و دیں کا ہو فیصلہ کیوں کر\nایک مدت کے یہ منجھیلے ہیں\n\nدیر و کعبہ کی بھیڑ بھاڑ ہے کیا\nایسے دیکھے بہت سے میلے ہیں\n\nگریۂ پر اثر کی شدت ہے\nصاف آب بقا کے ریلے ہیں\n\nبھیجا اپنا خیال اس بت نے\nجب سنا منتہیؔ اکیلے ہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%81%D9%84%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%B3%DA%A9%DB%81_%D8%AC%DA%BE%DB%8C%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جور زمیں نہ تھا ستم آسماں نہ تھا", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جور زمیں نہ تھا ستم آسماں نہ تھا\nوہ بھی تھا وقت جب کہ غم دو جہاں نہ تھا\n\nکوئی بھی لطف زیست تہہ آسماں نہ تھا\nدنیا مری خراب تھی تو مہرباں نہ تھا\n\nسنتا یہ کون ضبط پہ قابو نہیں ہے اب\nاچھا ہوا جو کوئی مرا راز داں نہ تھا\n\nدیوانگی نے بات بنا دی کہ اس سے میں\nضد کر رہا ہوں اب کہ یہ میرا بیاں نہ تھا\n\nبدنام خود ہوئے ہو زباں سے نکال کر\nمیرا سوا تمہارے کوئی راز داں نہ تھا\n\nسجدوں کی داد مل گئی باب قبول سے\nمانا نظر کے سامنے وہ آستاں نہ تھا\n\nمایوسیٔ نظر کے مناظر ہیں خوفناک\nپھر آپ ہی کہیں گے مجھے یہ گماں نہ تھا\n\nوہ میرے سامنے تھے میں تھا ان کے سامنے\nجب تک کہ میرا راز کسی پر عیاں نہ تھا\n\nللہ ہم سے قصۂ عالمؔ نہ پوچھئے\nسنتے ہیں لاش پر کوئی بھی نوحہ خواں نہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا\nکہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا\n\nرات دن گردش میں ہیں سات آسماں\nہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا\n\nلاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤ\nجب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا\n\nہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ\nیا رب اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا\n\nموجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے\nآستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا\n\nعمر بھر دیکھا کیے مرنے کی راہ\nمر گیے پر دیکھیے دکھلائیں کیا\n\nپوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے\nکوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B2_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B2_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جور پیہم کی انتہا بھی ہے", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جور پیہم کی انتہا بھی ہے\nایک کے بعد دوسرا بھی ہے\n\nغیر نے بزم یار میں ہم سے\nکچھ کہا ہے تو کچھ سنا بھی ہے\n\nشوق سے دل مرا کرو پامال\nیہی کمبخت کی سزا بھی ہے\n\nان کی ترچھی نظر سے ڈرتا ہوں\nیہ ادا ہی نہیں قضا بھی ہے\n\nکہتے ہیں وہ جو پوچھتا ہوں مزاج\nآپ سے کوئی بولتا بھی ہے\n\nنہیں واقف نسیمؔ سے کیا خوب\nکوئی تم پر مٹا ہوا بھی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جور کب تک سہا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:محمود رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جور کب تک سہا کرے کوئی\nصبر کب تک کیا کرے کوئی\n\nکہیں دشمن بھی دوست ہوتے ہیں\nتم نہ سمجھو تو کیا کرے کوئی\n\nتم بڑے پارسا سہی لیکن\nبد گمانی کو کیا کرے کوئی\n\nدے کے دل تم کو جان سے جاتے\nپھر تمہیں لے کے کیا کرے کوئی\n\nدل اگر ہو کسی کا کہنے میں\nکیوں کسی کی سنا کرے کوئی\n\nدیں عدو کو دعا وہ جینے کی\nمر نہ جائے تو کیا کرے کوئی\n\nکہتے ہیں تجھ سے دل نہیں ملتا\nاس کو محمودؔ کیا کرے کوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%B3%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "جور کے بعد ہے کیوں لطف یہ عادت کیا ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جور کے بعد ہے کیوں لطف یہ عادت کیا ہے\nتم تلافی جو کرو اس کی ضرورت کیا ہے\n\nایک دن مان ہی جاؤ گے ہمارا کہنا\nتم کہے جاؤ یہی تیری حقیقت کیا ہے\n\nوعدہ وصل سے انکار ہے تو قتل کرو\nتم سے ہم پوچھتے ہیں اس میں قباحت کیا ہے\n\nبوسہ مانگا تو کہا اس نے بدل کر چتون\nآپ کو یہ بھی خبر ہے مری عادت کیا ہے\n\nہائے کیا تھا وہ زمانہ کہ تم آگاہ نہ تھے\nشکر کس چیز کو کہتے ہیں شکایت کیا ہے\n\nکیا کہوں کس سے کہوں دل کی حقیقت اے داغؔ\nسب یہی پوچھتے ہیں کہئے تو حضرت کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%84%D8%B7%D9%81_%DB%8C%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جوش جنوں میں رات دن سب سے رہا الگ الگ", "poet_page": "مصنف:نواب صدر محل صدر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوش جنوں میں رات دن سب سے رہا الگ الگ\nمیں ہوں جدا الگ الگ لوگ جدا الگ الگ\n\nمیں نے بلائیں لینے کو ہاتھ بڑھائے جب ادھر\nمنہ کو پھرا کے یار نے مجھ سے کہا الگ الگ\n\nشمع جلانے آئے ہیں آج وہ میری قبر پر\nچلیو خدا کے واسطے باد صبا الگ الگ\n\nخاک ہو زندگی بھلا تیرے مریض عشق کی\nمیں ہوں دوا سے دور دور مجھ سے دوا الگ الگ\n\nہجر میں خوب خاک اڑی ان کو ہوا نہ کچھ اثر\nنالہ گئے الگ الگ آہ رسا الگ الگ\n\nحسرت و آرزوئے وصل درد و مصیبت فراق\nسب کا ہے لطف الگ الگ سب کا مزہ الگ الگ\n\nصدرؔ وہ کم نصیب ہوں ہجر میں گر اٹھاؤں ہاتھ\nباب قبول سے رہے میری دعا الگ الگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%AF%D9%86_%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%A7%D9%84%DA%AF_%D8%A7%D9%84%DA%AF"} {"title": "جوش جنوں میں نکلے ہیں جب اپنے گھر سے ہم", "poet_page": "مصنف:احمد شاہ خاں شبنم", "kind": "poetry", "section": "غزل > گلدستۂ لطافت (1936)", "year": "1936", "text_ur": "جوش جنوں میں نکلے ہیں جب اپنے گھر سے ہم\nمل مل کے خوب روئے ہیں دیوار و در سے ہم\n\nتقدیر کا لکھا نہ مٹے گا کسی طرح\nرگڑیں ہزار سر کو ترے سنگ در سے ہم\n\nاچھی کہی کہ وصل میں ہم سے نہ بولئے\nباتیں کریں گے آج بھی دیوار و در سے ہم\n\nالفت رقیب کی نہ چھپے گی کسی طرح\nاے جان تاڑ لیں گے تمہاری نظر سے ہم\n\nچلنے کو چلتے ہیں مگر اے بانیٔ فساد\nزندہ نہ پھر کے آئیں گے دشمن کے گھر سے ہم\n\nپھوٹے ہوئے نصیب کی یہ بھی ہیں گردشیں\nسر پھوڑتے جو پھرتے ہیں دیوار و در سے ہم\n\nدن ہو گیا تمام نہ مطلب ہوا تمام\nلکھتے ہیں نامہ یار کو بیٹھے سحر سے ہم\n\nدیکھو جو آنکھ اٹھا کے تو جھنجھلا کے کہتے ہیں\nتنگ آئے بہت ہی ہیں بڑوں کی نظر سے ہم\n\nیہ رشک ہے کہ یار سے باتیں کرے گا یہ\nلڑتے ہیں بات بات پہ پیغامبر سے ہم\n\nدیکھیں گے کتنی اپنی مقدر میں ہے کجی\nاک دن ملائیں گے تری ترچھی نظر سے ہم\n\nشاید ترے حضور میں پہنچا دے خط شوق\nپیدا کریں گے ربط ترے نامہ بر سے ہم\n\nدکھلائیں گے کبھی اثر آہ آتشیں\nسمجھیں گے ایک دن فلک فتنہ گر سے ہم\n\nبہلا رہے ہیں دل شب تنہائیٔ فراق\nپہروں سے باتیں کرتے ہیں دیوار و در سے ہم\n\nوحشت یہ چاہتی ہے کہ صحرا کی سیر ہو\nدل چاہتا ہے مر کے اٹھیں اس کے در سے ہم\n\nشبنمؔ کی کچھ خبر نہیں کس حال میں ہے اب\nپوچھیں گے ایک روز نسیم سحر سے ہم", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "جوش عشق", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "ضبط کروں میں کب تک آہ اب\nچل اے خامے بسم اللہ اب\nکر ٹک دل کا راز نہانی\nثبت جریدہ میری زبانی\nیعنی میرؔ اک خستۂ غم تھا\nسر تا پا اندوہ و الم تھا\nآنکھ لڑی اس کی اک جاگہ\nبے خود ہوگئی جان آگہ\nصبر نے چاہی دل سے رخصت\nتاب نے ڈھونڈھی اک دم فرصت\nتاب و توان و شکیب و تحمل\nرخصت اس سے ہوگئے بالکل\nسینہ فگاری سامنے آئی\nبے تابی نے طاقت پائی\nکرتے آئے داغ سیاہی\nکام جگر کا کرنے تباہی\nخون جگر ہو بہنے لاگا\nپلکوں ہی پر رہنے لاگا\nخواب و خورش کا نام نہ آیا\nایک گھڑی آرام نہ پایا\nچاک جگر سے محبت ٹپکی\nآنسو کی جاگہ حسرت ٹپکی\nسوز سے چھاتی تابہ گویا\nاور پلک خونابہ گویا\nآہ سے اس کی مشکل جینا\nدرد فقط تھا سارا سینہ\nدل میں تمنا داغ جگر میں\nشیون لب پر یاس نظر میں\nنالے شب کو اس کے سن کر\nمر گئے کتنے سر کو دھن کر\nآہ و فغاں ہے اس کے لب پر\nروز ہے اب تک آفت سب پر\nروے و جبیں پہ خراش ناخن\nداغوں سے خوں کے قیامت گلبن\nزخم سینہ دل تک پہنچا\nکوئی نہ اس گھائل تک پہنچا\nآبلہ دل کا جب کوئی پھوٹا\nفوارہ لوہو کا چھوٹا\nغم نے تو دل میں کیا ہے چھوڑا\nبر میں تھا اک پکا پھوڑا\nسو نہ گیا یک دم وہ بے کل\nبخت نہ جاگے اس کے اک پل\nکام رہا ناکامی ہی سے\nتسکیں بے آرامی ہی سے\nرخساروں پر خون رواں ہو\nدل میں ہو سو منھ پہ عیاں ہو\nدشنۂ غم سے سینہ کوچا\nناخن سے منھ سارا نوچا\nدل آماجگہ غمناکی\nاور نفس اک تیر خاکی\nنے طاقت نے یارا اس کو\nضعف دلی نے مارا اس کو\nنالۂ دل میں حزینی اس کے\nخاطر میں غمگینی اس کے\nرنگ اڑے چہرے کا ہر دم\nتھا گویا گل آخر موسم\nدست بہ دل ہر آن رہے وہ\nبے طاقت بے جان رہے وہ\nرنگ شکستہ بس کہ فسردہ\nکہنے کو زندہ لیکن مردہ\nخوں باری سے چہرہ گل گوں\nحلق بسمل دیدۂ پرخوں\nجدول جاری چاک گریباں\nگوشۂ دامن وقف مژگاں\nدیدۂ تر کے دریا قائل\nساحل خشک لبی کے سائل\nہر دم ہو ہر سمت کو جاری\nخوں باری سے سیل بہاری\nتشنہ لبی اک منھ پر پیدا\nلب چش جس کا ہووے نہ دریا\nخاک بسر آشفتہ سری سے\nشور قیامت نوحہ گری سے\nسر تا پا آشفتہ دماغی\nداغ جنوں دے جس کو چراغی\nغم سے گرچہ دم بھی کہیں تھا\nجامے میں اک تار نہیں تھا\nوادی پر جب اپنے آوے\nصحرا صحرا خاک اڑاوے\nکلفت دل جب خاک فشاں ہو\nاشک کی جاگہ ریگ رواں ہو\nگل ان نے ازبسکہ کھائے\nپھولوں کی چھڑیاں ہاتھ بنائے\nدل کے غبار نے راہ جو پائی\nشہر میں گویا آندھی آئی\nسر پر اس کے سنگ ہمیشہ\nجی پر عرصہ تنگ ہمیشہ\nآہ سرد کرے وہ عریاں\nبید سا کانپے موے پریشاں\nگرد کی تہ اس کا پیراہن\nدامن صحرا جس کا دامن\nبار دامن تار گریباں\nدامن قرب و جوار گریباں\nپامالی میں مثل جادہ\nنقش قدم سا خاک افتادہ\nدشت تلک گئی آبلہ پائی\nدور کھنچی اس کی رسوائی\nاس کے جو پامال ہوئے سب\nخار بیاباں لال ہوئے سب\nجن نے دیکھا اس کو یک دم\nان نے کہا یہ بھول کے سب غم\nچندے یہ ناشاد رہے گا\nپر مدت تک یاد رہے گا\nجلنا اس سے کرے نہ کنارہ\nجیسے چراغ وقف بچارا\nلوہو ٹپکے آہ سحر سے\nنالہ گتھواں لخت جگر سے\nرکھتا سدا تھا وہ دیوانہ\nورد زباں یہ شعر دانا\nصارَ فوادی شقاً شقاً\nحقاً حقاً حقاً حقاً\nہوش و خرد ناشاد گئے سب\nدین و دل برباد گئے سب\nدرد دل سے کچھ نہ کہے وہ\nہر اک کا منھ دیکھ رہے وہ\nحسرت اس کی ایک اعجوبہ\nآب دہن کی موج میں ڈوبا\nغیر سے بولے نہ یاروں ہی سے\nبات کہے تو اشاروں ہی سے\nسمجھو تو کوئی داد کو پہنچو\nعاشق کی فریاد کو پہنچو\nورنہ رہے من مار کر اپنا\nسر دے مارے ہار کر اپنا\nکیوں کر غم سے ہو آزادی\nجان کے ساتھ اس کی ناشادی\nکوئی نہ اس پر سایہ گستر\nاپنا ہاتھ اپنے ہی سر پر\nنے کعبے نے دیر کے قابل\nمذہب اس کا سیر کے قابل\nکیسا کہیے کیسا کچھ تھا\nالقصہ وہ ایسا کچھ تھا\n\nدر صفت دلبرے کہ با او علاقۂ دل بود\n\nوہ کیسا تھا جس پر عاشق\nجی سے تھا وہ عاشق صادق\nدیدۂ گل میں جاگہ اس کی\nنکہت گل گرد رہ اس کی\nچشم برہ سارا چمن اس کا\nنقش قدم تھا یاسمن اس کا\nآگے اس کے کبھو نہ آیا\nیہ رو گل نے کہاں سے پایا\nگل آشفتہ اس کے رو کا\nسنبل اک زنجیری مو کا\nجب وہ چہرہ تابندہ ہو\nماہ دو ہفتہ شرمندہ ہو\nزلف اس چہرے پر تابندہ\nکاکل صبح سے خوش آئندہ\nدیکھ اس گل کی نورافشانی\nشمع مجلس پانی پانی\nہو ہر چند یہ بدر کامل\nاس چہرے کے ہو نہ مقابل\nحوصلہ کتنا اس بے تہ کا\nمنھ دیکھو آئینہ مہ کا\nرکھتی تھی دعویٰ خوش چشمی پر\nلیکن اس کی چشم نظر کر\nبہتوں کی جب جانیں گھل گئیں\nنرگس کی بھی آنکھیں کھل گئیں\nدور چشم ہے اس کا جب سے\nفتنہ اک سوتا نہیں تب سے\nرخ لب سے جاں بخش عالم\nبلکہ سراپا جان مجسم\nعیسیٰ کو گر لب دکھلاوے\nہرگز اس کو بات نہ آوے\nکوئی مرو انداز حیا پر\nچشم اس کی تھی پشت پا پر\nکچھ مت پوچھو تنگی دہن کی\nمشکل تھی واں جاے سخن کی\nکرکے شمیم زلف گذارہ\nپھیلاوے ہے عنبر سارا\nخط آیا ہے گرد اس لب کے\nشاید شکر تنگ ہو اب کے\nدونوں لب اس کے لعل بدخشاں\nدست حنائی پنجۂ مرجاں\nتھا دیکھا یک رہ پردے میں\nبرق خرمن مہ پردے میں\nجس دم برقع منھ سے اٹھاتا\nخورشید اس دم ڈوبا جاتا\nپار دلوں کے خدنگ مژہ کا\nکاوش کم کم تنگ مژہ کا\nبھوں کی کشش کا دوانہ عالم\nتیر نگہ کا نشانہ عالم\nتیغ و تبر تھی ابرو اس کی\nآتش تھی سرکش جو اس کی\nناز کی مے سے مست رہے وہ\nاکثر دست بدست رہے وہ\nزلفوں کے سب تار پریشاں\nسر اوپر دستار پریشاں\nسائے سے اس کے سرو بنایا\nخاک رہ سے تدرو بنایا\nہووے خراماں جب وہ کافر\nکبک کی ہووے جان مسافر\nچشم کرشمہ جان تغافل\nشایاں اس کے شان تغافل\nکیا جانے وہ حال کسو کا\nپتھر دل اس آئینہ رو کا\nپاتے ہی ابرو کا اشارہ\nغمزے نے اک خنجر مارا\nجب وہ خرام ناز کرے ہے\nجی کو جور نیاز کرے ہے\nرخصت دے گر عشوہ گری کو\nایک ہی جلوہ بس ہے پری کو\nہنسنے میں وہ صفاے دنداں\nبرق خرمن عالم امکاں\nرشک سحر کو صافی تن پر\nخون صراحی اس گردن پر\nآہ صفائی اس سینے کی\nغیرت افزا آئینے کی\nشکل چیں میں یہ ناز کہاں ہے\nصورت ہے انداز کہاں ہے\nایسا خوب جہاں میں کہیں ہے\nرحم ہے اس پر اب جو نہیں ہے\nجب وہ شکل نظر آتی تھی\nکلفت دل کی نکل جاتی تھی\nرنگیں اس کے اس کف پا سے\nجائیں نکویاں اپنی جا سے\nچشم کرو انصاف کی گر وا\nیوسف و شیریں لیلیٰ عذرا\nکون ہوا اس محبوبی سے\nخوبی تو تھی پر اس خوبی سے\nبار نزاکت کیونکے اٹھاوے\nشاخ گل سا لہکا جاوے\nہے گی رگ گل یا رگ جاں ہے\nپر نازک اسرار میاں ہے\nصید ملک قربانی اس کا\nیوسف اک زندانی اس کا\nاور جو خوباں پاویں اس کو\nیک دیگر دکھلاویں اس کو\nجاویں اس پر جان سبھوں کے\nتیغ رہے درمیان سبھوں کے\nتھانبا جائے کس کے کنے وہ\nغصے ہو تو پھر نہ منے وہ\nکیا کوئی شوخی اس کی بتاوے\nکچھ ٹھہرے تو کہنے میں آوے\nکیا ہے اس کے آب و گل میں\nآرزو اس کی سب کے دل میں\nسب کو میل اس بت کی ادا کا\nبندہ کون رہا ہے خدا کا\nدیکھے نہ عاشق زار کو اپنے\nپوچھے نہ بیمار کو اپنے\nعاشق ظلم و جور و جفا کا\nدشمن جانی اہل وفا کا\nکوچہ رشک فزاے کعبہ\nواں پہنچے نہ دعاے کعبہ\nہر شب اک فریاد و تظلم\nاٹھ گئی واں سے رسم ترحم\nآہیں جن کی درود و وظائف\nسو دل خستے وھاں کے طائف\n\nرخصت شدہ رفتن یار وبے تاب شدن عاشق بے قرار\n\nکر اے خامہ وہ تحریر اب\nآوے زباں پر جو تقریر اب\nیعنی میرؔ اس خستۂ غم کا\nسر تا پا اندوہ و الم کا\nیار سفر کا مائل ہوکر\nحب وطن کو جی سے دھوکر\nرخصت کو اس پاس بھی آیا\nجلتے کے تیں اور جلایا\nوقت وداع قیامت گذرا\nسر سے آب حسرت گذرا\nاک دم بے خود ہوکے رہا وہ\nاس سے آگے آپ گیا وہ\nآنکھیں لگیں ناسور ہو بہنے\nدیکھ کے اس کو لگا یہ کہنے\nظلم ہے لوہو پیتے رہیے\nجان گئے پر جیتے رہیے\nعمر عزیز چلی یوں جاوے\nاور فلک آنکھوں سے دکھاوے\nآخر کرکے خدا کے حوالہ\nآئینے پر پانی ڈالا\nتاکہ وہ منھ دکھلاوے شتابی\nراہ دور سے آوے شتابی\nیار گئے پر میرؔ جو اب ہے\nجان سے خالی اک قالب ہے\nراقم غم ہے وہ دل تفتہ\nنامہ بر اس کا رنگ رفتہ\nغم سے فرصت اس کو کہاں ہے\nقاصد اشک ہمیشہ رواں ہے\nخط لکھتا ہے اس مضموں سے\nتر ہو بال کبوتر خوں سے\nخط سے ایک آتش سر ہووے\nجس سے کباب کبوتر ہووے\nجب درد دل ان نے لکھا ہے\nشعلہ خط میں لپیٹ دیا ہے\nسوز کے آوے جب وہ بیاں پر\nشعلہ اک جوں شمع زباں پر\nجب کرے خون جگر سے انشا\nیار کا اپنے شوق کف پا\nہو انگشت بریدہ خامہ\nاور حنائی کاغذ نامہ\nراہ یہ بیٹھا وہ سرگشتہ\nدیکھے راہ عمر گذشتہ\nآگے تھا کب ہجراں دیدہ\nآہ وہ تازہ ظلم رسیدہ\nکیا کیا بے طاقت ہوتا ہے\nہر دم جی رخصت ہوتا ہے\nحال عجب ہے رنجوری سے\nمرنے قریب ہے وہ دوری سے\nجب وہ درد دل کو جتاوے\nباتوں پہ اس کے رونا آوے\nدستہ دستہ داغ بسر ہے\nپرکالہ پرکالہ جگر ہے\nاشک نہیں آنکھوں سے ٹپکتا\nہے یہ گرہ اک دل کی تمنا\nداغ دروں ہے گلشن گلشن\nگل یہ چنے وہ دامن دامن\nچھوڑے نہ راہ و رسم وفا کو\nدے پیغام ہمیشہ صبا کو\nپاس اس کے گر تیرا ہو جانا\nبھولے ہوؤں کو یاد دلانا\nزیر لب اس کے بات یہی ہے\nشام و سحر دن رات یہی ہے\nکھینچیں گے کب تک یہ سختی ہم\nپھر بھی ملیں گے جیتے جی ہم\nبس اے خامہ رکھ لے زباں کو\nتاب نہیں ہے اہل جہاں کو\nقصۂ غم کو نہایت کب ہے\nاس سے خموشی اب انسب ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "جوش و خروش پر ہے بہار چمن ہنوز", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوش و خروش پر ہے بہار چمن ہنوز\nپیتے ہیں نوجوان شراب کہن ہنوز\n\nپاتا نہیں میں یار کو میل سخن ہنوز\nمعدوم ہے کمر کی طرح سے دہن ہنوز\n\nبرسوں سے رو رہا ہوں شب و روز متصل\nہنستے ہیں مدتوں سے مرے زخم تن ہنوز\n\nرخسار یار پر نہیں آغاز خط ابھی\nدیکھا نہیں ان آنکھوں نے سورج گہن ہنوز\n\nانجام کار کا نہیں آتا خیال کچھ\nغربت میں بھولے بیٹھے ہیں یار وطن ہنوز\n\nعالم ان ابرووں کی کجی کا جو ہے سو ہے\nبل کھا رہی ہے زلف شکن در شکن ہنوز\n\nخلعت کی کیا امید رکھیں آسماں سے ہم\nاس نے تو داب رکھا ہے اپنا کفن ہنوز\n\nعالم حجاب یار کا تا حال ہے وہی\nخلوت نشیں ہے روشنیٔ انجمن ہنوز\n\nاپنے صفائے سینہ کا حیران کار ہے\nدیکھا نہیں ہے آئنے نے وہ بدن ہنوز\n\nہر چند باغ دہر میں مدت سے ہوں مقیم\nآتشؔ نظر پڑا نہ وہ سیب ذقن ہنوز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%88_%D8%AE%D8%B1%D9%88%D8%B4_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%86%D9%85%D9%86_%DB%81%D9%86%D9%88%D8%B2"} {"title": "جوش وحشت میرے تلووں کو یہ ایذا بھی سہی", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوش وحشت میرے تلووں کو یہ ایذا بھی سہی\nہیں جہاں سو آبلے کچھ خار صحرا بھی سہی\n\nدل میں سو باتیں ہیں اک تیری تمنا بھی سہی\nسر پہ ہیں لاکھ آفتیں اک داغ سودا بھی سہی\n\nمنہ پہ آنچل لیجئے مجھ سے جو آتا ہے حجاب\nگر یہی منظور ہے تھوڑا سا پردہ بھی سہی\n\nدل میں وقت ذبح ہے حسرت کہ تم کو دیکھ لیں\nمرتے مرتے خیر جینے کی تمنا بھی سہی\n\nہم عدم سے یاں نہ آتے تھے تو سمجھاتا تھا دل\nاک نظر گلزار ہستی کا تماشا بھی سہی\n\nمیرا حال سخت جانی سن کے فرمانے لگے\nتیغ کے ساتھ ایک ابرو کا اشارا بھی سہی\n\nگرم آہیں کر چکا اب کھینچتا ہوں سرد آہ\nلیجئے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا بھی سہی\n\nکیوں بگڑیے حسن و رفعت میں کسے انکار ہے\nآپ یوسف بھی سہی رشک مسیحا بھی سہی\n\nاپنے دل کو گر پسند آئے تو جانیں خوب ہے\nہم نے مانا یار تم سے کوئی اچھا بھی سہی\n\nتیرہ بختوں کے مزاروں پر نہ ہوگی روشنی\nآزما دیکھو چراغ دست موسیٰ بھی سہی\n\nچارہ سازوں کی خوشی ہے زخم پر ہوں یا نہ ہوں\nمرہم زنگار کا ایک آدھ پھاہا بھی سہی\n\nتیرے سر سے پاؤں تک برسوں میں جاتی ہے نظر\nہر جگہ پر کہتی ہے یاں کا تماشا بھی سہی\n\nدل جگر میں کچھ نہیں سینے میں ہیں پر آس ہے\nبزم کی زینت کو خالی جام و مینا بھی سہی\n\nیہ تو ظاہر ہو گیا تم مرتبے میں ہو بلند\nاب مسیحا سے مسیحائی کا دعویٰ بھی سہی\n\nاس کے در پر جا کے کچھ حاصل نہ ہوگا اے رشیدؔ\nکوئی بولا بھی سہی تم نے پکارا بھی سہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D9%84%D9%88%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%DB%8C%D8%B0%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "جوش وحشت میں مسلم ہو گیا اسلام عشق", "poet_page": "مصنف:ابو الکلام آزاد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوش وحشت میں مسلم ہو گیا اسلام عشق\nکوچہ گردی سے مری پورا ہوا احرام عشق\n\nمیرے مرنے سے کھلا حال محبت خلق پر\nسنگ مرقد بن گیا آئینہ انجام عشق\n\nیہ صلہ پایا وفا کا حسن کی سرکار سے\nچہرۂ عاشق کی زردی ہے زر انعام عشق\n\nپہلے تھا رخ کا تصور اب ہے گیسو کا خیال\nوو تھی صبح عشق گویا اور یہ ہے شام عشق\n\nآستان یار پر ہر وقت سجدہ کیجیے\nہے یہی بس دین عشق ایمان عشق اسلام عشق\n\nہوں اسیر زلف ظاہر ہے خط تقدیر سے\nدائرے حرفوں کے مل کر بن گئے ہیں دام عشق\n\nعرش اعظم سے بھی اونچی ہو گئی میری فغاں\nآج تک پایا نہ اے آزادؔ اوج بام عشق", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "جوش وحشت میں نظر پہنچی نہ اپنے دل کے پاس", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوش وحشت میں نظر پہنچی نہ اپنے دل کے پاس\nاٹھے آخر تک بگولے آہ اس محمل کے پاس\n\nہیں جگر میں تیرے ناوک کی قسم گنتی کے زخم\nنام کو رستے ہوئے ناسور ہیں کچھ دل کے پاس\n\nایک منزل روح کو تا مرگ ہے ہر ایک سانس\nیہ مسافر دور منزل سے ہے اور منزل کے پاس\n\nموج خون کشتگاں ہے وحشت آموز خیال\nدل لرزتا ہے کہ خنجر ہے ابھی قاتل کے پاس\n\nمست دنیا مضطرب تھے شاد تھے اہل نیاز\nجب بھنور سے بچ کے ڈوبیں کشتیاں ساحل کے پاس\n\nبے نیازی اپنی سی دے ڈال پورا کر سوال\nورنہ ہے تیرا دیا سب کچھ ترے سائل کے پاس", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3"} {"title": "جوش پر اپنی مستیاں آئیں", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "جوش پر اپنی مستیاں آئیں\nیاد کس کی یہ شوخیاں آئیں\n\nباتوں باتوں میں لے لیا دل کو\nتمہیں کیوں کر یہ پھرتیاں آئیں\n\nکہیں ان کو نہ یاد آیا ہوں\nآج کیوں مجھ کو ہچکیاں آئیں\n\nدونوں عالم ہوئے تہ و بالا\nان کو کیوں خوش خرامیاں آئیں\n\nرک رہا دم جو آ کے آنکھوں میں\nیاد کس بت کی انکھڑیاں آئیں\n\nبال کھولے نہا رہے تھے وہ\nکیا ہی گھر گھر کے بدلیاں آئیں\n\nتم جو سوئے تو تلوے سہلانے\nمیری آنکھوں کی پتلیاں آئیں\n\nپھر لگاتے ہو مہندی ہاتھوں میں\nیاد پھر رنگ ریلیاں آئیں\n\nجوش وحشت کے دن پھر آ پہنچے\nمژدہ اے دل کہ بیڑیاں آئیں\n\nپڑ گیا ہاتھ جب گریباں پر\nہاتھ دو چار دھجیاں آئیں\n\nنخل امید بارور نہ ہوا\nپھول آئے نہ پتیاں آئیں\n\nمیں نے فرقت میں آہیں کیں دو چار\nلوگ سمجھے کہ آندھیاں آئیں\n\nکل سے دل کو جو کل نہیں پڑتی\nیاد کس کی کلائیاں آئیں\n\nمیں نے لکھے یہاں سے مطلب دل\nواں سے لکھ لکھ کے گالیاں آئیں\n\nرخ پہ بوسوں کے بن گئے ہیں نشاں\nغازہ ملیے کہ جھائیاں آئیں\n\nحسب وعدہ جو کل نہ آئے تم\nدل میں لاکھوں برائیاں آئیں\n\nآیا گلشن میں جب وہ سرو سہی\nگرد پھرنے کو قمریاں آئیں\n\nاپنے جینے سے ہو گئی نفرت\nیاد کس کی رکھائیاں آئیں\n\nجی نہ لگنا تھا حسرتوں کے بغیر\nخوش ہوا دل سہیلیاں آئیں\n\nدل تڑپنے لگا جو سینے میں\nیاد کس بت کی شوخیاں آئیں\n\nاشک حسرت نکل پڑے انجمؔ\nاٹھو اٹھو کہ بوندیاں آئیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیں", "poet_page": "مصنف:تعشق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیں\nبہ گئیں آنسوؤں کے ساتھ ہماری آنکھیں\n\nہیں جلو میں صفت ابر بہاری آنکھیں\nاٹھنے دیتی ہیں کہاں گرد سواری آنکھیں\n\nکیوں اسیران قفس کی طرف آنا چھوڑا\nپھیر لیں تو نے بھی اے باد بہاری آنکھیں\n\nسامنے آ گئی گلگشت میں نرگس شاید\nپلکوں سے چیں بہ جبیں ہیں جو تمہاری آنکھیں\n\nکیا در اشک سے ہیں دامن مژگاں مملو\nکب زباں ہے کہ کریں شکر گزاری آنکھیں\n\nدیکھتے ہیں طرف چاہ ذقن الفت سے\nمفت میں ہم کو ڈبوتی ہیں ہماری آنکھیں\n\nشوخیاں آہوؤں کی ذہن میں کب آتی ہیں\nکچھ دنوں ہم نے بھی دیکھی تھیں تمہاری آنکھیں\n\nقطرۂ آب کو محتاج کیا گردوں نے\nیاد ایام کہ تھیں چشمہ جاری آنکھیں\n\nدور سے دیکھ کے تم کو کوئی جی بھرتا ہے\nکر رہی ہیں فقط ایام گزاری آنکھیں\n\nابر کو دیکھ کے ہر مرتبہ جوش آتا ہے\nاب تو آئیں ہیں مرے ضبط سے عاری آنکھیں\n\nجب ہٹا آئنہ آگے سے ہوئیں کیا بے چین\nاپنے پر آپ ہی عاشق ہیں تمہاری آنکھیں\n\nلطف دیکھا نہ کسی چیز کا اشکوں کے سوا\nآئیں تھیں رونے کو دنیا میں ہماری آنکھیں\n\nکہتی ہے بھر کے دم سرد خزاں میں بلبل\nڈھونڈھتی ہیں تجھے اے فصل بہاری آنکھیں\n\nتم کو شرم آتی ہے ہم قابل نظارہ نہیں\nنہ رہا حسن تمہارا نہ ہماری آنکھیں\n\nکیوں چراگاہ غزالاں نہ کہوں پلکوں کو\nپھر رہی ہیں میری نظروں میں تمہاری آنکھیں\n\nروؤں کس واسطے گر سامنے آنا چھوڑا\nآپ کو حسن ہے پیارا مجھے پیاری آنکھیں\n\nکور ہو جاؤں مگر عشق میں رونے کو نہ روک\nناصحا دل سے زیادہ نہیں پیاری آنکھیں\n\nسیکڑوں شیشۂ دل بادہ کشوں کے توڑے\nمحتسب سے ہیں زیادہ وہ خماری آنکھیں\n\nپھول نرگس کے گرے شاخ سے ڈالی جو نظر\nتیری آنکھوں کی اطاعت میں ہیں ساری آنکھیں\n\nفرش ہو جاتی ہیں تم پاؤں جہاں رکھتے ہو\nادب آموز محبت ہیں ہماری آنکھیں\n\nبعد مدت کے ذرا ہوش میں آیا ہوں آج\nپھر دکھا دے مجھے ساقی وہ خماری آنکھیں\n\nاشک خونیں سے اسیری میں اٹھا لطف بہار\nہے قفس رشک چمن ابر بہاری آنکھیں\n\nکیا کریں بزم حسیناں میں تعشقؔ جا کر\nنہ رہیں قابل نظارہ ہماری آنکھیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D9%81%D8%AA_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جوش پر یوں جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا", "poet_page": "مصنف:بوم میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوش پر یوں جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا\nدیکھ کر ان کو برہنہ مجھ کو پیار آ ہی گیا\n\nغیر جب خلوت سے نکلا دوڑ کر میں نے کہا\nدوسرا بھی آپ کا امیدوار آ ہی گیا\n\nتھا نزاکت سے بہت مجبور پھر بھی بعد مرگ\nسالا اٹھتا بیٹھتا سوئے مزار آ ہی گیا\n\nاس کا سینہ سے لپٹنا تھا کہ تسکیں ہو گئی\nبے قراری کو مری کچھ تو قرار آ ہی گیا\n\nانتظاری میں کسی کے رات بھر تڑپا کئے\nجھوٹے وعدہ کا کسی کے اعتبار آ ہی گیا\n\nان کا بیمار محبت سنتے ہی اعلان دید\nتھام کر دل گرتا پڑتا بے قرار آ ہی گیا\n\nخوف بدنامی سے گو اکثر چھپایا جرم کو\nلب پر ان کا نام پھر بھی بار بار آ ہی گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%BE%D8%B1_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%82_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2_%DB%81%DB%8C_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جوش گریہ یہ دم رخصت یار آئے نظر", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوش گریہ یہ دم رخصت یار آئے نظر\nابر جوشاں کا بندھا جیسے کہ تار آئے نظر\n\nرنگ گل زار جہاں گرچہ ہزار آئے نظر\nچین پر دل کو کہاں تاکہ نہ یار آئے نظر\n\nاپنا جب کوئے تصور میں گزار آئے نظر\nجس طرف دیکھیں ادھر صورت یار آئے نظر\n\nہوں میں کس غیرت گل زار کا زخمی کہ مرے\nہر بن مو پہ گل زخم ہزار آئے نظر\n\nبن پڑھے پھاڑ کے خط رکھ دے جو وہ روزن میں\nجوں قلم سینہ مرا کیوں نہ فگار آئے نظر\n\nہم سخن جس سے نہ ہو سکیے پھر اس شوخ سے آہ!\nاور کچھ بات کا کب دار و مدار آئے نظر\n\nہو جہاں جنبش لب کا بھی نہ یارا اے وائے\nمنہ کہاں یہ کہ جو واں بوس و کنار آئے نظر\n\nہم دل افروختہ واں جوں شرر سنگ ہیں آہ\nنہ جہاں پیک صبا کا بھی گزار آئے نظر\n\nسر بلندی جنہیں دے چرخ نہ دے چین انہیں\nکہ بہ گردش مہ و خور لیل و نہار آئے نظر\n\nجب کہ ہر روز کٹیں وعدے پہ گھڑیاں گنتے\nکیوں نہ ہر دن ہمیں پھر روز شمار آئے نظر\n\nاس کے محرم پہ بھبوکا سی جو دیکھوں چڑیا\nکیوں نہ جوں طائر سیماب قرار آئے نظر\n\nہو بہ صد رنگ شگفتہ لب دریا پہ وہ باغ\nہر روش جس میں کہ بس لطف ہزار آئے نظر\n\nچار سو نغمہ سرائی میں ہوں مرغان چمن\nشاخ در شاخ عجائب گل و بار آئے نظر\n\nموج دریا ادھر اٹکھیلی کی چالیں دکھلائے\nاور ادھر رقص کناں باد بہار آئے نظر\n\nہووے اطراف سے گھنگھور گھٹا گھر آئی\nکوند بجلی کی ہو اور پڑتی پھوار آئے نظر\n\nاک طرف مور منڈیروں پہ کریں کیا کیا شور\nاک طرف ابر میں بگلوں کی قطار آئے نظر\n\nگردش جام ہو جوں گردش چشمان بتاں\nہاتھ میں مطرب سر خوش کے ستار آئے نظر\n\nلب بہ لب سینہ بہ سینہ جسے چاہیں وہ ہو\nگلشن زیست کی تب ہم کو بہار آئے نظر\n\nعاشقانہ غزل اب پڑھ کوئی جرأتؔ تہہ دار\nمعنیٔ تازہ بھی تا یاروں کو یار آئے نظر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B4_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%85_%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D9%86%D8%B8%D8%B1"} {"title": "جوش گل", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وہ موسم ہے کہ خوبان چمن بنتے سنورتے ہیں\nیہ عالم ہے کہ جیسے رنگ تصویروں میں بھرتے ہیں\nہے خوابیدہ جو سبزہ آئنہ خانے میں شبنم کے\nنفس دزدیدہ باد صبح کے جھونکے گزرتے ہیں\nپر طوطی پہ ہوتا ہے دم طاؤس کا دھوکا\nہوا سے اڑ کے برگ گل جو سبزہ پر بکھرتے ہیں\nملا ہے سبزہ نوخیز کو کیا رنگ زنگاری\nہوا لگنے سے جس کی زخم دل لالہ کے بھرتے ہیں\nشگوفہ ریز ہو کر ڈالیاں مدہوش کرتی ہیں\nکہ میکش جانتے ہیں طاق سے شیشے اترتے ہیں\nنزاکت سے ادا سے جھوم کر کہتی ہے شاخ گل\nیونہی اک جام پی کر رنگ مستوں کے نکھرتے ہیں\nبشاشت کہہ رہی ہے چہرۂ گل کی ادھر دیکھو\nیوں ہی محفل میں ہنس دیتے ہیں پیمانے جو بھرتے ہیں\nچمن کی بڑھ کے شاخیں ابر سے کرتی ہیں گل بازی\nگلوں کی آئنہ داری پر طاؤس کرتے ہیں\nگماں ہوتا ہے کی لشکر کشی باد بہاری نے\nزرہ پوش آب ہو جاتا ہے جب بادل گزرتے ہیں\nدم صبح بہاری ہے رخ خور پر نقاب افگن\nکسی آئینہ پر تار نفس جیسے بکھرتے ہیں\nوہیں جا کر تھمے گا کاروان لالہ و گل بھی\nنسیم صبح کے جھونکے جہاں جا کر ٹھہرتے ہیں\nنہالان چمن کر لیں گے قبضہ سارے عالم پر\nوہاں سے پھر نہیں ہٹتے جہاں پہ پاؤں دھرتے ہیں\nزمیں پر جال پھیلایا ہے کوسوں زلف سنبل نے\nعنادل ان دنوں آتے ہوئے گلشن میں ڈرتے ہیں\nجواب جشن جم ہے گرمئ ہنامۂ گلشن\nکہ لے کر کشتئ مے تخت پریوں کے اترتے ہیں\nعنادل مل چکے ہیں خاک میں جو کیا خبر ان کو\nکہ شاخیں جھومتی ہیں پھول تربت پر بکھرتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B4_%DA%AF%D9%84"} {"title": "جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں\nگرچہ ہوتے ہیں بہت خوف و خطر پانی میں\n\nضبط گریہ نے جلایا ہے درونہ سارا\nدل اچنبھا ہے کہ ہے سوختہ تر پانی میں\n\nآب شمشیر قیامت ہے برندہ اس کی\nیہ گوارائی نہیں پاتے ہیں ہر پانی میں\n\nطبع دریا جو ہو آشفتہ تو پھر طوفاں ہے\nآہ بالوں کو پراگندہ نہ کر پانی میں\n\nغرق آب اشک سے ہوں لیک اڑا جاتا ہوں\nجوں سمک گو کہ مرے ڈوبے ہیں پر پانی میں\n\nمردم دیدۂ تر مردم آبی ہیں مگر\nرہتے ہیں روز و شب و شام و سحر پانی میں\n\nہیئت آنکھوں کی نہیں وہ رہی روتے روتے\nاب تو گرداب سے آتے ہیں نظر پانی میں\n\nگریۂ شب سے بہت آنکھ ڈرے ہے میری\nپاؤں رکتے ہی نہیں بار دگر پانی میں\n\nفرط گریہ سے ہوا میرؔ تباہ اپنا جہاز\nتختہ پارے گئے کیا جانوں کدھر پانی میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%D8%B4%D8%B4_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A2%D9%B9%DA%BE_%D9%BE%DB%81%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جوں ذرہ نہیں ایک جگہ خاک نشیں ہم", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوں ذرہ نہیں ایک جگہ خاک نشیں ہم\nاے مہر جہاں تاب جہاں تو ہے وہیں ہم\n\nشب حلقۂ رنداں میں عجب سیر تھی ساقی\nساغر کو سمجھتے تھے مہ ہالا نشیں ہم\n\nسیتے ہیں سدا رشک اتوے قلمی دیکھ\nہر تار سرشک اپنے سے دامان زمیں ہم\n\nاے رشک نسیم سحری کیوں ہے مکدر\nگلشن میں تجھے دیکھتے ہیں چیں بہ جبیں ہم\n\nبرپا نہ کہیں کیجے اب شور قیامت\nوحشت زدہ اے خانۂ زنجیر نہیں ہم\n\nسر رشتہ رہ عشق کا اب ہاتھ لگا ہے\nجوں دانۂ تسبیح نہ ٹھہریں گے کہیں ہم\n\nلے کر مہ و خورشید کی پھر تیغ و سپر کو\nاے چرخ تجھے جانتے ہیں بر سر کیں ہم\n\nیک دست اٹھا لیویں گے اس صفحۂ دل پر\nنقش قدم یار کو جوں نقش و نگیں ہم\n\nعیسیٰ نفس اب جلد پہنچ تو کہ ہیں تجھ بن\nمہمان کوئی دم کے دم باز پسیں ہم\n\nکھو بیٹھے ہیں اس عشق کے ہاتھوں سے نصیرؔ اب\nہوش و خرد و صبر و قرار و دل و دیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D8%B0%D8%B1%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%DA%AF%DB%81_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "جوں سبزہ رہے اگتے ہی پیروں کے تلے ہم", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوں سبزہ رہے اگتے ہی پیروں کے تلے ہم\nبرسات کے موسم میں بھی پھولے نہ پھلے ہم\n\nمحروم چمن مرغ قفس بند ازل ہیں\nصیاد کے پنجرے میں ہیں بچپن سے پلے ہم\n\nجب غیر سے ہوتا ہے وہ سفاک بغل گیر\nتیغ صفہانی کو لگاتے ہیں گلے ہم\n\nچکی کی طرح چرخ نے پیسا تو ہمیں کو\nدانا ہیں زمانے کے گئے اس سے ولی ہم\n\nیہ شوق شہادت ہے جو تیغ اس نے علم کی\nگردن کو جھکائے ہوئے صیاد چلے ہم\n\nوہ مست ہیں جب در پہ اڑے پیر مغاں کے\nبے مے کے پیے پھر نہیں ٹالے سے ٹلے ہم\n\nابرو کی ہوا بھی نہ لگی بو الہوسوں کو\nاس تیغ کی روز آنچ میں بے آب جلے ہم\n\nکچھ غم نہیں بت سمجھیں بد و نیک جو چاہیں\nاللہ کے بندے ہیں برے ہیں کہ بھلے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D8%A8%D8%B2%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D9%84%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "جوں شمع دم صبح میں یاں سے سفری ہوں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوں شمع دم صبح میں یاں سے سفری ہوں\nٹک منتظر جنبش باد سحری ہوں\n\nنے گریۂ شب ہوں میں نہ آہ سحری ہوں\nجوں بانگ جرس ہم نفس بے اثری ہوں\n\nجاتا ہوں میں جیدھر کو وہ منہ پھیرے ہے مجھ سے\nگویا کہ میں گرد قدم رہ گزری ہوں\n\nدیکھا نہ میں جز سایۂ بازوئے شکستہ\nحرماں زدہ جوں حسرت بے بال و پری ہوں\n\nمیں پیرہن اپنے میں سماتا نہیں جوں گل\nجس وقت سے آمادہ پئے جامہ دری ہوں\n\nسو خضر سے کم حوصلہ واں جی سے گئے ہیں\nجس دشت خطرناک کا میں رہ گزری ہوں\n\nجوں سرد رکھا سنگ جفا سے مجھے آزاد\nمرہون ترا جی سے میں اے بے ثمری ہوں\n\nکیا کم ہوں سکندر سے اگر دیکھیے مجھ کو\nآئینہ صفت مالک خشکی و تری ہوں\n\nکس بزم میں دیکھی ہے وہ جھمکی کہ میں قائمؔ\nجوں شمع سدا محو پریشاں نظری ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%AF%D9%85_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%81%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "جوں عبرت کور جلوہ گر ہوں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوں عبرت کور جلوہ گر ہوں\nالبتہ کچھ ہوں میں پر کدھر ہوں\n\nجوں شیشہ بھرا ہوں مے سے لیکن\nمستی سے میں اپنی بے خبر ہوں\n\nجو کہئے سو یاں سے ہے فروتر\nکیا جانے میں کس مقام پر ہوں\n\nاے صبر تنک تو رہ کہ تجھ سے\nدو چار قدم میں پیشتر ہوں\n\nچل دامن و آستیں تجھے کیا\nلب خشک ہوں یا میں چشم تر ہوں\n\nاے بخت سعید تیری دولت\nاک یمن قدم سے ہوں جدھر ہوں\n\nپروانے کی شب کی شام ہوں میں\nیا روز کی شمع کی سحر ہوں\n\nجی مانگے ہے خوش دلی کو قائمؔ\nتو بیٹھ کے رو میں نوحہ گر ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D8%B9%D8%A8%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا\nاے باد صبا میری کروٹ تو بدل جانا\n\nپالغز محبت سے مشکل ہے سنبھل جانا\nاس رخ کی صفائی پر اس دل کا بہل جانا\n\nسینہ میں جو دل تڑپا دھر ہی تو دیا دیکھا\nپھر بھول گیا کیسا میں ہاتھ کا پھل جانا\n\nاتنا تو نہ گھبراؤ راحت یہیں فرماؤ\nگھر میں مرے رہ جاؤ آج اور بھی کل جانا\n\nاے دل وہ جو یاں آیا کیا کیا ہمیں ترسایا\nتو نے کہیں سکھلایا قابو سے نکل جانا\n\nکیا ایسے سے دعویٰ ہو محشر میں کہ میں نے تو\nنظارۂ قاتل کو احسان اجل جانا\n\nہے ظلم کرم جتنا تھا فرق پڑا کتنا\nمشکل ہے مزاج اتنا اک بار بدل جانا\n\nحوروں کی ثنا خوانی واعظ یوں ہی کب مانی\nلے آ کہ ہے نادانی باتوں میں بہل جانا\n\nعشق ان کی بلا جانے عاشق ہوں تو پہچانے\nلو مجھ کو اطبا نے سودے کا خلل جانا\n\nکیا باتیں بناتا ہے وہ جان جلاتا ہے\nپانی میں دکھاتا ہے کافور کا جل جانا\n\nمطلب ہے کہ وصلت میں ہے بوالہوس آفت میں\nاس گرمی صحبت میں اے دل نہ پگھل جانا\n\nدم لینے کی طاقت ہے بیمار محبت ہے\nاتنا بھی غنیمت ہے مومنؔ کا سنبھل جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D9%86%DA%A9%DB%81%D8%AA_%DA%AF%D9%84_%D8%AC%D9%86%D8%A8%D8%B4_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "جوں گل ازبسکہ جنوں ہے مرا سامان کے سات", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوں گل ازبسکہ جنوں ہے مرا سامان کے سات\nچاک کرتا ہوں میں سینے کو گریبان کے سات\n\nچشم تر ہیں مری صحرا ہے جنوں کی ممنوں\nربط ہے رونے کوں میرے اسی دامان کے سات\n\nبے خودی کا ہے مزہ شور اسیری سے مجھے\nرنگ اڑے ہے مرا زنجیر کی افغان کے سات\n\nجوں بگولہ ہوں میں منت کش صحرا گردی\nزندگانی ہے مری سیر بیابان کے سات\n\nعزلتؔ اس باغ میں لالہ سا ہوں میں درد نصیب\nدل زخمی سے اگا داغ نمک دان کے سات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B2%D8%A8%D8%B3%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA"} {"title": "جوں گل تو ہنسے ہے کھل کھلا کر", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوں گل تو ہنسے ہے کھل کھلا کر\nشبنم کی طرح مجھے رلا کر\n\nمہمان ہو یا کہ یاں تو آ کر\nیا رکھ مجھے اپنے ہاں بلا کر\n\nدر پر تیرے ہم نے خاک چھانی\nنقد دل خاک میں ملا کر\n\nمانوس نہ تھا وہ بت کسو سے\nٹک رام کیا خدا خدا کر\n\nکن نے کہا اور سے نہ مل تو\nپر ہم سے بھی کبھو ملا کر\n\nگو زیست سے ہیں ہم آپ بیزار\nاتنا پہ نہ جان سے خفا کر\n\nکچھ بے اثروں کو بھی اثر ہو\nاتنی تو بھلا اثرؔ دعا کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DA%BE%D9%84_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "جوں ہی زنجیر کے پاس آئے پاؤں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوں ہی زنجیر کے پاس آئے پاؤں\nدیکھ اس کو مرے تھرائے پاؤں\n\nخط کا لایا نہ ادھر سے وہ جواب\nیوں ہی قاصد کے میں تھکوائے پاؤں\n\nبد گمانی نہ ہو عاشق کی زیاد\nاس نے شب غیر سے دبوائے پاؤں\n\nہاتھ سے یار کا دامن دے کر\nہر طرف پھرتے ہیں گھبرائے پاؤں\n\nنجد کا دیکھ کے صحرائے وسیع\nآتے ہی قیس نے پھیلائے پاؤں\n\nخوش خرامی ہے صنم! تجھ پر ختم\nکبک و طوطی نے یہ کب پائے پاؤں\n\nتو تو سوتا رہا عاشق نے ترے\nرات بھر آنکھوں سے سہلائے پاؤں\n\nمجھ مسافر کے کسی نے ہرگز\nگرم پانی سے نہ دھلوائے پاؤں\n\nمصحفیؔ ہم کو طرب سے کیا کام\nبیٹھے ہیں گور میں لٹکائے پاؤں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%B2%D9%86%D8%AC%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA"} {"title": "جوہر نہیں ہمارے ہیں صیاد پر کھلے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جوہر نہیں ہمارے ہیں صیاد پر کھلے\nلے کر قفس کو اڑ گئے رکھا جو پر کھلے\n\nشیشے شراب کے رہیں آٹھوں پہر کھلے\nایسا گھرے کہ پھر نہ کبھی ابر تر کھلے\n\nکچھ تو ہمیں حقیقت شمس و قمر کھلے\nکس کج کلہ کے عشق میں پھرتے ہیں سر کھلے\n\nانصاف کو ہیں دیدۂ اہل نظر کھلے\nپردہ اٹھا کہ پردۂ شمس و قمر کھلے\n\nرنگریز کی دکاں میں بھرے ہوں ہزار رنگ\nطرہ وہ ہے جو یار کی دستار پر کھلے\n\nکیا چیز ہے عبارت رنگیں میں شرح شوق\nخط کی طرح طبیعت بستہ اگر کھلے\n\nجو چاہیں یار سے کہیں اغیار غم نہیں\nخواجہ کو ہیں غلام کے عیب و ہنر کھلے\n\nحیواں پر آدمی کو شرف نطق سے ہوا\nشکر خدا کرے جو زبان بشر کھلے\n\nیوسف کی اک دکاں میں نہ تو نے تلاش کی\nبازار کون کون سے اے بے خبر کھلے\n\nشیریں دہن سے تیرے تعجب ہے گفتگو\nاعجاز ہے اگر گرہ نیشکر کھلے\n\nکٹ جائے وہ زباں نہ ہو جس سے دعائے خیر\nپھوٹے وہ آنکھ جو کہ نہ وقت سحر کھلے\n\nکوتہ ہے اس قدر مرے قد پر ردائے عیش\nڈھانکوں جو پاؤں کو تو یقیں ہے کہ سر کھلے\n\nقاتل جزائے خیر ملے تیری تیغ کو\nزخموں کے منہ کھلے نہیں جنت کے در کھلے\n\nفصل بہار آئی ہے چلتا ہے دور جام\nمغ کی دکان شام کھلے یا سحر کھلے\n\nپاپوش ہم نے ماری ہے دستار و تاج پر\nسودائے زلف یار میں رہتے ہیں سر کھلے\n\nکیف شراب ناب کا انجام ہو بخیر\nشلوار بند ساقیٔ رشک قمر کھلے\n\nنا خواندہ شرح شوق جلائے گئے خطوط\nباندھے گئے وہ جو کہ مرے نامہ بر کھلے\n\nچاہے صفا تو ساتھ طہارت کے ذکر کر\nپرہیز کر تو تجھ کو دوا کا اثر کھلے\n\nہنس کر دکھائے دانت جو ہم کو تو کیا ہوا\nلے لیجئے جو قیمت سلک گہر کھلے\n\nکہتا ہوں راز عشق مگر ساتھ شرط کے\nکانوں ہی تک رہے نہ زباں کو خبر کھلے\n\nمشتاق بندشوں کے ہیں خوابوں کو چاہئے\nبندھوائیں شاعروں سے جو ان کی کمر کھلے\n\nرکتی نہ اس سے چوٹ نہ چلتی یہ قاتلا\nہاتھوں سے تیرے جوہر تیغ و سپر کھلے\n\nمطلب نہ سر نوشت کا سمجھا تو شکر کر\nدیوانہ ہو جو حال قضا و قدر کھلے\n\nچلنا پڑے گا یار کی خدمت میں سر کے بل\nسمجھے ہو کیا جو بیٹھے ہو آتشؔ کمر کھلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%92"} {"title": "جُدائی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "سُورج بُنتا ہے تارِ زر سے\nدُنیا کے لیے رِدائے نوری\nعالم ہے خموش و مست گویا\nہر شے کو نصیب ہے حضوری\nدریا، کُہسار، چاند، تارے\nکیا جانیں فراق و ناصبوری\nشایاں ہے مجھے غمِ جُدائی\nیہ خاک ہے محرمِ جُدائی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%8F%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "جُنوں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "زُجاج گر کی دُکاں شاعری و مُلّائی\nسِتم ہے، خوار پھرے دشت و در میں دیوانہ!\nکسے خبر کہ جُنوں میں کمال اور بھی ہیں\nکریں اگر اسے کوہ و کمر سے بیگانہ\nہجومِ مدرسہ بھی سازگار ہے اس کو\nکہ اس کے واسطے لازم نہیں ہے ویرانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%8F%D9%86%D9%88%DA%BA"} {"title": "جُو تُو کہتا ہے اے غافل یہ مرا ہے یہ ترا ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جُو تُو کہتا ہے اے غافل یہ مرا ہے یہ ترا ہے\nیہ جس کا ہے اسی کا ہے نہ ترا ہے نہ مرا ہے\n\nتُو اول سوچ تُو دِل میں کے تُو ہے کُون اور کیا ہے\nنمازی ہے شرابی ہے اچکا ہے لٹیرا ہے\n\nفرشتہ ہے پری ہے دیو ہے یا آدمی جن ہے\nبلا ہے بھوت ہے یامن مزورا یا کمیرا ہے\n\nجب ان چیزوں سے تُو اپنے تئیں کچھ چیز ٹھہرا لے\nتُو اِس کہ بعد پھر کہیو یہ مرا ہے یہ ترا ہے\n\nیہ چیزیں تُو غرض کیا ہیں تُو اپنا ہی نہیں مالک\nتُجھے او بے خبر ناداں یہ کس غفلت نے گھیرا ہے\n\nتُو کچے سوت کا دھاگا عبث بل پیچ کھاتا ہے\nیہ سب وہم غلط ہے اُور قصور فہم ترا ہے\n\nتُو کیا جانے کے تُجھ کو کس نے کس چرخے میں کاتا ہے\nتُو کیا جانے کے تُجھ کو کس اٹیرن میں اٹیرا ہے\n\nتماشا ہے مزا ہے سیر ہے کیا کیا اہاہاہا\nمصور نے عجب کچھ رنگ قدرت کا بکھیرا ہے\n\nترقی میں تنزل ہے تنزل میں ترقی ہے\nاندھیرے میں اجالا ہے اجالے میں اندھیرا ہے\n\nطلسمات حقیقی ہے یہ کچھ سمجھا نہیں جاتا\nیہی چاند اُور یہی سورج یہی شام اُور سویرا ہے\n\nنظیرؔ اللہ اللہ اس جہاں میں دم غنیمت ہے\nکہاں ہم اُور کہاں پھر تم کوئی دم کا بسیرا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%8F%D9%88_%D8%AA%D9%8F%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جُو پھرا کہ اس نے منہ کو بہ قفا نقاب الٹا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جُو پھرا کہ اس نے منہ کو بہ قفا نقاب الٹا\nادھر آسمان الٹا ادھر آفتاب الٹا\n\nنہ قفس میں ایسے مُجھ کو تُو اسیر کیجو صیاد\nکے گھڑی گھڑی وُہ ہووے دم اضطراب الٹا\n\nمیرے حال پر مغاں نے یہ کرم کیا کے ہنس ہنس\nمیرے ننگے سر پہ رکھا قدح شراب الٹا\n\nتیرا تشنہ لب جہاں سے جُو گیا لحد پہ اس کی\nپس مرگ بھی کسی نے نہ سبوے آب الٹا\n\nمیری آہ نے جو کھولی یہ قشون اشک بیرق\nوہیں برق و رعد لے کر علم سحاب الٹا\n\nجُو خیال میں کسو کہ شب ہجر سو گیا ہو\nنہ ہو صبح کو الٰہی کبھی اس کا خواب الٹا\n\nمیرے دم الٹنے کی جُو خبر اس کو دی کسی نے\nوہیں نیم رہ سے قاصد بہ صد اضطراب الٹا\n\nجُو علی کا حکم نافذ نہ فلک پہ تھا تُو پھر کیوں\nبہ گہہ غروب آیا نکل آفتاب الٹا\n\nاگر اس میں تُو سہ غزلہ جُو کہے تُو کام بھی ہے\nنہیں مصحفیؔ مزہ کیا جُو دو رو کباب الٹا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%8F%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%81_%D9%82%D9%81%D8%A7_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D9%B9%D8%A7"} {"title": "جُگنو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "جُگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں\nیا شمع جل رہی ہے پھُولوں کی انجمن میں\nآیا ہے آسماں سے اُڑ کر کوئی ستارہ\nیا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن میں\nیا شب کی سلطنت میں دن کا سفیر آیا\nغربت میں آ کے چمکا، گمنام تھا وطن میں\nتکمہ کوئی گرا ہے مہتاب کی قبا کا\nذرّہ ہے یا نمایاں سورج کے پیرہن میں\nحُسنِ قدیم کی یہ پوشیدہ اک جھلک تھی\nلے آئی جس کو قُدرت خَلوت سے انجمن میں\nچھوٹے سے چاند میں ہے ظلمت بھی روشنی بھی\nنکلا کبھی گہن سے، آیا کبھی گہن میں\nپروانہ اک پتنگا، جُگنو بھی اک پتنگا\nوہ روشنی کا طالب، یہ روشنی سراپا\n\nہر چیز کو جہاں میں قدرت نے دلبری دی\nپروانے کو تپش دی، جُگنو کو روشنی دی\nرنگیں نوا بنایا مُرغانِ بے زباں کو\nگُل کو زبان دے کر تعلیمِ خامشی دی\nنظّارۂ شفَق کی خوبی زوال میں تھی\nچمکا کے اس پری کو تھوڑی سی زندگی دی\nرنگیں کِیا سحَر کو، بانکی دُلھن کی صورت\nپہنا کے لال جوڑا شبنم کی آرسی دی\nسایہ دیا شجَر کو، پرواز دی ہوا کو\nپانی کو دی روانی، موجوں کو بے کلی دی\nیہ امتیاز لیکن اک بات ہے ہماری\nجُگنو کا دن وہی ہے جو رات ہے ہماری\n\nحُسنِ ازل کی پیدا ہر چیز میں جھلک ہے\nانساں میں وہ سخن ہے، غنچے میں وہ چٹک ہے\nیہ چاند آسماں کا شاعر کا دل ہے گویا\nواں چاندنی ہے جو کچھ، یاں درد کی کسک ہے\nاندازِ گفتگو نے دھوکے دیے ہیں ورنہ\nنغمہ ہے بُوئے بُلبل، بُو پھول کی چہک ہے\nکثرت میں ہو گیا ہے وحدت کا راز مخفی\nجُگنو میں جو چمک ہے، وہ پھول میں مہک ہے\nیہ اختلاف پھر کیوں ہنگاموں کا محل ہو\nہر شے میں جبکہ پنہاں خاموشیِ ازل ہو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%8F%DA%AF%D9%86%D9%88"} {"title": "جِدّت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "دیکھے تُو زمانے کو اگر اپنی نظر سے\nاَفلاک منوّر ہوں ترے نورِ سحَر سے\nخورشید کرے کسبِ ضیا تیرے شرر سے\nظاہر تری تقدیر ہو سِیمائے قمر سے\nدریا مُتَلاطم ہوں تِری موجِ گُہر سے\nشرمندہ ہو فطرت ترے اعجازِ ہُنَر سے\nاغیار کے افکار و تخیّل کی گدائی!\nکیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%90%D8%AF%D9%91%D8%AA"} {"title": "جِہاد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے\nدُنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر\nلیکن جنابِ شیخ کو معلوم کیا نہیں؟\nمسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سُود و بے اثر\nتیغ و تُفنگ دستِ مسلماں میں ہے کہاں\nہو بھی، تو دل ہیں موت کی لذّت سے بے خبر\nکافر کی موت سے بھی لَرزتا ہو جس کا دل\nکہتا ہے کون اُسے کہ مسلماں کی موت مر\nتعلیم اُس کو چاہیے ترکِ جہاد کی\nدُنیا کو جس کے پنجۂ خُونیں سے ہو خطر\nباطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے\nیورپ زِرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر\nہم پُوچھتے ہیں شیخِ کلیسا نواز سے\nمشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر\nحق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات\nاسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%90%DB%81%D8%A7%D8%AF"} {"title": "جپے ہے ورد سا تجھ سے صنم کے نام کو شیخ", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جپے ہے ورد سا تجھ سے صنم کے نام کو شیخ\nنماز توڑ اٹھے تیرے رام رام کو شیخ\n\nسوا ہمارے تو زاہد کو مت دکھا آنکھیں\nبغیر رندوں کے کیا جانے قدر جام کو شیخ\n\nجو آوے وقت نماز اس کے سامنے مرا شوخ\nکروں میں سجدہ اگر پھیرے سر سلام کو شیخ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%D9%BE%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%88%D8%B1%D8%AF_%D8%B3%D8%A7_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%DB%8C%D8%AE"} {"title": "جڑاؤ چوڑیوں کے ہاتھوں میں پھبن کیا خوب", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جڑاؤ چوڑیوں کے ہاتھوں میں پھبن کیا خوب\nبھرے بھرے ترے بازو پہ نورتن کیا خوب\n\nکھجوری چوٹی کے قربان واہ کیا کہنا\nنثار پریوں کے مو بہ مو شکن کیا خوب\n\nنئی جوانی کا جوش اور ابھار سینے کا\nدوشالہ ڈھلکا ہوا سر سے بانکپن کیا خوب\n\nعجب بہار ہے بیلوں کی اور بوٹوں کی\nپری دوپٹا ترا غیرت چمن کیا خوب\n\nازار بند کے لچھے کا واہ رے عالم\nگداز رانوں پہ پاجامے کی شکن کیا خوب\n\nجو پہنا اچھا برا تو نے اترا بن بن کر\nہر ایک چیز میں جانی سجیلا پن کیا خوب\n\nگلاب سے ترے گال اور آنکھیں نرگس سے\nبرنگ غنچۂ لالہ لب و دہن کیا خوب\n\nنظر پھسلتے ہی واللہ میری آنکھوں میں خاک\nکہ صاف صاف ہے آئینے سا بدن کیا خوب\n\nخدا نے نور کے سانچے میں تجھ کو ڈھالا ہے\nجو دیکھتا ہے وہ کہتا ہے یہ سخن کیا خوب\n\nبیان حسن کرے تیرا بحرؔ کس منہ سے\nترا بناؤ ترے چھب تری پھبن کیا خوب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%91%D8%A7%D8%A4_%DA%86%D9%88%DA%91%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%A8%D9%86_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A8"} {"title": "جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا\nتو ہی آیا نظر جدھر دیکھا\n\nجان سے ہو گئے بدن خالی\nجس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا\n\nنالہ فریاد آہ اور زاری\nآپ سے ہو سکا سو کر دیکھا\n\nان لبوں نے نہ کی مسیحائی\nہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا\n\nزور عاشق مزاج ہے کوئی\nدردؔ کو قصہ مختصر دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگا", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگا\nکہ نہ ہنستے میں رو دیا ہوگا\n\nان نے قصداً بھی میرے نالے کو\nنہ سنا ہوگا گر سنا ہوگا\n\nدیکھیے اب کے غم سے جی میرا\nنہ بچے گا بچے گا کیا ہوگا\n\nدل زمانے کے ہاتھ سے سالم\nکوئی ہوگا جو رہ گیا ہوگا\n\nحال مجھ غم زدہ کا جس تس نے\nجب سنا ہوگا رو دیا ہوگا\n\nدل کے پھر زخم تازہ ہوتے ہیں\nکہیں غنچہ کوئی کھلا ہوگا\n\nیک بہ یک نام لے اٹھا میرا\nجی میں کیا اس کے آ گیا ہوگا\n\nمیرے نالوں پہ کوئی دنیا میں\nبن کیے آہ کم رہا ہوگا\n\nلیکن اس کو اثر خدا جانے\nنہ ہوا ہوگا یا ہوا ہوگا\n\nقتل سے میرے وہ جو باز رہا\nکسی بد خواہ نے کہا ہوگا\n\nدل بھی اے دردؔ قطرۂ خوں تھا\nآنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%B9%DA%A9_%DB%81%D9%86%D8%B3%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جگ ہے مشتاق پیو کے درشن کا", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جگ ہے مشتاق پیو کے درشن کا\nکس کوں نیں احتیاج درپن کا\n\nصاف دل ہے جو آرسی مانند\nنت ہے حیراں جمال روشن کا\n\nگرچہ ہونا ہے عیب پوشی جہاں\nکسب کر اختیار سوزن کا\n\nکیوں نہ ہوئے عاشقی میں خوف رقیب\nہر سفر میں خطر ہے رہزن کا\n\nزہد زاہد ہے خوف محشر سوں\nتاب نامرد کوں کہاں رن کا\n\nخاک ہو یار کی گلی مت چھوڑ\nگرچہ کچھ مدعا ہے دامن کا\n\nصبر کر ہجر میں توں اے داؤدؔ\nدیکھنا ہے اگر سریجن کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%AF_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D9%82_%D9%BE%DB%8C%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%B4%D9%86_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "جگر اور دل کو بچانا بھی ہے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جگر اور دل کو بچانا بھی ہے\nنظر آپ ہی سے ملانا بھی ہے\n\nمحبت کا ہر بھید پانا بھی ہے\nمگر اپنا دامن بچانا بھی ہے\n\nجو دل تیرے غم کا نشانہ بھی ہے\nقتیل جفائے زمانہ بھی ہے\n\nیہ بجلی چمکتی ہے کیوں دم بدم\nچمن میں کوئی آشیانہ بھی ہے\n\nخرد کی اطاعت ضروری سہی\nیہی تو جنوں کا زمانا بھی ہے\n\nنہ دنیا نہ عقبیٰ کہاں جائیے\nکہیں اہل دل کا ٹھکانا بھی ہے\n\nمجھے آج ساحل پہ رونے بھی دو\nکہ طوفان میں مسکرانا بھی ہے\n\nزمانے سے آگے تو بڑھیے مجازؔ\nزمانے کو آگے بڑھانا بھی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جگر تھامے ہوئے یاں طالب دیدار بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:عزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی", "kind": "poetry", "section": "غزل > چشمۂ کوثر (1934)", "year": "1934", "text_ur": "جگر تھامے ہوئے یاں طالب دیدار بیٹھے ہیں\nمزے واں لوٹنے کو بزم میں اغیار بیٹھے ہیں\n\nفقط اتنا کہا تھا تم ذرا صورت دکھا جاؤ\nیہ سن کر آج مجھ سے وہ بہت بیزار بیٹھے ہیں\n\nمحبت ان سے کیا کی لے لیا کوہ الم سر پر\nمجھے بدنام کرنے کو سر بازار بیٹھے ہیں\n\nذرا مقتل میں تم آ کر نکالو اپنے خنجر کو\nیہاں ہم قتل ہونے کے لئے تیار بیٹھے ہیں\n\nچلا تو ہے عزیزؔ ان کی گلی میں شوق سے لیکن\nقدم رکھنا سنبھل کر وہ بنے عیار بیٹھے ہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%85%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جگر خوں ہو کے باہر دیدۂ گریان آوے گا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جگر خوں ہو کے باہر دیدۂ گریان آوے گا\nیہی رونا رہا تو آج کل طوفان آوے گا\n\nخبر آتے ہی پوچھے ہے ظالم بیٹھ جا یک دم\nحقیقت سب کہوں گا مجھ میں جب اوسان آوے گا\n\nنہ ہے اب خاک افشانی نہ حیرانی نہ عریانی\nجنوں گر آ گیا تو لے کے سب سامان آوے گا\n\nپڑھوں گا پیچھے نامہ میں خدا کے واسطے قاصد\nیہ کہہ اول کہ یاں تک وہ کسی عنوان آوے گا\n\nنہ جا اے جان ٹک تو اور بھی اک رات اس تن سے\nسنا ہے کل کے دن وہ گھر مرے مہمان آوے گا\n\nکسی کی قدر جیتے جی نہیں معلوم ہوتی ہے\nکرے ہے قتل پر پیچھے تجھے ارمان آوے گا\n\nگلی میں اس بت خوں خوار کی جرأتؔ چلا تو ہے\nولیکن واں سے خوں میں دیکھنا افشان آوے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%A2%D9%88%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جگر سوختہ ہیں اور دل بریاں ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جگر سوختہ ہیں اور دل بریاں ہیں ہم\nشعلہ کی طرح سدا دیدۂ گریاں ہیں ہم\n\nمتصل لخت جگر کرتے ہیں آنکھوں سے سدا\nآہ کس عاشق غم دیدہ کی مژگاں ہیں ہم\n\nکبھی ہنستے ہیں کبھی روتے ہیں جلتے ہیں کبھی\nگل ہیں شبنم ہیں کہ یا آتش سوزاں ہیں ہم\n\nہم میں ہی عالم اکبر ہوئے گو جرم صغیر\nمظہر جلوۂ حق حضرت انساں ہیں ہم\n\nدہر پر شور ہے ہاتھوں سے ہمارے اے آہ\nآفرینش میں مگر نالہ و افغاں ہیں ہم\n\nفکر جمعیت دل ہم کو کہاں آہ حسنؔ\nخاطر آشفتۂ گیسوئے پریشاں ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D8%AE%D8%AA%DB%81_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "جگر کا جوں شمع کاش یارب ہو داغ روشن مراد حاصل", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جگر کا جوں شمع کاش یارب ہو داغ روشن مراد حاصل\nکہ دل کو لو لگ رہی یہی ہے چراغ روشن مراد حاصل\n\nمدام کیفیت اپنے دل میں مئے محبت کے نشے کی ہے\nکہ ساقی اس آفتاب سے ہے دماغ روشن مراد حاصل\n\nاسیر کنج قفس تو ہو تم یہ عندلیبو سدا یہ بولو\nشتاب یارب چراغ گل سے ہو باغ روشن مراد حاصل\n\nلگے نہ کیوں آگ تیرے سر سے کہ عشق میں میں نے پاؤں رکھا\nبجا ہے اے شمع تجھ کو کہنا دماغ روشن مراد حاصل\n\nجو یار آتا ہے میرے گھر میں تو جلد خانہ خراب اڑ جا\nجہاں میں تیرا شگوں یہ سب پر ہے زاغ روشن مراد حاصل\n\nپھرے ہے اے چرخ تو تو باندھے شکم پہ خورشید کا یہ گردہ\nکہے نہ کیوں کر کہ گرسنہ ہو چراغ روشن مراد حاصل\n\nجہاں میں کیا ڈھونڈھتا پھرے ہے سراغ یاران رفتگاں کا\nنصیرؔ ہے چشم نقش پا سے سراغ روشن مراد حاصل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%DA%A9%D8%A7%D8%B4_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AF_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84"} {"title": "جگر کو داغ میں مانند لالہ کیا کرتا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جگر کو داغ میں مانند لالہ کیا کرتا\nلبالب اپنے لہو کا پیالہ کیا کرتا\n\nملا نہ سرو کو کچھ اپنی راستی میں پھل\nکلاہ کج جو نہ کرتا تو لالہ کیا کرتا\n\nجریدہ میں رہ پر خون عشق سے گزرا\nجرس سے قافلہ میں بحث نالہ کیا کرتا\n\nجنون عشق میں رہنا تھا امتیاز نہ کچھ\nچکور طوق گلو مہ کا ہالہ کیا کرتا\n\nبچا کیا اسے توڑا جو سر سے دریا کے\nحباب لے کے یہ خالی پیالہ کیا کرتا\n\nنہ کھایا غصہ کبھی خوانچہ سے قسمت کے\nپھنسے جو حلق میں میں وہ نوالہ کیا کرتا\n\nبلائے بد ہوئی داغوں سے سردیٔ کافور\nسلوک نیک زراعت سے ژالہ کیا کرتا\n\nدیا نوشتہ نہ اس بت کو دل کے تودے میں\nخدا کے گھر کا بھلا میں قبالہ کیا کرتا\n\nصفا ہوا نہ ریاضت سے نفس امارہ\nکوئی نجاست سگ کا ازالہ کیا کرتا\n\nلگی ہے آگ جو کمبل کبھی اڑایا ہے\nترے برہنہ سے گرمی دوشالہ کیا کرتا\n\nنہ کرتی عقل اگر مفت آسماں کی سیر\nکوئی یہ ساتھ ورق کا رسالہ کیا کرتا\n\nمری طرف جو انہیں کھینچتی کشش دل کی\nبتوں کو برہمنوں کا حوالہ کیا کرتا\n\nکسی نے مول نہ پوچھا دل شکستہ کا\nکوئی خرید کے ٹوٹا پیالہ کیا کرتا\n\nعروس دہر سے بوئے وفا نہیں آتی\nبھلا جگر کا میں اس کے ازالہ کیا کرتا\n\nمہ دو ہفتہ بھی ہوتا تو لطف تھا آتشؔ\nاکیلے پی کے شراب دو سالہ کیا کرتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%86%D8%AF_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7"} {"title": "جگر کو دیکھ کے زخم جگر کو دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جگر کو دیکھ کے زخم جگر کو دیکھتے ہیں\nمرے عزیز مرے چارہ گر کو دیکھتے ہیں\n\nپڑی ہے سامنے جیسے کسی عزیز کی لاش\nہم اس نظر سے دل بے خبر کو دیکھتے ہیں\n\nکٹیں گی موت کے ہاتھوں یہ بیڑیاں اک دن\nاس ایک آس کو اور عمر بھر کو دیکھتے ہیں\n\nگزر رہی ہے اسیران بدنصیب کی یوں\nکبھی قفس کو کبھی بال و پر کو دیکھتے ہیں\n\nپھر آ کے حسرتیں دم توڑتی ہیں خواب میں کیا\nاداس دل جو ہم اتنا سحر کو دیکھتے ہیں\n\nستم کشوں کو یہ کیا خوب چپ کی داد ملی\nجب آنکھ کھلتی ہے تربت سے گھر کو دیکھتے ہیں\n\nاجل کو دیکھ کے سوجھا مآل ہستی کا\nسحر کو دیکھ کے شمع سحر کو دیکھتے ہیں\n\nکھلا ہے اب کے ہے ہستی کا ایک نام گناہ\nتباہ حالی اہل ہنر کو دیکھتے ہیں\n\nپہنچ کے منزل ہستی پہ ہوش اڑے بیخودؔ\nکہ راہزن تھا جو اب راہبر کو دیکھتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا\nیہ عشق جان کو میرے کوئی عذاب ہوا\n\nکیا جو قتل مجھے تم نے خوب کام کیا\nکہ میں عذاب سے چھوٹا تمہیں ثواب ہوا\n\nکبھی تو شیفتہ اس نے کہا کبھی شیدا\nغرض کہ روز نیا اک مجھے خطاب ہوا\n\nپیوں نہ رشک سے خوں کیونکہ دم بہ دم اپنا\nکہ ساتھ غیر کے وہ آج ہم شراب ہوا\n\nتمہارے لب کے لب جام نے لیے بوسے\nلب اپنے کاٹا کیا میں نہ کامیاب ہوا\n\nگلی گلی تری خاطر پھرا بچشم پر آب\nلگا کے تجھ سے دل اپنا بہت خراب ہوا\n\nتری گلی میں بہائے پھرے ہے سیل سرشک\nہمارا کاسۂ سر کیا ہوا حباب ہوا\n\nجواب خط کے نہ لکھنے سے یہ ہوا معلوم\nکہ آج سے ہمیں اے نامہ بر جواب ہوا\n\nمنگائی تھی تری تصویر دل کی تسکیں کو\nمجھے تو دیکھتے ہی اور اضطراب ہوا\n\nستم تمہارے بہت اور دن حساب کا ایک\nمجھے ہے سوچ یہ ہی کس طرح حساب ہوا\n\nظفرؔ بدل کے ردیف اور تو غزل وہ سنا\nکہ جس کا تجھ سے ہر اک شعر انتخاب ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%B9%DA%A9%DA%91%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "جگنو", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کنارے جھیل کے پھرتا ہے جگنو\nکبھی اڑتا کبھی گرتا ہے جگنو\nہوا کی گود میں اک روشنی ہے\nکہ ننھی شمع کوئی اڑ رہی ہے\nستارہ سا چمکتا ہے فضا میں\nشرارہ اڑتا پھرتا ہے ہوا میں\nکوئی مہتاب سی چھوٹی ہے گویا\nستارے کی کرن ٹوٹی ہے گویا\nاندھیرے میں سنہری تیتری ہے\nکہ سونے کی کوئی ننھی پری ہے\nہری شاخوں پہ جگنو چھا گئے ہیں\nزمیں پر یا ستارے آ گئے ہیں\nمنور سارے باغ اور بن ہیں ان سے\nاندھیری ڈالیاں روشن ہیں ان سے\nنہیں آرام سے سوتے مگر یہ\nکہ اڑتے پھرتے ہیں یوں رات بھر یہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%AF%D9%86%D9%88"} {"title": "جگنو اور بچہ", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جگنو\nادھر آؤ اے میرے نادان بچے\nکروں گا میں دو چار باتیں تمہیں سے\nہو مصروف کیوں کھیلنے میں تم ایسے\nسنو تو سہی کچھ پڑھو گھر پہ جا کے\nنہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے\n\nبچہ\nمیں ابا کا جانی میں اماں کا پیارا\nنہیں رنج میرا کسی کو گوارا\nنہ جاؤں گا پڑھنے یہ ہے کیا اشارا\nمیں کھیلوں گا تیرا نہیں کچھ اجارا\nچمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے\n\nجگنو\nیہ پر نور چہرہ یہ آنکھیں منور\nیہ گورا بدن اور کپڑے معطر\nلڑکپن کے دن ہیں مگر یوں نہ ہٹ کر\nنصیحت سے میری ہوا کیوں مکدر\nنہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے\n\nبچہ\nپڑی ہے ابھی عمر پڑھ لوں گا جگنو\nکہ پڑھنے پہ ہر وقت ہے میرا قابو\nمیں کیوں جاؤں پڑھنے میں کھیلوں گا ہر سو\nکہیں اور بے پر کی جا کر اڑا تو\nچمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے\n\nجگنو\nنہیں پیارے بچے نہیں کھیل اچھا\nکہ پڑھنے کا ہے اک یہی تو زمانہ\nاگر ابتدا سے رہا شوق اس کا\nتو آ جائے گا پھر بہت جلد پڑھنا\nنہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے\n\nبچہ\nپکڑ لوں گا تجھ کو جو اب تو نے چھیڑا\nتو آیا بڑا علم والا کہیں کا\nمیں کھیلوں گا کھیلوں گا کھیلوں گا ہر جا\nمجھے کھیل سے روکتا ہے پرندہ\nچمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے\n\nجگنو\nنہ جاؤں گا ہرگز میں اڑ کر یہاں سے\nکرو گے نہ اقرار جب تک زباں سے\nنصیحت کو آئے گا کوئی کہاں سے\nفرشتے نہ اتریں گے اب آسماں سے\nنہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے\n\nبچہ\nیہاں آ کے کن آفتوں میں پھنسا میں\nترے لیکچر میں ہوا مبتلا میں\nکہیں اور ہی کھاؤں گا اب ہوا میں\nتو جاتا نہیں تو نہ جا لے چلا میں\nچمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے\n\nجگنو\nمیں تیرے لئے گو اک آفت نئی ہوں\nمگر واقعی رحمت اللہ کی ہوں\nجہاں میں ترا رہنما ہر گھڑی ہوں\nمیں جگنو نہیں علم کی روشنی ہوں\nنہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے\nتجھے ایک دن ہے چمکنا زمیں پر\nہنسی مجھ کو آتی ہے تیری نہیں پر\nنظر ہے مری تیرے روئے حسیں پر\nمیں چمکوں گا اک روز تیری جبیں پر\nنہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے\nابھی سے اگر تو لکھے گا پڑھے گا\nتو دنیا میں پروان جلدی چڑھے گا\nیہ کب تک یوں ہی گیڑیاں تو گڑھے گا\nبڑھائے گا ہمت تو آگے بڑھے گا\nنہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے\n\nبچہ\nجو تو علم کی روشنی ہے تو آ جا\nمرے دل میں میرے جگر میں سما جا\nمجھے پڑھنے لکھنے کا شیدا بنا جا\nاگر اور کچھ ہے تو ہٹ جا چلا جا\nچمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%AF%D9%86%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%86%DB%81"} {"title": "جھمک دکھاتے ہی اس دل ربا نے لوٹ لیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جھمک دکھاتے ہی اس دل ربا نے لوٹ لیا\nہمیں تو پہلے ہی اس کی ادا نے لوٹ لیا\n\nنگہ کے ٹھگ کی لگاوٹ نے فن سے کر غافل\nہنسی نے ڈال دی پھانسی دعا نے لوٹ لیا\n\nوفا جفا نے یہ کی جنگ زر گری ہم سے\nوفا نے باتوں لگایا جفا نے لوٹ لیا\n\nلٹے ہم اس کی گلی میں تو یوں پکارے لوگ\nکہ اک فقیر کو اک بادشا نے لوٹ لیا\n\nابھی کہیں تو کسی کو نہ اعتبار آوے\nکہ ہم کو راہ میں اک آشنا نے لوٹ لیا\n\nہزاروں قافلے جس شوخ نے کیے غارت\nنظیرؔ کو بھی اسی بے وفا نے لوٹ لیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%BE%D9%85%DA%A9_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%D9%86%DB%92_%D9%84%D9%88%D9%B9_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جھمکے", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "رتی، ماشہ، تولہ", "year": "1956", "text_ur": "سُنار کی اُنگلیاں جھمکوں کو برش سے پالش کر رہی ہیں جھمکے چمکنے لگتے ہیں ستار کے پاس ہی ایک آدمی بیٹھا ہے جھمکوں کی چمک دیکھ کر اس کی آنکھیں تمتما اُٹھتی ہیں بڑی بے تابی سے وہ اپنے ہاتھ ان جھمکوں کی طرف بڑھاتا ہے اور سُنار کہتا ہے ’’ بس اب رہنے دو مجھے‘‘ سُنار اپنے گاہک کو اپنی ٹُوٹی ہوئی عینک میں سے دیکھتا ہے اور مسکرا کرکہتا ہے ’’چھ مہینے سے الماری میں بنے پڑے تھے آج آئے ہو تو کہتے ہو کہ ہاتھوں پر سرسوں جما دُوں۔‘‘\n\nگاہک جس کا نام چرنجی ہے کچھ شرمندہ ہو کر کہتا ہے ’’کیا بتاؤں لالہ کروڑی مل۔ اتنی رقم جمع ہونے میں آتی ہی نہیں تھی تم سے الگ شرمندہ جورو سے الگ شرمندہ عجب آفت میں جان پھنسی ہوئی تھی۔ جانے اس سونے میں کیا کشش ہے کہ عورتیں اس پر جان دیتی ہیں۔‘‘\n\nسُنار پالش کرنے کے بعد جھمکے بڑی صفائی سے کاغذ میں لپیٹتا ہے اور چرنجی کے ہاتھوں میں رکھ دیتا ہے۔ چرنجی کا غذ کھول کر جھمکے نکالتا ہے جب وہ جھُمر جھمر کرتے ہیں تو وہ مسکراتا ہے۔ بھئی کیا کاریگری کی ہے لالہ کروڑی مل۔ دیکھے گی تو پھڑک اُٹھے گی۔ یہ کہہ کر وہ جلدی جلدی اپنی جیب سے کچھ نوٹ نکالتا ہے اور سُنار سے یہ کہہ کر ’’کھرے کر لو بھائی‘‘ دکان سے باہر نکلتا ہے۔\n\nدکان کے باہر ایک تانگہ کھڑا ہے گھوڑا ہنہناتا ہے تو چرنجی اس کی پیٹھ پر تھپکی دیتا ہے ‘‘تمھیں بھی دو جھمکے بنوا دُوں گا میری جان فکر مت کرو‘‘ یہ کہہ کر وہ خوش خوش گھوڑے کی باگیں تھامتا ہے ’’ چل میری جان ہوا سے باتیں کر کے دکھا دے‘‘\n\nچرنجی خوش خوش اپنے طویلے پہنچتا ہے دھیمے دھیمے سروں میں کوئی گیت گنگناتا اور یُوں اپنی خوشی کا اظہارکرتا وہ گھوڑے کو تھپکی دیتا اور کہتا ہے:\n\n’’ابھی چھٹی نہیں ملے گی میری جان تیری مالکن یہ جھُمکے پہن کر کیا باغ کی سیر کو نہیں جائے گی۔‘‘\n\nچرنجی جلدی جلدی گھر کا زینہ طے کرتا ہے اور زور سے آواز دیتا ہے۔ مُنی مُنی ایک چھوٹی سی لڑکی بھاگتی ہوئی اندر سے نکلتی ہے اور چرنجی کے ساتھ لپٹ جاتی ہے چرنجی جھمکے نکال کر اس کی کان کی لوؤں کے ساتھ لگاتا ہے اور کہتا ہے ‘‘ماں کہاں ہے تیری۔ جواب کا انتظار کیے بغیر وہ گھر کے سارے کمروں میں ہاتھ میں جھمکے لیے پھرتا ہے مُنی کی ماں۔ مُنی کی ماں کہتا۔ لڑکی اس کے پیچھے پیچھے بھاگتی ہے ’’ مُنی ماں کہاں ہے تیری۔ لڑکی جواب دیتی ہے۔ وہاں گئی ہے: لڑکی کا اشارہ سامنے بلڈنگ کی طرف تھا۔ چرنجی اُدھر دیکھتا ہے کھڑکی کے شیشوں میں سے ایک مرد اور ایک عورت کا سایہ نظر آتا ہے مرد عورت کے کانوں میں بُندے پہنا رہا ہے لمبے لمبے بُندے یہ منظر دیکھ کر چرنجی کے منہ سے دبی ہوئی چیخ سی نکلتی ہے وہ دونوں ہاتھوں سے اپنی ننھی بچی کو اُٹھا کر سینے کے ساتھ بھینچ لیتا ہے اور اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیتا ہے جیسے وہ نہیں چاہتا کہ اس کی بچی اس خوفناک سائے کو دیکھے سینے کے ساتھ اس طرح اپنی بچی کو بھینچے وہ آہستہ آہستہ نیچے اُترتا ہے وہ جھمکے جو وہ اپنے ساتھ لایا تھا اس کے ہاتھوں سے فرش پر گر پڑتے ہیں۔\n\nنیچے طویلے میں آ کر وہ اپنی بچی کو جو کہ سخت پریشان ہو رہی ہے تانگے میں بٹھاتا ہے اور خود گھوڑے کی باگیں تھام کر تانگے کو باہر نکالتا ہے۔\n\nچرنجی بالکل خاموش ہے جیسے اسے سانپ سُونگھ گیا ہے اُس کی ننھی بچی سہمے ہُوئے لہجے میں بار بار پوچھتی ہے ’’ماتا جی کے جھمکے کہاں ہیں پِتا جی ماتا جی کے جھمکے کہاں ہیں پتا جی۔؟‘‘\n\nچرنجی کی بیوی اپنے گھر واپس آگئی ہے اور ایک آئینہ سامنے رکھے اپنے جھمکوں کو پسندیدہ نظروں سے دیکھ رہی ہے اور گارہی ہے۔ آئینہ دیکھتے دیکھتے وہ اپنی بچی کو آواز دیتی ہے مُنی ادھر آ تجھے ایک چیز دکھاؤں کوئی جواب نہیں ملتا کہاں چلی گئی تو۔ یہ کہہ کر وہ اُٹھتی ہے اور اِدھر اُدھر اُسے ڈھونڈتی ہے جب وہ نہیں ملتی تو باہر نکلتی ہے سیڑھیوں کے اختتامی سرے پر جو چبوترہ سا بنا ہے اس پر کھلے ہوئے کاغذ میں دو جھمکے دکھائی دیتے ہیں چرنجی کی بیوی ان کو اُٹھاتی ہے ایک دم اسے خوفناک حقیقت کا احساس ہوتا ہے۔ اِن جھمکوں کو مٹھی میں بھینچ کر وہ چیختی ہے۔ اسے معلوم ہوگیا ہے سب کچھ معلوم ہوگیا ہے دیوانوں کی طرح دوڑی دوڑی اندر جاتی ہے سب کمروں میں پاگلوں کی طرح چکراتی ہے اور مُنی کو آوازیں دیتی ہے جب اس کے دماغ کا طوفان کچھ کم ہوتا ہے تو وہ وہیں بیٹھ جاتی ہے جہاں پہلے بیٹھی تھی۔ سامنے اس کے سامنے آئینہ پڑا ہے اس میں وہ غیر ارادی طور پر اپنی شکل دیکھتی ہے۔ پرنجی کی بیوی جب اپنی شکل اس زاویے میں دیکھتی ہے تو اس سے متنفر ہو کر آئینہ اُٹھاتی ہے اور زمین پر پٹک دیتی ہے آئینہ چکنا چور ہوجاتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتی باہر نکلتی ہے۔\n\nسامنے والی بلڈنگ کا ایک کمرہ یہ کمرہ پُرتکلف طریقے سے سجا ہوا ہے ایک لڑکی اور ایک لڑکا جس کی عُمر میں تقریباً دو برس کا فرق ہے لڑکی چھ برس کی اور لڑکا آٹھ برس کا ہے دونوں اپنے باپ کے پاس بیٹھے ہیں اور اس سے کھیل رہے ہیں اتنے میں دروازے پر ہولے ہولے دستک ہوتی ہے پہلی بار جب دستک ہوتی ہے تو بچوں کا باپ نہیں سنتا۔ جب دوسری بار پھر ہوتی ہے تو وہ چونکتا ہے بچوں کی طرف دیکھتا ہے پھر ان کی آیا کی طرف اور کہتا ہے ان کو باہر لے جاؤ۔ کوئی میرا ملنے والا آیا ہےٗ جلدی جلدی بچوں کو نکال کر دروازہ بند کرتا ہے دوسرے دروازے کی طرف بڑھتا ہے جب دروازہ کھلتا ہے تو چرنجی کی بیوی اندر داخل ہوتی ہے اس کو دیکھ کر بچوں کے باپ کو سخت حیرت ہوتی ہے۔ وہ اس سے کہتا ہے ’’ تم تو کہہ رہی تھیں مجھے جلدی گھر جانا ہے اب واپس کیسے آگئیں۔ چرنجی کی بیوی کچھ جواب نہیں دیتی۔ ساکت جامد کھڑی رہتی ہے اُس کو خاموش دیکھ کر وہ پھر اُس سے پوچھتا ہے ‘‘وہ ابھی تک واپس نہیں آیا۔‘‘\n\nچرنجی کی بیوی کچھ جواب نہیں دیتی وہ پھر اس سے سوال کرتا ہے۔ تم خاموش کیوں ہو۔ جُھمکے پسند نہیں آئے۔ چرنجی کی بیوی کے ہونٹ کھلتے ہیں۔ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی ہے کیوں نہیں آئے۔ بہت پسند آئے۔ کیا اور لا دو گے مجھے۔ ؟ بچوں کا باپ مسکراتا ہے جتنے کہو ٗ بس یہی بات تھی ’’بڑے تلخ لہجے میں چرنجی کی بیوی کہتی ہے بس یہی بات تھی لیکن مجھے صرف جھُمکے ہی نہیں چاہئیں ناک کے لیے کیل۔ ہاتھوں کے لیے کنگنیاں کڑے گلے کے لیے ہار ٗ ماتھے کے لیے جھومر پاؤں کے لیے پازیب مجھے اتنے زیور چاہئیں کہ میرا پاپ ان کے بوجھ تلے دب جائے اپنی عصمت کا زیور تو اُتار چکی ہُوں اب یہ گہنے نہ پہنوں گی تو لوگ کیا کہیں گے۔ بچوں کا باپ یہ گفتگو سن کر سخت متحیر ہوتا ہے اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا وہ چرنجی کی بیوی سے کہتا ہے۔ یہ تو کیا بہکی بہکی باتیں کررہی ہے۔ چرنجی کی بیوی جواب دیتی ہے۔ بہکی پہلے تھے اب تو ہوش کی باتیں کر رہی ہوں سنو۔ میں تمہارے پاس اس لیے آئی ہوں کہ وہ چلا گیا ہے میری بچی کو بھی ساتھ لے گیا ہے اُسے سب کچھ معلوم ہو چکا ہے اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گا جس طرح میری لٹی ہوئی آبرو واپس نہیں آئے گی بولو مجھے پناہ دیتے ہو میں تمھیں اس پاپ کا واسطہ دے کر اِلتجا کرتی ہوں کہ جو تم نے اور میں نے مل کر لیا ہے کہ مجھے پناہ دو بچوں کا باپ چرنجی کی بیوی کی سب التجائیں سنتا ہے مگر وہ کیسے اس عورت کو پناہ دے سکتا ہے جس نے اپنے آپ کو جھُمکے کے بدلے بیچا۔ ایک سودا تھا جو ختم ہوگیا چرنجی کی بیوی کو یہ سُن کر بہت صدمہ ہوتا ہے ناکام اور مایوس ہو کر وہ چلی جاتی ہے۔\n\nچرنجی اب ایک نئے گھر میں ہے رات کا وقت ہے۔ وہ اپنی بچی مُنی کو سُلانے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ سوتی نہیں بار بار اپنی ماں کے بارے میں پوچھتی ہے چرنجی اس کو ٹالنے کی کوشش کرتا ہے مگر بچی کی معصوم باتیں اُسے پریشان کر دیتی ہیں آخر میں گھبرا کر اُس کے منہ سے یہ نکلتا ہے’’ مُنی تمہاری ماتا جی مر گئی ہیں راستہ بھول کر وہ ایسی جگہ چلی گئی ہیں جہاں سے واپس آنا بڑا مشکل ہوتا ہے دروازہ کھلتا ہے۔ چرنجی فوراً منی کا چہرہ کمبل سے ڈھانپ دیتا ہے چرنجی کی بیوی داخل ہوتی ہے چرنجی اُٹھتا ہے اور اسے باہر دھکیل کر اپنے پیچھے دروازہ بند کر دیتا ہے ’’چلی جاؤ یہاں سے ‘‘ وہ اُس سے کہتا ہے چرنجی کی بیوی جواب دیتی ہے۔ ’’چلی جاتی ہوں میری بچی مجھے دیدو‘‘ چرنجی غصے اور نفرت بھرے لہجے میں اُس سے کہتا ہے وہ عورت جو مرد کی بیوی نہیں بن سکتی اولاد کی ماں کیسے ہوسکتی ہے اپنے پاپ بھرے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہو کیا تمھیں منی کی ماں کہلانے کا حق حاصل ہے کیا اس دن کے بعد جب تم نے یہ جھمکے لے کر ایک غیر مرد تو ہاتھ لگانے دیا تم اپنی اولاد کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیر سکتی ہو کیا تمہاری مامتا اُس دن جل کر راکھ نہیں ہوگئی تھی جب تمہارے قدم ڈگمگائے تھے اپنی بچی لینے آئی ہو وہ جھمکے پہن کر جنہوں نے تمہاری زندگی کے سب سے قیمتی زیور کو اُتار کر گندی موری میں پھینک دیا ہے۔ میں یہ پوچھتا ہوں جب یہ جھمکے ہلتے ہیں تو تمہارے کانوں میں یہ آواز نہیں آتی کہ نہ تم ماں رہی ہو نہ بیوی۔ جاؤ تمہاری مانگ سیندور سے اور تمہاری گود اولاد سے ہمیشہ خالی رہے گی جن قدموں سے آئی ہو انہی قدموں سے واپس چلی جاؤ۔ چرنجی اپنی بیوی کی التجاؤں کو ٹھکرا دیتا ہے تو وہ چلی جاتی ہے افسردہ اور خاموش۔\n\nتانگے کا پہیہ گھوم رہا ہے یہ بتانے کے لیے کہ وقت گزر رہا ہے اور کئی سال بیت رہے ہیں تانگے کا پہیہ مڑتا ہے اور بڑے دروازے میں داخل ہوتا ہے یہ دروازہ گورنمنٹ کالج کا ہے جس میں کئی لڑکے اور لڑکیاں گزر رہی ہیں تانگہ کالج کے کمپاؤنڈ میں ٹھہرتا ہے چرنجی اب کافی بڈھا ہو چکا ہے۔ تقریباً آدھے بال سفید ہیں۔ اس کی ننھی بچی اب جوان ہے تانگے کی پچھلی نشست پر سے جب اُٹھتی ہے تو چرنجی اس کو بہت نصیحتیں کرتا ہے۔ بڑے صاحب کو ہاتھ جوڑ کر نمستے کہنا جو سوال پوچھیں ان کا ٹھیک ٹھیک جواب دینا۔ وغیرہ وغیرہ لڑکی اپنے باپ کی ان باتوں سے پریشان ہو جاتی ہے اور اچھا اچھا کہتی وہاں سے چلتی ہے لیکن فوراً ہی چرنجی اس کو روکتا ہے اور جیب سے برفی نکال کر اس کو دیتا ہے اور کہتا ہے۔ پہلا دن ہے منہ میٹھا کر لو زبردستی وہ اپنی لڑکی کے ہاتھ میں برفی رکھ دیتا ہے۔\n\nسامنے کالج کے برآمدے میں دو تین لڑکے کھڑے ہیں جو آنے جانے والے لڑکوں اور لڑکیوں کو گھور رہے ہیں جب کرشنا کماری (چرنجی کی بیٹی) برآمدے کی طرف آتی ہے تو ایک لڑکا جس کا نام جگدیش ہے اپنے ساتھی کی پسلیوں میں کہنی سے ٹھونکا دیتاہے اور کہتا ہے۔\n\n’’لو بھئی ایک فرسٹ کلاس چیز آئی ہے۔ طبیعت صاف ہو جائے گی تمہاری۔ یہ کہہ کر جب وہ کرشنا کماری کی طرف اشارہ کرتا ہے تو اُس کے دوست سب اُدھر متوجہ ہوتے ہیں مگر انھیں بجائے ایک دیہاتی لڑکا نظر آتا ہے جو بڑا انہماک سے اپنے فارم کا مطالعہ کرتا ہوا ان کی طرف چلا آرہا ہے سب لڑکے اس دیہاتی کو دیکھ کر ہنستے ہیں اور کہتے ہیں۔ بھئی کیا چیز ہے طبیعت واقعی صاف ہوگئی۔ کرشنا کماری اس دوران میں ایک طرف ہوگئی تھی۔ یہ دیہاتی لڑکا جس کا نام کرشن کمار ہے کا لج کے اِن پرانے شریر طالبعلموں کی طرف بڑھتا ہے جگدیش سے وہ بڑے سادہ لہجے میں پوچھتا ہے کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ مجھے کہاں جانا ہے جگدیش ذرا پیچھے ہٹ کر اسے بڑے پیار سے دیکھتا ہے اور کہتا ہے چڑیا گھر۔‘‘ کرشن کمار اسی طرح سادہ لوحی سے جواب دیتا ہے جی نہیں چڑیا گھر میں کل جاؤں گا میں یہاں داخل ہونے آیا ہوں۔ سب لڑکے بے چارے کرشن کمار کا مذاق اُڑاتے ہیں اُسے چھیڑتے ہیں اتنے میں ایک لڑکی کرشنا کماری کو ساتھ لیے ان لڑکوں کے پاس آتی ہے اور ان میں سے ایک لڑکے کو جس کا نام ستیش ہے مخاطب کر کے کہتی ہے ستیش میرا پیریڈ خالی نہیں تم انھیں بتا دو کہ کہاں داخلہ ہو رہا ہے کرشنا کماری کا فارم ستیش کو دے کر وہ تیز قدمی سے چلی جاتی ہے ستیش فارم دیکھتا ہے اور کہتا ہے آپ کا نام کرشنا کماری ہے۔ کرشن کمار بول اُٹھتا ہے جی نہیں میرا نام کرشن کمار ہے سب ہنستے ہیں ستیش کرشن کمار کا فارم بھی لے لیتا ہے اور دونوں سے کہتا ہے آئیے کمار اور کماری صاحبہ میں آپ کو راستہ بتا دوں سب چلتے ہیں۔\n\nاس کمرے کے باہر جہاں داخلہ ہو رہا ہے ستیش ٹھہر جاتا ہے اور ایک فارم کرشن کمار اور دوسرا کرشنا کو دے کر کہتا ہے۔ ’’اندر چلے جائیں۔‘‘\n\nکرشن کماری اور کرشنا کمار دونوں اندر داخل ہوتے ہیں کرشن کمار ایک میز کی طرف بڑھتا ہے کرشن کماری دوسرے میز کی طرف اِدھر کرشنا کماری کا انٹرویو شروع ہوتا ہے اُدھر کرشن کمار کا۔ کرشن کماری کا نام پڑھ کر پروفیسر کہتا ہے آپ کبڈی کھیلتے ہیں۔ کشتی لڑتے ہیں ، گولہ پھینکتے ہیں۔\n\nادھر دوسرا پروفیسر کرشن کمار سے کہتا ہے ’’ آپ کو کشیدہ کاری کروشیئے اور سلائی کے کام کا شوق ہے کرشن کمار اور کرشنا حیران رہ جاتے ہیں کرشن کماری پروفیسر سے کہتی ہے جی نہیں مجھے تو کشیدہ کاری کروشیئے اور سلائیوں کا شوق ہے اُدھر کرشن کمار پریشان ہو کر پروفیسر سے کہتا ہے جی نہیں مجھے تو کبڈی کھیلنے گولہ پھینکنے اور کشتی لڑنے کا شوق ہے دونوں کے فارم تبدیل ہوگئے تھے ہال میں قہقہے بلند ہوتے ہیں ہال کی کھڑکیوں کے باہر جگدیش اور ستیش اور ان کی پارٹی کھڑی یہ سب تماشا دیکھتی رہتی ہے۔\n\nبازار میں تانگہ کھڑا ہے چرنجی اس کو صاف کر رہا ہے اتنے میں ایک پٹھان آتا ہے اور چرنجی سے ان دو سو روپوں کا تقاضہ شروع کر دیتا ہے جو اُس نے قرض لے رکھے ہیں پٹھان روز روز کے وعدوں سے تنگ آیا ہوا ہے چنانچہ وہ چرنجی سے بڑے دُرشت لہجے میں باتیں کرتا ہے چرنجی پٹھان سے معافی مانگتا ہے اور کہتا کہ وہ بہت جلد اس کا قرضہ ادا کر دے گا پٹھان چرنجی سے کہتا ہے کہ وہ تانگہ گھوڑا بیچ کر قرض ادا کر دے گا اس سے چرنجی کو صدمہ ہوتا ہے تانگہ گھوڑا وہ کبھی بیچنے کے لیے تیار نہیں اس لیے کہ وہ اسے بہت عزیز ہے اتنے میں کرشنا کماری کی آواز آتی ہے ’’ پتا جی ‘‘ میری کتابیں آپ ساتھ لے گئے ہیں نا چرنجی اپنی لڑکی جواب دیتا ہے۔ ہاں بیٹی لے آیا ہوں اپنے ساتھ یہ کہہ کر وہ پٹھان کی ٹھوڑی کو ہاتھ لگاتا ہے اور کہتا ہے خان میری عزت تمہارے ہاتھ میں ہے میری لڑکی کے سامنے اپنے روپوں کا تقاضہ نہ کرنا خان کا دل کچھ پسیجتا ہے چنانچہ جب کرشن کماری آتی ہے اور تانگے میں بیٹھتی ہے تو چرنجی سے کچھ نہیں کہتا ٗ خان کو سلام کر کے چرنجی تانگہ چلاتا ہے۔\n\nدیہاتی لڑکے کرشن کمار کا مذاق اُڑایا جارہا ہے ، جگدیش نے اس کے پرانی وضح کے کوٹ کے ساتھ فرسٹ ائیر فول کی چٹ لگا رکھی ہے جدھر سے وہ بے چارہ گزرتا ہے لڑکے اُس کی طرف دیکھ کر ہنستے ہیں کرشن کمار جب سب کو ہنستے دیکھتا ہے تو خود بھی ہنسنا شروع کر دیتا ہے۔\n\nاس دوران میں چرنجی کا تانگہ اور ایک موٹر آتی ہے اس میں سے ستیش اور اس کی بہن آ نکلتی ہے یہ وہ لڑکی ہے جس نے کرشنا کماری کا فارم ستیش کو دیا تھا ٗ کرشن کماری جب ستیش کی بہن نرملا کو دیکھتی ہے تو اُن کو نمستے کرتی ہے نرملا نمستے کا جواب دیتی ہے اور اپنے بھائی کا تعارف کراتے ہوئے کہتی ہے یہ میرے بھائی ستیش ہیں مگر آپ کی ایک بار پہلے ملاقات ہو چکی ہے ستیش کرشنا کماری کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے اور کہتا ہے آپ کبڈی کھیلتی ہیں، کشتی لڑتی ہیں اور گولہ پھینکتی ہیں ، کرشنا کماری اس روزکا واقعہ یاد کر کے شرما جاتی ہے مگر ساتھ ہی ہنس پڑتی ہے تینوں کالج کی طرف بڑھتے ہیں کچھ دُور جاتے ہیں تو ایک شور سُنائی دیتا ہے۔\n\nجُگدیش اور اُس کے ساتھیوں نے کرشن کمار کو کیچڑ بھرے گڑھے میں دھکا دیکر گرا دیا تھا کیچڑ میں بے چارہ لت پت ہے لڑکے چھیڑ رہے ہیں جگدیش آگے بڑھ کر جب اُسے اُٹھانے لگتا ہے تو اُس کا کوٹ پھٹ جاتا ہے کرشن کمار سے اب برداشت نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ کوٹ اسے بے حد عزیز ہے یہ اُس کے مرحوم باپ کا تھا جو اُس کی ماں نے سنبھال کر اُس کے لیے رکھا ہوا تھا جب اُس کا کوٹ پھٹ جاتا ہے تو وہ دیوانوں کی طرح اُٹھتا ہے اور جُگدیشن کو پیٹنا شروع کر دیتا ہے کالج میں جُگدیشن کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی کہ وہ بہت لڑاکا ہے کوئی اس کے مقابل میں نہیں ٹھہر سکتا مگر جب کرشن کمار اسے بری طرح لتاڑتا ہے تو سب لڑکے حیران رہ جاتے ہیں اور جُگدیش اور کرشن کمار دونوں کشتی لڑتے لڑتے ستیش کرشنا کماری اور نرملا کے پاس آ جاتے ہیں تو زبردست گھونسہ مار کر جب کرشن کمار جُگدیش کو گراتا ہے تو بے اختیار کرشنا کماری کے منہ سے نکلتا ہے ’’یہ کیا وحشیانہ پن ہے‘‘ کرشن کمار یہ آواز سنتا ہے اور اپنا ہاتھ روک لیتا ہے ستیش جُگدیشن کو اُٹھا کر ایک طرف لے جاتا ہے اتنے میں گھنٹی بجتی ہے سب لوگ چلے جاتے ہیں صرف کرشن کمار۔ کرشنا کماری اکیلے رہ جاتے ہیں دونوں چند لمحات خاموش کھڑے رہتے ہیں آخر میں کرشن کمار ندامت بھرے لہجے میں کرشنا کماری سے کہتا ہے ’’مجھے معاف کر دو۔ آئندہ مجھ سے کبھی ایسی وحشیانہ حرکت نہیں ہوگی‘‘ کرشنا کماری اس کی سادگی سے بہت متاثر ہوتی ہے جب وہ اس سے کہتا ہے میں کسی سے کچھ نہیں کہتا ٗ لیکن یہ لڑکے میری طرف دیکھ دیکھ کر کیوں ہنستے ہیں۔ کیوں چھیڑتے ہیں کیوں تنگ کرتے ہیں۔ مجھے کیچڑ میں لت پت کر دیا ہے۔ یہ میرا کوٹ پھاڑ دیا ہے۔ جو میرے باپ کا ہے۔\n\nکرشنا کماری اُس سے ہمدردی کرتی ہے اور اُسے بتاتی ہے کہ لڑکے اس کو صرف اس لیے چھیڑتے ہیں کہ اس کا لباس پرانی وضح کا ہے۔ اگر وہ اس طرح کا لباس پہننا شروع کر دے جیسا کہ دوسرے پہنتے ہیں تو اسے کوئی نہیں ستائے گا۔\n\nکرشنا کماری کی باتیں کرشن کمار کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہیں جُگدیش اور اُس کے ساتھی جھاڑیوں کے پیچھے سے ان دونوں کو باتیں کرتے دیکھ لیتے ہیں۔\n\nہوسٹل کرشن کمار اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑا ہے اور سُوٹ کا معائنہ کررہا ہے اس دوران میں وہ ایک گانا گاتا ہے بڑے جذبات بھرے انداز میں، اُس کے گانے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی کے عشق میں گرفتار ہوگیا ہے۔\n\nساتھ والے کمرے میں جُگدیش ڈنٹر پیل رہا ہے اور ڈسیل پھیر رہا ہے جب اُسے گانے کی آواز آتی ہے تو وہ بہت حیران ہوتا ہے۔ دروازہ کھول کر وہ باہر نکلتا ہے اور یہ معلوم کرتا ہے کہ ساتھ والے کمرے میں کوئی گا رہا ہے باہر نکلتا ہے اور کمرے کے دروازے پر دستک دیتا ہے اندر سے آواز آتی ہے آ جاؤ۔ ’’جُگدیش دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ کرشن کمار نیا سوٹ پہنے کھڑا ہے جب دونوں کی آنکھیں چار ہوتی ہیں تو کرشن کمار کہتا ہے۔ آپ لڑنے آئے ہیں تو مہربانی کر کے یہاں سے چلے جائیے کیونکہ میں اب کسی پر ہاتھ نہیں اُٹھاؤں گا جُگدیش مسکراتا ہے اور اپنے تیل لگے بدن کی طرف دیکھتا ہے نہیں نہیں میں لڑنے نہیں آیا صلح کرنے آیا ہوں یہ کہہ کر وہ اپنے ہاتھ بڑھاتا ہے جسے کرشن کمار قبول کر لیتا ہے اس کے بعد جگدیش اس کے گانے کی تعریف کرتا ہے اور کہتا ہے دوست ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے دل کو لگی ہے آواز میں بہت درد ایسے ہی پیدا نہیں ہوا ضرور کسی کی ترچھی نظر نے تمھیں گھائل کیا ہے۔ کرشن کمار بہت سادہ لوح ہے فوراً ہی اپنے دل کا راز جگدیش کو بتا دیتا ہے’’ اب تم نے دوست کہا ہے تو تم سے پردہ اُس لڑکی کرشنا کماری نے ایسی پیاری پیاری باتیں کی ہیں کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ میرے دل کو کیا ہوگیا ہے بڑی شریف اور بڑی ہمدرد لڑکی ہے اُس نے مجھے بتایا کہ تم لوگ مجھے کیوں چھیڑتے ہو اب دیکھ لو اُس کے کہنے پر میں نے تین سُوٹ بنوا لیے ہیں۔ جُگدیش اس کا ہمراز بن جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے تمھیں عشق ہو گیا ہے سمجھے یعنی تمہارا دل جو ہے نا وہ اس لڑکی پر آگیا ہے اب تمھیں یہ چاہئیے کہ تم اس لڑکی پر اپنے عشق کا اظہار کر دو اگر تم نے اپنی محبت کو اپنے پہلو میں دبائے رکھا تو اسے زنگ لگ جائے گا اور دیکھو عورت کو اپنی طرف مائل کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ تم اُسے کوئی تحفہ دو انگوٹھی بُندے جھمکے کچھ بھی۔\nسادہ لوح کرشن کمار جگدیش کی یہ سب باتیں اپنے پلے باندھ لیتا ہے۔\n\nکالج کے باغیچے میں کرشنا کماری ایک بنچ پر بیٹھی ہے کرشن کمار آہستہ آہستہ اُس کے پاس جاتا ہے جس طرح جگدیش نے کہا تھا اس طرح وہ اس پر اپنے عشق کا اظہار کرتا ہے بڑے خام انداز میں اس کے بعد وہ اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی ڈبیا نکالتا ہے اور کرشنا کماری کو سونے کے جھمکے تحفے کے طور پر پیش کرتا ہے کرشنا کماری یہ ڈبیا غصے میں آ کر ایک طرف پھینک دیتی ہے۔ کرشن کمار کو صدمہ پہنچتا ہے اور حیرت بھی ہوتی ہے چونکہ وہ بے حد سادہ لوح ہے اس لیے وہ ساری بات کرشنا کو بتا دیتا ہے مجھے جُگدیش نے کہا تھا کہ دل میں کوئی بات نہیں رکھنی چاہیے، مجھے کئی راتوں سے نیند نہیں آئی میں ہر وقت تمہارے متعلق سوچتا رہتا ہوں۔ تم نے کیوں مجھ سے ہمدردی کا اظہار کیا تھا اگر میرے دل میں تمہارے لیے محبت پیدا ہوئی ہے تو یہ تمہار اقصور ہے میرا نہیں۔ یہ جھمکے تو میں نے تمھیں دینے ہیں ان سے میری محبت ظاہر نہیں ہوتی یہ تو مجھ سے جُگدیش نے کہا تھا کہ ایسے موقوں پر تحفہ ضرور دینا چاہیے میں تو اپنی ساری زندگی تمھیں تحفے کے طور پر دینے کے لیے تیار ہوں۔\n\nجب کرشنا کماری کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جگدیش نے اسے بیوقوف بنانے کی کوشش کی تھی اور وہ کرشن کمار کی صاف گوئی سے متاثر ہوتی ہے تو وہ جھمکوں کی ڈبیا اُٹھا لیتی ہے اور اپنے پاس رکھ لیتی ہے اور اس سے کہتی ہے مجھے تمہارا یہ تحفہ قبول ہے۔ کرشن کمار بہت خوش ہوتا ہے جھمکے لے کر کرشن کماری کچھ اور کہے سُنے بغیر چلی جاتی ہے کرشن کمار چند لمحات خاموش کھڑا رہتا ہے اتنے میں جُگدیش اور ستیش دونوں جھاڑیوں کے پیچھے سے نکلتے ہیں اور کرشن کمار کو مبارکباد دیتے ہیں کرشن کمار بہت جھینپتا ہے اس کے ساتھ ہی وہ جُگدیش سے کہتا ہے ’’مگر یار تم نے تو کہا تھا کہ میں یہ بات کسی کو نہیں بتلاؤں گا۔‘‘\nستیش کی طرف دیکھ کر وہ پھر کہتا ہے ان کو بھی پتہ لگ گیا ہے جُگدیش کرشن کمار کو تسلی دیتا ہے کہ ستیش اپنا آدمی ہے وہ کسی سے کچھ نہیں کہے گا چنانچہ ستیش بھی کرشن کمار کو ہر ممکن تسلی دیتا ہے کہ وہ اس کے عشق کا راز کسی کو نہیں بتائے گا۔\n\nطویلے میں چرنجی ساز پالش کررہا ہے۔ تانگے کی پیتل کی چیزیں پالش کررہا ہے گھوڑے کو مالش کررہا ہے جب مالش کرتا ہے تو اُس سے پیار و محبت کی باتیں کرتا ہے۔ دوست تم نے میری بہت خدمت کی ہے اگر تم نہ ہوتے تو جانے زندگی کتنی کٹھن ہو جاتی تم نے اور میں نے دونوں نے مل کر مُنی کو پڑھایا ہے اتنے میں اس کے دو تین دوست جو تانگے والے ہیں، آتے ہیں ان میں ایک چرنجی سے کہتا ہے یہ تم گھوڑے سے کیا باتیں کر رہے ہو جیسے یہ سب کچھ سمجھتا ہے۔ چرنجی گھوڑے کی پیٹھ پر تھپکی دیتا ہے اور کہتا ہے انسانوں سے حیوانوں کی دوستی اچھی میرے بھائی۔ انھیں کوئی ورغلا تو نہیں سکتا۔ غلام محمد تیری جان کی قسم سچ کہتا ہوں اس جانور نے میری بڑی خدمت کی ہے تانگے میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے جوتے رکھا ہے غریب اتنے میں پٹھان آتا ہے چرنجی اس کو سلام کرتا ہے اور اپنے تہمند کے ڈب سے نوٹ نکالتا ہے اور کہتا ہے۔\n\n’’خان صاحب یہ رہے آپ کے سو روپے کھر ے کر لیجیے۔ باقی رہے سو ا س کا بھی بندوبست ہو جائے گا۔ یہ میرا گھوڑا سلامت رہے۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ بڑے فخر سے اپنے گھوڑے کی طرف دیکھتا ہے پٹھان نوٹ لے کر چلا جاتا ہے اتنے میں ایک تانگے والا چرن جی سے کہتا ہے تم لڑکی کو پڑھانا شروع کر کے خواہ مخواہ ایک جنجال میں پھنس گئے ہو۔ کوئی نہ کوئی قرض خواہ تمہارے پیچھے لگا ہی رہتا ہے۔ چرنجی ہنستا ہے سب سے بڑی قرض خواہ میری بیٹی ہے اس کا قرض ادا ہو جائے تو ایسے لاکھ قرض لینے والے میرے پیچھے پھرتے ہیں مجھے کوئی پروانہ نہیں تم میں سے کوئی افیم کا نشہ کرتا ہے کوئی شراب کا مجھے بھی ایک نشہ ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ میری لڑکی دولت مند آدمیوں کی لڑکیوں کی طرح پڑھ رہی ہے تو میرا دل و دماغ ایک عجیب نشے سے جھومنے لگتا ہے عورت کو ضرور تعلیم حاصل کرنی چاہیے میرے بھائی اس کے قدم مضبوط ہو جاتے ہیں یہ کہہ کر وہ گھوڑے کو تھپکی دیتا ہے اور خوش خوش باہر نکلتا ہے تاکہ گھر جائے۔\nاندر آئینہ سامنے رکھے کرشنا کماری اپنے کانوں میں کرشن کمار کے دئیے ہوئے جھمکے پہنے بیٹھی ہے اور انھیں پسندیدہ نظروں سے دیکھ رہی ہے گیت گا رہی ہے اور جیسے بے خود سی ہو رہی ہے جھمکے اسے بہت پسند آئے ہیں اس پسندیدگی کا اظہار اُس کی ہر حرکت سے معلوم ہوتا ہے۔\n\nچرنجی آتا ہے گھر کے اندر داخل ہوتے ہی وہ گانے کی آواز سنتا ہے۔\n\nکرشنا کماری بدستور گانے میں مشغول ہے دفعتاً پاگلوں کی طرح چرنجی اندر داخل ہوتا ہے کرشن کماری ایک دم گانا بند کر کے دونوں ہاتھوں سے اپنے کانوں کو ڈھانپ لیتی ہے چرنجی آگے بڑھتا ہے زور سے کرشنا کماری کے دونوں ہاتھ نیچے جھٹک دیتا ہے۔ قریب ہے کہ جھمکوں کو اس کے کانوں سے نوچ لے۔ کرشن کماری خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹتی ہے چرنجی پاگلوں کی طرح اُس کی طرف بڑھتا ہے اور چلانا شروع کر دیتا ہے کہاں سے لیے ہیں تو نے جھمکے کہاں سے لیے ہیں یہ جھمکے ’’وہ اس قدر زور سے چلاتا ہے کہ ایک دم اسے چکر آ جاتا ہے۔ جذبات سے اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا جاتا ہے اس کی بلند آواز بالکل دھیمی ہو جاتی ہے کہاں سے لیے ہیں یہ جھمکے۔ سر کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر وہ چارپائی پر بیٹھ جاتا ہے اس کی لڑکی فوراً پنکھا لے کر جھلنا شروع کر دیتی ہے۔\n\nچند لمحات کی خاموشی کے بعد وہ ایک گلاس پانی مانگتا ہے۔ کرشن کماری اس کو پانی پلاتی ہے پانی پینے کے بعد وہ کرشنا کماری سے پھر پوچھتا ہے منی یہ جھمکے تو نے کہاں سے لیے ہیں کرشنا کماری تھوڑے سے توقف کے بعد ذرا حکمت سے جھوٹ بولتے ہوئے جواب دیتی ہے’’ کالج کی ایک سہیلی نے دئیے ہیں۔ چرنجی اپنی لڑکی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا ہے اور کہتا ہے اپنی سہیلی کو واپس دے آؤ۔ لڑکی پوچھتی ہے کیوں پتا جی چرنجی جواب دیتا ہے۔ تمہاری ماں کو یہ زیور پسند نہیں تھا یہ کہہ کر وہ اُٹھتا ہے اور بیماروں کی طرح قدم اُٹھاتا باہر چلا جاتا ہے اُس کی لڑکی اُس سے پوچھتی ہے۔ ’’کھانا نہیں کھائیں گے آپ؟‘‘\n\nچرنجی جواب دیتا ہے ’’نہیں۔‘‘\n\nباہر نکل کر چرنجی گھوڑے کی باگیں تھامتا ہے۔ اور تانگہ چلاتا ہے اور (گھوڑے کو) مخاطب کر کے اُس سے کہتا ہے آج میری لڑکی نے پہلی بار جھوٹ بولا ہے اور افسردگی کے عالم میں وہ تانگے پر کئی بازاروں کے چکر لگاتا ہے حتیٰ کہ رات ہو جاتی ہے۔\n\nایک نیم روشن بازار میں سے اُس کا تانگہ گزر رہا ہے اچانک ایک عورت چند مردوں کی جھپٹ سے نکل کر تیزی سے چرنجی کے تانگے کی جانب بڑھتی ہے وہ لڑ کھڑاتے ہوئے قدموں سے بھاگتی تانگے کی پچھلی نشست پر بیٹھ جاتی ہے یہ عورت شراب کے نشے میں چور ہے۔ زیورات سے لدی ہوئی ہے تانگے میں بیٹھتے ہی وہ چرنجی سے باتیں شروع کر دیتی ہے۔ ‘‘مجھے چھیڑتے تھے اُلو کے پٹھے پر میں دام لیے بغیر کسی کو ہاتھ لگانے دیتی ہوں کیوں تانگے والے تمہارا کیا خیال ہے۔ دنیا میں پیسہ ہی تو ہے تم کچھ بولتے نہیں۔ مجھے یاد آیا میرا پتی ایک تانگے والا ہی تھا پر اُس کے پاس اتنے پیسے بھی نہ تھے کہ مجھے نگوڑے جھمکے لا دیتا لیکن اب دیکھو میری طرف یہ کڑے ٗ یہ گُلوبند ٗ یہ انگوٹھیاں ایک سے ایک بڑھ کر یہ کہہ کر وہ درد بھرے انداز میں ہنستی ہے۔ عصمت کا گہنا اتر جائے تو یہ زیور پہننے ہی چاہئیں۔\n\nچرنجی پہچان لیتا ہے کہ یہ عورت کون ہے اُس کی بیوی تھی جو اس حالت کو پہنچ چکی تھی۔ چرنجی کمبل سے اپنا چہرہ قریب قریب چھپا لیتا ہے اس پر طوائف اُس سے کہتی ہے تم کیوں اپنا چہرہ چھپاتے ہو چھپانا تو مجھے چاہیے یہ چہرہ جس پر کئی پھٹکاریں پڑی ہیں یہ کہہ کر وہ پھر ہنستی ہے تم خاموش کیوں ہو تانگہ روک دو میرا گھر آگیا ہے چرنجی تانگہ روک دیتا ہے طوائف پائیدان پر پاؤں رکھ کر اُترنے لگتی ہے کہ لڑکھڑا کر گرتی ہے اوندھے منہ چرنجی دوڑ کر اُسے اُٹھاتا ہے طوائف ہنستی ہے گرنے والوں کو اُٹھایا نہیں کرتے میری جان یہ کہہ کر جب وہ گھر کی طرف چلنے لگتی ہے تو لڑکھڑا کر پھر گرتی ہے۔ چرنجی اس کو تھام لیتا ہے اور اُس کو اُس کے گھر تک چھوڑ آتا ہے جب چلنے لگتا ہے تو طوائف اس کو کرایہ دیتی ہے چرنچی کرایہ لے لیتا ہے طوائف اس کا بازو پکڑ کر اندر گھسیٹتی ہے ’’آؤ میری جان آؤ آج کی رات میرے مہمان رہو میں تم سے ایک پیسہ بھی نہیں لوں گی آؤ شراب کی پوری بوتل پڑی ہے اوپر آؤ۔‘‘\n\nچرنجی تانگے میں بیٹھ کر چلا جاتا ہے۔ طوائف ہنستی ہے اور کہتی ہے بیوقوف کہیں کا مفت کی قاضی بھی نہیں چھوڑتا۔\n\nچرنجی گھر پہنچتا ہے جب اندر داخل ہوتا ہے تو اُسے رونے کی آواز سنائی دیتی ہے کمرے میں جا کر دیکھتا ہے کہ اس کی لڑکی بستر پر اوندھے منہ لیٹی ہے اور زار زار رو رہی ہے چرنجی اُس کے پاس جاتا ہے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے اور رونے کا سبب پوچھتا ہے اس کی لڑکی اور زیادہ رونا شروع کر دیتی ہے جب چرنجی دوبارہ اس سے رونے کا سبب پوچھتا ہے تو وہ کہتی ہے مجھے ماں یاد آرہی ہے اگر وہ آج زندہ ہوتیں تو میں میں وہ اس کے آگے کچھ نہیں کہہ سکی اور باپ کے پاؤں پکڑ کر کہتی ہے مجھے معاف کر دیجیے پتا جی میں نے آج آپ سے جھوٹ بولا ہے چرنجی کہتا ہے مجھے معلوم ہے۔ اس پر اس کی لڑکی کہتی ہے اگر آج میری ماتا جی ہوتیں تو میں نے یہ جھوٹ کبھی نہ بولا ہوتا بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو لڑکیاں صرف اپنی ماؤں کو ہی بتا سکتی ہیں چرنجی اپنی لڑکی کو اُٹھاتا ہے اور اپنے پاس بٹھاتا ہے میں تمہاری ماں ہوں ’’بولو کیا بات ہے شرماؤ نہیں۔‘‘ کرشنا کماری جھینپ جاتی ہے اور شرما کر کہتی ہے ’’ یہ جھمکے مجھے کالج کے ایک لڑکے نے دئیے ہیں پتا جی۔ وہ بہت ہی اچھا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل جاتی ہے سسکیاں لیتی ہوئی چرنجی بستر پر پڑے ہوئے جھمکوں کو اُٹھاتا ہے اور اُن کی طرف دیکھتا ہے۔\n\nچرنجی کا تانگہ کالج کے دروازے میں داخل ہوتا ہے کرشنا کماری اپنی کتابیں لے کر نیچے اُترتی ہے چرنجی اپنی جیب سے جھمکوں کی ڈبیا نکالتا ہے اور لڑکی کو دے کر کہتا ہے اسے آج واپس کر دینا ’’کرشنا کماری ڈبیا لے کر خاموشی سے چلی جاتی ہے آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتی وہ کالج کے باغیچے کی طرف بڑھتی ہے۔ باغیچے میں ایک بنچ پر کرشن کمار بیٹھا ہے اور ایک خط پڑھ رہا ہے کرشنا کماری کو دیکھ کر وہ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اس سے باتیں شروع کر دیتا ہے۔ ماتا جی کا خط آیا ہے لو پڑھو نہیں ٹھہرو۔ میں پڑھ کے سُناتا ہوں پر تم ہنسنا نہیں، میری ماں بے چاری سیدھی سادی دیہاتی ہے میں نے ان کو تمہاری بات لکھی ہے میں اُن سے کوئی بات چھپا کر نہیں رکھتا سُنو انھوں نے کیا لکھا ہے بیٹا کمار ایسی کوئی بات نہ کرنا جس سے اس لڑکی کی بدنامی ہو اس کے ماں باپ سے ملو اور کہو جیسی وہ ان کی بیٹی ہے ویسے ہی تم ان کے بیٹے ہو میری طرف سے اُس کو آشیرواد دینا تم جُگ جُگ جیو اور باقی احوال یہ ہے کہ میں نے خالص گھی کی اپنے ہاتھ سے یہ مٹھائی بنائی ہے جو تمھیں بھیج رہی ہوں اس میں آدھا حصہ تمہاری کرشنا کماری کا ہے۔ کہنا تمہاری ماتا جی نے بھیجا ہے۔ کرشنا کماری دم بخود یہ باتیں سنتی رہتی ہے کرشن کمار اس رو میں باتیں کرتا رہتا ہے اور کرشنا کماری کو موقع ہی نہیں ملتا کہ وہ کچھ کہہ سکے دیکھا میری ماں کتنی سیدھی سادھی ہے انھوں نے مٹھائی بھیجی ہے بالکل خراب تھی۔ پر میں ساری کی ساری کھا گیا ہوں کیا کرتا اگر نہ کھاتا تو ناراض ہو جاتیں۔ میں بھی بالکل ان جیسا ہوں اگر تم نے اس روز میرا تحفہ قبول نہ کیا ہوتا تو میرا دل ٹوٹ جاتا جانے میں کیا کر بیٹھتا کرشنا کماری کچھ کہنا چاہتی ہے مگر اس کی آواز رندھ جاتی ہے جھمکے واپس دینا چاہتی ہے نہیں دے سکتی۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے ہیں ایک دم تیزی سے مڑتی ہے اور کرشن کمار کو وہیں چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔\n\nکرشنا کماری تیزی سے جارہی ہے کہ اس کی مڈ بھیڑ جُگدیش اور ستیش سے ہوتی ہے دونوں اُس کی طرف غور سے دیکھتے ہیں کیونکہ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہیں کرشنا کماری چلی جاتی ہے جگدیش اور ستیش ایک دوسرے کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے اُس طرف بڑھتے ہیں جدھر کرشن کمار بیٹھا ہے۔\n\nجُگدیش اور ستیش دونوں کمار سے ملتے ہیں جُگدیش اُس سے کہتا ہے ’’کمار تم نے یہ کیا غضب کر دیا بے چاری رو رہی تھی بھئی یہ رومانس اچھا رہا مارا وارا تو نہیں تم نے ‘‘\n\nکرشن کمار سادہ لوحی کے ساتھ مسکراتا ہے اور کہتا ہے ایک خاص بات تھی جُگدیش نے اُس سے یہ خاص بات دریافت کی تو کرشن کمار کہتا ہے ایک خاص بات تھی جگدیش پھر اُس سے یہ خاص بات دریافت کرتا ہے کرشن کمار کہتا ہے۔ بھئی سب باتیں تمھیں نہیں بتا سکتا۔ کہہ جو دیا ایک خاص بات تھی یہ کہہ کر وہ چلا جاتا ہے جگدیش اور ستیش دونوں اکیلے رہ جاتے ہیں دونوں بینچ پر بیٹھ جاتے ہیں اور کرشنا کماری کے متعلق باتیں شروع کر دیتے ہیں جُگدیش کہتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ فلرٹ ہے اُس کو حاصل کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ تانگے والے سے بات چیت کی جائے وہ اُس کے سارے بھید جانتا ہوگا باہر ہی باہر معاملہ طے ہو جائے گا اور یہاں کالج میں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوگی۔ ستیش کو یہ بات پسند آتی ہے چنانچہ طے ہوتا ہے کہ جگدیشن تانگے والے سے بات چیت کرے۔\n\nچرنجی کالج کے باہر تانگہ لیے کھڑا ہے پاس ہی پان سگریٹ والے کی دُوکان ہے یہاں جُگدیش کھڑا ہے پان والے سے پان اور سگریٹ لیتا ہے اور چرنجی کی طرف بڑھتا ہے گھوڑے کو تھپکی دیتا ہے پھر اس کی تعریف کرتا ہے اس طرح وہ چرنجی سے آہستہ آہستہ گفتگو شروع کر دیتا ہے آخر میں وہ باتوں باتوں میں چرنجی سے کہتا ہے ’’استاد ہر عیش کرتے ہو ہر روز ایک پٹاخہ سی لونڈیا اس تانگے میں بٹھا کر لاتے ہو اور لے جاتے ہو اچھا میں نے کہا۔ کچھ ہماری دال گل سکتی ہے اور اُستاد تم چاہو تو سب کچھ کرسکتے ہو تمہارے دائیں ہاتھ کا کام ہے ایسا ہی ایک تانگہ گھوڑا بن جائے گا۔ اگر ہمارا کام ہو جائے ، چرنجی ہنستا رہتا ہے جگدیش کو اور شہہ ملتی ہے’’ اماں ہم سب جانتے ہیں کہ لونڈیا ایسی نہیں کہ ہاتھ نہ آسکے۔ کالج میں اس کا ایک لڑکے سے سلسلہ جاری ہے۔ چرنجی اب کچھ دلچسپی لیتا ہے اور جگدیش سے چند باتیں دریافت کرتا ہے جگدیش اسے بتاتا ہے کہ اس لڑکی کرشنا کماری پر کالج میں ایک لڑکا جو بہت بدمعاش ہے ڈورے ڈال رہا ہے اور اُس لڑکے سے وہ کانوں کے جھمکے بھی لے چکی ہے۔\n\nیہ سب باتیں بتانے کے بعد جگدیش چرنچی سے کہتا ہے ‘‘دیکھو اگر اس کو زیوروں کا ہی شوق ہے تو ہم بڑھیا بڑھیا چیز دے سکتے ہیں تم یہ باتیں اپنے طور سے اس کے ساتھ کرنا سمجھے۔ اس قسم کی چند باتیں ہونے کے بعد طے ہوتا ہے کہ جگدیش شام کو کمپنی باغ کے پاس فلاں فلاں مقام پر چرنجی کا انتظار کرے جب لڑکی جھٹ مان جانے والی ہے تو چرنجی سارا معاملہ ٹھیک کر دے گا۔‘‘\n\nاسی روز شام کو جُگدیش مقررہ جگہ پر پہنچ جاتا ہے کھمبے کے ساتھ کھڑا سگریٹ پی رہا ہے اتنے میں عین وقت پر چرنجی کا ٹانگہ سڑک پر نمودار ہوتا ہے چرنجی کھمبے کے پاس اپنا تانگہ روکتا ہے جگدیش بہت خوش ہو کر چرنجی سے کہتا ہے ‘‘بھئی بالکل انگریز ہو ٹھیک وقت پر آئے ہو نہ ایک منٹ اُدھر نہ ایک منٹ ادھر چرنجی مسکراتا ہے اور کہتا ہے، اب آپ وقت ضائع نہ کیجیے اور بیٹھ جائیے تانگے میں میں آپ کو سیدھا راستہ بتا دُوں جُگدیش خوش خوش تانگے میں بیٹھ جاتا ہے اور چرنجی کو ایک سگریٹ پیش کرتا ہے تانگہ چلتا ہے۔\n\nجُگدیش چرنجی کے ساتھ لڑکی کی باتیں کرتا رہتا ہے تانگہ مختلف سڑکیں طے کرنے کے بعد ایک ویران سی جگہ پر پہنچتا ہے چرنجی باگیں کھینچ کر گھوڑا ٹھہرا تا ہے بڑے اطمینان سے اپنا کمبل اور پگڑی اتار کر اگلی نشست پر رکھتا ہے اور آستینیں چڑھا کر جگدیش سے کہتا ہے آئیے آپ کی لڑکی سے ملاقات کرا دوں’’ جُگدیش چرنجی کی طرف شک کی نظروں سے دیکھتا ہے مگر چرنجی اس کا بازو پکڑ تا ہے اور کھینچ کر جھاڑیوں کے پیچھے لے جاتا ہے چند لمحوں کے بعد جُگدیش کا ہیٹ سڑک پر آگرتا ہے۔\n\nکالج کا ہوسٹل جُگدیش کا کمرہ باہر دروازے پر جُگدیش کا نام پیتل کے بورڈ پر لکھا ہوا ہے ستیش آتا ہے اور دروازے پر دستک دیتا ہے دروازہ کھلتا ہے ستیش اندر داخل ہوتا ہے کیا دیکھتا ہے کہ جُگدیش کا سر منہ سُوجا ہوا ہے اور کئی پٹیاں اس کے جسم پر بندھی ہیں۔ ستیش اس سے پوچھتا ہے یہ کیا ہوگیا ہے تمھیں جُگدیش اسے کرسی پر بٹھاتا ہے اور سارا قصہ سُناتا ہے بھئی یہ تو برسوں کی ورزش کام آگئی ورنہ بندے کا تو کل کام تمام ہوگیا ہوتا۔ میں نے تانگے والے سے تمام معاملہ طے کر لیا چنانچہ وہ مجھے کمپنی باغ میں ملا لڑکی وہاں موجود تھی اُس سے باتیں بھی ہوئیں لیکن ستیش کے ہمراہ وہاں تین چار اور چاہنے والے آگئے۔ مجھے اُس کے ساتھ دیکھ کر جل ہی تو گئے اُن میں سے ایک نے مجھ پر کوئی ریمارکس کسا۔ لڑکی میرے ساتھ تھی میں نے دل میں کہا جُگدیش یہاں خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ چنانچہ میں اُٹھا اور ایک ایسا گھونسہ اُس سالے کی ٹھوڑی کے نیچے جمایا کہ دن کو تارے ہی نظر آ گئے ہوں گے بچہ جی کو ٗ بس پھر کیا تھا۔ باقاعدہ جنگ شروع ہوگئی۔ چاروں مجھ پر پل پڑے مگر ستیش میں نے بھی وہ ہاتھ دکھائے کہ یاد ہی کرتے ہوں گے ایک ایک کو فرش کر کے رکھ دیا۔ کچھ چوٹیں مجھے بھی آگئیں ساتھ والے کمرے میں یہ سب باتیں کرشن کمار سنتا ہے کیونکہ دونوں کمروں کے درمیان لکڑی کا ایک پردہ ہے جو اوپر سے خالی ہے ستیش جُگدیش کی سب باتیں سُن کر کہتا ہے اور بھائی ایسے موقعوں پر کون کس کی مدد کرتا ہے تم کیا بچوں ایسی باتیں کرتے ہو اتنے میں جُگدیش کے کمرے کا دروازہ کھلتا ہے اور کرشن کمار غصے میں بھرا ہوا داخل ہوتا ہے جُگدیش سے کہتا ہے ’’تم نے جو کچھ کہا ہے جھوٹ ہے تم ایک شریف لڑکی پر بہتان باندھ رہے ہو‘‘ جُگدیش سنتا ہے اور کہتا ہے ’’میرا کچومر نکل گیا ہے اور تم کہتے ہو بہتان باندھ رہا ہوں یقین نہ ہو تو تانگے والے سے پوچھ لو جو مجھے لے گیا تھا غصے میں آکر چونکہ اُس کی محبوبہ کی عزت پر حملہ کیا گیا ہے۔‘‘ کرشن کمار زور سے ایک چانٹا جُگدیش کے منہ پر مارتا ہے اور کہتا ہے بکواس مت کرو لیکن فوراً ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے ’’مجھے معاف کر دو جُگدیش یہ چانٹا تمہارے منہ پر نہیں اس تانگے والے کے منہ پر مارنا چاہیے تھا جو اس کی زندگی تباہ کررہا ہے یہ کہہ کر چلا جاتا ہے۔‘‘\n\nکرشن کمار اپنے کمرے میں آتا ہے میز پر بیٹھتا ہے کاغذ لے کر خط لکھنا شروع کر دیتا ہے مگر چند سطریں لکھ کر کاغذ پھاڑ دیتا ہے کرسی پر سے اُٹھ کھڑا ہوتا ہے کمرے میں اضطراب کے ساتھ ادھر ادھر زور سے ٹہلتا ہے سامنے کھونٹی پر اپنا سُوٹ دیکھتا ہے اُسے اُتار کر اپنے پیروں میں روند دیتا ہے کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ تو پلنگ پر اوندھے منہ لیٹ جاتا ہے پھر اٹھ کر کھڑا ہوتا ہے اور کھڑکی کے پاس جا کر درد بھری دھن میں کوئی گیت گاتا ہے چرنجی کھانا کھا رہا ہے پاس ہی اس کے اس کی لڑکی بیٹھی ہے چرنجی منہ میں نوالہ ڈالنے ہی والا تھا کہ اسے کوئی بات یاد آتی ہے چنانچہ وہ اپنی لڑکی سے پوچھتا ہے ’’مُنی تم نے جھمکے واپس کیے، کرشنا کماری جھوٹ نہیں بولتی ‘‘ پتا جی میں اس کو واپس دینے گئی پر دے نہ سکی۔ چرنجی نوالہ وہیں تھال میں رکھ دیتا ہے اور پوچھتا ہے ’’کیوں؟ کرشنا کماری کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں وہ صرف اتنا کہہ سکتی ہے مجھے معلوم نہیں’’ چرنجی اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اور کھانا کھائے بغیر باہر چلا جاتا ہے۔\n\nایک آدمی عینک لگائے ڈیسک کے ساتھ بیٹھا ہے چرنجی سے کہتا ہے یہاں انگوٹھا لگاؤ۔ چرنجی اپنا انگوٹھا آگے بڑھا دیتا ہے اس پر وہ آدمی سیاہی لگاتاہے اور پکڑ کر کاغذ پر جما دیتا ہے انگوٹھا لگانے کے بعد وہ ڈیسک سے نوٹ نکالتا ہے اور چرنجی کے حوالے کر دیتا ہے چرنجی نوٹ لے کر باہر نکلتا ہے۔\n\nباہر ایک شیڈ کے نیچے اس کا ایک تانگہ گھوڑا کھڑا ہے چرنجی اپنے انگوٹھے کی سیاہی دیکھتا اس کی جانب بڑھتا ہے ایک ہاتھ میں اس نے نوٹ پکڑے ہوئے ہیں آہستہ آہستہ گھوڑے کے پاس جاتا ہے اور اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر گلو گیر آواز میں کہتا ہے ’’بیچ آیا ہوں تجھے دوست یہ دیکھ اپنی قیمت‘‘ یہ کہہ کر وہ گھوڑے کے منہ کے آگے اپنا وہ ہاتھ پھیلا دیتا ہے جس میں نوٹ ہیں۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو ہیں لوگ اپنا ایمان بیچتے ہیں میں تجھے بیچ آیا ہوں تو جو کہ میرا سچا دوست تھا آواز چرنجی کے گلے میں رندھ جاتی ہے تو بول نہیں سکتا تو تیری زبان ہوتی تو میں تیرے منہ سے سُنے بغیر کبھی نہ جاتا کہ چرنجی تو جھوٹا ہے مطلبی ہے۔ دغا باز ہے جس طرح وقت پڑنے پر لوگ گلے کا کنٹھا اُنگلی کی انگوٹھی بیچ دیتے ہیں اس طرح تو نے مجھے بیچ دیا ہے لعنت ہے تجھ پر یہ کہہ کر وہ اپنا انگوٹھا دیکھتا ہے اور گھوڑے سے کہتا ہے یہ سیاہی دیکھی تم نے اس سودے کی مالک ہے مگر میں تیرے ساتھ کیوں باتیں کروں تو اب میرا نہیں مجھے تجھ پر کوئی حق نہیں رہا۔ آخری بار چرنجی منہ پر ے کر کے گھوڑے کی پیٹھ پر تھپکی دیتا ہے۔\n\nرات کا وقت ہے چرنجی کمبل اوڑھے پیدل چلا آرہا ہے راستے میں ایک تانگے والا تانگہ ٹھہرا کر اس سے پوچھتا ہے ’’آج تانگہ گھوڑا نہیں جوتا چرنجی۔ چرنجی جواب دیتا ہے آج نہیں جوتا۔ میری طبیعت اچھی نہیں تھی۔ یہ کہہ کر وہ چلنا شروع کر دیتا ہے۔ گھر میں چرنجی کی لڑکی کرشنا کماری لالٹین جلائے انتظار کررہی ہے۔ کبھی اُٹھتی ہے کبھی بیٹھتی ہے اسے کسی پہلو چین نہیں اتنے میں دروازہ پر دستک ہوتی ہے وہ اُٹھ کر دروازہ کھولتی ہے چرنجی اندر داخل ہوتا ہے کرشنا کماری اُس سے پوچھتی ہے پتا جی آج آپ اتنی دیر سے آئے ہیں کہاں چلے گئے تھے۔ چرنجی اپنے کمبل سے ایک پوٹلی نکالتا ہے اور اُسے کھول کر اپنی لڑکی کو دیتا ہے یہ زیور لانے گیا تھا تیرے لیے تجھے شوق جو ہے ان کا اب تو تیرا دل نہیں للچائے گا تو کہے گی تو میں ایسے اور زیور بھی لا دوں گا اپنا آپ بھی بیچ ڈالوں گا تیرے دل میں للچاہٹ پیدا نہ ہونے دُوں گا۔ کرشنا کماری کبھی زیوروں کی طرف دیکھتی اور کبھی اپنے باپ کی طرف آخر میں کہتی ہے کوئی چیز بیچی ہے آپ نے یہ گہنے خریدنے کے لیے اگر آپ نے ایسا کیا ہے تو سخت غلطی کی ہے یہ کہتے ہوئے اُس کے ہاتھ سے زیور فرش پر گر پڑتے ہیں پتا جی میں نے کبھی ان چیزوں کو للچائی ہوئی نظروں سے نہیں دیکھا یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ مجھے ان چیزوں کا شوق ہے چرنجی اُس سے کہتا ہے تو نے وہ جھمکے واپس کیوں نہیں کیے۔‘‘\n\nکرشنا کماری کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں کاش میری ماں ہوتی اور میری بات سمجھ سکتیں کہ آپ سمجھتے ہیں کہ میں سونے چاندی کے لیے اپنا آپ بیچ دُوں گی آپ نے مجھے تعلیم دی ہے میرے قدم مضبوط کیے ہیں پتا جی میں آپ کی بیٹی ہُوں آپ نے میرا نہیں اپنا اپمان کیا ہے یہ کہہ کر وہ روتی روتی پاس پڑے ہوئے صندوقچے سے جھمکوں کی ڈبیا نکالتی ہے اور اپنے باپ کو دے کر کہتی ہے ’’لیجیے یہ جھمکے جس نے مجھے دیے تھے اُس کو آپ ہی واپس دے آئیے اگر آپ کہیں گے تو میں اُس کی یاد کو بھی اپنے دل سے نکال کر آپ کے قدموں میں رکھ دوں گی یہ کہہ کر وہ روتی ہوئی دوسرے کمرے میں چلی جاتی ہے۔ چرنجی فرش پر پڑے ہوئے زیوروں کی طرف دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ ‘‘\n\nکالج کا صدر دروازہ کرشن کمار خاموشی سے دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہے اُس کی نظریں دروازہ پر جمی ہوئی ہیں جُگدیش اور ستیش آتے ہیں ستیش اس سے پوچھتا ہے بڑی دیر سے یہاں خاموش کھڑے ہوکیا بات ہے۔ کرشن کمار ایک عزم کے ساتھ جواب دیتا ہے اُس بدمعاش تانگے والے کا انتظار کررہا ہوں آج اُس کو ایسا سبق سکھاؤں گا کہ ساری عُمر یاد رکھے گا۔ جُگدیش کرشن کمار کو تانگے والے کے خلاف اور زیادہ مشتعل کرتا ہے دفعتاً سب کی نظریں دروازے کی طرف اُٹھتی ہیں تانگے والا چرنجی کرشنا کماری دونوں پیدل اندر داخل ہوتے ہیں جُگدیش یہ دیکھ کر کہتا ہے آج تانگہ کہاں گیا اور کمپاؤنڈ میں داخل ہو کر چرنجی اپنی لڑکی کو کتابیں دیتا ہے کرشنا کماری دُور سے کرشن کمار کو دیکھتی ہے اور اُس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ چرنجی سر ہلا دیتا ہے کرشن کمار کرشنا کماری کا اشارہ دیکھ لیتا ہے کرشنا کماری ایک طرف چلی جاتی ہے کرشن کمار غصے میں بھرا سیدھا تانگے والے کی طرف بڑھتا ہے چرنجی بھی اُس کی طرف آرہا ہوتا ہے چرنجی کے پاس پہنچ کر کرشن کمار نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ کھینچ کر ایک چانٹا چرن جی کے منہ پر مارتا ہے اور کہتا ہے کہ اشارے ہو رہے تھے میری طرف کیا مجھے بھی تم اپنے جیسا بدمعاش سمجھتے ہو۔ ایک چانٹا وہ چرنجی کے منہ پر جما دیتا ہے۔ اُلو کے پٹھے شرم نہیں آتی تجھے پرائی لڑکیوں کو بُرے راستے پر لگاتے ہوئے کیا تیری کوئی لڑکی نہیں جو پیسے کے لالچ میں آ کر بھڑوے بنے ہوئے ہو چرنجی کے منہ سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے وہ آگے بڑھتا ہے کرشن کمار یہ سمجھ کر کہ وہ اُسے مارنا چاہتا ہے گھونسے بازی شروع کر دیتا ہے چرنجی اسے اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیتا ہے کرشن کمار گھونسے چلاتا رہتا ہے اتنے میں بہت سے لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں جن میں جُگدیش بھی شامل ہے ایک دو پٹیاں ابھی تک اسی کے سر پر بندھی ہوئی ہیں کرشنا کماری چیختی ہوئی آگے بڑھتی ہے اور کرشن کمار سے کہتی ہے ’’کمار یہ تم کیا کررہے ہو۔ یہ میرے پتا جی ہیں’’کرشن کمار متحیر ہو کر کہتا ہے ’’پتا جی۔ چرنجی کے منہ سے خون جاری ہے وہ مسکراتا ہے ہاں بیٹا میں اس کا پِتا ہوں اور تمہارا بھی یہ کہہ کر وہ کرشن کمار کو سینے سے لگا لیتا ہے جیتے رہو میں نے تم سے مار کھائی ہے لیکن اس جوان سے پوچھو کہ وہ جُگدیش کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ میرے بازوؤں میں کتنا بل ہے جُگدیش و", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%BE%D9%85%DA%A9%DB%92"} {"title": "جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا\nآئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا\n\nاس فتنے کو جگا کے پشیماں ہوئی نسیم\nکیا کیا عزیز لوگوں کو ان نے سلا دیا\n\nاب بھی دماغ رفتہ ہمارا ہے عرش پر\nگو آسماں نے خاک میں ہم کو ملا دیا\n\nجانی نہ قدر اس گہر شب چراغ کی\nدل ریزۂ خزف کی طرح میں اٹھا دیا\n\nتقصیر جان دینے میں ہم نے کبھو نہ کی\nجب تیغ وہ بلند ہوئی سر جھکا دیا\n\nگرمی چراغ کی سی نہیں وہ مزاج میں\nاب دل فسردگی سے ہوں جیسے بجھا دیا\n\nوہ آگ ہو رہا ہے خدا جانے غیر نے\nمیری طرف سے اس کے تئیں کیا لگا دیا\n\nاتنا کہا تھا فرش تری رہ کے ہم ہوں کاش\nسو تو نے مار مار کے آ کر بچھا دیا\n\nاب گھٹتے گھٹتے جان میں طاقت نہیں رہی\nٹک لگ چلی صبا کہ دیا سا بڑھا دیا\n\nتنگی لگا ہے کرنے دم اپنا بھی ہر گھڑی\nکڑھنے نے دل کے جی کو ہمارے کھپا دیا\n\nکی چشم تو نے باز کہ کھولا در ستم\nکس مدعی خلق نے تجھ کو جگا دیا\n\nکیا کیا زیان میرؔ نے کھینچے ہیں عشق میں\nدل ہاتھ سے دیا ہے جدا سر جدا دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%BE%D9%85%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%86_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%84%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جھولا", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آیا ساون کا مہینہ نظر آیا جھولا\nدل کو بھایا مری آنکھوں میں سمایا جھولا\nسال بھر رہ کے بہشتوں کی فضا میں مہماں\nابر کی گود میں بیٹھا ہوا آیا جھولا\nچولی دامن کا سا ہے ساتھ گھٹا کا اس کا\nاس طرف آئی گھٹا اس طرف آیا جھولا\nرت ہے جھولے کی نہ کیوں آج خدائی جھولے\nننھی کلیوں کو ہواؤں نے جھلایا جھولا\nپینگ بڑھنے لگی آنچل کو گھٹا کے چھونے\nباغ میں سکھیوں نے اس طرح جھلایا جھولا\nجھومتی آتی ہیں مستانہ گھٹائیں کیسی\nڈھونڈ کر ہے انہیں کس دیس سے لایا جھولا\nگیت سن سن کے گھٹائیں بھی بہک اٹھی ہیں\nمل کے سکھیوں نے کچھ اس دھوم سے گایا جھولا\nپھول ہلتے ہیں ادھر شاخ لچکتی ہے ادھر\nیا بہاروں کو ہے قدرت نے جھلایا جھولا\nدور پردیس میں ہم کس کو جھلائیں اخترؔ\nحسرت و یاس کا پیغام ہے لایا جھولا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%A7"} {"title": "جھوم کر آج جو متوالی گھٹا آئی ہے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جھوم کر آج جو متوالی گھٹا آئی ہے\nیاد کیا کیا تری مستانہ ادا آئی ہے\n\nایسے نازک کبھی پابند حنا ہوتے ہیں\nہاتھ دھو ڈالے ہیں رنگت جو ذرا آئی ہے\n\nتم بھی رخسار پہ زلفوں کو ذرا بکھرا دو\nکالی کالی سر گلزار گھٹا آئی ہے\n\nحسن اخلاق بھی ہے حسن جوانی کی طرح\nجھک گئی ہیں تری آنکھیں جو حیا آئی ہے\n\nہائے وہ کھول کے جوڑا یہ کسی کا کہنا\nآئیے سو رہیں اب رات سوا آئی ہے\n\nسچ ہے تم نے جو لگایا نہیں منہ غنچوں کو\nانہیں پھر کس کے تبسم کی ادا آئی ہے\n\nکس کا دل خون نہیں ہے چمن عالم میں\nپتی پتی سے ہمیں بوئے وفا آئی ہے\n\nرات بھر گریۂ شبنم سے جو غنچے تھے اداس\nصبح ہوتے ہی ہنسانے کو صبا آئی ہے\n\nشعر خوانی پہ تری سب کو گماں ہے کہ جلیلؔ\nبزم میں روح امیر الشعرا آئی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%85_%DA%A9%D8%B1_%D8%A2%D8%AC_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی\nساری دنیا پر جوانی آ گئی\n\nآہ وہ اس کی نگاہ مے فروش\nجب بھی اٹھی مستیاں برسا گئی\n\nگیسوئے مشکیں میں وہ روئے حسیں\nابر میں بجلی سی اک لہرا گئی\n\nعالم مستی کی توبہ الاماں\nپارسائی نشہ بن کر چھا گئی\n\nآہ اس کی بے نیازی کی نظر\nآرزو کیا پھول سی کمھلا گئی\n\nساز دل کو گدگدایا عشق نے\nموت کو لے کر جوانی آ گئی\n\nپارسائی کی جوانمرگی نہ پوچھ\nتوبہ کرنی تھی کہ بدلی چھا گئی\n\nاخترؔ اس جان تمنا کی ادا\nجب کبھی یاد آ گئی تڑپا گئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%85_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%8C_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "جھونپڑا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہ تن جو ہے ہر اک کے اتارے کا جھونپڑا\nاس سے ہے اب بھی سب کے سہارے کا جھونپڑا\nاس سے ہے بادشہ کے نظارے کا جھونپڑا\nاس میں ہی ہے فقیر بچارے کا جھونپڑا\nاپنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑا\nبابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑا\nاس میں ہی بھولے بھالے اسی میں سیانے ہیں\nاس میں ہی ہوشیار اسی میں دوانے ہیں\nاس میں ہی دشمن اس میں ہی اپنے بیگانے ہیں\nشاجھونپڑا بھی اپنے اسی میں نمانے ہیں\nاپنا نہ مول ہے نہ اجارے کا جھونپڑا\nبابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑا\nاس میں ہی لوگ عشق و محبت کے مارے ہیں\nاس میں ہی شوخ حسن کے چاند اور ستارے ہیں\nاس میں ہی یار دوست اسی میں پیارے ہیں\nشاجھونپڑا بھی اپنے اسی میں بچارے ہیں\nاپنا نہ مول ہے نہ اجارے کا جھونپڑا\nبابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑا\nاس میں ہی اہل دولت و منعم امیر ہیں\nاس میں ہی رہتے سارے جہاں کے فقیر ہیں\nاس میں ہی شاہ اور اسی میں وزیر ہیں\nاس میں ہی ہیں صغیر اسی میں کبیر ہیں\nاتنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑا\nبابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑا\nاس میں ہی چور ٹھگ ہیں اسی میں امول ہیں\nاس میں ہی رونی شکل اسی میں ٹھٹھول ہیں\nاس میں ہی باجے اور نقارے و ڈھول ہیں\nشاجھونپڑا بھی اس میں ہی کرتے کلول ہیں\nاتنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑا\nبابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑا\nاس میں ہی پارسا ہیں اسی میں لوند ہیں\nبے درد بھی اسی میں ہے اور دردمند ہیں\nاس میں ہی سب پرند اسی میں چرند ہیں\nشاجھونپڑا بھی اب اسی ڈر بے بند ہیں\nاتنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑا\nبابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑا\nاس جھونپڑے میں رہتے ہیں سب شاہ اور وزیر\nاس میں وکیل بخشی و متصدی اور امیر\nاس میں ہی سب غریب ہیں اس میں ہی سب فقیر\nشاجھونپڑا جو کہتے ہیں سچ ہے میاں نظیرؔ\nاتنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑا\nبابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%86%D9%BE%DA%91%D8%A7"} {"title": "جھونکے آتے ہیں بوئے الفت کے", "poet_page": "مصنف:بیان یزدانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جھونکے آتے ہیں بوئے الفت کے\nپھول یا رب ہیں کس کی تربت کے\n\nشور ہے دل میں غم کے نالوں کا\nعلم اٹھتے ہیں آج حسرت کے\n\nتیری باتوں میں کیا حلاوت تھی\nکہ نہ لب کھل سکے شکایت کے\n\nہم پہ اور تیغ ناز اٹھ نہ سکے\nچوچلے ہیں تری نزاکت کے\n\nاے بیاںؔ قیس و وامق و فرہاد\nتھے یہ سارے مرید حضرت کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%DB%92"} {"title": "جھوٹ سچ آپ تو الزام دیئے جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جھوٹ سچ آپ تو الزام دیئے جاتے ہیں\nبات سنتے نہیں دشنام دیئے جاتے ہیں\n\nترچھی نظروں سے کئے اس نے بہت دل زخمی\nتیر ٹیڑھے مگر کام دیئے جاتے ہیں\n\nکہہ گیا یہ بھی کوئی روٹھ کے جانے والا\nہم تجھے موت کا پیغام دیئے جاتے ہیں\n\nپاسبان جاگ اٹھیں وہ تو انہیں دے دینا\nلکھ کے کاغذ پہ یہ اک نام دیئے جاتے ہیں\n\nآپ کے لطف و عنایت کا یہی ہے بدلہ\nغم لئے جاتے ہیں آرام دیئے جاتے ہیں\n\nدل ہوا جان ہوئی ان کی بھلا کیا قیمت\nایسی چیزوں کے کہیں دام دیئے جاتے ہیں\n\nتیر قاتل کو کلیجے سے لگا رکھا ہے\nہم تو دشمن کو بھی آرام دیئے جاتے ہیں\n\nکام آ جائے گا دشمن کی محبت میں کبھی\nاحتیاطاً دل ناکام دیئے جاتے ہیں\n\nاب تو کھل کھیلے وہ بیخودؔ سے خدا خیر کرے\nاب تو خود بھر کے اسے جام دیئے جاتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9_%D8%B3%DA%86_%D8%A2%D9%BE_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%85_%D8%AF%DB%8C%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جھوٹی کہانی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "یزید", "year": "1951", "text_ur": "کچھ عرصے سے اقلیتیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار ہورہی تھیں۔ ان کو خوابِ گراں سے جگانے والی اکثریتیں تھیں جو ایک مدت سے اپنے ذاتی فائدے کے لیے ان پر دباؤ ڈالتی رہی تھیں۔ اس بیداری کی لہر نے کئی انجمنیں پیدا کردی تھیں۔ ہوٹل کے بیروں کی انجمن، حجاموں کی انجمن،کلرکوں کی انجمن، اخبار میں کام کرنے والے صحافیوں کی انجمن۔ ہر اقلیت اپنی انجمن یا تو بنا چکی تھی یا بنا رہی تھی تاکہ اپنے حقوق کی حفاظت کرسکے۔\n\nایسی ہر انجمن کے قیام پر اخباروں میں تبصر ے ہوتے تھے۔ اکثریت کے حمایتی ان کی مخالفت تھے اور اقلیت کے طرف دار موافقت۔ غرضیکہ کچھ عرصے سے ایک اچھا خاصا ہنگامہ برپا تھا جس سے رونق لگی رہتی تھی، مگر ایک روز جب اخباروں میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ملک کے دس نمبریے غنڈوں نے اپنی انجمن قائم کی ہے تو اکثریتیں اور اقلیتیں دونوں سنسنی زدہ ہوگئیں۔ شروع شروع میں تو لوگوں نے خیال کہ بے پر کی اڑا دی ہے کسی نے۔ پر جب بعد میں اس انجمن نے اپنے اغراض و مقاصد شائع کیے اور ایک باقاعدہ منشور ترتیب دیا تو پتا چلا کہ یہ کوئی مذاق نہیں۔ غنڈے اور بدمعاش واقعی خود کو اس انجمن کے سائے تلے متحد اور منظم کرنے کا پورا پورا تہیہ کرچکے ہیں۔\n\nاس انجمن کی ایک دو میٹنگیں ہو چکی تھیں، ان کی روداد اخباروں میں شائع ہوچکی تھی۔ لوگ پڑھتے اور دم بخود ہو جاتے۔ بعض کہتے کہ بس اب قیامت آنے میں زیادہ دیر باقی نہیں۔اغراض و مقاصد کی ایک لمبی چوڑی فہرست تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ غنڈوں اور بدمعاشوں کی یہ انجمن سب سے پہلے تو اس بات پر صدائے احتجاج بلند کرے گی کہ معاشرے میں ان کو نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ بھی دوسروں کی طرح بلکہ ان کے مقابلے میں کچھ زیادہ امن پسند شہری ہیں۔ ان کو غنڈے اور بدمعاش نہ کہا جائے اس لیے کہ اس سے ان کی ذلیل و توہین ہوتی ہے۔ وہ خود اپنے لیے کوئی مناسب اور معزز نام تجویز کرلیتےمگر اس خیال سےکہ اپنے منہ میاں مٹھو کی کہاوت ان پر چسپاں نہ ہو، وہ اس کا فیصلہ عوام و خواص پر چھوڑتے ہیں۔ چوری چکاری،ڈکیتی اور رہزنی، جیب تراشی اور جعل سازی، پتے بازی اور بلیک مارکیٹنگ وغیرہ، افعال قبیجہ کے بجائے فنونِ لطیفہ میں شمار ہونے چاہئیں۔ ان لطیف فنون کے ساتھ اب تک جو برا سلوک روا رکھا گیا ہے اس کی مکمل تلافی اس یونین کا نصب العین ہے۔\n\nایسے ہی کئی اور اغراض و مقاصد تھے جو سننے اور پڑھنے والوں کو بڑے عجیب و غریب معلوم ہوتے تھے۔ بظاہر ایسا تھا کہ چند بے فکر ظریفوں نے لوگوں کی تفریح کے لیے یہ سب باتیں گڑھی ہیں۔ یہ چٹکلہ ہی تو معلوم ہوتا تھا کہ یونین اپنے ممبروں کی قانونی حفاظت کا ذمہ لے گی اور ان کی سرگرمیوں کے لیے سازگار اور خوشگوار فضا پیدا کرنے کے لیے پوری پوری جدوجہد کرے گی۔ وہ حکامِ وقت پر زور دے گی کہ یونین کے ہر رکن پر اس کے مقام اور رتبے کے لحاظ سے مقدمہ چلایا جائے اور سزا دیتے وقت بھی اس کو پیشِ نظر رکھا جائے۔ حکومت لوگوں کو اپنے گھروں میں چوروں کا برقی الارم نہ لگانے دے اس لیے کہ بعض اوقات یہ ہلاکت خیز ثابت ہوتا ہے۔ جس طرح سیاسی قیدیوں کو جیل میں اے اور بی کلاس کی مراعات دی جاتی ہیں، اسی طرح یونین کے ممبروں کو دی جائیں۔ یونین اس بات کا بھی ذمہ لیتی تھی کہ وہ اپنے ممبروں کو ضعیف اور ناکارہ یا کسی حادثے کا شکار ہوجانے کی صورت میں ہر ماہ گزارے کے لیے معقول رقم دے گی۔ جو ممبر کسی خاص شعبے میں مہارت حاصل کرنے کے لیے باہر کے ممالک میں جانا چاہے گا اسے وظیفہ دے گی وغیرہ وغیرہ۔\n\nظاہر ہے کہ اخباروں میں اس یونین کے قیام پر خوب تبصرہ بازی ہوئی۔قریب قریب سب اس کے خلاف تھے۔ بعض رجعت پسند کہتے تھے کہ یہ کمیونزم کی انتہائی شکل ہے اور اس کے بانیوں کے ڈانڈے کریملن سے ملاتے تھے۔ حکومت سے چنانچہ بار بار درخواست کی جاتی کہ وہ اس فتنے کو فوراً کچل دے، کیونکہ اگر اس کو ذرا بھی پنپنے کا موقعہ دیا گیا تو معاشرے میں ایسا زہر پھیلے گا کہ اس کا تریاق ملنا مشکل ہو جائے گا۔\n\nخیال تھا کہ ترقی پسند اس یونین کی طرف داری کریں گے کہ اس میں ایک جدت تھی اور پرانی قدروں سے ہٹ کر اس نے اپنے لیے ایک بالکل نیا راستہ تلاش کیا تھا۔ اور پھر یہ کہ رجعت پسند اسے کمیونسٹوں کی اختراع سمجھتے تھے مگر حیرت یہ کہ اقلیتوں کے یہ سب سے بڑے طرفدار پہلے تو اس معاملے میں خاموش رہے اور بعد میں دوسروں کے ہم نوا ہوگئے اور اس یونین کی بیخ کنی پر زور دینے لگے۔اخباروں میں ہنگامہ برپا ہوا تو ملک کے گوشے گوشے میں اس یونین کے قیام کے خلاف جلسے ہونے لگے۔ قریب قریب ہر پارٹی کے نامی و گرامی لیڈروں نے پلیٹ فارم پر آکر اس ننگِ تہذیب و تمدن جماعت کو ملعون قرار دیا اور کہا کہ یہی وقت ہے جب تمام لوگوں کو اپنے آپس کے جھگڑے چھوڑ کر اس فتنہ عظیم کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد، نظم اور یقین محکم کو اپنا موٹو بنا کر ڈٹ جانا چاہیے۔\n\nاس سارے ہنگامے کا جواب یونین کی طرف سے ایک پوسٹر کے ذریعے سے دیا گیا جس میں بڑے اختصار کے ساتھ یہ کہا گیا کہ پریس اکثریت کے ہاتھ میں ہے۔ قانون اس کی پشت پر ہے، مگر انجمن کے حوصلے اور ارادے پست نہیں ہوئے، وہ کوشش کررہی ہے کہ بہت سی رقم دے کرکچھ اخبار خرید لے اور ان کو اپنے حق میں کرلے۔یہ پوسٹر ملک کے درودیوار پر نمودار ہواتو فوراً بعد کئی شہروں سے بڑی بڑی چوریوں اور ڈکیتیوں کی اطلاعیں وصول ہوئیں۔ اور اس کے چند روز بعد جب ایکا ایکی دو اخباروں نے دبی زبان میں غنڈوں اور بدکاروں کی یونین کے اغراض و مقاصد میں اصلاحی پہلو کریدناشروع کیا تو لوگ سمجھ گئے کہ پس پردہ کیا ہوا ہے۔\n\nپہلے ان دو اخباروں کی اشاعت ہونے نہ ہونے کے برابر تھی۔ نہایت ہی گھٹیا کاغذ پر چھپتے تھے۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ایسی کایا کلپ ہوئی کہ لوگ دنگ رہ گئے۔ سب سے اچھا ایڈیٹوریل اسٹاف ان دو پرچوں کے پاس تھا۔ دفتر میں ایک کے بجائے دو دو ٹیلی پرنٹر تھے۔ تنخواہ مقررہ وقت سے پہلے مل جاتی تھی۔ بونس الگ ملتا تھا۔ گھر کا الاؤنس، ٹانگے کا الاؤنس، سگرٹوں کا الاؤنس، چائے کا الاؤنس، مہنگائی الاؤنس۔ یہ سب الاؤنس مل کر تنخواہ سے دوگنے ہو جاتے تھے۔ جودُختِ رز کے رسیا تھے، ان کو مفت پر مٹ ملتا تھا اور بہترین ا سکاچ وسکی کنٹرولڈ قیمت پر دستیاب ہوتی تھی۔ عملے کے ہر آدمی سے باقاعدہ کنٹریکٹ کیا گیا تھا جس میں مالک کی طرف سے یہ اقرار تھا کہ اس کے گھرمیں کبھی چورئی ہوئی، یا اس کی جیب کاٹ لی گئی تو اسے نقصان کے علاوہ ہرجانہ بھی ادا کیا جائے گا۔\n\nان دو اخباروں کی اشاعت دیکھتے دیکھتے ہزاروں تک پہنچ گئی۔ تعجب ہے کہ پہلے جب ان کی اشاعت کچھ بھی نہیں تھی تو یہ ہر روز کثیر الاشاعت ہونے کے بلند بانگ دعوے کرتے تھے، مگر جب ان کی کایا کلپ ہوئی تو ا س معاملے میں بالکل خاموش ہوگئے۔ بیک وقت البتہ ان دونوں اخباروں نے کچھ عرصے کے بعد یہ اعلان چھاپا کہ ہماری اشاعت اس حد تک جاپہنچی ہے کہ اگر ہم نے اس سے تجاوز کیا تو تجارتی نقطہ نظر سے نقصان ہی نقصان ہے۔\n\nان کے علمی و ادبی اڈیشنوں میں عجیب و غریب موضوعات پر مضمون شائع ہوتے تھے، یہ چار پانچ تو بڑے ہی سنسنی خیز تھے۔\n\nبلیک مارکیٹ کے فوائد۔۔۔ معاشیات کی روشنی میں\nمعاشرتی اور مجلسی دائرے میں قحبہ خانوں کی اہمیت۔\n\nدروغ گورا حافظہ باشد۔۔۔ جدید سائنٹفک تحقیق\nبچوں میں قتل وغارت گری کے فطری رجحانات۔۔۔ سیادت پر سیر حاصل تبرہ\n\nدنیا کے خوف ناک ڈاکو اور تقدیسِ مذہب\n\nاشتہار بھی کم عجیب و غریب نہیں تھے۔ ان میں مشتہر کا نام اور پتا نہیں ہوتا تھا۔ سرخیاں دے کر مطلب کی بات مختصر لفظوں میں ادا کردی جاتی تھی۔ چند سرخیاں ملاحظہ ہوں۔\n\nچوری کے زیورات خریدنے سے پہلے ہمارا نشان ضرور دیکھ لیا کریں۔ جو کھرے مال کی ضمانت ہے۔\n\nبلیک مارکیٹ میں صرف اسی فلم کے ٹکٹ فروخٹ کیے جاتے ہیں جو تفریح کا بہترین سامان پیش کرتا ہے۔\n\nدودھ میں کن طریقوں سے ملاوٹ کی جاتی ہے۔ رسالہ دودھ کا دودھ کا پانی کا پانی مطالعہ فرمائیے۔\n\nٹونے،ٹوٹکے،گنڈے اور تعویذ، عملِ ہمزاد اور تسخیر محبوب کے جنتر منتر سب جھوٹے ہیں۔ خود کو دھوکا دینے کے بجائے معشوق کو دھوکا دیجیے۔\n\nکھانے پینے کی صرف وہ چیزیں خیریدیے جن میں ضرر رساں چیزوں کی ملاوٹ نہ ہو۔\nایک الگ کالم میں ’’بلیک مارکیٹ کے آج کے بھاؤ‘‘ کے عنوان تلے ان تمام چیزوں کی کنٹرولڈ قیمت درج ہوتی تھی جو صرف بلیک مارکیٹ سے دستیاب ہوتی تھیں۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ان قیمتوں میں ایک پائی کی بھی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ جو چھپے چوری، چوری کا خاص نشان لگایا ہوا مال خریدتے تھے انھیں ارزاں قیمت پر سولہ آنے کھرا مال ملتا تھا۔\n\nغنڈوں، چوروں اور بدکاروں کی انجمن جب آہستہ آہستہ نیک نامی حاصل کرنے لگی تو اربابِ بست وکشاد کی تشویش دو چند ہوگئی۔ حکومت نے اپنی طرف سے خفیہ طور پربہت کوشش کی کہ اس کے اڈے کا سراغ لگائے مگر کچھ پتہ نہ چلا۔ یونین کی تمام سرگرمیاں زیر زمین یعنی انڈر گراؤنڈ تھیں۔ اونچی سوسائٹی کے چند اراکین کا خیال تھا کہ پولیس کے بعض بدقماش افسر اس یونین سے ملے ہوئے ہیں بلکہ اس کے باقاعدہ ممبر ہیں اور ہر ماہ اپنی ناجائز ذرائع سے پیدا کی ہوئی آمدنی کا بیشتر حصہ بطور جزیے کے دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قانون کا نشتر معاشرے کے اس نہایت ہی مہلک پھوڑے تک نہیں پہنچ سکا۔۔۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ مگر یہ بات قابل غور تھی کہ عوام میں جو اس یونین کے قیام سے بے چینی پھیلی تھی اب بالکل مفقود تھی۔ متوسط طبقہ اس کی سرگرمیوں میں بڑی دلچسپی لے رہا تھا۔ صرف اونچی سوسائٹی تھی جو دن بدن خائف ہوتی جارہی تھی۔\n\nاس یونین کے خلاف یوں تو آئے دن تقریریں ہوتی تھیں اور جگہ جگہ جلسے منعقد ہوئے تھے،مگر اب وہ پہلا سا جوش و خروش نہیں تھا۔ چنانچہ اس کو ازسرنو شدید بنانے کے لیے ٹاؤن ہال میں ایک عظیم الشان جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا گیا۔ قریب قریب ہر شہر کی معزز ہستیوں کو نمائندگی کے لیے مدعو کیا گیا۔ مقصد اس جلسے کا یہ تھا کہ اتفاق رائے سے غنڈوں، شُہدوں اور بدکاروں کی اس یونین کے خلاف مذمت کا ووٹ پاس کیا جائے اور عوام الناس کو ان خوفناک جراثیم سے کماحقہ آگاہ کیا جائے جو اس کے وجود سے معاشرتی ومجلسی دائرے میں پھیل چکے ہیں اور بڑی سرعت سے پھیل رہے ہیں۔\n\nجلسے کی تیاری پر ہزاروں روپے خرچ کیے گیے۔ مجلس انتظامیہ اور مجلس استقبالیہ نے مندوبین کے آرام و آسائش کے لیے ہر ممکن سہولت مہیا کی۔ کئی اجلاس ہوئے اور بڑے کامیاب رہے۔ ان کی رپورٹ یونین کے پرچوں میں من و عن شائع ہوتی رہی۔ مذمت کے جتنے ووٹ پاس ہوئے بلاتبصرہ چھپتے رہے۔ دونوں اخباروں میں ان کو نمایاں جگہ دی جاتی تھی۔\n\nآخری اجلاس بہت اہم تھا۔ ملک کی تمام مکرم و معظم ہستیاں جمع تھیں۔ امراء و وزراء سب موجود تھے۔ حکومت کے اعلیٰ اعلیٰ افسر بھی مدعو تھے۔ بڑے زور دار الفاظ میں تقریریں ہوئیں اور مذہبی، مجلسی، معاشی، جمالیاتی اور نفسیاتی، غرض کہ ہر ممکن نقطہ نظر سے غنڈوں اور بدمعاشوں کی تنظیم کے خلاف دلائل و براہین پیش کیے گئے اور ثابت کردیاگیا کہ اس طبقہ اسفل کا وجود حیاتِ انسانی کے حق میں زہر قاتل ہے۔ مذمت کا آخری ریزولیشن جو بڑے بااثر الفاظ پر مشتمل تھا ،اتفاق رائے سے پاس ہوا تو ہال تالیوں کے شور سے گونج اٹھا۔ جب تھوڑا سکون ہوا تو پچھلے بنچوں میں ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے صدر سے مخاطب ہو کرکہا، ’’صاحبِ صدر، اجازت ہو تو میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔‘‘\n\nسارے ہال کی نگاہیں اس آدمی پر جم گئیں۔ صدر نے بڑی تمکنت سے پوچھا،’’میں پوچھ سکتا ہوں آپ کون ہیں؟‘‘ اس شخص نے جو بڑے سادہ مگر خوش وضع کپڑوں میں ملبوس تھا، تعظیم کے ساتھ کہا، ’’ملک وملت کا ایک ادنیٰ ترین خادم‘‘ اور کورنش بجالایا۔صدر نے چشمہ لگا کر اسے غور سے دیکھا اور پوچھا، ’’آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟‘‘ اس معما نما مرد نے مسکرا کر کہا، ’’کہ۔۔۔ ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں۔‘‘ اس پر سارے ہال میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ ڈائس پر خصوصاً سب کے سب معززین اور قائدین سوالیہ نشان بن کر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔\n\nصدر نے اپنی تمکنت کو ذرا اور تمکین بنا کر پوچھا، ’’آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟‘‘\n\n’’میں ابھی عرض کرتا ہوں۔‘‘یہ کہہ کر اس نے جیب سے ایک بے داغ سفید رومال نکالا۔ اپنا منہ صاف کیا اور اسے واپس جیب میں رکھ کربڑے پارلیمانی انداز میں گویا ہوا،’’صاحب صدر اور معزز حضرات۔۔۔‘‘ ڈائس کے ایک طرف دیکھ کر وہ رک گیا، ’’معافی کا طلب گار ہوں۔۔۔ محترمہ بیگم مرزبان خلافِ معمول آج پچھلے صوفے پر تشریف فرما ہیں۔۔۔ صاحب صدر، خاتون مکرم اور معزز حضرات!‘‘\n\nبیگم مرزبان نے دے نیسٹی بیگ میں سے آئینہ نکال کر اپنا میک اپ دیکھا اور غور سے سننے لگی۔ باقی بھی ہمہ تن گوش تھے۔\n\n’’حریفِ مطلب مشکل نہیں فسونِ نیاز\nدعا قبول ہو یا رب کہ عمرِ خضر دراز‘‘\n\nکچھ دیر رک کر وہ ایک ادا سے مسکرایا۔ ’’حضرت غالب۔۔۔!اس اجلاس میں اور اس سے پہلے مجلسی دائرے کے ایک مفروضہ طبقہ اسفل کے بارے میں جو زہر فشانی کی گئی ہے، آپ کے اس خاکسار نے بڑے غور سے سنی ہے۔‘‘ سارے ہال میں کُھسر پھسر ہونے لگی۔ صدر کی ناک کے بانسے پر چشمہ پھسل گیا، ’’آپ ہیں کون؟‘‘سر کے ایک ہلکے سے خم کے ساتھ اس شخص نے جواب دیا،’’ ملک و ملت کا ایک ادنیٰ خادم۔۔۔ مجلسی دائرے کے مفروضہ طبقہ اسفل کی جماعت کا ایک رکن جسے اس کی نمائندگی کا فخر حاصل ہے!‘‘\n\nہال میں کسی نے زور سے ’’واہ‘‘ کہا اور تالی بجائی۔ چوروں، اچکوں اور غنڈوں کی یونین کے نمائندے نے سر کو پھر ہلکی سی جنبش دی اور کہنا شروع کیا،’’ کیا عرض کروں۔ کچھ کہا نہیں جاتا۔\n\nواں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب\nیاد تھیں جتنی دعائیں صرفِ درباں ہوگئیں\n\nاس اجلاس میں اس جماعت کے خلاف جس کا یہ خاکسار نمائندہ ہے اس قدر گالیاں دی گئی ہیں، اس قدر لعنت ملامت کی گئی ہے کہ صرف اتنا کہنے کو جی چاہتا ہے\nلو وہ بھی کہتے ہیں یہ بے ننگ و نام ہے۔‘‘\n\nصاحبِ صدر، محترم بیگم مرزبان اور معزز حضرات!\n\nبیگم مرزبان کی لپ اسٹک مسکرائی۔ بولنے والے نے آنکھیں اور سر جھکا کر تسلیم عرض کیا، ’’محترم بیگم مرزبان اور معزز حضرات۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ یہاں میری جماعت کا کوئی ہمدرد موجود نہیں۔ آپ میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو ہمارا طرف دار ہو۔\n\nدوست گر کوئی نہیں ہے جو کرے چارہ گری\nنہ سہی ایک تمنائے دوا ہے تو سہی۔‘‘\n\nڈائس پر ایک اچکن پوش رئیس گلے میں پان دبا کر بولے، ’’مکرر!‘‘\n\nصدر نے جب ان کی طرف سرزنش بھری نظروں سے دیکھا تو وہ خاموش ہوگئے۔\n\nچوروں اور بدکاروں کی یونین کے نمائندے کے پتلے پتلے ہونٹوں پر شفاف مسکراہٹ نمودار ہوئی،’’میں اپنی مختصریر تقریر میں جو شعر بھی استعمال کروں گا۔۔۔ حضرت غالب کا ہوگا!‘‘\n\nبیگم مرزبان نے بڑے بھولپن سے کہا، ’’آپ تو بڑے لائق معلوم ہوتے ہیں۔‘‘بولنے والا کورنش بجایا لیا اور مسکرا کر کہنے لگا،\n\n’’سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری\nتقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے!‘‘\n\nسارا ہال قہقوں اور تالیوں سے گونج اٹھا۔ بیگم مرزبان نے اٹھ کر صدر کے کان میں کچھ کہا جس نے حاضرین کو چپ رہنے کا حکم دیا۔ خاموشی ہوئی تو چوروں اور لفنگوں کی یونین کے نمائندے پھر بولنا شروع کیا،’’صاحب صدر، محترم بیگم مرزبان اور معزز حضرات!\n\nگرچہ ہے کس کس برائی سے دلے باایں ہمہ\nذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے\n\nلیکن سچ پوچھیے تو اس سے تسلی نہیں ہوتی۔ میں تاسف کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس طبقے کے ساتھ جس کی نمائندگی میری جماعت کرتی ہے نہایت بے انصافی ہوئی ہے۔ اس کو اب تک بالکل غلط رنگ میں دیکھا جاتا رہا ہے اور یہی کوشش کی جاتی رہی کہ اسے ملعون و مطعون قرار دے کر خارج از سماج کردیا جائے۔ میں ان مطہر ہستیوں کو کیا کہوں جنہوں نے اس شریف اور معزز طبقے کو سنگسار کرنے کے لیے پتھر اٹھائے ہیں\n\nآتش کدہ ہے سینہ مرا رازِ نہاں سے\nاے وائے اگر معرضِ اظہار میں آوے۔\n\nصدر نے دفعتاً گرج کر کہا، ’’خاموش۔۔۔ بس اب آپ کو مزید بولنے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘مقرر نے مسکرا کر کہا،’’حضرت غالب کی اسی غزل کا ایک شعر ہے،\n\nدے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گر\nکچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے\n\nہال تالیوں کے شور سے گونج اٹھا۔ صدر نے اجلاس برخاست کرنا چاہا مگر لوگوں نے کہا کہ نہیں چوروں اور غنڈوں کی یونین کے نمائندے کی تقریر ختم ہو جائے تو کارروائی بند کی جائے۔ صدر اور دوسرے اراکین اجلاس نے پہلے آمادگی ظاہر نہ کی لیکن بعد میں رائے عامہ کے سامنے انھیں جھکنا پڑا۔ مقرر کو بولنے کی اجازت مل گئی۔\n\nاس نے صاحب صدر کا مناسب و موزوں الفاظ میں شکریہ ادا کیا اورکہنا شروع کیا،’’ہماری یونین کو صرف اس لیے نفرت و تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ یہ چوروں، اٹھائی گیروں، رہزنوں اور ڈاکوؤں کی انجمن ہے جو ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی ہے۔ میں آپ لوگوں کے جذبات بخوبی سمجھتا ہوں۔ آپ کا فوری رد عمل کس قسم کا تھا ، میں اس کا تصور بھی کرسکتا ہوں، مگر چوروں، ڈاکوؤں اور رہزنوں کے حقو ق کیا نہیں ہوتے؟ یا نہیں ہوسکتے؟ میں سمجھتا ہوں کوئی سلیم الدماغ آدمی ایسا نہیں سوچ سکتا۔۔۔ جس طرح سب سے پہلے انسان ہیں، بعد میں سیٹھ ہیں، رئیس اعظم ہیں، میونسپل کمشنر ہیں، وزیر داخلہ ہیں یا خارجہ۔ اسی طرح وہ بھی سب سے پہلے آپ ہی کی طرح انسان ہے۔ چور، ڈاکو، اٹھائی گیرا، جیب کترا اور بلیک مارکیٹر بعد میں ہے۔ جو حقوق دوسرے انسانوں کو اس سقفِ نیلوفری کے نیچے مہیا ہیں، وہ اسے بھی مہیا اور ہونے چاہئیں۔ جن نعمتوں سے دوسرے انسان متمتع ہوتے ہیں ان سے وہ بھی مستفیض ہونے کا حق رکھتا ہے۔\n\nمیں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک چور یا ڈاکو کیوں شے لطیف سے خالی سمجھا جاتا ہے۔ کیوں اسے ایک ایسا شخص متصور کیا جاتا ہے جو معمولی حسیات سے بھی عاری ہے۔۔۔ معاف فرمائیے وہ اچھا شعر سن کر اسی طرح پھڑک اٹھتا ہے جس طرح کوئی دوسرا سخن فہم۔ صبحِ بناس اور شامِ اودھ سے صرف آپ ہی لطف اندوز نہیں ہوتے۔ وہ بھی ہوتا ہے۔ سرتال کی اس کو بھی خبر ہے۔ وہ صرف پولیس کے ہاتھوں ہی گرفتار ہونا نہیں جانتا۔ کسی حسینہ کے دامِ الفت میں گرفتار ہونے کا سلیقہ بھی جانتا ہے۔ شادی کرتا ہے، بچے پیدا کرتا ہے۔ ان کو چوری سے منع کرتا ہے۔ جھوٹ بولنے سے روکتا ہے۔۔۔خدانخواستہ اگر ان میں سے کوئی مر جائے تو اس کے دل کو بھی صدمہ پہنچتا ہے۔ ‘‘یہ کہتے ہوئے اس کی آواز کسی قدر گلورگیر ہوگئی۔ لیکن فوراً ہی اس نے رخ بدلا اور مسکراتے ہوئے کہا،’’ حضرت غالب کے اس شعر کا جو مزا وہ لے سکتا ہے، معاف کیجیے آپ میں سے کوئی بھی نہیں لے سکتا۔\n\nنہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا\n\nرہا کھٹکا نہ چوری کا، دعا دیتا ہوں رہزن کو!‘‘\n\nسارا ہال شگفتہ ہو کر ہنسنے لگا۔ بیگم مرزبان بھی جو تقریر کے آخری حصے پر کچھ افسردہ سی ہوگئی تھیں مسکرائیں، مقرر نے اسی طرح پتلی پتلی شفاف مسکراہٹ کے ساتھ کہنا شروع کیا، ’’مگر اب ایسے دعا دینے والے کہاں!‘‘ بیگم مرزبان نے بڑے بھولپن کے ساتھ آہ بھر کر کہا، ’’اور وہ رہزن بھی کہاں؟‘‘\n\nمقرر نے تسلیم کیا، ’’آپ نے بجا ارشاد فرمایا بیگم مرزبان۔ ہمیں اس افسوس ناک حقیقت کا کامل احساس ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے مل کر اپنی انجمن بنا ڈالی ہے۔ مرور زمانہ کے ساتھ رہزن، چور اور جیب کترے قریب قریب سب اپنی پرانی روش اور وضع داری بھول گئے ہیں۔ لیکن مقام مسرت ہے کہ وہ اب بہت تیزی سے اپنے اصل مقام کی طرف لوٹ رہے ہیں۔۔۔ لیکن میں ان حضرات سے جو ان غریبوں کی بیخ کنی میں مصروف ہیں یہ گستاخانہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ اپنی اصلاح کے لیے اب تک انھوں نے کیا کیا ہے۔ مجھے کہنا تو نہیں چاہیے مگر تقابل کے لیے کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں نہایت ذلیل، چوری اور سفاک ڈاکو کہا جاتا ہے، مگر وہ لوگ کیا ہیں۔۔۔ کچھ اس عالت مرتبت ڈ ائس پر بھی بیٹھے ہیں جو عوام کا مال و متاع دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہے ہیں۔‘‘\n\nہال میں ’’شیم شیم‘‘ کے نعرے بلند ہوئے۔\n\nمقرر نے کچھ توقف کے بعد کہنا شروع کیا۔’’ہم چور ی کرتے ہیں، ڈاکے ڈالتے ہیں، مگر اسے کوئی اور نام نہیں دیتے۔ یہ معزز ہستیاں بدترین قسم کی ڈاکہ زنی کرتی ہیں مگر یہ جائز سمجھتی ہے۔ اپنی آنکھ کے اس طویل و عریض اور بھاری بھر کم شہتیرکو کوئی نہیں دیکھتا اور نہ دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔ کیوں۔۔۔؟ یہ بڑا گستاخ سوال ہے۔ میں اس کا جواب سننا چاہتا ہوں چاہے وہ اس سے بھی زیادہ گستاخ ہو۔۔۔‘‘\nتھوڑے توقف کے بعد وہ مسکرایا،’’وزیر صاحبان اپنی مسندِ و زارت کی سان پر اُسترا تیز کرکے ملک کی ہر روز حجامت کرتے رہیں۔یہ کوئی جرم نہیں، لیکن کسی کی جیب سے بڑی صفائی کے ساتھ بٹوہ چرانے والا قابل تعزیر ہے۔۔۔ تعزیر کو چھوڑیئے مجھے اس پر کوئی زیادہ اعتراض نہیں۔۔۔ وہ آپ کی نظروں میں گردن زدنی ہے۔‘‘\n\nڈائس پربہت سے حضرات بے چینی اور اضطراب محسوس کرنے لگے۔۔۔ بیگم مرزبان مسرور تھیں۔\n\nمقرر نے اپنا گلا صاف کیا، پھر کہنا شروع کیا، ’’تمام محکموں میں اوپر سے لے کر نیچے تک رشوت ستانی کا سلسلہ قائم ہے، یہ کسے معلوم نہیں۔ کیا یہ بھی کوئی راز ہے جس کے انکشاف کی ضرورت ہے کہ خویش پروری اور کنبہ نوازی کی بدولت سخت نااہل، خردماغ اور بدقماش بڑے بڑے عہدے سنبھالے بیٹھے ہیں۔ معاف فرمائیے گا ادھر ہمارے طبقے میں ایسے افسوس ناک حالات موجود نہیں۔ کوئی چور اپنے کسی عزیز کو بڑی چوری کے لیے منتخب کرےگا۔ ہمارے ہاں لوگ اس قسم کی رعائتوں سے فائدہ اٹھانا بھی چاہیں تو نہیں اٹھا سکتے۔ اس لیے کہ چوری کرنے، جیب کاٹنے یا ڈاکہ ڈالنے کے لیے دل گردے اور مہارت و قابلیت کی ضرورت ہے۔ یہاں کوئی سفارش کام نہیں آتی۔ ہر شخص کا کام ہی خود اس کا امتحان ہے جو اس کو فوراً نتیجے سے باخبر کردیتا ہے۔‘‘\n\nہال میں سب خاموش تھے اور بڑے غور سے تقریر سن رہے تھے۔ تھوڑے سے وقفے کے بعد مقرر کی آواز پھر بلند ہوئی،’’میں بدکاری معاف کرسکتا ہوں۔ لیکن خام کاری ہرگز ہرگز معاف نہیں کرسکتا۔۔۔ وہ لوگ یقیناً قابل مواخذہ ہیں جو نہایت ہی بھونڈے طریقے پر ملک کی دولت کو لوٹتے ہیں۔ ایسے بھونڈے طریقے پر کہ ان کے کرتوتوں کے بھانڈے ہر دوسرے روز چوراہوں میں پھوٹتے ہیں۔ وہ پکڑے جاتے ہیں مگر بچ نکلتے ہیں کہ ان کے نام دس نمبر کے بستہ الف میں درج ہیں نہ بستہ ب میں۔۔۔ یہ کس قدر ناانصافی ہے۔۔۔ میں تو سمجھتا ہوں بیچارے انصاف کا۔۔۔ اندھے انصاف کا خون یہیں پر ہوتا ہے۔۔۔ نہیں۔۔۔ ایسے اور بھی کئی مقتل ہیں۔ جہاں انصاف، انسانیت، شرافت و نجابت، تقدیس و طہارت، دین و نیا، سب کو ایک پھندے میں ڈال کر ہر روز پھانسی دی جاتی ہے۔۔۔ میں پوچھتا ہوں انسانوں کی خام کھالوں کی تجارت کرنے والے ہم ہیں یا آپ۔۔۔ میں سوال کرتا ہوں، از منہ عتیق کی بربریت کی طرف امن پسند انسانوں کو کشاں کشاں کھینچ کر لے جانے والے ہم ہیں یا آپ۔۔۔ اور استفسار کرتا ہوں کہ دوسری اجناس کی طرح ملاوٹ کرکے اپنے ایمان کو آپ بیچتے ہیں یا ہم؟‘‘\n\nہال پر قبر کی سی خاموشی طاری تھی۔ مقرر نے جیب سے اپنا سفید رومال نکال کر منہ صاف کیا اور اسے ہوا میں لہرا کر کہا،’’صاحب صدر، خاتون مکرم اور معزز حضرات! مجھے معاف فرمائیے کہ میں ذرا جذبات کی رو میں بہہ گیا۔۔۔ عرض ہے کہ جدھر نظر اٹھائی جائے۔ ایمان فروش ہوتا ہے یا ضمیر فروش، وطن فروش ہوتا یا ہے ملت فروش۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ بھی کوئی فروخت کرنے کی چیزیں ہیں۔ انسان تو انھیں نہایت ہی مشکل وقت میں ایک لمحے کے لیے گروی نہیں رکھ سکتا۔ مگر میں انسانوں کی بات کررہا ہوں۔ معاف کیجیے۔ میرے لہجے میں پھر تلخی پیدا ہوگئی\n\nرکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی سے معاف\nآج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے۔\n\nیہ کہتا وہ ڈائس کی طرف بڑھا، ’’صاحب صدر، محترم بیگم مرزبان اور معزز حضرات! میں اپنی یونین کی طرف سے آپ کا سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے لب کشائی کا موقعہ دیا۔‘‘ ڈائس کے پاس پہنچ کر اس نے صدر کی طرف ہاتھ بڑھایا۔’’ میں اب ایک دوست کی حیثیت سے رخصت چاہتا ہوں۔‘‘\n\nصدر نے ہچکچاتے ہوئے اٹھ کر اس سے ہاتھ ملایا۔ اس کے بعد اس نے بیگم مرزبان کی طرف ہاتھ بڑھایا، ’’اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو۔۔۔‘‘\n\nبیگم مرزبان نے بڑے بھولپن سے اپنا ہاتھ پیش کردیا۔ باقی معززین اور رؤسا سے ہاتھ ملا کر جب فارغ ہوا تو خدا حافظ کہہ کر چلنے لگا۔ لیکن فوراً ہی رک گیا۔ اپنی دونوں جیبوں سے اس نے بہت سی چیزیں نکالیں اور صدرکی میز پر ایک ایک کرکے رکھ دیں۔ پھر وہ مسکرایا، ’’ایک عرصے سے جیب تراشی چھوڑ چکا ہوں آج کل سیف توڑنا میرا پیشہ ہے۔۔۔ آج صرف ازراہِ تفریح آپ لوگوں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کردیا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ بیگم مرزبان سے مخاطب ہوا، ’’خاتون مکرم معاف کیجیے۔ آپ کے وینسیٹی بیگ سے بھی میں نے ایک چیز نکالی تھی۔ مگر وہ ایسی ہے کہ سب کے سامنے آپ کو واپس نہیں کرسکتا۔‘‘\n\nاور وہ تیزی کے ساتھ ہال سے باہر نکل گیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "جھوٹے وعدوں پر تمہاری جائیں کیا", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جھوٹے وعدوں پر تمہاری جائیں کیا\nجانتے ہیں تم کو دھوکا کھائیں کیا\n\nپرسش اپنے قتل کی ہونے لگی\nداور محشر کو ہم بتلائیں کیا\n\nان کی محفل حیرت عالم سہی\nغیر ہم پہلو جہاں ہو جائیں کیا\n\nخون دل کھانے سے کچھ انکار ہے\nجب نہیں اے لذت غم کھائیں کیا\n\nناصح مشفق کو سمجھانا پڑا\nاس سمجھ پر تم کو وہ سمجھائیں کیا\n\nغیر نے رہ کر جہنم کر دیا\nہیں مسلماں تیرے گھر ہم آئیں کیا\n\nہم سے ان سے بات کیا باقی رہی\nہم کہیں کیا اور وہ فرمائیں کیا\n\nہے پشیمانی میں اقرار خطا\nقتل کر کے مجھ کو وہ پچھتائیں کیا\n\nآئیں گے پھر بھی وہی عشرت کے دن\nانقلاب دہر سے گھبرائیں کیا\n\nمر ہی کر اٹھیں گے تیرے در سے ہم\nآ کے جب بیٹھے تو پھر اٹھ جائیں کیا\n\nدل کو کھوئے ایک مدت ہو گئی\nاے اثرؔ اب ڈھونڈنے سے پائیں کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9%DB%92_%D9%88%D8%B9%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جھڑکی نہیں دیتے ہیں کہ غصہ نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:منشی شیو پرشاد وہبی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وہبی (1870)", "year": "1870", "text_ur": "جھڑکی نہیں دیتے ہیں کہ غصہ نہیں ہوتا\nعاشق پہ ستم وصل میں کیا کیا نہیں ہوتا\n\nبدنام ہوا کرتے ہیں گو عشق میں عاشق\nپر میری طرح کوئی بھی رسوا نہیں ہوتا\n\nجز شربت دیدار کرو لاکھ دوائیں\nبیمار محبت کبھی اچھا نہیں ہوتا\n\nخلخال کی آواز سے چونک اٹھتے ہیں مردے\nکب حشر ترے کوچے میں برپا نہیں ہوتا\n\nباد سحری سے کوئی غنچہ نہیں کھلتا\nجب تک کہ ترا بند قبا وا نہیں ہوتا\n\nرہتا ہے تصور جو اک آئینہ جبیں کا\nحیرت نہیں ہوتی ہے کہ سکتہ نہیں ہوتا\n\nکب یار کے مژگاں کا تصور نہیں وہبیؔ\nکب جسم مرا سوکھ کے کانٹا نہیں ہوتا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%BE%DA%91%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%BA%D8%B5%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "جھکی نگہ میں ہے ڈھب پرسش نہانی کا", "poet_page": "مصنف:ممنونؔ نظام الدین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جھکی نگہ میں ہے ڈھب پرسش نہانی کا\nحیا میں زور دیا رنگ مہربانی کا\n\nجئے ہیں گرم نفس سوز سے کہ بہر چراغ\nکرے ہے شعلہ ہی کام آب زندگانی کا\n\nتبسم لب غنچہ کو دیکھ روتا ہوں\nکہ ٹھیک رنگ ہے اس خندۂ نہانی کا\n\nکہاں سے زور دل و سینہ و جگر لاؤں\nتمہیں تو کھیل لگا ہاتھ تیغ رانی کا\n\nالٰہی جیب کہ دامن کہ آستیں دھوؤں\nمژہ نے سیکھ لیا شغل خوں فشانی کا\n\nنہیں بچا مرض عشق سے کوئی ممنوںؔ\nہمیں دریغ بہت ہے تری جوانی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DA%BE%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DA%AF%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%88%DA%BE%D8%A8_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%B4_%D9%86%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "جہان آباد", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "جواب کا ہے کو تھا لاجواب تھی دہلیمگر خیال سے دیکھا تو خواب تھی دہلیایک روز امیر تیمور صاحبقران اپنے مرکب پر سوار دارالسلطنت بخارا کی گلی کوچوں میں چکر لگا رہا تھا۔ جمعدار رکاب تھامے ساتھ تھا اور امیر پوچھتا جاتا تھا کہ اس گلی کا کیا نام ہے۔ اس کوچہ کو کیا کہتے ہیں۔ یہ کون سا محلہ ہے۔ جمعدار جواب دیتا تھا۔ یہ پستہ شکن محلہ ہے۔ یہ گلی سرا جوں کی کہلاتی ہے۔ یہ کوچہ روشن آباد ہے۔ جو چلتے چلتے ایک تنگ کوچہ میں پہنچا، اور اس نے یہ دیکھا کہ بانسوں کے پھاٹک کے آگے چند نوجوان ایک دری کے فرش کو چاروں طرف سے پکڑے جھاڑ رہے ہیں اور دھول اڑ رہی ہے۔ امیر نے پوچھا جمعدار یہ کیا جگہ ہے۔ جمعدار نے کہا حضور یہ کوچہ حضرت سید خواجہ بہاؤالدین نقشبند کا ہے۔ یہ بانسوں کے پھاٹک والی آپ کی خانقاہ ہے۔ اس میں آپ تشریف فرما ہیں۔ مرید خانقاہ کی شطرنجی کو جھاڑ رہے ہیں۔ امیر کو دیکھ کر نوجوانوں نے شطرنجی جھاڑنے سے اپنے ہاتھ روک لئے تھے اور امیر ان لوگوں کے پاس پہنچ گیا تھا۔امیر (نوجوان سے) تم ہمارا اصلاً لحاظ نہ کرو۔ شطرنجی بدستور جھاڑے جاؤ۔آپ جانتے ہیں مرید اور طالب علم الڑ ہوتے ہیں۔ نوجوانوں نے دری کو اس زور سے پٹخارا کہ دھول کے مارے امیر کا ساز ویراق اور امیر کا چہرہ تاج گھوڑا وغیرہ سب اٹ گئے۔ امیر نے اڑتی ہوئی دھول کو دونوں ہاتھوں سے اپنے منھ پر مل کر کہا، ’’غبار المدینۃ شفاء‘‘ اور گھوڑے کو مہمیز کیا اور یہ جاوہ جا۔مریدوں نے خانقاہ میں آکر امیر کا سارا حال حضرت کی خدمت میں عرض کیا۔ حضرت خواجہ سید بہاؤ الدین نقشبند نے کہا، لڑکو! کیا کہتے ہو کہ امیر تیمور ہماری درگاہ کی خاک منہ پر مل گیا۔ یہ کیوں نہیں کہتے کہ امیر اپنی عاقبت سنوار گیا۔ الٰہی اس ترک نے جس طرح تیرے رسولؐ کی ذریات کا ادب کیا ہے، اسی طرح اس کے بدلے میں اس کا نام شرق سے غرب تک، شمال سے جنوب تک روشن کر دے۔ اس کی اولاد در اولاد کو پشتوں تک سلطنت بخش دے۔ چنانچہ امیر تیمور سے میران شاہ سلطان ابو سعید میرزا، سلطان محمدمرزا، عمر شیخ میرزا بابر ہمایوں، اکبر جہاں گیر، شاہجہاں تک گیارہویں سلطنت تھی۔شاہجہاں کو تعمیر کا دلی شوق تھا۔ نئی دلی بسانے کی تدبیر شروع کی۔ لال قلعہ اور اس کی اندرونی عمارتوں، اور جامع مسجد اور نئے شہر کے نقشے بنوائے گئے۔ شہنشاہ نقشوں میں بذات خاص اصلاح دیتے تھے۔ میر عمارت نے ہر مکان، ہر محل کی لاگت کا تخمینہ تیار کیا اور ملکوں ملکوں سے سنگ مرمر، سنگ سرخ، سنگ سیاہ، سنگ باسی اور ہزار ہزار قسم کا مصالحہ اور سامان آنے لگا۔ میر عمارت نے چنیا اینٹ کا پیمانہ ایک ٹھیکے دار کو دے کر کہا، ایسی اینٹ تیار کرو، مگر اینٹ کچی نہ رہے۔ لاکھوری ہو۔ بادشاہی کام ہے، دھیان سے کرنا۔ ٹھیکے دار نے کہا پیشگی نقد دلوائیے۔ میر عمارت نے لاکھ روپیہ کی چٹھی لکھ دی۔ خزانہ سے فوراً روپیہ پٹ گیا اور ٹھیکے دار کام میں مشغول ہو گیا۔ اینٹوں کا پزادہ چڑھ گیا۔ کچھ مدت بعد میر عمارت کے پاس ٹھیکے دار بسورتا ہوا آیا، اور کہنے لگا، میں تو برباد ہو گیا۔ پزادوں کی آنچ تیز ہو گئی۔ اینٹوں کا کھنگر بن کر رہ گیا۔ بادشاہ اس بندہ کا زن بچہ کولہو میں پلوا دے گا۔ اس لئے میں بھاگتا ہوں۔ دیکھئے یہ کھنگر ہے۔میر عمارت گھبرانے کی کیا بات ہے۔ اور قلم اٹھاکر اس نے ایک عرضی لکھ کر بادشاہ کے حضور میں بھیجی کہ لال قلعہ اور جو شاہی عمارتیں دریا کے کنارے بنائی جائیں گی، ان کی بنیادوں میں بجائے سنگ خارہ کے کھنگر بھرا جائےگا۔ کیونکہ کھنگر پانی کو خوب جذب کرتا ہے، اور بنیاد مضبوط رہتی ہے اور بنیاد کی مضبوطی کے ساتھ اوپر کی عمارت کا مضبوط ہونا شرط ہے۔ کھنگر کا نمونہ ملاحظہ کے لئے بھیجتا ہوں۔ لاگت اس پر دوگنی آتی ہے۔ منظوری دی جائے۔ جواب آیا کہ کھنگر کا بنوانا مناسب ہے۔ دوگنی لاگت منظورما بدولت ہے۔ میر عمارت نے کہا ٹھیکے دار! ایک لاکھ پہلے کھنگر کے نقصان کا لو اور اب لاکھ کے بدلے دو لاکھ لیتے رہو، اور نرا کھنگر پکاتے رہو۔ میر عمارت کی یہ عنایت اور بادشاہ کی یہ پرورش دیکھ کر ٹھیکے دار خوش ہوگیا اور دل سے کام کرنے لگا۔جب لال قلعہ کی نیو رکھنے لگے تو بڑے بڑے لوہے کے کڑھاؤ اور تانبہ کی ناندوں میں چربی کھولائی جاتی تھی اور پھلکیوں کی طرح اس میں کوری اینٹیں ڈالی جاتی تھیں اور اینٹیں جب خوب چربی پی لیتی تھیں تو نکال کر ٹھنڈی کی جاتی تھیں اور گچ کے ساتھ بنیاد میں رکھی جاتی تھیں۔ گچ میں سفیدی، نارنول کے پتھر، ماش کا آٹا، مردار سنگ، گوڑ، السی کا تیل، سن مقرض ڈال کر بیل گری کا پانی چھان کر دیا جاتا تھا۔ یہ ادنی قسم کا مصالحہ تھا اور بڑھیا مصالحوں کی تفصیل کے لئے دفتر درکار ہیں۔سفیدی جو درو دیوار پر لگا کر مہرہ کی جاتی تھی وہ احمد آباد، گجرات کے ایڈر نام پہاڑ کی کان سے آتی تھی۔ اس سفیدی کا یہ خاصہ تھا کہ جب اس کی گھوٹائی کی جاتی تھی تو بلا مبالغہ چمک دمک میں حلبی آئینہ بن جاتی تھی اور اس کے اندر آنکھوں کا سرمہ دکھائی دیتا تھا۔ دو سو برس تک آبدار رہتی تھی۔ لال قلعہ اور اس کے اندرونی مکان، قصر و ایوان بن رہے تھے۔ تخت طاؤسی کے لئے جواہر تراشے جاتے تھے۔ جنگل میں منگل تھا۔ ہزاروں مزدور، معمار، کاریگر خیموں میں، چھولداریوں میں، جھونپڑیوں میں پڑے تھے۔ دور دور کے پہاڑوں سے چھکڑوں میں پتھر لدے چلے آتے تھے۔ ایک چھکڑے میں سو سو پچاس پچاس بیل جوتے جاتے تھے۔ سنگ تراشوں کی چھینیوں اور ٹانکیوں کی دھڑا دھڑ سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ ہر سو قدم کے فاصلہ پر ایک خیمہ خزانہ کا برپا تھا۔ ایک ہندو خزانچی اور تین محرر۔ دس سپاہی روپیہ کی حفاظت کے لئے حاضر رہتے تھے۔روپیہ، اٹھنیاں، چونیاں، دونیاں، پیسے اور کوڑیاں رکھی رہتی تھیں۔ کام امانی میں زیادہ اور ٹھیکہ میں کم ہوتا تھا۔ شام کے چار بجے روزانہ چٹھ بٹ جاتا تھا۔ غریبوں کا پیسہ واجب الادا مل جاتا تھا۔ لال قلعہ کے لاہوری دروازہ سے شہر کے فرضی لاہوری دروازہ تک اردو بازار ٹیٹوں اور جھونپڑیوں کی دوکانوں میں لگا دیا گیا تھا۔ جس میں جو، گیہوں، جوار، باجرہ کے آٹے سے لے کر قسم قسم کی جنس، کپڑا، ترکاری، کابل و کشمیر کے میوے تک ملتے تھے۔ آگرہ سے حکم پر حکم چلا آتا تھا کہ اردو بازار میں ہر شے کی دوکانیں اضافہ ہوتی رہیں تاکہ غیر ملکوں کے کاریگر اپنا دیس چھوڑ کر پردیسی بنے ہیں، وہ تکلیف نہ پائیں اور اپنے وطن کی اشیاء اور غذا انہیں میسر ہو۔شہر کا نقشہ بناکر اس کے حصہ حصہ کر دیے گئے اور شاہجہاں نے ان حصوں کو اپنی اولاد پر بانٹ دیا تھا اور فرما دیا تھا کہ لاگت سب خزانہ سے ملے گی، اپنے اپنے حصہ میں عمدہ عمدہ مکانات اورمحل بنوالو تاکہ نیا شہر اچھی اچھی عمارتوں سے آراستہ ہوکر آبادی کی صورت پکڑے۔ چنانچہ دکن کا حصہ اورنگ زیب کے اہتمام سے زیبائش پانے لگا۔ کشمیر ی دروازہ کے قطع کو دارا شکوہ نے فلک شکوہ قصر و ایوان سے سنوارا۔ چاندنی چوک کے ٹکڑے کو جہاں آرا بیگم کے غلام نے جو ناتواں تخلص کرتا، باغ اور گلشن اور حماموں سے رشک فردوس بنایا۔ نٹوں کا کوچہ اسی ناتواں کی یادگار ہے۔ جامع مسجد کی تعمیر نواب سعد اللہ خاں وزیر کو سپرد تھی اور اس کی نیویں بھری گئی تھیں، جو وہ انجینئر جس کی سپردگی میں جامع مسجد کا نقشہ تھا یکا یک مع نقشہ کے غائب ہو گیا اور مسجد کی تعمیر کا کام اینڈ ہوکر رہ گیا۔اس امر کی خبر پاکر شہنشاہ ناخوش ہوئے۔ حکم صادر ہوا کہ جو شخص اس کافرمنش مسلمان کو جس نے خانہ خدا کی تیاری میں روڑا اٹکایا ہے، پکڑ کر لائےگا تو اسے اس قدر انعام دیا جائےگا، مگر وہ خدا کا بندہ ایسا الوپ ہوا کہ تین برس تک کسی نے اس کی جھلک بھی نہ پائی۔ تین سال بعد وہ یکایک دربار شاہی میں حاضر ہو گیا۔ حضور والا نے فرمایا، ’’کمبخت یہ حرکت کیا تھی؟‘‘ اس نے ہاتھ باندھ کر کہا جامع مسجد کی عمارت بہت بھاری ہوگی۔ نئی بنیاد پر ایسی اونچی عمارت کا لے جانا خطرہ سے خالی نہ تھا۔ برسات کا پانی نیو میں مرتا اور اس کے درو دیوار نیچے کھسکتے اور ڈاٹیں، کمانیں، محرابیں، جھک جاتیں۔ سرکار کے لاکھوں روپے پر پانی پھر جاتا اور میری آبرو کے ساتھ ساتھ جان بھی جاتی۔ نیک نیتی اور مصلحت سے فدوی روپوش ہو گیا تھا۔ تین برساتیں کھاکر نیو لوہا لاٹ ہو گئی ہے۔ اب جو کچھ عمارت کھڑی ہوگی، صدیوں تک کھڑی رہے گی۔ حضور کو اختیار ہے کہ فدوی کی جاں بخشی ہو یا سزا دی جائے۔بادشاہ نے انجینئر کے عذر کو غور سے سن کر اس کی خطا معاف فرمائی اور خلعت سے سرفراز کیا اور جامع مسجد نواب سعد اللہ خاں صاحب کے اہتمام سے تیار ہونے لگی، جو نواب صاحب کو قولنج ہوا اور وہ جنت کو سدھارے۔ بہر حال جامع مسجد اور لال قلعہ اور شہر بن گیا۔ حضور والا نے دیوان خاص میں تخت طاؤسی پر جلوہ افروز ہوکر جشن ماہتابی منایا اور ایک فرمان جاری فرمایا۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ فخر البلاد جہان آباد عرف شاہجہاں آباد میں جو رعایا آباد کی گئی ہے اس میں خوشحال کم اوراہل حاجت زیادہ ہیں۔ پھر ان میں کاروباری ہیں، مزدور ہیں، بیمار ہیں، عورتیں ہیں، پردہ نشین جو برقعہ اوڑھ کر بھی باہر نہیں نکلتی ہیں اور بغیر سودے سلف کے کام نہیں چلتا ہے۔ اس واسطے میں حکم دیتا ہوں کہ ترکاری فروش، گوشت فروش، میوہ فروش، پارچہ فروش، کسیرہ، گندی، تانبے کے برتنفروش، موچی، مٹی کے مٹکے، ٹھلیاں، صراحیاں، بیچنے والے، اوپلہ ایندھن بیچنے والے، سادہ کار، چاندی سونے کے زیور بیچنے والے، حلوائی، بساطی، اپنے اپنے سامان خوانچوں میں لگا کر گٹھریوں میں کندھے پر رکھ کر، بہنگیوں میں کہاروں کے کندھے پر لاد کر گلی گلی، کوچہ کوچہ، محلہ محلہ پھریں اور اپنی اپنی جنس کا نام لے کر آواز لگائیں۔بزاز کہے، ’’نینو، لٹھ، ڈوریہ، ململ۔‘‘ مچھلی والا، ’’مچھلی دریاؤ کی، لو مچھ۔‘‘ کھٹ بنے، بڑھئی، لوہار، اپنے اپنے پیشہ کا نام لے کر پکاریں۔ یہاں تک کہ موری دہانے والے پکار کر کہیں، ’’مہری دھلوالیجئے‘‘ ۔ تاکہ گھر بیٹھے اہل حاجت کی ضرورت ر فع ہوجائے۔ چونکہ اس حکم تازہ کی تعمیل مشکل سے پیشہ ور کریں گے، اس لئے کوتوالی کے برق انداز لوگوں کے ساتھ رہیں اور شہر میں گشت کروائیں۔ تاکہ گاہک اور سودا بیچنے والے اس طور کے لین دین کے عادی ہوجائیں اور بیچنے والوں کو نفع اور مول لینے والوں کو بازار جانا نہ پڑے، اور ہر قسم کی چیزیں اپنے دروازہ پر لے لیں۔ جیسی نیت ویسی برکت۔ شاہجہاں بادشاہ کی یہ تدبیر ایسی راست آئی کہ آج اس اجڑے دیار میں لینے والی بیٹی کا سارا جہیز اپنے گھر کے دروازہ پر کواڑ کی آڑ میں کھڑی ہوکر مول لے لیتی ہے۔شاہجہاں کے بعد سلطنت درجہ بدرجہ منتقل ہوتی ہوئی محمد شاہ رنگیلے تک پہنچی۔ اور لال قلعہ کا دیوان خاص عیش و نشاط کے سامانوں سے فردوس بریں بن گیا۔ معتمد الملک سید ہاشم علوی خاں، حکیم رنگینی ذوق کے مددگار تھے۔ ان کے حکم سے شتر خانہ بادشاہی میں گرمی، جاڑہ، برسات دو سو اونٹ بدمست رکھے جاتے تھے اور ان کے کانوں کے پیچھے کی مستی دوا کے کام میں آتی تھی۔ میر شکار جنگلی کبوتروں کے بیس انڈے تازہ بتازہ اور بارہ انڈے چڑیا کے پیش کرتا تھا۔ کیونکہ دونوں چیزیں مقوی ہیں۔ شراب پانی کی طرح لنڈھائی جاتی تھی۔ ایک رات محمد شاہ نشہ کے سرور میں اس درگاہ کے اندرمع جوتیوں کے گھس گئے، جس میں حضور رسالت پناہ اور بزرگوں کے تبرکات امیر تیمور کے عہد سے جمع کئے گئے تھے۔ یہ درگاہ لال قلعہ میں ہی تھی۔ اس بے ادبی اور گستاخی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلطنت کا زوال شروع ہوا۔ نادر شاہ آیا او رلال قلعہ کو اور شاہجہاں آباد کو اجاڑ کر چل دیا اور بقول مومن،حسن روز افزوں پہ غرہ کس لئے اے ماہ رویونہی گھٹتا جائےگا جتنا کہ بڑھتا جائےگا مغلیہ سلطنت گھٹتے گھٹتے اور سکڑتے سکڑتے لال قلعہ کی چار دیواری میں ٹھٹھر کر رہ گئی۔ دانا یان فرنگ کی تدبیر و شمشیر سے کوئی راجہ، کوئی حاکم، کوئی رئیس، کوئی نواب عہدہ برآنہ ہو سکا۔ شاہ عالم بادشاہ نے فرنگیوں کو بٹیا بنالیا۔ ان کی دی ہوئی پنشن کواللہ آمین کر کے قبول کر لیا۔ کیونکہ مرتا کیا نہ کرتا؟ جان بچی لاکھوں پائے۔ ایک شاہ عالم بادشاہ کے دل میں فرنگیوں نے گھر نہیں کرلیا تھا بلکہ ہندوستانی عموماً انہیں اچھا جاننے لگے تھے اور ان کی سپاہ اور شاہراہ اورتنخواہ کی بچہ بچہ کی زبان پر تعریف تھی۔ یعنی فرنگیوں کی فوج جرار ہوتی ہے۔ دس ہزار پر ایک ہزار بھاری ہوتی ہے۔شاہراہ یعنی کلکتہ سے جہاں تک ان کی حکومت پہنچتی ہے، پکی سڑک اور سڑک کے ساتھ ساتھ ریل اور ڈاک بھی اڑی چلی جاتی ہے اور تین تین دن میں خط پتر ملک کے اس سرے سے اس سرے تک پہنچا دیتی ہے۔ تنخواہ کی تعریف یہ ہے کہ جسے نوکر رکھتے ہیں، اس کا درمایہ یا طلب یا وظیفہ بے قیل و قال، بے چوں و چرا پہلی کی پہلی کو دیتے ہیں۔ راجہ مہاراجہ، نوابوں اور بادشاہوں کی سرکار سے نوکر کی تنخواہ تین تین برس نہیں ملتی تھی اور نوکر کا گھرانہ کا گھرانہ فاقہ کر کے برباد ہو جاتا تھا۔(۲)ابو نصر معین الدین اکبر ثانی جب بیٹے کی منت پوری کرنے اور پھول والوں کی سیر منانے مہرولی حاضر ہوئے تھے تو عجب سماں تھا۔ برکھا رات، ساون کامہینہ، بادشاہی خیمہ مخملی باناتی اطلسی سبز سرخ زرد ریشمی کلابتونی سوتی طنابوں سے جکڑے ہوئے کھڑے تھے۔ ان کے سنہری کلس اور شمسے سورج میں چمک رہے تھے۔ اوپر نیلا آسمان، نیچے زمین پر سبزہ کا فرش اور خیموں کا سلسلہ اور جابجاپانی میں ان کا عکس طلسمات کا عالم پیدا کر رہا تھا۔ بادشاہی خیمہ سے لے کر حضرت قطب صاحب بندہ نواز کی درگاہ شریف تک جہاں مستورات جا سکتی ہیں، دور و یہ قنات کھڑی تھی کیونکہ ملکہ دوراں میرزا جہانگیر کو لے کر منت ادا کرنے کے لئے درگاہ میں حاضر ہوں گی۔ تیاری تو صبح سے ہو رہی تھی مگر دن کے تین بجے ظل سبحانی نے کہا پنکھا چڑھانے کا وقت آ گیا۔بس ملکہ دوراں نے پچاس خوان اندر سے اندرسہ کی گولیوں اور پھینیوں کے آراستہ کئے۔ ایک چاندی کی کشتی میں سونے کا پنکھا جس میں پنہ، پکھراج، نیلم، یاقوت اور سچے موتی جڑے تھے، جس کی بالشت بھر نیچی جھالر کو بیگم نے جو ہی کی کلیوں سے خود گوندھا تھا، مرزا جہانگیر کو دولھا بناکر سہرا پھولوں کا، بدھی طرہ عطر میں بسا کر، اس کے سر پر بندھوا کر وہ کشتی صاحب عالم کے سر پر بسم اللہ کہہ کر بیگم نے رکھی اور بادشاہ زادہ کی بلائیں لے کر کہا، ’’اماں میرا منہ نہ تھا کہ تو فرنگیوں کے چنگل سے نکل کر شاہجہاں آباد آئے اور میں تجھے دیکھوں۔ یہ سب حضرت کا صدقہ ہے۔ جان من منت کی کشتی سنبھال کر اور سرادب نیاز سے سر جھکا کر درگاہ کو چلو۔ آؤ۔غلاف شریف کی سینی بادشاہ نے اپنے سر پر اور صندل دان، عطر دان بیگم نے اپنے سر پر اور مٹھائی کے خوان بادشاہ زادوں نے اپنے سروں پر رکھ کر سب نے مل جل کر آستانہ پاک کی راہ لی۔ بیگمیں، بادشاہ زادیاں تُلواں جوڑے پہنے تھیں۔ گوکھرو کے جال کے سلمہ ستارہ، کلابتون کے تمامی، زرمی بونٹی، زر بفت کمخواب، زری گاچھ، اطلس دلدائی، بابرنیٹ۔ بنارس، گجرات، سورت، احمدآباد شریف، لاہور کے شاہی کارخانوں کے ریشمی اور زرین کپڑوں کے لباس پہن کر آراستہ ہو رہی تھیں۔ لاکھوں روپیہ کا جڑاؤ گہنا ہاتھ گلے میں تھا۔ پور پور نار نول کی مہندی رچی ہوئی تھی، ڈھیلے پائنچوں کو دو لونڈیاں اٹھائے چلتی تھیں، تو دو باندیاں پیچھے دوپٹہ کو سنبھالے چلتی تھیں۔ آگے آگے روشن چوکی اور نفیری بجانے والیاں سب عورتیں تھیں۔ بیگموں کے جھانجن، چوڑیوں اور پازیب کی جھنکار سے زندہ اور مردوں کے دل کانپتے تھے۔ قنات در قنات یہ سب درگاہ شریف میں پہنچے۔ باجے گاجے سب آستانے کے باہر ہی تھما دیے گئے۔ ملکہ جہاں اور سب عورتیں فرخ سیر والی جالیوں تک پہنچ کر رک گئیں۔اگرچہ ساری درگاہ کا زنانہ ہو رہا تھا، مگر عورتوں کے لئے ہمیشہ سے یہی حد ادب ہے۔ بادشاہ اور مرزا صاحب اور سب مرد مزار شریف پر گئے۔ اور پہلے غلاف پھر صندل چڑھایا، اور اوپر سے عطر لگایا۔ پنج آیت پڑھی گئی۔ شیرینی تقسیم ہوئی۔ نقد نذرانہ جھری میں بھر دیا گیا۔ بادشاہ زادوں کو قدم بوس کرایا۔ اور سب حاجتی دعا کر کے قنات کے اندر پلٹ کر سرا پردہ شاہی میں داخل ہوئے۔ رات کے کھانے کے بعدمحل سرا میں ناچ گانا ہونے لگا۔ صحن میں کھم گڑے تھے۔ نو عمر بادشاہ زادیاں جھولے میں بیٹھیں اور گائینیں انہیں جھلانے اور یہ غزل گانے لگیں،غزلمیری دل کی کنجی میر ی جان جھولامیری آرزو میرا ارمان جھولانہ جھولو بہت بیگما جان جھولاکہ دیتا ہے آخر کو نقصان جھولاکروں کیوں نہ آؤ بھگت اس کی دل سےبرس دن میں آیا ہے مہمان جھولاجو دیتی ہے جھونٹے کوئی لمبے لمبےاوڑاتا ہے کیا میرے اوسان جھولایہ برسات کے پانچ تحفے ہیں بیگمگھٹا، پھینیاں، آم، پکوان، جھولادوا تیری لڑکی بڑی بے حیا ہےنہیں چھوڑتی ہے کسی آن جھولارہے جاکے برسات میں قطب صاحباگر جھولنا چاہے انسان جھولایہ موٹا یہ کھدی یہ میلا کچیلاکہاں سے اٹھا لایا در بان جھولاخدا کے لئے آج پھر وہ سنا دوجو گایا تھا کل تم نے بی جان جھولاہوا ختم ساون لگا آج بھادوںجھولاؤگی کب تم چچی جان جھولااگرچاوڑی یا دریبہ کو جائیںمجھے لاکے دیں بھائی سلطان جھولابلایا ہے سمدھن کو جھولا جھلانےبنے گا نہ کیونکر پرستان جھولاکنول دل کا کھل جائے ہو روح تازہجھولائیں جو ملکہ خوش الحان جھولاپھڑکتی ہے جب دیکھ لیتی ہے اس کوکروں اپنی بچی پہ قربان جھولایہ بہنوں سے میری ملاتا ہے مجھ کوبڑا مجھ پہ کرتا ہے احسان جھولاتھکی جاتی ہوں میں تو پڑھتے ہی پڑھتےیہ ہے گیت یا کوئی دیوان جھولا اک ادا ہے یہ ہندوستان کینہ کیوں جھولیں ہندو مسلمان جھولاپھول والوں کی سیر سے فارغ ہوکر بادشاہ شاہجہاں آباد تشریف لائے اور جشن کا حکم دیا اور فرمایا کہ جشن سے پندرہ دن پہلے تورہ بندی کی جائے۔ یہ رسم دلی سے مٹ گئی۔ اور نئی تانتی نے تورہ کا نام بھی کم سنا ہے۔ اس لئے فقیر فراق تورہ کے معنی عرض کرتا ہے۔ تورہ ترکی زبان میں قانون یا آئین کو کہتے ہیں۔ اس واسطے دہلی میں محاورہ بنا۔ ’’شرع تورہ۔‘‘ یعنی شریعت اور قانون دونوں ایک بات مگر عورتیں اپنی بول چال میں طنز کے طور پر تورہ غرور اور غصے کے معنی میں استعمال کرتی ہیں۔ مثلاً، ’’اللہ رے عورت ترا تورہ۔‘‘ بوا یہ اپنا تورہ کسی اور کو دکھانا۔ تورہ بیٹی۔دوسرے ترکی زبان میں تورہ کے معنی کھانے کے خوان کے ہیں۔ اور توران میں اس کھانے کے خوانوں کو کہتے ہیں، جو شادی بیاہ سے کچھ دن پہلے بطور حصہ بخرہ کے بھائی بندوں، عزیزوں دوستوں کے گھر بھجوائے جاتے ہیں۔ مغل بادشاہ ہندوستان میں فرماں روا ہوئے تو ان کے ساتھ تورہ چنگیزی بھی آیا۔ بیاہ شادی سے دو ہفتہ پہلے تورہ بن گئے نام بنام، تاکہ عین تاریخ پر تقریب میں ہلّڑ نہ ہو اور عزیزوں کو شکایت کا موقع نہ ملے کہ ہم بھوکے رہے یا دسترخوان پر نہ بٹھایا، یا ہم دسترخوان پر بیٹھے تو تھے مگر فلاں کھانا فلاں شے ہمارے آگے نہ تھی۔ ہماری توہین کی گئی۔ اس لئے تورہ کے کھانوں کی فہرست لکھ کر کنبہ خاندان میں بھیج دی جاتی تھی۔ اس کے مطابق لینے والے تورہ لے لیں۔ایک گھر کے دس تورہ ہیں، تو وہ دسوں تورہ ایک دن میں لے سکتے ہیں۔ اور دل چاہے تو دس دن میں لے لیں۔ پھر تورہ کی قیمت بھی تشخیص کر دی جاتی تھی۔ چاہے لینے والے نقدی لیں۔ ایک منشی مع دوات قلم کے اور پانچ خادموں کے توروں کے ساتھ ہو لیتا۔ ایک تھیلی روپیہ کی بھی اس کے ہمراہ ہوتی تھی، اس کے ذمہ پچاس تورہ ایک دن میں تقسیم کے لئے ہوتے۔ رسید لے لیتا تھا، تورہ دے دیتا تھا۔ جو نقد لینا چاہتا اسے نقد دیتا تھا۔ ہر تورہ ایک کہاری کی بہنگی میں ہوتا تھا۔ تورہ جو ادنیٰ قسم کا ہوتا اس کی قیمت پانچ روپیہ ہوتی تھی، تورہ کا کھانا مٹی کے لاکھی برتنوں میں عموماً ہوتا تھا۔ تورہ کے کھانوں کی تفصیل یہ تھی۔ ایک لکڑی کے خوان میں سب سے نیچے،(۱) باقرخانیاں ڈھائی سیر پختہ کی دو عدد(۲) قورمہ کے دو پیالہ۔ ہر پیالہ میں کم سے کم آدھ سیر قورمہ(۳) کباب شامی ۵ عدد(۴) بریانی دو طباق(۵) متبخن دو طباق(۶) فیرینی دو پیالہ۔ ہر پیالہ میں آدھ سیر(۷) مربہ آم وغیرہ کا ایک پیالی میں(۸) اچار کسی قسم کا ایک پیالی(۹) دہی آدھ سیر۔ ایک پیالہ(۱۰) گاؤ زبان۔ دو عدد(۱۱) گاؤ ویدہ۔ دو عد(۱۲) نان تنور یعنی آبی روٹی دو سیر کی چار عددیہ سب کھانے مانڈوں سے ڈھکے ہوتے تھے۔ مانڈہ اس باریک اور روغنی چپاتی کا نام ہے جو شب برات کو پکتی ہے۔ ایک مثل بھی مانڈوں کے متعلق مشہور ہے۔ مردہ دوزخ میں جائے یا بہشت میں، انہیں اپنے حلوے مانڈے سے کام ہے۔ یہ معمولی تورہ ہے۔ ورنہ بادشاہوں کے تورہ ہزار نعمتوں کے سونے چاندی اور چینی کے برتنوں میں بھی ہوتے تھے۔ اس رسم کو بادشاہوں سے دلی والوں نے بھی سیکھ لیا تھا۔ اور شہر میں بھی تورہ بندی ہوتی تھی۔ مگر غدر ۱۸۵۷ کے کچھ دن بعد سے موقوف ہے۔ اب تو پارٹی کی گرما گرمی ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"} {"title": "جہان آرزو آواز ہی آواز ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہان آرزو آواز ہی آواز ہوتا ہے\nبڑی مشکل سے احساس شکست ساز ہوتا ہے\n\nہمیں کیا آپ انجام محبت سے ڈراتے ہیں\nہمارے خون سے ہر دور کا آغاز ہوتا ہے\n\nقفس ہے دام ہے بھڑکی ہوئی ہے آتش گل بھی\nاسی ماحول میں اندازۂ پرواز ہوتا ہے\n\nپگھل جاتی ہیں زنجیریں سلگ اٹھتی ہیں دیواریں\nلب خاموش میں وہ شعلۂ آواز ہوتا ہے\n\nمحبت کی حقیقت کھل گئی چاک گریباں سے\nجنوں بھی ایک منزل میں زمانہ ساز ہوتا ہے\n\nہمیں پر منحصر ہے رونق بزم جہاں قابلؔ\nکوئی نغمہ ہو اپنا ہی رہین ساز ہوتا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%8C_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جہان رنگ و بو میں مستقل تخلیق مستی ہے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہان رنگ و بو میں مستقل تخلیق مستی ہے\nچمن میں رات بھر بنتی ہے اور دن بھر برستی ہے\n\nنگاہ عشق و چشم حسن دو ساون کے بادل ہے\nیہ جب ملتے ہیں دل پر ایک بجلی سی برستی ہے\n\nاگر ہے زندگی منظور بے سوچے فنا ہو جا\nمذاق عاشقی میں نیستی کا نام ہستی ہے\n\nیکایک پھر چراغ امید کے ہونے لگے روشن\nیہ صبح روز محشر ہے کہ شام صبح ہستی ہے\n\nخدا سے حکم تنسیخ اجل مانگیں گے محشر میں\nمگر سیمابؔ یہ تو قصۂ ما بعد ہستی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%88_%D8%A8%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D9%84_%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%D9%82_%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جہاں اب خار زاریں ہو گئی ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں اب خار زاریں ہو گئی ہیں\nیہیں آگے بہاریں ہو گئی ہیں\n\nجنوں میں خشک ہو رگ ہائے گردن\nگریباں کی سی تاریں ہو گئی ہیں\n\nسنا جاتا ہے شہر عشق کے گرد\nمزاریں ہی مزاریں ہو گئی ہیں\n\nاسی دریاے خوبی کا ہے یہ شوق\nکہ موجیں سب کناریں ہو گئی ہیں\n\nانہیں گلیوں میں جب روتے تھے ہم میرؔ\nکئی دریا کی دھاریں ہو گئی ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D8%B2%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جہاں بات وحدت کی گہری رہے گی", "poet_page": "مصنف:یاسین علی خاں مرکز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مرکز (1926)", "year": "1926", "text_ur": "جہاں بات وحدت کی گہری رہے گی\nوہاں فکر اپنی نہ تیری رہے گی\n\nلجاجت امیروں سے یک دم اٹھا دے\nقناعت سے اپنی فقیری رہے گی\n\nنہ جینے کی خواہش نہ مرنے کا غم ہے\nجو حالت ہے اپنی وہ ٹھہری رہے گی\n\nمجلہ ہوا جب سے دل ہے ہمارا\nنہ مرقد میں اپنے اندھیری رہے گی\n\nگھمنڈ ہر طرح کرنا زیبا نہیں ہے\nجوانی کسی کی نہ پیری رہے گی\n\nخدائی کی قدرت خودی سے ہے مرکزؔ\nمقلد ہیں جب تک اسیری رہے گی", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%DB%81%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "جہاں تجھ کو بٹھا کر پوجتے ہیں پوجنے والے", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں تجھ کو بٹھا کر پوجتے ہیں پوجنے والے\nوہ مندر اور ہوتے ہیں شوالے اور ہوتے ہیں\n\nدہان زخم سے کہتے ہیں جن کو مرحبا بسمل\nوہ خنجر اور ہوتے ہیں وہ بھالے اور ہوتے ہیں\n\nجنہیں محرومیٔ تاثیر ہی اصل تمنا ہے\nوہ آہیں اور ہوتی ہیں وہ نالے اور ہوتے ہیں\n\nجنہیں حاصل ہے تیرا قرب خوش قسمت سہی لیکن\nتری حسرت لیے مر جانے والے اور ہوتے ہیں\n\nجو ٹھوکر ہی نہیں کھاتے وہ سب کچھ ہیں مگر واعظ\nوہ جن کو دست رحمت خود سنبھالے اور ہوتے ہیں\n\nتلاش شمع سے پیدا ہے سوز ناتمام اخترؔ\nخود اپنی آگ میں جل جانے والے اور ہوتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%BE%D9%88%D8%AC%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D9%88%D8%AC%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے\nمری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے\n\nنہ اتنی تیز چلے سرپھری ہوا سے کہو\nشجر پہ ایک ہی پتا دکھائی دیتا ہے\n\nبرا نہ مانیے لوگوں کی عیب جوئی کا\nانہیں تو دن کا بھی سایا دکھائی دیتا ہے\n\nیہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے\nتمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے\n\nوہیں پہنچ کے گرائیں گے بادباں اب تو\nوہ دور کوئی جزیرہ دکھائی دیتا ہے\n\nوہ الوداع کا منظر وہ بھیگتی پلکیں\nپس غبار بھی کیا کیا دکھائی دیتا ہے\n\nمری نگاہ سے چھپ کر کہاں رہے گا کوئی\nکہ اب تو سنگ بھی شیشہ دکھائی دیتا ہے\n\nسمٹ کے رہ گئے آخر پہاڑ سے قد بھی\nزمیں سے ہر کوئی اونچا دکھائی دیتا ہے\n\nکھلی ہے دل میں کسی کے بدن کی دھوپ شکیبؔ\nہر ایک پھول سنہرا دکھائی دیتا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جہاں تک عشق کی توفیق ہے رنگیں بناتے ہیں", "poet_page": "مصنف:دل شاہ جہانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں تک عشق کی توفیق ہے رنگیں بناتے ہیں\nوہ سنتے ہیں ہم ان کو سر گذشت دل سناتے ہیں\n\nادھر حق الیقیں ہے اب وہ آتے اب وہ آتے ہیں\nادھر انجم مری اس ذہنیت پر مسکراتے ہیں\n\nشب غم اور مہجوری یہ عالم اور مجبوری\nٹپک پڑتے ہیں آنسو جب وہ ہم کو یاد آتے ہیں\n\nوہیں سے درس حسن و عشق کا آغاز ہوتا ہے\nجہاں سے واقعات زندگی ہم بھول جاتے ہیں\n\nہمیں کچھ عشق کے مفہوم پر ہے تبصرہ کرنا\nاک آہ سرد کو عنوان شرح غم بناتے ہیں\n\nبہا کر اشک خوں کھینچی تھیں جو آئینۂ دل میں\nہم ان موہوم تصویروں کو اب رنگیں بناتے ہیں\n\nشباب زندگی جلووں کا اک معصوم نظارہ\nہمیں اے دل وہ افسانے ابھی تک یاد آتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D9%81%DB%8C%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جہاں تک ہم ان کو بہلاتے رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں تک ہم ان کو بہلاتے رہے ہیں\nوہ کچھ اور بھی یاد آتے رہے ہیں\n\nانہیں حال دل ہم سناتے رہے ہیں\nوہ خاموش زلفیں بناتے رہے ہیں\n\nمحبت کی تاریکی یاس میں بھی\nچراغ ہوس جھلملاتے رہے ہیں\n\nجفا کار کہتے رہے ہیں جنہیں ہم\nانہیں کی طرف پھر بھی جاتے رہے ہیں\n\nوہ سوتے رہے ہیں الگ ہم سے جب تک\nمسلسل ہم آنسو بھاتے رہے ہیں\n\nبگڑ کر جب آئے ہیں ان سے تو آخر\nانہیں کو ہم الٹے مناتے رہے ہیں\n\nوہ سنتے رہے مجھ سے افسانہ غم\nمگر یہ بھی ہے مسکراتے رہے ہیں\n\nنہ ہم ہیں نہ ہم تھے ہوس کار حسرت\nوہ ناحق ہمیں آزماتے رہے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%81%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں\nخیاباں خیاباں اِرم دیکھتے ہیں\n\nدل آشفتگاں خالِ کنجِ دہن کے\nسویدا میں سیرِ عدم دیکھتے ہیں\n\nترے سروِ قامت سے اک قدِ آدم\nقیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں\n\nتماشا! کہ اے محوِ آئینہ داری\nتجھے کس تمنّا سے ہم دیکھتے ہیں\n\nسراغِ تُفِ نالہ لے داغِ دل سے\nکہ شب رَو کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں\n\nبنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ\nتماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%82%D8%AF%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جہاں تیغ ہمت علم دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں تیغ ہمت علم دیکھتے ہیں\nمحالات کا سر قلم دیکھتے ہیں\n\nجو بیٹھے تھے یاں پا بدامان ہستی\nانہیں سر بہ حیب عدم دیکھتے ہیں\n\nکمالات صانع پہ جن کی نظر ہے\nوہ خوبی‌ مصنوع کم دیکھتے ہیں\n\nنہیں مبتلا جو تن آسانیوں میں\nانہیں دم بدم تازہ دم دیکھتے ہیں\n\nنہیں جن کو جاہ و حشم کا تکبر\nوہی لطف جاہ و حشم دیکھتے ہیں\n\nشکم پروری جن کا شیوہ ہے ان کو\nاسیر‌‌‌ جفائے شکم دیکھتے ہیں\n\nبس اے رنگ و بو تو نہ کر ناز بیجا\nخدا جانے کیا بات ہم دیکھتے ہیں\n\nاڑاتے ہیں جو رخش ہمت کو سرپٹ\nوہ منزل کو زیر قدم دیکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%DB%81%D9%85%D8%AA_%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جہاں دیکھو وہاں موجود میرا کرشن پیارا ہے", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں دیکھو وہاں موجود میرا کرشن پیارا ہے\nاسی کا سب ہے جلوا جو جہاں میں آشکارا ہے\n\nبھلا مخلوق خالق کی صفت سمجھے کہاں قدرت\nاسی سے نیتی نیتی اے یار دیدوں نے پکارا ہے\n\nنہ کچھ چارا چلا لاچار چاروں ہار کر بیٹھے\nبچارے بید نے پیارے بہت تم کو بچارا ہے\n\nجو کچھ کہتے ہیں ہم یہی بھی ترا جلوا ہے اک ورنہ\nکسے طاقت جو منہ کھولے یہاں ہر شخص ہارا ہے\n\nترا دم بھرتے ہیں ہندو اگر ناقوس بجتا ہے\nتجھے بھی شیخ نے پیارے اذاں دے کر پکارا ہے\n\nجو بت پتھر ہیں تو کعبے میں کیا جز خاک و پتھر ہیں\nبہت بھولا ہے وہ اس فرق میں سر جس نے مارا ہے\n\nنہ ہوتے جلوہ گر تم تو یہ گرجا کب کا گر جاتا\nنصاریٰ کو بھی تو آخر تمہارا ہی سہارا ہے\n\nتمہارا نور ہے ہر شے میں کہہ سو کوئی تک پیارے\nاسی سے کہہ کے ہر ہر تم کو ہندو نے پکارا ہے\n\nگنہ بخشو رسائی دو رساؔ کو اپنے قدموں تک\nبرا ہے یا بھلا ہے جیسا ہے پیارے تمہارا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%B4%D9%86_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جہاں رنگ و بو ہے اور میں ہوں", "poet_page": "مصنف:چندر بھان کیفی دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں رنگ و بو ہے اور میں ہوں\nبہار آرزو ہے اور میں ہوں\n\nسکوں کا کام کیا اس میکدے میں\nازل سے ہا و ہو ہے اور میں ہوں\n\nالٰہی شرع میں رکھا ہی کیا ہے\nنماز بے وضو ہے اور میں ہوں\n\nجو تم آئے تو آئی جان میں جاں\nمقدر روبرو ہے اور میں ہوں\n\nمری رسوائیاں ہیں اور تم ہو\nتمہاری گفتگو ہے اور میں ہوں\n\nترے دیدار کی جویا ہیں آنکھیں\nتلاش چار سو ہے اور میں ہوں\n\nعجب شے خود فراموشی ہے کیفیؔ\nصراحی ہے سبو ہے اور میں ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%88_%D8%A8%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "جہاں ریحانہؔ رہتی تھی", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nوہ اس وادی کی شہزادی تھی اور شاہانہ رہتی تھی\nکنول کا پھول تھی سنسار سے بیگانہ رہتی تھی\nنظر سے دور مثل نکہت مستانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہ رہتی تھی\nانہی صحراؤں میں وہ اپنے گلے کو چراتی تھی\nانہیں چشموں پہ وہ ہر روز منہ دھونے کو آتی تھی\nانہی ٹیلوں کے دامن میں وہ آزادانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nکھجوروں کے تلے وہ جو کھنڈر سے جھلملاتے ہیں\nیہ سب ریحانہؔ کے معصوم افسانے سناتے ہیں\nوہ ان کھنڈروں میں اک دن صورت افسانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nمرے ہم دم یہ نخلستان اک دن اس کا مسکن تھا\nاسی کے خرمئی آغوش میں اس کا نشیمن تھا\nاسی شاداب وادی میں وہ بے باکانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nیہ پھولوں کی حسیں آبادیاں کاشانہ تھیں اس کا\nوہ اک بت تھی یہ ساری وادیاں بت خانہ تھیں اس کا\nوہ اس فردوس وجد و رقص میں مستانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nتباہی کی ہوا اس خاک رنگیں تک نہ آئی تھی\nیہ وہ خطہ تھا جس میں نو بہاروں کی خدائی تھی\nوہ اس خطے میں مثل سبزۂ بیگانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nاسی ویرانہ میں اک دن بہشتیں لہلہاتی تھیں\nگھٹائیں گھر کے آتی تھیں ہوائیں مسکراتی تھیں\nکہ وہ بن کر بہار جنت ویرانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nیہ ویرانہ گزر جس میں نہیں ہے کاروانوں کا\nجہاں ملتا نہیں نام و نشاں تک ساربانوں کا\nاسی ویرانے میں اک دن مری ریحانہؔ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nیہیں آباد تھی اک دن مرے افکار کی ملکہ\nمرے جذبات کی دیوی مرے اشعار کی ملکہ\nوہ ملکہ جو برنگ عظمت شاہانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہ رہتی تھی\nصبا شاخوں میں نخلستاں کی جس دم سرسراتی ہے\nمجھے ہر لہر سے ریحانہؔ کی آواز آتی ہے\nیہیں ریحانہؔ رہتی ہے یہیں ریحانہؔ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nفضائیں گونجتی ہیں اب بھی ان وحشی ترانوں سے\nسنو آواز سی آتی ہے ان خاکی چٹانوں سے\nکہ جن میں وہ برنگ نغمۂ بیگانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nمرے ہم دم جنون شوق کا اظہار کرنے دے\nمجھے اس دشت کی اک اک کلی سے پیار کرنے دے\nجہاں اک دن وہ مثل غنچۂ مستانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nبہ رب کعبہ اس کی یاد میں عمریں گنوا دوں گا\nمیں اس وادی کے ذرے ذرے پر سجدے بچھا دوں گا\nجہاں وہ جان کعبہ عظمت بت خانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nوہ اس ٹیلے پر اکثر عاشقانہ گیت گاتی تھی\nپرانے سورماؤں کے فسانے گنگناتی تھی\nیہیں پر منتظر میری وہ بیتابانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nکھجوروں کے حسیں سائے زمیں پر لہلہاتے تھے\nستارے جگمگاتے تھے شگوفے کھلکھلاتے تھے\nفضائیں منتشر اک نکہت مستانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nیہیں بستی تھی اے ہم دم مرے رومان کی بستی\nمرے افسانوں کی دنیا مرے وجدان کی بستی\nیہیں ریحانہؔ بستی تھی یہیں ریحانہؔ بستی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nشمیم زلف سے اس کی مہک جاتی تھی کل وادی\nنگاہ مست سے اس کی بہک جاتی تھی کل وادی\nہوائیں پرفشاں روح مے و مے خانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nوہ گیسوئے پریشاں یا گھٹائیں رقص کرتی تھیں\nفضائیں وجد کرتی تھیں ہوائیں رقص کرتی تھیں\nوہ اس فردوس وجد و رقص میں مستانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nگداز عشق سے لبریز تھا قلب حزیں اس کا\nمگر آئینہ دار شرم تھا روئے حسیں اس کا\nخموشی میں چھپائے نغمۂ مستانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nاسے پھولوں نے میری یاد میں بیتاب دیکھا ہے\nستاروں کی نظر نے رات بھر بے خواب دیکھا ہے\nوہ شمع حسن تھی پر صورت پروانہ رہتی تھی\nیہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nیہیں ہم رنگ گلہائے حسیں رہتی تھی ریحانہؔ\nمثال حور فردوس بریں رہتی تھی ریحانہؔ\nیہیں ریحانہؔ رہتی تھی یہیں ریحانہؔ رہتی تھی\nیہیں وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی\nپیام درد دل اخترؔ دیئے جاتا ہوں وادی کو\nسلام رخصت غمگیں کئے جاتا ہوں وادی کو\nسلام اے وادئ ویراں جہاں ریحانہؔ رہتی تھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%8C%D8%AD%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%94_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "جہاں سے دوش عزیزاں پہ بار ہو کے چلے", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں سے دوش عزیزاں پہ بار ہو کے چلے\nیہ سوئے ملک عدم شرمسار ہو کے چلے\n\nہمارے دیکھنے کو خوش ابھی سے ہیں اعدا\nذرا نہ دیکھ سکے اشک بار ہو کے چلے\n\nپہنچ ہی جاؤ گے مے خانہ میں خضر تم بھی\nہمارے ساتھ جو یاروں کے یار ہو کے چلے\n\nتمہاری رہ کا رہا ہم کو ہر طرف دھوکا\nچلے جدھر کو سو بے اختیار ہو کے چلے\n\nثنا نگار یہ ہے کس کے خلق کا عارفؔ\nقلم ورق پہ نہ کیوں اشک بار ہو کے چلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B4_%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "جہاں میں ابھی یوں تو کیا کیا نہ ہوگا", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں میں ابھی یوں تو کیا کیا نہ ہوگا\nزمیں پر کوئی تم سا پیدا نہ ہوگا\n\nشراب محبت کو اے زاہدو تم\nبرا گر کہو گے تو اچھا نہ ہوگا\n\nسر بزم دشنام دشمن کو دے کر\nمجھے تم نے کیا دل میں کوسا نہ ہوگا\n\nمری بے قراری کو کیا دیکھتے ہو\nکبھی برق کو تم نے دیکھا نہ ہوگا\n\nنسیمؔ اور کچھ فکر کیجے خدارا\nاب اس نوکری میں گزارا نہ ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا\nکہ مجھ کو دیکھ کے بسمل کو بھی سکون ہوا\n\nغریب دل نے بہت آرزوئیں پیدا کیں\nمگر نصیب کا لکھا کہ سب کا خون ہوا\n\nوہ اپنے حسن سے واقف میں اپنی عقل سے سیر\nانہوں نے ہوش سنبھالا مجھے جنون ہوا\n\nامید چشم مروت کہاں رہی باقی\nذریعہ باتوں کا جب صرف ٹیلیفون ہوا\n\nنگاہ گرم کرسمس میں بھی رہی ہم پر\nہمارے حق میں دسمبر بھی ماہ جون ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%B2%D8%A8%D9%88%D9%86_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہو", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہو\nیہ تھوڑی وضع داری ہے کہ دشمن آشنا تم ہو\n\nتباہی سامنے موجود ہے گر آشنا تم ہو\nخدا حافظ ہے اس کشتی کا جس کے ناخدا تم ہو\n\nجفا جو بے مروت بے وفا ناآشنا تم ہو\nمگر اتنی برائی پر بھی کتنے خوش نما تم ہو\n\nبھروسا غیر کو ہوگا تمہاری آشنائی کا\nتم اپنی ضد پہ آ جاؤ تو کس کے آشنا تم ہو\n\nکوئی دل شاد ہوتا ہے کوئی ناشاد ہوتا ہے\nکسی کے مدعی تم ہو کسی کا مدعا تم ہو\n\nظہیرؔ اس کا نہیں شکوہ نہ کی گر قدر گردوں نے\nزمانہ جانتا ہے تم کو جیسے خوش نوا تم ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%88"} {"title": "جہاں میں کہاں باہم الفت رہی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں میں کہاں باہم الفت رہی ہے\nمگر صرف صاحب سلامت رہی ہے\n\nہے افسوس اے عمر جانے کا تیرے\nکہ تو میرے پاس ایک مدت رہی ہے\n\nیہ طوفان اشک اس میں آنکھوں کی کشتی\nتعجب ہے کیوں کر سلامت رہی ہے\n\nاگرچہ تری یاد میں خوش ہوں لیکن\nان آنکھوں سے دیکھوں یہ حسرت رہی ہے\n\nمت امید بوسے کی رکھ دلبروں سے\nحضورؔ اب کسے اتنی ہمت رہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جہاں نہ دوست نہ گلچیں نہ باغباں میرا", "poet_page": "مصنف:محمود رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں نہ دوست نہ گلچیں نہ باغباں میرا\nپھر اس چمن میں رہے کیونکر آشیاں میرا\n\nشریک حال برے وقت میں یہ ہوتا ہے\nسوائے غم کے نہیں کوئی مہرباں میرا\n\nالٰہی خانۂ صیاد پر گرے بجلی\nکہ فصل گل میں جلایا ہے آشیاں میرا\n\nکچھ آج کل کے ستم کا گلہ نہیں اس سے\nازل کے روز سے دشمن ہے آسماں میرا\n\nتمہارے غم کے سوا میری جان دنیا میں\nنہ کوئی دوست ہے میرا نہ مہرباں میرا\n\nنہ خوف چرخ کا پھر ہو نہ غیر کا کھٹکا\nجو تم ہو میرے تو جانو کہ ہے جہاں میرا\n\nوہ فاش کرتا ہے پردہ تو یہ چھپاتی ہے\nزمین دوست ہے دشمن ہے آسماں میرا\n\nزباں وہ داغؔ کے صدقے میں پائی ہے محمودؔ\nکہ شاعری میں نہیں کوئی ہم زباں میرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D9%84%DA%86%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%BA%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "جہاں کو وہ لب مے گوں خراب رکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں کو وہ لب مے گوں خراب رکھتے ہیں\nخدا خبر کہ یہ کیسی شراب رکھتے ہیں\n\nاک آب و تاب مہ و آفتاب رکھتے ہیں\nپہ روکشی کی تری کب وہ تاب رکھتے ہیں\n\nزہے خساست اہل جہاں کہ مثل گہر\nگرہ میں باندھ کے دریا میں آب رکھتے ہیں\n\nکس اعتبار پہ دیجے بتاں کو دل کہ بزور\nجو کچھ کہ لیں ہیں کسی سے یہ داب رکھتے ہیں\n\nزبان عشق شکایت سے لال ہے ورنہ\nہم اک گلہ کے ترے سو جواب رکھتے ہیں\n\nنہ لٹ دھوئیں کی ہے ایسی نہ زلف سنبل کی\nجو بال سر کے ترے پیچ و تاب رکھتے ہیں\n\nحباب و بحر میں حاجب وجود ہی ہے ہم آہ\nملیں کب اس سے یہ جب تک حجاب رکھتے ہیں\n\nلیا ہے ہم نے بھی بوسہ دیا ہے اس کو جو دل\nیہ سچ ہے دوست دلوں میں حساب رکھتے ہیں\n\nنہ کیوں ازار کی مہری ہی شیخ جی سی لیں\nسریں جو بہر وضو داب داب رکھتے ہیں\n\nنہ جانے جاتے ہیں جوں شعلہ ہم کدھر قائمؔ\nکہ ہر دم ایک نیا اضطراب رکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%88%DB%81_%D9%84%D8%A8_%D9%85%DB%92_%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جہاں کو چھوڑ دیا تھا جہاں نے یاد کیا", "poet_page": "مصنف:مجید لاہوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں کو چھوڑ دیا تھا جہاں نے یاد کیا\nبچھڑ گئے تو بہت کارواں نے یاد کیا\n\nملا نہیں اسے شاید کوئی ستم کے لئے\nزہ نصیب مجھے آسماں نے یاد کیا\n\nوہ ایک دل جو کڑی دھوپ میں جھلستا تھا\nاسے بھی سایۂ زلف بتاں نے یاد کیا\n\nپناہ مل نہ سکی ان کو تیرے دامن میں\nوہ اشک جن کو مہ و کہکشاں نے یاد کیا\n\nخیال ہم کو بھی کچھ آشیاں کا تھا لیکن\nقفس میں ہم کو بہت آشیاں نے یاد کیا\n\nہمارے بعد بہائے کسی نے کب آنسو\nہم اہل درد کو ابر رواں نے یاد کیا\n\nغم زمانہ سے فرصت نہیں مگر پھر بھی\nمجیدؔ چل تجھے پیر مغاں نے یاد کیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جہاں کچھ درد کا مذکور ہوگا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں کچھ درد کا مذکور ہوگا\nہمارا شعر بھی مشہور ہوگا\n\nجہاں میں حسن پر دو دن کے اے گل\nکوئی تجھ سا بھی کم مغرور ہوگا\n\nپڑیں گے یوں ہی سنگ تفرقہ گر\nتو اک دن شیشۂ دل چور ہوگا\n\nمجھے کل خاک افشاں دیکھ بولا\nیہی عشاق کا دستور ہوگا\n\nہوا ہوں مرگ کے نزدیک غم سے\nخدا جانے یہ کس دن دور ہوگا\n\nوہی سمجھے گا میرے زخم دل کو\nجگر پر جس کے اک ناسور ہوگا\n\nہمیں پیمانہ تب یہ دے گا ساقی\nکہ جام عمر جب معمور ہوگا\n\nجو یوں غم نیش زن ہر دم رہے گا\nتو پھر دل خانۂ زنبور ہوگا\n\nیہی رونا ہے گر منظور جرأتؔ\nتو بینائی سے تو معذور ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B0%DA%A9%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "جہاں کہ ہے جرم ایک نگاہ کرنا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں کہ ہے جرم ایک نگاہ کرنا\nوہیں ہے گنہ پہ ڈٹ کے گناہ کرنا\n\nبتوں سے بڑھا کے میل نباہ کرنا\nجہاں کے سفید کو ہے سیاہ کرنا\n\nسکھایا ہے مجھ کو اس مری بے کسی نے\nاسی کو ستم کا اس کے گواہ کرنا\n\nلبھانے سے دل کے تھا تو یہ مدعا تھا\nغریب کی زندگی کو تباہ کرنا\n\nیہی تو ہے ہاں یہی وہ ادائے معصوم\nالگ ہوئی جو سکھا کے گناہ کرنا\n\nجفا سے بھی لیں مزہ نہ وفا کا کیوں کر\nہمیں تو ہر اک طرح ہے نباہ کرنا\n\nیہ کہتا ہے چشم ہوش ربا کا جادو\nتجھے ترے ہاتھ سے ہے تباہ کرنا\n\nتری نظر سے سیکھا ہے آہ دل نے\nجگر میں شگاف ڈال کے راہ کرنا\n\nنظر میں نظر گڑائے ہے یوں وہ ظالم\nکہ آرزوؔ اب کٹھن ہے اک آہ کرنا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B1%D9%85_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7"} {"title": "جہاں ہے قد اس کا جلوہ فرما تو سرو واں کس حساب میں ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں ہے قد اس کا جلوہ فرما تو سرو واں کس حساب میں ہے\nوہ قامت ایسا ہے کچھ قیامت قیامت اس کی رکاب میں ہے\n\nیہ سب غلط ہے جو یوں ہیں کہتے کہ اس کا مکھڑا نقاب میں ہے\nنقاب کیا ہے وہ شرمگیں تو نقاب سے بھی حجاب میں ہے\n\nوہ گورا پنڈا اور اس میں سرخی مگر خدا نے لے سر سے تا پا\nکیا ہے میدا تو موتیوں کا اور اس کو گوندھا شہاب میں ہے\n\nجھپک جو مکھڑے کی دیکھی اس کے تو ہم نے اپنے یہ دل میں جانا\nانہی کے پرتو سے مہ ہے روشن اسی کا نور آفتاب میں ہے\n\nرہے گا محبوب جس مکاں میں تو واں ہی دیکھیں گے اس کو جا کر\nغرض وہ جس کا کہ نام دل ہے یہ دھن اس عالی جناب میں ہے\n\nجو غصہ ہو کر وہ دیوے گالی تو اس ادا سے کہ ہم تو کیا ہیں\nفرشتے غش ہو کے لوٹ جاویں یہ لطف اس کے عتاب میں ہے\n\nبندھا ہے جب سے خیال اس کا عجب طرح کی لگن لگی ہے\nکبھی وہ دل میں کبھی وہ جی میں کبھی وہ چشم پر آب میں ہے\n\nوہی ادھر ہے وہی ادھر ہے وہی زباں پر وہی نظر میں\nجو جاگتا ہوں تو دھیان میں ہے جو سو گیا ہوں تو خواب میں ہے\n\nنظیرؔ سیکھے سے علم رسمی بشر کی ہوتی ہیں چار آنکھیں\nپڑھے سے جس کے ہوں لاکھ آنکھیں وہ علم دل کی کتاب میں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%82%D8%AF_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "جہاں ہے مکتب ہستی سبق ہے چپ رہنا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہاں ہے مکتب ہستی سبق ہے چپ رہنا\nبڑا گناہ یہاں ہے الف سے بے کہنا\n\nشب فراق میں سائے سے ڈر کے کہتا ہوں\nاجی یہ رات ڈرانی ہے جاگتے رہنا\n\nچمن میں پھول کھلے باغ میں بہار آئی\nعروس دہر نے گویا پہن لیا گہنا\n\nہماری آہ و بکا سے ہے جسم شوق قوی\nیہ ہاتھ بایاں ہے اپنا وہ ہاتھ ہے دہنا\n\nفغان بلبل شیدا نہ جانیے اس کو\nبجا رہا ہے کوئی صحن باغ میں شحنہ\n\nغم فراق میں اے آسماں نہیں موقوف\nوہ جو سہائیں مجھے مجھ کو ہر طرح سہنا\n\nنکال دے کہ ہے ایسے میں جوئے اشک رواں\nبرا ہے بات کا اے چشم دل میں لے رہنا\n\nگلی میں یار کی ہو یا کسی خرابے میں\nہمیں تو حشر کے دن تک کہیں پہ مر رہنا\n\nاثر بھی شادؔ کے شعروں میں ہے متانت بھی\nیہ کہنہ مشق ہیں ان کی غزل کا کیا کہنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%DA%A9%D8%AA%D8%A8_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%B3%D8%A8%D9%82_%DB%81%DB%92_%DA%86%D9%BE_%D8%B1%DB%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "جہت کی تلاش", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہاں درخت کے اوپر اگا ہوا ہے درخت\nزمین تنگ ہے (جیسے کبھی فراخ نہ تھی)\nہوا کا کال پڑا ہے، نمی بھی عام نہیں\nسمندروں کو بلو کر فضاؤں کو متھ کر\nجنم دیے ہیں اگر چند ابر کے ٹکڑے\nجھپٹ لیا ہے انہیں یوں دراز شاخوں نے\nکہ نیم جاں تنے کو ذرا خبر نہ ہوئی\nجڑیں بھی خاک تلے ایک ہی لگن میں رواں\nنہ تیرگی سے مفر ہے، نہ روشنی کا سوال\nزمیں میں پاؤں دھنسے ہیں فضا میں ہات بلند\nنئی جہت کا لگے اب درخت میں پیوند", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B4"} {"title": "جہل حیوان کی نشانی ہے", "poet_page": "مصنف:ابومحمد سید حسین سیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > منتخب دیوان سیفی (1934)", "year": "1934", "text_ur": "جہل حیوان کی نشانی ہے\nعقل انسان کی نشانی ہے\n\nنہ کرو شوخیاں خدا کے ساتھ\nکفر طغیان کی نشانی ہے\n\nعقل بھی کس نے دی ہے پہچانو\nشکر ایمان کی نشانی ہے\n\nسعی لازم ہے بت نہ بن جاؤ\nنقل بے جان کی نشانی ہے\n\nخندہ روئی کے ساتھ سب سے ملو\nخلق انسان کی نشانی ہے\n\nدیکھ لیتے ہی شوق سے ملنا\nجان پہچان کی نشانی ہے\n\nکفر و شرک و نفاق سے بچنا\nیہ مسلمان کی نشانی ہے\n\nمتکبر سے مت ملو سیفیؔ\nکبر شیطان کی نشانی ہے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D9%84_%D8%AD%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "جہل خرد نے دن یہ دکھائے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جہل خرد نے دن یہ دکھائے\nگھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے\n\nہائے وہ کیونکر دل بہلائے\nغم بھی جس کو راس نہ آئے\n\nضد پر عشق اگر آ جائے\nپانی چھڑکے آگ لگائے\n\nدل پہ کچھ ایسا وقت پڑا ہے\nبھاگے لیکن راہ نہ پائے\n\nکیسا مجاز اور کیسی حقیقت\nاپنے ہی جلوے اپنے ہی سائے\n\nجھوٹی ہے ہر ایک مسرت\nروح اگر تسکین نہ پائے\n\nکار زمانہ جتنا جتنا\nبنتا جائے بگڑتا جائے\n\nضبط محبت شرط محبت\nجی ہے کہ ظالم امڈا آئے\n\nحسن وہی ہے حسن جو ظالم\nہاتھ لگائے ہاتھ نہ آئے\n\nنغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کو\nروح سنے اور روح سنائے\n\nراہ جنوں آسان ہوئی ہے\nزلف و مژہ کے سائے سائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D9%84_%D8%AE%D8%B1%D8%AF_%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%86_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "جی اٹھے حشر میں پھر جی سے گزرنے والے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی اٹھے حشر میں پھر جی سے گزرنے والے\nیاں بھی پیدا ہوئے پھر آپ پہ مرنے والے\n\nچوس کر کس نے چھڑائی ہے مسی ہونٹھوں کی\nسامنے منہ تو کریں بات نہ کرنے والے\n\nشب ماتم کی اداسی ہے سہانی کتنی\nچھاؤں میں تاروں کی نکلے ہیں سنورنے والے\n\nہم تو سمجھے تھے کہ دشمن پہ اٹھایا خنجر\nتم نے جانا کہ ہمیں تم پہ ہیں مرنے والے\n\nپی کے آئے ہیں کہیں ہاتھ نہ بہکے واعظ\nداڑھی کتریں نہ کہیں جیب کترنے والے\n\nسن ہی کیا ہے ابھی بچپن ہی جوانی میں شریک\nسو رہیں پاس مرے خواب میں ڈرنے والے\n\nہاتھ گستاخ ہیں اٹھ جائیں نہ یہ دامن پر\nبچ کے نکلیں مرے مرقد سے گزرنے والے\n\nنزع میں حشر کے وعدے نے یہ تسکیں بخشی\nچین سے سو رہے منہ ڈھانپ کے مرنے والے\n\nاپنے دامن کو سنبھالے ہوئے بھولے پن سے\nوہ چلے آتے ہیں دل لے کے مکرنے والے\n\nصبر کی میرے مجھے داد ذرا دے دینا\nاو مرے حشر کے دن فیصلہ کرنے والے\n\nآتی ہے حور جناں خلوت واعظ کے لئے\nقبر میں اتریں گے منبر سے اترنے والے\n\nتیرے عاشق جو گئے حشر میں یہ شور اٹھا\nجائیں دوزخ میں دم سرد کے بھرنے والے\n\nزیر پا دل ہی بچھے ہوں کہ ہیں خوگر اس کے\nفرش گل پر بھی نہیں پاؤں وہ دھرنے والے\n\nاشک غم ایسے نہیں ہیں جو امنڈ کر رہ جائیں\nہیں یہ طوفان مرے سر سے گزرنے والے\n\nکیا مزا دیتی ہے بجلی کی چمک مجھ کو ریاضؔ\nمجھ سے لپٹے ہیں مرے نام سے ڈرنے والے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "جی بھر کے کبھی یار کا جلوہ نہیں دیکھا", "poet_page": "مصنف:جگرؔ بسوانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی بھر کے کبھی یار کا جلوہ نہیں دیکھا\nدیکھا بھی تو اس طرح کہ گویا نہیں دیکھا\n\nمرنے کا نہیں غم مگر اس بات کا غم ہے\nاس نے مرے مرنے کا تماشا نہیں دیکھا\n\nجھرمٹ میں رہے غمزۂ تمکین و حیا کے\nخلوت میں بھی ان کو کبھی تنہا نہیں دیکھا\n\nکس زور پہ کس جوش پہ ہے ان کی جوانی\nتھمتے کبھی سینے پہ دوپٹہ نہیں دیکھا\n\nآنکھوں میں پھرے اور وہ آنکھوں سے چھپے بھی\nآنکھوں نے اس انداز کا پردہ نہیں دیکھا\n\nخلوت میں جگرؔ یاد کیا کرتے ہو کس کو\nملتے تمہیں لوگوں سے زیادہ نہیں دیکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جی بھرا آتا ہے خالی مے کا پیالہ دے گیا", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی بھرا آتا ہے خالی مے کا پیالہ دے گیا\nدیکھیو کیا آج ہم کو شوخ بالا دے گیا\n\nاس بت پیماں گسل کو جب کہ میں لاتا ہوں گھر\nکوئی نکوئی دے کے بالا مجھ کو تالا دے گیا\n\nچاک سینہ کو جگر کو داغ دل کو درد زخم\nتاجر غم شہر الفت کے یہ کالا دے گیا\n\nکل کے دن دکھلا کے اپنا جلوۂ صنعت گری\nیاد اپنی شب کو وہ باری تعالی دے گیا\n\nنام اپنا جپنے کو ہر ہر طرح سے ہر جگہ\nسبحہ تو مسجد میں بت خانے میں مالا دے گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%A7_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%AF%DB%92_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جی ترستا ہے یار کی خاطر", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی ترستا ہے یار کی خاطر\nاوس سیں بوس و کنار کی خاطر\n\nتیرے آنے سے یو خوشی ہے دل\nجوں کہ بلبل بہار کی خاطر\n\nہم سیں مستوں کو بس ہے تیری نگاہ\nتوڑنے کوں خمار کی خاطر\n\nبس ہے اوس سنگ دل کا نقش قدم\nمیری لوح مزار کی خاطر\n\nعمر گزری کہ ہیں کھلی حاتمؔ\nچشم دل انتظار کی خاطر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1"} {"title": "جی تلک آتش ہجراں میں سنبھالا نہ گیا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی تلک آتش ہجراں میں سنبھالا نہ گیا\nگھر میں سب کچھ تھا پہ ہم سے تو نکالا نہ گیا\n\nاوجھل اس ہستی کے تنکے کے یقینی تھا پہاڑ\nیہ پر کاہ ہی پر نظروں سے ٹالا نہ گیا\n\nگو کہ دیتا تھا فلک مول میں دل کے دو جہاں\nاتنی قیمت پہ تو اس مال کو ڈالا نہ گیا\n\nرخت باندھا نہ کس اندوہ و خوشی نے دل سے\nاک ترے غم ہی کا اس گھر سے اٹالا نہ گیا\n\nکیا زر داغ نہ گردوں نے دیئے قائمؔ کو\nاس قلندر کا پہ اک روز دوالا نہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%86%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جی جاؤں جو بند ناطقہ ہو", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی جاؤں جو بند ناطقہ ہو\nخاموش کہیں یہ بولتا ہو\n\nجانباز جو تردد بھی ترا ہو\nسو بار مرے پھر اٹھ کھڑا ہو\n\nذرے میں ہو نور مہر وش\nتیرا جو کرم ہو کیا سے کیا ہو\n\nکھل جائیں ہزاروں کوچہ زخم\nتلوار چلے تو راستہ ہو\n\nزلفوں پہ جو اس کے مر مٹا ہوں\nتربت پہ درخت جال کا ہو\n\nگھڑیوں کے ہیں پر غبار شیشے\nمٹی کوئی دل نہ ہو گیا ہو\n\nرنگین ہو قبائے تن لہو سے\nجوگی ہوں لباس گیروا ہو\n\nبخشے جو فلک غم زمانہ\nغم خوار وہ ہوں کہ ناشتا ہو\n\nثانی ہے ترا محال اے بت\nپیدا نہ خدا کا دوسرا ہو\n\nتن خاک ہو ہوں وہ صاف طینت\nمیلا نہ کفن کا رونگٹا ہو\n\nوہ بوسۂ لب مجھے کہ دشنام\nدرویش ہوں کچھ ملے بھلا ہو\n\nیوں اے تپ غم جلا سراپا\nسر تا قدم اک آبلہ ہو\n\nاے دست خدا جو ہاتھ کی ہے\nہے شادؔ شکستہ پا نیا ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D9%86%D8%A7%D8%B7%D9%82%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "جی جائے مگر نہ وہ پری جائے", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی جائے مگر نہ وہ پری جائے\nیا رب نہ ہماری دل لگی جائے\n\nدل ہجر میں جائے یا کہ جی جائے\nجس کا جی چاہے وہ ابھی جائے\n\nاس گل کا نہ وصل ہو نہ جی جائے\nکیونکہ میرے دل کی بے کلی جائے\n\nتم لعل لب اپنے گر دکھاؤ\nپھر سوئے یمن نہ جوہری جائے\n\nاس غنچہ دہن کی بو نہ لائے\nدکھلائے نہ منہ صبا چلی جائے\n\nسوغات کی طرح پیش مجنوں\nبیڑی اور میری ہتھکڑی جائے\n\nثابت ہے جب پہاڑ وحشت\nجب تک دامن ہمارا سی جائے\n\nغیروں کو تو مے پلائے ساقی\nمیں مانگوں تو صاف سن کے پی جائے\n\nہمراہ ہو پرورش علی بھی\nیاں سے جو کربلا سخیؔ جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "جی داغِ غمِ رشک سے جل جائے تو اچھا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی داغِ غمِ رشک سے جل جائے تو اچھا\nارمان عدو کا بھی نکل جائے تو اچھا\n\nپروانہ بنا میرے جلانے کو وفادار\nمحفل میں کوئی شمع بدل جائے تو اچھا\n\nکس چین سے نظارۂ ہر دم ہو میسر\nدل کوچۂ دشمن میں بہل جائے تو اچھا\n\nتم غیر کے قابو سے نکل آؤ تو بہتر\nحسرت یہ مرے دل کی نکل جائے تو اچھا\n\nسودا زدہ کہتے ہیں، ہوا شیفتہ افسوس\nتھا دوست ہمارا بھی، سنبھل جائے تو اچھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%D8%AF%D8%A7%D8%BA%D9%90_%D8%BA%D9%85%D9%90_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جی رہے یا نہ رہے ہر قدم یار نہ چھوڑ", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی رہے یا نہ رہے ہر قدم یار نہ چھوڑ\nاے پتنگے تو کبھی شمع کا انوار نہ چھوڑ\n\nشمع تجھ کو بھی مناسب تو وہاں تک جل جا\nسر سے تا پائے تلک رشتۂ زنار نہ چھوڑ\n\nلب شیریں سے اگر ہو نہ ترا لب شیریں\nکوہ کن تو بھی تو اب دامن کہسار نہ چھوڑ\n\nلیلا ہاتھ آوے نہ آوے ملے جو ناقہ سوار\nحال غم سے وہ کرے منع پر اظہار نہ چھوڑ\n\nلفظ تو نے جو کہے ہیں وو ہی حق اے منصور\nکلمۃ الحق کو مگر تا بہ دم دار نہ چھوڑ\n\nاے زلیخا مہ کنعاں کو لے دے مال متاع\nپیش بایع کے کوئی مشتری زنہار نہ چھوڑ\n\nاس نصیحت کو مری مان بقول افریدیؔ\nجی رہے یا نہ رہے پر قدم یار نہ چھوڑ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D9%82%D8%AF%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91"} {"title": "جی سے مجھے چاہ ہے کسی کی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی سے مجھے چاہ ہے کسی کی\nکیا جانے کوئی کسی کی جی کی\n\nشاہد رہیو تو اے شب ہجر\nجھپکی نہیں آنکھ مصحفیؔ کی\n\nرونے پہ مرے جو تم ہنسو ہو\nیہ کون سی بات ہے ہنسی کی\n\nجوں جوں کہ بناؤ پر وہ آیا\nدونی ہوئی چاہ آرسی کی\n\nگو اب وہ جواں نہیں پہ ہم سے\nلت جائے ہے کوئی عاشقی کی\n\nچاہے تو شفق کو پھونک دیوے\nسرخی ترے رنگ آتشی کی\n\nمیں وادیٔ عشق میں جو آیا\nمجنوں نے مری نہ ہم سری کی\n\nکھاتے نہیں اب ترے نصیری\nسوگند بھی مرتضیٰ علی کی\n\nکیا ریختہ کم ہے مصحفیؔ کا\nبو آتی ہے اس میں فارسی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%86%D8%A7%DB%81_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارا", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارا\nبجھتا ہے چراغ آج سر شام ہمارا\n\nایسا کوئی گمنام زمانے میں نہ ہوگا\nگم ہو وہ نگیں جس پہ کھدے نام ہمارا\n\nاول تو نہ قاصد کو رہے کوئے صنم یاد\nپہنچے تو فراموش ہو پیغام ہمارا\n\nہم گو کہ ہیں دیوانے مگر غرق یم اشک\nیونان کے مانند ہوا نام ہمارا\n\nمے پائی نہ پینے کو تو ہم پی گئے آنسو\nاشکوں سے بھی ساقی نہ بھرا جام ہمارا\n\nکعبے میں بھی وحشت کی رہی دست درازی\nصد چاک کیا جامۂ احرام ہمارا\n\nطفلی میں تھی اک دایہ ہیں اب چار کے کاندھے\nآغاز سے کیا خوب ہے انجام ہمارا\n\nاک آدھ رہے جسم مشبک میں ترا تیر\nخالی نہ کبھی صید سے ہو دام ہمارا\n\nکام اوروں کے جاری رہیں ناکام رہیں ہم\nاب آپ کی سرکار میں کیا کام ہمارا\n\nناسخؔ کہیں جلد آ کے کہیں قاصد جاناں\nخط لیجئے دلوایئے انعام ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%D9%81%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "جی میں چہلیں تھیں جو کچھ سو تو گئیں یار کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی میں چہلیں تھیں جو کچھ سو تو گئیں یار کے ساتھ\nسر پٹکنا ہی پڑا اب در و دیوار کے ساتھ\n\nاک ہمیں خار تھے آنکھوں میں سبھوں کی سو چلے\nبلبلو خوش رہو اب تم گل و گلزار کے ساتھ\n\nخار مردود چمن مجھ کو کیا روز ازل\nجن نے بھیجا ہے تجھے گونۂ گلزار کے ساتھ\n\nمیں دوانا ہوں صدا کا مجھے مت قید کرو\nجی نکل جائے گا زنجیر کی جھنکار کے ساتھ\n\nیارو کہتے تھے جو تم لالہ و گل ہے سو کہاں\nسر پٹکنے تو نہ آیا تھا میں کہسار کے ساتھ\n\nہائے صیاد یہ انصاف سے تیرے ہے بعید\nیاں تلک کیجے ستم اپنے گرفتار کے ساتھ\n\nگرچہ بلبل ہوں میں قائمؔ ولے اس باغ کے بیچ\nفرق کوئی نہ کرے گل کو جہاں خار کے ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DB%81%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B3%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "جی میں کیا کیا مری اماہا تھا", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی میں کیا کیا مری اماہا تھا\nپر ہوا وہ جو حق کا چاہا تھا\n\nنبھی جب تک کہ ہم نباہ سکے\nآپ نے ہم کو کب نباہا تھا\n\nلقے دو چار ساتھ جاتے تھے\nکیسا کل رات ہی ہی ہاہا تھا\n\nچکی راہا تھا کیا بلا یہ رقیب\nچکی سا منہ تو اس کا راہا تھا\n\nکوچے تیرے میں رات کو جو گئے\nبھولے ہم واں جہاں دوراہا تھا\n\nتم جھٹک گئے کچھ ان دنوں پیارے\nٹوک کس نے تمہیں سراہا تھا\n\nتم پہ تھا جب کہ عالم تجرید\nان دنوں میں بھی بن بیاہا تھا\n\nجس گلی بیچ جا نکلتے تھے\nتم پر اور ہم پہ آہا آہا تھا\n\nآ کے تجھ سے جو تھا ملا لڑ کر\nپایا کیا اظفریؔ نے لاہا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D9%85%D8%A7%DB%81%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "جی میں ہے یاد رخ و زلف سیہ فام بہت", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی میں ہے یاد رخ و زلف سیہ فام بہت\nرونا آتا ہے مجھے ہر سحر و شام بہت\n\nدست صیاد تلک بھی نہ میں پہنچا جیتا\nبے قراری نے لیا مجھ کو تہ دام بہت\n\nایک دو چشمک ادھر گردش ساغر کہ مدام\nسر چڑھی رہتی ہے یہ گردش ایام بہت\n\nدل خراشی و جگر چاکی و خوں افشانی\nہوں تو ناکام پہ رہتے ہیں مجھے کام بہت\n\nرہ گیا دیکھ کے تجھ چشم پہ یہ سطر مژہ\nساقیا یوں تو پڑھے تھے میں خط جام بہت\n\nپھر نہ آئے جو ہوئے خاک میں جا آسودہ\nغالباً زیر زمیں میرؔ ہے آرام بہت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%D8%AE_%D9%88_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%D9%81%D8%A7%D9%85_%D8%A8%DB%81%D8%AA"} {"title": "جی چاہا جدھر چھوڑ دیا تیر ادا کو", "poet_page": "مصنف:رسا رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی چاہا جدھر چھوڑ دیا تیر ادا کو\nچٹکی میں اڑائے ہوئے پھرتے ہیں قضا کو\n\nسجدوں کا بھی موقع نہ رہا اہل وفا کو\nپھر پھر کے مٹاتے ہیں وہ نقش کف پا کو\n\nجب پاتے ہیں سر دھنتے ہی پاتے ہیں رساؔ کو\nسمجھائے کہاں تک کوئی اس مرد خدا کو\n\nیوں ہم نے چھپائی ہے ترے وصل کی حسرت\nجس طرح چھپاتا ہے خطاوار خطا کو\n\nاب چھوڑ رساؔ عشق بتاں دیکھ کہا مان\nکمبخت تجھے منہ بھی دکھانا ہے خدا کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A7_%D8%AC%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D9%88"} {"title": "جی چاہتا ہے شیخ کے پگڑی اتارئیے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "جی چاہتا ہے شیخ کہ پگڑی اتارئیے\nاور تان کر چٹاخ سے ایک دھول ماریے\n\nسوتوں کو پچھلے پہر بھلا کیوں پکاریے\nدروازہ کھلنے کا نہیں گھر کو سدھاریے\n\nکیا سرو اکڑ رہا ہے کھڑا جوئبار پر\nٹک آپ بھی تو اس گھڑی سینہ ابھارئے\n\nیہ کارخانہ دیکھیے ٹک آپ دھیان سے\nبس سون کھینچ جائے یہاں دم نہ ماریے\n\nناصح نے میرے حق میں کہا اہل بزم سے\nبگڑی ہوئی کو آہ کہاں تک سنوارئیے\n\nانشاؔ خدا کے فضل پہ رکھیے نگاہ اور\nدن ہنس کے کاٹ ڈالئے ہمت نہ ہاریے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DA%AF%DA%91%DB%8C_%D8%A7%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "جی چاہے گا جس کو اسے چاہا نہ کریں گے", "poet_page": "مصنف:کرامت علی شہیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی چاہے گا جس کو اسے چاہا نہ کریں گے\nہم عشق و ہوس کو کبھی یکجا نہ کریں گے\n\nاے کاش چھٹیں عہد شکن بن کے جہاں میں\nباز آئے وفاداری کا دعویٰ نہ کریں گے\n\nگو حسن پرستی نہ ہو خاطر سے فراموش\nخوش قامتوں کا یاد سراپا نہ کریں گے\n\nنرگس کی شب تیرہ میں لوٹیں گے بہاریں\nپر سرمگیں آنکھوں کی تمنا نہ کریں گے\n\nبہلائیں گے سیر گل و شبنم سے دل اپنا\nاس عارض گل رنگ کی پروا نہ کریں گے\n\nانگاروں پہ لوٹیں گے پر ان شعلہ رخوں کے\nنظارہ سے ہم آنکھ بھی سینکا نہ کریں گے\n\nعصمت کا انہیں خوف ہے تقویٰ کا ہمیں پاس\nنے کی ہے کبھی خواہش بے جا نہ کریں گے\n\nبکنے کے شہیدیؔ کے برا مانیو مت جان\nہیں عاشق صادق کبھی ایسا نہ کریں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "جی ڈھونڈھتا ہے گھر کوئی دونوں جہاں سے دور", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی ڈھونڈھتا ہے گھر کوئی دونوں جہاں سے دور\nاس آپ کی زمیں سے الگ آسماں سے دور\n\nشاید میں در خور نگہ گرم بھی نہیں\nبجلی تڑپ رہی ہے مرے آشیاں سے دور\n\nآنکھیں چرا کے آپ نے افسانہ کر دیا\nجو حال تھا زباں سے قریب اور بیاں سے دور\n\nتا عرض شوق میں نہ رہے بندگی کی لاگ\nاک سجدہ چاہتا ہوں ترے آستاں سے دور\n\nہے منع راہ عشق میں دیر و حرم کا ہوش\nیعنی کہاں سے پاس ہے منزل کہاں سے دور", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1"} {"title": "جی کو روگ لگا بیٹھا جی کے روگ سے مرتا ہوں", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی کو روگ لگا بیٹھا جی کے روگ سے مرتا ہوں\nاس میں کسی سے شکوہ کیا اپنی کرنی بھرتا ہوں\n\nترک گناہ اے واعظ جی دل سے نہیں مجبوری ہے\nآپ خدا سے ڈرتے ہیں میں دنیا سے ڈرتا ہوں\n\nدنیا سے کچھ فیض نہ تھا دنیا کو تج بیٹھا ہوں\nاللہ سے امیدیں ہیں اللہ اللہ کرتا ہوں\n\nدور تو ہٹ جاؤں لیکن فکر محبت نے مارا\nبے حد نازک رشتہ ہے ٹوٹ نہ جائے ڈرتا ہوں\n\nکاوش پیہم آخر تک حاصل مرگ مایوسی\nیہ بھی کوئی جینا ہے کس جینے پر مرتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D9%88%DA%AF_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%88%DA%AF_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "جی ہیچ جان ہیچ نہ دل نے جگر عزیز", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جی ہیچ جان ہیچ نہ دل نے جگر عزیز\nسب سے سوا ہے وصل ترا فتنہ گر عزیز\n\nآئی خبر جو اس کی تو جائے گی اپنی جان\nاب تو برابر اپنے ہوا نامہ بر عزیز\n\nلے جائیں اپنی بے ہنروں پاس التجا\nرکھتے ہیں لوگ اس لیے کسب ہنر عزیز\n\nرہنے نہ دے جو وحشت دل ہی تو کیا کروں\nوہ کون ہے کہ جس کو نہیں اپنا گھر عزیز\n\nسالکؔ شب وصال میں نفرت ہے جس قدر\nاس سے زیادہ ہے شب فرقت سحر عزیز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%86_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%8C%DA%86_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%92_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2"} {"title": "جیا بہ کام کب اس بخت ارجمند سے میں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جیا بہ کام کب اس بخت ارجمند سے میں\nپھنسا قفس میں جو چھوٹا چمن کے بند سے میں\n\nہے گو کہ جذب مرا تار عنکبوت سے سست\nیہ شیر پھانسے ہیں اکثر اسی کمند سے میں\n\nکبھو دے بزم میں اپنی مجھے بھی رخصت سوز\nگیا اثر میں مری جان کیا سپند سے میں\n\nجو تلخئیں کہ ذخیرہ میں کی ہیں غم میں ترے\nنہ ان سے ایک کو بدلوں ہزار قند سے میں\n\nبتان دہر سے قائمؔ کیا میں کس کو پسند\nہوں اب ہمیشہ ندامت میں جس پسند سے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%D8%A7%D8%B1%D8%AC%D9%85%D9%86%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "جیتا رہوں کہ ہجر میں مر جاؤں کیا کروں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جیتا رہوں کہ ہجر میں مر جاؤں کیا کروں\nتو ہی بتا مجھے میں کدھر جاؤں کیا کروں\n\nہے اضطراب دل سے نپٹ عرصہ مجھ پہ تنگ\nآج اس تلک بہ دیدۂ تر جاؤں کیا کروں\n\nحیران ہوں کہ کیونکے یہ قصہ چکے مرا\nسر رکھ کے تیغ ہی پہ گزر جاؤں کیا کروں\n\nبتلا دے تو ہی واشد دل کا مجھے علاج\nگلشن میں اے نسیم سحر جاؤں کیا کروں\n\nبیٹھا رہوں کہاں تلک اس در پہ مصحفیؔ\nاب آئی شام ہونے کو گھر جاؤں کیا کروں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "جیتے جی بس وہ بت رہا ہم راہ", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جیتے جی بس وہ بت رہا ہم راہ\nاب تو بندے کے ہے خدا ہم راہ\n\nدل دیا اس کو پر یہ ڈرتا ہوں\nدشمن اک دوست کے کیا ہم راہ\n\nنہیں یاران رفتگاں کا نشاں\nلے گئے کیا یہ نقش پا ہم راہ\n\nاس میں کیا آپ کی ہے رسوائی\nرہے گر مجھ سا پارسا ہم راہ\n\nتجھے دیکھا جدھر نگاہ گئی\nتھا تصور زبس ترا ہم راہ\n\nرنج تنہائی لحد نہ رہا\nیار کے غم کو لے لیا ہم راہ\n\nشب کو جاتے ہو ساتھ لو مشعل\nکہیے تو ہو یہ دل جلا ہم راہ\n\nہوئے بعد اپنے بے وفا عشاق\nلے گئے یاں سے ہم وفا ہم راہ\n\nتیری رفتار کا میں کشتہ ہوں\nقبر تک آئیو ذرا ہم راہ\n\nیہ دل بد گماں نہ دیکھ سکے\nاگر اس بت کے ہو خدا ہم راہ\n\nتا سلامت تو آئے اے قاصد\nٹھہر اتنا کروں دعا ہم راہ\n\nاس نے تنہا مجھے نہ جانے دیا\nغم فرقت کو کر دیا ہم راہ\n\nناتواں ہے بہت غبار مرا\nتو ذرا رہیو اے صبا ہم راہ\n\nرہی یاں گردش اور جامہ دری\nکاش لاتے نہ دست و پا ہم راہ\n\nگالیاں جیسے دیں ہیں دل لے کر\nجائے گا یہ دیا لیا ہم راہ\n\nجا نہ تنہا تو اے شہ خوباں\nہو وزیرؔ برہنہ پا ہم راہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D8%AA%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D8%A8%D8%B3_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D8%B1%D8%A7%DB%81"} {"title": "جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز\nدوستو دل نہ لگانا نہ لگانا ہرگز\n\nعشق بھی تاک میں بیٹھا ہے نظر بازوں کی\nدیکھنا شیر سے آنکھیں نہ لڑانا ہرگز\n\nہاتھ ملنے نہ ہوں پیری میں اگر حسرت سے\nتو جوانی میں نہ یہ روگ بسانا ہرگز\n\nجتنے رستے تھے ترے ہو گئے ویراں اے عشق\nآ کے ویرانوں میں اب گھر نہ بسانا ہرگز\n\nکوچ سب کر گئے دلی سے ترے قدر شناس\nقدر یاں رہ کے اب اپنی نہ گنوانا ہرگز\n\nتذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ\nنہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز\n\nڈھونڈتا ہے دل شوریدہ بہانے مطرب\nدردانگیز غزل کوئی نہ گانا ہرگز\n\nصحبتیں اگلی مصور ہمیں یاد آئیں گی\nکوئی دلچسپ مرقع نہ دکھانا ہرگز\n\nلے کے داغ آئے گا سینے پہ بہت اے سیاح\nدیکھ اس شہر کے کھنڈروں میں نہ جانا ہرگز\n\nچپے چپے پہ ہیں یاں گوہر یکتا تہ خاک\nدفن ہوگا کہیں اتنا نہ خزانہ ہرگز\n\nمٹ گئے تیرے مٹانے کے نشاں بھی اب تو\nاے فلک اس سے زیادہ نہ مٹانا ہرگز\n\nوہ تو بھولے تھے ہمیں ہم بھی انہیں بھول گئے\nایسا بدلا ہے نہ بدلے گا زمانہ ہرگز\n\nہم کو گر تو نے رلایا تو رلایا اے چرخ\nہم پہ غیروں کو تو ظالم نہ ہنسانا ہرگز\n\nآخری دور میں بھی تجھ کو قسم ہے ساقی\nبھر کے اک جام نہ پیاسوں کو پلانا ہرگز\n\nبخت سوئے ہیں بہت جاگ کے اے دور زماں\nنہ ابھی نیند کے ماتوں کو جگانا ہرگز\n\nکبھی اے علم و ہنر گھر تھا تمہارا دلی\nہم کو بھولے ہو تو گھر بھول نہ جانا ہرگز\n\nشاعری مر چکی اب زندہ نہ ہوگی یارو\nیاد کر کر کے اسے جی نہ کڑھانا ہرگز\n\nغالبؔ و شیفتہؔ و نیرؔ و آزردہؔ و ذوقؔ\nاب دکھائے گا یہ شکلیں نہ زمانا ہرگز\n\nمومنؔ و علویؔ و صہبائیؔ و ممنوںؔ کے بعد\nشعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگز\n\nکر دیا مر کے یگانوں نے یگانہ ہم کو\nورنہ یاں کوئی نہ تھا ہم میں یگانہ ہرگز\n\nداغؔ و مجروحؔ کو سن لو کہ پھر اس گلشن میں\nنہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانہ ہرگز\n\nرات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیر و زبر\nاب نہ دیکھوگے کبھی لطف شبانہ ہرگز\n\nبزم ماتم تو نہیں بزم سخن ہے حالیؔ\nیاں مناسب نہیں رو رو کے رلانا ہرگز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D8%AA%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D9%85%D9%88%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D9%85_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%81%D8%B1%DA%AF%D8%B2"} {"title": "جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیا\nاس کی دیوار کا سر سے مرے سایہ نہ گیا\n\nکاو کاو مژۂ یار و دل زار و نزار\nگتھ گئے ایسے شتابی کہ چھڑایا نہ گیا\n\nوہ تو کل دیر تلک دیکھتا ایدھر کو رہا\nہم سے ہی حال تباہ اپنا دکھایا نہ گیا\n\nگرم رو راہ فنا کا نہیں ہو سکتا پتنگ\nاس سے تو شمع نمط سر بھی کٹایا نہ گیا\n\nپاس ناموس محبت تھا کہ فرہاد کے پاس\nبے ستوں سامنے سے اپنے اٹھایا نہ گیا\n\nخاک تک کوچۂ دل دار کی چھانی ہم نے\nجستجو کی پہ دل گم شدہ پایا نہ گیا\n\nآتش تیز جدائی میں یکایک اس بن\nدل جلا یوں کہ تنک جی بھی جلایا نہ گیا\n\nمہ نے آ سامنے شب یاد دلایا تھا اسے\nپھر وہ تا صبح مرے جی سے بھلایا نہ گیا\n\nزیر شمشیر ستم میرؔ تڑپنا کیسا\nسر بھی تسلیم محبت میں ہلایا نہ گیا\n\nجی میں آتا ہے کہ کچھ اور بھی موزوں کیجے\nدرد دل ایک غزل میں تو سنایا نہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D8%AA%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%82_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "جیتے جی کے آشنا ہیں پھر کسی کا کون ہے", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جیتے جی کے آشنا ہیں پھر کسی کا کون ہے\nنام کے اپنے ہوا کرتے ہیں اپنا کون ہے\n\nجان جاں تیرے سوا رشک مسیحا کون ہے\nمار کر ٹھوکر جلا دے مجھ کو ایسا کون ہے\n\nیہ سیہ خیمہ ہے کس کا اس میں لیلیٰ کون ہے\nچنبر افلاک کے پردے میں بیٹھا کون ہے\n\nہم نہ کہتے تھے کہ سودا زلف کا اچھا نہیں\nدیکھیے تو اب سر بازار رسوا کون ہے\n\nوہ تو ہے بے نور اور یہ نور سے معمور ہے\nچشم کو نرگس کہے گا ایسا اندھا کون ہے\n\nدم بدم ہر بات میں کرتے ہو ٹھنڈی گرمیاں\nآپ کی اکھڑی ہوئی باتوں پہ جمتا کون ہے\n\nوادئ وحشت میں بھی ہمراہ ہیں آہ و فغاں\nاپنے ہمدم ساتھ ہیں اے جان تنہا کون ہے\n\nخیر ہے اے مہرباں کس نے انہیں سیدھا کیا\nآپ کیوں بل کرتے ہیں زلفوں سے الجھا کون ہے\n\nدختر رز سچ بتا تیری نظر کس پر پڑی\nٹٹیوں کی آڑ میں سے کس کو تاکا کون ہے\n\nآج مقتل میں کھڑے کہتے ہیں وہ خنجر بکف\nبول اٹھے چاہنے والا ہمارا کون ہے\n\nچار دن جو کچھ تماشا دیکھنا ہے دیکھ لے\nسیر کو پھر گلشن دنیا میں آتا کون ہے\n\nباندھ کر تیغ و کفن جاتے ہیں اس قاتل کے پاس\nہم بھی دیکھیں روکنے والا ہمارا کون ہے\n\nکیا تجاہل ہے کہ وہ فرماتے ہیں اغیار سے\nمیں نہیں پہچانتا مطلق کہ آغاؔ کون ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D8%AA%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "جیتے ہیں کیسے ایسی مثالوں کو دیکھیے", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جیتے ہیں کیسے ایسی مثالوں کو دیکھیے\nپردہ اٹھا کے چاہنے والوں کو دیکھیے\n\nکیا دل جگر ہے چاہنے والوں کو دیکھیے\nمیرے سکوت اپنے سوالوں کو دیکھیے\n\nاب بھی ہیں ایسے لوگ کہ جن سے سبق ملے\nدل مردہ ہے تو زندہ مثالوں کو دیکھیے\n\nکیا دیکھتے ہیں آپ بہار نمو ابھی\nجب ایڑیاں تک آئیں تو بالوں کو دیکھیے\n\nطبقے زمین کے ہوں کہ اوراق آسماں\nقدرت کے دل فریب رسالوں کو دیکھیے\n\nہمت کو دیکھیے کہ وہی مرد کار ہے\nفوجوں کو دیکھیے نہ رسالوں کو دیکھیے\n\nتقلید کیوں خیال و زباں میں کسی کی ہو\nاپنے خیال اپنے مقالوں کو دیکھیے\n\nدشمن پہ بھی نگاہ رہے عیب میں ہے وہ\nیہ کیا کہ صرف چاہنے والوں کو دیکھیے\n\nہو سرسری نہ گور غریباں پہ اک نظر\nان کے دماغ ان کے خیالوں کو دیکھیے\n\nساقی کی چشم مست کا نظارہ کیجیئے\nصہبا کو دیکھیے نہ پیالوں کو دیکھیے\n\nدل دیکھیے کہ تکملۂ شوق ہو عزیزؔ\nمسجد کو دیکھیے نہ شوالوں کو دیکھیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D9%85%D8%AB%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92"} {"title": "جیسا میرا دیس", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "پھولوں کا ہر سمت مہکنا\nکلیوں کا ہر روز چٹکنا\nباغوں میں بلبل کا چہکنا\nمیووں کا شاخوں سے نکلنا\nجیسا میرا دیس ہے افسرؔ ایسا کوئی دیس نہیں\nکیسے کیسے اچھے دریا\nوہ ان کا اٹھلا کے چلنا\nدو بہنیں ہیں گنگا جمنا\nدنیا میں ثانی نہیں ان کا\nجیسا میرا میرا دیس ہے افسر ایسا کوئی دیس نہیں\nشبنم نے پھولوں کو نکھارا\nسورج نے کچھ اور نکھارا\nکیسا سماں ہے پیارا پیارا\nاک گلشن ہے بھارت پیارا\nجیسا میرا دیس ہے افسرؔ ایسا کوئی دیس نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%B3"} {"title": "جیسے بھی یہ دنیا ہے جو کچھ بھی زمانا ہے", "poet_page": "مصنف:باسط بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جیسے بھی یہ دنیا ہے جو کچھ بھی زمانا ہے\nسب تیری کہانی ہے سب میرا فسانا ہے\n\nاک برق سیہ مستی اک شعلۂ مدہوشی\nمینا سے گرانا ہے ساغر سے اٹھانا ہے\n\nتم تک نہ پہنچ جائے لو شمع محبت کی\nجب طور کو پھونکا تھا اب دل کو جلانا ہے\n\nمحدود زباں کب تک افسانہ محبت کا\nآنکھوں سے بھی کہنا ہے دل سے بھی سنانا ہے\n\nاللہ رے تنظیم حیرت کدۂ ہستی\nدیکھو تو حقیقت ہے سمجھو تو فسانا ہے\n\nآہیں بھی نہیں رکتیں نالے بھی نہیں تھمتے\nاور ان کو محبت کا افسانہ سنانا ہے\n\nوہ حسن مجسم ہیں ہم عشق مکمل ہیں\nان کا بھی زمانہ ہے اپنا بھی زمانا ہے\n\nجلوے کہیں چھپتے ہیں نظریں کہیں رکتی ہیں\nپردہ نہ اٹھانا بھی پردہ ہی اٹھانا ہے\n\nبلبل کی محبت سے وہ راز رہے کب تک\nکلیوں کی زباں پر جو مبہم سا فسانا ہے\n\nتدبیر بھی یہ کہہ کر رخصت ہوئی فرقت میں\nتقدیر کی دنیا ہے قسمت کا زمانا ہے\n\nکچھ درد کے پہلو ہیں کچھ یاس کی باتیں ہیں\nافسانہ مرا کیا ہے رونا ہے رلانا ہے\n\nناکام محبت کی اللہ رے مجبوری\nجینے کی نہیں فرصت مرنے کو زمانا ہے\n\nکیا قہر ہے اے باسطؔ یہ طبع حیا پرور\nان کی ہی محبت ہے ان سے ہی چھپانا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "جیسے ہوتی آئی ہے ویسے بسر ہو جائے گی", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جیسے ہوتی آئی ہے ویسے بسر ہو جائے گی\nزندگی اب مختصر سے مختصر ہو جائے گی\n\nگیسوئے عکس شب فرقت پریشاں اب بھی ہے\nہم بھی تو دیکھیں کہ یوں کیوں کر سحر ہو جائے گی\n\nانتظار منزل موہوم کا حاصل یہ ہے\nایک دن ہم پر عنایت کی نظر ہو جائے گی\n\nسوچتا رہتا ہے دل یہ ساحل امید پر\nجستجو آئینۂ مد و جزر ہو جائے گی\n\nدرد کے مشتاق گستاخی تو ہے لیکن معاف\nاب دعا اندیشہ یہ ہے کارگر ہو جائے گی\n\nسانس کے آغوش میں ہر سانس کا نغمہ یہ ہے\nایک دن امید ہے ان کو خبر ہو جائے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "جینے میں تھی نہ نزع کے رنج و محن میں تھی", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جینے میں تھی نہ نزع کے رنج و محن میں تھی\nعاشق کی ایک بات جو دیوانہ پن میں تھی\n\nسادہ ورق تھا باہمہ گل ہائے رنگ رنگ\nتفسیر جان پاک بیاض کفن میں تھی\n\nبڑھتا تھا اور ذوق طلب بیکسی کے ساتھ\nکچھ دل کشی عجیب نواح وطن میں تھی\n\nبیمار جب ہیں کرتے ہیں فریاد چارہ گر\nکیا داستان درد سکوت محن میں تھی\n\nکہتا تھا چشم شوق سے وہ آفتاب حسن\nہلکی سی اک شعاع تھی جو انجمن میں تھی\n\nکچھ اضطراب عشق کا عالم نہ پوچھئے\nبجلی تڑپ رہی تھی کہ جان اس بدن میں تھی\n\nکس سے کہوں کہ تھی وہی گل ہائے رنگ رنگ\nبکھری ہوئی جو خاک سواد چمن میں تھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%86%D8%B2%D8%B9_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D9%85%D8%AD%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "جینے کا نہ کچھ ہوش نہ مرنے کی خبر ہے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جینے کا نہ کچھ ہوش نہ مرنے کی خبر ہے\nاے شعبدہ پرداز یہ کیا طرز نظر ہے\n\nسینے میں یہاں دل ہے نہ پہلو میں جگر ہے\nاب کون ہے جو تشنۂ پیکان نظر ہے\n\nہے تابش انوار سے عالم تہہ و بالا\nجلوہ وہ ابھی تک تہہ دامان نظر ہے\n\nکچھ ملتے ہیں اب پختگی عشق کے آثار\nنالوں میں رسائی ہے نہ آہوں میں اثر ہے\n\nذروں کو یہاں چین نہ اجرام فلک کو\nیہ قافلہ بے تاب کہاں گرم سفر ہے\n\nخاموش یہ حیرت کدۂ دہر ہے اصغرؔ\nجو کچھ نظر آتا ہے وہ سب طرز نظر ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہے\nاب دل کا یہ عالم ہے نہ دنیا ہے نہ دیں ہے\n\nگم ہیں رہ تسلیم میں طالب بھی طلب بھی\nسجدہ ہی در یار ہے سجدہ ہی جبیں ہے\n\nکچھ مظہر باطن ہوں تو کچھ محرم ظاہر\nمیری ہی وہ ہستی ہے کہ ہے اور نہیں ہے\n\nایذا کے سوا لذت ایذا بھی ملے گی\nکیوں جلوہ گہ ہوش یہاں دل بھی کہیں ہے\n\nمایوس سہی حسرتئ موت ہوں فانیؔ\nکس منہ سے کہوں دل میں تمنا ہی نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%D9%82%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "جیے جائیں گے ہم بھی لب پہ دم جب تک نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "جیے جائیں گے ہم بھی لب پہ دم جب تک نہیں آتا\nہمیں بھی دیکھنا ہے نامہ بر کب تک نہیں آتا\n\nپہنچنا تھا جو عرض حال کو عرش معظم تک\nکئی شب سے وہی نالہ مرے لب تک نہیں آتا\n\nدل اپنا وادئ غربت میں شاید مر رہا جا کر\nنہ آنے کی بھی اک میعاد ہے کب تک نہیں آتا\n\nوہاں اوروں کے قصوں کو بھی سن کر وہ کھٹکتے ہیں\nیہاں اپنی زباں پر حرف مطلب تک نہیں آتا\n\nیہاں تک سینہ تنگی سے ضعیف و زار ہے نالہ\nچلا جو صبح کو وہ تا بہ لب شب تک نہیں آتا\n\nجہاں تمہید کی وہ اور قصے چھیڑ دیتا ہے\nکسی صورت سے ظالم حرف مطلب تک نہیں آتا\n\nبلا بھیجیں نہ جب تک شادؔ کو وہ اپنے کوچے میں\nاجارہ ہے ترا اے شوق ہاں تب تک نہیں آتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%DB%81_%D8%AF%D9%85_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شب", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شب\nاس غم سے ہم کو نیند نہ آئی تمام شب\n\nکی یاس سے ہوس نے لڑائی تمام شب\nتم نے تو خوب راہ دکھائی تمام شب\n\nپھر بھی تو ختم ہو نہ سکی آرزو کی بات\nہر چند ہم نے ان کو سنائی تمام شب\n\nبے باک ملتے ہی جو ہوئے ہم تو شرم سے\nآنکھ اس پری نے پھر نہ ملائی تمام شب\n\nدل خوب جانتا ہے کہ تم کس خیال سے\nکرتے رہے عدو کی برائی تمام شب\n\nپھر شام ہی سے کیوں وہ چلے تھے چھڑا کے ہاتھ\nدکھتی رہی جو ان کی کلائی تمام شب\n\nحسرتؔ سے کچھ وہ آتے ہی ایسے ہوئے خفا\nپھر ہو سکی نہ ان سے صفائی تمام شب", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%DA%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D8%B6%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%A8"} {"title": "حاجت نہیں اے خطّۂ گُل شرح و بیاں کی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "حاجت نہیں اے خطّۂ گُل شرح و بیاں کی\nتصویر ہمارے دلِ پُر خوں کی ہے لالہ\nتقدیر ہے اک نام مکافاتِ عمل کا\nدیتے ہیں یہ پیغام خدایانِ ہمالہ\nسرما کی ہواؤں میں ہے عُریاں بدن اس کا\nدیتا ہے ہُنر جس کا امیروں کو دوشالہ\nاُمّید نہ رکھ دولتِ دنیا سے وفا کی\nرَم اس کی طبیعت میں ہے مانندِ غزالہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D8%AC%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%AE%D8%B7%D9%91%DB%82_%DA%AF%D9%8F%D9%84_%D8%B4%D8%B1%D8%AD_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے\nعکس اُس کا مرے آئینۂ ادراک میں ہے\n\nنہ ستارے میں ہے، نَے گردشِ افلاک میں ہے\nتیری تقدیر مرے نالۂ بے باک میں ہے\n\nیا مری آہ میں کوئی شررِ زندہ نہیں\nیا ذرا نم ابھی تیرے خس و خاشاک میں ہے\n\nکیا عجب میری نوا ہائے سحَر گاہی سے\nزندہ ہو جائے وہ آتش کہ تری خاک میں ہے\n\nتوڑ ڈالے گی یہی خاک طلسمِ شب و روز\nگرچہ اُلجھی ہوئی تقدیر کے پیچاک میں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D8%AF%D8%AB%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%82_%D8%A7%D9%81%D9%84%D8%A7%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "حادثے زیست کی توقیر بڑھا دیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حادثے زیست کی توقیر بڑھا دیتے ہیں\nاے غم یار تجھے ہم تو دعا دیتے ہیں\n\nتیرے اخلاص کے افسوں ترے وعدوں کے طلسم\nٹوٹ جاتے ہیں تو کچھ اور مزا دیتے ہیں\n\nکوئے محبوب سے چپ چاپ گزرنے والے\nعرصۂ زیست میں اک حشر اٹھا دیتے ہیں\n\nہاں یہی خاک بسر سوختہ ساماں اے دوست\nتیرے قدموں میں ستاروں کو جھکا دیتے ہیں\n\nسینہ چاکان محبت کو خبر ہے کہ نہیں\nشہر خوباں کے در و بام صدا دیتے ہیں\n\nہم نے اس کے لب و رخسار کو چھو کر دیکھا\nحوصلے آگ کو گلزار بنا دیتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D8%AF%D8%AB%DB%92_%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D9%82%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حاذق الملک نہ کوئی بھی رہا میرے بعد", "poet_page": "مصنف:مجید لاہوری", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "حاذق الملک نہ کوئی بھی رہا میرے بعد\nکون دے گا تجھے کھجلی کی دوا میرے بعد\n\nمرغیاں کوفتے مچھلی بھنے تیتر انڈے\nکس کے گھر جائے گا سیلاب غذا میرے بعد\n\nفاتحہ خوانی میں احباب اڑائیں گے پلاؤ\nاور کریں گے مری بخشش کی دعا میرے بعد\n\nاک یہی چیز ہے جو خیر سے ہے بے راشن\nکون کھائے گا کلفٹن کی ہوا میرے بعد\n\nسینکڑوں پلان بنا کر تجھے دوں گا اے دوست\nجن کے پڑھنے سے ہو \"بہتوں کا بھلا\" میرے بعد\n\nاے کہ ہے سیفٹی ریزر ترا ہر ہر غمزہ\nاور کس کس پہ کرے گا تو جفا میرے بعد\n\nکل یہ اک اونٹ سے کہتا تھا شتربان مجیدؔ\nکون ہوگا ترے غمزوں پہ فدا میرے بعد", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D8%B0%D9%82_%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%84%DA%A9_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "حاسد تجھ پر اگر حسد کرتا ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "حاسد تجھ پر اگر حسد کرتا ہے\nکر صبر کہ خود وہ کار بد کرتا ہے\nاپنی پستی کو کر رہا ہے محسوس\nاور تیری بلندیوں سے کد کرتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D8%B3%D8%AF_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں\nعید ہے اور ہم کو عید نہیں\n\nچھیڑ دیکھو کہ خط تو لکھا ہے\nمیرے خط کی مگر رسید نہیں\n\nجانتے ہوں امیدوار مجھے\nان سے یہ بھی مجھے امید نہیں\n\nیوں ترستے ہیں مے کو گویا ہم\nپیر مے خانہ کے مرید نہیں\n\nخون ہو جائیں خاک میں مل جائیں\nحضرت دل سے کچھ بعید نہیں\n\nآؤ میرے مزار پر بھی کبھی\nکشتۂ ناز کیا شہید نہیں\n\nہم تو مایوس ہیں مگر بیخودؔ\nدل نا فہم ناامید نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%81_%D9%84%D9%82%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی\nدل جوش گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی\n\nاس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھا دے\nمیں بھی جلے ہوؤں میں ہوں داغ نا تمامی\n\nکرتے ہو شکوہ کس کا تم اور بے وفائی\nسر پیٹتے ہیں اپنا ہم اور نیک نامی\n\nصد رنگ گل کترنا در پردہ قتل کرنا\nتیغ ادا نہیں ہے پابند بے نیامی\n\nطرف سخن نہیں ہے مجھ سے خدا نہ کردہ\nہے نامہ بر کو اس سے دعوائے ہم کلامی\n\nطاقت فسانۂ باد اندیشہ شعلہ ایجاد\nاے غم ہنوز آتش اے دل ہنوز خامی\n\nہر چند عمر گزری آزردگی میں لیکن\nہے شرح شوق کو بھی جوں شکوہ ناتمامی\n\nہے یاس میں اسدؔ کو ساقی سے بھی فراغت\nدریا سے خشک گزرے مستوں کی تشنہ کامی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%AF%DA%BE%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE_%D8%A7%DB%92_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D9%85%DB%8C"} {"title": "حاصل علم بشر جہل کا عرفاں ہونا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حاصل علم بشر جہل کا عرفاں ہونا\nعمر بھر عقل سے سیکھا کیے ناداں ہونا\n\nچار زنجیر عناصر پہ ہے زنداں موقوف\nوحشت عشق ذرا سلسلۂ جنباں ہونا\n\nجمع کرتا ہوں گریباں کے نکالے ہوئے تار\nیاد آیا ہے مجھے سر بہ گریباں ہونا\n\nدل بس اک لرزش پیہم ہے سراپا یعنی\nتیرے آئینہ کو آتا نہیں حیراں ہونا\n\nفال افزدنی مشکل ہے ہر آسانی کار\nمیری مشکل کو مبارک نہیں آساں ہونا\n\nراحت انجام غم اور راحت دنیا معلوم\nلکھ دیا دل کے مقدر میں پریشاں ہونا\n\nدے ترا حسن تغافل جسے ہے چاہے فریب\nورنہ تو اور جفاؤں پہ پشیماں ہونا\n\nہائے وہ جلوۂ ایمن وہ نگاہ سر طور\nفتنہ ساماں سے ترا فتنۂ ساماں ہونا\n\nخاک فانیؔ کی قسم ہے تجھے اے دشت جنوں\nکس سے سیکھا ترے ذروں نے بیاباں ہونا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%A8%D8%B4%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "حاصل نہیں دنیا سے بجز دل ریشی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "حاصل نہیں دنیا سے بجز دل ریشی\nرکھتی نہیں اعتبار یاری خویشی\nتوفیق رفیق ہو تو سب کرکے ترک\nہے جی میں کہ یک چند کریں درویشی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%AC%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%DB%8C%D8%B4%DB%8C"} {"title": "حال اب تنگ ہے زمانے کا", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حال اب تنگ ہے زمانے کا\nرنگ بے رنگ ہے زمانے کا\n\nنہیں کوتاہ اس کا دست طلب\nیہ گدا ننگ ہے زمانے کا\n\nایک دم چین سے نہ کوئی رہے\nیہی آہنگ ہے زمانے کا\n\nسرکشوں کا رہا نہ نام و نشاں\nزور سر چنگ ہے زمانے کا\n\nاے جفا کار دہر میں تجھ بن\nکون ہم سنگ ہے زمانے کا\n\nجھوٹ میں نے کہا ترے ہاتھوں\nقافیہ تنگ ہے زمانے کا\n\nچل نکل جلد یاں سے اے ؔجوشش\nڈھنگ بے ڈھنگ ہے زمانے کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "حال انجام سے پیری میں خبردار ہوئے", "poet_page": "مصنف:منشی ٹھاکر پرساد طالب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان طالب مانکپوری (1933)", "year": "1933", "text_ur": "حال انجام سے پیری میں خبردار ہوئے\nحیف صد حیف کہ اب خواب سے بیدار ہوئے\n\nکس طرح خانہ نشینی سے نہ گھبرا جائیں\nآدمی ہم نہ ہوئے نقطۂ پرکار ہوئے\n\nخانۂ چشم میں رکھا نہ بصارت نے قدم\nبند جس دن سے ترے روزن دیوار ہوئے\n\nہے مرے پیش نظر اب بھی تمہارا بچپن\nمجھ سے بتلاؤ کہ تم کب سے طرحدار ہوئے\n\nنفع کیا پہونچے کسی کو جو تونگر ہو بخیل\nکیا عنادل کو ملا پھول جو زردار ہوئے\n\nپست ہمت ہوئی موسیٰ کی حقیقت سن کر\nبھول کر ہم نہ کبھی طالب دیدار ہوئے\n\nموقع دید جب آیا تو نگہ خیرہ ہوئی\nمردم دیدہ عجب وقت میں بیمار ہوئے\n\nشیشہ سے بن کے پری بنت عنب جب نکلی\nدیکھ کر جامے سے باہر وہیں مے خوار ہوئے\n\nوصل میں تلخیٔ فرقت کی تلافی یہ ہوئی\nلب شیرین صنم مجھ سے شکر بار ہوئے\n\nمنتشر فکر معیشت سے ہوئے ہوش و حواس\nطائر عقل رسا پر ترے بے کار ہوئے\n\nحشر میں عیش کے ساماں ہوئے دشمن طالبؔ\nیار غار اپنے جو دنیا میں تھے اغیار ہوئے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "حال بد میں مرے بتنگ آ کر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "حال بد میں مرے بتنگ آ کر\nآپ کو سب میں نیک نام کیا\nہو گیا دل مرا تبرک جب\nدرد نے قطعۂ پیام کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A8%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "حال خوردبین کا", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اب میں یہاں سے حال خوردبین کا لکھتا ہوں اور حال اس کا بھی بہت نادرات سے ہے۔ غور سے پڑھو اور قدرت الٰہی کا تماشہ کرو۔ واضح ہو کہ خوردبین ایک ایسا آلہ ہے جس کے ذریعے سے نہایت چھوٹی سی چھوٹی شیٔ بڑی معلوم ہوتی ہیں۔ اس میں چند شیشے لگے ہوتے ہیں اور جس شیٔ کو دیکھنا منظور ہوتا ہے اس کے ذریعے دیکھتے ہیں اور بروقت دیکھنے کے چیز کا قد نہایت زیادہ ہو جاتا ہے۔\n\nاکثر ناظرین نے دیکھا ہوگا کہ بعض آئینے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں چہرہ آدمیوں کا بڑا معلوم ہوتا ہے۔ باعث اس کا یہ ہے کہ یہ آئینہ ہموار نہیں ہوتا بلکہ وہ ذرا گھرا ہوتا ہے۔ یہی حال خوردبین کی بھی مشینوں کا ہوتا ہے، بذریعہ خوردبین کی ایسی ایسی عجیب باتیں دریافت ہوئی ہیں کہ قبل از ایجاد ہوئے اس آلۂ مفید کے، وہ آدمیوں کے وہم میں نہیں گذری تھیں۔ ان عجیب باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ پانی میں چھوٹے چھوٹے کیڑے ہوتے ہیں اور وہ اس قدر چھوٹے چھوٹے کیڑے ہوتے ہیں کہ بوقت دیکھنے کے نظر میں نہیں آتے ہیں۔ ہرچند ہم پانی کو چھانیں اور نہایت صاف کریں پھر بھی اگر کوئی بذریعہ خوردبین کے اس میں دیکھے گا تو معلوم ہوجائے گا کہ بعد ہزار دفعہ چھاننے کے بھی چھوٹے چھوٹے کیڑے اس میں موجود ہیں۔\n\nچنانچہ ایک شخص برہمن بڑا پرہیزگار تھا اور حتی الامکان وہ زندہ چیز کو کبھی نہیں ضائع کرتا تھا۔ جب وہ راستے میں چلتا تو آدمی اس کے آگے جھاڑو دیتے جاتے، اس واسطے کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی کیڑا وغیرہ اس کے پاؤں کے نیچے آکر مرجاوے اور جب کھانا کھاتا تواس وقت ہزار طرح کی احتیاط ہوا کرتی کہ کوئی جانور مارا نہ جاوے۔ ایک انگریز نے جو مزاج میں شرارت رکھتا تھا، اس برہمن سے کہا کہ تم ناحق اس قدر پرہیز کرتے ہو۔ تم روز پانی میں ہزارہا کیڑوں کو پی جاتے ہو اور واسطے ثبوت اس اظہار کے اس فرنگی نے اس کو چھنے ہوئے اور صاف کئے ہوئے پانی میں، جس کو وہ پیا کرتا تھا، بذریعہ خوردبین کے برہمن مذکور کو ہزارہا کیڑے حرکت کرتے ہوئے دکھلا دیے۔\n\nیہ مشاہدہ کر کے برہمن نہایت رنجیدہ ہوا اور قسم کھائی کہ میں پانی کبھی نہیں پیوں گا اور اس عہد کو اس نے نہ توڑا۔ اخیر کو زیادتی تشنگی سے تڑپ کر مر گیا۔ اس دائرہ میں وہ شکلیں ان چھوٹے جانوروں اور کیڑوں کی جو پانی میں دیکھے گئے ہیں مندرج ہیں۔ خوردبین کے ذریعہ سےیہ بات تحقیق ہوئی ہے کہ جن کو لوگ مونگے کے درخت کہتے ہیں، وہ در اصل درخت نہیں ہیں بلکہ وہ عمارتیں ہیں جو نہایت چھوٹے کیڑوں نے واسطے اپنی بود وباش کے تعمیر کی ہیں اور یہ کیڑے اس قدر چھوٹے ہیں کہ بغیر ذریعہ خورد بین کے نظر نہیں آتے ہیں۔ اس آلے کے ذریعے سے جو جو چھوٹے جانوروں کو دیکھا ہے اور ان کی کیفیت معلوم ہوئی ہے ان کا ہم بیان کرتے ہیں۔ نہایت دلچسپ ہے۔\n\nظاہر ہو کہ ایک قسم کا جانور جس کا نام بن ہے کہ وہ نہایت چھوٹا ہوتا ہے اور اس کو بغیر خوردبین کے نہیں دیکھ سکتے ہیں اور اس جانور کے سر کو جب خوردبین میں دیکھتے ہیں تو اتنا بڑا معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ یہاں دکھائی دیتا ہے۔ بغور ملاحظہ اس شکل کے معلوم ہوگا کہ جب یہ کیڑا ایک دفعہ کسی اتڑی میں جگہ کر لیتا ہے تو وہاں سے اس کا چھٹنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ خوردبین میں پردار جانوروں کے دیکھنے سے بہت لطف حاصل ہوتا ہے اور گھنٹوں تک ان کی آنکھیں، سینگ، بازو بلکہ چھوٹے چھوٹے پر جو ان کے بدن پر ہوتے ہیں دیکھنے کو جی چاہتا ہے۔\n\nجب خوردبین میں سے مکھی کو ملاحظہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی آنکھیں بہت سے شیشوں کی بنی ہوئی ہے، جو پاس پاس مثل جال کے لگے ہوئے ہیں اور یہ شیشے ایک آنکھ مکھی کی میں کئی ہزار سے زیادہ شمار کئے گئے ہیں اور اس کی آنکھ خوردبین میں اتنی بڑی معلوم ہوتی ہے جیسے کہ یہاں مندرج ہے اور جس وقت پاؤں مکھی کے خوردبین سے دیکھے جاتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کہ ہم نے یہاں تصویر میں دکھایا ہے اور جب مچھر کے ڈنک کے اجزا کو جدا کرتے ہیں اور خوردبین سے دیکھتے ہیں تو ان کی صورت تیروں اور چاقووں کی سی معلوم ہوتی ہے ان ڈنکوں کی شکلیں یہ ہیں۔\n\nمکڑی کے بہت سے اجزاء بہت اچھے ہیں اور وہ چیز جس سے وہ جالا بنتی ہے سب سے زیادہ لائق دیکھنے کے ہیں۔ یہ شکل اس جزو مکڑی کی ہے جس سے وہ جالا بنتی ہے جیسا کہ وہ خوردبین میں معلوم ہوتا ہے۔ جالا مکڑی کا اگرچہ بوسیلہ خوردبین کےبہت ہی باریک معلوم ہوتا ہے، بنا ہوا ہوتا ہے، بہت ریشوں کا جو اس سے بھی بہت باریک ہیں اور جو تھوڑی دور پر ان چھیدوں میں سے جو مکڑی کے جسم میں ہوتے ہیں اور جس میں سے وہ نکلتے ہیں، آپس میں مل جاتے ہیں۔ مکڑی کی ہر ٹانگ کی سرے میں ایک نوکدار بہت اچھا آنکڑا جو ہر وقت پکڑنے کی چیز کے بند ہوجاتا ہے، ہوتا ہے اور مکڑی کی ٹانگیں اور ناخن جو خوردبین سے دکھائی دیتے ہیں ان کی شکلیں ہم پیش کرتے ہیں۔\n\nنرم پر تیتریوں کے جسم پر ہوتےہیں۔ جب ان کو خوردبین سے دیکھتے ہیں، ذرا ذرا سے چھلکوں کے بنے ہوئے معلوم ہوتے ہیں، ان کی شکلیں یہ ہیں۔ اور جس وقت خوردبین میں سے پسو کو مشاہدہ کرتے ہیں تو اس کی شکل اتنی بڑی معلوم ہوا کرتی ہے جیسی کہ یہاں مندرج ہے۔ غرض یہ ہے کہ جو خوردبین سے بڑے بڑے مفاد حاصل ہوتے ہیں اور بروقت دیکھنے کے اس سے کسی چیز کو بڑی معلوم ہوا کرتی ہے اور زمانہ قدیم میں اس آلے کو لوگ نہایت کم جانتے تھے لیکن اب دانایان فرنگ نے اس آلے کو بہت رواج دیا ہے اور اس کے سبب سے بہت اچھی اچھی باتیں دریافت کی ہیں۔ عرصہ چند روز کا ہوا کہ اس احقر نے بوسیلے خوردبین کے ایک بال کو، جس پر جوں بیٹھی تھی دیکھا تھا۔ وہ بال مثل شاخ ایک سیب کے درخت کے معلوم ہوتی تھی اور جوں اس پر مثال بندر کے پھرتی معلوم ہوتی تھی۔ اس جائے ہم شکل خوردبین کی بھی درج کرتے ہیں۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AE%D9%88%D8%B1%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D9%86_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "حال دل اے بتو خدا جانے", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حال دل اے بتو خدا جانے\nسچ ہے سچ اس کو غیر کیا جانے\n\nلطف اشعار پوچھ شاعر سے\nبے وفائی وہ بے وفا جانے\n\nپھوٹ کر محفلوں میں روتے ہو\nدل کا احوال کوئی کیا جانے\n\nسخت کوئی غزل میں پاتا ہوں\nنازکی میرا دل ربا جانے\n\nلاکھ میں فیصلہ چکاتے ہو\nمدعی کیوں نہ مدعا جانے\n\nمرض عشق میں اثر ہوگا\nمیرا ہر شعر وہ دوا جانے\n\nآج بے ہوش ہو گیا اخترؔ\nکیا ہوا کیا ہوا خدا جانے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%AA%D9%88_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "حال دل بے قرار ہے اور", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حال دل بے قرار ہے اور\nشاید کہ خیال یار ہے اور\n\nاے دیدہ نہ رو کہ تجھ پر اک شب\nرنج شب انتظار ہے اور\n\nجاگا ہے کہیں مگر تو دیشب\nآنکھوں میں تری خمار ہے اور\n\nفرہاد نے دیکھتے ہی گلگوں\nجانا تھا کہ یہ سوار ہے اور\n\nکوچے میں ترے مری نگہ کا\nہر گوشہ امیدوار ہے اور\n\nہے آخر عمر اس چمن میں\nدو چار ہی دن بہار ہے اور\n\nناوک کا ترے شکار گہ میں\nہر گوشے نیا شکار ہے اور\n\nوہ ہم سے کرے ہے کل کا وعدہ\nاوروں سے وہاں قرار ہے اور\n\nکیا لالے سے نسبت اس کو سچ ہے\nداغ دل داغ دار ہے اور\n\nاوروں سا نہ جان مجھ کو پیارے\nیہ عاشق جاں نثار ہے اور\n\nاے مصحفیؔ اس میں چپ ہی رہ تو\nسنتا ہے یہ روزگار ہے اور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "حال دل تم سے مری جاں نہ کہا کون سے دن", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حال دل تم سے مری جاں نہ کہا کون سے دن\nمیرے کہنے کو بھلا تم نے سنا کون سے دن\n\nلذتیں وصل کی کچھ میں نے بیاں کیں تو کہا\nآپ کے واسطے دن ایسا ہوا کون سے دن\n\nجب کہا میں نے وہ کیا دن تھے جو ملتے تھے تم\nہو کے انجان عجب ڈھب سے کہا کون سے دن\n\nوصل کی شب ہے ملو آج تو دل کھول کے خوب\nاے مری جان یہ جائے گی حیا کون سے دن\n\nرشک آمیز جو کچھ میں نے کہا تو بولے\nغیر کے ساتھ مجھے دیکھ لیا کون سے دن\n\nہر گھڑی دل میں رہا خوف بگڑ جانے کا\nتیرے ملنے میں مزا ہم کو ملا کون سے دن\n\nکون سا دن ہے جو بے چین نہیں ہو کے نظامؔ\nبے قراری سے نہ اس در پہ گیا کون سے دن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%86"} {"title": "حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سنا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سنا\nشب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا\n\nنابلد ہو کے رہ عشق میں پہنچوں تو کہیں\nہمرا خضر کو یاں کہتے ہیں گمراہ سنا\n\nکوئی ان طوروں سے گزرے ہے ترے غم میں مری\nگاہ تو نے نہ سنا حال مرا گاہ سنا\n\nخواب غفلت میں ہیں یاں سب تو عبث جاگا میرؔ\nبے خبر دیکھا انہیں میں جنہیں آگاہ سنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D9%88_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%B3%D9%86%D8%A7"} {"title": "حال دل میں سنا نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حال دل میں سنا نہیں سکتا\nلفظ معنیٰ کو پا نہیں سکتا\n\nعشق نازک مزاج ہے بے حد\nعقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا\n\nہوش عارف کی ہے یہی پہچان\nکہ خودی میں سما نہیں سکتا\n\nپونچھ سکتا ہے ہم نشیں آنسو\nداغ دل کو مٹا نہیں سکتا\n\nمجھ کو حیرت ہے اس کی قدرت پر\nالم اس کو گھٹا نہیں سکتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "حال دل کہنے کو کہتے ہو تو کب تم مجھ کو", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حال دل کہنے کو کہتے ہو تو کب تم مجھ کو\nہائے جس وقت نہیں تاب تکلم مجھ کو\n\nخاک ہو کر بھی وہی حسرت پابوس رہی\nہو گئی موج صبا موج تلاطم مجھ کو\n\nضعف سے حال یہ پتلا ہے رہ الفت میں\nسیل گریہ پہ بھی حاصل ہے تقدم مجھ کو\n\nکہتے ہیں ذکر شب وصل پہ کیا جانئے کیوں\nکبھی شرم اور کبھی آتا ہے تبسم مجھ کو\n\nمعجزہ حضرت عیسیٰ کا تھا بے شبہ درست\nکہ میں دنیا سے گیا اٹھ جو کہا قم مجھ کو\n\nسیل گریہ کی بدولت یہ ہوا گھر کا حال\nخاک تک بھی نہ ملی بہر تیمم مجھ کو\n\nان کو گن گن کے شب ہجر بسر ہوتی ہے\nتارے آنکھوں کے نہ کیوں ہوویں یہ انجم مجھ کو\n\nہے گزی گاڑھا ہی کیفیؔ کا شعار اور وثار\nنہیں درکار ہے یہ اطلس و قاقم مجھ کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%D9%85_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "حال دوربین کا", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "واضح ہو کہ ایجاد ہونے ان آلات سے جن میں شیشوں وغیرہ کا کام پڑتا ہے، ان سے خلق کو نہایت فائدہ پہنچتا ہے۔ شروع میں سنہ ۱۴۰۰ عیسوی کے اول ہی اول ایک شخص فرنگی نے جس کا نام سیلونیو تھا اور جو شہر فلورنس میں کہ دار الخلافہ ملک کا ہے رہتا تھا، عینکوں کو ایجاد کیا تھا۔ اس سے جو بوڑھوں اور ضعیف نظر والے آدمیوں کو بلکہ اکثر جوانوں کو جو فوائد کثیر پہنچے، وہ سب پر روشن میں ہیں لیکن سب آلات مذکور الصدور میں دور بین نہایت نفیس اور مفید شیٔ ہے۔\n\nاس آلہ مفید کے ایجاد ہونے کا حال مؤرخ اس طرح سے بیان کرتے ہیں کہ شہر مڈ برگ میں کہ ملک ہولنڈ میں واقع ہے، ایک عینک بنانے والے کا بیٹا اپنے باپ کی دکان پر دو شیشے کے ٹکڑوں سے کھیل رہا تھا اور وہ ایک شیشے کو تو انگلی سے اور دوسرے کو انگوٹھے سے پکڑ کے ایک کو دوسرے کی سیدھ میں رکھتا تھا اور ان کو آنکھ لگا کر دیکھتا۔ ان شیشوں کے ایک دوسرے کے نزدیک اور دور لے جانے سے ایک نیا تماشہ معلوم ہوتا تھا مثلاً برج گرجا گھر کے جو اور لوگوں کو چھوٹے سے اور دور نظر آتے تھے، وہ اس لڑکے کو بوساطت شیشوں مذکور کے بہت بڑے اور نزدیک معلوم ہوتے اور اس سے سوائے ایک عجیب بات اس نے یہ مشاہدہ کی کہ برج مذکور الٹے نظر آتے ہیں۔\n\nجب یہ عجیب حال شیشوں کا اس لڑکے کے باپ نے معلوم کیا تو اس نے دوشیشوں کو ایک تختے پر لگایا، اس طور سے کہ وہ چاہے جہاں جڑے جا سکیں۔ اور اس ترکیب سے شروع میں ایک بڑی سی دور بین ہوئی اور اس کے ذریعہ سے فاصلہ کی چیزیں پاس اور صاف نظر آنے لگیں۔ جب گیلیلیو نے جو ایک بڑا حکیم ساکن لکنی کا تھا، حال اس آلہ جدید کا سنا تو اس نے اس کو کمال خوبی کو پہنچانے میں بہت کوشش کی۔ اس نے بجائے تختے کے ایک لمبی نلی کے دوسروں پر شیشوں کو جڑدیا اور ان میں سے اجرام فلکی کا مشاہدہ کیا اور اس ترکیب سے وہ صورت دوربین کی بن گئی جو بالفعل پائی جاتی ہے۔ حکیم مذکورہ نے بذریعہ اس دوربین کے بڑی بڑی باتیں نسبت اجرام فلکی کے معلوم کیں۔ مثلاً اس نے دریافت کیا کہ چار چاند گرد سیارہ مشتری کے گردش کرتے ہیں اور سطح کرہ آفتاب ہیں اور ان کی گردش سے اس نے تحقیق کیا کہ آفتاب گرد اپنے محور کے گھومتا ہے۔\n\nعلاوہ ازیں اس آلے کی وساطت سے یہ بھی دریافت ہوا کہ چاند میں پہاڑ اور گھاٹیاں ہیں اور ہزارہا ثوابت یعنی وہ سیارے جو ایک جا ساکن ہیں اور وہ بغیر دوربین کے نظر نہیں آتے ہیں۔ یہ سب باتیں سنہ ۱۶۱۰ء میں معلوم ہوئی تھیں۔ اس وقت سے دوربین میں ہمیشہ ترمیمیں اور ترقیتیں ہوتی گئیں اور زمانہ حال میں وہ اس قدر خوبی سے بنائی جاتی ہے کہ اس کے ذریعے سے وہ عجائبات فلکی معلوم ہوتے ہیں کہ پہلے وہ کسی کے گمان میں بھی نہ تھے۔\n\nفی الحقیقت دوربین مثل ایک ایسی سواری کے ہے جس کے ذریعے سے دور دور آسمان میں واسطے سیر اور مشاہدہ اجرام فلکی کے چلے جا سکتے ہیں۔ بذریعہ دوربین ہر مثل صاحب کے کہ اس سے ہر شیٔ چھ ہزار دفعہ زیادہ بڑی قد میں معلوم ہوتی ہے۔ سیارہ زحل اور اس کا حلقہ اور چاند وغیرہ اس قدر بڑے معلوم ہوتے ہیں گویا ہم اسی کروڑ میل کا سفر کر کے اس کے پاس جاکر اس کی سیر دیکھتے ہیں۔\n\nاب ذرا غور کرنا چاہئے کہ اگر ہم بذریعہ دخانی گاڑی کے پچاس میل ایک گھنٹہ میں چلیں تو بھی اس فاصلہ بعید کو عرصہ سالوں میں طے کر سکیں گے۔ اس آلے کے ذریعے سے ہم ثوابت کو اس قربت سے مشاہدہ کر سکتے ہیں گویا ہم (۴۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰) میل طے کر کے ان کی سیر کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسا فاصلہ بعید ہے کہ گو برابر ہم توپ کے گولے کی رفتار سے چلیں پھر بھی واسطے طے کرنے اس دوری کی کروڑوں برس ضروری ہیں۔ پس جب ایسی ایسی نہایت مشکل اور عجیب باتیں اس آلے سے عمل میں آتی ہیں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس آلہ کو واسطے سمجھنے اپنی خدائی کے اپنے بندوں کو عطا کیا ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D9%86_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "حال سخاوت کا", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "نہایت بزرگ نیکیوں میں سے سخاوت بھی ایک ہے۔ اس جائے ہم معنی سخاوت کے یہ نہیں لیتے کہ کسی شخص کی روپیہ پیسے یا کھانے کپڑے سے مدد کرنا بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی اور کو اچھی صلاح بتا دے یا گمراہی سے راہ پر لےآوے یا اسے علم سکھاوے یا کسی اور مصیبت میں سے خلاص کرے تو یہی شخص سخی ہے۔ الغرض جو شخص اپنا کسی طرح کا ہرج ذاتی کر کے دوسرے کے آرام کے واسطے کوشش کرے وہ شخص بے شک سخی ہے۔\n\nجس وقت تعریف سخاوت کی ہوچکی تو لازم ہے کہ ہم اس کے فوائد کثیر کا جو خلقت کو پہنچتے ہیں بیان کریں، اور غور کرو تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نیکی سخاوت کی انسان کو اس نظر سے بخشی ہے کہ جو جو انسان موافق احکام اور قوانین اللہ تعالیٰ کے، بیکس اور مصیبت زدہ ہوں، ان کی حیات اور گذارہ کے واسطے اور انسان جن کے قواء درست ہیں کوشش کریں۔ اگر سخاوت انسان میں نہ ہوتی تو حقیقت یہ ہے کہ انسان انسانیت سے خالی ہوتا۔ ہزارہا اشخاص جو کوشش نہیں کر سکتے ہیں بہ سبب نہ ہونے کھانے یا پوشاک کے جہان فانی سے کوچ کرتے اور کسی کو ان کے باب میں کچھ خیال بھی نہ ہوتا۔\n\nاطباء غریبوں اور محتاجوں کی نبض تک بھی نہ دیکھتے اور نہ کوئی اسپتال محتاجوں کے لئے ہوتا۔ بازاروں اور کوچوں میں لاشیں محتاجوں اور فقیروں کی نظر آتیں جو بہ سبب زیادتی بھوک یا نہ ہونے پوشاک کے یا نہ ہونے علاج ان کی بیماری کے مر جاتے۔ یہ دنیا جو کہ باغ کی مانند بذریعہ استعمال اس نیکی بزرگ کے کھلی ہوئی ہے، مانند ایک دوزخ کے نظر آتی ہے، اور انسان چرند اور پرند جانوروں میں کچھ فرق نہیں ہوتا اور چند روز میں خلقت خدا کی برباد ہو جاتی ہے۔ علاوہ اس آرام اور خوشی کے جو بیکسوں وار محتاجوں کو بذریعہ سخاوت کے پہنچتی ہیں۔\n\nایک فائدہ عظیم یہ ہے کہ سخی آدمی کو عجیب طرح کا سرور حاصل ہوتا ہے کہ وہ نہ تو ناچ دیکھنے سے آتا ہے اور نہ پلاؤ کھانے سے اور نہ شراب پینے سے۔ یہ خوشیاں پائیدار مانند ہوا کے ہیں۔ جب تک ہم ناچ دیکھتے ہیں ہم خوش ہوتے ہیں لیکن انسان ہمیشہ قابل ناچ دیکھنے کے نہیں ہوتا۔ انسان پر ہزار طرح کی مصیبتیں اور تکالیف ہوتی ہیں۔ ان تکلیفات کے وقت ناچ سے سرور نہیں حاصل ہو سکتا ہے، اس وقت پلاؤ بدمزہ معلوم ہوتا ہے اور شراب کڑوی، لیکن جو سرور سخاوت سے حاصل کرتا ہے وہ ہر مصیبت کو خوشی سے سہہ سکے گا کیوں کہ اس کو یہ دلجمعی ہے کہ میں نے موافق مرضی اللہ تعالیٰ کے کام کیا ہے۔ اگر اس کو نہایت سخت بھی بیماری ہو یا وہ نہایت مفلس ہو، اسے کچھ پرواہ نہیں ہوگی کیونکہ اس کا دل قوی ہے اور خیال کرتا ہے کہ بیماری اور مفلسی فقط جسم کو رنج دے سکتی ہے اور چند روز کی ہیں۔ بعد اس کے مجھے اس نیکی کے ثمرہ میں بہت کچھ ملے گا۔\n\nیہ بات تو سب آدمیوں پر روشن ہوگی کہ جس وقت کوئی کار سخاوت کا کوئی آدمی کرتا ہے، اس کو ایک عجیب طرح کی خوشی حاصل ہوتی ہے اور یہ خوشی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ بعض مکار یہ کہا کرتے ہیں کہ انسان نمود اور اپنی تعریف بہت چاہتا ہے، اس واسطے اوروں کو دکھلانے کے لیےوہ سخی ہو جاتا ہے۔ اس جائے ہم دو سوال کرتے ہیں۔ اول تو یہ ہے کہ اور شخص کیوں اس کی تعریف کرتے ہیں اور تعریف بھی دلی۔ یہاں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سب انسان کے دل پر یہ نقش ہے کہ سخاوت ایک بڑی نیکی ہے اور سخی آدمی لائق تعریف کے ہے۔ علاوہ اس کے اکثر یہ واقع ہوتا ہے کہ بوقت سخاوت کرنے کے سوائے سخی اور اس شخص کے، جس پر سخاوت کی گئی ہے دوسرا آدمی نہیں ہوتا۔ پس اس صورت میں بھی اس شخص کو نہایت خوشی ہوتی ہے۔\n\nاب ہم دریافت کرتے ہیں اس بات کو کہ کون کون اشخاص مستحق سخاوت کے ہیں۔ یعنی وہ کون آدمی ہیں کہ جن کی مدد کرنا ہر انسان پر لازم ہے۔ اب واضح ہو کہ فقط وہ آدمی جو اپنی زندگی کے لئے کوششیں نہیں کر سکتے ہیں، وہی مستحق سخاوت کے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ مستحق سخاوت کے ہیں جن پر یکایک کوئی آفت ناگہانی آجاوے یا ایسے شخص ہیں جو ایک دفعہ کی مدد سے قابل اس بات کے ہو جائیں گے کہ آئندہ کو وہ اپنے گذارے کے واسطے کوشش کر سکیں گے یا وہ آدمی جو ایسی مصیبت میں ہیں کہ وہ فقط اپنی کوشش سے اپنے تئیں اس مصیبت سے خلاص نہیں کر سکتے۔ سوائے ایسے آدمیوں کے اور آدمیوں پر جو اپنی کوشش سے اپنا گذارہ کر سکتے ہیں، سخاوت کرنا فقط بے فائدہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک طرح کی خطا ہے اور موجب رنج اور مصیبت خلقت کا ہے۔\n\nاکثر اشخاص اہل ہند کی یہ رائے ہے کہ خواہ کسی شخص پر سخاوت کرو، سخاوت ہر صورت میں مفید اور اچھی ہے۔ واضح ہو کہ یہ ان کی بڑی غلطی ہے۔ ہم نے ابھی بیان کیا ہے کہ علت غائی سخاوت کی پہنچانا آرام اور جہاں تک بنے وہاں تک کم کرنا رنج اور مصیبت خلق خدا کا ہے۔ اب یہ بات صریح ظاہر ہے کہ غیرمستحق کو فائدہ پہنچانا گویا مستحق کو محروم رکھنا ہے۔ کس واسطے اس دنیا میں وہ اشخاص جو مستحق سخاوت کے ہیں یعنی جو اپنی کوشش سے اپنا گذارہ نہیں کر سکتے، تھوڑے سے نہیں ہیں بلکہ بے شمار ہیں۔ پس اس صورت میں یہ بات کوئی سخی نہیں کہہ سکتا کہ میں سب محتاجوں اور مستحقوں پر سخاوت کر چکا۔ اس واسطے میں اب ان آدمیوں کے لئے مدد کرتا ہوں جو محتاج نہیں ہیں یعنی جو اپنے گذارہ کے لئے کوشش کر سکتے ہیں۔\n\nجب یہ حال ہے اس دنیا کا، تو صاف ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص سخاوت بے جا کرے گا، وہ گویا محتاجوں کے استحاق تلف کرتا ہے۔ مثلاً فرض کرو کہ ایک شخص فقط اتنا مقدور رکھا ہے کہ دس روپیہ مہینہ خیرات اور سخاوت میں خرچ کرے۔ اب اسے یہ بات بے جا ہے کہ یہ دس روپیہ بیس آدمیوں ہٹے کٹوں کو دیوے، کہ وہ اگر ذرا بھی محنت کریں تو اپنی قوت گذاری کر سکتے ہیں۔ اسے چاہئے کہ دس بیکسوں کو مثل اندھوں، لنگڑوں لولوں اور کوڑھیوں اور آدمیوں کے جو اپنے گذارے کے واسطے کوشش نہیں کر سکتے دیوے۔ اب اگر کوئی سخی پہلی قسم کے آدمیوں پر سخاوت کرے تو جو مستحق ہیں سخاوت کے، ان کو محروم رکھے گا۔ جو اشخاص محنت کر سکتے ہیں اگر ان کو وہ دس روپیہ نہ دے تو وہ ناچار ہو کر کوشش کریں گے اور اپنا گذارہ کر سکیں گے لیکن وہ بے چارے جن کے قوی درست نہیں وہ بے شک مر جائیں گے۔ اب اس کا عذاب اس شخص پر جس نے سخاوت بے جا کی ہے پڑے گا۔\n\nمرقومہ بالا پر یہاں کے لوگوں کو خصوص اہل ہنود کو نہایت غور کرنا چاہئے کیونکہ اہل ہنود چھانٹ چھانٹ کے ایسے آدمیوں پر سخاوت کرتے ہیں جو ہٹے کٹے ہیں اور جو خوب اچھی طرح سے کوشش کر سکتے ہیں۔ میں نے بچشم خود دیکھا ہے کہ یہاں کے صاحب سرمایہ دار اور مہاجن وغیرہ سیکڑوں سنڈ مسنڈوں کو جو باباجی کھانا کھلاتے ہیں نقدی پیش کرتے ہیں، اگر کوئی دیکھے تو ان فقیروں کے یہ قوی ہوتے ہیں کہ وہ مانند پہلوانوں کے ہوتے ہیں۔ اب ذرا غور کرنا چاہئے کہ ان کاہل وجود اور مفت خوروں کی مدد کرنا محتاجوں کو ان کے استحقاق سے محروم رکھنا ہے۔ اکثر اہل ہنود یہ سمجھتے ہیں کہ ان فقیروں کی دعا سے نجات ہوتی ہے اور خدا خوش ہوتا ہے۔ افسوس ہزار افسوس! کیا ان کی عقل ہے کہ ان جہنمیوں کی دعا خدا کے یہاں قبول ہوگی۔ واضح ہو کہ خدا منصف ہے اور چاہتا ہے کہ مستحق اپنے استحقاق سے کبھی محروم نہ رہے اور جو باعث محروم رکھنے کا ہو اس پر اس کا غضب بے شک آتا ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%B3%D8%AE%D8%A7%D9%88%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "حال فردوسی کا", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ہماری رائے میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ہے جہاں اس قدر شاعر گذرے ہوں گے جس قدر کہ فارس میں پائے گئے ہیں۔ بہت سی کتابیں فارسی نظم میں ایسی ہیں کہ پڑھنے کے لئے زندگی انسان کی کافی نہیں ہے۔ لیکن سب شاعر ایسے نہیں ہیں کہ ان کی تصنیفات لائق پڑھنے کے ہیں لیکن چند ایسے ہیں جو لاثانی ہیں اور جن کی تصنیفات لائق پڑھنےکے ہیں۔ مثلاً حافظ، فردوسی اور سعدی وغیرہ۔\n\nواضح ہو کہ پہلے لوگ ایران کے دین محمدی نہیں رکھتے تھے۔ وہ آتش پرست تھے اور اس وقت میں بہت سی کتابیں تاریخ وغیرہ کی نظم میں بیچ زبان فارسی کے تھیں اور ان نظم کی کتابوں میں بہت خوبی اور فصاحت سے حال دلیروں اور بادشاہوں سلف کا لکھا ہوا تھا اور از بسکہ بعض آدمی بڑے شجاع اور زوردار زمانے سلف میں ملک ایران میں گذرے تھے تو شاعروں نے ان کو دیو ٹھہرادیا ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں مسلمانوں نے ایران کو فتح کیا۔ اس وقت بہ سبب لحاظ دین کے خلیفہ اور حکام اہل اسلام نے اکثر پرانی کتابوں ایرانی کو غارت کیا اور اس ترکیب سے قدیم اشعار اور نظم کی کتابیں ملک فارس میں کا نام و نشان نہیں رہا۔\n\nایسے برے حال میں نویں صدی عیسوی تک فارس رہا اور اس وقت خاندان عباسی کو تنزل ہوا اور کئی صوبہ دار اہل اسلام میں سے خاندان شاہی سے آزاد ہوگئے اور علیحدہ علیحدہ بادشاہ بن بیٹھے اور ان بادشاہوں نے قدر دانی علوم وفنون کی بخوبی کی لیکن اس وقت تک کوئی بڑا شاعر فاضل نہ نمودار ہوا تھا لیکن جب آخر کو دسویں صدی عیسوی میں محمود غزنوی نے شرقی اضلاع ایران کے فتح کئے تو اس عہد میں ہم فردوسی کا نام سنتے ہیں۔ حقیقت میں یہ بڑا شاعر تھا اور ایران کے فن شاعری کا رونق دینے والا۔\n\nیہ شخص سنہ ۹۴۰عیسوی میں بیچ گاؤں شاداب کے کہ ضلع طوس میں جو ملک خراسان میں واقع ہے، پیدا ہوا تھا۔ اس کا باپ بطور باغبان کے حاکم طوس کا نوکر تھا اور فردوسی کا یہ طریقہ تھا کہ وہ اپنی محنت مزدوری کرتا جاتا اور دل میں مختلف مضامین سوچا کرتا اور تحصیل علوم میں بھی مشغول رہتا اور اس طرح سے بہت سے سال گذر گئے۔ اخیر کو ایک شخص ان کے ہمسایوں میں سے فردوسی اور اس کے برادران سے عداوت رکھنے لگا تھا اور ان سے اکثر تنازع رکھتا تھا اور اس باعث سے فردوسی بہت پریشان خاطر ہوا اور اپنے بھائی سے کہا کہ اپنے وطن کو چھوڑ کر کسی اور ملک میں چل بسو۔ لیکن یہ بات اس کے بھائی نے قبول نہ کی اور فردوسی اکیلا وطن چھوڑ کر طرف غزنی کے راہی ہوا، اور وہاں ان دنوں سلطان محمود سلطنت کرتا تھا۔ یہ بادشاہ قدر دان علم کا تھا اور اہل علم اور ہنر کی بہت خاطر کرتا۔ چنانچہ اس کے دربار میں بہت سے شاعر اور فاضل موجود رہتے تھے۔\n\nاس اوقات میں ایک پرانی تاریخ جس میں حال بادشاہوں ایران کا جو قبل از پیدائش حضرت پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گذرے تھے مندرج تھا، ظاہر ہوئی تھی اور سلطان محمود نے یہ چاہا تھا کہ کوئی شاعر سب حال اس پرانی تاریخ ایران مذکور کو شاعری میں اچھی طرح سے بیان کرے اور اس کتاب کے ذریعے سے اس کی نیک نامی ہمیشہ رہے۔ اکثر شاعروں نے کچھ کچھ نمونہ اپنی اپنی لیاقتوں کا سلطان مذکور کی خدمت میں پیش کیا اور فردوسی بیان کرتا ہے کہ جب میں شہر غزنی میں وارد ہوا تو میں نہایت حیران ہوا کہ میں کس طور سے رسائی سلطان تک حاصل کروں اور اپنی لیاقت اس کے روبرو ظاہر کروں لیکن اخیر کو ایک کتاب مسمی ’’ماسہ نامہ‘‘ کہ جس کے نام کی ہم کو صحت نہیں ہے، ایک نسخہ اس کے ہاتھ آیا، اس میں سے اس نے چند مقاموں کو نظم میں لکھ کر ایک اپنے دوست کی معرفت سلطان محمود کی خدمت میں بھیجا اور محمود نے ان اشعار کو ملاحظہ کرکے انھیں نہایت پسند کیا اور فرمایا کہ تاریخ مذکور زمانہ سلف ایران کے فردوسی تیار کرے اور سلطان نے قرار کیا کہ فی شعر ایک اشرفی دوں گا اور فردوسی نے یہ معلوم کر کے خوشی خوشی اس کار عظیم کو اس امید سے کہ بذریعہ اس ترکیب کے ایک تو ہمیشہ کو نیک نامی اور دوم دولت حاصل ہوگی، اختیار کیا۔\n\nفردوسی ہمہ تن اس کتاب کے تیار کرنے میں مصروف ہو گیا اور تیس برس تک محنت کرتا رہا اور آخر کو وہ کتاب مذکورہ تاریخ کی کہ جس کا نام ’’شاہنامہ‘‘ رکھا گیا، تیار ہوئی لیکن اس عرصہ میں بہت سی تبدیلیاں واقع ہوئی تھیں۔ جو پرانے دوست فردوسی کے تھے وہ یا تو راہی ملک عدم کے ہوگئے تھے یا ان میں سے جوش و خروش دوستی کا جاتا رہا تھا اور بعض موقوف ہو گئے تھے اور دربار سلطان میں نئی نئی صورتیں نظر آتی تھیں اور یہ نئے اشخاص بڈھے فردوسی کو دیکھ کر اس کی حقارت کرتے تھے جو بہ سبب تیزی فکروں اور کمال محنت کے بہت کم زور اور ناتواں ہو گیا تھا اور علاوہ از ایں بد نصیبی فردوسی کا سبب یہ بھی ہوا کہ ایک شخص ایاز تھا، اسے بادشاہ بہت چاہتا تھا۔ اس شخص اور فردوسی میں دشمنی ہوگئی اور اس واسطے اس نے سلطان کے کان میں بڑی بڑی باتیں نسبت فردوسی کے پھونکیں اور یہ بیان کیا کہ فردوسی بادشاہ کے خلاف ہے اور دین محمدی سے پھرا ہوا ہے اور واسطے مضبوطی اس کلام کے اس نے یہ کہا کہ فردوسی نے اپنی کتاب شاہنامہ میں طریقہ زر دشت کی تعریف لکھی ہے۔\n\nاگرچہ اور امور میں محمود بڑا عاقل تھا لیکن اس نے غیب فردوسی کو مان لیا اور جب اس شاعر بزرگ نے شاہنامہ کو تمام کرکے سلطان کی نذر کیا تو اس نے کچھ تعریف یا آفرین اس کی محنت پر نہ کی اور انعام مقرری کا تو کچھ ذکر بھی نہ کیا۔ فردوسی نے بہت مدت تک انتظار کیا کہ بادشاہ اسے اقرار کیا ہوا انعام بخشے تاکہ وہ اپنے وطن طوس جاکر اپنی باقی زندگی کو آرام سے بسر کرے لیکن سلطان نے اسے ایک کوڑی بھی نہ دی۔ آخرکار فردوسی نے چند اشعار کہے کہ مضمون ان کا یہ تھا کہ سلطان جو کہ مثال ایک بحر کے ہے اور گو میں نے اس میں غوطہ مارا لیکن موتی میرے ہاتھ نہ لگا تو وہ میری قسمت کی خطا ہے اور نہ سلطان کی فیاض کے بحر کی۔\n\nلیکن چند عاقل آدمیوں نے سچ کہا ہے کہ جب کہ محمود ’’شاہنامہ‘‘ کے ملاحظہ سے نہ نرم ہوا تو چند اشعار کا تو اسے کیا خیال ہو، تو محمود نے بجائے اپنے اقرار پورا کرنے کے فردوسی کو ایک رنج دیا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ سلطان نے جو یہ فردوسی سے اقرار کیا تھا کہ میں فی شعر ایک اشرفی دوں گا تو شاہنامہ کے ساٹھ ہزار اشعار ہیں تو بموجب اقرار کے اسے ساٹھ ہزار اشرفی فردوسی کو دینی لازم تھیں لیکن برعکس اس کے سلطان محمود نے بجائے ساٹھ ہزار اشرفی ساٹھ ہزار درہم فردوسی کے پاس بھیجے اور یہ کہا کہ یہ انعام تیاری شاہنامے کا ہے۔ جس وقت یہ روپیہ پہنچا اس وقت فردوسی حمام میں غسل کر رہا تھا اور یہ خبر سن کر نہایت رنجیدہ اور غضبناک ہوا اور سلطان کو بہت سی گالیاں سنائیں اور اس سب روپے کو اپنے نوکروں میں جو اس وقت موجود تھے تقسیم کر دیا۔\n\nیہ دیکھ کر جو افسر یہ درہم لے کرآئے تھے واپس بادشاہ کے پاس گئے اور سب ماجرا بیان کیا۔ یہ سن کر محمود نہایت برہم ہوا اور حکم دیا کہ اس وقت فردوسی کو ہاتھی کے پاؤں کے نیچے کچلوا کر مروا ڈالو لیکن فردوسی نے بہت ہی عاجزی کی اور اپنی زندگی سلطان سے بخشوائی لیکن محنت بیس برس کی برباد گئی اور تمام اس کی امیدیں جاتی رہیں اور وہ دربار سے گھر کو چلا آیا اور از بسکہ اس کے دل میں نہایت رنج تھا تو اس نے ایک ہجو سلطان کی لکھ کر اور اس پر اپنی مہر کر کر ایک کو حاضرین دربار کے پاس بھیج دی اور یہ کہا کہ جب سلطان امور ریاست کے باعث بہت دق ہو، اس وقت یہ کاغذ اس کے ہاتھ میں دے دینا۔ اس ہجو میں سلطان کی نہایت برائی لکھی ہے اور اس میں یہ بھی اشارہ تھا کہ محمود بیٹا ایک غلام کا ہے۔\n\nجب سلطان محمود نے یہ ہجو ملاحظہ کی تو وہ نہایت غضب میں آیا اور اس نے فردوسی کی تلاش میں اپنے آدمیوں کو ہر سمت میں بھیجا۔ اس وقت میں فردوسی نے شہر بغداد میں پناہ لی تھی اور جو وہاں خلیفہ تھے انہوں نے اس شاعر کی بڑی خاطر کی اور فردوسی نے ان کی تعریف میں ایک ہزار شعر اپنی کتاب شاہنامے میں زیادہ کردیے۔ ان دنوں میں قادر باللہ خلیفہ بغداد میں تھے اور ان کے پاس محمود غزنوی نےایک سخت پیغام واسطے حوالہ کردینے فردوسی کے بھیجا اور چونکہ خلیفہ مذکور اس قدر طاقت نہ رکھتا تھا کہ سلطان غزنوی کا مقابلہ کرسکے تو اس باعث سے فردوسی یہاں سے بھی بھاگا اور منزلیں طے کرتا ہوا مدت تک آوارہ پھرا کیا اور یہ خوف اس پر ہر وقت طاری رہا کہ کوئی ملازم محمود کا اسے گرفتار نہ کرے۔\n\nاخیر کو جب وہ بہت مفلس اور بیمار ہو گیا تب اس نے طرف اپنے وطن طوس کے کوچ کیا اس ارادے سے کہ قبل از مرنے کے ایک دفعہ اپنے وطن کو اور دیکھ لوں۔ اس وقت میں فردوسی کی ایک بیٹی تھی اور یہ اس کے ساتھ تھی اور اسی کے باعث اس ایام پیری میں ذرا تشفی تھی۔ پس وہ اپنے وطن طوس میں پہنچ گیا۔ یہاں وہ اپنی اوائل عمر میں بطور باغباں کے نوکر تھا۔ اس نے یہیں وفات پائی اور اسی مقام میں دفن ہوا۔ جب سلطان غزنوی نے حال وفات فردوسی کا سنا، اس نے بہت افسوس کیا۔ اب اس نے ساٹھ ہزار اشرفیاں اس کی بیٹی مذکور کے پاس بھیج دیں لیکن اس شاعر کی بیٹی بھی اسی قدر عالی مزاج جس قدر کے اس کا باپ رکھتا تھا، رکھتی تھی اور اس عورت نے یہ اشرفیاں قبول نہ کیں اور کہا کہ ہمیں بادشاہوں کی دولت سے کیا غرض ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "حال مرگ بے کسی سن کر اثر کوئی نہ ہو", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حال مرگ بے کسی سن کر اثر کوئی نہ ہو\nسچ تو یہ ہے آپ سا بھی بے خبر کوئی نہ ہو\n\nہائے دشمن دیکھیں ان کے اٹھتے جوبن کی بہار\nہائے میں کوئی نہ ہوں میری نظر کوئی نہ ہو\n\nاس تمنا پر کٹے مرتے ہیں مشتاقان قتل\nیار پر قربان ہم سے پیشتر کوئی نہ ہو\n\nوہ قیامت کی گھڑی ہے طالب دیدار پر\nجب اٹھے پردا تو پردے کے ادھر کوئی نہ ہو\n\nعشق میں بے تابیاں ہوتی ہیں لیکن اے حسنؔ\nجس قدر بے چین تم ہو اس قدر کوئی نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%85%D8%B1%DA%AF_%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "حال ومقام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "دل زندہ و بیدار اگر ہو تو بتدریج\nبندے کو عطا کرتے ہیں چشمِ نِگَراں اور\nاحوال و مقامات پہ موقوف ہے سب کچھ\nہر لحظہ ہے سالک کا زماں اور مکاں اور\nالفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن\nمُلّا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور\nپرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں\nکرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%88%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85"} {"title": "حال پوشیدہ کھلا سامان عبرت دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حال پوشیدہ کھلا سامان عبرت دیکھ کر\nپڑھ لیا قسمت کا لکھا لوح تربت دیکھ کر\n\nاس قدر بے خود ہوا آثار وحشت دیکھ کر\nآئینہ سے نام پوچھا اپنی صورت دیکھ کر\n\nدیکھیے محشر میں بھی صورت دکھائے یا نہیں\nصبح بھاگی ہے شب ہجراں کی ظلمت دیکھ کر\n\nجام کوثر دست ساقی میں نظر آیا مجھے\nاٹھ گیا آنکھوں کا پردہ ابر رحمت دیکھ کر\n\nرات دن کے مخمصے سے اے جنوں پائی نجات\nابلق ایام بھاگا میری وحشت دیکھ کر\n\nتیرے کوچے میں ترا جلوہ نظر آیا مجھے\nصانع جنت کو دیکھا باغ جنت دیکھ کر\n\nمنہ ہمارا جلوۂ دیدار کے لائق کہاں\nاپنی صورت دیکھتے ہیں تیری صورت دیکھ کر\n\nچار دیوار عناصر پر سفیدی پھر گئی\nآنکھیں روشن ہو گئیں تیری صباحت دیکھ کر\n\nوحشت دل حشر کے دن بھی رہے کاؤس طلب\nکانٹے ڈھونڈھے ہم نے صحرائے قیامت دیکھ کر\n\nچہچہے بلبل کے آواز کف افسوس ہوں\nرنگ گل اڑ جائے میرا داغ حسرت دیکھ کر\n\nابر ادھر آیا ادھر مے خواروں کا بیڑا ہے پار\nکشتیٔ مے مول کے دریائے رحمت دیکھ کر\n\nآنسو پونچھے یاد آیا جب جوانی کا مزا\nآنکھیں ملتے رہ گئے ہم خواب راحت دیکھ کر\n\nبرہمن کعبہ میں آیا شیخ پہونچا دیر میں\nلوگ بے وحدت ہوئے ہیں تیری کثرت دیکھ کر\n\nہر گھڑی آتی ہے کانوں میں یہ آواز جرس\nکون دنیا سے سفر کرتا ہے ساعت دیکھ کر\n\nنشہ کے اسباب تزئیں میں بھی نشہ ہے ضرور\nمیری آنکھیں چڑھ گئیں مے خانہ کی چھت دیکھ کر\n\nاب نہیں نازک مزاجی سے توجہ کا دماغ\nاے اجل آنا کبھی ہنگام فرصت دیکھ کر\n\nوہ موحد ہوں نہ رکھا دوسرے سے اتحاد\nروح نے چھوڑا بدن کو ضد وحدت دیکھ کر\n\nخون بلبل سے مگر سینچا ہے باغ دہر کو\nہم لہو برساتے ہیں پھولوں کی رنگت دیکھ کر\n\nتیرے بندے سر جھکاتے ہیں بتوں کے سامنے\nسجدے کرتا ہوں الٰہی تیری قدرت دیکھ کر\n\nزخمیٔ تیغ تغافل پر نظر جمتی نہیں\nچشم سوزن بند ہوتی ہے جراحت دیکھ کر\n\nجی لگا کر یہ غزل کس طرح کہئے اے منیرؔ\nبجھ گیا دل کوچ منزل کی عزیمت دیکھ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%B9%D8%A8%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "حالت تو دیکھ لی مری چشم پر آب کی", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حالت تو دیکھ لی مری چشم پر آب کی\nساقی نہیں ہوس مجھے جام شراب کی\n\nدل کو شرار شعلۂ غم نے جلا دیا\nپہلو سے آ رہی ہے جو خوشبو کباب کی\n\nکس کی شمیم نے اسے ایسا بسا دیا\nآتی ہے اپنی خاک سے خوشبو گلاب کی\n\nافسانۂ گذشتہ یہ کہتا ہے مجھ سے دل\nکیا ذکر ان کا بھولیے باتیں ہیں خواب کی\n\nاس بارگاہ احمد مرسل کے سامنے\nوقعت نہیں ہے کچھ بھی فلک سے حباب کی\n\nاز فرش تا بہ عرش منور اسی سے ہے\nایسی چمک ہے روضۂ عالی جناب کی\n\nکیوں کر نہ ہوں میں نغمہ سرا ان کی نعت میں\nبلبل ہوں بوستان رسالت مآب کی\n\nاس دہر بے بقا سے لگاؤں میں دل کو کیا\nہستی ہے ایک وسعت موج سراب کی\n\nعزت نہ تیرے عرش پہ کیوں کر ملک کریں\nتو ہے جمیلہؔ خاک قدم بو تراب کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A8_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "حالت مری جب اس کو دگر گوں نظر آئی", "poet_page": "مصنف:میر مظفر حسین ضمیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حالت مری جب اس کو دگر گوں نظر آئی\nاوروں کی تو کیا چشم مسیحا کی بھر آئی\n\nکاہیدہ کیا آہ جنوں نے مجھے یاں تک\nزنجیر مرے پاؤں کی آخر اتر آئی\n\nکس وقت پھنسی تھی کہ رہا ہو کے چمن تک\nاے وائے نہ پھر بلبل بے بال و پر آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%AA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DA%AF%D8%B1_%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "حالی و شبلی کی معاصرانہ چشمک", "poet_page": "مصنف:مہدی افادی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "جدت موضوع چاہتی تھی کہ جہاں تک ہماری آخری بزم کا تعلق ہے اس لپیٹ میں کوئی چھوٹنے نہ پائے، لیکن افسوس ہے مواد ترکیبی کی کمی نے زیادہ پھیلنے کا موقع نہ دیا اور گو ’’چشمک‘‘ کا دائرہ اطلاقی خالص حالی و شبلی کی شوخیٔ قلم سے آگے نہیں بڑھا لیکن ضمناً اوروں کا انداز طبیعت (کیرکٹر) بھی دکھاؤں گا اور بکھرے ہوئے موتیوں کو جہاں جہاں سے ہاتھ آئیں گے، سلسلۂ بیان میں پروتا جاؤں گا۔\n\nسرسید کی ’’بزم ادب‘‘ بچے کھچے پرانے لائق پرستش بزرگوں کا گویا نچوڑ تھی لیکن جس طرح خیمہ کے ساتھ طنابیں بھی اکھڑ جاتی ہیں، ان کے رفقاء بھی ایک ایک کرکے آگے پیچھے ہم سے رخصت ہوتے گئے۔ ان کی نکتہ سنجیاں اور روشن خیالیاں، بوڑھے غمزے اور لطائف وظرائف، قدیم اسلامی سوسائی کے تبرکات تھے جن سے ہم ہمیشہ کے لئے ہاتھ دھو بیٹھے اور اب ان اصحاب کی تعداد بھی کم ہورہی ہے، جنھوں نے جما جمایا نقشہ یعنی پچھلے پہر کا خواب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ان میں ہرفرد اپنے اپنے دائرہ کا مالک تھا اور مستقل ہستی رکھتا تھا۔ آج ’’وقار الملک‘‘ اور ’’محسن الملک‘‘ کی یادگار میں چند سطریں بھی کوئی لکھنے والا نظر نہیں آتا اور ’’رجال العصر‘‘ کے سلسلہ میں ان کی ضمنی کھپت ان کا بہترین حق ہے جو ہمارے ہاتھوں ان کو مل سکتا ہے۔ میں یہاں ان دونوں لائق افراد کی زندگی کا وہ رخ دکھانا نہیں چاہتا جس کے لحاظ سے کبھی یہ سالار جنگ اعظم کے نفس ناطقہ بنے ہوئے تھے، نہ محسن الملک کے اس کارنامہ کو یاد دلانا چاہتا ہوں جب ان کے قیام لندن میں وزیر انگلستان کو اعتراف کرنا پڑا کہ ہندوستان میں اتنا بڑا عالی دماغ موجود ہے۔ اسی طرح دونوں صاحبوں کی سیاسی اور قومی خدمات بھی میرے موضوع کے لئے حیثیت اضافی رکھتی ہیں لیکن یہ بات بھولنے کے لائق نہیں ہے کہ جہاں تک سر سید کی ادبی تبلیغ کا تعلق ہے، یہ دونوں گویا ان کے دست و بازو تھے۔سرسید کے ساتھ ’’محسن الملک‘‘ کی نوک جھونک، ادبی راز و نیاز جس کا ایک خاکہ مراسلات دلچسپ میں دکھایا گیا ہے اور جس کے عالمانہ اور سخن گسترانہ شواہد ’’مرحوم تہذیب الاخلاق‘‘ کے سیزدہ سالہ فائل میں بہ کثرت ملیں گے، فتوحات ادب کا بہترین سرمایہ ہیں، جن پر مستقلاً اظہار خیال کی ضرورت ہے۔ میرے موضوع کے صفحات محدود ہیں، ان کے پھیلانے کی گنجائش نہیں، یہاں صرف چشم سخن کے اشارے پر قناعت کرنی ہوگی۔بہرحال کس کس کو یاد کروں، محسن الملک، وقار الملک، چراغ علی، ذکاء اللہ، نذیر احمد، حالی وشبلی وغیرہ وغیرہ، سجی سجائی محفل تھی جو دیکھتے دیکھتے درہم برہم ہو گئی۔ ’’سرسید کی بزم ادب‘‘ایسا وسیع موضوع ہے کہ اگر مولوی وحید الدین سلیم نے اپنی عمر ضائع نہ کی ہوتی اور سرسید اور ان کے رفقاء کے ساتھ جو وابستگی ان کو رہی ہے اور جس کے ’’آثار معارف‘‘ کے نقش اول میں بہ افراط موجود ہیں، وہ افسانۂ یاران کہن کی حیثیت سے ایک ضخیم الاوراق اور نہایت دلچسپ کتاب تیار کرسکتے تھے، اگر یہ صحیح ہے کہ کسی شخص کی اخلاقی فوقیت کا راز دراصل اس پاکیزہ سوسائٹی میں مضمر ہوتا ہے تو ’’سیر الصحابہ‘‘ کی طرح علی گڈھ کی یہ آخر ی بزم ادب ہمارے لئے وقت کی چیز اور نتیجہ خیز رہتی۔خیر! ان تصریحات کے بعد اصل موضوع کی طرف لوٹئے۔ سرسید نے ہمیشہ معاصرین ادب کی حوصلہ افزائی کی۔ ان کی بااثر شخصیت خاموش تصرف کے ساتھ دوسروں کی قلب ماہیت کرتی رہتی تھی۔ شبلی نے ’’مولویت‘‘ علی گڈھ میں پہنچ کر چھوڑی۔ ان کے خیالات کی کایا پلٹ، مذاق تصنیف اور وسیع النظری، غرض یہ جو کچھ ہوئے، سر سید کے دامن تربیت کا اثر تھا۔ شبلی نے المامون کا دوسرا ایڈیشن جب شائع کیا ہے تو سرسید نے جس خلوص کے ساتھ اس پر دیباچہ لکھا، وہ آج بھی ان کی شرافت ادبی کا پتہ دیتا ہے، اسی طرح حالیؔ کی نیچرل شاعری خیالات کے لحاظ سے سرسید کے فیض صحبت کی ممنون ہے۔ ابھی یہ فیصلہ باقی ہے کہ حالیؔ کی روش جدید نے پروفیسر آزاد کی ڈالی ہوئی داغ بیل یعنی ان کے نتائج فکر سے کہاں تک فائدہ اٹھایا، جن کو تاریخی حیثیت سے کم سے کم اولیت کا شرف حاصل ہے۔ مختصر یہ کہ متاخرین ادب کے ساتھ سرسید کا درجۂ متناسبہ صرف مربیانہ تھا، اسی لئے ایسی باوقار ہستی سے چشمک تو خیر اس کی کسرات بھی بہ مشکل ہاتھ آئیں گی۔پروفیسر آزاد اس قدر بلند خیال اور استادانہ دل و دماغ رکھتے تھے کہ ان کے ہاں بھی جہاں تک معاصرین کا تعلق ہے ’’چشمک‘‘ کا گذر نہیں ۔ ایک واقعۂ دلچسپ اہل ذوق کی ضیافت طبع کے لئے لکھتا ہوں۔ لاہور میں پہلی دفعہ جب ایجوکیشنل کانفرنس کا جلسہ ہوا تو پروفیسر آزاد زندہ تھے، گو دماغ کسی حد تک متاثر ہو چکا تھا، نذیر احمد ملنے کے لئے گئے، حالی اور غالباً شبلی بھی ساتھ تھے، نذیر احمد کا لکچر ہونے والا تھا جو چھپا ہوا ان کے ہاتھ میں تھا۔ آزاد رسالہ کی طرف متوجہ ہوئے تو نذیر احمد نے یہ کہہ کر آگے بڑھا دیا کہ ایک نظر دیکھ لیجئے، کانفرنس میں پیش کرنا ہے۔ آزاد فوراً قلم سنبھال کر بیٹھ گئے اور کانٹ چھانٹ شروع کردی۔ ندیر احمد، آزاد کی اس بے تکلفی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ جوش محبت سے آنکھیں نم ہو گئیں ۔ ان کو قدرتی طور پر یہ خیال آیا کہ ابھی ان کے دائرہ میں ایک شخص ایسا موجود ہے جو ایک ’’بوڑھے‘‘ بچہ کی مشق سخن پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔حالیؔ بھی آزاد کی استادی کا لوہا مانتے تھے، ان کی مخلصانہ عقیدت کیشی کے لئے وہ تقریظ و تنقید دیکھئے جو آب حیات اور نیرنگ خیال پر حالی نے لکھی ہے اور جس پر ضمناً یہ طے کردیا ہے کہ نیچرل شاعری دراصل آزاد کی صنعت فکر کا نقش اولین اور ان کی اولیات میں محسوب ہونے کے لائق ہے۔ حالیؔ لکھتے ہیں،’’نظم و نثر میں بہت کچھ لکھا گیا اور لکھا جا رہا ہے۔ یعنی لٹریچر کے رقبہ کا طول و عرض بڑھ گیا ہے، لیکن اس کا ارتفاع جہاں تھا وہیں رہا۔ یعنی اخلاقی سطح بہت اونچی نہیں ہوئی لیکن آزاد کی پاکیزہ خیالی اور خوش بیانی نے یہ کمی پوری کر دی۔ ’نیرنگ خیال‘ کی بہت کچھ داد دی ہے کیونکہ آزاد کے قلم نے پہلے پہل جذبات انسانی کی تجسیم و تشخیص کی اور معقولات کی تصویریں محسوسات کی شکلوں میں کھینچی ہیں اور خصائل انسانی کے فطری خواص ایسے مؤثر اور دلکش پیرایہ میں بیان کئے ہیں، جن سے اردو لٹریچر اب تک خالی تھا۔‘‘شبلی بھی آزاد کا ادب کرتے تھے، فرمایا کرتے تھے آزاد اردوئے معلیٰ کا ہیرو ہے، اس کو کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں، وہ اصلی معنوں میں ایک زبردست انشا پرداز ہے، تاہم ایک ہلکی سی چشمک لیجئے۔ہندوستان کے سب سے بڑے انشا پرداز نے نیرنگ خیال میں جہاں کی یہ تصویر کھینچی ہے، ’’اس کے بعد ایک اور بادشاہ آیا جو اپنی وضع سے ہندو راجہ معلوم ہوتا تھا، وہ خود نشہ میں چور تھا، ایک عورت صاحب کمال (نور جہاں) اس کا ہاتھ پکڑے آتی تھی اور جدھر چاہتی تھی پھراتی تھی۔ وہ جو کچھ دیکھتا اس کے نور جمال سے دیکھتا تھا اور جو کچھ کہتا تھا اس کی زبان سے کہتا تھا۔ اس پر ہاتھ میں ایک فرد کاغذوں کا تھا اور ان پر قلم دھرا تھا۔ یہ سوانگ دیکھ کر سب مسکرائے، مگر چونکہ دولت اس کے ساتھ ساتھ تھی اور اقبال آگے آگے اہتمام کرتا تھا اس لئے بدمست بھی نہیں ہوتا تھا، جب نشہ سے آنکھیں کھلتی تھیں تو کچھ لکھ بھی لیتا تھا۔‘‘’’تزک جہانگیری‘‘ کے ریویو میں شبلی فرماتے ہیں، ’’آؤ دیکھیں اس جھوٹ میں کچھ سچ بھی ہے؟ ہمارے انشا پرداز نے جہانگیر کے کبھی کبھی ہوش میں آنے کا جو کارنامہ بتایا ہے وہ اس کی کتاب ’’تزک جہانگیری‘‘ ہے۔ اس کے بعد شبلی نے جو کچھ لکھا ہے، ناقدانہ اور سخن گسترانہ ہے یعنی بے ضرر چشمک کی ایک خوبصورت مثال ہے جو عنوان زیر بحث کے تحت میں آسکتی ہے۔’’شعر العجم‘‘ جس زمانہ میں لکھی جا رہی تھی، میں نے شبلی کو توجہ دلائی کہ آزاد کی تالیف موعود پر نگاہ رکھئے گا جو موضوع مشترک پر نکلنے والی ہے۔ وہ سمجھے میرا مطلب سخندان فارس سے ہے۔ ایک دوست کو لکھتے ہیں، ’’آزاد کا سخندان فارس حصۂ دوم نکلا، سبحان اللہ لیکن الحمد للہ میرے شعر العجم کو ہاتھ نہیں لگایا ہے۔‘‘مجھے تحریر فرماتے ہیں کہ ’’آزاد کی کتاب آئی، جانتا تھا کہ وہ تحقیق کے میدان کا مرد نہیں تاہم ادھر ادھر کی گپیں بھی ہانک دیتا تو وحی معلوم ہوتی لیکن خدا کا شکر ہے کہ گیارہ لکچر تک اس نے میری سرحد میں قدم نہیں رکھا، بارہویں میں یہ میدان میں اترا ہے لیکن زور پہلے صرف ہو چکا تھا۔ یونہی سرمسری چکر لگاکر نکل گیا۔‘‘میں نے لکھا، ’’میری غرض سخندان فارس سے نہیں بلکہ آزاد کے تذکرۂ شعراء سے تھی۔‘‘ اس پر تحریر فرماتے ہیں، ’’میں آزاد کی طرف سے بالکل مطمئن ہوگیا تھا، لیکن آپ نے پھر ڈرا دیا۔ مجھ کو پہلے سے معلوم ہوتا تو اس مضمون پر ہاتھ نہ ڈالتا۔‘‘ یہ جزئیات جو دکھا رہا ہوں خارج از موضوع نہیں ہیں۔ ان سے یہ پتہ چلے گا کہ شطرنج کی اصطلاح میں بساط ادب کے یہ شاطر مہرے آپس میں کس طرح گتھے ہوئے تھے۔نذیر احمد بھی تنقیص پسند نہیں تھے، ان کی لے دے زیادہ تر سرسید پر رہتی تھی لیکن اس طرح کہ، ’’وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔‘‘ خلوص تھا کہ حرف حرف سے ٹپکا پڑتا تھا، طبیعت میں منقولانہ رنگ غالب تھا، اس لئے شروع شروع سر سید کے اجتہادات سے ان کو جھجھک سی تھی جو رفتہ رفتہ گئی اور اس طرح گئی کہ سرسید کے عقیدت کیشان ِباصفا میں یہ کسی سے پیچھے نہ تھے اور اس پر فخر کرتے تھے۔ یہ فراخ دلی جس کے شواہد ان کے لٹریچر میں کثرت سے نظر آئیں گے، سر سید تک محدود نہ تھی، اوروں کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ ایک آدھ واقعہ اشتہاداً لیجئے۔علی گڑھ کے اسٹریچی ہال میں کانفرنس کی مقتدر جماعت کا اجلاس ہے، اطراف ملک سے پڑھے لکھے اور روادار لوگ آ آکر جمع ہوئے ہیں ۔ خطیبانہ بلند آہنگی کے سلسلہ میں ایک آوازیوں گویا ہوتی ہے، ’’میں نے کسی زمانہ میں عربی اچھی پڑھی تھی، اب تو ایسا زہول ہو گیا کہ مولوی شبلی ایک صیغہ پوچھ بیٹھیں تو بغلیں جھانکنی پڑیں ۔‘‘ ان فقروں کا نکلنا تھا کہ اس زمانہ کے مولوی شبلی جو نئے نئے علی گڈھ آئے تھے، ہزاروں نگاہوں کے نقطۂ شعاعی بنے ہوئے تھے اور یہ ان کی قابلیت کا پہلا اعتراف تھا جس کا اثر بجلی کی طرح ہال کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک دوڑ گیا۔اسی طرح نذیر احمد لکچر سے پہلے کبھی کبھی اپنی نظم سنایا کرتے تھے، ایک موقع پر فرماتے ہیں، ’’جس طرح یحییٰ پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی منادی کرتے تھے کہ میرے بعد مجھ سے ایک بہت بڑا پیغمبر آنے والا ہے، اسی طرح میری نظم گویا ندائے عام ہے کہ میرے بعد مولوی الطاف حسین حالیؔ اپنی نظم پڑھیں گے اور میں اپنی پندار میں ان کی نظم کی رونق کاباعث ہوتا ہوں۔‘‘ اخلاقاً ایک ہم عصر کی شاعرانہ قومیت کے اعتراف کا یہ کتنا بلیغ اور خوبصورت پیرایہ ہے۔اب میں نفس موضوع سے قریب ہوتا جاتا ہوں، یہاں تک صرف بیانات اضافی تھے۔ اصلی کام ’’حالی و شبلی‘‘ کو باہم ٹکرانا ہے، لیکن ترتیباً پہلے یہ دیکھئے کہ حالی نے شبلی کی نسبت جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس میں چشمک کا کوئی عنصر موجود ہے یانہیں؟ ’’معارف‘‘ میں نامۂ حالی وشبلی کا سلسلہ کچھ عرصہ سے جاری ہے، ان خطوں میں حالی، شبلی کو اس خلوص حسن اشتیاق سے یاد کرتے ہیں، ان کی ایک ایک تصنیف کا جس شوق و ذوق سے نام گناتے ہیں، وہ بھی اس آرزو کے ساتھ کہ کوئی کتاب ان کی لائبریری کے آغوش میں جگہ پانے سے رہ نہ جائے، اخلاص کی آخری حد ہے۔خط دیر میں ملتا ہے تو کہتے ہیں، ’’اس قدر مدت کے بعد عنایت نامہ کے ورود نے میری آنکھوں کے ساتھ وہی کیا جو پیراہن یوسفؑ نے چشم یعقوبؒ کے ساتھ کیا تھا۔‘‘ جس خط کو دیکھئے، درد محبت اور ایک خاص طرح کی صدق مقالی جو بڑے بوڑھوں کا حصہ ہوتی ہے، لفظ لفظ سے ٹپکتی ہے۔ شبلی کے پاؤں کا واقعہ پیش آتا ہے تو گھبراکر ان کے فرزند رشید ’’حامد شبلی‘‘ سے خیر و عافیت دریافت کرتے ہیں اور باوصف اس کے کہ آنکھ نے جواب دے دیا ہے، قویٰ میں بہ اقتضائے سن عام اضمحلال ہے، پھر بھی اعظم گڈھ کے سفر کی آمادگی ظاہر کرتے ہیں یہاں تک کہ ’’الندوہ‘‘ میں شبلی کے احباب کی رباعیات دیکھ کر حالی کو خیال آتاہے کہ وہ مولانا (شبلی) کے زمرۂ احباب میں ہونے کا فخر حاصل کریں۔ اس لئے ایک رباعی موزوں کر کے بھیجتے ہیں کہ الندوہ کے کسی آئینہ نمبر میں اسے بھی جگہ دے دیجئےگا۔سیرۃ النعمان جب شائع ہوئی تو حالی نے اس پر ریویو لکھا، فرماتے ہیں ، ’’انھوں نے (یعنی شبلی نے) اپنی ہرایک پہلی تصنیف میں جس بلندی پر آ پ کو دکھایا ہے اس کے بعد کی تصنیف میں ان کی لیاقت اور روش دماغی اس سے بلند تر منظر پر جلوہ گر ہوتی ہے اور جہاں تک میری نگاہ پہونچتی ہے، ’سیرۃ النعمان‘ کوان سب سے اعلیٰ منظر پر پاتا ہوں۔‘‘’’کتاب کی ترتیب، اصول، استنباط اور طرز اجتہاد کے لحاظ سے‘‘، شبلی کو حالی نے فاضل، ادیب، محقق اور اگر وہ منظور کریں تو منشی اور شاعر کی حیثیت سے یاد کیا ہے اور دیکھا ہے کہ جس طرح حسن تناسب اعضا کا نام ہے۔ ’سیرۃ النعمان‘ میں روایت ودرایت کی تطبیق اور جس موزوں طریقہ پر رائے اور قیاس سے کام لیا گیا ہے اس طریقۂ استدلال سے فلسفۂ مذہب کی بنیاد قائم ہوتی ہے اور مصنف (یعنی شبلی) نے اپنی فضیلت اور لیاقت پر سے بہت سے پردے اٹھا دیے ہیں۔شبلی ’’دستۂ گل‘‘ ہدیۃً بھیجتے ہیں تو حالی جواباً لکھتے ہیں، ’’کوئی کیوں کر مان سکتا ہے کہ یہ اس شخص کا کلام ہے جس نے سیرۃ النعمان، الفاروق اور سوانح مولانا روم جیسی مقدس کتابیں لکھی ہیں، غزلیں کا ہے کو ہیں، شراب دو آتشہ ہے جس کے نشہ میں خمار چشم ساقی بھی ملا ہوا ہے، غزلیات حافظ کا جو حصہ محض رندی اور بے باکی کے مضامین پر مشتمل ہے، ممکن ہے کہ اس کے الفاظ میں زیادہ دلربائی ہو مگر خیالات کے لحاظ سے تو یہ غزلیں اس سے بہت زیادہ گرم ہیں۔‘‘آپ کہیں گے کہ ان مسلسل انکشافات میں سوائے بہکی ہوئی باتوں کے مقصود اصلی یعنی ’’چشمک‘‘ کا اب بھی پتہ نہیں، لیکن میں عرض کر چکا ہوں کہ میں اصلی نکتہ سے قریب تر ہوتا جاتا ہوں، اصولاً اخلاق کے ساتھ تھوڑی کج ادائی بھی ہو تو زیادہ اجاگر ہوتی ہے۔ جو آنکھیں روشنی کی عادی ہوتی ہیں، ان کو تاریکی گراں گذرتی ہے، اسی طرح نفس انسانی کا رخ روشن اس کے دوسرے رخ کو زیادہ نمایاں کر دیتا ہے، اس لئے میری اضافی تصریحات بیکار نہیں ہیں۔ بہرحال اظہار خلوص کی حد تک ہو چکی، کچھ اصل موضوع یعنی ’’چشمک‘‘ کی مثالیں لیجئے۔’’حیات جاوید‘‘ میں ایک موقع پر حالیؔ فرماتے ہیں، ’’اعلیٰ تعلیم کی حمایت کے جوش میں ’سرسید‘ کے قلم سے بعض مواقع پر ایسے الفاظ نکل گئے ہیں کہ ترجموں کی غرض سے سوسائٹی قائم کرنے کو وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے تھے اور اسی بنا پر شمس العلماء مولانا شبلی نے مسلمانوں کی گذشتہ تعلیم میں اس غلطی کا جس کو سرسید ۶۔۷ برس پہلے ایجوکیشن کمیشن میں تسلیم کر چکے تھے، ذکر کیا ہے اور اس بنا پر کہ مغربی علوم وفنون کا دیسی زبان میں ترجمہ ہونا ممکن نہیں ہے، سائنٹیفک سوسائٹی قائم کرنے کو سرسید کی ایک غلطی قرار دیا ہے اور اپنے اس دعویٰ پر کہ ترجمہ ممکن نہیں زیادہ تر وہی دلیلیں جو خود سرسید نے بعض مواقع پر بیان کی تھیں، پیش کی ہیں۔‘‘حالیؔ کہتے ہیں کہ، ’’اگر مولانا (یعنی شبلی) کی یہ اصلی رائے ہوتی تو ہم کو اس سے تعرض کی ضرورت نہ تھی، لیکن چونکہ انھوں نے خود سرسید کے بعض بیانات سے یہ رائے استنباط کی ہے، اس لئے ہم کو سر سید کے خیالات کا اصل منشاء ظاہر کرنا ہے۔‘‘ حالیؔ نے ایک ایک کرکے اعتراضات کی تردید کی ہے اور نہایت تفصیل کے ساتھ دکھایا ہے کہ شبلی کے اعتراضات کا زیادہ تر حصہ خود سرسید کے خیالات سے ماخوذ ہے، ’’چشمک‘‘ کی یہ پہلی مثال ہے جس میں حالی کی حیثیت نسبتی اقدامی نہیں بلکہ دفاعی ہے اور جس میں ناقدانہ اظہار خیال کے سوا در پردہ کوئی چوٹ نہیں ہے۔یہاں تک تو آپ نے دیکھا کہ حالیؔ کا شبلی کے ساتھ کیا رنگ تھا، لیکن یہ شراب اب تیز ہوا چاہتی ہے۔ اب یہ دیکھئے شبلی کے خیالات و مقالات کا جہاں تک خوش صفات حالی کا تعلق ہے، کیا حال ہے۔ شبلی نے ابھی ’’المامون‘‘ نہیں لکھی ہے یا لکھی ہے، لیکن لکھنے سے پہلے حیات سعدی پیش نظر ہے۔ ایک عزیز کو لکھتے ہیں، ’’ایک کتاب حال میں مولوی حالی صاحب نے لکھی ہے اور مجھ کو تحفۃً بھیجی ہے، شیخ سعدی کی نہایت دلچسپ محققانہ سوانح عمری ہے، میں نے بے اختیار تمہارے لئے پسند کیا اور مولوی حالی صاحب کو لکھ دیا ہے کہ وہ تمہارے نام بھیج دیں۔ واقعی بے مثل ہے اور تم کو اپنے پاس رکھنا نہایت ضروری ہے۔‘‘ لیکن یہ دیکھنا ہے کہ شبلی صاحب خود تصنیفات کے مالک ہوئے تو حالی کے ساتھ یہ حسن ظن کہاں تک قائم رہا؟سوانح مولانا روم میں شبلی یوں اظہار خیال کرتے ہیں، ’’تمام اہل تذکرہ متفق ہیں کہ جن لوگوں نے غزل کو غزل بنایا، ووہ سعدی، عراقی اور مولانا روم ہیں، اس لحاظ سے مولانا کے دیوان پر ریویو کرتے ہوئے ہمارا فرض تھا کہ سعدی اور عراقی سے ان کا موازنہ کیا جاتا، تینوں بزرگوں کے نمونے دکھائے جاتے اور ہرایک کی خصوصیات بیان کی جاتیں اور چونکہ ہمارے ہیرو ہیں اس لئے مذاق حال کے موافق خواہ مخواہ بھی ان کو ترجیح دی جاتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا واقعہ نگاری کے فرائض کے بالکل خلاف ہے۔‘‘اگر تھوڑی دیر کے لئے بھی یہ مان لیا جائے کہ شبلی کا روئے سخن ’’حیات سعدی‘‘ یا ’’یادگار غالب‘‘ کی طرف ہے، تو چشمک کی یہ نہایت ہی چبھتی ہوئی مثال ہوگی جو ناظرین کے سامنے پیش کی جاسکتی ہے، لیکن ایک نکتہ سنج پوچھ سکتا ہے کہ کیا یہی طریقہ نمایاں طورپر ’’موازنۂ انیس و دبیر‘‘ میں اور ایک کافی حد تک ’’شعر العجم‘‘ میں اختیار نہیں کیا گیا؟ ’’کلیات خسرو‘‘ جس کی تہذیب و ترتیب بزعم علی گڈھ آج کل کے معرکۂ ادب میں پیش پیش ہے اور جس میں تنقید کے سلسلہ میں معاصرانہ کلام کا موازنہ کیا گیا ہے، کہاں تک واقعہ نگاری کے خلاف ’’مذاق حال‘‘ سے بے نیازی کا دعویٰ کرسکتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آیا حالی اس نکتہ کے سمجھنے سے قاصر تھے؟’’چشمک‘‘ کی دوسری مثال لیجئے۔ ’تذکرۂ گلشن ہند‘ کے حاشیہ میں شبلی لکھتے ہیں، ’’مولوی حالی صاحب نے اپنے دیوان کے مقدمہ میں لکھنؤ کی شاعری میں صرف نواب مرزا شوق کی مثنویوں کا اعتراف کیا ہے، لیکن چونکہ ان کے نزدیک شعرائے لکھنؤ سے ایسی فصاحت اور سلاست کی توقع نہیں ہو سکتی، اس لئے اس کی وجہ یہ قرار دیاکہ نواب مرزا نے خواجہ اثر کی مثنوی دیکھی تھی اور اس کا طرز اٹھایا تھا، یہ اشعار مثنوی کے ہیں، اس کا فیصلہ خود ناظرین کر سکتے ہیں کہ یہ مثنوی نواب مرزا کا ماخذ اور نمونہ ہو سکتی ہے۔‘‘اسی طرح جیساکہ ’’دیباچہ گلزار نسیم‘‘ کے حاشیۂ ذیلی میں تصریح کی گئی ہے۔ شبلی نے لائق چکبست کو لکھا تھا کہ ’’گلزار نسیم کی تنقید میں مولانا حالی نے سخت بے رحمی اور نانصافی سے کام لیا ہے۔‘‘میں اس کے متعلق خود کچھ لکھنا نہیں چاہتا۔ مولوی عبد الحق کے ذمہ دار قلم سے ٹپکی ہوئی سیاہی جس طرح پھیلی ہے ایک نظر دیکھنے کے لائق ہے۔ جس طرح ناممکن ہے کہ ٹکسالی (اسٹینڈرڈ) کتاب پر ان کا مقدمہ نہ ہو، یہ بھی ناممکن ہے کہ کسی نہ کسی حیثیت سے حالی کی پاسداری میں یہ شبلی پر چوٹ نہ کرتے ہوں، یعنی چشمک کے جراثیم ان کے مقدمات میں کثرت سے ملیں گے کہ یہ امران لٹریچر کے خصائص کا ایک جزو ہوگیا ہے۔ پس یہ معلوم ہوتاہے کہ یہ موقع کی تاک میں رہتے ہیں اور اظہار خیال سے کبھی نہیں چوکتے، لیکن میں اگر غلطی نہیں کرتا تو یہ جو کچھ لکھتے ہیں نکتہ سنجانہ لکھتے ہیں یعنی شبلی کی تنقیص مقصود بالذات نہیں ہوتی۔یہاں تک تو ’چشمک‘ کی صرف نرم مثالیں تھیں یعنی تلخ گولیاں غلاف شکر میں۔ اب ذرا قوی تر شواہد لیجئے، مناقب عمر بن عبد العزیز کے ریویو کے سلسلہ میں شبلی فرماتے ہیں، ’’سوانح نویسی کے فرائض میں سے جو بڑا فرض مصنف سے رہ گیا وہ تنقید ہے یعنی مصنف نے اپنے ہیرو کی خوبیاں دکھائی ہیں، اس کے کسی قول وفعل پر نکتہ چینی نہیں کی، لیکن یہ اس زمانہ کے تمام سوانح نگاروں کا انداز ہے۔‘‘اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے، ’’مصنفین اسلام آج کل کے فریب دہ طریقوں سے بالکل آشنا نہ تھے۔ آج کل کی سوانح نگاری کا انداز یہ ہے کہ حقیقت نگاری کے ظاہر کرنے کے لئے ہیرو پر نکتہ چینی کی جاتی ہے لیکن اس طرح کہ محاسن نہایت وسعت اور عمومیت کے ساتھ ہر پہلو سے دکھائے جاتے ہیں۔ پھر نہایت کمزور اور ضعیف الفاظ میں ایک آدھ اعتراض بھی کر دیے جاتے ہیں، جس سے در اصل مداحی کو اور قوت دینی مقصود ہوتی ہے کیونکہ اس سے یہ ظاہر کرنا منظور ہوتا ہے کہ مصنف نے واقعہ نگاری کے لحاظ سے کسی واقعہ کو چھپانا نہیں چاہا ہے اور اس لحاظ سے ممدوح کی چھوٹی سے چھوٹی برائی کابھی ذکر کردیا ہے، ورنہ ایسے محاسن اور خوبیوں کے مقابلہ میں ایک ذرا سی برائی بالکل نظرانداز کرنے کے قابل تھی۔ یہ طریقہ ہماری زبان کے سوانح نگاروں نے یورپ سے سیکھا ہے۔ اردو کی اعلیٰ سے اعلیٰ سوانح عمریوں کا یہی انداز ہے۔ لیکن یہ طریقہ قدیم طریقہ سے بہت زیادہ قابل اعتراض بلکہ خظرناک ہے۔ قدیم طریقہ صرف سکوت کا مجرم تھا لیکن موجودہ طریقہ در حقیقت خیانت اور خداعی ہے جو واقعہ نگاری سے بہ مراحل دور ہے۔‘‘یقینا ً ناظرین سمجھ گئے ہوں گے کہ شبلی کا روئے سخن کس کی طرف ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ سوانح عمری سے ممدوح کا مقصود کیا ہے؟ شیش محل میں بیٹھ کر اوروں پر پتھر پھینکنا ایک خوش ادائی سہی لیکن کیا دانائی بھی ہے؟ اس کا جواب صفحات زیر تحریر میں مل جائےگا، لیکن جلدی نہ کیجئے اور لیجئے۔ مآثر رحیمیؒ کے ریویو میں ارشاد ہوتا ہے،’’اس کتاب میں تمام خوبیوں کے ساتھ یہ بہت بڑا عیب ہے کہ خانخاناں کی خوبیاں ہی خوبیاں گنائی ہیں، نکتہ چینی کا نام نہیں، حالانکہ آج کل کے مذاق کے موافق سوانح عمری اور لائف کی یہ ضروری شرط ہے، لیکن اس طریقہ کو ہم آج کل کے پرفریب طریقہ سے زیادہ پسند کرتے ہیں، جس میں راست نویسی اور تنقید کا بہت کچھ دعویٰ کرکے بھی سوانح عمری کے بجائے مناقب کی کتاب لکھی جاتی ہے اور کوئی عیب اور وہ بھی خفیف کر کے لکھا جاتا ہے تو اس غرض سے کہ محاسن کے یقین کرانے کے کام آئے، یعنی جب عیب نہیں چھپایا ہے تو محاسن کیوں غلط لکھے ہوں گے، بہتر سے بہتر سوانح عمری جو ہماری زبان میں لکھی گئی ہے اس طریقہ کی عمدہ مثال ہے۔‘‘ابھی اور لیجئے، موازنۂ انیس و دبیر میں اسی خیال کا اعادہ یوں کیا گیا ہے، ’’ہمارے زمانہ میں جو سوانح عمریاں لکھی گئی ہیں، ان میں باوجود دعویٰ آزادی کے تنقید اورجرح سے بالکل کام نہیں لیا گیا اور اس کا یہ عذر کیا جاتا ہے کہ ابھی قوم کی یہ حالت نہیں کہ تصویر کے دونوں رخ اس کو دکھائے جائیں لیکن عذر کرنے والے خود اپنی نسبت غلطی کر رہے ہیں۔ جس چیز نے ان کو اظہار حق سے روکا ہے وہ ایشیائی شخص پرستی ہے جس کا اثر رگ و پے میں سرایت کر گیا ہے اور عذر کرنے والوں کو خود اس کا احساس نہیں ہوتا۔ اس غلامانہ شخص پرستی سے ایک بڑا ضرر یہ ہے کہ جو لوگ ان کابر کی تقلید کرتے ہیں، ان میں ہزاروں ایسے ہوتے ہیں جن کو خود نیک و بد کی تمیز نہیں ہوتی، اس لئے وہ اچھی باتوں کے ساتھ اکابر کی غلطیوں کی بھی تقلید کرنے لگتے ہیں اور سلسلہ در سلسلہ تمام قوم میں اس کا اثر پھیل جاتا ہے۔‘‘اخلاقی حیثیت سے مولانا کی نگاہ جس نکتہ پر بار بار پڑتی ہے اس کے اہم نتائج سے کون انکار کر سکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے ابھی تک اظہار خیال پر ایک نقاب پڑی ہوئی ہے، مگر یہ نقاب اس قدر ہلکی ہے کہ باریک تاروں سے چھن چھن کر ’’چشمک‘‘ کی شوخیاں آپ کے ذوق پردہ دری کو اکسائیں گی، لیکن ذرا ٹھہرئیے، اس کا حسن عریانی دیکھنے کے لائق ہے، یعنی اس وقت تک تصریحات کی جگہ صرف اشارات وکنایات تھے، اب صاف صاف لیجئے، شبلی کہتے ہیں،’’حیات جاوید میں مولانا (حالی) نے ’سید صاحب‘ کی یک رخی تصویر دکھائی ہے، اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ کسی کے معائب دکھانے تنگ خیالی اور بدطینتی ہے لیکن اگر یہ صحیح ہو تو موجودہ یورپ کا مذاق اور علمی ترقیاں سب برباد ہوجائیں ۔ پھر ایشیائی شاعری میں کیا برائی ہے، سوائے اس کے کہ وہ محض دعویٰ کرتے تھے، واقعات کی شہادت پیش نہیں کرتے تھے، بہرحال حیات جاوید کو مدلل مداحی سمجھتا ہوں۔‘‘اس پر بھی تسکین نہیں ہوتی، ایک دوست کو پھر لکھتے ہیں، اختلاف آراء بھی کیا چیز ہے، ‘’حیات جاوید کو میں لائف نہیں سمجھتا بلکہ کتاب المناقب سمجھتاہوں اور وہ بھی غیر مکمل۔ خیر الناس فیما یعشقون مذاہب۔‘‘یہاں دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’آج کل کا پرفریب طریقۂ سوانح نگاری‘‘ جو شبلی کے خیال میں ایک طرح کی ’’خیانت اور خداعی‘‘ ہے اور جس پر بار بار بے چینی کے ساتھ زور دیاگیا ہے، دراصل حالی کی ایجاد ہے یا شبلی کی تصنیفات بھی اسی دائرہ میں آجاتی ہیں ۔ تاریخی تنقید کا یہ ایک نہایت نازک نکتہ ہے جس پر مولانا نے اگر مزید روشنی ڈالی ہوتی تو دنیائے ادب کے لئے ایک جدید انکشاف ہوتا۔اسی طرح حالی کی یہ صنعت گری جہاں یورپ کے طرز تحریر سے ماخوذ بتائی گئی ہے، شبلی یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس پرفریب طریقہ سے جو ایشیائی شاعری سے ملتا جلتا ہے، موجودہ یورپ کا مذاق اور علمی ترقیاں سب برباد ہوجائیں گی۔ لٹریچر کی طرف سے مولانا کی اس فی الوقت دقیقہ رسی اور جوش التفات کا شکریہ، لیکن ایک نکتہ داں یہ سوال کر سکتا ہے کہ خطرے کا احتمال ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے لحاظ سے مغربی زبان کی کوئی سوانح عمری ایسی دکھائی جا سکتی ہے جس میں محاسن کے ساتھ معائب ابھار کر دکھائے گئے ہوں، کم سے کم جتنی مستند کتابیں سیرۃ (لائف) کی حیثیت سے انگریزی زبان میں لکھی گئی ہیں، وہ اکثروں کے دائرۂ نظر میں ہوں گی لیکن افسوس یہ ہے کہ ’’حیات جاوید‘‘ کی طرح کسی کتاب سے مولانا کی توقعات پوری ہوتی معلوم نہیں ہوتیں، یعنی ان میں ایسے مستقل ابواب نہیں ملتے جن میں ’’یکے از اقوام جرائم پیشہ‘‘ یا ’’باب الاشرار‘‘ کے عنوان سے کسی شخص کے حفظ غیب کا غیر ضروری خاکہ اڑایا گیا ہو۔ایک ادیب معارضہ بالمثل کی حیثیت سے پوچھ سکتا ہے کہ بہ لحاظ فن حالی کے اقتصار کی طرف نیک نیتی سے شبلی کا ذہن منتقل ہوا ہے، خود ان کی تصنیفات میں یہ رعایت کہاں تک ملحوظ رکھی گئی ہے یعنی المامونؔ، سیرۃ النعمان، الفاروقؔ اور الغزالیؔ میں انسانی کمزوریاں کس حد تک ابھار کر دکھائی گئی ہیں، اس کا جواب مجھے خوف ہے غیرامید افزا ہوگا۔ کیا یہ علم النفس کی حق تلفی نہیں ہے جو ایک نکتہ سنج مؤرخ کے قلم سے ہوسکتی ہے کیونکہ عظمت خود ملک کے سب سے بڑے مؤرخ کے خیال کے مطابق واقعات کو بدل نہیں سکتی۔بہر حال یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’’حیات جاوید‘‘ کے لئے حالی کی طرف سے اعتذار (اپالوجی) کی بالکل ضرورت نہیں، ایک شریف نے ایک شریف تر انسان کی ہمدردانہ سرگذشت لکھی اور آشنائے فن ہوکر لکھی اور یہی اونچے سے اونچا معیار تحریر ہے جو ایمان بالغیب کی حیثیت سے یورپ کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے۔یہ قطعی ہے کہ ’’حیات جاوید‘‘ کارئیس التذکرہ فرشتہ نہیں تھا، انسان تھا، لیکن اس کے اخلاقی اوصاف اس کی اضطراری لغزشوں پر جنھیں انسانی کمزوری سمجھئے، غالب تھے۔ یہی مابہ الامتیاز ہے جس کی بنا پر سوانح نگار کسی بڑے سے بڑے شخص کو دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ سرسید کی کمزوریاں جن کی بے نقابی پر شبلی کو اس قدر اصرار ہے اور جن کے اظہار میں حالیؔ نے صرف بے دردی سے کام نہیں لیا، در اصل سرسید کی زندگی کے وہ عناصر ہیں جن کے بغیر انسانی اخلاق کی تکمیل ناممکن ہے، لیکن اس قسم کے اضافی تصریحات کا بے ضرورت پھیلانا اور تنقیصی پہلو کا اس طرح نمایاں کرنا کہ اصلی محاسن دب دبا جائیں، بالکل ایسا ہی ہوگا جس طرح ’’ندوہ‘‘ کے آخری مناقشات کو شبلی کی ادبی زندگی سے وابستہ کیا جائے جس پر مولانا کا سوانح نگار کبھی راضی نہیں ہوگا اور جسے شبلی کی علمی ’’نفسیت‘‘ (سائیکالوجی) سے دراصل کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ غور طلب ہے کہ غالب کی طرح شبلی کی افراط خودداری معاصرانہ کمالات کے اعتراف میں فیاض نہیں ہے۔ شبلی نے الکلام لکھی لیکن سرسید کا نام تک نہ آیا حالانکہ سرسید پہلے شخص ہیں جنھوں نے دور جدید میں مذہب کو معقولات عصریہ سے تطبیق دینے کی کوشش کی اور یہ امر بلااختلاف ان کی اولیات میں محسوب ہونے کے لائق ہے۔ ہم کو مصر کے مذہبی لٹریچر کی اوقات معلوم ہے، اس لئے مصطلح جبہ ودستار کی فضیلت سے اگر قطع نظر کر لیجئے تو سرسید اور ان کے رفقاء نے جو کچھ لکھ دیا ہے، مشکل سے اس پر کچھ اضافہ ہو سکتا ہے، اور یہ سرسید کے اختراعی دماغ اور ان کے زبردست اجتہاد کا اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ عدم اعتراف در اصل لٹریچر کی خوش ظرفی ہوگی۔میں یہاں اس بحث کو چھیڑنا نہیں چاہتا کہ عقائد کو، جو جذباتی چیز ہیں، معقولات سے بھڑانا جن پر ہمارے متکلمین کو اس قدر ناز ہے، دراصل کہاں تک گول خانہ میں چوکھنٹی چیز کا مصداق ہے۔ میرا منشاء صرف یہ ہے کہ اس موضوع پر جو کچھ اس وقت تک لکھا گیا یا آئندہ لکھا جائےگا وہ محض سرسید کے قلم کی آواز باز گشت ہوگی۔ یہ دلچسپ سوال ابھی باقی ہے کہ حالیؔ کے ہیرو کے ساتھ شبلی کو اس قدر ’’چشمک‘‘ کیوں ہے۔ کیا یہ جامع حیثیات شخصیت شبلی کے ناموران اسلام کا رنگ پھیکا کرنے والی ہے؟ یا جس طرح ایک خوبصورت عورت دوسری پر کالۂ آتش کو دیکھ نہیں سکتی! در اصل جذبۂ رشک اس کی تہ میں ہے، ملک کے ایک بہت بڑے فاضل کی رائے کے مطابق سر سید کے بعد اگر اردو میں کوئی قلم اٹھا سکتا ہے، تو وہ حالی ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ حالی نے ’’سرسید کی صرف کثیر الاوراق لائف نہیں لکھ دی۔‘‘ بلکہ یہ اردو لٹریچر میں ایسا اضافہ ہے جو حالی کی ذات پر ختم ہو گیا لیکن کیا شعر العجم کے مصنف کو بھی اس پر رشک کرنا چاہئے، اس کا جواب آگے چل کر تاریخ دے گی۔ نہ جانناکبھی کبھی جاننے سے زیادہ باکیف ہوتا ہے، اس لئے سردست میں اس لطف کو کھونا نہیں چاہتا۔لیکن شعرالعجم کے ساتھ جو ایک ذوقی چیزہے، میری بڑھی ہوئی حسن عقیدت اس موازنہ کو جائز نہیں رکھے گی، اس لئے حیات جاوید کے مقابلہ میں شبلی کی صرف ان تصنیفات کو رکھئے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے جنس مشترک کی حیثیت رکھتی ہیں، آج کل کی عوائد رسمیہ (ایٹی کیٹ) کی نزاکتیں شائستہ سوسائٹی میں موازنۂ اوصاف کو جائز نہیں رکھتیں لیکن مصنفین کے دماغوں کی رگڑ فن تنقید کا ایک سخن گسترانہ فرض ہے جس سے قطع نظر نہیں کی جا سکتی۔ اس لئے چشمک کے وہ عقدہ ہائے سربستہ جن میں حالی کے مقابلہ میں لائق عزت شبلی کا پہلو کچھ دیتا ہوا سا ہے، کھلے ہوئے رازکی حیثیت سے پیش کئے گئے ہیں ۔ قبل اس کے کہ میں اسے ختم کروں ایک فقرہ معترضہ بار طبیعت ہو رہا ہے، جس سے اسی سلسلہ میں نپٹ لینا چاہتا ہوں۔ ’’چشمک‘‘ جس کے متعدد نظائئر جہاں تک گنجائش تھی بہم پہونچائے گئے ہیں ۔ وراثت طبعی کے اثر سے اس کا سلسلہ اور بڑھتا ہے۔ ایک زاویۂ علمی کا نوجوان ’’سید الطائفہ‘‘ 1 جسے آگے چل کر نظام ادبی کا ایک قوی تر عنصر ہونا ہے، ایک غیرمتعلق تصنیف کے سلسلہ میں یوں اظہار خیال کرتا ہے،’’مولوی نذیر احمد بھی اس گناہ کے مجرم ہیں، جس قلم نے مراۃ العروس، بنات النعش، توبۃ النصوح، ابن الوقت اور ایامیٰ لکھنے میں زندگی بسر کی ہو، وہ الفراض اجتہاد، ترجمۂ قرآن، امہات الامۃ کے لئے سنجیدگی عبارت، متانت کلام اور ثقاہت بیان کہاں سے لائےگا۔ مقصود یہ ہے کہ مذہبی کتابوں اور بزرگان دین کی تاریخ کے لئے سنجیدگی چاہئے۔ شوخ اور ظریفانہ عبارت اور سخیف محاورات موزوں نہیں۔‘‘یہ مولوی نذیر احمد کون؟ وہی جن کا تصنیفی نام عوام میں ڈپٹی نذیر احمد ہے! آہا، آقائے اردو علامہ نذیر احمد ایل ایل ڈی، جو ملک میں السنۂ مشرقیہ کا سب سے بڑا ادیب تھا، جس کی عربیت اس پایہ کی تھی کہ سخت سے سخت منحرف بھی اس کا لوہا مانتے تھے اور اس کے تبحر علمی سے مرعوب رہتے تھے جس نے اردو سی کم مایہ زبان کو اپنے خاص طرز ادا اور زور فصاحت سے ایسا کردیا کہ آئندہ دنیا اس پر ادب العالیہ (کلاسیکس) کا اطلاق کرے گی، جس کی طبیعت میں قدرت نے عربی کا مذاق اس لئے رکھا تھا کہ وہ عرب کے صحیفۂ آسمان کا قالب بدل سکے۔ پہلے ترجمۂ قرآن کا یہ رنگ تھا، ’’مستی نکالیتاں اور ریار کرتیاں چھپ کر۔‘‘اب وہ شستہ، رفتہ اور فصیح اردو کا ایسا مرقع ہے جس پر انشاپردازی ناز کر سکتی ہے۔ نذیر احمد نے مراۃ العروس کے سوا اگر کچھ نہ لکھا ہوتا جب بھی ان کے کمال انشا پردازی کے ثبوت کے لئے یہ اکیلی کتاب کافی تھی۔ ہم کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ اس وقت ایک گراں پایہ مصنف تھے، جب ہمارے لائق ادب بزرگوں میں بہتیروں نے قلم ہاتھ میں نہیں لئے تھے، رہی ان کی ظرافت جو ان ہی کا حصہ ہے اور جسے آپ کھانے میں نمک سمجھئے اور میں لٹریچر کے چہرے کا تبسم کہوں گا، جو نئی تحقیقات کے مطابق صرف خوش ادائی نہیں، بلکہ اخلاقی پاکیزگی کے ساتھ کامل صحت کی دلیل ہے۔صرف ایک مثال لیجئے۔ نزول قرآن کے سلسلہ میں ’نذیر احمد‘ اپنے فصیح لکچر میں ایک جگہ کہتے ہیں،’’جن دنوں قرآن نازل ہوا ہے، وہ ایک وقت تھا کہ عربی لٹریچر کے جوبن پر ایک بہار آ رہی تھی۔ لوگوں میں یہ مادہ ایسا برسر ترقی تھا کہ کوئی تنفس مذاق شعری سے خالی نہ تھا۔ یہ تو عربی زبان کے عروج کا زمانہ تھا۔ یوں بھی عرب کو اپنی بولی پر بلا کا ناز تھا۔ انھوں نے اپنے سوا دوسروں کا نام رکھا تھا ’’عجم‘‘ یعنی گونگے یا جن کو بات کرنے کا سلیقہ نہیں ۔ ایسے لوگوں سے کیسی ہی اچھی بات کہی جاتی مگر وہ ہوتی حلیۂ فصاحت سے عاری تو ان کے کان پر جوں بھی نہ چلتی۔ پس ضرور تھا کہ اسی داؤ سے ان کو پچھاڑا جائے جو ان کو خوب رواں تھا یعنی ’فصاحت‘، قرآن نازل ہوا تو جو اپنے اپنے وقت کے ’’سر سید، محسن الملک، سید محمود اور حالی و شبلی تھے، سب کے چھکے چھوٹ گئے۔‘‘یہی بلاغت ہے جس کی بنا پر کہا گیا ہے کہ انشا پرداز کا ایک فقرہ ہزاروں علمی اور تاریخی اوراق پر بھاری ہوتا ہے اور یہی تصرفات ہیں، جن کے لحاظ سے ایک ادیب کو بڑے سے بڑے فلسفی اور مؤرخ پر ہمیشہ ترجیح رہےگی۔یہی بلاغت تھی جس نے کسی زماے میں ’’حیدر آباد دکن‘‘ کے ’’بسمارک‘‘ کو نذیر احمد کا شیدائی بنا رکھا تھا۔ سرسالار جنگ اول اسٹیٹ ڈنر پر ہیں، طلائی قابوں کا دور چل رہا ہے، چھری کانٹوں کی دھیمی موسیقیت میں دفعتاً سرکاری ڈاک کے آنے کی اطلاع ہوتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے نذیر احمد کی کوئی مراسلت ہو تو فوراً پیش کی جائے، ایک منٹ کے بعد جلیل القدر میزبان شام کے ہاتھ میں ایک کاغذ ہوتا ہے۔ برقی روشنی کی جگمگاہٹ میں شائق ادب امیر الامراء کی نگاہ نقوش حرفی پر دوڑ رہی ہے اور چہرے پر رہ رہ کر وہ کیفیت طاری ہوتی ہے جسے تبسم زیر لب کی ہلکی لہریں کہئے، نذیر احمد کے خون ادب کا یہ وہ لقمۂ تر تھا جس سے شاہی میز بھی بے نیاز نہ رہ سکی لیکن اب یہ ہمارے گلے میں پھنسنے لگا ہے، جسے ہم اگلنا چاہتے ہیں، مگر یہ بے نمکی روایات سابقہ کے لحاظ سے کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتی، ادب چاہتا ہے۔ ان کا کمال انشا پردازی غیرستائشی جنبش لب سے ہمیشہ بے نیاز رہےگا۔آخر میں مجھے ایک نکتہ صاف کرنا ہے یعنی حالیؔ کے ساتھ شبلی کی چشمک کے جو شواہد پیش کئے گئے ہیں، ان سے کوئی صاحب یہ نہ سمجھیں کہ شبلی کو حالی سے خلوص نہیں تھا۔ شبلی، حالی کو ہمیشہ عزت کے ساتھ یادکیا کرتے تھے، فرمایا کرتے تھے کہ، ‘’جب تک مواد تحریری نہ ہو میں ایک قدم بھی چل نہیں سکتا، مگر حالی کی نکتہ آفرینی اس کی محتاج نہیں، ان کی دقیقہ رس اور نکتہ سنج طبیعت ایسی جگہ سے مطلب نکال لاتی ہے جہاں ذہن میں بھی منتقل نہیں ہوتا اور یہ کمال اجتہاد کی دلیل ہے۔‘‘پاؤں کے واقعہ کے بعد شبلی کو حالی نے وفور جوش میں جو رباعی لکھ کر بھیجی تھی اور جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے، شبلی ’’الندوہ‘‘ میں ’’مولانا حالی کی ذرہ نوازی‘‘ کے عنوان سے یوں رقم طراز ہیں، ’’مولانا کا میری نسبت ایسے خیالات ظاہر کرنا محض ان کی ذرہ نوازی ہے۔ وہ میرے احباب میں شامل ہونے کا ننگ گوارا فرماتے ہیں، لیکن میری یہ عزت ہے کہ مجھ کو اپنے نیاز مندوں کے زمرہ میں شامل ہونے کی اجازت دیں ۔ اب چند ہی ایسی صورتیں باقی رہ گئی ہیں جن کو دیکھ کر قدماء کی یاد تازہ ہوجاتی ہے، خدا ان بزرگوں کا سایہ قائم رکھے۔‘‘بہرحال’’چشمک‘‘ جو کچھ تھی ادبی حیثیت سے تھی، نج کے تعلقات دونوں صاحبوں کے اتنے ہی خوش گوار تھے جتنے باوصف اختلاف و کلائے مقدمہ کے اجلاس سے باہر ہوا کرتے ہیں ۔ ان چند صفحوں سے خصائص نفسی کے مختلف رخ سامنے آ گئے ہیں، ورنہ میری غایت محض تنشیط ادب یعنی احباب کی دماغی تفریح کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس حیثیت سے اردو لٹریچر میں غالباً یہ ایک نیا مضمون ہے۔\nحاشیے\n(1) معارف، علی گڈھ کی طرف اشارہ ہے، مرتب۔(2) جس مضمون کا حوالہ حالی نے دیا ہے، رسائل شبلی کے طبع جدید میں اس کے دو ٹکڑے ہو گئے ہیں، یعنی قدیم تعلیم اور تراجم، جدید معلومات کے اضافہ کے ساتھ وہ حصہ نکال ڈالا گیا ہے جس میں سرسید پر کچھ اعتراضات تھے، مہدیؔ۔(3) میرے مخاطب صحیح وہ حضرات نہیں ہیں جو تنقیص و تنقید میں امتیاز نہیں کر سکتے، یا کرنا نہیں چاہتے، نہ جاننا (جہل) چنداں لائق اعتراض نہیں، لیکن یہ بھی نہ جاننا کہ نہیں جانتے (جہل مرکب) قطعاً لائق معافی نہیں ۔ ایک بیباک نے حال میں لکھا تھا کہ شعر العجم پروفیسر براؤن کی ’’لٹریری ہسٹری آف پرشیا‘‘ کا سرقہ ہے، شاید کہنا یہ منظور ہوگا کہ براؤن کی کتاب سے ماخوذ ہے، لیکن غریب کو معلوم نہیں کہ براؤن نے فارسی شاعری کی تاریخ نہیں لکھی بلکہ در اصل وہ اسلامی لٹریچر کی دماغی تاریخ ہے، ایران سے جو کچھ تعلق ہے یہ ہے کہ براؤن ان مصنفین کو الگ کرتا گیا ہے جو اسلام کے وسیع دور میں خاک عجم سے وقتاً فوقتاً اٹھتے رہے، اس میں شعراء کا ذکر ضمناً آیا ہے، وہ بھی تاریخی حیثیت سے ذوقی اور جذباتی حیثیت سے نہیں کہ براؤن کے بس کی بات نہیں تھی، شعر العجم کا موضوع بالکل جداگانہ ہے۔ہماری زبان پر ’’فلسفہ‘‘، ’’ارتقا‘‘ اور جانے کیا کیا بے سوچے سمجھے اس بری طرح چڑھ گیا ہے کہ خیر سے معلومات میں تو کچھ اضافہ ہوا نہیں لیکن ان الفاظ کی رہی سہی آبرو بھی جاتی رہی، جس ملک میں تنقید عالیہ (ہائر کریٹی سزم) کا مفہوم صحیح اچھے خاصے پڑھے لکھے نہ سمجھ سکتے ہوں، میں نہیں جانتا شعر العجم کی نزاکتیں کس طرح ان کے ذہن میں داخل کی جائیں، مجبوراً میں اس گناہ کا مرتکب ہوتا ہوں جس سے اوروں کو باز رکھنا مقصود ہے اور مجھ کو کہنا پڑتاہے کہ شعر العجم تذکرۂ شعراء نہیں بلکہ جہاں تک شاعری کی ماہیت نفسی کا تعلق ہے، اس کی ارتقائی تاریخ ہے (دیکھئے، ’’ارتقا‘‘ زبان پرآہی گیا)جس طرح ماضی حال کا باوا اور مستقل کا دادا ہے، بعینہ دنیائے ادب میں بھی یہی ترتیب عمل جاری ہے، متقدمین نے متوسطین اور متوسطین نے متاخرین پیدا کئے، بالفاظ غیر، سعدیؔ، حافظؔ، فردوسیؔ و خیامؔ جس زمانہ میں ہوئے اور جو کچھ ہوئے اسی زمانہ میں ان کا ہونا ناگزیر سا تھا، اسی طرح ان کے کلام کی عصری خصوصیات در اصل ان کے کمال اجتہاد سے زیادہ وراثت ادبی کے قدرتی نتائج ہیں ۔ شعر العجم نے اسی طلسم کی عقدہ کشائی کی ہے لیکن یہ باتیں ابھی نصف صدی کے بعد ہماری سمجھ میں آئیں گی، اس وقت تک اس کتاب پر اظہار خیال ملتوی رہتا تو اچھا تھا۔شبلی تو کیا براؤن کاخاکہ اڑائیں گے، لیکن ایک صاحب نے علی گڈھ میں بیٹھ کر ڈنکے کی چوٹ شاعری پرجس جامعیت کے ساتھ اظہار خیال کی ٹھہرائی ایڈیٹر معارف کے سنجیدہ قلم کو اعتراف کرنا پڑا کہ گویا ’’شعر العجم‘‘ ہے۔ ایک چھوٹے سے لفظ کے زہر کو دیکھئےگا جس کا تریاق ایک دفتر میں بھی نہیں ہوسکتا۔ مہدیؔ(4) یعنی مولانا سید سلیمان ندوی، مرتب۔(5) اس مضمون میں جس قدر اقتباسات لئے گئے ہیں، ان کے لئے اردو لٹریچر کے عناصر خمسہ (سرسید، آزاد، نذیر احمد، حالی اور شبلی) کا پورا دفتر پیش نظر تھا لیکن افسوس ہے کہ سلسلۂ اقتباس میں میں نے صفحات متعلق کے حوالے محفوظ نہیں رکھے، ختم کرنے کے بعد اس کا خیال آیا، اب یہ ایک درد سری تھی جسے کسی طرح گوارا نہیں کرسکا تاہم میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس پیوندکاری میں میں نے کہیں سے کوئی تصرف یا اضافہ نہیں کیا ہے اور جس قدر اجزا جہاں جہاں سے لئے گئے ہیں، علامات اقتباس میں بجنسہ پیش کردیئے گئے ہیں، جن میں کوئی گھٹ بڑھ نہیں ہونے پائی ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D9%88_%D8%B4%D8%A8%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B5%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%86%D8%B4%D9%85%DA%A9"} {"title": "حامد کا بچہ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "خالی بوتلیں، خالی ڈبے", "year": "1950", "text_ur": "لاہور سے بابوہرگوپال آئے تو حامد گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔ انھوں نے آتے ہی حامد سے کہا، ’’لو بھئی فوراً ایک ٹیکسی کا بندوبست کرو۔‘‘\n\nحامد نے کہا، ’’آپ ذرا تو آرام کرلیجئے،اتنا لمبا سفر طے کرکے یہاں آئے ہیں، تھکاوٹ ہوگی۔‘‘\n\nبابوہرگوپال اپنی دھن کے پکے تھے،’’نہیں بھائی، مجھے تھکاوٹ وکاوٹ کچھ نہیں۔ میں یہاں سیر کی غرض سے آیا ہوں، آرام کرنے نہیں آیا۔ بڑی مشکل سے دس دن نکالے ہیں۔ یہ دس دن تم میرے ہو،جو میں کہوں گا تمہیں ماننا ہوگا میں اب کے عیاشی کی انتہا کردینا چاہتا ہوں۔۔۔ سوڈا منگواؤ۔‘‘\n\nحامد نے بہت منع کیا کہ دیکھئے بابوہرگوپال صبح سویرے مت شروع کیجیے مگر وہ نہ مانے۔ بکس کھو کر جونی واکر کی بوتل نکالی اور اسے کھولنا شروع کردیا۔ ’’سوڈا نہیں منگواتے تو لاؤ تھوڑا سا پانی لاؤ۔۔۔ کیا پانی بھی نہیں دو گے!‘‘\n\nبابوہرگوپال، حامد سے عمر میں بڑے تھے۔ حامد تیس کا تھا تو وہ چالیس کے تھے۔ حامد ان کی عزت کرتا تھا اس لیے کہ اس کے مرحوم باپ سے بابو صاحب کے مراسم تھے۔ اس نے فوراً سوڈا منگوایا اور بڑی لجاجت سے کہا،’’دیکھئے مجھے مجبور نہ کیجیے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ میری بیوی بڑی سخت گیر ہے۔‘‘\n\nمگر بابوہرگوپال کے سامنے اس کی کوئی پیش نہ چلی اوراسے ساتھ دینا ہی پڑا۔جیسی کہ امید تھی، چار پیگ پینے کے بعد بابوہرگوپال نے حامد سے کہا، ’’لو بھئی اب چلیں گھومنے۔ مگر دیکھو کوئی ایسی ٹیکسی پکڑنا جو ذرا شاندار ہو۔ پرائیویٹ ٹیکسی ہو تو بہت اچھا ہے۔ مجھے ان میٹروں سے نفرت ہے۔‘‘\n\nحامد نے پرائیویٹ ٹیکسی کا بندوبست کردیا۔ نئی فورڈ تھی، ڈرائیور بھی بہت اچھا تھا۔۔۔ بابوہرگوپال بہت خوش ہوئے۔ ٹیکسی میں بیٹھ کر اپنا چوڑا بٹوا نکالا، کھول کر دیکھا، سوسو کے کئی نوٹ تھے اور اطمینان کا سانس لیا اور اپنے آپ سے کہا، ’’کافی ہیں۔۔۔ لوبھئی ڈرائیور اب چلو۔‘‘\n\nڈرائیور نے اپنے سر پر ٹوپی کو ترچھا کیا اور پوچھا، ’’کہاں سیٹھ؟‘‘\n\nبابوہرگوپال حامد سے مخاطب ہوئے، ’’بولو بھئی تم۔‘‘\n\nحامد نے کچھ دیر سوچ کر ایک ٹھکانہ بتایا۔ ٹیکسی نے ادھر کا رخ کیا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد بمبئی کا سب سے بڑا دلال ان کے ساتھ تھا۔ اس نے مختلف مقامات سے مختلف لڑکیاں نکال نکال کر پیش کیں مگر حامد کو کوئی پسند نہ آئی۔ وہ نفاست پسند تھا، صفائی کا شیدا تھا۔ یہ لڑکیاں سرخی پاؤڈر کے باوجود اس کو گندی دکھائی دیں۔ اس کے علاوہ ان کے چہروں پر کسبیت کی مہر تھی،یہ اسے بہت گھناؤنی معلوم ہوتی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ عورت کو کسبی ہونے پر بھی عورت ہی رہنا چاہیے۔ اپنے عورت پن کو اپنے پیشے کے نیچے دبا نہیں دینا چاہیے۔ اس کے برعکس بابوہرگوپال غلاظت پسند تھا۔ لاکھوں میں کھیلتا تھا، چاہتا تو بمبئی کا پورا شہر صابن پانی سے دھلوا دیتا مگر اپنی ذاتی صفائی کا اسے کچھ خیال نہیں تھا۔ نہاتا تھا تو بہت ہی تھوڑے پانی سے۔ کئی کئی دن شیو نہیں کرتا تھا۔ گلاس چاہے میلا چکٹ ہو، اٹھا کر اس میں فرسٹ کلاس وسکی انڈیل دیتا تھا۔ غلیظ بھکارن کو سینے کے ساتھ چمٹا کر سو جاتا تھا اور کہتا تھا، ’’لطف آگیا۔۔۔ کیا چیز تھی۔‘‘\n\nحامد کو حیرت ہوتی تھی کہ یہ بابو کس قسم کا انسان ہے۔ اوپر نہایت ہی قیمتی شیروانی ہے،نیچے ایسی بنیان ہے کہ اس کو دیکھنے سے ابکائیاں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ رومال پاس ہے لیکن کرتے کے دامن سے ناک کا بہتا ہوا رینٹھ صاف کررہا ہے۔ غلیط پلیٹ میں چاٹ کھا کر خوش ہورہا ہے۔ تکیے کے غلاف میلے ہو کر بدبو چھوڑ رہے ہیں مگر اسے ان کو بدلوانے کا خیال تک نہیں آتا۔۔۔ حامد نے اس کے متعلق بہت غور کیا تھا مگر کسی نتیجے پر نہ پہنچا۔ اس نے کئی مرتبہ بابوہرگوپال سے کہا، ’’بابو جی آپ کو غلاظت سے گھن کیوں نہیں آتی۔‘‘\n\nیہ سن کر بابوہرگوپال مسکرا دیتے، ’’کیوں نہیں آتی۔۔۔ لیکن تمہیں تو ہر جگہ غلاظت ہی غلاظت نظر آتی ہے۔ اب اس کا کیا علاج ہے۔‘‘ حامد خاموش ہو جاتا اور دل ہی دل میں بابوہرگوپال کی غلاظت پسندی پر کڑھتا رہتا۔\n\nٹیکسی دیر تک اِدھر اُدھر گھومتی رہی۔ دلال نے جب دیکھا کہ حامد انتخاب کے معاملے میں بہت کڑا ہے تو اس نے دل میں کچھ سوچا اور ڈرائیور سے کہا،’’شیوا جی پارک کی طرف دباؤ۔۔۔ وہ بھی پسند نہ آئی تو قسم خدا کی بھڑواگیری چھوڑ دوں گا۔‘‘\n\nٹیکسی شوا جی پارک کی ایک بنگلہ نما بلڈنگ کے پاس رکی۔ دلال اوپر چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا اور بابوہرگوپال اور حامد کو اپنے ساتھ لے گیا۔\n\nبڑا صاف ستھرا کمرہ تھا، فرش کی ٹائلیں چمک رہی تھیں، فرنیچر پر گرد کا ذرہ تک نہیں تھا ، ادھر دیوار پر سوامی وویکانند کی تصویر لٹک رہی تھی،سامنے گاندھی جی کی تصویر، سبھاش بابوکا فوٹو بھی تھا۔ میز پر مرہٹی کی کتابیں پڑی تھیں۔دلال نے ان کو بیٹھنے کے لیے کہا، دونوں صوفے پر بیٹھ گئے۔ حامد گھر کی صفائی سے بہت متاثر ہوا۔ چیزیں مختصر تھیں مگر قرینے سے رکھی گئی تھیں۔ فضا بڑی سنجیدہ تھی اس میں کسبیوں کا وہ بے شرم تیکھا پن نہیں تھا۔\n\nحامد بڑی بے صبری سے لڑکی کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔ دوسرے کمرے سے ایک مرد نمودار ہوا۔ اس نے ہولے ہولے سرگوشیوں میں دلال سے باتیں کیں۔ بابوہرگوپال اور حامد کی طرف دیکھا اور کہا، ’’ابھی آتی ہے۔۔۔ نہا رہی تھی، کپڑے پہن رہی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلاگیا۔\n\nحامد نے غورسے کمرے کی چیزیں دیکھنا شروع کیں۔ میز کے پاس کونے میں بڑی خوبصورت رنگین چٹائی پڑی تھی۔ میز پر کتابوں کے ساتھ دس پندرہ رسالے تھے، نیچے بڑے نازک چپل، چمکیلے فرش پرپڑے تھے۔؛کچھ اس انداز سے کہ ابھی ابھی ان سے پاؤں نکل کر گئے ہیں۔ سامنے شیشوں والی الماری میں قطار در قطار کتابیں تھیں۔\n\nبابوہرگوپال نے فرش پر جب اپنے سگریٹ کا آخری حصہ اپنی گرگابی کے نیچے دبایا تو حامد کو بہت غصہ آیا۔ سوچ ہی رہا تھا کہ اسے اٹھا کر باہر پھینک دے کہ دوسرے کمرے کے دروازے سے اس کے کانوں میں ریشمیں سرسراہٹ پہنچی۔ اس نے زاویہ بدل کر دیکھا: ایک گوری چٹی لڑکی، بالکل نئے کاشٹے میں ملبوس، ننگے پیر آرہی تھی۔\n\nکاشٹے کا پلو اس کے سر سے کھسکا، سیدھی مانگ تھی۔جب قریب آکر اس نے ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا تواس کے چمکیلے جوڑے میں حامد نے ایک پتا اڑسا ہوا دیکھا۔ پتے کا رنگ سفیدی مائل تھا۔ موٹے جوڑے میں جو بڑی صفائی سے کیا گیا تھا، یہ پتا بہت خوبصورت دکھائی دیتا تھا۔ حامد نے پرنام کا جواب اٹھ کر دیا۔ لڑکی شرماتی لجاتی ان کے پاس کرسی پر بیٹھ گئی۔\n\nاس کی عمر، حامد کے اندازے کے مطابق سترہ برس سے اوپر نہیں تھی۔ قد درمیانہ، رنگ گورا جس میں ہلکی ہلکی پیازی جھلک تھی۔ جس طرح اس کی ساڑی نئی تھی اسی طرح وہ خودبھی نئی معلوم ہوتی تھی۔ کرسی پر بیٹھ کر اس نے بڑی بڑی سیاہ آنکھیں جھکالیں۔ حامد کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ وہ آہستہ آہستہ اس کے وجود میں سرایت کررہی ہے۔ لڑکی بڑی صاف ستھری، بڑی اجلی تھی۔\n\nبابوہرگوپال نے حامد سے کچھ کہا تو وہ چونک پڑا جیسے اس کو کسی نے جھنجھوڑ کر جگا دیا ہے، ’’کیا کہابابوہرگوپال؟‘‘\n\nبابوہرگوپال نے کہا، ’’بات کرو بھئی۔‘‘ پھر آواز دھیمی کردی، ’’مجھے تو کوئی خاص پسند نہیں۔‘‘\n\nحامد کباب ہوگیا۔ اس نے لڑکی کی طرف دیکھا۔ دھلا ہوا شباب اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ نکھری ہوئی بے دماغ جوانی ریشم میں لپٹی ہوئی، اس کی نظروں کے سامنے تھی جس کو وہ حاصل کرسکتا تھا۔ ایک رات کے لیے نہیں، کئی راتوں کے لیے، کیونکہ وہ قیمت ادا کرکے اپنائی جاسکتی تھی، لیکن حامد نے جب یہ سوچا تو اسے دکھ ہوا کہ ایسا کیوں ہے۔ یہ لڑکی بکاؤ مال ہرگز نہیں ہونی چاہیے تھی۔ پھر اسے خیال کہ آیا اگر ایسا ہوتا تو اس کو حاصل کیسے کرتا۔\n\nبابوہرگوپال نے بڑے بھونڈے انداز میں پوچھا، ’’کیا خیال ہے بھئی؟‘‘\n\n’’خیال؟‘‘حامد پھر چونکا۔ ’’آپ کو تو پسند نہیں،لیکن میں۔۔۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔\n\nبابوہرگوپال بڑے دوست نواز تھے۔ اٹھے اور دلال سے کاروباری انداز میں پوچھا، ’’کیوں بھئی کیا دینا پڑے گا؟‘‘\n\nدلال نے جواب دیا، ’’چھوکری دیکھ لیجئے۔ ابھی تازہ تازہ دھندا شروع کیا ہے۔‘‘\n\nبابوہرگوپال نے اس کی بات کاٹی، ’’تم اسے چھوڑو۔ معاملے کی بات کرو۔‘‘\n\nدلال نے بیڑی سلگائی، ’’سو روپے ہوں گے۔ پورا دن رکھئے یا پوری رات رکھئے۔ ایک ڈیڑھیا کم نہیں ہوگا۔‘‘\n\nبابوہرگوپال حامد سے مخاطب ہوئے،’’کیوں بھئی۔‘‘\n\nحامد کو بابوہرگوپال اور دلال کی گفتگو بہت ناگوار گزر رہی تھی۔ اس کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس لڑکی کی توہین ہورہی ہے۔۔۔ سو روپے میں یہ دھڑکتا ہوا شباب،یہ دہکتی ہوئی جوانی۔۔۔ اس کو یہ سن کر بہت کوفت ہوئی کہ مرہٹی حسن کا جو یہ نادر نمونہ اس کے سامنے سانس لے رہا تھا اس کی قیمت صرف سو روپے ہے۔۔۔ مگر اس کوفت کے ساتھ ہی اس خیال نے اس کے دل میں چٹکی لی کہ سوروپے دے کر آدمی اس کو حاصل تو کرسکتا ہے، ایک دن یا ایک رات کے لیے، لیکن پھر اس نے سوچا، ’’صرف ایک دن یا ایک رات کے لیے کیوں۔۔۔ اس کے ساتھ تو آدمی کو اپنی ساری عمر بتا دینی چاہیے۔ اس کی ہستی میں اپنی ہستی مدغم کردینی چاہیے۔‘‘\n\nبابوہرگوپال نے پھر پوچھا، ’’کیوں بھئی کیا خیال ہے؟‘‘\n\nحامد اپنا خیال ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ بابوہرگوپال مسکرایا، جیب سے بٹوا نکالا اور سو کا ایک نوٹ دلال کو دے دیا، ’’ایک ڈیڑھیا کم نہ ایک ڈیڑھیا زیادہ۔ پھر وہ حامد سے مخاطب ہوا، ’’چلو بھئی۔۔۔ معاملہ طے ہوگیا۔‘‘\n\nحامد خاموش ہوگیا۔ دونوں نیچے اتر کر ٹیکسی میں بیٹھے۔ دلال لڑکی لے کر آگیا۔ وہ شرماتی لجاتی ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔ ہوٹل میں ایک کمرے کا بندوبست کرکے بابوہرگوپال اپنے لیے کوئی لڑکی تلاش کرنے چلا گیا۔\n\nلڑکی پلنگ پر آنکھیں جھکائے بیٹھی تھی۔ حامد کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ بابوہرگوپال وسکی کی بوتل چھوڑ گیا تھا۔ آدھی کے قریب باقی تھی۔ حامد نے سوڈا منگوا کر ایک بہت بڑا پیگ لگایا۔ اس سے اس میں کچھ جرأت پیدا ہوئی۔ اس نے لڑکی کے پاس بیٹھ کر پوچھا، ’’آپ کا نام؟‘‘\n\nلڑکی نے نگاہیں اٹھا کر جواب دیا، ’’لتا منگلاؤں کر۔‘‘\n\nبڑی پیاری آواز تھی۔ حامد نے ایک بڑا پیگ اپنے اندر انڈیلا اور لتا کے سر سے کاشٹے کا پلوہٹا کر اس کے چمکیلے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ لتا نے بڑی بڑی سیاہ آنکھیں جھپکائیں۔،حامد نے ساڑی کا پلو بالکل نیچے گرا دیا۔ چست چولی کے کھلے گریبان سے اس کو لتا کے سینے کی ابھار کی ننھی سی دھڑکتی ہوئی جھلک دکھائی دی۔ حامد کا سارا وجود تھرا گیا۔ اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ وہ چولی بن کر لتا کے ساتھ چمٹ جائے۔ اس کی میٹھی میٹھی گرمی محسوس کرے اور سو جائے۔\n\nلتا ہندوستانی نہیں جانتی تھی، اس کومنگلاؤں سے آئے صرف دومہینے ہوئے تھے، مرہٹی بولتی تھی، بڑی کرخت زبان ہے لیکن اس کے منہ میں یہ بڑی ملائم ہوگئی تھی۔ وہ ٹوٹی پھوٹی ہندوستانی میں حامد کی باتوں کا جواب دیتی تو وہ اس سے کہتا،’’نہیں لتا، تم مرہٹی میں بات کرو۔ مجھے بہت چانگلی لگتی۔‘‘\n\nلفظ ’’چانگلی‘‘ سن کر لتا ہنس پڑتی اور صحیح تلفظ اس کو بتاتی، لیکن حامد چے اور یے کی درمیانی آواز پیدا نہ کرسکتا۔ اس پر دونوں کھلکھلا کر ہنسنے لگتے۔ حامد اس کی باتیں نہ سمجھتا لیکن اسے نہ سمجھنے میں اس کو لطف آتا تھا۔ کبھی کبھی وہ اس کے ہونٹ چوم لیتا اور اس سے کہتا، ’’یہ پیارے پیارے بول جو تم اپنے منہ سے نکال رہی ہو میرے منہ میں ڈال دو۔ میں انھیں پینا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ کچھ نہ سمجھتی اور ہنس دیتی۔ حامد اسے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیتا۔ لتا کی بانھیں بڑی سڈول اور گوری گوری تھیں ان پر چولی کی چھوٹی چھوٹی آستینیں پھنسی ہوئی تھیں۔ حامد نے ان کو بھی کئی بار چوما، لتا کا ہر عضو حامد کو پیارا لگتا تھا۔\n\nرات کو نو بجے حامد نے لتا کو اس کے گھر چھوڑا تو اپنے اندر ایک خلا سا محسوس کیا۔ اس کے ملائم جسم کا لمس جیسے ایک دم چھال کی طرح اترکر اس سے جدا ہوگیا۔ ساری رات کروٹیں بدلتا رہا۔ صبح بابوہرگوپال آئے۔ انھوں نے تخلیے میں اس سے پوچھا، ’’کیوں کیسی رہی؟‘‘\n\nحامد نے صرف اتنا کہا، ’’ٹھیک تھی۔‘‘\n\n’’چلتے ہو پھر؟‘‘\n\n’’نہیں مجھے ایک ضروری کام ہے۔‘‘\n\n’’بکواس نہ کرو۔۔۔ میں نے تم سے آتے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ دس دن تم میرے ہو۔‘‘\n\nحامد نے بابوہرگوپال کو یقین دلایا کہ اسے واقعی بہت ضروری کام ہے، پونے جارہا ہوں، وہاں اس کو ایک آدمی سے مل کر اپنا کام کرانا ہے۔ بابوہرگوپال انجام کار مان گئے اور اکیلے عیاشی کرنے چلے گئے۔\n\nحامد نے ٹیکسی لی۔ بینک سے روپے نکلوائے اور سیدھا لتا کے ہاں پہنچا۔ وہ اندر نہا رہی تھی۔ کمرے میں ایک مرد بیٹھا تھا، وہی جس نے پہلے دن کہا تھا، ’’ابھی آتی ہے۔۔۔ نہا رہی تھی، کپڑے بدل رہی ہے۔‘‘ حامد نے اس سے کچھ دیر باتیں کیں اور سو کا ایک نوٹ اس کے حوالے کردیا۔ لتا آئی، پہلے سے بھی زیادہ صاف ستھری اور نکھری ہوئی۔ ہاتھ جوڑ کر اس نے پرنام کیا۔ حامد اٹھا اور اس مرد سے مخاطب ہوا،’’میں چلتا ہوں۔ تم لے آؤ انھیں۔۔۔ وقت پر چھوڑ جاؤں گا۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ نیچے اتر گیا، لتا آئی اور حامد کے پاس بیٹھ گئی۔ اس کا لمس محسوس کرکے حامد کو بڑی راحت ہوئی۔ وہ اس کو وہیں ٹیکسی میں اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیتا مگر لتا نے ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا۔\n\nشام کوساڑھے سات بجے تک وہ اس کے ساتھ رہی۔۔۔ جب اس کے گھر چھوڑا تو ایسا محسوس کیا کہ اس کے دل کی راحت اس سے جدا ہوگئی ہے۔ رات بھر وہ بے چین رہا۔ حامد شادی شدہ تھا،چھوٹے چھوٹے دو بچوں کا باپ تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ سخت حماقت کررہا ہے۔ اگر اس کی بیوی کو پتہ چل گیا تو آفت برپا ہو جائے گی۔ ایک بار سلسلہ ہوگیا، ٹھیک ہےمگر یہ سلسلہ تو اب دراز ہونے کی طرف مائل تھا۔ اس نے عہد کرلیا کہ اب شیوا جی پارک کا رخ نہیں کرےگامگر صبح دس بجے وہ پھر لتا کے ساتھ ہوٹل میں لیٹا تھا۔\n\nپندرہ روز تک حامد بلاناغہ لتا کے ہاں جاتا رہا۔۔۔ اس کے بینک کے اکاؤنٹ میں سے دو ہزار روپے اڑ چکے تھے، کاروبار الگ اس کی غیر موجودگی کے باعث نقصان اٹھا رہا تھا،حامد کواس کا کامل احساس تھا مگر لتا اس کے دل و دماغ پر بری طرح چھا چکی تھی۔ لیکن حامد نے ہمت سے کام لیا اور ایک دن یہ سلسلہ منقطع کردیا۔\n\nاس دوران میں بابوہرگوپال اپنی میلی اور غلیظ عیاشیاں ختم کرکے لاہور واپس جا چکا تھا۔ حامد نے خود کو زبردستی اپنے کاروباری کاموں میں مصروف کردیا اور لتا کو بھولنے کی کوشش کی۔\n\nچار مہینے گزر گئے۔ حامد ثابت قدم رہا۔لیکن ایک دن اتفاق سے اس کا گزر شیوا جی پارک سے ہوا۔ حامد نے غیر ارادی طور پر ٹیکسی والے سے کہا، ’’روک لو یہاں۔‘‘ ٹیکسی رکی۔ حامد سوچنے لگا، ’’نہیں یہ ٹھیک نہیں۔۔۔ ٹیکسی والے سے کہو چلے!‘‘ مگر دروازہ کھول کر وہ باہر نکلا اور اوپر چلا گیا۔\n\nلتا آئی تو حامد نے دیکھا کہ وہ پہلے سے موٹی ہے، چھاتیاں زیادہ بڑھی ہیں، چہرے پر گوشت بڑھ گیا ہے۔ حامد نے سو روپے دیے اور اس کو ہوٹل میں لے گیا۔ یہاں اس کو جب معلوم ہوا کہ لتا حاملہ ہے تو اس کے اوسان خطا ہوگئے، سارا نشہ ہرن ہوگیا۔ گھبرا کر اس نے پوچھا،’’یہ۔۔۔ یہ حمل کس کا ہے؟‘‘\n\nلتا کچھ نہ سمجھی۔ حامد نے اس کو بڑی مشکل سے سمجھایا تو اس نے سر ہلا کر کہا، ’’ہم کو مالوم نہیں۔‘‘\n\nحامد پسینہ پسینہ ہوگیا، ’’تمھیں بالکل معلوم نہیں؟‘‘\n\nلتا نے سر ہلایا، ’’نہیں‘‘\n\nحامد نے تھوک نگل کر پوچھا،’’کہیں۔۔۔ میرا تو نہیں؟‘‘\n\n’’مالوم نہیں۔‘‘\n\nحامد نے مزید استفسار کیا۔ بہت سی باتیں کیں تو اسے معلوم ہوا کہ لتا کے لواحقین نے حمل گروانے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئے۔ کوئی دوا اثر نہیں کرتی تھی، ایک دوا نے تو اسے بیمار کردیا چنانچہ ایک مہینہ وہ بستر پر پڑی رہی۔ حامد نے بہت سوچا،ایک ہی بات اس کی سمجھ میں آئی کہ کسی اچھے ڈاکٹر سے مشورہ کرے اور بہت جلدی کرے کیونکہ بچے کی خاطر لتا کو گاؤں بھیجا جارہا تھا۔\n\nحامد نے اس کو گھر چھوڑا اور ایک ڈاکٹر کے پاس گیا جو اس کا دوست تھا اس نے حامد سے کہا،’’دیکھو یہ معاملہ بڑا خطرناک ہے۔ زندگی اور موت کا سوال درپیش ہوتا ہے۔‘‘\n\nحامد نے اس سے کہا، ’’یہاں میری زندگی اور موت کا سوال ہے۔ نطفہ یقیناً میرا ہے۔ میں نے اچھی طرح حساب لگایا ہے۔ اس سے بھی اچھی طرح دریافت کیا ہے۔ خدا کے لیے آپ سوچئے میری پوزیشن کیا ہے۔۔۔ میری اولاد۔۔۔ میں تو یہ سوچتے ہی کانپ کانپ جاتا ہوں۔ آپ میری مدد نہیں کریں گے تو سوچتا سوچتا پاگل ہو جاؤں گا۔‘‘\n\nڈاکٹر نے اس کو دوا دے دی۔ حامد نے لتا کو پہنچا دی مگر کوئی اثر نہ ہوا۔ حامد خوش خبری سننے کے لیے بے قرار تھا مگر لتا نے اس سے کہا کہ اس پر پہلے بھی کسی دوا نے اثر نہیں کیا تھا۔ حامد بڑی مشکلوں سے ایک اور دوا لایا مگر یہ بھی کارگر ثابت نہ ہوئی۔ اب لتا کا پیٹ صاف نمایاں تھا،اس کے لواحقین اسے گاؤں بھیجنا چاہتے تھےلیکن حامد نے ان سے کہا، ’’نہیں ابھی ٹھہر جاؤ۔۔۔ میں کچھ اور بندوبست کرتا ہوں۔‘‘\n\nبندوبست کچھ بھی نہ ہوا۔ سوچ سوچ کر حامد کا دماغ عاجز آگیا۔ کیا کرے کیا نہ کرے۔ کچھ اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔بابوہرگوپال پر سو لعنتیں بھیجتا تھا،اپنے آپ کوکوستا تھا کہ کیوں اس نے حماقت کی۔ یہ سوچتا تو لرز جاتا کہ اگر لڑکی پیدا ہوئی تو وہ بھی اپنی ماں کی طرح پیشہ کرےگی۔ ڈوب مرنے کی بات ہے۔\n\nاس کو لتا سے نفرت ہوگئی۔ اس کا حسن اس کے دل میں اب پہلے سے جذبات پیدا نہ کرتا،غلطی سے اس کا ہاتھ لتا سے چھو جاتا تو اس کو ایسا محسوس ہوتا کہ اس نے انگاروں میں ہاتھ جھونک دیا ہے،اس کو اب لتا کی کوئی ادا پسند نہیں تھی،اس کی زبردست خواہش تھی کہ وہ اس کا بچہ جننے سے پہلے پہلے مر جائے۔ وہ اور مردوں کے پاس بھی جاتی رہی تھی، کیا اسے حامد ہی کا نطفہ قبول کرنا تھا؟\nحامد کے جی میں آئی کہ وہ اس کے سوجے ہوئے پیٹ میں چھرا بھونک دے یا کوئی ایسا حیلہ کرے کہ اس کا بچہ پیٹ ہی میں مر جائے۔ لتا بھی کافی فکر مند تھی،اس کی کبھی خواہش نہیں تھی کہ بچہ ہو، اس کے علاوہ اس کو بہت بوجھ محسوس ہوتا تھا۔ شروع شروع میں تو اس کو الٹیوں نے نڈھال کردیا تھا،اب ہر وقت اس کے پیٹ میں اینٹھن سی رہتی تھی۔ مگر حامد سمجھتا تھا کہ وہ فکر مند نہیں ہے،’’اور کچھ نہیں تو کم بخت میری حالت دیکھ کر ہی ترس کھا کر بچہ قے کردے۔‘‘\n\nدوائیں چھوڑ کر ٹونے ٹوٹکے بھی کیے مگر بچہ اتنا ہٹ دھرم تھا کہ اپنی جگہ پر قائم رہا۔۔۔ تھک ہار کر حامد نے لتا کو گاؤں جانے کی اجازت دے دی لیکن خود وہاں جا کر مکان دیکھ آیا۔ حساب کے مطابق بچہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں پیدا ہونا تھا۔ حامد نے سوچ لیا تھا کہ وہ اسے کسی نہ کسی طرح مروا ڈالے گا، چنانچہ اس غرض سے اس نے بمبئی کے ایک بہت بڑے دادا سے راہ و رسم پیدا کی،اس کو خوب کھلاتا پلاتا رہا،اس پراس کا کافی روپیہ خرچ ہوا۔مگر حامد نے کوئی خیال نہ کیا۔\n\nوقت آیا تو اس نے اپنی ساری اسکیم دادا کریم کو بتادی۔ ایک ہزارروپے طے ہوئے، حامد نے فوراً دے دیے، دادا کریم نے کہا، ’’اتنا چھوٹا بچہ مجھ سے نہیں مارا جائے گا۔ میں لاکرتمہارے حوالے کردوں گا۔ آگے تم جانو اور تمہارا کام۔ ویسے یہ راز میرے سینے میں دفن رہے گا۔ اس کی تم کچھ فکر نہ کرو۔‘‘\n\nحامد مان گیا۔ اس نے سوچا کہ وہ بچے کو گاڑی کی پٹری پر رکھ دے گا،اپنے آپ کچلا جائے گا یا کسی اور ترکیب سے اس کا خاتمہ کردے گا۔۔۔ دادا کریم کو ساتھ لے کر وہ لتا کے گاؤں جا پہنچا۔ دادا کریم نے پتہ لیا کہ بچہ پندرہ روز ہوئے پیدا ہو چکا ہے۔ حامد کے دل میں وہ جذبہ پیدا ہوا جو اپنے پہلے لڑکے کی پیدائش پر اس کو محسوس ہوا تھا مگر اس نے اس کو وہیں دبا دیا اور کریم سے کہا، ’’دیکھو آج رات یہ کام ہو جائے۔‘‘\n\nرات کے بارہ بجے ایک اجاڑ جگہ پر حامد کھڑا انتظار کررہا تھا،اس کے دل و دماغ میں ایک عجیب طوفان برپا تھا، وہ خود کو بڑی مشکلوں سے قاتل میں تبدیل کرچکا تھا،وہ پتھر جو اس کے سامنے پڑاتھا بچے کا سر کچلنے کے لیے کافی تھا۔ کئی بار اسے اٹھا کر وہ اس کے وزن کا اندازہ کر چکا تھا۔\n\nساڑھے بارہ ہوئے تو حامد کو قدموں کی آواز آئی۔ حامد کا دل اس زور سے دھڑکنے لگا جیسے سینے سے باہر آجائے گا۔ دادا کریم اندھیرے میں نمودار ہوا۔ اس کے ہاتھوں میں کپڑے کی ایک چھوٹی سی گٹھری تھی۔ پاس آکر اس نے حامد کے کانپتے ہوئے ہاتھوں میں دے دی اور کہا،’’میرا کام ختم ہوا۔۔۔ میں چلا۔‘‘\n\nیہ کہہ وہ چلا گیا۔ حامد بہت بری طرح کانپ رہا تھا۔ بچہ کپڑے کے اندر ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔ حامد نے اسے زمین پر رکھ دیا۔ تھوڑی دیر اپنے لرزے پر قابو پانے کی کوشش کی،جب یہ کچھ کم ہوا تو اس نے و زنی پتھر اٹھایا، ٹٹول کر سر دیکھا۔ پتھر زور سے پٹکنے ہی والا تھاکہ اس نے سوچا:بچے کو ایک نظر دیکھ تو لوں۔ پتھر ایک طرف رکھ کر اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے دیا سلائی نکالی اور ایک تیلی سلگائی۔ یہ اس کی انگلیوں ہی میں جل گئی۔ اس کی ہمت نہ پڑی، کچھ دیر سوچا، دل مضبوط کیا، دیا سلائی کی تیلی جلائی،کپڑا ہٹایا، پہلے سرسری نظر سے پھر ایک دم غور سے دیکھا، تیلی بجھ گئی۔۔۔ یہ کس کی شکل تھی۔۔۔؟ اس نے کہیں دیکھی تھی۔۔۔ کہاں۔۔۔؟ کب۔۔۔؟\n\nحامد نے جلدی جلدی ایک تیلی جلائی اور بچے کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ ایک دم اس کی آنکھوں کے سامنے اس مرد کا چہرہ آگیا جس کے ساتھ لتا شیواجی پارک میں رہتی تھی۔۔۔ ہٹ تیری ایسی کی تیسی۔۔۔ ہوبہو وہی شکل۔۔۔ وہی ناک نقشہ!\nحامد نے بچے کو وہیں چھوڑا اور قہقہے لگاتا چلا گیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%85%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%86%DB%81"} {"title": "حامد کہاں کہ دوڑ کے جاؤں خبر کو میں", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حامد کہاں کہ دوڑ کے جاؤں خبر کو میں\nکس آرزو پہ قطع کروں اس سفر کو میں\n\nمانا بری خبر ہے پہ تیری خبر تو ہے\nصبر و قرار نذر کروں نامہ بر کو میں\n\nیہ سنگ و خشت آہ دلاتے ہیں تیری یاد\nروتا ہوں دیکھ دیکھ کے دیوار و در کو میں\n\nہے تیری شکل یا تری آواز کا خیال\nکرتا ہوں التفات یکایک جدھر کو میں\n\nافسوس ہائے ہائے کی آتی نہیں صدا\nپوچھے تو کیا بتاؤں ترے چارہ گر کو میں\n\nکیا ہو گیا اسے کہ تجھے دیکھتی نہیں\nجی چاہتا ہے آگ لگا دوں نظر کو میں\n\nاچھا جو تو نے گوشۂ مرقد کیا پسند\nاب اپنے حق میں گور بناؤں گا گھر کو میں\n\nتیرے سر عزیز کی بالش ہو خاک سے\nبالین غم سے اب نہ اٹھاؤں گا سر کو میں\n\nدیکھی نہ تھی بہار ابھی تیرے شباب کی\nبھولا نہ تھا ابھی ترے عہد صغر کو میں\n\nتقدیر ہی نے ہائے نہ کی کچھ مساعدت\nکیا روؤں اب دعا و دوا کے اثر کو میں\n\nحکم خدا یہی تھا کہ بیٹھا کیا کروں\nماتم میں تیرے اشک فشاں چشم تر کو میں\n\nجز درد و داغ تو نے نہ چھوڑا نشان حیف\nرکھوں گا میہمان انہیں عمر بھر کو میں\n\nکر نے دو آہ و نالہ کہ آخر رہوں گا بیٹھ\nتسلیم کر کے حکم قضا و قدر کو میں\n\nکیا فکر آب و نان کہ غم کہہ رہا ہے اب\nموجود ہوں ضیافت دل اور جگر کو میں\n\nتجھ کو جوار رحمت حق میں جگہ ملے\nمانگا کروں گا اب یہ دعا ہر سحر کو میں\n\nحبس دوام تو نہیں دنیا کہ مر رہوں\nکاہے کو گھر خیال کروں رہ گزر کو میں\n\nخود ہم سے بھی زیادہ ہو جو ہم پے مہرباں\nوہ جام زہر دے تو نہ چکھوں شکر کو میں\n\nوہ جانے اور اس کی رضا جو پسند ہو\nسب کام سونپتا ہوں اسی داد گر کو میں\n\nہوتا نہ دل میں درد تو کرتا نہ ہائے ہائے\nدیتا نہ طول یوں سخن مختصر کو میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%85%D8%AF_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D9%88%DA%91_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حامیان اردو", "poet_page": "مصنف:مولوی عبد الحق", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "زبانیں کہاں سے آئیں، کیسے بنیں؟ ایک طویل اور پیچیدہ بحث ہے اور اس وقت ہمارے مبحث سے خارج۔ البتہ اردو کہاں سے آئی اور کیسے آئی؟ یہ ہم بتا سکتے ہیں، اس لیے کہ اس کی عمر چھ سات سو سال سے زیادہ نہیں۔ اسے قدرت، انسانی ذوق اور انسانی ضروریات نے بنایا۔\n\nکچھ دیر کے لیے آپ چہل قدمی کو کسی قدیم جنگل میں چلے جائیے، وہاں آپ کو تناور اور گرانڈیل درخت، چھوٹے بڑے پودے، طرح طرح کی بیلیں، پھولوں کے تختے، قسم قسم کی گھاسیں، جڑی بوٹیاں وغیرہ نظر آئیں گی۔ آپ درختوں میں پھل بھی لگے دیکھیں گے۔ بہت سے ایسے جنھیں ہم جانتے ہیں مثلاً کیلے، انجیر، آم وغیرہ اور بہت سے ایسے جو ہم نے کبھی نہیں دیکھے ہیں۔\n\nاس کے بعد کسی اچھے باغ میں جائیے۔ یہاں بھی سایہ دار اور ثمر دار درخت اور خوش نما پھول اور پھل دیکھنے میں آئیں گے۔ یہ سب چیزیں باغوں اور چمنوں کی زینت ہیں، جنگل سے آئی ہیں، لیکن انسان نے اپنی عقل و تمیز سے ان میں حیرت انگیز شگوفہ کاریاں کی ہیں۔ ایک آم ہی کو لیجیے۔ ایک جنگل کا آم ہے، دوسرا باغ کا آم، دونوں کے ذائقے میں زمین آسمان کا فرق ہے، انسان نے اپنی حکمت سے ان میں طرح طرح کی ایجاد کی ہیں۔ قلم باندھ باندھ کر بے شمار قسمیں بنائیں اور ان میں لطیف خوش بو، ذائقے اور لذتیں پیدا کیں۔ اول اول یہ سب کچھ ہمیں ذوق کی بدولت میسر آیا، پھر تجارت نے اسے ابھارا۔ شوق اور تجارت نے مقابلے پر اکسایا، مقابلے نے کش مکش پیدا کی، یہ کش مکش ہے جو بناتی، سنوارتی اور ابھارتی ہے۔ کائنات کی ہر چیز کی بقا اس کی کش مکش پر ہے۔\n\nقریب قریب یہی حال ہماری اردو زبان کا ہے، جس وقت یہ وجود میں آرہی تھی کسی کو اس کا علم تو کیا احساس بھی نہ تھا کہ کوئی نئی زبان بن رہی ہے۔ البتہ قدرت یعنی تقاضائے وقت اپنا کام کر رہا تھا۔ قدرت کے قانون بھی عجیب و غریب اور پر اسرار ہوتے ہیں، وہ اپنا کام چپکے چپکے کرتے ہیں، خواہ کسی کو خبر ہو یا نہ ہو، انسانی معاملات میں یہ عجیب بات ہے کہ جو چیز سب سے قریب ہوتی ہے، اس پر سب کے بعد نظر پڑتی ہے۔ جب کہ ہم فارسی، عربی، سنسکرت پر فریفتہ تھے اور ان کی تصانیف اور کلام کے مزے لے رہے تھے، یہ غریب اور حقیر بولی چپکے چپکے ہمارے گھروں، بازاروں، خانقاہوں اور لشکروں میں گھر کر رہی تھی، میں نے اسے غریب اور حقیر اس لیے کہا کہ اس وقت یہ بازاری اور عامیانہ خیال کی جاتی تھی اور اہل ادب اور اہل ذوق اسے منھ نہیں لگاتے تھے۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی نام بھی نہ تھا۔ جب دار الحکومت دہلی کی آس پاس کی بولی پر فارسی کی قلم لگی تو یہ وجود میں آئی۔ کسی نے دانستہ قلم نہیں لگائی اور نہ کسی جماعت اور انجمن نے یہ مشورہ دیا۔ یہ قدرت کے کام تھے۔\n\nوقت کی بات تھی، وقت کا تقاضا اٹل ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ جوزمانے کی ضرورت اور حالات کے مناسب ہوتا ہے، وہی ہو کے رہتاہے۔ اس وقت اس کی ضرورت تھی۔ بولیاں اور موجود تھیں لیکن یہ سب مقامی اور محدود تھیں۔ حکومت کی وسعت کے ساتھ ایک عام اور وسیع زبان کی ضرورت تھی اور وہ صرف قلم لگانے ہی سے پیدا ہو سکتی تھی اور اس قلم لگانے میں فاتح اور مفتوح دونوں شریک تھے۔ جب اس قلمی زبان کی بوباس اور رسیلے پن سے لوگوں کے کام و دہن آشنا ہوئے تو اس کا چرچا پھیلا۔ فقیر اور صوفی، تاجر اور پیشہ ور، لشکری اور بازاری اسے دور دور تک لے گئے اور جہاں گئی مقبول ہو گئی۔ آخرکار جب یہ بے نام اور عوام کی بول چال سے نکل کر مسند ادب و انشا تک پہنچی تو پہلی بار اسے نام کا شرف بخشا گیا یعنی ریختہ کہلائی اور بعد میں اردو سے موسوم ہوئی جو اب اس کا عام اور مقبول نام ہے۔\n\nاہل ذوق نے اسے سر آنکھوں پر رکھا۔ شعرا نے شعر و سخن کی محفلیں گرم کیں۔ فقرا اور صوفیا کی تلقین، واعظوں کے وعظ، بحث اور مناظرے سب اسی میں ہونے لگے۔ مصنفین اور مؤلفین نے کتابیں، مترجمین نے ترجمے اور افسانہ نویسوں نے افسانے اس میں لکھنے شروع کیے۔ اس وقت فارسی کا بول بالا تھا، اس سے اس کا مقابلہ ہوا۔ مقابلے میں فارسی کی ہار اور اردو کی جیت ہوئی۔ فارسی کو ہٹاکر دفتروں اور عدالتوں میں پہنچی، مدارس میں داخل ہوئی۔ ذریعہ تعلیم بنی۔ اخبار اور رسالے جاری ہوئے۔ بہت سی انجمنیں اور ادارے اس کی حمایت اور اشاعت کے لیے قائم ہوئے۔ علم و ادب میں ترقی اور علوم وفنون میں کتابیں لکھی جانے لگیں۔ غرض ہراعتبار سے سارے ملک پر چھا گئی اور ہندوستان کی مشترکہ اور عام زبان مانی جانے لگی۔ اردو کی یہ جیت ذوقِ ضرورت اور کش مکش سے حاصل ہوئی اور اب بھی انہی کی بدولت ہوگی۔\n\nایک دن کا کام نہ تھا۔ اس میں صدیاں لگیں۔ یہ ہمارے بزرگوں کی (جس میں ہرقوم و ملت کے لوگ تھے) مسلسل مشقت اور محنت و کوشش اور جاں کاہیوں، دل سوزیوں اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ اردو کے سچے حامی تھے۔ یہ ہمارے لیے ے بے بہا سرمایہ چھوڑ گئے ہیں جس کے ہم وارث ہیں۔ جو لوگ بزرگوں کے ورثے کو قائم رکھتے اور ترقی دیتے ہیں وہ سپوت کہلاتے ہیں، جو اس سے غفلت برتتے اور تلف کرتے ہیں وہ کپوت یعنی ناخلف ہیں۔ ہم ان بزرگوں کا ذکر خیر سے کرتے ہیں اس لیے کہ انھوں نے ایسا عظیم الشان کام کیا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نام بھی نیکی سے یاد کیاجائے تو ان کی مثال اپنے سامنے رکھیے۔ ہم پر بڑی ذمے داری ہے، اس لیے کہ وقت نازک اور سخت ہے۔\n\nاردو یوں ہی ایسی شیریں، وسیع اور علمی و ادبی زبان نہیں بن گئی۔ اس نے بڑی بڑی مصیبتیں اور آفتیں جھیلیں ہیں، بڑے بڑے مقابلے کیے ہیں۔ اس نے دیسی بولیوں کو نیچا دکھایا، اس لیے کہ وہ مقامی اور محدود نہیں۔ اس نے فارسی کو نکالا اس لیے کہ وہ غیر تھی۔ اس نے دوسری بولیوں پر فوقیت اور فضیلت حاصل کی اس لیے کہ اس میں ہندو مسلم دونوں کی تہذیبوں اور دونوں کے اتحاد کی جھلک تھی اور اس لیے کہ اس کے حامیوں نے اس کے سنوارنے، بنانے اور ترقی دینے میں دل و جان سے جد و جہد کی اور اپنی کوششوں میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ اب پھر وہی چال آپڑی ہے، شہ مات بچنے کے لیے پہلے سے زیادہ جد وجہد اور سعی کی ضرورت ہے۔ اردو کو جو حیثیت اور اہمیت حاصل ہو چکی ہے، اسے قائم رکھنا حامیان اردو کا فرض ہے۔ اگر ہم نے اسی ہمت اور حوصلے سے کام لیا جو بزرگوں کا شیوہ تھا تو بلاشبہ جیت ہماری ہے۔ دل میں لگن ہو اور نیت میں خلوص تو آدمی کیاکچھ نہیں کر سکتا۔\n\nاکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم اردو کے لیے کیا کام کریں؟ جیسا کہ میں نے عرض کیا جو چیز سب سے قریب ہوتی ہے، اس پر نظر نہیں پڑتی۔ کام کے لیے بہت وسیع میدان ہے۔ اس کے دو پہلو ہیں، ایک زبان کے علم و ادب میں اضافہ اور ترقی، دوسرا زبان کی اشاعت۔ جن لوگوں کو قدرت نے صلاحیت عطا کی ہے (بشرطے کہ ان کا صحیح اندازہ کیا گیا ہو) وہ علمی و ادبی تحقیقی کام کریں جن میں یہ استعداد نہیں وہ اشاعت میں کوشش کریں۔ اردو کتابیں اور رسالے پڑھیں، دوسروں کو پڑھنے کی ترغیب دیں۔ گھروں میں خاص کر لڑکیوں اور عورتوں کو اردو پڑھائیں، اردو بولیں، لکھیں، خط پتر اردو میں لکھیں، نام کی تختیاں اردو میں ہوں، حساب کتاب اردو میں لکھا جائے۔ جہاں اردو کے حق میں ناانصافی ہوتی ہو اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔ ان پڑھوں کو پڑھائیں، جہاں اردو کا رواج کم ہو وہاں اسے رواج دیں، جو ادارے اردو کی ترقی و اشاعت کا کام کر رہے ہیں، ان سے تعاون کریں، ان کی مدد کریں۔ غرض اس قسم کے سیکڑوں کام ہیں جو ہر شخص اپنی بساط اور حالات کے مطابق کر سکتا ہے۔\n\nامداد کے متعلق ایک بہت پرانا اور نہایت پامال اور فرسودہ مقولہ ہے، تاہم یاد رکھنے کے قابل ہے۔ دامے، قدمے، سخنے۔ جس کسی نے یہ مقولہ بنایا تھا وہ بڑا دانشمند تھا۔ اس کی عقل مندی اس ترتیب میں ہے جو اس نے قائم کی ہے۔ سب سے مقدم ’’دامے’‘ کو رکھا ہے۔ یہ بڑا ٹیڑھا معاملہ ہے۔ کہتے ہیں ’’دینا‘‘ بڑی مشکل ہے لیکن ’’لینا‘‘ بھی کچھ آسان نہیں۔ اس مشکل کو آسان کیجئے۔ دینے کی عادت ڈالیے اور اتنا دل کھول کردیجیے کہ مانگنے کی حاجت نہ رہے۔ دوسرا درجہ ’’قدمے’‘ کا ہے یعنی جو دام نہیں دے سکتے وہ جد و جہد اور سعی کریں۔ آخری وجہ ’’سخنے’‘ کا ہے۔ لیکن آج کل معاملہ بر عکس ہو گیا ہے۔ ’’سخنے’‘ اول ہو گیا ہے اور ’’دامے’‘ آخر۔ ہم باتیں بہت کرتے ہیں اور کام کم۔\n\nزیادہ تقریریں کرنے سے قوت عمل ضعیف ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے کام ضعیف ہیں۔ جو شخص اور قومیں کام سے جی چراتی ہیں انہیں کبھی آزادی نصیب نہیں ہو سکتی۔ انسان کی نجات استقلال سے محنت اور کام کرنے میں ہے۔ کسی کو باتیں اور تقریریں کرنے کا حق نہیں۔ جس نے کچھ کرکے نہ دکھایا ہو۔ خالی باتیں طبل تہی کی آوازیں ہیں۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ہمارے گھروں، کالجوں اور چائے خانوں اور دفتروں میں جلی قلم سے جگہ جگہ یہ لکھ دیا جائے، ’’باتیں کم اور کام زیادہ۔’‘\n\nفردوسی نے کیا خوب کہا ہے،\nبزرگی سراسر ز گفتار نیست\nدو صد گفتہ چوں نیم کردار نیست", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88"} {"title": "حامیان ہندی اور ان کا مغالطہ", "poet_page": "مصنف:وحید الدین سلیم", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "۱۸ اپریل ۱۹۰۰ء کو جو رزولیوشن گورنمنٹ اضلاع شمال و مغرب اودھ نے عدالتوں میں ناگری حروف کے جاری کرنے کے باب میں نافذ کیا تھا، اس نے صوبہ جاتِ متحدہ کے عام باشندوں میں کچھ کم تہلکہ نہیں ڈالا تھا کہ ۳۰جون ۱۹۰۰ء کے دوسرے رزولیوشن نے جس کا منشا یہ تھا کہ ناگری حروف کے ساتھ ہندی زبان بھی عدالتوں میں جاری کی جائے، پہلے سے بہت زیادہ اضطراب اور ہنگامہ پیدا کر دیا ہے۔\n\nہماری مراد تہلکہ، اضطراب اور ہنگامہ کے الفاظ سے یہ نہیں ہے کہ عام لوگوں میں گورنمنٹ کی طرف سے کوئی بددلی پائی جاتی ہے یا وہ گورنمنٹ کے خلاف بغاوت کرنے پر آمادہ ہیں۔ نہیں نہیں، ہرگز نہیں۔ ہماری مراد صرف اسی قدر ہے کہ صوبہ جات متحدہ کے وہ تمام باشندے، مذہباً ہندو ہوں یا مسلمان مگر ان کی زبان ایک ہے اور وہ زبان اردو یا ہندوستانی ہے، موجوہ فرماں روا کے ان احکام کو اپنے لیے سخت مضر، اپنی زبان اور لٹریچر کے لیے سخت ہولناک تصور کرتے ہیں۔ ان میں بجائے خاموشی اور سکوت کے ایک عام بے قراری اور بےچینی پائی جاتی ہے اور وہ اس بات پر کمربستہ نظر آتے ہیں کہ موجودہ فرماں روا نے جن غلط واقعات اور کمزور دلائل سے بعجلت یہ امر فیصل کیا ہے، ان کی صحیح واقعات اور مضبوط دلائل سے تردید کی جائے اور اس غلط فہمی کو دور کیا جائے جو ان احکام کے جاری کرنے کے وقت پیدا ہوئی ہے اور ان خطرات سے متنبہ کیا جائے جو آئندہ پیدا ہوں گے۔\n\nاس میں کچھ شک نہیں کہ عام خیالات کا معلوم ہونا گورنمنٹ کے لیے نہایت مفید ہے۔ اگر محکوم قوموں کے دلی خیالات گورنمنٹ کو نہ معلوم ہوں اور وہ بخارات کی طرح اندر ہی اندر گھٹتے رہیں تو ان کا ایک دم سے پھوٹ نکلنا ملک کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ ہم کو فخر ہے کہ ہم ایک ایسی آزاد اور روشن خیال گورنمنٹ کے سایہ میں رہتے ہیں جو ہماری شکایتوں پر کان لگاتی ہے۔ ہماری تکلیفوں کا علاج کرتی ہے۔ ہمارے دلی خیالات کو اندر ہی اند رگھٹنے نہیں دیتی بلکہ وہ تاکید کرتی ہے کہ ہم ان کو کھلم کھلا بیان کریں۔ اگر گورنمنٹ کے احکام کے سمجھنے میں ہم سے کوئی غلط فہمی ہو جائے تو وہ غلط فہمی اسی طریقے سے دور ہو سکتی ہے اور اگر گورنمنٹ سے احکام کے صادر کرنے میں کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو وہ غلطی بھی اسی طرح رفع ہونی ممکن ہے۔ سلطنتِ برطانیہ بلند آواز سے پکارتی ہے کہ اے ہر قوم اور ہر مذہب کے باشندو! تم میری حکومت میں آزاد ہو۔ تم ایک حاکم کے غلط فیصلہ کو دوسرے حاکم کے سامنے پیش کر سکتے ہو جو اس سے بھی بالاتر ہے۔ اور اگر وہ بھی غلطی کرے تو تیسرے حاکم سے رجوع کر سکتے ہو اور اگر تمام حکام کے فیصلوں سے ناراض ہو تو آؤ اس مادرِ مہربان کے سامنے اپنے دلی خیالات ظاہر کرو، جو تم پر اور ان سب پر حکومت کرتی ہے اور جس کا فیصلہ انصاف ہی نہیں بلکہ رحم پر مبنی ہوگا۔\n\nصوبہ جات متحدہ کے عام باشندوں کو، جن کی زبان اردو یا ہندوستانی ہے اور جن میں ہندو اور مسلمان دونوں قوموں کے باشندے شامل ہیں، سخت تعجب اس بات پر ہے کہ ہزآنر نواب لفٹننٹ گورنر اضلاع شمال و مغرب و اودھ نے ۲مارچ ۱۸۹۸ء کو حامیانِ ناگری کے میموریل کے جواب میں جو اسپیچ کی تھی، اس میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ حامیانِ ناگری اس زبان کو تبدیل کرنا نہیں چاہتے جو عدالتوں میں رائج ہے بلکہ وہ اس خط کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں جس میں وہ زبان لکھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ۱۸ اپریل کے رزولیوشن کو نافذ کرنے کے وقت خود نواب ممدوح نے بھی اس امر کا اقرار کیا ہے کہ یہ رزولیوشن ہندی حروف کے عدالتوں میں جاری کرنے سے متعلق ہے۔ ہندی زبان سے اس کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ پھر آخر کیا وجہ اس بات کی پیش آئی کہ ۲۱ جون ۱۹۰۰ء کے رزولیوشن میں ہندی زبان اور ناگری حروف دونوں کو عدالتوں میں جاری کرنے کا حکم صادر کیا گیا ہے۔ حالاں کہ اس حکم کا ایک جز میموریل پیش کرنے والوں کی خواہش سے بھی زیادہ ہے۔\n\nدوسرا تعجب حامیانِ اردو یا عام باشندگانِ ملک کو اس بات پر ہے کہ اسی اسپیچ میں ہز آنر نے فرمایا تھا کہ بہ نسبت صوبۂ بہار کے ان اضلاع میں ناگری حروف عدالتوں میں جاری کرنے کے باب میں سخت مشکلات حائل ہیں۔ صوبۂ بہار میں تبدیلی کا زمانہ ہر شخص کے لیے جس کو اس کام سے تعلق تھا، نہایت پریشانی اور دقت کا زمانہ تھا اور یہ تبدیلی سرکاری زندگی کی ایک نسل میں پوری ہوئی تھی۔ جب اس صوبہ میں جہاں مغلوں کی حکومت کا اثر کم تھا، جہاں سرکاری ملازمت میں ہندو بہ نسبت مسلمانوں کے زیادہ ہیں، اس قدر مشکلات پیش آئیں تو خیال کرنا چاہیے کہ ان اضلاع میں ناگری حروف عدالتوں میں جاری کرنے میں کیسی ہولناک مشکلیں پیش آئیں گی۔ اس بات کی کوئی اشد ضرورت نہیں ہے کہ ہم جلدی کریں یا ہم غور و تامل کے ساتھ عمل نہ کریں اور ان شخصوں کے مطالب اور خیالات کا مناسب لحاظ نہ کریں، جو اس تبدیلی کے مخالف ہیں۔\n\nیہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ تین سو برس کارواج ایک دن میں موقوف نہیں ہو سکتا۔ ہم کو کوئی ایسی بات جو واقعات کے برخلاف اور تین سوبرس کے رواج کو تہ و بالا کرنے والی ہے، جلدی کے ساتھ نہیں کرنی چاہیے بلکہ جو کچھ کرنا ہے اس کو غور و تامل اور پوری تحقیقات کے بعد کرنا واجب ہے۔ دو برس کا قلیل عرصہ ہوا جب کہ یہ اسپیچ ایک عام مجمع کے سامنے کی گئی تھی۔ اب اس کے خلاف وہ رزولیوشن پاس ہوا ہے جو اس اسپیچ کو بے معنی قرار دیتا ہے اور ہر شخص کو حیرت ہے کہ اگر صوبۂ بہار کی نسبت ان اضلاع میں ناگری حروف کی عدالتوں میں جاری کرنے کے باب میں سخت اور ہولناک مشکلات حائل تھیں تو وہ مشکلات اب کس طرح دور ہو گئیں اور حروف تو ایک طرف، عدالتوں کی زبان بھی نہایت آسانی کے ساتھ کس طرح ایک دم سے تبدیل کر دی گئی۔\n\nکیا اب یہ ثابت ہو گیا کہ یہاں بھی ہندوؤں اور مسلمانوں میں سرکاری ملازمت کے لحاظ سے وہی نسبت ہے جو صوبۂ بہار میں تھی؟ کیا اس اسپیچ کے بعد کسی تاریخ میں ہزآنر نے پڑھ لیا ہے کہ ان اضلاع پر بھی مثل صوبۂ بہار کے مغلوں کی حکومت کا اثر کم ہوا تھا؟ کیا اب کوئی اشد ضرورت غوروکامل کی باقی نہیں رہی؟ کیا اس بات کی کوئی حاجت نہیں رہی کہ ان شخصوں کے مطالب اور خیالات کا مناسب لحاظ کیا جائے جو اس تبدیلی کے مخالف ہیں؟ کیا ایسے ناگہانی واقعات پیش آ گئے ہیں جو تین سو برس کے رواج کو ایک دم سے الٹ دینے پر مجبور کر رہے ہیں؟ کیا اس تہلکہ میں ڈالنے والے رزولیوشن کے جاری کرنے سے پیشتر کامل تحقیقات کر لی گئی ہے کہ عام باشندگانِ ملک کے خیالات اس تبدیلی کی نسبت کیا ہیں اور اس تبدیلی کا عام حالاتِ ملک پر کیا اثر ہوگا؟\n\nاکثر باشندگانِ ملک کا، جن میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں اور جو اردو یا ہندوستانی زبان تحریر اور تقریر میں عام طور سے استعمال کرتے ہیں، یہ خیال ہے، ہزآنر نے ان خیالات کو جو اسپیچ میں ظاہر کیے گئے تھے، غالباًبلا کسی کافی وجہ کے یکایک تبدیل کر دیا ہے اور نہایت عجلت کے ساتھ بلاکسی کامل تحقیقات یا غوروتامل کے فیصلہ صادر فرمایا ہے۔ یہ افسوس ناک خیال عام اور خاص طبقوں میں پھیلتا جاتا ہے مگر بعض لوگوں کا خیال یہ بھی ہے کہ ہزآنر کی نیت معدلت گستری اور انصاف پرستی کے سوا کچھ نہ تھی۔ یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ اس نیک نیتی پر ان کے قلم سے ایسے احکام صادر ہوئے جو اہل ملک کے لیے مضرت رساں ہیں۔ اگرچہ انہوں نے عام باشندگانِ ملک یا حامیانِ اردو کے خیالات اور دلائل و واقعات سننے کی تکلیف گوارہ نہیں فرمائی، تاہم بجائے خود غور و تامل کے ساتھ تحقیق کرکے کچھ اعداد ضرور جمع کر لیے ہیں۔ جو افسوس ہے کہ ان کے صادر کردہ رزولیوشن کی تائید میں دلائل نہیں ہو سکتے۔\n\nیہی سبب ہے کہ تمام ملک میں ہر طرف سے یہ صدا آرہی ہے کہ یہ رزولیوشن ملک کی عام زبان اور عام لٹریچر کے لیے، محتلف گروہوں اور فرقوں کے عام اتحاد و ہم دردی کے لیے، اہل ملک کی دماغی اور ذہنی ترقی اور نشوونما کے لیے، عدالتوں اور محکموں سے تعلق رکھنے والے باشندوں کے لیے سخت ہولناک اور مضرت رساں ہے۔ ہم اس موقع پر ان قوی سے قوی دلائل کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں، جو اس رزولیوشن کی تائید میں بیان کی گئی ہیں اور ان دلائل کو پیش کرنا بھی اپنا فرض جانتے ہیں جو اس رزولیوشن کے خلاف عام باشندگانِ ملک ی طرف سے ظاہر کی جاتی ہیں۔\n\nسب سے قوی دلیل جو ہندی کی تائید میں بیان کی جاتی ہے اور جس کو ہزآنر نے بھی اپنی اسپیچ میں بیان کیا ہے، یہ ہے کہ ڈاکٹر گریریسن نے جو ہندوستان کی زبانوں کی تحقیقات پر گورنمنٹ کی طرف سے مامور ہوئے تھے، صوبہ جاتِ متحدہ کے چار کروڑ پچاس لاکھ باشندوں کی زبان ہندی یا ہندی کی کوئی شاخ قرار دی ہے۔ حامیانِ ہندی اس قول کو مستند مان کر دعویٰ کرتے ہیں کہ جب چار کروڑ ستر لاکھ باشندوں میں سے چار کروڑ پچاس لاکھ باشندے ہندی زبان بولتے ہیں تو گورنمنٹ کے محکموں اور عدالتوں میں ہندی زبان ہونے سے صوبہ جاتِ متحدہ کے بہت بڑی تعداد کے باشندوں کو فائدہ پہنچےگا۔ یہ دلیل ہمارے نزدیک نہایت کمزور اور سخت غلطی پر مبنی ہے۔ ہمارے نزدیک صوبہ جاتِ متحدہ کی عام زبان ہندوستانی ہے اور اس کی دو ممتاز شکلیں ہیں، جن کا نام اردو اور ہندی ہے۔ اردو وہ ہندوستانی ہے جو شائستہ اور تعلیم یافتہ اور شہری باشندوں کی زبان ہے اور ہندی وہ ہندوستانی ہے جو جاہل اور ناتربیت یافتہ اور دہقانی گروہوں میں بولی جاتی ہے۔ ہندی کی نو شاخیں ہیں۔ جن کے نام حسب ذیل ہیں۔\n\n(۱) برج بھاشا۔\n(۲) کوسلی\n(۳) قنوجی\n(۴) تاہرو\n(۵) بھوگسا\n(۶) بیسواری\n(۷) بھوجپوری\n(۸) بندھیلی\n(۹) بگھیلی\n\nیہ بولیاں مختلف اضلاع میں بولی جاتی ہیں۔ جو شخص فلالوجی (علم اللسان) کے اصولوں سے آگاہ ہے، وہ یہ جانتا ہے کہ ان بولیوں میں سے کوئی بولی مستقل زبان نہیں ہو سکتی، جو اردو سے علیحدہ کوئی زبان قرار دی جائے۔ ایک بولی کو دوسری بولی سے جدا اور مستقل قرار دینے کا اصول یہ ہے کہ دونوں بولیوں کی صرف و نحو پر غوروتامل کی نظر ڈال کر دیکھا جائے کہ آیا دونوں کی صرف و نحو میں کوئی بین فرق ہے یا نہیں۔ اگر کوئی بین فرق پایا جائے تو ان کو جدا جدا اور مستقل زبانیں تسلیم کرنا چاہیے، ورنہ دونوں میں سے ایک کو دوسری بولی کی شاخ یا دونوں کو کسی اور بولی کی شاخ قرار دینا چاہیے۔ مثلاً اس انگریزی میں جو لندن میں بولی جاتی ہے اور ان بولیوں میں جو انگلش چینل کے جزیروں یا انگلستان کی کونٹیوں میں بولی جاتی ہیں، گرامر کا کوئی بین فرق نہیں ہے۔ اس لیے ان کو کوئی مستقل زبانیں قرار نہیں دے سکتا بلکہ ان کو عام انگریزی زبان کی شاخیں کہا جاتا ہے۔\n\nانگریزی میں عام زبان کو لنگوج اور اس کی بولیوں کو ڈائی لکٹ کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے ہندوستانی ایک لنگوج یعنی مستقل زبان ہے اور اردو اور ہندی اس کی دو شکلیں ہیں، جن میں سے ایک اعلیٰ اور مہذبانہ اور دوسری ادنی اور وحشیانہ شکل ہے اور ہندی کی نو شاخیں جن کا نام ہم لکھ چکے ہیں، علیحدہ اور مستقل زبانیں نہیں ہیں بلکہ وہ عام زبان ہندوستانی کی شاخیں یا بولیاں یا ڈائی لکٹ ہیں۔ اردو زبان اور ہندی کی بولیوں میں صرف و نحو کاکوئی بین فرق نہیں ہے۔ اردو کے افعال و روابط وہی ہیں جو ہندی کے ہیں اور جس طرح اردو میں مختلف زبانوں کے الفاظ شامل ہیں، اسی طرح ہندی بھی مختلف زبانوں کے الفاظ سے مرکب ہے۔ اردو اور ہندی میں اگر کوئی فرق ہے تو صرف اس قدر ہے کہ اردو کے بولنے والے شائستہ اور تعلیم یافتہ اور شہری باشندے ہیں، اس لیے اس میں فارسی اور عربی الفاظ کی زیادہ آمیزش ہے، برخلاف اس کے ہندی کے بولنے والے دیہات کے باشندے اور اکثر ناتربیت یافتہ اور جاہل ہیں، اس لیے کہ اس میں عربی اور فارسی الفاظ کی آمیزش زیادہ نہیں ہے۔\n\nپس ہندی مع اپنی شاخوں کے نہ کوئی مستقل زبان ہے، نہ اس کی صرف و نحو اردو کی صرف و نحو سے جداگانہ ہے، نہ اس میں اردو کی طرح کوئی مستقل لٹریچر ہے۔ یہ اس ہندی کاذکر ہے جس پر ڈاکٹر گریریسن نے بحث کی ہے اور جس کے بولنے والوں کی تعداد (۴۵) ملین بتائی گئی ہے۔ مگر وہ ہندی جس کو ہز آنر عدالتوں میں جاری کرنا چاہتے ہیں، اس رائج ہندی سے بالکل جدا ہے۔ اس کے بولنے والوں کی آبادی صوبہ جاتِ متحدہ کے کسی حصہ میں نہیں ہے۔ نہ کبھی اس کے بولنے والے کسی خطہ میں موجود تھے۔ وہ ایک مصنوعی زبان ہے، جس کا صرف کتابوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس کو کوئی شخص جو اس صوبہ کا باشندہ ہو، نہ بولتا ہے نہ سمجھ سکتا ہے۔ بیانِ بالا سے صاف طور پر ظاہر ہو گیا کہ صوبہ جاتِ متحدہ کی عام زبان ایک ہی ہے جس کا اصلی نام ہندوستانی ہے۔ اگر اس کے اعلیٰ حصہ یعنی لٹریچر کی طرف خیال کیا جائے تو اس لحاظ سے اس کو اردو کہہ سکتے ہیں اور اگر اس کے ادنی حصہ یعنی ناتربیت یافتہ گروہ کی عام بولی پر لحاظ کیا جائے تو اسی کو ہندی بھی کہہ سکتے ہیں۔\n\nپس ہندوستانی، اردو اور ہندی کے الفاظ سے جدا جدا زبانیں مراد نہیں ہیں بلکہ صرف ایک ہی زبان مراد ہے، جس کی مختلف حالتوں پر لحاظ کرنے سے مختلف نام رکھ لیے گئے ہیں۔ اگر اس زبان کی اعلیٰ حالت کا لحاظ کیا جائے یعنی یہ خیال کیا جائے کہ اس میں اظہارِ خیالات کی قوت ہے اور ادائے مطلب کی قابلیت ہے تو سوائے اردو کے ہندوستانی کی کوئی فارم (جس میں ہندی مع اپنی نوشاخوں کے شامل ہے اور جس میں کوئی لٹریچر نہیں ہے) اس قابل نہیں ہے کہ اس کو قانونی یا علمی زبان تسلیم کیا جائے۔ اگر ہندی کی شاخوں میں سے جو فی الحقیقت ہندوستانی زبان کے ادنی درجہ کی بولیاں ہیں، کوئی شاخ اس غرض کے لیے منتخب کی جائے تو دوسری شاخوں کو بھی وہی حق حاصل ہوگا جو اس شاخ کو ہے۔ اور اگر مختلف اضلاع کی عدالتوں میں اِن ادنی بولیوں کو جاری کر دیا جائے تو سوائے دقتوں اور پیچیدگیوں کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بالفرض اگر انگلستان کی کونٹیوں میں جو عدالتیں ہیں، ان میں کونٹیوں کی بولیاں جو انگریزی زبان کی ادنی درجہ کی شاخیں ہیں۔ جاری کر دی جائیں تو کیا ایسا کرنا حماقت پر مبنی نہ ہوگا۔\n\nاس تمام بیان کا نتیجہ یہ ہے کہ عدالتوں کی زبان ایک ہونی چاہئے اور وہ عام زبان ہو، جس کے ذیل میں مختلف ادنی درجے کی بولیاں آ جائیں اور وہ عام زبان ان صوبہ جات کے لیے اردو یا ہندوستانی ہی ہو سکتی ہے۔ اسی عام زبان کے بولنے والے (۴۵) ملین باشندے ہیں اور اسی کو بلحاظ اس کی ادنی درجہ کی شاخوں کے ہندی کہا جاتا ہے۔ پس جب یہ ثابت ہو گیا کہ صوبہ جاتِ متحدہ کی کوئی بولی جس کو ہندی کہا جاتا ہے اور جو کسی رقبہ میں بولی جاتی ہے، اردو یا ہندوستانی زبان سے کوئی جدا اور مستقل زبان نہیں ہے تو یہ کہنا کہ چار کروڑ پچاس لاکھ باشندوں کی زبان ہندی یا ہندی کی کوئی شاخ ہے، حامیانِ اردو کے دعوے کے لیے بہت بڑی تائید ہے اور اس دلیل سے حامیانِ ہندی کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔\n\nہم بیان کر چکے ہیں کہ جو ہندی انگریزوں کے نزدیک مستند اور ہندی گرامر کے روسے ٹھیک ہندی ہے اور جس کو ہزآنر عدالتوں میں جاری کرنا چاہتے ہیں، اس سے ہندوستانی کے لوگ محض ناآشنا ہیں۔ نہ وہ کسی خطہ میں بولی جاتی ہے نہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کو عدالتوں میں جاری کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ قدیم انگلو سکسن کو انگلستان کی عدالتوں میں جاری کرنا۔ یا لاطینی زبان کو ملک اٹلی کے سرکاری دفتروں میں رائج کرنا یا افلاطون اور سقراط کی یونانی کو یونان کے موجودہ محکموں کی زبان قرار دینا۔ عدالتوں میں اس ہندی کے جاری کرنے سے گو ہزآنر کے نزدیک (۴۵) ملین باشندے مستفید ہوں گے مگر ہمارے نزدیک اس سے فائدہ حاصل کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو منو کے دھرم شاستروں کو اس کی اصلی زبان میں پڑھ سکتے ہیں۔\n\nحامیانِ اردو اپنے مخالفوں کی مذکورہ بالا دلیل کے مقابلہ میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اردو زبان سے زیادہ کوئی زبان اس صوبہ میں عام طور پر مستعمل نہیں اور اس کی دلیل وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اگر صوبہ جاتِ متحدہ کے ڈا ک خانوں میں تحقیقات کی جائے تو معلوم ہو جائےگا کہ سب سے زیادہ تعداد کے خط جس زبان میں ڈاک پر روانہ ہوتے ہیں، وہ اردو یا ہندوستانی کے سوا کوئی زبان نہیں ہے۔ اسی طرح اگر مطابع کی فہرستوں کو ٹٹولا جائے تو سب سے زیادہ تعداد کی کتابیں اسی زبان میں ملیں گی۔ اخبارات اور رسالے اسی زبان میں سب سے زیادہ تعداد کے چھاپے جاتے ہیں۔ ہنود کی مذہبی کتابوں مہابھارت، رامائن، ویدوں اور شاستروں وغیرہ کا اس زبان میں ترجمہ ہو جانا اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ یہ زبان مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ ہندو بھی اسی زبان کو اپنی مادری زبان تصور کرتے ہیں اور اس میں علوم عامہ کے علاوہ اپنی دینیات کو بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ علاوہ ان ترجموں کے ہندو قوم کے بڑے بڑے لائق تعلیم یافتہ اور روشن ضمیر لوگ اوریجنل تصنیفات بھی اسی زبان میں کرتے ہیں اور اس زبان کے بہت سے مشہور مصنف اور ناولسٹ اس قوم میں موجود ہیں۔\n\nاضلاع شمال و مغرب و اودھ ہی میں یہ زبان علمی مقاصد کے لیے مستعمل نہیں ہے بلکہ اس زبان کے اخبارات، رسالے اور کتابیں پنجاب، بہار، بنگال، بمبئی، مدراس، حیدرآباد اور دیگر ریاستہائے ہندوستان سے شائع ہوتی ہیں اور اگر ہندوستان کے ایک خطہ کا باشندہ دوسرے خطہ کے باشندے سے گفتگو کرنا چاہے تو دونوں اپنا مافی الضمیر اسی زبان میں ادا کر سکتے ہیں اور اس زبان کے سوا ہندوستان کی کسی اور زبان سے یہ مطلب حاصل نہیں ہو سکتا۔ اسی سبب سے تمام ہندوستان میں اس زبان کو وہی رتبہ حاصل ہے جو فرانسیسی زبان کو تمام یورپ میں اور جس طرح فرنچ کو یورپ کی لنگوافر نکا کہا جاتا ہے، اسی طرح یہ زبان اور صرف یہی زبان ہندوستان کی لنگوا فرنکا کہلاتی ہے۔\n\nحامیان ہندی کی طرف سے ایک اور زبردست دلیل ہندی زبان کی حمایت میں پیش کی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ بنگال، مدراس، بمبئی، مملک متوسط اور صوبۂ بہار میں بہ نسبت پنجاب اور صوبہ جات متحدہ کی ابتدائی تعلیم کو اس سبب سے زیادہ ترقی ہوئی ہے کہ ان صوبوں میں وہاں کی دیسی زبانیں اسکولوں میں جاری نہیں۔ چوں کہ پنجاب اور صوبہ جات متحدہ میں ان صوبوں کی دیسی زبانوں میں تعلیم دی جاتی ہے، اس سبب سے ابتدائی تعلیم کو بہ نسبت دیگر صوبہ جات مذکورۂ بالا کے زیادہ ترقی ہوئی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ دلیل بھی سخت مغالطہ پر مبنی ہے۔\n\nحامیانِ ہندی نے جو اعداد ابتدائی تعلیم کی نسبت صوبہ جاتِ ہندوستان میں دکھانے کے لیے پیش کیے ہیں، ہم انہیں اعداد کو پیش نظر رکھ کر ان سے یہ سوال کرتے ہیں کہ مدراس میں بہ نسبت صوبۂ بمبئی کے ابتدائی تعلیم سہ چند سے زیادہ کیوں ترقی کر گئی ہے؟ اسی طرح بنگال کی نسبت بھی ہم سوال کرتے ہیں کہ بہ نسبت صوبہ بمبئی کے اس صوبہ میں ابتدائی تعلیم آٹھ گنی کے قریب کیوں ہے؟ اگر اس سوال کے جواب میں کوئی سبب بتانا ممکن ہے تو وہی سبب ہماری طرف سے صوبہ جاتِ متحدہ اور پنجاب میں ابتدائی تعلیم کے نسبتاً کم ترقی کرنے کا ہوگا۔ پس جو دلیل حامیانِ ہندی نے پیش کی ہے اس سے یہ ثابت کرنا ناممکن ہے کہ وہ علمی ہندی جس کو وہ اسکولوں یا عدالتوں میں جاری کرنا چاہتے ہیں، صوبہ جات متحدہ کی دیسی زبان ہے اور اس کے اسکولوں میں جاری نہ ہونے سے ابتدائی تعلیم کی رفتار اِن صوبہ جات میں بہ نسبت دیگر صوبہ جات کے سست ہے۔\n\nمذکورہ بالا دو دلیلیں جو ہم نے بیان کیں، وہ حامیانِ ہندی کے نزدیک سب سے قوی اور مضبوط دلیلیں ہیں۔ اور ان سے وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ صوبہ جات متحدہ کی آبادی کا کثیر حصہ ہندی زبان اور ہندی خط کو استعمال کرتا ہے اور اگر اس زبان اور اس خط کو عدالتوں اور اسکولوں میں جاری کر دیا جائے تو عدالتی کاروبار میں ترقی ہوگی اور ابتدائی تعلیم کی رفتار تیز ہو جائےگی۔ مگر ہم ثابت کرچکے ہیں کہ دونوں دلیلیں سخت مغالطہ پر مبنی ہیں۔ جو ہندی کثیر حصہ آبادی کی زبان بتائی جاتی ہے، وہ ہندوستانی اور اردو کے ساتھ ہم معنی ہے اور اس سے جدا ہوکر وہ کوئی مستقل زبان شمار نہیں ہو سکتی۔ اور جس ہندی کو وہ عدالتوں میں جاری کرنا چاہتے ہیں، وہ ایک مردہ زبان ہے اور صرف کتابوں میں مستعمل ہوتی ہے اور اس کے استعمال کرنے والے اس قدر نہیں ہیں، جن کی تعداد پر (۴۵) ملین کا لفظ صادق آ سکے اور اس کے بولنے والے تو ہندوستان بھر کے کسی صوبہ میں موجود نہیں ہیں۔\n\nیہی علمی ہندی اسکولوں میں بھی اس نظر سے جاری کرائی جاتی ہے کہ وہ عام باشندوں کی زبان ہے اور اس کے جاری کرنے سے ابتدائی تعلیم کو ترقی ہوگی اور اس کے تعلیم میں رائج نہ ہونے سے ابتدائی تعلیم کی رفتار بہ نسبت دیگر صوبہ جات کے بہت سست ہے، صاف ظاہر ہے کہ جب علمی ہندی اس صوبہ کے باشندوں کی زبان نہیں ہے اور اس کے بولنے والے ان صوبہ جات میں موجود نہیں ہیں تو اس کے اسکولوں میں جاری کرنے سے کوئی عمدہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ اور یہ ایک مغالطہ ہے جس کی مثال منطق میں دی گئی ہے۔ یعنی دعوے اور دلیل میں ایک ہی لفظ استعمال کرنا اور جو معنی اس لفظ کے دعوے میں لیے گئے ہیں، اس کے برخلاف دلیل میں دوسرے معنی مراد لینا۔ ممکن ہے کہ ہزآنر اس مغالطہ کو نہ سمجھیں۔ مگر یہ ممکن نہیں ہے کہ ہرشخص اسی طرح غلطی کرے جس طرح کہ ہزآنر نے کی ہے۔\n\nصوبہ جات متحدہ کی زیادہ حصہ آبادی کی ہندی زبان قرار دینے پر ان دلائل سے زیادہ کوئی اور مضبوط دلیل، جو حامیانِ ہندی نے پیش کی ہو، ہماری نظر سے نہیں گزری، البتہ اردو خط پر بعض اعتراض کیے گئے ہیں اور ناگری خط کی بہت سی خوبیاں چمکاکر دکھائی گئی ہیں۔ مگر وہ اعتراض نہایت بودے اور کمزور ہیں اور بارہا ان کا دنداں شکن جواب حامیانِ اردو کی طرف سے دیا گیا ہے اور ناگری خط پر بھی علمائے یورپ ہی کے اعتراض پیش کیے گئے ہیں۔ ہمارے نزدیک خط کی بحث اس حالت میں محض بے سود ہے جب کہ ایک زندہ اور مردہ زبان کی نسبت بحث ہو۔ اردو ایک زندہ زبان ہے، اس لیے اس کا خط بھی زندہ ہے۔ ہندی زبان سینکڑوں برس سے مردہ ہو چکی ہے اور اس کا خط بھی مردہ خطوں میں شامل ہے۔ جب کہ عدالتوں اور اسکولوں میں وہی زبان جاری کرنی انسب ہے، جس کو فی الحقیقت بہت سے لوگ عام مقاصد اور علمی مقاصد میں استعمال کرتے ہیں تو اردو زبان کے سوا کوئی زبان اس قابل نہیں ہے اور وہ ایک زندہ زبان اور تحریر و تقریر میں کثرت کے ساتھ مستعمل ہے۔\n\nاس کے خط پر کوئی اعتراض کرنا اور اس اعتراض کا کوئی جواب دینا خارج ازبحث ہے۔ جو زبان زندہ ہے، اس کا خط کیسا ہی مشکل اور کیسا ہی ناقص ہو، اس کی جگہ کوئی مردہ زبان نہیں لے سکتی۔ نہ اس کے خط کی جگہ کسی مردہ خط کو، اگرچہ وہ کیسا ہی موزوں اور مکمل ہو، جاری کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا کرنا ممکن ہے اور اگر ایسا کرنا بہبودی عوام کے لیے مناسب ہے تو کیا وجہ اس بات کی ہے کہ یورپین زبانوں کی طرز تحریر میں جو دشواریاں ہیں اور جن کو تمام علمائے یورپ تسلیم کرتے ہیں، ان کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی اور ان زبانوں کی جگہ ممالک یورپ کی عدالتوں اور اسکولوں میں کوئی مکمل زبان اور ان کے خطوط کی جگہ کوئی مکمل خط تجویز نہیں کیا جاتا۔ حامیانِ اردو کے نزدیک صوبہ جات متحدہ میں ایسی زبان کے استعمال کا حکم دینا جو مردہ اور متروک ہو چکی ہے اور ایسے خط کے جاری کرنے کا رزولیوشن نافذ کرنا جو عام طور سے مستعمل نہیں ہے، عام باشندوں کی بہبودی و آسائش کے بالکل برخلاف ہے۔\n\nجب ہم سنتے ہیں کہ اس رزولیوشن سے ہزآنر کو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفاق پھیلانا اور دائمی جنگ و جدل قایم کرنا مقصود ہے اور بجائے ایک متحدہ اور مشترک لٹریچر کے دو مختلف لٹریچر پیدا کرنے منظور ہیں، جن میں سے کوئی بھی ترقی نہیں کرےگا تو ہم کو سخت افسوس ہوتا ہے۔ ہم عوام الناس کے ہم زبان نہیں ہیں مگر یہ ضرور سمجھتے ہیں اور ایسا سمجھنے کی وجہ رکھتے ہیں کہ نتیجہ اس ہولناک رزولیوشن کا وہی ہوگا جو بیان کیا جاتا ہے۔ یہ رزولیوشن بے شک مسلمانوں اور ہندوؤں کے اتحاد کو برباد کرنے والا، ان کے مشترک لٹریچر کو ملیامیٹ کرنے والا اور معاملاتِ عدالت میں خلط مبحث پیدا کرنے والا ہے۔ اگر اس رزولیوشن کو ہزآنر منسوخ کریں گے اور اس قدیم پالیسی کو قایم رہنے دیں گے جو رعایا کے مختلف ریجنس فرقوں کے درمیان ہمدردی پیدا کرنے والی ہے، تو یہ ہزآنر کے عہدِ حکومت کی ایک یادگار ہوگی۔ ورنہ اس میں کچھ شک نہیں ہے کہ یہ رزولیوشن ہمیشہ اس وقت کو یاد دلاتا رہےگا جب کہ ہزآنر مثل ایک معمولی انسان کے مغالطہ میں آ گئے اور ایسی غلطی کر بیٹھے جس کا تدارک بہت مشکل ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%B7%DB%81"} {"title": "حب الوطنی", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "حب الوطنی ایک نیکی نایاب ہے اور اس سے ہماری یہ مراد نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنے ملک کو اس قدر عزیز رکھتا ہو کہ اس کو نہ چھوڑے بلکہ ہم حب وطن اس کو کہتے ہیں جو ہمیشہ اس کی رفاہ اور بہبود کی طرف مساعی ہو اور اس کے فائدے کے واسطے جان و مال کا دریغ نہ کرے۔\n\nبعض صاحب یہ کہیں گے کہ ایسی نیکی خیالی ہے، وہ وجود میں نہیں لیکن یہ محض غلط ہے۔ بہت آدمی زمانہ سابق میں ایسے ہوئے ہیں کہ انہوں نے وطن کی بہبود کے واسطے اس قدر کوشش کی ہے کہ بیان نہیں ہوسکتا اور اس زمانے میں بھی ایسے آدمی اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں کہ وہ دل وجان سے اپنے ملک کی بہبود چاہتے ہیں لیکن افسوس تو یہ ہے کہ یہ نیکی ہندوستانیوں میں نہیں پائی جاتی۔ یہاں کوئی بھی اپنے ملک کی رفاہ کے واسطے ہاتھ پیر نہیں ہلاتا اور جس کو دیکھو وہ یہ کہتا ہے کہ ہمارے کئے سے کیا ہوتا ہے۔\n\nمنجملہ اور باعث عدم وجود اس نیکی کے اہل ہند میں یہ ہے کہ یہاں کے باشندے اقوام مختلفہ میں منقسم ہیں اور مختلف مذاہب رکھتے ہیں۔ اس سبب سے کوئی ایک دوسرے کی رفاہ کا خیال نہیں کرتا۔ کم ہمتی جو اہل ہند کا خاصہ ہے، اس کے باعث سے وہ ہمیشہ غلامی میں رہے ہیں اور دیکھئے کب تک رہیں گے۔ ان کو آزاد گورنمنٹ کا تصور بھی نہیں۔ یہ اثر تعلیم کا ہے جو یہاں کے لوگ پاتے آئے ہیں۔ اہل ہند میں سے کسی کو بھی کبھی دیکھا ہے کہ وہ حب الوطنی کو کار فرما کے دخیل کاروبار گورنمنٹ ہو۔ اس حال میں یہاں کے باشندوں کو بہت ضرورت واسطے تحصیل علوم مختلفہ کی ہے، بدون اس کے ان کی آنکھیں کبھی نہیں کھلیں گی۔\n\nمطالعہ تواریخ آزاد قوموں کا سب سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ ان کی عالی ہمتی اور حب الوطنی کو دیکھ کر انھیں بھی عزم آوے اور ایک روز داغ غلامی سے بری ہوں۔ اہل اسپارٹا کو جب ہم اپنے ہم وطنوں سے مقابلہ کرکے دیکھتے ہیں تو بجز خجالت کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ تاریخ سے ایسا دریافت ہوتا ہے کہ اسپارٹا کی عورتیں اس قدر عالمی ہمت اور محب الوطن تھیں کہ ان کے حال کے سننے سے یہاں کے مردوں کو شرم آوے گی۔ ذکر ہے ملک اسپارٹاکی ایک عورت کا، جس کا لڑکا لڑائی پرچڑھا تھا، اس کی ماں نے اس کو ایک ڈھال دی اور یہ مردانہ نصیحت کی کہ یا تو اس ڈھال کو لے آئیو اور یا اس پر پڑ کر آئیو اور اس سے مراد تھی کہ لڑائی میں بھاگنے اور وہاں ڈھال کو پھینک آنے سے اس پر مردہ پڑ کر آنا بہتر ہے۔\n\nواضح ہو کہ ان لوگوں میں یہ دستور تھا جو شخص لڑائی میں مقتول ہوتا تھا اس کو ڈھال پر اٹھا لاتے تھے۔ ایک عورت نے جب سنا کہ اس کا لڑکا اپنے ملک کے واسطے لڑتے ہوئے مارا گیا تو اس نے بدون اظہار تاسف اور بھرنے آہ کے بادل شادیہ کلمہ زبان پر لایا کہ میں نے اسے اسی روز کے واسطے جنا اور پالا تھا۔\n\nلیوکرا کی لڑائی ہو چکی تھی، ان لوگوں نے جن کے لڑکے بالے اس لڑائی میں مارے گئے تھے، بت خانوں میں جاکر شکریہ جناب باری کیا اور کہا کہ ہمارے لڑکے اپنے فرض سے ادا ہوئے اور جن کے لڑکے بقید حیات رہے تھے وہ مغمو م ہوئے۔ سبحان اللہ کیا ہمت اور کیا حب الوطنی ہے کہ زبان اس کے بیان سے لال ہے۔ ایک یونانی کا قول تھا کہ آدمیوں کی فصیل خشت کی فصیل سے بہتر ہے اور وہ لوگ جو قلعہ کے اندر پناہ لیتے ہیں ان میں اور نامردوں میں کچھ فرق نہیں ہے۔\n\nایک بار بہت بڑا بادشاہ ایران کا بہ جمعیت کثیر یونان پر حملہ آور ہوا، اور تھوڑے سے آدمیوں سے کہ اس بادشاہ کی فوج کے مقابلے میں ان کی کچھ بھی حقیقت نہ تھی، ایک یونانی سردار اس کے مقابل ہوا۔ بادشاہ نے اس کو حقیر سمجھ کر کہلا بھیجا کہ تو لڑائی چھوڑ دے اور میری اطاعت کرلے۔ جواب میں سردار نے کہا کہ آ اور جو تجھ سے ہماری جان لی جاوے تو لے جا۔ دیکھو یہ کتنا دلیری کا کلام ہے، باوجود اس بات کے کہ ان لوگوں کے سر پر موت کھیلتی تھی لیکن حب الوطنی اس بات پر مقتضی نہ ہوئی کہ نامردانہ میدان جنگ سے بھاگیں اور اپنے ملک کو تباہی میں ڈالیں۔ جب بعض اشخاص نے کہا کہ شاہ ایران کی اس قدر فوج ہے کہ ان کے تیروں سے آفتاب چھپ جائےگا، اس وقت ایک یونانی نے مردانہ جواب دیا کہ پس ہم تپش آفتاب سے بچ کر سایہ میں لڑیں گے۔ یہ چند مثالیں کفایت کرتی ہیں۔ یہ تو بہت مشکل کام ہیں۔ ہمارے ہم وطن تو ادنی باتوں کی طرف جن سے رفاہ خلق متصور ہے، توجہ نہیں کرتے۔ دیکھئے ہندوستان کے کب دن پھرتے ہیں۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%B7%D9%86%DB%8C"} {"title": "حب قومی", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "حب قومی کا زباں پر ان دنوں افسانہ ہے\nبادۂ الفت سے پر دل کا مرے پیمانہ ہے\nجس جگہ دیکھو محبت کا وہاں افسانہ ہے\nعشق میں اپنے وطن کے ہر بشر دیوانہ ہے\nجب کہ یہ آغاز ہے انجام کا کیا پوچھنا\nبادۂ الفت کا یہ تو پہلا ہی پیمانہ ہے\nہے جو روشن بزم میں قومی ترقی کا چراغ\nدل فدا ہر اک کا اس پر صورت پروانہ ہے\nمجھ سے اس ہمدردی و الفت کا کیا ہووے بیاں\nجو ہے وہ قومی ترقی کے لیے دیوانہ ہے\nلطف یکتائی میں جو ہے وہ دوئی میں ہے کہاں\nبر خلاف اس کے جو ہو سمجھو کہ وہ دیوانہ ہے\nنخل الفت جن کی کوشش سے اگا ہے قوم میں\nقابل تعریف ان کی ہمت مردانہ ہے\nہے گل مقصود سے پر گلشن کشمیر آج\nدشمنی نااتفاقی سبزۂ بیگانہ ہے\nدر فشاں ہے ہر زباں حب وطن کے وصف میں\nجوش زن ہر سمت بحر ہمت مردانہ ہے\nیہ محبت کی فضا قائم ہوئی ہے آپ سے\nآپ کا لازم تہ دل سے ہمیں شکرانہ ہے\nہر بشر کو ہے بھروسا آپ کی امداد پر\nآپ کی ہمدردیوں کا دور دور افسانہ ہے\nجمع ہیں قومی ترقی کے لیے ارباب قوم\nرشک فردوس ان کے قدموں سے یہ شادی خانہ ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A8_%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C"} {"title": "حب وطن", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے سپہر بریں کے سیارو\nاے فضائے زمیں کے گل زارو\nاے پہاڑوں کی دل فریب فضا\nاے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا\nاے عنادل کے نغمۂ سحری\nاے شب ماہتاب تاروں بھری\nاے نسیم بہار کے جھونکو\nدہر ناپائیدار کے دھوکو\nتم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیز\nتھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیز\nجب وطن میں ہمارا تھا رمنا\nتم سے دل باغ باغ تھا اپنا\nتم مری دل لگی کے ساماں تھے\nتم مرے درد دل کے درماں تھے\nتم سے کٹتا تھا رنج تنہائی\nتم سے پاتا تھا دل شکیبائی\nآن اک اک تمہاری بھاتی تھی\nجو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھی\nکرتے تھے جب تم اپنی غم خواری\nدھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساری\nجب ہوا کھانے باغ جاتے تھے\nہو کے خوش حال گھر میں آتے تھے\nبیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آب\nدھو کے اٹھتے تھے دل کے داغ شتاب\nکوہ و صحرا و آسمان و زمیں\nسب مری دل لگی کی شکلیں تھیں\nپر چھٹا جس سے اپنا ملک و دیار\nجی ہوا تم سے خود بہ خود بیزار\nنہ گلوں کی ادا خوش آتی ہے\nنہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہے\nسیر گلشن ہے جی کا اک جنجال\nشب مہتاب جان کو ہے وبال\nکوہ و صحرا سے تا لب دریا\nجس طرف جائیں جی نہیں لگتا\nکیا ہوئے وہ دن اور وہ راتیں\nتم میں اگلی سی اب نہیں باتیں\nہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اور\nیا تمہارے بدل گئے کچھ طور\nگو وہی ہم ہیں اور وہی دنیا\nپر نہیں ہم کو لطف دنیا کا\nاے وطن اے مرے بہشت بریں\nکیا ہوئے تیرے آسمان و زمیں\nرات اور دن کا وہ سماں نہ رہا\nوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہا\nتیری دوری ہے مورد آلام\nتیرے چھٹنے سے چھٹ گیا آرام\nکاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرے\nگل ہیں نظروں میں داغ بن تیرے\nمٹ گیا نقش کامرانی کا\nتجھ سے تھا لطف زندگانی کا\nجو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سدا\nان کو کیا ہوگا زندگی کا مزا\nہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حال\nتجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سال\nسچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہے\nیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہے\nمیں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثار\nیا کہ دنیا ہے تیری عاشق زار\nکیا زمانے کو تو عزیز نہیں\nاے وطن تو تو ایسی چیز نہیں\nجن و انسان کی حیات ہے تو\nمرغ و ماہی کی کائنات ہے تو\nہے نباتات کا نمو تجھ سے\nروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتے\nسب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نما\nسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہوا\nتیری اک مشت خاک کے بدلے\nلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملے\nجان جب تک نہ ہو بدن سے جدا\nکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہوا\nحملہ جب قوم آریا نے کیا\nاور بجا ان کا ہند میں ڈنکا\nملک والے بہت سے کام آئے\nجو بچے وہ غلام کہلائے\nشدر کہلائے راکشس کہلائے\nرنج پردیس کے مگر نہ اٹھائے\nگو غلامی کا لگ گیا دھبہ\nنہ چھٹا ان سے دیس پر نہ چھٹا\nقدر اے دل وطن میں رہنے کی\nپوچھے پردیسیوں کے جی سے کوئی\nجب ملا رام چندر کو بن باس\nاور نکلا وطن سے ہو کے اداس\nباپ کا حکم رکھ لیا سر پر\nپر چلا ساتھ لے کے داغ جگر\nپاؤں اٹھتا تھا اس کا بن کی طرف\nاور کھنچتا تھا دل وطن کی طرف\nگزرے غربت میں اس قدر مہ و سال\nپر نہ بھولا ایودھیا کا خیال\nدیس کو بن میں جی بھٹکتا رہا\nدل میں کانٹا سا اک کھٹکتا رہا\nتیر اک دل میں آ کے لگتا تھا\nآتی تھی جب ایودھیا کی ہوا\nکٹنے چودہ برس ہوئے تھے محال\nگویا ایک ایک جگ تھا ایک اک سال\nہوئے یثرب کی سمت جب راہی\nسید ابطحیٰ کے ہم راہی\nرشتے الفت کے سارے توڑ چلے\nاور بالکل وطن کو چھوڑ چلے\nگو وطن سے چلے تھے ہو کے خفا\nپر وطن میں تھا سب کا جی اٹکا\nدل لگی کے بہت ملے سامان\nپر نہ بھولے وطن کے ریگستان\nدل میں آٹھوں پہر کھٹکتے تھے\nسنگریزے زمین بطحا کے\nگھر جفاؤں سے جن کی چھوٹا تھا\nدل سے رشتہ نہ ان کا ٹوٹا تھا\nہوئیں یوسف کی سختیاں جب دور\nاور ہوا ملک مصر پر مامور\nمصر میں چار سو تھا حکم رواں\nآنکھ تھی جانب وطن نگراں\nیاد کنعاں جب اس کو آتی تھی\nسلطنت ساری بھول جاتی تھی\nدکھ اٹھائے تھے جس وطن میں سخت\nتاج بھاتا نہ اس بغیر نہ تخت\nجن سے دیکھی تھی سخت بے مہری\nلو تھی ان بھائیوں کی دل کو لگی\nہم بھی حب وطن میں ہیں گو غرق\nہم میں اور ان میں ہے مگر یہ فرق\nہم ہیں نام وطن کے دیوانے\nوہ تھے اہل وطن کے پروانے\nجس نے یوسف کی داستاں ہے سنی\nجانتا ہوگا روئداد اس کی\nمصر میں قحط جب پڑا آ کر\nاور ہوئی قوم بھوک سے مضطر\nکر دیا وقف ان پہ بیت المال\nلب تک آنے دیا نہ حرف سوال\nکھتیاں اور کوٹھے کھول دیے\nمفت سارے ذخیرے تول دیے\nقافلے خالی ہاتھ آتے تھے\nاور بھرپور یاں سے جاتے تھے\nیوں گئے قحط کے وہ سال گزر\nجیسے بچوں کی بھوک وقت سحر\nاے دل اے بندۂ وطن ہوشیار\nخواب غفلت سے ہو ذرا بیدار\nاو شراب خودی کے متوالے\nگھر کی چوکھٹ کے چومنے والے\nنام ہے کیا اسی کا حب وطن\nجس کی تجھ کو لگی ہوئی ہے لگن\nکبھی بچوں کا دھیان آتا ہے\nکبھی یاروں کا غم ستاتا ہے\nیاد آتا ہے اپنا شہر کبھی\nلو کبھی اہل شہر کی ہے لگی\nنقش ہیں دل پہ کوچہ و بازار\nپھرتے آنکھوں میں ہیں در و دیوار\nکیا وطن کیا یہی محبت ہے\nیہ بھی الفت میں کوئی الفت ہے\nاس میں انساں سے کم نہیں ہیں درند\nاس سے خالی نہیں چرند و پرند\nٹکڑے ہوتے ہیں سنگ غربت میں\nسوکھ جاتے ہیں روکھ فرقت میں\nجا کے کابل میں آم کا پودا\nکبھی پروان چڑھ نہیں سکتا\nآ کے کابل سے یاں بہی و انار\nہو نہیں سکتے بارور زنہار\nمچھلی جب چھوٹتی ہے پانی سے\nہاتھ دھوتی ہے زندگانی سے\nآگ سے جب ہوا سمندر دور\nاس کو جینے کا پھر نہیں مقدور\nگھوڑے جب کھیت سے بچھڑتے ہیں\nجان کے لالے ان کے پڑتے ہیں\nگائے، بھینس اونٹ ہو یا بکری\nاپنے اپنے ٹھکانے خوش ہیں سبھی\nکہیے حب وطن اسی کو اگر\nہم سے حیواں نہیں ہیں کچھ کم تر\nہے کوئی اپنی قوم کا ہمدرد\nنوع انساں کا سمجھیں جس کو فرد\nجس پہ اطلاق آدمی ہو صحیح\nجس کو حیواں پہ دے سکیں ترجیح\nقوم پر کوئی زد نہ دیکھ سکے\nقوم کا حال بد نہ دیکھ سکے\nقوم سے جان تک عزیز نہ ہو\nقوم سے بڑھ کے کوئی چیز نہ ہو\nسمجھے ان کی خوشی کو راحت جاں\nواں جو نو روز ہو تو عید ہو یاں\nرنج کو ان کے سمجھے مایۂ غم\nواں اگر سوگ ہو تو یاں ماتم\nبھول جائے سب اپنی قدر جلیل\nدیکھ کر بھائیوں کو خوار و ذلیل\nجب پڑے ان پہ گردش افلاک\nاپنی آسائشوں پہ ڈال دے خاک\nبیٹھے بے فکر کیا ہو ہم وطنو\nاٹھو اہل وطن کے دوست بنو\nمرد ہو تم کسی کے کام آؤ\nورنہ کھاؤ پیو چلے جاؤ\nجب کوئی زندگی کا لطف اٹھاؤ\nدل کو دکھ بھائیوں کے یاد دلاؤ\nپہنو جب کوئی عمدہ تم پوشاک\nکرو دامن سے تا گریباں چاک\nکھانا کھاؤ تو جی میں تم شرماؤ\nٹھنڈا پانی پیو تو اشک بہاؤ\nکتنے بھائی تمہارے ہیں نادار\nزندگی سے ہے جن کا دل بیزار\nنوکروں کی تمہارے جو ہے غذا\nان کو وہ خواب میں نہیں ملتا\nجس پہ تم جوتیوں سے پھرتے ہو\nواں میسر نہیں وہ اوڑھنے کو\nکھاؤ تو پہلے لو خبر ان کی\nجن پہ بپتا ہے نیستی کی پڑی\nپہنو تو پہلے بھائیوں کو پہناؤ\nکہ ہے اترن تمہاری جن کا بناؤ\nایک ڈالی کے سب ہیں برگ و ثمر\nہے کوئی ان میں خشک اور کوئی تر\nسب کو ہے ایک اصل سے پیوند\nکوئی آزردہ ہے کوئی خورسند\nمقبلو! مدبروں کو یاد کرو\nخوش دلو غم زدوں کو شاد کرو\nجاگنے والے غافلوں کو جگاؤ\nتیرنے والو ڈوبتوں کو تراؤ\nہیں ملے تم کو چشم و گوش اگر\nلو جو لی جائے کور و کر کی خبر\nتم اگر ہاتھ پاؤں رکھتے ہو\nلنگڑے لولوں کو کچھ سہارا دو\nتندرستی کا شکر کیا ہے بتاؤ\nرنج بیمار بھائیوں کا ہٹاؤ\nتم اگر چاہتے ہو ملک کی خیر\nنہ کسی ہم وطن کو سمجھو غیر\nہو مسلمان اس میں یا ہندو\nبودھ مذہب ہو یا کہ ہو برہمو\nجعفری ہووے یا کہ ہو حنفی\nجین مت ہووے یا ہو ویشنوی\nسب کو میٹھی نگاہ سے دیکھو\nسمجھو آنکھوں کی پتلیاں سب کو\nملک ہیں اتفاق سے آزاد\nشہر ہیں اتفاق سے آباد\nہند میں اتفاق ہوتا اگر\nکھاتے غیروں کی ٹھوکریں کیوں کر\nقوم جب اتفاق کھو بیٹھی\nاپنی پونجی سے ہات دھو بیٹھی\nایک کا ایک ہو گیا بد خواہ\nلگی غیروں کی پڑنے تم پہ نگاہ\nپھر گئے بھائیوں سے جب بھائی\nجو نہ آنی تھی وہ بلا آئی\nپاؤں اقبال کے اکھڑنے لگے\nملک پر سب کے ہاتھ پڑنے لگے\nکبھی تورانیوں نے گھر لوٹا\nکبھی درانیوں نے زر لوٹا\nکبھی نادر نے قتل عام کیا\nکبھی محمود نے غلام کیا\nسب سے آخر کو لے گئی بازی\nایک شائستہ قوم مغرب کی\nیہ بھی تم پر خدا کا تھا انعام\nکہ پڑا تم کو ایسی قوم سے کام\nورنہ دم مارنے نہ پاتے تم\nپڑتی جو سر پہ وہ اٹھاتے تم\nملک روندے گئے ہیں پیروں سے\nچین کس کو ملا ہے غیروں سے\nقوم سے جو تمہارے برتاؤ\nسوچو اے میرے پیارو اور شرماؤ\nاہل دولت کو ہے یہ استغنا\nکہ نہیں بھائیوں کی کچھ پروا\nشہر میں قحط کی دہائی ہے\nجان عالم لبوں پہ آئی ہے\nبچے اک گھر میں بلبلاتے ہیں\nرو کے ماں باپ کو رلاتے ہیں\nکوئی پھرتا ہے مانگتا در در\nہے کہیں پیٹ سے بندھا پتھر\nپر جو ہیں ان میں صاحب مقدور\nان میں گنتی کے ہوں گے ایسے غیور\nکہ جنہیں بھائیوں کا غم ہوگا\nاپنی راحت کا دھیان کم ہوگا\nجتنے دیکھو گے پاؤ گے بے درد\nدل کے نامرد اور نام کے مرد\nعیش میں جن کے کٹتے ہیں اوقات\nعید ہے دن تو شبرات ہے رات\nقوم مرتی ہے بھوک سے تو مرے\nکام انہیں اپنے حلوے مانڈے سے\nان کو اب تک خبر نہیں اصلاً\nشہر میں بھاؤ کیا ہے غلے کا\nغلہ ارزاں ہے ان دنوں کہ گراں\nکال ہے شہر میں پڑا کہ سماں\nکال کیا شے ہے کس کو کہتے ہیں بھوک\nبھوک میں کیونکہ مرتے ہیں مفلوک\nسیر بھوکے کی قدر کیا سمجھے\nاس کے نزدیک سب ہیں پیٹ بھرے\nاہل دولت کا سن چکے تم حال\nاب سنو روئیداد اہل کمال\nفاضلوں کو ہے فاضلوں سے عناد\nپنڈتوں میں پڑے ہوئے ہیں فساد\nہے طبیبوں میں نوک جھوک سدا\nایک سے ایک کا ہے تھوک جدا\nرہنے دو اہل علم ہیں اس طرح\nپہلوانوں میں لاگ ہو جس طرح\nعیدو والوں کا ہے اگر پٹھا\nشیخو والوں میں جا نہیں سکتا\nشاعروں میں بھی ہے یہی تکرار\nخوشنویسوں کو ہے یہی آزار\nلاکھ نیکوں کا کیوں نہ ہو اک نیک\nدیکھ سکتا نہیں ہے ایک کو ایک\nاس پہ طرہ یہ ہے کہ اہل ہنر\nدور سمجھے ہوئے ہیں اپنا گھر\nملی اک گانٹھ جس کو ہلدی کی\nاس نے سمجھا کہ میں ہوں پنساری\nنسخہ اک طب کا جس کو آتا ہے\nسگے بھائی سے وہ چھپاتا ہے\nجس کو آتا ہے پھونکنا کشتہ\nہے ہماری طرف سے وہ گونگا\nجس کو ہے کچھ رمل میں معلومات\nوہ نہیں کرتا سیدھے منہ سے بات\nباپ بھائی ہو یا کہ ہو بیٹا\nبھید پاتا نہیں منجم کا\nکام کندلے کا جس کو ہے معلوم\nہے زمانہ میں اس کی بخل کی دھوم\nالغرض جس کے پاس ہے کچھ چیز\nجان سے بھی سوا ہے اس کو عزیز\nقوم پر ان کا کچھ نہیں احساں\nان کا ہونا نہ ہونا ہے یکساں\nسب کمالات اور ہنر ان کے\nقبر میں ان کے ساتھ جائیں گے\nقوم کیا کہہ کے ان کو روئے گی\nنام پر کیوں کہ جان کھوئے گی\nتربیت یافتہ ہیں جو یاں کے\nخواہ بی اے ہوں اس میں یا ایم اے\nبھرتے حب وطن کا گو دم ہیں\nپر محب وطن بہت کم ہیں\nقوم کو ان سے جو امیدیں تھیں\nاب جو دیکھا تو سب غلط نکلیں\nہسٹری ان کی اور جیوگرفی\nسات پردے میں منہ دیے ہے پڑی\nبند اس قفل میں ہے علم ان کا\nجس کی کنجی کا کچھ نہیں ہے پتا\nلیتے ہیں اپنے دل ہی دل میں مزے\nگویا گونگے کا گڑ ہیں کھائے ہوئے\nکرتے پھرتے ہیں سیر گل تنہا\nکوئی پاس ان کے جا نہیں سکتا\nاہل انصاف شرم کی جا ہے\nگر نہیں بخل یہ تو پھر کیا ہے\nتم نے دیکھا ہے جو وہ سب کو دکھاؤ\nتم نے چکھا ہے جو وہ سب کو چکھاؤ\nیہ جو دولت تمہارے پاس ہے آج\nہم وطن اس کے ہیں بہت محتاج\nمنہ کو ایک اک تمہارے ہے تکتا\nکہ نکلتا ہے منہ سے آپ کے کیا\nآپ شائستہ ہیں تو اپنے لیے\nکچھ سلوک اپنی قوم سے بھی کیے\nمیز کرسی اگر لگاتے ہیں آپ\nقوم سے پوچھئے تو پن ہے نہ پاپ\nمنڈا جوتا گر آپ کو ہے پسند\nقوم کو اس سے فائدہ نہ گزند\nقوم پر کرتے ہو اگر احساں\nتو دکھاؤ کچھ اپنا جوش نہاں\nکچھ دنوں عیش میں خلل ڈالو\nپیٹ میں جو ہے سب اگل ڈالو\nعلم کو کر دو کو بہ کو ارزاں\nہند کو کر دکھاؤ انگلستاں\nسنتے ہو سامعین با تمکیں\nسنتے ہو حاضرین صدر نشیں\nجو ہیں دنیا میں قوم کے ہمدرد\nبندۂ قوم ان کے ہیں زن و مرد\nباپ کی ہے دعا یہ بہر پسر\nقوم کی میں بناؤں اس کو سپر\nماں خدا سے یہ مانگتی ہے مراد\nقوم پر سے نثار ہو اولاد\nبھائی آپس میں کرتے ہیں پیماں\nتو اگر مال دے تو میں دوں جاں\nاہل ہمت کما کے لاتے ہیں\nہم وطن فائدے اٹھاتے ہیں\nکہیں ہوتے ہیں مدرسے جاری\nدخل اور خرج جن کے ہیں بھاری\nاور کہیں ہوتے ہیں کلب قائم\nمبحث حکمت اور ادب قائم\nنت نئے کھلتے ہیں دوا خانے\nبنتے ہیں سیکڑوں شفا خانے\nملک میں جو مرض ہیں عالم گیر\nقوم پر ان کی فرض ہے تدبیر\nہیں سدا اس ادھیڑ بن میں طبیب\nکہ کوئی نسخہ ہاتھ آئے عجیب\nقوم کو پہنچے منفعت جس سے\nملک میں پھیلیں فائدے جس کے\nکھپ گئے کتنے بن کے جھاڑوں میں\nمر گئے سیکڑوں پہاڑوں میں\nلکھے جب تک جیے سفر نامے\nچل دیے ہاتھ میں قلم تھامے\nگو سفر میں اٹھائے رنج کمال\nکر دیا پر وطن کو اپنے نہال\nہیں اب ان کے گواہ حب وطن\nدر و دیوار پیرس و لندن\nکام ہیں سب بشر کے ہم وطنوں\nتم سے بھی ہو سکے تو مرد بنو\nچھوڑو افسردگی کو جوش میں آؤ\nبس بہت سوئے اٹھو ہوش میں آؤ\nقافلے تم سے بڑھ گئے کوسوں\nرہے جاتے ہو سب سے پیچھے کیوں\nقافلوں سے اگر ملا چاہو\nملک اور قوم کا بھلا چاہو\nگر رہا چاہتے ہو عزت سے\nبھائیوں کو نکالو ذلت سے\nان کی عزت تمہاری عزت ہے\nان کی ذلت تمہاری ذلت ہے\nقوم کا مبتدل ہے جو انساں\nبے حقیقت ہے گرچہ ہے سلطاں\nقوم دنیا میں جس کی ہے ممتاز\nہے فقیری میں بھی وہ با اعزاز\nعزت قوم چاہتے ہو اگر\nجا کے پھیلاؤ ان میں علم و ہنر\nذات کا فخر اور نسب کا غرور\nاٹھ گئے اب جہاں سے یہ دستور\nاب نہ سید کا افتخار صحیح\nنہ برہمن کو شدر پر ترجیح\nہوئی ترکی تمام خانوں میں\nکٹ گئی جڑ سے خاندانوں میں\nقوم کی عزت اب ہنر سے ہے\nعلم سے یا کہ سیم و زر سے ہے\nکوئی دن میں وہ دور آئے گا\nبے ہنر بھیک تک نہ پائے گا\nنہ رہیں گے سدا یہی دن رات\nیاد رکھنا ہماری آج کی بات\nگر نہیں سنتے قول حالیؔ کا\nپھر نہ کہنا کہ کوئی کہتا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A8_%D9%88%D8%B7%D9%86"} {"title": "حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا\nنہایت غم ہے اس قطرے کو دریا کی جدائی کا\n\nاسیر اے دوست تیرے عاشق و معشوق دونوں ہیں\nگرفتار آہنی زنجیر کا یہ وہ طلائی کا\n\nتعلق روح سے مجھ کو جسد کا نا گوارا ہے\nزمانے میں چلن ہے چار دن کی آشنائی کا\n\nفراق یار میں مر مر کے آخر زندگانی کے\nرہا صدمہ ہمیشہ روح و قالب کی جدائی کا\n\nہوئی منظور محتاجی نہ تجھ کو اپنی سائل کے\nبنایا کاسۂ سر واژگوں کاسہ گدائی کا\n\nنظر آتی ہیں ہر سو صورتیں ہی صورتیں مجھ کو\nکوئی آئینہ خانہ کارخانہ ہے جدائی کا\n\nوصال یار کا وعدہ ہے فردائے قیامت پر\nیقیں مجھ کو نہیں ہے گور تک اپنی رسائی کا\n\nبھروسہ آہ پر ہرگز نہیں اے یار عاشق کو\nشکار اب تک کہیں دیکھا نہیں تیر ہوائی کا\n\nدکھایا حسن سے اعجاز موسی کلک قدرت نے\nید بیضا بنایا چور انگشت حنائی کا\n\nنہیں مٹتی ہے پتھر کی لکیر احباب کہتے ہیں\nرہے گا پائے بت پر نقش اپنی جبہہ سائی کا\n\nشکست خاطر احباب ہوتی ہے درست اس سے\nتوجہ میں تری اے یار اثر ہے مومیائی کا\n\nدل اپنا آئینہ سے صاف عشق پاک رکھتا ہے\nتماشا دیکھتا ہے حسن اس میں خود نمائی کا\n\nکف افسوس ملواتی ہے تیری پاک دامانی\nپنہا کر شاہد عصمت کو جامہ پارسائی کا\n\nنہیں دیکھا ہے لیکن تجھ کو پہچانا ہے آتشؔ نے\nبجا ہے اے صنم جو تجھ کو دعویٰ ہے خدائی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%B3%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "حجاب دور تمہارا شباب کر دے گا", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حجاب دور تمہارا شباب کر دے گا\nیہ وہ نشہ ہے تمہیں بے حجاب کر دے گا\n\nمرا خیال مجھے کامیاب کر دے گا\nخدا اسی کو زلیخا کا خواب کر دے گا\n\nمری دعا کو خدا مستجاب کر دے گا\nترا غرور مجھے کامیاب کر دے گا\n\nیہ داغ کھائے ہیں جس کے فراق میں ہم نے\nوہ اک نظر میں انہیں آفتاب کر دے گا\n\nکیا ہے جس کے لڑکپن نے دل مرا ٹکڑے\nکلیجہ خون اب اس کا شباب کر دے گا\n\nسنی نہیں یہ مثل گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے\nتجھے تو دل کی خبر اضطراب کر دے گا\n\nنہ دیکھنا کبھی آئینہ بھول کر دیکھو\nتمہارے حسن کا پیدا جواب کر دے گا\n\nکسی کے ہجر میں اس درد سے دعا مانگی\nندائیں آئیں خدا کامیاب کر دے گا\n\nغم فراق میں گریہ کو شغل سمجھا تھا\nخبر نہ تھی مری مٹی خراب کر دے گا\n\nکسے خبر تھی ترے ظلم کے لیے اللہ\nمجھی کو روز ازل انتخاب کر دے گا\n\nاٹھا نہ حشر کے فتنہ کو چال سے ناداں\nترے شہید کا بے لطف خواب کر دے گا\n\nوہ گالیاں ہمیں دیں اور ہم دعائیں دیں\nخجل انہیں یہ ہمارا جواب کر دے گا\n\nجواب صاف نہ دے مجھ کو یہ وہ آفت ہے\nمرے سکون کو بھی اضطراب کر دے گا\n\nکہیں چھپائے سے چھپتا ہے لعل گدڑی میں\nفروغ حسن تجھے بے نقاب کر دے گا\n\nتری نگاہ سے بڑھ کر ہے چرخ کی گردش\nمجھے تباہ یہ خانہ خراب کر دے گا\n\nڈبوئے گی مجھے یہ چشم تر محبت میں\nخراب کام مرا اضطراب کر دے گا\n\nرقیب نام نہ لے عشق کا جتا دینا\nیہ شعلہ وہ ہے جلا کر کباب کر دے گا\n\nوفا تو خاک کرے گا مرا عدو تم سے\nوفا کے نام کی مٹی خراب کر دے گا\n\nعجیب شخص ہے پیر مغاں سے مل زاہد\nنشے میں چور تجھے بے شراب کر دے گا\n\nبڑوں کی بات بڑی ہے ہمیں نہیں باور\nجو آسماں سے نہ ہوگا حباب کر دے گا\n\nبھلائی اپنی ہے سب کی بھلائی میں بیخودؔ\nکبھی ہمیں بھی خدا کامیاب کر دے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "حجاب راز فیض مرشد کامل سے اٹھتا ہے", "poet_page": "مصنف:شیر سنگھ ناز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حجاب راز فیض مرشد کامل سے اٹھتا ہے\nنظر حق آشنا ہوتی ہے پردہ دل سے اٹھتا ہے\n\nجلا جاتا ہوں بار سوز غم مشکل سے اٹھتا ہے\nوہ اشکوں سے نہیں بجھتا جو شعلہ دل سے اٹھتا ہے\n\nکہاں خنجر بھی دست ناوک قاتل سے اٹھتا ہے\nنزاکت سے حنا کا بار بھی مشکل سے اٹھتا ہے\n\nیہ کس نے ڈال دی بحر تلاطم خیز میں کشتی\nیہ شور ہرچہ باد اباد کیوں ساحل سے اٹھتا ہے\n\nکشیدہ جس سے تم ہوتے ہو کوئی رخ نہیں کرتا\nگراتے ہو نظر سے تم جسے مشکل سے اٹھتا ہے\n\nیہ آنسو کسمپرسی کس کے ماتم میں بہاتی ہے\nجنازہ آج کس کا کوچۂ قاتل سے اٹھتا ہے\n\nمگر تاثیر پیدا ہو گئی مجنوں کے نالوں میں\nکہ پردہ آج دست لیلی محمل سے اٹھتا ہے\n\nرخ بے پردہ ان کا یاد آتا ہے شب ہجراں\nحجاب ابر جب روئے مہ کامل سے اٹھتا ہے\n\nلگا دی آتش خاموش کیا سوز محبت نے\nالٰہی خیر دود آہ سوزاں دل سے اٹھتا ہے\n\nکیا شرمندہ اتنا سخت جانی نے نزاکت سے\nخجالت سے سر ان کے سامنے مشکل سے اٹھتا ہے\n\nکلیجہ تھام لیں دیدار جاناں دیکھنے والے\nبس اب پردہ رخ رشک مہ کامل سے اٹھتا ہے\n\nچلے احباب آغوش لحد میں چھوڑ کر مجھ کو\nکہ ہمدردی کا جذبہ پہلی ہی منزل سے اٹھتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D9%81%DB%8C%D8%B6_%D9%85%D8%B1%D8%B4%D8%AF_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "حجاب گنج مخفی میں نہاں تھے", "poet_page": "مصنف:عبدالعلیم آسی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حجاب گنج مخفی میں نہاں تھے\nالٰہی ہم کہاں آئے کہاں تھے\n\nکسی نے بھی نہ دیکھا ہم جہاں تھے\nبدن تھے خلق ہم مانند جاں تھے\n\nبسان نالہ سر کھینچا ہے باہر\nہم اہل درد کے دل میں نہاں تھے\n\nنکالا کرتے تھے بالوں کی کھالیں\nکبھی ہم بھی خیال شاعراں تھے\n\nرہے رستے میں قدموں سے چپٹ کر\nمگر ہم نقش پائے رفتگاں تھے\n\nجب اس کوچے کی حاصل تھی گدائی\nخداوند زمین و آسماں تھے\n\nہوئے ظاہر بسان نور باطن\nدل ارباب دل میں ہم نہاں تھے\n\nترے کوچے میں جب چلنا پڑا تھا\nبسان اشک آنکھوں سے رواں تھے\n\nکچھ ایسے نشۂ ہستی سے بہکے\nنہیں جانا کہاں آئے کہاں تھے\n\nسراپا درد تھے مانند دل ہم\nمرض تھے پر نصیب دوستاں تھے\n\nکہاں بات اس کی الفت کی کہاں دل\nیہ درہم گنج مخفی میں نہاں تھے\n\nنہ دوڑے جز سوائے کوچۂ یار\nمگر ہم بھی خیال دوستاں تھے\n\nنہ کیوں صیاد وقت مرگ آتا\nکہ ہم باغ جہاں میں مرغ جاں تھے\n\nنہ ہرگز بزم ساقی میں رکے ہم\nمگر دور‌‌ شراب ارغواں تھے\n\nحمائل تھے گلوئے دخت رز میں\nکے ہم دست خیال میکشاں تھے\n\nرہی راتوں کو اکثر سیر افلاک\nمگر ہم تیر آہ بے کساں تھے\n\nکہاں ڈالا خلل وصل عدوین\nگجر ہی تھے نہ ہم بانگ اذاں تھے\n\nبہار باغ ہستی تھی ہمیں سے\nنظر سے گو برنگ بو نہاں تھے\n\nعیاں ایسے کہ ہر شے میں نہاں ہم\nنہاں ایسے کہ ہر شے سے عیاں تھے\n\nنہ تھا معشوق جس میں غیر عاشق\nعجب خلوت تھی وہ بھی ہم جہاں تھے\n\nاٹھے ہم اٹھ گیا پردا دوئی کا\nہمارے اس کے بس ہم درمیاں تھے\n\nچلیں زیر زمیں بے بال و پر آج\nکبھی ہم طائر عرش آشیاں تھے\n\nنہ شکر اس کا کیا تلوار کھا کر\nکہ زخم اپنے دہان بے زباں تھے\n\nکچھ ایسی تھی شب غم کی چڑھائی\nکہ نالے شمع بزم لامکاں تھے\n\nگئے وہ دن کہ ہر دم یہ جگر دل\nلہو بن بن کے آنکھوں سے رواں تھے\n\nنہ رہتے تھے ٹھکانے ایک ساعت\nکبھی ہم بھی حواس عاشقاں تھے\n\nگلستان جہاں میں کون ٹھہرا\nجو سرو آئے نظر سرو رواں تھے\n\nخدا نے ان کو پہنچایا ہدف تک\nخدنگ آہ تیر بے کماں تھے\n\nجو اس محفل میں ہم جانے بھی پائے\nپیا پے آنسو آنکھوں سے رواں تھے\n\nنہ نکلی بات منہ سے صور شمع\nزبان ایسی تھی گویا بے زباں تھے\n\nمرے پہلو میں کل بیٹھے تھے آسی\nمگر جب تک تھے مثل دل تپاں تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%DA%AF%D9%86%D8%AC_%D9%85%D8%AE%D9%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "حجامت", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "شکاری عورتیں", "year": "1955", "text_ur": "’’میری تو آپ نے زندگی حرام کر رکھی ہے۔۔۔ خدا کرے میں مر جاؤں۔‘‘\n\n’’اپنے مرنے کی دعائیں کیوں مانگتی ہو۔ میں مر جاؤں تو سارا قصہ پاک ہو جائے گا۔۔۔ کہو تو میں ابھی خود کشی کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہاں پاس ہی افیم کا ٹھیکہ ہے۔ ایک تولہ افیم کافی ہوگی۔‘‘\n\n’’جاؤ، سوچتے کیا ہو۔‘‘\n\n’’جاتا ہوں۔۔۔ تم اٹھو اور مجھے۔۔۔ معلوم نہیں ایک تولہ افیم کتنے میں آتی ہے۔ تم مجھے اندازاً دس روپے دے دو۔‘‘\n\n’’ دس روپے؟‘‘\n\n’’ہاں بھئی۔۔۔ اپنی جان گنوانی ہے۔۔۔ دس روپے زیادہ تو نہیں۔‘‘\n\n’’میں نہیں دے سکتی۔‘‘\n\n’’ضرور آپ کو افیم کھاکے ہی مرنا ہے؟‘‘\n\n’’سنکھیا بھی ہوسکتی ہے۔‘‘\n\n’’کتنے میں آئے گی؟‘‘\n\n’’معلوم نہیں۔۔۔ میں نے آج تک کبھی سنکھیا نہیں کھائی۔‘‘\n\n’’آپ کو ہر چیز کا علم ہے۔ بنتے کیوں ہیں؟‘‘\n\n’’بنا تم مجھے رہی ہو۔۔۔ بھلا مجھے زہروں کی قیمتوں کے متعلق کیا علم ہو سکتا ہے۔‘‘\n\n’’آپ کو ہر چیز کا علم ہے۔‘‘\n\n’’ تمہارے متعلق تو میں ابھی تک کچھ بھی نہ جان سکا۔‘‘\n\n’’اس لیے کہ آپ نے میرے متعلق کبھی سوچا ہی نہیں۔‘‘\n\n’’یہ صریحاً تمہاری زیادتی ہے۔۔۔ پانچ برس ہوگئے ہیں۔ تم ان میں سے کوئی ایسا دن پیش کرو جب میں نے تمہارے متعلق نہ سوچا ہو۔‘‘\n\n’’ہٹائیے۔۔۔ ان پانچ برسوں کے جتنے دن ہوتے ہیں، ان میں آپ مجھ سے یہی خرافات کہتے رہے ہیں۔‘‘\n\n’’تم حقیقت کو خرافات کہتی ہو۔۔۔؟میں اب کیا کہوں۔‘‘\n\n’’ جو کہنا چاہتے ہیں کہہ ڈالیے۔۔۔ آپ کی زبان میں لگام ہی کہاں ہے۔‘‘\n\n’’پھر تم نے بد زبانی شروع کردی۔‘‘\n\n’’بد زبان تو آپ ہیں۔۔۔ میں نے ان پانچ برسوں میں، آپ سر پر قرآن اٹھا کرکہیے، کب آپ سے اس قسم کی گستاخی کی ہے؟ گستاخ ہوں گے آپ کے۔۔۔‘‘\n\n’’رک کیوں گئی ہو۔۔۔ جو کہنا چاہتی ہو کہہ دو۔‘‘\n\n’’میں کچھ کہنا نہیں چاہتی۔۔۔ آپ سے کوئی کیا کہے۔۔۔ آپ تو یہ چاہتے ہیں کہ آدمی کو تکلیف پہنچے، لیکن وہ اف بھی نہ کرے۔ میں تو ایسی زندگی سے گھبرا گئی ہوں۔‘‘\n\n’’تم چاہتی کیا ہو، یہ بھی تو پتا چلے۔‘‘\n\n’’میں کچھ نہیں چاہتی۔‘‘\n\n’’پھر یہ گلے شکوے کیا معنی رکھتے ہیں؟‘‘\n\n’’ان کے معنی آپ بخوبی سمجھتے ہیں۔۔۔ انجان کیوں بنتے ہیں؟ ان گلے شکوؤں کے پیچھے کوئی بات تو ہوگی۔‘‘\n\n’’کیا؟‘‘\n\n’’ میں کیا جانوں۔‘‘\n\n’’ یہ عجیب منطق ہے۔۔۔ خود ہی پھاڑتی ہو خود ہی رفو کرتی ہو۔۔۔ جو صحیح بات ہے اس کو بتاتی کیوں نہیں ہو۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتا یہ ہر روز کے جھگڑے ہمیں کہاں لے جائیں گے۔‘‘\n\n’’ جہنم میں‘‘۔\n\n’’ وہاں بھی تو ہمارا ساتھ ہوگا۔‘‘\n\n’’ میں تو وہاں بالکل نہیں جاؤں گی۔‘‘\n\n’’ تو کہاں ہوگی تم؟‘‘\n\n’’مجھے معلوم نہیں۔‘‘\n\n’’تمہیں بہت سی باتیں معلوم نہیں ہوتیں۔۔۔ سب سے بڑی بات میری محبت ہے، جس کا احساس تمہیں ابھی تک نہیں ہوا۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ یا میں نے اس کے اظہار میں بخل کیا ہے، یا تم میں وہ حس نہیں جو اس جذبے کو پہچان سکے۔‘‘\n’’اصل میں بے حس تو آپ ہیں۔‘‘\n\n’’کیسے؟‘‘\n\n’’یہ بھی کوئی بات ہے۔ ان پانچ برسوں میں ہر روز۔۔۔ ہر روز۔۔۔‘‘\n\n’’یہی تو میری محبت کا ثبوت ہے۔‘‘\n\n’’ لعنت ہے ایسی محبت پر کہ آدمی تنگ آجائے۔‘‘\n\n’’ محبت سے کون تنگ آسکتا ہے؟‘‘\n\n’’میری مثال موجود ہے۔‘‘\n\n’’اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے اقرار کیا ہے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں؟‘‘\n\n’’میں نے کب اقرار کیا ہے؟‘‘\n\n’’یہ اقرار ہی تو تھا۔‘‘\n\n’’ ہوگا۔‘‘\n\n’’ ہوگا نہیں۔۔۔ تھا۔۔۔ لیکن تم مانو گی نہیں، اس لیے کہ ضدی ہو۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ عورتوں کی نفسیات کیا ہیں۔ جب ان سے پیار کیا جائے تو گھبرا جاتی ہیں اور جب ان سے ذرا بے اعتنائی برتی جائے تو برہم ہو جاتی ہیں۔‘‘\n\n’’محض بکواس ہے۔‘‘\n\n’’اس لیے کہ یہ پر خلوص خاوند کی زبان سے نکلی ہے۔‘‘\n\n’’ہٹائیے۔۔۔ آپ کا خلوص میں دیکھ چکی ہوں۔‘‘\n\n’’جب دیکھ چکی ہو تو ایمان کیوں نہیں لاتی ہو؟‘‘\n\n’’مجھے تنگ نہ کیجیے، میری طبیعت خراب ہے۔ مجھے کوئی چیز اچھی نہیں لگتی۔۔۔‘‘\n\n’’اپنے آپ کو بھی اچھا نہیں سمجھتی؟‘‘\n\n’’ خدا کی قسم۔۔۔ آج نہیں۔‘‘\n\n’’ کل تو اچھا سمجھو گی؟‘‘\n\n’’مجھے کچھ معلوم نہیں۔‘‘\n\n’’یہ عجیب بات ہے کہ تمہیں سب کچھ معلوم ہوتا ہے۔۔۔ مگر تمہیں معلوم نہیں ہوتا۔۔۔ یہ کیا سلسلہ ہے۔۔۔؟ تم صاف الفاظ میں یہ کیوں نہیں کہہ دیتیں کہ تم مجھ سے نفرت کرتی ہو۔‘‘\n\n’’ تو سن لیجیے۔۔۔ میں آپ سے نفرت کرتی ہوں۔‘‘\n\n’’مجھے یہ سن کر بڑا دکھ ہوا ہے۔۔۔ میں نے تمہاری ہر آسائش کا خیال رکھا۔۔۔‘‘\n\n’’لیکن ایک بات کا خیال نہیں رکھا۔‘‘\n\n’’کس بات کا؟‘‘\n\n’’ آپ عقل مند ہیں۔۔۔ خود سمجھیے ۔۔۔ میں کیوں بتاؤں۔‘‘\n\n’’ کوئی اشارہ تو کردو۔‘‘\n\n’’میں ایسی اشارہ بازیاں نہیں جانتی۔‘‘\n\n’’ تم نے ایسی گفتگو کہاں سے سیکھی ہے؟‘‘\n\n’’آپ سے‘‘\n\n’’ مجھ سے۔۔۔؟ مجھے حیرت ہے کہ یہ الزام تم نے مجھ پر کیوں لگایا ہے؟‘‘\n\n’’ آپ پر تو ہر الزام لگ سکتا ہے۔‘‘\n\n’’ مثال کے طور پر؟‘‘\n\n’’میں آپ کو مثال نہیں دے سکتی۔۔۔ خدا کے لیے یہ گفتگو بند کیجیے، میں تنگ آگئی ہوں۔۔۔ بس، میں نے کہہ دیا ہے کہ مجھے۔۔۔‘‘\n\n’’کیا؟‘‘\n\n’’یااللہ میری توبہ۔۔۔! مجھے زیادہ تنگ نہ کیجیے۔۔۔ میرا جی چاہتا ہے اپنے سر کے بال نوچنا شروع کردوں۔‘‘\n\n’’ میرا سر موجود ہے۔۔۔ تم اس کے بال بڑے شوق سے نوچ سکتی ہو۔‘‘\n\n’’آپ کو تو اپنے بال بڑے عزیز ہیں۔‘‘\n\n’’انسان کو اپنی ہر چیز عزیز ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’لیکن مردوں کے سر پر بالوں کے چھتے بھڑوں کے چھتے معلوم ہوتے ہیں۔۔۔ آپ معلوم نہیں بال کٹوانے سے کیوں پرہیز کرتے ہیں۔‘‘\n\n’’ میں پرہیزی آدمی ہوں۔‘‘\n\n’’اس قدر جھوٹ۔۔۔ ابھی پرسوں آپ نے مجھ سے کہا کہ آپ نے ایک پارٹی میں شراب پی تھی۔‘‘\n\n’’ لاحول ولا۔۔۔ میں نے تو صرف شیری کا ایک گلاس پیا تھا۔‘‘\n\n’’ وہ کیا بلا ہوتی ہے؟‘‘\n\n’’ بڑی بے ضرر قسم کی چیز ہے۔‘‘\n\n’’ تمہاری بد زبانیاں کہیں مجھے بھی بد زبان نہ بنا دیں۔‘‘\n\n’’ جیسے آپ بدزبان نہیں ہیں۔‘‘\n\n’’بدزبان تمہارا باپ تھا۔۔۔ جانتی ہو۔۔۔ وہ ہر بات میں مغلظات بکتا تھا۔‘‘\n\n’’میں کہتی ہوں میرے موئے باپ کے متعلق کچھ نہ کہئے۔۔۔ آپ بڑے واہیات ہوتے جارہے ہیں۔‘‘\n\n’’واہیات کیسے ہوتا جارہا ہوں؟‘‘\n\n’’ میں نہیں جانتی۔‘‘\n\n’’جاننے کے بغیر تم نے یہ فتویٰ کیسے عائد کردیا؟‘‘\n\n’’میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ نے اتنے بال کیوں بڑھا رکھے ہیں، مجھے وحشت ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’ بس اتنی سی بات تھی جس کو تم نے بتنگڑ بنا دیا۔۔۔ میں جارہا ہوں۔‘‘\n\n’’ کہاں؟‘‘\n\n’’ بس جارہا ہوں۔‘‘\n\n’’ خدا کے لیے مجھے بتا دیجیے۔۔۔ میں خود کشی کرلوں گی۔‘‘\n\n’’میں نصرت ہیئر کٹنگ سیلون میں جارہا ہوں۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%AA"} {"title": "حد ہو کوئی تو صبر ترے ہجر پر کریں", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حد ہو کوئی تو صبر ترے ہجر پر کریں\nآخر ہم ایک حال میں کب تک بسر کریں\n\nاہل نظر وسیع گر اپنی نظر کریں\nذرے نقاب الٹ کے تجھے جلوہ گر کریں\n\nفطرت ہر اعتبار سے ہے ہم نوائے حسن\nآمین تم کو تو دعائیں اثر کریں\n\nتم نے تو اپنے حسن کو محفوظ کر لیا\nہم کس کے ساتھ عمر محبت بسر کریں\n\nسیمابؔ ہم میں عیب و ہنر خود ہیں بے حساب\nہم کیا کسی کے عیب و ہنر پر نظر کریں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%AF_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حدیثِ بندۂ مومن دل آویز", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "حدیثِ بندۂ مومن دل آویز\nجِگر پُرخوں، نفَس روشن، نِگہ تیز\nمیَسّر ہو کسے دیدار اُس کا\nکہ ہے وہ رونقِ محفل کم آمیز", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB%D9%90_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%82_%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D9%88%DB%8C%D8%B2"} {"title": "حرص دولت کی نہ عز و جاہ کی", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حرص دولت کی نہ عز و جاہ کی\nبس تمنا ہے دل آگاہ کی\n\nدرد دل کتنا پسند آیا اسے\nمیں نے جب کی آہ اس نے واہ کی\n\nکھنچ گئے کنعاں سے یوسف مصر کو\nپوچھئے حضرت سے قوت چاہ کی\n\nبس سلوک اس کا ہے منزل اس کی ہے\nاس کے دل تک جس نے اپنی راہ کی\n\nواعظو کیسا بتوں کا گھورنا\nکچھ خبر ہے ثم وجہ اللٰہ کی\n\nیاد آئی طاق بیت اللہ میں\nبیت ابرو اس بت دل خواہ کی\n\nراہ حق کی ہے اگر آسیؔ تلاش\nخاک رہ ہو مرد حق آگاہ کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B1%D8%B5_%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B9%D8%B2_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "حرف تم اپنی نزاکت پہ نہ لانا ہرگز", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حرف تم اپنی نزاکت پہ نہ لانا ہرگز\nہاتھ بیداد و ستم سے نہ اٹھانا ہرگز\n\nتم بھی چوری کو یقیں ہے نہ کہو گے اچھا\nاب ہمیں دیکھ کے آنکھیں نہ چرانا ہرگز\n\nعشق ہے ایک مگر آفت نو ہے ہر دم\nیہ وہ مضموں ہے کہ ہوگا نہ پرانا ہرگز\n\nیہی انداز تو ہیں دل کے اڑا لینے کے\nان کی تم نیچی نگاہوں پہ نہ جانا ہرگز\n\nسبب قتل محبت ہے اگر اے ظالم\nتو مرا جرم کسی کو نہ بتانا ہرگز\n\nدل خوں گشتہ کا ہو راز نہ افشا اے چشم\nاشک گل رنگ کا ٹپکا نہ لگانا ہرگز\n\nہوں تنک ظرف نہ جھیلوں گا شراب پر زور\nپردہ یکبار نہ چہرے سے اٹھانا ہرگز\n\nہم سے بیمار بھی جاں بر کہیں ہوتے ہیں مسیح\nتم یہاں آ کے نہ تکلیف اٹھانا ہرگز\n\nجنس نایاب کے ہوتے ہیں ہزاروں گاہک\nتم پتا اپنا کسی کو نہ بتانا ہرگز\n\nمیں تو کیا اس سے تو موسیٰ بھی نہ سر بر آئے\nامتحاناً ہمیں جلوہ نہ دکھانا ہرگز\n\nجو چلا تیر ستم دل سے وہ گزرا اے چرخ\nتیرا خالی نہ گیا کوئی نشانا ہرگز\n\nذکر بربادی دہلی کا سنا کر ہمدم\nنیشتر زخم کہن پر نہ لگانا ہرگز\n\nآب رفتہ نہیں پھر بحر میں پھر کر آتا\nدہلی آباد ہو یہ دھیان نہ لانا ہرگز\n\nوہ تو باقی ہی نہیں جن سے کہ دہلی تھی مراد\nدھوکا اب نام پہ دہلی کے نہ کھانا ہرگز\n\nگیتی افروز اگر حضرت نیر رہتے\nاتنا تاریک تو ہوتا نہ زمانا ہرگز\n\nاب تو یہ شہر ہے اک قالب بے جاں ہمدم\nکچھ یہاں رہنے کی خوشیاں نہ منانا ہرگز\n\nدر مے خانہ ہوا بند صدا یہ ہے بلند\nیاں حریفان قدح خوار نہ آنا ہرگز\n\nاللہ اللہ وہ نواب علائی کے کلام\nجن سے رنگیں نہیں بلبل کا ترانا ہرگز\n\nتو تو ہے انورؔ و میکشؔ کی جدائی کا نشاں\nدل پر درد سے اے داغ نہ جانا ہرگز\n\nصوت بلبل طرف انگیز سہی پر ہمدم\nدرد فرسودہ دلوں کو نہ سنانا ہرگز\n\nمیں ہوں اک مجمع احباب کا بچھڑا گلچیں\nمجھ کو گلدستۂ رنگیں نہ دکھانا ہرگز\n\nجمع ہے مجمع احباب فضا میں تیری\nاے تصور یہ مرقع نہ مٹانا ہرگز\n\nدل میں ہیں حسرت و اندوہ کے انبار لگے\nاتنا یکجا نہ کہیں ہوگا خزانا ہرگز\n\nساقیٔ بزم تری طرز تغافل کے نثار\nدرد مے کا بھی ادھر جام نہ لانا ہرگز\n\nقہر لائیں گے یہ طالع جو ذرا بھی چیتے\nاے فلک خواب سے ان کو نہ جگانا ہرگز\n\nمحفل عیش سے گر حظ ہو اٹھانا اے دوست\nہم سے آزردہ دلوں کو نہ بلانا ہرگز\n\nدار فانی میں نہ کر فکر قیام اے ناداں\nگزر سیل ہے یاں گھر نہ بنانا ہرگز\n\nجن کے ایوان تھے ہم پلۂ قصر قیصر\nان کی ملتا نہیں قبروں کا ٹھکانا ہرگز\n\nوہ گئے دن جو چمن زار میں دل لگتا تھا\nسچ ہے یکساں نہیں رہتا ہے زمانا ہرگز\n\nہم صفیران چمن سب ہوئے گرم پرواز\nاب خوش آتا نہیں گلزار میں جانا ہرگز\n\nزغن و زاغ کی گلشن میں صدا ہے ہر سو\nمرغ خوش نغمہ نہ آواز سنانا ہرگز\n\nقصر حالی کے حوالی میں ذرا تم مجروحؔ\nاپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہ بنانا ہرگز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B1%D9%81_%D8%AA%D9%85_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%86%D8%B2%D8%A7%DA%A9%D8%AA_%D9%BE%DB%81_%D9%86%DB%81_%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%81%D8%B1%DA%AF%D8%B2"} {"title": "حرم میں مدتوں ڈھونڈا شوالوں میں پھرا برسوں", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حرم میں مدتوں ڈھونڈا شوالوں میں پھرا برسوں\nتلاش یار میں بھٹکا کیا میں بارہا برسوں\n\nمہینوں ہاتھ جوڑے کی خوشامد بارہا برسوں\nانہیں جھگڑوں میں مجھ کو ہو گئے اے بے وفا برسوں\n\nمعاذ اللہ اس آزردگی کا کیا ٹھکانہ ہے\nجو پوچھا یار سے کب تک نہ بولو گے کہا برسوں\n\nغنیمت جان جو دن زندگی کے عیش میں گزریں\nکسی کا بھی نہیں رہتا زمانہ ایک سا برسوں\n\nوہی خون شہید ناز اب برباد ہوتا ہے\nرہا بن کر جو تیرے ہاتھ میں رنگ حنا برسوں\n\nہماری بے قراری کا ذرا تم کو نہ دھیان آیا\nمہینوں منتظر رکھا دکھایا راستا برسوں\n\nزمانے میں ہمیشہ ہر مہینے چاند ہوتا ہے\nترا جلوہ نظر آتا نہیں اے مہ لقا برسوں\n\nوہیں پر لے چلی بے تابئ دل واہ ری قسمت\nپھرا کی سر پٹکتی جس جگہ میری دعا برسوں\n\nادا ہو شکر کیوں کر بے کسی و نا امیدی کا\nرہی ہیں ساتھ فرقت میں یہی دو آشنا برسوں\n\nنہ آیا ایک دن بھی وہ بت بے رحم اے جوہرؔ\nاٹھا کر ہاتھ کعبے کی طرف مانگی دعا برسوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AF%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%D8%A7_%D8%B4%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA"} {"title": "حرم کو شیخ مت جا ہے بت دل خواہ صورت میں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حرم کو شیخ مت جا ہے بت دل خواہ صورت میں\nاگر ہے مرد معنی دیکھ لے اللہ صورت میں\n\nنظر کر اس کی ٹک نیرنگیوں پر چشم حیرت سے\nکہیں گل ہے کہیں کانٹا کہیں ہے کاہ صورت میں\n\nصنم کی سطر ابرو کاتب قدرت نے لکھی ہے\nکلید علم معنی ہے یہ بسم اللہ صورت میں\n\nسبو و جام پر کم ظرف کرتے ہیں نظر ورنہ\nبنے ہیں ایک مٹی کے گدا و شاہ صورت میں\n\nمرا وہ طفل ابجد خواں پڑھے کیوں کر نہ اب ہجے\nبغیر اس قاعدے کے ہو سکے کب راہ صورت میں\n\nجدا دیوار سے کب طاق ہے کوئی بتاؤ تو\nدکھائی دے ہے پر احوال کو دو اک ماہ صورت میں\n\nکر اپنے دل کو صیقل اے سکندر تا ہو یہ روشن\nصفا سے آئنے کے کب خلل ہے آہ صورت میں\n\nگیا ہوگا طرف کعبہ کی جو محرم نہیں اس سے\nکہ حاجی اس کے آمد رفت کی ہے راہ صورت میں\n\nنصیرؔ اس کی ذقن میں بند ہے وہ یوسف کنعاں\nنکلتی ہے عزیزو دیکھ لو کیا چاہ صورت میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B1%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D9%85%D8%AA_%D8%AC%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیں\nتمہارے معتقد گبرو مسلماں ہوتے جاتے ہیں\n\nالگ سب سے نظر نیچی خرام آہستہ آہستہ\nوہ مجھ کو دفن کر کے اب پشیماں ہوتے جاتے ہیں\n\nسوا طفلی سے بھی ہیں بھولی باتیں اب جوانی میں\nقیامت ہے کہ دن پر دن وہ ناداں ہوتے جاتے ہیں\n\nکہاں سے لاؤں گا خون جگر ان کے کھلانے کو\nہزاروں طرح کے غم دل کے مہماں ہوتے جاتے ہیں\n\nخرابی خانہ ہائے عیش کی ہے دور گردوں میں\nجو باقی رہ گئے ہیں وہ بھی ویراں ہوتے جاتے ہیں\n\nبیاں میں کیا کروں دل کھول کر شوق شہادت کو\nابھی سے آپ تو شمشیر عریاں ہوتے جاتے ہیں\n\nغضب کی یاد میں عیاریاں واللہ تم کو بھی\nغرض قائل تمہارے ہم تو اے جاں ہوتے جاتے ہیں\n\nادھر ہم سے بھی باتیں آپ کرتے ہیں لگاوٹ کی\nادھر غیروں سے بھی کچھ عہد و پیماں ہوتے جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B1%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حریص ہو نہ جہاں میں نہ اپنا جی بھٹکا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حریص ہو نہ جہاں میں نہ اپنا جی بھٹکا\nزباں بگڑ گئی گر اس کو آ گیا چٹکا\n\nجو شاہراہ گیا کچھ نہیں ہوا کھٹکا\nبھٹک رہا ہے مسافر ہوا جو اوگھٹ کا\n\nقبا پہنتے جو برہم ہوا وہ چست قبا\nدیا ہے چین جبیں نے بھی ساتھ سلوٹ کا\n\nیہاں بھی عشوۂ رعنا کھڑی لگاتا ہے\nوہ بحر حسن ہوا آشنا جو کروٹ کا\n\nہماری وضع سے آشفتہ ہو گیا مجنوں\nہمیں جو نجد کے بن میں جنہوں نے دے پٹکا\n\nنظر ہوئی ہے پریشاں حجاب میں ہے وہ رخ\nطلسم کھل نہیں سکتا ہے ان کے گھونگھٹ کا\n\nکیا ہے زلف و رخ و چشم نے جو سرگشتہ\nنکل کے گھر سے مرا دل تراہے میں بھٹکا\n\nکسے ہے تاب جو دیکھے نگاہ قہر آلود\nکوئی ادھر کو چلا اور کوئی ادھر سٹکا\n\nہمارے اشک مسلسل ذرا نہیں رکتے\nیہ گھاٹ خوب رواں ہو رہا ہے پنگھٹ کا\n\nہمارا رنگ طبیعی ہے صلح کل مشرب\nپسند ہم کو نہیں قافیہ بھی جھنجھٹ کا\n\nکہیں گے ساقیؔ سرمست شعر تر کیا ہم\nہمارے حصہ میں آیا ہے جام تلچھٹ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B5_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AC%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D9%B9%DA%A9%D8%A7"} {"title": "حریف راز ہیں اے بے خبر در و دیوار", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حریف راز ہیں اے بے خبر در و دیوار\nکہ گوش رکھتے ہیں سب سر بہ سر در و دیوار\n\nنوید مقدم فصل بہار سن سن کر\nاڑیں گے شوق میں بے بال و پر در و دیوار\n\nشب فراق میں گھر مجھ کو کاٹے کھاتا ہے\nبنا ہے اک سگ دیوانہ ہر در و دیوار\n\nتمہارے غم نے وہ صورت مری بنائی ہے\nکہ رو رہے ہیں مرے حال پر در و دیوار\n\nہجوم رنج و قلق میں ظہیرؔ کیا کہئے\nنہیں ہیں مونس خلوت مگر در و دیوار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D9%81_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%AF%D8%B1_%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1"} {"title": "حریف مطلب مشکل نہیں فسون نیاز", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیاز\nدعا قبول ہو یا رب کہ عمرِ خضر دراز\n\nنہ ہو بہ ہرزہ، بیاباں نوردِ وہمِ وجود\nہنوز تیرے تصوّر میں ہے نشیب و فراز\n\nوصالِ جلوہ تماشا ہے پر دماغ کہاں!\nکہ دیجیے آئینۂ انتظار کو پرواز\n\nہر ایک ذرّۂ عاشق ہے آفتاب پرست\nگئی نہ خاک ہوئے پر ہوائے جلوۂ ناز\n\nفریبِ صنعتِ ایجاد کا تماشا دیکھ\nنگاہ عکس فروش و خیال آئینہ ساز\n\nہنوز اے اثرِ دید، ننگِ رسوائی\nنگاہ فتنہ خرام و درِ دو عالم باز\n\nزِ بس کہ جلوۂ صیاد حیرت آرا ہے\nاُڑی ہے صفحۂ خاطر سے صورتِ پرواز\n\nہجومِ فکر سے دل مثلِ موج لرزاں ہے\nکہ شیشہ نازک و صہبا ہے آبگینہ گداز\n\nاسدؔ سے ترکِ وفا کا گماں وہ معنی ہے\nکہ کھینچیے پرِ طائر سے صورتِ پرواز\n\nنہ پوچھ وسعتِ مے خانۂ جنوں غالبؔ\nجہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D9%81_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%B3%D9%88%D9%86_%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%B2"} {"title": "حریم ناز کہاں اور سر نیاز کہاں", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حریم ناز کہاں اور سر نیاز کہاں\nکہاں کا سجدہ کسے ہوش ہے نماز کہاں\n\nمجھے خبر ہی نہیں ہے حریم ناز کہاں\nنیاز مند کہاں اور بے نیاز کہاں\n\nپڑی ہے کیا اسے حسرت زدوں میں آنے کی\nیہ میری بزم کہاں اور وہ محو ناز کہاں\n\nیہ مانا حسن حقیقت عیاں مجاز میں ہے\nمگر وہ جلوہ ہے اے چشم امتیاز کہاں\n\nعلاج کس کا کرے گا یہ پوچھتا کیا ہے\nبتائیں کیا تجھے ہے درد چارہ ساز کہاں\n\nکبھی تو ملتی تھی ہجر و وصال میں لذت\nمگر بجھی ہوئی دل میں وہ سوز و ساز کہاں\n\nدعائیں مانگتا ہے شیخ کیوں معاذ اللہ\nخدا کا نام لے توبہ کا در ہے باز کہاں\n\nبڑے مزے سے گزرتی ہے بادہ خواروں کی\nبجز شراب خیال شب دراز کہاں\n\nملا وہ بے خودیٔ شوق میں مزا اے شوقؔ\nجنون و عشق میں باقی ہے امتیاز کہاں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D9%85_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D8%B1_%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "حریم کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نے", "poet_page": "مصنف:اختر علی اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حریم کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نے\nترے خیال میں رکھ دی جہاں جبیں میں نے\n\nمجھی کو پردۂ ہستی میں دے رہا ہے فریب\nوہ حسن جس کو کیا جلوہ آفریں میں نے\n\nچٹک میں غنچے کی وہ صوت جاں فزا تو نہیں\nسنی ہے پہلے بھی آواز یہ کہیں میں نے\n\nرہین منزل وہم و گماں رہا اخترؔ\nاسی میں ڈھونڈھ لیا جادۂ یقیں میں نے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D9%85_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92"} {"title": "حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دل", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دل\nمحبت پر مگر مجبور ہے دل\n\nتمہارے نور سے معمور ہے دل\nعجب کیا ہے کہ رشک طور ہے دل\n\nتمہارے عشق سے مسرور ہے دل\nابھی تک مست ہے مخمور ہے دل\n\nکیا ہے یاد اس یاد جہاں نے\nالٰہی کس قدر مسرور ہے دل\n\nبہت چاہا نہ جائیں تیرے در پر\nمگر کیا کیجیے مجبور ہے دل\n\nفقیری میں اسے حاصل ہے شاہی\nتمہارے عشق پر مغرور ہے دل\n\nترے جلوے کا ہے جس دن سے مسکن\nجواب جلوہ گاہ طور ہے دل\n\nدو عالم کو بھلا دیں کیوں نہ اخترؔ\nکہ اس کی یاد سے معمور ہے دل", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B2%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%A9%D8%B3_%D9%88_%D8%B1%D9%86%D8%AC%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84"} {"title": "حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرمِ تماشا ہو\nکہ چشمِ تنگ شاید کثرتِ نظّارہ سے وا ہو\n\nبہ قدرِ حسرتِ دل چاہیے ذوقِ معاصی بھی\nبھروں یک گوشۂ دامن گر آبِ ہفت دریا ہو\n\nاگر وہ سرو قد گرمِ خرامِ ناز آ جاوے\nکفِ ہر خاکِ گلشن، شکلِ قمری، نالہ فرسا ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "حسرت اے جاں شب جدائی ہے", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسرت اے جاں شب جدائی ہے\nمژدہ اے دل کہ موت آئی ہے\n\nتجھ سے مغرور کی جھکی گردن\nپھر بھی اک شان کبریائی ہے\n\nاس نے تلوار کو سنبھالا ہے\nدیکھیے کس کی موت آئی ہے\n\nپھر گیا جب سے وہ صنم بہ خدا\nہم سے برگشتہ اک خدائی ہے\n\nبات سیدھی بھی وہ نہیں کرتا\nکج ادائی سے کج ادائی ہے\n\nآپ کو جانتا ہے آئینہ\nصاف یہ اس کی خود نمائی ہے\n\nتم مرے کج کلاہ کو دیکھو\nیہ بھلا کس میں میرزائی ہے\n\nدل میں آتا ہے راہ چشم سے وہ\nخوب یہ راہ آشنائی ہے\n\nملے حسرت سے ہاتھ دیکھ کے حور\nاے پری تیری وہ کلائی ہے\n\nشانہ اس کا ہے پنجۂ خورشید\nواہ کیا پنجۂ حنائی ہے\n\nزاہدو قدرت خدا دیکھو\nبت کو بھی دعوی خدائی ہے\n\nہاتھ پہنچا نہ پائے قاتل تک\nطالعوں کی یہ نارسائی ہے\n\nکعبے جانے سے منع کرتے ہیں\nکیا بتوں کے ہی گھر خدائی ہے\n\nحسن نے ملک دل کیا تاراج\nحضرت عشق کی دہائی ہے\n\nمنہ ہے گویاؔ کا اس کا بوسہ لے\nبات دشمن نے یہ بنائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%B4%D8%A8_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے\nپیش روزن پس دیوار لیے پھرتی ہے\n\nاس مشقت سے اسے خاک نہ ہوگا حاصل\nجان عبث جسم کی بیکار لیے پھرتی ہے\n\nدیکھنے دیتی نہیں اس کو مجھے بے ہوشی\nساتھ کیا اپنے یہ دیوار لیے پھرتی ہے\n\nکسی فاسق کے تو منہ کو نہ کرے گی کالا\nکیوں سیاہی یہ شب تار لیے پھرتی ہے\n\nتو نکلتا نہیں شمشیر بکف اے قاتل\nموت میرے لیے تلوار لیے پھرتی ہے\n\nمال مفلس مجھے سمجھا ہے جنوں نے شاید\nوحشت دل سر بازار لیے پھرتی ہے\n\nکعبہ و دیر میں وہ خانہ برانداز کہاں\nگردش کافر و دیں دار لیے پھرتی ہے\n\nرنج لکھا ہے نصیبوں میں مرے راحت سے\nخواب میں بھی ہوس یار لیے پھرتی ہے\n\nچال میں اس کی سراپا ہے کسی کی تقلید\nکبک کو یار کی رفتار لیے پھرتی ہے\n\nدر یار آئے ٹھکانے لگے مٹی میری\nدوش پر اپنے صبا بار لیے پھرتی ہے\n\nہنستے ہیں دیکھ کے مجنوں کو گل صحرائی\nپا برہنہ طلب خار لیے پھرتی ہے\n\nسایہ سا حسن کے ہمراہ ہے عشق بے باک\nساتھ یہ جنس خریدار لیے پھرتی ہے\n\nکسی صورت سے نہیں جاں کو فرار اے آتشؔ\nتپش دل مجھے لاچار لیے پھرتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "حسرت و امید کا ماتم رہا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسرت و امید کا ماتم رہا\nیہ وہ دل ہے جو سدا پر غم رہا\n\nاک نہ اک مجھ پر سدا عالم رہا\nمیں کبھی بے جاں کبھی بے دم رہا\n\nمیری قسمت کی کجی کا عکس ہے\nیہ جو برہم گیسوئے پر خم رہا\n\nوہ دل غمگیں ہے میرا غم پسند\nغم کے جانے کا بھی جس کو غم رہا\n\nدل کو ہر دم اک پریشانی رہی\nزلف جاناں کی طرح برہم رہا\n\nوہ نمک افشانیاں قاتل نے کیں\nزخم دل شرمندہ مرہم رہا\n\nبڑھتے بڑھتے ہو گیا ناسور دل\nخون کا قطرہ جو دل میں جم رہا\n\nتھا فقط اک غم مدار زندگی\nغم رہا دل میں تو وہ بھی کم رہا\n\nگریہ و زاری یہی ساقیؔ رہی\nدل کی حسرت کا سدا ماتم رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D9%88_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D8%AA%D9%85_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "حسرت پرواز", "poet_page": "مصنف:راج بہادر سکسینہ اوجؔ", "kind": "poetry", "section": "نظم > تصویر خیال (1933)", "year": "1933", "text_ur": "آغوش احتیاط میں رکھ لوں جگر کہیں\nڈرتا ہوں لے اڑے نہ کسی کی نظر کہیں\n\nغربت میں اجنبی کا بھی ہوتا ہے گھر کہیں\nدن بھر کہیں گزار دیا رات بھر کہیں\n\nاغیار ہوں کہیں بت شوریدہ سر کہیں\nسب کچھ ہو آہ میں تو ہو اپنی اثر کہیں\n\nیوں اف نہ باغ دہر میں برباد ہو کوئی\nبلبل کا آشیاں ہے کہیں بال و پر کہیں\n\nمیں آج اپنی آہ کا کرتا ہوں امتحان\nہوں آسماں زمین نہ زیر و زبر کہیں\n\nقید قفس میں حسرت پرواز کیوں رہے\nصیاد جو اڑا دے نہ ہے بال و پر کہیں\n\nرہتی ہے ان کی یاد مری دل میں ہر گھڑی\nاوجؔ ان کے دل میں کاش ہو میرا بھی گھر کہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2"} {"title": "حسن ازل کا جلوہ ہماری نظر میں ہے", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن ازل کا جلوہ ہماری نظر میں ہے\nجو طور پر ہوا تھا دل دیدہ ور میں ہے\n\nدیر و حرم میں کس لیے آوارہ گردیاں\nجس کی تجھے تلاش ہے وہ دل کے گھر میں ہے\n\nجو دیکھنے کی آنکھ ہے تجھ کو نہیں ملی\nوہ نور قد میں ورنہ شجر میں حجر میں ہے\n\nخاموشیوں میں محفل انجم کی اس کو دیکھ\nہنگامہ مست کیوں تو نمود سحر میں ہے\n\nدیکھا ہے اور پھر نہیں آیا نظر تجھے\nوہ حسن وہ جلال جو شمس و قمر میں ہے\n\nاس کو نتیجے علت غائی کی اس کو دھن\nفرق اس قدر ہی بے خبر و با خبر میں ہے\n\nڈھونڈا ہے جس نے اس نے ہی پایا سنا نہیں\nلکھا ہوا یہ حکم قضا و قدر میں ہے\n\nہاں ہاں خدا خدا ہی ہے اور ہے بشر بشر\nاس عقدے کا جو حل ہے وہ قلب بشر میں ہے\n\nوہ بھی تو ہیں نظارۂ کل جز میں ہے جنہیں\nپوشیدہ راز دید تو حسن نظر میں ہے\n\nہے عشق جزو لا یتجزیٰ یقین جان\nیہ قیمت مجاز و حقیقت خطر میں ہے\n\nکیا شوق دید تجھ پہ تو غالب ہے لطف دید\nجو بات تیرے دل میں ہے اپنی نظر میں ہے\n\nنکلے نہ پھنس کے گیسوئے پر پیچ و خم سے دل\nساحل پہ خاک پہنچے جو کشتی بھنور میں ہے\n\nالفت ہے کس کی کیسی محبت کہاں کا عشق\nمعدوم تو تو فکر دہان و کمر میں ہے\n\nناقص تھی ابتدا تو ہے انجام عشق بھی\nبے ربطی مبتدا میں جو تھی وہ خبر میں ہے\n\nکیفیؔ مسیح شعر ہیں احباب اور بھی\nاک تجھ سے جان تازہ نہیں اس ڈھچر میں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A7%D8%B2%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "حسن اس شمع رو کا ہے گل رنگ", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن اس شمع رو کا ہے گل رنگ\nکیوں نہ بلبل جلے مثال پتنگ\n\nخط شب رنگ اس پری رو کا\nدیکھ آیا ہے آرسی پر زنگ\n\nاس کے نازک بدن میں ہوئے نہاں\nپہنے گر وو صنم قبائے تنگ\n\nدیکھ مجنوں نے بس کہا مجھ کوں\nاس قدر مارتے ہیں طفلاں سنگ\n\nساقیا جام مے سوں کر سرشار\nمجھ کوں درکار نیں ہے نام و ننگ\n\nغیر گردش کے پہنچتا نہیں رزق\nشاہد اس پر ہے آسیا کا سنگ\n\nیک قدم راہ دوست ہے داؤدؔ\nلیکن افسوس پائے بخت ہے لنگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D9%86%DA%AF"} {"title": "حسن اس شوخ کا اہا ہاہا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن اس شوخ کا اہا ہاہا\nجن نے دیکھا کہا اہا ہاہا\n\nزلف ڈالے ہے گردن دل میں\nدام کیا کیا بڑھا اہا ہاہا\n\nتیغ ابرو بھی کرتی ہے دل پر\nوار کیا کیا نیا اہا ہاہا\n\nآن پر آن وہ اجی او ہو\nاور ادا پر ادا اہا ہاہا\n\nناز سے جو نہ ہو وہ کرتی ہے\nچپکے چپکے حیا اہا ہاہا\n\nطائر دل پہ اس کا باز نگاہ\nجس گھڑی آ پڑا اہا ہاہا\n\nاس کی پھرتی اور اس کی لپ چھپ کا\nکیا تماشا ہوا اہا ہاہا\n\nبزم خوباں میں جب گیا وہ شوخ\nاپنی سج دھج بنا اہا ہاہا\n\nکی او ہو ہو کسی نے دیکھ نظیرؔ\nکوئی کہنے لگا اہا ہاہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DB%81%D8%A7_%DB%81%D8%A7%DB%81%D8%A7"} {"title": "حسن ان کا اپنے ذوق دید میں پاتا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "حسن ان کا اپنے ذوق دید میں پاتا ہوں میں\nسامنے ہو کر وہ چھپتے ہیں تڑپ جاتا ہوں میں\n\nعشرت جلوہ بھی ہو جائے جہاں حیرت زدہ\nاے خیال دوست اس منزل پہ گھبراتا ہوں میں\n\nدیکھتا ہوں اپنے غم خواروں کی جب بے دردیاں\nحسن بے پردہ کی رہ رہ کر قسم کھاتا ہوں میں\n\nانتظار اس کا ہے کتنا جاں گسل کیونکر کہوں\nخط میں جس کا نام ہی لکھ کر تڑپ جاتا ہوں میں\n\nکب سنبھلنے دے گی غش سے ان کی چشم برق پاش\nمژدہ بادائے بے خودی آتے ہیں وہ جاتا ہوں میں\n\nبے خیالی میں کبھی اپنی زبان حال سے\nخستہ حالی کے مزے ان کو بھی سمجھاتا ہوں میں\n\nآہ اب تک کی نہیں سیر بہارستان دل\nاک خیالی رو میں اے ہمدم بہا جاتا ہوں میں\n\nحیرت افزا ہے مرا عشق محبت آفریں\nخود ہی اب مضطر نہیں ان کو بھی تڑپاتا ہوں میں\n\nراستہ چھوڑ اے تغافل میرے گھر آتے ہیں وہ\nرہبری کر اے تمنا ان کے گھر جاتا ہوں میں\n\nحیرت مشق تصور کھو نہ دے مجھ کو کہیں\nسامنے اپنے تجھے اے دل نشیں پاتا ہوں میں\n\nلا رہی ہے ان کی چشم لطف عشرت کے پیام\nدیکھ اے منظورؔ اب کیسا نظر آتا ہوں میں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B0%D9%88%D9%82_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حسن اگر آشکار ہو جائے", "poet_page": "مصنف:جلال الدین اکبر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن اگر آشکار ہو جائے\nفتنۂ روزگار ہو جائے\n\nدل کو اس طرح دیکھنے والے\nدل اگر بے قرار ہو جائے\n\nشوخئ یار کا تقاضا ہے\nشوق بے اختیار ہو جائے\n\nکوئی شکوہ رہے نہ اکبرؔ کو\nتو اگر ایک بار ہو جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A2%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "حسن اے جان نہیں رہنے کا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن اے جان نہیں رہنے کا\nپھر یہ احسان نہیں رہنے کا\n\nنذر کی جیب تو اے جوش جنوں\nاب یہ دامان نہیں رہنے کا\n\nپردہ مت منہ سے اٹھانا یکبار\nمجھ میں اوسان نہیں رہنے کا\n\nتو چلا اور یہ جی اس تن میں\nکسی عنوان نہیں رہنے کا\n\nگل کو کیا روتی ہے تو اے بلبل\nیہ گلستان نہیں رہنے کا\n\nدم کا میہماں ہوں میں اب بھی تو\nآ کے مہمان نہیں رہنے کا\n\nنبڑی مے اور گلستان میں گل\nتیرے قربان نہیں رہنے کا\n\nاب بھی آنا ہے تو آ ورنہ میاں\nیہ بھی سامان نہیں رہنے کا\n\nدل کی درخواست جو کی تو نے تو یاں\nاب یہ اک آن نہیں رہنے کا\n\nایسے میں اپنی امانت لے جا\nپھر تجھے دھیان نہیں رہنے کا\n\nہجر کے غم سے نہ گھبرا جرأتؔ\nاتنا حیران نہیں رہنے کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "حسن بے مہر کو پروائے تمنا کیا ہو", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن بے مہر کو پروائے تمنا کیا ہو\nجب ہو ایسا تو علاج دل شیدا کیا ہو\n\nکثرت حسن کی یہ شان نہ دیکھی نہ سنی\nبرق لرزاں ہے کوئی گرم تماشا کیا ہو\n\nبے مثالی کے ہیں یہ رنگ جو باوصف حجاب\nبے نقابی پر ترا جلوۂ یکتا کیا ہو\n\nدیکھیں ہم بھی جو ترے حسن دل آرا کی بہار\nاس میں نقصان ترا اے گل رعنا کیا ہو\n\nہم غرض مند کہاں مرتبۂ عشق کہاں\nہم کو سمجھیں وہ ہوس کار تو بے جا کیا ہو\n\nدل فریبی ہے تری باعث صد جوش و خروش\nحال یہ ہو تو دل زار شکیبا کیا ہو\n\nرات دن رہنے لگی اس ستم ایجاد کی یاد\nحسرتؔ اب دیکھیے انجام ہمارا کیا ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A8%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "حسن بے پردہ کی گرمی سے کلیجہ پکا", "poet_page": "مصنف:مظفر علی اسیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن بے پردہ کی گرمی سے کلیجہ پکا\nتیغ کی آنچ سے گھر میں مرے کھانا پکا\n\nجنس دل لے کے نہ جاؤں میں کسی اور کے پاس\nآپ بیعانہ اگر دیجئے پکا پکا\n\nہر طرح ہاتھ اٹھانا ہے جہاں سے مشکل\nبیٹھ رہنے کو بھی گھر چاہئے کچا پکا\n\nہے وہ شاعر جو پڑھے بزم سخن میں اشعار\nمعتبر ہے جو کچہری میں ہو چہرہ پکا\n\nخام طبعی سے تمہارے ہے بہت تنگ اسیرؔ\nکیجیئے وصل کا اقرار تو پکا پکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A8%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%84%DB%8C%D8%AC%DB%81_%D9%BE%DA%A9%D8%A7"} {"title": "حسن بے پروا خریدار متاع جلوہ ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسنِ بے پروا خریدارِ متاعِ جلوہ ہے\nآئنہ زانوئے فکرِ اختراعِ جلوہ ہے\n\nتا کُجا اے آگہی رنگِ تماشا باختن؟\nچشمِ وا گر دیدہ آغوشِ وداعِ جلوہ ہے\n\nعجزِ دیدن ہا بہ ناز و نازِ رفتن ہا بہ چشم\nجادۂ صحرائے آگاہی شعاعِ جلوہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A8%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%B9_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیا", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیا\nکیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کر دیا\n\nبڑھ گئیں تم سے تو مل کر اور بھی بیتابیاں\nہم یہ سمجھے تھے کہ اب دل کو شکیبا کر دیا\n\nپڑھ کے تیرا خط مرے دل کی عجب حالت ہوئی\nاضطراب شوق نے اک حشر برپا کر دیا\n\nہم رہے یاں تک تری خدمت میں سرگرم نیاز\nتجھ کو آخر آشنائے ناز بے جا کر دیا\n\nاب نہیں دل کو کسی صورت کسی پہلو قرار\nاس نگاہ ناز نے کیا سحر ایسا کر دیا\n\nعشق سے تیرے بڑھے کیا کیا دلوں کے مرتبے\nمہر ذروں کو کیا قطروں کو دریا کر دیا\n\nکیوں نہ ہو تیری محبت سے منور جان و دل\nشمع جب روشن ہوئی گھر میں اجالا کر دیا\n\nتیری محفل سے اٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجال\nدیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کر دیا\n\nسب غلط کہتے تھے لطف یار کو وجہ سکوں\nدرد دل اس نے تو حسرتؔ اور دونا کر دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A8%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D9%86_%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A2%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلا (I)", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلا\nعشق اپنے مجرموں کو پا بہ جولاں لے چلا\n\nآرزوئے دید جاناں بزم میں لائی مجھے\nبزم سے میں آرزوئے دید جاناں لے چلا\n\nبسملوں کو زخم زخموں کو مبارک لذتیں\nسوئے مقتل پھر کوئی تیغ و نمک داں لے چلا\n\nخون ناحق کی حیا بولی ذرا منہ ڈھانک لو\nناز جب ان کو سر خاک شہیداں لے چلا\n\nکٹ گیا عاشق سر بازار سودا بک گیا\nجان لیلیٰ عشق نے دل حسن خوباں لے چلا\n\nخاک عاشق روکنے کو دور تک لپٹی گئی\nجب سمند ناز کو وہ گرم جولاں لے چلا\n\nمیرے گھر تک پاؤں پڑ کر ان کو لایا تھا نیاز\nناز دامن کھینچتا سوئے رقیباں لے چلا\n\nدل کو جاناں سے حسنؔ سمجھا بجھا کے لائے تھے\nدل ہمیں سمجھا بجھا کر سوئے جاناں لے چلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D9%82%D8%AA%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A8_%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DB%92_%DA%86%D9%84%D8%A7_%28I%29"} {"title": "حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلا (II)", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلا\nعشق اپنے مجرموں کو پا بجولاں لے چلا\n\nخون ناحق کی حیا بولی ذرا منہ ڈھانک لو\nناز جب ان کو سر خاک شہیداں لے چلا\n\nخاک عاشق روکنے کو دور تک لپٹی گئی\nجب سمند ناز کو وہ گرم جولاں لے چلا\n\nجب چلی مقتل سے قاتل کی سواری رات کو\nآگے آگے مشعلیں خون شہیداں لے چلا\n\nآرزوئے دید جاناں بزم میں لائی مجھے\nبزم سے میں آرزوئے دید جاناں لے چلا\n\nڈھونڈتی تھی ہر طرف کس کو نگاہ واپسیں\nآس کس کے دید کی بیمار ہجراں لے چلا\n\nناز آزادی حسنؔ وجہ اسیری ہو گیا\nمو کشاں دل کو خیال زلف پیماں لے چلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D9%82%D8%AA%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A8_%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DB%92_%DA%86%D9%84%D8%A7_%28II%29"} {"title": "حسن حجاب آشنا جانب بام آ گیا", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن حجاب آشنا جانب بام آ گیا\nبادۂ تہ نشین جام تا لب جام آ گیا\n\nآپ نے پھینک دی نقاب گرمئ عشق دیکھ کر\nحشر نواز حسن آج حشر کے کام آ گیا\n\nملت کفر و دیں کی بحث گرم تھی خانقاہ میں\nاتنے میں کوئی مے پئے دست بہ جام آ گیا\n\nشوق کا اعتبار کیا یاس یہ اختیار کیا\nراہ امید و بیم میں دل کا مقام آ گیا\n\nدل مرا دیکھتا رہا اور میری زبان پر\nلذت جان آرزو آپ کا نام آ گیا\n\nدہر جوان ہو گیا کھل گیا میکدے کا در\nساقیٔ مست مست ناز مست خرام آ گیا\n\nجلوۂ بے حجاب کو خوب سمجھ رہا ہوں میں\nمحشر دید منتظر منظر عام آ گیا\n\nکیفیؔٔ بے قرار سن یہ رگ جاں کے ساز سے\nہے مری التجا قبول دل کا پیام آ گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A8_%D8%A8%D8%A7%D9%85_%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "حسن سرشار ترا داروۓ بے ہوشی ہے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن سرشار ترا داروۓ بے ہوشی ہے\nہوش میں کون ہے کس کو سر مے نوشی ہے\n\nکچھ اگر بے ادبی ہووے تو معذور رکھو\nصحبت میکشی و عالم بے ہوشی ہے\n\nجوں ہلال آپ سے یکسر میں ہوا ہوں خالی\nتجھ سے اے مہر لقا شوق ہم آغوشی ہے\n\nبانگ گل باعث گردن شکنی ہے گل کی\nغنچہ سالم ہے کہ جب تک اسے خاموشی ہے\n\nسر چڑھا جائے ہے اے زلف کسو کی تو مگر\nاس پری رو سے تجھے آج جو سرگوشی ہے\n\nآپ ہو جائے ہے اس تیغ نگہ کے آگے\nگرچہ آئینہ کے جوہر سے ذرا پوشی ہے\n\nعمر غفلت ہی میں بیدارؔ چلی جانی ہے\nیاد ہے جس کی غرض اس سے فراموشی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B3%D8%B1%D8%B4%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D9%88%DB%93_%D8%A8%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "حسن سے شرح ہوئی عشق کے افسانے کی", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن سے شرح ہوئی عشق کے افسانے کی\nشمع لو دے کے زباں بن گئی پروانے کی\n\nشان بستی سے نہیں کم مرے ویرانے کی\nروح ہر بونڈلے میں ہے کسی دیوانے کی\n\nآمد موسم گل کی ہے خبر دور دگر\nتازگی چاہئے کچھ ساخت میں پیمانے کی\n\nآئی ہے کاٹ کے میعاد اسیری کی بہار\nہتکڑی کھل کے گری جاتی ہے دیوانے کی\n\nسرد اے شمع نہ ہو گرمی بازار جمال\nپھونک دے روح نئی لاش میں پروانے کی\n\nاٹھ کھڑا ہو تو بگولا ہے جو بیٹھے تو غبار\nخاک ہو کر بھی وہی شان ہے دیوانے کی\n\nآرزوؔ ختم حقیقت پہ ہوا دور مجاز\nڈالی کعبے کی بنا آڑ سے بت خانے کی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D8%AD_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "حسن شوخ چشم میں نام کو وفا نہیں", "poet_page": "مصنف:تاجور نجیب آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن شوخ چشم میں نام کو وفا نہیں\nدرد آفریں نظر درد آشنا نہیں\n\nننگ عاشقی ہے وہ ننگ زندگی ہے وہ\nجس کے دل کا آئینہ تیرا آئینہ نہیں\n\nآہ اس کی بے کسی تو نہ جس کے ساتھ ہو\nہائے اس کی بندگی جس کا تو خدا نہیں\n\nحیف وہ الم نصیب جس کا درد تو نہ ہو\nاف وہ درد زندگی جس کی تو دوا نہیں\n\nدوست یا عزیز ہیں خود فریبیوں کا نام\nآج آپ کے سوا کوئی آپ کا نہیں\n\nاپنے حسن کو ذرا تو مری نظر سے دیکھ\nدوست! شش جہات میں کچھ ترے سوا نہیں\n\nبے وفا خدا سے ڈر طعنۂ وفا نہ دے\nتاجورؔ میں اور عیب کچھ ہوں بے وفا نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حسن شہہ لولاک جو چمکا شب معراج", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "حسن شہہ لولاک جو چمکا شب معراج\nجلووں سے نبی صبح تجلی شب معراج\n\nکیا خوب جما وصل کا نقشہ شب معراج\nمطلوب نیا طالب شیدا شب معراج\n\nپایا نہ تقرب کسی مخلوق نے ایسا\nجیسا کہ ملا شاہ کو رتبہ شب معراج\n\nطالب تھا خدا بندۂ محبوب کا اپنے\nمہمان خدا نور خدا تھا شب معراج\n\nگنجینۂ رحمت سے حبیب ازلی کو\nکیا کیا نہیں اللہ نے بخشا شب معراج\n\nتا دیر رہی طالب و مطلوب میں قربت\nدل بھر کے مزہ وصل کا لوٹا شب معراج\n\nکانوں نے سنا جو کبھی کانوں نہ سنا تھا\nآنکھوں نے نہ دیکھا تھا جو دیکھا شب معراج\n\nعالم کو کیا مست مئے حسن ازل نے\nبیکار رہا ساغر و مینا شب معراج\n\nنعلین مبارک کا ہوا فخر جو حاصل\nبس جھوم گیا عرش معلیٰ شب معراج\n\nاللہ کا دیدار محمد کی شفاعت\nمائلؔ کو ملی حشر کے دن یا شب معراج", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B4%DB%81%DB%81_%D9%84%D9%88%D9%84%D8%A7%DA%A9_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D9%85%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%D8%A8_%D9%85%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%AC"} {"title": "حسن صورت میں گرچہ بود نہیں", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "حسن صورت میں گرچہ بود نہیں\nپر کہاں عشق کی نمود نہیں\n\nنیستی جلوہ گر ہے ہستی میں\nکچھ عدم کا مرے وجود نہیں\n\nہم نے اول سے دیکھا آخر تک\nذات حق کی نبود و بود نہیں\n\nتیرے حسن ملیح کے قربان\nکس کے ورد زباں درود نہیں\n\nمیرے ساقی کے پیش ساغر چشم\nشیشہ کو کب سر سجود نہیں\n\nداغ سوزاں ہے جسم میں وہ عضو\nسنگ آفت سے جو کبود نہیں\n\nباغ ہے داغ گر نہ ہو لالہ\nبزم وہ کیا ہے جس میں عود نہیں\n\nبسکہ ہے کند ناخن مژگاں\nعقدۂ اشک کی کشود نہیں\n\nہم جو کہتے تھے تم سے روز وقارؔ\nجز ضرر عاشقی میں سود نہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%A8%D9%88%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حسن ظاہر بھی ہے ہمارا دلخواہ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "حسن ظاہر بھی ہے ہمارا دلخواہ\nمحو صورت بھی ہوں میں معنی آگاہ\nباغ عالم کو چشم کم سے مت دیکھ\nکیا کیا ہیں رنگ یھاں بھی اللہ اللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81"} {"title": "حسن عالم سوز نامحدود ہونا چاہئے", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن عالم سوز نامحدود ہونا چاہئے\nہر تجلی آفتاب آلود ہونا چاہئے\n\nحسن نیت ہے دلیل حسن انجام عمل\nسعی میں بھی جلوۂ مقصود ہونا چاہئے\n\nایک ہی جلوہ ہے جب ہنگامہ آرائے شہود\nپھر وہی شاہد وہی مشہود ہونا چاہئے\n\nحسن عالم سوز کا فیض تجلی عام ہے\nایک اک ذرہ یہاں مسجود ہونا چاہئے\n\nشانہ و آئینہ کیا اے زلف مشکین ایاز\nتیری زینت کو دل محمود ہونا چاہئے\n\nبے نیازی اب خطا کاروں کی ہمت بڑھ گئی\nباب توبہ کچھ دنوں مسدود ہونا چاہئے\n\nکاوش مژگان کا پیہم تقاضا ہے عزیزؔ\nہر نفس کو تیرے خون آلود ہونا چاہئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%86%D8%A7%D9%85%D8%AD%D8%AF%D9%88%D8%AF_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد\nبارے آرام سے ہیں اہلِ جفا میرے بعد\n\nمنصبِ شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہا\nہوئی معزولیِ انداز و ادا میرے بعد\n\nشمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے\nشعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد\n\nخوں ہے دل خاک میں احوالِ بتاں پر، یعنی\nان کے ناخن ہوئے محتاجِ حنا میرے بعد\n\nدرخورِ عرض نہیں جوہرِ بیداد کو جا\nنگہِ ناز ہے سرمے سے خفا میرے بعد\n\nہے جنوں اہلِ جنوں کے لیے آغوشِ وداع\nچاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد\n\nکون ہوتا ہے حریفِ مئے مرد افگنِ عشق\nہے مکرّر لبِ ساقی میں صلا میرے بعد\n\nغم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئی\nکہ کرے تعزیتِ مہر و وفا میرے بعد\n\nتھی نگہ میری نہاں خانۂ دل کی نقاب\nبے خطر جیتے ہیں اربابِ ریا میرے بعد\n\nتھا میں گلدستۂ احباب کی بندش کی گیاہ\nمتفرّق ہوئے میرے رفَقا میرے بعد\n\nآئے ہے بے کسیِ عشق پہ رونا غالبؔ\nکس کے گھر جائے گا سیلابِ بلا میرے بعد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%BA%D9%85%D8%B2%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%B4%D8%A7%DA%A9%D8%B4_%D8%B3%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "حسن فطرت کی آبرو مجھ سے", "poet_page": "مصنف:اقبال سہیل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن فطرت کی آبرو مجھ سے\nآب و گل میں ہے رنگ و بو مجھ سے\n\nمیرے دم سے بنائے مے خانہ\nہستئ شیشہ و سبو مجھ سے\n\nمجھ سے آتش کدوں میں سوز و گداز\nخانقاہوں میں ہائے و ہو مجھ سے\n\nشبنم ناتواں سہی لیکن\nاس گلستاں میں ہے نمو مجھ سے\n\nاک تگاپوئے دائمی ہے حیات\nکہہ رہی ہے یہ آب جو مجھ سے\n\nطاقت جنبش نظر بھی نہیں\nاب ہو کیا شرح آرزو مجھ سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92"} {"title": "حسن قبول", "poet_page": "مصنف:تصدق حسین خالد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "گرج رہا ہے سیہ مست پیل پیکر ابر\nاداس کوہ کی چوٹی پہ ایک تنہا پیڑ\nاٹھا رہا ہے سوئے آسماں وہ تنہا شاخ\nسرک رہی ہے ابھی جس میں زندگی کی نمی\nبڑھا ہو جیسے کسی بے نوا کا بیکس ہاتھ\nہجوم یاس میں اک آخری دعا کے لیے\nبرس محیط کرم ایک بار اور برس\nبس ایک بار مجھے اور پھول لانے دے\nتڑپ رہا ہے ابھی مجھ میں ساز و برگ نمو\nیہ میری کلیاں یہ پتے ابھی تو زندگی ہوں\nاتر اتر مرے دامن پہ پھول برسا دے\nمچل کے ابر کے پردوں سے بے حجاب آیا\nدعائے نیم شبی کا مگر جواب آیا\nشرار برق کا ہیجان\nپیڑ طور بدست\nز فرق تا بہ قدم ایک پھول\nحسن قبول", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%82%D8%A8%D9%88%D9%84"} {"title": "حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے\nاس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے\n\nبوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ\nجی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے\n\nاور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا\nساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے\n\nبے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے\nوہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے\n\nان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق\nوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے\n\nدیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض\nاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے\n\nہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا\nجس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے\n\nقطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے\nکام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے\n\nخضر سلطاں کو رکھے خالق اکبر سرسبز\nشاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے\n\nہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن\nدل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%85%DB%81_%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%A8%DB%81_%DB%81%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "حسن میں آفت جہاں تو ہے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن میں آفت جہاں تو ہے\nچال میں خنجر رواں تو ہے\n\nدونوں ظالم ہیں فرق اتنا ہے\nآسماں پیر ہے جواں تو ہے\n\nبے کہے دل کا حال روشن ہے\nاے خموشی مری زباں تو ہے\n\nاپنے گھر میں خیال میں دل میں\nایک ہو کر کہاں کہاں تو ہے\n\nدونوں جانب سے پردہ داری ہے\nمیں ہوں گمنام بے نشاں تو ہے\n\nسب سے پیاری ہے جان دنیا میں\nجان سے بڑھ کے جان جاں تو ہے\n\nآئینے پر نہیں یہ چشم کرم\nاپنی صورت کا قدر داں تو ہے\n\nکیا برابر کا جوڑ ہے یہ جلیلؔ\nیار نازک ہے ناتواں تو ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "حسن نے مان لیا قابل تعزیر مجھے", "poet_page": "مصنف:دل شاہ جہانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن نے مان لیا قابل تعزیر مجھے\nنظر آئی ہے محبت کی یہ تقصیر مجھے\n\nکیوں نہ ہو بادۂ سرجوش کی توقیر مجھے\nمل گئی پیر خرابات سے تحریر مجھے\n\nجلوۂ حسن کے مفہوم پہ جب غور کیا\nایک دھندلی سی نظر آئی ہے تصویر مجھے\n\nاب مری وحشت رسوا کا عجب عالم ہے\nکر دیا آپ نے وابستۂ زنجیر مجھے\n\nبے تکلف رخ زیبا سے اٹھائے وہ نقاب\nحسن خود پائے گا ایک پیکر تصویر مجھے\n\nزندگی اک نئے عالم میں نظر آتی ہے\nلے چلی آج کہاں گردش تقدیر مجھے\n\nکھچ گئی دل کشئ حسن مری نظروں میں\nجی بہلنے کو ملی آپ کی تصویر مجھے\n\nزلف شب گوں رخ انور کی ستائش کو سوا\nکوئی مضمون نہ ملا قابل تحریر مجھے\n\nحسن دل کش کے تلون پہ نظر جب پہنچی\nنہ رہا پھر گلۂ گردش تقدیر مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D8%AA%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "حسن و الفت میں خدا نے ربط پیدا کر دیا", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن و الفت میں خدا نے ربط پیدا کر دیا\nدرد دل مجھ کو دیا تم کو مسیحا کر دیا\n\nخوب کی تقسیم تو نے اے خیال زلف یار\nدل کو نذر داغ سر کو وقف سودا کر دیا\n\nجان لے لینا جلانا کھیل ہے معشوق کا\nآنکھ سے مارا لب نازک سے زندہ کر دیا\n\nمجھ کو شکوہ ہے کہ دل کا خون قاتل نے کیا\nدل یہ کہتا ہے مجھے قطرے سے دریا کر دیا\n\nناز ہو یا دلبری افسوں ہو یا جادوگری\nسب کو قدرت نے تری چتون کا حصہ کر دیا\n\nدل ادھر رخصت ہوا ہوش اس طرف چلتے ہوئے\nکس کی آنکھوں نے یہ در پردہ اشارا کر دیا\n\nمیں کہاں چاہت کہاں یہ سب کرشمے دل کے ہیں\nتم پہ خود شیدا ہوا مجھ کو بھی شیدا کر دیا\n\nمرحبا اے ساقیٔ جادو نظر صد مرحبا\nمست آنکھوں نے مرا نشہ دوبالا کر دیا\n\nدل تڑپتا ہے تو کچھ تسکین ہوتی ہے جلیلؔ\nجی بہلنے کو خدا نے درد پیدا کر دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%88_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%92_%D8%B1%D8%A8%D8%B7_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "حسن و عشق", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مجھ سے مت پوچھ مرے حسن میں کیا رکھا ہے\nآنکھ سے پردۂ ظلمات اٹھا رکھا ہے\nمیری دنیا کہ مرے غم سے جہنم بر دوش\nتو نے دنیا کو بھی فردوس بنا رکھا ہے\n\nمجھ سے مت پوچھ ترے عشق میں کیا رکھا ہے\nسوز کو ساز کے پردے میں چھپا رکھا ہے\nجگمگا اٹھتی ہے دنیائے تخیل جس سے\nدل میں وہ شعلۂ جاں سوز دبا رکھا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "حسن پر زیبا نہیں یہ لن ترانی آپ کی", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن پر زیبا نہیں یہ لن ترانی آپ کی\nچار دن کی چاندنی ہے نوجوانی آپ کی\n\nہم بھی کچھ منہ سے جو کہہ بیٹھیں تو پھر کتنی رہے\nدیکھیے اچھی نہیں یہ بد زبانی آپ کی\n\nکچھ سمجھ میں حال یہ آتا نہیں حیران ہوں\nآج ہے کیسی یہ مجھ پر مہربانی آپ کی\n\nباز آئے ہم یہ اپنا آپ چھلا لیجیے\nہر کسی کے ہاتھ میں ہے اب نشانی آپ کی\n\nراہ میں بھی دیکھ کر منہ پھیر لیتے ہیں حضور\nآج کل ہے کس قدر نامہربانی آپ کی\n\nدو گھڑی اک رنگ پر قائم نہیں حسن شباب\nکیا مصور کھینچے تصویر جوانی آپ کی\n\nآب حیواں ہے کہیں زہر ہلاہل ہے کہیں\nتلخ گوئی آپ کی شیری زبانی آپ کی\n\nخواب میں ہم کو نہ آنے دیتے تو ہم جانتے\nکی رقیبوں نے یہ کیسی پاسبانی آپ کی\n\nاپنے مرنے کا نہیں غم رنج ہے اس بات کا\nآج انگلی سے اترتی ہے نشانی آپ کی\n\nحال دل سنتے نہیں یہ کہہ کے خوش کر دیتے ہیں\nپھر کبھی فرصت میں سن لیں گے کہانی آپ کی\n\nہم کو یہ دولت کبھی ملتی تو ہم بھی جانتے\nہوگی جس کے واسطے ہوگی جوانی آپ کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D8%B2%DB%8C%D8%A8%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D9%84%D9%86_%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "حسن پر فرعون کی پھبتی کہی", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن پر فرعون کی پھبتی کہی\nہاتھ لانا یار کیوں کیسی کہی\n\nدامن یوسف ہی بھڑکاتا رہا\nعشق اور ترک ادب اچھی کہی\n\nکون سمجھائے کہ دنیا گول ہے\nآپ نے جیسی سنی ویسی کہی\n\nکوئی ضد تھی یا سمجھ کا پھیر تھا\nمن گئے وہ میں نے جب الٹی کہی\n\nدرد سے پہلے کروں فکر دوا\nواہ یہ اچھی الٹوانسی کہی\n\nدوست سے پردہ کیا یہ کیا کیا\nآپ بیتی چھوڑ جگ بیتی کہی\n\nشک ہے کافر کو مرے ایمان میں\nجیسے میں نے کوئی منہ دیکھی کہی\n\nکیا خبر تھی یہ جدائی اور ہے\nہائے میں نے کیوں خدا لگتی کہی\n\nمفت میں سن لی یگانہؔ کی غزل\nان سنی کر دی جو مطلب کی کہی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D9%81%D8%B1%D8%B9%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%A8%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%DB%81%DB%8C"} {"title": "حسن پر ہے خوب رویاں میں وفا کی خو نہیں", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن پر ہے خوب رویاں میں وفا کی خو نہیں\nپھول ہیں یہ سب پہ ان پھولوں میں ہرگز بو نہیں\n\nحسن ہے خوبی ہے سب تجھ میں پہ اک الفت نہیں\nاور سب کچھ ہے پہ جو ہم چاہتے ہیں سو نہیں\n\nگھر اجالا تم کوں کرنا ہو اگر احسان کا\nتو دیا جو کچھ کے ہو پھر نام اس کا لو نہیں\n\nبات جو ہم چاہتے ہیں سو تو ہے تم میں سجن\nبے دہن کہتے ہیں تو کیا ڈر کہ تم کو گو نہیں\n\nآبروؔ ہے اس کوں کیوں کر اس طرح کا جانیے\nتم تو کہتے ہو پر ایسا کام اس سیں ہو نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا\nہشیار وہی ہے کہ جو دیوانہ ہے اس کا\n\nگل آتے ہیں ہستی میں عدم سے ہمہ تن گوش\nبلبل کا یہ نالہ نہیں افسانہ ہے اس کا\n\nگریاں ہے اگر شمع تو سر دھنتا ہے شعلہ\nمعلوم ہوا سوختہ پروانہ ہے اس کا\n\nوہ شوخ نہاں گنج کی مانند ہے اس میں\nمعمورۂ عالم جو ہے ویرانہ ہے اس کا\n\nجو چشم کہ حیراں ہوئی آئینہ ہے اس کی\nجو سینہ کہ صد چاک ہوا شانہ ہے اس کا\n\nدل قصر شہنشہ ہے وہ شوخ اس میں شہنشاہ\nعرصہ یہ دو عالم کا جلو خانہ ہے اس کا\n\nوہ یاد ہے اس کی کہ بھلا دے دو جہاں کو\nحالت کو کرے غیر وہ یارانہ ہے اس کا\n\nیوسف نہیں جو ہاتھ لگے چند درم سے\nقیمت جو دو عالم کی ہے بیعانہ ہے اس کا\n\nآوارگی نکہت گل ہے یہ اشارہ\nجامے سے وہ باہر ہے جو دیوانہ ہے اس کا\n\nیہ حال ہوا اس کے فقیروں سے ہویدا\nآلودۂ دنیا جو ہے بیگانہ ہے اس کا\n\nشکرانۂ ساقی ازل کرتا ہے آتشؔ\nلبریز مئے شوق سے پیمانہ ہے اس کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%DA%A9_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے\nدل کی جانب نظر ہے کیا کہئے\n\nپھر وہی رہ گزر ہے کیا کہئے\nزندگی راہ پر ہے کیا کہئے\n\nحسن خود پردہ ور ہے کیا کہئے\nیہ ہماری نظر ہے کیا کہئے\n\nآہ تو بے اثر تھی برسوں سے\nنغمہ بھی بے اثر ہے کیا کہئے\n\nحسن ہے اب نہ حسن کے جلوے\nاب نظر ہی نظر ہے کیا کہئے\n\nآج بھی ہے مجازؔ خاک نشیں\nاور نظر عرش پر ہے کیا کہئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%81%D8%AA%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "حسن کا دیکھ ہر طرف گل زار", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "حسن کا دیکھ ہر طرف گل زار\nعندلیباں ہوئے ہیں دل افگار\n\nعشق کی مے سوں جو ہوا سرمست\nدل ہوا اس کا خانۂ خمار\n\nیار آیا ہے جب معالج ہو\nدرد فرقت میں نہیں رہا بیمار\n\nآپ عاشق ہے حسن پر اپنے\nہے مرے جان کا عجب اسرار\n\nکہیں عاشق کہیں ہوا دلبر\nکہیں معشوق کیں ہوا دل دار\n\nکیں ہوا شمس کیں ہوا ہے قمر\nکیں ہوا نور کیں ہوا ہے نار\n\nکیں ہوا ارض کیں ہوا ہے فلک\nکیں ہوا بحر کیں ہوا اشجار\n\nکیں ہوا انس کیں ہوا ہے ملک\nکیں ہوا دید کیں ہوا دیدار\n\nکیں پیمبر کہیں ہوا ہے ولی\nکیں ہوا شیخ کیں ہوا زنار\n\nکیں ہے قاضی کہیں ہوا مفتی\nکیں ہوا مست کیں ہوا ابرار\n\nکیں ہوا جان کیں ہوا جاناں\nسب میں ہے اور کہیں سبھوں سے پار\n\nحق میں حق ہو سدا انا الحق بول\nدیکھ منصور کیوں چڑھا ہے دار\n\nاک پنا ذات کا علیمؔ اللہ\nشرع بن غیر کچھ نہ کر تکرار", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%DA%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1"} {"title": "حسن کافر شباب کا عالم", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن کافر شباب کا عالم\nسر سے پا تک شراب کا عالم\n\nعرق آلود چہرۂ تاباں\nشبنم و آفتاب کا عالم\n\nوہ مری عرض شوق بے حد پر\nکچھ حیا کچھ عتاب کا عالم\n\nاللہ اللہ وہ امتزاج لطیف\nشوخیوں میں حجاب کا عالم\n\nہمہ نور و سرور کی دنیا\nہمہ حسن و شباب کا عالم\n\nوہ لب جوئبار و موسم گل\nوہ شب ماہتاب کا عالم\n\nزانوئے شوق پر وہ پچھلے پہر\nنرگس نیم خواب کا عالم\n\nدیر تک اختلاط راز و نیاز\nیک بیک اجتناب کا عالم\n\nلاکھ رنگیں بیانیوں پہ مری\nایک سادہ جواب کا عالم\n\nغم کی ہر موج موج طوفاں خیز\nدل کا عالم حباب کا عالم\n\nدل مطرب سمجھ سکے شاید\nاک شکستہ رباب کا عالم\n\nوہ سماں آج بھی ہے یاد جگرؔ\nہاں مگر جیسے خواب کا عالم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85"} {"title": "حسن کس روز ہم سے صاف ہوا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن کس روز ہم سے صاف ہوا\nگنہ عشق کب معاف ہوا\n\nلے لیا شکر کر کے ساقی سے\nدرد اس میں ہوا کہ صاف ہوا\n\nتیغ قاتل پر اپنا خون جم کر\nمخمل سرخ کا غلاف ہوا\n\nزہر پرہیز ہو گیا مجھ کو\nدرد درماں سے المضاف ہوا\n\nخاکساری کی ہو چکی معراج\nسینہ اپنا زمین صاف ہوا\n\nکمر یار نے دکھائی آنکھ\nمردم دیدہ خال ناف ہوا\n\nوعدہ جھوٹا نکردہ مرد نہیں\nقول سے فعل جب خلاف ہوا\n\nفاتحہ کو جو وہ پری آئی\nسنگ قبر اپنا کوہ قاف ہوا\n\nاس کمر کے ثبوت میں عاجز\nفکر کر کر کے موشگاف ہوا\n\nرند مشرب ہوں مجھ کو کیا ہووے\nمذہبوں میں جو اختلاف ہوا\n\nوہ دہن ہوں نہ نکلا حرف غرور\nوہ زباں ہوں نہ جس سے لاف ہوا\n\nگرد اس کوچہ کے پھرا آتشؔ\nحاجی سے کعبہ کا طواف ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%B3_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B5%D8%A7%D9%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "حسن کو اس کے خط کا داغ لگا", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن کو اس کے خط کا داغ لگا\nپر ہمیں تو بہار و باغ لگا\n\nگھر سے جوں ماہ بے حجاب نکل\nاب تو اے شمع رو چراغ لگا\n\nبادشاہوں کی بزم عشرت سے\nاپنا مت گوشۂ فراغ لگا\n\nآتشیں اشک ایک دم جو تھما\nخانۂ دیدہ بے چراغ لگا\n\nلے خبر اب تو ساقیٔ سر دست\nخشک ہونے مرا دماغ لگا\n\nکس کو یہ خون دل ملی دولت\nاس کے ہونٹوں سے جا ایاغ لگا\n\nدل گم گشتہ کا مرے حسرتؔ\nلگ سکے تو کہیں سراغ لگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D8%B7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D9%84%DA%AF%D8%A7"} {"title": "حسن کو بے حجاب ہونا تھا", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن کو بے حجاب ہونا تھا\nشوق کو کامیاب ہونا تھا\n\nہجر میں کیف اضطراب نہ پوچھ\nخون دل بھی شراب ہونا تھا\n\nتیرے جلووں میں گھر گیا آخر\nذرے کو آفتاب ہونا تھا\n\nکچھ تمہاری نگاہ کافر تھی\nکچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا\n\nرات تاروں کا ٹوٹنا بھی مجازؔ\nباعث اضطراب ہونا تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "حسن کو سمجھتا ہے عشق ہم زباں اپنا", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "حسن کو سمجھتا ہے عشق ہم زباں اپنا\nہے حقیقت ایسی ہی یا ہے یہ گماں اپنا\n\nفاش ہم کریں کیونکر راز مدعا یابی\nگم حصول مقصد میں حاصل بیاں اپنا\n\nکارساز ہے کتنی دید و باز دید اپنی\nمل گیا صلہ ہم کو بعد امتحاں اپنا\n\nلطف رنجش بے جا آج دونوں پاتے ہیں\nمسکرا رہے ہیں وہ دل ہے شادماں اپنا\n\nان کی دل فریبی کا یہ جواب ہے ورنہ\nمجھ سا بد گماں سمجھے ان کو مہرباں اپنا\n\nکارواں کے بھی ملتے کچھ نشاں یہ نا ممکن\nکچھ اثر تو چھوڑے گی یاد کارواں اپنا\n\nدرد آشنا دل کو دیکھ کر میں کہتا ہوں\nیاس دے نہیں سکتی آس کو مکاں اپنا\n\nبیکسی کی منزل سے جس کی حد نہیں ملتی\nاس زمیں پہ کھینچیں ہم کس طرح نشاں اپنا\n\nکیا علاج ہے منظورؔ اس جنوں خرامی کا\nمنفعل ہوں مجنوں کو کہہ کے ہم عناں اپنا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%85_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "حسن کو شکلیں دکھانی آ گئیں", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن کو شکلیں دکھانی آ گئیں\nشوخیاں لے کر جوانی آ گئیں\n\nسر میں سودا دل میں درد آنکھوں میں اشک\nبستیاں ہم کو بسانی آ گئیں\n\nجو بگڑ جاتا تھا باتوں پر کبھی\nاب اسے باتیں بنانی آ گئیں\n\nدل میں لاکھوں داغ روشن ہو گئے\nعشق کو شمعیں جلانی آ گئیں\n\nبرق و باراں کے جلو میں بدلیاں\nساتھ لے کر آگ پانی آ گئیں\n\nاے دل راحت طلب ہشیار باش\nساعتیں اب امتحانی آ گئیں\n\nدل لگا کر پھنس گئے زحمت میں ہم\nتھیں بلائیں جتنی آنی آ گئیں\n\nمسکرا دینا قیامت ہو گیا\nبجلیاں تم کو گرانی آ گئیں\n\nڈر رہے تھے جن سے ارباب جہاں\nوہ بلائیں آسمانی آ گئیں\n\nنوحؔ وہ کہتے ہیں پھر طوفان اٹھے\nقوتیں اب آزمانی آ گئیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%DA%A9%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A2_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حسن کو وسعتیں جو دیں عشق کو حوصلہ دیا", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن کو وسعتیں جو دیں عشق کو حوصلہ دیا\nجو نہ ملے نہ مٹ سکے وہ مجھے مدعا دیا\n\nہاتھ میں لے کے جام مے آج وہ مسکرا دیا\nعقل کو سرد کر دیا روح کو جگمگا دیا\n\nدل پہ لیا ہے داغ عشق کھو کے بہار زندگی\nاک گل تر کے واسطے میں نے چمن لٹا دیا\n\nلذت درد خستگی دولت دامن تہی\nتوڑ کے سارے حوصلے اب مجھے یہ صلا دیا\n\nکچھ تو کہو یہ کیا ہوا تم بھی تھے ساتھ ساتھ کیا\nغم میں یہ کیوں سرور تھا درد نے کیوں مزا دیا\n\nاب نہ یہ میری ذات ہے اب نہ یہ کائنات ہے\nمیں نے نوائے عشق کو ساز سے یوں ملا دیا\n\nعکس جمال یار کا آئنۂ خودی میں ہے\nیہ غم ہجر کیا دیا مجھ سے مجھے چھپا دیا\n\nحشر میں آفتاب حشر اور وہ شور الاماں\nاصغرؔ بت پرست نے زلف کا واسطا دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D9%88%D8%B3%D8%B9%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%AD%D9%88%D8%B5%D9%84%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "حسن کی تخلیق", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سرکنڈوں کے پیچھے", "year": "1955", "text_ur": "کالج میں شاہد ہ حسین ترین لڑکی تھی۔ اس کو اپنے حسن کا احساس تھا۔ اسی لیے وہ کسی سے سیدھے منہ بات نہ کرتی اور خود کو مغلیہ خاندان کی کوئی شہزادی سمجھتی۔ اس کے خدوخال واقعی مغلئی تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ نور جہاں کی تصویر جو اس زمانے کے مصوروں نے بنائی تھی، اس میں جان پڑگئی ہے۔\n\nکالج کے لڑکے اسے شہزادی کہتے تھے، لیکن اس کے سامنے نہیں، پر اس کو معلوم ہوگیا تھا کہ اسے یہ لقب دیا گیا ہے۔ وہ اور بھی مغرور ہوگئی۔کالج میں مخلوط تعلیم تھی۔ لڑکے زیادہ تھے اور لڑکیاں کم۔ آپس میں ملتے جلتے، لیکن بڑے تکلف کے ساتھ۔ شاہدہ الگ الگ رہتی۔ اس لیے کہ اس کو اپنے حسن پر بڑا ناز تھا۔ وہ اپنی ہم جماعت لڑکیوں سے بھی بہت کم گفتگو کرتی تھی۔ کلاس میں آتی تو ایک کونے میں بیٹھ جاتی اور بت سی بنی رہتی۔ بڑا حسین بت۔۔۔ اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں جن پر گھنی پلکوں کی چھاؤں رہتی تھی، ساکت وصامت رہتیں۔ لڑکے اسے دیکھتے اور جی ہی جی میں بہت کڑھتے کہ یہ حسن خاموش کیوں ہے، اس قدر منجمد کس لیے ہے، اسے تو متحرک ہونا چاہیے۔\n\nاس کا رنگ گورا تھا۔۔۔ بہت گورا جس میں تھوڑی سی غلط روی بھی گھلی ہوئی تھی۔ اگر یہ نہ ہوتی تو شکر کی بنی ہوئی پتلی تھی جو دیوالی کے تہوار پر بکا کرتی ہیں۔ اس میں مٹھاس تھی، لیکن وہ ظاہر یہ کرنا چاہتی تھی کہ بڑی کڑویلی کسیلی ہے۔۔۔ کالج میں اس کا رویہ ہی کچھ اس قسم کا تھا کہ ہر وقت نیم کی نبولی بنی رہتی تھی۔\n\nایک دن اس کے ایک ہم جماعت لڑکے نے جرأت سے کام لے کر اس سے کہا، ’’حضور۔۔۔ خاکساری میں اپنی جگہ دے کرکبھی کسی کو سرفراز توکریں!‘‘ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ دوسرے دن اس طالب علم کو پرنسپل نے بلایا اور اسے نکال باہر کیا۔ اس حادثے کے بعد تمام لڑکے محتاط ہوگئے۔ انھوں نے شاہدہ کودیکھنا ہی چھوڑ دیا کہ مبادا ان کا وہی حشر ہو، جو اس طالب علم کا ہوا۔\n\nشاہدہ اب بی۔ اے میں تھی۔ خوبصورت ہونے کے علاوہ کافی ذہین تھی۔ اس کے پروفیسر اس کی ذہانت اور خوبصورت سے بڑے مرعوب تھے۔ پرنسپل کی چہیتی تھی، اس لیے کہ وہ اس کی بڑی بہن کے بڑے لڑکے کی بیٹی تھی۔\n\nکالج میں چہ میگوئیاں ہوتی ہی رہتی ہیں۔ شاہدہ کے متعلق قریب قریب ہر روز طالب علموں میں باتیں ہوتی تھیں۔ وہ اس کے متعلق کوئی بری رائے قائم نہیں کر پاتے تھے، اس لیے کہ اس کا کریکٹر بڑا مضبوط تھا۔ ٹک شاپ میں باتیں ہوتیں اور شاہدہ کا حسن زیر بحث ہوتا۔ سب سوچتے کہ یہ حسین قلعہ کون سر کرے گا۔شاہدہ کو، جیسا کہ سب کو معلوم تھا، صرف خوبصورت چیزیں پسند تھیں۔ وہ کسی بدصورت چیز کو برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ ایک دن کلاس میں ایک لڑکے کی رینٹھ بہہ رہی تھی۔ شاہدہ نے جب اس کی طرف دیکھا تو فوراً اٹھ کر چلی گئی۔ وہ بڑی نفاست پسند تھی۔ اس کو وہ ہرچیز کھلتی تھی جو بدنما ہو۔\n\nکالج میں ایک لڑکی جمیلہ تھی۔۔۔ بڑی بدصورت، مگر شاہدہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذہین۔ اس کو وہ نفرت کی نگاہوں سے دیکھتی تھی۔ویسے وہ اس کی ذہانت کی قائل تھی اور کوئی رشک محسوس نہیں کرتی تھی۔کالج کے سب لڑکے سوچتے تھے کہ شاہدہ اگر حسین نہ ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا۔۔۔ وہ اس سے بات چیت تو کرسکتے۔ مگر وہ اپنے حسن کے غرور میں سرشار رہتی اور کسی کومنہ ہی نہیں لگاتی تھی۔ ایک دن کالج میں ہنگامہ سا برپا ہوگیا۔۔۔ ایک لڑکا جس کے والد کی تبدیلی ہوگئی تھی، اس کالج میں داخلہ لینے کے لیے آیا۔ لڑکوں اور لڑکیوں نے اسے دیکھا اور ششدر رہ گئے۔ وہ شاہدہ سے زیادہ خوبصورت تھا۔\n\nاس کا نام شاہد تھا۔۔۔ اس کو داخلہ مل گیا۔\n\nجس کلاس میں شاہدہ تھی، اسی میں شاہد تھا۔۔۔ اتفاق کی بات ہے کہ جب شاہد پہلے روز کلاس روم میں آیا تو شاہدہ موجود نہیں تھی۔ اس کو زکام ہوگیا تھا اور اس کے باعث اس نے دو روز کے لیے چھٹی لے لی تھی۔دو دن کے بعد جب شاہد کالج کے باغ میں ٹہل رہا تھا تو اس نے دیکھا کہ ایک خوبصورت، مگر بے جان سی مورت آرہی ہے۔ اس نے اپنی کتابیں بینچ پر رکھیں اور آگے بڑھا۔ شاہدہ نے اسے دیکھا۔ وہ اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوئی اور تھوڑی دیر کے لیے اس کے قدم رک گئے۔ زمین گیلی تھی، کیچڑ سی ہورہی تھی۔ شاہد جب اس کی طرف بڑھا تو وہ گھبرا سی گئی۔ اس گھبراہٹ میں اس کا پاؤں پھسلا اور وہ اوندھے منہ زمین پر گر پڑی۔\nشاہد نے لپک کر اسے اٹھایا۔۔۔ شاہدہ کے ٹخنے میں موچ آگئی تھی، مگر اس نے مسکرا کر کہا، ’’شکریہ۔۔۔آپ کون ہیں؟‘‘\n\nشاہد نے جواب دیا، ’’ایک خادم!‘‘\n\n’’آپ خادم تو دکھائی نہیں دیتے؟‘‘\n\n’’کیا دکھائی دیتا ہوں۔۔۔ بعض اوقات صحیح شکلیں غلط دکھائی دیا کرتی ہیں۔‘‘\nشاہدہ کو یہ بات پسند آئی۔ اس کے ٹخنے میں درد ہورہا تھا مگر وہ اسے چند لمحوں کے لیے بھول گئی، ’’آپ کا نام؟‘‘\n\n’’شاہد!‘‘\n\nشاہدہ نے سوچا کہ شاید وہ اس کا نام سن چکا ہے اور شرارت کے طور پر شاہد بن رہا ہے۔\n\n’’آپ غلط کہہ رہے ہیں۔‘‘\n\n’’آپ کالج کے رجسٹر سے اس کی تصدیق کرسکتی ہیں۔‘‘\n\n’’آپ اس کالج میں پڑھتے ہیں؟‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ آپ یہاں کیسے چلی آئیں؟‘‘\n\n’’واہ۔۔۔ میں بھی تو یہیں پڑھتی ہوں۔‘‘\n\n’’کس کلاس میں؟‘‘\n\n’’بی اے میں؟‘‘\n\n’’میں بھی تو بی اے میں ہوں۔‘‘\n\n’’جھوٹ۔۔۔ آپ تو مالی معلوم ہوتے ہیں۔‘‘\n\n’’اس شکل کے آدمی واقعی مالی معلوم ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن افسوس ہے کہ میں نے ابھی تک کوئی پھول نہیں توڑا۔‘‘\n\n’’پھول کیا توڑنے کے لیے ہوتے ہیں۔۔۔ انھیں تو صرف سونگھنا چاہیے۔‘‘\n\nشاہد ایک لحظہ کے لیے خاموش ہوگیا۔ پھر اس نے سنبھل کر کہا، ’’میں آپ کو سونگھ رہا ہوں۔‘‘\n\nشاہدہ بھنا گئی، ’’آپ بڑے بدتمیزہیں۔‘‘\n\nشاہد نے بینچ پرسے کتابیں اٹھاتے ہوئے مسکرا کر کہا، ’’میں نے آپ کو توڑا تو نہیں۔۔۔ صرف سونگھ لیا ہے۔۔۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی پنکھڑیوں میں سے غرور کی بو آتی ہے۔ اوہ، معاف کیجیے گا، غرور میں کرسکتا ہوں لیکن مردوں کے ساتھ۔۔۔ میں بھی ایک پھول ہوں، پر آپ کلی ہیں۔ میں آپ سے مقابلہ نہیں کرسکتا۔‘‘\n\nشاہدہ اپنا ٹخنا پکڑے بیٹھی تھی۔ ایک دم کراہنے لگی، ’’ہائے۔۔۔ ہائے، بڑا درد ہورہا ہے۔‘‘\n\nشاہد نے اس سے اجازت طلب کی، ’’کیا میں اسے دبا دوں؟‘‘\n\n’’دبائیے۔۔۔ خدا کے لیے دبائیے۔‘‘\n\nشاہد نے اس کے موچ آئے ہوئے ٹخنے پر اس طور پر مساس کیا کہ پندرہ منٹ کے اندر اندر شاہدہ کا درد دور ہوگیا۔\n\nاس واقعے کے بعد کالج میں وہ دونوں خالی پیریڈوں میں اکٹھے باہر جاتے اور باغ میں بیٹھ کر جانے کیا باتیں کرتے رہتے۔ شاید وہ یہ کوشش کررہے تھے کہ دونوں گیلی زمین پر پھسلیں اور ان کے دل کے ٹخنوں میں موچ آجائے اور وہ ساری زندگی ان کو سہلاتے رہیں۔ دونوں نے بی۔ اے پاس کرلیا۔ بڑے اچھے نمبروں پر۔ شاہدہ کے نمبر شاہد کے مقابلے میں پانچ زیادہ تھے۔ اس نے اس کا بدلہ لینا چاہا، ’’شاہدہ! میں یہ پانچ نمبر ابھی لیے لیتا ہوں۔‘‘\n\n’’کیسے؟‘‘\n\nشاہد نے اس کو پہلی مرتبہ اپنی گود میں اٹھایا اور اس کو پانچ مرتبہ چوم لیا۔\nشاہدہ نے کوئی اعتراض نہ کیا، وہ بہت خوش ہوئی۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد اس نے شاہد سے بڑی سنجیدگی سے کہا، ’’ہمارے نمبر پورے ہوگئے۔ لیکن آج کے اس واقعے کے بعد میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ آپ کی میری شادی ہوجانی چاہیے۔۔۔ میں اپنے ہونٹ اب کسی اور کے ہونٹوں سے آلودہ نہیں کروں گی۔‘‘\n\nشاہد بہت خوش ہوا۔ اسے یقین ہی نہیں تھا کہ اس کی دلی آرزو کبھی پوری ہوگی۔ اس نے اسی خوشی میں پانچ نمبراور حاصل کرلیے اور شاہدہ سے کہا، ’’میری جان! میں اسی امید میں تو اب تک جیتا رہا ہوں۔‘‘\n\nشاہدہ کے والدین نے اس کی شادی کی ایک جگہ بات چیت کی، مگر شاہدہ نے صاف صاف انکار کردیا کہ وہ کسی بدصورت مرد سے رشتہ ازدواج قائم کرنے کے لیے تیار نہیں۔بہت جھگڑے ہوئے۔ آخر شاہدہ نے بتایا کہ وہ اپنے ہم جماعت شاہد کو، جو بہت خوش شکل ہے، پسند کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور مرد کو اپنی رفاقت میں نہیں لے گی۔ اس کے ماں باپ شاہد کے والدین سے ملے۔ بڑے شریف اور متمول آدمی تھے۔۔۔ روشن خیال بھی۔\n\nشاہد کو جب انھوں نے دیکھا تو بہت خوش ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے ولایت جارہا تھا، لیکن اس کی خواہش تھی کہ پہلے شادی کرے اور اپنی بیوی کو ساتھ لے کر جائے تاکہ وہ بھی باہر کی دنیا دیکھے۔ جب والدین رضا مند ہوگئے تو ان کی شادی ہوگئی۔ وہ بہت خوش تھا۔ پہلی رات شاہد نے اپنی بیوی سے کہا،’’ہمارا بچہ۔۔۔ لڑکی ہو یا لڑکا۔۔۔ جب پیدا ہوگا تو اسے دنیا دیکھنے آئے گی۔‘‘\n\nشاہدہ نے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘\n\nشاہد ہنسا، ’’میری جان! تم اتنی حسین ہو۔ میں بھی کچھ بدشکل نہیں۔ ہمارا بچہ یقیناً ہم دونوں سے کہیں زیادہ خوبصورت ہوگا۔‘‘\n\nہنی مون منانے کے لیے وہ سوئٹزرلینڈ چلے گئے۔ وہ یہاں چار مہینے رہے۔ اس کے بعد لندن چلے گئے۔ جہاں شاہد کو پی، ایچ،ڈی کی ڈگری لینا تھی۔ شاہد کے باپ میاں ہدایت اللہ کی وہاں ایک کوٹھی تھی جو ان کی آمد سے پہلے ہی خالی کرالی گئی۔۔۔ شاہدہ بہت خوش تھی اور شاہد بھی، اس لیے کہ وہ ایک بچے کی آمد کا انتظار کررہے تھے۔\n\nشاہد کہتا تھا، ’’ہمارا بچہ اتنا حسین اور خوبصورت ہوگا کہ اس کا جواب نہ ہوگا۔‘‘\n\nشاہدہ کہتی، ’’خدا نظر بد سے بچائے۔۔۔ ضرور گل گوتھنا سا ہوگا۔‘‘\n\nپورے دن ہوئے تو بچہ ہونے کے آثار پیدا ہوئے۔ شاہد نے اپنی بیوی کو میٹرنٹی ہوم میں داخل کرادیا۔\n\nلیبر وارڈ کے باہر شاہد بڑے اضطراب میں ادھرسے ادھر ٹہل رہا تھا۔۔۔ اس کی نظروں کے سامنے ایک ایسے بچے کی تصویر تھی جس کے خدوخال، اس کے اور اس کی بیوی کے، آپس میں بڑے حسین طور پر مدغم ہوگئے ہوں۔لیبر وارڈ سے نرس باہر آئی۔ شاہد نے لپک کر اس سے پوچھا، ’’خیریت ہے؟‘‘\n\n’’جی ہاں!‘‘\n\n’’لڑکا ہوا یا لڑکی؟‘‘\n\nنرس پریشان سی تھی۔ اس نے صرف اتنا کہا، ’’پتہ نہیں لڑکا ہے یا لڑکی۔۔۔ پر ہم نے ایسا بچہ کبھی نہیں دیکھا۔‘‘\n\nشاہد نے خوش ہو کرپوچھا، ’’بہت خوبصورت ہے نا؟‘‘\n\nنرس نے منہ بنا کر جواب دیا، ’’بڑااگلی ہے۔۔۔ اس کے سر پر ایسا معلوم ہوتا ہے سینگ ہیں۔ دانت بھی ہیں۔۔۔ ناک بڑی ٹیڑھی ہے۔۔۔دو آنکھیں ہیں پر ایک آنکھ ایسا لگتا ہے ماتھے پر بھی ہے۔۔۔ تم لوگ اتنے خوبصورت ہو کر کیسے بچے پیدا کرتا ہے؟‘‘\nشاہد اپنے بچے کو دیکھنے کے لیے نہ گیا۔۔۔ لیکن دوسرے دن میٹرنٹی ہوم میں ٹکٹ لگا دی گئی کہ جو آدمی چاہے، اس عجیب الخلقت بچے کودیکھ سکتا ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%D9%82"} {"title": "حسن کی جنس خریدار لیے پھرتی ہے", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن کی جنس خریدار لیے پھرتی ہے\nساتھ بازار کا بازار لیے پھرتی ہے\n\nدر بدر حسرت دل دار لیے پھرتی ہے\nسر ہر کوچہ و بازار لیے پھرتی ہے\n\nعدم آباد میں آنے کا سبب ہے ظاہر\nجستجوئے کمر یار لیے پھرتی ہے\n\nدل سوزاں سے نہیں کوئی نشان ظلمت\nمشعل آہ شب تار لیے پھرتی ہے\n\nآتے ہی فصل خزاں بلبل شیدا بہکی\nہر طرف گل کی جگہ خار لیے پھرتی ہے\n\nدیر و مسجد میں تمنائے زیارت کس کی\nتم کو اے کافر و دیں دار لیے پھرتی ہے\n\nدشت میں قیس کو کیا آئے نظر جب لیلیٰ\nساتھ میں گرد کی دیوار لیے پھرتی ہے\n\nدور ساغر میں نہیں کف سر بادہ ساقی\nدخت رز شیخ کی دستار لیے پھرتی ہے\n\nخون فرہاد سے بے چین ہے روح شیریں\nبے ستوں سے بھی گراں بار لیے پھرتی ہے\n\nگل سے کیوں کہہ نہیں دیتی ہے پیام بلبل\nاپنے سر باد صبا بار لیے پھرتی ہے\n\nمانتا ہی نہیں لیلیٰ کہ کرے کیا لیلیٰ\nساتھ میں قیس کو ناچار لیے پھرتی ہے\n\nصدمہ پہنچا کسی گل کو کہ چمن میں بلبل\nخوں میں ڈوبی ہوئی منقار لیے پھرتی ہے\n\nکشتۂ ناز کی تربت نہ ملے گی بلبل\nپھول منقار میں بے کار لیے پھرتی ہے\n\nطائر دل کو ہوائے خم زلف صیاد\nصورت مرغ گرفتار لیے پھرتی ہے\n\nجنبش پا سے ہے گلیوں میں قیامت برپا\nساتھ محشر تری رفتار لیے پھرتی ہے\n\nکوہ کن خود تو سبک دوش ہوا، پر شیریں\nسر پہ الزام کا کہسار لیے پھرتی ہے\n\nدشت غربت میں نہیں پھرتا ہوں خود آوارہ\nگردش چرخ ستم گار لیے پھرتی ہے\n\nساتھ دنیا کا نہیں طالب دنیا دیتے\nاپنے کتوں کو یہ مردار لیے پھرتی ہے\n\nحسرت دید اثرؔ حضرت آتشؔ کی طرح\nپیش روزن پس دیوار لیے پھرتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%86%D8%B3_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "حسن کی دل میں مرے جلوہ گری رہتی ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "حسن کی دل میں مرے جلوہ گری رہتی ہے\nبند اس شیشۂ نازک میں پری رہتی ہے\n\nدل وہاں کھلتا ہے جس جا کہ رہے جام شراب\nدانہ واں اگتا ہے جس جا کہ تری رہتی ہے\n\nطفلی و عہد جوانی کا نہ پوچھو احوال\nبے خودی آگے تھی اب بے خبری رہتی ہے\n\nباغ عالم میں نہیں دست کرم کو ہے زوال\nشاخ یہ وہ ہے جو تا حشر ہری رہتی ہے\n\nیاد میں جام و صراحی کے ترے اے ساقی\nدل بھرا رہتا ہے آنکھوں میں تری رہتی ہے\n\nمے و معشوق سے دولت سے بہار گل میں\nچکھیاں رہتی ہے ہیں یاروں کی چری رہتی ہے\n\nہر گھڑی رہتا ہے خال رخ محبوب کا دھیان\nآج کل سامنے کوتہ نظری رہتی ہے\n\nبھیڑ سی بھیڑ لگی رہتی ہے کوچے میں ترے\nجنس الفت کی مگر وہاں پہ کھری رہتی ہے\n\nنقد دل لیتے ہو ہر ایک کا بے بوس و کنار\nآپ کے دھیان میں کیا مفت بری رہتی ہے\n\nہاتھ پکڑا ہے مرا دست جنوں نے جب سے\nہر گھڑی مد نظر جامہ دری رہتی ہے\n\nبال کھولے نہیں پھرتا ہے اگر وہ سفاک\nپھر کہو کیوں مجھے آشفتہ سری رہتی ہے\n\nرند واں بستے ہیں جس جا ہو خم و خمخانہ\nشیر واں رہتے ہیں جس جا کہ تری رہتی ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "حسن کی زبان سے", "poet_page": "مصنف:وحید الدین سلیم", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جہاں میں ہے ضیا مری میں حسن جلوہ کار ہوں\nمیں رونق اس چمن کی ہوں میں فصل نو بہار ہوں\nمیں زیب کائنات ہوں میں فخر روزگار ہوں\nمیں شاہد نہفتہ کا جمال آشکار ہوں\nکہ آئینے میں دہر کے میں عکس کردگار ہوں\n\nکلیم کو میں اپنا رخ نہ بے خطر دکھا سکا\nسراغ میرے نور کا نہ کوہ طور پا سکا\nنہ میں نظر میں آ سکا نہ عقل میں سما سکا\nخیال میرے اوج پر نہ پر لگا کے جا سکا\nمیں حصن بے شکست ہوں میں راہ بے گزار ہوں\n\nپڑی ہے اک خفیف سی نجوم پر کرن مری\nکہ رکھتی ہے طواف میں سدا انہیں لگن مری\nچھپی حجاب قدس میں ہے شمع انجمن مری\nستارے جل کے خاک ہوں جو دیکھ لیں پھبن مری\nمیں گنج آب و تاب ہوں میں بحر نور و نار ہوں\n\nیہ چاندنی کی ٹھنڈکیں یہ دھوپ کی حرارتیں\nیہ صبح کی صباحتیں یہ شام کی ملاحتیں\nزمین کی یہ زینتیں فلک کی یہ لطافتیں\nیہ بجلیوں کی شوخیاں یہ بادلوں کی رنگتیں\nیہ رنگ روپ ہیں مرے میں ان میں آشکار ہوں\n\nہر ایک شاخسار میں مجھی سے آب و رنگ ہے\nپھپکتے ہیں درخت جو یہ میری ہی امنگ ہے\nپھدکتے ہیں پرند سب مجھی سے یہ ترنگ ہے\nکرشمے دیکھ کر مرے ہر ایک عقل دنگ ہے\nہیں کھیل نت نئے مرے میں وہ طلسم کار ہوں\n\nگلوں کے رنگ رنگ سے عیاں ہیں جھلکیاں مری\nچمن کے غنچے غنچے میں شمیم ہے نہاں مری\nزباں پہ پتے پتے کی رواں ہے داستاں مری\nسرنگ پود پود کی جڑوں میں ہے دواں مری\nمیں روح سبزہ زار ہوں میں نازش بہار ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92"} {"title": "حسن کی لائی ہوئی ایک بھی آفت نہ گئی", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن کی لائی ہوئی ایک بھی آفت نہ گئی\nدل کی دھڑکن نہ گئی درد کی شدت نہ گئی\n\nسایہ تک بھاگ گیا دیکھ کے وحشت گھر کی\nکیا بلا ہے کہ الٰہی شب فرقت نہ گئی\n\nحسن دل کش اسے کہتے ہیں کہ ہم ساری عمر\nان کو دیکھا کیے دیدار کی حسرت نہ گئی\n\nاب بھی اس راہ گزر میں ہے جہاں تھی پہلے\nسچ تو یہ ہے نہ کہیں آئی قیامت نہ گئی\n\nمیں زمانے میں ہوں آئینۂ تصویر جلیلؔ\nکہ تصور سے کبھی یار کی صورت نہ گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "حسن کی وہ صورتیں خواب پریشاں ہو گئیں", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن کی وہ صورتیں خواب پریشاں ہو گئیں\nپردۂ دل میں لگا کر آگ پنہاں ہو گئیں\n\nمٹ کے بھی آئینۂ رخسار خوباں ہو گئیں\nخون اہل عشق کی بوندیں گلستاں ہو گئیں\n\nچھپ گئیں آنکھوں سے ذروں میں نمایاں ہو گئیں\nبستیاں اجڑی ہوئی مل کر بیاباں ہو گئیں\n\nدیکھتا کون اور بجھاتا کون اس دل کی لگی\nہڈیاں جل جل کے شمع زیر داماں ہو گئیں\n\nزندگی میں کیا مجھے ملتی بلاؤں سے نجات\nجو دعائیں کیں وہ سب تیری نگہباں ہو گئیں\n\nاس ہوائے دہر میں جمعیت خاطر کہاں\nدل کو جانے دو یہ زلفیں کیوں پریشاں ہو گئیں\n\nضعف باقی ہے کوئی جس کا نہیں پرسان حال\nقوتیں سب نذر عشق فتنہ ساماں ہو گئیں\n\nلوٹ لی گردوں نے آخر دل کی ساری کائنات\nکچھ تمنائیں تھیں وہ بھی وقف نسیاں ہو گئیں\n\nدوست‌ دار گل ہوں میں کس نے قفس سے کہہ دیا\nمجھ کو پا کر تیلیاں خار مغیلاں ہو گئیں\n\nکم نہ سمجھو دہر میں سرمایۂ ارباب غم\nچار بوندیں آنسوؤں کی بڑھ کے طوفاں ہو گئیں\n\nآرزوئے عالم فانی تھا آدم کا وجود\nخواہشیں تھیں جو بہم گھل مل کے انساں ہو گئیں\n\nخانماں بربادیوں کا مجھ پہ احساں ہے کہ میں\nان زمینوں میں نہیں جو بس کے ویراں ہو گئیں\n\nمیری آنکھیں شور تھا جن کی وفا کا ہر طرف\nزخم دل میں پڑتے ہی دونوں نمکداں ہو گئیں\n\nعقدہ ہائے غم سے وابستہ ہے اپنی زندگی\nہم کہاں یہ مشکلیں جس وقت آساں ہو گئیں\n\nمیں نثار دست قاتل مر کے زندہ ہو گیا\nخنجر و شمشیر کی دھاریں رگ جاں ہو گئیں\n\nاک سراب دشت تھیں فصلیں شباب حسن کی\nدیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں سے پنہاں ہو گئیں\n\nکیا وفاداروں کے جی ڈوبے ہیں جوش عشق میں\nکشتیاں دل کی ہزاروں نذر طوفاں طوفاں گئیں\n\nمجمع احباب کی روداد ثاقبؔ کیا کہوں\nاب وہ اگلی صحبتیں خواب پریشاں ہو گئیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حسن کی کم نہ ہوئی گرمئ بازار ہنوز", "poet_page": "مصنف:عبدالعلیم آسی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن کی کم نہ ہوئی گرمئ بازار ہنوز\nنقد جان تک لیے پھرتے ہیں خریدار ہنوز\n\nاپنی عیسیٰ نفسی کی بھی تو کچھ شرم کرو\nچشم بیمار کے بیمار ہیں بیمار ہنوز\n\nطائر جاں قفس تن سے تو چھوٹا لیکن\nدام گیسو میں کسی کے ہے گرفتار ہنوز\n\nہم بھی تھے روز ازل صحبتیں بزم الست\nبھولتی ہی نہیں وہ لذت گفتار ہنوز\n\nساتھ چھوڑا سفر ملک عدم میں سب نے\nلپٹی جاتی ہے مگر حسرت دیدار ہنوز\n\nکیا خراباتیوں کو حضرت عاصی نہ ملے\nکہ سلامت ہے وہی جبہ و دستار ہنوز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%85_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D9%85%D8%A6_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%86%D9%88%D8%B2"} {"title": "حسن کی گر زکوٰۃ پاؤں میں", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن کی گر زکوٰۃ پاؤں میں\nتو بھکاری ترا کہاؤں میں\n\nایک بوسہ دو دوسرا توبہ\nپھر جو مانگوں تو مار کھاؤں میں\n\nاس طرح لوں کہ بھاپ بھی نہ لگے\nہونٹ سے منہ اگر ملاؤں میں\n\nشہر کو چھوڑ کر نکل جاؤں\nہاں تجھے منہ نہ پھر دکھاؤں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%B1_%D8%B2%DA%A9%D9%88%D9%B0%DB%83_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حسن کے احترام نے مارا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن کے احترام نے مارا\nعشق بے ننگ و نام نے مارا\n\nوعدۂ ناتمام نے مارا\nروز کی صبح و شام نے مارا\n\nلرزش دست شوق آہ نہ پوچھ\nلغزش نیم گام نے مارا\n\nعشق کی سادگی تو ایک طرف\nشوق کے اہتمام نے مارا\n\nاللہ اللہ نفس کی آمد و شد\nاس پیام و سلام نے مارا\n\nعشق مرتا نہ اپنی موت سے آہ\nعاشقان کرام نے مارا\n\nکاش وہ عمر خضر بن جائے\nجن خیالات خام نے مارا\n\nمیں نہیں بسمل خیام جگرؔ\nحافظ خوش کلام نے مارا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنے\nہم ابھی راز بنے ہی تھے کہ افسانہ بنے\n\nکہہ دیا ہے کہ ملو ہم سے تو یکسو ہو کر\nاب نبھے یا نہ نبھے ان سے بنے یا نہ بنے\n\nآج وہ بزم میں خود شمع بنے بیٹھے ہیں\nہے کوئی مدعیٔ سوز جو پروانہ بنے\n\nدل آزردہ ہے لبریز حدیث غم عشق\nمیں اگر چاہوں تو ہر سانس اک افسانہ بنے\n\nکتنے دیوانے محبت میں مٹے ہیں سیمابؔ\nجمع کی جائے جو خاک ان کی تو ویرانہ بنے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DA%AF%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%DB%92"} {"title": "حسن کے راز نہاں شرح بیاں تک پہنچے", "poet_page": "مصنف:محمد دین تاثیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن کے راز نہاں شرح بیاں تک پہنچے\nآنکھ سے دل میں گئے دل سے زباں تک پہنچے\n\nدل نے آنکھوں سے کہی آنکھوں نے دل سی کہہ دی\nبات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے\n\nعشق پہلے ہی قدم پر ہے یقیں سے واصل\nانتہا عقل کی یہ ہے کہ گماں تک پہنچے\n\nکعبہ و دیر میں تو لوگ ہیں آتے جاتے\nوہ نہ لوٹے جو در پیر مغاں تک پہنچے\n\nآنکھ سے آنکھ کہے دل سے ہوں دل کی باتیں\nوائے وہ عرض تمنا جو زباں تک پہنچے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%D8%AD_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%92"} {"title": "حسن ہر نونہال رکھتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسن ہر نونہال رکھتا ہے\nکوئی تجھ سا جمال رکھتا ہے\n\nمجھ سے ہو تیرے جور کا شکوہ\nیہ بھلا احتمال رکھتا ہے\n\nتجھ سے کچھ اپنا عرض حال کرے\nدل کب اتنی مجال رکھتا ہے\n\nماہ کیا ہے کہ جس سے دوں تشبیہ\nحسن تو بے زوال رکھتا ہے\n\nجیتے جی اس سے عاشق مہجور\nکب امید وصال رکھتا ہے\n\nتو کہاں اور اس کا وصل کہاں\nیہ خیال محال رکھتا ہے\n\nجی میں بیدارؔ تیرے ملنے کا\nآہ کیا کیا خیال رکھتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DB%81%D8%B1_%D9%86%D9%88%D9%86%DB%81%D8%A7%D9%84_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "حسین ابن علی عالی نسب تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "حسین ابن علی عالی نسب تھا\nسزاے عزت و باب ادب تھا\nجفا و جور کا شائستہ کب تھا\nسلوک اسلامیوں سے یہ عجب تھا\nکہ اس مہمان کی عزت نہ کیجے\nضیافت یک طرف پانی نہ دیجے\n\nکسو کافر سے ایسا ہو نہ کردار\nہوا اسلامیوں سے جو بہ اصرار\nکجی رفتار کی تلخی گفتار\nتس اوپر کھینچ کر ہر اک نے تلوار\nبہت بے ڈول اس پر آزمائی\nعلی کے منھ سے کچھ بھی شرم آئی\n\nمحمدؐ جس کی سب امت کہاویں\nاسی کی آل لوہو میں ڈباویں\nعلی سن کر جسے سب سر جھکاویں\nاسی کے گھر کو بن پانی بہاویں\nزہے اسلام نادر لوگ خوش دور\nعجب آئیں عجب ایماں عجب طور\n\nاسے ماریں جسے دیں کی امامت\nنہ ہووے پھر کسو کو کچھ ندامت\nکریں برپا ستم سے اک قیامت\nعلاوہ اس پہ تشنیع و ملامت\nحیا مطلق نہ غارت سے کسو کو\nنہ بہرہ کچھ مروت سے کسو کو\n\nاسے بیکس جو پایا مار ڈالا\nرکھا میداں میں سر کو نیزہ بالا\nپسر کو کانپتا گھر سے نکالا\nبٹھائیں عورتیں رستے پہ لا لا\nنہ کچھ کی دل دہی زین العبا کی\nنہ کچھ روے محمدؐ سے حیا کی\n\nعلی کے تیں موا جانا سبھوں نے\nمحمدؐ کو نہ کچھ مانا سبھوں نے\nبرا شبیر کا ٹھانا سبھوں نے\nکیا اس گھر کو ویرانہ سبھوں نے\nرہا تنکا سا عابد کشمکش میں\nحرم کے لوگ بے حالی سے غش میں\n\nعلی اکبر کہ تھا شکل محمدؐ\nطرف اس ایک سے ہوتے تھے صد صد\nاٹھائے ان نے جس دم زخم بے حد\nلگا منھ کر نجف کو کہنے کاے جد\nستم ہے شور ہے جور و جفا ہے\nسمجھ میں کچھ نہیں آتا یہ کیا ہے\n\nپڑی تھی دھوپ میں وہ لاش مظلوم\nکسو کا دل تنک ہوتا نہ تھا موم\nاسیری اور غارت کی مچی دھوم\nتردد شہ کے لے جانے کا معلوم\nرہا تھا عابدیں سو زار و بیمار\nنہ جس کی کچھ دوا نے جس کا تیمار\n\nزناں مویہ کناں سب خاک بر سر\nکہیں تھیں رو مدینے کی طرف کر\nکہ منصف ہو ٹک اے ختم پیمبرؐ\nمصیبت کس قدر ہے آل اوپر\nکہیں کس سے کوئی حاکم نہیں ہے\nنہ تو ہے نے امیرالمومنیں ہے\n\nریاست کے لیے شبیر مارا\nبھلا یوں اس کی تھی تقدیر مارا\nسبھوں کو کیوں ہے بے تقصیر مارا\nعلی اصغر کے پھر کیوں تیر مارا\nچھنائیں عورتوں کی کیوں ردائیں\nروا کاہے کو رکھیں یہ جفائیں\n\nچلا سر کٹ کے اس جان جہاں کا\nگرا ہے خاک پر خوں ہر جواں کا\nہوا ستھراؤ یوں خرد و کلاں کا\nمقرر لوٹنا ہے خانماں کا\nکسو ملت میں ایسا بھی ہوا ہے\nنیا وارث ہمارا ہی موا ہے\n\nسکینہ کا گنہ کیا ہے بتاویں\nپدر مردہ کو کس خاطر کڑھاویں\nکہاں فریاد لے کر آہ جاویں\nکسے یہ ماجرا سارا سناویں\nجفا ہر لحظہ ہم سب پر نئی ہے\nحیا اک رسم تھی سو اٹھ گئی ہے\n\nحسن تو تھا خلیفہ جس کو مارا\nگنہ قاسم کا کیا جو اس کو مارا\nکہوں میں کب تلک کس کس کو مارا\nستم سے جور سے جس تس کو مارا\nرہا وارث نہ غیر از عابدیں کے\nپڑے ہیں خاک میں ارکان دیں کے\n\nسو ٹپکے ہے لہو اس کے سخن سے\nبندھے ہیں ہاتھ دونوں اک رسن سے\nہوا ہے آپ اسیر آکر وطن سے\nپدر محروم ہے اب تک کفن سے\nکہاں مہلت کہ شہ کے تیں اٹھاویں\nنہیں فرصت کہ ٹک رو کر بھی جاویں\n\nجلے خیمے لٹا گھر بار سارا\nہوا کنبہ سبھی بندی ہمارا\nجوان و پیر سب کو تشنہ مارا\nاگرچہ یہ تھا دریا کا کنارہ\nپہ قطرہ آب کا در و گہر تھا\nکہ لب خشکی سے ہر اک چشم تر تھا\n\nکرے عابد کہاں تک غم گساری\nجسے بیماری و تن کی نزاری\nکھنچی ہے دور تک اپنی یہ خواری\nاٹھانا پاؤں کا اس پر ہے بھاری\nہو ایسے حال میں کیونکر دلاسا\nکرے کس کس کی دلداری وہ پاس آ\n\nکہے زینب تھی زہرا سے کہ مادر\nکرے گا کون اب ہم سوں کا آدر\nپڑا ہے خاک میں بے سر برادر\nلیے جاتے ہیں چھینے سر کی چادر\nکہاں لے جاؤں بھائی کو اٹھا کر\nاڑاؤں خاک کس کے آگے جا کر\n\nہمیں بازار میں لاکر بٹھایا\nکیا پامال ایسا سر اٹھایا\nتسلی کو بھی کوئی ٹک نہ آیا\nکفن جی سے گیوں نے بھی نہ پایا\nستم پر ہے ستم یہ جور پر جور\nزمانہ ہوگیا پل مارتے اور\n\nسکینہ جب کرے ہے باپ کو یاد\nقیامت ایک ہو جاتی ہے بنیاد\nاٹھے ہے ہم اسیروں میں جو فریاد\nتو یہ کرتے ہیں ظلم ایک اور ایجاد\nتقید رہروی کا سخت ہوئے\nخشن سن سن کے ہر بدبخت ہوئے\n\nنہیں آتا میسر لاش اٹھانا\nکہ ہے درپیش یاں سے جلد جانا\nکرے ہے عابدیں گر کچھ بہانہ\nاٹھاتے ہیں گے اس پر تازیانہ\nکہاں مقدور یہ اس ناتواں کا\nکہ ہووے پیشرو اس کارواں کا\n\nنظر میں باپ کا سر ہے سناں پر\nپڑے ہے آنکھ لوٹے کارواں پر\nبنی ہے آن کر ہر گام جاں پر\nمصائب ہیں غرض اس ناتواں پر\nابھی میداں میں دس جاگہ گھرا ہے\nچلا جاتا نہیں پر رہگرا ہے\n\nجو رکتا ہے بہت تو رو اٹھے ہے\nجو گرتا ہے تو طاقت کھو اٹھے ہے\nکہے ہے یوں تو شور اک ہو اٹھے ہے\nکہ دیکھوں باپ کب تک سو اٹھے ہے\nسر رہ قافلہ ہے کوئی بولو\nکہ دو رخصت اسے ٹک آنکھ کھولو\n\nہوئے سب شام کو آخر روانہ\nکہ جن کو ٹھور تھی نے کچھ ٹھکانا\nبہت بیدردیوں پر تھا زمانہ\nکچھ آگے شرح و بسط اچھا نہ جانا\nقلم کو میرؔ میں نے توڑ ڈالا\nسر اپنا پتھروں سے پھوڑ ڈالا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86_%D8%A7%D8%A8%D9%86_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D9%86%D8%B3%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی\nنہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی\n\nزمانہ فصل گل کا اور آغاز شباب اپنا\nابھی سے تو نے توبہ کی بھی اے زاہد کہی اچھی\n\nجفا دوست اس کو کہتا ہے کوئی کوئی وفا دشمن\nہمارے ساتھ تو اس نے نباہی دوستی اچھی\n\nتری خاطر سے زاہد ہم نے توبہ آج کی ورنہ\nگھڑی بھر غم غلط کرنے کو بس وہ چیز تھی اچھی\n\nزیادہ اے فلک دے رنج و راحت ہم کو جو کچھ دے\nنہ دو دن کا یہ غم اچھا نہ دو دن کی خوشی اچھی\n\nکبھی جب ہاتھ مل کر ان سے کہتا ہوں کہ بے بس ہوں\nتو وہ ہنس کر یہ کہتے ہیں تمہاری بے بسی اچھی\n\nجو سچ پوچھو حسینوں کا حیا نے رکھ لیا پردہ\nنکل چلتے گھروں سے یہ تو ہوتی دل لگی اچھی\n\nہم آئیں آپ میں یارب وہ جس دم آئیں بالیں پر\nہجوم رنج تنہائی سے ہے یہ بے خودی اچھی\n\nمحبت کے مزے سے دل نہیں ہے آشنا جس کا\nنہ اس کی زندگی اچھی نہ اس کی موت ہی اچھی\n\nوہ میکش ہوں کہ دے کر دونی قیمت سب کی سب لے لی\nکسی سے جب سنا میں نے کہ بھٹی میں کھنچی اچھی\n\nاسے دنیا کی سو فکریں ہمیں اک رنگ ناداری\nکہیں منعم کی دولت سے ہماری مفلسی اچھی\n\nخوشی کے بعد غم کا سامنا ہونا قیامت ہے\nجو غم کے بعد حاصل ہو وہ البتہ خوشی اچھی\n\nنہ چھوٹے گی محبت غیر کی ہم سے نہ چھوٹے گی\nاجی یہ بات تم نے آج تو کھل کر کہی اچھی\n\nہمارے دیدہ و دل میں ہزاروں عیب نکلیں گے\nتمہارا آئنا اچھا تمہاری آرسی اچھی\n\nترے اس جبہ و دستار سے رندوں کو کیا مطلب\nجسے جو وضع ہو مرغوب اے زاہد وہی اچھی\n\nکہے سو شعر تم نے سست تو حاصل حفیظؔ اس کا\nغزل ہو چست چھوٹی سی تو بیتوں کی کمی اچھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D9%82%D8%B7_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C"} {"title": "حسینوں میں رتبہ دوبالا ہے تیرا", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسینوں میں رتبہ دوبالا ہے تیرا\nکہ بیمار الفت مسیحا ہے تیرا\n\nتماشا ہے جو ہے تماشائے عالم\nوہ اس طرح محو تماشا ہے تیرا\n\nستم اس پہ کیجو مری جاں سمجھ کر\nنہیں دست و داماں ہمارا ہے تیرا\n\nمگر کچھ نہ کچھ چال کرتا ہے تجھ پر\nوہ دم باز یوں دم جو بھرتا ہے تیرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81_%D8%AF%D9%88%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "حسینوں پر کسی کا جب دل ناشاد آتا ہے", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسینوں پر کسی کا جب دل ناشاد آتا ہے\nہمیں اپنی جوانی کا زمانہ یاد آتا ہے\n\nستانے جب کوئی ہم کو ستم ایجاد آتا ہے\nخدا بخشے دل مرحوم کیا کیا یاد آتا ہے\n\nمبارک تجھ کو اے شوق شہادت وقت آ پہنچا\nعجب انداز سے خنجر بکف جلاد آتا ہے\n\nقیامت سے سوا دھومیں مچی ہیں اس کے آنے کی\nسوئے محشر کسی کا کشتۂ بیداد آتا ہے\n\nنہ اب وہ حسن باقی ہے نہ اب وہ عشق باقی ہے\nتمہیں اپنا ہمیں اپنا زمانہ یاد آتا ہے\n\nنہیں تھمتے کسی کی آنکھ سے آنسو نہیں تھمتے\nتری محفل میں جب ذکر دل ناشاد آتا ہے\n\nتماشا ہے ترے کوچے میں آنے جانے والوں کا\nکوئی ناشاد جاتا ہے کوئی ناشاد آتا ہے\n\nوہ زنجیر جنوں ہے جس میں کڑیاں ہیں محبت کی\nمجھے حکم اسیری بھی بلا میعاد آتا ہے\n\nنشیمن میں قفس میں فرق بس اتنا ہے اے صفدرؔ\nادھر صیاد جاتا ہے ادھر صیاد آتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کی\nنظر آتی ہے کیا چمکی ہوئی تقدیر سونے کی\n\nنہ دل آتا ہے قابو میں نہ نیند آتی ہے آنکھوں میں\nشب فرقت میں کیوں کر بن پڑے تدبیر سونے کی\n\nیہاں بیداریوں سے خون دل آنکھوں میں آتا ہے\nگلابی کرتی ہے آنکھوں کو واں تاثیر سونے کی\n\nبہت بے چین ہوں نیند آ رہی ہے رات جاتی ہے\nخدا کے واسطے جلد اب کرو تدبیر سونے کی\n\nیہ زردہ چیز ہے جو ہر جگہ ہے باعث شوکت\nسنی ہے عالم بالا میں بھی تعمیر سونے کی\n\nضرورت کیا ہے رکنے کی مرے دل سے نکلتا رہ\nہوس مجھ کو نہیں اے نالۂ شب گیر سونے کی\n\nچھپر کھٹ یاں جو سونے کی بنائی اس سے کیا حاصل\nکرو اے غافلو کچھ قبر میں تدبیر سونے کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D9%84%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AC%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "حشر تک یاں دل شکیبا چاہئے", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حشر تک یاں دل شکیبا چاہئے\nکب ملیں دلبر سے دیکھا چاہئے\n\nہے تجلی بھی نقاب روئے یار\nاس کو کن آنکھوں سے دیکھا چاہئے\n\nغیرممکن ہے نہ ہو تاثیر غم\nحال دل پھر اس کو لکھا چاہئے\n\nہے دل افگاروں کی دل داری ضرور\nگر نہیں الفت مدارا چاہئے\n\nہے کچھ اک باقی خلش امید کی\nیہ بھی مٹ جائے تو پھر کیا چاہئے\n\nدوستوں کی بھی نہ ہو پروا جسے\nبے نیازی اس کی دیکھا چاہئے\n\nبھا گئے ہیں آپ کے انداز و ناز\nکیجئے اغماض جتنا چاہئے\n\nشیخ ہے ان کی نگہ جادو بھری\nصحبت رنداں سے بچنا چاہئے\n\nلگ گئی چپ حالیؔ رنجور کو\nحال اس کا کس سے پوچھا چاہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D8%AA%DA%A9_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%DA%A9%DB%8C%D8%A8%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "حشر مرا بخیر ہو مجھ کو بنا رہے ہو تم", "poet_page": "مصنف:م حسن لطیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حشر مرا بخیر ہو مجھ کو بنا رہے ہو تم\nخاک میں جان ڈال کر خاک اڑا رہے ہو تم\n\nعبرت ذوق زہر خندۂ ذوق زبونی دو چند\nشوق بڑھا کے پے بہ پے شمعیں بجھا رہے ہو تم\n\nمیرے عدم میں بھی بہم تھا ستم ازل کا غم\nپہلے ہی میں نزار تھا اور ستا رہے ہو تم\n\nسوز تو سوز ہے مگر ساز بھی سوز ہو نہ جائے\nساز کو آج سوز کے سامنے لا رہے ہو تم\n\nدرخور سجدہ ہے ابھی اور ابھی ننگ زندگی\nعشق وفا سرشت کو خوب رلا رہے ہو تم\n\nتہمت ہست بھی روا حاصل نیست بھی بجا\nہاں مری سر نوشت کے داغ مٹا رہے ہو تم\n\nخندۂ زیر لب بھی ہے گریۂ بے سبب بھی ہے\nبے ہمہ و بہر ادا رنگ جما رہے ہو تم", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85"} {"title": "حشر میں پھر وہی نقشا نظر آتا ہے مجھے", "poet_page": "مصنف:تاجور نجیب آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حشر میں پھر وہی نقشا نظر آتا ہے مجھے\nآج بھی وعدۂ فردا نظر آتا ہے مجھے\n\nخلش عشق مٹے گی مرے دل سے جب تک\nدل ہی مٹ جائے گا ایسا نظر آتا ہے مجھے\n\nرونق چشم تماشا ہے مری بزم خیال\nاس میں وہ انجمن آرا نظر آتا ہے مجھے\n\nان کا ملنا ہے نظر بندیٔ تدبیر اے دل\nصاف تقدیر کا دھوکا نظر آتا ہے مجھے\n\nتجھ سے میں کیا کہوں اے سوختۂ جلوۂ طور\nدل کے آئینے میں کیا کیا نظر آتا ہے مجھے\n\nدل کے پردوں میں چھپایا ہے ترے عشق کا راز\nخلوت دل میں بھی پردا نظر آتا ہے مجھے\n\nعبرت آموز ہے بربادئ دل کا نقشہ\nرنگ نیرگئ دنیا نظر آتا ہے مجھے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D9%86%D9%82%D8%B4%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "حشر پر وعدۂ دیدار ہے کس کا تیرا", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حشر پر وعدۂ دیدار ہے کس کا تیرا\nلاکھ انکار اک اقرار ہے کس کا تیرا\n\nنہ دوا سے اسے مطلب نہ شفا سے سروکار\nایسے آرام میں بیمار ہے کس کا تیرا\n\nلاکھ پردے میں نہاں شکل ہے کس کی تیری\nجلوہ ہر شے سے نمودار ہے کس کا تیرا\n\nاور پامال ستم کون ہے تو ہے بیخودؔ\nاس ستم گر سے سروکار ہے کس کا تیرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%82_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "حصول آزادی کی دقتیں", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہند کا آزاد ہو جانا کوئی آساں نہیں\nدیکھنا تم کو ابھی کیا کیا دکھایا جائے گا\nدیکھنا تم سے ابھی کتنے کئے جائیں گے مکر\nکس طرح تم کو ابھی چکر میں لایا جائے گا\nتم میں ڈالا جائے گا اک سخت و نازک تفرقہ\nتم کو شہ دے دے کے آپس میں لڑایا جائے گا\nپیشوایان مذاہب کو ملیں گی رشوتیں\nڈھونگ تبلیغ اور شدھی کا رچایا جائے گا\nدھرم رکشا کے لئے تم سے لئے جائیں گے عہد\nتم کو مذہب اپنا خطرے میں دکھایا جائے گا\nلیڈروں سے ہوں گے وعدے خلعت و انعام کے\nقلت و کثرت کا ہنگامہ اٹھایا جائے گا\nتم کو پروانہ عطا ہوگا خطاب و جاہ کا\nتم کو عہدے دے کے لالچ میں پھنسایا جائے گا\nگر یہ تدبیریں مقدر سے نہ راس آئیں تو پھر\nدوسری صورت سے تم کو ڈگمگایا جائے گا\nانتہائی بربریت سے لیا جائے گا کام\nبند کر کے تم کو جیلوں میں سڑایا جائے گا\nدانہ پانی کر دیا جائے گا بالکل تم پہ بند\nتم کو بھوکوں مار کے قبضے میں لایا جائے گا\nگرم لوہے سے تمہارے جسم داغے جائیں گے\nتم کو کوڑے مار کر الو بنایا جائے گا\nجائیدادیں سب تمہاری ضبط کر لی جائیں گی\nبال بچوں پر تمہارے ظلم ڈھایا جائے گا\nباوجود اس کے بھی تم قائم رہے ضد پر اگر\nبے تأمل تم کو پھانسی پر چڑھایا جائے گا\nاس طرح بھی تم اگر لائے نہ ابرو پر شکن\nسر تمہارے پاؤں پر آخر جھکایا جائے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B5%D9%88%D9%84_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%82%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حصول فقر گر چاہے تو چھوڑ اسباب دنیا کو", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حصول فقر گر چاہے تو چھوڑ اسباب دنیا کو\nلگا دے آگ یکسر بستر سنجاب و دیبا کو\n\nرکھے ہیں حق پرستاں ترک جمعیت میں جمعیت\nمیسر ہووے یہ دولت کہاں ارباب دنیا کو\n\nفریب رنگ و بوئے دہر مت کھا مرد عاقل ہو\nسمجھ آتش کدہ اس گلشن شاداب دنیا کو\n\nسیہ مست مے تحقیق ہو گر پاک طینت ہے\nنجس مت جام کر تو بھر کے بس خوباب دنیا کو\n\nیہ ہے بیدارؔ زہر آلودہ مار اس سے حذر کرنا\nنہ لینا ہاتھ میں تو گیسوئے پر تاب دنیا کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B5%D9%88%D9%84_%D9%81%D9%82%D8%B1_%DA%AF%D8%B1_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%A7%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D9%88"} {"title": "حصول کام کا دل خواہ یاں ہوا بھی ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حصول کام کا دل خواہ یاں ہوا بھی ہے\nسماجت اتنی بھی سب سے کوئی خدا بھی ہے\n\nموئے ہی جاتے ہیں ہم درد عشق سے یارو\nکسو کے پاس اس آزار کی دوا بھی ہے\n\nاداسیاں تھیں مری خانقہ میں قابل سیر\nصنم کدے میں تو ٹک آ کے دل لگا بھی ہے\n\nیہ کہیے کیونکے کہ خوباں سے کچھ نہیں مطلب\nلگے جو پھرتے ہیں ہم کچھ تو مدعا بھی ہے\n\nترا ہے وہم کہ میں اپنے پیرہن میں ہوں\nنگاہ غور سے کر مجھ میں کچھ رہا بھی ہے\n\nجو کھولوں سینۂ مجروح تو نمک چھڑکے\nجراحت اس کو دکھانے کا کچھ مزہ بھی ہے\n\nکہاں تلک شب و روز آہ درد دل کہیے\nہر ایک بات کو آخر کچھ انتہا بھی ہے\n\nہوس تو دل میں ہمارے جگہ کرے لیکن\nکہیں ہجوم سے اندوہ غم کے جا بھی ہے\n\nغم فراق ہے دنبالۂ گرد عیش وصال\nفقط مزہ ہی نہیں عشق میں بلا بھی ہے\n\nقبول کریے تری رہ میں جی کو کھو دینا\nجو کچھ بھی پائیے تجھ کو تو آشنا بھی ہے\n\nجگر میں سوزن مژگاں کے تیں کڈھب نہ گڑو\nکسو کے زخم کو تو نے کبھو سیا بھی ہے\n\nگزار شہر وفا میں سمجھ کے کر مجنوں\nکہ اس دیار میں میرؔ شکستہ پا بھی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B5%D9%88%D9%84_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "حضرت دل جو کسی مس کے حوالے ہوتے", "poet_page": "مصنف:ماسٹر باسط بسوانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حضرت دل جو کسی مس کے حوالے ہوتے\nجتنے گورے ہیں مقرر مرے سالے ہوتے\n\nگھر سے باہر جو قدم تم نے نکالے ہوتے\nجمع دس بیس ابھی چاہنے والے ہوتے\n\nدشت الفت میں جو موٹر کی سواری ہوتی\nغیر ممکن تھا مرے پاؤں میں چھالے ہوتے\n\nرشتہ الفت کا کسی طرح نہ قائم ہوتا\nمیں نے ڈورے نہ اگر آپ پہ ڈالے ہوتے\n\nلالہ صاحب نے شب وصل یہ مہری سے کہا\nتو نہ آتی تو مری جان کے لالے ہوتے\n\nقیس تو تیشہ زنی کرتا جو مثل فرہاد\nپاؤں کی طرح ترے ہاتھ میں چھالے ہوتے\n\nدسترس ہوتا ہمارا جو سن کمسن پر\nپاؤں باہر نہ کلیسا کے نکالے ہوتے\n\nشیخ اس رنگ سے بدمست ہوئے پی کے شراب\nگر ہی پڑتے جو انہیں ہم نہ سنبھالے ہوتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%85%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92"} {"title": "حضرت دل کی سوانح عمری", "poet_page": "مصنف:سجاد حیدر یلدرم", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "مجھ سے خواہش کی گئی ہے کہ اپنی سوانح عمری لکھوں، اس میں شک نہیں کہ میرے حالات فائدے سے خالی نہ ہونگے لیکن مشکل یہ ہے کہ میرے سوانح، میری کیفیات، میری زندگی کی صعوبات لوگوں کو یا تو یقین نہ آئیں گی یا سمجھ میں نہ آئیں گی۔ مثلاً ایک چھوٹی سی بات لیجیے۔ میں اثر پذیر بہت ہوں، خدا نے بے شمار مخلوق پیدا کی ہے اور اس بے شمار مخلوق میں میں ایک ناچیز مختصر چھوٹی سی شے ہوں، لیکن میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں اور یہ حکایت امر واقعی ہے (کچھ فخر نہیں) کہ اس تمام مخلوق میں کوئی مخلوق نہیں جو میری برابر متاثر ہوتی ہو۔ اسے کون یقین کریگا؟\n\nپھر میں ہر چھوٹی بڑی شے سے متاثر ہوتا ہوں، نئی، پرانی، قدرتی، مصنوعی، ظاہری، باطنی، صوری، معنوی، جاندار، بیجان غرضیکہ کوئی چیز ہو مجھ پر اثر کرنے کے لیے کافی ہے لیکن آپ سے سچ کہوں اور سچ ہی کہونگا، یا تو سوانح عمری لکھوں گا نہیں یا لکھوں گا تو سچائی سے منحرف نہ ہوں گا، کوئی چیز مجھ پر اتنا اثر نہیں کرتی جتنا۔۔۔ میں کیسے کہوں آپ شبہ کریں گے۔۔۔ جتنا۔۔۔ جتنا۔۔۔ نا۔۔۔ حسن\n\nمیری بساط مٹھی بھر کی بھی تو نہیں، لیکن حسین چیز دیکھی اور بیتاب ہوگیا۔ بانسوں اچھلنے لگتا ہوں، دھڑکنے لگتا ہوں، میں کسی سینے میں ہوں اور وہ سینہ کسی لباس میں ہو، عبائے تقویٰ و زہد میں جامہ رندی وخراباتی میں، عالم وادیب کے چوغے میں یا رئیس کے زر دوز لبادے میں، غرض میں کہیں چھپا ہوں وہ چیز جسے حسن کہتے ہیں، میرے سامنے ہوئی اور میں از خود رفتہ ہوگیا۔\n\nایک اور بات ہے جس سے میں اپنے حالات لکھتے ہوئے ہچکچاتا ہوں، میں نے اس دنیا میں آرام نہ دیکھا، تکلیف اور درد میری قسمت میں تھا، گھلنا، ٹکڑے ہو ہو جانا میرے نصیب میں تھا۔ اس وسیع دنیامیں ہر شے عیش میں ہے اور نہیں ہوں تو میں۔ وجہ اس کی کیا ہے؟ یہی کہ اور جتنی چیزیں ہیں وہ اس چیز سے (اسے نعمت کہوں یا مصیبت؟) بری ہیں، جس سے میرے رگ و ریشہ کی ساخت ہے۔ یعنی میں متحسس ہوں اور وہ نہیں ہیں۔\n\nسب سے پہلی حسین چیز جو مجھے یاد ہے اور جس کا خیال اب تک مجھ پر اثر کرتا ہے وہ وہ شفقت اور رقت، روحانیت و انسانیت کی دیوی ہے جسے ماں۔ معاف کیجیے میں اب کچھ نہیں لکھ سکتا، اس لفظ کے آتے ہی میں دھڑکنے لگا! دھڑک لوں تو لکھوں۔۔۔ کہتے ہیں۔ حسن میں نے سینکڑوں طرح کے دیکھے اور سب میں کشش پائی، لیکن جتنی کشش اس حسین اور نرم شے میں دیکھی کسی میں نہ دیکھی۔\n\nقدرت کی یہ سب سے نرم اور شفیق چیز مجھے بہت ہی پیاری معلوم ہوتی تھی اور اکثر ایسا ہوا ہے کہ میں اس کے پیارے چہرے کو دیکھنے کے لیے رویا ہوں اور مجھے گود میں اٹھالیا گیا ہے اور یہ خیال کرکے کہ میں بھوکا ہوں مجھے دودھ پلایا گیا ہے حالانکہ اس کی بالکل ضرورت نہ تھی، میں بس اس کو دیکھنے، گھنٹوں اس فرحت بخش، طمانیت بخش، محبت پاش، الفت انگیز چہرے کو۔۔۔ اس چہرہ کو جو مجھے عالم لا ہوتی کی صورتوں کی جنھیں میں ابھی چھوڑ کے آیا تھا، یاد دلاتا تھا، دیکھنے کا خواہشمند تھا، کبھی، کبھی میں اس حسین شے کے سینے سے لپٹنے کی خواہش کرتا تھا، لیکن کہہ نہیں سکتا تھا، صرف ہمکتا تھا اور وہ حسن کی دیوی، وہ شفقت و روحانیت کی پری، خدا ہی جانتا ہے میری خواہش کو کس طرح سمجھ لیتی تھی اور مجھے سینے سے لگا لیتی تھی اور اس وقت وہ خوشی محسوس کرتا تھا جو دنیا کی تمام خوشیوں سے بالاتر ہے۔ میں جب اس کے سینے سے لگتا تھا تو مجھے معلوم ہوتا تھا اور یہ معلوم ہوکے مجھے کیسی خوشی ہوتی تھی کہ میں اس کے سینہ میں بھی دھڑک رہا ہوں۔ وہاں بھی تڑپ رہا ہوں۔\n\nدوسری حسین اور خوبصورت چیز جس نے مجھے اپنی طرف کھینچا وہ شمع تھی۔ یہ نور عریاں مجھے گھنٹوں محو حیرت رکھتا تھا اور کہیں قریب ہوا تو میں اسے سے ملنے کے لیے اس سے لپٹنے کے لیے بے اختیار اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا تھا۔\n\nلیکن یہ کیا؟ مجھے روکتے تھے۔ کیوں؟ کیوں مجھے اس حسین شے سے ملنے نہیں دیتے تھے؟ اس لیے کہ پہلے کی طرح ہر حسین شے شفیق نہیں۔ یہ حقیقت، یہ دل شکن حقیقت مجھے بعد میں معلوم ہوئی، اچھا ہوتا اگر جب ہی معلوم ہوجاتی۔\n\nچاند۔ وہ بیجان مخلوق میں سب سے زیادہ طرب انگیز چیز یعنی چودھویں رات کا چاند۔ تو مجھے بالکل بیتاب کردیتا تھا۔ اسے بھی پکڑنے، اس سے بھی ملنے کی خواہش ہوتی تھی، میں اسے اپنے پاس اپنی طرف متوجہ سمجھتا تھا، سب کہتے تھے ’’دیکھو دیکھو، کیسا ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہے، آنکھ بھی نہیں جھپکتی‘‘ میں اسے دیکھ دیکھ کے کھل کھلاکر ہنس پڑتا تھا، کیوں کہ اسے میں اپنی طرف مائل پاتا تھا اور پھر اسے پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھاتا تھا مگر آہ چاند دور تھا۔ حسن دھوکا بھی دیتا ہے۔\n\nبس یہ زمانہ میری خوشی کا زمانہ تھا، میں حسینوں سے گھرا رہتا تھا، ہوا میں پریاں میرے پاس آیا کرتی تھیں اور مجھ سے باتیں کیا کرتی تھیں اور لطیفے کہہ کہہ کے مجھے ہنساتی تھیں۔ فرشتے ایک زریں سیڑھی پر آسمان سے اترکر میرے پاس آتے تھے، مجھ سے سرگوشیاں کرتے تھے اور مجھے گد گداکے بھاگ جاتے تھے۔ سیڑھی پر سے چڑھنے اور اترنے کا تانتا بندھا رہتا تھا اور میں انھیں دیکھا کرتا تھا۔ گھر میں حسین، پاکیزہ اور باعصمت عورتیں مجھے گھیرے رکھتی تھیں، میں جس گود میں چاہتا جاتا اور خوشی خوشی قبول کیا جاتا تھا، جس کے گالوں پر چاہتا ہاتھ پھیرتا اور سب ہنستے تھے، جس کا چاہتا بوسہ لیتا اور سب مجھے چومتے تھے۔\n\nاس پہنائے زندگی میں، میں نے چند قدم اور ڈالے۔ اب رنگ برنگ کی تیتریاں مجھے اپنی طرف کھینچتی تھیں، میں ان کی طرف دوڑتا تھا اور وہ اڑجاتی تھیں، حسن کی بے اعتنائی دیکھی؟\n\nایک دن ایک پاک، سفید و براق کبوتر میرے ہاتھ آگیا۔ میں فرط محبت سے اسے بھینچتا تھا، اسے چومتا تھا لیکن وہ پھڑ پھڑاکے اور میرے ہاتھوں سے اپنے تئیں چھڑا کے اڑگیا۔ حسن قدر ناشناس ہے۔\n\nابھی میں کم عمر ہی تھا کہ مجھے ایک خوفناک حقیقت معلوم ہوئی، ہم چند نو عمر دل زمین پر بیٹھے ہوئے کھیل رہے تھے، لڑکے بھی تھے، لڑکیاں بھی تھی، مٹی کے گھروندے بنارہے تھے، میرے پاس ایک حسین شاطر لڑکی بیٹھی تھی، ہم گھروندے بھی بناتے جاتے تھے اور آپس میں باتیں بھی کرتے جاتے تھے، نہ معلوم اس نے کونسی ایسی بات کہی کہ مجھے بہت ہی بھلی معلوم ہوئی اور میں نے اس سے بے اختیار ہوکر ایک بوسہ مانگا، یا تو وہ مجھ سے ایسی گھل مل کے باتیں کررہی تھی یا اس سوال سے ایسا مزاج برہم ہوا اور اس نے مجھے ایسے زور سے جھڑکا، اس شدت سے ڈانٹا کہ میں کانپ اٹھا اور اب بھی جب خیال آتا ہے تو وحشت زدہ ہوجاتا ہوں۔ اللہ رے حسن، تیرا غرور! لیکن نہیں، صنعت خالق میں، عورت کے سوا سب سے زیادہ پیاری صنعت، پھول، سے مجھے شکایت نہیں، اس نے مجھ سے اجتناب نہیں کیا، بلکہ میری ہی طرف سے اس پر زیادتی ہوئی۔ بجائے اس کے کہ وہ مجھے توڑے، میں اسے توڑتا تھا، پھول کبھی دل شکن نہیں ہوا، میں اکثر گلچیں بنا۔\n\nکہا جاتا ہے کہ میں رئیس اعضا ہوں، خاک بھی نہیں، اگر میں رئیس اعضا ہوں، تو مثالاً میں جب اس حسن کی دیوی کو دیکھ کر غش ہوجاتا ہوں اور حکم کرتا ہوں، ’’چلو اس کی پرستش کریں، اس کے قدموں پر اپنے تئیں ڈال دیں‘‘ کیا ہوتا ہے، میری ریاست دھری رہ جاتی ہے، رئیس اعضاء کی کوئی نہیں سنتا۔ دماغ (و ہ مشیر با تدبیر جن سے خدا سمجھے، جنھیں ’’مصلحت نہیں‘‘ ’’بری بات ہے‘‘ کے سوا اور کچھ آتا ہی نہیں)فرمانے لگتے ہیں، ’’بری بات ہے، عیب کی بات ہے، لوگ کیا کہیں گے، مانا کہ تم برے خیالات سے پاک ہو، لیکن دنیا پر کیسے ثابت کروگے؟‘‘ پاؤں زمین میں گڑ جاتے ہیں، میں وہیں پس کے اور غصے میں خون ہو کر رہ جاتا ہوں۔\n\nابتدائے آفرینش عالم سے اب تک لا تعداد تجربے میں نے کئی اور بیشمار اشخاص سے پالا پڑا، کسی کو دوست پایا، کسی کو دشمن، کسی کو اپنی طرف سے بے پروا۔\n\nانہیں جنہوں نے مجھے اپنی طرف کھینچا میں کبھی بھولوں گا، تھوڑا ہی۔ نجد میں مجھے لیلا نے بہت پریشان کیا۔ ایران میں شیریں کے ہاتھوں میں بہت بھٹکا۔ مگر آہ! شکنتلا! شکنتلا وہ مجھ پر مہربان تھی۔ لیکن ادھیلن! تو بے پروا تھی اور کیسی بے پروا کہ لاکھوں خلق خدا کا خون کرا گئی۔\n\nسوانح عمری میں حقیقت سے گریز نہ کرنی چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض کو میں نے بھی تباہ کر دیا۔ جو ناچ چاہا انہیں نچایا قیس عامر کا جب خیال آتا ہے تو میں بہت ہی کڑھتا ہوں فرہاد کی زندگی تلخ کردی، ہند کے بادشاہ جہانگیر کو بھی میں نے بہت ستایا۔\n\nیہاں جملہ معترضہ کے طور پر ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں ظلم اور سختی سے (جو معنوی بدصورتی ہے) میری ازلی دشمنی ہے اور حد سے زیادہ تعقل سے مجھے نفرت ہے یہی وجہ ہے کہ بیکن بو علی سینا ابن رشد، اقلیدس نپولین، تیمور اور چنگیر کو اپنا دشمن سمجھتا ہوں، لیکن جہاں یہ میرے دشمن تھے وہاں میرے مداح، رفیق، میرے دوست بھی ہوئے ہیں شیکسپیئر کو میں نہ بھولوں گا، کالی داس، حافظ، اکبر، کبیر کی یاد مجھ میں ہمیشہ تازہ رہے گی یہ میرے دائمی دوست تھے اور سچے دوست تھے۔\n\nمیں نے مشرق اور مغرب میں جو سفر کیے ہیں اور جو تجربے اور واقعات نظر سے گزرے ہیں وہ بھی نہایت حیرت خیز ہیں۔\n\nسب سے پہلے مجھے یہ کہنا ہے کہ مشرق ہو یا مغرب، یورپ ہو یا ایشیا، میں نے ہر جگہ، ہر جگہ بدنظمی، ہر جگہ لٹیروں، قزاقوں کو درپے آزار دیکھا۔\n\nمشرق بالخصوص ہندوستان سے مجھے بہت شکایت ہے۔ مجھ پر چاروں طرف سے حملے ہوتے ہیں، لیکن کس طرح؟ دلیرانہ سامنے آکر حملے نہیں کیے جاتے، بلکہ گاڑی کی جھلملیوں میں سے، جھروکوں میں سے، کھڑکیوں میں سے، گھونگٹوں میں سے، آنچلوں میں سے مجھ پر تیر برسائے جاتے ہیں اور میں جواب نہیں دے سکتا۔ بارہا حملہ آوروں کے نرغے میں پھنس گیا ہوں، مگر نظر اٹھاکے دیکھتا ہوں، مدافعہ کی غرض سے نہیں، کیونکہ اس کی طاقت نہیں، بلکہ استرحام، التجا کی نیت سے۔ تو حملہ آوروں کا پتہ نہیں، چشم زدن میں غائب۔ غرفہ بند، گھونگٹ کھنچا ہوا، نقاب پڑی ہوئی ہے۔ گویا کبھی حملہ ہوا ہی نہ تھا۔ یہ انصاف ہے؟ مانا کہ ’’الحرب خدعۃ‘‘ لیکن بہادر للکار کے، خبردار کرکے حملہ کرتے ہیں۔\n\nپھر مشرق جیسا وسیع ملک اور ہر جگہ مجھے پھانسنے کے لیے جال پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک دن میں خیال میں مستغرق، دنیا و مافیہا سے بے خبر، اپنی طرف سے اور کل عالم سے مطمئن اور شاد جارہا تھا کہ یکایک ایک اندھیرے گھپ میں داخل ہوگیا، اس اندھیرے گھپ میں جال اور وہ بھی کالا پھیلا ہوا ہے اور جتنی نکلنے کی کوشش کرتا ہوں اتنا ہی اور پھنستا جاتا ہوں، جتنا تڑپ کے باہر آنا چاہتا ہوں، اتنے ہی جال کے بند مجھے گھیرے لیتے ہیں۔ یا اللہ! میں کس بلا میں پھنس گیا۔ جب میں تھک گیا تو رضا بہ قضا، میں نے تحصیل لا حاصل کی کوشش چھوڑ دی۔ اندھیرا زیادہ تھا۔ پہلے تو مجھے دکھائی نہ دیتا تھا۔ جب نظر اس اندھیرے کی عادی ہوگئی تو میں نے دیکھا کہ ایک میں ہی اکیلا یہاں نہیں ہوں۔ بلکہ اس جال میں بہت سے دل پھنسے ہوئے ہیں۔ اس سے کچھ خاطر جمع ہوئی اور خیال کیا کہ ان لوگوں سے مل کر کوئی تدبیر نکلنے کی کریں گے۔ اس لیے میں نے ان سے مخاطب ہوکر کہا، ’’بھائیو! جس مصیبت میں، میں مبتلا ہوں اس میں تم مجھ سے پہلے پھنسے ہو۔ بہر حال اس سے خلاصی پانے کی کوشش کرنی چاہیے شاعر نے\n\nدو دل یک شود بشکند کوہ را\n\nپراگندگی آرد انبوہ را\n\nکہا ہے اور ہم تو دو دل نہیں، اگر میرا اندازہ غلط نہیں تو سیکڑوں دل ہیں اور یہ پہاڑ نہیں نہایت باریک جال ہے۔ یا اللہ کہہ کے سب ایک ساتھ جست کریں تو کیا عجب کہ اس جال کو توڑ دیں اور رہائی پائیں۔‘‘\n\nعشق اسیری میں نے یہیں دیکھا۔ میری اس معقول تجویز کو سننا اور اس پر عمل کرنا کیسا، سب نے مجھے گالیاں دینی شروع کردیں ’’تم سے کس نے کہا تھا کہ تم یہاں آؤ اور آئے تھے تو ناصح بن کر تو نہ آئے ہوتے۔ اس دھوکے میں ہم نہ آئیں گے۔ بڑے آئے باتیں بنانے والے۔ ہم بھی قائل ہیں، کیا ترکیب سوچی ہے ہمیں باہر نکال کے خود اکیلے یہاں رہنا چاہتے ہیں۔ ماشاء اللہ! ماشاءاللہ! مگر\n\nبرد ایں دام بر مرغ دگرنہ\n\nکہ عنقار ابلند است آشیانہ‘‘\n\nمجھے نہایت غصہ آیا۔ مگر چپ ہورہا۔ اکیلا تھا کیا کرتا۔ لیکن تعجب کی بات سنیے۔ کچھ عرصہ یہاں رہنا تھا کہ ایں جانب بھی اس اسارت سے محبت کرنے لگے۔ جتنے جال کے بندکھنچتے جائیں، اتنے ہی ہم خوش ہوتے جائیں۔ خدا سے دعا مانگیں کہ الٰہی یہ بند کبھی ڈھیلے نہ ہوں، بلکہ اور تنگ ہوں۔ تاہم کبھی کبھی اپنی حالت پر افسوس بھی آتا تھا، اور جھٹکارا پانے کی خواہش ہوتی تھی۔\n\nایک دن عزم بالجزم کرکے اور نہایت زور سے پھڑ پھڑاکے میں وہاں سے نکل آیا۔ باہر آیا تو معلوم ہوا کہ میں ظلمات گیسو میں پھنس گیا تھا۔ اس رہائی پر خدا کا شکر کررہا تھا۔ اندھیرے سے نکل کر روشنی میں آیا تھا، مگر یہاں قدم قدم پر میرا پاؤں پھسلا جاتا، (زمین نہایت چکنی تھی) کہ یکایک اڑا ڑا دھم۔\n\nایک کنوئیں میں تھا۔ یہاں بھی ظلمات کی طرح اور بہت سے دل تھے۔ اب چونکہ مجھے ان حضرات کا تجربہ ہوگیا تھا۔ میں نے پہلے کی طرح ان کو سمجھانے کی غلطی نہیں کی بلکہ ان سے معذرت چاہی اور کہا ’’میں مخل ہوا، مگر میں عمداً نہیں آیا، امید ہے کہ معاف فرمایا جاؤنگا‘‘ نیز یہ کہ ’’میں یہاں سے نکلنے کی جتنی جلد ممکن ہوگا کوشش کروں گا، یہاں اس قدر روشنی تھی کہ میری آنکھ خیرہ ہوئی جاتی تھی اور اس پر ستم یہ کہ کنویں کے اوپر برابر بجلی چمکی تھی، لیکن بجلی کی چمک کے ساتھ گرج تھی بلکہ نہایت لطیف، لوچدار، نغمہ ساں آواز جسے ہنسی کہہ سکتے ہیں، آتی تھی۔\n\nیہاں سے معلوم نہیں میں نے کس طرح نجات پائی، میں تو سمجھتا ہوں محض تائید غیبی تھی۔ نکلا تو معلوم ہوا کہ میں خوش قسمتوں میں سےہوں، ورنہ چاہ ذقن میں (قارئین سمجھ ہی گئے ہونگے کہ میں رخساروں سے پھسل کے چاہ ذقن میں گر پڑا تھا) گرکے نکلنا دشوار ہے۔ برق تبسم اور نغمہ خندہ، پاگل کردیتے ہیں۔\n\nمشرق میں، میں نے اس قدر ٹھوکریں کھائی تھیں کہ میں یہاں سے بھاگا۔ مغرب میں گیا۔ سوچا یہاں آرام و سکون نصیب ہوگا مگر آرام و سکون کیسا! یہاں بھی وہی بدنظمی، وہی لوٹ۔\n\nبدنظمی سہی، لوٹ سہی پھر بھی مشرق کے برابر مجھے مغرب سے شکایت نہیں، یہاں لوٹ ہے، قزاقی ہے، ٹھگی نہیں، یہاں لٹیرے ڈنکے کی چوٹ پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔\n\nیہاں بھی میں جہاں جاتا تیروں کی بوچھاڑ مجھ پر ہوتی تھی لیکن مجھے خبر بھی دیدی جاتی تھی کہ ’’ہم تیر برساتے ہیں بچ سکتے تو بچو، بھاگو یا سینہ سپر ہو‘‘ ہاں تیر انداز، تیر چھوڑ کے غائب نہیں ہوجاتے تھے بلکہ اگر میں پوچھتا کہ کس نے تیر مارا؟ تو جواب کڑک کے ملتا، ’’ہم نے؟‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’ہمارا کام یہی ہے ہم اسی لیے پیدا کیے گئے ہیں اور ابھی تو مشق تیر اندازی ہے۔‘‘\n\n’’ابھی صرف مشق ہی ہورہی ہے۔‘‘\n\nبیشک ابھی صرف مشق ہی ہورہی ہے۔ جب قادر انداز ہوجاتے ہیں تو وہ تیر مارتے ہیں کہ کسی کو اتنی قوت نہیں رہتی کہ ہم سے سوال کرسکے اور ہم کبھی آڑکے پیچھے ہوکر تیر نہیں مارتے، یہ بزدلی ہے اور ہمارے اصول جنگ کے خلاف ہے۔ زیادہ سے زیادہ آڑا اگر ہم کبھی کرتے ہیں تو صرف دستی پنکھے کی کرتے ہیں، اور بس، اور یہ بھی لڑائی کے شان بڑھانے کے لیے ورنہ کوئی ضرورت نہیں۔‘‘\n\n’’تو آپ اس بات سے شرماتے نہیں کہ آپ تیر انداز ہیں، قزاق ہیں؟‘‘\n\n’’پھر وہی کج بحثی، کہہ تو دیا کہ ہمارا کام یہی ہے، قدرت نے ہم کو اسی لیے پیدا کیا ہے۔ کیا آفتاب کا کام ضیا پاشی نہیں ہے؟ اب اگر چمگادڑ کہے کہ تو نہ نکل۔ میں تاب نہیں لاسکتی، شبنم کہے کہ شرر فشاں نہ ہو میں فنا ہوجاؤں گی، تو وہ مظہر شان کبریائی منبع نورو روشنائی یعنی عظمت و جلالت والا، شوکت و حشمت والا آفات ان کی نہیں سنے گا یہی نہیں بلکہ نہ سننے پر مجبور ہے، قانون قدرت کا تابع ہے‘‘ مگر گستاخی معاف، وہ بھی آپ کے ہی ہم جنس ہیں جو مشرق میں چھپ چھپ کر ڈر ڈر کے ادھر ادھر دیکھ کے کہ کوئی دیکھتا نہ ہو تیر مارتے ہیں۔ یہ کیوں؟\n\n’’دیکھا! تیر مارنے سے وہ بھی نہیں چوکتے، اب وہ اپنی اس خصلت سے نادم کیوں نظر آتے ہیں، یہ ہم نہیں جانتے، وہ جانیں اور ان کے تیر کھانے والے جانیں۔‘‘\n\nمگر مغرب میں سب سے زیادہ ظالم (فریاد، فریاد ان کی ستموں سے ) وہ تھے جو تیر مارتے تھے، برچھیاں گھپوتے تھے، لیکن جب میں شکایت کرتا تھا تو صاف مکر جاتے تھے۔ ’’ہم نے نہیں مارا‘‘ پہلے تو میں اسے بناوٹ سمجھا۔ ملتجی نظروں سے ان کی طرف دیکھا اور عرض کیا، ’’میں آپ کو جھوٹا نہیں بنانا چاہتا۔ لیکن میں نے دیکھا کہ آپ نے تیر مارا۔‘‘\n\nمیری ملتجی آنکھوں کا ان آنکھوں سے ملنا تھا کہ سیکڑوں ہزاروں تیروں کی پے درپے بوچھاڑ پڑنے لگی۔ مگر ان کو اس وقت عین اس بوچھاڑ کے وقت بھی اپنے بے تقصیری پر اصرار تھا۔\n\nیہ ہم پر بہتان ہے، تیر ویر کیسا؟ (اور آنکھوں میں آنسو بھرلائے) ’’ہم کچھ نہیں جانتے‘‘ اور ہزاروں تیر برسادیے۔\n\n’’تم اس قدر زخمی کیوں نظر آتے ہو۔ کس نے گھائل کیا؟‘‘\n\nاور ایک نظر، ایک ترحم انگیز اور ہوش ربا نظر ڈالی اور ایک لاکھ برچھیوں سے مجھے چھلنی کردیا۔\n\n’’ہے ہے، اس قدر نہ تڑپو، کس بے رحم نے تمھیں خون میں شرابور کردیا‘‘ مگر نجریا کی کٹریا سے اور کچو کے لگائیے۔\n\nبعد میں معلوم ہوا کہ حقیقت میں انھیں اپنے ظالموں کی خبر نہیں۔ تیروں کی بوچھاڑ عمداً نہیں کی جاتی، بلکہ اپنے آپ ہوتی رہتی ہے۔ اف! اف! خدا ان تیر اندازوں سے پالا نہ ڈالے۔ کھلے بند قزاق، زخم لگاکے بھاگ جانے والے قزاق یا ٹھگ، ان سب سے میں سینہ سپر ہوسکتا ہوں اور ہوا ہوں۔ لیکن اس تیسری صنف سے تاب مقاومت نہیں۔ نہیں، بالکل نہیں۔\n\nمغرب کیا، ساری دنیا میں میں قدیم اہل یونان سے بہت خوش ہوں، انھیں تعقل (اور خدا اس لفظ کو دنیا سے اٹھادے) حکمت پر بہت توجہ تھی۔ لیکن میری غذا (حسن) پر وہ اس سے زیادہ متوجہ تھے۔\n\n’’وینس‘‘ وہیں نکلی اور وہ اندھا، مگر نٹ کھٹ، شریر لڑکا ’’کیوپڈ‘‘ جو ایک ہاتھ میں تیر اور دوسرے ہاتھ میں کمان لیے اور کندھوں پر لگائے اڑتا پھرتا وہیں پیدا ہوا۔ وہ مجھے زخمی کرتا تھا لیکن میں بہت خوش ہوتا تھا۔ کیوں میرے مدمقابل قزاقوں کو کو بھی وہ نہیں چھوڑتا تھا اور۔۔۔\n\nجہنم میں جائیں آپ اور بھاڑ میں جائے میری سوانح عمری وہ سامنے سے اک بدیعہ خلقت، ایک آلہ حسن و جاذبیت، ایک مجسمہ شعر و نزاکت، سمند ناز پر سوار، مجھے شکار کرنے کے لیے آرہی ہے اور اب نہ مجھ میں اتنی طاقت اور نہ اس کی خواہش ہے کہ میں اپنے حالات بیان کروں۔ آ آ کہ میں تیری پرستش کروں۔\n\nنوٹ، از پرائویٹ سکرٹری حضرت دل، حضرت دل بھلے چنگے تھے اور اپنے حالات لکھا رہے تھے کہ یکایک از خود رفتہ ہوگئے اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگے۔ افسوس ہے کہ سوانح عمری نا تمام رہ گئی۔ تمام قارئین سے استدعا ہے کہ ان کی صحت کے لیے دعا کریں۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%AD_%D8%B9%D9%85%D8%B1%DB%8C"} {"title": "حضرت دل یہ عشق ہے درد سے کسمسائے کیوں", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حضرت دل یہ عشق ہے درد سے کسمسائے کیوں\nموت ابھی سے آئے کیوں جان ابھی سے جائے کیوں\n\nعشق کا رتبہ ہے بڑا عشق خدا سے جا ملا\nآپ نے کیا سمجھ لیا آپ یہ مسکرائے کیوں\n\nمیرا غلط گلہ سہی ظلم و جفا روا سہی\nناز ستم بجا سہی آنکھ کوئی چرائے کیوں\n\nتجھ سے زیادہ نازنیں اس میں ہزاروں ہیں حسیں\nدل ہے یہ آئینہ نہیں سامنے تیرے آئے کیوں\n\nعاشق نامراد کو اس کی رضا پہ چھوڑ دو\nاس کی اگر خوشی نہ ہو غم سے نجات پائے کیوں\n\nحوصلۂ ستم بڑھے تیغ و سناں کا دم بڑھے\nایک ہی تیر ناز میں کیجیئے ہائے ہائے کیوں\n\nغالبؔ خوش بیاں کہاں بیخودؔ خستہ جاں کہاں\nطبع کا امتحاں کہاں شاد مجھے ستائے کیوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%DB%8C%DB%81_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B3%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA"} {"title": "حضرت عشق ادھر کیجے کرم یا معبود", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "حضرت عشق ادھر کیجے کرم یا معبود\nبال گوپال ہیں یاں آپ کے ہم یا معبود\n\nبندہ خانہ میں اجی لائیے تشریف شریف\nآ کے رکھ دیجے ان آنکھوں پہ قدم یا معبود\n\nنفی اثبات کی شاغل جو قلندر ہیں سو وہ\nاپنی گردن کو نہیں کرتے ہیں خم یا معبود\n\nاپنے داتا کی حقیقت کے ہیں جلوہ تم میں\nلمعۂ نور تجلی کی قسم یا معبود\n\nجلد پھٹکارئے سبزے کے نشہ کو کوڑا\nکھینچیے اور کوئی سلفے کا دم یا معبود\n\nآپ ہی آپ ہیں وہ آپ نے سچ فرمایا\nیوں بھی کچھ دھوکے سے تھے نام کو ہم یا معبود\n\nورنہ یہ عاریتاً ہے جو وجود اپنا سو\nگزراں وہ تو ہے جوں موجۂ یم یا معبود\n\nواقعی بولنے سے اپنے لڑا بیٹھے جو آنکھ\nکیوں خودی سے نہ کرے پھیر وہ رم یا معبود\n\nآنکھ کو کہتے عرب عین ہیں سو عین اگر\nدم پر آ جائے تو ہو عین عدم یا معبود\n\nرات تریاک نشہ نے تو الٹ ڈالا واہ\nکوئی گھولا تو وہ تھا کاسۂ سم یا معبود\n\nسدرہ تک آن تو پہونچا ہوں دلی قصد ہے یہ\nکہ بڑھوں اور بھی دو چار قدم یا معبود\n\nچار زانو ہو اب انشاؔ بھی زمیں سے اونچا\nیک و جب رہنے لگا سادہ کی دم یا معبود", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B9%D8%A8%D9%88%D8%AF"} {"title": "حضرتِ انسان", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "جہاں میں دانش و بینش کی ہے کس درجہ ارزانی\nکوئی شے چھُپ نہیں سکتی کہ یہ عالَم ہے نورانی\nکوئی دیکھے تو ہے باریک فطرت کا حجاب اتنا\nنمایاں ہیں فرشتوں کے تبسّم ہائے پِنہانی\nیہ دنیا دعوتِ دیدار ہے فرزندِ آدم کو\nکہ ہر مستور کو بخشا گیا ہے ذوقِ عُریانی\nیہی فرزندِ آدم ہے کہ جس کے اشکِ خُونیں سے\nکِیا ہے حضرتِ یزداں نے دریاؤں کو طوفانی\nفلک کو کیا خبر یہ خاکداں کس کا نشیمن ہے\nغرض انجم سے ہے کس کے شبستاں کی نگہبانی\nاگر مقصودِ کُل مَیں ہُوں تو مجھ سے ماورا کیا ہے\nمرے ہنگامہ ہائے نَو بہ نَو کی انتہا کیا ہے؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%D9%90_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86"} {"title": "حضور داور محشر قیامت خیز ساماں تھا", "poet_page": "مصنف:راجہ نوشاد علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حضور داور محشر قیامت خیز ساماں تھا\nہزاروں ہاتھ تھے اور ایک قاتل کا گریباں تھا\n\nجو ہم دونوں کی قسمت میں پریشانی کا ساماں تھا\nمرے دل سے زیادہ یار کا گیسو پریشاں تھا\n\nبھلا جنت میں زیر سایۂ طوبیٰ وہ کیا جاتے\nشہیدوں کو تری دیوار کے سایہ کا ارماں تھا\n\nکھلے تھے فصل گل میں پھول یوں شاخ نشیمن میں\nگلستاں میں نشیمن تھا نشیمن میں گلستاں تھا\n\nسر بالیں نہ آنا تھا نہ آئے چارہ سازی کو\nہمارے درد دل کا تو انہیں کے پاس درماں تھا\n\nجنوں کا جوش دونا ہو گیا فصل بہاری میں\nمری قسمت پہ کیا کیا خندہ زن چاک گریباں تھا\n\nنشان ظلم ظالم صرف مظلوموں سے ملتا تھا\nاسیران ستم کی ذات سے آباد زنداں تھا\n\nزمانہ جس پہ شیدا تھا اسی پر ہم بھی شیدا تھے\nاسی پر ہم بھی قرباں تھے زمانہ جس پہ قرباں تھا\n\nجب ان سے پوچھتا ہوں کون تھا اقرار تھا جس سے\nوہ کہتے ہیں ہمیں ہیں ہاں ہمیں سے عہد و پیماں تھا\n\nنہ شاہان سلف ہیں اور نہ ان کی سلطنت باقی\nکہاں ملک سلیماں تھا کہاں قصر سلیماں تھا\n\nعجب انداز سے بکھری ہوئی تھی زلف عارض پر\nوہ ظالم کس پریشاں حال کے غم میں پریشاں تھا\n\nدل برباد اپنا بندۂ عشق بتاں ٹھہرا\nمسلماں جس کو سمجھے تھے وہ کافر نا مسلماں تھا\n\nہماری لاش پر کس ناز سے کہتے ہیں وہ ہنس کر\nنہیں معلوم کیا نوشادؔ تیرے دل میں ارماں تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%AE%DB%8C%D8%B2_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "حضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے\nچمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے\n\nقد و گیسو میں، قیس و کوہکن کی آزمائش ہے\nجہاں ہم ہیں، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے\n\nکریں گے کوہکن کے حوصلے کا امتحاں آخر\nہنوز اُس خستہ کے نیروئے تن کی آزمائش ہے\n\nنسیمِ مصر کو کیا پیرِ کنعاں کی ہوا خواہی!\nاُسے یوسف کی بُوئے پیرہن کی آزمائش ہے\n\nوہ آیا بزم میں، دیکھو، نہ کہیو پھر کہ ”غافل تھے”\nشکیب و صبرِ اہلِ انجمن کی آزمائش ہے\n\nرہے دل ہی میں تیر، اچھا، جگر کے پار ہو، بہتر\nغرض شِستِ بُتِ ناوک فگن کی آزمائش ہے\n\nنہیں کچھ سُبحۂ و زُنّار کے پھندے میں گیرائی\nوفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے\n\nپڑا رہ، اے دلِ وابستہ! بیتابی سے کیا حاصل؟\nمگر پھر تابِ زُلفِ پُر شکن کی آزمائش ہے\n\nرگ و پَے میں جب اُترے زہرِ غم، تب دیکھیے کیا ہو!\nابھی تو تلخیِ کام و دہن کی آزمائش ہے\n\nوہ آویں گے مِرے گھر، وعدہ کیسا، دیکھنا، غالبؔ!\nنئے فتنوں میں اب چرخِ کُہن کی آزمائش ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%B2%D9%85%D8%A7%D8%A6%D8%B4_%DB%81%DB%92"} {"title": "حضور یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:محمد دین تاثیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حضور یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیں\nکچھ اختلاف کے پہلو نکل ہی آتے ہیں\n\nمزاج ایک نظر ایک دل بھی ایک سہی\nمعاملات من و تو نکل ہی آتے ہیں\n\nہزار ہم سخنی ہو ہزار ہم نظری\nمقام جنبش ابرو نکل ہی آتے ہیں\n\nحنائے ناخن پا ہو کہ حلقۂ سر زلف\nچھپاؤ بھی تو یہ جادو نکل ہی آتے ہیں\n\nجناب شیخ وضو کے لیے سہی لیکن\nکسی بہانے لب جو نکل ہی آتے ہیں\n\nمتاع عشق وہ آنسو جو دل میں ڈوب گئے\nزمیں کا رزق جو آنسو نکل ہی آتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%8C_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حضورِ رسالت مآب میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہُوا\nجہاں سے باندھ کے رختِ سفر روانہ ہُوا\nقیودِ شام و سحَر میں بسر تو کی لیکن\nنظامِ کُہنۂ عالم سے آشنا نہ ہُوا\nفرشتے بزمِ رسالتؐ میں لے گئے مجھ کو\nحضورِ آیۂ رحمتؐ میں لے گئے مجھ کو\n\nکہا حضورؐ نے، اے عندلیبِ باغِ حجاز!\nکلی کلی ہے تری گرمیِ نوا سے گُداز\nہمیشہ سرخوشِ جامِ وِلا ہے دل تیرا\nفتادگی ہے تری غیرتِ سجودِ نیاز\nاُڑا جو پستیِ دنیا سے تُو سُوئے گردُوں\nسِکھائی تجھ کو ملائک نے رفعتِ پرواز\nنکل کے باغِ جہاں سے برنگِ بُو آیا\nہمارے واسطے کیا تُحفہ لے کے تُو آیا؟\n\n“حضورؐ! دہر میں آسُودگی نہیں مِلتی\nتلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں مِلتی\nہزاروں لالہ و گُل ہیں ریاضِ ہستی میں\nوفا کی جس میں ہو بُو، وہ کلی نہیں مِلتی\nمگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں\nجو چیز اس میں ہے، جنّت میں بھی نہیں ملتی\nجھلکتی ہے تری اُمّت کی آبرو اس میں\nطرابلس کے شہیدوں کا ہے لہُو اس میں”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1%D9%90_%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%D8%AA_%D9%85%D8%A2%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حفیظؔ وصل میں کچھ ہجر کا خیال نہ تھا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حفیظؔ وصل میں کچھ ہجر کا خیال نہ تھا\nوفور عیش میں اندیشۂ مآل نہ تھا\n\nبرا ہی کیا ہے برتنا پرانی رسموں کا\nکبھی شراب کا پینا بھی کیا حلال نہ تھا\n\nنیا ہے اب کے برس کچھ بہار کا عالم\nجنوں کا زور تو ایسا گزشتہ سال نہ تھا\n\nخیال تم نے دلایا جو گزری باتوں کا\nملال اب وہ ہوا پہلے جو ملال نہ تھا\n\nوہ دن ہیں یاد کہ برسوں تھی خود فراموشی\nیہ دھن کسی کی تھی اپنا بھی کچھ خیال نہ تھا\n\nتم آ گئے کہ مری جان بچ گئی ورنہ\nکچھ آج موت کے آنے میں احتمال نہ تھا\n\nکوئی تو وجہ مسرت ہے گو کہیں نہ کہیں\nکہ یوں حفیظؔ کا چہرہ کبھی بحال نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%81%DB%8C%D8%B8%D8%94_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "حق بنا باطل بنا ناقص بنا کامل بنا", "poet_page": "مصنف:آزاد انصاری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حق بنا باطل بنا ناقص بنا کامل بنا\nجو بنانا ہو بنا لیکن کسی قابل بنا\n\nشوق کے لائق بنا ارمان کے قابل بنا\nاہل دل بننے کی حسرت ہے تو دل کو دل بنا\n\nعقدہ تو بے شک کھلا لیکن بہ صد دقت کھلا\nکام تو بے شک بنا لیکن بہ صد مشکل بنا\n\nجب ابھارا ہے تو اپنے قرب کی حد تک ابھار\nجب بنایا ہے تو اپنے لطف کے قابل بنا\n\nسب جہانوں سے جدا اپنا جہاں تخلیق کر\nسب مکانوں سے جدا اپنا مکان دل بنا\n\nپھر نئے سر سے جنون قیس کی بنیاد رکھ\nپھر نئی لیلیٰ بنا ناقہ بنا محمل بنا\n\nیہ تو سمجھے آج آزادؔ ایک کامل فرد ہے\nیہ نہ سمجھے ایک ناقص کس طرح کامل بنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%82_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%84_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%B5_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%84_%D8%A8%D9%86%D8%A7"} {"title": "حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے\nتا شاہ شیوعِ دانش و داد کرے\nیہ جو دی گئی ہے رشتۂ عمر میں گانٹھ\nہے صِفر کہ افزائشِ اعداد کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%82_%D8%B4%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%82%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%84%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "حق مجھے باطل آشنا نہ کرے", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حق مجھے باطل آشنا نہ کرے\nمیں بتوں سے پھروں خدا نہ کرے\n\nدوستی بد بلا ہے اس میں خدا\nکسی دشمن کو مبتلا نہ کرے\n\nہے وہ مقتول کافر نعمت\nاپنے قاتل کو جو دعا نہ کرے\n\nرو مرے کو خدا قیامت تک\nپشت پا سے تری جدا نہ کرے\n\nناصحو یہ بھی کچھ نصیحت ہے\nکہ یقیںؔ یار سے وفا نہ کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%82_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%84_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "حق و ناحق جلانا ہو کسی کو تو جلا دینا", "poet_page": "مصنف:سائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حق و ناحق جلانا ہو کسی کو تو جلا دینا\nکوئی روئے تمہارے سامنے تم مسکرا دینا\n\nتردد برق ریزوں میں تمہیں کرنے کی کیا حاجت\nتمہیں کافی ہے ہنستا دیکھ لینا مسکرا دینا\n\nدلوں پر بجلیاں گرنے کی صورت گر کوئی پوچھے\nتو میں کہہ دوں تمہارا دیکھ لینا مسکرا دینا\n\nہوئی بجلی سے کس دن نقل انداز ستم گاری\nتمہاری طرح سیکھا لاکھ اس نے مسکرا دینا\n\nستم گاری کی تعلیمیں انہیں دی ہیں یہ کہہ کہہ کر\nکہ روتا جس کسی کو دیکھ لینا مسکرا دینا\n\nتکلف بر طرف کیوں پھول لے کر آؤ تربت پر\nمگر جب فاتحہ کو ہاتھ اٹھانا مسکرا دینا\n\nنہ کیوں ہم انقلاب دہر کو مانیں اگر دیکھیں\nگلوں کا نالہ کرنا بلبلوں کا مسکرا دینا\n\nنہ جانا ناتوانی پر کہ اب بھی سعئ ناخن سے\nدکھا سکتے ہیں ہم زخم کہن کا مسکرا دینا\n\nتمہارے نام میں کیا زعفراں کی شاخ ہے سائلؔ\nکہ جو سنتا ہے اس کو اس کو سن کر مسکرا دینا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%82_%D9%88_%D9%86%D8%A7%D8%AD%D9%82_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D9%84%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "حق وفا کے جو ہم جتانے لگے", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حق وفا کے جو ہم جتانے لگے\nآپ کچھ کہہ کے مسکرانے لگے\n\nتھا یہاں دل میں طعن وصل عدو\nعذر ان کی زباں پہ آنے لگے\n\nہم کو جینا پڑے گا فرقت میں\nوہ اگر ہمت آزمانے لگے\n\nڈر ہے میری زباں نہ کھل جائے\nاب وہ باتیں بہت بنانے لگے\n\nجان بچتی نظر نہیں آتی\nغیر الفت بہت جتانے لگے\n\nتم کو کرنا پڑے گا عذر جفا\nہم اگر درد دل سنانے لگے\n\nسخت مشکل ہے شیوۂ تسلیم\nہم بھی آخر کو جی چرانے لگے\n\nجی میں ہے لوں رضائے پیر مغاں\nقافلے پھر حرم کو جانے لگے\n\nسر باطن کو فاش کر یا رب\nاہل ظاہر بہت ستانے لگے\n\nوقت رخصت تھا سخت حالیؔ پر\nہم بھی بیٹھے تھے جب وہ جانے لگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%82_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%AC%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "حق ہے تو کہاں ہے پھر مجال باطل", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "حق ہے تو کہاں ہے پھر مجال باطل\nحق ہے تو عبث ہے احتمال باطل\nناحق نہیں کوئی چیز راہ حق میں\nباطل کا خیال ہے خیال باطل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D8%AC%D8%A7%D9%84_%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%84"} {"title": "حقا کہ بلند ہے مقام اکبر", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "حقا کہ بلند ہے مقام اکبر\nتوقیع سخن ہے اب بہ نام اکبر\nدیواں ہے لطائف و حکم سے معمور\nاکبرؔ کا کلام ہے کلام اکبر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%82%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%D9%84%D9%86%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1"} {"title": "حقا کہ وہ جادۂ وفا سے بھی پھرا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "حقا کہ وہ جادۂ وفا سے بھی پھرا\nاحباب و عزیز و اقربا سے بھی پھرا\nاے مدرسۃ العلوم جو تجھ سے پھرا\nسچ پوچھو تو خانۂ خدا سے بھی پھرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%82%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%AF%DB%82_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%A7"} {"title": "حقائق", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "دل ہے پہلو میں تو پیدا شیوۂ ترکانہ کر\nجور ہفت افلاک کے ہوتے رہیں پروا نہ کر\nغم کو خود آکر بہا جائے گی موج سرور\nدیکھتا کیا ہے اٹھ اور فکر مے و پیمانہ کر\nدعویٔ الفت جتا کر مفت میں رسوا نہ ہو\nدار پر چڑھنے سے پہلے راز عشق افشا نہ کر\nظرف نیساں چاہتی ہے قلزم آشامی تری\nبرگ گل کی طرح شبنم کے لئے ترسا نہ کر\nکام ابراہیمیوں کا ہے کہ کھیلیں آگ سے\nکود پڑ شعلوں میں خوف انجام کا اصلا نہ کر\nلے کے نام اللہ کا طوفاں میں کشتی ڈال دے\nخوف بے پایانیٔ دریائے موج افزا نہ کر\nخود عمل تیرا ہے صورت گر تری تقدیر کا\nشکوہ کرنا ہو تو اپنا کر مقدر کا نہ کر\nسایۂ شمشیر میں پوشیدہ جنت ہے مگر\nناکسوں کے سامنے اس بھید کا چرچا نہ کر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82"} {"title": "حقائق اشیا اور معشوق حقیقی", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "poetry", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اگراشیا چنین بودی کہ پیداست\nسوال مصطفے کی آمدی راست\n\nباحق، مہتردین گفت، الہی!\nبمن بنمای اشیا را کما ہی\n(یعنی رسول اللہ صلعم)\n\nخداوند کہ این اشیا چگونہ است\nکہ درچشم تو اکنون باژگونہ است\n\nہرچیز کہ پیداست، نمودست نہ بود\nبعد ست کبود ییکہ بینی، نہ سما\n\nنیست را بنمود ہست آن محتمم\nہست رابنمود بر شکل عدم\n\nبحر را پوشید وکف کرد آشکار\nباد را پوشیدو بنمودت غبار\n\nچوں منارہ، خاک ِپیچاں در ہوا\nخاک از خود چوں برآید برعلا\n\nخاک را بینی بہ بالا ای علیل\nباد رانہ، جز بہ تعریف و دلیل\n\nکف ہمی بینی روانہ ہرطرف\nکف پی دریا نہ دارد منصرف\n\nکف بہ حس بینی و دریا از دلیل\nفکر پنہاں، آشکار اقال و قیل\n\nنفی را اثبات می پندا شیتم\nدیدہ معدوم بینی داشتیم\n\nاین عدم را چوں نشانداندر نظر\nچون نہاں کرد آں حقیقت او بصر\n\nایں جہان نیست بس ہستاں شدہ\nواں جہان ہست بس پنہاں شدہ\n\nرہ روان راخستگی راہ نیست\nعشق خود راہ است و ہم خود منزل است\n\nہمچو آں ابلہ کہ تاب آفتاب\nدید بر دیوار وحیران شد شتاب\n\nعاشق دیوار رشد کا یں باضیافت\nبے خبر کایں عکس خورشید سماست\n\nچوں بہ اصل خویش پیوست آں ضیا\nدید دیوار سیہ ماندہ بہ جا\n\nاوبماندہ دوراز مطلوب خویش\nسعی ضائع، رنج باطل پای ریش\n\nگرچہ آہن سرخ شد، او سرخ نیست\nپر تو عاریت آتش زنیست\n\nگرشود پرنور روزن یا سرا\nتو مدان روشن، مگر خورشید را\n\nورد ددیوار گوید رو شنم\nپر توِ غیری ندارم، ایں منم\n\nپس بگوید آفتاب ای نارشید\nچونکہ من عائب شوم آید پدید\n\nسبز ہا گویند ما سبزاز خودیم\nشادو خندانیم وبس زیبا خدیم\n\nفصل تابستان بگوید ای امم\nخویش رابینید چوں من بگزرم\n\nتن ہمی ناز دبہ خوبی وجمال\nروح پنہاں کردہ فر پرو بال\n\nگویدش، ای مزبلہ تو کیستی\nیک دو روز از پرتوِمن زیستی\n\nغنج ونازت می نہ گنجددر جہاں\nباش کہ تامن شوم از تونہاں\n\nپر توروح ست نطق چشم وگوش\nپرتو آتش بود درآب جوش\n\nآں شعاعی بود بر دیوار شان\nجانب خورشید وارفت آں نشان\n\nبر ہر آں چیزی کہ افتد آں شعاع\nتو برآں ہم عاشق آئی اے شجاع\n\nعشق تو بر ہرچہ آں موجود بود\nآں زوصف حق چوز راندود بود\n\nچوں زری با اصل رفت و مس بماند\nاز زری خویشتن مفلس بماند\n\nطبع سیر آمد طلاق او بخواند\nپشت بروی کردو دست از وی فشاند\n\nاز زراندود صفاتش پا بکش\nاز جہالت قلب را کم گوی خوش\n\nکان خوشی در قلب ہا عاریتی ست\nزیر زینت مایہ بی زینتی ست\n\nزر زروی قلب درکان می رود\nسوی آں کان تو برو، کان میرود\n\nنو راز دیوار تا خور می رود\nتو بدان خور روکہ در خورمی رود\n\nزاں سپس بستان تو آب آز آسماں\nچوں ندیدی تو وفادر ناوداں\n\nابر را تابی اگرہست از مہ است\nہر کہ مہ خواند ابر را او گمرہ است\n\nنور مہ برابر چوں منزل شدہ است\nروی تاریکش زمہ مبدل شدہ است\n\nگرچہ ہمرنگ مہ است و دولت ست\nاندر ابرآں نورمہ عاریت ست\n\nدایہ عاریت بود روزی دوچار\nمادرا! مارا تو گیر اندر کنار\n\nمن نخواہم دایہ، مادر خوش تر است\nموسیم من، دایہ من مادر است\n\nمن نخواہم لطف حق از واسطہ\nکہ ہلاک خلق شد ایں رابطہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82_%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B9%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C"} {"title": "حقیقت سے زباں آگاہ کر لے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حقیقت سے زباں آگاہ کر لے\nیہ اسم اللہ بسم اللہ کر لے\n\nدھن سے دور کر قفل دوئی کو\nزباں مفتاح الا اللہ کر لے\n\nکدورت دل سے کھو لہو و لعب کی\nسعادت سے صفا ہے راہ کر لے\n\nمبارک باد عیش و جاہ و دولت\nحظوظ عمر خاطر خواہ کر لے\n\nکہاں فرصت زمان کشمکش میں\nمناسب ہے ابھی کچھ راہ کر لے\n\nجسے دیکھا نہ دیکھ اس کو کبھی تو\nنہ دیکھا جس کو اس کی چاہ کر لے\n\nسخا ہمت مروت ہیں ترے پاس\nکوئی ہم راہ تو ہم راہ کر لے\n\nبھلاوا ہے طلسم زندگانی\nوداع حب عضو جاہ کر لے\n\nنسیم دہلویؔ یہ آرزو ہے\nکہیں اپنا مجھے اللہ کر لے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%DB%92"} {"title": "حقیقت محرم اسرار سے پوچھ", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حقیقت محرم اسرار سے پوچھ\nمزا انگور کا مے خوار سے پوچھ\n\nوفا اغیار کی اغیار سے سن\nمری الفت در و دیوار سے پوچھ\n\nہماری آہ بے تاثیر کا حال\nکچھ اپنے دل سے کچھ اغیار سے پوچھ\n\nدلوں میں ڈالنا ذوق اسیری\nکمند گیسوئے خم دار سے پوچھ\n\nدل مہجور سے سن لذت وصل\nنشاط عافیت بیمار سے پوچھ\n\nنہیں جز گریۂ غم حاصل عشق\nہماری چشم دریا بار سے پوچھ\n\nنہیں آب بقا جز جلوۂ دوست\nکسی لب تشنۂ دیدار سے پوچھ\n\nفریب وعدۂ دل دار کی قدر\nشہید خنجر انکار سے پوچھ\n\nفغان شوق کو مانع نہیں وصل\nیہ نکتہ عندلیب زار سے پوچھ\n\nتصور میں کیا کرتے ہیں جو ہم\nوہ تصویر خیال یار سے پوچھ\n\nمتاع بے بہا ہے شعر حالیؔ\nمری قیمت مری گفتار سے پوچھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE"} {"title": "حقیقتِ ازَلی ہے رقابتِ اقوام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "حقیقتِ ازَلی ہے رقابتِ اقوام\nنگاہِ پِیرِ فلک میں نہ میں عزیز، نہ تُو\nخودی میں ڈُوب، زمانے سے نا اُمید نہ ہو\nکہ اس کا زخم ہے درپردہ اہتمامِ رفُو\nرہے گا تُو ہی جہاں میں یگانہ و یکتا\nاُتر گیا جو ترے دل میں ’لَاشَرِیکَ لَہٗ‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%D9%90_%D8%A7%D8%B2%D9%8E%D9%84%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%82%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D9%90_%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%85"} {"title": "حقیقتِ حُسن", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "خدا سے حُسن نے اک روز یہ سوال کیا\nجہاں میں کیوں نہ مجھے تُو نے لازوال کیا\n\nمِلا جواب کہ تصویر خانہ ہے دنیا\nشبِ درازِ عدم کا فسانہ ہے دنیا\n\nہوئی ہے رنگِ تغیّر سے جب نمود اس کی\nوُہی حسیں ہے حقیقت زوال ہے جس کی\n\nکہیں قریب تھا، یہ گُفتگو قمر نے سُنی\nفلک پہ عام ہوئی، اخترِ سحر نے سُنی\n\nسحَر نے تارے سے سُن کر سُنائی شبنم کو\nفلک کی بات بتا دی زمیں کے محرم کو\n\nبھر آئے پھُول کے آنسو پیامِ شبنم سے\nکلی کا ننھّا سا دل خون ہو گیا غم سے\n\nچمن سے روتا ہوا موسم بہار گیا\nشباب سیر کو آیا تھا، سوگوار گیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%D9%90_%D8%AD%D9%8F%D8%B3%D9%86"} {"title": "حلقہ حلقہ گھر بنا لخت دل بیتاب کا", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حلقہ حلقہ گھر بنا لخت دل بیتاب کا\nزلف جاناں میں ہے عالم سبحۂ سیماب کا\n\nسونے میں نظارہ کر لوں روے عالمتاب کا\nخوف کیا دزد نگہ کو ہے شب مہتاب کا\n\nکھیل بھی بیتاب تھا طفلی میں اس بیتاب کا\nپر اڑاتا تھا ہوا پر ماہیٔ بے آب کا\n\nرک نہیں سکتا ہے دریا دیدۂ پر آب کا\nپاٹ ہے رومال میرا دامن سیلاب کا\n\nخواب میں یاران رفتہ سے ملاقاتیں ہوئیں\nہم نے سمجھا خضر غفلت کو رہ احباب کا\n\nکہتے ہیں سب دیکھ کر بیتاب میرا عضو عضو\nآدمی اب تک نہیں دیکھا کہیں سیماب کا\n\nنیند کی صورت نہیں دیکھا بہ جز داغ جگر\nپردہ میری آنکھ میں شاید کہ ہے کمخواب کا\n\nلگ گئی آگ آتش رخ سے نقاب یار میں\nدیکھ لو جلتا ہے کونا چادر مہتاب کا\n\nمجلس بے شمع وہ ہیں شمع بے مجلس ہوں میں\nغم مرا احباب کو ہے مجھ کو غم احباب کا\n\nہجر جاناں کے الم میں ہم فرشتے بن گئے\nدھیان مدت سے چھٹا آب طعام و خواب کا\n\nاہل تسلیم و رضا سے سر بلندوں کی ہے زیب\nخوش نما زیر منار و قرب ہے محراب کا\n\nجھک کے ہم نے بوسۂ ابرو کی جب مانگی دعا\nحلقۂ آغوش پر عالم ہوا محراب کا\n\nاس قدر فریاد محشر خیز اے بلبل نہ کر\nدیکھنا تختہ نہ الٹے گلشن شاداب کا\n\nمہر دست آویز غم ہے ہر بشر کا داغ غم\nدل ہے محضر صحبت گم کردۂ احباب کا\n\nبے تکلف آ گیا وہ مہ دم فکر سخن\nرہ گیا پاس ادب سے قافیہ آداب کا\n\nپرورش تقدیر کرتی ہے مجھے بہر قضا\nذبح کو پروردہ کرنا کام ہے قصاب کا\n\nنشہ جرات زیادہ ہو گیا اے مے کشو\nساغر مے بن گیا کاسہ سر سہراب کا\n\nموئے آتش دید ساں بل کھائے وہ موئے کمر\nمیں جو لکھوں گرم مضموں اس طلائی ڈاب کا\n\nہو گیا ہوں میں نقاب روئے روشن پر فقیر\nچاہیے تہ بند مجھ کو چادر مہتاب کا\n\nخال و خط سے عیب اس کے روئے اقدس کو نہیں\nحسن ہے مصحف میں ہونا نقطۂ اعراب کا\n\nدوست دشمن سے زیادہ تیز رکھتے ہیں چھری\nبرہمن بھی پیشہ اب کرنے لگے قصاب کا\n\nہونٹ پر انگشت رنگیں رکھ کے وہ کہنے لگے\nشاخ مرجاں نے ثمر پیدا کیا عناب کا\n\nلاغری کے ساتھ بیتابی یہی اے بحر حسن\nخار ہے یہ جسم لاغر ماہیٔ بے آب کا\n\nتیری فرقت میں جو آئے بھول کر آنکھوں میں نیند\nمردمان چشم نے پھر منہ نہ دیکھا خواب کا\n\nمیرے مرغ دل کی بیتابی اڑائی کس طرح\nحوصلہ ایسا نہیں ہے طائر سیماب کا\n\nخدمت اقدس میں چل کر یہ غزل پڑھ اے منیرؔ\nشہرہ سب اہل سخن میں ہے ترے نواب کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%84%D9%82%DB%81_%D8%AD%D9%84%D9%82%DB%81_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D9%84%D8%AE%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "حلقے میں رسولوں کے وہ ماہ مدنی ہے", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے\nکیا چاند کی تنویر ستاروں میں چھنی ہے\n\nکہدے میرے عیسٰی سے مدینے میں یہ کوئی\nاب جان پہ بیمارِ مَحَبّت کے بنی ہے\n\nمحبوب کو بے دیکھے ہوئے لوٹ رہے ہیں\nعشّاق میں کیا رنگِ اویسِ قرنی ہے\n\nگھر سے کہیں اچھا ہے مدینے کا مسافر\nیاں صبحِ وطن شامِ غریب الوطنی ہے\n\nمعراج میں حوروں نے جو دیکھا تو یہ بولیں\nکس نوک پلک کا یہ جوانِ مدنی ہے\n\nاِک عمر سے جلتا ہے مگر جل نہیں چکتا\nکس شمع کا پروانہ اویسِ قرنی ہے\n\nعشاق سے پوچھے نہ گئے حشر میں اعمال\nکیا بگڑی ہوئی بات مَحَبّت سے بنی ہے\n\nیاد احمدِ مختار کی ہے کعبہِ دل میں\nمکے میں عیاں جلوہِ ماہِ مدنی ہے\n\nکس شوق سے جاتے ہیں مدینے کے مسافر\nمحبوب وطن سے کہیں یہ بے وطنی ہے\n\nکہتا ہے مسافر سے یہ ہر نخلِ مدینہ\nآرام ذرا لے لو یہاں چھاؤں گھنی ہے\n\nآغوشِ تصور میں بھی آنا نہیں ممکن\nحوروں سے بھی بڑھ کر تری نازکبدنی ہے\n\nاللہ کے محبوب سے ہے عشق کا دعوٰی\nبندوں کا بھی کیا حوصلہ اللہ غنی ہے\n\nآنکھوں سے ٹپکتا ہے مری رنگِ اویسی\nجو لختِ جگر ہے وہ عقیقِ یمنی ہے\n\nمیں اس کے غلاموں میں ہوں جو سب کا ہے آقا\nسردارِ رسل سیّدِ مکی مدنی ہے\n\nاعدا نے جہاں مانگی اماں رُک گئی چل کر\nشمشیرِ حُسینی میں بھی خلقِ حَسَنی ہے\n\nہر دل میں ہے محبوبِ الٰہی کی تجلی\nہر آئینے میں عکسِ جمالِ مدنی ہے\n\nمقتل ہے چمن نعش پہ حوروں کا ہے مجمع\nکیا رنگ میں ڈوبی مری خونیں کفنی ہے\n\nپہنچی ہیں کہاں آہیں اویسِ قرنی کی\nباغوں میں مدینے کے ہوائے یمنی ہے\n\nکچھ مدح پڑھوں روضہِ پُر نُور پہ چلکر\nیہ بات امیؔر اب تو مرے دل میں ٹھنی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%84%D9%82%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D9%85%D8%AF%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے\nہاں اے نگاہ شوق ذرا دیکھ بھال کے\n\nپہنچے ہیں تا کمر جو ترے گیسوئے رسا\nمعنی یہ ہیں کمر بھی برابر ہے بال کے\n\nبوس و کنار و وصل حسیناں ہے خوب شغل\nکمتر بزرگ ہوں گے خلاف اس خیال کے\n\nقامت سے تیرے صانع قدرت نے اے حسیں\nدکھلا دیا ہے حشر کو سانچے میں ڈھال کے\n\nشان دماغ عشق کے جلوے سے یہ بڑھی\nرکھتا ہے ہوش بھی قدم اپنے سنبھال کے\n\nزینت مقدمہ ہے مصیبت کا دہر میں\nسب شمع کو جلاتے ہیں سانچے میں ڈھال کے\n\nہستی کے حق کے سامنے کیا اصل این و آں\nپتلے یہ سب ہیں آپ کے وہم و خیال کے\n\nتلوار لے کے اٹھتا ہے ہر طالب فروغ\nدور فلک میں ہیں یہ اشارے ہلال کے\n\nپیچیدہ زندگی کے کرو تم مقدمے\nدکھلا ہی دے گی موت نتیجہ نکال کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%84%D9%82%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D9%84%D9%82%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%92"} {"title": "حنا یہ کہتی ہے لو بے زبان پا کے مجھے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حنا یہ کہتی ہے لو بے زبان پا کے مجھے\nجب آئے آپ گئے چوریاں لگا کے مجھے\n\nنہ دیکھتے تھے کبھی جو نظر اٹھا کے مجھے\nوہ دیکھتے ہیں دم حشر مسکرا کے مجھے\n\nحنا یہ کہتی ہے ان سے سنا سنا کے مجھے\nنہیں شہیدوں میں ملنا لہو لگا کے مجھے\n\nنگہ سے بڑھ کے ہیں گستاخ دست شوق مرے\nنہ کوسیے گا ذرا ہاتھ اٹھا اٹھا کے مجھے\n\nمرا رقیب مجھی سا رکھا دیا مجھ کو\nنکالی چھیڑ کی شکل آئنہ دکھا کے مجھے\n\nدہائیاں ہیں شب وصل اپنی شوخی سے\nکہ لوٹے لیتے ہیں جوبن حسین پا کے مجھے\n\nذرا سے درد نے ڈھائی ہیں آفتیں کیا کیا\nپٹک دیا ہے زمیں پر اٹھا اٹھا کے مجھے\n\nکہا جو ان سے چراغ لحد جلاتے جاؤ\nہوا سے تیز گئے وہ ہوا بتا کے مجھے\n\nکنار غیر میں راتیں تڑپ تڑپ کے کٹیں\nرہے نہ چین سے وہ قبر میں سلا کے مجھے\n\nصبا نہ داغ لگا تو یہ اپنے دامن کو\nکہے گی شمع لحد کیا ملا بجھا کے مجھے\n\nمیں اپنے خون کا بیڑا اٹھاؤں خود کیونکر\nوہ پان دیتے ہیں شوخی سے مسکرا کے مجھے\n\nعروس گور کے پہلو میں چین پاؤں گا\nوہی سلائے گی آغوش میں دبا کے مجھے\n\nکہا تھا کس نے کہ لاکھوں کے دل کرو پامال\nجو کہہ رہے ہو کہ لالے پڑے حنا کے مجھے\n\nنکال دوں گا شب وصل بل نزاکت کے\nڈرا لیا ہے بہت تیوریاں چڑھا کے مجھے\n\nمنا لیا ترے روٹھے ہوئے کو ظالم نے\nہنسا دیا ترے ناوک نے گدگدا کے مجھے\n\nیہ ہاتھ باندھ کے کہتا ہے دل کے زخم کا چور\nحضور یاد ہیں سب ہتکھنڈے حنا کے مجھے\n\nوہ آ کے شرم سے کہتے ہیں میری تربت پر\nنہ دیکھے سبزۂ خوابیدہ سر اٹھا کے مجھے\n\nیہ کیا مذاق فرشتوں کو آج سوجھا ہے\nہجوم حشر میں لے آئے ہیں بلا کے مجھے\n\nمٹے ہوؤں کے مٹانے کو یہ بھی آندھی ہیں\nرہیں گے نقش قدم خاک میں ملا کے مجھے\n\nکہوں گا حشر کے چھوٹے سے دن میں کیا کیا بات\nبہت ہی حوصلے ہیں عرض مدعا کے مجھے\n\nقیامت اور قیامت میں آئی قہر ہوا\nبتوں نے چھیڑ دیا سامنے خدا کے مجھے\n\nادا شناسوں کو مرتے بھی بن نہیں پڑتی\nپیام آتے ہیں کب سے مری قضا کے مجھے\n\nستانے والو قیامت بھی آئی جاتی ہے\nجفا کے لطف تمہیں آئیں گے وفا کے مجھے\n\nتمام عمر کے شکوے مٹائے جاتے ہیں\nوہ دیکھتے ہیں دم نزع مسکرا کے مجھے\n\nکہاں وہ نور کی صورت وہ نور کی آواز\nریاضؔ کون سنائے غزل یہ گا کے مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%86%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%84%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "حوادث ہم سفر اپنے تلاطم ہم عناں اپنا", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حوادث ہم سفر اپنے تلاطم ہم عناں اپنا\nزمانہ لوٹ سکتا ہے تو لوٹے کارواں اپنا\n\nنسیم صبح سے کیا ٹوٹتا خواب گراں اپنا\nکوئی نادان بجلی چھو گئی ہے آشیاں اپنا\n\nہمیں بھی دیکھ لو آثار منزل دیکھنے والو\nکبھی ہم نے بھی دیکھا تھا غبار کارواں اپنا\n\nمزاج حسن پر کیا کیا گزرتا ہے گراں پھر بھی\nکسی کو آ ہی جاتا ہے خیال نا گہاں اپنا\n\nازل سے کر رہی ہے زندگانی تجربے لیکن\nزمانہ آج تک سمجھا نہیں سود و زیاں اپنا\n\nجمال دوست کو پیہم بکھرنا ہے سنورنا ہے\nمحبت نے اٹھایا ہے ابھی پردہ کہاں اپنا\n\nہمیشہ شمع بھڑکے گی سدا پیمانہ چھلکے گا\nتری محفل میں ہم چھوڑ آئے ہیں جوش بیاں اپنا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%88%D8%A7%D8%AF%D8%AB_%DB%81%D9%85_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B7%D9%85_%DB%81%D9%85_%D8%B9%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "حوصلہ امتحان سے نکلا", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حوصلہ امتحان سے نکلا\nجان کا کام جان سے نکلا\n\nدرد دل ان کے کان تک پہنچا\nبات بن کر زبان سے نکلا\n\nبے وفائی میں وہ زمیں والا\nہاتھ بھر آسمان سے نکلا\n\nحرف مطلب فقط کہا نہ گیا\nورنہ سب کچھ زبان سے نکلا\n\nکچھ کی کچھ کون سننے والا تھا\nکچھ کا کچھ کیوں زبان سے نکلا\n\nاک ستم مٹ گیا تو اور ہوا\nآسماں آسمان سے نکلا\n\nجس سے بچتا تھا میں دم اظہار\nوہی پہلو بیان سے نکلا\n\nوہ بھی ارمان کیا جو اے مضطرؔ\nدل میں رہ کر زبان سے نکلا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%88%D8%B5%D9%84%DB%81_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "حوصلہ وجہ تپش ہائے دل و جاں نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حوصلہ وجہ تپش ہائے دل و جاں نہ ہوا\nشعلۂ شمع تری بزم میں رقصاں نہ ہوا\n\nحسن تھا مست ازل جام انا لیلیٰ سے\nتن کی عریانی سے مجنوں کوئی عریاں نہ ہوا\n\nلب منصور سے دی کس نے انا الحق کی صدا\nتو اگر پردۂ پندار میں پنہاں نہ ہوا\n\nہم رہے چشم عنایت سے ہمیشہ محروم\nدل نشیں تیر نظر کا کوئی پیکاں نہ ہوا\n\nچشم جاناں میں سماتے ہیں سمانے والے\nموت سے آنکھ لڑانا کوئی آساں نہ ہوا\n\nدل ہے بت خانۂ اصنام خیالی ساحرؔ\nتو وہ کافر ہے کہ بھولے سے مسلماں نہ ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%88%D8%B5%D9%84%DB%81_%D9%88%D8%AC%DB%81_%D8%AA%D9%BE%D8%B4_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "حوصلے کیوں نہ دل چرخ کہن کے نکلے", "poet_page": "مصنف:ابراہیم عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاجز (1934)", "year": "1934", "text_ur": "حوصلے کیوں نہ دل چرخ کہن کے نکلے\nمثل‌ یوسف نہ پھرے جو ہیں وطن کے نکلے\n\nمر مٹے جو تری الفت میں وہ آزاد ہوئے\nجیتے جی بند سے وہ رنج و محن کے نکلے\n\nمیں تو خوش ہو کے عوض اس کے دعائیں دوں گا\nمنہ سے دشنام جو اس غنچہ دہن کے نکلے\n\nگالیاں دے کے تو کر پیار سے باتیں اے شوخ\nہم تو شیدا ترے انداز سخن کے نکلے\n\nسرفروشوں کو خبر دو سر مقتل آئیں\nہاتھ میں تیغ لئے آج وہ تن کے نکلے\n\nسرو‌ و شمشاد و صنوبر جو کھڑے ہیں لب جو\nعلم سبز ہیں ماتم میں حسن کے نکلے\n\nگھر سے ہم اپنے گناہوں کی حیا سے عاجزؔ\nمنہ چھپائے ہوئے گھونگھٹ میں کفن کے نکلے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%88%D8%B5%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%DB%81%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "حُسن و عشق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "جس طرح ڈُوبتی ہے کشتیِ سیمینِ قمر\nنورِ خورشید کے طوفان میں ہنگامِ سحَر\nجیسے ہو جاتا ہے گُم نور کا لے کر آنچل\nچاندنی رات میں مہتاب کا ہم رنگ کنول\nجلوۂ طُور میں جیسے یدِ بیضائے کلیم\nموجۂ نکہتِ گُلزار میں غنچے کی شمیم\nہے ترے سیلِ محبّت میں یونہی دل میرا\n\nتُو جو محفل ہے تو ہنگامۂ محفل ہوں میں\nحُسن کی برق ہے تُو، عشق کا حاصل ہوں میں\nتُو سحَر ہے تو مرے اشک ہیں شبنم تیری\nشامِ غربت ہوں اگر مَیں تو شفَق تُو میری\nمرے دل میں تری زُلفوں کی پریشانی ہے\nتری تصویر سے پیدا مری حیرانی ہے\nحُسن کامل ہے ترا، عشق ہے کامل میرا\n\nہے مرے باغِ سخن کے لیے تُو بادِ بہار\nمیرے بیتاب تخیّل کو دیا تُو نے قرار\nجب سے آباد ترا عشق ہوا سینے میں\nنئے جوہر ہوئے پیدا مرے آئینے میں\nحُسن سے عشق کی فطرت کو ہے تحریکِ کمال\nتجھ سے سر سبز ہوئے میری اُمیدوں کے نہال\nقافلہ ہو گیا آسُودۂ منزل میرا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%8F%D8%B3%D9%86_%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "حُسین احمد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "عجم ہنوز نداند رموزِ دیں، ورنہ\nز دیوبند حُسین احمد! ایں چہ بوالعجبی است\nسرود بر سرِ منبر کہ مِلّت از وطن است\nچہ بے خبر ز مقامِ محمدِؐ عربی است\nبمصطفیٰؐ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست\nاگر بہ او نرسیدی، تمام بولہبی است", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%D9%8F%D8%B3%DB%8C%D9%86_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF"} {"title": "حکومت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہے مُریدوں کو تو حق بات گوارا لیکن\nشیخ و مُلّا کو بُری لگتی ہے درویش کی بات\nقوم کے ہاتھ سے جاتا ہے متاعِ کردار\nبحث میں آتا ہے جب فلسفۂ ذات و صفات\nگرچہ اس دَیرِ کُہن کا ہے یہ دستورِ قدیم\nکہ نہیں مے کدہ و ساقی و مِینا کو ثبات\nقسمتِ بادہ مگر حق ہے اُسی ملّت کا\nانگبیں جس کے جوانوں کو ہے تلخابِ حیات!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DA%A9%D9%88%D9%85%D8%AA"} {"title": "حکیم نطشہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "حریفِ نکتۂ توحید ہو سکا نہ حکیم\nنِگاہ چاہیے اسرارِ ’لا اِلہ‘ کے لیے\nخدنگِ سینۂ گردُوں ہے اُس کا فکرِ بلند\nکمند اُس کا تخّیل ہے مہرو مہ کے لیے\nاگرچہ پاک ہے طینت میں راہبی اُس کی\nترس رہی ہے مگر لذّتِ گُنہ کے لیے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85_%D9%86%D8%B7%D8%B4%DB%81"} {"title": "حکیمی، نامسلمانی خودی کی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "حکیمی، نامسلمانی خودی کی\nکلیمی، رمزِ پنہانی خودی کی\nتجھے گُر فقر و شاہی کا بتا دوں\nغریبی میں نگہبانی خودی کی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%DB%8C%D8%8C_%D9%86%D8%A7%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا\nحسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا\n\nیہ طرز احسان کرنے کا تمہیں کو زیب دیتا ہے\nمرض میں مبتلا کر کے مریضوں کو دوا دینا\n\nبلائیں لیتے ہیں ان کی ہم ان پر جان دیتے ہیں\nیہ سودا دید کے قابل ہے کیا لینا ہے کیا دینا\n\nخدا کی یاد میں محویت دل بادشاہی ہے\nمگر آساں نہیں ہے ساری دنیا کو بھلا دینا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D8%AC%DA%BE%DA%A9%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B3%DA%A9%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "حیات و موت کا اک سلسلا ہے", "poet_page": "مصنف:باسط بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حیات و موت کا اک سلسلا ہے\nمحبت انتہا تک ابتدا ہے\n\nمیں کیا جانوں کہ باب توبہ کیا ہے\nابھی تو میکدے کا در کھلا ہے\n\nذرا پھر دل پہ نظریں ڈال دیجے\nچراغ آرزو خاموش سا ہے\n\nعطا کر دی تمہاری آرزو نے\nوہ اک دنیا جو دنیا سے جدا ہے\n\nحسیں ہوں لاکھ دنیا کے مناظر\nوہ کیا دیکھے جو تم کو دیکھتا ہے\n\nنظر کے ساتھ نظارہ بھی گم ہے\nدل مضطر یہ کس کا سامنا ہے\n\nمرے دل کو نہ رکھ بے رنگ ساقی\nکہ ہر ساغر گلابی ہو رہا ہے\n\nنہ دوزخ ہے نہ جنت ہے تو باسطؔ\nمرے اعمال غم کا کیا صلا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%D9%88_%D9%85%D9%88%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "حیاتِ اَبدی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "زندگانی ہے صدَف، قطرۂ نیساں ہے خودی\nوہ صدَف کیا کہ جو قطرے کو گُہر کر نہ سکے\nہو اگر خودنِگر و خودگر و خودگیر خودی\nیہ بھی ممکن ہے کہ تُو موت سے بھی مر نہ سکے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%D9%90_%D8%A7%D9%8E%D8%A8%D8%AF%DB%8C"} {"title": "حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا\nنکلا تھا مدینے سے ناموس لیے سارا\nاس چرخ سیہ رو نے اک فتنے کو سنکارا\nاس ظلم رسیدہ کو کن سختیوں سے مارا\nکرتا تھا وہ آنکھوں سے خون جگر افشانی\nدریا کے کنارے پر پایا نہ تنک پانی\n\nاس قوم کو تھی اس سے اک دشمنی جانی\nاس مرتبہ بے برگی اس درجہ نواخوانی\nوہ یوسف ثانی تھا جیسے کہ ہو زندانی\nمہمان عزیز ایسا تس کی ہو یہ مہمانی\nکھانے کو جراحت تھے پینے کے تئیں خوں تھا\nسب ساتھ کے لوگوں کا احوال دگرگوں تھا\n\nسب چل بسے ہمراہی اس وادی ویراں میں\nکوئی نہ رہا اس کے انصار میں اعواں میں\nنونیزہ چڑھا پانی اس ظلم نمایاں میں\nپر پانی نہ دیکھا تھا جز دیدۂ گریاں میں\nآخر کو سفر اپنا ناچار ہو ٹھہرایا\nکیا کیا نہ خیال اس کو پھر جاتے ہوئے آیا\n\nناموس کے بے جاگہ اس آن اترنے کا\nہمراہیوں کے جی سے ناچار گذرنے کا\nگھر بار کے جلنے کا فرزندوں کے مرنے کا\nانصاف ستم ہرگز یاروں کے نہ کرنے کا\nسو دادگری کی واں سب رسم اٹھا دی تھی\nآزار رسانی کی تاکید و منادی تھی\n\nاس ہمسر بے وارث اندوہ کی ماری کا\nاس دختر بے مشفق نادان بچاری کا\nاس جمع پریشاں کی اوقات گذاری کا\nاس خانہ خرابی کا بیٹے کی نزاری کا\nمرنے کو نہ تھا جی پر ناچار موا آخر\nسر جس لیے دھنتا تھا پھر سو ہی ہوا آخر\n\nخیموں کو جلاتے تھے آشوب اٹھاتے تھے\nشمشیریں علم کرتے بے وسوسہ آتے تھے\nلے جاتے تھے واں سے جو تنکے کو بھی پاتے تھے\nجاروب کر اس گھر کو سب خاک اڑاتے تھے\nاحمدؐ کا نہ پاس ان کو حیدر کا نہ اندیشہ\nتھا جور و ستم شیوہ بیدادگری پیشہ\n\nجب وہ شہ بے لشکر میداں میں گیا مارا\nگھربار جلا یکسر ناموس لٹا سارا\nسر آپڑی عابد کے سو بیکس و بیچارہ\nبے طاقت و بے ہمدم بے یاور و بے یارا\nحیران سلوک ان کا کرتا تھا نظر سب پر\nسو آنسو پلک پر تھے سو نالۂ دل لب پر\n\nتھے خیمہ نشیں جتنے بے پردہ سو ہو بیٹھے\nپھر سر کی ردائیں بھی اس دشت میں کھو بیٹھے\nبرباد گئی عزت ناموس کو رو بیٹھے\nاس درد کو وہ پہنچے اس طرح سے جو بیٹھے\nوارث کے موئے کوئی کرتا نہیں بیدادی\nاس ظلم کے ہوں جاکر کس کے کنے فریادی\n\nاس راہ کے چلنے کی کیا اچھی علامت تھی\nآنے کی مدینے سے ہر اک کو ندامت تھی\nہر حرف تھا اک طعنہ ہر بات ملامت تھی\nفریاد سکینہ سے ہر گام قیامت تھی\nجب رونے وہ لگتی تھی کلثوم موئی جاتی\nزینب گلے سے لگ کر کچھ غش ہی ہوئی جاتی\n\nکوئی نہ رہا جس کو ہو کچھ غم دلداری\nغیروں سے دل آزاری اپنوں سے یہ کچھ خواری\nعابد کی وہ بیماری وہ بیکسی بے یاری\nہو شہ کے اٹھانے کی کس طرح سے تیاری\nاسباب نہیں مطلق وارث نہیں ہے کوئی\nیاں بات نہیں سنتے یک سو رہی دلجوئی\n\nفرصت نہیں ہے اتنی جو دم بھی لیا جاوے\nتاکید میں چلنے کی کیا فکر کیا جاوے\nکیونکرکے نہ عابد پھر پانی سا ہوا جاوے\nپیاسا ہو قبیلہ سب یوں جس کا لٹا جاوے\nکیا کیا نہ پدر مردہ بے طاقتی کرتا ہے\nہر آن میں گرتا ہے ہر گام پہ مرتا ہے\n\nانواع ستم ہیں گے بے تاب و تواں اوپر\nاقسام جفا ہیں گے دل خستہ جواں اوپر\nکچھ طعن نہیں تنہا ہر اک کی زباں اوپر\nسر باپ کا بھی آگے جاتا تھا سناں اوپر\nاس سخت مصیبت پر کس دل کو شکیب آوے\nپتھر کا جگر ہو تو یاں آب ہو بہہ جاوے\n\nقسمت میں تھا قاسم کے افسوس جواں مرنا\nدولھن کے تئیں اس کے سب عمر تھا دکھ بھرنا\nاکبر کے نہ طالع تھے جو گور میں ہو دھرنا\nکانوں نہ سنا ہرگز اصغر کا سخن کرنا\nارمان جو دل میں تھے دل ہی میں رہے سارے\nکیا وقت برا آیا بے وقت گئے مارے\n\nناگہ نظر زینب میداں کی طرف آئی\nاک لاش میں بھائی کے پیکر کی طرح پائی\nبے تاب ہوئی ازبس آخر گری چلائی\nرو رو کے لگی کہنے کچھ وجہ بھی اے بھائی\nمنھ ٹک جو ترا ایدھر ہوتا نہیں ہے ہرگز\nمردے پہ ترے کوئی روتا نہیں ہے ہرگز\n\nکیا تجھ پہ ہوا ثابت جو لوٹ لیا سب گھر\nکیا تونے کیا جس سے دشمن ہے یہ سب لشکر\nکیا جرم ہوا سرزد جو سر نہیں ہے تن پر\nجو پردگی ہے کیوں ہے بے پردہ و بے چادر\nکچھ بول سبب کیا تھا کیوں تیرے تئیں مارا\nناموس بیاباں میں کاہے کو ہے آوارہ\n\nوہ خانۂ دولت ہے اب غیرت ویرانہ\nبرباد گیا سارا اسباب امیرانہ\nہیں پردہ نشیں اکثر رستے میں فقیرانہ\nچلنا ہمیں آیا ہے درپیش اسیرانہ\nمردے کو ترے ہم جو چھوڑے ہوئے جاتے ہیں\nافراط خجالت سے ہر دم موئے جاتے ہیں\n\nاس پیکر مردہ سے کر دل کے تئیں خالی\nناچار گئی آگے بے وارث و بے والی\nپھر حد سے ہوئی افزوں بیچارگی بدحالی\nتونے بھی قلم اپنے یاں ہاتھ سے گر ڈالی\nتو میرؔ کیا اچھا لکھنے کا نہ تھا شایاں\nننوشتہ ہی بہتر ہے ایسا غم بے پایاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D9%88%DB%81_%D9%81%D8%A7%D8%B7%D9%85%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "حیران سی ہے بھچک رہی ہے", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حیران سی ہے بھچک رہی ہے\nنرگس کس گل کو تک رہی ہے\n\nآئی ہے بہار غنچے چٹکے\nکیا پھولوں کی بو مہک رہی ہے\n\nمے خانے پہ مینہ برس رہا ہے\nبجلی کیسی چمک رہی ہے\n\nباقی ہے اثر ابھی جنوں کا\nسودا تو گیا ہے جھک رہی ہے\n\nپوچھو نہ جلن کا دل کے احوال\nاک آگ پڑی دہک رہی ہے\n\nنرگس کو تو آنکھ اٹھا کے دیکھو\nکس یاس سے تم کو تک رہی ہے\n\nلیلیٰ مجنوں کا رٹتی ہے نام\nدیوانی ہوئی ہے بک رہی ہے\n\nپیغام بہار آن پہونچا\nبلبل کیا کیا چہک رہی ہے\n\nمژگاں کا جو دل میں ہے تصور\nاک پھانس پڑی کھٹک رہی ہے\n\nہو جائے گا رام رفتہ رفتہ\nوحشت تو مٹی جھجک رہی ہے\n\nباقی جو یہ جان ناتواں ہے\nکیا زندوں میں ہے سسک رہی ہے\n\nآنے کی ترے ہی منتظر ہے\nاو موت کہاں تو تھک رہی ہے\n\nکیا شوخ ہے وہ سنہری رنگت\nکندن کی طرح دمک رہی ہے\n\nروئے رنگیں عرق فشاں ہے\nشبنم گل سے ٹپک رہی ہے\n\nہم رندؔ ہیں بزم اپنی کس رات\nبے جام مے و گزک رہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DA%86%DA%A9_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "حیران ہے کیوں راز بقا مجھ سے پوچھ", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "حیران ہے کیوں راز بقا مجھ سے پوچھ\nمیں زندۂ جاوید ہوں آ مجھ سے پوچھ\nمرتے ہیں کہیں دلوں سے بسنے والے\nجینا ہے تو موت کی دوا مجھ سے پوچھ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%A8%D9%82%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE"} {"title": "حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں\nمقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں\n\nچھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں\nہر اک سے پُوچھتا ہوں کہ “جاؤں کدھر کو مَیں”\n\nجانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار\nاے کاش جانتا نہ تری رہ گزر کو مَیں\n\nہے کیا، جو کس کے باندھیے میری بلا ڈرے\nکیا جانتا نہیں ہُوں تمھاری کمر کو مَیں\n\nلو، وہ بھی کہتے ہیں کہ “یہ بے ننگ و نام ہے”\nیہ جانتا اگر، تو لُٹاتا نہ گھر کو مَیں\n\nچلتا ہوں تھوڑی دُور ہر اک تیز رَو کے ساتھ\nپہچانتا نہیں ہُوں ابھی راہبر کو مَیں\n\nخواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار\nکیا پُوجتا ہوں اس بُتِ بیداد گر کو مَیں\n\nپھر بے خودی میں بھول گیا راہِ کوئے یار\nجاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو مَیں\n\nاپنے پہ کر رہا ہُوں قیاس اہلِ دہر کا\nسمجھا ہوں دل پذیر متاعِ ہُنر کو میں\n\nغالبؔ خدا کرے کہ سوارِ سمندرِ ناز\nدیکھوں علی بہادرِ عالی گُہر کو میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D9%B9%D9%88%DA%BA_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "حیراں ہیں دیکھ تیری صورت کو یاں تلک ہم", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حیراں ہیں دیکھ تیری صورت کو یاں تلک ہم\nتصویر ساں اے پیارے مارے نہیں پلک ہم\n\nہوں باریاب کیوں کر خورشید رو تلک ہم\nاے کاش اس کی دیکھیں جیوں ذرہ اک جھلک ہم\n\nیہ فال آرزو ہے ایسا نہ بینو دیکھو\nدلبر کے پھر بھی ہوں گے وابستۂ الک ہم\n\nہر حال میں غرض عشقؔ داد جنوں ہے دینی\nسر پھوڑتے فلک سے ہوتے اگر ملک ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%DB%81%D9%85"} {"title": "حیرت نظارہ آخر بن گئی رعنائیاں", "poet_page": "مصنف:حکیم احمد شجاع", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حیرت نظارہ آخر بن گئی رعنائیاں\nخاک کے ذروں میں آتی ہیں نظر گلزاریاں\n\nجب سے دیکھا ہے تجھے اک درد ہے دل میں نہاں\nاے صبا لے جا تو ہی ان تک مری بیداریاں\n\nالوداع اے قافلے والو مجھے اب چھوڑ دو\nمیری قسمت میں لکھی ہیں دشت کی ویرانیاں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D9%86%D8%B8%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%D8%A8%D9%86_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%D8%B9%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "حیرت کو مژدہ گرم ہے بازار آئینہ", "poet_page": "مصنف:عبد الہادی وفا", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وفا (1923)", "year": "1923", "text_ur": "حیرت کو مژدہ گرم ہے بازار آئینہ\nخوبان خود نما ہیں خریدار آئینہ\n\nہاں عاشقوں کو کشمکش جور سے فراغ\nوہ ہے اسیر شانہ گرفتار آئینہ\n\nمجھ کو بھی یوں ہے زانوے حسرت سے واسطہ\nتو جیسے ہر گھڑی ہے نگہ دار آئینہ\n\nدلال چشم شوخ ہے قیمت نظارہ ہے\nاور حسن بے حجاب خریدار آئینہ\n\nناکام تری دید سے ہیں خواب میں بھی ہم\nلائیں کہاں سے طالع بے دار آئینہ\n\nحسن عمل کی داد سکندر کو مل گئی\nوہ رشک آئنہ ہے طلب گار آئینہ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DA%98%D8%AF%DB%81_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81"} {"title": "حیرت کی یہ معرکے کی جا ہے بارے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "حیرت کی یہ معرکے کی جا ہے بارے\nکیا پوچھتے ہو مرتے ہیں عاشق سارے\nمشہور ہے عشق نے لڑائی ماری\nاس پر کہ گئے لوگ سب اس کے مارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%B9%D8%B1%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "حیرت ہے کہ ہو رقیب محرم تیرا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "حیرت ہے کہ ہو رقیب محرم تیرا\nہمراز و انیس وقت و ہمدم تیرا\nجوں عکس ترے سامنے اکثر وہ ہو\nجوں آئینہ منھ تکا کریں ہم تیرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8_%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئے", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئے\nہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئے\n\nنا مرادی اپنی قسمت گمرہی اپنا نصیب\nکارواں کی خیر ہو ہم کارواں تک آ گئے\n\nان کی پلکوں پر ستارے اپنے ہونٹوں پہ ہنسی\nقصۂ غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آ گئے\n\nزلف میں خوشبو نہ تھی یا رنگ عارض میں نہ تھا\nآپ کس کی آرزو میں گلستاں تک آ گئے\n\nرفتہ رفتہ رنگ لایا جذبۂ خاموش عشق\nوہ تغافل کرتے کرتے امتحاں تک آ گئے\n\nخود تمہیں چاک گریباں کا شعور آ جائے گا\nتم وہاں تک آ تو جاؤ ہم جہاں تک آ گئے\n\nآج قابلؔ مے کدے میں انقلاب آنے کو ہے\nاہل دل اندیشۂ سود و زیاں تک آ گئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D8%A2_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "حیف دل میں ترے وفا نہ ہوئی", "poet_page": "مصنف:اشرف علی فغاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حیف دل میں ترے وفا نہ ہوئی\nکیوں تری چشم میں حیا نہ ہوئی\n\nیار نے نامہ بر سے خط نہ لیا\nمیری خاطر عزیز کیا نہ ہوئی\n\nرہ گیا دور تیرے کوچہ سے\nخاک بھی میری پیش پا نہ ہوئی\n\nکٹ گئی عمر میری غفلت میں\nکچھ تری بندگی ادا نہ ہوئی\n\nدود دل تیری زلف تک پہنچے\nآہ یاں تک مری رسا نہ ہوئی\n\nچشم خوں خوار سے فغاںؔ دیکھا\nدل بیمار کو شفا نہ ہوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D9%81_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "حیف ہے ایسی زندگانی پر", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حیف ہے ایسی زندگانی پر\nکہ فدا ہو نہ یار جانی پر\n\nتیری گل کاری ابر ہو برباد\nگر فدا ہو نہ یار جانی پر\n\nحال سن سن کے ہنس دیا میرا\nکچھ تو آیا ہے مہربانی پر\n\nخون کشتوں کے ہو گیا دل کا\nتیری دستار ارغوانی پر\n\nرات بیدارؔ وہ مہ تاباں\nسن کے رویا مری کہانی پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D9%81_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "خار مطلوب جو ہووے تو گلستاں مانگوں", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خار مطلوب جو ہووے تو گلستاں مانگوں\nبجلی گرنے کو جو جی چاہے تو باراں مانگوں\n\nشمع گل ہووے جو صبح شب ہجراں مانگوں\nاوس پڑنی بھی ہو موقوف جو یاراں مانگوں\n\nخاک میں بھی جو ملوں میں تو کسی صحرا میں\nتم سے مٹی بھی نہ اے گبر و مسلماں مانگوں\n\nبخت واژوں نے زباں کو یہ اثر بخشا ہے\nتلخیٔ مرگ مزا دے جو نمک داں مانگوں\n\nخانۂ دل میں کروں داغ محبت کو طلب\nروشنی کے لیے اس گھر کے جو مہماں مانگوں\n\nپادشاہی سے فقیری کا ہے پایا بالا\nبوریا چھوڑ کے کیا تخت سلیماں مانگوں\n\nرنج سے عشق کے ہے راحت دنیا بد تر\nزخم خنداں ہوں اگر میں گل خنداں مانگوں\n\nدے دیا کیجئے سودائی تمہارا ہوں میاں\nسونگھنے کو جو کبھی زلف پریشاں مانگوں\n\nعاشق دست نگاریں ہوں عجب کیا اس کا\nبھیک دریا سے اگر پنجۂ مرجاں مانگوں\n\nمیوے پر باغ جہاں میں ہو جو دل کو رغبت\nشجر حسن سے میں سیب زنخداں مانگوں\n\nجامۂ جسم بھی رکھنے کا نہیں دست جنوں\nپیرہن خاک میں دیوانۂ عریاں مانگوں\n\nیاس و حرماں ہوں جو لوہے کے چنے بھی تو چباؤں\nنعمت عشق کے قابل لب و دنداں مانگوں\n\nملتی ہو مانگنے سے باغ جہاں میں جو مراد\nگل سے بلبل کے کفن کے لئے داماں مانگوں\n\nکب سے در پر ترے سائل ہوں میں آتشؔ کی طرح\nوہ ملے مجھ کو جو کچھ اے شہ خوباں مانگوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%B7%D9%84%D9%88%D8%A8_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%88%DA%BA"} {"title": "خار و خس پھینکے چمن کے راستے جاری کرے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خار و خس پھینکے چمن کے راستے جاری کرے\nباغباں فصل بہار آنے کی تیاری کرے\n\nدل جگر کی یا جگر دل کی عزا داری کرے\nایک ہی عالم ہے کس کی کون غم خواری کرے\n\nمیرے درد عشق سے ایذا ہے ساری خلق کو\nموت بہتر ہے جب اتنا طول بیماری کرے\n\nنزع ہو لیکن نہ سر کے کوچۂ محبوب سے\nلاکھ ہو بے ہوش پر اتنی تو ہشیاری کرے\n\nشارع الفت نے لکھا ہے کتاب عشق میں\nوصل ہو یا ہجر ساری رات بیداری کرے\n\nاے جنوں بے ساختہ ہے عافیت مد نظر\nایسا عالم ہو کہ عالم اس سے بے زاری کرے\n\nتیرے جس پہلو میں بیٹھے دل جگر ہیں شاد شاد\nاٹھ گئے کہہ کر کوئی کس کی طرف داری کرے\n\nعشق گلیوں میں پھرے لیکن نہ ہو پردہ دری\nحسن پردے میں رہے اور گرم بازاری کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D9%88_%D8%AE%D8%B3_%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "خاطر سے غبار دھو گئے ہم", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خاطر سے غبار دھو گئے ہم\nجتنا کہ ہنسے تھے رو گئے ہم\n\nجب دیکھا نگاہ مہر سے یار\nجیوں ذرہ کچھ اور ہو گئے ہم\n\nغفلت پہ نہ ہونے پائے ہشیار\nٹک آنکھ کھلی کہ سو گئے ہم\n\nتجھ عشق کے سوز میں سراپا\nجیوں شمع گداز ہو گئے ہم\n\nاس بحر پہ رو کے مثل نیسیاں\nگو اپنا نشاں ڈبو گئے ہم\n\nاے عشق بقول دردؔ سچ ہے\nکچھ لائے نہ تھے کہ کھو گئے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DA%BE%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا\nجھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا\n\nدل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں\nالٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا\n\nڈرتا ہوں دیکھ کر دل بے آرزو کو میں\nسنسان گھر یہ کیوں نہ ہو مہمان تو گیا\n\nکیا آئے راحت آئی جو کنج مزار میں\nوہ ولولہ وہ شوق وہ ارمان تو گیا\n\nدیکھا ہے بتکدے میں جو اے شیخ کچھ نہ پوچھ\nایمان کی تو یہ ہے کہ ایمان تو گیا\n\nافشائے راز عشق میں گو ذلتیں ہوئیں\nلیکن اسے جتا تو دیا جان تو گیا\n\nگو نامہ بر سے خوش نہ ہوا پر ہزار شکر\nمجھ کو وہ میرے نام سے پہچان تو گیا\n\nبزم عدو میں صورت پروانہ دل مرا\nگو رشک سے جلا ترے قربان تو گیا\n\nہوش و حواس و تاب و تواں داغؔ جا چکے\nاب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D9%84%D8%AD%D8%A7%D8%B8_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح\nکرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح\n\nمیں اور قیس و کوہ کن اب جو زباں پہ ہیں\nمارے گئے ہیں سب یہ گنہ گار ایک طرح\n\nمنظور اس کو پردے میں ہیں بے حجابیاں\nکس سے ہوا دو چار وہ عیار ایک طرح\n\nسب طرحیں اس کی اپنی نظر میں تھیں کیا کہیں\nپر ہم بھی ہو گئے ہیں گرفتار ایک طرح\n\nگھر اس کے جا کے آتے ہیں پامال ہو کے ہم\nکریے مکاں ہی اب سر بازار ایک طرح\n\nگہ گل ہے گاہ رنگ گہے باغ کی ہے بو\nآتا نہیں نظر وہ طرح دار ایک طرح\n\nنیرنگ حسن دوست سے کر آنکھیں آشنا\nممکن نہیں وگرنہ ہو دیدار ایک طرح\n\nسو طرح طرح دیکھ طبیبوں نے یہ کہا\nصحت پذیر ہوئے یہ بیمار ایک طرح\n\nسو بھی ہزار طرح سے ٹھہراوتے ہیں ہم\nتسکین کے لیے تری ناچار ایک طرح\n\nبن جی دئیے ہو کوئی طرح فائدہ نہیں\nگر ہے تو یہ ہے اے جگر افگار ایک طرح\n\nہر طرح تو ذلیل ہی رکھتا ہے میرؔ کو\nہوتا ہے عاشقی میں کوئی خوار ایک طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%85%D8%B9_%D9%88%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "خاقانیؔ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "وہ صاحبِ ’تُحفۃالعراقَین،\nاربابِ نظر کا قُرّۃالعَین\nہے پردہ شگاف اُس کا اِدراک\nپردے ہیں تمام چاک در چاک\nخاموش ہے عالَمِ معانی\nکہتا نہیں حرفِ ’لن ترانی‘!\nپُوچھ اس سے یہ خاک داں ہے کیا چیز\nہنگامۂ این و آں ہے کیا چیز\nوہ محرمِ عالَمِ مکافات\nاک بات میں کہہ گیا ہے سَو بات\n“خود بوے چنیں جہاں تواں برُد\nکابلیس بماند و بوالبشر مُرد!”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%82%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%94"} {"title": "خال رخ اس نے دکھایا نہ دوبارا اپنا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خال رخ اس نے دکھایا نہ دوبارا اپنا\nچندے اک اور ہے گردش میں ستارا اپنا\n\nدل و دین و خرد و صبر کجا کو آرام\nگھر لٹا ہم نے دیا عشق میں سارا اپنا\n\nبولی صیاد سے بلبل کہ نہ کر گل سے جدا\nتختۂ باغ ہے یہ تخت ہزارا اپنا\n\nسیر کی ہم نے جو کل محفل خاموشاں کی\nنہ تو بیگانہ ہی بولا نہ پکارا اپنا\n\nمثل نے ہم نے تو فریاد بہت کی لیکن\nکوئی ہمدم نہ ہوا آہ ہمارا اپنا\n\nدل ہوا چاہ ذقن ہی میں غریق رحمت\nاس میں غواص نظر گرچہ اتارا اپنا\n\nکھل گیا عقدۂ ہستی و عدم مثل حباب\nلب دریا پہ ہوا جب کہ گزارا اپنا\n\nپیرہن اس کو ہوا خلعت شاہی کہ نصیرؔ\nجس نے یہ پیرہن خاک اتارا اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%84_%D8%B1%D8%AE_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "خال مشاطہ بنا کاجل کا چشم یار پر", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خال مشاطہ بنا کاجل کا چشم یار پر\nزاغ کو بہر تصدق رکھ سر بیمار پر\n\nمجھ کو رحم آتا ہے دست نازک دل دار پر\nمیں ہی رکھ دوں گا گلا اے ہمدمو تلوار پر\n\nبے سویدا ہاتھ دل مت ڈال زلف یار پر\nماش پہلے پڑھ کے منتر پھینک روئے یار پر\n\nگر حفاظت رخ کی ہے منظور تو مٹوا نہ خط\nباغباں رکھتا ہے کانٹے باغ کی دیوار پر\n\nکون کہتا ہے کہ سبزہ آگ پر اگتا نہیں\nخط ہے پیدا یار کے دیکھو رخ گلنار پر\n\nدیکھ مژگاں پر مری طغیانی سیل سرشک\nنوح کا طوفاں نہ دیکھا ہووے جس نے خار پر\n\nجس کو دیکھا ہی نہیں اس کے وطن میں قدر خاک\nباغ سے ہو کر جدا پہنچے ہے گل دستار پر\n\nحق اگر پوچھو تو اعجاز سر منصور تھا\nورنہ لگنا تھا تعجب پھل کا نخل دار پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%84_%D9%85%D8%B4%D8%A7%D8%B7%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D8%AC%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DA%86%D8%B4%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "خالد میاں", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "خالی بوتلیں، خالی ڈبے", "year": "1950", "text_ur": "ممتاز نے صبح سویرے اٹھ کر، حسب معمول تینوں کمرے میں جھاڑو دی۔ کونے کھدروں سے سگرٹوں کے ٹکڑے، ماچس کی جلی ہوئی تیلیاں اور اسی طرح کی اور چیزیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالیں۔ جب تینوں کمرے اچھی طرح صاف ہوگئے تو اس نے اطمینان کا سانس لیا۔\n\nاس کی بیوی باہر صحن میں سورہی تھی۔ بچہ پنگوڑے میں تھا۔ ممتاز ہر صبح سویرے اٹھ کر صرف اس لیے خود تینوں کمروں میں جھاڑو دیتا تھا کہ اس کا لڑکا خالد اب چلتا پھرتا تھا اور عام بچوں کے مانند، ہر چیز جو اس کے سامنے آئے، اٹھا کر منہ میں ڈال لیتا تھا۔\n\nممتاز ہر روز تینوں کمرے بڑے احتیاط سے صاف کرتا مگر اس کو حیرت ہوتی جب خالد فرش پر اسے اپنے چھوٹے چھوٹے ناخنوں کی مدد سے کوئی نہ کوئی چیز اٹھا لیتا۔ فرش کا پلستر کئی جگہ سےاکھڑا ہوا تھا۔ جہاں کوڑے کرکٹ کے چھوٹے چھوٹے ذرے پھنس جاتے تھے۔ ممتاز اپنی طرف سے پوری صفائی کرتا مگر کچھ نہ کچھ باقی رہ جاتا جو اس کا پلوٹھی کا بیٹا خالد جس کی عمر ابھی ایک برس کی نہیں ہوئی تھی، اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لیتا۔\n\nممتاز کو صفائی کا خبط ہوگیا تھا۔ اگر وہ خالد کو کوئی چیز فرش پر سے اٹھا کر اپنے منہ میں ڈالتے دیکھتا تو وہ خود کواس کا ملزم سمجھتا۔ اپنے آپ کو دل ہی دل میں کوستا کہ اس نے کیوں بداحتیاطی کی۔ خالد سے اس کو پیارہی نہیں عشق تھا، لیکن عجیب بات ہے کہ جوں جوں خالد کی پہلی سالگرہ کا دن نزدیک آتا تھا اس کا یہ وہم، یقین کی صورت اختیار کرتا جاتا تھا کہ اس کا بیٹا ایک سال کا ہونے سے پہلے پہلے مر جائے گا۔\n\nاپنے اس خوف ناک وہم کا ذکر ممتاز اپنی بیوی سے بھی کر چکا تھا۔ ممتاز کے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہ اوہام کا بالکل قائل نہیں۔ اس کی بیوی نے جب پہلی بار اس کے منہ سے ایسی بات سنی تو کہا،’’آپ اور ایسے وہم۔۔۔۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہمارا بیٹا سو سال زندہ رہے گا۔۔۔ میں نے اس کی پہلی سالگرہ کے لیے ایسا اہتمام کیا ہے کہ آپ دنگ رہ جائیں گے۔‘‘\n\nیہ سن کر ممتاز کے دل کو ایک دھکا سا لگا تھا۔ وہ کب چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا زندہ نہ رہے لیکن اس کے وہم کا کیا علاج تھا۔۔۔ خالد بڑا تندرست بچہ تھا۔ سردیوں میں جب نوکر ایک دفعہ اس کو باہر سیر کے لیے لے گیا تو واپس آکر اس نے ممتاز کی بیوی سے کہا، ’’بیگم صاحب،آپ خالد میاں کے گالوں پر سرخی نہ لگایا کریں۔۔۔ کسی کی نظر لگ جائے گی۔‘‘\n\nیہ سن کر اس کی بیوی بہت ہنسی تھی، ’’بے وقوف مجھے کیا ضرورت ہے سرخی لگانے کی۔ ماشاء اللہ اس کے گال تو قدرتی لال ہیں۔‘‘\n\nسردیوں میں خالد کے گال بہت سرخ رہتے تھے مگر اب گرمیوں میں کچھ زردی مائل ہوگئے تھے۔ اس کو پانی کا بہت شوق تھا۔ چنانچہ جب وہ انگڑائی لے کر اٹھتا اور دودھ کی بوتل پی لیتا تو دفتر جانے سے پہلے ممتاز اس کو پانی کی بالٹی میں کھڑا کردیتا۔ دیر تک وہ پانی کے چھینٹے اڑا اڑا کر کھیلتا رہتا۔ ممتاز اور اس کی بیوی خالد کو دیکھتے اور بہت خوش ہوتے۔ لیکن ممتاز کی خوشی میں غم کاایک برقی دھکا سا ضرور ہوتا۔\n\nوہ سوچتا:خدا میری بیوی کی زبان مبارک کرے، لیکن یہ کیا ہے کہ مجھے اس کی موت کا کھٹکا رہتا ہے۔یہ وہم کیوں میرے دل و دماغ میں بیٹھ گیا ہے کہ یہ مر جائے گا۔۔۔ کیوں مرے گا۔۔۔؟ اچھا بھلا صحت مند ہے۔ اپنی عمر کے بچوں سے کہیں زیادہ صحت مند۔۔۔ میں یقیناً پاگل ہوں۔ اس سے میری حد سے زیادہ بڑھی ہوئی محبت دراصل اس وہم کا باعث ہے۔۔۔ لیکن مجھے اس سے اتنی زیادہ محبت کیوں ہے۔۔۔؟ کیا سارے باپ اسی طرح بچوں سے پیار کرتے ہیں۔۔۔ کیا ہر بات کو اپنی اولاد کی موت کا کھٹکا لگا رہتا ہے۔۔۔؟ مجھے آخر ہو کیا گیا ہے؟\n\nممتاز نے جب حسب معمول تینوں کمرے اچھی طرح صاف کر دیے تو وہ فرش پر چٹائی بچھا کر لیٹ گیا۔ یہ اس کی عادت تھی۔ صبح اٹھ کر، جھاڑو وغیرہ دے کر وہ گرمیوں میں ضرور آدھے گھنٹے کے لیے چٹائی پر لیٹا کرتا تھا۔ بغیر تکیے کے اس طرح اس کو لطف محسوس ہوتا تھا۔\n\nلیٹ کروہ سوچنے لگا، ’’پرسوں میرے بچے کی پہلی سالگرہ ہے۔۔۔ اگر یہ بغیر و عافیت گزر جائے تو میرے دل کا سارا بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔یہ میرا وہم بالکل دور ہو جائے گا۔۔۔ اللہ میاں یہ سب تیرے ہاتھ میں ہے۔‘‘\n\nاس کی آنکھیں بند تھیں۔ دفعتاً اس نے اپنے ننگے سینے پر بوجھ سا محسوس کیا۔ آنکھیں کھولیں تو دیکھا خالد ہے۔ اس کی بیوی پاس کھڑی تھی۔ اس نے کہا، ’’ساری رات بے چین سا رہا ہے سوتے میں جیسے ڈر ڈر کے کانپتا رہا ہے۔‘‘\n\nخالد، ممتاز کے سینے پر زور سے کانپا۔ ممتاز نے اس پر ہاتھ رکھا اور کہا، ’’خدا میرے بیٹے کا محافظ ہو۔‘‘ ممتاز کی بیوی نے خفگی آمیز لہجے میں کہا، ’’توبہ، آپ کو بس وہموں نے گھیر رکھا ہے۔ ہلکا سا بخار ہے، انشاء اللہ دور ہو جائے گا۔‘ ‘یہ کہہ کر ممتاز کی بیوی کمرے سے چلی گئی۔\n\nممتاز نے ہولے ہولے بڑے پیار سے خالد کو تھپکنا شروع کیا جو اس کی چھاتی پر اوندھا لیٹا تھا اور سوتے میں کبھی کبھی کانپ اٹھتا تھا۔ تھپکنے سے وہ جاگ پڑا۔ آہستہ آہستہ اس نے اپنی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں کھولیں اور باپ کو دیکھ کر مسکرایا۔ ممتاز نے اس کا منہ چوما۔ ’’کیوں میاں خالد کیا بات ہے۔۔۔ آپ کانپتے کیوں تھے؟‘‘\n\nخالد نے مسکرا کر اپنا اٹھا ہوا سر باپ کی چھاتی پر گرا دیا۔ ممتاز نے پھر اس کو تھپکانا شروع کردیا۔ دل میں وہ دعائیں مانگ رہا تھا کہ اس کے بیٹے کی عمر دراز ہو۔ اس کی بیوی نے خالد کی پہلی سالگرہ کے لیے بڑا اہتمام کیا تھا۔ اپنی ساری سہیلیوں سے کہا تھا کہ وہ اس تقریب پر ضرور آئیں۔ درزی سے خاص طور پر اس کی سالگرہ کے کپڑے سلوائے تھے۔ دعوت پر کیا کیا چیز ہوگی، یہ سب سوچ لیا تھا۔۔۔ممتاز کو یہ ٹھاٹ پسند نہیں تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی کو خبر نہ ہو اور سالگرہ گزر جائے۔ خود اس کو بھی پتا نہ چلے اور اس کا بیٹا ایک برس کا ہو جائے۔ اس کو اس بات کا علم صرف اس وقت ہو جب خالد ایک برس اور کچھ دنوں کا ہوگیا ہو۔\n\nخالد اپنے باپ کی چھاتی پر سے اٹھا۔ممتاز نے اس سے محبت میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا، ’’خالد بیٹا، سلام نہیں کرو گے ابا جی کو۔‘‘\n\nخالد نے مسکرا کر ہاتھ اٹھایا اور اپنے سر پررکھ دیا۔ ممتاز نے اس کو دعا دی، ’’جیتے رہو۔‘‘ لیکن یہ کہتے ہی اس کے دل پر اس کے وہم کی ضرب لگی اور وہ غم و فکر کے سمندر میں غرق ہوگیا۔\n\nخالد سلام کرکے کمرے سے باہر نکل گیا۔ دفتر جانے میں ابھی کافی وقت تھا۔ممتاز چٹائی پر لیٹا رہا اور اپنے وہم کو دل و دماغ سے محو کرنے کی کوشش کرتارہا۔ اتنے میں باہر صحن سے اس کی بیوی کی آواز آئی، ’ممتاز صاحب، ممتاز صاحب۔۔۔ ادھر آئیے۔ ‘‘آواز میں شدید گھبراہٹ تھی۔ ممتاز چونک کر اٹھا۔ دوڑ کر باہر گیا۔ دیکھا کہ اس کی بیوی خالد کو غسل خانے کے باہر گود میں لیے کھڑی ہے اور وہ اس کی گود میں بل پہ بل کھا رہا ہے۔۔۔ ممتاز نے اس کو اپنی بانھوں میں لے لیا اور بیوی سے جو کانپ رہی تھی پوچھا، ’’ کیا ہوا؟‘‘\n\nاس کی بیوی نے خوف زدہ لہجے میں کہا، ’’معلوم نہیں۔۔۔ پانی سے کھیل رہا تھا۔۔۔ میں نے ناک صاف کی تو دوہرا ہوگیا۔‘‘\n\nممتاز کی بانھوں میں خالد ایسے بل کھا رہا تھا، جیسے کوئی اسے کپڑے کی طرح نچوڑ رہا ہے۔ سامنے چارپائی پڑی تھی۔ ممتاز نے اس کو وہاں لٹا دیا۔ میاں بیوی سخت پریشان تھے۔ وہ پڑا بل پہ بل کھا رہا تھا اور ان دونوں کے اوسان خطا تھے کہ وہ کیا کریں۔ تھپکایا، چوما، پانی کے چھینٹے مارے مگر اس کا تشنج دور نہ ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد خود بخود دورہ آہستہ آہستہ ختم ہوگیا اور خالد پر بے ہوشی سی طاری ہوگئی۔ ممتاز نے سمجھا، مر گیا ہے ۔چنانچہ اس نے اپنی بیوی سے کہا، ’’ختم ہوگیا۔‘‘\n\nوہ چلائی، ’’لا حول ولا۔۔۔ کیسی باتیں منہ سے نکالتے ہیں۔ کنولشن تھی، ختم ہوگئی۔ ابھی ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘\n\nخالد نے اپنی مرجھائی ہوئی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں کھولیں اور اپنے باپ کی طرف دیکھا۔ ممتاز کی ساری دنیا زندہ ہوگئی۔ بڑے ہی درد بھرے پیار سے اس نے خالد سے کہا،’’کیوں خالد بیٹا۔۔۔ یہ کیا ہوا آپ کو؟‘‘\n\nخالد کے ہونٹوں پر تشنج زدہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ ممتاز نے اس کو گود میں اٹھا لیا اور اندر کمرے میں لے گیا۔ لٹانے ہی والا تھا کہ دوسری کنولشن آئی۔ خالد پھر بل کھانے لگا۔ جس طرح مرگی کا دورہ ہوتا ہے، یہ تشنج بھی اسی قسم کا تھا۔ ممتاز کو ایسا محسوس ہوتا کہ خالد نہیں بلکہ وہ اس اذیت کے شکنجے میں کسا جارہا ہے۔\n\nدوسرا دورہ ختم ہوا تو خالد اور زیادہ مرجھا گیا۔ اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں دھنس گئیں۔ ممتاز اس سے باتیں کرنے لگا، ’’خالد بیٹے، یہ کیا ہوتا ہے آپ کو؟‘‘\n\n’’خالد میاں، اٹھو نا۔۔۔۔۔۔ چلو پھرو۔‘‘\n\n’’خالدی۔۔۔ مکھن کھائیں گے آپ؟‘‘\n\nخالد کو مکھن بہت پسند تھا مگر اس نے یہ سن کر اپنا سر ہلا کر ہاں نہ کی، لیکن جب ممتاز نے کہا، ’’بیٹے، گگو کھائیں گے آپ؟‘‘ تو اس نے بڑے نحیف انداز میں نہیں کے طور پر اپنا سر ہلایا۔ ممتاز مسکرایا اور خالد کو اپنے گلے سے لگا لیا، پھر اس کو اپنی بیوی کے حوالے کیا اور اس سے کہا، ’’تم اس کا دھیان رکھو میں ڈاکٹر لے کر آتا ہوں۔‘‘\n\nڈاکٹر ساتھ لے کر آیا تو ممتاز کی بیوی کے ہوش اڑے ہوئے تھے۔ اس کی غیر حاضری میں خالد پر تشنج کے تین اور دورے پڑ چکے تھے۔ ان کے باعث وہ بےجان ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر نے اسے دیکھا اور کہا، ’’تردو کی کوئی بات نہیں۔ ایسی کنولشن بچوں کو عموماً آیا کرتی ہے۔۔۔ اس کی وجہ دانت ہیں۔ معدے میں کرم وغیرہ ہوں تو وہ بھی اس کا باعث ہو سکتے ہیں۔۔۔ میں دوا لکھ دیتا ہوں۔ آرام آجائے گا۔ بخار تیز نہیں ہے، آپ کوئی فکر نہ کریں۔‘‘\n\nممتاز نے دفتر سے چھٹی لے لی اور سارا دن خالد کے پاس بیٹھا رہا۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد اس کو دو مرتبہ اور دورے پڑے۔ اس کے بعد وہ نڈھال لیٹا رہا۔ شام ہوگئی تو ممتاز نے سوچا، ’’شاید اب اللہ کا فضل ہوگیا ہے۔۔۔ اتنے عرصے میں کوئی کنولشن نہیں آئی۔۔۔ خدا کرے رات اسی طرح کٹ جائے۔‘‘\n\nممتاز کی بیوی بھی خوش تھی، ’’اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کل میرا خالد دوڑتا پھرے گا۔‘‘\n\nرات کو چونکہ مقررہ اوقات پر دوا دینی تھی،اس لیے ممتاز چارپائی پر نہ لیٹا کہ شاید سو جائے۔ خالد کے پنگوڑے کے پاس آرام کرسی رکھ کر وہ بیٹھ گیا اور ساری رات جاگتا رہا، کیونکہ خالد بے چین تھا، کانپ کانپ کر بار بارجاگتا تھا، حرارت بھی تیز تھی۔\n\nصبح سات بجے کے قریب ممتاز نے تھرما میٹر لگا کے دیکھا تو ایک سو چار ڈگری بخار تھا۔ ڈاکٹر بلایا۔ اس نے کہا، ’’تردو کی کوئی بات نہیں، برونکائٹس ہے میں نسخہ لکھ دیتا ہوں۔ تین چار روز میں آرام آجائے گا۔‘‘\n\nڈاکٹر نسخہ لکھ کر چلا گیا۔ ممتاز دوا بنوالایا۔ خالد کو ایک خوراک پلائی مگر اس کو تسکین نہ ہوئی۔ دس بجے کے قریب وہ ایک بڑا ڈاکٹر لایا۔ اس نے اچھی طرح خالد کو دیکھا اور تسلی دی،’’گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘\n\nسب ٹھیک نہ ہوا۔ بڑے ڈاکٹر کی دوا نے کوئی اثر نہ کیا۔ بخار تیز ہوتا گیا۔ ممتاز کے نوکر نے کہا،’’صاحب، بیماری وغیرہ کوئی نہیں۔۔۔ خالد میاں کو نظرلگ گئی ہے،میں ایک تعویذ لکھوا کر لایا ہوں۔ اللہ کے حکم سے یوں چٹکیوں میں اثر کرے گا۔‘‘\n\nسات کنوؤں کا پانی اکھٹا کیا گیا۔ اس میں یہ تعویذ گھول کر خالد کو پلایا گیا۔ کوئی اثر نہ ہوا۔ ہمسائی آئی، وہ ایک یونانی دوا تجویز کر گئی۔ ممتاز یہ دوا لے آیا مگر اس نے خالد کو نہ دی۔ شام کو ممتاز کا ایک ر شتے دار آیا، ساتھ اس کے ایک ڈاکٹر تھا۔ اس نے خالد کو دیکھا اور کہا،’’ملیریا ہے۔۔۔ اتنا بخار ملیریا ہی میں ہوتا ہے۔ آپ اس پر برف کا پانی ڈالیے، میں کونین کا انجکشن دیتا ہوں۔‘‘\n\nبرف کا پانی ڈالا گیا۔ بخار ایک دم کم ہوگیا۔ درجہ حرارت اٹھانوے ڈگری تک آگیا۔ ممتاز اور اس کی بیوی کی جان میں جان آئی۔ لیکن تھوڑے ہی عرصے میں بخار بہت ہی تیز ہوگیا۔ ممتاز نے تھرما میٹرلگا کر دیکھا۔ درجہ حرارت ایک سو چھ تک پہنچ گیا تھا۔\n\nہمسائی آئی۔ اس نے خالد کو مایوس نظروں سے دیکھا اور ممتاز کی بیوی سے کہا، ’’بچے کی گردن کا منکا ٹوٹ گیا ہے۔‘‘\n\nممتاز اور اس کی بیوی کے دل بیٹھ گئے۔ ممتاز نے نیچے کارخانے سے ہسپتال فون کیا۔ ہسپتال والوں نے کہا مریض لے آؤ۔ ممتاز نے فوراً ٹانگہ منگوایا۔ خالد کو گود میں لیا۔ بیوی کو ساتھ بٹھایا اور ہسپتال کا رخ کیا۔ سارا دن وہ پانی پیتا رہا تھا ۔ مگر پیاس تھی کہ بجھتی ہی نہیں تھی۔ ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں اس کا حلق بے حد خشک ہوگیا۔ اس نے سوچا اتر کر کسی دکان سے ایک گلاس پانی پی لے، لیکن خدا معلوم کہاں سے یہ و ہم ایک دم اس کے دماغ میں آن ٹپکا: دیکھو اگر تم نے پانی پیا تو تمہارا خالد مر جائے گا۔\n\nممتاز کا حلق سوکھ کے لکڑی ہوگیا مگر اس نے پانی نہ پیا۔ ہسپتال کے قریب ٹانگہ پہنچا تو اس نے سگریٹ سلگایا۔ دوہی کش لیے تھے تو اس نے ایک دم سگریٹ پھینک دیا۔ اس کے دماغ میں یہ وہم گونجا تھا: ممتاز سگریٹ نہ پیو تمہارا بچہ مر جائےگا۔\n\nممتاز نے ٹانگہ ٹھہرایا۔ اس نے سوچا:یہ کیا حماقت ہے۔۔۔ یہ وہم سب فضول ہے۔ سگریٹ پینے سے بچے پر کیا آفت آسکتی ہے۔\n\nٹانگے سے اتر کر اس نے سڑک پر سے سگریٹ اٹھایا۔ واپس ٹانگے میں بیٹھ کر جب اس نے کش لینا چاہا تو کسی نامعلوم طاقت نے اس کو روکا:نہیں ممتاز، ایسا نہ کرو۔ خالد مر جائے گا۔\n\nممتاز نے سگریٹ زور سے پھینک دیا۔۔۔ ٹانگے والے نے گھور کے اس کو دیکھا۔ ممتاز نے محسوس کیا کہ جیسے اس کو اس کی دماغی کیفیت کا علم ہے اور وہ اس کا مذاق اڑا رہا ہے۔ اپنی خفت دور کرنے کی خاطر نے ٹانگے والے سے کہا، ’’خراب ہوگیا تھا سگریٹ‘‘ یہ کہہ اس نے جیب سے ایک نیا سگرٹ نکالا۔ سلگانا چاہا مگر ڈر گیا۔ اس کے دل و دماغ میں ہلچل سی مچ گئی۔ ادراک کہتا تھا کہ یہ اوہام سب فضول ہیں مگر کوئی ایسی آواز تھی، کوئی ایسی طاقت تھی جو اس کی منطق، اس کے استدلال،اس کے ادراک پر غالب آجاتی تھی۔\n\nٹانگہ ہسپتال کے پھاٹک میں داخل ہوا تو اس نے سگریٹ انگلیوں میں مسل کر پھینک دیا۔ اس کو اپنے اوپر بہت ترس آیا کہ وہ اوہام کا غلام بن گیا ہے۔\n\nہسپتال والوں نے فوراً ہی خالد کو داخل کرلیا۔ ڈاکٹر نے دیکھا اور کہا، ’’برونکو نمونیا ہے، حالت مخدوش ہے۔‘‘ خالد بے ہوش تھا۔ ماں اس کے سرہانے بیٹھی ویران نگاہوں سے اس کو دیکھ رہی تھی۔ کمرے کے ساتھ غسل خانہ تھا۔ ممتاز کو سخت پیاس لگ رہی تھی۔ نل کھول کر اوک سے پانی پینے لگا تو پھر وہی وہم اس کے دماغ میں گونجا: ممتاز، یہ کیا کررہے ہو تم۔ مت پانی پیو۔۔۔ تمہارا خالد مر جائے گا۔\n\nممتاز نے دل میں اس وہم کو گالی دی اور انتقاماً اتنا پانی پیا کہ اس کا پیٹ اپھر گیا۔ پانی پی کر غسل خانے سے باہر آیا تو اس کا خالد اسی طرح مرجھایا ہوا بے ہوش ہسپتال کے آہنی پلنگ پرپڑا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کہیں بھاگ جائے۔۔۔ اس کے ہوش و حواس غائب ہو جائیں۔۔۔ خالد اچھا ہو جائے اور وہ اس کے بدلے نمونیا میں گرفتار ہو جائے۔\n\nممتاز نے محسوس کیا کہ خالد اب پہلے سے زیادہ زرد ہے۔ اس نے سوچا، یہ سب اس کے پانی پی لینے کا باعث ہے۔۔۔ اگر وہ پانی نہ پیتا تو ضرور خالد کی حالت بہتر ہو جاتی۔ اس کو بہت دکھ ہوا۔ اس نے خود کو بہت لعنت ملامت کی مگر پھر اس کو خیال آیا کہ جس نے یہ بات سوچی تھی وہ ممتاز نہیں کوئی اور تھا۔۔۔ اورکون تھا۔۔۔؟ کیوں اس کے دماغ میں ایسے وہم پیدا ہوتے تھے۔ پیاس لگتی تھی، پانی پی لیا۔ اس سے خالد پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔۔۔ خالد ضرور اچھا ہو جائےگا۔۔۔ پرسوں اس کی سالگرہ ہے۔ انشاء اللہ خوب ٹھاٹ سے منائی جائے گی۔\n\nلیکن فوراً ہی اس کا دل بیٹھ جاتا۔ کوئی آواز اس سے کہتی: خالد ایک برس کا ہونے ہی نہیں پائے گا۔ممتاز کا جی چاہتا کہ وہ اس آواز کی زبان پکڑلے اور اسے گدی سے نکال دے مگر یہ آواز تو خود اس کے دماغ میں پیداہوتی تھی خدا معلوم کیسے ہوتی تھی۔۔۔ کیوں ہوتی تھی۔\n\nممتاز اس قدر تنگ آگیا کہ اس نے دل ہی دل میں اپنے اوہام سے گڑگڑا کر کہا:خدا کے لیے مجھ پر رحم کرو۔۔۔ کیوں تم مجھ غریب کے پیچھے پڑ گئے ہو۔\n\nشام ہو چکی تھی۔ کئی ڈاکٹر خالد کو دیکھ چکے تھے۔ دوا دی جارہی تھی۔ کئی انجکشن بھی لگ چکے تھے مگر خالد ابھی تک بے ہوش تھا۔ دفعتاً ممتاز کے دماغ میں یہ آواز گونجی:تم یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔ فوراً چلے جاؤ، ورنہ خالد مر جائے گا۔\n\nممتاز کمرے سے باہر چلا گیا۔ ہسپتال سے باہر چلا گیا۔ اس کے دماغ میں آوازیں گونجتی رہیں۔ اس نے اپنے آپ کو ان آوازوں کے حوالے کردیا۔ اپنی ہر جنبش، اپنی ہر حرکت ان کے حکم کے سپرد کردی۔۔۔ یہ اسے ایک ہوٹل میں لے گئیں۔ انھوں نے اس کو شراب پینے کے لیے کہا۔ شراب آئی تو اسے پھینک دینے کا حکم دیا۔ ممتاز نے ہاتھ سے گلاس پھینک دیا تو اور منگوانے کے لیے کہا۔ دوسرا گلاس آیا تو اسے بھی پھینک دینے کے لیے کہا۔\n\nشراب اور ٹوٹے ہوئے گلاسوں کے بل ادا کرکے ممتاز باہر نکلا۔ اس کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ چاروں طرف خاموشی ہی خاموشی ہے۔۔۔ صرف اس کا دماغ ہے جہاں شور برپا ہے۔ چلتا چلتا وہ ہسپتال پہنچ گیا۔ خالد کے کمرے کا رخ کیا تو اسے حکم ہوا: مت جاؤ ادھر۔۔۔ تمہارا خالد مر جائے گا۔\n\nوہ لوٹ آیا۔۔۔ گھاس کا میدان تھا۔ وہاں ایک بنچ پڑی تھی، اس پر لیٹ گیا۔۔۔ رات کے دس بج چکے تھے۔ میدان میں اندھیرا تھا۔ چاروں طرف خاموشی تھی۔ کبھی کبھی کسی موٹر کے ہارن کی آواز اس خاموشی میں خراش پیدا کرتی ہوئی گزر جاتی۔ سامنے اونچی دیوار میں ہسپتال کا روشن کلاک تھا۔۔۔ ممتاز، خالد کے متعلق سوچ رہاتھا: کیا وہ بچ جائے گا۔۔۔ یہ بچے کیوں پیدا ہوتے ہیں جنھیں مرنا ہوتا ہے۔۔۔ وہ زندگی کیوں پیدا ہوتی ہے جسے اتنی جلدی موت کے منہ میں جانا ہوتا ہے۔۔۔ خالد ضرور۔۔۔\n\nایک دم اس کے دماغ میں ایک وہم پھوٹا۔ بنچ پر سے اتر کروہ سجدے میں گر گیا۔ حکم تھا اسی طرح پڑے رہو جب تک خالد ٹھیک نہ ہو جائے۔ ممتاز سجدے میں پڑا رہا۔ وہ دعا مانگنا چاہتا تھا مگر حکم تھا کہ مت مانگو۔ ممتاز کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ خالد کے لیے نہیں، اپنے لیے دعا مانگنے لگا:خدایا مجھے اس اذیت سے نجات دے۔۔۔ تجھے اگر خالد کو مارنا ہے تو مار دے، یہ میرا کیا حشر کررہا ہے تو۔۔۔\n\nدفعتاً اسے آوازیں سنائی دیں۔ اس سے کچھ دور دو آدمی کرسیوں پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے اور آپس میں باتیں کررہے تھے۔\n\n’’بچہ بڑا خوبصورت ہے۔‘‘\n\n’’ماں کا حال مجھ سے تو دیکھا نہیں گیا۔‘‘\n\n’’بےچاری ہر ڈاکٹر کے پاؤں پڑ رہی تھی۔‘‘\n\n’’ہم نے اپنی طرف سے تو ہر ممکن کوشش کی۔‘‘\n\n’’بچنا محال ہے۔‘‘\n\n’’میں نے یہی کہا تھا ماں سے کہ دعا کرو بہن!‘‘\n\nایک ڈاکٹر نے ممتاز کی طرف دیکھا جو سجدے میں پڑا تھا۔ اس کو زور سے آواز دی،’’اے، کیا کررہا ہے تو۔۔۔ اِدھر آ۔۔۔‘‘\n\nممتاز اٹھ کر دونوں ڈاکٹروں کے پاس گیا۔ ایک نے اس سے پوچھا،’’کون ہو تم؟‘‘\n\nممتاز نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر جواب دیا،’’میں ایک مریض۔۔۔۔۔۔‘‘\n\nڈاکٹر نے سختی سے کہا، ’’مریض ہو تو اندر جاؤ۔۔۔۔۔۔ یہاں میدان میں ڈنٹر کیوں پیلتے ہو؟‘‘\n\nممتاز نے کہا، ’’جی،میرا بچہ ہے۔۔۔۔۔۔ اُدھر اس وارڈ میں۔‘‘\n\n’’وہ تمہارا بچہ ہے جو۔۔۔‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ شاید آپ اسی کی باتیں کررہے تھے۔۔۔ وہ میرا بچہ ہے۔۔۔ خالد۔‘‘\n\n’’آپ اس کے باپ ہیں؟‘‘\n\nممتاز نے اپنا غم و اندوہ سے بھرا ہوا سر ہلایا، ’’جی ہاں میں اس کا باپ ہوں۔‘‘\n\nڈاکٹر نے کہا،’’آپ یہاں بیٹھے ہیں۔ جائیے آپ کی وائف بہت پریشان ہیں۔‘‘\n\n’’جی اچھا‘‘ کہہ کر ممتاز وارڈ کی طرف روانہ ہوا۔ سیڑھیاں طے کرکے جب اوپر پہنچا تو کمرے کے باہر اس کا نوکر رو رہا تھا۔ ممتاز کو دیکھ کر اور زیادہ رونے لگا، ’’صاحب، خالد میاں فوت ہوگئے۔‘‘\n\nممتاز اندر کمرے میں گیا۔ اس کی بیوی بے ہوش پڑی تھی۔ ایک ڈاکٹر اور نرس اس کو ہوش میں لانے کی کوشش کررہے تھے۔ ممتاز پلنگ کے پاس کھڑا ہوگیا۔ خالد آنکھیں بند کیے پڑا تھا۔ اس کے چہرے پر موت کا سکون تھا۔ ممتاز نے اس کے ریشمیں بالوں پر ہاتھ پھیرا اور دل چیر دینے والے لہجے میں اس سے پوچھا، ’’خالد میاں۔۔۔ گگو کھائیں گے آپ؟‘‘\n\nخالد کا سر نفی میں نہ ہلا۔ ممتاز نے پھر درخواست بھرے لہجے میں کہا، ’’خالد میاں۔۔۔ میرے وہم لے جائیں گے اپنے ساتھ؟‘‘\n\nممتاز کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے خالد نے سر ہلا کر ہاں کی ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%84%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "خالہ کی مرغی", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "خالہ نے اک مرغی پالی\nکہیں سفید اور کہیں ہے کالی\nدن بھر کٹ کٹ کرتی ہے وہ\nدانا ڈنکا چگتی ہے وہ\nانڈے بھی دیتی رہتی ہے\nلیکن ابھی وہ کڑک ہوئی ہے\nخالہ نے کچھ انڈے جمائے\nان پر اس مرغی کو بٹھائے\nدن بھر وہ انڈے سیتی ہے\nانڈوں سے تب چوزے نکلے\nچھوٹے چھوٹے ننھے ننھے\nروی کے گالوں کے جیسے\nمرغی جدھر جدھر بھی نکلے\nچوزے پیچھے پیچھے دوڑے\nخالو خوش تھے دیکھ کے چوزے\nخوش ہو کر خالہ سے بولے\nچوزے انڈوں سے کب نکلے\nمرغی بیٹھی کتنے دنوں سے\nخالہ بولی بیس اور اک دن\nمیں نے شمار کئے ہیں گن گن\nخالو بولے اب تو بیگم\nکل سے انڈے سیتے ہیں ہم\nکل میں انڈے رکھ دیتے ہیں\nگھنٹوں میں چوزے بنتے ہیں\nیہ سن کر خالہ نے بھائی\nدانتوں میں بس انگلی دبائی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%BA%DB%8C"} {"title": "خالی بوتلیں، خالی ڈبے (افسانہ)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "خالی بوتلیں، خالی ڈبے", "year": "1950", "text_ur": "یہ حیرت مجھے اب بھی ہے کہ خاص طور پر خالی بوتلوں اور ڈبوں سے، مجرد مردوں کو اتنی دلچسپی کیوں ہوتی ہے؟ مجرد مردوں سے میری مراد ان مردوں سے ہے جن کو عام طور پر شادی سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔\n\nیوں تو اس قسم کے مرد عموماً سنکی اور عجیب و غریب عادات کے مالک ہوتے ہیں، لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ انھیں خالی بوتلوں اور ڈبوں سے کیوں اتنا پیار ہوتا ہے؟ پرندے اور جانور اکثر ان لوگوں کے پالتو ہوتے ہیں۔ یہ میلان سمجھ میں آسکتا ہے کہ تنہائی میں ان کا کوئی تو مونس ہونا چاہیے، لیکن خالی بوتلیں اور خالی ڈبے ان کی کیا غمگساری کرسکتے ہیں؟\n\nسنک اور عجیب و غریب عادات کا جواز ڈھونڈنا کوئی مشکل نہیں کہ فطرت کی خلاف ورزی ایسے بگاڑ پیدا کرسکتی ہے، لیکن اس کی نفسیاتی باریکیوں میں جانا البتہ بہت مشکل ہے۔\n\nمیرے ایک عزیز ہیں۔ عمر آپ کی اس وقت پچاس کے قریب قریب ہے آپ کو کبوتر اور کتے پالنے کا شوق ہے اور اس میں کوئی عجیب و غریب پن نہیں لیکن آپ کو یہ مرض ہے کہ بازار سے ہر روز دودھ کی بالائی خرید کر لاتے ہیں۔ چولھے پر رکھ کر اس کا روغن نکالتے ہیں اور اس روغن میں اپنے لیے علیحدہ سالن تیار کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح خالص گھی تیار ہوتا ہے۔\n\nپانی پینے کے لیے اپنا گھڑا الگ رکھتے ہیں۔ اس کے منہ پر ہمیشہ ململ کا ٹکڑا بندھا رہتاہے تاکہ کوئی کیڑا مکوڑا اندر نہ چلا جائے، مگر ہوا برابر داخل ہوتی رہے۔ پاخانے جاتے وقت سب کپڑے اتار کر ایک چھوٹا سا تولیہ باندھ لیتے ہیں اور لکڑی کی کھڑاؤں پہن لیتے ہیں۔۔۔ اب کون ان کی بالائی کے روغن، گھڑے کی ململ، انگ کے تولیے اور لکڑی کی کھڑاؤں کے نفسیاتی عقدے کو حل کرنے بیٹھے۔\n\nمیرے ایک مجرو دوست ہیں۔ بظاہر بڑے ہی نورمل انسان۔ ہائی کورٹ میں ریڈر ہیں۔ آپ کو ہر جگہ سے ہر وقت بدبو آتی رہتی ہے۔ چنانچہ ان کا رومال سدا ان کی ناک سے چپکا رہتا ہے۔۔۔ آپ کو خرگوش پالنے کا شوق ہے۔\n\nایک اور مجرد ہیں۔ آپ کو جب موقعہ ملے تو نماز پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود آپ کا دماغ بالکل صحیح ہے۔ سیاسیاتِ عالم پر آپ کی نظر بہت وسیع ہے۔ طوطوں کو باتیں سکھانے میں مہارت تامہ رکھتے ہیں۔\n\nملٹری کے ایک میجر ہیں۔ سن رسیدہ اور دولت مند۔ آپ کو حُقّے جمع کرنے کا شوق ہے۔ گڑگڑیاں، پیچواں، چموڑے، غرضیکہ ہر قسم کا حقہ ان کے پاس موجود ہے۔ آپ کئی مکانوں کے مالک ہیں، مگر ہوٹل میں ایک کمرہ کرائے پر لے کررہتے ہیں۔ بٹیریں آپ کی جان ہیں۔\n\nایک کرنل صاحب ہیں۔ ریٹائرڈ۔ بہت بڑی کوٹھی میں اکیلے دس بارہ چھوٹے بڑے کتوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ہر برانڈ کی وسکی ان کے یہاں موجود رہتی ہے۔ ہر روز شام کو چار پیگ پیتے ہیں اور اپنے ساتھ کسی نہ کسی لاڈلے کتے کو بھی پلاتے ہیں۔\n\nمیں نے اب تک جتنے مجردوں کا ذکر کیا ہے، ان سب کو حسبِ توفیق خالی بوتلوں اور ڈبوں سے دلچسپی ہے۔ میرے، دودھ کی بالائی سے خالص گھی تیار کرنے والے عزیز، گھر میں جب بھی کوئی خالی بوتل دیکھیں تو اسے دھو دھا کر اپنی الماری میں سجا دیتے ہیں کہ ضررت کے وقت کام آئے گی۔ ہائی کورٹ کے ریڈر جن کو ہر جگہ سے ہر وقت بدبو آتی رہتی ہے صرف ایسی بوتلیں اور ڈبے جمع کرتے ہیں، جن کے متعلق وہ اپنا پورا اطمینان کرلیں کہ اب ان سے بدبو آنے کا کوئی احتمال نہیں رہا۔ جب موقعہ ملے، نماز پڑھنے والے، خالی بوتلیں آب دست کے لیے اور ٹین کے خالی ڈبے وضو کے لیے درجنوں کی تعداد میں جمع رکھتے ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق یہ دونوں چیزیں سستی اور پاکیزہ رہتی ہیں۔۔۔ قسم قسم کے حقے جمع کرنے والے میجر صاحب کو خالی بوتلیں اور خالی ڈبے جمع کرکے ان کو بیچنے کا شوق ہے اور ریٹائرڈ کرنل صاحب کو صرف وسکی کی بوتلیں جمع کرنے کا۔\n\nآپ کرنل صاحب کے ہاں جائیں تو ایک چھوٹے،صاف ستھرے کمرے میں کئی شیشے کی الماریوں میں آپ کو وسکی کی خالی بوتلیں سجی ہوئی نظر آئیں گی۔ پرانے سے پرانے برانڈ کی وسکی کی خالی بوتل بھی آپ کو ان کے اس نادر مجموعے میں مل جائے گی۔ جس طرح لوگوں کو ٹکٹ اور سکے جمع کرنے کا شوق ہوتا ہے، اسی طرح ان کو وسکی کی خالی بوتلیں جمع کرنے اور ان کی نمائش کرنے کا شوق بلکہ خبط ہے۔\n\nکرنل صاحب کا کوئی عزیز، رشتہ دار نہیں۔ کوئی ہے تو اس کا مجھے علم نہیں۔ دنیا میں تن تنہاہیں۔ لیکن وہ تنہائی بالکل محسوس نہیں کرتے۔۔۔ دس بارہ کتے ہیں ان کی دیکھ بھال وہ اس طرح کرتے ہیں جس طرح شفیق باپ اپنی اولاد کی کرتے ہیں۔ سارا دن ان کا ان پالتو حیوانوں کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ فرصت کے وقت وہ الماریوں میں اپنی چہیتی بوتلیں سنوارتے رہتے ہیں۔\n\nآپ پوچھیں گے، خالی بوتلیں تو ہوئیں۔ یہ تم نے خالی ڈبے کیوں ساتھ لگا دیے۔۔۔ کیا یہ ضروری ہے کہ تجرو پسند مردوں کو خالی بوتلوں کے ساتھ ساتھ خالی ڈبوں کے ساتھ بھی دلچسپی ہو۔۔۔؟ اور پھر ڈبے اور بوتلیں، صرف خالی کیوں؟ بھری ہوئی کیوں نہیں۔۔۔؟ میں آپ سے شاید پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ مجھے خود اس بات کی حیرت ہے۔ یہ اور اسی قسم کے اور بہت سے سوال اکثر میرے دماغ میں پیدا ہو چکے ہیں۔ باوجود کوشش کے میں ان کا جواب حاصل نہیں کرسکتا۔\n\nخالی بوتلیں اور خالی ڈبے، خلا کا نشان ہیں اور خلا کا کوئی منطقی جوڑ تجرو پسند مردوں سے غالباً یہی ہو سکتا ہے کہ خود ان کی زندگی میں ایک خلا ہوتا ہے، لیکن پھر یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا وہ اس خلا کو ایک اور خلا سے پُر کرتے ہیں۔۔۔؟ کتوں بلیوں خرگوشوں اور بندروں کے متعلق آدمی سمجھ سکتا ہےکہ وہ خالی خولی زندگی کی کمی ایک حد تک پوری کرسکتے ہیں کہ وہ دل بہلا سکتے ہیں، ناز نخرے کرسکتے ہیں۔ دل چسپ حرکات کے موجب ہو سکتے ہیں،پیار کا جواب بھی دے سکتے ہیں لیکن خالی بوتلیں اور ڈبے دلچسپی کا کیا سامان بہم پہنچاتے ہیں؟\n\nبہت ممکن ہے آپ کو ذیل کے واقعات میں ان سوالوں کا جواب مل جائے۔\n\nدس برس پہلے میں جب بمبئی گیا تو وہاں ایک مشہور فلم کمپنی کا ایک فلم تقریباً بیس ہفتوں سے چل رہا تھا۔۔۔ ہیروئن پرانی تھی، لیکن ہیرو نیا تھا جو اشتہاروں میں چھپی ہوئی تصویروں میں نوخیز دکھائی دیتا تھا۔۔۔اخباروں میں اس کی کردار نگاری کی تعریف پڑھی تو میں نے یہ فلم دیکھا۔ اچھا خاصا تھا۔ کہانی جاذب توجہ تھی اور اس نئے ہیرو کا کام بھی اس لحاظ سے قابل تعریف تھا کہ اس نے پہلی مرتبہ کیمرے کا سامنا کیا تھا۔\n\nپردے پر کسی ایکٹر یا ایکٹرس کی عمر کا اندازہ لگانا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔کیونکہ میک اپ جوان کو بوڑھا اور بوڑھے کو جوان بنا دیتا ہے، مگر یہ نیا ہیرو بلاشبہ نوخیز تھا۔۔۔ کالج کے طالب علم کی طرح تروتازہ اور چاق و چوبند۔۔۔ خوبصورت تو نہیں تھا مگر اس کے گٹھے ہوئے جسم کا ہر عضو اپنی جگہ پر مناسب و موزوں تھا۔\n\nاس فلم کے بعد اس ایکٹر کے میں نے اور کئی فلم دیکھے۔۔۔ اب وہ منجھ گیا تھا۔ چہرے کے خط و خال کی طفلانہ نرمائش، عمر اور تجربے کی سختی میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اس کا شمار اب چوٹی کے اداکاروں میں ہونے لگا تھا۔\n\nفلمی دنیا میں اسکینڈل عام ہوتے ہیں۔ آئے دن سننے میں آتا ہے کہ فلاں ایکٹر کا فلاں ایکٹرس سے تعلق ہوگیا ہے۔ فلاں ایکٹرس، فلاں ایکٹر کو چھوڑ کر فلاں ڈائریکٹر کے پہلو میں چلی گئی ہے۔ قریب قریب ہر ایکٹر اور ہر ایکٹرس کے ساتھ کوئی نہ کوئی رومان جلد یا بدیر وابستہ ہو جاتا ہے، لیکن اس نئے ہیرو کی زندگی جس کا میں ذکرکررہا ہوں ان بکھیڑوں سے پاک تھی، مگر اخباروں میں اس کا چرچا نہیں تھا۔ کسی نے بھولے سے حیرت کا بھی اظہار نہیں کیا تھا کہ فلمی دنیا میں رہ کر رام سروپ کی زندگی جنسی آلائشوں سے پاک ہے۔\n\nمیں نے سچ پوچھئے تو اس بارے میں کبھی غور ہی نہیں کیا تھا۔ اس لیے کہ مجھے ایکٹروں اور ایکٹرسوں کی نجی زندگی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ فلم دیکھا۔ اس کے متعلق اچھی یا بری رائے قائم کی اور بس۔۔۔ لیکن جب رام سروپ سے میری ملاقات ہوئی تو مجھے اس کےمتعلق بہت سی دلچسپ باتیں معلوم ہوئیں۔۔۔ یہ ملاقات اس کا پہلا فلم دیکھنے کے تقریباً آٹھ برس بعد ہوئی۔\n\nشروع شروع میں تو وہ بمبئی سے بہت دور ایک گاؤں میں رہتا تھا، مگر اب فلمی سرگرمیاں بڑھ جانے کے باعث اس نے شیواجی پارک میں سمندر کے کنارے ایک متوسط درجے کا فلیٹ لے رکھا تھا۔ اس سے میری ملاقات اسی فلیٹ میں ہوئی جس کے چار کمرے تھے، باورچی خانے سمیت۔اس فلیٹ میں جو کنبہ رہتا تھا۔ اس کے آٹھ افراد تھے۔ خود رام سروپ۔ اس کا نوکر جو باورچی بھی تھا۔ تین کتے۔ دو بندر اور ایک بلی۔ رام سروپ اور اس کا نوکر مجرد تھے۔ تین کتوں اور ایک بلی کے مقابلے میں ان کی مخالف جنس نہیں تھی۔۔۔ ایک بندر تھا اور ایک بندریا۔ دونوں اکثر اوقات ایک جالی دار پنجرے میں بند رہتے تھے۔\n\nان نصف درجن حیوانوں کے ساتھ رام سروپ کو والہانہ محبت تھی۔ نوکر کے ساتھ بھی اس کا سلوک بہت اچھا تھا مگر اس میں جذبات کا دخل بہت کم تھا۔ بندھے کام تھے جو مقررہ وقت پر مشین کی سی بے روح باقاعدگی کے ساتھ گویا خود بخود ہو جاتے تھے۔ اس کے علاوہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ رام سروپ نے اپنے نوکر کو اپنی زندگی کے تمام قواعد و ضوابط ایک پرچے پر لکھ کر دے دیے تھے جو اس نے حفظ کرلیے تھے۔اگر رام سروپ کپڑے اتار کر،نیکر پہننے لگے تو اس کا نوکر فوراً تین چار سوڈے اور برف کی فلاسک، شیشے والی تپائی پر رکھ دیتا تھا۔۔۔ اس کا یہ مطلب تھا کہ صاحب رَم پی کر اپنے کتوں کے ساتھ کھیلیں گے اور جب کسی کا ٹیلی فون آئے گا تو کہہ دیا جائےگا کہ صاحب گھر پرنہیں ہیں۔\n\nرم کی بوتل یا سگریٹ کا ڈبہ جب خالی ہو گا تو اسے پھینکا یا بیچا نہیں جائیگا، بلکہ احتیاط سے اس کمرے میں رکھ دیا جائے گا جہاں خالی بوتلوں اور ڈبوں کے انبار لگے ہیں۔کوئی عورت ملنے کے لیے آئے گی تو اسے دروازے ہی سے یہ کہہ کر واپس کردیا جائے گا کہ رات صاحب کی شوٹنگ تھی، اس لیے سو رہے ہیں۔ ملاقات کرنے والی شام کو یا رات کو آئے تو اس سے یہ کہا جاتا تھا کہ صاحب شوٹنگ پر گئے ہیں۔\n\nرام سروپ کا گھر تقریباً ویسا ہی تھا جیسا کہ عام طور پر اکیلے رہنے والے مجرد مردوں کا ہوتا ہے، یعنی وہ سلیقہ، قرینہ اور رکھ رکھاؤ غائب تھا جو نسائی لمس کا خاصہ ہوتا ہے۔ صفائی تھی مگر اس میں کھرا پن تھا۔۔۔ پہلی مرتبہ جب میں اس کے فلیٹ میں داخل ہوا تو مجھے بہت شدت سے محسوس ہوا کہ میں چڑیا گھر کے اس حصے میں داخل ہوگیا ہو جو شیر، چیتے اور دوسرے حیوانوں کے لیے مخصوص ہوتا ہےکیونکہ ویسی ہی بو آرہی تھی۔\n\nایک کمرا سونے کا تھا، دوسرا بیٹھنے کا، تیسرا خالی بوتلوں اور ڈبوں کا۔ اس میں رَم کی وہ تمام بوتلیں اور سگریٹ کے وہ تمام ڈبے موجود تھے جو رام سروپ نے پی کر خالی کیے تھے۔ کوئی اہتمام نہیں تھا۔ بوتلوں پر ڈبے اور ڈبوں پر بوتلیں اوندھی سیدھی پڑی ہیں۔ ایک کونے میں قطار لگی ہے تو دوسرے کونے میں انبار، گرد جمی ہوئی ہے، اور باسی تمباکو اور باسی رَم کی ملی جلی تیز بو آرہی ہے۔\n\nمیں نے جب پہلی مرتبہ یہ کمرہ دیکھا تو بہت حیران ہوا۔ ان گنت بوتلیں اور ڈبے تھے۔۔۔ سب خالی ہیں۔ میں نے رام سروپ سے پوچھا،’’ کیوں بھئی، یہ کیا سلسلہ ہے؟‘‘\n\nاس نے پوچھا،’’کیسا سلسلہ؟‘‘\n\nمیں نے کہا،’’یہ۔۔۔ یہ کباڑ خانہ؟‘‘\n\nاس نے صرف اتنا کہا،’’جمع ہو گیا ہے!‘‘\n\nیہ سن کر میں نے بولتے ہوئے سوچا،’’اتنا۔۔۔! اتنا کوڑا جمع ہونے میں کم از کم سات آٹھ برس چاہئیں۔‘‘\n\nمیرا اندازہ غلط نکلا۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا یہ ذخیرہ پورے دس برس کا تھا۔ جب وہ شیوا جی پارک رہنے آیا تھا تو وہ تمام بوتلیں اور ڈبے اٹھوا کے اپنے ساتھ لے آیا تھا جو اس کے پرانے مکان میں جمع ہو چکے تھے۔ ایک بار میں نے اس سے کہا،’’سروپ، تم یہ بوتلیں اور ڈبے بیچ کیوں نہیں دیتے؟ میرا مطلب ہے، اول تو ساتھ ساتھ بیچتے رہنا چاہئیں۔۔۔ پر اب کہ اتنا انبار جمع ہو چکا ہے اور جنگ کے باعث دام بھی اچھے مل سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں تمہیں یہ کباڑخانہ اٹھوا دینا چاہیے!‘‘\n\nاس نے جواب میں صرف اتنا کہا،’’ہٹاؤ یار۔۔۔ کون اتنی بک بک کرے!‘‘\n\nاس جواب سے تو یہی ظاہر ہوتا تھا کہ اسے خالی بوتلوں اور ڈبوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ لیکن مجھے نوکر سے معلوم ہوا کہ اگر اس کمرے میں کوئی بوتل یا ڈبہ ادھر کا ادھر ہو جائے تو رام سروپ قیامت برپا کردیتا تھا۔\n\nعورت سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میری، اس کی بہت بے تکلفی ہوگئی تھی۔ باتوں باتوں میں مَیں نے کئی بار اس سے دریافت کیا،’’کیوں بھئی شادی کب کرو گے؟‘‘\n\nاور ہر بار اس قسم کا جواب ملا،’’شادی کرکے کیا کروں گا؟‘‘\n\nمیں نے سوچا،واقعی رام سروپ شادی کرکے کیا کرے گا۔۔۔؟ کیا وہ اپنی بیوی کو خالی بوتلوں اور ڈبوں والے کمرے میں بند کردے گا۔۔۔؟ یا سب کپڑے اتار، نیکر پہن کر رم پیتے اس کے ساتھ کھیلا کرے گا؟ میں اس سے شادی بیاہ کا ذکر تو اکثر کرتا تھا مگر تصور پر زور دینے کے باوجود اسے کسی عورت سے منسلک نہ دیکھ سکتا۔\n\nرام سروپ سے ملتے ملتے کئی برس گزر گئے۔ اس دوران میں کئی مرتبہ میں نے اڑتی اڑتی سنی کہ اسے ایک ایکٹرس سے جس کا نام شیلا تھا، عشق ہوگیا ہے۔ مجھے اس افواہ کا بالکل یقین نہ آیا۔ اول تو رام سروپ سے اس کی توقع ہی نہیں تھی۔ دوسرے شیلا سے کسی بھی ہوش مند نوجوان کو عشق نہیں ہوسکتا تھا، کیونکہ وہ اس قدر بےجان تھی کہ دق کی مریض معلوم ہوتی تھی۔۔۔ شروع شروع میں جب وہ ایک دو فلموں میں آئی تھی تو کسی قدر گوارا تھی مگر بعد میں تو وہ بالکل ہی بے کیف اور بے رنگ ہوگئی تھی اور صرف تیسرے درجے کے فلموں کے لیے مخصوص ہو کر رہ گئی تھی۔\n\nمیں نے صرف ایک مرتبہ اس شیلا کے بارے میں رام سروپ سے دریافت کیا تو اس نے مسکرا کر کہا،’’ میرے لیے کیا یہی رہ گئی تھی!‘‘\n\nاس دوران میں اس کا سب سے پیارا کتا اسٹالن نمونیا میں گرفتار ہوگیا۔ رام سروپ نے دن رات بڑی جانفشانی سے اس کا علاج کیا مگر وہ جانبر نہ ہوا۔ اس کی موت سے اسے بہت صدمہ ہوا۔ کئی دن اس کی آنکھیں اشک آلود رہیں، اور جب اس نے ایک روز باقی کتے کسی دوست کو دے دیے تو میں نے خیال کہ اس نے اسٹالن کی موت کے صدمے کے باعث ایسا کیا ہے، ورنہ وہ ان کی جدائی کبھی برداشت نہ کرتا۔\n\nکچھ عرصے کے بعد جب اس نے بندر اور بندریا کو بھی رخصت کردیا تو مجھے کسی قدر حیرت ہوئی، لیکن میں نے سوچا کہ اس کا دل اب اور کسی کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کرنا چاہتا۔ اب وہ نیکر پہن کر رم پیتے ہوئے صرف اپنی بلی نرگس سے کھیلتا تھا۔ وہ بھی اس سے بہت پیار کرنے لگی تھی، کیونکہ رام سروپ کا سارا التفات اب اسی کے لیے موقوف ہوگیا تھا۔اب اس کے گھر سے شیر، چیتوں کی بو نہیں آتی تھی۔ صفائی میں کسی قدر نظر آجانے والا سلیقہ اور قرینہ بھی پیدا ہو چلا تھا، اس کے اپنے چہرے پر ہلکا سا نکھار آگیا تھا مگر یہ سب کچھ اس قدر آہستہ آہستہ ہوا تھا کہ اس کے نقطہ آغا زکا پتا چلانا بہت مشکل تھا۔\n\nدن گزرتے گئے۔ رام سروپ کا تازہ فلم ریلیز ہوا تو میں نے اس کی کردار نگاری میں ایک نئی تازگی دیکھی۔ میں نے اسے مبارک باد دی تو وہ مسکرا دیا،’’لو،وسکی پیو!‘‘\n\nمیں نےتعجب سے پوچھا،’’وسکی؟‘‘ اس لیے کہ وہ صرف رَم پینے کا عادی تھا۔\n\nپہلی مسکراہٹ کو ہونٹوں میں ذرا سکیڑتے ہوئے اس نے جواب دیا،’’رم پی پی کر تنگ آگیا ہوں۔‘‘\n\nمیں نے اس سے اور کچھ نہ پوچھا۔\n\nآٹھویں روز جب اس کے ہاں شام کو گیا تو وہ قمیص پائجامہ پہنے، رم۔۔۔نہیں،وسکی پی رہا تھا۔۔۔ دیر تک ہم تاش کھیلتے اور وسکی پیتے رہے۔ اس دوران میں مَیں نے نوٹ کیا کہ وسکی کا ذائقہ اس کی زبان اور تالو پر ٹھیک نہیں بیٹھ رہا، کیونکہ گھونٹ بھرنے کے بعد وہ کچھ اس طرح منہ بناتا تھا جیسےکسی ان چکھی چیز سے اس کا واسطہ پڑا ہوا ہے۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا،’’ تمہاری طبیعت قبول نہیں کررہی وسکی کو؟‘‘\n\nاس نے مسکرا کر جواب دیا،’’ آہستہ آہستہ قبول کرلے گی۔‘‘\n\nرام سروپ کا فلیٹ دوسری منزل پر تھا۔ ایک روز میں ادھر سے گزر رہا تھا کہ دیکھا، نیچے گیراج کے پاس خالی بوتلوں اور ڈبوں کے انبار کے انبار پڑے ہیں۔ سڑک پر دو چھکڑے کھڑے ہیں جن میں تین چار کباڑیئے ان کو لاد رہے ہیں، میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی، کیونکہ یہ خزانہ رام سروپ کے علاوہ اور کس کا ہو سکتا تھا۔۔۔ آپ یقین جانئےاس کو جدا ہوتے دیکھ کر میں نے اپنے دل میں ایک عجیب قسم کا درد محسوس کیا۔۔۔ دوڑا اوپر گیا ،گھنٹی بجائی۔ دروازہ کھلا۔ میں نے اندر داخل ہونا چاہا تو نوکر نے خلافِ معمول راستہ روکتے ہوئے کہا،’’ صاحب، رات شوٹنگ پر گئے تھے، اس وقت سو رہے ہیں۔‘‘\n\nمیں حیرت سے اور غصے سے بوکھلا گیا۔۔۔ کچھ بڑبڑایا اور چل دیا۔\n\nاسی روز شام کو رام سروپ میرے ہاں آیا۔۔۔ اس کے ساتھ شیلا تھی، نئی بنارسی ساڑھی میں ملبوس۔۔۔ رام سروپ نے اس کی طرف اشارہ کرکے مجھ سے کہا،’’میری دھرم پتنی سے ملو۔‘‘\n\nاگر میں نے وسکی کے چار پیگ نہ پئے ہوتے تو یقیناً یہ سن کر بے ہوش ہوگیا ہوتا۔\n\nرام سروپ اور شیلا صرف تھوڑی دیر بیٹھے اور چلے گئے۔۔۔ میں دیر تک سوچتا رہا کہ بنارسی ساڑھی میں شیلا کس سے مشابہ تھی۔۔۔ دبلے پتلے بدن ہلکے بادامی رنگ کی کاغذی سی ساڑھی۔ کسی جگہ پھولی ہوئی، کسی جگہ دبی ہوئی۔۔۔ ایک دم میری آنکھوں کے سامنے ایک خالی بوتل آگئی، باریک کاغذ میں لپٹی ہوئی۔\n\nشیلا عورت تھی۔۔۔ بالکل خالی، لیکن ہو سکتا ہے ایک خلا نے دوسرے خلا کو پر کردیا ہو۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%A8%D9%88%D8%AA%D9%84%DB%8C%DA%BA%D8%8C_%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%88%D8%A8%DB%92_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29"} {"title": "خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریں", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریں\nوہ تو ہیں راجہ ہم بنیں پرجا اور جھک جھک کے سلام کریں\n\nکھل پڑنے میں ناکامی ہے گم ہو کر کچھ کام کریں\nدیس پرانا بھیس بنا ہو نام بدل کر نام کریں\n\nدونوں جہاں میں خدمت تیری خادم کو مخدوم بنائے\nپریاں جس کے پاؤں دبائیں حوریں جس کا کام کریں\n\nہجر کا سناٹا کھو دے گی گہما گہمی نالوں کی\nرات اکیلے کیوں کر کاٹیں سب کی نیند حرام کریں\n\nمیرے برا کہلانے سے تو اچھے بن نہیں سکتے آپ\nبیٹھے بیٹھائے یہ کیا سوجھی آؤ اسے بدنام کریں\n\nدل کی خوشی پابند نہ نکلی رسم و رواج عالم کی\nپھولوں پر تو چین نہ آئے کانٹوں پر آرام کریں\n\nایسے ہی کام کیا کرتی ہے گردش ان کی آنکھوں کی\nشام کو چاہے صبح بنا دیں صبح کو چاہے شام کریں\n\nلا محدود فضا میں پھر کر حد کوئی کیا ڈالے گا\nپختہ کار جنوں ہم بھی ہیں کیوں یہ خیال خام کریں\n\nنام وفا سے چڑھ ان کو اور آرزوؔ اس خو سے مجبور\nکیوں کر آخر دل بہلائیں کس وحشی کو رام کریں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%D8%A7%D9%B9%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A4_%D8%B1%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خالی عاشق سے کبھی کوچۂ جاناں نہ رہا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خالی عاشق سے کبھی کوچۂ جاناں نہ رہا\nکون سی شب وہ تھی جس میں کوئی گریاں نہ رہا\n\nدیکھیے ناخن وحشت کے سبب عاشق کا\nتار داماں نہ رہا تار گریباں نہ رہا\n\nشیخ کیا وعظ سناتا ہے دکھانے کے لیے\nدل میں تصویر صنم ہے ترا ایماں نہ رہا\n\nہو گیا ساتھ دل زار کے وہ بھی رخصت\nمایۂ زیست جو اپنا تھا وہ ارماں نہ رہا\n\nہم صفیرو نہ کہو نغمہ زنی کو مجھ سے\nاب چلی باد خزاں اور گل خنداں نہ رہا\n\nرخ دکھاتے ہی کیا محو تماشا تو نے\nکب ترا شیفتہ آئینہ سا حیراں نہ رہا\n\nاشک دیدہ تو ہوئے خشک جمیلہؔ کہہ دو\nخضر تم آئے تو کیا چشمۂ حیواں نہ رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "خامشی کا تو نام ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خامشی کا تو نام ہوتا ہے\nورنہ یوں بھی کلام ہوتا ہے\n\nعشق کو پوچھتا نہیں کوئی\nحسن کا احترام ہوتا ہے\n\nآنکھ سے آنکھ جب نہیں ملتی\nدل سے دل ہم کلام ہوتا ہے\n\nحسن کو شرمسار کرنا ہی\nعشق کا انتقام ہوتا ہے\n\nاللہ اللہ یہ ناز حسن مجازؔ\nانتظار سلام ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%85%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئے", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئے\nگل مست ہے چمن میں پیالہ پیے ہوئے\n\nامسال فصل گل میں وہ پھر چاک ہو گئے\nاگلے برس کے تھے جو گریباں سیے ہوئے\n\nہم بھی ہوا میں اک گل نوخیز حسن کے\nبرسوں پھرے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے\n\nدوکانیں مے فروشوں کی کب سے پڑی ہیں بند\nرہ رہ گئے ہیں قفل دیے کے دیے ہوئے\n\nعشق صنم ہے اس میں ہیں خودداریاں ضرور\nاے دل خدا کے واسطے خود کو لیے ہوئے\n\nمرشد ہے عشق ہم ہیں مرید اس جناب کے\nبرسوں گزر گئے ہیں پیالہ پیے ہوئے\n\nوہ آ کے مسکرائے اس انداز و ناز سے\nکھل کھل گئے جو زخم جگر تھے سیے ہوئے\n\nروز ازل سے دخل وجود و عدم میں ہے\nدونوں علاقے ہیں یہ ہمارے لیے ہوئے\n\nہیں بت پرست دیر میں حاجی ہیں کعبہ میں\nطالب رضائے دوست کے دھرنے دیے ہوئے\n\nمیدان امتحاں میں ہمیں بھیج دیجیے\nکہیے انہیں یہ کام ہیں جن کے کیے ہوئے\n\nنامرد اپنے وادی میں رکھے گا کیا قدم\nسر ہو مہم عشق نہ بے سر دیے ہوئے\n\nکس کس طرح کا بھیس بدل کر پہنچتے ہیں\nعاشق ہوئے نہ آپ کے بہروپئے ہوئے\n\nحاصل ہوا بتوں سے نہ عاشق کو مدعا\nروشن کبھی نہ دیر میں گھی کے دیے ہوئے\n\nتعویذ و نقش کچھ نہیں کرتے اثر وہاں\nسارے یہ کھٹکھٹے ہیں ہمارے کئے ہوئے\n\nاک شب ہوئی نصیب سلیماں نہ جو پری\nہم روز سوئے اس کو بغل میں لیے ہوئے\n\nآنکھوں میں پھرتی ہیں جو وہ آنکھیں نشیلیاں\nدو بوتلوں کی مستی ہے بے مے پیے ہوئے\n\nباندھا جو چست چست مضامین نو کے ساتھ\nبندش سے میری تنگ بہت قافیے ہوئے\n\nعاشق مزاج روتے ہیں پڑھ پڑھ کے بیشتر\nاشعار رندؔ کے نہ ہوئے مرثیے ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4_%D8%AF%D8%A7%D8%A8_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "خاموش کلی سارے گلستاں کی زباں ہے", "poet_page": "مصنف:عبدالعزیز فطرت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خاموش کلی سارے گلستاں کی زباں ہے\nیہ طرز سخن آبروئے خوش سخناں ہے\n\nجو بات کہ خود میرے تکلم پہ گراں ہے\nوہ تیری سماعت کے تو قابل ہی کہاں ہے\n\nہر ذرہ پہ ہے منزل محبوب کا دھوکا\nپہنچے کوئی اس بزم تک ان کا ہی کہاں ہے\n\nانسان نے اسرار جہاں فاش کیے ہیں\nسویا ہوا خورشید ہے ذرہ نگراں ہے\n\nفطرتؔ دل کونین کی دھڑکن تو ذرا سن\nیہ حضرت انساں ہی کی عظمت کا بیاں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4_%DA%A9%D9%84%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "خاموش ہیں لب اور آنکھوں سے آنسو ہیں کہ پیہم بہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:جلال الدین اکبر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خاموش ہیں لب اور آنکھوں سے آنسو ہیں کہ پیہم بہتے ہیں\nہم سامنے ان کے بیٹھے ہیں اور قصۂ فرقت کہتے ہیں\n\nاب حسن و عشق میں فرق نہیں اب دونوں کی اک حالت ہے\nمیں ان کو دیکھتا رہتا ہوں وہ مجھ کو دیکھتے رہتے ہیں\n\nان کی وہ حیا وہ خاموشی اپنی وہ محبت کی نظریں\nوہ سننے کو سب کچھ سنتے ہیں ہم کہنے کو سب کچھ کہتے ہیں\n\nاس شوق فراواں کی یا رب آخر کوئی حد بھی ہے کہ نہیں\nانکار کریں وہ یا وعدہ ہم راستہ دیکھتے رہتے ہیں\n\nہمدرد نہیں ہم راز نہیں کس سے کہئے کیوں کر کہئے\nجو دل پہ گزرتی رہتی ہے جو جان پہ صدمے سہتے ہیں\n\nآ دیکھ کہ ظالم فرقت میں کیا حال مرا بے حال ہوا\nآہوں سے شرارے جھڑتے ہیں آنکھوں سے دریا بہتے ہیں\n\nاکبرؔ شاید دل کھو بیٹھے وہ جلسے وہ احباب نہیں\nتنہا خاموش سے پھرتے ہیں ہر وقت اداس سے رہتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%A8_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%DB%8C%DB%81%D9%85_%D8%A8%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خاندان قیس کا میں تو سدا سے پیر ہوں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خاندان قیس کا میں تو سدا سے پیر ہوں\nسلسلہ جنبان شور خانۂ زنجیر ہوں\n\nخاکساری کے ابھی تو درپئے تدبیر ہوں\nکشتہ ہو کر خاک جب ہوں تب کبھی اکسیر ہوں\n\nضعف نے گو کر دیا ہے جوں کماں گوشہ نشیں\nاب بھی چلنے کو جو پوچھو تو سراسر تیر ہوں\n\nرشتۂ الفت نے باندھے ہیں پر پرواز آہ\nدام حیرت میں برنگ بلبل تصویر ہوں\n\nتجھ سے یہ عقدہ کھلے گا اے نسیم صبح دم\nغنچے کی مانند اس گلشن میں کیوں دلگیر ہوں\n\nمنتظر چشم رکاب اے صید افگن ہے ہنوز\nبوسۂ فتراک کی خواہش ہے وہ نخچیر ہوں\n\nفقر کی دولت کے آگے سلطنت کیا مال ہے\nبسترے پر اپنے اے روبہ مزاجو شیر ہوں\n\nسچ ہے اپنے دم سے قائم ہے یہ بنیاد جہاں\nرونق افزائے چمن آرایش تعمیر ہوں\n\nجیسی چاہے ویسی لے مجھ سے قسم قاتل نہ ڈر\nحشر کو بھی گر کبھی تیرا میں دامن گیر ہوں\n\nاہل جوہر ہی مرے مضموں کو سمجھے ہے نصیرؔ\nمیں بھی اقلیم سخن میں صاحب شمشیر ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86_%D9%82%DB%8C%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "خانساماں شہزادہ", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "بمبئی کے تاج محل ہوٹل میں مہاراجہ بھاؤ نگر ٹھہرے ہوئے تھے۔ برسات کا موسم تھا۔ سمندر میں صبح شام طوفان برپا رہتا تھا اور پانی کی آوازوں سے مسافروں کی بات سننی بھی دشوار تھی۔ تاج محل ہوٹل میں ایک خانساماں ستر اسی برس کی عمر کا نوکر تھا، جو اپنے کام میں بہت ہوشیار اور تجربہ کارمانا جاتا تھا۔ ہوٹل والے اپنے بڑھیا مہمانوں کی خاطر مدارات کے لیے اسی خانساماں کو مقرر کرتے تھے۔ اس خانساماں کا نام قسمت بیگ تھا۔ اس کی دیانت داری بھی شہرہ آفاق تھی۔ جب سے ہوٹل میں نوکر ہوا تھا، بارہا ہوٹل کے منیجر کو اس کی امانت و دیانت کے تجربے ہوئے تھے اور وہ ہوٹل کے سب نوکروں سے زیادہ اس خانساماں پر اعتماد کرتا تھا۔ ایک دن صبح کے وقت مہاراجہ بھاؤنگر نے پلنگ پر لیٹے لیٹے قسمت بیگ سےکہا، ’’میں نے بمبئی کے چند مہمانوں کو لنچ کی دعوت دی ہے۔ منیجر سے کہہ دینا کہ دس مہمانوں کا انتظام کر دے۔‘‘ سمندر کے پانی کا غل شور، برسات کا زمانہ، مہاراجہ بھاؤ نگر کی دھیمی آواز اور بہرہ خانساماں۔ یہ حکم کیونکر اس کے کانوں تک پہنچتا، مگر قسمت بیگ کی تمیز داری کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے بہرے پن کو ظاہر نہ ہونے دیتا تھا۔ ہونٹوں کی حرکت سے مطلب سمجھ لیتا تھا۔ بہرے آدمیوں کی طرح کان جھکا کر بات نہ سنتا تھا۔ آج ایسے اسباب جمع ہوئے کہ قسمت بیگ مہاراجہ کے حکم کو نہ سمجھا اور اس نے ذرا پلنگ کےقریب آکر نہایت تذبذب اور ادب کے ساتھ ہاتھ جوڑ کر سوال کیا کہ’’وہ جو ارشاد ہوا ہے اس کی تعمیل کی جائے گی، لیکن اگر تکلیف نہ ہو تو تھوڑی سی تفصیل اور فرما دی جائے۔‘‘ مہاراجہ بھاؤ نگر بالکل نہیں سمجھے کہ خانساماں نے ان کی بات نہیں سنی تھی اور انہوں نے خانساماں سے دوبارہ کہا کہ ’’جن دس آدمیوں کو بلایا ہے وہ اعلیٰ درجہ کے لوگ ہیں۔ لنچ کا اہتمام اعلیٰ قسم کا ہونا چاہیے۔‘‘ قسمت بیگ نے بات سمجھ لی اور ادب سے کہا، ’’جو حکم، فرمان کی پوری تعمیل کی جائے گی۔‘‘ اور یہ کہہ کر بڑی تمیز داری کے ساتھ پچھلے قدم چل کر سامنے سے ہٹ گیا۔ مہاراجہ بھاؤ نگر دیر تک سوچتے رہے کہ انگریزی ہوٹلوں میں سب خانساماں انگریزی ادب آداب استعمال کرتے ہیں۔ یہ بڈھا کون ہے جو پرانے زمانے کے مشرق ی ادب آداب کو استعمال کرتا ہے۔ اس کا حال معلوم کرنا چاہیے۔ انہوں نے فوراً بٹن دبایا اور کمرے کا خدمتگار حاضر ہوگیا۔ مہاراجہ نے حکم دیا، ’’آج جب ہم لنچ سے فارغ ہوں تو ملاقات کے کمرے میں قسمت بیگ خانساماں کو بلایا جائے۔ ہم اس سے کچھ پرائیویٹ باتیں کرنی چاہتے ہیں۔‘‘ خدمت گارنے کہا، ’’حضور وہ بہت بد مزاج آدمی ہے۔ صاحب لوگوں سے ہمیشہ لڑتا رہتا ہے۔ آپ اس سے پر ائیویٹ بات کریں گے تو وہ آپ سے بھی گستاخی سے پیش آئے گا۔ وہ نوکری کے وقت تو بہت اچھا ہے اور صاحب لوگ اس کو پسند کرتے ہیں۔ لیکن پرائیویٹ وقت میں وہ بہت بدمزاج ہو جاتا ہے۔‘‘ مہاراج نے کہا، ’’ایسا کیوں ہے؟‘‘ خدمت گار نے جوا ب دیا، ’’حضور وہ کہتا ہے میں ہندوستان کا بادشاہ ہوں۔‘‘ یہ سن کر مہاراجہ کو بہت تعجب ہوا اور وہ مسکرا کر خاموش ہوگئے اور کچھ دیر کے بعد انہوں نے خدمت گار سے کہا، ’’کچھ پروا نہیں۔ قسمت بیگ سے کہہ دو کہ وہ لنچ کے بعد پرائیویٹ باتوں کے لیے ہمارے پاس آئے۔‘‘ خدمت گار نے انگریزی سلام کیا اور انگریزی طریقے سے باہر چلا گیا۔ لنچ کے بعدمہاراجہ بھاؤ نگر اور ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ اور ’’بمبئی کرانیکل‘‘ اور ’’سانجھہ ور تمان‘‘ کے ایڈیٹر اور چند ہندو اور پارسی عمائد بمبئی دوپہر کا کھانا کھا کر باتوں کے کمرے میں آئے تو مہاراج نے قسمت بیگ کو بلایا۔ قسمت بیگ نہایت ادب سےحاضر ہوا اور اس نے ہندوستانی طریقے کے موافق مہاراج کو تین فرشی سلام کیے اور ہاتھ باندھ کر ادب سے کھڑا ہو گیا۔ مہاراج نے کہا، ’’قسمت بیگ! تم کون ہو؟‘‘ قسمت بیگ دانستہ مہاراج کی کرسی کے قریب کھڑا ہوا تھا تا کہ اس کے بہرے پن کا عیب چھپا رہے اور مہاراج کی بات سن سکے۔ مہاراج کا سوال سن کر قسمت بیگ نے کہا، ’’حضورگستاخی معاف، اس کا جواب تو آپ کو بھی معلوم نہیں ہے کہ ہم سب کون ہیں اور کیوں اس دنیا میں پیدا کیے گئے ہیں۔ ہم کو بھوک، پیاس، نیند، بچپن، جوانی، بڑھاپا، تندرستی، بیماری کے انقلابات میں کس غرض سے مبتلا کیا گیا ہے۔‘‘ قسمت بیگ کی یہ عجیب تقریر سن کر سب حاضر ین مبہوت ہوگئے اور حیرت سے دیکھنے لگے کہ ایک خانساماں یہ کیسی فلسفیانہ باتیں کر رہا ہے۔ مہاراج نے مسکرا کر کہا، ’’بے شک ہم کو اس سوال کا جواب معلوم نہیں ہے، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ تم نے زندگی کی ان مشکلات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے کیونکہ تم نے ایک سانس میں سب بڑے بڑے انقلابات کا ذکر کر دیا۔ اس واسطے میرا خیال ہے کہ تم میرے سوال کا جواب دے سکتے ہو۔‘‘ قسمت بیگ نے کہا، ’’حضور میں ایک آدمی ہوں۔ نسل کے لحاظ سے تیموری مغل ہوں۔ پیشے کے لحاظ سے تاج محل ہوٹل کا خانساماں ہوں۔ عمر کے لحاظ سے بڈھا ہوں۔ طبیعت کے اعتبار سے کبھی بچہ ہوتا ہوں اور کبھی جوان۔ اخلاقی حیثیت میری ایک کامل انسان کی ہے۔ جھوٹ نہیں بولتا۔ چوری نہیں کرتا۔ ظلم اور بے رحمی سے بچتا ہوں۔ خدمت خلق کو اپنا مقصد زندگی مانتا ہوں۔ اگر چہ گدا ہوں لیکن دل کے تخت پر شہنشاہ ہوں۔ کچھ ارشاد ہو تو اس کا بھی جواب دوں۔‘‘ قسمت بیگ کی مؤثر اور برجستہ تقریر کا ایک دوسرا اثر پیدا ہوا اور مہاراج اپنے مہمانوں سمیت پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور بے اختیار مہاراج کی زبان سے نکلا، ’’کیا تم تیموری شہزادے ہو؟‘‘ قسمت بیگ کو جوش آگیا اور اس نے کہا، ’’شاہ زادہ نہیں ہوں آہ زادہ ہوں۔ دنیا کی مصیبتوں کی سب زدیں میں نے اٹھائی ہیں۔ تیموری خاندان تو اب مٹ چکا ہے، جس نے باوجود انسان ہونے کے دوسرے انسانوں کو غلام بنانے کی کوشش کی تھی اور غلام بنا لیا تھا۔ آپ نہیں تو آپ کے باپ دادا بھی اس کے غلام تھے۔ یہ سوال فضول ہے اور آپ کے لیے تکلیف دہ ہے اور میں اس سوال کی کشمکش میں پڑنا اپنے دل کے لیے ایک آری سمجھتا ہوں جو میرے دل کو چیر رہی ہے۔‘‘ یہ فقرہ سن کر مہاراج نے سرجھکا لیا اور سب لوگ خاموش ہو کر زمین کی طرف دیکھنے لگے۔ آخر کچھ دیر کے بعد خود قسمت بیگ نے کہا، ’’انسان کو اپنی موجودہ حیثیت دیکھنی چاہئے۔ آج چونکہ میں ایک خانساماں ہوں، اس لیے ارشاد کی تعمیل کرتا ہوں۔ میں سمجھ گیا کہ حضور میری زندگی کی تفصیل معلوم کرنی چاہتے ہیں۔ میں ان لوگوں میں نہیں ہوں جو ماضی پر فخر کریں یا افسوس کریں اور میں ان لوگوں میں بھی نہیں ہوں جو مستقبل کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہتے ہیں۔ حضور میں ماضی کا مالک ہوں۔ حال کا مالک ہوں اور مستقبل کا بھی مالک ہوں۔ یہ آسمان بھی میرا ہے۔ یہ زمین بھی میری ہے۔ یہ سمندر بھی میرا ہے اور آپ سب لوگ جوکرسیوں پر میرے سامنے بیٹھے ہیں، آپ بھی میرے ہیں اور میں خود جو آپ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہوں، محسوس کرتا ہوں کہ یہ وجود بھی میرا ہے۔ دنیا کی کوئی چیز بھی میرے سوا اور کسی کی نہیں ہے۔ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ دوسرا کوئی موجود نہیں ہے۔ میں ہی ہوں، میں ہی تھا۔ میں ہی آخر تک رہوں گا۔ یہ سمندر ابل رہا ہے۔ بل کھا رہا ہے۔ جوش میں آرہا ہے۔ برسات ختم ہوگی، سردی آئے گی، ٹھنڈا ہو جائے گا۔ تالاب بن جائے گا۔ اس کے اندر طوفان بھی میں ہی ہوں اور اس کی ٹھنڈک بھی میں ہی ہوں۔‘‘ قسمت بیگ کی مجذوبانہ تقریر سنتے سنتے مہاراج کو ہنسی آگئی، مگر انہوں نے ہنسی کوضبط کیا اور کہا، ’’شہزادہ صاحب!کیا آپ میرا حکم مانیں گے اور سامنے کی کرسی پر بیٹھنے کی تکلیف گوارا کریں گے۔‘‘ قسمت بیگ نے کہا، ’’ہرگز نہیں، کالج میں استاد کھڑا رہتا ہے اور شاگرد بیٹھے رہتے ہیں۔ تم شاگرد ہو اور میں استاد ہوں۔ تم سب انجان ہو اور میں دانا ہوں۔ تم سب بے خبر ہو اور میں خبردار ہوں۔ تم سب غافل ہو اور میں ہوشیار ہوں۔ تم سب ادنیٰ ہو اور میں اعلیٰ ہوں۔ تم سب بڑے ہو اور میں چھوٹا ہوں۔ تم سب امیر ہو اور میں غریب ہوں۔ تم سب فانی ہو اور میں باقی ہوں۔ تم سب بلبلا ہو اور میں پانی ہوں۔ تم سب خاک ہو اور میں ہوا ہوں۔ تم سب ایندھن ہو اور میں آگ ہوں۔ تم سب تاریکی ہو اور میں روشنی ہوں۔‘‘ یہ کہتے کہتے قسمت بیگ نے اپنی دونوں مونچھوں کو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے پکڑا اور ان کو مروڑا اور اچھلنا شروع کیا۔ اچھلتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا، ’’میں ہوں میں۔ تم نہیں ہو۔ میں ہوں میں۔ میں ہوں میں۔ جو کچھ ہے، جو کچھ تھا، جو کچھ ہو۔ کچھ نہیں ہے۔ کچھ نہیں ہے۔ میں ہوں میں۔ میں ہوں میں۔ پھر سنو پھر کہوں۔ میں ہوں میں۔ میں ہوں میں۔‘‘ مہاراج اور حاضرین کے جسموں پر رعشہ پڑ گیا اور ان سب پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہوگئی۔ قسمت بیگ کی دیوانہ وار باتوں اور اچھل کود سے غیر معمولی اثر ہوا۔ کچھ دیر کے بعد قسمت بیگ، مہاراج کے قریب خاموش ہوکر کھڑا ہو گیا اور اس نے نہایت ناتواں آواز میں کہا، ’’حضور سواری چلی گئی۔ میں ایک مرکب تھا اور سوار میرا اور تھا۔ میں ایک ہوٹل تھا اور مہمان کوئی اور تھا۔ میں ایک بوتل تھا اور شراب کوئی اور تھی۔ اب سنئے مجھ بیمارلاچار خانساماں کی کہانی، سنیے، بہادر شاہ بادشاہ کا بیٹا ہوں۔ میری ماں لونڈی تھی اور بادشاہ کی معتو ب تھی جب غدر ۱۸۵۷ء کا انقلاب ہوا تو میری عمر دس سال کی تھی۔ بادشاہ نے گھبراہٹ کے وقت اپنے بیوی بچوں کا انتظام بہت ادھورا کیا تھا اور اس وقت میرا اور میری ماں کا شاید ان کو خیال بھی نہ آیا ہو گا کیونکہ میری ماں لال قلعہ کے باہر خاص بازار میں ایک مکان میں رہتی تھیں۔ مکان شاہی تھا۔ پہرے دار اور نوکر بھی بادشاہ کی طرف سے تھے۔ خرچ بھی ملتا تھا، مگر بادشا ہ میری پیدائش سے پہلے میری اماں سے خفا ہوگئے تھے اور انہوں نے کبھی میری صورت نہیں دیکھی، نہ میری اماں کو قلعہ میں بلایا۔ جب دہلی کے سب باشندے بھاگے اور ولسن صاحب کمانڈر کشمیری دروازہ کے راستے شہر میں داخل ہوئے تو میری ماں نے مجھ کو اپنے ساتھ لیا اور پیدل گھر سے روانہ ہوئیں۔ نوکر پہلے ہی بھاگ گئے تھے۔ سواری کا کوئی انتظام نہ تھا۔ میری والدہ نے سواشرفیاں اپنے ساتھ لیں اور کوئی سامان نہ لیا۔ دہلی سے نکل کر ہم دونوں قد م شریف کی درگاہ میں گئے جو دہلی کی فصیل سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔ مگر یہ راستہ بھی ہم کو کئی کوس کا معلوم ہوا، کیونکہ نہ مجھے پیدل چلنے کی عادت تھی نہ میری ماں کو۔ مجھے یاد ہے دہلی کے باشندے ایسی گھبراہٹ میں جا رہے تھے گویا قیامت قائم ہے اور سب نفسی نفسی کہتے ہوئے خدا کے پاس جا رہے ہیں۔ عورتیں کپڑوں کی بقچیاں سروں پر رکھے ہوئے، چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہاتھ پکڑے جا رہی تھیں۔ بچے رو رہے تھے۔ وہ ان کو کھینچتی تھیں اور بچے چل نہ سکتے تھے۔ مردوں کا بھی یہی حال تھا۔ کوئی کسی کا پرسان حال نہ تھا۔ سب اپنی مصیبت میں مبتلا تھے۔ قدم شریف میں جاکر ہم ایک ٹوٹے مکان میں بیٹھ گئے۔ برسات کا موسم تھا۔ رات ہوئی۔ مجھے بھوک لگی مگر وہاں کچھ کھانے کو نہ تھا۔ میری ماں نے اپنی گود میں بٹھا لیا اور تسلی دلاسے کی باتیں کرنے لگیں۔ شہر سے بندوقوں کی آوازیں اور شہر والوں کا غل شور سن سن کر میں گھبرایا جاتا تھا اور میری والدہ بھی سہمی بیٹھی تھیں، یہاں تک کہ اسی بھوک کی حالت میں سو گیا۔ صبح ہندوستانی فوج کے سپاہی قدم شریف میں آئے اور انہوں نے لوگوں کو پکڑنا شرو ع کیا۔ میری ماں کو بھی گرفتار کر لیا اور ایک پوربیہ ہندوان کو اپنے ساتھ پہاڑی پر لے گیا جو قدم شریف سے کئی میل دور تھی اورہم دونوں جب پہاڑی پر پہنچے تو ہمارے پاؤں خونم خون ہوگئے تھے۔ شام کو ہمیں انگریز افسر کے سامنے پیش کیا گیا اور اس نے میری ماں سے کچھ سوالات کیے۔ مجھے یاد نہیں انگریز نے کیا کہا اور میری ماں نے کیا جواب دیا۔ اتنا یاد ہے کہ انگریز کو میری ماں نے بتا دیا کہ وہ بادشاہ کی لونڈی ہے اور بچہ بادشاہ کا بیٹا ہے اور انگریز نے حکم دیا کہ ان دونوں کو آرام سے رکھا جائے۔ آرام یہ تھا کہ ہم کو ایک چھوٹا سا خیمہ دے دیا گیا جس میں ہم رات دن پڑے رہتے تھے اور دو وقت کھانا ہم کو مل جاتا تھا۔ جب دہلی میں انگریزی انتظام ہوگیا تو ہم دونوں کو چاندنی محل میں، جو جامع مسجد کے قریب ایک محلہ تھا، بھجوا دیا گیا، جہاں ہمارے خاندان کے اور لوگ بھی آباد ہوگئے تھے۔ میری والدہ کے نام دس روپے ماہوار گذارے کے مقرر کر دیے گئے اور میں نے اپنی والدہ کے ساتھ بچپن سے جوانی تک جیسی جیسی مصیبتیں اٹھائیں، بس میرا ہی دل جانتا ہے۔ چاند نی محل کے قریب ایک خانقاہ تھی اور میں وہاں اکثر جایا کرتا تھا۔ خانقاہ میں ایک درویش رہتے تھے۔ ان کی باتیں سنتا تھا اور ان کا مجھ پر بہت اثر ہوتا تھا۔ انہی کی باتوں سے مجھے اپنی اور کائنات کی ہر چیز کی حقیقت کا علم ہوا اور اس وقت جو کچھ میں عرض کر رہا تھا، یہ بھی انہیں کی صحبت کا اثر ہے۔ والدہ نے خاندان ہی کے اندر میری شادی بھی کردی۔ اولاد بھی ہوئی مگر وہ زندہ نہیں رہی۔ میں نے دہلی میں ایک خانساماں کی شاگردی اختیار کی اور یہ کام سیکھا جواب کر رہا ہوں اور جب میری والدہ اور بیوی کا انتقال ہو گیا تو میں دہلی سے بمبئی چلا آیا اور یہاں مختلف لوگوں کی نوکریا ں کیں۔ ہوٹلوں میں بھی رہا اور اب مدت سے تاج محل ہوٹل میں ہوں۔ بچپن سے میرے کان میں کچھ خرابی ہوگئی جو آج تک باقی ہے، مگر میں کوشش کرتا ہوں کہ کوئی میرے بہرے پن کو سمجھ نہ سکے کیونکہ مجھے اس عیب سے بہت شرم آتی ہے۔ خانساماں کی یہ بات سن کر مہاراج نے ایک ٹھنڈا سانس لیا اور کہا، ’’قسمت بیگ نا م کس نے رکھا؟‘‘ خانساماں نے کہا، ’’میری قسمت نے، ورنہ میری ماں نے تو میرا نام تیمور شاہ رکھا تھا، مگر جب میں دہلی سے بمبئی آیا تو ہر شخص کو میں نے اپنا نام قسمت بیگ بتایا۔‘‘ مہاراج نے کہا چلو میں تم کو بھاؤ نگر لے چلوں۔ جو تنخواہ یہاں ملتی ہے اس سے دگنی تنخواہ دوں گا اور تمہاری باتیں سنا کروں گا۔ کوئی کام نہیں لوں گا۔‘‘ یہ بات سن کر قسمت بیگ نے جھک کر تین فرشی سلام مہاراج کو کیے۔ پھر کہا، ’’یہ عین بندہ نوازی ہے، لیکن جس نے اس دنیا کے انقلاب کو سمجھ لیا وہ قناعت کے دروازے پر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ایک دروازے کو پکڑ اور مضبوط پکڑ، دربدر بھٹکتا نہ پھر۔ اس ہوٹل میں میری عزت بھی ہے اور میری مزاج داری بھی ہے۔ صاحب لوگ بھی میری بد مزاجیوں کو برداشت کر لیتے ہیں۔ ضرورت کے موافق ہر چیز موجود ہے۔ آپ ہی فرمایئے میں آپ کے ارشاد کی تعمیل کیوں کروں اور ایک جگہ کو چھوڑ کر جہاں کوئی تکلیف نہیں ہے، آپ کے ہاں کیوں آؤں۔‘‘ مہاراج نے آفریں کہی اور ایک ہزار روپے کا چک لکھ کر دیا۔ کہا کہ اس کو اپنے خرچ میں لانا، آئندہ بھی ہر سال ہوٹل کے منیجر کی معرفت ہزار روپے تم کو مل جایا کریں گے۔ قسمت بیگ نے پھر سلام کیا اور چک لے کر رونے لگا اور پچھلے قدم ہٹ کر باہر چلا آیا۔ معلوم نہیں اس کو رونا کیوں آیا اور اسے کیا بات یاد آگئی۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B4%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%81"} {"title": "خانقاہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "رمز و اِیما اس زمانے کے لیے موزُوں نہیں\nاور آتا بھی نہیں مجھ کو سخن سازی کا فن\n’قُم بِاذنِ اللہ‘ کہہ سکتے تھے جو، رُخصت ہوئے\nخانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81"} {"title": "خانقاہ و دیر میں جاتے ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:محمد علی خاں رشکی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خانقاہ و دیر میں جاتے ہیں ہم\nڈھونڈھتے جو ہیں نہیں پاتے ہیں ہم\n\nجب سے عریانی ہوا اپنا لباس\nجامے سے باہر ہوئے جاتے ہیں ہم\n\nاور بڑھتا ہے انہیں شوق جفا\nآنکھ میں آنسو جو بھر لاتے ہیں ہم\n\nوہ جفا کر کے نہیں ہوتے خجل\nیاں گلہ کرنے سے شرماتے ہیں ہم\n\nہم سے بڑھ کر کوئی دیوانہ نہیں\nدل سے دیوانہ کو سمجھاتے ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81_%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "خانماں سوز ماسوا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خانماں سوز ماسوا ہوں میں\nاپنے سائے سے بھی جدا ہوں میں\n\nغور ہر چند کر رہا ہوں میں\nپر یہ کھلتا نہیں کہ کیا ہوں میں\n\nنہیں اس رہ میں دوسرے کی کھپت\nآپ ہی اپنا رہ نما ہوں میں\n\nوہ اگر آ ملیں تو کیا ہے عجب\nغم سے کچھ اور ہو گیا ہوں میں\n\nدل ہے شوق گناہ سے لبریز\nدیکھنے ہی کا پارسا ہوں میں\n\nکیوں نہ ہو دار کا وہ مستوجب\nجو کہ بندہ کہے خدا ہوں میں\n\nسوز دل کر چکا ہے جسم کو خاک\nاب ترا منتظر صبا ہوں میں\n\nہر لب زخم تن سے میں دم قتل\nکہتا قاتل کو مرحبا ہوں میں\n\nان سا مغرور اور پرسش حال\nخواب ہے یہ جو دیکھتا ہوں میں\n\nمجھ سا ہوگا نہ سخت جاں کوئی\nکہ شب ہجر میں جیا ہوں میں\n\nمیری پرسش جو کی کسی نے تو وہ\nبولے ہاں صورت آشنا ہوں میں\n\nشارح حال دل سمجھ مجھ کو\nدرد ہی درد ہو گیا ہوں میں\n\nآنکھ تک ڈالتا نہیں گاہک\nکچھ عجب جنس ناروا ہوں میں\n\nروز و شب ہے خیال کاکل و زلف\nکن بلاؤں میں پھنس رہا ہوں میں\n\nمثل نشتر ہیں خار صحرائی\nاور وحشت برہنہ پا ہوں میں\n\nکل جو میں نے کہا کہ او بے مہر\nدرد فرقت سے مر رہا ہوں میں\n\nہنس کے بولے یہ سب بناوٹ ہے\nآپ کو خوب جانتا ہوں میں\n\nدکھنے کیا زخم دل لگے مجروحؔ\nہائے ہائے جو کر رہا ہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%85%D8%A7%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خانہ بدوش", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بستی سے تھوڑی دور چٹانوں کے درمیاں\nٹھہرا ہوا ہے خانہ بدوشوں کا کارواں\nان کی کہیں زمین نہ ان کا کہیں مکاں\nپھرتے ہیں یوں ہی شام و سحر زیر آسماں\nدھوپ اور ابر و بار کے مارے ہوئے غریب\nیہ لوگ وہ ہیں جن کو غلامی نہیں نصیب\n\nاس کارواں میں طفل بھی ہیں نوجواں بھی ہیں\nبوڑھے بھی ہیں مریض بھی ہیں ناتواں بھی ہیں\nمیلے پھٹے لباس میں کچھ دیویاں بھی ہیں\nسب زندگی سے تنگ بھی ہیں سرگراں بھی ہیں\nبے زار زندگی سے ہیں پیر و جواں سبھی\nالطاف شہر یار کے ہیں نوحہ خواں سبھی\n\nماتھے پہ سخت کوشئ پیہم کی داستاں\nآنکھوں میں حزن و یاس کی گھنگھور بدلیاں\nچہروں پہ تازیانۂ افلاس کے نشاں\nہر ہر ادا سے بھوک کی بیتابیاں عیاں\nپیسہ اگر ملے تو حمیت بھی بیچ دیں\nروٹی کا آسرا ہو تو عزت بھی بیچ دیں\n\nاٹھے ہیں جس کی گود سے آذر وہ قوم ہے\nتوڑے ہیں جس نے چرخ سے اختر وہ قوم ہے\nپلٹے ہیں جس نے دہر کے دفتر وہ قوم ہے\nپیدا کئے ہیں جس نے پیمبر وہ قوم ہے\nاب کیوں شریک حلقۂ نوع بشر نہیں\nانسان ہی تو ہیں یہ کوئی جانور نہیں\n\nآخر زمانہ ان کو ستائے گا کب تلک\nکب سے جلا رہا ہے جلائے گا کب تلک\nکب سے مٹا رہا ہے مٹائے گا کب تلک\nان کے لہو کو جوش نہ آئے گا کب تلک\nمایوسیوں کی تہہ میں جنوں خیزیاں بھی ہیں\nافلاس کی سرشت میں خونریزیاں بھی ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%AF%D9%88%D8%B4"} {"title": "خانۂ زنجیر کا پابند رہتا ہوں سدا", "poet_page": "مصنف:امانت لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خانۂ زنجیر کا پابند رہتا ہوں سدا\nگھر عبث ہو پوچھتے مجھ خانماں برباد کا\n\nعشق قد یار میں کیا ناتوانی کا ہے زور\nغش مجھے آیا جو سایہ پڑ گیا شمشاد کا\n\nخود فراموشی تمہاری غیر کے کام آ گئی\nیاد رکھیے گا ذرا بھولے سے کہنا یاد کا\n\nخط لکھا کرتے ہیں اب وہ یک قلم مجھ کو شکست\nپیچ سے دل توڑتے ہیں عاشق ناشاد کا\n\nعشق پیچاں کا چمن میں جال پھیلا دیکھ کر\nبلبلوں کو سرو پر دھوکا ہوا صیاد کا\n\nقامت جاناں سے کرتا ہے اکڑ کر ہم سری\nحوصلہ دیکھے تو کوئی سرو بے بنیاد کا\n\nبے زبانی میں امانتؔ کی وہ ہیں گل ریزیاں\nناطقہ ہو بند اے دل بلبل ناشاد کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B2%D9%86%D8%AC%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D8%AF%D8%A7"} {"title": "خاک تیرے فرق پر اے بے مروت آسماں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "خاک تیرے فرق پر اے بے مروت آسماں\nایک قطرہ آب کو ابن علی دیتا ہے جاں\nبھائی بیٹے اس کے مارے جاتے ہیں کیا کیا جواں\nکھول چشم مہر و مہ پھر وقت ملتا ہے کہاں\n\nآنکھیں ہیں طالع ستارے پر نہیں تجھ کو نظر\nہاتھ دھلوا ایسے مہماں کے سعادت جان کر\nہو سکے تو صرف کر مقدور اس کا پانی بھر\nآگیا ہے ساقی کوثر کا نورچشم یاں\n\nجان سے جب ہاتھ دھو بیٹھے گا یہ تب کیا حصول\nفائدہ جو تشنہ لب دریا کنارے ہو ملول\nاب بھی ہے وقت مروت شاد کر روح رسولؐ\nورنہ اس خورشید کے ڈوبے سیہ ہوگا جہاں\n\nگھر سیاہ اپنے کریں گے اس عزا میں سب امیر\nاس کے ماتم میں بہت سے لوگ ہوویں گے فقیر\nسینہ کوبی کرتے کوچوں میں پھریں گے خرد و پیر\nعورتیں بے تاب نکلیں گی گھروں سے موفشاں\n\nگریہ و زاری پہ رکھیں گے خردمنداں اساس\nجامۂ آبی مقرر ہوگا ہر اک کا لباس\nناخنوں سے لوگوں کے چہرے نچیں گے بے قیاس\nپتھروں سے سر کو دے دے ماریں گے خرد و کلاں\n\nجمع نسواں موپریشاں سینہ کوباں دل کباب\nاپنے کاکل کی طرح غصے سے سب پرپیچ و تاب\nیک دل و غم بے حد و یک جان و رنجش بے حساب\nایک لب سو شوروشیں نوحے ہزاروں یک زباں\n\nنعل سینوں پر جڑیں گے اور سر پھوڑیں گے لوگ\nکھینچیں گے کتنے الف داغ اور کتنے لیں گے جوگ\nدیر اس ماتم سرا میں رکھیں گے اس شہ کا سوگ\nحلقہ حلقہ لوگ ہوں گے نوحہ ہوگا درمیاں\n\nسود اپنا دیکھ کر اقدام کر خدمت کے بیچ\nنیک نامی سے ہو تا مشہور تو خلقت کے بیچ\nہو شریک رنج اس کا یعنی اس محنت کے بیچ\nورنہ کیا ہے نفع کھینچے گا جو یہ جی کا زیاں\n\nکر مروت رنج و غم سے اس مسافر کو نکال\nحاصل اس دم کیا ہے جس دم قطع ہو جاویں نہال\nگل جھڑیں بوٹے کٹیں غنچے ہوں یکسر پائمال\nخاک سی اس باغ کی دیوے اڑا باد خزاں\n\nیعنی اس کے اقربا خویش و پسر مر جائیں گے\nتنگ ہو ناچار سر میدان میں کٹوائیں گے\nناتواں سجاد ہی کو سب کی جاگہ پائیں گے\nسو گلے میں اس کے طوق آہنیں ہوگا گراں\n\nیار و انصار اس کے مارے جائیں گے یک بارگی\nہوگی اس جمع معزز میں عجب آوارگی\nاترے گا گھوڑے سے وہ زخمی بصد بے چارگی\nہوگا سر نیزے پہ جوں خورشید حشر اس کا عیاں\n\nقافلہ لوٹا ہوا ناچار ہوگا گرم راہ\nڈبڈبائیں سب کی آنکھیں زیر لب فریاد و آہ\nدل شکستہ دست بستہ جان کی حالت تباہ\nآگے آگے عابدیں بے یاور و بے مہرباں\n\nموند کر آنکھیں جو یہ سید گیا جی سے گذر\nتو فسانہ یہ رہا جب تک کہ ہے نوع بشر\nعاقبت سے کچھ نہیں اس کام کی تجھ کو خبر\nتا قیامت چشم پوشی تیری ہووے گی بیاں\n\nماتمی سارے کہیں گے اے فلک یہ کیا کیا\nکنبہ اس کا مار کر سارا اسے تنہا کیا\nپھر یہ ہنگامہ سر بیکس پہ کیا برپا کیا\nجس سے وہ جی دے گیا ہے غم کدہ یہ خاکداں\n\nالغرض شاکی رہیں گے تعزیہ دار امام\nمرثیہ میں میرؔ کے تیرے گلے ہوں گے تمام\nکرتے شیون منھ تری جانب کریں گے خاص و عام\nدیکھیں گے تیری طرف سر پیٹتے پیر و جواں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%81%D8%B1%D9%82_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%85%D8%B1%D9%88%D8%AA_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA"} {"title": "خاک جینا ہے اگر موت سے ڈرنا ہے یہی", "poet_page": "مصنف:محمد علی جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خاک جینا ہے اگر موت سے ڈرنا ہے یہی\nہوس زیست ہو اس درجہ تو مرنا ہے یہی\n\nقلزم عشق میں ہیں نفع و سلامت دونوں\nاس میں ڈوبے بھی تو کیا پار اترنا ہے یہی\n\nقید گیسو سے بھلا کون رہے گا آزاد\nتیری زلفوں کا جو شانوں پہ بکھرنا ہے یہی\n\nاے اجل تجھ سے بھی کیا خاک رہے گی امید\nوعدہ کر کے جو ترا روز مکرنا ہے یہی\n\nاور کس وضع کے جویا ہیں عروسان بہشت\nہیں کفن سرخ شہیدوں کا سنورنا ہے یہی\n\nحد ہے پستی کی کہ پستی کو بلندی جانا\nاب بھی احساس ہو اس کا تو ابھرنا ہے یہی\n\nتجھ سے کیا صبح تلک ساتھ نبھے گا اے عمر\nشب فرقت کی جو گھڑیوں کا گزرنا ہے یہی\n\nہو نہ مایوس کہ ہے فتح کی تقریب شکست\nقلب مومن کا مری جان نکھرنا ہے یہی\n\nنقد جاں نذر کرو سوچتے کیا ہو جوہرؔ\nکام کرنے کا یہی ہے تمہیں کرنا ہے یہی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D9%88%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DA%88%D8%B1%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81%DB%8C"} {"title": "خاک عاشق ہے جو ہووے ہے نثار دامن", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خاک عاشق ہے جو ہووے ہے نثار دامن\nاے مری جان تو مت جھاڑ غبار دامن\n\nدوستو مجھ کو نہ دو سیر چمن کی تکلیف\nاشک ہی بس ہے مرا باغ و بہار دامن\n\nسرخ جامہ پہ نہیں تیرے کناری کی چمک\nبرق اس ابر میں ہوتی ہے نثار دامن\n\nدیکھتا کیا ہے گریباں کہ جنون سے ناصح\nیاں تو ثابت نہ رہا ایک بھی تار دامن\n\nآستیں تک تو کہاں اس کے رسائی بیدارؔ\nدسترس مجھ کو نہیں تا بہ کنار دامن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86"} {"title": "خاک میں مل کے ہم آغوش بقا ہو جانا", "poet_page": "مصنف:سید واجد علی فرخ بنارسی", "kind": "poetry", "section": "غزل > تجلیات فرخ (1930)", "year": "1930", "text_ur": "خاک میں مل کے ہم آغوش بقا ہو جانا\nعین ہستی ہے محبت میں فنا ہو جانا\n\nضبط کے بعد دکھانا ہے انہیں رنگ اثر\nاے مری آہ غریبوں کی دعا ہو جانا\n\nامتحان کشش حسن ہے اے برق جمال\nچاہتا ہوں ترے جلوؤں میں فنا ہو جانا\n\nکون منت کش عیسیٰ ہو پئے چارہ گری\nتو ہی اے درد جگر بڑھ کے دوا ہو جانا\n\nتشنۂ لذت ایذا طلبی ہیں چھالے\nخلش خار جنوں اور سوا ہو جانا\n\nعبرت انگیز ہے نظارۂ انجام حباب\nبحر ہستی میں ابھرنا ہے فنا ہو جانا\n\nداد دیتا روش ناز کی کون اے فرخؔ\nان کا اٹھنا ہی تھا اک حشر بپا ہو جانا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%BA%D9%88%D8%B4_%D8%A8%D9%82%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "خاک نمناک اور تابندہ نجوم", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "خاک نمناک اور تابندہ نجوم\nہیں ایک ہی قانون کے یکسر محکوم\nیکسانیٔ قانون کہے دیتی ہے\nلا ریب کہ ہے ایک ہی رب قیوم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D9%85%D9%86%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%81_%D9%86%D8%AC%D9%88%D9%85"} {"title": "خاک کر ڈالیں ابھی چاہیں تو مے خانہ کو ہم", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "خاک کر ڈالیں ابھی چاہیں تو مے خانہ کو ہم\nایک ساغر کو بھرو تم ایک پیمانے کو ہم\n\nمجھ سے ہم آغوش ہو کر یوں کہا اور سچ کہا\nہوشیار اس طرح کر دیتے ہیں دیوانے کو ہم\n\nنزع میں آئے ہیں صد افسوس جیتے جی نہ آئے\nوہ ہیں آنے کو تو اب تیار ہیں جانے کو ہم\n\nبے نتیجہ ان پہ مرنا یاد آتا ہے ہمیں\nشمع پر جب دیکھتے ہیں مرتے پروانے کو ہم\n\nکوہ کن اور قیس کی قبروں سے آتی ہے صدا\nکیا مکمل کر گئے الفت کے افسانے کو ہم\n\nایک پتا بھی نہیں ہلتا بجز حکم خدا\nکس طرح آباد کر لیں اپنے ویرانے کو ہم\n\nایک دن یہ ہے کہ ہیں اک شمع رو پر خود نثار\nایک دن وہ تھا برا کہتے تھے پروانے کو ہم\n\nابرووں نے سچ کہا اس کے اشارہ کی ہے دیر\nدیکھتے بالکل نہیں پھر اپنے بیگانے کو ہم\n\nجان جائے یا رہے اس کو سنائیں گے ضرور\nقیس کے پردہ میں پرویںؔ اپنے افسانے کو ہم", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%D8%B1_%DA%88%D8%A7%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85"} {"title": "خاک کرتی ہے برنگ چرخ نیلی فام رقص", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خاک کرتی ہے برنگ چرخ نیلی فام رقص\nہر دو عالم کو ترا رکھتا ہے بے آرام رقص\n\nدیکھیے پیری کا حال اور دیکھیے ریش سفید\nشیخ صاحب نا مناسب ہے یہ بے ہنگام رقص\n\nابلق چشم بتاں کی شوخیاں چکرا گئیں\nآسماں پر مہر و مہ کرتے ہیں صبح و شام رقص\n\nہو حقیقی یا مجازی عشق کی حالت نہ پوچھ\nخانقہ میں مے ہے اور مے خانہ میں بدنام رقص\n\nصومعہ میں وجہ صد تحسیں ہوا صوفی کا حال\nمے کدہ میں آن کر کیوں ہو گیا بدنام رقص\n\nنرگس مخمور جاناں ڈال دیتی گر نگاہ\nمردم چشم بتاں کی طرح کرتا جام رقص\n\nعاشقاں ابروئے بت کی ہے طاعت اضطراب\nتھی نماز اہل حرم جب تک نہ تھا اسلام رقص\n\nگرد پھرتا ہوں جو اس بر کے تو واعظ کیا ہوا\nطوف میں کرتا ہے تو بھی باندھ کر احرام رقص\n\nبحر میں گرداب ہے اور دشت میں ہے گرد باد\nخشک و تر میں ہے تری شوخی سے اے گلفام رقص\n\nشوخ نے برہم نظام محفل امکاں کیا\nخاک نے چھیڑا ہے گردوں نے لیا ہے تھام رقص\n\nپائمال غم پسے جاتے ہیں سرمے کی طرح\nلے اڑی کس کے قدم سے گردش ایام رقص\n\nتیری شوخی سے تری رفتار سے اے رشک باغ\nچوکڑی بھولا ہرن طاؤس گل اندام رقص\n\nعیش جاوید ان کو حاصل ہے جو ہیں تیری طرف\nطائر قبلہ نما کرتا ہے صبح و شام رقص", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D9%86%DB%8C%D9%84%DB%8C_%D9%81%D8%A7%D9%85_%D8%B1%D9%82%D8%B5"} {"title": "خاک ہند", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے خاک ہند تیری عظمت میں کیا گماں ہے\nدریائے فیض قدرت تیرے لیے رواں ہے\n\nتیرے جبیں سے نور حسن ازل عیاں ہے\nاللہ رے زیب و زینت کیا اوج عز و شاں ہے\n\nہر صبح ہے یہ خدمت خورشید پر ضیا کی\nکرنوں سے گوندھتا ہے چوٹی ہمالیا کی\n\nاس خاک دل نشیں سے چشمے ہوئے وہ جاری\nچین و عرب میں جن سے ہوتی تھی آبیاری\n\nسارے جہاں پہ جب تھا وحشت کا ابر طاری\nچشم و چراغ عالم تھی سر زمیں ہماری\n\nشمع ادب نہ تھی جب یوناں کی انجمن میں\nتاباں تھا مہر دانش اس وادی کہن میں\n\nگوتمؔ نے آبرو دی اس معبد کہن کو\nسرمدؔ نے اس زمیں پر صدقے کیا وطن کو\n\nاکبرؔ نے جام الفت بخشا اس انجمن کو\nسینچا لہو سے اپنے راناؔ نے اس چمن کو\n\nسب سوربیر اپنے اس خاک میں نہاں ہیں\nٹوٹے ہوئے کھنڈر ہیں یا ان کی ہڈیاں ہیں\n\nدیوار و در سے اب تک ان کا اثر عیاں ہے\nاپنی رگوں میں اب تک ان کا لہو رواں ہے\n\nاب تک اثر میں ڈوبی ناقوس کی فغاں ہے\nفردوس گوش اب تک کیفیت اذاں ہے\n\nکشمیر سے عیاں ہے جنت کا رنگ اب تک\nشوکت سے بہہ رہا ہے دریائے گنگ اب تک\n\nاگلی سی تازگی ہے پھولوں میں اور پھلوں میں\nکرتے ہیں رقص اب تک طاؤس جنگلوں میں\n\nاب تک وہی کڑک ہے بجلی کی بادلوں میں\nپستی سی آ گئی ہے پر دل کے حوصلوں میں\n\nگل شمع انجمن ہے گو انجمن وہی ہے\nحب وطن وہی ہے خاک وطن وہی ہے\n\nبرسوں سے ہو رہا ہے برہم سماں ہمارا\nدنیا سے مٹ رہا ہے نام و نشاں ہمارا\n\nکچھ کم نہیں اجل سے خواب گراں ہمارا\nاک لاش بے کفن ہے ہندوستان ہمارا\n\nعلم و کمال و ایماں برباد ہو رہے ہیں\nعیش و طرب کے بندے غفلت میں سو رہے ہیں\n\nاے صور حب قومی اس خواب سے جگا دے\nبھولا ہوا فسانہ کانوں کو پھر سنا دے\n\nمردہ طبیعتوں کی افسردگی مٹا دے\nاٹھتے ہوئے شرارے اس راکھ سے دکھا دے\n\nحب وطن سمائے آنکھوں میں نور ہو کر\nسر میں خمار ہو کر دل میں سرور ہو کر\n\nشیدائے بوستاں کو سرو و سمن مبارک\nرنگیں طبیعتوں کو رنگ سخن مبارک\n\nبلبل کو گل مبارک گل کو چمن مبارک\nہم بے کسوں کو اپنا پیارا وطن مبارک\n\nغنچے ہمارے دل کے اس باغ میں کھلیں گے\nاس خاک سے اٹھے ہیں اس خاک میں ملیں گے\n\nہے جوئے شیر ہم کو نور سحر وطن کا\nآنکھوں کی روشنی ہے جلوہ اس انجمن کا\n\nہے رشک مہر ذرہ اس منزل کہن کا\nتلتا ہے برگ گل سے کانٹا بھی اس چمن کا\n\nگرد و غبار یاں کا خلعت ہے اپنے تن کو\nمر کر بھی چاہتے ہیں خاک وطن کفن کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D9%86%D8%AF"} {"title": "خاک ہوں اعتبار کی سوگند", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خاک ہوں اعتبار کی سوگند\nمضطرب ہوں قرار کی سوگند\n\nمثل آئینہ پاک بازی میں\nصاف دل ہوں غبار کی سوگند\n\nحوض کوثر سیں پیاس بجھتی نہیں\nاوس لب آب دار کی سوگند\n\nمعتبر نہیں جمال ظاہر کا\nگردش روزگار کی سوگند\n\nزندگی اے سراجؔ ماتم ہے\nمجھ کوں شمع مزار کی سوگند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D9%88%DA%AF%D9%86%D8%AF"} {"title": "خاکساری سے جو غافل دل غماز ہوا", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خاکساری سے جو غافل دل غماز ہوا\nخاک کے پردے میں پوشیدہ مرا راز ہوا\n\nلے گیا خط جو کبوتر کی طرح طائر دل\nزلف کے جال میں پھنستے ہی گرہ باز ہوا\n\nساز کے پردے میں کی تو نے حکومت سب پر\nنئے قانون سے تیار ترا ساز ہوا\n\nحیرتی فصل چمن میں ہوئی سرسبز ایسی\nسبزہ رخسارۂ تصویر سے آغاز ہوا\n\nرات شرما کے ترے بالوں سے روپوش ہوئی\nزاغ شب کے لئے گیسو پر پرواز ہوا\n\nکوٹھے پر چہرۂ پر نور دکھایا سر شام\nیار سے رجعت خورشید کا اعجاز ہوا\n\nچمن دہر میں تھے دیدۂ عنقا نرگس\nجب سے میں شیفتۂ چشم فسوں ساز ہوا\n\nصفت آبلہ مینائے فلک ٹوٹ گیا\nکیا قیامت تری رفتار کا انداز ہوا\n\nجب ہوا محو ادا باغ میں وہ خسرو حسن\nپھولوں کے عکس سے گلگوں فرس ناز ہوا\n\nآپ منہ دیکھنے کو آئینۂ دل مانگا\nتصفیہ اس بت کافر سے خدا ساز ہوا\n\nعرصۂ دہر میں باندھا جو طلسم الفت\nدشمن جاں فلک شعبدہ پرداز ہوا\n\nجان لیتا ہے تری تیر نگہ سے سب کی\nاے پری پیک قضا بھی قدر انداز ہوا\n\nسنبل آہ ہوا طرۂ شمشاد بہشت\nہم بغل مجھ سے جو وہ سرو سرافراز ہوا\n\nاس سے کچھ کہہ کے مجھے ذبح کیا باتوں میں\nتیز تر تیغ اجل سے لب غماز ہوا\n\nلوگ کرتے ہیں کمال رخ زیبا کا وصف\nخلق کو یاد ترا مصحف اعجاز ہوا\n\nاے مغنی دل ناداں نکل آیا باہر\nآج بے پردہ زمانہ میں ترا ساز ہوا\n\nروز فرقت نے کیا طائر دل کو ہیجان\nگل خورشید مجھے جنگل شہباز ہوا\n\nبوسہ مانگا نہ گیا ہونٹوں کا اے رشک پری\nرنگ مسی کا مجھے سرمۂ آواز ہوا\n\nنشۂ غمزہ و انداز سے سرشار ہوں میں\nکاسۂ عمر رواں جام مے ناز ہوا\n\nتر دماغی جو بڑھے نشۂ معنی کی منیرؔ\nکاسۂ سر مجھے جام مے شیراز ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D8%BA%D9%85%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "خبر", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بیل نے گائے کا منہ چوما خبر بن نہ سکی\nدیکھنے والوں کو عرفان نظر ہو نہ سکا\nگھوڑے نے گھوڑی کا منہ چوما خبر بن نہ سکی\nہنہنایا پہ کوئی اہل خبر ہو نہ سکا\nیہ خبر ہے کہ سر راہ کسی لڑکی کو\nچومتا پکڑا گیا ایک شرابی لڑکا\nوہیں قانون کی زنجیر گراں طوق بنی\nوہیں اخبار کی سرخی نے انہیں جا پکڑا\n\nمیں یہی سوچ رہا تھا کہ سر شام مجھے\nجاتے سورج کے بھی اطوار کچھ ایسے ہی ملے\nاس کا منہ زرد تھا احساس جدائی ہوگا\nاس نے اک بدلی کا منہ چوم لیا چپکے سے\nدفعتاً بدلی کا منہ سرخ ہوا اور حیا\nدوڑی خوں بن کے رگ و پے میں کہ گلنار ہوئی\nاس کے دامن پہ چھلک اٹھے ستارے آنسو\nاور سورج کی طرح خود بھی وہیں ڈوب گئی\nوہی تارے تھے مگر رات کے اخبار فروش\nیہ خبر شام سے ہی سارے فلک پر پہنچی\nپہلے تو لاکھوں دریچوں سے نگہباں جھانکے\nچاندنی چھٹکی تو پھر چاند نے کی رکھوالی\nصبح دم نیند کے ماتے تھے سبھی اہل فلک\nسورج آیا تو کسی کو نہ رہا اس کا خیال\nوہی بدلی تھی افق پر وہی عنوان حیا\nدونوں تکتے رہے مبہوت نگاہوں سے جمال\nپھر محبت نے کیا ثبت سلام رنگیں\nسرخ بدلی کا لہو دوڑ گیا چار طرف\nدونوں خوش تھے انہیں معلوم تھا آزاد ہیں وہ\nان کا ملنا نہیں انساں کی نگاہوں کا ہدف\nمیں نے دیکھی ہے مگر دونوں کی یہ گستاخی\nمیں خبر دیتا ہوں اخبار کو دیکھو تو سہی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A8%D8%B1"} {"title": "خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی\nنہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی\n\nشہ بے خودی نے عطا کیا مجھے اب لباس برہنگی\nنہ خرد کی بخیہ گری رہی نہ جنوں کی پردہ دری رہی\n\nکبھی سمت غیب سیں کیا ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا\nمگر ایک شاخ نہال غم جسے دل کہو سو ہری رہی\n\nنظر تغافل یار کا گلہ کس زباں سیں بیاں کروں\nکہ شراب صد قدح آرزو خم دل میں تھی سو بھری رہی\n\nوو عجب گھڑی تھی میں جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا\nکہ کتاب عقل کی طاق پر جوں دھری تھی تیوں ہی دھری رہی\n\nترے جوش حیرت حسن کا اثر اس قدر سیں یہاں ہوا\nکہ نہ آئینہ میں رہی جلا نہ پری کوں جلوہ گری رہی\n\nکیا خاک آتش عشق نے دل بے نوائے سراجؔ کوں\nنہ خطر رہا نہ حذر رہا مگر ایک بے خطری رہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%D8%AD%DB%8C%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%D9%86_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%8C"} {"title": "خبر لیایا ہے ہدہد میرے تئیں اس یار جانی کا", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خبر لیایا ہے ہدہد میرے تئیں اس یار جانی کا\nخوشی کا وقت ہے ظاہر کروں راز نہانی کا\n\nمرے جیو آرسی میں خیال تج مکھ کا سو دستا ہے\nکرے او خیال منج دل میں نشانی زر فشانی کا\n\nچتا ہو عشق کے جنگل میں بیٹھا ہے دری لے کر\nلیا ہے جھانپ سوں آہو نمن دل منج ایانی کا\n\nخدا کا شکر ہے تج سلطنت تھے کام پایا ہوں\nدندی دشمن کے مکھ پر پیوتا مئے ارغوانی کا\n\nچھبیلے مست ساقی کے پچھیں دوڑے سو مخموراں\nپلاوو مئے ہوا اب تو ہوا ہے گل فشانی کا\n\nہمیں ہیں عشق کے پنتھ میں دونو عالم تھے بے پروا\nلگیا ہے داغ منج دل پر اس ہندوستانی کا\n\nپڑے دنبال میں میرے سو اس نیناں کے دنبالے\nخدایا عشق مشکل ہے بھرم رکھ توں معانی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%84%DB%8C%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%AF%DB%81%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "خبر نہیں کئی دن سے وہ دق ہے یا خوش ہے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خبر نہیں کئی دن سے وہ دق ہے یا خوش ہے\nخوشی تبھی ہو کہ جب سن لوں دل ربا خوش ہے\n\nذرا بھی بگڑے تو بگڑے زمانہ سب مجھ سے\nخوشی ہے وہ تو ہر اک دوست آشنا خوش ہے\n\nپڑا ہوں جب سے کہ بیمار ہو کے میں گھر میں\nہر ایک غیر عداوت سے پھرتا کیا خوش ہے\n\nمگر ہے اس کی عنایت تو غم نہیں کچھ بھی\nوہ مجھ سے خوش رہے بس پھر تو دل مرا خوش ہے\n\nمیں ایک غم نہیں سو جان پر اٹھا لوں گا\nمرے ستانے سے کہہ دے کہ دل ترا خوش ہے\n\nسبب تو کچھ نہیں معلوم ہائے کیا میں کروں\nوہ آپ ہی آپ کئی دن سے مجھ سے ناخوش ہے\n\nوہ بات کون سی ہے جو نہیں سمجھتے ہم\nفریب دے کے ہمیں کیوں تو بے وفا خوش ہے\n\nنظامؔ کون سا دن ہو جو واں پہ جاؤں میں\nکہیں وہ ہنس کے مزاج اب تو آپ کا خوش ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%82_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%DB%81%DB%92"} {"title": "خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں\nاداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں\n\nنظر نظر سے نکلتی ہے درد کی ٹیسیں\nقدم قدم پہ وہ کانٹے چبھے ہیں پاؤں میں\n\nہر ایک سمت سے اڑ اڑ کے ریت آتی ہے\nابھی ہے زور وہی دشت کی ہواؤں میں\n\nغموں کی بھیڑ میں امید کا وہ عالم ہے\nکہ جیسے ایک سخی ہو کئی گداؤں میں\n\nابھی ہے گوش بر آواز گھر کا سناٹا\nابھی کوشش ہے بڑی دور کی صداؤں میں\n\nچلے تو ہیں کسی آہٹ کا آسرا لے کر\nبھٹک نہ جائیں کہیں اجنبی فضاؤں میں\n\nدھواں دھواں سی ہے کھیتوں کی چاندنی باقیؔ\nکہ آگ شہر کی اب آ گئی ہے گاؤں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%A7%DA%91%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%92_%DA%AF%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ختم اس طرح نزاع حق و باطل ہو جائے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ختم اس طرح نزاع حق و باطل ہو جائے\nاک طرف دونوں جہاں ایک طرف دل ہو جائے\n\nدل میں وہ شورش جذبات وہ گرمی نہ رہی\nاب یہ شاید نگہ دوست کے قابل ہو جائے\n\nجانتا ہوں کہ وفا جی سے گزرنا ہے مگر\nیوں نہ دے طعن کہ جینا مجھے مشکل ہو جائے\n\nدو جہاں ترک محبت میں کئے تیرے لئے\nاور بیزار جو تجھ سے بھی مرا دل ہو جائے\n\nقدر انساں ہے ابھی بزم عدم میں سیمابؔ\nکیوں وہ دنیا میں رہے جو کسی قابل ہو جائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AA%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%86%D8%B2%D8%A7%D8%B9_%D8%AD%D9%82_%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%84_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی\nجوش نشاط ہو چکا صوت ہزار ہو چکی\n\nرنگ بنفشہ مٹ گیا سنبل تر نہیں رہا\nصحن چمن میں زینت نقش و نگار ہو چکی\n\nمستی لالہ اب کہاں اس کا پیالہ اب کہاں\nدور طرب گزر گیا آمد یار ہو چکی\n\nرت وہ جو تھی بدل گئی آئی بس اور نکل گئی\nتھی جو ہوا میں نکہت مشک تتار ہو چکی\n\nاب تک اسی روش پہ ہے اکبرؔ مست و بے خبر\nکہہ دے کوئی عزیز من فصل بہار ہو چکی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AA%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D9%86%DB%92_%D8%B1%D9%82%D8%B5_%DA%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81_%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ختم ہوگا اب سفر پیش نظر ہے روئے دوست", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ختم ہوگا اب سفر پیش نظر ہے روئے دوست\nآ رہی ہے آج کی منزل سے مجھ کو بوئے دوست\n\nآگے آگے حسرتیں اور پیچھے پیچھے میں چلا\nاس طرح گھر سے نکل کر جا رہا ہوں سوئے دوست\n\nپہلے تو دل نے جگر کی جان ناقدری سے لی\nڈھونڈھتا پھرتا ہے عالم بھر میں اب پہلوئے دوست\n\nواہ ری قسمت کہ گردوں پر سحر ہونے لگی\nگو پڑے تھے میرے بازو پر ابھی گیسوئے دوست\n\nخود بخود میری رگ گردن پھڑک اٹھتی ہے آج\nکر رہا ہے کوئی ذکر قوت بازوئے دوست\n\nلفظ جو دل کی طلب میں تھا وہ بالکل سحر تھا\nباتوں ہی باتوں میں مجھ پر چل گیا جادوئے دوست\n\nکوئی دیوانہ چلا ہے حشر میں اس وضع سے\nچاک تا دامن گریباں منہ پہ خاک کوئے دوست\n\nدل سے مجھ کو صاف صاف آخر یہ کہہ دینا پڑا\nاب وہی سختی بھی جھیلے جو بگاڑے خوئے دوست\n\nہو اگر زندہ تم اے عالمؔ تو اب ہشیار ہو\nکب تلک سویا کرو گے تھک گیا زانوئے دوست", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%D8%B4_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA"} {"title": "خجستہ انجمن طوے میرزا جعفر", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "خجستہ انجمن طوے میرزا جعفر\nکہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ\nہوئی ہے ایسے ہی فرخندہ سال میں غالبؔ\nنہ کیوں ہو مادۂ سال عیسوی محظوظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AC%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D8%B7%D9%88%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%B2%D8%A7_%D8%AC%D8%B9%D9%81%D8%B1"} {"title": "خجلت سے مرا جاتا ہوں کیا زندہ ہوں", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "خجلت سے مرا جاتا ہوں کیا زندہ ہوں\nاعمال سے اپنے سخت شرمندہ ہوں\nساحر ہوں مرا حشر نہ جانے کیا ہو\nزشتی میں سیہ تاب سا تابندہ ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AC%D9%84%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "خدا اثر سے بچائے اس آستانے کو", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا اثر سے بچائے اس آستانے کو\nدعا چلی ہے مری قسمت آزمانے کو\n\nنہ پوچھئے کہ محبت میں مجھ پہ کیا گزری\nنہ چھیڑئیے مرے بھولے ہوئے فسانے کو\n\nیہ شعبدے یہ کرشمے کسے میسر تھے\nتری نگاہ نے سکھلا دیئے زمانے کو\n\nچمن میں برق نے جھانکا کہ ہم لرز اٹھے\nاب اس سے آگ ہی لگ جائے آشیانے کو\n\nخیال یار بھی کھویا ہوا سا رہتا ہے\nاب ان کی یاد بھی آتی ہے بھول جانے کو\n\nنگاہ لطف نہ فرما نگاہ ناز کے بعد\nجگر میں آگ لگا کر نہ آ بجھانے کو\n\nزمانہ بر سر آزار تھا مگر فانیؔ\nتڑپ کے ہم نے بھی تڑپا دیا زمانے کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%A2%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88"} {"title": "خدا بھی طرف دار نکلا تمہارا", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا بھی طرف دار نکلا تمہارا\nیہ جھگڑا چکا اب ہمارا تمہارا\n\nبتو شوق دیدار سے سر نہ چڑھنا\nنظارا کسی کا تماشا تمہارا\n\nبڑے با حیا اور پردہ نشیں ہو\nہے ہر کو و برزن میں چرچا تمہارا\n\nعلو میں ہی جھوٹا ہوں پیماں شکن ہوں\nنہیں اب تو کچھ مجھ سے شکوہ تمہارا\n\nدل آئے نہ کیوں کیوں نہ ایمان جائے\nیہ صورت تمہاری یہ غمزہ تمہارا\n\nدل و جان کیفیؔ ہے قربان تم پر\nنہیں اس سے انکار زیبا تمہارا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "خدا جانے کہاں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا جانے کہاں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سے\nکہ اس کو ڈھونڈھتے ہیں کعبہ و بت خانہ برسوں سے\n\nتڑپنا ہے نہ جلنا ہے، نہ جل کر خاک ہونا ہے\nیہ کیوں سوئی ہوئی ہے فطرت پروانہ برسوں سے\n\nکوئی ایسا نہیں یا رب کہ جو اس درد کو سمجھے\nنہیں معلوم کیوں خاموش ہے دیوانہ برسوں سے\n\nکبھی سوز تجلی سے اسے نسبت نہ تھی گویا\nپڑی ہے اس طرح خاکستر پروانہ برسوں سے\n\nترے قربان ساقی اب وہ موج زندگی کیسی\nنہیں دیکھی ادائے لغزش مستانہ برسوں سے\n\nمری رندی عجب رندی مری مستی عجب مستی\nکہ سب ٹوٹے پڑے ہیں شیشہ و پیمانہ برسوں سے\n\nحسینوں پر نہ رنگ آیا نہ پھولوں میں بہار آئی\nنہیں آیا جو لب پر نغمۂ مستانہ برسوں سے\n\nکھلی آنکھوں سے ہوں حسن حقیقت دیکھنے والا\nہوئی لیکن نہ توفیق در بت خانہ برسوں سے\n\nلباس زہد پر پھر کاش نذر آتش صہبا\nکہاں کھوئی ہوئی ہے جرأت رندانہ برسوں سے\n\nجسے لینا ہو آ کر اس سے اب درس جنوں لے لے\nسنا ہے ہوش میں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B5%D8%BA%D8%B1%D8%94_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "خدا جب تک نہ چاہے آدمی سے کچھ نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:مخمور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا جب تک نہ چاہے آدمی سے کچھ نہیں ہوتا\nمجھے معلوم ہے میری خوشی سے کچھ نہیں ہوتا\n\nمحبت جذبۂ ایثار سے پروان چڑھتی ہے\nخلوص دل نہ ہو تو دوستی سے کچھ نہیں ہوتا\n\nوہاں تیرا کرم تیرا بھروسہ کام آتا ہے\nجہاں مجبور ہو کر آدمی سے کچھ نہیں ہوتا\n\nضیائے شمس بھی موجود ہے نور قمر بھی ہے\nبصیرت ہی نہ ہو تو روشنی سے کچھ نہیں ہوتا\n\nغرض تیرے سوا ہر ایک کو مجبور پاتا ہوں\nبھروسہ جس پہ کرتا ہوں اسی سے کچھ نہیں ہوتا\n\nخود اپنے حال سے الجھے ہوئے ہیں تیرے دیوانے\nہنسے جائے زمانے کی ہنسی سے کچھ نہیں ہوتا\n\nمحبت بد گماں ہو جائے تو زندہ نہیں رہتی\nاثر دل پر تمہاری بے رخی سے کچھ نہیں ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D9%86%DB%81_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "خدا خدا کر کے آئے بھی وہ تو منہ لپیٹے پڑے ہوئے ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "خدا خدا کر کے آئے بھی وہ تو منہ لپیٹے پڑے ہوئے ہیں\nنہ کہتے ہیں کچھ نہ سنتے ہیں کچھ کسی سے جیسے لڑے ہوئے ہیں\n\nہزارہا منتیں کریں گے لپٹ کے قدموں پہ سر دھریں گے\nنہ جانے دیں گے نہ جانے دیں گے عبث وہ بگڑے کھڑے ہوئے ہیں\n\nسوال کرتے ہیں مجھ سے کیا کیا پئے خدا میرے راہ بر آ\nپڑا میں تکتا ہوں تیرا رستہ نکیر و منکر کھڑے ہوئے ہیں\n\nرہی جو ان سے تمہیں کدورت تو بڑھ گئی وحشیوں کی وحشت\nاڑائی اس درجہ خاک حسرت کمر کمر تک گڑے ہوئے ہیں\n\nادھر تو جینے سے ہم ہیں عاری ادھر منگاتے ہو تم سواری\nیہ کیسی ہیں گرمیاں تمہاری پھپھولے دل میں پڑے ہوئے ہیں\n\nفریبی آنکھیں رسیلی چتون ادا اشارہ نگاہ رہزن\nیہ اپنے دو تین ہیں جو دشمن نظر میں انجم تڑے ہوئے ہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%84%D9%BE%DB%8C%D9%B9%DB%92_%D9%BE%DA%91%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خدا رکھے تجھے میری برائی دیکھنے والے", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا رکھے تجھے میری برائی دیکھنے والے\nوفاداری میں طرز بے وفائی دیکھنے والے\n\nسنبھل اب نالۂ دل کی رسائی دیکھنے والے\nقیامت ڈھائیں گے روز جدائی دیکھنے والے\n\nترے خنجر کو بھی تیری طرح حسرت سے تکتے ہیں\nتری نازک کمر نازک کلائی دیکھنے والے\n\nجھجک کر آئینہ میں عکس سے اپنے وہ کہتے ہیں\nیہاں بھی آ گئے صورت پرائی دیکھنے والے\n\nپلک جھپکی کہ دل غائب بغل خالی نظر آئی\nتری نظروں کی دیکھیں گے صفائی دیکھنے والے\n\nانہیں آنکھوں سے تو نے نیک و بد عالم کا دیکھا ہے\nادھر تو دیکھ اے ساری خدائی دیکھنے والے\n\nگرے غش کھا کے جب موسیٰ کہا برق تجلی نے\nقیامت تک نہ دے گا وہ دکھائی دیکھنے والے\n\nمری میت پہ بن آئی ہے ان کی سب سے کہتے ہیں\nوفاداروں کی دیکھیں بے وفائی دیکھنے والے\n\nنظر ملتی ہے پیچھے پہلے تنتی ہیں بھنویں ان کی\nکہاں تک دیکھے جائیں کج ادائی دیکھنے والے\n\nمٹا انکار تو حجت یہ نکلی منہ دکھانے میں\nکہ پہلے جمع کر دیں رونمائی دیکھنے والے\n\nکہاں تک روئیں قسمت کے لکھے کو بس الٹ پردہ\nتجھے دیکھیں گے اب تیری خدائی دیکھنے والے\n\nکبھی قدموں میں تھا اب ان کے دل میں ہے جگہ میری\nمجھے دیکھیں مقدر کی رسائی دیکھنے والے\n\nکوئی اتنا نہیں جو آ کے پوچھے ہجر میں بیخودؔ\nترا کیا حال ہے رنج جدائی دیکھنے والے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "خدا سے ظلم کا شکوہ ضرور میں نے کیا", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا سے ظلم کا شکوہ ضرور میں نے کیا\nبڑا قصور یہ اے رشک حور میں نے کیا\n\nکسی سے دل کا لگانا گناہ ہے ناصح\nجو یہ قصور ہے تو یہ قصور میں نے کیا\n\nوہ ذکر وعدۂ وصل عدو پہ کہتے ہیں\nضرور میں نے کیا بالضرور میں نے کیا\n\nترا خیال مرے دل میں آ نہیں سکتا\nکہ جس کو دور کیا اس کو دور میں نے کیا\n\nجناب نوحؔ زمانے کا اعتبار نہیں\nبرا کیا جو کسی سے غرور میں نے کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%B8%D9%84%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "خدا شاہد بتو دو جگ سے یہ سودا ہے نروالا", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا شاہد بتو دو جگ سے یہ سودا ہے نروالا\nمیں دو بادام چشم لطف پر دل بیچنے والا\n\nدونو عالم سے مشرب مست وحدت کا ہے نروالا\nمرے ایک ہاتھ میں تسبیح ہے اک ہاتھ میں پیالا\n\nنہیں اس سال وہ خونیں نین بھورے الک والا\nلگو لالا کو آگ اور ہو جو نا فرماں کا منہ کالا\n\nوہ شیریں لب کا بوسہ کیونکے چھوڑے مجھ سا متوالا\nکہ جوں لالہ بچھڑتے اس دہن سے داغ ہو پالا\n\nنہیں فارغ میں بعد از مرگ بھی سوز محبت سے\nمرا خوں دامن قاتل میں ہوگا داغ جوں لالا\n\nوہ نا فرماں بنا خون جگر سے مے نہ پی عزلت\nکباب دل کی بو آتی ہے ہر پیالے سے جوں لالا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D8%A8%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%88_%D8%AC%DA%AF_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "خدا علی گڑھ کی مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا علی گڑھ کی مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے\nبھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادے\n\nلطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرم\nطبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادے\n\nکمال محنت سے پڑھ رہے ہیں کمال غیرت سے بڑھ رہے ہیں\nسوار مشرق کی راہ میں ہیں تو مغربی راہ میں پیادے\n\nہر اک ہے ان میں کا بے شک ایسا کہ آپ اسے جانتے ہیں جیسا\nدکھائے محفل میں قد رعنا جو آپ آئیں تو سر جھکا دے\n\nفقیر مانگیں تو صاف کہہ دیں کہ تو ہے مضبوط جا کما کھا\nقبول فرمائیں آپ دعوت تو اپنا سرمایہ کل کھلا دے\n\nبتوں سے ان کو نہیں لگاوٹ مسوں کی لیتے نہیں وہ آہٹ\nتمام قوت ہے صرف خواندن نظر کے بھولے ہیں دل کی سادے\n\nنظر بھی آئے جو زلف پیچاں تو سمجھیں یہ کوئی پالسی ہے\nالکٹرک لائٹ اس کو سمجھیں جو برق وش کوئی کوئی دے\n\nنکلتے ہیں کر کے غول بندی بنام تہذیب و درد مندی\nیہ کہہ کے لیتے ہیں سب سے چندے ہمیں جو تم دو تمہیں خدا دے\n\nانہیں اسی بات پر یقین ہے کہ بس یہی اصل کار دیں ہے\nاسی سی ہوگا فروغ قومی اسی سے چمکیں گے باپ دادے\n\nمکان کالج کے سب مکیں ہیں ابھی انہیں تجربے نہیں ہیں\nخبر نہیں ہے کہ آگے چل کر ہے کیسی منزل ہیں کیسی جادے\n\nدلوں میں ان کے ہے نور ایماں قوی نہیں ہے مگر نگہباں\nہوائے منطق ادائے طفلی یہ شمع ایسا نہ ہو بجھا دے\n\nفریب دے کر نکالے مطلب سکھائے تحقیر دین و مذہب\nمٹا دے آخر کو وضع ملت نمود ذاتی کو گر بڑھا دے\n\nیہی بس اکبرؔ کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہے\nعلوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%DA%AF%DA%91%DA%BE_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AF%D8%B1%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%B6_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D9%81%D8%A7_%D8%AF%DB%92"} {"title": "خدا مرے دل پر خوں کو داغدار کرے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا مرے دل پر خوں کو داغدار کرے\nجو لالہ زار مری خاک سے بہار کرے\n\nمراد دل ہے یہی آرزوئے دل ہے یہی\nخدا مجھے تری الفت سے اشتہار کرے\n\nبنا ہے شیشۂ ساعت مرا دل نازک\nغبار خاطر یاراں کا تا شمار کرے\n\nفروتنی کے تصدق سے ہے سبک پرواز\nنہ سرکشی پہ شرر اپنی افتخار کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "خدا معلوم کس کی چاند سے تصویر مٹی کی", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا معلوم کس کی چاند سے تصویر مٹی کی\nجو گورستاں میں حسرت ہے گریباں گیر مٹی کی\n\nنوازی سرفرازی روح نے تصویر مٹی کی\nخوشا تالع خوشا قسمت خوشا تقدیر مٹی کی\n\nحقیقت میں عجائب شعبدہ پرداز دنیا ہے\nکہ جو انسان کی صورت تھا وہ ہے تصویر مٹی کی\n\nجسے رویا میں دیکھا تھا ملایا خاک میں اس نے\nمقدر نے ہمارے خواب کی تعبیر مٹی کی\n\nمزاروں میں دکھا کر استخواں حسرت یہ کہتی ہے\nکوئی پرساں نہیں ان کا یہ ہے توقیر مٹی کی\n\nیہ ناحق برہمی ہے خاکساروں کے غباروں سے\nخرابی آندھیوں نے کی ہے بے تقصیر مٹی کی\n\nوہ وحشی تھا کہ مر کے بھی نہ میدان جنوں چھوٹا\nمری میت رہی صحرا میں دامن گیر مٹی کی\n\nنہ لی تربت کو گلشن میں جگہ لی بھی تو صحرا میں\nریاضت سب ہماری تو نے اے تقدیر مٹی کی\n\nمرے صیاد نے جس جس جگہ تودہ بنایا تھا\nوہاں جا جا کے بو لیتے پھرے نخچیر مٹی کی\n\nازل کے روز سے غش ہیں جو انساں خاکساری پر\nسرشت ان کی ہے مٹی سے یہ ہے تاثیر مٹی کی\n\nیہ عالم ہو گیا ہے جمتے جمتے گرد صحرائی\nکہ مجنوں پوچھتا ہے کیا یہ ہے زنجیر مٹی کی\n\nہمارے خاک کے تودے کو نابود آ کے کر دیں گے\nنشانی بھی نہ چھوڑیں گے تمہارے تیر مٹی کی\n\nاجازت سے تمہاری گفتگو کی سنگریزوں نے\nبرابر سننے والوں نے سنی تقریر مٹی کی\n\nگلی میں یار کی ایسے ہوئے ہو گرد آلودہ\nکہ بالکل ہو گئے ہو اے شرفؔ تصویر مٹی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D9%B9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "خدا معلوم کیسا سحر تھا اس بت کی چتون میں", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا معلوم کیسا سحر تھا اس بت کی چتون میں\nچلے جاتی ہیں اب تک چشمکیں شیخ و برہمن میں\n\nچھپیں گے کیا اسیران بلا صحرا کے دامن میں\nمحبت دام کی پھر کھینچ کر لائے گی گلشن میں\n\nحجاب اٹھا زمیں سے آسماں تک چاندنی چھٹکی\nگہن میں چاند تھا جب تک چھپے بیٹھے تھے چلمن میں\n\nکنکھیوں سے جو ہم کو بزم میں تم دیکھ لیتے ہو\nکھٹک جاتے ہیں کانٹے کی طرح ہم چشم دشمن میں\n\nکنار آب جو بیٹھے ہیں مست نکہت ساغر\nنظر سوئے فلک اور ہاتھ ہے مینا کی گردن میں\n\nگلا گھٹنے لگا اب تنگ آیا ہوں گریباں سے\nجنوں نے واہ کیا پھانسی لگائی میری گردن میں\n\nبہت دست جنوں نے گدگدایا جب تو کیا کرتے\nاتاریں بیڑیاں اور پہنے دہرے طوق گردن میں\n\nبتاؤ سیر صحرا کی کوئی تدبیر وحشی کو\nگریباں میں تو ہاتھ الجھا پھنسا ہے پاؤں دامن میں\n\nملا دے خاک میں اے چرخ اس اجڑے ہوئے گھر کو\nکہ اپنی روح تک بے چین ہے اب خانۂ تن میں\n\nتھکے ماندے سفر کے سو رہے ہیں پاؤں پھیلائے\nیہ سب مر مر کے پہنچے ہیں بڑی مشکل سے مدفن میں\n\nجو ہر دم جھانکتے تھے روزن دیوار زنداں سے\nانہیں پھر چین آیا کس طرح تاریک مدفن میں\n\nکسے معلوم داغ آتشیں سے دل پہ کیا گزری\nسدھارے ٹھنڈے ٹھنڈے سونپ کر سب ہم کو مدفن میں\n\nکجا موسیٰ کجا مقصود سبحان الذی اسریٰ\nرگڑ کر ایڑیاں بس رہ گئے وادیٔ ایمن میں\n\nحجاب ناز بے جا یاسؔ جس دن بیچ میں آیا\nاسی دن سے لڑائی ٹھن گئی شیخ و برہمن میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D8%AA%D9%88%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خدا نما ہے بت سنگ آستانۂ عشق", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا نما ہے بت سنگ آستانۂ عشق\nچلوں گا پائے نگہ بن کے سوئے خانۂ عشق\n\nنہ کم ہوں سکۂ داغ دل یگانۂ عشق\nبھرا پڑا رہے یا رب سدا خزانۂ عشق\n\nجبین قیس بنی سنگ آستانۂ عشق\nجنوں ہے خیمۂ لیلےٰ سیاہ خانۂ عشق\n\nمدام دل میں رہے داغ الفت ساقی\nنہ بے چراغ ہو یا رب شراب خانۂ عشق\n\nیہ محفل طرب حسن ہے نہیں مقتل\nصدا گلوئے بریدہ کی ہے ترانۂ عشق\n\nیہ کہہ کے پھرتی ہے دن رات آسیائے فلک\nملے تو خرمن مہ دے کے لوں میں دانۂ عشق\n\nہے آفتاب پیالہ فرشتہ خو ساقی\nخم فلک ہے سبوئے شراب خانۂ عشق\n\nبس ایک ہاتھ میں دو ہو کے میں زمیں پہ گرا\nقضا جو آئی ادا ہو گیا دوگانۂ عشق\n\nہر ایک گام پہ دل پیستا ہے ابلق چشم\nمگر ہے سرمے کا دنبالہ تازیانۂ عشق\n\nجلایا طور کو اک دم میں صاعقہ بن کر\nشرر فشاں جو ہوا سنگ آستانۂ عشق\n\nہو خانۂ صدف دل نہ کس طرح پر نور\nکہ آپ ہے گہر شب چراغ دانۂ عشق\n\nبتو خدا نے کہا فی السماء رزقکم آپ\nملا ہے مجھ کو یہ ہفت آسیا سے دانۂ عشق\n\nیہ سچ مثل ہے بتو سب کا ہے خدا رزاق\nنصیب طائر دل ہے ازل سے دانۂ عشق\n\nجو خال بن کے خط رخ میں دل رہے میرا\nکہوں میں خرمن مہ میں ملا یہ دانۂ عشق\n\nکسی کے ابروئے پر خم کا دھیان رہتا ہے\nہمارا کعبۂ دل ہے سیاہ خانۂ عشق\n\nصداے ماتم دل سن کے خوش وہ ہوتے ہیں\nنوائے سینہ زنی ہے کہ شادیانۂ عشق\n\nجو شوق دید ہے موسیٰ کی طرح ایک نہ سن\nکہ لنترانیٔ محبوب ہے ترانۂ عشق\n\nنقاب ادھر وہ اٹھائیں ادھر میں آہ کروں\nسمند حسن پہ پڑ جائے تازیانۂ عشق\n\nجو تولیے اسے کونین کی ترازو میں\nگراں ہو وزن میں نہ آسیا سے دانۂ عشق\n\nفروغ بزم تصور ہے یاد پستاں کی\nحباب حسن بنے ہیں چراغ خانۂ عشق\n\nخیال گوہر دنداں میں ہم جو روتے ہیں\nسرشک دیدۂ تر ہے در یگانۂ عشق\n\nہے میرے دل کی طرح اس سے یہ پریشاں حال\nملا ہے زلف کو حسن سیاہ خانۂ عشق\n\nچڑھا جو دار پہ عاشق کا سر ہوا سردار\nجدا ہے خانۂ عالم سے کارخانۂ عشق\n\nخدا کا گھر ہو جو ٹوٹے جہاد نفس سے دل\nخراب ہو تو بنے لا مکاں یہ خانۂ عشق\n\nوہ دل لگا کے سنیں داستان کی صورت\nبیان کیجیے اس حسن سے فسانۂ عشق\n\nوزیرؔ تخم محبت کو دل میں بو اپنے\nزمیں وہ شور ہے جس میں اگے نہ دانۂ عشق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%86%D9%85%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D8%A2%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "خدا نے کس شہر اندر ہمن کو لائے ڈالا ہے", "poet_page": "مصنف:پنڈت چندر بھان برہمن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا نے کس شہر اندر ہمن کو لائے ڈالا ہے\nنہ دلبر ہے نہ ساقی ہے نہ شیشہ ہے نہ پیالہ ہے\n\nپیا کے ناؤں کی سمرن کیا چاہوں کروں کس سیں\nنہ تسبیح ہے نہ سمرن ہے نہ کنٹھی ہے نہ مالا ہے\n\nخوباں کے باغ میں رونق ہوئے تو کس طرح یاراں\nنہ دونا ہے نہ مروا ہے نہ سوسن ہے نہ لالا ہے\n\nپیاں کے ناؤں عاشق کوں قتل عجب دیکھے\nنہ برچھی ہے نہ کرچھی ہے نہ خنجر ہے نہ بھالا ہے\n\nبرہمنؔ واسطے اشنان کے پھرتا ہے بگیاں سیں\nنہ گنگا ہے نہ جمنا ہے نہ ندی ہے نہ نالہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%B1_%DB%81%D9%85%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "خدا پرست ہوئے نہ ہم بت پرست ہوئے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا پرست ہوئے ہم نہ بت پرست ہوئے\nکسی طرف نہ جھکا سر کچھ ایسے مست ہوئے\n\nجنہیں غرور بہت تھا نماز روزے پر\nگئے جو قبر میں سارے وضو شکست ہوئے\n\nہمارے دل میں جو وحشت نے آگ بھڑکائی\nشرر بھی رہ گئے پیچھے یہ گرم جست ہوئے\n\nجو اپنے وعدے وفا وہ کرے کرم اس کا\nکہ ہم سے تو نہ وفا وعدۂ الست ہوئے\n\nغرور کر کے نگاہوں سے گر گئے مغرور\nبلند جتنے ہوئے اتنے اور پست ہوئے\n\nرہا خمار کہ صدمے سے چور شیشۂ دل\nمگر نہ سائل مے تیرے مے پرست ہوئے\n\nلگائے خار لگیں ٹٹیاں بھی مہندی کی\nرکے نہ بوئے چمن لاکھ بند و بست ہوئے\n\nخزاں میں بھی نہ چھٹا دامن چمن ہم سے\nہوئے جو سوکھ کے کانٹا تو خار بست ہوئے\n\nبنا ہے پنجۂ قصاب دست ظلم ان کا\nسب انگلیاں ہوئیں چھریاں یہ تیز دست ہوئے\n\nحباب سے بھی حبیبوں کے دل میں نازک تر\nنظر کے بھی جو لگے ٹھیس یہ شکست ہوئے\n\nتڑپ دکھا نہ اسے بحرؔ ماہی دل کی\nغضب ہوا جو وہ تار نگاہ شست ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%A8%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "خدا پرست ہوئے ہم نہ بت پرست ہوئے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا پرست ہوئے ہم نہ بت پرست ہوئے\nکسی طرف نہ جھکا سر کچھ ایسے مست ہوئے\n\nجنہیں غرور بہت تھا نماز روزے پر\nگئے جو قبر میں سارے وضو شکست ہوئے\n\nہمارے دل میں جو وحشت نے آگ بھڑکائی\nشرر بھی رہ گئے پیچھے یہ گرم جست ہوئے\n\nجو اپنے وعدے وفا وہ کرے کرم اس کا\nکہ ہم سے تو نہ وفا وعدۂ الست ہوئے\n\nغرور کر کے نگاہوں سے گر گئے مغرور\nبلند جتنے ہوئے اتنے اور پست ہوئے\n\nرہا خمار کہ صدمے سے چور شیشۂ دل\nمگر نہ سائل مے تیرے مے پرست ہوئے\n\nلگائے خار لگیں ٹٹیاں بھی مہندی کی\nرکے نہ بوئے چمن لاکھ بند و بست ہوئے\n\nخزاں میں بھی نہ چھٹا دامن چمن ہم سے\nہوئے جو سوکھ کے کانٹا تو خار بست ہوئے\n\nبنا ہے پنجۂ قصاب دست ظلم ان کا\nسب انگلیاں ہوئیں چھریاں یہ تیز دست ہوئے\n\nحباب سے بھی حبیبوں کے دل میں نازک تر\nنظر کے بھی جو لگے ٹھیس یہ شکست ہوئے\n\nتڑپ دکھا نہ اسے بحرؔ ماہی دل کی\nغضب ہوا جو وہ تار نگاہ شست ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "خدا کا شکر ادا صبح و شام کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:عنایت اللہ روشن بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا کا شکر ادا صبح و شام کرتے ہیں\nجو خاص بندے ہیں وہ خاص کام کرتے ہیں\n\nخدا پرست سمجھتے ہیں فرض خدمت خلق\nرفاہ عام میں کوشش مدام کرتے ہیں\n\nخدا کی راہ میں حاضر ہیں بندگان خدا\nبشر ہیں پر یہ فرشتوں کے کام کرتے ہیں\n\nجو کار خیر میں رہتے ہیں رات دن مشغول\nوہی بہشت میں جا کر قیام کرتے ہیں\n\nیہاں ہم آئے ہیں کیوں جن کو یہ خیال نہیں\nفضول عمر وہ اپنی تمام کرتے ہیں\n\nکہاں ہے قیصر و قصر بلند بام کہاں\nیہاں جو آتے ہیں چندے قیام کرتے ہیں\n\nجو آسماں سے نہ جھکتے تھے دیکھے اے غافل\nتہ زمیں وہ لحد میں مقام کرتے ہیں\n\nسخن نہیں پئے تسخیر دل یہ سحر بیاں\nزبان غیب سے گویا کلام کرتے ہیں\n\nمفید عام سخن ہو یہ شرط ہے روشنؔ\nکہ اس کی قدر خود اہل کلام کرتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خدا کرے رہے جاری پیام یار نثار", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا کرے رہے جاری پیام یار نثار\nکہ تیرے بعد یہ ہے تیری یادگار نثار\n\nکسی کی بھی نہیں سنتے ہیں آج یار نثار\nہزار کوئی پکارا کرے نثار نثار\n\nچھلکتے جام ہیں حوریں ہیں باغ جنت ہے\nاڑا رہے ہیں مزے کیا تہہ مزار نثار\n\nدم اخیر کچھ اس طرح پھیر لیں آنکھیں\nنہ تھے زمانے میں گویا کسی کے یار نثار\n\nروا روی میں اتارے نہ عکس بھی اترا\nہوا کے گھوڑے پر آئے تھے کیا سوار نثار\n\nیہ اس کی شان کریمی نثار کو بخشا\nہزار بار فدا ہیں ہزار بار نثار\n\nبچھڑنے والو کبھی تم نہ چھوڑنا دامن\nچلے ہیں لوٹنے فردوس کی بہار نثار\n\nابھی یہ پھوٹ کے روئے نہ لوں جو ضبط سے کام\nبھری ہے مجھ سے بہت چشم اشک بار نثار\n\nریاضؔ فاتحہ پڑھنے نہ تم گئے اب تک\nتمہارے واسطے ہیں محو انتظار نثار", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1"} {"title": "خدا کسی کوں کسی ساتھ آشنا نہ کرے", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا کسی کوں کسی ساتھ آشنا نہ کرے\nوگرنہ یار کوں عاشق سوں بے وفا نہ کرے\n\nبھلی ہوائے قیامت عذاب حشر کی صلح\nولے کسی کو خدا کس کا مبتلا نہ کرے\n\nسن التماس نہ کر اب سوں توں جدا مجھ کو\nرلا نہ ہنس کے توں کہہ کہہ اجی خدا نہ کرے\n\nکسی صنم کوں اے زاہد توں دل نہ دے بوجھا\nوہ بندہ کیا جو مقرر کوئی خدا نہ کرے\n\nتری نگاہ خنک نے جو دل سوں گرمی کی\nکلی اوپر یہ نوازش کبھو صبا نہ کرے\n\nلگا چرانے وہ قصاب ہم سوں خنجر چشم\nہمارے حق میں کوئی خیر کی دعا نہ کرے\n\nمحیط یاس میں تم نے ڈبائی کشتئ دل\nخدا کسی کوں خدا فہم نا خدا نہ کرے\n\nچمن میں دیکھ کہا مجھ کو پی نے آنکھ دکھا\nمریض عشق کی دارو یہی دوا نہ کرے\n\nکسی کوں حق نہ کرے شام ہجر یار کی شمع\nکسے بغیر اجل رنجۂ فنا نہ کرے\n\nدیا پتنگ کوں گرم الفتی سوں سوزاں ہے\nوہ جز دعا دل عاشق بنے دعا نہ کرے\n\nجو تیغ ابروئے جاناں کا سایا پرور ہے\nوہ عزلتؔ آرزوئے شہپر ہما نہ کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "خدا کی شان ہے ان میں اگر مہر و وفا ہوتی", "poet_page": "مصنف:محمود رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا کی شان ہے ان میں اگر مہر و وفا ہوتی\nتو پھر یہ بت جدھر ہوتے ادھر خلق خدا ہوتی\n\nجفا وہ ترک کرتے گر انہیں قدر وفا ہوتی\nنظر نیچی تو جب ہوتی کہ آنکھوں میں حیا ہوتی\n\nہزاروں گالیاں وہ دے رہے تھے بے خطا مجھ کو\nجو پوچھا بات کیا ہے جل کے بولے بات کیا ہوتی\n\nترا وعدہ ہماری آرزو بے کار ہیں دونوں\nجو یہ ہوتا تو کیا ہوتا جو وہ ہوتی تو کیا ہوتی\n\nخدا نے خیر کر لی ہوتے ہوتے رہ گئی حجت\nمری ان کی اگر ہوتی تو پھر بے انتہا ہوتی\n\nعدو کا ذکر خود چھیڑا ہے خود ہی مجھ سے بگڑے ہیں\nغضب ہوتا اگر میری طرف سے ابتدا ہوتی\n\nنہ لیتا نام بھی محمودؔ ان کافر بتوں کا تو\nسمجھ گر تجھ میں تھوڑی بھی ارے مرد خدا ہوتی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D9%88_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C"} {"title": "خدا کی قسم پھر تو کیا خیر ہووے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا کی قسم پھر تو کیا خیر ہووے\nہم اور تم اکیلے ہوں اور سیر ہووے\n\nکریں غیر کا شکوہ کس طور پھر ہم\nنہ اپنے سوا جب کوئی غیر ہووے\n\nزیارت کریں دل میں کعبے کی اپنے\nجو مجھ سا کوئی ساکن دیر ہووے\n\nملے ایسے زردار سے کس کی جوتی\nنہ تیار جس سے ترا پیر ہووے\n\nاگر خامشی کو میں گویائی لکھوں\nتو دیواں مرا منطق الطیر ہووے\n\nہوا خصم جاں مصحفیؔ وہ تو تیرا\nنہ انساں کو انسان سے بیر ہووے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92"} {"title": "خدا کی مار وہ ایام شور و شر گزرے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا کی مار وہ ایام شور و شر گزرے\nوہ جن سوار تھا سر پر کہ سر سے در گزرے\n\nحلال بھی مرے حق میں حرام واویلا\nنگاہ شوق سے کیا کیا گل و ثمر گزرے\n\nجو سبز باغ تمنا پہ پھیر دے پانی\nخدا بچائے ہم ایسی نظر سے در گزرے\n\nنکالے عیب میں سو حسن حسن میں سو عیب\nخیال ہی تو ہے جیسا بندھے جدھر گزرے\n\nزمین پاؤں تلے سے نکل گئی تو کیا\nہم اپنی دھن میں زمانے سے بے خبر گزرے\n\nمزا نہ پوچھیے واللہ دل دکھانے کا\nکہاں کا خوف خدا ٹھان لی تو کر گزرے\n\nادب کے واسطے کتنوں کے دل دکھائے ہیں\nیگانہؔ حد سے گزرنا نہ تھا مگر گزرے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%B4%D8%B1_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92"} {"title": "خدا کے فضل سے ہم حق پہ ہیں باطل سے کیا نسبت", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "خدا کے فضل سے ہم حق پہ ہیں باطل سے کیا نسبت\nہمیں تم سے تعلق ہے مہ کامل سے کیا نسبت\n\nمہ کنعاں کو میرے اس مہ کامل سے کیا نسبت\nزلیخا کے ملوث دل کو میرے دل سے کیا نسبت\n\nہمہ کا رم زخود کامی بہ بدنامی کشید آخر\nکبھی میں نے نہ سوچا راز کو محفل سے کیا نسبت\n\nکہے جاتا ہے جو واعظ سنے جاتے ہیں ہم لیکن\nجو اہل دل نہیں اس کو ہمارے دل سے کیا نسبت\n\nمجھے ہے صدمۂ ہجراں عدو کو سیکڑوں خوشیاں\nمرے اجڑے ہوئے گھر کو بھری محفل سے کیا نسبت\n\nخدا ہی پھر بھروسہ ہے خدا ہے ناخدا میرا\nوگرنہ میں بھنور میں ہوں مجھے ساحل سے کیا نسبت\n\nفراق یار میں میرا دل مضطر نہ ٹھہرے گا\nتمہیں سوچو سکوں کو طائر بسمل سے کیا نسبت\n\nکنیز حضرت مشکل کشا ہوں دل سے میں پرویںؔ\nتعلق مجھ کو آسانی سے ہے مشکل سے کیا نسبت", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%81%D8%B6%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%AD%D9%82_%D9%BE%DB%81_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%B3%D8%A8%D8%AA"} {"title": "خدا کے واسطے اے یار ہم سیں آ مل جا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا کے واسطے اے یار ہم سیں آ مل جا\nدلوں کی کھول گھنڈی غنچے کی طرح کھل جا\n\nجگر میں چشم کے ہوتیاں ہیں داغ تب پتلیاں\nنظر سیں اوٹ ترا گال جب کہ اک تل جا\n\nجنوں کے جام کوں لے شیشۂ شراب کو توڑ\nخرد گلی سیں پری پیکراں کی بیدل جا\n\nانکھیوں سیں جان بچانا نظر تب آتا ہے\nتڑپھ میں چھوڑ کے بسمل کو جب کہ قاتل جا\n\nحیا کوں غیر سوں مت گرم مل کے دے برباد\nنہ ہو کہ آبروؔ اس طرح خاک میں مل جا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%A2_%D9%85%D9%84_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "خدا کے واسطے چہرے سے ٹک نقاب اٹھا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا کے واسطے چہرے سے ٹک نقاب اٹھا\nیہ درمیان سے اب پردۂ حجاب اٹھا\n\nیہ کون بادہ پرستی ہے اے بت بد مست\nاٹھا جو بزم سے تیری سو ہو کباب اٹھا\n\nمطالعے سے ترے بیت ابروؤں کے شوخ\nرکھی ہے شیخ نے اب طاق پر کتاب اٹھا\n\nبسان نقش قدم جس نے پا تراب کیا\nوہ راہ عشق میں مٹ کر غرض شتاب اٹھا\n\nبہ چشم تر ہی کوئی دم تو بیٹھ ورنہ عبث\nتو ایک دم کے لیے بحر سے حباب اٹھا\n\nپیا ہے شیشۂ گردوں سے جس نے اک جرعہ\nمثال جام وہ با دیدۂ پر آب اٹھا\n\nنصیرؔ شور نہ کر فتنہ ہووے گا برپا\nخدا نخواستہ اب گر وہ مست خواب اٹھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%B9%DA%A9_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "خدا ہونا بی مشکل ہے بندہ ہونا بی مشکل ہے", "poet_page": "مصنف:قربی ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا ہونا بی مشکل ہے بندہ ہونا بی مشکل ہے\nسمجھتا ہے یو نکتے کوں جو عارف صاحب دل ہے\n\nخدا ہے مصدر مطلق بندا بی اس سوں ہے مشتق\nجدھر دیکھے ادھر ہے حق ولے پندار حائل ہے\n\nخدا معبود ہے مطلق بندا موجود ہے مطلق\nیو دونوں مطلق برحق سمجھ ہر یک کا مشکل ہے\n\nخدا ہے بندہ بندہ ہے خدا چشم یقیں سو دیک\nبھی دونوں غیر یک دیگر یہی عرفان کامل ہے\n\nبندا ہے اپنی تفصیلات سوں ذات خدا مطلق\nصفت ہور فعل و قول اس کا بی مطلق پن کو شامل ہے\n\nمظاہر اس کے کیوں مطلق پنے سوں ہوویں گے خارج\nیو صورت غور سوں تو دیک آئینے میں حاصل ہے\n\nنکات عشق اسرار خدا ہیں بیگماں قربیؔ\nجنے اسرار کو بوجیا وہی حق سات واصل ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%A8%DB%8C_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%A8%DB%8C_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "خدا ہی اس چپ کی داد دے گا کہ تربتیں روندے ڈالتے ہیں", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا ہی اس چپ کی داد دے گا کہ تربتیں روندے ڈالتے ہیں\nاجل کے مارے ہوئے کسی سے نہ بولتے ہیں نہ چالتے ہیں\n\nذلیل ہوتے ہیں عیب ہیں خود جو عیب اس میں نکالتے ہیں\nانہیں کے اوپر ہی خاک پڑتی جو چاند پر خاک ڈالتے ہیں\n\nتلون عیش و غم سے باہم زمین یہ ننگ آسماں ہے\nکہ منہ سے ہم خون ڈالتے ہیں وہ رنگ نو روز اچھالتے ہیں\n\nنہ گھر کے مانند ماہ ہر شب مزے اڑاتے ہیں ہمدموں سے\nقرار فردا کا روز کر کے ہمیں قیامت پہ ٹالتے ہیں\n\nپیے ہوئے ہیں شراب ساقی چڑھی ہے مستیٔ پاکبازی\nوہ بادہ کش میں مدام ساقی جو دخت رز کو کھنگالتے ہیں\n\nمدام برہم مژہ کے آرے سروں پہ چلتے ہیں عاشقوں کے\nبنا کے گیسوئے مشک بو کو وہ مانگ جس دم نکالتے ہیں\n\nجلا رہے شمع بزم سائیں اٹھا کے پہلو سے اپنے ہم کو\nرقیب کو مثل دل بغل میں میان محفل بٹھالتے ہیں\n\nکسی کو باتوں میں ہیں لگاتے کسی کو فقروں میں ہیں اڑاتے\nکلیم سے ہم کلام ہو کر مسیح کو دم میں ٹالتے ہیں\n\nبساط الفت ہے وہ نرالی جہاں میں جاں باختہ کھلاڑی\nجوا بھی یہ بت جو کھیلتے ہیں تو دل کی کوڑی اچھالتے ہیں\n\nجنوں کی بد نامیاں ہیں جتنی ہم آپ اے شادؔ اٹھا رہے ہیں\nنہ تھونپے کوہ کن کے سر ہیں نہ قیس و وامق پہ ڈھالتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%86%D9%BE_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%AF%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D8%B1%D8%A8%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88%D9%86%D8%AF%DB%92_%DA%88%D8%A7%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خدا ہی پہنچے فریادوں کو ہم سے بے نصیبوں کے", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خدا ہی پہنچے فریادوں کو ہم سے بے نصیبوں کے\nہمارے دل کباب اور تو پئے پیالے رقیبوں کے\n\nخزاں میں برگ گل اور خار و خس نہیں صحن گلشن میں\nپڑے ہیں لخت دل اور ٹوٹے نالے عندلیبوں کے\n\nبہار آئی دوانو سنتے ہو بلبل کی فریادیں\nیہ آوازے ہیں فوج موسم گل کے نقیبوں کے\n\nالٰہی دے نگاہ لطف خوش چشموں کو اک پل بھی\nکہ ہم بیمار مر گئے ناز اٹھاتے ان طبیبوں کے\n\nنگیں کے طرز پھر جاتا ہے نام عزلتؔ اس لب پر\nاثر میں بے سخن میرے ہیں برگشتہ نصیبوں کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%92_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92"} {"title": "خداؤں کی خدائی ہو چکی بس", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خداؤں کی خدائی ہو چکی بس\nخدارا بس دہائی ہو چکی بس\n\nکسی ڈھب سے نپٹ لو جب مزا ہے\nبہت زور آزمائی ہو چکی بس\n\nبجھائے کون تو جس کو جلائے\nپتنگوں کی چڑھائی ہو چکی بس\n\nہوا میں اڑ گیا ایک ایک پتا\nگلوں کی جگ ہنسائی ہو چکی بس\n\nبھلا اب کیا جچوں اپنی نظر میں\nنظر اپنی پرائی ہو چکی بس\n\nرہا کیا جب دلوں میں فرق آیا\nاسی دن سے جدائی ہو چکی بس\n\nپڑے ہو کون سے گوشے میں تنہا\nیگانہؔ کیوں خدائی ہو چکی بس", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%B3"} {"title": "خدائی اہتمامِ خشک و تر ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "خدائی اہتمامِ خشک و تر ہے\nخداوندا! خدائی دردِ سر ہے\nولیکن بندگی، استغفراللہ!\nیہ دردِ سر نہیں، دردِ جگر ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DB%81%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85%D9%90_%D8%AE%D8%B4%DA%A9_%D9%88_%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "خدمت خلق", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کاش میں ایک پیڑ بن جاتا\nپیڑ بن کر جہاں کے کام آتا\nرات دن اک جگہ کھڑا رہتا\nگرمی سردی کی شدتیں سہتا\nخوب بارش میں بھیگ جاتا مگر\nشکوہ ہرگز نہ لاتا میں لب پر\nدھوپ میں لوگ میرے پاس آتے\nمیرے سائے میں وہ سکوں پاتے\nچھاؤں میں آ کے بیٹھ جاتے پرند\nپھول پھل پتیوں سے سب میری\nپوری کرتے ضرورتیں اپنی\nمیں کسی گھر میں ایندھن ہی بنتا\nیا عمارت کے کام میں آتا\nالغرض جس طرح بھی بن پڑتا\nخدمت خلق میں لگا رہتا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D9%85%D8%AA_%D8%AE%D9%84%D9%82"} {"title": "خدمت وطن", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وطن کی خدمت بے لوث ہے ہر شخص پر لازم\nیہی وہ کام ہے جو آدمی کے کام آتا ہے\nلگا دی جاتی ہے حب وطن میں سر کی بازی بھی\nاک ایسا بھی وفور جوش میں ہنگام آتا ہے\nپلٹنے ہی کو ہے قسمت تمہاری اے وطن والو\nتمہارے واسطے یہ عرش سے پیغام آتا ہے\nغلامی دور ہوتی ہے تمہاری اب کوئی دم میں\nحکومت اور سرداری کا پھر ہنگام آتا ہے\nمصیبت ہے یہ بالکل عارضی اس پر نہ گھبرانا\nبس اب آتا ہے عہد راحت و آرام آتا ہے\nوہی پھر بھی بزم ہوگی پھر وہی رنگینیاں ہوں گی\nوہی پیمانہ آتا ہے وہی پھر جام آتا ہے\nتم اپنی ناتوانی سے پریشاں اس قدر کیوں ہو\nکبھی کمزور ہونا بھی بشر کے کام آتا ہے\nمٹا دیتا ہے دم میں نخوت نمرود اک مچھر\nکبھی ایسا بھی دور گردش ایام آتا ہے\nخدا را اس نزاع باہمی کو ختم فرما دو\nذرا سوچو کہ تم پر کس قدر الزام آتا ہے\nکبھی چھڑتا ہے گر مذکور، قوموں کی جہالت کا\nتو سب سے پہلے کانوں میں تمہارا نام آتا ہے\nیہ نکتہ یاد رکھو اس کو بھولا کہہ نہیں سکتے\nجو وقت صبح جا کر، گھر پہ وقت شام آتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%AF%D9%85%D8%AA_%D9%88%D8%B7%D9%86"} {"title": "خراب دید کو یوں ہی خراب رہنے دے", "poet_page": "مصنف:سہا مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خراب دید کو یوں ہی خراب رہنے دے\nکوئی حجاب اٹھا دے نقاب رہنے دے\n\nزمان ہجر سہی پھر بھی اے جنون امید\nدماغ میں یہی رنگین خواب رہنے دے\n\nنوازشیں نہ بدل دیں کہیں مزاج وفا\nنگاہ لطف میں موج عتاب رہنے دے\n\nبدل نہ ہوش پرستش سے مستی الفت\nتجلیوں پہ فریب نقاب رہنے دے\n\nوفور حسن کو اسرار دلنواز سکھا\nنظر نوازئ رنگ شباب رہنے دے\n\nحضور حسن ہے بس عرض اشتیاق سہاؔ\nفسانۂ دل خانہ خراب رہنے دے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%92"} {"title": "خراب و خستہ ہوئے خاک میں شباب ملا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خراب و خستہ ہوئے خاک میں شباب ملا\nہمیں یہ دل نہ ملا جان کا عذاب ملا\n\nکسی کی یاد میں بے شبہ بے قرار ہے تو\nکہ آج ہے تری شوخی میں اضطراب ملا\n\nشراب پی تو گنہ گار میں ہوا واعظ\nبرائی کی جو مری تجھ کو کیا ثواب ملا\n\nملے وہ عیش گزشتہ بھی اے خدا مجھ کو\nبہشت میں جو دوبارہ مجھے شباب ملا\n\nبڑی کریم ہے پیر مغاں کی بھی سرکار\nکہ جب ملا مجھے ساغر علی الحساب ملا\n\nکچھ آرزو نہ رہی ترک آرزو کے سوا\nمرے سوال کا ایسا مجھے جواب ملا\n\nگیا جو دل تو ملا داغ آرزو مجھ کو\nاک آفتاب جو کھویا اک آفتاب ملا\n\nحفیظؔ تم کو وہ ناکام وصل کہتے ہیں\nبرا نہ مانو یہ اچھا تمہیں خطاب ملا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%88_%D8%AE%D8%B3%D8%AA%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی\nغموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی\n\nنگاہ مست سے جب چشم نے اس کی اشارت کی\nحلاوت مے کی اور بنیاد میخانے کی غارت کی\n\nسحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا\nپڑے تھے باغ میں یک مشت پر اودھر اشارت کی\n\nجلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم\nاسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی\n\nنزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب مہ میں\nگیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی\n\nنظر سے جس کی یوسف سا گیا پھر اس کو کیا سوجھے\nحقیقت کچھ نہ پوچھو پیر کنعاں کی بصارت کی\n\nترے کوچے کے شوق طوف میں جیسے بگولا تھا\nبیاباں میں غبار میرؔ کی ہم نے زیارت کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%D9%85%D9%84%DA%A9%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "خراج عقیدت", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اک نیا پیغمبر‌ امن و اماں پیدا ہوا\nکارواں میں اک امیر کارواں پیدا ہوا\n\nایک خضر عصر حاضر اک کلیم عہد نو\nایک صدر محفل روحانیاں پیدا ہوا\n\nاک حدی خوان محبت اک نقیب اتحاد\nاک فدائے سوز ناقوس و اذاں پیدا ہوا\n\nحق کا سودائی حقیقت کا علم کھولے ہوئے\nصدق کا شیدا صفا کا پاسباں پیدا ہوا\n\nسر بسر اک مژدۂ تسکین مردان ضعیف\nقوت بازوئے یاران جواں پیدا ہوا\n\nاس چمن کی سرزمیں ہے روکش ہفت آسماں\nاس چمن میں طائر عرش آشیاں پیدا ہوا\n\nاک گل تازہ جو مرجھا کر بھی مرجھایا نہیں\nصفحۂ ہستی پہ نقش جاوداں پیدا ہوا\n\nخوں سے اس کے آج بھی گل رنگ ہے خاک وطن\nفخر عالم نازش ہندوستاں پیدا ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%AC_%D8%B9%D9%82%DB%8C%D8%AF%D8%AA"} {"title": "خرد سے راہرو روشن بصر ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "خرد سے راہرو روشن بصر ہے\nخرد کیا ہے، چراغِ رہ گزر ہے\nدرُونِ خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا\nچراغِ رہ گزر کو کیا خبر ہے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B1%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%A7%DB%81%D8%B1%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D8%A8%D8%B5%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "خرد فریب نظاروں کی کوئی بات کرو", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خرد فریب نظاروں کی کوئی بات کرو\nجنوں نواز بہاروں کی کوئی بات کرو\n\nکسی کی وعدہ خلافی کا ذکر خوب نہیں\nمرے رفیق ستاروں کی کوئی بات کرو\n\nزمانہ ساز زمانے کی بات رہنے دو\nخلوص دوست کے ماروں کی کوئی بات کرو\n\nگھٹا کی اوٹ سے چھپ کر جو دیکھتے تھے ہمیں\nانہیں شریر ستاروں کی کوئی بات کرو\n\nزمانہ ذکر حوادث سے کانپ اٹھتا ہے\nسکوں بہ دوش کناروں کی کوئی بات کرو\n\nنہیں ہے حد نظر تک وجود ساحل کا\nفضا مہیب ہے دھاروں کی کوئی بات کرو\n\nسلام شوق لیے تھے کسی نے جن سے شکیبؔ\nانہیں لطیف اشاروں کی کوئی بات کرو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B1%D8%AF_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D9%86%D8%B8%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "خرد میں مبتلا ہے سالکؔ دیوانہ برسوں سے", "poet_page": "مصنف:عبد المجید سالک", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خرد میں مبتلا ہے سالکؔ دیوانہ برسوں سے\nنہیں آیا وہ مے خانے میں بیباکانہ برسوں سے\n\nمیسر جس سے آ جاتی تھی ساقی کی قدم بوسی\nمقدر میں نہیں وہ لغزش مستانہ برسوں سے\n\nبیاد چشم یار اک نعرۂ مستانہ اے ساقی\nکہ ہاؤ ہو سے خالی ہے ترا مے خانہ برسوں سے\n\nتجھے کچھ عشق و الفت کے سوا بھی یاد ہے اے دل\nسنائے جا رہا ہے ایک ہی افسانہ برسوں سے\n\nکسی کو تو مشرف کر دے اے ذوق جبیں سائی\nتقاضا کر رہے ہیں کعبہ و بت خانہ برسوں سے\n\nنئی شمعیں جلاؤ عاشقی کی انجمن والو\nکہ سونا ہے شبستان دل پروانہ برسوں سے\n\nکوئی جوہر شناس آئے تو جانے قدر سالکؔ کی\nپڑا ہے خاک پر یہ گوہر یک دانہ برسوں سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B1%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%84%DA%A9%D8%94_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "خرد واقف نہیں ہے نیک و بد سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "خرد واقف نہیں ہے نیک و بد سے\nبڑھی جاتی ہے ظالم اپنی حد سے\nخدا جانے مجھے کیا ہو گیا ہے\nخرد بیزار دل سے، دِل خرد سے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B1%D8%AF_%D9%88%D8%A7%D9%82%D9%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%8C%DA%A9_%D9%88_%D8%A8%D8%AF_%D8%B3%DB%92"} {"title": "خرد کی تنگ دامانی سے فریاد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "خرد کی تنگ دامانی سے فریاد\nتجلّی کی فراوانی سے فریاد\nگوارا ہے اسے نظّارۂ غیر\nنِگہ کی نا مسلمانی سے فریاد!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں\nترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں\n\nہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا\nحیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں\n\nگراں بہا ہے تو حِفظِ خودی سے ہے ورنہ\nگُہَر میں آبِ گُہَر کے سوا کچھ اور نہیں\n\nرگوں میں گردشِ خُوں ہے اگر تو کیا حاصل\nحیات سوزِ جگر کے سوا کچھ اور نہیں\n\nعروسِ لالہ! مُناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب\nکہ مَیں نسیمِ سحَر کے سوا کچھ اور نہیں\n\nجسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگ\nوہ شے متاعِ ہُنر کے سوا کچھ اور نہیں\n\nبڑا کریم ہے اقبالِؔ بے نوا لیکن\nعطائے شُعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خرقہ رہن شراب کرتا ہوں", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خرقہ رہن شراب کرتا ہوں\nدل زاہد کباب کرتا ہوں\n\nنالۂ آتشیں سے یک دم میں\nدل فولاد آب کرتا ہوں\n\nآہ سوزاں و اشک گل گوں سے\nکار برق و سحاب کرتا ہوں\n\nداغ سوزان عشق سے دل کو\nچشمۂ آفتاب کرتا ہوں\n\nبرق کو بھی سکوں ہوا آخر\nمیں ہنوز اضطراب کرتا ہوں\n\nتاکہ بیدارؔ اس سے ہو آباد\nخانۂ دل خراب کرتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B1%D9%82%DB%81_%D8%B1%DB%81%D9%86_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "خرقہ پوشی میں خود نمائی ہے", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خرقہ پوشی میں خود نمائی ہے\nہاتھ بس کاسۂ گدائی ہے\n\nبوریا بھی نہیں اسے درکار\nجس کے تئیں شوق بے ریائی ہے\n\nگل سب ہنستے ہیں بزم گلشن میں\nعشق بلبل مگر ریائی ہے\n\nجلد جاتی ہے آسماں اوپر\nآہ میری عجب ہوائی ہے\n\nشمع مینا کے نور سوں ساقی\nمحفل دل میں روشنائی ہے\n\nہر گھڑی دیکھتا ہے درپن کوں\nشوخ میں طرز خود نمائی ہے\n\nجب سوں دیکھا ہوں اس کی زلف دراز\nتب سوں مجھ فکر میں رسائی ہے\n\nکاں یو دیکھا ہے خواب میں مخمل\nتجھ کف پا میں جو صفائی ہے\n\nکیوں نہ ہوئے ماہ نو مثال عزیز\nجس منے رسم کم نمائی ہے\n\nدست گل رو میں پہنچنے داؤدؔ\nکاغذ خط مرا حنائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B1%D9%82%DB%81_%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "خریدار اپنا ہم کو جانتے ہو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خریدار اپنا ہم کو جانتے ہو\nبھلا اتنا تو تم پہچانتے ہو\n\nبنے گا چہرہ یہ کس کا مہ و مہر\nجو تم بیٹھے صباحت چھانتے ہو\n\nاٹھو اے زخمیان کوچۂ یار\nعبث کیوں خوں میں ماٹی سانتے ہو\n\nوہ آنے کا نہیں اب گھر سے باہر\nتم اس قاتل کو کم پہچانتے ہو\n\nیکا یک کر گزرتے ہو وہی جان\nتم اپنے جی میں جو کچھ ٹھانتے ہو\n\nغرض ہو آشنا اپنی ہی ضد کے\nکسی کی بات کو کب مانتے ہو\n\nگیا ہے قافلہ میاں مصحفیؔ اب\nعبث دامن کو تم گردانتے ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "خزاں تنہا نہ سیر بوستاں کو جا بگاڑ آئی", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خزاں تنہا نہ سیر بوستاں کو جا بگاڑ آئی\nصبا بھی چل کے واں اے بلبلو پھولوں کو جھاڑ آئی\n\nشب بیمار یا کالی بلا یا رات کالی ہے\nقیامت آئی یا چھاتی پہ یہ ہجراں پہاڑ آئی\n\nجو آیا یار تو تو ہو چلا غش اے دوانے دل\nاسی دم تجھ کو مرنا تھا بتا کیا تجھ کو دہاڑ آئی\n\nمثل ہے بر محل اے اظفریؔ جو کہ گیا کوئی\nہماری بار کو گل چھڑ گئے کانٹوں کی باڑ آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%A7_%D8%A8%DA%AF%D8%A7%DA%91_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "خزاں کا جو گلشن سے پڑ جائے پالا", "poet_page": "مصنف:سائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خزاں کا جو گلشن سے پڑ جائے پالا\nتو صحن چمن میں نہ گل ہو نہ لالہ\n\nلیا تیرے عاشق نے برسوں سنبھالا\nبہت کر گیا مرنے والا کسالا\n\nپئے فاتحہ ہاتھ اٹھاوے گا کوئی\nسر تربت بیکساں آنے والا\n\nاسی گریہ کے تار سے میری آنکھیں\nبنا دیں گی ندی بہا دیں گی نالہ\n\nبٹھا کر تمہیں شمع کے پاس دیکھا\nتم آنکھوں کی پتلی وہ گھر کا اجالا\n\nخط شوق کو پڑھ کے قاصد سے بولے\nیہ ہے کون دیوانہ خط لکھنے والا\n\nدیا حکم ساقی کو پیر مغاں نے\nپئے محتسب جام و مینا اٹھا لا\n\nیہ سنتے ہی مے خوار بولے خوشی سے\nہمیں سا ہے یہ نیک اللہ والا\n\nحقیقت میں سائلؔ نے ذوق ادب سے\nجہاں تک اچھالا گیا نام اچھالا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%91_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "خزاں کے جور سے واقف کوئی بہار نہ ہو", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خزاں کے جور سے واقف کوئی بہار نہ ہو\nکسی کا پیرہن حسن تار تار نہ ہو\n\nبرنگ سبزۂ بیگانہ روند ڈالے فلک\nمجھے بہار بھی آئے تو ساز گار نہ ہو\n\nخزاں کے آتے ہی گلچیں نے پھیر لیں آنکھیں\nکسی سے کوئی وفا کا امیدوار نہ ہو\n\nٹھہر ٹھہر دل وحشی بہار آنے دے\nابھی سے بہر خدا اتنا بے قرار نہ ہو\n\nٹپک کے آنکھوں سے آئے لہو جو دامن تک\nتو اس بہار سے بہتر کوئی بہار نہ ہو\n\nحیا کی بات ہے اب تک قفس میں زندہ ہوں\nچمن میں جاؤں تو نرگس سے آنکھ چار نہ ہو\n\nبہار آئی ہے گھٹ گھٹ کے جان دے بلبل\nقفس میں نکہت گل کی امیدوار نہ ہو\n\nاشارۂ گل و بلبل پہ چشمک نرگس\nالٰہی راز کسی کا بھی آشکار نہ ہو\n\nبچھا ہے دام تمنا اسیر ہو بلبل\nقفس کی یاد میں اس طرح بے قرار نہ ہو\n\nاسیر دام نہ ہونا ذرا سنبھل اے دل\nخیال گیسوئے پر خم گلے کا بار نہ ہو\n\nجو دیکھ لے مجھے ساقی نشیلی آنکھوں سے\nیہ مست پھر کبھی شرمندۂ خمار نہ ہو\n\nعبث ہے ذکر شراب طہور اور واعظ\nوہ بات کر جو کسی دل کو ناگوار نہ ہو\n\nوصال جب نہیں ممکن تو دل پہ جبر اچھا\nوہ کیا کرے جسے دل ہی پر اختیار نہ ہو\n\nوہ تیر کیا جو کسی کو نہ کر سکے بسمل\nنگاہ ناز وہ کیا ہے جو دل کے پار نہ ہو\n\nمزاج یار مکدر نہ ہونے پائے یاسؔ\nبلند دامن زیں کہیں سے غبار نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%82%D9%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جھک کے کھڑکی میں", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جھک کے کھڑکی میں\nکبھی چراغ بھی جلتا ہے اس حویلی میں\n\nیہ آدمی ہیں کہ سائے ہیں آدمیت کے\nگزر ہوا ہے مرا کس اجاڑ بستی میں\n\nجھکی چٹان پھسلتی گرفت جھولتا جسم\nمیں اب گرا ہی گرا تنگ و تار گھاٹی میں\n\nزمانے بھر سے نرالی ہے آپ کی منطق\nندی کو پار کیا کس نے الٹی کشتی میں\n\nجلائے کیوں اگر اتنے ہی قیمتی تھے خطوط\nکریدتے ہو عبث راکھ اب انگیٹھی میں\n\nعجب نہیں جو اگیں یاں درخت پانی کے\nکہ اشک بوئے ہیں شب بھر کسی نے دھرتی میں\n\nمری گرفت میں آ کر نکل گئی تتلی\nپروں کے رنگ مگر رہ گئے ہیں مٹھی میں\n\nچلو گے ساتھ مرے آگہی کی سرحد تک\nیہ رہ گزار اترتی ہے گہرے پانی میں\n\nمیں اپنی بے خبری سے شکیبؔ واقف ہوں\nبتاؤ پیچ ہیں کتنے تمہاری پگڑی میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%D9%86%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%DA%BE%DA%A9_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DA%BE%DA%91%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خضر کیا ہم تو اس جینے میں بازی سب سے جیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خضر کیا ہم تو اس جینے میں بازی سب سے جیتے ہیں\nدم اب اکتا گیا اللہ اکبر کب سے جیتے ہیں\n\nسمجھ لے قاصدوں نے کچھ تو ایسی ہی خبر دی ہے\nکہیں کیا تجھ سے اے ناصح کہ جس مطلب سے جیتے ہیں\n\nکسی حالت نہ ہم سے بڑھ سکے گی رات فرقت کی\nکہ ہم بازی سیہ بختی میں بھی اس شب سے جیتے ہیں\n\nدم اپنا گھٹ کے کب کا ہجر جاناں میں نکل جاتا\nمددگاریٔ شور نعرۂ یا رب سے جیتے ہیں\n\nاسے باور کر اے غم خوار کب کے مر گئے ہوتے\nپیام وصل جب سے سن لیا ہے تب سے جیتے ہیں\n\nزباں قابو میں ہے سننے کو تشبیہیں سنے جاؤ\nنزاکت میں کہاں اوراق گل اس لب سے جیتے ہیں\n\nعبث دریافت کرتے ہو سبب اس سخت جانی کا\nخدا جانے کہ ہم اے شادؔ کس مطلب سے جیتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B6%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خط آزادی لکھا تھا شوخ نے فردا غلط", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "خط آزادی لکھا تھا شوخ نے فردا غلط\nدل میں رکھتا اور کچھ ظاہر لکھا انشا غلط\nآفریدیؔ جو ملے چھاتی لگا آنکھوں میں رکھ\nدستخط اس کا اگر املا ہے سرتاپا غلط", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D9%86%DB%92_%D9%81%D8%B1%D8%AF%D8%A7_%D8%BA%D9%84%D8%B7"} {"title": "خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے\nحسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے\n\nبعد رنجش کے گلے ملتے ہوئے رکتا ہے جی\nاب مناسب ہے یہی کچھ میں بڑھوں کچھ تو بڑھے\n\nبڑھتے بڑھتے بڑھ گئی وحشت وگرنہ پہلے تو\nہاتھ کے ناخن بڑھے سر کے ہمارے مو بڑھے\n\nتجھ کو دشمن واں شرارت سے جو بھڑکاتے ہے روز\nچاہتے ہیں اور شر اے شوخ آتش خو بڑھے\n\nکچھ تپ غم کو گھٹا کیا فائدہ اس سے طبیب\nروز نسخے میں اگر خرفہ گھٹے کاہو بڑھے\n\nپیشوائی کو غم جاناں کی چشم دل سے ذوقؔ\nجب بڑھے نالہ تو اس سے بیشتر آنسو بڑھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%DA%A9%D9%84_%D8%A8%DA%91%DA%BE%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%91%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%D8%A8%DA%91%DA%BE%DB%92"} {"title": "خط دیکھیے دیدار کی سوجھی یہ نئی ہے", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خط دیکھیے دیدار کی سوجھی یہ نئی ہے\nویفر کی جگہ آنکھ لفافے پہ لگی ہے\n\nخاکستر تن خیر ہو برباد ہوئی ہے\nاڑتی یہ خبر گرد پریدہ سے سنی ہے\n\nہم خوابیٔ جاناں مری قسمت میں لکھی ہے\nسوتے میں زلیخا کی طرح آنکھ لگی ہے\n\nلو عشق کی وہ ہے کہ پتنگے کو جلا کر\nسر میں جو لگی شمع کے تلوے میں بجھی ہے\n\nمٹ جائے گا ہر آدم خاکی کا مرقع\nتصویر گلی جو ہے بگڑنے کو بنی ہے\n\nرونے کو میں ہوں بارش باراں کے مقابل\nآنسو جو تھمے دیدۂ پر نم تو ہنسی ہے\n\nجی جاؤں کہ مر جاؤں میں اس نالہ کشی سے\nنتھنوں میں ہے دم نے کی طرح ناک میں جی ہے\n\nٹپکیں ہوسیں کیوں نہ پسینے سے ہمارے\nہر رونگٹے سے خواہش دل پھوٹ بہی ہے\n\nسینے پہ دھرے ہاتھ نہ مجھ سوختہ جاں کے\nپہلو میں کلیجے کی جگہ آگ دبی ہے\n\nقاضی کا ارادہ ہے کہ ہے مے کا مچلکہ\nتوبہ در مے خانہ پہ دینے کو ڈھہی ہے\n\nاب شادؔ غزل اور کہو قید روی میں\nاس کے تو سب ابیات میں ایطائے جلی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D9%88%D8%AC%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D9%86%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "خط زمیں پر نہ اے فسوں گر کاٹ", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خط زمیں پر نہ اے فسوں گر کاٹ\nدرد سر کاٹنا ہے تو سر کاٹ\n\nگر لکھوں اس کو نامۂ الفت\nحرف مطلب کو دے مقدر کاٹ\n\nقتل سے میرے گر پھرے قاتل\nدانت سے لوں زبان خنجر کاٹ\n\nگر ہے بیداد ہی پسند تجھے\nگردن غیر اے ستم گر کاٹ\n\nغم برق و تگرگ کو نہ خرید\nکشت امید کو سراسر کاٹ\n\nوقت دے زیر خار زار گزار\nموسم گل تہ گل تر کاٹ\n\nپائے مردی سے دست برد نہ چھوڑ\nحبیب شاہ و گدا برابر کاٹ\n\nقوت ہضم ہے بقدر ظرف\nکیا کرے موج آب گوہر کاٹ\n\nصبر و تسلیم ہی کے اندر رہ\nعمر رنج و خوشی سے باہر کاٹ\n\nتیغ بران وقت سے ہر دم\nرشتۂ آرزو کو یک سر کاٹ\n\nمت بنا گھر چمن کے اندر کاٹ\nمت لگا دل گل و صنوبر کاٹ\n\nآشیاں کے لئے چمن کا سے\nمرغ حرص و ہوا کا ہر پر کاٹ\n\nقدر آرام کچھ تو کر معلوم\nروز دشوار رات دوبھر کاٹ\n\nشرط کچھ تیغ باندھنا ہی نہیں\nزیست کو آئے جو میسر کاٹ\n\nاے قلقؔ رنج ہو کہ ہو آرام\nکاٹ جیسے کٹے سبک تر کاٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%92_%D9%81%D8%B3%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D9%B9"} {"title": "خط سے وہ زور صفائے حسن اب کم ہو گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خط سے وہ زور صفائے حسن اب کم ہو گیا\nچاہ یوسف تھا ذقن سو چاہ رستم ہو گیا\n\nسینہ کوبی سنگ سے دل خون ہونے میں رہی\nحق بہ جانب تھا ہمارے سخت ماتم ہو گیا\n\nایک سا عالم نہیں رہتا ہے اس عالم کے بیچ\nاب جہاں کوئی نہیں یاں ایک عالم ہو گیا\n\nآنکھ کے لڑتے تری آشوب سا برپا ہوا\nزلف کے درہم ہوئے اک جمع برہم ہو گیا\n\nاس لب جاں بخش کی حسرت نے مارا جان سے\nآب حیواں یمن طالع سے مرے سم ہو گیا\n\nوقت تب تک تھا تو سجدہ مسجدوں میں کفر تھا\nفائدہ اب جب کہ قد محراب سا خم ہو گیا\n\nعشق ان شہری غزالوں کا جنوں کو اب کھنچا\nوحشت دل بڑھ گئی آرام جاں رم ہو گیا\n\nجی کھنچے جاتے ہیں فرط شوق سے آنکھوں کی اور\nجن نے دیکھا ایک دم اس کو سو بے دم ہو گیا\n\nہم نے جو کچھ اس سے دیکھا سو خلاف چشم داشت\nاپنا عزرائیل وہ جان مجسم ہو گیا\n\nکیا کہوں کیا طرحیں بدلیں چاہ نے آخر کو میرؔ\nتھا گرہ جو درد چھاتی میں سو اب غم ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B2%D9%88%D8%B1_%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%85_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "خط لکھ کے کوئی سادہ نہ اس کو ملول ہو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خط لکھ کے کوئی سادہ نہ اس کو ملول ہو\nہم تو ہوں بد گمان جو قاصد رسول ہو\n\nچاہوں تو بھر کے کولی اٹھا لوں ابھی تمہیں\nکیسے ہی بھاری ہو مرے آگے تو پھول ہو\n\nسرمہ جو نور بخشے ہے آنکھوں کو خلق کی\nشاید کہ راہ یار کی ہی خاک دھول ہو\n\nجاویں نثار ہونے کو ہم کس بساط پر\nاک نیم جاں رکھیں ہیں سو وہ جب قبول ہو\n\nہم ان دنوں میں لگ نہیں پڑتے ہیں صبح و شام\nورنہ دعا کریں تو جو چاہیں حصول ہو\n\nدل لے کے لونڈے دلی کے کب کا پچا گئے\nاب ان سے کھائی پی ہوئی شے کیا وصول ہو\n\nناکام اس لیے ہو کہ چاہو ہو سب کچھ آج\nتم بھی تو میرؔ صاحب و قبلہ عجول ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7_%D9%84%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%84%D9%88%D9%84_%DB%81%D9%88"} {"title": "خط نے آ کر کی ہے شاید رحم فرمانے کی عرض", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خط نے آ کر کی ہے شاید رحم فرمانے کی عرض\nتب تو اب سنتا ہے ہنس کر مجھ سے دیوانے کی عرض\n\nشام غربت ہم سے مجروحوں کی ہے فریاد رس\nزلف کی چھاتی پھٹی ہے سنتے ہی شانے کی عرض\n\nبوسۂ لعل بتاں جو لے سو ہو بے آبرو\nاتنی ہی خدمت میں مستوں کی ہے پیمانے کی عرض\n\nگوش گل میں سب پھپھولے پڑ گئے شبنم کے ہاتھ\nآگ تھی بلبل کی فریادوں کے افسانے کی عرض\n\nفصل گل آتے ہی عزلتؔ دل زبان آہ سے\nمیری خدمت میں کرے ہے دشت میں جانے کی عرض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7_%D9%86%DB%92_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%AF_%D8%B1%D8%AD%D9%85_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%B1%D8%B6"} {"title": "خط کی رخسار پر سیاہی ہے", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "خط کی رخسار پر سیاہی ہے\nچشم خوابیدہ خوش نگاہی ہے\n\nعشق کا ہے غبار نالہ عروج\nآسماں اوج تخت شاہی ہے\n\nکیوں نہ ہو عندلیب گرم فغاں\nبوئے گل ہر طرف کو راہی ہے\n\nاشک حسرت ہے آج طوفاں خیز\nکشتیٔ چشم کی تباہی ہے\n\nہوں گرفتار آپ اپنا میں\nحلقۂ فلس دام ماہی ہے\n\nچشم جاناں کا رعب ابرو ہے\nتیغ سے صولت سپاہی ہے\n\nمرگ میرا ہے ضبط گریہ وقارؔ\nآب آب حیات ماہی ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "خط کی رخساروں پر اِس گُل کہ جُو تحریریں ہیں دو", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خط کی رخساروں پر اِس گُل کہ جُو تحریریں ہیں دو\nہے وُہ مصحف رخ کے جس کہ ساتھ تفسیریں ہیں دو\n\nحُسن وُہ ترک ستم گر ہے کے جس کہ پاس چار\nترکشیں مژگاں کی اُور ابرو کی شمشیریں ہیں دو\n\nیا بلاؤ ہم کو پنہاں یا تم آؤ چھپ کہ یاں\nگر ملا چاہو تُو ملنے کی یہ تدبیریں ہیں دو\n\nفی الحقیقت فیض جذب عشق سے باہم ہیں ایک\nلیلیٰ و مجنُوں کی گو ظاہر میں تصویریں ہیں دو\n\nدِل دیا اور کی وفا اس کی جفاؤں پر نظیرؔ\nغور سے دیکھا تُو یہ اپنی ہی تقصیریں ہیں دو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%90%D8%B3_%DA%AF%D9%8F%D9%84_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%8F%D9%88_%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88"} {"title": "خط کے آتے ہی وہ مکھڑے کی صفائی کیا ہوئی", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خط کے آتے ہی وہ مکھڑے کی صفائی کیا ہوئی\nوہ منش کیدھر گئے وہ میرزائی کیا ہوئی\n\nہم نہ کہتے تھے کہ پیارے جان اہل دل کی قدر\nاب وہ دل کیدھر گئے وہ دل ربائی کیا ہوئی\n\nزور کرتا ہے اک عالم نا توانوں پر ترے\nاے سپہر دوں تری زور آزمائی کیا ہوئی\n\nشیخ جی آیا نہ مسجد میں وہ کافر ورنہ ہم\nپوچھتے تم سے کہ اب وہ پارسائی کیا ہوئی\n\nروئیے اس غم کدے میں آہ کس کس کو کہ یاں\nدیکھتے نظروں کے اپنی اک خدائی کیا ہوئی\n\nاے وفا بیگانہ تھا تو بھی تو ہم سے آشنا\nوہ وفا کیدھر گئی وہ آشنائی کیا ہوئی\n\nگو کسی حالت میں ہو قائمؔ میں سمجھوں ہوں تجھے\nہے تو تو وہ ہی پہ تیری کبریائی کیا ہوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D9%85%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "خطاب بہ جوانانِ اسلام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کِیا تُو نے\nوہ کیا گردُوں تھا تُو جس کا ہے اک ٹُوٹا ہوا تارا\n\nتجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبّت میں\nکُچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا\n\nتمدّن آفریں، خلاّقِ آئینِ جہاں داری\nوہ صحرائے عرب یعنی شتربانوں کا گہوارا\n\nسماں ’الفُقْرَ و فَخرْی‘ کا رہا شانِ امارت میں\n“بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت رُوے زیبا را”\n\nگدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے\nکہ مُنعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا\n\nغرض مَیں کیا کہُوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے\nجہاں‌گیر و جہاں‌دار و جہاں‌بان و جہاں‌آرا\n\nاگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں\nمگر تیرے تخیّل سے فزوں تر ہے وہ نظّارا\n\nتجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی\nکہ تُو گُفتار وہ کردار، تُو ثابت وہ سیّارا\n\nگنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی\nثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا\n\nحکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی\nنہیں دنیا کے آئینِ مسلَّم سے کوئی چارا\n\nمگر وہ عِلم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی\nجو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا\n\n“غنیؔ! روزِ سیاہِ پیرِ کنعاں را تماشا کُن\nکہ نُورِ دیدہ اش روشن کُند چشمِ زلیخا را”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%DB%81_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "خطبات بہاولپور", "poet_page": "مصنف:ابو الکلام آزاد", "kind": "prose", "section": "خطبات", "year": null, "text_ur": "== خطباتِ بہاولپور ==\n\nمولانا ابو الکلام آزاد\n\n=== خطبہ نمبر ۳ ===\n\nمحترم وائس چانسلر صاحب! محترم اساتذہ! محترم بھائی بہنو!\nالسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!\nالحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین و آلہ و اصحابہ اجمعین\nان تقریروں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، اس سلسلے میں آج تیسری تقریر علم فقہ کے متعلق ہے۔ اور یہ ترتیب کہ اولاً قرآن کریم، پھر حدیث اور پھر فقہ، اس لیے اختیار کی گئی ہے کہ فقہ مبنی ہے ان دو سابقہ چیزوں پر۔ یعنی پہلے معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن کیا چیز ہے؟ اور وہ کس طرح ہم تک پہنچے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ ہمارا دین، ہماری فقہ اور ہمارا قانون، جن دو چیزوں پر مبنی ہیں وہ اس قدر قابل اعتماد بھی ہیں یا نہیں کہ ان کو ایک غیر جانبدار انسان قبول کر سکتا ہو۔\nمیں سمجھتا ہوں کہ گزشتہ دو تقریروں سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ اپنے دین کے ماخذوں کے متعلق ہم مسلمانوں کو کسی سے شرمانے کی ضرورت نہیں۔ جس طرح قرآن اور حدیث ہم تک پہنچے ہیں اس سے زیادہ احتیاط کے ساتھ دنیا کی کسی اور قوم کی اساسی چیزیں ان تک نہیں پہنچیں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ان دونوں قابل اعتماد ماخذوں سے مسلمانوں نے اپنا قانون کس طرح بنایا اور وہ کس طرح آج تک چلا آ رہا ہے۔ ایک چیز کا آپ سے شروع ہی میں ذکر کرتا ہوں کہ قرآن مجید اپنی معجزانہ حیثیت کے باوجود، کہ وہ خدا کا کلام ہے، اور حدیث اپنی الہامی حیثیت کے باوجود کہ پیغمبر خدا کی طرف سے الہام شدہ باتیں ہی بیان کرتا ہے اور خدا علام الغیوب ہے، صرف قرآن اور حدیث کے ناکافی ہونے کی صورت میں کیا کیا جائے؟ چنانچہ میں آپ کو دوبارہ یاد دلاؤں گا اور حضرت معاذ بن جبلؓ کے واقعے کی طرف توجہ دلاؤں گا۔ وہ ایک مشہور صحابی گزرے ہیں، اور انہیں لمبی عمر ملتی تو صحابہ میں غالباً سب سے بڑے فقیہ ہوتے، بہرحال ابھی وہ نوجوان تھے لیکن ان کی ذہانت کے باعث رسول اللہﷺ نے ان کو گورنر بنا کر یمن بھیجا۔ آخری وقت باریابی میں حضورﷺ نے ان سے پوچھا کہ اے معاذ! تم اپنے فیصلے کس طرح کیا کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا \"بکتاب اللہ\" (اللہ تعالی کی کتاب کے مطابق) جواب صحیح تھا لیکن حضورﷺ نے پوچھا اگر اس میں نہ پاؤ تو؟ میرا اشارہ اصل اس نکتے کی طرف ہے کہ خود رسول اللہﷺ بھی فرماتے ہیں کہ قرآن کریم عام حالات میں تو نہیں لیکن کسی خاص حالت میں ناکافی معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے حضور انورﷺ فرماتے ہیں کہ اگر تم مطلوبہ چیز اس میں نہ پاؤ تو تم کیا کرو گے؟ حضرت معاذ بن جبلؓ نے جواب دیا \"بسنۃ رسول اللہ\" (رسول اللہ کی سنت کے مطابق عمل کیا کروں گا) یہ جواب بھی صحیح تھا مگر حدیث و سنت کی اِلہامی کیفیت کے باوجود رسول اللہﷺ فرماتے ہیں \"فان لم تجد\" (اگر تم اس میں بھی نہ پاؤ تو تم کیا کرو گے؟) تو اس پر وہ فرماتے ہیں \"اجتھد بر ابی ولا الو\" (یعنی میں اپنی رائے کے مطابق کوشش کروں گا اور استنباط مسائل کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کروں گا)۔ اس جواب پر حضورﷺ اس قدر خوش ہوئے کہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا \"اے اللہ تیرے رسولﷺ نے جو چیز بیان کی ہے اس پر میں خوش ہوں\" یعنی دعائے برکت دی اور اس کو قبول کیا اور برقرار رکھا کہ یہی طریقہ ہونا چاہیے، انسانی نقطہ نظر سے۔ اگر قرآن مجید اور حدیث ناکافی ثابت ہو تو ممکن ہے مسلمانوں کی قوم بے بس ہو جاتی اور اپنی ضروریات پورا نہ کر سکتی، جو ایک قیامت تک چلنے والے دین کے لیے نامناسب ہوتا۔ اس لیے رسولﷺ نے خود ہمیں بتا دیا کہ اگر قرآن و حدیث میں نہ ملے تو اجتہاد کرو۔ میں اس کی طرف بعد میں رجوع کروں گا کہ اجتہاد کے معنی کیا ہیں۔\nفقہ ایک عربی لفظ ہے جس کے لغوی معنی ہیں \"جاننا\" اور اس کے اصطلاحی معنی ہیں \"قانون\"۔ قرآن مجید میں قانون کے متعلق ایک بہت ہی لطیف انداز میں ذکر آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا تصور قانون کیا تھا۔ وہ آیت یہ ہے :\n\nمَثَلًا كَلِمَةً طَیبَةً كَشَجَرَةٍ طَیبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِی السَّمَاءِ\n\n(14:24)\n\n(اچھی بات کی مثال ایک اچھے درخت کی طرح ہے اس کی جڑ تو زمین میں گڑی ہوئی رہتی ہے لیکن اس کی شاخیں آسمان تک پھیلی ہوتی ہیں۔)\n\nدوسرے الفاظ میں قانون کی بنیاد بیج جیسی چھوٹی سی چیز کی طرح ہے لیکن اس سے جو درخت نکلے گا وہ آسمان تک پھیل جائے گا اور اس کی شاخیں ہر چیز کو ڈھانپ سکیں گی۔ چنانچہ واقعہ یہی ہے کہ اگر ہم قرآن اور حدیث کو جڑیں یا بیج تصور کریں تو اس جڑ یا بیج سے نکلا ہوا درخت اتنا تناور اور اتنا شاخ در شاخ پھیل گیا ہے کہ انسان کی ہر ضرورت کو، اور قیامت تک کے مسلمانوں کے آنے والی نسلوں کو جدید ضرورتوں کو پورا کرنے کے قابل ہے اور ظاہر ہے شاخ در شاخ روزانہ اس درخت میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔ ان حالات میں شاید مناسب معلوم ہوگا کہ میں تمہید کے طور پر اسلامی قانون کا دیگر ممالک کے قانون سے موازنہ کروں۔\nمحققین اور مؤرخین کا بیان ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی قانون ساز قوم رومیوں کی گزری ہے اور ان کے برابر کسی قوم نے قانون کی خدمت نہیں کی۔ یورپ کی حد تک یہ صحیح ہوگا کہ کیونکہ رومیوں سے پہلے یورپ میں جو قومیں گزری ہیں، ان میں شاید یونانی سب سے زیادہ ممتاز تھے، سب سے بڑی ممتاز قوم رومیوں سے پہلے یونانیوں کی گزری ہے۔ یونانیوں نے بہت سے علوم کی خدمت کی لیکن قانونی نقطہ نظر سے ان کے ہاں کوئی زیادہ وقیع چیز نہیں ملتی۔ لہٰذا ہمیں یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ یورپ میں رومیوں نے قانون کی واقعی بڑی خدمت کی۔\nرومی قانون کا مشہور مؤرخ، کولی لکھتا ہے کہ رومی قانون پہلے بالکل ابتدائی قسم کا (Primitive) تھا۔ وہ کھلے دل سے یہ اعتراف کرتا ہے کہ رومیوں کی سلطنت توسیع پا کر جب ایشیا میں پہنچی تو اس وقت وہاں کے قانون سے متاثر ہو کر رومیوں نے اپنے قانون میں اصلاحیں کیں۔ چنانچہ رومی قانون کا جو قدیم ترین مصنف گزرا ہے یعنی گائیس GAIUS وہ ایشیائے کوچک یعنی موجودہ ترکی کا باشندہ تھا، یورپین نہیں تھا۔ بعد میں اس قانون کی توسیع اس بنا پر عمل میں آئی کہ رومی سلطنت یورپ، افریقہ اور ایشیا کے براعظموں میں پھیل گئی تھی، اور مختلف قوموں پر وہ حکومت کرتے تھے۔ اس لیے انہیں اپنے قانون میں بہت سے اضافے، تبدیلیاں اور ترمیمیں کرنا پڑیں اور اس قانون نے بے شک ترقی کی۔ اس ترقی یافتہ قانون کو رسولﷺ کی ولادت سے چار پانچ سال پہلے فوت ہونے والے حکمران جسٹینین (Justinian) نے مدوّن کرنے کی کوشش کی تھی۔ ہم ایک اعتبار سے جسٹینین کے مجموعہ قوانین کا مقابلہ فتاوائے عالمگیری سے کر سکتے ہیں۔ اورنگ زیب عالمگیر، علم دوست بادشاہ ضرور تھے، لیکن عالم یا فقیہ نہیں تھے۔ یہی حال جسٹینین کا ہے۔ وہ بہت ذہین بادشاہ تھا لیکن خود ماہرِ قانون نہ تھا۔ اس نے عالموں کی سرپرستی کی اور انہیں ملک میں پائے جانے والے سارے قوانین پر، جن کے بعض اجزاء میں تضاد پایا جاتا تھا، نظر ثانی کی دعوت دی۔ اس طرح ایک کوڈ یا مجموعہ قوانین مرتب ہوا۔ یورپ میں یہ ایک قابل فخر چیز ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ قانون دلچسپ ہے۔ اس میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو آج بھی قابل عمل ہیں اور ان میں ردّ و بدل کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ لیکن اس قانون کی اساس یہ ہے کہ انسان خود قانون ساز ہے۔ یعنی ایک انسان دوسرے انسان کے بنائے ہوئے قانون قبول بھی کر سکتا ہے اور ان کو رد بھی کر سکتا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ اس قانون میں استحکام (Stability) نہیں رہا۔ چنانچہ ہمارے مؤرخ بیان کرتے ہیں کہ خود Justinian نے اپنی تیس بتیس سالہ حکومت میں، اپنے ہی تیار کردہ قانون میں اتنی تبدیلیاں کیں کہ وہ کچھ سے کچھ ہو گیا۔ اس کے برخلاف اگر قانون کی اساس اللہ کے احکام ہیں تو اس میں استحکام اور پائیداری ہوگی، جو انسانی قانون کے اندر نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے ہی برابر سمجھتا ہے، اس پر اعتراض کرنے کی جسارت کرتا ہے اور اس کے خلاف رائے دینے کی ہمت کرتا ہے۔ دیگر ممالک میں بھی ہمیں یہ چیز نظر آتی ہے۔ لیکن سارے قوانین سے موازنہ کرنے کا موقع نہیں کیونکہ وقت کم ہے۔\nغرض جب رسولﷺ مبعوث ہوئے تو اس وقت دنیا کے سامنے ایک قانونی چیلنج تھا کہ اگر تم میں ہمت ہے تو اس رومی قانون سے بہتر قانون بناؤ۔ اس چیلنج کا ہمارے پیغمبرﷺ نے جواب دیا اور وہ قانون بنایا جو جسٹینین کے قانون سے بھی حقیقتاً بہتر تھا۔ اس میں وہ کمزوری بھی نہیں ہے جو Justinian کے قانون میں تھی بلکہ استحکام، استقامت اور پائیداری بھی ہے۔ اسلامی قانون میں جو وسعت اور ہمہ گیری ہے وہ رومی قانون میں نہیں ہے۔ مثلاً جسٹینین کے کوڈ میں دینی امور اور عبادات کا قطعاً کوئی ذکر نہیں ہے۔ اسی طرح اور بہت سی چیزیں جو اسلامی قانون میں ملتی ہیں، وہاں نظر نہیں آتیں۔ اگر کوئی شخص جانبداری سے رومی قانون اور اسلامی قانون کا موازنہ کرے تو وہ یقیناً یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ اسلامی قانون ہی بہتر ہے۔ میں نے چند ابواب کی حد تک رومی اور اسلامی قواعد کا تفصیلی مقابلہ کیا ہے اور ذاتی علم کی بنا پر یہ دعویٰ کر رہا ہوں۔\nاب ہم یہ دیکھیں گے کہ اسلامی قانون کس طرح بنا؟ اسلامی قانون ربانی وحی کے ذریعے سے آئے ہوئے اوامر کی تبلیغ کے سلسلے میں رسولﷺ کے دیے ہوئے احکام پر مشتمل ہے۔ ان احکام کا کچھ حصہ آپ نے املا کرایا اور کہا کہ یہ اللہ کا حکم یعنی قرآن ہے، تم اسے زبانی یاد کرو، اسے نمازوں میں پڑھو، کبھی نہ بھلاؤ۔ اسی طرح آپﷺ نے اور احکام بھی دیے جو (وَمَا ینْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ () إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْی یوحَىٰ سورۂ نجم 53 آیت 3 تا 4) کے مطابق اگرچہ ربانی وحی پر ہی مشتمل تھے لیکن قرآن میں داخل نہیں کیے گئے۔ ان کو سنّت بھی کہتے ہیں۔ اللہ کے احکام، اللہ کے پیغمبر کے احکام یعنی حدیث و سنت، یہ دونوں چیزیں ایک دن میں مدوّن نہیں ہوئیں۔ جیسا کہ میں نے آپ سے بیان کیا قرآن مجید نازل ہوتے ہوئے (23) سال لگے۔ یہی حال اور یہی مدّت حدیث کی بھی ہے۔ لیکن شروع میں کچھ بھی نہ تھا لوگ مسلمان ہونے لگے تھے اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قانون کے معنی ہیں \"طرزِ عمل\" یا \"اصولِ کار\" تو ابتداء میں اسلامی قانون کیا تھا، کیونکہ اس وقت سوائے \"سورۂ اقراء\" کی پہلی پانچ آیتوں کے کوئی چیز موجود نہ تھی۔ اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ اسلامی اصول یہ ہے کہ جس چیز کی ممانعت نہ کی جائے وہ مباح ہے۔ دوسرے الفاظ میں مکہ معظمہ ہی کے کافرانہ معاشرے میں بت پرستی کے سوا، جو بھی معاشرتی رسم و رواج تھے اور جو بھی عرف و عادت پائی جاتی تھی، اس پر عمل کرنے کی مسلمانوں کو اجازت تھی، آپ کو شاید برا لگے لیکن واقعہ یہ ہے کہ ابتداء میں مسلمان شراب بھی پی سکتے تھے اس لیے کہ شراب ابھی حرام نہیں ہوئی تھی۔ دوسرے الفاظ میں اسلامی قانون شروع ہوتا ہے شہر مکہ کے رسم و رواج سے، اور اس رسم و رواج میں رفتہ رفتہ ترمیم اور تبدیلی ہوتی گئی۔ قرآن و حدیث کے احکام کے مطابق قدیم رسم و رواج میں جو تبدیلی ہوئی وہ 23 سال کے عرصے میں ترجیحی بنیادوں پر ہوئی کہ کن چیزوں کو سب سے پہلے منسوخ کیا جائے، ان کے بعد کن چیزوں کو، ان کے بعد کن چیزوں کو، اور کن نئی چیزوں کا اضافہ کیا جائے، ظاہر ہے کہ مکے کے رسم و رواج کے متعلق اسلام کے امتناعی اور اصلاحی احکام کا سب سے پہلا عنصر، سب سے پہلی چیز بت پرستی کی مخالفت تھی۔ یعنی اللہ ایک ہے۔ بتوں کی پرستش نہ کرو۔ اللہ کا کسی کو شریک نہ بناؤ۔ عقائد کے متعلق ایک چیز اور بھی تھی کہ ہماری زندگی کا تعلق صرف اسی دنیا سے نہیں بلکہ اس کے بعد آخرت کی زندگی بھی ہے۔ مرنے کے بعد حساب کتاب دینے کے لیے اللہ ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور ہمارے نیک و بد اعمال کے مطابق ہمیں جزا یا سزا دے گا۔ یہ بالکل ابتدائی چیزیں تھیں۔ اللہ پر ایمان اور قیامت پر ایمان۔ ایک چیز اور تھی کہ جب اللہ کو ہم ایک مانتے ہیں اور اسے اپنا مالک اور خالق جانتے ہیں تو اس کے متعلق ہمیں اپنے فرائض کس طرح انجام دینے چاہئیں۔ ظاہر ہے کہ اللہ ہمارا محتاج نہیں بلکہ ہم اللہ کے محتاج ہیں۔ لہٰذا اللہ کی بندگی اور شکر گزاری بھی ہمارا فرض ہے۔ اس فرض کی ادائیگی کے لیے نماز کی تاکید کی گئی۔ چنانچہ نماز اور عقائد یہ دو عنصر تھے جو شروع میں آئے۔ پھر رفتہ رفتہ دیگر امور کا اضافہ ہوتا گیا میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسلامی قانون کا ماخذ قرآن و حدیث تو ہے لیکن ان کے ساتھ ساتھ، بلکہ ان سے کچھ پہلے ہی شہر مکہ کا رسم و رواج بھی اسلامی قانون تھا۔ یہ رسم و رواج ایک عارضی ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ قرآن و حدیث جو با ضابطہ ماخذ قانون تھے ان میں یہ بھی قوت تھی کہ اس غیر اہم یا غیر دوامی عنصر یعنی رسم و رواج کو منسوخ کر سکے۔ اس سے انکار کیے بغیر کہنا یہ پڑتا ہے کہ پہلا ماخذ ملک کا رسم و رواج تھا۔ دوسرا با ضابطہ ماخذ قرآن اور حدیث ہیں۔ لیکن حضرت معاذ بن جبلؓ سے متعلق مشہور حدیث سے یہ ظاہر ہے کہ عہد نبوی ہی میں قرآن و حدیث کے علاوہ اجتہاد کو بھی ایک تیسرے ماخذ قانون کی حیثیت حاصل تھی۔\nہمارے پاس اصول فقہ کی کتابوں میں اور ماخذ بھی بیان ہوتا ہے جسے اجماع کا نام دیتے ہیں، یعنی کسی بات پر علماء امت کا متفق ہو جانا، عہد نبوی میں اس کی ضرورت ہی نہیں تھی اس لیے کہ اگر کوئی سوال پیدا ہوتا تو لوگ فوراً رسولﷺ سے رجوع کرتے تھے۔ رسولﷺ فیصلہ فرما دیتے جو قطعی اور آخری ہوتا۔ آپس میں مشورہ کر کے کسی پر متفق ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ اس پہلو پر مزید گفتگو بعد میں ہوگی۔\nان ماخذوں کے ساتھ ساتھ عہد نبوی میں ایک اور چیز بھی ملتی ہے جو آئندہ بھی ہمیں کام آ سکتی ہے، اسے ہم \"معاہدہ\" کہہ سکتے ہیں۔ یعنی اگر کسی دوسرے ملک سے اور کسی دوسری حکومت سے ہم معاہدہ کر لیں اور بعض شرطیں قبول کر لیں، کہ ہم یہ کیا کریں گے اور تم یہ کرو گے۔ تو جب تک وہ معاہدہ برقرار رہے گا، وہ پابندیاں یا وہ شرطیں جو ہم نے قبول کی تھیں، ہمارے قانون کا جزو بن جائیں گی اور ہمارے لیے واجب التعمیل رہیں گی۔ دوسرے الفاظ میں یہ معاہداتی پابندیاں اور معاہدے کے ذریعے سے قبول کی ہوئی شرطیں اسلامی قانون ہیں، لیکن غیر تابدی اور عارضی۔ جب تک معاہدہ برقرار رہے گا، وہ شرطیں ہمارے قانون کا جزو رہیں گی۔\nایک اور ماخذ قانون جو عہد نبوی میں پایا جا سکتا تھا لیکن مجھے اب تک عہد نبویؐ میں اس کی کوئی مثال نہیں مل سکی۔ قدیم ترین مثال جو مجھے اس کی ملی ہے، وہ حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت کے ایک واقعے سے متعلق یہ اصول مماثلت (Reciprocity) جس میں معاہدے کے بغیر غیروں کے احکام ہمارے قانون میں داخل ہو جائیں۔ پہلے میں اس واقعے کو بیان کرتا ہوں جس سے آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ 'مماثلت' جو اس کا نام دیا گیا ہے کیا چیز ہے؟ ایک دن خلیفہ وقت حضرت عمرؓ کے پاس سرحد کے علاقے کا ایک گورنر خط بھیجتا ہے کہ ہمارے سرحد کے باہر جو بیزنطینی (رومن) وغیرہ ہیں،ان کے یہاں کے تاجر ہمارے ملک میں آنا چاہتے ہیں، اور ہمارے ملک میں تجارت کرنا چاہتے ہیں۔ احکام دیجئے کہ ان سے ہم کس اساس پر چونگی وصول کریں؟ اس گورنر کو کوئی علم نہیں تھا کہ اسلامی قانون چونگیوں کے متعلق کیا ہے؟ اس نے قرآن دیکھا، قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملا اور اس باے میں اسے کوئی بھی معلومات نہیں تھیں۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ جس علاقے کے لوگ آئیں، اگر اس علاقے میں مسلمان تاجر جاتے ہیں تو جس نرخ پر ان سے چونگی لی جاتی ہے، اسی نرخ پر تم لے لو یہ reciprocity یعنی مماثلت کا قانون ہے۔ اس سے پہلے بیزنطینی حکومت سے اس قسم کا کوئی معاہدہ نہیں تھا۔ اس کے باوجود حضرت عمرؓ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اس علاقے میں جس شرح سے چونگی لی جاتی ہے، اسی شرح سے وہاں والوں سے ہمارے یہاں چونگی لی جائے گی۔\nان ماخذوں کے علاوہ ایک ماخذ، جس کا کچھ پہلے ذکر کرنا چاہیے تھا، وہ قرآن مجید میں مذکور ہے۔ \"سورہ انعام\" میں ایک مقام پر تقریباً پچیس پیغمبروں کے ناموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ اس فہرست کے دینے کے بعد یہ آیت ہے:\n(أُولَٰئِكَ الَّذِینَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ) (90:6) (یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے، اس لیے (اے محمدؐ) آپ بھی ان کی پیروی کریں) تاریخی نقطہ نظر سے اس اہم آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے لے کر پیغمبر اسلام کے زمانے تک اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے جو پیغام بھیجے ہیں، وہ بھی خدائی احکام ہیں، اور وہ بھی ویسے ہی قابل تعظیم ہیں، جیسے پیغمبر اسلام پر نازل شدہ قوانین (لَا نُفَرِّقُ بَینَ أَحَدٍۢ مِّن رُّسُلِهِ) (285:2) (سب پیغمبر مساوی رتبہ رکھتے ہیں بحیثیت پیغمبر کے) تو حکم دیا جاتا ہے کہ سابقہ پیغمبروں کے قوانین بھی واجب التعمیل ہیں، اور پیغمبر اسلام کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس حکم کے ساتھ کچھ شرطیں ہوں گی۔ قانون ساز اللہ کی ذات ہے۔ اس نے اگر حضرت آدم علیہ السلام یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کچھ احکام دیے، تو وہی قانون ساز اس میں کچھ ترمیم اور تبدیلی بھی کرسکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر خدا نے ہمارے پیغمبر کو حکم دیا کہ تم اپنے سے پہلے پیغمبروں مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے احکام میں سے فلاں چیز پر عمل نہ کرو بلکہ یوں کرو، تو پرانا قانون واجب التعمیل نہیں رہے گا۔ بلکہ جدید حکم پر عمل کرنا ہوگا۔ دوسری شرط اس قانون سے متعلق یہ ہوگی کہ اس کا علم، ہمیں قابل اعتماد صورت میں پہنچے کہ یہ چیز حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت میں تھی، یہ چیز حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں تھی، یہ چیز حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں تھی۔ اگر کسی حکم کا قابل اعتماد ثبوت ملے تو واجب التعمیل ہوگا ورنہ نہیں۔ چنانچہ حدیث میں ایسی باتوں کا ذکر ملتا ہے اور قرآن میں بھی ایسی آیتیں ہیں کہ فلاں چیز حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قانون میں تھی، فلاں چیز حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قانون میں تھی، تو اس پر ہم عمل کریں گے۔ مکر اس میں دشواری یہ پیدا ہو گئی ہے کہ خود قرآن مجید میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ یہود اور نصاریٰ اپنی کتاب میں تحریف کرتے ہیں۔ ان حالات میں کہ براہ راست حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قانون ہم تک قابل اعتماد صورت میں پہنچا ہے لہٰذا ہم ان کی کتابوں کے احکام پر عمل کرنے کی جسارت نہیں کر سکتے جب تک کہ ان کے کسی حکم کے متعلق ہمیں کسی اور ذریعے سے اس بات کا ثبوت نہ مل جائے کہ وہی صحیح اور قابل اعتماد ہے۔\nجیسا کہ میں بیان کر رہا تھا۔ اسلامی قانون کے جو متعدد ماخذ ہیں ان میں سابقہ پیغمبروں کی شریعتیں بھی داخل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک مثال آپ کو دیتا ہوں جس سے میرا مفہوم شاید زیادہ واضح ہو جائے گا۔ قرآن مجید کی \"سورۂ نور\" میں زنا کی سزا سنائی گئی ہے کہ ایک سو دُرّے لگائے جائیں اور اسلامی قانون میں پیغمبر اسلام کے عمل کی بنا پر شادی شدہ لوگوں کے زنا کرنے کی صورت میں \"رجم\" یعنی پتھراؤ کرنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو \"رجم\" کرنے کا حکم ہے یعنی کسی مجرم کو پتھر مار کر سزائے موت دینا اس کی اساس کیا ہے، چونکہ قرآن مجید میں اس کا ذکر نہیں ہے، اس لیے بہت سے لوگوں کو بد گمانی ہو سکتی ہے، شاید ہوئی بھی ہے کہ \"رجم\" کا قانون اسلام میں نہیں پایا جاتا۔ صرف سو دُرے لگائے جائیں، یہی کافی ہے، اگر آپ غور کریں تو نظر آئے گا کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ قرآن مجید میں بالواسطہ طور پر اس قانون کا حکم ہے کہ \"رجم\" کیا جائے۔ وہ واسطہ یہ ہے کہ قرآن نے کہا ہے تم سے پہلے کے جو پیغمبر گزرے ہیں، ان کے قانون پر عمل کرو اور \"رجم\" کے متعلق قانون توریت میں موجود ہے، انجیل میں بھی موجود ہے، جو کتابیں آج کل ہمیں عیسائیوں اور یہودیوں کی شائع کردہ ملتی ہیں، ان میں بھی یہ قانون آپ کو ملے گا۔ اس قانون کی صحت ہمارے پیغمبر نے قبول کر کے اس کی توثیق بھی کی ہے کہ یہ قانون تھا۔ اگر قرآن میں اس کا ذکر نہیں ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن نے اس قانون کو منسوخ نہیں کیا، اور جب منسوخ نہیں کیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ برقرار ہے، جب وہ برقرار ہے تو ہمارا قانون ہے۔ ہمارا بنایا ہوا نہیں، خدا کا بنایا ہوا قانون ہے اور ہمارے لیے واجب التعمیل ہے۔ چنانچہ توریت میں شادی شدہ لوگوں کے زنا سے متعلق صراحت سے ذکر ہے کہ ان کو رجم کیا جائے۔ لیکن غیر شادی شدہ لوگوں کے زنا سے متعلق توریت میں حکم ہے کہ ان کو صرف مالی جرمانہ کیا جائے، اور کچھ نہیں۔ اس قانون کو قرآن نے منسوخ کر دیا۔ صرف جرمانے پر اکتفا کرنا، بد اخلاقی میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کو ایک زیادہ روکنے والی چیز کی ضرورت ہے۔ لہٰذا حکم ہوا کہ ایک سو دُرے لگائے جائیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں ایک پرانے قانون کے ایک جز کو سکوت کے ذریعے برقرار رکھا گیا اوردوسرے حصے کو صراحت کے ساتھ منسوخ کیا گیا، تو وہ اسلامی قانون ہوئے اور دونوں پر عمل واجب ہے۔ یہ تھا میرا منشاء کہ پرانے انبیاء کی شریعت، مسلمانوں پر واجب التعمیل ہے، دو شرطوں کے ساتھ، ایک تو ان میں ترمیم یا تبدیلی قرآن نے نہ کی ہو اور دوسرے یہ کہ ان کا ہم تک پہنچنا قابل اعتماد وسائل سے ہوا ہو۔\nاب ہم اسلامی قانون کی ترقی کے متعلق ایک اور پہلو کو لیں گے۔ قانون کا کچھ حصہ صراحت کے ساتھ قانون ساز یعنی خدا اور رسول اللہﷺ ہم تک پہنچاتے ہیں۔ اس میں گویا انسان کے بنانے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے لیکن اگر کسی وقت قرآن و حدیث میں سکوت ہو، جیسا کہ میں نے ابھی معاذ بن جبلؓ کی حدیث کے ذریعے سے آپ کو بتایا تو ایسے حالات میں ہم کو اجتہاد کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی سوچ کر، اپنی عقل سلیم کے لحاظ سے ہو کوئی قاعدہ استنباط کریں جو ہمیں مناسب معلوم ہو اور ہماری عقل اور ہمارا ضمیر اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔ یہ کام قانون کے ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ فرض کیجیے ایک طبیب ہے، اس کا قانون سازی سے کوئی علاقہ نہیں۔ ایک روٹی پکانے والا نانبائی ہے، اس کو قانون سازی سے کوئی تعلق نہیں وغیرہ وغیرہ۔ قانون سازی کا کام قانون کے متخصصین ہی کرسکتے ہیں، کوئی اور نہیں۔ لہٰذا ہم دیکھیں گے کہ اسلامی معاشرے میں قانون بنانے کا کام کون کرتے ہیں اور قانون کو سمجھنے اور سمجھانے کا کام کون کرتے ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں ایک تو حاکم عدالت اور دوسرے جسے ہم مفتی کا نام دیتے ہیں یعنی اس سے پوچھتے ہیں کہ اس بارے میں کیا قانون ہے اور وہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسلامی قانون یہ ہے یا یہ ہونا چاہیے، لیکن مفتی اس کا نفاذ نہیں کر سکتا۔ اس فرق کے باوجود دونوں ذیلی قانون سازی کا کام کرتے ہیں۔ اساسی قانون کی حیثیت تو قرآن و حدیث رکھتے ہیں لیکن قرآن و حدیث ساکت ہوں تو اجتہاد کے ذریعے سے، استنباط کے ذریعے سے، یہ لوگ قانون معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ہمیں بتاتے بھی ہیں اور ہم پر نافذ بھی کرتے ہیں۔\nایک مثال میں آپ کو دیتا ہوں۔ قرآن مجید میں چوری کی سزا مقرر کی گئی ہے، لیکن اگر کوئی شخص کفن چوری کرے یعنی ایک ایسے شخص سے اس کا مال لے جو اپنی مدافعت نہیں کر سکتا یعنی کسی مردہ شخص کی قبر کھولے، قبر کے اندر سے اس کا کفن چرا لے جائے تو کیا اسے چوری کہا جائے گا؟ ہمارے فقہاء کہتے ہیں کہ وہ چوری نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کفن چوری کی سزا کیا ہوگی؟ کیا وہی سزا ہوگی جو عام چوری کی ہے یا اس کے لیے کسی اور قانون کی ضرورت ہوگی؟ اس میں سوائے استنباط، اجتہاد اور غور و فکر کے، قانون معلوم کرنے کے اور کوئی صورت ممکن نہیں کیونکہ قرآن میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ ایسی صورت میں ہمارے فقہاء استنباط کرتے ہیں اور استنباط کے لیے قیاس سے کام لیتے ہیں۔ میں تفصیلوں میں نہیں جاتا، صرف آپ کو مثال دے کر سمجھانا چاہتا ہوں کہ کن صورتوں میں فقہاء کو یا مفتیوں کو اور قاضیوں کو قانون معلوم کرنے اور قانون میں ترقی دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کیونکہ چوری کے متعلق قانون تھا لیکن کفن چوری کے متعلق قانون نہیں تھا، اسے ہمارے قاضی اور مفتی نے معلوم کیا۔ پھر وہ ہمارے قانون کا جزو بنا اور ہمارے قانون میں اس سے ترقی ہوئی۔ یہ کام ہمیں عہد نبویؐ ہی سے نظر آنے لگتا ہے۔ چنانچہ اس کی صراحت ایک حدیث میں ملتی ہے۔ ایک روایت ہے کہ رسولﷺ نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ تمہیں کوئی چیز معلوم کرنا ہو تو ابوبکرؓسے معلوم پوچھ لو۔ حضرت ابو بکرؓ ایک ماہر قانون تھے اور صحابہ کرام رسولﷺ کو ہر چھوٹی چیز کے متعلق زحمت دینے کے بجائے، حضرت ابو بکرؓ کے پاس جاتے اور ان سے پوچھ لیتے۔ انہیں ایک طرح سے اجازت تھی کہ وہ چھوٹے موٹے مسائل میں فتویٰ دیں۔ کوئی مشکل مسئلہ ہو تو ظاہر ہے حضرت ابو بکرؓ بھی کہتے کہ ٹھراو، رسولﷺ سے پوچھ کر بتاؤں گا۔ اگر انہیں معلوم ہوتا تو وہ کہتے کہ رسولﷺ نے اس کے متعلق سابق میں یہ حکم دے رکھا ہے، تم اس پر عمل کرو۔ اس طرح قاضی کے فیصلے بھی عہد نبویؐ سے شروع ہوئے تھے مجھے معلوم نہیں کہ مفتیوں کی تعداد کتنی تھی۔ صرف ایک واقعہ میرے ذہن میں تھا۔ وہ میں نے آپ سے بیان کر دیا۔ حضرت ابو بکرؓ کے متعلق صراحت سے تاریخوں میں ذکر ہے کہ رسولﷺ نے ان کو مفتی بنا کر نامزد کر رکھا تھا۔ ممکن ہے اور صحابی بھی ہوں۔ رہا قاضی تو اسلامی سلطنت کی توسیع کے ساتھ ان کی تعداد بھی بڑھتی جاتی ہے، خاص کر یمن میں جو ایک بڑا صوبہ تھا اور ذہنی لحاظ سے اس زمانے میں بہت ترقی یافتہ تھا۔ وہاں کے لوگ خانہ بدوش نہیں تھے۔ بستیوں میں زندگی گزارنے والے اور تجارت کاشتکاری کرنے والے لوگ تھے۔ اس لیے یمن کے متعلق ایک سے زیادہ سرکاری افسروں کا ذکر ملتا ہے۔ گورنر بھی اور اس طرح کے دیگر عہدیدار بھی ملتے ہیں۔ ان میں سے ایک کا ذکر تھوڑی دیر ہوئی میں نے آپ سے کیا تھا یعنی معاذ بن جبلؓ۔ وہ قاضی بھی تھے لیکن ان کا ایک اور فریضہ بھی نظر آتا ہے کہ وہ انتظامی امور بھی سر انجام دیتے تھے، یعنی گورنر بھی تھے اور قاضی بھی تھے۔ ایک اور افسر عمرو بن حزم ہیں ان کے متعلق تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسپکٹر جنرل تعلیمات بھی تھے۔ چنانچہ طبری نے لکھا ہے کہ ان کا فریضہ تھا کہ گاؤں گاؤں کا دورہ کریں اور لوگوں کو تعلیم دیں۔ غالباً وہ ہر جگہ کوئی مدرسہ کھولتے ہوں گے۔ پھر مقامی لوگوں کو قرآن پاک پڑھانے کی تربیت دے کر آگے روانہ ہو جاتے ہوں گے۔ بہرحال \"کان ینتقل من امارۃ عامل الٰی عامل\" کے الفاظ تاریخ طبری میں آتے ہیں۔ وہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں جایا کرتے تھے اور ان کا کام لوگوں کو تعلیم دینا تھا۔ ان قاضیوں میں سے ایک جو یمن بھیجے گئے۔ یہ حضرت ابو موسیٰ الاشعری ہیں۔ ان کا ذکر میں بالخصوص اس لیے کر رہا ہوں کہ ان کا تقرر نامہ بھی تاریخ میں محفوظ ہے۔ چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں نظم و نسق کا اصول یہ نہ تھا کہ کوئی شخص انتہا کسی مقام پر پہنچ جائے۔ جیسے حمید اللہ بہاولپور آ کے یہ کہہ دے کہ میں لیکچر دینے آیا ہوں وائس چانسلر کو خبر بھی نہ ہو۔ اس کے برخلاف مرکز یعنی پایہ تخت سے ایک تحریری پروانہ نامزد شدہ گورنر کو بھی دیا جاتا، اور ایک خط مقامی باشندوں کے نام بھی ہوتا۔ جس میں یہ کہا جاتا کہ میں تمہارے پاس فلاں شخص کو گورنر بنا کر یا قاضی بنا کر یا عامل بنا کر بھیج رہا ہوں۔ جب وہ آئںا تو ان کی اطاعت کرنا، ورنہ میری عدم اطاعت متصور ہوگی۔ اور قاضیوں کو پروانہ نامزدگی دیا جاتا جس میں ان کے فرائض کا بھی کچھ ذکر ہوتا تھا۔ یہ طریقہ بھی ہمیں عہد نبویﷺ ہی میں ملنے لگتا ہے۔ (اور حضرت عمرو بن حزمؓ کو دیا ہوا ہدایت نامہ محفوظ ہے) اس کا ذکر میں نے ایک اور وجہ سے بھی کیا ہے یعنی حضرت ابو موسیٰ الاشعری کی عظیم الشان شصیتن کی بناء پر۔ ان کا ایک قصہ بھی آپ سے بیان کرتا چلوں اور بہت ادب کے ساتھ آپ سے عرض کرتا ہوں کہ ابن سعد کے مطابق وہ ان پڑھ تھے، لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا۔ رسولﷺ کی وفات تک وہ اُمّی رہے۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے ان کی عظیم صلاحیتوں اور وسیع تجربے کی بناء پر، کہ عہد نبویﷺ میں مختلف عہدے انجام دے چکے تھے، ان کو عراق کی فتح کے بعد بصرہ کا گورنر نامزد کیا۔ چونکہ خود انہیں لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا اس لیے وہاں انہوں نے ایک لکھے پڑھے اچھے ماہر کو سیکرٹری بنا لیا، جو ایک عیسائی تھا۔ ایک دن حضرت عمرؓ نے ان کو بلا بھیجا۔ وہ اپنے سیکرٹری کے ساتھ کچھ انتظامی فرائض کے لیے مدینہ آئے تو مسجد کے اندر حضرت عمرؓ سے ملنے کے لیے چلے گئے، لیکن سیکرٹری صاحب باہر ہی رہے حضرت عمرؓ نے پوچھا تمہارا سیکرٹری ساتھ نہیں آیا، کہاں ہے؟ کہا کہ باہر ہے۔ آپ نے پوچھا کہ مسجد میں کیوں نہیں آیا؟ تو بتایا کہ عیسائی ہے۔ حضرت عمرؓ کو یہ نامناسب معلوم ہوا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری کو بدل دو۔ بظاہر ہمیں موجودہ زمانے میں مسلم اور غیر مسلم کا فرق و امتیاز نامناسب معلوم ہوگا لیکن آپ اس پر غور کیجیے کہ ایک گورنر جسے بیسیوں قسم کے اختیار حاصل ہوں، اس کا فیصلہ بھی فی الفور نافذ ہو جاتا ہے اور بالخصوص اس علاقے میں جہاں ابھی پوری طرح امن قائم نہ ہو۔ اس کو فتح ہوئے مشکل سے چند مہینے گزرے ہوں، وہاں کے گورنر صاحب کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا، وہ سیکرٹری کو حکم دیتے ہیں، معلوم نہیں سیکرٹری صاحب کیا لکھتے ہیں۔ گورنر کی مہر کے ساتھ پروانہ چلا جاتا ہے، اس لیے احتیاط لازمی تھا۔ آج اگر بالفرض ہمارے محترم جنرل ضیاء الحق کو لکھنا پڑھنا نہ آئے تو وہ کسی ہندو کو اپناسیکرٹری نہیں بنائیں گے، یا کسی روسی کو اپنا سیکرٹری نہیں بنائیں گے۔ یہی فیصلہ حضرت عمرؓ نے فرمایا سیکرٹری بدل ڈالو۔ مگر وہی حضرت عمرؓ دوسرے موقعوں پر عیسائیوں سے سرکاری کاموں میں مدد بھی لیتے ہیں۔ یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ حضرت عمرؓ میں تعصب تھا۔ وہ غیر مسلم افسروں سے بوقت ضرورت استفادہ کرتے تھے۔ صرف اس وقت روکتے تھے جب عقلِ سلیم اس کی متقاضی ہوتی کہ ان پر اعتماد نہ کیا جائے۔ ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں مثلاً ہرمزان نامی ایک ایرانی تھا۔ اس سے حضرت عمرؓ بارہا مشورہ کیا کرتے تھے۔ سیاسی معاملات میں بھی اور جنگی معاملات میں بھی۔\nعہد نبویﷺ میں اسلامی قانون کی ترقی کے لیے جو اولین ماخذ تھے، وہ میں نے بیان کیے ان کے علاوہ دو نئے عناصر کا اضافہ ہوا۔ ان میں سے ایک مفتی ہیں اور دوسرے قاضی۔ قاضیوں کو عام طور پر نئی قانون سازی کی ضرورت پیش آتی ہے، مقدمات ان کے سامنے آتے ہیں اور ہر مقدمے کے مواقع، حالات اور رودادیں مختلف ہوتی ہیں اور انہیں اسی کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ ایسی متعدد مثالیں تاریخ میں ملتی ہیں کہ گورنر اور قاضی، جو دور دراز علاقوں میں تھے یا تو خود لکھ کر رسولﷺ سے پوچھتے تھے کہ ان حالات میں کیا کرنا چاہیے اور ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ ان گورنروں اور قاضیوں نے اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق فیصلہ کر ڈالا۔ اس کی اطلاع رسولﷺ کو ہوئی۔ اگر آپ کو نامناسب معلوم ہوا تو فوراً تصحیح کے احکام صادر فرما دیے۔ اس دوسری قسم کی ایک مثال آپ کو دیتا ہوں۔ ایک شخص کو قتل کر دیا جاتا ہے، اس کا خون بہا کس کو دیا جائے؟ پرانے زمانے میں عرب میں رواج تھا کہ خون بہا مقتول کے مرد رشتہ داروں کو دیا جاتا تھا، یعنی بیٹے کو، باپ کو، بھتیجے کو وغیرہ۔ مقتول کی بیوہ کو اس میں کوئی حصہ نہ ملتا تھا۔ اس کی اطلاع رسول اللہﷺ کو ہوئی۔ آپﷺ نے بیوہ کو بھی اسی تناسب سے حصہ ملنا چاہیے جس تناسب سے وراثت میں اس کا حصہ ہے۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر نہیں تھا، حدیث میں بھی اس وقت اس کا ذکر نہیں تھا، جب تک یہ واقعہ پیش نہ آیا۔ اس کے بعد رسولﷺ کی حیاتِ طیبہ میں اسلامی قانون کے دو مستقل، غیر تبدل پذیر ماخذ یعنی قرآن و حدیث مکمل ہو جاتے ہیں۔ قانونی نقطہ نظر سے جب کوئی نئی گتھی پیدا ہوتی تو اسے سلجھانے کے لیے مسلمان سب سے پہلے قرآن اور پھر حدیث سے رجوع کرتے اور اگر ان دونوں میں کوئی حل نہ ملتا تو پیغمبر کے عطا کردہ عظیم الشان اصول یعنی اِجتہاد پر عمل کرتے۔ یہ اصول بعد میں مسلمانوں کے بہت کام آیا ورنہ اسلامی قانون منجمد ہو جاتا، اور مسلمان اسے ناکافی پا کر غیر اسلامی قوانین اختیار کر لینے پر مجبور ہوتے۔ اجتہاد کے ذریعے سے ہر نئی چیز کے بارے میں قانون بنانے کا موقع مل گیا۔\nاسی طرح قاضیوں کے نام حضرت عمرؓ کا ہمیں ایک خط ملتا ہے جس میں یہ حکم تھا کہ فیصلہ کرنے سے پہلے مشورہ بھی کر لیا کرو۔ یہ نہیں کہ من مانا فیصلہ کرو اور اسے نافذ کر دو۔ اگر تمہیں قانون معلوم نہیں ہے تو خود بھی سوچو اور عالم لوگوں سے جو تمہارے آس پاس موجود ہوں، ان سے بھی مشورہ کرو۔ یہ ایک طرح سے اجتماعی (Collective) اجتہاد کی صورت ہو سکتی ہے۔ خود خلفاء کا بھی یہی معمول تھا۔ حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے متعلق ہمیں کثرت سے ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ کوئی پیچیدہ مقدمہ ان کے سامنے آتا، جس کے بارے میں قرآن و حدیث میں وضاحت کے ساتھ کوئی قانون نہ ملتا تو اجتماع عام کیا جاتا۔ اذان ہوتی، لوگ دوڑتے ہوئے مسجد کی طرف آتے، مسجد میں خلیفہ اُن سے مخاطب ہو کر پوچھتا کہ اس معاملے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اس اجتماع میں ہر شخص رائے دینے کا مجاز تھا، بڑا ہو یا چھوٹا، مرد ہو یا عورت، ہر ایک مشاورت میں شریک ہو سکتا۔ عورتوں کا ذکر اس لیے کرتا ہوں کہ ایک ایسی مثال ہمیں حضرت عمرؓ کے زمانے میں ملتی ہے۔ اس زمانے میں یہ خرابی پیدا ہو گئی تھی کہ بیٹی کا نکاح کرنے سے پہلے لوگ بڑا مہر حاصل کرنے کی کوشش کرتے، اور ہونے والے داماد سے کہتے کہ اتنی رقم دو۔ حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ اس طرح بہت سی لڑکیاں بوڑھی ہو جاتی ہیں اور شوہر کا خواب دیکھتی رہتی ہیں، نکاح کا موقع نہیں ملتا۔ انہوں نے حکم جاری کر دیا کہ فلاں مقدار رقم سے زیادہ مہر نہ باندھا جائے۔ حضرت عمرؓ خلیفہ وقت تھے، بہت بڑے صحابی تھے، دیگر صحابہ نے اعتراض بھی نہ کیا، اس اعلان پر مسجد میں ایک عورت اٹھ کھڑی ہوتی ہے، اور کہتی ہے اے عمر، تمہیں ایسا حکم کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا، یہ قانون نامناسب ہے۔ وہ حیران ہوئے، پوچھا \"کیوں ناجائز ہے؟\" اس بوڑھی عورت نے کہا \"قرآن مجید (22:4) میں ایک جگہ ذکر آیا ہے کہ تم عورت کو مہر میں ایک قنطار یعنی بہت بڑا خزانہ دے چکے ہو تو بھی طلاق کی صورت میں اسے واپس نہ لینا۔ جب خدا نے یہ اجازت دی ہے کہ مہر ایک قنطار باندھا جا سکتا ہے تو عمر کو کیا حق ہے کہ اس قانون کو منسوخ کرے۔\" حضرت عمرؓ بہت خدا ترس آدمی تھے، فورا کہہ اٹھے \"عمر نہیں سمجھا، بوڑھی عورت سمجھ چکی ہے اس کا بیان ٹھیک ہے۔ میں اپنا حکم واپس لیتا ہوں\"۔ حاصل کلام یہ کہ مشورے کی عام اجازت ہے، اس میں عالم و جاہل، بچہ اور بوڑھا، مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں۔ ہر شخص رائے دے گا۔ اس رائے پر اگر لوگوں کا اتفاق ہو تو اس پر عمل کیا جائے گا، ورنہ نہیں، بہرحال رسولﷺ کی رحلت کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں ہمیں حکومت کی طرف سے اجتماعی مشورہ، مفتیوں اور قاضیوں کی طرف سے انفرادی آراء کا ملنا نظر آتا ہے۔ اس کا سلسلہ برابر جاری ہے۔\nچونکہ مسلمان ابتدائی زمانے ہی میں تین براعظموں، یعنی ایشیاء، یورپ اور افریقہ میں پہنچ گئے تھے، جہاں بیسیوں قوموں سے انہیں سابقہ پڑا، ان کی رعیت میں دس پندرہ مذہب والے لوگ پائے جاتے تھے جن کی عادت و رواج مختلف تھے، لہذا انہیں نئے نئے مقدمے اور مسائل پیش آتے رہے اور ان کے متعلق فیصلے بھی مختلف ہوتے رہے۔ حضرت عثمانؓ کے زمانے کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ قرآن مجید میں غیر مسلم رعایا سے جزیہ لینے کا حکم ہے اور وہاں اہل کتاب کا ذکر ہے۔ حضرت عثمانؓ کے زمانے میں شمالی افریقہ کا وہ علاقہ فتح ہوا جہاں بربر نامی قوم رہتی ہے۔ سوال پیدا ہوا کہ بربر قوم سے جزیہ لیا جائے یا نہیں۔ اس واقعے سے کچھ پہلے حضرت عمرؓکے زمانے میں ایران کے مجوسیوں یعنی پارسیوں کے متعلق یہی سوال پیدا ہوا تھا۔ جواب آسانی سے مل گیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓنے اٹھ کر کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ سنو ابھم سنۃ اھل الکتاب فی غیراً کل ذبائحھم و نکاح نسائھم مجوسیوں سے، پارسیوں سے وہی برتاؤ کرو جو اہلِ کتاب سے ہے (یعنی عیسائیوں اور یہودیوں کا قانون ان سے بھی متعلق کرو) بجز دو باتوں کے، ان کا ذبیحہ نہ کھاؤ اور ان کی عورتوں سے نکاح نہ کرو لیکن حضرت عثمانؓ کے زمانے میں بربر کا مسئلہ پیدا ہوا تو رسولﷺ کا کوئی حکم موجود نہ تھا۔ قرآن مجید میں صراحت نہ تھی۔ آخر مشورہ کے بعد خلیفہ نے حکم دیا کہ ان سے جزیہ لو۔ پھر یہ فیصلہ ہوا کہ صرف اہل کتاب ہی نہیں، ساری غیر مسلم اقوام سے جو ہماری رعیت ہوں، جزیہ لیا جائے۔ سندھ پہنچے تو یہاں جو قوم تھی، ان سے جزیہ لیا جانے لگا پھر دوسرے علاقوں میں پہنچے تو برہمنوں سے بھی جزیہ لیا جانے لگا۔ غرض امام ابو یوسف کے الفاظ میں سارے غیر مسلموں سے جزیہ لیا جانے لگا۔ چاہے وہ آگ کی پوجا کریں یا درخت یا پتھر کی پوجا کریں، سب کے ساتھ اسی حیثیت سے برتاؤ کیا جانے لگا، جو اہلِ کتاب کے متعلق قرآن نے کہا ہے اور استنباط کیا کہ قرآنی احکام توضیحی (Illustrative) ہیں، تحدیدی (limitative) نہیں یعنی یہ منشاء نہیں کہ صرف اہل کتاب سے جزیہ لو بلکہ اس طرح کی صورت میں اوروں سے بھی تم لے سکتے ہو۔\nحضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک واقعہ پیش آیا جسے قانونی نقطہ نظر سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ وہ یہ کہ انہوں نے ایک فاضل صحابی حضرت عبد اللہ بن مسودؓ کو معلم کی حیثیت سے کوفہ بھیجا (یوں سمجھئے کہ کوفہ کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے) بہرحال انہیں معلم کی حیثیت سے کوفہ بھیجا گیا۔ وہ مورخ نہیں تھے، صوفی نہیں تھے، وہ خالد بن ولیدؓ کی طرح نامور سپاہی بھی نہیں تھے لیکن قانون میں ان کو خاص ملکہ حاصل تھا۔ چنانچہ وہ وہیں درس دیتے رہے۔ ظاہر ہے کہ ان کے درس میں قانونی مباحث اور فقیہانہ عناصر ہمیشہ زیادہ ہوتے تھے۔ جب وہ وہاں بھیجے گئے تو انہیں ایک پروانہ یا تقرر نامہ دیا گیا جس کے الفاظ یہ تھے \"اے کوفہ کے مسلمانو! میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے ایک نہایت محترم صحابی کو تمہارے پاس بھیج رہا ہوں۔ تمہیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ میں اپنے آپ پر ایثار کر کے ایسے شخص کو تمہیں دے رہا ہوں۔ اس سے تمہیں معلوم ہوگا ان کی کیا اہمیت ہے۔\" حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اپنی وفات تک وہاں شعبہ قانون کے استاد کی حیثیت سے درس دیتے رہے۔ اس شہر کے باشندوں میں انہیں ایک لائق یمنی شاگرد علقمہ نخعی نامی ملا، جو ان کا بہترین طالب علم تھا۔ عبد اللہ بن مسعودؓ کی وفات کے بعد یہ شاگرد جامع مسجد کوفہ میں قانون کا معلم بنا اور اس نے درس جاری رکھا۔ ان کی وفات ہوئی تو ابراہیم نخعی ایک اور یمنی باشندہ جو کہ شاگرد تھا اور کوفہ میں ہی رہتا تھا، وہ ان کا جانشیں بنا۔ غرض یہ سلسلہ جاری رہا اور یہ شہرت پھیل گئی کہ کوفہ کی مسجد میں فقہ کی تعلیم بہت اچھی ہوتی ہے۔ ابراہیم نخعی کی وفات کے بعد ان کے ایک شاگرد، حماد بن ابی سلیمان، جو عرب نہیں بلکہ ایرانی تھے، وہ جانشین ہوئے۔ وہ بھی قانون کے ماہر تھے اور فقہ کی تعلیم دیتے تھے۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کا جانشین ایک اور ایرانی شاگرد بنتا ہے۔ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ ہیں۔ وہ بہت کمسن تھے، اس کے باوجود سب سے بہتر شاگرد سمجھے جاتے تھے۔ حتی کہ خود حماد بن ابی سلیمان کے شاگرد یعنی امام ابو حنیفہؒ کے جو ہم درس طلباء تھے وہ بھی اصرار کرنے لگے کہ :اے ابو حنیفہؒ! استاد کے بعد تم اس کام کو جاری رکھو۔ ابو حنیفہؒ بہت ذہین آدمی اور انسانی نفسیات سے آشنا تھے۔ انہوں نے خیال کیا کہ مجھ جیسے نوجوان کو استاد کی جگہ لوگ دیکھیں گے تو غالباً پسند نہیں کریں گے۔ جب تک انہیں کوئی تشویق نہ دی جائے اور یہ نہ بتایا جائے کہ واقعی ان کے لیکچر بہت اہم ہیں۔ چنانچہ امام ابو حنیفہؒ نے اپنے ساتھیوں سے، جو ان کے رفیق درس تھے، کہا کہ میں اس شرط کے ساتھ قبول کرتا ہوں کہ ایک سال تک تم میرے طالب علموں کی حیثیت سے لیکچروں میں حاضر رہو گے۔ اگر تم اس پر آمادہ ہو تو میں قبول کرتا ہوں۔ وہ بھی مخلص دین دار لوگ تھے انہوں نے کہا \"بہت خوب\"۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ ابو حنیفہؒ وہ استاد ہیں کہ ان کے ہم درس بھی ان کے شاگرد بننے کو تیار ہیں تو انہیں خوشی بھی ہوئی اور اطمینان بھی ہوا کہ واقعی یہ قابل شخص ہوگا، جب ہی تو اس کے ہم جماعت اس کے شاگرد بننے پر آمادہ ہیں۔ امام ابو حنیفہؒ کی اور دوسری خوبیوں کے علاوہ ایک خوبی یہ بھی تھی کہ جب کبھی ان کے پاس کوئی غریب طالب علم آتا وہ مالی مدد بھی کیا کرتے۔ اس طرح لوگوں میں ان کی شہرت و عزت اور ان کا اثر و رسوخ بڑھتا گیا۔ بنی امیہ کا آخری دور تھا۔ یہ زمانہ سیاسی نقطہ نظر سے بہت خراب تھا۔ ملک میں دہشت گردی اور خون ریزی عام تھی۔ حکومت کے جبر و تشدد کے خلاف عوام میں بغاوت کی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ غرض بہت ہی نازک زمانہ تھا۔ اس دور کے آخری زمانے یعنی 120ھ کے ایک واقعے کی طرف اشارہ کروں گا۔ امام حسینؓ کے پوتے زید بن علی زین العابدینؒ کو حکومت کے مظالم کی وجہ سے حکومت کے خلاف سخت نفرت پیدا ہوئی، اور وہ بغاوت پر کمر بستہ تھے۔ امام ابو حنیفہؒ ان کو بہت چاہتے تھے اور وہ دل سے خواہاں تھے کہ بنو امیہ کے حکمرانوں کی جگہ زید بن علی خلیفہ بن جائیں۔ ایک دن زید بن علی نے ان سے کہا کہ بہت سے لوگ مجھے مدد دینے پر آمادہ ہو چکے ہیں، اور میں اب حکومت کے خلاف ایک مسلح بغاوت کرنا چاہتا ہوں۔ امام ابو حنیفہؒ نے انہیں رقم دی، لیکن ساتھ دینے سے انکار کر دیا، یہ کہا کہ اگر مجھے یقین ہوتا کہ تمہارے ساتھی آخر تک ساتھ دیں گے تو میں بھی اس فوج میں شریک ہوتا، یعنی حکومت کے خلاف بغاوت میں حصہ لیتا۔ مگر مجھے اطمینان نہیں ہے، میں تمہیں رقم کی حد تک مدد دیتا ہوں۔ چنانچہ وہی پیش آیا جس کا ابوحنیفہ کو اندیشہ تھا۔ یعنی ان کے ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے، حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا اور انہیں قتل کر دیا۔ زید بن علی کی قانون دانی کی وجہ سے ابو حنیفہ کو ان سے محبت تھی۔ زید بن علی بہت بڑے فقیہ تھے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے فقہی معاملات میں ان سے استفادہ کیا تھا۔ کیونکہ وہ امام ابو حنیفہؒ سے زیادہ معمر اور پرانے ماہر تھے۔ زید بن علی نے جو کتاب لکھی اس کا نام ہے \"المجموع فی الفقہ\" یہ مشہور کتاب ہے اور اسلامی قانون کی قدیم ترین کتاب ہے، جو ہم تک پہنچی ہے۔ یہ کتاب چھپ گئی ہے۔ اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ فقہ کی کتابیں آج کل جس انداز و تربیت کی ہوتی ہیں، وہی نہج اس میں موجود ہے۔ آغاز ہوتا ہے \"کتاب الطہارۃ\" سے، جس میں وضو کے احکام اور غسل کے احکام ہیں۔ پھر نماز کے احکام، روزہ وغیرہ، عبادات کا بیان، پھر معاملات، پھر دوسری چیزوں کا بیان۔ یہ طرح زید بن علی نے ڈالی اور لوگوں کو اتنی پسند آئی کہ بعد میں کسی نے اس میں ترمیم نہیں کی۔ یہ دور گزر گیا اور بنی عباس برسر اقتدار آئے۔ لوگوں کو توقع تھی کہ بنو عباس کے زمانے میں دنیا جنت بن جائے گی مگر انہیں بڑی مایوسی ہوئی۔ مختلف وجوہ سے لوگوں کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں، صرف یہ عرض کرنا ہے کہ اس دور میں امام ابو حنیفہؒ نے ایک کارنامہ انجام دیا، جو اسلامی قانون کی تاریخ میں سب سے زیادہ اہم اور یادگار کارنامہ ہے۔ اس زمانے میں امام مالکؒ، امام اوزاعیؒ وغیرہ بڑے بڑے فقیہ موجود تھے۔ انہوں نے کتابیں بھی لکھیں لیکن ان کی کوششیں انفرادی تھیں۔ امام ابو حنیفہؒ نے سوچا کہ انفرادی کوشش کی جگہ، اسلامی قانون کی تدوین اگر اجتماعی طور پر کی جائے تو بہتر ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے بہت سے شاگردوں میں چالیس ماہرین قانون منتخب کر کے ایک اکیڈمی قائم کی۔ انتخاب میں اس بات کا خیال رکھا کہ جو لوگ قانون کے علاوہ دیگر علوم اور معاملات کے ماہر ہوں، انہیں بھی اکیڈمی کا رکن بنایا جائے۔ غرض مختلف صلاحیتوں کے ماہرین کو اس اکیڈمی میں جمع کیا گیا۔ اصول یہ تھا کہ ایک فرضی سوال پیش کیا جائے، اگر یوں ہو تو کیا کرنا چاہیے؟ اس مسئلے پر بحث ہوتی۔ بعض اوقات ایک سوال پر ایک ایک ماہ تک بحث ہوتی اور بالآخر جب سب لوگ ایک نتیجے پر پہنچ جاتے تو اس اکیڈمی کے سیکرٹری امام ابو یوسفؒ اسے لکھ لیا کرتے تھے۔ ایسی کچھ تحریریں ہم تک پہنچی ہیں جن میں \"قال\" \"قلنا\" \"قال\"\"قلنا\"یعنی سوال و جواب کی صورت میں کسی مسئلے پر بحث کی گئی ہے۔\nخلاصہ یہ کہ امام ابو حنیفہؒ کے زمانے میں اسلامی قانون کی تدوین کی دو کوششیں ہوئیں۔ ایک کوشش حکومت کی طرف سے ہوئی۔ دوسری کوشش پرائیوٹ طور پر امام ابو حنیفہؒ کی طرف سے۔ سرکاری کوشش خلیفہ منصور کی تھی۔ اس نے چاہا کہ اسلامی قانون کو مدوّن کیا جائے اور ساری اسلامی سلطنت میں اسے نافذ کیا جائے۔ اس زمانے میں امام مالکؒ کی بڑی شہرت تھی۔ چنانچہ خلیفہ نے امام مالکؒ کو بلا بھیجا اور کہا کہ تم اپنی کتاب فقہ کو مکمل کر لو۔ میں تمہاری فقہ کی حکومت کا قانون بنا کر نافذ کرنا چاہتا ہوں۔ امام مالکؒ بہت خدا ترس تھے۔ انہوں نے کہا نہیں، ایک آدمی کی رائے سب پر نافذ نہیں ہو سکتی۔ لوگوں کو اختلاف کی اجازت ہونی چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے انکار کر دیا۔ مگر اسلامی قانون کی تدوین کی ضرورت تھی۔ وہ کام امام ابو حنیفہؒ نے انجام دیا اور سالہا سال کی کوشش سے ایک ایسا قانون بنایا جس کے متعلق پورے اطمینان کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ Justinian code سے زیادہ مکمل اور زیادہ مناسب ہے۔\nاس زمانے میں اور بھی فقیہ پیدا ہوئے اور ان فقہاء کے شاگرد بھی بنتے رہے۔ ایک مختصر جملے پر اسے ختم کرتا ہوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جو فقہاء تھے، ان میں ایک عبد اللہ بن مسعودؓ تھے اور ان کے شاگرد امام مالکؒ تھے۔ مالکی مذہب گویا اس صحابی کی راہ سے پہنچتا ہے۔ ایک اور صحابی عبد اللہ ابن عباسؓ ہیں۔ ان کا قانون اسلامی فرقوں میں سے خوارج کا قانون ہے۔ ایک اور صحابی عبد اللہ ابن عباسؓ، ان کے قانونی احکامات ہمارے شیعہ بھائیوں کے پاس، زید بن علی، اثناء عشری یا فاطمی ائمہ وغیرہ، کے ذریعے سے پہنچتے ہیں۔ پھر اس کے بعد ان علماء کے شاگردوں کے شاگرد، مثلاً امام شافعیؒ ہیں کہ بیک وقت امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام محمدؒ کے شاگرد اور امام مالکؒ کے بھی شاگرد ہیں۔ امام شافعیؒ کے شاگرد ہیں امام احمد بن حنبلؒ اور ان کے شاگرد ہیں ظاہری مذہب کے پیشوا داؤد ظاہری۔ غرض شیعہ سنی کا کوئی فرق نہیں، سب ایک دوسرے کے شاگرد ہیں اور خود ایک دوسرے کے مماثل۔\nوالسلام وعلیکم و رحمت اللہ و برکاتہ\n\n==== سوالات و جوابات ====\n\nبرادران کرام! خواہران محترم! السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ!\nمختلف سوالات کیے گئے ہیں، اپنی بساط کے مطابق جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔\n=====سوال1:=====\nحضرت معاذؓ کو حضور اکرمﷺ کے ارشاد \"فان لم تجد\" سے قرآن و حدیث کا ناکافی ہونے کا استدلال کیا گیا۔ حالانکہ \"فان لم یکن\" کے الفاظ نہیں فرمائے۔ قرآن میں اپنے ذہن کے مطابق کوئی چیز تلاش نہ کر سکنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرآن میں ہے ہی نہیں۔ آیت (الیوم اکملت لکم دینکم) کی روشنی میں کیا یہ کہنا بہتر نہ ہوگا کہ اصولی طور پر قرآن کامل اور کافی ہے لیکن اگر اس سے کوئی مسئلہ انسانی ذہن کسی وقت استنباط نہ کر سکے، تو اجتہاد کر لے۔ اس صورت انسانی ذہن کا قصور ہوگا، نہ کہ کتاب اللہ کا ناکافی ہونا ثابت ہوگا۔\n=====جواب:=====\nالفاظ کا پھیر ہے، دونوں کا مقصد ایک ہی ہے۔ البتہ میں یہ عرض کروں گا کہ آیت : (الیوم اکملت لکم دینکم) (3:5) میں قرآن و حدیث اور اجماع، تینوں شامل ہو جائیں گے، تنہا قرآن ہی نہیں ہوگا۔ کیونکہ قرآن ہی نے کہا کہ رسول اللہﷺ کی اطاعت کرو ۔ قرآن نے کہا ہے کہ (مَنْ یطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ) (80:4) رسول اللہﷺ کی اطاعت کرنا اللہ کی اطاعت کرنا ہے۔ وہاں یہ نہیں کہا گیا کہ صرف قرآن پر عمل کرو اور خود رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر قرآن میں نہ ملے تو حدیث میں تلاش کرو، حدیث میں نہ ملے تو اجتہاد کرو۔ تو آپ کا اور میرا مقصد ایک ہی ہے۔ الفاظ کی ترتیب میں تھوڑا سا فرق ہے۔\n=====سوال 2:=====\nاسلامی قانون میں دو عورتوں کی شہادت کو ایک مرد کے برابر قرار دیا گیا ہے، کیا اس صورت میں عورت کو آدھا مرد نہیں بنایا گیا؟\n=====جواب:=====\nمیں سمجھتا ہوں کہ اس سوال میں ایک بنیادی اصول نظر انداز کر دیا گیا ہے، وہ یہ کہ قدرت کبھی دو چیزوں کو بالکل مماثل نہیں بناتی۔ ایک کو دوسرے کی تکمیل کے لیے Complementary بناتی ہے۔ ورنہ اگر ایک ہی طرح کی دو چیزیں ہوں تو وہ Redundant یعنی مکرر ہو جائیں گی اور یہ قدرت کی طرف سے ایک ضیاع ہوگا۔ قدرت نے مرد کو یا عورت کو مکمل شخصیت نہیں بنایا کہ Self-production کریں، عورت کو مرد کی ضرورت نہ ہو، وہی تنہا اپنے بچے پیدا کرے یا مرد کو بیوی کی ضرورت نہ ہو، وہی تنہا ایک دوسرا انسان خود ہی تخلیق کرے۔ بلکہ اس کی جگہ ایک کو دوسرے کے تعاون سے مکمل کرنے کا بندوبست اپنی حکمت کے تحت کیا ہے۔ ان حالات میں اگر اسلامی قانون دو عورتوں کی شہادتوں کو ایک مرد کے برابر قرار دیتا ہے تو اس کے اس پہلو پر جانے کی جگہ کہ دو عورتوں کو ایک مرد کے برابر قرار دیا گیا ہے، اگر اس پر سوچیں کہ ایسا کیوں کیا گیا، تو میرے خیال میں زیادہ صحیح اصول ہوگا، اور اس کا جواب میں اپنی طرف سے یہ دوں گا کہ دونوں کے فرائض منصبی مختلف رکھے گئے ہیں۔ ایک عورت کو، چاہے وہ مانے یا نہ مانے، بچے کی ماں بننا پڑے گا، اور اسے بچے کی پرورش کا فریضہ انجام دینا ہوگا۔ اسی طرح مرد کبھی بچہ جن نہیں سکے گا، چاہے وہ کتنا ہی خواہشمند کیوں نہ ہو۔ ان حالات میں جب عورت کا یہ فریضہ کہ وہ اپنے دودھ پیتے ننھے بچے کی پرورش کرے اور ساتھ ہی اس کے ذمے وہ فرائض بھی کر دیے جائیں جو مرد انجام دیتا ہے تو نہ عورت اپنا کام انجام دے سکے گی نہ مرد اپنا کام انجام دے سکے گا۔ مختلف وجوہ سے اسلامی شریعت نے عورت کو پردہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عورتوں کو مردوں کے ساتھ مخلوط ہونے کی تشویق نہیں دلائی۔ ان حالات میں جس طرح مرد کو اور مردوں کی ملاقات کی آسانی ہوتی ہے، اس طرح ایک عورت کو دوسرے مردوں سے ملاقات کرنے کی سہولت ہماری اسلامی سوسائٹی میں نہیں ہوتی۔ لہذا یہ ناگزیر تھا کہ ایک کی جگہ دو عورتوں کی شہادت کو طلب کیا جائے تاکہ دونوں کی شہادت سے واقفیت اور معلومات ہو سکیں۔ اس میں عورتوں کی توہین نہیں ہے بلکہ عورت کے فرائض منصبی کی موجودگی میں اس کی سہولت اور امکانات کا لحاظ رکھ کر اس کو یہ موقع دیا گیا ہے، ورنہ ممکن ہے، یہ کہہ دیا جاتا کہ عورت کی شہادت قبول ہی نہ کی جائے۔ اس کے برخلاف یہ کہا گیا کہ نہیں عورت کی شہادت قبول کی جائے، وہ بھی انسان ہے۔ جیسے وراثت میں اسلام سے پہلے عورت کو کوئی حصہ نہیں ملتا تھا، قانون وراثت کے نقطہ نظر سے غالباً پنجاب کی روایات میں بھی یہ چیز رہی ہے کہ عورتوں کو حصہ نہیں ملتا۔ اسلام نے کہا نہیں عورتوں کو بھی حصہ ملے گا لیکن چونکہ عورت کے واجبات کمتر ہوں گے لہذا عورت کا حصہ کم ہوگا۔ آپ کو علم ہوگا کہ ایک عورت خواہ بیٹی ہو یا بیوی ہو یا ماں ہو، ہمیشہ کسی مرد کے زیر کفالت رہتی ہے۔ اسے نفقہ دلایا جاتا ہے اور اگر اس کا قریبی رشتہ دار، بیٹا یا باپ یا شوہر وغیرہ نفقہ نہ دیں تو قانون اس مرد کو مجبور کرتا ہے کہ وہ نفقہ دے۔ عورت کی پرورش کا انتظار مرد کے ذمے کر دیا گیا ہے لیکن اگر کبھی مرد کو ضرورت پیش آئے تو کسی عورت کو مجبور نہیں کیا جاتا کہ وہ اس مرد کا نفقہ ادا کر ے۔ ان حالات میں ناگزیر تھا کہ قانون وراثت میں عورت کو حصہ کم دیا جائے۔ پھر یہ بھی نہیں کہ چونکہ عورت کے سارے مصارف قانوناً دوسرے کی طرف سے ادا ہو جاتے ہیں، اس لیے عورت کو حصہ بالکل ہی نہ دیا جائے۔ ہو سکتا تھا مگر اسلام نے عورت کے ساتھ ایک ایسا برتاؤ کرنا مناسب سمجھا جو اس کے وقار اور اس کی ضرورتوں کے مطابق ہو۔ ان حالات میں، میں سمجھتا ہوں کہ قانون شہادت میں یہ اصول پیش نظر رکھا گیا کہ چونکہ عورت کو مردوں کے ساتھ ملنے جلنے کے مواقع مقابلتاً کم ہوتے ہیں، لہذا ایک کی بجائے دو عورتوں کی شہادت ضروری ہے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے لیکن یہ واضح رہے کہ میں قانونِ شہادت کا ماہر نہیں ہوں۔\n=====سوال3:=====\nغلامی کو یکسر ختم نہ کر کے انسانیت کے ناسور کو برقرار رکھا گیا ہے، اس کا کیا جواز ہو سکتا ہے؟\n=====جواب:=====\nاس کا جواز یہ ہے کہ بعض انسان معقول چیز کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان کو مجبور کرنا پڑتا ہے کہ یہ چیز مان لو۔ ہمارے زمانے میں بھی ایسی قومیں ہیں، مثلاً جنوبی افریقہ میں، جہاں اپنے باپ آدم ہی کی دوسری اولاد کو، جس کا رنگ اتفاق سے کالا ہو گیا ہے، مساوات کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، چاہے ساری دنیا متفقہ طور پر مجلسِ اقوامِ متحدہ میں اس کا مطالبہ کیوں نہ کرے۔ کیا ان حالات میں یہ مناسب نہ ہوگا کہ ایسے لوگوں کو جو ہٹ دھرمی پر تلے ہوئے ہیں، ایک ایسے ذریعے سے مجبور کیا جائے جو غلامی کا نام تو رکھتی ہو، لیکن حقیقت میں ان انسانوں کے لیے ایک تربیت گاہ ہے جو دوسرے انسانوں کو اپنے برابر آمادہ کرنے پر تسلیم نہ ہوں، اس لیے اسلام نے غلامی کو لازمی قرار نہیں دیا ہے بلکہ جائز قرار دیا ہے تاکہ بوقت ضرور اس سے استفادہ کیا جائے۔ میں آپ کو پیچھے لے جانا چاہتا ہوں کہ غلامی شروع کیسے ہوئی؟ اس کے بعد آپ واقعی یہ سمجھیں گے کہ غلامی اتنی بری چیز نہیں ہے۔ غلامی کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پرانے زمانے میں ہمارے ہی آباؤ اجداد جب لڑتے تھے اور کسی دوسرے انسان کو مغلوب کر لیتے تھے تو اسے قتل کر کے کھا جاتے تھے۔ اس کے بعد زمانے میں نیک طینت انسانوں نے سوچا کہ ان کو مار کر کھانے کے بجائے ان سے خدمت لی جائے۔ اپنے دشمن کو قتل کرنے کی بجائے اس کو زندہ رکھا جائے اور پھر زندہ رہنے کے بعد، اسلام میں اس کے امکانات بھی رہیں کہ اس کو آزاد کیا جائے۔ غلام بنانا اسلام ہی میں نہیں ہے بلکہ دنیا کی کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں ملتی جس کے ہاں غلام نہ ہوں۔ اسلام نے غلامی کے متعلق جو احکام دیے ہیں، میں ان کا مختصرا ذکر کرتا ہوں۔ پہلی چیز وہی ہے جو میں بیان کر چکا ہوں کہ غلام بنانا واجب نہیں ہے، صرف جائز ہے اس سے حسب ضرورت استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ اسلام نے حکم دیا ہے کہ غلاموں کو آزاد کرنا ایک بہت بڑی نیکی ہے : (فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ • وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ • فَكُّ رَقَبَةٍ •) (90،11،12،13)\nآپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ توریت اور انجیل میں غلام بنانے کا تو ذکر ہے لیکن غلام کی آزادی کا قطعاً کوئی ذکر نہیں۔ ایک بھی ایسی آیت توریت اور انجیل میں نہیں ہے جس کی رو سے غیر یہودی غلاموں کو آزاد نہیں کیا جا سکتا ہو۔ اس کے برخلاف قرآن میں کہا گیا ہے کہ غلاموں کو آزاد کرنا ایک بہت بڑی نیکی ہے اور آگے چلئے، مختلف گناہوں کا کفارہ دینے کے لیے قرآن نے حکم دیا ہے کہ غلام کو آزاد کرو۔ مثال کے طور پر ایک شخص اپنی بیوی کو \"ظہار\" نامی طلاق دے کے پچھتائے یا کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر دے تو علاوہ خون بہا کے، قرآن نے یہ حکم دیا ہے کہ غلام کو آزاد کر کے کفارہ دو۔ اگر غلام تمہارے پاس نہ ہو تو اس صورت میں دوسرے کام سر انجام دے سکتے ہو، مگر غلام آزاد کرنے کا حکم شروع میں آتا ہے۔ ایسی تین چار چیزیں تو قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ اور آگے چلئے قرآن مجید نے حکم دیا ہے کہ اگر غلام اس پر آمادہ ہے کہ اپنی مالیت کی رقم جمع کر کے اپنے آقا سے مطالبہ کرے کہ اس رقم کو لے کر اس کو آزاد کر دے تو آقا انکار نہیں کر سکتا، قانون اس آقا کو مجبور کرے گا کہ اس معاوضے کو قبول کرے اور غلام کو آزاد کرے۔ یہی نہیں بلکہ وہ کاروبار کر کے اور دوسرے وسائل سے اپنی مالیت جمع کرنے کی کوشش کر سکتا ہے اور مطلوبہ رقم جمع ہو جائے تو آقا کو دے کر فی الفور آزاد ہو جائے گا۔ اس سے بھی آگے چلئے، قرآن مجید میں ایک آیت ہے جسے ہم اسلامی حکومت کے بجٹ کا اساسی اصول کہہ سکتے ہیں۔ یعنی یہ کہ سرکاری آمدن کو کن مدات میں خرچ کیا جائے (إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِینِ وَالْعَامِلِینَ عَلَیهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِی الرِّقَابِ) (60:9) اس میں \"فی الرقاب\" ایک لفظ آیا ہے۔ لفظی معنی یہ ہیں کہ سرکاری آمدنی خرچ کی جائے، گردنوں کو چھڑانے کے لیے۔ اس پر سارے مفسرین اور فقہاء متفق ہیں کہ \"رقاب\" سے مراد دو قسم کے لوگ ہیں، ایک تو وہ مسلم یا غیر مسلم غلام جو ہماری ملکیت میں ہوں، ان کی رہائی کے لیے یہ سرکاری رقم لگائی جائے دوسرے ہماری رعایا کے مسلم یا غیر مسلم لوگ جو دشمن کے ہاتھوں قید ہو جائیں۔ ان کے فدیہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ اگر حکومت کے بجٹ میں سالانہ ایک مخصوص رقم ملک کے غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے رکھنا لازمی ہو تو بہت آسانی سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کچھ ہی دنوں کے بعد اس ملک میں ایک بھی غلام باقی نہیں رہے گا۔ کیا ایسی کوئی مثال دنیا کی کوئی متمدن حکومت بھی پیش کر سکتی ہے؟ آج بھی لوگوں کو غلام بنایا جاتا ہے، ان کی مرضی کے خلاف Concentration کیمپوں میں بھیجا جاتا ہے، جہاں وہ غلاموں سے بھی بدتر زندگی گزارتے ہیں۔ بہرحال میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر غلامی انسانیت کے لیے ناسور ہے تو کم از کم 'اسلامی غلامی' انسانیت کے ناسور کا علاج ہے۔\n=====سوال 4:=====\nبراہ کرم شرع اور قانون فقہ کا فرق واضح فرمائیں۔ اگر ایک ہی مفہوم میں یہ اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں تو عرب دنیا کی یونیورسٹیوں میں کلیۃ الشریعۃ و القانون علیحدہ علیحدہ کیوں بیان ہوتے ہیں؟\n=====جواب:=====\nعرض یہ ہے کہ اصولاً ان دونوں میں کوئی فرق نہیں، لیکن اسلامی ممالک میں ہماری بدقسمتی سے ہماری حالیہ تاریخ میں ہم کو ضرورت پیش آئی کہ اپنا قانون چھوڑ کر غیروں کے قانون پر عمل کریں۔ ہماری فرنگی حاکموں نے ہمارے لیے ایسے قانون بنائے جن کو ہم اسلامی قانون کے مطابق نہیں پاتے، وہ قانون اسلامی قانون نہیں ہے۔ لہذا شرعی قانون اور غیر اسلامی قانون میں فرق کرنے کے لیے ایک کو \"شریعۃ\" یا اسلامی فقہ اور دوسرے کو صرف \"قانون\" کہا جاتا ہے۔\n=====سوال 5:=====\nدو جڑواں بہنیں پیدا ہوئیں۔ ان کے بازو آپس میں جڑے ہوئے تھے۔ اسی طرح جوان ہو گئیں۔ انہیں ایک ساتھ بھوک لگتی ہے اکٹھے ہی بخار ہوتا ہے۔ لیکن جب شادی کا مسئلہ پیدا ہوا تو بعض نے کہا کہ ان کی شادی نہیں ہو سکتی۔ بعض نے کہا کہ ان کی شادی الگ الگ مردوں سے ہونی چاہیے۔ مولانا مودودی صاحب نے فتویٰ دیا کہ ان بہنوں کی شادی ایک مضبوط صحت مند مرد سے کر دینی چاہیے۔ آپ اس کی بارے میں کیا رائے ہے؟ جواب ضرور دیں۔\n=====جواب:=====\nیہ سوال مشکل ہے، اس لیے میرا جواب متذبذب ہی رہے گا اور وہ یقینی جواب نہیں ہوگا۔ ابھی چند مہینے پہلے کی بات ہے، پیرس کے اخباروں میں ایک مماثل خبر شائع ہوئی۔ وہاں جو حل کیا گیا تھا، اس کا ذکر وہاں کے ایک فرانسیسی اخبار میں آیا، وہ میں آپ سے بیان کر دیتا ہوں کہ ان دو بہنوں کی شادی ایک جڑواں جوڑے سے کی گئی جس میں دونوں مرد ہی تھے۔ ایک حل یہ بھی ہے جس پر اب آسانی سے عمل ہونے لگا ہے۔ جراحی (سرجری) اب اتنی ترقی کر گئی ہے کہ جڑواں لوگوں کے اگر صرف ہاتھ جڑے ہیں یا صرف پیٹھ جڑی ہے، یا صرف پاؤں، تو آسانی سے آپریشن کے ذریعے علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بر خلاف اگر وہ اس طرح جڑے ہوئے ہیں، مثلاً پیٹ مشترک ہے تو ظاہر ہے اس صورت میں ان کا آپریشن کرنا ناممکن ہے۔ بہرحال یہ ایسی نادر صورتیں ہیں کہ ان کے بارے میں کوئی عام قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ مولانا مودودی صاحب ایک اچھے عالم تھے، اور خدا ترس بھی تھے۔ انہوں نے جو فتویٰ دیا ہے اس پر عمل کیا جا سکتا ہے اگرچہ مجھے دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا غلط معلوم ہوتا ہے جس کی قرآن (23:4) نے (وَأَنْ تَجْمَعُوا بَینَ الْأُخْتَینِ) کہہ کر صریحاً ممانعت کی ہے۔ میں بہتر یہ سمجھتا ہوں کہ ان جڑواں بہنوں کا دو الگ مردوں سے نکاح کیا جائے اور جب ایک بہن کے پاس اس کا شوہر آئے تو تھوڑی دیر کے لیے دوسری بہن چادر اوڑھ کر خود کر غائب کر لے، دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنے کے مقابل میں یہ کم تر برائی ہوگی۔ شاید اس عمل سے بھی استفادہ کیا جا سکا ہے جو فرانس میں پیش آیا تھا۔ بذات خود کوئی خاص جواب دینے سے اپنے آپ کو عاجز پاتا ہوں۔\n=====سوال 6:=====\nفقہ جعفریہ اور فقہ حنفیہ میں کیا فرق ہے؟ ان میں اختلاف کی وجہ کیا ہے، جبکہ امام ابو حنیفہؒ، امام جعفرؒ کے شاگرد بیان کیے جاتے ہیں۔ فقہ جعفریہ کے نافذ کرنے میں کیا قباحت درپیش ہے؟\n=====جواب:=====\nاس سوال میں ذرا سی خامی ہے۔ یہ فرض کر لیا گیا ہے استاد اور شاگرد سو فیصد متفق ہوں گے۔ چونکہ امام ابو حنیفہؒ، امام جعفر الصادقؒ سے درس لیے تھے لہذا ان دونوں کے خیالات میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ یہ میرے نزدیک علمی اور واقعاتی نقطہ نظر سے سو فیصد صحیح نہیں ہوگا۔ دونوں میں اختلاف رائے تھا۔ حتیٰ کہ امام ابو حنیفہؒ اور ان کے دو شاگرد امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ میں اختلاف رہا ہے۔ یہاں تک گمان کیا جاتا ہے کہ فقہ حنفی میں 15 فیصد باتوں میں امام ابو حنیفہؒ کی رائے پر، اور باقی چیزوں میں ان کی رائے کے بر خلاف ان کے شاگردوں، امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ، کی رائے پر عمل کیا جاتا تھا، تو ان حالات میں یہ کہنا کہ فقہ جعفری اور فقہ حنفی بالکل یکساں ہیں درست نہیں، جب وہ یکساں نہیں ہیں تو ظاہر ہے کہ جو لوگ امام ابو حنیفہؒ کی رائے کو ترجیح دیتے ہیں وہ امام جعفر الصادقؒ کی رائے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ کیونکہ امام جعفر الصادقؒ نبی نہیں ہیں، انسان ہیں۔ نبی کے سوا، کم از کم سنیوں کے نزدیک، کوئی اور معصوم نہیں ہوتا، اور رسول اللہﷺ نے خود ہی پوری صراحت کے ساتھ بیان فرما دیا کہ علماء میں آپس میں اختلاف رائے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ وہ خدا کی رحمت ہی ہے۔ ان حالات میں اگر امام ابو حنیفہؒ اپنے استاد امام جعفر الصادقؒ سے اختلاف کرتے ہیں تو استاد کی توہین کے لیے نہیں بلکہ پوری دیانتداری کے ساتھ پوری خدا ترسی کے ساتھ وہ جو رائے رکھتے ہیں، اسے بیان کرتے ہیں، جب قانون میں اختلاف ہے تو ان حالات میں اگر ایک ہی قانون سارے فرقوں کے لیے نافذ کیا جائے، تو وہ کہ پاکستان میں جعفری فقہ نافذ کرنا چاہیں اور حنفیوں کی تعداد بہت بڑی اکثریت رکھتی ہے، تو انہیں مجبور کرنا ایک شورش پیدا کرنے کا وسیلہ بنے گا اور بالکل بے سود سی چیز ہوگی۔ وہ اس پر عمل نہیں کریں گے۔ میں ایک مثال آپ کو دیتا ہو اس سے اندازہ ہوگا کہ دونوں قوانین میں کس قسم کا فرق پایا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کی وفات ہو جائے اور اس کا ایک بھانجا اور ایک بھتیجا موجود ہو تو حنفی قانون کہتا ہے کہ بھانجے کو کچھ حصہ نہیں ملے گا اور پوری رقم بھتیجے کو ملے گی اور جعفری قانون کہتا ہے کہ پورا ورثہ بھانجے کو ملے گا، بھتیجا محروم رہے گا، ان حالات میں آپ بتائیں کہ ہم ایک ہی قانون کیسے سارے لوگوں پر نافذ کریں، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یوں ہونا چاہیے اور کچھ لوگ اس ماخذ یعنی قرآن و حدیث سے استنباط کر کے یہ کہتے ہیں کہ یوں نہیں ہونا چاہیے۔ میرا خیال یہ ہے کہ ایک ہی قانون سارے فرقوں کے لوگوں پر نافذ کرنا مناسب نہیں، یعنی جہاں تک personal قوانین کا تعلق ہے۔ البتہ جو اجتماعی قوانین میں، ان میں فرق نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً پارلیمنٹ کے انتخابات، انتظامیہ Administration کے معاملات وغیرہ۔ اس میں ملک کے مختلف نمائندوں کی اکثریت جو اصول طے کرے گی اس پر عمل کرنا ہوگا۔ کیونکہ ان مسائل کے متعلق تفصیلیں قرآن و حدیث میں ہمیں نہیں ملیں گی۔ مثلاً نظامِ حکومت کیا ہو؟ اس بارے میں اسلام کوئی حکم نہیں دیتا۔ بادشاہت بھی جائز ہے اور اگر جمہوریت ہو تو وہ بھی جائز ہے اور جماعت کی حکومت ہو تو وہ بھی جائز ہے۔ ان سب کو جب اسلام جائز قرار دیتا ہے تو ان حالات میں ہر دور کے اور ہر ملک کے لوگ باہم مشاورت کے ساتھ خود ہی طے کریں گے کہ ہمیں کون سا طرز حکومت اپنے زمانے کے لیے اختیار کرنا چاہیے۔ آپ شاید اس بات کو ضرورت سمجھیں کہ میں بتا دوں کہ میں کیوں بادشاہت کو بھی جائز قرار دیتا ہوں۔ بعض احباب فوراً کہیں گے کہ قرآن مجید میں ملکہ سبا بلقیس کے ضمن میں ذکر آیا ہے (إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْیةً أَفْسَدُوهَا) (34:27) (جب بادشاہ کسی فاتحانہ بستی میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں فساد برپا کرتے ہیں) اس سے ہمارے بھائی استدلال کریں گے کہ بادشاہت کے خلاف حکم ہے، مگر میں بڑے ادب کے ساتھ عرض کروں گا کہ قرآن مجید میں اچھے بادشاہوں کا ذکر بھی ہے، اور برے بادشاہوں کا بھی، جہاں ایک طرف فرعون اور نمرود جیسے ظالم بادشاہ کا ذکر آیا ہے، وہاں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہم السلام جیسے پیغمبروں کو بھی بادشاہ کا لقب دیا گیا ہے۔ جب ایسے جلیل القدر پیغمبر بادشاہت کر چکے ہیں تو پھر ہم اسے حرام کیسے قرار دے سکتے ہیں۔ قرآن میں یہ آیت جو بلقیس کے سلسلے میں آئی ہے اس کا جواب میں یہ دوں گا کہ یہ بلقیس کے خیالات تھے جو قرآن نے نقل کیے ہیں اس سے زیادہ ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اگر آپ کے خیال میں بادشاہت مناسب ہے تو اسے اختیار کیجیے، آپ کے خیال میں مناسب نہیں ہے تو نہ کیجیے۔ خود ہمارے رسول اکرمﷺ نبی ہی نہیں ساتھ ساتھ بادشاہ بھی رہے ہیں۔ یہ آپ کی توہین نہیں بلکہ آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری کا مصداق ہے۔\n=====سوال 7:=====\nکیا عصرِ حاضر کے اہم مسائل کو مشاورتی طریق سے ممالک اسلامیہ کے ممتاز علماء اور اسکالر کا ایک عالمی بورڈ بنا کر، حل کیا جا سکتا ہے؟ اس کا طریق کار یا اس کے عملی انتظامات کیا ہونے چاہئیں؟\n=====جواب:=====\nمیں اسے ناقابل عمل پاتا ہوں۔ اس لحاظ سے کہ ان علماء کی ضرورت صرف ایک دن کے لیے ایک ہفتے کے لیے نہیں ہوگی۔ ساری دنیا کے ماہر ترین علماء کو آپ بے شک بہاولپور میں جمع کر سکتے ہیں۔ ایک دن کے لیے یا ایک ہفتے کے لیے، یا ایک ماہ کے لیے لیکن ان کو ساری عمر یہاں رکھا جائے یہ ناممکن ہوگا۔ عالمی بورڈ کا یہ منصوبہ ناقابل عمل ہے لیکن اگر اجماع کی صورت پیدا کرنے کے لیے کوئی ادارہ تشکیل دینا مقصود ہو تو اس بارے میں تفصیل سے بحث کرنے کا موقع نہیں۔ البتہ مختصراً کچھ عرض کیے دیتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اسلامی ممالک کا جو ذکر یہاں کیا گیا ہے، وہ ناکافی ہوگا۔ مسلمان علماء چاہے جہاں کہیں ہوں، روس میں ہوں یا امریکہ میں، یا پاکستان میں، ان کے ساتھ تعلق رکھنے، اور ان کے مشوروں سے استفادہ کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ انہیں ایک جگہ بلا لیا جائے یا ایک جگہ رہنے پر مجبور کیا جائے۔ اس کے بر خلاف یہ ہو سکتا ہے کہ ہر ملک میں علماء کی ایک انجمن بنے، جس کو ایک صدر مرکز سے منسلک کر دیا جائے۔ صدر مرکز کی طرف سے جب ایک سوال کسی ملک کو جائے گا۔ مثلاً فرانس کو، تو فرانس کی انجمن کا سیکرٹری فرانس میں رہنے والے سارے مسلمان ماہرینِ فقہ اسلامی کو اس کی نقل بھیجے گا اور ان سے کہے گا کہ اس بارے میں آپ اپنی رائے سے جلد از جلد مدلل طور پر اطلاع دیجیے۔ جب وہ جوابات جمع ہو جائیں تو ان کا خلاصہ صدرِ مرکز کو بھیج دے کا۔ اس طرح صدرِ مرکز کے پاس تمام ممالک کی انجمنوں سے جوابات آئیں گے۔ صدرِ مرکز کے سیکرٹریٹ میں ان جوابات کو مرتب کیا جائے۔ اگر اتفاق رائے ہو تے اسے اجماع قرار دیا جائے اور اگر اتفاق رائے نہیں ہے تو صدر مرکز کو چاہیے کہ دوبارہ وہی سوال ساری شاخوں میں گشت کرائے، اور موافق اور مخالف دونوں فریقوں کی آراء کے ساتھ دلائل کی وضاحت بھی کرے۔ اس مکرّر گشت کے موقع پر ممکن ہے جو لوگ ایک خاص رائے رکھتے تھے اب اپنے فریق مخالف کی دلیلوں کو معقول سمجھ کر اپنی رائے بدل دیں۔ جب بار دیگر جوابات آئیں گے، اس وقت ان کو دوبارہ شائع کیا جا سکتا ہے۔ اتفاق رائے ہو گیا ہے تو الحمد للہ اور اگر اتفاق نہیں بھی ہوا ہے تب بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اتنے لوگ یا فلاں فلاں لوگ یہ رائے رکھتے ہیں، فلاں فلاں لوگ دوسری رائے رکھتے ہیں۔ یہ طریقہ قابلِ عمل ہوگا۔ اس سے ایک شخص جو خاص معیّن کام پر نہیں ہے بلکہ اس ملک کا دوسرا ہے اس کی رائے سے ہم یہاں رہ کر بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔\n=====سوال 8:=====\nقرآن کریم نے ربوا کو حرام قرار دیا ہے۔ وہ کون سا ربوا ہے؟ کیا کمرشل انٹرسٹ پر اس کا اطلاق ہوگا یا نہیں ہوگا۔ اگر ہوگا تو اس کی علّت کیا قرار دی جائے گی؟\n=====جواب:=====\nمیں معاشیات (Economics) کا ماہر نہیں ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ربوا ممنوع ہے۔ ربوا کا مقصد یہ رہا ہے کہ یک طرفہ جوکھم سے منفعت حاصل کی جائے۔ مثلاً ایک شخص سے کچھ رقم بطور قرض حاصل کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ اس کو قرض کی ادائیگی تک سالانہ مثلاً 5 فی صد زائد رقم بطور سود ادا کروں گا۔ قرض کی رقم سے میں تجارت کرنا چاہتا ہوں۔ فرض کیجیے کہ مجھے اس تجارت کی منفعت میں سے 5 فی صد سود سالانہ ادا کرنا ہے۔ اگر منفعت اس سے زیادہ ہو اس صورت میں تو کوئی دشواری نہ ہوگی لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ مجھے ایک سال خسارہ ہو۔ اس خسارے کے باوجود میرے لیے لازم ہوگا کہ قرض دہندہ کو حسبِ وعدہ 5 فی صد سالانہ ادا کروں کیونکہ وہ نقصان میں شریک نہیں، صرف منفعت میں شریک ہونا چاہتا ہے۔ اسے اسلام کے اخلاقی اقدار کے منافی قرار دے کر منع کر دیا گیا ہے۔ اس کے بر خلاف اگر ایسے بینک کا سود ہو جس میں قرض دہندہ اور قرض حاصل کنندہ، دونوں منفعت اور خسارے میں برابر کے تناسب سے شریک رہنے پر آمادہ ہیں تو وہ ربوا نہیں رہتا۔ اسے اسلام جائز قرار دیتا ہے۔\n=====سوال 9:=====\nحکومت جو دیگر ممالک سے سودی قرض لیتی ہے کیا اس قسم کا سودا کرنا جائز ہوگا؟\n=====جواب:=====\nاس کا جواب میرے لیے ناممکن ہے، اس لیے کہ حکومت بعض وقت مجبور ہوتی ہے اور وہی اپنے مفاد کو بہتر سمجھتی ہے۔ چونکہ میں اس کے رازوں میں شریک نہیں ہوں اس لیے کچھ کہہ نہیں سکتا۔ حکومت ہی نہیں، ہم آپ بھی بوقت ضرورت قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ اس وقت کوئی اللہ کا بندہ مال دار شخص ہمیں بے سود قرض دینے کے لیے نہیں ملتا تو ہم کیا کریں؟ مجبوراً قرض لیں گے اور سُود ادا کرنے کا وعدہ کریں گے۔ خدا شاید ہمیں معاف کر دے گا لیکن اس سُود خور کو معاف نہ کرے گا۔ حکومت بھی اگر سودی قرض لینے پر مجبور ہے تو ممکن ہے خدا اس کی نیک نیتی سے واقف ہو اور اسے معاف کر دے۔ اگر اس کا منشاء شاندار محل بنانا ہے تو اللہ اسے بھی سزا دے سکتا ہے۔\n=====سوال 10:=====\nداڑھی عرب کا خاص رواج ہے، یہاں تک کہ مشرک لوگ بھی داڑھی رکھتے تھے۔ رسم و رواج شرعی نقطہ نظر نہیں بن سکتے لیکن آج کل داڑھی کو سنت مؤکدہ سمجھا جاتا ہے۔ از راہِ کرم اس کی وضاحت کریں۔ شکریہ۔\n=====جواب:=====\nمیں عرض کروں گا کہ مشرکینِ عرب ہی نہیں، کارل مارکس بھی داڑھی رکھتا تھا، انڈو چائنا کے ہوچی منہ کی بھی داڑھی تھی، لینن کی بھی داڑھی تھی۔ آپ پیرس آئیں گے کہ ہزاروں فرانسیسی نو مسلم داڑھی رکھتے ہیں۔ آپ داڑھی کے فرنچ کٹ سے بھی واقف ہوں کے۔ میں اس کا قائل نہیں ہوں کہ داڑھی دوسروں کی تقلید میں رکھی جائے، آپ بھی قائل نہیں ہوں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بارے میں قرآن و حدیث میں کیا احکام ہیں؟ قرآن مجید میں ایک جگہ اشارتاً ذکر آیا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کوہ طور سے نیچے اترے تو دیکھا کہ ان کی قوم یعنی یہودی گاؤ پرستی میں مشغول ہیں۔ وہ اپنے بھائی حضرت ہارونؑ کو اپنا نائب بنا کر چھوڑ گئے تھے، ان پر خفا ہوئے۔ قرآنی الفاظ (قَالَ یا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْیتِی وَلَا بِرَأْسِی ۖ إِنِّی خَشِیتُ أَنْ تَقُولَ فَرَّقْتَ بَینَ بَنِی إِسْرَائِیلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِی 94:20) ہیں کہ حضرت ہارونؑ کی داڑھی کو کھینچ کر ان کے ساتھ سختی کا برتاؤ کیا۔ یہ اشارتاً ذکر ہے یعنی داڑھی رکھنا پیغمبروں کی سنت ہے۔ حدیث میں اس سے زیادہ صریح الفاظ ملتے ہیں \"داڑھی رکھو\" اس حدیث اور سنت رسول کے پیش نظر داڑھی رکھنا محض رسم و رواج نہیں بلکہ اسلامی حکم بن جاتا ہے۔ حکم کے متعلق آپ کو معلوم ہوگا کہ درجات پائے جاتے ہیں۔ یعنی اگر فرض کیجیے کہ قرآن میں صیغہ امر استعمال کر کے کہا گیا ہے کہ \"زکوٰۃ دو\" اور وہی صیغہ امر استعمال کر کے یہ بھی کہا گیا ہے کہ \"خیرات دو\" تو ظاہر ہے دونوں حکم یکساں نہیں ہے۔ اگر زکوٰۃ دوں لیکن اگر میں خیرات سے انکار کر دوں تو حضرت ابو بکرؓ ممکن ہے مجھے یہ کہیں کہ یہ برا مسلمان ہے ، لیکن مجھے تلوار کے ذریعے مجبور نہ کریں گے۔ یعنی احکام میں درجہ بندی ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ داڑھی رکھنا بے شک اسلامی حکم ہے لیکن درجے کا حکم نہیں جیسے اللہ کو ماننا جیسے رسول اللہﷺ کا نبی ماننا، یا مثلاً نماز پڑھنا، روزہ رکھنا وغیرہ۔ اس کا درجہ نسبتاً فروتر ہوگا۔\n=====سوال11:=====\nجیسا کہ آپ کہہ چکے ہیں کہ لونڈیوں کو اس لیے پردہ نہ کرنے کی اجازت تھی کہ وہ کام کاج کرتی تھیں، انہیں سودا سلف خریدنے کے لیے باہر جانا پڑتا تھا۔ جبکہ آج کل کے دور میں عورت کو ملازمت کے سلسلے میں باہر جانا پڑتا ہے، تو کیا ان کے لیے بھی وہی حکم ہوگا جو لونڈیوں کے لیے تھا، کیونکہ احکام علت پر مبنی ہوتے ہیں۔ علت کے بدل جانے سے احکام بدل جاتے ہیں۔ فقہی نقطہ نظر سے اس مسئلے کی وضاحت کیجیے۔\n=====جواب:=====\nمجھے یقین ہے کہ میری بہنیں جو یہاں موجود ہیں وہ لونڈی بننا پسند نہیں کریں گی۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ لونڈیوں کو پردہ نہ کرنے کی جو اجازت دی گئی تھی اس کی علّت وہی ہے جو میں نے بیان کی۔ میں نے صرف ایک ذاتی رائے ظاہر کی تھی۔ قانون ساز صرف حکم دیتا ہے، قانون کی وجہ اور ضرورت کی توضیح وہ خود نہیں کرتا۔ اسے ہم سوچتے ہیں اور ہماری سوچ چونکہ ہماری ہوتی ہے، قانون ساز یعنی خدا اور رسول (ﷺ) کی نہیں ہوتی۔ اس لیے میں یہ کہوں کا کہ اگر میری رائے میں لونڈیوں کے پردہ نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ انہیں بہت سے کام انجام دینے پڑے تھے تو میری اپنی رائے ہے، اور یہ رائے واحد علّتِ قانون نہیں ہوگی۔ ہمارے دوست کا کہنا ہے کہ احکام علّت پر مبنی ہوتے ہیں۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ احکام ہمیشہ علّت پر مبنی نہیں ہوتے۔ یہ ممکن ہے کہ شارع، قانون ساز، حاکم یعنی خدا ہماری آزمائش کے لیے ایک چیز کا حکم دے جس کی کوئی خاص علّت نہ ہو۔ وہ ہمیں صرف آزمائش کے لیے حکم دے رہا ہے، یہ نہیں کہ ہماری اس میں فلاں مصلحت ہے، یا اس میں ہمارا فلاں فائدہ ہے۔ اس آزمائش کو آپ علّت قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ علّت ایسی نہیں ہوگی جو میری آپ کی سمجھ میں آئے۔ جس چیز کے متعلق قانون کے سرچشمے یعنی قرآن اور حدیث میں صراحت سے ایک حکم دیا گیا ہے، وہاں اِجتہاد اور عقل کام نہیں کر سکتی۔ قرآن میں صراحت ہے کہ یوں کرو تو کرنا پڑے گا، چاہے ہمیں اس کی وجہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔\n=====سوال 12:=====\nاسلامی نقطہ نظر سے حکمرانوں کو منتخب کرنے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے۔ کیا موجودہ طریقہ انتخابات اسلامی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟\n=====جواب:=====\nمیں سمجھتا ہوں کہ اس سوال کے جواب میں کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ابھی میں تھوڑی دیر پہلے اس کی طرف اشارہ کر چکا ہوں۔ اسلام میں بادشاہت کی بھی اجازت ہے، جہاں بادشاہ کا بڑا بیٹا خود بخود ولی عہد بن جاتا ہے اور آیت قرآنی \" وَوَرِثَ سُلَیمَانُ دَاوُودَ \" (16:27) اس کی اجازت بھی دیتی ہے۔ جمہوریت کی بھی اجازت ہے، جماعتی Collegial حکومت کی بھی اجازت ہے۔ وہاں وہ نظام بھی پایا جا سکتا ہے جو ان سب کا ایک مجموعہ یا ان میں سے چند کا مخلوط ہو، جیسے خلافتِ راشدہ میں تھا۔ خلافتِ راشدہ بادشاہت نہیں تھی کیونکہ جمہوریت میں معیّن مدّت کے لیے (چار یا پانچ سال کے لیے) کسی کو منتخب مقرر کیا جاتا ہے اور پھر نئے انتخابات ہوتے ہیں۔ خلافت راشدہ مجموعہ تھی بادشاہت اور جمہوریت کی، یعنی ایک شخص کا تا حیات انتخاب ہوتا تھا اور یہ ساری چیزیں اسلام نے جائز قرار دیں۔ اسلام میں کسی معیّن طرزِ حکومت کو لازم قرار نہیں دیا گیا بلکہ عدل و انصاف کو لازم قرار دیا گیا ہے چاہے اس کو کوئی بھی انجام دے۔ اگر آج حضرت ابوبکر، حضرت عمر یا حضرت علی رضی اللہ عنہم اجمعین زندہ ہوں تو میں بخوشی انہیں سارے آمرانہ اختیارات سونپنے کے لیے آمادہ ہوں کیونکہ مجھے ان کی خدا ترسی پر پورا اعتماد ہے ۔ اس کے برخلاف اگر آج یزید زندہ ہو تو اس کو انگلستان کے مہر لگانے والے بادشاہ کے برابر بھی اپنا حکمران بنانے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ غرض یہ کہ خواہ انتخاب کیا جائے، خواہ نامزد کیا جائے یا کوئی اور طریقہ اختیار کیا جائے۔ انسانیت کی تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی بھی چیز آغاز انسانیت سے لے کر تا قیامت کارآمد نہیں ہو سکتی۔ آج یہ چیز مفید ثابت ہوتی ہے کل اسی چیز کو برا کہہ کر ٹھکرا دیا جاتا ہے اور نئی چیز بنائی جاتی ہے۔ چنانچہ ابتدائی چار خلفاء کے زمانے میں جانشیں کے انتخاب کا کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے اختلاف کی صورتیں پیدا ہوئی تھیں۔ اسی بناء پر حضرت معاویہؓ نے یہ مناسب خیال کیا کہ حکومت میں استقلال پیدا کرنے کے لیے اور حکومت کو خانہ جنگیوں سے بچانے کے لیے بادشاہت کا نظام نافذ کیا جائے۔ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ اُمت کی بھلائی کے لیے انہوں نے بجائے جمہوریت کے بادشاہت کو نافذ کیا۔ کچھ عرصے کے بعد بادشاہت نامناسب پائی گئی تو ہم نے بادشاہت کے خلاف بھی بغاوت کی۔ غرض یہ کہ انسان کبھی ایک ہی چیز پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مطمئن نہیں رہ سکتا۔ حکومت کے اچھے یا برے ہونے کا انحصار حکمران کی شخصیت پر ہے۔ اچھا حکمران چاہے ڈکٹیٹر ہو، خوشی سے عوام اسے قبول کر لیتے ہیں۔ ظالم حکمران چاہے جمہوریت کا صدر ہی کیوں نہ ہو، اسے ہم رد کر دیتے ہیں۔\n\n=== خطبہ نمبر ۶ ===\n\nمحترم وائس چانسلر صاحب! محترم اساتذہ کرام اور محترم مہمانان گرامی!\nالسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!\nرسول اللہﷺ کی ذات محض خوش اعتقادی کے لحاظ سے نہیں، واقعاتی حیثیت سے بھی بہت ہی جامع شخصیت ہے۔ اس شخصیت کی وضاحت کے لیے ایک مورخ اور سوانح نگار کو مختلف پہلوؤں کا ذکر کرنا پڑتا ہے۔ آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری، تمام سابقہ پیغمبروں کے خصائل رسول اللہﷺ میں ملیں گے۔\nاگر ہم لفظ نبی کے معنی محدود کر لیں کہ نبی دین سکھاتا ہے آپ ﷺ نے ہمیں دین کی تعلیم بھی دی ہے اور اگر اس کے وسیع معنی لیں تو وہ تمام کارنامے جو آپ ﷺ نے انجام دیے، وہ سب ہی منصب نبوت کے اجزاء یا شعبے ہوں گے۔ نبوت کی تمام شاخوں یا شعبوں کا اگر ہم علیحدہ علیحدہ ذکر کرنا چاہیں تو ایک نشست میں ساری چیزوں پر روشنی ڈالنا ناممکن ہوگا۔ ظاہر ہے کہ انسب کارناموں میں دین کی تعلیم ہی کو اولیت حاصل ہے، کیونکہ اسی کے لیے آپ ﷺ بعثت سے لے کر وفات تک، ساری عمر سعی فرماتے رہے۔ خوش قسمتی سے ہمیں دین کے سلسلے میں ایک سہولت یہ حاصل ہے کہ خود آپ کی ہی ایک حدیث میں اس کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ حدیث صحاح ستہ کی ساری کتابوں یعنی بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ ایک روایت میں یہ صراحت بھی آتی ہے کہ اس واقعے کا تعلق حضور ﷺ کی زندگی کے آخری دور بلکہ شاید آخری سال سے ہے۔ وہ حدیث یہ ہے کہ ایک دن ایک اجنبی مسجد نبوی میں داخل ہوتا ہے، جسے کوئی نہیں پہچانتا۔ اس کے جسم پر سفید براق کپڑے ہیں اور اس کے سر کے بال بے حد سیاہ ہیں۔ لکھا ہے کہ وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر، آپ کے سامنے گھٹنوں سے گھٹنے ملا کر بیٹھ گیا اور پوچھا کہ اے محمد(ﷺ) ایمان کیا چیز ہے؟ حضور ﷺ نے اس کی تشریح فرمائی اس جواب پر اجنبی سائل کہتا ہے: \"آپ نے بہت ٹھیک کہا\" راوی کا بیان ہے کہ ہم سب لوگ حیرت زدہ تھے کہ یہ کون ہے جو سوال بھی پوچھتا ہے اور جواب کی توثیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس کے بعد اس نے دوسرا سوال کیا کہ اسلام کیا چیز ہے؟ اس کی بھی حضور ﷺ نے تشریح فرمائی۔ اس جواب پر بھی اس نے کہا \"آپ ٹھیک کہتے ہیں\"۔ پھر پوچھا کہ احسان کیا چیز ہے؟ احسان کی بھی حضور ﷺ نے تشریح فرمائی۔ اس پر بھی یہی کہا کہ آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ اس کے بعد آخری سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی؟ حضور ﷺ کے الفاظ یہ تھے کہ \"اس بارے میں سائل سے زیادہ مجھ (ﷺ) کو کوئی علم نہیں\" یعنی نہ میں جانتا ہوں نہ تم جانتے ہو، صرف خدا ہی جانتا ہے۔ اس کے بعد وہ شخص اٹھا اور باہر چلا گیا ۔ حضور ﷺ نے کسی صحابیؓ سے کہا کہ دیکھو، یہ کون ہے؟ وہ اس کے پیچھے گئے اور چند لمحوں میں وواپس آ کر کہا وہ غائب ہو گیا ہے، معلوم نہیں اسے زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا۔ اس کے بعد جو واقعہ پیش آیا وہ مختلف روایتوں میں مختلف طریق سے بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فوراً کہا۔ دوسری روایت میں ہے کہ چند دن بعد کہا کہ یہ شخص جبرئیلؑ تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ جس روایت میں کئی دنوں کے بعد حضور ﷺ نے بیان فرمایا اس روایت میں اس جملے کا اضافہ بھی ہے کہ آج تک جبرئیلؑ کو پہچاننے میں مجھے دشواری پیش نہیں آئی، کہ میں نہ پہچان سکوں۔ گویا اگر جبرئیلؑ امتحان کے لیے آئیں تو یہ ضروری نہیں کہ رسول اللہ ﷺ بھی ان کو پہچان سکیں۔ بہر کیف اس حدیث میں تین چیزوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ ایمان کیا چیز ہے؟ اسلام کیا چیز ہے؟ احسان کیا چیز ہے؟ انہیں تین باتوں کو بہ الفاظِ دیگر عقائد، عبادات اور تصوف کہا جا سکتا ہے۔ بظاہر یہ موضوع غیر دلچسپ ہے کہ کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ ایمان سے کیا مراد ہے؟ اللہ کو ایک ماننا، رسول اللہ کو ایک ماننا۔ اسی طرح عبادات کے بارے میں ہم میں سے ہر ایک شخص واقف ہے کہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ چار چیزیں ہم پر فرض ہیں۔ کچھ باتیں تصوف کے متعلق بھی ہر شخص کو معلوم ہیں۔ لیکن اگر ہم ان میں سے ہر چیز کے مختلف پہلوؤں کو لے کر دیگر مذاہب سے مقابلہ کریں تو اس موضوع میں دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔\nپہلے ایمان و عقائد کو لیجئے۔ اس کے بہت سے اجزاء اور عناصر ہیں۔ مثلاً توحید الہی پر ایمان، اللہ کی بھیجی کتابوں پر ایمان، اس کے رسولوں پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، آخرت اور روز جزاء پر ایمان، خیر و شر کے من جانب اللہ ہونے پر ایمان۔ اگر ہم ان عقائد کا دیگر مذاہب کے مماثل عقائد سے مقابلہ کریں تو اسلام کی امتیازی حیثیت ظاہر ہوتی ہے اور ایسے نکتے نظر آتے ہیں جن پر واقعی آدمی سر دھننے لگتا ہے۔ عقائد کے سلسلے میں پہلی چیز اللہ پر ایمان ہے۔ بعض ادیان اللہ کے ایک ہونے کے قائل ہیں اور اس بات کو صراحت کے ساتھ بیان بھی کرتے ہیں۔ حتی کہ عیسائی بھی، جن کے متعلق عام طور پر یہ تصور ہے کہ وہ تثلیث پر ایمان رکھنے کے باعث ایک نہیں بلکہ تین خداؤں کو مانتے ہیں۔ اسی طرح پارسی بھی خدا کے ایک ہونے پر ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ ہندوؤں کے ہاں بھی بعض فرقے ایسے ہیں جو توحید ربانی پر ایمان رکھتے ہیں۔ اگر ہم غور سے دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ اسلام کا نظریہ توحید، بہ نسبت اور دینوں کی تعلیم کے زیادہ معقول زیادہ سادہ اور زیادہ اچھا ہے۔ مثال کے طور پر عیسائیوں کے ہاں، جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا، تثلیث کا تصور پایا جاتا ہے۔ لیکن کسی عیسائی سے پوچھو اور اس سے کہو کہ تم تین خداؤں پر ایمان رکھتے ہو تو وہ تم سے لڑ پڑے گا۔ کہے گا قطعاً نہیں، ہم ایک ہی خدا کو مانتے ہیں: باپ، بیٹا اور روح القدس، یہ تینوں ایک ہی خدا کے مظہر ہیں۔ میں زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ صرف چند اشارے کروں گا کہ ان کا یہ بیان، کہ تثلیث سے مراد توحید ہی ہے، داخلی تضاد کے باعث ناقابل قبول ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ابھی حال ہی میں کوئی سال ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرا پیرس میں ایک عیسائی ادارے کی طرف سے مجھے دعوت ملی کہ کسی اسلامی موضوع پر لیکچر دوں اور میں اس میں اسلامی عقائد کا ذکر کروں۔ وہاں میرا تعارف کراتے ہوئے وہاں کی پروٹسٹنٹ یونیورسٹی کے ریکٹر (Rector) نے بظاہر مجھ کو سمجھانے کے لیے اصرار اور تکرار سے کہا کہ عیسائی تین خداؤں کو نہیں مانتے، ایک ہی خدا کو مانتے ہیں۔ اس کے بعد میں نے اپنی تقریر شروع کی اور اس کا مجھے جواب دینا ایک لحاظ سے ضروری ہو گیا۔ میں نے کہا کہ اگر عیسائی واقعی صرف ایک خدا کو مانتے ہیں تو بسر و چشم، لیکن عیسائیوں کے ہاں ایک طرف اصرار کے ساتھ یہ ادعاء ہے کہ خدا ایک ہے اور دوسری طرف ان کے ہاں آمنت باللہ کی طرح کی جو Creed پائی جاتی ہے اسی میں ایسی چیزیں بیان کی ہوتی ہیں جو اس کی تائید نہیں کرتیں بلکہ تردید کرتی ہیں۔ غالباً آپ کو علم ہو گا کہ جس طرح مسلمانوں کے ہاں \"آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ \" کی طرح ایک Creed پائی جاتی ہے ۔ اسی طرح عیسائیوں کے ہاں بھی ہے، جس کے الفاظ کم و بیش اس طرح ہوتے ہیں کہ میں خدا پر ایمان لاتا ہوں اور خدا کے اکلوتے بیٹے حضرت عیسیؑ پر ایمان لاتا ہوں۔ جن کو فلاں بادشاہ کے زمانے میں تکلیف دے کر صلیب پر مارا گیا۔ پھر وہ جہنم میں گئے تین دن وہاں رہے اس کے بعد آسمان پر گئے وہاں خدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھے۔ آئندہ زمانے میں وہ دوبارہ آئیں گے تاکہ زمین پر زندوں اور مردوں کا حساب لیں۔ پھر اس کے بعد کچھ اس طرح کے الفاظ ہوتے ہیں کہ \"گوشت پوست ہی کے ساتھ ہمارا حشر ہوگا اور ابدی زندگی حاصل ہوگی\" تو میں نے اشارہ کیا کہ \"اگر یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان پر جانے کے بعد خدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھے تو کوئی شخص خود اپنے داہنے ہاتھ پر نہیں بیٹھتا۔ اس کے معنی یہی ہوں گے کہ حضرت عیسیٰؑ الگ ہیں اور خدا الگ ہے۔ وہ خدا کے معزز مہمان ہو سکتے ہیں کہ خدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھے ہیں لیکن وہ خود خدا نہیں ہو سکتے۔\" اس طرح آپ دیکھتے ہیں کہ عیسائیوں کے ہاں توحید کا تصور ہونے کے باوجود اظہار (Formulation) اس طرح ہوتا ہے جو قابل قبول نہیں رہتا بلکہ خود اپنی تردید کرتا ہے۔\nغرض توحید کے معلق مسلمانوں کا تصور اتنا سادہ ہے اور اس قدر پر زور ہے کہ اس طرح کی کوئی چیز دوسرے مذاہب میں نظر نہیں آتی۔ ابھی میں نے پارسیوں کے مذہب کا ذکر کیا ہے۔ زردشت بھی خدا کے ایک ہونے کا قائل ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہاں ثنویت یعنی دو خداؤں کا تصور بھی پیدا ہو گیا ہے۔ زردشت کہتا ہے برائی کو خدا کی طرف منسوب نہیں کیا جا رہا، نہ صرف یہ کہ خدا خود برا کام نہیں کرتا بلکہ یہ بھی کہ برائی کا پیدا کرنے والا بھی خدا نہیں ہو سکتا، یہ خدا کی ذات کے منافی ہے کہ خدا جیسی پاک ہستی برائی کو پیدا کرے۔ لہذا وہ کہتا ہے کہ برائی کا خالق الگ ہے اور بھلائی کا خالق الگ۔ اس طرح دو الگ خالق یا خدا ہیں۔ یہ نظریہ تو نیک نیتی پر مبنی ہے کیونکہ خدا کی عظمت کا احترام کرتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ خدا برائی پیدا نہیں کرتا لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا میں چونکہ اکثر اوقات برائی کو غلبہ حاصل ہوتا ہے اور بھلائی کو شکست ہوتی ہے، گویا بھلائی کا خدا مغلوب ہو جائے، کیا ہم اسے خدا تسلیم کریں گے؟ علمی نقطہ نظر سے یہ دشواریاں جو اس طرح کے تصورات سے پیدا ہوتی ہیں وہ اسلامی تعلیم توحید میں بالکل نہیں، اسلامی عقیدہ توحید میں زور دیا گیا ہے کہ اللہ جل شانہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ایک طرف کامل نفی ہے، دوسری طرف استثناء کے ذریعے سے محدود بھی کر دیا گیا ہے کہ صرف یہی اللہ ہے۔ یہ زور بیان کسی اور مذہب کی تعلیم میں نظر نہیں آتا۔ حتی کہ یہودیوں کے ہاں بھی صرف اتنا ہے کہ خدا ایک ہے لیکن یہ زور کہ لا الہ الا اللہ (کوئی معبود نہیں بجز اللہ کے) وہ امر ہے جو یہود کی تعلیم میں بھی نہیں ملتا۔\nاس کے بعد دوسرا عقیدہ فرشتوں سے متعلق ہے۔ اس کو بھی اکثر مذہب قبول کرتے ہیں۔ پارسی، یہودی، عیسائی اور مسلمان سب اس پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن وقت کی کمی کے سبب میں اس پر بحث نہیں کروں گا۔\nاس کے بعد عقائد کا تیسرا جزو کتابیں ہیں یعنی میں اللہ تعالی کی بھیجی ہوئی کتابوں پر ایمان لاتا ہوں۔ یہ اتنا اہم کلمہ ہے کہ اس کے مماثل ہمیں کوئی چیز دوسرے مذاہب میں نظر نہیں آتی، وہ اس لیے کہ اگر یہاں یہ کہا جاتا ہے \"میں کتاب پر ایمان لاتا ہوں\" یعنی قرآن مجید پر تو یہ صرف ایک کتاب ہوتی لیکن ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ایک کتاب پر نہیں بلکہ خدا کی بھیجی ہوئی ساری کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس عقیدے میں ایک طرف فراخ دلی اور وسیع القلبی کا پہلو ہے اور دوسری طرف اسلام کے عالمگیر ہونے اور ابتداء سے لے کر قیامت تک مسلسل جاری رہنے کا تصور بھی ہے۔ کیونکہ اگر ہم کتابوں پر ایمان لائیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ آدمؑ سے لے کر محمد رسول اللہﷺ تک جتنی بھی کتابیں آئی ہیں وہ سب مختلف لوگوں کی نہیں ہماری اپنی کتابیں ہیں۔ مثلاً توریت یہودیوں کی ہی کتاب نہیں بلکہ ہماری کتاب بھی ہے۔ انجیل عیسائیوں ہی کی کتاب نہیں بلکہ ہماری کتاب بھی ہے۔ ایسی تعلیم ہمیں دوسرے مذاہب میں نہیں ملتی۔ عام طور پر دوسرے مذاہب والے یہ کہتے ہیں کہ سارے مذاہب غلط ہیں، انہیں چھوڑ دو، صرف ہمارا مذہب سچا ہے۔ میں بھی بطور مسلمان کے یہی کہوں گا کہ میرا دین سچا ہے لیکن دوسرے مذاہب بھی اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے سچے اور الہی مذہب ہیں، اگرچہ ان پرانے مذاہب پر عمل نہیں کرتا۔ اسلامی تعلیم یہ ہے کہ خدا کی بھیجی ہوئی ساری کتابیں خدا ہی کا حکم ہیں اور اسی بنا پر ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ مگر اس اصول کی بنا پر کہ آخری کتاب پر عمل کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کی کتابوں پر عمل تو نہیں کرتے لیکن ان کو تسلیم ضرور کرتے اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ اس سے پہلے ایک نفسیاتی فائدہ اور بھی ہے کہ اگر میں کسی یہودی یا کسی عیسائی کو یہ کہوں کہ تیرا مذہب جھوٹا ہے، تیری نجات کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ تو اسلام قبول کر لے، تیرے پاس جو کتابیں ہیں وہ لغو اور جلا دینے کے قابل ہیں تو اسے دکھ ہوگا اور غالبا وہ جوش غضب سے اس قدر مغلوب ہو جائے گا کہ اسلام کی حقانیت کے بارے میں میری کوئی بات سننے یا ماننے کے لیے تیار نہ ہوگا۔ اس کے بر خلاف اگر میں اس سے یہ کہوں کہ تمہارا دین سچا ہے، تمہارے ہاں کی کتاب بھی سچی ہے، وہ اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی کتاب ہے اور وہی اللہ، جس نے تمہیں یہ کتاب دی، اس نے ایک آخری کتاب بھی بھیجی ہے۔ تم اس کو پڑھو اور غور کر کے دیکھو کہ اس میں کیا بیان ہوا ہے۔ وہ نسبتا زیادہ خوش دلی کے ساتھ اس کو پڑھنے اور غور کرنے کے لیے تیار ہوگا۔ اسی طرح اللہ کے تمام رسولوں پر ایمان لانے کا جو حکم دیا گیا ہے، اس میں وہی فراخ دلی، وسیع القلبی، تحمل اور رواداری کا پہلو نظر آتا ہے۔ میں نے مسند احمد بن حنبل میں ایک حدیث پڑھی ہے جو دوسری کتابوں میں بھی ہے کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نے فرمایا کہ آدمؑ سے لے کر اب تک اللہ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی بھیجے ہیں، جن میں 315 رسول تھے۔ گویا 315 صحیفے نازل ہوئے۔ باقی ایک لاکھ تیئس ہزار چھ سو پچاسی پیغمبروں نے اپنے اپنے پیش رو نبی کی کتاب پر عمل جاری رکھا۔ ظاہر ہے کہ سارے پیغمبر مختلف زمانوں اور دنیا کے مختلف ملکوں میں آئے ہوں گے اور ان کی زبانیں بھی مختلف رہی ہوں گی کہ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ (قرآن 4:14)\nپیغمبر کے منصب اور مقصد کے بارے میں بھی مختصراً کچھ عرض کر دوں تو بہتر ہوگا کیونکہ اس بارے میں مختلف مذاہب میں کچھ تھوڑا سا فرق نظر آتا ہے۔ بعض مذاہب میں عقیدہ یہ ہے کہ اللہ انسان کے قالب میں جنم لیتا ہے جس شخص کے اندر اللہ حلول کر جاتا ہے اس کا ہر قول اللہ کا قول، ہر فعل اللہ کا فعل ہوتا ہے۔ دوسرا تصور یہ ہے کہ اللہ اپنے کسی برگزیدہ بندے کے پاس اپنا پیغام بھیجتا ہے۔ یہ پیغام اس تک مختلف طریقہ سے پہنچایا جاتا ہے۔ کبھی تو اللہ کی براہ راست اس نبی کے کان تک پہنچتی ہہے، جیسا کہ حضرت آدم اور حضرت موسی کے متعلق ہے کہ خدا نے ان سے بات کی، کبھی یہ ہوتا ہے کہ وہ پیغام ایک فرشتہ لاتا ہے اور انسان تک پہنچاتا ہے۔ فرشتے کا لفظ فارسی مصدر \"فرستادن\" کا اسم مفعول ہے یعنی بھیجا ہوا۔ اس سے مراد وہ نوری مخلوق ہے جو اللہ کا پیغام انسان تک پہنچاتی ہے۔ ان فرشتوں میں یہ خامی نہیں ہوتی کہ پیغام کا کوئی جزو بھول جائیں یا اس کے پہنچانے میں کوئی غلطی کریں۔ فرشتے خدا کا جو پیغام لاتے ہیں، اس کو ہم اصطلاحاً \"وحی\" کہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وحی کیا چیز ہے؟ جو لوگ مسلمان نہیں ہیں، اور اسلام پر اعتراض کرتے رہے ہیں، وہ وحی پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک بیماری ہے۔ گزشتہ صدی کا ایک مشہور مستشرق اشپرنگر برطانوی دور حکومت میں ہندوستان میں رہا تھا۔ اس نے علم طب کی تعلیم حاصل کی تھی اور عربی دان بھی تھا۔ چنانچہ اس نے سیرت النبیﷺ پر جرمن کی کتابوں میں عربی ماخذوں سے استفادہ کیا۔ لیکن وحی کے متعلق اپنی ذاتی رائے پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ مرگی کی بیماری معلوم ہوتی ہے۔ نزول وحی کے متعلق عربی کی کتابوں میں جو روایات اور بیانات ہیں کہ وحی آتی تو رسول اللہﷺ کا چہرہ سرخ ہو جاتا، آپ پسینے پسینے ہو جاتے اور سکتے کا عالم طاری ہو جاتا۔ تو اشپرنگر کہتا ہے کہ یہ علامت مرگی کی ہیں۔ چونکہ میں ڈاکٹر نہیں ہوں، کہہ نہیں سکتا کہ اس کا یہ بیان کس حد تک صحیح ہے بہرحال اس نے یہ اعتراض کیا ہے، لیکن اس کے متعلق اگر میں اپنی رائے ظاہر کر سکوں تو وہ یہ ہے کہ اشپرنگر نے وحی کے بارے میں اور وحی کی کیفیت سے متعلق ساری معلومات جمع نہیں کیں، بلکہ صرف چند چیزیں لیں اور ان کی اساس پر کہا کہ یہ فلاں بیماری کی علامت ہیں۔ میرے خیال میں یہ صحیح علمی اور دیانتدارانہ طریقہ نہیں ہو سکتا چنانچہ میں نے وہ حدیثیں جمع کیں جن میں وحی کے نزول کے وقت کا مشاہدہ مختلف صحابیوں سے مروی ہے۔ مثلاً ایک صحابی فرماتے ہیں کہ ہم نے دیکھا فلاں دن یکایک رسول اللہﷺ کی حالت متغیر ہو گئی۔ وحی نازل ہونے لگی اور اس وقت کی یہ کیفیت چند لمحوں میں دور ہو گئی اور رسول اللہﷺ اپنی معتاد بشری حالت میں آ گئے، وغیرہ وغیرہ۔ ایسی جو حدیثیں میں نے جمع کیں ان میں ایک بات غیر معمولی ہے، جس کی طرف اشپرنگر کے بیان میں کوئی اشارہ تک نہیں چہ جائیکہ وہ اس کی توجیہ یا اس سے استدلال کی کوشش کرتا۔ وہ یہ ہے کہ جب وحی نازل ہوتی تو وہ تمام صحابہ جن کو اس کا مشاہدہ ہوا تھا، کہتے ہیں کہ اس وقت رسول اللہﷺ اتنے بوجھل ہو جاتے کہ اس بوجھ کا تحمل تقریباً ناممکن ہو جاتا۔ چنانچہ اگر آپ کسی اونٹنی پر سوار ہوتے اور اس وقت وحی نازل ہونے لگتی تو اونٹنی آپ کے بوجھ کو برداشت نہ کر سکتی اور مجبور ہو جاتی کہ بیٹھ جائے۔ اگر وہ بیٹھنا نہ چاہتی یا بیٹھ نہ سکتی تو اس کے پاؤں سیدھے ہو جاتے اور اکڑنے لگتے، گویا کہ وہ اب چٹخ کر ٹوٹ جائیں گے۔ ایک اور روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہﷺ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں کی کثرت تھی، حضرت زید بن ثابت کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کا زانو میرے زانو پر تھا۔ آپ پر وحی نازل ہونے لگی۔ اتنا بوجھ محسوس ہوا کہ مجھے خوف ہوا کہ میری ران کی ہڈی چٹخ کر ٹوٹ جائے گی۔ رسول اللہﷺ کی ذات نہ ہوتی تو میں چیخ کر اپنا پاؤں کھینچ لیتا۔ میرے لیے تقریباً ناممکن تھا کہ میں آپ کا بوجھ سہار سکوں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ اس کی توجیہ اشپرنگر کے بیان میں میں اعتراض کی عبارت میں نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اور مؤلفوں نے بھی خیال آرائی کی ہے لیکن وہ بھی اس نکتے پر چپ سادھ لیتے ہیں اور اس سے کوئی نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ بات میرے نزدیک بہت اہم اور غیر معمولی ہے۔ مجھے یا آپ کو ایسی کیفیت کبھی پیش نہیں آ سکتی۔ عام بشری کیفیت پر قیاس کر کے میں اس کی توجیہ کبھی نہیں کر سکوں گا کہ وحی کیا چیز ہے؟ وحی صرف پیغمبر پر آتی ہے اور پیغمبر کی بھی چوبیس گھنٹے وہ حالت نہیں رہتی بلکہ کبھی کبھی اللہ کوئی پیغام بھیجتا ہے تو اس پر وہ کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ ایک طرف یہ چیز ہے دوسری طرف میرے ایک ڈاکٹر دوست نے مرگی کی بیماری کے متعلق علمی نقطہ نظر سے کچھ تازہ ترین معلومات مہیا کی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مرگی کا بیمار تشنج کی حالت میں ہوتا ہے، ہاتھ پاؤں مارتا ہے، بے قرار ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کی زبان سے کچھ آوازیں نکلتی ہیں لیکن وہ بالکل ناقابل فہم ہوتی ہیں۔ وہ کچھ کہتا ضرور ہے لیکن کوئی ایسی بات نہیں ہوتی جسے ہم سننے والے سمجھ سکیں اور یہ کہ مرگی والے شخص کی اولاد میں بھی یہ مرض منتقل ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں غور کرنا چاہیے کہ تشنج اور ہاتھ پاؤں مارنے اور بے قرار ہو جانے کا کوئی ذکر رسول اللہﷺ کی زندگی میں اور وحی کے مشاہدات سے متعلق روایتوں میں نہیں ملتا۔ اس لحاظ سے مرگی کا انتساب رسول اللہﷺ کی طرف درست معلوم نہیں ہوتا اس کے برعکس ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ رسول اللہ وحی کے وقت ہمیشہ ساکت و صامت ہو جاتے تھے۔ یہ نہیں کہ آپ ہاتھ پاؤں مارتے تھے یا تشنج کی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی، کبھی نہیں کبھی نہیں، ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا۔ دوسری چیز ہمیں یہ بھی نظر آتی ہے کہ وحی کے دوران شروع سے آخر تک اور وحی کے ختم ہو جانے کے بعد رسول اللہﷺ کی زبان سے جو آوازیں نکلتیں وہ قابل فہم عبارتیں ہوتیں، یعنی قرآن کی آیتیں جن کو سن کر ہر شخص سمجھ سکتا تھا، یہ نہیں کہ جانوروں کی طرح چیخیں مارتے ہوں یا جیسے کہ بیمار بعض اوقات کراہتا ہے اور ایسی آوازیں نکالتا ہے جو سمجھ میں نہیں آ سکتیں، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یہ صحیح ہے کہ ایک زمانے میں وحی کے دوران ہی رسول اللہﷺ بلند آواز سے وحی سناتے۔ بعض اوقات وحی کے ختم ہونے کے بعد سناتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں ایک آیت ہے کہ لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (16:75) یعنی ابتداء ہی سے جیسے جیسے وحی نازل ہوتی اور جیسے جیسے فرشتہ آپ کو کچھ الفاظ پہنچاتا رسول اللہﷺ اسی وقت اس کو با آواز بلند دہراتے رہتے۔ اس طرح کی فوری تبلیغ آپ کی نیک نیتی پر مبنی تھی کہ کچھ بھول نہ جائیں تو اللہ نے کہا ایسا نہ کریں، پہلے سکون کے ساتھ پوری وحی کو سن لیں، وہ آپ کے ذہن سے غائب نہیں ہوگی، ہم اسے محفوظ رکھیں گے۔ وحی کا نزول ختم ہونے کے بعد آپ اسے دوسرے تک پہنچائیں۔ اس کے بعد سے رسول اللہﷺ نے اپنے اس معمول کو بدل دیا اور وحی کے اختتام تک سکوت فرماتے۔ ان تفصیلات کی روشنی میں ہمیں نظر آتا ہے کہ مرگی کی بیماری، تشنج وغیرہ بے معنی آوازوں کا آپ کی زبان سے نکلنا، ان باتوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اسی طرح رسول اکرمﷺ کی چھ سات لڑکے لڑکیاں ہوئیں اور لڑکیوں کی اولاد اب تک دنیا میں باقی ہے اور مرض کے توارث سے تاریخ ساکت ہے۔\nاس کے علاوہ ایک طویل فہرست ایسی حدیثوں اور روایتوں کی ہے جن میں لکھا ہے کہ ایک دن رسول اللہﷺ منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ یکایک آپ کی حالت غیر ہو گئی اور وحی نازل ہونے لگی۔ آپﷺ کی زبان سے آواز نکلنا بند ہو گئی اور آپ چپ چاپ کھڑے رہے۔ چند لمحوں کے بعد وہ حالت دور ہو گئی۔ پھر آپ نے خطبہ دینا شروع کیا اور فرمایا مجھ پر ابھی فلاں وحی نازل ہوئی ہے اور اس کی تبلیغ فرما دی۔ ایک دوسری روایت میں کہا گیا ہے کہ ایک دن رسول اللہﷺ کھانا کھا رہے تھے۔ ایک گوشت کا ٹکڑا بدستور آپ کے ہاتھ میں رہا، گرا نہیں۔ یعنی اپنی ذات پر آپ کا کنٹرول برقرار رہا۔ اس طرح کی اور حدیثیں بھی ہیں جن میں ہمیں نظر آتا ہے کہ وحی کے نزول کے وقت رسول اللہﷺ کو اپنے آپ پر ویسا ہی کنٹرول رہتا تھا جیسا کہ عام حالت میں ہوتا ہے، سوائے اس فرق کے کہ اس وقت آپ بے حرکت ہو جاتے اور آپ کے جسم سے پسینہ نکلنے لگتا حتی کہ انتہائی شدید سردی کے زمانے میں بھی پسینے کے قطرے ایک قطار کی صورت میں آپ کی پیشانی سے گرنے لگتے۔ اس کے سوا کوئی اور فرق نظر نہیں آتا یا یہ کہ آپ کے چہرے کا رنگ، چند لمحوں کے لیے غالباً خون کی تیز گردش کی وجہ سے، سرخ ہو جاتا یا ذرا سانولا ہو جاتا۔ اس کے علاوہ ہمیں اور کوئی فرق نظر نہیں آتا۔\nمغربی مورخوں کی تالیفات میں ایک اور چیز نظر آتی ہے وہ کہتے ہیں کہ جب وحی نازل ہوتی تو رسول اللہﷺ لیٹ جاتے اور آپ کے چہرے کو ڈھانپ دیا جاتا،جیسا کہ پرانے کاہنوں کی عادت تھی۔ میں نے اس بارے میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ آپ کے چہرے کو ڈھانپ دینا اور آپ کا لیٹ جانا صرف ایک مرتبہ پیش آیا، ورنہ عام طور پر ایسی کوئی صورت کبھی واقع نہیں ہوئی۔ مثلاً اونٹنی پر ہیں، یا منبر پر کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے ہیں تو وہاں چہرے یا جسم کو کسی کپڑے سے ڈھانپ دینے اور آپ کے لیٹ جانے کی کوئی صورت کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ وہ ایک واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت عائشہؓ کی عفت کے بارے میں جھوٹے بہتان لگائے گئے تھے تو ایک دن آپ حضرت عائشہؓ سے ملنے کے لیے ان کے والد حضرت ابوبکر  کے مکان گئے کیونکہ اس زمانے میں وہ اپنے والدین کے گھر تھیں۔ وہاں رسول اللہﷺ نے حضرت عائشہؓ سے گفتگو کی، کچھ سوالات کیے۔ پھر یکایک آنحضرتﷺ پر وحی کا نزول شروع ہوا۔ راوی لکھتا ہے کہ رسول اللہﷺ لیٹ گئے اور آپ کے چہرے پر حضرت ابو بکر اور ان کی بیوی نے احتراماً ایک چھوٹا سا کپڑا ڈال دیا، اس خیال سے کہ کہیں رسول اللہﷺ کی متغیر حالت دیکھ کر ہم ہنس نہ پڑیں یا ان پر بے ادبی سے نظر نہ پڑ جائے۔ اس ایک روایت کے علاوہ اور اس خاص واقعہ کے علاوہ کہیں یہ نظر نہیں آتا کہ وحی کے نزول کے وقت رسول اللہﷺ کے چہرے کو لوگ ڈھانپ دیتے ہوں۔ ایک اور واقعے کا ذکر کیا جا سکتا ہے جس میں لیٹنے کا ذکر نہیں ہے لیکن چہرے کو ڈھانپنے کا ایک طریقہ نکل آتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایک صحابی کہتے ہیں کہ مجھے اسلام لانے سے پہلے یہ معلوم ہوا تھا کہ پیغمبر اسلامﷺ پر وحی آتی ہے۔ پھر اللہ نے مجھے توفیق دی اور میں مسلمان ہوا تو میری تمنا تھی کہ وحی کے نزول کے وقت رسول اللہﷺ کو دیکھوں۔ میری اس تمنا سے کچھ اور لوگ بھی واقف تھے۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر، میری موجودگی میں، یکایک رسول اللہﷺ پر وحی نازل ہونے لگی۔ حضرت عمر میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ تم رسول اللہﷺ کو نزول وحی کی حالت میں دیکھنا چاہتے تھے، اگر تمہاری یہ تمنا برقرار ہے تو آؤ میں تمہیں دکھاؤں۔ تو راوی یہ کہتے ہیں کہ اس وقت رسول اللہﷺ ایک پردے کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ پردے کی دوسری طرف ہم لوگ تھے۔ حضرت عمر نے اس پردے کو ذرا کھینچ کر کہا اندر دیکھ لو۔ میں نے دیکھا رسول اللہﷺ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور سانس قدرے زور زور سے لے رہے ہیں۔ ان دو واقعات کے سوا، جن میں ایک مرتبہ چہرے پر پردہ ڈالنے کا ذکر ہے اور ایک مرتبہ رسول اللہﷺ کے پردے کے پیچھے بیٹھنے کا ذکر ہے، اور کسی روایت میں ایسی تفصیل نہیں ملتی جو کاہنوں کی حالت اور اس طرح کی چیزوں سے مشابہت رکھتی ہو۔\nبہرحال وحی کیا چیز ہے؟ اس کی تشریح ہمارے لیے ناممکن ہے کیونکہ وحی ہم میں سے کسی پر نہیں آتی۔ وحی کے وقت رسول اللہﷺ کی حالت جیسی ہوئی تھی اسے ہم مختلف لوگوں کے مشاہدے کے حوالے سے بیان کر سکتے ہیں۔ کچھ مشاہدے تو وہ ہیں جو میں نے آپ سے بیان کیے۔ کچھ یہ ہیں کہ ایک صحابی نے جرات کر کے ایک مرتبہ براہ راست رسول اللہﷺ سے پوچھا یا رسول اللہﷺ! آپ پر جب وحی نازل ہوتی ہے تو اس وقت آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟ وہ جواب بھی دلچسپ ہے۔ اس جواب کا ذکر کر کے میں اس بحث کو ختم کروں گا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بعض اوقات میرے کانوں میں گھنٹی بجتی ہے اور بہت سخت تکلیف کی حالت ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا میری جان نکل جائے گی۔ اس وقت میں کچھ آوازیں سنتا ہوں۔ وہ آوازیں میرے دماغ میں پتھر پر کندہ نقش کی طرح ثبت ہو جاتی ہیں۔ اس حالت کے ختم ہونے کے بعد وہ مجھے ایسے ہی یاد ہوتی ہیں گویا کہ مجھے زبانی یاد تھیں۔ تو لوگوں کے سامنے دہراتا ہوں۔ لیکن بعض اوقات کوئی شخص نظر آتا ہے، یا تو آدمی کی شکل میں اور اس وقت وہ آدمی کی طرح مجھ سے بولتا ہے۔ بعض اوقات وہ پرندے کی شکل میں ہوتا ہے یعنی ایک انسان جس کے پر بھی ہوں اور فضا میں اڑتا رہتا ہے یا کھڑا رہتا ہے اور وہ مجھے مخاطب کر کے کچھ چیزیں کہتا ہے اور میں انہیں سنتا ہوں، میں بھول نہیں سکتا، وہ میرے حافظہ میں نقش ہو جاتی ہیں اور پھر میں انہیں دہراتا ہوں۔ یہ رسول اللہﷺ کا بیان ہے۔ یہ الفاظ کافی اہم ہیں کہ اتنی شدید تکلیف ہوتی ہے گویا میری جان نکل جائے گی۔ یہ رسول اللہﷺ محسوس کرتے تھے۔ اس لیے کوئی حیرت کی بات نہیں کہ آپ کا وزن بھی اتنا زیادہ ہو جاتا تھا کہ کسی اونٹنی کو بھی اس کا تحمل ممکن نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہﷺ خود محسوس کرتے تھے کہ یہ غیر معمولی حالت ہے، یہ ہے وحی کی کیفیت اور اس سے زیادہ ہم کوئی اور چیز بیان نہیں کر سکتے۔ یہ خصوصی کیفیت جو اللہ کے نبیﷺ کو ہوتی ہے ہم اس کو عام انسانوں کی کیفیتوں اور ڈاکٹروں کے مرض کی تشخیص سے حل نہیں کر سکتے۔\nاسلامی عقائد: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ کے بعد وَالْیوْمِ الْآخِرِ ہے یعنی آخرت کا ذکر آتا ہے۔ عقائد کے نقطہ نظر سے آخرت پر ایمان تو ہمیں لانا ہی ہے لیکن نفسیاتی نقطہ نظر سے بھی ہی بات بڑی اہم ہے کہ ہر انسان سے اس کے اعمال کے متعلق حساب و کتاب لیا جائے گا اور اس کے نیک و بد اعمال کے مطابق جزا و سزا دی جائے گی۔ آخرت اور یوم حساب پر ایمان، جزا کی امید اور سزا کا خوف، یہ ایسے تصورات ہیں جو انسان کو اچھے کام کرنے کی ترغیب دیتے اور بری باتوں سے روکتے اور بچاتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک چھوٹی سی چیز میرے ذہن میں آتی ہے۔ ہم سب اللہ کے بندے ہیں، وہ ہمارا آقا ہے اگر وہ ہمیں کچھ حکم دے تو مالک ہونے کی وجہ سے ہمیں ہر حکم دے سکتا ہے اور ہمارا فریضہ ہوگا کہ ہم اسے انجام دیں۔ اگر ایک ملازم، اس سے بھی بڑھ کر ایک غلام، اپنے آقا کے احکام کی تعمیل کرے تو اس کی جزاء پانے کا،کسی شاباشی کے حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں ہوتا، اس کے بر خلاف اگر کوئی غلام اپنے آقا کے حکم کی اطاعت نہیں کرتا تو سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جنت کی اصولاً کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ صرف دوزخ کی ضرورت ہے کہ ہم اللہ کے بندے ہیں، اللہ کی اطاعت نہ کریں تو اللہ ہمیں سزا دے سکتا ہے، اسے اس کا کامل حق ہے لیکن اگر ہم اس کے احکام کی تعمیل کریں تو ہمیں کوئی حق نہیں کہ اللہ ہمیں جنت انعام میں دے۔ اس کے باوجود یہ اللہ کی مہربانی اور رحمت ہے کہ ہمیں جنت بھی دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں تشویق بھی ہے اور تہدید و تنبیہ بھی ہے۔\nاب میں جنت و دوزخ کے متعلق چند الفاظ آپ سے بیان کروں گا۔ ہندوؤں کا تصور اور بدھ مت والوں کا تصور اس کے بارے میں کچھ اور ہی ہے۔ یہ دلچسپ ضرور ہے لیکن ظاہر ہے کہ اسے مسلمان قبول نہیں کر سکتے۔ وہ کہتے ہیں کہ کائنات کا وجود ازل سے ابد تک صرف اتنا ہی ہے جتنا ایک بلبلے کا وجود، جو دریا میں موج کے تلاطم سے پانی کی سطح سے اچھلتا پڑتا ہے پھر آن کی آن میں دوبارہ گر کر دریا کے پانی میں غائب ہو جاتا ہے۔ انسان کی ہستی بھی اس کائنات میں محض اس بلبلے کی طرح ہے۔ اسی طرح ان کا تصور تناسخ یہ ہے کہ آدمی اچھا کام کرے تو اسے جزا ملے گی، میں ابھی بیان کروں گا کہ کیا ملے گی اور اگر برا کام کرے گا تو سزا ملے گی۔ ہندوؤں کے عقائد کے مطابق یہ ہے کہ وہ سزا اس برائی کی نوعیت کی ہوگی۔ اگر اس نے تھوڑی برائی کی ہے تو مرنے کے بعد غلام کے طور پر پیدا ہوگا۔ اگر اس نے اس سے بھی زیادہ برائی کی ہے تو وہ مرنے کے بعد کتا یا بلی بن جائے گا، اس کی برائی اگر اس سے بھی زیادہ ہے تو وہ درخت بن جائے گا، اس سے بھی بڑی برائی ہے تو وہ پتھر بن جائے گا۔ جمادات، نباتات، حیوانات یہ سب ارتقائی مدارج ہیں۔ اس لحاظ سے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی کو پتھر بننے کی سزا دی گئی ہے تو اس پتھر کے ارتقاء کے ذریعے سے صدیوں کی مدت کے بعد درخت بننے کا موقع ملے گا۔ اگر درخت اپنی مدت حیات میں مفید کام کرتا رہے تو اس درخت کو صدیوں کے بعد جانور بننے کا موقع ملے گا۔ وہ جانور اگر اچھے کام کرتا ہے تو اسے ادنیٰ قسم کا انسان یعنی شودر بننے کا موقع ملے گا۔ اگر شودر کی حیثیت سے اچھے کام کرتا رہے اور اپنے فرائض انجام دیتا رہے تو مرنے کے بعد وہ ویش بنے گا۔ اس کے بعد کھتری بنے گا، اس کے بعد برہمن بنے گا۔ اگر برہمن کی حیثیت سے اپنی زندگی اچھی گزاری تو مرنے کے بعد دوبارہ خدا کی ذات میں ضم ہو جائے گا۔ جس طرح کہ وہ بلبلہ دوبارہ پانی میں گرا اور پانی بن گیا، تو برہمن دوبارہ خدا بن جائے گا۔ اگر برہمن نے زندگی برائی کے ساتھ گزاری تو اسے وہی سزا ملے گی اور دوبارہ اس کو جانور اور درخت اور پتھر وغیرہ بننا پڑے گا اس طرح ہزاروں لاکھوں سال گزر جائیں گے۔ یہ ان کا آواگون یا تناسخ کا تصور ہے۔ مسلمانوں کا تصور اس بارے میں جنت اور دوزخ کا ہے۔ خود قرآن میں اور حدیث میں صراحت سے بیان کیا گیا ہے کہ جنت میں جانوروں اور پرندوں کا گوشت کھانے کو ملے گا۔ وہاں شراب کی،شہد کی اور دودھ کی نہریں ہوں گی۔ تو اس کا مفہوم یہ لینا پڑے گا کہ ہمارے عرفان و شعور کے مطابق، ہمارے ذہن میں آسائش اور لذت کا جو تصور ہے اس تصور کے مطابق بتایا گیا ہے کہ جنت میں یہ نعمتیں ہوں گی، ورنہ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ کہا گیا کہ وہاں وہ چیزیں ہیں جن کا تمہیں تصور بھی نہیں ہو سکتا۔ جب ہمیں ان کا تصور نہیں ہو سکتا، جیسے کہ حدیث کے صاف الفاظ میں جنت میں وہ چیزیں ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھا، نہ کسی کان نے کبھی سنا، نہ کسی کے دل و دماغ میں ان کا خیال تک کبھی گزرا، پھر اسے ہم کیسے سمجھائیں گے۔ انسانی زندگی میں انسان چاہتا ہے کہ اس کو خوبصورت بیوی ملے، اچھی غذائیں ملیں وغیرہ وغیرہ۔ تو قرآن مجید میں سمجھانے کے لیے ایسی ہی چیزوں کا ذکر آیا ہے جو انسان کو فطرتاً مرغوب ہیں۔ بہرحال حور و قصور کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن اگر یہ چیزیں نہ بھی ہوں تو کوئی تضاد نہیں کیونکہ قرآن خود کہتا ہے کہ تمہیں وہاں پر تمہاری خواہش کی ہر چیز ملے گی اور حدیث میں صراحت ہے کہ وہاں جو چیزیں ہیں ان کا تمہیں تصور بھی نہیں ہو سکتا، تو دونوں امکانات باقی رہتے ہیں۔\nعقائد کے سلسلے میں آخری چیز، کہ برائی اور بھلائی دونوں اللہ کی طرف سے ہیں، بہت پیچیدہ ہے۔ اس میں ایک طرف تو پارسیوں کے مذہب کی تردید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ نیکی کا خدا الگ ہے اور برائی کا خدا الگ ہے۔ اس نظریے میں منطقی اعتبار سے خامی ہے کہ اگر نیکی کسی وقت مغلوب ہو جائے تو دوسرے معنوں میں اس کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ نیکی کا خدا مغلوب ہو گیا، اس کے باوجود ہم اسے خدا مانتے رہیں، اسے عقل قبول نہیں کرتی۔ اس کے برخلاف اسلام کہتا ہے کہ والقدر خیرہ و شرہ، من اللہ تعالیٰ یعنی خیر و شر دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔ تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سزا کیوں دی جاتی ہے؟ جبر و قدر کا یہ مسئلہ بڑا پیچیدہ ہے۔ اس پر دنیا کے ہر مذہب میں صدیوں سے بحث ہوتی آ رہی ہے اور اب تک اس کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔ اگر ہم ایک جواب دیں کہ انسان مجبور ہے اور وہی کرتا ہے جو خدا نے مقرر کر رکھا ہے تو اس پر کچھ اعتراض ہوتے ہیں۔ یہ ایک دوہری مشکل (Dilemma) ہے، یعنی دونوں صورتیں قابل اعتراض ہو جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے رسول کریمﷺ نے بڑی سختی سے تاکید کی ہے کہ اس بحث میں نہ پڑو، تم سے پہلے کی قومیں اس مسئلے پر بحث کرنے لگیں اور گمراہ ہو گئیں۔ ان حالات میں اصولاً مجھے مزید بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہونا چاہیے، لیکن میں تھوڑی سی توضیح کرتا ہوں جیسا کہ میں نے آپ سے کہا کہ اگر انسان کو مجبور قرار دیا جائے یعنی ایک مشین کی طرح وہی کام کرتا ہے جو خدا نے مقرر کر رکھا ہے، تو ہم یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم برائی کریں تو سزا کیوں دی جاتی ہے؟ یہ اعتراض اور یہ سوال ٹھیک ہے لیکن یہی بھلا مانس انسان یہ کیوں نہیں سوچتا کہ اگر میں بھلائی کرتا ہوں تو وہ بھی خود بخود بلا ارادہ ہوگی، پھر مجھے جنت کا کیا حق ہے؟ اس پر وہ چیزیں ہمارے ذہن میں نہیں آتیں بلکہ ہم خود طے کرتے ہیں کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے تو اس کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ اللہ کو معلوم نہیں کہ انسان کیا کرنے والا ہے، حالانکہ وہ عالم الغیب ہے۔ ساری اگلی اور پچھلی چیزوں کو ان کے وجود میں آنے سے پہلے سے جانتا ہے۔ اگر ہم انسان کو قادر قرار دے دیں تو اس کے معنی یہ نکلتے ہیں کہ اللہ کو علم نہیں ہے کہ میں کیا کرنے والا ہوں اور اللہ ہمارے اس کام کو، جو ہم کرنے والے ہیں، خود پیدا نہیں کرتا بلکہ وہ ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ یہ ہے وہ دوہری مشکل (Dilemma) جس کی بناء پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اس بحث میں نہ پڑو۔ حقیقت میں یہ دونوں مختلف سطحوں کی، مختلف درجات کی اور دو مختلف مداروں میں گھومنے والی چیزیں ہیں۔ انسان کی ذمہ داری اور جواب دہی، زمینی تصور ہے۔ اللہ کی قدرت، اللہ کا مقرر کرنا، یہ آسمانی تصور ہے۔ ان دونوں میں کسی طرح کے تصادم کا کوئی امکان نہیں پایا جاتا۔ گویا میں اپنے ہر کام کا زمینی مفہوم میں ذمہ دار ہوں، اور ہر چیز آسمانی مفہوم میں خدا کی طرف سے پیدا ہوتی ہے، اس میں کوئی تضاد یا تصادم نہیں ہے، یہ اس تصور کا خلاصہ ہے۔\nایک آخری چیز میں اس بحث کو ختم کروں گا۔ ایک دن یکایک میرے ذہن میں انکشاف سا ہوا اور یہ عجیب و غریب انکشاف تھا۔ وہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو خلیفہ کیوں بنایا؟ ہم میں دوسری مخلوقات کے مقابلے میں کوئی خاص فوقیت نہیں، کیا یہ استبدادی فیصلہ ہے؟ یا انتخاب ہوا ہے؟ میری توجہ قرآن مجید کی اس آیت کی طرف مبذول ہوئی إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَینَ أَنْ یحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (72:33) (ہم نے ایک امانت پیش کی، آسمانوں اور آسمانوں پر رہنے والوں کے سامنے اور زمین اور زمین پر رہنے والوں کے سامنے۔ حتیٰ کہ پہاڑوں کے سامنے بھی، مگر کسی کو بھی یہ ہمت نہ ہوئی کہ اس امانت کو قبول کرے، سبھی ڈرے اور سبھوں نے انکار کر دیا،اگر قبول کیا تو انسان نے،جو ظالم بھی ہے اور جاہل بھی ہے)۔ میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ جب خلیفۃ اللہ کا عہدہ پیش کیا گیا تو ہر مخلوق نے چاہا ہوگا کہ وہ عہدہ مجھے مل جائے۔ سب نے پوچھا ہوگا کہ کس شرط پر یہ عہدہ مل سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ \"تقدیر تو میں کروں گا اور ذمہ دار تم ہو گے\" سب نے کہا ہوگا کہ \"یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تقدیر تو کرے اور ذمہ دار ہم ہوں؟\" سب ڈرے اور کسی نے قبول نہ کیا سوائے انسان کے، جو ایک ظالم اور جاہل مخلوق ہے۔ اس نے کہا \"یا رب میں قبول کرتا ہوں\"۔اس کا یہ بھولا پن اللہ تعالیٰ کو پسند آیا، کہا اچھا میں تجھے خلیفہ بنا دیتا ہوں۔ لیکن میں سوچتا ہوں کہ انسان اتنا جاہل نہیں تھا جتنا ہمیں نظر آیا ہے۔ انسان نے غالباً یہ سوچا کہ \"خدا ظالم تو ہو نہیں سکتا، وہ مجھے اس چیز کی سزا نہیں دے گا جو میں نے نہیں کی۔ لاؤ عہدہ قبول کر ہی لیں، پھر دیکھا جائے گا۔ وہ غفور و رحیم ہے۔\" تقدیر و تدبیر کے متعلق میرا تصور یہ ہے کہ جب انسان نے یہ قبول کیا کہ اللہ کرے اور ذمہ دار میں ہوںتو اب اس سے یہ پوچھنے کا حق نہیں کہ مجھے سزا کیوں دی جاتی ہے؟\nیہ عقائد کے متعلق مختصر سی گفتگو تھی۔ اب میں مختصراً عبادات کے بارے میں کچھ بیان کروں گا۔ اسلام اپنی محدود معنی میں اطاعت کرنے اور اپنے آپ کو دوسرے کے سپرد کر دینے کا نام ہے۔ جب جبرئیل نے آنحضرتﷺ سے پوچھا کہ اسلام کیا چیز ہے؟ تو آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ نماز پڑھنا، روزے رکھنا، زکوٰۃ دینا اور حج کرنا۔ نماز کا مقابلہ اگر ہم دوسری قوموں اور دوسری ملتوں کی عبادات سے کریں تو ہمیں اسلام کی بڑی فوقیت نظر آتی ہے۔ یہودیوں کی عبادت کا طریقہ ہے کہ وہ اپنے مذہبی معبد کو جاتے ہیں اور ان کا امام توریت کھول کر گھنٹے دو گھنٹے مسلسل تلاوت کرتا ہے اور سارے لوگ مرد اور عورتیں ادب کے ساتھ سنتے ہیں۔ پھر تلاوت ختم ہو جاتی ہے، سارے لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں کی طرح رکوع و سجدہ، قیام و قعود وغیرہ نہیں ہوتا۔ پارسیوں کے ہاں آپ نے سنا ہوگا، آتش پرستی ہوتی ہے۔ اس کی بڑی دلچسپ کہانی ہے۔ میں اس تفصیل میں نہیں جاتا صرف اشارۃً آپ سے ذکر کرتا ہوں۔ اس کی تھوڑی سی توجیہ بعد میں کروں گا۔ ہندوؤں کے ہاں گائے کی پوجا ہوتی ہے۔ عیسائیوں کے ہاں ایک طرح سے صلیب کی پرستش ہوتی ہے۔ یہ کیا چیزیں ہیں؟ بظاہر یہودی اور پارسی اور عیسائی ہماری ہی طرح کے انسان ہیں، صاحب عقل و فہم بھی ہیں، اس کے باوجود کیا بات ہے کہ وہ ایسی جاہلانہ حرکات کرتے ہیں کہ آگ کی پوجا کرتے ہیں، لکڑی کی پوجا کرتے ہیں اور گائے (جانور) کی پرستش کرتے ہیں۔ ایک دن میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ کسی کی تعریف دو طرح سے ہو سکتی ہے، براہ راست بھی اور بالواسطہ بھی، مثلاً کسی مصور سے ہم کہیں کہ تم بڑے ماہر مصور ہو تو ظاہر ہے کہ وہ اس تعریف ے خوش ہو جائے گا۔ لیکن اگر مصور سے مخاطب ہوئے بغیر اس کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کر کے ہم کہیں کہ کیا نفیس تصویر ہے تو اس بالواسطہ حمد و ثنا سے بھی اس مصور کو اتنی ہی خوشی ہوگی جتنی براہِ راست تعریف سے ہو سکتی ہے۔ پرانے مذہبوں میں بالواسطہ حمد و ثناء کو اختیار کیا گیا۔ مثلاً جس زمانے میں پارسی مذہب وجود میں آیا، اس وقت انسان نے آگ کو اپنے قابو میں کر لیا تھا۔ آگ سے فائدہ اٹھانا اور اس کی ہلاکتوں سے بچنا، انسان نے سیکھ لیا تھا، تو اس وقت اس نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر اور شواہد میں سب سے طاقتور چیز آگ ہے، کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، جو بھی اس کے قریب جاتا ہے وہ جل کر ختم ہو جاتا ہے لہذا پارسی مذہب کے بانیوں نے کہا کہ ہم خدا کی تعریف کرنا چاہتے ہیں تو اس کے بہترین مظہر یعنی آگ کی پرستش کرنا چاہیے۔ ہندوستان میں جب آریہ آئے تو انہوں نے زرعی معیشت میں گائے کو سب سے زیادہ مفید اور منفعت بخش پایا، تو خدا کی اس سب سے بڑی نعمت کے گن گانے لگے، اور خدا کی نعمتوں کی سب سے بڑی علامت کے طور پر اس کا احترام کرنے لگے۔ اللہ ایک منعم ہے، لہذا اس کا شکر ادا کرنے کے لیے وہ اس کی سب سے اچھی نعمت کی تعریف کرتے ہیں اور اس کا ادب کرتے ہیںاب ہم دیکھیں گے کہ اسلام میں عبادت کا کیا طریقہ ہے۔ نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھی جاتی ہے جس میں اللہ کی حمد و ثناء ہے یعنی گویا ہم براہ راست حمد و ثنا کرتے ہیں۔ لہذا ہمیں ضرورت نہیں کہ کسی رمز کے ذریعے اللہ کی حمد کریں۔ براہ راست اور بالواسطہ دونوں چیزیں حمد کا ذریعہ بن سکتی ہیں اور اسلام نے چاہا کہ اللہ جو ذات واجب الوجود ہے اس کی تعریف بھی براہ راست ہونی چاہیے۔ بہرحال اسلام نے بتایا کہ اللہ کی تعریف خود اللہ کے بتائے ہوئے الفاظ کے ذریعے سے کریں۔ یہودیوں کے ہاں توریت کے متعلق جو تصور ہے کہ اللہ کا کلام ہمارا رہنما ہے اس لیے چاہیے کہ ہم اس کی تعمیل کریں۔ اپنی نماز میں بھی ہم قرآن مجید یا کلام اللہ ہی پڑھتے ہیں۔ عیسائیوں کے ہاں کمیونین کا جو تصور ہے کہ ہم خدا کی ذات میں مدغم ہو گئے، وہ ایک مادی واسطے سے ہے۔ اسلام نے دیکھا کہ اللہ کی ذات مجرد ہے اس لیے اس سے تقرب بھی مجرد طور سے ہونا چاہیے۔ وہ طریقہ مسلمانوں کے ہاں تشہد ہے۔ نماز کے اختتام کے وقت قیام، رکوع، سجود، حمد و ثناء غرض کائنات میں سے ایک نوع کے طریقہ عبادت کے ذریعے سے اللہ کو اپنی اطاعت شعاری کا یقین دلا کر ہم اپنے آپ کو اس بات کے قابل تصور کرتے ہیں کہ ہمیں اللہ کے حضور میں باریابی کا شرف حاصل ہو۔ جب کسی چھوٹے کو بڑے کے حضور میں باریابی کا موقع ملتا ہے تو چھوٹا سلام کرتا ہے اور بڑا مہربانی سے جواب دیتا ہے۔ التحیات کے معنی ہیں آداب عرض کرنا۔ یہ چیز معراج کے واقعے سے لی گئی ہے حضورﷺ نے التحیات للہ کہا۔ اس پر اللہ نے مہربانی سے جواب دیا \"السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ و برکاتہ\"۔ رسول اللہﷺ نے اپنی امت کا بھی خیال فرمایا اور فوراً ہی کہا \"السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحین\" اور ہم سب حقیر امتیوں کو بھی، ان برکات میں جو اللہ کی طرف سے نازل ہو رہی تھیں، شامل کر لیا۔ حاضری اور ملاقات کو سلام اور جواب سلام کے ذریعے سے ہم نے رمز کے طور پر اختیار کیا ہے۔ اللہ کی ذات میں مدغم ہو جانے کا تصور ہمارے نزدیک ناقابل قبول ہے۔ اس کی جگہ ہم اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ اس کے حضور میں حاضر ہو کر آداب بجا لاتے ہیں۔ وہ ہمارے سلام کو قبول کرتا ہے اور ہم پر رحمت و برکت نازل کرتا ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی عبادت ایک طرح سے سارے مذاہب عالم کے بلکہ ساری کائنات کے طریقہ ہائے عبادت کا خلاصہ ہے۔ کائنات میں تین طرح کی چیزیں پائی جاتی ہیں، جمادات، حیوانات اور نباتات۔ جمادات کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کبھی حرکت نہیں کرتے، بلکہ ساکت رہتے ہیں۔ نماز میں ہم پہلے بے حرکت کھڑے ہو جاتے ہیں، گویا جمادات کی عبادات کا طریقہ ہماری عبادت میں قیام کے ذریعے شامل ہو گیا۔ حیوانات ہمیشہ رکوع کی حالت میں رہتے ہیں اور یہ ان کی عبادت ہے۔ ہماری نماز میں رکوع کی حالت اسی کی مماثل ہے۔ درخت اپنی جڑوں کی طرف جھکے ہوئے سجدے کی حالت میں رہتے ہیں یعنی نباتات اپنی عبادت میں سجدے کی حالت میں رہتے ہیں۔ لہذا اسلامی عبادت میں نباتات کا طریق عبادت شامل ہے۔ صرف جمادات، حیوانات اور نباتات ہی کی نہیں، نماز میں کچھ خالص انسانی خصوصیات بھی ہیں جیسے التحیات۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی عبارت سارے دینوں بلکہ ساری کائنات کی عبادتوں کا مجموعہ ہے، اس لیے ان سب سے فائق ہے۔\nاب میں روزے کے متعلق کچھ عرض کروں گا۔ حال ہی میں پیرس میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے جسے ایک یورپین غیر مسلم (غالباً کیتھولک) ڈاکٹر ژوفرائے (جوفرائے) نے لکھا ہے۔ اس کا عنوان \"روزہ\" ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے مجھے بعض عجیب و غریب باتیں معلوم ہوئیں۔ اس کا کہنا ہے کہ روزہ طبی نقطہ نگاہ سے بھی انسانوں کے لیے مفید ہے۔ وہ ایک دلچسپ انکشاف کرتا ہے کہ روزہ انسانوں میں ہی نہیں بلکہ کائنات کی اور چیزوں مثلاً درختوں اور حیوانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کا ہمارے موضوع سے کوئی براہ راست تعلق نہیں تاہم آپ کی دلچسپی کے لیے عرض کرتا ہوں۔ جہاں تک حیوانوں کا تعلق ہے ان کے متعلق اس نے ذکر کیا ہے کہ ایسے وحشی جانور جو بالکل فطری حالت میں رہتے ہیں۔ جس زمانے میں برف باری ہوتی ہے، انہیں کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ملتی اور بعض اوقات اس کا سلسلہ کئی کئی مہینوں تک جاری رہتا ہے۔ جن علاقوں میں برفباری شدید ہوتی ہے وہاں برف کی وجہ سے مہینوں تک زمین نظر نہیں آتی۔ اس صورت میں ایسے جانور جو اپنی غذا خود حاصل کرتے ہیں، انہیں کوئی چیز نہ کھانے کو ملتی ہے نہ پینے کو، اس کے باوجود وہ نہیں مرتے۔ اس نے لکھا ہے کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جانور، پرندے، سانپ وغیرہ سب پہاڑوں کی غاروں میں چلے جاتے ہیں اور وہیں سو جاتے ہیں اس کو Hibernation کہتے ہیں۔ یعنی سردی کے زمانے کی نیند، اس کا سلسلہ ہفتوں بلکہ مہینوں تک جاری رہتا ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ نہ کھانے اور نہ پینے کی حالت، یعنی روزے کے باعث ان جانوروں میں نئے سرے سے جوانی آ جاتی ہے۔ جب سردیوں کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے اور بہار کا موسم آنے لگتا ہے تو ایسے پرندے، جو ان غاروں میں ہیں، ان کے پرانے پر جھڑ جاتے ہیں اور نئے پر نکل آتے ہیں۔ جن کی طراوت اور رنگوں کی خوشنمائی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نئے سرے سے جوان ہو گئے ہیں۔ اسی طرح وہ سانپ کے متعلق لکھتا ہے کہ اس کی جھلی جھڑ جاتی ہے اور اس کو ایک نئی کھال یا نیا چمڑا ملتا ہے جو چمک دمک میں پہلے سے بہتر ہوتا ہے۔ اس زمانے میں ان جانوروں میں واقعی ایک جوانی سی آ جاتی ہے۔ اپنی تعداد بڑھانے کے لیے نر کو مادہ سے ملنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ اس زمانے میں ان روزہ رکھے ہوئے جانوروں میں پہلے سے زیادہ قوت اور پہلے سے زیادہ جوانی آ جاتی ہے۔ اسی طرح درختوں کے متعلق وہ بیان کرتا ہے کہ سردیوں خصوصاً برفباری کے زمانے میں درختوں کے سارے پتے جھڑ جاتے ہیں انہیں کوئی پانی نہیں دیا جاتا۔ان کی کسی قسم کی آبپاشی نہیں کی ہوتی، گویا وہ روزہ رکھتے ہیں۔ روزے کی مدت ہفتوں اور مہینوں تک چلی جاتی ہے۔ یہ روزہ ختم ہونے پر درختوں کو ایک نئی جوانی حاصل ہوتی ہے۔ یعنی جو نئی کونپلیں ان میں پھوٹتی ہیں اور نئے پھول اور پھل لگتے ہیں، وہ ان درختوں کی نئی جوانی، نئے حسن اور نئی قوت پر دلالت کرتے ہیں۔ ان مشاہدات کی روشنی میں ڈاکٹر جوفرائے کا کہنا ہے کہ انسانوں کو بھی ہر سال روزے رکھنے چاہئیں، یہ ان کی صحت کے لیے بہتر ہوگا۔ یہ ان کو نئی توانائی اور نئی جوانی عطا کرے گے۔ اس نے بہت سی لمبی بحثیں کی ہیں کہ آج کل بہت سی بیماریاں ایسی ہیں جن کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا۔ ان کا علاج طویل یا مختصر فاقہ کشی، یعنی روزے کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ آخر میں اس کا نتیجہ نکالا ہے کہ انسانوں کو ہر سال سات ہفتے لازماً روزہ رکھنا چاہیے اور ہر ہفتے میں ایک دن روزہ چھوڑ دینا چاہیے۔ اس طرح اسے (6x7=42) بیالیس روزے رکھنے چاہئیں۔ اسے ہم ان کا چلہ کہہ سکتے ہیں۔ اس کی رائے میں انسان کی صحت کو محفوظ رکھنے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔ یہ \"طبی\" مشورہ عیسائی دینی عقائد و احکام سے متاثر ہے۔\nانجیل میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبوت ملنے سے قبل ایک صحرا میں معتکف ہوئے اور مسلسل چالیس دن روزہ رکھا تھا۔ ابتدائی عیسائی اس کی یاد میں خود بھی روزہ رکھنے لگے مگر عمل درآمد ہر جگہ یکساں نہ تھا۔ سن 439ء سے پہلے شہر روما کے عیسائی صرف تین ہفتے روزہ رکھتے تھے، تو اسکندریہ والے سات ہفتے جن میں سارے سنیچر اور اتوار مستثنیٰ ہوتے بجز ایک \"مقدس سنیچر\" کے۔ اس طرح چھتیس روزے ہر سال رکھے جاتے تھے، اور وہ خیال کرتے تھے کہ 36 کی تعداد سال کا دسواں حصہ ہے اور مال کی طرح، غذا کا بھی دسواں حصہ \"زکوٰۃ\" میں دینا چاہیے (لیکن عیسائیوں کے ہاں شمسی سال رائج ہے جس کے 365 یا 366 دن ہوتے ہیں، اس لیے \"سال کا دسواں حصہ\" ایک فرضی امر تھا) اور یوں بھی صبح سے تین بجے تک ہی روزہ رکھا جاتا تھا اور روزہ اکیس سال کی عمر پر واجب ہوتا ہے۔ سنن ابن ماجہ میں ایک حدیث نبوی بیان ہوئی ہے کہ \"ہر چیز پر زکوٰۃ ہے، اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے\"۔ ایک اور حدیث یہ بیان کی ہے کہ جو کوئی رمضان کا پورا مہینہ روزے رکھے، پھر اس کے بعد کے مہینے شوال میں چھ دن روزے رکھے تو یہ پورا سال روزہ رکھنا متصور ہوتا ہے۔ یہ اصل میں ایک آیت کریمہ (16:6) پر مبنی ہے۔ \"کوئی ایک نیکی کرتا ہے تو اسے دس گنا ثواب دیا جائے گا\"۔ یہ بہت ٹھیک بیٹھتا ہے کہ ایک مہینے کے دس مہینے اور چھ دن کے ساٹھ دن یعنی دو مہینے (10+2=12 یا پورا سال)شمار ہوتا ہے ایک اور طریقہ حساب یہ ہے کہ رمضان کبھی انتیس کا ہوتا ہے اور کبھی تیس کا، اور ستہ شوال کے باعث کبھی 35 اور کبھی 36 دن روزے رکھے جاتے ہیں جن کا دس گنا کبھی 350 اور کبھی 360 دن ہوں گے جن کا اوسط 355 ہوگا اور قمری سال میں اتنے ہی دن ہوتے ہیں۔\nہندوؤں کے ہاں روزہ ہے لیکن زمانہ اور تعداد زیادہ معین نہیں اور لزوم بھی کم ہے۔ بانیان مذہب کی تاریخ پیدائش اور سورج گرہن اور چاند گرہن جیسے اثر انداز کرشمہ ہائے قدرت کے موقعوں پر دیندار لوگ روزہ رکھتے ہیں اور سہ پہر کے تقریباً تین بجے افطار کر لیتے ہیں۔ میکسیکو کے سرخ فام لوگوں کے دینی سرگروہ سالانہ (160) دن روزہ رکھتے ہیں، گویا ایک دن ایک آڑ۔ حدیث میں ہے کہ یہ حضرت داؤد علیہ السلام کی بھی عادت تھی۔ بعض ممالک میں قدیم زمانے میں موسم بہار میں روزہ رکھنا واجب کیا گیا تھا تاکہ غیر شادی شدہ لوگوں میں زناکاری کم ہو۔ ایک حدیث میں بھی ہے کہ کسی کے پاس بیوی نہ ہو تو با عفت رہنے کے لیے روزہ رکھا کرے۔\nدوسری قوموں کا حج یا تو اپنے کسی بزرگ، کسی ولی، کسی بانی مذہب کی قبر کی زیارت کرنا ہے یا مظاہر قدرت اور عجائبات میں سے کسی بہت ہی عجیب چیز کی زیارت کرنا ہے، چنانچہ ہندو دریائے گنگا کے منبع کی زیارت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس میں بڑا ثواب ہے۔ دریائے گنگا اور جمنا کا سنگم، جو الہ آباد کے مقام پر ہے، اس کی زیارت میں بڑا ثواب سمجھتے ہیں۔ اسی طرح عیسائیوں کے ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جو مبینہ قبر ہے، ہر چند کہ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر جا چکے ہیں اور قبر خالی ہے، لیکن ان کے نزدیک اس قبر کی زیارت کرنا بہت ثواب کا کام ہے۔ عام عیسائی جو بیت المقدس نہیں جا سکتے ہیں، وہ سینٹ پیٹر کی قبر کی، جو ویٹیکن اٹلی میں ہے، زیارت کرنا ثواب سمجھتے ہیں اور مذہب کے نام تک سے نفرت کرنے والے کمیونسٹ جب انگلستان جاتے ہیں تو ان کے نہایت ہی محترم افراد مثلاً وزیر اعظم اور وزیر خارجہ بھی کارل مارکس کی قبر کی زیارت کو ضرور جاتے ہیں، جو انگلستان میں دفن ہے۔ گویا ان کے ہاں بھی حج پایا جاتا ہے لیکن یہ سارے حج یا تو مظاہر قدرت کے کسی مقام کی زیارت یا اپنے کسی مقدس آدمی کی قبر کی زیارت پر مشتمل ہیں۔ مسلمانوں کا حج ان سب سے مختلف ہے اور وہ ہے اللہ کے گھر کی زیارت۔ اس کے حضور میں، اس کے مکان میں حاضر ہو کر باریابی حاصل کرنا۔ کعبے کو علامتی طور پر بیت اللہ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک رمز ہے جس کی توجیہ ان نوجوانوں کے لیے شاید دلچسپی کا باعث ہو جنہوں نے کبھی اس پہلو پر غور نہیں کیا۔ اللہ کے اسماء حسنیٰ ننانوے ہیں۔ قرآن مجید میں ایسے نام بھی ہیں جو اللہ کی صفات کے مظہر ہیں مثلاً رازق، خالق وغیرہ وغیرہ، ان ناموں میں سے جو نام میری رائے میں انسان اور خدا کے تعلق کی سب سے بہت نمائندگی کرتا ہے وہ نام ہے \"ملک\" بادشاہ جب ایک نام کسی ایک غرض کے لیے منتخب کر لیا گیا تو انسانی سوسائٹی میں ان نام کے ساتھ جو لوازم ہیں ان کو بھی قبول کرنا ہوگا۔ بادشاہ سے کچھ چیزیں خاص طور پر منسوب ہیں مثلاً بادشاہ کا ایک تخت ہوتا ہے۔ قرآن میں اس کا ذکر آیا ہے خدا کا عرش ہے۔ عرش کے معنی تخت کے ہیں۔ بادشاہ کے پاس فوجیں ہوتی ہیں (وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ) (4:48) (آسمانوں اور زمینوں کی فوجیں اللہ ہی کی ہیں) بادشاہ کے پاس خزانے ہوتے ہیں (وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ) (7:63) (زمین و آسمان کے خزانے اللہ ہی کے ہیں۔ بادشاہ کے پاس ملک ہوتا ہے (وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ) (189:3)۔ جب سلطنت کا رقبہ وسیع ہو تو بادشاہ پایہ تخت یا صدر مقام تجویز کرتا ہے۔ پایہ تخت کے لیے انگریزی زبان کے ایک لفظ سے آپ واقف ہوں گے (Metropolis)۔ یہ ایک یونانی لفظ ہے جس کے معنی ہیں \"شہروں کی ماں\" اس معنی میں قرآن (92:6) کا لفظ ہے \"ام القریٰ\" اور شہر مکہ \"ام القریٰ\"ہی کے نام سے مشہور ہے، گویا اللہ کی سلطنت کا وہ صدر مقام ہے۔ جب ایک میٹروپولس یا ام القریٰ ہو تو وہاں بادشاہ کا محل بھی ہوگا، چنانچہ بیت اللہ الحرام، اللہ کا مکان یا اللہ کا گھر وہاں پر موجود ہے گویا کعبہ جو بیت الحرام ہے (قرآن 97:5) یہ اس بادشاہ کا محل ہے، کسی ملک میں بادشاہ ہو تو یہ ہمیشہ رواج رہا ہے کہ رعایا کے نمائندہ پایہ تخت کو جا کر بادشاہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور اپنی اطاعت کا یقین دلاتے ہیں۔ حج کے سلسلے میں جب لوگ مکہ معظمہ جاتے اور کعبے کے سامنے حاضر ہوتے ہیں تو وہ حجر اسود پر اپنا ہاتھ رکھتے ہیں اور حجر اسود کو (اور اگر دور ہوں تو ہاتھ سے اشارہ کر کے اپنے ہاتھ کو) بوسہ دے کر طواف کا آغاز کرتے اور اسے جاری کرتے ہیں۔ اس کو ہمارے فقہاء دو ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ اسے استلام بھی کہتے ہیں اور بیعت بھی کہتے ہیں۔ بیعت کے معنی ہیں اپنے آپ کو بیچ دینا۔ اپنے آپ کو (اللہ کے ہاتھ) فروخت کر دینا اور کہہ دینا کہ اے اللہ! میں اپنی ذات کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔ ہم اللہ سے ایک معاہدہ کرتے ہیں اور اس معاہدے کی تکمیل کرتے ہیں۔ معاہدے کرنے کا عام طور پر ایک طریق یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتا تھا، چنانچہ ہم اپنا ہاتھ اللہ کے ہاتھ پر رکھتے ہیں۔ اس لفظ سے آپ گھبرائیے نہیں کہ اللہ کے ہاتھ پر ہم اپنا ہاتھ رکھتے ہیں۔ ایک متواتر حدیث ہے جسے پانچ صحابہ نے روایت کیا ہے۔ اس کے الفاظ ہیں الحجر الاسود یمین اللہ فی الارض (حجر اسود زمین پر اللہ تعالیٰ کا دایاں ہاتھ ہے) چنانچہ اللہ کے دائیں ہاتھ پر ہم معاہدہ کرتے اور بیعت کرتے ہیں۔ جب اپنی بیعت کے ذریعے سے اپنے بادشاہ کو ہم اطمینان دلا دیتے ہیں کہ ہم اس کے سچے اور مخلص مطیع ہیں تو سب سے بڑا اعزاز، وہ مالک جو ہم کو عطا کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے گھر کی پاسبانی کے لیے ہمیں اپنا سنتری بنائے۔ کعبے کے اطراف ہم طواف کرتے ہیں یعنی بادشاہ کے گھر کی حفاظت کرتے ہیں۔ ساری عمر یا روزانہ چوبیس گھنٹے پہرہ دینے کے بجائے سات مرتبہ طواف کرنا کافی قرار دیا گیا ہے۔ سات کا عدد رمزیہ یا علامتی (Symbolic) ہے۔ چنانچہ وقت جس کی ابتداء معلوم ہے نہ انتہا، اس لامحدود شے کو جب ہم نے شمار کی غرض سے محدود کرنا چاہا تو ہم نے سات ہی کا عدد استعمال کیا۔ ہفتے میں سات دن ہوں گے، وہی سات دن بار بار اپنے آپ کو دہراتے رہیں گے اور بہت سی چیزیں مثلاً سبع السمٰوات وغیرہ۔ سات کا ہندسہ بطور رمز غیر محدود کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لہذا اللہ کے گھر کی پاسبانی کے لیے اگر ہم سات مرتبہ اس کے اطراف چکر لگائیں تو یہ ابدی طور پر اپنے فریضے کی انجام دہی کے ہم معنی ہو جاتا ہے۔ قصر شاہی کی پاسبانی بڑا اعزاز ہے، اور انتہائی قابل اعتماد سپاہیوں کو عطا کیا جاتا ہے کیونکہ بادشاہ کی جان و مال گویا ان سنتریوں کے رحم و کرم پر منحصر ہوتی ہے۔ یہ گفتگو حج کے ایک جز یعنی کعبے کی زیارت اور کعبے کے طواف کے متعلق تھی۔ لیکن حج میں کچھ اور چیزیں بھی ہیں۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا اور چکر لگانا، اسی طرح عرفات کو جانا اور پھر منیٰ کو جانا۔ چند الفاظ میں ان کے متعلق بھی عرض کروں کا کہ ان میں کیا رمز پایا جاتا ہے۔ صفا اور مروہ کے متعلق آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ ہے۔ اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام اور اپنی بیوی حضرت ہاجرہ کو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں تنہا چھوڑ کر چلے گئے اور جاتے وقت صرف ایک مشکیزہ پانی اور تھوڑی سی کھانے کی کوئی چیز دے گئے۔ دو ایک دن بعد جب پانی اور غذا کا ذخیرہ ختم ہو گیا تو دودھ پیتا بچہ، حضرت اسمعیل علیہ السلام، پیاس سے بے قرار ہو کر رونے چلانے لگا۔ حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش میں نکلتی ہیں۔ کسی طرف بھی پانی کے آثار نظر نہیں آتے۔ قریب ہی ایک چٹان تھی، سوچا کہ اگر چٹان پر چڑھوں تو شاید ذرا دور سے جائزہ لے سکوں۔ صفا کا پہاڑ ایک چھوٹی سی چٹان کی صورت میں اب بھی موجود ہے، اس پر چڑھتی ہیں، آس پاس نظر ڈالتی ہیں، کہیں پانی نظر نہیں آتا۔ پھر دیکھتی ہیں کہ آگے ایک اور چٹان ہے جسے مروہ کا پہاڑ کہا جاتا ہے، دوڑتی ہوئی وہاں جا کر اس کے اوپر چڑھتی ہیں۔ آس پاس دیکھتی ہیں تو وہاں بھی کچھ میسر نہیں۔ماں کی مامتا مایوس نہیں ہوتی۔ واپس آتی ہیں بچے کو دیکھتی ہیں پھر صفا پہاڑ پر چڑھتی ہیں پھر مروہ پر چڑھتی ہیں۔ کچھ نظر نہیں آتا۔ اس طرح سات مرتبہ چکر لگاتی ہیں وہی سات کا ہندسہ جو ابدیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ساتویں مرتبہ جب بچے کے پاس آئیں تو دیکھا کہ بچے نے جہاں پیاس سے مجبور ہو کر اپنے ننھے سے پاؤں کی ایڑیاں زمین پر ماری تھیں، وہاں سے ایک چشمہ (زمزمہ) پھوٹ پڑا اور پانی نکل آیا۔ اس سے زیادہ تفصیل غیر ضروری ہے۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کو ارکان حج میں اس لیے شامل کیا گیا کہ یہ واقعہ ماں کی مامتا کی یادگار ہے اور ماں کی مامتا اس بے پناہ شفقت و محبت کی علامت ہے جو خالق کو اپنی مخلوق کے ساتھ ہے۔ اس کے بعد حاجی مکے سے عرفات کو جاتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں روایت کے مطابق جنت سے زمین پر آنے کے بعد مدت کے بچھڑے ہوئے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی حضرت حوا کی دوبارہ ملاقات ہوئی تھی اور حضرت آدم علیہ السلام کا گناہ بھی اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔ نسل آدم کے لیے ان کے جد اعلیٰ کی یہ سب سے اہم یادگار ہے۔ ہم بھی انہیں کی طرح خدا سے مغفرت کی التجا کرتے ہیں۔ اس کے بعد منیٰ آتے ہیں۔ منیٰ کے متعلق روایت ہے کہ جب اللہ نے آزمائش کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے اس حکم کی تعمیل منیٰ میں کی تھی۔ لکھا ہے کہ وہ مکے سے اپنے بیٹے کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چلے اور اللہ کے حکم سے بڑھتے بڑھتے مکے سے آگے تقریباً تین میل کے فاصلے پر منیٰ پہنچے۔ شیطان نے جب اللہ کے ان بندوں کو رضائے الٰہی کی طلب میں سخت ترین آزمائشوں سے بھی بڑی خوشی سے گزرتے دیکھا تو انہیں بہکانے کے لیے انسان کی شکل میں نمودار ہوا۔ اولاً حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ کہا کہ تم نے خواب کی بات پر کیسے یقین کر لیا کہ اللہ تمہیں ایسا حکم دے رہا ہے۔ ممکن ہے خواب میں شیطان آیا ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی فراست نبوی سے فوراً پہچان جاتے ہیں کہ یہ شیطان ہے۔ چنانچہ مٹھی بھر سنگریزے زمین سے اٹھا کر اس کو پھینک مارتے ہیں۔ شیطان بھاگ کر غائب ہو جاتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ایک نئی شکل میں پھر آتا ہے اور اس بار حضرت ہاجرہ کے پاس پہنچتا ہے اور کہتا ہے مائی تیرا شوہر تیرے اکلوتے بیٹے کو قتل کرنا چاہتا ہے لیکن حضرت ہاجرہ بھی شیطان کو پہچان جاتی ہیں، وہ بھی پتھریاں اٹھا کر مارتی ہیں اور اسے وہاں سے بھاگنے پر مجبور کرتی ہیں۔ شیطان غائب ہو جاتا ہے۔ پھر اس ننھے بچے حضرت اسمعیل علیہ السلام کے پاس آ کر کہتا ہے کہ منے تیرا باپ تیری گردن پر چھری پھیرنا چاہتا ہے، اس سے بہت تکلیف ہوتی ہے، باپ سے کہہ دو میں یہ نہیں چاہتا۔ کم عمری کے باوجود حضرت اسمعیل علیہ السلام میں نبوت کی فراست تھی۔ انہوں نے بھی شیطان کو پتھریاں پھینک کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد کے واقف سے آپ واقف ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسمعیل علیہ السلام کو زمین پر منہ کے بل لٹاتے ہیں۔ اپنی آنکھوں پر ایک پٹی باندھتے ہیں اور پورے عز م و استقلال سے بیٹے کی گردن پر چھری چلا دیتے ہیں۔ پھر پٹی کھولتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیٹا تو کھڑا مسکرا رہا ہے اور اس کی جگہ ایک بھیڑ یا بکری تھی،جو ذبح ہو گئی تھی۔ اللہ کو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لینا مقصود تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ میں رضائے الٰہی پر ہر چیز قربان کر دوں گا۔ اللہ نے انہیں سخت ترین آزمائش میں ڈالا کہ بڑی منتوں اور مرادوں کے بعد تقریباً سو سال کی عمر میں جو پہلا بیٹا پیدا ہوا، اسی کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ بندگی اور حق پرستی کا یہ کمال دیکھئے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس آزمائش میں بھی پورے اترے۔ سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے ہم منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں۔ یہ بھی ارکان حج میں شامل ہے۔ جن تین مقامات پر شیطان پر کنکریاں پھینکی جاتی ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں جو شیطانی وسوسے آڑے آتے ہیں ان کا مقابلہ کریں۔\nزکوٰۃ کے بارے میں آج کچھ زیادہ عرض کرنے کا موقع نہیں ہے۔ صرف اتنا کہوں گا کہ زکوٰۃ ارکان عبادات میں سے ایک ایسا رکن ہے جو مال کے ذریعے ادا کیا جاتا ہے۔ اسلام دین اور دنیا کا جامع ہے (فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ) کی تعلیم دیتا ہے۔ لہذا زکوٰۃ میں بھی مالی ایثار کے ذریعے سے اصلاح باطن کا پہلو اور معاشرے کی مادی فلاح و بہبود کا پہلو بھی موجود ہے۔ اس کا کسی اور دن مفصل ذکر کروں گا، ان شاء اللہ۔\nاب آخر میں میں تصوف کے متعلق بھی مختصراً کچھ عرض کروں گا۔ جس حدیث شریف کا میں نے ابتداء میں ذکر کیا تھا۔ اس میں حضرت جبرئیل نے رسول اللہﷺ سے اولاً ایمان کے متعلق سوال کیا، پھر اسلام کے متعلق اور پھر احسان کے متعلق۔ احسان کے لفظی معنی کسی چیز کو حسن عطا کرنا، خوبصورت بنا دینا ہے۔ زندگی کا کوئی کام ہو، اسے سنوارنا اور خوبصورت طریقے سے انجام دینا، یہی احسان ہے۔ جب ہم اس لفظ کو مذہبی اصطلاح کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ احکام الٰہی کو سچے دل سے قبول کرنا اور عبادت میں خلوص پیدا کرنا۔ ہمارے اسلاف نے اس اخلاص فی العمل کو \"سلوک\" اور \"طریقت\" کا نام دیا ہے۔ سلوک اور طریقت دونوں کے معنی ہیں راستہ چلنا اور اس سے مراد ہے اللہ کی طرف جانے کا راستہ۔ بعد میں اسی مفہوم کے لیے تصوف کا لفظ استعمال ہونے لگا۔ تصوف کی وجہ تسمیہ بیان کرنے میں بہت سی باتیں کہی گئی ہیں۔ یہاں اس بحث کا موقع نہیں ہے۔ البتہ رسول اکرمﷺ نے احسان کی جو تعریف بیان کی ہے اس کا ذکر ضروری ہے۔ جب رسول اکرمﷺ سے جبرئیل نے پوچھا کہ \"احسان\" کیا ہے؟ تو رسول اکرمﷺ نے ایک ایسا جواب دیا جو اپنے اختصار اور معنی کی گہرائی کے باعث ایک معجزہ بیانی ہے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا \"تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو گویا کہ اللہ تمہارے سامنے موجود تمہاری حرکتوں کو دیکھ رہا ہے، اگرچہ تم اسے نہیں دیکھتے لیکن اللہ تمہیں دیکھتا ہے\" بالفاظ دیگر حضور خداوندی کا تصور انسان اپنے اندر اس طرح لائے کہ اسے اللہ اپنے سامنے محسوس ہو گویا کہ اللہ اس کے ظاہر و باطن کو دیکھ رہا ہے۔ اگر ہم اپنے اندر حضور خداوندی کے تصور کو اتنا ترقی دے لیں کہ یہ تصور ہماری پوری شعوری زندگی پر حاوی ہو جائے تو ظاہر ہے کہ ہمارے لیے یہ قطعاً ناممکن ہوگا کہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی اور اس سے انحراف کریں۔ آقا سامنے موجود اور نگرانی کر رہا ہے تو کون سا غلام یا نوکر آقا کے احکام کی خلاف ورزی کی جرات کرے گا۔ یہ ہے تصوف کا خلاصہ۔ باقی ساری چیزیں ذیلی ہیں ہم اپنی اصلاح نفس اور اپنی روحانی قوتوں کو ترقی دینے کے لیے مختلف تدبیریں اختیار کر سکتے ہیں۔ مثلاً نفلی روزے رکھنا، تسبیح پڑھنا، نفل نمازیں پڑھنا وغیرہ وغیرہ۔ ان کا ذکر حدیثوں میں بھی آتا ہے کہ آنحضرتﷺ نے سب لوگوں کو ایک ہی طریقہ نہیں سکھایا یعنی نوافل کے سلسلے میں کسی کو کچھ اور کسی کو کچھ بتایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر شخص کی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں۔ اس ضمن میں یہ عرض کر دوں کہ سعودی عرب کے علماء تسبیح پڑھنے کو بدعت قرار دیتے ہیں کیونکہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں یہ چیز نہیں تھی۔ ایک حبشی طالب علم، جس نے فرانس میں تعلیم پائی تھی اور آج کل جدہ یونیورسٹی میں ملازم ہے، اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تسبیح پڑھنا جائز ہے؟ میں سے اس بارے میں کبھی تحقیق نہیں کی تھی لیکن رسول اللہﷺ کے زمانے کا ایک واقعہ یاد آیا۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے ایک دعا مجھے دو ہزار مرتبہ روزانہ سونے سے پہلے پڑھنے کی تاکید فرمائی تھی۔ دو ہزار ایک ایسا ہندسہ ہے جس کا انگلیوں پر شمار کرنا مشکل ہے۔ حضرت ابوہریرہ ذہین آدمی تھے، انہوں نے ایک ڈوری لی اور اس میں دو ہزار گرہیں ڈال لیں۔ اس کے ذریعے وہ تسبیح پڑھا کرتے تھے۔ اب چاہے تو اس تسبیح میں گرہیں ہوں یا اس کے اندر منکے ہوں یا کوئی اور چیز ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ واقعہ میں نے اس حبشی طالب علم کو لکھ کر بھیجا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ مطمئن ہو گیا۔ اس کے بعد مجھے ایک اور حدیث ملی جو صحیح بخاری میں ہے۔ وہ یہ کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے جس نے اپنے سامنے کنکریوں کا ایک ڈھیر رکھ لیا تھا۔ وہ درود پڑھا کرتی تھی، ایک کنکری اٹھاتی اور درود پڑھ کر ادھر ڈال دیتی۔ اس کے بعد دوسری کنکری اٹھاتی۔ کنکریوں کا ڈھیر گویا اس کی تسبیح تھی۔ یہ ایک غیر ترقی یافتہ (Primitive) طریقہ ہے۔ لیکن مقصود یہی ہے کہ ہم اپنے انجام شدہ کام کی صحیح مقدار بھول نہ جائیں اور اس ذریعہ سے معلوم ہوتا رہے کہ کتنا کام ہو چکا ہے اور کتنا کام باقی ہے۔ رسول اللہﷺ صحابہ کو جن چیزوں کی تاکید کرتے تھے ان میں نفل روزے بھی تھے اور نمازیں بھی، درود اور وظائف بھی اور مختلف موقعوں پر پڑھنے کی مختلف دعائیں بھی۔ ہر صحابی اپنی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق مختلف طریقے اختیار کرتا تھا۔ رسول اللہﷺ کے زمانے میں سلوک اور تصوف کی حقیقت بس یہی تھی۔ بعد کے زمانے میں تصوف میں دوسرے تصورات بھی شامل ہونے لگے۔ وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے مسائل پر بحثیں ہونے لگیں۔ ان چیزوں کو نبوی تصوف سے کوئی تعلق اس بناء پر نہیں ہے کہ یہ بحثیں رسول اللہﷺ کی زندگی میں نہیں پائی جاتیں۔ بلکہ بعد کے لوگوں کی پیدا کردہ ہیں۔ اسلامی تصوف وہی ہے جس کی تفسیر رسول اللہﷺ نے اس معجزانہ جملے کے ذریعے فرمائی کا اللہ کی عبادت یعنی اللہ کے احکام کی تعمیل اس طرح کرو گویا اللہ حاضر و ناظر ہے، ہمارے اعمال اور ہمارے خیالات ہر چیز کو دیکھ رہا ہے، اگرچہ ہم اسے نہیں دیکھ سکتے۔ خدا حافظ!\n\n==== سوالات و جوابات ====\n\nبرادران کرام! خواہران محترم! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!\nمتعدد سوالات جو آپ کی طرف سے آئے ہیں ان کے جوابات دینے کی کوشش کرتا ہوں۔\n=====سوال1:=====\nاسلامی عقائد کے مطابق قسمت، تقدیر، مقدر کے معنی واضح کریں مثلاً ایک آدمی پانی میں ڈوب کر مرتا ہے تو کہتے ہیں کہ اس کی موت ایسے ہی لکھی گئی تھی۔ دوسری مثال یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل کر دیتا ہے، مقتول کی قسمت ایسی لکھی گئی تھی۔ کیا قاتل کے مقدر میں نہیں ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کو قتل کرے گا؟ اگر قسمت ایسی تھی تو روز آخرت اس کی سزا کیوں ہے؟ فرمان خداوندی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر درخت کا پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ وضاحت کریں۔ آپ نے فرمایا کہ برائی اور بھلائی Automatic ہیں لیکن ایک بات مد نظر رکھیں گے بھلائی کے لیے انسان کو قربانی دینا پڑتی ہے، تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے۔ برائی میں انسان کو لذت نصیب ہوتی ہے۔ دنیاوی تکلیف کا صلہ ضرور ملنا چاہیے اور دنیاوی ناجائز عیش و عشرت کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔\n=====جواب=====\n\" معلوم نہیں میرے دوست نے میری پوری تقریر سنی ہے یا نہیں؟ کیونکہ تقدیر کے متعلق میں کافی تفصیل سے اپنے خیالات واضح کر چکا ہوں اور یہ بھی عرض کر چکا ہوں کہ یہ ایک طرح کا مخمصہ (Dilemma) ہے۔ ہم اس مسئلے کا نہ ایک پہلو لے سکتے ہیں، نہ دوسرا پہلو جو پہلو بھی اختیار کریں گے، اس پر اعتراضات ہوں گے اس کا کوئی حل نہیں ملتا۔ اس لیے حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ خدا کے سامنے ہم ذمہ دار ہیں، یہ بھی صحیح ہے۔ خدا ہر چیز پر قادر ہے، بشمول ہمارے لیے ہمارے اعمال کو مقرر کرنے کے، وہ بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ یہ دونوں کس طرح ہیں، مجھے دوبارہ دہرانے کی ضرورت نہیں لیکن ایک بات کو میں دہرائے دیتا ہوں۔ ہم لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ میں برائی کروں تو مجھے سزا کیوں دی جاتی ہے جبکہ خدا اس کو مقرر کرتا ہے۔ میں نے کہا تھا کہ بھلائی کا بھی یہی حال ہے، بھلائی بھی ہمارے مقدر میں ہے۔ اگر میں اس کو کرتا ہوں تو مجھے اس کی جزا پانے اور جنت میں جانے کا حق کیسے ہو سکتا ہے؟ میں نے اسی سیاق و سباق Context میں ذکر کیا تھا۔\n=====سوال2:=====\nڈارون کا نظریہ ارتقاء اگر سائنسی نقطہ نظر سے صحیح ہے تو اسلام اور سائنس میں تضاد ہے۔ آپ اس تضاد کو حل کرنے کے بارے میں ارشاد فرمائیں۔\n=====جواب:=====\nآپ نے یہ پہلے ہی فرض کر لیا ہے کہ ڈارون کو نظریے کو اسلام نے رد کر دیا ہے اس کو ثابت کرنا آپ پر واجب ہے۔ بعد میں دیکھیں گے کہ یہ چیز اسلام کے موافق ہے یا مخالف۔ میں عرض کروں گا کہ ڈارون کا نظریہ ہمارے ہاں بعض اوقات اس لیے پیچیدگی پیدا کرتا ہے کہ ہم فرض کرتے ہیں کہ ڈارون ایک ملحد تھا، خدا کو نہیں مانتا تھا، حالانکہ ڈارون کی سوانح عمری پڑھیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ خدا کا قائل تھا۔ جب اس نے اپنے آبائی فن علم طب کی تعلیم مکمل کر لی، ڈاکٹر بن گیا تو یکایک کایا پلٹ گئی۔ دنیا سے وہ نفور ہو گیا اور خدا کی طرف مائل ہوا۔ چنانچہ کیمبرج یونیورسٹی میں اس نے عیسائی مذہب کی تعلیم حاصل کی جہاں طلباء کو تقابل ادیان (comparative religion) کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ یہاں ڈارون نے اسلام کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے عربی زبان بھی پڑھی تھی۔ اس کے خطوط کا جو مجموعہ شائع ہوا اس میں کئی خط اس نے اپنے عربی کے استاد کے نام لکھے ہیں اور بےحد ادب و احترام سے اس کا نام لیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس زمانے میں کیمبرج یونیورسٹی میں عربی نصاب کی جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ان میں یا تو \"اخوان الصفا\" کے اقتباسات ہوں گے یا ابن مسکویہ کی \"الفوز الاصغر\" کے انتخابات۔ ان دونوں کتابوں میں ارتقاء کا نظریہ بیان کیا گیا ہے اور آپ کو معلوم کر کے حیرت ہوگی کہ ان مسلمان مؤلفوں کی زندگی میں کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا اور کبھی انہیں کافر قرار نہیں دیا گیا۔ اخوان الصفا اور ابن مسکویہ کی الفوز الاصغر، تیسری چوتھی صدی ہجری کی کتابیں ہیں۔ ان میں لکھا ہے کہ خدا پہلے مادہ کو پیدا کرتا ہے اور اس مادہ کو ترقی کی قوت عطا کرتا ہے۔ لہذا مادہ اولاً غبار یا دھوئیں کی صورت اختیار کرتا ہے پھر ترقی کرتے ہوئے پانی کی صورت اختیار کرتا ہے، پھر ترقی کرتے ہوئے جمادات کی صورت اختیار کرتا ہے۔جمادات ترقی کرتے ہوئے مختلف قسم کے پتھر بنتے ہیں اور بالآخر وہ مرجان کی صورت اختیار کرتے ہیں جو ہوتے تو پتھر ہیں لیکن ان میں درخت کی سی شاخیں ہوتی ہیں۔ پھر جمادات کے بعد نباتات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ درخت ترقی کرتے جاتے ہیں اور سب سے آخری مرحلے میں ایسا درخت ملتا ہے جو جانور کی خصوصیات سے بہت قریب ہوتا ہے۔ یہ ہے کھجور کا درخت۔ اور درختوں کے مقابلے میں کھجور کے درخت میں نر اور مادہ الگ الگ ہوتے ہیں اور درختوں کے بالمقابل جن کی ساری شاخیں بھی اگر ہم کاٹ دیں تو درخت مرتا نہیں، کھجور کا سر کاٹ دیں تو درخت مر جاتا ہے۔ اس لیے کھجور کے درخت کو اعلیٰ ترین پودے اور ادنیٰ ترین حیوان سے مشابہت ہے۔ پھر اس کے بعد ادنیٰ ترین قسم کا حیوان پیدا ہوتا ہے وہ ترقی کرتے کرتے کیا بنتا ہے۔ ابن مسکویہ بیان کرتا ہے اور \"اخوان الصفا\" میں بھی وہی بیان کیا گیا ہے کہ وہ بندر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ ڈارون کا بیان نہیں یہ مسلمان حکماء کا بیان ہے۔ پھر اس کے بعد ترقی کرتا ہے تو ادنیٰ قسم کا انسان بنتا ہے۔ وحشی انسان، وہ ترقی کرتے کرتے اعلیٰ ترین انسان بنتا ہے۔ یہ بشر ولی اور پیغمبر ہوتا ہے، پھر اس سے بھی ترقی کر کے فرشتہ بنتا ہے۔ پھر فرشتوں کے بعد ذات باری تعالیٰ خدا کی ذات ہوتی ہے۔ ہر چیز خدا سے شروع ہو کر پھر خدا ہی کی طرف جاتی ہے۔ و الیہ المرجع و الماب یہ ہے ہمارے حکماء کا بیان۔ جب یہ چیزیں مسلمان حکماء نے بیان کیں اور ان پر مسلمان فقہاء نے ان کی زندگی میں کبھی کفر کا فتویٰ نہیں دیا تو اس کو اسلام کے خلاف قرار دینا ایک غور طلب بات ہے۔ میں آگے چلتا ہوں قرآن مجید میں آدم علیہ السلام کی پیدائش کے متعلق یہ ضرور بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا۔ ہمارا تصور یہ ہے کہ اللہ ایک کمہار کی طرح مٹی کو لیتا ہے اور اس کی مورت بناتا ہے اس کے اندر روح پھونکتا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام بن جاتے ہیں۔ ممکن ہے ایسا ہوا ہو میں انکار نہیں کر سکتا لیکن آپ ان آیتوں (37:18، 5:22، 11:35، 67:40) کو کیا کریں گے جن میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو\"مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا\"۔ ظاہر ہے کہ مٹی سے کبھی نطفہ پیدا نہیں ہوتا۔ حیوان اور انسان سے نطفہ نکلتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اللہ نے سارے درمیانی مدارج کی تفصیل کو وہاں حذف کر دیا اور کہا کہ مٹی تمہاری اصل ہے اور تمہاری پیدائش کا آخر وسیلہ تمہارے باپ کا نطفہ ہے جو تمہاری ماں کے رحم میں رہتا ہے اور اس طرح تم پیدا ہو جاتے ہو۔ ایک آیت (14:71) کو لیجیے۔ قَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا (خدا نے انسان کو طور بہ بطور پیدا کیا) \"طور\" وہی لفظ ہے جس سے تطور (Evolution) کا لفظ بنایا گیا ہے۔ خدا نے انسان کو طور بہ طور پیدا کیا، اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ خدا نے انسان کو اولاً جمادات کی شکل میں بنایا، پھر وہ جمادات ترقی کرتے ہوئے نباتات بنتے ہیں، پھر حیوان بنتے ہیں۔ غرض اس میں کوئی تضاد نظر نہیں آتا، شاید آپ کی واقفیت کے لیے ایک چیز عرض کروں کہ آپ کی یونیورسٹی لائبریری میں ایک چھوٹا سا مضمون عربی زبان میں آپ کو ملے گا جس کا عنوان ہے \"خلق الکائنات و تطور الانواع حسب آراء المفکرین المسلمین\" اسے آپ دیکھ سکتے ہیں جس میں آپ کو یہ ساری تفصیلیں ملیں گی۔ اس میں بہ کثرت مسلمان عالموں اور صوفیوں کے بیانات کو یکجا کر دیا گیا ہے۔\n=====سوال 3:=====\nکیا اسلام میں روحانیت و مادیت برابر ہیں یا روحانیت زیادہ اور مادیت کم؟ پھر کیا روح کو دلائل سے ثابت کیا جا سکتا ہے؟\n=====جواب:=====\nمجھے اس بارے میں ماہر اور متخصص ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں۔ لیکن میں کہوں گا کہ انسان جب روح اور جسم دونوں سے بنایا گیا ہے تو ان دونوں پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جسم کے لیے ہم کھاتے ہیں، پیتے ہیں، سوتے ہیں، آرام کرتے ہیں، غرض مختلف کام سر انجام دیتے ہیں۔ ایک ہماری روح بھی ہے اس کے لیے بھی ہمیں کچھ نہ کچھ کرنا ہے تاکہ اس کی زندگی برقرار رہے۔ وہ اسی طرح زندہ رہے جس طرح ہمارا جسم زندہ رہتا ہے۔ لہذا قرآن کریم نے اور رسول اللہﷺ نے جب ہمیں حکم دیا کہ نماز پڑھو، روزہ رکھو، زکوٰۃ دو، حج کرو تو اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ دونوں ہی چیزوں کا ذکر کیا گیا، مادے کا بھی اور روح کا بھی۔ ان میں کیا تناسب ہوگا، میں نہیں جانتا، لیکن میں عرض کروں گا کہ جس طرح چوبیس گھنٹے میں پانچ نمازیں یعنی چوبیس منٹ اپنی روح کے لئے خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور باقی سارا وقت ہمیں دیا گیا ہے جس طرح چاہو، صرف کرو۔ چاہے محض مادیت کے لیے صرف کرو یا مادیت اور روحانیت دونوں کے لیے، یہ انفرادی چیز ہوگی اور اس کے لیے کوئی حکم یا تعین شریعت کی طرف سے نہیں۔ شریعت کا حکم صرف یہ ہے کہ اپنی روحانی زندگی کے لیے روزانہ مثلاً پانچ وقت نمازیں پڑھو اور بعد میں سارا باقی وقت میری مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ میں ہی انتخاب کروں گا کہ مجھے روحانیت پر توجہ کرنی چاہیے یا نہیں کرنی چاہیے۔\n=====سوال 4:=====\nعام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ نفسیات مذہب کی بیخ کنی کرتی ہے، کیا یہ صحیح ہے؟\n=====جواب:=====\nمیں نہیں جانتا کہ آپ ان دونوں میں تضاد کیوں پاتے ہیں۔ نفسیات کے معنی صرف یہ ہیں کہ انسان خاص کر دوسرا انسان جو کام کرے گا اس کا اندازہ ہم پیش بینی سے کر لیتے ہیں اور اس کے مطابق اس سے نپٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ چیز مجھے اسلام کے خلاف نظر آتی اگر آپ اس کی توضیح کر سکتے کہ کس نقطہ نظر سے آپ اسے اسلام کی بیخ کنی کرنے والا علم کہتے ہیں تو شاید میں کوئی جواب دے سکتا۔\n=====سوال5:=====\nآپ نے فرمایا کہ جب رسول اللہﷺ پر وحی آتی تھی تو آپ کا وزن بڑھ جاتا تھا۔ ایسا تو اکثر ہوتا ہے کہ جب انسان کسی مسئلے پر سوچ رہا ہو تو آس پاس کا علم نہیں ہوتا۔ مگر وزن بڑھنے کی کیا وجہ ہے؟ براہ کرم اس کا جواب ضرور دیں۔\n=====جواب:=====\nمیں آپ سے عرض کر چکا ہوں کہ وحی کی ماہیت معلوم کرنے کے لیے جن قابل ترین مغربی لوگوں نے کوشش کی انہیں سوائے اس کے کوئی جواب نظر نہیں آیا کہ وحی ایک بیماری ہے لیکن جب بیماری سے اس کو مشابہ قرار دیتے ہیں تو اس کی علامتیں وحی کی صورت میں نظر نہیں آتیں۔ میں نے بتایا تھا کہ حضورﷺ کا وزن بڑھ جاتا تھا، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا تجربہ صحابہ کو ہوا تھا۔ ایسا کیوں ہوتا تھا؟ یہ ہمارے لیے بیان کرنا ناممکن ہے، اس لیے یہ چیز صرف نبی کو پیش آتی ہے۔ ہم آپ کو پیش نہیں آئی۔ اس کی کوئی توجیہ نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ ایک واقعے کا اظہار کروں کہ جب وحی آتی تو رسول اللہﷺ کے جسم مبارک میں اتنا وزن ہو جاتا تھا کہ اونٹنی بھی آپ کا وزن برداشت نہیں کر سکتی تھی۔\n=====سوال6:=====\nآپ نے فرمایا کہ ہندوؤں کے ہاں جنت و دوزخ کا تصور نہیں ملتا تو ان کے ہاں سرگ اور نرک سے کیا مراد ہے؟ کہا جاتا ہے کہ ہندوؤں کے ہاں تصور یہ ہے کہ عالم ارواح قدیم ہے اور نئی روح پیدا نہیں ہوتی بلکہ وہی ارواح تناسخ یا جونی چکر یا آواگون کے نام سے دوسرے اجسام میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ اس لیے اس عمل کو Transmigration of Soul بھی کہتے ہیں۔ براہ کرم اس کی صحیح حقیقت اور روح کے اسلامی تصور پر روشنی ڈالیے۔\n=====جواب:=====\nمیں اس کے متعلق صرف اس کے سوا کیا عرض کروں کہ روح کے متعلق جب رسول اللہﷺ سے سوال کیا گیا تو رسول اللہﷺ جواب نہ دے سکے۔ انتظار کرنے پر وحی آئی (وَیسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلرُّوحِ ۖ قُلِ ٱلرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّى) (آپ سے پوچھا جاتا ہے کہ روح کیا ہے؟ کہہ دیجیے کہ وہ اللہ کے حکم سے ہے) اس سے زیادہ تفصیل وہاں نہیں ملتی اور اس کے سوا میں کوئی چیز بیان کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ باقی ہندوؤں کے ہاں سرگ اور نرک وغیرہ کے تصورات کی طرف آپ نے جو اشارہ کیا ہے ان کی نوعیت اور تفصیل سے میں ناواقف ہوں۔ میں نے کہا کہ ہندوؤں کے مذہب میں بہت سی چیزیں ملتی ہیں۔ توحید کے تصورات بھی ملتے ہیں، توحید کے خلاف چیزیں بھی ملتی ہیں، چنانچہ سرگ اور نرک کا تصور ایک مخصوص مفہوم رکھتا ہے۔ اس سے مراد مسلمانوں کے ہاں کی ایسی جنت جس میں حوریں بھی ہوں، جس میں کھانے کو پرندوں کا گوشت بھی ملتا ہو، جہاں شراب اور شہد اور دودھ کی نہریں بہتی ہوں، اس طرح کی چیزیں ان کے ہاں نہیں ملتیں۔ یہی حال سزا کے متعلق ان کے تصورات میں ہے جن کو وہ \"نرک\" کے نام سے ادا کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کی کیفیت نہ مسلمانوں کو معلوم ہے، نہ عیسائیوں، نہ کبھی تم نے سنا نہ کبھی میں نے ایسی کوئی چیز دیکھی ہے، نہ ان کا تصور تمہارے ذہن میں آ سکتا ہے۔ اس کے سوا کوئی چیز عرض کرنے کا اپنے آپ کو اہل نہیں پاتا۔\n=====سوال7:=====\nدرج ذیل آیت قرآنی میں مسجدوں کے ساتھ یہود و نصاریٰ کی عبادت گاہوں یعنی گرجا گھروں، کلیساؤں اور خانقاہوں کا ذکر بھی ہے، جن میں کثرت سے اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے۔ براہ کرم وضاحت فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کو غیر مسلموں کی عبادت بھی اسی طرح پسند ہے جس طرح مسلمانوں کی؟\nۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ یذْكَرُ فِیهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِیرًا (40:22)\n=====جواب:=====\nیہاں گرائمر کے لحاظ سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا \" یذْكَرُ فِیهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِیرًا \" (وہاں اللہ کا بہت نام لیا جاتا ہے) اس کا تعلق آخری لفظ سے ہے یا سارے بیان کردہ مقامات سے ہے۔ یہ ایک سوال ہے جس کو میں حل نہیں کر سکوں گا۔ باقی اصل سوال کا جواب میں یہ دوں گا کہ جس زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں آئے تھے۔ اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قانون انسانیت کے لیے رائج تھا اور انسانوں کے لیے لازمی تھا کہ یہودیوں کی یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے مطابق عمل کریں، اور یہی صحیح عبادت تھی۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آ گئے تو ضروری تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے مطابق لوگ عمل کریں، مثلاً گر جاؤں میں عبادت کریں۔ جب محمدﷺ بھی آ گئے تو اب نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت واجب العمل رہی، نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت بلکہ حضرت محمدﷺ کی شریعت پر عمل کرنے کی ضرورت ہوئی۔ جنہوں نے مسجدوں میں نمازیں پڑھنے کا حکم دیا۔ ان میں آپس میں کوئی تضاد نہیں اور اللہ حکم دیتا ہے کہ نئے نبیﷺ کے آنے کے بعد سارے لوگ اسے قبول کر لیں لیکن یہ ضرور ہے کہ کچھ قبول کریں گے، کچھ قبول نہیں کریں گے۔ ان میں جنگیں بھی ہوں گی اور خدا کہتا ہے کہ ان جنگوں کے ذریعے سے اگر خدا ایسا نہ کرتا یعنی ایک آدمی دوسرے سے لڑ کر اپنی اپنی مدافعت کرتا، یا دوسرے کو شکست دے دیتا، ایسا نہ کرتا تو یہ عبادت گاہیں تباہ ہو جاتیں۔ بہت سیدھی سادی بات ہے کہ فرض کیجیے مسلمانوں پر یہودی حملہ کریں اور مسلمان مدافعت نہ کریں تو ظاہر ہے وہ مسلمانوں کی مسجدوں کو تباہ کر دیں گے۔ اسی طرح فرض کیجیے کہ کسی وجہ سے انتقامی یا دفاعی جنگ کے باعث مسلمان یہودیوں سے جنگ کرتے ہیں۔ اگر یہودی اپنا مقابلہ نہ کر سکیں تو ظاہر ہے کہ مسلمان اور چیزوں کے ساتھ شاید ان کی عبادت گاہوں کو بھی ختم کر دیں گے۔ خدا ہی ایک ملت کو دوسری ملت سے جنگی مقابلہ کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس ذریعے سے دنیا میں انسانوں کی حفاظت کا انتظام ہوا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اور چیزوں کی طرح تقدیر یہاں بھی کام کرتی ہے اور یہی تقدیر ہر انسان کو اجازت بھی دیتی ہے کہ اپنے وطن کی حفاظت کی خاطر مقابلہ کرے، چنانچہ مسلمانوں کو اجازت ہے کہ اگر کوئی اس پر حملہ کرتا ہے تو اس سے جنگ کرے، اس کو قتل بھی کرے، اس کو اسیر بھی کرے، اس کو لوٹ بھی لے اور اس طرح خدا کے نام کا بول بالا کرنے کی کوشش کرے۔ یہ جنگ اپنی ذات کے لیے نہیں ہوگی بلکہ اس آیت کے مطابق (وَقَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ الَّذِینَ یقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا یحِبُّ الْمُعْتَدِینَ) (190:2) جنگ اللہ کی راہ میں کرو۔ یہ نہیں کہ اپنے لیے۔ \" قَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ \" کن لوگوں سے جنگ کرو؟ \" الَّذِینَ یقَاتِلُونَكُمْ \" جو تم سے جنگ کرتے ہیں لیکن اس جنگ کے باوجود تعدی نہ کرو اور یہ بھی کہ تعدی کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ مسلمانوں کو بھی تنبیہ کر دی گئی ہے کہ کبھی یہ نہ سمجھ لینا کہ آخری دین کامل ہونے کے باعث تمہیں کوئی خصوصیت حاصل ہو گئی ہے۔ تمہیں دراز دستی کی ہر گز اجازت نہیں۔ فی امان اللہ!!\n\n=== خطبہ نمبر ۷ ===\n\nصدر محترم! محترم وائس چانسلر صاحب! محترم اساتذہ کرام!محترم مہمانان!\nالسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!\nقرآن مجید کے مطابق، مذہب اسلام کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ جسے اس آیت کریمہ (201:2) میں بیان کیا گیا ہے (رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً وَفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً) یعنی اسلام دین و دنیا دونوں جہانوں کی بھلائی چاہتا ہے، دونوں عالم کے لیے کوشش کرنے کی اجازت دیتا ہے اور دونوں جہانوں میں کامیاب بننے کا راستہ بتاتا ہے۔ دین اسلام میں جہاں ایک طرف نماز، روزہ اور حج جیسی روحانی چیزوں کا ذکر ہے، وہاں زکوٰۃ کا ذکر بھی ہے، جو ایک مالی مسئلہ ہے لیکن اسے رکن ایمان اور رکن دین بنایا گیا ہے۔ آج میرے پیش نظر صرف یہ بتانا ہے کہ کن حالات میں پیغمبر اسلامﷺ کو اس بات پر مجبور ہونا پڑا کہ ایک حکومت قائم فرمائیں۔ حکومت کی اقامت پر مجبور ہونے کا لفظ میں اس لیے استعمال کر رہا ہوں کہ نبی دنیا اور دنیوی اقتدار کا طالب نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود پیغمبر اسلامﷺ ایک مملکت قائم کرتے ہیں اور اس مملکت کے حاکم اعلیٰ کی حیثیت سے حکمرانی بھی فرماتے ہیں۔ یہ کن حالات میں ہوا اور کس طرح یہ مشکل کام انجام پایا؟ اور پھر اس مملکت میں، جس کا وجود ہی نہ تھا، ہر چیز کا نظم و نسق آپﷺ نے قائم کر دیا اور ایسا نظم و نسق چھوڑا کہ وہ آپ کے بعد صدیوں تک چلتا رہا اور نسل آدم آنحضرتﷺ کے نظام جہاں بانی سے فائدہ اٹھاتی آ رہی ہے۔ بہرحال قبل اس کے اسلامی مملکت کے متعلق کچھ عرض کروں، غالباً بے محل نہ ہوگا کہ جزیرہ نمائے عرب میں رسول پاکﷺ سے پہلے مملکت کی کیا صورت حال پائی جاتی تھی، اس کی طرف کچھ مختصراً اشارہ کروں۔\nیہ حیرت انگیز بات ہے کہ شہر روما ہی نہیں، بلکہ ایتھنز شہر کے وجود میں آنے سے بھی پہلے جنوبی عرب خصوصاً یمن میں ایک مملکت پائی جاتی تھی۔ دوسرے لفظوں میں عرب کا تمدن یورپ کے قدیم تمدنوں سےبھی زیادہ قدیم ہے۔ جو مملکتیں یمن میں قائم کی گئی ہیں، ان کا نظم و نسق اچھا خاصا ترقی یافتہ نظر آتا ہے۔ یمن کے آثار قدیمہ اور وہاں کے کتبوں سے جو معلومات حاصل کی گئی ہیں، ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عربوں کو امور حکمرانی اور رعایا کے فلاح و بہبود کے انتظامات سے بہت دلچسپی رہی اور وہاں ایسے کارنامے وجود میں آئے کہ آج ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ ایک چھوٹے سے صحرائی ملک میں یہ کام کیسے انجام پائے؟ مثال کے طور پر قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ وہاں ایک مرتبہ \"سیل العرم\" کے سانحہ کا ذکر ہے، جو یمن میں رونما ہوا تھا۔ ایک مقام پر دریا میں بند باندھ کر ایک بہت بڑا تالاب بنایا گیا تھا۔بند ٹوٹ جانے سے زبردست سیلاب آیا اور بہت نقصان ہوا تھا۔ وہاں کی رعایا کو ترک وطن کر کے دیگر علاقوں میں بسنے پر مجبور ہونا پڑا۔ وہ تالاب جو آج بھی یمن میں موجود ہے، اپنی اس شکست حالت میں بھی اتنا عظیم الشان ہے کہ اس کی مرمت کے لیے کئی ارب روپے درکار ہیں۔ یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب قدیم یونان کا مشہور شہر ایتھنز بھی وجود میں نہیں آیا تھا۔ بہرحال عرض کرنا یہ ہے کہ یمن میں ملکہ بلقیس کی حکمرانی تھی جو حضرت سلیمان ؑ کی ہم عصر تھی۔ اس کے بعد عرصہ دراز تک مختلف حکمران وہاں حکومت کرتے رہے اور وہاں کی فطری زرخیزی اور مختلف قیمتی پیداواروں کی وجہ سے اس ملک پر ایشیا، یورپ اور افریقہ، غرضیکہ ہر طرف سے حملے بھی ہوتے رہے۔ چنانچہ یونانیوں نے بھی یمن پر حملہ کیا اور ان کے یونانی کتبے آج تک یمن میں بعض مقامات پر ہمیں ملتے ہیں۔ عہد نبویؐ سے پہلے حبشہ کے بادشاہ نے وہاں کے حکمرانوں کو شکست دے کر یمن پر قبضہ کر لیا۔ کہتے ہیں کہ وہاں جو عیسائی حبشی بادشاہ تھا، اس نے اپنے پایۂ تخت صنعاء میں ایک عظیم الشان گرجا بھی بنایا تھا۔ اسے جلن یہ ہوئی تھی کہ لوگ صحرا کے بے آب و گیاہ شہر مکہ میں حج کے لیے کیوں جاتے ہیں؟ چنانچہ اس بادشاہ نے ایک فوج تیار کرائی اور کعبہ کو ڈھانے کے عزم سے مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ قرآن مجید کے \"سورۂ فیل\" (105) میں اسی کا ذکر ہے۔ ہمارے مورخ لکھتے ہیں کہ جس سال اصحاب الفیل کا مکہ پر حملہ ہوا اسی سال رسول اکرمﷺ کی ولادت ہوئی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ حملہ یمن کے مقامی لوگوں کی مرضی کے خلاف ہوا تھا۔ یمن میں حبشیوں کی حکومت تھی جو اجنبی لوگ تھے۔ چنانچہ مقامی یمنی باشندوں نے حبشیوں کے تسلط سے آزاد ہونے کے لیے ایک قومی تحریک شروع کی اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے یمن کے سردار ایران گئے، اور ایران کے بادشاہ سے مدد کی درخواست کی۔ اس روایت کے دلچسپ الفاظ یہ ہیں کہ ایک سردار نے کسریٰ سے کہا کہ ہمارے ملک پر کوؤں نے قبضہ کر لیا ہے، آپ ہمیں مدد دیجیے۔ اس نے پوچھا کون سے کوے؟ ہندوستان کے کوے یا افریقہ کے؟ کسریٰ نے خیال کیا کہ عرصے سے جو تمنا تھی کہ میں یمن پر قبضہ کروں، اب یہ موقع ہاتھ آیا ہے، اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ لہذا اس نے فوج سے مدد کی، جنگ میں حبشیوں کو شکست دی اور اس علاقے پر ایرانیوں کے ماتحت مقامی سردار کی سربراہی میں حکومت قائم ہوئی۔ اس زمانے میں مکہ سے عبد المطلب یمن جاتے ہیں اور اس حکمران کو اپنی طرف سے اور اپنے ملک کی طرف سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اس کی تفصیل ہمیں ملتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یمن اور مکہ کے تعلقات بہت قریبی تھے۔\nیمن میں یمنی حکمران برائے نام حاکم تھا۔ جلد ہی ایرانیوں نے اپنے قبضے اور اپنی فوج کی موجودگی سے بے جا فائدہ اٹھا کر اسے بے دخل کر دیا اور خود ہی وہاں حکومت کرنے لگے۔ عہد نبویؐ کے دورِ آخر میں جب یمن میں اسلام کی اشاعت ہوئی تو اس زمانے میں ایران میں ایرانی حکومت ضعف و انحطاط کا شکار ہو چکی تھی۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر یمنیوں نے ایران کے خلاف بغاوت کی۔ اس وقت یمن کا جو ایرانی گورنر تھا، اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس طرح اس نے اپنے آپ کو اور اپنے ہم نسل ایرانی ساتھیوں کو، جو یمن میں تھے، بچانے کی کوشش کی،جس سے یمن میں ایک انٹرنیشنل پیچیدگی پیدا ہو گئی۔ اس پہلو پر بحث کا موقع نہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ عرب میں قدیم ترین حکومتیں ہمیں یمن میں نظر آتی ہیں اور صرف وہیں نہیں اور مقامات پر بھی حکومتوں کا پتہ چلتا ہے۔\nاب میں مکے کی طرف آتا ہوں کیونکہ یہاں پر رسول اکرمﷺ کی ولادت ہوئی۔ ہم اولاً یہ معلوم کریں گے کہ وہاں کوئی حکومت تھی یا نہیں؟ اگر تھی تو کس قسم کی حکومت تھی؟ مکہ کے متعلق آپ سب اچھی طرح واقف ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ نے اس شہر کی بنا ڈالی تھی۔ حضرت ابراہیمؑ کو جب اللہ نے حکم دیا کہ اپنے بیٹے حضرت اسمعیلؑ اور ان کی ماں حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کو فلسطین سے لا کر اس بے آب و گیاہ میدان میں چھوڑ دیں تب وہاں کوئی آبادی نہیں تھی۔ حضرت ابراہیمؑ واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد حضرت اسمعیل کو پیاس محسوس ہوتی ہے۔ جہاں وہ پیاس کی شدت سے ایڑیاں رگڑ رہے تھے وہیں زمزم کا چشمہ ابل پڑتا ہے۔ اتفاق سے ایک قافلہ ادھر سے گزر رہا تھا۔ پانی کے آثار دیکھ کر قافلے والے وہاں ٹھہر جاتے ہیں۔ پھر وہاں پانی کی کثرت کی خبر سن کر اور لوگ بھی آ کر بسنے لگتے ہیں۔ رفتہ رفتہ آبادی بڑھنے لگتی ہے۔ حضرت اسمعیل علیہ السلام اپنی ماں کے ساتھ وہیں رہتے ہیں۔ کچھ عرصے بعد ان کی شادی مقامی عرب قبیلے کے ایک گھرانے سے ہوتی ہے اور اس قبیلے کی آبادی مکے میں پھیلتی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں اب تک ایک اہم واقعہ، یعنی کعبے کی از سر نو تعمیر کا ذکر کرنا ہے۔ اسلامی روایت کے مطابق جب حضرت آدم علیہ السلام دنیا میں آئے اور جنت کی جگہ زمین پر رہنے لگے تو یہاں ان کو ایک طرح کی کمی محسوس ہوئی۔ وہ جنت میں دیکھتے تھے کہ فرشتے خدا کی عبادت کے لیے بیت المعمور کے اطراف طواف کرتے ہیں، زمین پر کوئی عبادت گاہ موجود نہیں تھی۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے عبادت گاہ کی نعمت سے محروم نہ رکھا جائے۔ چنانچہ اللہ نے فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے لیے مامور کیا کہ زمین پر بھی بیت المعمور کی طرح عبادت گاہ تعمیر کی جائے۔ فرشتوں نے زمین پر بھی بیت المعمور کے عین نیچے ایک مقام کا انتخاب کیا اور وہاں کعبہ کی تعمیر کی۔ حدیث میں علامتی طور پر (symbolically) یہ الفاظ ہیں کہ اگر بیت المعمور سے کوئی پتھر پھینکا جائے تو سیدھے کعبے کی چھت پر گرے گا۔ یہ کعبہ جو حضرت آدم علیہ السلام کے لیے بنایا گیا وہ زمین پر حضرت نوح علیہ السلام کے طوفان کے زمانے تک قائم رہا۔ طوفان کے بعد اس کے کوئی آثار باقی نہیں رہے۔ ضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں اس کی تعمیر جدید کا کوئی پتہ نہیں چلتا لیکن ان کے بعد جو بڑے پیغمبر آئے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔ اللہ نے انہیں حکم دیا کہ کعبہ کو ازسر نو تعمیر کریں۔ انہوں نے آمنا و صدقنا، سر آنکھوں پر، لیکن مجھے معلوم نہیں کہ پہلا کعبہ کس مقام پر واقع تھا؟ اللہ نے کہا دیکھو، تمہارے سامنے بادل کا جو ٹکڑا اس وقت حرکت کرتا ہے، تم اس کے سائے کے پیچھے پیچھے چلو اور جس مقام پر سایہ رک جائے گا، وہی مقام ہے جہاں کعبہ تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس سائے کے پیچھے چلتے گئے۔ بالآخر وہ اس مقام پر پہنچے جہاں اب کعبہ ہے اور یہاں بادل نے حرکت ختم کر دی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سائے کے طول و عرض پر نشان لگائے اور یہ تھا کعبہ کا خاکہ۔ انہوں نے وہاں تھوڑی سی کھدائی کی تو پرانی بنیاد کے آثار وہاں موجود ہیں۔ اسی بنیاد پر انہوں نے نئی عمارت کی تعمیر شروع کر دی۔ اس وقت ان کے بیٹے اسمعیل علیہ السلام بھی بڑے ہو چکے تھے۔ چنانچہ اپنے بیٹے کی مدد سے انہوں نے وہاں چار دیواروں سے گھیر کر ایک بہت ہی سادہ قسم کی عمارت بنائی۔ جب وہ دیواریں قد سے بھی اونچی ہونے لگیں تو اس وقت انہیں ضرورت پیش آئی کہ دیواروں کو مزید بلند کرنے کے لیے کوئی سہارا لیا جائے۔ چنانچہ وہ ایک پتھر پر کھڑے ہو کر کعبہ کی تعمیر کرنے لگے۔ یہ پتھر \"مقام ابراہیم\" کے نام سے آج بھی موجود ہے۔ ایک زمانے میں وہ کعبہ کے عین سامنے دیوار کے پاس تھا، جہاں کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام عمارت بناتے تھے۔ اسلامی مورخ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ طغیانی آئی تو یہ پتھر بہہ گیا اور بہت مشکل سے دستیاب ہوا۔ تب اس کو پرانے مقام پر رکھنے کے بجائے کعبہ کے اندر رکھ دیا گیا۔ پھر کچھ زمانے کے بعد اس کو نکالا گیا اور ایک دوسرے مقام پر رکھ دیا گیا اور اب سعودی دور میں تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ کعبے کے سامنے اس کو ایک کانچ کے صندوق کے اندر بند کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ بہرحال حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک عبادت گاہ تعمیر کی اور اس کو خدائے واحد کا مکان (بیت اللہ) قرار دیا۔ بائبل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جو قصہ بیان کیا گیا ہے اس میں لکھا ہے کہ جب وہ عراق سے ترک وطن کر کے فلسطین آئے تو انہوں نے مختلف مقامات پر \"بیت ایل\" تعمیر کیے۔ \"بیت\" وہی لفظ ہے جو عربی میں ہے اور \"ایل\" کے معنی ہیں \"اللہ کا گھر۔ بائبل کے مطابق انہوں نے فلسطین کے بہت سے مقامات پر اللہ کی عبادت گاہیں تعمیر کیں اور مقامی باشندوں کو بتایا کہ اپنے پروردگار اور خالق کی کس طرح عبادت کریں۔\nیہ مقام حیرت نہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ عرب میں آئے تو مکہ میں اس بچے اور اس کی اولاد کے لیے اور دوسرے رشتہ داروں کے لیے بھی انہوں نے ایک \"بیت ایل\" یا بیت اللہ تعمیر کیا جو اب تک چلا آتا ہے۔ قرآن مجید (إِنَّ أَوَّلَ بَیتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِینَ 96:3) میں ذکر ہے کہ کعبہ دنیا میں وہ قدیم ترین عبادت گاہ ہے جو اللہ کے لیے تعمیر کی گئی ہے۔ اگر ہم یہ بیان ان معنوں میں لیں کہ وہ قدیم ترین گھر جو اب تک دنیا میں موجود ہے تو اس میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن اگر یہ کہیں کہ سب سے پہلے جو گھر تعمیر کیا گیا وہ کعبہ ہے تو اس لحاظ سے اعتراض ہوگا کہ آخر اور بھی تو پیغمبر دنیا میں آ چکے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام وغیرہ ہوئے ہیں ان کے زمانے میں بھی اللہ کی عبادت و اطاعت ہوتی تھی اور ان کے ہاں بھی کوئی عبادت گاہ ہوگی جو کعبہ سے پہلے ہوگی اس لیے اگر ہم کعبہ کا بانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قرار نہ دیں بلکہ اس سے پہلے یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی بنائی ہوئی عبادت گاہ قرار دیں تو پھر قرآن کے بیان میں کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔ صرف میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو مکان بنایا، اس پر یہودیوں اور عیسائیوں کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے اس لیے کہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اور بھی مقامات پر \"بیت ایل\" بنائے تھے۔ جب اور بھی گھر بنائے تھے تو حجاز میں بنانے پر کیوں اعتراض کیا جائے؟ بہرحال بیت اللہ کا حج جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے معین کیا تھا، اس کا سلسلہ کافی عرصہ تک جاری رہا اور اس کے نگراں پہلے حضرت اسمعیل علیہ السلام تھے اور اس کے بعد ان کی اولاد اس کی متولی رہی۔ بعد میں جنگیں ہوئیں اور بیرونی لوگ مکہ پر آ کر قابض ہوتے رہے ہیں۔ یہ ایک طویل قصہ ہے جس میں اس وقت بیان نہیں کر سکتا۔ کہنا یہ ہے کہ جس زمانے میں آنحضرتﷺ پیدا ہوئے اس وقت مکہ کی چند خصوصیتیں ہمیں حیرت انگیز نظر آتی ہیں، وہ یہ کہ مکہ نہ صرف بہت مالدار اور تجارتی شہر تھا بلکہ ساتھ ساتھ اس کے نظم و نسق کے لیے ایک حکومت بھی پائی جاتی تھی۔ جس میں بارہ وزیر ہوا کرتے تھے۔ یہ چیزیں ایسی ہیں جن پر ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ میں اس کا حال مختصر طور پر آپ سے بیان کروں گا۔ جہاں تک تجارت کا تعلق ہے وہ آنحضرتﷺ کی ولادت سے بہت پہلے نسل ہا نسل کے انتظامات کا نتیجہ تھی قرآن مجید کی \"سورۂ قریش\" (106) سے آپ واقف ہیں جس میں مکے والوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ اللہ ہی نے تمہیں سردی اور گرمی کے سفر کے ذریعے مال بھی دیا اور خوف سے بھی تم کو بچا لیا لہذا اس اللہ کا تمہیں شکرگزار ہونا چاہیے۔\nجغرافیائی نقطہ نگاہ سے مکہ ایک اہم مقام تھا کہ عرب کے شمال اور جنوب کے لوگ جب تجارت کے لیے جاتے تھے تو انہیں مکہ سے گزرنا پڑتا تھا۔ کہتے ہیں کہ یورپ کی تجارت ہندوستان سے مکہ کے راستے ہوا کرتی تھی۔ اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ مکہ کی جغرافیائی اہمیت کیا تھی۔ اس زمانے میں تجارتی قافلوں اور کاروانوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ غذا، پانی اور ٹھہرنے کی جگہ کا بندوبست کریں۔ مکہ میں جو زمزم کا چشمہ یا کنواں تھا وہ ایسی چیز تھی کہ اسے کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لہذا تمام قافلے وہاں سے گزرا کرتے تھے۔ مکے کی اس تجارتی حیثیت کو اور بھی مستحکم کرنے کے لیے آنحضرتﷺ کے ایک جد امجد عبد مناف قصی نے ایک مرتبہ اپنے بیٹوں میں سے ایک کو قیصر کے پاس بھیجا، دوسرے کو کسریٰ کے پاس بھیجا، تیسرے کو نجاشی کے پاس اور چوتھے کو یمن کے حکمرانوں کے پاس بھیجا اور ان سے ایلاف یعنی معاہدہ یہ کیا کہ ہمیں اس بات کی اجازت ہو کہ ہم تجارتی قافلے تمہارے ملک میں لائیں، اپنا مال وہاں فروخت کریں اور تمہارے ملک کی پیداوار خرید کر اپنے ملک کو لے جائیں۔ اس تجارتی معاہدے کو ان حکمرانوں نے بھی پسند کیا اور قبول کر لیا۔ اس کے متعلق ہمارے پاس تفصیلی معلومات ہیں اس وقت میں ان کو بیان نہیں کروں گا کہ اس پر میرا ایک مضمون البلاغ کراچی (جون 1968ء) میں چھپ چکا ہے۔\nمکے والوں نے یہ سوچا کہ ممکن ہے لٹیرے بدوؤں کے قبیلے تجارتی قافلوں کو اپنے علاقوں سے گزرتے دیکھ کر چھاپہ ماریں اور انہیں لوٹ لیں، اس لیے مکے کی زیارت گاہ اور مال تجارت کی حفاظت کا کچھ نہ کچھ انتظام کیا جائے۔ چنانچہ مکے کے افسروں نے ان تمام قبائل کے سرداروں سے جو کاروان تجارت کے راستوں میں پڑتے تھے، گفتگو کی اور ان سے کہا کہ ان تجارتی قافلوں سے ہمیں جو منفعت ہوگی اس میں سے کچھ حصہ تمہیں بھی دیا جائے گا۔ اس لالچ میں انہوں نے قبول کیا کہ ہم تمہارے کاروانوں پر حملہ نہیں کریں گے۔ اس سلسلے میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مکی سرداروں نے کہا کہ اگر تمہارے پاس کچھ فروخت کرنے کا سامان ہو، مثلاً بھیڑ، بکریوں کے چمڑے یا زیتون کا تیل وغیرہ، تو وہ ہمیں دے دو، ہم اسے فروخت کریں اور قیمت اور پورا منافع غیر کسی معاوضے کے تمہیں پہنچا دیا کریں گے۔ غرض ان قبائلی سرداروں سے معاشی معاہدوں اور ہر طرف سے انتظامات کے باعث مکہ معظمہ عرب کا سب سے بڑا تجارتی مرکز اور انتہائی مال دار شہر بن گیا تھا۔ اس کی دولت مندی کا اس سے اندازہ لگائیے کہ ہجرت مدینہ کے بعد کے ابتدائی زمانے میں ایک اسلامی دستے نے ایک بار مشرکین کے ایک کارواں پر چھاپہ مارا تھا اور اس میں جو مال غنیمت ملا، اس کی مالیت ایک لاکھ درہم تھی۔ اس زمانے میں ایک لاکھ درہم کی قیمت کل کروڑوں کے برابر تھی۔ یہ صرف ایک کارواں کا سرمایہ تھا، اس سے ہم قریش کی دولت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ چونکہ قریش کاروانی راستوں کے قبیلوں سے دوستی اور حلیفی کر چکے تھے، اس سے وہ مزید فائدہ یوں اٹھانے گے کہ اگر کسی اور قبیلے کا کارواں سفر پر جانا چاہتا تو ایک قریشی شخص، معاوضہ لے کر، اس میں شریک ہو جاتا۔ اس سے نقارہ یا بدرقہ کہتے اور اس کی وجہ سے قریش کا کوئی حلیف قبیلہ اس کارواں کو بھی نہ چھیڑتا۔\nجہاں تک سیاسی نظم و نسق کا تعلق ہے، شہر مکہ میں ایک شہری مملکت تھی، جس کا رقبہ (حدود حرم کی اساس پر) تقریباً ایک سو تیس مربع میل تھا۔ وہاں بادشاہت کی جگہ ایک طرح کی جماعتی گورنمنٹ تھی۔ یعنی ایک مجلس وزراء اس کے انتظام کی ذمہ دار تھی۔ اس کی تفصیلیں بھی ہمیں ملتی ہیں۔ نہایت ہی مختصراً ذکر کروں گا کہ اس میں دیوانی مقدمات اور فوجداری مقدمات کے لیے الگ الگ وزیر تھے، کعبہ کے انتظام کے لیے، یعنی دروازہ کھولنے اور بند کرنے کے لیے ایک وزیر تھا، اس طرح وہاں غیب دانی کے لیے یعنی یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کوئی کام ہمیں کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے، ان کے پاس تیر ہوا کرتے تھے جن سے وہ فال نکلا کرتے تھے۔ ان تیروں کی نگرانی کرنے والا ایک وزیر ہوا کرتا تھا۔ اسی طرح کعبے میں باہر سے آنے والے زائرین چڑھاوے چڑھایا کرتے تھے، ان چڑھاووں کی حفاظت کے لیے ایک اور وزیر مقرر تھا۔ اسی طرح ٹیکسیشن کے لیے بھی ایک وزیر تھا۔ یعنی شہر مکہ کے باشندے ہر سال اپنے افسر متعلقہ کو کچھ رقم بطور ٹیکس دیتے تھے جس کا اولاً مقصد یہ بیان کیا گیا تھا کہ اگر کوئی حاجی کسی وجہ سے مکہ میں اپنے آپ کو بے بس پائے یا اس کے پاس پیسے بالکل نہ رہیں، یا اس کی سواری کا اونٹ مر جائے تو ایسے مجبور لوگوں کی مدد کے لیے اور حج کے زمانے میں باہر سے آنے والوں کی ضیافت اور مہمانداری پر خرچ کرنے کی غرض سے ایک ٹیکس لیا جاتا تھا جس کا انتظام، ظاہر ہے کہ ایک خصوصی وزیر کے سپرد ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ کچھ اور وزارتیں بھی تھیں۔\nچنانچہ ایک اور ادارہ دار الندوہ تھا یعنی پارلیمنٹ۔ جب کبھی کوئی مشکل مسئلہ پیدا ہوتا تھا، مثلاً کسی دشمن کے حملے کا خطرہ یا کوئی اور معاملہ درپیش ہوتا تو سارے معمر باشندوں سے گفتگو ہوتی تھی۔ لکھا ہے کہ ہر شخص، جس کی عمر چالیس سال ہوتی، وہ خود بخود اس مجلس مشاورت یا اس پارلیمنٹ کا رکن بن جاتا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دو آدمیوں کو اس سے مستثنٰی کر دیا گیا تھا یعنی ان کو چالیس کی عمر کی حد تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا رکن بنا لیا گیا تھا۔ ان میں ایک ہمارے \"دوست\" ابوجہل صاحب بھی تھے۔ ان کی فراست اور عقلمندی کا بڑا چرچا تھا۔ چنانچہ ان کو نوجوانی میں ہی اس کا رکن بنا دیا گیا تھا۔ اسی طرح ایک اور شخص کا بھی ذکر آتا ہے۔ سب سے عجیب و غریب جو بات ہمیں نظر آتی ہے، وہ وزارت خارجہ کا عہدہ ہے۔ وزارت خارجہ کا دائرہ کار یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب کبھی کسی بیرونی قبیلے سے گفتگو کی ضرورت پیش آتی، کسی جھگڑے کا تصفیہ اور مصالحت کرانی ہوتی یا دشمن کے مطالبات کو نہ ماننے کی صورت میں اعلان جنگ کرنا پڑتا یا کوئی قبیلہ قریش کی برتری اور فضیلت پر اعتراض کرتا تو اس کو جاب دینے اور قریش کی خوبیاں، اور اعتراض کرنے والے قبیلے کی برائیاں بیان کرنا ہوتا، تو ایسے تمام خارجہ معاملات کے انتظام و انصرام کے لیے بھی ایک عہدہ دار پایا جاتا تھا۔ یہ تمام وزراء عہد نبوی تک پائے جاتے تھے، ان میں سے اکثر نام بہت مشہور و معروف ہیں مثلاً دیوانی مقدمات حضرت ابو بکر کے سپرد تھے، وزارت خارجہ کا منصب حضرت عمر کے سپرد تھا۔ اسی طرح فوج میں دو جھنڈے ہوتے تھے، ایک کو لواء اور دوسرے کو رایہ کہتے تھے۔ ان کے فرق سے میں یہاں بحث نہ کروں گا۔ ایسا ایک جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر العبدری کے پاس رہتا تھا اور دوسرا جھنڈا حضرت ابو سفیان کے سپرد تھا۔ یہ تمام نام سیرت النبی اور تاریخ اسلام میں آتے ہیں۔ یہ اسلام سے پہلے کی مشہور شخصیتیں تھیں اور مکے کی حکومت میں ان کو خاصا مقام حاصل تھا۔ دوسرے لفظوں میں شہر مکہ میں ایک مملکت پائی جاتی تھی اور یہ مملکت ایک شہری مملکت تھی۔ اس کا انتظام بجائے ایک فرد کے ہاتھ میں ہونے کے ایک نمائندہ جماعت کے سپرد کیا گیا تھا۔ جس کا ہر فرد وراثتی اصول پر ہمیشہ ایک ہی قبیلے سے ہوا کرتا تھا۔ یہ ہے مختصر خلاصہ اس سیاسی نظام کا جو پیغمبر اسلامﷺ کی ولادت کے وقت شہر مکہ میں پایا جاتا تھا۔\nحضورﷺ کی ولادت سن 569 عیسوی میں ہوتی ہے۔ ابتدائی چالیس سال تک وہ اس شہر کے معمولی باشندے رہے۔ کوئی ایسی بات ہمیں نظر نہیں آتی جو قابل ذکر ہو، بجز اس کے کہ اور قبیلوں کی طرح رسول اکرمﷺ کے خاندان بنو ہاشم کا بھی ایک فرد اس نظام حکومت میں شامل تھا یعنی ایک وزارت اس خاندان کے سپرد تھی۔ وہ وزارت زمزم کے کنویں کے انتظام کے متعلق تھی۔ اس میں منفعت بھی تھی۔ اگرچہ ہمیں صراحت سے معلوم نہیں لیکن اور مقاموں، مثلاً شام وغیرہ میں، اس کا پتہ چلتا ہے کہ عبادت گاہ کے کنویں کا پانی حاجیوں کو دیا جائے تو انعام یا ٹیکس کے طور پر اس پانی دینے والے کو لوگ اپنی طرف سے رقم دیا کرتے تھے۔ اگر مکے میں بھی ایسا ہوتا تو ظاہر ہے کہ اس سے کافی منفعت ہوتی ہوگی۔ یہ قدیم کنواں چونکہ بڑی مدت غائب رہنے کے بعد عبد المطلب نے دریافت کیا تھا، اس لیے انہیں کی نگرانی میں رہا اور غالباً ان کی خاطر شہری مملکت کے نظام میں ایک نئی وزارت کا اضافہ کر دیا گیا۔ عبد المطلب کی وفات کے بعد یہ انتظام ان کے بیٹے ابو طالب نے سنبھالا۔ ابو طالب بہت فراخ دل تھے لیکن ان کی مالی حالت خراب تھی اور اکثر قرض لینے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ اپنے بھائی حضرت عباس سے کچھ رقم قرض لی اور کہا کہ ایک سال بعد ادا کر دوں گا۔ ایک سال بعد آپ رقم ادا نہ کر سکے تو حضرت عباس نے کہا اگر تم مزید مہلت چاہتے ہو تو میں اس شرط پر آمادہ ہوں کہ زمزم کی نگرانی مجھے دے دی جائے۔ اس طرح چاہ زمزم ابوطالب کی جگہ حضرت عباس کے قبضے میں آیا اور رسول اللہﷺ کے عہد میں فتح مکہ کے وقت بھی وہی اس کے مالک تھے اور اس کی رسول اللہﷺ نے توثیق بھی کی۔ غرض یہ کہ بنی ہاشم کو بھی مکہ شہر کے انتظام میں دستوری طور پر ایک مقام حاصل تھا۔ بعد کے زمانے میں جب اسلام کا آغاز ہوا تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے نظم و نسق میں کیا حصہ لیا اور مکہ شہر میں ان کی حیثیت کیا تھی؟ اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ شہر مکہ میں جو لوگ مسلمان ہوتے رہے ان کی تعداد بھی آہستہ آہستہ بڑھی، لیکن وہ تھے سارے ہی قبیلوں کے، اور انہوں نے مملکت کے اندر مملکت بنا لی۔ وہ مکہ شہر میں رہتے تھے لیکن اگر انہیں عدالتی مسئلے کی ضرورت پیش آتی تھی تو وہ شہر کے ان مشرک افسروں کے پاس نہیں جاتے تھے جس کے پاس عدل گستری کا کام تھا۔ اگر انہیں فوجی دفاع کے سلسلے میں ضرورت پیش آتی تو ان کو مکہ والوں سے امداد کی توقع نہ تھی۔ غرض وہ ہر کام میں رسول اللہﷺ سے رجوع کرتے جو ان کے قانون ساز بھی تھے، حاکم عدالت بھی، کمانڈر انچیف بھی تھے اور بادشاہ بھی۔ جلدی ہی مسلمانوں کو مکہ کو خیر باد کہنا پڑا۔ رسول اللہﷺ کی ہجرت کے وقت مکہ کے اکثر مسلمان بھی ہجرت کر کے مدینے جا بسے۔\nجیسا کہ اپنے گزشتہ لیکچر میں اشارۃً عرض کر چکا ہوں کہ مدینے میں رسول اکرمﷺ نے سب سے پہلے مہاجرین کے معاشی مسائل حل کرنے کے لیے مواخات کا انتظام کیا۔ اس کے بعد جو کام ہوا، اس کا تعلق ہمارے موضوع سے ہے یعنی مملکت کا قیام۔ مدینے میں کسی مملکت کا وجود نہیں تھا۔ شہری مملکت کا نہ کسی اور قسم کی مملکت کا۔ یہاں اسلام سے پہلے کئی رشتہ دار قبیلے آباد تھے مگر ان قبیلوں میں ہمیشہ آپس میں خانہ جنگی ہوتی رہتی تھی چنانچہ آخری جنگ ہجرت نبوی سے پانچ سال پہلے ہوئی تھی جس میں بہت ہی خوں ریزی ہوئی اور اس کے اثرات خود اسلامی معاشرے پر بھی پڑے۔ اشارۃً میں دو چیزوں کا ذکر کرتا ہوں۔ لکھا ہے کہ ہجرت سے پہلے جب مدینے کے کچھ لوگ \"اوس\" قبیلے میں سے اور کچھ لوگ \"خزرج\" قبیلے میں سے مسلمان ہوئے تو چونکہ ان دونوں قبیلوں میں جھگڑا تھا، اگر امام \"خزرجی\" ہوا تو \"اوسی\" مسلمان اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کرتے اور اگر \"اوسی\" امام ہوتا تو \"خزرجی\" لوگ اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کرتے۔ اس لیے ضرورت پیش آئی کہ مکے سے ایک امام بھیجا جائے تاکہ اس کے پیچھے \"اوسی اور خزرجی\" دونوں نماز پڑھ سکیں۔ ایک اور واقعہ جس کو ہم اس سے بھی زیادہ افسوسناک کہہ سکتے ہیں، یہ نظر آتا ہے کہ مدینہ کے مسلمانوں میں نقیب النقباءاسعد بن زرارہ ایک بہت اچھے، راسخ العقیدہ اور اسلام کے لیے سرگرم کار مسلمان تھے۔ وہ \"خزرج\" قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ جب رسول اللہﷺ ہجرت کر کے قبا پہنچے، تو ایسے بہت سے لوگ جو آپﷺ کو پہلے دیکھ چکے تھے یا آپﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے، آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، سلام عرض کرتے ہیں اور مہمان نوازی کے فرائض انجام دیتے ہیں لیکن ان میں اسعد بن زرارہ نظر نہیں آتے۔ آخر رسول اللہﷺ نے خود پوچھا کہ اسعد بن زرارہ کہاں ہیں؟ تو قبا کے باشندوں \"اوسیوں\" نے شرمندگی کے انداز میں کہا کہ گزشتہ جنگ بعاث میں انہوں نے ہمارے بعض سرداروں کو قتل کیا تھا، اس لیے انہیں جرات نہیں ہو سکتی کہ وہ ہمارے علاقے میں آئیں۔ اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ رسول اللہﷺ کو مدینہ منورہ میں حکومت کرنے کے لیے کن دشواریوں کا سامنا تھا۔ بہرحال اسی رات کا کافی حصہ گزرنے پر ایک شخص رسولﷺ سے ملنے کے لیے بھیس بدلے ہوئے، چہرے پر نقاب ڈالے ہوئے آتا ہے۔ جب حضورﷺ کے پاس پہنچتا ہے تو نقاب اٹھاتا ہے۔ یہ تھے اسعد بن زرارہ۔ رسول اللہﷺ حیرت سے پوچھتے ہیں کہ تم کیسے آئے؟ انہوں نے کہا کہ آپﷺ تشریف لائیں اور میں نہ آؤں، یہ ناممکن تھا، جان پر کھیل کر حاضر ہوا ہوں۔ اس وقت رسول اللہﷺ کوشش کرتے ہیں کہ قبیلہ \"اوس\" ان کو باقاعدہ طور پر پناہ دینے کا اعلان کرے تاکہ اگر وہ آئیں تو کھلم کھلا آ سکیں اور انہیں کوئی \"اوسی\" شخص نہ ستائے، مگر وہ ہچکچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ (ﷺ) آپ حکم دیں گے تو ہم تعمیل کریں گے لیکن ہم خود پناہ دینا نہیں چاہتے۔ بالآخر ایک \"اوسی\" سردار نے اسے قبول کیا چنانچہ وہ اسعد بن زرارہ کے مکان پر گئے۔ ان کو ساتھ لے کر ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر رسول اللہﷺ کے سامنے آتے ہیں اور \"اوسی\" قبیلے کے لوگ دیکھتے ہیں کہ ان کے سردار نے اسعد بن زرارہ کو پناہ دی ہے۔ پھر اس کے بعد امن قائم ہوتا ہے۔ تو اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مدینہ میں حکومت کرنا کتنا مشکل تھا اور کن تدبیروں سے رسول اللہﷺ نے آہستہ آہستہ ان مشکلوں کو دور کیا۔\nاس ابتدائی کام سے فارغ ہونے کے بعد رسول اللہﷺ نے ایک تجویز پیش کی کہ مدینہ میں ایک چھوٹی سی مملکت قائم کی جائے۔ لیکن ابتداء ہی میں کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگ بعاث کے بعد مدینے والوں نے یہ سوچا تھا کہ آئے دن کی جنگ ہم سب کے لیے نقصان کا باعث ہے، اس کو ختم کرنا چاہیے لیکن کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس طرح ختم کریں؟ اگر کوئی بادشاہ بنایا جائے تو وہ کس قبیلے کا ہو جس کی اطاعت \"خزرجیوں\" اور \"اوسیوں\" میں سبھی کو قبول ہو۔ خزرجی قبیلے کا ایک سردار عبد اللہ بن ابی بن سلول بہت مالدار اور صاحب اقتدار تھا۔ خزرجیوں کو توقع تھی کہ \"اوسی\" بھی اس کی مخالفت نہ کریں گے، چنانچہ اس کے لیے تاج شہریاری تیار ہونے لگا۔ اس اثناء میں رسول اللہﷺ تشریف لاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ اوسی اور خزرجی مسلمانوں کو اب عبد اللہ بن ابی بن سلول سے کوئی دلچسپی نہ رہی۔ اس کا نتیجہ بھی آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول کو آنحضرتﷺ سے نفرت پیدا ہو گئی کہ نعوذ باللہ رسول اللہﷺ غاصب ہیں، میرے اقتدار اور میری بادشاہت میں حارج ہو رہے ہیں۔ چنانچہ یہ شخص ساری عمر منافق رہا اور آئے دن اسلام کے لیے دشواریاں پیدا کرتا رہا۔ \"واقعہ افک\" میں حضرت عائشہؓ پر جو الزام لگایا گیا، وہ بھی انہی صاحب کی کار گزاری تھی۔ جنگ تبوک کے زمانے میں رسول اللہﷺ کو قتل کرنے کی ایک سازش ہوئی تھی، اس میں بھی اس کا دخل تھا۔ بہرحال ایک طرف عبد اللہ بن ابی بن سلول کی وجہ سے مسلمانوں کو سیاسی نظم و نسق میں دشواریاں پیش آ رہی تھیں۔ علاوہ ازیں اوس قبیلے کے ایک عیسائی ابو عامر راہب نے دوسرا فتنہ کھڑا کیا۔ اس کو بائبل کے مطالعے سے یہ معلوم ہو چکا تھا کہ نبی آخر الزماںﷺ کے آنے کا امکان ہے، چنانچہ اس نے سوچا کہ خود نبوت کا دعویٰ کرے۔ جب رسول اللہﷺ آئے، وہ جا کر رسول اللہﷺ سے جھگڑتا ہے، کہتا ہے کہ تم جھوٹے نبی ہو (نعوذ باللہ) نبی موعود تو میں ہوں۔ غرض یہ کہ مسلمانوں کو شروع ہی سے بہت سی دشواریاں پیش آتی رہیں۔\nاب رسول اکرمﷺ نے قبا کے بجائے اس مقام پر رہنا پسند کیا جو \"اوسیوں\" کے نہیں \"خزرجیوں\" کے علاقے میں تھا۔ اس کی وجہ امام بخاری نے یہ بیان کی ہے کہ وہ آپﷺ کے قریبی رشتہ دار تھے۔ عبد المطلب کی ماں قبیلہ خزرج سے تھیں۔ چنانچہ قبا سے نکل کر، اس مقام پر قیام کیا جہاں بنو نجار کا قبیلہ رہتا تھا اور جلد ہی وہاں ایک جلسہ طلب کیا گیا۔ شہر مدینہ کی آبادی کے جو مختلف عناصر تھے، ان سب کے نمائندوں کو بلایا اور ان کے سامنے حکومت قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز کو اکثریت نے قبول کیا۔ لکھا ہے کہ صرف \"اوسی\" کنبوں نے انکار کیا۔ اس طرح ایک مملکت قائم ہوئی جو ایک شہر پر بھی نہیں بلکہ ایک شہر کے کچھ حصے پر مشتمل ہونے کے باوجود علمی اور تاریخی نقطہ نظر سے ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ یوں کہ ایک مملکت میں حکمران اور رعایا کے جو حقوق و فرائض ہوں گے، ان کو تحریری طور پر مرتب کیا گیا۔ دوسرے الفاظ میں اس مملکت کا دستور مرتب کر کے سب کے سامنے پیش کیا گیا اور سب کے مشورے سے اسے لکھا گیا۔ اس تاریخی دستاویز کی خاص قابل ذکر اہمیت یہ ہے کہ دنیا کا پہلا تحریری دستور \"اُمّی\" شخص کے ہاتھوں وجود میں آیا۔\nاس دستور کی ساری دفعات کی تشریح شروع کر دوں تو اس کے لیے کم از کم مجھے ایک پورا دن درکار ہوگا۔ مختصراً یہ عرض کرنا ہے کہ ایک طرف تو یہ اعلان کیا گیا ہے کہ یہ مملکت ایک مستقل اور خود مختار مملکت ہوگی اور یہ بھی صراحت ہے کہ غیر مسلموں کو ان کے دین کی پوری آزادی ہوگی۔ چنانچہ ایک دفعہ کے الفاظ یہ ہیں \"للمسلمین دینھم و للیھود دینھم\" یعنی مسلمانوں کے لیے مسلمانوں کا دین ہے اور یہودیوں کے لیے ان کا دین ہے۔ یعنی وہاں جتنے بھی لوگ بستے تھے ان کو دینی، عدالتی اور قانونی آزادی کا اطمینان دلایا گیا تھا۔ اسی طرح دفاع کے سلسلے میں جو انتظام کیا گیا وہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن اس پہلو پر کچھ عرض کرنے سے پہلے میں یہ کہوں گا کہ آنحضورﷺ کو اس حکومت کا صدر تسلیم کیا گیا، اگر خالص دنیوی نقطہ نظر سے ہم اس پر غور کریں تو وجہ یہ نظر آتی ہے کہ \"اوسیوں\" کا کوئی بادشاہ مقرر کیا جاتا تو \"خزرجی\" اسے قبول نہ کرتے اور اگر \"خزرجیوں\" میں سے منتخب کرتے تو \"اوسی\" اس کو قبول نہ کرتے۔ چنانچہ سوائے اس کے کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ آپس میں لڑنے والے قبائل آپﷺ پر اعتماد رکھتے اور آپ کو نبی مانتے تھے۔ آپ کی غیر جانبداری، آپ کی عدل گستری، آپ کا تحمل و تدبر اور آپ کی فیاضی کا چند مہینوں کے عرصے میں سب لوگوں کو تجربہ ہو چکا تھا۔\nدفاع کے سلسلے میں، اس دستور میں، صراحتیں ہیں، ان میں سب سے پہلے یہ بات قابل ذکر ہے کہ امن اور جنگ ناقابل تقسیم چیز ہوگی، یعنی اگر امن ہو تو سلطنت کے سارے باشندوں کے لیے ہوگا اور جنگ ہو تو سارے باشندوں کے لیے۔ صلح و جنگ کی مرکزیت اور ان کا ناقابل تقسیم ہونا ایک اہم بات تھی۔ پھر اس میں یہ بھی صراحت ہے کہ اگر جنگ کے لیے جانے کی ضرورت پیش آئے تو اس کا فیصلہ رسول اللہﷺ کے اختیار میں ہوگا کہ کون شخص فوج میں شریک رہے اور کون فوج میں نہ رہے۔ گویا آپ کو کمانڈر انچیف سے بھی زیادہ اختیارات حاصل تھے۔ آپ کو اختیار تھا کہ اپنی فوج سے ان تمام لوگوں کو خارج کر دیں جو مشتبہ ہوں اور جو فوج کے اندر رہ کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہیں۔ گویا آپ نہ صرف جنگی انتظامات کے مالک تھے بلکہ جنگ کے سیاسی پہلوؤں پر بھی آپ ہی کا دخل تسلیم کیا گیا۔ البتہ یہ صراحت ہے کہ اگر باہر سے کوئی دشمن حملہ آور ہو تو ہر محلہ اپنے رقبے کی براہ راست مدافعت کرے گا اور لوک ایک دوسرے کی مدد کریں گے، اور یہ بھی کہ فوج میں جو اخراجات ہوں وہ ہر محلہ یعنی ہر قبیلہ خود برداشت کرے گا۔ اس زمانے میں مرکزی حکومت کے پاس کوئی خزانہ نہیں تھا۔ لہذا مجبوراً یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ لوگ رضاکارانہ اور بلا تنخواہ فوج میں داخل ہوں لیکن فوج کی باگ ڈور رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور فوجی انتظامات خود رسول کریمﷺ ہی فرماتے ہیں۔ اسی طرح دستور میں عدل گستری کا بھی ذکر ہے کہ ابتدائی عدالت تو قبیلہ وار ہوگی یعنی قبیلے کے دو افراد میں جھگڑا ہو تو لوگ اپنے قبیلے کے سردار سے رجوع کریں گے لیکن اگر فریقین دو مختلف قبیلوں کے ہوں تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ انہیں رسول اکرمﷺ کے پاس آنا پڑے گا۔ اگرچہ انہیں اختیار تھا کہ کسی اور شخص کو بھی اپنا حکم بنا لیں لیکن آخری حاکم عدالت بالفاظ دیگر عدالت اپیل رسول اللہﷺ کی ذات ہوگی۔ مسلمانوں کے لیے صراحت ہے کہ قانون سازی رسول اکرمﷺ فرمائیں گے۔ دیگر تفصیلیں جو اس دستور میں آئی ہیں ان کے سلسلے میں یہ بھی نظر آتا ہے کہ حکمران کو کیا اختیارات حاصل ہیں۔ اس دستور میں ایک چیز جو غیر معمولی اور غیر متوقع کہی جا سکتی ہے وہ بیمے کا انتظام ہے۔ اس کی تفصیل پہلے کسی جگہ آ چکی ہے۔ یہاں اشارۃً ذکر کیا جاتا ہے کہ اگر فدیہ یا خون بہا کی گراں قدر رقم کوئی شخص ادا کرنے سے معذور ہو تو اس کے قبیلے کی انجمن یا ہمسایہ قبیلے کی انجمن ورنہ بالآخر مرکزی انجمن اس رقم کی ادائیگی کا انتظام کرے گی۔ اسی طرح یہودیوں کے متعلق بھی تفصیل ہے کہ ان پر کیا واجبات و فرائض ہوں گے۔ اس کا بھی ذکر ہے کہ جو مشترکہ دشمن ہیں یعنی قریش مکہ وغیرہ ان کے ساتھ اس مملکت کے باشندوں کا کیا طرز عمل ہوگا۔\nیہ تھا وہ نظام جو عہد نبویؐ میں شروع ہوا، اور جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا کہ یہ مملکت ابتداء میں ایک شہری مملکت تو تھی لیکن کامل شہر میں نہیں تھی بلکہ شہر کے ایک حصے میں قائم کی گئی تھی، لیکن اس کی توسیع بڑی تیزی سے ہوتی ہے۔ اس توسیع کا آپ اس سے اندازہ لگائیے کہ صرف دس سال بعد جب رسول اللہﷺ کی وفات ہوئی، اس وقت مدینہ ایک شہری مملکت نہیں بلکہ ایک وسیع مملکت کا دارالسلطنت تھا۔ اس وسیع سلطنت کا رقبہ تاریخی شواہد کی رو سے تین ملین یعنی تیس لاکھ مربع کلومیٹر پر مشتمل تھا۔ دوسرے الفاظ میں دس سال تک اوسطاً روزانہ کوئی آٹھ سو پینتالیس مربع کلومیٹر علاقے کا ملک کے رقبے میں اضافہ ہوتا رہا۔ سلطنت کی یہ توسیع کچھ تو پرامن ذرائع سے ہوئی اور کچھ جنگوں کے نتیجے میں۔ آنحضرتﷺ کے غزوات و سرایا کے متعلق دیگر تفصیلات کے علاوہ مقتولین اور شہداء کے اعداد و شمار بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔ تین ملین کلومیٹر رقبہ فتح کرنے کے لیے دشمن کے جتنے لوگ مرے ہیں، ان کی تعداد مہینے میں دو بھی نہیں ہے، دس سال میں ایک سو بیس مہینے ہوتے ہیں تو ایک سو بیس کے دو گنے دو سو چالیس آدمی بھی ان لڑائیوں میں نہیں مرے، دشمن کے مقتولین کی تعداد اس سے کم تھی، مسلمانوں کے شہداء کی تعداد دشمن کے مقتولین سے بھی کم ہے۔ مسلمانوں کا سب سے زیادہ نقصان جنگ احد میں ہوا کہ ستر آدمی شہید ہوئے اور یہ نقصان بھی مسلمانوں کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہوا۔ بہرحال بحیثیت مجموعی میدان جنگ میں قتل ہونے والے دشمنوں کی تعداد مہینے میں دو سے بھی کم ہے، جس سے ہمیں نظر آتا ہے کہ رسول اللہﷺ کس طرح اسوۂ حسنہ بن کر دنیا بھر کے حکمرانوں اور فاتحوں کو بتاتے ہیں کہ دشمن کا مقابلہ اور ان کو شکست دینے کی کوشش ضرور کرو لیکن بے جا خون نہ بہاؤ۔ مقصد یہ کہ دشمن جو آج غیر مسلم ہے ممکن ہے کل وہ مسلمان ہو جائے یا اس کے بیوی بچے اور اس کی آئندہ نسلیں مسلمان ہو جائیں لہذا اس امکان کو زائل کرنے میں اپنی طرح سے کوئی ایسا کام نہ کرو جس سے پچھتانے کی ضرورت پیش آئے۔\nہمارے موضوع کا ایک پہلو تو حکومت کے قیام اور سلطنت کی توسیع سے متعلق تھا، دوسرے پہلو کا تعلق حکومت کے نظم و نسق سے ہے۔ ہم یہاں دیکھیں گے کہ نظم و نسق کے سلسلے میں رسول اللہﷺ نے کیا اقدامات کیے اور ان کے کیا نتائج نکلے۔ جیسا کہ ہم ابھی دیکھ چکے ہیں کہ مدینہ میں کوئی مملکت پائی ہی نہیں جاتی تھی۔ رسول اکرمﷺ نے پہلی مرتبہ قائم فرمائی لہذا آپ کو پرانے انتظامات وراثت میں بالکل نہیں ملے۔ فوج، خزانہ و تعلیم، عدلیہ اور انتظامیہ کے اداروں میں سے کوئی چیز وہاں نہیں تھی۔ ہر چیز رسول اللہﷺ کو خود ہی نقطہ صفر سے پیدا کرنی اور ترقی دینی تھی۔ اس زمانے میں اتنے دفتر اور اتنے محکمے نہیں ملیں گے جو آج بیسویں صدی میں ہمیں اپنے آس پاس نظر آتے ہیں مثلاً آج کل آپ کو سڑکیں بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ عرب میں کہیں سڑکیں نہ تھیں۔ سڑکوں اور شاہراہوں کی جگہ عام خود رو گزرگاہیں تھیں، سڑ کی تعمیر کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔لہذا اس کے لیے نہ ناظم تھا، نہ محکمہ تعمیرات، البتہ اس کے باوجود کچھ ایسی چیزیں ملتی ہیں جو شہری منصوبہ بندی کے سلسلے میں کارآمد ہیں۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ شہر کے اندر گلیوں کو اتنا چوڑا رکھو کہ دو لدے ہوئے اونٹ با آسانی آمنے سامنے گزر سکیں، گویا آج کل کے الفاظ میں آسانی کے ساتھ دو موٹریں آ جا سکیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اکرمﷺ کی قانون سازی صرف دینی معاملات تک کی محدود نہیں تھی، اس میں دنیوی مسائل پر بھی توجہ دی گئی ہے حتیٰ کہ اس میں مکانوں کے درمیان کا راستہ بھی شامل ہے۔ وقت کی کمی کے باعث تفصیلات میں نہیں جاؤں گا۔ اہم ترین انتظامات میں سے چند کاتبوں پر مشتمل ایک دفتری نظام (سیکرٹریٹ) بھی تھا۔ چنانچہ مسعودی اور دیگر مؤلفوں نے بتایا ہے کہ ان کاتبوں کے فرائض مختلف تھے۔ کچھ لوگ نازل ہونے والی وحی کو لکھا کرتے تھے۔ کچھ لوگ زکوٰۃ کے اندراجات کرتے، یعنی رقم کس سے وصول ہوئی اور کس پر خرچ کی گئی۔ جنگوں میں جو مال غنیمت حاصل ہوتا، اس کے بارے میں رسول اللہﷺ کا حکم تھا کہ سب کو جمع کر کے، اس میں سے سارے فوجیوں کو برابر حصہ دیا جائے۔ نیز پانچواں حصہ حکومت کو ملے۔ لہذا ضروری تھا کہ مال غنیمت کی جمع و تقسیم کا حساب رکھا جائے۔ اس کے لیے خصوصی کاتب مقرر تھے۔ اسی طرح کوئی دس بارہ مدوں کی تفصیل دی گئی ہے کہ ان کے لیے الگ الگ کاتب مقرر کیے گئے تھے۔ ان میں محکمہ خارجہ بھی تھا کہ بیرونی حکمرانوں اور سرداروں سے تبلیغ وغیرہ کے لیے خط و کتابت ہوتی تھی۔\nایک چیز اور، جس کا تعلق فوجی نظام سے اور سات ہی مالی نظام سے ہے، اس کا بھی میں ذکر کرتا چلو، اس پر آپ کو حیرت بھی ہوگی۔ عام طور پر مشہور ہے کہ حضرت عمر کے زمانے میں دیوان قائم ہوا اور دیوان کا منشا یہ بیان کیا جاتا ہے کہ سرکاری خزانے سے سپاہیوں کو پنشن دی جاتی تھی، اس شرط پر کہ وہ چوبیس گھنٹے تیار رہیں کہ جب حکومت انہیں بلائے تو وہ اسی وقت گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر فوجی مہم پر روانہ ہو جائیں۔ یہ نظام حضرت عمر کی طرف منسوب ہے اور اس کے لیے حضرت عمر نے جو دیوان قائم کیا تھا اس کی بہت سی تفصیلیں ہمیں ملتی ہیں۔ لیکن ہمیں حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ اس کا آغاز بھی عہد نبویؐ میں ہوتا ہے۔ چنانچہ امام محمد کی \"السیر الکبیر\" میں آیا ہے کہ عہد نبویؐ میں ایک کاتب کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ ان بالغ لوگوں کی فہرست مرتب کرے جو نہ صرف جنگ کے قابل ہیں بلکہ اس پر آمادہ ہیں کہ جب انہیں بلایا جائے، فوراً فوجی مہم پر روانہ ہو جائیں، ایسےلوگوں کو بیت المال سے مستقل وظیفہ ملتا رہتا تھا۔ حضرت عمر نے رسول اللہﷺ کے قائم کردہ نظام کو مزید ترقی دی۔ ان کے زمانے میں حکومت کی آمدنی میں بہت اضافہ ہو گیا تھا لہذا وظائف بھی دیے جانے لگے۔ حتی کہ حضرت عمر کے زمانے میں غیر مسلموں کو بھی وظائف دیے جاتے تھے۔ غرض دیوان یا سیکرٹریٹ خود رسول اللہﷺ نے قائم فرمایا۔ بعض چیزوں کا انتظام حسب ضرورت رضاکارانہ ہوتا تھا مثلاً شروع میں اذان نہیں ہوتی تھی۔ جب نماز کے لیے لوگوں کو ایک مؤذن کی ضرورت محسوس ہوئی اور یہ طے پایا کہ اذان دی جائے تو رسول اللہﷺ نے حضرت بلال کو اس کام کے لیے منتخب فرمایا، کیونکہ ان کی آواز سریلی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ خود رسول اللہﷺ نے انہیں اذان کا طریقہ سکھایا اور یہ بھی بتایا کہ کس لفظ کو کھینچو، کس کو مختصر کرو، گویا موسیقی کی سریں، رسول اللہﷺ نے انہیں سکھائیں۔ اسی طرح ایک اور نائب یا مددگار مؤذن بھی مقرر کیا گیا تاکہ ہمیشہ ایک ہی آدمی پر اس کی ذمہ داری یا بار نہ ہو۔ یہ اور اس طرح کی بہت سی چیزیں ہمیں مذہبی نظام کے سلسلے میں ملتی ہیں۔ مسجد نبوی کے اندر صفائی کی ضرورت تھی۔ ایک حبشی مسلمان عورت نے رضاکارانہ اپنی خدمات پیش کیں۔ وہ روزانہ مسجد میں جھاڑو دیتی تھی اور قندیل میں لگائے ہوئے چراغ کو جلاتی۔ اس طرح کے انتظامات کا بھی ہمیں پتہ چلتا ہے جو بالکل ابتدائی حالت میں تھے، اور رفتہ رفتہ اس میں ترقی ہوتی گئی۔ ان انتظامات میں سے ایک نظام فوج کا بھی تھا۔ دفاع کے لیے فوج کی ضرورت تھی۔ شروع میں اسلامی حکومت کے پاس کافی مال نہ تھا۔ اس کا حل خدائے حکیم نے یوں کر دیا کہ جہاد کو مسلمانوں کا فریضہ قرار دیا گیا۔ ہر شخص پر واجب تھا کہ اسلام کے دفاع کے لیے اپنی جان اور مال کو قربان کرے۔ یہ نہیں کہ سو فی صد مسلمان ساری جنگوں میں حصہ لیں، بلکہ بوقت ضرورت ہر شخص کا فرض ہے کہ اپنے آپ کو پیش کرے۔ رسول اللہﷺ مطلوبہ تعداد میں لوگوں کو چن لیتے تھے اور انہیں مہم پر روانہ کرتے تھے۔\nاس سلسلے میں \"صفہ\" کا بھی ذکر کرنا چاہیے جس کا تعلق تعلیم و تربیت کے علاوہ فوج سے بھی ہے۔ بعض اوقات رسول اکرمﷺ کو کوئی اطلاع آئی کہ فلاں قبیلے کے خلاف تدبیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے، یعنی دشمن کو سزا دی جائے یا اس کا تعاقب کیا جائے۔ مثلاً کسی نے مدینے کے ایک گھر پر چھاپہ مارا تو ضرورت تھی کہ فوراً اس کے تعاقب کے لیے فوج کا ایک دستہ روانہ کیا جائے۔ ایسی ہنگامی ضرورت کے لیے \"صفہ\" کارآمد ہوتا۔ رسول اللہﷺ کی طرف سے یہ اعلان ہوتے ہی کہ ایک مہم کے لیے اتنے آدمیوں کی ضرورت ہے ، فوراً اصحاب صفہ کی ایک جماعت اس مہم پر روانہ ہو جاتی۔ ان کو دن یا رات میں کسی وقت بھی بلایا جا سکتا تھا لیکن اگر کوئی بڑی مہم بھیجنی ہوتی تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے تیاریاں کرنی ہوتیں۔ رسول اللہﷺ جمعہ کے خطبے میں یا کسی نماز کے بعد غیر معمولی اجتماع کر کے فرماتے کہ اتنے آدمیوں کی ضرورت ہے تو لوگ رضاکارانہ اپنے آپ کو پیش کر دیتے۔ اس سلسلے میں دلچسپ چیز یہ ہے کہ ان کے نام اور پتے نوٹ کیے جاتے تھے اور بعد میں اس کے مطابق انہیں اطلاع دی جاتی تھی کہ تم سب لوگ فلاں مقام پر فلاں وقت اپنے ہتھیار اور ضروری سامان کے ساتھ جمع ہو جاؤ۔ صرف یہی نہیں، فوجی نظام کے سلسلے میں اور بھی بے شمار باتیں ملتی ہیں۔ مثلاً رسول اللہﷺ ہمیشہ لوگوں کو ورزش کی ترغیب دیتے تھے، نشانہ بازی کی مشق کی بھی ہمیشہ تشویق دلاتے۔ خود بھی وہاں جاتے اور اپنے سامنے گھڑ دوڑ کراتے، اونٹوں کی دوڑ کراتے، آدمیوں کی دوڑ کراتے، کشتی کے مقابلے کرواتے اور لوگوں کو انعامات دیتے تھے۔ چنانچہ مدینہ منورہ میں آج بھی شمالی دروازے کے پاس ایک مسجد ہے جس کا نام مسجد سبق ہے۔ سبق کے معنی مسابقت میں جیتنا ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اس مقام پر جو ایک پہاڑی کے دامن میں ہے، بلندی پر کھڑے ہو جاتے تھے اور جب گھوڑے دوڑتے ہوئے آتے تو رسول اللہﷺ خود فیصلہ فرماتے کہ کون سا نمبر 1 ہے اور کون سا نمبر 2 اور 3 وغیرہ۔ مقریزی نے بیان کیا ہے کہ پانچ اول آنے والے گھوڑوں کو رسول اللہﷺ انعام دیا کرتے تھے اور یہ انعام کبھی کھجور کی صورت میں ہوتے تھے، کبھی کسی اور چیز کی صورت میں۔\nغرض ایک تو فوجی خدمت کا لازمی قرار دیا جانا، دوسری فوج کی تربیت، یہ دو انتظامات تھے جو رسول اللہﷺ نے فرمائے۔ ساتھ ہی ساتھ حکومت کے زیر اہتمام فوجی سامان کا ذخیرہ بھی جمع کرنا شروع کیا، مثلاً ہتھیار خریدنا، گھوڑے اور اونٹ خریدنا، ان کو سرکاری چراگاہ میں رکھنا، تاکہ بوقت ضرورت اگر سپاہیوں کے پاس ان کی ضرورتوں کی چیزیں ناکافی ہوں تو سرکاری طور پر بھی ان کو مدد دی جائے تاکہ فوج کے انتظامات ناکافی ہونے کی وجہ سے فوج کو نقصان اور تکلیف نہ ہو۔ ایک اور چیز جس کا نظام قائم کیا اور جس کا تعلق سیکرٹریٹ سے ہے، وہ ہے بیرونی قبائل اور حکمرانوں کو خطوط لکھنا اور معاہدات کو لکھنا۔ چنانچہ بیرونی حکمرانوں کو جو خطوط لکھے جاتے تھے ان مکتوبات نبوی کا سب سے قدیم ذخیرہ یا مجموعہ، جو ایک صحابی حضرت عمرو بن حزام کی طرف منسوب ہے اس کی روایت کر کے ابو جعفر دیبلی (ایک پاکستانی) نے ہم تک پہنچایا ہے۔ اس کے بعد اور لوگ بھی اس میں حصہ لیتے رہے اور انہوں نے مکتوبات نبوی کو جمع کرنے کی سعادت حاصل کی۔ بیرونی حکمرانوں سے مراسلت ہی نہیں، بلکہ ان کے پاس سفیروں کو بھیجنا ضروری تھا اور ہمیں ایسے متعدد لوگوں کے نام ملتے ہیں جو سفیر بنے۔ اس سلسلے میں ایک چیز جو دلچسپ اور قابل ذکر ہے وہ یہ کہ بعض مرتبہ غیر مسلموں کو بھی رسول اللہﷺ سفیر بنا کر بھیجتے تھے۔ غالباً غیر مسلموں سے قابل اعتماد شخصیتوں کو ان کی فطری صلاحیتوں کے پیش نظر سفیر بنایا گیا تھا چنانچہ لکھا ہے کہ حضرت عمرو بن امیہ الضمری کو ان کے مسلمان ہونے سے قبل حبشہ کے نجاشی کے پاس پیام دے کر بھیجا تھا۔ شاید وہ سابق میں بھی نجی طور پر حبشہ جا چکے تھے اور وہاں کے حالات سے واقف تھے بلکہ خود نجاشی سے شخصی تعارف تھا کیونکہ لکھا ہے کہ باپ کے مرنے پر یہ نجاشی کمسنی میں بادشاہ بنا اور چچا نائب السلطنت تھا جس نے چپکے سے بھتیجے کو غلام کے طور پر بعض عربوں کو فروخت کر دیا جو علاقہ بدر میں رہتے تھے (قبیلہ ضمرہ بھی وہیں رہتا تھا)۔\nسلطنت کے جو مختلف انتظامات رسول اکرمﷺ نے فرمائے ان میں مالیے کے ذکر کی ضرورت ہے، تعلیم کے ذکر کی بھی ضرورت ہے اور عدل گستری کے انتظام کا ذکر بھی لازمی ہے اور بھی انتظامات تھے لیکن یہ تین چیزیں ایسی ہیں جن پر کچھ کہے بغیر یہ تبصرہ بہت ہی نامکمل اور تشنہ رہے گا۔ جہاں تک مالیے یعنی حکومت کی آمدنی اور اس آمدنی کے خرچ کا تعلق ہے، یہ بہت ہی آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ زکوٰۃ جو اسلامی آمدنی کا سب سے بڑا وسیلہ ہے، یہ 9ھ میں یعنی رسول اللہﷺ کی وفات سے کوئی دو تین سال پہلے فرض کی گئی۔ اس سے پہلے کیا ہوتا رہا، اس کا جواب مشکل ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ قرآن مجید کی مکی آیتوں میں بھی زکوٰۃ کا ذکر ہے، اس لیے تصور کیا جاتا ہے کہ شروع میں بھی مسلمان زکوٰۃ کا ٹیکس ادا ضرور کرتے تھے لیکن نہ تو اس کی مقدار معین تھی، نہ وقت مقرر تھا۔ ہر شخص خوشدلی کے ساتھ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حتی الامکان کچھ نہ کچھ رقم یا کچھ اور چیزیں پیش کر دیا کرتا تھا۔ میں \"بظاہر\" کہتا ہوں> اس لیے کہ کوئی صراحت اس بارے میں ہمیں ابھی تک نہیں ملی۔ اسی طرح آمدنی کا ایک وسیلہ اور بھی تھا، جو مستقل نہیں وقتی تھا، یعنی مال غنیمت کا جو حصہ حکومت کو ملتا وہ حکومت کے خزانے میں محفوظ کیا جاتا اور رسول اللہﷺ مملکت اور ملت کی ضرورتوں پر اس کو خرچ کرتے۔ اس سلسلے میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عرب میں یہ رواج تھا کہ مال غنیمت کو ہر جنگ میں حصہ لینے والا سپاہی، جتنا وہ لوٹتا اور حاصل کر سکتا تھا، خود لے لیتا تھا۔ یہ نہیں ہوتا تھا کہ اس کو جمع کر کے سارے سپاہیوں میں تقسیم کیا جائے۔ البتہ ایک پابندی تھی وہ یہ کہ سپہ سالار کو ہر سپاہی اپنے مال غنیمت کا چوتھائی حصہ دینے پر مجبور تھا، جسے ربع کا نام دیا گیا ہے۔ رسول اکرمﷺ نے جو اصلاح فرمائی وہ سیاسی نقطہ نظر سے ایک غیر جانبدار ناظر کے لیے بھی دلچسپ ہے۔ آپؐ نے اولاً یہ فرمایا کہ حکومت کو چوتھائی نہیں پانچواں حصہ ملے۔ اس میں ایک ذیلی فائدہ یہ تھا کہ اگر غیر مسلم رضا کارانہ طور پر جنگ میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو اگر ہمارے دشمن کی فوج میں شریک ہوں تو انہیں چوتھائی حصہ دشمن کے سردار کو دینا پڑے گا۔ اس طرح انہیں اسلامی فوج میں شریک ہونے کے لیے زیادہ سے زیادہ تشویق ہوگی۔ اس اصلاح کا دوسرا اہم مقصد یہ تھا کہ مال غنیمت انفرادی نہ سمجھا جائے بلکہ سارے لوگوں کا جمع کیا ہوا مال غنیمت سارے لوگوں کے لیے ہو، حتی کہ ان لوگوں کے لیے بھی ہو جو کسی نہ کسی وجہ سے جنگ میں عملی حصہ نہیں لے سکے، مثلاً جنگ کے وقت ہمارے کیمپ کی حفاظت کی ضرورت ہے تاکہ دشمن وہاں کے مال و اسباب، جانوروں، بچوں اور عورتوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور اس پڑاؤ کی حفاظت کے لیے چند سپاہیوں کو متعین کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو جنگ میں عملی حصہ نہیں لیتے۔ رسول اکرمﷺ نے حکم دیا کہ مال غنیمت کو یکجا کیا جائے اور پھر سارے لوگوں کو اس میں برابر کا حصہ دیا جائے۔ سپہ سالار اور معمولی سپاہی میں کوئی فرق نہ ہونے پائے۔ چنانچہ سپہ سالار کو بھی اتنا ہی حصہ ملتا جتنا معمولی سپاہی کو۔ اگر فوج بڑی ہوتی تو اس کو ٹولیوں میں تقسیم کیا جاتا اور ہر ٹولی کے سردار نامزد ہوتے تھے لیکن ان کی حیثیت بھی مال غنیمت کی حد تک معمولی سپاہیوں سے زیادہ نہ تھی اور اگر فرق کیا جاتا تھا تو اس امر کا جس کے پاس گھوڑا ہوتا اس کو مال غنیمت میں سے پیادہ سے دگنا حصہ ملتا تھا۔ آمدنی کے ایک تیسرے وسیلے کا بھی امکان ہے اور وہ یہ کہ ملک میں جو زراعت ہوتی تھی، اس کی پیداوار کا ایک حصہ زمانہ قدیم سے اہل عرب کسی نہ کسی کو دینے پر مجبور تھے، مثلاً مکہ میں بتوں کے اوپر چڑھاوے کے طور پر کچھ پیداوار دی جاتی تھی۔ غالباً مدینے میں بھی کبھی ایسا ہوا ہوگا کہ لوگ اپنی پیداوار کا کچھ حصہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کرتے ہوں گے تاکہ دینی خدمات کے لیے اس کو صرف کیا جائے۔ بعد میں زکوٰۃ بن گئی۔ یہ ابتدائی انتظامات تھے۔ ان انتظامات کے سلسلے میں ایک اور چیز کا ذکر بھی کروں گا۔ حکومت کی آمدنی کی نگہداشت کی بھی ضرورت تھی اور یہ کام حضرت بلال کے سپرد تھا، جو مؤذن بھی تھے اور وزیر خزانہ بھی۔ لکھا ہے کہ مسجد نبوی کا ایک حجرہ اس کے لیے مخصوص تھا، جس میں تالا پڑا رہتا۔ یہ کمرہ حضرت بلال کی نگرانی میں رہتا اور اس میں سرکاری رقم اور سرکاری ملکیت کی چیزیں رکھی جاتی تھیں۔ ہمارے مفسروں کے بیان کے مطابق ہجرت کے بہت عرصہ بعد 9ھ میں زکوٰۃ کی آیتیں نازل ہوئیں کہ زکوٰۃ ایک واجبی چیز ہے اور زکوٰۃ ہر اس شخص کو دینا پڑے گی جو نصاب کا مالک ہو۔ یہ رقم مختلف قسم کی ہو سکتی ہے مثلاً زراعتی ہو تو اس کے لیے پیداوار کا دسواں حصہ ادا کرنا ہوگا۔ اگر تاجر ہے تو اس کو اپنے سرمایہ تجارت پر ڈھائی فی صد رقم دینا ہوگی۔ کسی کے پاس لوہے، سونے، چاندی یا اس زمانے کے لحاظ سے کسی اور چیز کی کانیں ہیں تو اس کی ایک مقدار حکومت کو دینی ہوتی تھی۔ اس سلسلے میں شہر مدینہ سے باہر ساری مملکت کے لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرنے کی غرض سے تحصیل دار بھیجے جاتے تھے۔ بعد میں مقامی محصل متعین ہوئے۔ غرض یہ کہ حکومت کے مالیے کے سلسلے میں ایک طرف تو آمدنیاں تھیں اور دوسری طرف خرچ۔ قرآن مجید میں آمدنی کے متعلق بہت کم اشارے ملتے ہیں لیکن خرچ کے متعلق ایک صریح حکم موجود ہے إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِینِ وَالْعَامِلِینَ عَلَیهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِینَ وَفِی سَبِیلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِیلِ ۖ فَرِیضَةً مِنَ اللَّهِ (60:9) اس آیت کو ہم اسلامی بجٹ کے اخراجات کے قواعد کی اساس قرار دے سکتے ہیں۔ ان شاء اللہ کسی آئندہ لیکچر میں اس آیت کے ہر ہر لفظ پر تفصیل سے گفتگو کروں گا۔ غرض یہ کہ رسول اکرمﷺ نے جو حکومت قائم کی تھی اس کے شعبہ مالیہ پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ علاوہ ان مستقل ذرائع آمدنی کے ایک اور چیز بھی نظر آتی ہے۔ کسی خاص موقع پر ایک بڑی رقم کی ضرورت ہوتی تو رسول اللہﷺ خطبہ دیتے اور مسلمانوں کو شوق دلاتے کہ ملک کی فلاں ضرورت کے لیے دل کھول کر چندہ دیں۔ اس سے ایک بات یاد آئی جس کا ذکر کرتا چلوں تاکہ آپ کو اندازہ ہو کہ اس زمانے میں مسلمان کیسے تھے۔ جنگ تبوک کا ذکر ہے دنیا کی سب سے بڑی سلطنتوں میں سے ایک یعنی بیزنطینی سلطنت سے جنگ چھڑ گئی۔ عرب کے بے خانماں بدوی مسلمانوں کو دشمن سے مقابلے کے لیے ایک مہینے کی مسافت طے کر کے بیزنطینیوں کی سرحد تک پہنچنا ہے۔ شدید گرمی کا زمانہ ہے۔ وسائل نقل و حمل کی ضرورت ہے وغیرہ وغیرہ، تو اس وقت رسول اللہﷺ نے لوگوں کو ترغیب دلائی کہ اللہ کی راہ میں دل کھول کر حصہ لو، انہوں نے حصہ لیا اور جنگ کامیاب رہی۔ جن لوگوں نے چندہ دیا ان میں سے صرف تین مثالیں میں آپ کو دیتا ہوں۔ سب سے پہلے حضرت عثمان آئے۔ یہ بہت مال دار تاجر اور بہت ہی مخیر دین دار آدمی تھے۔ اسلام کی ہمیشہ دل کھول کر مالی خدمت کرتے تھے۔ انہوں نے، مجھے جہاں تک یاد ہے، اس وقت چالیس ہزار اشرفیاں پیش کیں۔ ظاہر ہے کہ اتنی بڑی رقم تھی کہ آج بھی ہم اسے بڑی رقم کہہ سکتے ہیں۔ رسول اللہﷺ خوش ہوئے اور علاوہ اور باتوں کے دعا دینے کے بعد فرمایا کہ آج سے تم جو چاہو کرو، خدا نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر انہیں کیا مسرت ہو سکتی تھی کہ اس تھوڑے سے مال کے عوض، جو ان کا سارا مال نہیں تھا بلکہ صرف ایک جز تھا، یہ عظیم بشارت آپؐ سے حاصل کی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت عمر آئے۔ انہوں نے دس ہزار درہم پیش کیے۔ رسول اللہﷺ کے اس سوال پر کہ اہل و عیال کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہﷺ یہ میری آدھی جائیداد ہے، آدھا حصہ عیال کے لیے چھوڑا ہے۔ رسول اللہﷺ خوش ہوئے، ان کو بھی دعا دی۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر آتے ہیں اور صرف پانچ سو درہم کی رقم پیش کرتے ہیں۔ زیادہ نہیں، نہ چالیس ہزار اشرفیاں جس کے معنی ہیں چار لاکھ درہم، نہ دس ہزار درہم بلکہ صرف پانچ سو درہم۔ لیکن رسول اللہﷺ کے اس سوال پر کہ گھر میں کیا چھوڑ آئے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور رسول اللہﷺ کی محبت کے سوا کوئی چیز نہیں۔ ظاہر ہے کہ اس شخصیت کا دنیا کے کسی انسان کے ساتھ ہم مقابلہ نہیں کر سکتے۔ نبی کے بعد مرتبے کا کوئی شخص ہوتا ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے جو اللہ کی راہ پر اپنی ہر چیز قربان کر دیتا ہے۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے اسلام کو پھیلایا۔\nاس کے بعد میں آپ سے تعلیم کے متعلق ذکر کروں گا۔ ہمارے نبی رسول اکرمﷺ پر سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی اس کا پہلا لفظ \"اقراء\" تھا یعنی پڑھو۔ اس کے بعد رسول اکرمﷺ کی ساری عمر امت میں لکھنے پڑھنے اور دینی و اخلاقی تعلیم کو رائج کرنے کی سعی میں گزری۔ دو ایک مثالیں میں آپ کو دوں گا۔ مدینہ منورہ میں پہنچے تو سب سے پہلا کام مسجد کی تعمیر کا تھا اور اس مسجد کے اندر \"صفہ\" ایک حصہ تھا جو تعلیم کے لیے مخصوص تھا۔ \"صفہ\" چبوترے یا پلیٹ فارم کو کہتے ہیں۔ مسجد کے ایک حصے میں ڈائس کے طور پر ایک چبوترہ بنا دیا گیا تھا جو دن کے وقت تعلیم گاہ کا کام دیتا تھا اور رات کے وقت بے خانماں لوگوں کے لیے سونے کی جگہ بنتا۔ گستاخی معاف! گویا یہ پہلی اقامتی (Residential) یونیورسٹی تھی جو رسول اللہﷺ نے قائم فرمائی۔ پہلے ہی دن سے شہر کے باشندے بھی وہاں آنے لگے۔ بے خانماں لوگ حصول تعلیم کے لیے وہیں رہتے تھے۔ مختلف لوگوں کی ضرورتوں کے پیش نظر مختلف قسم کی تعلیم دی جاتی۔ جو لوگ بالکل ہی ان پڑھ تھے ان کو لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا۔ اس کا بھی وہاں انتظام تھا کہ جو لوگ لکھنا پڑھنا چاہتے تھے ان میں سے کسی کو قرآن مجید پڑھ کر اس کے معنی سمجھائے جاتے یعنی تفسیر کی تعلیم دی جاتی، کسی کو کچھ، کسی کو کچھ۔ بعض بڑی اثر انگیز مثالیں بھی ملتی ہیں۔ ایک صاحب کو اس بات پر مامور کیا گیا کہ وہ لوگوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں، کیونکہ وہ بہت خوش نویس تھے۔ ایک اور صاحب کو قرآن کی تعلیم پر مامور کیا گیا۔ ایک دن وہ آ کر کہنے لگے یا رسول اللہﷺ میں نے ایک شخص کو قرآن کی تعلیم دی اور اس نے اظہار تشکر کے طور پر مجھے ایک کمان دی ہے کہ اللہ کی راہ میں اس سے جہاد کروں، کیا میں اسے لے سکتا ہوں؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ دوزخ کی آگ کی کمان ہے۔ چنانچہ وہ دوڑے ہوئے گئے، اس شاگرد کو واپس کر دیا۔ حالانکہ رسول اللہﷺ سے انہوں نے وضاحت کر دی تھی کہ میرا شاگرد چاہتا ہے کہ میں اس سے جہاد فی سبیل اللہ کروں مگر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اس میں ایک شائبہ یہ ہے کہ تم تعلیم کا معاوضہ لینا چاہتے ہو۔ ابتداء میں ہر چیز رضاکارانہ طور پر تھی۔ ممکن ہے بعد کے زمانے میں جب حکومت کی طرف سے، مدینے میں بھی اور مدینے سے باہر بھی، تعلیم دینے کے لیے اساتذہ مامور کیے گئے تو انہیں حکومت کی طرف سے تنخواہیں دی جاتی ہوں لیکن تعلیم کے سلسلے میں شاگردوں سے کچھ لینے کی صریحاً ممانعت کی گئی۔ تعلیم کے انتظام کے بارے میں ایک مثال دیتا ہوں۔ حضرت معاذ بن جبل کو یمن میں انسپکٹر جنرل آف ایجوکیشن کے طور پر بھیجا جاتا ہے۔ ان کا فریضہ حسب بیان طبری یہ تھا کان ینتقل من عمالۃ عامل الی عمالۃ اخریٰ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں، ایک کمشنری کے یا ایک عہدیدار کے علاقے کے بعد دوسرے عہدیدار کے علاقے میں جاتے تھے اور وہاں تعلیم کا بندوبست اور انتظام کرتے تھے۔ جب یمن کے متعلق یہ صراحت ملتی ہے تو کوئی تعجب نہیں کہ دوسرے صوبوں میں بھی ایسا ہی انتظام کیا گیا ہو اور وہ اس نہج پر ہوا ہوگا کہ مقامی مدرس بھی مامور کیے جائیں۔ صدر مدرس بھی اور مدرسوں کے ناظرہ وغیرہ بھی مامور کر دیے ہوں گے تاکہ حکومت کی نگرانی بھی تعلیم پر رہے اور اگر کوئی شکایت یا خرابی نظر آئے تو اس کی اصلاح اور سد باب بھی کیا جا سکے۔\nاب عدلیہ کے متعلق بھی کچھ عرض کروں گا۔ اس کی ضرورت تھی اور اس کا رسول اللہﷺ نے بندوبست بھی کیا۔ ابتداء میں مسلمانوں کی تقریباً ساری آبادی شہر مدینہ میں تھی ان کی تعداد چند سو سے زیادہ نہ تھی۔ مسلمانوں میں تو لڑائی جھگڑے کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے لیکن انسانی فطرت کے تقاضے سے اگر کبھی جھگڑا یا اختلاف ہو جاتا تو لوگ یا تو اپنے قبیلے کے سردار سے رجوع کرتے یا رسول اللہﷺ کے پاس آتے اور فی الفور وہ مقدمہ طے پا جاتا اور فیصلہ نافذ کیا جاتا۔ ہر شخص کو اجازت تھی کہ اعلیٰ ترین افسر عدالت، حکمران ملک یعنی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی شکایتیں پیش کرے اور فیصلہ پائے۔ رفتہ رفتہ جب سلطنت کی توسیع ہوئی تو مختلف مقامات پر عدالتی انتظامات کی ضرورت پیش آئی۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ چیز یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ جب یمن کے علاقے نجران کے عیسائی مدینہ منورہ آئے تو انہوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا، لیکن اسلامی مملکت کے ماتحت رہنے کو قبول کر لیا۔ کچھ شرطیں بھی طے کیں کہ ہمارا گرجا برقرار رہے، اپنے گرجاؤں کے سردار کو ہم ہی متعین کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ آخر میں انہوں نے مسلمان حاکم عدالت کی غیر جانبداری پر اعتماد کرتے ہوئے رسول اللہﷺ سے درخواست کی کہ انہیں ایک مسلمان جج مہیا کیا جائے۔ چنانچہ رسول اکرمﷺ حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو روانہ کرتے ہیں کہ وہ \"امین ھذا الامۃ\" یعنی مسلمانوں میں قابل اعتماد شخص ہیں۔ انہوں نے وہاں اپنے فرائض اس خوبی سے انجام دیے کہ ملک میں جلد ہی اسلام پھیلنے لگا۔ بہت سے عیسائی مسلمان ہو گئے۔ مختلف مقامات کے قاضیوں کو مختلف ہدایات دی جاتی رہیں مثلاً ایک مرتبہ حضرت علی کو ایک جگہ کا قاضی بنا کر بھیجا گیا۔ یہ بالکل نوجوان تھے۔ انہیں قاضی نامزد کیا گیا تو کہنے لگے کہ یا رسول اللہﷺ! میں نے کبھی یہ کام کیا ہی نہیں، یہ خدمت کیسے انجام دوں گا؟ رسول اللہﷺ نے ان سے کہا کہ ایک بنیادی اصول میں تمہیں بتاتا ہوں۔ جب کوئی شخص تمہارے پاس آئے اور کوئی شکایت پیش کرے تو صرف اسی کی بات سن کر فیصلہ نہ کرو، جب تک مدعی علیہ یا فریق ثانی کو بھی بلا کر اس کا بیان نہ سن لو، پھر دونوں کے بیانات کی روشنی میں تم اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کر سکتے ہو۔ حضرت علی کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں ساری عمر عدالتی فیصلے کرتا رہا ہوں، مجھے کبھی جھجک محسوس نہیں ہوئی، کیونکہ بنیادی اصول یہ تھا کہ دونوں آدمیوں کی باتیں سنوں اور اس کی روشنی میں صحیح نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کروں۔\nیہ تمام امور تھے جن کی اساس پر اسلامی مملکت کے مختلف محکموں اور مختلف اداروں کا آغاز ہوا تھا۔ تعلیم کا بھی آغاز ہوا اور فوج کا بھی انتظام ہوا۔ مالیے کا بھی انتظام ہوا اور سرکاری سیکرٹریٹ کا بھی انتظام ہوا۔ غرض جن جن چیزوں کی اس وقت ضرورت تھی، ان میں ہر ایک کا حسب ضرورت انتظام کیا گیا۔ بعد کے زمانے میں جو ترقی یافتہ انتظامی ادارے نظر آتے ہیں، ان سب کی بنیاد عہد نبوی کی اس اسلامی مملکت کی ایک خصوصیت کی طرف اشارہ کیے بغیر اسے ختم نہ کروں گا۔ یہ وہ مشرکین قریش کے زیر تسلط شہری مملکت مکہ کے متعلق رسول اکرمﷺ کا تصور یہ تھا کہ وہ لوگ واقعے کی حد تک (Defacto) تو بیشک اس کے مالک ہیں لیکن استحقاق کی حد تک (Dejure) وہ مسلمان اور رسول اکرمﷺ کی چیز ہے۔ اس لیے جنگ بدر کے سلسلے میں ذکر آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے جب سنا کہ قریش کا جھنڈا خاندان عبد الدار کے ایک مشرک کے ہاتھ میں ہے تو فرمایا کہ حق رسانی اسلام کا فریضہ ہے اور یہ کہہ کر اپنا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر العبدری کے (جو اسی خاندان کے ایک مسلمان تھے) سپرد فرمایا۔ صلح حدیبیہ کے وقت مشرکین سے گفت و شنید کے لیے ایک شخص کو مکہ بھیجنے کی ضرورت تھی۔ اس پر حضرت عمر کا انتخاب کیا گیا، وہ سابق میں مکہ میں موروثی وزیر خارجہ تھے۔ حضرت خالد بن ولید کو اسلام لانے کے بعد اسلامی سوارہ فوج کا افسر بنا دیا گیا کہ مکہ میں وہی ان کا منصب تھا۔ حضرت ابو بکر کو رسول اللہﷺ نے مدینے میں مفتی مقرر فرمایا۔ یہ مکہ میں بھی ان کا فریضہ رہا تھا۔ فتح مکہ پر حضور اکرمﷺ کے چچا حضرت عباس نے چاہا کہ خانہ کعبہ کی چابی انہیں دے دی جائے۔ رسول اللہﷺ نے انکار کیا اور قدیم موروثی کلید بردار کو، جو مسلمان ہو گیا تھا، وہ چابی مکرر عطا فرمائی اور دیگر فرائض کے متعلق بھی موروثی لوگوں کی تلاش کا ذکر ملتا ہے۔ اس سے میری ناقص رائے میں یہ استنباط کیا جا سکتا ہے کہ ہجرت کے بعد اولاً رسول اکرمﷺ اپنے کو شہری مملکت مکہ کا بالاستحقاق (Dejure) حکمران سمجھتے رہے، چاہے مشرکین ہی واقعے کی حد تک (Defacto) اس پر مسلط رہیں۔ فتح مکہ کے بعد یہ دونوں امور رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں آ گئے اور اسی کی طرف قرآن مجید (30:8 تا 34) میں واضح ذکر ہے کہ وَإِذْ یمْكُرُ بِكَ الَّذِینَ كَفَرُوا لِیثْبِتُوكَ أَوْ یقْتُلُوكَ أَوْ یخْرِجُوكَ ۚ وَیمْكُرُونَ وَیمْكُرُ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَیرُ الْمَاكِرِینَ ()وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَیهِمْ آیاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَٰذَا ۙ إِنْ هَٰذَا إِلَّا أَسَاطِیرُ الْأَوَّلِینَ () وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَینَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِیمٍ ()وَمَا كَانَ اللَّهُ لِیعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِیهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ یسْتَغْفِرُونَ ()وَمَا لَهُمْ أَلَّا یعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ یصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا كَانُوا أَوْلِیاءَهُ ۚ إِنْ أَوْلِیاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا یعْلَمُونَ () ضمنا یہ بھی یاد دلا دوں کہ حکومت تو خدا کی ہے اور اسی نے زمین میں ہمیں نائب بنایا ہے، اسی لیے اسی کے احکام نافذ کرنا ہمارا فریضہ ہے۔ والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ\n\n==== سوالات و جوابات ====\n\nبرادران کرام! خواہران محترم! السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ!\nکچھ سوالات آپ کی طرف سے آئے ہیں، اپنی بساط کے مطابق جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔\n=====سوال1:=====\nآپ نے کہا کہ بیت المعمور سے اگر ایک پتھر پھینکیں تو کعبہ کی چھت پر گرے گا۔ جدید علم کی روشنی میں زمین متحرک ہے اس لحاظ سے کعبہ کا مقام بیت المعمور کے لحاظ سے (Relatively) تبدیل ہوتا رہے گا۔ وضاحت فرمائیں۔\n=====جواب:=====\nغالباً آپ نے میرے اشارے کے چند الفاظ پر توجہ نہیں دی۔ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ ایک دوسرے عالم کی چیز ہونے کی وجہ سے ہماری دنیا کی چیزوں سے مختلف ہے۔ اسے ہم بطور رمز یا علامتی (Symbolic) انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ سمجھانے کا یہ انداز اس لیے اختیار کیا گیا کہ اہل زمین کو زمینی چیزوں کے مطابق سمجھایا جا سکے۔ دوسرے عالم کی چیزوں کو زمینی اساس پر ہم معلوم نہیں کر سکتے۔\nدوسری چیز میں آپ سے مزاحاً پوچھوں گا کہ اگر زمین متحرک ہے تو آپ کیوں فرض کر لیتے ہیں کہ آسمان متحرک نہیں۔ اگر آسمان بھی اسی طرح گردش کرتا ہے تو اس کی جگہ میں کبھی فرق نہیں آتا۔ بہرحال اس کے متعلق سوائے اس کے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا کہ حدیث شریف میں اس کا ذکر آیا ہے۔ اس کو اگر رمز کے طور پر (Symbolic) لیں تو ہم اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ آج کے علم میں ہو سوال کریں تو ہمیں کل کا کوئی علم اور چیز بیان کرے گا۔ اس لیے ہمیں اپنے اضافی (Relative) علوم کی اساس پر ان روحانی حقائق اور عالمی بالا کی چیزوں کو نہیں جانچنا چاہیے۔\n=====سوال2:=====\nآپ نے ابھی اپنے لیکچر میں بتایا ہے کہ حضورﷺ حضرت بلال کو اذان سکھائی اور یہ بتایا کہ کن لفظوں کو کھینچ کر ادا کرنا چاہیے اور کن لفظوں کو اختصار سے، اس طرح موسیقی کے سر بتائے۔ اس بیان کی روشنی میں وضاحت کریں کہ موسیقی کی اسلام میں کس حد تک گنجائش ہے؟\n=====جواب:=====\nیہی نہیں اور بہت سی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیقی کی اسلام میں ممانعت بالکل نہیں ہے اگر ممانعت ہے تو اس بات کی کہ مثلاً نماز کے وقت موسیقی کا شغل جاری رکھا جائے یا اس کا منشا ایسی تفریح ہو جو اخلاقی نقطہ نظر سے بری سمجھی جاتی ہے۔ میں آپ کو کچھ مثالیں دیتا ہوں جن سے یہ ظاہر ہوگا کہ فی نفسٖہ موسیقی کی ممانعت نہیں ہے۔ ایک دن رسول اللہﷺ نے ایک نکاح کی دعوت سے واپس آ کر حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ اے عائشہ! آج میں تمہارے خاندان کے ایک فرد کی شادی میں گیا تھا، مگر وہاں کوئی موسیقی نہیں تھی، یہ کیسی بات ہے؟ یعنی رسول اللہﷺ فرماتے ہیں کہ نکاح کے سلسلے میں موسیقی کی ضرورت ہے۔ ایک اور مثال دیتا ہوں، یہ حجۃ الوداع کے زمانے کا واقعہ ہے۔ رسول اللہﷺ \"منیٰ\" میں مقیم تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ وہاں میرے خیمے کے اندر جہاں رسول اللہﷺ لیٹے ہوئے تھے اور چہرے پر چادر ڈال کر آرام فرما رہے تھے، میرے پاس چند لڑکیاں دف بجا رہی تھیں۔ اتنے میں حضرت ابو بکر رسول اللہﷺ سے ملنے کے لیے آئے اور ان لڑکیوں کو ڈانٹا، یہ کیا شیطانی کام ہے، جاؤ نکلو یہاں سے، رسول اللہﷺ جو سوئے ہوئے نہیں تھے، سر اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں اے ابوبکر! یہ عید کا دن ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے بلکہ اس کے بر خلاف ہونا چاہیے۔ اسی طرح ایک اور عید کے سلسلے میں مدینہ منورہ کا واقعہ ہے۔ غالباً 2 یا 3ھ یعنی بہت ہی ابتدائی زمانے کا واقعہ ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں عید کے دن رسول اللہﷺ کے مکان کے سامنے کچھ شور سننے میں آیا ۔رسول اللہﷺ اٹھے، دیکھا کہ کیا ہے؟ میں بھی اٹھی تاکہ اس تماشے کو دیکھوں۔ مدینہ منورہ میں حبشیوں کی ایک آبادی تھی۔ عید کے دن یہ لوگ خصوصاً نوجوان حبشی مدینے کی گلیوں میں سے گزرتے اور اپنے نیزہ بازی کے کرتب ہر مکان کے سامنے دکھاتے اور مکان والا یقیناً انہیں ان کو کچھ نہ کچھ دیتا۔ آپﷺ نے ان حبشیوں کو روکا نہیں بلکہ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ مجھ کو دکھانے کے لیے بلا لیا۔ تھوڑی دیر کے بعد پوچھا عائشہ! بس دیکھ چکیں؟ میں نے کہا نہیں، ابھی اور دیکھوں گی، ٹھہر جائیے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ بالآخر جب میں خود ہی تھک گئی تو میں اندر چلی گئی۔ ان حبشی بچوں کے بارے میں ایک اور بات یاد آ گئی، عرض کیے دیتا ہوں۔ جب رسول اللہﷺ ہجرت کر کے مدینہ پہنچے۔ لوگ \"قبا\" میں آپﷺ کا انتظار کرتے رہے۔ روایت ہے کہ مدینے کی ساری آبادی، کیا مسلمان، کیا غیر مسلم، اپنی مہمان نوازی کے اظہار کے لیے استقبال میں شریک تھی۔ یہ حبشی لڑکے بھی دوڑے ہوئے آئے اور اپنے نیزہ بازی کے کرتب رسول اللہﷺ کے سامنے دکھانے لگے۔ اس سے ان کی فراخ دلی اور وسیع القلبی کا مظاہرہ ہوتا ہے چنانچہ رسول اللہﷺ بھی ان لوگوں کا تالیف قلبی کیا کرتے تھے اور ان سے محبت سے پیش آتے تھے اور غالباً ان کی مالی مدد بھی کیا کرتے تھے۔ اسی طرح موسیقی کے سلسلے میں آپ ایک اور چیز بھی دیکھئے۔ قرآن مجید کی تلاوت بھی موسیقی ہی کی ایک شاخ ہے۔ رسول اللہﷺ کے احکام ہیں کہ قرآن حکیم کو معمولی نثری عبارت کی طرح نہ پڑھو کہ دھول اڑانا سمجھا جائے بلکہ خوش الحانی سے پڑھو اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ نے کسی غنا، کسی گانے کی اجازت اتنی نہیں دی ہے جتنی قرآن مجید کی اچھی آواز سے تلاوت کرنے کی اجازت دی ہے۔ ایک دوسری حدیث یہ ہے کہ خدا کسی گانے کی آواز پر اتنا کان نہیں دھرتا جتنا قرآن مجید کی اچھی تلاوت کرنے پر اپنے کان لگاتا ہے۔ غرض یہ کہ موسیقی کی کوئی اصولی ممانعت نہیں ہے، بشرطیکہ موسیقی کا مقصد اچھا ہو اور اس سے ہماری مذہبی عبادت میں کوئی حرج واقع نہ ہو۔ اگر مزید تفصیل درکار ہو تو امام غزالی کی کتاب \"احیاء العلوم\" کو دیکھئے۔ اس میں ایک پورا ضخیم باب اس موضوع پر ہے۔ وہ تفصیل سے بتاتے ہیں کہ اسلام میں موسیقی اور گانے کی کیا حیثیت ہے۔\n=====سوال3:=====\nمرحوم کی قل خوانی اور چہلم کے متعلق آپ کا نظریہ کیا ہے؟ یہ شرعی حکم ہے؟ آنحضورﷺ اور خلفائے راشدین کے حوالے سے اس رسم کا کوئی ذکر آیا ہے؟\n=====جواب:=====\nمیں عرض کروں گا کہ اگر کسی کی وفات کے تیسرے دن، دسویں دن، چالیسیوں دن ہم کچھ کرنا چاہیں تو وہ کام یہ ہونا چاہیے کہ قرآن مجید کی تلاوت کریں اور اس کا ثواب متوفی شخص کو پہنچانے کی اللہ سے دعا کریں۔ اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے، چاہے ہر روز کریں، چاہے ہر سال، چاہے ابتداءً متعدد بار کریں، کوئی امر مانع نہیں ہوتا اور میرے مرنے کے بعد اگر آپ میرے لیے بھی دعا کریں تو میں آپ کا ممنون ہوں گا۔.\n\n==حوالہ==\n\n==مزید دیکھیں==\n\nAuthor:ابو الکلام آزاد", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%88%D9%84%D9%BE%D9%88%D8%B1"} {"title": "خطبہ صدارت انڈین اورینٹل کانفرنس، بڑودہ", "poet_page": "مصنف:مولوی عبد الحق", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(یہ خطبہ صدارت انڈین اورینٹل کانفرنس منعقدہ بڑودہ (دسمبر ۱۹۳۴ء) میں بحیثیت صدر شعبۂ اردو پڑھا گیا۔)\n\nحضرات!سارے ہندستان میں زبانوں کا ایک نسا جال پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کے کسی ملک میں اتنی زبانیں نہیں بولی جاتیں جتنی ہمارے دیس میں۔ اتر والا دکھن میں اور دکھن والا پورب اور پچھم میں ایسا ہی اجنبی ہے جیسا کوئی ہندستانی افریقہ کے کسی خطے میں۔ ندرت کے خیال سے اگر کوئی اس پر فخر کرے تو شاید بے جا نہ ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالات میں یہ بھی ملک کی ایک بڑی بدنصیبی ہے۔قومی اتحاد کے مستحکم کرنے اور قوموں کے بنانے میں زبان کابھی حصہ ہے۔ جہاں زبانیں اس کثرت سے ہوں جتنی یہاں ہیں، وہاں خیالات کی اشاعت اور باہمی اتحاد میں ضرور مشکل پیش آتی ہے اور یہ مشکل اس وقت ہمارے سامنے بھی ہے۔ لیکن اس افراتفری میں امید کی ایک جھلکی اس میں نظر آتی ہے کہ انہیں زبانوں میں ایک ایسی بھی ہے جو ملک کے مختلف حصوں میں بولی جاتی اور اکثر حصوں میں سمجھی جاتی ہے اور اس کے بولنے والوں کی تعداد بھی اس قدر کثیر ہے کہ ہندستان کی کسی اور زبان کو نصیب نہیں۔ اسے اب آپ اردو کہیے یا ہندستانی۔ زبان کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ اس کی کوئی قوم اور ذات ہوتی ہے۔ اردو کی سرشت اور ساخت اس قسم کی ہے اور اس کی نشوونما اس ڈھنگ سے ہوئی ہے کہ وہ بلا لحاظ قوم و ملت تقریباً سارے ہندستان کی زبان ہے یا ہو سکتی ہے۔اردو مشترکہ زبان ہےیوں تو دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں جس میں غیر زبانوں کے لفظ نہ پائے جاتے ہوں کیونکہ کوئی قوم دنیا میں بالکل الگ تھلگ نہیں رہ سکتی، دوسری قوموں کے میل جول سے لامحالہ کچھ نہ کچھ لفظ ان کی زبان کے آ ہی جاتے ہیں، لیکن قطع نظر اس کے بعض زبانیں ایسی ہیں جو دوسری زبانوں کے اثر اور میل سے کھچڑی بن گئی ہیں۔ یہ مخلوط زبانیں کہلاتی ہیں۔ ایک زمانے تک علمائے لسانیات کو مخلوط زبانوں کے وجود سے انکار رہا لیکن مابعد کی تحقیقات نے قطعی طور سے ثابت کر دیا ہے کہ ایسی زبانیں موجود ہیں۔ انہیں میں ہماری زبان اردو کا شمار ہے۔ خود ریختہ کا لفظ جو پہلے اردو کا معروف نام تھا، اس خیال کی تائید کرتا ہے۔مخلوط زبان کے وجود میں آنے کے متعدد اسباب ہوتے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک کشور کشائی ہے، یعنی ایک ملک یا قوم کا دوسرے ملک یا قوم کو فتح کرنا۔ ہماری مخلوط زبان کا ابتدائی تعلق اسی سے ہے۔ اس کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک تو جیسے آریاؤں کا ہندستان میں آنا کہ وہ بالکل یہاں منتقل ہو گئے یاان کے مختلف قبائل فاتح کی حیثیت سے آگے پیچھے مسلسل طور پر یہاں آکر بس گئے۔ دیسیوں کو یاتو مار بھگایا، غلام بنا لیایا اپنے میں جذب کر لیا۔ ملک کے بڑے حصے پر انہیں کی زبان چھا گئی اور بعد میں اس سے بگڑ بگڑ اکر یا خلط ملط ہوکر دوسری پراکرتیں پیدا ہو گئیں۔ یا جیسے اہل یورپ کا امریکہ یا آسٹریلیا پر مسلط ہو جانا، جہاں انہیں کی زبان کا بول بالا ہے اور سب ایک ہی زبان بولتے اور پڑھتے لکھتے ہیں۔دوسری صورت مسلمانوں کی آمد کی ہے، وہ بھی آریاؤں کی طرح فاتح کی حیثیت سے آئے۔ ان کی تعداد اہل ملک کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ وہ فارسی بولتے تھے اور اہل ملک ہندی۔ ان حالات میں جیسا کہ دستور ہے کاروباری، ملکی اور معاشرتی ضرورت سے مسلمان بول چال میں ہندی الفاظ استعمال کرنے کی کوشش کرتے تھے اور ہندو فارسی الفاظ۔ کچھ عرصے تک تو مسلمانوں کا تعلق اپنے اصلی ملک سے رہالیکن رفتہ رفتہ یہ تعلق کم ہوتا گیا اور وہ یہیں کے ہو گئے۔ اس تعلق کے استقلال کے ساتھ اس زبان کو بھی استقلال ہو گیا۔ اگر چہ سرکاری درباری زبان فارسی تھی اور مسلمانوں کی تعلیمی زبان بھی یہی تھی لیکن نوکر چاکروں، بیوی بچوں اور ملک کے دوسرے لوگوں سے جو اس زبان سے واقف نہ تھے، انہیں ٹوٹی پھوٹی ہندی ہی میں باتیں کرنی پڑتی تھیں۔ادھر اہل ملک کی ایک بڑی تعداد ایسی تھی جس کا تعلق دفاتر اور دربار اور امرا وغیرہ سے تھااور بہت سے ایسے تھے جو حلقۂ اسلام میں آ گئے تھے۔ وہ سب فارسی جانتے اور بولتے تھے لیکن اصل زبان ان سب کی ہندی ہی تھی۔ اس لیے اس مخلوط زبان کو بہت زیادہ تقویت پہنچی اور دن بدن فروغ ہوتا گیا۔ ایک عالم لسانیات Prof. Windisch کا قول ہے اور بہت صحیح ہے کہ ’’غیر زبان جو کسی قوم کو سیکھنی پڑتی ہے مخلوط نہیں بنتی بلکہ اس کی اپنی زبان غیر زبان کے اثر سے مخلوط بن جاتی ہے۔‘‘ بعینہٖ یہی حال مسلمانوں کے آنے کے بعد اس ملک میں ہوا۔ فارسی مخلوط نہیں ہوئی بلکہ ہندی فارسی سے مخلوط ہوکر ایک نئی زبان بن گئی اور ہندی میں فارسی مخلوط کرنے والے اہل ہند تھے۔جب کبھی ہم غیر زبان کے سیکھنے یا بولنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ہماری ا پنی زبان کا کوئی لفظ نہ آنے پائے۔ ہماری کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہم اس زبان (یعنی غیر زبان) کو صحیح اور فصیح بولیں اور اس بات کی سخت احتیاط کرتے ہیں کہ ہماری گفتگو میں ہماری زبان کے الفاظ یا طرز اداکاشائبہ نہ پایا جائے۔ مگر غیر زبان کے بولنے میں ہم جس بات سے اس قدر پرہیز کرتے ہیں، اس کا ہم اپنی زبان میں خیال نہیں کرتے۔ مثلاً انگریزی کا آج کل ہمارے ہاں عام رواج ہے۔جب کوئی ہندوستانی انگریزی بولتا ہے تو اپنی گفتگو میں حتی الامکان کبھی اپنی زبان کا لفظ نہیں آنے دیتا اور جہاں تک ہو سکتا ہے، اہل زبان کی تقلید کرتا ہے اور یہی نہیں بلکہ انگریزی لب و لہجہ کی نقل اتارنے کی کوشش کرتا ہے۔ برخلاف اس کے اپنی زبان میں گفتگو کرتے وقت بیسیوں انگریزی لفظ بلا تکلف استعمال کر جاتا ہے۔ یاتواس سے اپنی مشیخت اور علمی فضیلت جتانی مقصود ہوتی ہے یا پھر وہ ناواقفیت یا کاہلی کی وجہ سے ایسا کرتا ہے۔ کاہلی ان معنوں میں کہ اسے اتنی توفیق نہیں ہوتی کہ اپنی زبان میں ان کے مترادف الفاظ تلاش کرے۔ اس میں وہ کسی قدر مجبور بھی ہے۔فاتح قوم کی زبان کے مطالعہ، لکھنے، بولنے اور سننے سے معمولی اور عام ضرورت کے لفظ بھی اس کی زبان پر اس طرح چڑھ جاتے ہیں کہ بلاارادہ بھی اپنی زبان میں انہیں بول جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک وجہ اور بھی ہے۔ وہ بعض حالات میں غیر زبان (یعنی فاتح قوم کی زبان) کے خاص خاص الفاظ اس لیے بھی استعمال کرتا ہے کہ اس کے خیال میں (اور یہ ایک حد تک صحیح بھی ہے) ان لفظوں کے استعمال سے وہ اپنا مفہوم زیادہ خوبی اور قوت کے ساتھ سامعین کے دل نشین کر سکتا ہے۔ حالانکہ اسے علم ہے کہ ان الفاظ کے مترادف اس کی زبان میں موجود ہیں مگر وہ انہیں استعمال نہیں کرتا، اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ ان سے کلام میں وہ زور پیدا نہیں ہوتا۔آپ کو یاد ہوگا کہ تیس چالیس برس پہلے سویلزیشن، ریفارم، پولٹیکل، سیلف ریسپکٹ وغیرہ وغیرہ الفاظ ہماری زبان میں عام تھے۔ ان کے استعمال کرنے والے سب کے سب ان کے مترادف الفاظ سے ناواقف نہ تھے لیکن وہ جانتے تھے کہ اپنے الفاظ سے پورا مفہوم جو وہ چاہتے ہیں اور جو ان انگریزی الفاظ میں موجو د ہے، ادا نہ ہوگا۔ اب جو ہم ان کی جگہ اپنے لفظ استعمال کرنے لگے تو رفتہ رفتہ ان میں بھی وہی کس بل پیدا ہو گیا۔ ان سب باتوں سے غیر زبان (یافاتح قوم کی زبان) کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ فضیلت بھی کئی قسم کی ہوتی ہے لیکن طوالت کے خوف سے میں اس موضوع پر یہاں بحث نہیں کروں گا۔زبان میں وسعت کیسے ہوتی ہے؟جو عام اصول میں نے ابھی بیان کیا ہے وہ ہندستان کے اسلامی عہد میں حرف بحرف عمل میں آیا۔ ملکی تسلط کے وقت فاتح قوم کی زبان فارسی تھی۔ امرااور بادشاہ، درباراور دفتر میں رسائی کا ایک بڑا ذریعہ یہ زبان بھی تھی۔ جیسا کہ ہونا چاہیے تھا اور ہوتا آیا ہے، ہندوؤں نے فارسی سیکھنی شروع کی اور ایسی سیکھی کہ استاد ہو گئے اور ان میں سے بعض کا کلام یہاں تک مقبول ہواکہ درس میں داخل ہو گیا۔ فارسی میں ہندو تعلیم یافتہ طبقہ کی ترقی نہایت حیرت انگیز اورقابل تعریف ہے۔ فارسی کا جاننا حصول علم اور ضروریات زمانہ ہی کی خاطر نہ تھا بلکہ فارسی تہذیب و شائستگی کی علامت سمجھی جانے لگی تھی اور جیسا کہ دستور ہے، فیشن میں داخل ہو گئی تھی۔متواتر مطالعہ، انشاوشعر وسخن کی مشق، سرکاری اور دفتری نوشت وخواند کی وجہ سے اہل ملک کی طبائع میں ایسی رچ گئی تھی کہ انہوں نے فارسی لفظ ملکی زبان میں دھڑا دھڑ داخل کرنے شروع کر دیے۔ ایسے الفاظ کا داخل ہونا، جو یہاں کے لیے نئے تھے یا ملکی زبانوں میں ان کے ہم معنی دستیاب نہیں ہو سکتے تھے، کچھ بیجانہ تھا لیکن جب غیر زبان کے الفاظ کا استعمال عادت اور فیشن میں داخل ہو جاتا ہے تو پھر اس کی روک تھام مشکل ہو جاتی ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روز مرہ کی ضروریات کے ایسے لفظ بھی جن کے ہم معنی اپنی زبان میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں یا ان کے مفہوم اپنی زبان کے ذریعہ ذرا سے ردوبدل یا کسی اور طریقے سے بآسانی ادا ہو سکتے ہیں، زبان میں دخل ہو جاتے ہیں۔گو یہ سلسلہ ایک لحاظ سے نامناسب ہو، مگراس سے زبان میں وسعت اور شوکت پیدا ہو جاتی ہے اور ادیب کے لیے ایک وسیع اور زرخیز میدان نکل آتا ہے جس میں اسے گوناگوں خیالات کے اظہار اور تخیل کی جولانی کا موقع ملتا ہے۔ مترادفات میں سے موقع ومحل کے لحاظ سے ٹھیک لفظ کا انتخاب ادیب کا معمولی کام نہیں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ خیالات کی مختلف باریکیوں اور معانی کی نزاکتوں کے لیے ایک ہی مفہوم کے مختلف پہلوؤں کے واسطے متعدد الفاظ موجود ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ اہل ملک کی بدولت فارسی عربی الفاظ بے ضرورت بھی داخل ہو گئے مگر اس سے ہماری زبان کے سرمایے میں بہت بڑا اضافہ ہو گیا اور اس اختلاط نے اردو میں وسعت، شوکت اور قوت پیدا کر دی ہے۔ ہندی الفاظ دل نشینی اور اثر کے لیے اور فارسی عربی الفاظ شان و شوکت اور خاص خاص مضامین اور خیالات کے اظہار کے لیے اپنے اپنے موقع پر بڑا کام دیتے ہیں۔انگریز بھی اس ملک کے فاتح ہیں اور ان کی زبان کااثر بھی ہماری زبانوں پر بہت ہوا ہے اور ہو رہا ہے لیکن وہ ہمیشہ ہم سے الگ رہے اور آخر تک وہ فاتح اور ہم مفتوح بنے رہے۔ مسلمان بھی فاتح تھے لیکن تھوڑے ہی عرصے کے بعد وہ یہیں کے ہو گئے اور ان کے بے تکلف میل جول اور معاشرت، ادب اور حکومت کی باہمی شرکت کی وجہ سے ان کی زبان نے ملکی زبان پر یہ اثر ڈالا کہ دونوں کے اختلاط سے ایک نئی زبان پیدا ہو گئی جو ان دونوں قوموں کے اتحاد وتہذیب کی بےنظیر یادگار ہے۔جب اردو نے اپنی جگہ بنائی اور بول چال سے نکل کر ادب میں قدم رکھا تو ابتدا، جیسا کہ اکثر زبانوں کی ہوئی ہے، شعر وسخن سے ہوئی اور اس وقت الفاظ ہی نہیں بلکہ فارسی ترکیبیں، انداز بیان، تشبیہات واستعارات اور تلمیحات یہاں تک کہ بعض صرفی نحوی صورتیں بھی خود بخود اس میں منتقل ہو گئیں۔ اس زمانے میں ہمارے اکثر شعرا فارسی اردو دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے، اس میں ہندو مسلمان دونوں شریک تھے۔ رفتہ رفتہ فارسی کازور کم ہوتا گیا اور اردو کو فروغ ہونا شروع ہوا۔ مگر اس کی ساخت ہیئت وہی رہی جو قائم ہو چکی تھی۔ جس طرح ہندوؤں نے فارسی میں امتیاز حاصل کیا تھا اسی طرح انہوں نے اردو میں بھی نام پیدا کیا جس کی شہادتوں سے ہمارا علم ادب بھرا پڑا ہے۔اردوملکی زبان ہےغرض یہ کہ یہ زبان اسی ملک میں بنی اور اسی ملک والوں نے بنائی اور انہیں کی عطا کی ہوئی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مسلمان بھی ان کے ساجھی ہیں لیکن شریک غالب ہندو ہی ہیں۔ اگر اس میں فارسی عربی الفاظ اور فارسی ترکیبوں کی کثرت پائی جاتی ہے تو اس بدعت کے مرتکب بھی زیادہ تر ہندو ہی ہوئے ہیں۔ اور اب جو یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اردو میں عربی فاسی الفاظ اور ترکیبیں بکثرت داخل کی جا رہی ہیں تو (گستاخی معاف!) اس کا الزام بھی ہندی والوں ہی کے سر ہے۔ وہ اگر بحیثیت جماعت اس سے کنارہ کشی نہ کرتے تو یہ نوبت نہ آتی اور ان کی شرکت روک تھام کا کام دیتی اور وہی توازن قائم رہتا جو اس سے پہلے تھا۔ایک وجہ اور بھی معلوم ہوتی ہے۔ جب تک دلی اردو کا مرکز رہی، ہندی کے دل کش الفاظ اس میں برابر داخل ہوتے رہے اور اب تک دلی کے ادیبوں نے اس کی پابندی کی ہے۔ چنانچہ زمانۂ حال کے مصنفین خصوصاً آزاد، حالی، ذکاء اللہ، نذیر احمد، نیز مرزا داغ نے سینکڑوں ہزاروں ہندی لفظ جو صرف زبانوں پر تھے اور مبتذل سمجھے جاتے تھے اور جنہیں ادب میں بار نہیں ملا تھا، اس خوبی سے اپنے کلام میں استعمال کیے ہیں کہ خاصے متین اور سنجیدہ معلوم ہوتے ہیں۔ جب یہ زبان دوسرے صوبوں اور علاقو ں میں پہنچی تو وہ اس سے محروم ہو گئی اور خصوصاً انگریزی تعلیم کے اثر سے زبان میں جب نئے نئے خیالات آنے شروع ہوئے تو انہوں نے مجبوراً فارسی عربی الفاظ سے کام لینا شروع کیا۔پھر اکثر مترجموں نے جو انگریزی تعلیم یافتہ تھے اور اپنی زبان پر پوری قدرت نہ رکھتے تھے، فارسی عربی الفاظ کے سوا انگریزی الفاظ کا بھی اضافہ کیا۔ (میں اس میں مسلمانوں کو بھی بری الذمہ نہیں سمجھتا) لیکن اگر ہندی والے پہلے کی طرح شریک رہتے تو یہ افراط تفریط نہ ہونے پاتی۔ ان کی کنارہ کشی نے درحقیقت اردو زبان کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہندو برابر کے دعویدار ہیں بلکہ اس سے بھی کچھ بڑھ کر۔ یہ انہیں کی زبان ہے، اس کی ترقی و اشاعت ان پر ایسی ہی لازم ہے جیسی اوروں پر جو اسے اپنی زبان خیال کرتے ہیں۔اب صرف ایک صورت ہو سکتی ہے کہ ایک ایسی جامع اور مبسوط لغات مرتب کی جائے جس میں ہرقسم کے الفاظ جو اردو ادب اور اردو زبان میں رائج ہیں، خاص اصول کے تحت جمع کیے جائیں اور ان کے استعمال مثالوں کے ساتھ بتائے جائیں تاکہ پڑھنے والے کو معلوم ہوکہ اس خزانے میں کیسے کیسے انمول موتی موجود ہیں جو ہماری غفلت سے بیکار پڑے ہوئے ہیں اور جن کو کام میں لانے سے زبان کی رونق ہی نہیں بلکہ قوت و وقعت بھی بڑھےگی۔ اور اسی پر بس نہ کیا جائے بلکہ اس نوعیت کی متعدد اور بکثرت کتابیں تالیف کی جائیں تاکہ زبان ملک کے ہر کونے میں پہنچ جائے اور ہر شخص اس کے صحیح استعمال پر قادر ہو جائے۔کیا ہندی اردو ایک ہیں؟حضرات! آج کل اخباروں، تقریروں اور تحریروں میں یہ جملہ عام طور پر سننے او ر پڑھنے میں آتا ہے کہ ہندی اردو دونوں ایک ہیں، صرف رسم الخط کا فرق ہے۔ اس کے کہنے والے معمولی لوگ نہیں بلکہ بڑے بڑے قابل، ذمہ دار اور واجب الاحترام بزرگوں نے بھی اس کا اعادہ فرمایا ہے۔ کیا یہ قول حقیقت پر مبنی ہے؟ حقیقت پر پردہ ڈالنا جانتے ہوئے خاموش رہنا بھی اخلاقی جرم ہے۔ اس لیے اگر میں اظہار حقیقت پر مجبور ہوں تو مجھے معاف فرمایا جائےگا۔میں اس قول کے قائلین کو الزام نہیں دیتا، ممکن ہے کہ ان کے ذہن میں کوئی ایسی بات ہو جس کی بنا پر وہ اسے حقیقت سمجھتے ہوں جس کا ہمیں علم نہیں، لیکن موجودہ حالت میں میں اس کا قائل نہیں۔ یہ قول یاتو سیاسی مصالح پر مبنی ہے یا ناواقفیت پر۔ جو دونوں زبانوں سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ ایک نہیں۔ اردو کا اخبار یا رسالہ کسی ہندی داں کے سامنے پڑھیے یا ہندی کا اخبار یا رسالہ کسی اردو داں کو سنائیے اور پھر دیکھیے کہ یہ دو زبانیں ایک ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ یہ دونوں ایک ہو سکتی تھیں، لیکن اب روز بروز ان میں اس قدر بعد پیدا ہوتا جاتا ہے کہ ان کا ایک جگہ لانا اور ایک کر دینا اختیار سے باہر ہو گیا ہے۔اس بعد کو کم کرنے کے لیے بارہا یہ کہا جاتا ہے کہ اردو والے عربی فارسی کے ثقیل الفاظ سے اور ہندی والے اسی قسم کے سنسکرت کے الفاظ سے احتراز کریں۔ یہ مشورہ بہت معقول ہے لیکن عمل کرنا دشوار ہے۔ خود مشورہ دینے والے ہی عامل نہیں تو اوروں سے کیا توقع ہو سکتی ہے۔ انصاف سے دیکھیے تو ہم نہ اردو والوں کوالزام دے سکتے ہیں نہ ہندی والوں کو۔ مغربی تعلیم اور جدید حالات وتغیرات کی رو میں ہر آن نئے نئے خیالات اور اسلوب بیان بہے چلے آ رہے ہیں۔ آخر ہم ان کو اپنی زبان میں کیوں کر ادا کریں۔ ہندی والا مجبور ہے کہ سنسکرت کے کوش الٹے پلٹے اور اردو والا عربی فارسی لغات۔ اس میں دونوں مجبور ہیں اور کوئی چارہ نہیں۔الزام تو اس وقت دیا جاتا کہ ہم نے ان کے لیے کوئی سہولت پیدا کی ہوتی اور وہ اس پر عمل نہ کرتے۔ دونوں ایک حمام میں ننگے نہا رہے ہیں، ایک کو دوسرے پر ہنسنے کا کوئی موقع نہیں۔ رہی ’’ہندوستانی‘‘ جس کا آج کل بہت غلغلہ ہے اور جس کا ذکر خیر سیاسی اور معاشرتی تقریروں اور بسااوقات تحریروں میں کیا جاتا ہے، وہ کیا ہے؟ کہاں ہے؟ اس کے لکھنے والے کون ہیں؟ اس کا تعین کبھی کسی نے کیا ہے؟ اس کا وجود سوائے معمولی بول چال اور کاروبار کے کہیں نہیں پایا جاتا۔ جب ہم ادبیات اور علم و فن کی سرحد میں قدم رکھتے ہیں تو یہ نہ ہندی میں نظر آتی ہے نہ اردو میں۔ معمولی بات چیت اور سودا سلف کی بولی ادبی اور علمی زبان نہیں ہو سکتی، خصوصاً جب وہ تحریر میں آکر جھٹ اپنا روپ بدل دیتی ہے۔ ایک فریق کے ہاتھ پڑ کر یہ ہندی ہو جاتی ہے اور دوسرے کے ہاں اردو۔اصل یہ ہے کہ اس مسئلہ پر اس نظر سے کسی نے غور ہی نہیں کیا اور نہ اب تک کوئی باقاعدہ اور متحدہ کوشش کی گئی ہے کہ کیونکر اس فرق کو مٹایا جائے اور اس زبان کو جسے ہم ہندوستانی کہتے ہیں کیونکر علم و ادب کے دربار میں پہنچایا جائے۔ میری سمجھ میں ایک تدبیر آئی ہے اور میں نے اس پر عمل بھی شروع کر دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہندی ادب میں اب تک جتنے عربی فارسی (یااردو) لفظ آئے ہیں یاہندی بولنے والوں کی زبان پر ہیں وہ سب جمع کیے جائیں اور اسی طرح اردو ادب میں جس قدر ہندی الفاظ استعمال ہوئے ہیں یا اردو بولنے والوں کی زبان پر ہیں وہ بھی اکٹھے کیے جائیں اور ان سب کو ملا کر ایک لغات مرتب کی جائے۔ گویا یہ اردو ہندی زبانوں کے مشترکہ الفاظ اور محاورے ہوں گے۔ یہ کتاب ایک ایسی جماعت کی خدمت میں پیش کی جائے جو دونوں فریقوں کے نمائندے ہوں، وہ اس پر غور و بحث کریں اور اگر وہ اسے مستند قرار دیں تو کتاب شایع کر دی جائے۔نیز یہ جماعت یا اس کی مقرر کی ہوئی کوئی مجلس اس امر کی مجاز کی جائے کہ ہندی اردو زبانوں میں سے جن الفاظ کی ضرورت سمجھے، اس میں اضافہ کر دے اور نئے خیال یا مفہوم کے لیے باہمی مشورے سے جدید الفاظ تجویز کرے اور ان کا اعلان مناسب طریقہ پر ملک میں کر دیا جائے۔ اگرچہ اس طرح سے اب تک کوئی زبان نہیں بنی لیکن ہمارے ملک اور ہماری زبانوں کی حالت بالکل مختلف ہے۔ علاوہ اس کے یہ کیا ضرور ہے کہ جو بات اب تک نہیں ہوئی وہ آئندہ بھی نہ ہو۔ یہ زمانہ بدعت و جدت کا ہے اور اس میں اس قسم کی بدعتیں بالکل جائز اور مستحسن ہیں۔ اگر یہ صورت عمل میں آجائے تو کچھ تعجب نہیں کہ اہل علم اور ا دیبوں کا ایک ایسا طبقہ پیدا ہو جائے جو اس مشترکہ زبان کو رواج دینے پر آمادہ ہو جائے اورا پنے قلم کے زور سے اس کی حیثیت منوالے۔اگرچہ ادیب یا شاعر پر کسی کا بس نہیں چلتا، اور کسی کا کیا وہ خود اپنے بس میں نہیں ہوتا، تاہم یہ کوشش اس کی بہت کچھ رہنمائی کرےگی، اور کچھ نہیں تو کم سے کم اس فرق کے کم کرنے میں بہت کام دےگی جو روز بروز بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اور اگر چند اخبار اور رسالے اس زبان میں نکالنے شروع کر دیے جائیں تو ممکن ہے کہ اس کے رائج ہونے میں آسانی پیدا ہو جائے۔ اگر یہ صورت قابل عمل خیال نہ کی جائے تو پھر ان دونوں زبانوں کو اپنے اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ باہمی رقابت اور مخالفت کی کوئی وجہ نہیں۔ ہندی کی اشاعت سے ہندی سیکھنے والے اردو سے اور اردو سیکھنے والے ہندی سے زیادہ قریب ہو جائیں گے کیونکہ ہندستان کی کوئی دوز بانیں باہم اتنی قریب نہیں جتنی ہندی اردو۔ اسی کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی شخص اردو زبان کا اعلیٰ ادیب اور محقق نہیں ہو سکتا، جب تک ہندی نہ جانے اور اس طرح ہندی کا ادیب اور محقق ہونے کے لیے اردو کا جاننا لازم ہے۔ ان دو زبانوں کا بلا مبالغہ اور اصلی معنوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے اور اس لیے ایک دوسرے کی مخالفت لاحاصل ہی نہیں بلکہ مضر ہے۔رسم الخط کا مسئلہرہا رسم الخط کامسئلہ، تو اس کا حل بھی اسی وقت ممکن ہے جب کہ وہ صورت قابل عمل ہو جس کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے۔ اور یہ مسئلہ کچھ ہندی اردو ہی سے مخصوص نہیں بلکہ ہندستان کی تمام زبانوں سے متعلق ہے۔ اگر یہ جھگڑا چک جائے اور ہماری زبانوں کے حروف ایک ہو جائیں، خواہ وہ رومن ہی کیوں نہ ہوں، تو ہمیں ایک دوسرے کی زبان سیکھنے میں بے حد سہولت ہو جائےگی اور وہ ابتدائی دشواری جو آخر تک قائم رہتی ہے، خود بخود اٹھ جائےگی اور ہم ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہو جائیں گے۔ دوسرے کی زبان سیکھنے سے خود ہماری زبان پر نیز ہمارے دلوں پر اثر پڑتا ہے اور زبان کے ساتھ زبان والوں کی طرف سے دلوں میں انس اور ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک زمانہ آئےگا جب یہ مسئلہ اس قدر دشوار نہیں رہےگا جیسا کہ اب معلوم ہوتا ہے۔اردو زبان کا موجودہ رخماضی سے گزر کر ہمیں حال کی طرف دیکھنا چاہیے کہ اس پچیس تیس سال میں ہماری زبان کا رخ کس جانب ہے۔ دور کے ڈھول سہانے معلوم ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات دور کی بھونڈی چیزیں بھلی معلوم ہوتی ہیں۔ انسان کسی قدر قدامت پسند واقع ہوا ہے، گزشتہ میں اسے وہ خوبیاں نظر آتی ہیں جو قریب ہونے کی وجہ سے حال میں نہیں دکھائی دیتیں۔ لیکن حال سے غفلت کرنا اپنے مستقبل سے غفلت کرنا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ہم میں اس وقت سر سید، آزاد، نذیر احمد، حالی اور شبلی جیسے انقلاب انگیز مصنف نہیں ہیں لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ انہیں غریب مزدوروں میں سے جو قصر ادب کے لیے اینٹ چونا تیار کر رہے ہیں، ویسے ہی یا ان سے بڑھ کر معمار پیدا نہیں ہوں گے۔ اور یہ کیا ضرور ہے کہ حال کی رفتار اسی کینڈے کی ہو جو پہلے تھی۔ادب صناعی ہے۔ صناعی میں (برخلاف فطرت) اعادہ محال ہے۔ کسی شاعر میں کتنا ہی سوزوگداز کیوں نہ ہو، میر نہیں ہو سکتا۔ کوئی کیسا ہی بلند فکر کیوں نہ ہو، دوسرا غالب ہونا ممکن نہیں۔ بعد کے ادیب کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ یاتو اگلوں کی راہ پر پڑے، جس میں سر سبز ہونا دشوار ہے یا اپنے لیے نئی راہ نکالے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب کی راہ ہمیشہ صاف اور سیدھی نہیں ہوتی، اس میں بہت سے پیچ و خم ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس کے جانچنے کے لیے ہر کونے کھدرے پر نظر دوڑانی چاہیے۔ چنانچہ اس زمانے میں بعض ایسی خصوصیات نظر آتی ہیں جو پہلے نہیں تھیں اور تھیں تو بہت کم۔ مثلاً چھوٹے فسانے لکھنے کا آج کل عام رواج پایا جاتا ہے۔ اگر چہ اس وقت سوائے منشی پریم چند کے جن کے بعض فسانے درحقیقت بے نظیر ہیں، کوئی ایسا نظر نہیں آتاجس میں وہ جدت ہو لیکن ان لکھنے والوں میں بعض بہت ہونہار ہیں جن سے توقع ہے کہ آگے چل کر نام پیدا کریں گے۔دوسری چیز ادبی تنقید ہے جس کی ابتدا مولوی حالی نے کی اور اب اس فن پر متعدد لکھنے والے پیدا ہو گئے ہیں، جن میں سے بعض اپنی زبان کی بڑی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ زیادہ تر مغربی تعلیم کا اثر ہے اور کم و بیش مغربی اصول پر کام ہو رہا ہے۔ شاید اسی کانفرنس میں بعض تنقیدی مقالے پیش کیے جائیں۔ اس وقت بھی ہم میں ایسے قابل نقاد موجود ہیں جیسے پروفیسر شیرانی یا اور لوگ جنہیں ابھی شہرت حاصل نہیں ہوئی یا جو فی الحال اپنے کام میں مصروف ہیں جو حال کے ادب میں اپنی قابل قدر یادگار چھوڑ جائیں گے۔تنقید صحیح ذوق کے لیے لازم ہے لیکن ایک نقاد کے لیے جو اس کٹھن اور صبر آزما کام میں ہاتھ ڈالتا ہے، وسیع معلومات، گہری نظر اور ذوق سلیم کی ضرورت ہے۔ صحیح تنقید مصنف اور پڑھنے والے دونوں کے لیے مفید ہے۔ ہمارے دو چار رسالے اس منصب کو انجام دے رہے ہیں، اکثر بے پروائی کے ساتھ اور کبھی کبھی مستعدی اور قابلیت سے۔ حال کے انقلابات اور تغیرات سے ہمارا ادب بھی متاثر ہوا ہے اور اس میں طرح طرح کی جدتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ان کے جانچنے کے لیے پرانے اصول کام میں نہیں آ سکتے۔ ان نئی چیزوں کے پرکھنے کے لیے ہمیں نئے اصولوں سے کام لینا پڑےگا۔اس زمانے میں اردو زبان و ادب کے متعلق ہماری معلومات میں ایک جدید اضافہ ہوا ہے۔ بعض محققین نے بڑی محنت اور تلاش سے قدیم اردو ادب کا پتا لگایا ہے اوربہت سی ایسی بے بہا اور نایاب کتابیں ڈھونڈ نکالی ہیں جو اب تک گمنامی میں پڑی ہوئی تھیں۔ اس کی بدولت اردو زبان کی زندگی میں تقریباً تین سو سال کا اضافہ ہو گیا ہے اور اردو زبان وادب کی تاریخ کے لیے ایک نیا باب کھل گیا ہے۔ یہ جستجو جاری رہی تو بہت سی نئی چیزیں ایسی دریافت ہوں گی جن کی امداد سے تاریخ ادب کے سلسلے کی بعض کڑیاں جو اب تک نہیں ملیں، ہاتھ آ جائیں گی۔شعر و سخن میں بھی اردو زبان کسی سے پیچھے نہیں، اگر چہ اس وقت حالی ساکوئی انقلابی شاعر پیدا نہیں ہوا، سوائے ایک شخص کے جس نے حقیقت میں اردو شاعری میں جان ڈال دی تھی اور جس نے اپنی قوت کلام اور زور بیان سے زبان میں ایک نئی تازگی اور نیا جوش پیدا کر دیا تھا، لیکن اس بد نصیبی کا کیا علاج کہ اقبال اردو سے روٹھ گئے ہیں، تاہم ایسے نئے شاعر پیدا ہو رہے ہیں جن کا قدم آگے ہے اور اردو شاعری میں نیا رنگ پیدا کرکے صناعی کا حق ادا کر رہے ہیں۔زندگی کے عام حالات اور قدرت کے عجائبات سے ہماری شاعری کو جو ایک گونہ بے تعلقی سی تھی، وہ اب رفع ہو رہی ہے۔ عنقریب زمانے میں انہیں میں سے بعض ایسے خوش گو شاعر نکلیں گے جن پر اردو زبان فخر کرےگی۔ میں چاہتاتھا کہ چند نام پیش کروں لیکن ابھی ان کے متعلق صحیح رائے دینے کا وقت نہیں آیا، بعض ان میں سے ایسے ہیں جو ابھی ابھر رہے ہیں، اگر انہیں چھوڑ دوں تو ناانصافی ہوگی اور اگر نام لوں تو قبل از وقت ہوگا۔ لیکن وہ وقت دور نہیں جب ان کے نام پیش کرنے میں کوئی تامل نہ ہوگا۔تالیف و ترجمہ میں بھی ترقی کے آثار نظر آرہے ہیں۔ بعض صاحب ذوق ذی علم محض اپنے شوق سے اس کام کوانجام دے رہے ہیں، ان میں خاص کر اہل پنجاب اور عثمانیہ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ نوجوان قابل تعریف ہیں جو ادب اور علوم و فنون کے مختلف شعبوں میں تالیف و ترجمہ کر رہے ہیں۔ تالیف و تصنیف کا پایہ ابھی ہماری زبان میں بلند نہیں ہے۔ ہم اس عہد کی (جو نوجوانوں کا عہد ہے) کوئی ایسی بلند پایہ تالیف یا تصنیف نہیں پاتے جسے دوسری زبانوں کے مقابلے میں دعوے سے پیش کر سکیں۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ شوق بڑھ رہا ہے اور تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور یہ بہت اچھے آثار ہیں۔ترجمے کو بعض اوقات حقارت سے دیکھا جاتا ہے لیکن ترجمہ کوئی معمولی کا م نہیں ہے، اس میں اسی قدر جان کا ہی اور سردردی کرنی پڑتی ہے جتنی نئی تالیف یا تصنیف میں۔ ترجمے میں وہی کامیاب ہو سکتا ہے جو مضمون پر حاوی ہونے کے علاوہ دونوں زبانوں میں کامل دسترس رکھتا ہو، ادب کی نزاکتوں سے واقف ہو اور اصل مصنف کے صحیح مفہوم کو اپنی زبان میں اسی قوت سے بیان کر سکے۔ یہ آسان کام نہیں اور ہر ایک کا کام نہیں۔ ترجموں سے زبانوں کو بہت فائدہ پہنچاہے۔ یہی نہیں کہ ہمارے علم اور معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ خود زبان بھی اس سے متمتع ہوتی ہے۔ ایک اعلیٰ درجے کی تصنیف کاعمدہ ترجمہ بہت سی معمولی تصنیفوں سے کہیں بڑھ کر مفید ہوتا ہے۔ وہ ادب کا جز ہو جاتا ہے۔ ہمارے ادب میں عمدہ ناولوں اور ڈراموں کی بہت کمی ہے۔ اگرچہ ان کا رواج پہلے سے زیادہ ہے لیکن ہماری زبان میں اب تک ایک بھی ایسا ناول یا ڈراما نہیں جسے ہم اعلیٰ پایہ کا کہہ سکیں۔ تصنیف تو درکنار کسی اعلی پائے کے ناول یا ڈڑامے کا عمدہ ترجمہ بھی اب تک نہیں ہوا۔ یہ امر نہایت قابل افسوس ہے۔اس سلسلے میں چند ایسے اداروں کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں جو تالیف و ترجمہ کے کام میں مشغول ہیں۔ ان میں ایک انجمن ترقی اردو ہے، جس نے ادب اور علوم و فنون کی کتابوں کے ترجمے اور تالیف کے علاوہ اپنے رسالۂ ’’اردو‘‘ اور مطبوعات کے ذریعے سے سب سے پہلے دسویں گیارہویں صدی ہجری کے قدیم ادب کو روشناس کرایا، جس سے ادب اردو کی تاریخ میں انقلاب پیدا ہو گیا۔ انجمن نے قدیم ادب کا بے بہا ذخیرہ فراہم کیا ہے اور یہ کام برابر جاری ہے۔ نیز قدما کا کلام اور اساتذہ کے نایاب تذکرے، جواب تک گمنامی میں تھے، شایع کیے جن کی بدولت اردو کی تاریخ اور اساتذہ کے حالات کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں رفع ہو گئیں۔ یہ کام اب بھی ہو رہا ہے۔انگریزی اردو کی کوئی اچھی ڈکشنری نہ تھی۔ جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں (اور انہیں لکھے بہت مدت ہوئی) سب ناقص، نامکمل اور موجودہ ضروریات کے لیے نامکتفی ہیں۔ انجمن نے ایک جامع اور مکمل ڈکشنری بصرف کثیر کئی سال کی مسلسل محنت کے بعد تیار کرائی، جو زیر طبع ہے۔ اس کی اشاعت سے سینکڑوں نئے یا بھولے بسرے لفظ ہماری زبان میں رائج ہو جائیں گے۔ علاوہ اس کے قدیم اردو کی لغات، قدیم کتابوں کے ایک مدت کے مطالعہ کے بعد تیار کی جا رہی ہے جو اردو زبان و ادب کے مطالعہ اور تحقیق میں بہت مدد دےگی۔ ایک ضخیم لغات پیشہ وروں کی اصطلاحات کے متعلق مرتب ہو رہی ہے، جس میں بڑی محنت اور کھکھیڑ اور بہت سی پریشانیوں کے بعد ایک سو سے زائد پیشوں کے ہزارہا لفظ جمع کیے گئے ہیں۔ انہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ہماری زبان میں اس کثرت سے اور ایسے اچھے اچھے لفظ موجود ہیں جنہیں افسوس ہم بھولتے جاتے ہیں۔انجمن نے کئی سال سے ایک رسالہ سائنس کے نام سے جاری کر رکھا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ اردو میں سائنس کے مضامین اور خیالات ادا کرنے کی کوشش کی جائے اور اردو داں طبقے میں سائنس کا ذوق پیدا کیا جائے۔ اگرچہ انجمن کو اس میں خسارہ ہے لیکن خوشی کی بات ہے کہ لوگوں میں اس کا شوق پیدا ہو چلا ہے۔دارالمصنفین اعظم گڑھ کی سرگرم جماعت اور جامعہ ملیہ کے پر خلوص ارکان بڑی مستعدی سے اردو ادب میں ترجمہ اور تالیف کے ذریعے سے بہت اچھا اضافہ کر رہے ہیں اور ان اداروں سے مختلف علوم و فنون اور ادب کے متعلق قابل قدر کتابیں شایع ہو رہی ہیں۔ الہ آباد کی ہندوستانی اکاڈیمی کی مساعی بھی اس بارے میں لایق شکرگزاری ہیں۔ وہاں سے متعدد علمی اور ادبی تالیفات اور ترجمے شایع ہو چکے ہیں۔سب سے آخر میں اس ادارے کا ذکر کرتا ہوں جو اپنی اہمیت اور حیثیت کے لحاظ سے سب سے مقدم ہے۔ یعنی عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن کا سررشتہ تالیف و ترجمہ، جو عام طور پر دارالترجمہ کے نام سے مشہور ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی اور خاص کراس سررشتے کے قیام سے اردو زبان کو بڑی تقویت پہنچی ہے بلکہ یوں سمجھنا چاہیے کہ اس کی جڑیں مضبوط ہو گئی ہیں۔ شاید ہی کوئی فن ہو کہ دار الترجمہ میں اس کی کسی کتاب کا ترجمہ نہ ہوا ہو۔ تاریخ ہند کی چند کتابوں کے علاوہ باقی سب ترجمے ہیں، لیکن اب تالیف کا بھی انتظام ہو رہا ہے۔ غرض تاریخ دستور اساسی، قانون، نفسیات، فلسفہ، طبیعات، کیمیا، اعلی ریاضی اور ان کی مختلف شاخو ں نیز ڈاکٹری، انجینیری وغیرہ وغیرہ پر کئی سو کتابیں شایع اور تیار ہو چکی ہیں، گویا اس ادارے نے علم کا دریا بہا دیا ہے۔ لیکن اس کے بعد بھی دبی زبان سے اتنا کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ جو کچھ ہواہے بہت خوب ہے لیکن ہمیں اس سے زیادہ کی توقع تھی، کمیت اور کیفیت دونوں میں۔ایک اور بڑا کام اعلیٰ حضرت نظام خلد اللہ ملکہ کی منظوری سے نظام گورمنٹ کی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔ یہ اردو کی جامع اور محققانہ لغات ہے جو خاص اہتمام سے جدید اصول پر مرتب ہو رہی ہے۔ بخوف طوالت میں طریقۂ کار اور ان اصولوں کو اس وقت تفصیل سے بیان نہیں کر سکتا جو اس کام کے لیے اختیار کیے گئے ہیں، لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس پیمانے پر اس قدرصحت و تحقیق کے ساتھ ہمارے ملک کی کسی زبان کی لغات اب تک نہیں لکھی گئی ہے۔ اس کی منظوری بھی انجمن ترقیٔ اردو ہی کی تحریک پر ہوئی تھی۔ ایک انسائیکلوپیڈیا کی ضرورت اور رہ جاتی ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ دیر سویر اس کی بھی کوئی صورت ضرور نکل آئے گی۔کس قدر خوشی کی بات ہے کہ آج کل جس قدر اخبار اور رسالے جاری ہیں، پہلے اس کا عشر عشیر بھی نہ تھا۔ اس میں پنجاب کا نمبر سب سے اول ہے۔ ان میں برے بھلے سب ہی قسم کے ہیں، لیکن اس میں شک نہیں کہ ان کا معیار پہلے کی نسبت بہتر اور بلند ہے۔ بعض اردو رسالوں میں ادبی، علمی، تنقیدی اور تاریخی مضامین بہت تحقیق اور متانت سے لکھے جاتے ہیں اور کبھی معاملات حاضرہ پر بھی معقول بحث ہوتی ہے۔ اس زمانے میں اخبار اور رسالے علم اور معلومات کی اشاعت کا بڑا ذریعہ ہیں۔ یہ اپنے دوسرے مقاصد کے ساتھ اپنی زبان کی بہت بڑی خدمت کر سکتے ہیں۔میں کیا، کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمارے اخبار ایسے ہی ہیں جیسے ہونے چاہییں یا جیسے دوسرے ممالک یاہمارے ہی ملک کی دوسری زبانوں میں ہیں۔ لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ان کی حالت رو بہ ترقی ہے، ان کی تحریر میں جان ہے اور معلومات اور نظر میں پہلے سے زیادہ وسعت ہے، ظاہری صورت اور چھپائی لکھائی بھی (خاص کر روزانہ اخباروں کی) بہت بہتر ہے۔ لیکن ان صاحبوں کی (اور خاص کر پنجاب کے اڈیٹر صاحبوں کی) خدمت میں دو ایک باتیں مختصر طور پر عرض کرنے کی جرأت کرتا ہوں، امید ہے کہ وہ مجھے معاف فرمائیں گے۔اول یہ کہ بعض نامور روزانہ اخباروں میں مقالہ افتتاحیہ (لیڈنگ آرٹیکل) میں غیرضروری بلند آہنگی اور طوالت کے ساتھ اس قدر پیچیدہ، مغلق اور ثقیل الفاظ اور جملوں کی بھرمار ہوتی ہے کہ اصل مفہوم الجھ کر رہ جاتاہے۔ الفاظ زیادہ اور معنی کم۔ دوسرے آپس کی توتو میں میں اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنی بالکل ترک کر دی جائے۔ یہ ان کی شان کے خلاف ہے۔ تیسرے ملکی معاملات میں ذاتی عناد اور بغض و عداوت کا اظہار یا کسی کی ذات پر عامیانہ اور سوقیانہ حملے بالکل ناجائز ہیں۔ چوتھے ان کی رائے کچھ ہی ہو، مخالف کے بیان کو کبھی مسخ کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور جہاں تک ممکن ہو، صداقت اور ایمانداری سے ظاہر کیا جائے۔ پانچویں پراپیگنڈے کی رومیں صداقت اور متانت کو ہاتھ سے نہ دینا چاہیے۔ہمیں ایک یا کئی ایسے ہفتہ وار اخباروں کی بھی ضرورت ہے جو روزانہ اخبار کی خبروں کو صحیح معلومات کے ساتھ اس طرح بیان کریں کہ ان میں کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے اور پڑھنے والا کامل طور پر انہیں سمجھ لے۔ معاملات حاضرہ مثلاً مسائل سیاسیات ومعاشیات پر نہایت محنت اور غور کے ساتھ ایسے مضامین لکھیں یاماہرین سے لکھوائیں کہ پڑھنے والا مسئلہ کے ہر پہلو کو پورے طور پر سمجھ جائے اور سمجھنے کے بعد اسے غور و فکر کرنے کا موقع ملے۔ خبروں کو سلیقے کے ساتھ درج کریں اور ان کے متعلق جن ضروری معلومات کی ضرورت ہے انہیں بیان کر دیں۔جتھے بندی سے بالا بالاہوں۔ مختلف ملتوں یا فریقوں کے لڑانے کی کوشش نہ کریں بلکہ ان کے نقطۂ نظر کو صفائی اور سچائی سے بیان کریں اور اپنی رائے کو کسی پر حملہ کیے بغیر آزاد انہ اور بے باکانہ ظاہر کرنے میں دریغ نہ کریں۔ بے لاگ رہیں مگر ناگواری پیدانہ ہونے دیں۔ کبھی کبھی اپنی زبان اورادب کے متعلق ملک میں جو کام ہو رہا ہے، اس پر بھی بحث کرتے رہیں۔ طرز تحریر میں متانت، سلاست اور شگفتگی ہمیشہ مد نظر رہے۔ ایسے اخبارات سے اردوداں طبقے کو خبروں کی بہم رسانی کے علاوہ تعلیمی فائدہ بھی پہنچےگا اور ان کے علم اور معلومات میں اضافہ ہوتا رہےگا۔ ممکن ہے کہ شروع میں ایسے اخبار کی بکری کم ہو لیکن کچھ مدت کے بعد اسے ضرور فروغ ہوگا۔یہ بھی کچھ کم مسرت کی بات نہیں ہے کہ ہندستان کی متعدد یونیورسٹیوں میں اردو کی اعلیٰ تعلیم کا انتظام ہو گیا ہے اور ہماری یہ توقع کچھ بے جانہ ہوگی کہ ان یونیورسٹیوں سے جو نوجوان تعلیم پاکر نکلیں گے وہ یونیورسٹیوں کے معلمین کے حیثیت سے یابحیثیت انشا پرداز اور ادیب کے اپنی زبان کی خدمت بجا طور پر انجام دیں گے۔اس ضمن میں میں ایک اور بات بیان کرنا چاہتا ہوں جسے بیان کرتے ہوئے مجھے کسی قدر حجاب معلوم ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ آج کل یورپ کی ڈگریوں کووہ غیر معمولی عظمت حاصل ہوگئی ہے کہ ہماری زبانوں کی اعلیٰ ڈگریاں بھی وہیں سے حاصل کی جاتی ہیں۔ میں عربی فارسی سنسکرت کے متعلق کچھ نہیں کہتا، غالباً ان کا سامان وہاں یہاں سے زیادہ ہوگا لیکن اردو کی ڈگری وہاں سے حاصل کرنا اور ایسے فضلا سے سند لینا جو خود ہماری زبان وادب سے بے بہرہ ہیں، مجھے مضحکہ معلوم ہوتا ہے۔ میں ان حضرات کو کیٹلاگی محقق کہتاہوں۔ ان کا علم زیادہ تران کیٹلاگوں (فہرستوں) پر مبنی ہوتا ہے جو یورپ کے علما نے مرتب کر دی ہیں۔ وہ سوائے کتاب کے متعلق ہرقسم کاعلم رکھتے ہیں۔ وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ اس کتاب کا مصنف کون ہے، کس زمانے میں ہوا ہے، سنہ وفات کیا ہے، اس کے معاصر کون تھے، اس کی تصانیف کون کون سی تھیں، اس کے مآخذ کیا کیا ہیں، اس کے مختلف نسخے کس کس کتب خانے میں ہیں، ان کے سنین کتابت کیا ہیں اور ان نسخوں میں کیا کیا اختلاف ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جب وہی کتابیں کھول کر ان کے سامنے رکھی جاتی ہیں تو ان کے سمجھنے اور بعض اوقات صحیح پڑھنے سے بھی قاصر رہتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ تحقیق کا ڈھنگ وہیں آتا ہے۔ ہم نے وہ مقالے (تھیسس) بھی دیکھے ہیں جو وہاں سے لکھے ہوئے آئے ہیں۔ ہمارے بعض مستعد طلبہ، معلمین اور پروفیسروں نے گھر بیٹھے ان سے کہیں بہتر اور زیادہ محققانہ مقالے لکھے ہیں۔ اس کا دوش میں ان کو نہیں دیتاجو یورپ جاکر یہ ڈگریاں لائے ہیں، بلکہ اس میں سراسر قصور ان یونیورسٹیوں کا ہے جو ڈگری دیکھتی ہیں اور کام نہیں دیکھتیں اور غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے بلاامتیاز ہر ڈگری کے کاغذ کو سند فضیلت خیال کرتی ہیں۔ اردو کی اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم کا انتظام یہاں کہیں بہتر ہو سکتا ہے اور یہاں اس کے لیے کہیں زیادہ سامان موجود ہے۔ کیا مسلم یونیورسٹی یا جامعۂ عثمانیہ اس کا انتظام نہیں کر سکتی؟ بجائے اس کے کہ ہم وہاں جاکر اپنی زبانوں کی نمائشی سندیں حاصل کریں، ہمیں خود یہاں کام کرکے حقیقی سند حاصل کرنی چاہیے اور اس کا انتظام ایسا مکمل اور بہتر ہونا چاہیے کہ اہل یورپ بھی اس کا لوہامان جائیں اور ضرورت ہوتو وہ یہاں آکر ہماری زبانوں کی سند حاصل کریں۔ یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں جتنا کہ خیال کیا جاتا ہے۔حضرات! افسوس ہے کہ مجھے آپ کے سامنے کئی ناگوار باتیں کہنی پڑیں لیکن ایک بات اور کہنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ انہیں چند دنوں میں مجھے بعض ایسی تحریریں پڑھنے کا اتفاق ہواجنہیں دیکھ کر ملال ہوتا ہے۔ پنجاب کے ایک رسالے کے قابل اڈیٹر کو کسی غیرمعروف شخص نے یوپی کے کسی مقام سے شاید رسالے کی بعض غلطیوں کی طرف توجہ دلائی تھی۔ اس پر اڈیٹر صاحب نے نہایت تلخ و ترش لہجے میں غم و غصہ کا اظہار فرمایا ہے اور سارے صوبے اور اس کے اہل زبان کی خبر لے ڈالی اور اس پر بس نہیں کی بلکہ دکن کی بعض علمی تحریکوں اور کارناموں کے حال پر بھی نوازش فرمائی ہے۔اس کے بعد ہی مجھے ایک لایق تعلیم یافتہ کا لکچر ملا جو انہوں نے جنوبی ہند کی ایک کانفرنس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کے سامنے پڑھا تھا۔ اس کی ابتدا بھی اسی الاپ سے کی ہے۔ چند ہی روز ہوئے میرے پاس دو کتابیں پہنچیں، جن میں ایک قابل ادیب اور شاعر اور نقاد نے بے ضرورت اور بلاوجہ اس مضمون کو چھیڑ کر جلی کٹی سنائی ہیں۔ یہ حالت قابل افسوس ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے، یوپی کے کسے معقول پسند اور مستند شخص نے کبھی پنجاب یا دکن کے علمی کاموں کی تحقیر نہیں کی بلکہ ایسے تمام صاحبوں نے ہمیشہ ان کے علمی اور ادبی کارناموں کی دل کھول کر داد دی ہے۔ اور اگر تنقید کرتے وقت کسی نے کچھ لکھ دیا یابعض غلطیاں جتائیں تو اس میں برا ماننے کی کیا بات ہے۔ کیا خود ان کے ہم وطن ان کی تنقید کرتے وقت کچھ کمی کرتے ہیں۔ کیا یوپی کے اہل زبان نے اپنے ادیبوں اور شاعروں پر نکتہ چینی نہیں کی؟ کون سا ایسا ادیب اور شاعر ہے جو اس سے بچ رہا ہو۔جب میر اور سودا اور غالب تک نہیں بچے تو دوسرا کس منہ سے شکایت کر سکتا ہے۔ آزاد مرحوم باربار مصحفی کے امروہہ پن پر طعن کرتے ہیں۔ یہ کب نہیں ہوا اور کہاں نہیں ہوا؟ پہلے مشاعروں میں رودرو اعتراض ہوتے تھے، اب اخباروں اور رسالوں میں ہوتے ہیں۔ جب مسدس حالی شایع ہوا تو کیا کچھ طوفان نہیں برپا ہوا۔ کئی مسدس اس کے جواب اور رد میں لکھے گئے۔ اور یہ تو آپ میں سے بعض صاحبوں کو یاد ہوگا کہ مقدمۂ شعر و شاعری کی اشاعت پر کس قدر اعتراضوں کی بوچھاڑ ہوئی۔ ایک اخبار نے تو مسلسل بیس تیس مضامین لکھے جن میں کتاب او ر مصنف دونوں کا مضحکہ اڑایا تھا۔ مولانا حالی نے نہ کبھی جواب دیا اور نہ برا مانا۔ یہ باتیں جواب دینے یاغم و غصہ کے اظہار کی نہیں، اس سے اپنی کمزوری کا اظہار ہوتا ہے۔ اسے صوبہ واری رشک و حسد یا سیاست اور تجارت کی طرح رقابت و مخالفت کا اکھاڑا نہیں بنانا چاہیے۔ اس میں سب کا نقصان ہے۔ ہم سب اپنی زبان کے خادم ہیں۔ ہمیں اتحاد عمل کی ضرورت ہے۔میں شروع ہی میں عرض کرچکا ہوں کہ زبان ذات پات، قومیت، وطنیت سے بری ہے۔ جو اسے بولتا ہے اسی کی زبان ہے۔ جو زیادہ صحت اور فصاحت کے ساتھ لکھتا بولتا ہے، وہی زیادہ تر زبان داں اور اہل زبان کہلانے کا مستحق ہے۔ اس میں نہ کسی صوبے کی تخصیص ہے اور نہ کسی قوم اور نسل کی۔ انجمن ترقیٔ اردو یہ تجویز کر رہی ہے کہ جوادارے مختلف مقامات میں اردو زبان کی خدمت انجام دے رہے ہیں، ان کے نمایندے اور خاص خاص ایسے لوگ جنہیں زبان سے ہمدردی ہے اور علم و فضل اور تجربہ رکھتے ہیں ایک جگہ جمع ہوں، زبان کے مسائل پر غور کریں، اپنے کاموں کا جائزہ لیں، آیندہ کے لیے پروگرام بنائیں اور ان پیچیدگیوں اور خرابیوں کے رفع کرنے کی کوشش کریں جو اس کی ترقی میں حائل ہیں۔ اس طریق کار سے عمل میں نیز آپس میں اتحاد کی شکل پیدا ہو جائےگی۔ میں حال ہی میں مدراس گیا تھا، وہاں مجھے اردو زبان کے متعلق بعض مقامی حالات ایسے معلوم ہوئے جن کا کبھی علم نہ تھا، مجھے اپنی بے خبری پر بہت افسوس ہوا، ممکن ہے کہ اسی طرح ہم میں سے اکثر اسی بے خبری میں مبتلا ہوں۔ یہ بے خبری ہماری زبان کے حق میں بہت مضر ہے۔ اس لیے مجھے خیال ہواکہ جہاں تک جلد ممکن ہو، ہمیں ہر صوبے کی اصل حقیقت سے آگاہ ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔اس خیال کے آتے ہی میں اس ادھیڑبن میں لگ گیا اور ایک فہرست ایسے استفسارات کی مرتب کی جو تقریباً تمام حالات پر حاوی ہیں۔ تجویز یہ ہے کہ یہ فہرست ایک مختصر کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے اور ان کے مشورے اور منظوری کے بعد ہر صوبے اور علاقے کے بعض ایسے اصحاب کے پاس بھیجی جائے جو اس کام سے ہمدردی اور اپنے صوبے کے حالات سے واقفیت رکھتے ہیں تاکہ وہ غور کرنے کے بعد اس کے جواب تیار کریں۔ اس کے بعد کمیٹی کے چند ارکان یعنی کم سے کم تین شخص ہر صوبے اور علاقے میں جاکر مقامی حالات کا معائنہ کریں اور وہاں کے واقف کار حضرات سے مل کر ان مسائل پر گفتگو کریں۔ غرض اس طرح ہر مقام سے معلومات کا ذخیرہ جمع کریں او رآخر میں ایک مفصل رپورٹ تیار کریں۔ یہ رپوٹ اتحاد عمل اور آئندہ مختلف مقامات میں کام کرنے کے لیے بنیاد کا کام دےگی۔ ابھی تک نہ ہم اصل حقیقت سے واقف ہیں اور نہ ضرورتوں سے۔اس رپوٹ کے بعد ہم یہ طے کر سکیں گے کہ ہر صوبے میں کس نہج پر کام کیا جائے۔ یہ ایک بہت ہی سرسری سا خاکہ ہے۔ تفصیل کا یہ وقت نہیں۔ اس میں کئی امور ایسے ہیں جو قابل غور ہیں اور جن کے طے کیے بغیر کام شروع کرنا ممکن نہیں۔ مثلاً ایک مسئلہ اخراجات کا ہی ہے جو سب میں دشوار ہے۔ بہرحال ان سب مسائل پر غور کرنے کے بعد اس کا م کی ابتدا ہو سکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ کام کی خاص اہمیت دیکھ کر ہمارے اہل علم اور اہل ثروت ہمیں ضرور اس میں مدد دیں گے۔حضرات! ہمیں اس بات پر نہ پھولنا چاہیے کہ اردو ہندستان کی عام زبان ہے، تقریباًہر صوبے میں بولی یا سمجھی جاتی ہے اور ہر قوم و ملت کے لوگ اسے بولتے یا سمجھتے ہیں، بلکہ ہندستان سے باہر بھی اپنا تسلط جماتی جاتی ہے اور سواحل عرب، مکہ، مدینہ، بغداد و دمشق، افغانستان، افریقہ کے بعض علاقوں وغیرہ میں بھی اس کے بولنے اور سمجھنے والے موجود ہیں۔ جب تک اس میں وسعت کے ساتھ گہرائی نہ ہو، جب تک اس کی بنیادیں مضبوط نہ ہوں اور جب تک یہ علمی زبان نہ بنے اس وقت تک یہ سب فخر بے جاہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اس زبان میں وسعت ہے اور اس میں لوچ اور جذب کرنے کی قوت اور آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن یہ خوبیاں اسی وقت کام آ سکتی ہیں کہ ہم ان سے کام لیں اور زبان کو مستحکم اور مکمل بنانے پر آمادہ ہو جائیں۔بعض اہل سائنس کا قول ہے کہ آیندہ انسان جیسا چاہےگا ویسا بن جائےگا۔ میں اس قول کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتا لیکن زبان کے متعلق بہ وثوق کہہ سکتا ہوں کہ جیسا ہم نے چاہا ویسی بنی اور جیسا ہم چاہیں گے ویسی بنےگی۔ اپنی زبان پر فخر کر کر کے دوسروں کو چنوتی (چیلنج) دینا اور اپنی فوقیت جتانا فعل عبث ہے۔ اسے ایسا مکمل اور کامل بناؤ کہ دوسرے خود اس کی طرف جھک جائیں اور اس کی افضلیت مان جائیں۔ یہ ہماری ہمت پر موقوف ہے۔ اور اس کی صورت وہی ہے جو میں نے عرض کی کہ مختلف اداروں کے نمایندے اور اردو کے ایسے بہی خواہ جن کے دل میں اپنی زبان کا درد ہے، ایک جا جمع ہوں اور آیندہ دس سال کے کام کا پورا نقشہ بنالیں اور اس پر ثبات و استقلال کے ساتھ عمل کرنے کا تہیہ کر لیں۔ اب رہی کامیابی سو اس کی نسبت یہ عرض ہے کہ ہمت نہ ہاریے۔ جس نے ہتھیار ڈال دیے وہ مغلوب اور غلام ہے۔ جو آخر تک مقابلہ پر تلارہا، جیت اسی کی ہے، خواہ وہ ہارہی کیوں نہ جائے۔کامیابی آسمان سے نہیں اترتی، یہ سب محنت، صبر استقلال کی کرامات ہے۔ جانیں کھپانی پڑتی ہیں تب کچھ ہاتھ آتا ہے۔ہر اک کو نہیں ملتی یاں بھیک زاہدبہت جانچ لیتے ہیں دیتے ہیں تب کچھ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7%D8%A8%DB%81_%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D9%86%DA%88%DB%8C%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1%DB%8C%D9%86%D9%B9%D9%84_%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B1%D9%86%D8%B3%D8%8C_%D8%A8%DA%91%D9%88%D8%AF%DB%81"} {"title": "خطبۂ صدارت اردو کانفرنس", "poet_page": "مصنف:مولوی عبد الحق", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے ضمن میں علی گڑھ میں ایک اردو کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ اس کانفرنس کے صدر کی حیثیت سے مولانا عبدالحق صاحب نے ۲۸/اپریل ۱۹۳۷ء کی شب کو ذیل کا خطبہ پڑھا تھا۔ مرتب)\n\nگری زوں سوِستان کا ایک پرگنہ ہے اور پہاڑی علاقہ ہے۔ اس کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں بہت سی زبانیں بولی جاتی ہیں، ان کے ہاں قدیم سے ایک روایت مشہور چلی آرہی ہے کہ خلاق عالم نے فرشتہ کلمائیل کو بیجوں بھرے تھیلے دیے اور فرمایا کہ جاؤ تم دنیا کاایک چکر لگاؤ اور زبانوں کے یہ بیج لوگوں کے سروں میں بوتے چلے جاؤ۔ فرشتے نے ارشاد خداوندی کی تعمیل کی اور یہ بیج بنی نوع انسان کے دماغوں میں جم گئے اور فوراً اگنے شروع ہوئے اور زبانیں چشمے کی طرح ابلنے لگیں۔ جب فرشتہ کلمائیل اپنے تھیلے خالی کر چکا اور خلاق عالم کے پاس واپس آنے کو ہوا تو یہ دیکھ کر اسے سخت ندامت اور پریشانی ہوئی کہ گری زوں کا علاقہ چھٹ گیا ہے۔ اس نے خدائے تعالیٰ کی بارگاہ میں اس فروگزاشت کے متعلق عرض کیا۔ خدا نے مختلف تھیلوں کے ملے جلے بیج جو بچ رہے تھے، اسے دیے اور کہا کہ جاؤ، یہ وہاں جاکر بوآؤ۔ یہی وجہ ہے کہ اس پہاڑی آبادی میں طرح طرح کی زبانیں اور بولیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ نقل بہ نسبت گری زوں کے ہندستان پر زیادہ صادق آتی ہے، جہاں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جاتی ہیں، جن کی تعداد بیسیوں نہیں سینکڑوں تک پہنچ گئی ہے۔ لیکن اس ہجوم میں ایک زبان ایسی بھی نظر آتی ہے جو ملک کے اکثر علاقوں میں بولی جاتی ہے اور تقریباً ہر جگہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ زبان ہندستانی یا اردو ہے جس کا ادب نظم ونثر میں نویں صدی ہجری سے مسلسل موجود ہے۔ یہ ہمارا ہی دعویٰ نہیں بلکہ اس کی شہادت غیروں نے بھی دی ہے اور یہ شہادتیں یوروپی سیاحوں کی تحریروں میں سترہویں صدی کی ابتدا سے بعد تک برابر ملتی ہیں۔ ایک موقع پر کسی خاص معاملے میں ابی سینیاکے سفیر خوجہ (Movaad) سے چند استفسارات کیے گئے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ ’’فلاں شخص نے آپ کی حضوری میں کس زبان میں گفتگو کی؟‘‘ وہ جواب دیتے ہیں، ’’ہندستانی زبان میں۔ جس کی ترجمانی دیراکسیلنسیز دی ہائی گورنمنٹ آف بٹاویا کے سیکریٹری نے کی۔‘‘ یہ واقعہ سنہ ۱۶۹۷ء کا ہے۔ اس زمانے کا ایک سیاح لکھتا ہے کہ ’’دربار کی زبان تو فارسی ہے مگر عام بول چال کی زبان ’اندستان‘ہے۔‘‘ (فرائر)یہ اگلی باتیں ہیں، انہیں جانے دیجیے۔ کمپنی کے زمانے کو لیجیے۔ جب ایسٹ انڈیا نے اپنا کاروبار یہاں جمایا اور تجارت سے سیاست کی طرف قدم بڑھایا تو تجارت اور سیاست دونوں اغراض کی خاطر تازہ ولایت نوکار انگریز ملازموں کی تعلیم کے لیے ملک کی ایسی زبان کا انتحاب کیا جو اپنی عام مقبولیت اور وسعت کی وجہ سے سب سے زیادہ کارآمد تھی۔ یہ زبان ہندستانی یعنی’اردو‘ تھی۔ اس کے لیے ایک بڑامدرسہ قائم کیا گیا جو فورٹ ولیم کالج کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں قابل زبان داں ہندی ملازم رکھے گئے جو نوجوان نوواردوں کوہندساہنی زبان کی تعلیم بھی دیتے تھے اور کتابیں بھی تالیف اور ترجمہ کرتے تھے۔ اس کالج کے معلم اول ڈاکٹر جان گلکرسٹ جو اردو کے محسن اور اس کے شیدائیوں میں سے تھے، اس زبان کو (Grand Popular Speech of India) 1 کہتے ہیں۔ ایک دوسری جگہ وہ اس کی نسبت لکھتے ہیں کہ ’’یہ نہایت کارآمد اور عام زبان ہے جس پر ہندستان فخر کر سکتا ہے۔‘‘ وہ اپنی اسی کتاب برٹش انڈیا مونی ٹر میں لکھتے ہیں کہ ’’چونکہ ہندستانی، ہندستان کی سب سے زیادہ عام زبان ہے اور جو ہمیں شب وروز اپنے دیسی افسروں، مدرسوں، ملازموں اور دیگر متعلقین سے گفتگو کرنے میں استعمال کرنی پڑتی ہے، اس لیے نحوی اصول کے ساتھ اسے جس قدر جلد سیکھا جائے اسی قدر بہتر ہے۔‘‘ 2اس زبان کی تعلیم کے متعلق گورنمنٹ کے احکام نقل کرنے کے بعد وہ ان برٹش افسروں اور دیگر اصحاب کے نام ایک پیام بھیجتا ہے جو ہندستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ پیام یہ ہے،’’جب سے متذکرہ بالا احکام نافذ ہوئے ہیں، بنگال گورنمنٹ نے بنگال، مدراس، اور بمبئی کے ملکی اور فوجی علاقوں کے لیے مشرقی تعلیم کا باقاعدہ انتظام کیا ہے، ان سب میں ہندستانی بجا طور پر مقدم اور اہم خیال کی گئی ہے اور اس لیے تمام رائٹروں اور کیڈٹوں کو ہندستان پہنچنے پر سکھائی جاتی ہے۔ ہندستانی زبان کاعلم برٹش انڈیا میں نہ صرف ہر ایک ایسے اجنبی کے لیے لازم ولابد ہے جو عام طور پر اہل ملک سے ذاتی تعلقات رکھتا ہے بلکہ اس سے فارسی اور دوسری مشرقی زبانوں کی تحصیل کا رستہ بھی کھل جاتا ہے، جہاں وہ ہندستانی کے ذریعے سے جو ہندستان کے باشندوں اور خصوصاً منشیوں یا دیسی سوداگروں کی دیسی زبان ہے، ان مقامی قدیم زبانوں کو بہت جلد سیکھ لیتا ہے۔ بحری اور بری فوج میں نیز ہندستان کے خانگی معاملات میں کسی زبان کا ایسا عام رواج نہیں جیسا ہندستانی کاہے اور کیڈٹوں کو جو فوجی اکیڈیمیوں میں اسے پڑھتے ہیں یا فوجی تعلیم حاصل کرتے ہیں، کسی اور زبان کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ اکیڈیمیاں بنگال، مدراس اور بمبئی میں قائم کی گئی ہیں۔ جس طرح یورپ میں ایک تعلیم یافتہ شخص کے لیے بعض جدید اور قدیم زبانوں کا علم مفید اور موجب زینت سمجھا جاتا ہے، اسی طرح ہندستان میں سنسکرت، فارسی، عربی وغیرہ کا علم بھی وہی درجہ رکھتا ہے۔ لیکن یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں ہر شخص کے لیے ہندستانی کا جاننا ایساہی ناگزیر ہے جیسا کہ انگلستان والوں کے لیے انگریزی کا جاننا اور اسی لیے ان حضرات کا جو ایسٹ انڈیز کو آنا چاہتے ہیں، سب سے ضروری اور بڑا وصف یہی ہونا چاہیے کیونکہ دیر سویر ان پر صاف کھل جائےگا کہ ہندستانی کے مقابلے میں یہ علمی زبانیں دوسرے درجے پر ہیں اور بعد میں یہ زبانیں اس ملک میں زیادہ آسانی اورکم خرچ میں سیکھی جا سکتی ہیں۔ اگر یہ دلیل انگلستان وبیرون انگلستان کے چند سالہ تجربے کی بناپر معروف ومسلم واقعات پرمبنی ہے تو پبلک بجا طور پر یہ امید رکھتی ہے کہ ’’ہرفورڈ‘‘ اور ’’مارلو‘‘ کے سول اور ملٹری کالجوں کے شعبوں میں ہندستانی زبان کی تعلیم ان طلبہ کے لیے جو ہندستان آنا چاہتے ہیں، سب سے مقدم خیال کی جائےگی کیونکہ ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہمارے انگلستان کے جج اور سول اور ملٹری کے عہدہ دار خود وہ کیسے ہی عالم و فاضل کیوں نہ ہوں، وہ ہماری مادری زبان نہیں جانتے۔ اسی طرح ہندستان میں ہندستانی کا وہی درجہ ہے جو انگریزی کا برطانیہ میں یا ترکی کا اس کی سلطنت میں اور یہ ایک ایسی بات ہے جو راہ چلتا بھی سمجھ سکتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتاب میں مدراس کے ایک انگریز افسر کا خط بھی نقل کا ہے، جس میں مفصلہ ٔ ذیل اقتباس پڑھنے کے قابل ہے۔ (خط ۱۹/جون سنہ ۱۸۰۲ء کا لکھا ہوا ہے۔) ’’ہندستانی بولی کے متعلق میرا کچھ کہنا غیر ضروری ہے کیونکہ اس کی وسعت اور قوت ان تمام اشخاص پر کافی طور سے آشکارا ہے جن کا تعلق ہندستان کے کاروبار یا ادب سے ہے، میری رائے میں صرف اس بولی کا معقول علم اس گورنمنٹ کے علاقوں کے ہر حصے کے لیے بالکل کافی ہے۔۔۔ نواب آف ارکاٹ کے تمام علاقوں اور ٹیپو سلطان کی مملکت بالاگھاٹ مں ہندستانی سے وہ سب اشخاص واقف ہیں جو سرکاری دفاتر میں مامورہیں، نیز عام لوگوں کی بڑی تعداد اس زبان کو جانتی ہے۔‘‘ ڈاکٹرصاحب اپنی ایک اور تصنیف ’’ایسٹ انڈیا گائڈ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’اگرچہ یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ہندستان کے مختلف اضلاع اور صوبوں مں خاص خاص بولیاں بولیا جاتی ہیں لیکن ہم جرأت کے ساتھ یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ اگر فرداً فرداً دیکھا جائے تو ان میں کوئی بھی عام طور پر ایسی مفید اور ضروری نہیں جیسی ہندستانی۔۔۔ اب ہم اس دعوے کی تائید میں چند دلائل پیش کرتے ہیں جو بلاشبہ اس کی صداقت کاتشفی بخش اور دل نشین ثبوت ہوں گی۔ ’’ہندستان کے وسیع ملک میں شاید ہی کوئی ایسامسلمان پایا جائےگا جو مقامی اور ذاتی حالات یعنی خاندانی و تعلیمی وغیرہ کے لحاظ سے کم بیش شستگی اور خوبی سے ہندستانی زبان نہیں بولتا یا نہیں سمجھتا۔ نیز ہر شریف ہندو یا وہ جس کا ذرا سابھی تعلق کسی مسلمان حکومت یا برٹش گورنمنٹ سے ہے، اپنے منصب اور حیثیت کے لحاظ سے ضرور اس زبان سے کچھ نہ کچھ واقف ہے۔ علاوہ اس کے یہ ایک مشترک ذریعہ ہے، جس کے توسط سے اہل ملک عموماً اور متعدد غیر ملکوں کے اکثر باشندے جو اس ملک میں بس گئے ہیں، اپنی ضرورتوں اور خیالات کا ایک دوسرے پر اظہار کرتے ہیں۔ اس بیان کی صداقت کی تائید میں ہم خود ایک شہادت ہیں اور ہماری طرح پر تگالی، ولندیزی (ڈچ)، فرانسیسی، ڈین، عرب، ترک، یونانی (گریگ) ارمنی، گرجی، ایرانی، مغل اور چینی بھی ہیں جو اکثر باہم ہندستانی میں بات چیت کرتے ہیں، کیونکہ ان کی اپنی زبانوں کے مقابلے میں ہندستان کی یہ لنگوافرینکا زیادہ سہولت بخش ہے۔ ہندستان کی تمام فوجوں میں یہ زبان عام طور پر استعمال ہوتی ہے، اگر چہ ان افواج کے اکثر افراد اپنی اپنی حکومتوں، علاقوں، صوبوں اور اضلاع کی بولیوں کو مادری زبان کی حیثیت سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ تقریباً کیپ کا مورن سے لے کر کابل تک سارا ملک جو طول میں دو ہزار میل اور عرض میں ۱۴۰۰ میل ہے، اس میں جہاں جہاں گنگا بہتی ہے شاید ہی کسی بڑے گاؤں، قصبے یا شہر میں، جسے مسلمانوں نے فتح کیا یا جہاں مسلمان آباد ہیں کوئی ایساشخص ملےگا جو اچھی خاصی طرح ہندستانی نہ جانتاہو اور گنگا سے بھی بہت پرے، نیز مشرقی جزائر کے سوا حل پر بھی یہ زبان رائج ہے اور اس قدر معروف ہے کہ بہت آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ ہندستانی میں نثر کی بہت سی کتابیں مثلاً تاریخی یاعلمی تالیفات نہیں ہیں تاہم بہت سے شستہ قصے اور دلکش نظںیہ موجود ہیں۔ عام طور پر خانگی، تجارتی اور فوجی اور نہایت اہم سیاسی معاملات کے متعلق مراسلت اسی زبان میں کی جاتی ہے۔ اور اس موقع پر ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ دیسی علما کا درس اور مضامین ادب پر ان کی تمام بحثیں اور دلائل اسی زبان میں کی جاتی ہیں اور ہر حالت میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی ہندستان کا کوئی باشندہ اپنے کسی خیال یا مضمون کو کسی دوسری زبان میں لکھنا یا ترجمہ کرنا چاہتا ہے تو قبل اس کے کہ وہ اسے فارسی مکتوب کے طور پر لکھے یا کوئی سیاسی تحریر قلم بند کرے، وہ ہمیشہ اپنے خیالات کو ہندستانی میں ترتیب دیتا ہے اور اپنا مفہوم اسی زبان میں ادا کرتا ہے۔ اگر یہ تمام بیانات اور دلائل صداقت پر مبنی ہیں تو ان کی قوت کو کون چیز کمزور کر سکتی ہے۔ اوپر کے صغریٰ کبریٰ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سوداگر، سیاح، وکیل، ملا یا پادری، فلسفی، طبیب، غرض ہر شخص کے لیے جو ہندستان میں کسی قسم کا بھی کوئی کام کر رہا ہے یایہاں امن و خوشی سے رہنا چاہتا ہے ہندستانی زبان بہ نسبت کسی دوسری زبان کے عموماً نہایت ضروری اور مفید ہے۔ اور اس اعتبار سے سب سے مقدم اسی کا سیکھنا ہے اور اس کے بعد بوجہ ان اعلیٰ فوائد کے جو اسے باقی دوسری زبانوں کے مقابلے میں بدرجۂ اتم حاصل ہیں، یہ نہایت درجہ قابل قدر اور لائق مطالعہ ہے۔‘‘ کول بروک جوبڑے عالم گزرے ہیں، ایشیاٹک ری سرچز کی ساتویں جلد میں لکھتے ہیں کہ ’’یہ شستہ زبان جو ہندستان اور دکن کے ہر حصے میں بولی جاتی ہے یا جو تعلیم یافتہ دیسیوں نیز ہندستان کے بہت سے صوبوں کے ناخواندہ لوگوں میں باہمی گفتگو کا مشترک ذریعہ ہے اور جسے تقریباً ہر جگہ نیز ہرگاؤں کے اکثر باشندے سمجھتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر گلکرسٹ نے اپنے ایک شاگرد رشید کا خط نقل کیا ہے، جوبہت دلچسپ اور حقیقت افروز ہے۔ اس کے کاتب مشہور مسٹر مٹکاف ہیں جو اس وقت دلی کے اسٹنٹ رزیڈنٹ تھے اور بعد میں رزیڈنٹ کیا دلی کے آقا ہو گئے تھے۔ یہ خط ۲۹ /اگست سنہ ۱۸۰۶ء کا لکھا ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوگا کہ اس زمانے میں اردو کی کیا حیثیت اور وقعت تھی۔ وہ لکھتے ہیں،’’میرا خیال ہے کہ میں آپ کو اس معاملے کے بارے میں قابل اطمینان اطلاع مہیا کر سکتا ہوں، جس کے ملق۶ آپ کو قدرتی طور پر تشویش ہے۔ ہندستان کے ہر حصے میں جہاں جہاں میں ملازمت کے سلسلے میں رہا، یعنی کلکتے سے لاہور کے قرب وجوار تک اور کو ہستان کمائیوں سے نربداتک، افغانوں، راجپوتوں، جاٹوں، سکھوں اور مختلف اقوام میں جو ان ممالک میں آباد ہیں، جس میں میں نے سفر کیا ہے، میں نے اس زبان کا عام رواج دیکھا، جس کی تعلیم آپ نے مجھے دی تھی۔ یوں کہنے کو بہت سی بولیاں اور لہجے ہیں۔ اپنی بات سمجھانے یا دوسرے کی سمجھنے کے لیے اکثر بہت صبر کی ضرورت ہوتی ہے، ہمارے کان ہمیشہ ان آوازوں سے آشنا نہیں ہوتے جو ہم سنتے ہیں۔ اول اول دیسی لوگ ہمارے لہجے اور ڈھنگ کو بغیر باربار دہرائے نہیں سمجھتے۔ یہ دقت اکثر مقامات پر واقع ہوتی ہے۔ لیکن میں ذاتی تجربے نیز اطلاعات کی بنا پر جو مجھے دوسروں سے حاصل ہوئی ہیں، پورے یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر میں کیپ کامرون سے کشمیر تک اور آواسے دریائے سند ھ کے دہانے تک پیدل چلا جاؤں تو مجھے ہر جگہ ایسے لوگ ملیں گے جو ہندستانی بول سکتے ہیں۔ میرے کہنے کایہ منشا نہیں کہ میں ایسے لوگ مطلق نہ پاؤں گا جو یہ زبان نہیں بول سکتے، کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ اس وسیع خطے میں جس کامیں نے ذکر کیا ہے، مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ بلکہ ایسانہ ہو تو تعجب ہے۔ لیکن ہندستانی ہی وہ زبان ہے جو عام طور پر کارآمد ہے اور میری رائے میں اسے وہ عام وسعت حاصل ہے جو دنیا کی کسی زبان کو نصیب نہیں۔ میں ابھی اس زبان میں کچا ہوں لیکن جس قدر میرا جہل زیادہ ہے، اسی قدر میری شہادت قوی ہے اور جہاں تک میری شہادت کا تعلق ہے ہندستانی کا بول بالا رہے گا۔ میر ے خیال میں دنیا خاص طور پر آپ کی رہین منت ہے اور اسے آپ کی ان پرجوش اور مخلصانہ کوششوں کے لیے آپ کا شکر گزار ہونا چاہیے جو آپ نے مشرقی ادب کی اس نہایت اہم شاخ کی اشاعت و ترقی میں فرمائی ہیں۔ زبان دانِ اردو ہے ایسا کہ آج ہے قانون ہندی کواس سے رواج میں نے جو کسی قدر طویل اقتباسات پڑھ کر سنائے ہیں، اس سے میرا منشا یہ جتانا تھا کہ اردو زبان خاص کر اٹھارہویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کی ابتدا میں اپنی مقبولیت اور عالم گیری میں سب پر سبقت لے گئی تھی اور یہ رفتار اس کی برابر جاری رہی ہے۔ چنانچہ موسیوں دیوپان نے جو انسٹی ٹیوٹ کے رکن اور سینٹ کے ممبر اور فاضل شخص تھے، اپنی کتاب’’اقوام کی پیدائش قوت میں‘‘ ایک باب ہندستانیوں کے متعلق لکھا ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ برطانوی ہند کی مردم شماری سرکاری کاغذات کے مطابق اس وقت ۲۸ کروڑ، ۴۰ لاکھ ہے۔ آپ کو معلوم رہنا چاہیے کہ ان میں تقریباً ۲۰ کروڑ نفوس کے درمیان جو چیز ایک مشترک رشتے کا کام دیتی ہے، وہ اردو زبان ہے۔ یہ زبان پورے یورپ کے برابر رقبے کی سرزمین میں بولی جاتی ہے۔ 3گارساں دتاسی جو اردو زبان کے پروفیسر اور عالم اور اس کے بڑے حامی تھے اور جنہوں نے اپنے زمانے میں اردو کی یادگار خدمت کی اور ایسی عمدہ کتابیں لکھیں اور زبان کے متعلق ایسی قابل قدر معلومات مہیا کیں جو کوئی اہل زبان بھی اپنی زبان میں نہ کر سکا، سنہ ۱۸۶۵ء کے خطبے میں کہے س ہیں، ’’بہرنہج لوگوں کا خیال ہندستانی کی نسبت کچھ ہی ہو لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ وہ سارے ہندستان کی مشترک زبان بن گئی ہے، دن بدن جو اس کی ترقی ہو رہی ہے، اس کی وجہ سے وہ پورے دیس کی زبان کہی جا سکتی ہے۔ اس مےلری کی نسبت کپتان ایچ۔ مورنے جو مرکزی حکومت میں ترجمان کی خدمت پر فائز ہں ، اپنی رائے سے مجھے ان الفاظ میں مطلع کیا ہے،’’بلاشبہ کچھ عرصے کے بعد ہندستانی مشرق کی ایک نہایت اہم زبان کی حیثیت اختیار کر لےگی۔ اس زبان کے توسط سے لاکھوں اہل مشرق تبادلۂ خیالات کرتے ہیں۔ ریل کی وجہ سے جو اندرون ملک میں ہزارہا میل کی مسافت میں پھیل گئی ہے، ہندستان اور وسط ایشیا کے لوگوں کو اور بھی ملنے جلنے کا موقع ملا ہے۔ چنانچہ جب یہ لوگ ملتے ہیں تو ایک مشترک زبان کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ ہندستانی زبان اس مقصد کو بطریق احسن پورا کرتی ہے، اس لیے کہ اس کی ساخت میں ہندی فارسی، عربی کے عنصر شامل ہیں۔ اس زبان میں بدرجۂ اتم یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں کے مقاصد پورا کرے۔ میرے خیال میں ہندستان کے قدرتی وسائل کی ترقی کے جس قدر امکانات ہیں، اسی قدر ہندستانی زبان کو فروغ حاصل کرنے کے مواقع موجود ہیں۔‘‘ 4یہ وہ زمانہ ہے کہ اردو مقبول خاص و عام تھی اور اس کی مقبولیت کا ناقابل تردید ثبوت یہ ہے کہ سنہ ۱۸۳۵ء کے بعد جب فارسی کے بجائے اردو دفتری زبان قرار دی گئی تو کوئی آوازاس کے خلاف سننے میں نہیں آئی اور کسی نے یہ نہ کہا کہ اردو نہیں، فلاں زبان ہونی چاہیے۔ اس کی یہ متفقہ مقبولیت ایک مدت تک برابر جاری رہی، چنانچہ گارساں دتاسی، بمبئی گزٹ مورخہ ۲۶ فروری سنہ ۶۱ء کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ بنگال، بہار اور اڑیسہ کے زمینداروں اور دوسرے باشندوں نے وائسراے گورنر جنرل بہادر کوایک عرض داشت بھیجی جس میں یہ درخواست کی کہ جدید ہائی کورٹ میں کاروائی اردو زبان میں ہونی چاہیے۔ اس زمانے میں بمبئی کی نئی نئی یونیورسٹی قائم ہوئی تھی۔ سنہ ۱۸۶۰ء کے ڈگری کے امتحان میں اردو زبان بھی تھی اور اس کے نصاب میں باغ و بہار، اخلاق ہندی، مثنوی میر حسن اور دیوان ناسخ شریک تھے۔ 5یہ وہ زمانہ تھاکہ ان صوبوں کے ہندو تعلیم یافتہ اور اہل قلم جہاں کی زبان اردو نہ تھی نیز انگریز مدبر اور حاکم تک عام جلسوں میں اردو میں تقریریں کرتے تھے۔ چنانچہ سنہ ۱۸۶۱ ء میں مہاراجہ کشمیر کی گدی نشینی کے موقع پر جموں میں جو دربار ہوا اس میں مسٹر ڈیوس جو اس موقع پر گورنمنٹ ہند کے نمائندہ تھے، جب نئے راجا کے سینے پر تمغے لگا چکے تو مہاراجا نے ان کی تقریر کا جواب اردو میں دیا۔ سرجے۔ بی۔ گرانٹ، لفٹننٹ گورنر بنگال جب یورپ واپس جا رہے تھے تو اہل کلکتہ نے ۱۶/اپریل سنہ ۱۸۶۱ء کوان کے اعزاز میں ایک عام جلسہ منعقد کیا۔ اس جلسے کے صدر رادھا کانت دیو بہادر تھے۔ انہوں نے اس موقع پر اردو میں تقریر کی۔ ان کے بعد راجا کالی کشن بہادر نے جو مشہور مصنف گزرے ہیں، تقریر کی اور وہ بھی اردو میں تھی۔ نیز ایک جلسے مںے سرجان گرانٹ کی خدمت میں سیاس نامہ پیش کرنے کی تحریک ہوئی جو متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ اس جلسے میں راجا اپرواکرشن نے اردو میں تقریر کی اور یہ تجویز پیش کی کہ کلکتہ مںس سرجان گرانٹ کابت نصب کیا جائے۔ اسی طرح کلکتے کے ایک اور جلسے میں جو اس غرض سے منعقد کیا گیا تھا کہ انگلستان کے کپڑے کے کارخانوں کے مزدوروں سے اظہار ہمدردی کیا جائے، مختلف مقرروں نے ہندستانی میں تقریریں کی اور راجا نرائن سنگھ نے اس جلسے میں تجاویز کی تائید اردو میں کی۔ 6شاہ زادہ ویلز کی شادی کے موقع پر ہندستان میں ہر جگہ جلسے منعقد ہوئے اور ان میں ہندستانی زبان میں تقریریں کی گئیں۔ فروری سنہ ۱۸۶۲ ء میں جب سرہنری منٹگمری لفٹننٹ گورنر پنجاب ریاست کپور تھلہ تشریف لے گئے تو اس موقع پر صاحب موصوف نے مشن اسکول کے طلبہ کے سامنے ہندستانی میں تقریر کی۔ جنوری سنہ ۱۸۶۴میں پنجاب کے لفٹننٹ گورنر نے اپنی روانگی سے قبل ایک دربار منعقد کیا جس میں مختلف ہندستانی راجا، امرا اور سرکاری عہدہ دار شریک تھے، لفٹننٹ گورنر نے اس موقع پر انگریزی مںن نہیں، اردو میں جلسے کو خطاب کیا۔ جب سرجانس لارنس وائسراے کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئے تو انہوں نے ایک بڑا شاندار دربار آگرے میں منعقد کیا۔ جب وائسراے تخت پر بیٹھنے کے لیے تشریف فرما ہوئے تو توپوں کی سلامی دی گئی اور سرولیم میور نے شاہی فرمان کاترجمہ پڑھا اور خود وائسراے نے حاضرین کے روبرو ہندستانی میں تقریر کی۔ برٹش انڈیا ایسوسی ایشن مرادآباد میں لفٹننٹ گورنر نے اردو میں تقریر کی۔ نیز مدرسۂ مراد آباد کے افتتاح کے موقع پر بھی صاحب موصوف نے اردو ہی میں جلسے سے خطاب کیا۔ مہاراجہ بنارس نے سنہ ۱۸۶۸ء میں چبرا زانسائیکلوپیڈیا کے اردو ترجمے کے لیے دس ہزار روپئے منظور کیے بشرطیکہ حکومت بھی دس ہزار دے۔ اب یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اردو کی مقبولیت کے کیا اسباب ہیں، دوسرے ہندی اور اردو کے اختلاف کا مسئلہ کیونکر پیدا ہوا۔ میں پہلے دوسرے سوال کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ بعض اصحاب کا جو یہ خیال ہے کہ سرسید احمد خاں نے نیشنل کانگریس سے مخالفت کرکے ہندی اردو کا اختلاف پیدا کیا، سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ یہ فساد سب سے اول سنہ ۱۸۶۷ء میں بنارس سے اٹھا جہاں ’’بعض سربر آوردہ ہندوؤں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ جہاں تک ممکن ہو، تمام سرکاری عدالتوں میں اردو زبان اور فارسی خط موقوف کرانے کی کوشش کی جائے اور بجائے اس کے بھاشا زبان جاری ہو جو دیوناگری میں لکھی جائے۔‘‘ ہندوؤں کی اس قومی مجلس میں جو اس وقت بابو فتح نرائن سنگھ کے مکان پر بنارس میں قائم تھی، اس بات کی چھیڑ چھاڑ شروع ہوئی اور رفتہ رفتہ جابجا اس کے لیے کمیٹیاں، مجلسیں اور سبھائیں مختلف ناموں سے قائم ہو گئیں اور ایک صدر مجلس الہ آباد میں قائم کی گئی جس کے ماتحت تمام مذکورۂ بالا مجلسیں اور سبھائیں تھیں۔ 7 اس کے بعد سے جھگڑا مختلف صورتوں میں طرح طرح سے اب تک چلا آ رہا ہے، جس کی تاریخ اور تفصیل کا یہ موقع نہیں، میں یہاں صرف مختصر طور پر اس کے اصل وجوہ پر غور کرنا چاہتا ہوں۔ پہلے زمانے میں آج کل کی طرح زبان سیاست کے دنگل میں نہیں اتری تھی۔ لوگ جس زبان میں زیادہ سہولت دیکھتے یا جس زبان میں اشاعت کا زیادہ سامان پاتے اس میں لکھتے تھے اور اکثر اہل قلم اپنی زبان ترک کر دیتے اور غیر زبان میں لکھنا پسند کرتے تھے۔ ایک زمانے میں لاطینی سارے یورپ پر چھائی ہوئی تھی اوربعض جرمن اور انگریز مصنفین لاطینی میں تالیف اور تصنیف کرتے تھے۔ اس میں کسی حکومت کا دباؤ نہ تھا بلکہ اپنے شوق سے کرتے تھے اور انہیں کبھی اس کا گمان تک نہ ہوتا تھا کہ ایسا کرنا قومیت یا وطنیت کے حق میں غداری ہے۔ فریڈرک اعظم اگرچہ کٹر جرمن تھا لیکن فرانسیسی بولنے اور لکھنے کو ترجیح دیتا تھا اور فرانسیسی لکھتے یا بولتے وقت اس کے خیال میں بھی کبھی یہ بات نہیں آ سکتی تھی کہ وہ کسی ایسے فعل کا ارتکاب کر رہا ہے جو اس کے جذبۂ قومیت کے منافی ہے۔ یاہمارے ملک کی مثال لیجیے۔ جب انگریزی تعلیم کارواج ہواتو ہمارے ہم وطن تعلیم یافتہ اکثر انگریزی میں بات چیت اور خط و کتابت کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں، اگرچہ پہلا ساخبط اب نہیں رہا۔ اور جنہیں توفیق ہوتی ہے انگریزی میں تصنیف و تالیف بھی کرتے ہیں۔ انگریزی حکومت کا کوئی قانون ایسانہیں کہ سوائے انگریزی کے کسی دیسی یا دوسری زبان میں تالیف نہ کی جائے۔ لوگ یہ سب کچھ اپنے شوق سے کرتے ہیں۔ بعینہٖ یہی حال مغلوں کی حکومت میں تھا، جب کہ یہاں فارسی کا رواج ہوا۔ مغلوں کی حکومت میں ہندستان کی کا یابدل گئی۔ وہ اس ملک میں اپنے ساتھ نئے آئین اور نئے اصول حکومت اور نیا مذہب لائے، انہوں نے نئی تنظیم اور نئی حکمت کو رواج دیااور نئے تمدن اور نئی تہذیب اور نئی معاشرت کا دور شروع ہوا، نئے آداب مجلس، نئے رسم ورواج اور نئے ذوق نے رواج پایا۔ ان کے ساتھ طرح طرح کے کپڑے، قالین اور فرش فروش، سامان آسائش، نئے آلات جنگ، نئے پھول اور پھل اور نئے قسم کے کھانے، نئی قسم کی صناعی، نئی قسم کی اصطلاحات اور الفاظ یہاں آئے اور رائج ہوئے۔ انہوں نے یہاں کے حالات میں ایک عجیب تغیر پیدا کر دیا اور سارے ماحول میں ایک نیا رنگ روپ نظر آنے لگا۔ اس جدید ذوق، اس جدید تہذیب اور جدید خیالات کے ادا کرنے کے لیے جو اس ماحول میں ساری تھے، سوائے فارسی کے کوئی دوسری زبان نہ تھی۔ ایک تو اس لیے کہ اس زبان میں شیرینی، لچک، وسعت تھی، الفاظ و اصطلاحات کا ذخیرہ موجود تھا اور بنے بنائے اور ڈھلے ڈھلائے بیان کے سانچے تیار تھے۔ دوسرے، اس میں لکھنے سے تحریر اہل بصیرت اوراصحاب ذوق کی نظر سے گزرتی تھی اور ہندستان ہی میں نہیں، اس سے باہر بھی پہنچتی تھی اور تحسین حاصل کرتی تھی۔ تیسرے، رواج کی پابندی اور ماحول کااثر خودبخود اس طرف کھینچ لاتا تھا۔ چوتھے، اس میں کسی قدر مشیخت کا بھی شائبہ تھا۔ اس میں ہندومسلمان سب برابر تھے، دونوں کی تحریریں پڑھیے، ذرہ برابر فرق نہیں پایا جاتا۔ یہ اس لیے نہیں تھاکہ مغلوں نے فارسی سیکےنے کے لیے جبر کر رکھا تھا۔ ان کے عہد میں علم اور زبان کی عام آزادی تھی، بلکہ انہوں نے سنسکرت اور دوسری دیسی زبانوں کی بڑی سرپرستی کی جس کی وجہ سے انہیں بہت فروغ ہوا۔ چنانچہ ان کے عہد میں سنسکرت کے اعلیٰ مصنف اور سنسکرت اور ہندی کے بہت سے نامور شاعر ہوئے ہیں۔ فارسی کی طرف یہ عام رجحان جدید حالات اور ماحول کا نتیجہ تھا۔ ہندستان ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے اکثر ممالک میں زبان کے معاملے میں اکثر رواداری کا برتاؤ تھا اور لوگ غیرزبان بولنے اور غیرزبان لکھنے میں نہیں جھجکتے تھے۔ لیکن یہ آزادی اور رواداری دنیا میں زیادہ مدت تک نہیں رہی۔ ایک زمانہ آیا جب کہ مذہب اور عقیدے کی طرح زبان بھی سیاسی لپیٹ میں آ گئی۔ جرمنوں نے فرانسیسیوں کی نفرت کی وجہ سے فرانسیسی اور دوسری زبانوں کے لفظ اپنی زبان سے اسی طرح خارج کر دینے شروع کر دیے جیسے آج وہ یہودیوں کو اپنے ملک سے جلا وطن کر رہے ہیں۔ اسی طرح شیواجی کے زمانے میں مرہٹی زبان سے عربی فارسی کے الفاظ نکال دیےل کی کوشش کی گئی۔ آئرلینڈ میں محض انگریزی کی مخالفت میں آئرش زبان کے زندہ کرنے کی جدوجہد جاری ہے۔ ترکوں نے اپنی زبان سے غیرزبانوں کے لفظ نکالنا شروع کر دیے ہیں۔ ایران میں پہلے بھی ایک کوشش ہوئی لیکن ناکام رہی۔ اب وہ پھر ترکوں کی طرح غیرزبانوں کے الفاظ نکال دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ زبان کے لیے اب لڑائیاں چھڑ جاتی ہیں، دوسری زبانوں کو مٹانے اور فنا کرنے کے لیے جابرانہ احکام اور آئین نافذ کیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ شہروں اور مقاموں تک کے نام بدل دیے جاتے ہیں۔ زبان اور قومیت اب تک ایک دوسرے کا جزو لاینفک سمجھے جاتے ہیں اور جب اس کے ساتھ مذہب بھی آشریک ہوتا ہے تو یہ بادۂ تلخ دو آتشہ ہو جاتا ہے۔ یہی صورت ہندستان میں پیش آئی۔ سنہ ۵۷ء کے بعد کمپنی بہادر برخاست ہوئی۔ انگریزی راج آیا، حالات نے پلٹا کھایا، جدید قانون نافذ ہوئے، جو آگے تھے پیچھے اور جو پیچھے تھے آگے ہو گئے۔ چند ہی سال بعد قومیت کا خیال جو سارے یورپ پر چھایا ہواتھا اڑتا ہوا یہاں بھی پہنچا۔ ریل اور تار کی حیرت انگیز اختراعوں، کالجوں کی تعلیم، آزادی اور حب وطن کی تقریروں اور تحریروں، انگریزی انصاف پسندی کے اعتقاد نے قومیت اور وطنیت کے جذبے کو اور اکسایا۔ خاص کر ہنود اس سے زیادہ متاثر ہوئے، وہ اس نئے دور کو اپنے حق میں آزادی کا دور سمجھے، اس کے ساتھ ہی اپنی شاندار قومیت اور ماضی کے فخر نے بھی دلوں میں نیا جوش پیدا کیا جسے میکس مولر نے ابھارا اور جس سے بعد میں اینی بزانٹ نے خوب کام لیا۔ لیکن سب سے زیادہ مستحکم طور پر یہ خیال سوامی دیانند سرسوتی نے دلوں میں جمایا۔ گروکل قائم ہوئے جس میں سنسکرت پڑھنا اور سنسکرت بولنا لازم تھا، ویدک زمانے کی معاشرت کی نقل کی جانے لگی، ننگے پاؤں پھرنا، ایک بے سلی چادر اوڑھنا لپیٹنا، جنگلوں میں رہنا، زیر سماسونا وغیرہ وغیرہ قومی شعار قرار پایا۔ اسی قومیت کے جذبے، مقدس قدامت اور ماضی کے غرور، نام نہاد نئی آزادی اور نئی تعلیم نے اس میں نشے کی سی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ وہ طرح طرح سے اپنی نئی حیثیت اور انفرادیت جتانے لگے اور جس طرح ایک بےوقوف عورت نے اپنی خوب صورت انگوٹھی دکھانے کی خاطر گھر کو آگ لگا دی تھی، انہوں نے بھی بنے بنائے گھر کو بگاڑنا شروع کیا۔ سب سے پہلے نزلہ اردو زبان پر گرا۔ اس کا سب سے بڑا قصور یہ تھا کہ یہ اسلامی عہد کی پیداوار تھی۔ یہ سچ ہے کہ اس زمانے میں اس نے جنم لیا لیکن صرف مسلمان اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ یہ درحقیقت اس زمانے کے ماحول اور اس تمدن اور تہذیب کی مخلوق تھی جو مسلمانوں کے آنے کے بعد ہندستان میں رونما ہوئی اور جس میں ہندو مسلمان دونوں برابر کے شریک ہیں اور اردو کے بنانے میں تو (یہ میرا ذاتی خیال ہے) ہندو شریک غالب تھے۔ اور چونکہ یہ اس ماحول میں پیدا ہوئی جس کی تعمیر ہندو مسلمان دونوں کے ہاتھوں سے ہوئی، اس لیے اس میں بہ نسبت کسی دوسری ہندی زبان کے عربی، فارسی کے الفاظ زیادہ تھے اور وہ بھی سب ملاکر کتنے؟ بقول مولانا حالی’’جتنا آٹے میں نمک۔‘‘ حیرت ہے کہ آریا اس ملک میں آئیں اور ہندی کہلائیں، مغل، ترک، عرب یہاں آبادہوں اور ہندستانی بن جائیں، اور بیسیوں قومیں یہاں آئیں اور دیسی ہو جائیں لیکن بقول عورتوں کے ’’جنم جلے‘‘ لفظ ہی ایسے ہیں جو صد ہاسال رہنے سہنے کے بعد بھی غیر کے غیر ہی رہے اور اپنے نہ ہونے پائے۔ اب انہیں محض اس شبہے پر کرید کرید کر اور اکھیڑ اکھیڑ کر نکالنا نادانی نہیں، دیوانہ پن ہے۔ قومی غرور میں اکثر ایسا ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی بدتر حرکتیں سرزد ہوتی ہیں۔ مثلاً جرمنوں نے لفظوں پر مشق کرتے کرتے انسانوں پر بھی ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیا۔حالانکہ یہ ایک موٹی سی بات ہے کہ جب لفظ ہماری زبان میں آ گیا اور رس بس گیا تو وہ غیرزبان کا نہیں رہتا، ہمارا ہو جاتا ہے۔ اسے اگر ہم نکال دیں تو سوائے ہماری زبان کے اس کا کہیں ٹھکانا نہیں رہتا۔ دوسری زبان میں مل جانے سے نہ اس کی وہ پہلی سی صورت اور چہرہ مہرہ رہتاہے اور نہ سیرت و خصلت، وہ اگر اپنی اصلی زبان کی طرف جائےگا تو پہچان بھی نہ پڑےگا اور کوئی اسے وہاں گھسنے نہ دےگا۔ اس کے علاوہ اصل زبان کا اس میں کوئی نقصان نہیں، نقصان ہے تو اس زبان کا جس میں یہ آکر بس گئے تھے اور جن کی وجہ سے اس زبان کی رونق، وسعت اور قوت اظہار میں اضافہ ہو گیا تھا۔ زبان کی یہ گت اس ہندی اردو جھگڑے میں بنی۔ عربی، فارسی ہی کے نہیں بلکہ ہندی کے معمولی لفظ بھی جوعام طور پر بول چال میں رائج ہیں، خارج اور ان کی جگہ سنسکرت کے اصل لفظ داخل کیے جا رہے ہیں۔ یہ زبان کا بنانا نہیں، بگاڑنا ہے۔ بعض حضرات نے اس نزاع کا الزام سرسیدا حمد خاں کے سر تھوپا ہے۔ ان کا بیان ہے کہ جب سر سید نے انڈین نیشنل کانگریس کی مخالفت کی تو ہندی اردو کا جھگڑا پیدا ہوا۔ یہ بالکل غلط اوربے بنیاد ہے۔ جب یہ جھگڑا اٹھا ہے تو اس وقت کا نگریس کا وجود بھی نہ تھا۔ اس کے متعلق خود سر سید کا بیان موجود ہے، ہم اسے کیوں نہ دیکھیں۔ وہ علی گڑھ کے تعلیمی سروے میں ایک جگہ لکھتے ہیں،’’تیس برس کے عرصے سے مجھ کو ملک کی ترقی اور اس کے باشندوں کی فلاح کا خواہ وہ ہندوہوں یامسلمان، خیال پیدا ہوا ہے اور ہمیشہ میری یہ خواہش تھی کہ دونو ں مل کر دونوں کی فلاح میں کوشش کریں۔ مگر جب سے ہندو صاحبوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اردو زبان اور فارسی کو جو مسلمانوں کی حکومت اور ان کی شاہنشاہی ہندستان کی باقی ماندہ نشانی ہے، مٹا دیا جائے، اس وقت سے مجھ کو یقین ہو گیا کہ اب ہندو مسلمان باہم متفق ہوکر ملک کی ترقی اور اس کے باشندوں کی فلاح کا کام نہیں کر سکتے۔ میں نہایت درستی اور اپنے تجربے اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہندو مسلمانوں میں جو نفاق شروع ہواہے، اس کی ابتدا اسی سے ہوئی۔‘‘ جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے، اس کی ابتداسنہ ۶۷ء میں بنارس میں ہوئی اور ایسے برے وقت ہوئی کہ اب تک ختم ہونے کو نہیں آئی، بلکہ دن بدن زور پکڑتی جاتی ہے۔ لیکن اس وقت بھی بعض منصف مزاج اورعاقبت اندیش ہندو اہل قلم نے اس نئی تحریک کی مخالفت کی، چنانچہ سنہ ۱۸۶۹ء میں منشی حکم چند پروفیسر دہلی کالج نے ایک مدلل اور محققانہ مضمون اس کی مخالفت میں لکھا۔ پروفیسرموصوف زبانوں کی حقیقت اور ارتقا وغیرہ پر بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں،’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ خالص زبان اور میل والی (مخلوط) زبان میں کیاخاص فرق ہے اور اول الذکر کوثانی الذکر کے مقابلے میں کیوں خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا دنیا میں کوئی زبان بھی ایسی کہی جا سکتی ہے جس میں بدیسی الفاظ شامل نہ ہو گئے ہوں؟ اگرکوئی ایسی زبان موجود ہو تو اس کو ترجیح کی کوئی وجہ نہیں۔ میل والی زبان میں اجنبی الفاظ کچھ عرصے کے استعمال کے بعد کھپ جاتے ہیں اور مقامی رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور اس میل والی زبان کوبھی ہم خالص زبان کہہ سکتے ہیں۔ دراصل یہ تمام امور اردو زبان کی بحث سے خارج ہیں، اس واسطے کہ اردو ایک زندہ زبان ہے اور اس قدر زمانے سے ہندستان میں استعمال کی جا رہی ہے کہ اس کو ترک کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھایا جا سکتا۔ یہ بحث بالکل بے نتیجہ ہے کہ آیا اردو ایک خالص زبان ہے یا اس میں دوسری زبانوں کابھی میل ہے۔ اب ہندو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اس جگہ ہندی کو رواج دیں، جس کااستعمال عرصے سے ترک کر دیا گیا ہے اور جس کی حیثیت اب ایسی ہی ہے جیسی کہ سنسکرت کی۔ ایک زمانہ تھا جب دلی والے جامہ پہنا کرتے تھے، لیکن اب لوگوں نے یہ لباس ترک کر دیا ہے۔ اب اگر کوئی یہ لباس پہن کر بازار میں جائے تو لوگ کیا کہیں گے؟ اکثر لوگ بہروپ سے تعبیر کریں گے۔ زبانوں کا بھی یہی حال ہے۔ اب اگر آپ ’’بدن‘‘ کی جگہ ’’شریر‘‘ اور شیر کی جگہ’’سنگھ‘‘ استعمال کریں تو لوگ آپ کی بات سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ فارسی رسم خط کی جگہ جو ناگری رسم خط استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کا بھی یہی حال ہے۔ دراصل اگر ایک دفعہ بدیسی الفاظ کسی زبان میں چل جائیں تو زبان خالص بنانے کے لیے انہیں بے دخل نہیں کیا جا سکتا اور نہ رسم خط بدلا جا سکتا ہے۔ فردوسی نے شاہنامے میں عربی الفاظ استعمال نہیں کیے لیکن کیا دوسرے فارسی شعرا جیسے خاقانی، انوری، نظامی وغیرہ اس کا تتبع کر سکے؟ برخلاف اس کے ان کے یہاں کثرت سے عربی الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس اصول پر ہم اردو میں عربی، فارسی الفاظ کا استعمال کرتے ہیں اور کیوں نہ کریں؟ شہروں میں ہر چھوٹا بڑا اردو بولتا ہے اور سرکاری دفاترمیں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں اخبارات کی بڑی تعداد شائع ہوتی ہے اور تعداد میں ہر روز مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اردو میں دوسری زبانوں کے مطالب بیان کرنے کی بدرجۂ اتم صلاحیت پائی جاتی ہے۔‘‘ اسی زمانے میں گارساں دتاسی لکھتے ہیں کہ ’’باوجود ان مباحث کے جن کی نسبت ہم نے ابھی ذکر کیا ہے، اردو ہندستان کی مشترکہ زبان کی حیثیت سے مسلم ہے۔ ڈیوک آف اڈنبرانے اسی زبان میں اپنے دوران سفر میں تقریریں کیں اور اسی زبان میں ڈیوک موصوف کی تعریف و توصیف میں قصیدے لکھے گئے۔ آج کل ساؤتھ کنزنگٹن میوزیم میں شہزادہ البرٹ کی جو نمایش ہو رہی ہے اس کے نیچے اردو زبان میں کتبہ لکھا گیا ہے۔‘‘ اسی مضمون میں دوسرے مقام پر لکھتے ہیں، ’’اگرچہ صوبۂ بنگال کی زبان بنگالی ہے لیکن اردو جیسا کہ میں پیشتر وضاحت بیان کر چکا ہوں وہاں عام طور پر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ چنانچہ راجا کالی کرشن پرشاد نے حال میں ملکۂ وکٹوریہ کی سال گرہ کے کے موقع پر سنسکرت میں جو نظم لکھی تھی اس کا اردو میں ہی ترجمہ شائع کیا ہے، جس کی ایک نقل انہوں نے مجھے بھی بھیجی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ موصوف نے اس کا بنگالی میں ترجمہ شایع نہیں کیا۔‘‘ پھر لکھتے ہیں، ’’اگر کوئی ہندو اسلامی حکومت کو برا کہے اور انگریزی نظم و نسق کا مداح ہوتو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن عربی، فارسی اور اردو جیسی زبانوں کے ساتھ تعصب برتنا کسی طرح بھی مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ بابو شیو پرشاد جیسے عالم فاضل شخص سے مجھے اس کی توقع نہ تھی، اس لیے ان کی تحریر دیکھ کر مجھے تعجب ہوا۔ بابو صاحب خود اردو نہایت عمدہ لکھتے ہیں اور متعدد تصانیف اس زبان میں شایع کر چکے ہیں۔ یہ خواہش کرنا کہ ہندستان میں سوائے سنسکرت، ہندی یاانگریزی کے اور کسی زبان کی تحصیل ہی نہ کی جائے، میرے خیال میں تنگ نظری پر دلادت کرتا ہے۔ میں سید احمد خاں کی طرح اس بات میں زیادہ وسیع مشرب واقع ہوا ہوں۔‘‘ اس زمانے میں اس نئی تحریک پر بڑی گرماگرم بحثیں ہوئیں اور دونوں فریق نے تائید وتردید میں خوب خوب دل کا بخار نکالا۔ اس زمانے کا کوئی اخبار یارسالہ شاید ہی اس بحث سے خالی ہو۔ اس کے بعد کچھ عرصے کے لیے یہ بحث دھیمی پڑ گئی اور لوگ سیاسی اور معاشرتی مسائل کی طرف متوجہ ہو گئے۔ لیکن سرانٹونی میکڈانل کے عہد جبروت مہد میں اس دبی آگ کو پھونکیں مار مار کر سلگایا گیا۔ اور ابھی کچھ دنوں دم نہ لینے پائے تھے کہ شدھی اور سنگھٹن نے وہ شعلے بھڑکائے جن کی آنچ اب تک کم نہیں ہوئی ہے اور جو آتا گیا ایک آدھ کپا تیل کا اور لنڈھاتا گیا۔ انگریز بہت خوش اقبال ہے کہ ہر قرن اور ہر دور میں کوئی نہ کوئی بات ایسی نکل آتی ہے کہ ہم آپس میں کٹ مرتے ہیں اور وہ اس کے مزے لیتا ہے۔ رشید احمد صدیقی صاحب فرماتے ہیں کہ میں ہندی اردو کے قضیے سے بیزار ہوں۔ ان سے زیادہ میں بیزار ہوں۔ میں اب سے پہلے کبھی اس بحث میں نہںم پڑا تھا، یہ میرے شعار کے خلاف تھا بلکہ جہاں کہیں میں نے ضرورت سمجھی ہندی کی حمایت ہی کی۔ جامعہ عثمانیہ میں ہندی کے رواج دینے میں تھوڑی سی میری ناچیز کوشش کو بھی دخل تھا۔ تین سال کا ذکر ہے کہ جب مدراس میں بعض پروفیسروں اور دیگر صاحب ذوق اصحاب نے اردو اکاڈیمی کی بنیاد ڈالی تو اس وقت احاطۂ مدراس میں ہندی کی اشاعت اور پروپیگنڈے کا بھی ذکر آیا تو میں نے یہی کہا کہ ہمیں ہرگز اس کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے، جس قدر ان میں ہندی کا زیادہ رواج ہوگا اسی قدروہ ہم سے زیادہ قریب ہو جائیں گے، کیونکہ ہندی سے زیادہ ہندستان کی کوئی زبان اردو سے زیادہ قریب بلکہ اقرب نہیں ہے (افسوس ہے کہ مجھے قربت کا لفظ استعمال کرنا پڑا جس سے دوئی کی بو آتی ہے، حالانکہ کچھ پہلے ہماری ایک ہی زبان تھی۔) لیکن جب میں نے دیکھا کہ واقعات کا خون کیا جا رہا ہے اور دانستہ یانا دانستہ طرح طرح کی غلط بیانیاں پھیلائی جا رہی ہیں تو مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے جھجکتے جھجےتا اپنی طبیعت کے خلاف اپنی کمزور آواز اور اس سے بھی کمزور اپنے قلم سے کسی قدر کام لیا۔ مجبوری میں آدمی کو کبھی کبھی ایسا بھی کرنا پڑتا ہے۔ حال میں اس معاملے میں دو قسم کی غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ ہندی دوہزار برس سے یہاں جاری ہے اور یہی ہندستانی زبان ہونی چاہیے۔ ہندی کا لفظ عام ہے۔ اس کا اطلاق برج بھاشا، اودھی، بندیلی، بگھیلی، راجستارنی، بھوج پوری، میتھلی، چھتیس گڑھی وغیرہ وغیرہ پر اسی طرح ہوتا ہے جس طرح اردو پر ہوتا ہے کہ وہ بھی ایک زمانے میں ہندی کہلاتی تھی۔ مگر وہ ہندی جس کی خاطر یہ سارا طوفان برپا کیا گیا ہے اس کی پیدائش کو بقول شخصے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں۔ فورٹ ولیم کالج کے منشیوں نے (خداان کی ارواح کو شرمائے) بیٹھے بٹھائے بلاوجہ اور بغیر ضرورت یہ شوشہ چھوڑا۔ للوجی لال نے جو اردو کے زبان داں اور اردو کتابوں کے مصنف بھی تھے، اس کی بنا ڈالی، وہ اس طرح کہ اردو کی بعض کتابیں لے کر انہوں نے ا ن میں سے عربی، فارسی لفظ چن چن کر الگ نکال دیے اور ان کی جگہ سنسکرت اور ہندی کے نامانوس لفظ جما دیے، لیجیے ہندی بن گئی۔ جدید ہندی کی تاریخ سے جو واقف ہیں، وہ سب اس پر متفق ہیں کہ اس کی ابتدا اسی طرح سے ہوئی۔ یہاں میں بخوف طوالت ان رایوں کو نقل نہیں کرنا چاہتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ مشکل ہے اوربھدی ہے۔ فٹزایڈورڈہال جو ایک جید عالم گزرے ہیں اور ہندی زبان کے بڑے حامیوں میں سے تھے، اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ’’ہندی زبان جیسی کہ وہ آج کل مستعمل ہے، دراصل بالکل جدید زبان ہے اور انیسویں صدی کے خاتمے پر جو ہندی رائج ہوگی وہ بہت مختلف ہو جائےگی۔‘‘ ان کی پیشین گوئی حرف بحرف صحیح نکلی۔ دوسری غلط بیانی یہ کی گئی کہ اردو کو مسلمان بادشاہوں نے حکومت کے زور سے پھیلا یا اور اس وقت ہندوؤں نے بحالت مجبوری سیاسی مصلحت سے قبول کر لیا۔ یہ بیان سرتاپا غلط اور بےبنیاد ہے۔ یہ بات اگر کوئی اور کہتا تو قابل التفات نہ ہوتی لیکن یہ الفاظ ایسے شخص کے قلم سے نکلے ہیں جو اردو اور ہندی دونوں کا مسلم ادیب تھا اور اپنے اخلاق اور سیرت کے لحاظ سے معمولی آدمی نہ تھا۔ اس لیے اور بھی زیادہ تعجب اور افسوس ہوتا ہے۔ اردو زبان کی تاریخ ایسی صاف اور کھلی چیز ہے کہ اس پر بحث کرنے یا اس بیان کی تردید کرنے کی مطلق ضرورت نہیں معلوم ہوتی۔ مسلمان بادشاہوں کے دربار اور دفتر کی زبان ہمیشہ فارسی رہی، ان کو اتنی توفیق ہی نہ ہوئی کہ وہ غریب اردو کی طرف توجہ فرماتے اور توجہ کی تو کس وقت؟ جب نہ سلطنت رہی، نہ حکومت اور ظاہر ہے ایسے وقت میں ان کا اثر ہی کیا ہو سکتا تھا۔ اردو زبان جدید ہندی کی طرح کسی نے بنائی نہیں، وہ تو خود بخود بن گئی اور ان قدرتی حالات نے بنائی جن پر کسی کو قدرت نہ تھی۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے اور اگر ہندوؤں کی اس میں شرکت نہ ہوتی تو یہ وجود ہی میں نہیں آ سکتی تھی۔ مسلمان بادشاہوں پر یوں تو بہت سے الزام عائد کیے گئے ہیں لیکن یہ بالکل نیا الزام ہے اور حال ہی میں گڑھا گیا ہے۔ حضرات! اب میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ اردو کی مقبولیت کے کیا اسباب ہوئے۔ سب سے بڑی وجہ اس کی مقبولیت عام کی یہ ہوئی کہ اس کی بنیاد عوام کی زبان پر رکھی گئی تھی جوبول چال کی زبان تھی۔ خود اردو کا لفظ ہی اس کی اصل اور ابتدا کا پتا دیتا ہے۔ اس وقت جتنی شائستہ اور اعلیٰ درجے کی زبانیں ہیں جن کی دھاک ساری دنیا پر بیٹھی ہوئی ہے، وہ ایک وقت میں عوام کی معمولی بولیاں تھیں اور حقارت کی نظر سے دیکھی جاتی تھیں، یہاں تک کہ خود اہل زبان اس میں لکھنا پسند نہ کرتے تھے۔ بعینہٖ یہی حال پہلے پہلے اردو کا بھی تھا۔ اس کے بولنے والے بھی اس میں لکھتے ہوئے ہچکچاتے تھے اور جو کبھی کوئی لکھتا اور وہ بھی مذہبی ضرورت سے ہوتا تھا تو پہلے معذرت کرتا کہ چونکہ سب عربی فارسی نہیں جانتے اس لیے ان کی خاطر سے اس زبان میں لکھ رہا ہوں۔ لیکن آخر یہی عوام کی بولی رفتہ رفتہ شائستہ اور ادبی زبان بن گئی اور اب تک اس کا تعلق برابر عوام کی بولی سے رہا۔ میں نے جو بھارتیہ ساہتیہ پرشد کے جلسے میں کہا تھا کہ اردو میں ہندی زبان کے الفاظ اور محاورے اور امثال جدید ہندی کی بہ نسبت کہیں زیادہ ہیں تو یہ میں نے محض دھونس بٹھانے کے لیے نہیں کہا تھا بلکہ یہ امر واقعی ہے۔ ادبی زبان بننے پر بھی وہ عوام کی بولی سے جدانہیں ہوئی، برخلاف جدید ہندی کے کہ وہ کتابی زبان ہے۔ انہیں جب کبھی الفاظ کی ضرورت پڑی تو انہوں نے سنسکرت کے ذخیرے کو ٹٹولا۔ ہمارے پاس پہلے سے ہندی کے لفظ موجود تھے اور بعد میں بھی ہم نے ہندی سے نئے لفظ لینے میں بخل نہیں کیا۔ عوام کی زبان مثل قلب کے ہے جس سے تمام اعضا کوخون پہنچتا رہتا ہے اور ان کی تقویت کا باعث ہوتا ہے۔ جب تک زبان کوعوام کی بولی سے مدد ملتی رہتی ہے، وہ عوام کی بولی کا ساتھ دیتی رہتی ہے، وہ زندہ اور چونچال رہتی ہے اور جس وقت سے اس کا تعلق عوام کی بولی سے منقطع ہو جاتا ہے تو اسی وقت سے اس پر مردنی کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ یونانی، سنسکرت، لاطینی جو دنیا کی کامل اور بہترین زبانیں خیال کی جاتی ہیں، اسی لیے مردہ ہو گئیں۔ البتہ اردو پر ایک ایسا تاریک زمانہ آیا تھا کہ ہمارے شعرانے اکثر ہندی لفظوں کو متروک قرار دیا اور ان کی بجائے عربی فارسی کے لفظ بھرنے شروع کیے اور یہی نہیں بلکہ بعض عربی فارسی الفاظ جو بہ تغیر ہیئت یا بہ تغیر تلفظ اردو میں داخل ہو گئے تھے، انہیں بھی غلط قرار دے کراصل صورت میں پیش کیا اور اس کا نام ’’اصلاح زبان‘‘ رکھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ تکلف اور تصنع ہمارے ادب پر چھا گئے تےا، شاعری ضلع جگت ہو گئی تھی، سخن وروں نے لفظوں کو کھیل بنا لیا تھا۔ شاعر کا مقصد کچھ کہنا نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کا کام قافیے کی رعایت سے لفظوں کو جما دینا، ان میں صنائع وبدائع کا رنگ بھر دینا، قافیہ ردیف کھپا دینا اور محاوروں کا نباہ دینا رہ گیا تھا۔ اس میلان کی وجہ سے ہماری شاعری رنگ برنگ لفظوں کا ایک ڈھانچا تھی، جس پر طرح طرح کی نقاشی کی ہوئی تھی لیکن اس میں جان نہ تھی۔ اور ہماری زبان ایک ایسی زبان ہو گئی تھی کہ اسے بہت کم انسان بولتے تھے۔ غرض اس رنگ نے ہمارے ادب کو بے جان، بے لطف اور بے اثر بنا دیا تھا۔ لیکن یہ دور تاریکی چند روزہ تھا، اس کے رفع کرنے میں سب سے بڑا کام سید احمد خاں نے کیا۔ اس کی تحریروں نے ہمارے ادب میں نئی جان ڈال دی۔ اگرچہ اس کی زبان اور اس کا انداز بیان سادہ تھا لیکن اس میں فصاحت، اثر اور قوت تھی۔ اس نے علمی اور سنجیدہ مضامین لکھنے کا نیا ڈول ڈالا اور موافق ومخالف دونوں نے اس کی پیروی کی اور اس کے رفقا یعنی نذیر احمد، شبلی، حالی اور ذکاءاللہ خاں وغیرہ نے اسے اور چمکایا اور بڑھایا۔ سید احمد خاں کا اردو پر بڑااحسان ہے۔ اس نے صرف ہمارے ادب ہی کو نہیں بنایا اور سنوارا بلکہ ہر موقع پر جب ضرورت پڑی اس کی حمایت کی اور اس پر آنچ نہ آنے دی۔ سرسید کی وجہ سے اب اردو ادب کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو گیا ہے جو ’’علی گڑھ اسکول‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اس نئے اسکول نے پھر عام بول چال کی طرف رجوع کی اورخاص کر نذیر احمد، حالی، آزاد، ذکاء اللہ نے ان الفاظ کو جو گھروں کے کونوں، کھدروں، گلیوں، بازاروں اور کھیتوں میں کس مپرسی کی حالت میں پڑے تھے، چن چن کے نکالا، انہیں جھاڑا پونچھا، صاف کیا، جلا دی اور ان میں سے بہت سے اچھوتوں کو مسند عزت پر لا بٹھایا۔ اس نئے خون نے جو ہمیشہ ہماری زبان کی رگ و پامیں پہنچتا رہا ہے، ہمارے ادب کی رونق اور تازگی کو دو بالا کر دیا۔ حضرات! اردو کی مقبولیت کی ایک اور وجہ بھی ہوئی جو قابل غور ہے۔ جس وقت یہ زبان وجود میں آئی تو ملک میں جتنی بولیاں مروج تھیں وہ سب اپنے چھوٹے چھوٹے رقبوں اور حلقوں میں محدود تھیں، یہ زبان قدرت سے ایسے ماحول اور ایسے حالات اور اس قسم کے اثرات کے تحت بنی تھی اوراس طرح سے اس کی ترکیب عمل میں آئی تھی کہ وہ خود بخود ملک کے اکثر خطوں میں پھیلتی گئی او ر لوگ اسے قبول کرتے چلے گئے۔ ملک میں کوئی دوسری بولی یازبان ایسی نہ تھی جو اس کا مقابلہ کرتی اور جتنی بولیاں یازبانیں تھیں وہ اپنے حلقے سے باہر نہ بولی جاتی تھیں اور نہ سمجھی جاتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ جب اہل یورپ اور خصوصاً انگریز اس ملک میں آئے تو انہوں نے اسے ہندستانی یعنی ہندستان کی زبان سے موسوم کیا۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب فارسی کی بجائے اردو سرکاری دفاتر کی زبان قرار پائی تو کسی نے اختلاف نہ کیا۔ اختلاف ہوتا تو کس بنا پر؟ کوئی دوسری زبان ایسی تھی ہی نہیں جو ہندستانی ہونے کا دعویٰ کرتی۔ اردو زبان کی ایک اور خصوصیت بھی ہے جس پر بہت کم توجہ کی گئی ہے، وہ عورتوں کی زبان ہے۔ یوں تو دنیا میں اور بھی زبانیں ہیں جن میں مردوں اور عورتوں کی بول چال میں کچھ کچھ فرق ہے لیکن اردو زبان میں یہ امتیاز بہت نمایاں اور گہراہے۔ اردو نے جس خطے میں جنم لیا یا جہاں جہاں اس نے زیادہ رواج پایا وہاں پردے کی رسم رائج رہی ہے۔ اسی وجہ سے مردوں اور عورتوں کی معاشرت میں بہت کچھ فرق پیدا ہو گیا۔ عورتوں کے الفاظ اور محاورے اور ان کا طرز بیان اور بول چال بھی بہت کچھ الگ ہو گئی۔ عورتوں کی نظر بڑی تیز ہوتی ہے، وہ انسانوں یا چیزوں میں بعض ایسی چھوٹی چھوٹی خوبیاں یا کمزوریاں دیکھ لیتی ہیں جن پر مردوں کی نظر نہیں پڑتی۔ پردے میں رہنے کی وجہ سے ان کا سارا وقت امور خانہ داری، بال بچوں کی پرورش اور نگہداشت، شادی بیاہ، رسم ورواج کی پابندی اور ان کے متعلق جتنے معاملات ہیں، اس میں صرف ہوتا ہے اور اس اقلیم میں ان کی عمل داری کامل ہوتی ہے۔ پھر ان کی زبان اور لہجے میں قدرتی لطافت، نزاکت اور لوچ ہوتا ہے اس لیے انہوں نے اپنے تعلقات کے لحاظ سے جو طرح طرح کے لفظ، محاورے اور مثلیں بنائی ہیں، وہ بڑی لطیف، نازک، خوب صورت اور سبک ہیں۔ وہ گیت جو عورتوں نے بنائے ہیں بہت ہی پرلطف اور دلکش ہیں اور نفسیاتی اعتبار سے خاص طور پر قابل قدر ہیں۔ ایسے الفاظ جن کا زبان سے نکالنا بدتمیزی سمجھا جاتاہے یا جن کے کہنے میں شرم و حجاب مانع ہوتاہے، عورتیں ایسے الفاظ نہیں بولتیں بلکہ وہ اس مفہوم کو لطیف پیرایے میں تشبیہ اور استعارے کے رنگ میں بڑی خوبصورتی سے بیان کرجاتی ہیں۔ عربی فارسی کے ثقیل الفاظ جن کا تلفظ آسانی سے ادانہیں ہوتا وہ انہیں بہت سڈول بنا لیتی ہیں، بعض اوقات ان کے معنی تک بدل جاتے ہیں اور وہ خالص اردو کے لفظ ہو جاتے ہیں۔ ہماری عورتوں کے الفاظ اور محاورے وغیرہ زیادہ ترہندی ہیں یاعربی فارسی کے لفظ ہیں تو انہیں ایسا تراشا ہے کہ ان میں اردو کی چمک دمک پیدا ہو گئی ہے۔ اب جدید حالات کچھ ایسے ہو گئے ہیں کہ جہاں ہماری اور بہت سی عزیز چیزیں مٹتی جاتی ہیں، یہ لطیف زبان بھی مٹتی جاتی ہے۔ ریختی گو شعرا کا بڑا احسان ہے (اگرچہ ان میں سے بعض نے بہت کچھ فحش بھی بکا ہے) کہ انہوں نے اس زبان کو محفوظ کر دیا ہے۔ اس زبان کے سینکڑوں ہزاروں الفاظ اور محاورے اور مثلیں ادبی زبان میں آ گئی ہیں اور ہمارے ادب کی زیب و زینت ہیں۔ اس زمانے میں نذیر احمد، حالی، سید احمد دہلوی، راشد الخیری اور بعض دیگر اصحاب کی بدولت صنف نازک کی اس پاکیزہ زبان کا اکثر حصہ ہمارامشترکہ سرمایہ ہو گیا ہے۔ اس کے اضافے سے ہماری زبان میں شگفتگی او رحسن ہی نہیں پیدا ہوا بلکہ اسے مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ حضرات! آج کل ہر طرف سے یہ آواز سنائی دی جارہی ہے کہ ’’سادہ زبان لکھو، سہل لکھو۔‘‘ گویا سادہ اور سہل لکھنا معمولی بات ہے۔ ایک ادیب کا قول ہے کہ ’’ایک اعلی درجے کے باکمال شخص اور ایک احمق میں صرف ایک ہی چیز مشترک ہے اور وہ ہے سادگی۔‘‘ ایسی سادہ زبان لکھنا جس میں سلاست کے ساتھ لطف بیان اور اثر بھی ہو، صرف باکمال ادیب کا کام ہے۔ محض سیدھے سادے لفظ جمع کر دینا اور سپاٹ، بے لطف، بے جان تحریر لکھنا نہ لکھنے سے بدتر ہے۔ ہر شخص کا طرز اور اسلوب بیان جدا ہوتا ہے، ادب وشعر میں کوئی کسی کو مجبور نہیں کر سکتا کہ یوں نہیں یوں لکھو۔ حکم سے یا فرمائش سے کسی کو سادہ لکھنا نہیں آ سکتا۔ زبان میں ہر قسم کے الفاظ کا ذخیرہ موجود ہے اور ہر شخص کو اختیار ہے کہ وہ اپنے مضمون یا مقتضائے حال کے مطابق جو الفاظ موزوں اور برمحل ہوں، استعمال کرے۔ جب ہم کسی بچے یا کسی گنوا ر سے باتیں کرتے ہیں یا بچوں کے لیے کوئی کتاب لکھتے ہیں تو خود بخود سادہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ سادہ یامشکل، فصیح یا سلیس لکھنا حالات اور ضرورت پر منحصر ہے اور زیادہ تر لکھنے والے پر اس کا انحصار ہے کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے اور کس سے کہنا چاہتا ہے۔ ہماری زبان ہمیں عوام سے، ان پڑھ لوگوں سے، گنوار وں سے، سپاہیوں سے پہنچی ہے اور اس لیے اس کا تعلق کبھی عوام سے منقطع نہیں ہونا چاہیے۔ بڑا آدمی وہ جس کی آواز سیکڑوں، ہزاروں تک پہنچتی ہے اور اس سے بھی بڑا وہ ہے جس کی آواز لاکھوں کروڑوں تک پہنچتی ہے اور دنیا میں سب سے بڑا وہ ہے جس کی آواز تمام بنی نوع انسان تک پہنچ سکتی ہے۔ جس کا پیام جس قدر سادہ الفاظ میں ہوگا اسی قدر زیادہ انسانوں تک پہنچےگا۔ سید احمد خاں بڑاشخص ہوا ہے کیونکہ اس کی آواز لاکھوں آدمیوں تک پہنچتی تھی، اس لیے کہ اس کی تحریر سادہ، پراثر اور خلوص تھی۔ اگر ہم میں اپنے بھائیوں کا درد ہے تو ہماری تقریر اور تحریر ضرور سادہ اور سہل ہوگی۔ لیکن بےچارے ادیب یامصنف ہی کی گردن دبا ناکہ ’’توسہل لکھ‘‘ ٹھیک نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے پہلو کو بھی دیکھنا چاہیے۔ آسان اور مشکل اضافی کلمے ہیں۔ ممکن ہے کہ جو چیز مجھے مشکل معلوم ہوتی ہے وہ آپ کے لیے آسان ہو اور جسے میں آسان سمجھتا ہوں وہ آپ کے لیے مشکل ہو۔ انگریزی کی ایک بہت آسان کتاب لیجیے اور اس کا ترجمہ اردو میں کیجیے۔ اردو میں آکر یہ آسان کتاب مشکل ہو جاتی ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ اصل کتاب جس ملک والوں کے لیے لکھی گئی تھی وہاں تعلیم عام ہے، پڑھے لکھوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ وہ الفاظ اور محاورے اور اصطلاحیں جو اس کتاب میں آئی ہیں، انہیں وہاں بچہ بچہ جانتا ہے۔ اب جو ہم نے اپنی زبان میں ترجمہ کیا تو پڑھے لکھے بھی اسے نہیں سمجھتے، پڑھے لکھے تو رہے ایک طرف بعض وقت خود مترجم نہیں سمجھتا کہ میں نے کیا لکھا ہے۔ اسی لیے جہاں سادہ لکھنے کی فرمائش اورچیخ وپکار ہے وہاں اپنے ملک کی جہالت رفع کرنے اورعلم کی روشنی پھیلانے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ پھر کچھ ناخواندہ طبقہ ذرا اوپر اٹھےگا اور کچھ ہمارے ادیب اور مصنف ذرا نیچے جھکیں گے، اس طرح دونوں کے درمیان تفاوت کم رہ جائےگا اور وہ ایک دوسرے کی بات آسانی سے سمجھنے لگیں گے۔ یہ کچھ ایسی مشکل نہیں ہے۔ لیکن ہماری مشکلات اور بھی ہیں اور ان کی طرف اب خاص طور پر توجہ کی جا رہی ہے۔ مگر اب تک ان کے حل کرنے کی صورت پیدا نہیں ہوئی۔ ان میں سے ایک علمی اصطلاحات کا ترجمہ ہے۔ میں اس کے متعلق بہت کچھ کہنا چاہتا تھا، لیکن یہاں نہ اتنا وقت ہے اور نہ مجھے اتنی فرصت ملی کہ تفصیل سے کچھ لکھتا۔ لیکن اتنا ضرور عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ ہم نے جو اصطلاحات کو ہوا بنا رکھا ہے یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ قدیم زمانے میں پروہتوں اور مذہبی پیشواؤں نے مذہب کو اور اہل علم نے علم کو پراسرار بنا رکھا تھا۔ وہ عام آدمی کو اس کا اہل نہیں سمجھتے تھے اور اسی لیے علم ایک خاص طبقے کے قبضے میں رہتا تھا۔ عام کرنے سے ان کے اقتدار میں فرق آتا تھا۔ اسے قائم رکھنے کے لیے انہوں نے ایسی اصطلاحات گڑھ لی تھیں جنہیں دیکھتے ہی آدمی مرعوب ہو جائے۔ یہ خیال تو رفتہ رفتہ جاتا رہا لیکن اس کا اثر باقی رہ گیا۔ آپ نے انگریزی میں لاطینی اور یونانی زبانوں سے مشتق اصطلاحیں دیکھی ہوں گی جو کس قدر بے ڈھنگی، بے ڈول اور بھیانک ہیں، ہمیں اس کی تقلید نہیں کرنی چاہیے۔ جہاں تک ممکن ہو ہمیں اصطلاحات کے لیے ایسے الفاظ رکھنے چاہییں کہ ایک معمولی پڑھا لکھا شخص بھی اس کے کسی جزو سے واقف ہو اور لفظ اور مفہوم میں جو تعلق ہو اسے تھوڑا بہت پالے۔ اس سے اسے معنی کے سمجھنے میں بھی آسانی ہوگی اور اصطلاح کے یاد رکھنے میں بھی۔ اسی طرح رسم الخط اور املا کی اصلاح اور سہل بنانے کا مسئلہ ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ ایسے ٹائپ کے بنانے کا مسئلہ ہے جو ہماری زبانوں کے لیے موزوں ہو۔ یہ سب مسائل ہماری توجہ کے قابل ہیں۔ ہمیں ایک طرف اپنے ادب کو مستحکم اور علوم وفنون سے مالامال کرنا ہے اور دوسری طرف اپنی زبان کی اشاعت منظور ہے۔ اس لیے ان تمام وسائل اور ذرائع پر غور کرنا ہمارا فرض ہے جو ہماری زبان کو زندہ رکھنے اور ترقی دینے کے لیے ضروری ہیں۔ ان تمام امور پر بحث کرنے کا یہ موقع نہیں لیکن انجمن ترقیٔ اردو ان سب پر غور کر رہی ہے اور انشاءاللہ جلد جلد ان کو عمل میں لانے کی کوشش کرےگی۔ اگر ہمیں یہ یقین ہے کہ ہماری زبان ہی ایسی زبان ہے جو سارے ہندستان کی عام اور مشترک زبان ہو سکتی ہے، اگر ہمیں یہ یقین ہے کہ اس میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی صلاحیت ہے، اگر ہم سچے دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ زبان ہماری تہذیب اور ہماری زندگی کا جز ہے تو صاحبو! اگر ہمیں اس کے لیے زیادہ نہیں تھوڑا ساتردد، تھوڑی سی تکلیف برداشت کرنی پڑے تو اس سے گریز نہ کریں اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے توکم سے کم اتنا تو ہو کہ جب کوئی دوسرا اس کے لیے سرگردانی کے واسطے تیار ہو تو اس کا ہاتھ بٹانے میں دریغ نہ کیا جائے۔\n\nحاشیے\n\n(۱۔ ۲) British India Monitor Preface, X civ.\n\n(۳) خطبات گارساں دتاسی صفحہ 365\n\n(۴) خطبات گارساں صفحہ 458سنہ 1865ء\n\n(۵) خطبات گارساں دتاسی صفحہ 324\n\n(۶) خطبات گارساں دتاسی صفحہ 371\n\n(۷) حیات جاوید صفحہ 140", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7%D8%A8%DB%82_%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B1%D9%86%D8%B3"} {"title": "خطبۂ صدارت انجمن ترقی پسند مصنفین ہند", "poet_page": "مصنف:مولوی عبد الحق", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(ترقی پسند ادیبوں کا پہلا جلسہ ماہ اپریل ۱۹۳۶ ء کو لکھنؤ میں ہو اتھا۔ شعبۂ اردو کی صدارت کے لیے انہوں نے مولانا عبد الحق صاحب کو طلب کیا تھا۔ مولانا جانے کے لیے تیار تھے لیکن عین وقت پر ایک ناگریز وجہ سے شریک نہ ہو سکے۔ اس جلسے کے لیے جو خطبہ مولانا موصوف نے تحریر فرمایا تھا، وہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ مرتب)\n\nمیرے نوجوان رفیقو اور دوستو! آپ نے ضرور سنا ہوگا کہ ایک بڈھا کہیں جا رہا تھا، چلتے چلتے رستے میں کہیں ٹھوکر لگی اور گر پڑا۔ اس وقت بے ساختہ اس کی زبان سے نکلا، ’’ہاے رے جوانی۔‘‘ پھر جھٹ اٹھ کر ادھر ادھر نظر ڈالی اور جب دیکھا کہ کوئی نہیں ہے تو کہنے لگا، ’’جوانی ہی میں کون سے تیر مارے تھے۔‘‘ جب میں ایسے قابل نوجوانوں کی جماعت اپنے سامنے دیکھتا ہوں جیسی کہ اس وقت میرے سامنے ہے تو مجھے وہ شریف بڈھا یاد آتا ہے۔ ایک دوبار نہیں بارہا میں نے یہ کہتے سنا ہے کہ پہلے کے نوجوان (یعنی تیس چالیس برس پہلے کے) زیادہ قابل ہوتے تھے۔ میں نے اس کی ہمیشہ تردید کی۔بات یہ ہے کہ انسان طبعاً گزشتہ سے بہت حسن ظن رکھتا ہے، اس کی تکلیفوں اور مصیبتوں کو تو بھول جاتا ہے اور خوبیاں یاد رہ جاتی ہیں۔ مثلاً یہی وجہ ہے کہ سارے ہندستان میں بچوں کا کوئی اچھا مدرسہ نہیں۔ بچپن میں جو ہمیں قدم قدم پر مشکلات پیش آئی تھیں وہ بڑے ہوکر بھول گئے اور یاد رہا تو یہ کہ مکتب میں خوب پٹتے تھے اور جب ہمیں پڑھانے کا موقع ملا تو ہم نے بھی خوب کان امیٹھے اور قمچیاں لگائیں۔ یہ کچھ انسان کی فطرت سی ہو گئی ہے کہ گزشتہ کو سراہتا اور حال کو سراپتا ہے۔میں اپنے تجربے کی بنا پر وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج کل کے نوجوانوں میں جو عقل و شعور اور مستعدی ہے، وہ میرے طالب علمی کے زمانے کے نوجوانوں میں نہیں تھی۔ اس لیے مجھے آپ کی جوانی پر نہیں، آپ کی ذہانت، طباعی اور مستعدی پر رشک آتا ہے۔ میں جب کسی قابل نوجوان کو دیکھتا ہوں تو میراجی باغ باغ ہو جاتا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی مجھے یہ حسرت ہوتی ہے کہ کاش اس عمر میں اگر مجھ میں اتنی قابلیت ہوتی تو میں بہت کچھ کر سکتا تھا، لیکن گیا وقت اور خاص کر جوانی کبھی واپس نہیں آتی تو پھر میں نے گزشتہ کی تلافی، نہیں بلکہ کفارے کی یہ تدبیر سوچی کہ بدنصیبی سے جب میں خود کچھ نہ کر سکا تو لاؤ میں نوجوانوں کی خدمت کیوں نہ کروں جو بہت کچھ کر سکتے ہیں۔صاحبو! یہی وجہ ہے کہ میں آپ کے ارشاد پر آپ کی خدمت میں اس طرح کھنچا چلا آیا جیسے حاتم طائی کے قصے میں بعض جانہار کوہ ندا کی صدا پر کھنچے چلے جاتے تھے۔ادب ہو یا زندگی کا کوئی اور شعبہ، اس میں ترقی پذیری کی قوت اسی وقت تک ہوتی ہے جب تک اس میں تازگی، جدت اور توانائی پائی جاتی ہے اور تازگی اور جدت اسی وقت پیداہوتی ہے جب کہ ہمارے پیش نظر کوئی خاص مقصد ہو، جس پر ہمارا ایمان ہو اور جس کے حصول کے لیے ہم ہر قسم کی قربانی کے لیے آمادہ ہوں۔ جب کوئی خاص مقصد پیش نظر نہیں ہوتا تو جدت، تازگی اور توانائی بھی رخصت ہو جاتی ہے اور زندگی کے کاموں میں یکسانی اور مساوات سی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک ہی لکیر کو پیٹتے پیٹتے انسان اکتا جاتا ہے اور اس بیزاری کے عذاب سے بچنے کے لیے وہ عیاشی اور طرح طرح کی لغویات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس وقت آثار حیات گھٹنے لگتے ہیں، قویٰ میں انحطاط پیدا ہونے لگتا ہے، دل میں امنگ نہیں رہتی، دل و دماغ کے ابھارنے کے لیے طرح طرح کے محرکات استعمال کیے جاتے ہیں لیکن وہ سب عارضی اور بےنتیجہ ہوتے ہیں۔ آخر اسی عالم نیم جانی میں اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یہ اصول افراد، اقوام اور زندگی کے ہر شعبے پر صادق آتا ہے۔کہتے ہیں کہ روما کی عظیم الشان سلطنت کی تباہی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اہل روماجو کچھ کرنا تھا کر چکے اور ان کے پیش نظر کوئی خاص مقصد نہیں رہا تھا۔ اس لیے وہ لہو ولعب اور عیاشی میں مبتلا ہو گئے، اولوالعزمیاں جاتی رہیں، حوصلے پست ہو گئے، کاہلی میں جس کا دوسرا نام عیاشی ہے، مزہ آنے لگا، انحطاط نے استقبال کیا اور زوال نے انہیں لے جاکر دفن کر دیا۔ہمارے اصول، عقائد اور خیالات کیسے ہی اعلیٰ اور پاکیزہ کیوں نہ ہوں اور خواہ وہ ہمیں کیسے ہی عزیز کیوں نہ ہوں اگر زمانے کے اقتضا کے مطابق ان میں جدت اور تازگی پیدا نہیں کی جائےگی تو ایک روز بند پانی کی طرح ان میں سڑاند پیدا ہونے لگےگی اور ان میں ایسے زہریلے جراثیم پیدا ہو جائیں گے جو ان کی ہلاکت کا باعث ہوں گے۔ بندریا کو اپنے بچے سے بڑی محبت ہوتی ہے۔ یہ محبت جنون کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔ بچہ مر جاتا ہے تو بھی اسے جدا نہیں کرتی اور اپنے سینے سے چپٹائے پھرتی ہے۔ آخر اس میں تعفن پیدا ہو جاتا ہے اور اس کا ایک ایک عضو گل سڑ کر گرنے لگتا ہے۔ یہی حال افراد، اقوام اور زندگی کے ہر شعبے کا ہوتا ہے۔ جب لوگ اپنے مرغوب رسم و رواج اور توہمات کو سینے سے چپٹائے پھرتے ہیں تو وہ تو خیر زمانے کی دستبرد سے گل سڑکے گر ہی جاتے ہیں مگر وہ خود بھی انہیں کے ساتھ فنا ہو جاتے ہیں۔ایک شخص کو تسخیر جن کا بہت شوق تھا اور اس کا عمل حاصل کرنا چاہتا تھا۔ بہت دنوں کے بعد اسے ایک عامل ملا، بڑی خوشامد اور خدمت کے بعد یہ عمل سکھایا۔ سنا ہے کہ یہ عمل بہت سخت ہوتا ہے اور اکثر اس میں جان کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس نے شوق کی دھن میں یہ سب تکلیفیں سہیں اور جن کو تسخیر کرکے رہا۔ جن دست بستہ حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ فرمائیے کیا ارشاد ہے، جو حکم ہوگا اسے بسروچشم بجا لاؤں گا۔ عامل صاحب بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اپنی دانست میں بڑے مشکل مشکل کام اسے بتائے، جن نے جھٹ پٹ کر دیے اور کام لینے کے لیے حاضر ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ جن کبھی نچلا نہیں بیٹھتا۔ ہر وقت اس کے لیے کچھ نہ کچھ کام ہونا چاہیے۔ اگر کام نہ دیا جائے وہ ستانا شروع کرتا ہے اور شرارتیں کرنے لگتا ہے۔عامل صاحب کچھ نہ کچھ کام دیتے رہے مگر اس جن کے لیے جو ہر وقت ’’ھل من مزید‘‘ کی صدا دیتاتھا، اتنے کام کہاں سے لاتے۔ اب جن نے انہیں ستانا شروع کیا اور وہ بہت پریشان ہوئے۔ آدمی تھے ذہین، انہیں ایک تدبیر بہت خوب سوجھی۔ کہا کہ ہمارے صحن میں جو املی کا درخت ہے اس پر اترو اور چڑھو اور چڑھو اور اترو۔ اور جب تک ہم حکم نہ دیں برابر اترتے چڑھتے رہو۔ کچھ دن تو وہ اترتا چڑھتا رہا، لیکن کب تک۔ آخر اس قدر عاجز اور تنگ ہواکہ چیخ اٹھا اور عامل صاحب کی دہائی دینے لگا کہ خدا کے لیے مجھے اس عذاب سے بچائیے، آپ جو کہیں گے وہی کروں گا۔عامل صاحب نے حکم دیا کہ اچھااب اترنا چڑھنا بند کر دو۔ جب ہم کسی کام کا حکم دیں تو اسے کرو، ورنہ چپ چاپ یہاں بیٹھے رہو۔ بے کار بیٹھے بیٹھے وہ اکتا جاتا تو شرارت کی سوجھتی، مگر معاً املی کے درخت کا خیال آتا تو وہیں دبک کے بیٹھ جاتا۔ اب بےکاری کی وجہ سے جن صاحب کا یہ حال تھا کہ کونے میں بیٹھے اونگھا کرتے اور منہ پر مکھیاں بھنکتی رہتی تھیں۔یہ قصہ جھوٹ سہی، لیکن نہایت سبق آموز ہے۔ اول یہ کہ کام کی یک رنگی اور یکسانی ایسی بد بلاہے کہ جن جیسی ہستی جس میں توانائی اور مستعدی کوٹ کوٹ کے بھری ہے وہ بھی اس سے عاجز آ جاتی ہے۔ دوسرے بیکاری انسان کے قوی ٰکو مضمحل اور بےکار اور شوق اور امنگ کو خاک میں ملا دیتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں حیات کی دشمن ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ توانائی آدمی کو نچلا نہیں بیٹھنے دیتی، اس کا اقتضا ہے کہ کچھ نہ کچھ کیا جائے۔ یہ انسان کی تمیز و شعور پر ہے کہ کون سا ایسا کام کرے جو ممد حیات ہو۔ اگر وہ املی کے پیڑ پر اترتا چڑھتا رہا تو سمجھو کہ کھو گیا۔ممد حیات وہ کام ہیں جن میں تازگی اور جدت ہوتی ہے اور جو اپنے اثر سے لوگوں کے خیالات اورعمل میں تازگی اور جدت پیدا کرتے اور نئی راہیں سمجھاتے ہیں اور شوق کومردہ نہیں ہونے دیتے۔ آپ نے ادب کو اپنا مقصد قرار دیا ہے۔ یہ بھی ممد حیات کاموں میں سے ہے۔ اس سے بڑے بڑے کام نکل سکتے ہیں، دلوں میں امنگ اور خیالات میں انقلاب پیدا کر سکتے ہیں۔ زندگی کو زیادہ پرلطف اور زیادہ کارآمد بنا سکتے ہیں اور ملک و قوم کو ترقی کے رستے پر لگا دینے میں مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن ادب وہی کارآمد ہو سکتا اور زندہ رہ سکتا ہے جو اپنے اثر سے حرکت پیدا کرنے کی قوت رکھتا ہے اور جس میں زیادہ سے زیادہ اشخاص تک پہنچنے اور ان میں اثر پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ ترقی پذیر ادب کی یہی تعریف ہو سکتی ہے۔لیکن ترقی کا رستہ بہت دشوار گزار، تنگ اور کٹھن ہے۔ یہاں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ بڑے صبر اور استقلال اور بہت پتا مارنے کا کام ہے۔ باوجود ان اوصاف کے وہ حاصل نہیں ہوتی جب تک کہ آزادی نہ ہو۔ ترقی سرزمین آزادی ہی میں پھول پھول سکتی ہے۔ ادیب کو اگر آزادی نہیں تو اس کی حالت مفلوج کی سی ہے۔ ادیب کوحق حاصل ہے اور اسے آزادی ہونی چاہیے کہ جو چاہے لکھے۔ لیکن اسے یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی چیز کو بھونڈے پن سے لکھے۔ ’’بھونڈے پن‘‘ کے لفظ میں ادب کے ظاہر اور باطن دونوں کی قباحتیں آ جاتی ہیں۔ اگر اس سے بچنا ممکن ہے تو وہ ادب قابل مبارک باد ہے۔ ترقی پسند مصنفین کو یہ نکتہ پیش نظر رکھنا چاہیے ورنہ ان کی بہت سی محنت اکارت جائےگی۔آپ کو اپنے خیالات صرف تعلیم یافتہ طبقے تک محدود نہیں رکھنے چاہئیں بلکہ اس کثیر طبقے تک بھی پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے جو ان سب نعمتوں سے محروم ہے، جو آپ کو حاصل ہیں۔ تعلیم عام نہ ہونے سے اس میں آپ کو بہت دشواری پیش آئےگی۔ لیکن پھر بھی ان کا خیال مقدم ہے۔ اس لیے ان کے دلوں میں جو ابھی بہت سی آلائشوں سے پاک ہیں، ان خیالات کا جمانا آسان ہے بہ نسبت ان لوگوں کے جو کہلاتے تو تعلیم یافتہ ہیں مگر زنگ آلود ہیں۔ اس پر آپ کو اپنی کانفرنس میں غور کرنا ہوگا۔ یہ نہایت دشوار کام ہے اور اس کام کو انجام دینے والے بہت مشکل سے ملیں گے۔زندگی مسلسل ہے، اسی طرح ادب بھی مسلسل ہے۔ اس لیے گزشتہ کا مطالعہ حال کے سمجھنے میں اور ماحول کا مشاہدہ حال کی اصلاح اور آیندہ کی تیاری میں مدد دےگا۔ ممکن ہے کہ زندگی کے بعض شعبوں میں سراسر تخریب اور استیصال کارآمد ہو۔ یعنی جب تک ہر پرانی چیز کو جڑ سے اکھاڑ کر نہ پھینک دیا جائے، نئی تحریک سرسبز نہیں ہو سکتی۔ اس کی مثال عموماً یہ دی جاتی ہے کہ جب تک پرانا بوسیدہ مکان بالکل نہ ڈھا دیا جائے، نئی تعمیر نہیں بن سکتی۔ یہ تشبیہ ممکن ہے کہ بعض صورتوں میں درست ہو لیکن ادب کے معاملے میں یہ کامل طور پر منطبق نہیں ہو سکتی۔ ترقی کے لیے تخریب ضروری ہو مگر لازم نہیں۔ادب میں بیشک آپ کو نئے اسلوب، نئے خیالات پیدا کرنے ہوں گے اور بہت سے پرانے مضر خیالات اور توہمات کی بیخ کرنی ہوگی۔ سوکھی شاخیں چھانٹنی ہوں گی اور مرجھائی ہوئی ٹہنیوں کو پانی دے دے کر پھر ہرا کرنا ہوگا اور درخت کی جڑمیں کھاد اور پانی ڈال کر سرسبز کرنا ہوگا تاکہ نئی کونپلیں اور نئے پتے پھوٹیں۔ لیکن اگر آپ درخت ہی کو جڑ سے کاٹ ڈالیں گے تو کام کا موقع کہاں رہےگا۔ ہمیں پچھلوں کے کام اور ان کی محنتوں سے حسب ضرورت ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے اور ایسے ادب کی بنیاد ڈالنی چاہیے جو ہماری زندگی میں تازگی پیدا کرے اور ہماری جدید ضروریات کے مطابق ہو۔ اور پھر آیندہ آنے والے اپنی نئی ضروریات اور حالات کے مطابق اس میں ترمیم و اصلاح کریں اور یہ سلسلہ برابر جاری رہے۔مجھے معاف فرمائیےگا، میں دیکھتا ہوں کہ اکثر ترقی پسند نوجوان اپنے خیالات کو صحیح طور پر ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ جو دل میں ہے وہ بیان میں نہیں آتا۔ ممکن ہے کہ وہ یہ جواب دیں کہ ہمارے خیالات اس قدر اعلیٰ ہیں کہ عام فہم سے بالا ہیں۔ میں اسے تسلیم نہیں کرتا اور غالباً کوئی بھی تسلیم نہ کرےگا۔ ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے کہ کیوں ایسا ہے۔یہ ایک عام اور معمولی بات ہے لیکن کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہر پرانی چیز بری نہیں اور ہر نئی اچھی نہیں ہوتی۔ رجعت یا ترقی کوئی نئی چیز نہیں۔ رجعت پسند اور ترقی پسند ہر زمانے میں ہوئے ہیں، اب ہیں اور آیندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ رجعت اور ترقی اضافی چیزیں ہیں۔ کائنات کا ہر ذرہ حرکت میں ہے اور ہر چیز پر تغیر کا عمل جاری ہے۔ رجعت یا ترقی ہر زمانے کے حالات اور ماحول کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ یہ خیال کہ ہر چیز، جس کا تعلق گزشتہ زمانے سے ہے، سراسر رجعت سے آلودہ ہے، صحیح نہیں۔ محض اس بنا پر کہ ہم لوگ آگے بڑھ گئے ہیں گزشتہ سے اپنا تعلق بالکل قطع نہیں کرنا چاہیے۔ ایسا کرنا اپنی جڑیں کاٹنا ہے۔ ہم گزشتہ کے وارث ہیں۔ اگر کوئی وارث اپنے ارث سے بے خبر ہے یا کماحقہ واقفیت نہیں رکھتا تو خواہ وہ کیسا ہی ذہین، مستعد اور انقلاب پسند کیوں نہ ہو، نہ کوئی اصلاح کر سکتا ہے، نہ خود فائدہ حاصل کر سکتا ہے، اور نہ دوسروں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔اس لیے ہرترقی پسند ادیب کا فرض ہے کہ گزشتہ تاریخ اور گزشتہ ادب کا غور سے مطالعہ کرے اور دیکھے کہ ہمارے ادب میں کہاں تک آگے بڑھنے کی صلاحیت ہے، کن چیزوں کا ترک کر نامناسب ہے اور کن ذرائع سے اسے بلند مقام تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جو چیز آپ کوارثاً ملی ہے، اگر آپ اس کے حسن وقبح سے واقف نہیں تو اصلاح کس کی اور انقلاب کیسا؟ لیکن ’’میراث پدر خواہی علم پدر آموز‘‘ ہی کافی نہیں، ’’علم پسرآموز‘‘ بھی لازم ہے۔ ہم صرف حال ہی کے سامنے جواب دہ نہیں، آئندہ کے بھی جواب دہ ہیں۔ اس لیے زندگی کے جس شعبے میں بھی ہم ہاتھ ڈالیں، ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم دیکھیں کہ ہمارے اعمال وافعال کا اثر آئندہ نسلوں پر کیا ہوگا، کیونکہ آئندہ زمانے میں ہمارے کاموں کی تنقیح وتنقید اسی اصول پر ہوگی۔دوسری چیز جو آپ کے قابل غور ہے، یہ ہے کہ جس زبان میں آپ اپنے خیالات ادا کرنا چاہتے ہیں اس پر پوری قدرت ہو۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب ہم اپنے گزشتہ ادب کو اس نظر سے مطالعہ کریں گے۔ زبان کیا ہے؟ خیال کے ادا کرنے کا آلہ۔ اگر کسی کاریگر کا اوزار بھدا ہے تو اس کا کام بھی بھدا ہوگا۔ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ہماری زبان میں ہمارے خیالات نہیں سما سکتے۔ کوئی زبان ایسی نہیں جس میں خیال ادا کرنے کی صلاحیت نہ ہو، بشرطیکہ کسی میں ادا کرنے کی صلاحیت بھی ہو۔ زبان بھی ارثاً ملی ہے اور جب تک ہم اس پر قدرت حاصل نہ کریں گے ہم اپنے خیالات ادا کرنے پر قادر نہ ہوں گے۔ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم اپنے خیال کو صحیح طور پر ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس خیال کو ہم نے ادا کرنے کی کوشش کی ہے، شاید وہ ہمارا نہیں، اصل نہیں نقل ہے، شاید مستعار ہے، کہیں سے بہتا ہوا چلا آیا ہے، ہمارے دل پر اس کا گہرا نقش نہیں، اس نے ہمارے دل میں گھر نہیں کیا۔ ورنہ ممکن نہ تھا کہ ادا نہ ہوتا۔ خیال اپنا ہو، یعنی جسے ہم نے خود سوچ کے پیدا کیا ہے یا کسی دوسرے کا، لیکن ہمارے دماغ میں اس قدر صاف اور روشن ہونا چاہیے کہ جس وقت ہم لکھنے بیٹھیں تو صفحۂ کاغذ پر موتی کی طرح ڈھلکتا ہوا نظر آئے۔ لیکن جب خیال ہی ہمارے دماغ میں صاف اور روشن نہیں ہوتا تو بیان لامحالہ تاریک اور مبہم ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر ادیب اپنی زبان کی صرف ونحو اور لغت سے واقف ہوتا ہے۔ لیکن اس میں سب سے بڑی چیز لفظ کا صحیح استعمال ہے۔ اسے معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔ لکھنے والوں میں کم ایسے ہیں جو الفاظ کے صحیح استعمال سے واقف ہیں۔لفظ ایک بڑی قوت ہے اور اس کا برمحل استعمال خیال میں قوت پیدا کر دیتا ہے۔ جو اس گر سے واقف نہیں اور لفظ کے صحیح اور برمحل استعمال کو نہیں جانتا اس کا بیان اکثر ناقص، ادھورا اور بے جان ہوتا ہے۔یہ دو چیزیں ہیں، ایک ادب کا ظاہر یعنی زبان اور دوسرے ادب کا باطن یعنی خیال۔ اگرچہ ان کو الگ الگ بیان کیا جاتا ہے لیکن یہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں، یہ لازم وملزوم ہیں۔ انہیں کے میل سے اسلوب بیان یعنی اسٹائل بنتا ہے۔ اس لیے ترقی پسند نوجوانوں کی خدمت میں میری عرض ہے کہ وہ اپنے ادب اور زبان کا گہرا مطالعہ کریں ورنہ ان کی ساری کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے خیالات خواہ کیسے ہی بلند اور انقلاب انگیز کیوں نہ ہوں، پت جھڑ کی طرح ہوا میں بکھر جائیں گے۔ادب وزبان کے علاوہ جو ایک بات میں آپ کی خدمت میں عرض کرنی چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ ترقی پسند جماعت کو اپنے مقاصد کے عمل میں لانے کے لیے اخلاقی آزادی اور اخلاقی جرأت سے کام لینا پڑےگا۔ اگر آپ نے مقبولیت اور ہر دل عزیزی یاکسی قسم کی امداد حاصل کرنے یا اپنی تعداد بڑھا کر دکھانے کی خاطر ذرا بھی رجعت پسندی کی طرف میلان ظاہر کیا تو یاد رکھیے کہ معقول پسند اور حقیقی ترقی پسند لوگ آپ سے بدگمان ہو جائیں گے۔ اور اگر ابتدا میں یہ بدگمانی پیدا ہو گئی تو اس کے رفع کرنے میں بڑی مدت درکار ہوگی۔ بنیاد اگر بگڑ گئی تو عمارت کا خدا حافظ ہے۔ آپ کے ایک قابل رکن کا یہ کہنا کہ ’’ہم بعض حضرات کی رجعت پسندی سے ناواقف نہیں ہیں مگر ابھی ہم میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ صرف اپنے بل پر کھڑے ہو سکیں، تنہا اپنے عقائد کی پاکی یا استقامت سے ہمیں کوئی اطمینان نہیں ہوتا، اس لیے کہ اگر یہ بڑھ کرسماج کے خیالات اور بنائے عمل نہیں بن سکتے تو اسی طرح بیکار رہیں گے جس طرح کوئی مذہبی عقیدہ‘‘ سراسر غلط ہی نہیں گمراہ کن ہے۔اگر آپ رجعت پسندی کے سہارے ترقی کی طرف جانا چاہتے ہیں تو شروع ہی میں سیدھے رستے سے بھٹک جائیں گے اور کبھی منزل مقصود تک پہنچنا نصیب نہ ہوگا۔ حیرت ہے کہ آپ رجعت اور ترقی کوایک ساتھ کیسے نبھا سکتے ہیں۔ شاید تیل اور پانی کاایک جاہو ناممکن ہے لیکن رجعت اور ترقی کا ایک جا ہونا کسی طرح ممکن نہیں۔ یہ کھلی مداہنت اور ریاکاری ہوگی اور یہی ایک چیز آپ کی ترقی پسندی کو بےوقعت کر دےگی۔ اگر آپ کو’’اپنے عقائد کی پاکی اور استقامت‘‘ پر اطمینان نہیں تو بہتر ہے کہ آپ اس خیال کو ترک کر دیں۔ رجعت پسندی کے بل کھڑے ہونے سے بہتر ہے کہ آپ نہ کھڑے ہوں۔حقاکہ باعقوبت دوزخ برابر استرفتن بپاے مردی ہمسایہ دربہشتسعدی اس خیال میں آپ سے کہیں بڑھا ہوا ہے۔ وہ تو ہمسایہ کی امداد سے بھی بہشت میں جانا پسند نہیں کرتا اور آپ رجعت پسندوں کی مدد سے جنت ترقی میں جانا چاہتے ہیں۔ یہ خیالات نہایت پستی اور کم ہمتی کے ہیں۔ آپ کو کوئی ضرورت تعداد بڑھانے اور شاخیں پھیلانے کی نہیں۔ اگر آپ کے ساتھ بارہ بلکہ بارہ بھی نہیں، تین چار بھی ثابت قدم اور راسخ العقیدہ شخص ہیں تو ہندستان بھر میں انقلاب پیدا کر سکتے ہیں۔ ایک ایک آدمی نے دنیا کو ہلا دیا ہے اور آپ اتنی تعداد میں ہوکر بھی رجعت پسندوں کی آڑ لیتے پھرتے ہیں۔آپ کا کام اس وقت وہی ہے جو اٹھارہویں صدی عیسوی میں انسائیکلوپیڈیسٹ (Encyclopeedist) نے فرانس میں کیا تھا۔ انہوں نے رجعت پسندوں کے ہاتھوں کیسی کیسی سختیاں جھیلیں، قید میں رہے، جلاوطن کیے گئے۔ کتاب چھپنے کی ممانعت کر دی گئی، آخری پروفوں میں تحریفیں کی گئیں اور اصل مسودے جلا دیے گئے۔ یہ سب سہا مگر اپنے عزم سے نہ پھرے۔ اس کتاب میں صرف معلومات ہی نہیں فراہم کی گئی تھیں بلکہ انسان کی روشن خیالی، خیالات کی انقلاب انگیزی اور توہمات وتعصبات کی بیخ کنی کا سامان بھی جمع کیا گیا تھا۔ اس کے مؤلفین کی غایت نظریات نہیں تھی بلکہ عمل تھا، ادبی شان دکھانی مقصود نہ تھی بلکہ ان کامنشا زندگی کی تعمیر تھی۔یہ لوگ سچے مجاہد تھے۔ باوجود مسخ ہونے کے اس کتاب کا اثر صرف فرانس ہی تک نہیں رہا بلکہ دور دور تک پہنچا۔ انیسویں صدی میں جو عقلیت کی ہوا ہندستان میں چلی تھی، اس کا اگر آپ سراغ لگائیں گے تو اس کا سلسلہ بھی انہیں چند پاک نفوس تک پہنچےگا۔ اس کتاب کو اب کوئی نہیں پڑھتا اور بہت ہی کم ایسے لوگ ہوں گے جنہیں اس کی کبھی زیارت نصیب ہوئی ہوگی، لیکن اس کا اثر اور فیض اب تک جاری ہے۔ یہ صرف چند نفوس تھے۔ مگر دھن کے پکے اور عقیدے کے سچے تھے۔ ان کی زندگی کا مطالعہ کیجیے، ان کے کاموں کو دیکھیے اور ان کے قدم بقدم چلنے کی کوشش کیجیے۔ کوئی وجہ نہیں کہ آپ کامیاب نہ ہوں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7%D8%A8%DB%82_%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D8%AA%D8%B1%D9%82%DB%8C_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF_%D9%85%D8%B5%D9%86%D9%81%DB%8C%D9%86_%DB%81%D9%86%D8%AF"} {"title": "خطبۂ صدارت بہار اردو کانفرنس", "poet_page": "مصنف:مولوی عبد الحق", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(یہ خطبہ مولانا عبد الحق صاحب سیکرٹری انجمن ترقیٔ اردو ہند نے صوبہ بہار کی اردو کانفرنس میں، جو سید عبدالعزیز صاحب بیر سٹرایٹ لاوزیر تعلیم کی سرپرستی میں منعقد ہوا تھا، پڑھ کر سنایا۔ ۱۹۳۶ء۔ مرتب)\n\nاے صاحبو!ایک مشہور مثل ہے، ’’دور کے ڈھول سہانے۔‘‘ یہ بالکل سچ ہے۔ لیکن جب یہی ڈھول بہت قریب آ جاتے ہیں توسخت ناگوار ہوتا ہے اور کان پھٹنے لگتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ مثل مجھ پر صادق نہ آئے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے ذمہ دار ہمارے محترم جناب سید عبدالعزیز صاحب، میرے مہر بان قاضی عبدالودود صاحب اور امتیاز کریم صاحب ہوں گے، جو اس بدعت کے مر تکب ہوئے ہیں۔ لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ہر حال میں آپ کی اس قدر افزائی اور عزت کا تہ دل سے شکر گزار ہوں۔ کاش میں اس دلی شکر کو الفاظ میں پوری طرح ادا کر سکتا۔قدرت کی بعض نعمتیں ایسی ہیں کہ ان پر ہماری زندگی کا انحصار ہے، وہ نہ ہوں تو ہماری زندگی کا خاتمہ ہو جائے، جیسے ہوا، پانی، تنفس وغیرہ ؛لیکن عام یا بافراط ہونے سے ہمیں ان کی کچھ قدر نہیں ہوتی۔ یہی حال زبان کا ہے۔ بچپن سے لے کر مرتے دم تک یہ ہمارے ساتھ ہے اور روزہ مرہ کے استعمال کی وجہ سے وہ ایک معمولی چیز ہو گئی ہے اور اس کی وہ قدر نہیں کرتے جو کرنی چاہئے۔ ورنہ دیکھا جائے تو زبان کا انسان کی زندگی میں بہت بڑا دخل ہے۔ اس کے نتائج اور اثرات نہایت عجیب اور دور رس ہیں۔ایک معمولی بات ہے جسے ہر شخص جانتا ہے کہ حیوان اور انسان میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ اگرچہ جانوروں کے بھی زبان (جیب) ہے اور بعض کی ہم سے بہت بڑی ہوتی ہے لیکن ان میں قوت گویائی نہیں۔ یہ خاص انسان کی امتیازی شان ہے۔ یہ محض اس کے خیالات کے اظہار کا آلہ ہی نہیں بلکہ اس کے خیالات کے بنانے اور سنوارنے کا بھی آلہ ہے۔ وہ انسان کی زندگی کا جز ہے۔ اس لیے آدمی کو اپنی زبان عزیز ہوتی ہے۔ وہ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں دخیل اور کارفرما ہے۔ اگر ہم اس کے تحفظ وترقی کے لیے جدوجہد کریں، جان لڑا دیں تو یہ ہمارافرض ہے۔ اور اس فرض سے غفلت کسی مذہب وملت میں روا نہیں۔ اردو ایک مخلوط زبان ہے۔ یہ زبان کی ایک خاص قسم ہے۔ دنیا میں ایسی متعدد زبانیں ہیں۔ اس قسم کی زبانو ں کے وجود میں آنے کے مختلف اسباب ہوتے ہیں۔ منجملہ دیگر اسباب کے ایک سبب کشور کشائی ہے۔ مسلمان بھی اس ملک میں آریاؤں کی طرح فاتح کی حیثیت سے آئے تھے۔ وہ فارسی بولتے تھے اور اہل ملک دیسی زبان۔ ان حالات میں جیسا کہ دستور ہےمعاشرتی، ملکی اور کاروباری ضرورت سے مسلمان بول چال میں دیسی لفظ استعمال کرنے کی کوشش کرتے تھے اور ہندو فارسی الفاظ۔ فاتحوں کی تعداد اہل ملک کے مقابلے میں بہت کم تھی اور اس لیے وہ اہل ملک کی زبان سیکھنے پر مجبور تھے۔ دو چار نسلوں کے بعد ان کی اولاد ملکی زبان بخوبی بولنے لگی۔ لیکن فاتح قوم کی زبان کا اثر بھی ملکی زبان پر برابر پڑتا رہا۔ اور اس اختلاط نے ایک گمنام بولی کو جو عوام بلکہ دیہات کی بولی تھی، ایک شائستہ اور مستقل زبان کے رتبے تک پہنچا دیا جسے آپ چاہے اردو کہیے یا ہندستانی۔اس اختلاط نے اس میں بڑی قوت پیدا کر دی ہے اور دونوں کی (اور ضمناً کسی دوسری زبانوں کی بھی) خوبیوں کوایک جا جمع کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں شیرینی اور دل نشینی کے ساتھ شان و شکوہ، وسعت کے ساتھ گہرائی، سادگی کے ساتھ پرکاری موجود ہے اور ہر قسم کے خیالات اور جذبات کے ادا کرنے پر قادر ہے۔جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں (جیسا کہ حال میں مہاتما گاندھی وغیرہ نے فرمایا ہے) کہ یہ زبان مسلمان بادشاہوں نے بنائی اور حکومت کے زور سے پھیلی، وہ نہ صرف زبان کی تاریخ سے ناواقف ہیں بلکہ اصول لسانیات سے بھی ناآشناہیں۔ یہ زبان فطرتی اصول پر خود بخود بنی اور حالات و ضروریات نے اسے اور بڑھایا اور پھیلایا۔ مسلمان بادشاہوں نے کبھی اس کی طرف توجہ نہیں کی۔ ان کی سرکاری اور درباری اور دفتری زبان آخر تک فارسی رہی۔ اس میں شک نہیں کہ دکن کے بعض بادشاہوں نے اس زبان میں نظمیں لکھیں لیکن ان کے دربار اور دفتر کی زبان بھی فارسی تھی اور اگر وہاں کسی زبان کو دخل ہوا بھی تو وہ مقامی زبان تھی نہ کہ اردو یا ہندستانی۔جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے یہ محض معاشرتی ضرورتوں کی بدولت وجود میں آئی اوراس کے بنانے میں زیادہ تر حصہ خود اہل ملک یعنی ہندوؤں کا تھا۔ ایک عالم لسانیات کا قول ہے کہ ’’غیر زبان جو کسی قوم کو سیکھنی پڑتی ہے مخلوط نہیں ہوتی بلکہ اس کی اپنی زبان غیر زبان کے اثر سے مخلوط بن جاتی ہے۔‘‘ یہ قول بالکل صحیح معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ کبھی ہم غیرزبان کے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس بات کا خاص طور پر خیال رکھتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہواس میں ہماری زبان کا لفظ یاہماری زبان کا رنگ نہ آنے پائے۔ جیسا کہ آج کل انگریزی زبان کا حال ہے۔ جب ہم انگریزی زبان بولتے یا لکھتے ہیں تو اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ حتی الامکان کوئی ہندستانی لفظ نہ آنے پائے اور نہ ہندستانی قسم کی انگریزی ہو، جو ’’بابو انگلش‘‘ کے نام سے بدنام ہے۔ جہاں تک ممکن ہوتا ہے، اہل زبان کی تقلید کی جاتی ہے بلکہ انگریزی لب ولہجہ کی نقل اتارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔برخلاف اس کے اپنی زبان میں گفتگو کرتے وقت ہم بیسیوں انگریزی لفظ بے تکلف بول جاتے ہیں اور لکھتے وقت بھی لکھ جاتے ہیں اور اکثر اوقات ہمارے جملوں کی ساخت انگریزی نما ہوتی ہے۔ بعینہٖ یہی صورت اس وقت فارسی کے ساتھ پیش آئی۔ اول تو یونہی فاتح قوم کی زبان کی طرف میلان ہوتا ہے۔ دوسرے دفتر اور دربار سرکار کی زبان ہونے کی وجہ سے اس کا سیکھنا اور پڑھنا ضروری تھا۔ مکاتب اور مدارس میں ہندو مسلمان بچے ساتھ ساتھ فارسی پڑھتے تھے۔ پھر باہمی ربط وضبط اور میل جول نے اس میں او راضافہ کر دیا۔کچھ ضرورت کی مجبوری سے، کچھ اظہار علمیت کے لیے، کچھ بطور فیشن اور محض مشیخت کی خاطر ان ہندوؤں نے بے تکلف فارسی عربی الفاظ اپنی زبان میں داخل کرنے شروع کیے۔ آج عربی فارسی الفاظ کی زیادتی کی جو شکایت ہے تو اس معاملے میں زیادہ تر نہیں تو برابر کے قصوروار ہندو بھی ہیں۔ ظاہر ہے جو زبان وہ دفتروں میں استعمال کرتے، کتابوں میں پڑھتے، اپنی تالیفات میں لکھتے اور بول چال میں بولتے تھے، اس کے الفاظ خود بخود زبانوں پر چڑھ جاتے تھے اور وہ ملکی زبان میں بھی دانستہ و نادانستہ، بالارادہ اور بلاارادہ داخل ہوتے چلے گئے۔ان تمام اسباب سے ایک ایسی زبان ظہور میں آئی جو اسی دیس کی تھی اور اسی دیس والوں کی بدولت بنی، بڑھی اور پھیلی۔ اور اس لیے اسے ملک کی عام زبان ہونے کا حق ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ہندومسلم اتحام اور یک جہتی کی عزیز اور مقدس یادگار ہے۔ ایسی صورت میں ایک یونیورسٹی کے ہندی سنسکرت کے لکچرار کااسے غیر ملکی زبان کہنا یا اردو کے ایک قابل ہندو ادیب کا اسے بین الاقوامی یاسفارتی زبان سے موسوم کرنا سراسر ناانصافی ہے۔یہ امر خاص مسرت کا باعث ہے کہ تقریباً ہر صوبہ اس بات کا مدعی ہے کہ اردو زبان نے وہیں جنم لیا۔ اہل پنجاب کو یہ دعویٰ ہے کہ اردو کا بیج اسی خطے میں اپجا۔ اہل دلی کا خیال ہے کہ یہ دلی اور اس کے قرب و جوار کی زبان تھی جو بن سنور کراردو کہلائی۔ صوبۂ متحدہ والے کہتے ہیں کہ میرٹھ اور اس کے آس پاس کے دیہات کی بولی پر فارسی کی قلم لگائی گئی اور اس سے اردو پیدا ہوئی یا بقول ایک فریق کے برج بھاشا یا سورسینی بولی سے اس کا ظہور ہوا۔ اہل گجرات کہتے ہیں کہ کچی دھات تھی، ہم نے اسے نکھارا، بنایا اور سنوارا۔ اہل دکن کا دعویٰ ہے کہ اس زبان نے ادبی شان یہاں پیدا کی اور فروغ پایا۔ بہار والے چاہیں تو وہ بھی گجرات و دکن کی طرح اس بات کا دعویٰ کر سکتے ہیں کہ انہوں نے ابتدا سے اس زبان کی غور وپرداخت کی اور وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں شیخ شرف الدین یحییٰ منیری کا کلام پیش کر سکتے ہیں، جس کا تعلق آٹھویں صدی ہجری سے ہے اور جسے ہم اس زمانے کی اردو کہہ سکتے ہیں۔اس سے اردو کی مقبولیت اور وسعت کا اندازہ ہو سکتا ہے اور قبول عام ہی سب سے قوی دلیل اور سب سے بڑی سند ہے۔ وہ خودرو نونہال جو دوآبۂ گنگ وجمن اور اس کے قرب وجوار میں پھلا پھولا، اقتضائے زمانہ کی ہوا اس کے بیج دور دور تک اڑا لے گئی، ہر سرزمین کی آب ہوا جہاں وہ پہنچے، انہیں راس آئی اور ہر خطے کی زمین ان کے موافق نکلی۔ انہیں بے حقیقت بیجوں سے لہلہاتے ہوئے شاداب پودے نکلے۔ قدرت نے ان بیجوں کی حفاظت کی، کلے پھوٹنے پران کی پرورش کی اور ہمارے اسلاف نے اپنی آبیاری سے ان کی غور وپرداخت فرمائی۔ وہی بے حقیقت بیج اور وہی نازک پودے آج سرسبز تناور درخت ہیں جن کے پھول پھل سے ہمیں اس وقت ذوق تکلم حاصل ہے۔اس کی مقبولیت کا پتا اس سے بھی چلتا ہے کہ بعض علاقے کے لوگوں نے اس سے اپنی خصوصیت جتانے کے لیے اسے اپنے سے منسوب کر لیا تھا۔ چنانچہ اہل گجرات ایک زمانے میں اسے گجری یا گجراتی کہتے تھے اور اہل دکن دکنی۔ ابتدا میں اسے ہندی کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ ایک تو اس وجہ سے کہ یہ اس ملک کی زبان سے نکلی تھی اور اپنے وقت کی کھڑی بولی سے پیدا ہوئی تھی، دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ نام اسے فارسی کے مقابلے میں اور فارسی سے امتیاز کرنے کے لیے دیا گیا تھا جو اس وقت عام طور پر رائج تھی۔ چنانچہ یہ لفظ اس زبان کے لیے قدیم دکنی اور گجراتی اردو میں بھی انہیں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ وہ معذرت کے طور پر اکثر اپنی تصانیف میں یہ لکھتے ہیں کہ جو لوگ فارسی عربی سے بہرہ نہیں رکھتے، ان کے لیے ہم نے یہ کتاب ہندی میں لکھی ہے۔ یایہ کہ یہ کتاب فارسی میں تھی، عام لوگوں کی خاطر ہندی میں ترجمہ کی۔یہ لفظ مصحفی کے زمانے تک انہیں معنوں میں استعمال ہوتا رہا۔ چنانچہ مصحفی اپنے دو تذکروں کو تذکرۂ ہندی یاہندی گویاں کے ناموں سے یاد کرتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس نے فارسی گو شعرا کا تذکرہ الگ لکھا تھا لیکن یہ نام چل نہ سکا۔ درحقیقت یہ کوئی نام نہ تھا۔ یہ اس وقت استعمال کیا گیا تھاجب وہ کٹھالی میں پڑی گل رہی تھی اور اس نے کوئی خاص حیثیت اوردرجہ حاصل نہیں کیا تھا۔ محض فارسی سے امتیاز کرنے کے لیے اسے ہندی کہہ دیا کرتے تھے۔ دوسرے ہندی کا لفظ بہت عام تھا، کسی خاص زبان کے لیے معین نہیں ہو سکتا تھا۔ بعض فارسی اور یو رپی مصنفین نے مرہٹی اور ہندستان کی بعض دوسری زبانوں کو بھی ہندی ہی سے موسوم کیا ہے۔ جب اس بولی کو خود ایک زبان کی حیثیت حاصل ہو گئی اور اس نے زبانی بول چال سے نکل کر ادب میں قدم رکھا تو یہ لفظ خود بخود متروک ہو گیا۔اس کے ساتھ ساتھ ریختہ کا لفظ استعمال ہونے لگا۔ یہ لفظ اس وقت استعمال ہواجب اس میں ادبی شان پیدا ہو چلی تھی، لیکن زیادہ تر شعروسخن اور ادبی کلام کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہ بھی فارسی سے امتیاز پیدا کرنے کے لیے لکھا اور بولا جاتا تھا۔ چنانچہ جن مشاعروں میں صرف اردو کلام پڑھا جاتا تھا انہیں ’’مراختہ‘‘ کہنے لگے۔ یہ اصطلاح صرف چند ہی روز رہی۔ ریختہ کا لفظ بھی کبھی کبھی مرزاغالب کے ابتدائی زمانے تک استعمال ہوتا رہا لیکن جب یہ زبان عام ہو گئی تو یہ لفظ خو د بخود خارج ہو گیا۔سترھویں نیز اٹھارھویں صدی میں پرانے فیشن کے یورپین اور انگریز اسے مورز(Moors) کہتے تھے، جس طرح احاطہ ٔ مدراس اور بمبئی کے بعض مقامات میں عوام اسے مسلمانی سے موسوم کرتے ہیں۔ لیکن یہ نام غلط فہمی پر مبنی تھے اور اس لیے اب بالکل متروک ہیں۔ گول کنڈہ کا اردو شاعر اور ادیب وجہی اپنی کتاب ’’سب رس‘‘ میں جو سنہ ۱۰۴۵ھ کی تصنیف ہے اسے ’’زبان ہندستان‘‘ کہتا ہے۔ سترھویں اور اٹھارھویں صدی عیسویں میں یورپین اور انگریزی مصنفین کی تحریروں میں ہم اس کا نام ’اندوستان‘ ’اندوستانز‘، ’ہندوستان‘ یا ’ہندوستانز‘ دیکھتے ہیں اور اسی زمانے میں یہ لفظ ’’ہندستانی‘‘ ہو جاتا ہے جواب تک قائم ہے اور صحیح معنوں پر دلالت کرتا ہے۔اردو کا لفظ بعد میں آیا۔ میر تقی میرا سے اپنے تذکرے میں ’’زبان اردوئے معلیٰ شاہجہاں آباد دہلی‘‘ لکھتے ہیں۔ اس کے بعد زبان اردو کہنے لگے۔ رفتہ رفتہ زبان کا لفظ اڑ گیا اور خود ’اردو‘ زبان کے معنوں میں آنے لگا۔ مصحفی اور انشاکے زمانے میں اس کا رواج عام ہو گیا تھا۔ یہ لفظ اپنی اصل کا پتا دیتا ہے۔ اردو یعنی شاہی کیمپ میں مختلف قوموں اور مختلف زبان کے لوگ تھے اور انہیں کے باہمی اختلاط سے یہ مخلوط زبان ظہور میں آئی اور سارے ملک میں پھیل گئی۔ اب اردو اور ہندستانی میں یہ فرق کیا جاتا ہے کہ اردو ادبی زبان ہے اور ہندستانی عام زبان جو خواص و عوام سب سمجھتے ہیں۔لفظ اردو کی مقبولیت کی ایک وجہ اور بھی ہے کہ یہ لفظ بولنے، لکھنے اور پڑھنے میں سہل ترین ہے۔ بولنے میں اس لیے کہ اس میں کوئی ثقیل حرف نہیں اور بلا تکلف زبان سے ادا ہو جاتاہے۔ پڑھنے میں اس لیے کہ ہر حرف الگ الگ لکھا جاتا ہے۔ لکھنے میں اس لیے کہ چاروں حرف ابجد کے سب سے چھوٹے اور آسان حرف ہیں، کہیں دائرہ یا کشش یا جوڑ نہیں اور لکھنے میں بھی الگ الگ رہتے ہیں۔ اور اس پر طرہ یہ کہ نقطے کا نام نہیں، سب بے نقط ہیں۔ہندی اور اردو کا جھگڑا آج سے تقریباً ساٹھ سال پہلے اٹھا تھا۔ لیکن اس زمانے کے مذہبی اور سیاسی اختلافات نے اسے اور چمکا دیا۔ پہلے ایک آدھ جگہ تھا، اب سارے ہندستان میں پھیل گیا ہے۔ پہلے ہندی اردو ہی کا قضیہ تھا، اب ہندی، ہندستانی اور اردو کے ساتھ ’’ہندی ہندستانی‘‘ کا ایک نیا شاخسانہ کھڑا کیا گیا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس نے بہت معقول فیصلہ کیا تھا کہ ملک کی زبان ہندستانی ہے خواہ رسم خط کچھ بھی ہو۔ لیکن تعجب اور افسوس ہے کہ جس مدبرانہ دماغ نے یہ تجویز سوچی تھی اور جنہوں نے اس پر آمنا وصدقنا کہا تھا، سب سے پہلے اب وہی اس سے انحراف کر رہے ہیں۔ مہاتما گاندھی کی جدت پسند طبیعت نے ایک نیا لفظ ’’ہندی ہندستانی‘‘ وضع کر کے گویا جلتی آگ میں تیل ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ جب مہاتما جی سے دریافت کیا گیا کہ اس جدید مرکب لفظ سے آپ کی کیا مراد ہے تو فرمایا کہ ’’ہندی جو آیندہ چل کر ہندستانی ہو جائےگی۔‘‘ تو یہ زبان نہ ہوئی آیندہ کا پروگرام ہوا۔قطع نظر اس کے ذرااس تعریف پر غور کیجیے جو مہاتما گاندھی نے ہندی ہندستانی کی فرمائی ہے یعنی وہ ہندی جو آگے چل کر ہندستانی ہو جائےگی! اس کے یہ معنی ہوئے کہ اس وقت ہم ایسی زبان اختیار کرنی چاہتے ہںر جو سالہا سال تک کئی صدی کی کوشش، جدوجہد اور محنت ومشقت کے بعد ہندستانی ہو جائےگی۔ ہندستانی تو پہلے ہی سے موجود ہے پھر صدیوں تک انتظار کرنے اور سالہاسال کی مصیبت اور کھکھیڑ اٹھانے سے حاصل؟ جب مدتوں کی محنت اور مصیبت اور دماغ سوزی کا نتیجہ یہی ہے کہ نئی زبان ہندستانی بن جائے تو ہندستانی جوبنی بنائی رکھی ہے کیوں نہ ابھی اسی کو اختیار کر لیا جائے۔ مہاتماجی کی یہ منطق معمولی سمجھ سے باہر ہے۔ جلسے میں بیٹھ کر رزولیوشن منظور کرا لینے یا ووٹوں کے شمار کرا لینے سے زبانیں نہیں بنتیں۔مسٹر کنھیالال منشی جو بھارتیہ ساہتیہ پرشد کے روح ورواں اور اس کے جنرل سکرٹری ہیں، انہوں نے حال ہی میں ایک چٹھی ٹائمز آف انڈیا میں لکھی ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ’’زمانۂ حال کی اکثر زبانیں سنسکرت زبان کے تابع ہیں اور سنسکرت ہی کے زیر اثر نشوونما پا رہی ہیں اور اس لیے سوائے یوپی کے اکثر صوبوں میں لنگوا فرینکا بن رہی ہے۔ اس کا رجحان زیادہ تر سنسکرت لغات کی طرف ہے۔‘‘ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ دراوڑی زبانوں سے قریب ہونے کی خاطر بول چال کی زبان سے دور ہونا چاہتے ہیں۔ میں نے جو بھارتیہ ساہتیہ پرشد میں ہندستانی کی حمایت کی تو اس کی یہ وجہ تھی کہ وہ بول چال کی زبان ہے۔اس میں براہ راست سنسکرت سے لفظ نہیں آئے بلکہ پراکرت اور اپ بھرنش الفاظ لیے گئے ہیں، جو اس وقت بول چال میں رائج تھے اور اب بھی ہیں۔ مثلاً (جیساکہ آج کل بعض ہندی ادیبوں نے لکھنا شروع کیا ہے) اگر ہم سورج کی جگہ سور یہ، آنکھ کی جگہ اکشی، پانی کی جگہ جل یاجلم، پانو کی جگہ پدیا باردت کی جگہ شام چوں لکھنے لگیں تو اس سے نہ تو زبان میں کوئی خوبی پیدا ہوتی ہے اور نہ اسلوب زبان میں کوئی حسن، بلکہ زبان بگڑتی اور خراب ہوتی ہے اور دشواری کی وجہ سے عام زبان سے دور ہوتی چلی جائےگی۔ مصنوعی زبانیں کاغذ کی ناویں ہوتی ہیں جو بہت دن نہیں چلتیں۔ ہم ہندی آگے بڑھنے کی بجائے ہمیشہ پیچھے ہٹنا جانتے ہیں۔ زمانۂ گزشتہ کی کچھ اصلی اور کچھ خیالی چمک ہماری آنکھوں کو ہمیشہ خیرہ کرتی رہتی ہے۔ اب یہ جھگڑا ہندی اردو کا نہیں رہا بلکہ ہندستانی سنسکرت کا ہو چلاہے اور یہ اس سے بھی برا ہے۔یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ملک کی موجودہ فضانے زبان کے مسئلے کو پیچیدہ اور ناگوار بنا دیا ہے۔ کسی نے اس کا ناتا مذہب سے جوڑا ہے اور کسی نے سیاست سے۔ یہ باتیں ہمیں ایک دوسرے سے دور کرنے والی ہیں۔ ہرزبان کو (خواہ وہ ہندی ہو یا اردو) ترقی کا حق حاصل ہے لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسری زبان کی ترقی میں حائل ہو۔ ہمیں ایک دوسرے کوشبہ کی نظروں سے نہیں دیکھنا چاہیے اور بجائے بدگمانی پیدا کرنے کے ان بدگمانیوں کو رفع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، جو آج کل کے حالات نے پیدا کر دی ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے سے قریب ہونے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ آپس کے ملاپ اور میل جول سے ایک ایسی زبان پیدا ہو جائے جو ہم سب کی مشترک مِلک ہو۔ زبان کا کوئی مذہب نہیں، اس کی کوئی ذات نہیں۔ جو کوئی اسے بولتا، پڑھتا، لکھتا اور سلیقے سے استعمال کرتا ہے، اسی کی زبان ہے خواہ وہ کوئی ہو اور کہیں کا ہو۔حضرات! اس ملک میں ہر چیز ذات بن جاتی ہے۔ ہمارا ادب بھی ایک زمانے میں ذات کی حیثیت رکھتا تھا جسے اس کی ذات والے ہی سمجھتے تھے۔ وہ صرف ایک طبقے میں محدود تھا او ر اس سے باہر اس کے سمجھنے والے بہت کم تھے۔ لیکن یہ خوشی کی بات ہے کہ اب میلان سادہ نویسی کی طرف ہو رہا ہے۔ اس میں سب سے بڑا احسان سرسید احمد خاں مرحوم کا ہے۔ ان کی سلاست اور فصاحت مانی ہوئی ہے۔ وہ مشکل سے مشکل مضمون کو ایسے صاف اور سیدھے الفاظ اور دل نشین پیرائے میں ادا کر جاتے تھے کہ حیرت ہوتی تھی۔ بعد والوں نے اس خوبی کی قدر نہ کی اور بعض مجبوریوں خصوصاً نئی تعلیم اور نئے خیالات کی پر زور رو کے باعث اور اپنی زبان کی طرف سے غفلت برتنے کے سبب سے ہم کچھ دنوں کے لیے بہک گئے تھے۔ لیکن شکر کا مقام ہے کہ اب ہم پھر صحیح رستے پر آ رہے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ادب کا مقصد کیا ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہیے۔اصل یہ ہے کہ ادب زندگی کا جز ہے، ہماری تہذیب اور تمدن کا آئینہ ہے۔ جیسے ہماری زندگی کے حالات ہوں گے ویسا ہی ہمارا ادب ہوگا۔ دیکھ لیجیے لکھنؤ کا فسانۂ عجائب اور دہلی کا قصۂ چہار درویش۔ دونوں میں دونوں کا تمدن صاف جھلک رہ اہے۔ زبان ہی ایک ایسا ذریعہ ہے کہ ہم اپنے خیالات دوسرے تک پہنچا سکتے ہیں اور جس قدر زیادہ تعداد تک ہم اپنے خیالات پہنچا سکتے ہیں اسی قدر ہمارا حلقۂ اثر زیادہ وسیع ہوگا۔ جو شخص اپنا کلام اور پیغام ہزاروں تک پہنچا سکتا ہے وہ اس سے بھی بڑا ہے اور جو کروڑوں تک پہنچا سکتا ہے وہ سب سے بڑا شخص ہے اور جو تمام بنی نوع انسان تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے وہ سب سے بڑا انسان ہے۔ لیکن کلام لاکھوں کروڑوں انسانوں تک کس صورت میں پہنچ سکتا ہے؟ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ الفاظ سادہ اور د ل نشین ہوں اور خیالات میں گنجلک نہ ہو۔ دل کی آواز سادہ ہوتی ہے۔ کلمۂ حق ہمیشہ سادہ ہوتا ہے جس کا جلوہ ہمیشہ سادگی ہی میں نمایاں اور دلکش ہوتا ہے۔زبان سیکھو، پڑھو اور لکھو لیکن اس کے ساتھ دل اور صداقت بھی پیدا کرو۔ جہاں دل میں درد اور صداقت نہیں، وہاں آواز میں بھی درد اور صداقت نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ میر، نظیر اور حالی زیادہ مقبول ہوئے اور ناسخ، ذوق اور مومن کو وہ قبول عام نصیب نہ ہوا۔سادہ لکھنے کی ہدایت کرنا آسان ہے لیکن سادہ لکھنا نہایت دشوار ہے۔ لوگ اسے معمولی بات سمجھتے ہیں لیکن یہ بہت غیر معمولی چیز ہے۔ یہ بات علاوہ فطری استعداد کے بڑی مشاقی، بڑے تجربے، بہت مطالعے اور بہت مشاہدے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ صرف کامل ادیب ہی اسے نبھا سکتے ہیں۔ سادہ لکھنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہم اپنی تحریر میں سادہ اور سہل لفظ جمع کر دیں اور کوئی مشکل لفظ نہ آنے دیں۔ سادگی کے ساتھ جب تک تحریر میں لطف، کشش اور اثر نہ ہو، وہ ادب میں شمار نہیں ہو سکتی۔ ایک پھسپھسی، بےجان اور بےاثر تحریر کا لکھنا نہ لکھنے سے بدتر ہے۔ جب تک کلام میں لکھنے والے کی روح شریک نہ ہو، کلام مردہ ہوگا اور دلوں میں گھر نہیں کر سکتا۔ اگر آپ کے کلام میں سادگی کے ساتھ صداقت، جدت، تازگی اور جوش ہے تو وہ آب رواں کی طرح موجیں مارتا ہوا بڑھتا ہوا چلا جائےگا اور اگر وہ دقیق الفاظ، پیچیدہ استعارات و تشبیہات اور تکلف وتصنع کے بوجھ سے دبا ہوا ہے تو بحر مردار کے پانی کی طرح ساکن، مردہ اور بے حس ہوگا۔زمانۂ حال کے ایک بہت بڑے ادیب نے خوب کہا ہے کہ ’’سادگی اور صداقت تو ام ہیں اور حسن ان کی تیسری بہن ہے۔‘‘ یہی وہ سادگی ہے جو سیدھی دل ودماغ میں جا بیٹھتی ہے۔ یہی وہ سادگی ہے جو دلوں کو لبھاتی اور گرماتی اور خیالات میں روشنی پیدا کرتی ہے۔ دنیا کے وہ کامل اور اعلیٰ ادیب اور شاعر جن کاسکہ سارے عالم پر بیٹھا ہوا ہے، ان کے قبول عام کا راز اسی میں ہے۔ صدیاں گزر گئیں، جگ بیت گئے لیکن ان کی مقبولیت میں فرق نہیں آیا۔حضرات! دنیا کی کوئی زبان نقص سے خالی نہیں۔ بعض زبانیں ہماری زبان سے بھی زیادہ بے قاعدہ، پیچیدہ اور دشوار ہیں لیکن دشواری کی وجہ سے کوئی اپنی زبان ترک کرکے دوسری زبان اختیار نہیں کر لیتا۔ وہ ہمارے اعضا ء و قویٰ کی طرح ہماری زندگی کا جز ہے۔ جس طرح ہم دیدہ ودانستہ اپنے اعضاء و قویٰ کو کاٹ کر نہیں پھینک سکتے، اسی طرح ہم اپنی زبان کو بھی اپنے سے جدا نہیں کر سکتے۔ کچھ مدت ہوئی جاپان میں بہت بڑا بھونچال آیا تھا، جس میں ہزارہا جانوں کا نقصان ہوا لیکن ایسی بیش بہا چیزیں بھی تلف ہو گئیں جو جان سے زیادہ عزیز تھیں۔ جب دلی کی ایک بڑی بی نے یہ سنا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں تو بڑی سادگی سے فرماتی ہیں کہ ’’موئے اس ملک کو چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔‘‘ اسی طرح اگر کوئی آپ سے یہ کہے کہ آپ کی زبان میں فلاں نقص یابے قاعدگی ہے، اسے چھوڑ کیوں نہیں دیتے تو اس کے جواب میں سوائے اس کے کہ آدمی مسکراکر چپ ہو رہے اور کیا کہہ سکتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر زندہ شے کے لیے نشوونما اور تغیر لازم ہے۔ یہ قانون قدرت ہے۔ لیکن اگر اس قانون کے ساتھ انسانی سعی شریک نہ ہوگی تو بہت جلد وہ ترقی رک جائےگی۔ نشوونما کی ترقی کے لیے انسانی سعی بھی لازم ہے۔ جو چیزیں ہمیں بچپن میں بہت عزیز تھیں، وہ بڑے ہوکر بے حقیقت معلوم ہوتی ہیں۔ بچپن میں جو کتابیں ہم بڑے شوق سے پڑھتے تھے، بڑے ہوکر ان میں وہ دل کشی نہیں رہتی۔ یہی حال ادب کا ہے۔ زمانۂ گزشتہ کا ادب جو ہمارے اسلاف کی یادگار ہے اور ہمارا قومی سرمایہ ہے، اس کا مطالعہ اور تحفظ ہمارا فرض ہے۔ لیکن اس کا اکثر حصہ ویسا کارگراور پراثر نہیں رہا جیسا اس وقت تھا۔ وہ اس زمانے کے اقتضا کے مطابق تھا اور اب زمانے کا اقتضا کچھ اور ہے۔ جس طرح عمر کے ساتھ انسان کا ذوق بدلتا رہتا ہے، اسی طرح زمانے کا ذوق بھی بدلتا رہتا ہے۔ اس لیے ہمیں صرف اپنے اسلاف کی پونجی ہی پر قانع نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہمیں خود بھی اپنے زمانے کے حالات کی روسے ترقی اور اصلاح میں (جہاں تک زبان کی ساخت اجازت دے) لگاتار اور بےدریغ کوشش کرتے رہنی چاہیے۔اس میں شک نہیں کہ ہمارے لیے گزشتہ زمانے میں بہت کچھ ہے لیکن سب کچھ نہیں۔ بے شبہ گزراہوا زمانہ قابل احترام ہے لیکن آئندہ زمانہ اس سے بھی زیادہ احترام کے قابل ہے۔ جس شخص کی نظر ہمیشہ پیچھے کی طرف رہتی ہے اور آگے نہیں دیکھتا وہ کبھی دنیا میں سرسبز نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اصلاح کی طرف سے کبھی غافل نہیں رہنا چاہیے۔ جو چیزیں فرسودہ اور بیکار ہو گئی ہیں، ان کے بدلنے اور ترک کرنے میں اور جو کارآمد اور مفید ہیں، ان کے اختیار کرنے میں کبھی نہیں چوکنا چاہیے۔حال ہی میں میرے ایک ذی علم دوست نے مجھ سے پوچھا کہ کیا اردو میں ایسی صلاحیت ہے کہ وہ اعلیٰ ادب پیدا کر سکے؟ میں نے کہا اردو میں کیا ہرزبان میں یہ صلاحیت موجود ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ان حضرات میں بھی وہ صلاحیت اور شوق صادق ہوناچاہیے جواسے اعلیٰ ادبی زبان بناناچاہتے ہیں۔ اردو ادب اس درجہ تک پہنچ گئی ہے کہ اگر ہم چاہیں اور ہم میں صلاحیت ہو تو ہم اس میں نازک سے نازک خیال اور ہر فن اور علم کے معلومات کو ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اسے صرف اس کی قسمت پر یا قدرت کی مہربانی پر چھوڑ دیا تو یہ لہلہاتا ہوا چمن ایک دن جھاڑ جھنکاڑ ہو جائےگا۔ اگر ہم اسے اپنی زبان سمجھتے ہیں، اگر ہم سچائی کے ساتھ اس کی ترقی کے خواہاں ہیں تو کوئی دقیقہ کوئی تکلیف اور محنت اس کے بڑھانے اور بنانے میں اٹھا نہیں رکھنی چاہیے۔ایک طرف تو ہمیں اس کی اشاعت میں کوشش کرنی چاہیے کیونکہ جب تک پڑھے لکھوں کی تعداد زیادہ نہ ہوگی اور جب تک زبان کی تعلیم عام نہ ہوگی، آپ کااعلیٰ اور مفید سے مفید ادب بھی بیکار ہوگا اور کیڑوں کی نذر ہو جائےگا۔ دوسری طرف زبان کو مستحکم اور قوی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ اس میں ہرفن اور علم کی کتابیں ہوں، دنیا کی بہترین تصانیف کے ترجمے ہوں، تخلیقی ادب جس کی کمی ہے، پیدا کیا جائے اور ان مصنفوں اور ادیبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے جو اس کام کے اہل ہیں۔ اگر ہم اس کے لیے آمادہ ہیں اور اس کی خاطر تکلیف اٹھانے اور ایثار کرنے کے لیے تیار ہیں تو ہمارا دعویٰ صحیح ہے ورنہ محلوں میں بیٹھ کر خالی دعوے کرنا اور اپنی زبان کو سراہنا اپنے منہ میاں مٹھو بننا اور دوسروں کی نظروں میں اپنے آپ کو حقیر بنانا ہے۔حال ہی میں ایک مؤرخ نے جس نے دنیا کے تمدن پر بہت معقول کتاب لکھی ہے، مسئلہ تمدن پر بڑی گہری نظر ڈالی ہے اور اس کے تمام پہلوؤں پر بحث کرنے کے بعد آخر میں ساری کتاب کا نچوڑ اس ایک چھوٹے سے جملے میں ادا کر دیا ہے (Man makes himself) یعنی آدمی خود اپنے کو بناتا ہے۔ یہی میں زبان کے متعلق کہتاہوں کہ اس کا بنانا اور بگاڑنا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم جیسا چاہیں گے ویسی بنے گی اور گزشتہ زمانے میں بھی جیسا ہم نے چاہا ویسی بنی۔ لیکن زبان کے بنانے میں یہ نکتہ یاد رکھیے کہ ملک کی عام اور مقبول زبان وہی ہو سکتی ہے جسے زیادہ سے زیادہ تعداد سمجھے۔ اگر آپ اس اصول کو پیش نظر نہ رکھیں گے تو آپ کی زبان سکڑتے سکڑتے ایک محدود حلقے میں بند ہوکے رہ جائےگی۔ ہندستانی یااردو کو اسی لیے برتری ہے کہ اسے ملک کے زیادہ سے زیادہ اشخاص بولتے یا سمجھتے ہیں۔حضرات! ہمیں یہ زبان اس لیے عزیز ہے کہ یہ ہماری بول چال کی زبان ہے۔ ہمیں یہ زبان اس لیے عزیز ہے کہ یہ ہندستان کی دو بڑی قوموں کے اتحاد اور یکجہتی کی عزیز یادگار ہے۔ ہمیں یہ اس لیے عزیز ہے کہ یہ ہمارے تمدن، ہماری معاشرت، ہمارے دل و دماغ کے نتائج، ہمارے مادی اور روحانی خیالات کی حامل ہے۔ ہمیں یہ اس لیے عزیز ہے کہ اس میں ہمارے اسلاف کی صدیوں کی محنت وجانکاہی، دماغی وذہنی کاوشوں کا نچوڑ ہے۔ ہمیں یہ اس لیے عزیز ہے کہ یہ ہمارے بزرگوں کی مقدس وراثت ہے۔ اگر اس پر بھی ہم اس کی قدر نہ کریں اور اس کے بنانے سنوارنے اور بڑھانے میں اپنی پوری ہمت صرف نہ کر دیں اور اس کی ترقی و نشوونما میں جان نہ لڑادیں تو ہم سے بڑھ کر کوئی ناخلف نہ ہوگا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7%D8%A8%DB%82_%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B1%D9%86%D8%B3"} {"title": "خطبۂ صدارت شعبۂ اردو ہندستانی اکیڈمی، الہ آباد", "poet_page": "مصنف:مولوی عبد الحق", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(یہ خطبہ ہندستانی اکیڈمی الہ آبادکے شعبہ ٔ اردو کے صدر کی حیثیت سے ۱۲ جنوری ۱۹۳۶ء کوپڑھاگیا۔)\n\nجناب صدر! حضرات!اردو زبان و ادب کا جدید دور گزشتہ صدی کے آغاز سے شروع ہوتا ہے۔ اس میں چار بڑی باقاعدہ اور منظم تحریکیں عمل میں آئیں۔(۱) فورٹ ولیم کالج، کلکتہ۔(۲) دہلی کالج۔(۳) سائینٹفک سوسائیٹی علی گڑھ۔(۴) اورینٹل کالج، لاہور۔پہلی تحریک جو انیسویں صدی کے آغاز میں شروع ہوئی ملکی ضرورت پر مبنی تھی۔ انگلستان سے رایٹر(محرر) بالکل نو عمر آتے تھے، یعنی سولہ سے اٹھارہ برس کی عمر کے۔ ان میں سے اکثر کی تعلیم بہت محدود اور کم ہوتی تھی اور جو کسی کی تعلیم اچھی بھی ہوئی تو اسے مطالعہ اور تعلیمی ترقی کا موقع نہیں ملتا تھا۔ دوسرے جب یہ نو عمر پہلے پہل ہندستان میں آتے تو ان کی حالت لاوارثوں کی سی ہوتی تھی اور ابتدائے ملازمت میں کوئی ان کی اخلاقی اور مذہبی حالت کا نگراں اور رہنما نہیں ہوتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ نااہل اور کا ہل ہو جاتے تھے۔دوسری بڑی بات یہ تھی کہ ملازمینِ کمپنی کو مختلف السنہ و مذاہب اور اطوار و عادات کے لاکھوں آدمیوں کے عدالتی معاملات فیصلہ کرنے اور اضلاع کی مال گزاری کا انتظا م کرنا اور ان کے جھگڑے چکانے پڑتے تھے۔ عدالتوں میں وکالت اور تمام ضروری کاروائی دیسی زبان کے ذریعے سے ہوتی تھی۔ قانون انگریزی نہیں بلکہ یہاں کا قدیم رائج تھا۔ اس لیے مجسٹریٹوں کے فرائض بہت پیچیدہ اور اہم ہو گئے تھے۔ معمولی فرائض کے علاوہ ججوں، مجسٹریٹوں کو وقتاً فوقتاً گورنر با جلاس کونسل کے سامنے موجودہ قوانین کے متعلق ترمیمات وغیرہ پیش کرنی ہوتی تھیں جس کے لیے انہیں اہل ملک کی خواہشات اور ضروریات کا جاننا ضروری تھا۔سب سے بڑی چیز تجارت تھی جو ایسٹ انڈیا کمپنی کا اصل منشا تھا۔ اس سے پہلے یہاں کوئی فرما روا تاجر کے بھیس میں نہیں آیا تھا۔ اس لیے کسی کو گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ یہ اجنبی تاجر کوٹھیاں بناتے بناتے قلعے تعمیر کرنے لگیں گے۔ تجارت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ تاجر ملک کی زبان اور حالات سے واقف ہو، اور جہاں تجارت کے ساتھ حکومت کا سایہ بھی ہو تو ملک کی زبان، اہل ملک کے عادات اور رسم و رواج اور ان کے آئین وقوانین کا جاننا لازم ہو جاتا ہے۔اسی زمانے میں ایک آفت اور پیدا ہو گئی تھی اور اس کا انسداد ضروری تھا۔ انقلاب فرانس نے تمام یورپ میں ہل چل مچا دی تھی، مذہبی اور سیاسی خیالات میں ہیجان پیدا ہو گیا تھا اور وہ خطرناک اصول رفتہ رفتہ کمپنی کے فوجی اور ملکی ملازمین تک بھی پہنچ گئے تھے۔ اس لیے بڑا اندیشہ تھا کہ کہیں یہ لوگ اس کا شکار نہ ہو جائیں۔ ایسے موقع پر دل و دماغ کو زیر کرنے کے لیے دو قوتوں سے کام لیا جاتا ہے۔ ایک حکومت، دوسری مذہب۔ اس لیے حکومت اور مذہب کے اصول سکھانے ضروری تھے تاکہ نووارد جوان عام روش سے بھٹکنے نہ پائیں۔ اسی وجہ سے مذہبی تعلیم کالج کا جزو تھی اور کوئی اعلیٰ عہدہ یا پروفیسری یا لکچراری کی خدمت کسی غیرعیسائی کو نہیں دی جاتی تھی اور ایسے عہدہ دار کو اقرار صالح کرنا پڑتا تھا کہ وہ نج کے طور پر یا علانیہ ایسے عقائد اور آراکی تعلیم نہ دےگا جو عیسائی مذہب یاچرچ آف انگلینڈ کی تعلیم وارکان کے خلاف ہو۔ان خیالات کو پیش نظر رکھ کر لارڈویلز لی نے ۴/ مئی سنہ ۱۸۰۰ء کو ایک مدرسہ بنام فورٹ ولیم کالج قائم کیا۔ ویلزلی بڑا اولوالعزم شخص تھا اور اس مدرسے کے متعلق اس کے بڑے بڑے خیالات تھے۔ وہ اس میں قدیم و جدید السنہ، ہندستان کی دیسی زبانوں، اصول، قانون، تاریخ عامہ و تاریخ ہندستان، نیچرل ہسٹری، کیمیا، معاشیات، ریاضی، نباتیات وغیرہ سب کی تعلیم دینا چاہتا تھا، مگر ’’پیسے کے لو بھی‘‘ کمپنی کے ڈائرکٹروں کے سامنے اس کی کچھ پیش نہ گئی۔ اس لیے اس کی تعلیم زیادہ تر دیسی اور مشرقی زبانوں تک محدود رہ گئی۔ ڈائرکٹر سرے سے کالج کے مخالف تھے، محض لارڈ ویلزلی کی سینہ زوری سے چند سال تک یہ مدرسہ قایم رہا۔یہ کچھ بھی سہی لیکن اس میں مطلق شبہ نہیں کہ کالج نے دیسی زبانوں اور خاص کر ہندستانی زبان کے لیے بہت مفید کام کیا۔ اردو زبان میں سادہ اور روز مرہ کی زبان لکھنے کا ڈھنگ ڈالا اور مقفیٰ اور مسجع عبارت ترک کر دی گئی۔ کوئی پچاس سے اوپر کتابیں تیار ہوئیں اور طبع کی گئیں جن میں کچھ ترجمے تھے، کچھ تالیفات اور کچھ انتخابات جو قصص و حکایات، تاریخ و تذکرہ، لغات و صرف و نحو اور مذہب وغیرہ کے مضامین پر مشتمل تھے۔ کالج نے اردو زبان کے حق میں دو بڑے کام کیے۔ ایک تو روز مرہ کی زبان کو صفائی اور فصاحت کے ساتھ لکھنا سکھایا۔ دوسرے اس زمانے کے لحاظ سے لغت اور صرف و نحو پر جدید طرز پر کتابیں لکھنے کی کوشش کی گئی۔ اس میں ڈاکٹر جان کلگرسٹ کا بڑا ہاتھ تھا۔ اس کی بعض کتابیں اب بھی پڑھنے کے قابل ہیں اور اپنا جواب نہیں رکھتیں۔ ایک کام اس نے یہ کیا کہ نستعلیق ٹائپ کا مطبع قائم کیا اور کالج کی کتابیں اسی میں طبع ہونے لگیں۔یہ مسئلہ اب تک زیر بحث ہے اور اس میں جیسی کہ چاہیے کامیابی نہیں ہوئی۔ اگر یہ کالج قائم رہتا اور حسب ضرورت اس کے مقاصد میں توسیع ہوتی رہتی تو بڑی قابل قدر خدمت انجام دیتا۔دوسری تحریک دلی میں نمودار ہوئی۔ دہلی کالج کا ذکر ہندستان کے نظام تعلیم کے سلسلے میں نیز اردو زبان کی تاریخ میں ہمیشہ کیا جائےگا اور تعریف کے ساتھ کیا جائےگا۔ اگرچہ افسوس ہے کہ ہندستان کی تعلیمی تاریخ کے لکھنے والے اسے اکثر بھول جاتے ہیں۔ اس کی تین بڑی خصوصیتیں تھیں۔ ایک یہ کہ یہ پہلی درس گاہ تھی جہاں مشرق و مغرب کاعلم وادب ساتھ ساتھ پڑھایا جاتا تھا۔ اس ملاپ نے خیالات کے بدلنے، معلومات میں اضافہ کرنے اور ذوق کی اصلاح میں بڑا کام دیا اور ایک نئی تہذیب اور نئے دور کی بنیاد رکھی اور ایک نئی جماعت ایسی پیدا کر دی جس میں سے ایسے پختہ کار، روشن خیال اور بالغ نظر انسان اور مصنف نکلے جن کا احسان ہماری زبان اور سوسائٹی پر ہمیشہ رہےگا۔دوسری خصوصیت اس کی یہ تھی کہ ذریعہ ٔ تعلیم اردو زبان تھا۔ تمام مغربی علوم اردو ہی کے ذریعے پڑھائے جاتے تھے اور باوجود ان موانعات کے جو معترضین ذریعۂ تعلیم کی بحث میں ہر موقع پر پیش کرتے تھے، وہ نہایت کامیاب رہا۔ کالج کے پرنسپل اپنی ایک رپوٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’مشرقی شعبے کا طالب علم اپنے مغربی شعبے والے حریف سے سائنس میں کہیں بڑھا ہوا ہے۔‘‘ علاوہ اس کے جن جن ماہران تعلیم اور قابل اصحاب نے کالج کا معائنہ کیا، انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ ڈائرکٹر پبلک انسٹرکشن احاطۂ بنگال اپنے تبصرہ ٔ تعلیمی بابت سنہ ۱۸۵۳ء میں لکھتے ہیں کہ،’’ایک مدت سے دلی کالج کی ایک خصوصیت ایسی چلی آ رہی ہے جو اسے بالائی اور زیریں صوبجات کے دوسرے کالجوں سے ممتاز کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہاں دیسی زبان (اردو) کے ذریعے تعلیم دی جاتی ہے اور یہ (امتیازی خصوصیت) خاص طور پر ریاضیات کی تمام شاخوں اور کم و بیش تاریخ اور اخلاق وفلسفہ کی تعلیم سے تعلق رکھتی ہے۔ اس طریقۂ تعلیم پر مسٹر بتروس نے اپنے زمانۂ پر نسپلی میں استقلال کے ساتھ عمل درآمد کیا اور ان کے جانشین ڈاکٹر سپرنگر نے اسی جوش کے ساتھ اسے جاری رکھا۔ یہ اب دہلی کالج کے نظام تعلیم کا ایک جزو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ مناسب یہ ہے کہ اسے آزادی کے ساتھ بڑھنے اور پھولنے پھلنے دیا جائے۔ چند سال بعد ہمیں اس کے نتائج کا دوسرے طریقے کے نتائج سے مقابلہ کرنے کا موقع ملےگا۔‘‘ افسوس یہ موقع کبھی نہ آیا۔تیسری خصوصیت یہ تھی کہ اس سے متعلق ایک ٹرانسلیشن سوسائٹی (مجلس ترجمہ) تھی جو کالج کے طلبہ کے لیے انگریزی سے اردو میں درسی کتابوں کے ترجمے کا کام انجام دیتی تھی۔ یہ ترجمے سب کے سب کالج کے اساتذہ اور طلبہ کے کیے ہوئے ہیں۔ اس مجلس کے ترجموں اور تالیف کی تعداد قریب سوا سو کے ہے جو تاریخ، جغرافیہ، اصول قانون، ریاضیات اور اس کی مختلف شاخوں، کیمسٹری، میکانیات، فلسفہ، طب، جراحی، نباتیات، عضویات، معاشیات وغیرہ علوم و فنون نیز ادبیات پر مشتمل ہیں۔ اس کالج نے صحیح طریقۂ تعلیم کو رواج دینے اور اردو کو علمی زبان بنانے میں عظیم الشان خدمت انجام دی اور اس زمانے کے لحاظ سے اس کا یہ کام نہایت قابل قدر ہے۔ اگر سنہ ۵۷ کی شورش میں اس کا شیرازہ نہ بکھر جاتا اور یہ کالج اسی اصول پر قائم رہتا اور زمانے کی ضروریات کے مطابق اس میں اصلاح و ترقی جاری رہتی تو آج ہماری زبان کہیں سے کہیں پہنچ جاتی۔اس کے بعد سنہ ۱۸۶۲ء میں سرسید احمد خاں مرحوم نے سائینٹفک سوسائٹی کی بنیاد ڈالی، جس کی غایت یہ تھی کہ علمی کتابیں انگریزی سے اردو میں ترجمہ کراکے مغربی لٹریچر اور مغربی علوم کا مذاق اہل وطن میں پیدا کیا جائے۔ اس سوسائٹی نے تقریباً چالیس علمی اور تاریخی کتابیں انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرائیں۔ دہلی کالج کے بعد یہ دوسرا ادارہ تھا جس نے اردو زبان میں علوم جدید کو منتقل کرنے اور اسے علمی زبان بنانے کی سعی کی۔ سرسید اسے انگریزی تعلیم پھیلانے سے بھی زیادہ ضروری اور مقدم سمجھتے تھے۔ انسٹیٹیوٹ گزٹ اور تہذیب الاخلاق بھی اس کے بچے تھے جنہوں نے ملک میں علمی ذوق اور روشن خیالی پھیلانے میں بڑا کام کیا۔سنہ ۵۷ کی شورش کے کچھ دنوں بعد جب علمی مرکز دہلی سے لاہور منتقل ہوا تو وہاں اوائل سنہ ۱۸۶۵ء میں ایک انجمن بنام ’’انجمن اشاعت مطالب مفیدہ پنجاب‘‘ قائم ہوئی جو بعد میں ’’انجمن پنجاب‘‘ کے نام سے موسوم اور مشہور ہوئی اور اس کی سعی سے اورینٹل کالج کی بنا پڑی جو بعد میں پنجاب یونیورسٹی کالج کے تفویض کر دیا گیا۔ یہ تعلیمی ادارہ بھی تھا اور تالیف و ترجمہ کی اکیڈمی بھی۔ مترجم زیادہ تر کالج کے معلمین اور اس کے رفقا تھے۔ ان صاحبوں نے مختلف علوم و فنون پر بہت سی انگریزی کتابوں کے ترجمے کیے۔ چند کتابیں تالیف بھی کیں اور بعض سنسکرت، عربی، فارسی کتابوں کے بھی ترجمے کیے۔اس میں ڈاکٹر لائٹنر کی کشش اور استقلال کو بہت بڑا دخل تھا۔ وہ انجمن پنجاب کے پریزنڈنٹ اور اور ینٹل کالج کے پہلے پرنسپل تھے اور سنہ ۱۸۸۶ ء تک اس خدمت پر مامور رہے۔ ان کے جانے کے بعد تالیف اور ترجمے کا کام سست پڑ گیا۔ اگرچہ پہلا سازور شور اور اہتمام نہیں رہا، تاہم یہ کالج اردو اور مشرقی زبانوں کی خدمت تعلیم اور امتحانات کے ذریعے سے انجام دے رہا ہے اور گواب وہاں کوئی شعبہ تالیف و ترجمہ کا نہیں مگر وہ سنت قدیم پروفیسرشفیع، پروفیسر اقبال اور پروفیسر شیرا نی کے دم سے زندہ ہے۔یہ چار تحریکیں جن کا سرسری ذکر میں نے آپ کی خدمت میں کیا ہے، گزشتہ صدی کی ادبی اور علمی ترقی میں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ فورٹ ولیم کالج، دہلی کالج اور اورینٹل کالج نے اردو زبان کے لیے جو کام کیا وہ خاص ضرورت سے تھا یعنی درسی کتب کا بہم پہنچانا۔ مگر اس میں شک نہیں کہ اس میں بہت سی کتابیں ایسی بھی تھیں جو عام مطالعہ کے لیے بھی مفیدتھیں اور ان سے علم و ادب کے شائقین کو بہت فائدہ پہنچا۔ علاوہ معلومات میں اضافہ کرنے اور خیالات میں انقلاب پیدا کرنے کے سنجیدہ مضامین کے لکھنے کا اسلوب بھی رائج ہو گیا۔ سائینٹفک سوسائٹی کا مقصد عام تھا لیکن اس کا کام بھی دہلی کالج ہی کے نہج پر ہوا۔ان اداروں کے حالات پر غور کرنے سے البتہ ایک بات کھٹکتی ہے، وہ یہ ہے کہ ہر ادارے نے از سر نو کام شروع کیا اور گزشتہ تحریکوں سے کوئی سلسلہ اور ربط قائم نہ ہو سکا۔ یعنی نہیں دیکھا کہ اس سے پہلے کیا کام ہوا، کون کون سی کتابیں لکھی اور ترجمہ کی گئیں، کون کون سے نئے الفاظ وضع کیے گئے اور کون سے ایسے پرانے الفاظ تھے جو نئی اصطلاحات کے لیے استعمال کیے گئے۔ ان کی کون سی چیزیں اختیار کر نے کے قابل ہیں اور کون سی قابل ترک۔ اس سے بڑی بصیرت ہوتی ہے اور کام میں آسانی ہو جاتی ہے۔ جس طرح پچھلوں کے اچھے کام اگلوں کے حق میں مفید ہوتے ہیں، اسی طرح ان کی غلطیاں کچھ کم مفید نہیں ہوتیں تاکہ آنے والے ان سے بچیں اور ان کا اعادہ نہ کریں۔میں دیکھتا ہوں کہ اس زمانے میں جو ادارے زبان و ادب کی ترقی واشاعت کا کام کر رہے ہیں، وہ بھی انہیں غلطیوں میں مبتلا ہیں اور اس سے بھی بڑی غلطی یہ ہو رہی ہے کہ ان کا کام کسی اصول پر نہیں ہو رہا ہے۔ کوئی کتاب اچھی سی ہاتھ لگ گئی، اس کا ترجمہ کر لیا۔ کسی نے کوئی چیز لکھ کر بھیجی، کمیٹی نے پسند کی، چھپ گئی۔ کوئی تالیف شایع ہوئی، سفارش کے ساتھ پیش ہوئی، انعام دے دیا۔ کچھ لکچر دلوا دیے، کچھ جلسے کرلیے اور سب سے بڑا کارنامہ یہ کہ مشاعرے کا اہتمام کر دیا۔ گویا ہم اندھیرے میں چاند ماری کر رہے ہیں، لگا تو تیر نہیں تو تکا۔ اس طرح سے کام نہیں ہوتے، ان حرکتوں سے زبان اور ادب نہیں بنتا، ان طریقوں سے آپ خیالات میں انقلاب اور طبائع میں جدت نہیں پیدا کر سکتے۔اس سے بھی بڑی کوتاہی بلکہ معصیت جس کا ارتکاب یہ ادارے کر رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان اداروں میں باہمی اتحاد اور ارتباط نہیں ہے۔ ہر ایک نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنا رکھی ہے۔ جب مقصد ایک ہے، کام ایک ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم کبھی کبھی سر جوڑ کر نہ بیٹھیں، اپنے کاموں پر نظر نہ ڈالیں اور آیندہ کے لیے اپنے کام کا کوئی ایسا نقشہ تیار نہ کریں جو حقیقی طور پر ہمارے ادب کے حق میں مفید ہو۔ اس اتحاد عمل، امداد باہمی اور تقسیم کار سے کام میں سہولت اور توسیع اور عمل میں قوت پیدا ہوگی، نیز بہت سے ایسے مسائل حل ہو جائیں گے جو اس وقت ہماری توجہ کے محتاج ہیں۔ اس طرح سال میں ایک آدھ بار باہم مل بیٹھنے سے اور بہت سی کار آمد باتیں سوجھ جائیں گی جو فرداً فرداً غور کرنے سے خیال میں نہیں آتیں۔ لیکن یہ مجلسیں ہنگامے کی خاطر نہیں بلکہ کام کے لیے ہونی چاہییں اور ان میں صرف انہیں کو دعوت دی جائے جو اہل نظر اور صاحب رائے ہیں۔ بعد میں ان کی تجویزیں اور فیصلے اطلاع عام اور تنقید کے لیے شایع کیے جائیں تاکہ ضرورت ہوتو ان فیصلوں پر نظر ثانی کی جا سکے۔حاشا وکلا میرا مقصد کسی ادارے کو الزام دینا نہیں، ہرادارہ اپنی بساط اور فکر کے مطابق کچھ نہ کچھ ضرور مفید کام کر رہا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ موجودہ حالت میں جس طرح کام ہو رہا ہے، اس میں بہت سا وقت، محنت اور روپیہ رائیگاں جاتا ہے۔ اگر ہم متفقہ طور پر کام کی نوعیت، کام کی تقسیم، اس کی ترقی و اشاعت اور جدید ضرورت کے متعلق غور کرکے کچھ امور کے کرلیں گے اور ان کے عمل میں لانے کی کچھ تدبیریں بھی سوچ لیں گے اور ان کے انجام دینے کے وقت کا بھی تعین کرلیں گے تو یقین ہے کہ ہم اتنے ہی وقت میں، اسی قدر محنت اور روپیہ کے صرف سے بہت بڑا اور بہت بہتر کام کرسکیں گے۔میں یہ ذاتی تجربے کی بنا پر عرض کرتا ہوں۔ انجمن ترقیٔ اردو ایک مدت تک اٹکل پچو، کام کرتی رہی۔ ایک عرصے کے بعد مجھے تجربہ ہواکہ اس طرح بے اسلوبی سے کام کرنا کچھ زیادہ مفید نہیں، ایک منظم ادارے کا کام، جس کا مقصد زبان وادب کی ترقی ہے، اس سے بہتر و افضل ہونا چاہیے۔ چنانچہ اب ہم نے ایک خاص اصول پر کام کرنا شروع کیا ہے۔ مثلاً ہم نے اردو شعرا کے تذکرے ڈھونڈ ڈھونڈ کر مرتب کیے اور اس وقت تک بہت سے کم یاب اور نادر تذکرے شایع ہو چکے ہیں اور بعض ابھی زیر ترتیب ہیں۔ ان تذکروں سے اردو ادب کا ارتقا اور اس زمانے کی معاشرت کے متعلق بہت سی معلومات حاصل ہوتی ہیں اور بہت سی غلط فہمیاں اور غلط بیانیاں جو اب تک چلی آ رہی تھیں، ان کی بدولت دفع ہو گئیں۔ چنانچہ ان تذکروں کی اشاعت کے بعد اردو ادب کی تاریخ کے متعلق جو تحریریں اور کتابیں شائع ہوئی ہیں، ان کے مؤلفو ں نے ان سے استفادہ کیا ہے۔اسی طرح انجمن نے قدیم اردو ادب کے متعلق تحقیق و جستجو کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور اردو کی بعض قدیم کتب نظم ونثر شایع کی ہیں، جن سے ابتدائے زبان کی کیفیت معلوم ہوتی ہے۔ نیز انجمن نے ایک سلسلہ لغات کا بھی ترتیب دینا شروع کیا ہے۔ فی الحال انگریزی اردو کی ایک مبسوط اور جامع لغات زیر طبع ہے اور جلد شایع ہو جائےگی۔ ہندی اردو لغات بھی زیر ترتیب ہے۔ پیشہ وروں کی اصطلاحات بھی مکمل ہو چکی ہیں اور اب ان کی نظرثانی کی جا رہی ہے۔ اس میں تقریباً بیس ہزار اصطلاحات مختلف پیشوں کی بڑی تلاش اور محنت سے جمع کی گئی ہیں۔ قدیم اردو کی لغات بھی زیر ترتیب ہے۔ قدیم الفاظ موجودہ لغت کی کتابوں میں نہیں ملتے۔ اس سے ادبی تحقیق میں بہت مدد ملےگی۔تقریباً ایک سال سے جائزۂ زبان اردو(اردوسروے) کاکام بھی جاری ہے۔ اکثر صوبوں اور علاقوں سے رپوٹیں وصول ہو چکی ہیں اور باقی مقامات پر کام ہو رہا ہے۔ اس وقت ایک اور تجویز میرے زیر غور ہے۔ یہ ارادہ ہے کہ دنیا کی اعلیٰ زبانوں میں جتنی مہاتصانیف (کلاسکس) ہیں، ان سب کا ترجمہ اردو میں کر دیا جائے۔ میں نے اس کی ایک فہرست تیار کی ہے جو خاص خاص اصحاب کی خدمت میں رائے کے لیے بھیجی جا رہی ہے۔ اگر یہ تجویز عمل میں آ گئی تو ہماری زبان میں ایک ایسا عجیب و غریب سامان مہیا ہو جائےگا جو دنیا کا بہترین کارنامہ اور بنی نوع انسان کا افضل ترین ارث سمجھا جاتا ہے اور اس سے ہماری زبان کو جو بیش بہافائدہ پہنچے گاوہ محتاج بیان نہیں۔ اس کے علاوہ ہم دنیا کی موجودہ بڑی بڑی تحریکوں پر بعض کتابیں تالیف کرا رہے ہیں، جو معلومات کی توسیع میں بڑا کام دیں گی۔ اس بیان سے میرا مطلب انجمن ترقیٔ اردو کا اشہتار دینا نہیں بلکہ مثال کے طور پر وہ طریقہ ٔ عمل بتاناہے جس پر انجمن اس وقت کاربند ہے یا جو اس کے پیش نظر ہے۔ادبی اداروں کے اتحاد عمل سے ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اس وقت جو ہمارے ادب میں بے راہ روی پائی جاتی ہے، اس کا بھی انسداد ممکن ہے۔ جب ہم متفقہ طور پر اس کے خلاف آواز بلند کریں گے تو ہماری آواز بے اثر نہیں رہےگی۔ آج کل ہمارے ادب میں خیالی یا اس وقت کے محاورے میں رومانی رنگ غالب ہوتا جاتا ہے۔ کچھ مدت ادب جدید کا ایک ایسا دور رہا جس کا تعلق زیادہ تر علی گڑھ تحریک سے تھا، اس وقت کے اہل ادب مثلاً سرسید احمد خاں یا مولانا حالی زندگی کے واقعات اور اس کی مشکلات سے بحث کرتے تھے۔ قومی تنزل کے اسباب، آئندہ ترقی کی تدابیر، تعلیم کی ترغیب، دشواریوں سے مردانہ وار مقابلہ، رسم و رواج اور توہمات کی تنقید، ادب کی اصلاح وغیرہ وغیرہ ایسے مضامین تھے جن پر بحث کرنے سے ان کا قلم نہیں تھکا۔مولوی نذیر احمد جیسے عالم نے جتنے ناول لکھے ہیں وہ سب اس وقت کی زندگی اور معاشرت کا آئینہ ہیں۔ لیکن اس زمانے میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ’شرر‘ اور ’آزاد‘ کی روح نئے جون میں نمودار ہوئی ہے۔ ہمارے ادیب اور شاعر عالم خیال میں پرواز کرتے پھرتے ہیں اور روز بروز حقیقت اور زندگی سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ یوں سمجھیے گو یا وہ زندگی کی حقیقتوں اور دشواریوں اور ان پر غور و فکر کرنے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن کیا وہ ان حیلوں سے بچ سکتے ہیں؟ ادب کی بنا زندگی پر قائم ہے اور اگر یہ نہیں تو وہ ایک لچر سی کہانی ہے۔یہ جو کہا گیا ہے کہ ادب زندگی کا ایک آئینہ ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے۔ مثلاً عرب جاہلیت کے شعرا کو لیجیے۔ شاعری ان کی رگ وپے میں پیری ہوئی تھی۔ معمولی سا معمولی اور جزوی سا جزوی معاملہ بھی ان کی نظر میں ایک بڑا واقعہ تھا اور تحریک شعر کے لیے کافی تھا۔ ان کی لڑائیاں، ان کی فتح وشکست، عشق و محبت (خیالی نہیں) خوف و خطر، انتقام، مہمان نوازی وغیرہ، یہاں تک کہ ایک بچھیرے کی ولادت تک کا نقشہ ان کی نظموں میں زندہ موجود ہے۔ ان کے کلام میں تازگی، آزادی، مردانہ پن اور ذوق زندگی پایا جاتا ہے۔ اگر ہم ان کے کلام کا مطالعہ کریں تو اس زمانے کی معاشرت، رسم ورواج اور خیالات و توہمات کی تاریخ مرتب کر سکتے ہیں۔گزشتہ تیس سال میں ہماری زندگی میں بہت کچھ تغیر واقع ہواہے۔ اگر دو ایک شاعروں سے قطع نظر کیا جائے تو کیا ہمارے شعرا کے کلام میں کہیں بھی اس انقلاب کا پتا ہے؟ ہمارے شاعر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ تلامیذالرحمان ہیں۔ مشاہدہ، مطالعہ اور حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں، ان کے دلوں پر آسمان سے ہر وقت الہام کا نزول ہوتا رہتا ہے۔ لیکن اگر انہیں اپنا اور دوسروں کا وقت ضایع کرنا منظور نہیں تو انہیں اپنی ہوائی پرواز سے اس ناپاک زمین پر اترنا پڑےگا۔ ورنہ ان کی شاعری کو کوئی آنکھ اٹھاکر بھی نہیں دیکھےگا۔ہمارے رسالے اور اخبار بھی بہت کچھ اسی رنگ میں ڈوبے نظر آتے ہیں۔ وہ دنیا کی ان عظیم الشان تحریکوں پر جنہوں نے دنیا میں ہیجان پیدا کر رکھا ہے، بہت کم سنجیدگی سے بحث کرتے ہیں۔ وہ زیادہ تر ادب لطیف، معمولی فسانوں اور نظم نمانثر کے شائق معلوم ہوتے ہیں۔ ایک بڑا عیب یہ ہے کہ جب کبھی وہ ملکی معاملات پر بحث کرتے ہیں، اس میں فرقہ بندی کی بساند آنے لگتی ہے یا خواہ مخواہ ایسے معاملات کو جن کو مذہب سے کوئی تعلق نہیں، مذہبی رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ یہ عام طور پر ہندی اردو اخباروں اور رسالوں کی حالت ہے۔ اس سے تنگ نظری اور تعصب پیدا ہوتا ہے۔ اور یہ ادب کے حق میں زہر ہے۔ اگر ہمارے ادبی ادارے اور کسی غرض سے نہ سہی، صرف ادب کی خاطر یہ تصفیہ کر لیں اور متفقہ طور پر ان باتوں سے اپنی بیزاری ظاہر کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کا اثر نہ ہو لیکن صرف تجویزیں پیش کردینا اور قرارد ادیں منظور کر لینا کافی نہ ہوگا۔ ان اداروں کو خود بھی ان پر عمل کر کے دکھانا ہوگا۔اس قسم کے اور بہت سے قصے قضیے ہیں۔ مثلاً ہندی اردو یارسم الخط کی بحث یا اور چھوٹے موٹے مسائل جن کا تعلق زبان اور ادب سے ہے۔ ان جھگڑوں کے چکانے کایہی طریقہ ہو سکتا ہے، جو میں نے عرض کیا۔ اپنی اپنی جگہ پر ہر ایک اپنی رائے کو صائب اور قوی سمجھتا ہے لیکن باہم مل بیٹھنے اور مشاورت کی بڑی کرامت یہ ہے کہ جن رایوں کو ہم اٹل سمجھے بیٹھے تھے، وہ باہم گفتگو کرنے کے بعد جھرجھری معلوم ہونے لگتی ہیں۔ خلوص نیت شرط ہے۔رسم الخط کامسئلہ آج کل بہت زیر بحث ہے اور خاصا بھڑوں کا چھتا بن گیا ہے۔ اس میں مشکل یہ آ پڑی ہے کہ جیسا ہمارے ہاں عام دستورہے، رسم الخط کو قومی تہذیب اور مذہب کا جز سمجھ لیا ہے۔ اس لیے موجودہ حالات میں یہ توقع نہیں ہو سکتی کہ لوگ ٹھنڈے دل سے اس پر غور کریں گے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم اس پر بحث کرنا ترک کر دیں۔ غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس مسئلے کو جذبات اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اقتصادی مسئلہ ہے۔ جس رسم الخط میں صرف کم ہوگا، وقت کم لگےگا، جگہ کم گھرے گی اور جس کے پڑھنے میں آسانی ہوگی اور جو دیکھنے میں بھی خوش نما ہوگا، وہی مقبول ہوکے رہےگا۔ عام طور پر لوگوں نے اسے ہندی اردو سے متعلق کر کے جھگڑے کے لیے ایک نیا شاخسانہ کھڑا کر لیا ہے۔ اس کا حل آسان ہو لیکن اس کا رواج آسان نہیں۔ اس کے لیے ایک مدت درکار ہے۔ فی الحال یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اردو رسم الخط میں جو نقائص ہیں ان کی اصلاح کشادہ دلی سے کی جائے۔ ہندی سمیلن نے اس کی طرف قدم اٹھایا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ایسی کمیٹی قرار دی جائے جو اردو رسم الخط پر غور کر کے اس میں مناسب اصلاح عمل میں لائے تو ایک مفید کام ہوگا۔ہندستانی اکیڈمی کا وجود اس صوبے میں بہت غنیمت ہے۔ وہ اس قسم کے مسائل حل کرنے اور اسی طرح کی اصلاحیں عمل میں لانے کے لیے قایم کی گئی تھی۔ میں اس وقت اس کے کاموں پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتا۔ لیکن اکیڈمی کے کارفرماؤں کی خدمت میں اس قدر عرض کرنے کی جرأت کرتا ہوں کہ جب اکیڈمی نے ہندستانی کا لقب اختیار کیا ہے اور ہندستانی کے رواج کا بیڑا اٹھایا ہے تو کیوں اب تک ایسی کتابیں تالیف نہیں کرائی گئیں اور کوئی رسالہ ایسا شایع نہیں کیا گیا جو ہندستانی زبان میں ہو اور بجنسہ بغیر کسی تغیر و تبدل کے دونوں رسم الخط میں لکھا جا سکے۔ اگر یہ ممکن ہو اور اکیڈمی اس کی کوشش کرے تو زبان کی بڑی خدمت ہوگی۔ اور یہ جو اعتراض ہے کہ ہندستانی کی دوڑ صرف معمولی بول چال اور کاروبار تک ہے اور ادب میں اس کو کوئی حیثیت حاصل نہیں، بہت کچھ رفع ہو جائےگا۔اور اس سے بھی زیادہ مفید کام جو اکیڈمی کر سکتی ہے، وہ یہ ہے کہ اسی زبان میں ریڈریں تیار کرائے جو دونوں رسم الخط میں لکھی جائیں۔ اس سے وہ دو رنگی جو اس وقت اس صوبے کے مدارس میں پائی جاتی ہے، خودبخود اٹھ جائےگی اور لڑکے ابتداسے ایسی زبان لکھنے اور بولنے کے عادی ہو جائیں گے جو اس علاقے کا ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ ہندستانی کے رواج کا سب سے بڑا ذریعہ یہ مدارس ہو سکتے ہیں۔حضرات! وقت گزرتا جاتا ہے اور بہت سے ایسے مسائل ادھورے پڑے ہیں۔ اگر ہم فوراً اور بہت جلد ان کو طے نہیں کر سکتے تو کم سے کم ہمیں ان کے جلد طے کرنے کا سامان فوراً مہیا کرنا چاہیے۔ جس وقت کوئی ایسی تجویز پیش ہو اور انشاء اللہ اس کا موقع بہت جلد آنے والا ہے تو مجھے امید ہے کہ وہ اصحاب جو اپنی زبان کے سچے بہی خواہ ہیں اپنے تجربے اور مشورے سے مدد دینے میں دریغ نہ فرمائیں گے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7%D8%A8%DB%82_%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%D8%B4%D8%B9%D8%A8%DB%82_%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%DB%81%D9%86%D8%AF%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A7%DA%A9%DB%8C%DA%88%D9%85%DB%8C%D8%8C_%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"} {"title": "خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے\nغرور دوستی آفت ہے تو دشمن نہ ہو جاوے\n\nسمجھ اس فصل میں کوتاہی نشو و نما غالبؔ\nاگر گل سرو کے قامت پہ پیراہن نہ ہو جاوے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D8%B7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%82_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%B1%DA%AF_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D9%86_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%92"} {"title": "خفا اس سے کیوں تو مری جان ہے", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خفا اس سے کیوں تو مری جان ہے\nاثرؔ تو کوئی دم کا مہمان ہے\n\nتیرے عہد میں سخت اندھیر ہے\nکہ عشق و ہوس ہر دو یکسان ہے\n\nکہوں کیا خدا جانتا ہے صنم\nمحبت تری اپنا ایمان ہے\n\nدل و غم میں اور سینہ و داغ میں\nرفاقت کا یاں عہد و پیمان ہے\n\nتجھے بھی کبھو کچھ مرا ہے خیال\nمجھے مرتے مرتے ترا دھیان ہے\n\nنہ دیکھا پھر آخر کہ مشکل پڑی\nادھر دیکھنا ایسا آسان ہے\n\nقیامت یہی ہے کہ ابرو کماں\nتجھے جن نے دیکھا سو قربان ہے\n\nگلوں کی طرح چاک کا اے بہار\nمہیا ہر اک یاں گریبان ہے\n\nبھلا دید کر لیجئے مفت ہے\nکہ اب تک ستم گر وہ انجان ہے\n\nمجھے قتل کرتے تو اونیں کیا\nپر اپنے کئے پر پشیمان ہے\n\nنہیں ہے یہ قاتل تغافل کا وقت\nخبر لے کہ باقی ابھی جان ہے\n\nتأمل کہاں ورنہ چوں غنچہ یاں\nجو سر ہے سو غرق گریبان ہے\n\nیہ کیا ہو گیا دیکھتے دیکھتے\nاثرؔ میں تو میں وہ بھی حیران ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%81%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "خفا مت ہو مجھ کو ٹھکانے بہت ہیں", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خفا مت ہو مجھ کو ٹھکانے بہت ہیں\nمرا سر رہے آستانہ بہت ہیں\n\nبہت دور ہے اپنے نزدیک تو بھی\nتجھے یاد کافر بہانے بہت ہیں\n\nبہانے نہ کر مجھ سے اے چشم گریاں\nابھی اشک مجھ کو بہانے بہت ہیں\n\nمرے چشم و دل اور جگر سب ہیں حاضر\nتو خاطر نشاں رکھ نشانے بہت ہیں\n\nکشش دل کی ہی کام کرتی ہے ورنہ\nفسوں سینکڑوں ہیں فسانے بہت ہیں\n\nجنوں نقد داغ جگر مانگتا ہے\nیے کہہ دو کہ اب تو خزانے بہت ہیں\n\nبہت کم ہے سچ اس زمانہ میں احساںؔ\nیہاں جھوٹ کے کارخانے بہت ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%81%D8%A7_%D9%85%D8%AA_%DB%81%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%B9%DA%BE%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خفا ہم سے وہ بے سبب ہو گیا", "poet_page": "مصنف:منتظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خفا ہم سے وہ بے سبب ہو گیا\nغضب ہو گیا ہے غضب ہو گیا\n\nتصور میں زلف و رخ یار کے\nمرا روز مانند شب ہو گیا\n\nمیں آگے تو دیوانہ اتنا نہ تھا\nخدا جانے کیا مجھ کو اب ہو گیا\n\nلب نازک اس کے جو یاد آ گئے\nکئی بار میں جاں بہ لب ہو گیا\n\nترے غم میں سودا و خبط و جنوں\nجو تھا مجھ کو منظور سب ہو گیا\n\nیہ آئینہ رو دیکھے یاں منتظرؔ\nکہ دل اپنا رشک حلب ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D8%B3%D8%A8%D8%A8_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "خلش خار ہو وحشت میں کہ غم ٹوٹ پڑے", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خلش خار ہو وحشت میں کہ غم ٹوٹ پڑے\nپر پھپھولوں میں الٰہی نہ مرے پھوٹ پڑے\n\nدن دو پہرے ہی شفق شام جہاں میں پھولے\nآسماں پر لب لعلیں کے اگر چھوٹ پڑے\n\nدم نکل جائے خفا ہو کے غم کاکل میں\nجو پڑے حلق میں پھندا وہ گلا گھوٹ پڑے\n\nہجر ساقی میں دہن سے مرے اچھو ہو کر\nجو پیوں آب بقا بھی وہ نکل گھوٹ پڑے\n\nحرمت بنت عنب میں نہیں کچھ شک اے شادؔ\nواعظیں بیہدا بکتے ہیں بکیں چھوٹ پڑے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%84%D8%B4_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%BA%D9%85_%D9%B9%D9%88%D9%B9_%D9%BE%DA%91%DB%92"} {"title": "خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا\nایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا\n\nاک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا\nزندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا\n\nحسن ہے ذات مری عشق صفت ہے میری\nہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا\n\nکعبہ کو دل کی زیارت کے لیے جاتا ہوں\nآستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا\n\nمختصر قصۂ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں\nراز کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا\n\nزندگی بھی تو پشیماں ہے یہاں لا کے مجھے\nڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے مر جانے کا\n\nتم نے دیکھا ہے کبھی گھر کو بدلتے ہوئے رنگ\nآؤ دیکھو نہ تماشا مرے غم خانے کا\n\nاب اسے دار پہ لے جا کے سلا دے ساقی\nیوں بہکنا نہیں اچھا ترے مستانے کا\n\nدل سے پہنچی تو ہیں آنکھوں میں لہو کی بوندیں\nسلسلہ شیشے سے ملتا تو ہے پیمانے کا\n\nہڈیاں ہیں کئی لپٹی ہوئی زنجیروں میں\nلیے جاتے ہیں جنازہ ترے دیوانے کا\n\nوحدت حسن کے جلووں کی یہ کثرت اے عشق\nدل کے ہر ذرے میں عالم ہے پری خانے کا\n\nچشم ساقی اثر مئے سے نہیں ہے گل رنگ\nدل مرے خون سے لبریز ہے پیمانے کا\n\nلوح دل کو غم الفت کو قلم کہتے ہیں\nکن ہے انداز رقم حسن کے افسانے کا\n\nہم نے چھانی ہیں بہت دیر و حرم کی گلیاں\nکہیں پایا نہ ٹھکانا ترے دیوانے کا\n\nکس کی آنکھیں دم آخر مجھے یاد آئی ہیں\nدل مرقع ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا\n\nکہتے ہیں کیا ہی مزے کا ہے فسانہ فانیؔ\nآپ کی جان سے دور آپ کے مر جانے کا\n\nہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ\nزندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%84%D9%82_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "خم نہ بن کر خود غرض ہو جائیے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خم نہ بن کر خود غرض ہو جائیے\nمثل ساغر اور کے کام آئیے\n\nابر رحمت سنتے ہیں نام آپ کا\nخاکساروں پر کرم فرمائیے\n\nآپ آہو چشم ہیں آہو نہیں\nہم سے وحشت کی نہ لیجے آئیے\n\nصبر رخصت ہو تو جانے دیجئے\nبے قراری آئے تو ٹھہرائیے\n\nجوہر تیغ نگہ کھل جائے گا\nمنہ نہ میرے زخم کا کھلوایئے\n\nدل میں ہے دکھلائیے تاثیر عشق\nٹھنڈی سانسوں سے انہیں گرمائیے\n\nسرد آہیں بھرتے ہیں جب ہم نسیمؔ\nکہتے ہیں وہ ٹھنڈے ٹھنڈے جائیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "خمستانِ ازل کا ساقی", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا\nکسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطف عام اس کا\n\nگواہی دے رہی ہے اس کی یکتائی پہ ذات اس کی\nدوئی کے نقش سب جھوٹے ہیں سچا ایک نام اس کا\n\nہر اک ذرہ فضا کا داستان اس کی سناتا ہے\nہر اک جھونکا ہوا کا آ کے دیتا ہے پیام اس کا\n\nمیں اس کو کعبہ و بت خانہ میں کیوں ڈھونڈنے نکلوں\nمرے ٹوٹے ہوئے دل ہی کے اندر ہے قیام اس کا\n\nمری افتاد کی بھی میرے حق میں اس کی رحمت تھی\nکہ گرتے گرتے بھی میں نے لیا دامن ہے تھام اس کا\n\nوہ خود بھی بے نشاں ہے زخم بھی ہیں بے نشاں اس کے\nدیا ہے اس نے جو چرکا نہیں ہے التیام اس کا\n\nنہ جا اس کے تحمل پر کہ ہے اب ڈھب گرفت اس کی\nڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%A7%D8%B2%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "خموشی بول اٹھے ہر نظر پیغام ہو جائے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خموشی بول اٹھے ہر نظر پیغام ہو جائے\nیہ سناٹا اگر حد سے بڑھے کہرام ہو جائے\n\nستارے مشعلیں لے کر مجھے بھی ڈھونڈنے نکلیں\nمیں رستہ بھول جاؤں جنگلوں میں شام ہو جائے\n\nمیں وہ آدم گزیدہ ہوں جو تنہائی کے صحرا میں\nخود اپنی چاپ سن کر لرزہ بر اندام ہو جائے\n\nمثال ایسی ہے اس دور خرد کے ہوش مندوں کی\nنہ ہو دامن میں ذرہ اور صحرا نام ہو جائے\n\nشکیبؔ اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے\nہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%85%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D8%A8%D9%88%D9%84_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے\nنگاہ دل سے تری سُرمہ سا نکلتی ہے\n\nفشارِ تنگیِ خلوت سے بنتی ہے شبنم\nصبا جو غنچے کے پردے میں ‌جا نکلتی ہے\n\nنہ پوچھ سینۂ عاشق سے آبِ تیغِ نگاہ\nکہ زخمِ روزنِ در سے ہوا نکلتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%85%D9%88%D8%B4%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "خنجر بکف وہ جب سے سفاک ہو گیا ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خنجر بکف وہ جب سے سفاک ہو گیا ہے\nملک ان ستم زدوں کا سب پاک ہو گیا ہے\n\nجس سے اسے لگاؤں روکھا ہی ہو ملے ہے\nسینے میں جل کر از بس دل خاک ہو گیا ہے\n\nکیا جانوں لذت درد اس کی جراحتوں کی\nیہ جانوں ہوں کہ سینہ سب چاک ہو گیا ہے\n\nصحبت سے اس جہاں کی کوئی خلاص ہوگا\nاس فاحشہ پہ سب کو امساک ہو گیا ہے\n\nدیوار کہنہ ہے یہ مت بیٹھ اس کے سائے\nاٹھ چل کہ آسماں تو کا واک ہو گیا ہے\n\nشرم و حیا کہاں کی ہر بات پر ہے شمشیر\nاب تو بہت وہ ہم سے بے باک ہو گیا ہے\n\nہر حرف بسکہ رویا ہے حال پر ہمارے\nقاصد کے ہاتھ میں خط نمناک ہو گیا ہے\n\nزیر فلک بھلا تو رووے ہے آپ کو میرؔ\nکس کس طرح کا عالم یاں خاک ہو گیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%86%D8%AC%D8%B1_%D8%A8%DA%A9%D9%81_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%81%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "خنک جوشی نہ کرتے جوں صبا گر یہ بتاں ہم سے", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خنک جوشی نہ کرتے جوں صبا گر یہ بتاں ہم سے\nتو مثل غنچۂ گل دل نہ جاتا رائیگاں ہم سے\n\nپھرے اس زلف و رو کے عشق میں دونوں جہاں ہم سے\nادھر کفار پھر گئے سب ادھر ایمانیاں ہم سے\n\nعدو تھے مالی اور صیاد گلچیں نے قیامت کی\nخدا لعنت کرے تینوں پہ چھوٹا گلستاں ہم سے\n\nاجاڑا گریہ‌‌ و شور جنوں کے واسطے ہم کو\nولے گلشن کو اور آب و نمک تھا باغباں ہم سے\n\nہمیں تو راستی جوں تیر ہرگز راس آئی نیں\nہمیشہ ٹیڑھے ہی رہتے ہیں یہ ابرو کماں ہم سے\n\nعقب یاروں کے سر پر خاک کرتے ہم بھی جاتے ہیں\nرہا جاتا نہیں جوں گرد راہ کارواں ہم سے\n\nہمیں طفلاں تو پتھروں کی محبت سے نہ بھولیں گے\nچلے صحرا کو ہم پھر گئے بلا سے شہریاں ہم سے\n\nہمیں ٹک ذبح کر لے سایۂ گلبن میں جیتا رہ\nچھڑایا تو نے گر صیاد گل کا آستاں ہم سے\n\nمزے میں درد سر کے کب سے محتاج دوا عزلتؔ\nعبث اے صندلی رنگو ہوئے ہو سرگراں ہم سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%86%DA%A9_%D8%AC%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%DA%AF%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "خو سمجھ میں نہیں آتی ترے دیوانوں کی", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خو سمجھ میں نہیں آتی ترے دیوانوں کی\nدامنوں کی نہ خبر ہے نہ گریبانوں کی\n\nجلوۂ ساغر و مینا ہے جو ہمرنگ بہار\nرونقیں طرفہ ترقی پہ ہیں مے خانوں کی\n\nہر طرف بے خودی و بے خبری کی ہے نمود\nقابل دید ہے دنیا ترے حیرانوں کی\n\nسہل اس سے تو یہی ہے کہ سنبھالیں دل کو\nمنتیں کون کرے آپ کے دربانوں کی\n\nآنکھ والے تری صورت پہ مٹے جاتے ہیں\nشمع محفل کی طرف بھیڑ ہے پروانوں کی\n\nاے جفاکار ترے عہد سے پہلے تو نہ تھی\nکثرت اس درجہ محبت کے پشیمانوں کی\n\nراز غم سے ہمیں آگاہ کیا خوب کیا\nکچھ نہایت ہی نہیں آپ کے احسانوں کی\n\nدشمن اہل مروت ہے وہ بیگانۂ انس\nشکل پریوں کی ہے خو بھی نہیں انسانوں کی\n\nہم رہ غیر مبارک انہیں گلگشت چمن\nسیر ہم کو بھی میسر ہے بیابانوں کی\n\nاک بکھیڑا ہے نظر میں سر و سامان وجود\nاب یہ حالت ہے ترے سوختہ سامانوں کی\n\nفیض ساقی کی عجب دھوم ہے مے خانوں میں\nہر طرف مے کی طلب مانگ ہے پیمانوں کی\n\nعاشقوں ہی کا جگر ہے کہ ہیں خرسند جفا\nکافروں کی ہے یہ ہمت نہ مسلمانوں کی\n\nیاد پھر تازہ ہوئی حال سے تیرے حسرتؔ\nقیس و فرہاد کے گزرے ہوئے افسانوں کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "خواب (ماسٹر رام چندر)", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "کوئی ایسا آدمی نہیں ہے جس کو خواب نہیں آیا ہوگا لیکن سب آدمی حیران ہیں کہ خواب کیا ہے؟ اور کس طور سے پیدا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ خواب کا باعث بالتحقیق دریافت کرنا ہر صورت میں ایک امر محال معلوم ہوتا ہے پھر بھی عاقلوں اور ذہینوں نے کچھ کچھ حال اس عجیب شے کا لکھا ہے اور چونکہ یہ مضمون بہت دلچسپ ہے اس واسطے ہم بھی اس جائے حال خواب کا لکھتے ہیں اور جہاں تک حکماء فرنگ نے اس امر میں تحقیقات کی ہیں وہاں تک اس رسالےمیں درج کریں گے۔ واضح ہو کہ خواب دو باعثوں سے اکثر ہوتے ہیں۔ (۱) اثناء نیند میں ہم یہ یقین کر لیتے ہیں کہ جو جو خیالات ہمارے ذہن میں موجود ہیں، وہ حقیقت میں درست اور صحیح ہیں اور وہ باتیں جن کا ہمیں خیال آتا ہے وہ حقیقت میں موجود ہیں اور اس غلطی کو کہ یہ باتیں خواب کی درست نہیں ہیں بلکہ غلط، نیند میں درست نہیں کرسکتے ہیں۔ کسی واسطے کہ سوتے ہوئے ہمیں یہ اختیار نہیں ہوتا کہ ہم حقیقی باتوں سے انھیں مطابق کر کے ان کی غلطی دریافت کرلیں۔ خلاف اس کے ہم جاگتے ہوئے ان کی غلطی بآسانی دریافت کر لیتے ہیں۔ مثلاً جس وقت ہم جاگتے ہوتے ہیں اور اپنے گھر میں بیچ مقام دہلی کے بیٹھے ہوئے ہیں، اس وقت ہم یہ خیال کریں کہ ہم مقام لندن میں موجود ہیں اور وہاں کے ملک کی سواری دیکھ رہے ہیں۔ پس اس صورت میں ہمارے دل میں خیال بندھ جائے گا اور ایسا معلوم ہو جائے گا کہ ہم گویا لندن میں موجود ہیں، لیکن اس وقت ہمیں یہ اختیار ہے کہ اس خیال کو دور کردیں اور ادھر ادھر دیکھ کر یہ جان لیں کہ لندن کہاں ہے اور ہم تو دہلی میں اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ خلاف اس کے نیند میں ہمیں یہ اختیار نہیں ہوتا۔ جب ہم سوتے ہوتے ہیں، اس وقت اس اس غلطی کو درست نہیں کر سکتے ہیں۔ مثلاً ہمیں نیند میں یہ خیال آتا ہے کہ ہم شہر لندن میں سیر کر رہے ہیں اور چونکہ اس خیال کی غلطی کو اس صورت میں درست نہیں کر سکتے ہیں جبکہ ہم جاگتے ہوئے خیال کر سکتے ہیں تو ہمیں اس وقت یقین کلی ہو جاتا ہے کہ ہم جو دیکھ رہے ہیں، وہ حقیقت میں موجود ہے اور اس خیال کے یقین کو خواب کہتے ہیں۔ (۲) نیند میں جو خیال پیدا ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس طور سے کہ جہاں ایک خیال آیا اسی وقت اور سب خیال بھی جو اس سے کچھ بھی علاقہ رکھتے ہیں، آدمی کے دل میں آجاتے ہیں اور ان خیالوں کو ہم روک نہیں سکتے۔ جیسا کہ ہمیں جاگتے کے وقت میں اختیار ہوتا ہے۔ ان دونوں باتوں پر غور کرنا چاہئے اور بعد ازاں معلوم ہوگا کہ اکثر خوابوں کے باعث دو باتیں ہوتی ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خیالات ایسی ایسی باتوں کے جو چند روز پہلے واقع ہوئے تھے ایک دسرے سے پیوستہ ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک بات خواب میں واقع ہوئی وہ ایک ایسی بات سے پیوستہ ہو جاتی ہے جو بہت مدت پہلے واقع ہوئی تھی اور اس صورت میں جب ایک کا ان باتوں میں سے خیال آتا ہے اس وقت دوسرے کا بھی خیال آ جاتا ہے اور یہ دونوں باتوں کا خیال ایک ایسی بات سے آ جاتا ہے جو ان دونوں سے مشترک ہے۔ مثلاً جس وقت ہماری طبیعت نادرست اور رنجیدہ ہو اور اس وقت ہمیں اپنے بھائی کا جو فاصلہ بعید پر سفر کرتا پھرتا ہے، خیال آئے اور یہ بھی ہو کہ کہ اسے کچھ تکلیف ہے اور اسی وقت کچھ اور دوسری خبر سنی، ان سب باتوں سے مل کر ایک خواب پیدا ہو جائے گا۔ ان سب باتوں میں ایک ایسی شیٔ ہے کہ وہ سب میں پائی جاتی ہے یعنی وہ کچھ تکلیف ہے۔ کیونکہ ان سب باتوں سے تکلیف پیدا ہوئی۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ تکلیف جسم میں ہوتی ہے مثلاً بدہضمی یا کوئی اور بیماری معدے کی اور جب اس حالت تکلیف میں نیند آجاتی ہے، اس وقت برے برے خواب دیکھنے میں آتے ہیں کیونکہ ساتھ تکلیف معدہ کے اور خیال بھی تکلیف کے آجاتے ہیں۔ اگر یہ تکلیف معدے کی نہ ہوتی تو خواب میں بری بری باتیں نہ دیکھتے۔ اگرچہ وہ اشخاص اور مکان جو خواب میں مشاہدہ کیا جاتا ہے ویسا ہی ہوتا ہے لیکن کوئی شیٔ خوفناک نظر آتی ہے۔ یہ سب ناظرین کو معلوم ہوگا کہ اکثر ڈراؤنے خواب عورتوں کو آیا کرتے ہیں جو ضعیف ہوتی ہیں اور جن کو خلل معدہ کا اکثر رہتا ہے کیونکہ بہ سبب تکلیف معدہ کے انہیں خیالات تکلیف کے وقت نیند کے دل میں آ جاتے ہیں اور ان کو خواب برے برے دکھائی دیتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی ایک واقف کار سے ملتے ہیں جس سے ہماری سالہا سال سے ملاقات نہیں ہوئی تھی اور اس سے ہم حال اپنے اور قدیم دوستوں اور واقف کاروں کا پوچھتے ہیں اور باتوں کا آپس میں ذکر کرتے ہیں۔ بعد اس کے سوتے ہوئے ایک خواب پیدا ہوتا ہے کہ اس میں ان سب پرانے دوستوں سے جن کا ذکر دن میں آیا تھا، ملاقات ہوئی ہے اور مختلف ذکر ان سے ہوتے ہیں لیکن وہ خاص شخص جس سے ان پرانے دوستوں کا حال معلوم ہوا تھا، خواب میں نہیں موجود ہوتا ہے اور اس کا باعث ظاہر ہے کہ اس سلسلہ خیالات میں جس سے خواب پیدا ہوا تھا، اس شخص کو دخل نہیں۔ ایک ڈاکٹر انگلیشہ نے بہت سے خوابوں کا حال، جو اس کو اور اس کے واقف کاروں کو واقع ہوئے تھے، لکھتاہے اور چونکہ وہ آدمی بہت محقق ہے تو اکثر اس کی بات کا یقین ہوتا ہے۔ وہ یہ لکھتا ہے کہ ایک دن میں گرم پانی میں اپنے پاؤں ڈال کر لیٹ رہا اور سو رہا اور بعد ازاں یہ خواب دیکھا کہ میں دہانہ پہاڑ آتشی پر پھر رہا ہوں اور مارے گرمی کے میرے پاؤں جلے جاتے ہیں۔ اب باعث اس خواب کایہ معلوم ہوتا ہے کہ چند روز پہلے وقوع اس خواب کے اس نے مفصل حال آتشی پہاڑ پڑھا، یہاں تک کہ اس عجیب شیٔ کا خیال اس کے دل میں جم گیا تھا۔ چونکہ گرمی پانی کی نے اس کے پاؤں کو ذرا گرمی پہنچائی، اس نے خیالات پہاڑ آتشی کے اس کے دل میں اٹھائے اور گرمی پانی کی اس نے گرمی دہانہ پہاڑ آتشی کی تصور کر لی۔ اب اگر یہ شخص جاگتا ہوتا تو اپنے گھر اور اسباب کو ادھر ادھر دیکھ کر یہ جان لیتا کہ پہاڑ آتشی کہاں ہے، یہ تو میرا گھر ہے اور گرم پانی میں میرے پاؤں رکھے ہوئے ہیں، لیکن سوتے ہوئے یہ خیال نہیں رہا اور جو جو خیالات پڑھنے حال آتشی پہاڑ کے پیدا ہوتے تھے اس کو صحیح اور تحقیق معلوم ہوئے اور اس کو شک نہ ہوا کہ یہ سب خیالات ہیں اور نفس الامر میں ان کا وجود نہیں ہے۔ ایک دفعہ اسی ڈاکٹر نے یہ خواب دیکھا کہ میں قریب خلیج ہڈسن کے مقیم ہوں اور وہاں سردی اور برف کے باعث مجھے نہایت تکلیف ہے۔ باعث اس خواب کا یہ ہوا کہ چند روز پہلے وقوع اس خواب کے اس ڈاکٹر نے حال خلیج ہڈسن کے آس پاس کے ملک کا پڑھا تھا، اور یہ بھی وہاں لکھا دیکھا تھا کہ وہاں نہایت سردی اور برف پڑتی ہے اور باعث اس کا یہ بھی خیالات نیند میں کیونکر دل میں آگئے یہ ہوا کہ نیند کی بے خبری میں ڈاکٹر مذکور نے اپنی رضائی اپنے اوپر سے الگ پھینک دی تھی اور اس سبب انھیں سردی معلوم ہوئی اور تکلیف اس سردی نے خیالات سردی خلیج ہڈسن کے دل میں اٹھائے۔ اس ڈاکٹر نے ایک عجیب حال خواب ایک انگریز اور اس کی بیوی کا لکھا ہے کہ ان دونوں کو ایک ہی وقت ایک ہی خواب واقع ہوا۔ واضح ہو کہ جس اوقات کا یہ ذکر ہے ان اوقات میں ملک فرانس میں ایک بڑی گڑبڑ ہوئی تھی اور اہل فرانس نے اسکاٹ لینڈ پر، جس کا دار الخلافہ اے ڈن برا ہے، مہم کرنے کا ارادہ کیا تھا اور اس باعث شہر ایڈن برا میں تہلکہ عظیم واقع ہوا، اور ہر وقت سپاہ واسطے جنگ کے موجود رہتی تھی۔ غرض یہ کہ ہر آدمی اس شہر میں بیچ اس وقت کے ایک سپاہی بن گیا تھا اور سب یہ توقع کر رہے تھے کہ اب فرانس والے حملہ آور ہوتے ہیں۔ ان دنوں میں انگریز مذکور نے یہ خواب دیکھا کہ سپاہ فرانس ایڈن برا میں داخل ہوئی اور جنگ وجدل طرفین سے شروع ہوئی۔ جب یہ حال اس انگریز کا تھا اس وقت اس کی بیوی نے بھی یہی خواب دیکھا اور گھبرا کے جاگ گئی۔ اب ظاہر ہے کہ باعث اس خواب کا یہ ہوا کہ اول تو ان دونوں بیوی اور خاوند کے خیال نیند میں جنگ اور جدل کے جمع ہوئے تھے اور باعث اس کا یہ کہ خیال رات کو نیند میں ان دونوں کے دل میں کیوں آگئے یہ تحقیق ہوا کہ جب یہ دونوں سوئے تھے اس وقت ایک بڑا دست پناہ جو بری طرح سے ایک جائے اونچا رکھا ہوا تھا، زمین پر گر پڑا اور اس کی آواز مثل اوزار تلواروں اور ہتھیاروں جنگ کی معلوم ہوئی اور فوراً سب خیالات جنگ و جدل کے جو ان کے دل میں جمع تھے، ان کے خیال میں آگئے اور خواب پیدا ہوگیا۔ ڈاکٹر فرائیڈ جو ایک بڑا فاضل تھا، ایک خواب کا حال اس نے خود دیکھا تھا اس طور پر لکھتا ہے۔ میرے سر پر ایک پھوڑا ہوگیا تھا اور اس کے اوپر میں نے ایک پھایا لگا رکھا تھا۔ رات کے وقت جب میں سوتا تھا کسی باعث سے وہ پھایا اپنی جائے سے ہل گیا اور اس باعث سے مجھے تکلیف ہوتی اور مجھے یہ خواب دکھائی دیا کہ جنگل کے وحشی آدمی مجھے گرفتار کر کے میری پوست سر سے اتارتے ہیں۔ باعث اس خواب کا ظاہر ہے کہ اس ڈاکٹر مذکور کو حال وحشیوں کی زیادتیوں اور عادتوں کا خوب معلوم تھا اور اس کا باعث کہ یہ سب خیالات نسبت وحشیوں کے خاص اسی رات اس کے دل میں کیوں آگئے یہ ہے کہ اس رات کو پھایا اس کے سر کے پھوڑے کا ذرا اکھڑ گیا تھا اور اکھڑنا ایک پھائے کا بہت مشابہ چمڑی اتارنے کے ہے۔ اس جائے واضح ہوکہ بعض آدمیوں کو یہ عادت ہوتی ہے کہ جس وقت وہ سوتے ہوں اس وقت کوئی آدمی یا ان کا دوست ان کے کانوں میں کچھ باتیں آہستہ سے کہہ دے تو ان سوتے ہوئے آدمیوں کو خواب ان ہی باتوں کا آجائے، جو جاگتے ہوئے آدمیوں نے ان کے کانوں میں کہی تھیں۔ ڈاکٹر مذکور نے اپنی کتاب میں ایک عجیب حال اس قسم کے خواب دیکھنے والے آدمی کا لکھا ہے۔ واضح ہو کہ سنہ ۱۷۵۸ء میں ایک مہم مقام لواس برگ پر ہوئی تھی اور فوج مقررہ اس مہم میں ایک افسر عادت ایسے خواب دیکھنے کی رکھتا تھا کہ اس کے دوست جو اس سے بے تکلف تھے، اور اسے اکثر حیران کرتے تھے یعنی جب وہ سوتا تو اس کے کان پر منہ لگا کر چاہے جو کچھ کہہ دیتے اور ویسا ہی خواب اس افسر کو آجاتا اور وہ انھیں خواب کے موافق عمل کرنے لگتا۔ ایک بار اس کے دوستوں نے کان میں ایسی ایسی باتیں کہیں کہ اس کو ایک اور آدمی سے خواب میں خفا کروا دیا، یہاں تک کہ دونوں میں جنگ کی تیاری کروا دی اورطبنچہ اس کے ہاتھ میں دیا اور اسی خواب کا اس قدر غلبہ ہوا کہ اس طبنچہ کو جس میں گولی نہیں تھی سر کیا اور اس کی آواز سے جاگ اٹھا اور اس کی بڑی ہنسی ہوئی۔ ایک اور دفعہ سوتے ہوئے اس کے دوستوں نے اس کے کان میں یہ کہا کہ تو دریا میں گر پڑا اور یہ بھی اسے صلاح دی کہ اب تیرنا لازم ہے نہیں تو تو ڈوب جائے گا، چنانچہ اسے بھی خواب نظر آیا کہ میں پانی میں گر پڑا اور اس نے ہاتھ پاؤں مارنے بطور تیرنے کے شروع کئے اور بعد اس کے دوستوں نے یہ کہا کہ ایک مگر مچھ تجھے پکڑنے کو آیا ہے۔ پس تجھے لازم ہے کہ تو بہت تیر کے خشکی پر آجا، چنانچہ اس نے بہت کوشش کی اور اس کوشش کے باعث سے وہ پلنگ پر سے گر پڑا اور اس کی بڑی ہنسی ہوئی۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%28%D9%85%D8%A7%D8%B3%D9%B9%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%86%D9%86%D8%AF%D8%B1%29"} {"title": "خواب آسودگی سنہرا ہے", "poet_page": "مصنف:اختر علی اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خواب آسودگی سنہرا ہے\nزندگی پر تو سخت پہرا ہے\n\nدھوپ نفرت کی بڑھ گئی لوگو\nاب محبت پہ چھایا گہرا ہے\n\nحق پرستوں کا نام آ تنگی\nسارے عالم میں جن کا شہرہ ہے\n\nہو دکھاوا یا ہو عمل اچھا\nفیصلہ نیتوں پہ ٹھہرا ہے\n\nدور کتنے بھی تم رہو اخترؔ\nرشتہ دل سے تو دل کا گہرا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%B3%D9%88%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%B3%D9%86%DB%81%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "خواب تھا یا خیال تھا کیا تھا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خواب تھا یا خیال تھا کیا تھا\nہجر تھا یا وصال تھا کیا تھا\n\nمیرے پہلو میں رات جا کر وہ\nماہ تھا یا ہلال تھا کیا تھا\n\nچمکی بجلی سی پر نہ سمجھے ہم\nحسن تھا یا جمال تھا کیا تھا\n\nشب جو دل دو دو ہاتھ اچھلتا تھا\nوجد تھا یا وہ حال تھا کیا تھا\n\nجس کو ہم روز ہجر سمجھے تھے\nماہ تھا یا وہ سال تھا کیا تھا\n\nمصحفیؔ شب جو چپ تو بیٹھا تھا\nکیا تجھے کچھ ملال تھا کیا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "خواب دیکھنا", "poet_page": "مصنف:سورج نرائن مہر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہے جہان گزراں خواب کا بالکل نقشہ\nدیدۂ حضرت انساں کے لیے دھوکا سا\nشادمانی کا تبسم ہے کہ آنسو غم کا\nیہ بھی جھوٹا ہے جو میری سنو وہ بھی جھوٹا\nیاں ہے جو چیز وہ سچی نہیں جز نام خدا\nنام و شہرت کے یہ چمکارے بھی بالکل جھوٹے\nمثل نیرنگ شفق ہم نے بدلتے دیکھے\nعشق و امید ہے کیا حسن سمجھتے ہو کسے\nیہ وہ ہیں پھول چنے جائیں جو قبروں کے لیے\nیاں ہے جو نور وہ قائم نہیں جز ذات خدا\nبحر طوفاننئ دنیا میں ہیں ہم سرگشتہ\nموج غم میں ہے جہاز اپنا تھئیٹر کھاتا\nروشنی عقل کی ہے وہم کا یا چمکارا\nان سے طوفاں کے سوا ہم نے نہ کچھ بھی دیکھا\nیاں ہے جو شے بھی وہ مسکن نہیں جز نام خدا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "خواب سحر", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مہر صدیوں سے چمکتا ہی رہا افلاک پر\nرات ہی طاری رہی انسان کے ادراک پر\n\nعقل کے میدان میں ظلمت کا ڈیرا ہی رہا\nدل میں تاریکی دماغوں میں اندھیرا ہی رہا\n\nاک نہ اک مذہب کی سعیٔ خام بھی ہوتی رہی\nاہل دل پر بارش الہام بھی ہوتی رہی\n\nآسمانوں سے فرشتے بھی اترتے ہی رہے\nنیک بندے بھی خدا کا کام کرتے ہی رہے\n\nابن مریم بھی اٹھے موسی عمراں بھی اٹھے\nرام و گوتم بھی اٹھے فرعون و ہاماں بھی اٹھے\n\nاہل سیف اٹھتے رہے اہل کتاب آتے رہے\nایں جناب اٹھتے اور آنجناب آتے رہے\n\nحکمراں دل پر رہے صدیوں تلک اصنام بھی\nابر رحمت بن کے چھایا دہر پر اسلام بھی\n\nمسجدوں میں مولوی خطبے سناتے ہی رہے\nمندروں میں برہمن اشلوک گاتے ہی رہے\n\nآدمی منت کش ارباب عرفاں ہی رہا\nدرد انسانی مگر محروم درماں ہی رہا\n\nاک نہ اک در پر جبین شوق گھستی ہی رہی\nآدمیت ظلم کی چکی میں پستی ہی رہی\n\nرہبری جاری رہی پیغمبری جاری رہی\nدین کے پردے میں جنگ زرگری جاری رہی\n\nاہل باطن علم سے سینوں کو گرماتے رہے\nجہل کے تاریک سائے ہاتھ پھیلاتے رہے\n\nیہ مسلسل آفتیں یہ یورشیں یہ قتل عام\nآدمی کب تک رہے اوہام باطل کا غلام\n\nذہن انسانی نے اب اوہام کے ظلمات میں\nزندگی کی سخت طوفانی اندھیری رات میں\n\nکچھ نہیں تو کم سے کم خواب سحر دیکھا تو ہے\nجس طرف دیکھا نہ تھا اب تک ادھر دیکھا تو ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%D8%AD%D8%B1"} {"title": "خواب طفلی اور آرزوئے شباب", "poet_page": "مصنف:مہدی افادی", "kind": "poetry", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "سیرت صورت پرستاں اور ہے\nمذہب الفت پرستاں اور ہے\n\nدرد ہے جس میں وہ صہبا اور ہے\nبادۂ ناب مصفّا اور ہے\n\nجس کے ہم جو یا ہیں وہ شے اور ہے\nچور ہم جس سے ہیں وہ مے اور ہے\n\nمے ہے اپنی اور پیمانہ ہے اور\nعشق کے مستوں کا میخانہ ہے اور\n\nجب سے دیکھا اس کا جلوہ آنکھ سے\nغیر عذرا کچھ نہ دیکھا آنکھ سے\n\nسامنا ہے آفتابِ عشق سے\nمست و بیخود ہوں شراب عشق سے\n\nراقم\n\nہم ہنسی کھیل سمجھتے تھے لگانا دل کا\nاب یہ جانا کہ اِسے کہتے ہیں آنا دل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%B7%D9%81%D9%84%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8"} {"title": "خواب میں بھی نظر آ جائے جو گھر کی صورت", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خواب میں بھی نظر آ جائے جو گھر کی صورت\nپھاڑ کھائیں ترے درباں سگ در کی صورت\n\nایسی بگڑے نہ الٰہی کسی گھر کی صورت\nوہی دیوار کی صورت ہے جو در کی صورت\n\nپر شکستہ ہوں تہہ شاخ پڑا رہنے دے\nباغباں تو مجھے ٹوٹے ہوئے پر کی صورت\n\nچھوٹتا ہی نہیں اب عرش خدا بام بتاں\nدیکھ لی ہے کہیں نالوں نے اثر کی صورت\n\nگھیرے رہتا ہے بگولا مجھے اب ایک نہ ایک\nکی ہے پیدا مرے صحرا نے بھی گھر کی صورت\n\nجان جائے کہ رہے آپ کے آتے آتے\nاور سے اور ہے اب درد جگر کی صورت\n\nپانی ہو جاتے ہیں آنسو مرے موتی بن کر\nورنہ اچھی تو نہ تھی ان سے گہر کی صورت\n\nکوچۂ زلف میں جاتے ہوئے دل ڈرتا ہے\nہر قدم پر ہے نئی خوف و خطر کی صورت\n\nکبھی پھولا نہ پھلا نخل تمنا افسوس\nپھول کی شکل نہ دیکھی نہ ثمر کی صورت\n\nغیر کی قبر ہے گلشن ہے نہ دامن ان کا\nمجھ سے دیکھی نہیں جاتی گل تر کی صورت\n\nچارہ گر آتے ہیں تو آنکھ چرا جاتے ہیں\nایسی بگڑی ہے مرے زخم جگر کی صورت\n\nآشیانے کو چلے باغ میں مدت گزری\nپھرتی ہے آنکھ میں کیوں برق و شرر کی صورت\n\nگھر سے بے فکر میں صحرا میں پھرا کرتا ہوں\nمیری آنکھوں میں پھرا کرتی ہے گھر کی صورت\n\nقیس بھٹکا تھا کہ صحرا میں ریاضؔ آئے نظر\nرہ نما اس کے بنے آپ خضر کی صورت", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "خواب میں وہ مرے آغوش میں آ جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:راجہ نوشاد علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خواب میں وہ مرے آغوش میں آ جاتا ہے\nمیری سوتی ہوئی تقدیر جگا جاتا ہے\n\nگل‌ و شبنم کا یہ ہوتا ہے چمن میں انجام\nہنس کے کوئی تو کوئی رو کے چلا جاتا ہے\n\nجوش پر فصل بہاری ہے چمن میں صیاد\nاب قفس میں تو نہیں ہم سے رہا جاتا ہے\n\nمٹ گیا ہوں وہ ستم سے نہیں غافل پھر بھی\nمیری تربت کا نشاں آ کے مٹا جاتا ہے\n\nجل کے پروانہ ہوا خاک تو اس کے غم میں\nمنہ دھواں شمع کا محفل میں ہوا جاتا ہے\n\nآپ نے بیٹھ کے بالیں پہ جسے دیکھا تھا\nآج دنیا سے وہ بیمار اٹھا جاتا ہے\n\nاپنے انداز پہ ایسا نہ ہو عاشق ہو جائے\nآئنہ خانے میں وہ محو ادا جاتا ہے\n\nیاد کرتا نہیں بھولے سے وہ تجھ کو نوشادؔ\nہائے تو جس کی محبت میں مٹا جاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A2%D8%BA%D9%88%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "خواب و خیال", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "خوشا حال اس کا جو معدوم ہے\nکہ احوال اپنا تو معلوم ہے\nرہیں جان غمناک کو کاہشیں\nگئیں دل سے نومید سو خواہشیں\nزمانے نے رکھا مجھے متصل\nپراگندہ روزی پراگندہ دل\nگئی کب پریشانی روزگار\nرہا میں تو ہم طالع زلف یار\nوطن میں نہ اک صبح میں شام کی\nنہ پہنچی خبر مجھ کو آرام کی\nاٹھاتے ہی سر یہ پڑا اتفاق\nکہ دشمن ہوئے سارے اہل وفاق\nجلاتے تھے مجھ پر جو اپنا دماغ\nدکھانے لگے داغ بالاے داغ\nزمانے نے آوارہ چاہا مجھے\nمری بیکسی نے نباہا مجھے\nرفیقوں سے دیکھی بہت کوتہی\nغریبی نے اک عمر کی ہمسری\nمجھے یہ زمانہ جدھر لے گیا\nغریبانہ چندے بسر لے گیا\nبندھا اس طرح آہ بار سفر\nکہ نے زاد رہ کچھ نہ یار سفر\nدل اک یار سو بے قرار بتاں\nغبار سر رہگذار بتاں\nگرفتار رنج و مصیبت رہا\nغریب دیار محبت رہا\nچلا اکبرآباد سے جس گھڑی\nدر و بام پر چشم حسرت پڑی\nکہ ترک وطن پہلے کیونکر کروں\nمگر ہر قدم دل کو پتھر کروں\nدل مضطرب اشک حسرت ہوا\nجگر رخصتانے میں رخصت ہوا\nکھنچا ساری رہ دامن چاک دل\nرہا بر قفا روے غمناک دل\nپس از قطع رہ لائے دلی میں بخت\nبہت کھینچے یاں میں نے آزار سخت\nجگر جور گردوں سے خوں ہوگیا\nمجھے رکتے رکتے جنوں ہوگیا\nہوا خبط سے مجھ کو ربط تمام\nلگی رہنے وحشت مجھے صبح و شام\nکبھو کف بہ لب مست رہنے لگا\nکبھو سنگ در دست رہنے لگا\nکبھو غرق بحر تحیر رہوں\nکبھو سر بہ جیب تفکر رہوں\nیہ وہم غلط کار یاں تک کھنچا\nکہ کار جنوں آسماں تک کھنچا\nنظر رات کو چاند پر گر پڑی\nتو گویا کہ بجلی سی دل پر پڑی\nمہ چاردہ کار آتش کرے\nڈروں یاں تلک میں کہ جی غش کرے\nتوہم کا بیٹھا جو نقش درست\nلگی ہونے وسواس سے جان سست\nنظر آئی اک شکل مہتاب میں\nکمی آئی جس سے خور و خواب میں\nاگرچند پرتو سے مہ کے ڈروں\nولیکن نظر اس طرف ہی کروں\nڈروں دیکھ مائل اسے اس طرف\nبحدے کہ آجائیں ہونٹوں پہ کف\nپڑی فکر جاں میرے احباب کو\nاڑا دیویں سب گھر کے اسباب کو\nکوئی پاس کوئی تفاوت سے ہو\nسراسیمہ کوئی محبت سے ہو\nکوئی فرط اندوہ سے گریہ ناک\nگریباں کسو کا مرے غم سے چاک\nجو دیکھوں تو آنکھوں سے لوہو بہے\nنہ دیکھوں تو جی پر قیامت رہے\nکہے چشم بندی کو ہر یار و غیر\nولے منزل دل میں اس مہ کی سیر\nوہی جلوہ ہر آن کے ساتھ تھا\nتصور مری جان کے ساتھ تھا\nاگر ہوش میں ہوں وگر بے خبر\nوہ صورت رہے میرے پیش نظر\nاسے دیکھوں جیدھر کروں میں نگہ\nوہی ایک صورت ہزاروں جگہ\nنگہ گردش چشم سے فتنہ ساز\nمژہ آفت روزگار دراز\nعجب رنگ پر سطح رخسار کا\nمگر وہ تھا آئینہ گلزار کا\nجو آنکھ اس کی بینی سے جاکر لڑے\nدم تیغ پر راہ چلنی پڑے\nمکاں کنج لب خواہش جان کا\nتبسم سبب کاہش جان کا\nدہن دیکھ کر کچھ نہ کہیے کہ آہ\nسخن کی نکلتی تھی مشکل سے راہ\nسزا ہے جگر اس کسو کے لیے\nجو سیب ذقن اس کا بوکر جیے\nگل تازہ شرمندہ اس رو سے ہو\nخجل مشک ناب اس کے گیسو سے ہو\nسراپا میں جس جا نظر کیجیے\nوہیں عمر اپنی بسر کیجیے\nکہیں مہ کا آئینہ در دست ہے\nکہیں بادۂ حسن سے مست ہے\nکہیں نقش دیوار دیکھا اسے\nکہیں گرم رفتار دیکھا اسے\nکہیں دلبری اس کو درپیش ہے\nکہیں مائل خوبی خویش ہے\nکہیں جملہ تن مہر صرف سلوک\nکہیں مجھ سے سرگرم حرف سلوک\nلطافت سے یک جان ہووے تمیز\nسبک سیر مانند عمر عزیز\nکہیں جلوہ پرداز وہ عشوہ ساز\nکہیں ایستادہ بصد رنگ ناز\nہر اک جاے لے ناز سے وہ سبق\nدر و بام تصویر کا سا ورق\nرہے سامنے اس طرح پر کبھو\nرکھے وضع سے پاؤں باہر کبھو\nبغل میں کبھو آرمیدہ رہے\nکبھو اپنے برخویش چیدہ رہے\nکبھو صورت دلکش اپنی دکھائے\nکبھو اپنے بالوں میں منھ کو چھپائے\nکبھو گرم کینہ کبھو مہرباں\nکبھو دوست نکلے کبھو خصم جاں\nکبھو یک بہ یک یار ہو جائے وہ\nکبھو دست بردار ہو جائے وہ\nگلے میں مرے ہاتھ ڈالے کبھو\nطرح دشمنی کی نکالے کبھو\nکبھو چیں بہ ابرو کبھو ہنس کے بات\nکبھو بے وفائی کبھو التفات\nجو میں ہاتھ ڈالوں وہاں کچھ نہیں\nبجز شکل وہمی عیاں کچھ نہیں\nہر اک رات چندے یہ صورت رہی\nاسی شکل وہمی سے صحبت رہی\nدم صبح ہو گرم رہ سوے ماہ\nکہ درپیش آوے یہ روز سیاہ\nکہ جھوما کروں بید مجنوں کی طرز\nرہے یاد اس سرو موزوں کی طرز\nرہوں زرد میں گاہ بیمار سا\nپریشاں سخن گہ پری دار سا\nپری خواں کو لا کوئی افسوں پڑھائے\nکسو سے کوئی جاکے تعویذ لائے\nطبیبوں کو آخر دکھایا مجھے\nنہ پینا جو کچھ تھا پلایا مجھے\nدوا جو لکھی سو خلاف مزاج\nکھنچا اس خرابی سے کار علاج\nکہ سررشتہ تدبیر کا گم ہوا\nدل اوپر ہجوم توہم ہوا\nدروں خودبخود بے حواسی رہی\nپریشاں دلی اور اداسی رہی\nکروں بے کلی جاؤں تا ہر کہیں\nنہ گھر میں لگے جی نہ باہر کہیں\nقیامت جنوں کا رہے سر میں شور\nکھنچا جائے دل کوہ و صحرا کی اور\nرہے شوق سر در گریبان دل\nہوا کھینچے صحرا کو دامان دل\nسر آشفتہ زلف گرہ گیر کا\nقدم حلقہ در گوش زنجیر کا\nجنوں آہ در پے ہوا جان کے\nمجوز ہوئے یار زندان کے\nکیا بند اک کوٹھری میں مجھے\nکہ آتش جنوں کی مگر واں بجھے\nلب نان اک بار دینے لگے\nدم آب دشوار دینے لگے\nکہاں علم کا کسب فرصت نہ آہ\nہوا کا بھی واں گشت روزن کی راہ\nنہ آوے کوئی ڈر سے میرے کنے\nکہ کیا جانیے کیسی صحبت بنے\nوہ آشفتہ سر ہوش مندی سے دور\nنہیں رابطہ مقتضاے شعور\nوہ حجرہ جو تھا گور سے تنگ تر\nدر اس کا نہ کھلتا تھا دو دو پہر\nجو اس میں کبھو میں سنبھل بیٹھتا\nتو باہر بھی اک دم نکل بیٹھتا\nسر شام بیٹھا تھا میں ایک روز\nافاقت نہ آئی تھی مجھ کو ہنوز\nکہ یاروں نے برجستہ تدبیر کی\nمرے خون میں کچھ نہ تقصیر کی\nاگرچند کہنے کو خوں کم کیا\nلیا لوہو اتنا کہ بے دم کیا\nبڑی دیر تک خون جاری رہا\nمیں بے ہوش وہ رات ساری رہا\nجگایا سحر مجھ کو اک شور سے\nکھلی آنکھ میری بڑے زور سے\nوہی دست فصاد میں نیشتر\nوہی رنگ صحبت کا پیش نظر\nوہی لوہو لینے کا ہنگامہ پھر\nوہی تر لہو میں مرا جامہ پھر\nلگے نشتر ایسے کہ لگتے نہیں\nچبھے جیسے مژگاں کسو کے تئیں\nہوا خون سے دامن و جیب تر\nرگ جاں تلک زخم پہنچا مگر\nٹپکتا رہا دیر تک خون ناب\nمجھے لے گئی بے خودی کی شراب\nسخن ضعف سے سخت دشوار تھا\nپلک کا اٹھانا بھی اک بار تھا\nکئی روز بالیں پہ یہ سر رہا\nخمار ایک مدت تلک پھر رہا\nکھڑا ہوں اگر پاؤں لغزاں رہے\nبدن بید کی طرح لرزاں رہے\nچلا جائے سر پاؤں تھرتھر کرے\nنسیم سحر کار صرصر کرے\nجفا ضعف سے مجھ کو کیا کیا نہ تھی\nافاقت گئی یوں کہ گویا نہ تھی\nپس از چند آنکھیں ٹھہرنے لگیں\nنگاہیں بھی کچھ کام کرنے لگیں\nبندھا ناتوانی کا رخت سفر\nکیا طاقت رفتہ نے منھ ادھر\nکسے تھا مری زندگانی کا دھیان\nولیکن نہایت تھا میں سخت جان\nلگی جان سی آنے اعضا کے بیچ\nکوئی روز رہنا تھا دنیا کے بیچ\nپھرا ناتواں میں بہت دور سے\nکہ نزدیک تھا عالم گور سے\nغلط کاری وہم کچھ کم ہوئی\nوہ صحبت جو رہتی تھی برہم ہوئی\nوہ صورت کا وہم اور دیوانگی\nلگی کرنے درپردہ بیگانگی\nپس از دیر آنکھوں میں آنے لگی\nنہ دو دو پہر منھ لگانے لگی\nنہ دیکھے مری اور اس پیار سے\nغریبانہ سر مارے دیوار سے\nکہیں ٹک تسلی کہیں بے قرار\nکہیں شوق سے میرے بے اختیار\nکہیں واسطے میرے روتی ہے خون\nکہیں دست زیر زنخ ہے ستون\nکہیں دل کو اپنے دکھاوے مجھے\nمری بے وفائی جتاوے مجھے\nکہیں دست بر دل وہ رشک قمر\nکہیں حسرت آلودہ مجھ پر نظر\nکہیں بے دماغانہ سرگرم ناز\nکہیں آتش شوق سے جاں گداز\nکہیں چشم گریاں سے دامان پاک\nکہیں سو جگہ سے گریبان چاک\nکہیں کام دل کی شکایت سے ہے\nکہیں نقش دیوار حیرت سے ہے\nکہیں مجھ سے کہتی ہے رخصت مجھے\nکہ مطلق نہیں غم کی طاقت مجھے\nکہیں لب پہ وہ شکوۂ خوں چکاں\nکہ ٹپکا کرے جس سے آزار جاں\nکہیں وہ نگہ جس سے یہ پایئے\nکہ یہ درد دل ہے تو مر جایئے\nکہیں وہ روش جس سے نکلے عتاب\nکہیں وہ طرح جس سے رہیے خراب\nکہیں حرف زن اس طرح ناز سے\nکہ دیکھا گیا دل کس انداز سے\nکہیں وہ ادا جس سے معلوم ہو\nکہ جیسے وہ عاشق کہ محروم ہو\nکہیں وہ سخن جو جگر خوں کرے\nکہیں طرز ایسی کہ مفتوں کرے\nکہیں وضع ایسی کہ بیگانہ ہے\nکہیں آشنا ہے تو دیوانہ ہے\nکسو جا ہے جلوے میں اس آن سے\nکہے تو کہ بیزار ہے جان سے\nکسو وقت اس کا یہ اسلوب ہے\nکہ شرم محبت سے محجوب ہے\nکبھو بے قراری ہے اس رنگ سے\nکہ پھرتی ہے سر مارتی سنگ سے\nکبھو بے ادائی و دشنام ہے\nکبھو باؤ کے ہاتھ پیغام ہے\nکہ اے بے وفا آہ دل نرم کر\nمحبت کے منھ سے بھی کچھ شرم کر\nکبھو وہ تبختر کہ پروا نہیں\nکبھو کیونکے کہیے کہ سودا نہیں\nکبھو یہ سخن جس سے ہو مستفاد\nکہ اے بے وفا حرف من یاد باد\nکہ ظاہر میں میرؔ اب تو آنا گیا\nکہ وہ دوستی کا زمانہ گیا\nغرض ناامیدانہ کر اک نگاہ\nوہ نقش توہم گیا سوے ماہ\nنہ آیا کبھو پھر نظر اس طرح\nنہ دیکھا اسے جلوہ گر اس طرح\nمگر گاہ سایہ سا مہتاب میں\nکبھو وہم سا عالم خواب میں\nدل خوپذیر وصال دوام\nرہے خواب میں روز و شب صبح و شام\nاگر وصل خواب فراموش تھا\nولیکن وہی خواب کا جوش تھا\nپلک سے پلک آشنا ہے وہی\nزخود رفتگی کی ادا ہے وہی\nکھڑا ہوں تو سوتا ہوں اک ذوق میں\nرگ خواب دل ہے کف شوق میں\nجو بیٹھا ہوں خواب گراں ہے مجھے\nوہ غفلت جہاں در جہاں ہے مجھے\nخیال اس کا آوے کہ سن ہو رہوں\nتلے سر کے پتھر رکھوں سو رہوں\nمجھے آپ کو یوں ہی کھوتے گئی\nجوانی تمام اپنی سوتے گئی\nدکھایا نہ اس مہ نے رو خواب میں\nنہ دیکھا پھر اس کو کبھو خواب میں\nبہت بے خود و بے خبر ہوچکا\nہم آغوش طالع بہت سوچکا\nنہ دیکھا کبھو میرؔ پھر وہ جمال\nوہ صحبت تھی گویا کہ خواب و خیال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%88_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84"} {"title": "خواب گل رنگ کے انجام پہ رونا آیا", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خواب گل رنگ کے انجام پہ رونا آیا\nآمد صبح شب اندام پہ رونا آیا\n\nدل کا مفہوم اشاروں سے اجاگر نہ ہوا\nبے کسئ گلۂ خام پہ رونا آیا\n\nکبھی الفت سی جھلکتی ہے کبھی نفرت سی\nاے تعلق ترے ابہام پہ رونا آیا\n\nمری خوشیاں کبھی جس نام سے وابستہ تھیں\nجانے کیوں آج اسی نام پہ رونا آیا\n\nلے کے ابھرے گی سحر پھر وہی پژمردہ کرن\nکیا کہوں تیرگئ شام پہ رونا آیا\n\nبے سبب اپنی نگاہوں سے گرا جاتا ہوں\nاس فسوں کاری الزام پہ رونا آیا\n\nاتنے ارزاں تو نہیں تھے مرے اشکوں کے گہر\nآج کیوں تلخیٔ آلام پہ رونا آیا\n\nلائق حسن نظر تھے نہ کبھی ان کے خطوط\nآج محرومئ پیغام پہ رونا آیا\n\nاب بھی منزل مرے قدموں کی تمنائی ہے\nکیا کہوں حسرت یک گام پہ رونا آیا\n\nرونے والا تو کرے گا نہ کسی کا شکوہ\nلاکھ کہئے غم ایام پہ رونا آیا\n\nان کے شبہات میں کچھ اور اضافہ تھا شکیبؔ\nاشک سادہ کے اس انعام پہ رونا آیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%BE%DB%81_%D8%B1%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "خواجگی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "دَورِ حاضر ہے حقیقت میں وہی عہدِ قدیم\nاہلِ سّجادہ ہیں یا اہلِ سیاست ہیں امام\nاس میں پِیری کی کرامت ہے نہ مِیری کا ہے زور\nسینکڑوں صدیوں سے خُوگر ہیں غلامی کے عوام\nخواجگی میں کوئی مشکل نہیں رہتی باقی\nپُختہ ہو جاتے ہیں جب خُوئے غلامی میں غلام!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%AC%DA%AF%DB%8C"} {"title": "خواریاں بدنامیاں رسوائیاں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خواریاں بدنامیاں رسوائیاں\nعشق نے شکلیں یہ سب دکھلائیاں\n\nوہ ہی کیں باتیں جو تجھ کو بھائیاں\nبل بے اے ظالم تری خودرائیاں\n\nمر گئے لاکھوں ہی اور پروانہ کی\nکیا کہوں میں اس کی بے پروائیاں\n\nایک صورت کے لیے اس عشق میں\nسیکڑوں صورت کی ہیں رسوائیاں\n\nشوق میں آغوش تیغ ناز کے\nزخم دل لیتے ہیں سب انگڑائیاں\n\nہم سے پوچھے کوئی عزلت کا مزہ\nگوشۂ صحرا ہے اور تنہائیاں\n\nدل مشبک صورت بادام ہے\nبرچھیاں پلکوں کی کس کی کھائیاں\n\nخانۂ دل پر ہمارے یا نصیب\nبادلوں نے بجلیاں برسائیاں\n\nمصحفیؔ بھی ہے پھنکیتوں میں میاں\nیاد ہیں اس کو بھی کتنی گھائیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%AF%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "خواہ سچ جان مری بات کو تو خواہ کہ جھوٹ", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خواہ سچ جان مری بات کو تو خواہ کہ جھوٹ\nسچ کہوں سچ کو اگر تیرے تو واللہ کہ جھوٹ\n\nسچ اگر بولے تو ہم سے تو بھلا کیا ہو خوشی\nجی میں جی آتا ہے سن کر ترا ہر گاہ کہ جھوٹ\n\nراست گر پوچھے تو ہے راست کہ تجھ میں نہیں مہر\nاپنی ہٹ دھرمی سے کہتا ہے تو اے ماہ کہ جھوٹ\n\nجھوٹ موٹ ان سے میں کچھ مصلحتاً بولوں گا\nسچ ہے تو بول نہ اٹھیو دل آگاہ کہ جھوٹ\n\nمیں جو پوچھا کہ تجھے غیروں سے ہے راہ تو وہ\nپھیر کر منہ کو لگا کہنے باکراہ کہ جھوٹ\n\nکوئی اتنا بھی برا کرتا ہے میری ہی طرح\nکیوں بھلا سچ ہے نہ یہ اے بت دل خواہ کہ جھوٹ\n\nدل تو واقف ہے بہت واں سے ٹک اک سچ کہنا\nلاوبالی ہے مرے یار کی درگاہ کہ جھوٹ\n\nمجھ سے جب ملتا ہے تب چھیڑ کے پوچھے ہے یہی\nیہ حسنؔ سچ ہی تو رکھتا ہے مری چاہ کہ جھوٹ\n\nکیا جواب اس کا مرے پاس بجز خاموشی\nیا مگر یہ کہ یہی ہر گہ کہوں آہ کہ جھوٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DA%86_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9"} {"title": "خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد تو", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد تو\nپر جو فریادی ہیں ان کی سن تو لے فریاد تو\n\nدم بدم بھرتے ہیں ہم تیری ہوا خواہی کا دم\nکر نہ بد خوؤں کے کہنے سے ہمیں برباد تو\n\nکیا گنہ کیا جرم کیا تقصیر میری کیا خطا\nبن گیا جو اس طرح حق میں مرے جلاد تو\n\nقید سے تیری کہاں جائیں گے ہم بے بال و پر\nکیوں قفس میں تنگ کرتا ہے ہمیں صیاد تو\n\nدل کو دل سے راہ ہے تو جس طرح سے ہم تجھے\nیاد کرتے ہیں کرے یوں ہی ہمیں بھی یاد تو\n\nدل ترا فولاد ہو تو آپ ہو آئینہ وار\nصاف یک باری سنے میری اگر روداد تو\n\nشاد و خرم ایک عالم کو کیا اس نے ظفرؔ\nپر سبب کیا ہے کہ ہے رنجیدہ و ناشاد تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%B5%D8%A7%D9%81_%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%AA%D9%88"} {"title": "خواہاں ترے ہر رنگ میں اے یار ہمیں تھے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خواہاں ترے ہر رنگ میں اے یار ہمیں تھے\nیوسف تھا اگر تو تو خریدار ہمیں تھے\n\nبیداد کی محفل میں سزا وار ہمیں تھے\nتقصیر کسی کی ہو گنہ گار ہمیں تھے\n\nوعدہ تھا ہمیں سے لب بام آنے کا ہونا\nسایہ کی طرح سے پس دیوار ہمیں تھے\n\nکنگھی تری زلفوں کی ہمیں پر تھی مقرر\nآئینہ دکھاتے تجھے ہر بار ہمیں تھے\n\nنعمت تھی ترے حسن کی حصہ میں ہمارے\nتو کان ملاحت تھا خریدار ہمیں تھے\n\nسودا زدہ زلفوں کا نہ تھا اپنے سوا ایک\nآزاد دو عالم تھا گرفتار ہمیں تھے\n\nتو اور ہم اے دوست تھے یک جان دو قالب\nتھا غیر سوا اپنے جو تھا یار ہمیں تھے\n\nبیمار محبت تھا سوا اپنے نہ کوئی\nاک مستحق شربت دیدار ہمیں تھے\n\nبے اپنے بہلتی تھی طبیعت نہ کسی سے\nدل سوز ہمیں تھے ترے غم خوار ہمیں تھے\n\nاک جنبش مژگاں سے غش آتا تھا ہمیں کو\nدو نرگس بیمار کے بیمار ہمیں تھے\n\nجب چاہتے تھے لیتے تھے آغوش میں تم کو\nمجبور سے رہ جاتے تھے مختار ہمیں تھے\n\nہم سا نہ کوئی چاہنے والا تھا تمہارا\nمرتے تھے ہمیں جان سے بیزار ہمیں تھے\n\nبد نام محبت نے تری ہم کو کیا تھا\nرسوائے سر کوچہ و بازار ہمیں تھے\n\nدل ٹھوکریں کھاتا تھا نہ ہر گام کسی کا\nاک خاک میں ملتے دم رفتار ہمیں تھے\n\nبھڑکانے سے آتشؔ کو جلانے لگے یا تو\nالطاف و عنایت کے سزا وار ہمیں تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "خواہاں ہوں بوئے باغِ تنزہ شمیم کا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خواہاں ہوں بوئے باغِ تنزہ شمیم کا\nیا رب ادھر بھی بھیج دے جھونکا نسیم کا\n\nتیرے گدا کو سلطنتِ جم سے کیا، کہ ذوق\nہے کاسۂ شکستہ میں جامِ دو نیم کا\n\nنیرنگِ جلوہ، بارقۂ ہوش سوز ہے\nکیا امتیاز رنگ سے کیجے شمیم کا\n\nتیری نسیم لطف سے گل کو شگفتگی\nوابستہ تیرے حکم پہ چلنا نسیم کا\n\nواجب کی حکمت آئے گی ممکن کی عقل میں؟\nکتنا دماغ ہے خلل آگیں حکیم کا\n\nدقت سے پہلے عجز سلامت کی راہ ہے\nکیسا سپاس دار ہوں عقلِ سلیم کا\n\nمیری فنا ہے مشعلۂ محفلِ بقا\nپروانہ ہوں میں پرتوِ شمعِ قدیم کا\n\nگر تیرے شوق میں ہیں یہی بے قراریاں\nلے لوں گا بوسہ پایۂ عرشِ عظیم کا\n\nطاعت اگر نہیں تو نہ ہو یاس کس لئے\nوابستۂ سبب ہے کرم کب کریم کا\n\nجس وقت تیرے لطف کے دریا کو جوش آئے\nفوارۂ جناں ہو زبانہ جحیم کا\n\nاے شیفتہ عذابِ جہنم سے کیا مجھے\nمیں اُمتی ہوں نار و جناں کے قسیم کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%BA%D9%90_%D8%AA%D9%86%D8%B2%DB%81_%D8%B4%D9%85%DB%8C%D9%85_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "خواہشیں دنیا کی بار دوش و گردن ہو گئیں", "poet_page": "مصنف:اوج لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خواہشیں دنیا کی بار دوش و گردن ہو گئیں\nرفتہ رفتہ منزل عقبیٰ کی رہزن ہو گئیں\n\nیہ ہوا کیسی چلی اس تنگنائے دہر میں\nشہر جنگل ہو گئے آبادیاں بن ہو گئیں\n\nچل سوئے گور غریباں اے حریص مال و زر\nدیکھ کتنی آرزوئیں نذر مدفن ہو گئیں\n\nکیسی رنگا رنگ شکلیں ہوں گی اے جوش بہار\nمٹ کے جو گلگونۂ رخسار گلشن ہو گئیں\n\nکھل نہیں سکتی کبھی کیفیت بغض و حسد\nمیری آہیں پردۂ ناموس دشمن ہو گئیں\n\nمیرے نغموں نے جو پائی قلب گلشن میں جگہ\nشاخ گل پر بلبلیں بار نشیمن ہو گئیں\n\nجب مرے نالے ہوئے قد صنوبر سے بلند\nبلبلیں ساکت سر دیوار گلشن ہو گئیں\n\nجامۂ ہستی ہوا صد چاک جب مثل سحر\nزینتیں دنیا کی گردا گرد دامن ہو گئیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D8%B4_%D9%88_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D9%86_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خوب بوجھا ہوں میں اس یار کوں کوئی کیا جانے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوب بوجھا ہوں میں اس یار کوں کوئی کیا جانے\nاس طرح کے بت عیار کوں کوئی کیا جانے\n\nلے گئیں ہات سیں دل اس کی جھکی ہوئی آنکھیں\nحیلۂ مردم بیمار کوں کوئی کیا جانے\n\nمیں نہ بوجھا تھا تری زلف گرہ دار کے پیچ\nسچ کہ کیفیت مکار کوں کوئی کیا جانے\n\nشرح بے تابیٔ دل نیں ہے قلم کی طاقت\nتپش شوق کے طومار کوں کوئی کیا جانے\n\nشربت خون جگر کا مزہ عاشق پاوے\nلذت عشق جگر خار کوں کوئی کیا جانے\n\nمشرب عشق میں ہیں شیخ و برہمن یکساں\nرشتۂ سبحہ و زنار کوں کوئی کیا جانے\n\nنمک زخم ہوا مرہم جالینوسی\nخلش سینۂ افگار کوں کوئی کیا جانے\n\nطوق و زنجیر نہیں جس پہ کسے رحم آوے\nدام الفت کے گرفتار کوں کوئی کیا جانے\n\nجب تلک تلخیٔ شورابہ غم چاکھا نیں\nتب تلک لذت دیدار کوں کوئی کیا جانے\n\nقدر اوس نافۂ تاتار کی مجھ سیں پوچھو\nیار کی زلف کی مہکار کوں کوئی کیا جانے\n\nمیں کہا زخمیٔ غم ہوں تو دیا اس نے جواب\nاے سراجؔ ایسے چھپے وار کوں کوئی کیا جانے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%A8%D9%88%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "خوب تھے وے دن کہ ہم تیرے گرفتاروں میں تھے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوب تھے وے دن کہ ہم تیرے گرفتاروں میں تھے\nغم زدوں اندوہ گینوں ظلم کے ماروں میں تھے\n\nدشمنی جانی ہے اب تو ہم سے غیروں کے لیے\nاک سماں سا ہو گیا وہ بھی کہ ہم یاروں میں تھے\n\nمت تبختر سے گزر قمری ہماری خاک پر\nہم بھی اک سرو رواں کے ناز برداروں میں تھے\n\nمر گئے لیکن نہ دیکھا تو نے اودھر آنکھ اٹھا\nآہ کیا کیا لوگ ظالم تیرے بیماروں میں تھے\n\nشیخ جی مندیل کچھ بگڑی سی ہے کیا آپ بھی\nرندوں بانکوں میکشوں آشفتہ دستاروں میں تھے\n\nگرچہ جرم عشق غیروں پر بھی ثابت تھا ولے\nقتل کرنا تھا ہمیں ہم ہی گنہ گاروں میں تھے\n\nاک رہا مژگاں کی صف میں ایک کے ٹکڑے ہوئے\nدل جگر جو میرؔ دونوں اپنے غم خواروں میں تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%88%DB%92_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "خوب رو جو ایک کا محبوب نہیں", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوب رو جو ایک کا محبوب نہیں\nایسے ہرجائی سے ملنا خوب نہیں\n\nچولی نیچی مت پہن اے جامہ زیب\nاس میں چھب تختی کا کچھ اسلوب نہیں\n\nمیں تو طالب دل سے ہوں گا دین کا\nدولت دنیا مجھے مطلوب نہیں\n\nصبر کب تک ہجر میں تیرے کروں\nمیں ترا عاشق ہوں کوئی ایوب نہیں\n\nیار کی تاباںؔ زنخداں کو نہ چاہ\nدیکھ کہتا ہوں کنویں میں ڈوب نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%B1%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خوب رو خوب کام کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوب رو خوب کام کرتے ہیں\nیک نگہ میں غلام کرتے ہیں\n\nدیکھ خوباں کوں وقت ملنے کے\nکس ادا سوں سلام کرتے ہیں\n\nکیا وفادار ہیں کہ ملنے میں\nدل سوں سب رام رام کرتے ہیں\n\nکم نگاہی سوں دیکھتے ہیں ولے\nکام اپنا تمام کرتے ہیں\n\nکھولتے ہیں جب اپنی زلفاں کوں\nصبح عاشق کوں شام کرتے ہیں\n\nصاحب لفظ اس کوں کہہ سکیے\nجس سوں خوباں کلام کرتے ہیں\n\nدل لجاتے ہیں اے ولیؔ میرا\nسرو قد جب خرام کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%B1%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خوب رو سب ہیں مگر حورا شمائل ایک ہے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوب رو سب ہیں مگر حورا شمائل ایک ہے\nاور مہ پارہ ہیں لیکن ماہ کامل ایک ہے\n\nحق تعالی اس کے زلفوں سے بچائے الحذر\nسامنا ہے دو بلاؤں کا مرا دل ایک ہے\n\nکون سا راحت رساں معشوق ہے آفاق میں\nدوسرا بھی آفت جاں ہے جو قاتل ایک ہے\n\nمیں تڑپتا ہوں تو کہتے ہیں اسیران قفس\nزخم خوردہ ہم گرفتاروں میں بسمل ایک ہے\n\nجس کا جی چاہا چلا آیا بغیر از اطلاع\nآپ کی سرکار میں بازار و محفل ایک ہے\n\nشمع چلتی ہے تو پروانے بھی جل جاتے ہیں ساتھ\nواہ کیا ان عاشق و معشوق کا دل ایک ہے\n\nرند و زاہد دونوں پوچھیں گے برابر دیکھنا\nتفرقہ ان میں دوراہے تک ہے منزل ایک ہے\n\nاس کی زلفوں کا تصور ہے جو ہر دم دل نشیں\nمیں سمجھتا ہوں کہ دو لیلیٰ ہیں محمل ایک ہے\n\nجو معرف کاملوں کے تھی اگر ہوتی وہ آج\nہم کو بھی کہتے یہ اپنی فن میں کامل ایک ہے\n\nبحرؔ اپنی بھی فصاحت جانتے ہیں اہل فہم\nدوسرے ہم ہیں اگر سحبان‌ و ایل ایک ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%B1%D9%88_%D8%B3%D8%A8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D8%AD%D9%88%D8%B1%D8%A7_%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DB%81%DB%92"} {"title": "خوب روکا شکایتوں سے مجھے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوب روکا شکایتوں سے مجھے\nتو نے مارا عنایتوں سے مجھے\n\nواجب القتل اس نے ٹھہرایا\nآیتوں سے روایتوں سے مجھے\n\nکہتے کیا کیا ہیں دیکھ تو اغیار\nیار تیری حمایتوں سے مجھے\n\nکیا غضب ہے کہ دوست تو سمجھے\nدشمنوں کی رعایتوں سے مجھے\n\nدم گریہ کمی نہ کر اے چشم\nشوق کم ہے کفایتوں سے مجھے\n\nکمیٔ گریہ نے جلا مارا\nہوا نقصاں کفایتوں سے مجھے\n\nلے گئی عشق کی ہدایت ذوقؔ\nان کنے سب نہایتوں سے مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%B1%D9%88%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "خوب رویان جہاں چاند کی تنویریں ہیں", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوب رویان جہاں چاند کی تنویریں ہیں\nپتلیاں آنکھوں کی روشن ہوں وہ تصویریں ہیں\n\nشعر گویوں کو مضامین کی توقیریں ہیں\nکہنے کو ایک زمیں سیکڑوں جاگیریں ہیں\n\nیار سے ہوتی ہے گستاخ جو ہوتی ہو سو ہو\nزلفیں ہاتھوں میں ہیں یا پاؤں میں زنجیریں ہیں\n\nکوئی آداب محبت کو بھلا کیا جائے\nذلتیں جتنی ہیں عاشق کی وہ توقیریں ہیں\n\nکروں توبہ جو ہو پیدا بن ہر مو سے زباں\nجتنے ہیں موئے بدن اتنی ہی تقصیریں ہیں\n\nوہ بھویں مار اتاریں گے کسی دن مجھ کو\nجن کے قبضے میں قضا ہے یہ وہ شمشیریں ہیں\n\nقول حق پر ہوئے کب متفق اہل دنیا\nایک قرآن ہے جس کی کئی تفسیریں ہیں\n\nکیا یقیں آئے مجھے حال بہشت و دوزخ\nمیں ہوں جس خواب میں سب اس کی یہ تعبیریں ہیں\n\nسات دوزخ کیے خلق اس نے کریمی اس کی\nایک ہفتے کی ہمارے لیے تعزیریں ہیں\n\nچار اینٹیں ہوئیں کس کے نہ محل نخوت\nمقبرے آج سلاطین کی تعمیریں ہیں\n\nایک ذرے کو جو قسمت سے نہ جنبش ہو نہ ہو\nخاک اڑانے کو تو آندھی مری تدبیریں ہیں\n\nکوئی خوش خوان ہو قاصد تو بہت بہتر ہے\nمیرے نامے میں ترانے کی بھی تحریریں ہیں\n\nہڈیاں جسم میں جلتی ہیں پلیتے کی طرح\nعشق کے اسم جلالی کی یہ تاثیریں ہیں\n\nدل کو ہر وقت جو رہتی ہے بتوں کی تسبیح\nاپنے نالوں کو سمجھتا ہوں کی تکبیریں ہیں\n\nبحرؔ ارژنگ جہاں کا نہ تماشائی ہو\nجن کا سایہ ہے بلا اس میں وہ تصویریں ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں\nدل کی بے اختیاریاں نہ گئیں\n\nعقل صبرآشنا سے کچھ نہ ہوا\nشوق کی بے قراریاں نہ گئیں\n\nدن کی صحرا نوردیاں نہ چھٹیں\nشب کی اختر شماریاں نہ گئیں\n\nہوش یاں سد راہ علم رہا\nعقل کی ہرزہکاریاں نہ گئیں\n\nتھے جو ہمرنگ ناز ان کے ستم\nدل کی امیدواریاں نہ گئیں\n\nحسن جب تک رہا نظارہ فروش\nصبر کی شرمساریاں نہ گئیں\n\nطرز مومنؔ میں مرحبا حسرتؔ\nتیری رنگیں نگاریاں نہ گئیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خوب ہاتھوں ہاتھ بدلہ مل گیا بیداد کا", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوب ہاتھوں ہاتھ بدلہ مل گیا بیداد کا\nآشیاں میرا جلا گھر جل گیا صیاد کا\n\nیہ خلاصہ مختصر ہے عشق کی روداد کا\nشوق ہے ان کو ستانے کا ہمیں فریاد کا\n\nہر گرفتار قفس قیدی ہے بے میعاد کا\nچھوڑ بھی دیتا ہے جی چاہے اگر صیاد کا\n\nواہ مجھ ایسے مقید کو لقب آنراء کا\nمصلحت صیاد کی ہے یا کرم صیاد کا\n\nاب کیا کرتا ہے ماتم بلبل ناشاد کا\nدل لرزتا ہے تقیہ دیکھ کر صیاد کا\n\nحشر اس دن دیکھنا ہر بانیٔ بیداد کا\nجب زمیں تانبے کی ہوگی آسماں فولاد کا\n\nکیا مری فریاد کا ان پر اثر ہوتا نہیں\nجو انہیں معلوم ہو جاتا سبب فریاد کا\n\nکہتے ہیں بے قاعدہ فریاد ہم سنتے نہیں\nپھر بتاتے بھی نہیں وہ قاعدہ فریاد کا\n\nایک خودبیں کو ہوا جس وقت خود بینی کا شوق\nبن گیا منڈان سارے عالم ایجاد کا\n\nکچھ مری فریاد بھی ان پر اثر کرتی نہیں\nاور کچھ وہ بھی اثر لیتے نہیں فریاد کا\n\nعاشقی سر پھوڑ لینے کے سوا کچھ بھی نہیں\nہم تو یہ سمجھے ہیں سن کر ماجرا فرہاد کا\n\nدام کا کیا ذکر ہے میں بندۂ بے دام ہوں\nشامت آئی پھنس گیا منہ دیکھ کر صیاد کا\n\nانتظام آب و دانہ ہے نہ تنظیم قفس\nمجھ سے پوچھو بولتا شہکار ہوں صیاد کا\n\nنالہ و فریاد بہر عیش ہو جب اے صفیؔ\nپھر کہاں تاثیر نالے کی اثر فریاد کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%81_%D9%85%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "خوب ہی چلتی ہوئی وہ نرگس مستانہ ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوب ہی چلتی ہوئی وہ نرگس مستانہ ہے\nآشنا سے آشنا بیگانے سے بیگانہ ہے\n\nآتے جاتے ہیں نئے ہر روز مرغ نامہ بر\nبندہ پرور آپ کا گھر بھی کبوتر خانہ ہے\n\nفاتحہ پڑھنے کو آیا تھا مگر وہ شمع رو\nآج میری قبر کا جو پھول ہے پروانہ ہے\n\nپائے ساقی پر گرایا جب گرایا ہے مجھے\nچال سے خالی کہاں یہ لغزش مستانہ ہے\n\nمجھ کو لے جا کر کہا ناصح نے ان کے روبرو\nآپ کے سر کی قسم یہ آپ کا دیوانہ ہے\n\nداغؔ یہ ہے کوئے قاتل مان ناداں ضد نہ کر\nاٹھ یہاں سے آ ادھر گھر بیٹھ کچھ دیوانہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8_%DB%81%DB%8C_%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%B1%DA%AF%D8%B3_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "خوب ہے خاک سے بزرگوں کی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "خوب ہے خاک سے بزرگوں کی\nچاہتا تو مرے تئیں امداد\nپر مروت کہاں کی ہے اے میرؔ\nتو ہی مجھ دل جلے کو کر ارشاد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%B2%D8%B1%DA%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "خوبان فسوں گر سے ہم الجھا نہیں کرتے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوبان فسوں گر سے ہم الجھا نہیں کرتے\nجادو گروں کی زلف میں لٹکا نہیں کرتے\n\nڈرتے ہیں کہ نالوں سے قیامت نہ مچا دوں\nاس خوف سے وہ وعدۂ فردا نہیں کرتے\n\nبرباد ہیں لیکن نہیں یاروں سے مکدر\nگو خاک ہیں پر دل کبھی میلا نہیں کرتے\n\nاقرار شفا کرتے ہیں پر رکھتے ہیں بیمار\nاچھا جو وہ کہتے ہیں کچھ اچھا نہیں کرتے\n\nسورج ہیں کبھی چاند کبھی شمع کبھی پھول\nکس روز نئے روپ وہ بدلا نہیں کرتے\n\nدل سے ہوں منیرؔ اپنے میں استاد کا عاشق\nتوقیر و رعایت مری کیا کیا نہیں کرتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%81%D8%B3%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%84%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "خوباں جو پہنتے ہیں نپٹ تنگ چولیاں", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوباں جو پہنتے ہیں نپٹ تنگ چولیاں\nان کی سجوں کو دیکھ مریں کیوں نہ لولیاں\n\nہونٹوں میں جم رہی ہے ترے آج کیوں دھری\nبھیجی تھیں کس نے رات کو پانوں کی ڈھولیاں\n\nجس دن سے انکھڑیاں تری اس کو نظر پڑیں\nبادام نے خجل ہو پھر آنکھیں نہ کھولیاں\n\nتارے نہیں فلک پہ تمہارے نثار کو\nلایا ہے موتیوں سے یہ بھر بھر کے جھولیاں\n\nسنبل کو پیچ و تاب عجب طرح کی ہوئی\nزلفیں جب ان نے جا کے گلستاں میں کھولیاں\n\nگلشن میں بحثنے کو تمہارے دہن کے ساتھ\nکھولا تھا منہ کو کلیوں نے پر کچھ نہ بولیاں\n\nتاباں قفس میں آج ہیں وے بلبلیں خموش\nکرتی تھیں کل جو باغ میں گل سے کلولیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%DB%81%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%BE%D9%B9_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%DA%86%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "خوباں کے بیچ جاناں ممتاز ہے سراپا", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوباں کے بیچ جاناں ممتاز ہے سراپا\nانداز دلبری میں اعجاز ہے سراپا\n\nپل پل مٹک کے دیکھے ڈگ ڈگ چلے لٹک کے\nوہ شوخ چھل چھبیلا طناز ہے سراپا\n\nترچھی نگاہ کرنا کترا کے بات سننا\nمجلس میں عاشقوں کی انداز ہے سراپا\n\nنینوں میں اس کی جادو زلفاں میں اس کی پھاندا\nدل کے شکار میں وہ شہباز ہے سراپا\n\nغمزہ نگہ تغافل انکھیاں سیاہ و چنچل\nیا رب نظر نہ لاگے انداز ہے سراپا\n\nاس کے خرام اوپر طاؤس مست ہے گا\nوہ میر دل ربابی طناز ہے سراپا\n\nکشت امید کرتا سرسبز سبزۂ خط\nانجام حسن اس کا آغاز ہے سراپا\n\nوقت نظارہ فائزؔ دل دار کا یہی ہے\nبستر نہیں بدن پر تن باز ہے سراپا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%86_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%BE%D8%A7"} {"title": "خوبرو سب کی جان ہوتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوبرو سب کی جان ہوتے ہیں\nآرزوئے جہان ہوتے ہیں\n\nگوشۂ دیوار تک تو جا نالے\nاس میں گل کو بھی کان ہوتے ہیں\n\nکبھو آتے ہیں آپ میں تجھ بن\nگھر میں ہم میہمان ہوتے ہیں\n\nدشت کے پھوٹے مقبروں پہ نہ جا\nروضے سب گلستاں ہوتے ہیں\n\nحرف تلخ ان کے کیا کہوں میں غرض\nخوبرو بد زبان ہوتے ہیں\n\nغمزۂ چشم خوش قدان زمیں\nفتنۂ آسمان ہوتے ہیں\n\nکیا رہا ہے مشاعرے میں اب\nلوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں\n\nمیرؔ و مرزا رفیعؔ و خواجہ میرؔ\nکتنے اک یہ جوان ہوتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خوبی کا اس کی بسکہ طلب گار ہو گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوبی کا اس کی بسکہ طلب گار ہو گیا\nگل باغ میں گلے کا مرے ہار ہو گیا\n\nکس کو نہیں ہے شوق ترا پر نہ اس قدر\nمیں تو اسی خیال میں بیمار ہو گیا\n\nمیں نو دمیدہ بال چمن زاد طیر تھا\nپر گھر سے اٹھ چلا سو گرفتار ہو گیا\n\nٹھہرا گیا نہ ہو کے حریف اس کی چشم کا\nسینے کو توڑ تیر نگہ پار ہو گیا\n\nہے اس کے حرف زیر لبی کا سبھوں میں ذکر\nکیا بات تھی کہ جس کا یہ بستار ہو گیا\n\nتو وہ متاع ہے کہ پڑی جس کی تجھ پہ آنکھ\nوہ جی کو بیچ کر بھی خریدار ہو گیا\n\nکیا کہیے آہ عشق میں خوبی نصیب کی\nدل دار اپنا تھا سو دل آزار ہو گیا\n\nآٹھوں پہر لگا ہی پھرے ہے تمہارے ساتھ\nکچھ ان دنوں میں غیر بہت یار ہو گیا\n\nکب رو ہے اس سے بات کے کرنے کا مجھ کو میرؔ\nناکردہ جرم میں تو گنہ گار ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%B3%DA%A9%DB%81_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "خوبی کا تیری بسکہ اک عالم گواہ ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا علی لطف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوبی کا تیری بسکہ اک عالم گواہ ہے\nاپنی بغیر دیکھے ہی حالت تباہ ہے\n\nعالم سنا جو ناز کا ہے اس سے الاماں\nانداز گفتگو سے خدا کی پناہ ہے\n\nتیوری کے ڈھب ہیں اور نگہ کے ہزار ڈول\nچتون کے لاکھ رنگ غرض واہ واہ ہے\n\nناخن یہ دل ہلال ہے ابرو کے رشک سے\nمکھڑے کا داغ رکھتا کلیجے پہ ماہ ہے\n\nخوں ریز تیری چشم کو بتلاتے ہیں ولے\nچتون میں ساتھ کہتے ہیں پھر عذر خواہ ہے\n\nخوبی کا تیرے بالوں کی مذکور ہے جہاں\nسنبل کا نام اس جگہ اک رو سیاہ ہے\n\nدیتا ہے تیری قامت دلجو کا جو پتا\nبے ساختہ وہ کھینچتا اک دل سے آہ ہے\n\nگو لطفؔ خفتہ بخت کے آؤ نہ خواب میں\nلیکن ترے خیال کو نت دل میں راہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%B3%DA%A9%DB%81_%D8%A7%DA%A9_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%AF%D9%88%D8%A7%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہم\nپر ہر اک خوبی میں داغ اک عیب کا پاتے ہیں ہم\n\nخوف کا کوئی نشاں ظاہر نہیں افعال میں\nگو کہ دل میں متصل خوف خدا پاتے ہیں ہم\n\nکرتے ہیں طاعت تو کچھ خواہاں نمائش کے نہیں\nپر گنہ چھپ چھپ کے کرنے میں مزا پاتے ہیں ہم\n\nدیدہ و دل کو خیانت سے نہیں رکھ سکتے باز\nگرچہ دست و پا کو اکثر بے خطا پاتے ہیں ہم\n\nدل میں درد عشق نے مدت سے کر رکھا ہے گھر\nپر اسے آلودۂ حرص و ہوا پاتے ہیں ہم\n\nہو کے نادم جرم سے پھر جرم کرتے ہیں وہی\nجرم سے گو آپ کو نادم سدا پاتے ہیں ہم\n\nہیں فدا ان دوستوں پر جن میں ہو صدق و صفا\nپر بہت کم آپ میں صدق و صفا پاتے ہیں ہم\n\nگو کسی کو آپ سے ہونے نہیں دیتے خفا\nاک جہاں سے آپ کو لیکن خفا پاتے ہیں ہم\n\nجانتے اپنے سوا سب کو ہیں بے مہر و وفا\nاپنے میں گر شمۂ مہر و وفا پاتے ہیں ہم\n\nبخل سے منسوب کرتے ہیں زمانہ کو سدا\nگر کبھی توفیق ایثار و عطا پاتے ہیں ہم\n\nہو اگر مقصد میں ناکامی تو کر سکتے ہیں صبر\nدرد خودکامی کو لیکن بے دوا پاتے ہیں ہم\n\nٹھہرتے جاتے ہیں جتنے چشم عالم میں بھلے\nحال نفس دوں کا اتنا ہی برا پاتے ہیں ہم\n\nجس قدر جھک جھک کے ملتے ہیں بزرگ و خورد سے\nکبر و ناز اتنا ہی اپنے میں سوا پاتے ہیں ہم\n\nگو بھلائی کرکے ہم جنسوں سے خوش ہوتا ہے جی\nتہہ نشیں اس میں مگر درد ریا پاتے ہیں ہم\n\nہے ردائے نیک نامی دوش پر اپنے مگر\nداغ رسوائی کے کچھ زیر ردا پاتے ہیں ہم\n\nراہ کے طالب ہیں پر بے راہ پڑتے ہیں قدم\nدیکھیے کیا ڈھونڈھتے ہیں اور کیا پاتے ہیں ہم\n\nنور کے ہم نے گلے دیکھے ہیں اے حالیؔ مگر\nرنگ کچھ تیری الاپوں میں نیا پاتے ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "خود آگاہی نے سِکھلا دی ہے جس کو تن فراموشی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "خود آگاہی نے سِکھلا دی ہے جس کو تن فراموشی\nحرام آئی ہے اُس مردِ مجاہد پر زِرہ پوشی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A2%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%90%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%86_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4%DB%8C"} {"title": "خود اٹھ کے ہاتھ میرے گریباں میں آ گئے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خود اٹھ کے ہاتھ میرے گریباں میں آ گئے\nشاید قدم جنوں کے گلستاں میں آ گئے\n\nاس کے سوا بتائیں اسیری کا کیا سبب\nگھبرائے انجمن سے تو زنداں میں آ گئے\n\nکیا ہوگا چار پھولوں سے اے موسم بہار\nیہ تو ہمارے گوشۂ داماں میں آ گئے\n\nجوش بہار اور یہ بے اختیاریاں\nسوئے چمن چلے تھے بیاباں میں آ گئے\n\nسیمابؔ کبر و ناز کا انجام کچھ نہ پوچھ\nسب رفتہ رفتہ گور غریباں میں آ گئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "خود بہ خود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خود بخود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے\nروز کب تک کوئی پوچھا کرے حال اچھا ہے\n\nہجر میں عیش گزشتہ کا خیال اچھا ہے\nہو جھلک جس میں خوشی کی وہ ملال اچھا ہے\n\nوصل سے آپ کا ارمان وصال اچھا ہے\nاس کا انجام برا اس کا مآل اچھا ہے\n\nداغ بہتر ہے وہی ہو جو دل عاشق میں\nجو رہے عارض خوباں پہ وہ خال اچھا ہے\n\nدیکھ ان خاک کے پتلوں کی ادائیں زاہد\nان سے کس بات میں حوروں کا جمال اچھا ہے\n\nکیجئے اور بھی شکوے کہ مٹے دل کا غبار\nباتوں باتوں میں نکل جائے ملال اچھا ہے\n\nتندرستی سے تو بہتر تھی مری بیماری\nوہ کبھی پوچھ تو لیتے تھے کہ حال اچھا ہے\n\nجو نگاہوں میں سما جائے وہ صورت اچھی\nجو خریدار کو جچ جائے وہ مال اچھا ہے\n\nچارہ گر کو مرے یہ بھی نہیں تمییز ابھی\nکون سا حال برا کون سا حال اچھا ہے\n\nدے خدا زر تو کوئی مے کدہ آباد کریں\nاچھے کاموں میں جو ہو صرف وہ مال اچھا ہے\n\nہنس کے کہتے ہیں کبھی ہاتھ سے اڑنے کا نہیں\nطائر رنگ حنا بے پر و بال اچھا ہے\n\nجو نہ نکلے کبھی دل سے وہ تمنا اچھی\nجو نہ آئے کبھی لب تک وہ سوال اچھا ہے\n\nحسرت آتی ہے ہمیں حال پر اپنے کیا کیا\nسنتے ہیں جب کسی بیمار کا حال اچھا ہے\n\nحور کے ذکر پر آئینہ اٹھا کر دیکھا\nاس سے ایما ہے کہ میرا ہی جمال اچھا ہے\n\nآرزو میری نہ پوری ہو کوئی بات ہے یہ\nکاش اتنا وہ سمجھ لیں کہ سوال اچھا ہے\n\nمفت ملتا ہے خرابات میں ہر میکش کو\nٹھرا پینے کے لیے جام سفال اچھا ہے\n\nسیکڑوں برق جمالوں کا گزر ہوتا ہے\nطور سینا سے مرا بام خیال اچھا ہے\n\nہوں گدائے در مے خانہ تکلف سے بری\nٹوٹا پھوٹا یہ مرا جام سفال اچھا ہے\n\nحال سنتے نہیں بے خود ہیں یہ مسجد والے\nان سے کچھ میکدے والوں ہی کا حال اچھا ہے\n\nدفعتاً ترک محبت میں ضرر ہے جی کا\nرفتہ رفتہ جو مٹے دل سے خیال اچھا ہے\n\nاب کے ہر شہر میں پھیلا ہے جو طاعون حفیظؔ\nمرنے والوں کو خوشی ہے کہ یہ سال اچھا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A8%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%A8%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی\nہاں لطف جب ہے پا کے بھی ڈھونڈا کرے کوئی\n\nتم نے تو حکم ترک تمنا سنا دیا\nکس دل سے آہ ترک تمنا کرے کوئی\n\nدنیا لرز گئی دل حرماں نصیب کی\nاس طرح ساز عیش نہ چھیڑا کرے کوئی\n\nمجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود\nان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی\n\nرنگینی نقاب میں گم ہو گئی نظر\nکیا بے حجابیوں کا تقاضا کرے کوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "خود دیکھ خودی کو او خود آرا", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خود دیکھ خودی کو او خود آرا\nپہچان خدا کو بھی خدا را\n\nترچھی یہ نگاہ ہے کہ آرا\nہر جزو جگر ہے پارا پارا\n\nدیکھیں گے بتوں کی ہم کجی کو\nسیدھا ہے اگر خدا ہمارا\n\nکیوں موت کے آسرے پہ جیتے\nاے زیست ہمیں تو تو نے مارا\n\nاللہ رے دل کی بے قراری\nکھاتا ہی نہیں کہیں سہارا\n\nجاں دینی ہے میری آزمائش\nدل داری ہے امتحاں تمہارا\n\nطوفان ہے جوش تشنہ کامی\nدریا بھی تو کر گیا کنارا\n\nشیرینیٔ جاں کی کب کھلی قدر\nجب زہر ہوا ہمیں گوارا\n\nہر شاخ پہ آشیاں ہے لرزاں\nاس باغ میں ہو چکا گزارا\n\nگردش کا قلقؔ کی دیکھنا اوج\nہر قطرۂ خوں بنا ستارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A2%D8%B1%D8%A7"} {"title": "خود رفتہ ہو بدمست ہو کیسا ہے مزاج", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "خود رفتہ ہو بدمست ہو کیسا ہے مزاج\nکل آپ کی کیا وضع تھی کیا رنگ ہے آج\nدیکھا ہے اگر خواب زلیخا سنبھلو\nرعنائی یوسف کی کنواں ہے معراج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%B1%D9%81%D8%AA%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%A8%D8%AF%D9%85%D8%B3%D8%AA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC"} {"title": "خود غلط وہ قول و فعل ان کا غلط", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "خود غلط وہ قول و فعل ان کا غلط\nخط غلط انشا غلط املا غلط\n\nرو دیا سچے نے جھوٹے کے حضور\nجو صحیح در است تھا ٹھہرا غلط\n\nدیر کی لی راہ مسجد چھوڑ کر\nعاشق بت کر گیا رستہ غلط\n\nبات پیشانی کی پیش آتی ہے یار\nہو نہ قسمت کا کبھی لکھا غلط\n\nخط ہے طوطی آئنہ ہے روئے یار\nاے وقارؔ اس میں نہیں اصلا غلط", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%BA%D9%84%D8%B7_%D9%88%DB%81_%D9%82%D9%88%D9%84_%D9%88_%D9%81%D8%B9%D9%84_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%BA%D9%84%D8%B7"} {"title": "خود فراموش قفس ہم ہیں چمن یاد نہیں", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خود فراموش قفس ہم ہیں چمن یاد نہیں\nغیر کے ہو گئے ایسے کہ وطن یاد نہیں\n\nچاندنی حسن کی اچھی ہے مگر ناز نہ کر\nتجھ کو اس چاند کا تاریک گہن یاد نہیں\n\nاس کی محفل میں ہوا تھا کبھی اپنا بھی گزر\nباتیں کچھ کی تھیں مگر مجھ کو دہن یاد نہیں\n\nشکوۂ ہجر کی خواہش نہ کر اے دل کہ تجھے\nسامنا ہو تو کوئی رنج و محن یاد نہیں\n\nجلوۂ حلۂ جنت سے یہ خود رفتہ ہوا\nمیں نے کن ہاتھوں سے پہنا تھا کفن یاد نہیں\n\nکیوں سناتے ہو عبث اہل وفا کو باتیں\nکہ انہیں طرز مکافات سخن یاد نہیں\n\nتفرقہ ساز گروں کی یہ حد ہے کہ مجھے\nمل کے بیٹھے تھے کبھی روح و بدن یاد نہیں\n\nہم تو مر مر کے سکھایا کئے لیکن اب تک\nعشق کا حسن خود آرا کو چلن یاد نہیں\n\nطرۂ گیسوے جاناں تری نکہت کی قسم\nمیں نے دیکھا تھا مگر مشک ختن یاد نہیں\n\nکیا بتاؤں تجھے میں قید محبت کیا تھی\nدست و پا کو مرے زنجیر و رسن یاد نہیں\n\nتیرے نظارہ میں دل محو تھا ایسا دم رنج\nتیغ کا پھل مجھے اے سیب ذقن یاد نہیں\n\nداغ گنتے ہوئے گزرے ہیں قفس میں شب و روز\nکس طرح کھلتے تھے گل ہائے چمن یاد نہیں\n\nقدرداں پا کے بہل جاتے ہیں آوارہ وطن\nجب تو نکلے ہوئے موتی کو عدن یاد نہیں\n\nذبح ہونے سے مرے ان کو تعجب ہے تو ہو\nاپنے ماتھے کی وہ خوں ریز شکن یاد نہیں\n\nکون سنتا ہے یہ افسانۂ غم اے ثاقبؔ\nقابل اہل زمانہ کوئی فن یاد نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4_%D9%82%D9%81%D8%B3_%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D9%85%D9%86_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خود فریب", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بادشاہت کا خاتمہ", "year": "1950", "text_ur": "ہم نیوپیرس اسٹور کے پرائیویٹ کمرے میں بیٹھے تھے۔ باہر ٹیلی فون کی گھنٹی بجی تو اس کا مالک غیاث اٹھ کر دوڑا۔ میرے ساتھ مسعود بیٹھا تھا، اس سے کچھ دور ہٹ کر جلیل دانتوں سے اپنی چھوٹی چھوٹی انگلیوں کے ناخن کاٹ رہا تھا، اس کے کان بڑے غور سے غیاث کی باتیں سن رہے تھے وہ ٹیلی فون پر کسی سے کہہ رہا تھا، ’’تم جھوٹ بولتی ہو۔۔۔ اچھا خیر آج دیکھ لیں گے۔۔۔ تو یہ کیا کہا، تمہارے لیے تو ہماری جان حاضر ہے۔۔۔ اچھا تو ٹھیک پانچ بجے۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔ کیا کہا۔۔۔؟ بھئی کہہ تو دیا کہ تمہیں مل جائے گی۔۔۔‘‘\n\nجلیل نے میری طرف دیکھا، ’’منٹو صاحب عیش کرتا ہے یہ غیاث!‘‘ میں جواب میں مسکرا دیا۔ جلیل انگلیوں کے ناخن اب تیزی سے کاٹنے لگا، ’’کئی لڑکیوں کے ساتھ اس کا ٹانکہ ملا ہوا ہے۔۔۔ میں تو سوچتا ہوں ایک اسٹور کھول لوں۔۔۔ لیڈیز اسٹور۔۔۔ خواہ مخواہ پریس کے چکر میں پڑا ہوں۔۔۔ عورت کا سایہ تک بھی وہاں نہیں آتا۔ سارا دن گڑگڑاہٹیں سنو۔ الو کے پٹھے قسم کے گاہکوں سے مغز ماری کرو۔۔۔ یہ زندگی ہے؟‘‘\n\nمیں پھر مسکرا دیا۔ اتنے میں غیاث آگیا۔ جلیل نے زور سے اس کے چوتڑوں پر دھپا مارا اور کہا، ’’سنابے، کون تھی یہ جس کے لیے تو اپنی جان حاضر کررہا تھا۔‘‘ غیاث بیٹھ گیا اور کہنے لگا، ’’منٹو صاحب کے سامنے ایسی باتیں نہ کیا کرو۔‘‘ جلیل نے اپنی عینک کے موٹے شیشوں میں سے گھور کرغیاث کی طرف دیکھا اور کہا، ’’منٹو صاحب کو سب معلوم ہے۔۔۔ تم بتاؤ کون تھی؟‘‘\n\nغیاث نے اپنی نیلے شیشے والی عینک اتار کر اس کی کمانی ٹھیک کرنی شروع کی،’’ایک نئی ہے۔۔۔ پرسوں آئی تھی، ٹیلی فون کرنے۔۔۔ کسی سے ہنس ہنس کے باتیں کررہی تھی۔ فون کرچکی تومیں نے اس سے کہا، جناب فیس ادا کیجیے۔ یہ سن کر مسکرنے لگی۔ پرس میں ہاتھ ڈال کر اس نے دس روپے کا نوٹ نکالا اورکہا، ’’حاضر ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’شکریہ۔۔۔ آپ کا مسکرا دینا ہی کافی ہے۔۔۔ بس دوستی ہوگئی۔ایک گھنٹے تک یہاں بیٹھی رہی، جاتے ہوئے دس رومال لے گئی۔‘‘\n\nمسعود جو بالکل خاموش تھا،غالباً اپنی بے کاری کے متعلق سوچ رہا تھا، اٹھا، ’’بکواس ہے۔۔۔ محض خود فریبی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے مجھے سلام کیا اور چلا گیا۔ غیاث اپنی باتوں سے بہت خوش تھا۔ مسعود جب یکلخت بولا تو اس کا چہرہ کسی قدر مرجھا گیا۔ جلیل تھوڑی دیر کے بعد غیاث سے مخاطب ہوا، ’’کیا مانگ رہی تھی؟‘‘ غیاث چونکا، ’’کیا کہا؟‘‘ جلیل نے پھر پوچھا، ’’کیا مانگ رہی تھی؟‘‘ غیاث نے کچھ توقف کے بعد کہا، ’’میڈن فورم بریسٹر‘‘ جلیل کی آنکھیں عینک کے موٹے شیشوں کے عقب سے چمکیں۔\n\n’’سائز کیا ہے۔‘‘ غیاث نے جواب دیا ’’تھرٹی فور!‘‘ جلیل مجھ سے مخاطب ہوا، ’’منٹو صاحب یہ کیا بات ہے انگیا دیکھتے ہی میرے اندرہیجان سا پیدا ہو جاتا ہے۔‘‘ میں نے مسکرا کر اس سے کہا، ’’آپ کی قوت متخیلہ بہت تیز ہے۔‘‘ جلیل کچھ نہ سمجھا اور نہ وہ سمجھناچاہتا تھا۔ اس کے دماغ میں کھدبد ہورہی تھی۔ وہ اس لڑکی کے متعلق باتیں کرنا چاہتا تھا جس کے ساتھ غیاث نے ٹیلی فون پرباتیں کی تھیں۔ چنانچہ میرا جواب سن کر نے اس غیاث سے کہا، ’’یار ہم سے بھی تو ملاؤ اسے۔‘‘ غیاث نے کمانی ٹھیک کرکے عینک لگائی، ’’کبھی یہاں آئے گی تو مل لینا۔‘‘\n\n’’کچھ نہیں یار تم ہمیشہ یہی غچہ دیتے رہتے ہو۔۔۔ پچھلے دنوں جب وہ یہاں آئی تھی۔۔۔ کیا نام تھا اس کا۔۔۔؟ جمیلہ۔۔۔ میں نے آگے بڑھ کر اس سے بات کرنی چاہی تو تم نے ہاتھ جوڑ کر مجھے منع کردیا۔۔۔ میں اسے کھا تو نہ جاتا۔‘‘ یہ کہہ کر جمیل نے عینک کے موٹے شیشوں کے پیچھے اپنی آنکھیں سکوڑ لیں۔\n\nجلیل اور غیاث دونوں میں بچپنا تھا۔ دونوں ہر وقت لڑکیوں کے متعلق سوچتے رہتے تھے، خوبصورت، موٹی، دبلی، بھدی لڑکیوں کے متعلق۔۔۔ ٹانگے میں بیٹھی ہوئی لڑکیوں کے متعلق۔ ۔۔پیدل چلتی اور سائیکل سوار لڑکیوں کے متعلق۔ جلیل اس معاملے میں غیاث سے بازی لے گیا تھا۔ دفتر سے کسی ضروری کام پر موٹر میں نکلتا،راستے میں کوئی ٹانگے میں بیٹھی یا موٹر میں سوار لڑکی نظر آجاتی تو اس کے پیچھے اپنی موٹر لگا دیتا۔ یہ اس کا محبوب ترین شغل تھا لیکن اس نے کبھی بدتمیزی نہ کی تھی۔ چھیڑ چھاڑ سے اسے ڈر لگتا تھا۔ جہاں تک گفتار کا تعلق ہے اسے غازی کہنا چاہیے۔ بڑے بڑے مضبوط قلعے سر کرچکا تھا۔\n\nپرائیویٹ کمرے میں جب باہر اسٹور سے کوئی نسوائی آواز آتی تو غیاث اچھل پڑتا اور پردہ ہٹا کر ایک دم باہر نکل جاتا۔ مرد گاہکوں سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی، ان سے اس کا ملازم نبٹتا تھا۔دونوں اپنے کام میں ہوشیار تھے۔ اسٹور کس طرح چلایا جاتا ہے اس کو کیونکر مقبول بنایا جاتا ہے، اس کا غیاث کو بڑا اچھا سلیقہ تھا ۔اسی طرح جلیل کو پریس کے تمام شعبوں پر کامل عبور تھا لیکن فرصت کے اوقات میں وہ صرف لڑکیوں کے متعلق سوچتے تھے۔ خیالی اور اصلی لڑکیوں کے متعلق۔\n\nاسٹور میں کسی دن جب کوئی بھی لڑکی نہ آتی تو غیاث اداس ہو جاتا۔ یہ اداسی وہ جلیل سے ٹیلی فون پر ان لڑکیوں کے متعلق باتیں کرکے دور کرتا جو بقول اس کے، جال میں پھنسی ہوئی تھیں۔ جلیل اسے اپنے معرکے سناتا۔ دونوں کچھ دیر باتیں کرتے۔ اسٹور میں کوئی گاہک آتا یا ادھر پریس میں کسی کوجلیل کی ضرورت ہوتی تو یہ دلچسپ سلسلہ گفتگو منقطع ہو جاتا۔\n\nاس لحاظ سے نیو پیرس اسٹور بڑی دلچسپ جگہ تھی۔ جلیل دن میں دو تین مرتبہ ضرور آتا۔ پریس سے کسی کام کے لیے نکلتا تو چند منٹوں ہی کے لیے اسٹور سے ہو جاتا۔ غیاث سے کسی لڑکی کے بارے میں چھیڑ چھاڑ کرتا اور انگلی میں موٹر کی چابی گھماتا چلا جاتا۔جلیل کوغیاث سے یہ گلہ تھا کہ وہ’’اپنی لڑکیوں‘‘ کے متعلق انتہائی رازداری سے کام لیتا ہے ،ان کا نام تک نہیں بتاتا۔ چھپ چھپ کر ان سے ملتا ہے، ان کو تحفے تحائف دیتا ہے اور اکیلے اکیلے عیش کرتا ہے۔ یہی گلہ غیاث کو جلیل سے تھا۔ لیکن دونوں کے دوستانہ تعلقات ویسے کے ویسے قائم تھے۔\n\nایک روز اسٹور میں ایک سیاہ برقعے والی عورت آئی۔ نقاب الٹا ہوا تھا۔ چہرہ پسینے سے شرابور تھا، آتے ہی اسٹول پربیٹھ گئی۔ غیاث جب اس کی طرف بڑھا تو اس نے برقعہ سے پسینہ پونچھ کر اس سے کہا، ’’پانی پلائیے ایک گلاس۔‘‘ غیاث نے فوراً نوکرکوبھیجا، ایک ٹھنڈا لیمن لے آئے۔ عورت نے چھت کے ساکن پنکھوں کو دیکھا اورغیاث سے پوچھا، ’’پنکھا کیوں نہیں چلاتے آپ؟‘‘ غیاث نے سرتاپا معذرت بن کر کہا،’’دونوں خراب ہوگئے ہیں۔ معلوم نہیں کیا ہوا۔۔۔ میں نے آدمی بھیجا ہوا ہے۔‘‘\n\nعورت اسٹول پر سے اٹھی، ’’میں تو یہاں ایک منٹ نہیں بیٹھ سکتی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ شوکیسوں کو دیکھنے لگی، ’’آدمی خاک شوپنگ کرسکتا ہے اس دوزخ میں۔‘‘ غیاث نے اٹک اٹک کرکہا، ’’مجھے افسوس ہے۔۔۔ آپ۔۔۔ آپ اندر تشریف لے چلیے۔۔۔ جس چیز کی آپ کو ضرورت ہوگی میں لا کر دوں گا۔‘‘ عورت نے غیاث کی طرف دیکھا،’’چلیے۔ ‘‘غیاث تیز قدمی سے آگے بڑھا۔ پردہ ہٹایا اور اس عورت سے کہا ،’’تشریف لائیے۔‘‘\n\nعورت اندر کمرے میں داخل ہوگئی اور ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔ غیاث نے پردہ چھوڑ دیا۔ دونوں میری نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ چند لمحات کے بعد غیاث نکلا۔ میرے پاس آکر اس نے ہولے سے کہا، ’’منٹو صاحب کیا خیال ہے آپ کا اس لڑکی کے بارے میں؟‘‘ میں مسکرا دیا۔\n\nغیاث نے ایک خانے سے مختلف اقسام کی لپ اسٹکیں نکالیں اور اندرکمرے میں لے گیا۔ اتنے میں جلیل کی موٹر کا ہارن بجا اور وہ انگلی پر چابی گھماتا نمودار ہوا۔ آتے ہی اس نے پکارا، ’’غیاث۔۔۔ غیاث، آؤ بھئی سنو ،وہ کل والا معاملہ میں نے سب ٹھیک کردیا ہے۔‘‘ پھر اس نے میری طرف دیکھا، ’’اوہ منٹو صاحب، آداب عرض۔۔۔۔ غیاث کہاں ہے؟‘‘میں نے جواب دیا، ’’اندر کمرے میں۔‘‘\n\n’’وہ میں نے سب ٹھیک کردیا منٹو صاحب۔۔۔ ابھی ابھی پٹرول پمپ کے پاس ملی۔ پیدل جارہی تھی میں نے موٹر روکی اور کہا جناب یہ موٹر آخر کس مرض کی دوا ہے اسے مزنگ چھوڑ کر آرہا ہوں۔۔۔‘‘ پھر اس نے کمرے کے پردے کی طرف منہ کرکے آواز دی، ’’غیاث باہر نکل بے!‘‘\n\nجلیل نے انگلی پر زور سے چابی گھمائی،’’مصروف ہے۔۔۔ اب اس نے اندر مصروف ہونا شروع کردیا ہے۔ ‘‘کہہ کر اس نے آگے بڑھ کر پردہ اٹھایا۔ ایک دم اس کے جیسے بریک سی لگ گئی۔ پردہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا، ’’سوری‘‘ کہہ کر وہ الٹے قدم واپس آیا اور گھبرائے ہوئے لہجہ میں اس نے مجھ سے پوچھا، ’’منٹو صاحب کون ہے؟‘‘ میں نے دریافت کیا، ’’کہاں کون؟‘‘\n\n’’یہ۔۔۔ یہ جو اندر بیٹھی لبوں پر لپ اسٹک لگا رہی ہے۔‘‘\n\nمیں نے جواب دیا، ’’معلوم نہیں، گاہک ہے!‘‘\n\nجلیل نے عینک کے موٹے شیشوں کے پیچھے آنکھیں سکیڑیں اور پردے کی طرف دیکھنے لگا۔ غیاث باہر نکلا۔ جلیل سے ’’ہلو جلیل‘‘ کہا اور آئینہ اٹھا کر واپس کمرے میں چلا گیا۔ دونوں دفعہ جب پردہ اٹھا تو جلیل کو اس عورت کی ہلکی سی جھلک نظر آئی۔ میری طرف مڑ کر اس نے کہا۔ عیش کرتا ہے پٹھا، پھر اضطراب کی حالت میں ادھر ادھر ٹہلنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پردہ اٹھا۔ عورت ہونٹوں کو چوستی ہوئی نکلی۔ جلیل کی نگاہوں نے اس کو اسٹور کے باہر تک پہنچایا پھر اس نے پلٹ کر کمرے کا رخ کیا۔ غیاث باہر نکلا۔ رومال سے ہونٹ صاف کرتا۔ دونوں ایک دوسرے سے قریب قریب ٹکرا گئے۔ جلیل نے تیز لہجے میں اس سے پوچھا، ’’یہ کیا قصہ تھا بھئی؟‘‘\n\nغیاث مسکرایا، ’’کچھ نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے رومال سے ہونٹ صاف کیے۔ جلیل نے غیاث کے چٹکی بھری، ’’کون تھی؟‘‘\n\n’’یار تم ایسی باتیں نہ پوچھا کرو۔‘‘ غیاث نے اپنا رومال ہوا میں لہرایا۔ جلیل نے چھین لیا، غیاث نے جھپٹا مار کرواپس لینا چاہا۔جلیل پینترہ بدل کر ایک طرف ہٹ گیا۔ رومال کھول کر اس نے غور سے دیکھا، جگہ جگہ سرخ نشان تھے۔ عینک کے موٹے شیشوں کے پیچھے اپنی آنکھیں سکیڑ کر اس نے غیاث کو گھورا، ’’یہ بات ہے!‘‘ غیاث ایسا چور بن گیاجس کو کسی نے چوری کرتے کرتے پکڑ لیا ہے، ’’جانے دو یار۔۔۔ادھر لاؤ رومال۔‘‘ جلیل نے رومال واپس کردیا، ’’بتاؤ تو سہی کون تھی؟‘‘\n\nاتنے میں نوکر لیمن لے کر آگیا۔ غیاث نے اس کو اتنی دیر لگانے پر جھڑکا، ’’کوئی مہمان آئے تو تم ہمیشہ ایسا ہی کیا کرتے ہو۔‘‘ غیاث نے جلیل سے پوچھا، ’’یہ لیمن اسی کے لیے منگوایا گیا تھا؟‘‘\n\n’’ہاں یار۔۔۔ اتنی دیر میں آیا ہے کم بخت۔۔۔ دل میں کہتی ہوگی پیاسا ہی بھیج دیا۔‘‘\n\nغیاث نے رومال جیب میں رکھ لیا۔ جلیل نے شوکیس پر سے لیمن کا گلاس اٹھایا اور غٹا غٹ پی گیا، ’’ہماری پیاس تو بجھ گئی۔۔۔ لیکن یاربتاؤنا ،تھی کون۔۔۔؟ پہلی ہی ملاقات میں تم نے ہاتھ صاف کردیا۔غیاث نے رومال نکال کر اپنے ہونٹ صاف کیے اور آنکھیں چمکا کر کہا، ’’چمٹ ہی گئی۔۔۔ میں نے کہا دیکھو ٹھیک نہیں۔۔۔ دکان ہے۔۔۔ زبردستی میرے ہونٹوں کا چما لے گئی۔‘‘\n\nایک دم مسعود کی آواز آئی، ’’سب بکواس ہے۔۔۔ محض خود فریبی ہے۔‘‘ غیاث چونک پڑا۔ مسعود اسٹور کے باہر کھڑا تھا اس نے مجھے سلام کیا اورچل دیا۔جلیل فوراً ہی غیاث سے مخاطب ہوا، ’’چھوڑو یار تم یہ بتاؤ پھر کیا ہوا۔۔۔؟یار چیز اچھی تھی۔۔۔ کیا نام ہے؟‘‘ غیاث نے جواب نہ دیا۔ مسعود کی آواز کے اچانک حملے سے وہ بوکھلا سا گیا تھا۔ جلیل کو ایک دم یاد آیا کہ وہ تو ایک بہت ہی ضروری کام پر نکلا ہے۔ انگلی پر چابی گھما کر اس نے غیاث سے کہا، ’’لڑکی کے متعلق پھر پوچھوں گا۔۔۔ اچھا منٹو صاحب السلام علیکم‘‘ اور چلا گیا۔\n\nمیں نے مسکرا کرغیاث سے پوچھا، ’’غیاث صاحب اتنی جلدی پہلی ہی ملاقات میں آپ نے۔۔۔‘‘ غیاث جھینپ گیا۔ میری بات کاٹ کر اس نے کہا، ’’چھوڑئیے منٹو صاحب۔۔۔ آپ ہمارے بزرگ ہیں۔۔۔ چلیے اندر بیٹھیں۔ یہاں گرمی ہے۔‘‘ ہم اندر کمرے کی طرف چلنے لگے تو اسٹور کے باہر جلیل کی موٹر رکی۔ اس نے زور زور سے ہارن بجایا۔ غیاث نہ گیا تو وہ خود دوڑااندر آیا، ’’غیاث اندر آؤ۔۔۔ بس اسٹینڈ کے پاس ایک بڑی خوبصورت لڑکی کھڑی ہے۔۔۔‘‘ غیاث اس کے ساتھ چلا گیا۔ میں مسکرانے لگا۔\n\nاس دوران میں جلیل نے بڑی مشکلوں سے اپنے باپ کو راضی کرکے ایک کرسچین لڑکی ملازم رکھ لی۔ اس کو وہ اپنی اسٹینو کہتا تھا۔ کئی بار موٹر میں اس کو اپنے ساتھ لایا،لیکن اس کو موٹر ہی میں بٹھائے رکھا۔ غیاث کو اس بات کا بہت غصہ تھا۔ ایک بار اس اسٹینو کے سامنے غیاث نے جلیل سے مذاق کیا تو وہ بہت سٹپٹایا، اس کے کان کی لویں سرخ ہوگئیں۔ نظریں جھکا کر اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور یہ جا وہ جا۔بقول جلیل کے یہ اسٹینو شروع شروع میں تو بڑی ریزرو رہی۔ لیکن آخر اس سے کھل ہی گئی، ’’بس اب چند دنوں ہی میں معاملہ پٹا سمجھو۔‘‘\n\nغیاث اب زیادہ ترجلیل سے اس اسٹینو کی باتیں کرتا۔ جلیل اس سے اس لڑکی کے متعلق پوچھتا جس نے چمٹ کر اس کو چوم لیا تھا تو غیاث عموماً یہ کہتا،’’کل اس کا ٹیلی فون آیا۔ پوچھنے لگی آؤں۔۔۔؟میں نے کہا یہاں نہیں۔ تم وقت نکالو تو میں کسی اور جگہ کا انتظام کرلوں گا۔‘‘ جلیل اس سے پوچھتا، ’’کیا کہا اس نے؟‘‘ غیاث جواب دیتا، ’’تم اپنی اسٹینو کی سناؤ۔‘‘ اسٹینو کی باتیں شروع ہو جاتیں۔\n\nایک دن میں اورغیاث دونوں جلیل کے پریس گئے۔ مجھے اپنی کتاب کے گردپوش کے ڈیزائن کے بارے میں دریافت کرنا تھا۔ دفترمیں اسٹینو ایک کونے میں بیٹھی تھی لیکن جلیل نہیں تھا۔ اسٹینو سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ ابھی ابھی باہر نکلا ہے۔ میں نے نوکرکو بھیجا کہ اس کو ہماری آمد کی اطلاع دے۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد جلیل آگیا۔ چق اٹھا کر اس نے مجھے سلام کیا اورغیاث سے کہا، ’’ادھر آؤ غیاث!‘‘\n\nہم دونوں باہر نکلے، غیاث کو ایک کونے میں لے جا کر جلیل نے اچھل کرغیاث سے کہا، ’’میدان مار لیا۔۔۔ ابھی ابھی تمہارے آنے سے تھوڑی دیر پہلے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ رک گیا اور مجھ سے مخاطب ہوا، ’’معاف کیجیے گا منٹو صاحب۔‘‘ پھر اس نے غیاث کو زور سے اپنے ساتھ بھینچ لیا، ’’میں نے آج اس کو پکڑ لیا۔۔۔ بالکل اسی طرح۔۔۔ اور اسی جگہ۔۔۔ اس ٹریڈل کے پاس۔‘‘ غیاث نے پوچھا، ’’کیسے؟‘‘ جلیل جھنجھلا گیا، ’’ابے اپنی اسٹینو کو۔۔۔ قسم خدا کی مزا آگیا۔۔۔ یہ دیکھو۔‘‘\n\nاس نے اپنا رومال پتلون کی جیب سے نکال کر ہوا میں لہرایا۔۔۔ اس پر سرخی کے دھبے تھے۔ ایک دم مسعود کی آواز آئی،’’بکواس ہے۔۔۔ محض خود فریبی ہے۔‘‘جلیل اور غیاث چونک اٹھے۔۔۔ میں مسکرایا۔ ٹریڈل کے توے پر سرخ روغن کی پتلی سی ہموار تہ پھیلی ہوئی تھی۔ ایک جگہ پونچھنے کے باعث کچھ خراشیں پڑ گئی تھیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8"} {"title": "خود مزے دار طبیعت ہے تو ساماں کیسا", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خود مزے دار طبیعت ہے تو ساماں کیسا\nزخم دل آپ ہیں شورش پہ نمکداں کیسا\n\nہاتھ وحشت میں نہ پونچھے تو گریباں کیسا\nخار صحرا سے نہ الجھے تو وہ داماں کیسا\n\nکوچۂ یار کو دعویٰ ہے کہ جنت میں ہوں\nخلد کہتے ہیں کسے روضۂ رضواں کیسا\n\nاسی معبود کا ہے دیر و حرم میں جلوہ\nبحث کس بات کی ہے گبر و مسلماں کیسا\n\nوعدۂ بادۂ اطہر کا بھروسہ کب تک\nچل کے بھٹی پہ پئیں جرعۂ عرفاں کیسا\n\nہم ہوئے قیسؔ ہوئے وامقؔ و فرہادؔ ہوئے\nزلف پر خم نے کیا سب کو پریشاں کیسا\n\nدور کے ڈھول ہیں یوسف کی کہانی صاحب\nکس کو معلوم ہے ہوگا مہ کنعاں کیسا\n\nتیرے قربان میں اتنا تو بتا دے قاتل\nمیری گردن پہ چلا خنجر براں کیسا\n\nدل کے آئینہ میں تصویر صنم رکھتا ہے\nنہیں معلوم کہ آغاؔ ہے مسلماں کیسا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%85%D8%B2%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7"} {"title": "خود مسیحا خود ہی قاتل ہیں تو وہ بھی کیا کریں", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خود مسیحا خود ہی قاتل ہیں تو وہ بھی کیا کریں\nزخم پیدا کریں یا زخم دل اچھا کریں\n\nدل رہے آلودہ دامن اور ہم دیکھا کریں\nآج اے اشک ندامت آ تجھے دریا کریں\n\nجسم آزادی میں پھونکی تو نے مجبوری کی روح\nخیر جو چاہا کیا اب یہ بتا ہم کیا کریں\n\nخون کے چھینٹوں سے کچھ پھولوں کے خاکے ہی سہی\nموسم گل آ گیا زنداں میں بیٹھے کیا کریں\n\nجا بجا تغییر حال دل کے چرچے ہیں تو ہوں\nہم ہوئے رسوا مگر اب ہم کسے رسوا کریں\n\nہاں نہیں شرط مروت حسرت تاثیر درد\nرحم آ ہی جائے گا ان سے تقاضا کیا کریں\n\nشوق نظارہ سلامت ہے تو دیکھا جائے گا\nان کو پردہ ہی اگر منظور ہے پردا کریں\n\nظرف ویرانہ بہ قدر ہمت وحشت نہیں\nلاؤ ہر ذرہ میں پیدا وسعت صحرا کریں\n\nمرگ بے ہنگام فانیؔ وجہ تسکیں ہو چکی\nزندگی سے آپ گھبراتے ہیں گھبرایا کریں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%85%D8%B3%DB%8C%D8%AD%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%DB%81%DB%8C_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیے\nشمع کشتہ ہوں فنا میں ہے بقا میرے لیے\n\nزندگی میں تو نہ اک دم خوش کیا ہنس بول کر\nآج کیوں روتے ہیں میرے آشنا میرے لیے\n\nکنج عزلت میں مثال آسیا ہوں گوشہ گیر\nرزق پہنچاتا ہے گھر بیٹھے خدا میرے لیے\n\nتو سراپا اجر اے زاہد میں سرتاپا گناہ\nباغ جنت تیری خاطر کربلا میرے لیے\n\nنام روشن کر کے کیونکر بجھ نہ جاتا مثل شمع\nنا موافق تھی زمانہ کی ہوا میرے لیے\n\nہر نفس آئینۂ دل سے یہ آتی ہے صدا\nخاک تو ہو جا تو حاصل ہو جلا میرے لیے\n\nخاک سے ہے خاک کو الفت تڑپتا ہوں انیسؔ\nکربلا کے واسطے میں کربلا میرے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%AF_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "خودمختار دوشیزہ", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "(انگلستان کی ایک جھلک)\n\n’’یہ کیا ہے؟‘‘ میں نے دوسرا گلاس ختم کرتے ہوئے پوچھا، ’’بولتی نہیں، یہ کیا ہے۔۔۔؟‘‘ اس کے سرخ ہونٹ دہکنے لگے۔ سارا چہرہ شرارت کے نور سے تلملا اٹھا۔ صاف و شفاف چہرے پر سرخی جھلکنے لگی۔ چہرہ مسرت آمیز جذبات کا آئینہ تھا۔ اس نے اپنے سرخی مائل سنہری بالوں کی خوبصورت اور پیچ در پیچ لٹ کو کان کے پاس کرتے ہوئے ساحرانہ انداز سے مسکراہٹ کو روکتے ہوئے، آنکھوں کو جھپکاتے ہوئے، اپنا سر میرے بالکل ہی قریب لا کر سر سے سر ملاتے ہوئے رازدارانہ، ساحرانہ، مکارانہ لہجہ میں، کپکپاتی ہوئی آواز سےآنکھوں سے آنکھیں ڈال کر، میرا بازو دباتے ہوئے اور خالی گلاس کو ایک انداز سے میری آنکھوں سے بچاتے ہوئے کہا، ’’ہے نہیں۔۔۔ پیارے احمق۔۔۔ ہے نہیں، بلکہ تھا!‘‘ گلاس الٹا کر کے رکھ دیا اور واقعہ یہ ہے کہ گلاس خالی تھا۔ اس میں اس وقت کچھ بھی نہ تھا میں نے کہا، ’’کیا تھا۔۔۔؟‘‘\n\nجاز کا نغمہ! خدا پناہ، قلب اور خون کو حرکت دینے والا۔ بیٹھے بٹھائے اس کی نپی تلی گت پر رگ رگ پھڑکتی ہے۔ ہم بال روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ سامنے پری وشوں کا مجمع۔ ہر ایک اپنے محبوب کے ساتھ حرکت میں تھا۔ پوئٹری آف موشن (Poetry of motion) جس کو ہمارے یہاں ناچ یا رقص کی ذلیل اصطلاح سے یاد کرتے ہیں! نہیں جانتے کہ جس وقت حرکات و سکنات نظامِ شعری کے ماتحت فن عروض و قوافی کی پابندی کے ساتھ راگنی کا ساتھ دیتے ہیں تو نتیجہ کتنا شیریں اور ہوش ربا ہوتا ہے۔\n\nمیرے سوال کا جواب اس نے یہ دیا کہ ’’جاز‘‘ کے دلربا ترنم کے ساتھ ساتھ وہ گانے لگی۔ اس قدر آہستہ کہ سوائے ایک ہلکے ترنم کے میں بھی کچھ نہ سن سکا۔ ایک ہلکی سی جھنجھناہٹ تھی۔ مسکراہٹ سے چہرہ دمک رہا تھا، آنکھوں میں غضب کی چمک تھی۔ یہ کمبخت ایک قسم کی ہلکی شراب تھی جس کا دوسرا گلاس میں ختم کر چکا تھا۔ شراب خود کہہ دیتی ہے کہ میں شراب ہوں۔ پہلے گلاس تک تو مجھے کہنےکو شبہ تھا، دوسرے گلاس پر یقین، مگر تجاہل عارفانہ سے کام لینا پڑا۔ وہ جانتی تھی کہ میں نے کبھی شراب نہیں پی اور نہ کبھی پیوں گا۔\n\nبہت جلد کمرے کا سین ایک رنگین و متزلزل خواب معلوم ہونے لگا۔ میرے حسین ہمدم کی خوبصورت تصویر آنکھوں کے ذریعے دل میں گھستی معلوم ہوئی۔ میرے ہاتھ میں اس کا ہاتھ تھا۔ وہ میرے سر سے سر جوڑے گویا میری آنکھوں میں غوطہ کھائے بیٹھی تھی۔ عطر سے مہک رہی، اس کی گرم گرم سانس میرے لیے کیا تھی! عجیب دلکش سماں تھا۔ سارا بال روم حسن اور نغمہ کے زور سے بھڑک رہا تھا۔ چشم زدن میں نغموں کی شیریں فضا میں بال روم جھومتا معلوم ہوا۔ بلور کی دلدوز برچھیاں نکلنے لگیں۔ ساز کے پردوں سے آتشیں لپٹ نکلتی معلوم ہوئی۔ میں نے اپنے دلنشیں دوست کو دیکھا۔ اس کی خوبصورت اور نشیلی آنکھوں میں سرور تھا اور میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔ جوانی۔۔۔ رعنائی۔۔۔ چہرے پر اس کے خفیف مسکراہٹ کی لرزش تھی اور نوجوان سینہ نغمے کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ دب دب کر ابھر رہا تھا۔\n\n’’آہ!‘‘ میں نے کہا، ’’پیارے دوست! تم کس قدر دلچسپ ہو۔‘‘ اس نے مسکرا کر کہا، ’’واقعی!‘‘ میں نےکہا، ’’میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘ میرا یہ کہنا تھا کہ گویا وہ مجھے جھپٹ لے گئی۔ ایک دم سے میری کمر میں ہاتھ ڈالا۔ ’’جاز‘‘ کی گت پراز خود ہم دونوں گویا ایک دوسرے کے آغوش میں۔۔۔ آہا آہا۔۔۔! رکتے ہوئے! تلملاتے۱چھلتے ہوئے گنگناتے چلے، گٹار کے نغموں پر۔۔۔ بنجو کے تاروں پر۔۔۔ لرزش سے، جھنجھناتے چلے۔۔۔ تھرکتے ہوئے۔۔۔ جھناجھن پر پنجہ جھٹکتے۔۔۔ سر کو پٹختے ہوئے۔۔۔ کشاکش میں کاندھے رگڑتے ہوئے۔۔۔ کپڑوں کی جھم جھم۔۔۔ چہروں کی چم چم۔۔۔ دمکتے ہوئے۔۔۔ چمکتے ہوئے۔۔۔ نور کی چتونوں سے جھپکتے۔۔۔! متحرک۔۔۔ متزلزل۔۔۔ لرزاں! رقصاں! افتاں! خیزاں! ساز کے ساتھ گٹکریاں کھاتے، گرہ لگاتے، زندہ دلوں کے متزلزل و متلاطم سمندر کے ہوشربا زیر و بم میں گم ہوگئے۔۔۔\n\nاللہ رے بے خودی! الامان! خدا محفوظ رکھے! خون میں حرکت! جی میں حرکت! دل میں حرکت! دماغ میں حرکت! خیال میں حرکت! خود مجسم حرکت۔ رقص نہیں بلکہ حرکت کاخون ’’جیز‘‘ کا قوی اور مضبوط دل نغمے کی طاقتور رشہ رگ کے ذریعہ ہر دھڑکن کے ساتھ پھینک رہا تھا، جو موجیں سی مارتا ہر شخص کو حرکت دیتا تھا۔ اسی دھڑکن سے ایک جنبش پیہم تھی! جنبش! نغمہ! حرکت! رقص! رقص! سارا بال روم مع ہمارے جھوم رہا تھا اور یہ حرکت کس قدر پرکیف، کس قدر شیریں، کس قدر دلربا اور دلکش تھی۔۔۔ کیا کہنا ہے، مشرق میں الو بولتا ہے۔ مغرب میں کیا ہے! ہندیوں سے یعنی ہم سے پوچھیے نہیں بلکہ کسی مولوی سے سہی کہ سجدہ کدھر منہ کر کے کریں۔۔۔!\n\nانگلستان کی جما دینے والی سردی تھی۔ غلیظ کہر اور ابر۔ کوئی بھلا مانس باہر نہیں نکل سکتا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ میں آتش دان کے سامنے بیٹھا صاحب خانہ سے دلچسپ باتیں کر رہا تھا۔ باتیں۔ معلوم ہوا کہ کوئی صاحب باہر مجھ سے ملنے آئے ہیں۔ اندر نہیں آتے۔ بس کھڑے کھڑے مل لیں گے۔ میں نے کہا کون ہے تو معلوم ہوا کوئی بڈھا خبطی۔ میری زبان سے نکلا، ’’بڈھا۔‘‘ اور میں اٹھا۔\n\nکوئی ساٹھ برس یا حد پینسٹھ کی عمر ہوگی، کتھئی رنگ کا سوٹ پہنے ایک طوفان زدہ نائٹ کیب۔ چہرہ سرخ مگر ناک اور بھی سرخ انگارہ، مونچھیں سفید مگر پائپ کے تمباکو کے دھوئیں نے بھورا کر دیا تھا۔ پتلون ٹانگوں سے مع مبالغہ ڈیڑھ گز بڑا، جس کی وجہ سے معلوم ہو کہ اس شخص کی ہرٹانگ میں کئی گھٹنے ہیں، نہ سہی، یہ تو کم از کم گھٹنے کا محل وقوع تو معلوم کرنے میں قطعی دشواری ہو۔ آنکھیں نیلی۔ چہرہ باوجود بڑھاپے کے خوبصورت۔ ناک و نقشہ بھی پاکیزہ۔ کشیدہ قامت چہرہ۔ نہایت ہی رکھائی سے بات چیت ہوئی۔ بڑے میاں نے میرے نام کی مجھ سے تصدیق چاہی اور میں نے اثبات میں جواب دیا تو ذرا چہرہ کو سنجیدہ بنا کر انہوں نے انتہائی ’’انگلش‘‘ سادگی سے کہا (جو کچھ کہا میں اس کا ترجمہ پیش کرنےکی کوشش کرتا ہوں ورنہ اصل لطف تو انگریزی ہی میں ممکن تھا۔ ) خیر وہ ولے، ’’لک ہیئر بوائے! تمہاری محبوبہ کون ہے؟ کیا میں اس کا نام معلوم کر سکتا ہوں؟‘‘\n\nمیں حقیقت کی تہہ کو پہنچ گیا۔ میں نے کہا، ’’جناب من۔ معاف کیجیے گا۔ میری کوئی مجبوبہ نہیں۔ ہاں میری دوست ملنے والی کئی خوبصورت لڑکیاں ہیں۔‘‘\n\n’’جان میں کوئی خاص بھی ہے!‘‘ میں نے مکاری سے کہا، ’’سب خاص ہیں۔‘‘\n\n’’اولڈ بوائے۔‘‘ بڑے میاں جھلا کر بولے، ’’میں بھی کبھی تمہاری طرح نوجوان تھا اور۔۔۔ اور۔۔۔ مکار بھی۔ تمہاری ملنے والیوں میں کوئی سب سے زیادہ خوبصورت بھی ہوگی۔‘‘ میں نے عیاری سے کہا، ’’کوئی کسی کو خوبصورت خیال کرتا ہے اور کوئی کسی کو۔ یہ تو اپنی اپنی نظر ہے۔‘‘ بڑے میاں جھلا کر بولے، ’’میں ادھر ادھر کی باتیں نہیں کروں گا۔ سن لو کان کھول کر۔ میں ایملی کا باپ ہوں۔۔۔‘‘ بات کاٹ کر میں نے تصنع سے کہا، ’’اوہو! آپ میری پیاری دوست کے باپ مسٹر الیٹ ہیں۔ میں بے حد خوش ہوا۔ جناب کی خدمت میں نیاز۔۔۔‘‘ بڑے میاں خفا ہو کر بولے، ’’تم۔۔۔ تم اس کے ساتھ ساتھ گھومے شبستانوں میں۔۔۔ رات گئے تک۔۔۔‘‘\n\n’’معاف کیجیے گا۔ معاف کیجیے گا۔‘‘ میں نے کہا، ’’جی۔ جی۔ وہ میرے ساتھ ساتھ گھومتی ہیں۔ یہی مطلب ہے جناب کانا۔۔۔؟‘‘\n\n’’تم اسے جگہ جگہ لے جاتے ہو۔‘‘ میں نے کہا، ’’غالباً وہ مجھے جگہ جگہ لے جاتی ہیں۔ میں انہیں نہیں لے جاتا۔ یہ آپ نے کیسے فرمایا؟ میں ان کے ساتھ پھرتا ہوں یا وہ؟ وہ مجھے لے جاتی ہیں یا میں؟‘‘ بڑے میاں بولے، ’’خیر بات ایک ہی ہے، تو مطلب یہ ہے کہ میں یہ ہرگز نہیں پسند کرتا کہ میری لڑکی بغیر میری اجازت کے اجنبی لڑکوں کے ساتھ اس آزادی سے رات گئے تک گھومتی رہے۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ تم سے ملے۔ میں نہیں چاہتا کہ تم اسے جگہ جگہ لیے پھرو۔ ابھی مجھے کل ہی معلوم ہوا کہ ایک رقص کے جلسے میں وہ ضرورت سے زیادہ آزادی کے ساتھ تمہارے گلے میں بانہیں ڈالے کھڑی تھی۔۔۔ ناقابل برداشت ہے۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’جناب من۔ میں آپ کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں۔ آپ اگر اپنی صاحب زادی کو روکنا چاہتے ہیں تو بہتر ہے کہ آپ خود انہیں سے کہیے۔ غالباً آپ کا حق ان پر زائد ہے کہ وہ آپ کے احکام کی پابند ہوں۔ معاف کیجیے میرے اوپر آپ کی حکم برداری لازمی نہیں، آپ چاہتے ہیں کہ وہ مجھ سے نہ ملیں اور اپنے ساتھ مجھے جگہ جگہ نہ لیے پھریں۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ تجربہ کار ہو کر مجھے دبانا چاہتے ہیں، خود آپ کی لڑکی جب نہیں مانتی تو کیونکر آپ کے حکم کی تعمیل پر مجھ کو مجبور کیا جا سکتا ہے۔‘‘\n\nبڑے میاں جل کر بولے، ’’مگر تم اس کے ساتھ یہ حرکتیں جاری نہیں رکھ سکتے۔ تم میری بھولی بھولی لڑکی کوآوارہ کر دوگے۔‘‘ میں نے جل کر کہا، ’’قبلہ من میں کالا ہوں یا کہ وہ؟ میں خوبصورت ہوں کہ وہ؟ میں ان کو بگاڑ سکتا ہوں یا وہ مجھے؟ مجھے وہ احمق بنا سکتی ہیں یا میں ان کو؟ میں بھولا ہوں یا وہ؟ میں قابل الزام ہوں یا وہ۔۔۔؟ دیکھیے اور انصاف کیجیے۔۔۔‘‘\n\nیہ کہہ کر میں نے اپنے چچا صاحب قبلہ کا خط ان بڑے میاں کے ہاتھ میں دیا۔ شفیق چچا جن کی صاحب زادی کے دست حق پرست پر مجھ کو ابھی ایمان لانا باقی تھا۔ یہ خط انگریزی میں تھا۔ اس میں کیا لکھا ہوگا! اپنے ہونے والے داماد کو ایک شخص کیا لکھ سکتا ہے، جب کہ داماد ولایت میں ہو۔ اگر ان انگریز بڑے میاں کی حسین و دلربا صاحب زادی بھولی بھالی اور معصوم تھیں تو یہ خاکسار اپنے شفیق چچا کی نظروں میں معصوم تر تھا۔ چچا صاحب قبلہ کو بے حد اندیشہ تھا کہ کہیں یہ ناز نینانِ فرنگ مجھ بھولے بھالے اور معصوم نوجوان کو آوارہ نہ بنا دیں۔ ان کی چالاکیاں، عیاریاں، فریب کاریاں ایسی ہیں کہ یہ مغربی تیتریاں مجھے آوارہ کر دیں گی۔ لہٰذا مجھے ان سے بچنا چاہیے۔ اس بڈھے انگریز نے سب کا سب خط غور سے پڑھا۔ پائپ منہ سے نکال کر کرسی پر پیر رکھتے ہوئے بولا، ’’اہم۔۔۔ م۔۔۔ م۔۔۔‘‘ بھویں چڑھائیں۔ مجھ سے پوچھا، ’’یہ کون ہیں؟‘‘ میں نے جواب دیا، ’’یہ میرے چچا ہیں۔‘‘\n\n’’توکیا یہ سب یورپین لڑکیوں کو ایسا ہی سمجھتے ہیں؟‘‘\n\n’’میں کیا جانوں۔‘‘ میں نے بے پرواہی سے کہا۔\n\n’’مگر کیا یہ بہتر نہیں کہ تم ایملی سے اب نہ ملو۔ اب تو اور بھی نہ ملو۔‘‘ میں نے کہا؛ ’’بالفاظ دیگر وہ مجھ سے نہ ملیں۔ تو آپ ان کو بتاکید کہہ دیں کہ وہ مجھ سے نہ ملیں اور نہ مجھے جگہ جگہ لیے پھریں ورنہ آپ کا کیا خیال ہے۔۔۔ بالفرض میرے چچا آپ کی پیاری صاحب زادی کو لکھیں۔۔۔ آپ تو جانتے ہیں کہ وہ میری عزیز ترین دوست ہیں۔ میرا ان کا یہ رشتہ نہیں میں ان سے کہوں کہ۔۔۔‘‘\n\nبات کاٹ کر وہ بولے، ’’تم ہندوستانی لوگ۔۔۔‘‘ میں خاموش رہا۔ وہ بولے، ’’ہم لوگ ہندوستانیوں کو قطعی پسند نہیں کرتے۔‘‘\n\n’’اور ہندوستان کو؟‘‘\n\n’’ہندوستان بھی ناپسند ہے۔‘‘\n\n’’اور پھر ہماری چھاتی پر سوار ہو۔ جان چھوڑو نا ہماری۔۔۔‘‘\n\nبات کاٹ کر بولے، ’’کتنے ہندوستانی ہماری لڑکیوں سے میل رکھتے ہیں اور محبت کرتے ہیں اور پھر کتنے ان میں سے شادی کی نیت رکھتے ہیں اور پھر کتنے ان میں سے شادی کرتے ہیں۔ شاید دس فیصدی بھی ہماری لڑکیوں سے شادی نہیں کرتے۔ ارادہ ہی شادی کا نہیں رکھتے۔ پھر ایسی صورت میں ہماری لڑکیوں سے کیوں ملتے ہیں اور پھر وہ بھی کیسے؟ جیسے تم میری ایملی سے ملتے ہو۔۔۔ سخت اعتراض۔۔۔ قابل نفرت۔۔۔ ناقابل برداشت۔۔۔ کان کھول کر سن لو۔ یہ صورت حال جاری نہ رہنی چاہیے، میں سب سن چکا۔ بہتر ہے کہ آئندہ تم ایملی کے ساتھ نہ نظر پڑو۔۔۔‘‘\n\n’’بالفاظ دیگر وہ میرے ساتھ نظر نہ پڑیں۔ قطعی۔۔۔ ٹھیک۔۔۔ اس کا مناسب انتظام فرمائیں۔‘‘\n\n’’مائی لیڈ۔۔۔‘‘ برہم ہو کر بڈھے نے کہا، ’’تم جوان ہو اور میں بوڑھا ہوں، ورنہ ابھی تم کو معلوم ہو جاتا کہ راستی کیا ہوتی ہے۔ تم جذبات کا خیال نہیں کرتے۔ ایک بھولی بھالی لڑکی کو خراب کرنے کے درپے ہو۔۔۔‘‘ میں نے برا مان کر کہا، ’’غالباً اس قسم کے الفاظ سننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ قابل احترام بزرگ۔ آپ بچہ نہیں ہیں نہ آپ کی بچی بچہ ہے، وہ تعلیم یافتہ ہے، پڑھی لکھی ہے۔ آزاد ہے۔ خود مختار ہے۔ اپنا برا بھلا خود بہتر جانتی ہے۔ آپ نے اس کو سمجھایا اچھا کیا۔ نہیں مانتی؟ وہ خود جانے، آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ کی صاحب زادی صاحبہ ماشاء اللہ نہ صرف نوجوان اور خوبصورت ہیں بلکہ نہایت ہی سمجھدار، ہوشیار، عقلمند اور صائب الرائے ہیں۔ احمق نہیں ہیں اور اگر ہیں تو نہ میرے بس کی بات نہ آپ کے۔ یہ بھی آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ میرے اوپر آپ کا زور نہیں چل سکتا۔ میں اپنے فعل کا خود مختار ہوں۔ آپ کو کوئی حق نہیں کہ مجھ سے ایسی باتیں کریں۔ اس سے کہیں بہتر ہے کہ براہ کرم جائیے اور معاملات پر ٹھنڈے دل سے غور کیجیے۔‘‘\n\nبڑے میاں کی حالت یہ سن کر غیر ہوگئی۔ بے بسی نے غصے کو دبانے پر مجبور کیا۔ ہونٹ چبا کر رہ گئے۔ تاؤ کھا کر رہ گئے۔ گھٹ کر رہ گئے۔ کہنے لگے، ’’والٹرآئے گا تب وہ تم سے ہندوستانی طریقے سے معاملہ فہمی کرے گا اور جب ہی تم راہ راست پر آؤگے۔‘‘ میں نے کہا، ’’خوش آمدید۔ خوش آمدید۔ مسٹر والٹر کو خوش آمدید۔ میں ہمیشہ معاملہ فہمی کے لیے تیار ہوں۔‘‘\n\n’’غالباً تم اس تکلیف کا خیال نہ کروگے۔‘‘\n\n’’اوہ!‘‘ میں نے معذرت کو قبول کرتے ہوئے کہا، ’’ہرگز نہیں۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔‘‘\n\n’’خداحافظ۔۔۔‘‘\n\n’’خداحافظ۔۔۔‘‘\n\nمجھے غالباً اس انگریز بڈھے سے ہمدردی تھی۔ ایک گونہ تکلف کے ساتھ اپنی کرخت اور گٹھیاوی ٹانگوں سے چلا جا رہا تھا۔ دھواں چھوڑتا ہوا میں اس کو دیکھتا رہا۔ حتی کہ وہ سڑک پر کہرے کے دھند میں غائب ہو گیا۔\n\nواقعے کے کوئی دو ہفتہ بعد کا ذکر ہے کہ ایملی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے میں پارک کی طرف جا رہا تھا۔ ایک دم سے ہمارا راستہ ایک تنومند نوجوان نے سامنے سے روک لیا۔ ایملی ایک دم سے ذرا پیچھے ہو گئی۔ یہ شخص نہایت ہی وجیہ، متناسب الاعضا، دھاری دار، وضع دار سوٹ پہنے، ذرا ترچھی ٹوپی لگائے، اپنی کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوگیا۔ لڑکی کی طرف انگلی اٹھا کر مجھ سے بولا، ’’تم جانتے ہو یہ تمہاری ساتھی لڑکی کون ہے۔۔۔؟ تم جانتے ہو کہ یہ تمہارے ساتھ کون احمق لڑکی ہے۔۔۔؟ (رک کر) میری بہن ہے۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’تو پھرمیں کیا کروں؟‘‘\n\n’’میں کیا کروں۔۔۔! کیا میں بتاؤں کہ تمہیں کیا کرنا چاہیے؟‘‘\n\n’’بہتر ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’گو میں خود بتاتا ہوں۔‘‘ (میں نے طنزیہ لہجے میں کہا) ’’مگر ہاں آپ بتائیں اور ضرور بتائیں۔‘‘\n\n’’تم اس وقت اسے کہاں لیے جاتے ہو؟‘‘ وہ چیخ کر بولا۔ میں نے کہا، ’’بالفاظ دیگر یہ مجھے اس وقت کہاں لیے جا رہی ہیں۔۔۔؟ شاید یہ خود بتا سکیں۔‘‘\n\n’’یہ فرض آپ کا ہے نہ کہ اس احمق لڑکی کا۔‘‘ وہ ذرا زور دے کر بولا۔ میں نے کہا، ’’جناب من! مجھے اپنے تمام فرائض کا نہ صرف علم بلکہ احساس بھی ہے اور غالباً ان فرائض کی سبکدوشی کے بارگراں سے آپ کے کندھوں کو دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔۔۔ ویسے آپ کی مرضی مگر غالباً ہم دونوں اس موقعے پر کوئی عملی ’’بدمزگی‘‘ کے خوشگوار امکان پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘‘\n\n’’مگر آپ پر واضح ہو جانا چاہیے کہ یہ بیوقوف لڑکی میری چھوٹی بہن ہے۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’واضح ہو گیا۔‘‘\n\n’’اچھا۔ تو پھر میں تم سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ تم اسے روز کیوں لیے پھرتے ہو۔‘‘\n\n’’پھر وہی!‘‘ میں نے کہا، ’’بالفاظ دیگر یہ مجھے روز کیوں لیے پھرتی ہیں؟ شاید کہ یہ خود بتا سکیں۔‘‘ وہ بولے، ’’اچھا یوں ہی سہی تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے ہندوستانیوں سے نفرت ہے۔‘‘ (منہ بگاڑ کر۔ ) میں نے کہا، ’’میں دوستانہ مشورہ دیتا ہوں کہ آئندہ آپ قابل نفرت ہندوستانیوں سے بات بھی نہ کریں بلکہ اسی دم اس پر عمل درآمد کریں۔ کیا آپ ایسا نہ کریں گے؟‘‘ وہ تیز ہو کر بولے، ’’لک ہیئر (اِدھر دیکھو) میں اس قسم کی گفتگو کا عادی نہیں ہوں۔ بس خیریت اسی میں ہے۔۔۔ یہ راستہ ہے واپسی کا (انگلی اٹھا کر) سیدھے، تیر کی طرح بھاگ جاؤ۔۔۔ کوئک مارچ! بھاگو۔۔۔‘‘\n\nاس کی غصے سے آنکھیں لال ہو گئیں۔ نوجوان انگریز سخت غضبناک تھا۔ مگر خوش قسمتی سے انگریز جتنا مضبوط اور توانا ہوتا ہے اسی مناسبت سے ’’وہسکی‘‘ بھی پئے رہتا ہے۔ یہ انگریز بھی تھے اور مضبوط بھی۔ پھر میں بھی مٹی کا بنا ہوا نہیں تھا، مگر حق اس کی طرف تھا۔ میں حتی الوسع دبنا ہی چاہتا تھا۔ لہٰذا میں نے یہ بدمستی ان کی برداشت کی اور کہا، ’’مائی لارڈ۔ آپ کا زور بیان سر آنکھوں پر۔ مگر کیا میں عرض نہیں کر سکتا کہ ان الفاظ کو آپ واپس لیں۔ بجائے مجھے حکم دینے کے بہتر ہے کہ آپ اپنی دلچسپ اور شیریں بہن کو حکم دیں کہ وہ آپ کے ساتھ چلی جائیں۔ یہ سیدھا راستہ ہے۔۔۔‘‘\n\n’’میں یہیں کھڑا رہنا، تنہا کھڑا رہنا زیادہ پسند کروں گا۔ آپ جائیں دونوں بھائی بہن، کوئک مارچ۔۔۔‘‘\n\nیہ بات ان کے انگریزی دماغ میں آگئی اور فوراً بہن سے بولے، ’’کم آن ایملی۔‘‘ بہن صاحبہ خاموش رہیں، مگر ایک قدم اور پرے ہٹ گئیں۔\n\n’’ڈونٹ بی سیلی۔۔۔‘‘ (احمق پن نہ کرو) وہ بولے۔ بہن بولی، ’’کانٹ یولک ٹو یور اون افیرز۔‘‘ (کیا تم خود اپنے معاملات میں مشغول ہونا پسند نہ کرو گے۔“)، (بہ نسبت اس کے کہ میرے معاملات میں دخل دو۔) تن کر بولے، ’’اب زیادہ احمق نہ بنو۔۔۔ شمپین پی پی کر، مدہوش ہو کر، حبشیوں کے ساتھ ناچنا قطعی قابل اعتراض ہے۔‘‘ برہم ہو کر بہن بولی۔ ذرا چیخ کر، ’’کانٹ یولک ٹو یور اون افیئرز لیو می الون۔‘‘ (مجھے چھوڑو اور اپنے معاملات دیکھو۔ )\n\nبہن سے شکست کھا کر اب بھائی صاحب بہادر میری طرف پھر متوجہ ہوئے۔ بولے، ’’غالباً اب تم کچھ ٹھوس اور مادی چیز پسند کروگے۔‘‘ اپنی مٹھی کا گھونسا بناتے ہوئے سر ہلا کر بولا۔ میں نے کہا، ’’ضرور۔ مادی بھی اور غیر فانی بھی۔‘‘ اتنا کہہ کر میں اڑنگا لگانے کے امکان کی طرف متوجہ ہوا۔ غضب ناک انگریز نے کچکچا کر گھونسا مارا۔ ایک۔ دو۔ تین۔ پہلا خالی گیا۔ دوسرا میرے کندھے پر اوچھا سا لگا۔ تیسرا اس کی بہن نے پکڑ لیا اور وہ بھائی سے لپٹ پڑی۔ میرے اور اپنے بھائی کے بیچ میں آگئی۔ اس کے بھائی کا قابل اعتراض رویہ در اصل ایک انگریز دوشیزہ کی غیور طبیعت کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ خود غور فرمائیے۔ کیا اس کے نوجوان ملنے والوں کا یہی حشر ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر انگلش سوسائٹی کا نظام ہی برہم ہو جائے گا۔ ہر عاشق شادی سے قبل دوران کورٹ شپ ہی میں پٹ جائے! یہ پروگرام تو سخت ’’اَن انگلش‘‘ ہوا۔\n\nاس نے بگڑ کر بھائی سے کہا، ’’والٹر۔ یہ ناقابل برداشت ہے۔ بس۔ خبردار جو میرے معاملات میں دخل دیا۔‘‘\n\n’’مت بکو تم۔‘‘ بھائی نے پیر پٹخ کر کہا، ’’یہ کالا حبشی۔۔‘‘\n\n’’پھر تم کون؟‘‘ بہن چمک کر بولی، ’’کیوں کیا تم ایمانداری سے کہہ سکتے ہو کہ تم سے تمہاری محبوبہ کے باپ نے کتنی دفعہ تاکید سے کہا ہے کہ میری لڑکی سے نہ ملو۔‘‘\n\n’’تو پھر؟‘‘ والٹر نے کہا۔\n\n’’کیا تم نے اس یہودی صفت ہونے والے خسر سے یہی نہیں کہہ دیا کہ منع کر لو اپنی لڑکی کو اور کیا وہ مان گئی؟ کیا وہ اب تم سے نہیں ملتی۔ کیا وہ تمہاری زوجہ نہیں بنے گی؟ کیا تمہارا ہونے والا خسر تم سے نہیں ہار گیا؟‘‘\n\nوالٹر نے کہا، ’’تو پھر تمہارا کیا مطلب ہے؟‘‘\n\n’’مطلب میرا یہ ہے کہ تم جاؤ یہاں سے۔‘‘\n\nوالٹر نے کہا، ’’تمہارے اس سیاہ فام دوست (یعنی خاکسار) کا سر پھاڑنے سے قبل؟‘‘\n\nمیں نے احتجاج بلند کیا، ’’تم اپنے بھائی کو منع کرو۔‘‘ باوجود یکہ اس سے بھی زیادہ توہین آمیز الفاظ سننے کے لیے میں تیار تھا، لیکن میں نے ایملی سے کہا، ’’میں اب برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘ والٹر نے میری طرف حقارت آمیز نظر ڈالتے ہوئے کہا، ’’میں اپنی بہن کو ایک سیاہ فام انسان کے ساتھ معاشقہ کرتے کیسے دیکھ سکتا ہوں۔ میرے لیے تو یہ ناقابل برداشت ہے۔‘‘ تیز ہو کر ایملی بولی، ’’والٹر تم اپنی زبان کو روکو۔ میں ہرگز کسی سے معاشقہ نہیں کرتی اور کروں تو مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔ میں تمہاری طرح ریاکار نہیں ہوں۔ میں معاشقہ کروں گی تو مجھے کس کا ڈر ہے۔ بہتر ہے کہ تم اپنی زبان کو لگام دو۔ میرا کوئی عزیز دوست لازمی نہیں کہ میرا عاشق بھی ہو اور اگر بالفرض ہو بھی تو تم درمیان میں نہ پڑو۔‘‘ والٹر نے کہا، ’’تمہارا کالا جنگلی دوست۔۔۔‘‘\n\nمیں تڑپ کر تیزی سے آگے بڑھا۔ گویا حملہ کروں گا، مگر ایملی نےمجھے روک لیا۔ اس نے جھلا کر بھائی سے کہا، ’’تمہاری عقل میں کچھ فتور ہے۔ والٹر تم اپنی ’وہسکی‘ میں پانی زیادہ ملا کر پیا کرو۔۔۔ بہتری اب اسی میں ہے کہ تم جاؤ اپنے رستہ۔ مگر نہیں! لو ہم خود جاتے ہیں۔۔۔‘‘ ہم دونوں اس لڑاکا والٹر کو وہیں چھوڑ کر واپس چلے۔ وہ خاموش کھڑا تھا۔ کھڑا رہا۔ جیب میں ہاتھ ڈالے۔ وہسکی کی ترنگ میں کھڑا جھوم رہا تھا۔ ہمیں دونوں کو جاتےدیکھ رہا تھا۔ دیکھتا رہا۔ مڑمڑ کر ہم نے اسے دیکھا۔ ہنسے اور ہنس ہنس کر اسے دیکھا۔ قہقہے لگائے۔ جب ذرا دور نکل گئے تو ا یک دفعہ پھر مڑ کر دیکھا۔ ایک دم سے ایملی رک گئی۔ مڑ کر اس نے پکارا، ’’والٹر۔۔۔ والٹر۔۔۔ صلح کرتے ہو۔ صلح۔ صلح۔۔۔ کرتے ہو؟‘‘\n\nسرہلا کر والٹر نے کہا، ’’نو۔۔۔ و۔۔۔‘‘ (انگلی کے جھٹکے سے اپنی بیزاری ظاہر کرتے ہوئے۔ ) ایملی نے کہا، ’’میں تمہاری منگیتر کے باپ کو کنجوس نہ کہوں گی۔۔۔‘‘ والٹر نے کہا، ’’نو۔۔۔ و۔۔۔‘‘\n\n’’والٹر دوبارہ سوچو، صلح کرتے ہو؟‘‘ والٹر نے پھر وہی جواب دیا، ’’نو۔۔۔ و۔۔۔ و۔۔۔ بھاگ جاؤ۔۔۔‘‘ ایملی نے کہا، ’’میں پھر اسے (والٹر کی منگیتر کو) ہر جگہ چھپکلی کہوں گی۔۔۔‘‘ والٹر نے گھبرا کر کہا، ’’تم ہرگز ایسا نہیں کر سکتیں۔‘‘ (آگے بڑھ کر) ’’تم اسے کئی آدمیوں کے سامنے خوبصورت تسلیم کر چکی ہو۔ وعدہ کر چکی ہو کہ چھپکلی نہ کہو گی۔ اس کی شہادت موجود ہے۔‘‘\n\n’’مگر میں اسے چھپکلی ضرور کہوں گی۔‘‘\n\nوالٹر آگے بڑھتے ہوئے، ’’تمہاری اس ناشائستہ حرکت سے اس کے نازک دل کو صدمہ پہنچنے کا سخت اندیشہ ہے۔ تم ہرگز ایسا نہیں کر سکتیں۔ بھلا سوچو تو اس کا باپ کیا کہے گا، دل میں وہ کیا سوچے گی۔‘‘\n\n’’مگر میں اسے چھپکلی ضرور کہوں گی۔۔۔ اس کے باپ کو منحوس اور کنجوس کہوں گی۔‘‘ والٹر اور آگے بڑھ چکا تھا۔ کہنے لگا، ’’میری پیاری بہن۔ کیا تو ابھی ابھی صلح کرنے کو نہیں کہہ رہی تھی۔ یہ تجھے کیا ہوگیا؟‘‘\n\n’’پیارے والٹر صلح کرتے ہو؟‘‘\n\n’’ہم لڑے کب تھے؟‘‘ والٹر نے کہا۔ میری طرف اشارہ کرکے ایملی نے والٹر سے کہا، ’’پیارے بھائی۔ کیا تم میرے دوست سے تعارف حاصل نہ کروگے۔‘‘\n\n’’افوہ!‘‘ انگریز کی سادہ لوحی یا شراب کے نشے، ان دونوں میں سے ایک پر ضرور قربان جائیے! یہ مسخرا والٹر مجھ سے سچ مچ صاف دل ہو کر مصافحہ کر رہا تھا۔ میں نے غور سے دیکھا۔ واقعی اس کا دل کینہ سے پاک تھا۔\n\n’’غالباً ہم بہترین دوست ہیں۔‘‘ چلتے ہوئے والٹر نے کہا۔\n\n’’اوہو!‘‘ میں نے کہا، ’’قطعی۔ اس میں شک کی گنجائش کسی طرف سے نہیں۔‘‘ ایملی نے بھائی سے کہا، ’’غالباً ہم دونوں خود مختار اور سمجھدار ہیں اور اپنے معاملات کو خود بہتر سمجھتے ہیں۔‘‘\n\nوالٹر نے اس کو تسلیم کیا۔ والٹر اپنی راہ چلا گیا اور ہم۔ ہم دونوں؟ نہ پوچھیے جی میں آتا تھا کہ اس دلچسپ واقعہ کی نوعیت پر غور کریں اور قلا بازیاں کھائیں۔ سیدھے ہم دونوں ہوٹل پہنچے، ناشتہ کیا اور پھر وہاں سے ایک جوئے گھر کے مشاغل کو بنظر استحسان دیکھتے ہوئے بال روم کے دروازے تک تو اپنے پیروں پر رہے اور پھر اندر داخل ہوتے ہی ’’جاز‘‘ کے نغموں کی حرکت کی وجہ سے سر کے بل۔۔۔!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF%D9%85%D8%AE%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%B2%DB%81"} {"title": "خودکشی کا اقدام", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "اقبال کے خلاف یہ الزام تھا کہ اس نے اپنی جان کو اپنے ہاتھوں ہلاک کرنے کی کوشش کی، گو وہ اس میں ناکام رہا۔ جب وہ عدالت میں پہلی مرتبہ پیش کیا گیا تو اس کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ موت سے مڈبھیڑ ہوتے وقت اس کی رگوں میں تمام خون خشک ہو کر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے اس کی تمام طاقت سلب ہوگئی ہے۔\n\nاقبال کی عمر بیس بائیس برس کے قریب ہوگی مگر مرجھائے ہوئے چہرے پر کھنڈی ہوئی زردی نے اس کی عمر میں دس سال کااضافہ کر دیا تھا اور جب وہ اپنی کمر کے پیچھے ہاتھ رکھتا تو ایسا معلوم ہوتا کہ وہ واقعی بوڑھا ہے۔ سنا گیا ہے کہ جب شباب کے ایوان میں غربت داخل ہوتی ہے تو تازگی بھاگ جایا کرتی ہے۔ اس کے پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑوں سے یہ عیاں تھا کہ وہ غربت کا شکار ہے اور غالباً حد سے بڑھی ہوئی مفلسی ہی نے اسے اپنی پیاری جان کو ہلاک کرنے پر مجبور کیا تھا۔\n\nاس کا قد کافی لمبا تھا جو کاندھوں پر ذرا آگے کی طرف جھکا ہوا تھا۔ اس جھکاؤ میں اس کے وزنی سر کو بھی دخل تھا جس پر سخت اور موٹے بال، جیل خانے کے سیاہ اور کھر درے کمبل کا نمونہ پیش کررہے تھے۔ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں جو بہت گہری اور اتھاہ معلوم ہوتی تھیں۔ جھکی ہوئی نگاہوں سے یہ پتا چلتا تھا کہ وہ عدالت کے سنگین فرش کی موجودگی کو غیر یقینی سمجھ رہا ہے اور یہ ماننے سے انکار کر رہا ہے کہ وہ زندہ ہے۔ ناک پتلی اور تیکھی ، اس کے ماتھے پر تھوڑا سا چکنا میل جما ہوا تھا جس کو دیکھ کر زنگ آلود تلوار کا تصور آنکھوں میں پھر جاتا تھا۔ پتلے پتلے ہونٹ جو کناروں پر ایک لکیر بن کر رہ گئے تھے، آپس میں سلے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ شاید اس نے ان کو اس لیے بھینچ رکھا تھا کہ وہ اپنے سینے کی آگ اور دھوئیں کو باہر نکالنا نہیں چاہتا تھا۔\n\nمیلے پائجامے میں اس کی سوکھی ہوئی ٹانگیں اوپر کے دھڑکے ساتھ اس طرح جڑی ہوئی تھیں کہ معلوم ہوتا تھا دو خشک لکڑیاں تنور کے منہ میں ٹھنسی ہوئی ہیں۔ سینہ چوڑا چکلا تھا مگر ہڈیوں کے ڈھانچے پر، جس کی پسلیاں پھٹے ہوئے گریبان میں سے جھانک رہی تھیں، گوشت سانولے رنگ کی جھلی معلوم ہوتا تھا ،سانس کی آمد و شد سے یہ جھلی بار بار پھولتی اور دبتی تھی۔\n\nپیروں میں کپڑے کا جاپانی جوتا تھا جو جگہ جگہ سے بے حد میلا ہورہا تھا۔ دونوں جوتے انگوٹھوں کے مقام پر سے پھٹے ہوئے تھے۔ ان سوراخوں میں سے اس کے انگوٹھوں کے بڑھے ہوئے ناخن نمایاں طور پر نظر آرہے تھے ۔وہ کوٹ پہنے ہوئے تھا جو اس کے بدن پر بہت ڈھیلا تھا، اس میلے اور سال خوردہ کوٹ کی خالی پھٹی ہوئی جیبیں بے جان مردوں کی طرح منہ کھولے ہوئے تھیں۔\n\nوہ کٹہرے کے ڈنڈے پر ہاتھ رکھے اور سر جھکائے جج کے سامنے بالکل خاموش اور بے حس و حرکت کھڑا تھا۔\n\n’’تم نے ۲۰ جون کو ہفتے کے دن مانا نوالہ اسٹیشن کے قریب ریل کی پٹری پر لیٹ کر اپنی جان ہلاک کرنے کی کوشش کی اور اس طرح ایک شدید جرم کے مرتکب ہوئے۔‘‘ جج نے ضمنی کاغذات پڑھتے ہوئے کہا، ٗ’’بتاؤ، یہ جرم جو تم پر عائد کیا گیا ہے کہاں تک درست ہے؟‘‘\n\n’’جرم!‘‘ اقبال اپنے گہرے خواب سے گویا چونک سا پڑا لیکن فوراً ہی اس کا وزنی سر جو ایک لمحے کے لیے اٹھا تھا، پھر بیل کی پتلی ٹہنی کے بوجھل پھل کی طرح لٹک گیا۔\n\n’’بتاؤ،یہ جرم جو تم پر عائد کیا گیا ہے کہاں تک درست ہے؟‘‘ جج نے سکول کے استاد کی طرح وہی سوال دہرایا جو وہ اس سے پہلے ہزار ہا لوگوں سے پوچھ چکا تھا۔ اقبال نے اپنا سر اٹھایا اور جج کی طرف اپنی بے حس آنکھوں سے دیکھنا شروع کر دیا، پھر تھوڑی دیر کے بعد دھیمے لہجے میں کہا، ’’میں نے آج تک کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔‘‘\n\nعدالت کے کمرے میں کامل سکوت طاری تھا ،شاید اس کا باعث اقبال کا دشت نما سراپا تھا جس میں بلا کی ہیبت تھی ، جج اس کی نگاہوں کے خوف ناک خلا سے خوف کھا رہا تھا۔ کورٹ انسپکٹر نے، جو جنگلے سے باہر بلند کرسی پر بیٹھا تھا، کمرے کے سکوت کے دہشت ناک اثر کو دور کرنے کے لیے یوں ہی دو تین مرتبہ اپنا گلا صاف کیا۔ ریڈر نے، جو پلیٹ فارم پر بچھے ہوئے تخت پر، جج کے قریب بیٹھا تھا، مثلوں کے کاغذات ادھر ادھر رکھتے ہوئے اپنی پریشانی اور ڈر دور کرنے کی سعی کی۔\n\nجج نے ریڈر کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا اور ریڈر نے کورٹ انسپکٹر کی طرف اور کورٹ انسپکٹر جواب میں اپنا حلق صاف کرنے کے لیے دو مرتبہ کھانسا۔ جب کمرے کا خوف آمیز سکوت ٹوٹا تو جج نے میز پر کہنیاں ٹکا کر سامنے پڑے ہوئے قلم دان کے ایک خانے میں سے لوہے کی چمکتی ہوئی پن نکال کر اپنے دانتوں کی ریخ میں گاڑتے ہوئے اقبال سے کہا، ’’کیا تم نے خودکشی کا اقدام کیا تھا؟‘‘\n\n’’جی ہاں!‘‘ یہ جواب اقبال نے ایسے لہجے میں دیا کہ اس کی آواز ایک لرزاں سرگوشی معلوم ہوئی۔ جج نے فوراً ہی کہا، ’’تو پھر اپنے جرم کا اقبال کرتے ہو؟‘‘\n\n’’جرم!‘‘ وہ پھر چونک پڑا اور تیز لہجے میں بولا، ’’آپ کس جرم کا ذکر کررہے ہیں؟ اگر کوئی خدا ہے تو وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ میں ہمیشہ اس سے پاک رہا ہوں۔‘‘\n\nجج نے اپنے لبوں پر زور دے کر ایک بیمار مسکراہٹ پیدا کی، ’’تم نے خودکشی کا اقدام کیا اور یہ جرم ہے۔ اپنی یا کسی غیر کی جان لینے میں کوئی فر ق نہیں۔ ہر صورت میں وار انسان پر ہوتا ہے۔‘‘\n\nاقبال نے جواب دیا، ’’اس جرم کی سزا کیا ہے؟ یہ کہتے ہوئے اس کے پتلے ہونٹوں پر ایک طنزیہ تبسم ناچ رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سان پر چاقو کی دھار تیز کرتے وقت چنگاریوں کی پھوار گر رہی ہے۔ جج نے جلدی سے کہا، ’’ایک، دو یا تین ماہ کی قید۔۔۔‘‘\n\nاقبال نے یہی لفظ تول تول کر دہرائے، گویا وہ اپنے پستول کے میگزین کی تمام گولیوں کو بڑے اطمینان سے ایک نشانے پر خالی کرنا چاہتا ہے، ’’ایک دو یا تین ماہ کی قید۔۔۔!‘‘ یہ لفظ دہرانے کے بعد وہ ایک لمحہ خاموش رہنے کے بعد تیز و تند لہجے میں بولا، ’’آپ کاقانون صریحاً موت کو طویل بنانا چاہتا ہے، ایک آدمی جو چند لمحات کے اندر اپنی دکھ بھری زندگی کو موت کے سکون میں تبدیل کرسکتا ہے آپ اسے مجبور کرتے ہیں وہ کچھ عرصے تک اور دکھ کے تلخ جام پیتا رہے۔ جو آسمان سے گرتا ہے آپ اسے کھجور پر لٹکا دیتے ہیں، آگ سے نکال کر کڑاہی میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ کیا قانون اسی ستم ظریفی کا نام ہے؟‘‘\n\nجج نے بارعب لہجے میں جواب دیا، ’’عدالت ان فضول سوالات کا جواب نہیں دے سکتی۔ ‘‘\n\n’’عدالت ان فضول سوالات کا جواب نہیں دے سکتی، تو بتائیے وہ کن متین اور سنجیدہ سوالوں کا جواب دے سکتی ہے؟‘‘ اقبال کے ماتھے پر پسینے کے سرد قطرے لرزنے لگے، ’’کیا عدالت بتا سکتی ہے کہ عدالت کے معنی کیا ہیں؟ کیا عدالت بتا سکتی ہے کے ججوں اور مسجد کے ملاؤں میں کیا فرق ہے جو مرنے والوں کے سرہانے رٹی ہوئی سورۂ یٰسین کی تلاوت کرتے ہیں؟ کیا عدالت بتا سکتی ہے کہ اس کے قوانین اور مٹی کے کھلونوں میں کیا فرق ہے۔۔۔؟ عدالت اگر ان فضول سوالوں کا جواب نہیں دے سکتی تو اس سے کہیے کہ وہ ان معقول سوالوں کا جواب دے؟‘‘\n\nجج کے تیوروں پر خفگی کے آثار نمودار ہوئے اور اس نے تیزی سے کہا، ’’اس قسم کی بے باکانہ گفتگو عدالت کی توہین ہے جو ایک سنگین جرم ہے۔‘‘\n\nاقبال نے کہا،’’تو گفتگو کا کوئی ایسا انداز بتائیے جس سے آپ کی نیک چلن عدالت کی توہین نہ ہو۔‘‘\n\nجج نے جھلا کر جواب دیا، ’’جو سوال تم سے کیا جائے صرف اسی کا جواب دو ، عدالت تمہاری تقریر سننا نہیں چاہتی۔‘‘\n\n’’پوچھیے! آپ مجھ سے کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟‘‘ اقبال کے چہرے پر یاس کی دھند چھارہی تھی اور اس کی آواز اس گجر کی ڈوبتی ہوئی گونج معلوم ہوتی تھی جو رات کی تاریکیوں میں لوگوں کو وقت سے باخبر رکھتا ہے۔ یہ سوال کچھ اس انداز سے کیا گیا تھا کہ جج کے چہرے پر گھبراہٹ سی پیدا ہو گئی اور اس نے ایسے ہی میز پر سے کاغذات اٹھائے اور پھر وہیں کے وہیں رکھ دئیے اور دانت کی ریخ میں سے پن نکال کر ،پن کشن میں گاڑتے ہوئے کہا، ’’تم نے اپنی جان لینے کی کوشش کی اس لیے تم ازروئے قانون مستو جب سزا ہو۔ کیا اپنی صفائی میں تم کوئی بیان دینا چاہتے ہو؟‘‘\n\nاقبال کے بے جان اور نیلے ہونٹ فرط حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے۔ اس نے کہا، ’’بیان! آپ کس قسم کا بیان لینا چاہتے ہیں؟ کیا میں سراپا بیان نہیں ہوں۔۔۔؟ کیا میرے گالوں کی ابھری ہوئی ہڈیا ں یہ بیان نہیں دے رہیں کہ غربت کی دیمک میرے گوشت کو چاٹتی رہی ہے۔۔۔؟ کیا میری بے نور آنکھیں یہ بیان نہیں دے رہیں کہ میری زندگی کی بیشتر راتیں لکڑی اور تیل کے دھوئیں کے اندر گزری ہیں؟ کیا میرا سوکھا ہوا جسم یہ بیان نہیں دے رہا کہ اس نے کڑے سے کڑا دکھ برداشت کیا ہے۔۔۔؟کیا میری زرد بے جان اور کانپتی ہوئی انگلیاں یہ بیان نہیں دے رہیں کہ وہ ساز حیات کے تاروں میں امید افزا نغمہ پیدا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔۔۔؟ بیان۔۔۔! بیان۔۔۔!صفائی کا بیان۔۔۔!کس صفائی کا بیان۔۔۔؟ میں اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر رہا تھا اس لیے کہ مجھے جینے کی خواہش نہ تھی اور جسے جینے کی خواہش نہ ہو، جوہر جینے والے کو تعجب سے دیکھتا ہو، کیا آپ اس سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ اس سنگین عمارت میں آ کر دو تین برس کی قید سے بچنے کے لیے جھوٹ بولے۔۔۔؟ جج صاحب آپ اس سے بات کررہے ہیں جس کی زندگی قید سے بد تر رہی ہے!‘‘\n\nجج پر زرد رو اقبال کی بے جوڑ جذباتی گفتگو کچھ اثر نہ کرسکی اور چار پانچ پیشیوں کی یک آہنگ سماعت کے بعد اسے دو ماہ قید محض کا حکم سنا دیا گیا۔ سزا کا حکم مجرم نے بڑے اطمینان سے سنا لیکن یکا یک اس کے استخوانی چہرے پر زہریلے طنز کے آثار نمودار ہوئے اور اس کے باریک ہونٹوں کے سرے بھنچ گئے، مسکراتے ہوئے اس نے جج کو مخاطب کر کے کہا:\n\n’’آپ نے مقدمے کی تمام کارروائی میں بہت محنت کی ہے جس کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ مقدمہ کی روئداد کو آپ نے جس نفاست سے ان لمبے لمبے کاغذوں پر اپنے ہاتھوں سے ٹائپ کیا ہے وہ بھی داد کے قابل ہے اور آپ نے بات بات میں تعزیرات کی بھاری بھر کم کتاب سے دفعات کا حوالہ جس پھرتی سے دیا ہے اس سے آپ کے حافظے کی خوبی کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ قانون ،جہاں تک میں نے اندازہ کیا ہے، ایک پردہ نشین خاتون ہے جس کی عصمت کے تحفظ کے لیے آپ لوگ مقرر کیے گئے ہیں اور مجھے اعتراف ہے کہ آپ نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا ۔مگر مجھے افسوس ہے کہ آپ ایک ایسی عورت کی حفاظت کررہے ہیں جسے ہرچالاک آدمی اپنی داشتہ بنا کر رکھ سکتا ہے۔‘‘\n\nیہ لفظ عدالت کی توہین خیال کیے گیے اور اس جرم کے ارتکاب میں اقبال کی زندانی میں دو ماہ اور بڑھا دیے گئے۔ یہ حکم سن کر اقبال کے پتلے ہونٹوں پر پھر مسکراہٹ پیدا ہوئی۔\n\nاقبال نے زیرِ لب کہا، ’’پہلے دو ماہ تھے، اب چار ہوگئے‘‘ اور پھر جج سے مخاطب ہو کر پوچھا، ’’آپ کو تعزیرات ہند کی تمام دفعات از بریاد ہیں۔ کیا آپ مجھے کوئی اسی توہین کی قسم کا بے ضرر جرم بتا سکتے ہیں، جس کے ارتکاب سے آپ کی عدالت میری گردن جلاد کے حوالے کرسکے۔ میں اس دنیا میں زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ جہاں غریبوں کو جینے کے لیے ہوا کے چند پاکیزہ جھونکے بھی نصیب نہیں ہوتے اور جس کے بنائے قانون میری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ کیا آپ کا یہ قانون عجیب و غریب نہیں جس نے اس بات کی تحقیق کیے بغیر کہ میں نے خودکشی کا اقدام کیوں کیا، مجھے جیل میں ٹھونس دیا ہے۔۔۔؟مگر ایسے سوال پوچھنے سے فائدہ ہی کیا۔ تعزیراتِ ہند میں غالباً ان کا کوئی جواب نہیں۔‘‘\n\nاقبال نے اپنے تھکے ہوئے مردہ کاندھوں کو ایک جنبش دی اور خاموش ہوگیا۔ عدالت نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF%DA%A9%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%82%D8%AF%D8%A7%D9%85"} {"title": "خودی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "خودی کو نہ دے سیم و زر کے عوض\nنہیں شُعلہ دیتے شرر کے عوض\nیہ کہتا ہے فردوسیِ دیدہ وَر\nعجَم جس کے سُرمے سے روشن بصر\n“ز بہرِ درم تُند و بدخو مباش\nتُو باید کہ باشی، درم گو مباش”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C"} {"title": "خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں\nتُو آبجُو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں\n\nطلسمِ گُنبدِ گردُوں کو توڑ سکتے ہیں\nزُجاج کی یہ عمارت ہے، سنگِ خارہ نہیں\n\nخودی میں ڈُوبتے ہیں پھر اُبھر بھی آتے ہیں\nمگر یہ حوصلۂ مردِ ہیچ کارہ نہیں\n\nترے مقام کو انجم شناس کیا جانے\nکہ خاکِ زندہ ہے تُو، تابعِ ستارہ نہیں\n\nیہیں بہشت بھی ہے، حُور و جبرئیل بھی ہے\nتری نگہ میں ابھی شوخیِ نظارہ نہیں\n\nمرے جُنوں نے زمانے کو خوب پہچانا\nوہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں\n\nغضب ہے، عینِ کرم میں بخیل ہے فطرت\nکہ لعلِ ناب میں آتش تو ہے، شرارہ نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AD%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا\nخدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیا\n\nپیام زیر لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیا\nاشارہ پاتے ہی انگڑائی لی رہا نہ گیا\n\nہنسی میں وعدۂ فردا کو ٹالنے والو\nلو دیکھ لو وہی کل آج بن کے آ نہ گیا\n\nگناہ زندہ دلی کہیے یا دل آزاری\nکسی پہ ہنس لیے اتنا کہ پھر ہنسا نہ گیا\n\nپکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا\nخدا تھے اتنے مگر کوئی آڑے آ نہ گیا\n\nسمجھتے کیا تھے مگر سنتے تھے ترانۂ درد\nسمجھ میں آنے لگا جب تو پھر سنا نہ گیا\n\nکروں تو کس سے کروں درد نارسا کا گلہ\nکہ مجھ کو لے کے دل دوست میں سما نہ گیا\n\nبتوں کو دیکھ کے سب نے خدا کو پہچانا\nخدا کے گھر تو کوئی بندۂ خدا نہ گیا\n\nکرشن کا ہوں پجاری علی کا بندہ ہوں\nیگانہؔ شان خدا دیکھ کر رہا نہ گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B4%DB%81_%DA%86%DA%91%DA%BE%D8%A7_%D8%A2%D9%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "خودی کی تربیت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "خودی کی پرورش و تربیَت پہ ہے موقوف\nکہ مُشتِ خاک میں پیدا ہو آتشِ ہمہ سوز\nیہی ہے سِرِّ کلیمی ہر اک زمانے میں\nہَوائے دشت و شعیب و شبانیِ شب و روز!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D8%AA"} {"title": "خودی کی جلوَتوں میں مُصطفائی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "خودی کی جلوَتوں میں مُصطفائی\nخودی کی خلوَتوں میں کبریائی\nزمین و آسمان و کُرسی و عرش\nخودی کی زد میں ہے ساری خُدائی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%84%D9%88%D9%8E%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%8F%D8%B5%D8%B7%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "خودی کی خلوتوں میں گُم رہا مَیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "خودی کی خلوتوں میں گُم رہا مَیں\nخدا کے سامنے گویا نہ تھا مَیں\nنہ دیکھا آنکھ اٹھا کر جلوۂ دوست\nقیامت میں تماشا بن گیا مَیں!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%8F%D9%85_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%85%D9%8E%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خودی کی زندگی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی\nنہیں ہے سَنجر و طغرل سے کم شکوہِ فقیر\nخودی ہو زندہ تو دریائے بے کراں پایاب\nخودی ہو زندہ تو کُہسار پرنیان و حریر\nنِہنگِ زندہ ہے اپنے مُحیط میں آزاد\nنِہنگِ مُردہ کو موجِ سراب بھی زنجیر!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C"} {"title": "خودی کی شوخی و تُندی میں کبر و ناز نہیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "خودی کی شوخی و تُندی میں کبر و ناز نہیں\nجو ناز ہو بھی تو بے لذّتِ نیاز نہیں\n\nنگاہِ عشق دلِ زندہ کی تلاش میں ہے\nشکارِ مُردہ سزاوارِ شاہباز نہیں\n\nمِری نوا میں نہیں ہے ادائے محبوبی\nکہ بانگِ صورِ سرافیل دل نواز نہیں\n\nسوالِ مے نہ کروں ساقیِ فرنگ سے میں\nکہ یہ طریقۂ رِندانِ پاک باز نہیں\n\nہوئی نہ عام جہاں میں کبھی حکومتِ عشق\nسبب یہ ہے کہ محبّت زمانہ ساز نہیں\n\nاک اضطرابِ مسلسل، غیاب ہو کہ حضور\nمیں خود کہوں تو مری داستاں دراز نہیں\n\nاگر ہو ذوق تو خلوت میں پڑھ زبورِ عجم\nفغانِ نیم شبی بے نوائے راز نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D9%88%D8%AE%DB%8C_%D9%88_%D8%AA%D9%8F%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D9%88_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خودی کے زور سے دُنیا پہ چھا جا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "خودی کے زور سے دُنیا پہ چھا جا\nمقامِ رنگ و بُو کا راز پا جا\nبرنگِ بحر ساحل آشنا رہ\nکفِ ساحل سے دامن کھینچتا جا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B2%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%8F%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%DB%81_%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریل", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریل\nاگر ہو عشق سے محکم تو صُورِ اسرافیل\n\nعذابِ دانشِ حاضر سے باخبر ہوں میں\nکہ مَیں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل\n\nفریب خوردۂ منزل ہے کارواں ورنہ\nزیادہ راحتِ منزل سے ہے نشاطِ رحیل\n\nنظر نہیں تو مرے حلقۂ سخن میں نہ بیٹھ\nکہ نُکتہ‌ہائے خودی ہیں مثالِ تیغِ اصیل\n\nمجھے وہ درسِ فرنگ آج یاد آتے ہیں\nکہاں حضور کی لذّت، کہاں حجابِ دلیل!\n\nاندھیری شب ہے، جُدا اپنے قافلے سے ہے تُو\nترے لیے ہے مرا شُعلۂ نوا، قندیل\n\nغریب و سادہ و رنگیِں ہے داستانِ حرم\nنہایت اس کی حُسینؓ، ابتدا ہے اسمٰعِیلؑ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%AA%D9%90_%D8%AC%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D9%84"} {"title": "خورشید رخوں کا سامنا ہے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خورشید رخوں کا سامنا ہے\nشبنم صفت آبرو ہوا ہے\n\nدل زخمیٔ عشق ہے سزا ہے\nبھر دوں جو نمک تو پھر مزا ہے\n\nاب تو دل اس پر آ گیا ہے\nاچھا ہے برا ہے یا بھلا ہے\n\nبین‌ العد میں آدمی ہے\nدنیا ایک بیچ کی سرا ہے\n\nایسی ہے ملاحت اس کے منہ پر\nرخسار کا سبزہ لو نیا ہے\n\nاکسیر ہے دل کی خاکساری\nکشتہ ہو جو نفس کیمیا ہے\n\nمنعم نہ کر اعتبار دولت\nاقبال کا قلب لا بقا ہے\n\nوہ دل نہ رہا جا ناز اٹھاؤں\nمیں بھی ہوں خفا جو وہ خفا ہے\n\nکم ہے جو ستم ہو تجھ پر اے دل\nبے رحم سے اور مل سزا ہے\n\nدل تم کو تو پھر کسی دن\nپیار کوئی تم سے بھی سوا ہے\n\nاچھی نہیں یہ خلش رقیبو\nکانٹے بو کر کوئی پھلا ہے\n\nہم دیکھیں مزے رقیب لوٹے\nیوں اس سے بھی تو کیا مزا ہے\n\nدم سینے سے کیوں نہیں نکلتا\nکیا جسم نزار خار پا ہے\n\nدولت سے کبھی نہ سیر ہوں گے\nشاہوں کو فقیر کی دعا ہے\n\nچھپتا نہیں کوئی اپنے دل میں\nآنکھوں میں وہی کھٹک رہا ہے\n\nاس رنج میں بھی نباہ دیں گے\nاپنا ابھی اتنا حوصلہ ہے\n\nاے بحرؔ غزل کہی جو تم نے\nیہ طرز کلام میرؔ کا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%D8%B1%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "خورشید رو کی صحبت جو اب نہیں تو پھر کب", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خورشید رو کی صحبت جو اب نہیں تو پھر کب\nشبنم کی طرح قربت جو اب نہیں تو پھر کب\n\nذرے کی طرح مجھ پر اک مہر کی نظر کر\nدیکھے وہ مہر طلعت جو اب نہیں تو پھر کب\n\nجوڑا ہے زعفرانی اس گل بدن کے بر میں\nخوش ہو مری طبیعت جو اب نہیں تو پھر کب\n\nآلودہ دامنی کو دھونے کو منتظر ہوں\nبارش دے ابر رحمت جو اب نہیں تو پھر کب\n\nاس باغ میں دو روزہ ہے عشق زندگانی\nگل کی طرح بشاشت جو اب نہیں تو پھر کب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%A8"} {"title": "خورشید رو کے آگے ہو نور کا سوالی", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خورشید رو کے آگے ہو نور کا سوالی\nکاسہ لیے گدا کا آیا ہے چاند خالی\n\nسناہٹا جدا ہے اور بے خودی نرالی\nہے میرے جی کے حق میں یہ ابر برس گالی\n\nمجنوں تو باؤلا تھا جن راہ لی جنگل کی\nسیانا وہی کہ جس نیں کہ شہر کی ہوا لی\n\nلوہو میں لوٹتا ہے بخت سیہ کا برجا\nکالی گھٹا میں زیبا لاگے شفق کی لالی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%88_%D9%86%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "خورشید رو کے مہر کی جس پر نگاہ ہو", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خورشید رو کے مہر کی جس پر نگاہ ہو\nطالع اسی کا خلق میں رخشندہ ماہ ہو\n\nدشمن ہیں دین و دل کے بتاں دیکھ بے خبر\nاس طرح کیجو ربط کہ جس میں نباہ ہو\n\nہرگز نہ عیب حسن کہے کس کے منہ پہ صاف\nکر آئینہ مرا دل روشن نگاہ ہو\n\nرہتا ہے دل تو اس کے زنخداں کے چاہ بیچ\nنیں ہے بعید اس کو بھی گر دل کی چاہ ہو\n\nآساں صراط حشر سے ہو ایک پل میں پار\nگر ساتھ عشق عاصیؔ کے فضل الہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%B3_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "خورشید فراق میں تپاں ہے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خورشید فراق میں تپاں ہے\nاے ذرہ نواز تو کہاں ہے\n\nکیوں روتے ہیں دیکھ دیکھ کر ہم\nیہ زلف سیہ ہے یا دھواں ہے\n\nمنہ دیکھ رہا ہوں اور چپ ہوں\nکیا بات کروں وہ بد زباں ہے\n\nاب منت باغباں عبث ہے\nپت جھڑ کے دن آ گئے خزاں ہے\n\nگلزار نہیں مقام عشرت\nبلبل پہ جفائے باغباں ہے\n\nگل کو بھی ہی کچھ غم نہاں نے\nغنچے کی چٹک نہیں فغاں ہے\n\nگردوں نے ہی سب کو مار رکھا\nجو زندہ بھی ہے وہ نیم جاں ہے\n\nیہ کاہکشاں نہیں سروں پر\nکھینچے ہوئے تیغ آسماں ہے\n\nکیا قیس سے ملتفت ہو لیلیٰ\nننگا ہے وہ ننگ خانداں ہے\n\nپروانے سے شمع کیا چھپے گی\nمیں بھی پوچھوں گا تو جہاں ہے\n\nدیکھا اے بحرؔ تیرا دیوان\nاک دفتر حال عاشقاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%BE%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "خورشید پہ جس وقت زوال آتا ہے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "خورشید پہ جس وقت زوال آتا ہے\nکیوں زیر زمیں چھپ کے چلا جاتا ہے\nجو داغ تہ خاک ہیں روشن ان سے\nہر شب یہ چراغ اپنا جلا جاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D8%B3_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B2%D9%88%D8%A7%D9%84_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "خورشید کو اگرچہ نہ پہنچے ضیائے شمع", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خورشید کو اگرچہ نہ پہنچے ضیائے شمع\nپروانے کو پسند نہیں پر سوائے شمع\n\nاس تیرہ روزگار میں مجھ سا جگر گداز\nمشعل جلا کے ڈھونڈے اگر تو نہ پائے شمع\n\nروزِ فراق میں ہے قیامت، جمالِ گُل\nشب ہائے ہجر میں ہے مصیبت، لقائے گُل\n\nپروانے کیا خجل ہوئے دیکھا جو صبح کو\nتھا شب کو اس کی بزم میں خورشید جائے شمع\n\nاُس رشکِ شمع و گُل کی ہے کچھ آب و تاب اور\nدیکھے ہیں جلوہ ہائے گل و شعلہ ہائے شمع\n\nدیتی ہے اور گرمئ پروانہ داغِ اشک\nشب ہائے ہجر میں کوئی کیونکر جلائے شمع\n\nکیا حاجت آفتاب کے گھر میں چراغ کی\nہے حکم شب کو بزم میں کوئی نہ لائے شمع\n\nاُس لعلِ بے بہا سے کہاں تابِ ہمسری\nروشن ہے سب پہ قیمتِ گُل اور بہائے شمع\n\nخورشید جس کے جلوہ سے ہو شمعِ صبح دم\nکیا ٹھہرے اس کے سامنے نور و ضیائے شمع\n\nاس تیرہ شب میں جائیں گے کیونکر عدو کے گھر\nمیرا رقیب وہ ہے جو ان کو دکھائے شمع\n\nآتے ہیں وہ جو گور پہ میری تو بہرِ زیب\nکوئی نہ پھول لائے نہ کوئی منگائے شمع\n\nگُل پر لگا کے آپ سے پہنچیں گے بے طلب\nآئے گی اپنے پاؤں سے یاں بن بلائے شمع\n\nڈر ہے اُٹھا نہ دے کہیں وہ بزمِ عیش سے\nکیا تاب ہے کہ شیفتہ آنسو بہائے شمع", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%92_%D8%B6%DB%8C%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B4%D9%85%D8%B9"} {"title": "خوش رنگ ہے گل سے گل رخسار تمہارا", "poet_page": "مصنف:رادھے شیام رستوگی احقر", "kind": "poetry", "section": "غزل > نقشہاے رنگ رنگ (1929)", "year": "1929", "text_ur": "خوش رنگ ہے گل سے گل رخسار تمہارا\nریحاں سے سوا خط ہے نمودار تمہارا\n\nمطلوب ہو تم دل ہے طلب گار تمہارا\nیہ آئنہ ہے تشنۂ دیدار تمہارا\n\nیوسف کو کبھی مفت بھی لیتی نہ زلیخاؔ\nنظارہ جو کرتی سر بازار تمہارا\n\nدامن کا بھی بوسہ نہ لیا فرط ادب سے\nاب تک نہیں یہ بندہ گنہ گار تمہارا\n\nگرمی سے جو خورشید قیامت کی جلیں گے\nیاد آئے گا یہ سایۂ دیوار تمہارا\n\nعشاق کے سجدوں کا بھلا ذکر ہی کیا ہے\nہندو و مسلماں ہے پرستار تمہارا\n\nطوطی کی طرح کیوں نہ سخن سنج ہو احقرؔ\nہے سامنے آئینۂ رخسار تمہارا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "خوش طالعی میں شمس و قمر دونوں ایک ہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوش طالعی میں شمس و قمر دونوں ایک ہیں\nدن رات کا تو فرق ہے پر دونوں ایک ہیں\n\nخواہی میں روؤں لخت جگر خواہ اشک صرف\nآنکھوں میں میری لعل و گہر دونوں ایک ہیں\n\nدیجور میں کسے ہے سپید و سیہ کا فرق\nزندانیوں کو شام و سحر دونوں ایک ہیں\n\nکہنے کو گرچہ ہاتھ جدا ہیں مرے ولے\nہونے کو اس کا طوق و کمر دونوں ایک ہیں\n\nخواہی تو چشم چپ سے در آ خواہ راست ہے\nآنے کو گھر میں دل کے یہ در دونوں ایک ہیں\n\nجو قلزم فنا کا مسافر ہوا اسے\nباد مراد و موج خطر دونوں ایک ہیں\n\nمیں جل رہا ہوں ان کے تو ہاتھوں سے کچھ نہ پوچھ\nاے مصحفیؔ یہ دیدۂ تر دونوں ایک ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%B9%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D9%85%D8%B3_%D9%88_%D9%82%D9%85%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خوش قداں جب سوار ہوتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوش قداں جب سوار ہوتے ہیں\nسرو و قمری شکار ہوتے ہیں\n\nتیرے بالوں کے وصف میں میرے\nشعر سب پیچ دار ہوتے ہیں\n\nآؤ یاد بتاں پہ بھول نہ جاؤ\nیہ تغافل شعار ہوتے ہیں\n\nدیکھ لیویں گے غیر کو تجھ پاس\nصحبتوں میں بھی یار ہوتے ہیں\n\nصدقے ہو لیویں ایک دم تیرے\nپھر تو تجھ پر نثار ہوتے ہیں\n\nتو کرے ہے قرار ملنے کا\nہم ابھی بے قرار ہوتے ہیں\n\nہفت اقلیم ہر گلی ہے کہیں\nدلی سے بھی دیار ہوتے ہیں\n\nرفتہ رفتہ یہ طفل خوش ظاہر\nفتنۂ روزگار ہوتے ہیں\n\nاس کے نزدیک کچھ نہیں عزت\nمیرؔ جی یوں ہی خوار ہوتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%82%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خوش نما گرچہ مد کا ہالہ ہے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوش نما گرچہ مد کا ہالہ ہے\nتیرے کانوں کا بالا بالا ہے\n\nدر مے خانہ کا گدا ہوں میں\nبے پیالہ مرا پیالہ ہے\n\nدل صد پارہ یہ بغل میں نہ ہو\nدرد دکھ کا مرے رسالہ ہے\n\nاس نگہ اس مژہ کی کچھ مت پوچھ\nایک برچھی ہے ایک بھالا ہے\n\nہے دم و ہوش اپنا بے ہوشی\nہوش جب سے یہاں سنبھالا ہے\n\nکیسے وعدہ خلاف سے ؔجوشش\nحق تعالی نے کام ڈالا ہے\n\nمجھ کو ہے انتظار و بیتابی\nاس کو حیلہ ہے اور حوالہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%86%D9%85%D8%A7_%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D9%85%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D8%A7%D9%84%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "خوش نہ آئی تمہاری چال ہمیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوش نہ آئی تمہاری چال ہمیں\nیوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں\n\nحال کیا پوچھ پوچھ جاتے ہو\nکبھو پاتے بھی ہو بحال ہمیں\n\nوہ دہاں وہ کمر ہی ہے مقصود\nاور کچھ اب نہیں خیال ہمیں\n\nاس مہ چاردہ کی دوری نے\nدس ہی دن میں کیا ہلال ہمیں\n\nنظر آتے ہیں ہوتے جی کے وبال\nحلقہ حلقہ تمہارے بال ہمیں\n\nتنگی اس جا کی نقل کیا کریے\nیاں سے واجب ہے انتقال ہمیں\n\nصرف للہ خم کے خم کرتے\nنہ کیا چرخ نے کلال ہمیں\n\nمغ بچے مال مست ہم درویش\nکون کرتا ہے مشت مال ہمیں\n\nکب تک اس تنگنا میں کھینچیے رنج\nیاں سے یا رب تو ہی نکال ہمیں\n\nترک سبزان شہر کریے اب\nبس بہت کر چکے نہال ہمیں\n\nوجہ کیا ہے کہ میرؔ منہ پہ ترے\nنظر آتا ہے کچھ ملال ہمیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%86%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "سہرا", "year": null, "text_ur": "خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا\nباندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا\nکیا ہی اس چاند سے مکھڑے پہ بھلا لگتا ہے\nہے ترے حسن دل افروز کا زیور سہرا\nسر پہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرف کلاہ\nمجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا لمبر سہرا\nناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہوں گے موتی\nورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا\nسات دریا کے فراہم کیے ہوں گے موتی\nتب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا\nرخ پہ دولھا کے جو گرمی سے پسینا ٹپکا\nہے رگ ابر گہر بار سراسر سہرا\nیہ بھی اک بے ادبی تھی کہ قبا سے بڑھ جائے\nرہ گیا آن کے دامن کے برابر سہرا\nجی میں اترائیں نہ موتی کہ ہمیں ہیں اک چیز\nچاہیے پھولوں کا بھی ایک مقرر سہرا\nجب کہ اپنے میں سماویں نہ خوشی کے مارے\nگوندھے پھولوں کا بھلا پھر کوئی کیوں کر سہرا\nرخ روشن کی دمک گوہر غلطاں کی چمک\nکیوں نہ دکھلاوے فروغ مہ و اختر سہرا\nتار ریشم کا نہیں ہے یہ رگ ابر بہار\nلائے گا تاب گراں باری گوہر سہرا\nہم سخن فہم ہیں غالبؔ کے طرفدار نہیں\nدیکھیں اس سہرے سے کہدے کوئی بڑھ کر سہرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%DA%A9%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D8%B3%DB%81%D8%B1%D8%A7"} {"title": "خوش ہوں یا دوست سے خفا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوش ہوں یا دوست سے خفا ہوں میں\nآج کل کچھ نیا نیا ہوں میں\n\nتم پہ سو جان سے فدا ہوں میں\nتم جسے چاہو اس کو چاہوں میں\n\nہر ادا پر تری فدا ہوں میں\nآئنہ بن کے دیکھتا ہوں میں\n\nان کو یہ آرزو ارے توبہ\nمیں کہوں آرزو بھرا ہوں میں\n\nاے عطا کوش کر عطائی نظر\nاے خطا پوش بے خطا ہوں میں\n\nابتدا ہی غلط ہے بسم اللہ\nاپنا انجام سوچتا ہوں میں\n\nایک نادان دوست کی خاطر\nدشمنوں سے ملا ہوا ہوں میں\n\nکسمپرسی ہے خاک ہونے تک\nخاک ہوتے ہی کیمیا ہوں میں\n\nعشق بازی ہے زندہ در گوری\nموت سے پہلے مر چکا ہوں میں\n\nکسی صورت بھی کامیاب نہیں\nکس نراسے کا مدعا ہوں میں\n\nہجر میں موسم ہجوم گل\nاور دیوانہ بن گیا ہوں میں\n\nمجھ کو کیوں جانتے ہو مستغنی\nنہیں بندو نہیں خدا ہوں میں\n\nعشق نے کر دیا نکما سا\nاب ترے کام کا بنا ہوں میں\n\nطلب حق ہے ایسے عجز کے ساتھ\nجیسا خیرات مانگتا ہوں میں\n\nابھی سب کچھ ابھی نہیں کچھ بھی\nاے صفیؔ کیا بتاؤں کیا ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خوشا بیداد خون حسرت بیداد ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوشا بیداد خون حسرت بیداد ہوتا ہے\nستم ایجاد کرتے ہو کرم ایجاد ہوتا ہے\n\nبظاہر کچھ نہیں کہتے مگر ارشاد ہوتا ہے\nہم اس کے ہیں جو ہم پر ہر طرح برباد ہوتا ہے\n\nمرے ناشاد رہنے پر وہ جب ناشاد ہوتا ہے\nبتاؤں کیا جو میرا عالم فریاد ہوتا ہے\n\nیہی ہے راز آزادی جہاں تک یاد ہوتا ہے\nکہ نظریں قید ہوتی ہیں تو دل آزاد ہوتا ہے\n\nدل عاشق بھی کیا مجموعۂ اضداد ہوتا ہے\nادھر آباد ہوتا ہے ادھر برباد ہوتا ہے\n\nوہ ہر اک واقعہ جو صورت افتاد ہوتا ہے\nکبھی پہلے بھی دیکھا تھا کچھ ایسا یاد ہوتا ہے\n\nبڑی مشکل سے پیدا ایک وہ آدم زاد ہوتا ہے\nجو خود آزاد جس کا ہر نفس آزاد ہوتا ہے\n\nنگاہیں کیا کہ پہروں دل بھی واقف ہو نہیں سکتا\nزبان حسن سے ایسا بھی کچھ ارشاد ہوتا ہے\n\nتمہیں ہو طعنہ زن مجھ پر تمہیں انصاف سے کہہ دو\nکوئی اپنی خوشی سے خانماں برباد ہوتا ہے\n\nیہ مانا ننگ پابندی سے کیا آزاد کو مطلب\nمگر وہ شرم آزادی سے بھی آزاد ہوتا ہے\n\nتصور میں ہے کچھ ایسا تری تصویر کا عالم\nکہ جیسے اب لب نازک سے کچھ ارشاد ہوتا ہے\n\nکوئی حد ہی نہیں شاید محبت کے فسانے کی\nسناتا جا رہا ہے جس کو جتنا یاد ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%AE%D9%88%D9%86_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "خوشامد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مَیں کارِ جہاں سے نہیں آگاہ، ولیکن\nاربابِ نظر سے نہیں پوشیدہ کوئی راز\nکر تُو بھی حکومت کے وزیروں کی خوشامد\nدستور نیا، اور نئے دَور کا آغاز\nمعلوم نہیں، ہے یہ خوشامد کہ حقیقت\nکہہ دے کوئی اُلّو کو اگر ’رات کا شہباز‘!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4%D8%A7%D9%85%D8%AF"} {"title": "خوشامد (سید احمد خان)", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "دل کی جس قدر بیماریاں ہیں ان میں سب سے زیادہ مہلک خوشامد کا اچھا لگنا ہے۔ جس وقت کہ انسان کے بدن میں یہ مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو وبائی ہوا کے اثر کو جلد قبول کر لیتا ہے تو اسی وقت انسان مرضِ مہلک میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جبکہ خوشامد کے اچھا لگنے کی بیماری انسان کو لگ جاتی ہے تو اس کے دل میں ایک ایسا مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو ہمیشہ زہریلی باتوں کے زہر کو چوس لینے کی خواہش رکھتا ہے، جسطرح کہ خوش گلو گانے والے کا راگ اور خوش آیند باجے والے کی آواز انسان کے دل کو نرم کر دیتی ہے اسی طرح خوشامد بھی انسان کے دل کو ایسا پگھلا دیتی ہے کہ ایک کانٹے کے چبھنے کی جگہ اس میں ہو جاتی ہے۔ اول اول یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی خوشامد کرتے ہیں اور اپنی ہر ایک چیز کو اچھا سمجھتے ہیں اور آپ ہی آپ اپنی خوشامد کر کے اپنے دل کو خوش کرتے ہیں پھر رفتہ رفتہ اوروں کی خوشامد ہم میں اثر کرنے لگتی ہے۔\n\nاسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اول تو خود ہم کو اپنی محبت پیدا ہوتی ہے پھر یہی محبت ہم سے باغی ہو جاتی ہے اور ہمارے بیرونی دشمنوں سے جا ملتی ہے اور جو محبت و مہربانی ہم خود اپنے ساتھ کرتے ہیں وہ ہم خوشامدیوں کے ساتھ کرنے لگتے ہیں اور وہی ہماری محبت ہم کو یہ بتلاتی ہے کہ ان خوشامدیوں پر مہربانی کرنا نہایت حق اور انصاف ہے جو ہماری باتوں کو ایسا سمجھتے ہیں اور انکی ایسی قدر کرتے ہیں جبکہ ہمارا دل ایسا نرم ہو جاتا ہے اور اسی قسم کے پھسلاوے اور فریب میں آ جاتا ہے تو ہماری عقل خوشامدیوں کے عقل و فریب سے اندھی ہو جاتی ہے اور وہ مکر و فریب ہماری طبیعت پر بالکل غالب آ جاتا ہے۔ لیکن اگر ہر شخص کو یہ بات معلوم ہو جاوے کہ خوشامد کا شوق کیسے نالائق اور کمینے سببوں سے پیدا ہوتا ہے تو یقینی خوشامد کی خواہش کرنے والا شخص بھی ویسا ہی نالائق اور کمینہ متصور ہونے لگے گا۔ جبکہ ہم کو کسی ایسے وصف کا شوق پیدا ہوتا ہے جو ہم میں نہیں ہے یا ہم ایسا بننا چاہتے ہیں جیسے کہ در حقیقت ہم نہیں ہیں، تب ہم اپنے تئیں خوشامدیوں کے حوالے کرتے ہیں جو اوروں کے اوصاف اور اوروں کی خوبیاں ہم میں لگانے لگتے ہیں۔ گو بسبب اس کمینہ شوق کے اس خوشامدی کی باتیں اچھی لگتی ہوں مگر در حقیقت وہ ہم کو ایسی ہی بد زیب ہیں جیسے کہ دوسرں کہ کپڑے جو ہمارے بدن پر کسی طرح ٹھیک نہیں (اس بات سے ہم اپنی حقیقت کو چھوڑ کر دوسرے کے اوصاف اپنے میں سمجھنے لگیں، یہ بات کہیں عمدہ ہے کہ ہم اپنی حقیقت کو درست کریں اور سچ مچ وہ اوصاف خود اپنے میں پیدا کریں، اور بعوض جھوٹی نقل بننے کے خود ایک اچھی اصل ہو جاویں ) کیونکہ ہر قسم کی طبیعتیں جو انسان رکھتے ہیں اپنے اپنے موقع پر مفید ہو سکتی ہیں۔ ایک تیز مزاج اور چست چالاک آدمی اپنے موقع پر ایسا ہی مفید ہوتا ہے جیسے کہ ایک رونی صورت کا چپ چاپ آدمی اپنے موقع پر۔\n\nخودی جو انسان کو برباد کرنے کی چیز ہے جب چپ چاپ سوئی ہوئی ہوتی ہے تو خوشامد اس کو جگاتی اور ابھارتی ہے اور جس چیز کی خوشامد کی جاتی ہے اس میں چھچھورے پن کی کافی لیاقت پیدا کر دیتی ہے، مگر یہ بات بخوبی یاد رکھنی چاہیئے کہ جسطرح خوشامد ایک بد تر چیز ہے اسی طرح مناسب اور سچی تعریف کرنا نہایت عمدہ اور بہت ہی خوب چیز ہے۔ جسطرح کے لائق شاعر دوسروں کی تعریف کرتے ہیں کہ ان اشعار سے ان لوگوں کا نام باقی رہتا ہے جنکی وہ تعریف کرتے ہیں اور شاعری کی خوبی سے خود ان شاعروں کا نام بھی دنیا میں باقی رہتا ہے۔ دونوں شخص ہوتے ہیں، ایک اپنی لیاقت کے سبب سے اور دوسرا اس لیاقت کو تمیز کرنے کے سبب سے۔ مگر لیاقت شاعری کی یہ ہے کہ وہ نہایت بڑے استاد مصور کی مانند ہو کہ وہ اصل صورت اور رنگ اور خال و خط کو بھی قائم رکھتا ہے اور پھر بھی تصویر ایسی بناتا ہے کہ خوش نما معلوم ہو۔ ایشیا کے شاعروں میں ایک بڑا نقص یہی ہے کہ وہ اس بات کا خیال نہیں رکھتے بلکہ جسکی تعریف کرتے ہیں اسکے اوصاف ایسے جھوٹے اور نا ممکن بیان کرتے ہیں جن کہ سبب سے وہ تعریف، تعریف نہیں رہتی بلکہ فرضی خیالات ہو جاتے ہیں۔ ناموری کی مثال نہایت عمدہ خوشبو کی ہے، جب ہوشیاری اور سچائی سے ہماری واجب تعریف ہوتی ہے تو اسکا ویسا ہی اثر ہوتا ہے جیسے عمدہ خوشبو کا مگر جب کسی کمزور دماغ میں زبردستی سے وہ خوشبو ٹھونس دی جاتی ہے تو ایک تیز بو کی مانند دماغ کو پریشان کر دیتی ہے۔ فیاض آدمی کو بد نامی اور نیک نامی کا زیادہ خیال ہوتا ہے اور عالی ہمت طبیعت کو مناسب عزت اور تعریف سے ایسی ہی تقویت ہوتی ہے جیسے کہ غفلت اور حقارت سے پست ہمتی ہوتی ہے۔ جو لوگ کہ عوام کے درجہ سے اوپر ہیں انہیں لوگوں پر اسکا زیادہ اثر ہوتا ہے جیسے کہ تھرما میٹر میں وہی حصہ موسم کا زیادہ اثر قبول کرتا ہے جو صاف اور سب سے اوپر ہوتا ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4%D8%A7%D9%85%D8%AF_%28%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%AE%D8%A7%D9%86%29"} {"title": "خوشامد (نظیر اکبر آبادی)", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دل خوشامد سے ہر اک شخص کا کیا راضی ہے\nآدمی جن پری و بھوت بلا راضی ہے\nبھائی فرزند بھی خوش باپ چچا راضی ہے\nشاد مسرور غنی شاہ و گدا راضی ہے\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے\nاپنا مطلب ہو تو مطلب کی خوشامد کیجے\nاور نہ ہو کام تو اس ڈھب کی خوشامد کیجے\nاولیا انبیا اور رب کی خوشامد کیجے\nاپنے مقدور غرض سب کی خوشامد کیجے\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ ہے کی خوشامد سے خدا راضی ہے\nچار دن جس کو کیا جھک کے خوشامد سے سلام\nوہ بھی خوش ہو گیا اپنا بھی ہوا کام میں کام\nبڑے عاقل بڑے دانا نے نکالا ہے یہ دام\nخوب دیکھا تو خوشامد ہی کی آمد ہے تمام\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے\nبد بخیل اور سخی کی بھی خوشامد کیجے\nاور جو شیطان ہو تو اس کی بھی خوشامد کیجے\nگر ولی ہو تو ولی کی بھی خوشامد کیجے\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے\nپیار سے جوڑ دئیے جس کی طرف ہاتھ جو آہ\nوہیں خوش ہو گیا کرتے ہی وہ ہاتھوں پہ نگاہ\nغور سے ہم نے جو اس بات کو دیکھا واللہ\nکچھ خوشامد ہی بڑی چیز ہے اللہ اللہ\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی\nپینے اور پہننے کھانے کی خوشامد کیجے\nہیجڑے بھانڈ زنانے کی خوشامد کیجے\nمست و ہشیار دوانے کی خوشامد کیجے\nبھولے نادان سیانے کی خوشامد کیجے\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے\nعیش کرتے ہیں وہی جن کا خوشامد کا مزاج\nجو نہیں کرتے وہ رہتے ہیں ہمیشہ محتاج\nہاتھ آتا ہے خوشامد سے مکاں ملک اور تاج\nکیا ہی تاثیر کی اس نسخے نے پائی ہے رواج\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہے\nگر بھلا ہو تو بھلے کی بھی خوشامد کیجے\nاور برا ہو تو برے کی بھی خوشامد کیجے\nپاک ناپاک سڑے کی بھی خوشامد کیجے\nکتے بلی و گدھے کی بھی خوشامد کیجے\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہے\nخوب دیکھا تو خوشامد کی بڑی کھیتی ہے\nغیر کی اپنے ہی گھر بیچ یہ سکھ دیتی ہے\nماں خوشامد کے سبب چھاتی لگا لیتی ہے\nنانی دادی بھی خوشامد سے دعا دیتی ہے\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہے\nبی بی کہتی ہے میاں آ ترے صدقے جاؤں\nساس بولے کہیں مت جا ترے صدقے جاؤں\nخالہ کہتی ہے کہ کچھ کھا ترے صدقے جاؤں\nسالی کہتی ہے کہ بھیا ترے صدقے جاؤں\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہے\nآ پڑا ہے جو خوشامد سے سروکار اسے\nڈھونڈتے پھرتے ہیں الفت کے خریدار اسے\nآشنا ملتے ہیں اور چاہے ہیں سب یار اسے\nاپنے بیگانے غرض کرتے ہیں سب پیار اسے\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہے\nروکھی اور روغنی آبی کو خوشامد کیجے\nنان بائی و کبابی کی خوشامد کیجے\nساقی و جام شرابی کی خوشامد کیجے\nپارسا رند خرابی کی خوشامد کیجے\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا اراضی ہے\nحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے\nجو کہ کرتے ہیں خوشامد وہ بڑے ہیں انساں\nجو نہیں کرتے وہ رہتے ہیں ہمیشہ حیراں\nہاتھ آتے ہیں خوشامد سے ہزاروں ساماں\nجس نے یہ بات نکالی ہے میں اس کے قرباں\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے\nکوڑی پیسے و ٹکے زر کی خوشامد کیجے\nلعل و نیلم در و گوہر کی خوشامد کیجے\nاور جو پتھر ہو تو پتھر کی خوشامد کیجے\nنیک و بد جتنے ہیں یک سر کی خوشامد کیجے\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے\nہم نے ہر دل کی خوشامد کی محبت دیکھی\nپیار اخلاص و کرم مہر مروت دیکھی\nدلبروں میں بھی خوشامد ہی کی الفت دیکھی\nعاشقوں میں بھی خوشامد ہی کی چاہت دیکھی\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے\nپارسا پیر ہے زاہد ہے منا جاتی ہے\nجواریا چور دغاباز خراباتی ہے\nماہ سے ماہی تلک چیونٹی ہے یا ہاتھی ہے\nیہ خوشامد تو میاں سب کے تئیں بھاتی ہے\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے\nگر نہ میٹھی ہو تو کڑوی بھی خوشامد کیجے\nکچھ نہ ہو پاس تو خالی بھی خوشامد کیجے\nجانی دشمن ہو تو اس کی خوشامد کیجے\nسچ اگر پوچھو تو جھوٹی بھی خوشامد کیجے\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے\nمرد و زن طفل و جواں خورد و کلاں پیر و فقیر\nجتنے عالم میں ہیں محتاج و گدا شاہ وزیر\nسب کے دل ہوتے ہیں پھندے میں خوشامد کے اسیر\nتو بھی واللہ بڑی بات یہ کہتا ہے نظیرؔ\nجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے\nحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4%D8%A7%D9%85%D8%AF_%28%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%29"} {"title": "خوشبو دار تیل", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بغیر اجازت", "year": "1955", "text_ur": "’’آپ کا مزاج اب کیسا ہے؟‘‘\n\n’’یہ تم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔ اچھا بھلا ہوں۔۔۔ مجھے کیا تکلیف تھی۔۔۔‘‘\n\n’’ تکلیف تو آپ کو کبھی نہیں ہوئی۔۔۔ ایک فقط میں ہوں جس کے ساتھ کوئی نہ کوئی تکلیف یا عارضہ چمٹا رہتا ہے۔۔۔‘‘\n\n’’یہ تمہاری بد احتیاطیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔۔۔ ورنہ آدمی کو کم از کم سال بھر میں دس مہینے تو تندرست رہنا چاہیے۔۔۔‘‘\n\n’’آپ تو بارہ مہینے تندرست رہتے ہیں، ابھی پچھلے دنوں دو مہینے ہسپتال میں رہے۔۔۔ میرا خیال ہے اب پھر آپ کا وہیں جانے کا ارادہ ہو رہا ہے۔‘‘\n\n’’ہسپتال میں جانے کا ارادہ کون کرتا ہے؟‘‘\n\n’’آپ ایسے آدمی۔۔۔ اور کس کا دماغ پھرا ہے کہ وہ بیمار ہو کر وہاں پر جائے اور اپنے عزیزوں کی جان کا عذاب بن جائے۔۔۔‘‘\n\n’’تو گویا میں اپنے سب رشتہ داروں کی جان کا عذاب بنا بیٹھا ہوں۔۔۔ میرا تو یہ نظریہ ہے کہ ہر رشتہ دار خود جان کا بہت بڑا عذاب ہوتا ہے۔‘‘\n\n’’آپ کو تو رشتہ داروں کی کوئی پروا نہیں۔۔۔ حالانکہ وہی ہمیشہ آپ کے آڑے وقت میں کام آتے رہے ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’کون سے آڑے وقت میں کام آتے رہے ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’ پچھلے برس جب آپ بیمار ہوئے۔۔۔ تو کس نے آپ کے علاج پر روپیہ خرچ کیا تھا۔‘‘\n\n’’مجھے معلوم نہیں۔۔۔ میرا خیال ہے تمہیں نے کیا ہو گا۔۔۔‘‘\n\n’’آپ کا حافظہ کمزور ہو گیا ہے۔۔۔ یا آپ جان بوجھ کر اپنے رشتہ داروں کی مدد کو فراموش کررہے ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’میں اپنے کسی رشتہ دار کی امداد کا محتاج نہیں رہا،اور نہ رہوں گا۔۔۔ اچھا خاصا کما لیتا ہوں۔۔۔ کھاتا ہوں۔۔۔ پیتا ہوں۔۔۔‘‘\n\n’’جتنا کھا سکتا ہوں کھاتا ہوں۔۔۔ جتنی پی سکتا ہوں پیتا ہوں۔۔۔‘‘\n\n’’آپ کو معلوم نہیں کہ پینا حرام ہے۔۔۔‘‘\n\n’’معلوم ہے۔۔۔ آج کل تو جینا بھی حرام ہے۔۔۔ مگر چچا غالبؔ کہہ گئے ہیں۔۔۔‘‘\nمئے سے غرض نشاط ہے کس روسیاہ کو\n\nاِک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے\n\n’’یہ چچا غالبؔ کون تھے۔۔۔ زندہ ہیں یا مر گئے ہیں۔۔۔ میں نے تو آج پہلی مرتبہ ان کا نام سنا ہے۔۔۔‘‘\n\n’’وہ سب کے چچا تھے۔۔۔ بہت بڑے شاعر۔۔۔‘‘\n\n’’شاعروں پر خدا کی لعنت۔۔۔ بیڑا غرق کرتے ہیں لوگوں کا۔۔۔۔‘‘\n\n’’بیگم! یہ تم کیا کہہ رہی ہو۔۔۔ انہی کے دم سے تو زندگی کی رونق قائم ہے۔۔۔ یہ نہ ہوں تو چاروں طرف خشکی خشکی ہی نظر آئے۔۔۔یہ لوگ پھول ہوتے ہیں۔۔۔ صاف و شفاف پانی کے دھارے ہوتے ہیں جو انسانوں کے ذہن کی آبیاری کرتے ہیں۔۔۔ یہ نہ ہوں تو ہماری زندگی بے نمک ہو جائے۔‘‘\n\n’’بے نمک ہو جائے۔۔۔ کیسے بے نمک ہو جائے۔۔۔یہاں نمک کی کوئی کمی ہے۔۔۔ جتنا چاہے، لے لیجیے۔۔۔ اور وہ بھی سستے داموں پر۔۔۔ ان لوگوں کو جنہیں آپ شاعر کہتے ہیں۔۔۔ میں تو چاہتی ہوں کہ ان کو کھیوڑے کی کسی کان میں زندہ دفن کر دیا جائے، تاکہ وہ بھی نمک بن جائیں اور آپ ان کو چاٹتے رہیں۔۔۔‘‘\n\n’’یہ آج تم نے کیسے پر پرزے نکال لیے۔۔۔‘‘\n\n’’پر پرزوں کے متعلق میں کچھ نہیں جانتی۔۔۔ میں تو اتنا جانتی ہوں۔۔۔ کہ جب آپ سے کوئی معاملے کی بات کرے تو آپ بھِنّا جاتے ہیں۔۔۔ معلوم نہیں کیوں۔۔۔ میں نے کبھی آپ کی ذات پر تو حملہ نہیں کیا۔۔۔ ہمیشہ سیدھی سادی بات کر دی۔۔۔‘‘\n\n’’تمہاری سیدھی باتیں ہمیشہ ٹیڑھی ہوتی ہیں۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تمہیں ہو کیا گیا ہے۔۔۔ دو برس سے تم ہر وقت میرے سر پر سوار رہتی ہو۔‘‘\n\n’’ان برسوں میں مجھے آپ نے کیا سکھ پہنچایا ہے۔۔۔‘‘\n\n’’بھئی معاف کرو مجھے۔۔۔۔ میں سونا چاہتا ہوں۔۔۔ ساری رات ہی جاگتا رہا ہوں۔‘‘\n\n’’کیا تکلیف تھی آپ کو؟ مجھے بھی تو کچھ اس کا علم ہو۔۔۔‘‘\n\n’’تمہیں اگر اس کا علم بھی ہو جائے۔۔۔ تو اس کا مداوا کیا کرو گی۔۔۔‘‘\n\n’’میں تو سخت نا اہل ہوں۔۔۔ کسی کام کی بھی نہیں۔۔۔ بس ایک صرف آپ ہیں جو دنیا کی ساری حکمت جانتے ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’بھئی میں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا۔۔۔ لیکن عورت ذات ہمیشہ خود کو افضل سمجھتی ہے۔۔۔ حالانکہ وہ عام طور پر کم عقل ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’دیکھیے، آپ طعن طروز پر اتر آئے ۔۔۔ یہ کہاں کی عقلمندی ہے؟‘‘\n\n’’میں معافی چاہتا ہوں۔۔۔ تم نے چونکہ مجھے اکسایا تو یہ لفظ میری زبان سے نکل گئے، ورنہ تم جانتی ہو کہ میں گفتگو کے معاملے میں بڑا محتاط رہتا ہوں۔‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ رہتے ہوں گے۔۔۔ مجھ سے تو آپ نے ہمیشہ ہی نو کرانیوں کا سا سلوک کیا۔‘‘\n\n’’یہ سراسر بہتان ہے۔۔۔ تم تو میری ملکہ ہو۔۔۔ ‘‘\n\n’’آپ بادشاہ کیسے بن بیٹھے۔۔۔ آپ کی سلطنت کہاں ہے؟‘‘\n\n’’میری سلطنت یہ میرا گھر ہے۔‘‘\n\n’’اور آپ یہاں کے شہنشاہ ہیں؟‘‘\n\n’’اس میں کیا شک ہے۔۔۔ تم نے طنزاً کہا ہے، لیکن حقیقت میں اس سلطنت کا حکمران میں ہی ہوں۔‘‘\n\n’’حکمران تو میں ہوں۔۔۔ اس لیے کہ اس گھر کا سارا بندوبست مجھے ہی کرنا پڑتا ہے۔۔۔ سب دیکھ بھال مجھے ہی کرنا پڑتی ہے۔۔۔‘‘\n\n’’تم میری ملکہ ہو۔۔۔ اور ملکہ کو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ نہیں رہنا چاہیے۔۔۔ اپنی ملکیت کا دھیان رکھنا چاہیے۔۔۔ اس لیے تم بھی یہاں کی حکمران ہو، اس لیے کہ تم اس کا نظم بر قرار رکھتی ہو۔۔۔ نوکروں کی دیکھ بھال وغیرہ، اچھے سے اچھا کھانا پکوانا۔۔۔ سارا دن پلنگ پر لیٹی آرام کرتی رہتی ہو۔۔۔‘‘\n\n’’میں تو جو آرام کرتی ہوں، سو کرتی ہوں۔۔۔ پر آپ مجھے یہ بتائیے۔‘‘\n\n’’کیا؟ ‘‘\n\n’’کچھ نہیں۔۔۔ آپ اس گھر کے حکمران ہیں۔۔۔ اب میں آپ سے کیا کہوں۔۔۔‘‘\n\n’’تم جو کچھ کہنا چاہتی ہو، بلا خوف و خطر کہو۔۔۔ تمہیں اندیشہ کس بات کا ہے؟ ‘‘\n\n’’کہیں جہاں پناہ بگڑ نہ جائیں۔‘‘\n\n’’مذاق برطرف رکھو۔۔۔ یہ بتاؤ تم کہنا کیا چاہتی ہو۔۔۔‘‘\n\n’’کہنا تو میں بہت کچھ چاہتی ہوں۔۔۔ مگر آپ میں ٹھنڈے دل سے سننے کا مادہ ہی کہاں ہے۔۔۔‘‘\n\n’’مادہ تو تم ہو۔۔۔ میں نر ہوں۔۔۔‘‘\n\n’’اب آپ نے واہیات قسم کی گفتگو شروع کر دی۔۔۔‘‘\n\n’’کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے ایسی باتیں بھی کر لینی چاہئیں۔۔۔اس لیے کہ طبیعت میں انقباض پیدا نہ ہو۔۔۔‘‘\n\n’’آپ کی طبیعت میں کئی دنوں سے انقباض ہے۔۔۔ سیدھے منہ کوئی بات ہی نہیں کرتے۔‘‘\n\n’’میں تو چنگا بھلا ہوں۔۔۔ مجھے ایسی کوئی شکایت نہیں ہے۔۔۔ ہوسکتا ہے کہ تمہارے نفس نے بہت اونچی پرواز کی ہو۔۔۔ اگر ایسا ہی ہے تو کوئی مسہل تجویز کر دو تاکہ تمہاری تشفی ہوجائے۔‘‘\n\n’’میں آپ سے بحث کرنا نہیں چاہتی۔۔۔ صرف اتنا پوچھنا چاہتی ہوں۔‘‘\n\n’’بھئی پوچھ لو جو کچھ پوچھنا ہے۔۔۔ مجھے اب زیادہ تنگ نہ کرو۔‘‘\n\n’’آپ تو ذراسی بات پر تنگ آ جاتے ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’یہ ذرا سی بات ہے کہ تم نے مجھ سے اتنی بکواس کرائی۔۔۔ یہی وقت میں کہیں صرف کرتا تو کچھ فائدہ بھی ہوتا۔۔۔‘‘\n\n’’کیا فائدہ ہوتا۔۔۔ بڑے لاکھوں کما لیے ہیں آپ نے بغیر اس بکواس کے۔۔۔‘‘\n\n’’کمائے تو ہیں۔۔۔ لیکن تم یہ بتاؤ کہ کہنا کیا چاہتی ہو؟‘‘\n\n’’میں کہنا چاہتی تھی کہ جب سے نئی نوکرانی آئی ہے، آپ کی طبیعت کیوں خراب رہنے لگی ہے۔‘‘\n\n’’نئی نوکرانی کو کوئی بیماری ہے۔۔۔‘‘\n\n’’جی نہیں۔۔۔ بیماری تو نہیں۔۔۔ لیکن میں نے اسے آج رخصت کر دیا ہے۔۔۔‘‘\n\n’’کیوں۔۔۔ وہ تو بڑی اچھی تھی۔۔۔‘‘\n\n’’آپ کی نظروں میں ہوگی۔۔۔ میں تو صرف اتنا جانتی ہوں کہ وہ بیس روپے ماہوار میں اتنے اچھے کپڑے کیسے پہن سکتی تھی۔۔۔ بالوں میں خوشبودار تیل کہاں سے ڈالتی تھی۔‘‘\n\n’’مجھے کیا معلوم؟‘‘\n\n’’آپ کو سب کچھ معلوم ہے۔۔۔ آپ کے بالوں سے بھی اسی تیل کی خوشبو آتی ہے۔۔۔ معلوم نہیں یہ تیل آپ نے کہاں چھپا رکھا ہے!‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4%D8%A8%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DB%8C%D9%84"} {"title": "خوشحال خاںکی وصیّت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "قبائل ہوں ملّت کی وحدت میں گُم\nکہ ہو نام افغانیوں کا بلند\nمحبّت مجھے اُن جوانوں سے ہے\nستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند\nمغل سے کسی طرح کمتر نہیں\nقہستاں کا یہ بّچۂ ارجمند\nکہوں تجھ سے اے ہم نشیں دل کی بات\nوہ مدفن ہے خوشحال خاں کو پسند\nاُڑا کر نہ لائے جہاں بادِ کوہ\nمُغل شہسواروں کی گردِ سمند!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AE%D8%A7%DA%BA%DA%A9%DB%8C_%D9%88%D8%B5%DB%8C%D9%91%D8%AA"} {"title": "خوشی سے رنج کا بدلا یہاں نہیں ملتا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوشی سے رنج کا بدلا یہاں نہیں ملتا\nوہ مل گئے تو مجھے آسماں نہیں ملتا\n\nہزار ڈھونڈیئے اس کا نشاں نہیں ملتا\nجبیں ملے تو ملے آستاں نہیں ملتا\n\nمجاز اور حقیقت کچھ اور ہے یعنی\nتری نگاہ سے تیرا بیاں نہیں ملتا\n\nبھڑک کے شعلۂ گل تو ہی اب لگا دے آگ\nکہ بجلیوں کو مرا آشیاں نہیں ملتا\n\nوہ بدگماں کہ مجھے تاب رنج زیست نہیں\nمجھے یہ غم کہ غم جاوداں نہیں ملتا\n\nتری تلاش کافی الجملہ ماحصل یہ ہے\nکہ تو یہاں نہیں ملتا وہاں نہیں ملتا\n\nبتا اب اے جرس دور میں کدھر جاؤں\nنشان گرد رہ کارواں نہیں ملتا\n\nمجھے بلا کے یہاں آپ چھپ گیا کوئی\nوہ میہماں ہوں جسے میزباں نہیں ملتا\n\nتجھے خبر ہے ترے تیر بے پناہ کی خیر\nبہت دنوں سے دل ناتواں نہیں ملتا\n\nکسی نے تجھ کو نہ جانا مگر یہ کم جانا\nیہ راز ہے کہ کوئی رازداں نہیں ملتا\n\nمجھے عزیز سہی قدر دل تمہیں کیوں ہو\nکمی تو دل کی نہیں دل کہاں نہیں ملتا\n\nدیار عمر میں اب قحط مہر ہے فانیؔ\nکوئی اجل کے سوا مہرباں نہیں ملتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%AF%D9%84%D8%A7_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "خوشی میں بھی نواسنج فغاں ہوں", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوشی میں بھی نواسنج فغاں ہوں\nزمین و آسماں کا طرز داں ہوں\n\nمیں اپنی بے نشانی کا نشاں ہوں\nہجوم ماتم عمر رواں ہوں\n\nترے جاتے ہی میری زیست تہمت\nنہیں ملتا پتا اپنا کہاں ہوں\n\nغبار کاروان مور ہے زیست\nیہ خط یار سے آشفتہ جاں ہوں\n\nنہیں کچھ کام بخت و آسماں سے\nمیں ناکامی میں اپنی کامراں ہوں\n\nنہیں دم مارنے کا دم اور اس پر\nسراپا شمع ساں شکل زباں ہوں\n\nخدا ہی گر نہ دے معشوق و مے کو\nتو کیوں پھر محتسب سے سرگراں ہوں\n\nوہاں کا رنگ پراں آسماں ہے\nمیں جس عالم کی تصویر گماں ہوں\n\nکوئی آوارہ مل جائے تو پوچھوں\nکدھر سے آیا ہوں جاتا کہاں ہوں\n\nنکل جاتا ہے جی ہر آرزو پر\nپے خون جوانی میں جواں ہوں\n\nمرا غم عشرت رفتہ کا نغمہ\nکہ مثل گرد بوئے کارواں ہوں\n\nکواکب ہائے قسمت آسماں پر\nنہ ہوں کیوں نکتہ چیں میں نکتہ داں ہوں\n\nقلقؔ بے رونقی رونق ہے میری\nبہار عمر ہستی کی خزاں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B3%D9%86%D8%AC_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "خوشی کی حد غموں کی انتہا معلوم ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوشی کی حد غموں کی انتہا معلوم ہوتی ہے\nخدا جانے محبت کیا ہے کیا معلوم ہوتی ہے\n\nجہاں کا ذرہ ذرہ یوں تو زیر حکم فطرت ہے\nمگر یہ حسن کی دنیا جدا معلوم ہوتی ہے\n\nتوقع ان کے آنے کی نہ امید اجل پھر کیوں\nہر اک حسرت تبسم آشنا معلوم ہوتی ہے\n\nبڑی ہلچل مچی ہے آج دل والوں کی دنیا میں\nتری نظروں میں شان التجا معلوم ہوتی ہے\n\nثنائے حسن توصیف ادا تعریف دل جوئی\nیہ سب تمہید عرض مدعا معلوم ہوتی ہے\n\nیہ تکمیل محبت ہے کہ توفیق خداوندی\nمجھے ہر انتہا اب ابتدا معلوم ہوتی ہے\n\nاگر مائل بہ پستی ہے محبت عبد عاصی ہے\nجو اس کی رفعتیں دیکھو خدا معلوم ہوتی ہے\n\nبس اے چشم تلطف بس کہ درد آشنا ہو کر\nمرے جذبات سے ناآشنا معلوم ہوتی ہے\n\nمحبت ایک ہے لیکن اثر ضدین رکھتی ہے\nکہیں رہزن کسی جا رہنما معلوم ہوتی ہے\n\nجگر ٹکڑے ہوا جاتا ہے ہر آواز پر اس کی\nمنیرؔ بے نوا کی یہ صدا معلوم ہوتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%AF_%D8%BA%D9%85%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "خوشی کیا ہو جو میری بات وہ بت مان جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوشی کیا ہو جو میری بات وہ بت مان جاتا ہے\nمزا تو بے حد آتا ہے مگر ایمان جاتا ہے\n\nبنوں کونسل میں اسپیکر تو رخصت قرأت مصری\nکروں کیا ممبری جاتی ہے یا قرآن جاتا ہے\n\nزوال جاہ و دولت میں بس اتنی بات اچھی ہے\nکہ دنیا میں بخوبی آدمی پہچان جاتا ہے\n\nنئی تہذیب میں دقت زیادہ تو نہیں ہوتی\nمذاہب رہتے ہیں قایم فقط ایمان جاتا ہے\n\nتھئیٹر رات کو اور دن کو یاروں کی یہ اسپیچیں\nدہائی لاٹ صاحب کی مرا ایمان جاتا ہے\n\nجہاں دل میں یہ آئی کچھ کہوں وہ چل دیا اٹھ کر\nغضب ہے فتنہ ہے ظالم نظر پہچان جاتا ہے\n\nچناں بروند صبر از دل کے قصے یاد آتے ہیں\nتڑپ جاتا ہوں یہ سن کر کہ اب ایمان جاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے\nکسی کو اس کی خبر نہیں ہے مریض کا دم نکل رہا ہے\n\nفنا اسی رنگ پر ہے قائم فلک وہی چال چل رہا ہے\nشکستہ و منتشر ہے وہ کل جو آج سانچے میں ڈھل رہا ہے\n\nیہ دیکھتے ہو جو کاسۂ سر غرور غفلت سے کل تھا مملو\nیہی بدن ناز سے پلا تھا جو آج مٹی میں گل رہا ہے\n\nسمجھ ہو جس کی بلیغ سمجھے نظر ہو جس کی وسیع دیکھے\nابھی یہاں خاک بھی اڑے گی جہاں یہ قلزم ابل رہا ہے\n\nکہاں کا شرقی کہاں کا غربی تمام دکھ سکھ ہے یہ مساوی\nیہاں بھی اک بامراد خوش ہے وہاں بھی اک غم سے جل رہا ہے\n\nعروج قومی زوال قومی خدا کی قدرت کے ہیں کرشمے\nہمیشہ رد و بدل کے اندر یہ امر پولٹیکل رہا ہے\n\nمزہ ہے اسپیچ کا ڈنر میں خبر یہ چھپتی ہے پانیر میں\nفلک کی گردش کے ساتھ ہی ساتھ کام یاروں کا چل رہا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D9%86%D8%B4%D8%AA%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%DA%86%D9%84_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "خوشی ہے یہ آنے کی برسات کے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "خوشی ہے یہ آنے کی برسات کے\nپییں بادۂ ناب اور آم کھائیں\nسر آغاز موسم میں اندھے ہیں ہم\nکہ دلی کو چھوڑیں لوہارو کو جائیں\nسو اناج کے جو ہے مقلوب جاں\nنہ واں آم پائیں نہ انگور پائیں\nہوا حکم باورچیوں کو کہ ہاں\nابھی جا کے پوچھو کہ کل کیا پکائیں\nوہ کھٹے کہاں پائیں املی کے پھول\nوہ کڑوے کریلے کہاں سے منگائیں\nفقط گوشت سو بھیڑ کا ریشے دار\nکہو اس کو کیا کھا کے ہم خط اٹھائیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%92"} {"title": "خوشیا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "خوشیا سوچ رہا تھا۔۔۔\n\nپنواڑی سے کالے تمباکو والا پان لے کر وہ اس کی دکان کے ساتھ اس سنگین چبوترے پر بیٹھا تھا، جو دن کے وقت ٹائروں اور موٹروں کے مختلف پرزوں سے بھرا ہوتا ہے۔ رات کو ساڑھے آٹھ بجے کے قریب موٹر کے پرزے اور ٹائر بیچنے والوں کی یہ دکان بند ہو جاتی ہے۔ اور اس کا سنگین چبوترہ خوشیا کے لیے خالی ہو جاتا ہے۔\n\nوہ کالے تمباکو والا پان آہستہ آہستہ چبا رہا تھا اور سوچ رہا تھا۔ پان کی گاڑھی تمباکو ملی پیک اس کے دانتوں کی ریخوں سے نکل کر اس کے منہ میں ادھر ادھر پھسل رہی تھی۔ اور اسے ایسا لگتا تھا کہ اس کے خیال، دانتوں تلے پس کر اس کی پیک میں گھل رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اسے پھینکنا نہیں چاہتا تھا۔\n\nخوشیا پان کی پیک منہ میں پلپلا رہا تھا۔ اور اس واقعہ پر غور کر رہا تھا جو اس کے ساتھ پیش آیا تھا۔ یعنی آدھ گھنٹہ پہلے۔\n\nوہ اس سنگین چبوترے پر حسبِ معمول بیٹھنے سے پہلے کھیت واڑی کی پانچویں گلی میں گیا تھا۔ منگلور سے جو نئی چھوکری کانتا آئی تھی۔ اسی گلی کے نکڑ پر رہتی تھی۔ خوشیاسے کسی نے کہا تھا کہ وہ اپنا مکان تبدیل کر رہی ہے چنانچہ وہ اسی بات کا پتہ لگانے کے لیے وہاں گیا تھا۔ کانتا کی کھولی کا دروازہ اس نے کھٹکھٹایا۔ اندر سے آواز آئی ’’کون ہے‘‘؟ اس پر خوشیا نے کہا، ’’میں خوشیا‘‘\n\nآواز دوسرے کمرے سے آئی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد دروازہ کھلا خوشیا اندر داخل ہوا۔ جب کانتا نے دروازہ اندر سے بند کیا تو خوشیا نے مڑ کر دیکھا۔ اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ جب اس نے کانتا کو بالکل ننگا دیکھا۔ بالکل ننگا ہی سمجھو۔ کیونکہ وہ اپنے انگ کو صرف ایک تولیے سے چھپائے ہوئے تھی، چھپائے ہوئے بھی نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ چھپانے کی جتنی چیزیں ہوتی ہیں وہ تو سب کی سب خوشیا کی حیرت زدہ آنکھوں کے سامنے تھیں۔\n\n’’کہو خوشیا کیسے آئے۔۔۔؟ میں بس اب نہانے والی ہی تھی۔ بیٹھو بیٹھو۔۔۔ باہر والے سے اپنے لیے چائے کا تو کہہ آئے ہوتے۔۔۔ جانتے تو ہو وہ مواراما یہاں سے بھاگ گیا ہے۔‘‘\n\nخوشیا جس کی آنکھوں نے کبھی عورت کو یوں، اچانک طور پر ننگا نہیں دیکھا تھا، بہت گھبرا گیا۔ اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کرے؟ اس کی نظریں جو ایک دم عریانی سے دو چار ہو گئی تھیں، اپنے آپ کو کہیں چھپانا چاہتی تھیں۔\n\nاس نے جلدی جلدی صرف اتنا کہا، ’’جاؤ۔۔۔ جاؤ تم نہاؤ، پھر ایک دم اس کی زبان کھل گئی، ’’پر جب تم ننگی تھیں تو دروازہ کھولنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔؟ اندر سے کہہ دیا ہوتا میں پھر آ جاتا۔۔۔ لیکن جاؤ۔۔۔ تم نہا لو۔‘‘\n\nکانتا مسکرائی، ’’جب تم نے کہا خوشیا ہے۔ تو میں نے سوچا۔ کیا ہرج ہے۔ اپنا خوشیا ہی تو ہے آنے دو۔۔۔‘‘\n\nکانتا کی یہ مسکراہٹ ابھی تک خوشیا کے دل و دماغ میں تیر رہی تھی۔ اس وقت بھی کانتا کا ننگا جسم موم کے پتلے کی مانند اس کی آنکھوں کے سامنے کھڑا تھا اور پگھل پگھل کر اس کے اندر جارہا تھا۔\n\nاس کا جسم خوبصورت تھا۔ پہلی مرتبہ خوشیا کو معلوم ہوا کہ جسم بیچنے والی عورتیں بھی ایسا سڈول بدن رکھتی ہیں۔ اس کو اس بات پر حیرت ہوئی تھی۔ پر سب سے زیادہ تعجب اسے اس بات پر ہوا تھا کہ ننگ دھڑنگ وہ اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ اور اس کو لاج تک نہ آئی۔ کیوں؟ اس کا جواب کانتا نے یہ دیا تھا، ’’جب تم نے کہا خوشیا ہے۔ تو میں نے سوچا کیا ہرج ہے اپنا خوشیا ہی تو ہے۔۔۔ آنے دو۔‘‘\n\nکانتا اور خوشیا ایک ہی پیشے میں شریک تھے۔ وہ اس کا دلال تھا۔ اس لحاظ سے وہ اسی کا تھا۔۔۔ پر یہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ اس کے سامنے ننگی ہو جاتی۔ کوئی خاص بات تھی۔ کانتا کے الفاظ میں خوشیا کوئی اور ہی مطلب کرید رہا تھا۔ یہ مطلب بیک وقت اس قدر صاف اور اس قدر مبہم تھا کہ خوشیا کسی خاص نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا۔\n\nاس وقت بھی وہ کانتا کے ننگے جسم کو دیکھ رہا تھا، جو ڈھولکی پر منڈھے ہوئے چمڑے کی طرح تنا ہوا تھا۔ اس کی لڑھکتی ہوئی نگاہوں سے بالکل بے پروا! کئی بار حیرت کے عالم میں بھی اس نے اس کے سانولے سلونے بدن پر ٹوہ لینے والی نگاہیں گاڑی تھیں مگر اس کا ایک رواں تک بھی نہ کپکپایا تھا۔ بس سانولے پتھر کی مورتی کی مانند کھڑی رہی۔ جو احساس سے عاری ہو۔\n\n’’بھئی! ایک مرد اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔ مرد جس کی نگاہیں کپڑوںمیں بھی عورت کے جسم تک پہنچ جاتی ہیں اور جو پر ماتما جانے خیال ہی خیال میں کہاں کہاں پہنچ جاتا ہے۔ لیکن وہ ذرا بھی نہ گھبرائی اور۔۔۔ اور اس کی آنکھیں ایسا سمجھ لو کہ ابھی لانڈری سے دُھل کر آئی ہیں۔۔۔ اس کو تھوڑی سی لاج تو آنی چاہیے تھی۔ ذرا سی سرخی تو اس کے دیدوں میں پیدا ہونی چاہیے۔ مان لیاکسبی تھی۔ پر کسبیاں یوں ننگی تو نہیں کھڑی ہوجاتیں۔‘‘\n\nدس برس اس کو دلالی کرتے ہو گئے تھے۔ اور ان دس برسوں میں وہ پیشہ کرانے والی لڑکیوں کے تمام رازوں سے واقف ہو چکا تھا۔ مثال کے طور پر اسے یہ معلوم تھا کہ پائے دھونی کے آخری سرے پر جو چھوکری ایک نوجوان لڑکے کو بھائی بنا کر رہتی ہے، اس لیے ’اچھوت کنیا‘ کا ریکارڈ ’کاہے کرتا مورکھ پیار، پیار،پیار‘ اپنے ٹوٹے ہوئے باجے پر بجایا کرتی ہے کہ اسے اشوک کمار سے بہت بری طرح عشق ہے۔ کئی من چلے لونڈے اشوک کمار سے اس کی ملاقات کرانے کا جھانسہ دے کر اپنا اُلّو سیدھا کر چکے تھے۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ دادر میں جو پنجابن رہتی ہے صرف اس لیے کوٹ پتلون پہنتی ہے کہ اس کے ایک یار نے اس سے کہا تھا کہ تیری ٹانگیں تو بالکل اس انگریز ایکٹرس کی طرح ہیں جس نے ’مراکو عرف خونِ تمنّا‘ میں کام کیا تھا۔ یہ فلم اس نے کئی بار دیکھی اور جب اس کے یار نے کہا کہ مارلین ڈیٹرچ اس لیے پتلون پہنتا ہے کہ اس کی ٹانگیں بہت خوبصورت ہیں، اور ان ٹانگوں کا اس نے دو لاکھ کا بیمہ کرا رکھا ہےتو اس نے بھی پتلون پہننی شروع کر دی۔ جو اس کے چوتڑوں میں بہت پھنس کر آتی تھی۔ اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ ’مز گاؤں‘ والی دکھشنی چھوکری صرف اس لیے کالج کے خوبصورت لونڈوں کو پھانستی ہے کہ اسے ایک خوبصورت بچے کی ماں بننے کا شوق ہے۔ اس کو یہ بھی پتہ تھا کہ وہ کبھی اپنی خواہش پوری نہ کر سکے گی، اس لیے کہ بانجھ ہے۔ اور اس کالی مدراسن کی بابت جو ہر وقت کانوں میں ہیرے کی بوٹیاں پہنے رہتی تھی اس کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ اس کا رنگ کبھی سفید نہیں ہو گا۔ اور وہ ان دواؤں پر بیکار روپیہ برباد کر رہی ہے جو آئے دن خریدتی رہتی ہے۔\n\nاس کو ان تمام چھوکریوں کا اندر باہر کا حال معلوم تھاجو اس کے حلقے میں شامل تھیں۔ مگر اس کو یہ خبر نہ تھی کہ ایک روز کانتا کماری جس کا اصلی نام اتنا مشکل تھا کہ وہ عمر بھر یاد نہیں کر سکتا تھا، اس کے سامنے ننگی کھڑی ہو جائے گی۔ اور اس کو زندگی کے سب سے بڑے تعجب سے دوچار کرائے گی۔\n\nسوچتے سوچتے اس کے منہ میں پان کی پیک اس قدر جمع ہو گئی تھی کہ اب وہ مشکل سے چھا لیا کے ان ننھے ننھے ریزوں کو چبا سکتا تھا جو اس کے دانتوں کی ریخوں میں سے ادھر ادھر پھسل کر نکل جاتے تھے۔\n\nاس کے تنگ ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نمودار ہو گئی تھیں جیسے ململ میں پنیر کو آہستہ سے دبا دیا گیا ہے۔۔۔ اس کے مردانہ وقار کو دھکا سا پہنچتا تھا جب وہ کانتا کے ننگے جسم کو اپنے تصور میں لاتا تھا۔ اسے محسوس ہوتا تھاجیسے اس کا اپمان ہوا ہے۔\n\nایک دم اس نے اپنے دل میں کہا، ’’بھئی یہ اپمان نہیں ہے تو کیا ہے۔۔۔ یعنی ایک چھوکری ننگ دھڑنگ سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ اور کہتی ہے اس میں حرج ہی کیا ہے۔۔۔؟ تم خوشیا ہی تو ہو۔۔۔ خوشیا نہ ہوا، سالا وہ بلا ہو گیا جو اُس کے بستر پر ہر وقت اونگھتا رہتا ہے۔۔۔ اور کیا؟‘‘\n\nاب اسے یقین ہونے لگا کہ سچ مچ اس کی ہتک ہوئی ہے۔ وہ مرد تھا۔ اور اس کو اس بات کی غیر محسوس طریق پر توقع تھی کہ عورتیں خواہ شریف ہوں یا بازاری اس کو مرد ہی سمجھیں گی۔ اور اس کے اور اپنے درمیان وہ پردہ قائم رکھیں گی جو ایک مدت سے چلا آ رہا ہے۔ وہ تو صرف یہ پتہ لگانے کے لیے کانتا کے یہاں گیا تھا کہ وہ کب مکان تبدیل کر رہی ہے؟ اور کہاں جا رہی ہے؟ کانتا کے پاس اس کا جانا یکسر بزنس سے متعلق تھا۔ اگر خوشیا کانتا کی بابت سوچتا کہ جب وہ اس کا دروازہ کھٹکھٹائے گاتو وہ اندر کیا کر رہی ہوگی تواس کے تصّور میں زیادہ سے زیادہ اتنی باتیں آ سکتی تھیں۔\n\nسر پر پٹی باندھے لیٹ رہی ہو گی۔\n\nبّلے کے بالوں میں سے پِسّو نکال رہی ہو گی۔\n\nاس بال صفا پوڈر سے اپنی بغلوں کے بال اڑا رہی ہو گی جو اتنی باس مارتا تھا کہ خوشیا کی ناک برداشت نہیں کر سکتی تھی۔\n\nپلنگ پر اکیلی بیٹھی تاش پھیلائے پیشنس کھیلنے میں مشغول ہو گی۔\n\nبس اتنی چیزیں تھیں جو اس کے ذہن میں آتیں۔ گھر میں وہ کسی کو رکھتی نہیں تھی۔ اس لیے اس بات کا خیال ہی نہیں آ سکتا تھا۔ پر خوشیا نے تو یہ سوچا ہی نہیں تھا۔ وہ تو کام سے وہاں گیا تھاکہ اچانک کانتا۔۔۔ یعنی کپڑے پہننے والی کانتا۔۔۔ مطلب یہ کہ وہ کانتا جس کو وہ ہمیشہ کپڑوں میں دیکھا کرتا تھا، اس کے سامنے بالکل ننگی کھڑی ہو گئی۔۔۔ بالکل ننگی ہی سمجھو۔ کیونکہ ایک چھوٹا سا تولیہ سب کچھ تو چھپا نہیں سکتا۔ خوشیا کو یہ نظارہ دیکھ کر ایسا محسوس ہوا تھا جیسے چھلکا اس کے ہاتھ میں رہ گیا ہے اور کیلے کا گوداپُرچ کر کے اس کے سامنے آ گرا ہے۔ نہیں اسے کچھ اور ہی محسوس ہوا تھا۔ جیسے۔۔۔ جیسے وہ خود ننگا ہوگیا ہے۔ اگر بات یہاں تک ہی ختم ہو جاتی تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ خوشیا اپنی حیرت کو کسی نہ کسی حیلے سے دور کر دیتا۔ مگر یہاں مصیبت یہ آن پڑی تھی کہ اس لونڈیا نے مسکرا کر یہ کہا تھا، ’’جب تم نے کہا۔ خوشیا ہے تو میں نے سوچا اپنا خوشیا ہی تو ہے آنے دو‘‘۔۔۔ یہ بات اسے کھائے جا رہی تھی۔\n\n’’سالی مسکرا رہی تھی۔۔۔‘‘ وہ بار بار بڑبڑاتا جس طرح کانتا ننگی تھی اسی طرح اس کی مسکراہٹ خوشیا کو ننگی نظر آئی تھی۔ یہ مسکراہٹ ہی نہیں اسے کانتا کا جسم بھی اس حد تک نظر آیا تھاگویا اس پر رندا پھرا ہوا ہے۔\n\nاسے بار بار بچپن کے وہ دن یاد آ رہے تھے جب پڑوس کی ایک عورت اس سے کہا کرتی تھی، ’’خوشیا بیٹا جا دوڑ کے جا، یہ بالٹی پانی سے بھر لا۔ جب وہ بالٹی بھرکے لایا کرتا تھا تو وہ دھوتی سے بنائے پردے کے پیچھے سے کہا کرتی تھی۔‘‘ اندر آکے یہاں میرے پاس رکھ دے۔ میں نے منہ پر صابن ملا ہوا ہے۔ مجھے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔‘‘ وہ دھوتی کا پردہ ہٹا کر بالٹی اس کے پاس رکھ دیا کرتا تھا۔ اس وقت صابن کے جھاگ میں لپٹی ہوئی ننگی عورت اسے نظر آیا کرتی تھی مگر اس کے دل میں کسی قسم کا ہیجان پیدا نہیں ہوتا تھا۔\n\n’’بھئی میں اس وقت بچہ تھا۔ بالکل بھولا بھالا۔ بچے اور مرد میں بہت فرق ہوتا ہے۔ بچوں سے کون پردہ کرتا ہے۔ مگر اب تو میں پورا مرد ہوں۔ میری عمر اس وقت اٹھائیس برس کے قریب ہے۔ اور اٹھائیس برس کے جوان آدمی کے سامنے تو کوئی بوڑھی عورت بھی ننگی کھڑی نہیں ہوتی۔‘‘\n\nکانتا نے اسے کیا سمجھا تھا۔ کیا اس میں وہ تمام باتیں نہیں تھیں جو ایک نوجوان مرد میں ہوتی ہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کانتا کو یک بیک ننگ دھڑنگ دیکھ کر بہت گھبرایا تھا لیکن چور نگاہوں سے کیا اس نے کانتا کی ان چیزوں کا جائزہ نہیں لیا جو روزانہ استعمال کے باوجود اصلی حالت پر قائم تھیں۔ اور کیا تعجب کے ہوتے ہوئے اس کے دماغ میں یہ خیال نہیں آیا تھا کہ دس روپے میں کانتا بالکل مہنگی نہیں۔ اور دسہرے کے روز بنک کا وہ منشی جو دو روپے کی رعایت نہ ملنے پر واپس چلا گیا تھا، بالکل گدھا تھا۔۔۔؟ اور۔۔۔ ان سب کے اوپر، کیا ایک لمحے کے لیے اس کے تمام پٹھوں میں ایک عجیب قسم کا کھنچاؤ پیدا نہیں ہو گیا تھا۔ اور اس نے ایک ایسی انگڑائی نہیں لینا چاہی تھی جس سے اس کی ہڈیاں چٹخنے لگیں۔۔۔؟ پھر کیا وجہ تھی کہ منگلور کی اس سانولی چھوکری نے اس کو مرد نہ سمجھا اور صرف۔۔۔ صرف خوشیا سمجھ کر اس کو اپنا سب کچھ دیکھنے دیا؟\n\nاس نے غصّے میں آکر پان کی گاڑھی پیک تھوک دی جس نے فٹ پاتھ پر کئی بیل بوٹے بنا دیے۔ پیک تھوک کر وہ اٹھا اور ٹرام میں بیٹھ کر اپنے گھر چلا گیا۔\n\nگھر میں اس نے نہا دھو کر نئی دھوتی پہنی۔ جس بلڈنگ میں رہتا تھا اس کی ایک دکان میں سیلون تھا۔ اس کے اندر جا کر اس نے آئینے کے سامنے اپنے بالوں میں کنگھی کی۔ پھر فوراً ہی کچھ خیال آیاتو کرسی پر بیٹھ گیا۔ اور بڑی سنجیدگی سے اس نے داڑھی مونڈنے کے لیے حجام سے کہا، ’’آج چونکہ وہ دوسری مرتبہ داڑھی منڈوا رہا تھا۔ اس لیے حجام نے کہا،’’ ارے بھئی خوشیا بھول گئے کیا؟ صبح میں نے ہی تو تمہاری داڑھی مونڈی تھی اس پر خُوشیا نے بڑی متانت سے داڑھی پر الٹا ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، ’’کھونٹی اچھی طرح نہیں نکلی۔۔۔‘‘\n\nاچھی طرح کھونٹی نکلوا کر اور چہرے پر پوڈر ملوا کر وہ سیلون سے باہر نکلا۔ سامنے ٹیکسیوں کا اڈا تھا۔ بمبئی کے مخصوص انداز میں اس نے ’چھی چھی‘ کرکے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اور انگلی کے اشارے سے اسے ٹیکسی لانے کے لیے کہا۔ جب وہ ٹیکسی میں بیٹھ گیا تو ڈرائیور نے مڑ کر اس سے پوچھا، ’’کہاں جانا ہے صاحب؟‘‘\n\nان چار لفظوں نے اور خاص طور پر ’صاحب‘ نے خوشیا کو بہت مسرور کیا۔ مسکرا کر اس نے بڑے دوستانہ لہجہ میں جواب دیا، ’بتائیں گے، پہلے تم آپرا ہاؤس کی طرف چلو۔۔۔ لیمنگٹن روڈ سے ہوتے ہوئے۔۔۔ سمجھیے!‘ ڈرائیور نے میٹر کی لال جھنڈی کا سر نیچے دبا دیا۔ ٹن ٹن ہوئی اور ٹیکسی نے لیمنگٹن روڈ کا رخ کیا۔ لیمنگٹن روڈ کا جب آخری سرا آ گیا تو خوشیا نے ڈرائیور کو ہدایت دی، ’’بائیں ہاتھ موڑ لو۔‘‘\n\nٹیکسی بائیں ہاتھ مڑ گئی۔ ابھی ڈرائیور نے گیئر بھی نہ بدلا تھا کہ خوشیا نے کہا، ’’یہ سامنے والے کھمبے کے پاس روک لینا ذرا۔‘‘ ڈرائیور نے عین کھمبے کے پاس ٹیکسی کھڑی کر دی۔ خوشیا دروازہ کھول کر باہر نکلا۔ اور ایک پان والے کی دکان کی طرف بڑھا۔ یہاں سے اس نے ایک پان لیا۔ اور اس آدمی سے جو کہ دکان کے پاس کھڑا تھا،چند باتیں کیں۔ اور اسے اپنے ساتھ ٹیکسی میں بٹھاکر ڈرائیور سے کہا، ’’سیدھے لے چلو۔‘‘\n\nدیر تک ٹیکسی چلتی رہی۔ خوشیا نے جدھر اشارہ کیا، ڈرائیور نے ادھر ہینڈل پھرا دیا۔ مختلف پُررونق بازاروں میں سے ہوتے ہوئے ٹیکسی ایک نیم روشن گلی میں داخل ہوئی۔ جس میں آمدورفت بہت کم تھی۔ کچھ لوگ سڑک پر بستر جمائے لیٹے تھے۔ ان میں سے کچھ بڑے اطمینان سے چمپی کرا رہے تھے۔ جب ٹیکسی ان چمپی کرانے والوں کے آگے گئی۔ اور ایک کاٹھ کے بنگلہ نما مکان کے پاس پہنچی تو خوشیا نے ڈرائیور کو ٹھہرنے کے لیے کہا۔ ’’بس اب یہاں رک جاؤ‘‘۔ ٹیکسی ٹھہر گئی تو خوشیا نے اس آدمی سے جس کو وہ پان والے کی دکان سے اپنے ساتھ لیا تھا۔ آہستہ سے کہا، ’’جاؤ۔۔۔ میں یہاں انتظار کرتا ہوں۔‘‘ وہ آدمی بیوقوفوں کی طرح خوشیا کی طرف دیکھتا ہوا ٹیکسی سے باہر نکلااور سامنے والے چوبی مکان میں داخل ہو گیا۔\n\nخوشیا جم کر ٹیکسی کے گدے پر بیٹھ گیا۔ ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر اس نے جیب سے بیڑی نکال کر سلگائی اور ایک دو کش لے کر باہر پھینک دی۔ وہ بہت مضطرب تھا۔ اس لیے اسے ایسا لگاکہ ٹیکسی کا انجن بند نہیں ہوا ۔اس کے سینے میں چونکہ پھڑپھڑاہٹ سی ہو رہی تھی اس لیے وہ سمجھا کہ ڈرائیور نے بل بڑھانے کی غرض سے پٹرول چھوڑ رکھا ہے چنانچہ اس نے تیزی سے کہا، ’’یوں بیکار انجن چالو رکھ کر تم کتنے پیسے اور بڑھا لو گے؟‘‘\n\nڈرائیور نے مڑ کر خوشیا کی طرف دیکھا اور کہا، ’’سیٹھ انجن تو بند ہے۔‘‘\n\nجب خوشیا کو اپنی غلطی کا احساس ہواتو اس کا اضطراب اور بھی بڑھ گیا اور اس نے کچھ کہنے کے بجائے اپنے ہونٹ چبانے شروع کر دیے۔ پھر ایک ایکی سرے پر وہ کشتی نما کالی ٹوپی پہن کر جو اب تک اس کی بغل میں دبی ہوئی تھی، اس نے ڈرائیور کا شانہ ہلایا اور کہا، ’’دیکھو، ابھی ایک چھوکری آئے گی۔ جونہی اندر داخل ہو تم موٹر چلا دینا۔۔۔ مجھے۔۔۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ معاملہ ایسا ویسا نہیں۔‘‘\n\nاتنے میں سامنے چوبی مکان سے دو آدمی باہر نکلے۔ آگے آگے خوشیا کا دوست تھا اور اس کے پیچھے کا نتا، جس نے شوخ رنگ کی ساڑھی پہن رکھی تھی۔ خوشیا جھٹ اس طرف کو سرک گیا جدھر اندھیرا تھا۔ خوشیا کے دوست نے ٹیکسی کا دروازہ کھولا اور کانتا کو اندر داخل کرکے دروازہ بند کر دیا۔ فوراً ہی کانتا کی حیرت بھری آواز سنائی دی جو چیخ سے ملتی جلتی تھی، ’’خوشیا تم‘‘\n\n’’ہاں میں۔۔۔ لیکن تمہیں روپے مل گئے ہیں نا‘‘؟ خوشیا کی موٹی آواز بلند ہوئی۔ ’’دیکھو ڈرائیور۔۔۔ جو ہولے چلو۔‘‘\n\nڈرائیور نے سلف دبایا۔ انجن پھڑپھڑانا شروع ہوا۔ وہ بات جو کانتا نے کہی، سنائی نہ دےسکی۔ ٹیکسی ایک دھچکے کے ساتھ آگے بڑھی اور خوشیا کے دوست کو سڑک کے بیچ حیرت زدہ چھوڑ کر نیم روشن گلی میں غائب ہو گئی۔\n\nاس کے بعد کسی نے خوشیا کو موٹروں کی دکان کے سنگین چبوترے پر نہیں دیکھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%A7"} {"title": "خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا", "poet_page": "مصنف:اشرف علی فغاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا\nکاروان اشک چلتا ہی رہا\n\nاس کف پا پر ترے رنگ حنا\nجن نے دیکھا ہاتھ ملتا ہی رہا\n\nصبح ہوتے بجھ گئے سارے چراغ\nداغ دل تا شام جلتا ہی رہا\n\nکب ہوا بیکار پتلا خاک کا\nیہ تو سو قالب میں ڈھلتا ہی رہا\n\nبہ ہوئے کب داغ میرے جسم کے\nیہ شجر ہر وقت پھلتا ہی رہا\n\nکب تھما آنکھوں سے میری خون دل\nجوش کھا کھا کر ابلتا ہی رہا\n\nکیا ہوا مرہم لگانے سے فغاںؔ\nزخم دل سینہ میں سلتا ہی رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D9%86_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "خون دل کا جو کچھ اشکوں سے پتہ ملتا ہے", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خون دل کا جو کچھ اشکوں سے پتہ ملتا ہے\nہم کو جی کھول کے رونے میں مزا ملتا ہے\n\nہم سے اس عشق مجازی کی حقیقت پوچھو\nکہ یہ بت جب نہیں ملتے تو خدا ملتا ہے\n\nشوق سے کر مجھے پامال مگر یہ تو بتا\nخاک میں ملنے سے میرے تجھے کیا ملتا ہے\n\nآج تک ہم کو تو وہ بت نہ ملا پر نہ ملا\nکہتے ہیں ڈھونڈنے والے کو خدا ملتا ہے\n\nکند خنجر کی شکایت میں کروں کیوں ناطقؔ\nسچ تو یہ ہے کہ مجھے یوں ہی مزا ملتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D9%86_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%B4%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%AA%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "خون کس کس کا ہوا صدقے تری تلوار پر", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خون کس کس کا ہوا صدقے تری تلوار پر\nفصل گل دھبے ہیں لاکھوں دامن گلزار پر\n\nاب رہا دل تا قیامت ابروے خم دار پر\nکیا ہٹے گا وہ جو گردن رکھ چکا تلوار پر\n\nفصل گل رخصت ہوئی رو لیجئے گلزار پر\nبس یہی دو تین پنکھڑیاں ہیں یا دو چار پر\n\nوصل فرقت کی شبیں دونوں میں نیند آتی نہیں\nہنس رہا ہوں رو رہا ہوں طالع بیدار پر\n\nانتہا پر عشق آ کر ہو گیا ہے عین حسن\nموت کی بھی آنکھ پڑتی ہے ترے بیمار پر\n\nوصل سے مایوس ہو کر کام میرا بن گیا\nسیکڑوں اقرار صدقے ہو گئے انکار پر\n\nمیں نہیں لاکھوں پڑے ہیں مڑ کے پیچھے دیکھیے\nنقش پا غش کھا گئے ہیں شوخیٔ رفتار پر\n\nداغ والوں کے نشیمن شب کو بھی چھپتے نہیں\nدھوپ سی پھیلی ہوئی ہے باغ کی دیوار پر\n\nگردنیں وہ خم کئے ہیں جن کے سر ہیں بار خوں\nتو اگر خودبیں نہیں ڈال اک نظر تلوار پر\n\nاشک ریزان چمن سے خندۂ گل دب گیا\nاوس پڑتی ہے نئی ہر شب سر گلزار پر\n\nایک اک رگ دے رہی ہے لو وفور سوز سے\nناز ہے ثاقبؔ کو اپنے خلعت زر تار پر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D9%86_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B5%D8%AF%D9%82%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہی", "poet_page": "مصنف:محمد علی جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہی\nاس قدر ظلم پہ موقوف ہے کیا اور سہی\n\nخوف غماز عدالت کا خطر دار کا ڈر\nہیں جہاں اتنے وہاں خوف خدا اور سہی\n\nعہد اول کو بھی اچھا ہے جو پورا کر دو\nتم وفادار ہو تھوڑی سی وفا اور سہی\n\nجس نے ہنگامہ عدالت کا تری دیکھا ہے\nاس گنہ گار کو اک روز جزا اور سہی\n\nکشور کفر میں کعبہ کو بھی شامل کر لو\nسیر ظلمات کو تھوڑی سی فضا اور سہی\n\nبندگی میں تری سہتے ہی ہیں لو کی لپٹیں\nچند دن کے لیے دوزخ کی ہوا اور سہی\n\nدین و دل جا ہی چکا جان بھی جاتی ہے تو جائے\nترکش کفر میں اک تیر قضا اور سہی\n\nرب عزت کے لیے بھی کوئی رہنے دو خطاب\nتم خداوند ہی کہلاؤ خدا اور سہی\n\nحکم حاکم نہ سہی مرگ مفاجات سے کم\nمالک الملک پہ ایماں کی سزا اور سہی\n\nہم وفا کیشوں کا ایماں بھی ہے پروانہ صفت\nشمع محفل جو وہ کافر نہ رہا اور سہی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "خوگر لذت ہوں میں کس شوخ کی تعزیر کا", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوگر لذت ہوں میں کس شوخ کی تعزیر کا\nدل کو حسرت ہے کہ پہلو ڈھونڈئیے تقصیر کا\n\nتھا مرا ہنگامۂ وحشت ازل سے پیشتر\nعرش کی زنجیر ٹکڑا ہے مری زنجیر کا\n\nمر گیا زنداں میں جب میں وحشیٔ آتش نفس\nبجھ گیا شعلہ چراغ خانۂ زنجیر کا\n\nسخت جانی سے دل مضطر جو تڑپا وقت قتل\nبن گیا سنگ فساں قاتل تری شمشیر کا\n\nہو کے بسمل آرزوئے گفتگو قاتل سے ہے\nہر دہان زخم نقشہ ہے لب تقریر کا\n\nاتنی ہے مشق تصور انتظار قتل میں\nمردمک ہے آنکھ میں جوہر تری شمشیر کا\n\nجان کر ٹھنڈی ہوا وہ چین سے سوتے تو ہیں\nدم بھروں کیوں کر نہ آہ سرد بے تاثیر کا\n\nہوتا ہے انسان پیدا واسطے فریاد کے\nیہ اشارہ ہے سریر خامۂ تحریر کا\n\nروح آ جاتی ہے تن میں تیغ عریاں دیکھ کر\nمرغ جاں بلبل ہے باغ جوہر شمشیر کا\n\nآج تک آواز آتی ہے دہان گور سے\nہے یہ مدفن کشتۂ تیغ لب تقریر کا\n\nاور دونا غم اٹھایا کی مٹانے کی جو فکر\nداغ حسرت ہو گیا لکھا مری تقدیر کا\n\nرفتہ رفتہ یوں گھلایا قید میں غم نے نظرؔ\nطوق گردن پاؤں میں حلقہ بنا زنجیر کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%DA%AF%D8%B1_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "خوں بہا کا خط لا دعوی دیا", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوں بہا کا خط لا دعوی دیا\nجی لیا تھا اسے ناحق جی دیا\n\nسوزن مژگاں نے تار اشک سے\nبن ترے آنکھوں کو میرے سی دیا\n\nعشق بن دل دل نہ تھا تو جان یوں\nتیل بن بتی بنا ہتی دیا\n\nاوس مسیحا نے مرے مرقد پہ آ\nکیا جلایا جب دیے کو جی دیا\n\nداد پر جب چڑھ چکا دل او نسیم\nاب کی بازی گر بچی اب کی دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%B7_%D9%84%D8%A7_%D8%AF%D8%B9%D9%88%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "خوں بہانے کا بہانہ ہے بھلا میرے بعد", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوں بہانے کا بہانہ ہے بھلا میرے بعد\nتین دن پان بھی کھانا نہ ذرا میرے بعد\n\nفاتحہ پڑھ کے وہ رونے جو لگا میرے بعد\nشور محشر مرے مدفن پہ اٹھا میرے بعد\n\nسامنا ہوتے ہی یارو وہ برا مانتا ہے\nمیرا احوال کہو اس سے بھلا میرے بعد\n\nدل احباب نہ مدفن پہ جلا مثل چراغ\nپھر گئی ایسی زمانے کی ہوا میرے بعد\n\nقبر کو تکیۂ آغوش بنا کر بیٹھا\nمیرے قاتل کا کہیں دل نہ لگا میرے بعد\n\nکارواں میں پس و پیش ایک ہے منزل سب کی\nہو گئی رحلت ہر شاہ و گدا میرے بعد\n\nٹکڑے ہوگا میرے غم میں سر ساغر ساقی\nکاٹ ڈالے گی صراحی بھی گلا میرے بعد\n\nنہ رہا بلبل و پروانہ کو عشق گل و شمع\nنام کو بھی کوئی عاشق نہ رہا میرے بعد\n\nاے پری زاد تو دیوانہ ہے رسوا ہوگا\nزاد دل غیر سے کہنا نہ سنا میرے بعد\n\nاس سا معشوق جہاں میں کوئی مجھ سا عاشق\nعرشؔ آگے نہ ہوا تھا نہ ہوا میرے بعد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "خوں بہانے کے ہیں ہزار طریق", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوں بہانے کے ہیں ہزار طریق\nرنگ لانے کے ہیں ہزار طریق\n\nکعبہ و دیر پر نہیں موقوف\nاس یگانے کے ہیں ہزار طریق\n\nکوئی مذہب نہیں زمانے کا\nاس پرانے کے ہیں ہزار طریق\n\nعذر مستی و مے پرستی کیا\nبھول جانے کے ہیں ہزار طریق\n\nدل ستانی کے سیکڑوں انداز\nدل ستانے کے ہیں ہزار طریق\n\nیاد میں خواب میں تصور میں\nآ کہ آنے کے ہیں ہزار طریق\n\nدل لگی دل دہی دل آرامی\nدل لبھانے کے ہیں ہزار طریق\n\nدل مشبک ہوا تو فرمایا\nآنے جانے کے ہیں ہزار طریق\n\nکس طریقے سے ہو نباہ بیاںؔ\nکہ زمانے کے ہیں ہزار طریق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82"} {"title": "خوں رلاتی ہے تری حسرت دیدار مجھے", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوں رلاتی ہے تری حسرت دیدار مجھے\nتیری فرقت نے کیا جان سے بیزار مجھے\n\nدیں کے قابل نہ رہا اور نہ رہا دنیا کا\nتجھ سے خود کام نے ایسا کیا بیکار مجھے\n\nروح کہتی ہے کہ سو جان سے میں صدقہ ہوں\nدل کے پردے میں نظر آیا ہے جب یار مجھے\n\nجس کی چتون کا تو گھائل ہے میں اس کا زخمی\nدیکھتی کیا ہے تو اے نرگس بیمار مجھے\n\nعمر آخر ہوئی افسوس بڑی غفلت سے\nدم مردن ہی کیا موت نے ہوشیار مجھے\n\nاپنے ہاتھوں سے پھنسا ہوں میں خود ہی آفت میں\nحرص دنیا نے کیا بندۂ افکار مجھے\n\nشیخ جی جائیے مسجد میں نہیں جاتا میں\nبت کافر نے کیا صاحب زنار مجھے\n\nاک جھلک دور سے دکھلا کے یہ چھینا کیسا\nسامنے آ کے دکھا جلوۂ رخسار مجھے\n\nرکھ کے تصویر صنم دل میں عبث کہتے ہو\nشیخ ہوں میں بت کافر سے سروکار مجھے\n\nضبط گریہ مجھے لازم ہے کہ اغیار میں یاں\nبزم میں خار نہ کر چشم گہر بار مجھے\n\nبیٹھ کر کوچۂ شہ میں یہ جمیلہؔ نے کہا\nغوث کافی ہے ترا سایۂ دیوار مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%B1%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "خوں کے پیاسے ہیں وہاں ابروئے خم دار جدا", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خوں کے پیاسے ہیں وہاں ابروئے خم دار جدا\nتیز کرتی ہے چھری یاں مژۂ یار جدا\n\nاے صنم بہر خدا تو نہ ہو زنہار جدا\nموت ہی ہے جو مسیحا سے ہو بیمار جدا\n\nرخ روشن سے ہوں کیا ابروئے خم دار جدا\nصبح محشر سے نہ ہوگی یہ شب تار جدا\n\nتو کہے تو ابھی سر کاٹ کے رکھ دیتے ہیں\nہم کسی حال میں تجھ سے نہیں اے یار جدا\n\nباغ عالم میں کسے عشق ان آنکھوں کا نہیں\nمیں ہوں بیمار جدا نرگس بیمار جدا\n\nاس سے کچھ خوف نہیں اس سے ہے اندیشۂ مرگ\nرنجش خلق جدا رنجش دل دار جدا\n\nخاک بھی اس سے نہ ہو اس سے ہو محشر برپا\nکبک کی چال جدا یار کی رفتار جدا\n\nابھی ہو جائے زمیں ہمسر چرخ انجم\nکفش سے تیرے ستارے ہوں جو دو چار جدا\n\nایک دن وصل ہی ہو جائے گا عاشق کا ترے\nمجھ سے ہوتا ہے جو اے یار تو ہر بار جدا\n\nایک گل باغ جہاں میں نہیں تجھ سا بخدا\nسب حسینوں سے روش ہے تری اے یار جدا\n\nکون سی شکل ہے اب زیست کی میری اکبرؔ\nصدمۂ ہجر جدا طعنۂ اغیار جدا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%85_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%AF%D8%A7"} {"title": "خَلوت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "رُسوا کِیا اس دَور کو جَلوت کی ہُوس نے\nروشن ہے نِگہ، آئنۂ دل ہے مُکدّر\nبڑھ جاتا ہے جب ذوقِ نظر اپنی حدوں سے\nہو جاتے ہیں افکار پراگندہ و ابتر\nآغوشِ صدف جس کے نصیبوں میں نہیں ہے\nوہ قطرۂ نیساں کبھی بنتا نہیں گوہر\nخلوَت میں خودی ہوتی ہے خودگیر، و لیکن\nخلوَت نہیں اب دَیر و حرم میں بھی میَسّر!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%8E%D9%84%D9%88%D8%AA"} {"title": "خُفتگانِ خاک سے استفسار", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "مہرِ روشن چھُپ گیا، اُٹھّی نقابِ رُوئے شام\nشانۂ ہستی پہ ہے بکھرا ہُوا گیسُوئے شام\nیہ سیَہ پوشی کی تیّاری کسی کے غم میں ہے\nمحفلِ قُدرت مگر خورشید کے ماتم میں ہے\nکر رہا ہے آسماں جادُو لبِ گُفتار پر\nساحرِ شب کی نظر ہے دیدۂ بیدار پر\nغوطہ زن دریائے خاموشی میں ہے موجِ ہوا\nہاں، مگر اک دُور سے آتی ہے آوازِ درا\nدل کہ ہے بے تابیِ اُلفت میں دنیا سے نفُور\nکھینچ لایا ہے مجھے ہنگامۂ عالم سے دُور\nمنظرِ حرماں نصیبی کا تماشائی ہوں میں\nہم نشینِ خُفتگان کُنجِ تنہائی ہوں میں\n\nتھم ذرا بے تابیِ دل! بیٹھ جانے دے مجھے\nاور اس بستی پہ چار آنسو گرانے دے مجھے\nاے مئے غفلت کے سر مستو! کہاں رہتے ہو تم؟\nکُچھ کہو اُس دیس کی آخر، جہاں رہتے ہو تم\nوہ بھی حیرت خانۂ امروز و فردا ہے کوئی؟\nاور پیکارِ عناصِر کا تماشا ہے کوئی؟\nآدمی واں بھی حصارِ غم میں ہے محصُور کیا؟\nاُس ولایت میں بھی ہے انساں کا دل مجبُور کیا؟\nواں بھی جل مرتا ہے سوزِ شمع پر پروانہ کیا؟\nاُس چمن میں بھی گُل و بُلبل کا ہے افسانہ کیا؟\nیاں تو اک مصرع میں پہلو سے نکل جاتا ہے دل\nشعر کی گرمی سے کیا واں بھی پگھل جاتاہے دل؟\nرشتہ و پیوند یاں کے جان کا آزار ہیں\nاُس گُلستاں میں بھی کیا ایسے نُکیلے خار ہیں؟\nاس جہاں میں اک معیشت اور سَو اُفتاد ہے\nرُوح کیا اُس دیس میں اس فکر سے آزاد ہے؟\nکیا وہاں بجلی بھی ہے، دہقاں بھی ہے، خرمن بھی ہے؟\nقافلے والے بھی ہیں، اندیشۂ رہزن بھی ہے؟\nتِنکے چُنتے ہیں وہاں بھی آشیاں کے واسطے؟\nخِشت و گِل کی فکر ہوتی ہے مکاں کے واسطے؟\nواں بھی انساں اپنی اصلیّت سے بیگانے ہیں کیا؟\nامتیازِ ملّت و آئِیں کے دیوانے ہیں کیا؟\nواں بھی کیا فریادِ بُلبل پر چمن روتا نہیں؟\nاِس جہاں کی طرح واں بھی دردِ دل ہوتا نہیں؟\n\nباغ ہے فردوس یا اک منزلِ آرام ہے؟\nیا رُخِ بے پردۂ حُسنِ ازل کا نام ہے؟\nکیا جہنّم معصیت سوزی کی اک ترکیب ہے؟\nآگ کے شعلوں میں پنہاں مقصدِ تادیب ہے؟\nکیا عوض رفتار کے اُس دیس میں پرواز ہے؟\nموت کہتے ہیں جسے اہلِ زمیں، کیا راز ہے؟\nاضطرابِ دل کا ساماں یاں کی ہست و بود ہے\nعلمِ انساں اُس ولایت میں بھی کیا محدود ہے؟\nدید سے تسکین پاتا ہے دلِ مہجُور بھی؟\n’لن ترانی‘ کہہ رہے ہیں یا وہاں کے طُور بھی؟\nجستجو میں ہے وہاں بھی رُوح کو آرام کیا؟\nواں بھی انساں ہے قتیلِ ذوقِ استفہام کیا؟\nآہ! وہ کِشور بھی تاریکی سے کیا معمُور ہے؟\nیا محبّت کی تجلّی سے سراپا نُور ہے؟\nتم بتا دو راز جو اس گنبدِ گرداں میں ہے\nموت اک چُبھتا ہُوا کانٹا دلِ انساں میں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%8F%D9%81%D8%AA%DA%AF%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D9%81%D8%B3%D8%A7%D8%B1"} {"title": "خُوب و زِشت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ستارگانِ فضاہائے نیلگوں کی طرح\nتخیّلات بھی ہیں تابعِ طلوع و غروب\nجہاں خودی کا بھی ہے صاحبِ فراز و نشیب\nیہاں بھی معرکہ آرا ہے خُوب سے ناخُوب\nنمود جس کی فرازِ خودی سے ہو، وہ جمیل\nجو ہو نشیب میں پیدا، قبیح و نامحبوب!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%8F%D9%88%D8%A8_%D9%88_%D8%B2%D9%90%D8%B4%D8%AA"} {"title": "خِرد دیکھے اگر دل کی نگہ سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "خِرد دیکھے اگر دل کی نگہ سے\nجہاں رَوشن ہے نُورِ ’لا اِلہ‘ سے\nفقط اک گردشِ شام و سحر ہے\nاگر دیکھیں فروغِ مہر و مہ سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%90%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DA%AF%DB%81_%D8%B3%DB%92"} {"title": "خِرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "خِرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ\nسِکھائی عشق نے مجھ کو حدیثِ رِندانہ\n\nنہ بادہ ہے، نہ صُراحی، نہ دورِ پیمانہ\nفقط نگاہ سے رنگیں ہے بزمِ جانانہ\n\nمری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ\nکہ مَیں ہوں محرمِ رازِ دُرونِ میخانہ\n\nکلی کو دیکھ کہ ہے تشنۂ نسیمِ سحَر\nاسی میں ہے مرے دل کا تمام افسانہ\n\nکوئی بتائے مجھے یہ غیاب ہے کہ حضور\nسب آشنا ہیں یہاں، ایک مَیں ہوں بیگانہ\n\nفرنگ میں کوئی دن اور بھی ٹھہَر جاؤں\nمرے جُنوں کو سنبھالے اگر یہ ویرانہ\n\nمقامِ عقل سے آساں گزر گیا اقبالؔ\nمقامِ شوق میں کھویا گیا وہ فرزانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%90%D8%B1%D8%AF_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%D8%B7%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "خِردمندوں سے کیا پُوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "خِردمندوں سے کیا پُوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے\nکہ مَیں اس فکر میں رہتا ہوں، میری انتہا کیا ہے\n\nخودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے\nخدا بندے سے خود پُوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے\n\nمقامِ گُفتگو کیا ہے اگر مَیں کیمیاگر ہوں\nیہی سوزِ نفَس ہے، اَور میری کیمیا کیا ہے!\n\nنظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اُس میں\nنہ پُوچھ اے ہم نشیں مجھ سے وہ چشمِ سُرمہ سا کیا ہے\n\nاگر ہوتا وہ مجذوبِ فرنگی اس زمانے میں\nتو اقبالؔ اس کو سمجھاتا مقامِ کبریا کیا ہے\n\nنوائے صُبح‌گاہی نے جگر خُوں کر دیا میرا\nخدایا جس خطا کی یہ سزا ہے، وہ خطا کیا ہے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%90%D8%B1%D8%AF%D9%85%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D9%8F%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "خِضرِ راہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "شاعر\nساحلِ دریا پہ مَیں اک رات تھا محوِ نظر\nگوشۂ دل میں چھُپائے اک جہانِ اضطراب\nشب سکُوت افزا، ہَوا آسودہ، دریا نرم سَیر\nتھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصویرِ آب\nجیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفلِ شِیرخوار\nموجِ مُضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مستِ خواب\nرات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیر\nانجمِ کم‌ضَو گرفتارِ طلسمِ ماہتاب\nدیکھتا کیا ہوں کہ وہ پیکِ جہاں‌پیما خضَر\nجس کی پِیری میں ہے مانندِ سحَر رنگِ شباب\nکہہ رہا ہے مجھ سے، اے جویائے اسرارِ ازل!\nچشمِ دل وا ہو تو ہے تقدیرِ عالم بے حجاب\nدل میں یہ سُن کر بَپا ہنگامۂ محشر ہُوا\nمَیں شہیدِ جُستجو تھا، یوں سخن گستر ہُوا\n\nاے تری چشمِ جہاں‌بیں پر وہ طوفاں آشکار\nجن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموش\n’کشتیِ مسکین‘ و ’جانِ پاک‘ و ’دیوارِ یتیم‘\nعلمِ مُوسیٰؑ بھی ہے تیرے سامنے حیرت فروش\nچھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تُو صحرا نَورد\nزندگی تیری ہے بے روز و شب و فردا و دوش\nزندگی کا راز کیا ہے، سلطنت کیا چیز ہے\nاور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروش\nہو رہا ہے ایشیا کا خرقۂ دیرینہ چاک\nنوجواں اقوامِ نَو دولت کے ہیں پَیرایہ پوش\nگرچہ اسکندر رہا محرومِ آبِ زندگی\nفطرتِ اسکندری اب تک ہے گرمِ ناؤنوش\nبیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دینِ مصطفیؐ\nخاک و خُوں میں مِل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش\nآگ ہے، اولادِ ابراہیمؑ ہے، نمرُود ہے\nکیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصُود ہے!\n\nجوابِ خِضر\nصحرا نَوردی\nکیوں تعجّب ہے مری صحرا نَوردی پر تجھے\nیہ تگا پوئے دمادم زندگی کی ہے دلیل\nاے رہینِ خانہ تُو نے وہ سماں دیکھا نہیں\nگُونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگِ رحیل\nریت کے ٹیلے پہ وہ آہُو کا بے پروا خرام\nوہ حضَر بے برگ و ساماں، وہ سفر بے سنگ و مِیل\nوہ نمودِ اخترِ سیماب پا ہنگامِ صُبح\nیا نمایاں بامِ گردُوں سے جبینِ جبرئیلؑ\nوہ سکُوتِ شامِ صحرا میں غروبِ آفتاب\nجس سے روشن تر ہُوئی چشمِ جہاں بینِ خلیلؑ\nاور وہ پانی کے چشمے پر مقامِ کارواں\nاہلِ ایماں جس طرح جنّت میں گِردِ سلسبیل\nتازہ ویرانے کی سودائے محبّت کو تلاش\nاور آبادی میں تُو زنجیریِ کِشت و نخیل\nپُختہ تر ہے گردشِ پیہم سے جامِ زندگی\nہے یہی اے بےخبر رازِ دوامِ زندگی\n\nزندگی\nبرتر از اندیشۂ سُود و زیاں ہے زندگی\nہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی\nتُو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ\nجاوداں، پیہم‌دواں، ہر دم جواں ہے زندگی\nاپنی دُنیا آپ پیدا کر اگر زِندوں میں ہے\nسرِّ آدم ہے، ضمیر کُن فکاں ہے زندگی\nزندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پُوچھ\nجُوئے شِیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی\nبندگی میں گھَٹ کے رہ جاتی ہے اک جُوئے کم آب\nاور آزادی میں بحرِ بے کراں ہے زندگی\nآشکارا ہے یہ اپنی قُوّتِ تسخیر سے\nگرچہ اک مٹّی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی\nقلزمِ ہستی سے تُو اُبھرا ہے مانندِ حباب\nاس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی\nخام ہے جب تک تو ہے مٹّی کا اک انبار تُو\nپُختہ ہو جائے تو ہے شمشیرِ بے زنہار تُو\n\nہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ\nپہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے\nپھُونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار\nاور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے\nزندگی کی قُوّتِ پنہاں کو کر دے آشکار\nتا یہ چنگاری فروغِ جاوداں پیدا کرے\nخاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتاب\nتا بدخشاں پھر وہی لعلِ گراں پیدا کرے\nسُوئے گردُوں نالۂ شب گیر کا بھیجے سفیر\nرات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرے\nیہ گھڑی محشر کی ہے، تُو عرصۂ محشر میں ہے\nپیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے!\n\nسلطنت\nآ بتاؤں تُجھ کو رمز آیۂ اِنَّ الْمُلُوْک\nسلطنت اقوامِ غالب کی ہے اک جادُوگری\nخواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر\nپھر سُلا دیتی ہے اُس کو حُکمراں کی ساحری\nجادوئے محمود کی تاثیر سے چشمِ ایاز\nدیکھتی ہے حلقۂ گردن میں سازِ دلبری\nخُونِ اسرائیل آجاتا ہے آخر جوش میں\nتوڑ دیتا ہے کوئی مُوسیٰ طلسمِ سامری\nسروَری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے\nحُکمراں ہے اک وہی، باقی بُتانِ آزری\nاز غلامی فطرتِ آزاد را رُسوا مکُن\nتا تراشی خواجۂ از برہَمن کافر تری\nہے وہی سازِ کُہن مغرب کا جمہوری نظام\nجس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری\nدیو استبداد جمہوری قبا میں پاے کوب\nتُو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری\nمجلسِ آئین و اصلاح و رعایات و حقوق\nطِبِّ مغرب میں مزے میٹھے، اثر خواب آوری\nگرمیِ گفتارِ اعضائے مجالس، الاماں!\nیہ بھی اک سرمایہ‌داروں کی ہے جنگِ زرگری\nاس سرابِ رنگ و بو کو گُلِستاں سمجھا ہے تُو\nآہ اے ناداں! قفَس کو آشیاں سمجھا ہے تُو\n\nسرمایہ و محنت\nبندۂ مزدور کو جا کر مرا پیغام دے\nخِضر کا پیغام کیا، ہے یہ پیامِ کائنات\nاے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ‌دارِ حیلہ گر\nشاخِ آہُو پر رہی صدیوں تلک تیری برات\nدستِ دولت آفریں کو مزد یوں مِلتی رہی\nاہلِ ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکات\nساحرِ المُوط نے تجھ کو دیا برگِ حشیش\nاور تُو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نبات\nنسل، قومیّت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ\nخواجگی نے خوب چُن چُن کے بنائے مُسکِرات\nکَٹ مَرا ناداں خیالی دیوتاؤں کے لیے\nسُکرکی لذّت میں تُو لُٹوا گیا نقدِ حیات\nمکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ‌دار\nانتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات\nاُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے\nمشرق و مغرب میں تیرے دَور کا آغاز ہے\n\nہمّتِ عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبول\nغُنچہ‌ساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تلک\nنغمۂ بیداریِ جمہور ہے سامانِ عیش\nقِصّۂ خواب‌آورِ اسکندر و جم کب تلک\nآفتابِ تازہ پیدا بطنِ گیتی سے ہُوا\nآسماں! ڈُوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک\nتوڑ ڈالیں فطرتِ انساں نے زنجیریں تمام\nدُوریِ جنّت سے روتی چشمِ آدم کب تلک\nباغبانِ چارہ فرما سے یہ کہتی ہے بہار\nزخمِ گُل کے واسطے تدبیرِ مرہم کب تلک\nکرمکِ ناداں! طوافِ شمع سے آزاد ہو\nاپنی فطرت کے تجلّی زار میں آباد ہو\n\nدُنیائے اِسلام\nکیا سُناتا ہے مجھے تُرک و عرب کی داستاں\nمجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز\nلے گئے تثلیث کے فرزند میراثِ خلیلؑ\nخشتِ بنیادِ کلیسا بن گئی خاکِ حجاز\nہوگئی رُسوا زمانے میں کُلاہِ لالہ رنگ\nجو سراپا ناز تھے، ہیں آج مجبورِ نیاز\nلے رہا ہے مے فروشانِ فرنگستاں سے پارس\nوہ مئے سرکش حرارت جس کی ہے مِینا گداز\nحکمتِ مغرب سے مِلّت کی یہ کیفیّت ہوئی\nٹُکڑے ٹُکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز\nہوگیا مانندِ آب ارزاں مسلماں کا لہُو\nمُضطرب ہے تُو کہ تیرا دل نہیں دانائے راز\nگُفت رومیؔ “ہر بِناے کُہنہ کآباداں کنند”\nمی ندانی “اوّل آں بنیاد را ویراں کنند”\n\n“مُلک ہاتھوں سے گیا مِلّت کی آنکھیں کھُل گئیں”\nحق ترا چشمے عطا کردست غافل در نگر\nمومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکست\nمُورِ بے پر! حاجتے پیشِ سلیمانے مبر\nربط و ضبطِ مِلّتِ بیضا ہے مشرق کی نجات\nایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر\nپھر سیاست چھوڑ کر داخل حصارِ دیں میں ہو\nمُلک و دولت ہے فقط حِفظِ حرم کا اک ثمر\nایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے\nنِیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر\nجو کرے گا امتیازِ رنگ و خُوں، مِٹ جائے گا\nتُرکِ خرگاہی ہو یا اعرابیِ والا گُہر\nنسل اگر مسلم کی مذہب پر مُقّدم ہوگئی\nاُڑ گیا دُنیا سے تُو مانندِ خاکِ رہ گزر\nتا خلافت کی بِنا دُنیا میں ہو پھر اُستوار\nلا کہیں سے ڈھُونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر\nاے کہ نشناسی خفی را از جلی ہُشیار باش\nاے گرفتارِ ابُوبکرؓ و علیؓ ہُشیار باش\n\nعشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چُکی\nاب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھ\nتُو نے دیکھا سطوَتِ رفتارِ دریا کا عروج\nموجِ مُضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھ\nعام حُریّت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے\nاے مسلماں آج تُو اُس خواب کی تعبیر دیکھ\nاپنی خاکستر سمندر کو ہے سامانِ وجود\nمر کے پھر ہوتا ہے پیدا یہ جہانِ پِیر، دیکھ\nکھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میں\nآنے والے دَور کی دھُندلی سی اک تصویر دیکھ\nآزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردُوں کے پاس\nسامنے تقدیر کے رُسوائیِ تدبیر دیکھ\nمسلم استی سینہ را از آرزو آباد دار\nہر زماں پیشِ نظر، ’لاَیُخْلِفُ المِیعَاد‘ دار", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%D9%90%D8%B6%D8%B1%D9%90_%D8%B1%D8%A7%DB%81"} {"title": "خیال اتنا ستم ایجاد رکھنا", "poet_page": "مصنف:نواب امراوبہادر دلیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خیال اتنا ستم ایجاد رکھنا\nوفائیں کچھ ہماری یاد رکھنا\n\nنہیں شکوہ جو رکھا ہم کو ناشاد\nقیامت ہے عدو کو شاد رکھنا\n\nبتا کیا تھا کہ مجھ کو قتل کر کے\nجگر پر ہاتھ او جلاد رکھنا\n\nعدو کے ساتھ کرنا عیش و عشرت\nہمیں او بے وفا ناشاد رکھنا\n\nجو محفل میں ہو تیری دور ساغر\nذرا ساقی ہمیں بھی یاد رکھنا\n\nکھنچے اس شوخ کی تصویر دل کش\nادا کوئی نئی بہزاد رکھنا\n\nمجھے دنیا سے جس بت نے مٹایا\nخدایا تو اسے آباد رکھنا\n\nمرا دل نازوں کا پالا ہوا ہے\nلئے جاتے ہو اس کو شاد رکھنا\n\nکہیں مل جائے دل اس کا نہ اے دل\nخیال اتنا دم فریاد رکھنا\n\nغضب ہے تجھ کو او قاتل نہ آیا\nگلے پر خنجر فولاد رکھنا\n\nدلیرؔ اتنا کہے دیتے ہیں تم سے\nخیال خاطر جلاد رکھنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "خیال میں اک نہ اک مزے کی نئی کہانی ہے اور ہم ہیں", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خیال میں اک نہ اک مزے کی نئی کہانی ہے اور ہم ہیں\nابھی تمنا ہے اور دل ہے ابھی جوانی ہے اور ہم ہیں\n\nغریق بحر ستم نہ کیوں ہوں یہ جاں فشانی ہے اور ہم ہیں\nکہ آپ ہیں آپ کی چھری ہے چھری کا پانی ہے اور ہم ہیں\n\nدم اخیر اس کو اب نہ سوچیں یہ سوچنا چاہئے تھا پہلے\nمآل کیا ہوگا زندگی کا جہان فانی ہے اور ہم ہیں\n\nیہ عشق پر حسن کی عنایت یہ حسن سے عشق کی ارادت\nہماری حسرت ہے اور تو ہے تری جوانی ہے اور ہم ہیں\n\nنگاہ الفت بھی ہو چلی کچھ ستم بھی کرنے لگا وہ ظالم\nاگر یہی مہربانیاں ہیں تو کامرانی ہے اور ہم ہیں\n\nادا نے چھیڑا نظر نے تاکا ستم نے لوٹا غضب نے مارا\nزبان جب سے کھلی ہماری یہی کہانی ہے اور ہم ہیں\n\nبقا کا چرچا جہان بھر میں مگر بقا سے جہان خالی\nخیال عیش مدام کیسا جہان فانی ہے اور ہم ہیں\n\nابھی سے توبہ ابھی سے تقویٰ ابھی سے کیا فکر دین و عقبیٰ\nنئی امنگیں نئی ترنگیں نئی جوانی ہے اور ہم ہیں\n\nپہنچ پہنچ کر فلک پر آہیں کریں نہ انجم میں کیوں اضافہ\nکہ شام سے صبح تک شب غم شرر فشانی ہے اور ہم ہیں\n\nکسے توقع نہ آئیں گے وہ یقیں کسے تھا بلائیں گے وہ\nیہ خاص ان کی ہے مہربانی کہ مہربانی ہے اور ہم ہیں\n\nاٹھا ہی دیں گے نقاب اپنی دکھا ہی دیں گے وہ اپنا جلوہ\nنبھے گی کب تک یہ لن ترانی یہ لن ترانی ہے اور ہم ہیں\n\nبھرے ہوئے چشم تر میں آنسو جگر میں بھڑکی ہوئی تپ غم\nیہ آگ ہے اور یہ ہے پانی یہ آگ پانی ہے اور ہم ہیں\n\nفغاں تو آخر فغاں ہی ٹھہری گلہ تو آخر گلہ ہی ٹھہرا\nمحال ہے جس میں سانس لینی وہ ناتوانی ہے اور ہم ہیں\n\nنئے شگوفے نہ کیوں کھلائیں جو غنچہ و گل کو دیکھ پائیں\nبہار تو ہے چمن کی رانی چمن کی رانی ہے اور ہم ہیں\n\nکبھی تو ہم ہیں یہاں وہاں کے کبھی تصور ادھر ادھر کا\nسکون و راحت سے کیا تعلق کہ بد گمانی ہے اور ہم ہیں\n\nجتا چکے درد دل کو اپنے جو اب جتائیں تو کیا جتائیں\nکہی ہوئی بھی سنی ہوئی بھی وہی کہانی ہے اور ہم ہیں\n\nبہت سے الفت میں آئے طوفاں رہا کئے نوحؔ بھی پریشاں\nمگر وہی پیہم آنسوؤں کی ابھی روانی ہے اور ہم ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DA%A9_%D9%85%D8%B2%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خیال ناوک مژگاں میں بس ہم سر پٹکتے ہیں", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خیال ناوک مژگاں میں بس ہم سر پٹکتے ہیں\nہمارے دل میں مدت سے یہ خار غم کھٹکتے ہیں\n\nرخ روشن پہ اس کی گیسوئے شب گوں لٹکتے ہیں\nقیامت ہے مسافر راستہ دن کو بھٹکتے ہیں\n\nفغاں کرتی ہے بلبل یاد میں گر گل کے اے گلچیں\nصدا اک آہ کی آتی ہے جب غنچے چٹکتے ہیں\n\nرہا کرتا نہیں صیاد ہم کو موسم گل میں\nقفس میں دم جو گھبراتا ہے سر دے دے پٹکتے ہیں\n\nاڑا دوں گا رساؔ میں دھجیاں دامان صحرا کی\nعبث خار بیاباں میرے دامن سے اٹکتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D9%86%D8%A7%D9%88%DA%A9_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B3_%DB%81%D9%85_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%D9%B9%DA%A9%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خیال نطق سے بیگانہ ہو تو کیا کہئے", "poet_page": "مصنف:محمد صادق ضیا", "kind": "poetry", "section": "غزل > صبح مشرق (1938)", "year": "1938", "text_ur": "خیال نطق سے بیگانہ ہو تو کیا کہئے\nلب خموش ہی افسانہ ہو تو کیا کہئے\n\nمیں جانتا ہوں کہ توہین وضع ہے مستی\nیہی شریعت مے خانہ ہو تو کیا کہئے\n\nجمال دوست کو دیوانگی سے کیا مطلب\nدل اپنے آپ ہی دیوانہ ہو تو کیا کہئے\n\nہو کوئی اور تو اس سے گلا مناسب ہے\nمگر جو دوست ہے بیگانہ ہو تو کیا کہئے\n\nبغیر ساغر مے بھی ہے کیف کا امکان\nترا خیال ہی رندانہ ہو تو کیا کہئے\n\nمیں چاہتا ہوں کہوں رنج عشق کی روداد\nسلوک حسن حریفانہ ہو تو کیا کہئے\n\nعزیز دل سے زیادہ ہے مجھ کو عصمت راز\nہر اک طرف یہی افسانہ ہو تو کیا کہئے\n\nمذاق بزم کی اصلاح ممکنات سے ہے\nفروغ شمع ہی پروانہ ہو تو کیا کہئے\n\nشباب دعوت رنگینیٔ نظر ہے ضیاؔ\nمگر نظر ہی فقیہانہ ہو تو کیا کہئے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D9%86%D8%B7%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "خیال گزرے کہاں کہاں کا ارادہ ان کو ہو گر یہیں کا", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خیال گزرے کہاں کہاں کا ارادہ ان کو ہو گر یہیں کا\nنہ کچھ ٹھکانا مرے گماں کا نہ کچھ ٹھکانا مرے یقیں کا\n\nنہ شوق مجھ کو ہے حور عیں کا نہ پاس واعظ ہے اپنے دیں کا\nجو ذکر کرنا ہے گر یہیں کا سنا نہ جھگڑا کہیں کہیں کا\n\nخراب کوئے بتاں ہے خلقت یہیں سے پاتے ہیں رنج و راحت\nسپہر گردش میں کر نہ جرأت کہ دور آیا ہے اب زمیں کا\n\nشہید ہونے کی یہ تمنا نہ دل سے نکلے گی دیکھ لینا\nاٹھائے خنجر وہ ہاتھ میں کیا نہ یار سنبھلے جب آستیں کا\n\nہزار نالے زباں پہ لاتا ہزار محشر ابھی دکھاتا\nشب جدائی اگر نہ آتا خیال اس چشم سرمگیں کا\n\nنشان پائے عدو نے مارا کہ تیرے در پر نہیں گوارا\nجھکے جو سجدے کو سر ہمارا مٹائیں لکھا ہوا جبیں کا\n\nکہوں مطالب سب اپنے جی کے یہ شرط کیجے کہ ہاں نہ کیجے\nکہو نہیں پھر اسی طرح سے مجھے ہے سننا نہیں نہیں کا\n\nجو پوچھے مجھ سا ہے کوئی بد ظن کہو نہ احوال وصل دشمن\nیہ میں نے مانا کہ تم ہو پر فن علاج کیا چشم شرمگیں کا\n\nملے گی محشر میں داد اب کیا ادائے مطلب میں ہوں میں الجھا\nبیان پہلے ہی کیوں کیا تھا تمہارے گیسوئے عنبریں کا\n\nبیان لطف عدو جفا ہے یہ تم سے سو بار کہہ دیا ہے\nپھر اب کی سن لو نہیں رہا ہے ہمیں بھی ضبط آہ آتشیں کا\n\nعجب ہے سالکؔ بھی رند مشرب کہ چھوڑ بیٹھا ہے ملتیں سب\nنہ مانتا ہے کسی کا مذہب نہ ہے یہ پابند اپنے دیں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%B1_%DB%8C%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "خیال گل بدن آ کر بسا ہو جس کے پہلو میں", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خیال گل بدن آ کر بسا ہو جس کے پہلو میں\nوہ بوئے غنچۂ گل کو نہیں گنتا کسی بو میں\n\nتعجب نیں ہے اس کی آب سے بوئے گلاب آئے\nپڑے گر عکس اس گل رو کے رو کا جس لب جو میں\n\nمقابل ہو ہمارے کسب تقلیدی سے کیا طاقت\nابھی ہم محو کر دیتے ہیں آئینہ کو اک ہو میں\n\nہے کس کے زلف کا سودا تجھے اے عشق بتلا دے\nہمیشہ عطر عنبر کی سی بو آتی ہے تجھ خو میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%D8%B3%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "خیال یار سدا چشم نم کے ساتھ رہا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خیال یار سدا چشم نم کے ساتھ رہا\nمرا جو چاہ میں دم تھا وہ دم کے ساتھ رہا\n\nگیا سحر وہ پری رو جدھر جدھر یارو\nمیں اس کے سایہ صفت ہر قدم کے ساتھ رہا\n\nپھرا جو بھاگتا مجھ سے وہ شوخ آہو چشم\nتو میں بھی تھک نہ رہا گو وہ رم کے ساتھ رہا\n\nاکیلا اس کو نہ چھوڑا جو گھر سے نکلا وہ\nہر اک بہانے سے میں اس صنم کے ساتھ رہا\n\nنظیرؔ پیر ہوا تو بھی بار ناز بتاں\nکچھ اس کے دوش کے کچھ پشت خم کے ساتھ رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D8%AF%D8%A7_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%86%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "خیالات رنگیں نہیں بولتے اس کو جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیے", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "خیالات رنگیں نہیں بولتے اس کو جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیے\nدو رنگی سوں جانا گزر دل سوں اول بزاں جا کے واں ایک رنگوں میں رہیے\n\nوہ وحشت کے جنگل میں ہو کر پریشاں پہاڑوں سے غم کے نہ ہو سنگ ہرگز\nشرر ہو کے چھڑ سنگ تنکے سوں جلدی سکل روح ہو برق رنگوں میں رہیے\n\nنہیں موج دریا کی دہشت اسے جو کہ مارا ہے غوطہ ہو غواص دل میں\nتہ بحر وحدت میں غواص ہونے کو تعلیم پانے نہنگوں میں رہیے\n\nشہادت ملے چار تن سوں تجھے گر کرے قتل تو پانچ موذیاں کوں دل کے\nشہیدوں کی رہ ساتھ ہر وقت ہمدم ہو جیوں شیر شیران جنگوں میں رہیے\n\nفلک چرخ کج رو سوں دیکھے اگر خوب نیرنگ بازی زمانے کی حکمت\nگزر غیر صحبت سوں مدہوش ہو جا پہاڑوں میں جا کر بھجنگوں میں رہیے\n\nسمجھ اے علیمؔ آج راہ حقیقت نپٹ سخت مشکل ہے جاں سوں گزرنا\nپتنگ ہو کے جلنے میں واصل رہیں حق سوں ہو مرد واحد یکنگوں میں رہیے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے\nکبھی آنکھوں میں آنسو ہیں کبھی لب پر ہنسی بھی ہے\n\nانہی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلے گا\nاندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی بھی ہے\n\nیوں ہی تکمیل ہوگی حشر تک تصویر ہستی کی\nہر اک تکمیل آخر میں پیام نیستی بھی ہے\n\nیہ وہ ساغر ہے صہبائے خودی سے پر نہیں ہوتا\nہمارے جام ہستی میں سرشک بے خودی بھی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "خیر لایا تو جنوں دیوار سے در کی طرف", "poet_page": "مصنف:نیر سلطانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خیر لایا تو جنوں دیوار سے در کی طرف\nاب نظر جانے لگی باہر سے اندر کی طرف\n\nکشتئ امید کے ہر بادباں اڑنے لگے\nکس نے رخ موڑا ہواؤں کا سمندر کی طرف\n\nیوں بھی ہوتا ہے مدارات جنوں کے شوق میں\nپھول جیسے ہاتھ اٹھ جاتے ہیں پتھر کی طرف\n\nہم نے سمجھے تھے کہ یہ ہوگا مآل کار عشق\nرخ کیا باد بہاری نے مرے گھر کی طرف\n\nدی ہے نیرؔ مجھ کو ساقی نے یہ کیسی خاص مے\nسب کی نظریں اٹھ رہی ہیں میرے ساغر کی طرف", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "خیمہ ڈالے ہوئے رہرو ہے پڑا ایک سے ایک", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "خیمہ ڈالے ہوئے رہرو ہے پڑا ایک سے ایک\nکس تکلف کی ہے دنیا میں سرا ایک سے ایک\n\nظلم ہے ایک سے ایک اور جفا ایک سے ایک\nجاں ستاں ہے مرے قاتل کی ادا ایک سے ایک\n\nتم اگر پہنو تو جوڑا ہے دھرا ایک سے ایک\nہے ہر اک غنچے کی گٹھری میں قبا ایک سے ایک\n\nہے جدا سب سے طریقہ ستم آرائی کا\nنہیں ملتی مرے ظالم کی جفا ایک سے ایک\n\nکہئے تقویٰ شکن اس کو تو اسے توبہ شکن\nدل ربا ہے تری اے شوخ ادا ایک سے ایک\n\nاپنا عکس آئنے میں دیکھ کے وہ کہتے ہیں\nواہ کیا خوب یہ نقشہ ہے کھچا ایک سے ایک\n\nتجربہ ہم نے کیا ہے تپ فرقت کے سوا\nہر مرض کی ہے زمانے میں دوا ایک سے ایک\n\nقابلیت بھی تو ہو دیکھنے کی آنکھوں کو\nزیر افلاک ہے خورشید لقا ایک سے ایک\n\nواہ کیا صنعت خالق ہے یہ سبحان اللہ\nاپنی صورت میں ہر انسان جدا ایک سے ایک\n\nبوالہوس تاب ستم کی جو نہ لایا نہ سہی\nسرفروشی کو ہیں سو اہل وفا ایک سے ایک\n\nمل گئے خاک میں سب ان کے پہننے والے\nدیکھو اتری ہوئی رکھی ہے قبا ایک سے ایک\n\nمنزل تفرقہ سب کہتے ہیں اس دنیا کو\nایک ہی گھر میں ہیں پھر سب ہیں جدا ایک سے ایک\n\nہاتھ اگر تو نے اٹھایا ہے دعا کرنے کو\nمجھ سے سن مانگ تو اے مرد خدا ایک سے ایک\n\nاے مسافر ترا جی چاہے جہاں کر آرام\nایک ہی رات تو بسنا ہے سرا ایک سے ایک\n\nکوئے قاتل میں ہے خونی کفنوں کا مجمع\nاینڈتے پھرتے ہیں کیا کیا شہدا ایک سے ایک\n\nحشر کے دن بھی وہی فکر ہے اپنی اپنی\nایسے مجمع میں بھی آ کر نہ ملا ایک سے ایک\n\nللہ الحمد کسی طرح میں قاصر ہی نہیں\nلائی مضمون مری فکر رسا ایک سے ایک\n\nباغ عالم میں کسی کو نہ شگفتہ دیکھا\nکبھی دل کھول کے غنچہ نہ ہنسا ایک سے ایک\n\nفصل گل آئی تو ہو جائے گا جنگل بھی چمن\nبھرے بیٹھے ہوئے ہیں آبلہ پا ایک سے ایک\n\nبزم دنیا بھی مرے دل کا نمونہ ہے کوئی\nمحفل آرا ہے یہاں ماہ لقا ایک سے ایک\n\nمجھے اس سے تو اسے مجھ سے پہنچتی ہے مدد\nصاحب فن یوں ہیں وابستہ رہا ایک سے ایک\n\nزلف معشوق جو برہم ہی رہے تو ہے مزا\nنہ ملے اس کا کوئی تار صبا ایک سے ایک\n\nقابل سیر شب ماہ میں پٹنہ کا ہے چوک\nاپنے کوٹھوں پہ ہیں سو ماہ لقا ایک سے ایک\n\nکسی مہجور کا کیا خوب ہے اکبرؔ یہ کلام\nدل کے وہ حرف ہیں وہ بھی ہیں جدا ایک سے ایک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AE%DB%8C%D9%85%DB%81_%DA%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B1%DB%81%D8%B1%D9%88_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%8C%DA%A9"} {"title": "دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میں\nخاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہُوں میں\n\nکیوں گردشِ مدام سے گبھرا نہ جائے دل\nانسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہُوں میں\n\nیا رب، زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے؟\nلوحِ جہاں پہ حرفِ مکرّر نہیں ہُوں میں\n\nحد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے\nآخر گناہگار ہُوں کافَر نہیں ہُوں میں\n\nکس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے؟\nلعل و زمرّد و زر و گوھر نہیں ہُوں میں\n\nرکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ؟\nرتبے میں مہر و ماہ سے کمتر نہیں ہُوں میں؟\n\nکرتے ہو مجھ کو منعِ قدم بوس کس لیے؟\nکیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہُوں میں؟\n\nغالبؔ وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا\nوہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہُوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%A6%D9%85_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "داد ملتی نظر اہل نظر سے پہلے", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "داد ملتی نظر اہل نظر سے پہلے\nموت آتی جو کہیں دل کو جگر سے پہلے\n\nتصفیہ کرتے نہ ہنگام سحر سے پہلے\nپوچھ لیتے کسی مایوس نظر سے پہلے\n\nمیرا مرنا تمہیں ہو جائے گا خود ہی معلوم\nدل تڑپ اٹھے گا سینے میں خبر سے پہلے\n\nتم تو کہتے تھے کہ میں درد کا قائل ہی نہیں\nکون چیخا مرے نالوں کے اثر سے پہلے\n\nنام جس چیز کا ہے موت جہاں میں مشہور\nواقعہ یہ تو ہوا درد جگر سے پہلے\n\nآج کی رات تو کچھ اور خبر دیتی ہے\nہو مناسب تو چلے آنا سحر سے پہلے\n\nایک بجلی سی مری آنکھوں کے اندر کوندی\nاور ارادہ جو ہوا عزم سفر سے پہلے\n\nروئی مجبوریوں پر چارہ گروں کی قسمت\nمر گیا آپ کا بیمار سحر سے پہلے\n\nمیں بھی سمجھا ہوں ترے نقش قدم کا مطلب\nمیں بھی گزرا تھا اسی راہ گزر سے پہلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92"} {"title": "دار و رسن", "poet_page": "مصنف:محمد علی تشنہ", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "عجیب کوچۂ رشک جناں تھا دہلی کا\nبہشت کہتے ہیں جس کو مکاں تھا دہلی کا\n\nدماغ بر سر ہفت آسماں تھا دہلی کا\nخطاب خطۂ ہندوستاں تھا دہلی کا\n\nغضب ہے اس کو کوئی شادماں نہ دیکھ سکا\nزمیں نہ دیکھ سکی آسماں نہ دیکھ سکا\n\nہزاروں زلف پری وش کے یاں تھے سودائی\nہزاروں میکش و میخوار و مست و صہبائی\n\nشراب عیش پلاتا تھا چرخ مینائی\nقبول کرتے تھے اس در پہ سب جبیں سائی\n\nجو آتا تھا سو وہ ہو رہتا تھا اسی گھر کا\nزمیں کی ناف ہے کعبہ ہے بطن مادر کا\n\nوہ تخت سلطنت و بارگاہ سلطانی\nکہ جس میں بیٹھتے تھے آ کے ظل سبحانی\n\nپروں سے سر پہ ہما کرتا تھا مگس رانی\nبجا اس اوج پہ تھا دعویٰ سلیمانی\n\nہر ایک قصر کو دعویٰ تھا طاق کسریٰ کا\nدماغ عرش پہ تھا قلعۂ معلےٰ کا\n\nزحل کی آنکھ پڑی اتفاق سے ناگاہ\nتمام ہو گیا تاراج ملک و مال اور جاہ\n\nکہ اس سے ہو گئے بد تر غریب شاہنشاہ\nرعیت اس کی ہوئی اس سے بھی زیادہ تباہ\n\nوہ ساہوکار نہ تھا جس کی ساکھ میں بٹا\nاب اس کے نام پہ لگتا ہے لاکھ میں بٹا\n\nملا یہ حکم کہ سب لوگ یاں سے ٹل جائیں\nاسی میں خیر ہے جو شہر سے نکل جائیں\n\nدبی ہے بقچی تو دکھلا کے یاں بغل جائیں\nجو کچھ ہے چھوڑ یہاں صاحب دول جائیں\n\nنہ سر پہ ٹوپی ہے ان کے نہ پاؤں میں جوتی\nبغل میں طوطے کا پنجڑا نبی جی بھیجو جی\n\nیہاں جو آن کی دیکھی تو دار کی صورت\nوہ دار کہئے جسے ذوالفقار کی صورت\n\nمٹا دی چشم زدن میں ہزار کی صورت\nنظر پڑی نہ کسی بیقرار کی صورت\n\nبرنگ تیر شہاب آگ میں جلے لاکھوں\nسپرد دار و رسن ہو گئے گلے لاکھوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%88_%D8%B1%D8%B3%D9%86"} {"title": "دارالمکافات", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہے دنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہے\nجو مہنگوں کو یہ مہنگی ہے اور سستوں کو یہ سستی ہے\nیاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہے\nگر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہے\nکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے\nاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے\nجو اور کسی کا مان رکھے تو اس کو بھی ارمان ملے\nجو پان کھلا دے پان ملے جو روٹی دے تو نان ملے\nنقصان کرے نقصان ملے احسان کرے احسان ملے\nجو جیسا جس کے ساتھ کرے پھر ویسا اس کو آن ملے\nکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے\nاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے\nجو اور کسی کی جاں بخشے تو اس کی بھی حق جان رکھے\nجو اور کسی کی آن رکھے تو اس کی بھی حق آن رکھے\nجو یاں کا رہنے والا ہے یہ دل میں اپنے جان رکھے\nیہ ترت پھرت کا نقشہ ہے اس نقشے کو پہچان رکھے\nکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے\nاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے\nجو پار اتارے اوروں کو اس کی بھی پار اترنی ہے\nجو غرق کرے پھر اس کو بھی ڈبکوں ڈبکوں کرنی ہے\nشمشیر تبر بندوق سناں اور نشتر تیر نہرنی ہے\nیاں جیسی جیسی کرنی ہے پھر ویسی ویسی بھرنی ہے\nکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے\nاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے\nجو اوپر اونچا بول کرے تو اس کا بول بھی بالا ہے\nاور دے پٹکے تو اس کو بھی کوئی اور پٹکنے والا ہے\nبے ظلم و خطا جس ظالم نے مظلوم ذبح کر ڈالا ہے\nاس ظالم کے بھی لوہو کا پھر بہتا ندی نالا ہے\nکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے\nاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے\nجو مصری اور کے منہ میں دے پھر وہ بھی شکر کھاتا ہے\nجو اور تئیں اب ٹکر دے پھر وہ بھی ٹکر کھاتا ہے\nجو اور کو ڈالے چکر میں پھر وہ بھی چکر کھاتا ہے\nجو اور کو ٹھوکر مار چلے پھر وہ بھی ٹھوکر کھاتا ہے\nکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے\nاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے\nجو اور کسی کو ناحق میں کوئی جھوٹی بات لگاتا ہے\nاور کوئی غریب اور بیچارہ حق نا حق میں لٹ جاتا ہے\nوہ آپ بھی لوٹا جاتا ہے اور لاٹھی پاٹھی کھاتا ہے\nجو جیسا جیسا کرتا ہے پھر ویسا ویسا پاتا ہے\nکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے\nاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے\nجو اور کی پگڑی لے بھاگے اس کا بھی اور اچکا ہے\nجو اور پہ چوکی بٹھلاوے اس پر بھی دھونس دھڑکا ہے\nیاں پشتی میں تو پشتی ہے اور دھکے میں یاں دھکا ہے\nکیا زور مزے کا جمگھٹ ہے کیا زور یہ بھیڑ بھڑکا ہے\nکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے\nاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے\nہے کھٹکا اس کے ہاتھ لگا جو اور کسی کو دے کھٹکا\nاور غیب سے جھٹکا کھاتا ہے جو اور کسی کے دے جھٹکا\nچیرے کے بیچ میں چیرا ہے اور پٹکے بیچ جو ہے پٹکا\nکیا کہیے اور نظیرؔ آگے ہے زور تماشا جھٹ پٹکا\nکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے\nاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%84%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%A7%D8%AA"} {"title": "داروئے درد نہاں راحت جانی صنما", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "داروئے درد نہاں راحت جانی صنما\nعیسیٰٔ مردہ دلاں یوسف ثانی صنما\n\nتیرے صدقے مری جاں تجھ پہ مرا دل قرباں\nوارث کون و مکاں فخر زمانی صنما\n\nتیرا ہر جلوہ ہے آئینۂ اسرار ازل\nتیری صورت میں ہیں انوار معانی صنما\n\nدل کے داغوں کو کلیجے سے لگا رکھا ہے\nکہ یہی داغ تو ہیں تیری نشانی صنما\n\nتو ہی جب قصۂ غم سے مرے گھبراتا ہے\nپھر سنے کون مرے غم کی کہانی صنما\n\nتا کجا اشک بجھائیں گے مرے دل کی لگی\nپھونکے دیتا ہے مجھے سوز نہانی صنما\n\nوقف سجدہ ہے ترے در پہ جبین بیدمؔ\nقبلۂ دل صنما کعبۂ جانی صنما", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B5%D9%86%D9%85%D8%A7"} {"title": "داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئی", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئی\nبات بگڑی تھی کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئی\n\nسب کو ہم بھول گئے جوش جنوں میں لیکن\nاک تری یاد تھی ایسی جو بھلائی نہ گئی\n\nعشق پر کچھ نہ چلا دیدۂ تر کا قابو\nاس نے جو آگ لگا دی وہ بجھائی نہ گئی\n\nپڑ گیا حسن رخ یار کا پرتو جس پر\nخاک میں مل کے بھی اس دل کی صفائی نہ گئی\n\nکیا اٹھائے گی صبا خاک مری اس در سے\nیہ قیامت تو خود ان سے بھی اٹھائی نہ گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "داغ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "عظمتِ غالبؔ ہے اک مدّت سے پیوندِ زمیں\nمہدیِ مجروحؔ ہے شہرِ خموشاں کا مکیں\nتوڑ ڈالی موت نے غربت میں مینائے امیرؔ\nچشمِ محفل میں ہے اب تک کیفِ صہبائے امیرؔ\nآج لیکن ہمنوا! سارا چمن ماتم میں ہے\nشمعِ روشن بُجھ گئی، بزمِ سخن ماتم میں ہے\nبُلبلِ دلّی نے باندھا اس چمن میں آشیاں\nہم نوا ہیں سب عنادل باغِ ہستی کے جہاں\nچل بسا داغؔ آہ! میّت اس کی زیبِ دوش ہے\nآخری شاعر جہان آباد کا خاموش ہے\n\nاب کہاں وہ بانکپن، وہ شوخیِ طرزِ بیاں\nآگ تھی کافورِ پیری میں جوانی کی نہاں\nتھی زبانِ داغؔ پر جو آرزو ہر دل میں ہے\nلیلیِ معنی وہاں بے پردہ، یاں محمل میں ہے\nاب صبا سے کون پُوچھے گا سکُوتِ گُل کا راز\nکون سمجھے گا چمن میں نالۂ بُلبل کا راز\nتھی حقیقت سے نہ غفلت فکر کی پرواز میں\nآنکھ طائر کی نشیمن پر رہی پرواز میں\n\nاور دِکھلائیں گے مضموں کی ہمیں باریکیاں\nاپنے فکرِ نکتہ آرا کی فلک پیمائیاں\nتلخیِ دوراں کے نقشے کھینچ کر رُلوائیں گے\nیا تخیّل کی نئی دنیا ہمیں دِکھلائیں گے\nاس چمن میں ہوں گے پیدا بُلبلِ شیراز بھی\nسینکڑوں ساحر بھی ہوں گے، صاحبِ اعجاز بھی\nاُٹھّیں گے آزر ہزاروں شعر کے بُت خانے سے\nمے پِلائیں گے نئے ساقی نئے پیمانے سے\nلِکھّی جائیں گی کتابِ دل کی تفسیریں بہت\nہوں گی اے خوابِ جوانی! تیری تعبیریں بہت\nہوبہو کھینچے گا لیکن عشق کی تصویر کون؟\nاُٹھ گیا ناوک فگن، مارے گا دل پر تِیر کون؟\n\nاشک کے دانے زمینِ شعر میں بوتا ہوں میں\nتُو بھی رو اے خاکِ دلّی! داغؔ کو روتا ہوں میں\nاے جہان آباد، اے سرمایۂ بزمِ سخن!\nہوگیا پھر آج پامالِ خزاں تیرا چمن\nوہ گُلِ رنگیں ترا رخصت مثالِ بُو ہوا\nآہ! خالی داغؔ سے کاشانۂ اُردو ہوا\nتھی نہ شاید کچھ کشش ایسی وطن کی خاک میں\nوہ مہِ کامل ہوا پنہاں دکن کی خاک میں\nاُٹھ گئے ساقی جو تھے، میخانہ خالی رہ گیا\nیادگارِ بزمِ دہلی ایک حالیؔ رہ گیا\n\nآرزو کو خون رُلواتی ہے بیدادِ اجل\nمارتا ہے تِیر تاریکی میں صیّادِ اجل\nکھُل نہیں سکتی شکایت کے لیے لیکن زباں\nہے خزاں کا رنگ بھی وجہِ قیامِ گُلِستاں\nایک ہی قانونِ عالم گیر کے ہیں سب اثر\nبُوئے گُل کا باغ سے، گُلچیں کا دنیا سے سفر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%BA"} {"title": "داغ بیعانہ حسن کا نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "داغ بیعانہ حسن کا نہ ہوا\nکھوٹے داموں معاملہ نہ ہوا\n\nدل مکدر رہا صفا نہ ہوا\nفیض آئینہ روؤں کا نہ ہوا\n\nکچھ نہ کام آئے داغ کی بوٹی\nقلب تانبا رہا تلا نہ ہوا\n\nدرد مندان خال کہتے ہیں\nگولیاں کھائیں فائدہ نہ ہوا\n\nدل خیالوں سے پائمال رہا\nسبزۂ رہ گزر ہرا نہ ہوا\n\nآئے فصل چمن کہ عید آئے\nغنچے چٹکے کہ شادیانہ ہوا\n\nہر کسی زلف میں رہا الجھا\nدام الفت سے دل رہا نہ ہوا\n\nنہ کھٹکتے کسی کے آنکھوں میں\nیہ غبار اپنا توتیا نہ ہوا\n\nمیرے آگے وہ بیٹھے غیر کے پاس\nپاس میرا انہیں ذرا نہ ہوا\n\nدل نے ایسے اٹھائے رنج و تعب\nپھر محبت کا حوصلہ نہ ہوا\n\nجب کسی کی نظر پڑے رخ پر\nخال مشکیں سیاہ دانہ ہوا\n\nدیکھی کیفیت بہار و خزاں\nمیں دو رنگی سے آشنا نہ ہوا\n\nدل شگفتہ ہوا نہ پھولوں سے\nکوئی کانٹا گرہ کشا نہ ہوا\n\nگھر بنا کر یہاں یہ تنگ آیا\nعقدۂ خاطر آشیانہ ہوا\n\nرشک کا ہے مآل بے رنگی\nسبزہ پس کر کبھی حنا نہ ہوا\n\nبحرؔ دل سوچ کر اسے دینا\nخود غرض آشنا ہوا نہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "داغ جنوں دماغ پریشاں میں رہ گیا", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "داغ جنوں دماغ پریشاں میں رہ گیا\nدامن میں خار چاک گریباں میں رہ گیا\n\nجب دو قدم جنوں میں مرا ساتھ ہو گیا\nپھیلا کے پاؤں قیس بیاباں میں رہ گیا\n\nابروئے یار سے جو بہت منفعل ہوا\nمنہ ڈال کر ہلال گریباں میں رہ گیا\n\nتقلید بن پڑی نہ تمہاری خرام کی\nطاؤس لڑکھڑا کے گلستاں میں رہ گیا\n\nآئی بہار اور نہ چھوٹا میں اے جنوں\nکیسا تڑپ کے خانۂ زنداں میں رہ گیا\n\nتودہ قضا نے ناوک‌ جلاد کا کیا\nمیں ڈھیر ہو کے گنج شہیداں میں رہ گیا\n\nکیا حادثہ پڑا مرے یوسف پر اے صباؔ\nدل گر کے ان کی چاہ زنخداں میں رہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "داغ دل اپنا جب دکھاتا ہوں", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "داغ دل اپنا جب دکھاتا ہوں\nرشک سے شمع کو جلاتا ہوں\n\nوہ مرا شوخ ہے نپٹ چنچل\nبھاگ جاتا ہے جب بلاتا ہوں\n\nاس پری رو کو دیکھتا ہوں جب\nہو کے دیوانہ سدھ بھلاتا ہوں\n\nمجھ کو دیتا ہے گالیاں اٹھ کر\nنیند سے جب اسے جگاتا ہوں\n\nجب مجھے گھیرتا ہے غم تاباںؔ\nساغر مے کو بھر پلاتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "داغ دل ہم کو یاد آنے لگے", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "داغ دل ہم کو یاد آنے لگے\nلوگ اپنے دیئے جلانے لگے\n\nکچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم\nعشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے\n\nیہی رستہ ہے اب یہی منزل\nاب یہیں دل کسی بہانے لگے\n\nخود فریبی سی خود فریبی ہے\nپاس کے ڈھول بھی سہانے لگے\n\nاب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں\nہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے\n\nاس بدلتے ہوئے زمانے میں\nتیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے\n\nرخ بدلنے لگا فسانے کا\nلوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے\n\nایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے\nبیٹھنے میں جہاں زمانے لگے\n\nاپنی قسمت سے ہے مفر کس کو\nتیر پر اڑ کے بھی نشانے لگے\n\nہم تک آئے نہ آئے موسم گل\nکچھ پرندے تو چہچہانے لگے\n\nشام کا وقت ہو گیا باقیؔ\nبستیوں سے شرار آنے لگے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "داغ دل ہیں غیرت صد لالہ زار اب کے برس", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "داغ دل ہیں غیرت صد لالہ زار اب کے برس\nبعد مدت کے ہے پھر جوش بہار اب کے برس\n\nآبیاری سے تری اے تیغ یار اب کے برس\nتختۂ گل ہے ہمارا جسم زار اب کے برس\n\nتا بہ دامن ہے گریباں تار تار اب کے برس\nٹوٹتے ہیں تلووں میں چبھ چبھ کے خار اب کے برس\n\nہے یہ زور آمد فصل بہار اب کے برس\nمست ہیں زاہد بھی مثل بادہ خوار اب کے برس\n\nالفت ساقی نے لو زاہد کو بھی کھینچا ادھر\nدور مے کا سبحہ پر ہوگا شمار اب کے برس\n\nفصل گل میں بعد مردن بھی ہوا جوش جنوں\nسنگ طفلاں سے ہو ترمیم مزار اب کے برس\n\nشیشہ میں پنہاں ہے مے اور دل میں ذوق مے کشی\nآتے ہی ساقی کے اے ابر بہار اب کے برس\n\nساقیا عینک چڑھے ہوں رنج و غم بالائے طاق\nبادۂ دی سالہ کا شیشہ اتار اب کے برس\n\nظلم پر باندھی ہے پھر صیاد و گلچیں نے کمر\nقید بلبل کی ہے گلشن میں پکار اب کے برس\n\nآرزو ہے بعد مردن بھی رہوں سیراب مے\nصرف جام و خم کریں میرا غبار اب کے برس\n\nجوش خون بلبل شیدا کا پیدا ہو اثر\nلے اگر فصد رگ گل نوک خار اب کے برس\n\nجلتے ہیں دل بلبلوں کے آشیاں کی طرح سے\nآتش گل کی ہے گلشن میں پکار اب کے برس\n\nقسمت اپنی اپنی ہے اچھا مبارک ہو حبیبؔ\nخار غم ہم کو تمہیں پہلوئے یار اب کے برس", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D8%B5%D8%AF_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D8%B3"} {"title": "داغ سینے پہ جو ہمارے ہیں", "poet_page": "مصنف:محمد دین تاثیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "داغ سینے پہ جو ہمارے ہیں\nگل کھلائے ہوئے تمہارے ہیں\n\nربط ہے حسن و عشق میں باہم\nایک دریا کے دو کنارے ہیں\n\nکوئی جدت نہیں حسینوں میں\nسب نے نقشے ترے اتارے ہیں\n\nتیری باتیں ہیں کس قدر شیریں\nتیرے لب کیسے پیارے پیارے ہیں\n\nجس طرح ہم نے راتیں کاٹی ہیں\nاس طرح ہم نے دن گزارے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "داغ غم فراق مٹایا نہ جائے گا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "داغ غم فراق مٹایا نہ جائے گا\nجلتا ہوا چراغ بجھایا نہ جائے گا\n\nانصاف اپنا داور محشر سے ہو تو ہو\nقضیہ کسی سے دل کا چکایا نہ جائے گا\n\nروکو نہ چشم شوخ کو میری طرف سے تم\nآنکھیں ہیں دل نہیں کہ ملایا نہ جائے گا\n\nہے دل میں ان کے غیر کی صورت بسی ہوئی\nدل میں بھی اب تو ان کو بٹھایا نہ جائے گا\n\nہے تیری یاد دل میں مرے نقش کالحجر\nدل سے ترا خیال مٹایا نہ جائے گا\n\nساقیؔ ہے تم کو ملنے کی جس گل کی آرزو\nاس سے سر مزار بھی آیا نہ جائے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%BA%D9%85_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%D9%85%D9%B9%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "داغؔ اس بزم میں میہمان کہاں جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "داغ اس بزم میں میہمان کہاں جاتا ہے\nتیرا اللہ نگہبان کہاں جاتا ہے\n\nپاؤں سے میرے بیابان کہاں چھٹتا ہے\nہاتھ سے میرے گریبان کہاں جاتا ہے\n\nغیر جاتا تھا وہاں میں نے یہ کہہ کر روکا\nتجھ سے کچھ جان نہ پہچان کہاں جاتا ہے\n\nہجر کے دن کی مصیبت تو گزر جائے گی\nوصل کی رات کا احسان کہاں جاتا ہے\n\nروٹھ کر بزم سے اٹھا تو نہ روکا مجھ کو\nنہ کہا اس نے کہا مان کہاں جاتا ہے\n\nبند کرتے ہو جو ہاتھوں سے تم آنکھیں میری\nکیا کہوں میں کہ مرا دھیان کہاں جاتا ہے\n\nداغؔ تم نے تو بڑی دھوم سے کی تیاری\nآج یہ عید کا سامان کہاں جاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%BA%D8%94_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DB%81%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "داغوں سے دل و سینہ کے افروختہ جاں ہوں", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "داغوں سے دل و سینہ کے افروختہ جاں ہوں\nگو میں چمن تازہ ہوں پر وقف خزاں ہوں\n\nپہلو میں اگر دل ہے تو تو دل میں ہے میرے\nگو ننگ خلائق ہوں مگر جان جہاں ہوں\n\nجس خاک پہ میں بیٹھ گیا فتنہ اٹھایا\nکس سرو خراماں کی کف پا کا نشاں ہوں\n\nہم راہ تمہارے ہوں کسی جا ہوں کہیں ہوں\nسایہ کی طرح تم ہو جہاں میں بھی وہاں ہوں\n\nیا رب ہو برا وحشت دل کا کہ نہیں چین\nجب خاک ہوا مر کے تو اب ریگ رواں ہوں\n\nکیا زیست ہے یہ خاک مری عاشق ناشاد\nگہہ مصرف فریاد ہوں گہہ وقف فغاں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D8%BA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%AE%D8%AA%DB%81_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "دال کی فریاد", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ایک لڑکی بگھارتی ہے دال\nدال کرتی ہے عرض یوں احوال\nایک دن تھا ہری بھری تھی میں\nساری آفات سے بری تھی میں\nتھا ہرا کھیت میرا گہوارہ\nوہ وطن تھا مجھے بہت پیارا\nپانی پی پی کے تھی میں لہراتی\nدھوپ لیتی کبھی ہوا کھاتی\nمینہ برستا تھا جھونکے آتے تھے\nگودیوں میں مجھے کھلاتے تھے\nیہی سورج زمیں تھے ماں باوا\nمجھ سے کرتے تھے نیک برتاوا\nجب کیا مجھ کو پال پوس بڑا\nآہ ظالم کسان آن پڑا\nگئی تقدیر یک بہ یک جو پلٹ\nکھیت کا کھیت کر دیا تلپٹ\nخوب لوٹا دھڑی دھڑی کر کے\nمجھ کو گونوں میں لے گئے بھر کے\nہو گئی دم کے دم میں بربادی\nچھن گئی ہائے میری آزادی!\nکیا بتاؤں کہاں کہاں کھینچا\nدال منڈی میں مجھ کو جا بیچا\nایک ظالم سے واں پڑا پالا\nجس نے چکی میں مجھ کو دل ڈالا\nہوا تقدیر کا لکھا پورا\nدونوں پاٹوں نے کر دیا چورا\nنہ سنی میری آہ اور زاری\nخوب بنیے نے کی خریداری\nچھانا چھلنی میں چھاج میں پھٹکا\nقید خانہ مرا بنا مٹکا\nپھر مقدر مجھے یہاں لایا\nتم نے تو اور بھی غضب ڈھایا\nکھال کھینچی الگ کیے چھلکے\nزخم کیوں کر ہرے نہ ہوں دل کے\nڈالیں مرچیں نمک لگایا خوب\nرکھ کے چولھے پہ جی جلایا خوب\nاس پہ کف گیر کے بھی ٹھوکے ہیں\nاور ناخن کے بھی کچوکے ہیں\nمیرے گلنے کی لے رہی ہو خبر\nدانت ہے آپ کا مرے اوپر\nگرم گھی کر کے مجھ کو داغ دیا\nہائے تم نے بھی کچھ نہ رحم کیا\nہاتھ دھو کر پڑی ہو پیچھے تم\nجان پر آ بنی حواس ہیں گم\nاچھی بی بی تمہیں کرو انصاف\nظلم ہے یا نہیں قصور معاف\nکہا لڑکی نے میری پیاری دال\nمجھ کو معلوم ہے ترا سب حال\nتو اگر کھیت سے نہیں آتی\nخاک میں مل کے خاک ہو جاتی\nیا کوئی گائے بھینس چر لیتی\nپیٹ میں اپنے تجھ کو بھر لیتی\nمیں تو رتبہ ترا بڑھاتی ہوں\nاب چپاتی سے تجھ کو کھاتی ہوں\nنہ ستانا نہ جی جلانا تھا\nیوں تجھے آدمی بنانا تھا\nاگلی بیتی کا تو نہ کر کچھ غم\nمہربانی تھی سب، نہ تھا یہ ستم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "دام خیال زلف بتاں سے چھڑا لیا", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دام خیال زلف بتاں سے چھڑا لیا\nکیا بال بال مجھ کو خدا نے بچا لیا\n\nاب اس کو رحم آئے یہ قسمت کے ہاتھ ہے\nبن جائے بات حال تو ہم نے بنا لیا\n\nشرما کے منہ چھپانے کا انداز دیکھنا\nگویا کہ اس نے عیب ہمارا چھپا لیا\n\nیا یہ کہ ہم نے ترک محبت کی ٹھان لی\nیا یہ ہوا کہ آج کسی کو منا لیا\n\nہوتا ہوں ایک نالے پہ میں قتل ہائے ہائے\nآواز دے کے اپنی قضا کو بلا لیا\n\nظالم فریب دے کے نہ لے دل غریب کا\nاک روز کام آئے گا تیرا دیا لیا\n\nرشک رقیب ہو کہ غم دورئ حبیب\nجو وقت پر نصیب ہوا ہم نے کھا لیا\n\nمیں کیا کہوں کے جان رہی کس عذاب میں\nجب اس نے مجھ کو اپنی برابر بٹھا لیا\n\nجھوٹا سہی ذلیل سہی کوئی کچھ کہے\nمیں نے تو آج ان کو گلے سے لگا لیا\n\nپوچھی ہے دوست بن کے مرے دل کی آرزو\nاس نے زبان دے کے مرا مدعا لیا\n\nلے کوئی شان کی تو بس اتنا کیا کرو\nجس سے کوئی بڑائی سنی آزما لیا\n\nمہمان دوست کو جو کیا دوستوں کے ساتھ\nدیکھا تھا جس کو دیدہ وروں کو دکھا لیا\n\nاس کی بھی موت سہل ہو سکرات سے بچے\nجس نے ہماری نزع میں نام آپ کا لیا\n\nبیٹھے تو بات کرنے نہ دی بزم غیر میں\nاٹھے تو اپنے ساتھ ہی مجھ کو اٹھا لیا\n\nدل کا ہی ایک نام ہے شاید خیال بھی\nایسا اگر نہیں ہے تو دل اس نے کیا لیا\n\nمعشوق کو تو جلوہ نمائی ضرور ہے\nدیکھو عزیز مصر کے سو میں دکھا لیا\n\nاس درجہ تو نے خستہ کیا اے غم فراق\nہم کو ہماری گور نے ہونٹوں سے کھا لیا\n\nسمجھا صفیؔ کو آپ نے جو کچھ غلط ہے یہ\nدنیا کا بد معاش زمانے کا چالیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%86%DA%BE%DA%91%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دام میں ہم کو لاتے ہو تم دل اٹکا ہے اور کہیں", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دام میں ہم کو لاتے ہو تم دل اٹکا ہے اور کہیں\nشعر پڑھانے ہم سے اور مضمون گٹھا ہے اور کہیں\n\nآنکھیں ذرا ملانا ادھر کو کیوں جی یہ کیا باتیں ہیں\nبات کی ہم سے اٹھانی لذت جی کا مزا ہے اور کہیں\n\nحق تو ہے کچھ حال دل اپنا کہتے ہیں جب تم سے ہم\nکان لگائے سنتے ہو پر دھیان لگا ہے اور کہیں\n\nدیکھیو یہ عیاری کوئی کیا کیا ہم کو لپیٹے میں\nوہ بت پر فن لیتا ہے دل جس نے دیا ہے اور کہیں\n\nٹوک کے اس سے بات کروں تو یوں وہ کہے ہے چتون میں\nمجھ کو نہ چھیڑو دھیان اجی اس وقت مرا ہے اور کہیں\n\nہم سے زبانی ملنے کو تم کہتے ہو ہم جانتے ہیں\nدل سے پر آنے جانے کا اقرار کیا ہے اور کہیں\n\nدیکھ کے ہم کو جو کہتے ہو تم آؤ بیٹھو بات کرو\nباتیں یہ سب ظاہر کی ہیں انس ہوا ہے اور کہیں\n\nاب تو کچھ ہمدرد سے میرے آتے ہو تم مجھ کو نظر\nتم سا شاید کوئی پیارے تم کو ملا ہے اور کہیں\n\nبیٹھے ہو مجھ پاس ولیکن گھبرانے سے نکلے ہے\nآنکھ بچا کر اٹھ جانے کا دھیان بندھا ہے اور کہیں\n\nظاہر میں تم کہتے ہو مجھ کو بیٹھو ابھی تو جاؤ نہ گھر\nمجھ کو تو معلوم ہے جو پیغام گیا ہے اور کہیں\n\nباتیں کر کے لگاوٹ کی یہ کافر ہوں گر جھوٹ کہوں\nدل کو مرے تم لیتے ہو جی نام خدا ہے اور کہیں\n\nحیف ہے اس کے ہونے پر جو یاد کرو تم غیر کو جان\nجرأتؔ میں جو نہیں سو ایسی بات وہ کیا ہے اور کہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%B9%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "داماد رسول کی شہادت ہے آج", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "داماد رسول کی شہادت ہے آج\nمعصوموں پہ فاطمہ کے آفت ہے آج\nجنت میں تڑپتے ہیں رسول الثقلین\nخاتون قیامت پہ قیامت ہے آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%DB%81%D8%A7%D8%AF%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "دامان دل سے گرد تعلق کو جھاڑئیے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دامان دل سے گرد تعلق کو جھاڑئیے\nجوں سرو پاؤں باغ تجرد میں گاڑئیے\n\nممکن نہیں کہ دیکھیے روئے شگفتگی\nجب تک برنگ غنچہ گریباں نہ پھاڑیے\n\nجو کچھ کہ ہاتھ آئے اڑا دیجئے اسے\nقاروں کی طرح مال زمیں میں نہ گاڑیئے\n\nبستی میں دل کی حرص و ہوا کا قیام ہے\nتوفیق ہو رفیق تو اس کو اجاڑیے\n\nؔجوشش کوئی ہزار کرے یاں مخالفت\nاپنی طرف سے تو نہ کسی سے بگاڑئیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AA%D8%B9%D9%84%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%DA%BE%D8%A7%DA%91%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "دامان و کنار اشک سے کب تر نہ ہوے آہ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دامان و کنار اشک سے کب تر نہ ہوے آہ\nدو چار بھی آنسو مرے گوہر نہ ہوے آہ\n\nجیسے کہ دل ان لالہ عذاروں کے ہیں سنگیں\nدل چاہنے والوں کے بھی پتھر نہ ہوے آہ\n\nکہتے ہیں کہ نکلا ہے وہ اب سیر چمن کو\nکیا وقت ہے اس وقت مرے پر نہ ہوے آہ\n\nخوباں کے تو ہم فدوی و بندہ بھی کہائے\nلیکن وہ ہمارے نہ ہوے پر نہ ہوے آہ\n\nکیا تفرقہ ہے جب کہ گئے ہم تو نہ تھا وہ\nاور آیا وہ ہم پاس تو ہم گھر نہ ہوے آہ\n\nکیا نقص ہے اس غیرت خورشید کے آگے\nہم لعل تو کب ہوتے ہیں اخگر نہ ہوے آہ\n\nدریا بھی بہے مے کے پر اے بادہ پرستاں\nیہ خشک وہ لب ہیں کہ کبھی تر نہ ہوے آہ\n\nدیکھ اس کو نظیرؔ اب مجھے آتا ہے یہی رشک\nکیوں ہم بھی اسی طرح کے دلبر نہ ہوے آہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%88_%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DB%92_%D8%A2%DB%81"} {"title": "دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا\nاک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویا\n\nپڑتا نہ تھا بھروسا عہد وفاے گل پر\nمرغ چمن نہ سمجھا میں تو ہزار رویا\n\nہر گل زمین یاں کی رونے ہی کی جگہ تھی\nمانند ابر ہر جا میں زار زار رویا\n\nتھی مصلحت کہ رک کر ہجراں میں جان دیجے\nدل کھول کر نہ غم میں میں ایک بار رویا\n\nاک عجز عشق اس کا اسباب صد الم تھا\nکل میرؔ سے بہت میں ہو کر دو چار رویا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%88%D8%A7%DA%91%DA%BE_%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دامن دل پہ نہیں بارش الہام ابھی", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دامن دل پہ نہیں بارش الہام ابھی\nعشق نا پختہ ابھی جذب دروں خام ابھی\n\nخود ہی جھکتا ہوں کہ دعوائے جنوں کیا کیجئے\nکچھ گوارا بھی ہے یہ قید در و بام ابھی\n\nیہ جوانی تو ابھی مائل پیکار نہیں\nیہ جوانی تو ہے رسوائے مے و جام ابھی\n\nواعظ و شیخ نے سر جوڑ کے بد نام کیا\nورنہ بد نام نہ ہوتی مے گلفام ابھی\n\nمیں بصد فخریہ زہاد سے کہتا ہوں مجازؔ\nمجھ کو حاصل، شرف بیعت خیام ابھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%B4_%D8%A7%D9%84%DB%81%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "دامن سے گل تازہ مہکتے نکلے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دامن سے گل تازہ مہکتے نکلے\nگلشن سے مرغ گل چہکتے نکلے\nکیا کہیے قلقؔ کہ صاف کہنا مشکل\nمے خانے سے کیوں مست بہکتے نکلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81_%D9%85%DB%81%DA%A9%D8%AA%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا\nپہنچے کب اس کو ہاتھ ہمارے غبار کا\n\nموج نسیم آج ہے آلودہ گرد سے\nدل خاک ہو گیا ہے کسی بے قرار کا\n\nخون جگر شراب و ترشح ہے چشم تر\nساغر مرا گرو نہیں ابر بہار کا\n\nچشم کرم سے عاشق وحشی اسیر ہو\nالفت ہے دام آہوئے دل کے شکار کا\n\nسونپا تھا کیا جنوں نے گریبان کو مرے\nلیتا ہے اب حساب جو یہ تار تار کا\n\nسوداؔ شراب عشق نہ کہتے تھے ہم، نہ پی\nپایا مزا نہ تو نے اب اس کے خمار کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%88_%D8%B3%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%D8%B4%DB%81_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دامن عزلت کا اب لیا ہے میں نے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دامن عزلت کا اب لیا ہے میں نے\nدل مرگ سے آشنا کیا ہے میں نے\nتھا چشمۂ آب زندگانی نزدیک\nپر خاک سے اس کو بھر دیا ہے میں نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D8%B9%D8%B2%D9%84%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92"} {"title": "دامن قاتل جو اڑ اڑ کر ہوا دینے لگے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دامن قاتل جو اڑ اڑ کر ہوا دینے لگے\nکیا بتاؤں زخم دل کیا کیا دعا دینے لگے\n\nوائے ناکامی کہاں سفاک نے روکا ہے ہاتھ\nزخم ہائے شوق جب کچھ کچھ مزا دینے لگے\n\nچارہ سازو مجھ سے رسوا جاں بلب بیمار کو\nزہر دینا چاہئے تھا تم دوا دینے لگے\n\nیاس و حرماں آہ سوزاں اشک خوں داغ جنوں\nحضرت عشق اور کیا اس کے سوا دینے لگے\n\nآج ہو شاید کسی کو آتش غم کی خبر\nشکر ہے اب استخواں بوئے وفا دینے لگے\n\nکیا مخالف ہو گئی ہم سے زمانے کی ہوا\nیاسؔ دیکھو حضرت دل بھی دغا دینے لگے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%DA%91_%D8%A7%DA%91_%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "دامن قرار دل کے سب تار تار دیکھے", "poet_page": "مصنف:محی الدین فوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دامن قرار دل کے سب تار تار دیکھے\nجب تیری وادیوں کے کچھ آبشار دیکھے\n\nجس نے تری خزاں کے ایسے نکھار دیکھے\nگلزار خلد کی پھر وہ کیا بہار دیکھے\n\nہر صبح کی جھلک میں ہر شام کی شفق میں\nسو سو طرح کے ہم نے نقش و نگار دیکھے\n\nبادل کا گھر کے آنا کد کی پہاڑیوں پر\nاے کاش وہ نظارہ پھر چشم زار دیکھے\n\nاک پردہ پوش عالم کو بے نقاب دیکھا\nجب سبز سبز تیرے یہ کوہسار دیکھے\n\nگل ریز سرزمیں میں وہ دل فریبیاں ہیں\nجو ایک بار دیکھے وہ بار بار دیکھے\n\nبچ بچ کے جن سے اب تک طے کر رہے تھے راہیں\nوہ تیر آج ہم نے سینے کے پار دیکھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92"} {"title": "دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا\nرحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا\n\nشاید کباب کر کر کھایا کبوتر ان نے\nنامہ اڑا پھرے ہے اس کی گلی میں پر سا\n\nوحشی مزاج از بس مانوس بادیہ ہیں\nان کے جنوں میں جنگل اپنا ہوا ہے گھر سا\n\nجس ہاتھ میں رہا کی اس کی کمر ہمیشہ\nاس ہاتھ مارنے کا سر پر بندھا ہے کر سا\n\nسب پیچ کی یہ باتیں ہیں شاعروں کی ورنہ\nباریک اور نازک مو کب ہے اس کمر سا\n\nطرز نگاہ اس کی دل لے گئی سبھوں کے\nکیا مومن و برہمن کیا گبر اور ترسا\n\nتم واقف طریق بے طاقتی نہیں ہو\nیاں راہ دو قدم ہے اب دور کا سفر سا\n\nکچھ بھی معاش ہے یہ کی ان نے ایک چشمک\nجب مدتوں ہمارا جی دیکھنے کو ترسا\n\nٹک ترک عشق کریے لاغر بہت ہوئے ہم\nآدھا نہیں رہا ہے اب جسم رنج فرسا\n\nواعظ کو یہ جلن ہے شاید کہ فربہی سے\nرہتا ہے حوض ہی میں اکثر پڑا مگر سا\n\nانداز سے ہے پیدا سب کچھ خبر ہے اس کو\nگو میرؔ بے سر و پا ظاہر ہے بے خبر سا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D9%88%D8%B3%DB%8C%D8%B9_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%A7%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AA%D8%B1%D8%B3%D8%A7"} {"title": "دامن کو اس کے کھینچیں اغیار سب طرف سے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دامن کو اس کے کھینچیں اغیار سب طرف سے\nاور آہ ہم یہ کھینچیں آزار سب طرف سے\n\nجب کام دل نہ ہرگز حاصل ہوا کہیں سے\nدل کو اٹھا کے بیٹھے ناچار سب طرف سے\n\nجی چاہتا ہے اس کے کوچہ میں بیٹھ رہیے\nکر ترک آشنائی یکبار سب طرف سے\n\nتجھ پاس بھی نہ آویں ہم اب تو جائیں کیدھر\nتو نے تو ہم کو کھویا اے یار سب طرف سے\n\nمژگاں سے اس کے کیوں کر دل چھٹ سکے ہمارا\nگھیرے ہوئے ہیں اس کو وے خار سب طرف سے\n\nپردے ہزار ہوویں حائل پہ حسن اس کا\nدیتا ہے طالبوں کو دیدار سب طرف سے\n\nکونا بھی ایک دل کا ثابت نہیں یہ کس نے\nاس گھر کو کر دیا ہے مسمار سب طرف سے\n\nنالہ ضعیف اپنا پہنچے گا کیونکہ واں تک\nکی ہے بلند اس نے دیوار سب طرف سے\n\nاک بار تو عزیزاں تم مل کے حال میرا\nکر بیٹھو اس کے آگے اظہار سب طرف سے\n\nدیوانہ ہو کے چھوٹا دنیا سے ورنہ یاراں\nہوتے گلے کے میرے تم ہار سب طرف سے\n\nوے دن بھی آہ کوئی کیا تھے کہ جن دنوں میں\nدل کو خوشی تھی اپنے دل دار سب طرف سے\n\nبس تیرے غم میں آ کر اب خاک ہو گئے ہم\nدل بجھ گیا ہمارا اک بار سب طرف سے\n\nذکر وفا و الفت مت چھیڑ بس حسنؔ اب\nجی ہو رہا ہے اپنا بیزار سب طرف سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D8%A8_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%B3%DB%92"} {"title": "دامن ہے میرا دشت کا دامان دوسرا", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دامن ہے میرا دشت کا دامان دوسرا\nمیری طرح نہ پھاڑے گریبان دوسرا\n\nیک رنگ ہوں میں اس گل رعنا کے عشق میں\nبلبل نہ ہوں کہ ڈھونڈوں گلستان دوسرا\n\nتھا ہی غم فراق ملا اس میں درد رشک\nمفلس کے گھر میں آیا یہ مہمان دوسرا\n\nتیری حیائے چشم سا دیکھا نہیں رقیب\nیاں احتیاج کیا ہے نگہبان دوسرا\n\nعریاں تنوں کے سر پہ تری خاک کور رہے\nدر کارواں نہیں سر و سامان دوسرا\n\nکیجے ضمیر خاک کو آدم کی چھان اگر\nاس شکل کا بن آوے نہ انسان دوسرا\n\nجوع البقر رکھے یہ شیخ شکم پرست\nاک خوان کھا کہے ہے کہاں خوان دوسرا\n\nسیر عجب رکھے ہے تری جلوہ گاہ ناز\nاس لطف کا کہاں ہے خیابان دوسرا\n\nنقد دل اس کو دینا ہے حسرتؔ ثواب و فرض\nاس زلف سا نہ ہوگا پریشان دوسرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%D8%A7"} {"title": "دامِ تہذیب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اقبالؔ کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے\nہر ملّتِ مظلوم کا یورپ ہے خریدار\nیہ پِیرِ کلیسا کی کرامت ہے کہ اس نے\nبجلی کے چراغوں سے منوّر کیے افکار\nجلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مرا دل\nتدبیر سے کھُلتا نہیں یہ عُقدۂ دشوار\nتُرکانِ ’جفا پیشہ‘ کے پنجے سے نکل کر\nبیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%90_%D8%AA%DB%81%D8%B0%DB%8C%D8%A8"} {"title": "دخل ہر دل میں ترا مثل سویدا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:شیخ علی بخش بیمار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دخل ہر دل میں ترا مثل سویدا ہو گیا\nالاماں اے زلف عالمگیر سودا ہو گیا\n\nگو پڑا رہتا ہوں آب اشک میں مثل حباب\nسوزش دل سے مگر سب جسم چھالا ہو گیا\n\nاے شہ خوباں تصور سے ترے رخسار کے\nچشم کا پردا بعینہ لعل پردا ہو گیا\n\nفرق رندان و ملائک اب بہت دشوار ہے\nمے کدہ اس کے قدم سے روشن ایسا ہو گیا\n\nدانۂ انگور اختر چاندنی مے ماہ جام\nنثر طائر بط قرابا چرخ مینا ہو گیا\n\nسنتے ہیں تائب ہوا اس بت کے گھر جانے سے تو\nکیا ترا بیمارؔ پتھر کا کلیجا ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%AE%D9%84_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%AB%D9%84_%D8%B3%D9%88%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "در باب نظم اور کلام موزوں", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "(حسب الفرمائش)\n\nمولوی صاحب کی یہ تقریر رسالہ انجمن شمارہ ماہ اگست 1868ء سے ماخوذ ہے۔ ’’حسب الفرمائش‘‘ کے الفاظ انہوں نے اپنے قلم سے بعد میں تحریر کئے ہیں۔ اسی مضمون نے نظر ثانی سے نور حاصل کیا ہے۔ بعض مقامات پر کچھ الفاظ تبدیل کئے ہیں۔ مثلا چھپا ہوا فقرہ تھا، ’’نظم در حقیقت ایک شاخ گلریز فصاحت کی ہے۔‘‘ اسے کاٹ ’’نظم در حقیقت ایک پھولوں بھری شاخ فصاحت کی ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی دوسرا فقرہ تھا، ’’پھولوں کی بو سے مختلف خوشبوئیاں محسوس دماغ ہوتی ہیں۔‘‘ اسے قلم زد کر کے لکھا ہے، ’’پھولوں کی بو سے الگ الگ خوشبوئیاں محسوس دماغ ہوتی ہیں۔‘‘ اس سے ذرا آگے لکھا تھا۔ ’’کسی کی بو تیز ہے کسی کی بو مست۔ کسی بو میں نفاست و لطافت ہے کسی میں سہانا پن ہے۔‘‘ نظر ثانی کے کرشمہ سے یہ فقرہ اس طرح بنا، ’’کسی کی بو تیز ہے کسی کی میٹھی، کسی کی مست ہے کسی میں لطافت ہے کسی میں سہانا پن ہے۔‘‘یہ مضمون بغیر کسی تبدیلی کے مجموعہ نظم آزاد میں چھپ چکا ہے۔ اسے سامنے رکھ کر پڑھنے سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ نظر ثانی سے اس مضمون میں کیا کیا خوبیاں پیدا ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ رسالہ بعض مقامات سے کرم خوردہ تھا۔ کٹے ہوئے الفاظ کو پر کرنے میں مجموعہ نظم آزاد سے مدد لی گئی ہے۔اس موقع پر میں یہ عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ عرصہ دراز سے کچھ لوگ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نیچر کی شاعری کے موجد مولانا آزاد نہیں تھے۔ یہ مضمون پڑھنے کے بعد ثابت ہو جاتاہے کہ مولانا مرحوم کے دل میں یہ خیال بہت مدت سے پرورش پاتا رہا تھا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کرنل ہالرائڈ ڈائریکٹر تعلیم کی تحریک سے نیچر کی شاعری کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس معاملہ کی اصل صورت یہ ہے کہ اس تحریک میں کرنل صاحب بھی محض ایک معاون کی حیثیت سے شامل ہوئے تھے اوراصل محرک صرف مولانا اور مولانا کی ذات گرامی تھی۔‘‘فلاسفہ یونان کا قول ہے دنیا میں دو چیزیں نہایت عجیب اور حیرت انگیز ہیں۔ اول نبض انسانی کہ بے گویائی حال باطن بیان کرتی ہے۔ دوم شعر کہ انہیں الفاظ کے پس پشت سے کلام موزونیت اور اس سے ایک تاثیر عجیب دل پر پیدا ہوتی ہے۔ کتابوں میں اکثر شعر کے معنی کلام موزوں و مقفیٰ لکھے ہیں لیکن درحقیقت چاہئے کہ وہ کلام مؤثر بھی ہو ایسا کہ مضمون اس کا سننے والے کے دل پر اثر کرے۔ اگر کوئی کلام منظوم تو ہو لیکن اثر سے خالی ہو تو وہ ایک ایسا کھانا ہے جس میں کوئی مزا نہیں، نہ کھٹا نہ میٹھا، جیسا کہ شعر کسی استاد کا ہے۔دندان توحبلہ در دہان استچشمان تو زیر ابر دانستجب انسان کے دل میں قوت گویائی اور جوشش مضمون مجتمع ہوتے ہیں تو طبیعت سے خود بخود کلام موزوں پیدا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس قدر اس قوت اور اس قوت کا جوش و خروش زیادہ ہوگا اسی قدر کلام پر تاثیر ہوگا۔ روئے زمین پر پہلا غم ہابیل کا تھا کہ قابیل کے سبب سے حضرت آدم کے دل پر طاری ہوا۔ نتیجہ اسے جوش غم کا سمجھنا چاہئے کہ اگرچہ اس وقت تک شعر و شاعری کا نام نہ تھا مگر جوش طبیعت سے جو کچھ کلام اس وقت اون کی زبان سے نکلے (نکلا) موزوں تھے (تھا) چنانچہ سریانی میں (اب تک) موجود ہیں (ہے)۔ جبکہ اصل کلام موزوں کی حضرت آدم سے ہوئی تو فرزند رشید وہی موزوں طبع ہے کہ جو باپ کی میراث سے بہرہ ور ہوا۔ اس میں شک نہیں کہ آدمی اور حیوان میں فرق گویائی کا ہے۔ پس قوت انسانی بھی اسی میں کامل تر سمجھنی چاہئے جس میں قوت گویائی کا مل تر ہو۔چونکہ نظم بہ نسبت نثر کے زیادہ تر زور طبیعت سے نکلتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ بہ نسبت نثر کے مؤثر بھی زیادہ ہوتی ہے۔ کوئی مضمون، کوئی مطلب، کوئی خیال جو انسان کے دل میں آئے یا مخاطب کو سمجھانا چاہے تو تکلم سے نقش مدعا کو رنگ تقریر میں لاتا ہے تاکہ ظاہر ہو۔ پس شاعر گویا ایک مصور ہے لیکن نہ وہ مصور کہ خرد اشر درخت اور پتھر کی تصویر کاغذ پر کھینچے۔ بلکہ وہ ایسا مصور ہے کہ معنیٰ کی تصویر صفحہ دل پر کھینچتا ہے۔ اور بسا اوقات اپنی رنگینی فصاحت سے عکس نقش کو اصل سے بھی زیادہ زیبائش دیتا ہے۔ وہ اشیا جن کی تصویر قلم مصور نہ کھینچے، یہ زبان سے کہہ دیتا ہے۔ چنانچہ ہزاروں صفحات کاغذ بھیگ کر فنا ہوگئے مگر صدہا سال سے آج تک ان کی تصویریں ویسی کی ویسی ہی ہیں۔ کبھی تصویر غم صفحہ دل پر کھینچتا ہے۔ کبھی مضامین فرحت و عیش سے طبیعت کو گلزار کرتا ہے۔ انتہائے مرتبہ یہ ہے کہ جب چاہتا ہے ہنسا دیتا ہے۔ جب چاہتا ہے رلا دیتا ہے۔اہل عرب معرکہ ہائے قتل میں رجز خوانی کرتے تھے۔ سلاطین ہند کے ہاں صف جنگ میں سور ویر، راوت، بھاٹ و ہ وہ کڑ کے، کوٹ کہتے تھے کہ لوگ جانیں اپنی موت کے منہ میں جھونک دیتے تھے۔ اور اب تک یہ عالم ہے کہ جب سنے جاتے ہیں بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ سکندر اعظم کتاب ہو مرکو دیکھتا ہے اور سوتے میں بھی جدا نہ کرتا ہے۔ شاعر اگر چاہے تو امور عادیہ کو بھی بالکل نیا بنا کر دکھائے۔ پتھر کو گویا کر دے۔ درختان پادر گل کو رواں کر دے۔ ماضی کو حال، حال کو استقبال کر دے۔ دور کو نزدیک کر دے۔ زمین کو آسمان، خاک کو طلا، اندھیرے کو اجالا کر دے۔ اگر غور کر کے دیکھو تو اکسیر اور پارس اسی کو کہنا چاہئے کہ جسے چھو جائے سونا ہو جائے۔ زمین اور آسمان اور دونوں جہان شعر کے دو مصرعوں میں ہے۔ ترازو اس کی، شاعر کے ہاتھ میں ہے، جدھر (چاہے) جھکا دے۔نظم در حقیقت ایک پھولوں بھری شاخ فصاحت کی ہے۔ پھولوں کے رنگ و بو سے دماغ جسمانی ترو تازہ ہوتا ہے۔ شعر سے روح ترو تازہ ہوتی ہے۔ پھولوں کی بو سے الگ الگ خوشبوئیاں محسوس دماغ ہوتی ہیں۔ کسی کی بو تیز ہے، کسی کی میٹھی، کسی کی بو مست ہے، کسی میں لطافت ہے، کسی میں سہاناپن ہے، اسی طرح مضامین اشعار کا بھی حال ہے۔ جس طرح پھول کی کبھی چمن میں کبھی ہار میں کبھی عطر کھینچ کر کبھی عرق میں جا کر کبھی دور سے کبھی پاس سے مختلف کیفیتیں معلوم ہوتی ہیں، اسی طرح مضامین شعری مختلف حالتوں اور مختلف عبارتوں میں رنگا رنگ کی کیفیتیں عیاں کرتے ہیں۔عالم جسمانی میں انسان کے لئے غذا مادۂ حیات ہے۔ اسی طرح عالم معنی میں روح کے لئے غذا درکار ہے۔ چونکہ اشعار و مضامین لطیف سے روح قوت کمال اور طاقت بلند پردازی پاتی ہے۔ یہی اس کی غذا ہے۔ روح کی لطافت اور نفاست تو خود ظاہر ہے کہ خاص روح القدس کے آفتاب قدرت کا پر تو ہے۔ اسی سے شعر کی جواہر لطافت کو خیال کرنا چاہئے کہ نفاست میں کس مرتبہ عالی پر ہوگا۔ شاعر کو ایک نسبت خاص عالم بالا سے ہے کہ بے وساطت اور بے اسباب ظاہری کے ادھر سے اپنا سلسلہ جاری کرتا ہے۔ فی الحقیقت شعر ایک پرتو روح القدس کا اور فیضان رحمت الہی کا ہے کہ اہل دل کی طبیعت پر نزول کرتا ہے۔یہی سبب ہے کہ ظاہراً اپنے کلبۂ احزان میں پڑا رہتا ہے مگر تمام عالم میں اس طرح پر حکومت کرتا ہے جیسے کوئی صاحب خانہ اپنے گھر میں پھرتا ہے۔ پانی میں مچھلی اور آگ میں سمندر ہو جاتا ہے۔ ہوا میں طائر بلکہ آسمان میں فرشتہ کی طرح نکل جاتا ہے۔ جو مضامین چاہتا ہے بےتکلف لیتا ہے اور بہ تصرف مالکانہ اپنے کام میں لاتا ہے۔ زہے سعادت اس کی جسے ایسے ملک معنیٰ کی سلطنت نصیب ہو۔شعر گلزار فصاحت کا پھول ہے، گلہائے الفاظ کی خوشبو ہے۔ روشنی عبارت کا پرتو ہے۔ علم کا عطر ہے، قوائے روحانی کا جوہر۔ تاثیر معنوی کا ست ہے۔ روح کے لئے آب حیات ہے گرد غم کو دل سے دھوتا ہے، دل بڑھاتا ہے۔ طبیعت کو پھیلاتا ہے۔ خیال کو عروج دیتا ہے۔ دل کو استغنا اور بے نیازی، ذہن کو قوت (پرواز دیتا ہے) گرد افکار سے دامن دل کو بلند رکھتا ہے۔ تنہائی میں دل لگی پیدا کرتا ہے۔ وحدت ( میں کثرت) اور کثرت میں وحدت، سفر در وطن اور خلوت در انجمن کے یہی معنی ہیں۔ اگرچہ شاعر ہمیشہ فکر و تردد میں غرق رہتا ہے لیکن ایک شعر کہہ کر جیسی اس کے دل کو فرحت حاصل ہوتی ہے، بادشاہ کو تسخیر ہفت کشور سے نہیں ہوتی۔دل میں سوز گداز اور طبیعت میں ایسی قبولیت اثر کی پیدا کرتا ہے کہ بات بات میں ایک لطف اور کیفیت حاصل ہوتی ہے۔ اور وہ لطف طاقت تحریر و تقریر دونوں سے باہر ہے۔ اس کے اثر سے جو رنگ دل پر طاری ہوتا ہے صاحب درد ہی اسے خوب جانتا ہے کہ ہزار خوشیوں سے زیادہ لطف حاصل ہوتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ یہ فضیلت اختیاری نہیں۔ یعنی موزونیٔ طبع جوہر خدا داد ہے اور اسی نعمت کو خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔رباعیسر مد غم عشق بوالہوس راند ہندسوز دل پر وانہ مگس را ندہندعمر ے باید کہ یار آید بکنارایں دولت سرمد ہمہ کس راندہندجنون بھی ایک طرح سے لازمہ شاعری ہے۔ بعضے محققوں کا قول ہے کہ دیوانہ اور عاشق اور شاعر کے خیالات بعض بعض مقامات پر متحد ہو جاتے ہیں۔ شاعر کو لازم ہے کہ سب طرف سے مطمئن اور سب خیالات سے منقطع ہو کر اسی کام میں متوجہ اور غرق ہو جائے اور یہ بات سوائے مجنون کے یا عاشق کے کہ وہ برادر مجازی اس کا ہے، ہر ایک شخص سے نہیں ہو سکتی۔ مجنون کو اپنے جنون اور عاشق کو معشوق کے سوا دوسرے سے کچھ غرض نہیں۔ خدا یہ نعمت سب کو نصیب کرے۔اکثر لوگ ایسے ہیں کہ جسمانی محنت سے مر کھپ کر انہوں نے پڑھنا لکھنا سیکھ لیا ہے مگر لطف شعر سے بہرہ نہیں۔ اگر تمام عمر ضائع کریں ایک مصرعہ پر درد ان کی زبان سے نہ نکلے۔ ان کا ذکر بھی انشاء اللہ اسی سلسلہ میں آئےگا۔ بعضے ایسے ہیں کہ ان سے کلام موزوں پڑھا بھی نہیں جاتا۔ بلکہ انہیں موزوں و ناموزوں میں (فرق بھی) نہیں معلوم ہوتا۔ یہ غضب الہی ہے، خدا اس سے محفوظ رکھے۔ بعضے شاعر مضمون خوب (نکالتے ہیں) مگر زبان صاف نہیں پائی کہ بیان فصاحت کر سکیں۔ بعضے ایسے ہیں کہ زبان ان کی صاف ہے مگر مضامین عالی نہیں ہاتھ آتے۔ چنانچہ ہر ایک کی جگہ پر بجائے خود اشارہ کیا جائےگا۔یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ جوش مضامین اور شگفتگی طبع کے لئے بعض بعض موسم خاص ہیں۔ چنانچہ فصل بہار اور موسم برسات میں طباع موزوں زیادہ تر شگفتہ ہوتی ہیں۔ بلکہ ناموزوں اور مردہ دلوں کی طبیعت میں بھی ایک حرکت مذبوحی پیدا ہوتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شاعر کے لئے اوقات اور مقامات خاص ہیں۔ اول خلوت کہ جہاں ذہن اور طرف نہ بٹے۔ خواہ گھر میں گوشہ عافیت ہو، خواہ باغ، خواہ صحرا، خواہ کنار دریا اور دل ہمہ تن اسی میں مصروف ہو۔ وقت اکثر وقتِ شب کہ جب خلق خدا اپنے اپنے کاموں سے تھک کر سو جاتی ہے، تب شاعر اپنے کام میں مصروف ہوتا ہے۔ جب تمام عالم سنسان ہو جاتا ہے، تب اس کی طبیعت میں شور پیدا ہوتا ہے۔، جوں جوں رات ڈھلتی جاتی ہے، خیال زیادہ تر بلند ہوتا ہے اور مضمون میں پیرتا جاتا ہے۔ خصوصاً پچھلی رات اور قریب صبح کہ عالم چپ چاپ اور خاطر مطمئن، طبیعت صاف، ہوا لطیف ہوتی ہے، دل شگفتہ ہوتا ہے۔ مضمون کی کاوش سے دل کو ایک لذت حاصل ہوتی ہے۔ مضامین عالی طبیعت سے اور الفاظ پر معانی زبان سے متراوش ہوتے ہیں۔شاعر کو چاہئے کہ طبیعت اس کی زیادہ تر قابل، صاحب قبولیت اور اثر پذیر ہو۔ جس حالت کو بیان کرے اس کا اثر پہلے اس کے دل پر چھا جائے۔ مثل آب رواں کہ جو رنگ اس میں پڑ جاتا ہے وہی اس کا رنگ ہو جاتا ہے اور جس چیز پر پڑے اسے ویسا ہی رنگ دیتا ہے۔ جب دوسروں کے دل کو نرم کرےگا، اگر لوگوں کی طبیعت خوشی کی حالت میں لانی چاہے تو چاہئے کہ پہلے آپ مار ے خوشی کے باغ باغ ہو جائے۔ جو کچھ کہنا ہے جبکہ اس کے اپنے دل پر اثر نہیں تو دوسروں پر کیا ہوگا۔ مائل کی رباعی اس مقام پر مجھے یاد آئی، چنانچہ لکھتا ہوں۔رباعیکعبہ میں بھی ہم نے اسے جاتے دیکھااور دیر میں ناقوس بجاتے دیکھاشامل ہے بہفتاد و دولت مائلہر رنگ میں پانی سا سماتے دیکھااس کی اپنی ہی طبیعت کا اثر ہوتا ہے کہ مضمون فرحت یا غم، رزم یا بزم کا باندھتا ہے، جتنی اس کی طبیعت اس سے متاثر ہوتی ہے اتنا ہی اثر سننے والے کے دل پر ہوتا ہے۔ دنیا میں بعضے لوگ ایسے ہیں کہ جب وہ شعر سنتے ہیں تو دل بے قرار اور طبیعت بے اختیار ہو جاتی ہے۔ سبب اس کا یہ ہے کہ ان کا دل مثل آئینہ صاف اور طبیعت آب زلال کی مانند اثر پذیر ہے اور بعضے ایسے ہیں کہ ان کے سامنے اگر طلسمات معانی کے دریا کو شیشہ میں (بند) کر کے رکھ دو تو بھی انہیں خبر نہو۔ سبب اس کا کدورت دل ہے کہ نور معنی و مضمون کا اس میں اثر نہیں کر (سکتا) روشن دلان اہل درد کے نزدیک طلوع و غروب آفتاب اور انقلاب صبح و شام ہزاروں باغ نو بہار قدرت الہی کے شگفتہ کرتا ہے۔ اور تیرہ دلان کور باطن کے نزدیک کارگاہ عالم ایک خراس یا دولاب ہے کہ دن رات چکر میں چلا جاتا ہے۔علم موسیقی کا لطف اور گلزار بو قلموں کی کیفیت ظاہر ہے کہ بیان سے باہر ہے لیکن جو لوگ بینائی سے محروم یا کانوں سے معذور ہیں، وہ بیچارے ان کے لطفوں سے بہرہ یاب نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح جو لوگ لطف طبیعت اور صفائی دل سے محروم ہیں وہ کیفیت شعر و فصاحت کلام سے محروم ہیں۔ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ بعضے طبائع شعر سے متنفر پائے جاتے ہیں اور دلیل اس کی یہ پیش کرتے ہیں کہ اس سے کچھ حاصل نہیں۔ اگر فائدے سے یہی مراد ہے کہ جس کے عمل سے چار پیسے ہاتھ آئیں تو بے شک شعر بالکل کار بے فائدہ ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ ابنائے زمانہ نے آج کل شعر کو ایک ایسی حالت میں ڈال دیا ہے لیکن باوجود اس کے بھی جو لوگ طبع موزوں رکھتے ہیں اگر زور طبیعت کو علوم اور تواریخ و قصص میں صرف کریں تو فائدہ و کسب دنیاوی بھی خاطر خواہ دیوے۔ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ اکثر اشخاص علی العموم فن شعر کو گمراہی خیال کرتے ہیں۔ اور فی الحقیقہ حال ایسا ہی ہے لیکن جو لوگ سر معنیٰ اور اصل سخن کو پہنچے ہوئے ہیں وہ جانتے ہیں اگر صناع خبث طبیعت سے صنعت کو بری طرح کام میں لائے تو اصل صنعت پر الزام نہیں آ سکتا۔ شیطان نے معلم الملکوت ہو کر گمراہی اختیار کی۔ پس اس کے لئے ہر گز علم کو ضلالت نہیں کہہ سکتے۔مسائل فلسفہ و حکمت جن سے اہل ہدایت ثبوت باری تعالی اور تصدیق وحدت الہی کرتے ہیں، اسی سے اہل ضلالت دہر و الحاد پر استدلال کرتے ہیں۔ پس جس طرح ان کی ضلالت سے فلسفہ و حکمت پر الزام نہیں آ سکتا، اسی طرح شاعروں کی بدزبانی و بدخیالی سے شعر بھی تہمت کفر سے بد نام نہیں ہو سکتا۔ درحقیقت ایسے کلام کو شعر کہنا ہی نہیں چاہئے کیونکہ شعر سے وہ کلام مراد ہے جو جوش و خروش (خیالات) سنجیدہ سے پیدا ہوا ہے اور اسے قوت قدسیہ الہی سے ایک سلسلہ خاص ہے۔ خیالات پاک (جوں جوں) بلند ہوتے جاتے ہیں مرتبۂ شاعری کو پہنچتے جاتے ہیں۔ابتدا میں شعر گوئی حکما اور علماء متبحر کے کمالات میں شمار ہوتی تھی اور ان تصانیف میں اور حال کی تصانیف میں فرق بھی زمین و آسمان کا ہے۔ البتہ فصاحت اور بلاغت اب زیادہ ہے مگر خیالات اکثر خواب ہو گئے ہیں۔ سبب اس کا سلاطین و حکام عصر کی قباحت ہے۔ انہوں نے جن جن چیزوں کی قدر دانی کی، لوگ اس میں ترقی کرتے گئے ورنہ اسی نظم و شعر میں شعرائے اہل کمال نے بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ جن کی بنا فقط پند و اندرز پر ہے اور ان سے ہدایت ظاہر و باطن کی حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ بعض کلام مثلاً سعدی، مولوی روم و حکیم ثنائی و ناصر خسرو اسی قبیل سے ہیں۔پس اس انجمن کے تقریر اور آپ صاحبوں کی برکت اجتماع سے یہ بھی امید ہے کہ جہاں اور محاسن و قبائح کی ترویج و اصلاح پر نظر ہوگی، فن شعر کی اس قباحت پر بھی نظر رہےگی۔ گو آج نہیں مگر امید قوی ہے کہ انشاء اللہ کبھی نہ کبھی اس کا ثمر نیک حاصل ہو کہ یہ فن شریف مدت دراز سے خرابی میں پڑا ہے اور روز بروز تباہ ہوتا چلا جاتا ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%86%D8%B8%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%D9%85%D9%88%D8%B2%D9%88%DA%BA"} {"title": "در بیان بز", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں جو غم نداری بز بخر\nسو ہی لی میں ایک بکری ڈھونڈھ کر\nشعر زور طبع سے کہتا ہوں چار\nدزدی بزگیری نہیں اپنا شعار\nدزد ہے شائستہ خوں ریزی کا یاں\nبلکہ بابت ہے بزآویزی کا یاں\nمیں پڑھوں ہوں اس کے آگے شعر گہ\nاپنے ہاں گویا بز اخفش ہے یہ\nبکروں کی داڑھی کے تیں جانے ہیں سب\nتکہ ریشی بکری کی ہے بوالعجب\nرنگ سر سے پاؤں تک اس کا سیاہ\nچکنی ایسی جس پہ کم ٹھہرے نگاہ\nچار پستاں اس کے آئے دید میں\nدو جہاں ہوتے ہیں دو ہیں جید میں\nایک میں ان میں سے تھا مطلق نہ شیر\nایک کو کہتے ہیں اندھے خرد و پیر\nاس پہ کالے بکرے دو خیلا جنے\nنازنخرے سے رہے پھر انمنے\nچارہ بیٹھے کھاتے اک انداز سے\nدیتی پٹھ تو ہوتے خوش اس ناز سے\nدودھ ہو چوچی میں تو بچہ پیے\nبیٹھا دیکھے اس طرف منھ کو کیے\nبھوک سے گرم تظلم وے ہوئے\nاپنے شایان ترحم وے ہوئے\nدودھ منگوایا کیے بازار سے\nپھوہوں سے دینا کیا انفار سے\nگھاس دانہ بارے کچھ کھانے لگے\nگرتے پڑتے پاس بھی آنے لگے\nپرورش سے حق کی بارے جی گئے\nآب و دانہ دوڑ کر کھا پی گئے\nاب جوانی پر جو ہیں وہ شیر مست\nکودتے ہیں ہر زماں ہر دم ہیں جست\nمستی اپنی ماں پہ کرتے شاد ہیں\nعاقبت بکرے ہی کی اولاد ہیں\nزور و قوت سے حریفوں کے ہیں ڈھینگ\nآہوے جنگی کو دکھلاتے ہیں سینگ\nٹکر ان کی کیا جگر مینڈھا اٹھائے\nقوچ سرزن سامنے ہرگز نہ آئے\nسرزنی میں شہرۂ آفاق ہیں\nلوگ بزگیری کے سب مشتاق ہیں\nرنگ کو اس جنگ کا کیا ڈھنگ ہے\nدھنستے ہی میداں کا عرصہ تنگ ہے\nہوتے ہی استادہ طاری ہو غشی\nکیا بز کوہی سے ہو میداں کشی\nتیس ان کی دھاک سن کر مر گیا\nغم گوزنوں کو انھوں کا چر گیا\nگووہ ٹکر کھا جو ڈکراتا رہا\nبزدلی سے گرگ بھی جاتا رہا\nمارے پانی پانی کر بکرے اصیل\nلکھنؤ سے غل ہے تا بکرے کی جھیل\nپاس جانا ان کے اب مسدود ہے\nذبح کرنے کو ہر اک موجود ہے\nاس ادا سے جائیں گے چھریوں تلے\nکاشکے ہوتے نہ ہاتھوں میں پلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D8%B2"} {"title": "در بیان دنیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "سنو اے عزیزان ذی ہوش و عقل\nکہ اس کارواں گہ سے کرنا ہے نقل\nپیمبر ہے شہ ہے کہ درویش ہے\nسبھوں کو یہی راہ درپیش ہے\nکہوگے کہ آگے تھا کہتا کوئی\nنہیں اس سرا بیچ رہتا کوئی\nبجا ہی کیا کوس رحلت مدام\nکنھوں نے نہ بجتا سنا یاں مقام\nیہ بیٹھے جو ہیں سامنے ہیں کہاں\nجہاں جملہ ہے ایک بزم رواں\nجسے دیکھو چلنے کا گرم تلاش\nیہ منزل نہیں جاے بود اور باش\nگدا ہو کہ ہو شاہ عالی تبار\nتہ خاک سب کا ہے دارالقرار\nنہ یک بوے خوش ہی ہوا ہوگئی\nوہ رنگینی باغ کیا ہوگئی\nملے خاک میں جھڑکے گل ہاے تر\nپریشاں ہوئے مرغ گلشن کے پر\nپتنگوں نے گر خاک مسکن کیا\nچراغوں نے بھی خانہ روشن کیا\nگئی خاک دامن فشانی کے ساتھ\nرہا آب سو بھی روانی کے ساتھ\nرہی راکھ ہوکر اگر آگ تھی\nرکن ہے جہاں باد کی لاگ تھی\nنہ جدول رہے گی نہ سرو رواں\nگلستاں کو پاویں گے ہو کا مکاں\nزمیں کا رہے گا یہی کیا سبھاؤ\nلپٹ جائیں گے آسماں جیسے تاؤ\nسکوں یاں کا دیکھا سراسر شتاب\nچلے جاتے ہیں کوہ جیسے سحاب\nجہاں ایک ماتم سرا ہے عجب\nنہیں جاے باش اور جا ہے عجب\nبھلا جی کے جانے کا کیا ہے بیاں\nعیاں ہے کہ کہتے ہیں جاں کو رواں\nجوانی گئی موسم شیب ہے\nشہود ایک دو روز کو غیب ہے\nہنسوں کیونکے ہستی میں دنداں نما\nکہ ہے جاے دنداں ہی دنداں نما\nگیا شور سر سے جھکا ہے بہت\nگئی واشد اب دل رکا ہے بہت\nنہ وہ ذائقہ ہے نہ وہ ہے مشام\nمزہ کچھ نہیں ہوچکی صبح شام\nکریں لمس کیا ہر گھڑی ہے صداع\nنہیں لذت اکل و شرب و وقاع\nبلا ارتعاش تن زار ہے\nہر اک عضو چلنے کو تیار ہے\nہوا حافظہ بسکہ نسیاں کا صرف\nنہیں یاد آتا ہے دوشینہ حرف\nہوئے شعر کیا کیا فراموش ہائے\nکہوں کیا گذرتی ہے خاموش ہائے\nنہ پوچھو لب و لہجہ بے طور ہے\nسخن کرنے کا ڈھنگ ہی اور ہے\nنہیں گور کے کام سے کچھ فراغ\nکسے ذوق صحبت کہاں ہے دماغ\nنہ کچھ یوں ہی عینک نظر چڑھ گئی\nبصارت کی بے طاقتی بڑھ گئی\nنہ رکھیے جو عینک نہ آوے نظر\nکہے تو کہ اعمیٰ ہیں ہم بے بصر\nرہیں دیکھ بھو حرف زن ہو حریف\nرہا سننے کے گوں نہ سمع شریف\nصد افسوس لطف سماعت نہیں\nصدا دور سے جیسے آوے کہیں\nشباب آہ داغ جگر دے گیا\nقد خم زمیں کی طرف لے گیا\nنہ کچھ زور بازو بہت کم ہوا\nجھکا سر سو زانو کا ہمدم ہوا\nجوانی کی شب کیا بسر ہوگئی\nسفیدی مو سے سحر ہوگئی\nبدن زار اعضا سبھی رعشہ دار\nکرے کون خوباں سے بوس و کنار\nجو یہ چال ہے جا رہے ہیں ہم اب\nدموں پر غرض آرہے ہیں ہم اب\nکھڑے ہوں تو تھرائے ران اور ساق\nجئیں بیٹھیں کیوں کر کہ جینا ہے شاق\nجو یوں پاؤں چلتے بچلتے رہے\nتو دیکھوگے ہم یاں سے چلتے رہے\nاگر ضعف سے چپ ہی رہتے ہیں ہم\nیہ سوچو تو کیا کیا نہ کہتے ہیں ہم\nکہے میں نہیں اپنے ٹک پا و دست\nکیا خاک میں مجھ کو پیری نے سخت\nجو بازو ہیں اپنے وہ بازو نہیں\nاگر منھ کو دیکھو تو وہ رو نہیں\nبدن کی ہوئی میرے صورت ہی اور\nوے آنکھیں نہیں وے نہ چتون کے طور\nجسد ناتواں جاے مہمان تنگ\nسخن منھ پہ آوے وداعی کے رنگ\nلبوں پر نہایت ضعیف ایک آہ\nدر و بام پر حسرتوں سے نگاہ\nشکن جلد میں دل کو پژمردگی\nغریزی حرارت میں افسردگی\nبرودت بہت جسم میں آگئی\nمزاجی تھی گرمی سو ٹھٹھرا گئی\nچھڑکتا رہوں منھ پہ میں آب کاش\nکہ ہوتا رہے روح کا انتعاش\nوگرنہ دیا سا بجھا جائے ہے\nپھر اٹھ بیٹھوں تو جی چلا جائے ہے\nسیہ روے شیب اک ستم کر گیا\nلکھوں کیا کہ میں جیتے جی مر گیا\nقلم رکھ دے کر میرؔ ختم کلام\nتمام اپنی صحبت ہوئی والسلام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7"} {"title": "در بیان مرغ بازاں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "دلی سے ہم جو لکھنؤ آئے\nگرم پرخاش مرغ یاں پائے\nپر و پرزہ درست و یکساں ہے\nمرغ تصویر کا بھی حیراں ہے\nمرغ ہے ایک ایک جیسے کلنگ\nقاز و سارس سے جنگ جس کا ننگ\nحوصلہ کس قدر حواصل کا\nذکر کیا کرگس شتردل کا\nلات کی گھات کر جو مڑ جاوے\nنسر طائر کا رنگ اڑ جاوے\nزہرہ ققنس کا اس خطر سے آب\nشب نہ سووے ہراس سے سرخاب\nبکری سا فیل مرغ کو مارا\nکب شتر مرغ سے ہوا چارہ\nآدمی جو بڑے کہاتے ہیں\nمرغ مارے بغل میں آتے ہیں\nسرخہ و سبزوار کے سب مرغ\nہیں ثناگستر ایسے تھے کب مرغ\nہو جو کیں مرغ خانگی کے تئیں\nمت سن اس ہرزہ چانگی کے تئیں\nلات ماری جو کاٹ کر حلقوم\nحیدرآباد تک پڑی ہے دھوم\nکھا کے سینے کی مدعی سووے\nنسر واقع کا واقعہ ہووے\nنے ثنا سے بطیں ہی ہیں تر لب\nمرغ عیسیٰ ہیں مدح خواں ہر شب\nٹینی کے سر پہ آج ٹیکا ہے\nاس کے آگے کنیل پھیکا ہے\nکیا عجب ان کی رہگذر کا فرش\nہوں پرافشاں تو ہو خروس عرش\nاڑ گیا حلق کا جو لڑتے پوست\nکی صدا مرغ دوست نے ہے دوست\nکیس اس رنگ ہوتے ہیں محسوس\nجوں گلستاں میں ہوویں تاج خروس\nشور جنگ آوری کا تاکہسار\nکبک کا گھر خروس پر ہے بار\nکب ہیں پہلے سے مرغ زریں بال\nحسن لاکھے کا سمجھے مرغ خیال\nکرسکے وصف مرغ کیا کوئی\nمرغ آمین کو دعاگوئی\nوقر اتنا کہ دیر بچے لیں\nجان دے کوئی تخم مرغ نہ دیں\nمرغ بازوں سے ساز کر دیکھا\nدر الطاف باز کر دیکھا\nربط رکھا بہت انھوں کے ساتھ\nایک پر مرغ کا نہ آیا ہاتھ\nمرغ کا مرغ ہووے مرغ انداز\nمرغ ایسا ہو تو بجا ہے ناز\nیعنی اپنا حریف جب پاوے\nپر ہلانے نہ دیوے کھا جاوے\nسینہ کیا سینہ بال کیا پر و بال\nجیسے چشم خروس آنکھیں لال\nبازی بدبد کے جب لڑاتے ہیں\nکانٹے لوہے کے باندھ لاتے ہیں\nآیا حلقوم کے کہ حلق کے پار\nپھوٹا چھاتی میں ایک لگ کے دوسار\nہاتھ جس مرغ باز کے تھا وہ\nپانی کرنے لگا ترارا وہ\nکچھ جو ٹھہرا تو دم دیا ان نے\nتعبیہ کرکے رکھ لیا ان نے\nاور جو سست ہو ہوا تھیلا\nدونوں بازو کے پر دیے پھیلا\nہوچکا ہوچکا ہوا یہ شور\nڈھلکی گردن گیا وہ سارا زور\nپھیلا پانی میں وہ غم جاں سوز\nدل زدہ پھر ہیں مرغ دست آموز\nجانور رنگ باختہ سب ہیں\nیعنی حیران فاختہ سب ہیں\nمرغ قبلہ نما کو وحشت ہے\nبال کھولے ہیں پر نہ طاقت ہے\nورنہ اڑ کر کہیں چلا جاتا\nدیر اپنے مقام پر آتا\nجمعے منگل کو پالی کی ہے دھوم\nگلیوں میں روز حشر کا ہے ہجوم\nمرغ بازوں کو ہے قیامت جوش\nجس کو دیکھو تو مرغ در آغوش\nمرغ لڑتے ہیں ایک دو لاتیں\nسیکڑوں ان سفیہوں کی باتیں\nان نے پر جھاڑے یہ پھڑکنے لگے\nان نے کی نوک یہ کڑکنے لگے\nوہ جو سیدھا ہوا تو یہ ہیں کج\nساتھ اس کے بدلتے ہیں سج دھج\nمرغ کی ایک پرفشانی ہے\nان کی صد رنگ بدزبانی ہے\nایک بولے کہ کاری آئی چوٹ\nایک کہتا ہے بس گیا اب لوٹ\nجھکتے ہیں آپ کو تڑاتے ہیں\nلاتیں گویاکہ یہ ہی کھاتے ہیں\nایک کے منھ میں مرغ کی منقار\nایک کے لب پہ ناسزا گفتار\nمنھ پہ آیا جو کچھ وہ بکنے لگے\nتیکھی نظروں سے سب کو تکنے لگے\nطرفہ ہنگامہ طرفہ صحبت ہے\nبعد نصف النہار رخصت ہے\nکھانچے سر پر بغل میں مارے مرغ\nلے گئے جیتے ہارے سارے مرغ\nپھر جو روز معین آوے گا\nنالہ مرغ سحر سناوے گا\nعالم آوے گا گرد ویسا ہی\nگرم ہنگامہ ہوگا ایسا ہی\nمیرؔ ان کا نہ ہووے گو قائل\nمرغ معنی پہ وہ بھی ہے مائل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D9%85%D8%B1%D8%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%DA%BA"} {"title": "در بیان کدخدائی نواب آصف الدولہ بہادر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "ہے جہان کہن تماشاگاہ\nآصف الدولہ کا رچا ہے بیاہ\nآؤ ساقی کہ کدخدائی ہے\nطبع نواب ادھر کو آئی ہے\nدل خوش احباب و شاد بہر دہر\nبستہ آئیں دو راستہ ہے شہر\nنئے سر سے جواں ہوا ہے جہاں\nعیش و عشرت کے محو خرد و کلاں\nہر طرف شہر میں ہے آرائش\nرہرواں کی نہیں ہے گنجائش\nشیشہ باز فلک ہے آتش باز\nکہکشاں سے ہوا ہوائی ساز\nماہ سے ماہتاب کی ہے طرح\nکس سے ہو لطف روشنی کی شرح\nنہیں رستوں میں روشنی کے دیے\nنجم ہیں چشم روشنی کے لیے\nکیا ستاروں کا چھوٹنا کہیے\nآسماں کی طرف ہی تک رہیے\nشب شادی کی دھوم کی کیا بات\nروز روشن تھی روشنی سے رات\nدو طرف چھوٹتے جو ہیں گے انار\nراہ و رستے ہوئے ہیں باغ و بہار\nآؤ ساقی کہ جمع ہیں احباب\nسب مہیا ہیں عیش کے اسباب\nلا وہ جوں آفتاب ساغر زر\nآب گل رنگ سے لبالب کر\nآج جھوما ہے ابر بخشش زور\nکچھ نظر ہے تجھے ہوا کی اور\nدست دستور ابر نیساں ہے\nیعنی یک دست گوہرافشاں ہے\nکر چمن زار دست و دل کی سیر\nہیں نہال آج آشنا و غیر\nگل نمط دل شگفتہ سب کے کیے\nخلعت فاخرہ سبھوں کو دیے\nلا کہاں ہے وہ لالہ رنگ شراب\nجس سے مست گذارہ ہوں احباب\nآؤ مطرب لیے رباب و چنگ\nکاڑھ منھ سے نواے سیرآہنگ\nہر طرف رقص میں ہیں گل رویاں\nپاے کوباں ہیں سلسلہ مویاں\nشادمانی سے ہو نواپرداز\nدے بہار گذشتہ کو آواز\nگل و لالہ سے چشم باز کرے\nرنگ صحبت کو دیکھ ناز کرے\nچھیڑ ساز طرب نوا کے تئیں\nباندھ آواز سے ہوا کے تئیں\nوجد میں لاؤ مے پرستوں کو\nیاد دے ٹک سرود مستوں کو\nآؤ ساقی کہ روشنی ہے خوب\nمحو آرائش آج ہیں محبوب\nکاغذیں باغ کیا تماشا ہے\nپھول کترا کہ گل تراشا ہے\nبکّے سی مشعلوں کا ہوں بندہ\nنور کا ماہ نے کیا چندہ\nشیشہ شیشہ شراب ہے درکار\nصحبت عیش کو چھکا یک بار\nلالہ رنگ رخ نکویاں کو\nمایۂ ناز خوب رویاں کو\nاس پری کو نکال شیشے سے\nرنگ مجلس میں ڈال شیشے سے\nہوئے سرمست ہو تماشائی\nحکم کش ہے سپہر مینائی\nچھوڑ آئین بردباری کا\nسیر کرلے تزک سواری کا\nچل گلابی کو ہاتھ میں لے لے\nایک دم جام متصل دے لے\nہے سواری کے فیل کی وہ دھوم\nجیسے ابر بہار آوے جھوم\nآئے دولت سرا سے ہو کے سوار\nلعل ناب و گہر ہیں صرف نثار\nاک مہابت کے ساتھ فیل نشاں\nآگے مانند کوہ زر کے رواں\nاور ہاتھی ہیں جھومتے جاتے\nجیسے آویں جوان مدھ ماتے\nجل زربفت کی ہے ساری شب\nروکش انجم فلک ہیں سب\nپلٹنیں جاتی ہیں برابر یوں\nصف ہو مژگان دلبروں کی جوں\nبال بستہ رکاب میں ہیں سرنگ\nجن کے دیکھے کمیت چرخ ہے دنگ\nخوش سواری و خوش جلو خوش راہ\nباگ اچکی تو پھر نہ ٹھہری نگاہ\nگردنوں میں پڑی حمائل گل\nہے جلو میں بصد شمائل گل\nتھا بہت تیزگام اسپ خیال\nرہ گیا دیکھ کر انھوں کی چال\nتھے پری زاد چھیڑے اڑ جاویں\nآنکھ پھیرو تو کل سے مڑ جاویں\nکسمسانے میں باؤ سے آگے\nہاں کہے جیسے وہم جا لاگے\nنوبتی اب طبیعتوں کو رجھاؤ\nچل سواری کا ٹک اصول بجاؤ\nچوب نقارے پر لگا اس ڈھب\nکہ رکھیں گوش اس صدا پر سب\nایک دو دم بجائے جاؤ یوں ہی\nدل کش آواز گائے جاؤ یوں ہی\nپھینکتے ہیں جو دستہ دستہ گل\nرہگذر میں ہیں رستہ رستہ گل\nوہ جو دیوے تو کیا لیا جاوے\nخوشہ خوشہ گہر دیا جاوے\nساقیا دے وہ مے جو باقی ہے\nشادی ایسی بھی اتفاقی ہے\nہو مبارک یہ جشن خوش انجام\nدور گردوں بہ کام عیش مدام\nآ مغنی غزل سرائی کر\nکچھ مزے سے بھی آشنائی کر\nپڑھ غزل میرؔ کی جو ہووے یاد\nان کو تو اس میں کہتے ہیں استاد\n\nغزل\n\nموسم ابر ہو سبو بھی ہو\nگل ہو گلشن ہو اور تو بھی ہو\n\nکب تک آئینے کا یہ حسن قبول\nمنھ ترا اس طرف کبھو بھی ہو\n\nہو جو تیرا سا رنگ گل گاہے\nریجھیں ہم تب جب ایسی بو بھی ہو\n\nہے غرض عشق صرف ہے لیکن\nشرط یہ ہے کہ جستجو بھی ہو\n\nسرکشی گل کی خوش نہیں آتی\nناز کرنے کو ویسا رو بھی ہو\n\nکس کو بلبل ہے دم کشی کا دماغ\nہو تو گل ہی کی گفتگو بھی ہو\n\nدل تمناکدہ تو ہے پر میرؔ\nہو تو اس کی ہی آرزو بھی ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%AF%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%B5%D9%81_%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%88%D9%84%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AF%D8%B1"} {"title": "در بیان کذب", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "اے جھوٹھ آج شہر میں تیرا ہی دور ہے\nشیوہ یہی سبھوں کا یہی سب کا طور ہے\nاے جھوٹھ تو شعار ہوا ساری خلق کا\nکیا شہ کا کیا وزیر کا کیا اہل دلق کا\nاے جھوٹھ تجھ سے ایک خرابی میں شہر ہے\nاے جھوٹھ تو غضب ہے قیامت ہے قہر ہے\nاے جھوٹھ رفتہ رفتہ ترا ہوگیا رواج\nتیری متاع باب ہے ہر چار سو میں آج\nاے جھوٹھ کیا کہوں کہ بلازیر سر ہے تو\nاے جھوٹھ سچ یہ ہے کہ عجب فتنہ گر ہے تو\nاے جھوٹھ کب ہے عرصہ میں تجھ سا حریف اب\nتیرے ہی حکم کش ہیں وضیع و شریف اب\nاے جھوٹھ تیرے شہر میں ہیں تابعیں سبھی\nمر جائے کیوں نہ کوئی وے سچ بولیں نے کبھی\nکہنے سے آج ان کے کوئی دل نہ شاد ہو\nفردا کہیں تو اس سے قیامت مراد ہو\nوعدے گھڑی کے پہروں کے سب آزماچکے\nبرسوں تک انتظار کیا جی ہی جاچکے\nاے جھوٹھ رنگ تیرے کرے کوئی کیا بیاں\nرکھتا ہے جیسے غنچہ زباں تو تہ زباں\nیوسف کہ تھا نبی و صداقت شعار تھا\nپھر حسن ظاہری سے بھی باغ و بہار تھا\nپایان کار تیرے سبب چاک پیرہن\nزنداں میں جا کے برسوں رہا چھوڑ کر وطن\nاے جھوٹھ تو تو ایک دل آویز ہے بلا\nآشوب گاہ تجھ سے زمانہ رہا سدا\nکس جاں کنی سے کوہ کنی کوہ کن نے کی\nتصویر کھود شیریں کی پیش نظر رکھی\nنزدیک جب ہوا کہ وہ مطلوب سے ملے\nاب صبح و شام غنچۂ مقصود دل کھلے\nدلالہ کے تو پردے میں آ کام کر گیا\nدو باتوں میں وہ عاشق دل خستہ مر گیا\nاے جھوٹھ تجھ سے فتنے ہزاروں اٹھا کیے\nہنگامہ و فساد ہی ہر سو رہا کیے\nاے جھوٹھ راستی سے نہیں گفتگو کہیں\nکہنے کو ہاں کہیں ہیں حقیقت میں ہے نہیں\nاے جھوٹھ اس طرح ہیں بہت جی سے جاچکے\nوعدوں میں آہ لوگوں کے وعدے ہی آچکے\nاے جھوٹھ اس زمانے میں کیونکر چلے معاش\nہے تنگ جھوٹھ بولنے سے عرصۂ تلاش\nسردار جس سے سب متعلق ہے کاروبار\nسچ بولنا ہے اس کے تئیں سخت ننگ و عار\nپھر سب مدار کار دروغی و مفتری\nصدق و صفا و راستی کے عیب سے بری\nجھوٹا سوار دولت ابھی کا ہے یہ امیر\nورنہ قسم کسو کی بھی تھی حرف بارگیر\nمشکل حصول کام ہے یاں حاصل کلام\nباتوں ہی باتوں کام ہوا خلق کا تمام\nاے جھوٹھ دل مرا بھی بہت دردناک ہے\nان کاذبوں سے صبح نمط جیب چاک ہے\nاک فرد دستخطی تھی مری ایک شخص پاس\nدیکھا جو خوب اس کو تو مطلق نہیں حواس\nتھا میں فقیر پر نہ گیا شاہ کے حضور\nاتنے لیے کہ رتبۂ عزت مرا ہے دور\nآداب سلطنت سے نہیں مجھ کو رابطہ\nحرکت نہ ہوئے مجھ سے کوئی غیر ضابطہ\nمرزائی مجھ سے کھنچتی نہیں ہر عزیز کی\nپھر شعر و شاعری بھی نہیں ہے تمیز کی\nصحبت خدا ہی جانے پڑے کیسی اتفاق\nکیا بات آوے بیچ میں بے رتبگی ہے شاق\nمیں مضطرب گھر اس کے گیا اٹھ کے پانچ بار\nکہنے لگا زباں سے یہ ہوتے ہی وہ دوچار\nتقصیر میری اس میں نہ کریے گا کچھ خیال\nصاحب کہیں خموشی کروں میں یہ کیا مجال\nلیکن یہ حرف اس بھی سیہ رو کا رکھیے یاد\nانداز سے یہ لوگ سخن کرتے ہیں زیاد\nبہتیری ایسی فردیں یہ رکھتے ہیں جیب میں\nرکھتے ہیں یوں ہی لوگوں کو برسوں فریب میں\nدکھلاؤں گا چلا ہوں سوال آپ کا لیے\nمیں نے کہا فقیر کہو کس طرح جیے\nبولا نہ ہوگا سعی میں ایدھر سے کچھ قصور\nپھر دیکھیے کہ پردے سے کرتا ہے کیا ظہور\nاک آدھ ایسی بات بناکر کھسک گیا\nدل اس خبر کے سننے سے میرا دھڑک گیا\nیہ عرضیاں حضور کو بھیجیں میں صبح و شام\nدستخط جو ہوکے آئے کوئی سو اسی کے نام\nیعنی وہ اب کی آن کے کچھ دیوے گا شتاب\nدل جمع رکھیں کاہے کو کرتے ہیں اضطراب\nدو چار بار آیا بھی وہ پر نہ کچھ ہوا\nمجھ کو جو اضطرار تھا میں بے اجل موا\nمدت مدید گذری مجھے کرتے انتظار\nخجلت ہوئی جو حال لکھا میں نے بار بار\nاس فرد دستخطی کو ہے یہ ماہ ہفتمیں\nتنخواہ کا نہیں ہے ٹھکانہ ابھی کہیں\nآیا جو وہ لطیفۂ غیبی اب اپنے گھر\nمیں مضطرب ہو آپ گیا ملنے اس کے گھر\nبارے نہ اتفاق ہوا یہ کہ ہو ملاپ\nکھویا تھا اضطرار سے عز و وقار آپ\nگھر آ کے ایک بھائی کو بھیجا پیام دے\nآئے وے اس کے پاس سے جو کچھ جواب لے\nحضرت سے کہیو پہلے بہت بندگی مری\nپھر کہیو اب اترتی ہے شرمندگی مری\nدو چار دن میں بھیجے گا کچھ گھر ہی آپ کے\nدرپے نہ اتنے ہوجیے میرے ملاپ کے\nتب سے وے بھائی جاتے ہیں ہر روز صبح و شام\nاب تک تو ملتوی ہے زمانے زدے کا کام\nدن دیکھتے ہیں وعدے کے بھی ہیں بہت قریب\nپھر ترک شہر کیجیے گا کہہ کے یانصیب\nبرسوں ہوئے مہینوں کے وعدے ہوئے وعید\nسچ کہتے ہیں کہ کچھ نہیں ان جھوٹھوں سے بعید", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%B0%D8%A8"} {"title": "در بیان ہولی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "ہولی کھیلا آصف الدولہ وزیر\nرنگ صحبت سے عجب ہیں خرد و پیر\nجشن نوروزی اہل ہند سب\nہے یہی تب محو عشرت ہیں گے اب\nشیشہ شیشہ رنگ صرف دوستاں\nصحن دولت خانہ رشک بوستاں\nاس چمن میں باغ پر گل سرخ و زرد\nنکہت گل جھاڑیں گے واں آکے گرد\nپھول گل آویں نظر دیکھو جدھر\nلالہ و صدبرگ سب باغ نظر\nدستہ دستہ رنگ میں بھیگے جواں\nجیسے گلدستہ تھے جوؤں پر رواں\nزعفرانی رنگ سے رنگیں لباس\nعطرمالی سے سبھوں میں گل کی باس\nرنگ افشانی سے پڑتی ہے پھوہار\nرنگ باراں تھا مگر ابر بہار\nمرغ گلشن گل رخاں کو جان پھول\nبیٹھتے ہیں پاس آکر پھول پھول\nقمقمے جو مارتے بھر کر گلال\nجس کے لگتا آن کر پھر منھ ہے لال\nبرگ گل ملواں اڑاتے تھے عبیر\nتھی ہوا میں گرد تا چرخ اثیر\nروشن الدولہ نے کی تھی روشنی\nکب ہوئی تھی لیکن ایسی روشنی\nوہ چراغاں گرچہ تھے درگاہ تک\nتھے تماشائی گدا و شاہ تک\nراہ میں ترپولیے مینار تھے\nروشنی کے کوچہ و بازار تھے\nگرم کچھ ہنگامہ یہ بھی کم نہ تھا\nاس روش کی دھوم کا اودھم نہ تھا\nاب تو ہفت اقلیم کا عالم ہے یاں\nدیکھو تو ہر جنس کا آدم ہے یاں\nٹٹیاں دریا کے باندھیں دو طرف\nکیا چراغاں آسماں کی ہو طرف\nتھا جہاں تک آب دریا کا بہاؤ\nواں تلک تھا اس چراغاں کا دکھاؤ\nایک عالم دیکھتا تھا دور سے\nرات دن تھی روشنی کے نور سے\nکوچہ و بازار بام و در بنے\nروشنی کے دونوں رستے گھر بنے\nسوانگ کیا کیا بن کے آئے درمیاں\nپیکھنے کا سوانگ تھا سارا جہاں\nآئے کس کس رنگ سے دامن سوار\nباد کے رنگوں جنھوں کا تھا گذار\nہاتھی آئے کوہ پیکر کیا بنے\nجیسے مدھ ماتے جواں ہوں انمنے\nکیسی کیسی دیکھیں شکلیں تازیاں\nسحر کرتے تھے کہ صورت بازیاں\nان دیوں کے عکس سے دریا کا آب\nآئینے کے سطح کی رکھتا تھا تاب\nکشتیوں میں جو دیے بھر کر جلے\nپانی میں شعلوں کے ریلے ہی چلے\nمنعکس تھے جو چراغاں تہ تلک\nآب کی وسعت تھی بر نجم فلک\nکیا ہوائی چھوٹنے کا ہے بیاں\nذو ذنب جیسے ستارے ہوں عیاں\nجاہی جو ہی چھوڑنا ہے یاد بود\nروشنان ذو ذوانب تھے نمود\nگنج چھوٹے ایک سے روشن تھے جھاڑ\nدو طرف جس طرح سے جھڑتی ہے باڑ\nاس روش سے تھے ستارے چھوٹتے\nناگہاں جو ہوویں تارے ٹوٹتے\nدیکھے جاتے تھے چراغاں آب میں\nشعلے تھے لہروں کے پیچ و تاب میں\nہر دو جانب چن گئے ناری انار\nگل فشانی سے انھوں کی تھی بہار\nماہتابی اک طرف سے جو دغی\nچاند سا نکلا ہوئے حیراں سبھی\nآفریں صناع لوگو آفریں\nکیا لگایا باغ آکر کاغذیں\nگل کتر کر پھول گل ہی کردیے\nرنگ تازے کاغذوں میں بھر دیے\nمتصل توپیں ستاروں کی دغیں\nلوگوں کی آنکھیں فلک سے جا لگیں\nدیکھیاں کیا کیا نہ شعلہ خیزیاں\nتھیں ہوا میں سے ستارہ ریزیاں\nنذر کو نواب کی اہل فرنگ\nلے کے آتش بازی آئے رنگ رنگ\nعرصہ گل ریزی سے گلشن ہوگیا\nچرخ ان تاروں سے روشن ہوگیا\nداغیاں توپیں ہوائی ایک بار\nپھیلے تارے آسماں پر بے شمار\nکیا ہوائی باد میں لہرا گئی\nتاری سانپوں کے سے من پھیلا گئی\nکیا ہی آتش دستیاں دے کر گئے\nشعلوں سے پانی کی لہریں بھر گئے\nرحمت اے آتش زناں کیا لاگ ہے\nتہ بساط آب دریا آگ ہے\nلکھ غزل اب میرؔ رنگیں تر کوئی\nسن کے ہو محظوظ جس کو ہر کوئی\n\nغزل\n\nلالہ کنار دریا نکلا ہے کیا زمیں سے\nاٹھتی نہیں ہیں آنکھیں دیکھو ادھر کہیں سے\n\nبالیدگی سے پہنچے گل آدمی کے سر تک\nہو واں تو رنگ ٹپکے جیب اور آستیں سے\n\nخوش رنگ تر ہے ہر گل رخسار سے پری کے\nصدبرگ واں طرف ہے خورشید کی جبیں سے\n\nمنھ پر عبیر عاشق اصرار سے ملے ہیں\nکب ہاتھ کھینچتے ہیں معشوق کی نہیں سے\n\nصندل بھری جبیں سے کیا صبح چہرہ ہووے\nاس قطعۂ چمن کے محبوب خوش نشیں سے\n\nیک سو گلال منھ پر خوباں کے مل رہے ہیں\nالجھے ہیں ہاتھ یک سو گیسوے نازنیں سے\n\nجب میرؔ جان دینا بوسے کے بدلے ٹھہرا\nتب خوف کیجیے کیا پیشانیوں کی چیں سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C"} {"title": "در تعریف آغا رشید کہ خطاط بود و بہ فرمائش میاں اعزالدین کہ فقیر و خوشنویس بودند", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "میرؔ خطاط یک قلم دیکھے\nلیکن آغا سے لوگ کم دیکھے\nیعنی عبدالرشید تھا استاد\nخوشنویسی کی جن نے دی ہے داد\nخط کی خوبی کا اس کے اب تک ڈھنگ\nصفحۂ روزگار پر ہے رنگ\nوہ تصرف کہیں جو کرتا ہے\nشکل نقاش رنگ بھرتا ہے\nحیرت افزا ہے حسن ہر تحریر\nمشقی اس کی ہے قطعۂ تصویر\nخط شیریں جو اس کا پاتے ہیں\nہم حلاوت بہت اٹھاتے ہیں\nلگ گئی ہے قلم تو جادو ہے\nمد جہاں ہے کسو کی ابرو ہے\nسطر لکھتا نہیں خفی کی وہ\nخط ہے خوباں کی پشت لب کا وہ\nایسا لکھنا کسو کی طاقت ہے\nہے جلی بھی تو ایک بابت ہے\nخط میں کیسا ہی کوئی کامل ہو\nاس کا کب نقطۂ مقابل ہو\nحرف کس کس ادا سے لکھتا ہے\nکون ایسی صفا سے لکھتا ہے\nہے الف قامت نکورویاں\nلام ہے زلف سلسلہ مویاں\nدال کا خم رہے ہے ایسا خوب\nجیسے جھکتے ہیں مست ہو محبوب\nمیم جس لطف سے لبالب ہے\nدہن تنگ مہوشاں کب ہے\nہے کشش فاژۂ تن خوباں\nدائرہ دور دامن خوباں\nدائرہ نوں کا اس نمط کھینچا\nکہ خط دلبراں پہ خط کھینچا\nمدعی کو جو خط دکھادیں ہم\nجیسے حرف غلط اٹھادیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81_%D8%A2%D8%BA%D8%A7_%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%81_%D8%AE%D8%B7%D8%A7%D8%B7_%D8%A8%D9%88%D8%AF_%D9%88_%D8%A8%DB%81_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A6%D8%B4_%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%B9%D8%B2%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86_%DA%A9%DB%81_%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%B4%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%B3_%D8%A8%D9%88%D8%AF%D9%86%D8%AF"} {"title": "در تعریف اسپ و زیر زماں آصف دوراں نواب آصف الدولہ بہادر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "وزیر زماں نے لیا ایک اسپ\nکہ ہے رشک گلگون باد بہار\nنظر پوست سے اس کے آتا ہے خوں\nکیا جلد پر اس کے گل کو نثار\nاڑا کر اسے بارہا سیر کی\nنہ نکلا کبھو ابلق روزگار\nکروں اس کی کیا تیزگامی کی شرح\nہرن اس پہ شمشیر سے ہو شکار\nٹک اک کسمساوے جو راکب تو پھر\nنہیں اس کو رانوں میں ہرگز قرار\nجہاں باگ اچک جائے محبوب کی\nعنان دل اس کے ہے پھر اختیار\nکرے عزم ابد کا ازل سے اگر\nوہ جاں باز جو اس پہ ہووے سوار\nکہے اس کو ٹک چھیڑ لے کر کہ ہاں\nتو یہ بادپیما کرے یوں گذار\nکہ پہلے قدم گرد جو اٹھ چلے\nنہ پھرنے تک اس کے وہ بیٹھے غبار\nغرض اسپ ہے یا اچنبھا ہے میرؔ\nرہیں زیر راں اس کے ایسے ہزار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81_%D8%A7%D8%B3%D9%BE_%D9%88_%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D8%B2%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D8%B5%D9%81_%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%B5%D9%81_%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%88%D9%84%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AF%D8%B1"} {"title": "در تعریف سگ و گربہ کہ در خانۂ فقیر بودند و باہم ربط داشتند", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "سگ و گربہ ہیں دو ہمارے ہاں\nدو ہیں قالب اور ان کی ایک ہے جاں\nرنگ گربہ سے شیر نر ہے داغ\nآنکھیں اس کی اندھیرے گھر کا چراغ\nکھائے نہ جو نہ ہو وہ مادۂ سگ\nبھوکا بیٹھا رہے قیامت لگ\nکب مروت سے جائے کھانا چکھ\nلڑے بھی ہے تو منھ پہ پنجہ رکھ\nسارے ہمسایوں پر ہے یہ معلوم\nموش کی نسل ہوگئی معدوم\nچوہا کیا ہے جو سامنے آوے\nگھونسوں سے بھی یہ شیر بھڑ جاوے\nان نے جو ماریاں ہیں گھونسیں دھونس\nموش دشتی ہوا ہے کونے گھونس\nگھونس جب فکر ہی میں مرتی ہو\nموش دشتی پہ کیا گذرتی ہو\nکوئی چھچھوندر جو بستی میں یاں ہے\nسو وہ چوہوں کی مرثیہ خواں ہے\nایک دن گھر میں ایک گھونس آئی\nاپنے پاؤں اجل اسے لائی\nگھونس کیسی بتاؤں غیرت سونس\nطاق ہے جس کے آگے طاقت سونس\nیا کوئی مادہ خوک آبستن\nیا کسو کچھوے کی برادر زن\nپھرتی پھرتی جو صحن میں خوش حال\nپاے دیوار بیٹھی سر کو نکال\nکہیں اودھر یہ شیر جاتا تھا\nپھیرتا منھ پہ پنجے آتا تھا\nپڑ گئی اس کی اس پہ چشم کبود\nنیلاپیلا ہو تاؤ کھا جوں دود\nپنجہ جھنجھلا کے ان نے گزرانا\nبارے کچھ گھونس نے اسے جانا\nپر اسے خوف جاں نہ آیا کچھ\nغالب آیا نہ اس کا سایہ کچھ\nٹھک ٹھکایا پھر ان نے جانا تو\nکیونکے تھا یہ تو شیر کا خالو\nپھر تو بگڑی ہے دونوں میں آکر\nچوٹ ہوتی تھی داؤ پا پا کر\nغصہ خرموش کو بھی آن چڑھا\nاتفاق اس جگہ تھا ایک گڑھا\nدونوں لڑتے ہوئے گرے اس میں\nکیچ کا گاہتے پھرے اس میں\nناخن اس شیر کا کچھ ایک گڑا\nشور محشر گڑھے کے بیچ پڑا\nشور کیسا محلے چونک اٹھے\nسگ بازاری بھونک بھونک اٹھے\nیاں تو گھر بیچ کیا ہے کیا ہے پڑی\nگھونس بلی نے چھیچھڑے کردی\nکھڑے مونچھوں کے بال انگڑاتا\nشیر نکلا گڑھے سے گھبراتا\nلیک جی سے تھا سب بدن خالی\nکیوں کہ سر سے بلا بڑی ٹالی\nگھونس کے وارثوں کی کیا ہے تاب\nکہ قدم کو رکھیں وے حتی الباب\nکوئی چھچھوندر اب اس پہ روتی ہے\nکہ تری لاش خوار ہوتی ہے\nتو جو تھی ساری قوم کی سردار\nسو اٹھایا ہے زخم دامن دار\nہم بہت غم میں تیرے روویں گے\nبل کے بل اب خراب ہوویں گے\nفخر ہے اپنی نسل کا یہ شیر\nجن نے گھونسوں کے کر دکھائے ڈھیر\nسنا ہے موش گربہ کا قصہ\nوہ جو ہے گا عبید کا حصہ\nجس کو باندھا عبید زاکانی\nلگتی تھی اس کی وہ سگی نانی\nگربہ تا بود فاسق و فاجر\nق صید او یک بدے بہ سالانہ\nایں زماں پنج پنج می گیرد\n\nکہ شدہ مومن و مسلمانا\n\nدر تعریف مادۂ سگ\n\nہے جو وہ مادہ سگ تماشا ہے\nدوڑ پڑنے کے وقت باشا ہے\nکسی کے لقمے پر نہ منھ ڈالا\nسگ اصحاب کہف کی خالہ\nنہیں کتوں سی خوار یاں کے یہ\nہے سگوں میں عزیز خاں کے یہ\nدے ہرن کو بھی جلدی میں بتا\nہے گا یاں سگ لوند کیا کتا\nاڑتی چڑیا انھیں نے ماری ہے\nاستخوان سگ شکاری ہے\nیہ جو غصے میں آوے تو ہے غضب\nاس کے مارے ہوئے ہیں ہارے سب\nمنھ میں دیتے ہیں اس کے جب مشعل\nطرفہ دم لابہ کرتی ہے اچپل\nمنھ میں اپنے لیے فتیلے سے\nسگ لیلیٰ کے ہے قبیلے سے\nباہم اس کتے بلی کا یہ ربط\nکوئی دیکھے نہ ہووے اس سے ضبط\nکبھو جاتا جو ہے یہ کوٹھے پر\nلگی رہتی ہے اس کی چھت سے نظر\nاور سے دشمنی جانی ہے\nاس کی یہ باؤلی دوانی ہے\nدونوں شوخی سے مار سہتے ہیں\nسگ و گربہ کی چال رہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81_%D8%B3%DA%AF_%D9%88_%DA%AF%D8%B1%D8%A8%DB%81_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%82_%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%D9%88%D8%AF%D9%86%D8%AF_%D9%88_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85_%D8%B1%D8%A8%D8%B7_%D8%AF%D8%A7%D8%B4%D8%AA%D9%86%D8%AF"} {"title": "در تلک آ کے ٹک آواز سنا جاؤ جی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "در تلک آ کے ٹک آواز سنا جاؤ جی\nاپنے مشتاق کو اتنا بھی نہ ترساؤ جی\n\nغیر کے ساتھ سے بھاگے ہے مجھے دیکھ تو میں\nاس سے کہتا ہوں کہ اس کو تمہی ٹھہراؤ جی\n\nمیں جو اک روز بلایا انہیں گھر جاتے دیکھ\nپاس آ بیٹھ کے کہنے لگے فرماؤ جی\n\nشانہ کیا زلف پریشاں میں کرو ہو بیٹھے\nاپنے الجھے ہوئے بالوں کو تو سلجھاؤ جی\n\nزانوئے غیر پہ شب سر نہ رکھا تھا تم نے\nجاؤ جھوٹی نہ مرے سر کی قسم کھاؤ جی\n\nمجھ سے کیا پوچھو ہو کیا جی میں ترے ہے سچ کہہ\nہے جو کچھ جی میں مرے تم ہی سمجھ جاؤ جی\n\nرات اندھیری ہے چلے آؤ مرے گھر چھپ کر\nآ کے پھر چاند سا مکھڑا مجھے دکھلاؤ جی\n\nعشق میں ہوتے ہیں میاں مصحفیؔ سو طرح کے غم\nگو غم ہجر ہے اتنا بھی نہ گھبراؤ جی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D9%B9%DA%A9_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%A4_%D8%AC%DB%8C"} {"title": "در تلک جانے کی ہے اس کے مناہی ہم کو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "در تلک جانے کی ہے اس کے مناہی ہم کو\nاپنی بس اب نظر آتی ہے تباہی ہم کو\n\nروز جوں توں کہ ہوا شام تو پھر بہتر عذاب\nنظر آئی شب ہجراں کی سیاہی ہم کو\n\nہم تو جانے کا ارادہ نہیں کرتے لیکن\nوہ کمر سوئے عدم کرتی ہے راہی ہم کو\n\nکیوں ترے چاہ زنخداں کا نہ نظارہ کریں\nجی سے بھاتا ہے بہت سبزۂ چاہی ہم کو\n\nدام بر دوش ہی مخلوق کیا خالق نے\nطاقت اڑنے کی نہ دی جوں پر ماہی ہم کو\n\nپردہ پڑتا جو نہیں اس سے خوش اندامی پر\nپیارا لگتا ہے ترا کرتۂ لاہی ہم کو\n\nعمر بھر شعر کہے ہم نے پہ تو نے اے عشق\nنہ تو حزنی ہی کیا اور نہ آہی ہم کو\n\nمصحفیؔ علم لغت سے ہے جنہیں آگاہی\nجانتے ہیں وہ ابو نصر فراہی ہم کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%86%D8%A7%DB%81%DB%8C_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "در تک اب چھوڑ دیا گھر سے نکل کر آنا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "در تک اب چھوڑ دیا گھر سے نکل کر آنا\nیا وہ راتوں کو سدا بھیس بدل کر آنا\n\nہمدمو یہ کوئی رونا ہے کہ طوفان ہے آہ\nدیکھیو چشم سے دریا کا ابل کر آنا\n\nقصد جب جانے کا کرتا ہوں میں اس شوخ کے پاس\nتیغ ابرو یہ کہے ہے کہ سنبھل کر آنا\n\nحاصل اس کوچے میں جانے سے ہمیں ہے اور کیا\nالٹے گھر اپنے مگر خاک میں رل کر آنا\n\nواں سے اول دل بے تاب تو کب آتا ہے\nاور آنا بھی تو سو جا پہ مچل کر آنا\n\nہمدمو میری سفارش کو تو جاتے ہو ولے\nکہیں واں جا کے نہ کچھ اور خلل کر آنا\n\nڈوبے یوں بحر محبت میں کہ اب جیتے جی\nاپنا دشوار ہے اوپر کو اچھل کر آنا\n\nکوئے قاتل میں دم نزع کوئی لے جاؤ\nجا کے اس جا ہمیں عقدہ ہے یہ حل کر آنا\n\nاس کا بے وجہ نہیں ہے یہ چمن سے باہر\nگل مرے سامنے ہاتھوں میں مسل کر آنا\n\nبزم خوباں میں اگرچہ کوئی پرچائے ہزار\nپر ترے پاس ہمیں واں سے بھی ٹل کر آنا\n\nجی چلا تن سے مرے جلد ز راہ اشفاق\nگھر سے دو چار قدم ایسے میں چل کر آنا\n\nجرأتؔ اس کی کہوں کیا تجھ سے طرح داری میں\nجانا جب اٹھ کے تب اک روپ بدل کر آنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%AA%DA%A9_%D8%A7%D8%A8_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%A2%D9%86%D8%A7"} {"title": "در تہنیت صحت", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مزاج شخص جہاں تھا ترے مرض سے سست\nہوا سو فضل الٰہی سے تندرست و چست\nخبر جو گرم ہے اب تیرے غسل صحت کی\nدل شکستہ جہاں تھا وہ خودبخود ہے درست\nرہے جہاں میں بہت توکہ تاجہاں بھی رہے\nسلامت ہمہ آفاق در سلامت تست", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%AA%DB%81%D9%86%DB%8C%D8%AA_%D8%B5%D8%AD%D8%AA"} {"title": "در تہنیت کدخدائی بشن سنگھ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "آؤ ساقی کہ بزم عشرت ہے\nچشم بد دور خوب صحبت ہے\nازسرنو جواں ہوا ہے جہاں\nکدخدائی بشن سنگھ ہے یھاں\nفرط شادی سے دل ہے جشن آباد\nہر طرف ہے بہم مبارک باد\nباؤ کرتی پھرے ہے پھول نثار\nگلشن دہر میں ہے تازہ بہار\nآؤ مطرب لیے رباب اور چنگ\nکاڑھ منھ سے نواے سیرآہنگ\nشادمانی سے ہو نواپرداز\nاہل مجلس ہیں گوش بر آواز\nیاں سوا دل خوشی کے کام نہیں\nچپکے رہنے کا یہ مقام نہیں\nآؤ ساقی کہ جمع ہیں احباب\nسب مہیا ہیں عیش کے اسباب\nلا وہ جوں آفتاب ساغر زر\nآب گل رنگ سے لبالب کر\nآج جھوما ہے ابر بخشش زور\nکچھ نظر ہے تجھے ہوا کی اور\nدست راجا ہیں ابر نیسانی\nمتصل کرتے ہیں درافشانی\nکر چمن زار و دشت دلکش سیر\nہیں نہال آج آشنا و غیر\nگل نمط دل شگفتہ سب کے کیے\nخلعت فاخرہ سبھوں کو دیے\nزر و گوہر دیے زبس ساقی\nکچھ نہیں بحر و کان میں باقی\nلا کہاں ہے وہ لالہ رنگ شراب\nجس سے مست گزارہ ہوں احباب\nآ مغنی غزل سرائی کر\nکچھ مزہ سے بھی آشنائی کر\nپڑھ غزل میرؔ کی جو ہووے یاد\nاس کو اس فن میں کہتے ہیں استاد\n\nغزل\n\nساقیا موسم جوانی ہے\nگرو بادہ کامرانی ہے\n\nدے پیالہ کہ نقل مجلس عیش\nخوب رویاں کی بدزبانی ہے\n\nلاؤ آب کشادہ دل کو گھول\nعین الطاف و مہربانی ہے\n\nروے خوباں سے بزم کا ہے فروغ\nشمع خجلت سے پانی پانی ہے\n\nرشک گلزار ہے یہ صحبت عیش\nشش جہت جوش گل فشانی ہے\n\nآؤ مطرب ہوں زمزمہ پرداز\nدے بہار گذشتہ کو آواز\nگل و لالہ پہ چشم باز کرے\nرنگ صحبت کو دیکھ ناز کرے\nچھیڑ ساز طرب نوا کے تئیں\nباندھ آواز سے ہوا کے تئیں\nوجد میں لاؤ مے پرستوں کو\nیاد دے ٹک سرودمستوں کو\nآؤ ساقی کہ روشنی ہے خوب\nگرم عشرت ہیں ہر طرف محبوب\nنار مشعل نے نائرہ کھینچا\nنور کو مہ نے دائرہ کھینچا\nکثرت روشنی سے شب ہے روز\nخشت سیمیں ہے ماہ دل افروز\nصبح صادق کے منھ پہ کب ہے فروغ\nاس کو دعویٰ جو تھا وہ سب ہے دروغ\nاب تو شیشہ شراب لا ساقی\nصحبت عیش کو چھکا ساقی\nلاؤ رنگ رخ نکویاں کو\nمایۂ ناز خوب رویاں کو\nچاہیے ہے گلابی مئے ناب\nجام ہے چشم روشنی کا باب\nاس پری کو نکال شیشہ سے\nرنگ مجلس میں ڈال شیشہ سے\nلطف کر ٹک وہ دل کی آسائش\nتا نظر آوے لطف آرائش\nآؤ ساقی کہ ہوں تماشائی\nگرم خدمت ہے چرخ مینائی\nچل ہوائی سے شعلہ خیزی دیکھ\nآسماں کی ستارہ ریزی دیکھ\nمتصل چھوٹتے جو ہیں گے انار\nراہ و رستے ہوئے ہیں باغ و بہار\nعشق ہے تازہ کار آتش باز\nپھول گل میں ہے رنگ رنگ اعجاز\nدیکھ صنعت گری صنعت گر\nگل کاغذ ہے غیرت گل تر\nدیکھ ساقی تزک سواری کا\nچھوڑ آئین بردباری کا\nچل گلابی کو ہاتھ میں لے لے\nایک دو جام متصل دے لے\nفیل یوں ہیں گے جھومتے جاتے\nجیسے آویں جوان مدھ ماتے\nنوبتی اپنی اپنی نوبت ہے\nصرف کر جو ہنر کی طاقت ہے\nدور ہے اب سپہر کا دلخواہ\nہیں وضیع و شریف سب ہمراہ\nآ سواری کا ٹک اصول بجاؤ\nطبع موزون اہتزاز میں لاؤ\nساتھ راجا سوار ہوتا ہے\nشہر باغ و بہار ہوتا ہے\nجل زربفت سے ہے فیل و نشاں\nآگے مانند کوہ زر کے رواں\nزور گوہر نثار کرتے ہیں\nخلق کو مایہ دار کرتے ہیں\nدیوے راجا تو کیا لیا چاہے\nخوشہ خوشہ گہر دیا چاہے\nپھینکتے ہیں جو دستہ دستہ گل\nرہگذر میں ہیں رستہ رستہ گل\nبرق پارہ جو جستہ جستہ ہیں\nسینکڑوں ویسے بال بستہ ہیں\nگردنوں میں پڑیں حمائل گل\nہیں جلو میں بصد شمائل گل\nلاؤ ساقی گل گلاب شراب\nدے مجھے اب کہیں شتاب شراب\nہے شگفتہ دماغ دل وا ہے\nنشہ اس عیش کا دوبالا ہے\nرائے صاحب لباس زر در بر\nنشۂ عیش و دلکشی در سر\nزیر راں ایک اسپ خوش رفتار\nگرم رفتن ہو تو ہے برق شعار\nخوش سواری و خوش جلو خوش راہ\nچھیڑ دیجے تو پھر نہ ٹھہرے نگاہ\nکسمسانے میں ران کے اڑ جائے\nہاتھ ہلتے میں جیسے کل مڑ جائے\nہے تو گلگوں بہار کا خوش رنگ\nکام ہے اس پہ اس کے حسن سے تنگ\nدوردو ہے اگرچہ اسپ خیال\nبھول جاتا ہے اس کے آگے چال\nہیں مرصع جو اس کی زین و لگام\nچشم کرتی ہے خیرگی ہر گام\nباگ اس کی جو ٹک اچک جائے\nپارۂ برق سا چمک جائے\nدے نہ وہ شیشہ اب جو باقی ہے\nحسن ایسا بھی اتفاقی ہے\nجب سے ہے اس جہاں کی آبادی\nتب سے ایسی نہیں ہوئی شادی\nہو مبارک یہ جشن خوش انجام\nدور گردوں بہ کام عیش مدام\nآؤ ساقی پڑھیں غزل کوئی\nدرمیاں اب نہیں خلل کوئی\n\nغزل\n\nموسم ابر ہے سبو بھی ہو\nگل ہو گلشن ہو ایک تو بھی ہو\n\nکب تک آئینہ کا یہ حسن قبول\nمنھ ترا اس طرف کبھو بھی ہو\n\nکس کو بلبل ہے دم کشی کا دماغ\nہو تو گل ہی کی گفتگو بھی ہو\n\nہے غرض عشق صرف ہے لیکن\nشرط ہے یہ کہ جستجو بھی ہو\n\nہو جو تیرا سا رنگ گل گاہے\nریجھیں ہم تب جب ایسی بو بھی ہو\n\nدل تمناکدہ تو ہے پر یھاں\nہو تو تیری ہی آرزو بھی ہو\n\nسرکشی گل کی خوش نہیں آتی\nناز کرنے کو ویسا رو بھی ہو\n\nپا سکے اس کمر کو دست شوق\nجو نمایاں بقدر مو بھی ہو\n\nرو کش میرؔ ہوتے ناشاعر\nجب انھیں ویسی آبرو بھی ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%AA%DB%81%D9%86%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%D8%AF%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%B4%D9%86_%D8%B3%D9%86%DA%AF%DA%BE"} {"title": "در جشن ہولی و کتخدائی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "آؤ ساقی شراب نوش کریں\nشور سا ہے جہاں میں گوش کریں\nآؤ ساقی بہار پھر آئی\nہولی میں کتنی شادیاں لائی\nشادیاں بے شگوں سراسر ہیں\nکوچے سو شہر کے برابر ہیں\nدست دستور ہے جو زرافشاں\nپھر جہان کہن ہوا ہے جواں\nدونوں رستے عمارت خوش ہے\nتازہ کاری شہر دلکش ہے\nاور بازاری رنگ لائے ہیں\nسارے رنگیں ستوں لگائے ہیں\nجس طرف دیکھو معرکہ سا ہے\nشہر ہے یا کوئی تماشا ہے\nچشم بد دور ایسی بستی سے\nیہی مقصد ہے ملک ہستی سے\nلکھنؤ دلی سے بھی بہتر ہے\nکہ کسو دل کی لاگ ایدھر ہے\nآئیں بستہ ہوا ہے سارا شہر\nکاغذیں گل سے گلستاں ہے دہر\nایسے گل پھول ہیں جو صرف کار\nراہ رستے ہوئے ہیں باغ و بہار\nبستہ آئیں دکانیں ہیں یکسر\nجن میں سستی متاع لعل و گہر\nمیوۂ نورس و رسیدہ بہت\nگل خوش رنگ و بوے چیدہ بہت\nشب شادی کو لڑکے ہوں جو سوار\nلیں صغیر و کبیر بہر نثار\nتخت بہر زنان رقص کناں\nچنے رستوں میں بے چنیں و چناں\nگل کاغذ سے شہر ہے گلزار\nتوکہے آئی ہے بہار اے یار\nساقیا عیش کا ہو بزم آرا\nسارے لوگوں میں جام مے کو پھرا\nجس میں تہ پاوے اس پری کو دے\nورنہ شیشے کی شیشے میں رکھ لے\nہوگی مجلس جو مست آسائش\nکون دیکھے گا لطف آرائش\nآؤ ساقی قرار ہے باہم\nکہ تماشاکناں پھریں خرم\nزن رقاص پر نگاہ کریں\nکسو سادے سے چل کے راہ کریں\nکسو دلبر کے کھینچ لیویں ہاتھ\nکسو محبوب کو اٹھالیں ساتھ\nکسو خوش رو کے منھ پہ منھ رکھ لیں\nکنج لب کا کہیں مزہ چکھ لیں\nخوش تنوں سے کریں ہم آغوشی\nکسو نازک بدن سے ہم دوشی\nکہیں دو جام مے سے ہوں سرمست\nجائیں گے تھوڑی دور دست بہ دست\nمچلے بن جائیں گے کسو کو دیکھ\nپھر منیں گے کسو کے رو کو دیکھ\nاب گلابی کو لیں گے بھر بھر ہم\nباقی ساقی پئیں گے پھر کر ہم\nکہیں آرائش آ کے دیکھیں گے\nکاغذیں باغ جا کے دیکھیں گے\nکسو مہوش سے ہوویں گے گل باز\nکھینچیں گے ایک دو دم اس کے ناز\nآؤ ساقی مئے دوآتشہ دے\nاسی مے کا بغل میں شیشہ لے\nگرم ہو جو دماغ انساں کا\nلطف آوے نظر چراغاں کا\nجس طرف دیکھیے چراغاں ہے\nشیشہ و شمع ہی نمایاں ہے\nباغ سے روشنی ہوئی ہے زیاد\nہے یہ ہنگامہ تا جلال آباد\nشمع و فانوس کا بہت ہے ہجوم\nشمعی رنگوں نے کر رکھی ہے دھوم\nلوٹیے ان گلوں کی اب تو بہار\nگو کسو کے گلے کا ہوجیے ہار\nاب تو اودھم ہی مچ گیا ہر سو\nدارو پی کر پھریں چلیں ہم تو\nتارے سے ہیں چراغ چار طرف\nآسماں پر زمیں رکھے ہے شرف\nغنچہ غنچہ دیوں کو دیکھیں جہاں\nکسو نوگل سے رکھیں صحبت واں\nکہیں نوبت کو چل کے سنیے گا\nنے کے بجنے پہ سر کو دھنیے گا\nنوبتی خوش سلیقے سارے ہیں\nنے نوازوں نے جان مارے ہیں\nآج نوبت کے بجنے پر ہے رنگ\nعقل ہوتی ہے سن ٹکورے دنگ\nجھانجھ کے سننے کی رہی ہے جھانجھ\nصبح جوں توں کے ہم کریں ہیں سانجھ\nبیچ میں ہولی آئی ہے ساقی\nپھیرے سرخوش ہیں تابکے ساقی\nشیشہ شیشہ شراب اب پیجے\nبلکہ خم منھ لگا کے سب پیجے\nسیر کریے کنار نہر و گشت\nلالہ و گل کھلے ہیں تا سر دشت\nانھیں پھولوں کے انعکاس سے آب\nتوکہے لالہ رنگ سب ہے شراب\nسبد گل ہوئی ہے ہر کیاری\nایک ہے گل زمیں زمیں ساری\nدرمیاں اک شجر نہیں بدبرگ\nہے ہزارہ کہ لالۂ صدبرگ\nجوش لالہ سے تا النگ و سنگ\nشفقی ہوگیا ہوا کا رنگ\nتخت کیونکر نہ ہو دماغ خاک\nدشت در دشت ہے گل تریاک\nپھر لبالب ہیں آب گیر رنگ\nاور اڑے ہے گلال کس کس ڈھنگ\nپاس آتے ہیں مرغ گلشن بھول\nتھے وے دلبر گلاب کے سے پھول\nزعفرانی لباس تھے سب کے\nرسمسے آئے صبح کو شب کے\nپگڑیاں جامے بھیگے سو سو ہیں\nان کو گل ہاے تر کہیں تو ہیں\nچھڑیاں پھولوں کی دلبروں کے ہاتھ\nسیکڑوں پھولوں کی چھڑی سے ساتھ\nقمقمے جو گلال کے مارے\nمہوشاں لالہ رخ ہوئے سارے\nخوان بھر بھر عبیر لاتے ہیں\nگل کی پتی ملا اڑاتے ہیں\nجشن نوروز ہند ہولی ہے\nراگ رنگ اور بولی ٹھولی ہے\nعشق ہے اے گروہ آتش زن\nدونوں رستے چراغ ہیں روشن\nٹھاٹھ کیا روشنی کے باندھ دیے\nشہر میں نام روشن اپنے کیے\nدوردو تھے خیال و سوانگ آئے\nگھوڑے دامن سوار کیا لائے\nروشنی وار سے ہے پار تلک\nگل کا کاغذ ہے فرق خار تلک\nدر دولت سے لے کے تا سر آب\nہے چراغ اور شمع ہی کی تاب\nپھر سر پل سے تا عمارت نو\nجلتے ہیں مجتمع دیے سو سو\nہاتھی رنگے گئے پڑی ہے دھوم\nجیسے ابر سیاہ آئے جھوم\nخیمہ استادہ کرچکے شب باز\nپتلیوں نے کیا خرام ناز\nیاں کی صحبت کا تھا نمونہ سب\nشاہ دستور حکم و کار ادب\nآئے شکلیں بنا کے صورت باز\nڈوم ڈھاڑی بنے بجا کر ساز\nنقل معقول کی سو حاجی بنے\nسج کے عمامے سر پہ کتنے جنے\nکوئی جوگی کوئی فقیر بنا\nکوئی ڈاڑھی لگا کے پیر بنا\nکوئی بنیا بنا کوئی اوباش\nنقل کرنی تھی ان سبھوں کی معاش\nکوئی شاعر بنا نہ جس کی نظیر\nجیسے مستغرق خیال تھا میرؔ\nکچھ سپاہی بنے تھے کچھ تجار\nکوئی زاہد ہوا کوئی خمار\nجس کی تقلید کی سو ویسی طرح\nاصل ہوتی نہیں ہے ایسی طرح\nکرکے سعی و تلاش چاروں دانگ\nخوب دیکھا تو ہے یہ عالم سوانگ\nآؤ ساقی نہ رکھ خراب احوال\nدیے جا جام بادہ مالامال\nچل سواری کا سیر بھی ہے بڑا\nایک عالم ہے دونوں رستہ کھڑا\nجل زربفت پوش فیل نشاں\nکوہ زر سا ہے پیش پیش رواں\nکدخدا ہونے کو چلا دولہ\nیال گوپال عظم سے جوں شہ\nگل کی پاکھر پڑی ہوئی یک بار\nہاتھی آیا بہ رنگ ابر بہار\nزری پوشوں کا پیش و پس انبوہ\nاللہ اللہ ری ان کی شان و شکوہ\nقور میں کتنے سونے کے سے پہاڑ\nآگے روپے کے روشنی کے جھاڑ\nموتی کرتے تھے ہر طرف سے نثار\nتھا مگر فیل ابر گوہربار\nہیں جلو میں زمینیاں حاضر\nجاہ کے آسمانیاں حاضر\nعمدہ سب ساتھ ہیں وزیر سمیت\nشاعراں مدح خواں ہیں میرؔ سمیت\nتازی ترکی عراقی و عربی\nکوتل آگے تھے خوش جلو میں سبھی\nرہ میں رکھ لو جہاں کہ منھ کے نرم\nچھیڑے باد سموم سے ہوں گرم\nآؤ ساقی پلا شراب ہمیں\nروشنی کی نہیں ہے تاب ہمیں\nروشنی بھی ہے کوئی ہنگامہ\nسیر میں گرم ہوگیا جامہ\nگرمی سے مشعلوں کی آئے تنگ\nدود مشعل ہے جاے کاہی رنگ\nدو طرف سیم بندی کردی ہے\nسونے روپے سے راہ بھر دی ہے\nشمعیں لاکھوں کنول میں ہیں روشن\nزور پھولا ہے کاغذیں گلشن\nواہ آتش زنان آتش دست\nدارو پی کر پھرو ہو کیسے مست\nتوپیں کیا ڈھالیں ہیں ستاروں کی\nکھوئی رونق فلک کے تاروں کی\nتارے موقوف کچھ سما پہ نہیں\nتوپیں چھوٹیں مگر ہوا پہ نہیں\nماہ بھی چشم روشنی کے لیے\nہے چراغاں ستارگاں سے کیے\nگنج چھوٹے ہیں یاکہ باڑ جھڑی\nیا ہوائی ہے جگنیوں کی چھڑی\nگل فشاں ہیں پڑی جو پھل جھڑیاں\nکھلتیاں ہیں دلوں کی گل جھڑیاں\nچھوٹتے ہیں انار و مہتابی\nرنگ ہیں دلبروں کے مہتابی\nباؤ سے دو دیے ہوئے گر ماند\nدغیں مہتابیاں کہ نکلے چاند\nآؤ اے مطربان سیرآہنگ\nساتھ اپنے لیے رباب و چنگ\nہو غزل خوان بزم عیش و طرب\nپر نہ کریو خیال ترک ادب\nمنعقد مجلس شہانہ ہے\nادب آصف زمانہ ہے\nآؤ ساقی مجھے قرابہ دے\nدر بغل شیشہ ساتھ اپنے لے\nبحر بخشش کی لہریں اب آئیں\nزر و گوہر کی کشتیاں لائیں\nہے بلند اس کرم کا کیا پایہ\nدیتے ہیں خلعت گراں مایہ\nطرہ ہاے زری و بادلہ تاس\nتختہ ہاے دوشالہ تحفہ لباس\nبہت ان میں سیے بہت نہ سیے\nایک دم میں سبھوں کو بخش دیے\nخاص ملبوس نوع نوع تمام\nلے گئے شاد بھر کے مردم عام\nکیا بچھا ہے فراخ دسترخوان\nجس پہ ہے خلق یک جہاں مہمان\nتورہ بندی ہوئی تکلف سے\nکھانے نکلے نئے تصرف سے\nلطف کے ساتھ نعمتوں کا وفور\nزیر ہر جعبہ قاب ہے پرنور\nعام تھا ان لطافتوں سے طعام\nدیتے لیتے تھے ہر سحر ہر شام\nکس کو اسباب یہ میسر ہیں\nظرف سیمین جعبۂ زر ہیں\nہیں جو مہمان پادشاہ و گدا\nحرص دونوں کی سیر ہے یکجا\nعمر و دولت ہو اس کی حد سے زیاد\nہے اسی سے جہاں نشاط آباد\nآؤ ساقی غزل سرا بھی ہو\nلذت شعر سے مزہ بھی ہو\n\nغزل\n\nاب کی بہار کیا کیا دریا پہ رنگ لائی\nیک شہر نکلے لالہ پھر اس میں ہولی آئی\n\nکی فکر سال تاریخ آواز غیب آئی\nہم نے کبھو ندیکھی اس رنگ کدخدائی\n\nآنکھوں کی روشنی تھی اپنی ہوئی دوچنداں\nطالع نے چاندنی میں کیا روشنی دکھائی\n\nہو باد جس طرف کی آنکھیں ادھر ہیں اس کی\nنرگس کا اس ہوا میں دیدہ بھی ہے ہوائی\n\nبے گل رہے نہ یک دم بلبل کے آہ و نالے\nمحبوب سے کسو کو یارب نہ ہو جدائی\n\nگل تک ہنسا نہ مجھ سے بلبل نہ بولی ہرگز\nکس کس کی بے دماغی بے یار میں اٹھائی\n\nہم بھی رہے ہوا وہ جب تک جوان جاہل\nکی عمر رفتنی نے بارے نہ بے وفائی\n\nاخواں زمانہ کے تو کیا جانیں دل لگی کو\nلگتی ہے جس کے دل کو وہ جانتا ہے بھائی\n\nہے دام گاہ دنیا ہر جا فریب اس میں\nدیتی نہیں دکھائی اپنی مجھے رہائی\n\nگذری جو کچھ سو گذری یاری میں دلبروں کی\nمیرؔ اب کسو سے تم تو کریو نہ آشنائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%AC%D8%B4%D9%86_%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%D9%88_%DA%A9%D8%AA%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "در حال افغاں پسر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "چمن سے عنایت کے بادام وار\nالٰہی زباں دے مجھے مغزدار\nصفت عشق کی تا کروں میں بیاں\nرہوں عشق کہنے سے میں تر زباں\nعجب عشق ہے مرد کارآمد\nجہاں دونوں اس کے ہیں برہم زدہ\nجہاں جنگ صف کی یہ ظالم لڑا\nصف الٹی جہاں ایک مارا پڑا\nاگر لوگ مارے گئے سر بسر\nولے فتح اس کی ہے یہ طرفہ تر\nکوئی کشتنی جو طرف ہوگیا\nتہ تیغ اس کے تلف گیا\nجہاں جس کسو سے اسے چاہ ہے\nوہیں اس کے تا قتل ہمراہ ہے\nکسو سے اگر ہوگئی لاگ سی\nدرونے میں اس کے لگی آگ سی\nہوا ملتفت یہ کسو سے کہیں\nتو نام و نشاں اس کا پھر داں نہیں\nوفاق اس کا نکلا سراسر نفاق\nپڑا عاشقوں میں عجب اتفاق\nجواں کیسے کیسے موئے عشق میں\nبہت گھر خرابے ہوئے عشق میں\nبہت عشق میں لوگ روگی ہوئے\nبہت خاک مل منہ پہ جوگی ہوئے\nگئے دشت میں کچھ نمد مو ہوئے\nکچھ اک شہر میں پھر کے یکسو ہوئے\nنہ مرغہی ہے نالاں و زار\nگئے داغ کہسار سے لالہ وار\nکسو کا جگر غم سے خوں ہوگیا\nکسو کوہکن کو جنوں ہوگیا\nکوئی زار باراں بہت رو چکا\nکوئی برق سا جل بجھا ہوچکا\nغرض عشق کا ہر طرف شور ہے\nنئی روز شہروں میں اک گور ہے\nبہت جان ناکام دیتے گئے\nتمناے دل ساتھ لیتے گئے\nبہت اہل اسلام کافر ہوئے\nبہت اول عشق آخر ہوئے\nبہت جرم الفت پہ مارے گئے\nجوا عشق بازی کا ہارے گئے\nہوئے خانداں کیسے کیسے خراب\nجواں جوں جوانی گئے کیا شتاب\nکیا عشق جس دن سے مرتے رہے\nجیوں ہی کا اندیشہ کرتے رہے\nکسے عشق نے جی سے مارا نہیں\nیہی درد ہے درد چارہ نہیں\nدوا عشق کی سخت نایاب ہے\nسر عاشقاں سنگ کا باب ہے\nجو ہو عشق عارض تو پھر یاس ہے\nعبث کوئی دن جینے کا پاس ہے\nمحبت ہے نیرنگ ساز عجیب\nفسانے ہیں اس کے عجیب و غریب\nکوئی عشق کرنا دھرا تھا درے\nگئے مے کدے سے بھی صوفی پرے\nنہ واں مکرو نے شیدو طامات ہے\nخرابات جانا کرامات ہے\nکہیں عشق نے آرزو کش کیے\nگئے خوش جو عاشق سو ناخوش کیے\nکہیں سہل تر یار مرنے لگے\nکہیں لوگ دشوار مرنے لگے\nکہیں کام ان نے کیے ہیں عجب\nفسانہ ہوئی بزم عیش وطرب\nکہیں بادشہ اس سے درویش ہیں\nکہیں اس سے درویش دل ریش ہیں\nلیا کاہ کا کوہ سے کیں کہیں\nملائے کہیں آسماں و زمیں\nکہیں پڑگئے اس سے فتنے فساد\nرہے زیر شمشیر حد سے زیاد\nیہ عالم کا آشوب ہے دہر سے\nمراد خطرگہ ہے اس شہر سے\nہوئے عشق میں زہد کیشاں خراب\nرہے دل شکستہ پریشاں خراب\nاٹھا عشق سے مجلس حال دہر\nتواجد لگے کرنے شیخان شہر\nکیا عشق میں ترک صوم و صلوٰۃ\nگئے اہل مسجد سوے سومنات\nمسلماں ہوئے عشق میں برہمن\nگئے کعبہ کو چھوڑ دین کہن\nنہ سبحہ نہ زنار نے کفر و دیں\nجہاں سب ہے عشق اور کچھ بھی نہیں\nمحبت کے ساغرکش اہل صلاح\nیہ بے ہوش دارو ہے ان کی فلاح\nکوئی ہوش میں اپنے رہتا نہیں\nہر اک چپ ہے کچھ کوئی کہتا نہیں\nرباطی ہیں خانہ سیہ عشق میں\nمصلے ہوئے ان کے تہ عشق میں\nہمہ خاندان تفاوت خراب\nخرابے سے ہیں بے تفاوت خراب\nیہی عشق جس کے کہ حاصل ہے کام\nیہی عشق ہے جس سے نکلا ہے نام\nاسی عشق جس سے کہ حاصل ہے کام\nیہی عشق ہے جس سے نکلا ہے نام\nاسی عشق ہے عقدۂ دل ہے یہ\nیہی عشق حلال مشکل ہے یہ\nکہیں اس کو لڑنے سے پایا معاف\nکہیں ان نے میدان مارے ہیں صاف\nکہیں مومنانہ اسے درد دیں\nکہیں کافرانہ ہوا بے یقیں\nغرض عشق ہے طرفہ نیرنگ ساز\nکہیں ناز یکسر کہیں ہے نیاز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B3%D8%B1"} {"title": "در حال عشق", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "ہے غبار وادی وحدت جہاں\nکثرت اعیان ہوگی اب عیاں\nپرفشاں تھا ٹک جو طاؤس قدم\nآسماں پر آسماں پہنچے بہم\nعشق اپنا آپ ہی شیدا ہوا\nتھا جو پنہاں پردے میں پیدا ہوا\nنظم کل کا ڈول ڈالا عشق نے\nانس سے انساں نکالا عشق نے\nوہ حقیقت سب میں یاں ساری ہوئی\nہے گی ہر شے عشق کی ماری ہوئی\nچار سو ہنگامہ آرا عشق ہے\nعشق کیا کہیے کہ کیا کیا عشق ہے\nعشق ہی کا ہے جہاں میں سب ظہور\nنور و ظلمت ہو کہ ہو ظل و حرور\nعشق گل ہے عشق بلبل عشق بو\nعشق ہے سرو چمن عشق آبجو\nہے کہیں بندہ کہیں ہے یہ خدا\nعشق کی ہے ہر جگہ شان جدا\nعشق ہر کشور میں لاتا ہے کتاب\nعشق کے لوگوں سے ہیں کیا کیا خطاب\nیاں سے پیغمبر ہے لایا عشق کا\nعشق کو پیغام آیا عشق کا\nمسجد و منبر کیے تازہ بنا\nواں امام پاک خود آکر بنا\nعشق کے آغاز دیکھے رنگ رنگ\nموم وے دل ہوگئے جو دل تھے سنگ\nسنگ سے پھر لعل نکلا بے بہا\nیعنی وہ دل جملگی خوں ہوگیا\nکچھ بہا یاقوت سیلانی ہوا\nبستہ قطرہ لعل رمانی ہوا\nعاشق و معشوق رفتہ عشق کے\nیعنی دونوں سینہ تفتہ عشق کے\nبھڑکی آتش عشق کی دونوں جلے\nڈوبے دریا میں ہوں گو پانی تلے\nیا جلایا ایک ہندستاں کے طور\nجا جلے ہے زن بھی اس بے جاں کے طور\nجل چکے کو ہندی کہتے ہیں ستی\nست بمعنی استقامت واقعی\nآگ میں جا بیٹھے زن کا ظرف کیا\nعشق ہی کا جاذبہ دے ہے جلا\nگرمی ہنگامہ اس کا قہر ہے\nپھونک دیوے گر دیار و شہر ہے\nعشق پردہ در نہ ہو رسوا کرے\nپھر تماشا ہے جو کچھ پردہ کرے\nعشق کو ہے خون کرنے کا مزہ\nمار ہی رکھتا ہے اپنے ڈھب چڑھا\nمارگیری اس کی سیکھے اژدہے\nعشق نے معشوق و عاشق چٹ کیے\nعشق و دل میں ہے قدیمی دشمنی\nعشق سے ہے دل گدازی جاں کنی\nعشق کا پا درمیاں آیا جہاں\nدل ٹھہرتا واں نہیں ہرگز نہ جاں\nعشق دشمن ہے بلاے جان و دل\nعشق ہے ہم دل شکن ہم جاں گسل\nہے سلوک عشق کا مارا جہاں\nخاک میں ان نے ملایا آسماں\nکون راہ عشق کو کرتا ہے سر\nہر طرف ہے جان کو اس میں خطر\nعشق زورآور سے سب ہیں ترس ناک\nکشتی اس کی ہوگئی عالم سے پاک\nعشق کا ہے بادیہ مشکل گذر\nدیکھے اودھر مر ہی جاتے ہیں نمر\nروبہ اس جنگل میں ہے شیر دلیر\nوہ کوئی واں جائے جو ہو جی سے سیر\nدژ کہ ہاتھی کم کرے ہے کوئی میل\nبچ کے نکلے ہے ادھر سے تند سیل\nبالا بالا دیوقد گینڈا گیا\nاینڈا اینڈا راہ واں اس پر چلا\nیوز ہیں گے فکر ترک گشت میں\nکب گیا کفتار ایسے دشت میں\nعشق کے جنگل میں ہیبت سے طیور\nپرفشاں ہوتے نہیں ہیں دور دور\nقو نہیں پر مارتا ازبس ہراس\nکب اڑا سیمرغ اس کے آس پاس\nکیا درندہ کیا چرندے کیا پرند\nدل ہے جن کے عشق ہے ان کا کشند\nآدمی سے خاص اس کو لاگ ہے\nبہر انساں عشق کی تیز آگ ہے\nدل بڑا ہے اس کا ہر کار کلاں\nیک بیک کرنا قبول اس کو بجاں\nہمت عاشق جو ہے ازبس بلند\nکار باطل ہی ہیں اس کے حق پسند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "در حال مسافر جواں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "خدا ایک فرقے میں مانا ہے عشق\nکہ نظم کل ان سب نے جانا ہے عشق\nنہ ہو عشق تو انس باہم نہ ہو\nنہ ہو درمیاں یہ تو عالم نہ ہو\nیہ آفت زمانے کی معروف ہے\nزمانے میں جو ہے سو ماؤف ہے\nنہیں اس سے خالی جہاں میں بشر\nسبھوں میں ہے ساری یہی فتنہ گر\nکہیں داغ ہوکر جگر پر جلا\nکہیں زخم سینہ ہوا برملا\nمزہ ہے یہ عاشق جہاں ہوگیا\nعزا ہے جو ان دونوں پر رو گیا\nکسو دل میں جاکر ہوا درد یہ\nکسو چہرے کو کر گیا زرد یہ\nکسو کے لیے ہے بیاباں نورد\nکسو کی رہ دور کا ہے یہ گرد\nکسو جان میں ہے تمناے وصل\nکسو دل سے اٹھا مہیاے فصل\nکہیں سبزے میں چشمک گل ہوا\nکہیں نالۂ زار بلبل ہوا\nکہیں سرو برچیدہ دامن ہے یہ\nکہیں قمری کا طوق گردن ہے یہ\nکہیں پھول لالے کا ہے داغ دار\nکہیں اس سے ہے مضطرب لالہ زار\nکہیں عشق و عاشق ہے معشوق ہے\nکہیں خالق و خلق مخلوق ہے\nیہی عشق خلوت میں وحدت کے ہے\nیہی عشق پردے میں کثرت کے ہے\nعجب عشق یہ شعبدہ باز ہے\nموافق گہے گاہ ناساز ہے\nغرض طرفہ ہنگامہ آرا ہے عشق\nتماشائی عشق و تماشا ہے عشق\nمساعد نہ تھا ایک سے روزگار\nکیا ان نے ترک وطن اختیار\nپریشانی لائی کہیں سے کہیں\nبجز بیکسی ساتھ کوئی نہیں\nسرا ایک تھی شہر کے درمیاں\nفرود آیا واں یہ مسافرجواں\nہوا آب گردش سے بیمار یہ\nرہا اس سبب کوئی دن اس جگہ\nکھنچا طول کو رفتہ رفتہ مرض\nدواے طبیباں سے آئے عرض\nمراعات اسباب کی چند روز\nدوا سے بڑھا اور کچھ دل کا سوز\nکیا ترک نومید ہوکر علاج\nکہا لوگوں سے خوش ہے میرا مزاج\nمجھے حال ہی پر مرے چھوڑ دو\nنہ لکھ پڑھ کے دل کو مرے توڑ دو\nدوا چھوڑی غیرت سے وحشت ہوئی\nجنوں کرنے کی اس پہ تہمت ہوئی\nخیال اس کا لوگوں نے چھوڑا ندان\nتعرض نہ کرتے تھے دیوانہ جان\nپھرا کرتا تھا ایدھر اودھر خموش\nنہ کچھ دل میں طاقت نہ کچھ سر میں ہوش\nشب و روز اپنے بسر یوں کرے\nمعیشت زمانے میں جوں توں کرے\nیکایک ہوا قافلہ اک نمود\nقریب اس کے حجروں میں آیا فرود\nتھی ساتھ اس کے اک دختر بے مثال\nگلستان خوبی کی تازہ نہال\nپری شرم گیں اس کے رخسار سے\nغشی حور کو اس کی رفتار سے\nقیامت ادا فتنہ در سر تھی وہ\nعجب طرح کی آہ دلبر تھی وہ\nنکلتی نہ پلکوں سے کم راہ تھی\nنگہ لیک تا قتل ہمراہ تھی\nنظرگاہ کا جوکہ مفتون ہو\nگریباں کرے چاک مجنون ہو\nقنات آگے حجروں کے لی کھینچ سب\nلگی رہنے وہ رشک مہ روز و شب\nپدر مادر اس کے نہ تھے درمیاں\nقبیلے کے کچھ لوگ لائے تھے یاں\nکہ شادی کہیں اس کی کر دیجیے\nگئے لوگوں کا چندے غم کیجیے\nسو نسبت ہوئی ہے کسی سے درست\nاہم کتخدائی ہے اس کی نخست\nعروس اور داماد بعد از فراغ\nوطن ان کو لے جائیں گے خوش دماغ\nمعونت کو دونوں کے ملک و معاش\nکفایت ہے بے کوشش و بے تلاش\nمسافر ہوا اس پری سے دوچار\nہوا اس پہ سو جان و دل سے نثار\nپری دار سا آنے جانے لگا\nجنوں کرتے شور اک اٹھانے لگا\nکبھی بات کرتے جو اس کو سنا\nبڑی دیر تک ان نے سر کو دھنا\nکبھی چلتے پھرتے جو آئی نظر\nروش سے ہوئی اس کی حسرت دگر\nبہت نازک اندام و شیریں کلام\nقد و قامت اس کا قیامت تمام\nنگہ دل زدے کو مسل ڈالتی\nطرح سے جگر جان مل ڈالتی\nادا اک غضب ناز اک قہر تھا\nکرشمہ خرابی کن شہر تھا\nسخن عشوہ غمزے سے کیا کوئی کرے\nکہ آنکھ اس کی اک پل پڑے تو مرے\nبلا زیر سر فتنہ گر ناز تھا\nچمک برق خاطف کی انداز تھا\nمژہ اس کے برگشتہ جی میں کھبے\nنگہ اس کی سرتیز دل میں چبے\nکشیدہ بھویں دو کمانیں تھیں پاک\nجھکیں جب حریفاں بہت ہوں ہلاک\nصفا سے وہ رخسار آئینہ وار\nدکھائی دے منھ ان میں ہوتے دوچار\nدہن غنچہ لب اس کے گل برگ تر\nدل آویز گیسو و عنبر نظر\nگل اندام گل پیرہن گل بدن\nدل آرام و دلچسپ دلکش سخن\nسراپا سے اس کے یہ حیرت رہے\nکھڑی اس کی ہر جاے صورت رہے\nمسافر بھی حیران رفتار تھا\nبکا جاتا تھا جو خریدار تھا\nلپک کر جو چلتی دل آویز تھی\nکفک پاؤں کی کیا بلاخیز تھی\nاس آفت نے اک روز مہندی لگا\nسر پا سے فتنے ہزاروں جگا\nدیے چھاپ شوخی سے دیوار و در\nرہا نازک ان انگلیوں کا اثر\nاٹھے نقش پنجوں کے اس ڈھنگ سے\nکہ چھاپے کے گل کب ہوں اس رنگ سے\nجو نقاش وہ نقش کرتا نظر\nتو رہ جاتا ہاتھوں کو بھی کھینچ کر\nکئی دن میں شادی قریب آ رہی\nسرا میں سے اٹھ شہر میں جا رہی\nیہ افسانہ یھاں کا یہیں رہ گیا\nمسافر سے عشق اس کا کیا کہہ گیا\nپریشاں دلی اس کی اس حد ہوئی\nکہ طبع خوش اس سے بہت بد ہوئی\nپھرے تو پھرے جیسے آفت زدہ\nرہے تو رہے جیسے محنت زدہ\nچلے تو پریشاں پری دار سا\nگرے فرش پر سست بیمار سا\nجو سونے کو ہو تو کہاں اس کو خواب\nپری یاد آوے ہوں آنکھیں پرآب\nنہ سایہ خوش آوے نہ دھوپ اس کو بھائے\nجہاں جائے وحشت لیے ساتھ جائے\nکبھو جیسے دیوانہ رووے ہنسے\nکبھو شہر سے دشت میں جا بسے\nکھڑا ہے کہیں ہو پریشان سا\nکہیں دیکھتا ہے تو حیران سا\nکسی سے کرے بات تو دل کہیں\nنہ ہرگز کہے دل کی مشکل کہیں\nجو آنکھیں تھیں اس کی نظر میں سو تھیں\nجو پلکیں چبھی تھیں جگر میں سو تھیں\nشب و روز اس کو یہی تھا خیال\nکہ کیا خوب صورت ہیں کیا لمبے بال\nکہوں خوبی کب تک کہ ہر جا سے خوب\nتکلف نہیں کچھ سراپا سے خوب\nقیامت ہے اس کی کمر کی لچک\nسرکتی تھی دھچکے سے سر کی لچک\nنظر سیمیں ساعد پہ کیا جا پڑے\nکہ بجلی سی ایدھر چمک آ پڑے\nکف دست سینے پہ رکھے نہاں\nتو راحت اٹھاوے گی صد رنگ جاں\nقیامت کا ٹکڑا تھا وہ قد راست\nیہ حرف و سخن ہیں مرے راست راست\nخرام اس کا دل ہاتھ سے لے گیا\nکلام اس کا مردوں کو جی دے گیا\nسخن کرنے لگتی وہ محبوب جب\nتو دلکش قیامت تھی تحریک لب\nاگر ہنستی آئے ہے وہ کامنی\nتو یوں دانت چمکے ہیں جوں دامنی\nنہال قد اس کا تھا گلبن مثال\nکف پا تھے گلبرگ پاے نہال\nسرا میں مسافر جو شب آرہا\nوہیں مہترانی نے جاکر کہا\nکہ اے نوسفر عشق کی راہ کے\nجدائی کش اس غیرت ماہ کے\nتو اس حجرے میں جو رہا چند ماہ\nسو گلخن سا ہے حال حجرہ تباہ\nنہ لیپا گیا ہے نہ جھاڑا گیا\nخرابہ سا ہے وہ اکھاڑا گیا\nہوا مزبلہ سا خس و خار سے\nکہ صحبت رہی تجھ سے بیمار سے\nتو اس حجرے میں چار دن جاکے رہ\nرہی تھی جہاں آکے وہ رشک مہ\nکروں سیم کل جھاڑ خاشاک و خاک\nیہ گھر بھی ہو پرنور و صاف اور پاک\nپھر آرہیو اس میں ترا ہے مکاں\nکوئی کھینچ کر لے گیا اس کی جاں\nمسافر اسی گھر میں اٹھ جا رہا\nسکونت کو ان نے جہاں تھا کہا\nمنقش نظر آئے دیوار و در\nحنائی انھیں پنجوں کا تھا اثر\nنشاں اس کے ہاتھوں کا دل لے گیا\nہر اک نقش صدرنگ غم دے گیا\nکہیں حیرتی نقش دیوار سا\nکہیں عشق سے سست بیمار سا\nاکیلا جو اس حجرے میں پا گیا\nغم عشق اسے زندہ ہی کھا گیا\nاٹھا اونٹ کر خوں ز جوش جنوں\nیہ ہوتا چلا زرد و زار و زبوں\nہوا فرش خواب اس کا فرش مرض\nکہ تھی عشق کو مرگ اس کی غرض\nبڑھی ناتوانی نہ طاقت رہی\nنہ اک بات کرنے کی فرصت رہی\nکئی دن رہا بس طلب چشم وا\nوہیں شوق کش جی عدم کو گیا\nمسافر سرا سے نہ واں اٹھ گیا\nیہ جی اس سرا ہی میں اس کا اٹھا\nگیا چھوڑ پایاں سرا نوسفر\nلیے ساتھ ہجراں میں داغ جگر\nنہ وارث تھا کوئی کہ اس کو اٹھائے\nرکھے نعش کاندھے پہ تا گور جائے\nکچھ اس مہترانی نے تزئین کی\nمروت سے تجہیز و تکفین کی\nجنازہ نکالا بڑی شان سے\nنماز اس کی کی سو مسلمان سے\nکیا اس سرا ہی میں مدفوں اسے\nکیا تھا محبت نے مجنوں اسے\nسیوم کرکے اس کا نہ ماتم کیا\nتمام اس سفرکردہ کا غم کیا\nنہ وارث تھا کوئی جو لے تعزیہ\nکیا کچھ تو للہ سب نے کیا\nسنا جب کہ یہ واقعہ ہوچکا\nتو شادی سے وہ جمع فارغ ہوا\nزن و شو وطن کے تئیں جائیں گے\nکوئی روز رہ کر یہاں آئیں گے\nسرا کے ہے سب لوگوں کو انتظار\nکہ کب آوے گی رشک باغ و بہار\nسرا اس کے رہنے سے گلزار تھی\nکرم خصلت و لطف کردار تھی\nکہا شو نے منزل کریں گے جہاں\nکوئی دن رہیں گے ضرورت کو وھاں\nپھر اس میں سرا ہو مکاں ہو کوئی\nبیاباں ہو یا گلستاں ہو کوئی\nہمیں اس سرا میں نہ جانا ہے خوب\nجہاں سے اٹھے پر نہ آنا ہے خوب\nمبارک نہیں رجعت قہقریٰ\nخدا جانے پیش آوے ہم سب کو کیا\nزن اصرار کر اس ہی جا میں گئی\nکشش عشق کی لے سرا میں گئی\nاترتے دگرگوں ہوا حال دل\nوہی کوٹھری میں تھی پتھر کی سل\nکھنچا عشق کے جذب سے یہ تعب\nکہ مطلق نہ ملتے تھے وہ لعل لب\nوہ آنکھیں کہ تھیں رشک چشم غزال\nٹھٹھک رہ گئیں آئینے کی مثال\nوہ گوندھے ہوئے بال الجھے کیے\nپریشاں ہوئے پھر نہ سلجھے کیے\nگل سرخ رخسار مرجھا چلے\nشکن کھا بہار اس کی لٹوا چلے\nگیا طائر رنگ پرواز کر\nملامت رہی عشق کی سازگر\nلگی رونے آزردہ ہو زار زار\nگیا جذب الفت سے صبر و قرار\nجگر چھن گیا عشق سے سو طرف\nندان ایسی آفت میں ہوگئی تلف\nطرح اس کی جینے کی سی اب نہیں\nکوئی دم نہیں دل کی تسکیں کہیں\nوہی مضطرب ہے وہی بے حواس\nوہی جذب سے عشق کے ہے اداس\nسفرکردہ کا حال پرساں ہوئی\nبہت سی بہت دل پریشاں ہوئی\nکہا سو کہا مہترانی سے یہ\nکہ وہ یھاں جو رہتا تھا کیدھر ہے کہہ\nخیال اس کا جاں سے مجھے لے گیا\nمسافر عجب داغ اک دے گیا\nسرا میں فرود آئی میں کس گھڑی\nمسافر کی صورت تھی آکے کھڑی\nجہاں دیکھتی ہوں پلک میں اٹھا\nاسی کی ہے ترکیب جلوہ نما\nادھر دیکھے ہے ایک حسرت کے ساتھ\nکھڑا ہے خموش ایک حیرت کے ساتھ\nجدھر جاؤں وہ بھی چلا جاوے ہے\nمرے ساتھ پرچھائیں سا جاوے ہے\nجگر جان و دل میں نہیں رہتی تاب\nنہ ہے چین دن کو نہ ہے شب کو خواب\nجو میں جانتی اس سرا کے یہ ڈھنگ\nتو کیوں آ اترتی مسافر کے رنگ\nنہ جا سکتی ہوں اب نہ رہ سکتی ہوں\nپشیمانی سے کچھ نہ کہہ سکتی ہوں\nمگر شو سے مجھ کو ندامت ہوئی\nمری جان پر یھاں قیامت ہوئی\nکیا عشق سو دنگ ہوں میں بہت\nکہ اس جینے سے تنگ ہوں میں بہت\nنشاں دے ترے پاس رہتا تھا وہ\nسدا درد دل تجھ سے کہتا تھا وہ\nگیا یھاں سے اٹھ کر تو کیدھر گیا\nکہیں جا کے جیتا ہے یا مر گیا\nکہا مہترانی نے بے تاب دیکھ\nکہ قربان میں اب نہ یہ خواب دیکھ\nمسافر سرا میں رہا مر گیا\nجدا تجھ سے کام اپنا وہ کر گیا\nکیا تیری فرقت نے اس کو ہلاک\nہوا میرے ہاتھوں سے وہ زیر خاک\nتو ضائع نہ کر آپ کو صبر کر\nغم و غصے سے جی پہ مت جبر کر\nسن اس واقعے کو بہت غم کیا\nعزا میں بہت حال درہم کیا\nکہا حیف صد حیف بیکس موا\nگڑھاگور پھر یوں میسر ہوا\nچپ اب عشق کا راز رسوا نہ ہو\nخدا جانے ظاہر جو کیا کیا نہ ہو\nترے چپکے رہنے سے ممنون ہوں\nمیں اس منت احساں کی مرہون ہوں\nمبادا سنے شوے ناساز کچھ\nلگاویں اسے اور غماز کچھ\nسن اس زشت کاری کو ناچار ہو\nمجھے ذبح کرنے کو تیار ہو\nشفاعت سے کوئی نہ پھر پیش آئے\nعبث جان پرآرزو میری جائے\nشتاب اس کی تربت پہ لے چل مجھے\nکشش اس کی رکھتی ہے بے کل مجھے\nمخاطب چلی لے کے غافل اسے\nکہ جاذب ہے وہ جذب کامل اسے\nکمیں میں ہے مالوف کش اشتیاق\nہوئی زندگی مردہ ساں اس کو شاق\nجنازے پہ آئی نہ تھی وہ پری\nہوئی گور پر اس کی جلوہ گری\nبرابر گئے شق ہوئی اس کی قبر\nگیا اس کے دل سے سکوں اور صبر\nشتابی گئی ساتھ والی کو چھوڑ\nلیا مردہ عاشق نے گویا مروڑ\nکھنچی جو گئی گرد اس گور سے\nمسافر بھی آیا بہت دور سے\nبغل گیر عاشق ہوئی زیر خاک\nہوئی ہمکناری میں آخر ہلاک\nزمیں مل گئی جب یہ آخر ہوئی\nمسافر سے مل کر مسافر ہوئی\nگیا ہوش اس کا جو ہمراہ تھی\nزباں پر فغاں تھی بلب آہ تھی\nاچنبھا سا یہ سانحہ ہوگیا\nعجب طور کا واقعہ ہوگیا\nحواس اڑ گئے اس کے جن نے سنا\nٹھٹھک ہی گیا دیر تک سر دھنا\nسرا میں گئی شور سے غم کیا\nبہت حال کو اپنے درہم کیا\nخبر شوے ناساز کو بھی ہوئی\nکہ وہ نازنیں جا سرا میں موئی\nگریباں دراں خاک افشاں گیا\nلب گور خاطرپریشاں گیا\nکہا گور کھولیں پھر اب بیلدار\nکہ بن آنکھوں دیکھے نہیں ہے قرار\nکھلی گور دیکھا تو چسپاں تھی وہ\nگلے لگ رہی تھی پہ بے جاں تھی وہ\nجدا کرتے مشکل جدا وہ ہوئی\nکمال اشتیاق اس کو تھا جو موئی\nنئی گور کر دفن اس دم کیا\nنہ غیرت سے شوہر نے ماتم کیا\nبنا ایک روضہ پئے صالحہ\nموافق کیا رسم کے فاتحہ\nگیا شو گیا شہر سے بھی گیا\nکہ ہمسر کے یوں مرنے کے تھا جیا\nیہ ہے میرؔ وہ عشق خانہ خراب\nکہ جی جن نے مارے ہیں یھاں بے حساب\nمحابا کسو کا اسے کچھ نہیں\nرہا بے محابا سدا ہر کہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA"} {"title": "در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا\nپھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا\n\nبندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم\nالٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا\n\nسب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا\nروبرو کوئی بت آئنہ سیما نہ ہوا\n\nکم نہیں نازش ہم نامی چشم خوباں\nتیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا\n\nسینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا\nخاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا\n\nنام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا\nکام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا\n\nہر بن مو سے دم ذکر نہ ٹپکے خوں ناب\nحمزہ کا قصہ ہوا عشق کا چرچا نہ ہوا\n\nقطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل\nکھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا\n\nتھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے\nدیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%B1_%D9%82%DB%81%D8%B1_%D9%88_%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "در رہا سب پہ جو سخنور ہے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "در رہا سب پہ جو سخنور ہے\nشعر تیغ زباں کا جوہر ہے\n\nبات اپنی یہ سن کے کان میں ڈال\nآبرو مثل آب گوہر ہے\n\nعشق بن کیا کسی کا دل ہو گزار\nموم بے آگ دیکھے پتھر ہے\n\nدل کا دینا سراسری مت جان\nجان پر کھیلنا سراسر ہے\n\nکیا مخالف ہے اس چمن کی ہوا\nخار دیتا ہے جو گل تر ہے\n\nنوک رکھ لو برہنہ پائی کی\nآباد خار دشت نشتر ہے\n\nاب تو جاتے ہیں اس گل میں نسیمؔ\nہو رہے گا جو کچھ مقدر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%B3%D8%A8_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%AE%D9%86%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "در شکایت نفاق یاران زماں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "جہاں میں کون ہے جس کو کسی سے الفت ہے\nخراب کوچہ و بازار یاں محبت ہے\nنفاق خانہ برانداز بسکہ ہے رائج\nدل اتفاق کا زیر غبار کلفت ہے\nباتفاق اگر دو عزیز مل بیٹھیں\nزبان مردم بد سے انھوں پر آفت ہے\nکروں میں ہجو اگر روز ایسے عالم کی\nبجا ہے ان سے کہ میرے تئیں شکایت ہے\nدروغ گوئی سے دو آشنا لڑا دینا\nکہاں کی رسم ہے یہ گر یہی مروت ہے\nتو چھوڑ شہر کی یہ تنگنا نکل جاویں\nکہ گوشہ ہاے بیاباں میں بسکہ وسعت ہے\nنہ دیکھوں منھ میں انھوں کا اگر ہوں آئینہ\nاسی لیے تو مرے دل نشین عزلت ہے\nکہوں میں مطلع ثانی کہ طور یاراں سے\nدل شکستہ مرا تنگ اب نہایت ہے\n\nمطلع ثانی\n\nمنھوں پہ صاف ہیں لیکن نہ حفظ غیبت ہے\nمثال آئینہ دیکھے ہی کی یہ ملت ہے\nاگر سخن کی مرے رشک ان کی ہے جاں سوز\nوگر دلوں میں انھوں کے غرور دولت ہے\nحریف میرے یہ ان باتوں سے نہیں ہوتے\nکہ راہ راست پہ ہوں میں انھیں ضلالت ہے\nسخن کی خوبی کے میدان کا ہوں میں رستم\nمقابلے کو مرے ان میں کس کی طاقت ہے\nرہا غرور زر و مال ان کا اب باقی\nسو ان کا ہونے کو روکش مری شرافت ہے\nبہ خالقے کہ زمیں اور آسماں کی بنا\nنظر میں سب کی اسی کا ظہور قدرت ہے\nبہ احمدے کہ بلا میم اس کو کہتے ہیں\nاسی کی شرق سے لے تا بہ غرب امت ہے\nبہ مرتضےٰ کہ پیمبرؐ سے اس کو ہے خویشی\nبہ فاطمہ کہ کنیز اس کی ایک عصمت ہے\nبہ آں امام کہ قسمت میں اس کی زہر ہوا\nبہ آں حسین کہ وہ بیکس شہادت ہے\nبہ ذوالفقار کہ وقت نبرد غازی کے\nزباں میں نام سے اس کے ہوئی یہ حالت ہے\nکہ گر وہ بات کہے صف میں کافروں کی جا\nتو سر کو تن پہ خوارج کے کب یہ فرصت ہے\nکہ ایک دم میں نہ پیوند ہو جدا اس کا\nملے نہ خاک میں جب تک کہاں فراغت ہے\nکہوں میں مطلع ثالث کہے ہے ہاتف غیب\nکہ تیرے صدق کی شاہد تری ہی ہمت ہے\n\nمطلع ثالث\n\nبہ زلف یار کہ مجھ پر اسی سے شامت ہے\nبہ زہرمار جو جینے میں کچھ حلاوت ہے\nبہ ذوق وصل کہ اک دم نہیں ہے مجھ کو قرار\nبہ اضطراب کہ وہ خانہ زاد فرقت ہے\nبہ سوز شمع کہ جلتی ہے وہ بھی میری طرح\nبہ انجمن کہ وہ کثرت میں رشک خلوت ہے\nبہ انتظار کہ آنکھیں سفید اس میں ہوئیں\nبہ نور شمع کہ وہ پائمال حیرت ہے\nبہ طوف کعبہ کہ بے سعی واں نہیں ہے گذار\nبہ عشق دیر کہ واں برہمن سعادت ہے\nبہ غربتے کہ ہے دوری راہ اس میں رفیق\nبہ منزلے کہ پہنچنا وہاں قیامت ہے\nبہ طاقتے کہ اسے ضعف سے ہے ربط قدیم\nبہ خاطرے کہ وہ منت کش مصیبت ہے\nبہ مشہدے کہ چراغ اس کا چشم آہو ہو\nبہ چشمکے کہ وہ خوں ریز اہل حسرت ہے\nبہ ہمتے کہ نہ دیکھا ہو ان نے خست کو\nبہ خستے کہ سراپا عدوے ہمت ہے\nبہ زورقے کہ جو وہ نوح کی پناہ ہوئی\nبہ ملتے کہ وہ طوفاں سے غرق خجلت ہے\nبہ محنتے کہ وہ آزردہ ہوئے راحت سے\nبہ راحتے کہ حقیقت میں رنج و محنت ہے\nبہ عزتے کہ جو سنتی ہو نام ذلت کا\nبہ ذلتے کہ وہ کہتی ہو کیسی عزت ہے\nقسم ہے میرے تئیں ان تمام قسموں کی\nجو میں نے کچھ بھی کہا ہو یہ مجھ پہ تہمت ہے\nجو کچھ کہا ہے کنھوں نے غلط کہا ہے گا\nکسو سے رنجش بیجا نہ میری طینت ہے\nاگر یہ عذر ہو مقبول تو تو خیر ارنہ\nحریف ہونے کا میرے نتیجہ خفت ہے\nکہاں تلک میں کروں اس نفاق کا شکوہ\nخموشی اب تو ہے اولیٰ کہ اس میں راحت ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%D9%86%D9%81%D8%A7%D9%82_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D8%B2%D9%85%D8%A7%DA%BA"} {"title": "در صفت انبہ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "ہاں، دلِ درد مندِ زمزمہ ساز\nکیوں نہ کھولے درِ خزینۂ راز\n\nخامے کا صفحے پر رواں ہونا\nشاخِ گل کا ہے گلفشاں ہونا\n\nمجھ سے کیا پوچھتا ہے کیا لکھیے؟\nنکتہ ہائے خرد فزا لکھیے!\n\nبارے، آموں کا کچھ بیاں ہو جائے\nخامہ نخلِ رطب فشاں ہو جائے\n\nآم کا کون مردِ میدان ہے\nثمر و شاخ گوئے و چوگاں ہے\n\nتاک کے جی میں کیوں رہے ارماں\nآئے، یہ گوئے اور یہ میداں\n\nآم کے آگے پیش جاوے خاک\nپھوڑتا ہے جلے پھپھولے تاک\n\nنہ چلا جب کسی طرح مقدور\nبادۂ ناب بن گیا انگور\n\nیہ بھی ناچار جی کا کھونا ہے\nشرم سے پانی پانی ہونا ہے\n\nمجھ سے پوچھو، تمہیں خبر کیا ہے!\nآم کے آگے نیشکر کیا ہے!\n\nنہ گل اس میں نہ شاخ و برگ، نہ بار\nجب خزاں آئے تب ہو اس کی بہار\n\nاور دوڑائیے قیاس کہاں\nجانِ شیریں میں یہ مٹھاس کہاں\n\nجان میں ہوتی گر یہ شیرینی\nکوہکن باوجودِ غمگینی\n\nجان دینے میں اس کو یکتا جان\nپَر وہ یوں سہل دے نہ سکتا جان\n\nنظر آتا ہے یوں مجھے یہ ثمر\nکہ دوا خانۂ ازل میں، مگر\n\nآتشِ گل پہ قند کا ہے قوام\nشیرے کے تار کا ہے ریشہ نام\n\nیا یہ ہو گا، کہ فرط رافت سے\nباغبانوں نے باغِ جنت سے\n\nانگبیں کے، بہ حکم رب الناس\nبھر کے بھیجے ہیں سربمہر گلاس\n\nیا لگا کر خضر نے شاخِ نبات\nمدتوں تک دیا ہے آبِ حیات\n\nتب ہوا ہے ثمر فشاں یہ نخل\nہم کہاں ورنہ اور کہاں یہ نخل\n\nتھا ترنجِ زر ایک خسرو پاس\nرنگ کا زرد پر کہاں بو باس\n\nآم کو دیکھتا اگر اک بار\nپھینک دیتا طلائے دست افشار\n\nرونقِ کارگاہِ برگ و نوا\nنازشِ دودمانِ آب و ہوا\n\nرہروِ راہِ خلد کا توشہ\nطوبیٰ و سِدرہ کا جگر گوشہ\n\nصاحبِ شاخ و برگ و بار ہے آم\nناز پروردۂ بہار ہے آم\n\nخاص وہ آم جو نہ ارزاں ہو\nنو برِ نخلِ باغِ سلطاں ہو\n\nوہ کہ ہے والیِ ولایتِ عہد\nعدل سے اس کے ہے حمایتِ عہد\n\nفخرِ دیں عزِ شان و جاہِ جلال\nزینتِ طینت و جمالِ کمال\n\nکار فرمائے دین و دولت و بخت\nچہرہ آرائے تاج و مسند و تخت\n\nسایہ اُس کا ہما کا سایہ ہے\nخلق پر وہ خدا کا سایہ ہے\n\nاے مفیضِ وجودِ سایہ و نور!\nجب تلک ہے نمودِ سایہ و نور\n\nاِس خداوندِ بندہ پرور کو\nوارثِ گنج و تخت و افسر کو\n\nشاد و دلشاد و شادماں رکھیو\nاور غالبؔ پہ مہرباں رکھیو!", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D8%B5%D9%81%D8%AA_%D8%A7%D9%86%D8%A8%DB%81"} {"title": "در مدح بادشاہ جم جاہ، خاور سپاہ، شاہ عالم بادشاہ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "جو پہنچی قیامت تو آہ و فغاں ہے\nمرے ہاتھ میں دامن آسماں ہے\nکوئی آج سے ہے فلک مدعی کیا\nہمیشہ مرے حال پر مہرباں ہے\nکدورت بیاں کیا کروں میں کہے تو\nیہ دل گرد کلفت کا یک کارواں ہے\nجو روتا بھی ہوں میں غبار دلی سے\nتو آنسو کا سیلاب ریگ رواں ہے\nجو دل میں ہے آتا ہے کہنے میں بھی وہ\nزباں میری دل کی مگر ترجماں ہے\nعجب مخمصے میں ہوں جور فلک سے\nحوادث کے تیروں کا سینہ نشاں ہے\nسحر جام خوں ہے جو منھ دھو چکوں ہوں\nیہ مفلوک ایسے کے گھر میہماں ہے\nرمق ایک جی ہے سو ایک آدھ دم کا\nاسے قصد اب تک مرا امتحاں ہے\nاس احوال کا رنگ رو بس ہے شاہد\nجو دل میں ہے میرے سو منھ پر عیاں ہے\nیہ شکوہ تھا درپیش مجھ کو کہ ناگہ\nپکاری خرد ہوش تیرا کہاں ہے\nتو مر جائے گا یوں تو رکتے ہی رکتے\nکہ اندوہ و غم آفت ناگہاں ہے\nغزل لطف کر میرؔ صاحب کی کوئی\nکہ ان کی زباں بیچ سحر بیاں ہے\nکہا میں نے مطلع غزل کا یہ سن کر\nکہ ہر طرف سے جس کے لوہو رواں ہے\n\nغزل (مطلع ثانی)\n\nترے ہاتھ جب تک کہ تیر و کماں ہے\nشکار زبوں کی بھی خاطرنشاں ہے\nکہے تو کہ شکل مثالی ہوں اپنی\nمرا جسم اس لطف سے ناتواں ہے\nتری اور اے سادہ رو بعد میرے\nمرا نامہ ننوشتہ ہر استخواں ہے\nاسیری میں سارا قفس بوے گل سے\nمعطر ہوا گو دماغ اب کہاں ہے\nنہ پوچھ اس طلسمات عالم کی صنعت\nکہ اس آشکارا میں کیا کیا نہاں ہے\nخوشا مرگ بلبل کہ سائے میں گل کے\nکہیں مشت پر ہے کہیں آشیاں ہے\nدرود اس کے تیں دیکھ کر بھیجتے ہیں\nوہ نوگل بھی صل علیٰ کیا جواں ہے\nلگے ہے نہ اب عطرداں اس کے منھ کو\nنہ اس بوے خوش سا یہ گل کا دہاں ہے\nغرور خرابات چل شیخ دیکھیں\nجو ترسابچہ ہے سو پیر مغاں ہے\nہے بس شاہد حال رنگ شکستہ\nجو دل میں ہے میرے سو منھ پر عیاں ہے\nنہ کہہ خانوادے تھے یاں کیسے کیسے\nخرابہ ہی ہے جب تلک یہ جہاں ہے\nدم امتحاں میرؔ ہم کیا کریں گے\nہماری گرہ میں تو اک نیم جاں ہے\nچل اے طبع مشتاق وصف بتاں پر\nکہ غم ان کا دل میں مرے یک جہاں ہے\nیہی شغل ہیں خوب پیش فقیراں\nکہ ذکر خدا ہے کہ وصف بتاں ہے\nنہ جا اس کے خاموش رہنے پہ بلبل\nزباں غنچۂ گل کے زیر زباں ہے\nنہ دے جان شیریں کو تلخی سے ناحق\nتری محنت اے کوہکن رائیگاں ہے\nمیں پس ماندۂ قافلہ دل جلا ہوں\nکہے تو کہ یہ آتش کارواں ہے\nجو ہو راہ گم گشتہ یاں ہوکے جاوے\nکہ مجھ پاس یک داغ دل سوز یھاں ہے\nسموم آوے ہے سایۂ برگ گل میں\nمگر خاک مرغ چمن پرفشاں ہے\nمری آہ کیا برچھیاں مارتی ہے\nدل شب سے ہر دم صدا الاماں ہے\nجگر پر جو ہیں داغ ہجراں پریشاں\nیہ گویا خزاں دیدہ اک گلستاں ہے\nرخ زرد پر اشک سرخ آگئے ہیں\nادھر بھی اک ابر بہاری سماں ہے\nخط و زلف و کاکل میں دل جاکے الجھا\nنہ سمجھا یہ ناداں کہ ہندوستاں ہے\nچمن زار عالم کی خوبی پہ مت جا\nدل اس بے ثباتی پہ خندہ زناں ہے\nکہ یک رنگ یاں کا نہیں ہے قراری\nبہار آئی ایدھر کہ فصل خزاں ہے\nحقارت سے مت دیکھ یہ پھوٹی گوریں\nکہ ہر اک فلاں بن فلاں بن فلاں ہے\nخیال اور مت کر کہ مجھ میں نہیں کچھ\nمری جاں ترا وہم ہے یا گماں ہے\nاٹھی رسم صوم و صلوٰۃ اس کے دیکھے\nخرابی یہ مسجد پہ جو ہے ازاں ہے\nگریباں کفن کا تو رہنے دے ثابت\nمری خاک سے کیوں تو دامن کشاں ہے\nرگ گل رگ جاں کمر سے نہیں ہے\nتو کہتا ہے کیا یاں سخن درمیاں ہے\nخط کنج لب گوشۂ چشم و کاکل\nرہے شاد وہ غم زدہ دل جہاں ہے\nنہیں فرصت واشدن اس چمن میں\nگل اس غم سے اپنا گریباں دراں ہے\nبہت ہرزہ خواں ہے گا اے میرؔ تو بھی\nوظیفہ ترا کیا یہ ذکر بتاں ہے\nجو مرکوز خاطر ہے اس پر بھی آجا\nفراغت کا عرصہ یہی اک زماں ہے\nسن اے ہم نشیں شخص غائب کی خاطر\nیہ مطلع کہ مطلب سے جو تواماں ہے\n\nمطلع ثالث\n\nقلم چل ابھی چلتی تیری زباں ہے\nکہ پھر بات کہنے کی فرصت کہاں ہے\nولیکن تجاوز نہ ہووے ادب سے\nکہ ممدوح اب شاہ ہندوستاں ہے\nدماغ اب نہیں ہے جو تمہید کریے\nکہ کل رات ہے اور یہ داستاں ہے\nبھٹئی تیری کیجے یہ دل چاہتا ہے\nترے شکر نعمت میں قاصر زباں ہے\nترا عہد یک سرخوشی ہے جو ہے بھی\nگنہگار سا یک غم مہوشاں ہے\nترے یاں ہے سب راستی و درستی\nمگر ما صدق سچ کا یہ خانداں ہے\nزیارت کیے صدق آتا ہے جس کی\nترا جبہۂ راستاں آستاں ہے\nلکھے کیا شہا کوئی ہمت کو تیری\nجہاں صبح اس خوان پر میہماں ہے\nزیادہ ہو یہ وسعت رزق تیری\nکہ مشرق سے تا غرب دستار خواں ہے\nکرے ہم سری کیا وہ خورشید اوپر\nفلک پاس کیا ہے یہی ایک ناں ہے\nترے ہاتھ کی ریزش جود آگے\nخجالت سے یہ ابر قطرہ زناں ہے\nتجھے مرجع کل کیا ہے جہاں کا\nترا دست ہے فرق خرد و کلاں ہے\nولی نعمتا عدل سے تیرے اب یاں\nکتاں تھا سو مہ ہے جو مہ تھا کتاں ہے\nترے ہوش کے آگے ہے طفل ناداں\nاگرچہ یہ پیر خرد کارداں ہے\nسن اے خامہ آ مطلع چارمیں لکھ\nکہ ممدوح کے زور کا اب بیاں ہے\n\nمطلع رابع\n\nترے زور بازو کی طاقت عیاں ہے\nکہ بز جس کی قوت سے شیر ژیاں ہے\nترے زور کا سکہ ہے اس چمن میں\nگل اشرفی غنچۂ مہرگاں ہے\nترا ہاتھ پڑ جائے گر رستم اوپر\nجہاں میں وہ مشہور کیا پہلواں ہے\nاٹھاتا نہیں اس کو سن کوئی گردن\nوہ اس عرصے میں ایک سنگ گراں ہے\nتو یوں پھینک دے جیسے سنگ فلاخن\nجہاں جاکے گڑ جائے سنگ نشاں ہے\nکہ جو کوئی اس راہ نکلے سو دیکھے\nیہ افسانہ ہر شہر کا ارمغاں ہے\nثنا کے ترے عرصے میں کریے جولاں\nکمیت قلم ہاتھ کے زیر راں ہے\nاچک لے جہاں باگ کیا کیا مزے ہیں\nیہ نام خدا اسپ کیا خوش عناں ہے\nسبک سیر کی تیرے کیا کہیے جلدی\nپھر اس فربہی پر کہ تخت رواں ہے\nازل سے ابد تک ہے جولاں گہ اس کی\nقدم ایک یاں اک قدم اس کا واں ہے\nجو اس میں سوار اس کا چاہے کہ ڈپٹے\nارادے میں اس کے ابھی حرف ہاں ہے\nنہ پہنچے وہ ہونٹوں تلک اس کے ہرگز\nکہ یہ بادپیما کہاں کا کہاں ہے\nجو میدان میں جنگ کے ہو یہ اشہب\nتو گھوڑا نہ کہیو کہ پیل دماں ہے\nلگے گر کہیں ٹاپ طبق زمیں پر\nفلک صدمے سے آں سوے لامکاں ہے\nدعا پر کروں ختم اب یہ قصیدہ\nکہاں تک کہوں تو چنیں ہے چناں ہے\nرہے وقت ایسا ہی روز جزا تک\nکہ جو دوست تیرا ہے تو شادماں ہے\nتری عمر ہو میرے طول امل سی\nکرم کا سا سررشتہ اک تیری ہاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%AC%D9%85_%D8%AC%D8%A7%DB%81%D8%8C_%D8%AE%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%BE%D8%A7%DB%81%D8%8C_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%B4%D8%A7%DB%81"} {"title": "در مدح حضرت امام حسینؓ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "فلک کے جور و جفا نے کیا ہے مجھ کو شکار\nہزار کوس پہ ہے جاے اک تپیدن وار\nخراب کوہ و بیابان بیکسی ہوں میں\nبہ رنگ صوت جرس ہر طرف ہے میرا گذار\nبغیر خوردن خوں کب نہار ٹوٹے ہے\nسواے گریۂ صبح اب کہاں ہے آب خمار\nلگیں نہ داغ سو کیوں پھیکے میرے سینے پر\nنمک نہیں نظر آتا بجز رخ دلدار\nسو وہ بھی دیکھنا ملتا نہیں ہے گھر بیٹھے\nمگر ہوں ہند میں رسواے کوچہ و بازار\nسواے نالۂ جاں سوز کون ہے دل سوز\nبغیر آہ سحرگاہ کون ہے غم خوار\nجنوں میں جب سے خوش آیا لباس عریانی\nنہیں ہے دامن صحرا میں تب سے مجھ کو قرار\nہمیشہ ساتھ ہے دامن سوار لڑکوں کے\nمگرکہ خاک وفا سے بنا ہے میرا غبار\nعجب ہے مجھ کو جو تو دیکھنے نہیں آتا\nرہا ہوں ایک تری انکھڑیوں کا میں بیمار\n\nمطلع ثانی\n\nہوا ہوں جور فلک سے نپٹ ہی زار و نزار\nپہنچیو یا خلف الصدق حیدر کرار\nشہا غلام کو تیرے یہ زور بازو ہے\nکہ وقت جنگ جو لے کر کماں کو ہووے سوار\nاگر پہاڑ ہو دشمن تو اس کے سینے میں\nکماں سے چھوٹتے ہی تیر بند ہو سوفار\nلگاوے پھر وہیں دوچار ایسی پے درپے\nکہ ایک کا ہو نشاں دوسرے کی جاے قرار\nکرے ہے فخر بہت اوج پر فلک شاہا\nرضا جو ہو تو کروں تیرے روضے کا بستار\nکہ انفعال ہو لاف و گزاف سے اس کو\nزمیں ہے صحن کی جس کے یہ گنبد دوار\nکرے ہے جوہر اول نگاہ جس ساعت\nتو ایک ہاتھ سے تھانبے ہے سر اپر دستار\nامام ہر دوجہاں جس کی آستاں کی خاک\nرکھے ہے رتبۂ کحل جواہر الابصار\nزہے وہ روضہ جہاں دیدۂ ملک ہیں فرش\nقدم کو رکھتے ہوئے ان پہ آتے ہیں زوار\nاگر طلوع ہو خورشید سامنے اس کے\nہر ایک ذرے کو واں کے ہے یہ لب گفتار\nکوئی کہے کہ یہ کیا شوخ چشم شپر ہے\nکوئی کہے کہ یہ ہے موش کور ناہموار\nلیا ہے روز سیہ نے بہت اسے گھبرا\nچلی ہے چھوڑ کے حیراں ہو رخنۂ دیوار\nشعاع روضے کے قبے کی ہے گی عالمگیر\nپھرے گا سایۂ شب اب جہاں میں ہوتا خوار\nبہ صانعے کہ یہ نقاشیاں ہیں سب اس کی\nزمیں ہو یا ہو فلک یا حجر ہوں یا اشجار\nبہ احمدےؐ کہ نبوت ہوئی ہے اس پر ختم\nبہ فاطمہؓ کہ وہ ہے بنت سید مختار\nبہ مرتضےٰؓ کہ ولایت مسخر ان نے کی\nبہادری ہے غلاموں کی جس کے فن و شعار\nبہ آں امام کہ کشتہ ہے زہر قاتل کا\nگرے ہیں لخت دل اس کے زمیں پہ کٹ کے ہزار\nبہ آں شہید کہ تشنہ لب و شکستہ دل\nموا ہے دشت بلا میں ہیں اب تلک آثار\nکہ جب ہلال محرم نمود ہوتا ہے\nجہاں میں کرتے قیامت ہیں اس کے ماتم دار\nبہ سینہ سوزی داغ و بہ آتش ہجراں\nبہ آہ سرد سحرگاہی و بہ نالۂ زار\nبہ سردمہری شیریں بہ کینۂ خسرو\nبہ گرم جوشی فرہاد و سختی کہسار\nبہ عشق دیر بہ طوف حرم بہ سعی تمام\nبہ لوح مشہد عاشق بہ سوز شمع مزار\nبہ آب و رنگ گلستاں بہ بیکسی اسیر\nکہ اس کو کنج قفس میں رہے ہے باد بہار\nبہ ساغر مئے گلگوں بہ توبۂ سنگیں\nبہ دل نوازی ساقی بہ ابر دریابار\nبہ دستگیری چاک و بہ بے قراری جیب\nبہ سینہ کاوی دشنہ بہ زخم دامن دار\nبہ حیرت رخ جاناں بہ چشم واماندہ\nبہ سعی باطل ناخن بہ عقدۂ دل کار\nبہ قلقل و بہ سبو و بہ لغزش ہر دم\nبہ مستی مئے ناب و بہ خاطر ہشیار\nبہ پوچ گوئی و بے تابی و بہ بے خوابی\nبہ کم زبانی صبر و بہ دیدۂ بیدار\nبہ دیر و برہمن و کفر و یاصنم گوئی\nبہ شیخ و مسجد و تسبیح و رشتۂ زنار\nبہ سیل خانہ خراب و بہ وادی مجنوں\nبہ جرگہ جرگہ غزالاں بہ دیدۂ خونبار\nبہ خوشہ خوشہ سرشک و بہ داربست مژہ\nبہ قطرہ قطرہ شراب و بہ جام دست یار\nبہ ضعف جسم نزار و بہ طاقت سرکش\nبہ جان عاشق مسکیں کہ یار پر ہے نثار\nبہ خاک عاشق بے خانماں کہ باد صبا\nنہیں دکھاتی اسے بعد مرگ کوچۂ یار\nبہ اضطراب چراغ و بہ دشمنی نسیم\nبہ خاطر دم آخر کہ اس سے ہے بیزار\nبہ دور گردی رنگ قبول و یاس دعا\nبہ اعتزاز اجابت بہ حلقۂ اذکار\nبہ خیل خیل خرابی بہ گوشۂ صحرا\nبہ خوش سوادی شہر و بہ قریہ و بہ دیار\nبہ شوق وصل نگار و بہ جان مایوسی\nبہ آرزوے ہم آغوشی و بہ بخت کنار\nبہ سینہ کوبی زخم جگر بہ ماتم میرؔ\nبہ جاں کنی گلوگیر و حسرت دیدار\nقسم ہے میرے تئیں ان تمام قسموں کی\nکہ تجھ کو علم ہے ان سب کا کیا کروں میں شمار\nیہ آرزو ہے مرے دل میں مدتوں سے شہا\nرہے نہ بعد مرے ہند میں یہ مشت غبار\nاڑا دے اس کو صبا یاں تلک کہ لے پہنچے\nتجھ آستان کے آگے کہ ہے فلک کردار\nرہے ہمیشہ ترے دوستوں کے ساتھ اقبال\nعدو کو تیرے نہ دے فرصت ایک دم ادبار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D8%93"} {"title": "در مدح حضرت علی مرتضےٰ ؓ (I)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "اک شب کیا تھا یار تری زلف کا خیال\nاب تک ہے دشمنی میں مری میرا بال بال\nمیں مر گیا فراق میں پر اب یہ کیا ہے ظلم\nجیتی گڑی ہے ساتھ مرے حسرت وصال\nجنبش ہوئی مژہ کو ادھر گر گئی سناں\nابرو ہلے ترے کہ ادھر کٹ گیا ہلال\nآیا ہے یاد قیس بہت اب کہ ہوں بتنگ\nاس کے بھلاوے مجھ کو نہیں چھوڑتے غزال\nخوش وقت ٹک تو ہوں پہ کہیں کا نہیں ہوں پھر\nآزردہ ہوئے مجھ سے اگر خاطر ملال\nرنگ اڑ گیا تبھی کہ ہوا تجھ سے چہرہ گل\nرکھے ہے اب نسیم کی سیلی سے منھ کو لال\nدوزخ ہے میرے شرم گنہ کے عرق میں غرق\nلیکن نہیں ہنوز مجھے ٹک بھی انفعال\nخوش قامتی کو آہ کے کب پہنچتا ہے سرو\nہے یہ تو باغ رنگ شکستہ کا نونہال\nحیرت بساہی جان کو اپنی تمام عمر\nٹک چشم آئینہ نے ترا دیکھ کر جمال\nیک روز بے نقاب ہوا تھا تو صبح کو\nاب تک ہے آفتاب جہاں تاب پر زوال\nتھی سیر تیرے کوچے میں عشاق کی معاش\nکتنے شکستہ دل تھے بہت تھے خراب حال\nجتنے غرض تھے سب کو یقیں تھا کہ مرچکے\nکوئی نہ تھا کہ جس کو ہو جینے کا احتمال\nکب تک صفت بتوں کی خدا سے تو خوف کر\nاے طبع رہ نہ اتنی بھی پابند خط و خال\nپڑھ منقبت یہ شاہ کی جس سے نجات ہو\nوہ شاہ جس کے ایک گدا کو ہے یہ کمال\nبخشش سے جس کی حرف طلب محو ہوگیا\nکم اس کے وقت میں ہے بہت نوبت سوال\nہے معن اس کے مطبخ عالی کا کاسہ لیس\nدستارخواں کا اس کے ہے حاتم اک آشمال\nآوے اگر عطا و کرم پر وہ ایک دم\nخسرو کے ہفت گنج تو پھر کیا ہیں چیز مال\nکہتا ہوں اب میں مطلع ثانی کہ ہوں بتنگ\nوسعت رکھے ہے بس کہ یہ میدان قیل و قال\n\nمطلع ثانی\n\nاے نائب مصاحب دادار بے ہمال\nوے مشورت شریک خداوند لایزال\nتو ہے کہ تیرے عدل کی نظم و نسق کو سن\nاٹھ جائے دفعتہ ہی مزاجوں سے اختلال\nچاہے خدانخواستہ اس کا اگر تو رغم\nتو منحرف مقام سے ہو خط اعتدال\nشاہا ترا غلام ہو ایک اور اک طرف\nسنگیں ہو فوج دشمن اگر کوہ کی مثال\nتیر و کماں کو ہاتھ میں لے جب ہو سامنے\nہے اس کو اپنے زور شجاعت سے یہ کمال\nجس دم کہ زور بازو سے آکر لگاوے تیر\nپھوٹیں دوسار ہوویں اگر آہنیں جبال\nچٹکی سے اس کی ہو کے جدا تیر پر لگائے\nجو اس کے سامنے ہو اسے اڑ کے لاگے بھال\nاٹکل سے جس کے سینے میں مارے ہو تیرتخش\nمنھ دیکھو مدعی جو رکھے اپنے تیں سنبھال\nپشت عدو کی اور ہو پیکان یوں نمود\nجیسے کہ سانپ بیٹھے ہے بانبی سے سر نکال\nبالفرض اس پہ چوٹ کرے آکے مدعی\nخالی دے اس کے وار کو دیوے زمیں پہ ڈال\nاس جھوک ہی میں ہاتھ مع تیغ ٹوٹ جائے\nگردن کٹادے مفت گرے بس کہ ہو نڈھال\nسنتے تھے وہ مثل سو یہیں ہوتی ہے درست\nدست شکستہ اپنی ہی گردن کا ہے وبال\nجو کوہ آہنیں ہوں ترے مدعی شہا\nتنہا ترا غلام لے تلوار اور ڈھال\nدو ہاتھ ایسے گڑ کے کرے سب کو دے اکھاڑ\nمارے زمیں پہ جس کو پکڑ کر کمر دوال\nٹھہرے ورے پرے تو نہایت غریب ہے\nتحت الثریٰ سے گر نہ پرے جائے بدسگال\nیوں دیکھ ایک دو کو کنارہ کرے شتاب\nمیدان کارزار سے رستم بہ رنگ زال\nشیر فلک کو راہ بھلا دیوے وہ دھمک\nاس زلزلے میں گاو زمیں سیکھ جائے چال\nمن بعد اور باقی رہیں جتنے کشتنی\nکر جمع ان کو زور شجاعت سے پیل پال\nتلوار لے پھرے وہ تو پھر جائے روزگار\nنعرہ کرے تو تن سے کرے روح انتقال\nاہل سلاح ترس سے گر گر پڑیں بہت\nجتنوں کے ہو گلے میں زرہ ان کا ہو یہ حال\nنعرے سے اس کے لیویں بہت یوں رہ گریز\nبھاگے ہیں جیسے شیر کی آوازسے شغال\nحصہ رسد کوئی ہو وہ رکھ جائے ایک تیغ\nگذرے نہ ایک دم بھی کہ قضیہ ہے انفصال\nزخم اس کے ہاتھ کا جو لگے بہ نہ ہو کبھی\nمٹ جائے کائنات مگر تب ہو اندمال\nتر ہوگئی ہے بس کہ لہو میں گل زمیں\nگر خشک ہووے خاک کہیں بعد ماہ و سال\nہو پھر گذار باد صبا سے یہ واں کا رنگ\nاڑتا ہے جیسے ہولی کے ایام میں گلال\nمیلان طبع مطلع ثالث کی اور ہے\nتا خیر پر قصیدۂ غرا کا ہو مآل\n\nمطلع ثالث\n\nلائق تری صفت کے صفت میری ہے محال\nآشفتہ طبع شاعر خستہ کی کیا مجال\nتو وہ در مدینۂ علم علیم ہے\nجس شخص کو نہ آوے الف بے تے دال ذال\nآوے تری جناب مقدس میں ایک دم\nکرتے ہیں واں تو وقف سبھی طرز کے مقال\nعالم ہو اس قدر کہ بیاں کیا کرے کوئی\nپھر بحث اس سے عقل فلاطون پر ہے دال\nلیتے ہیں تیرے در سے گدا پوست تخت فقر\nپاتے ہیں تیرے در سے شہا مکنت و جلال\nجب تک جیوں میں دل میں مرے آرزو ہے یہ\nہوں سر سے تیرے زائر درگہ کا پائمال\nپھر بعد مرگ حوض پہ کوثر کے یا علیؓ\nجاگہ مری ہو حشر کی تیری صف نعال\nجب ہوں میں گرم راہ ترے سائے میں شہا\nہوجائے سرد آتش دوزخ کی اشتعال\nجب تک جیے گا محو ثنا ہی رہے گا میرؔ\nہے تیری منقبت سے نپٹ اس کو اشتغال\nہوئے حرام تیرے محبوں کو درد و غم\nشمشیر دوستاں پہ ہو خون عدو حلال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%B6%DB%92%D9%B0_%D8%93_%28I%29"} {"title": "در مدح حضرت علی مرتضےٰ ؓ (II)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "غنچے ہو دل پر آتے ہیں اندوہ اب مدام\nپہنچے ہے مجھ کو داغ گل جنگ صبح و شام\nاے کج روش تو نامہ نہ لکھ بھیج مت پیام\nقاصد کا میرے سیدھی طرح سے تو لے سلام\nدل میں نہیں ہے قطرۂ خوں آنکھیں ہیں گی تر\nخالی پڑا ہے شیشۂ مے بھر رہے ہیں جام\nناکامیوں سے کام رکھا میں تمام عمر\nگو کام دل حصول نہ ہو مجھ کو کیا ہے کام\nاے رشک ماہ عید نہ کر انتظارکش\nمکھڑا دکھادے چاند سا ٹک آکے پشت بام\nزنجیر پا ہے اس کی تری زلف غالباً\nمدت ہوئی نسیم نہیں کرتی ابتسام\nچلتا ہے تو تو جاتے ہیں کتنوں کے جی چلے\nآ اب کسو کی مان لے موقوف کر خرام\nآوارگی سے دل ہی کی آسودگی کو چھوڑ\nناموس عافیت کو اڑا کیسا ننگ و نام\nگر جانتا مژہ کو تری تیغ کیں تو میں\nدو چار جانیں اور بھی کر لاتا قرض و وام\nرونے کا تار باندھ تفرج نہیں ہے خوب\nہے آنسوؤں کا سلک گہر کا سا انتظام\nاک دم تری گلی میں گیا تھا میں سیر کو\nلبریز بوے خوں سے ہے اب تک مرا مشام\nصیاد نے اسیر کیا مجھ کو پر عبث\nمیں ٹک جیا نہ فرط تپیدن سے زیر دام\nآنکھوں سے اس کی چشم وفا میرؔ ہے غلط\nوحشی ہیں یہ غزال نہ ہوں گے کسی سے رام\nچشم طمع کو سی لے ہما تو کہ جیتے جی\nسرمہ ہوئے ہیں پس کے الم سے مرے عظام\nاے طبع اتنی ہرزہ درائی جرس کی طرز\nاس گفتگو کا فائدہ کہہ حاصل کلام\nیعنی امیر شاہ نجف کی صفت پر آ\nوہ شاہ جس پہ سارے کمالات ہیں تمام\nوہ شاہ ہے کہ بعد نبیؐ کے وہی ہے پھر\nوہ شاہ ہے کہ حق ہے وہی اولیں امام\nگر چاہے دل گرفتہ جہاں میں نہ ہو کوئی\nکر دے یہ تنگ غنچۂ پیکاں کو ابتسام\nورنہ شگفتگی یہ بلاے عظیم ہے\nچھوڑے نہ زخم سینۂ عاشق تک التیام\n\nمطلع ثانی\n\nشاہا ترے گدا کا ہے مشہور احتشام\nشاہان سرفراز ہیں سب اس کے پائے نام\nہو اسپ پر سوار کرے عزم جنگ اگر\nمیدان کارزار میں ادنیٰ ترا غلام\nجو لاں کرے جدھر کو رہے اس طرف نہ خاک\nاڑ جائے خاک ادھر کی جدھر کو پھرے لگام\nپامال اس قدر ہوں کہ معلوم بھی نہ ہوں\nافراسیاب کون ہے رستم ہے یاں کدام\nشمشیر اس کی خرمن اعدا کی ہے جو برق\nآوے جو اس کے ہاتھ میں یک لحظہ بے نیام\nہل جائے اور ٹک صف اعدا کی اور کو\nبے سر ہیں پھر تو مدنظر تک بدن تمام\nیہ بات میں کہوں ہوں نظر کرکے مایؤل\nگر آسماں پہ جائے تہ خاک ہے مدام\nشاہا ترے غلام کے حملے کی کس کو تاب\nگو پہلواں ہزاروں لیے آئے اس پہ سام\nوہ سام بن نریماں کہ اب تک جہاں کے بیچ\nافسانے اس کے زور کے کرتے ہیں دھوم دھام\nایک ایک کو زمین میں دے گاڑ اس سمیت\nتحت الثریٰ کو جائے مع اپنے ازدحام\nطبقہ زمیں کا جائے اکھڑ اس کے زور سے\nچنداں عجب نہیں کہ ہوا ہووے تیرہ فام\nاز بس اڑے ہے خاک جدھر دیکھوں تس طرف\nجاتے ہیں کورچشم تماشائی ہو عوام\nمطلع کروں ہوں اور بھی موزوں میں اس جگہ\nتا ہو بہ خیر و خوبی قصیدے کا اختتام\n\nمطلع ثالث\n\nاے بعد فوت ختم رسلؐ صاحب اہتمام\nوے اولیں امام و سزاوار احترام\nاز بس کہ تیرے نقش سے گم ہیں محرمات\nرسام کھینچے خفت اگر چاہے ارتسام\nعصفور کس شمار میں پر تیرے عدل سے\nگنتی نہیں ہے باز شکاری کی اعتصام\nتو ہے کہ تجھ کو ذات خدا سے ہے ربط خاص\nتو ہے کہ ساری خلق پہ تیرا ہے فیض عام\nتو ہے کہ تیرے مہر کے سائے میں روز حشر\nمحفوظ آفتاب قیامت سے ہوں انام\nہیں سہل تیرے خشم کے آگے خرابیاں\nمشکل یہ ہے کہ ہووے فلک کا نہ انہدام\nچاہے تو اعتدال زمانہ ٹک ایک اگر\nایک ہی ہوا ہے پھر تو جہاں میں علی الدوام\nچاہے اگر تو یہ کہ نہ روپوش ہووے روز\nتہ کرکے شب اٹھا ہی رکھے پردۂ ظلام\nگرمی کرے تنک بھی اعانت تری تو پھر\nآجائے پختگی پہ مرا یہ خیال خام\nیعنی کہ دیکھوں حضرت دہلی کی جا نواح\nمعلوم ہے سواے ترے حاصل کلام\nہرگز نہ ہو حلال عدو پر ترے خوشی\nہووے تمام تیرے محبوں پہ غم حرام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%B6%DB%92%D9%B0_%D8%93_%28II%29"} {"title": "در مدح حضرت علی مرتضےٰ ؓ (III)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "جب سے خورشید ہوا ہے چمن افروز حمل\nرنگ گل جھمکے ہے ہر پات ہرے کے اوجھل\nوقت وہ ہے کہ زبس شوق سے چشم بلبل\nخوبی دلکش گل دیکھنے کو ہو احول\nجوش گل یہ ہے جہاں تک کرے ہے کام نظر\nلالہ و نرگس و گل سے ہیں بھرے دشت و جبل\nلطف روئیدگی مت پوچھ کہ میں شبہے میں ہوں\nسبزہ غلطاں ہے لب جو پہ کہ خواب مخمل\nچشم رکھتا ہے تو چل فیض ہوا کو ٹک دیکھ\nنرگس اگتی ہے جہاں بوئی تھی دہقاں نے بصل\nسیر کر تازگی و خرمی و شادابی\nخشک بھی شاخ نے اب سبز نکالی کوپل\nخون خمیازہ کش عاشقی و پنجۂ گل\nدونوں نکلے ہیں تہ خاک سے اب دست و بغل\nبرگ گل فیض ہوا کرتا ہے ہر اخگر کو\nآگ کی گر کہیں سلگا کے رکھے ہیں منقل\nبیت بحثی کے تئیں مرغ چمن آئے ہزار\nکسو گلبن کے تلے آپ بھی اب پڑھیے غزل\n\nغزل (مطلع ثانی)\n\nنکلے ہے لالہ زبس چاک کر اب سینۂ تل\nآتش گل سے جلا کرتا ہے سارا جنگل\nتیرگی اپنے ستارے کی ہے سب پر روشن\nآفتاب آوے ہے یاں دن کو جلاکر مشعل\nآمد گریہ قیامت ہے اگن میں جی کی\nمارے ڈالے ہے یہ برسات ہماری کی کہل\nغنچۂ خام کو جوں پھونک سے کھولے ہے طفل\nیوں بھی کر دیکھا پہ دل عقدہ ہے مالاینحل\nتو یونہی کھینچے ہے یہ نقش برآب اے منعم\nکیسی محبوب گئیں صورتیں اس خاک میں رل\nجنس دل مفت ہے سینے میں عجب کیا ہے جولے\nغمزے وے دزد ہیں آنکھوں سے چرا لیں کاجل\nشیخ کے قد کی درازی کے تئیں حال میں دیکھ\nیاد آتا ہے جوانوں کے تئیں رقص جمل\nکودنے کو جو اٹھا سر پہ اٹھالی مجلس\nدیکھیے بیٹھے جو پھر اونٹ تو بیٹھے کس کل\nپردے میں دوستی کے میرؔ کا جی تک تو لیا\nمدعی کتنے تھے اس کے یہ محبت بیتل\nکیا ہیں اندھیر فلک کے کہ نہیں ملتی داد\nروز خورشید نکلتا ہے جلاکر مشعل\nجو ہے سو دست بہ دل خاک بسر ہے اس سے\nمیں بھی نکلوں ہوں سدا منھ پہ کف خاک کو مل\nموے سر تک تو عدو دیدۂ شور اس کا ہے\nآج دیکھے کسو سر پر تو اسے چاہے کل\nپنجۂ خور کو زراندود کیا ان نے جسے\nمرتعش باندھے ہیں اکثر شعرا بعضے شل\nسرخ رہتی ہے مژہ خط شعاعی سی ہنوز\nچشم خورشید سے کھوئی نہ کبھو ان نے سبل\nدرد سر میں ہے جو موجود ہے دور اس کے میں\nصبح نکلے ہے سدا ماتھے کو مل کر صندل\nوقت ہے اپنے نصیری کی مدد کا یا شاہ\nروز و شب رہتی ہے اس موذی ہی سے جنگ و جدل\n\nمطلع ثالث\n\nاے کہ اک تو ہی ہوا عالم اسرار ازل\nاے کہ سو جان سے عاشق ہے ترا حسن عمل\nتیری وہ ذات مقدس ہے کہ لیتے ہوئے نام\nمنھ سے ناخواستہ بھی صل علیٰ جائے نکل\nتیری درگاہ میں جبریل کے پر کیوں نہ جلیں\nیہیں ہے نور جلالی خدا عزوجل\nدور ازبس کہ کھنچا عرش سے رتبہ تیرا\nحرف تیرا ہے ترے شیعوں کو وحی منزل\nمرحبا شاہی تری صل علیٰ جاہ ترا\nکہ ہوا تخت ترا دوش نبی مرسلؐ\nفرش ہونا ترے زائر کا سعادت تھی ولے\nکیا کرے چادر مہتاب کہ تھی مستعمل\nوہ نخستیں خرد اے عالم اسرار الٰہ\nمانتے جس کو گئے دہر کے کامل اکمل\nآخر اب آکے ترے درس میں نکتہ یہ کھلا\nناقص محض چلا جائے تھا عقل اول\nجی میں گذرے بھی تو نکلے ہے ترے درس کے بیچ\nمعنی تازہ سے بدلا ہوا لفظ مہمل\nرفع بدعت پہ جب آوے تری طبع اقدس\nکیا عجب شعلۂ آواز سے جل جا نرسل\nلقمۂ ظلم نہیں پچتا عدالت میں تری\nباز نگلی ہوئی چڑیا کے تئیں دے ہے اگل\nحالت نزع میں گر نام زباں پر ہو ترا\nیک رمق جان حیات ابدی سے ہو بدل\nبس کہ غالب ہے ترا سعد ستارہ ہے عجب\nپہنچے گر حشر تلک نوبت شاہی زحل\nکیا ترے کشف بیاں کرنے کی کہیے تاثیر\nطبع گوئندہ پہ یاں حال ہوا مستقبل\nتو غضب ہوئے مبادا کسو اوپر کہ شہا\nمرگ ٹلتی بھی ہے پر ٹلتی نہیں یہ کلول\nتب ہوا دین محمدؐ کا بہ زور شمشیر\nتونے برہم کیے جب کتنے ہی ادیان و ملل\nحبذا حق سے یہ نسبت کہ رہی بھی موقوف\nتجھی پر مصلحت کار خداوند اجل\nسن کے یہ نظم و نسق دہر میں جو تونے کیا\nجمع ہوجاتے ہیں شاعر کے حواس مختل\nکوئی یوں سرکشی سے اپنی کہے کچھ لیکن\nسجدہ ہی کیجے تجھے یہ ہے ترا قدر و محل\nجی میں ہے اور بھی مطلع کے تئیں کریے نمود\nدل کو تسکین نہیں بخشتا وصف مجمل\n\nمطلع رابع\n\nاے کہ طاقت ہے زمانے میں تری ضرب مثل\nپنجۂ زور کے آگے ترے یہ چرخ نبل\nیک طرف میں نے کیا فرض ترے بندے کو\nدوسری سمت کیا جمع عدو کا دنگل\nکشتنی مدعی کی اور کی میں کیسے کہوں\nہر جواں برج سا پھر کوہ کے مانند اچل\nمیان سے جب کہ گھسیٹی ادھر ان نے تلوار\nباعث تیرگی چشم تھی وہ برق اچپل\nدرہمی آگئی یک بار صف اعدا میں\nایک دو ہاتھ کے چلنے میں پڑی یہ ہلچل\nتیرگی بخش جہاں بس کہ ہوا سرمۂ گرد\nچشم خورشید فلک پر تھی مثال مکحل\nرستم و سام جسے فرض کرے تو دل میں\nنعرہ کر سامنے آواز کیا جب اٹکل\nکھل گیا دوش سے لے تاکمر اللہ اللہ\nایک ہی زخم ہے دشمن کے گلے کی ہیکل\nبرہمی کارگہ رزم کی مت پوچھ کہ تھا\nکوہ پر کوہ فلک پر تھی زمیں دل پر دل\nجمع ہو آیا تھا اس ایک پر اک جم غفیر\nاکثر اس میں سے گئے مارے کچھ اک بھاگے دہل\nکرکے سرگوشی جسے پوچھتے ہیں بھاگے ہوئے\nآتی ہے غیب سے آواز ہوا وہ فیصل\nیہ ہے یا خالی ہے میدان مگر اس کی تیغ\nاژدہا تھی کہ گئی خلق کو یک دم میں نگل\nکیا بیاں کیجیے اب لشکر اعدا کی معاش\nمخرج خوں ہے دہاں زخم کا ہے گا مدخل\nچھوٹے ہے زخم سے ہر ایک کے فوارۂ خوں\nہر طرف دشت میں جاری ہے لہو کی جدول\nسرخ تر چشم شجاعاں میں نظر آتی ہے\nخون سے مسلخ قصاب کی خاک مقتل\nکیا لکھوں اسپ سبک سیر کی اس کے تعریف\nادہم خامہ بھی لکھتے ہوئے جاتا ہے اچھل\nجب عناں اس کی اچک لیتا ہے اس کا راکب\nجلدی پویہ میں دکھلاوے ہے کیا کیا چھل بل\nاس فلک سیر کا میدان مقرر ہے گا\nتگ و پو کے لیے اثناے ابد اور ازل\nآگیا اس میں نظر جانا کسو شخص کو تو\nمارتے پل کے گیا اس کو چھلاوا سا چھل\nقابو پانے کے لیے اس کے سوار اس پہ سدا\nکہتے ہیں مدعی اس اسپ کے تیں ماریے چل\nراکب اس کا کرے ہے سن کے تبسم یہ بات\nیعنی ان گیدیوں کے کچھ ہے دماغوں میں خلل\nجان یہ ہے ترے گھوڑے میں کہ تا روز جزا\nگرد کو اس کے نہ پہنچے گی کبھو اس کی اجل\nاک مصور نے اسے دیکھ کے دوڑایا خیال\nدیکھوں اس باد کی مجھ سے بھی سکے شکل نکل\nسر و سینہ کو کمر تک تو بنایا رکھ ہاتھ\nاڑ گیا صفحۂ کاغذ پہ سے چھوتے ہی کفل\nآبلے جیسے ستارے ہیں مرے دل کے بیچ\nبس کہ اس چرخ سیہ رو سے رہا ہوں میں جل\nآج تجھ نیر اعظم کی خلافت کا ہے روز\nداد دے میری کہ دیکھوں میں اسے مستاصل\nصاف ہو زنگ دل میرؔ کہ احباب میں ہے\nواسطے تیرے مخالف کے ہیں تیغیں صیقل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%B6%DB%92%D9%B0_%D8%93_%28III%29"} {"title": "در مدح نواب آصف الدولہ بہادر (I)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "ہوا کیے ہیں زبس شکوۂ فلک تحریر\nسیہ ہے کاغذ مشقی کے رنگ لوح ضمیر\nکروں نہ شکر جفاہاے آسماں کیوں کر\nمری خرابی میں ان نے نہ کی کبھو تقصیر\nدیا ہزاروں کو دست ان نے خانہ سازی کا\nدل شکستہ کو میرے کیا نہ ٹک تعمیر\nجو میں نے چاہا کہ جلد اپنا کام کریے تمام\nتو روسیاہ نے اس کام میں بھی کی تاخیر\nسیا تھا چشم طمع کو میں اک سحر اس پر\nسو جام خون دیا ان نے جاے کاسۂ شیر\nدماغ رفتہ شگفتن سے آشنا نہ ہوا\nکہ اس چمن میں رکھا ان نے غنچۂ دل گیر\nدر قبول سے نومید پہنچی میری دعا\nپھرایا عرش سے نالے کو میرے بے تاثیر\nنہ دیکھا صفحۂ عالم کو میں کہ ان نے رکھا\nہمیشہ اپنا ہی حیران کار جوں تصویر\nبراے یک لب ناں مجھ ضعیف کو ان نے\nہلال وار کیا سارے شہر میں تشہیر\nفلک کے شکوے میں تھا میں کہ ہم نشیں بولا\nکہ اے جوان ستم کشتۂ سپہر پیر\nغزل نہ لطف کی اک تونے میرؔ صاحب کی\nسنی نہ ہم نے کوئی آشیانہ سوز صفیر\nیہ سن کے فکر نے کی مطلع غزل کی فکر\nفلک نے صفحۂ کاغذ پہ جو کیا تحریر\n\nغزل (مطلع ثانی)\n\nہماری یار سے صحبت ہو کس طرح درگیر\nگرہ میں نالۂ آتش فشاں سو بے تاثیر\nسمجھ کے زلف کے کوچہ میں پاؤں رکھیو نسیم\nکہ نکلی ہے یہیں سے راہ خانۂ زنجیر\nہزار قافلے یوں مصر سے چلے لیکن\nکیا نہ ایک نے کنعاں کی سمت کو شب گیر\nکھلا نہ منھ پہ ہمارے کہ ہے زباں پر آہ\nبہ رنگ خامۂ شنجرف خوں چکاں تقریر\nجگر ہے رشک کی جا اس شکار کا تیرے\nکہ صیدگاہ میں پہلے ہی آگیا سرتیر\nجہاں میں اہل جہاں کو ہو کشمکش بن کیا\nکہ ایک تنگ قفس اور جس میں اتنے اسیر\nسفر ہے دور کا درپیش آ ٹک آئینہ رو\nکہ زاد راہ عدم ہو نگاہ وقت اخیر\nنہیں تو دیر محبت کی رسم سے آگاہ\nکرے ہیں کعبے کے سکاں کی بھی یہاں تکفیر\nتمام نالہ ہوں اس بن مگرکہ روز نخست\nکیا تھا تن کا مرے سودۂ جگر سے خمیر\nغزل کو سن کے کہا ہم نشیں نے تجھ سا شخص\nبجا ہو خاک ہو گر پیش آستان وزیر\nوہ آستانہ کہ گویا ہے راستوں کی جبیں\nکرے ہے سجدہ جسے آن کر صغیر و کبیر\nشرف ہے جس سے یہ اس آستاں کو کیسا ہے\nوزیر کہیے کہ فرماں روا ہے کوئی امیر\nغرض جلیس سے شب کو کہ غم شریک جو تھا\nیہ سن کے اے گنہ آمرز اور عذرپذیر\n\nمطلع ثالث\n\nخلل پذیر ہوا ہے دماغ خامۂ میرؔ\nکہ تیری مدح میں کھولا زباں کو کر تقصیر\nتمام قدرت و آصف صفت سلیماں جاہ\nسوار دولت و گنجینہ بخش و دشمن گیر\nفلک شکوہ و ستارہ حشم خدیو جہاں\nترے جلال کو کن لفظوں میں کروں تعبیر\nزہے یہ حشمت و جاہ و جلال و قدرت و زور\nکہ تیرے حکم کے آگے ہے سہل امر خطیر\nترے محرر دفتر کا ہے سدا محتاج\nجہاں میں شہرہ عطارد جو ہے فلک کا دبیر\nزہے علوے مراتب کہ در پہ بار نہ پائے\nہزار بار اگر چرخ مارے چرخ اثیر\n\nشریک مشورۂ کارخانۂ عالم\n\nکیا ہے تجھ کو قضا و قدر ہیں تیرے مشیر\nرواں ہو صبح کا گر مرکب ظفرپیکر\nتو تابہ شام کرے روم و شام تک تسخیر\nکف سخا کی تری ریزش کرم کے حضور\nگیا ہے قطرہ زناں شرمگیں ہو ابر مطیر\nہمم کو تیری بیاں کیا کروں کہ اے ممدوح\nہوئے ہیں خلق ترے بخشنے کو تاج و سریر\nکروں میں عرض سو کیا ہفت گنج خسرو کو\nکہ تیرے بخش دیے کے نہیں ہیں عشر عشیر\nلکھوں سو کیا ترے خدام کی سخاوت کو\nنہ پاوے وقت دہش رتبۂ قلیل و کثیر\nثبات حرف کو تیرے قلم کی کیا لکھیے\nکہے تو خامۂ فولاد سے کیا تحریر\nبرات روزی کسو کی شرف کو دستخط کے\nپہنچتی ہے تو نہیں مٹتی جوں خط تقدیر\nنہیں ہے شہر میں نام و نشان منہیات\nرہی ہے نے کوئی جنگل میں سو براے حصیر\nمزاج رفع پہ بدعت کے ہو تو پھر نہ اٹھے\nصداے نے کا تو کیا ذکر ہے قلم کی صریر\nنسق کو کام تو فرماوے ایک آن اگر\nتو پھر زمانہ قیامت تلک نہ پاوے تغیر\nگیا ہے شور ترے عدل کا جو گردوں تک\nکتاں سے آنکھ جھپکتا رہے ہے بدر منیر\nبغیر غمزۂ خوباں رہا نہیں اب ایک\nجہاں کے پردے پہ اوباش خانہ جنگ و شریر\nجو چاہے تو کہ رہے فرش چاندنی دن کو\nاٹھا کے تہ کرے پردے ظلام کے شب قیر\nکرے ہے قطع امید آپ سے ووہیں دشمن\nسنے ہے مجھ سے تری جب کہ صولت شمشیر\nجو نکلے میان سے تو نامۂ فنا کہیے\nکہ پہنچے جس کو اسے مٹنے سے نہیں ہے گزیر\nرہے تو زخم لگا اس کا بہ نہ ہووے مگر\nفلک زمیں سے ملے تب ہو اندمال پذیر\nنہیں ہے فیل کہ زربفت پوش کوہ ہے وہ\nکروں شکوہ کو اس کے سو کس روش تسطیر\nرواں رکاب میں ہے آسمان زر گویا\nستارے جھول کے ایک ایک آفتاب نظیر\nکمیت خامہ مرے ہاتھ کی ہے ران تلے\nصفت کروں میں سمند وزیر کی تحریر\nکسو کی آنکھ نہ پڑ سکتی تھی چھلاوے میں\nپھرے تھا سطح زمیں پر وہ یوں سپہرمسیر\nنظر جو ایک مصور کی آگیا جاتے\nیہ ان نے ریجھ کے چاہا کہ کھینچئے تصویر\nخیال دور سے دوڑا کے رہ گیا آخر\nہوا نہ گرد میں گردا بھی اس کا شکل پذیر\nسن اس قماش کی مدحت کو مت سمجھیو یہ\nکہ ہے غرض خز و دیبا و پرنیان و حریر\nغرض یہ ہے کہ تری خاک آستان زہے\nکہ اس کے رتبے کو ہرگز نہ پہنچے پھر اکسیر\nوہ آستاں کہ گدا و غنی کا ہے مسجود\nبقیہ عمر کرے صرف اس پہ یہ بھی فقیر\nہمیشہ ساتھ ترے دوستوں کے ہو اقبال\nترے عدو کی سدا مدبری کرے تدبیر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%B5%D9%81_%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%88%D9%84%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AF%D8%B1_%28I%29"} {"title": "در مدح نواب آصف الدولہ بہادر (II)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "رات کو مطلق نہ تھی یاں جی کو تاب\nآشنا ہوتا نہ تھا آنکھوں سے خواب\nلوٹتا تھا سوز غم سے آگ میں\nدل جگر سکتے تھے دونوں جوں کباب\nہر زماں تھی ساتھ اپنے گفتگو\nکیا کروں شہر اور میں دونوں خراب\nتھا کرم شیوہ جنھوں کا اٹھ گئے\nبیٹھے بیٹھے کھینچئے کب تک عذاب\nجایئے کس کے در اوپر کون ہے\nملیے کس سے کون ملنے کا ہے باب\nلے جوانی سے پھرے پیری تلک\nامتحاں میں آگئے سب شیخ و شاب\nناگہاں مجھ سے لگا کہنے سروش\nرہگذر سے لطف کی کر کر خطاب\nہے کریم اب بھی وزیر ابن وزیر\nآصف الدولہ فلک قدر و جناب\nآسماں رتبہ ہے جس کا آستاں\nناز کر طالع پہ جو ہو باریاب\nاس کی ہمت سے سخن کیا سر کروں\nبات کہتے دے در و یاقوت ناب\nاس کے دست و دل کے رشک و شرم سے\nخون ہے دل کان کا دریا ہے آب\nجم حشم انجم سپہ گردوں شکوہ\nمرجع خرد و کلاں عالم مآب\nدست ہمت اس کا گر دربار ہو\nپانی پانی شرم سے ہووے سحاب\nمال کیا ہے ہفت گنج خسروی\nاک ہی کو نواب بخشے ہے شتاب\nفخر سام و رستم اس کی بندگی\nداخل خدام یاں افراسیاب\nجس سحر جرأت سے کھینچی ان نے تیغ\nڈھال رکھے منھ پہ نکلا آفتاب\nرزم کے عرصے میں ہلچل پڑ گئی\nآسماں کے خیمے کی کانپی طناب\nمدعی گر کوہ تھا مارا اکھاڑ\nور زمیں تھا بے سکوں پایا شتاب\nخرمن آسا جل گیا انبوہ خصم\nچل پڑی جو اس کی تیغ برق تاب\nدیو تھے گو معرکے میں بے شمار\nایک ٹھہرا ہو مقابل کیا حساب\nزین رکھا جائے مرکب پر اگر\nراجا پرجا آن کر دابیں رکاب\nزلزلہ پڑ جائے سارے ملک میں\nملک داروں سے کہیں ہاں سرحساب\nمطلع ثانی کی اب مائل ہے طبع\nکفر ہے حرف و سخن سے اجتناب\n\nمطلع ثانی\n\nاے ترے ڈر سے جگر شیروں کے آب\nدشمنوں کو روبہانہ اضطراب\nمدعی کی صف ہے کونجوں کی قطار\nلشکری اس فوج کا ہر اک عقاب\nموج زن جیدھر ہو وہ دریاے فوج\nبستیاں اس سمت کی جیسے حباب\nگرد اس لشکر کی گر ہووے بلند\nپھر زمین و آسماں میں ہے حجاب\nجاوے دشمن جوں سگ پاسوختہ\nوقت گرگ و میش لے منھ پر نقاب\nداوری و منصفی سن دلبراں\nچھوڑ دیں عشاق پر کرنا عتاب\nرفع بدعت چاہے تو پھر کیا مجال\nاٹھ سکے جو نغمۂ چنگ و رباب\nمنع مے ہووے تو پھر قدرت ہے کیا\nجو گلے سے شیشے کے اترے شراب\nبحر کیا ہے جو کرے تہ سے سوال\nکوہ تیرے حلم کا کیا دے جواب\nخوبیاں ہی خوبیاں سر تا قدم\nتب کیا صانع نے تجھ کو انتخاب\nلطف طبع صاحب مجلس کہوں\nیا لکھوں پاکیزہ اس صحبت کا داب\nنکلی مستعمل نہایت ورنہ شب\nچاندنی کی جاے بچھتی ماہتاب\nگر نہ ہو ممدوح علم ظاہری\nپر نہیں ہوتی ہے یہ رائے صواب\nجو کہے تو چاہیے وہ لکھ رکھیں\nحرف ہر یک تیرے منھ کا ہے کتاب\nکر دعا پر میرؔ اب ختم سخن\nتو کہے جو کچھ کرے حق مستجاب\nزیردست اس کے رہیں گردن کشاں\nتا قیامت وہ رہے مالک رقاب\nدوست اس کے جوش زن جیسے محیط\nخاک بر سر مدعی جیسے سراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%B5%D9%81_%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%88%D9%84%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AF%D8%B1_%28II%29"} {"title": "در مذمت آئینہ دار", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "آج سے مجھ کو نہیں رنج و نکال\nجب سے نکلے بال تب سے ہے یہ حال\nموشگافوں کا نہیں ہے نام اب\nمدعی شعر ہیں حجام اب\nان سے کیں اک مو برابر بھی نہیں\nجلف اشرافوں کے ہمسر بھی نہیں\nپر ہوئے سر چڑھ کے یہ موے دماغ\nدود ہو جانے لگے سوے دماغ\nہوگئے گرم سخن تب تو قلم\nورنہ یوں بیہودہ کب نکلا ہے دم\nایسے مونڈے میں نے کتنے بے شعور\nہے حجامت اس بھی فرقے کی ضرور\nیاں نہ سید کچھ ہے نے نائی ہے شرط\nہو کسو کسوت میں دانائی ہے شرط\nسگ کو نجم الدیں کے سرداری ہوئی\nنوح کے بیٹے کی وہ خواری ہوئی\nمیرؔ و مرزاؔ میں حکم ہو ذی خرد\nنے کہ نائی جن پہ سب کا دست رد\nسمجھے مرزاؔ میرؔ کو مرزاؔ کو میرؔ\nنے وہ رگ زن جو نہ سمجھے سیر شیر\nمجھ میں مرزاؔ میں تفاوت ہے بہت\nیاں تانی واں عجالت ہے بہت\nجس جگہ میں نے رکھی منھ میں زباں\nہوتے اس جاگہ جو مرزاؔ بے گماں\nاسترے کانوں میں اپنے باندھ کر\nکب کے اب تک گھس گئے ہوتے ادھر\nان کمینوں کا گلہ کیا کیجیے\nایسے دس پیدا ہوں گر نہ لیجیے\nکہتے ہیں سرگرم بے باکی ہے یہ\nہوں تو ہوں ناپاک کیا پاکی ہے یہ\nلکھیے اس فرقے کے اب تاچند ذم\nخط بناویں ایسا کریے کف قلم\nگرچہ ان کو کہتے ہیں آئینہ دار\nلیک ان کا منھ نہ دیکھیں کاش یار\nصاف قینچی پر انھیں چڑھوایئے\nگر نمدمو اس میں پھر ہوجایئے\nچاہو ہو اس قوم کی کیا شرح حال\nآگے ہی آویں گے جتنے ہوں گے بال\nاک سفید ان کو نہیں چننے کے تک\nہوتے ہیں دشمن یہ کالے بال تک\nکیا کہوں کیسے ہیں اوندھے یہ لچر\nکیجیے اصلاح عائد ہووے شر\nکھرچیں ایسا سر کہ کردیں پائمال\nسیدھیاں جب سن لیں تب لیں الٹے بال\nمعتبر ان کے جو حمامی ہیں اب\nہند میں وہ تیرہ رو شامی ہیں اب\nکوئی لے جائے جو حاجت غسل کی\nچلو چلو پانی پر دیتے ہیں جی\nلعنتیں کرتے ہی گذرے اس کو واں\nغسل میں فرصت تشہد کی کہاں\nبیٹھے جامہ خانے میں کیا غسل کر\nجیب شاگردوں نے واں رکھی کتر\nلیک پھر اجرت کے اوپر جنگ ہے\nلات ہے گالی ہے پھر سرچنگ ہے\nاس سقاوے میں گیا تھا اک حریف\nاس کی فی الجملہ طبیعت تھی ظریف\nدھوکے پاجامہ نہانے بھی گیا\nیک طرف پھر پائے خانے بھی گیا\nغسل کے پیچھے جو منھ گھر کو کیا\nہاتھ نائی کے سوا پیسہ دیا\nنائی نے پوچھا کہ پیسہ یا ٹکا\nدمڑی یہ کیسی ہے میں قرباں گیا\nہنس کے بولا تو نہ بد لے جائیو\nیاں ہگا بھی ہے اسے اٹھوائیو\nچوہڑے نائی ہیں سارے ایک ذات\nان میں ہے بدذات جو ہو نیک ذات\nآیا اک نائی زنانہ سا نظر\nہاتھ میں نلوا لیے بے پا و سر\nمیں کہا آتا ہے نلوا کام کیا\nبولتا ہے آگے سے بدنام کیا\nآلت اس میں لوطیوں کی ڈال کر\nمونڈتے ہیں جھانٹیں اک اک بال کر\nہاتھ میں رکھیے تو شہوت ہو انھیں\nضبط کی شاید نہ طاقت ہو انھیں\nعذر اگرچہ واں تلک بھی یاں نہیں\nلیک اک دن اس میں اپنی جاں نہیں\nدھکے چڑھ جاویں نہ جانے کیسے کے\nجی بھی جاوے واسطے دو پیسے کے\nسن کے اس سے ایسی اچرج بات کو\nمیں کہا لعنت تری اوقات کو\nکاٹیے ان کے تئیں مثل گزر\nپنڈے کے ہلکے ہیں اکثر پاچہ خر\nبعضے بعضے ان میں سے جراح ہیں\nبحر خون و ریم کے ملاح ہیں\nزرد و زنگاری کوئی ڈبہ ہے ساتھ\nحیض کے سے ایک دو لتے ہیں ہاتھ\nموم ڈالیں تیل میں مرہم کریں\nپھر مسیحائی کا دم اس پر بھریں\nپھیر پگڑی بیٹھیں ایسی شان سے\nآئے ہیں گویا ابھی ایران سے\nباپ سے اپنے اگر پیسے نہ پائیں\nداغ کو اس کے جراحت کر دکھائیں\nبعضے بعضے ان میں رعنا ہیں اگر\nسو مشعلچی ہیں بھگت کے بیش تر\nرنڈی گت ناچے یہ اس کا منھ دکھائیں\nپا بہ پا مشعل لیے مجلس میں جائیں\nروشنی لے دوڑتے ہیں وقت شام\nگھورتے ہیں کرکے اندھیارا مدام\nتیل کی کپی لیے خوش ہیں کھڑے\nایک بھڑوے ہوتے ہیں چکنے گھڑے\nلگ چلیں تو ہیں گے جیسے موچنے\nکھائیں جب سر میں لگیں تب سوچنے\nچھیڑیو تو مغز بھی لے جائیں گے\nسر کے تیں سہلا کے بھیجا کھائیں گے\nبے حقیقت ہیں نہیں شایان کار\nصحبت ان سے بگڑی ہے پایان کار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%B0%D9%85%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D8%B1"} {"title": "در مذمت برشگال کہ باراں دراں سال بسیار شدہ بود", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "کیا کہوں اب کی کیسی ہے برسات\nجوش باراں سے بہہ گئی ہے بات\nبوند تھمتی نہیں ہے اب کی سال\nچرخ گویا ہے آب در غربال\nوہی یکساں اندھیر برسے ہے\nآسماں چشم وا کو ترسے ہے\nماہ و خورشید اب نکلتے نہیں\nتارے ڈوبے ہوئے اچھلتے نہیں\nآب بن کوئی بولتا ہی نہیں\nآسماں دیدہ کھولتا ہی نہیں\nچرخ تک ہوگیا ہے پانی جو\nماہ و ماہی ہیں ایک جا ہر دو\nلے زمیں سے ہے تا فلک غرقاب\nچشمۂ آفتاب ہیں گرداب\nخشک بن اب کی بار سبز ہوئے\nموش دشتی کے خار سبز ہوئے\nابر کس کس سیاہ مستی سے\nہوتے جا ہیں بلند پستی سے\nلڑکوں نے کی زمانہ سازی ہے\nخاک بازی اب آب بازی ہے\nابر کرتا ہے قطرہ افشانی\nپانی پانی رہے ہے بارانی\nتنک آبی سے جان مت اغراق\nڈوبنے پر ہے کشتی آفاق\nعقل مینہوں نے سب کی کھوئی ہے\nبات باراں نے یاں ڈبوئی ہے\nکیسا طوفان مینھ چھایا ہے\nزخم دل نے بھی آب اٹھایا ہے\nبیٹھے اٹھتے نہیں ہیں بام و در\nیہ خرابی ہے شہر کے اندر\nسقف آماج بوند پیکاں ہے\nمینھ ہے یاکہ تیر باراں ہے\nجیسے دریا ابلتے دیکھے ہیں\nیاں سو پرنالے چلتے دیکھے ہیں\nابر رحمت ہے یاکہ زحمت ہے\nایک عالم غریق رحمت ہے\nلے گئے ہیں جہان کو سیلاب\nنقشہ عالم کا نقش تھا برآب\nنہ ہے جلسہ نہ ربط یاراں ہے\nشہر میں ہے تو باد و باراں ہے\nروز و شب یاں ہمیشہ جھمکا ہے\nان دنوں رنگ برق چمکا ہے\nبڑی بوندوں کی چوٹ سے ڈریے\nسنگ باراں جہاں ہو واں مریے\nپڑھتے ہیں یار درس حیرانی\nآرسی کے بھی گھر میں ہے پانی\nآدمی ہیں سو کب نکلتے ہیں\nمردم آبی پھرتے چلتے ہیں\nکتے ڈوبے گئے کہاں ہیں اب\nسگ آبی ہی ہیں جہاں ہیں اب\nوسعت آب پوچھ مت کچھ یار\nکوچے موجوں کے ہوگئے بازار\nمعبد اب سارے گرتے آتے ہیں\nزاہد خشک ڈوبے جاتے ہیں\nتھا ٹھہرنا برابر ان کے شاق\nمسجدوں میں کیا ہے استغراق\nمینھ تو یاں لگے ہی رہتے ہیں\nسارے عالم کے کان بہتے ہیں\nغرق ہے چڑیا اور گلہری ہے\nخشکی کا جانور بھی بہری ہے\nمینھ ازبسکہ بہبہا ہے گا\nاک جہاں کو ڈبو رہا ہے گا\nتر ہیں جو خشک اور تروں میں ہیں\nجانیں اک سوکھتی گھروں میں ہیں\nشعر کی بحر میں بھی ہے پانی\nبہتی پھرتی ہے اب غزل خوانی\nلائی بارندگی کی چالاکی\nآب خشک گہر پہ نمناکی\nہے زراعت جو پانی نے ماری\nہوگئی آبخست ترکاری\nآب ہے گا جہاں کے سر تا سر\nخوف سے سوکھتا ہے میوۂ تر\nمست ہو ہوگئے ہیں مست شراب\nغوطے کھاتے پھرے ہیں عالم آب\nمستی ہے اب جو چاہیں سیر آبی\nبط مے تو ہوئی ہے مرغابی\nجتنی قحبائیں خشک تھیں مشہور\nان کی فرجوں سے سیل ہیں محشور\nبھینگ خشتک انھوں کی تھیلا ہے\nیہ خرابہ برے میں پھیلا ہے\nدست غم اس قدر بہ طغیاں ہے\nکہ ہر اک گوشہ بیچ طوفاں ہے\nسیل دیکھے ہیں کوہساراں کے\nلیے کشتی گدا ہیں باراں کے\nجزر و مد جس کا تا فلک جا ہے\nجو ہے تالاب قہر دریا ہے\nہر طرف ہیں نظر میں ابر سیاہ\nپانی ہے جس طرف کو کریے نگاہ\nسیل ہا در رکاب دیدۂ ماست\nچشم تا کار می کند دریاست\nپانی عالم کے تا بہ سر ہے گا\nخشک مغزوں کا مغز تر ہے گا\nخضر کیوں کرکے زیست کرتا ہے\nآب حیواں میں پانی مرتا ہے\nلکھے کیا میرؔ مینھ کی طغیانی\nہوگئی ہے سیاہی بھی پانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%B0%D9%85%D8%AA_%D8%A8%D8%B1%D8%B4%DA%AF%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D9%84_%D8%A8%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%D8%AF%DB%81_%D8%A8%D9%88%D8%AF"} {"title": "در مے خانہ سے دیوار چمن تک پہنچے", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "در مے خانہ سے دیوار چمن تک پہنچے\nہم غزالوں کے تعاقب میں ختن تک پہنچے\n\nہاتھ مے خواروں کے بے قصد اٹھے تھے لیکن\nاتفاقاً ترے گیسو کی شکن تک پہنچے\n\nمدرسے میں کہاں اس زلف کا موضوع جدید\nلوگ پہنچے تو روایات کہن تک پہنچے\n\nراستہ ایک تھا ہم عشق کے دیوانوں کا\nقد و گیسو سے چلے دار و رسن تک پہنچے\n\nآئیں ہم دست درازی پہ تو میخانے سے\nسلسلہ انجمن سرو و سمن تک پہنچے\n\nاک قبائے سبک و تنگ میں سو سو ہیں طلسم\nکیا کوئی حسن کے اسرار کہن تک پہنچے\n\nآپ ہی آپ جو کھل جائے تری زلف دراز\nناگہاں بے ہنری نقطۂ فن تک پہنچے\n\nاے سخن فہم ہم اس بزم سے آئے ہیں جہاں\nحیرت آئینۂ اسلوب سخن تک پہنچے\n\nاس طرح شوق غزالاں میں غزل خواں ہو ظفر\nشہرت مشک غزل شہر ختن تک پہنچے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%AA%DA%A9_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%92"} {"title": "در پر مظلوم اک پڑا روتا ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "در پر مظلوم اک پڑا روتا ہے\nبچارا بلا میں مبتلا روتا ہے\nکہتا ہے وہ شوخ تال سم ٹھیک نہیں\nکیا اس کی سنوں کہ بے سرا روتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%D8%B8%D9%84%D9%88%D9%85_%D8%A7%DA%A9_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "در پردہ ستم ہم پہ وہ کر جاتے ہیں کیسے", "poet_page": "مصنف:کرامت علی شہیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "در پردہ ستم ہم پہ وہ کر جاتے ہیں کیسے\nگر کیجے گلہ صاف مکر جاتے ہیں کیسے\n\nآنے میں تو سو طرح کی صحبت تھی شب وصل\nدیکھیں گے پر اب اٹھ کے سحر جاتے ہیں کیسے\n\nرنجش کا مری پاس نہیں آپ کو مطلق\nبرہم تجھے ہم دیکھ کے ڈر جاتے ہیں کیسے\n\nغصہ میں نیا رنگ نکالے ہیں پری رو\nجوں جوں یہ بگڑتے ہیں سنور جاتے ہیں کیسے\n\nاس صاحب عصمت کو یہی سوچ ہے ہر صبح\nبے وجہ مرے بال بکھر جاتے ہیں کیسے\n\nایام مصیبت کے تو کاٹے نہیں کٹتے\nدن عیش کے گھڑیوں میں گزر جاتے ہیں کیسے\n\nوو وقت تو آنے دے بتا دیں گے شہیدیؔ\nبن آئے کسی شخص پہ مر جاتے ہیں کیسے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%85_%D9%BE%DB%81_%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92"} {"title": "در پہ اس شوخ کے جب جا بیٹھا", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "در پہ اس شوخ کے جب جا بیٹھا\nیار سب کہتے ہیں اچھا بیٹھا\n\nخوبیٔ قسمت قاصد دیکھو\nپاس اس شوخ کے کیا جا بیٹھا\n\nہے حباب لب دریا انساں\nجب ذرا سر کو اٹھایا بیٹھا\n\nضعف پیری سے بنا نقش قدم\nمیں وہیں کا ہوا جس جا بیٹھا\n\nصورت باد رہا سر گرداں\nخاک کی طرح میں اٹھا بیٹھا\n\nپاؤں پھولے جو ترے کوچے میں\nکاٹ کے دست تمنا بیٹھا\n\nبحر ہستی میں حبابوں کی طرح\nسیکڑوں بار میں اٹھا بیٹھا\n\nکب سے تیرا فلک شعبدہ باز\nدیکھتا ہوں میں تماشا بیٹھا\n\nسامنے کس کے جھکایا سر کو\nکس لئے شیخ تو اٹھا بیٹھا\n\nنہ تو نالہ ہے نہ افغاں اے دل\nکس لئے چپ ہے اکیلا بیٹھا\n\nخواب سیر چمن عالم ہے\nکیا دل زار ہے پھولا بیٹھا\n\nدامن دل پہ لگا داغ جنوں\nملک پر عشق کا سکہ بیٹھا\n\nنقد دل تھا جو بضاعت میں مری\nعشق میں اس کو بھی کھو کھا بیٹھا\n\nجو گیا ملک عدم کون گیا\nاس کے کوچے میں جو بیٹھا بیٹھا\n\nدل کو ہے جذبۂ الفت شاید\nبک رہا ہے جو اکیلا بیٹھا\n\nچل بسے منتہیؔ سب یار ترے\nتو یہاں کرتا ہے اب کیا بیٹھا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%AC%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "در پہ تیرے پکار کی فریاد", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "در پہ تیرے پکار کی فریاد\nسمع تو نے نہ یار کی فریاد\n\nنہیں سنتا ہے لالہ رو میرا\nاس دل داغ دار کی فریاد\n\nآہ سنتا ہے کب وہ رشک بہار\nہم نے گو اب ہزار کی فریاد\n\nدیکھ اس رشک گل کو جوں بلبل\nمیں نے بے اختیار کی فریاد\n\nہجر میں تیرے میری آنکھوں نے\nرو رو جیوں آبشار کی فریاد\n\nروز سنتے ہیں ہم خزاں میں آہ\nبلبلوں سے بہار کی فریاد\n\nشرر گرم عشق پر جل کے\nدل نے اسپند وار کی فریاد\n\nکون سنتا ہے کس سے جا کہیے\nاس دل بے قرار کی فریاد\n\nنالۂ زار کو مرے سن کر\nنے نیں ہو دل فگار کی فریاد\n\nراہ الفت میں میں نے ہو دل چاک\nجیوں جرس بار بار کی فریاد\n\nگل نے بلبل کی سن لی سن تو بھی\nاپنے مہجور زار کی فریاد\n\nاف نہ حلق بریدہ نے کی مرے\nخنجر آب دار کی فریاد\n\nہو گیا خاک پر کسی سے نہ کی\nمیں نے اس شہسوار کی فریاد\n\nکیا جہاں دارؔ عرض کرتا ہے\nسنیو اس خاکسار کی فریاد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "در پہ رہے یہ دیدۂ گریاں تمام عمر", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "در پہ رہے یہ دیدۂ گریاں تمام عمر\nلیکن بجھی نہ آتش ہجراں تمام عمر\n\nڈالا ہے اس کو جذب محبت نے چاہ میں\nدیکھا نہ جس نے تھا کبھی زنداں تمام عمر\n\nواقع میں یہ ہے حرف شکایت بھی کیا کہیں\nنکلا نہ کوئی جو مرا ارماں تمام عمر\n\nپامال کو بھی ہم نے کیا اپنا ہم جلیس\nچھانا کیا میں خاک بیاباں تمام عمر\n\nراتوں کو میرے واسطے اٹھتا ہے بار بار\nبھولوں گا درد دل کا نہ احساں تمام عمر\n\nکیا مجھ کو اپنی یاد سے خلقت نے کھو دیا\nسمجھا کیا میں آپ کو انساں تمام عمر\n\nعارفؔ لکھیں ہیں اس میں مضامین انتشار\nہووے گا جمع میرا نہ دیواں تمام عمر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D9%85%D8%B1"} {"title": "در کھلا صبح کو پو پھٹتے ہی مے خانے کا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "در کھلا صبح کو پو پھٹتے ہی مے خانے کا\nعکس سورج ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا\n\nحسن موجوں کا چھلکنا بھرے پیمانے کا\nرقص پریوں کا ہے عالم ہے پری خانے کا\n\nہائے زنجیر شکن وہ کشش فصل بہار\nاور زنداں سے نکلنا ترے دیوانے کا\n\nصدقے اس سوز کے جو سوز ہو اس حسن کے ساتھ\nشعلہ گویا پر پرواز ہے پروانے کا\n\nہوں وہاں غم ہے جہاں ہستئ موہوم مری\nدوسرا نام عدم ہے مرے ویرانے کا\n\nنہ بیاں ہو جو ملے صبح ازل شام ابد\nحشر ہے بیچ کا ٹکڑا مرے افسانے کا\n\nپردہ بھی بات بھی جلوہ بھی پس دامن برق\nشوخیاں ہیں کہ یہ انداز ہے شرمانے کا\n\nبال کے بدلے نظر آتے ہیں اس میں سو چاک\nعکس آئینۂ دل پر بھی پڑا شانے کا\n\nپیٹ میں خم کے ہے جو کچھ وہ بھرا ہے اس میں\nمنہ نہ کھلوا ارے واعظ مرے پیمانے کا\n\nکیا تصور ہی سے اٹھ جاتے ہیں پردے دل کے\nدل بھی کیا نام ہے ان کے کسی کاشانے کا\n\nرکھتی ہے عالم نو شورش ہنگامۂ عشق\nحشر اک حرف غلط ہے مرے افسانے کا\n\nآپ کے ہار کی کلیوں سے یہ ملنے کا نہیں\nدل ہے مٹی کا نہ گھلنے کا نہ مرجھانے کا\n\nکھنچنے والی کی جھلک دیکھی ہے جب سے ساقی\nدیکھنا منہ مجھے انگور کے ہر دانے کا\n\nپھرتی ہے حشر کے دن آنکھ کے نیچے شب وصل\nہائے انداز وہ اس زلف کے بل کھانے کا\n\nشمع کعبہ رہے محفوظ الٰہی تا حشر\nنام روشن ہے اک اجڑے ہوئے بت خانے کا\n\nنہ ہوا تھی نہ مری آہ عدو تھے وہ تھے\nحال شب کو نہ کھلا شمع کے بجھ جانے کا\n\nلوگ کہتے ہیں کہ ہے زاہد مرتاض ریاضؔ\nرند کہتے ہیں اسے چور ہے مے خانے کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D9%B9%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "در ہجو اکول", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "اک ہے پرخور آشنا بے پیر\nسینہ سوراخ جس سے ہے کف گیر\nصدمنی دیگ ہے شکم اس کا\nنفس اژدہا ہے دم اس کا\nآنت شیطان کی ہے اس کی آنت\nدانت اس کا ہے ہاتھی کا سا دانت\nخستۂ جوع وہ جو آوے نہار\nمنھ ہے گویا کہ زخم دامن دار\nشکل مت پوچھ کھانے کا ہے بلی\nمنھ ہے چھیپوں سے جیسے روٹی جلی\nگال کلچے سے پھر توے سے سیاہ\nکاسۂ سر ہے جیسے اوندھا کڑاہ\nتوند کالی جو کھول جاوے لیٹ\nآہنیں ہے تنور اس کا پیٹ\nراہ مطبخ میں پاوے ہے جو کبھی\nچاٹ جاتا ہے دیگچوں تک بھی\nکھینچے باورچیوں کے کیا کیا ناز\nکتری گئی اس کے چوتڑوں پر پیاز\nکھانا نکلے پر آوے ہے کیسے\nچیل ٹوٹے ہے گوشت پر جیسے\nوقت کھانے کے ہاتھ سے اس کا\nقاب پر نان پنجہ کش گویا\nکیا وہ دوپیازہ کھا کے ہو تازہ\nاک نوالہ ہے ملا دوپیازہ\nگوشت ہانڈی بھرا ہے ختک میں\nہنڈیاں گویا تھیں اس کی خشتک میں\nخام طمعی سے اک کرے ہے آہ\nدیکھ کر شب کو نان ہالۂ ماہ\nنہ ٹلے دیکھ کر وہ قاب پلاؤ\nمنھ ہے منھ بیٹھا گرچہ کھاوے گھاؤ\nکھانے پر جب وہ جی چلاتا ہے\nلاٹھی پاٹھی بھی کھائے جاتا ہے\nنہیں پہنچے جو کھانا کھانے لگ\nہڈیوں پر لڑے ہے جیسے سگ\nبھوکھ کا باولا جو آتا ہے\nلوگوں کو کاٹ کاٹ کھاتا ہے\nدہوں میں دشمنوں سے بھی وہ لئیم\nجائے گھل مل اگر سنے ہے حلیم\nآش بغرا پہ مار بھی کھاوے\nاس میں گو بوغرا نکل جاوے\nکسی مفلس کے گھر جو جاتا ہے\nکچھ نہیں خفتیں ہی کھاتا ہے\nبھوکھ سے جب کہ غصے میں آوے\nبز کوہی کی طرح جھنجھلاوے\nٹھڈیوں کو نگہ سے کھا جاوے\nچنے لوہے کے بھی چبا جاوے\nدہر کا جلنا آگ سے مانوں\nبھوکھ اس کی جلے تو میں جانوں\nنکلے بازار میں وہ جب چربوز\nسر ہی پھوڑے ہے دیکھ کر تربوز\nگھاس پات اور کانس کھاتا ہے\nنیشکر پر وہ بانس کھاتا ہے\nاس کے آنے کی سن کے بازاری\nکرتے ہیں سودوں کی خریداری\nکوئی تختہ کرے ہے دوکاں کو\nکوئی لاوے بلا گزرباں کو\nکنجڑے ڈھانکے ہیں ساگ پات اپنا\nتکتے ہیں بنیے داؤ گھات اپنا\nکہ مبادا ادھر کو آجاوے\nسودے یک سو ہمیں نہ کھا جاوے\nاینٹ پتھر بھی کھا گذر جاوے\nالغرض پیٹ اپنا بھر جاوے\nکیا کیا جینے کے کہیے چکھتا ہے\nلیک پیٹ اس کو مارے رکھتا ہے\nپیٹ اپنا بڑا جو پاتا ہے\nگوہ تک کا بھی جیفہ کھاتا ہے\nوہ قضارا ہوا مرا مہمان\nکھا گئی اس کی میزبانی جان\nگھر میں جو کچھ تھا بیچ منگوایا\nکھانا اس کے لیے میں پکوایا\nکتنا کھانا بیاں کروں تجھ سے\nجس پہ سو میہماں کروں تجھ سے\nمجھ سے تھی روزگار سے ان بن\nخوب کھانا جو تجھ پہ ہے روشن\nچار من گاجروں کا قلیہ تھا\nدہ منی دیگ بیچ دلیہ تھا\nروٹیاں کس قدر بتاؤں میں\nجس کو دوچار سال کھاؤں میں\nچاہ کرکے گرا جو وہ بلاع\nمدد روح اشعب طماع\nکہنے لاگا میں ہوکے بجوالا\nکیا ہوا یاں سے قلیے کا پیالہ\nتھی ابھی روٹیوں کی جیٹ کی جیٹ\nمیں رہا کہتا کھا گیا وہ سمیٹ\nکھانا کوئی اور کیا کہے اس کا\nسارے منھ دیکھتے رہے اس کا\nجب مرے گا وہ بھوکھ کا روگی\nروح توشے کی روٹی میں ہوگی\nکھانے کی بو جو ناک میں پیٹھے\nمر گیا ہووے تو بھی اٹھ بیٹھے\nعقل باور اگرچہ کرتی نہیں\nوہ مرے بھوکھ اس کی مرتی نہیں\nبھوکھے اس کا جو جی نکل جاوے\nگور میں بھی کفن نگل جاوے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%DB%81%D8%AC%D9%88_%D8%A7%DA%A9%D9%88%D9%84"} {"title": "در ہجو شخصے ہیچمداں کہ دعواے ہمہ دانی داشت", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "اس چرخ بے مدار کے کیا کیا کروں گلے\nمیرے جگر میں جیسے ستارے ہیں آبلے\nتنکا سا ان نے جور و جفا کر سکھا دیا\nپھر تس پہ میرے رونے نے مجھ کو بہا دیا\nاس مجمع کمال کے گھر لے گیا بہ زور\nجس کو تمام فنوں میں گویاکہ تھا عبور\nتوحید گر کہے تو وہ حق حق بہت کرے\nایسا بکے کہ بات تصوف میں ڈال دے\nمصروف علم صرف کا تھا ایک اس سے حرف\nپوچھو جو اسم آلہ سے تو بول اٹھے کہ ظرف\nیہ سن کے تم ہنسو ہو تو وہ روکے ایک بار\nکہنے لگے کہ اپنا یہ صیغہ نہیں ہے یار\nکرتا ہو بحث نحو میں جس دم وہ مارگیر\nہر نحو کا ہے لفظ فقط حرف بارگیر\nموضوع اپنا جانتا منطق کو تس اپر\nمحمول ابتدا ہی کو کہتا تھا بے خبر\nوصف حذاقت اس کا بیاں کیجیے تو کیا\nتجویز کرتا دیکھ کے مبطون کو سنا\nفن بیاں میں کیسا ہے تشبیہ کس سے دوں\nعالم کنایہ اس سے کیا ہے میں کیا کہوں\nپوچھو مجاز کی جو حقیقت ہو لاعلاج\nکہنے لگے کہ رات سے پھیکا ملا مزاج\nاور لفظ بھی مزاج ہے ناداں نہ ہے مجاز\nمعنی کہے تو اس کے کہے قصۂ دراز\nپھر معنی پوچھے حکمت و خلط و مزاج کے\nانواع یوں بیاں کرے اس کے علاج کے\nاس کی دوائیں کتنی مقرر ہیں طب کے بیچ\nتعریض ایک ان میں ہے یعنی سیاہ کیچ\nاس کا ضماد کرتے ہیں دوچار روز تک\nپھر استعارہ دیویں ہیں تھوڑا کہ جائے پک\nہذیان معنی اس کا ہوا برطرف جہاں\nپھر وہ مجاز مرسل اسے صبر کر وہاں\nاجمالی معنی یہ کہے آخر کو یہ کہا\nتفصیل کرنے کا تو دماغ اب نہیں رہا\nعلم معانی سے جو کیا ایک دن سوال\nکہنے لگا حقیقت عقلی تو ہے محال\nلیکن مجاز عقلی کو نادان یاد رکھ\nیاں کون پوچھتا ہے دل اپنے کو شاد رکھ\nہے اب فصاحت اور بلاغت سو جانے دے\nیہ دونوں عیب شعر میں اپنے نہ آنے دے\nاک دن سوال علم قوافی سے میں کیا\nکہنے لگا کہ قید نہیں اس میں مطلقا\nتم آب قافیہ نہ کرو لفظ خاک کا\nیا آتش اور باد کا زنجیر و تاک کا\nلیکن مغائرہ ہو مقرر ردیف میں\nآتا ہے یہ کچھ اپنے تو ذہن شریف میں\nپھر شعر وصل و ہجر کے موزون تم کرو\nعرصہ ہوا وسیع جو اب چاہو سو کہو\nدعویٰ بتاؤں کیا ہے انھیں فن شعر کا\nمعنی جو قافیہ کے کوئی پوچھتا تھا آ\nبے علم کرتا قافیہ تنگ اس کی جان پر\nدے مارتا تھا ہاتھوں کو وہ اپنی ران پر\nکہتا تھا ہائے ہائے مرے بعد ہوگا کیا\nان احمقوں کے جینے کے پیچھے تو مر گیا\nپھر تربیت سے ان کی مجھے فائدہ بھلا\nٹوٹے ہے بکتے بکتے انھوں کے لیے گلا\nمرجاؤں گا تو گور پہ میری نہ آئیں گے\nدو کوزے آب کے بھی یہ ہرگز نہ لائیں گے\nلیکن مجھے تو بخل نہیں ہے سنا عزیز\nسنیو تو گوش دل سے اگر ہے تجھے تمیز\nایماں اشارہ رہنے دے کہتا ہوں اب صریح\nاول ہی لفظ کا نہیں ہے قافیہ صحیح\nمیں جو سنا ہے کافیہ ہے چھوٹے کاف سے\nپس پڑھنا تو غلط ہوا اب اس کا قاف سے\nاور اس میں ایک نکتہ بھی کرتا ہوں میں بیاں\nپھر بولا ہائے ہائے نہیں کوئی قدرداں\nورنہ مرے دہن کو جواہر سے پر کرے\nیہ لعل اگلوں ہوں میں مجھے سر اپر دھرے\nبارے وہ نکتہ یہ ہے لگا کہنے کر خطاب\nہے ایک علم جفر میں بھی کافیہ کتاب\nتصحیح صرف ہوچکی اب معنی اس کے سن\nورنہ لگے ہے ذہن میں ان معنیوں کو گھن\nاستادوں سے سنا تھا جو میں نے نہیں ہے یاد\nاور اب جہاں کے بیچ نہیں کوئی اوستاد\nہر اک سے پوچھنے کو نہیں چاہتا ہے جی\nلائق نہیں جو پوچھیے اب قافیہ روی\nیہ کہہ کے بولا آپ ہی کہنے کا کیا حصول\nاس معنی کو کہے یہ مرے کیجیو قبول\nاس شخص کا جو حدث ہے سو یہ ہے میرے یار\nہرچند اس کو گوز شتر جانے سب دیار\nپر دید کر کہوں ہوں بنابر میں احتیاط\nحرف غلط کا تانہ ہو معنی سے اختلاط\nیا پھل ہے وہ سنا کا جو لگتا ہے جھاڑ میں\nیا کاہ خشک ہے جو اگے ہے پہاڑ میں\nگر پوچھتا کوئی کہ کسے کہتے ہیں روی\nکہتا روی غلط ہے مجھے یاد ہے ردی\nپھر جاکے کھول جد کی اپنے کتاب کو\nکہتا مرے قیاس میں آتا ہے ہو نہ ہو\nاغلب کہ اے عزیز وہ جنگل کی ہے جڑی\nہوتی ہے جس کی بیل ببولوں اپر پڑی\nاک دن بدیع میں جو اسے امتحاں کیا\nاک بار باز سامنے اس نے دہاں کیا\nکر جمع قلب مستوی و قلب بعض کو\nکہنے لگا کہ عکس ہے اکثر کہاں ہے دو\nحالانکہ تین صنعتیں کی جاتیاں بیاں\nاور ایک سمجھا ان کے تئیں ایسے ہیں کہاں\nپوچھا جو اس سے معنی ایہام کے تئیں\nدینے لگا نشاں مجھے اک نام کے تئیں\nیعنی تھا ایک وقت میں اک پہلوان زور\nدو انگلیوں سے ان نے اکھاڑے تھے شاخ گور\nبہرام گور اس ہی کو کہتے ہیں سب عوام\nدرگور یہ تمام کہ کتنے ہیں ناتمام\nتجنیس کا سوال کیا اس سے ایک روز\nکہنے لگا اس اسپ کو کہتے ہیں جو ہو یوز\nنادان تونے اسپ مجنس نہیں سنا\nمشتق اسی سے جانے ہے جو ہے پڑھا گنا\nلاتے جہاں ہیں شعر میں تجنیس شاعراں\nمذکور ان سے ہوتے ہیں گھوڑوں کے وصف واں\nمیں نے کہا کہ کہتے ہیں تم کو عروض داں\nبحر رمل کی مجھ سے حقیقت کرو بیاں\nبولا کہ تیری عقل سے آتا ہے بس عجب\nدریا کا ایک نام ہے پھر کیا کہوں سبب\nپھر میں کیا سوال بصد انکسار و عجز\nبحر طویل بحر مدید اور بحر رجز\nان میں جو ہے گا فاصلہ مجھ کو بتایئے\nکامل سے مل کے حیف ہے ناقص جو جایئے\nبولا کہ تجھ کو عقل نہیں تاکجا کہوں\nیوں تربیت میں تجھ سے کی میں کب تلک رہوں\nیہ تینوں رودخانے ہیں دہر بسیط میں\nملتے ہیں رفتہ رفتہ سبھی جا محیط میں\nپھر آپھی آپ بولا کہ اک اور افادہ سن\nگر قابل اپنے ہونے کی دل میں رکھے ہے دھن\nبحر طویل ایک ہے دریا بہت بڑا\nبحر خفیف ایک ہے پاس اس کے آبنا\nتمثیل اس کی ڈھونڈنے اب جایئے کہاں\nجمنا کے پاس جیسے ہے ہینڈن تمھارے ہاں\nتشریح میں بھی ایک تھا وہ تلخ بے مثال\nہر استخواں کو کہنے لگا نیم کی ہے چھال\nتاریخ داں تھا قطع نظر سب کمال کے\nکرتا سخن ضرور ہے نبیوں کے حال کے\nکہنے لگا تمھارے پیمبر کے عہد میں\nتاریخ میں جو دیکھا تو عیسیٰ تھا مہد میں\nیکبارگی غصا اٹھے دجال کے اپر\nپھر تب سے مجھ کو علم نہیں ہے کہ ہیں کدھر\nعلم نجوم میں بھی بڑا تھا اسے کمال\nشاید کہ اس ستارے کا ہے گا حمل وبال\nاک دن کیا سوال شہان سلف سے میں\nپرویز کے انھوں میں خصوصاً خلف سے میں\nاس نے کہا کہ خوب کہا طرفہ نقل ہے\nرکھتا ہے حافظہ میں اسے جس کو عقل ہے\nامرد تھا ایک ان دنوں شیریں تھا اس کا نام\nیہ اس کی دشمنی میں ہوا یوں ہی تلخ کام\nیہ سن کے مارا خسرو پرویز نے اسے\nبے دم کیا ہے خنجر تبریز نے اسے\nہے ماجرا یہی جو کہے کوئی کیا ہے کہہ\nاور شعر جو زباں سے پڑھا اپنی سو ہے یہ\nاز آب زر بہ خنجر شیرویہ نقش بود\nکیں را نسب بہ تیشۂ فرہاد می رسد\nگنتا تھا خوب آپ کو علم حساب میں\nلیکن بیاں وہ کرتا نہیں جو کتاب میں\nکہتا تھا جفت پانچ کا ہوتا ہے کر شمار\nگر دیکھیے تو اس کو وہ ہووے ہزار بار\nپھر طرفہ ہے یہ کہتا اگر ہے نہ چار طاق\nپس کیوں لکھا لغت میں عناصر کو چار طاق\nعلم لغت میں عمر بھی اس کی ہوئی تھی صرف\nکرتا سوال اس سے جو جاکر میں ایک حرف\nمثلاً کہا کہ نخل ہے کیا اس کو کر بیاں\nوہ در جواب اس کے وہیں کھول کر زباں\nبولا کہ اک جزیرۂ سمت فرنگ کو\nمارا تھا ان فرنگیوں نے اس نہنگ کو\nاب خاک سے نہنگ کی واں اک نہال ہے\nشیر و پلنگ کا وہ سدا پائمال ہے\nاس کے ثمر کو بعض تو کہتے ہیں تاڑ پھل\nبے مغزوں کا جو فرقہ ہے کہتا ہے ناریل\nکہتا ہے کوئی مکہ کا خرما ہے اس کا بیج\nاک کہتے ہیں فرنگ میں ہے ایک بادلیج\nجس کی صدا سے گوش صدف بحر میں ہے کر\nصدمہ سے جس کے ٹوٹ گئی کوہ کی کمر\nیہ کچھ لکھا ہے ساری لغت کی کتابوں میں\nزبدہ ضریری شرح وقایہ کے بابوں میں\nتحقیق اپنی یہ ہے کہ ہے نخل اصل حرف\nتصحیف ہوگئے سے جو ہوتا ہے خ سے خرف\nوہ نخل کیا کہ جانور و چارپایہ ہے\nدم اتنی لمبی ہے کہ وہی سر کا سایہ ہے\nسوداگر اس سے بار کریں ہیں چنار کو\nاس پر بناتے ہیں گے رہوں میں منار کو\nسر کے میں اس کے بالوں کا بھی کرتے ہیں اچار\nاس ہی کو کہتے ہیں گے مدائن میں سوسمار\nیہ کہہ کے آپھی بولا بآں ریش اور فش\nآتا ہے جوکہ اپنے تئیں سو ہے پیش کش\nکرتا تھا شہ کمانی میں اپنے تئیں دخیل\nزاغ کماں کو دیکھ کے کہتا کہ ہے یہ چیل\nدعویٰ تھا علم تیر میں اس کو بہت بڑا\nپر لے کے لیس ہاتھ میں ہوتا جو وہ کھڑا\nپھر دیکھ بھال اس کو وہ کہتا کہ مجھ کو بھی\nمعلوم کیا ہے خوب ولیکن یہ ہے وہی\nجب سوکھتا ہے اس کی سلاخوں کا کر خمیر\nچاکوں اپر کمھار بناتے ہیں لیس و تیر\nغرہ تھا ڈھولک اپنی بجانے پہ اور کبھو\nآتا جو کوئی ہاتھ میں لے اس کے روبرو\nاس پر لگا ٹکور تعجب سے پھر شتاب\nکہتا روئی بھری ہے بہت اس میں داب داب\nآواز خوش کی اس کی گلوسوزی میں نہ بول\nگاتا تو باجتا تھا گلا جیسے پھوٹا ڈھول\nلکڑی بھی پھینکتا تھا بہت خوب سج سے وہ\nہوتا تھا کج بہت جو کھڑا ہوتا دھج سے وہ\nشاگرد اس کا پوچھتا گر اس سے آن کر\nمونڈھے اپر لگاتے ہیں جو وار تان کر\nاس کو اگر کہیں تو کہیں کیا وہ سر اٹھا\nکہتا کڑک وہی ہے جو تجھ کو دیا بتا\nتھا گھوڑے کا بھی خوب مبصر وہ خر ولیک\nاک میرے مہربان تھے گھوڑا تھا ان کا ایک\nگھوڑے کی آنکھ پر تھی رسولی پہ گندہ تر\nرہتی تھی اس کمیت کی وہ حائل نظر\nتشریف لائے ذات شریف اس جگہ کہیں\nواں گھوڑوں کی رسولی کی تھیں باتیں چل رہیں\nکہنے لگا کہ ایک نظر مجھ کو بھی دکھاؤ\nیہ چشم ہے خدا سے کہ اس کا اثر نہ پاؤ\nاس گھوڑے کے سوار کے پھر جی میں آگیا\nکھلوا منگایا تھان سے وہ اسپ انکھ مندا\nلاگا سئیس سامنے اس کے پھر آونے\nاور آنکھ اپنے گھوڑے کی اس کو دکھاونے\nہرچند انکھیاں پھاڑ کے دیکھے یہ ہر کہیں\nاس کو تو پھوٹی آنکھوں سے پر سوجھتا نہیں\nیک چشم دیکھ کہنے لگا نوچ نوچ حلق\nگھوڑے کے موتھرا ہے رسولی کہے ہے خلق\nپھر اس نظرپہ طرفہ تو یہ ہے کہ رو کے خوب\nکہنے لگا کہ تب تو جہاں میں پڑی ہے ڈوب\nشوخی کرے ہے ابلق ایام نابکار\nورنہ پیادے مجھ سے پھریں ایسے ہوں سوار\nجو جو ہوئے ہیں چرخ سے مجھ پر ستم مدام\nجیتا رہا تو میرؔ کروں گا گلے تمام\nاپنی تو بدزبانی نہ تھی خامے کا شعار\nپر یہ بھی ہے جریدۂ عالم میں یادگار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%DB%81%D8%AC%D9%88_%D8%B4%D8%AE%D8%B5%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%86%D9%85%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D8%B9%D9%88%D8%A7%DB%92_%DB%81%D9%85%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AF%D8%A7%D8%B4%D8%AA"} {"title": "در ہجو عاقل نام، ناکسے کہ بہ سگاں انسے تمام داشت", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "اک جو لچر کو رزق کی وسعت سی ہوگئی\nتنگی کی حوصلے نے تو رجعت سی ہوگئی\nکتوں کے ساتھ کھانے لگا کتوں سے معاش\nچچڑی کی طرح شام و سحر کتوں کی تلاش\nپاکیزگی طبع و لطافت وہ برطرف\nکتا بغل میں مارے لگا پھرنے ہر طرف\nدتکارو کتے کو تو لہو اپنا وہ پیے\nہے اس کی استخواں شکنی کتوں کے لیے\nیا جھوٹے ہاتھ کتے کو مارا نہ تھا کبھی\nیا کتوں سے چٹایا ہے اب اپنے منھ کو بھی\nآیا جو ایک روز وہ بے تہ چلا ہوا\nکتا ازار اس کے سے نکلا بندھا ہوا\nیک سگ گزیدہ کی سی طرح جھومنے لگا\nپھر کھول اس کے منھ کے تئیں چومنے لگا\nایسی بھی ہم نے دیکھی نہیں کتوں کی ہوس\nگردن میں اپنے ڈالے پھرے روز و شب مرس\nٹکڑا ہوجس کے ہاتھ میں یہ اس کا یار ہے\nجیسے سگ سراے سگ ہر سوار ہے\nکتوں کی جستجو میں ہوا روڑا باٹ کا\nدھوبی کا کتا ہے کہ نہ گھر کا نہ گھاٹ کا\nتھکتا ہے پھر جو کرتے ہوئے دوڑ اور دھپاڑ\nلیتا ہے بے دماغ ہو لوگوں کے کپڑے پھاڑ\nجو ہڈیوں پہ لڑتا رہا ہو بسان سگ\nہو آدمیت اس کو بھلا کس مقام لگ\nانساں کو انس کتے سے اتنا ہوا ہے کب\nناپاک اس کو جانے ہیں پاکیزہ لوگ سب\nاصحاب کہف کا بھی جو سگ ہو تو ہے وہ سگ\nنجم الدیں کے بھی کتے کو کتا کہے ہے جگ\nکر سگ تخلص اپنا جو آیا بروے کار\nاکراہ سگ لوند سے کرنے لگا دیار\nرہتے نہیں نفور تو سگ بان بے شعور\nکھاتے میں وہ بھی کہتے ہیں کتے کو دور دور\nکیا جانیے کہ یہ گہہ سگ کیا متاع ہے\nبازار میں جو دیکھے ہے سگ کو سماع ہے\nآدم گری اڑا رکھی حرف و سخن گیا\nدیکھا جو خوب تو سگ دیوانہ بن گیا\nدم لابہ جو دبے تو لگے کرنے بدخصال\nدوڑے وگرنہ کاٹنے کو کتے کی مثال\nکم بخت یک غریب جو مردہ سا پائے یہ\nمرگھٹ کے کتے کی سی طرح پھاڑ کھائے یہ\nور مدعی ہو ٹک بھی قوی دل قوی نصیب\nپھر آگے اس کے سوکھی سی بلی ہے یہ غریب\nرہتا ہے سخت شیفتہ کتوں کے بال کا\nپلا یہ ہے کہے تو کسی کتے وال کا\nکتوں کی لے کے زرد و سیاہ و سپید پشم\nکس کس طرح سے دیکھتا ہے داب داب چشم\nکتوں کے شوق میں جو یہ آتش ہے زیر پا\nکہنا ہے اس کو اب سگ پاسوختہ بجا\nاس کی پلیدی شہرۂ ہر شہر ہی رہی\nکتے کے کاٹے کی سی اسے لہر ہی رہی\nدلی میں تین کتیاں کہیں لے کے پالیاں\nہمسایوں کی جنھوں کے لیے کھائیں گالیاں\nوہ مرگئیں تو دیر رہا روتا غم زدہ\nپشتی کے پیچھے پھر نہ ہنسا ٹک ستم زدہ\nلونگی کا گرم غم جو رہا سوکھ نخ ہوا\nبرفی کی تعزیت میں سگ روے یخ ہوا\nبلی جو پالتا تو بھلا ایک بات تھی\nآئیں میں اس کی دوستی ایماں کے ساتھ تھی\nتوراں کے لوگ ہوویں کہ ہوں اہل اصفہاں\nکتا تو کشتنی ہے سب اسلامیوں کے ہاں\nجس کو خدا خراب کرے پھر وہ کیا کرے\nکیوں کر زباں نکالے نہ جوں سگ پھرا کرے\nآواز دے دے کتوں کو توڑے ہے اپنی جان\nمر جائے گا یہ بھونکتے ہی بھونکتے ندان\nہے بسکہ سگ پرست مرے گا جو یہ دنی\nتوشے میں اس کے ہوگا نہ کچھ غیر سگ کنی\nکتوں کے پیچھے پھرتا ہے گلیوں میں ڈور ہو\nیہ سب ہے اس لیے کہ ہر اک جاے شور ہو\nاس وضع ساختہ کے ہوں احمق فریفتہ\nبہرہ ہے جن کو عقل سے وے کیوں ہوں شیفتہ\nہے اس طرح کے معرکہ گیروں سے پر جہاں\nبہتیرے ایسے کتے نچاتے پھرے ہیں یاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%DB%81%D8%AC%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D9%82%D9%84_%D9%86%D8%A7%D9%85%D8%8C_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%DB%81_%D8%B3%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%AF%D8%A7%D8%B4%D8%AA"} {"title": "در ہجو نااہل مسمیٰ بہ زبان زد عالم", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "سنیو اے اہل سخن بعد از سلام\nچھیڑتا ہے مجھ کو اک تخم حرام\nپر نہیں مرغی کا گرم طیر ہے\nوہم میں شہباز کا ہم سیر ہے\nکام مجھ کو کچھ نہیں ہے اور سے\nبلکہ اس بھی طرز سے اس طور سے\nشاعری کو میری ہوگے جانتے\nتم چنانچہ سب مجھے ہو مانتے\nمیں ہمیشہ سے رہا ہوں باوقار\nکن دنوں تھا ہجو کا کرنا شعار\nگر کنھوں نے کچھ کہا میں چپ رہا\nہجو اس کی ہوگئی اس کا کہا\nکیا ہوا گر چاند پر پھینکے ہیں خاک\nپڑتی ہے ان سب کے منھ پر میں ہوں پاک\nرہیو شاہد کچھ نہیں میرا گناہ\nمدعی بے ہیچ ہے یہ روسیاہ\nتھا تحمل مجھ کو میں درویش تھا\nدردمند و عاشق و دل ریش تھا\nپر کروں کیا لاعلاجی سی ہے اب\nغصے کے مارے چڑھی ہے مجھ کو تب\nایسے کتنے ہیں جو اب شاعر بنے\nمدتوں یہ لونڈے آئے مجھ کنے\nایک باتوں سے مری آدم ہوا\nاک نظر سے شہرۂ عالم ہوا\nایک نے دیواں کی میرے نقل لی\nاس دوانے کی کنھوں نے عقل لی\nایک میرے طرز پر کہنے لگا\nدوسرا پیرو مرا رہنے لگا\nسارے عالم میں ہوں میں چھایا ہوا\nمستند ہے میرا فرمایا ہوا\nدور سے کرتا ہوں بیٹھا سب کی دید\nکوئی سر کھینچو ہے میرا مستفید\nکوئی بے تہ گو نہ جانے میری قدر\nپائیں ہے پائین آخر صدر صدر\nہے گی شخصیت خدا کی اور سے\nہاتھ کب آوے بزرگی زور سے\nایک لچا دے جو اک عمدہ کو بھوگ\nتو اسے کیا کچھ طرف جانیں گے لوگ\nجو بڑے ہیں وے ہی آخر ہیں بڑے\nایسے لچے بہت پھرتے ہیں پڑے\nشہر میں آیا میں بعد از بست سال\nگم تھا یاں سررشتۂ قال و مقال\nکسب جو کرتے تھے یہ فن شریف\nان میں سے کوئی نہ تھا میرا حریف\nکتنے اک نو مشق تھے گرم سخن\nسو بچارے آپھی ناآگاہ فن\nمدعی میرا ہوا یہ بے ہنر\nمردۂ صدسال سا بے نور تر\nکاسہ لیس و مایۂ خبث و حسود\nقلیۂ دہ روز سے بھی بدنمود\nآتے اچھا ہے جو اس کو روک دو\nورنہ منھ دیکھو تو ووہیں اوک دو\nباپ اس کا سخت ناداں نادرست\nکوڑے کی سی گندی بلی قاق و سست\nایک جا آیا شترقد گھر گیا\nواں شتر غمزہ سا مجھ سے کر گیا\nرہ گیا میں پی کے لوہو کا سا گھونٹ\nیعنی دیکھوں بیٹھے ہے کس کل یہ اونٹ\nاس تحمل پر نہ کی مطلق نظر\nخار پہلو کا ہوا ہر جا لچر\nجب لگا ہے ناچنے مستی سے خوب\nتب لیا میں نے قلم کے زیر چوب\nمستی اس کی ساری اب جھڑ جائے گی\nدھوم ساری گلیوں میں پڑ جائے گی\nجب بڑوں سے مار ناہموار کھائیں\nکج خرامی سے تب اپنی باز آئیں\nراہ سیدھا ہو کے چلتا ہے بلے\nاونٹ جب آیا پہاڑوں کے تلے\nاونٹ کی خلقت پہ ہے قدرت کو ناز\nاس کی خلقت کم ہے کیا اے بے نیاز\nہیئت اس کی مضحکہ ہے سوانگ ہے\nجید عوج ابن عنق کی ٹانگ ہے\nسر کے تیں اس کے جو دیکھوں کر نگاہ\nبانس پر اک اوندھی ہانڈی ہے سیاہ\nتیرہ رو مضحک سراپا زور ہے\nدم اگر ہووے تو پھر لنگور ہے\nشکل و صورت دیکھ کر حیراں رہو\nبے گماں سب مل کے لگ لگ ہی کہو\nبیٹھے تو بیٹھا ہے گویا بوتیمار\nآتے جاتے جاویں اس کو جوتی مار\nچال جب چلنے لگے سر جھاڑ کر\nپاؤں کو پہلے رکھے منھ پھاڑ کر\nبال و پر رکھتا نہیں بے پا و سر\nورنہ تھا یہ بھی عجائب جانور\nایک دن بیٹھے تھے یاں ذات شریف\nوارد اس دن ہوگئے کتنے ظریف\nایک بولا دیکھ کر حیران ہو\nیہ جزائر کا کوئی حیوان ہو\nیاں تو ایسا جانور دیکھا نہیں\nسر کہیں ہے پاؤں اس کے ہیں کہیں\nایک کے آیا مکوڑا وہم میں\nایک کے مور سواری فہم میں\nایک نے ہنس کر دیا اس کو ڈھکیل\nاور بولا اے تری قدرت کے کھیل\nکیسا اعجوبہ نیا پہنچا ہے یاں\nچونچ ہو تو ہے شتر مرغ کلاں\nایک بولا کرکے چشمک میری اور\nواہ صاحب جانور پالا ہے زور\nایک دن باہر تو ہو لے کر کھڑے\nیہ اچنبھے یوں نہیں رہتے پڑے\nجائے اس وحشی کا ٹک وسواس بھی\nچوک بھی ہے پاس یہ نسناس بھی\nاس کو یاروں نے غرض کیا کیا کہا\nلیک یہ خر نامشخص ہی رہا\nیہ جو ہے موشک دوان و شور چشم\nموش دشتی چہرہ و شب کور چشم\nبے سبب سرگرم کیں پیہم ہوا\nمستحق لعنت عالم ہوا\nچل قلم اب ہے ارادہ جنگ کا\nپاس کب تک کیجے نام و ننگ کا\nیاں زبردستوں کو دعویٰ کھا گیا\nیہ چھپارستم کہاں سے آگیا\nناقباحت فہم کو دعویٰ پڑا\nہو کے تنکا سا پہاڑوں سے اڑا\nہاتھی کی ٹکر کو ہاتھی ہی اٹھائے\nچیونٹی کا کیا جگر جو منھ پر آئے\nجنگ ہاتھی کی ہو گو اس کو ہوس\nپر اسے ہے موت کا ریلا ہی بس\nایک دھکے میں کہاں وہ کامنی\nپودنے کی سی ہے اس کی ضامنی\nمیں نے پاس اس کا کیا حد سے زیاد\nپر کمی کرتا ہے یہ ابن زیاد\nقبلہ کہتے کہتے ہاجی ہوگیا\nپاس ظاہر چھوڑ پاجی ہوگیا\nرشک شہرت سے مرے مرنے لگا\nمیری عزت کا حسد کرنے لگا\nلگ گئی چپ اس کو میرے شور سے\nیہ نہ سمجھا ہے خدا کی اور سے\nیہ قبول خاطر و لطف سخن\nدے ہے کب سب کو خداے ذوالمنن\nایک دو ہی ہوتے ہیں خوش طرز و طور\nاب چنانچہ میرؔ و مرزاؔ کا ہے دور\nخصمی وہ کریے کہ ہو معقول خلق\nنے انھوں سے جو کہ ہوں مقبول خلق\nدشمنی تھی اس کو مجھ سے کیا ضرور\nحیف ایسی عقل لعنت یہ شعور\nہوں جو میں پرتوفگن تو ہے یہ کیا\nخور کے آگے ذرہ کب ٹھہرا رہا\nخون دل آشام ہیں جو صبح و شام\nوے بھی لیتے ہیں ادب سے میرا نام\nیہ مری رہ کا نہ حائل ہوسکے\nیہ موئی جوں کیا مقابل ہوسکے\nمیں نے الٹی اجگروں کی دم میں صف\nادھ موئی سی چھپکلی کیا ہو طرف\nرکھتی ہے میری شرافت اشتہار\nگو یہ ناسید کہے ہے کیا چمار\nہجو کی جو ان نے میں کیا دب گیا\nبھونکنے پر سگ کے ہاتھی کب گیا\nننگ ہے میری توجہ اس طرف\nحیف ہے میلان دریا سوے کف\nدار و دستہ سے ہے اس کے مجھ کو شرم\nتب تو میں باتیں کروں ہوں نرم نرم\nان عزیزوں کا نہایت پاس ہے\nورنہ یہ ملعون کیا کناس ہے\nجو نہ سمجھا تیغ خامے کی ہے پاس\nکاٹوں گا یوں جس طرح کٹتی ہے گھاس\nجب سے لے آیا قدم اپنا یہ شوم\nتب سے ویراں ہوگئی یہ مرزبوم\nایک بدیمنی ہی ہے گی بوم میں\nلطف وہ پاتے ہیں ہم اس شوم میں\nدیدنی ہے قدرت رب ودود\nایسی اچرج کم ہی ہوتی ہے نمود\nکیا کمی ہے یہ جو عزت کم کرے\nگو نہ شیطاں سجدۂ آدم کرے\nکرتی ہے تعظیم میری کائنات\nلعنت اس پر ہوتی ہے دن اور رات\nیا بلا ہے یہ سمج خایہ گزک\nمیرے دتکارے گئے جھٹ سے دبک\nمیری ہیبت سے نکل جاتا ہے موت\nدشمنی کی ان نے اپنی ماں کی چوت\nبیت کہنا چاہتا ہے سو ہنر\nشاعری سمجھا تھا کیا خالہ کا گھر\nنامبارک ہی نہیں سادہ بھی ہے\nالو ہے اور الو کی مادہ بھی ہے\nعقل سے کس طرح ہووے بہرہ ور\nہے کسو حافظ کا نطفہ پاچہ خر\nپر وہ حافظ جو ہو قرآں خوان قبر\nاس سے لیں کار تلاوت گو بہ جبر\nجھڑ گیا ہووے دماغ اس کا تمام\nپڑھتے پڑھتے شور سے ہر صبح و شام\nوہ خرف جورو سے جا یکجا ہوا\nایسا الو ماخرا پیدا ہوا\nدیکھ کر ان کی خرامی پاے سرو\nایک کوے نے کی تقلید تدرو\nکود کر چلنے لگا آخر کو راہ\nاپنی بھی رفتار بھولا رو سیاہ\nکاشکے ہوویں مخدر شیخ و شاب\nپھٹے سے منھ جو پکارے کا ہے باب\nگوکہ یہ لچپن کرے کیا مال ہے\nآگے میرے جھانٹ کا سا بال ہے\nچاہوں گا جب پھینک ہی دوں گا اکھاڑ\nایسی پشمیں سیکڑوں ڈالی ہیں جھاڑ\nبدنمائی اس کی ہے بے ساختہ\nکیا ہے یاں میش بچہ انداختہ\nدیکھ اسے یاد آوے قدرت کاملہ\nکیا بلا ہے مادہ خوک حاملہ\nگرگ گردن خوک چشم و غوک سر\nغول صحرائی کا بچہ ہے مگر\nچار سکھیاں کہہ کے شاعر ہوگیا\nاس فن مشکل کا ماہر ہوگیا\nباپ کو ان نے بنا رکھا ہے اوت\nہیں کہاں ایسے سعادت مند پوت\nکم ہوا ہے گا جو اس کا زور پا\nجانتا ہے اس کو پیری کا عصا\nکچھ نہیں معلوم اس کو سر کار\nتب تو ٹھہرایا ہے اس کو رازدار\nاس زنازادے نے جو لب وا کیا\nپہلے ماں کا راز ہی رسوا کیا\nایک دن سب کے تئیں جلوا دیے\nیار ماں کے باپ کو دکھلا دیے\nپھر حقیقی باپ سے جاکر ملا\nاس مجازی کا کیا اس سے گلہ\nپیسے اس کے کھاکے جب کٹا ہوا\nیاں کسی تقریب آ پیدا ہوا\nتب سے روز و شب اسی کے ساتھ ہے\nاس خرف کی ڈاڑھی اس کے ہاتھ ہے\nبس قلم نفریں ہے میری بس اسے\nہے دماغ بحث پاجی اب کسے\nرکھ زباں کیدھر گیا تیرا مزاج\nپوچ گو بہتیرے پھرتے ہیں پواج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1_%DB%81%D8%AC%D9%88_%D9%86%D8%A7%D8%A7%DB%81%D9%84_%D9%85%D8%B3%D9%85%DB%8C%D9%B0_%D8%A8%DB%81_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%B2%D8%AF_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85"} {"title": "دراز اتنا مری قید کا زمانہ تھا", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دراز اتنا مری قید کا زمانہ تھا\nکہ وہ چمن نہ رہا جس میں آشیانہ تھا\n\nبہائے اشک جو اس نے یہ اک بہانہ تھا\nکہ خوں بہا کو مرے خاک میں ملانا تھا\n\nبلا سے جان گئی انتظار میں میری\nمجھے تو آپ کا اک وعدہ آزمانا تھا\n\nجفائے چرخ ضروری تھی عشق سے پہلے\nکہ اپنے دل کا مجھے زور آزمانا تھا\n\nاب انتظار تمہارا میں اور کیا کرتا\nہوئی تھی دیر بہت مجھ کو دور جانا تھا\n\nجہاں ہم آج غریب الدیار ہیں ناطقؔ\nاسی دیار میں اپنا غریب خانہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%82%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دراصل کہاں ہے اختلاف احوال", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دراصل کہاں ہے اختلاف احوال\nکچھ رنج نہ راحت نہ مسرت نہ ملال\nقربت ہے نہ بعد ہے نہ فرقت نہ وصال\nیہ بھی ہے خیال اور وہ بھی ہے خیال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%A7%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D9%84%D8%A7%D9%81_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84"} {"title": "دربار1911", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دیکھ آئے ہم بھی دو دن رہ کے دہلی کی بہار\nحکم حاکم سے ہوا تھا اجتماع انتشار\nآدمی اور جانور اور گھر مزین اور مشین\nپھول اور سبزہ چمک اور روشنی ریل اور تار\nکراسن اور برق اور پٹرولیم اور تارپین\nموٹر اور ایروپلین اور جمگھٹے اور اقتدار\nمشرقی پتلوں میں تھی خدمت گزاری کی امنگ\nمغربی شکلوں سے شان خود پسندی آشکار\nشوکت و اقبال کے مرکز حضور امپرر\nزینت و دولت کی دیوی امپرس عالی تبار\nبحر ہستی لے رہا تھا بے دریغ انگڑائیاں\nتھیمس کی امواج جمنا سے ہوئی تھیں ہم کنار\nانقلاب دہر کے رنگین نقشے پیش تھے\nتھی پئے اہل بصیرت باغ عبرت میں بہار\nذرے ویرانوں سے اٹھتے تھے تماشا دیکھنے\nچشم حیرت بن گئی تھی گردش لیل و نہار\nجامے سے باہر نگاہ ناز فتاحان ہند\nحد قانونی کے اندر آنریبلوں کی قطار\nخرچ کا ٹوٹل دلوں میں چٹکیاں لیتا ہوا\nفکر ذاتی میں خیال قوم غائب فی المزار\nدعوتیں انعام اسپیچیں قواعد فوج کمپ\nعزتیں خوشیاں امیدیں احتیاطیں اعتبار\nپیش رو شاہی تھی پھر ہز ہائینس پھر اہل جاہ\nبعد اس کے شیخ صاحب ان کے پیچھے خاکسار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%B11911"} {"title": "درد آ کے بڑھا دو دل کا تم یہ کام تمہیں کیا مشکل ہے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد آ کے بڑھا دو دل کا تم یہ کام تمہیں کیا مشکل ہے\nبیمار بنانا آساں ہے ہر چند مداوا مشکل ہے\n\nالزام نہ دیں گے ہم تم کو تسکین میں کوئی کی نہ کمی\nوعدہ تو وفا کا تم نے کیا کیا کیجئے ایفا مشکل ہے\n\nدل توڑ دیا تم نے میرا اب جوڑ چکے تم ٹوٹے کو\nوہ کام نہایت آساں تھا یہ کام بلا کا مشکل ہے\n\nآغاز سے ظاہر ہوتا ہے انجام جو ہونے والا ہے\nانداز زمانہ کہتا ہے پوری ہو تمنا مشکل ہے\n\nموقوف کرو اب فکر سخن وحشتؔ نہ کرو اب ذکر سخن\nجو کام کہ بے حاصل ٹھہرا دل اس میں لگانا مشکل ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "درد آغاز محبت کا اب انجام نہیں", "poet_page": "مصنف:صفی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد آغاز محبت کا اب انجام نہیں\nزندگی کیا ہے اگر موت کا پیغام نہیں\n\nکیجیے غور تو ہر لذت دنیا ہے فریب\nکون دانہ ہے یہاں پر جو تہ دام نہیں\n\nہے تنزل کہ زمانے نے ترقی کی ہے\nکفر وہ کفر اب اسلام وہ اسلام نہیں\n\nکون آزاد نہیں حلقہ بگوشوں میں ترے\nنقش کس دل کے نگینے پہ ترا نام نہیں\n\nنا رسیدہ ہے ترا میوۂ جنت زاہد\nپختہ مغزوں کو تلاش ثمر خام نہیں\n\nیہی جنت ہے جو حاصل ہو سکون خاطر\nاور دوزخ یہی دنیا اگر آرام نہیں\n\nشعر گوئی کے لیے بس وہی موزوں ہے صفیؔ\nجس کو جز فکر سخن اور کوئی کام نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "درد اپنا میں اسی طور جتا رہتا ہوں", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد اپنا میں اسی طور جتا رہتا ہوں\nحسب حال اس کو کئی شعر سنا رہتا ہوں\n\nاک ہی جا رہنے کا ہے گھر پہ اسی گھر میں آہ\nدل یہ رہتا ہے جدا اور میں جدا رہتا ہوں\n\nبات میں کس کی سنوں آہ کہ اے مرغ چمن\nشور میں اپنے ہی نالوں کے سدا رہتا ہوں\n\nبارے اتنا ہے اثر درد کے افسانے میں\nایک دو شخص کو ہر روز رلا رہتا ہوں\n\nبزم خوباں میں یہ سر گو کٹے رونے پہ مرا\nشمع ساں اشک پر آنکھوں سے بہا رہتا ہوں\n\nآہ و نالہ میں اگر کچھ بھی اثر ہے میرے\nتو میں اس شوخ کو اک روز بلا رہتا ہوں\n\nحسن اور عشق کا کیا ذکر کروں مت پوچھو\nان دنوں زیست سے بھی اپنی خفا رہتا ہوں\n\nدل لگا جب سے مرا آہ تبھی سے جرأتؔ\nکتنی ہی آفتیں ہر روز اٹھا رہتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%D8%B7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "درد اپنا کچھ اور ہے دوا ہے کچھ اور", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "درد اپنا کچھ اور ہے دوا ہے کچھ اور\nٹوٹے ہوئے دل کا آسرا ہے کچھ اور\nایسے ویسے خدا تو بہتیرے ہیں\nمیں بندہ ہوں جس کا وہ خدا ہے کچھ اور", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو\nبندگی حالت سے ظاہر ہے خدا ہو یا نہ ہو\n\nجھومتی ہے شاخ گل کھلتے ہیں غنچے دم بہ دم\nبا اثر گلشن میں تحریک صبا ہو یا نہ ہو\n\nوجد میں لاتے ہیں مجھ کو بلبلوں کے زمزمے\nآپ کے نزدیک با معنی صدا ہو یا نہ ہو\n\nکر دیا ہے زندگی نے بزم ہستی میں شریک\nاس کا کچھ مقصود کوئی مدعا ہو یا نہ ہو\n\nکیوں سول سرجن کا آنا روکتا ہے ہم نشیں\nاس میں ہے اک بات آنر کی شفا ہو یا نہ ہو\n\nمولوی صاحب نہ چھوڑیں گے خدا گو بخش دے\nگھیر ہی لیں گے پولس والے سزا ہو یا نہ ہو\n\nممبری سے آپ پر تو وارنش ہو جائے گی\nقوم کی حالت میں کچھ اس سے جلا ہو یا نہ ہو\n\nمعترض کیوں ہو اگر سمجھے تمہیں صیاد دل\nایسے گیسو ہوں تو شبہ دام کا ہو یا نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "درد جاتا نظر نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد جاتا نظر نہیں آتا\nحال اچھا نظر نہیں آتا\n\nاس خرابات میں خراب نہ ہو\nکوئی ایسا نظر نہیں آتا\n\nتم سے کیا کیا کہوں محبت میں\nمجھ کو کیا کیا نظر نہیں آتا\n\nوہی اندھے ہیں عقل کے جن کو\nعیب اپنا نظر نہیں آتا\n\nدل میں جب تک ہے رشک غیر عزیزؔ\nکوئی تنہا نظر نہیں آتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "درد جوں شمع ملے ہے شب ہجراں مجھ کو", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد جوں شمع ملے ہے شب ہجراں مجھ کو\nکھا گئے رو رو مرے دیدۂ گریاں مجھ کو\n\nنو بہار آئی مبارک ہوئے جوں غنچہ و گل\nخاطر جمع تجھے حال پریشاں مجھ کو\n\nگر دم صبح شہیدان چمن سیر کرو\nتیغ قاتل ہے دم منت احساں مجھ کو\n\nجوں بگھولا ہے مجھے خجلت عصیاں دم فخر\nبال پرواز ہوئے دست پشیماں مجھ کو\n\nآفتاب‌ دل روشن دیا سودا نے مجھے\nصبح ہادی ہوا یہ چاک‌ گریباں مجھ کو\n\nدھن میں اس چشم کی روؤں جہاں نرگس آگے\nسجدہ کرتے ہیں بیاباں میں غزالاں مجھ کو\n\nمشت وحدت ہو بگھولے سا کروں اپنا طواف\nگردش سر ہوا جام مئے عرفاں مجھ کو\n\nدیکھ کر گال ترے زلف کے حلقے سے ہوئی\nمطلع‌‌ صبح وطن شام غریباں مجھ کو\n\nپوچھا قمری سے کسی نے ترا حاضر ہے سرو\nبول کیوں کرتی ہے کوکو کی تو افغاں مجھ کو\n\nتب کہی سرو ڈھونڈوں ہوں میں وفاداری میں\nتن میں رکھتا ہے وفا آ کے جلا جاں مجھ کو\n\nزاغ کو سر پہ بٹھاتے ہیں میں جل کر ہوئی راکھ\nدوزخ اس رشک سے ہے خلد گلستاں مجھ کو\n\nجام دے ساقی نو عزلتؔ کو کہ جاتی ہے بہار\nرووے ہے فصل گل و ابر بہاراں مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D9%85%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "درد دل", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "درد ہے دل کے لئے اور دل انساں کے لئے\nتازگی برگ و ثمر کی چمنستاں کے لئے\n\nساز آہنگ جنوں تار رگ جاں کے لئے\nبے خودی شوق کی بے سر و ساماں کے لئے\n\nکیا کہوں کون ہوا سر میں بھری رہتی ہے\nبے پیے آٹھ پہر بے خبری رہتی ہے\n\nنہ ہوں شاعر نہ ولی ہوں نہ ہوں اعجاز بیاں\nبزم قدرت میں ہوں تصویر کی صورت حیراں\n\nدل میں اک رنگ ہے لفظوں سے جو ہوتا ہے عیاں\nلے کی محتاج نہیں ہے مری فریاد و فغاں\n\nشوق شہرت ہوس گرمیٔ بازار نہیں\nدل وہ یوسف ہے جسے فکر خریدار نہیں\n\nاور ہوں گے جنہیں رہتا ہے مقدر سے گلا\nاور ہوں گے جنہیں ملتا نہیں محنت کا صلا\n\nمیں نے جو غیب کی سرکار سے مانگا وہ ملا\nجو عقیدہ تھا مرے دل کا ہلائے نہ ہلا\n\nکیوں ڈراتے ہیں عبث گبرو مسلماں مجھ کو\nکیا مٹائے گی بھلا گردش دوراں مجھ کو\n\nکیا زمانہ پہ کھلے بے خبری کا مری راز\nطائر فکر میں پیدا تو ہو اتنی پرواز\n\nکیوں طبیعت کو نہ ہو بے خودیٔ شوق پہ ناز\nحضرت ابر کے قدموں پہ ہے یہ فرق نیاز\n\nفخر ہے مجھ کو اسی در سے شرف پانے کا\nمیں شرابی ہوں اسی رند کے میخانے کا\n\nدل مرا دولت دنیا کا طلب گار نہیں\nبخدا خاک نشینی سے مجھے عار نہیں\n\nمست ہوں حب وطن سے کوئی مے خوار نہیں\nمجھ کو مغرب کی نمائش سے سروکار نہیں\n\nاپنے ہی دل کا پیالہ پیے مدہوش ہوں میں\nجھوٹی پیتا نہیں مغرب کی وہ مے نوش ہوں میں\n\nقوم کے درد سے ہوں سوز وفا کی تصویر\nمیری رگ رگ سے ہے پیدا تپ غم کی تاثیر\n\nہے مگر آج نظر میں وہ بہار دل گیر\nکر دیا دل کو فرشتوں نے طرب کے تسخیر\n\nیہ نسیم سحری آج خبر لائی ہے\nسال گزرا مرے گلشن میں بہار آئی ہے\n\nقوم میں آٹھ برس سے ہے یہ گلشن شاداب\nچہرۂ گل پہ یہاں پاس ادب کی ہے نقاب\n\nمیرے آئینۂ دل میں ہے فقط اس کا جواب\nاس کے کانٹوں پہ کیا میں نے نثار اپنا شباب\n\nکام شبنم کا لیا دیدۂ تر سے اپنے\nمیں نے سینچا ہے اسے خون جگر سے اپنے\n\nہر برس رنگ پہ آتا ہی گیا یہ گلزار\nپھول تہذیب کے کھلتے گئے مٹتے گئے خار\n\nپتی پتی سے ہوا رنگ وفا کا اظہار\nنوجوانان چمن بن گئے تصویر بہار\n\nرنگ گل دیکھ کے دل قوم کا دیوانہ ہوا\nجو تھا بد خواہ چمن سبزۂ بیگانہ ہوا\n\nبوئے نخوت سے نہیں یاں کے گلوں کو سروکار\nہے بزرگوں کا ادب ان کی جوانی کا سنگار\n\nعلم و ایماں کی طراوت کا دلوں میں ہے گزار\nدھو گئے چشمۂ اخلاق سے سینوں کے غبار\n\nرنگ دکھلاتی ہے یوں دل کی صفا یاروں میں\nروشنی صبح کی جس طرح ہو گلزاروں میں\n\nکس کو معلوم تھی اس گلشن اخلاق کی راہ\nمیں نے پھولوں کو کیا رنگ وفا سے آگاہ\n\nاب تو اس باغ پہ ہے سب کی محبت کی نگاہ\nجو کہ پودے تھے شجر ہو گئے ماشاء اللہ\n\nکیا کہوں رنگ جوانی میں جو اس راگ کے تھے\nباغباں ہو گئے گلچیں جو میرے باغ کے تھے\n\nگو کہ باقی نہیں کیفیت طوفان شباب\nپھنس کے جنجال میں دنیا کے یہ قصہ ہوا خواب\n\nمست رہتا ہے مگر اب بھی دل خانہ خراب\nشام کو بیٹھ کے محفل میں لنڈھاتا ہوں شراب\n\nنشہ علم کی امید پہ جینے والے\nسمٹ آتے ہیں سر شام سے پینے والے\n\nاور ہی رنگ پہ ہے آج بہار گلشن\nسیر کے واسطے آئے ہیں عزیزان وطن\n\nفرش آنکھیں کئے بیٹھے ہیں جوانان چمن\nدل میں طوفان طرب لب پہ محبت کے سخن\n\nکون ہے آج جو اس بزم میں مسرور نہیں\nروح سرشار بھی کھنچ آئے تو کچھ دور نہیں\n\nمگر افسوس یہ دنیا ہے مقام عبرت\nرنج کی یاد دلاتا ہے خیال راحت\n\nآج یاد آتی ہے ان پھولوں کی مجھ کو صورت\nکھلتے ہی کر گئے جو میرے چمن سے رحلت\n\nچشم بد دور گلوں کی یہ بھری ڈالی ہے\nچند پھولوں کی مگر اس میں جگہ خالی ہے\n\nیہ وہ گل تھے جنہیں ارباب نظر نے رویا\nبھائی نے بہنوں نے مادر نے پدر نے رویا\n\nخاک رونا تھا جو اس دیدۂ تر نے رویا\nمدتوں ان کو مرے قلب و جگر نے رویا\n\nدل کے کچھ داغ محبت ہیں نشانی ان کی\nبچپنا دیکھ کے دیکھی نہ جوانی ان کی\n\nخیر دنیا میں کبھی سوز ہے اور کبھی ہے ساز\nنونہالان چمن کی رہے اب عمر دراز\n\nبھائی سے بڑھ کے مجھے ہیں یہ میرے مایۂ ناز\nمیرے مونس ہیں یہی اور یہی میرے ہم راز\n\nمر کے بھی روح مری دل کی طرح شاد رہے\nمیں رہوں یا نہ رہوں یہ چمن آباد رہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84"} {"title": "درد دل اپنا سنانا چاہئے", "poet_page": "مصنف:سید ہمایوں میرزا حقیر", "kind": "poetry", "section": "غزل > چمنستان فصاحت (1940)", "year": "1940", "text_ur": "درد دل اپنا سنانا چاہئے\nہنسنے والوں کو رلانا چاہئے\n\nکوئے قاتل میں جو ہونی ہو سو ہو\nبے تکلف آنا جانا چاہئے\n\nتیغ ابرو کے شہیدوں کے لئے\nآخری خلعت شہانہ چاہئے\n\nگر قدم رکھنا ہے کوئے یار میں\nزندگی سے ہاتھ اٹھانا چاہئے\n\nکیا کہوں بیدردیٔ صیاد عشق\nاس کے پھندے میں نہ آنا چاہئے\n\nہم جو بیٹھیں تو کہاں جز کوئے دوست\nکوئی اپنا بھی ٹھکانا چاہئے\n\nرنج دے کر خوش نہیں رہتا کوئی\nکیوں کسی کا دل دکھانا چاہئے\n\nقصۂ فرہاد و مجنوں ہو جہاں\nکچھ تو اپنا بھی فسانا چاہئے\n\nدیکھنا ہے گر بہار باغ عشق\nخون کے آنسو بہانا چاہئے\n\nیار کے در کی ہے چھانی جس نے خاک\nاس کو سر پر خاک اڑانا چاہئے\n\nجاگ کے کیوں سو گئے پھر اے حقیرؔ\nکیا تمہیں ہر دم جگانا چاہئے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھا\nآگ صحرا میں لگی اور دھواں گھر سے اٹھا\n\nتابش حسن بھی تھی آتش دنیا بھی مگر\nشعلہ جس نے مجھے پھونکا مرے اندر سے اٹھا\n\nکسی موسم کی فقیروں کو ضرورت نہ رہی\nآگ بھی ابر بھی طوفان بھی ساغر سے اٹھا\n\nبے صدف کتنے ہی دریاؤں سے کچھ بھی نہ ہوا\nبوجھ قطرے کا تھا ایسا کہ سمندر سے اٹھا\n\nچاند سے شکوہ بہ لب ہوں کہ سلایا کیوں تھا\nمیں کہ خورشید جہاں تاب کی ٹھوکر سے اٹھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "درد دل روئیں کس امید پہ بیگانے سے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد دل روئیں کس امید پہ بیگانے سے\nصبح ہونے کی نہیں یاس اس افسانے سے\n\nکوئی اتنا بھی نہیں آپ سے غیبت ہی کرے\nکانٹے پڑتے ہیں زباں میں مرے افسانے سے\n\nدست گستاخ سے ممکن نہیں آرائش حسن\nگیسوئے یار سنورنے کے نہیں شانے سے\n\nدامن باد بہاری ہے گریباں پہ نثار\nآتی ہے بوئے محبت ترے دیوانے سے\n\nپھر وہی کوچہ وہی در وہی سودا وہی سر\nکھینچ لایا ہے یہ دل پھر مجھے ویرانے سے\n\nآج ہی چھوٹے جو کل چھٹتا ہو یہ دیر خراب\nوحشت آباد جہاں کم نہیں ویرانے سے\n\nہوس عالم بالا نے کیا ہے دل تنگ\nروح گھبرا گئی اب جسم کے کاشانے سے\n\nاپنی پرچھائیں سے دیوانوں کو نفرت ہی رہی\nجیتے جی نکلے نہ زنداں کے سیہ خانے سے\n\nحسن معنی کے جو شیدا ہیں ادھر کیا دیکھیں\nصورت آباد جہاں کم نہیں ویرانے سے\n\nجان من معرفت اس حسن کی آسان نہیں\nداد کیا چاہتے ہو تم کسی بیگانے سے\n\nکیفیت سے کبھی خالی نہیں دل مستوں کا\nہو بہ ہو ملتا ہے ساقی ترے پیمانے سے\n\nساقیا دل کی ہوس مٹ نہ سکی پیری میں\nپیاس بجھتی نہیں ٹوٹے ہوئے پیمانے سے\n\nآگ میں کود پڑا دل کی لگی وہ شے ہے\nآتش شوق کو پوچھے کوئی پروانے سے\n\nاور پردے کی ملاقات کرے گی اندھیر\nشمع کیوں چھپتی ہے فانوس میں پروانے سے\n\nناصحا ہے کوئی ایسا کہ سنبھالے مجھ کو\nلڑ گئی آنکھ مری پھر کسی مستانے سے\n\nدور سے دیکھنے کے یاسؔ گنہ گار ہیں بس\nآشنا تک نہ ہوئے لب کبھی پیمانے سے\n\nجام لبریز ہوا ہے کسی مہجور کا آج\nبوئے خوں آتی ہے ساقی ترے پیمانے سے\n\nپہلے سرگوشیاں تھیں چھا گیا اب سناٹا\nبزم میں صبح ہوئی یاسؔ کے افسانے سے\n\nمسند آتش مغفور مبارک ہو یاسؔ\nآئے سناٹے میں غالبؔ ترے افسانے سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D9%BE%DB%81_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92"} {"title": "درد دل میری آہ سے پوچھو", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد دل میری آہ سے پوچھو\nسبب اس کی نگاہ سے پوچھو\n\nمعنئ بے مروتیٔ بتاں\nاس تغافل پناہ سے پوچھو\n\nباعث تیرہ بختیٔ عالم\nاس کی زلف سیاہ سے پوچھو\n\nاس کی تیغ ستم کا شرح و بیاں\nجا کسی بے گناہ سے پوچھو\n\nاس کے مکھڑے کی روشنی کی صفت\nمجھ سے کیا مہر و ماہ سے پوچھو\n\nگریہ و نالہ و فغاں کیوں ہے\nیہ مرے دل کی چاہ سے پوچھو\n\nمحضر حسن و عشق کا قضیہ\nحق ہے شاہد گواہ سے پوچھو\n\nکیا کہیں اوس کا گھر ہے کتنی دور\nتھک گئے ہم تو راہ سے پوچھو\n\nقبلہ حاتمؔ کدھر ہے راست بتا\nجا کے اس کج کلاہ سے پوچھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88"} {"title": "درد دل میں کمی نہ ہو جائے", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد دل میں کمی نہ ہو جائے\nدوستی دشمنی نہ ہو جائے\n\nتم مری دوستی کا دم نہ بھرو\nآسماں مدعی نہ ہو جائے\n\nبیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں\nکہیں زاہد ولی نہ ہو جائے\n\nطالع بد وہاں بھی ساتھ نہ دے\nموت بھی زندگی نہ ہو جائے\n\nاپنی خوئے وفا سے ڈرتا ہوں\nعاشقی بندگی نہ ہو جائے\n\nکہیں بیخودؔ تمہاری خودداری\nدشمن بے خودی نہ ہو جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%85%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "درد دل وہ ہے کہ راحت سے سروکار نہیں", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد دل وہ ہے کہ راحت سے سروکار نہیں\nطاقت صبر نہیں قوت گفتار نہیں\n\nتیغ ابرو کو سنبھالو میں جھکاؤں گردن\nجان دینے سے تو جاں باز کو انکار نہیں\n\nدوں میں کس چیز سے تشبیہ تحیر ہے مجھے\nصورت گل تو مرا زخم دل زار نہیں\n\nکیسی مشکل میں پھنسایا ہے محبت نے مجھے\nبیٹھنا جبر ہے اور طاقت رفتار نہیں\n\nکس لیے میں دل صد چاک رکھوں پہلو میں\nگیسوئے یار کو شانے سے سروکار نہیں\n\nدل وہ کس کا ہے نہیں جو ترے قدموں پہ نثار\nکون ہے وہ جو ترا طالب دیدار نہیں\n\nدہر فانی میں پریشان ہے ساری خلقت\nایسا کوئی ہے جو مجموعۂ افکار نہیں\n\nناخن دشت جنوں دیکھیے کیا کرتا ہے\nدامن و جیب و گریباں میں کوئی تار نہیں\n\nگر وہاں جاؤ جمیلہؔ تو یہ کہنا اس سے\nگو میں کاہیدہ ہوں پر عشق ترا بار نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D9%88%DB%81_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D9%88%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "درد دل پاس وفا جذبۂ ایماں ہونا", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد دل پاس وفا جذبۂ ایماں ہونا\nآدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہونا\n\nنو گرفتار بلا طرز وفا کیا جانیں\nکوئی نا شاد سکھا دے انہیں نالاں ہونا\n\nروکے دنیا میں ہے یوں ترک ہوس کی کوشش\nجس طرح اپنے ہی سائے سے گریزاں ہونا\n\nزندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب\nموت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا\n\nدفتر حسن پہ مہر ید قدرت سمجھو\nپھول کا خاک کے تودے سے نمایاں ہونا\n\nدل اسیری میں بھی آزاد ہے آزادوں کا\nولولوں کے لیے ممکن نہیں زنداں ہونا\n\nگل کو پامال نہ کر لعل و گہر کے مالک\nہے اسے طرۂ دستار غریباں ہونا\n\nہے مرا ضبط جنوں جوش جنوں سے بڑھ کر\nننگ ہے میرے لیے چاک گریباں ہونا\n\nقید یوسف کو زلیخا نے کیا کچھ نہ کیا\nدل یوسف کے لیے شرط تھا زنداں ہونا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%82_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "درد دل کا کسے کروں اظہار", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد دل کا کسے کروں اظہار\nغم ہجرت بہ جان من بسیار\n\nنرگسی چشم کو کہاں پاؤں\nجسے تسکیں ہو خاطر افگار\n\nرکھوں اپنا کفن سلانے کو\nپاؤں گر موئے زلف کا یک تار\n\nباقی ارماں رہا بہ دل افسوس\nجان جاتی ہے یار یار پکار\n\nصنما ظالماں ستا لے آ\nمنتظر کوئی دم رہا بے شمار\n\nدیکھنا دیکھ لے دکھا صورت\nورنہ پھر میں کہاں کہاں تو یار\n\nآفریدیؔ گرا بے چاہ زنخ\nماہ کنعان کی طرح لاچار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D8%B8%DB%81%D8%A7%D8%B1"} {"title": "درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی\nکوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی\n\nکوششیں ہم نے کیں ہزار مگر\nعشق میں ایک معتبر نہ ہوئی\n\nکر چکے ہم کو بے گناہ شہید\nآپ کی آنکھ پھر بھی تر نہ ہوئی\n\nنارسا آہ عاشقاں وہ کہاں\nدور ان سے جو بے اثر نہ ہوئی\n\nآئی بجھنے کو اپنی شمع حیات\nشب غم کی مگر سحر نہ ہوئی\n\nشب تھے ہم گرم نالہ ہائے فراق\nصبح اک آہ سرد سر نہ ہوئی\n\nتم سے کیونکر وہ چھپ سکے حسرتؔ\nنگہ شوق پردہ در نہ ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "درد دل یار رہا درد سے یاری نہ گئی", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد دل یار رہا درد سے یاری نہ گئی\nزندگی ہم سے تو بے لطف گزاری نہ گئی\n\nدن کے نالے نہ گئے رات کی زاری نہ گئی\nنہ گئی دل سے کبھی یاد تمہاری نہ گئی\n\nہم تو خوں گشتہ تمناؤں کے ماتم میں رہے\nسینہ کوبی نہ گئی سینہ فگاری نہ گئی\n\nانتظار آپ کا کب لطف سے خالی نکلا\nرائیگاں رات کسی روز ہماری نہ گئی\n\nبخشوایا مجھے تم نے تو خدا نے بخشا\nنہ گئی روز جزا بات تمہاری نہ گئی\n\nلوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ لیکن\nدن ہمارا نہ گیا رات ہماری نہ گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "درد سا اٹھ کے نہ رہ جائے کہیں دل کے قریب", "poet_page": "مصنف:ہادی مچھلی شہری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد سا اٹھ کے نہ رہ جائے کہیں دل کے قریب\nمیری کشتی نہ کہیں غرق ہو ساحل کے قریب\n\nوجد میں روح ہے اور رقص میں ہے پائے طلب\nدیکھیے حال مرے شوق کا منزل کے قریب\n\nرہ گیا تھا جو کبھی پائے طلب میں چبھ کر\nاب وہی خار تمنا ہے رگ دل کے قریب\n\nاب وہ پیری میں کہاں عہد جوانی کی امنگ\nرنگ موجوں کا بدل جاتا ہے ساحل کے قریب\n\nجذبۂ شوق بھی کچھ کام نہ آیا ہادیؔ\nناتوانی نے بٹھایا مجھے منزل کے قریب", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B3%D8%A7_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8"} {"title": "درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے\nکیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے\n\nتیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ\nتو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے\n\nکیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال\nدشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے\n\nعمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیا\nعمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے\n\nزہر لگتی ہے مجھے آب و ہوائے زندگی\nیعنی تجھ سے تھی اسے نا سازگاری ہائے ہائے\n\nگل فشانی ہائے ناز جلوہ کو کیا ہو گیا\nخاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری ہائے ہائے\n\nشرم رسوائی سے جا چھپنا نقاب خاک میں\nختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے\n\nخاک میں ناموس پیمان محبت مل گئی\nاٹھ گئی دنیا سے راہ و رسم یاری ہائے ہائے\n\nہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہا\nدل پہ اک لگنے نہ پایا زخم کاری ہائے ہائے\n\nکس طرح کاٹے کوئی شب ہائے تار برشگال\nہے نظر خو کردۂ اختر شماری ہائے ہائے\n\nگوش مہجور پیام و چشم محروم جمال\nایک دل تس پر یہ نا امید واری ہائے ہائے\n\nعشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگ\nرہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوق خواری ہائے ہائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "درد عشق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اے دردِ عشق! ہے گُہرِ آب دار تُو\nنامحرموں میں دیکھ نہ ہو آشکار تُو!\nپنہاں تہِ نقاب تری جلوہ گاہ ہے\nظاہر پرست محفلِ نَو کی نگاہ ہے\nآئی نئی ہوا چمنِ ہست و بود میں\nاے دردِ عشق! اب نہیں لذّت نمود میں\nہاں، خود نمائیوں کی تجھے جُستجو نہ ہو\nمنّت پذیر نالۂ بُلبل کا تُو نہ ہو!\nخالی شرابِ عشق سے لالے کا جام ہو\nپانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو\nپنہاں دُرونِ سینہ کہیں راز ہو ترا\nاشکِ جگر گداز نہ غمّاز ہو ترا\nگویا زبانِ شاعرِ رنگیں بیاں نہ ہو\nآوازِ نَے میں شکوۂ فُرقت نہاں نہ ہو\nیہ دَور نُکتہ چیں ہے، کہیں چھُپ کے بیٹھ رہ\nجس دل میں تُو مکیں ہے، وہیں چھپ کے بیٹھ رہ\n\nغافل ہے تجھ سے حیرتِ علم آفریدہ دیکھ!\nجویا نہیں تری نگہِ نا رسیدہ دیکھ\nرہنے دے جُستجو میں خیالِ بلند کو\nحیرت میں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو\nجس کی بہار تُو ہو یہ ایسا چمن نہیں\nقابل تری نمود کے یہ انجمن نہیں\nیہ انجمن ہے کُشتۂ نظّارۂ مجاز\nمقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز\nہر دل مئے خیال کی مستی سے چُور ہے\nکچھ اور آجکل کے کلیموں کا طُور ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "درد فرقت کو کیا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد فرقت کو کیا کرے کوئی\nہائے عادت کو کیا کرے کوئی\n\nدل کی حسرت کو کیا کرے کوئی\nاس مصیبت کو کیا کرے کوئی\n\nپیار کرنے سے عار ہے تو کہو\nاچھی صورت کو کیا کرے کوئی\n\nدوستوں کو تو روکوں شوخی سے\nساری خلقت کو کیا کرے کوئی\n\nچشم و دل سے چھپاؤں درد نہاں\nرنگ صورت کو کیا کرے کوئی\n\nاپنے دل کا تو خون کر ڈالوں\nان کی صورت کو کیا کرے کوئی\n\nان کا فرمان ہے کہ آہ و فغاں\nما بدولت کو کیا کرے کوئی\n\nناصحوں کو سلام بھی کر لوں\nاس نصیحت کو کیا کرے کوئی\n\nآرزو ہے تو خوف بھی کچھ ہے\nپاک نیت کو کیا کرے کوئی\n\nتجھ میں جو بات چاہیے وہ نہیں\nلے کے صورت کو کیا کرے کوئی\n\nوہ خفا ہوں تو میں خطا کر لوں\nچھیڑ حجت کو کیا کرے کوئی\n\nمہرباں ہیں جناب دل اس پر\nایسے حضرت کو کیا کرے کوئی\n\nمیری تقریر میں تو ہے تاثیر\nتیری صحبت کو کیا کرے کوئی\n\nنام بھی ان کا ہم نہیں لیتے\nاب شرارت کو کیا کرے کوئی\n\nاے صفیؔ وہ بگڑ گئے من کر\nتیری قسمت کو کیا کرے کوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "درد منت کش دوا نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا\nمیں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا\n\nجمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو\nاک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا\n\nہم کہاں قسمت آزمانے جائیں\nتو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا\n\nکتنے شیریں ہیں تیرے لب، “کہ رقیب\nگالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا”\n\nہے خبر گرم ان کے آنے کی\nآج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا\n\nکیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟\nبندگی میں مرا بھلا نہ ہوا\n\nجان دی، دی ہوئی اسی کی تھی\nحق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا\n\nزخم گر دب گیا، لہو نہ تھما\nکام گر رک گیا، روا نہ ہوا\n\nرہزنی ہے کہ دل ستانی ہے؟\nلے کے دل، “دلستاں” روانہ ہوا\n\nکچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں\nآج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا!", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%85%D9%86%D8%AA_%DA%A9%D8%B4_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "درد مندوں سے نہ پوچھو کہ کدھر بیٹھ گئے", "poet_page": "مصنف:میر شمس الدین فقیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد مندوں سے نہ پوچھو کہ کدھر بیٹھ گئے\nتیری مجلس میں غنیمت ہے جدھر بیٹھ گئے\n\nہے غرض دید سے یاں کام تکلف سے نہیں\nخواہ ادھر بیٹھ گئے خواہ ادھر بیٹھ گئے\n\nدیکھا ہووے گا مرے اشک کا طوفاں تم نے\nلاکھ دیوار گرے سینکڑوں گھر بیٹھ گئے\n\nکس نظر ناز نے اس باز کو بخشی پرواز\nسینکڑوں مرغ ہوا پھاند کے پر بیٹھ گئے\n\nکم ہے آواز ترے کوچہ کے باشندوں کی\nنالہ کرنے سے گلے ان کے مگر بیٹھ گئے\n\nمفت اٹھنے کے نہیں یار کے کوچہ سے فقیرؔ\nجب کہ بستر کو جما کھول کمر بیٹھ گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%85%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "درد و اندوہ میں ٹھہرا جو رہا میں ہی ہوں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد و اندوہ میں ٹھہرا جو رہا میں ہی ہوں\nرنگ رو جس کے کبھو منہ نہ چڑھا میں ہی ہوں\n\nجس پہ کرتے ہو سدا جور و جفا میں ہی ہوں\nپھر بھی جس کو ہے گماں تم سے وفا میں ہی ہوں\n\nبد کہا میں نے رقیبوں کو تو تقصیر ہوئی\nکیوں ہے بخشو بھی بھلا سب میں برا میں ہی ہوں\n\nاپنے کوچے میں فغاں جس کی سنو ہو ہر رات\nوہ جگر سوختہ و سینہ جلا میں ہی ہوں\n\nخار کو جن نے لڑی موتی کی کر دکھلایا\nاس بیابان میں وہ آبلہ پا میں ہی ہوں\n\nلطف آنے کا ہے کیا بس نہیں اب تاب جفا\nاتنا عالم ہے بھرا جاؤ نہ کیا میں ہی ہوں\n\nرک کے جی ایک جہاں دوسرے عالم کو گیا\nتن تنہا نہ ترے غم میں ہوا میں ہی ہوں\n\nاس ادا کو تو ٹک اک سیر کر انصاف کرو\nوہ برا ہے گا بھلا دوستو یا میں ہی ہوں\n\nمیں یہ کہتا تھا کہ دل جن نے لیا کون ہے وہ\nیک بیک بول اٹھا اس طرف آ میں ہی ہوں\n\nجب کہا میں نے کہ تو ہی ہے تو پھر کہنے لگا\nکیا کرے گا تو مرا دیکھوں تو جا میں ہی ہوں\n\nسنتے ہی ہنس کے ٹک اک سوچیو کیا تو ہی تھا\nجن نے شب رو کے سب احوال کہا میں ہی ہوں\n\nمیرؔ آوارۂ عالم جو سنا ہے تو نے\nخاک آلودہ وہ اے باد صبا میں ہی ہوں\n\nکاسۂ سر کو لیے مانگتا دیدار پھرے\nمیرؔ وہ جان سے بیزار گدا میں ہی ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%88_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "درد وہ تو نے دیا جس کا مداوا نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:نشتر چھپروی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نشتر (1930)", "year": "1930", "text_ur": "درد وہ تو نے دیا جس کا مداوا نہ ہوا\nتیرا بیمار مسیحا سے بھی اچھا نہ ہوا\n\nآپ ہی کہئے کہ یہ غمزۂ بیجا نہ ہوا\nمجھ سے پردہ ہوا اور غیر سے پردا نہ ہوا\n\nبے مروت نہ سہی آپ مگر یہ کیا ہے\nمجھ سے پردہ ہوا اور غیر سے پردا نہ ہوا\n\nآپ کی شرم بھی دنیا سے نرالی نکلی\nمجھ سے پردہ ہوا اور غیر سے پردا نہ ہوا\n\nتو تڑپ اپنی دکھانے تو چلا ہے اے دل\nاور وہ شوخ اگر محو تماشا نہ ہوا\n\nدیکھتے ہی مجھے برسانا یہ پتھر کیسا\nتیرا عاشق نہ ہوا میں کوئی دیوانہ ہوا\n\nوہ شب وصل بھی آئے تو چڑھائے تیور\nبخت برگشتہ مرا آج بھی سیدھا نہ ہوا\n\nمیرے حصے کا نہ ساقی نے بھرا جام اب تک\nاور لبریز یہاں عمر کا پیمانہ ہوا\n\nحور ہو اس بت رعنا کے مقابل توبہ\nواعظو تم کو عطا دیدۂ بینا نہ ہوا\n\nہنس پڑا چپکے سے وہ غنچہ دہن کچھ کہہ کر\nایسا یہ وصل کا وعدہ ہوا گویا نہ ہوا\n\nحیف صد حیف کہ رحم آ ہی گیا قاتل کو\nنہ ہوا شوق شہادت مرا پورا نہ ہوا\n\nہاتھ آیا نہ کبھی وہ گل نخل خوبی\nکبھی سرسبز مرا باغ تمنا نہ ہوا\n\nقابل ذکر تھی کس دن نہ مری رسوائی\nیار کی بزم میں کس دن مرا چرچا نہ ہوا\n\nبخت چمکا نہ کبھی میرے سیہ خانے کا\nمیرا مہمان کبھی وہ بت رعنا نہ ہوا\n\nآنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا مرے لاشے کی طرف\nاس ستم گر سے اتنا بھی تو دیکھا نہ ہوا\n\nچشم ساقی کا تصور ہوا رہبر میرا\nجب روانہ کبھی میں جانب مے خانہ ہوا\n\nسخت جانی نے مری مجھ کو کیا کیا نادم\nحوصلہ یار کی تلوار کا پورا نہ ہوا\n\nلاکھ مارا کیا سر خنجر قاتل نشترؔ\nسخت جانی کا مری بال بھی بیکا نہ ہوا", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AF%D8%A7%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "درد پی لیتے ہیں اور داغ پچا جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد پی لیتے ہیں اور داغ پچا جاتے ہیں\nیاں بلانوش ہیں جو آئے چڑھا جاتے ہیں\n\nدیکھ کر تم کو کہیں دور گئے ہم لیکن\nٹک ٹھہر جاؤ تو پھر آپ میں آ جاتے ہیں\n\nجب تلک پاؤں میں چلنے کی ہے طاقت باقی\nحال دل آ کے کبھو تجھ کو دکھا جاتے ہیں\n\nعشق کا کیونکہ بتاں سے کرے اخفا کوئی\nڈھب سے نظروں میں یہ کافر وہیں پا جاتے ہیں\n\nطرح سوزن کی جو ہیں رشتۂ الفت میں پھنسے\nجس طرف سیر کریں رو بہ قضا جاتے ہیں\n\nکون ہو غنچہ صفت اپنے صبا کا مرہون\nجیسے تنگ آئے تھے ویسے ہی خفا جاتے ہیں\n\nرہیو ہشیار تو لپ جھپ سے بتاں کی قائمؔ\nبات کی بات میں واں دل کو اڑا جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%BE%DB%8C_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D9%BE%DA%86%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "درد کا میرے مداوا وہ کریں یا نہ کریں", "poet_page": "مصنف:وفا لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نغمۂ ہزار (1911)", "year": "1911", "text_ur": "درد کا میرے مداوا وہ کریں یا نہ کریں\nمیں ہوں مشکور دم نزع جو پردا نہ کریں\n\nمے سے لبریز عنایت جو وہ پیمانہ کریں\nواعظا نوش اسے رند کریں یا نہ کریں\n\nعشق صادق جو ذرا اپنا اثر دکھلا دے\nبے حجاب آئیں نظر وہ کبھی پردا نہ کریں\n\nفصل گل آئے بھی صیاد اگر گلشن میں\nہم وہ بلبل ہیں رہائی کی تمنا نہ کریں\n\nتیرے کوچے میں جو مل جائے جگہ مرقد کی\nباغ فردوس کی عشاق تمنا نہ کریں\n\nجلوہ گر دل میں ہے تو جن کے کسی صورت وہ\nرخ حرم کا نہ کریں عزم کلیسا نہ کریں\n\nتیرے کوچے میں میسر ہے جنہیں روز طواف\nکعبے کی سمت وہ بھولے سے بھی سجدہ نہ کریں\n\nاس کا دیدار کسی طرح نہیں ممکن ہے\nشکل آئینہ جو ہم دل کو مصفا نہ کریں\n\nیار بالیں پہ ہے ٹھہریں ملک الموت ذرا\nروح کے قبض کا کچھ دیر ارادہ نہ کریں\n\nدم کا مہمان ہوں دم لب پہ ہے اے جان جہاں\nآپ گھر جانے کا اس وقت ارادہ نہ کریں\n\nمرتے دم نام ترا منہ سے نکل جائے اگر\nپھر نکیرین لحد میں کوئی جھگڑا نہ کریں\n\nدیر و کعبہ تو حقیقت میں ہیں اس کے گھر میں\nباہمی گبر و مسلماں کوئی جھگڑا نہ کریں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%AF%D8%A7%D9%88%D8%A7_%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریں", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریں\nعرض اتنی ہے کہ اس راز کا چرچا نہ کریں\n\nلاکھ غافل سہی پر ایسے بھی ہم کور نہیں\nکہ چمن دیکھ کے ذکر چمن آرا نہ کریں\n\nعقل و دانش سے تو کچھ کام نہ نکلا اپنا\nکب تک آخر دل دیوانہ کا کہنا نہ کریں\n\nوہ نگاہیں عجب انداز سے ہیں عشوہ فروش\nغم پنہاں کو ہمارے کہیں رسوا نہ کریں\n\nتیرے آشفتہ سر ایسے بھی نہیں سودائی\nکہ دل و دیں کے لئے زلف کا سودا نہ کریں\n\nمیں نے بیہودہ توقع کی سزا پائی ہے\nکچھ خیال آپ مری حسرت دل کا نہ کریں\n\nمیرے ارمانوں کو کاش اتنی سمجھ ہو وحشتؔ\nکہ ان آنکھوں سے مروت کا تقاضا نہ کریں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%8C%D9%82%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گی", "poet_page": "مصنف:حکیم محمد اجمل خاں شیدا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گی\nموت آئے گی تو اے ہمدم شفا ہو جائے گی\n\nہوگی جب نالوں کی اپنے زیر گردوں بازگشت\nمیرے درد دل کی شہرت جا بجا ہو جائے گی\n\nکوئے جاناں میں اسے ہے سجدہ ریزی کا جو شوق\nمیری پیشانی رہین نقش پا ہو جائے گی\n\nکاکل پیچاں ہٹا کر رخ سے آؤ سامنے\nپردہ دار حسن محفل میں ضیا ہو جائے گی\n\nجب یہ سمجھوں گا کہ میری زیست ہے ممنون مرگ\nموت میری زندگی کا آسرا ہو جائے گی\n\nانتظار وصل کرنا عمر بھر ممکن تو ہے\nگو نہیں معلوم حالت کیا سے کیا ہو جائے گی\n\nمحتسب اور ہم ہیں دونوں متفق اس باب میں\nبرملا جو مے کشی ہو بے ریا ہو جائے گی\n\nمیں ابھی سے جان دے دوں گا جو راہ عشق میں\nانتہا مجنوں کی میری ابتدا ہو جائے گی\n\nفاش راز دل نہیں کرتا مگر یہ ڈر تو ہے\nبے خودی میں آہ لب سے آشنا ہو جائے گی\n\nباریاب خواب گاہ ناز ہونے دو اسے\nان کی زلفوں میں پریشاں خود صبا ہو جائے گی\n\nمقصد الفت کو کر لو پہلے شیداؔ دل نشیں\nورنہ ہر آہ و فغاں بے مدعا ہو جائے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "درد کی دولت بیدار عطا ہو ساقی", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد کی دولت بیدار عطا ہو ساقی\nہم بہی خواہ سبھی کے ہیں بھلا ہو ساقی\n\nسخت جاں ہی نہیں ہم خود سر و خود دار بھی ہیں\nناوک ناز خطا ہے تو خطا ہو ساقی\n\nسعئ تدبیر میں مضمر ہے اک آہ جاں سوز\nاس کا انعام سزا ہو کہ جزا ہو ساقی\n\nسینۂ شوق میں وہ زخم کہ لو دے اٹھے\nاور بھی تیز زمانے کی ہوا ہو ساقی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D8%B7%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پر", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پر\nدوستو پانی کبھی رکتا نہیں ڈھلوان پر\n\nآج تک اس کے تعاقب میں بگولے ہیں رواں\nابر کا ٹکڑا کبھی برسا تھا ریگستان پر\n\nمیں جو پربت پر چڑھا وہ اور اونچا ہو گیا\nآسماں جھکتا نظر آیا مجھے میدان پر\n\nکمرے خالی ہو گئے سایوں سے آنگن بھر گیا\nڈوبتے سورج کی کرنیں جب پڑیں دالان پر\n\nاب یہاں کوئی نہیں ہے کس سے باتیں کیجیے\nیہ مگر چپ چاپ سی تصویر آتش دان پر\n\nآج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے\nتتلیاں منڈلا رہی ہیں کانچ کے گلدان پر\n\nبس چلے تو اپنی عریانی کو اس سے ڈھانپ لوں\nنیلی چادر سی تنی ہے جو کھلے میدان پر\n\nوہ خموشی انگلیاں چٹخا رہی تھی اے شکیبؔ\nیا کہ بوندیں بج رہی تھیں رات روشندان پر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "درد ہو تو دوا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درد ہو تو دوا کرے کوئی\nموت ہی ہو تو کیا کرے کوئی\n\nنہ ستائے کوئی انہیں شب وصل\nان کی باتیں سنا کرے کوئی\n\nبند ہوتا ہے اب در توبہ\nدر مے خانہ وا کرے کوئی\n\nقبر میں آ کے نیند آئی ہے\nنہ اٹھائے خدا کرے کوئی\n\nتھیں یہ دنیا کی باتیں دنیا تک\nحشر میں کیا گلا کرے کوئی\n\nنہ اٹھی جب جھکی جبین نیاز\nکس طرح التجا کرے کوئی\n\nبوسہ لیں غیر دیں سزا ہم کو\nہم ہیں مجرم خطا کرے کوئی\n\nبگڑے گیسو تو بولے جھنجھلا کر\nنہ بلائیں لیا کرے کوئی\n\nنزع میں کیا ستم کا موقع ہے\nوقت ہے اب دعا کرے کوئی\n\nحشر کے دن کی رات ہو کہ نہ ہو\nاپنا وعدہ وفا کرے کوئی\n\nنہ ستائے کوئی کسی کو ریاضؔ\nنہ ستم کا گلا کرے کوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "درس محبت", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "دوست ملا تھا تجھ کو کیسا حیف اتنا بھی یاد نہیں\nجان فدا کرتا تھا جس پر دل میں اس کی یاد نہیں\nگردش دوراں نے جب اس کو آہ شکستہ حال کیا\nدیکھ کر اس کے حال زبوں کو تو نے کچھ نہ ملال کیا\nکون شکستہ حال کہاں ہے یہ بھی دھیان آیا نہ تجھے\nآہ تصور نے ایسے محسن کے تڑپایا نہ تجھے\nپاس تھا اپنے قول کا جس کو تو نے کچھ اس کا پاس کیا\nآمد و رفت دیرینہ کا بھول کے بھی احساس کیا\nاس کے درد سے واقف ہو کر تو نے خبر کیا لی اس کی\nقرض محبت جان کے دل سے کیا کوئی خدمت کی اس کی\nدل تیرے اس دوست کا ناحق وقف سحر لسانی تھا\nمیری سمجھ میں اب آیا وہ جمع و خرچ زبانی تھا\nناداں انسان تیری دولت تیرے ساتھ نہ جائے گی\nلیلائے مطلب دور رہے گی تیرے پاس نہ آئے گی\nحصر فقط تجھ ہی پر کیا ہے تو ہی اک زر دوست نہیں\nدوست بہت ملتے ہیں لیکن ان میں اکثر دوست نہیں\nدوست نہیں جو نام کی خاطر اپنے دوست کے کام آئے\nدوست وہ ہے لوگوں کی زباں پر جس کا مثالاً نام آئے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D8%B3_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA"} {"title": "درمدح شاہ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "اے شاہ جہانگیر جہاں بخش جہاں دار\nہے غیب سے ہر دم تجھے صد گونہ بشارت\nجو عقدہ دشوار کہ کوشش سے نہ وا ہو\nتو وا کرے اس عقدے کو سو بھی بہ اشارت\nممکن ہے کرے خضر سکندر سے ترا ذکر\nگر لب کو نہ دے چشمۂ حیواں سے طہارت\nآصف کو سلیماں کی وزارت سے شرف تھا\nہے فخر سلیماں جو کرے تیری وزارت\nہے نقش مریدی ترا فرمان الہی\nہے داغ غلامی ترا توقیع امارت\nتو آب سے گر سلب کرے طاقت سیلاں\nتو آگ سے گر دفع کرے تاب شرارت\nڈھونڈے نہ ملے موجۂ دریا میں روانی\nباقی نہ رہے آتش سوزاں میں حرارت\nہے گرچہ مجھے نکتہ سرائی میں توغل\nہے گرچہ مجھے سحر طرازی میں مہارت\nکیوں کر نہ کروں مدح کو میں ختم دعا پر\nقاصر ہے ستایش میں تری میری عبارت\nنو روز ہے آج اور وہ دن ہے کہ ہوئے ہیں\nنظارگی صنعت حق اہل بصارت\nتجھ کو شرف مہر جہاں تاب مبارک\nغالبؔ کو ترے عتبۂ عالی کی زیارت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%B4%D8%A7%DB%81"} {"title": "درمیان جسم و جاں ہے اک عجب صورت کی آڑ", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درمیان جسم و جاں ہے اک عجب صورت کی آڑ\nمجھ کو دل کی دل کو ہے میری انانیت کی آڑ\n\nآ گیا ترک خودی کا گر کبھی بھولے سے دھیان\nدل نے پیدا کی ہر ایک جانب سے ہر صورت کی آڑ\n\nدیتے ہیں دل کے عوض وہ درد بہر امتحاں\nلیتے ہیں نام خدا اپنی طمانیت کی آڑ\n\nنفس پرور کرتے ہیں بدنام نام مے کشی\nپردۂ پندار میں لیتے ہیں کیفیت کی آڑ\n\nپردہ داری چشم نا محرم سے تھی مد نظر\nدرمیاں میں ڈال دی ہے نور نے حیرت کی آڑ\n\nدیدنی جو کچھ ہے جلوہ دیکھ چشم پاک میں\nنور نے وحدت میں رہ کر لی ہے کیوں کثرت کی آڑ\n\nجب نہان و آشکارا جلوۂ جانانہ ہے\nسب ریاکاری ہے ساحر خلوت و جلوت کی آڑ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%DA%91"} {"title": "دروازے پہ تیرے ہی مروں گا یارب", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دروازے پہ تیرے ہی مروں گا یا رب\nکیا بیم جہنم نہ ڈروں گا یا رب\nگستاخیٔ عذر بعد عصیاں معیوب\nتوبہ ہے کہ توبہ نہ کروں گا یا رب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8"} {"title": "درویش قید غم میں دل زار ہو گیا", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درویش قید غم میں دل زار ہو گیا\nآزاد ہو گیا جو گرفتار ہو گیا\n\nیوسف بھی لاکھ جاں سے خریدار ہو گیا\nتو گھر میں غل ترا سر بازار ہو گیا\n\nرخنہ طریق عشق میں ڈالا جو ہجر نے\nناسور دل کا روزن دیوار ہو گیا\n\nقاتل نے قتل بھی جو سبک جان کر کیا\nلاشہ برنگ روح سبکبار ہو گیا\n\nاگلا جو زہر افعی گیسوئے یار نے\nہر موئے مار زلف سیہ مار ہو گیا\n\nسویا ہیں وصل شوق میں جاگا وہ ناز سے\nمیں بے خبر ہوا وہ خبردار ہو گیا\n\nبھاگا گیا نہ لاش پہ غش کھا کے گر پڑا\nقاتل یہ میرے خوں میں گرفتار ہو گیا\n\nعشق صنم گلے کا مرے ہار ہو گیا\nگردن کا تار رشتۂ زنار ہو گیا\n\nپیغام وصل ہی میں خفا یار ہو گیا\nاقرار ہو گیا نہ کچھ انکار ہو گیا\n\nشام و سحر چمکنے جو داغ جگر لگا\nخورشید روز و شمع شب تار ہو گیا\n\nکار رہ خدا نہ ہوا موت آ گئی\nغفلت سے بندہ دیدۂ بے دار ہو گیا\n\nقاتل جو گل کھلانے لگا شاخ تیغ سے\nمقتل بھی دم میں تختۂ گلزار ہو گیا\n\nکھودی جو نہر کوہ کن جیب چاک نے\nسو جا سے ٹکڑے دامن کہسار ہو گیا\n\nیاد بتاں سے کعبۂ دل بت کدہ ہوا\nتار نفس بھی رشتۂ زنار ہو گیا\n\nرویا طلوع مہر تن غور پر جو عرشؔ\nآب رواں سے جامۂ زرتار ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%B4_%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "درویش ہوں جو گنج میسر نہیں تو کیا", "poet_page": "مصنف:کیفی کاکوروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درویش ہوں جو گنج میسر نہیں تو کیا\nدل سے غنی ہوں پاس مرے زر نہیں تو کیا\n\nلاکھوں صدائے صور ہیں پازیب یار میں\nچھم چھم کا شور فتنۂ محشر نہیں تو کیا\n\nسیلاب اشک موجۂ طوفان نوح ہے\nآنکھوں میں بند سات سمندر نہیں تو کیا\n\nرنگ حنا سے ہاتھ بتوں کے ہیں لال لال\nپھر یہ ہمارے خون کا محضر نہیں تو کیا\n\nلاکھوں ہیں معجزے لب جاں بخش یار میں\nرشک مسیح ہیں وہ پیمبر نہیں تو کیا\n\nسر خوش ہیں ہم خیال میں اک چشم مست کے\nساقی ہمارے دور میں ساغر نہیں تو کیا\n\nموزوں کلام پاک بیان خوش خیال ہے\nکیفیؔ سخن شناس سخنور نہیں تو کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%B4_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%D9%86%D8%AC_%D9%85%DB%8C%D8%B3%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "درپئے عمر رفتہ ہوں یا رب", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درپئے عمر رفتہ ہوں یا رب\nہر دم از خود گزشتہ ہوں یا رب\n\nکیا ہوں مقبول طبع اہل سخن\nایک مضمون بستہ ہوں یا رب\n\nکیا دکھاؤں میں اپنے جوہر آہ\nشکل تیغ شکستہ ہوں یا رب\n\nاپنی کم فرصتی کہوں کیا آہ!\nآہ از سینہ جستہ ہوں یا رب\n\nپانی پانی ہوں جس کو دیکھ جحیم\nسوز غم سے وہ تفتہ ہوں یا رب\n\nدیکھو کیا ہو کہ واں ہے ناز غرور\nمیں یہ احوال خستہ ہوں یا رب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D9%BE%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%B1%D9%81%D8%AA%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8"} {"title": "درپن دیا ہوں دل کا میں اس دل ربا کے ہاتھ", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درپن دیا ہوں دل کا میں اس دل ربا کے ہاتھ\nدرپن میں وہ پیا ہے وہ درپن پیا کے ہاتھ\n\nاس قبلہ رو کی دیکھ کے محراب ابر واں\nصف باندھ کھل رہے ہیں مژہ جیوں دعا کے ہاتھ\n\nہر وقت بے حجاب ہو کیوں کر کرے نگاہ\nہے اختیار چشم پیا کا حیا کے ہاتھ\n\nکس رنگ سوں لگے ہے کف پا کوں شوخ کی\nدل خون ہو رہا ہے ہمارا حنا کے ہاتھ\n\nگلگوں قبا نہ مار تغافل کی تیغ سوں\nہے قتل عاشقاں کا تری یک ادا کے ہاتھ\n\nبرجا ہے برگ گل سوں کفن اس کوں ہوئے نصیب\nجو کوئی ہوا شہید وو گل گوں قبا کے ہاتھ\n\nہے چاک چاک غنچۂ دل آج آہ سوں\nجیوں چاک پیرہن کوں کیا گل صبا کے ہاتھ\n\nکہتے ہیں عاشقاں یو مرا حال دیکھ کر\nشاید توں دل دیا ہے کسی بے وفا کے ہاتھ\n\nدرکار نیں ہے مجھ کوں کبوتر کی قاصدی\nبھیجا ہوں گل بدن کوں میں نامہ صبا کے ہاتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D9%BE%D9%86_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "درپیش اجل ہے گنج شہیداں خریدیے", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "درپیش اجل ہے گنج شہیداں خریدیے\nتربت کے واسطے چمنستاں خریدیے\n\nسودا پکارتا ہے یہ فصل بہار میں\nگلشن نہ مول لیجئے زنداں خریدیے\n\nبازار میں یہ کرتی ہیں غل میری بیڑیاں\nسوہن ہمارے کاٹنے کو یاں خریدیے\n\nرفت و گزشت بھی ہوا وحشت کا ولولہ\nسوزن برائے چاک گریباں خریدیے\n\nلے لیجئے مرا دل صدچاک مفت ہے\nشانہ برائے زلف پریشاں خریدیے\n\nبازار مصطفیٰ ہے خریدار ہے خدا\nخود بکیے یاں نہ کچھ کسی عنواں خریدیے\n\nجس وقت جا نکلتے ہیں بازار حسن میں\nہمت یہ کہتی ہے کہ پرستاں خریدیے\n\nحلہ کوئی منگائیے جاں دی ہے آپ پر\nخلعت ہمارے واسطے اے جاں خریدیے\n\nتربت پہ میری ہوگی تکلف کی روشنی\nکافور بہر شمع شبستاں خریدیے\n\nکرتے ہیں شور گنج شہیداں میں گل فروش\nچادر برائے گور غریباں خریدیے\n\nوحشت میں مشک کی نہ رسد مفت لیجئے\nسودا ہے بوئے کاکل پیچاں خریدیے\n\nہوتا ہے شوق عشق میں رہ رہ کے ولولہ\nمجنوں سے داغ دل سر میداں خریدیے\n\nہر سو عمل جنوں کے قلمرو میں چاہئے\nڈھنڈوا کے ایک ایک بیاباں خریدیے\n\nہوتے ہیں جذب عشق سے پریوں کے جمگھٹے\nاک ملک مثل ملک سلیماں خریدیے\n\nچورنگ کھیلنے میں حریفوں کے اے شرفؔ\nبچئے تو تیغ رستم دستاں خریدیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D9%BE%DB%8C%D8%B4_%D8%A7%D8%AC%D9%84_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%86%D8%AC_%D8%B4%DB%81%DB%8C%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%DB%8C%DB%92"} {"title": "درپیش ہے میرؔ راہ تجھ کو پیارے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "درپیش ہے میرؔ راہ تجھ کو پیارے\nغفلت سے نہیں نگاہ تجھ کو پیارے\nآتے ہیں نظر جاتے یہ سارے اسباب\nسوجھے گی کبھو بھی آہ تجھ کو پیارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%D9%BE%DB%8C%D8%B4_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "درگاہ علم دار سے بہبودی ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "درگاہ علم دار سے بہبودی ہے\nبیماری کو واں شفائے خوشنودی ہے\nہم مرتبۂ کربلا ہے درگاہ جلیل\nواں خاک شفا ہے اور یہاں اودی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%A8%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "درہجو خواجہ سراے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "ایک جو خوجے سے ملا اک حکیم\nدونوں وے آپس میں ہوئے ہم کلام\nخوجے نے یوں اس سے کہا تجھ سے ہی\nمردے حکیموں کا ہوا زندہ نام\nکتنے دنوں سے ہے مجھے درد سر\nاس کی میں پامالی میں ہوں صبح و شام\nنیند نہیں رات کو نے دن کو چین\nخواب و خورش مجھ پہ ہوئی ہے حرام\nتیری توجہ ہے ضروری ادھر\nکیوں کہ یہ ناکام کا ہے اتنا کام\nکہنے لگا سن کے وہ حاذق طبیب\nمجھ کو یہی کام رہے ہے مدام\nتیرے تملق کی نہیں احتیاج\nاور نہ دے درد سر اے تلخ کام\nنسخہ میں پاشوئے کا لکھ دوں تجھے\nکر تو اسے جا کے اذیت تمام\nسن کے تعجب سے کہا خوجے نے\nپختہ تجھے جانا تھا نکلا تو خام\nکچھ بھی ہے سر پاؤں تری بات کا\nچپ نہ ہنسیں سن کے کہیں خاص و عام\nپاؤں کہاں سر کہاں ناداں کہ ہیں\nتجھ سے تو دانا بہ مراتب عوام\nسخت تر آشفتہ ہو بولا طبیب\nخوجوں میں ہوتا نہیں ہوش ایک دام\nنقل ہے اک یاد چنانچہ مجھے\nرات کو خوجے کو ہوا احتلام\nآلت جنبش تو منی کی نہ تھی\nبہہ کے گئی اس کی دبر پر تمام\nاس کو کہا زعم نے لوطی کوئی\nدے گیا تکلیف ہی یہ لاکلام\nصبح کو اٹھ قینچی کھڑی گھر میں کی\nکیا کہوں میں کیسی ہوئی دھوم دھام\nٹھہرے امین آکے کئی معتبر\nایک حویلی میں ہوا ازدحام\nبانس تلک ٹوٹ چکے نفروں پر\nپوچھ چکے لوگوں کا لے لے کے نام\nنسبت پا سر سے ہے کیا پوچھ مت\nاپنی طرف دیکھ تو ٹک تیرہ فام\nخوجے کے اپنے ہی سے کرلے قیاس\nریش کجا خایہ کجا اے غلام\nسمجھے نہ سمجھے تو مرے خائے سے\nمیں تو نظیر اس کی کہی والسلام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%DB%81%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%AC%DB%81_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%DB%92"} {"title": "دریا طوفان بہہ رہا ہے", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دریا طوفان بہہ رہا ہے\nآنکھوں کا عجیب ماجرا ہے\n\nزاہد کو غرور زہد کا ہے\nرندوں کو خدا کا آسرا ہے\n\nذکر ان کے دہن کا جا بجا ہے\nہے کچھ بھی نہیں یہ بات کیا ہے\n\nدیوار کا ان کی سایہ ٹھہرا\nاک یہ بھی سعادت ہما ہے\n\nہم چشمی اور ان کی انکھڑیوں سے\nنرگس تجھے کچھ بھی سوجھتا ہے\n\nپاؤں کے ہمارے گو کھروسی\nاک اک کانٹا کھٹک گیا ہے\n\nالفت ہے کھلی ہوئی بتوں سے\nاللہ سے مہرؔ کیا چھپا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%D8%B7%D9%88%D9%81%D8%A7%D9%86_%D8%A8%DB%81%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دریا میں ڈوب جاوے کہ یا چاہ میں پڑے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دریا میں ڈوب جاوے کہ یا چاہ میں پڑے\nاے عشق پر نہ کوئی تری راہ میں پڑے\n\nمت پوچھ جور غم سے دل ناتواں کا حال\nبجلی تو دیکھی ہوگی کبھی کاہ میں پڑے\n\nاک دم بھی دیکھ سکتا نہیں ہم کو اس کے پاس\nخاک اس فلک کے دیدۂ بد خواہ میں پڑے\n\nجو دوستی کے نام سے رکھتا ہو دشمنی\nدیوانہ ہو جو اس کی کوئی چاہ میں پڑے\n\nآ جا کہیں شتاب کہ مانند نقش پا\nتکتے ہیں راہ تیری سر راہ میں پڑے\n\nجلوے دو چند ہوویں شب ماہ کے ابھی\nاس ماہرو کا عکس اگر ماہ میں پڑے\n\nسلگے ہے نیم سوختہ جیسے دھوئیں کے ساتھ\nجلتے ہیں یوں ہم اپنی حسنؔ آہ میں پڑے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%88%D9%88%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%91%DB%92"} {"title": "دریا و موج سا کبھی ہم سے جدا نہ ہو", "poet_page": "مصنف:نسیم میسوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دریا و موج سا کبھی ہم سے جدا نہ ہو\nاے بت خدا تلک بھی ترا آشنا نہ ہو\n\nمحفل میں اس پری کی جو یہ دل جلا نہ ہو\nیا رب شراب ناب میں ہی کچھ مزا نہ ہو\n\nاس سبز خط کے بوسے لئے میں نے خواب میں\nیا رب غبار دل میں کہیں آ گیا نہ ہو\n\nپلوا رہے ہو روبرو غیروں کو جام مے\nاور کہتے ہو مجھے تو مری جاں خفا نہ ہو\n\nمیری روش پہ کس لئے بہکا ہے کیا ہوا\nمجنوں سے کہہ دو چپ بھی ہو یوں باؤلا نہ ہو\n\nنکہت سے مشک و عطر کی دنیا مہک گئی\nپانی نہانے میں ترا جوڑا کھلا نہ ہو\n\nمر ہی گیا ادھر جو مرا نامہ بر گیا\nقاصد خدا کے واسطے تو بھی فنا نہ ہو\n\nبخت سیہ ذلیل ہمیں یوں بھی کرتے ہیں\nجس شب وہ آئے گھر کو اسی شب دیا نہ ہو\n\nلالہ ہو ارغواں ہو سخن ہو گلاب ہو\nچمپا ہو یاسمن ہو مگر دیلیا نہ ہو\n\nآب رواں ہو چاندنی ہو سبزہ زار ہو\nنرگس کی طرح غیر کوئی دیکھتا نہ ہو\n\nساقی ہو مے ہو گائیں پری زاد سب بہار\nساغر سے جلد چلنے میں چرخ دوتا نہ ہو\n\nپریوں کا رقص روبرو ہوتا رہے مدام\nپہلو سے یار لب سے پیالہ جدا نہ ہو\n\nسامان عیش گر یہ میسر ہو اے نسیمؔ\nہٹ دھرمی ہے زباں پہ جو شکر خدا نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%D9%88_%D9%85%D9%88%D8%AC_%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "دریا و کوہ و دشت و ہوا ارض اور سما", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دریا و کوہ و دشت و ہوا ارض اور سما\nدیکھا تو ہر مکاں میں وہی ہے رہا سما\n\nہے کون سی وہ چشم نہیں جس میں اس کا نور\nہے کون سا وہ دل کہ نہیں جس میں اس کی جا\n\nقمری اسی کی یاد میں کو کو کرے ہے یار\nبلبل اسی کے شوق میں کرتی ہے چہچہا\n\nمفلس کہیں غریب تونگر کہیں غنی\nعاجز کہیں نبل کہیں سلطاں کہیں گدا\n\nبہروپ سا بنا کے ہر اک جا وہ آن آن\nکس کس طرح کے روپ بدلتا ہے واہ وا\n\nملک رضا میں کر کے توکل کی جنس کو\nبیٹھیں ہیں سب اسی کی دکانیں لگا لگا\n\nسب کا اسی دکان سے جاری ہے کاروبار\nلیتا ہے کوئی حسن کوئی دل ہے بیچتا\n\nدیکھا جو خوب غور سے ہم نے تو یاں نظیرؔ\nبازار مصطفیٰ ہے خریدار ہے خدا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%D9%88_%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%88_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A7%D8%B1%D8%B6_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%85%D8%A7"} {"title": "دریا کنارے چاندنی", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کیا چھا رہی ہے چاندنی\nاٹھلا رہی ہے چاندنی\nدریا کی اک اک لہر کو\nنہلا رہی ہے چاندنی\nلہرا رہی ہے چاندنی\n\nدریا کنارے دیکھنا\nپانی میں تارے دیکھنا\nتاروں کو دامن میں لئے\nکیا کیا نظارے دیکھنا\nدکھلا رہی ہے چاندنی\n\nٹھنڈی ہوا خاموش ہے\nاجلی فضا خاموش ہے\nخاموش ہے سارا جہاں\nہر اک صدا خاموش ہے\nاور چھا رہی ہے چاندنی\n\nدیکھو سمے وہ دور کے\nخیمے کھڑے ہیں نور کے\nدریا کی نیلی سطح پر\nکچھ پھول سے بلور کے\nبرسا رہی ہے چاندنی\n\nاے لو وہ بدلی آ گئی\nاور چاندنی پر چھا گئی\nباہر نکلنے کے لئے\nپھر آئی پھر کترا گئی\nگھبرا رہی ہے چاندنی\n\nلو رات کے منظر چلے\nتارے بھی گھل گھل کر چلے\nبیٹھے ہوئے یاں کیا کریں\nاخترؔ ہم اپنے گھر چلے\nاب جا رہی ہے چاندنی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%86%DB%8C"} {"title": "دریائے اشک چشم سے جس آن بہہ گیا", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دریائے اشک چشم سے جس آن بہہ گیا\nسن لیجیو کہ عرش کا ایوان بہہ گیا\n\nبل بے گداز عشق کہ خوں ہو کے دل کے ساتھ\nسینے سے تیرے تیر کا پیکان بہہ گیا\n\nزاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں\nکیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا\n\nہے موج بحر عشق وہ طوفاں کہ الحفیظ\nبیچارہ مشت خاک تھا انسان بہہ گیا\n\nدریائے اشک سے دم تحریر حال دل\nکشتی کی طرح میرا قلم دان بہہ گیا\n\nیہ روئے پھوٹ پھوٹ کے پانی کے آبلے\nنالہ سا ایک سوئے بیابان بہہ گیا\n\nتھا تو بہا میں بیش پر اس لب کے سامنے\nسب مول تیرا لعل بدخشان بہہ گیا\n\nکشتی سوار عمر ہوں بحر فنا میں ذوقؔ\nجس دم بہا کے لے گیا طوفان بہہ گیا\n\nتھا ذوقؔ پہلے دہلی میں پنجاب کا سا حسن\nپر اب وہ پانی کہتے ہیں ملتان بہہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%D8%A2%D9%86_%D8%A8%DB%81%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دریاے عاشقی میں جو تھے گھاٹ گھاٹ سانپ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دریاے عاشقی میں جو تھے گھاٹ گھاٹ سانپ\nلے گئے سپیرے واں سے بہت بھر کے باٹ سانپ\n\nازبسکہ اس کے زہر پہ غالب ہے زہر عشق\nمر جاوے ہے وہیں ترے عاشق کو کاٹ سانپ\n\nدریا میں سر کے بال کوئی دھو گیا مگر\nلہروں کے ہو رہے ہیں جو یوں بارہ باٹ سانپ\n\nنامرد سے بھلا جٹئی خاک پھر ہوئی\nسمجھا جب اپنی بھینس کی رسی کو جاٹ سانپ\n\nتحریک زلف سے تری باد سموم نے\nکہتے ہیں دشت و در میں دیے باٹ باٹ سانپ\n\nتھے جس زمیں پہ صندل پا کے ترے نشاں\nجیتے ہیں اب وہیں کی ذرا خاک چاٹ سانپ\n\nساحل پہ اس کی جعد مسلسل کے عکس سے\nدریا میں دھوبیوں کو نظر آئے پاٹ سانپ\n\nبنگلے میں جا کے خاک رہے کوئی مصحفیؔ\nکر دیں ہیں آدمی کا یہاں جی اچاٹ سانپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%A7%D9%B9_%DA%AF%DA%BE%D8%A7%D9%B9_%D8%B3%D8%A7%D9%86%D9%BE"} {"title": "دریاے عشق", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "عشق ہے تازہ کار و تازہ خیال\nہر جگہ اس کی اک نئی ہے چال\nدل میں جاکر کہیں تو درد ہوا\nکہیں سینے میں آہ سرد ہوا\nکہیں آنکھوں سے خون ہوکے بہا\nکہیں سر میں جنون ہو کے رہا\nکہیں رونا ہوا ندامت کا\nکہیں ہنسنا ہوا جراحت کا\nگہ نمک اس کو داغ کا پایا\nگہ پتنگا چراغ کا پایا\nواں طپیدن ہوا جگر کے بیچ\nیاں تبسم ہے زخم تر کے بیچ\nکہیں آنسو کی یہ سرایت ہے\nکہیں یہ خوں چکاں حکایت ہے\nتھا کسی دل میں نالۂ جاں کاہ\nہے کسو لب پہ ناتواں اک آہ\nتھا کسو کی پلک کی نم ناکی\nہے کسو خاطروں کی غم ناکی\nکہیں باعث ہے دل کی تنگی کا\nکہیں موجب شکستہ رنگی کا\nکہیں اندوہ جان آگہ تھا\nسوزش سینہ ایک جاگہ تھا\nکہیں عشاق کی نیاز ہوا\nکہیں اندوہ جاں گداز ہوا\nہے کہیں دل جگر کی بے تابی\nتھا کسو مضطرب کی بے خوابی\nکسو چہرے کا رنگ زرد ہوا\nکسو محمل کی رہ کی گرد ہوا\nطور پر جا کے شعلہ پیشہ رہا\nبے ستوں میں شرار تیشہ رہا\nکہیں نے بست کو لگائی آگ\nکہیں تیغ و گلو میں رکھی لاگ\nکبھو افغان مرغ گلشن تھا\nکبھو قمری کا طوق گردن تھا\nکسو مسلخ میں جا قنارہ ہوا\nکوئی دل ہو کے پارہ پارہ ہوا\nایک عالم میں دردمندی کی\nایک محفل میں جا سپندی کی\nایک دل سے اٹھے ہے ہوکر دود\nایک لب پر سخن ہے خون آلود\nاک زمانے میں دل کی خواہش تھا\nاک سمیں میں جگر کی کاہش تھا\nکہیں بیٹھے ہے جی میں ہوکر چاہ\nکہیں رہتا ہے قتل تک ہمراہ\nخارخار دل غریباں ہے\nانتظار بلانصیباں ہے\nکہیں شیون ہے اہل ماتم کا\nکہیں نوحہ ہے جان پر غم کا\nآرزو تھا امیدواروں کی\nدردمندی جگر فگاروں کی\nنمک زخم سینہ ریشاں ہے\nنگہ یاس مہرکیشاں ہے\nحسرت آلود آہ تھا یہ کہیں\nشوق کی یک نگاہ تھا یہ کہیں\nکشش اس کی ہے ایک اعجوبہ\nڈوبا عاشق تو یار بھی ڈوبا\nکوئی محروم وصل یاں سے گیا\nکہ نہ یار اس کا پھر جہاں سے گیا\nکام میں اپنے عشق پکا ہے\nہاں یہ نیرنگ ساز یکہ ہے\nجس کو ہو اس کی التفات نصیب\nہے وہ مہمان چندروزہ غریب\nایسی تقریب ڈھونڈھ لاتا ہے\nکہ وہ ناچار جی سے جاتا ہے\n\nآغاز قصۂ جاں گداز\n\nایک جا اک جوان رعنا تھا\nلالہ رخسار و سروبالا تھا\nعشق رکھتا تھا اس کی چھاتی گرم\nدل وہ رکھتا تھا موم سے بھی نرم\nشوق تھا اس کو صورت خوش سے\nانس رکھتا تھا وضع دل کش سے\nتھا طرح دار آپ بھی لیکن\nرہ نہ سکتا تھا اچھی صورت بن\nکوئی ترکیب اگر نظر آتی\nصورت حال اور ہو جاتی\nدیکھتا گر وہ کوئی خوش پرکار\nرہتا خمیازہ کش ہی لیل و نہار\nزلف ہوتی کسو کی گر برہم\nدیکھتے اس کے حال کو درہم\nدیکھتا گر کہیں وہ چشم سیاہ\nدل سے بے اختیار کرتا آہ\nسر میں تھا شور شوق دل میں تھا\nعشق ہی اس کے آب و گل میں تھا\nالغرض وہ جوان خوش اسلوب\nناشکیبا رہے تھا بے محبوب\nایک دن بے کلی سے گھبرایا\nسیر کرنے کو باغ میں آیا\nکسو گل پاس وہ صنم ٹھہرا\nکہیں سبزے میں ایک دم ٹھہرا\nاک خیابان میں سے ہو نکلا\nایک سائے تلے سے رو نکلا\nنہ تسلی ہوا دل بے تاب\nنہ تھما چشم تر سے خون ناب\nدل کی واشد سے بے توقع ہو\nہر شجر کے تلے بہت سا رو\nدیکھ گلشن کو ناامیدانہ\nمنھ کیا ان نے جانب خانہ\nدل کے رکنے کا اس کو اک غم تھا\nراہ چلنے میں خیال درہم تھا\nناگہ اس کوچہ سے گذار ہوا\nآفت تازہ سے دوچار ہوا\nایک غرفے سے ایک مہ پارہ\nتھی طرف اس کے گرم نظارہ\nپڑ گئی اس پہ اک نظر اس کی\nپھر نہ آئی اسے خبر اس کی\nتھی نظر یاکہ جی کی آفت تھی\nوہ نظر ہی وداع طاقت تھی\nہوش جاتا رہا نگاہ کے ساتھ\nصبر رخصت ہوا اک آہ کے ساتھ\nبے قراری نے کج ادائی کی\nتاب و طاقت نے بے وفائی کی\nمنھ جو اس کا طرف سے اس کے پھرا\nمضطرب ہوکے خاک پر یہ گرا\nوہ تو رکھتی نہ تھی خیال اس کا\nبے طرح ہووے گوکہ حال اس کا\nجھاڑ دامن کے تیں وہ مہ پارہ\nاٹھ گئی سامنے سے یک بارہ\nوہ گئی اس کے سر بلا آئی\nخاک میں مل گئی وہ رعنائی\nدل پہ کرنے لگا طپیدن ناز\nرنگ چہرے سے کر چلا پرواز\nہاتھ جانے لگا گریباں تک\nچاک کے پھیلے پاؤں داماں تک\nطبع نے اک جنوں کیا پیدا\nاشک نے رنگ خوں کیا پیدا\nسوزش دل نے جی میں جاگہ کی\nداغ نے آ جگر کو آتش دی\nبستر خاک پر گرا وہ زار\nدرد کا گھر ہوا دل بیمار\nخاطر افگار خار خار ہوئی\nجاں تمناکش نگار ہوئی\nاس کے منھ پر پڑی جو اس کی نگاہ\nناامیدی کے ساتھ ہی سر کی آہ\nخو ہوئی نالۂ حزیں کے ساتھ\nرابطہ آہ آتشیں کے ساتھ\nہونٹھ سوکھے تو خون ناب ملا\nخواب و خور دونوں کو جواب ملا\nخلق اس کی ہوئی تماشائی\nپر نہ وہ دیکھنے کبھو آئی\nکچھ کہا گر کسو نے شفقت سے\nرو دیا ان نے ایک حسرت سے\nجاکے اس کے قریب در بیٹھا\nقصد مرنے کا اپنے کر بیٹھا\nدل نہ سمجھا کہ اضطراب کیا\nشوق نے کام کو خراب کیا\nجوکہ سمجھے تھے اس کو دیوانہ\nرحم کرتے تھے آشنایانہ\nعاشق اس کو کسو کا جان گئے\nسب برا اس ادا کو مان گئے\nکیونکہ باہم معاش تھی سب کی\nایک جا بود و باش تھی سب کی\nوارث اس کے بھی بدگمان ہوئے\nدرپئے دشمنی جان ہوئے\nمشورت تھی کہ مار ہی ڈالیں\nدفعتہً اس بلا کے تیں ٹالیں\nپھر یہ ٹھہری کہ ہوں گے ہم بدنام\nسن کے آخر کہیں گے خاص و عام\nکیا گنہ تھا کہ یہ جواں مارا\nکن نے مارا اسے کہاں مارا\nہووے یہ خون خفتہ گر بیدار\nکھینچنی ہووے خفت بسیار\nکیجیے ایک ڈھب سے اس کو تنگ\nتا نہ عائد ہو اپنی جانب ننگ\nتہمت خبط رکھیے اس کے سر\nکیجیے سنگ سار اس کو پھر\nدے کے دیوانہ اس جواں کو قرار\nہوگئے سارے درپئے آزار\nایک نے سخت کہہ کے تنگ کیا\nایک نے آکے زیر سنگ کیا\nایک آیا تو ہاتھ میں شمشیر\nایک بولا کہ اب ہے کیا تاخیر\nکی اشارت کہ کودکان شہر\nآئے لبریز غصہ و پرقہر\nگرچہ ہنگامہ اس کے سر پر تھا\nلیک روے دل اس کا اودھر تھا\nمحو تھا اس کے یہ خیال کے بیچ\nتھا گرفتار اپنے حال کے بیچ\nہونٹھ پر حسن کا بیاں اس کا\nتھا سر و سنگ آستاں اس کا\nایک دم آہ سرد بھر اٹھنا\nنالۂ گرم گاہ کر اٹھنا\nجی میں کہتا کہ آہ مشکل ہے\nاس طرف یک نگاہ مشکل ہے\nدوست کو میرے نام سے ہے ننگ\nدشمنوں سے ہے جی پہ عرصہ تنگ\nچشم تر سے لہو بہا کرتا\nصبح کی باد سے کہا کرتا\nکاے نسیم سحر یہ اس سے کہہ\nمت تغافل کر اور غافل رہ\nان بلاؤں میں کوئی کیونکے جیے\nجان پر آ بنی ہے تیرے لیے\nجان دوں تیرے واسطے سو تو\nآنکھ اٹھاکر ادھر نہ دیکھے کبھو\nرفتہ رفتہ ہوا ہوں سودائی\nدور پہنچی ہے میری رسوائی\nنام کو بھی ترے نہ جانا آہ\nتجھ سے کیونکر سخن کی نکلے راہ\nناامیدانہ گر کروں ہوں نگاہ\nدیکھتا ہوں ہزار روز سیاہ\nسخت مشکل ہے سخت ہے بیداد\nایک میں خوں گرفتہ سو جلاد\nکوئی مشفق نہیں کہ ہووے شفیق\nبیکسی بن نہیں ہے کوئی رفیق\nنالہ ہوتا ہے گر کبھی دلجو\nگریہ آنکھوں سے پونچھتا ہے رو\nآہ جو ہمدمی سی کرتی ہے\nاب تو وہ بھی کمی سی کرتی ہے\nچشم رکھتا ہے وصل کی یہ دل\nجی ہے اس سے اسیر آب و گل\nورنہ ترکیب یہ کہاں ہوتی\nصورت اک معنی نہاں ہوتی\nاب ٹھہرتا نہیں ہے پاے ثبات\nایک میں اور کتنے تصدیعات\nسنگ باراں سے سخت ہوں دل تنگ\nشیشۂ دل نہیں ہے پارۂ سنگ\nمحرم یک نگاہ بیش نہیں\nکم ہے سینے میں جاکہ ریش نہیں\nکیونکے کہیے کہ تو نہیں آگاہ\nاک قیامت بپا ہے یاں سر راہ\nکچھ چھپا تو نہیں رہا یہ راز\nاک جہاں اس سے ہے خبر پرداز\nپس تغافل ہوا ترحم کر\nگوش دل جانب تظلم کر\nکون کہتا ہے رہ نہ محو ناز\nپر نہ اتنا کہ جی سے جائے نیاز\nان بلاؤں پہ ان نے صبر کیا\nاختیار اپنے جی پہ جبر کیا\nاس طرف کا نہ دیکھنا چھوڑا\nاس کے اندوہ سے نہ منھ موڑا\nاور یہ ماجرا ہوا مشہور\nشور رسوائیوں کا پہنچا دور\nدیکھ کر اس کو بے خور و بے خواب\nجانا ہر اک نے عاشق بے تاب\nمنھ پر اس کے جو رنگ خون نہیں\nعشق ہے اس کو یہ جنون نہیں\nہے نگاہ اس کی جس طرف مائل\nاس طرف ہی گیا ہے اس کا دل\nجب ہوا ذکر اقل و اکثر میں\nچاہ ثابت ہوئی اسے گھر میں\nعشق بے پردہ جب فسانہ ہوا\nمضطرب کدخداے خانہ ہوا\nگھر میں جا بہر دفع رسوائی\nبیٹھ کر مشورت یہ ٹھہرائی\nیاں سے یہ غیرت مہ تاباں\nجا کے چندے کہیں رہے پنہاں\nشب محافے میں اس کو کرکے سوار\nساتھ دے ایک دایۂ غدار\nپار دریا کے جلد رخصت کی\nاس طرح فکر رفع تہمت کی\nگھر تھا اک آشنا کا مدنگاہ\nواں ہو روپوش تا یہ غیرت ماہ\nہووے جب اس بلا سے خاطر جمع\nنورافزاے خانہ ہو جوں شمع\nگھر سے باہر محافہ جو نکلا\nاس جواں ہی کے پاس ہو نکلا\nطپش دل سے ہو کے یہ آگاہ\nہو لیا ساتھ اس کے بھر کر آہ\nواں کے رہنے سے اس کو کام نہ تھا\nوہ گلی اس کا کچھ مقام نہ تھا\nجس سے جی کو کمال ہو الفت\nجس سے دل کی درست ہو نسبت\nجنبش اس کی پلک کو گرداں ہو\nدل میں یاں کاوش نمایاں ہو\nواں اگر موشکست کا ہو باب\nیاں رگ جاں کو ہووے پیچ و تاب\nواں اگر پاؤں میں لگے ہے خار\nدل سے یاں سر نکالے ہے یک بار\nیار کو درد چشم اگر ہووے\nچشم عاشق لہو میں تر ہووے\nچاک دامن میں واں پئے زینت\nیاں گریباں ہے چاک گل کی صفت\nواں دہن تنگ یاں ہے دل تنگی\nحسن اور عشق میں ہے یک رنگی\nدست افشاں وہ پاے کوباں یہ\nتھا محافے کے ساتھ گرم رہ\nقطرہ زن اشک سا وہ راہ تمام\nدرپئے یار تھا وہ بے آرام\nہر قدم تھا زبان پر جاری\nخواب ہے یاکہ ہے یہ بیداری\nہمسری اس کی تھی میسر کب\nہے مجھے بخت واژگوں سے عجب\nشوق مفرط نے بے تہی کی سخت\nنوشکیبی نے دل سے باندھا رخت\nرفتہ رفتہ سخن ہوئے نالے\nاڑنے لاگے جگر کے پرکالے\nاضطراب دلی نے زور کیا\nان نے بے اختیار شور کیا\nدل کے غم کو زبان پر لایا\nآفت تازہ جان پر لایا\nکاے جفا پیشہ و تغافل کیش\nاک نظر سے زیاں نہیں کچھ بیش\nمنھ چھپایا ہے تونے اس پر بھی\nنگہ التفات ایدھر بھی\nصبر کس کس بلا سے کر گذروں\nچارہ اس بن نہیں کہ مر گذروں\nمنزل وصل دور میں کم پا\nتجھ کو اس مرتبے میں استغنا\nہے تو نزدیک دل سے اے طناز\nلیک تجھ تک سفر ہے دور دراز\nناز نے یک نفس نہ رخصت دی\nآئینے نے تجھے نہ فرصت دی\nتو تو واں زلف کو بنایا کی\nجان یاں پیچ و تاب کھایا کی\nتجھ کو تھی اپنے خال رخ پہ نگاہ\nدل مرا مبتلاے داغ سیاہ\nتجھ کو مدنظر تھی اپنی چال\nمیں ستم کش ہوا کیا پامال\nبستر خواب پر تجھے آرام\nمجھ کو خمیازہ کھینچنے سے کام\nواں لب لعل تیرے خنداں تھے\nیاں فشردہ جگر پہ دنداں تھے\nناز و خوبی نے دل دیا نہ تجھے\nرحم سے آشنا کیا نہ تجھے\nاب تغافل نہ کر تلطف کر\nحال پر میرے ٹک تاسف کر\nگوش زد دایہ کے ہوئے یہ سخن\nتھی وہ استاد کار حیلہ و فن\nپاس اس کو بلا تسلی کی\nوعدۂ وصل سے تشفی کی\nکاے ستم دیدۂ غم دوری\nہوچکا اب زمان مہجوری\nزار نالی نہ کر شکیبا ہو\nعشق کا راز تا نہ رسوا ہو\nدل قوی رکھ نہ جی کو کاہش دے\nچل کوئی دم کو داد خواہش دے\nسخت دل تنگ تھی یہ غیرت ماہ\nقطع تجھ بن نہ ہوسکی تھی راہ\nگرچہ یہ حسن اتفاق سے ہے\nاس کی بھی جذب اشتیاق سے ہے\nتیرے آنے سے دل کشادہ ہوا\nنشۂ دوستی زیادہ ہوا\nبزم عشرت کریں گے باہم ساز\nہوجو اب اپنے دوست کا دم ساز\nدے کر اس کو فریب ساتھ لیا\nدل عاشق کو اپنے ہاتھ لیا\nلیک در پردہ ان نے یہ ٹھانی\nکیجیے اس سے خصمی جانی\nیہ تو دل تفتۂ محبت تھا\nسخت وارفتۂ محبت تھا\nوقت نزدیک تھا جو آپہنچا\nتا سر آب پا بہ پا پہنچا\nآب کیسا کہ بحر تھا ذخار\nتند و مواج و تیرہ و تہ دار\nموج کا ہر کنایہ طوفاں پر\nمارے چشمک حباب عماں پر\nہم کنار بلا ہر اک گرداب\nلجہ سرمایہ بخش تیرہ سحاب\nگذر موج جب نہ تب دیکھا\nساحل اس کا نہ خشک لب دیکھا\nکشتی اک آن کر ہوئی موجود\nہو فلک سے ہلال جیسے نمود\nکی کنارے پہ لاکے استادہ\nتھا محافہ رکوب آمادہ\nاس سفینے میں جلد جا پہنچا\nیہ بھی واں ساتھ ہی لگا پہنچا\nبیچ دریا میں دایہ نے جاکر\nکفش اس گل کی اس کو دکھلاکر\nپھینکی پانی کی سطح پر اک بار\nاور بولی کہ او جگرافگار\nحیف تیرے نگار کی پاپوش\nموج دریا سے ہووے ہم آغوش\nغیرت عشق ہے تو لا اس کو\nچھوڑ مت یوں برہنہ پا اس کو\nاس طرف اس کے تیں اترنا ہے\nاس نواحی کی سیر کرنا ہے\nپاؤں اس کے جو ہیں نگار آلود\nظلم ہے ہوویں گر غبارآلود\nجس کف پا کو رنگ گل ہو بار\nمنصفی ہے کہ خار سے ہو فگار\nان پہ نرمی میں گل سے ہوں جو پرے\nآبلہ چشم کو سیاہ کرے\nیہ روا ہے تو اپنے حال پہ رو\nمفت ناموس عشق کو مت کھو\nجی اگر تھا عزیز اے ناکام\nکیوں عبث عشق کو کیا بدنام\nسن کے یہ حرف دایۂ مکار\nدل سے اس کے گیا شکیب و قرار\nبے خبر کار عشق کی تہ سے\nجست کی ان نے اپنی جاگہ سے\nتھا سفینے میں یا کہ دریا میں\nموج زنجیر ہوگئی پا میں\nکھنچ گیا قعر کو یہ گوہر ناب\nتھی کشش عشق کی مگر تہ آب\nکہتے ہیں ڈوبتے اچھلتے ہیں\nلیکن ایسے کوئی نکلتے ہیں\nڈوبے جو یوں کہیں وہ جا نکلے\nغرق دریاے عشق کیا نکلے\nعشق نے آہ کھو دیا اس کو\nآخر آخر ڈبو دیا اس کو\nجب کہ دریا میں ڈوب کر وہ جواں\nکھو گیا گوہر گرامی جاں\nدایۂ حیلہ گر ہوئی دل شاد\nواں سے کشتی چلی بہ رنگ باد\nخارخار دلی سے فارغ ہو\nلے گئی پار اس گل نو کو\nیہ نہ سمجھی کہ عشق آفت ہے\nفتنہ سازی میں اک قیامت ہے\nخاک ہو کیوں نہ عاشق بے دل\nکام سے اپنے یہ نہیں غافل\nوصل جیتے نہ ہو میسر اگر\nلادے معشوق کو یہ تربت پر\nیاں سے عاشق اگر گئے ناشاد\nخاک خوباں بھی ان نے دی برباد\nقصہ کوتاہ بعد یک ہفتہ\nآئی وہ رشک مہ زخود رفتہ\nکہنے لاگی کہ اب تو اے دایہ\nہوگیا غرق وہ فرومایہ\nاب تو وہ ننگ درمیاں سے گیا\nآرزومند اس جہاں سے گیا\nتھے جو ہنگامے اس کے حد سے زیاد\nساتھ اس کے گئے وہ شور و فساد\nشور فتنے تھے اس تلک سارے\nاب تو بدنامیاں نہیں بارے\nدل تڑپتا ہے متصل میرا\nمرغ بسمل ہے یاکہ دل میرا\nوحشت طبع اب تو افزوں ہے\nحال جی کا مرے دگرگوں ہے\nبے دماغی کمال ہوتی ہے\nجان تن کے وبال ہوتی ہے\nدل کوئی دم میں خون ہووے گا\nآج کل میں جنون ہووے گا\nبے کلی جی کو تاب دیتی ہے\nطاقت دل جواب دیتی ہے\nجی میں آتا ہے ہوں بیابانی\nپر کہوں ہوں کہ ہے یہ نادانی\nمصلحت ہے کہ مجھ کو لے چل گھر\nایک دو دم رہیں گے دریا پر\nگاہ باشد کہ دل مرا وا ہو\nورنہ کیا جانیے کہ پھر کیا ہو\nدایہ بولی کہ اے سراپا ناز\nحسن کا در پہ تیرے روے نیاز\nاب تو میں فتنے کو سلایا ہے\nاس بلا کے تئیں بٹھایا ہے\nکون مانع ہے گھر کے چلنے کا\nسد رہ کون ہے نکلنے کا\nہو محافے میں دل خوشی سے سوار\nشاد شاداں کر آب سے تو گذار\nدل سے اپنے پدر کے غم کم کر\nمادر مہرباں کو خرم کر\nکر ملاقات ہمدموں سے تو\nگرم بازی ہو محرموں سے تو\nیہ نہ سوچی کہ بدبلا ہے عشق\nگھات میں اپنی لگ رہا ہے عشق\nجس کسو سے یہ پیار رکھتا ہے\nعاقبت اس کو مار رکھتا ہے\nجذب سے اپنے جب کرے ہے کام\nعاشق مردہ سے بھی لے ہے کام\nصبح گاہاں وہ غیرت خورشید\nاس جگہ سے رواں ہوئی نومید\nپہنچی نصف النہار دریا پر\nروئی بے اختیار دریا پر\nحد سے افزوں جو بے قرار ہوئی\nدایہ کشتی میں لے سوار ہوئی\nحرف زن یوں ہوئی کہ اے دایہ\nیاں گرا تھا کہاں وہ کم مایہ\nموج سے تھا کدھر کو ہم آغوش\nتھا تلاطم سے کس طرف ہم دوش\nتجھ کو آیا نظر کہاں آکر\nپھر جو ڈوبا تو کس جگہ جاکر\nمجھ کو دیجو نشان اس جا کا\nمیں بھی دیکھوں خروش دریا کا\nہوں میں ناآشناے سیر آب\nناشناساے موجہ و گرداب\nلجہ کیا لطمہ کس کو کہتے ہیں\nگھر میں ہم نام سنتے رہتے ہیں\nہیں میسر کہاں یہ سیر عبور\nاتفاقی ہیں اس طرح کے امور\nمکر میں گرچہ دایہ تھی کامل\nلیک تہ سے سخن کے تھی غافل\nیہ نہ سمجھی کہ ہے فریب عشق\nہے یہ مہ پارہ ناشکیب عشق\nبیچ دریا کے جا کہا یہ حرف\nیاں ہوا تھا وہ ماجراے شگرف\nیاں وہ بیٹھا حباب کے مانند\nپھر نہ تھا کچھ سراب کے مانند\nسنتے ہی یہ کہاں کہاں کر کر\nگر پڑی قصد ترک جاں کر کر\nموج ہر اک کمند شوق تھی آہ\nلپٹی اس کو بہ رنگ مار سیاہ\nدام گستر دہ عشق تھا تہ آب\nجس کے حلقے تمام تھے گرداب\nحسن موجوں میں یوں نظر آوے\nنور مہتاب جیسے لہراوے\nتھیں وہ اس کی حنائی انگشتاں\nغیرت افزاے پنجۂ مرجاں\nسر پہ جس دم کہ آب ہو کے بہا\nسطح پانی کا آئینہ سا رہا\nکشش عشق آخر اس مہ کو\nلے گئی کھینچتی ہوئی تہ کو\nکودے غواص و آشنا سارے\nتابہ مقدور دست و پا مارے\nکھینچ کر کوفت سب ہوئے بیتاب\nنہ لگا ہاتھ وہ در نایاب\nجا ہم آغوش مردہ یار ہوئی\nتہ میں دریا کے ہم کنار ہوئی\nپاک کی زندگی کی آلائش\nہو کے دست و بغل کی آسائش\nسر پٹکتی جو گھر گئی دایہ\nآفت اک لے گئی نئی دایہ\nاب و عم مادر و برادر سب\nخاک افشان و آہ و نالہ بہ لب\nدار و دستہ تمام اس گل کا\nترک آئین کر تحمل کا\nسوے دریا رواں ہوئے گریاں\nآتش غم سے دل جگر بریاں\nخلق یک جا ہوئی کنارے پر\nحشر برپا ہوئی کنارے پر\nدام داروں سے سب نے کام لیا\nآخر ان کو اسیر دام کیا\nنکلے باہم ولے موئے نکلے\nدونوں دست و بغل ہوئے نکلے\nربط چسپاں بہم ہویدا تھا\nمر گئے پر بھی شوق پیدا تھا\nایک کا ہاتھ ایک کی بالیں\nایک کے لب سے ایک کو تسکیں\nجو نظر ان کو آن کرتے تھے\nایک قالب گمان کرتے تھے\nکیا لکھوں مل رہے وہ وصلی وار\nہم دگر سے جدا ہوئے دشوار\nکیوں نہ دشوار ہووے ان کا فصل\nجان دے دے ہوا ہو جن کا وصل\nحیرت کار عشق سے مردم\nشکل تصویر آپ میں تھے گم\n\nمقولۂ شاعر\n\nمیرؔ اب شاعری کو کر موقوف\nعشق ہے ایک فتنۂ معروف\nقدرت اپنی جہاں دکھاتا ہے\nاس سے جو تو کہے سو آتا ہے\nکتنی وسعت ترے بیاں میں ہے\nکتنی طاقت تری زباں میں ہے\nلب پہ اب مہر خامشی بہتر\nیاں سخن کی فرامشی بہتر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "دریُوزۂ خلافت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اگر مُلک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائے\nتُو احکامِ حق سے نہ کر بےوفائی\n\nنہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا\nخلافت کی کرنے لگا تُو گدائی\n\nخریدیں نہ جس کو ہم اپنے لہُو سے\nمسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی\n\n“مرا از شکستن چُناں عار ناید\nکہ از دیگراں خواستن مومیائی”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D9%8F%D9%88%D8%B2%DB%82_%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%81%D8%AA"} {"title": "دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی\nاس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی\n\nپامالی عاشق کو منظور رکھے جانا\nپھر چال کڈھب چلنا ٹھوکر نہ لگانا بھی\n\nبرقع کو اٹھا دینا پر آدھے ہی چہرے سے\nکیا منہ کو چھپانا بھی کچھ جھمکی دکھانا بھی\n\nدیکھ آنکھیں مری نیچی اک مارنا پتھر بھی\nظاہر میں ستانا بھی پردے میں جتانا بھی\n\nصحبت ہے یہ ویسی ہی اے جان کی آسائش\nساتھ آن کے سونا بھی پھر منہ کو چھپانا بھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B2%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D9%86%DA%AF%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "دس روپے", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "وہ گلی کے اس نکڑ پر چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ اور اس کی ماں اسے چالی (بڑے مکان جس میں کئی منزلیں اور کئی چھوٹے چھوٹے کمرے ہوتے ہیں) میں ڈھونڈ رہی تھی۔ کشوری کو اپنی کھولی میں بٹھا کر اور باہر والے سے کافی ملی چائے لانے کے لیے کہہ کروہ اس چالی کی تینوں منزلوں میں اپنی بیٹی کو تلاش کر چکی تھی۔ مگر جانے وہ کہاں مر گئی تھی۔ سنڈاس کے پاس جا کر بھی اس نے آواز دی، ’’اے سریتا۔۔۔ سریتا!‘‘ مگر وہ تو چالی میں تھی ہی نہیں اور جیسا کہ اس کی ماں سمجھ رہی تھی،اب اسے پیچش کی شکایت بھی نہیں تھی۔ دوا پیے بغیر اس کو آرام آچکا تھا۔ اور وہ باہر گلی کے اس نکڑ پر جہاں کچرے کا ڈھیر پڑا رہتا ہے، چھوٹی چھوٹی لڑکیوں سے کھیل رہی تھی اور ہر قسم کے فکر و تردّد سے آزاد تھی۔\n\nاس کی ماں بہت متفکر تھی۔ کشوری اندر کھولی میں بیٹھا تھا۔ اور جیسا کہ اس نے کہا تھا، دو سیٹھ باہر بڑے بازار میں موٹر لیے کھڑے تھے لیکن سریتا کہیں غائب ہی ہوگئی تھی۔ موٹر والے سیٹھ ہر روز تو آتے ہی نہیں، یہ تو کشوری کی مہربانی ہے کہ مہینے میں ایک دو بار موٹی اسامی لے آتا ہے۔ ورنہ ایسے گندے محلے میں جہاں پان کی پیکوں اور جلی ہوئی بیڑیوں کی ملی جلی بو سے کشوری گھبراتا ہے، سیٹھ لوگ کیسے آسکتے ہیں۔ کشوری چونکہ ہوشیار ہے اس لیے وہ کسی آدمی کو مکان پر نہیں لاتا بلکہ سریتا کو کپڑے وپڑے پہنا کر باہر لے جایا کرتا ہے اور ان لوگوں سے کہہ دیا کرتا ہے کہ ’’صاحب لوگ آج کل زمانہ بڑا نازک ہے۔ پولیس کے سپاہی ہر وقت گھات میں لگے رہتے ہیں۔ اب تک دو سو دھندا کرنے والی چھوکریاں پکڑی جاچکی ہیں۔ کورٹ میں میرا بھی ایک کیس چل رہا ہے۔ اس لیے پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے۔‘‘\n\nسریتا کی ماں کو بہت غصہ آرہا تھا۔ جب وہ نیچے اتری تو سیڑھیوں کے پاس رام دئی بیٹھی بیڑیوں کے پتے کاٹ رہی تھی۔ اس سے سریتا کی ماں نے پوچھا، ’’تو نے سریتا کو کہیں دیکھا ہے؟ جانے کہاں مر گئی ہے، بس آج مجھے مل جائے وہ چار چوٹ کی مار دوں کہ بند بند ڈھیلا ہو جائے۔۔۔ لوٹھا کی لوٹھا ہوگئی ہے پر سارا دن لونڈوں کے ساتھ کدکڑے لگاتی رہتی ہے۔‘‘\n\nرام دئی بیڑیوں کے پتے کاٹتی رہی اور اس نے سریتا کی ماں کو جواب نہ دیا۔ دراصل رام دئی سے سریتا کی ماں نے کچھ پوچھا ہی نہیں تھا، وہ یونہی بڑبڑاتی ہوئی اس کے پاس سے گزر گئی۔ جیسا کہ اس کا عام دستور تھا۔ ہر دوسرے تیسرے دن اسے سریتا کو ڈھونڈنا پڑتا تھا اور رام دئی کو جو کہ سارا دن سیڑھیوں کے پاس پٹاری سامنے رکھے بیڑیوں پر لال اور سفید دھاگے لپیٹی رہتی تھی مخاطب کرکے یہی الفاظ دہرایا کرتی تھی۔\n\nایک اور بات وہ چالی کی ساری عورتوں سے کہا کرتی تھی، ’’میں تو اپنی سریتا کا کسی بابو سے بیاہ کروں گی۔۔۔ اسی لیے تو اس سے کہتی ہوں کہ کچھ پڑھ لکھ لے۔۔۔ یہاں پاس ہی ایک اسکول منسی پالٹی (میونسپلٹی) نے کھولا ہے۔ سوچتی ہوں اس میں سریتا کو داخل کرادوں، بہن اس کے پتا کو بڑا شوق تھا کہ میری لڑکی لکھی پڑھی ہو۔۔۔‘‘ اس کے بعد وہ ایک لمبی آہ بھر کر عام طور پر اپنے مرے ہوئے شوہر کا قصہ چھیڑ دیتی تھی۔ جو چالی کی ہر عورت کو زبانی یاد تھا۔ رام دئی سے اگر آپ پوچھیں کہ اچھا جب سریتا کے باپ کو جو ریلوائی میں کام کرتا تھا، بڑے صاحب نے گالی دی تو کیا ہوا تو رام دئی فوراً آپ کو بتا دے گی کہ سریتا کے باپ کے منہ میں جھاگ بھر آیا اور وہ صاحب سے کہنے لگا۔ ’’میں تمہارا نوکر نہیں ہوں۔ سرکار کا نوکر ہوں۔ تم مجھ پر رعب نہیں جما سکتے۔ دیکھو اگر پھر گالی دی تو یہ دونوں جبڑے حلق کے اندر کردوں گا۔‘‘ بس پھر کیا تھا۔ صاحب تاؤ میں آگیا، اور اس نے ایک اور گالی سنا دی۔ اس پر سریتا کے باپ نے غصے میں آکر صاحب کی گردن پر دھول جما دی کہ اس کا ٹوپ دس گزپر جا گرا اور اس کو دن میں تارے نظر آگئے۔ مگر پھر بھی وہ بڑا آدمی تھا آگے بڑھ کر اس نے سریتا کے باپ کے پیٹ میں اپنے فوجی بوٹ سے اس زور کی ٹھوکر ماری کہ اس کی تلی پھٹ گئی اور وہیں لائنوں کے پاس گر کر اس نے جان دے دی۔ سرکار نے صاحب پر مقدمہ چلایا اور پورے پانچ سو روپے سریتا کی ماں کو اس سے دلوائے مگر قسمت بری تھی۔ اس کو سٹہ کھیلنے کی چاٹ پڑ گئی۔ اور پانچ مہینے کے اندر اندر سارا روپیہ برباد ہوگیا۔\n\nسریتا کی ماں کی زبان پر ہرقت یہ کہانی جاری رہتی تھی لیکن کسی کو یقین نہیں تھا کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ۔ چالی میں سے کسی آدمی کو بھی سریتا کی ماں سے ہمدردی نہ تھی۔ شاید اس لیے کہ وہ سب کے سب خود ہمدردی کے قابل تھے، کوئی کسی کا دوست نہیں تھا۔ اس بلڈنگ میں اکثر آدمی ایسے رہتے تھے جو دن بھر سوتے تھے اور رات کو جاگتے تھے۔ کیونکہ انھیں رات کو پاس والی مل میں کام پر جانا ہوتا تھا۔ اس بلڈنگ میں سب آدمی بالکل پاس پاس رہتے تھے لیکن کسی کو ایک دوسرے سے دلچسپی نہ تھی۔\n\nچالی میں قریب قریب سب لوگ جانتے تھے کہ سریتا کی ماں اپنی جوان بیٹی سے پیشہ کراتی ہے لیکن چونکہ وہ کسی کے ساتھ اچھا برا سلوک کرنے کے عادی ہی نہ تھے، اس لیے سریتا کی ماں کو کوئی جھٹلانے کی کوشش نہ کرتا تھا۔ جب وہ کہا کرتی تھی میری بیٹی کو تو دنیا کی کچھ خبر ہی نہیں۔ البتہ ایک روز صبح سویرے نل کے پاس جب تکا رام نے سریتا کو چھیڑا تھا تو سریتا کی ماں بہت چیخی چلائی تھی۔ اس موئے گنجے کو تو کیوں سنبھال کے نہیں رکھتی۔\n\nپرماتما کرے دونوں آنکھوں سے اندھا ہو جائےجن سے اس نے میری کنواری بیٹی کی طرف بری نظروں سے دیکھا۔۔۔ سچ کہتی ہوں ایک روز ایسا فساد ہوگا کہ اس تیری سوغات کا مارے جوتوں کے سر پلپلا کردوں گی۔۔۔ باہر جو چاہے کرتا پھرے یہاں اسے بھلے مانسوں کی طرح رہنا ہوگا۔ سنا!‘‘\n\nاور یہ سن کر تکا رام کی بھینگی بیوی دھوتی باندھتے باندھتے باہر نکل آئی، ’’خبردار موئی چڑیل جو تو نے ایک لفظ بھی اور زبان سے نکالا۔۔۔ یہ تیری دیوی تو ہوٹل کے چھوکروں سے بھی آنکھ مچولی کھیلتی ہے اور تو کیا ہم سب کو اندھا سمجھتی ہے کیا ہم سب جانتے نہیں کہ تیرے گھر میں نت نئے بابو کس لیے آتے ہیں۔ اور یہ تیری سریتا آئے دن بن سنور کر باہر کیوں جاتی ہے۔۔۔ بڑی آئی عزت آبرو والی۔۔۔ جا جا دور دفان ہو یہاں سے۔‘‘\n\nتکارام کی بھینگی بیوی کے متعلق بہت سی باتیں مشہور تھیں۔ لیکن یہ بات خاص طور پر سب لوگوں کو معلوم تھی کہ گھانسلیٹ والا (مٹی کا تیل بیچنے والا) تیل دینے کے لیے آتا ہے تو وہ اسے اندر بلا کر دروازہ بند کرلیا کرتی ہے۔ چنانچہ سریتا کی ماں نے اس خاص بات پر بہت زور دیا۔ وہ بار بار نفرت بھرے لہجے میں اس سے کہتی، ’’وہ تیرا یار گھانسلیٹ والا۔۔۔ دو دو گھنٹے اسے کھولی میں بٹھا کر کیا تو اس کا گھانسلیٹ سونگھتی رہتی ہے؟‘‘\n\nتکا رام کی بیوی سے سریتا کی ماں کی بول چال زیادہ دیر تک بند نہ رہی تھی کیونکہ ایک روز سریتا کی ماں نے رات کو اپنی اس پڑوسن کو گھپ اندھیرے میں کسی سے میٹھی میٹھی باتیں کرتے پکڑ لیا تھا اور دوسرے ہی روز تکا رام کی بیوی نے جب وہ رات کو پائے دھونی کی طرف سے آرہی تھی، سریتا کو ایک جنٹلمین آدمی کے ساتھ موٹر میں بیٹھے دیکھ لیا۔ چنانچہ ان دونوں کا آپس میں سمجھوتہ ہوگیا تھا۔ اسی لیے سریتا کی ماں نے تکا رام کی بیوی سے پوچھا، ’’تو نے کہیں سریتا کو نہیں دیکھا؟‘‘\n\nتکا رام کی بیوی نے بھینگی آنکھ سے گلی کے نکڑ کی طرف دیکھا، ’’وہاں گھورے کے پاس پٹواری کی لونڈیا سے کھیل رہی ہے۔‘‘ پھر اس نے آواز دھیمی کرکے اس سے کہا، ’’ابھی ابھی کشوری اوپر گیا تھا کیا تجھ سے ملا؟‘‘\n\nسریتا کی ماں نے ادھر ادھر دیکھ کر ہولے سے کہا، ’’اوپر بٹھا آئی ہوں پر یہ سریتا ہمیشہ وقت پر کہیں غائب ہو جاتی ہے۔ کچھ سوچتی نہیں۔ بس دن بھر کھیل کود چاہیے۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ گھورے کی طرف بڑھی اور جب سیمنٹ کی بنی ہوئی موتری (پیشاب گاہ) کے پاس آئی تو سریتا فوراً اٹھ کھڑی ہوئی اور اس کے چہرے پر افسردگی کے آثار پیدا ہوگئے۔ جب اس کی ماں نے خشم آلود لہجے میں اس کا بازو پکڑ کر کہا۔ ’’چل گھرمیں چل کے مَر۔۔۔ تجھے تو سوائے اچھل کود کے اور کوئی کام ہی نہیں۔‘‘ پھر راستے میں اس نے ہولے سے کہا۔ ’’کشوری بڑی دیر سے آیا بیٹھا ہے، ایک موٹر والے سیٹھ کو بلایا ہے۔۔۔ چل تو بھاگ کے اوپر چل اور جلدی جلدی تیار ہو جا۔۔۔ اور سن۔۔۔ وہ نیلی جارجٹ کی ساڑی پہن۔۔۔ اور دیکھ یہ تیرے بال بھی بہت بری طرح بکھر رہے ہیں۔۔۔ تو جلدی تیار ہو۔ کنگھی میں کردوں گی۔‘‘\n\nیہ سن کر کہ موٹر والے سیٹھ آئے ہیں، سریتا بہت خوش ہوئی۔ اسے سیٹھ سے اتنی دلچسپی نہیں تھی جتنی کہ موٹر سے تھی۔ موٹر کی سواری اسے بہت پسند تھی۔ جب موٹر فراٹے بھرتی کھلی کھلی سڑکوں پر چلتی اور اس کے منہ پر ہوا کے طمانچے پڑتے، تو اس کے دل میں ایک ناقابلِ بیان مسرت ابلنا شروع ہو جاتی۔ موٹر میں بیٹھ کر اس کو ہر شے ایک ہوائی چکر دکھائی دیتی اور سمجھتی کہ وہ خود ایک بگولا ہے جو سڑکوں پر اڑتا چلا جارہا ہے۔\n\nسریتا کی عمر زیادہ سے زیادہ پندرہ برس کی ہوگی۔ مگر اس میں بچپنا تیرہ برس کی لڑکیوں کا سا تھا۔ عورتوں سے ملنا جلنا اور ان سے باتیں کرنا بالکل پسند نہیں کرتی تھی۔ سارا دن چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کے ساتھ اونٹ پٹانگ کھیلوں میں مصروف رہتی۔ ایسے کھیل جن کا کوئی مطلب ہی نہ ہو۔ مثال کے طور پر وہ گلی کے کالے لُک پھرے فرش پر کھریا مٹی سے لکیریں کھینچنے میں بہت دلچسپی لیتی تھی اور اس کھیل میں وہ اس انہماک سے مصروف رہتی جیسے سڑک پر یہ ٹیڑھی بنگی لکیریں اگر نہ کھینچی گئیں تو آمدورفت بند ہو جائے گی، اور پھر کھولی سے پرانے ٹاٹ اٹھا کروہ اپنی ننھی ننھی سہیلیوں کے ساتھ کئی کئی گھنٹے ان کو فٹ پاتھ پر جھٹکنے صاف کرنے، بچھانے اور ان پر بیٹھنے کے غیر دلچسپ کھیل میں مشغول رہتی تھی۔\n\nسریتا خوبصورت نہیں تھی۔ رنگ اس کا سیاہی مائل گندمی تھا۔ بمبئی کے مرطوب موسم کے باعث اس کے چہرے کی جلد ہر وقت چکنی رہتی تھی۔ اورپتلے پتلے ہونٹوں پر جو چیکو (ایک پھل جس کا رنگ گندمی ہوتا ہے) کے چھلکے دکھائی دیتے تھے، ہر وقت خفیف سی لرزش طاری رہتی تھی۔ اوپر کے ہونٹ پر پسینے کی تین چار ننھی ننھی بوندیں ہمیشہ کپکپاتی رہتی تھیں۔\n\nاس کی صحت اچھی تھی۔ غلاظت میں رہنے کے باوجود اس کا جسم سڈول اور متناسب تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس پر جوانی کا حملہ بڑی شدت سے ہوا ہے جس نے مخالف قوتوں کو دبا کے رکھ دیاہے۔ قد چھوٹا تھا جو اس کی تندرستی میں اضافہ کرتا تھا۔ سڑک پر پھرتی سے ادھر ادھر چلتے ہوئے جب اس کی میلی گھگری اوپر کو اٹھ جاتی تو کئی راہ چلنے والے مردوں کی نگاہیں اس کی پنڈلیوں کی طرف اٹھ جاتی تھیں۔ جن میں جوانی کے باعث تازہ رندہ کی ہوئی ساگوان کی لکڑی جیسی چمک دکھائی دیتی تھی۔ ان پنڈلیوں پر جو بالوں سے بالکل بے نیاز تھیں۔ مساموں کے ننھے ننھے نشان دیکھ کر ان سنگتروں کے چھلکے یاد آجاتے تھے جن کے چھوٹے چھوٹے خلیوں میں تیل بھرا ہوتا ہے اور جو تھوڑے سے دباؤ پر فوارے کی طرح اوپر اٹھ کر آنکھوں میں گھس جایا کرتا ہے۔\n\nسریتا کی باہیں بھی سڈول تھیں۔ کندھوں پر ان کی گولائی موٹے اور بڑے بیڈھب طریقے پر سلے ہوئے بلاؤز کے باوجود باہر جھانکتی تھی۔ بال بڑے گھنے اور لمبے تھے۔ ان میں سے کھوپرے کے تیل کی بو آتی رہتی تھی۔ ایک موٹے کوڑے کے مانند اس کی چوٹی پیٹھ کو تھپکتی رہتی تھی۔ سریتا اپنے بالوں کی لمبائی سے خوش نہیں تھی کیونکہ کھیل کود کے دوران میں اس کی چوٹی اسے بہت تکلیف دیا کرتی تھی اور اسے مختلف طریقوں سے اس کو قابو میں رکھنا پڑتا تھا۔\n\nسریتا کا دل و دماغ ہر قسم کے فکر و تردّد سے آزاد تھا۔ دونوں وقت اسے کھانے کو مل جاتا تھا۔ اس کی ماں گھر کا سب کام کاج کرتی تھی۔ صبح کو سریتا دو بالٹیاں بھر کر اندر رکھ دیتی اور شام کو ہر روز لیمپ میں ایک پیسے کاتیل بھروالاتی۔ کئی برسوں سے وہ یہ کام بڑی باقاعدگی سے کررہی تھی۔ چنانچہ شام کو عادت کے باعث خود بخود اس کا ہاتھ اس پیالے کی طرف بڑھتا جس میں پیسے پڑے رہتے تھے اور لیمپ اٹھا کر وہ نیچے چلی جاتی۔\n\nکبھی کبھی یعنی مہینے میں چار پانچ بار جب کشوری سیٹھ لوگوں کو لاتا تھاتو ان کے ساتھ ہوٹل میں یا باہر اندھیرے مقاموں پر جانے کو وہ تفریح خیال کرتی تھی۔ اس نے اس باہر جانے کے سلسلے کے دوسرے پہلوؤں پرکبھی غور ہی نہیں کیا تھا۔ شاید یہ سمجھتی تھی کہ دوسری لڑکیوں کے گھر میں بھی کشوری جیسے آدمی آتے ہوں گے اور ان کو سیٹھ لوگوں کے ساتھ باہر جانا پڑتا ہوگا۔ اوروہاں رات کو ورلی کے ٹھنڈے ٹھنڈے بنچوں پر یا جوہو کی گیلی ریت پر جو کچھ ہوتا ہے سب کے ساتھ ہوتا ہوگا۔ چنانچہ اس نے ایک بار اپنی ماں سے کہا تھا، ’’ماں اب تو شانتا بھی کافی بڑی ہوگئی۔۔۔ اس کو بھی میرے ساتھ بھیج دو نا۔۔۔ یہ سیٹھ جو اب آئے ہیں، مجھے انڈے کھانے کو دیا کرتے ہیں اور شانتا کو انڈے بہت بھاتے ہیں۔‘‘ اس پر اس کی ماں نے بات گول مول کردی تھی، ’’ہاں ہاں کسی روز اس کو بھی تمہارے ساتھ بھیج دوں گی۔ اس کی ماں پونہ سے واپس تو آجائے۔‘‘\n\nاور سریتا نے دوسرے روز ہی شانتا کو جب وہ سنڈاس سے نکل رہی تھی، یہ خوش خبری سنائی تھی، ’’تیری ماں پونہ سے آجائے تو سب معاملہ ٹھیک ہو جائے گا۔ تو بھی میرے ساتھ ورلی جایا کرے گی۔‘‘ اور اس کے بعد سریتا نے اس کو رات کی بات کچھ اس طریقے پر سنانا شروع کی تھی جیسے اس نے ایک ہی پیارا سپنا دیکھا ہے۔ شانتا کو جو سریتا سے دو برس چھوٹی تھی یہ باتیں سن کر ایسا لگا تھا جیسے اس کے سارے جسم کے اندر ننھے ننھے گھنگھرو بج رہے ہیں۔ سریتا کی سب باتیں سن کر بھی اس کو تسلی نہ ہوئی تھی اور اس کا بازو کھینچ کر اس نے کہا تھا، ’چل نیچے چلتے ہیں۔۔۔ وہاں باتیں کریں گے۔‘‘ اور نیچے اس موتری کے پاس جہاں گردھاری بنیا نے بہت سے ٹاٹوں پر کھوپرے کے میلے ٹکڑے سکھانے کے لیے ڈال رکھے تھے، وہ دونوں دیر تک کپکپی کرنے والی باتیں کرتی رہی تھیں۔\n\nاس وقت بھی جب کہ سریتا دھوتی کے پردے کے پیچھے نیلی جارجٹ کی ساڑھی پہن رہی تھی، کپڑے کے مس ہی سے اس کے بدن پر گدگدی ہورہی تھی اور موٹر کی سیر کا خیال اس کے دماغ میں پرندوں کی سی پھڑپھڑاہٹیں پیدا کررہا تھا۔ اب کی بار سیٹھ کیسا ہوگا اور اسے کہاں لے جائے گا۔ یہ اور اسی قسم کے اور سوال اس کے دماغ میں نہیں آرہے تھے۔ البتہ جلدی جلدی کپڑے بدلتے ہوئے اس نے ایک دو مرتبہ یہ ضرور سوچا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ موٹر چلے اور چند ہی منٹوں میں کسی ہوٹل کے دروازے پر ٹھہر جائے اور ایک بند کمرے میں سیٹھ شراب پینا شروع کردیں اور اس کا دم گھٹنا شروع ہو جائے۔ اسے ہوٹلوں کے بند کمرے پسند نہیں تھے۔ جن میں عام طور پر لوہے کی دو چارپائیاں اس طور بچھی ہوتی تھیں گویا ان پر جی بھر کے سونے کی اجازت ہی نہیں ہے۔\n\nجلدی جلدی اس نے جارجٹ کی ساڑھی پہنی اور اس کی شکنیں درست کرتی ہوئی ایک لمحے کے لیے کشوری کے سامنے آکھڑی ہوئی، ’’کشوری، ذرا دیکھو۔۔۔ پیچھے سے ساڑھی ٹھیک ہے نا؟‘‘ اور جواب کا انتظار کیے بغیر وہ لکڑی کے اس ٹوٹے ہوئے بکس کی طرف بڑھی جس میں اس نے جاپانی سرخی رکھی ہوئی تھی۔۔۔ ایک دھندلے آئینے کو کھڑکی کی سلاخوں میں اٹکا کر اس نے دوہری ہو کر اپنے گالوں پر پوڈر لگایا اور سرخی لگا کر جب بالکل تیار ہوگئی تو مسکرا کر کشوری کی طرف داد طلب نگاہوں سے دیکھا۔\n\nشوخ رنگ کی نیلی ساڑھی میں، ہونٹوں پر بے ترتیبی سے سرخی کی دھڑی جمائے اور سانولے گالوں پر پیازی رنگ کا پوڈر ملے وہ مٹی کا ایک ایسا کھلونا معلوم ہوئی جو دیوالی پر کھلونے بیچنے والوں کی دکان میں سب سے زیادہ نمایاں دکھائی دیا کرتاہے۔\n\nاتنے میں اس کی ماں آگئی۔ اس نے جلدی جلدی سریتا کے بال درست کیے اور کہا، ’’دیکھو بٹیا اچھی اچھی باتیں کرنا۔۔۔ اور جو کچھ وہ کہیں مان لینا۔۔۔ یہ سیٹھ جو آئے ہیں نا بڑے آدمی ہیں موٹر ان کی اپنی ہے۔۔۔‘‘ پھر کشوری سے مخاطب ہو کر کہا، ’’اب تو جلدی سے لے جا اسے۔۔۔ بچارے کب کے کھڑے راہ دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘\n\nباہر بڑے بازار میں جہاں ایک کارخانے کی لمبی دیوار دور تک چلی گئی ہے۔ ایک پیلے رنگ کی موٹر ’’یہاں پیشاب کرنا منع ہے‘‘ کے چھوٹے سے بورڈ کے پہلو میں کھڑی تھی اور تین حیدرآبادی نوجوان اپنی اپنی ناک پر رومال رکھے کشوری کا انتظار کررہے تھے۔ وہ موٹر آگے لے جاتے مگر مصیبت یہ ہے کہ دیوار دور تک چلی گئی تھی۔ اور اس کے ساتھ ہی پیشاب کا سلسلہ بھی۔\n\nجب گلی کے موڑ سے اس نوجوان کو جو موٹر کا ہینڈل تھامے بیٹھا تھا۔ کشوری نظر آیا تو اس نے اپنے باقی دو ساتھیوں سے کہا۔ ’’لو بھئی آگئے۔۔۔ یہ ہے کشوری۔۔۔۔ اور۔۔۔ اور‘‘ اس نے موٹر کی طرف نگاہیں جمائے رکھیں، ’’اور۔۔۔ اور۔۔۔ ارے یہ تو بالکل ہی چھوٹی لڑکی ہے۔۔۔ ذرا تم بھی دیکھو نا۔۔۔ ارے بھئی وہ۔۔۔ وہ نیلی ساڑھی میں۔‘‘\n\nجب کشوری اور سریتا دونوں موٹر کے پاس آگئے تو پچھلی سیٹ پر جو دو نوجوان بیٹھے تھے۔ انھوں نے درمیان میں سے اپنے ہیٹ وغیرہ اٹھا لیے۔ اور جگہ خالی کردی۔ کشوری نے آگے بڑھ کے موٹر کے پچھلے حصے کا دروازہ کھولا اور پھرتی سے سریتا کو اندر داخل کردیا۔ دروازہ بند کرکے کشوری نے اس نوجوان سے جو موٹر کا ہینڈل تھامے تھا۔ کہا۔ ’’معاف کیجیے گا دیر ہوگئی۔۔۔ یہ باہر اپنی کسی سہیلی کے پاس گئی ہوئی تھی۔۔۔ تو۔۔۔ تو؟‘‘\n\nنوجوان نے مڑ کر سریتا کی طرف دیکھا۔ اور کشوری سے کہا، ’’ٹھیک ہے۔۔۔۔لیکن دیکھو۔‘‘ سرک کر موٹر کی اس کھڑی میں سے اس نے اپنا سر باہر نکالا اور ہولے سے کشوری کے کان میں کہا۔۔۔ ’’شور وور تو نہیں مچائے گی؟‘‘\n\nکشوری نے اس کے جواب میں اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کرکہا، ’’سیٹھ، آپ مجھ پر بھروسہ رکھیے۔‘‘\n\nیہ سن کر اس نوجوان نے جیب میں سے دو روپے نکالے اور کشوری کے ہاتھ میں تھما دیے، ’’جاؤ عیش کرو۔‘‘ کشوری نے سلام کیا اور موٹر اسٹارٹ ہوئی۔\n\nشام کے پانچ بجے تھے۔ بمبئی کے بازاروں میں گاڑیوں، ٹراموں، بسوں اور لوگوں کی آمدورفت بہت زیادہ تھی۔ سریتا خاموشی سے دو آدمیوں کے بیچ میں دبکی بیٹھی رہی۔ بار بار اپنی رانوں کو جوڑ کر اوپر ہاتھ رکھ دیتی اور کچھ کہتے کہتے خاموش ہو جاتی۔ وہ دراصل موٹر چلانے والے نوجوان سے کہنا چاہتی تھی، ’’سیٹھ جلدی جلدی موٹر چلاؤ۔۔۔ میرا تو یوں دم گھٹ جائے گا۔‘‘\n\nبہت دیر تک موٹر میں کسی نے ایک دوسرے سے بات نہ کی۔ موٹر والا موٹر چلاتا رہا۔ اور پچھلی سیٹ پر دونوں حیدرآبادی نوجوان اپنی اچکنوں میں وہ اضطراب چھپاتے رہے جو پہلی دفعہ ایک نوجوان لڑکی کو بالکل اپنے پاس دیکھ کر انھیں محسوس ہورہا تھا۔۔۔ ایسی نوجوان لڑکی جو کچھ عرصے کے لیے ان کی اپنی تھی یعنی جس سے وہ بلا خوف و خطر چھیڑ چھاڑ کر سکتے تھے۔\n\nوہ نوجوان جوموٹر چلا رہا تھا، دو برس سے بمبئی میں قیام پذیر تھا اور سریتا جیسی کئی لڑکیاں دن کے اجالے اور رات کے اندھیرے میں دیکھ چکا تھا۔ اس کی پیلی موٹر میں مختلف رنگ و نسل کی چھوکریاں داخل ہو چکی تھیں۔ اس لیے اسے کوئی خاص بے چینی محسوس نہیں ہورہی تھی۔ حیدرآباد کے اس کے دو دوست آئے تھے، ان میں سے ایک جس کا نام شہاب تھا۔ جو بمبئی میں پوری طرح سیر و تفریح کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے کفایت نے یعنی موٹر کے مالک نے ازراہ دوست نوازی کشوری کے ذریعہ سے سریتا کا انتظام کردیا تھا۔ دوسرے دوست انور سے کفایت نے کہا کہ بھئی تمہارے لیے بھی ایک رہے تو کیا ہرج ہے۔ مگر اس میں چونکہ اخلاقی قوت کم تھی۔ اس لیے شرم کے مارے وہ یہ نہ کہہ سکا کہ ہاں بھئی میرے لیے بھی ایک رہے۔\n\nکفایت نے سریتا کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ کیونکہ کشوری بہت دیر کے بعد یہ نئی چھوکری نکال کر لایا تھا۔ لیکن اس نئے پن کے باوجود اس نے ابھی تک اس سے دلچسپی نہ لی تھی۔ شاید اس لیے کہ وہ ایک وقت میں صرف ایک کام کرسکتا تھا۔ موٹر چلانے کے ساتھ ساتھ وہ سریتا کی طرف دھیان نہیں دے سکتا تھا۔\n\nجب شہر ختم ہوگیا اور موٹر مضافات کی سڑک پر چلنے لگی تو سریتا اچھل پڑی۔ وہ دباؤ جو اب تک اس نے اپنے اوپر ڈال رکھا تھا، ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں اور اڑتی ہوئی موٹر نے ایک دم اٹھا دیا۔ اور سریتا کے اندر بجلیاں سی دوڑ گئیں۔ وہ سر تا پا حرکت بن گئی۔ اس کی ٹانگیں تھرکنے لگیں۔ بازو ناچنے لگے، انگلیاں کپکپانے لگیں اور وہ اپنے دونوں طرف بھاگتے ہوئے درختوں کو دوڑتی ہوئی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔\n\nاب انور اور شہاب آرام محسوس کررہے تھے۔ شہاب نے جو سریتا پر اپنا حق سمجھتا تھا، ہولے سے اپنا بازو اس کی کمر میں حائل کرنا چاہا، ایک دم سریتا کے گدگدی اٹھی۔ تڑپ کر وہ انور پر جا گری۔ اور پیلی موٹر کی کھڑکیوں میں سے دور تک سریتا کی ہنسی بہتی گئی۔ شہاب نے جب ایک بار پھر اس کی کمر کی طرف ہاتھ بڑھایا تو سریتا دوہری ہوگئی اور ہنستے ہنستے اس کا برا حال ہوگیا۔ انور ایک کونے میں دبکا رہا اور منہ میں تھوک پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا۔\n\nشہاب کے دل و دماغ میں شوخ رنگ بھر گئے۔ اس نے کفایت سے کہا، ’’واللہ بڑی کراری لونڈیا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے زور سے سریتا کی ران میں چٹکی بھری۔ سریتا نے اس کے جواب میں انور کا ہولے سے کان مروڑ دیا۔ اس لیے کہ وہ اس کے بالکل پاس تھا۔ موٹر میں قہقہے ابلنے لگے۔\n\nکفایت بار بار مڑ مڑ کر دیکھتا تھا۔ حالانکہ اسے اپنے سامنے چھوٹے سے آئینے میں سب کچھ دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ قہقہوں کے زور کا ساتھ دینے کی خاطر اس نے موٹر کی رفتاربھی تیز کردی۔\n\nسریتا کا جی چاہا کہ باہر نکل کر موٹر کے منہ پر بیٹھ جائے جہاں لوہے کی اڑتی ہوئی پری لگی تھی۔ وہ آگے بڑھی۔ شہاب نے اسے چھیڑا، سو سنبھلنے کی خاطر اس نے کفایت کے گلے میں اپنی باہیں حمائل کردیں۔ کفایت نے غیر ارادی طور پر اس کے ہاتھ چوم لیے۔ ایک سنسنی سی سریتا کے جسم میں دوڑ گئی اور پھاند کر اگلی سیٹ پر کفایت کے پاس بیٹھ گئی۔ اور اس کی ٹائی سے کھیلنا شروع کردیا، ’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ اس نے کفایت سے پوچھا۔\n\n’’میرا نام!‘‘ کفایت نے پوچھا، ’’میرا نام کفایت ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے دس روپے کا نوٹ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔\n\nسریتا نے اس کے نام کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور نوٹ اپنی چولی میں اڑس کر بچوں کی طرح خوش ہو کر کہا، ’’تم بہت اچھے آدمی ہو۔۔۔ تمہاری یہ ٹائی بہت اچھی ہے۔‘‘ اس وقت سریتا کو ہر شے اچھی نظر آرہی تھی۔۔۔ وہ چاہتی تھی کہ جو برے بھی ہیں اچھے ہو جائیں۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔ پھر ایسا ہو، ایسا ہو۔۔۔ کہ موٹر تیز دوڑتی رہے اور ہر شے ہوائی بگولا بن جائے۔ ایک دم اس کا جی چاہا کہ گائے، چنانچہ اس نے کفایت کی ٹائی سے کھیلنا بند کرکے گانا شروع کردیا۔\n\nتمہیں نے مجھ کو پریم سکھایا\n\nسوئے ہوئے ہر دے کو جگایا\n\nکچھ دیر یہ فلمی گیت گانے کے بعد سریتا ایک دم پیچھے مڑی اور انور کو خاموش دیکھ کر کہنے لگی، ’’تم کیوں چپ چاپ بیٹھے ہو۔۔۔ کوئی بات کرو۔۔۔ کوئی گیت گاؤ۔‘‘ یہ کہتی ہوئی وہ اچک کر پچھلی سیٹ پر چلی گئی اور شہاب کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرنے لگی، ’’آؤ ہم دونوں گائیں۔ تمہیں یاد ہے وہ گانا جو دیویکا رانی نے گایا تھا۔۔۔ میں بن کے چڑیا بن کے بولوں رے۔۔۔ دیویکا رانی کتنی اچھی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر اپنی ٹھوڑی کے نیچے رکھ لیے اور آنکھیں جھپکاتے ہوئے کہا۔ اشوک کمار اور دیویکا رانی پاس پاس کھڑے تھے۔۔۔ دیویکا رانی کہتی تھی۔۔۔ میں بن کی چڑیا بن کے بن بن بولوں رے۔۔۔ اور اشوک کمار کہتا تھا۔۔۔ تم کہو نا۔‘‘\n\nسریتا نے گانا شروع کردیا۔ ’میں بن کی چڑیا بن کے بن بن بولوں رے‘\n\nشہاب نے بھدی آواز میں گایا، ’میں بن کا پنچھی بن کے بن بن بولوں رے‘\n\nاور پھر باقاعدہ ڈؤٹ شروع ہوگیا۔ کفایت نے موٹر کا ہارن بجا کرتال کا ساتھ دیا۔ سریتا نے تالیاں بجانا شروع کردیں۔ سریتا کا باریک سر، شہاب کی پھٹی ہوئی آواز، ہارن کی پوں پوں، ہوا کی سائیں سائیں اور موٹر کے انجن کی پُھرپھراہٹ یہ سب مل جل کر ایک آرکسٹرا بن گئے۔\n\nسریتا خوش تھی، شہاب خوش تھا، کفایت خوش تھا۔ ان سب کو خوش دیکھ کر انور کو بھی خوش ہونا پڑا۔ وہ دل میں بہت شرمندہ ہوا کہ خواہ مخواہ اس نے اپنے کو قید کر رکھا ہے۔ اس کے بازوؤں میں حرکت پیدا ہوئی۔ اس کے سوئے ہوئے جذبات نے انگڑائیاں لیں اور وہ سریتا، شہاب اور کفایت کی شور افشاں خوشی میں شریک ہونے کے لیے تیار ہوگیا۔\n\nگاتے گاتے سریتا نے انور کے سر سے اس کا ہیٹ اتار کر اپنے سر پرپہن لیا اور یہ دیکھنے کے لیے کہ اس کے سر پر کیسا لگتا ہے، اچک کر اگلی سیٹ پر چلی گئی اور ننھے سے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے لگی۔۔۔ انور سوچنے لگا کہ کیا موٹر میں وہ شروع ہی سے ہیٹ پہنے بیٹھا تھا۔ سریتا نے زور سے کفایت کی موٹی ران پر طمانچہ مارا۔ ’’اگر میں تمہاری پتلون پہن لوں اور قمیص پہن کر ایسی ٹائی لگالوں تو کیا پورا صاحب نہ بن جاؤں؟‘‘\n\nیہ سن کر شہاب کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے۔ چنانچہ اس نے انور کے بازوؤں کو جھنجھوڑ دیا۔ ’’واللہ تم نرے چغد ہو۔‘‘ اور انور نے تھوڑی دیر کے لیے محسوس کیا کہ وہ واقعی بہت بڑا چغد ہے۔\n\nکفایت نے سریتا سے پوچھا۔’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘\n\n’’میرا نام‘‘۔ سریتا نے ہیٹ کے فیتے کو اپنی ٹھوڑی کے نیچے جماتے ہوئے کہا۔ ’’میرا نام سریتا ہے۔‘‘\n\nشہاب پچھلی سیٹ سے بولا، ’’سریتا تم عورت نہیں پھلجھڑی ہو۔‘‘\n\nانور نے کچھ کہنا چاہا مگر سریتا نے اونچے سروں میں گانا شروع کردیا۔\n\n؂ پریم نگر میں بناؤں گی گھر میں تج کے سب سن سا آ آر\n\nکفایت اور شہاب کے دل میں بیک وقت یہ خواہش پیدا ہوئی کہ یہ موٹر یونہی ساری عمر چلتی رہے۔\n\nانور پھر سوچ رہا تھا کہ وہ چغد نہیں ہے تو کیا ہے۔\n\n؂ پریم نگر میں بناؤں گی گھر میں تج کے سب سن سا آ آر\n\nسنسار کے ٹکڑے دیر تک اڑتے رہے۔۔۔ سریتا کے بال جو اس کی چوٹی کی گرفت سے آزاد تھے، یوں لہرا رہے تھے جیسے گاڑھا دھواں ہوا کے دباؤ سے بکھر رہا ہے۔ وہ خوش تھی۔\n\nشہاب خوش تھا، کفایت خوش تھا اور اب انور بھی خوش ہونے کا ارادہ کررہا تھا۔ گیت ختم ہوگیا۔ اور سب کو تھوڑی دیر کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ جو زور کی بارش ہورہی تھی، ایکا ایکی تھم گئی ہے۔\n\nکفایت نے سریتا سے کہا، ’’کوئی اور گیت گاؤ۔‘‘\n\nشہاب پچھلی سیٹ سے بولا، ’’ہاں ہاں ایک اور رہے۔۔۔ یہ سینما والے بھی کیا یاد کریں گے۔‘‘\n\nسریتا نے گانا شروع کردیا،\n\nمورے آنگنا میں آئے آلی\n\nمیں چال چلوں متوالی\n\nموٹر بھی متوالی چال چلنے لگی۔۔۔ آخر کار سڑک کے سارے پیچ ختم ہوگئے اور سمندر کا کنارا آگیا۔ دن ڈھل رہا تھا اور سمندر سے آنے والی ہوا خنکی اختیار کررہی تھی۔\n\nموٹر رکی۔ سریتا دروازہ کھول کر باہر نکلی اور ساحل کے ساتھ ساتھ دور تک بے مقصد دوڑتی چلی گئی۔ کفایت اور شہاب بھی اس دوڑ میں شامل ہوگئے۔ کھلی فضا میں، بے پایاں سمندر کے پاس، تاڑ کے اونچے اونچے پیڑوں تلے گیلی گیلی ریت پر سریتا سمجھ نہ سکی کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ بیک وقت فضا میں گُھل مل جائے، سمندر میں پھیل جائے، اتنی اونچی ہو جائے کہ تاڑ کے درختوں کو اوپر سے دیکھے۔ ساحل کی ریت کی ساری نمی پیروں کے ذریعے سے اپنے اندر جذب کرلے اور پھر۔۔۔ اور پھر۔۔۔ وہی موٹر ہو اور وہی اڑانیں وہی تیز تیز جھونکے اور وہی مسلسل پوں پوں۔ وہ بہت خوش تھی۔ جب تینوں حیدرآبادی نوجوان ساحل کی گیلی گیلی ریت پر بیٹھ کر بیئر پینے لگے تو کفایت کے ہاتھ سے سریتا نے بوتل چھین لیا، ’’ٹھہرو میں ڈالتی ہوں۔‘‘\n\nسریتا نے اس انداز سے گلاس میں بیئر انڈیلی کہ جھاگ ہی جھاگ پیدا ہوگئے۔ سریتا یہ تماشا دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ سانولے سانولے جھاگوں میں اس نے اپنی انگلی کھبوئی۔ اور منہ میں ڈال لی۔ جب کڑوی لگی تو بہت برا منہ بنایا۔ کفایت اور شہاب بے اختیار ہنس پڑے جب دونوں کی ہنسی بند ہوئی تو کفایت نے مڑکر اپنے پیچھے دیکھا۔ انور بھی ہنس رہا تھا۔\n\nبیئر کی چھ بوتلیں کچھ تو جھاگ بن کر ساحل کی ریت میں جذب ہوگئیں اور کچھ کفایت، شہاب اور انور کے پیٹ میں چلی گئیں۔ سریتا گاتی رہی۔۔۔ انور نے ایک بار اس کی طرف دیکھا اور خیال کیا کہ سریتا بیئر کی بنی ہوئی ہے۔ اس کے سانولے گال سمندر کی نم آلود ہوا کے مس سے گیلے ہورہے تھے۔۔۔ وہ بے حد مسرور تھی۔ اب انور بھی خوش تھا۔ اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو رہی تھی کہ سمندر کا سب پانی بیئر بن جائے اور وہ اس میں غوطے لگائے، سریتا بھی ڈبکیاں لگائے۔\n\nدو خالیں بوتلیں لے کر سریتا نے ایک دوسرے سے ٹکرا دیں، جھنکار پیدا ہوئی اور سریتا نے زور زور سے ہنسنا شروع کردیا۔ کفایت، شہاب اور انور بھی ہنسنے لگے۔\n\nہنستے ہنستے سریتا نے کفایت سے کہا، ’’آؤ موٹر چلائیں۔‘‘\n\nسب اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔ خالی بوتلیں گیلی گیلی ریت پر اوندھی پڑی رہیں اور وہ سب بھاگ کر موٹر میں بیٹھ گئے۔ پھر وہی ہوا کے تیز تیز جھونکے آنے لگے۔ وہی مسلسل پوں پوں شروع ہوئی اور سریتا کے بال پھر دھوئیں کی طرح بکھرنے لگے۔\n\nگیتوں کا سلسلہ پھر شروع ہوا۔\n\nموٹر ہوا میں آرے کی طرح چلتی رہی۔۔۔ سریتا گاتی رہی۔۔۔ پچھلی سیٹ پر شہاب اور انور کے درمیان سریتا بیٹھی تھی۔ انور اونگھ رہا تھا۔ سریتا نے شرارت سے شہاب کے بالوں میں کنگھی کرنا شروع کی۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سو گیا، سریتا نے جب انور کی طرف رخ کیا تو اسے ویسا ہی سویا ہوا پایا۔ ان دونوں کے بیچ میں سے اٹھ کر وہ اگلی سیٹ پر کفایت کے پاس بیٹھ گئی اور آواز دبا کر ہولے سے کہنے لگی۔ ’’آپ کے دونوں ساتھیوں کو سُلا آئی ہوں۔۔۔ اب آپ بھی سو جائیے۔‘‘\n\nکفایت مسکرایا۔ ’’پھر موٹر کون چلائے گا۔‘‘\n\nسریتا بھی مسکرائی۔ ’’چلتی رہے گی۔‘‘\n\nدیر تک کفایت اور سریتا آپس میں باتیں کرتے رہے۔ اتنے میں وہ بازار آگیا۔ جہاں کشوری نے سریتا کو موٹر کے اندر داخل کیا تھا۔۔۔ جب وہ دیوار آئی جس پر’’یہاں پیشاب کرنا منع ہے‘‘ کے کئی بورڈ لگے تھے۔ تو سریتا نے کفایت سے کہا، ’’بس یہاں روک لو۔‘‘\n\nموٹر رکی۔ پیشتر اس کے کہ کفایت کچھ سوچنے یا کہنے پائے۔ سریتا موٹر سے باہر تھی اس نے اشارے سے سلام کیا اور چل دی۔۔۔ کفایت ہینڈل پر ہاتھ رکھے غالباً سارے واقعہ کو ذہن میں تازہ کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ سریتا کے قدم رکے۔ مڑی اور چولی میں سے دس روپے کا نوٹ نکال کر کفایت کے پاس سیٹ پر رکھ دیا۔\n\nکفایت نے حیرت سے نوٹ کی طرف دیکھا اور پوچھا، ’’سریتا یہ کیا؟‘‘\n\n’’یہ۔۔۔ یہ روپے میں کس بات کے لوں؟‘‘ کہہ کر سریتا پھرتی سے دوڑ گئی اور کفایت سیٹ کے گدے پر پڑے ہوئے نوٹ کی طرف دیکھتا رہ گیا۔\n\nاس نے مڑ کر پچھلی سیٹ کی طرف دیکھا۔ شہاب اور انور بھی نوٹ کی طرح سو رہے تھے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B3_%D8%B1%D9%88%D9%BE%DB%92"} {"title": "دس عقل دس مقولے دس مدرکات تیسوں", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "دس عقل دس مقولے دس مدرکات تیسوں\nتیرے ہی ذکر میں ہیں اے پاک ذات تیسوں\n\nنو آسماں خور و مہ ساتوں طبق زمیں کے\nروح و حواس خمسہ اور شش جہات تیسوں\n\nبارہ بروج چودہ معصوم چار عنصر\nظاہر کریں ہیں تیری لاکھوں صفات تیسوں\n\nسی پارہائے دل کو رکھیو محافظت سے\nاے میری جاں ہیں تیری حفظ حیات تیسوں\n\nماہ گزشتہ کا حال انشاؔ کہوں سو کیوں کر\nمر مر بسر کئے ہیں دن اور رات تیسوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B3_%D8%B9%D9%82%D9%84_%D8%AF%D8%B3_%D9%85%D9%82%D9%88%D9%84%DB%92_%D8%AF%D8%B3_%D9%85%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D9%88%DA%BA"} {"title": "دست عدو سے شب جو وہ ساغر لیا کیے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دست عدو سے شب جو وہ ساغر لیا کیے\nکن حسرتوں سے خون ہم اپنا پیا کیے\n\nشکر ستم نے اور بھی مایوس کر دیا\nاس بات کا وہ غیر سے شکوہ کیا کیے\n\nکب دل کے چاک کرنے کی فرصت ہمیں ملی\nناصح ہمیشہ چاک گریباں سیا کیے\n\nتشبیہ دیتے ہیں لب جاں بخش یار سے\nہم مرتے مرتے نام مسیحا لیا کیے\n\nذکر وصال غیر و شب ماہ و بادہ سے\nایسے لیے گئے ہمیں طعنے دیا کیے\n\nتھی لحظہ لحظہ ہجر میں اک مرگ نو نصیب\nہر دم خیال لب سے ترے ہم جیا کیے\n\nطرز سخن کہے وہ مسلم ہے شیفتہؔ\nدعوے زبان سے نہ کیے میں نے یا کیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D8%AC%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%DB%92"} {"title": "دست و پا مارے وقت بسمل تک", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دست و پا مارے وقت بسمل تک\nہاتھ پہنچا نہ پائے قاتل تک\n\nکعبہ پہنچا تو کیا ہوا اے شیخ\nسعی کر ٹک پہنچ کسی دل تک\n\nدرپئے محمل اس کے جیسے جرس\nمیں بھی نالاں ہوں ساتھ منزل تک\n\nبجھ گئے ہم چراغ سے باہر\nکہیو اے باد شمع محفل تک\n\nنہ گیا میرؔ اپنی کشتی سے\nایک بھی تختہ پارہ ساحل تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%D9%88_%D9%BE%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "دستار فقیرانہ اک تاج سے افزوں ہے", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دستار فقیرانہ اک تاج سے افزوں ہے\nراہ طرح خم خانہ معراج سے افزوں ہے\n\nایسے ہی حکومت ہے ایسے ہی عبادت ہے\nیہ شاہ فقیرانہ محتاج سے افزوں ہے\n\nچلتے ہو پرستاں میں پریاں ہیں بہت شائق\nاب حسن پری خانہ پھر آج سے افزوں ہے\n\nکیا غم ہے چھلک جائے ساغر مرا اے ساقی\nوہ تاکنا پیمانہ آماج سے افزوں ہے\n\nپھر ہوئے فزوں دولت اخترؔ یہ دعا دے تو\nیہ فقرۂ پیرانہ اک راج سے افزوں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A7%DA%A9_%D8%AA%D8%A7%D8%AC_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%81%D8%B2%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "دستیاب اس کو ہوا جب سے ہے گلدستۂ داغ", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "دستیاب اس کو ہوا جب سے ہے گلدستۂ داغ\nبلبل دل کا نہیں ملتا ہے زنہار دماغ\n\nحلقۂ زلف سے اس کی جو عیاں ہیں عارض\nشب تاریک میں گویا کہ فروزاں ہے چراغ\n\nگر فروغ رخ جانانہ مدد فرما ہو\nغم کونین سے ہو جاوے وہیں دل کو فراغ\n\nفضل ایزد سے مبارک رہے اے واعظ شہر\nکوچۂ یار ہمیں اور تجھے فردوس کا باغ\n\nمست عشق شہ خادم ہوں میں آثمؔ یکسر\nجس نے بخشا ہے مجھے بادۂ عرفاں کا ایاغ", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B3%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%84%D8%AF%D8%B3%D8%AA%DB%82_%D8%AF%D8%A7%D8%BA"} {"title": "دشت ایمن سے چلے کوئے بتاں تک پہنچے", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دشت ایمن سے چلے کوئے بتاں تک پہنچے\nتیرے دیوانے رموز دو جہاں تک پہنچے\n\nبت کے راندے ہوئے اللہ کے ٹھکرائے ہوئے\nآخر کار در پیر مغاں تک پہنچے\n\nغم کو ہیں عار وہ آہیں کہ لبوں تک آئیں\nدل پہ ہیں بار وہ شکوے کہ زباں تک پہنچے\n\nمرحلے اور بھی ہیں جاں سے گزرنے کے سوا\nعشق میں ہم نفسو کوئی کہاں تک پہنچے\n\nترے جلووں کی رسائی کا تماشا دیکھا\nمنزل دل سے چلے منزل جاں تک پہنچے\n\nکاروان غم دل دشت جنوں سے گزرا\nآج ہم غایت عمر گزراں تک پہنچے\n\nعشق کا ساتھ دیا صدق و یقیں تک آئے\nعقل سے کام لیا وہم و گماں تک پہنچے\n\nاہل منصب نے کیا کور نگاہوں کو سلام\nاہل دل بارگہہ دیدہ وراں تک پہنچے\n\nجن کو رہنا تھا رہے ہم سخنوں کے ہم راہ\nجن کو جانا تھا گئے بزم شہاں تک پہنچے\n\nمل گئیں سب حرم و دیر کی راہیں آکر\nشکر صد شکر کہ ہم شہر مغاں تک پہنچے\n\nرہ گئے یار قتیل غم دوراں ہو کر\nہم سے کچھ سوختہ جاں کوئے بتاں تک پہنچے\n\nپھر بہار آئی کہ ناگاہ اسیران غیور\nہم رہ شاخ قفس برق تپاں تک پہنچے\n\nکچھ کرو چارہ گرو دل کی گراں جانی کا\nشیشہ ٹوٹے تو کف شیشہ گراں تک پہنچے\n\nتمہیں سچے کہ رہا رنگ تغافل یکساں\nہمیں جھوٹے کی خموشی سے فغاں تک پہنچے\n\nاپنے احوال و مقامات سے میں واقف ہوں\nوہ تو حالات ہیں جو اہل جہاں تک پہنچے\n\nخوشنوائی کی ملی داد کہ میرے اشعار\nمہ وشاں کج کلہاں خوش نگہاں تک پہنچے\n\nمیں نے رسماً جو کیا عشق بتاں سے انکار\nکیا تبسم لب لعلین بتاں تک پہنچے\n\nمیری آنکھوں سے گریزاں ہیں وہ جلوے اب تک\nعکس جن کے مرے آئینۂ جاں تک پہنچے\n\nدامن یار کی منزل سے گزر کر آخر\nدست عشاق سر تاجوراں تک پہنچے\n\nچاند اترا مرے کاشانے میں عابدؔ کل رات\nدیکھیے رات کی یہ بات کہاں تک پہنچے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%92"} {"title": "دشت غربت ہے علالت بھی ہے تنہائی بھی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دشت غربت ہے علالت بھی ہے تنہائی بھی\nاور ان سب پہ فزوں بادیہ پیمائی بھی\n\nخواب راحت ہے کہاں نیند بھی آتی نہیں اب\nبس اچٹ جانے کو آئی جو کبھی آئی بھی\n\nیاد ہے مجھ کو وہ بے فکری و آغاز شباب\nسخن آرائی بھی تھی انجمن آرائی بھی\n\nنگہ شوق و تمنا کی وہ دل کش تھی کمند\nجس سے ہو جاتے تھے رام آہوئے صحرائی بھی\n\nہم صنم خانہ جہاں کرتے تھے اپنا قائم\nپھر کھڑے ہوتے تھے واں حور کے شیدائی بھی\n\nاب نہ وہ عمر نہ وہ لوگ نہ وہ لیل و نہار\nبجھ گئی طبع کبھی جوش پہ گر آئی بھی\n\nاب تو شبہے بھی مجھے دیو نظر آتے ہیں\nاس زمانہ میں پری زاد تھی رسوائی بھی\n\nکام کی بات جو کہنی ہو وہ کہہ لو اکبرؔ\nدم میں چھن جائے گی یہ طاقت گویائی بھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D8%BA%D8%B1%D8%A8%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%84%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "دشت و صحرا اگر بسائے ہیں", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دشت و صحرا اگر بسائے ہیں\nہم گلستاں میں کب سمائے ہیں\n\nآپ نغموں کے منتظر ہوں گے\nہم تو فریاد لے کے آئے ہیں\n\nایک اپنا دیا جلانے کو\nتم نے لاکھوں دیے بجھائے ہیں\n\nکیا نظر آئے گا ابھی ہم کو\nیک بیک روشنی میں آئے ہیں\n\nیوں تو سارا چمن ہمارا ہے\nپھول جتنے بھی ہیں پرائے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D9%88_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A8%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے\nذروں میں روشنئ تجلئ طور ہے\nاک آفتاب رخ کی ضیا دور دور ہے\nکوسوں زمین عکس سے دریائے نور ہے\nاللہ رے حسن طبقۂ عنبر سرشت کا\nمیدان کربلا ہے نمونہ بہشت کا\n\nحیراں زمیں کے نور سے ہے چرخ لاجورد\nمانند کہربا ہے رخ آفتاب زرد\nہے روکش فضائے ارم وادی نبرد\nاٹھتا ہے خاک سے تتق نور جائے گرد\nحیرت سے حاملان فلک ان کو تکتے ہیں\nذرے نہیں زمیں پہ ستارے چمکتے ہیں\n\nہے آب نہر صورت آئینہ جلوہ گر\nتاباں ہے مثل چشمۂ خورشید ہر بھنور\nلہریں بسان برق چمکتی ہیں سر بہ سر\nپانی پہ مچھلیوں کی ٹھہرتی نہیں نظر\nیہ آب و تاب ہے کہ گہر آب آب ہیں\nدریا تو آسماں ہیں ستارے حباب ہیں\n\nپرتو فگن ہوا جو رخ قبلۂ انام\nمشہور ہو گئی وہ زمیں عرش احتشام\nاور سنگ ریزے در نجف بن گئے تمام\nصحرا کو مل گیا شرف وادی السلام\nکعبہ سے اور نجف سے بھی عزت سوا ہوئی\nخاک اس زمین پاک کی خاک شفا ہوئی\n\nپھیلا جو نور مہر امامت دم زوال\nذروں سے واں کے آنکھ ملانا ہوا محال\nسارے نہال فیض قدم سے ہوئے نہال\nاختر بنے جو پھول تو شاخیں بنیں ہلال\nپتے تمام آئینۂ نور ہو گئے\nصحرا کے نخل سب شجر طور ہو گئے\n\nغل تھا زہے حسین کی شوکت زہے وقار\nگویا کھڑے ہیں جنگ کو محبوب کردگار\nرخ سے عیاں ہے دبدبۂ شاہ ذو الفقار\nہے نور حق جبین منور سے آشکار\nکیونکر چھپے نہ ماہ دوہفتہ حجاب سے\nچودہ طبق میں نور ہے اس آفتاب سے\n\nیہ روئے روشن اور یہ گیسوئے مشک فام\nیاں شام میں تو صبح ہے اور صبح میں ہے شام\nہالے میں یوں نظر نہیں آتا ہے مہ تمام\nقدرت خدا کی نور کا ظلمت میں ہے مقام\nزلفوں میں جلوہ گر نہیں چہرہ جناب کا\nہے نصف شب میں آج ظہور آفتاب کا\n\nقرباں کمان ابروئے مولا پہ جان و دل\nگر ماہ نو کہیں تو ہے تشبیہ مبتذل\nچشم غزال دشت ختن چشم سے خجل\nدیکھا جسے کرم سے خطائیں ہوئیں بحل\nپتلی بسان قبلہ نما بے قرار ہے\nگریاں ہیں وہ یہ گردش لیل و نہار ہے\n\nرخسار ہیں ضیا میں قمر سے زیادہ تر\nجن پر ٹھہر سکی نہ کبھی شمس کی نظر\nریش مخضب اور یہ رخ شاہ بحر و بر\nپیدا ہیں صاف معنی و اللیل و القمر\nقرآن سے عیاں ہے بزرگی امام کی\nکھائی قسم خدا نے اسی صبح و شام کی\n\nکس منہ سے کیجئے لب جان بخش کا بیاں\nچوسی جنہوں نے احمد مختار کی زباں\nکیا در آب دار ہیں اس درج میں نہاں\nگویا کہ موتیوں کا خزانہ ہے یہ دہاں\nذرے زمیں پہ عکس سے سارے چمک گئے\nجس وقت یہ کھلے تو ستار چمک گئے\n\nشمع حریم لم یزل تھا گلوئے شاہ\nتاریک شب میں جیسے ہویدا ہو نور ماہ\nاے چرخ بے مدار یہ کیسا ستم ہے آہ\nشمشیر شمر اور محمد کی بوسہ گاہ\nجس پر رسول ہونٹوں کو ملتے ہوں پیار سے\nکٹ جائے کربلا میں وہ خنجر کی دھار سے\n\nمنظور یاں تھی مدح گلوئے شہ امم\nیاد آ گئی مگر یہ حدیث غم و الم\nمسجد میں جلوہ گر تھے رسول فلک حشم\nملتے تھے ذکر حق میں لب پاک دم بہ دم\nروشن تھے بام و در رخ روشن کے نور سے\nآئینہ بن گئی تھی زمیں تن کے نور سے\n\nتھا جو ستوں کہ رکن رسالت کا تکیہ گاہ\nکرسی بھی اس کی پشت کی تھی ڈھونڈھتی پناہ\nتھا جس حصیر پر وہ دو عالم کا بادشاہ\nحسرت سے عرش کرتا تھا اس فرش پر نگاہ\nاوج زمیں بہشت بریں سے دو چند تھا\nمنبر کا نہ فلک سے بھی پایہ بلند تھا\n\nاصحاب خاص گرد تھے انجم کی طرح سب\nتاباں تھا بیچ میں وہ مہ ہاشمی لقب\nسر پر ملک صفات مگس راں تھے دو عرب\nجبریل تہ کیے ہوئے تھے زانوئے ادب\nخادم بلال و قنبر گروں اساس تھا\nنعلین اس کے پاس عصا اس کے پاس تھا\n\nگیسو تھے وہ مفسر و اللیل اذا سجا\nرخ سے عیاں تھے معنی و الشمس و الضحا\nوہ ریش پاک اور رخ سردار انبیا\nگویا دھرا تھا رحل پہ قرآں کھلا ہوا\nاوڑھے سیہ عبا جو وہ عالم پناہ تھا\nکعبہ کا صاف حاجیوں کو اشتباہ تھا\n\nپہلو میں بادشاہ کے تھا جلوہ گر وزیر\nسردار دیں علی ولی خلق کا امیر\nدونوں جہاں میں کوئی نہ دونوں کا تھا نظیر\nاحمد تھے آفتاب تو حیدر مہ منیر\nظاہر میں ایک نور کا دو جا ظہور تھا\nگر غور کیجیے تو وہی ایک نور تھا\n\nمصروف وعظ و پند تھے سلطان مشرقین\nجو گھر سے نکلے کھیلتے زہرا کے نور عین\nنانا بغیر دونوں نواسوں کو تھا نہ چین\nبڑھ جاتے تھے حسن کبھی آگے کبھی حسین\nکہتے تھے دیکھیں کون قدم جلد اٹھاتا ہے\nنانا کے پاس کون بھلا پہلے جاتا ہے\n\nوہ گورے گورے چہروں پہ زلفیں ادھر ادھر\nاختر سے وہ چمکتے ہوئے کان کے گہر\nرشک ہلال طوق گلے غیرت قمر\nہیکل پہ نقش نام خدائے جلیل کے\nتعویذ گردنوں پہ پر جبرئیل کے\n\nمسجد میں آئے ہنستے ہوئے جب وہ گل بدن\nخوشبو سے صحن مسجد جامع بنا چمن\nتسلیم کو حسین سے پہلے جھکے حسن\nخوش ہو کے مسکرانے لگے سرور زمن\nبڑھ بڑھ کے خم سلام کو چھوٹے بڑے ہوئے\nبیٹھے رہے رسول ملک اٹھ کھڑے ہوئے\n\nبیٹوں کو تھا علی کا اشارہ کہ بیٹھ جاؤ\nلازم نہیں کہ وعظ میں نانا کو تم ستاؤ\nپھیلا کے ہاتھ بولے محمد کہ آؤ آؤ\nشبیر نے کہا ہمیں پہلے گلے لگاؤ\nبھائی حسن جو آپ کی گودی میں آئیں گے\nہم تم سے نانا جان ابھی روٹھ جائیں گے\n\nبولے حسن کہ واہ ہمیں اور کریں نہ پیار\nاقرار کے چکے ہیں شہنشاہ نام دار\nبولے بہ چشم نم یہ حسین فلک وقار\nدیکھیں تو کون کاندھے پہ ہوتا ہے اب سوار\nسب سے سوا جو ہیں سو ہمیں ان کے پیارے ہیں\nآگے نہ بڑھیے آپ کہ نانا ہمارے ہیں\n\nبھائی سے تب کہا یہ حسن نے بہ التفات\nبے وجہ ہم سے روٹھے ہو تم اے نکو صفات\nنانا ہمارے کیا نہیں سلطان کائنات\nہوتی ہے ناگوار تمہیں تو ذرا سی بات\nغصہ نہ اتنا چاہیئے خوش خو کے واسطے\nمچلے تھے یوں ہی بچۂ آہو کے واسطے\n\nیہ سن کے منہ علی کا لگے دیکھنے رسول\nہنس کر کہا یہ دونوں ہیں میرے چمن کے پھول\nمیں چاہتا ہوں ایک کی خاطر نہ ہو ملول\nروئیں گے یہ تو گھر سے نکل آئے گی بتول\nہووے نہ رنج میرے کسی نور عین کو\nتم لو حسن کو گود میں میں لوں حسین کو\n\nشبر سے پھر اشارہ کیا ہو کے بے قرار\nغصہ نہ کھاؤ پہلے تمہیں کو کریں گے پیار\nپھر بولے دیکھ کر سوئے شبیر نامدار\nآ اے حسین آ تری باتوں کے میں نثار\nچھاتی سے ہم لگائیں گے جان اپنی جان کر\nدیکھیں تو پہلے کون لپٹتا ہے آن کر\n\nدوڑے یہ بات سن کے برابر وہ خوش سیر\nپاس آئے آفتاب رسالت کے دو قمر\nلپٹے حسین ہنس کے ادھر اور حسن ادھر\nتھے پانوں زانوؤں پہ تو بالائے دوش سر\nنانا کے ساتھ پیار میں دونوں کا ساتھ تھا\nگردن میں ایک ان کا اور ان کا ہاتھ تھا\n\nپھر پھر کے دیکھتے تھے شہنشاہ مشرقین\nگہہ جانب حسن تو کبھی جانب حسین\nبیٹھے جو زانوؤں پہ وہ زہرا کے نور عین\nتھا تن کو لطف قلب کو راحت جگر کو چین\nجھک جھک کے منہ رسول زمن چومنے لگے\nان کا گلا تو ان کا دہن چومنے لگے\n\nشبیر چاہتے تھے کہ چومیں مرے بھی لب\nپر کچھ گلے کے بوسوں کا کھلتا نہ تھا سبب\nنانا کے منہ کے پاس یہ لاتے تھے منہ کو جب\nجھک جھک کے چومتے تھے گلا سید عرب\nبھائی کو دیکھ کر جو حسن مسکراتے تھے\nغیرت سے ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے تھے\n\nاٹھے حسین زانوئے احمد سے خشمگیں\nغصے سے رنگ زرد اور آنکھوں پہ آستیں\nرخ پر پسینہ جسم میں رعشہ جبیں پہ چیں\nپوچھا کدھر چلے تو یہ بولے کہیں نہیں\nگھر میں اکیلے تیوری چڑھائے چلے گئے\nدیکھا نہ پھر کے سر کو جھکائے چلے گئے\n\nبیت الشرف میں آئے جو شبیر نام دار\nکرتے کو منہ پہ رکھ کے لگے رونے زارزار\nدوڑیں یہ کہہ کے فاطمہ زہرا جگر فگار\nہے ہے حسین کیا ہوا تو کیوں ہے اشک بار\nتجھ کو رلا کے غم میں مجھے مبتلا کیا\nقربان ہو گئی تجھے کس نے خفا کیا\n\nمیرا کلیجہ پھٹتا ہے اے دل ربا نہ رو\nزہرا ہزار جان سے تجھ پہ فدا نہ رو\nسر میں نہ درد ہو کہیں اے مہ لقا نہ رو\nبس بس نہ رو حسین برائے خدا نہ رو\nمیری طرف تو دیکھو کہ بیتاب ہوتی ہوں\nچادر سے منہ کو ڈھانپ کے لو میں بھی روتی ہوں\n\nتو منہ تو کھول اے مرے شبیر خوش خصال\nتر ہو گئے ہیں آنسوؤں سے گورے گورے گال\nمل مل کے پشت دست سے آنکھ کرو نہ لال\nسلجھاؤں آؤ الجھے ہوئے گیسوؤں کے بال\nگھر سے گئے تھے ساتھ جدا ہو کے آئے ہو\nسمجھی میں کچھ حسن سے خفا ہو کے آئے ہو\n\nتم چپ رہو وہ گھر میں تو مسجد سے پھر کے آئیں\nگزری میں کھیل سے مرے بچے کو کیوں رلائیں\nان سے نہ بولیو وہ تمہیں لاکھ گر منائیں\nلو آؤ جانے دو تمہیں چھاتی سے ہم لگائیں\nواری اگر حسن نے رلایا برا کیا\nپوچھوں گی کیا نہ میں مرے پیارے نے کیا کیا\n\nبولے حسین ہم تو ہیں اس بات پر خفا\nنانا نے چومے بھائی کے ہونٹ اور مرا گلا\nتم اماں جان منہ کو تو سونگھو مرے ذرا\nکچھ بوئے ناگوار ہے میرے دہن میں کیا\nبھائی کے لب سے اپنے لبوں کو ملاتے ہیں\nاب ہم نہ جائیں گے ہمیں نانا رلاتے ہیں\n\nمنہ رکھ کے منہ پہ بولی یہ زہرا جگر فگار\nبوئے گلاب آتی ہے اے میرے گلغدار\nچوما اگر گلا تو خفا ہو نہ میں نثار\nتم کو زباں چوساتے تھے محبوب کردگار\nیہ مشک میں مہک نہ گل یاسمن میں ہے\nخوش بو اسی دہن کی تمہارے دہن میں ہے\n\nکہنے لگے حسین یہ ماں سے بہ چشم نم\nکیا جانو تم حسن سے ہمیں چاہتے ہیں کم\nیہ کیا انہیں پہ لطف و عنایت ہے دم بہ دم\nمعلوم ہو گیا انہیں پیارے نہیں ہیں ہم\nرو رو کے آج جان ہم اپنی گنوائیں گے\nپانی نہ اب پئیں گے نہ کھانے کو کھائیں گے\n\nیہ بات سن کے ہو گیا زہرا کا رنگ فق\nبولی پسر سے رو کے وہ بنت رسول حق\nصدقے گئی کرو نہ کلیجے کو میرے شق\nہے ہے یہ کیا کہا مجھے ہوتا ہے اب قلق\nمیرا لہو بہے گا جو آنسو بہاؤ گے\nکاہے کو ماں جیے گی جو کھانا نہ کھاؤگے\n\nیہ کہہ کے اوڑھ لی سر پر نور پر ردا\nموزے پہن کے گود میں شبیر کو لیا\nدر تک گئی جو گھر سے وہ دل بند مصطفا\nفضہ نے بڑھ کے بوزر و سلماں کو دی صدا\nپیش نبی حسین کو گودی میں لاتی ہیں\nہٹ جاؤ سب کہ فاطمہ مسجد میں آتی ہیں\n\nاللہ رے آمد آمد زہرا کا بندوبست\nساتوں فلک تھے اوج شرافت سے جس کے پست\nاحمد کے گرد و پیش سے اٹھے خدا پرست\nانساں تو کیا ملک کو نہ تھی قدرت نشست\nآئیں تو شاد شاد رسول زمن ہوئے\nگھر میں خدا کے ایک جگہ پنج تن ہوئے\n\nتعظیم فاطمہ کو اٹھے سید البشر\nدیکھا کہ چشم فاطمہ ہے آنسوؤں سے تر\nغم تھے حسین دوش پہ ماں کے جھکائے سر\nتھا اک ہلال مہر کے پہلو میں جلوہ گر\nماں کہتی تھی نہ رؤو مگر چپ نہ ہوتے تھے\nآنکھیں تھیں بند ہچکیاں لے لے کے روتے تھے\n\nگھبرا کے پوچھنے لگے محبوب ذو الجلال\nروتا ہے کیوں حسین یہ کیا ہے تمہارا حال\nبولیں بتول آج قلق ہے مجھے کمال\nرویا ہے یہ حسین کہ آنکھیں ہیں دونوں لال\nآتے ہیں ہنستے روتے ہوئے گھر میں جاتے ہیں\nشفقت بھی آپ ہی کرتے ہیں آپ ہی رلاتے ہیں\n\nہاتھوں کو جوڑتی ہوں میں یا شاہ بحر و بر\nشفقت کی اس کے حال پہ ہر دم رہے نظر\nرونے سے اس کے ہوتا ہے ٹکڑے مرا جگر\nمجھ فاقہ کش غریب کا پیارا ہے یہ پسر\nحیدر سے پوچھیے مرے عسرت کے حال کو\nکس کس دکھوں سے پالا ہے اس نونہال کو\n\nاشک اس کے جتنے ٹپکے ہیں یا شاہ نیک خو\nاتنا ہی گھٹ گیا ہے مرے جسم کا لہو\nروئے ہیں پھوٹ پھوٹ کے یہ میرے رو بہ رو\nتر ہو گیا ہے آنسوؤں سے چاند سا گلو\nدیکھا نہ تھا یہ میں نے جو حال اس کا آج ہے\nحضرت تو جانتے ہیں کہ نازک مزاج ہے\n\nشفقت سے آج آپ نے چومے حسن کے لب\nبوسہ لیا نہ ان کے لبوں کا یہ کیا سبب\nرتبے میں دونوں ایک ہیں یا سرور عرب\nمیں سچ کہوں یہ سن کے مجھے بھی ہوا عجب\nاس کو جو ہو خوشی تو دل اس کا بھی شاد ہو\nچھوٹے سے چاہیئے کہ محبت زیاد ہو\n\nآپ ان کے ناز اٹھاتے ہیں یا شاہ بحر و بر\nپھر کس سے روٹھیں آپ سے روٹھیں نہ یہ اگر\nاکثر انہیں چڑھایا ہے حضرت نے دوش پر\nگیسو دئیے ہیں ننھے سے ہاتھوں میں بیشتر\nروٹھے تھے یہ سو قدموں پہ سر دھرنے آئے ہیں\nمنہ کے نہ چومنے کا گلا کرنے آئے ہیں\n\nیہ کہہ کے پھر حسین سے بولیں بہ چشم تر\nلو جا کے اب نبی کے قدم پر جھکاؤ سر\nآئے حسین ہاتھ جو ننھے سے جوڑ کر\nبے اختیار رونے لگے سید البشر\nرہ رہ کے دیکھتے تھے علی و بتول کو\nنزدیک تھا قلق سے غش آئے رسول کو\n\nتھی آنسوؤں سے ریش مبارک تمام نم\nفرط بکا سے خاک پہ جھکتے تھے دم بہ دم\nگاہے ستوں سے لگ کے ہوئے راست گاہ خم\nہر لحظہ اضطراب زیادہ تھا صبر کم\nہو سکتا تھا نہ ضبط شۂ مشرقین سے\nروتے تھے بار بار لپٹ کر حسین سے\n\nشبیر رو کے کہتے تھے نانا نہ روئیے\nروئیں گے اب نہ ہم شۂ والا نہ روئیے\nہلنے لگے گا عرش معلےٰ نہ روئیے\nپھٹتا ہے اب ہمارا کلیجہ نہ روئیے\nسو بار دن میں ہم تو منہ اشکوں سے دھوتے ہیں\nحضرت ہمارے رونے پہ کاہے کو روتے ہیں\n\nگھبرا گئے علی ولی شاہ بحر و بر\nکی عرض فاطمہ نے جھکا کے قدم پہ سر\nبیٹی نثار ہو گئی یا سید البشر\nکیا وجہ ہے جو آپ ہیں اس طرح نوحہ گر\nجلدی بتائیے کہ مجھے تاب اب نہیں\nرونا خدا کے دوست کا یہ بے سبب نہیں\n\nحضرت کو علم غیب ہے یا شاہ انس و جاں\nآئندہ و گزشتہ کا سب حال ہے عیاں\nکیا آئی آج وحی خداوند دو جہاں\nہونا ہے جو حسین پہ مجھ سے کرو بیاں\nفاقوں سے کاٹتی ہوں مصیبت جہان کی\nکیوں بابا جان خیر تو ہے اس کی جان کی\n\nبولے جگر کو تھام کے محبوب ذو الجلال\nتجھ سے سنا نہ جائے گا اے فاطمہ یہ حال\nکس منہ سے میں کہوں کہ قلق ہے مجھے کمال\nزہرا شہید ہوئے ہوویں گے تیرے یہ دونوں لال\nماتم کی یہ خبر ابھی جبریل لائے تھے\nسارے ملک حسین کے پرسے کو آئے تھے\n\nالماس پی کے ہوئے گا بے جاں ترا حسن\nیہ وجہ ہے کہ چومتا ہوں اس کا میں دہن\nبھر جائے گا کلیجوں کے ٹکڑوں سے سب لگن\nہوگا زمردی ترے اس لال کا بدن\nسوئے بہشت جب یہ جہاں سے سدھاریں گے\nبد کیش تیر اس کے جنازے پہ ماریں گے\n\nزہرا مجھے کلام کی طاقت نہیں ہے اب\nحلق حسین چومنے کا کیا کہوں سبب\nاک بن میں تین روز رہیں گے یہ تشنہ لب\nکٹ جائے گا گلا یہی خنجر سے ہے غضب\nنیزے پہ سر چڑھے گا ترے نور عین کا\nگھوڑوں سے روند ڈالیں گے لاشہ حسین کا\n\nروئے خبر یہ کہہ کے جو محبوب ذو المنن\nگھبرا کے منہ حسین کا تکنے لگے حسن\nزہرا پکاری ہائے لٹے گا مرا چمن\nمیں مر گئی دہائی ہے یا سرور زمن\nیہ کیسی آگ ہے کہ مری کوکھ جل گئی\nہے ہے چھری کلیجے پہ زہرا کے چل گئی\n\nفریاد یا نبی شۂ ابرار الغیاث\nاے مرسلان حق کے مددگار الغیاث\nاے بے کسوں کے وارث و سردار الغیاث\nقدرت ہے سب طرح کی شۂ مشرقین کو\nحضرت سے لوں گی اپنے حسن اور حسین کو\n\nکس جرم پر یہ لال مرے قتل ہوں گے آہ\nرو کر کہا رسول خدا نے کہ بے گناہ\nکی عرض فاطمہ نے کہ اے عرش بارگاہ\nبچوں کو میرے کیا نہ ملے گی کہیں پناہ\nتلواریں کھینچ کھینچ کے ظالم جو آئیں گے\nحضرت نہ کیا نواسوں کو اپنے بچائیں گے\n\nآساں ہے کیا جو قتل کریں گے ستم شعار\nکیا شیر حق کمر سے نہ کھینچیں گے ذو الفقار\nاعدا پہ کیا چلے گا نہ دست خدا کا وار\nبالوں کو کیا نہ کھولے گی زہرا جگر فگار\nٹکڑے جگر جو ہوئے گا مجھ دل دو نیم کا\nپایہ نہ کیا ہلاؤں گی عرش عظیم کا\n\nزہرا سے رو کے کہنے لگے شاہ نیک خو\nبیٹی مجھے ستائیں گے تربت میں کینہ جو\nاس وقت قتل ہوئیں گے یہ دونوں ماہ رو\nدنیا میں جب نہ ہوگا علی اور نہ میں نہ تو\nلاشے پہ مجتبیٰ کے تو شبیر روئے گا\nشبیر جب مرے گا تو کوئی نہ ہوئے گا\n\nچلائی سر پٹک کے یہ زہرا کہ ہے ستم\nپیٹے گا کون تن سے جو نکلے گا اس کا دم\nماتم کی صف بچھائے گا کون اے شہ امم\nپرسے کو کون آئے گا اس کے بہ چشم نم\nہم میں سے ایسے وقت جو کوئی نہ ہوئے گا\nہے ہے مرے حسین کو پھر کون روئے گا\n\nبچے کی میرے تعزیہ داری کرے گا کون\nمنہ ڈھانپ ڈھانپ گریہ و زاری کرے گا کون\nدریائے اشک چشم سے جاری کرے گا کون\nامداد بعد مرگ ہماری کرے گا کون\nہوگا کہاں نبی کے نواسے کا فاتحہ\nشربت پہ کون دیوے گا پیاسے کا فاتحہ\n\nبولے نبی کہ آپ کو زہرا نہ کر ہلاک\nفرما چکا ہے مجھ سے یہ وعدہ خدائے پاک\nپیدا کریں گے قوم اک ایسی بہ روئے خاک\nجو رات دن رہیں گے اسی غم میں درد ناک\nبزم عزا میں آئیں گے وہ دور دور سے\nتن خاک سے بنائیں گے دل ان کے نور سے\n\nہوگی انہیں سے مجلس ماتم کی زیب و زین\nدیں گے انہیں وہ لب کہ رہے جس پہ وا حسین\nآنکھیں وہ دیں گے رونے کو سمجھیں جو فرض عین\nہاتھ ایسے غیر سینہ زنی ہو جنہیں نہ چین\nسامان تعزیت کے کبھی کم نہ ہوئیں گے\nوہ حشر تک حسین کے ماتم میں روئیں گے\n\nہوگا عیاں فلک پہ محرم کا جب ہلال\nرخت سیاہ پہنیں گے بر میں وہ خوش خصال\nکھولیں گی بیبیاں بھی سب اپنے سروں کے بال\nہر گھر میں ہوگا شور کہ ہے ہے علی کا لال\nلیں گے صلے میں خلد ترے نور عین سے\nآنسو عزیز وہ نہ کریں گے حسین سے\n\nپیاسا شہید ہوگا جو تیرا یہ دل ربا\nمومن سبیلیں رکھیں گے پانی کی جا بجا\nہووے گی شاد روح شہیدان کربلا\nبھر بھر کے آب سرد پکاریں گے برملا\nمحبوب کبریا کے نواسے کی نذر ہے\nپیاسے نہ جائیو کہ یہ پیاسے کی نذر ہے\n\nکہنے لگی نبی سے بتول فلک جناب\nہے ہے میں کیا کروں مرے دل کو نہیں ہے تاب\nاے بادشاہ کون و مکاں مالک الرقاب\nدرگاہ حق میں آپ کی ہے عرض مستجاب\nکیجے دعا کہ خالق اکبر مدد کرے\nاللہ یہ بلا مرے بچے کی رد کرے\n\nبیٹی سے رو کے کہنے لگے شاہ کائنات\nروح الامیں نے مجھ سے تو یہ بھی کہی ہے بات\nچاہو تو رد کرے یہ بلا رب پاک ذات\nلیکن نہ ہوے گی مرے امت کی پھر نجات\nمحبوب حق نثار ترے نور عین پر\nموقوف ہے یہ امر تو قتل حسین پر\n\nاللہ رے صبر دختر محبوب کردگار\nامت کا نام سن کے جھکایا سر ایک بار\nخوشنود ہو کے کہنے لگے شاہ ذوالفقار\nصدقے حسن حسین تصدق علی نثار\nاس راہ میں نہ مال نہ دولت عزیز ہے\nپیارے پسر نہیں ہمیں امت عزیز ہے\n\nکہنے لگے حسین سے پھر شاہ بحر و بر\nبتلا مجھے کہ کیا تری مرضی ہے اے پسر\nنانا سے بولے چھوٹے سے ہاتھوں کو جوڑ کر\nامت کے کام آئے تو حاضر ابھی ہے سر\nوعدہ کو ہم نہ بھولیں گے گو خورد سال ہیں\nچھوٹے نہیں ہیں مخبر صادق کے لال ہیں\n\nروتے ہیں آپ کس لیے یا سید امم\nراضی ہیں ہم پہ راہ خدا میں ہوں جو ستم\nتلواریں بھی چلیں تو نہیں مارنے کے دم\nامت پہ اپنے سر کو تصدق کریں گے ہم\nہم راست گو ہیں بات پہ جس وقت آتے ہیں\nکہتے ہیں جو زباں سے وہی کر دکھاتے ہیں\n\nبچپن میں جو زباں سے کہا تھا کیا وہ کام\nجس وقت رن میں ٹوٹ پڑے شہ پہ فوج شام\nگردن جھکا کے برچھیاں کھایا کیے امام\nخوں میں قبا رسول کی تر ہو گئی تمام\nتیغیں علی کے لال کے شانے پہ چل گئیں\nچھاتی کے پار نیزوں کی نوکیں نکل گئیں\n\nپھیری نہ تھی جو پشت مبارک دم مصاف\nتھے دو ہزار زخم فقط سر سے تا بہ ناف\nسید سے بے وطن سے زمانہ تھا بر خلاف\nغل تھا کہ آج ہوتا ہے گھر فاطمہ کا صاف\nسنبھلا نہ جائے گا خلف بو تراب سے\nلو وہ قدم حسین کے نکلے رکاب سے\n\nمینہ کی طرح برسنے لگے شاہ دیں پہ تیر\nتھرا رہے تھے لگ کے تن نازنیں پہ تیر\nدامن پہ تیر جیب پہ تیر آستیں پہ تیر\nپہلو پہ تیغ سینہ پہ نیزہ جبیں پہ تیر\nداغوں سے خوں کے رخت بدن لالہ زار تھا\nشکل ضریح سینۂ اقدس فگار تھا\n\nتر تھی لہو میں زلف شکن در شکن جدا\nمجروح لعل لب تھے جدا اور دہن جدا\nدرپئے تھے نیزہ دار جدا تیغ زن جدا\nکٹ کٹ کے ہو گیا تھا ہر اک عضو تن جدا\nسی پارہ تھا نہ صدر فقط اس جناب کا\nپرزے ورق ورق تھا خدا کی کتاب کا\n\nکرتا تھا وار برچھیوں والوں کا جب پرا\nتیغوں سے دم بھی لینے کی مہلت نہ تھی ذرا\nنیزوں میں خوں نبی کے نواسے کا تھا بھرا\nشمشیر و تیر نیزہ و خنجر کے ماورا\nتھیں سختیاں ستم کی شہ خوش خصال پر\nچلتے تھے سنگ فاطمہ زہرا کے لال پر\n\nتھے دو ہزار جسم شۂ بحر و بر پہ زخم\nماتھے پہ زخم تیر کے تیغوں کے سر پہ زخم\nگردن پہ زخم سینہ پہ زخم اور کمر پہ زخم\nاور اس کے ماورا تھے بہتر جگر پہ زخم\nگھوڑے پہ گہہ سنبھلتے تھے گہہ ڈگمگاتے تھے\nغش آتا تھا تو ہرنے پہ سر کو جھکاتے تھے\n\nگھوڑے پہ جب سنبھلنے کی مطلق رہی نہ تاب\nہاتھوں سے باگ چھوٹ گئی اور پاؤں سے رکاب\nگرنے لگا جو خاک پہ وہ آسماں جناب\nمرقد میں بے قرار ہوئی روح بو تراب\nغل تھا کہ خاک پر شہ کون و مکاں گرا\nبس اب زمیں الٹ گئی اور آسماں گرا\n\nجلتی ہوئی زمیں پہ تڑپنے لگے امام\nبے کس پہ ظالموں نے کیا اور اژدہام\nاس وقت شمر سے یہ عمر نے کیا کلام\nہاں تن سے جلد کاٹ سر سرور انام\nڈریو نہ سن کے فاطمہ زہرا کی آہ کو\nگل کر دے شمع قبر رسالت پناہ کو\n\nیہ سنتے ہی چڑھائی ستمگر نے آستیں\nخنجر کمر سے کھینچ کے آگے بڑھا لیں\nتھے قبلہ رو جھکے ہوئے سجدے میں شاہ دیں\nلب ہلتے دیکھے شاہ کے آیا وہ جب قریں\nسمجھا کہ تشنگی سے جو صدمے گزرتے ہیں\nاس وقت بد دعا مجھے شبیر کرتے ہیں\n\nجھک کر قریب کان جو لایا تو یہ سنا\nحق میں گناہ گاروں کے کرتے ہیں شہ دعا\nجاری زبان خشک پہ یہ ہے کہ اے خدا\nکر حاجتوں کو میرے محبوں کی تو روا\nشیعوں کا حشر روز جزا میرے ساتھ ہو\nمیرا یہ خوں بہا ہے کہ ان کی نجات ہو\n\nیہ سن کے مستعد ہوا وہ شہ کے قتل پر\nزانو رکھا حسین کے سینے پہ بے خطر\nگردن پہ پھیرنے لگا خنجر جو بد گہر\nآئی صدا علی کی کہ ہے ہے مرے پسر\nزہرا پکاری کچھ بھی نبی سے حجاب ہے\nظالم یہ بوسہ گاہ رسالت مآب ہے\n\nکیوں ذبح میرے لال کو کرتا ہے بے گناہ\nکیوں کاٹتا ہے میرے کلیجے کو رو سیاہ\nکشتی کو اہل بیت نبی کی نہ کر تباہ\nمیں فاطمہ ہوں عرش ہلائے گی میری آہ\nہوئے گا حشر قتل جو یہ بے وطن ہوا\nیہ مر گیا تو خاتمہ پنج تن ہوا\n\nآواز اپنی ماں کی یہ زینب نے جب سنی\nدوڑی نکل کے خیمے سے سر پیٹتی ہوئی\nدیکھا کہ ذبح کرتا ہے حضرت کو وہ شقی\nسر پیٹ کر یہ کہنے لگی وہ جگر جلی\nہے ہے نہ تین روز کے پیاسے کو ذبح کر\nظالم نہ مصطفی کے نواسے کو ذبح کر\n\nبانو پکارتی تھی یہ کیا کرتا ہے لعیں\nپیاسا ہے تین روز سے حیدر کا جا نشیں\nچلاتی تھی سکینہ کہ جینے کی میں نہیں\nبابا کو ذبح کرتا ہے کیوں اے عدوئے دیں\nخنجر نہ پھیر چاند سی گردن پہ رحم کر\nابا کو چھوڑ دے مرے بچپن پہ رحم کر\n\nزخموں سے چور چور ہے زہرا کا یادگار\nجس چھاتی پر میں سوتی تھی اس پر ہے تو سوار\nبابا کے حلق پر نہ پھرا اب چھری کی دھار\nبدلے پدر کے سر کو مرے تن سے تو اتار\nسید پہ تشنہ لب پہ ستم اس قدر نہ کر\nپوتی ہوں فاطمہ کی مجھے بے پدر نہ کر\n\nرو کر بیاں یہ کرتی تھی وہ سوختہ جگر\nدے کر دہائی اہل حرم پیٹتے تھے سر\nکرتا تھا ذبح شہ کو وہاں شمر بد گہر\nفرماتے تھے یہ شاہ کہ پیاسا ہوں رحم کر\nپانی دیا نہ ہائے نبی کے نواسے کو\nجلاد ذبح کرنے لگا بھوکے پیاسے کو\n\nآخر سر امام امم تن سے کٹ گیا\nچلا کے فاطمہ نے یہ زینب کو دی صدا\nمیداں سے جلد لے کے سکینہ کو گھر میں جا\nبے جرم کٹ گیا ترے ماں جائے کا گلا\nمارا بظلم شمر نے پیاسے کو جان سے\nمیں لٹ گئی حسین سدھارے جہان سے\n\nبس اے انیسؔ بزم میں ہے نالہ و فغاں\nپوچھ ان کے دل سے جو ہیں سخن فہم نکتہ داں\nحق ہے سنا نہیں کبھی اس حسن کا بیاں\nگویا کہ یہ خلیق کی ہے سر بہ سر زباں\nسچ ہے کہ اس زباں کو کوئی جانتا نہیں\nجو جانتا ہے اور کو وہ مانتا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D9%88%D8%BA%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "دشت پیمائی کا گر قصد مکرر ہوگا", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دشت پیمائی کا گر قصد مکرر ہوگا\nہر سر خار پئے آبلہ نشتر ہوگا\n\nمے کدے سے ترا دیوانہ جو باہر ہوگا\nایک میں شیشہ اور اک ہاتھ میں ساغر ہوگا\n\nحلقۂ چشم صنم لکھ کے یہ کہتا ہے قلم\nبس کہ مرکز سے قدم اپنا نہ باہر ہوگا\n\nدل نہ دینا کبھی ان سنگ دلوں کو یارو\nچور ہووے گا جو شیشہ تہہ پتھر ہوگا\n\nدیکھ لیتا وہ اگر رخ کی تجلی تیرے\nآئنہ خانۂ مایوسی میں ششدر ہوگا\n\nچاک کر ڈالوں گا دامان کفن وحشت سے\nآستیں سے نہ مرا ہاتھ جو باہر ہوگا\n\nاے رساؔ جیسا ہے برگشتہ زمانہ ہم سے\nایسا برگشتہ کسی کا نہ مقدر ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%D8%B1_%D9%82%D8%B5%D8%AF_%D9%85%DA%A9%D8%B1%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دشمن جاں ہے تشنۂ خوں ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دشمن جاں ہے تشنۂ خوں ہے\nشوخ ہے بانک ہے نکت بھوں ہے\n\nتجھ کوں لیلیٰ بھی دیکھ مجنوں ہے\nدل رباؤں کا دل ربا توں ہے\n\nدل کے چھلنے کوں یہ لٹک چلنا\nسحر ہے ٹوٹکا ہے افسوں ہے\n\nخال مشکیں ہے لال لب ہا پر\nیا مے سرخ بیچ افیوں ہے\n\nآن ہے درد کے ضعیفاں پر\nآہ دل کی الف ہے قد نوں ہے\n\nدرگزر کر رقیب سیں اے دل\nبے حیا ہے رجالا ہے دوں ہے\n\nدرد سر کا علاج کیوں نہ کرے\nیار کا رنگ صندلی گوں ہے\n\nشیخ خرقے میں جب مراقب ہو\nگربہ مسکین ہے مری جوں ہے\n\nگر وفادار کش نہیں وہ شوخ\nآبروؔ ساتھ دشمنی کیوں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B4%D9%86%DB%82_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "دشمن جوانیوں کی یہ آشنائیاں ہیں", "poet_page": "مصنف:چراغ حسن حسرت", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "دشمن جوانیوں کی یہ آشنائیاں ہیں\nان آشنائیوں میں کیا کیا برائیاں ہیں\n\nحسرتؔ کہو کہ کس سے آنکھیں لڑائیاں ہیں\nہونٹوں پہ سرد آہیں منہ پہ ہوائیاں ہیں\n\nیا دل ستانیاں تھیں اور مہربانیاں تھیں\nیا کج ادائیاں ہیں یا بے وفائیاں ہیں\n\nقسمت کی کیا شکایت تقدیر کا گلا کیا\nجتنی برائیاں ہیں دل کی برائیاں ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دشمن سے ہے میرے دلِ مضطر کی شکایت", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دشمن سے ہے میرے دلِ مضطر کی شکایت\nکیوں کر نہ کروں شوخیِ دلبر کی شکایت\n\nدیوانۂ اُلفت ادب آموزِ خرد ہے\nسودے میں نہیں زلفِ معنبر کی شکایت\n\nتاخیر نہ کر قتلِ شہیدانِ وفا میں\nہر ایک کو ہے تیزیِ خنجر کی شکایت\n\nتاثیر ہو کیا، ان لب و دنداں کا ہوں بیمار\nنے لعل کا شکوہ ہے نہ گوہر کی شکایت\n\nکیوں بوالہوسوں سے دلِ عاشق کا گلہ ہے\nغیروں سے بھی کرتا ہے کوئی گھر کی شکایت\n\nاب ظلم سرشتوں کی نگہ سے ہوں مقابل\nہوتی تھی کبھی کاوشِ نشتر کی شکایت\n\nیاں کانٹوں پہ بھی لوٹنے میں چین نہیں ہے\nواں غیر سے ہے پھولوں کے بستر کی شکایت\n\nتعلیم بد آموز کو ہم کرتے ہیں ، یعنی\nہے شکرِ وفا، جورِ ستم گر کی شکایت\n\nبے پردہ وہ آئیں گے تو کیسے مجھے ہو گی\nاے شیفتہ ہنگامۂ محشر کی شکایت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84%D9%90_%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA"} {"title": "دشمن کو بھی دے خدا نہ اولاد کا داغ", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دشمن کو بھی دے خدا نہ اولاد کا داغ\nجاتا نہیں ہرگز دل ناشاد کا داغ\nفرماتے تھے رو کے لاش قاسم پہ حسین\nاولاد سے کم نہیں ہے داماد کا داغ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%88%D9%84%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D8%BA"} {"title": "دشمن کو لے کے ساتھ ستم گر ادھر بڑھا", "poet_page": "مصنف:سید ہمایوں میرزا حقیر", "kind": "poetry", "section": "غزل > چمنستان فصاحت (1940)", "year": "1940", "text_ur": "دشمن کو لے کے ساتھ ستم گر ادھر بڑھا\nکچ درد سر گھٹا تھا کہ درد جگر بڑھا\n\nخالی نہ آئے یار کی محفل سے ہم کبھی\nرشک عدو سے اور بھی زخم جگر بڑھا\n\nتنہائی پر مری نہ ذرا بھی کیا خیال\nدل پہلے نذر لے لیا تب نامہ بر بڑھا\n\nمحروم رہ نہ جائیں کہ محفل اخیر ہے\nساقی بھلا ہو اب بھی کوئی جام ادھر بڑھا\n\nمیرے سبب سے قاتل عالم ملا خطاب\nجب میں مٹا تو آپ کا یہ کر و فر بڑھا\n\nجب مر گئے تو قبر پہ وہ فاتحہ کو آئے\nکب میرے نالہ ہائے دروں کا اثر بڑھا\n\nارمان وصل کرتے ہیں دیکھوں کہاں قیام\nدل کی طرف بھی یار کا تیر نظر بڑھا\n\nرنج و ملال ہجر سے گھبرا نہ اے حقیرؔ\nہاں جس قدر بڑھے ابھی زاد سفر بڑھا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دشمن کی بات جب تری محفل میں رہ گئی", "poet_page": "مصنف:رسا رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دشمن کی بات جب تری محفل میں رہ گئی\nامید یاس بن کے مرے دل میں رہ گئی\n\nتو ہم سے چھپ گیا تو تری شکل دل فریب\nتصویر بن کے آئینۂ دل میں رہ گئی\n\nنکلا وہاں سے میں تو مرے دل کی آرزو\nسر پیٹتی ہوئی تری محفل میں رہ گئی\n\nدیکھا جو قتل عام تو ہر لاش پر اجل\nاک آہ بھر کے کوچۂ قاتل میں رہ گئی\n\nمیں کیا کہوں رساؔ کہ مرے دل پہ کیا بنی\nتلوار کھچ کے جب کف قاتل میں رہ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دشمن کی طرف ہو کے نکلنے نہیں دیتے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دشمن کی طرف ہو کے نکلنے نہیں دیتے\nہم کو وہ بری راہ بھی چلنے نہیں دیتے\n\nآنکھیں ہمیں تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے\nہم چٹکیوں سے دل کو مسلنے نہیں دیتے\n\nکہتے ہیں مئے ناب حسینوں کا ہے جوبن\nہم بزم میں اپنی اسے ڈھلنے نہیں دیتے\n\nوہ کیا لحد غیر کو پامال کریں گے\nچلتے ہوئے فقرے بھی تو چلنے نہیں دیتے\n\nجلتا ہوں بچاتے ہیں اسے سوز دروں سے\nدشمن کو مری آگ میں جلنے نہیں دیتے\n\nنازک ہے مرے نخل تمنا کی ہر اک شاخ\nاس خوف سے وہ پھولنے پھلنے نہیں دیتے\n\nکب بوسے لیے ان کے جو بل کھائے ہیں گیسو\nتم گالوں کو کیوں زہر اگلنے نہیں دیتے\n\nآئی ہے یہ کہتی ہوئی کس کی شب فرقت\nہم رنگ زمانے کو بدلنے نہیں دیتے\n\nڈر ہے نہ دوپٹہ کہیں سینے سے سرک جائے\nپنکھا بھی ہمیں پاس سے جھلنے نہیں دیتے\n\nکیوں ہم کو جلاتے ہو دم وصل یہ کیا ہے\nکیوں پھونکتے ہو شمع کو جلنے نہیں دیتے\n\nہے جان مری کشمکش نزع میں دن رات\nارمان تو کیا دم بھی نکلنے نہیں دیتے\n\nکھلنے نہیں دیتے کبھی کم ظرفی واعظ\nہم رند پلا کر بھی ابلنے نہیں دیتے\n\nجاتا ہوں تو آتی ہے یہی طور سے آواز\nہم دیکھنے والوں کو سنبھلنے نہیں دیتے\n\nکیا کام ریاضؔ آنے کو سو بار بہار آئے\nہم کو یہ حسیں پھولنے پھلنے نہیں دیتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92"} {"title": "دشمن کی ملامت بلا ہے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دشمن کی ملامت بلا ہے\nیہ موم کا سانپ کاٹتا ہے\n\nوسواس حساب حشر کیا ہے\nگمناموں کو کون پوچھتا ہے\n\nعالم مشتاق دید کا ہے\nوہ بت نہ دکھائے منہ خدا ہے\n\nوہ سیم بدن مگر خفا ہے\nسونا جو حرام ہو گیا ہے\n\nسر تا پا ہوں برنگ تصویر\nکیا ضعف کا رنگ جم گیا ہے\n\nقشقہ کھنچا ہے ابروؤں میں\nدو نیمچے ایک پر تلا ہے\n\nمحفوظ افتادگی نے رکھا\nتعویذ میں نقش بوریا ہے\n\nگردش سے ملی مجھے سعادت\nہر آبلہ بیضۂ ہما ہے\n\nجھڑتے ہیں پھول منہ سے اے گل\nباتوں کا جھاڑ موتیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دعا (احمق پھپھوندوی)", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یا خدا ہم کو آدمیت دے\nملک اور قوم کی محبت دے\nکر عطا اس قدر تمیز ہمیں\nکہ ہو اپنا وطن عزیز ہمیں\nاس کی خدمت کو فخر جانیں ہم\nاس کی ہر بات دل سے مانیں ہم\nپھوٹ اور افتراق کھو دیں ہم\nپاپ کی ناؤ کو ڈبو دیں ہم\nحسد و کینہ و خصومت و شر\nکر دیں ان میں سے سب کو ملک بدر\nایک ہو جائیں سب خواص و عوام\nنہ رہے غیریت کا ملک ہیں نام\nصلح و امن اماں ہو چار طرف\nعافیت حکمراں ہو چار طرف\nاتحاد عمل سے ہوں سب کام\nکوئی دانا رہے نہ بندۂ دام\nملک ہو غیر کے اثر سے پاک\nخرمن جور و معصیت ہو خاک\nہو یہ ویرانہ غیرت گل زار\nپھر سے آئے وطن میں تازہ بہار\nپٹا اترے گلے سے لعنت کا\nختم ہو دور فقر و ذلت کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%28%D8%A7%D8%AD%D9%85%D9%82_%D9%BE%DA%BE%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%86%D8%AF%D9%88%DB%8C%29"} {"title": "دعا (سیماب اکبرآبادی)", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے راجہ پرجا کے مالک\nاے ساری دنیا کے مالک\nاے دونوں عالم کے داتا\nتیرا نہیں کسی سے ناتا\nکوئی نہیں ہے تیرا ہمسر\nتو ہے سب سے بالا برتر\nہم ہیں تیرے در کے بھکاری\nشرم ہے تیرے ہاتھ ہماری\nجس کو چاہے عزت دے دے\nجس کو چاہے ذلت دے دے\nعزت ذلت کا تو مالک\nدوزخ جنت کا تو مالک\nمالک تو دونوں عالم کا\nخالق تو جن و آدم کا\nچاہتے ہیں ہم تجھ سے عزت\nدے دے مولا دے دے عزت\nعزت دے ہم کو دنیا میں\nراحت دے ہم کو عقبیٰ میں\nعلم و عمل میں حصہ دے کر\nکر دے ہم کو سب سے بہتر\nیاد سے اپنی شاد ہمیں کر\nدنیا میں آباد ہمیں کر\nعقل بھی دے اور علم عطا کر\nفہم بھی دے اور حلم عطا کر\nجس سے تو ہو راضی مولا\nبات وہی ہے اچھی مولا\nطاعت کا اپنی چسکا دے\nاپنی الفت کا سودا دے\nعشق کی بو موجود ہو دل میں\nتو ہی تو موجود ہو دل میں\nبن جائے ہر کام ہمارا\nحق پر ہو انجام ہمارا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%28%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%29"} {"title": "دعا (م حسن لطیفی)", "poet_page": "مصنف:م حسن لطیفی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مرا جسم تحلیل غم ہو چکے جب\nتو بن جائے خوں‌‌ گشتۂ فریاد یا رب\nوہ انگڑائی لے پھر تڑپ کر قفس میں\nسحر بن کے ہو جائے شق ہر تہ شب\nگریبان مشرق کی روداد لے کر\nپہنچ جائے تا بام سرکار یثرب", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%28%D9%85_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%84%D8%B7%DB%8C%D9%81%DB%8C%29"} {"title": "دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوا\nبتوں کے عشق میں یاد خدا سے کچھ نہ ہوا\n\nمیں ایک کیا ہوں سبھی با وفا ہیں شاکئ جور\nتم ایک کیا ہو کسی بے وفا سے کچھ نہ ہوا\n\nبھری تو تھی مگر اپنے اثر کو لا نہ سکی\nگئی تو تھی مگر آہ رسا سے کچھ نہ ہوا\n\nوہ آرزو ہوں کہ جس آرزو کی کچھ نہ چلی\nوہ مدعا ہوں کہ جس مدعا سے کچھ نہ ہوا\n\nیہی سہی کہ خوشی سے ملے ملے تو سہی\nیہی سہی کہ ہماری دعا سے کچھ نہ ہوا\n\nوہ ایک ہم کہ جو چاہا کیا وصال کی رات\nوہ ایک تم کہ تمہاری حیا سے کچھ نہ ہوا\n\nانہیں بلا کے تصور میں ہم ملے مضطرؔ\nہوس تو ہو گئی پوری بلا سے کچھ نہ ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%AC%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "دعا مانگے دل غمگیں کہاں تک", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دعا مانگے دل غمگیں کہاں تک\nکہوں میں دم بہ دم آمیں کہاں تک\n\nترے بیمار کو آتی نہیں موت\nپڑھے جائے کوئی یٰسیں کہاں تک\n\nتڑپنے دو ابھی میں بھی تو دیکھوں\nوہ دیتے ہیں مجھے تسکیں کہاں تک\n\nخدا اس بت کی باتوں کا ہے مشتاق\nگیا شور لب شیریں کہاں تک\n\nمرا منہ تھک گیا شکر جفا سے\nکروں میں آفریں تحسیں کہاں تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%BA%D9%85%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا\nکہ یہ شیوہ نہیں اہل رضا کا\n\nطلب میری بہت کچھ ہے، مگر کیا\nکرم تیرا ہے اک دریا عطا کا\n\nکہاں تک ناز اٹھائے آخر اے حسن\nہوس تیرے مزاج خود ستا کا\n\nنہیں معلوم کیا اے شاہ خوباں\nتجھے کچھ حال اپنے مبتلا کا\n\nبجائے اسم اعظم آپ کا نام\nوظیفہ ہے مرا صبح و مسا کا\n\nغضب کا سامنا ہے عاشقوں کو\nدیار حق میں افواج بلا کا\n\nنثار ان پر ہوئے اچھے رہے ہم\nتقاضا تھا یہی خوئے وفا کا\n\nگنہ گارو چلو عفو الٰہی\nبہت مشتاق ہے عرض خطا کا\n\nتری محفل میں اہل دل کو جلوہ\nنظر آ جائے گا شان خدا کا\n\nاٹھایا ہے مزا دل نے بہت کچھ\nمحبت کے غم راحت فزا کا\n\nجفا کو بھی وفا سمجھو کہ حسرتؔ\nتمہیں حق ان سے کیا چون و چرا کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کر", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کر\nہوا ہوں تب میں بتوں کا بندہ خدا خدا کر خدا خدا کر\n\nدعا لب جام نے بھی مانگی سبو نے بھی ہاتھ اٹھا اٹھا کر\nہماری محفل میں آیا ساقی خدا خدا کر خدا خدا کر\n\nدکھایا وحدت نے اپنا جلوہ دوئی کا پردہ اٹھا اٹھا کر\nکروں میں سجدہ بتوں کے آگے تو اے برہمن خدا خدا کر\n\nہیں اشک زخموں سے میرے جاری نہ دیکھی ہوگی یہ اشک باری\nبنی ہیں چشم پر آب قاتل یہ زخم پانی چرا چرا کر\n\nکہاں وہ شکلیں کہاں وہ باتیں کہاں وہ جلسے کہاں وہ محفل\nیہ سب کا سب خواب کا تھا ساماں چھپا لیا بس دکھا دکھا کر\n\nبرنگ ساغر ملا دیا منہ جو منہ سے تیرے خفا نہ ہونا\nکیا ہے بے ہوش تو نے ساقی شراب مجھ کو پلا پلا کر\n\nاٹھایا یاروں نے پر نہ اٹھا زمیں سے ہرگز ہمارا لاشہ\nیہ کس نے ہم کو ہے مار ڈالا نظر سے اپنی گرا گرا کر\n\nجو پہنچیں ہم مرغ نامہ بر کو تو چٹکیوں میں اسے اڑا دے\nاگر چہ وہ طفل کھیلتا ہے پر کبوتر اڑا اڑا کر\n\nپس از فنا بھی اگر تو آئے کروں سگ یار میہمانی\nکہ استخوانوں کو اپنے تن میں رکھا ہما سے چھپا چھپا کر\n\nگرے اگر سرکشی ہو مجھ سے ابھی فلک کو زمیں پہ پٹکوں\nکہ توڑ ڈالے میں ایسے مینے ہزاروں شیشے اٹھا اٹھا کر\n\nکبھی مرے دل سے کرتی ہیں بل کہی ہیں شانے سے یہ الجھتیں\nغرض کہ زلفوں کو تو نے ظالم بگاڑا ہے سر چڑھا چڑھا کر\n\nشکست لکھتا تھا نام دل کا یہی تھی طفلی میں مشق تیری\nبنا دیا دل شکن یہ تجھ کو معلموں نے لکھا لکھا کر\n\nبڑے گلے ہیں اجل کو تجھ سے مسیح کو بھی بہت ہیں شکوے\nکہ دم میں تو نے ہیں مار ڈالے ہزاروں مردے جلا جلا کر\n\nپلانا پانی کا جام زاہد گناہ مشرب میں ہے ہمارے\nثواب لیتا نہیں ہے کیوں تو شراب مجھ کو پلا پلا کر\n\nنہیں کوئی رازدار ہم سا کیا نہ وحشت میں تجھ کو رسوا\nکہ داغ مانند خار ماہی بدن میں رکھے چھپا چھپا کر\n\nگلے ہزاروں نے اپنے کاٹے ہزاروں بے وجہ ہو گئے خون\nبہت ہوا پھر تو یار نادم کف حنائی دکھا دکھا کر\n\nنگہ کی صورت پھرو نہ ہر سو حجاب تم مردمک سے سیکھو\nاب آؤ آنکھوں میں سیر دیکھو مژہ کی چلمن اٹھا اٹھا کر\n\nدکھا کے گل سے عذار تو نے کیا دل عاشقاں کو بلبل\nبنا دیے گوش غیرت گل صدائے رنگیں سنا سنا کر\n\nگناہ کرتا ہے برملا تو کسی سے کرتا نہیں حیا تو\nخدا کو کیا منہ دکھائے گا تو ذرا تو اے بے حیا حیا کر\n\nچلا ہے محفل سے اپنے ساقی دکھاؤں میں اپنی اشک باری\nکروں بط مے کو مرغ آبی ابھی سے دریا بہا بہا کر\n\nرلائے برسوں ہنسی تو جس سے دکھائے گر زلف مار رکھے\nکرے تو در پردہ راہ دل میں جو دیکھے پردہ اٹھا اٹھا کر\n\nوہی اثر ہے جنوں کا اب تک وہی ہے لڑکوں کو اب بھی کاوش\nکہ میری مٹی کے روز مجنوں بگاڑتے ہیں بنا بنا کر\n\nعجب نہیں نامۂ عمل کا دلا ہو کاغذ اگر خطا کے\nخطائیں کیں میں نے آشکارا کیے ہیں عصیاں چھپا چھپا کر\n\nاثر ہے چاہ ذقن کی الفت کا بعد مردن بھی آہ باقی\nکہ کھیلتی ہیں ہماری مٹی کے ڈول لڑکے بنا بنا کر\n\nکیا ہے پوشیدہ عشق ہم نے کسی سے در پردہ ہے محبت\nپڑے ہوئے بستر الم پر جو روتے ہیں منہ چھپا چھپا کر\n\nجو خوف طوفان اشک سے اب نہیں ہے جاتا نہ جائے قاصد\nرواں کروں سوئے یار جانی خطوں کی ناویں بنا بنا کر\n\nترا سا قد بن سکا نہ ہرگز تری سی صورت نہ بن سکی پھر\nاگر چہ صانع نے لاکھوں نقشے بگاڑ ڈالے بنا بنا کر\n\nادھر مژہ نے لگائی برچھی ادھر نگاہوں نے تیر مارے\nشکست دی فوج صبر دل کو یہ کس نے آنکھیں لڑا لڑا کر\n\nکٹی ہے گویا شب جوانی بس آن پہنچی ہے صبح پیری\nبہت سی کی تو نے بت پرستی اب ایک دو دن خدا خدا کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AF%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D8%AC%DA%BE%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دعوت انقلاب", "poet_page": "مصنف:وحید الدین سلیم", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کیا لے گا خاک مردہ و افتادہ بن کے تو\nطوفان بن کہ ہے تری فطرت میں انقلاب\nکیوں ٹمٹمائے کرمک شب تاب کی طرح\nبن سکتا ہے تو اوج فلک پر اگر شہاب\nوہ خاک ہو کہ جس میں ملیں ریزہ ہائے زر\nوہ سنگ بن کہ جس سے نکلتے ہیں لعل ناب\nچڑیوں کی طرح دانے پہ گرتا ہے کس لیے\nپرواز رکھ بلند کہ تو بن سکے عقاب\nوہ چشمہ بن کہ جس سے ہوں سرسبز کھیتیاں\nرہ رو کو تو فریب نہ دے صورت سراب", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B9%D9%88%D8%AA_%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8"} {"title": "دعوت فکر", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کس طرح ریت کے سمندر میں\nکشتیٔ زیست ہے رواں سوچو\n\nسن کے باد صبا کی سرگوشی\nکیوں لرزتی ہیں پتیاں سوچو\n\nپتھروں کی پناہ میں کیوں ہے\nآئنہ ساز کی دکاں سوچو\n\nاصل سرچشمۂ وفا کیا ہے\nوجہ بے مہریٔ بتاں سوچو\n\nذوق تعمیر کیوں نہیں مٹتا\nکیوں اجڑتی ہیں بستیاں سوچو\n\nفکر سقراط ہے کہ زہر کا گھونٹ\nباعث عمر جاوداں سوچو\n\nلوگ معنی تراش ہی لیں گے\nکوئی بے ربط داستاں سوچو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B9%D9%88%D8%AA_%D9%81%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دعوت نظر", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "میں ہی میں ہوں کوئی ہشیار کہے جاتا ہے\nوہ ہی وہ ہیں کوئی سرشار کہے جاتا ہے\nہمہ اوست اس کی خودی کے لئے مرکز اے دوست\nاس کا نادان انا بھی ہے متاع ہمہ اوست\nہوش افزا ہے مجھے غلغلۂ ہشیاری\nکاش سمجھے اسے تو بھی جرس بیداری\nانحصار من و تو ٹھیک نہیں سب سمجھیں\nوقت ہے خود کو سمجھنے کا یہی اب سمجھیں\nخود شناسی سے ہے امید کہ بن جائے گا کام\nورنہ اس حال زبوں کا ہے تباہی انجام\nنہ بصارت نہ بصیرت نہ عزیمت ہم میں\nکام کرنے کی نہیں نام کو ہمت ہم میں\nاک خودی تھی سو کیا اس کو بھی غفلت کے سپرد\nزندگی کی ہوئی یہ لہر بھی یوں دریا برد\nاس طرف دیکھ فریسان اروپا کی نمود\nآج بالفعل جو ثابت ہے وہ ان کا ہے وجود\nراز تقدیر کھلا ان کے عمل سے ان پر\nاپنے در پے ہے فقط بے عملی کا چکر\nحسن کاری کا مذاق ان سے ہوا آئینہ\nنئی دنیا کا یہ منظر ہے نیا آئینہ\nایسی وحدت پہ نہ ہو کس لئے کثرت شیدا\nایک منزل سے ہیں ہفتا و منازل پیدا\nان کی دنیا ہے نئی اپنی پرانی دنیا\nبن گئی اپنے لئے رام کہانی دنیا\nاور باتوں میں تو کیا خاک ملے گی جدت\nجب زباں میں بھی گوارا نہیں کوئی جدت\nچشم براہ نظر آتے ہیں وہ نقد نگار\nجن کی فطرت کو اپج سے نہیں بالکل سروکار\nنئی ترکیب اگر ان کو کہیں مل جائے\nبرہم اتنے ہوں کہ پامال زمیں ہل جائے\nپھر یہ ہیں اور ادب سوز مداراتیں ہیں\nکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B9%D9%88%D8%AA_%D9%86%D8%B8%D8%B1"} {"title": "دعوے کو یار آگے معیوب کر چکے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دعوے کو یار آگے معیوب کر چکے ہیں\nاس ریختے کو ورنہ ہم خوب کر چکے ہیں\n\nمرنے سے تم ہمارے خاطر نچنت رکھیو\nاس کام کا بھی ہم کچھ اسلوب کر چکے ہیں\n\nحسن کلام کھینچے کیوں کر نہ دامن دل\nاس کام کو ہم آخر محبوب کر چکے ہیں\n\nہنگامۂ قیامت تازہ نہیں جو ہوگا\nہم اس طرح کے کتنے آشوب کر چکے ہیں\n\nرنگ پریدہ قاصد باد سحر کبوتر\nکس کس کے ہم حوالے مکتوب کر چکے ہیں\n\nتنکا نہیں رہا ہے کیا اب نثار کریے\nآگے ہی ہم تو گھر کو جاروب کر چکے ہیں\n\nہر لحظہ ہے تزاید رنج و غم و الم کا\nغالب کہ طبع دل کو مغلوب کر چکے ہیں\n\nکیا جانیے کہ کیا ہے اے میرؔ وجہ ضد کی\nسو بار ہم تو اس کو محجوب کر چکے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D8%B9%D9%88%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%D9%85%D8%B9%DB%8C%D9%88%D8%A8_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے\nفلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہوں گے\n\nناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے\nنیم بسمل کئی ہوں گے کئی بے جاں ہوں گے\n\nتاب نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوں\nاور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے\n\nتو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے\nہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے\n\nناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہم\nلاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہوں گے\n\nکر کے زخمی تجھے نادم ہوں یہ ممکن ہی نہیں\nگر وہ ہوں گے بھی تو بے وقت پشیماں ہوں گے\n\nایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس\nایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے\n\nہم نکالیں گے سن اے موج ہوا بل تیرا\nاس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہوں گے\n\nصبر یا رب مری وحشت کا پڑے گا کہ نہیں\nچارہ فرما بھی کبھی قیدئ زنداں ہوں گے\n\nمنت حضرت عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھی\nزندگی کے لیے شرمندۂ احساں ہوں گے\n\nتیرے دل تفتہ کی تربت پہ عدو جھوٹا ہے\nگل نہ ہوں گے شرر آتش سوزاں ہوں گے\n\nغور سے دیکھتے ہیں طوف کو آہوئے حرم\nکیا کہیں اس کے سگ کوچہ کے قرباں ہوں گے\n\nداغ دل نکلیں گے تربت سے مری جوں لالہ\nیہ وہ اخگر نہیں جو خاک میں پنہاں ہوں گے\n\nچاک پردے سے یہ غمزے ہیں تو اے پردہ نشیں\nایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہوں گے\n\nپھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگی\nپھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہوں گے\n\nسنگ اور ہاتھ وہی وہ ہی سر و داغ جنون\nوہ ہی ہم ہوں گے وہی دشت و بیاباں ہوں گے\n\nعمر تو ساری کٹی عشق بتاں میں مومنؔ\nآخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%81%D9%86_%D8%AC%D8%A8_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%B3%D9%88%D8%AE%D8%AA%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "دل", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "قصّۂ دار و رسَن بازیِ طفلانۂ دل\nالتجائے ’اَرِنی‘ سُرخیِ افسانۂ دل\n\nیا رب اس ساغرِ لبریز کی مے کیا ہو گی\nجادۂ مُلکِ بقا ہے خطِ پیمانۂ دل\n\nابرِ رحمت تھا کہ تھی عشق کی بجلی یا رب!\nجل گئی مزرعِ ہستی تو اُگا دانۂ دل\n\nحُسن کا گنجِ گراں مایہ تجھے مِل جاتا\nتُو نے فرہاد! نہ کھودا کبھی ویرانۂ دل!\n\nعرش کا ہے کبھی کعبے کا ہے دھوکا اس پر\nکس کی منزل ہے الٰہی! مرا کاشانۂ دل\n\nاس کو اپنا ہے جُنوں اور مجھے سودا اپنا\nدل کسی اور کا دیوانہ، میں دیوانۂ دل\n\nتُو سمجھتا نہیں اے زاہدِ ناداں اس کو\nرشکِ صد سجدہ ہے اک لغزشِ مستانۂ دل\n\nخاک کے ڈھیر کو اِکسیر بنا دیتی ہے\nوہ اثر رکھتی ہے خاکسترِ پروانۂ دل\n\nعشق کے دام میں پھنس کر یہ رِہا ہوتا ہے\nبرق گرتی ہے تو یہ نخل ہرا ہوتا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84"} {"title": "دل آئنہ ہے جوہر عکس رو ہے", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل آئنہ ہے جوہر عکس رو ہے\nیوں ہی تجھ سے میں ہوں یوں ہی مجھ میں تو ہے\n\nاگر گل ہے تو جان بلبل بھی تو ہے\nتو ہر رنگ میں رنگ تو ہر بو میں بو ہے\n\nمری خاک اشک ندامت سے تر ہے\nتیمم بھی کریے تو حکم وضو ہے\n\nبجا لن ترانی ہے خاموش ہیں ہم\nجو اٹھ جائے پردہ تو پھر گفتگو ہے\n\nتری زلف پر خم کا دیوانہ ہوں میں\nنہ زنجیر پا ہے نہ طوق گلو ہے\n\nتصور میں ابرو کے جو مر گیا ہوں\nپس مرگ کعبہ مرے روبرو ہے\n\nگریبان صد چاک ہے دامن گل\nنہ پیوند کی جا نہ کار رفو ہے\n\nترے منہ کو دیکھوں ترے ساتھ سوؤں\nیہ ہی حسرت دل یہ ہی آرزو ہے\n\nمیں دوران سر سے جو سر پھوڑتا ہوں\nنہ مے ہے نہ ساقی نہ جام سبو ہے\n\nچھری کیا ہے تلوار بھی مار قاتل\nقبائے بدن کو بھی شوق رفو ہے\n\nنہاتا ہے غیروں کے ہم راہ قاتل\nمرے آب شمشیر ہی تا گلو ہے\n\nترے جلوہ سے ہے دل عرشؔ روشن\nجو وہ صبح صادق تو خورشید تو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%B1_%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%D8%B1%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل آتش ہجراں سے جلانا نہیں اچھا", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل آتش ہجراں سے جلانا نہیں اچھا\nاے شعلہ رخو آگ لگانا نہیں اچھا\n\nکس گل کے تصور میں ہے اے لالہ جگر خوں\nیہ داغ کلیجے پہ اٹھانا نہیں اچھا\n\nآیا ہے عیادت کو مسیحا سر بالیں\nاے مرگ ٹھہر جا ابھی آنا نہیں اچھا\n\nسونے دے شب وصل غریباں ہے ابھی سے\nاے مرغ سحر شور مچانا نہیں اچھا\n\nتم جاتے ہو کیا جان مری جاتی ہے صاحب\nاے جان جہاں آپ کا جانا نہیں اچھا\n\nآ جا شب فرقت میں قسم تم کو خدا کی\nاے موت بس اب دیر لگانا نہیں اچھا\n\nپہنچا دے صبا کوچۂ جاناں میں پس مرگ\nجنگل میں مری خاک اڑانا نہیں اچھا\n\nآ جائے نہ دل آپ کا بھی اور کسی پر\nدیکھو مری جاں آنکھ لڑانا نہیں اچھا\n\nکر دوں گا ابھی حشر بپا دیکھیو جلاد\nدھبا یہ مرے خوں کا چھڑانا نہیں اچھا\n\nاے فاختہ اس سرو سہی قد کا ہوں شیدا\nکو کو کی صدا مجھ کو سنانا نہیں اچھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دل آیا اس طرح آخر فریب ساز و ساماں میں", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل آیا اس طرح آخر فریب ساز و ساماں میں\nالجھ کر جیسے رہ جائے کوئی خواب پریشاں میں\n\nیہ مانا ذرے ذرے پر تمہاری مہر ازل سے ہے\nمگر کیا میری گنجائش نہیں شہر خموشاں میں\n\nپتہ اس کی نگاہ وحشت افزا کا لگانا ہے\nنگاہیں وحشیوں کی دیکھتا پھرتا ہوں زنداں میں\n\nیہی ہے روح کا جوہر تم آؤ گے تو نکلے گا\nدم آخر رکا ہے ایک آنسو چشم گریاں میں\n\nمری جمعیت خاطر کا ساماں حشر کیا کرتا\nقیامت ہو گئی ترتیب اجزائے پریشاں میں\n\nفروغ لالہ و گل کا تماشا دیکھنے والے\nیہ میرے دل کی چوٹیں ہیں جو ابھری ہیں گلستاں میں\n\nعزیزؔ آرائش گلشن کی کوئی انتہا بھی ہے\nوہ محو سیر گل ہیں یا گلستاں ہے گلستاں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل اب اس دل شکن کے پاس کہاں", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل اب اس دل شکن کے پاس کہاں\nچیل کے گھونسلے میں ماس کہاں\n\nصبر بیمار عشق کی ہے دوا\nپر طبیعت سے میری راس کہاں\n\nصبح آنے کا اس کے وعدہ ہے\nمجھ کو پر رات بھر کی آس کہاں\n\nدشمن جاں کو دوست سمجھا میں\nوہ کہاں میں کہاں قیاس کہاں\n\nکیا ہوا اس کو دیکھتے ہی بیاںؔ\nہوش کیدھر گئے حواس کہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%DA%A9%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "دل اس لئے ہے دوست کہ دل میں ہے جائے دوست", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل اس لئے ہے دوست کہ دل میں ہے جائے دوست\nجب یہ نہ ہو بغل میں ہے دشمن بجائے دوست\n\nمٹنے کی آرزو ہے اسی رہ گزار میں\nاتنے مٹے کہ لوگ کہیں خاک پائے دوست\n\nتقریر کا ہے خاص ادائے بیاں میں لطف\nسنئے مری زبان سے کچھ ماجرائے دوست\n\nسب کچھ ہے اور کچھ نہیں عالم کی کائنات\nدنیا برائے دوست ہے عقبیٰ برائے دوست", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D9%84%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA"} {"title": "دل اسے دے دیا سخیؔ ہی تو ہے", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل اسے دے دیا سخیؔ ہی تو ہے\nمرحبا پرورش علی ہی تو ہے\n\nدل دیا ہے دلاوری ہی تو ہے\nجان بھی اس کو دیں گے جی ہی تو ہے\n\nکیوں حسینوں کی آنکھ سے نہ لڑے\nمیری پتلی کی مردمی ہی تو ہے\n\nنہ ہوئی ہم سے عمر بھر سیدھی\nابروئے یار کی کجی ہی تو ہے\n\nعارض اس کا نہ دیکھوں مر جاؤں\nزندگی میری عارضی ہی تو ہے\n\nنہ ہنسے وہ نہ گل دہن کا کھلا\nابھی نام خدا کلی ہی تو ہے\n\nکی خطابت کو گر خدا سمجھا\nبندہ بھی آخر آدمی ہی تو ہے\n\nگال میں واں ہوا کے صدمہ سے\nپڑ گیا نیل نازکی ہی تو ہے\n\nآج کیوں چونک چونک پڑتے ہو\nاس مکاں میں فقط سخیؔ ہی تو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D8%94_%DB%81%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل اور دل میں یاد کسی خوش خرام کی", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل اور دل میں یاد کسی خوش خرام کی\nسینے میں حشر لے کے چلے ہیں جہاں سے ہم\n\nاب چارہ سازئ دل بیمار کیا کریں\nاے مرگ ناگہاں تجھے لائیں کہاں سے ہم\n\nاللہ رکھے ہم کو سہارا ہے ضعف کا\nبیٹھے تو پھر اٹھیں گے نہ اس آستاں سے ہم\n\nکیا کیا دئیے فریب غم عشق یار نے\nدل ہم سے بدگمان ہے اور راز داں سے ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیا\nدریا سے یہ موتی نکلا تھا دریا ہی میں جا کر ڈوب گیا\n\nاحوال جوانی پیری میں کیا عرض کروں اک قصہ ہے\nوہ طرز گئی وہ وضع گئی انداز گیا اسلوب گیا\n\nلا ریب خموشی نے تیری تاثیر دکھا دی مستوں کو\nبے باک جو مے کش تھا ساقی اس بزم سے وہ محجوب گیا\n\nبے راحلہ و بے زاد سفر رحمت پہ بھروسا فرما کر\nجو ملک عدم میں بسنے کو اس طرح گیا وہ خوب گیا\n\nبد حال بہت تھا اس پر بھی اے یار کسی نے لی نہ خبر\nبڑ مار کے تیرے کوچے سے آخر کو ترا مجذوب گیا\n\nرضواں نے کیا در خلد کا وا حوریں ہوئیں صدقے آ آ کر\nغلماں نے قدم چومے اس کے جو تیری طرف منسوب گیا\n\nطاقت جو نہیں اب حیرت سے تصویر کا عالم رہتا ہے\nوہ آخر شب کی آہ گئی وہ لغرۂ محبوب گیا\n\nیاں اپنی سزا بھگتی اس نے رحمت کی نظر ہوگی اس پر\nہر چند خطا کار الفت کوچے سے ترے معتوب گیا\n\nحیرت ہے عبث اے جو ان بیش بہا منصوبوں پر\nاس طرح کے موتی تب نکلے جب زیر زمیں میں ڈوب گیا\n\nکیا اس کا سبب میں عرض کروں کچھ واقعے ایسے پیش آئے\nمیں روتا ہوا آیا تھا یہاں چپ یاں سے گیا مرعوب گیا\n\nکوچے میں ترے اب شادؔ نہیں لے پاک خدا نے کی یہ زمیں\nصد شکر سرائے فانی سے آخر وہ سگ معیوب گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%A7%D8%AF%D9%82_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%B7%D9%84%D9%88%D8%A8_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل اپنے رنج و غم سے جام جہاں نما تھا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل اپنے رنج و غم سے جام جہاں نما تھا\nاب آپ ہی بتائیں اچھا تھا یا برا تھا\n\nصحرا تھا یا چمن تھا جانے وہی کہ کیا تھا\nاس دل کی انتہا ہے جو مدتوں جلا تھا\n\nتڑپوں تو راز کھولوں سنبھلوں تو عشق نا خوش\nجس حال کو میں سمجھا اچھا وہی برا تھا\n\nپوچھا نہ زندگی میں یوں تو کسی نے آ کر\nمرنے کے بعد جو تھا وہ مجھ کو پوچھتا تھا\n\nشب کو مری صدائیں مجھ تک پلٹ کے آئیں\nنالوں کی کیا خطا تھی جب بند راستا تھا\n\nمنزل پہ جب گرا تھا تھک کر تو میں نے دیکھا\nقصہ مرا زبان عالم پہ چل رہا تھا\n\nجان حزیں نکلتی شام فراق کیوں کر\nوہ رات تھی اندھیری رستہ نہ سوجھتا تھا\n\nمیری طرف چلے تم جب جانکنی میں تھا میں\nدنیا ہے ایک آتا تھا ایک جا رہا تھا\n\nاک طرح کی مصیبت ہوتی تو جھیل لیتے\nہر شب نئی زمیں تھی ہر دن فلک نیا تھا\n\nافسوس ہے کہ عمر فانی نے ختم ہو کر\nمجھ کو وہی بتایا جس کو میں جانتا تھا\n\nڈھونڈیں گی بعد میرے مجھ کو چراغ لے کر\nوہ محفلیں کہ جن میں ثاقبؔ غزل سرا تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D9%85%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دل بر سے ہم اپنے جب ملیں گے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل بر سے ہم اپنے جب ملیں گے\nاس گم شدہ دل سے تب ملیں گے\n\nیہ کس کو خبر ہے اب کے بچھڑے\nکیا جانیے اس سے کب ملیں گے\n\nجان و دل و ہوش و صبر و طاقت\nاک ملنے سے اس کے سب ملیں گے\n\nدنیا ہے سنبھل کے دل لگانا\nیاں لوگ عجب عجب ملیں گے\n\nظاہر میں تو ڈھب نہیں ہے کوئی\nہم یار سے کس سبب ملیں گے\n\nہوگا کبھی وہ بھی دور جو ہم\nدل دار سے روز و شب ملیں گے\n\nآرام حسنؔ تبھی تو ہوگا\nاس لب سے جب اپنے لب ملیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "دل بر کو دلبری سوں منا یار کر رکھوں", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "دل بر کو دلبری سوں منا یار کر رکھوں\nپیتم کو اپنے پیت سوں گلہار کر رکھوں\n\nایک نوم سوں جگاؤں اگر مردہ دل کے تئیں\nتا حشر یاد حق منے بیدار کر رکھوں\n\nرہتا ہے دل ہر ایک کا ہر ایک کام میں ایک\nاپنا خیال صورت پرکار کر رکھوں\n\nدستا ہے مجھ کو یار کا رخسار گل عذار\nتس کی خوشی سوں طبع کو گل زار کر رکھوں\n\nمنکے کو من کے لاؤں پھرانے کا جب خیال\nتسبیح بدن کی توڑ کے ایک تار کر رکھوں\n\nپیتم کے باج نہیں ہے مرا اختیار کچھ\nمجھ دل کو تس کے امر میں مختار کر رکھوں\n\nبے سر اگر اچھے تو اسے سر کروں عطا\nدونوں جہاں میں صاحب اسرار کر رکھوں\n\nاندھے کے تئیں علیمؔ لگا عشق کا انجن\nسب واصلاں میں واصل دیدار کر رکھوں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D9%85%D9%86%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA"} {"title": "دل بر کوں عتاب خوب ہے خوب", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل بر کوں عتاب خوب ہے خوب\nعشاق کوں تاب خوب ہے خوب\n\nتحصیل علوم عشق کرنے\nتجھ مکھ کی کتاب خوب ہے خوب\n\nنیں تیرے عرق مثال خوشبو\nہر چند گلاب خوب ہے خوب\n\nجیوں مطلع آفتاب تاباں\nتجھ مکھ پہ نقاب خوب ہے خوب\n\nعشاق اگر ہے محرم راز\nدلبر کوں حجاب خوب ہے خوب\n\nلا ساغر مے شتاب ساقی\nباران سحاب خوب ہے خوب\n\nداؤدؔ اپس سوں ہوتے بے ہوش\nعاشق کوں شراب خوب ہے خوب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%B9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A8"} {"title": "دل بر یہ وہ ہے جس نے دل کو دغا دیا ہے", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل بر یہ وہ ہے جس نے دل کو دغا دیا ہے\nاے چشم دیکھ تجھ کو میں نے سجھا دیا ہے\n\nتیغ ستم سے میرا جو خوں بہا دیا ہے\nقاتل نے میرے دل کا یہ خوں بہا دیا ہے\n\nنقش قدم گلی کا تیری بنا دیا ہے\nکیوں کر اٹھوں کہ دل نے مجھ کو بٹھا دیا ہے\n\nاے چشم گر یہ زا ہے رونے کو تیرے زحمت\nرو رو کے ابر کو بھی تو نے رلا دیا ہے\n\nسر رشتۂ وفا سے کیا شمع رو ہیں واقف\nہم نے پتنگ ان سے ملنا اڑا دیا ہے\n\nدل دے کے جان کا مفت اک روگ ہی خریدا\nدولت سے تیری میں نے یہ کچھ لیا دیا ہے\n\nجاتے نظر جدھر ہی اک نور جلوہ گر ہے\nمکھڑے سے آج پردہ کسی نے اٹھا دیا ہے\n\nتو پان کھا کے ہنسنا اک سہل سا ہے سمجھا\nیہ برق وہ ہے جس نے عالم جلا دیا ہے\n\nکیوں ہم سے ہو بگڑتے ہم نے تو شیخ صاحب\nہولی سے پیشتر ہی تم کو بنا دیا ہے\n\nکیوں کر نہ میرے دل کا شیشہ ہو ٹکڑے ٹکڑے\nنظروں سے اس کو ظالم تو نے گرا دیا ہے\n\nپاؤں سے کیا جگایا تو نے ہی مجھ کو گویا\nٹھوکر سے بخت خفتہ میرا جگا دیا ہے\n\nکیا جانوں عشق کیا ہے لیکن کسی نے احساںؔ\nاک آگ کا سا شعلہ دل کو لگا دیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D9%88%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D8%BA%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ\nپالا پڑا ہے ہم کو خدا کس بلا کے ساتھ\n\nکب تک نبھائیے بت ناآشنا کے ساتھ\nکیجے وفا کہاں تلک اس بے وفا کے ساتھ\n\nیاد ہوائے یار نے کیا کیا نہ گل کھلائے\nآئی چمن سے نکہت گل جب صبا کے ساتھ\n\nمانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کی\nآخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ\n\nہے کس کا انتظار کہ خواب عدم سے بھی\nہر بار چونک پڑتے ہیں آواز پا کے ساتھ\n\nیا رب وصال یار میں کیونکر ہو زندگی\nنکلی ہی جان جاتی ہے ہر ہر ادا کے ساتھ\n\nاللہ رے سوز آتش غم بعد مرگ بھی\nاٹھتے ہیں میری خاک سے شعلے ہوا کے ساتھ\n\nسو زندگی نثار کروں ایسی موت پر\nیوں روئے زار زار تو اہل عزا کے ساتھ\n\nہر دم عرق عرق نگہ بے حجاب ہے\nکس نے نگاہ گرم سے دیکھا حیا کے ساتھ\n\nمرنے کے بعد بھی وہی آوارگی رہی\nافسوس جاں گئی نفس نارسا کے ساتھ\n\nدست جنوں نے میرا گریباں سمجھ لیا\nالجھا ہے ان سے شوخ کے بند قبا کے ساتھ\n\nآتے ہی تیرے چل دیئے سب ورنہ یاس کا\nکیسا ہجوم تھا دل حسرت فزا کے ساتھ\n\nمیں کینے سے بھی خوش ہوں کہ سب یہ تو کہتے ہیں\nاس فتنہ گر کو لاگ ہے اس مبتلا کے ساتھ\n\nاللہ ری گمرہی بت و بت خانہ چھوڑ کر\nمومنؔ چلا ہے کعبے کو اک پارسا کے ساتھ\n\nمومنؔ وہی غزل پڑھو شب جس سے بزم میں\nآتی تھی لب پہ جان زہ و حبذا کے ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DA%AF%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%AF%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "دل بلا سے نثار ہو جائے", "poet_page": "مصنف:چراغ حسن حسرت", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "دل بلا سے نثار ہو جائے\nآپ کو اعتبار ہو جائے\n\nقہر تو بار بار ہوتا ہے\nلطف بھی ایک بار ہو جائے\n\nزندگی چارہ ساز غم نہ سہی\nموت ہی غم گسار ہو جائے\n\nیا خزاں جائے اور بہار آئے\nیا خزاں ہی بہار ہو جائے\n\nدل پہ مانا کہ اختیار نہیں\nاور اگر اختیار ہو جائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "دل بچھڑ کر جو چلا اس بت مغرور تلک", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل بچھڑ کر جو چلا اس بت مغرور تلک\nدیکھتا میں بھی گیا اس کے تئیں دور تلک\n\nجان جاوے کہ نہ جاوے رہے سر یا نہ رہے\nچھوڑنے کے نہیں ہم تجھ کو تو مقدور تلک\n\nاب نہیں وقت تغافل کا سن اے یار عزیز\nپہنچیو جلد ذرا اس دل رنجور تلک\n\nہم بھی تب تک ہیں کہ یاں جلوہ ہے جب تک تیرا\nہستیٔ سایہ بھی سچ پوچھو تو ہے نور تلک\n\nزخم دل عشق کے گھر کا تو در دولت ہے\nبھیج مرہم کو نہ ہمدم مرے ناسور تلک\n\nقاصد و نامہ و پیغام کی مت کہہ کہ صبا\nاب تو واں سے نہیں آتی دل مہجور تلک\n\nمر گئے دن ہی کو ہم ہجر میں صد شکر حسنؔ\nکام پہنچا نہ ہمارا شب دیجور تلک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DA%86%DA%BE%DA%91_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D9%84%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%D9%85%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D9%84%DA%A9"} {"title": "دل بچے کیونکر بتوں کی چشم شوخ و شنگ سے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل بچے کیونکر بتوں کی چشم شوخ و شنگ سے\nاپنا گھر تو سوجھتا ہے سیکڑوں فرسنگ سے\n\nایک بھی نکلے نہ میری سی فغان دل خراش\nگرچہ خوں ٹپکے گلوئے مرغ خوش آہنگ سے\n\nچھپ کے بیٹھے گا کہاں تو ہم سے اے رنگیں نوا\nہوگا تو جس رنگ میں مل جائیں گے اس رنگ سے\n\nبل بے باریکی کہ گویا ہر ترا تار سخن\nجنتری میں کھنچ کے نکلا ہے دہان تنگ سے\n\nاے تغافل کیش جلدی آ کہ تو واقف نہیں\nاس دل بیتاب و جان مضطرب کے ڈھنگ سے\n\nجوش گریہ سے رہی برسات برسوں پر کبھی\nاس کی تیغ تیز آلودہ نہ دیکھی زنگ سے\n\nمیرے گریے کے اثر سے ہو گئے پتھر بھی آب\nجھڑتے ہیں جائے شرر پانی کے قطرے سنگ سے\n\nپہلے یہ نیت وضو کی ہے نماز عشق میں\nدل سے کہہ دیجے کہ دھووے ہاتھ نام و ننگ سے\n\nذوقؔ زیبا ہے جو ہو ریش سفید شیخ پر\nوسمہ آب بنگ سے مہندی مئے گل رنگ سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DA%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D9%88_%D8%B4%D9%86%DA%AF_%D8%B3%DB%92"} {"title": "دل بھر آیا پھر بھی راز دل چھپانا ہی پڑا", "poet_page": "مصنف:انجم مانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل بھر آیا پھر بھی راز دل چھپانا ہی پڑا\nسامنے اس بد گماں کے مسکرانا ہی پڑا\n\nوہ جو روٹھے میں نے بھی کھا لی نہ ملنے کی قسم\nپھر نہ دل مانا تو خود جا کر منانا ہی پڑا\n\nاف ری مجبوری مزاج یار میں ہو کر دخیل\nراز داں خود اپنے دشمن کو بنانا ہی پڑا\n\nمجھ کو فصل گل میں تیور دیکھ کر صیاد کے\nآشیانہ چھوڑ کر گلشن سے جانا ہی پڑا\n\nضبط کا یارا نہیں صیاد کا بھی ہے خیال\nنالۂ دل سوز کو نغمہ بنانا ہی پڑا\n\nروکتے کب تک تقاضائے تلافیٔ ستم\nسر جھکائے شرم سے میت پہ آنا ہی پڑا\n\nآج انجمؔ مسکرا کر اس نے پھر دیکھا مجھے\nشکوۂ جور و جفا پھر بھول جانا ہی پڑا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%BE%DA%91%D8%A7"} {"title": "دل بہ از کعبہ ہے یاراں جبہ سائی چاہیے", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل بہ از کعبہ ہے یاراں جبہ سائی چاہیے\nہے خدا کا گھر یہی لیکن صفائی چاہیے\n\nداد حق دیکھا تو مطلق نیں ہے محتاج سوال\nہے وہاں بخشش ہی بخشش بے نوائی چاہیے\n\nیار کی نا مہربانی پر نہ کیجے کچھ خیال\nجو ہیں محبوب ان کے تئیں بے اعتنائی چاہیے\n\nاپنے ہی گھر میں خدائی ہے جو کوئی سمجھے حضورؔ\nہاں مگر قید خودی سے ٹک رہائی چاہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%81_%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A8%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "دل بہ دل آئینہ ہے دیر و حرم", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل بہ دل آئینہ ہے دیر و حرم\nحق جو پوچھو ایک در ہے دو طرف\n\nخواہ کعبہ خواہ بت خانہ کو جا\nدشت دل کا رہ گزر ہے دو طرف\n\nکفر و ایماں دونوں جانب کی سنے\nاس لئے گوش بشر ہے دو طرف\n\nرخنہ اندازوں کی کب چھپتی ہے آنکھ\nچشم روزن کی نظر ہے دو طرف\n\nباغ ہو یا دشت ہو قسمت نسیمؔ\nکوچ کی اپنے خبر ہے دو طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%AD%D8%B1%D9%85"} {"title": "دل بہت تنگ رہا کرتا ہے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل بہت تنگ رہا کرتا ہے\nرنگ بے رنگ رہا کرتا ہے\n\nحسن میں تیرے کوئی عیب نہیں\nقبح میں دنگ رہا کرتا ہے\n\nصلح کی دل سے ہیں یاں مصلحتیں\nواں سر جنگ رہا کرتا ہے\n\nمحتسب کو ترے مستانوں سے\nخوف سرچنگ رہا کرتا ہے\n\nدل مرا پی کے محبت کی شراب\nنشہ میں بھنگ رہا کرتا ہے\n\nفارسی عار ہے مجھ مجنوں کو\nننگ سے ننگ رہا کرتا ہے\n\nجوہر تیغ دکھاتا ہے حسن\nعشق چورنگ رہا کرتا ہے\n\nگفتنی حال نہیں ہے اپنا\nکچھ عجب ڈھنگ رہا کرتا ہے\n\nحلب رخ میں ترے خالوں سے\nلشکر زنگ رہا کرتا ہے\n\nمنزل گور کے دیوانوں کے\nسینہ پر سنگ رہا کرتا ہے\n\nعالم وجد ترے مستوں کو\nبے دف و چنگ رہا کرتا ہے\n\nفندق دست صنم سے نادم\nگل اورنگ رہا کرتا ہے\n\nتیرے گوش شنوا کا مشتاق\nہر خوش آہنگ رہا کرتا ہے\n\nبندش چست سے تیری آتشؔ\nقافیہ تنگ رہا کرتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل بہلنے کا جہاں میں کوئی ساماں نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل بہلنے کا جہاں میں کوئی ساماں نہ ہوا\nاپنا ہمدرد کبھی عالم امکاں نہ ہوا\n\nشکوۂ ہجر نہ بھولے سے بھی آیا لب پر\nروبرو ان کے میں خود کردہ پشیماں نہ ہوا\n\nہم نشیں پوچھ نہ حال دل ناکام ازل\nیہی حسرت رہی پورا کوئی ارماں نہ ہوا\n\nبے خودی میں یہ ہے عالم ترے دیوانوں کا\nفصل گل آئی مگر چاک گریباں نہ ہوا\n\nکوئی کیا جانے کہ کیا لطف خلش ہے حاصل\nمیرا ہی دل ہے کہ منت کش درماں نہ ہوا\n\nیوں تو ہمدرد زمانہ تھا بظاہر لیکن\nکسی صورت سے علاج غم پنہاں نہ ہوا\n\nبے دھڑک جانے کی ہمت نہ ہوئی محشر میں\nمنہ چھپانے کے لیے دست بہ داماں نہ ہوا\n\nدل بہلتا بھی تو کس طرح بہلتا شب غم\nساز و ساماں نہ ہوا نغمۂ حرماں نہ ہوا\n\nپرسش حال پہ آنکھوں میں بھر آئے آنسو\nایسے مجبور ہوئے ضبط بھی آساں نہ ہوا\n\nذرہ ذرہ سے عیاں حسن کی رعنائی ہے\nوہ حسیں تو ہے کہ پردوں میں بھی پنہاں نہ ہوا\n\nمیں تھا مشتاق ترے جلوے کا اے مایۂ حسن\nرہ کے پردہ میں بھی تو شعلۂ عریاں نہ ہوا\n\nچین سے قید تعین میں بسر کی اے شوقؔ\nدل بھی جمعیت خاطر سے پریشاں نہ ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%81%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا\nآ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا\n\nسرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ\nہو سکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا\n\nبدر ساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ\nورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا\n\nکب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں\nبیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا\n\nگرمی اس آتش کے پر کالے سے رکھے چشم تب\nجب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا\n\nہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کی\nکاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا\n\nسوکھتے ہی آنسوؤں کے نور آنکھوں کا گیا\nبجھ ہی جاتے ہیں دیئے جس وقت سب روغن جلا\n\nشعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سے\nدوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا\n\nآگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میرؔ\nدے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%81%D9%85_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D9%86_%D8%AC%D9%84%D8%A7"} {"title": "دل بیتاب آفت ہے بلا ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل بیتاب آفت ہے بلا ہے\nجگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہے\n\nہمارا تو ہے اصل مدعا تو\nخدا جانے ترا کیا مدعا ہے\n\nمحبت کشتہ ہیں ہم یاں کسو پاس\nہمارے درد کی بھی کچھ دوا ہے\n\nحرم سے دیر اٹھ جانا نہیں عیب\nاگر یاں ہے خدا واں بھی خدا ہے\n\nنہیں ملتا سخن اپنا کسو سے\nہمارا گفتگو کا ڈھب جدا ہے\n\nکوئی ہے دل کھنچے جاتے ہیں اودھر\nفضولی ہے تجسس یہ کہ کیا ہے\n\nمروں میں اس میں یا رہ جاؤں جیتا\nیہی شیوہ مرا مہر و وفا ہے\n\nصبا اودھر گل اودھر سرو اودھر\nاسی کی باغ میں اب تو ہوا ہے\n\nتماشا کردنی ہے داغ سینہ\nیہ پھول اس تختے میں تازہ کھلا ہے\n\nہزاروں ان نے ایسی کیں ادائیں\nقیامت جیسے اک اس کی ادا ہے\n\nجگہ افسوس کی ہے بعد چندے\nابھی تو دل ہمارا بھی بجا ہے\n\nجو چپکے ہوں کہے چپکے ہو کیوں تم\nکہو جو کچھ تمہارا مدعا ہے\n\nسخن کریے تو ہووے حرف زن یوں\nبس اب منہ موند لے میں نے سنا ہے\n\nکب اس بیگانہ خو کو سمجھے عالم\nاگرچہ یار عالم آشنا ہے\n\nنہ عالم میں ہے نے عالم سے باہر\nپہ سب عالم سے عالم ہی جدا ہے\n\nلگا میں گرد سر پھرنے تو بولا\nتمہارا میرؔ صاحب سرپھرا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل بے تاب مرا وہ نہ پھنسانے پائے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل بے تاب مرا وہ نہ پھنسانے پائے\nدو ہی جھٹکے جو ذرا زلف دوتا نے پائے\n\nہاتھ پائی ہوئی میخانے میں زاہد سے کہیں\nہم نے تسبیح کے بکھرے ہوئے دانے پائے\n\nچھیڑ منظور نہ ہو تجھ کو تو مژگاں تیری\nدل بے تاب کو انگلی نہ لگانے پائے\n\nجل گیا کیا مری آتش قدمی سے جنگل\nچار تنکے نہ کہیں باد صبا نے پائے\n\nہم نے اپنا دل گم گشتہ نہ پایہ کھو کر\nورنہ یاں ڈھونڈھنے والوں نے خزانے پائے\n\nلا شب وعدہ اسے کھینچ کے اے جذبہ دل\nحیلہ جو پاؤں میں منہدی نہ لگانے پائے\n\nحور کے واسطے زاہد نے عبادت کی ہے\nسیر تو جب ہے کہ جنت میں نہ جانے پائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DA%BE%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "دل بے تاب کو کب وصل کا یارا ہوتا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل بے تاب کو کب وصل کا یارا ہوتا\nشادیٔ دولت دیدار نے مارا ہوتا\n\nشب غم زہر ہی کھانے کا مزہ تھا ورنہ\nانتظار سحر وصل نے مارا ہوتا\n\nشب ہجراں کی بلا ٹالے نہیں ٹلتی ہے\nبھور کر دیتے اگر زور ہمارا ہوتا\n\nآئی جس شان سے مدفن میں سواری میری\nدیکھتے غیر تو مرنا ہی گوارا ہوتا\n\nکیوں نہ سینے سے لگی رہتی امانت تیری\nداغ دل کیوں نہ ہمیں جان سے پیارا ہوتا\n\nسر جھکائے تری امید پہ بیٹھے ہیں ہم\nقاتل اس بار امانت کو اتارا ہوتا\n\nایک ہو جاتی ابھی کافر و دیں دار کی راہ\nاگر ان جٹی بھوؤں کا اک اشارا ہوتا\n\nبھیگتی جاتی ہے رات اور ابھی صحبت ہے گرم\nجام لب ریز اسی عالم میں ہمارا ہوتا\n\nنگہ لطف سے محروم ہوں اب تک ساقی\nصف آخر کی طرف بھی اک اشارا ہوتا\n\nدور سے ساغر و مینا کو کھڑا تکتا ہوں\nدل کوئی رکھتا تو مجھ کو بھی پکارا ہوتا\n\nدور اتنی نہ کبھی کھنچتی عدم کی منزل\nکاش کچھ نقش قدم ہی کا سہارا ہوتا\n\nیاس اب آپ کہاں اور کہاں بانگ جرس\nکون اس وادئ غربت میں تمہارا ہوتا\n\nدیکھتے رہ گئے یاسؔ آپ نے اچھا نہ کیا\nڈوبتے وقت کسی کو تو پکارا ہوتا\n\nصورت ظاہری اک پردۂ تاریک تھی یاسؔ\nحسن معنی کا کن آنکھیوں سے نظارہ ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "دل تجھ پہ جلے نہ کیونکے میرا بے تاب", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل تجھ پہ جلے نہ کیونکے میرا بے تاب\nیاں تجھ کو توقع ہے کہ لاتا ہے جواب\nواں ان نے شراب پی کے مستی میں میرؔ\nکر کھائے بھی نامہ بر کبوتر کے کباب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D9%84%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8"} {"title": "دل تجھ پہ مرا جو مبتلا رہتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل تجھ پہ مرا جو مبتلا رہتا ہے\nکوچے میں ترے ہمیشہ جا رہتا ہے\nتو گرچہ نہ آوے خواب میں بھی مجھ تک\nمیرا تو خیال واں لگا رہتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل تنگ اس میں رنج و الم شور و شر ہوں جمع", "poet_page": "مصنف:منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل تنگ اس میں رنج و الم شور و شر ہوں جمع\nچین آئے خاک گھر میں جب اتنے ضرر ہوں جمع\n\nدل میں جو فرق ڈال دیا ہے رقیب نے\nہو جائے بر طرف کہیں ہم تم اگر ہوں جمع\n\nجس نے کیا ہے قتل وہی آئے نعش پر\nکیا فائدہ ہے یوں جو ہزاروں بشر ہوں جمع\n\nآئے نہ کام ایک بھی بے یارئ نصیب\nگو ذات میں کسی کے ہزاروں ہنر ہوں جمع\n\nجاتا ہے یار مانگیں نشانی تو کس طرح\nاپنے کہیں حواس بھی وقت سفر ہوں جمع\n\nلکھی غزل تو خوب مگر یہ ضرور ہے\nپڑھنا تب اس کو سحرؔ جب اہل ہنر ہوں جمع", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%B4%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%85%D8%B9"} {"title": "دل تنگ ہو مدینے سے جب اٹھ چلا حسین", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "دل تنگ ہو مدینے سے جب اٹھ چلا حسین\nناموس اپنے ساتھ لیے سب اٹھا حسین\nلوگوں نے یہ کہا بھی کہ یاں سے نہ جا حسین\nلیکن گیا حسین سو جی سے گیا حسین\n\nرکھتے ہی پاؤں رہ میں بلا سے ہوا دوچار\nفتنے کا ہر چہار طرف سے اٹھا غبار\nہر گام گرچہ آتے تھے درپیش غم ہزار\nلیکن نہ دیکھتا تھا تنک سر اٹھا حسین\n\nطے کرکے مرحلوں کو گیا کوفے کے قریب\nپیماں سے اپنے پھر گئے وے سارے بے نصیب\nبدعہدی ان کی دیکھ کے آگے چلا غریب\nتھا ساتھ اک ثبات کے پر وہ نہ تھا حسین\n\nناچار ہو کے کوچ کیا اس مقام سے\nکاوش کی طرح پڑتی چلی اہل شام سے\nسر کھینچتی تھی تازہ بلا گام گام سے\nتاآنکہ رفتہ رفتہ گیا کربلا حسین\n\nواں پہنچتے ہی اور زمانے کا رنگ تھا\nاک جمع روسیاہ مہیاے جنگ تھا\nہر طعن تھا سنان و ہر اک حرف سنگ تھا\nکنبے سمیت اپنے وہیں گھر گیا حسین\n\nتھی چشم خیر جن سے نظر آئے ان کے بیر\nگل پھول سارے سوکھ گئے پانی کے بغیر\nدو روز اپنے باغ میں کی ان نے خوب سیر\nکیا کیا نہ رنگ دیکھ کے یاں سے گیا حسین\n\nاحوال بیکسی کے ہو نظارگی موئے\nانصار کھینچ پیاس کی لاچارگی موئے\nپیادے سوار جتنے تھے یک بارگی موئے\nمرگ ان سبھوں کی دیکھتا تھا چپ کھڑا حسین\n\nبیٹا جوان ایک نظر سے چلا گیا\nاک گودی میں جو تھا سو وہ چھاتی جلا گیا\nقاسم کہ دی تھی بیٹی جسے وہ جدا گیا\nاوقات تنگ ہوگئی تنہا رہا حسین\n\nکیا کیا ستم نہ قلب المناک پر سہے\nدریا لہو کے آنکھوں کے آگے سے ہو بہے\nتا نقش یہ زمانے میں مدت تئیں رہے\nمیداں میں صاف ہو کے کھڑا مر مٹا حسین\n\nسیلاب اس کے خون سے اس خاک پر بہا\nانصاف کر کنھوں نے نہ افسوس ہی کہا\nوارث نہ کوئی عابد بیمار بن رہا\nسو وہ ضعیف و مضطرب و لب پہ وا حسین\n\nنیزے پہ سر پدر کا مقابل نظر کے تھا\nآشوب لوٹ مار کا اطراف گھر کے تھا\nمنھ غم کا دل کی اور کہ جانب جگر کے تھا\nکہتا تھا میرے حق میں یہ کیا کر گیا حسین\n\nپڑتی نہیں ہے چہرۂ پرنور پر نگاہ\nعالم تمام آنکھ میں میری ہوا سیاہ\nچھاتی کے اپنے داغ دکھاؤں کسے کہ آہ\nروپوش جا کے مجھ سے کہاں تو ہوا حسین\n\nمیں ناتوان و ساتھ مرے ایک کارواں\nتس پر کہیں ہیں راہ چلا چل دواں دواں\nمیں درد دل کو جا کے الٰہی کہوں کہاں\nہوتا تو کان رکھ کے یہ سنتا بتھا حسین\n\nجیدھر نگاہ جاتی ہے دشمن ہی ہیں کھڑے\nاعوان دوست جتنے تھے سب ہیں موئے پڑے\nپھر ہم اسیر ہیں سو بہم جیسے ہیں لڑے\nہر ایک چلنے پائے مصیبت سے کیا حسین\n\nجاتا ہے قافلہ جو کہیں کو تو جمع ہو\nنے ایک ہے کہیں تو کہیں مر رہے ہیں دو\nہمراہیوں کا حال کہوں کیا ہے گومگو\nجاتا ہے تجھ رئیس کا سر یوں جدا حسین\n\nنے بھائی نے بھتیجے نہ بیٹے نہ اپنے لوگ\nمارے گئے تمام غم ان کے ہیں جی کے روگ\nپرسے کو کون پوچھے گا جو لیجیے بھی سوگ\nکنبہ تو تیرے آگے ہی سب ہوچکا حسین\n\nاے اس شکستہ حال کے خستہ جگر پدر\nکیا کہہ کے تجھ کو روئیے خوں ہوگئے جگر\nبیکس تو ہوکے مرتے ہیں سب پر نہ اس قدر\nمردے پہ تیرے منع ہے کرنا بکا حسین\n\nنازل جنھوں کی شان میں تھی آیۂ حجاب\nسر ان کے ہیں برہنہ منھوں پر نہیں نقاب\nپردہ کریں سو کاہے کا جنگل میں ہیں خراب\nچھوڑی نہیں ہے ایک کے سر پر ردا حسین\n\nکیا جانتے تھے ہم کہ یہ ایسا ستائیں گے\nگھر بار کو علی کے کھڑے ہو لٹائیں گے\nسبط نبی کے سر کے تئیں یوں کٹائیں گے\nاسلامیوں سے ہم کو گماں یہ نہ تھا حسین\n\nبیگانہ وار تو اے شہ کم سپہ گیا\nچلتے ہوئے کسو سے نہ اک حرف کہہ گیا\nناچار تیرے منھ کو ہر اک دیکھ رہ گیا\nصد رنگ تجھ سے رکھتے ہیں ہم سب گلہ حسین\n\nخیمے جلے اسیر ہوئے گھر لٹا گیا\nچھوٹا جو ایک مرنے کے تیں سو بندھا گیا\nبے آبی میں جہاز یہ ڈوبا بہا گیا\nتیرے گئے نہ کوئی رہا آشنا حسین\n\nبیٹھے جو ہیں سو بال کھلے پیٹتے ہیں سر\nناموس کو جگہ جو ملی ہے سو رہگذر\nپتھر کے لاؤں جاکے کہاں سے دل و جگر\nجو ایسے ظلم دیکھوں کھڑا برملا حسین\n\nجنگل میں سربرہنہ بہت خوار ہم ہوئے\nزنجیر طوق جیسے گنہگار ہم ہوئے\nپھر اور ظلم کے جو سزاوار ہم ہوئے\nمرنا ترا تھا ہم پہ یہ تھوڑی جفا حسین\n\nہوتی ہیں وہ جفائیں جو کرتے نہیں ہیں گبر\nہر آن ہم اسیروں پہ ہے قہر اور جبر\nچارہ نہیں رہا ہے ہمیں غیر شکر و صبر\nبد حال تونے چاہا ہے یوں تو بھلا حسین\n\nانصاف کر کہ غم کے ہوں تاچند پائمال\nشرمندگی ہے زندگی یہ جان ہے وبال\nمرنا خدا سے چاہتے ہیں ہم خراب حال\nپر کیا کریں قبول نہ ہو جو دعا حسین\n\nباہر تھا یہ سلوک تو تیرا قیاس سے\nپھر ان سے جو کہ جیتے ہوں تیری ہی آس سے\nاک بار تو تو ایسا گیا اٹھ کے پاس سے\nہوتا ہے جیسے کوئی کسو سے خفا حسین\n\nدرپیش اپنے آئی ہے اب طرفہ راہ ایک\nہر ہر قدم جگر سے نکلتی ہے آہ ایک\nہرگز ادھر کو کرتے نہیں وے نگاہ ایک\nجن مردماں سے رکھتے تھے چشم وفا حسین\n\nاس درد دیں کو دیکھ جگر ہوگئے گداز\nسبط نبی پہ دست ستم کر چکے دراز\nافسوس ہے نہ باندھ کے صف وے پڑھیں نماز\nلوہو میں اپنے سجدہ کرے تو ادا حسین\n\nخوں ہوگئی دلوں میں ہوس تیری چاہ کی\nکہتے تھے گرد کحل کریں تجھ سپاہ کی\nتن پر ترے سو دیکھی منوں خاک راہ کی\nکانوں سنا نہ ہم نے تجھے بادشا حسین\n\nمجھ بن رہا نہیں ہے کوئی وارثوں میں مرد\nسو میں کروں ہوں دم بدم اک دل سے آہ سرد\nبیمار و زار ایک تو میں تھا ہی پھر یہ درد\nعارض ہوا ہے میرے تئیں لا دوا حسین\n\nاس طور چاہتا ہے کوئی جینے کو کہیں\nوارث نہیں شفیق نہیں لطف کچھ نہیں\nہر اک کو آرزو ہے کہ مر جایئے یہیں\nلیکن نہیں پہنچتی ہماری قضا حسین\n\nجیسی تھی زندگی میں ہمیں تجھ سے بندگی\nغالب کہ تابہ حشر عقیدہ رہے یہی\nصورت ہو کوئی جاتی نہیں اپنی پیروی\nاب سر ترا ہمارا ہوا پیشوا حسین\n\nلے سب اسیر شام کی جانب کو ہیں رواں\nناچار ان کے ساتھ ہوں میں زار و ناتواں\nکر جاؤں تیری فکر سو فرصت مجھے کہاں\nحافظ نگاہبان ہے تیرا خدا حسین\n\nاشجار تیرے باغ کے یک بارگی کٹے\nگل اور بوٹے جور کے آروں سے سب چھٹے\nآہیں کریں کہاں تئیں سینے تو سب پھٹے\nکچھ اور ہوگئی ہے یکایک ہوا حسین\n\nمردہ کہیں پڑا ہے کہیں سر کہیں ہے پا\nہر گام پر ہے ایک جواں جان سے گیا\nالقصہ پاؤں رکھنے کو ملتی نہیں ہے جا\nجنگل تمام مرنے سے تیرے بسا حسین\n\nبنتا نہیں غرض یہ کہ تجھ کو اٹھا کے جائیں\nافسوس تجھ سے شخص سے منھ کو چھپا کے جائیں\nتدبیر کیا کریں کہ کھڑے ہو گڑا کے جائیں\nسنتا نہیں ہے کوئی ہمارا کہا حسین\n\nجانے میں جی سے تیرے بہت آئے ہم بتنگ\nعائد ہوئے ہزاروں طرح کے ادھر کو ننگ\nکچھ زندگی کا ڈھنگ بھی ہے مت کرے درنگ\nپاس اپنے ٹک ہمیں بھی شتابی بلا حسین\n\nبندی ہوئے چلے ہیں کسو اور بے نصیب\nسجاد دست بستہ بھی ہمراہ ہے غریب\nوقت وداع پہنچا ہے آکر بہت قریب\nدے تجھ کو خواب مرگ سے کوئی جگا حسین\n\nدو حرف تیرے منھ کے بھی تا سن کے جایئے\nدل کو نہیں قرار تسلی تو پایئے\nکیا جانیے کہ اب یہاں پھر کیونکے آیئے\nبیدرد روزگار تو ہم سے پھرا حسین\n\nآگے گیا یہ کہہ کے اسیروں کا قافلہ\nباتوں کا لاعلاج یہیں چھوڑ سلسلہ\nبس میرؔ تو بھی چپ ہو ہوا دل تو آبلہ\nمر رہ زباں دراز کہیں کہہ کے یاحسین", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%DB%81%D9%88_%D9%85%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%86%D9%84%D8%A7_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86"} {"title": "دل تو حاضر ہے اگر کیجئے پھر ناز سے رمز", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل تو حاضر ہے اگر کیجئے پھر ناز سے رمز\nہیں ترے ناز کے صدقے اسی انداز سے رمز\n\nرمز و ایما و کنائے تجھے سب یاد ہیں یار\nہم تو بھولے ہیں غم غمزۂ غماز سے رمز\n\nاپنی نافہمی سے میں اور نہ کچھ کر بیٹھوں\nاس طرح سے تمہیں جائز نہیں اعجاز سے رمز\n\nدل کو تو سہج میں لیوے گا یہ میں جان چکا\nیہی نکلی ہیں تری سہج کی آواز سے رمز\n\nہم جئیں یا کہ مریں کچھ نہیں غم شوق سے آپ\nمسند ناز پہ فرمائیے اعزاز سے رمز\n\nمیں اسی دم تری تروار سے کاٹوں گا گلا\nتیغ دکھلا کے میاں عاشق جاں باز سے رمز\n\nباز جدم سے در عدل شہ عالم ہے\nبچۂ قاز بھی کرتا ہے یہاں باز سے رمز\n\nکیا تعجب ہے اگر مردۂ صد سالہ جئیں\nکم نہیں میرے مسیحا کے بھی اعجاز سے رمز\n\nہے تجھے خانہ خرابی ہی اگر مد نظر\nکیجیو اے فلک اس خانہ بر انداز سے رمز\n\nرمز احساںؔ سے ہے یعنی کہ غزل اور بھی پڑھ\nسیکھ جائے کوئی اس چشم فسوں ساز سے رمز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D8%AD%D8%A7%D8%B6%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%85%D8%B2"} {"title": "دل تو پژمردہ ہے داغ گلستاں ہوں تو کیا", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل تو پژمردہ ہے داغ گلستاں ہوں تو کیا\nآنکھیں روتی ہیں دہان زخم خنداں ہوں تو کیا\n\nداغ غم دل پر اٹھا کر مرنے والے مر گئے\nبرج قبروں کے اگر سرو چراغاں ہوں تو کیا\n\nبیگمیں شہزادیاں پھرنے لگیں خانہ خراب\nاب چڑیلیں صاحبان قصر و دیواں ہوں تو کیا\n\nفرش خاک اب اہل مسند کو نہیں ہوتا نصیب\nبوریا باف آج زیب تخت سلطاں ہوں تو کیا\n\nمسجدیں ٹوٹی پڑی ہیں صومعے ویران ہیں\nیاد حق میں ایک دو دلہائے سوزاں ہوں تو کیا\n\nصوفیان صاف طینت واصل حق ہو گئے\nخود نما دو چار ننگ اہل عرفاں ہوں تو کیا\n\nبجھ گئیں شمعیں جلیں پروانے تو کیا فائدہ\nاڑ گئے پروانے شمعیں نور افشاں ہوں تو کیا\n\nسخت جان و بے حیا دو چار ہم سے جو رہے\nہر گھڑی پابند خوف عزت و جاں ہوں تو کیا\n\nکربلا میں یا نجف میں چل کے مر جائیں منیرؔ\nہند میں ہم پہلوئے گور غریباں ہوں تو کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%98%D9%85%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل تڑپ جائے نہ کیوں سن کر فغان‌ اہل درد", "poet_page": "مصنف:شفق عماد پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل تڑپ جائے نہ کیوں سن کر فغان‌ اہل درد\nان سے پوچھو جو سمجھتے ہیں زبان‌ اہل درد\n\nایک سے اک بڑھ کے ہے دلچسپ دل کش دل ستاں\nحال دل افسانۂ غم داستان اہل درد\n\nیہ تو کہئے منہ سے اک اف تک کسی نے کی کبھی\nلے چکے ہیں آپ اکثر امتحان اہل درد\n\nہاتھ دھو لے جان سے کوئی تو جی بھر کر سنے\nجاں ستان‌ اہل دل ہے داستان اہل درد\n\nکس کے آگے درد دل اپنا کہو گے تم شفقؔ\nکوئی دنیا میں نہیں اب قدر‌ دان اہل درد", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AA%DA%91%D9%BE_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%E2%80%8C_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%AF%D8%B1%D8%AF"} {"title": "دل تھا کہ جو جان درد تمہید سہی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل تھا کہ جو جان درد تمہید سہی\nبیتابی رشک و حسرت دید سہی\nہم اور فسردن اے تجلی افسوس\nتکرار روا نہیں تو تجدید سہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%D8%AF_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائے\nیہ فتنہ کہیں خواب سے بیدار نہ ہو جائے\n\nمدت سے یہی پردہ یہی پردہ دری ہے\nہو کوئی تو پردہ سے نمودار نہ ہو جائے\n\nمجھ سے مرا افسانۂ ماضی نہ سنو تم\nافسانہ نیا پھر کوئی تیار نہ ہو جائے\n\nاے مستئ الفت سبق کفر دیئے جا\nجب تک مجھے ہر چیز سے انکار نہ ہو جائے\n\nہونا ہے جو ہستی کو مری خاک ہی سیمابؔ\nپہلے ہی سے کیوں خاک در یار نہ ہو جائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "دل جان جگر آہ جلائے کیا کیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل جان جگر آہ جلائے کیا کیا\nدرد و غم و آزار کھنچائے کیا کیا\nان آنکھوں نے کی ہے ترک مردم داری\nدیکھیں تو ہمیں عشق دکھائے کیا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%A2%DB%81_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل جب سے ترے ہجر میں بیمار پڑا ہے", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل جب سے ترے ہجر میں بیمار پڑا ہے\nجینے سے خفا جان سے بے زار پڑا ہے\n\nسودا نہ بنا گیسوئے جاناں سے تو کیا غم\nلے لیں گے کہیں اور سے بازار پڑا ہے\n\nپرہیز تپ ہجر سے ہے تجھ کو جو اے دل\nتو اور بھی آگے کبھی بیمار پڑا ہے\n\nفرمائیے روکے سے رکے ہیں کبھی عاشق\nدروازے پہ قفل آپ کے سو بار پڑا ہے\n\nمیں دیر و حرم ہو کے ترے کوچے میں پہنچا\nدو منزلوں کا پھیر بس اے یار پڑا ہے\n\nکی ترک محبت تو لیا درد جگر مول\nپرہیز سے دل اور بھی بیمار پڑا ہے\n\nتوقیر نہیں انجمن خاص میں دل کی\nشیشہ ترے مے خانہ میں بے کار پڑا ہے\n\nکچھ شام جدائی میں سجھائی نہیں دیتا\nپردہ خرد و ہوش پہ اے یار پڑا ہے\n\nجوہرؔ کہیں بکتی ہی نہیں جنس محبت\nکیا قحط وفا کا سر بازار پڑا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل جب سے درد عشق کے قابل نہیں رہا", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل جب سے درد عشق کے قابل نہیں رہا\nاک ناگوار چیز ہے اب دل نہیں رہا\n\nوہ میں نہیں رہا وہ مرا دل نہیں رہا\nاب ان کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا\n\nکیا التجائے دید کروں دیکھتا ہوں میں\nآئینہ بھی ہمیشہ مقابل نہیں رہا\n\nاب وہ خفا ہوئے ہیں تو یوں بھی ہے اک خوشی\nمرنا ہمارے واسطے مشکل نہیں رہا\n\nدنیا غرض کی رہ گئی اب اس سے کیا غرض\nچلئے کہ لطف شرکت محفل نہیں رہا\n\nسن سن کے اہل عشق و محبت کے واقعات\nدنیا کا کوئی کام بھی مشکل نہیں رہا\n\nدنیا کے نیک و بد پہ مری رائے کچھ نہیں\nاب تک ادھر خیال ہی مائل نہیں رہا\n\nمجھ سے نہ پوچھو حسرت آرائش جمال\nآئینہ بن کے ان کے مقابل نہیں رہا\n\nاک ناامید کے لئے اتنا نہ سوچئے\nآزردہ دل رہا بھی تو بے دل نہیں رہا\n\nوہ جان لے چکیں تو کوئی ان سے پوچھ لے\nاب تو کچھ اس غریب پہ فاضل نہیں رہا\n\nآیا نہ خواب میں بھی کبھی غیر کا خیال\nغفلت میں بھی میں آپ سے غافل نہیں رہا\n\nبے بندگی بھی اس کی رہی بندہ پروری\nملتا رہا اگرچہ میں سائل نہیں رہا\n\nوہ ہاتھ ہیں صفیؔ مجھے اک آستیں کا سانپ\nگردن میں دوست کے جو حمائل نہیں رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "دل جدا مال جدا جان جدا لیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل جدا مال جدا جان جدا لیتے ہیں\nاپنے سب کام بگڑ کر وہ بنا لیتے ہیں\n\nہو ہی رہتا ہے کسی بت کا نظارہ تا شام\nصبح کو اٹھ کے جو ہم نام خدا لیتے ہیں\n\nمجلس وعظ میں جب بیٹھتے ہیں ہم میکش\nدختر رز کو بھی پہلو میں بٹھا لیتے ہیں\n\nایسے بوسے کے عوض مانگتے ہیں دل کیا خوب\nجی میں سوچیں تو وہ کیا دیتے ہیں کیا لیتے ہیں\n\nاپنی محفل سے اٹھائے ہیں عبث ہم کو حضور\nچپکے بیٹھے ہیں الگ آپ کا کیا لیتے ہیں\n\nبت بھی کیا چیز ہیں اللہ سلامت رکھے\nگالیاں دے کے غریبوں کی دعا لیتے ہیں\n\nشاخ مرجاں میں جواہر نظر آتے ہیں امیرؔ\nکبھی انگلی جو وہ دانتوں میں دبا لیتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل جل کے رہ گئے ذقن رشک ماہ پر", "poet_page": "مصنف:تعشق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل جل کے رہ گئے ذقن رشک ماہ پر\nاس قافلہ کو پیاس نے مارا ہے چاہ پر\n\nگیسو کو ناز ہے دل روشن کی چاہ پر\nپروانہ یہ چراغ ہے مار سیاہ پر\n\nنیند اڑ گئی گراں ہے یہ شب رشک ماہ پر\nبجلی نہ کیوں فلک سے گرے میری آہ پر\n\nہے یاد خفتگان زمیں کا جو خط سبز\nبھولے سے میں قدم نہیں رکھتا گیاہ پر\n\nلٹتا ہے خانۂ دل عاشق بچایئے\nبگڑی ہوئی ہے فوج مژہ کس گناہ پر\n\nتاثیر کا ہے خوف انہیں عین شوق میں\nہے دل پہ ہاتھ کان ہیں آواز آہ پر\n\nمحشر بپا ہے بند ہیں کشتوں کے راستے\nقد باڑھ پر ہے باڑھ ہے تیغ نگاہ پر\n\nکیا آدمی کی خاک کو روندوں میں رحم دل\nروتا ہے پائمالیٔ مردم گیاہ پر\n\nکہتے ہو کس کے قلب میں اٹھتا ہے شب کو درد\nروتا ہے دل مرا مرے حال تباہ پر\n\nآخر تلاش گور ہوئی دل کو عشق میں\nبرسوں تباہ ہو کے اب آیا ہے راہ پر\n\nدل کے معاملہ میں نہ ہو دخل غیر کو\nلینا جو ہو تو لیجئے اپنی نگاہ پر\n\nاوپر کی سانس لینے کا آزار ہو گیا\nجس کی نظر پڑی تری ترچھی نگاہ پر\n\nبخیہ جراحت دل نازک مزاج کا\nموقوف ہے حضور کے تار نگاہ پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%B0%D9%82%D9%86_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں\nرونے والوں سے ہنسی اچھی نہیں\n\nمنہ بناتا ہے برا کیوں وقت وعظ\nآج واعظ تو نے پی اچھی نہیں\n\nزلف یار اتنا نہ رکھ دل سے لگاؤ\nدوستی نادان کی اچھی نہیں\n\nبت کدے سے مے کدہ اچھا مرا\nبے خودی اچھی خودی اچھی نہیں\n\nمفلسوں کی زندگی کا ذکر کیا\nمفلسی کی موت بھی اچھی نہیں\n\nاس قدر کھینچتی ہے کیوں اے زلف یار\nلے کے دل اتنی کجی اچھی نہیں\n\nآئیں میری بزم ماتم میں وہ کیا\nہاتھ میں منہدی رچی اچھی نہیں\n\nشیخ کو دے دو مے بے رنگ و بو\nاس کی قسمت سے کھینچی اچھی نہیں\n\nاک حسیں ہو دل کے بہلانے کو روز\nروز کی یہ دل لگی اچھی نہیں\n\nذرہ ذرہ آفتاب حشر ہے\nحشر اچھا وہ گلی اچھی نہیں\n\nاہل محشر سے نہ الجھو تم ریاضؔ\nحشر میں دیوانگی اچھی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل جلوہ گاہ صورت جانانہ ہو گیا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل جلوہ گاہ صورت جانانہ ہو گیا\nشیشہ یہ ایک دم میں پری خانہ ہو گیا\n\nشب کیوں کہ سلطنت نہ کرے تاج زر سے شمع\nرشک پر ہما پر پروانہ ہو گیا\n\nکیفیتوں سے گردش چشم بتاں کی دل\nشیشہ کبھی بنا کبھی پیمانہ ہو گیا\n\nطغیانی سرشک سے اپنی بھی بعد قیس\nدریا کا پاٹ دامن ویرانہ ہو گیا\n\nزنجیر کیوں نہ اس کی قدم بوس ہو بھلا\nجو کوئی تیرے عشق میں دیوانہ ہو گیا\n\nیاں تک کیا ہے شہرۂ آفاق عشق نے\nقصہ مرا بھی خلق میں افسانہ ہو گیا\n\nکیا روئیے خرابیٔ اقلیم دل کو دیکھ\nآنکھوں کے دیکھتے ہی تو کیا کیا نہ ہو گیا\n\nساقی کدھر پھرے ہے تو تنہا برنگ جام\nتجھ بن خراب ان دنوں مے خانہ ہو گیا\n\nآنکھوں سے تجھ کو یاد میں کرتا ہوں روز و شب\nبے دید مجھ سے کس لیے بیگانہ ہو گیا\n\nباور نہیں تو اشک مسلسل کو دیکھ لے\nدست مژہ میں سبحۂ صد دانہ ہو گیا\n\nکہتے ہیں اس کے سلسلۂ زلف میں نصیرؔ\nدل بھی مرید اب صفت شانہ ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل جن کے بجا ہیں ان کو آتی ہے خواب", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل جن کے بجا ہیں ان کو آتی ہے خواب\nآرام خوش آتا ہے سہاتی ہے خواب\nمیں غم زدہ کیا اپنے دنوں کو روؤں\nمیری تو جہاں شب ہوئی جاتی ہے خواب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%AC%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8"} {"title": "دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہے\nپہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہے\n\nہر بار وہی سوچ وہی زہر کا ساغر\nاس پر یہ ستم جرأت انکار نہیں ہے\n\nکچھ اٹھ کے بگولوں کی طرح ہو گئے رقصاں\nکچھ کہتے رہے راستہ ہموار نہیں ہے\n\nدل ڈوب گیا لذت آغوش سحر میں\nبیدار ہے اس طرح کہ بیدار نہیں ہے\n\nہم اس سے متاع دل و جاں مانگ رہے ہیں\nجو ایک تبسم کا روادار نہیں ہے\n\nیہ سر سے نکلتی ہوئی لوگوں کی فصیلیں\nدل سے مگر اونچی کوئی دیوار نہیں ہے\n\nدم سادھ کے بیٹھا ہوں اگرچہ مرے سر پر\nاک شاخ ثمر دار ہے تلوار نہیں ہے\n\nدم لو نہ کہیں دھوپ میں چلتے رہو باقیؔ\nاپنے لیے یہ سایۂ اشجار نہیں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%86%D8%B3_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل جو آئینہ سا نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل جو آئینہ سا نہیں ہوتا\nیار جلوہ نما نہیں ہوتا\n\nصبر کر صبر اے دل محزوں\nاس محبت میں کیا نہیں ہوتا\n\nگو نسیم سحر ہے آہ مری\nغنچۂ دل تو وا نہیں ہوتا\n\nمرغ بسمل سا کیوں نہ میں تڑپوں\nدرد راحت فزا نہیں ہوتا\n\nکیوں کروں جا کے میں اسے سجدہ\nبت کافر خدا نہیں ہوتا\n\nہوتا نام و نشاں کا گر طالب\nمیں ترا نقش پا نہیں ہوتا\n\nکیوں دل آتا تمہارے در پہ صنم\nگرچہ شوق لقا نہیں ہوتا\n\nعشق ہوتا نہیں تو پیش نظر\nجلوۂ حق نما نہیں ہوتا\n\nسر کٹانے سے ہو گئی راحت\nعشق کا یہ مزا نہیں ہوتا\n\nمجھ سے در پردہ ہے تجھے الفت\nمجھ کو یہ حوصلا نہیں ہوتا\n\nدل کو کیوں کر جمیلہؔ میں پھینکوں\nکسی صورت جدا نہیں ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا\nرات کو سینہ بہت کوٹا گیا\n\nطائر رنگ حنا کی سی طرح\nدل نہ اس کے ہاتھ سے چھوٹا گیا\n\nمیں نہ کہتا تھا کہ منہ کر دل کی اور\nاب کہاں وہ آئینہ ٹوٹا گیا\n\nدل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے\nیہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا\n\nمیرؔ کس کو اب دماغ گفتگو\nعمر گزری ریختہ چھوٹا گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%A2%D8%A8%D9%84%DB%81_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%B9%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل جو زیر غبار اکثر تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل جو زیر غبار اکثر تھا\nکچھ مزاج ان دنوں مکدر تھا\n\nاس پہ تکیہ کیا تو تھا لیکن\nرات دن ہم تھے اور بستر تھا\n\nسرسری تم جہاں سے گزرے\nورنہ ہر جا جہان دیگر تھا\n\nدل کی کچھ قدر کرتے رہیو تم\nیہ ہمارا بھی ناز پرور تھا\n\nبعد یک عمر جو ہوا معلوم\nدل اس آئینہ رو کا پتھر تھا\n\nبارے سجدہ ادا کیا تہ تیغ\nکب سے یہ بوجھ میرے سر پر تھا\n\nکیوں نہ ابر سیہ سفید ہوا\nجب تلک عہد دیدۂ تر تھا\n\nاب خرابہ ہوا جہان آباد\nورنہ ہر اک قدم پہ یاں گھر تھا\n\nبے زری کا نہ کر گلا غافل\nرہ تسلی کہ یوں مقدر تھا\n\nاتنے منعم جہان میں گزرے\nوقت رحلت کے کس کنے زر تھا\n\nصاحب جاہ و شوکت و اقبال\nاک ازاں جملہ اب سکندر تھا\n\nتھی یہ سب کائنات زیر نگیں\nساتھ مور و ملخ سا لشکر تھا\n\nلعل و یاقوت ہم زر و گوہر\nچاہیے جس قدر میسر تھا\n\nآخر کار جب جہاں سے گیا\nہاتھ خالی کفن سے باہر تھا\n\nعیب طول کلام مت کریو\nکیا کروں میں سخن سے خوگر تھا\n\nخوش رہا جب تلک رہا جیتا\nمیرؔ معلوم ہے قلندر تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D8%BA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دل جو سینے میں زار سا ہے کچھ", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل جو سینے میں زار سا ہے کچھ\nغم سے بے اختیار سا ہے کچھ\n\nرخت ہستی بدن پہ ٹھیک نہیں\nجامۂ مستعار سا ہے کچھ\n\nچشم نرگس کہاں وہ چشم کہاں\nنشہ کیسا خمار سا ہے کچھ\n\nنخل امید میں نہ پھول نہ پھل\nشجر بے بہار سا ہے کچھ\n\nساقیا ہجر میں یہ ابر نہیں\nآسماں پر غبار سا ہے کچھ\n\nکل تو آفت تھی دل کی بیتابی\nآج بھی بے قرار سا ہے کچھ\n\nمردہ ہے دل تو گور ہے سینہ\nداغ شمع مزار سا ہے کچھ\n\nاس کو دنیا کی اس کو خلد کی حرص\nرند ہے کچھ نہ پارسا ہے کچھ\n\nپہلے اس سے تھا ہوشیار امیرؔ\nاب تو بے اختیار سا ہے کچھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE"} {"title": "دل جو صورت گر معنی کا صنم خانہ بنے", "poet_page": "مصنف:برق دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل جو صورت گر معنی کا صنم خانہ بنے\nآنکھ جس شے پہ پڑے جلوۂ جانانہ بنے\n\nاتنے ہی ہو گئے ہم منزل عرفاں کے قریب\nجس قدر رسم و رہ دہر سے بیگانہ بنے\n\nتا در یار پہنچتا ہے وہ خود رفتۂ شوق\nاپنی ہستی سے جو اس راہ میں بیگانہ بنے\n\nظرف مے ٹوٹ کے بھی ہونے نہ پائے بے کار\nہو شکستہ کوئی شیشہ تو وہ پیمانہ بنے\n\nسعی ناکام سے میں ہاتھ اٹھاؤں گا نہ برقؔ\nمیری بگڑی ہوئی تقدیر بنے یا نہ بنے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%DB%92"} {"title": "دل جو پہلے ہی سے محو رخ جاناں ہوتا", "poet_page": "مصنف:منشی ٹھاکر پرساد طالب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان طالب مانکپوری (1933)", "year": "1933", "text_ur": "دل جو پہلے ہی سے محو رخ جاناں ہوتا\nکس لئے زلف میں پھنستا جو پریشاں ہوتا\n\nخال کیوں کر نہ قریب رخ جاناں ہوتا\nدولت حسن کا کوئی تو نگہباں ہوتا\n\nجذب کرنے کو نہ گر گوشۂ داماں ہوتا\nمیرے اشکوں سے بپا نوح کا طوفاں ہوتا\n\nجلوۂ مصحف عارض جو نظر آ جاتا\nہندوی خال بھی سو جاں سے مسلماں ہوتا\n\nقدر دیوانوں کی صحرائے جنوں گر کرتا\nخار تک بخیہ گر چاک گریباں ہوتا\n\nرنگ تو خیر مسیحائی کہاں سے لاتا\nکیوں خجل لب سے ترے لعل نہ ایجاں ہوتا\n\nقیس و فرہاد کا پھر نام نہ لیتا کوئی\nمجھ سے آباد نہ گر کوہ و بیاباں ہوتا\n\nروکش چہرۂ دل دار وہ ہوتا کیوں کر\nداغ کھاتا جو مقابل مہ کنعاں ہوتا\n\nدل سے گر شوق شہادت کا نہ ہوتا مجھ کو\nمثل گل زخم جگر کس لئے خنداں ہوتا\n\nمیں وہ مجنوں ہوں کہ صحرا میں قدم گر رکھتا\nآ کے پابوس وہیں خار مغیلاں ہوتا\n\nبیڑیاں توڑ کے ہم زلف میں جا کر پھنستے\nگر کہیں جوش جنوں سلسلہ جنباں ہوتا\n\nآبرو وہ مرے رونے کی جو کرتا کچھ بھی\nاشک سے میرے خجل گوہر غلطاں ہوتا\n\nبہرہ گر دولت اسلام سے کافر پاتا\nخال رخسار صنم حافظ قرآں ہوتا\n\nعادت رحم حسینوں میں نہیں جب طالبؔ\nکیوں مرے قتل سے وہ ترک پشیماں ہوتا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AD%D9%88_%D8%B1%D8%AE_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "دل جوش معاصی سے نہ کیوں خوں ہو جائے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل جوش معاصی سے نہ کیوں خوں ہو جائے\nکعبہ بھی مرے طوف سے مجنوں ہو جائے\nبوسے میں اگر دوں حجر اسود پر\nلب ہائے مے آلود سے گل گوں ہو جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B5%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "دل جھکا مائل طبیعت ہو گئی", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل جھکا مائل طبیعت ہو گئی\nآج بسم اللہ الفت ہو گئی\n\nمحو دل سے سب شکایت ہو گئی\nسامنے جب ان کی صورت ہو گئی\n\nمیرا حال زار تو دیکھا مگر\nیہ نہ پوچھا کیوں یہ حالت ہو گئی\n\nوہ فریب ناز دے کر لے گئے\nکتنی ارزاں دل کی قیمت ہو گئی\n\nدل میں جب تک آہ تھی اک بات تھی\nلب تک آتے ہی حکایت ہو گئی\n\nجب نہ ڈالا اس نے آ کر کوئی پھول\nگل ہماری شمع تربت ہو گئی\n\nفتنہ سازی تک جو تھی مشق خرام\nرفتہ رفتہ وہ قیامت ہو گئی\n\nکیسی مطلب آشنا تھی چشم شوخ\nدل اڑایا اور چمپت ہو گئی\n\nچشم پر نم نے کیا افشا راز\nآبروئے ضبط غارت ہو گئی\n\nدل کی چالوں کا نتیجہ یہ ہوا\nوقت سے پہلے قیامت ہو گئی\n\nدے دیا دل جس کو ہم نے دے دیا\nہو گئی جس سے محبت ہو گئی\n\nکہہ گئے احسنؔ کے منہ پر آج وہ\nتیری صورت سے بھی نفرت ہو گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%DA%BE%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دل جہاں سے اٹھائے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل جہاں سے اٹھائے بیٹھے ہیں\nسب کو دیکھے دکھائے بیٹھے ہیں\n\nچاک دامن یہ کہہ رہا ہے کہ ہم\nدل کے ٹکڑے اڑائے بیٹھے ہیں\n\nوہ سر بزم حال کیا پوچھیں\nمیرے مطلب کو پائے بیٹھے ہیں\n\nاب اجل کیوں کہ آئے گی دیکھوں\nوہ عیادت کو آئے بیٹھے ہیں\n\nکرتے ہیں یوں دعا کہ ہم گویا\nہاتھ اثر سے اٹھائے بیٹھے ہیں\n\nاگر آتے ہیں وہ تو آنے دو\nہم بھی آنکھیں بچھائے بیٹھے ہیں\n\nاس کے دل میں اثر کر اے گریہ\nغیر کیا گھر بنائے بیٹھے ہیں\n\nاس کے وعدے کو جانتے ہیں ہم\nشام سے زہر کھائے بیٹھے ہیں\n\nدر سے وحشت زدوں کو خود نہ اٹھا\nیہ کوئی ایک جائے بیٹھے ہیں\n\nاب تو لب تک بھی آ نہ اے نالے\nہم تجھے آزمائے بیٹھے ہیں\n\nتم بھی کر جاؤ پائمال کہ ہم\nنقش ہستی مٹائے بیٹھے ہیں\n\nکس کو دیکھ اے حضرت سالکؔ\nآج کچھ منہ بنائے بیٹھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل حسیں ہے تو محبت بھی حسیں پیدا کر", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "پہلے تو حسن عمل حسن یقیں پیدا کر\nپھر اسی خاک سے فردوس بریں پیدا کر\n\nیہی دنیا کہ جو بت خانہ بنی جاتی ہے\nاسی بت خانے سے کعبے کی زمیں پیدا کر\n\nروح آدم نگراں کب سے ہے تیری جانب\nاٹھ اور اک جنت جاوید یہیں پیدا کر\n\nخس و خاشاک توہم کو جلا کر رکھ دے\nیعنی آتش کدۂ سوز یقیں پیدا کر\n\nغم میسر ہے تو اس کو غم کونین بنا\nدل حسیں ہے تو محبت بھی حسیں پیدا کر\n\nآسماں مرکز تخئیل و تصور کب تک\nآسماں جس سے خجل ہو وہ زمیں پیدا کر\n\nدل کے ہر قطرہ میں طوفان تجلی بھر دے\nبطن ہر ذرہ سے اک مہر مبیں پیدا کر\n\nبندگی یوں تو ہے انسان کی فطرت لیکن\nناز جس پہ کریں سجدے وہ جبیں پیدا کر\n\nپستئ خاک پہ کب تک تری بے بال و پری\nپھر مقام اپنا سر عرش بریں پیدا کر\n\nعشق ہی زندہ و پایندہ حقیقت ہے جگرؔ\nعشق کو عام بنا ذوق یقیں پیدا کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دل خدا جانے کس کے پاس رہا", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل خدا جانے کس کے پاس رہا\nان دنوں جی بہت اداس رہا\n\nکیا مزا وصل میں ملا اس کے\nمیں رہا بھی تو بے حواس رہا\n\nیوں کھلا اپنا یہ گل امید\nکہ سدا دل یہ داغ یاس رہا\n\nشاد ہوں میں کہ دیکھ میرا حال\nغیر کرنے سے التماس رہا\n\nجب تلک کہ جیا حسنؔ تب تک\nغم مرے دل پہ بے قیاس رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "دل خوش نہ ہوا زلف پریشاں سے نکل کر", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل خوش نہ ہوا زلف پریشاں سے نکل کر\nپچھتائے ہم اس شام غریباں سے نکل کر\n\nیہ اس سے زیاں کار تو وہ اس سے بد آئیں\nجاؤں میں کہاں گبر و مسلماں سے نکل کر\n\nاستاد کوئی زور ملا قیس کو شاید\nلی راہ جو جنگل کی دبستاں سے نکل کر\n\nمعلوم نہیں مجھ کو کہ جاوے گا کدھر کو\nیوں سینہ ترا چاک گریباں سے نکل کر\n\nگزرا رگ گردن سے کہ جوں شمع سر اپنا\nتلوار ہی کھاتا ہے گریباں سے نکل کر\n\nنا زوری میں آیا نہ کبھو تا سر مژگاں\nیک قطرۂ خوں بھی بن مژگاں سے نکل کر\n\nتیروں میں کماں دار مرا گھیر لے جس کو\nوہ جانے نہ پاوے کبھی میداں سے نکل کر\n\nہم آپ فنا ہو گئے اے ہستئ موہوم\nجوں موج تبسم لب جاناں سے نکل کر\n\nصورت کے تری سامنے رہ جائے ہے کیسے\nہر بت کی نگہ دیدۂ حیراں سے نکل کر\n\nاس دست حنائی میں رہا آئینہ اکثر\nدریا نہ گیا پنجۂ مرجاں سے نکل کر\n\nاب پڑھ وہ غزل مصحفیؔ تو شستہ و رفتہ\nسننے جسے خلق آئے صفاہاں سے نکل کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دل خون ہوا ضبط ہی کرتے کرتے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل خون ہوا ضبط ہی کرتے کرتے\nہم ہو ہی چکے دکھوں کو بھرتے بھرتے\nاے مایۂ زندگی ستم ہے نہ اگر\nبھر آنکھ تجھے دیکھیں نہ مرتے مرتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D9%88%D9%86_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B6%D8%A8%D8%B7_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "دل خوں گشتۂ جفا پہ کہیں", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل خوں گشتۂ جفا پہ کہیں\nاب کرم بھی گراں نہ ہو جائے\n\nتیرے بیمار کا خدا حافظ\nنذر چارہ گراں نہ ہو جائے\n\nعشق کیا کیا نہ آفتیں ڈھائے\nحسن گر مہرباں نہ ہو جائے\n\nمے کے آگے غموں کا کوہ گراں\nایک پل میں دھواں نہ ہو جائے\n\nپھر مجازؔ ان دنوں یہ خطرہ ہے\nدل ہلاک بتاں نہ ہو جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%B4%D8%AA%DB%82_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل خوں ہے جگر داغ ہے رخسار ہے زرد", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل خوں ہے جگر داغ ہے رخسار ہے زرد\nحسرت سے گلے لگنے کی چھاتی میں ہے درد\nتنہائی و بیکسی و صحراگردی\nآنکھوں میں تمام آب منھ پر سب گرد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D8%B1%D8%AF"} {"title": "دل دادگان حسن سے پردا نہ چاہئے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل دادگان حسن سے پردا نہ چاہئے\nدل لے کے چھپ گئے تمہیں ایسا نہ چاہئے\n\nدل کام کا نہیں تو نہ لو جان نذر ہے\nاتنی ذرا سی بات پہ جھگڑا نہ چاہئے\n\nزاہد تو بخشے جائیں گنہ گار منہ تکیں\nاے رحمت خدا تجھے ایسا نہ چاہئے\n\nاے دل سدا اسی کی طرف سر جھکا رہے\nکعبہ وہی ہے غیر کا سجدا نہ چاہئے\n\nکعبہ سمجھ کے دیر میں مضطرؔ بسر کرو\nوہ ہر جگہ ہے اب کہیں جانا نہ چاہئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہو", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہو\nسنتا نہیں کسو کی مرا یار کچھ کہو\n\nغمزہ ادا نگاہ تبسم ہے دل کا مول\nتم بھی اگر ہو اس کے خریدار کچھ کہو\n\nشیریں نے کوہ کن سے منگائی تھی جوئے شیر\nگر امتحاں ہے اس سے بھی دشوار کچھ کہو\n\nہر آن آ مجھی کو ستاتے ہو ناصحو\nسمجھا کے تم اسے بھی تو یک بار کچھ کہو\n\nاے ساکنان کنج قفس صبح کو صبا\nسنتے ہیں جائے گی سوئے گلزار کچھ کہو\n\nعالم کی گفتگو سے تو آتی ہے بوئے خوں\nبندہ ہے اک نگہ کا گنہ گار کچھ کہو\n\nسوداؔ موافقت کا سبب جانتا ہے یار\nسمجھے مخالف اس کو کچھ اغیار کچھ کہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81%D9%88"} {"title": "دل دار دل اس طرح بہم آئے نظر میں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل دار دل اس طرح بہم آئے نظر میں\nجس طرح گہر آب میں اور آب گہر میں\n\nاک بار بھی دیکھا نہ اسے پاس سے جا کر\nآیا ہی نظر وہ تو کہیں راہ گزر میں\n\nہر چند کہ ہے شام و سحر وہ ہی پر اس بن\nوہ لطف نہ اب شام میں ہے اور نہ سحر میں\n\nقسمت سے مدد چاہتا ہوں اتنی کہ ہر وقت\nمانند صبا ساتھ رہوں اس کے سفر میں\n\nاک بار تو نالے کی ہو رخصت ہمیں صیاد\nپنہاں رکھیں ہم کب تئیں فریاد جگر میں\n\nہوش و خرد و صبر و تواں اٹھ چلے اک ایک\nجاتے ہی ترے چال پڑی دل کے نگر میں\n\nکیدھر کو نکل جاویں حسنؔ کیا کریں ہم آہ\nباہر ہی یہ دل اپنا نہ لگتا ہے نہ گھر میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%A8%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل دار کی کشش نے اینچا ہے من ہمارا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل دار کی کشش نے اینچا ہے من ہمارا\nہے خاک اس قدم کی شاید وطن ہمارا\n\nاے دوستان جانی دل سیں کرو توجہ\nتا جان پاس اپنے پہنچے بدن ہمارا\n\nگر زندگی ہے باقی پھر تم سیں آ ملیں گے\nدیدار آخری ہے جو ہے مرن ہمارا\n\nدریائے مدعا کا لائے ہیں تھاہ جب سیں\nہر بوند اشک کا ہے در عدن ہمارا\n\nدرکار نہیں ہے پہریں بر میں قبائے زینت\nیہ بس ہے خاکساری خاکی برن ہمارا\n\nسب چھوڑ خانما کوں ہیں اس کی جستجو میں\nہے دشت اور بیاباں باغ و چمن ہمارا\n\nمانند کوہ کن ہے بے کل سراجؔ کا دل\nشاید کہ مان لیوے شیریں سخن ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%B4%D8%B4_%D9%86%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D9%86%DA%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%86_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "دل دماغ و جگر یہ سب اک بار", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل دماغ و جگر یہ سب اک بار\nکام آئے فراق میں اے یار\n\nکیوں نہ ہو ضعف غالب اعضا پر\nمر گئے ہیں قشون کے سردار\n\nگل پژمردہ کا نہیں ممنون\nہم اسیروں کا گوشۂ دستار\n\nمت نکل گھر سے ہم بھی راضی ہیں\nدیکھ لیں گے کبھو سر بازار\n\nسینکڑوں حرف ہیں گرہ دل میں\nپر کہاں پائیے لب اظہار\n\nسیر کر دشت عشق کا گلشن\nغنچے ہو ہو رہے ہیں سو سو خار\n\nروز محشر ہے رات ہجراں کی\nایسی ہم زندگی سے ہیں بیزار\n\nبحث نالہ بھی کیجیو بلبل\nپہلے پیدا تو کر لب گفتار\n\nشکر کر داغ دل کا اے غافل\nکس کو دیتے ہیں دیدۂ بے دار\n\nگو غزل ہو گئی قصیدہ سی\nعاشقوں کا ہے طول حرف شعار\n\nہر سحر لگ چلی تو ہے تو نسیم\nاے سیہ مست ناز ٹک ہشیار\n\nشاخسانے ہزار نکلیں گے\nجو گیا اس کی زلف کا اک تار\n\nواجب القتل اس قدر تو ہوں\nکہ مجھے دیکھ کر کہے ہے پکار\n\nیہ تو آیا نہ سامنے میرے\nلاؤ میری میاں سپر تلوار\n\nآ زیارت کو قبر عاشق پر\nاک طرح کا ہے یاں بھی جوش بہار\n\nنکلے ہے میری خاک سے نرگس\nیعنی اب تک ہے حسرت دیدار\n\nمیرؔ صاحب زمانہ نازک ہے\nدونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار\n\nسہل سی زندگی پہ کام کے تیں\nاپنے اوپر نہ کیجیے دشوار\n\nچار دن کا ہے مجہلہ یہ سب\nسب سے رکھیے سلوک ہی ناچار\n\nکوئی ایسا گناہ اور نہیں\nیہ کہ کیجے ستم کسی پر یار\n\nواں جہاں خاک کے برابر ہے\nقدر ہفت آسماں ظلم شعار\n\nیہی درخواست پاس دل کی ہے\nنہیں روزہ نماز کچھ درکار\n\nدر مسجد پہ حلقہ زن ہو تم\nکہ رہو بیٹھ خانۂ خمار\n\nجی میں آوے سو کیجیو پیارے\nلیک ہوجو نہ درپئے آزار\n\nحاصل دو جہاں ہے یک حرف\nہو مری جان آگے تم مختار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA_%D9%88_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%A8_%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%B1"} {"title": "دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کا", "poet_page": "مصنف:اشرف علی فغاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کا\nتیرے مجنوں کو کہاں پاس ہے رسوائی کا\n\nبرگ گل سے بھی کم اب کوہ غم اس نے جانا\nیہ بھروسا تو نہ تھا دل کی توانائی کا\n\nکیجیے چاک گریباں کو بہار آئی ہے\nذکر بے لطف ہے یاں صبر و شکیبائی کا\n\nسرو ثابت قدم اس واسطے گلشن میں رہا\nنہیں دیکھا کبھی جلوہ تری رعنائی کا\n\nزور منظور نظر تو تو فغاںؔ رکھتا ہے\nمیں تو بندہ ہوں تری چشم کی بینائی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DA%BE%DA%91%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئی", "poet_page": "مصنف:ناصری لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نذر احباب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئی\nتم چلے اٹھ کے مری جان قیامت آئی\n\nآپ کے ظلم نے دی میری وفا کو شہرت\nکہ مرے خون سے بھی بوئے محبت آئی\n\nسچ ہے مرنے پہ نہیں کوئی کسی کا دل سوز\nشمع بھی بجھ گئی جس دم سر تربت آئی\n\nآہ سے میری زمیں ہل گئی تارے ٹوٹے\nمیں یہ سمجھا کہ زمانے میں قیامت آئی\n\nمسکراتے ہوئے دنیا سے گئے اہل وفا\nجان دے دینے سے چہرے پہ بشاشت آئی", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DA%BE%DA%91%DA%A9%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D9%88%D8%A8%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دل دیا تب کہ بہت زلف رسا نے چاہا", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل دیا تب کہ بہت زلف رسا نے چاہا\nآپ فرماتے ہیں یوں اس کی بلا نے چاہا\n\nتا دم مرگ نہ ہوں تجھ سے مری جان جدا\nمیں نے چاہا تھا ولیکن نہ خدا نے چاہا\n\nچل بسے دیکھتے ہی چال ادا کی ہم تو\nہو وے قصہ ہی ادا تیری ادا نے چاہا\n\nگھر سے کس طرح سے یوں حضرت منعم نکلیں\nدی نہ بوبو نے اجازت نہ دوانے چاہا\n\nہو کے یک دست ترے اور ہی اے یار نمود\nجب تجھے ہم سے کسی بے سر و پا نے چاہا\n\nمرتے مرتے بھی نہ یک بار تجھے دیکھ لیا\nاس قدر بھی نہ مری جان قضا نے چاہا\n\nکوئی اپنا نہ ہوا سلسلہ جنبان جنوں\nایک فی الجملہ اسی زلف دوتا نے چاہا\n\nجس طرح چاہو ستاؤ مجھے ہر روز بتو\nاس کا اک رات عوض لوں گا خدا نے چاہا\n\nنام عنقا سے بھی ننگ آتا ہے احسانؔ مجھے\nشہرۂ نام کو کیوں اہل فنا نے چاہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DB%92_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A7"} {"title": "دل دیا ہے ہم نے بھی وہ ماہ کامل دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:شیر سنگھ ناز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل دیا ہے ہم نے بھی وہ ماہ کامل دیکھ کر\nزرد ہو جاتی ہے جس کو شمع محفل دیکھ کر\n\nتیرے عارض پہ یہ نقطہ بھی ہے کتنا انتخاب\nہو گیا روشن ترے رخسار کا تل دیکھ کر\n\nقتل کرنا بے گناہوں کا کوئی آسان ہے\nخشک قاتل کا لہو ہے خون بسمل دیکھ کر\n\nبلیوں فرط مسرت سے اچھل جاتا ہے دل\nبحر غم میں دور سے دامان ساحل دیکھ کر\n\nآئینے نے کر دیا یکتائی کا دعویٰ غلط\nنقش حیرت بن گئے اپنا مقابل دیکھ کر\n\nدیکھ تو لیں دل میں تیرے گھر بھی کر سکتے ہیں ہم\nدل تو ہم دیں گے تجھے لیکن ترا دل دیکھ کر\n\nدیکھیے راہ عدم میں اور پیش آتا ہے کیا\nہوش پراں ہو رہے ہیں پہلی منزل دیکھ کر\n\nآرزوئے حور کیا ہو نازؔ دل دے کر انہیں\nشمع پر کیا آنکھ ڈالیں ماہ کامل دیکھ کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%84_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دل دیر گزاری سے ہے آوند نمک", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل دیر گزاری سے ہے آوند نمک\nہر زخم جگر رہتا ہے دل بند نمک\nیک رو ہے قلقؔ جانتا ہے عادت کو\nہر ایک سے یکساں ہوں میں مانند نمک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%DA%AF%D8%B2%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D9%88%D9%86%D8%AF_%D9%86%D9%85%DA%A9"} {"title": "دل دیوانہ عرض حال پر مائل تو کیا ہوگا", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل دیوانہ عرض حال پر مائل تو کیا ہوگا\nمگر وہ پوچھ بیٹھے خود ہی حال دل تو کیا ہوگا\n\nہمارا کیا ہمیں تو ڈوبنا ہے ڈوب جائیں گے\nمگر طوفان جا پہنچا لب ساحل تو کیا ہوگا\n\nشراب ناب ہی سے ہوش اڑ جاتے ہیں انساں کے\nترا کیف نظر بھی ہو گیا شامل تو کیا ہوگا\n\nخرد کی رہبری نے تو ہمیں یہ دن دکھائے ہیں\nجنوں ہو جائے گا جب رہبر منزل تو کیا ہوگا\n\nکوئی پوچھے تو ساحل پر بھروسہ کرنے والوں سے\nاگر طوفاں کی زد میں آ گیا ساحل تو کیا ہوگا\n\nخود اس کی زندگی اب اس سے برہم ہوتی جاتی ہے\nانہیں ہوگا بھی پاس خاطر قابلؔ تو کیا ہوگا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B9%D8%B1%D8%B6_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیں\nگدائے مے کدہ ہیں وضع آزادانہ رکھتے ہیں\n\nمجھے مے خانہ تھراتا ہوا محسوس ہوتا ہے\nوہ میرے سامنے شرما کے جب پیمانہ رکھتے ہیں\n\nگھٹائیں بھی تو بہکی جا رہی ہیں ان اداؤں پر\nچمن میں جو قدم رکھتے ہیں وہ مستانہ رکھتے ہیں\n\nبظاہر ہم ہیں بلبل کی طرح مشہور ہرجائی\nمگر دل میں گداز فطرت پروانہ رکھتے ہیں\n\nجوانی بھی تو اک موج شراب تند و رنگیں ہے\nبرا کیا ہے اگر ہم مشرب رندانہ رکھتے ہیں\n\nکسی مغرور کے آگے ہمارا سر نہیں جھکتا\nفقیری میں بھی اخترؔ غیرت شاہانہ رکھتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%88_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%A8%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل دیکھ اسے جس گھڑی بے تاب ہوا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل دیکھ اسے جس گھڑی بے تاب ہوا\nاور چاہ ذقن سے مثل گرداب ہوا\nکی عرض کہ بے قرار دل ہے تو کہا\nاب دل نہ کہو اسے جو سیماب ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا\nآسان کام آپ نے مشکل بنا دیا\n\nہر سانس ایک شعلہ ہے ہر شعلہ ایک برق\nکیا تو نے مجھ کو اے تپش دل بنا دیا\n\nاس حسن ظن پہ ہم سفروں کے ہوں پا بہ گل\nمجھ بے خبر کو رہبر منزل بنا دیا\n\nاندھا ہے شوق پھر نظر امکان پر ہو کیوں\nکام اپنا دل نے آپ ہی مشکل بنا دیا\n\nدوڑا لہو رگوں میں بندھی زندگی کی آس\nیہ بھی برا نہیں ہے جو بسمل بنا دیا\n\nغرق و عبور دونوں کا حاصل ہے ختم کار\nمجبوریوں نے موج کو ساحل بنا دیا\n\nاس شان عاجزی کے فدا جس نے آرزوؔ\nہر ناز ہر غرور کے قابل بنا دیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%92_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل ربا پہلو سے اب اٹھ کر جدا ہونے کو ہے", "poet_page": "مصنف:عزیز الحسن غوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ربا پہلو سے اب اٹھ کر جدا ہونے کو ہے\nکیا غضب ہے کیا قیامت ہے یہ کیا ہونے کو ہے\n\nدشمنیٔ خلق میری رہنما ہونے کو ہے\nاب مرا دست طلب دست دعا ہونے کو ہے\n\nتو نے چاہا تھا برا میرا بھلا ہونے کو ہے\nآب خنجر حلق میں آب بقا ہونے کو ہے\n\nآج تو جی بھر کے پی لینے دے اے ساقی مجھے\nجان ہی جاتی رہے گی اور کیا ہونے کو ہے\n\nاے دل پر آرزو کر دے سر تسلیم خم\nدیکھ کن ہاتھوں سے خون مدعا ہونے کو ہے\n\nشوخ رفتاری کا اپنی دیکھ تو مڑ کر اثر\nساتھ ساتھ اٹھ کر رواں ہر نقش پا ہونے کو ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل ربا ہے مرا بڑا گستاخ", "poet_page": "مصنف:میرضیا الدین ضیا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ربا ہے مرا بڑا گستاخ\nمیں نے اتنا نہ سمجھا تھا گستاخ\n\nاب تو وہ شوخیاں لگا کرنے\nیک بیک ایسا ہو گیا گستاخ\n\nناز بے جا کبھی نہ کرتا تھا\nکیا رقیبوں نے کر دیا گستاخ\n\nجاں فشانی ہم اس پہ کرتے ہیں\nرام ہرگز نہ وہ ہوا گستاخ\n\nاے ضیاؔ کیجیو سمجھ کے کلام\nوہ صنم تو ہے بے وفا گستاخ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DA%91%D8%A7_%DA%AF%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AE"} {"title": "دل رقیب تو دیکھا مرا جگر دیکھیں", "poet_page": "مصنف:راجہ نوشاد علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل رقیب تو دیکھا مرا جگر دیکھیں\nادھر کے دیکھنے والے ذرا ادھر دیکھیں\n\nکسی کے حسن پہ ہیں ایسی شیفتہ آنکھیں\nپری جو سامنے آئے نہ ایک نظر دیکھیں\n\nابھی نہائے ہیں کپڑے بدلنے بیٹھے ہیں\nمجال کیا ہے ہماری جو ہم ادھر دیکھیں\n\nہزاروں صورت موسیٰ ہیں طالب دیدار\nجو ایک ہو تو وہ دیکھیں کدھر کدھر دیکھیں\n\nہمارے دل میں جو حسرت ہے جو تمنا ہے\nنہ مانیں گے نہ سہی آج عرض کر دیکھیں\n\nکوئی جگہ نہیں خالی ہے تیرے جلوے سے\nکہاں کہاں تجھے دیکھیں کدھر کدھر دیکھیں\n\nجو اضطرابئ دل کا نہ ہو یقین ان کو\nہماری طرح سے وہ بھی کسی پہ مر دیکھیں\n\nرقیب آئنہ نوشادؔ اور دل نوشادؔ\nوہ ایک دیکھنے والے کدھر کدھر دیکھیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل زلف بتاں میں ہے گرفتار ہمارا", "poet_page": "مصنف:راسخ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل زلف بتاں میں ہے گرفتار ہمارا\nاس دام سے ہے چھوٹنا دشوار ہمارا\n\nبازار جہاں میں ہیں عجب جنس زبوں ہم\nکوئی نہیں اے وائے خریدار ہمارا\n\nتھی داور محشر سے توقع سو تجھے دیکھ\nوہ بھی نہ ہوا ہائے طرف دار ہمارا\n\nکیونکر نہ دم سرد بھریں ہم کہ ہر اک سے\nملتا ہے بہت گرم کچھ اب یار ہمارا\n\nتجھ بن اسے یہ سمجھیں کہ ہے شعلۂ دوزخ\nگر ہو گل جنت گل دستار ہمارا\n\nراسخؔ یہ پس مرگ بھی ہم راہ رہے گا\nہے یار کا غم یار وفادار ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "دل زندہ خود رہنما ہو گیا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل زندہ خود رہنما ہو گیا\nیہ قبلہ ہی قبلہ نما ہو گیا\n\nہوا رنگ دنیا میں کیوں شیفتہ\nتجھے بوالہوس ہائے کیا ہو گیا\n\nیہ پردہ ہی تھا پردہ پوش نظر\nحجاب اٹھ گیا خود نما ہو گیا\n\nیہی خود شناسی خدائی ہوئی\nخودی مٹ گئی جب خدا ہو گیا\n\nانا الحق ہو الحق جو آیا نظر\nیہ شوریدہ سر خود نما ہو گیا\n\nتعرض ہو الحق جو آیا نظر\nتعشق میں سب فیصلہ ہو گیا\n\nتجلی ہوئی جس کو توحید کی\nوہ قید دوئی سے رہا ہو گیا\n\nیہ کیا چیز تھا ساقیؔ ہیچ کس\nترے فضل سے کیا سے کیا ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل ستم زدہ بیتابیوں نے لوٹ لیا", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "دل ستم زدہ بیتابیوں نے لوٹ لیا\nہمارے قبلہ کو وہابیوں نے لوٹ لیا\n\nکہانی ایک سنائی جو ہیر رانجھا کی\nتو اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا\n\nیہ موج لالہ خود رو نسیم سے بولے\nکہ کوہ و دشت کو سیرابیوں نے لوٹ لیا\n\nصبا قبیلۂ لیلیٰ میں اڑ گئی یہ خبر\nکہ ناقہ نجد کے اعرابیوں نے لوٹ لیا\n\nکسی طرح سے نہیں نیند آتی انشاؔ کو\nاسی خیال میں بے خوابیوں نے لوٹ لیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%B2%D8%AF%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D9%84%D9%88%D9%B9_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل سخت نژند ہوگیا ہے گویا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل سخت نژند ہوگیا ہے گویا\nاس سے گلہ مند ہوگیا ہے گویا\nپر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں\nغالبؔ منہ بند ہو گیا ہے گویا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D8%AE%D8%AA_%D9%86%DA%98%D9%86%D8%AF_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل سرد ہو گیا ہے طبیعت بجھی ہوئی", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سرد ہو گیا ہے طبیعت بجھی ہوئی\nاب کیا ہے وہ اتر گئی ندی چڑھی ہوئی\n\nتم جان دے کے لیتے ہو یہ بھی نئی ہوئی\nلیتے نہیں سخی تو کوئی چیز دی ہوئی\n\nاس ٹوٹے پھوٹے دل کو نہ چھیڑو پرے ہٹو\nکیا کر رہے ہو آگ ہے اس میں دبی ہوئی\n\nلو ہم بتائیں غنچہ و گل میں ہے فرق کیا\nاک بات ہے کہی ہوئی اک بے کہی ہوئی\n\nخوں ریز جس قدر ہیں وہ رہتے ہیں سرنگوں\nخنجر ہوا کٹار ہوئی یا چھری ہوئی\n\nشاعرؔ خدا کے واسطے توبہ کا کیا قصور\nہے کس کے منہ سے پھر یہ صبوحی لگی ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D8%B1%D8%AF_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D8%A8%D8%AC%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دل سلامت اگر اپنا ہے تو دل دار بہت", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سلامت اگر اپنا ہے تو دل دار بہت\nہے یہ وہ جنس کہ جس کے ہیں خریدار بہت\n\nایک میں ہی ترے کوچے میں نہیں ہوں بیتاب\nسر پٹکتے ہیں خبر لے پس دیوار بہت\n\nدیکھیے کس کے لگے ہاتھ ترا گوہر وصل\nاس تمنا میں تو پھرتے ہیں طلب گار بہت\n\nکہیں نرگس کو مگر تو نے دکھائیں آنکھیں\nنہیں بچتے نظر آتے ہیں یہ بیمار بہت\n\nکیا کروں کس سے کہوں حال کدھر کو جاؤں\nتنگ آیا ہوں ترے ہاتھ سے دل دار بہت\n\nاپنے عاشق سے کیا پوچھو تو کیسے یہ سلوک\nاور بھی شہر میں ہیں تجھ سے طرحدار بہت\n\nترے آتے تو کوئی پھول نہ ہوگا سرسبز\nکیا ہوا باغ میں گو پھولے تھے گل زار بہت\n\nایک دن تجھ کو دکھاؤں گا میں ان خوباں کو\nدعویٔ یوسفی کرتے تو ہیں اظہار بہت\n\nجرم بوسہ پہ جو بیدارؔ کو مارا مارا\nنہ کرو جانے دو اس بات پہ تکرار بہت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%AA"} {"title": "دل سنگ نہیں ہے کہ ستم گر نہ بھر آتا", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سنگ نہیں ہے کہ ستم گر نہ بھر آتا\nکرتے نہ اگر ضبط تو منہ تک جگر آتا\n\nتو فاتحہ خوانی کو اگر قبر پر آتا\nمرنے سے مرے غیر کا مطلب نہ بر آتا\n\nاے قیس اگر دشت میں تو راہ پر آتا\nسو بار تجھے ناقۂ لیلیٰ نظر آتا\n\nتخصیص نہ تھی طور کی اے حضرت موسیٰ\nہر سنگ میں وہ نور تجلی نظر آتا\n\nہوتی چمن آرائے ازل کی جو مشیت\nاپنے شجر عشق کا وقت ثمر آتا\n\nبے کار نہ کر رات بسر منتظری میں\nآنا اسے ہوتا تو وہ اب تک اثرؔ آتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "دل سوختہ کو اپنے جلایا غضب کیا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سوختہ کو اپنے جلایا غضب کیا\nنیرنگ تم نے کیا یہ دکھایا غضب کیا\n\nزندہ کیا ہے حسرت مردہ کو بے وفا\nتو بعد مرگ گور پہ آیا غضب کیا\n\nیہ درد درد مند تماشا دکھائے گا\nآفت رسیدہ کو جو ستایا غضب کیا\n\nہم خانماں خراب بھٹکتے کہاں پھریں\nبیٹھے بٹھائے اس نے اٹھایا غضب کیا\n\nسب کہہ رہے تھے بلبل کشمیر کے حریف\nاس گل نے اپنا یار بنایا غضب کیا\n\nمجذوب و مست پیر مغاں کیوں نہ وہ رہے\nساقیؔ کو جام جذب پلایا غضب کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D9%88%D8%AE%D8%AA%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل سوز جنوں سے جلوہ منظر ہے آج", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل سوز جنوں سے جلوہ منظر ہے آج\nنیرنگ زمانہ فتنہ پرور ہے آج\nیک تار نفس میں جوں طناب صباغ\nہر پارۂ دل بہ رنگ دیگر ہے آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "دل سوز سے خالی ہے، نِگہ پاک نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "دل سوز سے خالی ہے، نِگہ پاک نہیں ہے\nپھر اِس میں عجب کیا کہ تو بےباک نہیں ہے\n\nہے ذوقِ تجلّی بھی اسی خاک میں پنہاں\nغافل! تُو نِرا صاحبِ ادراک نہیں ہے\n\nوہ آنکھ کہ ہے سرمۂ افرنگ سے روشن\nپُرکار و سخن ساز ہے، نم ناک نہیں ہے\n\nکیا صُوفی و مُلّا کو خبر میرے جُنوں کی\nاُن کا سرِ دامن بھی ابھی چاک نہیں ہے\n\nکب تک رہے محکومیِ انجم میں مری خاک\nیا مَیں نہیں، یا گردشِ افلاک نہیں ہے\n\nبجلی ہوں، نظر کوہ و بیاباں پہ ہے میری\nمیرے لیے شایاں خس و خاشاک نہیں ہے\n\nعالَم ہے فقط مومنِ جاں‌باز کی میراث\nمومن نہیں جو صاحبِ لولاک نہیں ہیِ!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DB%81%DB%92%D8%8C_%D9%86%D9%90%DA%AF%DB%81_%D9%BE%D8%A7%DA%A9_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل سوز غم سے جلتا ہے لب پر فغاں نہیں", "poet_page": "مصنف:محمود رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سوز غم سے جلتا ہے لب پر فغاں نہیں\nیہ آگ بھی نئی ہے کہ جس میں دھواں نہیں\n\nدل میں وہ ضبط غم ہے کہ لب پر فغاں نہیں\nمنہ میں ہے وہ زبان کہ گویا زباں نہیں\n\nاللہ رے بے خودی کہ مجھے خود شب فراق\nکھلتا نہیں کہ درد کہاں ہے کہاں نہیں\n\nپر باندھنے سے فائدہ فصل بہار میں\nصیاد یہ قفس ہے مرا آشیاں نہیں\n\nاردو زباں کا لطف گیا ساتھ داغؔ کے\nمحمودؔ اب وہ رنگ وہ طرز بیاں نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%D8%B1_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل سینے میں بیتاب ہے دل دار کدھر ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سینے میں بیتاب ہے دل دار کدھر ہے\nکوئی مجھ کو بتا دو وہ مرا یار کدھر ہے\n\nہم کب کے چمن زار میں بے ہوش پڑے ہیں\nمعلوم نہیں گل کدھر اور خار کدھر ہے\n\nاس گل کا پتا گر نہیں دیتے ہو تو یارو\nاتنا تو بتا دو در گل زار کدھر ہے\n\nدل چھیننے والے کوئی گھر بیٹھ رہیں ہیں\nپوچھیں ہیں یہی رستۂ بازار کدھر ہے\n\nدیکھا مجھے کل اس نے تو غیروں سے یہ بولا\nلاؤ بھی شتابی مری تلوار کدھر ہے\n\nیاں ہو رہا ہے سینہ مرا آگو ہی چھلنی\nڈھونڈے ہے کہاں تیر کو سوفار کدھر ہے\n\nاحوال نپٹ تنگ ہے بیمار کا تیرے\nاس وقت تو اے آئینہ رخسار کدھر ہے\n\nشیریں سخناں سب ہی شکر بیچیں ہیں لیکن\nانصاف کرو جوش خریدار کدھر ہے\n\nبرسوں نہ ملے اس سے تو اس شوخ نے ہم کو\nپوچھا نہ کبھی مصحفیٔؔ زار کدھر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل سے باہر ہیں خریدار ابھی", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سے باہر ہیں خریدار ابھی\nسامنے ہے بھرا بازار ابھی\n\nآدمی ساتھ نہیں دے سکتا\nتیز ہے سائے کی رفتار ابھی\n\nیہ کڑی دھوپ یہ رنگوں کی پھوار\nہے ترا شہر پر اسرار ابھی\n\nدل کو یوں تھام رکھا ہے جیسے\nبیٹھ جائے گی یہ دیوار ابھی\n\nآنچ آتی ہے صبا سے باقیؔ\nکیا کوئی گل ہے شرربار ابھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی\nدونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی\n\nشق ہو گیا ہے سینہ، خوشا لذّتِ فراغ\nتکلیفِ پردہ داریِ زخمِ جگر گئی\n\nوہ بادۂ شبانہ کی سر مستیاں کہاں\nاٹھیے بس اب کہ لذّتِ خوابِ سحر گئی\n\nاڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے یار میں\nبارے اب اے ہوا! ہوسِ بال و پر گئی\n\nدیکھو تو دل فریبیِ اندازِ نقشِ پا\nموجِ خرامِ یار بھی کیا گل کتر گئی\n\nہر بُو ‌الْہَوَس نے حسن پرستی شعار کی\nاب آبروئے شیوہ اہلِ نظر گئی\n\nنظّارے نے بھی کام کِیا واں نقاب کا\nمستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی\n\nفردا و دی کا تفرِقہ یک بار مٹ گیا\nکل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی\n\nمارا زمانے نے اسدؔ اللہ خاں تمہیں\nوہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%DA%A9_%D8%A7%D8%AA%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا\nسینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا\n\nتم کو ہزار شرم سہی مجھ کو لاکھ ضبط\nالفت وہ راز ہے کہ چھپایا نہ جائے گا\n\nاے دل رضائے غیر ہے شرط رضائے دوست\nزنہار بار عشق اٹھایا نہ جائے گا\n\nدیکھی ہیں ایسی ان کی بہت مہربانیاں\nاب ہم سے منہ میں موت کے جایا نہ جائے گا\n\nمے تند و ظرف حوصلۂ اہل بزم تنگ\nساقی سے جام بھر کے پلایا نہ جائے گا\n\nراضی ہیں ہم کہ دوست سے ہو دشمنی مگر\nدشمن کو ہم سے دوست بنایا نہ جائے گا\n\nکیوں چھیڑتے ہو ذکر نہ ملنے کا رات کے\nپوچھیں گے ہم سبب تو بتایا نہ جائے گا\n\nبگڑیں نہ بات بات پہ کیوں جانتے ہیں وہ\nہم وہ نہیں کہ ہم کو منایا نہ جائے گا\n\nملنا ہے آپ سے تو نہیں حصر غیر پر\nکس کس سے اختلاط بڑھایا نہ جائے گا\n\nمقصود اپنا کچھ نہ کھلا لیکن اس قدر\nیعنی وہ ڈھونڈتے ہیں جو پایا نہ جائے گا\n\nجھگڑوں میں اہل دیں کے نہ حالیؔ پڑیں بس آپ\nقصہ حضور سے یہ چکایا نہ جائے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دل سے سمجھوں گا اسے دشمن جاں ہونے دو", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سے سمجھوں گا اسے دشمن جاں ہونے دو\nزہر گھولوں گا دوا میں خفقاں ہونے دو\n\nآنکھ بھوں اس کے اشاروں پہ رواں ہونے دو\nمل کے ابرو و مژہ تیر و کماں ہونے دو\n\nمیرے دل کو ہدف تیر نگہ کرتے ہیں\nاور مجھ سے بھی اشارہ ہے کہ ہاں ہونے دو\n\nآگ بھڑکی ہوئی ہے مجھ کو نہ سمجھائے کوئی\nجان کا مال کا ہوتا ہے زیاں ہونے دو\n\nہر طرح ہم دل نا فہم کو سمجھا لیں گے\nداغ موجود ہیں پہلو کو خزاں ہونے دو\n\nاسم اعظم کا اثر غیر کو دکھلا دیں گے\nیار کا نام ذرا ورد زباں ہونے دو\n\nآنکھیں پھوٹیں بھی کہیں اس فلک بد بیں کی\nضبط اچھا نہیں آہوں کا دھواں ہونے دو\n\nپردہ ڈالو مری آنکھوں پہ نہ اے شرم و حجاب\nیار بے پردہ ہے مجھ کو نگراں ہونے دو\n\nرات باقی ہے ابھی کس لیے گھبرا کے اٹھے\nتوپ چھٹنے دو مری جان اذاں ہونے دو\n\nلکھنؤ میں تمہیں دکھلائیں گے چوکا بہتے\nچار آنسو مری آنکھوں سے رواں ہونے دو\n\nدیکھوں کیوں کر نہیں ہوتا فلک کج سیدھا\nدل محزوں کی بلند آہ و فغاں ہونے دو\n\nاہل دنیا میں مؤثر ہے ہر ایک شے کا رواج\nمست ہو جائیں گے سب دور مغاں ہونے دو\n\nنوجوانی کا مزا کوئی خرابات میں ہے\nمردم پیر کو مشتاق جناں ہونے دو\n\nآزمائش کے نظر ہی جو ہمارے جانب\nپار سینے سے نگاہوں کی سناں ہونے دو\n\nبحرؔ نے اب تو کمر باندھی ہی بد وضعی پر\nاب نہ روکو اسے رسوائے جہاں ہونے دو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%88"} {"title": "دل سے شوق رخ نکو نہ گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سے شوق رخ نکو نہ گیا\nجھانکنا تاکنا کبھو نہ گیا\n\nہر قدم پر تھی اس کی منزل لیک\nسر سے سودائے جستجو نہ گیا\n\nسب گئے ہوش و صبر و تاب و تواں\nلیکن اے داغ دل سے تو نہ گیا\n\nدل میں کتنے مسودے تھے ولے\nایک پیش اس کے رو بہ رو نہ گیا\n\nسبحہ گرداں ہی میرؔ ہم تو رہے\nدست کوتاہ تا سبو نہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%B1%D8%AE_%D9%86%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل سے مجھے آنے کی ہے آن کی آہٹ", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل سے مجھے آنے کی ہے آن کی آہٹ\nکیا طالع خفتہ کی گئی نیند اچٹ\nوہ پردہ نشیں گو کہ نہ آئے لیکن\nاے چرخ ذرا سامنے سے تو تو ہٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%DB%81%D9%B9"} {"title": "دل سے پوچھا تو کہاں ہے تو کہا تجھ کو کیا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سے پوچھا تو کہاں ہے تو کہا تجھ کو کیا\nکس کی زلفوں میں نہاں ہے تو کہا تجھ کو کیا\n\nچشم گریاں سے شب وصل میں پوچھا میں نے\nاب تو کیوں اشک فشاں ہے تو کہا تجھ کو کیا\n\nجب کہا میں نے کہ نیں بولتے ہو گالی بن\nجان یہ کون زباں ہے تو کہا تجھ کو کیا\n\nکہنے لاگا دل گم گشتہ ترا ہے مجھ پاس\nجب کہا میں نے کہاں ہے تو کہا تجھ کو کیا\n\nجب کہا میں نے کہ اے جان تری صورت پر\nشیفتہ پیر و جواں ہے تو کہا تجھ کو کیا\n\nجب کہا میں نے کہ اے سرو ریاض خوبی\nکس کا تو آفت جاں ہے تو کہا تجھ کو کیا\n\nدل سے بیدارؔ نے پوچھا کہ ترے سینے پر\nکس کے ناوک کا نشاں ہے تو کہا تجھ کو کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل سے پوچھو کیا ہوا تھا اور کیوں خاموش تھا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سے پوچھو کیا ہوا تھا اور کیوں خاموش تھا\nآنکھ محو دید تھی اتنا مجھے بس ہوش تھا\n\nوہ بھی کیا تاثیر تھی جس نے ہلائے سب کے دل\nکیا بتاؤں وہ مرا ہی نالۂ پر جوش تھا\n\nمحفل ساقی میں تھا کچھ اور ہی مستوں کا رنگ\nکوئی ساغر ڈھونڈھتا تھا اور کوئی بے ہوش تھا\n\nکیا عجب ہے جائزہ لے مے پرستوں کا کوئی\nیاد رکھنا ساقیا مجھ سا بھی اک مے نوش تھا\n\nکیا سمجھ سکتا تھا کوئی تیرے دیوانے کی چپ\nجب کسی نے اس سے کچھ پوچھا تو بس خاموش تھا\n\nبے خودی سے نشۂ جام خودی اترا تو پھر\nایک ہی ساغر ملا ایسا کہ میں مدہوش تھا\n\nاک ہمیں کو ساقیا پوچھا نہ تو نے دور میں\nورنہ مے خانہ میں تیرے شور نوشا نوش تھا\n\nکس قدر تھا اشتیاق منزل مقصود اسے\nمرنے والے کا جنازہ آج دوشا دوش تھا\n\nزندگی بھر کے گناہوں سے یہ تھی شرم اے اجل\nتارک ہستی یہاں سے جب چلا روپوش تھا\n\nغنچے کیوں خاموش آئے گلشن ہستی میں شوقؔ\nموسم گل سے مگر خوف خزاں ہم دوش تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دل سے کہہ آہیں نہ ہر آن بھرے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سے کہہ آہیں نہ ہر آن بھرے\nکچھ جگر ہو تو دم انسان بھرے\n\nخواہشوں کو میں کروں کیا اے صبر\nگھر میں مفلس کے ہیں ارمان بھرے\n\nہم تو مژگاں کی نمط ہم چشموں\nخالی ہاتھ آئے ہیں ارمان بھرے\n\nاشک دانا ہے تو نظروں سے نہ گر\nدامن اس دھبے سے نادان بھرے\n\nضبط روکے نہ تو دکھلاؤں آنکھ\nپل میں پانی ابھی طوفان بھرے\n\nچشم عشاق کے بر رو مت آ\nاے صدف در نے ترے کان بھرے\n\nگر وہ بت نام خدا گویا ہو\nکلمہ کا دم نہ مسلمان بھرے\n\nفوج الفاظ کی بھرتی ہے نسیمؔ\nشعر پر کن سے ہیں دیوان بھرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%A2%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D8%A2%D9%86_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%92"} {"title": "دل سے کیا پوچھتا ہے زلف گرہ گیر سے پوچھ", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سے کیا پوچھتا ہے زلف گرہ گیر سے پوچھ\nاپنے دیوانے کا احوال تو زنجیر سے پوچھ\n\nمیری جاں بازی کے جوہر نہیں روشن تجھ پر\nکچھ کھلے ہیں تری شمشیر پہ شمشیر سے پوچھ\n\nپرسش حال کو جاتی ہے کہاں اے لیلیٰ\nقیس کی شکل ہے کیا قیس کی تصویر سے پوچھ\n\nواقف راز نہیں پیر مغاں سا کوئی\nہے دلا پوچھنا جو کچھ تجھے اس پیر سے پوچھ\n\nواقف لذت آزار نہیں ہر کوئی\nکیا مزا غم میں ہے یہ عاشق دلگیر سے پوچھ\n\nگرمیٔ شوق نہیں ہے تو دہن میں اے شمع\nکس لیے تیری زباں لیتا ہے گلگیر سے پوچھ\n\nالٹی کیوں پڑتی ہے تدبیر یہ ہم کیا جانیں\nکون الٹ دیتا ہے اس راز کو تدبیر سے پوچھ\n\nمجھ سے اے داور محشر ہے یہ پرسش کیسی\nپوچھنا ہے تجھے جو کچھ مری تقدیر سے پوچھ\n\nیوں تو استاد فن شعر بہت سے گزرے\nکس کو کہتے ہیں غزل گوئی اثرؔ میرؔ سے پوچھ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%AF%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE"} {"title": "دل سے ہر دم ہمیں آواز بکا آتی ہے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سے ہر دم ہمیں آواز بکا آتی ہے\nبند کانوں کو بھی گریہ کی صدا آتی ہے\n\nدل سے ہے آنکھ تک آئی اثر گرمیٔ شوق\nاشک حسرت سے نگہ آبلہ پا آتی ہے\n\nگل ہوا کوئی چراغ سحری او بلبل\nہاتھ ملتی ہوئی پتوں سے صدا آتی ہے\n\nآئینہ صاف سکندر کو دکھایا تو نے\nخوب اے خضر تجھے راہ بتا آتی ہے\n\nچھو لیا دھوکے سے دامان صبا تو نے تو کیا\nغنچۂ گل کہیں مٹھی میں ہوا آتی ہے\n\nجس قدر وصل بتاں کا تمہیں رہتا ہے فراق\nاے نسیمؔ اتنی کبھی یاد خدا آتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2_%D8%A8%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل سے ہر دم ہمیں آواز لگا آتی ہے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل سے ہر دم ہمیں آواز لگا آتی ہے\nبند کانوں کو بھی گریہ کی صدا آتی ہے\n\nدل سے ہے آنکھ تک آئی اثر گرمیٔ شوق\nاشک حسرت سے نگہ آبلہ پا آتی ہے\n\nگل ہوا کوئی چراغ سحری او بلبل\nہاتھ ملتی ہوئی پتوں سے صبا آتی ہے\n\nتیری آنکھوں کا ہوں بیمار میں او عیسیٰ دم\nنہ دعا آتی ہے مجھ کو نہ دوا آتی ہے\n\nآئنہ صاف سکندر کو دکھایا تو نے\nخوب اے خضر تجھے راہ بنا آتی ہے\n\nچھو لیا دھوکے سے دامان صبا تو نے تو کیا\nغنچۂ گل کہیں مٹھی میں ہوا آتی ہے\n\nجس قدر وصل بتاں کا تمہیں رہتا ہے فراق\nاے نسیمؔ اتنی کبھی یاد خدا آتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا\nیہ جام ظرف نواز شراب ہو نہ سکا\n\nکچھ ایسے رحم کے قابل تھے ابتدا ہی سے ہم\nکہ ان سے بھی ستم بے حساب ہو نہ سکا\n\nنظر نہ آیا کبھی شب کو ان کا جلوۂ رخ\nیہ آفتاب کبھی ماہتاب ہو نہ سکا\n\nنگاہ فیض سے محروم برتری معلوم\nستارہ چمکا مگر آفتاب ہو نہ سکا\n\nہے جام خالی تو پھیکی ہے چاندنی کیسی\nیہ سیل نور ستم ہے شراب ہو نہ سکا\n\nیہ مے چھلک کے بھی اس حسن کو پہنچ نہ سکی\nیہ پھول گھل کے بھی اس کا شباب ہو نہ سکا\n\nکسی کی شوخ نوائی کا ہوش تھا کس کو\nمیں ناتواں تو حریف خطاب ہو نہ سکا\n\nہوں تیرے وصل سے مایوس اس قدر گویا\nکبھی جہاں میں کوئی کامیاب ہو نہ سکا\n\nوہ پوچھتے ہیں ترے دل کی آرزو کیا ہے\nیہ خواب ہائے کبھی میرا خواب ہو نہ سکا\n\nتلاش معنیٔ ہستی میں فلسفہ نہ خرد\nیہ راز آج تلک بے حجاب ہو نہ سکا\n\nشراب عشق میں ایسی کشش سی تھی اخترؔ\nکہ لاکھ ضبط کیا اجتناب ہو نہ سکا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B4%DA%A9%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D9%81_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دل شہید رہ دامان نہ ہوا تھا سو ہوا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل شہید رہ دامان نہ ہوا تھا سو ہوا\nٹکڑے ٹکڑے جو گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nبرق بے نور ہے اس رخ کی چمک کے آگے\nعالم نور کا انساں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nرونے پر میرے ہوا ہنس کے وہ گل شرمندہ\nغنچہ ساں سر بہ گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nمیں نے رنگیں نہ کیا اس کا تڑپ کر دامن\nسر جلاد پہ احساں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nہو گیا دیکھ کے قاضی بھی طرفدار اس کا\nبے گنہ خون مسلماں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nہر زباں پر مری رسوائی کا افسانہ ہے\nنسخۂ شوق پریشاں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nعرق آلودہ جبیں دیکھ کے دل ڈوب گیا\nشبنم باغ سے طوفاں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nقتل کر کے مجھے تلوار کو توڑا اس نے\nخون ناحق سے پشیماں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nیار کے روئے کتابی کی کروں کیا تعریف\nبعد قرآں کے جو قرآں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nآنسو آنکھوں سے نکلتا ہے سو چنگاری ہے\nپردۂ دل سے نمایاں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nآتش عشق سے ہے داغ سراپا میرا\nآدمی سرو چراغاں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nگرد رہ بن کے ہوا صندل پیشانیٔ یار\nذرہ خورشید درخشاں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nپہروں ہی مصرع سودا ہے رلاتا آتشؔ\nتجھے اے دیدۂ گریاں نہ ہوا تھا سو ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B4%DB%81%DB%8C%D8%AF_%D8%B1%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "دل شہید ہوا ہے شہید حسن صفات", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل شہید ہوا ہے شہید حسن صفات\nپلایا ذوق نظر نے بھی جام آب حیات\n\nعدم وجود تعین صفات جلوۂ ذات\nغلط ہے وہم دوئی نفی ہے یہ فی الاثبات\n\nنگاہ لطف سے دیکھو ہمیں بھی حسن آرا\nکہاں ہے رنگ تجاہل یہ داخل حسنات\n\nفروغ جذب انا الحق میں رنگ ہو حق ہے\nہوئے جو اہل نظر ان کا صاف ہے مرات\n\nہمارا شیوۂ تسلیم ہے رضا بہ قضا\nادائے رنگ توکل ہے قاضی الحاجات\n\nکمال عشق ہے ساقیؔ فروغ حسن عمل\nیہ رنگ شیوۂ احسن ہے داخل حسنات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B4%DB%81%DB%8C%D8%AF_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B4%DB%81%DB%8C%D8%AF_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA"} {"title": "دل صاف ہو تو جلوہ گہہ یار کیوں نہ ہو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل صاف ہو تو جلوہ گہہ یار کیوں نہ ہو\nآئینہ ہو تو قابل دیدار کیوں نہ ہو\n\nعالم تمام اس کا گرفتار کیوں نہ ہو\nوہ ناز پیشہ ایک ہے عیار کیوں نہ ہو\n\nمستغنیانہ تو جو کرے پہلے ہی سلوک\nعاشق کو فکر عاقبت کار کیوں نہ ہو\n\nرحمت غضب میں نسبت برق و سحاب ہے\nجس کو شعور ہو تو گنہ گار کیوں نہ ہو\n\nدشمن تو اک طرف کہ سبب رشک کا ہے یاں\nدر کا شگاف و رخنۂ دیوار کیوں نہ ہو\n\nآیات حق ہیں سارے یہ ذرات کائنات\nانکار تجھ کو ہووے سو اقرار کیوں نہ ہو\n\nہر دم کی تازہ مرگ جدائی سے تنگ ہوں\nہونا جو کچھ ہے آہ سو یک بار کیوں نہ ہو\n\nموئے سفید ہم کو کہے ہے کہ غافلاں\nاب صبح ہونے آئی ہے بیدار کیوں نہ ہو\n\nنزدیک اپنے ہم نے تو سب کر رکھا ہے سہل\nپھر میرؔ اس میں مردن دشوار کیوں نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B5%D8%A7%D9%81_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%DB%81%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "دل صافی", "poet_page": "مصنف:سورج نرائن مہر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دل صافی یہ ہو اے مہرؔ خدا کی رحمت\nمیں نے محسوس کیا ہے بہت آرام یہاں\nگوشۂ عافت اس کو کہیں تو زیبا ہے\nکیسی تسکین کا ہے کیسے سکوں کا یہ مکاں\nاس طرح شہر سے کچھ دور کوئی معبد ہو\nشارع عام سے ہٹ کر کہ نہ ہو بھیڑ وہاں\nکوئی جائے بھی جو اس جا تو ارادہ کر کے\nیہ نہ ہو ہر کس و ناکس ہو وہاں گشت کناں\nجائے تنہا ہو مکاں گوشۂ عزلت سا ہو\nجس طرف دیکھو نظر آئے خموشی کا سماں\nسایۂ افگن ہوں کہن سال درخت اس جا پر\nایسی ٹھنڈک ہو کہ بس آئے وہاں جان میں جان\nصحن میں آب مصفا پڑا حوض بھی ہو\nاور وہ ایسا مسکن کہ نہ ہو جس کا بیاں\nگرہ میں ہوں روشیں بیش بہا پتھر کی\nصاف ایسی کہ نہ رتنکا بھی نظر آئے وہاں\nسامنے آنکھ کے معبد کا ہو برج سنگیں\nجس کی تعمیر کو برسوں ہوئے ہوں یا صدیاں\nغرض ایسا ہو مکاں اور تو واں بیٹھا ہو\nاور خموشی و سکوں چار طرف سے ہو عیاں\nتو وہاں بیٹھا ہو آرام سے اور تیرے سوا\nآدمی زاد کا ڈھونڈھے نہ نظر آئے نشاں\nدیکھ کر آنکھ میں نور طبیعت میں سرور\nتو یہ سمجھے کہ زمیں پر ہے یہی باغ جناں\nہے یہی حال جو دیکھو تو دل صافی کا\nوہی تسکین و سکوں اور وہی راحت ہے یہاں\nوہی ٹھنڈک ہے وہی نور و سرور و موفور\nہے یہاں بھی وہی تسکین و خموشی کا سماں\nمیں یہاں بیٹھ کے اے مہرؔ مزے لیتا ہوں\nاور سمجھتا ہوں زمیں پر ہے یہی باغ جناں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B5%D8%A7%D9%81%DB%8C"} {"title": "دل طلب گار ناز مہوش ہے", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل طلب گار ناز مہوش ہے\nلطف اس کا اگرچہ دل کش ہے\n\nمجھ سوں کیوں کر ملے گا حیراں ہوں\nشوخ ہے بے وفا ہے سرکش ہے\n\nکیا تری زلف کیا ترے ابرو\nہر طرف سوں مجھے کشاکش ہے\n\nتجھ بن اے داغ بخش سینہ و دل\nچمن لالہ دشت آتش ہے\n\nاے ولیؔ تجربے سوں پایا ہوں\nشعلۂ آہ شوق بے غش ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%81%D9%88%D8%B4_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل عجب جلوۂ امید دکھاتا ہے مجھے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل عجب جلوۂ امید دکھاتا ہے مجھے\nشام سے یاسؔ سویرا نظر آتا ہے مجھے\n\nجلوۂ دار و رسن اپنے نصیبوں میں کہاں\nکون دنیا کی نگاہوں پہ چڑھاتا ہے مجھے\n\nدل کو لہراتا ہے ہنگامۂ زندان بلا\nشور ایذا طلبی وجد میں لاتا ہے مجھے\n\nپائے آزاد ہے زنداں کے چلن سے باہر\nبیڑیاں کیوں کوئی دیوانہ پہناتا ہے مجھے\n\nہنس کے کہتا ہے کہ گھر اپنا قفس کو سمجھو\nسبق الٹا مرا صیاد پڑھاتا ہے مجھے\n\nجیسے دوزخ کی ہوا کھا کے ابھی آیا ہے\nکس قدر واعظ مکار ڈراتا ہے مجھے\n\nپھٹ پڑیں اب ہی در و بام تو پردہ رہ جائے\nفلک خانہ خراب آنکھ دکھاتا ہے مجھے\n\nدیدنی ہے چمن آرائیٔ چشم عبرت\nسیر تازہ گل پژمردہ دکھاتا ہے مجھے\n\nترک مطلب سے ہے مطلب تو دعائیں کیسی\nصبح تک کیوں دل بیمار جگاتا ہے مجھے\n\nننگ محفل مرا زندہ مرا مردہ بھاری\nکون اٹھاتا ہے مجھے کون بٹھاتا ہے مجھے\n\nلب دریا کا ہوا میں نہ تہ دریا کا\nکون سے گھاٹ یہ دھارا لیے جاتا ہے مجھے\n\nپاؤں سوئے ہیں مگر جاگتے ہیں اپنے نصیب\nکیا سمجھ کر جرس گنگ جگاتا ہے مجھے\n\nیاسؔ منزل ہے مری منزل عنقائے کمال\nلکھنؤ میں کوئی کیوں ڈھونڈنے آتا ہے مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "دل عشق خوش قداں میں جو خواہان نالہ تھا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل عشق خوش قداں میں جو خواہان نالہ تھا\nدیوانہ وار سلسلہ جنبان نالہ تھا\n\nنالے سے میرے کیا ہے ہوائی کو ہم سری\nتیر شہاب رات کو قربان نالہ تھا\n\nڈھونڈوں نہ کیونکہ دل کو میں اے آہوان دشت\nسینے میں وہ تو شیر نیستان نالہ تھا\n\nکرتا تھا جن دنوں یہ فلک ہم سے سرکشی\nناوک زنی کا آہ سے پیمان نالہ تھا\n\nعشق بتاں تھا دل سے جو دم ساز مثل نے\nہر دم اثر میں تابع فرمان نالہ تھا\n\nصیاد کے جگر میں کرے تھا سناں کا کام\nمرغ قفس کے سر پہ یہ احسان نالہ تھا\n\nگاڑے فلک پہ کیا یہ دل ناتواں علم\nوہ دن گئے جو اوج فراوان نالہ تھا\n\nکل شب کو ذکر تھا جو کسی نیزہ باز کا\nعاشق کا تیرے چرخ ثنا خوان نالہ تھا\n\nیاروں کے قافلے کی مجھے جب کہ یاد تھی\nسینے میں جوں جرس مرے سامان نالہ تھا\n\nمت پوچھ واردات شب ہجر اے نصیرؔ\nمیں کیا کہوں جو کار نمایان نالہ تھا\n\nلینے کو اختران فلک سے خراج و باج\nہر آن شعلہ و شرر افشان نالہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%82%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%A7%D9%86_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دل عشق میں تباہ ہوا یا کہ جل گیا", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل عشق میں تباہ ہوا یا کہ جل گیا\nاچھا ہوا خلش گئی کانٹا نکل گیا\n\nالفت میں اس کی جان گئی دل بھی جل گیا\nدشمن کا دو ہی دن میں دوالہ نکل گیا\n\nدل اپنا اس سے مانگنے کو میں جو کل گیا\nآنکھیں نکالیں لڑنے کو فوراً بدل گیا\n\nجلتے ہیں غیر اپنا تو مطلب نکل گیا\nقسمت سے بات بن بھی گئی داؤ چل گیا\n\nتعریف حسن یار نے اس کو کیا رقیب\nرہبر بھی بیچ رستے میں ہم سے بدل گیا\n\nکرتا ہوں عرض ان سے جو چلنے کی میں کہیں\nکہتے ہیں کیا دماغ تمہارا بھی چل گیا\n\nبھاری ہے رات ہجر کی بیمار پر ترے\nپھر اس کو خوف کچھ نہیں یہ دن جو ٹل گیا\n\nدشمن کے نقش پا کو جو دیتے ہو گالیاں\nپیٹو لکیر سانپ تو آیا نکل گیا\n\nکس رنگ میں وہ رہتے ہیں اس کی خبر نہیں\nمحفل میں ان کی آج میں پہلے پہل گیا\n\nارمان کیا گئے کہ گیا دل بھی عشق میں\nیہ وہ جوا ہے جس میں ہمارا مدل گیا\n\nوہ جلوہ گاہ ناز ہو یا بزم غیر ہو\nجنت ہمیں وہیں ہے جہاں دل بہل گیا\n\nدشمن بھی جاں نثار بنے دے کے اپنا دل\nحیرت ہے مجھ کو روپیہ کھوٹا بھی چل گیا\n\nانجام عشق دیکھ لیا اپنی آنکھ سے\nاب تو صفیؔ دماغ کا تیرے خلل گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%A8%D8%A7%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل عشق کا ہمیشہ حریف نبرد تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل عشق کا ہمیشہ حریف نبرد تھا\nاب جس جگہ کہ داغ ہے یاں آگے درد تھا\n\nاک گرد راہ تھا پئے محمل تمام راہ\nکس کا غبار تھا کہ یہ دنبالہ گرد تھا\n\nدل کی شکستگی نے ڈرائے رکھا ہمیں\nواں چیں جبیں پر آئی کہ یاں رنگ زرد تھا\n\nمانند حرف صفحۂ ہستی سے اٹھ گیا\nدل بھی مرا جریدۂ عالم میں فرد تھا\n\nتھا پشتہ ریگ باد یہ اک وقت کارواں\nیہ گرد باد کوئی بیاباں نورد تھا\n\nگزری مدام اس کی جوانان مست میں\nپیر مغاں بھی طرفہ کوئی پیر مرد تھا\n\nعاشق ہیں ہم تو میرؔ کے بھی ضبط عشق کے\nدل جل گیا تھا اور نفس لب پہ سرد تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D9%81_%D9%86%D8%A8%D8%B1%D8%AF_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دل غم سے ترے لگا گئے ہم", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل غم سے ترے لگا گئے ہم\nکس آگ سے گھر جلا گئے ہم\n\nماتم کدۂ جہاں میں چوں شمع\nرو رو کے جگر بہا گئے ہم\n\nمانند حباب اس جہاں میں\nکیا آئے تھے اور کیا گئے ہم\n\nکھویا گیا اس میں گو دل اپنا\nپر یار تجھے تو پا گئے ہم\n\nآتا ہے یہی تو ہم کو رونا\nیوں موت کا غم بھلا گئے ہم\n\nافسانۂ سرگزشت چوں شمع\nرو رو کے بہت سنا گئے ہم\n\nتھا ہم میں اور اس میں وہ جو پردہ\nسو اس کو حسنؔ اٹھا گئے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "دل غم سے ہوا گداز سارا اللہ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل غم سے ہوا گداز سارا اللہ\nغیرت نے ہمیں عشق کی مارا اللہ\nہے نسبت خاص تجھ سے ہر اک کے تئیں\nکہتے ہیں چنانچہ سب ہمارا اللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%AF%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "دل فرقت حبیب میں دیوانہ ہو گیا", "poet_page": "مصنف:ہجر ناظم علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل فرقت حبیب میں دیوانہ ہو گیا\nاک مجھ سے کیا جہان سے بیگانہ ہو گیا\n\nقاصد کو یہ ملا مرے پیغام کا جواب\nتو بھی ہماری رائے میں دیوانہ ہو گیا\n\nدیکھا جو ان کو بام پہ غش آ گیا مجھے\nتازہ کلیم و طور کا افسانہ ہو گیا\n\nہاں ہاں تمہارے حسن کی کوئی خطا نہیں\nمیں حسن اتفاق سے دیوانہ ہو گیا\n\nدیکھا گیا نہ بزم میں سوز و گداز شمع\nپھولوں کی پنکھیاں پر پروانہ ہو گیا\n\nیوں سب سے پوچھتے ہیں وہ میرے جنوں کا حال\nدیوانہ بن گیا ہے کہ دیوانہ ہو گیا\n\nآنسو بہائے فرقت ساقی میں اس قدر\nلبریز اپنی عمر کا پیمانہ ہو گیا\n\nدل ان کے بس میں ہے مجھے کیا دل پر اختیار\nکیسا رفیق عشق میں بیگانہ ہو گیا\n\nجوش جنوں میں چھوڑ دئے سب نے اپنے گھر\nآباد ان کے عہد میں ویرانہ ہو گیا\n\nان کو تو اپنی جلوہ نمائی سے کام ہے\nاس کی خبر نہیں کوئی دیوانہ ہو گیا\n\nاب ہر طرف رقیب پر اٹھتی ہیں انگلیاں\nمشہور ان کے عشق کا افسانہ ہو گیا\n\nاس درجہ ہجرؔ ہوش ربا ہے کسی کا حسن\nجس کی نگاہ پڑ گئی دیوانہ ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D8%AD%D8%A8%DB%8C%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل قابل محبت جاناں نہیں رہا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل قابل محبت جاناں نہیں رہا\nوہ ولولہ وہ جوش وہ طغیاں نہیں رہا\n\nٹھنڈا ہے گرم جوشی افسردگی سے جی\nکیسا اثر کہ نالہ و افغاں نہیں رہا\n\nکرتے ہیں اپنے زخم جگر کو رفو ہم آپ\nکچھ بھی خیال جنبش مژگاں نہیں رہا\n\nدل سختیوں سے آئی طبیعت میں نازکی\nصبر و تحمل قلق جاں نہیں رہا\n\nغش ہیں کہ بے دماغ ہیں گل پیرہن نمط\nاز بس دماغ عطر گریباں نہیں رہا\n\nآنکھیں نہ بدلیں شوخ نظر کیوں کے اب کہ میں\nمفتون لطف نرگس فتاں نہیں رہا\n\nناکامیوں کا گاہ گلہ گاہ شکر ہے\nشوق وصال و اندہ ہجراں نہیں رہا\n\nبے تودہ تودہ خاک سبک دوش ہو گئے\nسر پر جنون عشق کا احساں نہیں رہا\n\nہر لحظہ مہر جلووں سے ہیں چشم پوشیاں\nآئینہ زار دیدۂ حیراں نہیں رہا\n\nپھرتے ہیں کیسے پردہ نشینوں سے منہ چھپائے\nرسوا ہوئے کہ اب غم پنہاں نہیں رہا\n\nآسیب چشم قہر پری طلعتاں نہیں\nاے انس اک نظر کہ میں انساں نہیں رہا\n\nبے کاری امید سے فرصت ہے رات دن\nوہ کاروبار حسرت و حرماں نہیں رہا\n\nبے سیر دشت و بادیہ لگنے لگا ہے جی\nاور اس خراب گھر میں کہ ویراں نہیں رہا\n\nکیا تلخ کامیوں نے لب زخم سی دیئے\nوہ شور اشتیاق نمکداں نہیں رہا\n\nبے اعتبار ہو گئے ہم ترک عشق سے\nاز بس کہ پاس وعدہ و پیماں نہیں رہا\n\nنیند آئی ہے فسانۂ گیسو و زلف سے\nوہم و گمان خواب پریشاں نہیں رہا\n\nکس کام کے رہے جو کسی سے رہا نہ کام\nسر ہے مگر غرور کا ساماں نہیں رہا\n\nمومنؔ یہ لاف الفت تقویٰ ہے کیوں مگر\nدلی میں کوئی دشمن ایماں نہیں رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا\nبارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں\n\nہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام\nمہر گردوں ہے چراغ رہ گزار باد یاں\n\nہے ترحم آفریں آرائش بیداد یاں\nاشک چشم دام ہے ہر دانۂ صیاد یاں\n\nہے گداز موم انداز چکیدن ہائے خوں\nنیش زنبور اصل ہے نشتر فصاد یاں\n\nنا گوارا ہے ہمیں احسان صاحب دولتاں\nہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں\n\nجنبش دل سے ہوئے ہیں عقدہ ہائے کار وا\nکمتریں مزدور سنگیں دست ہے فرہاد یاں\n\nقطرہ ہائے خون بسمل زیب داماں ہیں اسدؔ\nہے تماشہ کردنی گل چینیٔ جلاد یاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%DA%AF_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "دل لگانے کی جگہ عالم ایجاد نہیں", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل لگانے کی جگہ عالم ایجاد نہیں\nخواب آنکھوں نے بہت دیکھے مگر یاد نہیں\n\nآج اسیروں میں وہ ہنگامۂ فریاد نہیں\nشاید اب کوئی گلستاں کا سبق یاد نہیں\n\nسر شوریدہ سلامت ہے مگر کیا کہئے\nدست فرہاد نہیں تیشۂ فرہاد نہیں\n\nتوبہ بھی بھول گئے عشق میں وہ مار پڑی\nایسے اوسان گئے ہیں کہ خدا یاد نہیں\n\nدشمن و دوست سے آباد ہیں دونوں پہلو\nدل سلامت ہے تو گھر عشق کا برباد نہیں\n\nفکر امروز نہ اندیشۂ فردا کی خلش\nزندگی اس کی جسے موت کا دن یاد نہیں\n\nنکہت گل کی ہے رفتار ہوا کی پابند\nروح قالب سے نکلنے پہ بھی آزاد نہیں\n\nزندہ ہیں مردہ پرستوں میں ابھی تک غالبؔ\nمگر استاد یگانہؔ سا اب استاد نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%DA%AF%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھی", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھی\nصبح تک شام سے یاہو کے سوا بات نہ تھی\n\nالتجا تجھ سے کب اے قبلۂ حاجات نہ تھی\nتیری درگاہ میں کس روز مناجات نہ تھی\n\nاب ملاقات ہوئی ہے تو ملاقات رہے\nنہ ملاقات تھی جب تک کہ ملاقات نہ تھی\n\nغنچۂ گل کو نہ ہنسنا تھا تری صورت سے\nچھوٹے سے منہ کی سزاوار بڑی بات نہ تھی\n\nابتدا سے تجھے موجود سمجھتا تھا میں\nمرے تیرے کبھی پردے کی ملاقات نہ تھی\n\nاے نسیم سحری بہر اسیران قفس\nتحفہ تر نکہت گل سے کوئی سوغات نہ تھی\n\nان دنوں عشق رلاتا تھا ہمیں صورت ابر\nکون سی فصل تھی وہ جس میں کہ برسات نہ تھی\n\nکیا کہوں اس کے جو مجھ پر کرم پنہاں تھے\nظاہری یار سے ہر چند ملاقات نہ تھی\n\nاپنے باندھے ہوئے گاتی تجھے دیکھا پھڑکا\nدل ربا شے تھی مری جان تری گات نہ تھی\n\nاک میں مل گئے اے شاہ سوار اہل نیاز\nناز معشوق تھا تو سن کی ترے لات نہ تھی\n\nلب کے بوسہ کا ہے انکار تعجب اے یار\nپھیرے سائل سے جو منہ کو وہ تری ذات نہ تھی\n\nکمر یار تھی ازبسکہ نہایت نازک\nسوجھتی بندش مضموں کی کوئی گھات نہ تھی\n\nان دنوں ہوتا تھا تو گھر میں ہمارے شب باش\nروز روشن سے کم اے مہر لقا رات نہ تھی\n\nبے شعوروں نے نہ سمجھا تو نہ سمجھا آتشؔ\nنکتہ سنجوں کو لطیفہ تھی تری بات نہ تھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "دل لگی غیروں سے بے جا ہے مری جاں چھوڑ دے", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل لگی غیروں سے بے جا ہے مری جاں چھوڑ دے\nمان کہنا تیرے صدقے تیرے قرباں چھوڑ دے\n\nعاشق جاں باز کیوں کر کوئے جاناں چھوڑ دے\nاپنا آ گھر کس طرح شیر نیستاں چھوڑ دے\n\nیہ نہیں کہتا کہ صیاد اب مجھے آزاد کر\nدو گھڑی کو بہر گلگشت گلستاں چھوڑ دے\n\nکون کافر پھر کرے سجدہ خدا کے سامنے\nکہہ تو بیٹھے مجھ سے وہ بت اپنا ایماں چھوڑ دے\n\nتنگ ہوں دق ہوں کوئی دم میں نکل جائے گا دم\nچھوڑ دے دست جنوں میرا گریباں چھوڑ دے\n\nغیر ممکن ہے جو بھولوں گھر ترا اے رشک حور\nمجھ کو جنت میں اگر لے جا کے رضواں چھوڑ دے\n\nغمزۂ بے جا نہیں اٹھتے پھنکا جاتا ہے دل\nگرمیاں اپنی تو اے مہر درخشاں چھوڑ دے\n\nپھر پھنسوں میں دام گیسو میں تو کافر جانیو\nچھوڑ دے للہ اب او نا مسلماں چھوڑ دے\n\nہو نہ راز عشق افشا آبرو ریزی نہ ہو\nپھوٹ بہنا تو اگر اے چشم گریاں چھوڑ دے\n\nطوق پھینکیں گے گلے میں مثل قمری سیکڑوں\nنازکی رفتار و سرو خراماں چھوڑ دے\n\nحسن کا جویا ہوں مدت سے میں دیوانہ مزاج\nمجھ کو پریوں کے اکھاڑے میں سلیماں چھوڑ دے\n\nیوں بھلائی دل سے یاد مصحف رخسار رندؔ\nحفظ کر کے جس طرح سے کوئی قرآں چھوڑ دے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%92"} {"title": "دل لگے ہجر میں کیوں کر میرا", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل لگے ہجر میں کیوں کر میرا\nدل ترا سا نہیں پتھر میرا\n\nیوں تو روٹھے ہیں مگر لوگوں سے\nپوچھتے حال ہیں اکثر میرا\n\nراہ نکلے گی نہ کب تک کوئی\nتری دیوار ہے اور سر میرا\n\nکہتے ہیں آہ کی دیکھیں تاثیر\nنہ ہوا وصل میسر میرا\n\nیہ تو کہہ کون سی تدبیر نہ کی\nنہ ہوا تو ہی ستم گر میرا\n\nکیا سنوں اے دل بدظن تیری\nدوست ہے تو وہ مقرر میرا\n\nلطف رنجش کے دکھاتا تم کو\nکیا کہوں بس نہیں دل پر میرا\n\nانہیں ملنا نہیں مجھ سے منظور\nکس کی تقصیر مقدر میرا\n\nپوچھنا کیا ہے چلیں جائیں آپ\nزور چلتا نہیں تم پر میرا\n\nغیر کا حال ہے کہنا منظور\nکہتے ہیں ذکر ملا کر میرا\n\nرشک دشمن کا گلا کرتا ہوں\nہے قصور اس میں سراسر میرا\n\nخواہش دل کہیں بر آئے نظامؔ\nدل کئی دن سے ہے مضطر میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%DB%92_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "دل لیا جان لی نہیں جاتی", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل لیا جان لی نہیں جاتی\nآپ کی دل لگی نہیں جاتی\n\nسب نے غربت میں مجھ کو چھوڑ دیا\nاک مری بیکسی نہیں جاتی\n\nکیے کہہ دوں کہ غیر سے ملئے\nان کہی تو کہی نہیں جاتی\n\nخود کہانی فراق کی چھیڑی\nخود کہا بس سنی نہیں جاتی\n\nخشک دکھلاتی ہے زباں تلوار\nکیوں مرا خون پی نہیں جاتی\n\nلاکھوں ارمان دینے والوں سے\nایک تسکین دی نہیں جاتی\n\nجان جاتی ہے میری جانے دو\nبات تو آپ کی نہیں جاتی\n\nتم کہو گے جو روؤں فرقت میں\nکہ مصیبت سہی نہیں جاتی\n\nاس کے ہوتے خودی سے پاک ہوں میں\nخوب ہے بے خودی نہیں جاتی\n\nپی تھی بیدمؔ ازل میں کیسی شراب\nآج تک بے خودی نہیں جاتی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C"} {"title": "دل لیا جس نے بے وفائی کی", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل لیا جس نے بے وفائی کی\nرسم ہے کیا یہ دل ربائی کی\n\nتذکرہ صلح غیر کا نہ کرو\nبات اچھی نہیں لڑائی کی\n\nتم کو اندیشۂ گرفتاری\nیاں توقع نہیں رہائی کی\n\nوصل میں کس طرح ہوں شادی مرگ\nمجھ کو طاقت نہیں جدائی کی\n\nدل نہ دینے کا ہم کو دعویٰ ہے\nکس کو ہے لاف دل ربائی کی\n\nایک دن تیرے گھر میں آنا ہے\nبخت و طالع نے گر رسائی کی\n\nدل لگایا تو ناصحوں کو کیا\nبات جو اپنے جی میں آئی کی\n\nشیفتہؔ وہ کہ جس نے ساری عمر\nدین داری و پارسائی کی\n\nآخر کار مے پرست ہوا\nشان ہے اس کی کبریائی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "دل لیے اور دکھا دکھا کے لیے", "poet_page": "مصنف:بیتاب عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل لیے اور دکھا دکھا کے لیے\nکی جفا اور مزے جفا کے لیے\n\nرند ہم ہیں تو پھر پیے گا کون\nکیا یہ اتری ہے پارسا کے لیے\n\nآتش ہجر اے معاذ اللہ\nایک دوزخ ہے مبتلا کے لیے\n\nجتنے دل تھے بتوں نے چھین لیے\nایک کعبہ بچا خدا کے لیے\n\nہر حسیں پر نہ یوں مٹو بیتابؔ\nایک کے ہو رہو خدا کے لیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "دل لے چلا ہے باندھ کے دل بر کے روبرو", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل لے چلا ہے باندھ کے دل بر کے روبرو\nجاتا ہے اک اسیر ستم گر کے روبرو\n\nاس بت میں اک خدائی کا جلوہ ہے ورنہ شیخ\nسجدہ کئے سے فائدہ پتھر کے روبرو\n\nآنسو بہا رہا ہوں خط یار پڑھ کے میں\nیوں دانہ ڈالتا ہوں کبوتر کے روبرو\n\nحاصل ہوئی بھی عقل فلاطوں اگر تو کیا\nچلتی نہیں کسی کی مقدر کے روبرو\n\nاے داغؔ ہوگا ہم سے کسی کا جواب کیا\nمقدار چشم کیا ہے سمندر کے روبرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%84%DB%92_%DA%86%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%A8%D8%B1%D9%88"} {"title": "دل لے کے برائی کرتے ہیں لو اور سنو لو اور سنو", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "دل لے کے برائی کرتے ہیں لو اور سنو لو اور سنو\nپھر ذکر جدائی کرتے ہیں لو اور سنو لو اور سنو\n\nکبھی دیر میں ہیں کبھی کعبے میں کبھی دل میں ہیں کبھی آنکھوں میں\nیہ بت بھی خدائی کرتے ہیں لو اور سنو لو اور سنو\n\nجو بات بھی کرتے ڈرتے تھے کبھی آنکھیں چار نہ کرتے تھے\nوہ ہم سے رکھائی کرتے ہیں لو اور سنو لو اور سنو\n\nتا زیست نہ پوچھی بات کبھی اب آ کے اٹھائی لاش مری\nکب وعدہ وفائی کرتے ہیں لو اور سنو لو اور سنو", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%86%D9%88_%D9%84%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%86%D9%88"} {"title": "دل لے کے حسینوں نے یہ دستور نکالا", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل لے کے حسینوں نے یہ دستور نکالا\nدل جس کا لیا اس کو بہت دور نکالا\n\nزاہد کو کسی اور کی باتیں نہیں آتیں\nآیا تو وہی تذکرۂ حور نکالا\n\nدشمن کو عیادت کے لیے یار نے بھیجا\nاچھا یہ علاج دل رنجور نکالا\n\nاے تیر ستم چل تری دعوت ہے مرے گھر\nزخم دل ناشاد نے انکور نکالا\n\nوہ تذکرۂ غیر پہ جھنجھلا کے یہ بولے\nپھر آپ نے مضطرؔ وہی مذکور نکالا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D8%B3%D8%AA%D9%88%D8%B1_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے\nہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جی ہے تو جہاں ہے\n\nہر ایک کے دکھ درد کا اب ذکر و بیاں ہے\nمجھ کو بھی ہو رخصت مرے بھی منہ میں زباں ہے\n\nاس عشق کے ہے تو ہی سزا وار کہ ہر ایک\nدل دے کے ترے نام کو جویائے نشاں ہے\n\nجویندۂ ہر چیز ہے یابندہ جہاں میں\nجز عمر گزشتہ کہ وہ ڈھونڈو تو کہاں ہے\n\nپیری جو تو جاوے تو جوانی سے یہ کہنا\nخوش رہیو مری جان تو جیدھر ہے جہاں ہے\n\nپہنچا نہ کوئی مرغ کبھو اپنے چمن تک\nجز طائر حسرت کہ وہ یاں بال فشاں ہے\n\nتجھ سے تو کسو طرح مرا کچھ نہیں چلتا\nجز خون کہ آنکھوں سے شب و روز رواں ہے\n\nساقی تو نظر کیجیو ٹک صبح چمن کو\nاس پیر کے جلوے کا بھلا کوئی جواں ہے\n\nسوداؔ کا ترے دشت میں طفلاں سے ہے یہ حال\nجیدھر وہ کھڑا ہووے تو جوں سنگ نشاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل لے کے ہمارا پھرتا ہے یہ کون وطیرہ تیرا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "دل لے کے ہمارا پھرتا ہے یہ کون وطیرہ تیرا ہے\nکرتا ہے چھچھوری باتیں کیوں ہر بات میں تیرا میرا ہے\n\nتم چہرہ اپنا دکھلا دو کچھ راہ خلاصی بتلا دو\nاک زلف کا سودا سر میں ہے اک کالی بلا نے گھیرا ہے\n\nاس آنے کی کیا مجھ کو خوشی پابندی اس میں کاہے کی\nبھولے سے ادھر بھی آ نکلے اک جوگی کا سا پھیرا ہے\n\nہم آپ ہیں ایک بلائے بد کیا ہم سے کرے گا کوئی کد\nاغیار کریں ہم سے کاوش منہ ہم کو سارا تیرا ہے\n\nہم جان سے اپنی جاتے ہیں پر دل سے یہ جاتا ہی نہیں\nاس عشق کا ہووے برا انجمؔ کیا اس نے ڈالا ڈیرا ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D9%88%D8%B7%DB%8C%D8%B1%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل لے گئی وہ زلف رسا کام کر گئی", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل لے گئی وہ زلف رسا کام کر گئی\nکعبہ کو ڈھ گئی یہ بلا کام کر گئی\n\nآیا نہ یار موت مرا کام کر گئی\nناکام ہی رہا میں قضا کام کر گئی\n\nزاہد نے بھی نماز کو اپنی قضا کیا\nواللہ ان بتوں کی ادا کام کر گئی\n\nاس کی گلی میں خاک ہماری نہ لے چلے\nاپنا کبھی نہ باد صبا کام کر گئی\n\nزاہد کی آنکھ میں تو برہمن کے دل میں ہے\nتصویر بت بھی نام خدا کام کر گئی\n\nبیمار عشق کو ہوئی صحت وصال سے\nاے جالینوس اک یہ دوا کام کر گئی\n\nنالے سے اپنے آہ رسا رات بڑھ گئی\nنیزے سے برچھی اور سوا کام کر گئی\n\nوہ اب تو چھیڑ چھیڑ کے دیتے ہیں گالیاں\nشکر خدا کہ اپنی دعا کام کر گئی\n\nشکوہ نہیں ہے کچھ ملک الموت سے مجھے\nاک رشک حور آ کے مرا کام کر گئی\n\nلیلیٰ کو ہو گیا تری فریاد کا گمان\nاے قیس زنگ کی بھی صدا کام کر گئی\n\nچھنوائی خاک مہرؔ فلک بارگاہ کو\nچھوٹی سی ایک چیز بڑا کام کر گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں\nامیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیں\n\nمری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کی\nیہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از دریا نہیں ہوتیں\n\nوہی پریاں ہیں اب بھی راجا اندر کے اکھاڑے میں\nمگر شہزادۂ گلفام پر شیدا نہیں ہوتیں\n\nیہاں کی عورتوں کو علم کی پروا نہیں بے شک\nمگر یہ شوہروں سے اپنے بے پروا نہیں ہوتیں\n\nتعلق دل کا کیا باقی میں رکھوں بزم دنیا سے\nوہ دل کش صورتیں اب انجمن آرا نہیں ہوتیں\n\nہوا ہوں اس قدر افسردہ رنگ باغ ہستی سے\nہوائیں فصل گل کی بھی نشاط افزا نہیں ہوتیں\n\nقضا کے سامنے بے کار ہوتے ہیں حواس اکبرؔ\nکھلی ہوتی ہیں گو آنکھیں مگر بینا نہیں ہوتیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%A7%DB%8C%D9%88%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%B1%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D9%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل مبتلائے لذت آزار ہی رہا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مبتلائے لذت آزار ہی رہا\nمرنا فراق یار میں دشوار ہی رہا\n\nہر دم یہ شوق تھا اسے قربان کیجئے\nمیں وصل میں بھی جان سے بے زار ہی رہا\n\nاحسان عفو جرم سے وہ شرمسار ہوں\nبخشا گیا میں تو بھی گنہ گار ہی رہا\n\nہوتی ہیں ہر طرح سے مری پاسداریاں\nدشمن کے پاس بھی وہ مرا یار ہی رہا\n\nدن پہلوؤں سے ٹال دیا کچھ نہ کہہ سکے\nہر چند ان کو وصل کا انکار ہی رہا\n\nزاہد کی توبہ توبہ رہی گھونٹ گھونٹ پر\nسو بوتلیں اڑا کے بھی ہشیار ہی رہا\n\nدیکھیں ہزار رشک مسیحا کی صورتیں\nاچھا رہا جو عشق کا بیمار ہی رہا\n\nصدقے میں تم نے چھوڑ دیئے ہیں بہت اسیر\nمیں بھی رہا ہوا کہ گرفتار ہی رہا\n\nلذت وفا میں ہے نہ کسی کی جفا میں ہے\nدل دار ہی رہا نہ دل آزار ہی رہا\n\nجلوہ کے بعد وصل کی خواہش ضرور تھی\nوہ کیا رہا جو عاشق دیدار ہی رہا\n\nکہتے ہیں جل کے غیر محبت سے داغؔ کی\nمعشوق اس کے پاس وفادار ہی رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا\nجوں اشک پھر زمیں سے اٹھایا نہ جائے گا\n\nرخصت ہے باغباں کہ تنک دیکھ لیں چمن\nجاتے ہیں واں جہاں سے پھر آیا نہ جائے گا\n\nکعبہ ڈہا تو غم نہ کر اے شیخ بت شکن\nدل برہمن کا ہے کہ بنایا نہ جائے گا\n\nآنے سے فوج خط کے نہ ہو دل کو مخلصی\nبندھوا ہے زلف کا یہ چھٹایا نہ جائے گا\n\nپہنچیں گے اس چمن میں نہ ہم داد کو کبھو\nجوں گل یہ چاک جیب سلایا نہ جائے گا\n\nتیغ جفائے یار سے دل سر نہ پھیریو\nپھر منہ وفا کو ہم سے دکھایا نہ جائے گا\n\nآوے گا وہ چمن میں نہ اے ابر جب تلک\nپانی گلوں کے منہ میں چوایا نہ جائے گا\n\nعمامے کو اتار کے پڑھیو نماز شیخ\nسجدے سے ورنہ سر کو اٹھایا نہ جائے گا\n\nزاہد گلے سے مستوں کے باز آنے کا نہیں\nتا مے کدے میں لا کے چھکایا نہ جائے گا\n\nظالم نہ میں کہا تھا کہ اس خوں سے درگزر\nسوداؔ کا قتل ہے یہ چھپایا نہ جائے گا\n\nدامان و داغ تیغ کو دھویا تو کیا ہوا\nعالم کے دل سے داغ دھلایا نہ جائے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%AA_%D9%B9%D9%BE%DA%A9_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دل محبت مکان ہے گویا", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل محبت مکان ہے گویا\nآرزو کا جہان ہے گویا\n\nخاک میں مل چکے ہم اور اس کو\nآج تک بھی گمان ہے گویا\n\nمیرے آزار دینے کو وہ شوخ\nدوسرا آسمان ہے گویا\n\nکھول دے منہ خموں کے پیر مغاں\nآج ہی امتحان ہے گویا\n\nپاؤں آگے نہ اٹھ سکے واں سے\nاس گلی کا نشان ہے گویا\n\nتیری تصویر کیوں نہ بول اٹھے\nاس میں عاشق کی جان ہے گویا\n\nتیرا چپ چپ یہ بیٹھنا سالکؔ\nاک طرح کا بیان ہے گویا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل محو جمال ہو گیا ہے", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل محو جمال ہو گیا ہے\nیا صرف خیال ہو گیا ہے\n\nاب اپنا یہ حال ہو گیا ہے\nجینا بھی محال ہو گیا ہے\n\nہر لمحہ ہے آہ آہ لب پر\nہر سانس وبال ہو گیا ہے\n\nوہ درد جو لمحہ بھر رکا تھا\nمژدہ کہ بحال ہو گیا ہے\n\nچاہت میں ہمارا جینا مرنا\nآپ اپنی مثال ہو گیا ہے\n\nپہلے بھی مصیبتیں کچھ آئیں\nپر اب کے کمال ہو گیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%AD%D9%88_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل مرا آج میرے پاس نہیں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مرا آج میرے پاس نہیں\nمجھ میں کچھ ہوش اور حواس نہیں\n\nدل لگایا جہاں جفا دیکھی\nکیا بلا عشق مجھ کو راس نہیں\n\nپاس ہے یاس گرد ہے دل کی\nاور اب کوئی آس پاس نہیں\n\nآپ تو اپنا عرض کر لے حال\nدل ہمیں تاب التماس نہیں\n\nیوں خدا چاہے تو ملا دے اسے\nوصل کی پر ہمیں تو آس نہیں\n\nمیں بھی کچھ ہو گیا ہوں پژمردہ\nدل ہی میرا فقط اداس نہیں\n\nکیا ملے تجھ سے کوئی دل دادہ\nآشنائی کی تجھ میں باس نہیں\n\nہے غفور الرحیم تیری ذات\nسب سے ہے یاس تجھ سے یاس نہیں\n\nایک ڈر ہے تو دوست کا مجھ کو\nدشمنوں سے تو کچھ ہراس نہیں\n\nتیرے خاطر یہ سب سے دور ہوا\nتو بھی تجھ کو حسنؔ کا پاس نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A2%D8%AC_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل مرا آج یار میں ہے گا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مرا آج یار میں ہے گا\nکس خزاں میں بہار میں ہے گا\n\nگالیاں مجھ کو دے ہے دینے دو\nکچھ نہ بولو خمار میں ہے گا\n\nسن کے کہنے لگا تو جانے ہے\nکہ نشے کے اتار میں ہے گا\n\nگالیاں میں تو سب کو دیتا ہوں\nایک تو کس شمار میں ہے گا\n\nحاتمؔ ایسی کہاں ہے لذت وصل\nجو مزا انتظار میں ہے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A2%D8%AC_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دل مرا تیر ستم گر کا نشانہ ہو گیا", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مرا تیر ستم گر کا نشانہ ہو گیا\nآفت جاں میرے حق میں دل لگانا ہو گیا\n\nہو گیا لاغر جو اس لیلیٰ ادا کے عشق میں\nمثل مجنوں حال میرا بھی فسانہ ہو گیا\n\nخاکساری نے دکھایا بعد مردن بھی عروج\nآسماں تربت پر میرے شامیانہ ہو گیا\n\nخواب غفلت سے ذرا دیکھو تو کب چونکے ہیں ہم\nقافلہ ملک عدم کو جب روانہ ہو گیا\n\nفصل گل میں بھی رہائی کی نہ کچھ صورت ہوئی\nقید میں صیاد مجھ کو اک زمانہ ہو گیا\n\nدل جلایا صورت پروانہ جب سے عشق میں\nفرض تب سے شمع پر آنسو بہانہ ہو گیا\n\nآج تک اے دل جواب خط نہ بھیجا یار نے\nنامہ بر کو بھی گئے کتنا زمانہ ہو گیا\n\nپاس رسوائی سے دیکھو پاس آ سکتے نہیں\nرات آئی نیند کا تم کو بہانہ ہو گیا\n\nہو پریشانی سر مو بھی نہ زلف یار کو\nاس لیے میرا دل صدچاک شانہ ہو گیا\n\nبعد مردن کون آتا ہے خبر کو اے رساؔ\nختم بس کنج لحد تک دوستانہ ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا\nبت کے بندے ملے اللہ کا بندا نہ ملا\n\nبزم یاراں سے پھری باد بہاری مایوس\nایک سر بھی اسے آمادۂ سودا نہ ملا\n\nگل کے خواہاں تو نظر آئے بہت عطر فروش\nطالب زمزمۂ بلبل شیدا نہ ملا\n\nواہ کیا راہ دکھائی ہے ہمیں مرشد نے\nکر دیا کعبے کو گم اور کلیسا نہ ملا\n\nرنگ چہرے کا تو کالج نے بھی رکھا قائم\nرنگ باطن میں مگر باپ سے بیٹا نہ ملا\n\nسید اٹھے جو گزٹ لے کے تو لاکھوں لائے\nشیخ قرآن دکھاتے پھرے پیسا نہ ملا\n\nہوشیاروں میں تو اک اک سے سوا ہیں اکبرؔ\nمجھ کو دیوانوں میں لیکن کوئی تجھ سا نہ ملا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%81%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "دل مرا خواب گاہ دلبر ہے", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مرا خواب گاہ دلبر ہے\nبس یہی ایک سونے کا گھر ہے\n\nزلفیں منہ پر ہیں منہ ہے زلفوں میں\nرات بھر صبح شام دن بھر ہے\n\nچشم انصاف سے نظارہ کر\nایک قطرہ یہاں سمندر ہے\n\nبہت ایذا اٹھائی فرقت کی\nاب نہیں اختیار دل پر ہے\n\nدیکھ کر چاند سا تمہارا منہ\nآئینہ میری طرح ششدر ہے\n\nدل ملاؤں میں کیا ترے دل سے\nایک شیشہ ہے ایک پتھر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل مرا دیکھ دیکھ جلتا ہے", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مرا دیکھ دیکھ جلتا ہے\nشمع کا کس پہ دل پگھلتا ہے\n\nہم نشیں ذکر یار کر کہ کچھ آج\nاس حکایت سے جی بہلتا ہے\n\nدل مژہ تک پہنچ چکا جوں اشک\nاب سنبھالے سے کب سنبھلتا ہے\n\nساقیا دور کیا کرے ہے تمام\nآپ ہی اب یہ دور چلتا ہے\n\nگندمی رنگ جو ہے دنیا میں\nمیری چھاتی پہ مونگ دلتا ہے\n\nہے تواضع ضرور دولت کو\nہو ہے خم جو نہال پھلتا ہے\n\nاپنے عاشق کی سوخت پر پیارے\nکبھو کچھ دل ترا بھی جلتا ہے\n\nدیکھ کیسا پتنگ کی خاطر\nشعلۂ شمع ہاتھ ملتا ہے\n\nآج قائمؔ کے شعر ہم نے سنے\nہاں اک انداز تو نکلتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AC%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل مرا ساغر شکایت ہے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مرا ساغر شکایت ہے\nزہر غم بس کہ بے نہایت ہے\n\nوو بھویں مجھ پہ کیوں نہ ظلم کریں\nچشم خوں ریز کی حمایت ہے\n\nدیو مجھے لاکھ دام کی جاگیر\nزلف کھولو بڑی رعایت ہے\n\nنقد دیدار بو الہوس کوں نہ دیو\nاس میں سرکار کی کفایت ہے\n\nبے گناہوں کوں قتل کرنے پر\nمفتیٔ ناز کی روایت ہے\n\nہیکل لخت دل میں حرف وفا\nمرشد عشق کی عنایت ہے\n\nشمع رو سن بیان سوز سراجؔ\nکہ عجب درد کی حکایت ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا\nآتش خاموش کی مانند گویا جل گیا\n\nدل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں\nآگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا\n\nمیں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا\nمیری آہ آتشیں سے بال عنقا جل گیا\n\nعرض کیجے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں\nکچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا\n\nدل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار\nاس چراغاں کا کروں کیا کار فرما جل گیا\n\nمیں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالبؔ کہ دل\nدیکھ کر طرز تپاک اہل دنیا جل گیا\n\nخانمان عاشقاں دکان آتش باز ہے\nشعلہ رو جب ہو گئے گرم تماشا جل گیا\n\nتا کجا افسوس گرمی ہاۓ صحبت اے خیال\nدل بہ سوز آتش داغ تمنا جل گیا\n\nہے اسدؔ بیگانۂ افسردگی اے بیکسی\nدل ز انداز تپاک اہل دنیا جل گیا\n\nدود میرا سنبلستاں سے کرے ہے ہم سری\nبسکہ شوق آتش گل سے سراپا جل گیا\n\nشمع رویاں کی سر انگشت حنائی دیکھ کر\nغنچۂ گل پرفشاں پروانہ آسا جل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A7%D8%A8%D8%A7_%D8%AC%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل مرا لے کے یہ کہتے ہیں کہ مال اچھا ہے", "poet_page": "مصنف:رنج حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > مخبر عشق (1895)", "year": "1895", "text_ur": "دل مرا لے کے یہ کہتے ہیں کہ مال اچھا ہے\nمنتیں خوب ہیں اور ان کا خیال اچھا ہے\n\nوہ عیادت کو مری آ کے یہ فرماتے ہیں\nشکر صد شکر کہ بیمار کا حال اچھا ہے\n\nمیں یہ کہتا ہوں کہ آغاز محبت ہے خراب\nوہ یہ کہتے ہیں کہ محبت کا مآل اچھا ہے\n\nساتھ یوسف کے تجھے مصر میں گر لے جاتے\nانگلیاں تیری طرف اٹھتیں یہ مال اچھا ہے\n\nتیری صورت سے میں دوں کیا مہ کامل کو مثال\nاس سے سو درجہ ترا حسن و جمال اچھا ہے\n\nدل کو دزدیدہ نگاہوں سے چرا لے جانا\nتم میں اتنا ہی مری جان کمال اچھا ہے\n\nوہ عیادت کے لئے غیر کے گھر جاتے ہیں\nہم مرے جاتے ہیں کمبخت کا حال اچھا ہے\n\nٹوٹ جانے کا نہ کچھ رنج نہ کھو جانے کا\nہم غریبوں کا یہی جام سفال اچھا ہے\n\nاپنی قسمت میں کہاں راحت و آرام نشاط\nرنجؔ دنیا میں یہی ہم کو ملال اچھا ہے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل مرا ٹوٹا تو اس کو کچھ ملال آ ہی گیا", "poet_page": "مصنف:شوق قدوائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مرا ٹوٹا تو اس کو کچھ ملال آ ہی گیا\nاپنے بچپن کے کھلونے کا خیال آ ہی گیا\n\nحشر میں مظلوم سب چپ رہ گئے منہ دیکھ کر\nآخر اس ظالم کے کام اس کا جمال آ ہی گیا\n\nہنس کے بولا جب پھنسا بالوں میں خوں آلودہ دل\nجال پھیلایا تھا میں نے اس میں لال آ ہی گیا\n\nچھپ کے گر ماہ صیام آتا تو مے کیوں چھوٹتی\nکیا کروں میں سامنے میرے ہلال آ ہی گیا\n\nدل تھا اس کا لیکن اب ہم مر کے دیں گے حور کو\nوہ پشیماں ہے کہ وقت انتقال آ ہی گیا\n\nکانپ اٹھے غصے سے وہ سن کر مری فریاد کو\nنغمہ ایسا تھا کہ آخر ان کو حال آ ہی گیا\n\nمیری نظروں سے کوئی اے شوقؔ سیکھے جذب عشق\nبن کے تل آنکھوں میں اس کے رخ کا خال آ ہی گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%B9%D9%88%D9%B9%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84_%D8%A2_%DB%81%DB%8C_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل مرا پھر دکھا دیا کن نے", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مرا پھر دکھا دیا کن نے\nسو گیا تھا جگا دیا کن نے\n\nمیں کہاں اور خیال بوسہ کہاں\nمنہ سے منہ یوں بھڑا دیا کن نے\n\nوہ مرے چاہنے کو کیا جانے\nیہ سندیسا سنا دیا کن نے\n\nہم بھی کچھ دیکھتے سمجھتے تھے\nسب یکایک چھپا دیا کن نے\n\nوہ بلائے سے بھاگتا تھا اور\nدردؔ تجھ تک بلا دیا کن نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D9%86_%D9%86%DB%92"} {"title": "دل مورد ایذا و بلا ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل مورد ایزا و بلا ہوتا ہے\nپاداش عمل میں سب بجا ہوتا ہے\nجو قرض کہ خوش ہو کے لیا تھا میں نے\nوہ سود سمیت اب ادا ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%D9%88%D8%B1%D8%AF_%D8%A7%DB%8C%D8%B0%D8%A7_%D9%88_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل مکدر مدام کا نکلا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مکدر مدام کا نکلا\nکب یہ آئینہ کام کا نکلا\n\nبحث تھی مے کشی میں زاہد سے\nعذر ماہ صیام کا نکلا\n\nیہ سنا ہے کہ اب وہ ہرجائی\nصبح آتا ہے شام کا نکلا\n\nدل کے ملنے کی پھر امید نہیں\nیہ اگر اس کے کام کا نکلا\n\nواہ کیا کیا تری محبت میں\nحوصلہ خاص و عام کا نکلا\n\nسچ تو یہ ہے کہ عاشقی میں داغؔ\nایک ہی اپنے نام کا نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DA%A9%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "دل مکدر ہے آئینہ رو کا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مکدر ہے آئینہ رو کا\nنہ ملا رنگ سے پتا بو کا\n\nہے دم صبح وہ خماریں آنکھ\nایک ٹوٹا طلسم جادو کا\n\nکم جو ٹھہرے جفا سے میری وفا\nتو یہ پاسنگ ہے ترازو کا\n\nدل کی بے چینیاں خدا کی پناہ\nتکیہ ہٹ ہٹ گیا ہے پہلو کا\n\nکہیں جاتی بہار رکتی ہے\nدامن آیا نہ ہاتھ میں بو کا\n\nہے نئی قید اب یہ آزادی\nزور ٹوٹا ہوا ہے بازو کا\n\nآندھی آہوں کی سیل اشکوں کی\nاب نہیں کوئی اپنے قابو کا\n\nقہقہہ بھرتی ہے صراحی کیا\nظرف خم سے سوا ہے چلو کا\n\nسوتی قسمت کی نیند اڑاوے گا\nنرم تکیہ کسی کے زانو کا\n\nعشق بازی ہے جان کی جوکھم\nوہیں مارا پڑا جہاں چوکا\n\nآرزوؔ دل ہے وقف بیم و امید\nجھلملاتا چراغ جگنو کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DA%A9%D8%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا\nشہر جاناں میں ہمیں مسکن جاناں نہ ملا\n\nکوچہ گردی میں کٹیں شوق کی کتنی راتیں\nپھر بھی اس شمع تمنا کا شبستاں نہ ملا\n\nپوچھتے منزل سلمیٰ کی خبر ہم جس سے\nوادیٔ نجد میں ایسا کوئی انساں نہ ملا\n\nیوں تو ہر راہ گزر پر تھے ستارے رقصاں\nجس کی حسرت تھی مگر وہ مہ تاباں نہ ملا\n\nلالہ و گل تھے بہت عام چمن میں لیکن\nڈھونڈتے تھے جسے وہ سرو خراماں نہ ملا\n\nجس کے پردوں سے مچلتی ہو وہی نکہت شوق\nبے خودی کی قسم ایسا کوئی ایواں نہ ملا\n\nبخت بیدار کہاں جلوۂ دل دار کہاں\nخواب میں بھی ہمیں وہ غنچۂ خنداں نہ ملا\n\nبیکسی تشنہ لبی درد حلاوت طلبی\nچاندنی رات میں بھی چشمۂ حیواں نہ ملا\n\nیوں تو ہر در پہ ہی کہتے نظر آئے دامن\nکھینچتے ناز سے جس کو وہی داماں نہ ملا\n\nکس کے در پر نہ کیے سجدے نگاہوں نے مگر\nہائے تقدیر وہ غارت گر ایماں نہ ملا\n\nکون سے بام کو رہ رہ کے نہ دیکھا لیکن\nنگہ شوق کو وہ ماہ خراماں نہ ملا\n\nدر جاناں پہ فدا کرتے دل و جاں اخترؔ\nوائے بر‌‌ حال‌ دل و جاں در جاناں نہ ملا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%81%D8%AC%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%B3%DA%A9%DB%8C%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "دل میں اتری ہے نگہ رہ گئیں باہر پلکیں", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں اتری ہے نگہ رہ گئیں باہر پلکیں\nکیا خدنگ نگہ یار کی ہیں پر پلکیں\n\nفرط حیرت سے یہ بے حس ہیں سراسر پلکیں\nکہ ہوئیں آئنہ چشم کی جوہر پلکیں\n\nیہ درازی ہے کہ وہ شوخ جدھر آنکھ اٹھائے\nجا پہنچتی ہیں نگاہوں کے برابر پلکیں\n\nکیا تماشا ہے کہ ڈالے مرے دل میں سوراخ\nاور خوں میں نہ ہوئیں ان کی کبھی تر پلکیں\n\nنرگس اس غیرت گلزار سے کیا آنکھ ملائے\nآنکھ بھی وہ کہ نہیں جس کو میسر پلکیں\n\nہے غم مرگ عدو بھی بت کافر کا بناؤ\nقطرۂ اشک سے ہیں رشتۂ گوہر پلکیں\n\nچاٹ دیتا ہے ترا دل انہیں خوں ریزی کی\nتیز کرتی ہیں اسی سنگ پہ خنجر پلکیں\n\nلی گئیں دل کو وہ دزدیدہ نگاہیں اب یاں\nکیا دھرا ہے جو چڑھا لاتی ہیں لشکر پلکیں\n\nکینہ کچھ شرط نہیں ان کی دل آزاری کو\nنیش عقرب ہیں تری شوخ ستم کر پلکیں\n\nہے یہی گریۂ خونیں تو کسی دن ناظمؔ\nیوں ہی رہ جائیں گی آپس میں جھپک کر پلکیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%DA%AF%DB%81_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D9%BE%D9%84%DA%A9%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل میں اس بانیٔ بیداد کے گھر ہونے دو", "poet_page": "مصنف:منشی شیو پرشاد وہبی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وہبی (1870)", "year": "1870", "text_ur": "دل میں اس بانیٔ بیداد کے گھر ہونے دو\nرفتہ رفتہ مری آہوں کا اثر ہونے دو\n\nاب تو وہ فرط محبت سے یہ فرماتے ہیں\nگھر نہ جائیں گے جو ہوتی ہے سحر ہونے دو\n\nشوق سے ہاتھوں میں مہندی ملو تم تو اپنے\nخون ہوتا ہے اگر میرا جگر ہونے دو\n\nزلف سرکاؤ ذرا عارض تاباں سے کبھی\nچاندنی رات کو اے رشک قمر ہونے دو\n\nسرد مہری سے نہ اک آن بھی باز آؤ تم\nروح میری ہے اگر گرم سفر ہونے دو\n\nمہر و الفت ہی میں اس طرح کے ہوتے ہیں کلام\nروز ہوتا ہے اگر وصل میں شر ہونے دو\n\nتیغ ابرو کے ابھی وار عبث کرتے ہو\nتم مجھے بھی تو ذرا سینہ سپر ہونے دو\n\nمدتوں سے وہ یوں ہی ٹالتے ہیں وعدۂ وصل\nشام ہوتی ہے تو کہتے ہیں سحر ہونے دو\n\nنہ کوئی فکر کسی طرح کرو تم وہبیؔ\nعمر جس طرح سے ہوتی ہے بسر ہونے دو", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%94_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%88"} {"title": "دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی\nہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی\n\nپردہ پوشی ضرور تھی اے چرخ\nکیوں شب بوالہوس سیاہ نہ کی\n\nتشنہ لب ایسے ہم گرے مے پر\nکہ کبھی سیر عید گاہ نہ کی\n\nاس کو دشمن سے کیا بچئے وہ چرخ\nجس نے تدبیر خسف ماہ نہ کی\n\nکون ایسا کہ اس سے پوچھے کیوں\nپرسش حال داد خواہ نہ کی\n\nتھا بہت شوق وصل تو نے تو\nکمی اے حسن تابگاہ نہ کی\n\nعشق میں کام کچھ نہیں آتا\nگر نہ کی حرص و مال و جاہ نہ کی\n\nتاب کم ظرف کو کہاں تم نے\nدشمنی کی عدو سے چاہ نہ کی\n\nمیں بھی کچھ خوش نہیں وفا کر کے\nتم نے اچھا کیا نباہ نہ کی\n\nمحتسب یہ ستم غریبوں پر\nکبھی تنبیہ بادشاہ نہ کی\n\nگریہ و آہ بے اثر دونوں\nکس نے کشتی مری تباہ نہ کی\n\nتھا مقدر میں اس سے کم ملنا\nکیوں ملاقات گاہ گاہ نہ کی\n\nدیکھ دشمن کو اٹھ گیا بے دید\nمیرے احوال پر نگاہ نہ کی\n\nمومنؔ اس ذہن بے خطا پر حیف\nفکر آمرزش گناہ نہ کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "دل میں اپنے نہیں کوئی جز یار", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں اپنے نہیں کوئی جز یار\nلیس فی الدار غیرہ دیار\n\nکفر و دیں سے نہیں کچھ آپ کو بحث\nسر تسبیح و گردن زنار\n\nداغ اشک آستیں سے اڑتے ہیں\nمفت جاتی ہے ہاتھ سے یہ بہار\n\nہم وہ آفت طلب ہیں ہے جن کو\nزخم شمشیر مرہم زنگار\n\nیاد میں کس کی رات رویا ہوں\nغرق خوں ہے ہنوز جیب و کنار\n\nآہ کیا کیجے زلف و رخ اس کا\nچت چڑھا ہی رہے ہے لیل و نہار\n\nناصحا ترک کیجے کس کس کا\nجیتے جی کو تو سب کچھ ہے درکار\n\nعشق بازی کو کیا کرے گا تو\nگو کہ چھوڑا میں اک شراب و قمار\n\nہم نے دیکھا ہے داغ دل قائمؔ\nوقنا ربنا عذاب النار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D8%B2_%DB%8C%D8%A7%D8%B1"} {"title": "دل میں اگر نہ عشق و محبت کی چاہ ہو", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں اگر نہ عشق و محبت کی چاہ ہو\nنالہ نہ درد ہو نہ فغاں ہو نہ آہ ہو\n\nرسوا نہ اعتبار تغافل کو کیجیے\nکیا فائدہ کہ پرسش دل گاہ گاہ ہو\n\nدشمن سے پوچھتا ہوں نشان حریم ناز\nمیری طرح سے کوئی نہ گم کردہ راہ ہو\n\nراہ جنوں میں مجھ کو کسی سے نہیں ہے کام\nبس میں ہوں اور اک دل شورش پناہ ہو\n\nکر اب تو فکر حسن عمل کوچ ہے قریب\nرستہ کٹھن ہے ساتھ میں کچھ زاد راہ ہو\n\nتوہین شان عفو ہے عصیاں سے اجتناب\nیعنی گناہ گار ہے جو بے گناہ ہو\n\nدنیا میں ایسے لوگوں سے پالا پڑے نہ شوقؔ\nظاہر ہو جن کا صاف تو باطن سیاہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%88_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "دل میں بھرا ز بسکہ خیال شراب تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں بھرا ز بسکہ خیال شراب تھا\nمانند آئنے کے مرے گھر میں آب تھا\n\nموجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو\nجانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا\n\nاگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم\nصحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا\n\nٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں\nجس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا\n\nدل جو نہ تھا تو رات ز خود رفتگی میں میرؔ\nگہہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%A7_%D8%B2_%D8%A8%D8%B3%DA%A9%DB%81_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دل میں ترے اے نگار کیا ہے", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں ترے اے نگار کیا ہے\nہوتا نہیں ہمکنار کیا ہے\n\nآیا جو دم وہ ہے غنیمت\nاس زیست کا اعتبار کیا ہے\n\nہیں سیب سے بھی وہ چھاتیاں سخت\nآگے ان کے انار کیا ہے\n\nدنیا کے یہ سب ڈھکوسلے ہیں\nتربت کیسی مزار کیا ہے\n\nطاؤس سے چھیڑ چھاڑ کیسی\nہاں اے دل داغدار کیا ہے\n\nجو جو وہ رنج دیں اٹھاؤ\nجب دل ہی دیا تو عار کیا ہے\n\nمیں چاہتا ہوں اسے نہ چاہوں\nدل پر مرا اختیار کیا ہے\n\nمژگاں کا ہے مرے دل میں کھٹکا\nاے خوشبوئے نوک خار کیا ہے\n\nمٹی مری خاک میں ملائی\nمجھ سے ان کو غبار کیا ہے\n\nدوڑوں تو مجھے صبا نہ پائے\nپیدل کیسا سوار کیا ہے\n\nبوسہ کی طلب کہ وصل کا ذکر\nفرمائیے ناگوار کیا ہے\n\nہے کیا آغاؔ تڑپ رہا ہے\nکیوں کہتے ہو بار بار کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا\nسخت مہم تھی کہ وہ سر کر گیا\n\nوہم غلط کار نے دل خوش کیا\nکس پہ نہ جانے وہ نظر کر گیا\n\nجا ہی بھڑا تجھ صف مژگاں سے یار\nدل تو مرا زور جگر کر گیا\n\nرات ملا تھا مجھے تنہا رقیب\nیار خدا کا ہی میں ڈر کر گیا\n\nفیض ترے وصف بنا گوش کا\nاپنے سخن کو تو گہر کر گیا\n\nدیکھ لی ساقی کی بھی دریا دلی\nلب نہ ہمارے کبھو تر کر گیا\n\nکیوں کے کراہوں نہ شب و روز میں\nدرد مرے پہلو میں گھر کر گیا\n\nنفع کو پہنچا یہ تجھے دے کے دل\nجان کا اپنی میں ضرر کر گیا\n\nاور غزل اب کوئی سودا تو کہہ\nیہ تو یوں ہی تھی میں نظر کر گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشق", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشق\nکیا بتائیں پڑ گئی ہے پاؤں میں زنجیر عشق\n\nدیکھنے والے یہ کہتے ہیں کتاب دہر میں\nتو سراپا حسن کا نقشہ ہے میں تصویر عشق\n\nکوہ کن اور قیس مل جائیں تو میں ان سے کہوں\nلے گئے کیا ساتھ ہی قبروں میں تم تاثیر عشق\n\nواہ رے انصاف اتنا بھی نہ واں پوچھا گیا\nیہ قصور حسن ہے یا اصل میں تاثیر عشق\n\nبات کرنے سے بھی نفرت ہو گئی دل دار کو\nواہ رے اظہار الفت واہ رے تاثیر عشق\n\nکیا سبب کیا وجہ کیوں آ کر نکل جائے شکار\nکیوں نشانہ پر نہ جائے گا ہمارا تیر عشق\n\nپہلے اپنا سر قلم کروائے پھر تیار ہو\nہر کسی کا کام ہے جو لکھ سکے تفسیر عشق\n\nدولت دیدار حسب مدعا حاصل ہوئی\nمل گئی جس شخص کو تقدیر سے اکسیر عشق\n\nحسن جاناں کی کشش دنیا میں باقی رہ گئی\nبد نصیبی سے ہماری اڑ گئی تاثیر عشق\n\nتو بھی گل کے آئینہ پر کھینچ دے تصویر حسن\nمیں بھی بلبل کو سناؤں باغ میں تقریر عشق\n\nکیا شکایت اس کی پرویںؔ یہ تو ہوتی آئی ہے\nپہلے الفت کی تھی عزت اور نہ اب توقیر عشق", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%81%D8%B1%D9%82_%D9%BE%D8%B1_%D8%B4%D9%85%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "دل میں جب آ کے عشق نے تیرے محل کیا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں جب آ کے عشق نے تیرے محل کیا\nسب دست و پائے عقل کوں یک پل میں شل کیا\n\nاس زلف پر شکن سیں صنم کھول کر گرہ\nعاشق کے دل کے عقدۂ مشکل کوں حل کیا\n\nسیر چمن کوں جب کہ ہوا لالہ رو سوار\nراز و نیاز بلبل و گل میں خلل کیا\n\nاقلیم دل سیں عقل نے لی تب رہ گریز\nجب صوبہ دار عشق نے آ کر عمل کیا\n\nمجلس میں عاشقوں کی جب آیا وو شمع رو\nمحجوب ہو کے شمع نے صورت بدل کیا\n\nاے شوخ سحر کار ہر یک بو الفضول کوں\nتیر نگہ نے بسمل تیغ اجل کیا\n\nدیکھا ہے جب سیں مصرعہ موزون و قد یار\nاس دن سیتی سراجؔ نے فکر غزل کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%AD%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل میں خیال نرگس جانانہ آ گیا", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں خیال نرگس جانانہ آ گیا\nپھولوں سے کھیلتا ہوا دیوانہ آ گیا\n\nبادل کے اٹھتے ہی مے و پیمانہ آ گیا\nبجلی کے ساتھ ساتھ پری خانہ آ گیا\n\nمستوں نے اس ادا سے کیا رقص نو بہار\nپیمانہ کیا کہ وجد میں مے خانہ آ گیا\n\nاس چشم مئےفروش کی تاثیر کیا کہوں\nہونٹوں تک آج آپ ہی پیمانہ آ گیا\n\nمعلوم کس کو قیس کی دیوانگی کی شان\nہنگامہ سا بپا ہے کہ دیوانہ آ گیا\n\nاخترؔ غضب تھی عہد جوانی کی داستاں\nآنکھوں کے آگے ایک پری خانہ آ گیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D9%86%D8%B1%DA%AF%D8%B3_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل میں خیال یار ہے جاسوس کی نمط", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں خیال یار ہے جاسوس کی نمط\nرکھتا ہوں اس کوں ننگ سوں ناموس کی نمط\n\nویراں ہے سینہ بسکہ ترے باج اے صنم\nفریاد دل ہے نغمۂ ناقوس کی نمط\n\nاس رشک مہر پاس پہنچنے کا شوق ہے\nاس واسطے انجھوں ہیں مرے اوس کی نمط\n\nاس فصل نو بہار میں بے بادۂ غرور\nہر بو الہوس ہے رنگ میں طاؤس کی نمط\n\nاس شمع رو کے عشق میں داؤدؔ گل سکل\nتن ہو رہا ہے پردۂ فانوس کی نمط", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%B3%D9%88%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D9%85%D8%B7"} {"title": "دل میں خیالات رنگیں گزرتے ہیں جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں خیالات رنگیں گزرتے ہیں جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیے\nوحشت کے جنگل میں کب لگ پریشاں ہو غم کے بھاروں کے سنگوں میں رہیے\n\nجو کوئی کہ ہے دشت وحشت کا ساکن اسے ہوش کے شہریوں سے ہے نفرت\nیہ دیوانگی کا نپٹ خوب عالم ہے زنجیر کی جا النگوں میں رہیے\n\nپندار ہستی سیں وہمی خیالوں نے کثرت کی تہمت لگائے ہیں ناحق\nدراصل میں جوش طوفان وحدت ہے جیوں موج دریا امنگوں میں رہیے\n\nاس سرو قامت کے جوش محبت میں از بس کہ آزاد سب سیں ہوا ہوں\nمانند قمری بدن کوں لگا را کہہ یاہو کے دم بھر ملنگوں میں رہیے\n\nناحق سراجؔ آہ حسرت کی آتش سیں ہر دم میں سو بار جنباں سبب کیا\nیکبار شعلے پہ گرنے کی طرحوں کوں معلوم کرنے پتنگوں میں رہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "دل میں دل دار نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا", "poet_page": "مصنف:باقر آگاہ ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں دل دار نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا\nادھر ادھر میں دواں تھا مجھے معلوم نہ تھا\n\nسر بسر انفس و آفاق میں ہے اس کا ظہور\nپردہ اس رخ کا عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا\n\nسہل سمجھا تھا میں حالاں کہ یہ عشق ظالم\nوقف خونین جگراں کا تھا مجھے معلوم نہ تھا\n\nبعد مدت دل گمراہ سے میں نے جو ملا\nکہا رو رو کے کہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا\n\nمشرب عاشق بے نام و نشاں میں آگاہؔ\nلا مکاں عین مکاں تھا مجھے معلوم نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دل میں رہ کر چھپا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:عبد الہادی وفا", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وفا (1923)", "year": "1923", "text_ur": "دل میں رہ کر چھپا کرے کوئی\nآنکھ بن کر حیا کرے کوئی\n\nہم نے مانا وفا کرے کوئی\nچارۂ یاس کیا کرے کوئی\n\nاس کی شوخی پکارے کہتی ہے\nکھل گئے ہم چھپا کرے کوئی\n\nتری محفل سے فتنہ گر کب تک\nدرد بن کر اٹھا کرے کوئی\n\nناز ہے اپنی بے نیازی پر\nوقف محنت رہا کرے کوئی\n\nصبر ایوب سے غرض کس کو\nشکر نعمت ادا کرے کوئی\n\nرشک دشمن بھی ہے عزیز مجھے\nتیری باتیں کیا کرے کوئی\n\nدونوں عالم کو کیا کروں لے کر\nقیمت دل ادا کرے کوئی\n\nتو بگاڑے تو پھر بنائے کون\nتو جو روٹھے تو کیا کرے کوئی\n\nجرأت ناز تاب فرسا ہے\nکیا کہے اور کیا کرے کوئی\n\nسر محشر بھی یہ تقاضا ہے\nہاں ہمارا گلا کرے کوئی\n\nہائے کس دل سے کہہ دیا اس نے\nغیر بن کر ملا کرے کوئی\n\nدولت حسن و عشق بڑھتی جائے\nآپ کوسیں دعا کرے کوئی\n\nکاش وہ انتظار مرگ سہی\nدرد ہو کر دوا کرے کوئی\n\nاپنے آئینے سے مکدر ہو\nخاک تم پر مٹا کرے کوئی\n\nدل ہوا ذوق درد سے خالی\nاب نمکداں بھرا کرے کوئی\n\nزخم کمبخت جی چرانے لگا\nنمک افشاں ہوا کرے کوئی\n\nاے وفاؔ بعد مرزا غالبؔ کے\nہاں غزل یوں لکھا کرے کوئی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دل میں سو آرمان رکھتا ہوں", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں سو آرمان رکھتا ہوں\nپیارے آخر میں جان رکھتا ہوں\n\nواہ ری عقل تجھ سے دشمن سے\nدوستی کا گمان رکھتا ہوں\n\nصبر چھٹ دل سب اور باتوں میں\nقابل امتحان رکھتا ہوں\n\nآہ تیرے بھی دھیان میں کچھ ہے\nکس قدر تیرا دھیان رکھتا ہوں\n\nتجھ سے ہر بار مل کے میں بے صبر\nنہ ملوں پھر یہ ٹھان رکھتا ہوں\n\nصرف میں تو اثرؔ بسان جرس\nآہ و نالہ بیان رکھتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%88_%D8%A2%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "دل میں مرغان چمن کے تو گماں اور ہی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں مرغان چمن کے تو گماں اور ہی ہے\nپر دل زار کا انداز فغاں اور ہی ہے\n\nقد نوخیز نہیں آفت جاں اور ہی ہے\nجس پہ دل اپنا گیا ہے وہ جواں اور ہی ہے\n\nہم جہاں رہتے ہیں یارو وہ جہاں اور ہی ہے\nوہ جگہ اور ہی ہے اور وہ مکاں اور ہی ہے\n\nشفقی رنگ پہ مت بھولیو اپنے اے ابر\nچشم خشک اور مژۂ اشک فشاں اور ہی ہے\n\nبدن آغشتہ بخوں ہونے پہ موقوف نہیں\nزخمیٔ ناوک مژگاں کا نشاں اور ہی ہے\n\nگو کہ اوروں کی ہوئیں سرمے سے آنکھیں روشن\nسرمۂ بینش صاحب نظراں اور ہی ہے\n\nگرچہ رکھتے ہیں نزاکت یہ سبھی مو کمراں\nوہ نزاکت ہے جدی اور وہ میاں اور ہی ہے\n\nمصحفیؔ گرچہ یہ سب کہتے ہیں ہم سے بہتر\nاپنی پر ریختہ گوئی کی زباں اور ہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D8%BA%D8%A7%D9%86_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل میں میرے پھر خیال آتا ہے آج", "poet_page": "مصنف:ماہ لقا بائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں میرے پھر خیال آتا ہے آج\nکوئی دلبر بے مثال آتا ہے آج\n\nکیوں پڑا بے ہوش اٹھ ہاتف سے اب\nہے ندا صاحب جمال آتا ہے آج\n\nسنگ رہ ہوں ایک ٹھوکر کے لیے\nتس پہ وہ دامن سنبھال آتا ہے آج\n\nمشتری و زہرہ باہم سعد ہیں\nاس لیے ابرو ہلال آتا ہے آج\n\nتم سوا چنداؔ کے دل میں یا علی\nکس کی عظمت کا جلال آتا ہے آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "دل میں پوشیدہ تپ عشق بتاں رکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں پوشیدہ تپ عشق بتاں رکھتے ہیں\nآگ ہم سنگ کی مانند نہاں رکھتے ہیں\n\nتازگی ہے سخن کہنہ میں یہ بعد وفات\nلوگ اکثر مرے جینے کا گماں رکھتے ہیں\n\nبھا گئی کون سی وہ بات بتوں کی ورنہ\nنہ کمر رکھتے ہیں کافر نہ دہاں رکھتے ہیں\n\nمثل پروانہ نہیں کچھ زر و مال اپنے پاس\nہم فقط تم پہ فدا کرنے کو جاں رکھتے ہیں\n\nمحفل یار میں کچھ بات نہ نکلی منہ سے\nکہنے کو شمع کی مانند زباں رکھتے ہیں\n\nہو گیا زرد پڑی جس کی حسینوں پہ نظر\nیہ عجب گل ہیں کہ تاثیر خزاں رکھتے ہیں\n\nعوض ملک جہاں ملک سخن ہے ناسخؔ\nگو نہیں حکم رواں طبع رواں رکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%AA%D9%BE_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل میں پھر وصل کے ارمان چلے آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں پھر وصل کے ارمان چلے آتے ہیں\nمیرے روٹھے ہوئے مہمان چلے آتے ہیں\n\nان کے آتے ہی ہوا حسرت و ارماں کا ہجوم\nآج مہمان پہ مہمان چلے آتے ہیں\n\nآپ ہوں ہم ہوں مئے ناب ہو تنہائی ہو\nدل میں رہ رہ کے یہ ارمان چلے آتے ہیں\n\nاس نے یہ کہہ کے مجھے دور ہی سے روک دیا\nآپ سے جان نہ پہچان چلے آتے ہیں\n\nروٹھ بیٹھے ہیں مگر چھیڑ چلی جاتی ہے\nکبھی پیغام کبھی پان چلے آتے ہیں\n\nیہ رہا حضرت بیخودؔ کا مکاں آؤ چلیں\nابھی دم بھر میں مری جان چلے آتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل میں پہلے تو کھٹکتا نہ تھا ارماں کوئی", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں پہلے تو کھٹکتا نہ تھا ارماں کوئی\nرہ گیا ٹوٹ کے شاید ترا پیکاں کوئی\n\nآئے آئے رخ روشن کو چھپائے آئے\nآئے بکھرائے ہوئے زلف پریشاں کوئی\n\nوہ یہ کہتے ہیں مری جان رہے یا نہ رہے\nوصل کی رات ہے رہ جائے نہ ارماں کوئی\n\nدل رہا سینے میں جب تک رہی مرنے کی دعا\nاب یہ رونا ہے نہیں زیست کا ساماں کوئی\n\nسوئے جب قبر میں آرام سے تب ہم سمجھے\nزندگی تھی کہ یہ تھا خواب پریشاں کوئی\n\nلوٹ جاتی ہے وہیں پاؤں پہ آ کر بجلی\nچلتے چلتے جو اٹھا لیتا ہے داماں کوئی\n\nیہ تو میں کہہ نہیں سکتا کہ وہ دشمن ہوگا\nان کی محفل سے اٹھا ہو کے پشیماں کوئی\n\nجس طرح غم زدہ صفدرؔ کا جنازہ نکلا\nیوں بھی نکلا تھا کبھی غیر کا ارماں کوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DA%BE%D9%B9%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دل میں چمکے ہوئے ہیں داغ بہت", "poet_page": "مصنف:رنج حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > مخبر عشق (1895)", "year": "1895", "text_ur": "دل میں چمکے ہوئے ہیں داغ بہت\nروشن اس گھر میں ہیں چراغ بہت\n\nمیں نہ روؤں تو کیا کروں ساقی\nبھر کے دیتا نہیں ایاغ بہت\n\nشب کو وعدہ ہے ان کے آنے کا\nکیوں نہ روشن کروں چراغ بہت\n\nدل ویراں کو دیکھ کر بولے\nگاؤں ہوتے ہیں بے چراغ بہت\n\nغیر کو سر چڑھائیں وہ توبہ\nصدقے کر ڈالے ایسے زن بہت\n\nدل پر داغ ہی کی سیر کرو\nہے تمہارے لئے یہ باغ بہت\n\nمجھ سے ملتے ہیں جب یہ کہتے ہیں\nآپ کو ہو گیا دماغ بہت\n\nغم سے پائی نجات مرقد میں\nمر کے حاصل ہوا فراغ بہت\n\nنقش پا تک ملا نہ ان کا کہیں\nچھان مارا ہے کوہ و راغ بہت\n\nکچھ تو فرمائیے جناب رنجؔ\nآج ہیں آپ باغ باغ بہت", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D9%85%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA"} {"title": "دل میں کسی کو رکھو دل میں رہو کسی کے", "poet_page": "مصنف:رسا رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں کسی کو رکھو دل میں رہو کسی کے\nسیکھو ابھی سلیقے کچھ روز دلبری کے\n\nفرقت میں اشک حسرت ہم کیا بہا رہیں ہیں\nتقدیر رو رہی ہے پردے میں بیکسی کے\n\nآئے اگر قیامت تو دھجیاں اڑا دیں\nپھرتے ہیں جستجو میں فتنے تری گلی کے\n\nدے کر مجھے تسلی بے چین کر رہے ہو\nہنستے ہو وعدہ کر کے قربان اس ہنسی کے\n\nیہ حضرت رسا بھی دیوانے ہو گئے ہیں\nچکر لگا رہے ہیں اک شوخ کی گلی کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92"} {"title": "دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں\nکتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں\n\nدنیائے دل تباہ کئے جا رہا ہوں میں\nصرف نگاہ و آہ کئے جا رہا ہوں میں\n\nفرد عمل سیاہ کئے جا رہا ہوں میں\nرحمت کو بے پناہ کئے جا رہا ہوں میں\n\nایسی بھی اک نگاہ کئے جا رہا ہوں میں\nذروں کو مہر و ماہ کئے جا رہا ہوں میں\n\nمجھ سے لگے ہیں عشق کی عظمت کو چار چاند\nخود حسن کو گواہ کئے جا رہا ہوں میں\n\nدفتر ہے ایک معنئ بے لفظ و صوت کا\nسادہ سی جو نگاہ کئے جا رہا ہوں میں\n\nآگے قدم بڑھائیں جنہیں سوجھتا نہیں\nروشن چراغ راہ کئے جا رہا ہوں میں\n\nمعصومئ جمال کو بھی جن پہ رشک ہے\nایسے بھی کچھ گناہ کئے جا رہا ہوں میں\n\nتنقید حسن مصلحت خاص عشق ہے\nیہ جرم گاہ گاہ کئے جا رہا ہوں میں\n\nاٹھتی نہیں ہے آنکھ مگر اس کے روبرو\nنادیدہ اک نگاہ کئے جا رہا ہوں میں\n\nگلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز\nکانٹوں سے بھی نباہ کئے جا رہا ہوں میں\n\nیوں زندگی گزار رہا ہوں ترے بغیر\nجیسے کوئی گناہ کئے جا رہا ہوں میں\n\nمجھ سے ادا ہوا ہے جگرؔ جستجو کا حق\nہر ذرے کو گواہ کئے جا رہا ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل میں کیا کیا ہوس دید بڑھائی نہ گئی", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں کیا کیا ہوس دید بڑھائی نہ گئی\nروبرو ان کے مگر آنکھ اٹھائی نہ گئی\n\nہم رضا شیوہ ہیں تاویل ستم خود کر لیں\nکیا ہوا ان سے اگر بات بنائی نہ گئی\n\nیہ بھی آداب محبت نے گوارا نہ کیا\nان کی تصویر بھی آنکھوں سے لگائی نہ گئی\n\nآہ وہ آنکھ جو ہر سمت رہی صاعقہ پاش\nوہ جو مجھ سے کسی عنوان ملائی نہ گئی\n\nہم سے پوچھا نہ گیا نام و نشاں بھی ان کا\nجستجو کی کوئی تمہید اٹھائی نہ گئی\n\nدل کو تھا حوصلۂ عرض تمنا سو انہیں\nسرگزشت شب ہجراں بھی سنائی نہ گئی\n\nغم دوری نے کشاکش تو بہت کی لیکن\nیاد ان کی دل حسرتؔ سے بھلائی نہ گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%B3_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دل میں ہجوم شوق و تمنا لیے ہوئے", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں ہجوم شوق و تمنا لیے ہوئے\nجاتا ہوں تیری بزم سے کیا کیا لیے ہوئے\n\nنیرنگیٔ جمال ہے جلوہ گہہ خیال\nاس دل میں ہوں میں حسن کی دنیا لیے ہوئے\n\nامید زیست اس کو ہو کیا جس کے واسطے\nآئے پیام موت مسیحا لیے ہوئے\n\nوہ جلوہ گاہ ناز ہو اور چشم شوق میں\nہوں کس قدر میں دل میں تمنا لیے ہوئے\n\nیہ مسکرا کے کس نے نظر دل پہ ڈال دی\nہر ہر تڑپ ہے شان تمنا لیے ہوئے\n\nارماں کی فکر کس کو تمنا کا ذکر کیا\nدل خود ہے اک نظر کا سہارا لیے ہوئے\n\nڈرنے لگے ہیں اب وہ نظر سے مری منیرؔ\nگویا سکوت بھی ہے تقاضا لیے ہوئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%AC%D9%88%D9%85_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%88_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "دل میں ہر چند ہے خیال اس کا", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں ہر چند ہے خیال اس کا\nنظر آتا نہیں جمال اس کا\n\nوہ جو تھی بے خودی سو ہے موجود\nہجر سے کم نہیں وصال اس کا\n\nہو چکا ہے جگر پسند مژہ\nدل کو مانگے ہے خط و خال اس کا\n\nشیخ اگر سامنے ہو مستوں کے\nنظر آ جائے سب کمال اس کا\n\nہم پڑے اک زوال میں ؔجوشش\nدیکھ کر حسن بے زوال اس کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دل میں ہیں وصل کے ارمان بہت", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں ہیں وصل کے ارمان بہت\nجمع اس گھر میں ہیں مہمان بہت\n\nآئے تو دست جنوں زوروں پر\nچاک کرنے کو گریبان بہت\n\nمیری جانب سے دل اس کا نہ پھرا\nدشمنوں نے تو بھرے کان بہت\n\nلے کے اک دل غم کونین دیا\nآپ کے مجھ پہ ہیں احسان بہت\n\nترک الفت کا ہمیں کو ہے غم\nوہ بھی ہیں دل میں پشیمان بہت\n\nدل کے ویرانے کا ہے عالم کچھ اور\nہم نے دیکھے ہیں بیابان بہت\n\nخاک ہونے کو ہزاروں حسرت\nخون ہونے کو ہیں ارمان بہت\n\nصدمۂ ہجر اٹھانا مشکل\nجان دینا تو ہے آسان بہت\n\nرشک جن پر ہے فرشتوں کو حفیظؔ\nایسے دنیا میں ہیں انسان بہت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%A8%DB%81%D8%AA"} {"title": "دل میں ہے اس کے مدعی کا عشق", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں ہے اس کے مدعی کا عشق\nخاک سمجھے ہے وہ کسی کا عشق\n\nاچھی صورت کا ہوں میں دیوانہ\nنے مجھے حور نے پری کا عشق\n\nکیوں خفا ہم سے ہو کہ ہوتا ہے\nآدمی کو ہی آدمی کا عشق\n\nجان جاتی ہے ہر ادا پہ چلی\nنہ سنا ایسی رفتگی کا عشق\n\nخوب روز طلب ہیں اور ہمیں\nخار رکھتا ہے مفلسی کا عشق\n\nاپنے موسم میں کیسا ہوتا ہے\nنونہالوں کو سرکشی کا عشق\n\nمصحفیؔ اک غزل تو اور بھی لکھ\nگر تجھے ہے رقم زنی کا عشق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AF%D8%B9%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "دل میں ہے غم و رنج و الم حرص و ہوا بند", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں ہے غم و رنج و الم حرص و ہوا بند\nدنیا میں مخمس کا ہمارے نہ کھلا بند\n\nہم دام میں پھنستے ہی ہوئے عاشق صیاد\nیہ اور بھی اک بند پہ مضبوط لگا بند\n\nاے حضرت دل جائیے میرا بھی خدا ہے\nبے آپ کے رہنے کا نہیں کام مرا بند\n\nاے محتسب اک دم سے تری کتنی جفائیں\nشیشے کا ہے دم بند صراحی کا گلا بند\n\nدم رکتے ہی سینہ سے نکل پڑتے ہیں آنسو\nبارش کی علامت ہے جو ہوتی ہے ہوا بند\n\nکہتے تھے ہم اے داغؔ وہ کوچہ ہے خطرناک\nچھپ چھپ کے مگر آپ کا جانا نہ ہوا بند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D9%88_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AD%D8%B1%D8%B5_%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%AF"} {"title": "دل میں ہے کیا جانئے کس کا خیال نقش پا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں ہے کیا جانئے کس کا خیال نقش پا\nلگ گئیں آنکھیں زمیں سے جو مثال نقش پا\n\nطاقت اٹھنے کی نہیں ہے تن میں ضعف عشق سے\nحال اپنا ان دنوں ہے حسب حال نقش پا\n\nصفحۂ صحرا میں ہے خار مغیلاں جوں الف\nخوب اے مجنوں تری آئی ہے فال نقش پا\n\nیک قلم اے گل بدن رشک گل قالیں ہے دیکھ\nفرش خاکستر ہے تیرا یہ نہال نقش پا\n\nدر فشانی سے تری رہتا ہے ہم چشم صدف\nتھا یہی اے چشم تر تجھ سے سوال نقش پا\n\nٹکٹکی یاں تک بندھی ہے گی کہ خال مردمک\nبن گیا اس شوخ کا ہر وجہ خال نقش پا\n\nسوجھتا ہے ہاتھ سے اس ناتوانی کے نصیرؔ\nرفتہ رفتہ ہوں گے اک دن پائمال نقش پا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%BE%D8%A7"} {"title": "دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں\nیعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوں\n\nآہ میں درد کی تاثیر لیے بیٹھا ہوں\nدل میں اک خون بھرا تیر لیے بیٹھا ہوں\n\nاک ذرا سی خلش درد جگر پر یہ گھمنڈ\nجیسے کل عشق کی جاگیر لیے بیٹھا ہوں\n\nہے مجھے ساز طرب سوختہ سامانی دل\nپردۂ خاک میں اکسیر لیے بیٹھا ہوں\n\nچور شیشے پہ نظر پڑتے ہی دل یاد آیا\nمٹنے والے تری تصویر لیے بیٹھا ہوں\n\nقید کو توڑ کے سمجھا کہ سہارا توڑا\nہاتھ میں پاؤں کی زنجیر لیے بیٹھا ہوں\n\nآرزوؔ ہو چکی سو مرتبہ دنیا بیدار\nاور میں سوئی ہوئی تقدیر لیے بیٹھا ہوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "دل نا مطمئن اندیشۂ برق تپاں میں ہے", "poet_page": "مصنف:نہال سیوہاروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل نا مطمئن اندیشۂ برق تپاں میں ہے\nجو بے تابی قفس میں تھی وہی اب آشیاں میں ہے\n\nمری بے تابئ دل کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا\nخدا جانے ترا حرف تسلی کس زباں میں ہے\n\nیہی انداز ہیں تو غم نہیں کچھ بعد منزل کا\nامنگیں جاگ اٹھی ہیں زندگی سی کارواں میں ہے\n\nاسی کے راگ سے گونجیں گی کل راہیں مسرت کی\nیہ مانا آج انساں منزل آہ و فغاں میں ہے\n\nکوئی نسبت نہیں منزل رسی کو رہ نوردی سے\nوہ لذت کامیابی میں کہاں جو امتحاں میں ہے\n\nیہ تخصیص چمن کیا التجائے باغباں کیسی\nبہت اے ہمت پرواز گنجائش جہاں میں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%B7%D9%85%D8%A6%D9%86_%D8%A7%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%B4%DB%82_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D8%AA%D9%BE%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟\nآخر اس درد کی دوا کیا ہے؟\n\nہم ہیں مشتاق اور وہ بےزار\nیا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟\n\nمیں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں\nکاش پوچھو کہ مدّعا کیا ہے\n\nجب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود\nپھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟\n\nیہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں؟\nغمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے؟\n\nشکنِ زلفِ عنبریں کیوں ہے\nنگہِ چشمِ سرمہ سا کیا ہے؟\n\nسبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں؟\nابر کیا چیز ہے؟ ہوا کیا ہے؟\n\nہم کو ان سے وفا کی ہے امّید\nجو نہیں جانتے وفا کیا ہے؟\n\nہاں بھلا کر ترا بھلا ہو گا\nاَور درویش کی صدا کیا ہے؟\n\nجان تم پر نثار کرتا ہوں\nمیں نہیں جانتا دعا کیا ہے؟\n\nمیں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ\nمفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل ناداں مرا ہے بے تقصیر", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ناداں مرا ہے بے تقصیر\nذبح کرتے ہو اوس کوں بے تکبیر\n\nنقش دیوار صحن گلشن ہے\nجس نے دیکھا ہے یار کی تصویر\n\nعاشقوں کوں نہیں ہے رسوائی\nمصحف عشق کی ہے یہ تفسیر\n\nگردش چشم یار بے جا نہیں\nدل کے لینے کی ہے اسے تدبیر\n\nبو الہوس کب تلک رہے آزاد\nکھول صیاد زلف کی زنجیر\n\nجانتی ہے وو زلف عقدہ کشا\nمیرے آشفتہ خواب کی تعبیر\n\nشب ہجراں میں اے سراجؔ مجھے\nاشک ہے شمع اور پلک گلگیر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AA%D9%82%D8%B5%DB%8C%D8%B1"} {"title": "دل ناکام کے ہیں کام خراب", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ناکام کے ہیں کام خراب\nکر لیا عاشقی میں نام خراب\n\nاس خرابات کا یہی ہے مزہ\nکہ رہے آدمی مدام خراب\n\nدیکھ کر جنس دل وہ کہتے ہیں\nکیوں کرے کوئی اپنے دام خراب\n\nابر تر سے صبا ہی اچھی تھی\nمیری مٹی ہوئی تمام خراب\n\nوہ بھی ساقی مجھے نہیں دیتا\nوہ جو ٹوٹا پڑا ہے جام خراب\n\nکیا ملا ہم کو زندگی کے سوا\nوہ بھی دشوار ناتمام خراب\n\nواہ کیا منہ سے پھول جھڑتے ہیں\nخوب رو ہو کے یہ کلام خراب\n\nچال کی رہنمائے عشق نے بھی\nوہ دکھایا جو تھا مقام خراب\n\nداغؔ ہے بدچلن تو ہونے دو\nسو میں ہوتا ہے اک غلام خراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "دل نہ لو دل کا یہ لینا ہے نہ اخفا ہوگا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل نہ لو دل کا یہ لینا ہے نہ اخفا ہوگا\nاس کو دل کہتے ہیں بس لیتے ہی چرچا ہوگا\n\nتم کو ہر آن ادھر ہووے گی حسن آرائی\nہم کو ہر لحظہ ادھر ذوق تماشا ہوگا\n\nہم بھی سو چاہ سے دیکھیں گے تمہاری جانب\nتم سے بھی ضبط تبسم نہ پھر اصلا ہوگا\n\nجوں ہی ہم دیکھیں گے تم اور تبسم ہو گے\nچاہ کا غنچۂ سربستہ وہیں وا ہوگا\n\nگفتگو ہووے گی باہم جو اشارات کے ساتھ\nمتن اس کا بھی حریفوں میں محشا ہوگا\n\nپاؤں تک ہاتھ جو لاویں گے کسی عذر سے ہم\nتاڑنے والوں میں شور اس کا بھی برپا ہوگا\n\nجب یہ تقریر سنی اس شہ خوباں نے نظیرؔ\nہم سے دل لے لیا اور ہنس کے کہا کیا ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D9%84%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D9%84%DB%8C%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دل نہیں ملنے کا پھر میرا ستم گر ٹوٹ کر", "poet_page": "مصنف:فروغ حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل نہیں ملنے کا پھر میرا ستم گر ٹوٹ کر\nچیز یہ ایسی نہیں جڑ جائے گی جو پھوٹ کر\n\nآج ہے دل میں مرے کل ہے عدو کی آنکھ میں\nتجھ میں بھر دی ہے یہ ایسی کس نے شوخی کوٹ کر\n\nاپنے بیگانوں کی نظریں پڑ رہی ہیں آپ پر\nواہ کیا نام خدا نکلی جوانی پھوٹ کر\n\nاس کا دشمن سے تعلق اس کا دشمن سے ملاپ\nسن رہا ہوں آج کل جو کچھ الٰہی چھوٹ کر\n\nاب کہاں نظارۂ گل اب کہاں لطف چمن\nایک آفت میں پڑے ہیں ہم قفس سے چھوٹ کر\n\nبے خبر سوتا ہے کوئی سیج پر آرام سے\nہچکیاں لے لے کے کوئی رو رہا ہے پھوٹ کر\n\nدل نہ پگھلے اور کس کا دل مرا دل حیف ہے\nنازنیں پھر نازنیں تجھ سا جو روئے پھوٹ کر\n\nیہ نہ مانے گا نہ سمجھائے سے سمجھے گا کبھی\nتجھ پہ دل آیا ہے میرا اے ستم گر ٹوٹ کر\n\nیاس و غم رنج و الم نے کر لیا ہے دل میں گھر\nاے خوشیٔ وصل جاناں آئے دن بھی پھوٹ کر\n\nاف رے ذوق جستجو اللہ رے شوق کوئے دوست\nگرد رہ پیچھے رہی جاتی ہے مجھ سے چھوٹ کر\n\nخاک اڑتی ہے دل ویراں میں اب رکھا ہے کیا\nیاس سب کچھ لے گئی ارمان و حسرت لوٹ کر\n\nکیوں ستاتا ہے فروغؔ مبتلا کو اس قدر\nدل نہیں جڑتا نہیں جڑتا ستم گر ٹوٹ کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D9%B9%D9%88%D9%B9_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دل نہیں کھنچتا ہے بن مجنوں بیاباں کی طرف", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل نہیں کھنچتا ہے بن مجنوں بیاباں کی طرف\nخوش نہیں آتا نظر کرنا غزالاں کی طرف\n\nفصل گل کی ہم اسیروں کو خبر کب ہے ولے\nان دنوں میں شور سا کچھ ہے گلستاں کی طرف\n\nآگ کی مجھ کو لگی ہے پیاس یہ کیونکر بجھے\nکیونکہ دیکھوں سیر اس خورشید تاباں کی طرف\n\nاس ہوا میں رحم کر ساقی کہ بے جام شراب\nدیکھ کر چھاتی بھری آتی ہے باراں کی طرف\n\nسحر کے ڈورے جو سنتے تھے سو اب دیکھے یقیںؔ\nدل کھنچا جاتا ہے اس زلف پریشاں کی طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D9%86%DA%86%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%86_%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "دل نیں پکڑی ہے یار کی صورت", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل نیں پکڑی ہے یار کی صورت\nگل ہوا ہے بہار کی صورت\n\nکوئی گل رو نہیں تمہاری شکل\nہم نے دیکھیں ہزار کی صورت\n\nتجھ گلی بیچ ہو گیا ہے دل\nدیدۂ انتظار کی صورت\n\nحسن کا ملک ہم نیں سیر کیا\nکہیں دیکھی نہ پیار کی صورت\n\nاب زمانہ سبھی طرح بگڑا\nکیا بنے روزگار کی صورت\n\nوصل کے بیچ ہجر جا ہے بھول\nجوں نشے میں خمار کی صورت\n\nاس زمانے کی دوستی کے تئیں\nکچھ نہیں اعتبار کی صورت\n\nکچھ ٹھہرتی نہیں کہ کیا ہوگی\nاس دل بے قرار کی صورت\n\nمبتذل اور خراب ہو کر کے\nاپنی لونڈے نیں خوار کی صورت\n\nآبروؔ دیکھ یار کا برو دوش\nدل ہوا ہے کنار کی صورت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%A9%DA%91%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "دل نے غم بے حساب کیا کیا دیکھا", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل نے غم بے حساب کیا کیا دیکھا\nآنکھوں سے جہاں میں خواب کیا کیا دیکھا\nطفلی و شباب و عیش و رنج و راحت\nاس عمر نے انقلاب کیا کیا دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%A8%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دل نے پایا جو مرے مژدہ تری پاتی کا", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل نے پایا جو مرے مژدہ تری پاتی کا\nمنہ پھرا سوئے بدن جان بلب آتی کا\n\nیوں تو اے یار دل افروز تو سب کا ہے ولے\nداغ جاں سوز نرایا ہے مری چھاتی کا\n\nدل دم آہ سحرخیز چلا جاتا ہے\nمطربا چپ ہے تو کیوں وقت ہے پربھاتی کا\n\nدل افسردہ کو ہے سوز دروں سے کیا ربط\nکام کیا خانۂ ویراں میں دیے باتی کا\n\nاس جہاں میں صفت عشق سے موصوف ہیں ہم\nنہ کرو عیب ہمارے ہنر ذاتی کا\n\nیار سن سن کے سب احوال خراب حسرتؔ\nبولا کیا کام ہے یاں ایسے خراباتی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%85%DA%98%D8%AF%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دل و جاں ہم نثار کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:اختر علی اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل و جاں ہم نثار کرتے ہیں\nوہ نگاہوں سے وار کرتے ہیں\n\nحال دل جب انہیں سناتا ہوں\nآنکھ وہ اشک بار کرتے ہیں\n\nہم نے ان سے کبھی گلہ نہ کیا\nوہ تو شکوے ہزار کرتے ہیں\n\nآ بھی جاؤ کہ تاب ضبط نہیں\nہر گھڑی انتظار کرتے ہیں\n\nآنکھ ان سے لڑی ہے جب اخترؔ\nگل و بلبل سا پیار کرتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا\nتمہارے عشق میں سب کچھ تباہ کر لوں گا\n\nاگر مجھے نہ ملیں تم تمہارے سر کی قسم\nمیں اپنی ساری جوانی تباہ کر لوں گا\n\nمجھے جو دیر و حرم میں کہیں جگہ نہ ملی\nترے خیال ہی کو سجدہ گاہ کر لوں گا\n\nجو تم سے کر دیا محروم آسماں نے مجھے\nمیں اپنی زندگی صرف گناہ کر لوں گا\n\nرقیب سے بھی ملوں گا تمہارے حکم پہ میں\nجو اب تلک نہ کیا تھا اب آہ کر لوں گا\n\nتمہاری یاد میں میں کاٹ دوں گا حشر سے دن\nتمہارے ہجر میں راتیں سیاہ کر لوں گا\n\nثواب کے لیے ہو جو گنہ وہ عین ثواب\nخدا کے نام پہ بھی اک گناہ کر لوں گا\n\nحریم حضرت سلمیٰ کی سمت جاتا ہوں\nہوا نہ ضبط تو چپکے سے آہ کر لوں گا\n\nیہ نو بہار یہ ابرو، ہوا یہ رنگ شراب\nچلو جو ہو سو ہو اب تو گناہ کر لوں گا\n\nکسی حسینہ کے معصوم عشق میں اخترؔ\nجوانی کیا ہے میں سب کچھ تباہ کر لوں گا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D9%88_%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7_%D8%A2%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کا\nجو کوئی دم ہے تو افسوس ہے جوانی کا\n\nاگرچہ عمر کے دس دن یہ لب رہے خاموش\nسخن رہے گا سدا میری کم زبانی کا\n\nسبک ہے آوے جو مندیل رکھ نماز کو شیخ\nرہا ہے کون سا اب وقت سرگرانی کا\n\nہزار جان سے قربان بے پری کے ہیں\nخیال بھی کبھو گزرا نہ پرفشانی کا\n\nپھرے ہے کھینچے ہی تلوار مجھ پہ ہر دم تو\nکہ صید ہوں میں تری دشمنی جانی کا\n\nنمود کر کے وہیں بحر غم میں بیٹھ گیا\nکہے تو میرؔ بھی اک بلبلا تھا پانی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دل وہ شے ہے کہ جو دیکھے تو کھچے یار کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل وہ شے ہے کہ جو دیکھے تو کھچے یار کے ساتھ\nیہ دکاں وہ ہے کہ چلتی ہے خریدار کے ساتھ\n\nایک دم بھر کے لیے ہم نہ لگایا تھا گلے\nعمر ہی کٹ گئی قاتل تری تلوار کے ساتھ\n\nطعنۂ ظلم و ستم لیلیٰ و شیریں پہ عبث\nکیا کیا آپ نے عشق دل افگار کے ساتھ\n\nتیغ چل نکلی دم قتل گلے پر میرے\nمیں نے تشبیہ جو دی ابروئے خم دار کے ساتھ\n\nحشر اغیار کا شداد کے ہوگا ہم راہ\nجھوٹ کہتا ہوں تو بس حشر ہو اغیار کے ساتھ\n\nنہ ڈریں خلد میں جاتے ہوئے جو رضواں سے\nاس کے دروازے پہ رک جائیں خبردار کے ساتھ\n\nسو گئے بخت شب وعدہ یہ مجھ سے کہہ کر\nکون جاگا ہے ترے دیدۂ بے دار کے ساتھ\n\nاس قدر چرب زبانی نہیں اچھی اے شمع\nبزم جاناں میں زباں کٹتی ہے گفتار کے ساتھ\n\nحشر میں ظالم و مظلوم جدا ہوں گے دریغ\nہائے واں بھی نہ رہے اس بت عیار کے ساتھ\n\nہائے افسوس ہے سالکؔ کی جواں مرگی کا\nعشق کی بات گئی اس جگر افگار کے ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%88%DB%81_%D8%B4%DB%92_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DA%BE%DA%86%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "دل ویراں بھی تھا مسکن کسی کا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ویراں بھی تھا مسکن کسی کا\nاسی میں نور تھا روشن کسی کا\n\nگڑھی ہے آرزو زندہ ہے حسرت\nکسی کا گھر ہے دل مدفن کسی کا\n\nبپا ہے شور محشر قتل گہہ میں\nکسی کا ہاتھ ہے دامن کسی کا\n\nدو عالم کو تہ و بالا نہ کر دے\nبدلنا ناز ہے چتون کسی کا\n\nگلستاں میں ذرا جا کر تو دیکھو\nکسی کی خندگی شیون کسی کا\n\nبھروسا چرخ پر اے دل نہ کرنا\nہوا کب دوست یہ پر فن کسی کا\n\nچراغ عشق ہے آنسو سے روشن\nکسی کا خون دل روغن کسی کا\n\nتمنا شوق سے نگراں ہے اس میں\nکسی کا زخم دل روزن کسی کا\n\nجمیلہؔ دشت میں کہتی تھی رو کر\nالٰہی دل نہ ہو دشمن کسی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D8%B3%DA%A9%D9%86_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دل ٹک ادھر نہ آیا ایدھر سے کچھ نہ پایا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "دل ٹک ادھر نہ آیا ایدھر سے کچھ نہ پایا\nکہنے کو ترک لے کر اک سوانگ یاں بنایا\nدریوزہ کرتے گزری گلیوں میں عمر اپنی\nدرویش کب ہوئے ہم تکیہ کہاں بنایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%B9%DA%A9_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل ٹھہرا ایک تبسم پر کچھ اور بہا اے جان نہیں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ٹھہرا ایک تبسم پر کچھ اور بہا اے جان نہیں\nگر ہنس دیجے اور لے لیجے تو فائدہ ہے نقصان نہیں\n\nیہ ناز ہے یا استغنا ہے یا طرز تغافل ہے یارو\nجو لاکھ کوئی تڑپے سسکے فریاد کرے کچھ دھیان نہیں\n\nجب سنتا ہے احوال مرا یوں کہتا ہے عیاری سے\nہے کون وہ اس سے ہم کو تو کچھ جان نہیں پہچان نہیں\n\nکچھ بن نہیں آتا کیا کیجے کس طور سے ملیے اے ہمدم\nوہ دیکھ ہمیں رک جاتا ہے اور ہم کو چین اک آن نہیں\n\nتر دیکھ کے میری آنکھوں کو یہ بات سناتا ہے ہنس کر\nہیں کہتے جس کو چاہ میاں وہ مشکل ہے آسان نہیں\n\nدل پھنس کر اس کی زلفوں میں تدبیر رہائی کی مت کر\nکب چھوٹا اس کے دام سے تو وہ دانا ہے نادان نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AA%D8%A8%D8%B3%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیا\nدرویش جس جگہ کہ ہوئی شام رہ گیا\n\nجھگڑے میں ہم مبادی کے یاں تک پھنسے کہ آہ\nمقصود تھا جو اپنے تئیں کام رہ گیا\n\nناپختگی کا اپنی سبب اس ثمر سے پوچھ\nجلدی سے باغباں کی وہ جو خام رہ گیا\n\nصیاد تو تو جا، ہے پر اس کی بھی کچھ خبر\nجو مرغ ناتواں کہ تہ دام رہ گیا\n\nقسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند\nکچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا\n\nماریں ہیں ہم نگین سلیماں کو پشت دست\nجب مٹ گیا نشان تو گو نام رہ گیا\n\nنے تجھ پہ وہ بہار رہی اور نہ یاں وہ دل\nکہنے کو نیک و بد کے اک الزام رہ گیا\n\nموقوف کچھ کمال پہ یاں کام دل نہیں\nمجھ کو ہی دیکھ لینا کہ ناکام رہ گیا\n\nقائمؔ گئے سب اس کی زباں سے جو تھے رفیق\nاک بے حیا میں کھانے کو دشنام رہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل پر اس کاکل رسا کی چوٹ", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل پر اس کاکل رسا کی چوٹ\nقہر کی چوٹ ہے بلا کی چوٹ\n\nہیں وہ افسردہ میری آہوں سے\nپھول کو ہے بہت ہوا کی چوٹ\n\nنگۂ ناز سے خدا کی پناہ\nکیا بچائے کوئی قضا کی چوٹ\n\nآفریں دل کو جو اٹھاتا ہے\nدم بدم خنجر ادا کی چوٹ\n\nگر پڑی آسمان سے بجلی\nہنس کے قاتل نے کی بلا کی چوٹ\n\nبن گئی خون دست قاتل میں\nرنگ لائی دل حنا کی چوٹ\n\nتیر مژگاں چلے جدا دل پر\nغمزۂ یار نے جدا کی چوٹ\n\nباغ میں سب بکس گئیں کلیاں\nنہ اٹھی دامن صبا کی چوٹ\n\nدل یہ کہتا ہے کچھ خطا کر کے\nکھائیے دست دل ربا کی چوٹ\n\nہو گیا ماہ چرخ دو ٹکڑے\nتھی یہ انگشت مصطفیٰ کی چوٹ\n\nغیر کیا سمجھے درد دل کو جلیلؔ\nآشنا جانے آشنا کی چوٹ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7%DA%A9%D9%84_%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D9%88%D9%B9"} {"title": "دل پر خوں جو جام ہے میرا", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل پر خوں جو جام ہے میرا\nخون شرب مدام ہے میرا\n\nرند و آوارہ نام ہے میرا\nسب میں یہ احترام ہے میرا\n\nعارض و زلف یار کا دھیان\nمونس صبح و شام ہے میرا\n\nعمر گزری کہ مثل نقش قدم\nاس کی رہ میں قیام ہے میرا\n\nآہ اک دن بھی دیکھ کر نہ کہا\nیہ بھی کوئی نقش گام ہے میرا\n\nقاصد اس حرف نا شنو تک جلد\nیہی جاگہ پیام ہے میرا\n\nابھی آنا ہے تو شتابی آ\nکام ورنہ تمام ہے میرا\n\nہے اسی بت کے طاق ابرو کو\nجو سجود و سلام ہے میرا\n\nگاہ بے خود ہوں گہہ بہ خود ہر دم\nکوچ اور یہ مقام ہے میرا\n\nاے جہاں دارؔ ہوں میں صید اسیر\nہر خم زلف دام ہے میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ\nشیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ\n\nشیشہ بازی تو تنک دیکھنے آ آنکھوں کی\nہر پلک پر مرے اشکوں سے رواں ہے شیشہ\n\nرو سفیدی ہے نقاب رخ شور مستی\nریش قاضی کے سبب پنبہ دہاں ہے شیشہ\n\nمنزل مستی کو پہنچے ہے انہیں سے عالم\nنشۂ مے بلد و سنگ نشاں ے شیشہ\n\nدرمیاں حلقۂ مستاں کے شب اس کی جا تھی\nدور ساغر میں مگر پیر مغاں ہے شیشہ\n\nجا کے پوچھا جو میں یہ کارگہ مینا میں\nدل کی صورت کا بھی اے شیشہ گراں ہے شیشہ\n\nکہنے لاگے کہ کدھر پھرتا ہے بہکا اے مست\nہر طرح کا جو تو دیکھے ہے کہ یاں ہے شیشہ\n\nدل ہی سارے تھے پہ اک وقت میں جو کر کے گداز\nشکل شیشے کی بنائے ہیں کہاں ہے شیشہ\n\nجھک گیا دیکھ کے میں میرؔ اسے مجلس میں\nچشم بد دور طرحدار جواں ہے شیشہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%81"} {"title": "دل پر داغ باغ کس کا ہے", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل پر داغ باغ کس کا ہے\nدیدۂ تر ایاغ کس کا ہے\n\nمے کدہ صحن باغ کس کا ہے\nساغر گل ایاغ کس کا ہے\n\nداغ چمکا چلی نسیم بہار\nیہ ہوا میں چراغ کس کا ہے\n\nکیوں کہیں زلف یار کو سنبل\nیاں پریشاں دماغ کس کا ہے\n\nدل پر داغ کی یہی ہے بہار\nنہ کھلے خانہ باغ کس کا ہے\n\nناصحا مغز کیوں پھراتا ہے\nچل ترا سا دماغ کس کا ہے\n\nچار عنصر کے سب تماشے ہیں\nواہ یہ چار باغ کس کا ہے\n\nعرش عالی پہ فکر عالی ہے\nہم نے پایا سراغ کس کا ہے\n\nکس کا مسکن ہے سینۂ عارف\nدل روشن چراغ کس کا ہے\n\nجیب گل کس پہ چاک رہتا ہے\nدل میں لالے کے داغ کس کا ہے\n\nدین و دنیا کو ترک کر بیٹھے\nاور نام انفراغ کس کا ہے\n\nاے جنوں تیرے واسطے سب ہیں\nباغ کس کا ہے راغ کس کا ہے\n\nیار اللہ رے تیرا عالم\nدیکھ یہ دل میں داغ کس کا ہے\n\nماہرو اور بھی ہیں دنیا میں\nیوں فلک پر دماغ کس کا ہے\n\nاے صباؔ اس زمیں میں ایسے شعر\nایسا عالی دماغ کس کا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل پر لگا رہی ہے وہ نیچی نگاہ چوٹ", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل پر لگا رہی ہے وہ نیچی نگاہ چوٹ\nپھر چوٹ بھی وہ چوٹ جو ہے بے پناہ چوٹ\n\nپھوڑا سر اس کے در سے کہ برسے جنوں میں سنگ\nمجھ کو دلا رہی ہے عجب اشتباہ چوٹ\n\nبجلی کا نام سنتے ہی آنکھیں جھپک گئیں\nروکے گی میری آہ کی کیا یہ نگاہ چوٹ\n\nلالچ اثر کا ہو نہ کہیں باعث ضرر\nٹکرا کے سر فلک سے نہ کھا جائے آہ چوٹ\n\nمنہ ہر دہان زخم کا سیتے ہیں اس لیے\nمطلب ہے حشر میں بھی نہ ہو داد خواہ چوٹ\n\nملتی ہے چپ کی داد یہ مشہور بات ہے\nجل جائے آسماں جو کرے ضبط آہ چوٹ\n\nاٹھتے ہی دل میں ٹیس جگر میں ٹپک ہوئی\nکرتی ہے درد ہجر سے گویا نباہ چوٹ\n\nچوکھٹ پہ تیری شب کو پٹکتا ہے سر حفیظؔ\nباور نہ ہو تو دیکھ جبین ہے گواہ چوٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%8C%DA%86%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%86%D9%88%D9%B9"} {"title": "دل پرستار ہیں سب خلق کے مورت کی تری", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل پرستار ہیں سب خلق کے مورت کی تری\nدیدہ ہیں قبلہ نما کعبۂ صورت کی تری\n\nغیر کے واسطے پکڑے ہے تو ہر دم سو بار\nمتحمل نہیں ہم ایسے کدورت کی تری\n\nبو الہوس جان نہیں کھونے کے خاطر سے تری\nہم ہیں سر دینے کو ہیں وقت ضرورت کی تری\n\nمصحف حسن ہے لو مکھڑا ترا ہے والشمس\nیاد رہتی ہے مجھے نت اسی صورت کی تری\n\nنئیں پرستش سے جہاں دارؔ کی تو خوش ورنہ\nدل پرستار ہیں سب خلق کے مورت کی تری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8_%D8%AE%D9%84%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DB%8C"} {"title": "دل پریشان ہوا جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل پریشان ہوا جاتا ہے\nاور سامان ہوا جاتا ہے\n\nخدمت پیر مغاں کر زاہد\nتو اب انسان ہوا جاتا ہے\n\nموت سے پہلے مجھے قتل کرو\nاس کا احسان ہوا جاتا ہے\n\nلذت عشق الٰہی مٹ جائے\nدرد ارمان ہوا جاتا ہے\n\nدم ذرا لو کہ مرا دم تم پر\nابھی قربان ہوا جاتا ہے\n\nگریہ کیا ضبط کروں اے ناصح\nاشک پیمان ہوا جاتا ہے\n\nبے وفائی سے بھی رفتہ رفتہ\nوہ مری جان ہوا جاتا ہے\n\nعرصۂ حشر میں وہ آ پہنچے\nصاف میدان ہوا جاتا ہے\n\nمدد اے ہمت دشوارپسند\nکام آسان ہوا جاتا ہے\n\nچھائی جاتی ہے یہ وحشت کیسی\nگھر بیابان ہوا جاتا ہے\n\nشکوہ سن آنکھ ملا کر ظالم\nکیوں پشیمان ہوا جاتا ہے\n\nآتش شوق بجھی جاتی ہے\nخاک ارمان ہوا جاتا ہے\n\nعذر جانے میں نہ کر اے قاصد\nتو بھی نادان ہوا جاتا ہے\n\nمضطرب کیوں نہ ہوں ارماں دل میں\nقید مہمان ہوا جاتا ہے\n\nداغؔ خاموش نہ لگ جائے نظر\nشعر دیوان ہوا جاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل پکارا پھنس کے کوئے یار میں", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "دل پکارا پھنس کے کوئے یار میں\nروک رکھا ہے مجھے گل زار میں\n\nفرق کیا مقتل میں اور گل زار میں\nڈھال میں ہیں پھول پھل تلوار میں\n\nلطف دنیا میں نہیں تکرار میں\nلیکن ان کے بوسۂ رخسار میں\n\nتھا جو شب کو سایۂ رخسار میں\nتازگی کتنی ہے باسی ہار میں\n\nفرط مایوسی نے مردہ حسرتیں\nدفن کر دی ہیں دل بیمار میں\n\nشاد ہو جاتی ہے دنیا اے روپے\nکیا کرامت ہے تری جھنکار میں\n\nآتش الفت کی دھڑکن بڑھ گئی\nگر پڑا دل شعلۂ رخسار میں\n\nآہ کے قبضہ میں ہے تاثیر یا\nتیغ ہے دست علمبردار میں\n\nنشتر مژگاں کی تیزی کے سبب\nایک کانٹا ہے دل پر خار میں\n\nآب پیکاں پاس ہے لیکن نصیب\nپھر بھی خشکی ہے لب سوفار میں\n\nخیر ہو پرویںؔ دل مضطر مرا\nلے چلا پھر کوچۂ دل دار میں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D9%86%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل پہ آفت آئی اب اک آن میں", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل پہ آفت آئی اب اک آن میں\nزلف کچھ کہتی ہے اس کے کان میں\n\nساتھ اس کے غیر بھی آ جائے گا\nکیوں کہ اس کافر کو لاؤں دھیان میں\n\nقیمت دل چاہیے بوسے کئی\nآگے جو آئے ترے ایمان میں\n\nہے یہ نفرت غیر سے لائے نہیں\nرشک کا مضموں بھی ہم دیوان میں\n\nپوچھتا کیا ہے ہماری زندگی\nجیتے ہیں پر موت کے ارمان میں\n\nطور مرنے کے نہ تھے سالکؔ ترے\nہاں مگر رکھتا ہے کیا انسان میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%DA%A9_%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل پہ جو گزرے ہے میرے آہ میں کس سے کہوں", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل پہ جو گزرے ہے میرے آہ میں کس سے کہوں\nکیا کروں میں اے مرے اللہ میں کس سے کہوں\n\nجب نہ تم ہی حال دل میرا کبھی آ کر سنو\nتو یہ فرماؤ مجھے، اللہ میں کس سے کہوں\n\nمیرے صاحب کے ذرا سے ربط پر بگڑیں نہ غیر\nغیر سے تم سے جو کچھ ہے راہ میں کس سے کہوں\n\nدوستو اب کہنے سننے سے نہیں کچھ فائدہ\nوہ تو میرے غم سے ہے آگاہ میں کس سے کہوں\n\nیوں ہی ناحق سر پھراتے ہیں مرا آ آ کے لوگ\nحال اپنا اے بت گمراہ میں کس سے کہوں\n\nبے قراری کا سبب اپنی کہوں کس سے نظامؔ\nدل پہ جو ہے صدمۂ جاں کاہ میں کس سے کہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A2%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالا\nلے یار مرے سلمہ اللہ تعالی\n\nکچھ میں نہیں اس دل کی پریشانی کا باعث\nبرہم ہی مرے ہاتھ لگا تھا یہ رسالا\n\nمعمور شرابوں سے کبابوں سے ہے سب دیر\nمسجد میں ہے کیا شیخ پیالہ نہ نوالا\n\nگزرے ہے لہو واں سر ہر خار سے اب تک\nجس دشت میں پھوٹا ہے مرے پاؤں کا چھالا\n\nگر قصد ادھر کا ہے تو ٹک دیکھ کے آنا\nیہ دیر ہے زہاد نہ ہو خانۂ خالا\n\nجس گھر میں ترے جلوے سے ہو چاندنی کا فرش\nواں چادر مہتاب ہے مکڑی کا سا جالا\n\nدشمن نہ کدورت سے مرے سامنے ہو جو\nتلوار کے لڑنے کو مرے کیجو حوالہ\n\nناموس مجھے صافی طینت کی ہے ورنہ\nرستم نے مری تیغ کا حملہ نہ سنبھالا\n\nدیکھے ہے مجھے دیدۂ پر خشم سے وہ میرؔ\nمیرے ہی نصیبوں میں تھا یہ زہر کا پیالا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7_%DB%81%D9%84%D8%A7%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D9%BE%D9%B9_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86_%DA%A9%D8%B3%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "دل چرا لے گئی دزدیدہ نظر دیکھ لیا", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل چرا لے گئی دزدیدہ نظر دیکھ لیا\nہم نہ کہتے تھے کہ اس چور نے گھر دیکھ لیا\n\nبندہ پرور غم فرقت کا اثر دیکھ لیا\nداغ دل دیکھ لیا داغ جگر دیکھ لیا\n\nقد بھی کم عمر بھی کم مشق ستم اور بھی کم\nکر چکے قتل مجھے جائیے گھر دیکھ لیا\n\nشکوے کے ساتھ لگاوٹ بھی چلی جاتی ہے\nجب کیا کچھ تو کنکھیوں سے ادھر دیکھ لیا\n\nدادخواہوں پہ نئی حشر میں آفت آئی\nصف کی صف لوٹ گئی اس نے جدھر دیکھ لیا\n\nقتل عشاق پہ لو اور اٹھاؤ خنجر\nجھک گئی بار نزاکت سے کمر دیکھ لیا\n\nنہ چھٹا تم سے یہ مے خانے کا رستہ بیخودؔ\nمنہ چھپائے ہوئے جاتے ہو کدھر دیکھ لیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%86%D8%B1%D8%A7_%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D8%B2%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل چرا کر نظر چرائی ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل چرا کر نظر چرائی ہے\nلٹ گئے لٹ گئے دہائی ہے\n\nایک دن مل کے پھر نہیں ملتے\nکس قیامت کی یہ جدائی ہے\n\nاے اثر کر نہ انتظار دعا\nمانگنا سخت بے حیائی ہے\n\nمیں یہاں ہوں وہاں ہے دل میرا\nنارسائی عجب رسائی ہے\n\nاس طرح اہل ناز ناز کریں\nبندگی ہے کہ یہ خدائی ہے\n\nپانی پی پی کے توبہ کرتا ہوں\nپارسائی سی پارسائی ہے\n\nوعدہ کرنے کا اختیار رہا\nبات کرنے میں کیا برائی ہے\n\nکب نکلتا ہے اب جگر سے تیر\nیہ بھی کیا تیری آشنائی ہے\n\nداغؔ ان سے دماغ کرتے ہیں\nنہیں معلوم کیا سمائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%86%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل چرانا یہ کام ہے تیرا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل چرانا یہ کام ہے تیرا\nلے گیا ہے تو نام ہے تیرا\n\nہے قیامت بپا کہ جلوے میں\nقامت خوش خرام ہے تیرا\n\nجس نے عالم کیا ہے زیر و زبر\nیہ خط مشک فام ہے تیرا\n\nدید کرنے کو چاہئیں آنکھیں\nہر طرف جلوہ عام ہے تیرا\n\nکس کا یہ خوں کیے تو آتا ہے\nدامن افشاں تمام ہے تیرا\n\nہو نہ ہو تو ہماری مجلس میں\nتذکرہ صبح و شام ہے تیرا\n\nتیغ ابرو ہمیں بھی دے اک زخم\nسر پہ عالم کے دام ہے تیرا\n\nتو جو کہتا ہے مصحفیؔ ادھر آ\nمصحفیؔ کیا غلام ہے تیرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "دل ڈھونڈھتی ہے نگہ کسی کی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ڈھونڈھتی ہے نگہ کسی کی\nآئینے کی ہے نہ آرسی کی\n\nمالک مرے میں نے مے کشی کی\nلیکن یہ خطا کبھی کبھی کی\n\nکیا شکل ہے وصل میں کسی کی\nتصویر ہیں اپنی بے بسی کی\n\nکھل جائے صبا کی پاک بازی\nبو پھوٹے جو باغ میں کلی کی\n\nکم بخت کبھی نہ خوش ہوا تو\nاے غم تری ہر طرح خوشی کی\n\nمنہ ہم نے ہنسی ہنسی میں چوما\nجو ہو گئی بات تھی ہنسی کی\n\nتانا سا تنا ہے میکدے میں\nپگڑی اچھلی ہے شیخ جی کی\n\nہم کو جو دیا تو اور کا دل\nدل لے کے یہ اچھی دل لگی کی\n\nیوں بھی تو چلا نہ کام اپنا\nدشمن سے بھی ہم نے دوستی کی\n\nپائے گئے جس میں دل کے اجزا\nہوگی وہ خاک اسی گلی کی\n\nایسی ہے کہ پی سکے گا واعظ\nہے تازہ کشید آج ہی کی\n\nمے خلد میں ہوگی صورت حور\nمیخانے میں شکل ہے پری کی\n\nگھر ہے نہ کہیں نشاں لحد کا\nمٹی ہے خراب بے کسی کی\n\nسچ یہ ہے کہ زندگی ہو یا موت\nہر چیز بری ہے مفلسی کی\n\nاچھی ہے گزک سے، تلخ مے سے\nملتی رہے روز روکھی‌ پھیکی\n\nکچھ کچھ ہے ریاضؔ میرؔ کا رنگ\nکچھ شان ہے ہم میں مصحفیؔ کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%DA%BE%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%DA%AF%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "دل کا معاملہ جو سپرد نظر ہوا", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کا معاملہ جو سپرد نظر ہوا\nدشوار سے یہ مرحلہ دشوار تر ہوا\n\nابھرا ہر اک خیال کی تہہ سے ترا خیال\nدھوکا تری صدا کا ہر آواز پر ہوا\n\nراہوں میں ایک ساتھ یہ کیوں جل اٹھے چراغ\nشاید ترا خیال مرا ہم سفر ہوا\n\nسمٹی تو اور پھیل گئی دل میں موج درد\nپھیلا تو اور دامن غم مختصر ہوا\n\nلہرا کے تیری زلف بنی اک حسین شام\nکھل کر ترے لبوں کا تبسم سحر ہوا\n\nپہلی نظر کی بات تھی پہلی نظر کے ساتھ\nپھر ایسا اتفاق کہاں عمر بھر ہوا\n\nدل میں جراحتوں کے چمن لہلہا اٹھے\nمضطرؔ جب اس کے شہر سے اپنا گزر ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%85%D9%84%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D9%BE%D8%B1%D8%AF_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "دل کا معاملہ نگۂ آشنا کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کا معاملہ نگۂ آشنا کے ساتھ\nایسے ہے جیسے رابطۂ گل صبا کے ساتھ\n\nدیکھو تو پیچ و تاب کی صورت کہ مل گئی\nشام فراق بھی تری زلف دوتا کے ساتھ\n\nیہ کیا بہار ہے کہ دکھائی گئی مجھے\nشعلوں کی آنچ بھی گل رنگیں قبا کے ساتھ\n\nیہ کیا طلسم ہے کہ سنایا گیا مجھے\nساز شکست دل تری آواز پا کے ساتھ\n\nاے دوستو یہی ہے قیامت کی روز حشر\nہم بھی جگائے جائیں گے خلق خدا کے ساتھ\n\nگلشن میں آئی پیرہن رنگ بن گئی\nوہ موج خوں کہ چہرہ کشا تھی حنا کے ساتھ\n\nعابدؔ بیان جلوۂ ناگاہ کیا کروں\nخوبی ادا کے ساتھ ہے شوخی حیا کے ساتھ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%85%D9%84%DB%81_%D9%86%DA%AF%DB%82_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "دل کا چھالا پھوٹا ہوتا", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کا چھالا پھوٹا ہوتا\nکاش یہ تارا ٹوٹا ہوتا\n\nشیشۂ دل کو یوں نہ اٹھاؤ\nدیکھو ہاتھ سے چھوٹا ہوتا\n\nچشم حقیقت بیں اک ہوتی\nباغ کا بوٹا بوٹا ہوتا\n\nخیر ہوئی اے جنبش مژگاں\nزخم کا ٹانکا ٹوٹا ہوتا\n\nآج عزیزؔ اس شوخ نظر نے\nخانۂ دل کو لوٹا ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%B9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کو", "poet_page": "مصنف:ناجی شاکر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کو\nجیتے جی ڈھونڈے سو پاوے خبر کرو بے خبروں کو\n\nتوشک بالا پوش رضائی ہے بھولے مجنوں برسوں تک\nجب دکھلاوے زلف سجن کی بن میں آوتے ابروں کو\n\nکافر نفس ہر ایک کا ترسا زر کوں پایا بختوں سیں\nآتش کی پوجا میں گزری عمر تمام ان گبروں کو\n\nمرد جو عاجز ہو تن من سیں کہے خوش آمد باور کر\nمحتاجی کا خاصا ہے روباہ کرے ہے ببروں کو\n\nوعدا چوک پھر آیا ناجیؔ درس کی خاطر پھڑکے مت\nچھوٹ گلے تیرے اے ظالم صبر کہاں بے صبروں کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%AC_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D8%B1%DA%AF%D8%B2_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D9%82%D8%A8%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88"} {"title": "دل کا گلہ فلک کی شکایت یہاں نہیں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کا گلہ فلک کی شکایت یہاں نہیں\nوہ مہرباں نہیں تو کوئی مہرباں نہیں\n\nہم آج تک چھپاتے ہیں یاروں سے راز عشق\nحالانکہ دشمنوں سے یہ قصہ نہاں نہیں\n\nزیبا نہیں ہے دوست سے کرنا معاملہ\nکچھ ورنہ ناز جان کے بدلے گراں نہیں\n\nہم زمرۂ رقیب میں مل کر وہاں گئے\nجب شوق رہ نما ہو کوئی پاسباں نہیں\n\nآشفتہ مثل باد ہوں بیتاب مثل برق\nکیونکر معین چرخ تری شوخیاں نہیں\n\nہم آپ پر نثار کریں کائنات کو\nپر کیا کریں بساط میں جز نیم جاں نہیں\n\nسامان وجد فتنۂ محشر کو دے دیا\nوہ خاک پر ہماری جو دامن کشاں نہیں\n\nکیوں ہیں ندیم دوست سفارش میں غیر کی\nکیا ہم کو ان سے رسم و رہ ارمغاں نہیں\n\nاک حال خوش میں بھول گئے کائنات کو\nاب ہم وہاں ہیں مطرب و ساقی جہاں نہیں\n\nکس کس پہ رشک کیجیے کس کس کو روئیے\nکس دن وہ جلوہ آفت صدخانماں نہیں\n\nکیوں یہ ہجوم شور و شغب ہے نشور میں\nایسا تو شیفتہؔ ہمیں خواب گراں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%D9%84%DB%81_%D9%81%D9%84%DA%A9_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا\nکیا ظلم سہوں کوئی ستم گر نہیں ملتا\n\nخط لے کے گیا جو وہ کبوتر نہیں ملتا\nکیا ذکر کبوتر کا ہے اک پر نہیں ملتا\n\nزلفوں کی طرح عمر بسر ہو گئی اپنی\nہم خانہ بدوشوں کو کہیں گھر نہیں ملتا\n\nکیا خاک مداوا کریں شوریدہ سری کا\nسر پھوڑنے کو ڈھونڈھیں تو پتھر نہیں ملتا\n\nگنجلک نہیں مٹتی جو طبیعت میں پڑی ہے\nدل تجھ سے کسی طور سے دلبر نہیں ملتا\n\nکیا کیجئے تعریف بنا گوش کی اس کے\nآویزے کو جس کان کے گوہر نہیں ملتا\n\nگم جب سے ہوا ہوں میں تری راہ طلب میں\nجب ڈھونڈھتا ہوں آپ کو اکثر نہیں ملتا\n\nکچھ طالب زر بت ہی نہیں غور سے دیکھو\nحق یوں ہے کہ اللہ بھی بے زر نہیں ملتا\n\nصورت نہیں ملتی تری صورت سے کسی کی\nگہنے سے کسی کے ترا زیور نہیں ملتا\n\nآرائشیں موقوف ہوئیں کس لئے اے جان\nگوہر نہیں ملتا ہے کہ زر گر نہیں ملتا\n\nابرو کی محبت میں کسے زیست ہے منظور\nمر جاؤں گلا کاٹ کے خنجر نہیں ملتا\n\nرندان مے آشام نہیں جام کے پابند\nہم اوک سے پیتے ہیں جو ساغر نہیں ملتا\n\nوحشت میں نکل جاؤں میں سرحد سے زمیں کی\nاس گنبد گرداں کا ولے در نہیں ملتا\n\nاو برق تجلی ترے کشتے کی لحد پر\nکیا لوح بنے طور کا پتھر نہیں ملتا\n\nحاضر ہوں مجھے بستۂ فتراک فرس کر\nگر صید کوئی ترک ستم گر نہیں ملتا\n\nعاشق سے نہ کھینچ آپ کو اے بادشہ حسن\nدرویش سے کیا جھک کے تونگر نہیں ملتا\n\nجو زخم کو سینے کے سیے ٹانکے جگر کو\nایسا کوئی استاد رفوگر نہیں ملتا\n\nاے رندؔ لبالب ہو جو عرفان کی مے سے\nساغر وہ بجز ساقیٔ کوثر نہیں ملتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "دل کس کی تیغ ناز سے لذت چشیدہ ہے", "poet_page": "مصنف:میر تسکینؔ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کس کی تیغ ناز سے لذت چشیدہ ہے\nہر زخم شوق سے لب حسرت گزیدہ ہے\n\nاس گرم اضطراب سے دل جل گیا خدا\nپہلو میں میرے دل ہے کہ برق طپیدہ ہے\n\nچوسا دہان زخم نے اس کو ہے اس طرح\nپیکان تیر یار زبان مکیدہ ہے\n\nناصح جنوں کی بخیہ گری کی ہوس نہیں\nہر تار جیب اب تو گریباں دریدہ ہے\n\nغنچہ کی طرح خاک رکھیں زر کو باندھ کر\nجوں بولے کل یہاں سے تو جانا جریدہ ہے\n\nکچھ آج زلزلہ سا زمیں کو ہے گور میں\nتسکینؔ بے قرار مگر آرمیدہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%DA%86%D8%B4%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل کسو سے تو کیا لگانا تھا", "poet_page": "مصنف:منتظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کسو سے تو کیا لگانا تھا\nہم کو منظور جی سے جانا تھا\n\nآستاں تھا وہ آستانۂ عشق\nکاٹ کر سر جہاں چڑھانا تھا\n\nدید کو تیرے آئے تھے ہم یاں\nزندگی کا فقط بہانہ تھا\n\nنکلے وہ آہ اپنے دشمن جاں\nہم نے جن جن کو دوست جانا تھا\n\nجس زمانہ میں ہم ہوئے تھے خلق\nہائے وو کیا برا زمانہ تھا\n\nکیوں دیا اس پری کو دل تو نے\nکیا تو اے منتظرؔ دوانہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B3%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دل کسی مشتاق کا ٹھنڈا کیا", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کسی مشتاق کا ٹھنڈا کیا\nخوب کیا آپ نے اچھا کیا\n\nآج حیا آنکھ کی کچھ اور ہے\nچاہنے والا کوئی پیدا کیا\n\nہائے رے پیماں شکنی کے مزے\nجب میں گیا وعدۂ فردا کیا\n\nکچھ تو کسی نے انہیں سمجھا دیا\nہم جو گئے آج تو پردہ کیا\n\nگو کہ نہ تھا میری طرف منہ مگر\nترچھی نگاہوں سے وہ دیکھا کیا\n\nآہ کی تقصیر نہیں ہے مگر\nبے اثری نے مجھے رسوا کیا\n\nکہہ کے لے آتے ہیں تمہیں ہوشیار\nیہ نہ کیا ہم نے تو پھر کیا کیا\n\nموت کے صدقے کہ یہ کہتے تھے وہ\nآج نہ اس نے کوئی پھیرا کیا\n\nآپ کے احسان کی تعریف ہے\nمیں نے اگر شکوۂ اعدا کیا\n\nنام میرا سنتے ہی شرما گئے\nتم نے تو خود آپ کو رسوا کیا\n\nقدر مری تم نے نہ کی ورنہ میں\nکیا کہوں کیا آپ کو سمجھا کیا\n\nمیں نے تو اے جان جہاں جان دی\nتم نے ادا حق وفا کیا کیا\n\nپھر وہ نہائے عرق شرم میں\nکس نے مرے عشق کا چرچا کیا\n\nمیں دل صد چاک کا کہتا تھا حال\nشانہ عبث زلف سے الجھا کیا\n\nاس کی نظر میں ہوا ہلکا نسیمؔ\nمجھ سے مرے شوق نے کیا کیا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D9%B9%DA%BE%D9%86%DA%88%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل کشتۂ نظر ہے محروم گفتگو ہوں", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کشتۂ نظر ہے محروم گفتگو ہوں\nسمجھو مرے اشارے میں سرمہ در گلو ہوں\n\nمدت سے کھو گیا ہوں سرگرم جستجو ہوں\nاپنا ہی مدعا ہوں اپنی ہی آرزو ہوں\n\nصورت سوال ہوں میں پوچھو نہ میرا مطلب\nمیں اپنے مدعا کی تصویر ہو بہ ہو ہوں\n\nہے دل میں جوش حسرت رکتے نہیں ہیں آنسو\nرستی ہوئی صراحی ٹوٹا ہوا سبو ہوں\n\nزخموں سے دل کا عالم کیا پوچھتے ہو کیا ہے\nگلزار بے خزاں ہوں دنیائے رنگ و بو ہوں\n\nجلوے حجاب افگن آنکھیں ہلاک حسرت\nتو محو پردہ داری میں وقف جستجو ہوں\n\nپامال یوں ہوا ہوں پنہاں ہے مجھ میں عالم\nایک مشت خاک ہو کر صحرائے آرزو ہوں\n\nرخ سے کفن ہٹا دو کیا پوچھتے ہیں پوچھیں\nپردے میں خامشی کے سرگرم گفتگو ہوں\n\nکس سے عزیزؔ رکھوں امید دوستی کی\nسرکش ہے نفس جب تک اپنا ہی میں عدو ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B4%D8%AA%DB%82_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%88%D9%85_%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "دل کشی نام کو بھی عالم امکاں میں نہیں", "poet_page": "مصنف:چندر بھان کیفی دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کشی نام کو بھی عالم امکاں میں نہیں\nاپنے مطلب کا کوئی پھول گلستاں میں نہیں\n\nوعدۂ وصل پہ کھنچتا ہوا ہاں کا لہجہ\nایک انداز ہے کہنے کا ترے ہاں میں نہیں\n\nآپ کہتے ہیں کہ تقدیر کی گردش میں رہے\nمانتا ہوں کہ یہ دل گیسوئے پیچاں میں نہیں\n\nبس کسی کا نہیں صیاد خطا کیا تیری\nآب و دانہ مری قسمت کا گلستاں میں نہیں\n\nخاک ہونے سے بنا چشم فلک کا سرمہ\nخاکساری جو نہیں خاک بھی انساں میں نہیں\n\nنقش توحید ہے ہر نقش جبین سجدہ\nکہیں کعبے کا تو پتھر در جاناں میں نہیں\n\nپہلے ہی لوٹ تھا پروانہ تری محفل پر\nاب یہ سنتے ہیں کہ بلبل بھی گلستاں میں نہیں\n\nپاک بازی کی طرف جب سے جھکے ہیں کیفیؔ\nبادہ نوشی کا مزا محفل رنداں میں نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B4%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل کو آزار لگا وہ کہ چھپا بھی نہ سکوں", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو آزار لگا وہ کہ چھپا بھی نہ سکوں\nپردہ وہ آ کے پڑا ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں\n\nمدعا سامنے ان کے نہیں آتا لب تک\nبات بھی کیا غم دل ہے کہ سنا بھی نہ سکوں\n\nبے جگہ آنکھ لڑی دیکھیے کیا ہوتا ہے\nآپ جا بھی نہ سکوں ان کو بلا بھی نہ سکوں\n\nوہ دم نزع مرے بہر عیادت آئے\nحال کب پوچھتے ہیں جب کہ سنا بھی نہ سکوں\n\nزندگی بھی شب ہجراں ہے کہ کٹتی ہی نہیں\nموت ہے کیا ترا آنا کہ بلا بھی نہ سکوں\n\nدم ہے آنکھوں میں اسے جان میں لاؤں کیونکر\nکب وہ آئے کہ انہیں ہاتھ لگا بھی نہ سکوں\n\nشرم عصیاں نے جھکایا مری گردن کو ظہیرؔ\nبوجھ وہ آ کے پڑا ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D9%88%DA%BA"} {"title": "دل کو اس شوخ کے کوچہ میں دھرے آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو اس شوخ کے کوچہ میں دھرے آتے ہیں\nشیشہ خالی کیے اور اشک بھرے آتے ہیں\n\nسرکشی دل نے سیہ چشم سے کیا کی ہے کہ جو\nفوج غمزہ کی بندھے اس پہ پرے آتے ہیں\n\nدل جو تو چاہے تو جا بزم میں اس کی ہم تو\nدیکھ اس صورت مجلس کو ڈرے آتے ہیں\n\nکشتۂ زہر غم ہجر نہیں تو تو حسنؔ\nلخت دل کیوں ترے اشکوں میں ہرے آتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%BE%D8%B1%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل کو اسی سبب سے ہے اضطراب شاید", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو اسی سبب سے ہے اضطراب شاید\nقاصد پھرا ہے لے کر خط کا جواب شاید\n\nآنکھیں چڑھی ہوئی ہیں باتیں ہیں بہکی بہکی\nآئے ہو تم کہیں سے پی کر شراب شاید\n\nکیا جانے کس ہوا میں اتنا ابھر رہا ہے\nہستی نہیں سمجھتا اپنی حباب شاید\n\nمجھ پر جو وہ سحر سے اس درجہ مہرباں ہیں\nشب کی دعا ہوئی ہے کچھ مستجاب شاید\n\nبیمار ہوں بندھی ہے دھن رات دن سفر کی\nغربت میں اپنی مٹی ہوگی خراب شاید\n\nپچھلے سے وصل کی شب آثار صبح کے ہیں\nنکلے گا رات ہی سے آج آفتاب شاید\n\nآیا بہت دنوں پر زاہد جو میکدے میں\nبھولی ہوئی تھی اس کو راہ ثواب شاید\n\nبرسات کی کمی سے کیا قدر گھٹ گئی ہے\nایسی کبھی بکی ہو ارزاں شراب شاید\n\nاپنے دماغ میں تو اب یہ بسی ہوئی ہے\nبہتر ترے پسینے سے ہو گلاب شاید\n\nبزم عدو میں آ کر جس طرح ہم جلے ہیں\nدوزخ میں ہو کسی پر ایسا عذاب شاید\n\nاشکوں سے تر ہوئی تھی یوں رات سیج ان کی\nیاد آ گیا تھا کوئی ہنگام‌ خواب شاید\n\nاے شیخ تو ملا کر دیکھ ان سے عمر اپنی\nحوروں کا ڈھل گیا ہو اب تو شباب شاید\n\nتوبہ حفیظؔ مے کا پڑ جائے جس کو چسکا\nپھر اس سے مرتے دم تک چھوٹے شراب شاید", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%D8%A8%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%AF"} {"title": "دل کو افسوس جوانی ہے جوانی اب کہاں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو افسوس جوانی ہے جوانی اب کہاں\nکوئی دم میں چل بسیں گے زندگانی اب کہاں\n\nآپ الٹتے ہیں وہ پردہ وہ کہانی اب کہاں\nعاشقوں سے گفتگو ہے لن ترانی اب کہاں\n\nجب ہمارے پاس تھے ان کو ہمارا پاس تھا\nتھی ہماری قدر جب تھی قدر دانی اب کہاں\n\nاے پری پیکر ترا میرے ہی دم تک تھا بناؤ\nسرخ موباف و لباس زعفرانی اب کہاں\n\nبد مزاجی نوجوانی نے سکھائی ہے انہیں\nدشمن جاں ہو گئے ہیں مہربانی اب کہاں\n\nیار آ نکلا تھا اے دل پھر وہ کیوں آنے لگا\nہو گیا اک یہ بھی امر ناگہانی اب کہاں\n\nبعد میرے پھر کسی نے بھی سنی آواز یار\nتھی مجھی تک لن ترانی لن ترانی اب کہاں\n\nباغ میں نہریں بھری ہیں پھول پھل کا تھا مزا\nبند ہیں کنج قفس میں دانہ پانی اب کہاں\n\nتیری اور اپنی حقیقت جا کے عیسیٰ سے کہوں\nاس قدر طاقت بھلا اے ناتوانی اب کہاں\n\nشیفتہ جب تک نہ تھے شہرت تھی ضبط و صبر کی\nدرد تنہائی کی تاب اے یار جانی اب کہاں\n\nدل میں طاقت تھی تڑپ لیتے تھے بسمل کی طرح\nجان میں حالت نہیں وہ جانفشانی اب کہاں\n\nگھور لیتے تھے جفا کاروں کو جب مفتوں نہ تھے\nہو گئے چورنگ خود چنگیز خانی اب کہاں\n\nاپنی قدرت اس نے دکھلا دی شب معراج میں\nہو چکی بس میہمانی میہمانی اب کہاں\n\nلہلہاتے تھے چمن مفتوں گلوں پر تھے بہار\nلٹ گئی بو باس اے برگ خزانی اب کہاں\n\nحال دل کہواتے تھے جب فاسد آتے جاتے تھے\nنامۂ شوق اور پیغام زبانی اب کہاں\n\nداغ دل اس نے دیا تھا دل کو ہم نے کھو دیا\nاے شرفؔ اس بے مروت کی نشانی اب کہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "دل کو اے عشق سوئے زلف سیہ فام نہ بھیج", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو اے عشق سوئے زلف سیہ فام نہ بھیج\nرہزنوں میں تو مسافر کو سر شام نہ بھیج\n\nدیکھ ہو جاؤں گا غیروں کے گلے کا میں ہار\nہار پھولوں کے تو اے شوخ گل اندام نہ بھیج\n\nبھر نظر صورت گل دیکھ تو لیں اے بے درد\nہائے صیاد ابھی ہم کو تہ دام نہ بھیج\n\nجب وہ بھیجے ہے مجھے مے تو کہیں ہیں یوں غیر\nیہ بہک جائے گا بس اور اسے جام نہ بھیج\n\nبھیجوں اس پاس جو قاصد کو دوبارہ تو کہے\nباز آیا، نہیں لینے کا میں انعام نہ بھیج\n\nکوچۂ یار میں پہنچے ہیں تو بس رہنے دے\nجیتے جی یاں سے کہیں گردش ایام نہ بھیج\n\nدم بہ دم بھیجے ہے قلیاں ہی کو کیا منہ سے لگا\nلب سے بھی لب کو ملا بوسہ بہ پیغام نہ بھیج\n\nبعد مدت کے تجھے پایا ہے تنہا بخدا\nآج تو کام کو یاں سے بت خودکام نہ بھیج\n\nدے کبھی بوسۂ چشم و لب جاں بخش بھی جاں\nصرف سوغات ہمیں بوسہ بہ پیغام نہ بھیج\n\nگالیاں تو ہیں محبت کی عبارت پیارے\nکب میں کہتا ہوں کہ لکھ کر مجھے دشنام نہ بھیج\n\nپر یہ دھڑکا ہے کہ جاوے نہ کہیں خط پکڑا\nکر کے سر نامے پہ تحریر مرا نام نہ بھیج\n\nجرأتؔ اب تجھ سے وہ روٹھا تو منا کیونکہ میں لاؤں\nتو ہی پھر دینے لگے گا مجھے الزام نہ بھیج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%D9%81%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AC"} {"title": "دل کو تسکیں ہو گئی ہے سامنے آنے کے بعد", "poet_page": "مصنف:راجہ نوشاد علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو تسکیں ہو گئی ہے سامنے آنے کے بعد\nجان جائے گی ہماری آپ کے جانے کے بعد\n\nمجھ سے دیوانہ کو سمجھانا اسی کا کام ہے\nخود سمجھ جائے گا ناصح مجھ کو سمجھانے کے بعد\n\nتجھ سے پہلے مٹ چکے ہیں کیسے کیسے نامور\nنام تیرا بھی نہ لے گا کوئی مر جانے کے بعد\n\nمیہماں ہوتے تھے جب وہ دل پہ بس رہتا نہ تھا\nایک دن آنے کے پہلے ایک دن جانے کے بعد\n\nاٹھ گئے بالیں سے تم بیمار کا یہ حال تھا\nآنکھ میں آنسو بھرے تھے ہوش میں آنے کے بعد\n\nتجھ کو اے شیخ حرم کعبہ مبارک ہو ترا\nدوسرا گھر ہم نہیں دیکھیں گے مے خانہ کے بعد\n\nشرم سے گردن جھکا کر چٹکیاں لینے لگی\nشوخیاں کرنے لگے پھر آپ شرمانے کے بعد\n\nہم کہا کرتے ہیں ان کے کوچہ میں ہر ایک سے\nدفن کر دینا یہیں پر ہم کو مر جانے کے بعد\n\nظلم سے اپنے پشیمان آخرش ہونا پڑا\nجھک گئیں ان کی نگاہیں لاش پر آنے کے بعد\n\nہو گئے سیراب پی کر خون دل اے عشق ہم\nخوب آسودہ ہوئے لخت جگر کھانے کے بعد\n\nمجھ کو مرنے کا نہیں غم رنج ہے اس بات کا\nظلم وہ کس پر کریں گے میرے مر جانے کے بعد\n\nعشق میں افسردہ ہو کر دل کا ہوتا ہے وہ رنگ\nپھول کا جو حال ہو جاتا ہے مرجھانے کے بعد\n\nسر جھکا کر لاش پر آئے ہیں کس انداز سے\nوہ دوا کرنے جو آئے بھی تو مر جانے کے بعد\n\nراستے سے وہ پلٹ کر آ رہے ہیں کس لئے\nکیا خیال آیا انہیں نوشادؔ گھر جانے کے بعد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%B3%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "دل کو جب حاصل صفائی ہو گئی", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو جب حاصل صفائی ہو گئی\nجلوہ گر بت میں خدائی ہو گئی\n\nذکر وصل آ آ کے لب پر رہ گیا\nیہ بھی کیا عاشق کی آئی ہو گئی\n\nوار کیا شیطان کا اب چل سکے\nوہ بھی اک گندم نمائی ہو گئی\n\nنور ہر پتھر میں پایا طور کا\nچشم دل کو روشنائی ہو گئی\n\nبیچ سے پردہ دوئی کا اٹھ گیا\nتو خودی خود پھر خدائی ہو گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%A8_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دل کو حد سے سوا دھڑکنے نہ دیا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دل کو حد سے سوا دھڑکنے نہ دیا\nقالب میں روح کو پھڑکنے نہ دیا\nکیا آگ تھی سینے میں جسے فطرت نے\nروشن تو کیا مگر بھڑکنے نہ دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AD%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%D8%AF%DA%BE%DA%91%DA%A9%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا\nساغر کو رنگ بادہ نے پر نور کر دیا\n\nمانوس ہو چلا تھا تسلی سے حال دل\nپھر تو نے یاد آ کے بدستور کر دیا\n\nگستاخ دستیوں کا نہ تھا مجھ میں حوصلہ\nلیکن ہجوم شوق نے مجبور کر دیا\n\nکچھ ایسی ہو گئی ہے تیرے غم میں مبتلا\nگویا کسی نے جان کو مسحور کر دیا\n\nبیتابیوں سے چھپ نہ سکا ماجرائے دل\nآخر حضور یار بھی مذکور کر دیا\n\nاہل نظر کو بھی نظر آیا نہ روئے یار\nیاں تک حجاب نور نے مستور کر دیا\n\nحسرتؔ بہت ہے مرتبۂ عاشقی بلند\nتجھ کو تو مفت لوگوں نے مشہور کر دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%AE%D9%85%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل کو دارالسرور کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو دارالسرور کہتے ہیں\nجلوہ گاہ حضور کہتے ہیں\n\nنہ کہیں باوفا مجھے منہ سے\nہاں وہ دل میں ضرور کہتے ہیں\n\nوہ مجھے اور کچھ کہیں نہ کہیں\nشیفتہ تو ضرور کہتے ہیں\n\nاک خدائی کہا کرے قہار\nہم تو اس کو غفور کہتے ہیں\n\nپی کے دیکھی بھی حضرت واعظ\nآپ جس کو طہور کہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل کو درد آشنا کیا تو نے", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو درد آشنا کیا تو نے\nدرد دل کو دوا کیا تو نے\n\nطبع انساں کو دی سرشت وفا\nخاک کو کیمیا کیا تو نے\n\nوصل جاناں محال ٹھہرایا\nقتل عاشق روا کیا تو نے\n\nتھا نہ جز غم بساط عاشق میں\nغم کو راحت فزا کیا تو نے\n\nجان تھی اک وبال فرقت میں\nشوق کو جاں گزا کیا تو نے\n\nتھی محبت میں ننگ منت غیر\nجذب دل کو رسا کیا تو نے\n\nراہ زاہد کو جب کہیں نہ ملی\nدرمے خانہ وا کیا تو نے\n\nقطع ہونے ہی جب لگا پیوند\nغیر کو آشنا کیا تو نے\n\nتھی جہاں کارواں کو دینی راہ\nعشق کو رہنما کیا تو نے\n\nناؤ بھر کر جہاں ڈبونی تھی\nعقل کو ناخدا کیا تو نے\n\nبڑھ گئی جب پدر کو مہر پسر\nاس کو اس سے جدا کیا تو نے\n\nجب ہوا ملک و مال رہزن ہوش\nبادشہ کو گدا کیا تو نے\n\nجب ملی کام جاں کو لذت درد\nدرد کو بے دوا کیا تو نے\n\nجب دیا راہرو کو ذوق طلب\nسعی کو نارسا کیا تو نے\n\nپردۂ چشم تھے حجاب بہت\nحسن کو خود نما کیا تو نے\n\nعشق کو تاب انتظار نہ تھی\nغرفہ اک دل میں وا کیا تو نے\n\nحرم آباد اور دیر خراب\nجو کیا سب بجا کیا تو نے\n\nسخت افسردہ طبع تھی احباب\nہم کو جادو نوا کیا تو نے\n\nپھر جو دیکھا تو کچھ نہ تھا یا رب\nکون پوچھے کہ کیا کیا تو نے\n\nحالیؔ اٹھا ہلا کے محفل کو\nآخر اپنا کہا کیا تو نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92"} {"title": "دل کو سمجھاؤ ذرا عشق میں کیا رکھا ہے", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو سمجھاؤ ذرا عشق میں کیا رکھا ہے\nکس لیے آپ کو دیوانہ بنا رکھا ہے\n\nیہ تو معلوم ہے بیمار میں کیا رکھا ہے\nتیرے ملنے کی تمنا نے جلا رکھا ہے\n\nکون سا بادہ کش ایسا ہے کہ جس کی خاطر\nجام پہلے ہی سے ساقی نے اٹھا رکھا ہے\n\nاپنے ہی حال میں رہنے دے مجھے اے ہم دم\nتیری باتوں نے مرا دھیان بٹا رکھا ہے\n\nآتش عشق سے اللہ بچائے سب کو\nاسی شعلے نے زمانے کو جلا رکھا ہے\n\nمیں نے زلفوں کو چھوا ہو تو ڈسیں ناگ مجھے\nبے خطا آپ نے الزام لگا رکھا ہے\n\nکیسے بھولے ہوئے ہیں گبر و مسلماں دونوں\nدیر میں بت ہے نہ کعبے میں خدا رکھا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D8%A4_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل کو سکون روح کو آرام آ گیا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو سکون روح کو آرام آ گیا\nموت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیا\n\nجب کوئی ذکر گردش آیام آ گیا\nبے اختیار لب پہ ترا نام آ گیا\n\nغم میں بھی ہے سرور وہ ہنگام آ گیا\nشاید کہ دور بادۂ گلفام آ گیا\n\nدیوانگی ہو عقل ہو امید ہو کہ یاس\nاپنا وہی ہے وقت پہ جو کام آ گیا\n\nدل کے معاملات میں ناصح شکست کیا\nسو بار حسن پر بھی یہ الزام آ گیا\n\nصیاد شادماں ہے مگر یہ تو سوچ لے\nمیں آ گیا کہ سایہ تہ دام آ گیا\n\nدل کو نہ پوچھ معرکۂ حسن و عشق میں\nکیا جانیے غریب کہاں کام آ گیا\n\nیہ کیا مقام عشق ہے ظالم کہ ان دنوں\nاکثر ترے بغیر بھی آرام آ گیا\n\nاحباب مجھ سے قطع تعلق کریں جگرؔ\nاب آفتاب زیست لب بام آ گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B1%D9%88%D8%AD_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل کو صبر و قرار بھی نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:کیفی کاکوروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو صبر و قرار بھی نہ ہوا\nجبر پر اختیار بھی نہ ہوا\n\nلالہ ہر چند باغ میں پھولا\nگل رخوں میں شمار بھی نہ ہوا\n\nمر مٹے فکر میں عروج کے ہم\nخاک اونچا غبار بھی نہ ہوا\n\nرہ گیا تیر یار پہلو میں\nکیا ستم ہے کہ پار بھی نہ ہوا\n\nخون سے میرے دامن قاتل\nتختہ لالہ زار بھی نہ ہوا\n\nمے سے مجھ کو خمار بھی نہ ہوا\nنشہ کیسا اتار بھی نہ ہوا\n\nاثر چشم زار بھی نہ ہوا\nصاف ان کا غبار بھی نہ ہوا\n\nایک بوسے کو تو گنا سو بار\nگالیوں کا شمار بھی نہ ہوا\n\nان کی رسوائیوں کا پاس رہا\nمیں کبھی اشک بار بھی نہ ہوا\n\nسرو نے سرکشی سے کیا پایا\nشجر میوہ دار بھی نہ ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D9%88_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے\nتیر بھی آئے تو بے پر کی اڑاتے آئے\n\nبادشاہوں کا ہے دربار در پیر مغاں\nسیکڑوں جاتے گئے سیکڑوں آتے آئے\n\nچھپ کے بھی آئے مرے گھر تو وو دربانوں کو\nاپنی پازیب کی جھنکار سناتے آئے\n\nروز محشر جو بلائے گئے دیوانۂ زلف\nبیڑیاں پہنے ہوئے شور مچاتے آئے\n\nکیا کہیں گے کوئی محشر میں جو پوچھے گا امیرؔ\nکیوں نہ بگڑی ہوئی باتوں کو بناتے آئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B7%D8%B1%D8%B2_%D9%86%DA%AF%DB%82_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%AA%D8%A7%D8%AA%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "دل کو لٹکا لیا ہے گیسو میں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو لٹکا لیا ہے گیسو میں\nجب وہ بیٹھیں ہیں آ کے پہلو میں\n\nڈبڈباتے ہی آنکھیں پتھرائی\nکیا ہی حسرت بھری تھی آنسو میں\n\nسرکشی کی جو بوئے گیسو نے\nچھپ رہا مشک ناف آہو میں\n\nزندگی بھر کریں گے اس کی تلاش\nچل بسیں گے اسی تکابو میں\n\nدرد دل روئی سے نہ سکوانا\nآگ ہے اس طرف کے پہلو میں\n\nکون کہتا ہے خال مشکیں ہے\nدل ہے کسریٰ کا طاق ابرو میں\n\nبزم میں ان کی جب گئے ہیں ہم\nعطر بھر بھر دیا ہے چلو میں\n\nبلبلوں میں ہمارا دل ہوگا\nروح ہوگی گلوں کی خوشبو میں\n\nدل تو تھا اختیار سے باہر\nاب جگر بھی نہیں ہے قابو میں\n\nبحر غم میں مریں گے ڈوب کے ہم\nقبر اک دن بنے گی ٹاپو میں\n\nخوں رلاتی ہیں انکھڑیاں تیری\nایک ہی ہیں یہ دونوں جادو میں\n\nحوریں پاسنگ کی کریں گی ہوس\nمل وہ بیٹھیں گے جس ترازو میں\n\nکس کو غش آ گیا جو چھڑکو گے\nکیوں بھرا ہے گلاب چلو میں\n\nعالم وجد دل کو رہتا ہے\nمست ہیں نعرہ ہائے یاہو میں\n\nاے شرفؔ جب مزا ہے رونے کا\nنکلیں لخت جگر بھی آنسو میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%84%D9%B9%DA%A9%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل کو لے جی کو اب لبھاتے ہو", "poet_page": "مصنف:باقر آگاہ ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو لے جی کو اب لبھاتے ہو\nاس لیے بن بنا کے آتے ہو\n\nعشق بن ہم تو کچھ گنہ نہ کیا\nبے گناہوں کو کیوں ستاتے ہو\n\nکوئی ایسا معاملہ نہ سنا\nنہ تو آتے ہو نا بلاتے ہو\n\nباوجود اس جفا کے پیارے تم\nکس قدر میرے من کو بھاتے ہو\n\nہم تو اول سے مست ہیں آگاہؔ\nپھر ترانے یہ کیوں سناتے ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%A8_%D9%84%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "دل کو لے کر ہم سے اب جاں بھی طلب کرتے ہیں آپ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو لے کر ہم سے اب جاں بھی طلب کرتے ہیں آپ\nلیجئے حاضر ہے پر یہ تو غضب کرتے ہیں آپ\n\nمورد تقصیر گر ہوتے تو لازم تھی سزا\nیہ جفا پھر کہئے ہم پر کس سبب کرتے ہیں آپ\n\nکرتے ہو ابرو سے کشتہ رخ سے دیتے ہو جلا\nحسن میں اعجاز کیا کیا روز و شب کرتے ہیں آپ\n\nقیس سے جو تھا کیا در پردہ لیلیٰ نے سلوک\nسو وہی اے مہرباں ہم سے بھی اب کرتے ہیں آپ\n\nبے کلی ہوتی ہے حسرت سے دل صد چاک کو\nاپنی زلف عنبریں کو شانہ جب کرتے ہیں آپ\n\nہم نے پوچھا پھر بھی اس کی جاں پھری سب جسم میں\nنزع میں دوری سے جس کو جاں بلب کرتے ہیں آپ\n\nہنس کے فرمایا نظیرؔ اپنی دعائے لطف سے\nیہ بھی ہو سکتا ہے کیا اس کا عجب کرتے ہیں آپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "دل کو محو غم دل دار کئے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "دل کو محو غم دل دار کئے بیٹھے ہیں\nرند بنتے ہیں مگر زہر پئے بیٹھے ہیں\nچاہتے ہیں کہ ہر اک ذرہ شگوفہ بن جائے\nاور خود دل ہی میں اک خار لئے بیٹھے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%AD%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل کو مٹا کے داغ تمنا دیا مجھے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو مٹا کے داغ تمنا دیا مجھے\nاے عشق تیری خیر ہو یہ کیا دیا مجھے\n\nمحشر میں بات بھی نہ زباں سے نکل سکی\nکیا جھک کے اس نگاہ نے سمجھا دیا مجھے\n\nمیں اور آرزوئے وصال پری رخاں\nاس عشق سادہ لوح نے بہکا دیا مجھے\n\nہر بار یاس ہجر میں دل کی ہوئی شریک\nہر مرتبہ امید نے دھوکا دیا مجھے\n\nاللہ رے تیغ عشق کی برہم مزاحیاں\nمیرے ہی خون شوق میں نہلا دیا مجھے\n\nخوش ہوں کہ حسن یار نے خود اپنے ہاتھ سے\nاک دل فریب داغ تمنا دیا مجھے\n\nدنیا سے کھو چکا ہے مرا جوش انتظار\nآواز پائے یار نے چونکا دیا مجھے\n\nدعویٰ کیا تھا ضبط محبت کا اے جگرؔ\nظالم نے بات بات پہ تڑپا دیا مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%B9%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "دل کو مٹنے کا نشاں رہتا ہے", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو مٹنے کا نشاں رہتا ہے\nآگ بجھنے پہ دھواں رہتا ہے\n\nہاں سلامت رہو رندو تم پر\nکچھ رفاقت کا گماں رہتا ہے\n\nشعلے یوں اٹھتے ہیں گلزاروں سے\nکہ بہاراں کا سماں رہتا ہے\n\nعاشقی مہر بلب رہتی ہے\nمدعی محو بیاں رہتا ہے\n\nسب خداؤں کی خدائی کا شعور\nدل انساں پہ گراں رہتا ہے\n\nتجھ پہ مخفی ہے جو مجھ پر گزری\nتو قریب رگ جاں رہتا ہے\n\nتم کہاں رہتے ہو عابدؔ مری جاں\nدل تو رہتا ہے جہاں رہتا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%B9%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل کو میں آج ناصحاں اس کو دیا جو ہو سو ہو", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو میں آج ناصحاں اس کو دیا جو ہو سو ہو\nراہ میں عشق کے قدم اب تو رکھا جو ہو سو ہو\n\nعاشق جاں نثار کو خوف نہیں ہے مرگ کا\nتیری طرف سے اے صنم جور و جفا جو ہو سو ہو\n\nیا ترے پاؤں میں لگے یا ملے خاک میں تمام\nدل کو میں خون کر چکا مثل حنا جو ہو سو ہو\n\nخواہ کرے وفا و مہر خواہ کرے جفا و جور\nدلبر شوخ و شنگ سے اب تو ملا جو ہو سو ہو\n\nیا وہ اٹھا دے مہر سے یا کرے تیغ سے جدا\nیار کے آج پاؤں پر سر کو دھرا جو ہو سو ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AC_%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%88"} {"title": "دل کو پیری میں محبت کا تری جوش آیا", "poet_page": "مصنف:منشی ٹھاکر پرساد طالب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان طالب مانکپوری (1933)", "year": "1933", "text_ur": "دل کو پیری میں محبت کا تری جوش آیا\nبے خودی شب کو رہی وقت سحر ہوش آیا\n\nتیرے جلوے کا نظارہ نہ ہوا بار دگر\nبے خودی کے ہیں یہ معنی کہ نہ پھر ہوش آیا\n\nزہر گیسو نے مجھے مار ہی ڈالا تھا مگر\nلب جاں بخش کے صدقہ میں مجھے ہوش آیا\n\nساقیا مے کدۂ دہر میں وہ مے کش ہوں\nمرتے دم تک مجھے اپنا بھی نہ کچھ ہوش آیا\n\nکس لئے جام‌ و صراحی میں ہے ساقی تاخیر\nابر پر شور پئے خاطر مے نوش آیا\n\nدل کو پھر لالہ رخوں سے ہوئی الفت پیدا\nعہد پیری میں جوانی کا مجھے جوش آیا\n\nاس قدر شوق شہادت ہے مجھے اے قاتل\nتیرے کوچے میں جو آیا تو کفن پوش آیا\n\nجو دہر دہر سے وہ بار گنہ لے کے گیا\nگو جب آیا تھا عدم سے تو سبک دوش آیا\n\nخلعتیں زیر زمیں کون پنہا دیتا ہے\nباغ عالم میں جو گل آیا قبا پوش آیا\n\nواعظا کر سر منبر نہ مذمت مے کی\nکچھ بنائے نہ بنے گی جو یہاں جوش آیا\n\nحشر کے دن جو گنہ گاروں کی کثرت دیکھی\nقلزم رحمت باری میں عجب جوش آیا\n\nجس نے مے خانہ دنیا میں ذرا بھی پی لی\nآ گئی موت پہ طالبؔ نہ اسے ہوش آیا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل کو چشم یار نے جب جام مے اپنا دیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو چشم یار نے جب جام مے اپنا دیا\nان سے خوش ہو کر لیا اور کہہ کے بسم اللہ پیا\n\nدیکھ اس کی جامہ زیبی گل نے اپنا پیرہن\nاس قدر پھاڑا کہ بلبل سے نہیں جاتا پیا\n\nبے قراری نے نگاہ سیم بر پھیری ادھر\nکی عنایت ہم کو اس سیماب نے یہ کیمیا\n\nاس کے کوچے میں جسے جا بیٹھنے کو مل گئی\nمسند زرباف پر غالب ہے اس کا بوریا\n\nدل چھپا بیٹھا تو اس زلف مسلسل سے نظیرؔ\nاے اسیر دام نافہمی یہ تو نے کیا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D8%B4%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل کو کس صورت سے کیجے چشم دلبر سے جدا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو کس صورت سے کیجے چشم دلبر سے جدا\nشیشۂ مے کو نہیں رکھتے ہیں ساغر سے جدا\n\nمیں تو ہوں اے طالع برگشتہ دلبر سے جدا\nاور پتھر آسیا کا ہو نہ پتھر سے جدا\n\nاس کے بحر حسن میں مت چھوڑ اے دل تار زلف\nغرق ہو جاتی ہے کشتی ہو کے لنگر سے جدا\n\nعشق میں شیریں کے تو نے جان شیریں دی ہے آہ\nنقش تیرا کوہ کن ہو کیوں کہ پتھر سے جدا\n\nچشم یہ تجھ سے ہے یارب تا نہ ہو لیل و نہار\nچشم اس پردہ نشیں کے رخنۂ در سے جدا\n\nکندہ اس میرے نگین دل پہ تیرا نام ہے\nاس کو اپنے خاتم دل کے نہ کر گھر سے جدا\n\nاس کو کہتے ہیں محبت شیشۂ ساعت کو دیکھ\nایک کے ہوتا نہیں ہے دوسرا بر سے جدا\n\nوہ ادھر خنداں ہے میں گریاں ادھر حیرت ہے یہ\nبرق چمکے ابر گرجے اور مینہ برسے جدا\n\nصورت بادام توام روز و شب ہوتا نہیں\nچشم دلبر کا تصور چشم کے گھر سے جدا\n\nسوزن بے رشتہ آتی ہے کسی کو کب نظر\nتو نہ ہو اے آہ دل اس جسم لاغر سے جدا\n\nپردۂ مینا سے ساقی دخت رز نکلے ہے کیوں\nآفتاب خاوری ہوتا ہے خاور سے جدا\n\nاس کی مژگاں سے چھڑاؤں دل کو کس صورت سے میں\nپنجۂ شاہیں نہیں ہوتا کبوتر سے جدا\n\nتاب اس چمپا کلی کی یوں ہے تکمے کے تلے\nجوں کرن چمکے ہے ہو کر مہر انور سے جدا\n\nاشک چشم تر کو رہنے دوں تہ مژگاں نہ کیوں\nطفل کو کرتے نہیں دامان مادر سے جدا\n\nاس زمیں میں لکھ غزل اک اور پر معنی نصیرؔ\nرنگ یعنی ہو نہیں سکتا گل تر سے جدا\n\nاس غزل کو سن کے خاقانیؔ کرے وجد اے نصیرؔ\nانوریؔ بھی سر کو اپنے پٹکے پتھر سے جدا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B3_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%AF%D8%A7"} {"title": "دل کو کوسو جو چاہتا ہے", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو کوسو جو چاہتا ہے\nمیں نے کیا آپ کا لیا ہے\n\nکیا ہنستے ہو میرے رونے پر تم\nدل کا آنا بری بلا ہے\n\nجتنا چاہو جلاؤ ہم کو\nتم بھی کتنے ہو دیکھنا ہے\n\nمعشوق منائیں تم کو جوہرؔ\nیہ بھی اک قدرت خدا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%B3%D9%88_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل کو کیا ہو گیا خدا جانے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو کیا ہو گیا خدا جانے\nکیوں ہے ایسا اداس کیا جانے\n\nاپنے غم میں بھی اس کو صرفہ ہے\nنہ کھلا جانے وہ نہ کھا جانے\n\nاس تجاہل کا کیا ٹھکانا ہے\nجان کر جو نہ مدعا جانے\n\nکہہ دیا میں نے راز دل اپنا\nاس کو تم جانو یا خدا جانے\n\nکیا غرض کیوں ادھر توجہ ہو\nحال دل آپ کی بلا جانے\n\nجانتے جانتے ہی جانے گا\nمجھ میں کیا ہے ابھی وہ کیا جانے\n\nکیا ہم اس بد گماں سے بات کریں\nجو ستائش کو بھی گلہ جانے\n\nتم نہ پاؤ گے سادہ دل مجھ سا\nجو تغافل کو بھی حیا جانے\n\nہے عبث جرم عشق پر الزام\nجب خطاوار بھی خطا جانے\n\nنہیں کوتاہ دامن امید\nآگے اب دست نارسا جانے\n\nجو ہو اچھا ہزار اچھوں کا\nواعظ اس بت کو تو برا جانے\n\nکی مری قدر مثل شاہ دکن\nکسی نواب نے نہ راجا نے\n\nاس سے اٹھے گی کیا مصیبت عشق\nابتدا کو جو انتہا جانے\n\nداغؔ سے کہہ دو اب نہ گھبراؤ\nکام اپنا بتا ہوا جانے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "دل کو ہلاک جلوۂ جاناں بنائیے", "poet_page": "مصنف:محمد علی جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو ہلاک جلوۂ جاناں بنائیے\nاس بت کدے کو کعبۂ ایماں بنائیے\n\nطوفان بن کے اٹھیے جہان خراب میں\nہستی کو اک شرارۂ رقصاں بنائیے\n\nدوڑائیے وہ روح کہ ہر ذرہ جاگ اٹھے\nاجڑے ہوئے وطن کو گلستاں بنائیے\n\nپھر دیجئے نگاہ کو پیغام جستجو\nمنزل سے کیوں نظر کو گریزاں بنائیے\n\nآخر تو ختم ہوں گی کہیں قید کی حدیں\nیوسف کو آپ رونق زنداں بنائیے\n\nپھر اپنے دل میں کیجئے پیدا کوئی تڑپ\nپھر مشکل حیات کو آساں بنائیے\n\nجوہرؔ اسیریوں کی کوئی انتہا بھی ہے\nآزاد اک نظام پریشاں بنائیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%84%D8%A7%DA%A9_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "دل کو یوں لے جانے والا کون تھا", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "دل کو یوں لے جانے والا کون تھا\nتھے تمہیں اور آنے والا کون تھا\n\nحضرت ناصح بھی مے پینے لگے\nاب مجھے سمجھانے والا کون تھا\n\nساتھ اپنے دل بھی میرا لے گیا\nدیکھنا یہ جانے والا کون تھا\n\nجس کو چاہا تو نے اس کو مل گیا\nورنہ تجھ کو پانے والا کون تھا\n\nبولے قاصد سے شرفؔ کے نام پر\nوہ ہمیں بلوانے والا کون تھا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دل کو یکسوئی نے دی ترک تعلق کی صلاح", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو یکسوئی نے دی ترک تعلق کی صلاح\nاے امید وصل جاناں کیا ہے اب تیری صلاح\n\nجب جفا جو نے تغافل سے بھی کی قطع نظر\nہو رضائے یار پر شاکر یہ ہے دل کی صلاح\n\nہوش میں جلوہ دکھانے سے اگر ہے اس کو عار\nہے وداع ہوش کی ہر حال میں اپنی صلاح\n\nنقد جاں دل دار کرتا ہے طلب میں کیا کروں\nبندگی بے چارگی پر اب تو ہے میری صلاح\n\nمنزل عشق و فنا کرنی ہے طے سر تا بہ سر\nشمع کے مانند جل بجھنے کی ہے میری صلاح\n\nصاف کہتا ہے کہ تو نیکی کر اور دریا میں ڈال\nدل مرا دیتا ہے مجھ کو آج نیکی کی صلاح\n\nبے تمنائی میں ساحرؔ میں ہوں ہر دم میرے ساتھ\nدور کر دل سے تمنا ہے یہ جاناں کی صلاح", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%DA%A9%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%AA%D8%B9%D9%84%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD"} {"title": "دل کو یہ اضطرار کیسا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کو یہ اضطرار کیسا ہے\nدیکھیو بے قرار کیسا ہے\n\nایک بوسہ بھی دے نہیں سکتا\nمجھ کو پیارے تو یار کیسا ہے\n\nکشتۂ تیغ ناز کیا جانے\nخنجر آب دار کیسا ہے\n\nہر گھڑی گالیاں ہی دیتے ہو\nجان میری یہ پیار کیسا ہے\n\nمے نہیں پی تو کیوں چھپاتے ہو\nانکھڑیوں میں خمار کیسا ہے\n\nاور تو ہیں ہی یہ تو کہہ بارے\nمصحفیؔ دوست دار کیسا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل کوں تجھ باج بے قراری ہے", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کوں تجھ باج بے قراری ہے\nچشم کا کام اشک باری ہے\n\nشب فرقت میں مونس و ہم دم\nبے قراروں کوں آہ و زاری ہے\n\nاے عزیزاں مجھے نہیں برداشت\nسنگ دل کا فراق بھاری ہے\n\nفیض سوں تجھ فراق کے ساجن\nچشم گریاں کا کام جاری ہے\n\nفوقیت لے گیا ہوں بلبل سوں\nگرچہ منصب میں دو ہزاری ہے\n\nعشق بازوں کے حق میں قاتل کی\nہر نگہ خنجر و کٹاری ہے\n\nآتش ہجر لالہ رو سوں ولیؔ\nداغ سینے میں یادگاری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D8%A7%D8%AC_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل کوں دل دار کے نیاز کرے", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کوں دل دار کے نیاز کرے\nتن کوں آرام و سکھ سوں باز کرے\n\nہوے تب راگ عشق سوں آگاہ\nرگ جاں جب کہ تار ساز کرے\n\nاس سخن کا عجب ہے افسانہ\nجو سنے اس کوں اہل راز کرے\n\nصید کرنے کے تئیں کبوتر عشق\nطائر دل مثال باز کرے\n\nحرف حق پر اگر ہے دل ثابت\nمثل منصور سر نیاز کرے\n\nعاشقاں کوں نیاز ہے لازم\nنازنیں گر ادا سوں ناز کرے\n\nشعلۂ عشق اس پہ ہوئے روشن\nشمع ساں دل کوں جو گداز کرے\n\nپہنچنے علم کوں حقیقت کے\nسیر از نسخۂ مجاز کرے\n\nکوئی اس سرو قد کوں جا بولو\nدرس دکھلا کے سرفراز کرے\n\nکھول کر زلف عنبریں یک بار\nرشتۂ شوق کوں دراز کرے\n\nجو پڑھے تیرے شعر کوں داؤدؔ\nآخرش دل کوں عشق باز کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "دل کھو گیا ہمارا کسی سے ملا کے ہاتھ", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کھو گیا ہمارا کسی سے ملا کے ہاتھ\nہو دسترس تو کاٹیے دزد حنا کے ہاتھ\n\nاک تسمہ رہ گیا ہے رگ جاں کا لگا ہوا\nجھوٹا پڑا ہے آہ کہاں ان کا جا کے ہاتھ\n\nہاتھوں پہ ہم کو ناگ کھلانے کی مشق ہے\nچھوتے ہیں ہم جبھی ترے گیسو بڑھا کے ہاتھ\n\nپھیلا لے پاؤں کھول کے دل اے شب فراق\nبیٹھے ہیں ہم بھی زیست سے اپنی اٹھا کے ہاتھ\n\nکیوں ہاتھ پاؤں میرے خوشی سے نہ بھول جائیں\nانگلی چبھووے ہاتھ میں جب وہ ملا کے ہاتھ\n\nوہ آڑے ہاتھوں لوں کہ اکڑ ساری بھول جائے\nمنہ کی نہ کھانا شیخ جی ہم سے ملا کے ہاتھ\n\nسرسوں جمانی ہاتھوں پہ یوں سیکھ لے کوئی\nدل سے ملا لیا ہے دل ان سے ملا کے ہاتھ\n\nیہ بیکسی کے ہاتھوں ہوا ہے ہمارا حال\nپیغام بھیجتے ہیں ہم ان کو صبا کے ہاتھ\n\nکیفیؔ نہ نازکی پہ تم اس بت کی بھولنا\nدیکھے نہیں ابھی کسی نازک ادا کے ہاتھ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DA%BE%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "دل کھوٹا ہے ہم کو اس سے راز عشق نہ کہنا تھا", "poet_page": "مصنف:شوق قدوائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کھوٹا ہے ہم کو اس سے راز عشق نہ کہنا تھا\nگھر کا بھیدی لنکا ڈھائے اتنا سمجھے رہنا تھا\n\nکیوں ہنستے ہو میں جو برہنہ آج جنوں کے ہاتھوں ہوں\nکچھ دن گزرے میں نے بھی بھی رنگ لباس اک پہنا تھا\n\nنزع کے وقت آئے ہو تم اب پوچھ رہے ہو کیا مجھ سے\nحالت میری سب کہہ گزری جو کچھ تم سے کہنا تھا\n\nآ کے گیا وہ رویا کین یہ حرج ہوا نظارے میں\nآنکھیں کچھ ناسور نہیں تھیں جن کو ہر دم بہنا تھا\n\nہمت ہارے جی دے بیٹھے سب لذت کھوئی اے شوقؔ\nمرنے کی جلدی ہی کیا تھی عشق کا غم کچھ سہنا تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%B9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دل کی آرزو تھی درد درد بے دوا پایا", "poet_page": "مصنف:اختر علی اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کی آرزو تھی درد درد بے دوا پایا\nکیا سوال تھا میرا اور کیا جواب ان کا\n\nعشق کی لطافت کو خاک طور کیا جانے\nمجھ پہ تھی نظر ان کی مجھ سے تھا خطاب ان کا\n\nعالم تمنا ہے خواب کا سا اک عالم\nشوق نا تمام اپنا عشوہ کامیاب ان کا\n\nکم نہ تھی قیامت سے صبح آفرینش بھی\nمیری مضطرب نظریں اور انتخاب ان کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں\nاک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں\n\nدنیا کرے تلاش نیا جام جم کوئی\nاس کی جگہ نہیں مرے جام سفال میں\n\nآزردہ اس قدر ہوں سراب خیال سے\nجی چاہتا ہے تم بھی نہ آؤ خیال میں\n\nدنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے\nانسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں\n\nاہل چمن ہمیں نہ اسیروں کا طعن دیں\nوہ خوش ہیں اپنے حال میں اہم اپنی چال میں\n\nسیمابؔ اجتہاد ہے حسن طلب مرا\nترمیم چاہتا ہوں مذاق جمال میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%B3%D8%A7%D8%B7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل کی تسکین کو کافی ہے پریشاں ہونا", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کی تسکین کو کافی ہے پریشاں ہونا\nہے توکل بخدا بے سر و ساماں ہونا\n\nیوں تو ہر دین میں ہے صاحب ایماں ہونا\nہم کو اک بت نے سکھایا ہے مسلماں ہونا\n\nاے پری رو ترے دیوانے کا ایماں کیا ہے\nاک نگاہ غلط انداز پہ قرباں ہونا\n\nکور ہے چشم جسے دعویٔ بینائی ہے\nشرط اول ہے جہاں دیدۂ حیراں ہونا\n\nہم سے رندان بلا نوش کا ہے شُرب مدام\nدرد آشام مے کلفت ہجراں ہونا\n\nوقف تسلیم و رضا چاہئے دل عاشق کا\nساحرؔ آسان نہیں بندۂ جاناں ہونا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B3%DA%A9%DB%8C%D9%86_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D9%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "دل کی زمیں سے کون سی بہتر زمین ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کی زمیں سے کون سی بہتر زمین ہے\nپر جان تو بھی ہو تو عجب سر زمین ہے\n\nسر کو نہ پھینک اپنے فلک پر غرور سے\nتو خاک سے بنا ہے ترا گھر زمین ہے\n\nروتا پھرا ہے کون یہ سرگشتہ اے فلک\nجیدھر نظر پڑے ہے ادھر تر زمین ہے\n\nآئینہ کی طرح سے نظر ہے تو دیکھ لے\nروشن دلوں کی گھر کی منور زمین ہے\n\nشاید نہا کے آج نچوڑی ہے تو نے زلف\nگھر کی تمام تیری معنبر زمین ہے\n\nگیتی نے زیر چرخ رکھا ہے سبھوں کو تھام\nاس کشتیٔ جہان کی لنگر زمین ہے\n\nلے دل سے چشم تک مرے دریا سا ہے بھرا\nدونوں گھروں کی غرق سراسر زمین ہے\n\nاول یہی ہے باعث خوں ریزیٔ جہاں\nزیور ہے زن ہے زور ہے یا زن زمین ہے\n\nاس تنگ نائے دہر سے جاؤں کدھر نکل\nاودھر ہے آسمان اور ایدھر زمین ہے\n\nجز خون کوہ کن نہ اگے واں سے کوئی گل\nشیریں کی راہ عشق کی پتھر زمین ہے\n\nروندے ہو نقش پا کی طرح جس کو تم حسنؔ\nدیکھو گے کوئی دن یہی سر پر زمین ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1_%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل کی طرف حجاب تکلف اٹھا کے دیکھ", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کی طرف حجاب تکلف اٹھا کے دیکھ\nآئینہ دیکھ اور ذرا مسکرا کے دیکھ\n\nاس دور میں یہ طرز جفا آزما کے دیکھ\nدل کے بجائے دل کے سکوں کو مٹا کے دیکھ\n\nتسلیم کی نظر سے کرشمے رضا کے دیکھ\nبیگانگی دوست کو اپنا بنا کے دیکھ\n\nاس شورش حیات کو حد سے بڑھا کے دیکھ\nیہ فتنہ اور حشر سے پہلے اٹھا کے دیکھ\n\nیوں دیکھتا ہے تیرگی آب و گل میں کیا\nشعلوں سے کھیل دل کو جلا اور جلا کے دیکھ\n\nہر زندگی کا نام نہ رکھ دل کی زندگی\nایمان زندگی پہ نہ لا آزما کے دیکھ\n\nتیری تجلیوں سے کسی طرح کم نہیں\nدل کی تجلیوں کو کبھی دل میں آ کے دیکھ\n\nاب کے ادائے خاص سے کر امتحان دل\nجو برق طور پر نہ گری ہو گرا کے دیکھ\n\nہاں اہل دل کے حال سے غفلت محال ہے\nاچھا یقیں نہیں تو مجھی کو بھلا کے دیکھ\n\nدنیا کو دیکھنا تو میسر نہیں تجھے\nذرے کو دیکھنا ہے تو دنیا بنا کے دیکھ\n\nفانیؔ سفینہ اب بھی نہ ڈوبے تو کیا کرے\nطوفان کو نہ دیکھ ستم نا خدا کے دیکھ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%A9%D9%84%D9%81_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE"} {"title": "دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگاؤ ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگاؤ ہے\nٹک آپ بھی تو آئیے یاں زور باؤ ہے\n\nاٹھتا نہیں ہے ہاتھ ترا تیغ جور سے\nناحق کشی کہاں تئیں یہ کیا سبھاؤ ہے\n\nباغ نظر ہے چشم کے منظر کا سب جہاں\nٹک ٹھہرو یاں تو جانو کہ کیسا دکھاؤ ہے\n\nتقریب ہم نے ڈالی ہے اس سے جوئے کی اب\nجو بن پڑے ہے ٹک تو ہمارا ہی داؤ ہے\n\nٹپکا کرے ہے آنکھ سے لوہو ہی روز و شب\nچہرے پہ میرے چشم ہے یا کوئی گھاؤ ہے\n\nضبط سرشک خونیں سے جی کیونکے شاد ہو\nاب دل کی طرف لوہو کا سارا بہاؤ ہے\n\nاب سب کے روزگار کی صورت بگڑ گئی\nلاکھوں میں ایک دو کا کہیں کچھ بناؤ ہے\n\nچھاتی کے میری سارے نمودار ہیں یہ زخم\nپردہ رہا ہے کون سا اب کیا چھپاؤ ہے\n\nعاشق کہیں جو ہو گے تو جانو گے قدر میرؔ\nاب تو کسی کے چاہنے کا تم کو چاؤ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A2%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A4_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل کی چوری میں جو چشم سرمہ سا پکڑی گئی", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "دل کی چوری میں جو چشم سرمہ سا پکڑی گئی\nوہ تھا چین زلف میں یہ بے خطا پکڑی گئی\n\nصبح کوئے یار میں باد صبا پکڑی گئی\nیعنی غیبت میں گلوں کی مبتلا پکڑی گئی\n\nدل چڑھا مشکل سے طاق ابروئے خم دار پر\nسو جگہ رستہ میں جب زلف رسا پکڑی گئی\n\nجان کر آنکھیں چرائیں تو نے ہم سے بزم میں\nتیری چوری دیکھ لی کیا بد نما پکڑی گئی\n\nہے اسی میں قلب محزوں شرطیہ کہتا ہوں میں\nکھول مٹھی تیری چوری مہ لقا پکڑی گئی\n\nمست ہو کر اس کی خوشبو سے گرا تھا بچ گیا\nجب سنبھلنے کو وہ زلف مشک سا پکڑی گئی\n\nہر طرف صحن چمن میں کہتی پھرتی ہے نسیم\nگل سے ہنستی کھلکھلاتی موتیا پکڑی گئی\n\nاپنے ہاتھوں پر لئے پھرتے ہیں وہ ہر دم حلف\nآڑ قسموں کی تو مجھ سے بارہا پکڑی گئی\n\nرخ سے گل کو تھا تعلق زلف سے سنبل کو میل\nایک جا گانٹھا اسے یہ ایک جا پکڑی گئی\n\nیار ہے خنجر بکف اور جاں نثاروں کا ہجوم\nہائے یہ کس جرم میں خلق خدا پکڑی گئی\n\nآپ ہی کا آسرا ہے آپ کیجے گا مدد\nحشر میں پرویںؔ اگر یا مصطفیٰ پکڑی گئی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B3%D8%B1%D9%85%DB%81_%D8%B3%D8%A7_%D9%BE%DA%A9%DA%91%DB%8C_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دل کی کایا غم نے وہ پلٹی کہ تجھ سا بن گیا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کی کایا غم نے وہ پلٹی کہ تجھ سا بن گیا\nدرد میں دل ڈوب کر قطرے سے دریا بن گیا\n\nان کے آغوش مشیت میں ہے ناکامی مری\nکام کچھ اس طرح بگڑا ہے کہ گویا بن گیا\n\nدل کی رت ایسی تو یاد یار نے بدلی نہ تھی\nیہ چمن اجڑا ہی اس ڈھب سے کہ صحرا بن گیا\n\nنقش موہوم حیات افسانہ در افسانہ تھا\nجب یہ نقش ابھرا تو اک حرف تمنا بن گیا\n\nلو مبارک لذت غم بھی ہے اب تو ناگوار\nدل محبت میں جو بننا چاہیئے تھا بن گیا\n\nجلوۂ کثرت خود اپنا شوق بے اندازہ تھا\nمحفل لیلیٰ مری نظروں میں لیلیٰ بن گیا\n\nمیری محرومی بھی رسوا ہے کہ فانیؔ حال دل\nان کے کانوں تک نہ پہنچا اور فسانا بن گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%BE%D9%84%D9%B9%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D8%A7_%D8%A8%D9%86_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل کی کدورتیں اگر انساں سے دور ہوں", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کی کدورتیں اگر انساں سے دور ہوں\nسارے نفاق گبر و مسلماں سے دور ہوں\n\nنزدیک آ چکی ہے سواری بہار کی\nبرگ خزاں رسیدہ گلستاں سے دور ہوں\n\nدل اس قدر گداز ہے برسوں ہی غم رہے\nآنسو جو اپنے دیدۂ گریاں سے دور ہوں\n\nمٹتا نہیں نوشتۂ قسمت کسی طرح\nجوہر کبھی نہ خنجر براں سے دور ہوں\n\nفصل بہار آئی ہے کپڑوں کو پھاڑیے\nدل کے بخار دست و گریباں سے دور ہوں\n\nچھڑکاؤ کا ارادہ ہے چشم پر آب کا\nگرد و غبار کوچۂ جاناں سے دور ہوں\n\nیہ تنگ کر رہا ہے تو الجھا رہے ہیں وہ\nدامن کے پاٹ پہلے گریباں سے دور ہوں\n\nوحش و طیور کو مری آہیں کریں ہلاک\nآب و گیاہ کوہ و بیاباں سے دور ہوں\n\nممکن نہیں نجات اسیران عشق کو\nیہ قیدی وہ نہیں کہ جو زنداں سے دور ہوں\n\nمدت کے بعد آئے ہیں صحرا میں اے جنوں\nدو آبلے تو خار مغیلاں سے دور ہوں\n\nگردش سے چشم یار کے آتشؔ عجب نہیں\nجو جو عمل کہ گردش دوراں سے دور ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "دل کی کہوں یا کہوں جگر کی", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کی کہوں یا کہوں جگر کی\nکچھ بات کروں ادھر ادھر کی\n\nلو دل کی بجھائیں یا جگر کی\nلیں اشک خبر کدھر کدھر کی\n\nاٹھنے نہ دیا ہمیں مرے پر\nلی ضعف نے عاقبت پسر کی\n\nگھڑیال نصیب ہوں شب وصل\nسر چوٹ ہے ہر گھڑی گجر کی\n\nڈھلنے کو ہے مہر نوجوانی\nچھٹنے پہ ہے توپ دوپہر کی\n\nکیا کم سخنوں کو شمع کہیے\nشمعوں کی زباں ہے ہاتھ بھر کی\n\nمرقد میں چلے رہ عدم لی\nسوجھی جو مسافرت میں گھر کی\n\nکاکل ہوئی تر عرق سے رخ کے\nپی سانپ نے اس پھول پر کی\n\nجی قبر میں خاک بھلے اے شادؔ\nبستی ہے اجاڑ اس نگر کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "دل کی ہر لرزش مضطر پہ نظر رکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کی ہر لرزش مضطر پہ نظر رکھتے ہیں\nوہ میری بے خبری کی بھی خبر رکھتے ہیں\n\nدرد میں لطف خلش کیف کشش پاتا ہوں\nکیا وہ پھر عزم تماشائے جگر رکھتے ہیں\n\nجس طرف دیکھ لیا پھونک دیا طور مجاز\nیہ ترے دیکھنے والے وہ نظر رکھتے ہیں\n\nخود تغافل نے دیا مژدۂ بیداد مجھے\nاللہ اللہ مرے نالے بھی اثر رکھتے ہیں\n\nبے بسی دیکھ یہ سو بار کیا عہد کہ اب\nتجھ سے امید نہ رکھیں گے مگر رکھتے ہیں\n\nہے ترے در کے سوا کوئی ٹھکانا اپنا\nکیا کہیں تیرے اجاڑے ہوئے گھر رکھتے ہیں\n\nکوئی اس جبر تمنا کی بھی حد ہے فانیؔ\nہم شب ہجر میں امید سحر رکھتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D8%B1_%D9%84%D8%B1%D8%B2%D8%B4_%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل کیوں تپاں ہے کوچۂ دل دار دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کیوں تپاں ہے کوچۂ دل دار دیکھ کر\nآگے بڑھوں گا چرخ کی رفتار دیکھ کر\n\nخوش ہو سکا نہ حال دل زار دیکھ کر\nجلتا ہے غیر میری شب تار دیکھ کر\n\nسمجھے نہ آپ دیدۂ خوں بار دیکھ کر\nکیا کیجئے گا حال دل زار دیکھ کر\n\nصیاد داغ دل نہ سمجھنا کہ چلتے وقت\nگلشن کے پھول لایا ہوں دو چار دیکھ کر\n\nطے کر کے آج خانہ بدوشی کی منزلیں\nبیٹھا ہوں اس کا سایۂ دیوار دیکھ کر\n\nکچھ کچھ زمانہ جان گیا کار حسن و عشق\nمنصور کو جہان میں سردار دیکھ کر\n\nوقف زبان اہل حسد ہے لہو مرا\nخوش ہو رہا ہوں وادیٔ پر خار دیکھ کر\n\nپتھر نہیں کہ طور کے دور آزمائے جائیں\nاے برق حسن حال دل زار دیکھ کر\n\nاب دہر روشناس وفا و جفا ہوا\nمیرے گلے پر آپ کی تلوار دیکھ کر\n\nمحشر میں کوئی پوچھنے والا تو مل گیا\nرحمت بڑھی ہے مجھ کو گنہ گار دیکھ کر\n\nہے روشنی قفس میں مگر سوجھتا نہیں\nابر سیاہ جانب گلزار دیکھ کر\n\nروتا ہوں شام غم میں دل گم شدہ کو میں\nیاد آ رہی ہے شمع شب تار دیکھ کر\n\nچلئے مگر خیال رہے عمر دہر کا\nتھم جائے آسماں نہ یہ رفتار دیکھ کر\n\nروتا ہوں وقت نالہ گزرنے سے اور بھی\nشب کو طلوع صبح کے آثار دیکھ کر\n\nبس ایک دن کی بات ہے اے عشق لازوال\nمیں کیا کروں گا مصر کا بازار دیکھ کر\n\nکیا تھا کہ ایسے وقت میں صاحب دلان حشر\nدیکھا کئے مجھے تری تلوار دیکھ کر\n\nصد چاک دل کا ذکر نہ بھولا میں دیر میں\nتسبیح یاد آ گئی زنار دیکھ کر\n\nٹوٹے ہیں شیشہ ہائے دل اتنے کہ اہل درد\nرکھتے ہیں پاؤں خاک پہ سو بار دیکھ کر\n\nصیاد کس جگہ پہ قفس ہے کہ دل مرا\nدر ہو رہا ہے باغ کی دیوار دیکھ کر\n\nان دوستوں میں وہ نہ ہوں یا رب جو وقت دید\nبیمار ہو گئے رخ بیمار دیکھ کر\n\nوہ کیا سمجھ سکیں گے نشیب و فراز دہر\nجو چل رہے ہیں راہ کو ہموار دیکھ کر\n\nکہتے ہیں دل لگی مری شام فراق کو\nاچھا یوں ہی سہی مگر اک بار دیکھ کر\n\nثاقبؔ عجب نہیں کہ سر طور امتحاں\nغش دل کو آئے جلو اشعار دیکھ کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%BE%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%82_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دل کیے تسخیر بخشا فیض روحانی مجھے", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کیے تسخیر بخشا فیض روحانی مجھے\nحب قومی ہو گیا نقش سلیمانی مجھے\n\nمنزل عبرت ہے دنیا اہل دنیا شاد ہیں\nایسی دلجمعی سے ہوتی ہے پریشانی مجھے\n\nجانچتا ہوں وسعت دل حملۂ غم کے لیے\nامتحاں ہے رنج و حرماں کی فراوانی مجھے\n\nحق پرستی کی جو میں نے بت پرستی چھوڑ کر\nبرہمن کہنے لگے الحاد کا بانی مجھے\n\nکلفت دنیا مٹے بھی تو سخی کے فیض سے\nہاتھ دھونے کو ملے بہتا ہوا پانی مجھے\n\nخود پرستی مٹ گئی قدر محبت بڑھ گئی\nماتم حباب ہے تعلیم روحانی مجھے\n\nقوم کا غم مول لے کر دل کا یہ عالم ہوا\nیاد بھی آتی نہیں اپنی پریشانی مجھے\n\nذرہ ذرہ ہے مرے کشمیر کا مہماں نواز\nراہ میں پتھر کے ٹکڑوں نے دیا پانی مجھے\n\nلکھنؤ میں پھر ہوئی آراستہ بزم سخن\nبعد مدت پھر ہوا ذوق غزل خوانی مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C%DB%92_%D8%AA%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%D8%AE%D8%B4%D8%A7_%D9%81%DB%8C%D8%B6_%D8%B1%D9%88%D8%AD%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "دل کے آئینے میں نت جلوہ کناں رہتا ہے", "poet_page": "مصنف:شیر محمد خاں ایمان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کے آئینے میں نت جلوہ کناں رہتا ہے\nہم نے دیکھا ہے تو اے شوخ جہاں رہتا ہے\n\nکوئی دن گھر سے نہ نکلے ہے اگر وہ خورشید\nمنتظر شام تلک ایک جہاں رہتا ہے\n\nجھاڑ دامن کے تئیں مار کے ٹھوکر نکلے\nکہیں روکے سے بھی وہ سرو رواں رہتا ہے\n\nگاہے ماہے اے مہ عید ادھر بھی تو گزر\nروز و شب بزم میں تیرا ہی بیاں رہتا ہے\n\nباوجودیکہ مجھے ربط دلی ہے اس سے\nیہ نہ پوچھا کبھو ایمانؔ کہاں رہتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%AA_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%A9%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل کے آتے ہی یہ نقشہ ہو گیا", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کے آتے ہی یہ نقشہ ہو گیا\nکیا بتاؤں دوستو کیا ہو گیا\n\nتم نے فرصت پائی گھر بیٹھے طبیب\nمر گیا بیمار اچھا ہو گیا\n\nکر چکا تھا کام افسون رقیب\nآج ہم سے ان سے پرچھا ہو گیا\n\nان پہ دل آیا بڑی مشکل پڑی\nمدعی پہلو میں پیدا ہو گیا\n\nہائے بیتابی نے میری کیا کیا\nحال سب ان پر ہویدا ہو گیا\n\nایک ظالم پر طبیعت آ گئی\nپھر وہی اب حال میرا ہو گیا\n\nشکر ہے پیدا کیا خالق نے جسم\nروح کا کچھ دن کو پردا ہو گیا\n\nکھل گئے زخموں کے منہ اچھا ہوا\nدرد کے بڑھنے کو رستہ ہو گیا\n\nتو ہی چل اے روح جوش شوق ہے\nخط کے آنے میں تو عرصہ ہو گیا\n\nوقت بد کچھ پوچھ کر آتا نہیں\nہنستے ہنستے ان سے جھگڑا ہو گیا\n\nحال کیوں ابتر ہے اس درجہ نسیمؔ\nسچ کہو دل کس پہ شیدا ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D9%86%D9%82%D8%B4%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل کے آغوش میں وہ راحت جاں رہتا ہے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کے آغوش میں وہ راحت جاں رہتا ہے\nبندہ خانی میں خداوند جہاں رہتا ہے\n\nعشق کے آتے ہی سب جاتے رہے ہوش و حواس\nجانور رہتے نہیں شیر جہاں رہتا ہے\n\nایک اقلیم میں دو شاہ نہیں رہ سکتے\nعشق جب آیا لو آرام کہاں رہتا ہے\n\nڈھونڈیئے دل کو تو کہتے ہیں وہ یہ سینہ سپر\nاک مرے خانۂ زنجیر میں یہاں رہتا ہے\n\nگزرے اے پیک صبا تو یہ دعا کہہ دینا\nکوچۂ زلف میں دل نام جواں رہتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%BA%D9%88%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل کے تیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کے تیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیا\nگھر جلا سامنے پر ہم سے بجھایا نہ گیا\n\nدل میں رہ دل میں کہ معمار قضا سے اب تک\nایسا مطبوع مکاں کوئی بنایا نہ گیا\n\nکبھو عاشق کا ترے جبہے سے ناخن کا خراش\nخط تقدیر کے مانند مٹایا نہ گیا\n\nکیا تنک حوصلہ تھے دیدہ و دل اپنے آہ\nایک دم راز محبت کا چھپایا نہ گیا\n\nدل جو دیدار کا قاتل کے بہت بھوکا تھا\nاس ستم کشتہ سے اک زخم بھی کھایا نہ گیا\n\nمیں تو تھا صید زبوں صید گہ عشق کے بیچ\nآپ کو خاک میں بھی خوب ملایا نہ گیا\n\nشہر دل آہ عجب جائے تھی پر اس کے گئے\nایسا اجڑا کہ کسی طرح بسایا نہ گیا\n\nآج رکتی نہیں خامے کی زباں رکھیے معاف\nحرف کا طول بھی جو مجھ سے گھٹایا نہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل کے زخموں سے چمن میں شور برپا کر دیا", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کے زخموں سے چمن میں شور برپا کر دیا\nمیں نے پھولوں میں ہنسی کا تیری چرچا کر دیا\n\nاپنی وحشت اپنی بدنامی کا مجھ کو غم نہیں\nاس کا رونا ہے کہ میں نے تجھ کو رسوا کر دیا\n\nپھر مریض غم نہ بولا دیکھ کر ظالم تجھے\nآنکھوں ہی آنکھوں میں یہ کیا کہہ دیا کیا کر دیا\n\nسامنے تم آ گئے میں دل پکڑ کر رہ گیا\nمیری قسمت سے دوا نے درد پیدا کر دیا\n\nہائے اب کوئی ٹھکانا آرزوؤں کا نہیں\nدل کی بستی لوٹ لی ظالم نے یہ کیا کر دیا\n\nچاندنی کا رات اک دریا بنایا ماہ نے\nموتیوں سے میں نے پر رو رو کے دریا کر دیا\n\nمیری میت پر وہ آیا سب ہوئے محو جمال\nموت کو بھی میری ظالم نے تماشا کر دیا\n\nاب شعاع حسن پر انوار ہے نظارہ سوز\nتیری اس بے پردگی نے خود ہی پردہ کر دیا\n\nدشت گردی کی بدولت چار تنکے چن لئے\nآشیاں کا میری وحشت نے سہارا کر دیا\n\nکیا صدا تھی سننے والے دل پکڑ کر رہ گئے\nتیرے نالوں نے تو افسرؔ حشر برپا کر دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B2%D8%AE%D9%85%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%B1%D9%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل کے سب داغ کھلے ہیں گل خنداں ہو کر", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کے سب داغ کھلے ہیں گل خنداں ہو کر\nرنگ لایا ہے یہ غنچہ چمنستاں ہو کر\n\nدامن تر ہے کہ دفتر ہے یہ رسوائی کا\nمیری آنکھوں نے ڈبویا مجھے گریاں ہو کر\n\nنیند آئی جو کبھی زلف کے دیوانے کو\nچونک اٹھا خواب پریشاں سے پریشاں ہو کر\n\nنگہ شوق تو در پردہ خبر لیتی ہے\nآپ جائیں گے کہاں آنکھ سے پنہاں ہو کر\n\nجلوہ گر آئنہ خانے میں ہوا کون حسیں\nنقش دیوار ہیں سب آئنے حیراں ہو کر\n\nدل میں آئے ہیں تو اب دل سے نکلتے ہی نہیں\nگھر پہ قبضہ کیے بیٹھے ہیں وہ مہماں ہو کر\n\nشہرۂ حسن ابھی کیا ہے شباب آنے دو\nنام چمکے گا تمہارا مہ تاباں ہو کر\n\nقتل کے بعد وفا میری جو یاد آئی ہے\nسر جھکائے ہوئے بیٹھے ہیں پشیماں ہو کر\n\nمست آنکھوں پہ بکھر جاتی ہے جب زلف جلیلؔ\nمیں سمجھتا ہوں گھٹا چھائی ہے مے خانوں پر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%D8%AE%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے\nایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے\n\nعشق و مے خواری نبھے ہے کوئی درویشی کے بیچ\nاس طرح کے خرج لا حاصل کو دولت چاہیے\n\nعاقبت فرہاد مر کر کام اپنا کر گیا\nآدمی ہووے کسی پیشہ میں جرأت چاہیے\n\nہو طرف مجھ پہلواں شاعر کا کب عاجز سخن\nسامنے ہونے کو صاحب فن کے قدرت چاہیے\n\nعشق میں وصل و جدائی سے نہیں کچھ گفتگو\nقرب و بعد اس جا برابر ہے محبت چاہیے\n\nنازکی کو عشق میں کیا دخل ہے اے بوالہوس\nیاں صعوبت کھینچنے کو جی میں طاقت چاہیے\n\nتنگ مت ہو ابتداے عاشقی میں اس قدر\nخیریت ہے میرؔ صاحب دل سلامت چاہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B9%D9%85%D9%88%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%B1_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D9%81%D8%B1%D8%B5%D8%AA_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "دل کے نگر میں چار طرف جب غم کی دہائی بیٹھ گئی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کے نگر میں چار طرف جب غم کی دہائی بیٹھ گئی\nسر پہ ہمارے دست قضا سے تیغ جدائی بیٹھ گئی\n\nہم ہیں فقیر اللہ کے یارو پھر اس کا ہے پریکھا کیا\nگر ہم پاس بھی آ کر کوئی بہنی مائی بیٹھ گئی\n\nسن کے ادائے غم کی تیرے صبر و شکیب ہیں بھاگنے پر\nپاؤں ٹھہرنے مشکل ہیں جب دھاک پرائی بیٹھ گئی\n\nاے دل اس بانکیت سے ہرگز شغل نہ کر تو لکڑی کا\nہاتھ قلم ہے پھر تیرا گر ایک بھی گھائی بیٹھ گئی\n\nتیغ جفا لی میان سے اپنے جب اس جان کے دشمن نے\nسر کو جھکا کر اپنے اپنے، ساری خدائی بیٹھ گئی\n\nمصحفیؔ کیا پوچھے ہے دوانے حال صفائے دل کا مرے\nتھا تو یہ آئینہ روشن پر اب کائی بیٹھ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%AC%D8%A8_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دل کے ویرانے میں اک پھول کھلا رہتا ہے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کے ویرانے میں اک پھول کھلا رہتا ہے\nکوئی موسم ہو مرا زخم ہرا رہتا ہے\n\nشب کو ہوگا افق جاں سے ترا حسن طلوع\nیہ وہ خورشید ہے جو دن کو چھپا رہتا ہے\n\nیہی دیوار جدائی ہے زمانے والو\nہر گھڑی کوئی مقابل میں کھڑا رہتا ہے\n\nکتنا چپ چاپ ہی گزرے کوئی میرے دل سے\nمدتوں ثبت نشان کف پا رہتا ہے\n\nسارے در بند ہوئے شہر میں دیوانے پر\nایک خوابوں کا دریچہ ہی کھلا رہتا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%A9_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل کے کہنے پہ چلوں عقل کا کہنا نہ کروں", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کے کہنے پہ چلوں عقل کا کہنا نہ کروں\nمیں اسی سوچ میں ہوں کیا کروں اور کیا نہ کروں\n\nزندگی اپنی کسی طرح بسر کرنا ہے\nکیا کروں آہ اگر تیری تمنا نہ کروں\n\nمجلس وعظ میں کیا میری ضرورت ناصح\nگھر میں بیٹھا ہوا شغل مے و مینا نہ کروں\n\nمست ہے حال میں دل بے خیر مستقبل\nسوچتا ہوں اسے ہشیار کروں یا نہ کروں\n\nکس طرح حسن زباں کی ہو ترقی وحشتؔ\nمیں اگر خدمت اردوئے معلیٰ نہ کروں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%81_%DA%86%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%B9%D9%82%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "دل کے ہر جزو میں جدائی ہے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کے ہر جزو میں جدائی ہے\nکیا بلا وصل کی سمائی ہے\n\nنارسائی سر رسائی ہے\nضعف کی طاقت آزمائی ہے\n\nجام و مینا پہ نور برسے ہے\nکیا گھٹا مے کدے پہ چھائی ہے\n\nیوں تو وہ عالم آشنا ہے مگر\nاک مجھی سے ذرا لڑائی ہے\n\nتو ملا غیر سے کہ خاک میں ہم\nعاقبت ہر طرح صفائی ہے\n\nتم جدا غیر سے ہوئے تھے کب\nواجبی طعن بے وفائی ہے\n\nاے قلقؔ ہم سے تو ملا کر یار\nخالص الفت میں کیا برائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%AC%D8%B2%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل کے ہوتے بھی کہیں درد جدا ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل کے ہوتے بھی کہیں درد جدا ہوتا ہے\nاک فقط موت کے آ جانے سے کیا ہوتا ہے\n\nظلم سے ذکر وفا اور سوا ہوتا ہے\nان کی ہر ایک برائی میں بھلا ہوتا ہے\n\nشہدا نعمت دنیا کی طلب بھول گئے\nخون کے گھونٹ میں ایسا ہی مزا ہوتا ہے\n\nخود فراموشی الفت ہے علاج غم دہر\nبے خبر ہوش میں آنا ہی برا ہوتا ہے\n\nامتحاں گاہ تری محفل دل کش ہے مگر\nمیں بھی دیکھوں کہ کوئی دل کے سوا ہوتا ہے\n\nتم سے کہتا ہوں مرا خون مرے دل پہ سہی\nرسم دنیا ہے کہ اپنوں سے گلا ہوتا ہے\n\nبزم سے اٹھ تو چلا میں کہ محل تھا لیکن\nرونے والوں سے بھلا کوئی خفا ہوتا ہے\n\nدیکھ ہی لیتے ہیں سب ناز و ادا کی صورت\nآئنہ آپ کا نقش کف پا ہوتا ہے\n\nنالۂ دل کے اثر کا نہ کرو مجھ سے گلہ\nمجھ کو کیا علم کہ کس طرح رسا ہوتا ہے\n\nتوبہ توبہ ہے یہی عشق کی باطل نظری\nسنگ بت خانے میں آتے ہی خدا ہوتا ہے\n\nکیا سبب کچھ تجھے معلوم ہے اے ابر بہار\nدل کے مرجھانے سے کیوں زخم ہرا ہوتا ہے\n\nوہ کہیں یا نہ کہیں میں ہوں اثر سے واقف\nبول اٹھتا ہے وہ نالہ جو رسا ہوتا ہے\n\nروشنی دن کی ابھی ہے کہ ہیں کھوئے ہوئے ہوش\nدیکھنا ہے شب تاریک میں کیا ہوتا ہے\n\nہجر کے درد کو بڑھنے دے کہ ہے مژدۂ وصل\nوہی گھٹتا ہے جہاں میں جو سوا ہوتا ہے\n\nبد نصیبی ہو تو ہر خوب کی خوبی ہے فضول\nصبح کا وقت ستاروں کو برا ہوتا ہے\n\nدل تو دل سر بھی کبھی ہوتا ہے ممنون فراق\nجس میں ہے عشق یہ سودا وہ جدا ہوتا ہے\n\nمرے راضی بہ رضا ہونے سے سب راضی ہیں\nورنہ جو ہے وہ شکایت سے خفا ہوتا ہے\n\nاولیں مرحلۂ عشق ہے جب حسرت و موت\nکوئی بتلائے کہ پھر بعد میں کیا ہوتا ہے\n\nبیم و امید سے کس طرح نکل جاؤں کہ دل\nنہ ٹھہرتا ہے جہاں میں نہ فنا ہوتا ہے\n\nمنتظر نزع میں چپ ہے تو اسے چپ نہ سمجھ\nدم کا رک رک کے نکلنا بھی گلا ہوتا ہے\n\nشب تاریک میں نکلا تو ہے دیکھوں ثاقبؔ\nنارسا رہتا ہے نالہ کہ رسا ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل گئے آفت آئی جانوں پر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل گئے آفت آئی جانوں پر\nیہ فسانہ رہا زبانوں پر\n\nعشق میں ہوش و صبر سنتے تھے\nرکھ گئے ہاتھ سو تو کانوں پر\n\nگرچہ انسان ہیں زمیں سے ولے\nہیں دماغ ان کے آسمانوں پر\n\nشہر کے شوخ سادہ رو لڑکے\nظلم کرتے ہیں کیا جوانوں پر\n\nعرش و دل دونوں کا ہے پایہ بلند\nسیر رہتی ہے ان مکانوں پر\n\nجب سے بازار میں ہے تجھ سی متاع\nبھیڑ ہی رہتی ہے دکانوں پر\n\nلوگ سر دینے جاتے ہیں کب سے\nیار کے پاؤں کے نشانوں پر\n\nکجی اوباش کی ہے وہ دربند\nڈالے پھرتا ہے بند شانوں پر\n\nکوئی بولا نہ قتل میں میرے\nمہر کی تھی مگر دہانوں پر\n\nیاد میں اس کے ساق سیمیں کی\nدے دے ماروں ہوں ہاتھ رانوں پر\n\nتھے زمانے میں خرچی جن کی روپے\nپھانسا کرتے ہیں ان کو آنوں پر\n\nغم و غصہ ہے حصے میں میرے\nاب معیشت ہے ان ہی کھانوں پر\n\nقصے دنیا میں میرؔ بہت سنے\nنہ رکھو گوش ان فسانوں پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں\nجانے والی چیز کا غم کیا کریں\n\nہم نے مر کر ہجر میں پائی شفا\nایسے اچھوں کا وہ ماتم کیا کریں\n\nاپنے ہی غم سے نہیں ملتی نجات\nاس بنا پر فکر عالم کیا کریں\n\nایک ساغر پر ہے اپنی زندگی\nرفتہ رفتہ اس سے بھی کم کیا کریں\n\nکر چکے سب اپنی اپنی حکمتیں\nدم نکلتا ہو تو ہمدم کیا کریں\n\nدل نے سیکھا شیوۂ بیگانگی\nایسے نامحرم کو محرم کیا کریں\n\nمعرکہ ہے آج حسن و عشق کا\nدیکھیے وہ کیا کریں ہم کیا کریں\n\nآئینہ ہے اور وہ ہیں دیکھیے\nفیصلہ دونوں یہ باہم کیا کریں\n\nآدمی ہونا بہت دشوار ہے\nپھر فرشتے حرص آدم کیا کریں\n\nتند خو ہے کب سنے وہ دل کی بات\nاور بھی برہم کو برہم کیا کریں\n\nحیدرآباد اور لنگر یاد ہے\nاب کے دلی میں محرم کیا کریں\n\nکہتے ہیں اہل سفارش مجھ سے داغؔ\nتیری قسمت ہے بری ہم کیا کریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل گیا دل لگی نہیں جاتی", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل گیا دل لگی نہیں جاتی\nروتے روتے ہنسی نہیں جاتی\n\nآنکھیں ساقی کی جب سے دیکھی ہیں\nہم سے دو گھونٹ پی نہیں جاتی\n\nکبھی ہم بھی تڑپ میں بجلی تھے\nاب تو کروٹ بھی لی نہیں جاتی\n\nان کو سینے سے بھی لگا دیکھا\nہائے دل کی لگی نہیں جاتی\n\nبات کرتے وہ قتل کرتا ہے\nبات بھی جس سے کی نہیں جاتی\n\nآپ میں آئے بھی تو کیا آئے\nلذت بے خودی نہیں جاتی\n\nہیں وہی مجھ سے کاوشیں دل کی\nدوست کی دشمنی نہیں جاتی\n\nہو گئے پھول زخم دل کھل کر\nنہیں جاتی ہنسی نہیں جاتی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C"} {"title": "دل گیا دل کا نشاں باقی رہا", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل گیا دل کا نشاں باقی رہا\nدل کی جا درد نہاں باقی رہا\n\nکون زیر آسماں باقی رہا\nنیک ناموں کا نشاں باقی رہا\n\nہو لیے دنیا کے پورے کاروبار\nاور اک خواب گراں باقی رہا\n\nرفتہ رفتہ چل بسے دل کے مکیں\nاب فقط خالی مکاں باقی رہا\n\nچل دیے سب چھوڑ کر اہل جہاں\nاور رہنے کو جہاں باقی رہا\n\nکارواں منزل پہ پہنچا عمر کا\nاب غبار کارواں باقی رہا\n\nمل گئے مٹی میں کیا کیا مہ جبیں\nسب کو کھا کر آسماں باقی رہا\n\nمٹ گئے بن بن کے کیا قصر و محل\nنام کو اک لا مکاں باقی رہا\n\nآرزو ہی آرزو میں مٹ گئے\nاور شوق آستاں باقی رہا\n\nعیش و عشرت چل بسے دل سے ظہیرؔ\nدرد و غم بہر نشاں باقی رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "دل گیا رونق حیات گئی", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل گیا رونق حیات گئی\nغم گیا ساری کائنات گئی\n\nدل دھڑکتے ہی پھر گئی وہ نظر\nلب تک آئی نہ تھی کہ بات گئی\n\nدن کا کیا ذکر تیرہ بختوں میں\nایک رات آئی ایک رات گئی\n\nتیری باتوں سے آج تو واعظ\nوہ جو تھی خواہش نجات گئی\n\nان کے بہلائے بھی نہ بہلا دل\nرائیگاں سعئ التفات گئی\n\nمرگ عاشق تو کچھ نہیں لیکن\nاک مسیحا نفس کی بات گئی\n\nاب جنوں آپ ہے گریباں گیر\nاب وہ رسم تکلفات گئی\n\nہم نے بھی وضع غم بدل ڈالی\nجب سے وہ طرز التفات گئی\n\nترک الفت بہت بجا ناصح\nلیکن اس تک اگر یہ بات گئی\n\nہاں مزے لوٹ لے جوانی کے\nپھر نہ آئے گی یہ جو رات گئی\n\nہاں یہ سرشاریاں جوانی کی\nآنکھ جھپکی ہی تھی کہ رات گئی\n\nجلوۂ ذات اے معاذ اللہ\nتاب آئینۂ صفات گئی\n\nنہیں ملتا مزاج دل ہم سے\nغالباً دور تک یہ بات گئی\n\nقید ہستی سے کب نجات جگرؔ\nموت آئی اگر حیات گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D9%86%D9%82_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دل ہر گھڑی کہتا ہے یوں جس طور سے اب ہو سکے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہر گھڑی کہتا ہے یوں جس طور سے اب ہو سکے\nاٹھ اور سنبھل گھر سے نکل اور پاس اس چنچل کے چل\n\nدیکھی جو اس محبوب کی ہم نے جھلک ہے کل کی کل\nپائی ہر اک تعویذ میں اپنے دل بیکل کی کل\n\nجب ناز سے ہنس کر کہا اس نے ارے چل کیا ہے تو\nکیا کیا پسند آئی ہیں اس نازنیں چنچل کی چل\n\nہے وہ کف پا نرم تر اس کی کہ وقت ہم سری\nڈالے کف پائے صنم نرمی وہیں مخمل کی مل\n\nہم ہیں تمہارے مبتلا مدت سے ہے یہ آرزو\nبیٹھو ہمارے پاس بھی اے جاں کبھی اک پل کی پل\n\nہے دم غنیمت اے نظیرؔ اب میکدے میں بیٹھ کر\nتو آج تو مے پی میاں پھر دیکھ لیجو کل کی کل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%B3_%D8%B7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88_%D8%B3%DA%A9%DB%92"} {"title": "دل ہم نے جو چشم بت بے باک سے باندھا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہم نے جو چشم بت بے باک سے باندھا\nپھر نشۂ صہبا سے نہ تریاک سے باندھا\n\nاس زلف سے جب ربط ہوا جی کو تو ہم نے\nشانے کا تصور دل صد چاک سے باندھا\n\nدیکھا نہ قد سرو کو پھر ہم نے چمن میں\nجس دن سے دل اس قامت چالاک سے باندھا\n\nجو آہوئے دل بھا گیا اس صد فگن کو\nجھپ اس نے اسے کاکل پیچاک سے باندھا\n\nاور جو نہ پسند آیا اسے وہ تو نظیرؔ آہ\nنے صید کیا اس کو نہ فتراک سے باندھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دل ہمارا جانب زلف سیہ فام آئے گا", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہمارا جانب زلف سیہ فام آئے گا\nیہ مسافر آج منزل پر سر شام آئے گا\n\nگو برا ہے دل مگر رہنے دیا ہے اس لئے\nعشق کی خوگر طبیعت ہے کبھی کام آئے گا\n\nعشق دل کامل نہیں دیکھو ابھی کھولو نہ زلف\nصید جب شہباز ہے کیوں کر نہ تہہ دام آئے گا\n\nقاصد مرگ آئے یا آئے تمہارا نامہ بر\nکہہ رہا ہے دل کہ کوئی آج پیغام آئے گا\n\nجام غوطہ کر کے کوثر سے منگائی ہے شراب\nمجھ کو فرماتے ہیں وہ پابند اسلام آئے گا\n\nنیک ناموں کا ہو مجمع بزم ہو آراستہ\nآپ خوش ہوں یا خفا ہوں ایک بدنام آئے گا\n\nتم نہا لو جلد ورنہ رشک سے مر جاؤں گا\nدم میں اب سایہ سر دیوار حمام آئے گا\n\nدونوں آنکھیں دل جگر ہیں عشق ہونے میں شریک\nیہ تو سب اچھے رہیں گے مجھ پر الزام آئے گا\n\nترک کر دو شاعری کو عقل رکھتے ہو رشیدؔ\nہو چکے ہو پیر اب کیا تم کو یہ کام آئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A8_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%D9%81%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دل ہمارا ہے کہ ہم مائل فریاد نہیں", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہمارا ہے کہ ہم مائل فریاد نہیں\nورنہ کیا ظلم نہیں کون سی بیداد نہیں\n\nحسن اک شان الٰہی ہے مگر اے بے مہر\nبے وفائی تو کوئی حسن خداداد نہیں\n\nسر تربت وہ خموشی پہ مری کہتے ہیں\nمرنے والے تجھے پیمان وفا یاد نہیں\n\nحسن آراستہ قدرت کا عطیہ ہے مگر\nکیا مرا عشق جگر سوز خدا داد نہیں\n\nلاکھ پابند علائق نہ رہے کوئی یہاں\nطبع وارستہ مگر فکر سے آزاد نہیں\n\nباہم آئین وفا رسم محبت کیسی\nوقت اب وہ ہے کہ بندوں کو خدا یاد نہیں\n\nچشم مخمور وہ ہے کابل غرق مے ناب\nدفتر عشق پہ جب تک کہ مرے صاد نہیں\n\nپوچھتے کیا ہو تباہی کا فسانہ مجھ سے\nدل برباد کی صورت بھی مجھے یاد نہیں\n\nذرے ذرے میں ہے اک عالم معنی پنہاں\nخاک برباد کو سمجھے ہو کہ آباد نہیں\n\nآپ کہتے ہیں کہ ہے گور غریباں ویراں\nایسی بستی تو جہاں میں کوئی آباد نہیں\n\nآنسوؤں کو بھی ذرا دیکھ لے رونے والے\nان ستاروں میں تو دنیا کوئی آباد نہیں\n\nحسن خود میں نے کیے آئنے کے سو ٹکڑے\nاب نہ کہنا کہ نگاہیں ستم ایجاد نہیں\n\nکب خیالات پہ ممکن ہے کسی کا پہرہ\nدل تو آزاد رہا میں اگر آزاد نہیں\n\nسینہ کاوی کے لیے شرط ہے دل کی ہمت\nناخن دست جنوں تیشۂ فرہاد نہیں\n\nبے خودی منزل عرفاں ہے ذرا ہوش میں آ\nہے خودی کا یہ نتیجہ کہ خدا یاد نہیں\n\nطبقۂ خاک میں ہے عالم خاموش آباد\nجس کو برباد سمجھتے ہو وہ برباد نہیں\n\nدل ویراں کی تباہی کی کوئی حد ہے عزیزؔ\nمیں سمجھتا ہوں کہ دنیا ابھی آباد نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%85_%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل ہماری طرف سے صاف کرو", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہماری طرف سے صاف کرو\nجو ہوا سو ہوا معاف کرو\n\nمجھ سے کہتی ہے اس کی شان کرم\nتم گناہوں کا اعتراف کرو\n\nحسن ان کو یہ رائے دیتا ہے\nکام امید کے خلاف کرو\n\nحضرت دل یہی ہے دیر و حرم\nخانۂ یار کا طواف کرو\n\nطور سینا کی سمت جائیں کلیم\nنوحؔ تم سیر کوہ قاف کرو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%B3%DB%92_%D8%B5%D8%A7%D9%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑے\nاب کار عاشقی تو بہر کیف کر پڑے\n\nعشق بتاں کا دین پہ جو کچھ اثر پڑے\nاب تو نباہنا ہے جب اک کام کر پڑے\n\nمذہب چھڑایا عشوۂ دنیا نے شیخ سے\nدیکھی جو ریل اونٹ سے آخر اتر پڑے\n\nبیتابیاں نصیب نہ تھیں ورنہ ہم نشیں\nیہ کیا ضرور تھا کہ انہیں پر نظر پڑے\n\nبہتر یہی ہے قصد ادھر کا کریں نہ وہ\nایسا نہ ہو کہ راہ میں دشمن کا گھر پڑے\n\nہم چاہتے ہیں میل وجود و عدم میں ہو\nممکن تو ہے جو بیچ میں ان کی کمر پڑے\n\nدانا وہی ہے دل جو کرے آپ کا خیال\nبینا وہی نظر ہے کہ جو آپ پر پڑے\n\nہونی نہ چاہئے تھی محبت مگر ہوئی\nپڑنا نہ چاہئے تھا غضب میں مگر پڑے\n\nشیطان کی نہ مان جو راحت نصیب ہو\nاللہ کو پکار مصیبت اگر پڑے\n\nاے شیخ ان بتوں کی یہ چالاکیاں تو دیکھ\nنکلے اگر حرم سے تو اکبرؔ کے گھر پڑے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%BE%DA%91%DB%92"} {"title": "دل ہو گیا پھپھولا پیارے تمام جل کے", "poet_page": "مصنف:میر سجاد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہو گیا پھپھولا پیارے تمام جل کے\nکیا تجھ نہال سے ہوں امیدوار پھل کے\n\nتنہا نہ دل مرے نے زلفوں سے تاب کھایا\nگلشن کے بیج سنبل کھاتا ہے تاب بل کے\n\nایسے ترے جھمکتے دانتوں کو دیکھ پیارے\nپانی ہو جائے موتی مارے نہ کیوں کہ جھلکے\n\nکیا جانتا تھا مجھ کو رسوا کریں گے سب میں\nیہ طفل اشک میرے آنکھوں کے بیچ پل کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%AC%D9%84_%DA%A9%DB%92"} {"title": "دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغ دار خوب", "poet_page": "مصنف:ماہ لقا بائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغ دار خوب\nپھولا ہے کیا ہی جوش سے یہ لالہ زار خوب\n\nکب تک رہوں حجاب میں محروم وصل سے\nجی میں ہے کیجے پیار سے بوس و کنار خوب\n\nساقی لگا کے برف میں مے کی صراحی لا\nآنکھوں میں چھا رہا ہے نشہ کا خمار خوب\n\nآیا نہ ایک دن بھی تو وعدہ پہ رات کو\nاچھا کیا سلوک تغافل شعار خوب\n\nایسی ہوا بندھی رہے چنداؔ کی یا علی\nبا صد بہار دیکھے جہاں کی بہار خوب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A8"} {"title": "دل ہوا ہے مرا خراب‌ سخن", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہوا ہے مرا خراب‌ سخن\nدیکھ کر حسن بے حجاب سخن\n\nبزم معنی میں سر خوشی ہے اسے\nجس کوں ہے نشۂ شراب سخن\n\nراہ مضمون تازہ بند نہیں\nتا قیامت کھلا ہے باب سخن\n\nجلوہ پیرا ہو شاہد معنی\nجب زباں سوں اٹھے نقاب سخن\n\nگوہر اس کی نظر میں جا نہ کرے\nجن نے دیکھا ہے آب و تاب سخن\n\nہرجا‌ گویاں کی بات کیونکہ سنے\nجو سنا نغمۂ رباب سخن\n\nہے تری بات اے نزاکت فہم\nلوح دیباچۂ کتاب سخن\n\nہے سخن جگ منیں عدیم المثال\nجز سخن نیں دجا جواب سخن\n\nاے ولیؔ درد سر کبھو نہ رہے\nجب ملے صندل و گلاب سخن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8%E2%80%8C_%D8%B3%D8%AE%D9%86"} {"title": "دل ہی تو ہے نگاہ کرم سے پگھل گیا", "poet_page": "مصنف:نیر سلطانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہی تو ہے نگاہ کرم سے پگھل گیا\nشکوہ لبوں پہ آ کے تبسم میں ڈھل گیا\n\nپہونچا نہ تھا یقین کی منزل پہ میں ابھی\nمیرا خیال مجھ سے بھی آگے نکل گیا\n\nخلوت بنی ہوئی تھی تری انجمن مگر\nمیں آ گیا تو بزم کا نقشہ بدل گیا\n\nواں مطمئن کرم کہ دیا ہے بقدر ظرف\nیاں اضطراب شوق میں ساغر بدل گیا\n\nہے چشم التفات کو فکر شکست دل\nشاید حریف کوئی نئی چال چل گیا\n\nپنہاں تھا لغزشوں میں بھی احساس آگہی\nمیں کیا سنبھل گیا کہ زمانہ سنبھل گیا\n\nخیرہ ہے بزم یار میں نیرؔ نگاہ شوق\nشمعیں جلیں کہ دامن نظارہ جل گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%AF%DA%BE%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟\nروئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں؟\n\nدَیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیں\nبیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، غیر ہمیں اُٹھائے کیوں؟\n\nجب وہ جمالِ دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روز\nآپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپائے کیوں؟\n\nدشنۂ غمزہ جاں ستاں، ناوکِ ناز بے پناہ\nتیرا ہی عکس رُخ سہی، سامنے تیرے آئے کیوں؟\n\nقیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں\nموت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟\n\nحسن اور اس پہ حسنِ ظن، رہ گئی بُو الْہَوَس کی شرم\nاپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں؟\n\nواں وہ غرورِ عزّ و ناز، یاں یہ حجابِ پاس وضع\nراہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلائے کیوں؟\n\nہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہی\nجس کو ہوں دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟\n\nغالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں\nروئیے زار زار کیا؟ کیجیے ہائے ہائے کیوں؟", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D9%88_%D8%AE%D8%B4%D8%AA_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA"} {"title": "دل ہی میرا فقط ہے مطلب کا", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہی میرا فقط ہے مطلب کا\nیا جگر بھی ہے آپ کے ڈھب کا\n\nقیس و فرہاد سے میں ہوں واقف\nہو چکا ہے مقابلہ سب کا\n\nکھائی ہے اک نئی مٹھائی آج\nبوسہ پایا ہے یار کے لب کا\n\nمے کدہ میں شراب پیتے ہیں\nیہ پتا ہے ہمارے مشرب کا\n\nشیعہ سنی میں تو بکھیڑے ہیں\nنام لوں کس کے آگے مذہب کا\n\nملک الموت سے کہو پھر جائیں\nجیتے جی مر چکا ہوں میں کب کا\n\nآپ فرمائیں ہجر کا احوال\nمیں کروں ذکر وصل کی شب کا\n\nصبح کو جھونکے نیند کے کیسے\nکہیں جاگا ہوا ہے تو شب کا\n\nاس کے کوچہ کی بھیک چاہتے ہیں\nشوق جاگیر کا نہ منصب کا\n\nرہے دن بھر وہ مدعی میرے\nیاد کر کے معاملہ شب کا\n\nبرگ گل آ میں تیرے بوسے لوں\nتجھ میں ہے ڈھنگ یار کے لب کا\n\nنقد دل دیتا ہوں تو کہتے ہیں\nواہ ایسا سخیؔ ہے تو کب کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%81%D9%82%D8%B7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دل ہی میں نالۂ شبگیر الٹ جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:محمد زکریا خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہی میں نالۂ شبگیر الٹ جاتا ہے\nنا موافق ہے ہوا تیر الٹ جاتا ہے\n\nنالے اس کی نگہ قہر سے رک جاتے ہیں\nتیر سے مرغ ہوا گیر الٹ جاتا ہے\n\nجلوہ گہ میں تری کیا ٹھہروں کہ سایہ ناچار\nجب ہوا روکش تنویر الٹ جاتا ہے\n\nٹھہرا اظہار وفا شکوۂ وصل اغیار\nرشک سے حاصل تقریر الٹ جاتا ہے\n\nمنہ خرابات میں رندوں سے چھپائے کیا شیخ\nنشے میں دامن تزویر الٹ جاتا ہے\n\nذوق تحسین ذکیؔ کس قدر اللہ اللہ\nدم بسمل دم تکبیر الٹ جاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%B4%D8%A8%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دل ہے آئینۂ حیرت سے دو چار آج کی رات", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہے آئینۂ حیرت سے دو چار آج کی رات\nغم دوراں میں ہے عکس غم یار آج کی رات\n\nکوئی منصور سے جا کر یہ کہو ہم نفسو\nہوں بہ تعزیر خموشی سر دار آج کی رات\n\nغم کے محور پہ ہیں ٹھہرے ہوئے افلاک و نجوم\nمیری محفل میں نہیں وقت کو بار آج کی رات\n\nنہ مکاں آج ہے ثابت نہ زماں ہے سیار\nنہ خزاں شعبدہ آرا نہ بہار آج کی رات\n\nکبھی فردوس گل و لالہ تھی جو کشت خیال\nاس سے بے ساختہ اگتے ہیں شرار آج کی رات\n\nبوئے خوں آتی ہے صحرائے تمنا سے مجھے\nکھیلتا ہوں دل وحشی کا شکار آج کی رات\n\nتجھے معلوم ہے عابدؔ کہ بیاض دل پر\nناخن غم نے کئے نقش و نگار آج کی رات", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%82_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "دل ہے اپنا رنج فرقت میں شریک", "poet_page": "مصنف:راغب بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہے اپنا رنج فرقت میں شریک\nخود اذیت خود اذیت میں شریک\n\nہے غم عشق اپنی قسمت میں شریک\nہے یہی ہر ایک حالت میں شریک\n\nیاد ہے تیری ہر آفت میں شریک\nکون ہوتا ہے مصیبت میں شریک\n\nاب تو دل کے ساتھ میری جان بھی\nہو گئی تیری محبت میں شریک\n\nحسن کامل کا کمال عشق دیکھ\nکس کو وہ کرتا محبت میں شریک\n\nننگ آقائی ہے میری بندگی\nآپ کیوں ہوں میری ذلت میں شریک\n\nغیر پھر وہ حکم دے میرے خلاف\nکیا یہ ہے تیری حکومت میں شریک\n\nحسن نے راغبؔ خود اپنے عشق کو\nکر دیا ہر دل کی رغبت میں شریک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%DB%8C%DA%A9"} {"title": "دل ہے اپنا نہ اب جگر اپنا", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہے اپنا نہ اب جگر اپنا\nکر گئی کام وہ نظر اپنا\n\nاب تو دونوں کی ایک حالت ہے\nدل سنبھالوں کہ میں جگر اپنا\n\nمیں ہوں گو بے خبر زمانے سے\nدل ہے پہلو میں با خبر اپنا\n\nدل میں آئے تھے سیر کرنے کو\nرہ پڑے وہ سمجھ کے گھر اپنا\n\nتھا بڑا معرکہ محبت کا\nسر کیا میں نے دے کے سر اپنا\n\nاشک باری نہیں یہ در پردہ\nحال کہتی ہے چشم تر اپنا\n\nکیا اثر تھا نگاہ ساقی میں\nنشہ اترا نہ عمر بھر اپنا\n\nچارہ گر دے مجھے دوا ایسی\nدرد ہو جائے چارہ گر اپنا\n\nوضع داری کی شان ہے یہ جلیلؔ\nرنگ بدلا نہ عمر بھر اپنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "دل ہے بحر بیکراں دل کی امنگ", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہے بحر بیکراں دل کی امنگ\nچار موج چار سو ہے چار رنگ\n\nموج اول ہے جز و کل میں محیط\nسر بسر کبر و منیٰ کا رنگ ڈھنگ\n\nہے تصور دویمی موج خیال\nفرش سے تا عرش جس کی ہے ترنگ\n\nسویمی ہے عقل محدود و سلیم\nمانتے ہیں جس کا لوہا سب دبنگ\n\nدل کی ہے موج‌ چہارم واہمہ\nدم بہ دم جس کی انوکھی ہے امنگ\n\nچار دانگ عالم ایجاد میں\nچار موجیں ہیں بہم اور خانہ جنگ\n\nجان کی تحریک سے ہے سب نمود\nخواہ دل ہے خواہ ہے دل کی امنگ\n\nہیں اسی تحریک میں آخر فنا\nشمع کی لو میں فنا جیسے پتنگ\n\nعقل کی صیقل سے ہو جاتا ہے پاک\nدل کے آئینہ کو جب لگتا ہے زنگ\n\nعلم میں ہے ہستئ دل بے ثبات\nجیسے ساحرؔ آب دریا میں ترنگ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%AD%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%85%D9%86%DA%AF"} {"title": "دل ہے ترے پیار کرنے کوں", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہے ترے پیار کرنے کوں\nجی ہے تجھ پر نثار کرنے کوں\n\nاک لہر لطف کی ہمیں بس ہے\nغم کے دریا سوں پار کرنے کوں\n\nچشم میری ہے ابر نیسانی\nگریۂ زار زار کرنے کوں\n\nچشم نیں انجہواں کی بستی کی\nظلم تیرا شمار کرنے کوں\n\nرشک سیں جب کوئی چھوئے وہ زلف\nدل اٹھے مار مار کرنے کوں\n\nاس ادا سوں لٹک لٹک مت آ\nدل مرا بے قرار کرنے کوں\n\nناؤں کوں گرچہ تو ممولا ہے\nباز ہے دل شکار کرنے کوں\n\nکیا کروں کس سے جا لگاؤں گھات\nآبروؔ اس کے یار کرنے کوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%BA"} {"title": "دل ہے تو ترے وصل کے ارمان بہت ہیں", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہے تو ترے وصل کے ارمان بہت ہیں\nیہ گھر جو سلامت ہے تو مہمان بہت ہے\n\nمیں داد کا خواہاں نہیں اے داور محشر\nآج اپنے کیے پر وہ پشیمان بہت ہیں\n\nدل لے کے کھلونے کی طرح توڑ نہ ڈالیں\nڈر مجھ کو یہی ہے کہ وہ نادان بہت ہیں\n\nوہ پھول چڑھاتے ہیں دبی جاتی ہے تربت\nمعشوق کے تھوڑے سے بھی احسان بہت ہیں\n\nتم کو نہ پسند آئے نہ لو پھیر دو مجھ کو\nاس دل کے خریدار مری جان بہت ہیں\n\nڈانٹا کبھی غمزے نے کبھی ناز نے ٹوکا\nخلوت میں بھی ساتھ ان کے نگہبان بہت ہیں\n\nخالی بھی کوئی دل ہے وہاں عشق صنم سے\nکہنے کو تو کعبے میں مسلمان بہت ہیں\n\nشاید یہ اثر ہو میری آہ سحری کا\nکچھ صبح سے وہ آج پریشان بہت ہیں\n\nکیا شب کو حفیظؔ ان سے یہیں وصل کی ٹھہری\nآج آپ کے گھر عیش کے سامان بہت ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دل ہے روشن کہ ہے دل میں رخ روشن ان کا", "poet_page": "مصنف:مردان صفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مردان صفی (1914)", "year": "1914", "text_ur": "دل ہے روشن کہ ہے دل میں رخ روشن ان کا\nزیر فانوس بدن شمع ہے جوبن ان کا\n\nدید ان کی ہے وصال ان کا تصور ان کا\nجان ان کی ہے جگر ان کا ہے تن من ان کا\n\nہیں وہ کاشانۂ دل میں کبھی آنکھوں میں کبھی\nخانہ تن ہے مرا گھر بھی اور آنگن ان کا\n\nہے تصور جو انہیں کا تو وہ ہیں پیش نگاہ\nہو خیال ان کے سوا گر تو ہے رہزن ان کا\n\nہیں تمہیں میں وہ تم اپنے کو تو دیکھو ہو کون\nجن کو کہتے ہو کہ ہے عرش پہ مسکن ان کا\n\nجان ان کی ہے ہر اک جان کہاں پر وہ نہیں\nدونوں عالم میں یہی رمز ہے مزمن ان کا\n\nبیٹھے بیٹھے وہ کیا کرتے ہیں ہر گل پہ نظر\nدل عاشق ہے مگر سیر کا گلشن ان کا\n\nوہ ہمارے ہیں ہم ان کے ہیں انہیں کا یہ ظہور\nجان ان کی ہے یہی جان بھی تن من ان کا\n\nآ کے گھر میں مرے مرداںؔ نہ وہ جانے پائیں\nتا قیامت نہ چھٹے ہاتھ سے دامن ان کا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%DA%A9%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%AE_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دل ہے غذائے رنج جگر ہے غذائے رنج", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہے غذائے رنج جگر ہے غذائے رنج\nپیدا کیا ہے ہم کو خدا نے برائے رنج\n\nحاصل کسی سے کچھ نہیں ہوتا سوائے رنج\nدنیا میں لائی ہے ہمیں قسمت برائے رنج\n\nآدم سے باغ خلد چھٹا ہم سے کوئے یار\nوہ ابتدائے رنج ہے یہ انتہائے رنج\n\nممکن نہیں ہے آئے جو بوئے گل نشاط\nایسے دماغ جاں میں بھری ہے ہوائے رنج\n\nجھڑکی دے گالیاں دے ستم گر ذلیل کر\nکافر ہو اے صنم جو ذرا دل میں لائے رنج\n\nہم نخل آہ سے چمن روزگار میں\nباندھا کئے ہوا پئے نشو و نمائے رنج\n\nاے صانع ازل مری مٹی خراب کی\nکیا چاہئے تھی خانۂ دل میں بنائے رنج\n\nسب دوست اپنی حال میں ہیں آپ مبتلا\nکس سے کہوں میں کون سنے ماجرائے رنج\n\nہم بار عشق کے متحمل نہ ہو سکے\nبس دل پکڑ کے بیٹھ گئے وہ اٹھائے رنج\n\nہیں سکہ ہائے داغ ہزاروں بھرے ہوئے\nقصر دل فقیر ہے دولت سرائے رنج\n\nبھولی نہیں نصیب کے لکھے کی خوبیاں\nتحریر لوح دل پہ ہے سب ماجرائے رنج\n\nممکن نہیں مزاج رہے ایک حال پر\nگہہ آشنائے عیش ہیں گہہ آشنائے رنج\n\nاچھے یہ قہقہے نہیں عاشق کے حال پر\nدیکھو ہنسی ہنسی میں کہیں ہو نہ جائے رنج\n\nہوتے ہیں کس لباس میں اشعار دردناک\nبہر عروس فکر ہے زیبا ردائے رنج\n\nکیا غم جو کوئے یار میں ہوتا ہوں پائمال\nفرط خوشی سے خاک نہیں دل میں جائے رنج\n\nکہتے ہیں میرے دوست مرا حال دیکھ کر\nدشمن کو بھی خدا نہ کرے مبتلائے رنج\n\nسودائے عشق میں یہ سعادت حصول ہے\nبخت سیہ ہے سایۂ بال ہمائے رنج\n\nاندھیر صدمۂ شب فرقت ہے اے صباؔ\nآندھی چراغ جاں کے لئے ہے ہوائے رنج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%BA%D8%B0%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%BA%D8%B0%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D9%86%D8%AC"} {"title": "دل ہے مشتاق جدا آنکھ طلب گار جدا", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل ہے مشتاق جدا آنکھ طلب گار جدا\nخواہش وصل جدا حسرت دیدار جدا\n\nزاہدوں سے نہ بنی حشر کے دن بھی یارب\nوہ کھڑے ہیں تری رحمت کے طلب گار جدا\n\nجی جلانے کو ستانے کو مٹانے کو مجھے\nوہ جدا غیر جدا چرخ ستم گار جدا\n\nبجلیاں حضرت موسیٰ پہ گریں دو اک بار\nشعلۂ شوق جدا شعلۂ دیدار جدا\n\nہو گئے وہ سحر وصل یہ کہہ کر رخصت\nتجھ سے کرتا ہے مجھے چرخ ستم گار جدا\n\nقتل کرتے ہی مجھے جلوہ نمائی بھی ہوئی\nدر پہ ہنگامہ الگ ہے پس دیوار جدا\n\nزاہدوں کی تری رحمت پہ چڑھائی ہے الگ\nٹولیاں باندھ کر آئے ہیں گنہ گار جدا\n\nوضع کا پاس بھی ہے بیخودؔ مے خوار ضرور\nکاگ بوتل سے نہ کیجئے سر بازار جدا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D9%82_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%AF%D8%A7"} {"title": "دل یار کی گلی میں کر آرام رہ گیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دل یار کی گلی میں کر آرام رہ گیا\nپایا جہاں فقیر نے بسرام رہ گیا\n\nکس کس نے اس کے عشق میں مارا نہ دم ولے\nسب چل بسے مگر وہ دل آرام رہ گیا\n\nجس کام کو جہاں میں تو آیا تھا اے نظیرؔ\nخانہ خراب تجھ سے وہی کام رہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دلا معشوق جو ہوتا ہے وہ سفاک ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دلا معشوق جو ہوتا ہے وہ سفاک ہوتا ہے\nبڑا بے رحم ہوتا ہے بڑا بے باک ہوتا ہے\n\nخوشی ہوگی ہلاک اپنا دل صد چاک ہوتا ہے\nکہاں اب آرزو گھر حسرتوں کا خاک ہوتا ہے\n\nتمہاری تیغ مجھ سے چپکے چپکے کہتی جاتی ہے\nمبارک ہو کہ یہ سر زینت فتراک ہوتا ہے\n\nتجھے اللہ نے بخشا ہے کیسا رتبۂ عالی\nکہ تیرا نقش پا تاج سر افلاک ہوتا ہے\n\nقریب آیا ہے وقت اے جان جاں اب دم نکلنے کا\nترے کوچے سے ہم اٹھتے ہیں جھگڑا پاک ہوتا ہے\n\nجو پیتے ہیں شراب ان کی محبت میں نہیں عاصی\nیہ تر دامن وہی ہیں جن کا دامن پاک ہوتا ہے\n\nخیال آتا ہے بدنامی کا عاشق قتل ہوتے ہیں\nکہ معشوقوں کو نام عاشقی سے پاک ہوتا ہے\n\nاثر سے میری وحشت کے کوئی جامہ نہیں ثابت\nمیں سنتا ہوں گریباں ہر کفن کا چاک ہوتا ہے\n\nمیں کہہ دیتا ہوں ہو آ کر زلف کے کوچے میں دم بھر کو\nکسی دن جب بہت مضطر دل غم ناک ہوتا ہے\n\nپہنچ جائے حقیقت تک تری یہ غیر ممکن ہے\nبہت گو تجھ سے واقف صاحب ادراک ہوتا ہے\n\nرشیدؔ زار کیوں خوش خوش نہ جائے قبر کی جانب\nمیسر آج دیدار شہ لولاک ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%D8%A7_%D9%85%D8%B9%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D9%81%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتی", "poet_page": "مصنف:مخمور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتی\nوہ اک ایسی حقیقت ہے جو پہچانی نہیں جاتی\n\nاسے تو راہ میں ارباب ہمت چھوڑ دیتے ہیں\nکسی کے ساتھ منزل تک تن آسانی نہیں جاتی\n\nکسے ملتی ہیں وہ آنکھیں محبت میں جو روتی ہیں\nمبارک ہیں وہ آنسو جن کی ارزانی نہیں جاتی\n\nابھرتا ہی نہیں دل ڈوب کر بحر محبت میں\nجب آ جاتی ہے اس دریا میں طغیانی نہیں جاتی\n\nگدائی میں بھی مجھ پر شان استغنا برستی ہے\nمرے سر سے ہوائے تاج سلطانی نہیں جاتی\n\nمقیم دل ہیں وہ ارمان جو پورے نہیں ہوتے\nیہ وہ آباد گھر ہے جس کی ویرانی نہیں جاتی\n\nکچھ ایسا پرتو حسن ازل نے کر دیا روشن\nقیامت تک تو اب ذروں کی تابانی نہیں جاتی\n\nکچھ ایسے برگزیدہ لوگ بھی ہیں جن کے ہاتھوں سے\nچھڑا کر اپنا دامن پاک دامنی نہیں جاتی\n\nہجوم یاس میں بھی زندگی پر مسکراتا ہوں\nمصیبت میں بھی میری خندہ پیشانی نہیں جاتی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AA%DA%A9_%D8%B9%D9%82%D9%84_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C"} {"title": "دلبر سے درد دل نہ کہوں ہائے کب تلک", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دلبر سے درد دل نہ کہوں ہائے کب تلک\nخاموش اس کے غم میں رہوں ہائے کب تلک\n\nاس شوخ سے جدا میں رہوں ہائے کب تلک\nیہ ظلم یہ ستم میں سہوں ہائے کب تلک\n\nرہتا ہے روز ہجر میں ظالم کے غم مجھے\nاس دکھ سے دیکھیے کہ چھٹوں ہائے کب تلک\n\nآئی بہار جائیے صحرا میں شہر چھوڑ\nمج کو جنوں ہے گھر میں رہوں ہائے کب تلک\n\nظالم کو ٹک بھی رحم مرے حال پر نہیں\nتاباںؔ میں اس کے جور سہوں ہائے کب تلک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%D9%84%DA%A9"} {"title": "دلبر کا کیا گلہ کوئی غم خوار بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:ناصری لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نذر احباب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "دلبر کا کیا گلہ کوئی غم خوار بھی نہیں\nپہلو میں آج تو دل بیمار بھی نہیں\n\nمرنا وہ جس کو حیلہ و آزار بھی نہیں\nقاتل وہ جس کے ہاتھ میں تلوار بھی نہیں\n\nتسکین دل محال ہے حالت کہے بغیر\nاس پر ستم کہ طاقت گفتار بھی نہیں\n\nمحو جمال ہو کے مروں آرزو یہ ہے\nحالت یہ ہے کہ طاقت دیدار بھی نہیں\n\nاللہ رے اعتبار ادا و نگاہ پر\nمقتل میں آئے ہاتھ میں تلوار بھی نہیں", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D9%84%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%BA%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دلبر کی تمنائے بر دوش میں مر جائے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دلبر کی تمنائے بر دوش میں مر جائے\nکیا یوں ہی کوئی حسرت آغوش میں مر جائے\n\nقبر اس کی پہ لازم ہے خم مے کا چڑھانا\nجو مست کہ عشق بت مے نوش میں مر جائے\n\nہے طرفہ اذیت کوئی کس طرح خدایا\nیاد صنم وعدہ فراموش میں مر جائے\n\nسرگوشی کی رخصت نہ کبھی غیر کو دینا\nگر وہ ہوس زلف و بنا گوش میں مر جائے\n\nگر غنچۂ محجوب تری وضع کو دیکھے\nانداز حیائے لب خاموش میں مر جائے\n\nاللہ رے برقعہ ترا اور اس کے یہ روزن\nدیکھے جو چھپا یوں تجھے روپوش میں مر جائے\n\nکیا فائدہ پھولوں کی چھڑی اس پہ لگانا\nاے گل جو تری ایک ہی پاپوش میں مر جائے\n\nیارب نہ وہ دن اس کے تو عاشق کو دکھانا\nمعشوق کے آتے ہی جو آغوش میں مر جائے\n\nآتا ہے مجھے مصحفیؔ دل اپنے پہ رونا\nافسوس ہے یوں غش سے وہ آ ہوش میں مر جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "دلبری ہر بوالہوس کی حد سیں افزوں مت کرو", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دلبری ہر بوالہوس کی حد سیں افزوں مت کرو\nمفلس بے قدر کوں یک پل میں قاروں مت کرو\n\nمت چڑھاؤ آستیں تم قتل کرنے پر مرے\nاپنے دامن کوں عبث آلودۂ خوں مت کرو\n\nمہربانی کی طرح پہلی نہ بھولو یک بیک\nبیت ابرو کوں تم اپنی تازہ مضموں مت کرو\n\nلذت مستی اگر دل کوں تمہارے ہے عزیز\nجب تلک دیوانہ ہوئے تب لگ فلاطوں مت کرو\n\nاپنے عاشق کوں دکھاؤ جلوۂ ایماں فریب\nعقل کی رکھتا ہے بو زاہد کوں مجنوں مت کرو\n\nکر دیے ہیں عاشقوں نے خون اپنے کوں سبیل\nپنجۂ نازک کوں مہندی لالہ گلگوں مت کرو\n\nچھوڑ دیو تا آتش حسرت میں جل کر خاک ہوئے\nلاشۂ عاشق کوں مرنے بعد مدفوں مت کرو\n\nعاشقوں کوں اس دوبالا کیف کی برداشت نئیں\nخط کی سبزی لب کی شکر ساتھ معجوں مت کرو\n\nخود بخود بے خود ہوا ہے دیکھ کر تم کوں سراجؔ\nاس قدر ناز و ادا کا سحر و جادو مت کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%81%D9%88%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%AF_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%81%D8%B2%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "دلوں میں رہئے جہاں کے ولے خدا کے ڈھب", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دلوں میں رہئے جہاں کے ولے خدا کے ڈھب\nکہ ہو جہاں پہ نہ ظاہر یہ ہے مرا مذہب\n\nمجھے غرض نہیں جز یہ کہ یار نالہ سے\nاثر جلاوے ہے جوں دود شعلہ یارب\n\nکہا میں رات پتنگوں کو شمع کے آگے\nگرو ہو آنکھ میں معشوق کی یہ کیا ہے ادب\n\nتو کہنے لاگے اے عزلتؔ مرے سے عشق کے نئیں\nنظر میں پاس ادب ہم کو جلنا ہے مطلب\n\nہماری راکھیں جو لے جا صبا سو ہو کر صبح\nجلیں ہیں شعلۂ خورشید پر یہ دیکھ تعب\n\nجلسے ہے راکھ کہیں عشق کا ہے یہ اعجاز\nعجب یہ کیش ہے نام ہلاک یہاں ہے طرب\n\nکہا میں تم کوں ہے راحت کی سعی جلنا جلد\nغموں سے چھوٹنا اور شہرت اس سے ہے مطلب\n\nاثر ہے عشق کا تم سے زیادہ شمع کے بیچ\nکہ عمر اس کی کئی جلتے سو بھی جاں بر لب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A6%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D9%84%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%88%DA%BE%D8%A8"} {"title": "دلوں پر یہ نقش اس نے اپنا بٹھایا", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "دلوں پر یہ نقش اس نے اپنا بٹھایا\nکہ جو چوٹ پر صید آیا بٹھایا\n\nمثال کبوتر مرے دل کو اس نے\nبھگایا بلایا اٹھایا بٹھایا\n\nترے آتشیں حسن نے شمع کو شب\nکھپایا جلایا گلایا بٹھایا\n\nاٹھایا اسی غم نے دنیا سے پیارے\nکبھی تم نے ہم کو نہ تنہا بٹھایا\n\nسمجھ تیری الٹی ہے اے جان عالم\nکہ اپنا اٹھایا پرایا بٹھایا\n\nنہ بولے لحد میں بھی ہم ڈر سے تیرے\nفرشتوں نے کتنا جگایا بٹھایا\n\nگیا کوٹھے پر وہ یہ کی مہ نے عظمت\nکہ اجلا بچھونا بچھایا بٹھایا\n\nیہ وہ قیس ہے خاص شاگرد میرا\nپکڑ کان جس کو اٹھایا بٹھایا\n\nوقارؔ اس غزل کی زمیں حد بری تھی\nبہت زور دے کر بٹھایا بٹھایا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%A8%D9%B9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کرّاری", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کرّاری\nمِسِ آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری\n\nدلِ بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک\nنہ تیری ضرب ہے کاری، نہ میری ضرب ہے کاری\n\nمَشامِ تیز سے ملتا ہے صحرا میں نشاں اس کا\nظن و تخمیں سے ہاتھ آتا نہیں آہُوئے تاتاری\n\nاس اندیشے سے ضبطِ آہ مَیں کرتا رہوں کب تک\nکہ مُغ زادے نہ لے جائیں تری قسمت کی چنگاری\n\nخداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں\nکہ درویشی بھی عیّاری ہے، سُلطانی بھی عیّاری\n\nمجھے تہذیبِ حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی\nکہ ظاہر میں تو آزادی ہے، باطن میں گرفتاری\n\nتُو اے مولائے یثرِبؐ! آپ میری چارہ‌سازی کر\nمِری دانش ہے افرنگی، مرا ایماں ہے زُناّری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%D9%90_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%81%D8%A7%D8%B1%D9%88%D9%82%DB%8C%D8%8C_%D8%AF%D9%84%D9%90_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%91%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "دلچسپ بیان نمک کا", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "یہ شئے ضروری کئی طرح سے پیدا ہوتی ہے۔ اول تو یہ کانوں میں پائی جاتی ہے۔ بعض ایسی کانیں ہیں کہ ان کا حال نہایت دلچسپ اور عجیب ہے اور اکثر کانیں بہت نیچے زمین میں ہوتی ہیں اور لوگ نمک کی کانوں میں گھر اور مکان بنا لیتے ہیں اور چھت اور فرش اور ستون اور طاق اور دالان سب نمک کے تراش لیتے ہیں۔\n\nاکثر جو شخص کانوں کو دیکھنے جاتے ہیں تو وہ اول ایک کوئیں میں اترتے ہیں اور بعد اس کے کسی پہلو میں ایک دروازے میں داخل ہوتے ہیں۔ وہاں مکانات وغیرہ دکھائی دیتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا نئی دنیا میں آگئے ہیں۔ بہ سبب اس کے کہ وہاں کرنیں آفتاب کی نہیں پہنچتی ہیں تو وہاں تاریکی کامل ہوتی ہے اور اس واسطے وہاں لوگ مشعلیں اور چراغ روشن رکھتے ہیں اور بہ سبب اس روشنی کے نمک کے بنے ہوئے ستون اور چھت وغیرہ نہایت چمکتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی بڑے امیر کا مکان ہے کہ وہاں ہزارہا جھاڑ اور قندیل روشن ہیں۔ وہاں دیکھا جاتا ہے کہ مزدور بڑے بڑے پہاڑوں سے نمک کو کاٹ رہے ہیں اور بعض ان میں سے نمک کے بڑے بڑے پہاڑوں میں سوراخ کر رہے ہیں تاکہ ان میں باردو رکھ کے انھیں اڑا دیں۔ نمک کے ٹکڑے کر کے اور ٹوکروں میں بھر کے اوپر کھینچ لیتے ہیں اور پھر تجارت ہوتی ہے۔\n\nنمک کی کان میں اکثر کئی طبق اندر زمین کے ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ انگلستان میں ایک نمک کی کان تمام ہو گئی تھی یعنی نمک اس میں کا سب خالی ہو گیا تھا اور آدمی بیچ تلاش کوئلوں کے اس کان مذکور میں سے مٹی کو کھود رہے تھے۔ دیکھتے کیا ہیں کہ چند گز نیچے ایک اور طبق نمک کا نکلا کہ اس کا طول دو میل کے تھا اور اسی قدر عرض اور عمق قریب تیس گز کے۔ اس نئی کان کے ظاہر ہونے سے مالکوں اس کے کو کروڑہا روپیہ کا فائدہ ہوا۔ بعض اوقات نمک پانی میں گھلا ہوا پایا جاتا ہے۔ یہ اس طور سے واقع ہوتا ہے کہ نمک کی کان میں کوئی چشمہ پانی کا دخل پا جاتا ہے اور نمک اس میں گھل جاتا ہے۔\n\nاس نمکین پانی میں سے نمک نکالنے کی یہ ترکیب ہے کہ اس پانی کو آگ پر چڑھا کے جوش کرتے ہیں اور پانی کو اڑاتے ہیں اور نمک باقی رہ جاتا ہے۔ کان کا نمک جو بہ شکل پتھر کے نکلتا ہے، لائق کھانے کے نہیں ہوتا ہے۔ اسےبھی صاف کیا کرتے ہیں۔ ا سے پانی میں گھلا کے آگ پر جوش کرتے ہیں اور جو میل اوپر کو آ جاتا ہے اسے دور کرتے ہیں اور بعد اس کے پانی کو بھی جوش کرتے ہیں اور اڑا دیتے ہیں، اور اس ترکیب سے نمک خالص رہ جاتا ہے۔\n\nخلاصہ مطلب یہ ہے کہ نمک کان کو اسی طرح سے خالص کرتے ہیں جس طرح کہ شکر کو صاف کیا کرتے ہیں۔ واضح ہو کہ نمک سمندر کے پانی سے بھی نکلتا ہے اور اس کی ترکیب نکالنے کی یہ ہے۔ سمندر کے کنارے پر تین چو بچے بناتے ہیں۔ ایک سب سے اونچی طرف بناتے ہیں اور دوسرا اس سے نیچے اور تیسرا سب سے نیچے اور ان چوبچوں میں دروازے بناتے ہیں، اس طرح سے کہ ایک چوبچے کے دروازے میں سے دوسرے میں پانی جا سکے اور دروازوں میں ڈانٹیں ہوتی ہیں۔ جس وقت لہر سمندر کی آتی ہے اس وقت سب سے اونچے چوبچے کی ڈاٹ کھول دیتے ہیں اور اس ترکیب سے اول چوبچے میں پانی آجاتا ہے اور چند روز تک اس میں پانی کو بڑا رہنے دیتے ہیں۔ جب بہت سا پانی سوکھ جائے، بعد اس کے گاڑھے پانی کو دوسرے چوبچے میں داخل کرتے ہیں اور اس میں بھی تھوڑے دن رکھتے ہیں۔ اس میں پانی اور بھی سوکھتا ہے اور تیسرے چوبچے میں پانی بالکل سوکھ جاتا ہے اور نمک رہ جاتا ہے اور اس نمک کو چوبچے میں سے نکالتے ہیں اور کام میں لاتے ہیں۔ لاکھوں من نمک اس ترکیب سے بنتا ہے۔ یہاں تک کہ ملک فرانس میں اسی قسم کا نمک کھاتے ہیں اور تب بھی وہ تمام خرچ نہیں ہوتا ہے اور وہ اور ملکوں میں جاتا ہے اور لاکھوں روپیہ کا فائدہ سوداگروں کو ہوتا ہے۔\n\nنقشہ کان نمک کا جو ضلع وزچ انگلستان میں واقع ہے اس جائے ہم دیتے ہیں۔ یہ صورت کان کے اندرون کی ہے اور وہاں چند آدمیوں کی تصویر ہے۔ ان کے ملاحظہ کرنے سے بلندی اور وسعت کان کی ناظرین پر روشن ہو جائے گی۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D9%86%D9%85%DA%A9_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دلکش نہیں وہ حسیں جسے شرم نہیں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دلکش نہیں وہ حسیں جسے شرم نہیں\nرونق نہیں اس کی جس کا دل گرم نہیں\nسختی میں بھی گداز طینت ہو جو صاف\nپگھلی ہے برف گو کہ وہ نرم نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%DA%A9%D8%B4_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دلی سے واپسی", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "رخصت اے دلی تری محفل سے اب جاتا ہوں میں\nنوحہ گر جاتا ہوں میں نالہ بہ لب جاتا ہوں میں\n\nیاد آئیں گے مجھے تیرے زمین و آسماں\nرہ چکے ہیں میری جولاں گاہ تیرے بوستاں\n\nتیرا دل دھڑکا چکے ہیں میرے احساسات بھی\nتیرے ایوانوں میں گونجے ہیں مرے نغمات بھی\n\nرشک شیراز کہن ہندوستاں کی آبرو\nسر زمین حسن و موسیقی بہشت رنگ و بو\n\nمعبد حسن و محبت بارگاہ سوز و ساز\nتیرے بت خانے حسیں تیرے کلیسا دل نواز\n\nذکر یوسف کا تو کیا کیجے تری سرکار میں\nخود زلیخا آ کے بکتی ہے ترے بازار میں\n\nجنتیں آباد ہیں تیرے در و دیوار میں\nاور تو آباد خود شاعر کے قلب زار میں\n\nمحفل ساقی سلامت بزم انجم برقرار\nنازنینان حرم پر رحمت پروردگار\n\nیاد آئے گی مجھے بے طرح یاد آئے گی تو\nعین وقت مے کشی آنکھوں میں پھر جائے گی تو\n\nکیا کہوں کس شوق سے آیا تھا تیری بزم میں\nچھوڑ کر خلد علی‌ گڑھ کی ہزاروں محفلیں\n\nکتنے رنگیں عہد و پیماں توڑ کر آیا تھا میں\nدل نوازان چمن کا چھوڑ کر آیا تھا میں\n\nاک نشیمن میں نے چھوڑا اک نشیمن چھٹ گیا\nساز بس چھیڑا ہی تھا میں نے کہ گلشن چھٹ گیا\n\nدل میں سوز غم کی اک دنیا لیے جاتا ہوں میں\nآہ تیرے میکدے سے بے پیے جاتا ہوں میں\n\nجاتے جاتے لیکن اک پیماں کئے جاتا ہوں میں\nاپنے عزم سرفروشی کی قسم کھاتا ہوں میں\n\nپھر تری بزم حسیں میں لوٹ کر آؤں گا میں\nآؤں گا میں اور بہ انداز دگر آؤں گا میں\n\nآہ وہ چکر دئے ہیں گردش ایام نے\nکھول کر رکھ دی ہیں آنکھیں تلخیٔ آلام نے\n\nفطرت دل دشمن نغمہ ہوئی جاتی ہے اب\nزندگی اک برق اک شعلہ ہوئی جاتی ہے اب\n\nسر سے پا تک ایک خونیں راگ بن کر آؤں گا\nلالہ زار رنگ و بو میں آگ بن کر آؤں گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%BE%D8%B3%DB%8C"} {"title": "دلی میں بیاہ کی ایک محفل اور بیگموں کی چھیڑ چھاڑ", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": null, "year": null, "text_ur": "میری بڑی آپا ملکہ زمانی صاحبہ، آداب!\n\nمیں اصل خیر سے دلّی پہونچ گئی اور سب چھوٹے بڑوں کو تندرست دیکھ کر اور ان سے مل جل کر خوش بھی ہو لی۔ مگر اللہ جانتا ہے کہ میرا دم آپ میں ہی پڑا ہے۔ کیا کروں آپا جان! سسرال والوں کا پاس آن پڑا، نہیں تو زچہ خانہ میں آپ کو چھوڑ کر خدائیوں میں بھی نہ آتی۔ ویسے تو خدا رکھے دولہا بھائی نے نوکر چاکر، ماما اصیلیں آپ کی ٹہل کے لیے بہت سی لگا رکھی ہیں مگر جو ہمدردی ماں بہنیں کرتی ہیں وہ نوکریں کب کرسکتی ہیں۔ خیر بہت گئی، تھوڑی رہی ہے۔ اللہ نے چاہا تو اب کے اٹھوارہ کو سلامتی سے آپ بڑا چلّہ نہا لیں گی اور پلنگ کو لات مار کر کھڑی ہو جائیں گی۔ میاں ننھے مجھے ہر وقت یاد آتے ہیں اور ان کی ہُواں ہُواں میرے کانوں میں بسی ہوئی ہے۔ خدا وہ دن بھی کرے گا جب میں اسے پھر موٹا تازہ آپ کی گود میں دیکھوں گی۔\n\nنوشابہ کے بیاہ کا حال تو پیچھے لکھوں گی پہلے آپ یہ سن لیجیے کہ میں کن توائیوں سے دلی پہونچی۔ اول تو پندرہ میل بگّی میں چلنا پڑا۔ بیٹھے بیٹھے نگوڑا دم گھبرا اٹھا۔ ڈگڈگیوں دن ہوگا جو پشاور کے اسٹیشن پر پہونچی۔ بگی کا دروازہ کھول کر آپ کے بہنوئی بولے “برقعہ اوڑھ کر اتر پڑو”۔ میں نے کہا “ڈولی ذری پاس لگوا دو تو میں جھپ سے اس میں بیٹھ جاؤں”۔ ہنس کر کہنے لگے “یہ دلی کا اسٹیشن نہیں ہے جہاں ہر وقت ڈولیاں مستعد رہتی ہیں۔ یہاں تو بس اللہ کا نام ہے۔ بے ڈولی کے ہی چلنا پڑے گا”۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ برقع اوڑھ لپیٹ کر بگی سے اتر، ان کے ساتھ ہو لی۔ مگر مارے شرم کے چلنا دوبھر تھا۔ کہیں پیر ڈالتی تھی اور کہیں پڑتا تھا۔\n\nاسٹیشن کے اندر پہونچی تو وہ دھوم دھام اور آدمیوں کی چلت پھرت کہ الٰہی توبہ۔ لمبی ساری ایک کرسی بچھی ہوئی تھی۔ انھوں نے میرا بازو پکڑ کر مجھے اس پر بٹھا دیا۔ مجھے بیٹھے ہوئے دو ہی گھڑی گزری ہوں گی جو ایک موٹا سا مردوا کالے کپڑے پہنے جھپ سے میرے پاس آن ٹُھسا۔ وہ میری دہنی طرف بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے اشارہ سے کہا “اچھی یہ ظلم ہے، اس پر خدا کی مار ہے جو پرائی عورت کے پاس آن گھسڑا”۔ انھوں نے چپکے سے جواب دیا “اس بینچ پر بیٹھنے کا حق سب کو حاصل ہے، عورت ہو یا مرد کچھ برا ماننے کی بات نہیں”۔ ڈاک گاڑی کے آنے کا وقت تو رات ۹ بجے مقرر تھا مگر معلوم ہوا رستہ بگڑ گیا ہے، اس لیے دس بجے آئے گی۔ میں نے اپنے دل میں کہا غریبوں نے روزہ رکھے دن بڑے آئے۔ وہ جو مثل مشہور تھی ہنوز دلی دور، آج اصل ہوگئی۔ کس کا کھانا کس کا پینا۔ انھوں نے کہا بھی کہ کھانا کھالو۔ مگر میں نے الٹ کر انھیں یہی جواب دیا کہ صاحب میرا تو ستر سے بہتر مردوؤں میں ہواؤ نہیں پڑتا کہ بیٹھ کر نوالے ماروں۔ ریل میں بیٹھنے کو کوئی کونہ مل جائے گا تو کھا لوں گی، نہیں فاقہ ہی بھلا ہے۔\n\nبیٹھے بیٹھے ٹانگیں شل ہوگئیں۔ سڑک کی طرف دیکھتے دیکھتے آنکھیں پتھرا گئیں مگر ریل نہ آنی تھی پر نہ آئی؛ اور غضب یہ ہوا کہ اسٹیشن میں قدم قدم پر بجلی کے ہنڈے روشن ہوگئے؛ رات کا دن بن گیا۔ وہ اجالا کہ زمین پر سوئی پڑے تو الگ دکھائی دے۔\n\nفرنگی، ریل کے بابو، چپراسی، خلاصی، قلی، مسافر ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر پڑے پھرتے ہیں۔کیا مقدور جو کوئی ڈھب پردہ کا نکل آئے۔ جوں جوں ریل کے آنے کا وقت قریب آتا جاتا تھا، اسٹیشن کے اندر مسافر بھرے چلے آتے تھے۔ ڈاک گاڑی کے آنے میں پندرہ منٹ باقی ہوں گے جو اسٹیشن کا سارا چبوترہ آدمیوں سے بھر گیا۔ گھنٹی بجی اور ریل اس قہر کے ساتھ دندناتی ہوئی اسٹیشن میں داخل ہوئی کہ در و دیوار لرز گئے۔ میں سمجھی یہ لوہے کا سائبان جس میں ہم سب بیٹھے ہیں، دہل سے ٹوٹ کر اور اُڑ اُڑا کر سر پر آرہے گا۔ پھر جو مسافر بھاگے ہیں اور آپا دھاپی مچی ہے تو حشر برپا ہوگیا۔ تو مجھ پر اور میں تجھ پر۔ سب سے آگے تو چار قُلی، اُن کے سروں پر ہمارے ٹرنک، بکس، بچھونے؛ ان کے پیچھے وہ، اُن کے پیچھے مَیں۔\n\nابھی ریل کا درجہ کوئی پانچ قدم پر ہوگا جو آگے سے ریلا آیا تو آپ کے بہنوئی الٹے پاؤں پیچھے ہٹے۔ ان کا ہٹنا کہ میں پیچھے سَرکی۔ اگر اگلے آدمی اور ذرا دھکیلیں تو میں پس ہی گئی ہوتی۔ مگر خدا نے بال بال بچالیا۔ بارے ہزار مشکل اور مصیبت کے ساتھ ریل کے اندر پہونچی تو معلوم ہوا کہ ہم سے پہلے اس درجہ میں دس آدمی اور ٹھسے بیٹھے ہیں۔ بیٹھنے کیا کھڑے رہنے کا بھی ٹھکانا نہیں۔ وہ الگ بغلیں جھانک رہے ہیں، میں جدا حق حیران کھڑی ہوں۔ اس میں انھیں کچھ خیال آیا اور ساتھ ہی ایک بھلے مانس نے کہا “حضرت ان کو اوپر والے پلنگ پر چڑھا دیجیے”۔ کیا بیان کروں کس مصیبت سے اوپر پہونچی۔ وہ پلنگ دو موٹی موٹی لوہے کی زنجیروں میں پڑا جھول رہا تھا۔ میری سلیم شاہی جوتی کی نوک جو ایک زنجیر میں اٹکی تو جوتی پنجہ سے نکل، نیچے جو ایک بوڑھے آدمی بیٹھے تھے اُن کی سفید ڈاڑھی پر جا گری۔ وہ بیچارے جھینپ کر یہ کہنے لگے “ریل کے سفر میں پردہ نشین عورتوں کے لیے انگریزی جوتی اچھی ہوتی ہے۔ کیونکہ ایک تو اس سے چلا اچھا جاتا ہے، دوسرے بھاگ دوڑ میں پاؤں سے نکلنے کا اندیشہ بھی نہیں ہوتا۔”\n\nابھی میں سنبھل کر بیٹھنے بھی نہ پائی تھی، جو ایک اور آفت کا سامنا ہوا۔ آگے آگے ایک بابو، اس کے پیچھے ایک فرنگن بھبوکا رنگ، سادہ پن میں لاکھ لاکھ بناؤ، چھلّا جیسی کمر اور وہ بھی چمڑے کی پیٹی سے کسی ہوئی، گلے میں ڈھیلا سا ایک کوٹ جس کی سنجاف سمور کی تھی، سیاہ سایہ گھیر دار سر پر ٹوپی اور ٹوپی میں دو تین گلاب کے پھول اوڑھے ہوئے، مگر گلاب کے لال لال پھول اس کے چہرہ کی بہار کے سامنے بالکل پھیکے دکھائی دیتے تھے۔ ہاتھ میں ننھا سا کالے چمڑے کا ایک بیگ۔ ان کے پیچھے ان کے صاحب۔ بابو نے ٹکٹ کاٹنے کی قینچی گاڑی کے کواڑ میں زور سے مار کر کہا “تم ہندوستانی دیکھتا ہے نہ بھالتا ہے، گاڑی میں یونہی گھس جاتا ہے۔ اترو اس میں سے، یہ صاحب لوگوں کے بیٹھنے کا گاڑی ہے”۔ اس صدا کو سن کر میرا تو جی چھوٹ گیا۔ نیچے جو لوگ بیٹھے تھے پہلے وہ اپنا اپنا اسباب سنبھالتے ہوئے نکل کر بھاگے۔ آپ کہیں گی کہ جو کمرا صاحب لوگوں کے بیٹھنے کا ہوتا ہے، اس پر لکھا ہوا ہوتا ہے اور تمہارے میاں تو انگریزی پڑھے ہیں، وہ تمہیں انجانوں کی طرح اس کمرے میں لے کر کس طرح گھس گئے۔ آپا جان! مسافروں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ رات کا وقت، ہول جول میں پڑھنے کا موقع نہ ملا۔ بندریا کی طرح پھر اس پلنگ پر سے نیچے اتری۔ یہ بھلا ہوا تھا کہ قُلیوں کو ابھی چُکایا نہیں تھا اور وہ ریل سے لگے کھڑے تھے۔ نہیں تو اسباب کا اتارنا دوبھر ہو جاتا اور ریل ہنک جاتی۔ نکلتے نکلتے بابو نے ہمارے پیچھے دھیری لگادی “ڈاک گاڑی جاتا ہے جلدی اترو”۔\n\nاب کی دفعہ مجھے ایک زنانہ کمرا مل گیا۔ جس میں میرے سوائے عورت کیا کوئی چڑیا بھی نہ تھی۔ پاس ہی مردانہ کمرا تھا وہ اس میں بیٹھ گئے۔ ڈاک گاڑی چل دی۔ چلتی ریل میں ہمارا اسباب دھر دیا اور ایک قلی ریل کے پٹرے پر کھڑا ہو گیا اور اپنی مزدوری لے کر جھپ سے کود گیا۔ اب کیا تھا، بلی کے بختوں چھینکا ٹوٹا۔ بے مہتا اکیلا کمرا مل گیا۔ کھانا بھی کھایا، پان بھی کھائے۔ اگلے اسٹیشن پر انھوں نے آکر بستر بند میں سے میرا بچھونا کھول کر بچھادیا اور جو میں پاؤں پھیلا کر سوئی ہوں تو دلی تک مجھے ہوش نہ ہوا۔ جب ریل اسٹیشن پر آکر ٹھہر گئی تو انھوں نے مجھے آکر جگایا کہ اٹھو گھر آگیا۔ اس میں میاں ناصر بھی آن پہونچے اور کھڑکی میں منہ ڈال کر کہنے لگے “باجی جان! آداب۔ میں ڈولی لے آیا ہوں”۔ میں نے کہا شکر ہے۔\n\nگھر پہونچی۔ سب سے ملی جلی۔ منہ دھونے بیٹھی تھی جو خلیا ساس کی پرانی نوکر امامن آ موجود ہوئی۔ کہنے لگی بیگم صاحب نے دعا کہی ہے اور یہ فرمایا ہے جب تم سلامتی سے نوشابہ کے بیاہ میں میری بلائی ہوئی آئی ہو تو تم اپنے گھر کیوں اتریں۔ سیدھی میرے ہاں آئی ہوتیں۔ میں اس کا جواب دینے کو ہی تھی جو وہ بول اٹھے “خالہ جان سے کہہ دینا کہ آپ کی بہو نے تو مجھ سے اسٹیشن پر ہی کہا تھا کہ مجھے خالہ جان کے گھر لے چلو، مگر میں ان کو یہاں لے آیا۔ کیونکہ برس دن سے کپڑوں کے صندوق بند پڑے ہیں۔ کیڑے نے کھا کھا کر خدا جانے کیا نیواں ناس کیا ہوگا۔ آج اور کل اَور معاف کیجیے۔ دو دن میں یہ کپڑوں کو دھوپ بھی لگا لیں گی اور رستہ کی تکان بھی اتر جائے گی۔ اللہ چاہے تو پرسوں شام کو بن بلائے حاضر ہوجا ئیں گی”۔\n\nواقعی صندوق کھولے تو معلوم ہوا، کوئی چادر جوڑا ایسا نہ رہا جسے کیڑے نے نہ چاٹا ہو۔ ایک شالی رومال کے تو کم بختوں نے کھا کھا کر چِندیاں کر ڈالی تھیں۔ دو ٹرنک بیاہ کے پہننے کے قابل کپڑوں سے منوامنہ ساتھ لے جانے کے لیے بھرے۔ نورتن، جوشن، چمپا کلی، ٹھسی، پہونچیوں کے ڈورے بدلوائے۔ نہائی دھوئی، کپڑے بدلے اور تیسرے دن خلیا ساس کے ہاں جا پہونچی۔ کہاروں نے پینس ڈیوڑھی میں رکھ کر کہا سواری اتروالو۔ خالہ جان ڈیوڑھی تک خود آئیں، مجھے گلے سے لگالیا۔ میں بھی جھک کے ان کے سینے سے لگ گئی۔\n\nجب مل چکیں تو الگ ہو کر کہنے لگیں “ان سے ملو یہ بھی تمہاری نند ہوتی ہیں، لکھنؤ سے آئی ہیں”۔ مڑ کر دیکھتی ہوں تو ایک نازنین بیگم کوئی بیس برس کی عمر ، بوٹا سا قد، رنگت زرد اور شہاب سر سے پاؤں تک، سنہری گہنا، بالوں کا جوڑا بندھا ہوا، کوئی پچاس کلی کا پیجامہ، لکھنؤ کی کامدانی کا ہلکا دوپٹہ، ایسے ہی اور کپڑے؛ بالکل پری بنی ہوئی کھڑی ہے۔ آگے بڑھ، انھوں نے مجھے سلام کیا۔ کیونکہ قرینہ سے وہ میری ہم عمر معلوم ہوتی تھیں۔ جب وہ بھی گلے مل چکیں تو میں نے کہا “بہن آپ کا نام”، ہنس کر کہا “مجھ شد خوری کو حسن جہاں کہتے ہیں”۔ یہ کہہ کر زور سے ایک قہقہہ مارا۔ خالہ جان نے کہا “بوا، یہ نند تمہاری چبلّی ہے۔ ابھی کیا ہے، دو چار دن جب تم ان کے پاس رہوگی تو معلوم ہوگا بے ہنسی کے نوالہ بھی نہیں توڑتی ہیں”۔\n\nمیں سیدھی اس کمرے میں گئی جہاں نوشابہ مائیوں بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے میلے کپڑے اور میلے کپڑوں میں گورا گورا پنڈا دیکھ کر میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا :\n\nاگری کا ہے گماں شک ہے ملاگیری کا\nرنگ لایا یہ دوپٹہ ترا میلا ہو کر\n\nحیا کے مارے اٹھی نہیں۔ بیٹھے ہی بیٹھے کہنے لگی “بھابھی جان آداب”۔ میں اس کے پاس جا بیٹھی اور کہنے لگی “نوشابہ! خدا کو گواہ کرکے کہتی ہوں، آپا جان کو زچہ خانہ میں چھوڑ کر تیرے ہی کارن کالے کوسوں کو لانگ کر دوڑی چلی آئی ہوں کہ خدا جانے پھر کب ملنا ہو”۔ اس بات کا میرے منہ سے نکلنا اور نوشابہ کا بلک کر رونا۔ میرا بھی جی بھر آیا، خالہ جان بھی رونے لگیں۔ ہمیں روتا دیکھ کر حسن جہاں بیگم گہک کر بولیں “بس بی بس۔ اپنے رونے دھونے کو تہ کر رکھو۔ خدا نے تو یہ دن دکھایا ہے کہ لڑکی عزت آبرو کے ساتھ اپنے گھر جاتی ہے۔تم لوگ نا شکری کی لیتے ہو، بدشگونی کرتے ہو”۔ خالہ جان نے کہا “میں تو دن رات مالک کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اے بے نیاز! میرا منہ اس قابل نہ تھا،یہ تیری مہربانی ہے۔ رونا مجھے اس پر آیا کہ حیدرآباد جائے گی۔ دلی سے ہزاروں کوس دور”۔\n\nمیں نے کہا “خالہ جان آپ دور کا وہم نہ کیجیے۔ خدا فرنگیوں کے اقبال کو ہمیشہ ہمیشہ برقرار رکھے اور یہ قوم سوبس بسے۔ ان کو اپنی رعایا کا بڑا خیال رہتا ہے۔ ہماری آسانی کے کارن انھوں نے وہ وہ انوکھے اور نئی نئی کلیں نکال کر کھڑی کردی ہیں کہ اس سے چین پا کر ہر ایک کے منہ سے بے اختیار دعا نکل جاتی ہے۔ذرا تار برقی کو ہی دیکھیے کہ چھ آنہ کے پیسے خرچیے اور فوراً لاکھوں کوس کی خبر منگا لیجیے۔ موئے ایک پیسہ کے پوسٹ کارڈ کی بھی کچھ اصل ہے۔ آج لکھ کر ڈالیے پرسوں بمبئی کلکتہ جا پہونچے گا۔ کہیں آنا جانا ہو تو ریل میں بیٹھ جائیے اور ایک دن رات میں ہندوستان کے اِس سرے سے اُس سرے تک ہو آئیے۔ کل کے گھوڑے ٹریم، موٹر کار تو ہماری دلی میں ٹانگ برابر لونڈے گلی گلی لیے پھرتے ہیں۔ سنا ہے ولایت میں اڑن کھٹولے بھی چلنے لگے ہیں۔ کوئی دن جاتے ہیں کہ ہندوستان میں بھی آجائیں گے اور ہم لوگ اس میں بیٹھ کر بے پر کے اڑنے لگیں گے۔ پھر فرنگیوں کی ایک اور نیکی دیکھیے، بمبئی میں سمندر کے اندر جہاز ہروقت کھڑے رکھتے ہیں جو آگ کے زور سے ریل کی طرح چلتے ہیں اور مسلمانوں کو مکہ، مدینہ، بغداد، کربلا لسکہ کے ساتھ پہونچا دیتے ہیں”۔\n\nبیاہ میں ابھی آٹھ دن باقی تھے۔ دن رات گیت سہاگ غزلیں گائی جاتیں اور بی حسن جہاں بیگم وہ باتیں کرتیں کہ پیٹ میں بل پڑ پڑ جاتے۔ جیسی اچھی صورت، اس سے بڑھ کر گلا۔ گانے بیٹھ گئیں تو یہ معلوم ہوا مینہ برس رہا ہے۔ سلام مرثیہ پڑھنے لگیں تو دل ہلا دیے، آنکھوں سے آنسو جاری کر دیے، پتھر کا کلیجہ بھی پانی ہو جائے۔ خدا نے پھرتی اور شوخی ان کی بوٹی بوٹی میں بھر دی ہے۔ چنچل کہوں، چھلاوہ کہوں، تُرتُریا کہوں۔ ظاہر تو ایسی بے باک چالاک مگر دل بالکل پاک۔ کیا مقدور جو کسی وقت کی نماز قضا ہو جائے۔ ماما اصیلیں تو محل کی سوا پہر دن چڑھے سوتی اٹھتیں، مگر بی حسن جہاں منہ اندھیرے اٹھ کر وضو کر کے چوکی پر جا نماز بچھا، خاک شفا کی سجدہ گاہ سامنے دھر، نادِ علیؓ زور زور سے پڑھا کرتی ہیں۔\n\nاس راؤ چاؤ میں بیاہ کی تاریخ آگئی۔ مہمان تین دن پہلے سے آنے شروع ہوگئے تھے۔ پانچ روپیہ روز ڈولیوں کے کرایہ میں دیے جاتے تھے۔ ساچق والے دن تو محل سرا بیویوں سے کھچا کھچ بھرگئی۔ نیچے اوپر تل رکھنے کو جگہ نہ رہی۔ پلنگ چارپائیاں سب اٹھوادی گئیں۔ خالہ جان نے کہہ دیا بھئی ہدّی ہزار آدمیوں کے لیے نرالے نرالے پلنگ اور چھپرکھٹ تو میں بچھانے سے رہی۔ دالان، کمرا، صحنچیاں، سہ دریاں موجود ہیں۔ ہر ایک میں دری چاندنیاں بچھی ہوئی ہیں۔ ان میں اپنے اپنے بچھونے بچھاؤ اور پاؤں پھیلا کر سوؤ، بیاہ شادی میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔\n\nمختار خالہ جان نے حسن جہاں بیگم کو بنا دیا تھا اور حقیقت میں وہ ہیں بھی اسی لیاقت کی بیوی۔ اس نزاکت اور دبلاپے پر وہ سارے سارے دن اور ساری ساری رات مہمانوں کی خاطر تواضع میں تیتری کا ناچ ناچتی تھیں۔ ادھر اُدھر سے آئیں اور مجھ سے کہا “بھاوج!” میں کہتی “ہاں بی نند”، کہتیں “بس میں تمہیں دیکھ کر خوش ہو جاتی ہوں”۔ میں جواب دیتی آپ کی مہربانی ہے۔ ہنسی دل لگی تو ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ چلتے چلتے چھیڑ خانی کردیتیں؛ کسی عورت سے کہہ دیا “او رنڈی تو کہاں جاتی ہے۔ لے یہ چنگیر پاندان تو ذرا باہر دے آ”۔ کسی نے سنی ان سنی کردی۔ کوئی غمخوار ہوئی تو ہنس کر چپ ہوگئی۔ کوئی جھکّی اور غصیلی ہوئی تو کہنے لگی “اوئی بی! تم کون ہو جو گھر گرہستنوں کو دور پار رنڈی بناتی ہو۔ نوج ہم رنڈی کیوں ہونے لگے تھے، رنڈی ہوں ہمارے بیری”۔ رنڈی ہوں کہتے سنتے خالہ اماں کہہ دیتیں “بُوا! برا ماننے کی بات نہیں ہے، رنڈی عورت کو کہتے ہیں۔ شہر بستی میں ہمارے لال قلعہ کی بیگمیں بولا کرتی تھی۔ لال قلعہ اجڑ گیا، اس کے ساتھ وہ بولیاں بھی غارت ہو گئیں۔ لکھنؤ میں اب تک یہ لفظ بولا جاتا ہے”۔\n\nایک بیوی کالے محل سے مہمان آئی تھیں، ان کا نام تھا حضرت بیگم۔ وہ بڑی اکھل کھری اور مزاج کی بڑی کڑوی تھیں۔ حسن جہاں کی باتیں سن کر بہت گھٹتی تھیں اور بیٹھی بیٹھی کچھ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا کرتی تھیں۔ بی دولتی اپنے تیہے میں آپ ہی کھولتی۔ کھانا پینا، پان چھالیہ، زردہ الائچی، چٹنی، اچار، مربّہ، مٹھائی، ناشتہ سب کچھ حسن جہاں کے تحت میں تھا۔ سچ مچ خالہ جان نے انھیں کُل کُلاں کا مالک کردیا تھا۔ اس مارے بعض بیوقوفیں اُن سے اور کھسیانی تھیں۔ ایک دن حضرت بیگم اور حسن جہاں کا مُچیٹہ ہو گیا۔ حضرت بیگم کے دل میں حسن جہاں بیگم کی طرف سے نا حق کا بخار تو بھرا ہی ہوا تھا، انھیں دیکھ کر ایک بیوی سے کہنے لگیں “اے بوا رضیہ سلطان! سنتی بھی ہو، قلعہ کی بیگمیں بلّی کو نکٹی کہا کرتی تھیں۔ یہ چھوٹی ناک بھی کیا بری معلوم ہوتی ہے،کم بخت پیّا پھرا ہوا؛ اور بہن مجھے تو زیادہ گوری رنگت سے بھی نفرت ہے جیسے پھیکا شلجم”۔ حسن جہاں کی ناک بھی چھوٹی تھی اور رنگ بھی ان کا ٹپکا پڑتا تھا، سمجھ گئیں کہ پھبتی مجھ پر ہی ڈھالی گئی ہے۔ وہ بھلا کب چوکنے والی تھیں، کہنے لگیں “پھیکا شلجم تمباکو کے پنڈے سے تو ہر طرح اچھا ہوتا ہے اور مجھے بڑی ناک دیکھ کر گھن آتی ہے۔ یہ معلوم ہوتا ہے سِل کا بٹہ کسی نے چہرہ پر دھر دیا ہے۔ اونچی ناک سوجھے کیا خاک، چھوٹی ناک سہاگ کا پُڑا، اونچی ناک کو لاؤ چُھرا۔ یہ مثل تو تم نے سنی ہوگی”۔ حضرت بیگم کی رنگت بھی کالی بھٹ تھی اور ناک بھی ان کی بے ڈول اونچی تھی۔ حسن جہاں کے اس کہنے پر سب بیویاں بیگمیں ہنس پڑیں اور بی حضرت بیگم بگڑ گئیں۔ ہنسی میں کھسی ہو گئی اور بی حسن جہاں کی اور ان کی خوب دنگو دنگ ہوئی۔\n\nحضرت بیگم: موئی لکھنؤ کی ٹھیکری، کنجری، کنچنی،پوربنی، ارہر کی دال خشکہ کھانے والی ہمارے سامنے بڑھ بڑھ کر باتیں کرتی ہے۔ لو اور سنو۔\n\nحسن جہاں بیگم: میں پوربنی ہوں تو تم پنجابن ہو۔ لکھنؤ والے ارہرکی دال کے ساتھ خشکہ کھاتے ہیں تو دلّی والیوں کو اوجھڑی نصیب ہوتی ہے۔ آئی تھی کہیں کی دلّی بلّی اجڑی پجڑی۔\n\nحضرت بیگم: بس بی بس، میں نے کہہ دیا ہے دلی کا نام ذرا منہ سنبھال کر لینا۔ دلی بائیس خواجہ کی چوکھٹ کہلاتی ہے۔ اُجڑیں اس کے دشمن، وہ کیوں اجڑنے لگی تھی۔ وہ تو اب بھی لعلوں کی لعل ہے۔ ہاتھی لُٹے گا بھی تو سوا لاکھ کا کہلائے گا۔ تمہارے بے ڈھنگے لکھنؤ سے اجڑی پجڑی بھی ہزار درجہ اچھی ہے۔ تمہیں خبر نہیں بادشاہ سلامت سات سمندر لانگھ کر دلی تشریف لائے اور بادشاہ بیگم کو بھی ساتھ لائے، تخت پر بیٹھے، دربار کیا، انعام دیے اور سُدھارتے وقت دلّی کو سارے ہندوستان کا سرتاج بنا گئے۔ پھر کے سے بسنے کا حکم دے گئے۔ جلنے والے جلے، دراندازیاں کر کے جلے۔ دل کے پھپھولے بھی پھوڑے مگر ایک بھی نہ چلی۔ دیکھنا کوئی دن میں دلی کیسی کینچلی جھاڑتی ہے اور کیا بہار آتی ہے۔ دلہن بنے گی، دشمن بیری انگاروں پر لوٹیں گے۔\n\nحسن جہاں بیگم: میں نے تو آپ کی بات کا جواب دیا تھا، نہیں تو میں خود بھی دلّی پر جان دیتی ہوں۔ کیونکہ میری ننھیال، دوسرے حضرت شاہ مرداں کی درگاہ اسی میں ہے۔ آنکھوں سکھ کلیجہ ٹھنڈک، دلّی جم جم بسے، نت نت بسے اور جلنے والے ملیا میٹ ہوں۔\n\nاس بحثم بحثا کو سن کر خالہ جان دوڑی ہوئی آئیں اور حضرت بیگم کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگیں “خدا کے واسطے آپ بزرگ ہیں، اس چھوکری کے منہ نہ لگیے”۔ حضرت بیگم کہنے لگیں “بہن! اسے چھوکری کون کہے، یہ تو اچھی خاصی سانڈ ہے۔ اللہ اکبر قینچی کی طرح زبان چلتی ہے”۔ حسن جہاں نے کہا “خیر سانڈ کم بخت کالی بھینس سے تو اچھا ہوتا ہے”۔ خالہ جان نے دیکھا کہ حضرت بیگم لڑائی پر تلی ہوئی ہیں تو وہ حسن جہاں کا ہاتھ پکڑ کر دوسری طرف لے گئیں اور انھیں سمجھانے لگیں کہ للہ ذرا اپنی للّو کو روکو تو ہنس کر کہتی ہیں “خالہ اماں! آپ کے سر کی قسم، حضرت عباس کا علم ہی ٹوٹے جو میں نے انھیں کچھ بھی کہا ہو۔ وہ مجھے کنچنی کنجری اور خدا جانے کیا کیا کہہ رہی تھیں، جھاڑ کا کانٹا بن کر مجھے چمٹ گئیں۔ میرے گلے کا ہار ہو گئیں بے بات۔ مگر میں ان کے کہنے کا برا تھوڑی ہی مانتی ہوں”۔ ادھر تو یہ نوکا چوکی ہو رہی تھی، اُدھر صدر دالان میں ڈومنیوں کا ناچ ہو رہا تھا۔ بیل پر بیل پڑ رہی تھی۔ جو نقل ننھی ڈومنی کرتی تھی اور جس ادا سے وہ ناچتی گاتی تھی وہ اِس پچھلی تانتی کو نصیب بھی نہیں ہوئی۔ ان ڈومنیوں سے تو کم بخت ہیجڑے دروازہ پر اچھا گاتے بجاتے ہیں۔\n\nرات کے ۱۲ بجے برات آئی۔ سمدھنیں بڑے جلوہ کے ساتھ اتریں۔ جھڑاں جال کے جوڑے، کمخواب، زری، بونٹی، پوتھ کی تہ پوشیاں، نیچے نیچے کرتے۔ ہمارے بچپن میں کوئی بیوی کُرتا پہنے آجایا کرتی تھی تو اس پر تیلن گھوسن کی پھبتیاں اڑا کرتی تھیں یا اب ساری بیگموں نے یہی وضع طرح لے لی ہے۔ سچ ہے کبھی کے دن بڑے کبھی کی رات۔ سمدھنیں بڑے ٹھسے کے ساتھ مسند پر گاؤ تکیہ سے لگ کر بیٹھیں۔ شربت پلانے کے لیے بھی ہماری بجلی بسنت بی حسن جہاں اور لنکا مبارک نسا کھڑی ہوئیں۔ مبارک نسا کے ہاتھ میں چاندی کی کشتی اور اس میں شربت کا شیشہ، بلور کی پیالی اور بی حسن جہاں کے ہاتھ میں ریشم کا رومال منہ پونچھنےکے لیے۔ اللہ کی بندی رومال کا گھسہ اس زور سے دیتی تھی کہ شربت پینے والی پھڑک جاتی تھی۔ منہ اور باچھیں چھل کر لال ہوجاتی تھیں۔ بعض جلاتن کہہ دیتی تھیں “اے پھٹکار، یہ منہ پونچھتی ہو یا کبھی کا بیر نکالتی ہو”۔\n\nادھر آغائی بیگم دولہا کی بہن کا جو منہ پونچھا تو رگڑے کے ساتھ ان کی ناک کی کیل الجھ کر ناک میں سے نکل گئی اور وہ بے چاری منہ پکڑ کر کہنے لگیں “شاباش بوا شاباش، دیکھت کی تو تم کامنی سی ہو مگر ہاتھ تو ماشاءاللہ لوہے کی میخیں ہیں۔دیکھو میری ناک کی کیل تمہارے رومال میں الجھ کر چلی گئی ہے”۔\n\nحسن جہاں: بوا اوکھلی میں سردیا تو دھمکوں سے کیوں ڈرتی ہو۔ خدا رکھے، بھائی کو بیاہنے آئی ہو، نیگ جوگ کے روپے ڈھیر سارے تمہارے تلّڑ میں جائیں گے۔سمدھن بننا ہنسی ٹھٹا ہے، ابھی تو منہ ہی پونچھوانے میں بولا گئیں۔ جب ڈومنیوں کی موٹی موٹی گالیاں کھاؤگی اس وقت معلوم ہوگا کہ کَے بیسی کا سَو ہوتا ہے۔ اور بوا ناک کی کیل تو ہم نے دیکھی نہیں، سچ کہنا بہن، پہن کر بھی آئی تھیں یا مفت خدا میں مجھے لیے مرتی ہو۔\n\nرومال جھاڑا تو اس میں سے کیل نہ نکلی۔\n\nآغائی بیگم: بھئی اللہ جانتا ہے۔ ہماری کیل ڈھونڈو، اس میں تُرمَلی جڑی ہوئی ہے۔\n\nحسن جہاں: بہن آغائی بیگم، تم کیل کے مارے کیوں بلکی جاتی ہو۔ مانگے کی تو پہن کر نہیں آئی تھیں، تمہاری کیل نہ ملے گی تو میں اپنی ہیرے کی کیل تمہیں دے دوں گی۔ تم ذرا چھری تلے دم تو لو۔\n\nاتفاق کی بات کیل آغائی بیگم کی گود میں جا پڑی تھی۔ جب مل گئی تو حسن جہاں کی چڑھ بنی، کہنے لگیں “واہ بوا، بغل میں بچہ شہر میں ڈھنڈورا۔ کیل تو آپ چُرائے بیٹھی ہیں اور لوگوں کے اوپر دوڑے پکڑتی ہیں”۔جب دولہا کی ماں کا منہ حسن جہاں نے پوچھا تو ان بڑھیا بے چاری نے فقط اتنا کہا “اللہ رے چہل بل”۔ ان کے پاس ایک بیوی باہر کی بیٹھی ہوئی تھیں۔ عمر ستر سے اوپر، سر گالا سا سفید۔ منہ میں دانت، نہ پیٹ میں آنت۔ مردہ مال، سوکھی ہوئی چمرخ، پن کُٹی ساتھ مگر اس بڑھاپے میں بناؤ سنگار وہ جو نئی نویلی دلہن بھی کیا کرے گی۔ گل انار دوپٹہ، ایسا ہی کرتا، گلابی ٹسر کا پیجامہ، کانوں میں بالی، پتے، مگر، چَو دانیاں، ماتھے پر جھومر، ناک میں گھیرا کی گھیرا تین موتی کی نتھ اور اس پر بڑا سا بُلاق، گلے میں تھرے تھرے گہنے، ہاتھوں میں چوہے دتّیاں، کنگن، پہونچیاں اور لاکھ کی چوڑیوں کا سارا جوڑا، پور پور چھلّہ، مہندی رچی ہوئی، پوپلے منہ میں مِسّی ملی ہوئی ۔ ان کے بڑھاپے کے بہروپ کو دیکھ کر یوں تو ساری محفل ہنس رہی تھی مگر بی مبارک نسا اور حسن جہاں کا تو یہ حال تھا کہ مارے ہنسی کے لوٹن کبوتر بن گئی تھیں۔ میں نے جانا کشتی اب ہاتھ سے چھوٹی اور شیشہ پھوٹا اور سمدھنیں شربت میں نہائیں۔ بی مبارک نسا سے رہا نہ گیا، بولیں “بوڑھا چوچلا جنازہ کے ساتھ”، حسن جہاں نے کہا “بوڑھی گھوڑی لال لگام”۔\n\nآپا جان! بوڑھیا تو آفت کی پُڑیا تھیں۔ وہ تو تیہے کے مارے تھرّا اٹھیں اور حسن جہاں بیگم کے انھوں نے لتّے لے ڈالے۔ کہنے لگیں “بیٹی تم سچ کہتی ہو۔ بوڑھی گھوڑی لال لگام۔ میرے اوپر اصل ہے مگر بیوی بنّو! تم شہر کی رہنے والی ہو، اس لیے اس لال لگام کی قدر تم نہیں جان سکتی ہو۔ یہ لال کپڑا، یہ تین موتی کی نتھ، یہ ہاتھوں کی چوڑیاں سہاگ کی پہچان ہے۔ ہم گنوار بھی بے تمیز بھی سہی، ہماری بول چال بھی تمہاری جیسی چٹاخ پٹاخ نہیں۔ مگر بُوا ہم لوگ اپنے میاں کی زندگی کو اپنا دین ایمان جانتے ہیں۔ ہمارے قصبہ گاؤں میں ساری عمر کے اندر ایک ہی میاں جوڑتا ہے۔ ہم اس کے سہاگ کی بڑی اللہ آمین کرتی ہیں، کیونکہ رانڈ ہوئے پیچھے ہم جیتے جی مرجاتی ہیں اور نمازیں پڑھ پڑھ کر اپنی عمر کاٹ دیتی ہیں۔ دنیا کے سب مزوں سے بے خبر ہوجاتی ہیں، کیسی چوڑی اور کیسی مہندی۔ اور تم شہر والیوں کی کیا ہے، جانہار کا کفن بھی میلا نہیں ہونے پاتا جو بیگمات دوسرے نکاح کی تیاری کر دیتی ہیں ۔ عدّت کے دن بھی کاٹنے پہاڑ ہو جاتے ہیں۔ تو چل میں آئی۔ دیدہ کا پانی ڈھل جاتا ہے۔ دوسرے خاوند سے نہ بنی تو طلاق لے لی۔ لاڈو کچہری چڑھیں۔ اکا بھائی اور ابا جان بیگم کی ڈولی کے ساتھ ہیں، حاکم سے جواب سوال کررہی ہیں۔ تیسرا کرلیا چوتھا کرلیا۔ تو نہیں اور سہی، اور نہیں اور سہی؛ سہاگن رانڈ میں کچھ فرق ہی نہیں۔ چوڑی ،مہندی، سرمہ، مسّی، لاکھا، کاجل، پھول، گجرا، کنٹھے، رنگا رنگ کپڑے، رنڈیاں کچھ چھوڑتی ہی نہیں۔ دلہنوں سے چار قدم آگے چلتی ہیں اور پھر لوگوں کے دکھانے کے لیے بیٹھ کر ٹسوے بہاتی ہیں۔ اس بندی کے سہاگ میں آگ لگ گئی، وارث مرگیا، گھر اجڑ گیا، بادشاہت مٹ گئی، تیری میری محتاج بن گئی، خدا کے لیے لوگو مجھے ڈولی لادو۔ کنوئیں میں جا کر ڈوبوں گی اور مرنے والے کے پیچھے اپنی جان گنواؤں گی۔ ارے چھتیسی! اگر تجھے مرنے والے کا غم ہوتا تو یہ بناؤ چناؤ نہ کرتی۔ یہ سارے فیل ہیں، کون نہیں جانتا۔ ہمارے ہاں تو جو کوئی دوسرا نکاح کرے اسے بیوی کی صحنک پر نہیں بٹھاتے”۔\n\nحسن جہاں: ہاں بی، آپ سچ فرماتی ہیں۔ شہر والیاں ایسی ہی عیب زدہ ہوتی ہیں۔ بیشک وہ چار چار نکاح کرلیتی ہیں۔ اگر آپ کچھ پڑھی لکھی ہوتیں تو آپ کو معلوم ہوتا، جس عیب کو آپ اگٹ رہی ہیں اس عیب کا خدا رسول نے حکم دیا ہے۔ اس عیب کی تعریف قرآن میں آئی ہے۔\n\nمیں نے دیکھا کہیں بات نہ بڑھ جائے اور سمدھنیں نہ بگڑ کھڑی ہوں، اس لیے حسن جہاں کو پیچھے سے ٹھوکا دے کر کہا “حسن جہاں تمہارے ٹھٹا پر پُٹکی پڑے، بس چلو ہنسی ہولی”۔ بڑی بی بولیں “ان کی یہی ہنسی ہے تو دیکھنا آسمان پھاڑیں گی اور تھگلی لگائیں گی”۔ اسی چہل پہل میں رات آخرہو گئی۔صبح ہوتے نکاح ہوا۔ پچاس ہزار مہر بندھا۔\n\nدن کے آٹھ بجے محل میں دولہا کی بلاؤ ہوئی۔ بیویاں تو یہ سمجھی تھیں دولہا اسی طرح آئے گا جس طرح دلی کے دولہے آتے ہیں۔ سر پر طرّہ، سہرا، گلے میں بدھیاں، نیچی آنکھیں، گردن جھکائے، رومال منہ پر دھرے ہوئے، شرمایا ہوا۔ مگر یہ دولہے جو تشریف لائے تو کیا کہنا۔ بالکل فرنگی؛ وہی جاکٹ، وہی پتلون، گھٹنوں تک سیاہ چمکدار انگریزی جوتی، چھجا دار ٹوپی، آگ لگا منہ میں سلگتا ہوا چرٹ، بھچ رنگت، کرنجی آنکھیں، ڈاڑھی صفا چٹ، مونچھیں لمبی لمبی، کیسی حیا کیسی شرم۔ ادھر ادھر دیکھ درّانہ چلے آئے۔ بیگمیں جو اس سانگ کو دیکھ کر بھاگیں تو کوئی کہتی گئی حسبی اللہ، کوئی کہتی گئی معاذ اللہ، کوئی بولی نوج کیا بے غیرت مردوا ہے، کوئی بولی بیگم کی اکلوتی بچی کی قسمت پھوٹ گئی، ان کا بڑا بول سامنے آیا۔ اوروں کے دامادوں کو نام رکھا کرتی تھیں۔ اب خیر سے اپنا داماد بالکل کرسٹان آیا ہے۔ آسمان کا تھوکا حلق میں آتا ہے۔ دوچار کنواری لڑکیاں جو پتہ توڑ کر بھاگیں تو کئی اگالدان الٹ گئے۔ اور برف سی چاندنیوں پر دھبّے لگ گئے۔\n\nآغائی بیگم صحن چبوترہ کے پاس جا کھڑی ہوئی تھیں۔ جب دولہا بیچ انگنائی میں آگیا تو انھوں نے کہا “اکا جان! ادھر تشریف لائیے”۔ ایک نوکر باہر سے کرسی لے آئی۔ دولہا میاں صدر دالان میں اُس پر ہو بیٹھے۔ کیونکہ آپ جانتی ہیں پتلون پہن کر فرش پر تو بیٹھا جاتا نہیں۔ کیسی ریٖت اور کیسی رسمیں اور کہاں کا آرسی مصحف۔ ڈومنیاں دولہا کو دیکھ کر سہم گئیں، ٹونا کون سناتا۔ خالہ جان نے پردہ سے نکل کر بلائیں لیں اور دو سو پچیس روپیہ سلامی کے دیے۔ اس کے بعد کوئی تین سو روپیہ اور سلامی میں آیا۔ اس اللہ کے بندے نے سوائے خالہ جان کے اور تو کسی کو سلام کیا نہیں، نہ روپیہ کو ہاتھ لگایا۔ بہن رومال میں لیتی گئیں۔ بی حسن جہاں بیگم یہاں بھی باز نہ آئیں۔ جب خالہ جان سلامی دینے کے لیے چلیں تو آپ چلمن کے پرے سے کہتی ہیں “بی ذرا سوچ سمجھ کر آگے ہونا، بہروپیا بھی ایسا ہی بھیس بدلا کرتا ہے”۔ دولہا کوئی پندرہ منٹ بیٹھے ہوں گے جو یکایک اٹھ، یہ جا وہ جا۔\n\nدن کے دس بجے نوشابہ ہنسی خوشی خیر خوبی کے ساتھ اپنی سسرال سدھاری اور بڑھیا ماں اور بھرے کنبہ کو اپنی جدائی کے غم میں دھاروں روتا چھوڑ گئیں۔ خط بڑھ گیا ہے، اس لیے میں نے دولہا کی طرف کے جوڑے، چڑھاوے، دلہن کے جہیز، کھانے وانے کا حال نہیں لکھا۔ خدا نے چاہا تو اگلے خط میں چوتھی چالوں کے حال کے ساتھ لکھ کر بھیجوں گی۔\n\nآپ کی چھوٹی\n\nبلقیس زمانی", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D9%85%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91_%DA%86%DA%BE%D8%A7%DA%91"} {"title": "دلی کا اجڑا ہوا لال قلعہ", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": null, "year": null, "text_ur": "دیباچہ\n\nہے عجب لذت شکار افگن تیرے تیروں کے بیچ\n\nجس کا چرچا ہو رہا ہے سارے نخچیروں کے بیچ\n\nسید عرب نام ایک بزرگ زادہ جو امام جعفر صادق علیہ السلام کی اولاد میں سے مدینہ طیبہ کے رہنے والے تھے، شاہجہاں بادشاہ ہند کے نذر کے لیے نجد اور یمن اور حجاز کے قوم دار گھوڑے لے کر دہلی پہونچے، شاہجہاں کو سید صاحب کے گھوڑے بہت پسند آئے اور میر عرب صاحب کو بہت تعظیم اور ادب کے ساتھ دلی میں ٹھہرا لیا اور سیادت اور شرافت کے لحاظ سے انھیں طرخانی منصب سے سرفراز فرمایا۔ جب حضور میں آئیں تو سوائے سلام اور مصافحہ کے اور کسی قسم کی تکلیف اور تکلف نہ کریں، درباری لباس پہنیں یا نہ پہنیں، اس کی ان سے کوئی باز پرس نہیں اور میر عرب ان کے نام کے ساتھ خان کا خطاب اضافہ فرمایا۔\n\nسید عرب خان کو گھوڑوں کی شناخت اور ان کے معالجات میں کامل دخل تھا۔ چنانچہ جب تک دلی کی سلطنت اور شاہجہاں کی اولاد مٹی ہے، میر عرب خان کی ذرّیات لال قلعہ میں عزت اور اعزاز کے ساتھ رہی۔ ان کی نسل میں سے اکبر ثانی ابوظفر بہادر شاہ کے عہد میں میر سنگی نام مرزا شاہ رخ کے مصاحب تھے اور میر سنگی صاحب کی اصل نسل اور سیادت کی وجہ سے وہ حضرت علی کا نشان متبرک جو امیر تیمور صاحبقران کے عہد سے لال قلعہ میں چلا آتا تھا، اکبر ثانی نے میر سنگی صاحب کے سپرد کر دیا تھا۔ معین الدین اکبر ثانی یا سراج الدین ابوظفر بادشاہ جب عید بقرعید کو دوگانہ پڑھنے جاتے تھے تو میر سنگی صاحب اس نشان مقدس کو گھوڑے پر لے کر بادشاہ کی سواری کے آگے آگے چلتے تھے۔ ہر پنج شنبہ کو لوبان، عطر اور سات روپیہ آٹھ آنہ میر سنگی صاحب کو بادشاہی خزانے سے ملتے تھے تاکہ صاحب ذوالفقار حیدر کرّار نشان بردار احمد مختار کی فاتحہ کریں۔ میر سنگی کے دو صاحب زادے ہوئے، بڑے میر ظریف صاحب قبلہ اور دوسرے میر عرب صاحب قبلہ۔ ان دونوں صاحب زادوں نے بھی بہادر شاہ اور ان کے دربار بہت بے تکلفی کے ساتھ دیکھے اور غدر 57 ؁ء سے پہلے دونوں بھائی دن رات قلعہ میں رہتے سہتے اور بادشاہ زادوں اور سلاطین سے صحبت گرم رکھتے تھے۔ میر ظریف صاحب اور میر عرب صاحب اگرچہ امیر نہ تھے مگر دلّی میں ان دونوں بھائیوں کی صورت اور سیرت مشہور تھی۔\n\nمجھ فقیر ناصر نذیر فراق دہلوی کی شادی میر ظریف صاحب کی چھوٹی صاحبزادی سیدہ عباسی بیگم صاحبہ سے ہوئی اور فقیر خانہ میں خدا رکھے جو اولاد ہوئی وہ انہی بی بی کے بطن سے ہوئی اور برخوردار سید ناصر خلیق میر ظریف صاحب کے نواسے ہیں۔ شادی کے بعد جب مجھے میر ظریف صاحب اپنے خسر کے باتیں سننے کا موقع ملا تو مجھے معلوم ہوا میر صاحب قبلہ لال قلعہ کی زندہ تاریخ ہیں اور پھر گفتار میں وہ شیرینی اور وہ لوچ تھا کہ سبحان اللہ اور صل علی اور خصوصاً جب میرے والد بزرگوار اور حضرت میر ظریف صاحب سمدھی سمدھی یکجا ہوجاتے تھے اور دونوں صاحبوں کی باتیں ہوتی تھیں تو فصاحت اور بلاغت کے دریا موجزن ہوتے تھے اور شاہجہاں کا تخت طاؤسی اور دیوان خاص کی آراستگی آنکھوں کے سامنے آ جاتی تھی۔ بعض راتیں مجھے اور میر ظریف صاحب کو باتیں کرتے کرتے گزر جاتی تھیں اور میر صاحب مرحوم بھی اس ناکارہ فراق کے پڑھنے لکھنے اور نظم و نثر کے توغّل سے بہت خوش تھے۔ میر ظریف صاحب قبلہ میں ان کا خاندانی جوہر موجود تھا یعنی گھوڑوں کے ایسے مبصّر اور معالج تھے کہ دلی کے دیسی شوقینوں کا ذکر نہیں، یوروپین جنٹلمین جو گھوڑوں کے جوہری ہوتے ہیں اپنے گھوڑے میر صاحب کے پاس بھیج دیا کرتے تھے اور میں دس بیس گھوڑے ہر صبح میر صاحب کے دروازے پر کھڑے دیکھتا تھا اور یہ سنتا تھا کہ صاحب نے سلام کہا ہے اور فرمایا ہے یہ گھوڑا ہم مول لیں گے آپ اس کے عیب تو بتا دیجیے یا اس گھوڑے کو کیا بیماری ہے۔\n\nمیر صاحب اگرچہ ذی علم تھے مگر فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں پڑھنے لکھنے سے سروکار نہیں بلکہ ہمیں گھوڑوں کے معالجات اور ان کی شناخت پر فخر ہے کیونکہ ہمارے مورث اعلی میر عرب خاں مدینہ شریف سےاس ہنر کی وجہ سے ہندوستان میں آئے تھے۔\n\nاس تمہید کا مدعا یہ ہے کہ میر ظریف صاحب نے لال قلعہ کی بہٹتی پیٹھ کی اچھی طرح سیر کی اور ان کے والد ماجد میر سنگی صاحب جو مرزا بابر اور مرزا شاہرخ کی رفاقت اور مصاحبت میں رہے۔ اس واسطے آپ کو لال قلعہ کے پچھلے دو بادشاہوں اور ان کی اولاد اور بیگموں کے حالات بہت یاد تھے اور میں 1892؁ء تک میر صاحب کے کلام دل پذیر برابر سنتا رہا تو میری خاندانی معلومات میں میر صاحب کے ارشادات گویا سونے میں سہاگہ اور موتیوں میں دھاگہ ہوگئے اور ان میں سے فقیر فراق پہلے مرزا شاہرخ بن ابوظفر بادشاہ کے شکار کے حالات گلدستہ بنا کر ناظرین کی میز پر سجاتا ہے۔ مگر ان میں سے مضمون نمبر ایک اور نمبر دو میں نے علی مرزا صاحب کی زبان مبارک سے سن کر لکھے ہیں۔ علی مرزا صاحب ایک درویش مزاج دلی کے پرانے آدمی اور میاں رنگین صاحب مرحوم دہلوی کے نواسے کنواسے ہیں اور میاں رنگین صاحب دہلوی کو زمانہ جانتا ہے کیونکہ ریختی دلی میں انھوں نے ہی ایجاد کی ہے۔ اور میاں رنگین صاحب سید انشاءاللہ خاں دہلوی کے گہرے یار ہیں جن کا حال میرے استاد نے تذکرہ آب حیات میں خوب رنگینی سے لکھا ہے۔\n\nفراق دہلوی\n\nمرزا شاہرخ سیر و شکار کے لیے دہلی سے\nکجلی بن تشریف لے جاتے ہیں\n\nمرزا شاہرخ حضرت ابوظفر بہادر کے اولو العزم فرزند دل بند تھے۔ مولوی امام بخش صہبائی کو ان کی اتالیقی کی خدمت سپرد تھی۔ مرزا شاہرخ میں اپنے بھائیوں اور لال قلعہ کے اور بادشاہ زادوں کے خلاف ایک قسم کی بیداری اور ہشیاری تھی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ہم نے امیر تیمور کے نام کو بٹہ لگایا اور ہماری کاہلی اور بے علمی نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے مگر سورما چنا بھاڑ کو نہیں پھوڑ سکتا۔ وہ کس کس کے جی میں جی ڈالتے اور کسے کسے سمجھاتے اور سوتے سے جگاتے۔ وہ اپنی ہمت مردانہ کو سیر و شکار میں صرف کرتے تھے اور اپنا دل بہلاتے تھے۔\n\n(1)\n\nان کی قدردانی اور حوصلہ افزائی کو دیکھ کر دور دور سے ہنرمند اور اہل حاجت ان کے حضور میں حاضر ہوتے تھے اور ان سے جو کچھ بن پڑتا تھا ان کے ساتھ سلوک کرتے تھے۔ ایک دن ایک شخص ان کے درِ دولت پر حاضر ہوا اور عرض بیگی سے کہا “صاحب عالم بہادر کو خبر دو ایک سیاح آپ کے لیے عنقا پکڑ کر لایا ہے”۔ صاحب عالم نے عرض بیگی کو اشارہ کیا کہ اس سیاح کو حاضر کرو اور وہ شخص صاحب عالم کے روبرو لایا گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پنجرا تھا جس پر ایک ریشمی بسنتی بندھی ہوئی تھی ۔ اس نے آداب کیا اور بسنتی اتاری تو معلوم ہوا چاندی کے تاروں کا ایک چھوٹا سا پنجرا ہے اور اس میں ایک پدڑی ہلدی میں زرد رنگی ہوئی بند ہے۔\n\nمرزا شاہرخ : (اس چڑیا کو دیکھ کر ) واہ واہ سبحان اللہ! نایاب چیز ہے۔ یہ عنقا تمھیں کہاں سے ملا؟\n\nوہی لانے والا : حضور میں اسے کوہ قاف سے لایا ہوں۔\n\nمرزا شاہرخ : تم ٹھیک کہتے ہو۔ یہ تمھارا ہی کام تھا جو اتنی دور گئے اور اسے پکڑ کر لائے ۔ یہ فرما کر صاحب عالم اٹھے اور اپنے دست مبارک میں وہ پنجرا لیا اور محل سرا میں تشریف لے گئے۔ آپ کی دادی شاہ عالم بادشاہ کی والدہ ماجدہ زندہ تھیں، وہ پنجرا ان کے سامنے لے جا کر رکھ دیا اور کہا: دادی حضرت دیکھیے! ہمارے لیے ایک شخص مصیبت پیٹ کر عنقا لایا ہے۔ بیگم نے پنجرا اٹھا کر چڑیا کو غور سے دیکھا اور مسکرا کر فرمایا: نوج یہ عنقا نہیں ہے ، یہ تو موئی دو کوڑی کی پدڑی ہے۔ نگوڑی کو ہلدی میں رنگ لیا ہے ۔ جھوٹے پر خدا کی پھٹکار ۔ ہائے دلی کے شہدے تم بادشاہ زادوں کو کیا کیا جُل دیتے ہیں اور کیسے کیسے سبز باغ دکھاتے ہیں اور اماں تم ایسے مومنا چومنا ہو کہ جو کسی نے کہہ دیا وہ تمھارے لیے آیت حدیث ہوگیا۔ کیا وہ عنقا لانے والا ابھی حاضر ہے یا دفان ہوا؟\n\nصاحب عالم : وہ حاضر ہے ۔\n\nبیگم: اچھا تم باہر جا کر اس کی کان پکڑی کراؤ اور اس سے کہو کہ تم سلاطین کی آنکھوں میں جوتوں سمیت گھسنا چاہتے ہو اور ایسا جھوٹ بولتے ہو جو دہرا جائے نہ اٹھایا جائے۔\n\nصاحب عالم: دادی حضرت! میں نے دیکھتے ہی جان لیا تھا کہ یہ پدڑی ہے مگر وہ بیچارہ تو کسی آس پر ہی اسے عنقا بنا کر لایا ہے۔ خدا جانے اس کے بال بچے کَے دن کے بھوکے پیاسے ہوں گے جو اس نے یہ جال بچھایا ہے۔\n\nبیگم: تو اسے کچھ انعام دینا چاہتے ہو؟\n\nصاحب عالم: بے شک وہ انعام کا ضرور مستحق ہے۔ وہ کیا جانے گا کہ میں صاحب عالم کے پاس عنقا لے کر گیا تھا۔\n\nبیگم: تمھاری خوشی۔ دردانہ (لونڈی کا نام ہے) میرا صندوقچہ تو لے آ۔\n\nدردانہ: جناب عالی! لونڈی ابھی صندوقچہ لائی۔\n\nیہ کہہ کر دردانہ ایک کوٹھری میں گئی اور وہاں سے ایک صندوقچہ اٹھا کر لائی۔ بیگم صاحبہ کی پٹاری میں کنجیوں کا ایک گچھا پڑا ہوا تھا، اسے انھوں نے اٹھا کر ایک کنجی سے صندوقچہ کا قفل کھولا۔ لونڈی نے صندوقچہ کا ڈھکنا اٹھایا۔ صاحب عالم نے دیکھا صندوقچہ میں کوئی خانہ نہیں گویا ایک حوض ہے جس میں منہ تک اشرفیاں بھر رہی ہیں۔\n\nبیگم: لو شاہرخ! رومال میں اشرفیاں لے لو۔ یہ کہہ کر بیگم صاحب نے بھر بھر مٹھیاں مرزا شاہرخ کے رومال میں ڈالنی شروع کیں، یہاں تک کہ رومال اشرفیوں سے بھر گیا۔ مرزا شاہرخ رومال سنبھالتے ہوئے باہر تشریف لانے لگے تو بیگم صاحب نے فرمایا: یہ عنقا بھی انھیں کے حوالے کرو جو لائے ہیں۔ یہاں ہم لوگوں سے اس کی رکھیا ہرگز نہ ہوگی۔\n\nدادی جان کے فرمانے سے صاحب عالم نے دوسرے ہاتھ میں عنقا کا پنجرا بھی لے لیا۔ رومال اور پنجرا دونوں سیاح صاحب کو دے دیے اور فرمایا: یہ انعام ہے اور یہ تمھاری چڑیا ہے۔ ہمارے نوکروں کو اس کا رکھ رکھاؤ نہ آئے گا، تم اسے اپنے ہی پاس رکھو۔ جب ہمارا دیکھنے کو جی چاہا کرے گا تو تمھارے ہاں سے منگا لیا کریں گے۔ عنقا والے عنقا کا پنجرا اور اشرفیاں لے کر بھاگے تو گھر آ کر آرام لیا اور اشرفیاں گنیں تو پوری آٹھ سو نکلیں؛ دلدّر پار ہوگئے۔\n\n(٢)\n\nحضرت ابوظفر بہادر شاہ: ولے بھی میر سنگی سنتے ہو۔\n\nمیر سنگی صاحب : کرامات پیر غلام بگوش ہوش سنتا ہے۔\n\nحضرت ابوظفر بہادر شاہ : مرزا شاہرخ نہیں مانتا ہے، وہ شیر کا شکار کھیلنے کجلی بن جاتا ہے۔ ویسے تو اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا لشکر ہے مگر اماں مجھے کسی پر بھروسا نہیں ہے، مگر تم پر اعتبار کرتا ہوں اور اس لیے اس کے ساتھ تمھیں بھیجتا ہوں ۔ تم شاہرخ کے ساتھ اس طرح رہنا جس طرح قافیہ کے ساتھ ردیف رہتی ہے، دم بھر کو اسے اکیلا نہ چھوڑنا۔ وہ من چلا آدمی ہے، ایسا نہ ہو کسی جنگلی ہاتھی یا شیر سے بھڑجائے اور اپنی جان گنوا دے۔\n\nمیر سنگی صاحب : جہاں پناہ حافظ و ناصر خدا ہے، اس ناچیز کی کیا حقیقت ہے۔ مگر یہ جان نثار ایک آن کو بھی صاحب عالم سے الگ نہ ہوگا اور جب تک یہ نمک خوار زندہ رہے گا، ان کے دشمنوں پر آنچ نہیں آنے دے گا۔\n\nالغرض مرزا شاہرخ بہادر نے مع اپنے رفیقوں کے دلی سے کوچ کیا اور دریائے جمنا پر جو ناؤں کا پل بندھا ہوا تھا اس پر سے گزر کر پہلی منزل غازی آباد پر کی اور اسی طرح منزل بہ منزل اور کوچ در کوچ سہارنپور اور روڑکی ہوتے ہوئے کلیر شریف پہونچے اور حضرت مخدوم علاؤالدین صابر کلیری قدس سرہ العزیز کے مزار پُر انوار پر فاتحہ پڑھتے ہوئے ہردوار اور کنکھل جابراجے اور ان مقامات کو دیکھ بھال کر گنگا کو عبور کر کے کجلی بن کی طرف مڑے۔ گنگا کے کنارے چلتے چلتے ایک روز شام کو ایک گاؤں کے پاس پہونچ کر خیمہ زن ہوئے، آفتاب غروب ہو رہا تھا اور اس کی زرد زرد کرنیں گنگا میں پڑ رہی تھیں اور مشرق کی طرف شفق اپنی بہار دکھا رہی تھی۔ صاحب عالم اپنی بارگاہ کے آگے شامیانے کے نیچے کرسی پر بیٹھے بہنڈہ نوش فرما رہے تھے ۔ جو گاؤں کے مرد اور عورتیں اور بچہ اور بوڑھے اور جوان یہ کہتے ہوئے دوڑے آئے کہ چلو رے دلی کے بادشاہ زادے کے درشن کر لیں۔ صاحب عالم کو جب ان گاؤں والوں کا یہ شوق اور یہ چاؤ معلوم ہوا تو آپ نے ایک خواص سے اشارہ کیا کہ ان لوگوں سے کہہ دو ہم نے تمھارے گاؤں کے پرلے کنارے پر گنگا کے اندر چھوٹی بڑی بٹیاں پڑی دیکھی ہیں۔ وہ ہمیں بہت پسند آئی ہیں ۔ تم میں سے جو لوگ خوبصورت اور سڈول اور چکنی بٹیاں اٹھا کر لائے گا تو جو بٹیا ہمیں پسند آئے گی اس کا مول پانچ روپیہ اور بٹیا ناپسند ہوگی تو اس کے دو روپے دیے جائیں گے۔ اس وقت تم سب جاؤ اور کل صبح بٹیاں چن کر چھانٹ کر لاؤ ۔ گاؤں والے خوش ہوتے ہوئے اپنے گاؤں کو چلے گئے اور دوسرے دن ایک چھکڑا بھر کر بٹیاں لے آئے ۔ صاحب عالم نے حکم دیا کہ ہمارے مصاحب ان بٹیوں کو ملاحظہ کریں جو بٹیہ انھیں پسند آئے اس کے بدلے انھیں پانچ روپیہ اور جو ناپسند ہو اس کے بدلے دو روپیہ ان لوگوں کو دیں۔ اور یہ قصہ شام تک ختم ہوا، رات کے وقت جب صاحب عالم خاصہ نوش فرمانے لگے تو ایک مصاحب نے دست بستہ عرض کی کہ حضور نے آج ایک خزانہ ان گنواروں کو ناحق دے دیا۔ صاحب عالم نے ایک آہ کھینچ کر کہا ہمارے پاس خزانہ کہاں سے آیا جو کسی کو دے دیں گے۔ تم نے سنا نہیں وہ بیچارے یہ کہتے ہوئے آئے تھے کہ ہم دلی کے بادشاہ زادے کے درشن کرنے آئے ہیں۔ بادشاہ زادے کو بھی کچھ غیرت کرنی چاہیے تھی یا نہیں؟ وہ خالی خولی جاتے تو کیا جانتے کہ دلی کا بادشاہ زادہ ہے۔\n\n(3)\n\nمرزا شاہرخ چلتے چلتے کجلی بن کے قریب پہونچ گئے اور انھوں نے دیکھا کہ زمین کا رنگ اور اس کی مٹی ہمارے ملک کی زمین اور مٹی سے الگ ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس سرزمین پر کبھی انسانوں کا گزر ہی نہیں ہوا ہے۔ میدان ہیں تو ویران ہیں، جھاڑیاں ہیں تو سنسان۔ جابجا ندیاں ہیں اور نالے ہیں مگر نہ کسی ندی کا گھاٹ ہے نہ اتار ہے۔ کشتی اور ناؤ کہاں سے آئی، کوئی بستی کوئی گاؤں دور دور تک نہیں ہے۔\n\nمیرسنگی صاحب نے صاحب عالم کو مشورہ دیا کہ اجنبی جگہ ہے آج دوپہر دن سے کسی جگہ ڈیرا کیا جائے اور چار سوار چار طرف بھیجے جائیں، اگر کوئی بستی پائیں تو اپنے ساتھ دو ایک آدمی اس بستی کے لائیں اور ان لوگوں سے کجلی بن کا ٹھیک رستہ معلوم کرکے آگے بڑھا جائے اور یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ کجلی بن کے اندر کوئی جا سکتا ہے یا نہیں اور شیر ہاتھی اس میں کہاں کہاں رہتے ہیں۔ ان کا شکار کس طرح کیا جائے گا۔ صاحب عالم نے میر سنگی صاحب کی رائے کو پسند فرمایا اور چار سوار چار طرف دوڑائے گئے اور چار پانچ کوس آگے بڑھ کر ایک ندی کے کنارے ڈیرا کیا گیا۔ مغرب سے کچھ پہلے تین طرف سے تین سوار ناکام پلٹ کر آئے اور انھوں نے کہا ہمیں کوئی بستی کوئی گاؤں اور کوئی آدمی نہیں ملا اور نہ ہم نے کسی سے رستہ پایا۔ ہم درختوں اور جھاڑیوں میں پھنس پھنس کر نکلے ہیں اندازاً بیس بیس میل تک کوئی آبادی نہیں ہے۔ مگر چوتھا سوار پورب کی طرف سے جو آیا تو اپنے ساتھ دو آدمیوں کو لایا۔ صاحب عالم کے حضور میں دونوں آدمی اور وہ سوار پیش کیا گیا۔ دونوں آدمی لنگوٹی باندھے ہوئے تھے، ان کی صورت پر وحشت برستی تھی۔ ان سے بات کی تو وہ عجب طرح کی بھاشا بولتے تھے اور وہ بہت کم سمجھ میں آتی تھی۔ اور جو کچھ ان کی باتیں سمجھ میں آئیں وہ یہ ہیں۔\n\nانھوں نے کہا اس جگہ سے دس کوس پر ہمارا گاؤں ہے۔ ہم کھیتی برائے نام کرتے ہیں، اس جنگل کی جڑی بوٹیاں اور ترکاریوں سے اور شکار کے گوشت سے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ یہاں سے ہمارے گاؤں تک کجلی بن میں گھسنے کا کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ چھوٹے بڑے درخت ایسے پاس پاس ہیں اور ان کے ٹہنے نیچے نیچے سینکڑوں ہزاروں برس کی عمر کے ایسے بچھے ہوئے ہیں کہ آدمی یا گھوڑا یا بکری تو بکری گیدڑ اور خرگوش اور مور بھی اندر نہیں جا سکتا نہ اندر سے باہر آ سکتا ہے۔ ہمارے گاؤں سے پچاس کوس پر ایک گاؤں اور بستا ہے، وہ بڑا گاؤں ہے اس کے پاس ہی ایک کجلی بن کا دروازہ ہے۔ دروازے سے یہ مراد ہے کہ وہاں جا کر بَن کچھ چھدرا چھدرا ہوگیا ہے۔ اس گاؤں کا نام پلا ہے اور پلا میں ایک راجپوت رہتا ہے۔ وہ شیر کا شکار کھیلتا ہے اور کجلی بن کے اندر جایا کرتا ہے۔ آپ یہاں سے پلا جائیے اور اس راجپوت کو بلائیے اور اسے ساتھ لے کر کجلی بن جائیے اور شیر کا شکار کیجیے۔ مگر حضور آپ رات کو یہاں نہ ٹھہریں کیونکہ یہاں رات بجتی ہے۔صاحب عالم نے فرمایا رات کیونکر بجا کرتی ہے۔ گنواروں نے رات کا بجنا سمجھایا بھی مگر ان کی بولی ایسی اکھڑ تھی کہ رات بجنے کا مطلب کوئی نہ سمجھ سکا ۔ ان سے کہا گیا تم رات کو اردوئے معلی میں رہو ۔ صبح ہم بھی تمھارے ساتھ گاؤں کو چلیں گے اور وہاں سے پلا کو جائیں گے ۔ مگر وہ کسی طرح نہ ٹھہرے اور یہی کہتے رہے ہم یہاں ہرگز نہ ٹھہریں گے یہاں تو رات بجتی ہے اور سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے۔\n\nمیر سنگی صاحب نے جمعدار کو بلا کر سمجھا دیا کہ آج رات کو معمول سے زیادہ پہرا رہے، گنوار کہہ گئے ہیں کہ رات بجتی ہے اس سے زیادہ ان کا کہنا سمجھ میں نہیں آیا۔ مگر وہ جو پتہ توڑ کر بھاگے ہیں اس سے خیال ہوتا ہے کہ رات کو یہاں کوئی جوکھوں ضرور ہے۔ جمعدار نے کہا، حضور! جہاں ڈر ہے وہاں سپاہی کا گھر ہے۔ پہرا بھی دوہرا کیے دیتا ہوں اور رات بھر خود بھی کمر باندھے کھڑا رہوں گا۔ مجھے دیکھنا ہے کہ رات مردار کیونکر بجتی ہے، صاحب عالم کے اقبال سے ہم تو اپنے آگے فلک کی ہستی نہیں سمجھتے۔ البتہ کجلی بن کا پاس ہے، شیر لگتے ہوں گے یا ہاتھی ستاتے ہوں گے تو ہماری تلوار کے آگے وہ کیا ٹھہریں گے ۔ غرض جمعدار یہ کہہ کر سپاہیوں کو وردی پہنانے چلا، اس میں آفتاب غروب ہو گیا اور آس پاس کے درختوں پر ایسے پرند اور چڑیوں نے بسیرا لیا جو اس سے پہلے مرزا شاہرخ اور ان کے ساتھیوں نے نہ دیکھے تھے، ان کی آوازیں بھی کانوں کو الگ معلوم ہوتی تھیں۔ تھوڑی دیر میں چاروں طرف اندھیرا چھا گیا ۔ رات عشا کی نماز پڑھ کر چھپر کھٹ میں جا کر لیٹ گئے۔ پاچپی کرنے والا پاچپی کرنے لگا ۔ داستان کہنے والے نے داستان شروع کر دی اور گھڑیالی نے رات کے دس بجائے جو یکایک ان کے کان میں جھانجھ بجنے کی آواز آئی جو بہت سریلی اور دل کش تھی۔ اس اجاڑ جنگل میں جھانجھ کی آواز بڑھی اور دم بدم بڑھنے لگی اور صاحب عالم چھپر کھٹ پر اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا میر سنگی صاحب ہم سمجھے ان گنواروں نے جو کہا تھا کہ رات بجتی ہے ۔ وہ اسی آواز سے مراد تھی۔ میر سنگی صاحب اور سب مصاحبوں نے کہا حضور نے بجا فرمایا، رات بجنے کا ان کا اسی آواز سے مدعا تھا اور ایک گھنٹے میں تو یہ معلوم ہونے لگا کہ جنگل ہزاروں اور لاکھوں جھانجھوں سے بھرا ہوا ہے اور ان کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ صاحب عالم گھبرا کر خیمے سے نکل کر باہر آ گئے ہیں اور حیرت میں مبتلا ہیں۔ رات کے بارہ بجے تو یہ آواز اس قدر بڑھی کہ صور قیامت کی تصدیق ہو گئی۔ آواز کی رفتار اس طرح تھی کہ ایک بار معلوم ہوتا تھا کہ جھانجھ آسمان پر سے بجتے چلے آتے ہیں اور آتے آتے سر پر آئے اور پھر کانوں کے اندر گھس گئے۔ پھر کانوں سے نکلے، سر پر پہونچے اور سر پر سے اونچے ہوکر آسمان کو اڑ گئے۔ جب وہ صدا اوپر جاتی تھی تو کچھ دھیمی معلوم ہوتی تھی اور جب نیچے آتی تھی تو کان کے پردوں کو پھاڑتی معلوم ہوتی تھی۔ اب کوئی آدمی ایک دوسرے کی بات بالکل نہ سن سکتا تھا۔ صاحب عالم میر سنگی صاحب کے کان میں بات کہتے تھے اور میر صاحب صاحب عالم کے کان میں مگر پھر سمجھ میں نہ آتی تھی اور اس شور اور ہولناک آواز نے دلوں میں دھڑکن پیدا کردی۔ ہر شخص کو یہ معلوم ہوتا تھا کہ گھڑی دو گھڑی میں دم نکل جائے گا ۔ گھوڑوں نے اگاڑیاں پچھاڑیاں توڑ ڈالیں اور اردوئے معلی سے نکل کر بھاگ گئے۔ ایک ہاتھی اور ہتنی ساتھ تھی وہ دونوں تھر تھر کانپ رہے تھے، دو ایک گھوڑے زمین پر گرپڑے اور مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگے۔ ان مسافروں کے لیے یہ رات قیامت کی رات بن گئی۔ صاحب عالم نے حکم دیا کہ تمام لشکر میں خوب روشنی کی جائے تاکہ ایک دوسرے کی صورت تو دیکھتا رہے مگر یہ حکم اشاروں میں دیا گیا۔ رات کے دس بجے سے رات کے دو بجے تک رات اسی دھوم دھام سے بجتی رہی اور انسانوں کے حواس خمسہ کھوتی رہی۔ صاحب عالم اور میر سنگی صاحب دوات قلم لے کر بیٹھ گئے اور لکھ لکھ کر آپس میں باتیں کرنے لگے۔ رات ڈھلنے کے ساتھ رات بجنے کی صدا بھی دھیمی ہونے لگی یہاں تک کہ صبح کے وقت بالکل موقوف ہو گئی۔\n\nشاہ خاور مشرقستان سے نکل کر صاحب عالم کے لیے اردوئے معلی میں حاضر ہوا تو خاص و عام نے ایک دوسرے کی صورت دیکھ کر کہا تمھاری صورت بالکل زرد ہوگئی ہے۔ صاحب عالم نے اور میر سنگی صاحب نے جو آئینہ دیکھا تو فی الحقیقت اپنے اپنے منہ یرقان زدہ پائے یا ہلدی کا اوبٹنا ملا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ رات بھر کوئی انسان حیوان سویا نہ تھا اور نہ کسی نے آرام پایا تھا، اس واسطے سب پر سستی کاہلی چھائی ہوئی تھی۔ میر سنگی صاحب نے صاحب عالم سے کہا کہ فورا کوچ کا حکم دیا جائے کیونکہ یہ مقام زہر ہے، ایک رات رہنے سے آدمی اور جانور مردہ ہو گئے ہیں اگر دو ایک دن یہاں اور رہے تو شاید سب کا کام تمام ہوجائے۔ صاحب عالم نے فرمایا آپ درست فرماتے ہیں اور اسی وقت روانگی کا حکم دے دیا۔ اردوئے معلی پہلے سے چلنے کا بندوبست کر چکا تھا، صاحب عالم کے حکم کے ساتھ ہی سب وہاں سے چل دیے اور بھاگا بھاگ اس گاؤں پر پہونچ کر ڈیرے ڈال دیے جس سے کل دو گنوار پکڑے آئے تھے ۔ گاؤں والوں نے کہا بہت اچھا ہوا آپ وہاں سے اٹھ آئے، اس جگہ کا خاصہ ہے کہ باہر کا جو چرند پرند یا کوئی آدمی وہاں آ کر ٹھہر جاتا ہے تو اس آواز کو سن کر تین دن میں اس کا خون خشک ہو جاتا ہے اور تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے۔ میر سنگی صاحب نے ان سے کہا تم آخر پاس کے رہنے والے ہو تم نے بھی سمجھا کہ یہ آواز کیسی ہے اور کہاں سے آتی ہے؟ ان لوگوں نے کہا ہم کیا ہمارے بڑے ہزاروں برس سے اس گاؤں میں رہتے چلے آئے ہیں مگر یہ بھید کسی کو نہ معلوم ہوا کہ رات کیوں بجتی ہے اور رات ڈھلنے کے ساتھ اس کی آواز کیوں کم ہوتی جاتی ہے، اسی وجہ سے ہم لوگوں نے اس کا نام رات بجنا رکھ لیا ہے کہ باجن بجتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔\n\n(4)\n\nاس گاؤں میں جس کا نام یاد نہیں رہا پھر صاحب عالم نے کوچ کیا اور بہت زحمت اور تکلیف اٹھا کر پلا گاؤں تک پہونچے کیونکہ اس سے پہلے گاؤں سے پلا تک نہ کوئی لیکھ تھی نہ کوئی بٹیہ تھی، نہ پگ ڈنڈی تھی۔ جب آدمی ہی نہ ہوں تو لیکھ اور پگ ڈنڈی کس طرح بنتی ۔ صاحب عالم نے پلا کے کنارے پر قیام فرمایا اور اس شکاری راجپوت سنگھ کو بلوایا۔ اس راجپوت کا نام یاد نہیں رہا، اس لیے میں ضرورت کے لیے راجپوت سنگھ لکھوں گا کیونکہ اس کا جابجا ذکر آئے گا۔ راجپوت سنگھ حکم پہونچتے ہی حاضر ہوا۔ وہ بھی جنگلی بھاشا بولتا تھا۔ صاحب عالم نے اس سے کجلی بن کا حال اور شیر کے متعلق جو اس سے پوچھا تھا اس کا یہ جواب دیا۔\n\nراجپوت سنگھ: جناب عالی بن کا نام کجلی بن نہیں ہے بلکہ گجلی بن ہے کیونکہ گج سنسکرت زبان میں ہاتھی کو کہتے ہیں۔ اس بن میں جو ہاتھی رہتے ہیں اس کا نام گجلی بن رکھا گیا تھا مگر بگڑ کر گجلی بن سے کجلی بن ہوگیا۔ ہمارا گاؤں ایک راجا کی حکومت میں ہے۔ ہم اپنے گاؤں کی پیداوار میں سے تھوڑی سی جنس دھان کی اس راجا کو اُگاہی کے طور پر دیتے ہیں سنا ہے وہ راجا تھوڑا سا روپیہ بادشاہ کو دیتا ہے۔\n\nکجلی بن ہمارے اس گاؤں سے سات کوس دور ہے اور سینکڑوں کوس تک چلا گیا ہے۔ اس کے اندر بعض درخت دو دو ہزار برس کی عمر کے ہیں اور سال، ساگوان، ابنوس،ہلدو اور قسم قسم کے درخت جن کے تنہ ہاتھیوں کے کمر برابر اور ان سے زیادہ گولائی کے ہیں جن کے نام ہمیں معلوم نہیں ہیں۔ اور ان کی اونچائی لمبائی اتنی ہے کہ دیکھنے والا گمان کرتا ہے کہ ان کی پھننگیں اور چوٹیاں آسمان سے جا لگی ہیں۔ شیر، ریچھ، بندر، لنگور، ہاتھی، ساردھول، بھیڑیے، گیدڑ، لومڑی، ہرن، پاڑھے، چیتل،نیل گائے، بارہ سنگے، سور اور ہزاروں قسم کے چرند اس میں رہتے ہیں کہ راجا ہیر بکرماجیت کے زمانے سے لے کر اور مسلمان بادشاہوں کی عملداری سے اب تک عمارت کے کام کی لکڑی اس بن میں سے ٹھیکہ دار لوگ کاٹ کر بھیجتے رہے اور اب بھی بھیجتے رہتے ہیں مگر اس کا ایک کونا بھی خالی نہیں ہوا ہے۔ اس بن کے اندر جانا خطرے سے خالی نہیں ہے، آدمی اس کی سیر کرتا ہوا یا شکار پر داؤ کرتا ہوا چلا جاتا ہے اور شام ہو جاتی ہے اور پھر اسے پلٹنے کا موقع نہیں ملتا ہے۔ رستہ کا تو کوئی نشان ہوتا ہی نہیں ہے، اس لیے پھر کر کیونکر آئے۔ اندھیرا ہوتے ہی شیر اس کا شکار کرلیتے ہیں یا بھیڑیے اس کی تکا بوٹی کر ڈالتے ہیں۔ یا ریچھ بندر اس کے ٹکڑے اڑا دیتے ہیں یا ہاتھی اسے کچل ڈالتے ہیں۔ لکڑی کاٹنے والے مزدور سو سو دو دو سو اکٹھے ہو کر کام کرتے ہیں، ایک جگہ ٹھیکیدار اپنا ڈیرا ڈالتا ہے اور ڈیرے کے آس پاس ایندھن انبار کرکے شام کے وقت اس میں آگ لگا دیتا ہے۔ بن کے جانور کیا ہاتھی کیا شیر سب آگ سے ڈرتے ہیں اور آگ دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں۔ ٹھیکیدار کے ساتھ ایسے بڑے بڑے مضبوط چھکڑہ ہوتے ہیں جن میں پچاس پچاس اور سو سو بیل جوتے جاتے ہیں اور ان چھکڑوں پر شہتیر اور موٹے موٹے لٹھے لاد کر دور دور لے جاتے ہیں۔ اس محنت سے بہت سے بیل مر جاتے ہیں۔ میں سو پچاس بار شکار کی وجہ سے بن میں داخل ہوا ہوں اور چالیس چالیس پچاس پچاس کوس تک اس کے اندر چلا گیا ہوں تو میں نے اس میں میدان بھی کف دست پائے ہیں۔ ندی نالے بھی زور شور سے بہتے دیکھے ہیں۔ چشمہ جھیلیں اور قدرتی تالاب بھی بہتے ہیں اور ان ندی نالوں پر مختلف قسم کے پرندے دکھائی دیے ہیں۔ یہ بھی میں نے جانچ کی کہ بن کی بسنے والی مخلوق نے بن کو اپنے لیے بانٹ لیا ہے۔ کہیں خصوصیت کے ساتھ ریچھ، کسی ٹکڑے میں بندر، کسی میں ہرن، کسی میں ہاتھی اور کہیں شیر رہتے ہیں ۔ تجربہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ جانور اپنی سرحد سے دوسرے جانوروں کی سرحد میں مصیبت پڑنے پر جا کر گھستے ہیں۔ مگر شیر ہر حصہ میں بن کے اور جانوروں کے ہر سرحد میں چلا جاتا ہے ۔ اس سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ سب جانوروں کا مہاراجا ہے اور سب جانور اس کی رعیت ہیں۔ جن علاقوں میں خاص کر شیرنیاں رہتی ہیں اور بچہ دیتی ہیں اور شیروں کے گرمی اور سردی کے رہنے کے جنگل مجھے اور میرے عزیزوں کو معلوم ہیں۔ ان اپنے عزیزوں میں سے فدوی ایک دو آدمیوں کو حضور کے ساتھ بھیج دے گا اور جب تک حضور شکار کھیلیں گے وہ حضور کے ساتھ رہیں گے۔ شیر کا شکار یہ غلام بھی کرتا ہے اگر حضور فرمائیں تو پہلے میں شکار کرکے اپنے کرتب دکھاؤں یا جب حضور اپنے قاعدے سے شیر کا شکار کر لیں تو غلام کو یاد فرمائیں غلام حاضر ہو کر اپنے شکار دکھائے۔ صاحب عالم نے خیال کیا کہ میں راجپوت سنگھ سے اگر یہ کہوں گا کہ تم شیر کا شکار دکھاؤ تو سمجھے گا کہ بادشاہ زادے کو شیر کا شکار نہیں آتا ہے، اس لیے کہا ہم اپنے طور پر شکار کھیلنا چاہتے ہیں، جب ہم شیروں کا شکار کر کے اپنا جی بھر لیں گے تو تمھیں بلا کر تمھاری ہنرمندی دیکھیں گے۔ البتہ تم اپنے دو تین آدمی رہبری کے لیے ہمارے ساتھ کردو۔\n\n(5)\n\nراجپوت سنگھ نے اپنے دو بھائی صاحب عالم بہادر کے ساتھ کر دیے اور صاحب عالم نے پانچ دن تک بلا ناغہ کوچ کیا تو کجلی بن کے دروازے تک پہونچے۔ راجپوت سنگھ نے کجلی بن کا جو حال بیان کیا تھا وہ آنکھوں کے سامنے عیاں ہونے لگا۔ اتنے بڑے بڑے درخت دکھائی دیے کہ جن کی بلندی گویا قطب صاحب کی لاٹھ کے برابر تھی اور ان کی موٹائی اور تنا آوری کو دیکھ کر دلوں میں ہول پیدا ہوتا تھا۔ ایک دن کجلی بن کے دروازے پر ڈیرا کیا اور دوسرے دن صبح ہی بن کے اندر داخل ہو گئے اور درختوں کی جڑیں جو دست انسانی نے کاٹے تھے گز دیڑھ گز اونچی کھڑی ہوئی کہہ رہی تھیں:\n\nابھی اس راہ سے کوئی گیا ہے\n\nکہے دیتی ہے شوخی نقش پا کی\n\nدرخت چونکہ خودرو تھے اس لیے بہت ہی پاس پاس تھے اور ان کی چوٹیاں اوپر جا کر ایک ہوگئی تھیں۔ اس لیے پتوں اور ٹہنیوں کی چھت بن گئی تھی اور ان میں جو دھوپ کم چھنتی تھی اسی لیے دوپہر دن سے یہ گمان ہوتا تھا کہ شام قریب ہے۔ رہبروں نے کہا ان درختوں سے نکل چلیے کیونکہ اگر درختوں کے نیچے رات ہو گئی تو بڑی مشکل ہوگی۔ ایسا اندھیرا ہوگا کہ ہاتھ کو ہاتھ نہ دکھائی دے گا اور موذی جانور چاروں طرف سے بہہ پڑیں گے اور ستائیں گے اور ان درختوں کی جڑوں میں دس دس پانچ پانچ گز لمبے سانپ رہتے ہیں اور بڑے زہریلے ہیں۔ وہ گھوڑوں اور آدمیوں کو کاٹیں گے اور آدمی اور گھوڑے پانی ہوکر بہہ جائیں گے۔ گھن دار ہونے کے سبب سے ہوا بھی ان کے نیچے کم آتی ہے اور رات کو ان کے نیچے اس بلا کی گرمی ہوتی ہے کہ آدمی یہ جانتا ہے کہ آگ کی بھٹی میں گر گیا ہوں۔ مچھر ایسے زہریلے کہ ان کے کاٹے سے آدمی کا سارا بدن سوج جاتا ہے اور کھجاتے کھجاتے پاگل بن جاتا ہے ۔ اس بات کو سن کر سوار اور پیدل قدم اٹھا کر چلنے لگے مگر بار برداری کے چھکڑوں کا ایسی جگہ لے جانا بہت دشوار تھا، بیلوں سے جلدی چلا نہ جاتا تھا۔ چھکڑے والے بہتیری تک تک کرتے تھے مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوتے تھے۔ مگر پھر بھی شام سے پہلے پہلے سارا لشکر صاحب عالم کا ان درختوں میں سے گزر کر ایک فراخ اور کھلے میدان میں پہونچ گیا۔ رہبروں نے کہا یہ میدان بیس کوس لمبا اور بیس کوس چوڑا ہے، اس میں جھیلیں اور ندیاں رواں دواں ہیں اور پرندوں کا شکار طرح طرح کا ہے۔ چونکہ رات ہوگئی تھی اس لیے صاحب عالم اور ان کے اردوئے معلی نے آرام کیا، پہرہ چوکی رات بھر سب اچھی طرح رہا۔ ادھر ادھر سے جھاڑ جھنکاڑ تبردار سے کٹوا کر ڈھیر کروا دیے اور ان میں آگ لگوا دی تھی۔ اس لیے کوئی موذی جانور اردوئے معلی کے پاس نہیں پھٹکا۔ صبح ہی صاحب عالم اور میر سنگی صاحب اور دو ایک مصاحب گھوڑوں پر سوار ہوکر میدان کی سیر کو چلے، دو تین قراول بھی گھوڑوں کا شکار بند پکڑ کر ساتھ چلے۔ صبح کا سہانا وقت، ہری ہری گھاس اور جنگلی درختوں کے پھول اور پھولوں پر اوس کی بوندیں عجب بہار دے رہی تھیں جو سامنے ایک جھیل دکھائی دی اور جھیل کے اندر اور اس کے کنارے پر سارس، کونجیں، کلنگ، مرغابیاں، پن ڈوبے، کلکلے، سرخاب، نکٹے، چہیے،بزہ،حواصل ، کبود وغیرہ بیٹھے کلیلیں کر رہے تھے، مگر قدرت الہی کا ایک نمونہ عجیب دکھائی دیا یعنی ایک قسم کی کونجیں جھیل کے کنارے دوب کی پتیاں نوچ نوچ کر کھا رہی تھیں۔ جن کے دو بازوؤں میں سے ایک بازو میں معمولی پر نہ تھے، ان کے لال لال بازو بے پر کے الگ دکھائی دے رہے تھے مگر بے پر کے بازو مع ہڈی کے مڑ کر ہک بن گئے تھے، صاحب عالم نے میر سنگی صاحب سے کہا یہ صنعت الٰہی درود پڑھنے کے لائق ہے مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ جانور ایک بازو سے اڑتے کیسے ہوں گے۔ انھیں اڑا کر دیکھنا چاہیے اور معلوم کرنا چاہیے کہ آیا یہ اڑتے بھی ہیں یا نہیں، صاحب عالم کا اشارہ پا کر ایک قراول نے مٹی کا ڈھیلا ان کی طرف پھینکا اور سب نے دیکھا کہ ان جانوروں نے ایک چیخ ماری اور ایک نے اپنے بازو کے ہک میں دوسرے جانور کے ہک کو ڈال دیا اور دونوں مل کر اس تیزی سے اڑے کہ دیکھنے والے حیران ہو گئے۔ اتفاقاً ان میں سے دو ایک پرند اڑ کر صاحب عالم کے سر کی طرف آئے اور صاحب عالم نے اڑتے ہی ان کے اوپر بندوق کا فیر کیا اور ان میں دو تین زخمی ہو کر زمین پر گرپڑے قراول بھاگ کر انھیں اٹھا لائے اور صاحب عالم نے اور سب نے دیکھا کہ ایک قسم کی کونجیں ہیں جو جثہ میں مور کے برابر ہیں اور خوب صورتی میں پری سے کم نہیں اور خلّاق عالم نے ان کے بازو اس طرح سےبنائے ہیں کہ ایک کا دایاں بازو پردار اور دوسرے کا بایاں ہک دار ہے اور دوسرے کا بایاں پردار اور دایاں ہک دار ہے تاکہ جب وہ اڑنا چاہیں تو اپنا اپنا ہک دار بازو جوڑ لیں اور اڑ جائیں۔ صاحب عالم نے فرمایا یہ حلال جانور ہے اسے ذبح کرو اور باورچی خانے میں پہونچا دو۔ قورمہ اور کباب تیار کیے جائیں۔\n\nپھر صاحب عالم اور آگے تشریف لے گئے اور بہت سے پرند شکار کیے اور دس بجے اردوئے معلی کو واپس آ گئے۔ رہبروں نے کہا حضور آگے بن میں ایسا کوئی رستہ نہیں ہے جس میں حضور کی سواریاں اور چھکڑے جا سکیں، اس لیے چھاؤنی حضور اپنی میدان میں رکھیں اور شکار کے لیے جدھر چاہیں ادھر جائیں اور شکار کھیل کر چھاؤنی میں واپس آ جائیں کیونکہ چھاؤنی کے لیے بن میں سو دو سو میل تک جگہ نہیں ہے۔ صاحب عالم کو رہبروں کی یہ بات ماننی پڑی۔\n\nدوپہر کے وقت صاحب عالم نے خاصہ نوش فرمایا تو ان نئی قسم کی کونجوں کا قورمہ اور کباب بہت لذیذ پائے، ان کے گوشت میں بجائے بساند کے مشک جیسی خوشبو تھی۔\n\nرہبروں نے کہا یہاں سے دس کوس پر شیروں کے رہنے کی جگہ ہے اگر حضور کا جی چاہے تو کل ادھر تشریف لے چلیے۔ اب رمضان شریف کا مہینہ شروع ہو گیا تھا، جن لوگوں کو خدا نے توفیق دی تھی انھوں نے اس جنگل میں بھی روزے رکھنے شروع کر دیے۔ صاحب عالم نے فرمایا کل میں شیر کے شکار کو جاؤں گا، پچاس پیدل میرے ساتھ ہوں گے اور ان کے ہاتھوں میں بلم ہوں گے۔ ایک ہاتھی پر دھونسہ اور دھونسے والے ہوں گے اور ان کے ساتھ کئی باجے والے اور بھی ہوں گے۔ ایک عماری کے ہاتھی پر سوار ہوں گا ، میری خواصی میں دو آدمی دو نالی بندوقیں لیے بیٹھیں گے۔ میرے پاس دو الگ ہوں گی۔ جب میں اپنی بندوق خالی کر دوں گا تو میری خواصی والے بھری بھرائی بندوق مجھے دے دیں گے اور اسی طرح وہ جلدی جلدی بندوق کو گولی بارود سے بھرتے رہیں گے ۔ ہتنی پر جو شیر کے ساتھ لڑنے میں مشاق ہے میر سنگی صاحب مع اپنے دو رفیقوں کے سوار ہوں گے۔ اگر کسی جگہ پر ہاتھی نہ جا سکے گا تو میں اتر کر پیدل چلوں گا اور شیر کا شکار پیادہ ہی کروں گا۔ یہ بھی خبر نہیں کہ کس وقت تک پلٹ کر چھاؤنی میں پہونچوں گا۔ اس لیے بکاول کو چاہیے کہ کہاروں کی بہنگیوں میں کھانا بھیج دے، یہ حکم سر شام اس لیے دیا گیا ہے کہ میرے ساتھ چلنے والے شیر کا شکار بخوبی کر لیں۔\n\n(6)\n\nصبح کی نماز پڑھ کر صاحب عالم ہاتھی کی عماری میں سوار ہو گئے اور صاحب عالم کے ہاتھی کے ساتھ میر سنگی صاحب کی ہتنی بھی ہولی، صاحب عالم کے ہاتھی پر اور میر صاحب کی ہتنی پر پانی کی ایک چھاگل بھی تھی۔ دو رہبر راجپوت سنگھ نے بھیج دیے تھے وہ آگے آگے جا رہے تھے اور ان کے ہاتھوں میں بھی بلم تھے جن کے پھل بجلی کی طرح چمک رہے تھے۔ شیر کی تلاش میں صبح سے دوپہر دن ہو گیا مگر شیر کا پتہ نہ چلا۔ رہبر برابر کہتے رہے کہ شیر جھاڑیوں میں ضرور ہے ابھی نہیں ملا تو کیا ہے۔ گھنٹہ دو گھنٹہ میں مل جائے گا، صاحب عالم نے مع اپنے ساتھیوں کے ایک جگہ فرش بچھوا کر کھانا نوش فرمایا۔ میر صاحب نے کہا، جناب عالی دن کا ایک بج گیا ہے اور ہم چھاؤنی سے اس قدر دور نکل آئے ہیں کہ اگر اب سے چلیں گے تو مغرب کے بعد چھاؤنی میں پہونچیں گے اور اگر حضور نے یہیں شام کی تو پھر چھاؤنی تک پہونچنا مشکل ہوگا۔ کیونکہ جن درختوں میں سے آپ کا ہاتھی پھنس کر نکلا ہے رات کے وقت ان میں سے گزرنا بالکل ناممکن ہے۔ رہبروں نے بھی یہی کہا کہ حضور اب چھاؤنی ہی کو چلے چلیے ہم (ناہروں کی رہتان ) سے یعنی ان کے رہنے کی جگہ سے کچھ آگے نکل آئے ہیں۔ توقع ہے کہ حضور جب پلٹ کر چلیں گے تو شیروں سے مڈبھیڑ ہو جائے گی۔ صاحب عالم نے فرمایا کہ میرا ارادہ تو یہ تھا کہ چاہے ساری رات مجھے ہاتھی پر سوار ہوئے گزر جائے مگر بے شیر کا شکار کیے نہ پلٹوں۔ مگر تم لوگ یہ جو کہتے ہو شیروں کے رہنے کا مقام پیچھے رہ گیا ہے اس لیے میں واپس چلتا ہوں۔ یہ کہہ کر صاحب عالم نے فیل بان سے کہا ہاتھی کو پھیرو اور صاحب عالم مع اپنے ساتھیوں کے اردوئے معلی کی طرف چلے، ابھی ایک میل ہی چلے ہوں گے جو کانوں میں بادل کے گرجنے کی آواز آئی۔ رہبروں نے کہا شیر دڑوک رہے ہیں، ہمارے بچار میں تو تین شیروں سے کم نہیں ہیں۔ صاحب عالم نے اپنی دونالی سنبھالی اور حکم دیا دھونسے اور باجے زور زور سے بجاؤ۔ حکم کے ساتھ ہی دھونسے اور باجوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور ان کی صدائیں بن میں گونجنے لگیں اور بن کے رہنے والے جانوروں میں ہلچل مچ گئی۔ گیدڑ، بھیڑیے، خرگوش اور جنگلی سور ادھر سے ادھر بھاگتے ہوئے دکھائی دیے ۔ صاحب عالم کے داہنی طرف کی جھاڑی میں سے ایک شیر نکل جانا چاہتا تھا جو اس نے دیکھا کہ دونوں جھاڑیوں کے بیچ میں صاحب عالم بہادر کا ہاتھی اڑا کھڑا ہے یہ اسے بہت ناگوار گزرا۔ اس نے عماری میں صاحب عالم بہادر کو کھڑا دیکھ لیا اور وہ غرش کے ساتھ ہاتھی کی طرف لپکا مگر صاحب عالم اسے ہاتھ تک کب آنے دیتے تھے۔ بندوق کا فیر کیا اور گولی اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں جا کر بیٹھی اور شیر الٹ کر گرا اور اس نے ایک جگر شگاف نعرہ مارا جس کے ہول سے صاحب عالم کے ہاتھی نے پیشاب اور لید کر دی اور تمام کجلی بن لرز گیا، صاحب عالم کی اس قادر اندازی پر سب آدمی سبحان اللہ کہہ رہے تھے جو یہ معلوم ہوا آسمان سے بجلی گری مگر بجلی نہیں گری تھی شیرنی شیر کو مردہ دیکھ کر جھلاتی ہوئی آئی تھی اور چاہتی تھی کہ ہاتھی کی سونڈ پر چڑھ کر صاحب عالم کو عماری میں سے پنجہ ڈال کر گھسیٹ لے، ہاتھی قیں کرکے اور سر ہلا کر پلٹنا چاہتا تھا جو مرزا شاہرخ نے دوسری نال بندوق کی شیرنی پر خالی کی، ادھر سے جس ہتنی پر میر سنگی صاحب سوار تھے اس نے شیرنی پر مہرہ کیا۔ صاحب عالم کی گولی شیرنی کے بھیجے پر پڑی تھی، اس کا بھی کام تمام ہوا اور ہتنی نے اسے اپنے پاؤں سے کچل ڈالا۔ ہاتھی کے سر سے لے کر سونڈ تک برگستوان فولادی یعنی پاکھر پڑی ہوئی تھی، نہیں شیرنی ضرور اس کی سونڈ اور اس کے سر کو کھا جاتی۔ مہاوت جو ایک دلیر آدمی تھا، اس نے بھی اپنی کٹار سے شیرنی کو روکا تھا، نہیں وہ اس کا بھی کام تمام کرتی اور بے شبہ عماری تک پہونچ جاتی۔ شکار کے بعد بھی دیر تک دیکھنے والوں کے دل کانپتے رہے اور مرزا شاہرخ بہادر کی ہنسی کسی طرح تھمتی ہی نہ تھی، عماری میں بیٹھے بیٹھے لوٹے جاتے تھے۔\n\nدن ڈگڈیوں ہوگا جو صاحب عالم اردوئے معلی میں میر سنگی صاحب پہونچ گئے اور قراول رات کے بارہ بجے ان شیروں کو اٹھوا کر چھاؤنی میں لے آئے، صاحب عالم بارگاہ میں زینت بخش تھے۔ میر سنگی صاحب نے عرض کی، خداوند نعمت خدا کا شکر ہے آج ایسا شکار ہوا کہ آگے توقع نہیں ہے کہ اس سے بہتر شکار ہو کیونکہ نوکروں کا بال بھی بیکا نہیں ہوا، نہیں شیر کے شکار میں اکثر پیادہ زخمی ہو جاتے ہیں کیونکہ شیر پہلے ان سے ہی مصافحہ کرتا ہے، پھر ایک شیر میں دو شیر شکار ہو گئے۔\n\nصاحب عالم : بھئ میر سنگی تم کہتے سچ ہو، شیرنی شیر سے زیادہ پھرتیلی اور غصیل ہوتی ہے۔\n\nاسی طرح بیس دن میں اٹھارہ شیر صاحب عالم نے شکار کیے اور کھال بنانے والے جو ساتھ تھے انھوں نے سب کی کھالیں درست کر لیں ۔ایک دن صاحب عالم بے وردی پہنے اردوئے معلی سے بندوق ہاتھ میں لے کر نکلے اور ایک کالے تیتر کے پیچھے چلے۔ شکاری جانتے ہیں کہ کالا تیتر بڑا دھوکا باز جانور ہے ۔ مشکل سے بندوق کی مار پر آتا ہے، ابھی یہاں بولا پھر وہاں جا بولا، اسی طرح کئی کئی فرلانگ بھگاتا چلا جاتا ہے ۔ تیتر کہیں چھپ گیا اور صاحب عالم اردوئے معلی میں واپس نہ آئے، میر سنگی صاحب خود چاروں طرف ڈھونڈ آئے اور بہت سے پیادہ اور قراول دوڑتے پھرے اور پھر رہے تھے، صاحب عالم کا کہیں پتہ نہ تھا۔ سب لوگ دق اور پریشان تھے، خاص کر میر سنگی صاحب کو بڑی فکر تھی۔ کیونکہ بادشاہ نے صاحب عالم کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دیا تھا، اسی تردد میں دن کٹ گیا۔ نہ صاحب عالم آئے نہ کوئی خبر لے کر پلٹا۔ میر سنگی صاحب مغرب کی نماز پڑھ کر دعا مانگ رہے تھے کہ الٰہی بادشاہ زادے کی جان کی خیر کرنا اور مجھ ناچیز کے منہ کو کلنگ کا ٹیکا نہ لگانا جو دنادن بندوق کی دو آوازیں کان میں آئیں اور میر صاحب اور بہت سے نوکر چاکر بندوق کی آواز کی طرف دوڑے۔ کوئی تین کوس پر جا کر یہ تماشا دیکھا کہ ایک شیر جو اگلے شیروں سے زبردست ہے صاحب عالم کی بندوق سے ہلاک ہوا خاک پر پڑا ہے اور صاحب عالم اس پر چڑھے بیٹھے ہیں اور ایک بگیلا شکار کیا ہوا صاحب عالم بہادر کے پاؤں میں لوٹ رہا ہے۔ میر سنگی صاحب پہلے آداب بجا لائے پھر صاحب عالم کے دست مبارک کو بوسہ دیا اور پانچ روپیہ جیب سے نکال کر صاحب عالم پر سے صدقہ کرکے پھینک دیے۔ صاحب عالم نے فرمایا، بھئی میر سنگی! آج خدا نے ہی میری جان بچائی۔ میں اکیلا اور یہ دو میری جان کے خواہاں تھے، مجھے ایک تیتر نے دھوکا دیا، میں اردو سے نکل کر اس کے پیچھے چلا اور اردو سے کوسوں دور نکل آیا اور پھر ایسے خارستان میں پھنس گیا کہ دن کو تارے دکھائی دے گئے ۔ آج صبح سے پانی تک نصیب نہیں ہوا۔ جب شام ہونے لگی تو میں اٹکل سے اپنے اردو کی طرف پلٹنے لگا کیونکہ ہمارا اردو مغرب کی طرف ہے۔ چلتے چلتے جب میں اس شیر سے پچاس قدم رہا تو میں نے دیکھا کہ یہ شیر ایک درخت کے نیچے بیٹھا اپنے منہ کی مکھیاں سر ہلا ہلا کر اڑا رہا ہے میں نے بندوق سنبھالی اور اس کے سر کا نشانہ باندھ کر چاہا تھا کہ لبلبی دبا دوں جو مجھے اپنے پیچھے کچھ آہٹ معلوم ہوئی گردن پھیر کر دیکھتا ہوں تو معلوم ہوا یہ بگیلا مجھ سے پانچ قدم پر دانت نکوسے کھڑا ہے اور بلی کی طرح دم ہلا رہا ہے۔ میرا گمان یہ ہے کہ اس بگیلے نے شیر کو دیکھ لیا تھا اور وہ مجھے شیر کا لقمہ سمجھ کر میرے اوپر حملہ کرنے سے رک رہا تھا۔ شیر کے ڈر کے مارے اس کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ وہ مجھ پر آ پڑے مگر للچا للچا کر گھور رہا تھا اور دانت پیس رہا تھا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ کس قوت نے میرا ہاتھ اور میری بندوق اس بگیلے کی طرف پھیردی مگر الحمد للہ کہ میری بندوق نے ایسا کام دیا کہ اس کی گولی بگیلے کے حلق میں سے گدی توڑ کر نکل گئی اور میں پھر شیر کی طرف مڑا اور میں نے دیکھ لیا کہ شیر میری طرف جھپٹا۔ مگر خدا کی رحمت میری گولی اس کے آنے سے پہلے اس کے دماغ میں پیوست ہوگئی اور شیر بے جان ہوکر زمین پر گرا۔ صاحب عالم کے نوکر چاکر تو صاحب عالم کی تعریف کر ہی رہے تھے مگر وہ دونوں رہبر جو راجپوت کے بھائی تھے آ گئے تھے، انھوں نے صاحب عالم کے اس شکار کی بہت ہی صفت و ثنا کی اور کہا یہ کام آپ نے مردانگی کا کیا ہے۔ پھر سب ہمراہی صاحب عالم بہادر کو لے کر اردوئے معلی میں پہونچے۔ میر سنگی نے کہا، جناب عالی اگر حضور کا جی شیروں کے شکار سے سیر ہو گیا ہو تو اب شاہجہاں آباد کے پلٹنے کا ارادہ فرمائیے کیونکہ جناب عالیہ اور جہاں پناہ حضور کے فراق میں بے چین ہوں گے۔ حضور کو یاد ہوگا کہ جب آپ اعلی حضرت سے رخصت ہوئے تھے تو اعلی حضرت نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر یہ شعر پڑھا تھا:\n\nازمن جدا مشو کہ تو ام نور دیدہ\nآرام جان و مونس قلب رمیدہ\n\nاور حضرت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ صاحب عالم نے فرمایا اب ان شاءاللہ تعالیٰ جلد تر شاہجہاں آباد کو چلیں گے۔ کل ان دونوں رہبروں کو رخصت کیا جائے اور ان سے کہا جائے کہ راجپوت سنگھ کو ہماری طرف سے دعا پہونچائیں اور یہ کہیں کہ اب تم کجلی بن میں جلد پہونچو، ہم تو شکار کر چکے مگر تمھارے شکار کے دیکھنے کا بڑا شوق ہے۔ صاحب عالم کے فرمانے کے بموجب وہ دونوں آدمی پلاکو گئے اور انھوں نے راجپوت سنگھ کو اردوئے معلی کی جانب روانہ کیا۔ وہ جب اردوئے معلی میں داخل ہوا تو اس کے ساتھ پانچ چھ آدمی، دو گھوڑے، ایک چھوٹا سا خیمہ اور ایک بیلوں کا تانگہ اور دو کتے تھے جن کی آنکھوں پر چیتے کی طرح چمڑے کی ٹوپیاں چڑھی ہوئی تھیں۔ صاحب عالم نے میر سنگی کو حکم دیا کہ ہمارے مہمان راجپوت سنگھ کو اور ان کے آدمیوں کو اور ان کے جانوروں کو آرام سے ٹھہرایا جائے۔ میر سنگی صاحب نے جمعدار کو بلا کر صاحب عالم کا حکم سنا دیا۔ خاصہ نوش فرمانے کے بعد جب رات کو صاحب عالم سکھ کرنے کے لیے چھپر کھٹ میں لیٹے تو فرمایا راجپوت سنگھ کو حاضر کیا جائے۔ راجپوت آ گیا اور آداب بجا لا کر دست بستہ کھڑا ہو گیا۔ میر سنگی صاحب نے کہا، حضور فرماتے ہیں آپ سورج بنسی خاندان میں سے ہیں اور آپ کے خاندان کی ہمارے بڑوں نے ہمیشہ تعظیم کی ہے، آپ چاندنی پر بیٹھ جائیے۔ اور جب وہ بیٹھ گیا تو صاحب عالم نے ارشاد کیا آپ کل شیر کے شکار کو چلیں گے؟\n\nراجپوت سنگھ : جی ہاں اگر حضور حکم دیں گے تو یہ غلام شیر کے شکار کو چلے گا۔\n\nصاحب عالم : تو آپ ہاتھی پر عماری میں بیٹھیں گے یا گھوڑے پر سوار ہو کر شکار کریں گے۔ گھیرا ڈالا جائے گا یا کسی اور طرح شیر کو جھاڑی سے نکالا جائے گا؟\n\nراجپوت سنگھ : حضور ہم غریب آدمیوں کے پاس ہاتھی کہاں سے آیا۔ میں تو پیدل شیر سے آمنا سامنا کرکے اسے مارتا ہوں۔ میرے ساتھ دو کتے ہوں گے اور وہ میرے پہلو میں تانگے کے کھٹولے پر بیٹھے ہوں گے۔ اس تانگے میں دو آدمیوں کے بیٹھنے کی اور جگہ ہے، اگر حضور کو میرا کرتب دیکھنا منظور ہے تو حضور کو بھی اسی تانگہ میں بیٹھنا ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ ایک آدمی حضور اپنے پاس اور بٹھا لیں۔ دس بیس یا سو پچاس آدمی شیر کو نکالنے کے لیے درکار نہیں ہیں۔ صاحب عالم نے فرمایا جو تمھاری خوشی، ہم بھی تمھارے ساتھ تانگہ میں بیٹھ لیں گے۔ اچھا اب رات بہت آئی تم جا کر آرام کرو ۔ ابھی کچھ رات باقی تھی جو راجپوت سنگھ کے خیمہ سے بھجن گانے کی آواز آئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ دھیان گیان کا آدمی ہے ۔ تارے صاحب عالم کے اردوئے معلی کو غور سے دیکھ رہے تھے اور نورانی زبان میں کہہ رہے تھے کہ آج ایک سورج پورب سے نکلے گا اور دوسرا سورج دہلی کا بادشاہ زادہ اپنی بارگاہ سے باہر آئے گا۔ ہم اس انتظار میں ہیں کہ دونوں آفتاب نکلیں اور ہم دیکھیں کہ چمک دمک دہلی کے بادشاہ زادے کے رخسار میں زیادہ ہے یا پرانے سورج میں ۔\n\nصاحب عالم اور میر سنگی صاحب صبح کی نماز سے فارغ ہو کر خیمہ سے باہر آئے ہی تھے جو اطلاع ہوئی کہ راجپوت سنگھ اپنا تانگہ لے کر در دولت پر حاضر ہے۔ صاحب عالم اپنی دونالی ہاتھ میں لے کر خیمہ سے نکلے تو دیکھا راجپوت سنگھ گاڑی بان بنا ہوا تانگہ کے جوئے پر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے ادھر ادھر دو کتے جو بہت دبلے پتلے ہیں مگر لمبے بہت ہیں تانگہ میں بیٹھے ہیں راجپوت سنگھ آداب بجا لایا اور دست بستہ کہنے لگا حضور تانگہ میں سوار ہو جائیں۔ صاحب عالم کے نوکروں نے تانگہ میں مخملی زردوزی گبا بچھا دیا اور صاحب عالم مع میر سنگی کے تانگہ میں بیٹھ گئے۔ تانگہ کے بیل بہت چالاک تھے اور اس ناہموار زمین پر اڑے چلے جاتے تھے۔ راجپوت سنگھ صاحب عالم کو ایسی جگہ لے گیا کہ انھوں نے اپنی اس مدت قیام میں کبھی نہ پہونچے تھے ۔ راجپوت سنگھ نے تانگہ ٹھہرا لیا اور تانگہ سے اتر کر دس پانچ قدم ادھر ادھر زمین کو دیکھتا بھالتا چلا گیا ۔ پھر پلٹ آیا اور صاحب عالم سے کہا میں شیر کا کھوج لے آیا۔ شیر ہرن اور نیل گائے کے مارنے کے لیے ندی پار گئے ہیں۔ آج ہمارا ان کا ضرور مقابلہ ہوگا اور تانگہ پر آ بیٹھا اور اس نے تانگہ ندی میں ڈال دیا۔ ندی بہت گہری تھی اور اس کا پانی موتی سے زیادہ اجلا تھا۔ ندی کی تہہ میں گھونگہ، سیپیاں اور قسم کی چھوٹی بڑی مچھلیاں نظر آ رہی تھیں۔ کوئی مچھلی ابلق، کوئی سبز، کوئی سرخ، کوئی سیاہ، کوئی نقرئی تھی ۔ کچھ مچھلیاں ایسی بھی نظر آئیں جن کا ایک پہلو سنہری اور ایک پہلو روپہلی تھا ۔ ندی میں بعض کیڑے بری صورت کے تھے جن کے دیکھنے سے نفرت پیدا ہوتی تھی۔ ندی کا پاٹ بہت چوڑا تھا اور تانگہ اس میں ناؤ کی طرح تیر رہا تھا، پانی کی دھار چاہتی تھی کہ اسے بہا لے جائے ۔ مگر بیل ایسے زور دار اور تیراک تھے کہ وہ پھرتی سے پانی کاٹتے چلے جاتے تھے ۔ تھوڑی دیر میں دوسرا کنارہ آگیا اور تانگہ بخیر و خوبی ندی سے نکل گیا، ابھی ندی سے پچاس قدم آگے آئے ہوں گے جو ایک طرف سے ہرنوں کی ڈار دوڑتی ہوئی آئی اور اس نے تانگہ کے آگے سے ہوکر دوسری طرف جانا چاہا۔ راجپوت سنگھ نے جلدی سے اپنے کتوں کی آنکھوں پر سے ٹوپی اتار لی اور ان کے گلے میں سے ڈوری بھی کھول دی۔ اتنے میں ایک شیر بھی آن پہونچا، در اصل ہرن شیر کو دیکھ کر بھاگے تھے ۔ شیر کی بو سونگھ کر کتے تانگے سے دھڑام دھڑام کودے اور انھوں نے بھونکنا شروع کیا ۔ کتوں کی آواز سن کر شیر نے اپنی توجہ ہرنوں کی طرف سے اٹھا لی اور وہ کتوں کی طرف آیا اور کتے بھی اس کی طرف لپکے۔ کتوں کے ساتھ ہی راجپوت سنگھ بھی اپنا کھانڈا لے کر کودا، کتوں نے شیر کو جا لیا۔ ایک کتا شیر کے منہ کی طرف دوسرا اس کی دم کی طرف گیا ۔ شیر نے بہت چاہا کہ وہ کتوں کو چیر پھاڑ کر پرخچا اڑا دے مگر وہ کتے ایسے پھرتیلے اور پچیت تھے کہ اس کے منہ اور پنجے کی پکڑ سے بالکل بچے رہے، وہ نہ شیر کو آگے بڑھنے دیتے نہ پیچھے ہٹنے دیتے تھے، اس میں راجپوت سنگھ بھی جا پہونچا اور اس نے کھانڈا نکال کر ایسا ہاتھ مارا کہ شیر کا سر تن سے جدا ہو کر دور جا پڑا، صاحب عالم کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ واہ راجپوت سنگھ کیا کہنا ہے۔ آفریں ہے تیری ضرب و دست کو تیری ماں تجھے ہی جنے ۔ کتوں نے شیر کا خون پینا شروع کیا اور راجپوت سنگھ کے آگے دم ہلانے لگے اور غل مچانے لگے۔ راجپوت سنگھ نے کہا کیوں مرے جاتے ہو دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے شیر کا پیٹ چاک کر کے اس کا جگر اور دل کتوں کے آگے ڈال دیا اور وہ ہپڑ ہپڑ کر کے کھا گئے۔ میر سنگی صاحب نے کہا، حضور نے دیکھا یہ کتے شیر کا شکار کیوں نہ کریں انھیں تو اس کے دل و جگر کے کباب بھاتے ہیں۔\n\nاب دن کے بارہ بج گئے تھے۔ راجپوت سنگھ نے تانگہ کے اندر سے ایک تھیلا موم جامے کا نکالا۔ اس میں ناشتہ تھا اور ندی کے پانی کا اس پر ذرا اثر نہ ہوا تھا ۔ تینوں صاحبوں نے بیٹھ کر اسے کھایا ایک جھیل کا ٹھنڈا پانی پیا۔ اور راجپوت سنگھ ان صاحبوں کو لے کر بدستور تانگہ پر سوار ہوا اور ایک جھاڑی کے پاس پہونچ کر اس نے ایک شیر کا کھوج لے کر کہا شیر اس جھاڑی میں پڑا سوتا ہے ۔ اس نے اپنے دونوں کتے تانگہ سے اتارے اور انھیں جھاڑی کی طرف اشارہ کیا، وہ چپکے چپکے جھاڑی میں گھسے، کوئی دو منٹ بعد شیر کے دہاڑنے کی آواز آئی اور ساتھ ہی یہ تماشا دکھائی دیا کہ شیر بولایا ہوا آ رہا ہے اور ایک کتا اس کے نرخرے سے لپٹا ہوا جونک کی طرح لٹک رہا ہے اور دوسرا اس کی دم سے چمٹا ہوا لٹکتا چلا آتا ہے راجپوت سنگھ نے ترچھی کاٹ کر ایک ہاتھ کھانڈے کا ایسا مارا کہ شیر کھیرے ککڑی کی طرح بیچ میں سے دو ٹکڑے ہو کر آدھا ادھر آدھا ادھر گرپڑا ، صاحب عالم اور میر صاحب نے پھر راجپوت سنگھ کی بہت تعریف کی اور راجپوت سنگھ نے شیر کا کلیجہ اور دل نکال کر کتوں کے حوالہ کیا۔ صاحب عالم نے فرمایا، راجپوت سنگھ اس طرح شکار کرنا تمھارا ہی حصہ ہے ۔ بس اب زیادہ تکلیف نہ کرو ، چھاؤنی کو چلو۔ راجپوت سنگھ نے اس شیر کی کھال اتار کر تانگہ میں رکھ لی ۔ پھر جہاں دوسرا شیر مارا تھا وہاں آیا اس شیر کی کھال بھی اتار کر رکھ لی اور بیلوں کو بھگایا اور ندی تک پہونچ گئے اور ندی میں تانگہ ڈال دیا، ندی میں تانگہ چلا جاتا تھا۔ اتفاق اور موقع ندی کے اُس پار سے ایک شیر ادھر آ رہا تھا غالبا وہ ہرنوں کے شکار کی غرض سے ندی اترنا چاہتا تھا اور وہ بیچ ندی میں پہونچ گیا تھا ۔ راجپوت سنگھ نے اسے دیکھا اور اپنے دونوں کتوں کو اس ندی میں اتارا، کتے شیر کی طرف چلے اور اس کے ساتھ ہی راجپوت سنگھ بھی ندی میں کودا ۔ صاحب عالم نے میر سنگی صاحب سے فرمایا، بھئی میر سنگی آج جانوں کی خیر نہیں کیونکہ تانگہ والا تو شیر مارنے گیا ۔ اب یہ بیل ہمیں تمھیں اور تانگہ کو ندی میں ڈبو دیں گے ۔ ادھر کتوں نے جا کر شیر کا آگا روکا اور راجپوت سنگھ نے شیر کے پاس پہونچ کر ندی میں غوطہ مارا اور شیر کے پیٹ کے نیچے پہونچ کر پیش قبض سے اس کا پیٹ پھاڑ دیا کتے اسے لپٹ گئے اور بہادر راجپوت سنگھ سسکتے شیر کی ٹانگ گھسیٹ کنارہ پر لے آیا ۔ تانگہ کے بیل ایسے شائستہ تھے کہ آپ سے آپ تانگہ لے کر ندی اتر گئے ۔ راجپوت سنگھ نے شیر کا دل و جگر کتوں کو کھلا دیا اور اس کی کھال بھی اتار لایا ۔ صاحب عالم اور میر سنگی صاحب نے اس تیسرے شکار کی بھی بہت تعریف کی اور شام ہوتے ہوتے صاحب عالم بہادر مع راجپوت سنگھ اور میر سنگی کے اردوئے معلی میں پہونچ گئے اور صاحب عالم نے اسی وقت راجپوت سنگھ کو خلعت اور جڑاؤ کڑے عطا فرمائے، چھاؤنی کے خاص و عام نے راجپوت سنگھ کے شکار کا حال سنا تو انھیں بڑا افسوس ہوا کہ ہم نے نہ دیکھا ۔ آج رمضان المبارک ختم ہو گیا تھا اور آسمان پر ہلال عید جلوہ گر تھا۔ اردوئے معلی میں عید کی تیاری ہو رہی تھی۔ رات کے دو بجے تھے جو میر سنگی صاحب کی سواری کی ہتنی جو شیر کے شکار پر لگی ہوئی تھی، بری طرح چیخی اور ایسی دہاڑی کہ سارے اردوئے معلی میں جاگ ہو گئی ۔ اس ہتنی کا تھان بھی میر سنگی صاحب کے خیمہ کے پاس ہی تھا۔ ہتنی کے چیخنے چلانے کو سن کر میر سنگی صاحب ننگی تلوار ہاتھ میں لے کر اس کے تھان کی طرف دوڑے، روشنی والوں کو حکم تھا کہ خطرے کے وقت فوراً مشعل مہتاب روشن کریں ۔ اس لیے ذرا دیر میں ساری چھاؤنی روشن ہو گئی ۔ میر صاحب ہتنی کے پاس پہونچے تو انھوں نے دیکھا ایک زبردست شیر ہتنی سے لپٹا ہوا ہے اور چونکہ ہتنی کے اگلے اور پچھلے پاؤں میں مضبوط زنجیریں پڑی ہوئی ہیں اس لیے وہ بے چاری کھڑی کھڑی شیر کے تھپڑ کھا رہی ہے اور کانپ رہی ہے اور وہ شیر کو جواب نہیں دے سکتی ہے۔ میر صاحب نے للکارا کہ او کتے ادھر آ اس بیچاری ہتنی کو کیوں ستاتا ہے ۔ شیر کا قاعدہ ہے کہ وہ آواز پر آتا ہے اس لیے ہتنی کو چھوڑ کر میر صاحب کی طرف آیا۔ اس نے ہاؤ کرکے اور اپنے دونوں پچھلے پاؤں پر کھڑے ہو کر اگلے دونوں ہاتھوں کی تھاپ میر صاحب کے سر پر ماری مگر میر صاحب نے یہ کمال کیا کہ اس کی تھاپ پڑنے سے پہلے اس کے پیٹ کے نیچے پہونچ گئے اور خنجر سے اس کا پیٹ چاک کر دیا اور شیر لڑکھڑا کر زمین پر آیا تو اسے تلوار سے چورنگ کر ڈالا۔ صاحب عالم بہادر اور راجپوت سنگھ نے بھی یہ تماشہ اپنی آنکھوں سے دیکھا، صاحب عالم نے دوڑ کر میر سنگی صاحب کو اپنے گلے سے لگا لیا اور فرمایا خدا کا شکر ہے میر صاحب بھی بہادری میں راجپوت سنگھ سے کم نہیں ہیں ۔ ادھر راجپوت سنگھ نے میر صاحب کے ہاتھ چوم کر کہا واہ میر جی واہ میں تو کتوں کی آڑ میں شیر کا شکار کرتا ہوں اور آپ بےلاگ شیر مارتے ہیں، آپ ہی جیسے لوگوں کو سورما کہا جاتا ہے ۔ ہتنی بے چاری کو شیر نے جابجا سے زخمی کر دیا تھا اور خصوصاً اس کے سر پر سے کوئی پانچ سیر کا گوشت کا بوٹا اڑا دیا تھا ۔ صاحب عالم نے فرمایا فیلبان اور جراح مل کر اس کی مرہم پٹی کریں ۔ صبح ہوئی اور صاحب عالم نے مع اپنے ساتھیوں کے دوگانہ عید الفطر ادا کیا اور بارگاہ میں آ کر تشریف فرما ہوئے، نذریں پیش ہو رہی تھیں جو دلی کا قاصد حضور جہاں پناہ کا فرمان مبارک لے کر پہونچا، اس میں تحریر تھا کہ اے نور بصر لخت جگر! جلد آؤ، ہم تمھاری مفارقت میں سخت بے چین ہیں اور دن رات یہ شعر پڑھا کرتے ہیں:\n\nاز چشم بخت خویش مبادت گزند از آنک\n\nدر دلبری بہ غایت خوبی رسیدہ ای\n\nہماری طرف سے بعد دعا کے میر سنگی کو یہ مژدہ سناؤ کہ تمھارے گھر میں لڑکا پیدا ہوا ہے اور اس کے دادا نے اس کا نام اپنے دادا کے نام پر میر عرب رکھا ہے ۔ حضرت میر سنگی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ کجلی بن میں ایک دن مجھے تہری خوشی حاصل ہوئی تھی، اول یہ کہ میں نے اسی دن شیر مارا تھا۔ دوسرے یہ کہ اسی دن عید تھی ۔ تیسرے اسی دن دہلی سے قاصد پہونچا اور میر عرب کی پیدائش کی خبر معلوم ہوئی تھی۔\n\nجب صاحب عالم اس شکار سے فارغ ہو کر دہلی پہونچے تو شہر میں ان کے آنے کی دھوم مچ گئی، حضرت ابوظفر بہادر شاہ نے بیٹے کے آنے کا جشن کیا۔ صاحب عالم جہاں پناہ کے حضور میں عرض کر رہے تھے کہ قراولوں کا دستور ہے کہ ادھر شیر پڑا سسک رہا ہے اور یہ گھانس پھونس جلا کر اس کا منہ جھلس رہے ہیں ۔ اس پر شیخ ابراہیم ذوق نے برجستہ یہ شعر تصنیف کر کے بادشاہ اور صاحب عالم کو سنایا:\n\nیاں تک عدو زمانہ ہے مرد دلیر کا\nجھلسے ہے منہ شکار کیے پر بھی شیر کا\n\nقطعہ :\n\nمرزا شاہرخ بہادر نے\nخونِ نخچیر سے ہوا سارا\nنہ بچا اس شکار افگن سے\nمرغ و سی مرغ اور غزال و پلنگ\nہے جگر گوشہ بہادر شاہ\nسمجھے شیر آپ کو ہزار غنیم\nرہے مانند شیر قالیں کے\nہاتھ میں جب تفنگ لی اس نے\nکئی شیر ژیاں شکار کیے\nہے بجا گر دلاورانِ جہاں\nجب کہ اس جرأت و شجاعت کو\nتا رہے یادگار عالم میں\n\nقصدِ صید افگنی کیا جس دم\nدامنِ دشت لالہ زار ارم\nصید کوئی سوائے صیدِ حرم\nہوئے مسکن پذیر دشتِ عدم\nہو بہادر نہ کیوں وہ نیک شِیَم\nاس کے پر سامنے ہے شیر علم\nاوج ہمت سے اس کے زیر قدم\nہمسر اژدرہائے آتش دم\nاُس غضنفر شکار نے پیہم\nکھائیں اس کی دلاوری کی قسم\nچاہا اس طرح دل نے کیجیے رقم\nوصف عالی صاحب عالم\n\nلکھی اے ذوقؔ میں نے یہ توصیف\nمع تاریخ ثانی رستم\n\nمرزا شاہرخ بہادر کے شکار کا دلی میں اس قدر چرچا ہوا کہ داستان گو اسے لوگوں کو سنایا کرتے تھے، عورتوں نے گیت بنائے۔ چنانچہ میں نے دلی کی بڑی بوڑھی عورتوں سے ایک گیت سنا جس کا سِرا مجھے یاد ہے اور وہ یہ ہے :\n\nمرزا شاہرخ بن اکیلا\n\nآگے شیر پیچھے بگیلا\n\nبس اس سے زیادہ کیا لکھوں کہ دنیا اور دنیا کے جاہ و حشم فانی ہیں۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AC%DA%91%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%84%D8%A7%D9%84_%D9%82%D9%84%D8%B9%DB%81"} {"title": "دلی کی سیر", "poet_page": "مصنف:رشید جہاں", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "’’اچھی بہن ہمیں بھی تو آنے دو‘‘ یہ آواز دالان میں سے آئی، اور ساتھ ہی ایک لڑکی کرتے کے دامن سے ہاتھ پونچھتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔\n\nملکہ بیگم ہی پہلی تھیں جو اپنی سب ملنے والیوں میں پہلے پہل ریل میں بیٹھی تھیں۔ اور وہ بھی فرید آباد سے چل کر دہلی ایک روز کے لیے آئی تھیں محلہ والیاں تک ان کی داستان سفر سننے کے لیے موجود تھیں۔\n\n’’اے ہے آنا ہے تو آؤ! میرا منہ تو بالکل تھک گیا۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو سینکڑوں ہی بار تو سنا چکی ہوں۔ یہاں سے ریل میں بیٹھ کر دلی پہنچی اور وہاں ان کے ملنے والے کوئی نگوڑے اسٹیشن ماسٹر مل گئے۔ مجھے اسباب کے پاس چھوڑ یہ رفو چکر ہوئے اور میں اسباب پر چڑھی برقعہ میں لپٹی بیٹھی رہی۔ ایک تو کمبخت برقعہ، دوسرے مردوے۔ مرد تو ویسے ہی خراب ہوتے ہیں، اور اگر کسی عورت کو اس طرح بیٹھے دیکھ لیں تو اور چکر پر چکر لگاتے ہیں۔ پان کھانے تک نوبت نہ آئی۔ کوئی کمبخت کھانسے، کوئی آوازے کسے، اور میرا ڈر کے مارے دم نکلا جائے، اور بھوک وہ غضب کی لگی ہوئی کہ خدا کی پناہ! دلی کا سٹیشن کیا ہے بوا قلعہ بھی اتنی بڑا نہ ہوگا۔ جہاں تک نگاہ جاتی تھی اسٹیشن ہی اسٹیشن نظر آتا تھا اور ریل کی پٹریاں، انجن اور مال گاڑیاں۔ سب سے زیادہ مجھے ان کالے کالے مردوں سے ڈر لگا جو انجن میں رہتے ہیں۔\n\n’’انجن میں کون رہتے ہیں؟‘‘ کسی نے بات کاٹ کر پوچھا۔\n\n’’کون رہتے ہیں؟ نہ معلوم بوا کون! نیلے نیلے کپڑے پہنے، کوئی داڑھی والا، کوئی صفا چٹ۔ ایک ہاتھ سے پکڑ کر چلتے انجن میں لٹک جاتے ہیں دیکھنے والوں کا دل سن سن کرنے لگتا ہے۔ صاحب اور میم صاحب تو بوا دلی اسٹیشن پر اتنے ہوتے ہیں کہ گنے نہیں جاتے۔ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے گٹ پٹ کرتے چلے جاتے ہیں۔ ہمارے ہندستانی بھائی بھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تکتے رہتے ہیں۔ کمبختوں کی آنکھیں نہیں پھوٹ جاتیں۔ ایک میرے سے کہنے لگا ’’ذرا منہ بھی دکھا دو۔‘‘\n\nمیں نے فوراً۔۔۔\n\n’’تو تم نے کیا نہیں دکھایا؟‘‘ کسی نے چھیڑا۔\n\n’’اللہ اللہ کرو بوا۔ میں ان موؤں کو منہ دکھانے گئی تھی۔ دل بلیوں اچھلنے لگا‘‘ تیور بلدل کر ’’سننا ہے تو بیچ میں نہ ٹوکو۔‘‘\n\nایک دم خاموشی چھاگئی۔ ایسی مزیدار باتیں فریدآباد میں کم ہوتی تھیں اور ملکہ کی باتیں سننے تو عورتیں دور دور سے آتی تھیں۔\n\n’’ہاں بوا سودے والے ایسے نہیں جیسے ہمارے ہاں ہوتے ہیں۔ صاف صاف خاکی کپڑے اور کوئی سفید، لیکن دھوتیاں کسی کسی کی میلی تھیں ٹوکرے لیے پھرتے ہیں، پان، بیڑی، سگریٹ، دہی بڑے، کھلونا ہے کھلونا، اور مٹھائیاں چلتی ہوئی گاڑیوں میں بند کیے بھاگے پھرتے ہیں۔ ایک گاڑی آ کر رکی۔ وہ شورغل ہوا کہ کانوں کے پردے پھٹے جاتے، ادھر قلیوں کی چیخ پکار ادھر سودے والے کان کھائے جاتے تھے، مسافر ہیں کہ ایک دوسرے پرپلے پڑتے ہیں اور میں بچاری بیچ مٰں اسباب پر چڑھی ہوئی۔ ہزاروں ہی تو ٹھوکریں دھکے کھائے ہوں گے۔ بھئی جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو، گھبرا گھبرا کر پڑھی رہی تھی۔ خدا خدا کر کے ریل چلی تو مسافر اور قلیوں میں لڑائی شروع ہوئی،\n\n’’ایک روپیہ لوں گا۔‘‘\n\n’’نہیں، دو آنہ ملیں گے۔‘‘\n\nایک گھنٹہ جھگڑا ہوا جب کہیں اسٹیشن خالی ہوا۔ اسٹیشن کے شہدے تو جمع ہی رہے۔ کوئی دو گھنٹہ کے بعد یہ مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے دکھائی دیئے اور کس لا پرواہی سے کہتے ہیں، ’’بھوک لگی ہو تو کچھ پوریاں ووریاں لادوں، کھاؤگی؟ میں تو ادھر ہوٹل میں کھا آیا۔‘‘\n\nمیں نے کہا کہ، ’’خدا کے لیے مجھے میرے گھر پہنچادو، میں باز آئی اس موئی دلی کی سیر سے۔ تمہارے ساتھ تو کوئی جنت میں بھی نہ جائے، اچھی سیر کرانے لائے تھے۔‘‘ فرید آباد کی گاڑی تیار تھی اس میں مجھے بٹھا اور منہ پھلا لیا کہ، ’’تمہاری مرضی، سیر نہیں کرتیں تو نہ کرو!‘‘", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%B1"} {"title": "دلی کے بیچ ہائے اکیلے مریں گے ہم", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دلی کے بیچ ہائے اکیلے مریں گے ہم\nتم آگرے چلے ہو سجن کیا کریں گے ہم\n\nیوں صحبتوں کوں پیار کی خالی جو کر چلے\nاے مہربان کیونکہ کہوں دن پھریں گے ہم\n\nجن جن کو لے چلے ہو سجن ساتھ ان سمیت\nحافظ رہے خدا کے حوالے کریں گے ہم\n\nبھولو گے تم اگرچہ سدا رنگ جی ہمیں\nتو ناؤں بین بین کے تم کو دھریں گے ہم\n\nاخلاص میں کتا ہے تمہیں آبروؔ ابھی\nآئے نہ تم شتاب تو تم سیں لڑیں گے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%86_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%DA%A9%DB%8C%D9%84%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "دلی کے پوشیدہ ارباب کمال", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "شاہ بھورے صاحب رحمۃ اللہ علیہ، پریڈ کے میدان میں جہاں حضرت شیخ کلیم اللہ جہان آبادی قدس سرہ العزیز کا مزارِ پُرانوار ہے، ٹھنڈی سڑک سے ادھر بالکل سیدھ میں لال قلعہ کی خندق پر ایک پرانے درخت کے سایہ میں ایک پکی قبر بنی ہوئی ہے۔ قبر کے سرہانے ایک چراغ دان گچ کا ہے، جس میں سرشام عقیدت مند لوگ چراغ جلاتے ہیں۔ جمعرات کو تو یہاں بہت سے مرد اور عورتیں جو جو اولیا اللہ کی چاہنے والی ہیں، دیکھنے آتی ہیں۔ گھی کے چراغ روشن کرتی ہیں، تبرک بٹتا ہے، اورگھنٹہ دو گھنٹہ کے لئے گہما گہمی ہو جاتی ہے۔ نماز پڑھنے والے چھوٹے سے چبوترہ پر جو وہاں بنا ہوا ہے، مغرب کی نماز بھی پڑھ لیتے ہیں۔ جہاں تک چھان بین کی اورجس قدر بزرگوں سے سنا، یہی معلوم ہوا کہ یہ شاہ بھورے صاحب کا مزار ہے۔\n\nشاہ بھورے صاحب اکبر ثانی اور ابو ظفر شاہ دہلی کے عہد میں ایک مجذوب گزرے ہیں۔ اسی جگہ جہاں اب پڑے سو رہے ہیں، دن رات بیٹھے رہتے تھے، اور ایک کمبل سے بدن ڈھانکے رہتے تھے۔ سر کے بال اور ناخن بڑھے ہوئے۔ لانے والے طرح طرح کے کھانے اور مٹھائیاں لاتے تھے، مگر آپ انہیں آنکھ بھر کر بھی نہ دیکھتے۔ جو کسی نے کھلا دیا وہ کھا لیا۔ جو پلا دیا وہ پی لیا۔ اور لے جانے والے وہ ساری نعمتیں اٹھا کر اپنے گھر لے جاتے تھے۔ شاہ صاحب سیف زبان تھے، جو کہہ دیتے تھے وہ ہو جاتا تھا۔ اسی واسطے ہندو مسلمانوں کے ٹھٹھ لگے رہتے تھے۔\n\nجب تک لاکھ سستی نہ ہوئی تھی تو ہماری دلی میں بیاہ شادی کے موقعہ پر عام دعوت کے لئے پیالہ رکابیاں، طشتریاں لاکھی کام میں آیا کرتی تھیں اور عطاروں کے ہاں لاکھی مرتبان، لاکھی کلیاں، لاکھی سکوریاں بھی دوا دینے کے لئے آرام دیتی تھیں۔ اسی قسم کی رکابیوں میں شاہ بھورے صاحب کے لئے لوگ زردہ بریانی لایا کرتے تھے۔ اور جب وہ خالی ہو جاتی تھیں، تو آپ ان رکابیوں کو اوپر تلے رکھا کرتے تھے اور چن چن کر ان کا منارہ بنایا کرتے تھے۔ پھر ان پر زور سے ہاتھ مارتے تھے اور فرماتے تھے، وہ لال قلعہ ہم نے ڈھا دیا، وہ گر گیا، وہ الٹ گیا اور یہ شغل روز جاری رہتا تھا، جو لوگ حاضر ہوتے تھے وہ لال قلعہ کے ڈھنے کا فقرہ سن کر تھرا جاتے تھے اور اپنے دل میں کہتے الٰہی خیر کرنا، لال قلعہ کے لئے شاہ صاحب کے منہ سے بری فال نکلتی ہے۔\n\nحکیم آغا جان صاحب عیش جو چیلو ں کے کوچہ میں کلاں محل کے پاس رہتے تھے، شاہ بھورے صاحب کے بڑے معتقد تھے۔ یہ وہی حکیم آغا جان عیش ہیں، جن کا حال حضرت استاذی شمس العلما مولانا محمد حسین آزاد دہلوی نے اپنی کتاب آب حیات میں تحریر فرمایا ہے۔ اگرچہ استاد نے حکیم صاحب کے اشعار آب حیات میں جو قابل انتخاب ہیں نہیں فرمائے، مگر فی الواقعی حکیم صاحب اردو شاعری میں ذوق، مومن، غالب سے کسی طرح کم نہ تھے۔ ان کے پوتے مرزا ولی بیگ کے حوالہ سے عرض کرتا ہوں کہ حکیم صاحب بڑے پُر گو شاعر تھے اورآپ نے بارہ دیوان بہت موٹے موٹے ردیف وار مرتب کئے تھے اور وہ اب تک ان کی ذریات کے پاس موجود تھے۔ مگر آپ اپنی شہرت نہیں چاہتے تھے، اس لئے آپ نے اپنے صاحب زادے کو وصیت کی تھی کہ میرا کلام کسی کو نہ دکھانا نہ چھپوانا۔ ورنہ میں قیامت میں دامن گیر ہوں گا۔ اچھا دو ایک شعر عیش صاحب کے فقیر فراق کو بھی یاد ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ کرنے والے سن لیں کیونکہ اب اٹھتی پینٹھ ہے۔ کارواں چلنے کے لئے تیار ہے۔ جرس بج رہا ہے۔ بہت سے ساتھی فراق کے اگلے قافلہ میں روانہ ہوچکے ہیں اور فقیر بھی کمر باندھ چکا ہے۔ حکیم صاحب فرماتے ہیں،\n\nاپنے چاہے سے کچھ نہیں ہوتا\nوہی ہوتا ہے جو خدا چاہے\n\nزاہد و رند پر نہیں موقوف\nوہ سہاگن ہے جسے پیا چاہے\n\nعیش صاحب کو فقیر فراق نے بھی بچپن میں دیکھا ہے۔ آپ کا مطب ہمارے مکان سے بہت قریب تھا اور اس خطہ کے لئے آپ مسیحا تھے۔ مجھے یاد ہے کہ آپ کے مطب میں سیکڑوں آدمی حاضر ہوتے تھے۔ خیر حکیم صاحب کو جب فرصت ملتی شاہ بھورے صاحب کی خدمت میں پہنچتے اور گھنٹوں آپ کے سامنے بیٹھتے۔ شاہ بھورے صاحب ہر وقت خواجہ حافظ شیراز رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر پڑھا کرتے۔\n\nہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بہ عشق\nثبت ست بر جریدۂ عالم دوام ما\n\nحکیم صاحب فرماتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ میں شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور شاہ صاحب نے میرے سامنے دس بیس دفعہ یہ شعر نہ پڑھا ہو۔ یہاں تک کہ شاہ صاحب کا وقت رحلت آ گیا۔ ایک دن لوگوں نے جاکر دیکھا کہ شاہ صاحب کا قالب پاک کمبل میں لپٹا پڑا ہے۔ اور روح فردوس اعلیٰ کو سدھار گئی ہے۔ خبردار نے حضرت بادشاہ ابو ظفر کو خبر دی کہ آج رات کو کمبل پوش فقیر جو مدت سے حضرت کے لال قلعہ کی کھائی پر دھونی رمائے بیٹھا تھا، فوت ہو گیا۔ اس کے لئے کیا حکم ہے۔ بادشاہ سلامت نے فرمایا، جہاں اس فقیر نے دم دیا ہے، اسے اسی مقام پر نہلا دھلاکر جنازہ کی نماز پڑھواکر بہت احترام سے دفن کر دو۔ چنانچہ اسی جگہ جہاں آپ کی قبر ہے، گاڑ دیے گئے۔\n\nحکیم آغا جان صاحب عیش جس طرح شاہ صاحب کی زندگی میں آپ کے پاس آیا کرتے تھے، اسی طرح ان کی وفات کے بعدان کے مقر پر حاضری دینے لگے۔ آندھی آئے، مینہ آئے، کچھ ہو مگر حکیم صاحب کا پھیرا ناغہ نہ ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ غدر ۱۸۵۷ نے مغلیہ سلطنت کے تخت کو تخت تابوت سے بدل ڈالا۔ دلّی تباہ ہو گئی، اور حکیم صاحب کو شاہ بھورے صاحب کا کہنا یاد آیا کہ وہ لال قلعہ گرا دیا۔ وہ ڈھا دیا۔ اور اب حاکم وقت نے جا بجا توڑ پھوڑ شروع کی۔ اردو بازار خاص بازار، خانم کا بازار، بلاقی بیگم کا کوچہ، بگوہ باڑی، کاغذی محلہ، زنگاری پردہ، نواب عالیہ بیگم کا محل۔ کیشورائے ہرکارہ کی حویلی اورخدا جانے کیا کیا مسمار ہو گئے۔\n\nایک دن صبح کے وقت حکیم صاحب شاہ بھورے صاحب کے مزار پر فاتحہ پڑھ رہے تھے، جو انہو ں نے دیکھا کہ ایک یورپین افسر گھوڑے پر سوار بڑی تمکنت سے چلا آتا ہے اوراس کی جلو میں بہت سے نوکر اور بیلدار اورمزدور ہیں۔ اس نے شاہ بھورے صاحب کے مزار پر آ کر اپنے گھوڑے کی باگ روک لی، اوراپنے ایک ماتحت سے کہا یہ قبر یہاں مناسب نہیں معلوم ہوتی۔ میں حکم دیتا ہوں کہ کل صبح اسے توڑ پھوڑ کر پھینک دیا جائے اور جگہ صاف کر دی جائے۔ ماتحت نے کہا بہت خوب کل ایسا ہی کیا جائےگا۔ یورپین افسر آگے بڑھ گیا اوراس کا عملہ بھی اس کے پیچھے گیا۔ حکیم صاحب کے دل پر اس حکم کی چوٹ لگی۔ مگر سوائے اس کے اور کیا کر سکتے تھے کہ انہوں نے سید بھورے صاحب کے مزار پر ہاتھ رکھ کر کہا، واہ شاہ صاحب واہ! بس دیکھ لیا، آپ کا جذبہ، آپ جو اپنی زندگی میں فرمایا کرتے تھے،\n\nہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بہ عشق\nثبت ست بر جریدۂ عالم دوام ما\n\nبالکل فضول تھا۔ اگر عاشقوں کے نام دوام کاپٹہ لکھا جاتا تو آپ کی قبر نہ کھدوائی جاتی۔ اب کل جو میں آؤں گا تو آپ کی ہڈی پسلی کا نام و نشان بھی یہاں نہ ملے گا۔ اتنا کہہ کر حکیم صاحب گھر چلے آئے اور اس قلق میں رات بھر نیند نہ آئی۔ صبح کی نماز پڑھ کر شاہ صاحب کے مزار پر جا بیٹھے تاکہ اپنی آنکھوں کے سامنے روز محشر کا تماشہ دیکھیں۔ کدال پر کدال پڑ رہی ہو اور اینٹ سے اینٹ بج رہی ہو۔\n\nطلوع آفتاب کے بعد وہی یوروپین افسر گھوڑے سوار تشریف لے آئے، اور آج بھی ان کے ہمراہ بہت سے آدمی تھے۔ صاحب نے گھوڑا روک کر اپنے ماتحت سے کہا، کل میں نے اس قبر کے کھود ڈالنے کا حکم دیا تھا، مگرآج میں اپنے اس حکم کو منسوخ کرتا ہوں۔ اس قبر کے رہنے سے ہمارا کوئی ہرج نہیں ہے۔ اسے نہ چھیڑا جائے۔ یہ فرماکر صاحب لمبے ہوئے اور انگریز بہادر کی یہ بات سن کرحکیم صاحب کو پسینہ آ گیا۔ حکیم صاحب نے شاہ صاحب کے مزار پربہت گداز دل سے فاتحہ پڑھ کر کہا، شاہ صاحب آپ کا شعر پڑھنا بالکل بجا تھا۔ بے شک آپ حضرت فانی باللہ اور باقی باللہ ہو گئے ہیں۔ جینے مرنے سے آپ لوگوں کو کوئی جوکھوں نہیں ہے۔ اور قرآن میں آپ لوگوں کی نسبت آیا ہے، الاَّ اِنَّ اَوْلِیَاءَ اللہُ لاَ خوفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُونَ۔ بالکل صحیح ہے۔ اس سے زیادہ حالات سید بھورے صاحب کے اور آپ کی صحیح تاریخ وفات ٹھیک ٹھیک نہ ملی۔\n\nمیرزا محمد امیر الملک عرف میرزا بلاقی صاحب گورگانی بادشاہ زادہ جو ابو ظفر بادشاہ دہلی کے بھانجہ ہوتے ہیں اور غدر سے پہلے کی یادگار ہیں اور سرکار نظام آصف جاہ اور سرکار برطانیہ سے وظیفہ پاتے ہیں، ان سے بھی میں نے بھورے شاہ صاحب کی نسبت پوچھا گچھا، تو آپ نے فرمایا، مجھے اور تو کوئی بات معلوم نہیں، مگر اتنا جانتا ہوں کہ میں کئی بار نظر باز لوگوں کو لے کر ان کے مزار پر گیا ہوں۔ اور میں نے اور ان حضرات نے بیٹھ کر مراقبہ کیا ہے تو یہ دریافت ہوا کہ آپ درحقیقت مجذوب نہیں تھے بلکہ سالک تھے اور مقامات عالیہ باطنیہ پر آپ کا تصرف ہے اور اپنے فیض کو طالب کے قلب پر برسا دیتے ہیں اور میں نے بھی آپ کے مزار سے بہت برکات حاصل کی ہیں، مگر میں نے سید بھورے صاحب کو زندگی میں نہیں دیکھا۔ میرے ہوش سے پہلے شاہ صاحب رحلت کر چکے تھے۔ ہمارا مکان بگوہ باڑی میں سنہری مسجد کے پاس جو لال قلعہ کے نیچے اب تک کھڑی ہے، غدر سے پہلے قائم تھا اور اسی مقام پر میری ولادت ہوئی ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84"} {"title": "دلی ہوئی ہے ویراں سونے کھنڈر پڑے ہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دلی ہوئی ہے ویراں سونے کھنڈر پڑے ہیں\nویران ہیں محلے سنسان گھر پڑے ہیں\n\nجب دیکھتا ہوں ان کو تب تا کمر پڑے ہیں\nیہ بال میرے جی کے پیچھے مگر پڑے ہیں\n\nعزت یہ پیادگی کی کم ہے کہ گھوڑے والے\nگھوڑے سے دیکھتے ہی مجھ کو اتر پڑے ہیں\n\nدیکھا تو اس چمن میں باد خزاں کے ہاتھوں\nاکھڑے ہوئے زمیں سے کیا کیا شجر پڑے ہیں\n\nقریات ہند کا اب یہ رنگ ہے کہ کوسوں\nجاوے کوئی جدھر کو اجڑے نگر پڑے ہیں\n\nرویا ہے اس چمن میں کون آ کے اے صبا جو\nہر نخل گل کے نیچے لخت جگر پڑے ہیں\n\nبگڑا کیے ہیں ہم بھی اس نازنیں سے ہر دم\nکام اپنے رفتہ رفتہ یوہیں سنور پڑے ہیں\n\nہیں جان و دل کے خواہاں کیا سر کے بال اس کے\nجو کچھ ادھر پڑے ہیں اور کچھ ادھر پڑے ہیں\n\nمقتل میں یہ تماشا اس کے نیا میں دیکھا\nایدھر کو دھڑ پڑے ہیں اودھر کو سر پڑے ہیں\n\nبلبل کا باغباں سے کیا اب نشان پوچھوں\nبیروں در چمن کے یک مشت پر پڑے ہیں\n\nشبنم گلاب پاشی غنچے کی جلد اٹھا لا\nگل بستر غشی پر سب بے خبر پڑے ہیں\n\nاے مصحفیؔ میں ان کو اب چھوڑتا ہوں کوئی\nوہ بعد مدتوں کے میری نظر پڑے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%DA%BE%D9%86%DA%88%D8%B1_%D9%BE%DA%91%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دلیلِ مہر و وفا اس سے بڑھ کے کیا ہوگی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "دلیلِ مہر و وفا اس سے بڑھ کے کیا ہوگی\nنہ ہو حضور سے اُلفت تو یہ ستم نہ سہیں\n\nمُصِر ہے حلقہ، کمیٹی میں کچھ کہیں ہم بھی\nمگر رضائے کلکٹر کو بھانپ لیں تو کہیں\n\nسنَد تو لیجیے، لڑکوں کے کام آئے گی\nوہ مہربان ہیں اب، پھر رہیں، رہیں نہ رہیں\n\nزمین پر تو نہیں ہندیوں کو جا ملتی\nمگر جہاں میں ہیں خالی سمندروں کی تہیں\n\nمثالِ کشتیِ بے حس مطیعِ فرماں ہیں\nکہو تو بستۂ ساحل رہیں، کہو تو بہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%84%DB%8C%D9%84%D9%90_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D9%88_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C"} {"title": "دم آخر مصیبت کاٹ دو بہر خدا میری", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دم آخر مصیبت کاٹ دو بہر خدا میری\nتم آ کر درد کے پردے میں کر جاؤ دوا میری\n\nمحبت بت کدے میں چل کے اس کا فیصلہ کر دے\nخدا میرا خدا ہے یا یہ مورت ہے خدا میری\n\nیہاں سے جب گئی تھی تب اثر پر خار کھائے تھی\nوہاں سے پھول برساتی ہوئی پلٹی دعا میری\n\nتو ہی کہہ دے یہ جسم زار میرا ہے کہ تیرا ہے\nتو ہی کہہ دے یہ روح ناتواں تیری ہے یا میری\n\nپڑا ہے تفرقہ جس دن سے کیا کیا یاد کرتی ہے\nادھر مجھ کو جفا تیری ادھر تجھ کو وفا میری\n\nمقید ہو کے لطف ہستئ آزاد بھی کھویا\nوہ کیا تھی ابتدا میری یہ کیا ہے انتہا میری\n\nوہاں جب تھے تو جسم ناتواں میں روح پھونکی تھی\nیہاں جس دن سے آئے آپ بن بیٹھے قضا میری\n\nمیان حشر یہ کافر بڑے اترائے پھرتے ہیں\nمزا آ جائے ایسے میں اگر سن لے خدا میری\n\nکسی کا جلوۂ رنگیں یہ کہتا ہے انہیں پوجو\nیہ اس پتھر کے بت ہیں جس پہ پستی تھی حنا میری\n\nنہ جانے کون سے یوسف کا جلوہ مجھ میں پنہاں ہے\nزلیخا آج تک کرتی ہے مضطرؔ التجا میری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%85_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7%D9%B9_%D8%AF%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%B1_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "دم آخر کسی کا شکوۂ بیداد کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دم آخر کسی کا شکوۂ بیداد کرتے ہیں\nنہیں ہیں ہچکیاں رہ رہ کے ہم فریاد کرتے ہیں\n\nرہا ہو کر ہم اتنی خاطر صیاد کرتے ہیں\nنشیمن رات کو دن کو قفس آباد کرتے ہیں\n\nفغاں سن کر مری وہ ناز سے ارشاد کرتے ہیں\nکہاں تو مر رہی اے موت تجھ کو یاد کرتے ہیں\n\nبڑھاپے میں تجھے ہم اے جوانی یاد کرتے ہیں\nاب اپنی عمر آخر اس طرح برباد کرتے ہیں\n\nعجب انداز سے کہتی ہیں دل کی حسرتیں مجھ سے\nہمیں گھر سے نکالیں گھر وہ کیوں برباد کرتے ہیں\n\nنہ آنکھوں میں کبھی آنسو نہ ہونٹھوں پر کبھی نالے\nنہ ہم قسمت کو روتے ہیں نہ ہم فریاد کرتے ہیں\n\nگلے میں کیوں رگ جاں بن کے خنجر رہ گیا تیرا\nکہیں بسمل سے ایسی شوخیاں جلاد کرتے ہیں\n\nیہ کیوں ہے دشمنوں کو دوستوں کو جستجو اس کی\nوہ مجھ پر رحم فرماتے ہیں یا بیداد کرتے ہیں\n\nگرانا ہے ہمیں کچھ بجلیاں صیاد کے گھر پر\nاثر خیز اک نئی طرز فغاں ایجاد کرتے ہیں\n\nدل مضطر کی تصویریں بھری ہیں کیا مرقع میں\nکچھ استادی بھی اس میں مانی و بہزاد کرتے ہیں\n\nہمارے ساتھ ہے صیاد بھی یا رب مصیبت میں\nکلیجا منہ کو آتا ہے جو ہم فریاد کرتے ہیں\n\nلکھا کس حسن سے خط میں کہ ہم تجھ سے کشیدہ ہیں\nکشش حرفوں کی ایسی ہے کہ ہم بھی صاد کرتے ہیں\n\nاٹھوں گا یوں ہی محشر میں لیے میں ان کے خنجر کو\nگلے میرے لگاتے ہیں یہ کیا جلاد کرتے ہیں\n\nکہاں وہ ہیں کہاں ہم ہیں پڑا ہے تفرقہ یا رب\nوہ ہم کو یاد کرتے ہیں ہم ان کو یاد کرتے ہیں\n\nمری صورت جو دیکھی ہم نشیں سے ہنس کے فرمایا\nیہی کہسار پر اب ماتم فرہاد کرتے ہیں\n\nکبھی تھوڑی سی پی لی لب نہیں اس کی بھی کچھ پروا\nالگ گوشے میں بیٹھے ہیں خدا کو یاد کرتے ہیں\n\nمجھے دیکھا تو بولے میرے کوچے سے نکل جائیں\nیہ دل میں چٹکیاں لیتے ہیں یا فریاد کرتے ہیں\n\nبزرگی ہے کہ مرتے ہیں بتان شوخ پر اب بھی\nریاضؔ اس عمر میں کیوں عاقبت برباد کرتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%85_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%82_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دم اخیر بھی ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا", "poet_page": "مصنف:شیر سنگھ ناز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دم اخیر بھی ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا\nجہاں سے اٹھ گئے اہل جہاں سے کچھ نہ کہا\n\nچلی جو کشتئ عمر رواں تو چلنے دی\nرکی تو کشتئ عمر رواں سے کچھ نہ کہا\n\nخطائے عشق کی اتنی سزا ہی کافی تھی\nبدل کے رہ گئے تیور زباں سے کچھ نہ کہا\n\nبلا سے خاک ہوا جل کے آشیاں اپنا\nتڑپ کے رہ گئے برق تپاں سے کچھ نہ کہا\n\nگلہ کیا نہ کبھی ان سے بے وفائی کا\nزباں تھی لاکھ دہن میں زباں سے کچھ نہ کہا\n\nخوشی سے رنج سہے نازؔ عمر بھر ہم نے\nخدا گواہ کبھی آسماں سے کچھ نہ کہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%85_%D8%A7%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7"} {"title": "دم بخود بیٹھ کے خود جیسے زباں گیلی ہے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دم بخود بیٹھ کے خود جیسے زباں گیلی ہے\nسانس کیا لوں کہ ہوا دہر کی زہریلی ہے\n\nبن گیا قطرۂ ناچیز ترقی سے گہر\nذات ہے ایک فقط نام کی تبدیلی ہے\n\nلاگ نے جس کی مجھے پھونکا ہے اندر اندر\nشمع اس آگ کی اک ہیئت تمثیلی ہے\n\nمل کے مٹی تری چوکھٹ کی ہوا خاک سے پاک\nجو لکیر اب مرے ماتھے کی ہے چمکیلی ہے\n\nپھر اڑانا ہیں گریباں کے مجھی کو پرزے\nہاتھ بے کار ابھی تھے کی قبا سی لی ہے\n\nآرزوؔ ہوگا یہ مقتل ہی عزا خانہ بھی\nشفقی فرش زمیں کا ہے تو چھت نیلی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%85_%D8%A8%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%AC%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%DB%8C%D9%84%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "دم بھر جو نہ دیکھے تجھے اے رشک پری آنکھ", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دم بھر جو نہ دیکھے تجھے اے رشک پری آنکھ\nمژگاں کی زبانوں سے کرے نوحہ گری آنکھ\n\nجم جائے تصور جو ترے بوٹے سے قد کا\nپتھرا کے بنے صاف عقیق شجری آنکھ\n\nلے لیجئے شیشے ہیں سفید اشک نہیں ہیں\nنم بادہ کشی سے کہ گئی شیشہ گری آنکھ\n\nجاؤ جو چمن کو تو کرے فرش رہ ناز\nبلبل جگر و فاختہ دل کبک دری آنکھ\n\nدیکھا جسے بسمل کیا تاکا جسے مارا\nاس آنکھ سے ڈریے جو خدا سے نہ ڈری آنکھ\n\nجنبش ادھر اس کو ہے تو گردش ادھر اس کو\nابرو ہے کہ شمشیر سپر ہے کہ پھری آنکھ\n\nکیا دید کے قابل ترے کوچے کی زمیں ہے\nہر گام ہے نقش قدم رہ گزری آنکھ\n\nتم جھانک رہے ہو یہ تمہیں تاک رہا ہے\nکیوں دیدۂ روزن پہ اجی تم نے دھری آنکھ\n\nکہتی ہی تری ناف و شکم دیکھ کے بلبل\nرخسار گل تر پہ ہے نرگس کی دھری آنکھ\n\nاے ماہ یہ سب چشم فلک کے ہیں اشارے\nایسے تو نہ تھی مائل بیداد گری آنکھ\n\nنرگس جو گلستاں میں ہے تو دشت میں آہو\nہر رنگ میں دکھلانے لگی جلوہ گری آنکھ\n\nگد کا کہیں وہ سرمہ کا دنبالہ اٹھائے\nہے دست مژہ میں لیے پتلی کی پھری آنکھ\n\nدیکھے وہ اگر چشم سیہ اور یہ خط سبز\nنرگس کی سیہ آنکھ ہو طوطی کی ہری آنکھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE"} {"title": "دم رخصت جو ان سے کہہ کے میں اٹھا خدا حافظ", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "دم رخصت جو ان سے کہہ کے میں اٹھا خدا حافظ\nلگے جھنجھلا کے وہ کہنے بہت اچھا خدا حافظ\n\nجو میں جاتا ہوں اٹھ کر فی امان اللہ کہتا ہوں\nترے منہ سے نہ او کافر کبھی نکلا خدا حافظ\n\nکہا ہے کس نے تم سے چومو چاٹو جا کے پتھر کو\nتمہارے زاہدو اب دین و ایماں کا خدا حافظ\n\nحفاظت میں وہ دیکھے غیر کی تجھ کو قیامت ہے\nکبھی جو بد گمانی سے نہ ہو کہتا خدا حافظ\n\nسنا ہے آج وہ بت خوب ہی بن ٹھن کے آتا ہے\nترے دل کا ارے او انجمؔ شیدا خدا حافظ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%85_%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%81%D8%B8"} {"title": "دم رفتار جاناں یہ صدائے ناز آتی ہے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دم رفتار جاناں یہ صدائے ناز آتی ہے\nسنبھالیں سب دلوں کو پاؤں کی آواز آتی ہے\n\nصبا جو پر مرا اے باغباں لاتی ہے گلشن میں\nقفس سے ساتھ یاں تک حسرت پرواز آتی ہے\n\nابھی جاؤ نہ یاراں قفس گلزار کی جانب\nذرا ہم منتظر ہیں طاقت پرواز آتی ہے\n\nاثر یہ ہے کہ بلبل جب قفس میں کرتی ہے نالہ\nشکست رنگ گل کی باغ سے آواز آتی ہے\n\nنظر دزدیدہ تیری کب نظر آتی ہے عاشق کو\nاڑا جاتا ہے دل اور تیر کی آواز آتی ہے\n\nشکوہ حسن یہ ہے جب کبھی تم جا نکلتے ہو\nتو بت خانے سے یا اللہ کی آواز آتی ہے\n\nصدا دی میں نے جب آنے لگی صبح شب وصلت\nسمجھ کر آ کدھر او تفرقہ پرواز آتی ہے\n\nترے باعث سے جس نے کل ہمیں دی تھی بہت ایذا\nوہی شب آج پھر اے طالع ناساز آتی ہے\n\nہوئی مدت ترے زلفوں کے دیوانے کی صحت کو\nبگڑ جاتا ہے شب زنجیر کی آواز آتی ہے\n\nذرا کہہ دے کوئی ان سے قریب آیا دم آخر\nکہ الٹی سانس اب تو اے مرے دم ساز آتی ہے\n\nجوانی کے نشاں اندام سے ہونے لگے ظاہر\nمبارک ہو بہار اے سرد باغ ناز آتی ہے\n\nجھکائے سر نہ کیوں خاموش بیٹھوں ہجر جاناں میں\nکہ دل کے ٹوٹنے کی کان میں آواز آتی ہے\n\nبھلا آج زندہ آہ دل عاشق کرے پیدا\nکہ خود وہ کہہ رہے ہیں درد کی آواز آتی ہے\n\nرشیدؔ اشعار مہمل پڑھ رہے ہو جمع ہیں شاعر\nخجل ہوتے نہیں تم دل کی یہ آواز آتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%85_%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "دم غنیمت ہے کہ وقت خوش دلی ملتا نہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دم غنیمت ہے کہ وقت خوش دلی ملتا نہیں\nیہ سماں یہ چین دنیا میں کبھی ملتا نہیں\n\nدیکھیو نفرت کہ میرا نام گر لیوے کوئی\nروبرو اس کے، تو پھر وہ اس سے بھی ملتا نہیں\n\nکیا کروں نا سازیٔ طالع کا میں شکوہ کہ آہ\nجس کو جی چاہے ہے میرا اس کا جی ملتا نہیں\n\nکھو کے مجھ کو ہاتھ سے سنتے ہو پچھتاؤ گے تم\nمانو کہنا بھی کہ مجھ سا آدمی ملتا نہیں\n\nکس طرف جاتا رہا کیا جانے وہ وحشی مزاج\nڈھونڈتے پھرتے ہیں ہم اور مصحفیؔ ملتا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%85_%D8%BA%D9%86%DB%8C%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دم لے اے کوہ کن اب تیشہ زنی خوب نہیں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دم لے اے کوہ کن اب تیشہ زنی خوب نہیں\nجان شیریں کو نہ کھو کوہ کنی خوب نہیں\n\nٹک تو ہنس بول یہ غنچہ دہنی خوب نہیں\nرشک گل اتنی بھی ہاں کم سخنی خوب نہیں\n\nسر پہ قمری کو بٹھایا تو ہے تو نے پر سرو\nتیری آزاد وشی بے کفنی خوب نہیں\n\nقابل چشم نمائی ہے تو اے طفل سرشک\nابتر اتنا بھی نہ ہو ناشدنی خوب نہیں\n\nفصل گل آنے دے دکھلا نہ ابھی سے زنجیر\nیہ روش موج نسیم چمنی خوب نہیں\n\nمنع ہنسنے سے تو کرتا نہیں اے برق وشو\nپھر شرارت سے یہ چشمک زدنی خوب نہیں\n\nہو سکے تجھ سے تو کر مرغ چمن گل کا علاج\nاس کو بیماری اعضا شکنی خوب نہیں\n\nکوئی دم اور بھی اس ابروئے پر خم کو چھو\nاصفہانی یہ ابھی تیغ بنی خوب نہیں\n\nچشم سے اس کی نہ کر دعویٔ ہم چشمی دیکھ\nکہ خطا ایسی غزال ختنی خوب نہیں\n\nمار کھائے گا وہ خیاط کہ جس نے تیرے\nبند جامے کے لیے ناگ پھنی خوب نہیں\n\nمنہ کو دیکھ اپنے تو اور اس کے لب لعل کو دیکھ\nروکشی اس سے عقیق یمنی خوب نہیں\n\nترک چشم بت بدکیشں خیال اس کا چھوڑ\nمرغ دل سہمے ہے ناوک فگنی خوب نہیں\n\nشاخ گل ہے کہ کمر باد سے لچکے ہے تری\nاے میاں اتنی بھی نازک بدنی خوب نہیں\n\nمیں بھی ہوں بادیہ پیمائے جنوں اے مجنوں\nاس قدر آگے مرے لاف زنی خوب نہیں\n\nچھلنی کانٹوں سے ہوئے گو مرے تلوے لیکن\nدشت وحشت کی ابھی خاک چھنی خوب نہیں\n\nزہر کھا جاؤں گا اے ساقیٔ پیمانہ بہ کف\nباز آ جانے دے پیماں شکنی خوب نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%85_%D9%84%DB%92_%D8%A7%DB%92_%DA%A9%D9%88%DB%81_%DA%A9%D9%86_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%B2%D9%86%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دم مرگ بالیں پر آیا تو ہوتا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دم مرگ بالیں پر آیا تو ہوتا\nمرے منہ میں پانی چوایا تو ہوتا\n\nیہ سچ ہے وفادار کوئی نہیں ہے\nکسی دن مجھے آزمایا تو ہوتا\n\nتسلی نہ دیتا تشفی نہ کرتا\nمرے رونے پر مسکرایا تو ہوتا\n\nمجھے اپنی فرقت سے مارا تو مارا\nدم نزع مکھڑا دکھایا تو ہوتا\n\nغلط ہے کہ مردہ نہیں زندہ ہوتا\nتو میرے جنازے پر آیا تو ہوتا\n\nوہیں چونک اٹھتا میں خواب لحد سے\nمرا شانہ تو نے ہلایا تو ہوتا\n\nہوا عید کے دن میں قربان تجھ پر\nبلا کر گلے سے لگایا تو ہوتا\n\nمرے قتل پر تم نے بیڑا اٹھایا\nمرے ہاتھ کا پان کھایا تو ہوتا\n\nوہ سنتا نہ سنتا ہوس تو نہ رہتی\nمرا حال ہمدم سنایا تو ہوتا\n\nمسی پر بھی داغوں کا ثمرہ نہ پایا\nچراغ اک لحد پر جلایا تو ہوتا\n\nگلا ہے مجھے تم سے مرغان گلشن\nکبھی درد میرا بٹایا تو ہوتا\n\nکبھی میرے جانب سے پرواز کرتے\nکوئی حال پرسی کو آیا تو ہوتا\n\nنہیں یہ بھی شکوہ نہ آئے نہ آئے\nگلوں کو مرا غم سنایا تو ہوتا\n\nدر و بام کا بحرؔ خواہاں نہیں میں\nمرے آشیانے میں سایا تو ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%85_%D9%85%D8%B1%DA%AF_%D8%A8%D8%A7%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:شیخ علی بخش بیمار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کر\nسخت حیراں ہوں میں اپنی سخت جانی دیکھ کر\n\nشام سے تا صبح فرقت صبح سے تا شام ہجر\nہم چلے کیا کیا نہ لطف زندگانی دیکھ کر\n\nیوں تو لاکھوں غمزدہ ہوں گے مگر اے آسماں\nجب تجھے جانوں کہ لا دے میرا ثانی دیکھ کر\n\nاب تپ فرقت سے یہ کچھ ضعف طاری ہے کہ آہ\nدنگ رہ جاتی ہے ہم کو نا توانی دیکھ کر\n\nواسطے جس کے ہوئے بحر فنا کے آشنا\nوہ پسیجا بھی نہ اپنی جاں فشانی دیکھ کر\n\nباز آ بیمارؔ اس کے عشق سے جانے بھی دے\nترس آتا ہے یہ تیری نوجوانی دیکھ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دم یار تا نزع بھر لیجئے", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دم یار تا نزع بھر لیجئے\nسخیؔ زندگی تک تو مر لیجئے\n\nدیا دل تو کہنے لگے پھینک کر\nکلیجہ میں اپنے یہ دھر لیجئے\n\nمری لاغری پر تو ہنستے ہیں آپ\nکمر کی تو اپنی خبر لیجئے\n\nاجل آئے پیچھا چھٹتے شہر کا\nکہیں چل کے جنگل میں گھر لیجئے\n\nسخیؔ ہجر جاناں میں کھانا کہاں\nغم و درد سے پیٹ بھر لیجئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%A7_%D9%86%D8%B2%D8%B9_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D9%84%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "دمِ عارف نسیمِ صبح دم ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "دمِ عارف نسیمِ صبح دم ہے\nاسی سے ریشۂ معنی میں نَم ہے\nاگر کوئی شعیب آئے میَسّر\nشبانی سے کِلیمی دو قدم ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%85%D9%90_%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81_%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85%D9%90_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%AF%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "دن بدن اب لطف تیرا ہم پہ کم ہونے لگا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دن بدن اب لطف تیرا ہم پہ کم ہونے لگا\nیا تو تھا ویسا کرم یا یہ ستم ہونے لگا\n\nسچ کہو تقصیر کیا ہے عاشق مظلوم کی\nنیمچا ترچھی نگہ کا کیوں علم ہونے لگا\n\nتیغ ابرو کوں نپٹ کستے ہو پن حیراں ہوں میں\nکون سے بیمار پر یہ آب دم ہونے لگا\n\nشکر اللہ سرو رعنا کے تصور کے طفیل\nرفتہ رفتہ دل مرا باغ ارم ہونے لگا\n\nبس کرو اے شاہ فوج حسن قتل عام کوں\nعاشقوں کی آہ کا نیزہ علم ہونے لگا\n\nتجھ کوں اے آہو نگہ کس نے سکھایا یہ طرح\nیا تو تھا اوروں سیں رم یا ہم سیں رم ہونے لگا\n\nہجر کی راتوں میں یہ مصرع ہوا ورد سراج\nدن بہ دن اب لطف تیرا ہم پہ کم ہونے لگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D8%A7%D8%A8_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%D9%85_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دن رات کس کی یاد تھی کیسا ملال تھا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دن رات کس کی یاد تھی کیسا ملال تھا\nصدقے میں کچھ تو بول تو کیا تجھ پہ حال تھا\n\nچھوٹا ترا مریض اگر مر گیا کہ شوخ\nجو دم تھا زندگی کا سو اس پر وبال تھا\n\nناخن ترے کی مہندی سے تنہا نہیں ہیں داغ\nچندے شفق سے نعل در آتش ہلال تھا\n\nاس سوچ سے کھلی ہے حقیقت کہ ایک عمر\nمکھی کی فرج و شیخ کی داڑھی کا بال تھا\n\nجھگڑا مرا کیا ہی نہ تیں صاف ورنہ شوخ\nذرہ زباں پہ تیغ کی یہ انفصال تھا\n\nقائمؔ میں ریختہ کو دیا خلعت قبول\nورنہ یہ پیش اہل ہنر کیا کمال تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دن فکر دہن میں اس کے جاتا ہے ہمیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دن فکر دہن میں اس کے جاتا ہے ہمیں\nکب آپ میں آکے کوئی پاتا ہے ہمیں\nہرگز وہ کمر وہم میں گذری نہ کبھو\nرہ رہ کے یہی خیال آتا ہے ہمیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%81%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں\nوقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں\n\nمثل عنقا مجھے تم دور سے سن لو ورنہ\nننگ ہستی ہوں مری جائے بجز نام نہیں\n\nخطر راہ وفا بلکہ بہت دور کھنچا\nعمر گزری کہ بہم نامہ و پیغام نہیں\n\nراز پوشی محبت کے تئیں چاہیے ضبط\nسو تو بے تابئ دل بن مجھے آرام نہیں\n\nبے قراری جو کوئی دیکھے ہے سو کہتا ہے\nکچھ تو ہے میرؔ کہ اک دم تجھے آرام نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دن چھپا اور غم کے سائے ڈھلے", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دن چھپا اور غم کے سائے ڈھلے\nآرزو کے نئے چراغ جلے\n\nہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا\nآئے دنیا ہمارے ساتھ چلے\n\nلب پہ ہچکی بھی ہے تبسم بھی\nجانے ہم کس سے مل رہے ہیں گلے\n\nدل کے ان حوصلوں کا حال نہ پوچھ\nجو ترے دامن کرم میں پلے\n\nکون یاد آ گیا اذاں کے وقت\nبجھتا جاتا ہے دل چراغ جلے\n\nمصلحت سرنگوں خرد خاموش\nعشق کے آگے کس کی دال گلے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%88%DA%BE%D9%84%DB%92"} {"title": "دن ڈھلا شام ہوئی پھول کہیں لہرائے", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دن ڈھلا شام ہوئی پھول کہیں لہرائے\nسانپ یادوں کے مہکتے ہوئے ڈسنے آئے\n\nوہ کڑی دھوپ کے دن وہ تپش راہ وفا\nوہ سواد شب گیسو کے گھنیرے سائے\n\nدولت طبع سخن گو ہے امانت اس کی\nجب تری چشم سخن ساز طلب فرمائے\n\nجستجوئے غم دوراں کو خرد نکلی تھی\nکہ جنوں نے غم جاناں کے خزینے پائے\n\nسب مجھے مشورۂ ترک وفا دیتے ہیں\nان کا ایما بھی ہو شامل تو مزہ آ جائے\n\nکیا کہوں دل نے کہاں سینت کے رکھا ہے اسے\nنہ کبھی بھولنے پاؤں نہ مجھے یاد آئے\n\nمیں نے حافظ کی طرح طے یہ کیا ہے عابدؔ\nبعد ازیں مے نہ خورم بے کف بزم آرائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86_%DA%88%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DB%81%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "دن کو بحر و بر کا سینہ چیر کر رکھ دیجئے", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دن کو بحر و بر کا سینہ چیر کر رکھ دیجئے\nرات کو پھر پائے گل رویاں پہ سر رکھ دیجئے\n\nدیکھیے پھر کیا دمکتے ہیں گل اندامان شہر\nاک ذرا ان میں محبت کا شرر رکھ دیجئے\n\nآہوان شب گریزاں ہوں تو ان کی راہ میں\nدام دل رکھ دیجئے دام نظر رکھ دیجئے\n\nبت پرستی کیجیے اس شدت احساس سے\nسنگ میں بھی جزو احساس و خبر رکھ دیجئے\n\nزہد اگر جنگ آزما ہو کھینچیے شمشیر شوق\nحسن اگر مد مقابل ہو سپر رکھ دیجئے\n\nراحت جان ظفرؔ ہیں شاہدان بے ہنر\nروندنے کو ان کے قدموں میں ہنر رکھ دیجئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%AD%D8%B1_%D9%88_%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%DA%86%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئے\nمیرے دل سوز مرے چاہنے والے نہ گئے\n\nاپنے ماتھے کی شکن تم سے مٹائی نہ گئی\nاپنی تقدیر کے بل ہم سے نکالے نہ گئے\n\nتذکرہ سوز محبت کا کیا تھا اک بار\nتا دم مرگ زباں سے مری چھالے نہ گئے\n\nشمع رو ہو کے فقط تم نے جلانا سیکھا\nمیرے غم میں کبھی دو اشک نکالے نہ گئے\n\nآج تک ساتھ ہیں سرکار جنوں کے تحفے\nسر کا چکر نہ گیا پاؤں کے چھالے نہ گئے\n\nوہ بھلا پیچ نکالیں گے مری قسمت کے\nاپنے بالوں کے تو بل ان سے نکالے نہ گئے\n\nکوئی شب ایسی نہ گزری کہ بنا کر گیسو\nسیکڑوں بل مری تقدیر میں ڈالے نہ گئے\n\nہم سفر ایسے وفادار کہاں ملتے ہیں\nتیرے وحشی کے قدم چھوڑ کے چھالے نہ گئے\n\nاپنا دیوان مرقع ہے حسینوں کا جلیلؔ\nنکتہ چیں تھک گئے کچھ عیب نکالے نہ گئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "دن کے روپ میں رات کہانی", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "رات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہیں\nجھلملاتے ہوئے کمزور ستارے یہ کہے جاتے ہیں\nچاند آئے گا تو سائے بھی چلے آئیں گے\nرات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہیں ہوتا ہے\n\nرات اک بات ہے صدیوں کی کئی صدیوں کی\nیا کسی پچھلے جنم کی ہوگی\nرات کے پھیلے اندھیرے ہیں کوئی سایہ نہ تھا\nرات کا پھیلا اندھیرا محتاج\nاک بھکاری تھا اسی پہلی کرن کا جو لرزتے ہوئے آتی ہے جگا دیتی ہے\nسوئے سایوں کو اٹھا دیتی ہے بیداری میں\nزیست کے ہلتے ہوئے جھومتے آثار نظر آتے ہیں\nزیست سے پہلے مگر بات کوئی اور ہی تھی\nرات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہ تھا\nچاند کے آنے پہ سائے آئے\n\nاس کے بکھرے ہوئے گیسو سائے\nلاج کی میٹھی جھجک بھی سایہ\nاور بھی سائے تھے ہلکے گہرے\nکالی آنکھوں کی گھنیری پلکیں\nاپنے آغوش میں سایوں کو لئے بیٹھی تھیں\nاور ان سایوں میں محسوس ہوا کرتا تھا\nدل کا غم دل کی خلش دل کی تمنا ہر شے\nایک سایہ ہے لرزتا سایہ\nاور مجھے دیکھنے پر اس کی گھنیری چپ چاپ\nایک سایہ ہی نظر آتی تھی\nایسا اک سایہ جو خاموش رہا کرتا ہو\nاور اسے دیکھتے ہی میں بھی تو اک سایہ ہی بن جاتا تھا\nسایہ خاموش رہا کرتا ہے\nاور اک لرزش بیتاب کے ہونے پہ بھی خاموشی ہی\nراہ میں میری عناں گیر ہوا کرتی تھی\n\nاس کے بکھرے ہوئے گیسو سائے\nلاج کی میٹھی جھجک بھی سایہ\nاور بھی سائے تھے ہلکے گہرے\nکالی آنکھوں کی گھنیری پلکیں\nاپنے آغوش میں سایوں کو لئے بیٹھی تھیں\nاور ان سایوں میں محسوس ہوا کرتا تھا\nدل کا غم دل کی خلش دل کی تمنا ہر شے\nایک سایہ ہے لرزتا سایہ\nاور مجھے دیکھنے پر اس کی گھنیری چپ چاپ\nایک سایہ ہی نظر آتی تھی\nایسا اک سایہ جو خاموش رہا کرتا ہو\nاور اسے دیکھتے ہی میں بھی تو اک سایہ ہی بن جاتا تھا\nسایہ خاموش رہا کرتا ہے\nاور اک لرزش بیتاب کے ہونے پر بھی خاموشی ہی\nراہ میں میری عناں گیر ہوا کرتی تھی\nسیدھا جاتا ہوا رستہ بھی تو اک سایہ تھا\nاس پہ آتے ہوئے جاتے ہوئے انسان تمام\nدھندلے سائے تھے مگر سائے تھے\nمیں بھی جاتا ہوا آتا ہوا اک سایہ تھا\nمیں بھی اک سایہ تھا کس کا سایہ\nکس کے قدموں سے لپٹتے ہوئے چپ چاپ چلا جاتا تھا\nکہہ تو دوں دل میں یہ غم ناک خیال آتا ہے\nسایہ خاموش رہا کرتا ہے\n\nرات کے سائے ہی خاموش رہا کرتے ہیں\nدن کے سائے تو کہا کرتے ہیں\nبیتی لذت کی کہانی سے\nاور مری مستی بھی اب دن کا ہی اک سایہ ہے\nجس کے ایک کنارے کو شعاع سوزاں\nاپنی شدت سے جلانے پہ مٹانے پہ تلی بیٹھی ہے\nکاش آ جائے گھٹا چھائے گھٹا اور بن جائے\nچڑھتے سورج کا زوال\n\nچڑھتا سورج یہ بتا دیتا ہے\nبڑھتے سائے ہیں کسی کے غماز\nبہتے بہتے یہ کہے جاتے ہیں\nرات کے جاگے ہوئے سوئے ہوئے اٹھے ہیں\nدھوپ کھاتے ہوئے لٹکے لٹکے\nجب کوئی پیرہن آویزاں\nایک جھونکے سے لرز اٹھتا ہے\nہم نوائی کو لرزتا ہوا سایہ بھی کہے جاتا ہے\nبیتی لذت کی کہانی سب سے\n\nبیتی لذت بھی مرے واسطے اک سایہ ہے\nکسی سورج کے تلے آتے ہوئے بادل کا\nسرسراتے ہوئے جھونکے کی طرح آتا ہوا جاتا ہوا\nباتیں کرنے کو وہ اک پل بھی نہیں رکتا تھا\nدن کا سایہ تھا اسے رات کی اک بات بھی معلوم نہ تھی\nرات اک بات ہے صدیوں کی کئی صدیوں کی\nاور اب دن ہے مجھے سائے نظر آتے ہیں\nبولتے سائے نظر آتے ہیں\nجانے پہچانے ہیں پھر بھی نئے مفہوم سمجھاتے ہیں سمجھاتے ہی چلے جاتے ہیں\nپھر پلٹ آتے ہیں\nجیسے میں جاتا تھا اور جا کے پلٹ آتا تھا\nاسی رستے پہ جو اک سایہ تھا\n\nراستہ آج بھی سایہ ہے مگر اک نیا سایہ ہے\nراہ میں ایک مکان\nوہ بھی سایہ ہے اداسی کا گھنیرا سنسان\nراہ میں آتی ہوئی ہر مورت\nایک سایہ ہے چڑیل\nحور کا اس میں کوئی عکس نظر آتا نہیں\nدیکھتے ہی جسے میں کانپ اٹھا کرتا ہوں\nآنکھوں میں خون اتر آتا ہے\nسامنے دھند سی چھا جاتی ہے\nدل دھڑکتا ہی چلا جاتا ہے\nاور میں دیکھتا ہوں\nسائے ملتے ہوئے گھلتے ہوئے کچھ بھوت سے بن جاتے ہیں\nہنہناتے ہوئے ہنستے ہیں پکار اٹھتے ہیں\nدل میں کیا دھیان یہی ہے اب بھی\nدل میں کیا دھیان یہی ہے اب بھی\nسایہ خاموش رہا کرتا ہے\nدیکھ ہم بولتے ہیں بولتے سائے ہیں تمام\nہم سے بچ تو کہاں جائے گا\nاور میں کانپ اٹھا کرتا ہوں\nاور وہ بولتے ہیں\nکانپ اٹھا ہے لرزتا ہے یہ بزدل ناکام\nبات کرتا ہی نہیں ہے کوئی\nاب بھی شاید یہ سمجھتا ہے لرزتے دل میں\nسایہ خاموش رہا کرتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%88%D9%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "دن ہی ملئے گا یا شب آئیے گا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دن ہی ملئے گا یا شب آئیے گا\nبندہ خانہ میں پھر کب آئیے گا\n\nلگ چلی ہی سی ہے ابھی تو خیال\nڈھب چڑھے گا تو کچھ ڈھبائیے گا\n\nایک بوسہ پہ دین و دل تو لیا\nاور کتنا مجھے دبائیے گا\n\nجا چکے ہم جب آپ سے پیارے\nکیوں نہ اس راہ سے اب آئیے گا\n\nہم بھی ملا سے کچھ کریں گے شروع\nآپ کس وقت مکتب آئیے گا\n\nکر لے کرنی جو ہے خرید و فروخت\nپھیر اس پینٹھ میں کب آئیے گا\n\nاب تو قائمؔ ہے کوچ ہی کی صلاح\nیوں گھر اپنا ہے پھر جب آئیے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86_%DB%81%DB%8C_%D9%85%D9%84%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D8%A8_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی\nہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی\nجو آ کے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا\nجو جا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C"} {"title": "دنیا بہ امید قائم ہے", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "موجودہ حالت گو وہ کیسی ہی اچھی یا بری ہو، انسان کے دل کے مشغلہ کو کافی نہیں ہوتی۔ موجودہ رنج و خوشی، محبت و دوستی کی چیزیں اتنی نہیں ہوتیں کہ انسان کے دل کی قوتوں کو ہمیشہ مشغول رکھیں۔ اس لیے ا س بڑے کا ریگر نے جس نے انسان کے پتلے کو اپنے ہاتھ سے اور اپنی ہی مانند بنایا، اس میں چند اور قوتیں دی ہیں جن کے سبب سے دل کے لیے کاموں کی کبھی کمی نہیں ہوتی اور ہمیشہ اور وقت دل کے مشغول رہنے کا سامان مہیا اور موجود رہتا ہے۔ ان ہی قوتوں کے ذریعہ گزری ہوئی باتیں پھر دل میں آتی ہیں اور آئندہ کی باتوں کا ان کے ہونے سے پیشتر خیال ہوتا ہے۔\n\nوہ عجیب قوت جس کو ہم یاد رکھتے ہیں، ہمیشہ پیچھے دیکھتی رہتی ہے۔ جب کوئی موجودہ چیز ہم کو شغل کے لیے نہیں ملتی تو وہ قوت پچھلی باتوں کو بلا لاتی ہے اور اسی کے ذکر یا خیال سے ہمارے دل کو بہلائے رکھتی ہے۔ اس کی مثال جگالی کرنے والے جانوروں کی ہے کہ وہ پہلے تو گھانس دانا سب کھا لیتے ہیں اور جب ہو چکتا ہے تو ایک کونے میں بیٹھ کر پھر اسی کو پیٹ میں سے نکال کر چبائے جاتے ہیں۔\n\nجس طرح کہ یاد پچھلی باتوں کو خالی وقت میں ہمارے دل کے مشغلہ کو بلا لاتی ہے، اسی طرح ایک اور قوت ہے جو آئندہ ہونے والی باتوں کے خیال میں دل کو مشغول کر دیتی ہے اور جس کا نام امید و بیم یا خوف و رجا ہے۔ انہی دونوں قسم کے خیالوں سے ہم آئندہ زمانہ تک پہنچ جاتے ہیں اور جو باتیں کہ دور زمانہ میں شاید ہونے والی ہیں اور ظلمات کے پردوں میں چھپی ہوئی ہیں اور بڑے گہرے گڑھوں میں پڑی ہوئی ہیں ان کو ایسا سمجھتی ہیں کہ ابھی ہو رہی ہیں۔ ان کے ہونے سے پہلے ان کی خوشی یا رنج اٹھانے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس زمانہ کا بھی جب نہ کی زمین ہوگی نہ آسمان، اور ہر چہار طر ف سے لمن الملک الیوم کی آواز آتی ہوگی، ابھی خیال کر لیتے ہیں۔ پھر کون کہہ سکتا ہے کہ انسان کی زندگی صرف موجودہ وقت پر محدود ہے۔\n\nمیرا ارادہ ہے کہ میں اس تحریر میں صرف اسی کا کچھ بیان کروں جس کو امید کہتے ہیں۔ ہماری خوشیاں اس قدر کم و چند روزہ ہیں کہ اگر وہ قوت ہم میں نہ ہوتی جس سے انسان ان عمدہ اور دل خوش کن چیزوں کا ان کے ہونے سے پہلے مزہ اٹھاتا ہے جن کا کبھی ہوجانا ممکن ہے تو ہماری زندگی نہایت ہی خراب اور بد مزہ ہوتی۔ ایک شاعر کا قول ہے کہ ’’ہم کو تمام عمدہ چیزوں کے حاصل ہونے کی امید رکھنی چاہیے کیوں کہ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کی امید نہ ہو سکے اور کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو خدا ہم کو دے نہ سکے۔‘‘\n\nفارسی زبان مین مشہور مقولہ ہے کہ ’’تمنا را عیبے نیست‘‘ ایک ظریف نے کہا کہ دنیا میں مجھے کسی چیز کا رنج نہیں ہے کیوں کہ امید مجھے ہمیشہ خوش رکھتی ہے۔ دوستوں نے پوچھا کہ کیا تم کو مرنے کا بھی رنج نہیں ہے اس نے کہا کہ کیا عجب ہے کہ میں کبھی نہ مروں کیوں کہ خدا اس پر بھی قادر ہے کہ ایک ایسا شخص پید ا کرے جس کو موت نہ ہو اور مجھ کو امید ہے کہ شاید وہ شخص میں ہی ہوں۔ یہ قول تو ایک ظرافت کا تھا۔ مگر سچ یہ ہے کہ زندگی کی امید ہی موت کا رنج ہم سے مٹاتی ہے۔ اگر ہم کو زندگی کی امید نہ ہوتی تو ہم سے زیادہ بد تر حالت کسی کی نہ ہوتی۔ زندگی ایک بے جان چیز کی مانند ہے جس میں کچھ حرکت نہیں ہوتی۔ امید اس میں حرکت پیدا کرتی ہے۔ امید ہی کے سبب سے انسان میں سنجیدگی اور بردباری اور خوش مزاجی کی عادت ہو جاتی ہے۔\n\nگویا امید انسان کی روح کی جان ہے۔ ہمیشہ روح کو خوش رکھتی ہے اور تمام تکلیفوں کو آسان کر دیتی ہے۔ محنت پر رغبت دلاتی ہے او ر انسان کو نہایت سخت اور مشکل کاموں کے کرنے پر آمادہ رکھتی ہے۔ امید سے ایک اور بھی فائدہ ہے جو کچھ کم نہیں ہے کہ ہم موجودہ خوشیوں کی کچھ بہت قدر نہیں کرتے اور اسی میں محو نہیں ہو جاتے۔ سیزر نے جب اپنا تمام مال اسباب اپنے دوستوں کو بانٹ دیا تو اس سے لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے اپنے لیے کیا رکھا۔ اس نے کہا کہ امید۔ اس کی عالی طبیعت ان چیزوں کی کچھ قدر نہیں کرتی تھی جو اس کے پا س تھیں بلکہ ہمیشہ اس کا خیال کسی بہتر چیز کی طرف رہتا تھا۔\n\nاگلے زمانے کے لوگ بغیر امید کے زندگی کو نہایت ہی برا سمجھتے تھے۔ نقل ہے کہ خدا نے انسان کے پاس ایک صندوقچہ بھیجوایا۔ جب اس کو کھولا تو اس میں ہر ایک قسم کی بلائیں اور مصیبتیں اور بیماریاں جو انسان کو ہوتی ہیں سب نکل پڑیں۔ امید بھی اسی صندوقچہ ہی میں بند ہوگئی تاکہ مصیبت کے وقت انسان کو تسلی دے۔ پس جس زندگی میں امید ہے اس سے بڑھ کر کوئی خوش زندگی نہیں ہے خصوصاً جب کہ امید ایک عمدہ چیز کی اور اچھی بنا پر ہو، اور ایسی چیز کی ہو جو امید کرنے والے کو حقیقت میں خوش کر سکتی ہو۔ اس بات کی حقیقت وہی لوگ خوب جانتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ خوش حال آدمی کے لیے بھی زمانہ موجودہ میں کافی خوشی نہیں ہے۔\n\nمیں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ مذہبی زندگی میں عمدہ عمدہ چیزوں کی بہت سی امیدیں ہوتی ہیں اور ایسی چیزوں کی ہوتی ہیں جو ہم کو پورا پورا خوش کر سکتی ہیں۔ دینی چیزوں کی امیدیں دنیوی چیزوں کی امیدوں سے بہت زیادہ قوی اور مضبوط ہوتی ہیں کیوں کہ ان میں عقل کے علاوہ مذہبی اعتقاد کی بھی نہایت قوّت ہوتی ہے۔ اس قسم کی امیدوں کا خیال ہی ہم کو پورا پورا خوش رکھتا ہے۔ بلا شبہ امید کے اثر سے انسان کی زندگی نہایت شیریں ہو جاتی ہے۔ اگر وہ موجودہ حالت سے خوش نہیں رہتا تو اس پر صبر تو ضرور آ جاتا ہے مگر مذہبی امیدیں اس سے بھی زیادہ فائدہ مند ہیں۔ تکلیف کی حالت میں دل کو سنبھال لیتی ہیں بلکہ اس کو اس خیال سے خوش رکھتی ہیں کہ شاید یہی تکلیف اس امید کے حاصل ہونے کا ذریعہ ہو۔ مذہبی امید گویا مردہ کو زندہ کر دیتی ہے اور اس کے دل کو غایت درجہ کی خوشی بخشتی ہے۔ انسان اپنی تکلیفوں میں خوش رہتا ہے اور روح اس بری چیز کے لپک لینے کو اچھلتی ہے جو ہمیشہ اس کی نظر میں رہتی ہے اور آخر کار اس امید کی خوشی میں اس فانی جسم کو چھوڑ دیتی ہے کہ قیامت کے دن اس سے مل جاوےگی۔\n\nحضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے نہایت مصیبت اور تکلیف کے وقت میں خدا کی مناجات میں اس مضمون کا گیت گایا تھا۔۔۔ میں ہمیشہ خدا کو اپنے سامنے رکھتا ہوں۔ وہ میری دائیں طرف ہے اس لیے میں گھبراتا نہیں۔ میرا دل خوش ہے، میرا گوشت بھی اسی امید میں رہے گا کہ میری روح کو جہنم میں نہ ڈالے۔ تو اپنی چیز کو خراب ہوتے ہوئے نہ دیکھےگا۔ تو ہی مجھ کو زندگی کے طریق دکھلائےگا۔ تیرے ہی حضور میں خوشی کا کمال ہے۔ تیرے ہی دائیں طرف ہمیشہ کی خوشی ہے۔ آمین۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%81_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "دنیا خیال و خواب ہے میری نگاہ میں", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا خیال و خواب ہے میری نگاہ میں\nآباد سب خراب ہے میری نگاہ میں\n\nبہتی پھرے ہے عمر تلاطم میں دہر کے\nانسان جوں حباب ہے میری نگاہ میں\n\nمیں بحر غم کو دیکھ لیا نا خدا برو\nکشتی نہ ہو پہ آب ہے میری نگاہ میں\n\nچھوٹا ہوں جب سے شیخ تعین کی قید سے\nہر ذرہ آفتاب ہے میری نگاہ میں\n\nتم کیف میں شراب کے کہتے ہو جس کو دل\nبھونا ہوا کباب ہے میری نگاہ میں\n\nکیوں کھینچتے ہو تیغ کمر سے چہ فائدہ\nمدت سے اس کی آب ہے میری نگاہ میں\n\nحاتمؔ تو اس جہان کی لذات پر نہ بھول\nیہ پائے در رکاب ہے میری نگاہ میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دنیا دیکھی زمانہ دیکھا", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا دیکھی زمانہ دیکھا\nتجھ کو سب میں یگانہ دیکھا\n\nمے بھی پی مے خانہ دیکھا\nربط خم و پیمانہ دیکھا\n\nسب کچھ دیکھا آنکھ سے اپنی\nتجھ کو اگر جانانہ دیکھا\n\nدیکھا تیرا جلوہ مہوش\nناز معشوقانہ دیکھا\n\nکیسی کیسی صورتیں دیکھیں\nدل کو آئنہ خانہ دیکھا\n\nگردش چشم ستم گر دیکھی\nپلٹا کھاتے زمانہ دیکھا\n\nساتھی ہم نے تجھ کو پایا\nسب مطلب کا زمانہ دیکھا\n\nہم نے چشم مست کا تیری\nاک عالم مستانہ دیکھا\n\nدل کی جلن سے آگ میں کودا\nکیوں سوز پروانہ دیکھا\n\nکیا کیا عشق میں سختی جھیلی\nاکبرؔ کو مردانہ دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دنیا سے الگ جا کے کہیں سر پھوڑو", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا سے الگ جا کے کہیں سر پھوڑو\nیا جیتے ہی جی مردوں سے ناتا جوڑو\nکیوں ٹھوکریں کھانے کو پڑے ہو بے کار\nبڑھنا ہے بڑھو نہیں تو رستہ چھوڑو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%84%DA%AF_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D9%88%DA%91%D9%88"} {"title": "دنیا سے الگ ہم نے میخانے کا در دیکھا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا سے الگ ہم نے میخانے کا در دیکھا\nمیخانے کا در دیکھا اللہ کا گھر دیکھا\n\nگوشے سے نشیمن کے آہوں کا اثر دیکھا\nصیاد کا گھر جلتے بے برق و شرر دیکھا\n\nدونوں کے مزے لوٹے دونوں کا اثر دیکھا\nاللہ کا گھر دیکھا میخانے کا در دیکھا\n\nیوں حشر میں سیریں کیں فردوس و جہنم کی\nکچھ دیر ادھر دیکھا کچھ دیر ادھر دیکھا\n\nاے شیخ وہ کعبہ ہو یا ہو در مے خانہ\nتو نے مجھے جب دیکھا سجدے ہی میں سر دیکھا\n\nنالہ ہمیں کرنا تھا دم عشق کا بھرنا تھا\nسو رنگ سے مرنا تھا ہر رنگ سے مر دیکھا\n\nجب موج ابھرتی ہے کہتی ہے وہ شوخی سے\nبازو میں بط مے کے سرخاب کا پر دیکھا\n\nٹانکے دیئے جاتے ہیں کیوں لب سیے جاتے ہیں\nہنسنے کا مزا تو نے اے زخم جگر دیکھا\n\nنسبت نہیں مجھ کو کچھ بیکس کے بجھے دل سے\nبجھتے ہوئے تجھ کو بھی آئے شمع سحر دیکھا\n\nسہمے ہوئے بیٹھے ہیں کھوئے ہوئے بیٹھے ہیں\nجس رات کے ارماں تھے اس رات کو ڈر دیکھا\n\nپھل پھول نہیں لاتے یہ باغ محبت میں\nہر نخل تمنا کو بے برگ و ثمر دیکھا\n\nکعبے میں نظر آئے جو صبح اذاں دیتے\nمیخانے میں راتوں کو ان کا بھی گزر دیکھا\n\nکچھ کام نہیں مے سے گو عشق ہے اس شے سے\nمیں رند ریاضؔ ایسے دامن بھی نہ تر دیکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%84%DA%AF_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دنیا سے داغ زلف سیہ فام لے گیا", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا سے داغ زلف سیہ فام لے گیا\nمیں گور میں چراغ سر شام لے گیا\n\nکی ترک میں نے شیخ و برہمن کی پیروی\nدیر و حرم میں مجھ کو ترا نام لے گیا\n\nدوزخ میں جل گیا کبھی جنت میں خوش رہا\nمر کر بھی ساتھ گردش ایام لے گیا\n\nمیں جستجوئے کفر میں پہونچا خدا کے پاس\nکعبہ تک ان بتوں کا مجھے نام لے گیا\n\nپہنا کفن تو کوچۂ قاتل میں پائی راہ\nکعبہ میں مجھ کو جامۂ احرام لے گیا\n\nنفرت ہوئی دورنگئ لیل و نہار سے\nمیں صبح و شام اس کو لب بام لے گیا\n\nکچھ لطف عشق کا نہ ملا جیتے جی منیرؔ\nناحق کا رنج مفت کا الزام لے گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%D9%81%D8%A7%D9%85_%D9%84%DB%92_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دنیا سے در گزر کہ گزر گہہ عجب ہے یہ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "دنیا سے در گزر کہ گزر گہہ عجب ہے یہ\nدرپیش یعنی میرؔ ہے جانا جہاں سے بھی\nلشکر میں ہے مبیت اسی بات کے لئے\nکہتے ہیں لوگ کوچ ہے کل صبح یاں سے بھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%AF%DB%81%DB%81_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81"} {"title": "دنیا سے ذوقؔ رشتۂ الفت کو توڑ دے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "دنیا سے ذوقؔ رشتۂ الفت کو توڑ دے\nجس سر کا ہے یہ بال اسی سر میں جوڑ دے\nپر ذوقؔ تو نہ چھوڑے گا اس پیر زال کو\nیہ پیر زال گر تجھے چاہے تو چھوڑ دے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%B0%D9%88%D9%82%D8%94_%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%82_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%92"} {"title": "دنیا سے سبھی برے بھلے جائیں گے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا سے سبھی برے بھلے جائیں گے\nکیا خلق سے جز گناہ لے جائیں گے\nپیری سے ہیں خم حشر میں دیکھے گا کون\nجنت میں جھکے جھکے چلے جائیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "دنیا سے میل کی ضرورت ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا سے میل کی ضرورت ہی نہیں\nمجھ کو اس کھیل کی ضرورت ہی نہیں\nدرپیش ہے منزل عدم اے اکبرؔ\nاس راہ میں ریل کی ضرورت ہی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دنیا طلبی جائے گی کیا جان کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا طلبی جائے گی کیا جان کے ساتھ\nکیسی یہ بلا لگی مسلمان کے ساتھ\nکیسا قرآن اور کہاں کا ایمان\nایمان رہا طاق پہ قرآن کے ساتھ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B7%D9%84%D8%A8%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے\nموت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہے\n\nآبادی بھی دیکھی ہے ویرانے بھی دیکھے ہیں\nجو اجڑے اور پھر نہ بسے دل وہ نرالی بستی ہے\n\nخود جو نہ ہونے کا ہو عدم کیا اسے ہونا کہتے ہیں\nنیست نہ ہو تو ہست نہیں یہ ہستی کیا ہستی ہے\n\nعجز گناہ کے دم تک ہیں عصمت کامل کے جلوے\nپستی ہے تو بلندی ہے راز بلندی پستی ہے\n\nجان سی شے بک جاتی ہے ایک نظر کے بدلے میں\nآگے مرضی گاہک کی ان داموں تو سستی ہے\n\nوحشت دل سے پھرنا ہے اپنے خدا سے پھر جانا\nدیوانے یہ ہوش نہیں یہ تو ہوش پرستی ہے\n\nجگ سونا ہے تیرے بغیر آنکھوں کا کیا حال ہوا\nجب بھی دنیا بستی تھی اب بھی دنیا بستی ہے\n\nآنسو تھے سو خشک ہوئے جی ہے کہ امڈا آتا ہے\nدل پہ گھٹا سی چھائی ہے کھلتی ہے نہ برستی ہے\n\nدل کا اجڑنا سہل سہی بسنا سہل نہیں ظالم\nبستی بسنا کھیل نہیں بستے بستے بستی ہے\n\nفانیؔ جس میں آنسو کیا دل کے لہو کا کال نہ تھا\nہائے وہ آنکھ اب پانی کی دو بوندوں کو ترستی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%81%D9%86%DA%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "دنیا میں بقا نہیں کسی کو", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا میں بقا نہیں کسی کو\nمرنا اک روز ہے سبھی کو\n\nوہ کون ہے جو ہے عیب سے پاک\nکیا کوئی برا کہے کسی کو\n\nمعلوم ہے وعدے کی حقیقت\nبھلا لیتے ہیں اپنے جی کو\n\nخود نور خدا ہو تم میں پیدا\nدل سے کھو دو اگر خودی کو\n\nسو عیبوں کا ایک عیب ہے یہ\nافلاس خدا نہ دے کسی کو\n\nمشکل نہیں کوئی کام لیکن\nہمت لازم ہے آدمی کو\n\nسچ کہہ دے کہ ہے قصور کس کا\nمنصف میں نے کیا تجھی کو\n\nمانا کہ شراب چھوڑی کیفیؔ\nایسا تو کہو نہ مے کشی کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%82%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88"} {"title": "دنیا میں بڑا روگ جو ہے الفت ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا میں بڑا روگ جو ہے الفت ہے\nدق آگئے ہیں جی سے بھی یہ زحمت ہے\nکہتے تھے کہ میرؔ بے وفا ہم کو نہ جان\nکی خوب وفا تم نے تمھیں رحمت ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%91%D8%A7_%D8%B1%D9%88%DA%AF_%D8%AC%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "دنیا میں جنت", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "باغوں نے پہنا\nپھولوں کا گہنا\nنہروں کا بہنا\nوارفتہ رہنا\nدنیا میں جنت میرا وطن ہے\nبھوری گھٹائیں\nلائیں ہوائیں\nباغوں میں جائیں\nکلیاں کھلائیں\nدنیا میں جنت میرا وطن ہے\nاک جھونپڑی ہے\nسب کچھ یہی ہے\nکیا سادگی ہے\nکیا زندگی ہے\nدنیا میں جنت میرا وطن ہے\nکرشنؔ کنہیا\nرادھا کا رسیا\nبچوں کے افسرؔ\nتھا اس زمیں کا\nروشن ستارا\nدنیا میں جنت میرا وطن ہے\nوہ ترک آئے\nبھارت پہ چھائے\nجھنڈے اڑائے\nقرآن لائے\nدنیا میں جنت میرا وطن ہے\nچشتی نے بخشا\nدل کو سہارا\nہمدرد ایسا\nکس کو ملا تھا\nدنیا میں جنت میرا وطن ہے\nگوتم کا گھر ہے\nجنت کا در ہے\nافسرؔ کدھر ہے\nکیا بے خبر ہے\nدنیا میں جنت میرا وطن ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%86%D8%AA"} {"title": "دنیا میں رہ کے راست بازی کب تک", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا میں رہ کے راست بازی کب تک\nمشکل ہے کچھ آساں نہیں سیدھا مسلک\nسچ بول کے کیا حسین بننا ہے تجھے\nاتنا سچ بول دال میں جیسے نمک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیں", "poet_page": "مصنف:بہرام جی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیں\nپر حسن بتاں دیکھ کے گھبرائے ہوئے ہیں\n\nافسوس عبادت نہ تری ہو سکی ہم سے\nگردن نہیں اٹھتی ہے کہ شرمائے ہوئے ہیں\n\nالزام نہیں طور جو سرمہ ہوا جل کر\nموسیٰ بھی تجلی سے تو شرمائے ہوئے ہیں\n\nمیں برہمن و شیخ کی تکرار سے سمجھا\nپایا نہیں اس یار کو جھنجھلائے ہوئے ہیں\n\nکعبے سے نہ رغبت ہمیں نے دیر کی خواہش\nہم خانۂ دل میں جو اسے پائے ہوئے ہیں\n\nہے کون سی جا ہو جو ترے جلوے سے خالی\nمضمون ہم اب دل میں یہی لائے ہوئے ہیں\n\nذلت کے خریدار ہوئے حرص کے بندے\nحاجت کے لئے ہاتھ جو پھیلائے ہوئے ہیں\n\nجس قوم میں دیکھا تو تجسس ترا پایا\nمعبد ترے ہر قوم میں ٹھہرائے ہوئے ہیں\n\nبہرامؔ غزل اور بھی اک ان کو سنا دے\nمشتاق تری بزم میں سب آئے ہوئے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دنیا میں قصر و ایواں بے فائدہ بنایا", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا میں قصر و ایواں بے فائدہ بنایا\nعقبیٰ انہیں بنائی منعم تو کیا بنایا\n\nجو عنصری گھروندا پہ چوکھٹا بنایا\nاک دم میں وہ بشر کا بگڑا بنا بنایا\n\nزلفوں میں طائر جاں جس نے پھنسا بنایا\nتن کو قفس رگوں کو اک جال سا بنایا\n\nسوز غم و الم سے بہہ جاؤں شمع ساں جو\nاے شعلہ رو مجھے بھی کیا موم کا بنایا\n\nنقشے پہ کھنچ سکا جب مانی سے دل جلوں کا\nجس جا مکان دل تھا آتش کدہ بنایا\n\nبحر جہاں میں جس دم پہنچی نمود انساں\nپانی نے سر اٹھا کے اک بلبلا بنایا\n\nپہنا کفن اتارا ہستی کے پیرہن کو\nپھینکا لباس کہنہ جامہ نیا بنایا\n\nخالق نے جب کہا خلق ابرو کے بسملوں کا\nگردن مری بنائی خنجر ترا بنایا\n\nچل کر صبا کی صورت خنداں کیا گلوں کو\nغنچوں کا منہ بگاڑا جب منہ ذرا بنایا\n\nشیشہ گری پہ نازاں بیکار شیشہ گر ہیں\nکوئی بھی دل کسی کا ٹوٹا ہوا بنایا\n\nآہوں کے کودکوں نے چھلنی کیا یہاں تک\nسقف فلک کو چھتا زنبور کا بنایا\n\nشان خدا عیاں ہے ہر بت سے میکدے میں\nکعبے میں تم نے جا کر اے شادؔ کیا بنایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D8%B5%D8%B1_%D9%88_%D8%A7%DB%8C%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D9%81%D8%A7%D8%A6%D8%AF%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دنیا میں قلقؔ کیا ہے سراسر ہے خاک", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا میں قلقؔ کیا ہے سراسر ہے خاک\nدرویش ہے خاک اور تونگر ہے خاک\nمٹنے کے لیے شکل بنی ہے سب کی\nجو خاک کی سوغات ہے آخر ہے خاک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D9%84%D9%82%D8%94_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%A7%DA%A9"} {"title": "دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا\nسب دیکھے دل آزار ہی دل دار نہ پایا\n\nکب غیر کو ہم رہ ترے اے یار نہ دیکھا\nتجھ گل کو کبھی ہم نے تو بے خار نہ پایا\n\nتجھ رخ سے نہ برقع اٹھا اے غیرت خورشید\nذرہ ترا مشتاقوں نے دیدار نہ پایا\n\nہم سر ہی پٹکتے رہے دروازے کے باہر\nپر گھر میں ترے آنا کبھی بار نہ پایا\n\nکس سے کہوں اپنا غم دل آہ عزیزاں\nدنیا میں کوئی مونس و غم خوار نہ پایا\n\nہر طرح گلے پڑ کے دیا ہم نے تجھے دل\nجب تجھ سا یہاں کوئی طرح دار نہ پایا\n\nدیکھ اس کی ہوئی ایسی ز خود رفتگی تجھ کو\nکل آپ میں میں تجھ کو جہاں دارؔ نہ پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دنیا میں ہم سا کوئی سراپا الم نہیں", "poet_page": "مصنف:عنایت اللہ روشن بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا میں ہم سا کوئی سراپا الم نہیں\nوہ دن ہی کون سا ہے کہ جو روز غم نہیں\n\nہر دم ترے مریض کی حالت خراب ہے\nدرد آج دل میں کل سے زیادہ ہے کم نہیں\n\nکیا غم مجھے مٹائے فلک ڈھونڈھ ڈھونڈ کر\nنام اپنا فرد ناموری میں رقم نہیں\n\nگل کھل رہے ہیں آمد فصل بہار ہے\nبلبل چہک رہی ہے صریر قلم نہیں\n\nاہل قلم ہوں زیر نگیں ملک نظم ہے\nکیوں کر کہوں کہ صاحب طبل و علم نہیں\n\nکیا کیا عزیز خاک ہوئے مل کے خاک میں\nلیکن یہاں کسی کا کسی کو بھی غم نہیں\n\nہوتی ہے غیب سے مری امداد اے فلک\nمنت کش عنایت اہل کرم نہیں\n\nیاران رفتگاں سے بہت جی کو انس ہے\nملتے اگر مسافر ملک عدم نہیں\n\nگر درد دل یوں ہیں ہے سلامت تو ایک دن\nروشنؔ یہ یاد رکھنا کہ دنیا میں ہم نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%BE%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں\nبازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں\n\nزندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی\nہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں\n\nاس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث\nسایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں\n\nافسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجت\nغم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار نہیں ہوں\n\nوہ گل ہوں خزاں نے جسے برباد کیا ہے\nالجھوں کسی دامن سے میں وہ خار نہیں ہوں\n\nیا رب مجھے محفوظ رکھ اس بت کے ستم سے\nمیں اس کی عنایت کا طلب گار نہیں ہوں\n\nگو دعوی تقوی نہیں درگاہ خدا میں\nبت جس سے ہوں خوش ایسا گنہ گار نہیں ہوں\n\nافسردگی و ضعف کی کچھ حد نہیں اکبرؔ\nکافر کے مقابل میں بھی دیں دار نہیں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "دنیا میں یوں تو ہر کوئی اپنی سی کر گیا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا میں یوں تو ہر کوئی اپنی سی کر گیا\nزندہ ہے اس کا نام کسی پر جو مر گیا\n\nصبح شب وصال ہے آئینہ ہاتھ میں\nشرما کے کہہ رہے ہیں کہ چہرہ اتر گیا\n\nساقی کی بڑھ چلی ہیں جو بے التفاتیاں\nشاید ہماری عمر کا پیمانہ بھر گیا\n\nاتنا تو جانتے ہیں کہ پہلو میں دل نہیں\nاس کی خبر نہیں کہ کہاں ہے کدھر گیا\n\nہم سے جو آپ روٹھ کے جاتے ہیں جائیے\nسن لیجئے گا زہر کوئی کھا کے مر گیا\n\nجاتا رہا شباب تو کچھ سوجھنے لگی\nآنکھیں کھلیں شراب کا نشہ اتر گیا\n\nناصح کہاں کا چھیڑ دیا تو نے آ کے ذکر\nاس کا خیال پھر مجھے بے چین کر گیا\n\nدو دن میں یہ مزاج کی حالت بدل گئی\nکل سر چڑھا تھا آج نظر سے اتر گیا\n\nاچھا ہوا جو آپ عیادت کو آ گئے\nسر کا یہ ایک بوجھ تھا وہ بھی اتر گیا\n\nتیرے مریض ہجر کا اب تو یہ حال ہے\nآیا جو دیکھنے کو وہ با چشم تر گیا\n\nچھیڑا کسی نے ذکر محبت جو اے حفیظؔ\nدل پر عجیب طرح کا صدمہ گزر گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دنیا میں یہی چور بناتا ہے عسس کو", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "دنیا میں یہی چور بناتا ہے عسس کو\nاللہ کرے قطع کہیں دست ہوس کو\n\nدل دیتا ہوں میں قامت دل دار کو اپنا\nلٹکاتا ہوں میں نخل محبت میں قفس کو\n\nجیسا کہ یہ دل دام محبت میں پھنسا ہے\nکم دیکھتا ہوں مرغ گرفتار قفس کو\n\nنکلے ہیں خط و خال لب یار کے نزدیک\nاللہ نے دیا شہد و شکر مور و مگس کو\n\nدوڑاتی ہے یہ روح مری جسم کو ہر سو\nاسوار اڑاتا ہے زمانے میں فرس کو\n\nزخم دل شیدا ہوا اچھا نہ مسیحا\nخیاط ازل سل نہ سکا چاک قفس کو\n\nرہتے تھے ہم آغوش جوانی میں بتوں سے\nاس پیری کے آتے ہی ترسنے لگے مس کو\n\nکب پیچ سے اس رشتۂ الفت کے چھٹوں گا\nتوڑوں گا نہ جب تک کہ میں اس تار نفس کو\n\nبیماری الفت سے جو میں بچ گیا ناصح\nٹل جاؤں گا اب کی کہیں دو چار برس کو\n\nدامن کا نشاں ہے نہ گریباں کا پتا ہے\nاے دست جنوں مانتا ہوں میں ترے بس کو\n\nصیاد جو دیکھے مجھے الفت کی نظر سے\nگلزار سے بہتر کہیں سمجھوں میں قفس کو\n\nاے دل کبھی کہنے کا نہیں راز محبت\nاس دشت میں دوڑا نہ طبیعت کے فرس کو\n\nدل دیتا ہے اس طفل پری زاد کو ناداں\nکیوں منتہیؔ شعلے سے بھڑاتا ہے تو خس کو", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%DA%86%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B3%D8%B3_%DA%A9%D9%88"} {"title": "دنیا والوں نے چاہت کا مجھ کو صلہ انمول دیا", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا والوں نے چاہت کا مجھ کو صلہ انمول دیا\nپیروں میں زنجیریں ڈالیں ہاتھوں میں کشکول دیا\n\nاتنا گہرا رنگ کہاں تھا رات کے میلے آنچل کا\nیہ کس نے رو رو کے گگن میں اپنا کاجل گھول دیا\n\nیہ کیا کم ہے اس نے بخشا ایک مہکتا درد مجھے\nوہ بھی ہیں جن کو رنگوں کا اک چمکیلا خول دیا\n\nمجھ سا بے مایہ اپنوں کی اور تو خاطر کیا کرتا\nجب بھی ستم کا پیکاں آیا میں نے سینہ کھول دیا\n\nبیتے لمحے دھیان میں آ کر مجھ سے سوالی ہوتے ہیں\nتو نے کس بنجر مٹی میں من کا امرت ڈول دیا\n\nاشکوں کی اجلی کلیاں ہوں یا سپنوں کے کندن پھول\nالفت کی میزان میں میں نے جو تھا سب کچھ تول دیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B5%D9%84%DB%81_%D8%A7%D9%86%D9%85%D9%88%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دنیا کا تمام کارخانہ ہے عبث", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا کا تمام کارخانہ ہے عبث\nاس کشت عبث کا دانہ دانہ ہے عبث\nاک حرف غلط ہے بلکہ یہ بھی ہے غلط\nہر ذکر عبث ہے ہر فسانہ ہے عبث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%A8%D8%AB"} {"title": "دنیا کا عجب رنگ سے دیکھا انگیز", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا کا عجب رنگ سے دیکھا انگیز\nہر پائے حنابستہ سوار شبدیز\nہر ذرہ ہے خورشید قیامت افروز\nہر قطرہ ہے طوفان خودی سے لبریز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%B2"} {"title": "دنیا کا نہ کھا فریب ویراں ہے یہ", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا کا نہ کھا فریب ویراں ہے یہ\nراحت سے نہ دل لگا کہ مہماں ہے یہ\nبچ نفس دنی سے ہے بڑا ہی کافر\nکر روح کی پرورش مسلماں ہے یہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81"} {"title": "دنیا کا پرانا طلسم", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "مری ہستی فضائے حیرت آباد تمنا ہے\nجسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے\n\nانسان نے اس زمانہ میں اپنی حکمت اور سائنس کے ذریعہ ایسے ایسے مصالحہ اور سامان پیدا کئے ہیں کہ پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنے لگا۔ ہزاروں کوس کے پلہ پر منٹ بھر میں اس کی آواز جانے لگی۔ مگر اپنے غرور اور گھمنڈ میں اس کے لئے یہ نامناسب ہے کہ دہریہ بن جائے یا اسے یہ خبط ہو جائے کہ میں نے خدا کے بھید اور اسرار پالئے۔ انہیں بھی اور ہم صوفیوں کو بھی یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ ہر تنزل میں ترقی اور ہر ترقی میں تنزل موجود ہے۔ ناچیز انسان کیسا ہی حکیم اور فلاسفر ہو جائے مگر خدا کے اسرار کو تو وہ کب پا سکتا ہے۔ وہ اپنے بھائی بنی آدم کی کاریگری کی تہ کو بھی ابھی نہیں پہنچا ہے۔ جب سے اسٹیم اور ریلیں نکلیں، دنیا کی ساری آبادیاں، کیا شہر کیا گاؤں، کیا جنگل کیا پہاڑ گھر انگنائی ہو گئے۔\n\nسیاح جو اگلے زمانے میں تبرک سمجھے جاتے تھے اورجن کی توقیر بادشاہ کرتے تھے، آج انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔ ملک مصر اور اس کا دار الملک قاہرہ اب کسی طر ف سے دور نہیں سمجھا جاتا ہے۔ قبۃ الہرمان کو یورپ اور ہندوستان اور جاپان کے سیاح دیکھ آئے ا ور دیکھتے رہتے ہیں۔ مگرآج کوئی عاقل، کوئی دانش مند ٹھیک کہہ سکتا ہے کہ ان کے بنانے کی علت یہی تھی جو یورپ کے دانا اور ہوشیار بتاتے ہیں۔ ان میں سے جو لاشیں نکالی گئی ہیں، ان کی نسبت جو رائے زنی کی گئی ہے، اسے صحیح کیونکر سمجھا جا سکتا ہے۔ جبکہ آج تک کسی علمی طاقت نے یہ نہ سمجھایا کہ لاشوں پر اور ان کے کفن پر کیا مصالحہ لگایا گیا ہے۔ اگر اس مصالحہ کے اجزاء معلوم ہو جاتے تو ہم بھی اسے تیار کرتے اور اس سے بہت کام لیتے۔ ان قبوں کی نسبت گو اس زمانے میں بہت کچھ چھان بین کی گئی ہے، مگر مسلمان بھی جب کبھی زندہ قوم کہلانے کے مستحق تھے، توان کی تحقیق سے غافل نہیں رہے۔\n\nمحاضرات ابن راغب میں ان قبوں کے بہت سے عجیب و غریب حال لکھے ہیں۔ آثار البلاد میں ان قبوں کے انوکھے حال مرقوم ہیں۔ ربیع الابرار میں صاحب کشاف نے بہت سی خامہ فرسائی کی ہے۔ صاحب بحر السعادات محمد بن محمدابراہیم الملقب حاجی تاج الدین ہراس الگازروفی اپنی تصنیف میں فرماتے ہیں، قبۃ الہرمان کے معاملہ میں ذی علم سیاح اور حکیم اور دانش مندوں نے اتنا کچھ لکھا ہے کہ اگر میں اسے بیان کروں تو موٹی ساری ایک کتاب تیار ہو جائے۔ یہ قبے جالینوس سے ڈھائی ہزار برس پہلے موجود تھے۔ جب حکیم جالینوس نے مصر میں آکر ان قبوں کو دیکھاتو اس کی عقل چکرا گئی اور وہ اس حکمت و لیاقت پر ان کے راز کو نہ سمجھ سکا مگر میں ان باتوں کو سند نہیں گردانتا۔ البتہ میرے استاد، میرے شیخ بلکہ شیخ الاسلام، استادو مقتدائے اہل علم شرقاً و غرباً، براً و بحراً شیخ مجدد الملت والدین ابی طاہر محمد بن یعقوب الفیروزآبادی اعلیٰ اللہ تعالیٰ شانہ نے جو اپنی زبان مبارک سے قبۃ الہرمان کے بارے میں ارشاد کیا ہے، اسے میں نے تمیماً و تبرکاً یاد کرلیا ہے، اور یہاں اسے بیان کرتا ہوں۔\n\nحضرت مجدد الدین فیروز آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مصر ایسی جگہ ہے، جسے خدا نے شہر سمجھا اور مصر کے لقب سے اسے یاد فرمایا۔ ورنہ دنیا کے تمام شہروں کو خواہ وہ کیسے ہی بڑے ہوں، قریہ کہا ہے۔ مصر کسی زمانہ میں چالیس کوس لمبا اور چالیس کوس چوڑا آباد تھا اوراس میں اَن گنت آدمی رہتے تھے۔ و کذالک مکنا لیوسف فی الارض سے خدا کی مراد مصر سے ہے۔ جس سے حضرت ادریس علیہ السلام کو بذریعہ وحی معلوم ہوا کہ ہمارے بعد دنیا میں ایک طوفان آنے والا ہے، اور وہ زمین کی ہر چیز کو برباد کر دےگا، تو آپ نے اپنی حکمت نبوت سے یہ قبتے بنوائے اورہر قبہ میں جو چیزیں آپ کو رکھنی منظور تھیں، رکھ کر ان پر طلسمی قفل لگا دیے۔ یہ قبے صورت میں گول اور اوپر سے نکیلے ہیں۔ ان کے قد اتنے لمبے ہیں کہ دیکھنے والا اپنی پگڑی تھام کر دیکھتا ہے اور اسے گمان ہوتا ہے کہ ان کی چوٹیاں ابر سے لگی ہوئی ہیں۔ ان میں کوئی دروازہ یا اندر جانے کے لئے رستہ نہیں ہے۔\n\nمصر کے رہنے والوں کا یہ اعتقاد ہے کہ ان قبوں میں سونے چاندی اور جواہر کے خزانہ بھرے پڑے ہیں۔ جس شخص کو گنج نامہ مل جاتا ہے تو اس کی مدد سے بہت سا مال قبہ کھول کر نکال لاتا ہے۔ چنانچہ اس خیال میں ہزاروں آدمی قبوں کے چوگرد پھرا کرتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو اہل مصر اپنی اصطلاح میں طالب کہتے ہیں۔ جو عورت مرد کاہل وجود اور مڈھور ہوتے ہیں، وہ اپنی ساری زندگی اسی خبط میں کاٹ دیتے ہیں کہ آج ہمیں کوئی بیجک مل جائےگا، اور ہم قبہ میں سے دولت نکال کر امیر کبیر بن جائیں گے اور ساری عمر بے فکری سے کٹے گی۔\n\nخلیفہ ہارون الرشید عباسی جس وقت مصر میں پہنچا، تو قبوں کو دیکھ کر اور ان کی بابت عجیب و غریب داستانیں سن کر حیران ہو گیا اور اسے اشتیاق ہوا کہ میں قبوں کے اندرونی اسرار سے واقف ہوں۔ اس نے مصر میں قیام کردیا اور اس نے قاہرہ اور بغداد کے استاد کاریگروں کو اکٹھا کر کے ایک قبّہ کی نسبت حکم دیا کہ اس میں اندر جانے کے لئے راستہ بناؤ۔ کاریگروں نے پہلے معمولی لوہے کی چھینی ٹانکیوں سے کام لینا چاہا، مگر ان کے منہ بھر گئے تو فولاد کے اوزار بنوائے گئے، مگر وہ بھی گر گئے، جھڑ گئے اور قبہ کا پتھر ٹوٹنا کیسا اس پر خط بھی نہ پڑا اور کاریگروں نے خلیفہ سے کہہ دیا، امیر المومنین یہ کام ہم لوگوں سے نہیں ہو سکتا۔\n\nخلیفہ نے اپنے مشیروں سے، جن میں بڑے بڑے عاقل اور حکیم تھے، مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا، فی الواقع یہ تدبیر ٹھیک نہیں اتری۔ ہماری رائے یہ ہے کہ آلات کے منہ پر ہیرا جڑا جائے اور کام لیا جائے۔ چنانچہ اس حکمت نے اپنا اثر دکھایا۔ مگر کئی کروڑ کاالماس خرچ ہو گیا اور قبہ کے اندر اتناسوراخ بن گیا کہ آدمی سکڑ سمٹ کر اندر چلا جائے اور سوراخ ہونے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قبہ اندر سے خالی ہے مگر اندھیرا بہت ہے۔ ڈر کے مارے اس میں کوئی گھستانہ تھا۔ خلیفہ کی دھمکی دینے سے دو ایک شخص اندر گئے اور صحیح سلامت نکل کر انہوں نے جو کچھ قبہ میں دیکھا تھا، وہ بیان کیا۔ خلیفہ ان کے بیان کو سن کر بیتاب ہو گیا اور اس نے خود اندر جانے کا ارادہ کیا۔ خیر خواہوں نے اسے روکا مگر وہ کب رکنے والا تھا۔ سوراخ میں گھس گیا اور اس کے پیچھے کئی جاں نثار بھی داخل ہو گئے۔\n\nجب خلیفہ چند قدم آگے گیا تو اس نے اپنے تئیں ایک ایسے مکان میں پایا جس کے کمرے کی چھت نہ تھی۔ کمرہ سنگ مرمر کا تھا، اور اس میں دن نکل رہاتھا۔ مکان کے بیچ میں سنگ مرمر کی ایک خوبصورت قبربنی ہوئی تھی۔ قبر کے تعویذ پر سونے کی کشتی رکھی تھی، جس میں ہیرے بھرے ہوئے تھے۔ قبر کے سرہانے جو دیوار تھی، اس میں تین گز کی اونچائی پر پتھر کے اندر ابھری ہوئی گلکاری ہورہی تھی اور گلکاری کے حلقہ میں عورت کا ایک کلہ بنا ہوا تھا کہ حسن جمال میں حور و پری کے چہرے کو مات دیتا تھا۔ رنگ رخسار کی تازگی، بھوؤں کے بالوں کی باریکی، آنکھوں کی دل فریبی، ہونٹوں کی مسکراہٹ، زلفوں کے پیچ و تاب کہتے تھے کہ دیوار میں غرفہ ہے اور اس غرفہ میں سے کسی زندہ پری نے اپنا پیارا مکھڑا سیر کے لئے نکال رکھا ہے۔\n\nمگر جب خلیفہ نے اپنے ہاتھ کی چھڑی سے اسے ٹھوکا دیا تو معلوم ہوا کہ پتھر کا بنا ہوا ہے۔ اس کلہ میں یہ اثر تھا کہ جو اسے دیکھتا تھا، اس کے دل میں سودائے عشق پیدا ہو جاتا تھا کہ میں اس تصویر کو کس طرح ہاتھ لگاؤں۔ خلیفہ یہ تماشہ دیکھ کر قبّہ میں سے نکلا توہیروں کی کشتی کو ساتھ لایا، اورہیروں کو انکوانے کے لئے بھیجا تو جوہریوں نے ان کی قیمت اتنی ہی بتائی، جتنے کروڑ سوراخ کے بنانے میں خلیفہ کے خرچ ہوئے تھے۔ دوسرے دن اس کام کے مہتمم نے آکر خلیفہ کے حضور میں عرض کی کہ یا امیر المومنین یہ کام ابھی جاری رہےگا۔ خلیفہ نے کہا، مجھے ایک فضول کام کے پیچھے اپنے خزانے خالی کرنے منظورنہیں۔ آج سے یہ کام بند کیا جائے۔\n\nحضرت مجدد الدین موصوف فرماتے ہیں، ہم بھی مدت تک مصر میں رہے ہیں۔ ہرمان مصر کو اور خصوصاً اس قبہ کو دیکھا ہے جس میں وہ سوراخ ہے۔ ہمارے ساتھ کئی دوست تھے۔ جب ہم پھنس کر بہ مشکل اس سوراخ سے گزر کر قبہ کے اندر پہنچے اور اس سنگ مر مر کے بے چھت کمرے میں داخل ہوئے، ہمیں حیرت تھی کہ قبہ سب طرف سے بند ہے، یہ دن یہاں کیونکر ہورہا ہے۔ مگر یہ راز مطلق سمجھ میں نہ آیا۔ قبر کے دیکھنے سے بڑی عبرت ہوئی۔ سامنے نگاہ گئی تو وہ صورت پری جمال تقویٰ شکن کھل کھلا رہی تھی۔ ہمارے رفیقوں میں سے ایک شخص نے اس صورت کو بہت غور سے دیکھا۔ اور جب وہ صورت اسے زیادہ پیاری معلوم ہوئی تو لپک کر اس کے پاس گیا اور اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ میں نے منع کیا کہ خبردار اسے نہ چھونا مگر اس نادان نے نہ مانا اور یہ کہہ کر کہ اس کے کان کیسے اچھے ہیں، مورت کے کان میں انگلی ڈالی۔\n\nمورت کے کان میں بظاہر سوراخ برائے نام تھا، مگر خدا جانے کیا بات تھی، جب ہمارے دوست نے انگلی اس کے کان پر سے سرکائی تو دوسرے ہاتھ سے انگلی پکڑ کر کہنے لگا، میں مر گیا۔ اس مورت کے کان میں بچھو بیٹھا تھا۔ اس نے مجھے کاٹ لیا۔ جلن کے مارے وہ تڑپتا تھا۔ ہم لوگ بہت دشواری سے اسے گھر لے کر پہنچے۔ حکیموں کو لے جاکر دکھایا۔ حکیموں نے قسم قسم کی ٹھنڈی ٹھنڈی دوائیں کھلائیں اور لگائیں۔ تریاق بھی چٹائے مگر وہ نہ بچا۔ اور صبح ہوتے ہوتے ملک عدم کو سدھار گیا اور ہم اسے اول منزل پہنچا کر آئے تو چپ بیٹھے تھے۔ اس میں ہمارا ملنے والا نان بائی آ گیا جو شیراز کا رہنے والا تھا اور ہمیں ہم وطن سمجھ کر بہت محبت کرتا تھا۔\n\nاس نے یہ قصہ سنا تو کہنے لگا میں قبوں کے طلسموں کو بہت دنوں سے جانتا ہوں۔ انہیں کی بدولت میری جیتی جاگتی ایک آنکھ گئی۔ شیراز سے آکر میں نے یہاں قاہرہ میں کھانے کی دوکان کھولی، اور تھوڑے دن میں میرا کام خاصا چل گیا۔ چار خچر میں نے مول لے لئے اور جنگل سے ایندھن خچروں پر نوکر لانے لگا۔ ایک روزمیں اپنی دوکان پر بیٹھا ہوا تھا، جو ایک مصری نے آکر مجھ سے کہا، آغا تمہارے پاس کے خچر ہیں۔ میں نے کہا چار۔ اس نے کہا مجھے ضرورت تو بہت سے خچروں کی ہے مگر خیر دو تین پھیرے کر لینا۔ مجھے فلانی جگہ سے کچھ سامان لانا ہے۔ فی پھیرہ اتنے دام کرایہ کے دوں گا۔ خچر لے چلو۔ چونکہ کرایہ معقول تھا، میں راضی ہو گیا۔ مصری نے کہا، میں آج ہی دن کے تین بجے آؤں گا اور خچروں کو اور تمہیں لے جاؤں گا۔ لو یہ سائی کے پیسہ ہیں۔ بس صبح تک ہم سامان لے کر شہر کو پلٹ آئیں گے۔\n\nمیں نے سائی لے لی اور مصری چلا گیا، اور ٹھیک اسی وقت آیا، جس وقت کے لئے کہہ گیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں سوت کا ایک مضبوط رسہ تھا اور ایک توبرہ، ایک لوہے کا پھاوڑہ۔ میرے نوکر نے مجھ سے کہا، آپ دوکان پر رہئے میں خچر لے جاؤں گا۔ مگر نے نوکر کا اعتبار نہ کیا۔ اور میں ہی خچر پہنچانے کے لئے مستعد ہو گیا۔ جھٹ پٹ پالان خچروں پر رکھ کر خالی گونیں ان پر ڈالیں۔ مصری نے ایک گون میں توبرہ اور رسی اورپھاوڑہ رکھ دیا۔ ایک خچر پر میں اور دوسرے پر مصری سوار ہوا۔ اور دو خچرو ں کو آگے آگے کر کے قاہرہ سے چل دیے۔ مصری مجھے قبۃ الہرمان کے نواح میں لے گیا۔\n\nشام ہوچلی تھی۔ آفتاب زرد ہوکر مغرب کی طرف جھک رہا تھا۔ چھوٹے بڑے قبوں کی پرچھائیاں لمبی ہوکر دور تک چلی گئی تھیں۔ بہت سے قبوں کے بیچ میں اپنے تئیں دیکھ کر مجھے ڈر معلوم ہونے لگا اورمیں نے غور سے دیکھا کہ خچروں کے اوپر بھی ہیبت سی چھا گئی تھی۔ وہ زور زور سے سانس لیتے تھے اور بے چین ہورہے تھے، جو ایک بہت بڑے قبے کے نیچے پہنچ کر مصری نے کہا، خچر روک لو۔ میں نے خچروں سے کہا بس بیٹا بس اور چاروں خچر فوراً ٹھہر گئے۔ قبہ کے نیچے ایک اندارا کنواں تھا، جس کی من بہت ہی خوش نما پتھروں کی بنی ہوئی تھی۔ مصری خچر پر سے اتر پڑا۔ اور میں بھی خچر پر سے اتر آیا۔ مصری کنوئیں کی من پر جا بیٹھا اور اس نے مجھ سے کہا۔ جو سامان میں لایا ہوں وہ گون میں سے نکال لاؤ۔ میں اپنے دل میں حیران تھا اور یہ سوچتا تھا کہ کیا معاملہ ہے۔ اس شخص نے جس اسباب کے لئے کرایہ کئے تھے وہ تو یہاں دکھائی نہیں دیتا ہے۔ خدا خیر کرے۔\n\nجب میں وہ چیزیں کنوئیں پر لے کر پہنچا تو میں نے دیکھا کنواں بہت گہرا ہے، اور اس کا سفید پانی پارہ کی طرح چمک رہا ہے۔ مصری نے اپنی جیب میں سے ایک تعویذ نکال کر کنوئیں کے اندر ڈال دیا۔ تعویذ کا کنوئیں کے اندر جانا، اور اس کے پانی کا سانپ کی طرح لہرا کر اوپر آنا۔ میں سمجھا کہ یہ پانی مجھے بھی ڈبو دےگا۔ بارے گھٹنوں تک پانی پہنچ کر کم ہونے لگا اور کم ہوتے ہوتے کنوئیں کی تہ میں غائب ہو گیا۔ مصری کا چہرہ خوشی کے مارے لال ہو گیا۔ اور اس نے پھاوڑہ کنوئیں کے اندر پھینک دیا اور سوت کی رسی میں توبرہ باندھ کر اور اس کا سرا میرے ہاتھ میں دے کر توبرہ میں اپنا ایک پاؤں رکھ کر بے دھڑک کنوئیں میں اتر گیا اور کنوئیں کے منہ میں سے کچھ چیز کھود کر توبرہ میں بھری اور مجھ سے کہا کھینچ لو۔ جب میں نے ڈول کی طرح توبرہ اوپر کھینچ لیا تو میں نے دیکھا خالص سونے کا برادہ تھا۔ یہاں تک کہ خچروں کی چاروں گونیں سونے کے برادہ سے میں نے ٹھونس ٹھونس کر بھریں اور ان کا منہ سی دیا۔ آخر میں مصری نے ایک توبرہ مچامچ سونے کے برادہ کا بھر کر مجھے اور دیا اور اندر سے چلاکر کہا، آغا یہ تمہارا حصہ ہے۔ اس بات کو سن کر میری باچھیں کھل گئیں، اور خوشی کے مارے میرے بدن میں میرے کپڑے تنگ ہو گئے۔\n\nجس طرح رسی کے سہارے سے مصری کنوئیں میں گیا تھا اسی طرح وہ اوپر چڑھ آیا۔ اور اس نے اپنی جیب سے دوسرا تعویذ نکال کر کنوئیں میں ڈالا۔ تعویذ پڑتے ہی ایک چھنا کے کی آواز کنوئیں میں سے آئی اور کنواں اگلی طرح پانی سے بھر گیا۔ اب ہم دونوں نے بڑی خوشی اور اطمینان سے گونیں خچروں پر لادیں۔ میں نے اپنے حصہ کا سونا اپنی چادر کے پلہ میں باندھ کر احتیاط سے اپنے خچر پر رکھ لیا۔ اور ہم دونوں خچروں پر سوار ہوکر چاروں خچروں کو ہنکاتے ہوئے شہر کی طرف چل دیے۔ رات ہو چکی تھی اور اندھیرے گھپ میں کچھ نہ دکھائی دیتا تھا۔ خچر قدم تیز بڑھائے چلے جاتے تھے، کیونکہ دانہ کا وقت گزر لیا تھا۔ میں اپنے دل میں خوش ہو رہا تھا کہ خدا نے مفت میں اتنا مال دلوا دیا۔ اب میں یہ ذلیل پیشہ چھوڑ دوں گا اور شیراز جاکر چین سے زندگی بسر کروں گا۔\n\nاس خیال میں ڈوبا ہوا تھا اور آسمان کے تاروں کو گھور رہا تھا، جو یکایک مصری نے کہا، آغا! ہم تو بہت رات گئے مصرمیں پہنچیں گے۔ اور اس مال کے رکھنے میں گھنٹوں کی دیر لگے گی۔ مناسب ہے کہ کچھ کھانا کھالیں۔ میں نے کہا جناب عالی! اس جنگل میں کھانا کہاں سے آیا۔ مصری نے کہا، نہیں نہیں، کھانا موجود ہے۔ میں احتیاطاً ساتھ لیتا آیا تھا۔ لو ذرا اپنے خچر کو میرے پاس لے آؤ۔ جب میرا خچر اس کے خچر کے پاس پہنچ گیا تو مصری نے شیرمال کا چھوٹا سا ایک گردہ میرے حوالہ کیا۔ میں نے سلام کر کے لے لیا، اور ٹکڑا توڑ کر کھایا تو معلوم ہوا کہ بہت نرم اور مزہ دار ہے۔ میں نے ابھی دو چار ہی نوالے کھائے ہوں گے جو میرا سر چکرایا اورمیں خچر پر سے زمین کی طرف جھکا۔ مگر مجھے زمین تک پہنچنے کی خبر نہیں۔ البتہ جب مجھے ہوش ہوا تو میں نے دیکھا صبح کا وقت ہے۔ نہ خچر ہیں نہ مصری ہیں۔ اور میں ننگا دھڑنگا ٹھنڈی ٹھنڈی زمین پر پڑا ہوں اور مجھے مردہ سمجھ کر کوے نے میری ایک آنکھ کھا لی ہے اور دوسری میں ٹھونگیں مار رہا ہے۔\n\nمیں تڑپ کر اٹھ بیٹھا اور ننگا ہی شہر کی طرف چل دیا۔ لوگ مجھے دیوانہ سمجھے۔ ہزار خرابی اور دقت کے ساگھ گھر پہنچا۔ کپڑے پہنے۔ دو تین دن میں جاکر میرے ہوش و حواس ٹھکانے ہوئے اور میں سمجھا کہ اس چالاک نے مجھے شیر مال میں داروئے بے ہوشی دی۔ اور مجھے جنگل میں ڈال کر اس لئے چل دیا کہ میں اس غیبی دولت کا حال کسی سے نہ کہہ سکوں۔ اس بات کو کئی برس گزر لئے ہیں۔ میں ہر وقت جستجو میں رہتا ہوں، مگر آج تک نہ وہ مصری ملا۔ نہ میرے خچر ہی کہیں دکھائی دیے۔ دولت تو گئی بھاڑ چولھے میں، کئی سو روپے لے کے خچر بھی گئے اور ایک آنکھ بھی گئی۔ جب کبھی میرے دل کو وحشت ہوتی ہے تو قبۃ الہرمان کو جاتا ہوں، مگر نہ وہ قبہ مجھے ملتا ہے نہ وہ اندارا ہی دکھائی دیتا ہے۔\n\nاس کے بعد شیخ نے فرمایا کہ ہم نے اس سے بھی زیادہ عجیب قصہ قبۃ الہرمان کے متعلق قاہرہ میں یہ سنا کہ اسلامی حکومت سے پہلے اس شہر میں دو بھائی رہتے تھے جو بہت ہی مفلس اور محتاج تھے۔ تابڑ توڑ ان پر فاقے ہوتے تھے اور وہ پڑے سسکا کرتے تھے۔ ایک رات کو وہ فاقہ میں بے ہوش ہو گئے، تو انہوں نے خواب میں دیکھا، ایک شخص بزرگ صورت کہتا ہے، قبۃ الہرمان میں فلانے مقام میں جانا۔ وہاں تمہیں ایک کاغذ ملےگا، اسے اٹھا لینا، جو اس پر لکھا ہوا ہو، تم دونوں عمل کرنا۔ خدا چاہے تو دونوں نہال ہو جاؤگے۔ مگر اتفاق اور میل جول سے رہنا۔ صبح اٹھ کر دونوں بھائیوں نے اپنا اپنا خواب سنایااور انہیں یقین ہو گیا کہ یہ غیبی اشارہ ہے۔ ہرمان کو چل دیے اور خاص اسی مقام پر جا کھڑے ہوئے، جس کا پتہ ہاتف نے خواب میں دیا تھا۔ ادھر ادھر دیکھا تو چھوٹا سا کاغذ کا پرزہ زمین پر پڑا ہوا، ہو اسے ہل رہا ہے۔ دونوں بھائیوں نے جھٹ اسے اٹھا لیا۔ اس میں لکھا تھا،\n\nاے طالبو! تم جس قبہ کے نیچے کھڑے ہو، اس کے پچھم کی طرف سات قدم گن کر زمین کھودو، تمہیں وہاں سے دو چیزیں عجیب و غریب ملیں گی، ان میں یہ یہ اعجاز ہوں گے۔ تمہیں ان سے بہت فائدہ پہنچےگا اور تم بڑے امیر ہوجاؤگے۔ کاغذ کو پڑھ کر ایک بھائی وہیں بیٹھ گیا اور ایک بھائی شہر کو گیا، اور کدال پھاوڑہ اور ایک ٹوکری لے آیا۔ سات قدم گن کر اس مقام کو کھودنا شروع کیا۔ دو گز نیچے لوہے کا بہت بڑا صندوق دکھائی دیا، جس میں مضبوط قفل لگا ہوا تھا۔ خدا جانے کب سے صندوق زمین میں دفن تھا مگر زنگ کا نام تک نہ تھا۔ انہوں نے قفل کو ہاتھ لگایا تو بے کنجی کے قفل کھل گیا۔ صندوق کے اندر ایک چھوٹا صندوقچہ رکھا ہوا تھا۔ صندوقچہ میں قفل تھا۔ اور قفل کی کنجی صندوق کے اندر رکھی تھی۔ کنجی سے قفل کھول کر صندوقچہ کا ڈھکنا اٹھایا تو دیکھا، اس میں کسی دھات کا بنا ہوا ایک گلاس ہے، جس میں اندازاً آدھ سیر پانی آسکتا تھا اور سونے کی موٹی سی ایک ٹکیہ رکھی ہے، جس کا وزن بھی کوئی آدھ سیر ہی ہوگا۔\n\nان دونوں چیزوں کو دیکھ کر دونوں بھائی پھولے نہ سمائے اور انہیں صندوقچہ میں سے نکال رومال میں باندھ لیا۔ صندوقچہ میں قفل لگا کر کنجی جہاں رکھی تھی، وہیں رکھ دی۔ صندوق کو بند کیا۔ اس کنڈہ میں قفل ڈالا ہی تھا، جو آپ ہی آپ قفل لگ گیا۔ صندوق کے اوپر مٹی ڈال کر جگہ برابر کر دی اوربھاگا بھاگ شہر کو آئے۔ کاغذ کو پھاڑ کر پھینک دیا، تاکہ کسی اور کے ہاتھ نہ جائے۔ بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی سے کہا کہ اس ٹکیہ کا تیا پانچہ بازار میں ہی کرتے چلو۔ چھوٹے نے کہا ٹھیک ہے۔ صراف کی دوکان پر پہنچ کر ٹکیہ دکھائی۔ صراف نے کہا واہ واہ! یہ طلائے شدادی آپ کے ہاتھ کہاں سے لگا۔ ایسا سونا دکھائی بھی نہیں دیتا ہے۔ انہو ں نے کہا ہمارے بزرگوں کے وقت سے ہمارے پاس چلا آتا ہے۔ ضرورت کے مارے بیچنے آئے ہیں۔ تمہیں لینا ہے تو لو، نہیں کسی اور صراف کو دے دیں گے۔\n\nصراف نے کہا، نہیں جناب! میں ڈیوڑھی قیمت دینے کو تیار ہوں اور فوراً روپیہ حساب لگا کر ان کے حوالہ کئے اور ٹکیہ لے لی۔ دونوں بھائی خوش خوش گھر آئے۔ روپیہ کی تھیلی کھولی تو اس میں سونے کی ٹکیہ بھی نکلی۔ ایک بھائی نے دوسرے سے کہا تو نے یہ کیا غضب کیا کہ ٹکیہ صراف کی آنکھ بچا کر اٹھالی۔ اب صراف کوتوالی کے سپاہی لے کر آئےگا اور ہمیں تمہیں پکڑوائےگا۔ دوسرے نے کہا آپ کیا کہتے ہیں۔ صراف نے سونے کی ٹکیہ بڑی احتیاط سے اپنے صندوقچہ میں رکھ لی تھی۔ نہ میں لایا نہ میں لا سکتا تھا۔ نہ میرے دل میں بے ایمانی کا خطرہ تھا۔ ہو نہ ہو ٹکیہ میں یہی جوہر معلوم ہوتا ہے کہ بازار میں بک کر پھر مالک کے پاس پلٹ کر آتی ہے۔ لاؤ اسے پھر بیچ آؤں۔ اب کے اچھی طرح حال کھل جائےگا۔ یہ بات دوسرے بھائی کی سمجھ میں آ گئی۔ پہلا روپیہ گھر رکھ کر سونے کی ٹکیہ دوسرے صراف کے ہاتھ بیچ کر اور روپیہ تھیلی میں رکھ کر جب گھر آئے تو معلوم ہوا کہ یہ تھیلی میں آ گئی ہے۔ جب اس کاتجربہ انہیں کئی بار ہو گیا تو وہ ٹکیہ کو بازار میں بہت کم پہنچاتے تھے کہ مبادا یہ بھید کھل جائے اور ہم پکڑے جائیں۔\n\nاس گلاس کا یہ طلسم نکلا کہ دریائے نیل کا پانی اس میں بھرتے ہی انگوری شراب بن جاتی تھی، اور شراب بھی خالص تندتیز۔ ان دونوں بھائیوں نے دریائے نیل کے کنارہ پر موقع سے ایک بہت بڑی عمارت بنوائی۔ اور شراب فروشی کی دوکان کھول دی اور ہر روز ہزاروں روپیہ کو دریائے نیل کا پانی بیچتے تھے اور سب شراب فروشوں سے سستا بیچتے تھے۔ اور دوکاندار ان کے ہاتھوں سے برباد ہو گئے۔ ان کے دیوالے نکل گئے۔ انہوں نے چھان بین کی۔ جب انہیں کوئی بھید نہیں کھلا تو بادشاہ سے فریاد کی کہ عجب معاملہ ہے۔ ان دونوں بھائیوں کے یہاں نہ انگور آتے ہیں نہ کھجوریں۔ نہ تاڑی نہ سسیندھی، نہ ان کے یہاں کوئی بھٹی ہے۔ نہ یہ شراب بناتے ہیں مگر تمام ملک مصر سے اچھی شراب سستی بیچتے ہیں اور دنیا کو لوٹے کھاتے ہیں۔ تحقیق کی جائے، کہیں جادوگر تو نہیں ہیں۔\n\nبادشاہ مصر کے کان میں پہلے بھی کچھ اڑتی سی خبر پہنچی تھی۔ شراب بیچنے والوں کی واویلا سے زیادہ خیال ہوا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ کہنے والے سچ کہتے ہیں۔ حکم ہوا دونوں بھائیوں کو حاضر کرو۔ دونوں بھائی چارو ناچار دربار میں آئے۔ بادشاہ نے فرمایا سچ سچ حال کہہ دو۔ نہیں تو تمہارے سر تن سے جدا کرا دوں گا۔ موت کے ڈر سے دونوں نے جو بھید تھا، کھول دیا۔ بادشاہ نے دونوں چیزیں منگواکر ان کی آزمائش کی۔ اوربیان کے موافق ٹھیک پاکر دونوں اپنے جواہر کے صندوقچہ میں بند کر کے اور قفل لگا کر صندوقچہ خزانچی کے حوالہ کیا۔ کنجی اپنے پاس رکھ لی اور دونوں بھائیوں سے کہا، تم ہمیں وہ قبہ چل کر بتاؤ، جس کے پاس وہ صندوق آہنی دفن ہے۔ کیا عجب ہے کہ اس صندوق کے اندرون اور زیادہ کوئی انوکھی شے امانت ہو، اور ہمارے ہاتھ لگے۔\n\nدونوں بھائی بادشاہ کو لے کر قبہ کے پاس پہنچے۔ مگرنہ وہ قبہ ملا نہ اس جگہ کا پتہ لگا۔ بادشاہ نے واپس آکر ان سے کہا، تم دونوں بھائیوں نے ٹکیہ اور گلاس سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ اب اسی پر قناعت کرو۔ یہ دونوں چیزیں تمہیں اب نہیں مل سکتیں۔ دونوں بھائی بادشاہ کی جان کو صبر کر کے گھر چلے آئے۔ ایک دن بادشاہ نے خزانہ میں سے جواہر کا صندوقچہ منگایا۔ پہلے اس کے قفل کی مہر توڑی، پھر قفل کھول کر چاہا کہ ٹکیہ اور گلاس کو نکالے، مگر دونوں چیزیں اندر ہی اندر غائب تھیں۔ بادشاہ ہاتھ ملتا رہ گیا۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%B7%D9%84%D8%B3%D9%85"} {"title": "دنیا کا چلن ترک کیا بھی نہیں جاتا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا کا چلن ترک کیا بھی نہیں جاتا\nاس جادۂ باطل سے پھرا بھی نہیں جاتا\n\nزندان مصیبت سے کوئی نکلے تو کیونکر\nرسوا سر بازار ہوا بھی نہیں جاتا\n\nدل بعد فنا بھی ہے گراں بار امانت\nدنیا سے سبک دوش اٹھا بھی نہیں جاتا\n\nکیوں آنے لگے شاہد عصمت سر بازار\nکیا خاک کے پردے میں چھپا بھی نہیں جاتا\n\nاک معنی بے لفظ ہے اندیشۂ فردا\nجیسے خط قسمت کہ پڑھا بھی نہیں جاتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%DA%86%D9%84%D9%86_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "دنیا کرتی ہے آدمی کو برباد", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا کرتی ہے آدمی کو برباد\nافکار سے رہتی ہے طبیعت ناشاد\nدو چیزیں ہیں بس محافظ دل کی\nعقبیٰ کا تصور اور اللہ کی یاد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF"} {"title": "دنیا کو تو ہے گلشن و گل زار سے مطلب", "poet_page": "مصنف:قمر ہلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل > بیاض عاشقان (1916)", "year": "1916", "text_ur": "دنیا کو تو ہے گلشن و گل زار سے مطلب\nاور مجھ کو فقط یار کے دیدار سے مطلب\n\nفردوس کی خواہش ہے نہ گلزار سے مطلب\nہے ہم کو سدا کوچۂ دل دار سے مطلب\n\nہر آبلہ پا یہی کہتا ہے کہ مجھ کو\nصحرائے مدینہ کے ہے ہر خار سے مطلب\n\nزاہد کو اگر طاق مساجد کی طلب ہے\nعشاق کو ہے ابروئے خم دار سے مطلب\n\nمحبوب الٰہی مرے خواجہ کے ہیں محبوب\nتجھ کو بھی قمرؔ ہے اسی سرکار سے مطلب", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%88_%DA%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8"} {"title": "دنیا کو نہ تو قبلۂ حاجات سمجھ", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا کو نہ تو قبلۂ حاجات سمجھ\nجز ذکر خدا سب کو خرافات سمجھ\nاک لمحہ کسی مرد خدا کی صحبت\nآ جائے میسر تو بڑی بات سمجھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D9%82%D8%A8%D9%84%DB%82_%D8%AD%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D8%AA_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE"} {"title": "دنیا کو ولولہ دل ناشاد سے ہوا", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا کو ولولہ دل ناشاد سے ہوا\nیہ طول اس خلاصۂ ایجاد سے ہوا\n\nفصل جنوں میں سینہ و ناخن کو میرے دیکھ\nکیا بے ستوں پہ تیشہ فرہاد سے ہوا\n\nرحمت نے بڑھ کے سرد جہنم کو کر دیا\nکیسا قصور یہ دل ناشاد سے ہوا\n\nخوش ہوں میں وقت نزع خوشا لذت فراغ\nجو کچھ ہوا وہ آپ کے ارشاد سے ہوا\n\nیہ ہے حقیقت عدم و عالم وجود\nوہ خامشی سے یہ مری فریاد سے ہوا\n\nنا واقف رسوم محبت ہے کوئی چیز\nانساں عزیزؔ شیوۂ فریاد سے ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D9%88%D9%84%D9%88%D9%84%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "دنیا کی جستجو تو ہم سے نہ ہو سکے گی", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا کی جستجو تو ہم سے نہ ہو سکے گی\nیہ منت آرزو تو ہم سے نہ ہو سکے گی\n\nگو شام سے سحر تک روئے ہے اور جلے ہے\nیہ شمع دو بدو تو ہم سے نہ ہو سکے گی\n\nبہتیری غائبانہ کرتے رہیں شکایت\nپر اس کے رو بہ رو تو ہم سے نہ ہو سکے گی\n\nمے خانۂ جہاں میں گزران شیخ صاحب\nبے جام و بے سبو تو ہم سے نہ ہو سکے گی\n\nکیا پوچھتا ہے ؔجوشش تعریف اس دہن کی\nکچھ اس میں گفتگو تو ہم سے نہ ہو سکے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B3%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد\nاب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد\n\nمیں شکوہ بلب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یاد\nشاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد\n\nچھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے\nاب تک ہے وہ اک نغمۂ بے ساز و صدا یاد\n\nجب کوئی حسیں ہوتا ہے سرگرم نوازش\nاس وقت وہ کچھ اور بھی آتے ہیں سوا یاد\n\nکیا جانئے کیا ہو گیا ارباب جنوں کو\nمرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد\n\nمدت ہوئی اک حادثۂ عشق کو لیکن\nاب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد\n\nہاں ہاں تجھے کیا کام مری شدت غم سے\nہاں ہاں نہیں مجھ کو ترے دامن کی ہوا یاد\n\nمیں ترک رہ و رسم جنوں کر ہی چکا تھا\nکیوں آ گئی ایسے میں تری لغزش پا یاد\n\nکیا لطف کہ میں اپنا پتہ آپ بتاؤں\nکیجے کوئی بھولی ہوئی خاص اپنی ادا یاد", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "دنیا کے لئے ہیں سب ہمارے دھندے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا کے لئے ہیں سب ہمارے دھندے\nظاہر طاہر ہیں اور باطن گندے\nہیں صرف زبان سے خدا کے قائل\nدل کی پوچھو تو خواہشوں کے بندے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AF%DA%BE%D9%86%D8%AF%DB%92"} {"title": "دنیا کے ہر ایک ذرے سے گھبراتا ہوں", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا کے ہر ایک ذرے سے گھبراتا ہوں\nغم سامنے آتا ہے جدھر جاتا ہوں\nرہتے ہوئے اس جہاں میں مدت گزری\nپھر بھی اپنے کو اجنبی پاتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B0%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "دنیا ہے عجب بو قلموں ضد آموز", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دنیا ہے عجب بو قلموں ضد آموز\nہر شکل موافق ہے مخالف اندوز\nیاں دست و گریباں ہیں درد و درماں\nہر سوز میں ہے ساز تو ہر ساز میں سوز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%A8%D9%88_%D9%82%D9%84%D9%85%D9%88%DA%BA_%D8%B6%D8%AF_%D8%A2%D9%85%D9%88%D8%B2"} {"title": "دنیائے حسن و عشق میں کس کا ظہور تھا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیائے حسن و عشق میں کس کا ظہور تھا\nہر آنکھ برق پاش تھی ہر ذرہ طور تھا\n\nمیری نظر کی آڑ میں ان کا ظہور تھا\nاللہ ان کے نور کا پردہ بھی نور تھا\n\nتھی ہر تڑپ سکون کی دنیا لیے ہوئے\nپہلو میں آپ تھے کہ دل ناصبور تھا\n\nہم کشتگان غم پہ یہ الزام زندگی\nبے مہر کچھ تو پاس حقیقت ضرور تھا\n\nبالیں پہ تم جب آئے تو آئی وہ موت بھی\nجس موت کے لیے مجھے جینا ضرور تھا\n\nتھی ان کے روبرو بھی وہی شان اضطراب\nدل کو بھی اپنی وضع پہ کتنا غرور تھا\n\nلطف حیات بے خلش مدعا کہاں\nیعنی بقدر تلخئ صہبا سرور تھا\n\nاٹھ کر چلے تو حشر بھی اٹھنا تھا کیا ضرور\nان کی گلی سے مدفن فانیؔ تو دور تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دنیائے غم کو زیر و زبر کر سکے تو کر", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دنیائے غم کو زیر و زبر کر سکے تو کر\nرحمت کی مجھ پہ ایک نظر کر سکے تو کر\n\nاے دل تو ایسی آہ اگر کر سکے تو کر\nدنیا ادھر کی آج ادھر کر سکے تو کر\n\nاے آہ برق ریز تجھے روکتا ہے کون\nاس بے خبر کو میری خبر کر سکے تو کر\n\nمشہور ہے کہ عشق کی راہیں ہیں خوفناک\nہمت سے پہلے پوچھ سفر کر سکے تو کر\n\nعارض ہیں تیرے زلفیں بھی تیری کسی سے کیا\nاک جا پہ جمع شام و سحر کر سکے تو کر\n\nناداں حدیث عشق کے معنی کچھ اور ہیں\nقابو میں دل کو اپنے اگر کر سکے تو کر\n\nاے آہ تو ہی حوصلہ اپنا نکال لے\nاس سنگ دل کے دل پہ اثر کر سکے تو کر\n\nعالمؔ جہان عشق کہ دشواریاں نہ پوچھ\nدل کو جو راز دار جگر کر سکے تو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%B2%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دو جہاں کو نگہ عجز سے اکثر دیکھا", "poet_page": "مصنف:عبد الہادی وفا", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وفا (1923)", "year": "1923", "text_ur": "دو جہاں کو نگہ عجز سے اکثر دیکھا\nہم نے امید کو حرماں کے برابر دیکھا\n\nطالع بے ہنری اوج فلک پر دیکھا\nجس جگہ وہم نہ پہونچا تھا وہاں سر دیکھا\n\nاس برے وقت میں بھی لاکھ سے اچھا ہوں میں\nمیں نے معشوق کے پردہ میں مقدر دیکھا\n\nکیا کہوں قصۂ دلچسپیٔ حال ابتر\nدوستوں نے مجھے اغیار سے بڑھ کر دیکھا\n\nاے اجل خوب بتایا وہ قیامت ہوگی\nجس کے آغوش میں تو نے دل مضطر دیکھا\n\nبیکس ہائے تمنا نے سلایا ہے مجھے\nپھر نہ جاگوں گا اگر خواب میں محشر دیکھا\n\nیار جب پردہ نشیں ہے تو کہاں کا پردہ\nپردہ یہ ہے کہ اسے پردہ سے باہر دیکھا\n\nپاؤں پھیلائے ہیں بے جا ہوس دنیا نے\nہم نے دنیا ہی کو لپٹا ہوا بستر دیکھا\n\nاس کھلے ظلم نے سب کھول دیے ہیں پردے\nہم نے دیکھا تجھے سو بار ستم گر دیکھا\n\nٹپکا پڑتا ہے رگ شوق سے خون حسرت\nکیا وفاؔ دست قضا میں کوئی نشتر دیکھا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DA%AF%DB%81_%D8%B9%D8%AC%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دو دموں سے ہے فقط گور غریباں آباد", "poet_page": "مصنف:تعشق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دو دموں سے ہے فقط گور غریباں آباد\nتم ہمیشہ رہو اے حسرت و ارماں آباد\n\nتجھ سے اے درد ہے قصر دل ویراں آباد\nکیا سرافراز کیا خانہ ویراں آباد\n\nجس جگہ بیٹھ کے روئے وہ مکاں ڈوب گئے\nشہر ہونے نہیں دیتے ترے گریاں آباد\n\nقیس و فرہاد کے دم سے بھی عجب رونق تھی\nکچھ دنوں خوب رہے کوہ و بیاباں آباد\n\nوحشت دل یہ بڑھی چھوڑ دیئے گھر سب نے\nتم ہوے خانہ نشیں ہو گئیں گلیاں آباد\n\nآمد قافلۂ درد و الم ہے صد شکر\nآج ہوتی ہے سرائے دل ویراں آباد\n\nمٹ گئے داغ جگر حسن رخ یار گیا\nکل کی ہے بات کہ تھا کیا یہ گلستاں آباد\n\nتیرے دیوانوں کے جس دشت سے اٹھے بستر\nوحشیوں سے نہ ہوا پھر وہ بیاباں آباد\n\nصورت شمع ہوا خاک بدن جل جل کر\nہم نے تربت بھی نہ کی اے شب ہجراں آباد\n\nصحبتیں ہو گئیں برباد گل انداموں کی\nخاک اڑتی ہے وہاں تھے جو گلستاں آباد\n\nسینہ و دل میں خوشی سے نہ جگہ تھی غم کی\nاے تعشقؔ یہ مکاں بھی تھے کبھی ہاں آباد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88_%D8%AF%D9%85%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%81%D9%82%D8%B7_%DA%AF%D9%88%D8%B1_%D8%BA%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"} {"title": "دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی\nصحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی\n\nواشد کچھ آگے آہ سی ہوتی تھی دل کے تئیں\nاقلیم عاشقی کی ہوا اب بگڑ گئی\n\nگرمی نے دل کی ہجر میں اس کے جلا دیا\nشاید کہ احتیاط سے یہ تب بگڑ گئی\n\nخط نے نکل کے نقش دلوں کے اٹھا دیئے\nصورت بتوں کی اچھی جو تھی سب بگڑ گئی\n\nباہم سلوک تھا تو اٹھاتے تھے نرم گرم\nکاہے کو میرؔ کوئی دبے جب بگڑ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88_%D8%AF%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%D9%86%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B4%D8%A8_%D8%A8%DA%AF%DA%91_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دو رنگی خوب نئیں یک رنگ ہو جا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دو رنگی خوب نئیں یک رنگ ہو جا\nسراپا موم ہو یا سنگ ہو جا\n\nتجھے جیوں غنچہ گر ہے درد کی بو\nلہو کا گھونٹ پی دل تنگ ہو جا\n\nکہا کس طرح دل نے تجھ کوں اے غم\nکہ دل کی آرسی پر زنگ ہو جا\n\nیہی آہوں کے تاروں میں صدا ہے\nکہ بار غم سیں خم جیوں چنگ ہو جا\n\nدعا ہے اے رہ غم طول عمر کا\nقدم پر ہے تو سو فرسنگ ہو جا\n\nگلے میں ڈال رسوائی کی الفی\nالف کھنچ آہ کا بے ننگ ہو جا\n\nبرہ کی آگ میں ثابت قدم چل\nسراجؔ اب شمع کا ہم رنگ ہو جا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D9%86%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DA%A9_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "دو شہزادے جیل خانے میں", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "میرزا تیغ جمال کی عمر اب اسی برس کی ہے۔ غدر ۱۸۵۷ء میں وہ انیس برس کے گبرو جوان تھے اور ان کو غدر سے پہلے کی باتیں ایسی یاد ہیں جیسے ابھی کل کی گذری ہوئی حالت کو بیان کیا کرتے ہیں۔\n\nتیغ جمال میرزا فخر و ولی عہد دوم کے لڑکے ہیں۔ میرزا دارا بخت بہادر شاہ کے پہلے ولی عہد تھے، لیکن جب ان کا انتقال ہوگیا تو میرزا فخر و ولی عہد قرار پائے۔ میرزا فخر و بہت دین دار اور متقی شہزادے تھے۔ اگر دہلی کا تخت باقی رہتا تو یہ ہندوستان کے بہت ہی نیک بادشاہ مانے جاتے، مگر جوانی کے دیوانہ پن میں بڑے بڑے پارساؤں کا قدم ڈگمگا جاتا ہے۔ میرزا فخر و تو پھر بادشاہ ہند کے بیٹے اور ولی عہد تھے جن کو شباب کی آنکھ مچولیاں کرنے میں کسی کا خوف و لحاظ نہ تھا۔ اس کے علاوہ اس زمانہ میں لال قلعہ خانگی بد چلنی میں اس قدر بدنام تھا جس کی کچھ حد نہیں۔ پھر اگر مرزا فخرو سے کوئی غلطی ہوگئی اور وہ جوش شباب کی مستی کو روک نہ سکے تو کچھ زیادہ گرفت کے قابل نہیں سمجھا جائے گا۔ میرزا تیغ جمال اسی پہلی اور خفیہ مگر نہایت دلچسپ غلطی کا نتیجہ ہیں۔ ان کے بعد ان کی والدہ سے پھر کوئی اولاد نہیں ہوئی اور میرزا فخر و کی دوسری اولاد میرزا فرخندہ جمال وغیرہ ان کی نکاحتہ بیوی سے ہے اور یہی وجہ ہے کہ برٹش گورنمنٹ نے بڑی پنشن کا حقدار میرزا فرخندہ جمال کو قرار دیا، جن کو ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار ملتا ہے اور تیغ جمال کو پانچ روپے پنشن بھی نہ ملی۔ تیغ جمال عجب زندہ دل اور خوش طبع شہزادے ہیں۔ ان کو پنشن نہ ملنے اور شہزادہ مشہور نہ ہونے کا ذرا بھی غم نہیں اور وہ اپنے والدین کے خفیہ تعلقات کو اس لطف سے بیان کرتے ہیں گویا ان کا اس عشق بازی کے نتیجہ سے کچھ ذاتی واسطہ ہی نہیں ہے، حالانکہ وہ اس چھپی ہوئی اور لال قلعہ کی بیگمات میں نہایت مبالغہ آمیز کیفیات کے ساتھ مشہور عشق بازی کا بولتا ہوا حاصل مقصد ہیں۔ تیغ جمال کہتے ہیں، ’’اماں جان کی عمر سولہ برس کی تھی اور ابا جان تیرہ برس سے کچھ مہینے زیادہ کا سن رکھتے تھے، جب یہ عشق بازی شروع ہوئی تھی۔‘‘ پوچھا جائے کہ جناب تیرہ برس کا بچہ سولہ برس کی عورت سے کیونکر محبت کر سکتا ہے تو سنجیدہ صورت بنا کر کہہ دیتے ہیں، ’’جس طرح اسی برس کا بڈھا سولہ برس کی کی سن کی عورت سے محبت کا دم بھرا کرتا ہے۔ ہم مغلوں میں بچے بہت جلدی جوان ہو جاتے تھے۔ لڑکیاں تو بعض اوقات دس اور گیارہ سال کی عمر میں نمودِ شباب کا اعلان کر دیتی تھیں اور لڑکے بھی بارہ تیرہ برس کے سن میں عشق و محبت اور اس کے نتائج پر غور و عمل کرنے لگتے تھے۔ میں خود بارہ برس کا تھا تو آج کل کے اٹھارہ سالہ جوانوں سے زیادہ جذبات اپنے اندر پاتا تھا۔‘‘ تیغ جمال نے کہا، ’’اماں جان ایک کہار کی لڑکی تھیں۔ نانی اماں کو محل کی کہاریوں میں سب سے دیدار و کہاری کہا جاتا تھا، جو حضرت اکبر شاہ ثانی کی نظر کردہ تھیں، مگر جو حسن اور جو غمزدہ ہائے جان ستان اماں جان رکھتی تھیں، وہ نانی اماں کے خواب و خیال میں بھی نہ گذرے ہوں گے۔ ہونے کو تو اماں جان بھی محل شاہی کی نوکر تھیں، مگر ان کا قیام اکثر خانم کے بازار میں رہتا تھا، جہاں نانی اماں، نانا ابا اور ہماری ننھیال کے سب کہار رہتے تھے۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ ابا جان ڈیوڑھی کے داروغہ کے ساتھ اپنی کمان درست کرانے خانم کے بازار چلے گئے۔ وہاں انہوں نے کہیں اماں جان کو دیکھ لیا اور اسی وقت ہزار جان سے عاشق ہوگئے۔ گھر آئے تو اٹواٹی کھٹواٹی لے کر پڑگئے اور رونا شروع کیا۔ ہر چند لوگ پوچھتے تھے کہ میاں مزاج کیسا ہے۔ دادی اماں کہتی تھیں بیٹا کسی نے کچھ کہا ہو، سنا ہو، کوئی بات مرضی کے خلاف ہوئی ہو تو مجھے بتاؤ۔ میں اس کا تدارک کروں، مگر یہ تو عشق کے ستائے ہوئے تھے، ایک بات منہ سے نہ کہتے تھے اور چپ چاپ پڑے روتے تھے۔ آخر رفتہ رفتہ یہ بات کھل گئی اور محل میں اس کے مذاق اور چرچے ہونے لگے۔ بیگمات ابا جان کو چھیڑنے لگیں اور ہمسن لڑکوں میں بھی اشارہ بازیاں اور آوازہ کشیاں شروع ہوگئیں۔ رفتہ رفتہ نانی اماں کو خبر ہوئی تو انہوں نے اماں جان کو محل میں بلا لیا اور دادی اماں کی ڈیوڑھی پر حاضری لکھوا دی، مگر ابا جان کی حالت یہ تھی کہ باوجود اس سر انجام خاص کے وہ اماں جان سے بات کرتے ہوئے شرماتے تھے۔ اماں جان کبھی اکیلے مل جاتیں تو ہنس کر ابا جان کا ہاتھ پکڑ لیتیں اور کہتیں صاحب عالم آپ غمگین کیوں رہتے ہیں، تو ابا جان ہاتھ چھڑا کر بھاگ جاتے اور اماں جان کی طرف مخاطب نہ ہوتے۔‘‘ بظاہر یہ حالات تھے، اندر کی خبر نہیں کیا ہوا اور میرزا تیغ جمال کیوں کر پیدا ہوگئے۔ میرزا تیغ جمال کا بیان ہے کہ ان کی پیدائش کے وقت اماں سترہ برس کی اور ابا چودہ ساڑھے چودہ سال کے تھے۔ ’’دادی اماں نے بہت چاہا کہ اب اس کہاری کے ہاں میرا پوتا پیدا ہوگیا ہے، یہ محل میں بیگمات کی طرح رہے، مگر نانی اماں نے اس کو قبول نہ کیا اور اماں جان پھر وہیں خانم کے بازار میں رہنے لگیں۔ میرزا تیغ جمال چھ برس کے ہوئے تب وہ لال قلعہ میں اپنے باپ کے پاس آکر رہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’بھائی ہم کہار ہیں ننھیال کی طرف سے اور بادشاہ ہیں ددھیال کے رشتہ سے۔ وہاں بھی انسانوں کا بوجھ اٹھاتے تھے اور یہاں بھی۔ ہماری برابری کون اس دنیا میں کر سکتا ہے کہ ہماری زندگی خدا کے بندوں کے بوجھ اٹھانے اور خدمت خلق کرنے میں بسر ہوتی ہے۔‘‘ غدر کے بیس برس بعدمیرزا تیغ جمال کہتے ہیں، ’’غدر کے ایام میں اپنی والدہ کے ساتھ دہلی سے بھاگ کر ہم شاہجہاں پور چلے گئے تھے، جہاں ہماری ننھیال کا قدیمی کنبہ رہتا تھا۔ قلعہ کی افرا تفری دیکھ کر میں نے شہزادوں کا ساتھ چھوڑ دیا اور اماں کے پاس چلا گیا، کیونکہ شہزادوں کی زندگی اس زمانہ میں دوکوڑی کے برابر بھی نہ تھی۔ مجھ کو جان کی خیر اسی میں نظر آئی کہ کہاروں میں جاکر رہوں اور کہار کہلاؤں۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ’’اماں جان کے پاس اتنی دولت تھی کہ ہم نے شاہجہاں پور میں جاکر ایک دکان کر لی اور بیس بر س بڑے عیش و آرام سے گزرے۔ میں حلوائی کی دکان کرتا تھا۔ ایک دن کسی پٹھان نے مٹھائی کی خرابی بیان کر کے مجھ کو گالی دی۔ میں شاہی خون کا مغل۔ گالی کی برداشت کیوں کر کرتا۔ لوہے کا کھپچہ اٹھا کر پٹھان صاحب کے مارا جس سے وہ چکرا کر گر پڑے اور پانچ منٹ کے اندر تڑپ کر مر گئے۔ میں پکڑا گیا اور مدتوں مقدمہ اور حوالات کا جھمیلہ برداشت کر کے چودہ برس کی قید کا سزا وار بنا۔‘‘ بیلی کا جیل خانہ’’پہلے دن جب میں جیل خانہ کے اندر داخل ہوا تو مجھے ذرا بھی پریشانی اور غم اپنے قید ہونے کا نہ تھا، کیونکہ شرو ع سے ہر وقت خوش اور بے فکر رہنے کی عادت تھی اور غم کبھی میرے پاس نہ آنے پاتا تھا۔ قید کا حکم سننے کے بعد بھی خوش رہا اور جب اماں جان ملنے آئیں اور رونے لگیں تو میں نے ہنس کر کہا، ’’اے بی! تم روتی کیوں ہو۔ دکان میں اتنی مٹھائی چھوڑ کر آیا ہوں جو کئی مہینے تک کھاتی رہوگی۔‘‘ اماں جا ن بولیں، ’’ بس تجھ کو ہر وقت مسخرہ پن سوجھتا ہے۔ میرا کون وارث ہے جو چودہ برس تک خبر گیری کرے گا۔ میں نے تو تیرے دم کی بدولت اس پردیس میں بیس برس گذرا دیے، ورنہ دلی کی سی اس گاؤں میں بات کہاں۔‘‘ میں نے جواب دیا، ’’جب ابا جان کا سارا خاندان تباہ ہوگیا اور بڑی حویلیاں خاک میں مل گئیں اور ہمارے شہزادے بھائی تخت سے تختہ پر آگئے تو ہم کس گنتی میں ہیں۔ چودہ سال کی بات ہی کیا ہے۔ پلک مارتے گذر جائیں گے اور میں تمہارے پاس آجاؤں گا۔ ذرا میری بیوی کا خیال رکھنا۔ اس کا دل تمہاری بد مزاجی سے میلا نہ ہو۔ تم ملکہ کا سامزاج رکھتی ہو اور وہ بچاری محض ایک کہاری ہے۔ مہربانی کر کے اس پر شاہانہ مزاج ظاہر نہ کرنا۔‘‘ اماں جان یہ گفتگو سن کر ہنسنے لگیں اور یہ کہتی ہوئی چلی گئیں، ’’خبر نہیں تو اتنا بےغیرت اور ڈھیٹ کیوں ہے۔ خیر جا خدا کے سپرد کیا۔‘‘ ’’جس وقت جیل کے کپڑے پہننے کو دیے گئے تو میں نے مذاق سے کہا، ’’اس جانگیہ کو رہنے دیجئے۔ مجھ کو اپنا پائجامہ اس سے زیادہ پیارا ہے۔‘‘ یہ گفتگوبر قنداز جیل کو کب گوارا ہوسکتی تھی۔ اس نے دو تین ڈنڈے رسید کیے اور کہا، ’’یہ تمہاری نانی اماں کا گھر نہیں ہے، جو دل لگی کی باتیں کرتے ہو۔‘‘ میں نے ڈنڈے کھا کر بھی ہنسی کا جواب دیا کہ’’بھائی نانی اماں کا گھر خانم بازار میں تھا اور وہ محلہ کے ساتھ کھود کر برابر کر دیا گیا۔ دادی اماں کا گھرلال قلعہ میں تھا۔ اس میں اب گورے رہتے ہیں۔ میں تو اس کو سسرال کا گھر سمجھ کر آیا تھا۔ وہاں جوتیاں تو مارا کرتے ہیں، ڈنڈے کبھی نہیں سنے۔ تم میرے سالے ہو یا سسرے۔‘‘ ’’برقنداز آگ بگولا ہو گیا اور اس نے دو تین آدمیوں کی امداد سے مجھ کو اتنا مارا کہ میں بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ ہوش آیا تو ایک کوٹھری کے اندر لیٹا تھا اور بر قند از سامنے کھڑا تھا۔ میں نے کہا، ’’جناب مارنے کا شگون ہو چکا۔ اب اپنی بہن کو یہاں لائیے جو مجھ کو کھانا دے اور ہلدی چونہ چوٹ پر لگائے۔‘‘ برقنداز کو بے اختیار ہنسی آگئی اور اس نے کہا، ’’تم آدمی ہو یا پتھر۔ کسی بات کا تم پراثر نہیں ہوتا۔ میاں یہ جیل خانہ ہے۔ یہاں یہ خوش مذاقیاں قائم نہیں رہ سکتیں۔ تم کو چودہ برس گذارنے ہیں۔ سیدھے ہوکر رہو گے تو خیر ہے ورنہ پٹتے پٹتے چودہ دن کے اندر مر جاؤ گے۔‘‘ میں نے کہا، ’’مرنے کے بعد بھی آدمی کو قبر کے جیل خانہ میں جانا پڑتا ہے۔ مگر مجھ کو مردہ پر بڑا غصہ آتا ہے کہ وہ کیوں چپ چاپ کفن اوڑھ کر قبر میں چلا جاتا ہے۔ میں تو مرنے کے بعد بھی خاموش نہ رہوں گا اور جو شخص میرے پاس رہے گا، اس کو بھی ایسا بنا دوں گا کہ اگر وہ مرے تو چپکانہ رہے بلکہ ہنستا بولتا قبرمیں جائے۔ اگر تم کو شک ہوتو تم ابھی مر کر دیکھ لو یا کہو تو میں مار ڈالوں۔ برقنداز نے سمجھا یہ کوئی پاگل ہے اور ہنستا ہوا باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد مجھ کو چکی خانہ میں لے گئے جہاں ایک چکی پر دو آدمی کھڑے ہو کر آٹا پیستے ہیں۔ میری چکی کا شریک ایک بڈھا آدمی تھا اور شاید نیا نیا قید ہو کر آیا تھا۔ اس واسطے زار و قطار رو رہا تھا۔ میں نے پہلے تو جھک کر ایک فرشی سلام اس کو کیا اور اس کے بعد بولا، ’’نانا! آپ روتے کیوں ہیں۔ فدوی ایک دو غلی قسم کا آدمی ہے۔ آدھا تیموری شہزادہ اور آدھا کہار اور جب آپ کے ہمراہ چکی کا کام کرے گا تو تیسری شاخ میرے اندر اور لگ جائے گی اور وہ یہ کہ پاؤ بسوریہ۔‘‘ بڑے میاں نے میری بات پر ذرا توجہ نہ کی۔ ان کو اپنی حالت کو اتنا سخت صدمہ تھا کہ آخر مجھ پر بھی اس کا اثر پڑا اور میں نے کہا، ’’آپ بیٹھ جائیے۔ میں اکیلا چکی چلا لوں گا اور آپ کے حصے کا بھی پیس ڈالوں گا۔‘‘ ان حضرت نے اس کابھی جواب نہ دیا، کھڑے روتے رہے۔ لیکن جب برقنداز نےان کی سفید کتری ہوئی داڑھی پکڑ کر ایک طمانچہ مارا اور کہا، ’’بس رو چکا۔ کام کر‘‘ تو بچارے نے آسمان کو دیکھا اور بے اختیار چکی چلانے لگے۔ ان کی اس حالت کا مجھ پر اتنا اثر ہو ا کہ اپنی ساری شوخیاں بھول گیا اور ان کے ساتھ چپ چاپ چکی چلانے لگا۔ کئی روز یہی نوبت رہی۔ میں ہر چند ان سے بات کرتا تھا مگر وہ جواب نہ دیتے تھے اور روتے رہتے تھے۔ آٹھ دن کے بعد انہوں نے اپنی سرگذشت سنائی۔‘‘ شاہ عالم کے پڑپوتے کی داستانمیں میرزا جہانگیر کا بیٹا ہوں جو اکبر ثانی بادشاہ دہلی کے بیٹے، شاہ عالم بادشاہ کے پوتے اور بہادر شاہ کے بھائی تھے۔ جب میرے والد میرزا جہانگیر نے سیٹین صاحب انگریز کے گولی ماری تو اس قصور کے عوض قید ہو کر الہ آباد بھیجے گئے۔ الہ آباد میں انہوں نے ایک عقد کر لیا تھا۔ میری والدہ نظر بندی کے افسر پہرہ دار کی لڑکی تھیں۔ نکاح ہونے کے بعد سے لے کر میرے پیدا ہونے تک والد نے میرے نانا اور والدہ کو اتنی دولت دی کہ سات پیڑی کو کفایت کرتی۔ میری دادی اپنے بیٹے کو دہلی سے برابر جواہرات اور اشرفیاں بھیجا کرتی تھیں اور ان کے پاس دولت کی کچھ کمی نہ تھی۔ میں نے والد کے انتقال کے بعد نانا کے پاس پرورش پائی اور ایسے ناز و نعمت سے پلا کہ شاید دنیا میں کوئی بچہ میری طرح آرام سے نہ ہوگا۔ ہوشیار ہوا تو ہر قسم کی تعلیم مجھ کو دلائی گئی۔ عربی فارسی کی تکمیل کے بعد میں نے کپڑے کی دکان کر لی۔ دن بھر دکان داری، رات کو خدا کی مہربانی سے تھوڑی عبادت و بیداری میں عمر بسر ہوتی تھی۔ چار بچے خدا نے دیے۔ بوڑھی والدہ تک زندہ ہیں۔ ایک روز ایک تھا نہ دار صاحب کچھ کپڑا خرید نے آئے۔ میں نے عادت کے موافق ایک بات قیمت کی کہہ دی۔ انہوں نے حجت شروع کی تو میں نے کہا، ’’جناب! میری دکان پر جھوٹ نہیں بولا جاتا۔‘‘ اس پروہ بدزبان بگڑ کر بولا، ’’بڑا ایماندار بنتا ہے۔ تجھ جیسے ٹھگ میں نے بہت جیل خانہ میں بھجوا دیے ہیں۔‘‘ میں نے کہا، ’’تھانہ دار صاحب زبا ن سنبھال کر بولیے۔ شریفوں کی گفتگو ایسی نہیں ہوا کرتی۔‘‘ اس پر اس کو اتنا غصہ آیا کہ فوراً ایک تھپڑ میرے کلہ پر مارا۔ مجھ میں بھی مغلئی خون تھا۔ جواب میں دو تھپڑ میں نے بھی ماردیے۔ سپاہیوں نے مجھ کو پکڑ لیا اور تھانہ لے گئے۔ وہاں تھانہ دار نے مجھ کو حوالات میں بند کرا کے میرے گھر کی تلاشی کرائی اور چوری کا کپڑا بر آمد کرا کے مقدمہ قائم کر دیا۔ ہر چند میں نے اپنی بے گناہی ظاہر کی اور حکام سے اصلی واقعات کہے، مگر کسی نے نہ سنا اور چھ ماہ قید سخت کا حکم دے دیا۔ میری بیوی اور ضعیف والدہ نے گھر کا سارا اثاثہ فروخت کر کے مقدمہ میں خرچ کر دیا اور وہ بچاریاں مفلس ہو گئیں، لیکن نتیجہ خاک نہ نکلا اور یہاں جیل خانہ میں آنے کی نوبت آگئی۔ سب سے زیادہ مجھے والدہ کا صدمہ ہے جو مجھ سے حوالات میں ملنے آئی تھیں اور میری یہ حالت دیکھ کر آہ کا نعرہ مار کر گر پڑیں اور روح پرواز کر گئی۔ اس وقت میرا بڑا لڑکا، جس کی عمر بارہ سال کی ہے، ان کے ہمراہ تھا۔ وہ گھبرا گیا اور مجھ سے کہنے لگا، ’’ابا! دادی جان مرگئیں۔‘‘ میں چاہتا تھا کہ اماں جان کو جھک کر دیکھوں، مگر ظالم داروغہ کے سپاہی مارکر مجھ کو جیل خانہ میں لے آئے اور والدہ کی لاش وہیں پڑی رہ گئی۔ چلتے وقت میں نے لڑکے کو یہ کہتے سنا، ’’ابا جان! ہم کہاں جائیں۔ اب یہ سپاہی ہم کو بھی ماریں گے۔ دادی جان کو کیونکر گھر لے جائیں۔ تم ذرا ٹھہرو ابا جی ابا جی۔ میں اس غم میں رات دن گھلا جاتا ہوں۔ خبر نہیں بیوی بچوں پر کیا گذرتی ہوگی اور ظالم تھا نہ دار نے ان پر کیسی کیسی زیادتیاں کی ہوں گی۔‘‘ میرزا تیغ جمال نے یہ سن کر ایک قہقہہ لگایا اور کہا، ’’یہ دنیا بھی عجب مقام ہے۔ میری تمہاری ایک سی حالت ہے اور ایک ہی نسل کا تم میں مجھ میں خون ہے۔ مگر تم غم کے تحت الثریٰ میں پڑے ہو اور میں خوشی کے آسمان میں زندگی بسرکرتا ہوں۔ واہ واہ! ایک صورت کا آدمی، ایک کھانا، ایک پہننا، ایک طرح سونا، ایک طرح جاگنا، مگرکسی کو عادت ترسنے تڑپنے کودی، کسی کو ترسانے تڑپانے والا بنایا۔ کوئی ہر وقت مغموم و رنجیدہ رہتا ہے، کوئی صبح سے شام اور شام سے صبح تک سوائے ہنسنے ہنسانے کے کسی غم کے پاس نہیں پھٹکتا۔ بھائی صاحب! قید تم بھی کاٹوگے اور میں بھی کاٹوں گا، تم کو یہ زندگی دو بھر اور اجیرن معلوم ہوگی اور میں اس کو ذرا بھی خاطر نہ لاؤں گا اور مرتے دم تک یوں ہی ہشاش بشاش رہوں گا۔‘‘", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88_%D8%B4%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%92_%D8%AC%DB%8C%D9%84_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دو عالم کے آفات سے دور کر دے", "poet_page": "مصنف:سہا مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دو عالم کے آفات سے دور کر دے\nاک ایسی نظر چشم مخمور کر دے\n\nنصیب محبت ہے اب وہ تمنا\nانہیں جو تغافل سے معذور کر دے\n\nترے قرب کی ہائے یہ شان کیا ہے\nجو ادراک ہستی سے بھی دور کر دے\n\nکوئی کس طرح پائے اس ہم نشیں کو\nجسے جستجو منزلوں دور کر دے\n\nجمال اس کو کہئے کہ پرتو ہی جس کا\nحجابوں کو نور علیٰ نور کر دے\n\nنہ اب ہوش کا بس نہ طاقت جنوں میں\nکہ حال طبیعت بدستور کر دے\n\nسہاؔ جلوۂ شوخ شاداب ان کا\nشباب گلستاں کو بے نور کر دے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%81%D8%A7%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%92"} {"title": "دو قومیں", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "خالی بوتلیں، خالی ڈبے", "year": "1950", "text_ur": "مختار نے شاردا کو پہلی مرتبہ جھرنوں میں سے دیکھا۔ وہ اوپر کوٹھے پر کٹا ہوا پتنگ لینے گیا تو اسے جھرنوں میں سے ایک جھلک دکھائی دی۔ سامنے والے مکان کی بالائی منزل کی کھڑکی کھلی تھی۔ ایک لڑکی ڈونگا ہاتھ میں لیے نہا رہی تھی۔ مختار کو بڑا تعجب ہوا کہ یہ لڑکی کہاں سے آگئی، کیونکہ سامنے والے مکان میں کوئی لڑکی نہیں تھی۔ جو تھیں، بیاہی جا چکی تھیں۔ صرف روپ کور تھی۔ اس کا پلپلا خاوند کالو مل تھا۔ اس کے تین لڑکے تھے اور بس۔\n\nمختار نے پتنگ اٹھایا اور ٹھٹک کے رہ گیا۔۔۔ لڑکی بہت خوبصورت تھی۔ اس کے ننگے بدن پر سنہرے روئیں تھے۔ ان میں پھنسی ہوئی پانی کی ننھی ننھی بوندنیاں چمک رہی تھیں۔ اس کا رنگ ہلکا سانولا تھا، سانولا بھی نہیں۔ تانبے کے رنگ جیسا، پانی کی ننھی ننھی بوندنیاں ایسی لگتی تھیں جیسے اس کا بدن پگھل کر قطرے قطرے بن کر گر رہا ہے۔\n\nمختار نے جھرنے کے سوراخوں کے ساتھ اپنی آنکھیں جما دیں اور اس لڑکی کو،جو ڈونگا ہاتھ میں لیے نہا رہی تھی، دلچسپی اور غور سے دیکھنا شروع کردیا۔ اس کی عمر زیادہ سے زیادہ سولہ برس کی تھی۔ گیلے سینے پر اس کی چھوٹی چھوٹی گول چھاتیاں جن پر پانی کے قطرے پھسل رہے تھے بڑی دل فریب تھیں۔ اس کو دیکھ کر مختار کے دل و دماغ میں سفلی جذبات پیدا نہ ہوئے۔ ایک جوان، خوبصورت اور بالکل ننگی لڑکی اس کی نگاہوں کے سامنے تھی۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ مختار کے اندر شہوانی ہیجان برپا ہو جاتا، مگر وہ بڑے ٹھنڈے انہماک سے اسے دیکھ رہا تھا، جیسے کسی مصور کی تصویر دیکھ رہا ہے۔\n\nلڑکی کے نچلے ہونٹ کے اختتامی کونے پر بڑا سا تل تھا۔۔۔ بے حد متین، بے حد سنجیدہ، جیسے وہ اپنے وجود سے بے خبر ہے، لیکن دوسرے اس کے وجود سے آگاہ ہیں، صرف اس حد تک کہ اسے وہیں ہونا چاہیے تھا جہاں کہ وہ تھا۔بانھوں پر سنہرے روئیں پانی کی بوندوں کے ساتھ لپٹے ہوئے چمک رہے تھے۔ اس کے سر کے بال سنہرے نہیں، بھوسلے تھے جنہوں نے شاید سنہرے ہونے سے انکار کردیاتھا۔ جسم سڈول اورگدرایا ہوا تھا لیکن اس کو دیکھنے سے اشتعال پیدا نہیں ہوتا تھا۔ مختار دیر تک جھرنے کے ساتھ آنکھیں جمائے رہا۔\n\nلڑکی نے بدن پر صابن ملا۔ مختار تک اس کی خوشبو پہنچی۔ سلونے، تانبے جیسے رنگ والے بدن پر سفید سفید جھاگ بڑے سہانے معلوم ہوتے تھے۔ پھر جب یہ جھاگ پانی کے بہاؤ سے پھسلے تو مختار نے محسوس کیا جیسے اس لڑکی نے اپنا بلبلوں کا لباس بڑے اطمینان سے اتار کر ایک طرف رکھ دیا ہے۔غسل سے فارغ ہو کر لڑکی نے تولیے سے اپنا بدن پونچھا۔ بڑے سکون اور اطمینان سے آہستہ آہستہ کپڑے پہنے۔ کھڑکی کے ڈنڈے پر دونوں ہاتھ رکھے اور سامنے دیکھا۔ ایک دم اس کی آنکھیں شرماہٹ کی جھیلوں میں غرق ہوگئیں۔ اس نے کھڑکی بند کردی۔ مختار بے اختیار ہنس پڑا۔\n\nلڑکی نے فوراً کھڑکی کے پٹ کھولے اور بڑے غصے میں جھرنے کی طرف دیکھا۔ مختار نے کہا، ’’میں قصور وار بالکل نہیں۔۔۔ آپ کیوں کھڑکی کھول کر نہا رہی تھیں؟‘‘ لڑکی نے کچھ نہ کہا۔غیض آلود نگاہوں سے جھرنے کو دیکھا اور کھڑکی بند کرلی۔\n\nچوتھے دن روپ کور آئی۔ اس کے ساتھ یہی لڑکی تھی۔ مختار کی ماں اور بہن دونوں سلائی اور کروشیے کے کام کی ماہر تھیں، گلی کی اکثر لڑکیاں ان سے یہ کام سیکھنے کےلیے آیا کرتی تھیں۔ روپ کور بھی اس لڑکی کو اسی غرض سے لائی تھی کیونکہ اس کو کروشیے کے کام کا بہت شوق تھا۔ مختار اپنے کمرے سے نکل کر صحن میں آیا تو اس نے روپ کور کو پرنام کیا۔ لڑکی پر اس کی نگاہ پڑی تو وہ سمٹ سی گئی۔ مختار مسکرا کر وہاں سے چلا گیا۔لڑکی روزانہ آنے لگی۔ مختار کو دیکھتی تو سمٹ جاتی۔ آہستہ آہستہ اس کا یہ رد عمل دور ہوا اور اس کے دماغ سے یہ خیال کسی قدر محو ہوا کہ مختار نے اسے نہاتے دیکھا تھا۔\n\nمختار کو معلوم ہوا کہ اس کا نام شاردا ہے۔ روپ کور کے چچا کی لڑکی ہے یتیم ہے۔ چیچو کی ملیاں میں ایک غریب رشتہ دار کے ساتھ رہتی تھی۔ روپ کور نے اس کو اپنے پاس بلالیا۔ انٹرنس پاس ہے۔ بڑی ذہین ہے، کیونکہ اس نے کروشیے کا مشکل سے مشکل کام یوں چٹکیوں میں سیکھ لیا تھا۔\n\nدن گزرتے گیے۔ اس دوران میں مختار نے محسوس کیا کہ وہ شاردا کی محبت میں گرفتار ہوگیا ہے۔ یہ سب کچھ دھیرے دھیرے ہوا۔ جب مختار نے اس کو پہلی بار جھرنے میں سے دیکھا تھا تو اس وقت اس کے سامنے ایک نظارہ تھا بڑا فرحت ناک نظارہ۔ لیکن اب شاردا آہستہ آہستہ اس کے دل میں بیٹھ گئی تھی، مختار نے کئی دفعہ سوچا تھا کہ یہ محبت کا معاملہ بالکل غلط ہے، اس لیے کہ شاردا ہندو ہے۔ مسلمان کیسے ایک ہندو لڑکی سے محبت کرنے کی جرأت کرسکتا ہے۔ مختار نے اپنے آپ کو بہت سمجھایا لیکن وہ اپنے محبت کے جذبے کو مٹا نہ سکا۔شاردا اب اس سے باتیں کرنے لگی تھی مگر کھل کے نہیں۔ اس کے دماغ میں مختار کو دیکھتے ہی یہ احساس بیدار ہو جاتا تھا کہ وہ ننگی نہا رہی تھی اور مختار جھرنے میں سے اسے دیکھ رہا تھا۔\n\nایک روز گھر میں کوئی نہیں تھا۔ مختار کی ماں اور بہن دونوں کسی عزیز کے چالیسویں پر گئی ہوئی تھیں۔ شاردا حسب معمول اپنا تھیلا اٹھائے صبح دس بجے آئی۔ مختار صحن میں چارپائی پر لیٹا اخبار پڑھ رہا تھا۔ شاردا نے اس سے پوچھا، ’’بہن جی کہاں ہیں؟‘‘\n\nمختار کے ہاتھ کانپنے لگے، ’’وہ۔۔۔ وہ کہیں باہر گئی ہیں۔‘‘\n\nشاردا نے پوچھا، ’’ماتا جی؟‘‘\n\nمختار اٹھ کر بیٹھ گیا، ’’وہ۔۔۔ وہ بھی اس کے ساتھ ہی گئی ہیں۔‘‘\n\n’’اچھا!‘‘ یہ کہہ کر شاردا نے کسی قدر گھبرائی ہوئی نگاہوں سے مختار کو دیکھا اور نمستے کرکے چلنے لگی۔ مختار نے اس کو روکا، ’’ٹھہرو شاردا!‘‘\n\nشاردا کو جیسے بجلی کے کرنٹ نے چھو لیا۔ چونک کر رک گئی، ’’جی؟‘‘\n\nمختار چارپائی پر سے اٹھا، ’’بیٹھ جاؤ۔۔۔ وہ لوگ ابھی آجائیں گے۔‘‘\n\n’’جی نہیں۔۔۔ میں جاتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر بھی شاردا کھڑی رہی۔\n\nمختار نے بڑی جرات سے کام لیا۔ آگے بڑھا۔ اس کی ایک کلائی پکڑی اور کھینچ کر اس کے ہونٹوں کو چوم لیا۔ یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ مختار اور شادا دونوں کو ایک لخطے کے لیے بالکل پتا نہ چلا کہ کیا ہوا ہے۔۔۔ اس کے بعد دونوں لرزنے لگے۔ مختار نے صرف اتنا کہا، ’’مجھے معاف کردینا!‘‘\n\nشاردا خاموش کھڑی رہی۔ اس کا تانبے جیسا رنگ سرخی مائل ہوگیا۔ ہونٹوں میں خفیف سی کپکپاہٹ تھی جیسے وہ چھیڑے جانے پر شکایت کررہے ہیں۔ مختار اپنی حرکت اور اس کے نتائج بھول گیا۔ اس نے ایک بار پھر شاردا کو اپنی طرف کھینچا اور سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔۔۔ شاردا نے مزاحمت نہ کی۔ وہ صرف مجسمہ حیرت بنی ہوئی تھی۔ وہ ایک سوال بن گئی تھی۔۔۔ ایک ایسا سوال جو اپنے آپ سے کیا گیا ہو۔ وہ شاید خود سے پوچھ رہی تھی یہ کیا ہوا ہے۔ یہ کیا ہورہا ہے۔۔۔؟ کیا اسے ہونا چاہیے تھا۔۔۔ کیا ایسا کسی اور سے بھی ہوا ہے؟\n\nمختار نے اسے چارپائی پر بٹھا لیا اور پوچھا، ’’تم بولتی کیوں نہیں ہو شاردا؟‘‘\n\nشاردا کے دوپٹے کے پیچھے اس کا سینہ دھڑک رہا تھا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ مختار کو اس کا یہ سکوت بہت پریشان کن محسوس ہوا، ’’بولو شاردا۔۔۔ اگر تمہیں میری یہ حرکت بری لگی ہے تو کہہ دو۔۔۔ خدا کی قسم میں معافی مانگ لوں گا۔۔۔ تمہاری طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھوں گا۔میں نے کبھی ایسی جرات نہ کی ہوتی، لیکن جانے مجھے کیا ہوگیا ہے۔۔۔ دراصل۔۔۔ دراصل مجھے تم سے محبت ہے۔‘‘\n\nشاردا کے ہونٹ ہلے جیسے انھوں نے لفظ ’’محبت‘‘ ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مختار نے بڑی گرم جوشی سے کہنا شروع کیا، ’’مجھے معلوم نہیں تم محبت کا مطلب سمجھتی ہو کہ نہیں۔۔۔ میں خود اس کے متعلق زیادہ واقفیت نہیں رکھتا، صرف اتنا جانتا ہوں کہ تمہیں چاہتا ہوں۔۔۔ تمہاری ساری ہستی کو اپنی اس مٹھی میں لے لینا چاہتا ہوں۔ اگر تم چاہو تو میں اپنی ساری زندگی تمہارے حوالے کردوں گا۔۔۔ شاردا تم بولتی کیوں نہیں ہو؟‘‘\n\nشاردا کی آنکھیں خواب گیں ہوگئیں۔ مختار نے پھر بولنا شروع کردیا، ’’میں نے اس روز جھرنے میں سے تمہیں دیکھا۔۔۔ نہیں۔ تم مجھے خود دکھائی دیں۔۔۔ وہ ایک ایسا نظارہ تھا جو میں تا قیامت نہیں بھول سکتا۔۔۔ تم شرماتی کیوں ہو۔۔۔ میری نگاہوں نے تمہاری خوبصورتی چرائی تو نہیں۔۔۔ میری آنکھوں میں صرف اس نظارے کی تصویر ہے۔۔۔ تم اسے زندہ کردو تو میں تمہارے پاؤں چوم لوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر مختار نے شاردا کا ایک پاؤں چوم لیا۔\n\nوہ کانپ گئی۔ چارپائی پر سے ایک دم اٹھ کر اس نے لرزاں آواز میں کہا، ’’یہ آپ کیا کررہے ہیں۔۔۔؟ ہمارے دھرم میں۔۔۔‘‘\n\nمختار خوشی سے اچھل پڑا، ’’دھرم ورم کو چھوڑو۔۔۔ پریم کے دھرم میں سب ٹھیک ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے شاردا کو چومنا چاہا مگر وہ تڑپ کر ایک طرف ہٹی اور بڑے شرمیلے انداز میں مسکراتی بھاگ گئی۔ مختار نے چاہا کہ وہ اڑ کر ممٹی پر پہنچ جائے۔ وہاں سے نیچے صحن میں کودے اور ناچنا شروع کردے۔\n\nمختار کی والدہ اور بہن آگئیں تو شاردا آئی۔ مختار کو دیکھ کر اس نے فوراً نگاہیں نیچی کرلیں۔ مختار وہاں سے کھسک گیا کہ راز افشا نہ ہو۔دوسرے روز اوپر کوٹھے پر چڑھا۔ جھرنے میں سے جھانکا تو دیکھا کہ شاردا کھڑکی کے پاس کھڑی بالوں میں کنگھی کررہی ہے۔ مختار نے اس کو آواز دی، ’’شاردا!‘‘\n\nشادرا چونکی۔ کنگھی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گلی میں جاگری۔ مختار ہنسا۔ شاردا کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ پیدا ہوئی۔ مختار نے اس سے کہا، ’’کتنی ڈرپوک ہو تم۔۔۔ ہولے سے آواز دی اور تمہاری کنگھی چھوٹ گئی۔‘‘\n\nشاردرا نے کہا، ’’اب لا کے دیجیے نئی کنگھی مجھے۔۔۔ یہ تو موری میں جاگری ہے۔‘‘\n\nمختار نے جواب دیا، ’’ابھی لاؤں۔‘‘\n\nشاردرا نے فوراً کہا، ’’نہیں نہیں۔۔۔ میں نے تو مذاق کیا ہے۔‘‘\n\n’’میں نے بھی مذاق کیا تھا۔ تمہیں چھوڑ کر میں میں کنگھی لینے جاتا۔۔۔؟ کبھی نہیں!‘‘\n\nشاردرا مسکرائی، ’’میں بال کیسے بناؤں۔‘‘\n\nمختار نے جھرنے کے سوراخوں میں اپنی انگلیاں ڈالیں، ’’یہ میری انگلیاں لے لو!‘‘\n\nشاردرا ہنسی۔۔۔ مختار کا جی چاہا کہ وہ اپنی ساری عمر اس ہنسی کی چھاؤں میں گزار دے، ’’شاردا، خدا کی قسم، تم ہنسی ہو، میرا رواں رواں شادماں ہوگیا ہے۔۔۔ تم کیوں اتنی پیاری ہو۔۔۔؟ کیا دنیا میں کوئی اور لڑکی بھی تم جتنی پیاری ہوگی۔۔۔ یہ کم بخت جھرنے۔۔۔ یہ مٹی کے ذلیل پردے۔ جی چاہتا ہے ان کو توڑ پھوڑ دوں۔‘‘\n\nشاردا پھر ہنسی۔ مختار نے کہا، ’’یہ ہنسی کوئی اور نہ دیکھے، کوئی اور نہ سنے۔ شاردا صرف میرے سامنے ہنسنا۔۔۔ اور اگر کبھی ہنسنا ہو تومجھے بلا لیا کرو۔ میں اس کے اردگرد اپنے ہونٹوں کی دیواریں کھڑی کردوں گا۔‘‘\n\nشاردا نے کہا، ’’آپ باتیں بڑی اچھی کرتے ہیں۔‘‘\n\n’’تو مجھے انعام دو۔۔۔ محبت کی ایک ہلکی سی نگاہ ان جھرنوں سے میری طرف پھینک دو۔۔۔ میں اسے اپنی پلکوں سے اٹھا کر اپنی آنکھوں میں چھپا لوں گا۔‘‘ مختار نے شاردا کے عقب میں دور ایک سایہ سا دیکھا اور فوراً جھرنے سے ہٹ گیا۔ تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو کھڑکی خالی تھا۔ شاردا جا چکی تھی۔\n\nآہستہ آہستہ مختار اور شاردا دونوں شیر و شکر ہو گئے۔ تنہائی کا موقعہ ملتا تو دیر تک پیار محبت کی باتیں کرتے رہتے۔۔۔ ایک دن روپ کور اور اس کا خاوند لالہ کالو مل کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔ مختار گلی میں سے گزر رہا تھا کہ اس کو ایک کنکر لگا۔ اس نے اوپر دیکھا شاردا تھی۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بلایا۔مختار اس کے پاس پہنچ گیا۔ پورا تخلیہ تھا۔ خوب گھل مل کے باتیں ہوئیں۔ مختار نے اس سے کہا، ’’اس روز مجھ سے گستاخی ہوئی تھی اور میں نے معافی مانگ لی تھی۔ آج پھر گستاخی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، لیکن معافی نہیں مانگوں گا۔‘‘ اور اپنے ہونٹ شاردا کے کپکپاتے ہوئے ہونٹوں پررکھ دیے۔\n\nشاردا نے شرمیلی شرارت سے کہا، ’’اب معافی مانگیے۔‘‘\n\n’’جی نہیں۔۔۔ اب یہ ہونٹ آپ کے نہیں۔۔۔ میرے ہیں۔۔۔ کیا میں جھوٹ کہتا ہوں؟‘‘\n\nشاردا نے نگاہیں نیچی کرکے کہا، ’’یہ ہونٹ کیا۔ میں ہی آپ کی ہوں۔‘‘\n\nمختار ایک دم سنجیدہ ہوگیا، ’’دیکھو شاردا۔ ہم اس وقت ایک آتش فشاں پہاڑ پر کھڑے ہیں تم سوچ لو، سمجھ لو۔۔۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں۔ خدا کی قسم کھا کر کہتاہوں کہ تمہارے سوا میری زندگی میں اور کوئی عورت نہیں آئے گی۔۔۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ زندگی بھر میں تمہارا رہوں گا۔ میری محبت ثابت قدم رہے گی ۔۔۔ کیا تم بھی اس کا عہد کرتی ہو؟‘‘\n\nشاردا نے اپنی نگاہیں اٹھا کر مختار کی طرف دیکھا، ’’میرا پریم سچا ہے۔‘‘\n\nمختار نے اس کو سینے کے ساتھ بھینچ لیا اور کہا، ’’زندہ رہو۔۔۔ صرف میرے لیے، میری محبت کے لیے وقف رہو۔۔۔خدا کی قسم شاردا۔ اگر تمہارا التفات مجھے نہ ملتا تو میں یقیناً خود کشی کرلیتا۔۔۔ تم میری آغوش میں ہو۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ساری دنیا کی خوشیوں سے میری جھولی بھری ہوئی ہے۔ میں بہت خوش نصیب ہوں۔‘‘\n\nشاردا نے اپنا سر مختار کے کندھے پر گرا دیا، ’’آپ باتیں کرنا جانتے ہیں۔۔۔ مجھ سے اپنے دل کی بات نہیں کہی جاتی۔‘‘\n\nدیر تک دونوں ایک دوسرے میں مدغم رہے۔ جب مختار وہاں سے گیا تو اس کی روح ایک نئی اور سہانی لذت سے معمور تھی۔ ساری رات وہ سوچتا رہا۔ دوسرے دن کلکتے چلا گیا جہاں اس کا باپ کاروبار کرتا تھا۔ آٹھ دن کے بعد واپس آیا۔ شاردا حسبِ معمول کروشیے کا کام سیکھنے مقررہ وقت پر آئی۔ اس کی نگاہوں نے اس سے کئی باتیں کیں۔ کہاں غائب رہے اتنے دن۔۔۔؟ مجھ سے کچھ نہ کہا اور کلکتے چلے گئے۔۔۔؟ محبت کے بڑے دعوے کرتے تھے۔۔۔؟ میں نہیں بولوں گی تم سے۔۔۔ میری طرف کیا دیکھتے ہو، کیا کہنا چاہتے ہو مجھ سے؟\n\nمختار بہت کچھ کہنا چاہتا تھا مگر تنہائی نہیں تھی۔ وہ کافی طویل گفتگو اس سے کرنا چاہتا تھا۔ دو دن گزر گئے، موقعہ نہ ملا۔ نگاہوں ہی نگاہوں میں گونگی باتیں ہوتی رہیں۔ آخر تیسرے روز شاردا نے اسے بلایا۔ مختار بہت خوش ہوا۔ روپ کور اور اس کا خاوند لالہ کالو مل گھر میں نہیں تھے۔\n\nشاردا سیڑھیوں میں ملی۔ مختار نے وہیں اس کو اپنے سینے کے ساتھ لگانا چاہا، وہ تڑپ کر اوپر چلی گئی۔ ناراض تھی۔ مختار نے اس سے کہا، ’’دیکھو میری جان، میرے پاس بیٹھو، میں تم سے بہت ضروری باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ ایسی باتیں جن کا ہماری زندگی سے بڑا گہرا تعلق ہے۔‘‘\n\nشاردا اس کے پاس پلنگ پر بیٹھ گئی، ’’تم بات ٹالو نہیں۔۔۔ بتاؤ ،مجھے بتائے بغیر کلکتے کیوں گئے۔۔۔ سچ میں بہت روئی۔‘‘ مختار نے بڑھ کر اس کی آنکھیں چومیں، ’’اس روز میں جب سے گیا تو ساری رات سوچتا رہا۔۔۔ جو کچھ اس روز ہوا اس کے بعد یہ سوچ بچار لازمی تھی۔ ہماری حیثیت میاں بیوی کی تھی۔ میں نے غلطی کی۔ تم نے کچھ نہ سوچا۔ ہم نے ایک ہی جست میں کئی منزلیں طے کرلیں اور یہ غور ہی نہ کیا کہ ہمیں جانا کس طرف ہے۔۔۔ سمجھ رہی ہو نا شاردا۔‘‘\n\nشاردا نے آنکھیں جھکالیں، ’’جی ہاں۔‘‘\n\n’’میں کلکتے اس لیے گیا تھا کہ ابا جی سے مشورہ کروں۔ تمہیں سن کر خوشی ہوگی میں نے ان کو راضی کرلیا ہے،’’ مختار کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ شاردا کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اس نے کہا، ’’میرے دل کا سارا بوجھ ہلکا ہوگیا ہے۔۔۔ میں اب تم سے شادی کرسکتا ہوں۔‘‘\n\nشاردا نے ہولے سے کہا، ’’شادی!‘‘\n\n’’ہاں شادی۔‘‘\n\nشاردا نے پوچھا، ’’کیسے ہو سکتی ہے ہماری شادی؟‘‘\n\nمختار مسکرایا، ’’اس میں مشکل ہی کیا ہے۔۔۔ تم مسلمان ہو جانا۔‘‘\n\nشاردا ایک دم چونکی، ’’مسلمان!‘‘\n\nمختار نے بڑے اطمینان سے کہا، ’’ہاں ہاں۔۔۔ اس کے علاوہ اور ہوہی کیا سکتا ہے۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہارے گھر والے بڑا ہنگامہ مچائیں گے لیکن میں نے اس کا انتظام کرلیا ہے۔ ہم دونوں یہاں سے غائب ہو جائیں گے، سیدھے کلکتے چلیں گے۔ باقی کام ابا جی کے سپرد ہے۔ جس روز وہاں پہنچیں گے اسی روز مولوی بلا کر تمہیں مسلمان بنا دیں گے۔ شادی بھی اسی وقت ہو جائے گی۔‘‘\n\nشاردا کے ہونٹ جیسے کسی نے سی دیے۔ مختار نے اس کی طرف دیکھا، ’’خاموش کیوں ہوگئیں؟‘‘\n\nشاردا نہ بولی۔ مختار کو بڑی الجھن ہوئی، ’’بتاؤ شاردا کیا بات ہے؟‘‘\n\nشاردا نے بہ مشکل اتنا کہا، ’’تم ہندو ہو جاؤ۔‘‘\n\n’’میں ہندو ہو جاؤں؟‘‘ مختار کے لہجے میں حیرت تھی۔ وہ ہنسا، ’’میں ہندو کیسے ہو سکتا ہوں؟‘‘\n\n’’ میں کیسے مسلمان ہو سکتی ہوں؟‘‘شاردا کی آواز مدھم تھی۔\n\n’’ تم کیوں مسلمان نہیں ہوسکتیں۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ۔۔۔ تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔ اس کے علاوہ اسلام سب سے اچھا مذہب ہے۔۔۔ ہندو مذہب بھی کوئی مذہب ہے۔ گائے کا پیشاب پیتے ہیں، بت پوجتے ہیں۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ ٹھیک ہے اپنی جگہ یہ مذہب بھی۔ مگر اسلام کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔‘‘ مختار کے خیالات پریشان تھے، ’’ تم مسلمان ہو جاؤ گی تو بس۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘\n\nشاردا کے چہرے کا تانبے جیسا رنگ زرد پڑ گیا، ’’آپ ہندو نہیں ہوں گے؟‘‘\n\nمختار ہنسا، ’’پاگل ہو تم؟‘‘\n\nشاردا کا رنگ اور زرد پڑ گیا، ’’آپ جائیے۔۔۔ وہ لوگ آنے والے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پلنگ پر سے اٹھی۔\n\nمختار متحیر ہوگیا، ’’لیکن شاردا۔۔۔‘‘\n\n’’نہیں نہیں جائیے آپ۔۔۔ جلدی جائیے۔۔۔ وہ آجائیں گے۔‘‘ شاردا کے لہجے میں بے اعتنائی کی سردی تھی۔\n\nمختار نے اپنے خشک حلق سے بہ مشکل یہ الفاظ نکالے،’’ ہم دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، شاردا تم ناراض کیوں ہوگئیں؟‘‘\n\n’’جاؤ۔۔۔ چلے جاؤ۔۔۔ ہمارا ہندو مذہب بہت برا ہے۔۔۔تم مسلمان بہت اچھے ہو۔‘‘\n\nشاردا کے لہجے میں نفرت تھی۔ وہ دوسرے کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کردیا۔ مختار اپنا اسلام سینے میں دبائے وہاں سے چلا گیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88_%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دو پیالوں میں ابھی سرشار ہو جاتا ہوں آ ساقی", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دو پیالوں میں ابھی سرشار ہو جاتا ہوں آ ساقی\nتو اپنے جام چشم مست کو گردش میں لا ساقی\n\nہے دل میں ہو کے سر خوش کیجے تیرے جام و مینا کے\nروا مستوں کے مشرب میں جو ہو مدح و ثنا ساقی\n\nمیں اس کے نرگس مے گوں کی کیفیت کو پایا ہوں\nہے اس کی چشم جام مے اور اس کی ہر ادا ساقی\n\nزمیں پر عشقؔ نیں جھکتا ہے بد مستی کی حالت سے\nیہ سجدہ بیچ جا کرتا ہے تجھ حق میں دعا ساقی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D8%B1%D8%B4%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A2_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "دوئی کا تذکرہ توحید میں پایا نہیں جاتا", "poet_page": "مصنف:مخمور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوئی کا تذکرہ توحید میں پایا نہیں جاتا\nجہاں میری رسائی ہے مرا سایا نہیں جاتا\n\nمرے ٹوٹے ہوئے پائے طلب کا مجھ پہ احساں ہے\nتمہارے در سے اٹھ کر اب کہیں جایا نہیں جاتا\n\nمحبت ہو تو جاتی ہے محبت کی نہیں جاتی\nیہ شعلہ خود بھڑک اٹھتا ہے بھڑکایا نہیں جاتا\n\nفقیری میں بھی مجھ کو مانگنے سے شرم آتی ہے\nسوالی ہو کے مجھ سے ہاتھ پھیلاتا نہیں جاتا\n\nچمن تم سے عبارت ہے بہاریں تم سے زندہ ہیں\nتمہارے سامنے پھولوں سے مرجھایا نہیں جاتا\n\nمحبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں\nیہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر گایا نہیں جاتا\n\nمحبت اصل میں مخمورؔ وہ راز حقیقت ہے\nسمجھ میں آ گیا ہے پھر بھی سمجھایا نہیں جاتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%B0%DA%A9%D8%B1%DB%81_%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیں\nکوئی دن چلنے پھرنے دیں عبث زنجیر کرتے ہیں\n\nہوائے گرم کے لگنے سے کب پتھر پگھلتا ہے\nیہ نالے ان بتوں کے دل میں کب تاثیر کرتے ہیں\n\nخدا کی بندگی کہئے اسے یا عشق معشوقی\nیہ نسبت ایک ہے سو سو طرح تعبیر کرتے ہیں\n\nدوانے ہیں سیانے چھوڑ دو تم نقش کو ان کے\nپرائے گھر کی پریوں کے تئیں تسخیر کرتے ہیں\n\nنگہ کرنے میں ان کے کام ہوتا ہے تمام اس کا\nیقیںؔ کے حق میں یہ خوباں بہت تقصیر کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%D8%A8_%D8%AC%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دوبارہ دل میں کوئی انقلاب ہو نہ سکا", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوبارہ دل میں کوئی انقلاب ہو نہ سکا\nتمہاری پہلی نظر کا جواب ہو نہ سکا\n\nکمال نور زوال حجاب ہو نہ سکا\nوہ بے نقاب کبھی بے نقاب ہو نہ سکا\n\nدل تپیدہ ہوا بزم حسن سے واپس\nنظر ٹھہر نہ سکی انتخاب ہو نہ سکا\n\nروش بدل گئی تیور ترے نہیں بدلے\nقیامت آئی مگر انقلاب ہو نہ سکا\n\nکہاں دل اور کہاں دل کے آئینے کی ادا\nغرض سوال سے بہتر جواب ہو نہ سکا\n\nمرے سوال پہ اس نے نظر جو کی نیچی\nپھر اس کا مجھ سے جواب الجواب ہو نہ سکا\n\nجلال رعب ہے ناطقؔ جمال پر اس کے\nوہ بے نقاب کبھی بے نقاب ہو نہ سکا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دوبارہ زیست کہیں غم میں مبتلا نہ کرے", "poet_page": "مصنف:ناصری لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نذر احباب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "دوبارہ زیست کہیں غم میں مبتلا نہ کرے\nوہ ساتھ غیر کے ہوں حشر میں خدا نہ کرے\n\nاداس ہوں کہ مرا دل نہیں ہے پہلو میں\nمری طرح کوئی مغموم ہو خدا نہ کرے\n\nسمجھ میں آئے جو برگشتگی مقدر کی\nمریض آپ کا مرنے کی بھی دعا نہ کرے\n\nجفا جو چاہے کرے ناصریؔ وہ دل آزار\nکسی غریب سے دل کو مگر جدا نہ کرے", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "دود آتش کی طرح یاں سے نہ ٹل جاؤں گا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دود آتش کی طرح یاں سے نہ ٹل جاؤں گا\nشمع ساں محفل جاناں ہی میں جل جاؤں گا\n\nدور سے بھی اسے دیکھوں تو یہ چتون میں کہے\nآ کے دیدے ابھی تلووں تلے مل جاؤں گا\n\nدل مضطر یہ کہے ہے وہیں لے چل ورنہ\nتوڑ چھاتی کے کواڑوں کو نکل جاؤں گا\n\nمیں ہوں خورشید سر کوہ یقیں ہے کہ وہ ماہ\nآئے گا بام پہ تب جب کہ میں ڈھل جاؤں گا\n\nآج بھی کوئی نہ لے جائے گا واں مجھ کو تو بس\nکل نہیں ہے مجھے میں جی ہی سے کل جاؤں گا\n\nواں سے اٹھتا ہوں تو کہتا ہے یہ پائے رفتار\nجب زمیں پر تو رکھے گا میں پھسل جاؤں گا\n\nبہ خدا حسن بتاں کا یہی سب سے ہے کلام\nوہ چھلاوا ہوں کہ تم سب کو میں چھل جاؤں گا\n\nآ کے برسوں میں وہ مجھ پاس یہ شب کہنے لگے\nیاں ٹھہرنے میں بہت سے ہیں خلل جاؤں گا\n\nتیغہ قاتل کا کہے ہے کہ دوالی بندو\nموٹھ کی طرح سے تم سب پہ میں چل جاؤں گا\n\nگو مزاج اس کا یہ بدلا کہ کہے ہے مجھے یوں\nدیکھو تم آئے تو میں گھر سے نکل جاؤں گا\n\nپر رہا جائے گا کب ہے مری حالت تغییر\nیوں نہ جاؤں گا تو میں بھیس بدل جاؤں گا\n\nجرأتؔ اشعار جنوں خیز کہہ اب اور کہ میں\nلے کے یہ تربت سودا پہ غزل جاؤں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%AF_%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%B9%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں\nشمع ہے اک سوزن گم گشتہ اس کاشانہ میں\n\nمیں ہوں وہ خشت کہن مدت سے اس ویرانے میں\nبرسوں مسجد میں رہا برسوں رہا مے خانہ میں\n\nمیں وہ کیفی ہوں کہ پانی ہو تو بن جائے شراب\nجوش کیفیت سے میری خاک کے پیمانہ میں\n\nبرق خرمن سوز دانائی ہے نافہمی تری\nورنہ کیا کیا لہلہاتے کھیت ہیں ہر دانہ میں\n\nکس نزاکت سے ہے دیکھو اتحاد حسن و عشق\nزلف واں شانے نے کھینچی درد ہے یاں شانہ میں\n\nوحشت و ناآشنائی مستی و بیگانگی\nیا تری آنکھوں میں دیکھی یا ترے دیوانہ میں\n\nعشق کو نشوونما منظور ہے کب ورنہ سبز\nتخم اشک شمع ہو خاکستر پروانہ میں\n\nہوش کا دعویٰ ہے بے ہوشوں کو زیر آسماں\nخم نشیں مثل فلاطوں سب ہیں اس خم خانہ میں\n\nپتھروں میں ٹھوکریں کھاتا ہے ناحق سیل آب\nپوچھو کیا لے جائے گا آ کر مرے غم خانہ میں\n\nایک پتھر پوجنے کو شیخ جی کعبے گئے\nذوقؔ ہر بت قابل بوسہ ہے اس بت خانہ میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دودا پہلوان", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "پھندنے", "year": "1955", "text_ur": "اسکول میں پڑھتا تھا تو شہر کا حسین ترین لڑکامتصور ہوتا تھا۔ اس پر بڑے بڑے امرد پرستوں کے درمیان بڑی خونخوار لڑائیاں ہوئیں۔ ایک دو اسی سلسلے میں مارے بھی گئے۔\n\nوہ واقعی حسین تھا۔ بڑے مال دار گھرانے کا چشم و چراغ تھا، اس لیے اس کو کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ مگر جس میدان وہ کود پڑا تھا اس کو ایک محافظ کی ضرورت تھی جو وقت پر اس کے کام آسکے۔ شہر میں یوں تو سیکڑوں بدمعاش اور غنڈے موجود تھے جو حسین و جمیل صلاحو کے ایک اشارے پر کٹ مرنے کو تیار تھے، مگر دودے پہلوان میں ایک نرالی بات تھی۔ وہ بہت مفلس تھا، بہت بدمزاج اور اکھڑ طبیعت کا تھا، مگر اس کے باوجود اس میں ایسا بانکپن تھا کہ صلاحو نے اس کو دیکھتے ہی پسند کرلیا اور ان کی دوستی ہوگئی۔\n\nصلاحو کو دودے پہلوان کی رفاقت سے بہت فائدے ہوئے۔ شہر کے دوسرے غنڈے جو صلاحو کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا موجب ہوسکتے تھے، دودے کی وجہ سے خاموش رہے۔ اسکول سے نکل کر صلاحو کالج میں داخل ہوا تو اس نے اور پر پرزے نکالے اور تھوڑے ہی عرصے میں اس کی سرگرمیاں نیا رخ اختیار کرگئیں۔ اس کے بعد خدا کر کرنا ایسا ہوا کہ صلاحو کا باپ مر گیا۔ اب وہ اس کی تمام جائیداد، املاک کا واحد مالک تھا۔ پہلے تو اس نے نقدی پر ہاتھ صاف کیا، پھر مکان گروی رکھنے شروع کیے، جب دو مکان بک گئے تو ہیرا منڈی کی تمام طوائفیں صلاحو کے نام سے واقف تھیں۔ معلوم نہیں اس میں کہاں تک صداقت ہے ،لیکن لوگ کہتے ہیں کہ ہیرا منڈی میں بوڑھی نائکائیں اپنی جوان بیٹیوں کو صلاحو کی نظروں سے چھپا چھپا کر رکھتی تھیں۔ مبادا وہ اس کے حسن کے چکر میں پھنس جائیں۔ لیکن ان احتیاطی تدابیر کے باوجود جیساکہ سننے میں آیا ہے، کئی کنواری طوائف زادیاں اس کے عشق میں گرفتار ہوئیں اور الٹے رستے پر چل کر اپنی زندگی کے سنہرے ایام اس کے تلون کی نذر کر بیٹھیں۔\n\nصلاحو کھل کھیل رہا تھا۔ دودے کو معلوم تھا کہ یہ کھیل دیر تک جاری نہیں رہے گا۔ وہ عمر میں صلاحو سے دگنا بڑا تھا۔ اس نے ہیرا منڈی میں بڑے بڑے سیٹھوں کی خاک اڑتے دیکھی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ہیرا منڈی ایک ایسا اندھا کنواں ہے جس کو دنیا بھر کے سیٹھ مل کر بھی اپنی دولت سے نہیں بھر سکتے۔مگر وہ اس کو کوئی نصیحت نہیں دیتا تھا۔ شاید اس لیے کہ وہ جہاں دیدہ ہونے کے باعث اچھی طرح سمجھتا تھا کہ جو بھوت اس کے حسین و جمیل بابو کے سر پر سوار ہے، اسے کوئی ٹونا ٹوٹکا اتار نہیں سکتا۔\n\nدودا پہلوان ہر وقت صلاحو کے ساتھ ہوتا تھا۔ شروع شروع میں جب صلاحو نے ہیرا منڈی کا رخ کیا تو اس کا خیال تھا کہ دودا بھی اس کے عیش میں شریک ہوگا، مگر آہستہ آہستہ اسے معلوم ہوا کہ اس کو اس قسم کے عیش سے کوئی دلچسپی نہیں تھی جس میں وہ دن رات غرق رہتا تھا۔ وہ گانا سنتا تھا، شراب پیتا تھا، طوائفوں سے فحش مذاق بھی کرتا تھا، مگر اس سے آگے کبھی نہیں گیا تھا۔ اس کا بابو رات رات بھر اندر کسی معشوق کو بغل میں دبائے پڑا رہتا اور وہ باہر کسی پہرے دار کی طرح جاگتا رہتا۔\n\nلوگ سمجھتے تھے کہ دودے نے اپنا گھر بھر لیا ہے، دولت کی لوٹ مچی ہے،اس میں اس نے یقیناً اپنے ہاتھ رنگے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب صلاحو داد عیش دینے کو نکلتا تھا ہزاروں نوٹ دودے ہی کی تحویل میں ہوتے تھے۔ مگر یہ صرف اسی کو معلوم تھا کہ پہلوان نے ان میں سے ایک پائی بھی کبھی ادھر ادھر نہیں کی۔ اس کو صرف صلاحو سے دلچسپی تھی، جس کو اپنا آقا سمجھتا تھا اور یہ لوگ بھی جانتے تھے کہ دودا کس حد تک اس کا غلام ہے۔ صلاحو اس کو ڈانٹ ڈپٹ لیتا تھا۔ بعض اوقات شراب کے نشے میں اسے مار پیٹ بھی لیتا تھا مگر وہ خاموش رہتا۔ حسین و جمیل صلاحو اس کا معبود تھا۔ وہ اس کے حضور کوئی گستاخی نہیں کرسکتا تھا۔\n\nایک دن اتفاق سے دودا بیمار تھا۔ صلاحو رات کو حسب معمول عیش کرنے کے لیے ہیرا منڈی پہنچا۔ وہاں کسی طوائف کے کوٹھے پر گانا سننے کے دوران میں اس کی جھڑپ ایک تماش بین سے ہوگئی اور ہاتھا پائی میں اس کے ماتھے پر ہلکی سی خراش آگئی۔ دودے کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے دیوار کے ساتھ ٹکر مار مار کر اپنا سارا سر زخمی کرلیا، خود کو بے شمار گالیاں دیں، بہت برا بھلا کہا۔ اس کو اتنا افسوس ہوا کہ دس پندرہ دن تک صلاحو کے سامنے اس کا سرجھکا رہا۔ ایک لفظ بھی اس کے منہ سے نہ نکلا۔ اس کو یہ محسوس ہوتا تھا کہ اس سے کوئی بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے۔ چنانچہ لوگوں کا بیان ہے کہ وہ بہت دیر تک نمازیں پڑھ پڑھ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتا رہا۔\n\nصلاحو کی وہ اس طرح خدمت کرتا تھا جس طرح پرانے قصے کہانیوں کے وفادار نوکر کرتے ہیں۔ وہ اس کے جوتے پالش کرتا تھا۔ اس کے پاؤں دابتا تھا۔ اس کے چمکیلے بدن پر مالش کرتا تھا۔ اس کے ہر آرام اور آسائش کا خیال رکھتا تھا جیسے اس کے بطن سے پیدا ہوا ہے۔\n\nکبھی کبھی صلاحو ناراض ہو جاتا۔ یہ وقت دودے پہلوان کے لیے بڑی آزمائش کا وقت ہوتا تھا۔ دنیا سے بیزار ہو جاتا۔ فقیروں کے پاس جا کر تعویذ گنڈے لے لیتا۔ خود کو طرح طرح کی جسمانی تکلیف پہنچاتا۔ آخر جب صلاحو موج میں آکر اسے بلاتا تو اسے ایسا محسوس ہوتا کہ دونوں جہان مل گئے ہیں۔ دودے کو اپنی طاقت پر ناز نہیں تھا، اسے یہ بھی گھمنڈ نہیں تھا کہ وہ چھری مارنے کے فن میں یکتا ہے۔ اس کو اپنی ایمان داری اور اپنے خلوص پر بھی کوئی فخر نہیں تھا۔ لیکن وہ اپنی اس بات پر بہت نازاں تھا کہ لنگوٹ کا پکا ہے۔ وہ اپنے دوستوں، یاروں کو بڑے فخر و امتیاز سے بتایا کرتا تھا کہ اس کی جوانی میں سیکڑوں مردمار عورتیں آئیں، چلتروں کے بڑے بڑے منتر اس پر پھونکے مگر وہ۔۔۔ شاباش ہے اس کے استاد کو، لنگوٹ کا پکا رہا۔\nیہ بڑ نہیں تھی۔ ان لوگوں کو جو دودے پہلوان کے لنگوٹیے تھے، اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کا دامن عورت کی تمام آلائشوں سے پاک ہے۔ متعدد بار کوشش کی گئی کہ وہ گمراہ ہو جائے مگر ناکامی ہوئی۔ وہ ثابت قدم رہا۔خود صلاحو نے کئی بار اس کا امتحان لیا۔ اجمیر کے عرس پر اس نے میرٹھ کی ایک کافر ادا طوائف انوری کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ دودے پہلوان پر ڈورے ڈالے۔ اس نے اپنے تمام گر استعمال کرڈالے مگر دودے پر کوئی اثر نہ ہوا۔ عرس ختم ہونے پر جب وہ لاہور روانہ ہوئی تو گاڑی میں اس نے صلاحو سے کہا، ’’باؤ! بس اب میرا کوئی امتحان نہ لینا۔ یہ سالی انوری بہت آگے بڑھ گئی تھی۔ تمہارا خیال تھا، ورنہ گلا گھونٹ دیتا حرام زادی کا۔‘‘\n\nاس کے بعد صلاحو نے اس کا اور کوئی امتحان نہ لیا۔ دودے کے یہ تنبیہی الفاظ کافی تھے جو اس نے بڑے سنگین لہجے میں ادا کیے تھے۔صلاحو عیش و عشرت میں بدستور غرق تھا،اس لیے کہ ابھی تین چار مکان باقی تھے۔ ہیرا منڈی کی تمام قابل ذکر طوائفیں ایک ایک کرکے اس کے پہلو میں آچکی تھیں۔ اب اس نے چھوٹے جاموں کا دور شروع کردیا تھا۔ اسی دوران میں ایک دم کہیں سے ایک طوائف الماس پیدا ہوگئی جو ایک دم ساری ہیرا منڈی پر چھا گئی۔دیکھا کسی نے بھی نہیں تھا لیکن اس کے باوجوداس کے حسن کے چرچے عام تھے۔ ہاتھ لگائے میلی ہوتی ہے۔ پانی پیتی ہے تو اس کے شفاف حلق میں سے نظر آتا ہے۔ ہرنی کی سی آنکھیں ہیں جن میں خدا نے اپنے ہاتھ سے سرمہ لگایا ہے۔ بدن ایسا ملائم ہے کہ نگاہیں پھسل پھسل جاتی ہیں۔ صلاحو جہاں بھی جاتا تھا، اس پری چہرہ اور حور شمائل معشوقہ کے حسن و جمال کی باتیں سنتا تھا۔\n\nدودے پہلوان نے فوراً پتہ لگایا اور اپنے بابو کو بتایا کہ یہ الماس کشمیر سے آئی ہے۔ واقعی خوب صورت ہے، ادھیڑ عمر کی ماں اس کے ساتھ ہے جو اس پر بہت کڑی نگرانی رکھتی ہے۔ اس لیے کہ وہ لاکھوں کے خواب دیکھ رہی ہے۔ جب الماس کا مجرا شروع ہوا تو اس کے کوٹھے پر صرف وہی صاحب ثروت جاتے تھے جن کا لاکھوں کا کاروبار تھا۔ صلاحو کے پاس اب اتنی دولت نہیں تھی کہ وہ ان تگڑے دولت مند عیاشوں کا مقابلہ خم ٹھونک کے کرسکے۔ آٹھ دس مجروں ہی میں اس کی حجامت ہوجاتی۔ چنانچہ وہ اسی خیال کے تحت خاموش رہا اور پیچ و تاب کھاتا رہا۔ دودا پہلوان اپنے بابو کی یہ بے چارگی دیکھتا تو اسے بہت دکھ ہوتا۔ مگر وہ کیا کرسکتا تھا۔ اس کے پاس تھا ہی کیا۔ ایک صرف اس کی جان تھی مگر وہ اس معاملے میں کیا کام دے سکتی تھی۔ بہت سوچ بچار کے بعد آخر دودے نے ایک ترکیب سوچی، جو یہ تھی کہ صلاحو، الماس کی ماں اقبال سے رابطہ پیدا کرے۔ اس پر یہ ظاہر ہے کہ وہ اس کے عشق میں گرفتار ہوگیا ہے۔ اس طرح جب موقع ملے تو الماس کو اپنے قبضے میں کرلے۔\n\nصلاحو کو یہ ترکیب پسند آئی۔ چنانچہ فوراً اس پر عمل درآمد شروع ہوگیا۔ اقبال بہت خوش ہوئی کہ اس ڈھلتی عمر میں اسے صلاحو جیسا خوبرو چاہنے والا مل گیا۔ یہ سلسلہ دیر تک جاری رہا۔ اس دوران سیکڑوں مرتبہ الماس صلاحو کے سامنے آئی۔ بعض اوقات اس کے پاس بیٹھ کر باتیں بھی کرتی رہی اور اس کے حسن سے کافی متاثر ہوئی۔ اس کو حیرت تھی کہ وہ اس کی ماں سے کیوں دلچسپی لے رہا ہے جب کہ وہ اس کی آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ لیکن اس کی یہ حیرت بہت دیر تک قائم نہ رہی۔ جب اس کو صلاحو کی حرکات و سکنات سے معلوم ہوگیا ہے کہ وہ چال چل رہا ہے، اس انکشاف سے اسے خوشی ہوئی۔ اندرونی طور پر اس کے احساس جوانی کو بڑی ٹھیس پہنچ رہی تھی۔\n\nباتوں باتوں میں ایک دن صلاحو کا ذکر آیا تو الماس نے اس کی خوبصورتی کی تعریف ذرا چٹخارے کے ساتھ بیان کی جو اس کی ماں اقبال کو بہت ناگوار معلوم ہوئی۔ چنانچہ ان دونوں میں خوب چخ چخ ہوئی۔ الماس نے اپنی ماں سے صاف صاف کہہ دیا کہ صلاحو اسے بیوقوف بنا رہا ہے۔ اقبال کو بہت دکھ ہوا۔ یہاں اب بیٹی کا سوال نہیں تھا بلکہ رقیب کا یا موت کا۔ چنانچہ دوسرے روز جب صلاحو آیا تو اس نے سب سے پہلے اس سے پوچھا، ’’آپ کسے پسند کرتے ہیں، مجھے یا میری بیٹی الماس کو؟‘‘\n\nصلاحو عجب مخمصے میں گرفتار ہوگیا۔ سوال بڑا ٹیڑھا تھا۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اس کو بآلاخر یہی کہنا پڑا، ’’تمہیں، میں تو صرف تمہیں پسند کرتا ہوں۔‘‘ اور پھر اسے اقبال کو مزید یقین دلانے کے لیے اور بہت سی باتیں گھڑنا پڑیں۔ اقبال یوں تو بہت چالاک تھی مگر اس کو کسی حد تک یقین آہی گیا۔ شاید اس لیے کہ وہ اپنی عمر کے ایسے موڑ پر پہنچ چکی تھی جہاں اسے چند جھوٹی باتوں کو بھی سچا سمجھنا ہی پڑتا تھا۔\n\nجب یہ بات الماس تک پہنچی تو وہ بہت جزبز ہوئی۔ جونہی اسے موقع ملا، اس نے صلاحو کو پکڑ لیا اور اس سے سچ اگلوانے کی کوشش کی۔ صلاحو زیادہ دیر تک اس کی جرح برداشت نہ کرسکا۔ آخر اسے ماننا ہی پڑا کہ اسے اقبال سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اصل میں تو الماس کا حصول ہی اس کے پیش نظر ہے۔یہ قبولوانے پر الماس کی تسلی ہوئی، مگر وہ لگاؤ جو اس کے دل و دماغ میں صلاحو کے متعلق پیدا ہوا تھا، غائب ہوگیا اور اس نے ٹھیٹ طوائف بن کر اپنی ماں کو سمجھایا کہ بچپنا چھوڑ دو اوراس سے میرے دام وصول کرو، تمہیں وہ کیا دے گا۔ اپنی لڑکی کی یہ عقل والی بات اقبال کی سمجھ میں آگئی اور وہ صلاحو کو دوسری نظر سے دیکھنے لگی۔\n\nصلاحو بھی سمجھ گیا کہ اس کا وار خالی گیا ہے۔ اب اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ نیلام میں الماس کی سب سے بڑھ کر بولی دے۔ دودے پہلوان نے ادھر ادھر سے کرید کر معلوم کیا کہ الماس کی نتھنی اتر سکتی ہے اگر صلاحو پچیس ہزار روپے اس کی ماں کے قدموں میں ڈھیر کردے۔\n\nصلاحو اب پوری طرح جکڑا جا چکا تھا۔ جائے رفتن نہ پائے ماندن والا معاملہ تھا۔ اس نے دو مکان بیچے اور پچیس ہزار روپے حاصل کرکے اقبال کے پاس پہنچا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اتنی رقم پیدا نہیں کرسکے گا۔ جب وہ لے آیا، تو وہ بوکھلا سی گئی۔ الماس سے مشورہ کیا تو اس نے کہا اتنی جلدی کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ پہلے اس سے کہو کہ ہمارے ساتھ کلیر شریف کے عرس پر چلے۔ صلاحو کو جانا پڑا اور نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ پورے پندرہ ہزار روپے مجروں میں اڑ گئے۔ اس کی ان تماش بینوں پر جو عرس میں شریک ہوئے تھے، دھاک تو بیٹھ گئی مگر اس کے پچیس ہزار روپوں کو دیمک لگ گئی۔ واپس آئے تو باقی کا روپیہ آہستہ آہستہ الماس کی فرمائشوں کی نذر ہوگیا۔\n\nدودا اندر ہی اندر غصے سے کھول رہا تھا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ اقبال اور الماس، دونوں کا سر اڑا دے۔ مگر اسے اپنے بابو کا خیال تھا۔ اس کے دل میں بہت سی باتیں تھیں جو وہ صلاحو کو بتانا چاہتا تھا، مگر بتا نہیں سکتا تھا۔ اس سے اسے اور بھی جھنجھلاہٹ ہوتی۔ صلاحو بہت بری طرح الماس پر لٹو تھا۔ پچیس ہزار روپے ٹھکانے لگ چکے تھے۔ اب وہ دس ہزار روپے اس مکان کو گروی رکھ کر اجاڑ رہا تھا جس میں اس کی نیک سیرت ماں رہتی تھی۔ یہ روپیہ کب تک اس کا ساتھ دیتا۔ اقبال اور الماس دونوں جونک کی طرح چمٹی ہوئی تھیں۔ آخر وہ دن بھی آگیا جب اس پر نالش ہوئی اور عدالت نے اسے قرقی کا حکم دے دیا۔\n\nصلاحو بہت پریشان ہوا، اسے کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ کوئی ایسا آدمی نہیں تھا، جو اسے قرض دیتا۔ لے دے کر ایک مکان تھا، سو وہ بھی گروی تھا اور قرقی آئی ہوئی تھی، اور بیلف صرف دودے پہلوان کی وجہ سے رکے ہوئے تھے، جس نے ان کو یقین دلایا تھا کہ وہ بہت جلد روپے کا بندوبست کردے گا۔\n\nصلاحو بہت ہنسا تھا کہ دودا کہاں سے روپے کا بندوبست کرے گا۔ سو دو سو روپے کی بات ہوتی تو اسے یقین آجاتا۔ مگر سوال پورے دس ہزار روپے کا تھا۔ چنانچہ اس نے پہلوان کا بڑی بے دردی سے مذاق اڑایا تھا کہ وہ اس کو طفل تسلیاں دے رہا ہے۔ پہلوان نے یہ لعن طعن خاموشی سے برداشت کی اور چلا گیا۔ دوسرے روز آیا تو اس کا شنگرف ایسا چہرہ زرد تھا۔ ایسا معلوم تھا کہ وہ بستر علالت پر سے اٹھ کر آیا ہے۔ سرنیوڑھا کر اس نے اپنے ڈب میں سے رومال نکالا جس میں سوسو کے کئی نوٹ تھے اور صلاحو سے کہا،’’لے باؤ۔۔۔ لے آیا ہوں۔‘‘\n\nصلاحو نے نوٹ گنے۔ پورے دس ہزار تھے۔ ٹکر ٹکر پہلوان کا منہ دیکھنے لگا۔\n\n’’یہ روپیہ کہاں سے پیدا کیا تم نے؟‘‘ دودے نے افسردہ لہجے میں جواب دیا، ’’ہو گیا پیدا کہیں سے۔‘‘ صلاحو قرقی کو بھول گیا۔ اتنے سارے نوٹ دیکھے تو اس کے قدم پھر الماس کے کوٹھے کی طرف اٹھنے لگا۔ مگر پہلوان نے اسے روکا۔ ’’نہیں باؤ۔۔۔ الماس کے پاس نہ جاؤ۔ یہ روپیہ قرقی والوں کو دو۔‘‘ صلاحو نے بگڑے ہوئے بچے کی مانند کہا، ’’کیوں۔۔۔؟ میں جاؤں گا الماس کے پاس۔‘‘ دودے نے کڑے لہجے میں کہا، ’’تو نہیں جائے گا؟‘‘ صلاحو طیش میں آگیا، ’’تو کون ہوتا ہے مجھے روکنے والا۔‘‘ دودے کی آواز نرم ہوگئی، ’’میں تیرا غلام ہوں باؤ۔۔۔ پر اب الماس کے پاس جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘ دودے کی آواز میں لرزش پیدا ہوگئی، ’’نہ پوچھ باؤ۔۔۔ یہ روپیہ مجھے اسی نے دیا ہے۔‘‘ صلاحو قریب قریب چیخ اٹھا، ’’یہ روپیہ الماس نے دیا ہے۔۔۔ تمہیں دیا ہے؟‘‘\n\n’’ہاں باؤ۔ اسی نے دیا ہے۔ مجھ پر بہت دیر سے مرتی تھی سالی، پر میں اس کے ہاتھ نہیں آتا تھا۔ تجھ پر تکلیف کا وقت آیا تو میرے دل نے کہا دودے چھوڑ اپنی قسم کو۔ تیرا باؤ تجھ سے قربانی مانگتا ہے۔ سو میں کل رات اس کے پاس گیا اور۔۔۔ اور۔۔۔ اور اس سے یہ سودا کرلیا۔‘‘\n\nدودے کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%AF%D8%A7_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88%D8%A7%D9%86"} {"title": "دودمان درد کی شادی ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:ماتم فضل محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دودمان درد کی شادی ہیں ہم\nخاندان غم کی آبادی ہیں ہم\n\nاپنی شومی سے ہوئی شادی غمی\nشاید آبادی کی بربادی ہیں ہم\n\nاپنے آب چشم سے سرسبز ہیں\nزیب دشت و زینت وادی ہیں ہم\n\nدرمیان زندگی و مرگ ہیں\nقابل صید و نہ صیادی ہیں ہم\n\nزخم ہائے ہجر میں کیا کیا سہے\nکشتگان تیغ فولادی ہیں ہم\n\nبندۂ پیریم یارب از عذاب\nمورد الطاف آزادی ہیں ہم\n\nہم نہیں کہتے مقلد ہیں ترے\nتیرے در کے کلب قلادی ہیں ہم\n\nداد کر اے داد گر عشاق کش\nتیرے آگے تجھ سے فریادی ہیں ہم\n\nخوں بہا معشوق سے لیتے نہیں\nعاشق انصاف بیدادی ہیں ہم\n\nدختر رز کو کوئی ہم سے کہے\nتیرے تو حق دار دامادی ہیں ہم\n\nہم گنہ گار جناب عشق ہیں\nعبد عبادی نہ اورادی ہیں ہم\n\nاے عزیزاں ترک عشق حسن میں\nسنگ پر جوں نقش بہزادی ہیں ہم\n\nلا ولد کہتے ہیں ہم کو لا ولد\nشعر سے از بس کہ اولادی ہیں ہم\n\nعاقبت خاکی ہیں خاکی ہوں گے نے\nآتشی و آہی و بادی ہیں ہم\n\nفتح باغی نے نصر پوری ہیں بلکہ\nسندھ میں بھی حیدرآبادی ہیں ہم\n\nکیا کہیں کیا تھے کہاں سے آئے ہیں\nمثل مضمون نو ایرادی ہیں ہم\n\nپھر بھی وہ ایراد کرنے سکتا ہے\nجس کے اول بار ایجادی ہیں ہم\n\nمست احمد سے ماتمؔ ہیں شکر\nنے نمودی قوم نے عادی ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%AF%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "دور تک روشنی ہے غور سے دیکھ", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دور تک روشنی ہے غور سے دیکھ\nموت بھی زندگی ہے غور سے دیکھ\n\nان چراغوں کے بعد اے دنیا\nکس قدر تیرگی ہے غور سے دیکھ\n\nرہنماؤں کا جذبۂ ایثار\nیہ بھی اک رہزنی ہے غور سے دیکھ\n\nدشمنی کو برا نہ کہہ اے دوست\nدیکھ کیا دوستی ہے غور سے دیکھ\n\nترک تدبیر و جستجو کے بعد\nزندگی زندگی ہے غور سے دیکھ\n\nگر یہ شبنم کا رنگ لایا ہے\nہر طرف تازگی ہے غور سے دیکھ\n\nہیں تحیر میں وہ بھی اے اخترؔ\nکیا تری شاعری ہے غور سے دیکھ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%AA%DA%A9_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%BA%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE"} {"title": "دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا\nان کو بزم ناز تھی اور مجھ کو خلوت خانہ تھا\n\nکھینچ لایا تھا یہ کس عالم سے کس عالم میں ہوش\nاپنا حال اپنے لیے جیسے کوئی افسانہ تھا\n\nچھوٹے چھوٹے دو ورق جل جل کے دفتر بن گئے\nدرس حسرت دے رہا تھا جو پر پروانہ تھا\n\nجان کر وارفتہ ان کے چھیڑنے کی دیر تھی\nپھر تو دل اک ہوش میں آیا ہوا دیوانہ تھا\n\nضوفشاں ہونے لگا جب دل میں حسن خود نما\nپھر تو کعبہ آرزوؔ کعبہ نہ تھا بت خانہ تھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D9%88_%D8%AD%D9%88%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد", "poet_page": "مصنف:محمد علی جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد\nہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد\n\nجینا وہ کیا کہ دل میں نہ ہو تیری آرزو\nباقی ہے موت ہی دل بے مدعا کے بعد\n\nتجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولے\nمیرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے بعد\n\nاک شہر آرزو پہ بھی ہونا پڑا خجل\nھل من مزید کہتی ہے رحمت دعا کے بعد\n\nلذت ہنوز مائدۂ عشق میں نہیں\nآتا ہے لطف جرم تمنا سزا کے بعد\n\nقتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے\nاسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد\n\nغیروں پہ لطف ہم سے الگ حیف ہے اگر\nیہ بے حجابیاں بھی ہوں عذر حیا کے بعد\n\nممکن ہے نالہ جبر سے رک بھی سکے اگر\nہم پر تو ہے وفا کا تقاضا جفا کے بعد\n\nہے کس کے بل پہ حضرت جوہرؔ یہ روکشی\nڈھونڈیں گے آپ کس کا سہارا خدا کے بعد", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "دور رہنا ہم سے کب تک اور بے گانے کے پاس", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دور رہنا ہم سے کب تک اور بے گانے کے پاس\nہیں قریبِ مرگ، کیا اب بھی نہیں آنے کے پاس؟\n\nجلوہ آرا بس کہ تھا وہ شمع سیما رات کو\nہم بھی مر کر رہ گئے مجلس میں پروانے کے پاس\n\nآفریں طغیانِ وحشت، مرحبا جوشِ جنوں!\nوہ یہ کہتے ہیں کہ کیوں کر جائیں دیوانے کے پاس\n\nغیر سے کہوائیں، یاروں سے سمجھوائیں گے ہم\nدیکھ لیں گے پھر کہ تم کیوں کر نہیں آنے کے پاس\n\nشیفتہ نے قصہ مجنوں سنایا رات کو\nآ گیا میرا اُنہیں سنتے ہی افسانے کا پاس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3"} {"title": "دور ساغر کا چلے ساقی دوبارا ایک اور", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دور ساغر کا چلے ساقی دوبارا ایک اور\nابر کعبہ سے اٹھا ہے مان کہنا ایک اور\n\nجھومتا آتا ہے وہ بادل کا ٹکڑا ایک اور\nساقیا بھر کر پلا دے جام صہبا ایک اور\n\nدن کو جو کچھ تم نے دیکھا یہ تو تھی سب دل لگی\nشب کو رہ جاؤ تو دکھلائیں تماشا ایک اور\n\nمیں انہیں کہتا ہوں تم بے درد ہو نا آشنا\nوہ لگاتے ہیں مجھے الزام الٹا ایک اور\n\nدل کو نفرت ہو گئی نظروں سے آخر گر گئے\nتم سے بہتر اپنی آنکھوں میں سمایا ایک اور\n\nکیوں سسکتا چھوڑے جاتے ہو مجھے مقتل میں تم\nفیصلہ کر دوں میں قرباں دے کے چرکا ایک اور\n\nتیرے آنے میں توقف جب ہوا اے نامہ بر\nخط انہیں بے چین ہو کر ہم نے لکھا ایک اور\n\nبند محرم کے کھلے کچھ بے حجابی ہو چکی\nوہ بھی اب اٹھ جائے جو باقی ہے پردا ایک اور\n\nدوست دشمن ہو گئے یاروں نے آنکھیں پھیر لیں\nرہ گیا ہے آپ کا مجھ کو بھروسا ایک اور\n\nوصل کی شب میں کیا مرغ سحر کا بند و بست\nنعرۂ اللہ اکبر کا ہے دھڑکا ایک اور\n\nہو چکا ذکر دہن وصف کمر لکھتے ہیں ہم\nدام میں صیاد کے پھنستا ہے عنقا ایک اور\n\nصید کی کثرت سے آغاؔ بن پڑی صیاد کی\nدو نے گر پائی رہائی آ کے الجھا ایک اور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%AF%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہم", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہم\nبس ترستے ہی چلے افسوس پیمانے کو ہم\n\nمے بھی ہے مینا بھی ہے ساغر بھی ہے ساقی نہیں\nدل میں آتا ہے لگا دیں آگ مے خانے کو ہم\n\nکیوں نہیں لیتا ہماری تو خبر اے بے خبر\nکیا ترے عاشق ہوئے تھے درد و غم کھانے کو ہم\n\nہم کو پھنسنا تھا قفس میں کیا گلہ صیاد کا\nبس ترستے ہی رہے ہیں آب اور دانے کو ہم\n\nطاق ابرو میں صنم کے کیا خدائی رہ گئی\nاب تو پوجیں گے اسی کافر کے بت خانے کو ہم\n\nباغ میں لگتا نہیں صحرا سے گھبراتا ہے دل\nاب کہاں لے جا کے بیٹھیں ایسے دیوانے کو ہم\n\nکیا ہوئی تقصیر ہم سے تو بتا دے اے نظیرؔ\nتاکہ شادی مرگ سمجھیں ایسے مر جانے کو ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85"} {"title": "دور سے بات خوش نہیں آتی", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دور سے بات خوش نہیں آتی\nیوں ملاقات خوش نہیں آتی\n\nتجھ بن اے ماہ رو کبھی مجھ کو\nچاندنی رات خوش نہیں آتی\n\nجائے بوسہ کے گالیاں دیجے\nیہ عنایات خوش نہیں آتی\n\nنہ مے و جام ہے نہ ساقی ہے\nایسی برسات خوش نہیں آتی\n\nاس کے مذکور کے سوا بیدارؔ\nاور کچھ بات خوش نہیں آتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C"} {"title": "دور سے باغ جہاں دکھلا کے دیوانہ کیا", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دور سے باغ جہاں دکھلا کے دیوانہ کیا\nمتصل جانے نہ پایا میں کہ ویرانہ کیا\n\nدیکھتے ہی مے کو ساغر کا نہ کھینچا انتظار\nمارے جلدی کے میں اپنا ہاتھ پیمانہ کیا\n\nطرفہ تر یہ ہے کہ اپنا بھی نہ جانا اور یوں ہی\nاپنا اپنا کہہ کے مجھ کو سب سے بیگانہ کیا\n\nکچھ بہک کر بات گر بولوں تو ہوں معذور میں\nمجھ کو ہستی نے تری آنکھوں کی مستانہ کیا\n\nبے وفائی نے یہ کس کی تجھ کو سمجھایا حسنؔ\nان دنوں کیوں تو نے کم اس طرف جانا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دور سے مجھ کو نہ منہ اپنا دکھاؤ جاؤ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دور سے مجھ کو نہ منہ اپنا دکھاؤ جاؤ\nبس جی بس دیکھ لیا میں تمہیں جاؤ جاؤ\n\nاس قدر آمد و شد تم کو ضرر رکھتی ہے\nدوستاں ہر گھڑی اس کو میں نہ آؤ جاؤ\n\nجاؤں جاؤں ہی جو کرتے ہو تو مانع ہے کون\nجاؤ مت جاؤ جو جاتے ہو تو جاؤ جاؤ\n\nآپ کی آنکھوں سے میرے تئیں ڈر لگتا ہے\nمجھ ستم کشتہ سے آنکھیں نہ ملاؤ جاؤ\n\nتم جہاں جاتے ہو مجھ کو بھی خبر ہے صاحب\nاپنے جانے کو نہ بندے سے چھپاؤ جاؤ\n\nسیر گلشن کو اگر جاتے ہو ہم راہ رقیب\nبخشو میرے تئیں مجھ کو نہ بلاؤ جاؤ\n\nہم سے کیا منہ کو چھپائے ہوئے جاتے ہو تم\nہم نے پہچان لیا منہ نہ چھپاؤ جاؤ\n\nآپ کی میری کسی طرح نہ ہووے کی صلح\nفائدہ کچھ نہیں باتیں نہ بناؤ جاؤ\n\nکیا میاں مصحفیؔ یاں جی کے تئیں کھوؤ گے\nاس کے کوچے سے کہیں رخت اٹھاؤ جاؤ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A4_%D8%AC%D8%A7%D8%A4"} {"title": "دور مجھ تک نہیں آتا کبھی پیمانے کا", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دور مجھ تک نہیں آتا کبھی پیمانے کا\nکچھ عجب رنگ ہے ساقی ترے میخانے کا\n\nروشنی برق فلک لے کے دکھانے کو چلی\nرنگ دیکھا نہ گیا میرے سیہ خانے کا\n\nیاد آئیں کسی کافر کی گلابی آنکھیں\nرنگ دیکھا جو چھلکتے ہوئے پیمانے کا\n\nوہ ہوا خاک یہ جل جل کے گھلی جاتی ہے\nشمع نے چھین لیا سوز بھی پروانے کا\n\nصفحۂ دہر پہ وہ سوختہ دل ہوں صفدرؔ\nپر پروانہ ورق ہے مرے افسانے کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%AA%DA%A9_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دور نگاہ ساقی مستانہ ایک ہے", "poet_page": "مصنف:چندر بھان کیفی دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دور نگاہ ساقی مستانہ ایک ہے\nپیمانے دو ہیں گردش پیمانہ ایک ہے\n\nپیتا ہوں گھونٹ گھونٹ میں سانسوں کے ساتھ ساتھ\nساقی کا اور عمر کا پیمانہ ایک ہے\n\nجس اشک میں ہو اشک ندامت وہی ہے اشک\nموتی بہت ہیں گوہر یک دانہ ایک ہے\n\nکثرت کی شان اور ہے وحدت کا رنگ اور\nآباد ہے جو ایک تو ویرانہ ایک ہے\n\nتفریق حسن شمع و گل میں ذرا نہیں\nسوز و گداز بلبل و پروانہ ایک ہے\n\nجب سن لیا فراق کا قصہ تو کہہ دیا\nمجنوں کا اور آپ کا افسانہ ایک ہے\n\nتم کو اگر ہے اپنی دل آرائیوں پہ ناز\nکیفیؔ بھی اپنے نام کا مستانہ ایک ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DB%81%DB%92"} {"title": "دور کا نشانہ", "poet_page": "مصنف:چودھری محمد علی ردولوی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "لالہ بنسی دھر تھے تو ذات کے بنئے، اور وہ بھی کشور دھن جو بنیوں میں اونچی ذات نہیں سمجھی جاتی ہے۔ مگر اپنے اندازِ شرافت سے ہیموں بقال، ٹوڈرمل مجار گو، سب کی یاد تازہ کردیتے تھے۔ گھر کے اندر بیٹھ کر جو پوجاپاٹ کرلیتے ہوں مگر باہر آزاد خیال، آزادہ رو مشہور تھے۔ آج کل کی آزادہ روی نہیں کہ باتیں کرنے میں بدتمیزی تمغہ خودداری سمجھا جائے اور کھلم کھلا ہرچیز کھانا پینا نئی روشنی کی پہچان ٹھہرے۔\n\nحسن اتفاق سے حسن پرست بھی واقع ہوئے تھے۔ اس لیے لکھنو کے چوک اور شہر کے پچھمی حصے سے جہاں قدیم کلچر کے نام لیوا نوابین رہتے ہیں زیادہ واقف تھے۔ لکھ پتی مشہور تھے، گمرمیں مہاجنی، عدالتِ دیوانی سے خریدی ہوئی زمینداری سب ہی کچھ تھا مگر صحبت کے یقیناً ایسے تھے کہ باوجود مصروفیت کے ان جلسوں کے لیے وقت نکال لیتے تھے۔ چوک بھر کی خبر رکھتے تھے۔ جہاں کہیں جلسہ ہوا یا پرائیویٹ مجرا ہوا، وہاں پہنچ ہی جاتے تھے اور رکھ رکھاؤ ایسا تھا کہ ان جلسوں میں حاشیہ نشین ہوکر نہیں بیٹھتے تھے بلکہ مسند کا کونا دباکر بیٹھنے والوں میں شمار ہوتا تھا۔ جہاں کہیں اربابِ نشاط کے انتخاب کا سوال پیش ہوتا تھا وہاں ان کی رائے بہت قیمتی سمجھی جاتی تھی۔ اور ایسے اہم معاملات میں جو خوش قسمت ان کامشورہ حاصل کرسکتا، وہ مطمئن ہوجاتا تھا کہ صورت، دن، سن اور فن کے لحاظ سے اب کوئی کسرنہیں رہ گئی۔\n\nآدمی منکسر مزاج اور خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے تھے، مگر جہاں سے دل کے معاملات شروع ہوتے تھے وہاں سے ان کی خودداری ان کو اجازت نہیں دیتی تھی کہ دوسرے کے معاملات سے واسطہ رکھیں۔ تجربے نے ان کو بتادیا تھا کہ چاہے جتنا بڑا دوست ہو یا کتنا ہی دولت مند ملاقاتی ہو اگر ان پرائیویٹ معاملات میں یہ کسی کی مدد کریں گے تو ذلیل ہوجائیں گے۔ میرے پڑھنے والے کہتے ہوں گے کہ لکھنے والا سٹھیا گیا ہے۔ نہ معلوم کہاں کی دقیانوسی بداخلاقیوں اور بدتہذیبیوں کو پیش کر رہا ہے اور یہ بھی خیال نہیں کرتا کہ نوجوان لوگ پڑھ کر بے راہ ہوجائیں گے۔ چوک اور چوک بازاروں کا ذکر قانوناً ممنوع ہوجانا چاہیے۔ میں عرض کروں گا کہ کہیں ایسا کیجیے گا بھی نہیں، نہیں تو نہ معلوم کتنے ریسٹوران، کتنے ہوٹل، کتنے کافی ہاؤسز، ملک کارنرس پر قفل پڑجائیں گے اور نوجوانوں کو جو سبق فطرت پڑھاچکی ہے وہ تو بھولنے سے رہے لیکن زیب النسا کی طرح چلا اٹھیں گے کہ،\n\nپاکبازیٔ من باعث گناہِ من است\n\nجس زمانے کی باتیں کر رہا ہوں اس وقت عید اور دوسرے خوشی کے موقعوں پر باضابطہ محفلیں ہوتی تھیں جن میں بچے، بوڑھے، جوان سب باضابطہ شریک ہونا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ہر ایاز اپنی قدر پہچان کر برتاؤ کرتا تھا۔ کوئی خالی سم پر گردن ہلادیتا تھا۔ کوئی ’’آں‘‘ بھی کہہ دیتا تھا۔ کوئی خالی واہ کرنا اپنا منصب سمجھتا تھا، کوئی موسیقی کے نکات بیان کردیتا تھا اور بزرگِ محفل خالی شگفتہ مزاجی چہرے سے ظاہر کرتا تھا اور ان ہی مواقع پر بعض نوجوانوں کی نگاہوں کاجائزہ لیتے ہوئے زبانِ حال سے کہتا تھا،\n\nاچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل\nلیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑے\n\nلالہ بنسی دھر کے ایسے لوگ آرٹسٹ سے تہذیب کے ساتھ باتیں کرکے اس کا دل بھی بڑھاتے تھے۔ لیجیے صاحب، سارنگی پر لہرا شرو ع ہوا۔ یہ ناچ کی تصریحیں کرتے جاتے ہیں کہ سری کرشن کی لیلا ہے۔ سری کرشن جی بچپن میں گیند کھیل رہے تھے۔ گیند سمندر میں جاگرا۔ ناگ دیو نے منہ میں لے لیا۔ سری کرشن جی نے اس کو پھانس لیا ہے۔ سمندر میں جاکر اس کے منہ سے گیند لارہے ہیں۔ ناچنے والی نے بایاں ہاتھ کاندھے کی سیدھ پر پورا لانبا کیا۔ دوسرا ہاتھ بھی کاندھے کی سیدھ پر رہا۔ مگر کہیں سے خم ہوکر پنجا سینے کے سامنے آگیا۔ بائیں ہاتھ کے پنجے نے سانپ کا پھن ثابت کیا ہے، داہنے ہاتھ کی انگلیوں نے ٹھمکیاں دے کر یہ ظاہر کیا کہ جب سانپ پھنس گیا تو سری کرشن جی نے یوں ٹھمکیاں بتائیں۔ ناچنے والی پیش درپیش چال سے بتارہی ہے کہ سانپ کی کنڈلیوں پر چڑھ کر سری کرشن یوں گیند سمندر سے لائے تھے۔ ہاتھ کا پنجا ماتھے کے سامنے آگیا۔ کلائی ماتھے سے چھوگئی۔ انگلیاں اوپر کو اٹھی رہیں، ہتھیلی محفل کی طرف رہی۔ یہ کرشن جی کامکٹ ہوگیا۔\n\nاب مہادیو جی کا ناچ شروع ہوا۔ تیزی سے گھوم گھوم کر چاروں ہاتھوں سے دنیا بنارہے ہیں۔ لالہ بنسی دھر اس طرح ارتھ بتاتے ہیں کہ ہر توڑے ہر پلٹے کے معنی آئینہ ہوتے جاتے ہیں۔ اے لیجیے پاربتی کے ناز و انداز شروع ہوئے، ہر پہلو سے اپنے کو بچاتی ہیں،\n\nوہ کیا کرے کہ محبت کا مقتضی ہے یہی\nو گر نہ فائدہ اس کو مرے ستانے سے\n\nلے کی نزاکتوں، پرن کی مشکل، جگہوں کی داد الگ دیتے چلے جاتے ہیں کہ سننے والوں کا لطف دوگنا ہوتا جاتا ہے۔ لیجیے صاحب، اس کے بعد بھاؤ شروع ہوئے، وہ حنائی ناخون، ہونٹوں کی سرخی اور آنکھوں کے لال ڈوروں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ مہجور کے خونینِ دل کا پتہ دیتے ہیں کہ خوشی کی خبریں بھی ہوں، رنج میں لہو کے آنسو رلاتی ہیں،\n\nاپنی بپتا میں کاسے کہوں\nتمرے کارن جو دکھ پاوا\n\nکے معنی اب آئینہ ہوگیے۔ اس نے انگوٹھے کی آرسی دیکھی، زرد دوپٹے کا آنچل ہاتھ پر لیا کہ رنگ ایسا ہوگیا ہے۔ کلائی سے نیچے کو ادھر ادھر الٹے پلٹے دیے کہ رات کروٹیں بدلتے کٹی ہے۔ پچھتاوے کے انداز سے داہنے ہاتھ کی ہتھیلی پر ٹھڈی جمائی۔ اس ہاتھ کی ہتھیلی کہنی کے نیچے رکھ کر خیالی زانو قائم کیا۔ انھوں نے انترے کے معنی ہویدا کردیے کہ،\n\n’’کدر پیا تمری کھتا (خطا) ناہیں\nمورا کیا مورے آگے آوا‘‘\n\nیوں ثابت کرتے ہیں۔ خیال کو اور چوکھا بنانے کے لیے موقع کا شعر بھی پڑھ دیا۔\n\nذرااٹھاؤ تو نظر اداس کیوں ہو اس قدر\nیہ خشک لب، پہ چشم تر، یہ کیا نصیبِ دشمناں\n\nیہ حصہ تولالہ بنسی دھر کا ہوا۔ اسی طرح بڑے چھوٹے صدر نشین، حاشیہ نشین، صفِ نعل والے سب مل کر کلچر کا معیار مضبوط کرتے ہیں، یہ نہیں کہ ہر موقع دعوتِ پردہ دری دے اور بے پردگی خلوت و جلوت کا فرق مٹادے۔ یہ تو باضابطہ صحبتوں کا حال ہوا۔ اب لالہ بنسی دھر کی پرائیویٹ تفریحوں کا حال سنیے۔ دن کو بڑا چوکور زمرد ہاتھ میں پہنے رہتے تھے۔ شام کو جب سیر کے لیے نکلتے تھے تو انیس بیس کیرٹ کا ہیرا انگلی میں اضافہ ہوتا تھا۔ گلے میں سونے کی دو موٹی موٹی لڑیں ہوتی تھیں۔ عطر کے معاملے میں ذری ٹکسالی گلاب کاقیمتی عطر ملتے تھے۔ جس کی خوشبو سے نازک مزاجوں کو چھینکیں آنے لگتی تھیں۔ اتنی تمیزداری ضرور تھی کہ خس کاعطر صرف گرمیوں ہی میں لگاتے تھے، مگر اس کے آگے نفاست کا لحاظ کم رہ جاتا تھا۔ مثلاً کیوڑے کا عطر جو صرف آبدار خانے اور بھنڈی خانے میں کام آتا ہے سر کے تیل میں ڈال لیتے تھے۔\n\nزنانہ مردانہ عطروں میں فرق نہیں کرتے تھے۔ پھولوں کے ہلکے عطر جیسے چنبیلی، جاڑوں میں بھی لگا لیتے تھے۔ جاڑوں کے عطریات مصالحہ والے جیسے حنا، شمامتہ العنبر گرمیوں میں استعمال کرجاتے تھے۔ مجموعوں کی نزاکتوں کا خیر کون ذکر، جنھیں مختلف عطروں کا خیال ہو اور پھر بھی تمیز نہ ہوسکے کہ بھینی بھینی ہلکی ہلکی خوشبو جنت سے آئی یا اسی دنیا میں پیدا ہوئی۔ جب بے فصل کی لپٹیں آتی تھیں تو نفیس مزاج کہہ اٹھتے تھے کہ ’’بوئے کچوری می آید‘‘ مہاجن آدمی تھے اس لیے دل کے معاملات میں بھی حدود کے باہر پاؤں نہیں پڑتا تھا۔ ایک دن بے تکلفی میں کہنے لگے کہ سال میں ہم سب سے پہلے تو وہ پونچی نکال لیتے ہیں جو کاروبار میں لگائی تھی۔ اس کے بعد خانہ داری کے اخراجات الگ کرلیتے ہیں۔ اس کے بعد منافع میں سے جس قدر مناسب ہو ا پونجی میں اضافہ کرتے ہیں۔ سب کے بعد کچھ روپیہ اپنے دل کی خوشی کے لیے علیحدہ کرلیتے ہیں۔ یہ روپیہ ہم بے دھڑک صرف کرتے ہیں، اگر کوئی گومتی کے کنارے بیٹھ کر ہمارے ساتھ روپیہ پانی میں پھینکے اور یہ کھیل ہم کو پسند آجائے تو ہم اس میں بھی مقابلہ کرنے کو تیار ہیں لیکن جب دل کی خوشی والا مال ختم ہوجائے گا تو ہم اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پھر دل اور دل کے افکار کو خداحافظ۔\n\nایک دادرا ہے ’’دل ایکے سے لاگے ہجاروں (ہزاروں ) کھڑے‘‘ لالہ آدمی وسیع الاخلاق ہے اس لیے گو منظورِ نظر ایک ہی رہتی تھی۔ مگر خیر صلاّح سب کی پوچھ آتے ہیں۔ شام سے لے کر دس بجے تک،\n\n’’رات ہی بھر گور ہے لیکن گلوں میں ہم رہے‘‘\n\nکا آوازہ بلند کیا کرتے تھے۔ کسی سے تکلف اور تہذیب کی ملاقات ہوتی تھی۔ کسی سے خلوص اور بے تکلفی تھی۔ بعض سے مذاق اور کنایوں کی چوٹیں چلتی تھیں۔ کہیں کہیں ایک آدھ منچلی ایسی بھی ہوتی تھی جہاں غالب مرحوم یاد آجاتے تھے،\n\nدھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیں\nہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیش دستی ایک دن\n\nلالہ بنسی دھر تھوڑے سے فلاسفر بھی تھے۔ جب دوستانِ ناصح ان کے پاؤں کے سنیچر اتارنے پر معترض ہوکر کہتے تھے کہ ’’یک درگیر و محکم گیر‘‘ خود کو پانی سے پتلا، ہوا سے ہلکا نہ کریں اور ہر جگہ کی حاضر باشی سے باز آئیں تو یہ جواب دیتے تھے کہ جنسی تقاضے الگ چیز ہیں، اور صنفِ نازک سے ہم کلامی اور ہم نشینی کی خواہش دوسری چیز ہے۔ لیکن جن ممالک میں پردہ ہوتا ہے وہاں آدمی طے نہیں کرسکتا کہ کس قدر تقاضا آدمی میں پہلی بات کا ہے اور کس قدر دوسری بات کا اور انسان غلطی سے دوسرے تقاضے کو بھی پہلا تقاضہ ہی سمجھا کرتا ہے۔ اگر ملک میں پردہ نہ ہو تو دوسرا تقاضہ پورا ہوا کرے اور پہلا اپنے حدود سے باہر نہ جائے، بات پتے کی کہتے تھے مگر نصیحت کرنے والوں کی عقل ان باریکیوں تک کہاں پہنچتی ہے،\n\nوہ بھلا کس کی بات مانے ہیں\nناصح صاحب تو کچھ دوانے ہیں\n\nناظرین لالہ بنسی دھر کی آوارہ گردی سے ان کی آبرو ریزی ہوئی۔ اور ہمارے ناصح کی ’’ح‘‘ گرگئی تو کوئی ہرج نہیں۔ مطلب دونوں حالتوں میں نکل آیا۔\n\nایک دوست کے یہاں کوئی چھوٹی سی تقریب تھی۔ ناظرات لالہ بنسی دھر کے متعلق نہ ہوتی تو کس کے ہوتی۔ سب سے بہتر گانے والی، سب سے زیادہ شوح طرار انتخاب کی گئی۔ جلسہ اور دعوت صرف ایک دن کی تھی۔ رات کا مجرا عام تھا۔ فرصت ہوئی۔ سازندے سلام کرکے باہر چلے گیے۔ نثر میں تغز ل ہونے لگا۔ بڑی ستھری صحبت، بڑے مزے کی باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک سازندہ پریشان کمرے میں گھس آیا اور کہنے لگا کہ ایک کانسٹیبل نے ہم کو خداواسطے کو ایک تھپڑ مارا ہے۔ عورت کی موجودگی کی وجہ سے جتنے تھے سب کے دل میں صرف ہمدردی ہی نہیں بلکہ ایک طرح جوش پیدا ہوا مگر پڑھے لکھوں کا جلسہ تھا۔ پہلا جوش طرفتہ العین میں ختم ہوگیا۔ قانونی پہلو سب کے دل میں آیا کہ بغیر ہم لوگوں کانام آئے کیا چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔\n\nسب نے صاحب تقریب کا منہ دیکھا۔ رنڈی نے لالہ بنسی دھر کی طرف نظر کی۔ زبانِ حال سے کہنے لگی، ’’ہمارا آدمی ذلیل کیا گیا ہے۔ اس کی تلافی کیا کی جائے گی۔ ہم صاحب تقریب کو کیا جانیں، ہم تو تمہارے بلائے سے یہاں آئے تھے۔ ہر چیز کے ذمہ دار تم ہو۔ اٹھو اور کانسٹیبل کو پھانسی پر چڑھادو۔‘‘ لالہ بنسی دھر نے سرنیچا کیا۔ ایک ذرا سے غور کے بعد نہایت سنجیدگی سے بہت نرم اور معاملہ فہمی کے لہجے میں سازندے سے مخاطب ہوئے۔\n\nلالہ بنسی دھر: ’’جاؤ اس کانسٹیبل کے نام کا پتا لگاآؤ۔‘‘\n\nرنڈی: ’’آپ ہیں اچھے خاصے الو کے پٹھے۔ ہمارا تو آدمی مارا گیا۔ ہم ذلیل ہوئے اور تم بجائے اٹھ کر وہاں جانے کے نام کا پتا لگاتے ہو۔‘‘ گردن کو نیم حقارت، نیم طنز کا جھٹکا دے کر ’’پتا۔ آ۔ آ۔ لگاآؤ۔‘‘\n\nلالہ بنسی دھر: بی بی غصہ نہ کرو۔ ہماری بات سنو۔ غصے سے کام بگڑتے ہیں، سنورتے نہیں۔ ہمارے ایک برادر ہیں، انھوں نے فلاں دیہاتی رئیس کو قرضہ دیا۔ ان کا نام تم نے بھی سنا ہوگا۔ ان کی مونچھوں سے چنگاریاں اڑتی تھیں۔ بڑی دھاک بیٹھی تھی۔ پولس ان کے دروازے جاتے ڈرتی تھی۔ نہ معلوم کتنے مقدمے فوجداری کے ان پر چلے مگر روپیہ کازور اور ان کا خوف ایسا تھا سینکڑوں بدمعاش ان کی نگاہ دیکھتے تھے، جو چاہا کر گزرے، جس کو چاہا پٹوادیا۔ ہمارے برادر ان کے یہاں قرقی لے کر گیے۔ انھوں نے قرق امین کی خبر نقد سے لی اور ہمارے برادر کو صرف پٹوایا ہی نہیں، بلکہ بری طرح ذلیل کیا مگر ہمارے برادر نے غصہ بالکل نہیں کیابلکہ اور زیادہ تابعدار ہوگیے۔ اور بے دھڑک قرضہ اس طرح دینا شروع کردیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ آج اس کے گھر کی نیو کا ٹکا کھدوالیا۔ رئیس صاحب آج کوڑی کے نہیں، مارے مارے پھرتے ہیں۔ یہ کانسٹیبل ٹکے کا آدمی کون چیز ہے، بس نام معلوم ہوجائے ہم کل ہی سے دوستی کرکے سالے کو قرضہ دینا شروع کردیں گے۔ تم اطمینان رکھو۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "دور کنارا", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "پھیلی دھرتی کے سینے پہ جنگل بھی ہیں لہلہاتے ہوئے\nاور دریا بھی ہیں دور جاتے ہوئے\nاور پربت بھی ہیں اپنی چپ میں مگن\nاور ساگر بھی ہیں جوش کھاتے ہوئے\nان پہ چھایا ہوا نیلا آکاش ہے\nنیلے آکاش میں نور لاتے ہوئے دن کو سورج بھی ہے\nشام جانے پہ ہے چاند سے سامنا\nرات آنے پہ ننھے ستارے بھی ہیں جھلملاتے ہوئے\nاور کچھ بھی نہیں\nاب تک آئی نہ آئندہ تو آئے گی بس یہی بات ہے\nاور کچھ بھی نہیں\nایک تو ایک میں دور ہی دور ہیں\nآج تک دور ہی دور ہر بات ہوتی رہی\nدور ہی دور جیون گزر جائے گا\nلہر سے لہر ٹکرائے کیسے کہو\nاور ساحل سے چھو جائے کیسے کہو\nلہر کو لہر سے دور کرتی ہوئی بیچ میں سینکڑوں اور لہریں بھی ہیں\nاور کچھ بھی نہیں\nچھائی مستی جو دل پر مرے بھول کی\nایک ہی بات رہ رہ کے کہتا ہے\nایک ہی دھیان کے درد میں دل کو لذت ملی\nآرزو کی کلی کب کھلی\nایک ہی موج پر میں تو بہتا رہا\nاب تک آئی نہ آئندہ تو آئے گی\nچاہے دھرتی کے سینے پہ جنگل نہ ہوں\nچاہے پربت نہ ہوں چاہے دریا نہ ہوں چاہے ساگر نہ ہوں\nنیلے آکاش میں چاند تارے نہ ہوں کوئی سورج نہ ہو\nرات دن ہوں نہ دنیا میں شام و سحر\nکوئی پروا نہیں\nایک ہی دھیان ہے\nدور ہی دور جیون گزر جائے گا اور کچھ بھی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "دور کی آواز", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میرے محبوب دیس کی گلیو\nتم کو اور اپنے دوستوں کو سلام\nاپنے زخمی شباب کو تسلیم\nاپنے بچپن کے قہقہوں کو سلام\n\nعمر بھر کے لیے تمہارے پاس\nرہ گئی ہے شگفتگی میری\nآخری رات کے اداس دیو\nیاد ہے تم کو بے بسی میری\n\nیاد ہے تم کو جب بھلائے تھے\nعمر بھر کے کیے ہوئے وعدے\nرسم و مذہب کی اک پجارن نے\nایک چاندی کے دیوتا کے لیے\n\nجانے اس کارگاہ ہستی میں\nاس کو وہ دیوتا ملا کہ نہیں\nمیری کلیوں کا خون پی کر بھی\nاس کا اپنا کنول کھلا کہ نہیں\n\nآج کل اس کے اپنے دامن میں\nپیار کے گیت ہیں کہ پیسے ہیں\nتم کو معلوم ہو تو بتلانا\nاس کے آنچل کے رنگ کیسے ہیں\n\nمجھ کو آواز دو کہ صبح کی اوس\nکیا مجھے اب بھی یاد کرتی ہے\nمیرے گھر کی اداس چوکھٹ پر\nکیا کبھی چاندنی اترتی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2"} {"title": "دور کیوں جاؤں یہیں جلوہ نما بیٹھا ہے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دور کیوں جاؤں یہیں جلوہ نما بیٹھا ہے\nدل مرا عرش ہے اور اس پہ خدا بیٹھا ہے\n\nبت کدہ میں ترے جلوے نے تراشے پتھر\nجس نے دیکھا یہی جانا کہ خدا بیٹھا ہے\n\nکیا ہوئے آنکھ کے پردے جو پڑے تھے اب تک\nبرملا حشر میں کیوں آج خدا بیٹھا ہے\n\nنقش وحدت ہی سویدا کو کہا کرتے ہیں\nدل میں اک تل ہے اور اس تل میں خدا بیٹھا ہے\n\nمیں جو کہتا ہوں کہ کعبے کو نہ برباد کرو\nہنس کے بت کہتے ہیں کیا دل میں خدا بیٹھا ہے\n\nآسماں میں تری گردش سے نہیں ڈرتا ہوں\nتجھ کو کس بات کا غم سر پہ خدا بیٹھا ہے\n\nچشم وحدت سے جو انسان ذرا غور کرے\nجس کو دیکھے یہی سمجھے کہ خدا بیٹھا ہے\n\nاپنے مرنے کا ذرا غم نہ کرو تم مضطرؔ\nیوں سمجھ لو کہ جلانے کو خدا بیٹھا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DB%8C%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%86%D9%85%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دور ہو درد دل یہ اور درد جگر کسی طرح", "poet_page": "مصنف:بہرام جی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دور ہو درد دل یہ اور درد جگر کسی طرح\nآج تو ہم نشیں اسے لا مرے گھر کسی طرح\n\nتیر مژہ ہو یار کا اور نشانہ دل مرا\nتیر پہ تیر تا بہ کے کیجے حذر کسی طرح\n\nنالہ ہو یا کہ آہ ہو شام ہو یا پگاہ ہو\nدل میں بتوں کے ہائے ہائے کیجے اثر کسی طرح\n\nآئی شب فراق ہے رات ہے سخت یہ بہت\nکیجے شمار اختراں تا ہو سحر کسی طرح\n\nعشق میں دل سے ہم ہوئے محو تمہارے اے بتو\nخالی ہیں چشم و دل کرو ان میں گزر کسی طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "دورا ہے جب سے بزم میں تیری شراب کا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دورا ہے جب سے بزم میں تیری شراب کا\nبازار گرم ہے مرے دل کے کباب کا\n\nخوباں کو کس طرح سے لگا لے ہے بات میں\nبندا ہوں اپنی طبع ظرافت مآب کا\n\nجو نامہ بر گیا نہ پھرا ایک اب تلک\nاے دل تو انتظار عبث ہے جواب کا\n\nحسرت یہ ہے کہ رات کو آئے وہ ماہرو\nدولت سے اس کی دید کروں ماہتاب کا\n\nالطاف میں بھی اس کے اذیت ہے سو طرح\nلاؤں کہاں سے حوصلہ اس کے عتاب کا\n\nرخسار کے عرق کا ترے بھاؤ دیکھ کر\nپانی کے مول نرخ ہوا ہے گلاب کا\n\nحاتمؔ یہی ہمیشہ زمانے کی چال ہے\nشکوہ بجا نہیں ہے تجھے انقلاب کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دوراہا", "poet_page": "مصنف:محمد دین تاثیر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ریل گاڑی یہ گھمسان الٰہی توبہ\nنہ مروت نہ تکلف نہ تبسم نہ ادا\nیوں ہی اک غیر شعوری سی خشونت کا خروش\nبے ارادہ ہے تو کیا غیر شعوری ہے تو کیا\nیہ نئے دور کے احساس غلامی کا ظہور\nانتقامانہ تحکم کی نمود\nاس میں اک اظہار بغاوت بھی تو ہے\nیوں ہی یوں ہی سہی\nاک شائبہ داد شجاعت بھی تو ہے\nچاک تو کرتا ہوں میں اپنا گریباں ہی سہی\nکلبلاتی ہوئی مخلوق کی اس دلدل میں\nسینہ تانے ہوئے کچھ لوگ بڑھے جاتے ہیں\nخوب پھنکارتے پھن پھیلائے\nلوگ وہ لوگ نہیں\nجن کو ٹھکراتے ہوئے جاتے ہیں\nیہ لوگ بڑے صاحب لوگ\nیہ جو حکام ہمارے ہیں یہ حکام نہیں\nجو ہمیں سے ہیں مگر ہم میں نہیں\nیہ جو بندوں کے ہیں آقا مگر آقا کے غلام\nبا وفا ہوں تو ہوں بے دام نہیں\nتو دوست کسی کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا\nان پہ دنیا کی ہر اک راہ کشادہ ہے مگر\nآج اک سنگ راں حائل ہے\nکہ اٹھائے نہ اٹھے اور ہلائے نہ ہلے\nدوسرے درجے کے دروازے میں\nان کے آقاؤں کا اک فرد فرنگی گورا\nباہیں پھیلائے ہوئے راستہ روکے ہے کھڑا\nکون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق\nسیٹیاں بجنے لگیں خدمت سرکار بجا لانا ہے\nاور سرکار ہی خود سنگ رہ منزل ہے\nزندگی آ گئی دوراہے پر\nدیر کیوں کرتے ہو بھاگو بھاگو\nدوڑ کر تھرڈ کے ڈربے میں گھسو\nاپنے ہم جنس غلاموں میں ملو\nزندگی آ گئی دوراہے پر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A7%DB%81%D8%A7"} {"title": "دوراہا (مصطفٰی زیدی)", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جاگ اے نرم نگاہی کے پر اسرار سکوت\nآج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے\nجو خود اپنے ہی سلاسل میں گرفتار رہے\nان خداؤں سے مرے غم کی دوا کیا ہوگی\nسوچتے سوچتے تھک جائیں گے نیلے ساگر\nجاگتے جاگتے سو جائے گا مدھم آکاش\nاس چھلکتی ہوئی شبنم کا ذرا سا قطرہ\nکسی معصوم سے رخسار پہ جم جائے گا\nایک تارا نظر آئے گا کسی چلمن میں\nایک آنسو کسی بستر پہ بکھر جائے گا\nہاں مگر تیرا یہ بیمار کدھر جائے گا\nمیں نے اک نظم میں لکھا تھا کہ اے روح وفا\nچارہ سازی ترے ناخن کی رہین منت\nغم گساری تری پلکوں کی روایات میں ہے\nایک چھوٹی ہی سی امید طرب زار سہی\nایک جگنو کا اجالا مری برسات میں ہے\nلذت عارض و لب ساعت تکمیل وصال\nمیری تقدیر میں ہے اور تری بات میں ہے\n\nدیر سے، کعبے سے، ادراک سے بھی اکتا کر\nآج تک دل کو اجالے کی طلب ہوتی ہے\nایک دن آئے گا جب اور بھی عریاں ہو کر\nآدمی جینے کو تھوڑی سی ضیا مانگے گا\nگیت کے، پھول کے، اشعار کے، افسانوں کے\nآج تک ہم نے بنائے ہیں کھلونے کتنے\nیہ کھلونے بھی نہ ہوتے تو ہمارا بچپن\nسوچتا ہوں کہ گزرتا تو گزرتا کیسے\nآدمی زیست کے سیلاب سے لڑتے لڑتے\nبیچ منجدھار میں آتا تو ابھرتا کیسے\n\nدیر سے روح پہ اک خواب گراں طاری ہے\nآج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے\nآج پھر دوش تمنا پہ ہے دل کا تابوت\nجاگ اے نرم نگاہی کے مسیحانہ سکوت\nورنہ انسان کی فطرت کا تلون مت پوچھ\nاس سن و سال کا مغرور لڑکپن مت پوچھ\nآدمی تیری اس افتاد سے بد دل ہو کر\nاور دو چار خداؤں کے علم پوجے گا\nاور اک روز اس انداز سے بھی اکتا کر\nاپنے بے نام خیالوں کے صنم پوجے گا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A7%DB%81%D8%A7_%28%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%D9%B0%DB%8C_%D8%B2%DB%8C%D8%AF%DB%8C%29"} {"title": "دوری", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے بہار تجھ کو اس کی کیا خبر\nاے نگار تجھ کو کیا پتا\nدل کے فاصلے کبھی نہ مٹ سکے\nانتہائے قرب سے بھی کیا\nسب کی اپنی اپنی شخصیت الگ\nسب کا اپنا اپنا زاویہ\nوہ بھی پھول تھے جو ہار بن گئے\nوہ بھی پھول تھا جو جل گیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1%DB%8C"} {"title": "دوری میں کیوں کہ ہو نہ تمنا حضور کی", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوری میں کیوں کہ ہو نہ تمنا حضور کی\nمنزل کو میری قرب سے نسبت ہے دور کی\n\nفرقت نے اس کی وصل کی تشویش دور کی\nتسکیں نہیں ہے یوں بھی دل ناصبور کی\n\nموسیٰ کے سر پہ پاؤں ہے اہل نگاہ کا\nاس کی گلی میں خاک اڑی کوہ طور کی\n\nکہتا ہے انجمن کو تری خلد مدعی\nاس بوالہوس کے دل میں تمنا ہے حور کی\n\nواعظ نے میکدے کو جو دیکھا تو جل گیا\nپھیلا گیا چراند شراب طہور کی\n\nموسیٰ کو کیوں نہ موج تجلی دھکیل دے\nجلوے سے اس کے گل ہوئی مشعل شعور کی\n\nارباب وقت جانتے ہیں روزگار نے\nکی سہو سے وفا تو تلافی ضرور کی\n\nرسوائیوں کا حوصلہ گھٹ گھٹ کے بڑھ گیا\nساماں ہے خامشی مری شور نشور کی\n\nمیل آسماں کا سوئے زمیں بے سبب نہیں\nزیر قدم جگہ ہے سر پر غرور کی\n\nاس سے نہ ملیے جس سے ملے دل تمام عمر\nسوجھی ہمیں بھی ہجر میں آخر کو دور کی\n\nپامال کر رہا ہے سیہ روزیوں کا جوش\nمٹی خراب ہے مرے کلبے میں نور کی\n\nکیا ایک قرب غیر کا صدمہ نہ پوچھیے\nہیں دل کے آس پاس بلا دور دور کی\n\nمضموں مرے اڑائے قلقؔ سب نے اس قدر\nسنتا ہوں میں ترانہ زبانی طیور کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "دوزخی کی مُناجات", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "اس دیرِ کُہن میں ہیں غرض مند پُجاری\nرنجیدہ بُتوں سے ہوں تو کرتے ہیں خدا یاد\nپوجا بھی ہے بے سُود، نمازیں بھی ہیں بے سُود\nقسمت ہے غریبوں کی وہی نالہ و فریاد\nہیں گرچہ بلندی میں عمارات فلک بوس\nہر شہر حقیقت میں ہے ویرانۂ آباد\nتیشے کی کوئی گردشِ تقدیر تو دیکھے\nسیراب ہے پرویز، جِگر تَشنہ ہے فرہاد\nیہ عِلم، یہ حکمت، یہ سیاست، یہ تجارت\nجو کچھ ہے، وہ ہے فکرِ مُلوکانہ کی ایجاد\nاللہ! ترا شکر کہ یہ خطّۂ پُر سوز\nسوداگرِ یورپ کی غلامی سے ہے آزاد!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B2%D8%AE%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D9%8F%D9%86%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D8%AA"} {"title": "دوست جب دل سا آشنا ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوست جب دل سا آشنا ہی نہیں\nاب ہمیں غیر کا گلہ ہی نہیں\n\nجس کا دل درد آشنا ہی نہیں\nاس کے جینے کا کچھ مزا ہی نہیں\n\nایک دم ہم سے وہ جدا ہی نہیں\nگر جدا ہو تو وہ خدا ہی نہیں\n\nآشنائی پہ اس کی مت جانا\nلے کے دل پھر وہ آشنا ہی نہیں\n\nخاک چھانی جہان کی لیکن\nدل گم گشتہ کا پتا ہی نہیں\n\nلاکھ معشوق ہیں جہاں میں مگر\nآہ وہ ناز وہ ادا ہی نہیں\n\nسعی بے فائدہ ہے چارہ گرو\nمرض عشق کی دوا ہی نہیں\n\nدرد دل ان سے ہم کہا ہی کیے\nپر انہوں نے کبھی سنا ہی نہیں\n\nسر پھراتا ہے کیوں عبث ناصح\nمیرا کہنے میں دل رہا ہی نہیں\n\nاب وہ آئے تو آئیں کیا حاصل\nطاقت عرض مدعا ہی نہیں\n\nمیں تو کیا گوش چرخ نے بھی عیشؔ\nایسا بیداد گر سنا ہی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D8%AC%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D8%A7_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دوست خوش ہوتے ہیں جب دوست کا غم دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوست خوش ہوتے ہیں جب دوست کا غم دیکھتے ہیں\nکیسی دنیا ہے الٰہی جسے ہم دیکھتے ہیں\n\nدیکھتے ہیں جسے بادیدۂ نم دیکھتے ہیں\nآپ کے دیکھنے والوں کو بھی ہم دیکھتے ہیں\n\nبے محل اب تو ستم گر کے ستم دیکھتے ہیں\nکیسے کیسوں کو برے حال میں ہم دیکھتے ہیں\n\nہنس کے تڑپا دے مگر غصے سے صورت نہ بگاڑ\nیہ بھی معلوم ہے ظالم تجھے ہم دیکھتے ہیں\n\nلوگ کیوں کہتے ہیں تو اس کو نہ دیکھ اس کو نہ دیکھ\nہم کو اللہ دکھاتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں\n\nباغ کی سیر نہ بازار کی تفریح رہی\nہم تو برسوں میں کسی دن پہ قدم دیکھتے ہیں\n\nلعل ہیرے سہی تیرے لب دنداں ادھر آ\nتوڑ لیتے تو نہیں ہیں انہیں ہم دیکھتے ہیں\n\nشل ہوئے دست طلب بھول گئے حرف سوال\nآج ہم حوصلۂ اہل کرم دیکھتے ہیں\n\nمیں تماشا سہی لیکن یہ تماشا کیسا\nمفت میں لوگ ترے ظلم و ستم دیکھتے ہیں\n\nآپ کی کم نگہی حسن بھی ہے عیب بھی ہے\nلوگ ایسا بھی سمجھتے ہیں کہ کم دیکھتے ہیں\n\nہم کو ٹھکراتے چلیں آپ کی محفل میں عدو\nکیا انہیں کم نظر آتا ہے یا کم دیکھتے ہیں\n\nچار لوگوں کے دکھانے کو تو اخلاق سے مل\nاور کچھ بھی نہیں دنیا میں بھرم دیکھتے ہیں\n\nمیرا ہونا بھی نہ ہونے کے برابر ہے وہاں\nدیکھیں جو لوگ وجود اور عدم دیکھتے ہیں\n\nآنکھ میں شرم کا پانی مگر اتنا بھی نہ ہو\nدیکھ ان کو جو تری آنکھ کو نم دیکھتے ہیں\n\nہو تو جائے گا ترے دیکھنے والوں میں شمار\nاول اول ہی مگر اپنے کو ہم دیکھتے ہیں\n\nراستہ چلنے کی اک چھیڑ تھی تو آقا نہ آ\nہم تو یہ قول یہ وعدہ یہ قسم دیکھتے ہیں\n\nدیکھنا جرم ہوا ظلم ہوا قہر ہوا\nیہ نہ دیکھا تجھے کس آنکھ سے ہم دیکھتے ہیں\n\nآنکھ ان کی ہے دل ان کا ہے کلیجہ ان کا\nرات دن جو مجھے بادیدۂ نم دیکھتے ہیں\n\nاپنا رونا بھی صفیؔ راس نہ آیا ہم کو\nاس کو شکوہ ہے کہ آنکھیں تری نم دیکھتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دوست دشمن نے کئے قتل کے ساماں کیا کیا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوست دشمن نے کئے قتل کے ساماں کیا کیا\nجان مشتاق کے پیدا ہوئے خواہاں کیا کیا\n\nآفتیں ڈھاتی ہے وہ نرگس فتاں کیا کیا\nداغ دیتی ہے مجھے گردش دوراں کیا کیا\n\nپھر سکی میرے گلے پر نہ چھری ہے ظالم\nورنہ گردوں سے ہوئے کار نمایاں کیا کیا\n\nحسن میں پہلوئے خورشید مگر دابے گا\nدور کھنچتا ہے ہمارا مہ تاباں کیا کیا\n\nروئے دلبر کی صفا سے تھا بڑا ہی دعویٰ\nسامنے ہو کے ہوا آئنہ حیراں کیا کیا\n\nآنکھیں گیسو کے تصور میں رہا کرتی ہیں بند\nلطف دکھلاتا ہے یہ خواب پریشاں کیا کیا\n\nگردش چشم دکھاتا ہے کبھی گردش جام\nمیری تدبیر میں پھرتا ہے یہ دوراں کیا کیا\n\nچشم بینا بھی عطا کی دل آگہ بھی دیا\nمیرے اللہ نے مجھ پر کئے احساں کیا کیا\n\nدوست نے جب نہ دم ذبح سسکتا چھوڑا\nمیرے دشمن ہوئے ہنس ہنس کے پشیماں کیا کیا\n\nگردش نرگس فتاں نے تو دیوانہ کیا\nدیکھو جھنکوائے کنوئیں چاہ زنخداں کیا کیا\n\nجل گیا آگ میں آپ اپنے میں مانند چنار\nپیستے رہ گئے دانت ارہ و سوہاں کیا کیا\n\nکچھ کہے کوئی میں منہ دیکھ کے رہ جاتا ہوں\nکم دماغی نے کیا ہے مجھے حیراں کیا کیا\n\nگرم ہرگز نہ ہوا پہلوئے خالی بے یار\nیاد آوے گی مجھے فصل زمستاں کیا کیا\n\nکوئی مردود خلائق نہیں مجھ سا آتشؔ\nکیا کہوں کہتے ہیں ہندو و مسلماں کیا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A6%DB%92_%D9%82%D8%AA%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا\nزخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا\n\nبے نیازی حد سے گزری بندہ پرور، کب تلک\nہم کہیں گے حالِ دل، اور آپ فرمائیں گے ‘کیا’؟\n\nحضرتِ ناصح گر آئیں، دیدہ و دل فرشِ راہ\nکوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا؟\n\nآج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں\nعذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا\n\nگر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا یوں سہی\nیہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا\n\nخانہ زادِ زلف ہیں، زنجیر سے بھاگیں گے کیوں\nہیں گرفتارِ وفا، زنداں سے گھبرائیں گے کیا\n\nہے اب اس معمورے میں قحطِ غمِ الفت اسدؔ\nہم نے یہ مانا کہ دلّی میں رہیں کھائیں گے کیا؟", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D8%BA%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D8%B9%DB%8C_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%88%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دوست کا خط", "poet_page": "مصنف:سجاد حیدر یلدرم", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "تو پیارے دوست کا پیارا خط ہے! تجھ میں وہ کونسی برقی شے بھری ہے جو میرے دل کو دھڑکاتی ہے! تجھے کھولتے وقت ہاتھ کیوں کانپنے لگتے ہیں؟ آخر تجھ میں اور کاغذوں سے کیا برتری ہے؟ تو بھی کاغذ کا ٹکڑا وہ بھی کاغذ کے ٹکڑے، بلکہ وہ تجھ سے زیادہ بڑے ہیں۔ ہاں باعث تفاخر و تفوق یہی ہے نا کہ دوست نے تجھے لکھا، لب پان خوردہ سے اف، لب پان خوردہ سے لفافہ بند کیا؟ بیشک، بیشک، یہ بہت بڑا تفوق ہے۔ اچھا میں تیرا امتحان لیتا ہوں، تجھے نمبر دیتا ہوں۔ سومیں دیکھوں تجھے کتنے نمبر ملتے ہیں۔\n\nان کے ہاتھوں سے چھوئے جانے کے۔۔۔ چالیس\n\nاس بات کے کہ دستہ کاغذ میں سے تجھے ہی منتخب کیا۔۔۔ پچاس\n\nان لبوں نے لفافہ کو بند کیا۔۔۔ ستر\n\nہیں! تونے سو سے زیادہ نمبر پائے۔ نہیں یہ امتحان ٹھیک نہیں ہوا دوسرے طریقے سے شمار ہونا چاہیے۔\n\nاس بات کے کہ تجھے میرے لیے منتخب کیا۔ اور کسی دوسرے کے لیے نہیں منتخب کیا۔۔۔ ساٹھ\n\nاس بات کے کہ ان کے قلم کی تحریر تجھ پر ہے۔۔۔ چالیس\n\nاس بات کے کہ ان کے چہرے کا عکس تجھ پر پڑا کیوں کہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ خط رات کو لکھا ہے۔۔۔ پانچ سو\n\nکیا؟ پھر سو سے زیادہ ہوگئے؟ یہ ٹھیک نہیں، اچھا تیسری بار پھر امتحان۔\n\nاس بات کے کہ تو ان کے مژدہ صحت و خوشنودی مزاج کی خبرلایا۔۔۔ اسی\n\nاس بات کے کہ تجھے چاک کردئیے جانے کا حکم ہے۔۔۔ دس ہزار\n\nیہ کیا؟ تمبر تو سو سے پھر بڑھ گئے۔\n\nنہیں نہیں! میں بے فائدہ کوشش نہیں کرنے کا، تو امتحان سے بالا، مواز نہ سے اعلیٰ، قید مقابلہ مقائسہ سے آزاد، پیارے دوست کا پیارا پیارا، ہائے میں کیسے ظاہر کروں کتنا پیارا خط ہے، تو سینہ سے لگایا جائے گا۔ تو نظر اغیار سے بچایا جائے گا، مگر (حاشا) تو چاک نہیں کیا جائے گا۔ تو میرے پاس محفوظ رہے گا، اور میں ہزاروں مرتبہ تجھے تنہا گوشوں میں پڑھوں گا۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%B7"} {"title": "دوستارے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "آئے جو قِراں میں دو ستارے\nکہنے لگا ایک، دوسرے سے\nیہ وصل مدام ہو تو کیا خوب\nانجامِ خرام ہو تو کیا خوب\nتھوڑا سا جو مہرباں فلک ہو\nہم دونوں کی ایک ہی چمک ہو\n\nلیکن یہ وصال کی تمنّا\nپیغامِ فراق تھی سراپا\nگردش تاروں کا ہے مقدّر\nہر ایک کی راہ ہے مقرّر\nہے خواب ثباتِ آشنائی\nآئین جہاں کا ہے جُدائی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "دوستو حال دل زار ذرا اس سے کہو", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "دوستو حال دل زار ذرا اس سے کہو\nکم نہ ہو اس میں ذرا بلکہ سوا اس سے کہو\n\nبات گڑھ کر نہ کوئی بہر خدا اس سے کہو\nجتنا میں منہ سے کہوں میرا کہا اس سے کہو\n\nیہ نہ کہیے گا کہ ہم زخموں پہ چھڑکیں گے نمک\nجس کسی نے کہ نہ چکھا ہو مزا اس سے کہو\n\nشام اندوہ کی شاید کہ سحر ہو جائے\nمرا دن رات کا یہ شور و بکا اس سے کہو\n\nچشم بیمار نے بیمار کیا ہے مجھ کو\nلب جاں بخش کرے میری دوا اس سے کہو\n\nہاتھ اٹھا بیٹھے نہ وہ قتل سے میرے یارو\nخوں بہا میں نے بحل اپنا کیا اس سے کہو\n\nاک حسیں پوچھتا تھا حال وقارؔ خستہ\nگو برا ہو مرا اتنا تو بھلا اس سے کہو", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D9%88_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%88"} {"title": "دوستو دل کہیں زنہار نہ آنے پائے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوستو دل کہیں زنہار نہ آنے پائے\nدل کے ہاتھوں کوئی آزار نہ آنے پائے\n\nکیجیے حسن پرستی مگر اس قید کے ساتھ\nپیاری صورت پہ ذرا پیار نہ آنے پائے\n\nخانۂ یار گھر آفت کا ہے اے رہ گیرو\nجسم پر سایۂ دیوار نہ آنے پائے\n\nاے جنوں تیرا زمانے میں رہے جب تک دور\nہوش میں عاشق سرشار نہ آنے پائے\n\nآپ پر عقدۂ نازک کمری کھل جاتا\nتا کمر گیسوئے خم دار نہ آنے پائے\n\nچشم محبوب سے نرگس کو برابر نہ کرو\nپاس بیمار کے بیمار نہ آنے پائے\n\nبحرؔ کچھ غم نہ کرو دل کے جدا ہونے کا\nاب بغل میں یہ بد اطوار نہ آنے پائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "دوستو کیا کیا دوالی میں نشاط و عیش ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوستو کیا کیا دوالی میں نشاط و عیش ہے\nسب مہیا ہے جو اس ہنگام کے شایاں ہے شے\n\nاس طرح ہیں کوچہ و بازار پر نقش و نگار\nہو عیاں حسن نگارستاں کی جن سے خوب رے\n\nگرم جوشی اپنے با جام چراغاں لطف سے\nکیا ہی روشن کر رہی ہے ہر طرف روغن کی مے\n\nمائل سیر چراغاں خلق ہر جا دم بدم\nحاصل نظارہ حسن شمع رو یاں پے بہ پے\n\nعاشقاں کہتے ہیں معشوقوں سے با عجز و نیاز\nہے اگر منظور کچھ لینا تو حاضر ہیں روپے\n\nگر مکرر عرض کرتے ہیں تو کہتے ہیں وہ شوخ\nہم سے لیتے ہو میاں تکرار حجت تا بہ کے\n\nکہتے ہیں اہل قمار آپس میں گرم اختلاط\nہم تو ڈب میں سو روپے رکھتے ہیں تم رکھتے ہو کے\n\nجیت کا پڑتا ہے جس کا داؤں وہ کہتا ہوں میں\nسوئے دست راست ہے میرے کوئی فرخندہ پے\n\nہے دسہرے میں بھی یوں گر فرحت و زینت نظیرؔ\nپر دوالی بھی عجب پاکیزہ تر تیوہار ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D8%B7_%D9%88_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%DB%81%DB%92"} {"title": "دوستی اس کی دشمنی ہی سہی", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوستی اس کی دشمنی ہی سہی\nدوست تو ہو وہ مدعی ہی سہی\n\nمستی و بحث عذر کفارہ\nتوبہ سے توبہ ہم نے کی ہی سہی\n\nہے اگر کچھ وفا تو کیا کہنے\nکچھ نہیں ہے تو دل لگی ہی سہی\n\nجی ہے یہ بن لگے نہیں رہتا\nکچھ تو ہو شغل عاشقی ہی سہی\n\nمحتسب ختم کیجئے حجت\nپی ہے تو خیر ہم نے پی ہی سہی\n\nحیف خمیاز ہائے حسرت و شوق\nزندگانی کشاکشی ہی سہی\n\nجان دے کر لیا ہے نام وفا\nموت بھی ہم نے مول لی ہی سہی\n\nملتے ہیں مدعی سے ملنے دو\nکہ مری ناخوشی خوشی ہی سہی\n\nبوسہ دینے کی چیز ہے آخر\nنہ سہی ہر گھڑی کبھی ہی سہی\n\nقتل ہوتے ہیں قتل ہوتے ہیں\nعہد دل دور نادری ہی سہی\n\nاے قلقؔ ناصحوں سے کیا تکرار\nمان اک بات مان لی ہی سہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "دوستی میں تری بس ہم نے بہت دکھ جھیلے", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوستی میں تری بس ہم نے بہت دکھ جھیلے\nکون نت اٹھ کے مری جان یہ پاپڑ بیلے\n\nچولی مسکی ہے کھلے بند گریباں یہ پھٹا\nکون سی جائے سے بن آئے میاں البیلے\n\nمیل تیرے کا کوئی ہم کو سجیلا نہ ملا\nدیکھ ڈالے ہیں ہر اک شہر کے میلے ٹھیلے\n\nظلم کی رہتی ہے مجھ پر جو یہ لے لے دے دے\nکائنات اپنی مرے پاس ہے جو کچھ لے لے\n\nنوش فرماتے ہو باتوں میں مزے سے اکثر\nدھیندس اور کدوہی اور کھیرے چچیندے کیلے\n\nدل بھرا ہے تو کہو اور نہیں تو بسم اللہ\nاور من مانتی دس لاکھ تو گالی دے لے\n\nتیرے دھمکانے سے کوئی اظفریؔ دھمکے ہے گا\nکھیل ایسے ہیں میاں ہم نے بہت سے کھیلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%B3_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%AF%DA%A9%DA%BE_%D8%AC%DA%BE%DB%8C%D9%84%DB%92"} {"title": "دوستی کا فریب ہی کھائیں", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوستی کا فریب ہی کھائیں\nآؤ کاغذ کی ناؤ تیرائیں\n\nہم اگر رہروی کا عزم کریں\nمنزلیں کھنچ کے خود چلی آئیں\n\nہم کو آمادۂ سفر نہ کرو\nراستے پر خطر نہ ہو جائیں\n\nہم سفر رہ گئے بہت پیچھے\nآؤ کچھ دیر کو ٹھہر جائیں\n\nمطربہ ایسا گیت چھیڑ کہ ہم\nزندگی کے قریب ہو جائیں\n\nان بہاروں کی آبرو رکھ لو\nمسکراؤ کہ پھول کھل جائیں\n\nگیسوئے زیست کے یہ الجھاؤ\nآؤ مل کر شکیبؔ سلجھائیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دوش بدوش دوش تھا مجھ سے بت کرشمہ کوش", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوش بدوش دوش تھا مجھ سے بت کرشمہ کوش\nپردہ در خیام عقل رخنہ گر حریم ہوش\n\nغازہ بہ رو مسی بہ لب پان بہ دہن حنا بکف\nسلک در عدن بسر طرہ عنبریں بہ دوش\n\nپل میں مریض وہ کرے دم میں شفا یہ دے مجھے\nآہ وہ چشم مے پرست واہ وہ لعل بادہ نوش\n\nمائل عیش جان کر جاہل بے وفا کہے\nسائل بوسہ جبکہ ہوں چپکے کہے کہ چپ خموش\n\nعشق میں سب ہے بہتری دیکھ بہ چشم گھڑی\nرشک قمر ہے مشتری‌ٔ دیدہ‌‌ گہ فروش\n\nمنکر مے تھا شیخ کل آج یہ حال ہے کہ ہے\nجام بہ دست و خم بہ سر شیشہ بہ لب و بہ دوش\n\nنغمہ سرا ہو محسناؔ تاکہ وہ باغ باغ باغ\nسوسن صد زبان ہو گل کی طرح تمام گوش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D8%B4_%D8%A8%D8%AF%D9%88%D8%B4_%D8%AF%D9%88%D8%B4_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D8%B4%D9%85%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%B4"} {"title": "دولت بھی ہے فلسفہ بھی ہے جاہ بھی ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دولت بھی ہے فلسفہ بھی ہے جاہ بھی ہے\nلطف حسن بتان دل خواہ بھی ہے\nسب سے قطع نظر ہے مشکل لیکن\nاتنا سمجھ رہو کہ اللہ بھی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "دولت حسن کی بھی ہے کیا لوٹ", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دولت حسن کی بھی ہے کیا لوٹ\nآنکھوں کو پڑ گئی ہے لوٹا لوٹ\n\nچل رہی ہے دلا ہوائے بہار\nلالہ پھولا ہے داغ سودا لوٹ\n\nسامنے تیرے جو پڑے اے ترک\nاس میں کعبہ ہو یا کلیسا لوٹ\n\nچار دن ہے بہار اے بلبل\nزر گل کا ہزار توڑا لوٹ\n\nصف مژگاں سے کہہ رہی ہے وہ چشم\nدل ملیں جتنے بے تحاشا لوٹ\n\nصرف اللہ مال دنیا کر\nمرد ہے کچھ تو بہر عقبیٰ لوٹ\n\nصاف دل ہو تو جلوہ گر ہو یار\nآئنہ ہو تو ہو تماشا لوٹ\n\nنعمت خوان حسن جو مل جائے\nیہ سمجھ لے ہے من و سلویٰ لوٹ\n\nگوہر آبلہ ہوئے تو چلے\nلیں گے دیوانو خار صحرا لوٹ\n\nجانتے ہیں کہ فوج جنگی سے\nنہیں سردار پھیر لیتا لوٹ\n\nکام مردوں کا ہے یہ اے آتشؔ\nرکھتی ہے جان کا بھی کھٹکا لوٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%84%D9%88%D9%B9"} {"title": "دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیں\nمحراب دعا میں سرنگوں رہتے ہیں\nآ جاتی ہے جس وقت گھر ان کے دولت\nپھر کیا ہے یہ سرگرم جنوں رہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DB%8C%DB%81_%D8%B2%D8%A8%D9%88%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دولت نے معاونت جو کی تو کیا کی", "poet_page": "مصنف:جارج پیش شور", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دولت نے معاونت جو کی تو کیا کی\nطالع نے مساعدت جو کی تو کیا کی\nپیری میں نہیں فائدہ کچھ بھی اے شورؔ\nدنیا نے موافقت جو کی تو کیا کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%88%D9%86%D8%AA_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "دولت کے بھروسے پہ نہ ہونا غافل", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دولت کے بھروسے پہ نہ ہونا غافل\nبہتر نہیں اوقات کا کھونا غافل\nواقع میں ہیں بیدار اسی شخص کے بخت\nجس شخص کو کر سکے نہ سونا غافل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D9%88%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84"} {"title": "دولت ہے بڑی چیز حکومت ہے بڑی چیز", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دولت ہے بڑی چیز حکومت ہے بڑی چیز\nان سب سے بشر کے لئے عزت ہے بڑی چیز\n\nجب ذکر کیا میں نے کبھی وصل کا ان سے\nوہ کہنے لگے پاک محبت ہے بڑی چیز\n\nبس آپ کے نزدیک تو اے حضرت واعظ\nآیت ہے بڑی چیز روایت ہے بڑی چیز\n\nپوری نہ اگر ہو تو کوئی چیز نہیں ہے\nنکلے جو مرے دل سے تو حسرت ہے بڑی چیز\n\nاے نوحؔ نہ تم اس کو حسینوں میں گنواؤ\nیہ خوب سمجھ لو کہ ریاست ہے بڑی چیز", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DA%91%DB%8C_%DA%86%DB%8C%D8%B2_%D8%AD%DA%A9%D9%88%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DA%91%DB%8C_%DA%86%DB%8C%D8%B2"} {"title": "دولہن بھی اگر بن کے آئے گی رات", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دولہن بھی اگر بن کے آئے گی رات\nہمیں بے تمہارے نہ بھائے گی رات\n\nہمیں ہجر میں خوں رلائے گی رات\nہمارے لہو میں نہائے گی رات\n\nبہت خواب غفلت میں دن چڑھ گیا\nاٹھو سونے والو پھر آئے گی رات\n\nہم اس سے زیادہ سیہ بخت ہیں\nہمیں تیرگی کیا دکھائے گی رات\n\nنہ ٹالے ٹلے گا یہ روز فراق\nقسم آج آنے کے کھائے گی رات\n\nسخیؔ اڑ کے بیٹھی ہے گھر پر مرے\nبس اب جان ہی لے کے جائے گی رات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D9%84%DB%81%D9%86_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا\nیاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں\n\nتھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئے\nتیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں\n\nکیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ بزم میں\nہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "دونوں گھروں کا لطف جداگانہ مل گیا", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دونوں گھروں کا لطف جداگانہ مل گیا\nکعبے سے ہم چلے تھے کہ بت خانہ مل گیا\n\nساقی سے یوں ثبوت کریمانہ مل گیا\nپیمانہ میں نے مانگا تھا مے خانہ مل گیا\n\nدل کیوں نہ ہم فروخت کریں اس یقین پر\nقیمت بھی اب ملے گی جو بیعانہ مل گیا\n\nساقی کی چشم مست ادھر آج اٹھ گئی\nہم کو ہمارے ظرف کا پیمانہ مل گیا\n\nکرنی پڑی نہ اور کہیں جستجو مجھے\nکعبے ہی کے حدود میں بت خانہ مل گیا\n\nمحشر میں دیکھ کر انہیں یوں شاد ہو گئے\nگویا ہمیں نجات کا پروانہ مل گیا\n\nمل کر بھی جل گیا کہ بچا یہ نہ پوچھیے\nاتنا ہوا کہ شمع سے پروانہ مل گیا\n\nاب در بدر کی ٹھوکریں کھانے سے کیا غرض\nمجھ کو خدائے کعبہ و بت خانہ مل گیا\n\nاللہ رے چشم ساقی محفل کا لطف خاص\nسب یوں ہی رہ گئے مجھے پیمانہ مل گیا\n\nوہ خط میں لکھ رہے ہیں تری عافیت نہیں\nمجھ کو عدم کی راہ کا پروانہ مل گیا\n\nاے سالکان جادۂ عرفاں بڑھے چلو\nبت خانہ مل گیا تو خدا خانہ مل گیا\n\nتوقیر عشق خاک اڑانے سے بڑھ گئی\nیہ ہے غلط کہ خاک میں دیوانہ مل گیا\n\nپائے عروج کیوں نہ ہماری فروتنی\nپھولا پھلا وہ خاک میں جو دانہ مل گیا\n\nجوش جنوں کے واسطے اب کچھ نہ چاہئے\nویرانے کی تلاش تھی ویرانہ مل گیا\n\nپیمانہ و سبو کی ضرورت نہیں رہی\nمجھ کو مزاج ساقئ مے خانہ مل گیا\n\nمرقد سے کشتگان محبت نکل چکے\nاب حشر تک کے واسطے کاشانہ مل گیا\n\nمعلوم ہم نے کر لئے اسرار حسن و عشق\nتقدیر سے اگر کوئی دیوانہ مل گیا\n\nرکھ لی خدائے عشق نے جوش جنوں کی شرم\nگھر سے نکلتے ہی مجھے ویرانہ مل گیا\n\nوہ کہہ گئے کہ پھر کوئی طوفان اٹھائے\nاے نوحؔ مجھ کو شغل قدیمانہ مل گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دونوں ہی کی جانب سے ہو گر عہد وفا ہو", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دونوں ہی کی جانب سے ہو گر عہد وفا ہو\nچاہت کا مزا جب ہے کہ تم بھی مجھے چاہو\n\nیہ ہم نہیں کہتے ہیں کہ دشمن کو نہ چاہو\nاس چاہ کا انجام مگر دیکھیے کیا ہو\n\nشمشیر سے بڑھ کر ہیں حسینوں کی ادائیں\nبے موت کیا قتل ان اچھوں کا برا ہو\n\nمعشوق طرح دار ہو انداز ہو اچھا\nدل آئے نہ ایسے پہ تو پھر دل کا برا ہو\n\nپورا کوئی ہوتا نظر آتا نہیں ارماں\nان کو تو یہ ضد ہے کہ ہمارا ہی کہا ہو\n\nتم مجھ کو پلاتے تو ہو مے سینہ پہ چڑھ کر\nاس وقت اگر کوئی چلا آئے تو کیا ہو\n\nوعدہ وہ تمہارا ہے کہ لب تک نہیں آتا\nمطلب یہ ہمارا ہے کہ باتوں میں ادا ہو\n\nخنجر کی ضرورت ہے نہ شمشیر کی حاجت\nترچھی سی نظر ہو کوئی بانکی سی ادا ہو\n\nخالی تو نہ جائیں دم رخصت مرے نالے\nفتنہ کوئی اٹھے جو قیامت نہ بپا ہو\n\nچوری کی تو کچھ بات نہیں مجھ کو بتا دو\nمیرا دل بے تاب اگر تم نے لیا ہو\n\nان سے دم رفتار یہ کہتی ہے قیامت\nفتنے سے نہ خالی کوئی نقش کف پا ہو\n\nبد ظن ہیں وہ اس طرح کہ سرمہ اسے سمجھیں\nبیمار کی آنکھوں میں اگر نیل ڈھلا ہو\n\nخط کھول کے پڑھتے ہوئے ڈرتا ہوں کسی کا\nلپٹی ہوئی خط میں نہ کہیں میری قضا ہو\n\nمرنا ہے اسی کا جو تجھے دیکھ کے مر جائے\nجینا ہے اسی کا جو محبت میں جیا ہو\n\nہے دل کی جگہ سینہ میں کاوش ابھی باقی\nپیکاں کوئی پہلو میں مرے رہ نہ گیا ہو\n\nمجھ کو بھی کہیں اور سے آیا ہے بلاوا\nاچھا ہے چلو آج بھی وعدہ نہ وفا ہو\n\nبیخودؔ کا فسانہ تو ہے مشہور زمانہ\nیہ ذکر تو شاید کبھی تم نے بھی سنا ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%B1_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "دوپٹا وہ گلنار دکھلا گئے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوپٹا وہ گلنار دکھلا گئے\nنئے سر سے پھر آگ بھڑکا گئے\n\nتمہاری ضدوں سے ہم اکتا گئے\nکسی روز سن لینا کچھ کھا گئے\n\nہماری فغاں سے نہ مانو برا\nکہاں تک کریں ضبط گھبرا گئے\n\nقفس سے چھٹے کن دنوں یا نصیب\nکہ پتے بھی پھولوں کے مرجھا گئے\n\nگئے میرے دشمن کے پھولوں میں وہ\nمجھے غم کے کانٹوں میں الجھا گئے\n\nہمارے گل اندام کا ہے یہ رنگ\nذرا دھوپ میں نکلے سنولا گئے\n\nیہ سر چوٹ فرقت کے صدمے رہی\nبہت کاسۂ سر میں بال آ گئے\n\nلحد میں گرے جب ہوا سر سفید\nپڑی دھوپ ایسی کہ تیورا گئے\n\nنہ پہنچی چمن تک خزاں آ گئی\nدلوں کے کنول کھل کے کمھلا گئے\n\nکسی کی وہ زلفیں جو یاد آ گئیں\nمرے سینے پر سانپ لہرا گئے\n\nفلک ابر کی طرح پھٹ جائے گا\nمرے نالے جس روز ٹکرا گئے\n\nہر اک بات کی تہ سمجھنے لگے\nبہت دور ہو ہم تمہیں پا گئے\n\nہوا دھوپ میں بھی نہ کم حسن یار\nکنھیا بنے وہ جو سنولا گئے\n\nنہ جوبن ابھرنے دیا ناز نے\nدوپٹا جو سرکا تو شرما گئے\n\nمیاں بحرؔ کیوں چپکے چپکے ہو آج\nجو میہمان آئے تھے وہ کیا گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D9%BE%D9%B9%D8%A7_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D9%84%D9%86%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "دوپہر رات آ چکی حیلہ بہانہ ہو چکا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوپہر رات آ چکی حیلہ بہانہ ہو چکا\nاور مستی مل چکے گیسو میں شانہ ہو چکا\n\nناوک مژگاں کا اپنا دل نشانہ ہو چکا\nمر چکے ہم موت آنے کا بہانہ ہو چکا\n\nعہد پیری ہے جوانی کا زمانہ ہو چکا\nختم اب مضمون شعر عاشقانہ ہو چکا\n\nاب خزاں ہے موسم گل کا زمانہ ہو چکا\nہو چکی گلبانگ بلبل کا ترانہ ہو چکا\n\nشیر سے شیریں کو رغبت تھی انہیں ہے ذوق مے\nدور بھی اب اور ہے اگلا زمانہ ہو چکا\n\nساقیا پیری میں تو شغل صبوحی ہے ضرور\nاب بھی پچھلا دور ہے اگلا زمانہ ہو چکا\n\nشبنمی پر اوس پڑتی ہے جو اپنی زیست میں\nتو پس مردن لحد پر شامیانہ ہو چکا\n\nہم تو گرد کارواں تھے سب سے پیچھے رہ گئے\nقافلہ ریگ رواں کا بھی روانہ ہو چکا\n\nآسماں پر طعن بخل اہل زمیں کو ہے عبث\nپانی پانی ہو گیا جب دانہ دانہ ہو چکا\n\nچٹ چکے قید قفس سے اب اسیران چمن\nبعد ویرانے کے آباد آشیانہ ہو چکا\n\nآمد فصل بہاری کی خبر لائی نسیم\nباغ میں بلبل کا تیار آشیانہ ہو چکا\n\nکیا خزاں میں آب و رنگ باغ فواروں سے ہو\nسب زر گل لٹ چکا خالی خزانہ ہو چکا\n\nوائے نادانی کہ اب فکر سبک دوشی ہوئی\nدفتر عصیاں جب اپنا بار شانہ ہو چکا\n\nگل اٹھا زنجیر سے پریوں کا دیوانہ ہے یہ\nعشق میں بدنام میں خانہ بہ خانہ ہو چکا\n\nگور تک وہ ساتھ میت کے رہے حد ہو گئی\nدشمن جاں سے بھی حق دوستانہ ہو چکا\n\nہم فقیروں کے بھی گھر لائی تھی ان کو سادگی\nاب وہ للہ ہے بتوں کا کارخانہ ہو چکا\n\nخواب غفلت مہرؔ کب تک جاگیے اٹھ بیٹھیے\nصبح ہونے آئی شب گزری فسانہ ہو چکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D9%BE%DB%81%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A2_%DA%86%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%DB%8C%D9%84%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دوکان مے فروش پہ گر آئے محتسب", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دوکان مے فروش پہ گر آئے محتسب\nدن عید کے تو خوب گھڑا جائے محتسب\n\nاے چرخ فتنہ گر یہ روا ہے کہ ہر برس\nصہبا کشوں پہ باج کی ٹھہرائے محتسب\n\nمستوں نے سنگسار کیا اس کو بارہا\nلیکن گیا نہ اس پہ بھی سودائے محتسب\n\nہاتھوں سے اس کے شیشۂ دل چور ہے مرا\nیارب کیے کی اپنے سزا پائے محتسب\n\nیہ کوئے مے فروش میں رولا ہوا کہ رات\nدہشت سے واں ٹھہر نہ سکا پائے محتسب\n\nمست شراب عشق کو بازار دہر میں\nزنہار بیم شحنہ نہ پروائے محتسب\n\nکچھ دے کے رشوت اس کو تو پی مصحفیؔ شراب\nسب زر کے واسطے ہے یہ غوغائے محتسب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%88%DA%A9%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%92_%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%B4_%D9%BE%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%AA%D8%B3%D8%A8"} {"title": "دُرّاج کی پرواز میں ہے شوکتِ شاہیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "دُرّاج کی پرواز میں ہے شوکتِ شاہیں\nحیرت میں ہے صیّاد، یہ شاہیں ہے کہ دُرّاج!\nہر قوم کے افکار میں پیدا ہے تلاطُم\nمشرق میں ہے فردائے قیامت کی نمود آج\nفطرت کے تقاضوں سے ہُوا حشر پہ مجبور\nوہ مُردہ کہ تھا بانگِ سرافیل کا محتاج", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%8F%D8%B1%D9%91%D8%A7%D8%AC_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D9%88%DA%A9%D8%AA%D9%90_%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دُعا (ہے یہی میری نماز، ہے یہی میرا وضو)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ہے یہی میری نماز، ہے یہی میرا وضو\nمیری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہُو\nصُحبتِ اہلِ صفا، نُور و حضور و سُرور\nسر خوش و پُرسوز ہے لالہ لبِ آبُجو\nراہِ محبّت میں ہے کون کسی کا رفیق\nساتھ مرے رہ گئی ایک مری آرزو\nمیرا نشیمن نہیں درگہِ میر و وزیر\nمیرا نشیمن بھی تُو، شاخِ نشیمن بھی تُو\nتجھ سے گریباں مرا مطلعِ صُبحِ نشور\nتجھ سے مرے سینے میں آتشِ ’اَﷲ ھو‘\nتجھ سے مری زندگی سوز و تب و درد و داغ\nتُو ہی مری آرزو، تُو ہی مری جُستجو\nپاس اگر تُو نہیں، شہر ہے ویراں تمام\nتُو ہے تو آباد ہیں اُجڑے ہُوئے کاخ و کُو\nپھر وہ شرابِ کُہن مجھ کو عطا کر کہ مَیں\nڈھُونڈ رہا ہوں اُسے توڑ کے جام و سُبو\nچشمِ کرم ساقیا! دیر سے ہیں منتظر\nجلوَتیوں کے سُبو، خلوَتیوں کے کُدو\nتیری خدائی سے ہے میرے جُنوں کو گِلہ\nاپنے لیے لامکاں، میرے لیے چار سُو!\nفلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا\nحرفِ تمنّا، جسے کہہ نہ سکیں رُو بُرو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%8F%D8%B9%D8%A7_%28%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%D8%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%88%D8%B6%D9%88%29"} {"title": "دُعا (یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے\nجو قلب کو گرما دے، جو رُوح کو تڑپا دے\n\nپھر وادیِ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے\nپھر شوقِ تماشا دے، پھر ذوقِ تقاضا دے\n\nمحرومِ تماشا کو پھر دیدۂ بِینا دے\nدیکھا ہے جو کچھ میں نے اَوروں کو بھی دِکھلا دے\n\nبھٹکے ہوئے آہُو کو پھر سُوئے حرم لے چل\nاس شہر کے خُوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے\n\nپیدا دلِ ویراں میں پھر شورشِ محشر کر\nاس محملِ خالی کو پھر شاہدِ لیلا دے\n\nاس دور کی ظُلمت میں ہر قلبِ پریشاں کو\nوہ داغِ محبّت دے جو چاند کو شرما دے\n\nرفعت میں مقاصد کو ہمدوشِ ثریّا کر\nخودداریِ ساحل دے، آزادیِ دریا دے\n\nبے لَوث محبّت ہو، بے باک صداقت ہو\nسینوں میں اُجالا کر، دل صورتِ مینا دے\n\nاحساس عنایت کر آثارِ مصیبت کا\nامروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دے\n\nمَیں بُلبلِ نالاں ہوں اِک اُجڑے گُلستاں کا\nتاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو، داتا دے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%8F%D8%B9%D8%A7_%28%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8%21_%D8%AF%D9%84%D9%90_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%81_%D8%AA%D9%85%D9%86%D9%91%D8%A7_%D8%AF%DB%92%29"} {"title": "دُنیا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مجھ کو بھی نظر آتی ہے یہ بوقلمونی\nوہ چاند، یہ تارا ہے، وہ پتھر، یہ نگیںہے\nدیتی ہے مری چشمِ بصیرت بھی یہ فتویٰ\nوہ کوہ، یہ دریا ہے، وہ گردُوں، یہ زمیں ہے\nحق بات کو لیکن میں چھُپا کر نہیں رکھتا\nتُو ہے، تجھے جو کچھ نظر آتا ہے، نہیں ہے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%8F%D9%86%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دِلوں کو مرکزِ مہر و وفا کر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "دِلوں کو مرکزِ مہر و وفا کر\nحریمِ کبریا سے آشنا کر\nجسے نانِ جویں بخشی ہے تُو نے\nاُسے بازُوئے حیدرؓ بھی عطا کر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%90%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B1%DA%A9%D8%B2%D9%90_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D9%88_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دِگرگُوں جہاں اُن کے زورِ عمل سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "دِگرگُوں جہاں اُن کے زورِ عمل سے\nبڑے معرکے زندہ قوموں نے مارے\nمُنجّم کی تقویمِ فردا ہے باطل\nگرے آسماں سے پُرانے ستارے\nضمیرِ جہاں اس قدر آتشیں ہے\nکہ دریا کی موجوں سے ٹُوٹے ستارے\nزمیں کو فراغت نہیں زلزلوں سے\nنُمایاں ہیں فِطرت کے باریک اشارے\nہمالہ کے چشمے اُبلتے ہیں کب تک\nخضَر سوچتا ہے وُلر کے کنارے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%90%DA%AF%D8%B1%DA%AF%D9%8F%D9%88%DA%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%8F%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B2%D9%88%D8%B1%D9%90_%D8%B9%D9%85%D9%84_%D8%B3%DB%92"} {"title": "دِگرگُوں عالمِ شام و سحَر کر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "دِگرگُوں عالمِ شام و سحَر کر\nجہانِ خشک و تر زیر و زبر کر\nرہے تیری خدائی داغ سے پاک\nمرے بے ذوق سجدوں سے حذَر کر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%90%DA%AF%D8%B1%DA%AF%D9%8F%D9%88%DA%BA_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%90_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D8%B3%D8%AD%D9%8E%D8%B1_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دِین و تعلیم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مجھ کو معلوم ہیں پِیرانِ حرم کے انداز\nہو نہ اخلاص تو دعوٰئے نظر لاف و گزاف\nاور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم\nایک سازش ہے فقط دین و مُروّت کے خلاف\nاس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے\nقوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف\nفِطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے\nکبھی کرتی نہیں ملّت کے گُناہوں کو معاف", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%90%DB%8C%D9%86_%D9%88_%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85"} {"title": "دِین وہُنر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "سرود و شعر و سیاست، کتاب و دِین و ہُنر\nگُہر ہیں ان کی گِرہ میں تمام یک دانہ\nضمیرِ بندۂ خاکی سے ہے نمود ان کی\nبلند تر ہے ستاروں سے ان کا کاشانہ\nاگر خودی کی حفاظت کریں تو عینِ حیات\nنہ کر سکیں تو سراپا فسُون و افسانہ\nہُوئی ہے زیرِ فلک اُمتوں کی رُسوائی\nخودی سے جب اَدب و دِیں ہُوئے ہیں بیگانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%D9%90%DB%8C%D9%86_%D9%88%DB%81%D9%8F%D9%86%D8%B1"} {"title": "دکن", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہ مقولہ ہند میں مدت سے ہے ضرب‌ المثل\nجو کہ جا پہنچا دکن میں بس وہیں کا ہو رہا\nپارسی ہندو مسلماں یا مسیحی ہو کوئی\nہے دکن کو ہر کوئی اپنی ولایت جانتا\n\nصحن گلشن میں کسی کام کو آئے کوئی\nجائے گا بوئے ربا سے معطر ہو کر\nحیدرآباد بھی اک باغ ہے ماشاء اللہ\nہے جہاں فیض کا دروازہ کشادہ سب پر\n\nعزت قومی ترستی تھی صدا آنکھیں میں\nآ کے بلدہ کے سوا نہ میں لگا اس کا پتہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%D9%86"} {"title": "دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ\nدل رُک رُک کر بند ہو گیا ہے غالبؔ\nواللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں\nسونا سَوگند ہو گیا ہے غالبؔ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%DA%BE_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%94"} {"title": "دکھ سے ترے کیا کلام", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "دکھ سے ترے کیا کلام\nیا امام یا حسین\nلیجیے کس منھ سے نام\nیا امام یا حسین\nہائے رے تیرا جگر یاور و خویش و پسر\nقتل ہوئے بالتمام\nیا امام یا حسین\nقہر ستم ہے غضب ساحل دریا پہ سب\nمارے گئے تشنہ کام\nیا امام یا حسین\nلاش تری پیچھے ہو آگے پڑھیں سب نماز\nپھر کہیں تجھ کو امام\nیا امام یا حسین\nہوتے ہیں ٹکڑے جگر لوگ جو حسرت کے ساتھ\nکہتے ہیں ہنگام شام\nیا امام یا حسین\nتو تن تنہا ادھر اور ہزاروں ادھر\nایک پہ یہ ازدحام\nیا امام یا حسین\nبندی ہوئے اہل بیت مارے پھرے یاں کے واں\nجن کو نہ جاے مقام\nیا امام یا حسین\nراہ چلا کیسی تو جس میں قیامت رہی\nسر پہ ترے گام گام\nیا امام یا حسین\nخاص کر ایک ایک کو ذبح کیا ظلم سے\nقتل تھا یا قتل عام\nیا امام یا حسین\nملتا ہے اس طور بھی خاک میں یک بارگی\nوہ حشم و احتشام\nیا امام یا حسین\nقہر و قیامت غضب کہتے ہوئے نکلے سب\nپر دگیان خیام\nیا امام یا حسین\nمردم عزت طلب خوار ہوئے دشت میں\nکون کرے احترام\nیا امام یا حسین\nکوئی نہ پیچھے رہا جو کرے ٹک وارثی\nپہلے ہوا سب کا کام\nیا امام یا حسین\nچھوٹے بڑے سامنے مر گئے ہوکر کھڑے\nخوب ہوا اختتام\nیا امام یا حسین\nجن و ملک آدمی سب کو کریں قتل اگر\nہو نہ ترا انتقام\nیا امام یا حسین\nداغ ہوئی جان میرؔ کیا کہے اب وہ فقیر\nغیر درود و سلام\nیا امام یا حسین", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "دکھ میں ہر شب کراہتا ہوں یارب", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دکھ میں ہر شب کراہتا ہوں یارب\nاب زیست کے دن نباہتا ہوں یارب\nطالب زر و مال کے ہیں سب دنیا میں\nمیں تجھ سے تجھی کو چاہتا ہوں یارب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8"} {"title": "دکھا اے ناخن غم لطف باہم ایسے ساماں پر", "poet_page": "مصنف:منشی خیراتی لال شگفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دکھا اے ناخن غم لطف باہم ایسے ساماں پر\nگریباں کا ہو منہ دامن پہ دامن کا گریباں پر\n\nوہ سوئے ہو کے بے پردہ یہاں کس کس تمنا سے\nمگر صدقے ہوا کے رات بھر روئے درخشاں پر\n\nتمہارے دست نازک نے جو کیں اٹھکھیلیاں اس سے\nاتر آیا گریباں مسکرا کر پائے داماں پر\n\nسکھایا چشم کو کیا آتش غم نے دم گریہ\nہر اک آنسو بنا ہے آبلہ دامان مژگاں پر\n\nجگر میں کس مزے سے چٹکیاں لیتا ہے چھپ چھپ کر\nگمان شاہد پہلو ہے مجھ کو درد پنہاں پر\n\nمیں وہ شیدائے گیسو ہوں کہ اکثر موسم گل میں\nمرا پائے نظر پڑتا ہے زنجیر گلستاں پر\n\nوہ بلبل ہوں غزل خوان اے شگفتہؔ باغ عالم میں\nگراں ہوتا نہیں میرا سخن طبع سخنداں پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%AE%D9%86_%D8%BA%D9%85_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "دکھا دل بھی ٹکڑے جگر ہوتے ہوتے", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دکھا دل بھی ٹکڑے جگر ہوتے ہوتے\nادھر بھی اٹھا درد ادھر ہوتے ہوتے\n\nجوانی کا جوبن ڈھلا دن کی صورت\nزوال آ گیا دوپہر ہوتے ہوتے\n\nدل نامراد اک ہزار آرزوئیں\nاسے چاہئے عمر بھر ہوتے ہوتے\n\nنہانے میں زنجیر پا طوق گردن\nبنے حلقہ حلقہ بھنور ہوتے ہوتے\n\nوہ جا اپنے پہلو میں دے ہی یہ مشکل\nجو ہوگا بھی تو دل میں گھر ہوتے ہوتے\n\nحرم جاتے جاتے گئے میکدے میں\nادھر ہو گئے شادؔ ادھر ہوتے ہوتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%B9%DA%A9%DA%91%DB%92_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92"} {"title": "دکھا دو گر مانگ اپنی شب کو تو حشر برپا ہو کہکشاں پر", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دکھا دو گر مانگ اپنی شب کو تو حشر برپا ہو کہکشاں پر\nچنو جبیں پر کبھی جو افشاں تو نکلیں تارے نہ آسماں پر\n\nنہیں ہیں شبنم کے صبح قطرے یہ برگ گلہائے بوستاں پر\nبیاد آتش رخاں پھپھولے پڑے ہیں ہر پھول کی زباں پر\n\nکہاں سر شمع پر ہے شعلہ نگاہ ٹک کیجے شمع داں پر\nکہ استخواں ہے غذا ہماری ہما یہ بیٹھا ہے استخواں پر\n\nاسیر نو کی خبر لے آ کر ذرا تو صیاد ظلم پیشہ\nیہاں تلک ہوں قفس میں تڑپا کہ میرے سارے ہیں دھجیاں پر\n\nہمارے اس روئے زرد پر جو سرشک افشاں ہے ابر مژگاں\nنہ دیکھی لالی کبھی برستی کسی نے یوں کشت زعفراں پر\n\nکوئی غریبوں کے مارنے سے ہوا بندھی ہے کسی کی ظالم\nاگر سلیمان وقت ہے تو قدم نہ رکھ مور ناتواں پر\n\nبنا کے آئینہ صاف اس کو کیا ہے حسن ادا سے واقف\nالٰہی آئینہ ساز کی اب شتاب پتھر پڑے زباں پر\n\nجہاں میں اس کے شہید کا ہو نہ کیونکہ رتبہ بلند یارو\nیہی ہے معراج عاشقوں کی جو سر ہو بعد از فنا سناں پر\n\nکرے چمن میں نہ کیونکہ برپا ترا یہ بوٹا سا قد قیامت\nنثار آنکھوں پہ کیا ہے نرگس کہ غنچہ قربان ہے دہاں پر\n\nرہی ہے بزم جہاں میں منعم سدا بلندی کے ساتھ پستی\nبسان فوارہ قصد مت کر زمیں سے جانے کا آسماں پر\n\nسفر عدم کا کہاں کرے ہے یہ بحر ہستی سے ایک دم میں\nحباب چشمک زنی کرے ہے خضر تری عمر جاوداں پر\n\nامید کیا چرخ سفلہ پرور ہمیں ہو اب تجھ سے ایک ناں کی\nکہ تیرے ہاتھوں سے ماہ نو نے یہاں قناعت کی نیم ناں پر\n\nنصیرؔ کہتے تو سب یہاں ہیں کہ اس کے عاشق ہیں ہم ولیکن\nبڑا ستم ہو بڑا غضب ہو اگر وہ آ جائے امتحاں پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%D9%88_%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D8%A8%D8%B1%D9%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%81%DA%A9%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "دکھا کر اک نظر دل کو نہایت کر گیا بے کل", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دکھا کر اک نظر دل کو نہایت کر گیا بے کل\nپری رو تند خو سرکش ہٹیلا چلبلا چنچل\n\nوہ عارض اور جبیں تاباں کہ ہوں دیکھ اس کو شرمندہ\nقمر خورشید زہرہ شمع شعلہ مشتری مشعل\n\nکفوں میں انگلیوں میں لعل میں اور چشم میگوں میں\nحنا آفت ستم فندق مسی جادو فسوں کاجل\n\nبدن میں جامۂ زر کش سراپا جس پہ زیب آور\nکڑے بندے چھڑے چھلے انگوٹھی نورتن ہیکل\n\nنزاکت اور لطافت وہ کف پا تک کہ حیراں ہوں\nسمن گل لالہ نسریں نسترن درپرنیاں مخمل\n\nسراسر پر فریب ایسا کہ ظاہر جس کی نظروں سے\nشرارت شوخی عیاری طرح پھرتی دغا چھلبل\n\nنظیرؔ اک عمر عشرت ہو ملے ایسا پری پیکر\nاگر اک آن اگر اک دم اگر اک چھن اگر اک پل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D9%84"} {"title": "دکھائے معجزے گر وہ بت عیار چٹکی میں", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دکھائے معجزے گر وہ بت عیار چٹکی میں\nتو بولے طائر رنگ حنا ہر بار چٹکی میں\n\nحنائی فندقیں ہیں سرخ ہے سوفار چٹکی میں\nکھلایا ہے مرے قاتل نے کیا گل زار چٹکی میں\n\nستاری ہے تمہاری یا کہ نغموں کا خزانہ ہے\nبنی مضراب بھی منقار موسیقار چٹکی میں\n\nملے گر خاک در تیری تو ہے اکسیر کی چٹکی\nابھی ہوتا ہے اچھا یہ دل بیمار چٹکی میں\n\nلیا تھا اس زمیں میں امتحان طبع یاروں سے\nکئے موزوں یہ ہم نے اے نسیمؔ اشعار چٹکی میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%B9%D8%AC%D8%B2%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%86%D9%B9%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دکھاتا ہے مرا دل بے الف رے", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "دکھاتا ہے مرا دل بے الف رے\nہوا ہوں رنج سے میں زے الف رے\n\nاڑائیں دھجیاں بھی تو نے لیکن\nچھٹا دامن نہ تجھ سے خے الف رے\n\nگریباں گیر ہے یہ جو وحشت\nنہ رکھا نام کو بھی تے الف رے\n\nخوشی سے کاٹ لے قاتل مرا سر\nہوا ہے اب تو مجھ کو بے الف رے\n\nنگاہوں کو کہوں کیوں کر نہ برچھی\nکہ سینے سے ہوئی ہیں پے الف رے\n\nالٰہی زے الف رے تو ہوا ہوں\nپہ چشم غیر میں ہوں خے الف رے\n\nلیا ہے دل تمہارا اس نے انجمؔ\nکرے آنکھیں وہ کیوں کر چے الف رے\n\nتصور گل رخوں کا آسماںؔ کیوں\nگلے کا ہو گیا ہے ہے الف رے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%81_%D8%B1%DB%92"} {"title": "دکھاتی ہے دل پھر محبت کسی کی", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دکھاتی ہے دل پھر محبت کسی کی\nکہ آنکھوں میں پھرتی ہے صورت کسی کی\n\nنہ پوچھو یہ ہیں سکۂ داغ کس کے\nیہ دولت ملی ہے بدولت کسی کی\n\nپر ارمان احباب دنیا سے اٹھے\nفلک نے نکالی نہ حسرت کسی کی\n\nیہ عالم ہے اپنا کہ کہتا ہے عالم\nالٰہی نہ ہو ایسی حالت کسی کی\n\nعجب بے مروت سے پالا پڑا ہے\nکہاں تک کرے کوئی منت کسی کی\n\nاڑا لے گئی سرو سے قمریوں کو\nقیامت ہے بوٹا سی قامت کس کی\n\nمیں اس دل کا ساتھی نہیں عاشقی میں\nبلا میری لے سر پر آفت کسی کی\n\nنظر میں ہیں یاران رفتہ کے جلسے\nخوش آتی نہیں مجھ کو صحبت کسی کی\n\nوہ کیا دن تھے اے دل تجھے یاد ہے کچھ\nوہ میری خوشامد وہ نخوت کسی کی\n\nبہت بد ہے اے عشق سرکار تیرے\nنہ عزت کسی کی نہ حرمت کسی کی\n\nشکنجے میں رہتا ہے دل آدمی کا\nخدا بند رکھے نہ حاجت کسی کی\n\nکہے مجھ کو جو جس کا جی چاہے لیکن\nکبھی مجھ سے ہوگی نہ غیبت کسی کی\n\nعبث بحرؔ مرتے ہو تم ہر کسی پر\nمبارک نہیں تم کو چاہت کسی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "دکھاتے ہیں ادا کچھ بھی تو آفت آ ہی جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:رادھے شیام رستوگی احقر", "kind": "poetry", "section": "غزل > نقشہاے رنگ رنگ (1929)", "year": "1929", "text_ur": "دکھاتے ہیں ادا کچھ بھی تو آفت آ ہی جاتی ہے\nسنبھل کر لاکھ چلتے ہیں قیامت آ ہی جاتی ہے\n\nمحبت میں ہیں صبر و شکر کے ہر چند ہم قائل\nمگر کچھ کچھ کبھی لب پر شکایت آ ہی جاتی ہے\n\nجو سچ پوچھو تو ہیں عاشق بھی پیرو نازنینوں کے\nبدن میں ناتوانی سے نزاکت آ ہی جاتی ہے\n\nمجاز اک پردۂ ادراک ہے تو چشم بینا کو\nکسی صورت نظر شکل حقیقت آ ہی جاتی ہے\n\nنہیں جذب دل عاشق سے ہے معشوق کو چارہ\nاگر بے درد بھی ہو تو محبت آ ہی جاتی ہے\n\nبتان سیمتن کے وصل سے ہم فیض پاتے ہیں\nوہ آتے ہیں تو اپنے گھر میں دولت آ ہی جاتی ہے\n\nترے اشعار رنگیں سے بھلا فرحت نہ ہو احقرؔ\nکہ ان پھولوں سے خوشبوئے فصاحت آ ہی جاتی ہے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D8%A2_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "دکھاتے ہیں جو یہ صنم دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دکھاتے ہیں جو یہ صنم دیکھتے ہیں\nخدا کی خدائی کو ہم دیکھتے ہیں\n\nیہ حیوان ہے دست طالع پہ بھاری\nنئے جانور کا قدم دیکھتے ہیں\n\nزن و خویش و فرزند و دولت سے چھوٹے\nنہ دیکھے کوئی جو کہ ہم دیکھتے ہیں\n\nشہنشاہ ہم ہیں دلوں پر ہیں حاکم\nگدا تم کو اے ذی حشم دیکھتے ہیں\n\nفقط ہاتھ کالے نہیں بلکہ منعم\nدلوں پر بھی داغ ورم دیکھتے ہیں\n\nکہاں تک اترتی ہے سینے پہ میرے\nتری تیغ ابرو کا دم دیکھتے ہیں\n\nبھگاتی ہے مار سیہ گو کہ ہم کو\nتری زلف مشکیں کا سم دیکھتے ہیں\n\nزمیں پر بھی دیتا نہیں چین ہم کو\nفلک تجھ سے جور و ستم دیکھتے ہیں\n\nدر اشک سے میرا بھرتی ہے دامن\nسخی تجھ کو اے چشم نم دیکھتے ہیں\n\nنہ رنج اور نہ شادی توسط ہے ہم کو\nکہ عیش و الم بھی بہم دیکھتے ہیں\n\nکسی ماہ نے اس کو دھوکا دیا ہے\nہم اخترؔ کو کیوں پر الم دیکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دکھلا دو نقش پائے رسول امین کو", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دکھلا دو نقش پائے رسول امین کو\nتا مشق سجدہ ہو مرے لوح جبین کو\n\nاے آہ دل جو جاوے تو عرش برین کو\nکہیو سلام عیسیٰ گردوں نشین کو\n\nبل بے شرار اشک کی گرمی کہ اب تلک\nاک آگ لگ رہی ہے مری آستین کو\n\nتھا میں کمین بوسہ میں بولے اسی لیے\nاشراف منہ لگاتے نہیں ہیں کمین کو\n\nجب میں ہنسوں گا آپ سے رو دیجئے گا نہ\nپھر تم بہت ہو چھیڑتے اس کمترین کو\n\nکہتی ہو کیا رقیب کو بھیجوں بتا صلاح\nلعنت ہی بھیجئے گا یزید لعین کو\n\nدیکھوں ہوں گر الف کو تو اے دل ہزار بار\nکرتا ہوں یاد تیرے قد دل نشین کو\n\nآوے نظر جو لام تو آوے خیال زلف\nجب سین پڑھ کے دیکھوں ہوں دنداں مسین کو\n\nکرتا ہوں تیری الفت دنداں میں سین سین\nیاں تک کہ پہنچا ہوں میں دم واپسین کو\n\nتبدیل بحر سے وہ غزل پڑھ بآب و تاب\nاحساںؔ خوشی ہو جس سے دل سامعین کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D8%AF%D9%88_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86_%DA%A9%D9%88"} {"title": "دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھے\nہر لالہ یاں ہے نافۂ مشک ختن مجھے\n\nہمدم وبال دوش نہ کر پیرہن مجھے\nکانٹا سا ہے کھٹکتا مرا تن بدن مجھے\n\nپھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھے\nزنجیر پا ہے موج نسیم چمن مجھے\n\nتسبیح دور بزم میں دیکھو امام کو\nبخشی ہے حق نے زیب سر انجمن مجھے\n\nاے میرے یاسمن ترے دندان آبدار\nگلشن میں ہیں رلاتے گل یاسمن مجھے\n\nمحراب کعبہ جب سے ہے تیرا خم کماں\nصید حرم سمجھتے ہیں ناوک فگن مجھے\n\nہے تن میں ریشہ ہائے نئے خشک استخواں\nکیوں کھینچتا ہے کانٹوں میں اے ضعف تن مجھے\n\nاے لب مسی کو پھینک کہ نیلم ہے کم بہا\nیاقوت دے یا دے کوئی لعل یمن مجھے\n\nہوں شمع یا کہ شعلہ خبر کچھ نہیں مگر\nفانوس ہو رہا ہے مرا پیرہن مجھے\n\nاک سرزمین لالہ بہار و خزاں میں ہوں\nیکساں ہے داغ تازہ و داغ کہن مجھے\n\nخسرو سے تیشہ بولا جو چاٹوں نہ تیرا خوں\nشیریں نہ ہووے خون سر کوہ کن مجھے\n\nرخ پر تمہارے دام جو ڈالا ہے سبزے نے\nآتا نظر ہے دیدۂ عنقا دہن مجھے\n\nیہ دل وہ ہے کہ کر دے زمیں آسماں کو خاک\nاک دم کو برق دے جو پنہا پیرہن مجھے\n\nکوچے میں تیرے کون تھا لیتا بھلا خبر\nشب چاندنی نے آ کے پہنایا کفن مجھے\n\nدکھلاتا آسماں سے ہے روئے زمیں کی سیر\nاے رشک ماہ تیری جبیں کا شکن مجھے\n\nرکھتا ہے چشم لطف پہ کس کس ادا کے ساتھ\nدیتا ہے جام ساقی پیماں شکن مجھے\n\nہے جذب دل درست تو چاہ فراق سے\nکھینچے گی تیری زلف شکن در شکن مجھے\n\nدکھلاتا اک ادا میں ہے سو سو طرح بناؤ\nاس سادہ پن کے ساتھ ترا بانکپن مجھے\n\nجیسے کنویں میں ہو کوئی تارا چمک رہا\nدل سوجھتا ہے یوں تہ چاہ ذقن مجھے\n\nآ کر اسے بھی دو کبھی آنکھیں ذرا دکھا\nآنکھیں دکھا رہا ہے غرال ختن مجھے\n\nآ اے مرے چمن کہ ہوا میں تری ہوا\nصحرائے دل ہوا ہے چمن در چمن مجھے\n\nیا رب یہ دل ہے یا کہ ہے آئینہ نظر\nدکھلا رہا ہے سیر و سفر در وطن مجھے\n\nآیا ہوں نور لے کے میں بزم سخن میں ذوقؔ\nآنکھوں پہ سب بٹھائیں گے اہل سخن مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D9%84_%D9%86%D8%A7%D9%81_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "دکھلائے خدا اس ستم ایجاد کی صورت", "poet_page": "مصنف:امانت لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دکھلائے خدا اس ستم ایجاد کی صورت\nاستادہ ہیں ہم باغ میں شمشاد کی صورت\n\nیاد آتی ہے بلبل پہ جو بیداد کی صورت\nرو دیتا ہوں میں دیکھ کے صیاد کی صورت\n\nآزاد ترے اے گل تر باغ جہاں میں\nبے جاہ و حشم شاد ہیں شمشاد کی صورت\n\nجو گیسوئے جاناں میں پھنسا پھر نہ چھٹا وہ\nہیں قید میں پھر خوب ہے میعاد کی صورت\n\nکھینچیں گے مرے آئینہ رخسار کی تصویر\nدیکھے تو کوئی مانی و بہزاد کی صورت\n\nگالی کے سوا ہاتھ بھی چلتا ہے اب ان کا\nہر روز نئی ہوتی ہے بیداد کی صورت\n\nکس طرح امانتؔ نہ رہوں غم سے میں دلگیر\nآنکھوں میں پھرا کرتی ہے استاد کی صورت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "دگرگُوں ہے جہاں، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "دِگرگُوں ہے جہاں، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی\nدل ہر ذرّہ میں غوغائے رستاخیز ہے ساقی\n\nمتاعِ دین و دانش لُٹ گئی اللہ والوں کی\nیہ کس کافر ادا کا غمزۂ خُوں‌ریز ہے ساقی\n\nوہی دیرینہ بیماری، وہی نا محکمی دل کی\nعلاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی\n\nحرم کے دل میں سوزِ آرزو پیدا نہیں ہوتا\nکہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی\n\nنہ اُٹھّا پھر کوئی رومیؔ عجم کے لالہ‌زاروں سے\nوہی آب و گِلِ ایراں، وہی تبریز ہے ساقی\n\nنہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے\nذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیز ہے ساقی\n\nفقیرِ راہ کو بخشے گئے اسرارِ سُلطانی\nبَہا میری نوا کی دولتِ پرویز ہے ساقی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%AF%D8%B1%DA%AF%D9%8F%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA%D8%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%D8%AA%DB%8C%D8%B2_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "دھرتی ماتا", "poet_page": "مصنف:نادر کاکوری", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یاد ہے مجھ کو جب میں چڑھ کر\nایک پہاڑی کی چوٹی پر\nشاخ پہ ایک درخت کے بیٹھا\nکرتا تھا میں تیرا نظارا\nکوسوں تک وہ تیرا شیوہ\nدھانی ماشی کا ہی بھورا\nکوسوں تک وہ تیرے میداں\nستھرے صاف چٹیلے میداں\nچھٹکی چھٹکی جھاڑیاں اس پر\nقدرت کی گل کاریاں اس پر\nتال تلیاں دریا ریتی\nباغ چمن آبادی کھیتی\nایسے تھے سب میری نظر میں\nپائیں باغ ہو جیسے گھر میں\nجب میں یہ سب دیکھ رہا تھا\nخوش تھا دل اور یہ کہتا تھا\nحد نظر کو اور بڑھاؤں\nایسی بلندی پر چڑھ جاؤں\nایسی چوٹی پر جا بیٹھوں میں\nصاف جہاں سے دیکھ سکوں میں\nشہر اور صوبے گاؤں اور قصبے\nبکھرے بکھرے چھٹکے چھٹکے\nسارا قدرت کا فرنیچر\nمیرے آگے آئے سمٹ کر\nساری انسانی آبادی\nیعنی دنیا کی آبادی\nمیرے آگے کھیل رہی ہو\nروتی گاتی اور ہنستی ہو\nاس محویت میں جب میں تھا\nمجھ کو ہوا معلوم کہ گویا\nکوئی مجھ کو کھینچ رہا ہے\nچونک پڑا میں کون ہے کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%D9%85%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "دھرم و ایمان", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بہت دن سے وطن میں اک محاذ جنگ قائم ہے\nکہیں ہے دھرم کو خطرہ کہیں ایمان کو خطرہ\nبپا ہے سخت طوفاں رونما ہیں سخت ہنگامے\nکہیں ہے وید کو خطرہ کہیں قرآن کو خطرہ\nکہیں مسجد کو خطرہ ہے شوالے کے مہنتوں سے\nکہیں ہے خانقہ والوں سے دیو استھان کو خطرہ\nکہیں مسلم کو خطرہ اپنے ایمانی تحفظ کا\nکہیں ہندو کے پوجا پاٹ کے سمان کو خطرہ\nکہیں شدھی کے پرچارک کو خطرہ دھرم رکشا کا\nکہیں تبلیغ کے جھنڈے کی آن بان کو خطرہ\nنہیں ہوتا کوئی ایسا منٹ چوبیس گھنٹے میں\nنہ رہتا ہو وطن والوں کے مال و جان کو خطرہ\nیہ ساری پیش بندی ہے فقط اس بات کی خاطر\nکہ لاحق ہو نہ برٹش راج کے ایوان کو خطرہ\nیہ ٹھیکیدار دین اور دھرم کے اس کے بھی ضامن ہیں\nنہ پیدا ہو مفاد اہل انگلستان کو خطرہ\nیہ خانہ جنگیاں جتنی ہیں سب کا مدعا یہ ہے\nنہ ہرگز رونما ہو جان بل کی جان کو خطرہ\nغلامان ازل یعنی یہ جھوٹے پیشوائے دیں\nلگا رہتا ہے ہر دم جن کے دسترخوان کو خطرہ\nوہ کب چاہیں گے کوئی اس طرح کا انقلاب آئے\nکہ ہو محسوس ان کے امن و اطمینان کو خطرہ\nہمارا فرض ہے ہم ان لفنگوں کو فنا کر دیں\nکہ ہے ان سب کے سب سے عام ہندوستان کو خطرہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%BE%D8%B1%D9%85_%D9%88_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86"} {"title": "دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا\n“عشقِ نبرد پیشہ” طلبگارِ مرد تھا\n\nتھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا\nاڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھا\n\nتالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں\nمجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا\n\nدل تا جگر، کہ ساحلِ دریائے خوں ہے اب\nاس رہ گزر میں جلوۂ گل، آگے گرد تھا\n\nجاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی!\nدل بھی اگر گیا، تو وُہی دل کا درد تھا\n\nاحباب چارہ سازیِ وحشت نہ کر سکے\nزنداں میں بھی خیال، بیاباں نورد تھا\n\nیہ لاشِ بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے\nحق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%BE%D9%85%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%86%D8%A8%D8%B1%D8%AF_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دھواں (افسانہ)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "دھواں", "year": "1941", "text_ur": "وہ جب اسکول کی طرف روانہ ہوا تو اس نے راستے میں ایک قصائی دیکھا،جس کے سر پر ایک بہت بڑا ٹوکرا تھا۔ اس ٹوکرے میں دو تازہ ذبح کیے ہوئے بکرے تھے۔ کھالیں اتری ہوئی تھیں، اور ان کے ننگے گوشت میں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ جگہ جگہ پر یہ گوشت جس کو دیکھ کر مسعود کے ٹھنڈے گالوں پر گرمی کی لہریں سی دوڑ جاتی تھیں، پھڑک رہا تھا جیسے کبھی کبھی اس کی آنکھ پھڑکا کرتی تھی۔\n\nاس وقت سوا نو بجے ہوں گے مگر جھکے ہوئے خاکستری بادلوں کے باعث ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بہت سویرا ہے۔ سردی میں شدت نہیں تھی، لیکن راہ چلتے آدمیوں کے منہ سے گرم گرم سما وار کی ٹونٹیوں کی طرح گاڑھا سفید دھواں نکل رہا تھا۔ ہر شے بوجھل دکھائی دیتی تھی جیسے بادلوں کے وزن کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ موسم کچھ ایسی ہی کیفیت کا حامل تھا جو ربڑ کے جوتے پہن کر چلنے سے پیدا ہوتی ہو۔ اس کے باوجود کہ بازار میں لوگوں کی آمدورفت جاری تھی اور دکانوں میں زندگی کے آثار پیدا ہو چکے تھے؛ آوازیں مدھم تھیں، جیسے سرگوشیاں ہورہی ہیں، چپکے چپکے، دھیرے دھیرے باتیں ہورہی ہیں، ہولے ہولے لوگ قدم اٹھا رہے ہیں کہ زیادہ اونچی آواز پیدا نہ ہو۔\n\nمسعود بغل میں بستہ دبائے اسکول جارہا تھا۔ آج اس کی چال بھی سست تھی۔ جب اس نے بے کھال کے تازہ ذبح کیے ہوئے بکروں کے گوشت سے سفید سفید دھواں اٹھتا دیکھا تو اسے راحت محسوس ہوئی۔ اس دھوئیں نے اس کے ٹھنڈے ٹھنڈے گالوں پر گرم گرم لکیروں کا ایک جال سا بن دیا۔ اس گرمی نے اسے راحت پہنچائی اور وہ سوچنے لگا کہ سردیوں میں ٹھنڈے یخ ہاتھوں پر بید کھانے کے بعد اگر یہ دھواں مل جایا کرے تو کتنا اچھا ہو۔\n\nفضا میں اجلا پن نہیں تھا۔ روشنی تھی مگر دھندلی۔ کہر کی ایک پتلی سی تہہ ہرشے پر چڑھی ہوئی تھی جس سے فضا میں گدلا پن پیدا ہوگیا تھا۔ یہ گدلا پن آنکھوں کو اچھا معلوم ہوتا تھا اس لیے کہ نظر آنے والی چیزوں کی نوک پلک کچھ مدھم پڑ گئی تھی۔\n\nمسعود جب اسکول پہنچا تو اسے اپنے ساتھیوں سے یہ معلوم کرکے قطعی طور پر خوشی نہ ہوئی کہ اسکول سکتر صاحب کی موت کے باعث بند کردیا گیا ہے۔ سب لڑکے خوش تھے جس کا ثبوت یہ تھا کہ وہ اپنے بستے ایک جگہ پر رکھ کر اسکول کے صحن میں اوٹ پٹانگ کھیلوں میں مشغول تھے۔ کچھ چھٹی کا پتہ معلوم کرتے ہی گھر چلے گیے۔ کچھ آرہے تھے اور کچھ نوٹس بورڈ کے پاس جمع تھے اور بار بار ایک ہی عبارت پڑھ رہے تھے۔\n\nمسعود نے جب سنا کہ سکتر صاحب مر گیے ہیں تو اسے بالکل افسوس نہ ہوا۔ اس کا دل جذبات سے بالکل خالی تھا۔ البتہ اس نے یہ ضرور سوچا کہ پچھلے برس جب اس کے د ادا جان کا انتقال ان ہی دنوں میں ہوا تو ان کا جنازہ لے جانے میں بڑی دقت ہوئی تھی اس لیے کہ بارش شروع ہوگئی تھی۔ وہ بھی جنازے کے ساتھ گیا تھا اور قبرستان میں چکنی کیچڑ کے باعث ایسا پھسلا تھا کہ کھدی ہوئی قبر میں گرتے گرتے بچا تھا۔ یہ سب باتیں اس کو اچھی طرح یاد تھیں۔ سردی کی شدّت، اس کے کیچڑ سے لت پت کپڑے، سرخی مائل نیلے ہاتھ جن کو دبانے سے سفید سفید دھبے پڑ جاتے تھے، ناک جو کہ برف کی ڈلی معلوم ہوتی تھی اور پھر آکر ہاتھ پاؤں دھونے اور کپڑے بدلنے کا مرحلہ۔۔۔ یہ سب کچھ اس کو اچھی طرح یاد تھا۔ چنانچہ جب اس نے سکتر صاحب کی موت کی خبر سنی تو اسے یہ بیتی ہوئی باتیں یاد آگئیں اور اس نے سوچا، جب سکتر صاحب کا جنازہ اٹھے گا تو بارش شروع ہو جائے گی اور قبرستان میں اتنی کیچڑ ہو جائے گی کہ کئی لوگ پھسلیں گے اور ان کو ایسی چوٹیں آئیں گی کہ بلبلا اٹھیں گے۔\n\nمسعود نے یہ خبر سن کر سیدھا اپنی کلاس کا رخ کیا۔ کمرے میں پہنچ کر اس نے اپنے ڈسک کا تالا کھولا۔ دو تین کتابیں جو کہ اسے دوسرے روز پھر لانا تھیں، اس میں رکھیں اور باقی بستہ اٹھا کرگھر کی جانب چل پڑا۔\n\nراستے میں اس نے پھر وہی دو تازہ ذبح کیے ہوئے بکرے دیکھے۔ ان میں سے ایک کو اب قصائی نے لٹکا دیا تھا دوسرا تختے پر پڑا تھا۔ جب مسعو د دکان پر سے گزرا تو اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ وہ گوشت کو جس میں سے دھواں اٹھ رہا تھا، چھو کر دیکھے۔ چنانچہ آگے بڑھ کر اس نے انگلی سے بکرے کے اس حصّے کو چھوکر دیکھا جو ابھی تک پھڑک رہا تھا۔ گوشت گرم تھا۔ مسعود کی ٹھنڈی انگلی کو یہ حرارت بہت بھلی معلوم ہوئی۔ قصائی دکان کے اندر چھریاں تیز کرنے میں مصروف تھا۔ چنانچہ مسعود نے ایک بار پھر گوشت کو چھو کر دیکھا اور وہاں سے چل پڑا۔\n\nگھر پہنچ کر اس نے جب اپنی ماں کو سکتر صاحب کی موت کی خبر سنائی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کے ابا جی انہی کے جنازے کے ساتھ گیے ہیں۔ اب گھرمیں صرف دو آدمی تھے۔ ماں اور بڑی بہن۔ ماں باورچی خانہ میں بیٹھی سالن پکا رہی تھی اور بڑی بہن کلثوم پاس ہی ایک کانگڑی لیے درباری کی سرگم یاد کررہی تھی۔\n\nچونکہ گلی کے دوسرے لڑکے گورنمنٹ اسکول میں پڑھتے تھے۔ جس پر اسلامیہ اسکول کے سکتر کی موت کا کچھ اثر نہیں پڑا تھا۔ اس لیے مسعود نے خود کو بالکل بیکار محسوس کیا۔ اسکول کا کوئی کام بھی نہیں تھا۔ چھٹی جماعت میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ گھر میں اپنے ابا جی سے پڑھ چکا تھا۔ کھیلنے کے لیے بھی اس کے پاس کوئی چیز نہ تھی۔ ایک میلا کچیلا تاش طاق میں پڑا تھا مگر اس سے مسعود کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ لوڈو اور اسی قسم کے دوسرے کھیل جو اس کی بڑی بہن اپنی سہیلیوں کے ساتھ ہر روز کھیلتی تھی اس کی سمجھ سے بالاتر تھے۔ سمجھ سے بالاتر یوں تھے کہ مسعود نے کبھی ان کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔ اس کو فطرتاً ایسے کھیلوں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔\n\nبستہ اپنی جگہ پر رکھنے اور کوٹ اتارنے کے بعد وہ باورچی خانے میں اپنی ماں کے پاس بیٹھ گیا اور درباری کی سرگم سنتا رہا جس میں کئی دفعہ سارے گاما آتا تھا۔ اس کی ماں پالک کاٹ رہی تھی۔ پالک کاٹنے کے بعد اس نے سبزسبز پتوں کا گیلا گیلا ڈھیر اٹھا کر ہنڈیا میں ڈال دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب پالک کو آنچ لگی تو اس میں سے سفید سفید دھواں اٹھنے لگا۔ اس دھوئیں کو دیکھ کر مسعود کو بکرے کا گوشت یاد آگیا۔ چنانچہ اس نے اپنی ماں سے کہا، ’’امی جان، آج میں نے قصائی کی دکان پر دو بکرے دیکھے۔ کھال اتری ہوئی تھی اور ان میں سے دھواں نکل رہا تھا بالکل ایسے ہی جیسا کہ صبح سویرے میرے منہ سے نکلا کرتاہے۔‘‘\n\n’’اچھا۔۔۔!‘‘ یہ کہہ کر اس کی ماں چولھے میں لکڑیوں کے کوئلے جھاڑنے لگی۔ ’’ہاں اور میں نے گوشت کو اپنی انگلی سے چھو کر دیکھا تو وہ گرم تھا۔‘‘\n\n’’اچھا۔۔۔!‘‘ یہ کہہ کر اس کی ماں نے وہ برتن اٹھایا جس میں اس نے پالک کا ساگ دھویا تھا اور باورچی خانہ سے باہر چلی گئی۔\n\n’’اور یہ گوشت کئی جگہ پر پھڑکتا بھی تھا۔‘‘\n\n’’اچھا۔۔۔‘‘ مسعود کی بڑی بہن نے درباری سرگم یاد کرنا چھوڑ دی اور اس کی طرف متوجہ ہوئی۔ ’’کیسے پھڑکتا تھا؟‘‘\n\n’’یوں۔۔۔ یوں۔‘‘ مسعود نے انگلیوں سے پھڑکن پیدا کرکے اپنی بہن کو دکھائی۔\n\n’’تو پھر کیا ہوا؟‘‘\n\nیہ سوال کلثوم نے اپنے سرگم بھرے دماغ سے کچھ اس طور پر نکالا کہ مسعود ایک لحظے کے لیے بالکل خالی الذہن ہو گیا۔ ’’پھر کیا ہونا تھا، میں نے تو ایسے ہی آپ سے بات کی تھی کہ قصائی کی دکان پر گوشت پھڑک رہا تھا۔ میں نے انگلی سے چھو کر بھی دیکھا تھا۔ گرم تھا۔‘‘\n\n’’گرم تھا۔۔۔ اچھا مسعود یہ بتاؤ تم میرا ایک کام کرو گے۔‘‘\n\n’’بتائیے۔‘‘\n\n’’آؤ، میرے ساتھ آؤ۔‘‘\n\n’’نہیں آپ پہلے بتائیے۔ کام کیا ہے۔‘‘\n\n’’تم آؤ تو سہی میرے ساتھ۔‘‘\n\n’’جی نہیں۔۔۔ آپ پہلے کام بتائیے۔‘‘\n\n’’دیکھو میری کمر میں بڑا درد ہورہا ہے۔۔۔ میں پلنگ پر لیٹتی ہوں، تم ذرا پاؤں سے دبا دینا۔۔۔ اچھے بھائی جو ہوئے۔ اللہ کی قسم بڑا درد ہورہا ہے۔‘‘یہ کہہ کر مسعود کی بہن نے اپنی کمر پر مکیاں مارنا شروع کردیں۔\n\n’’یہ آپ کی کمر کو کیا ہو جاتا ہے۔ جب دیکھو درد ہورہا ہے، اور پھر آپ دبواتی بھی مجھی سے ہیں، کیوں نہیں اپنی سہیلیوں سے کہتیں۔‘‘ مسعود اٹھ کھڑا ہوا۔\n\n’’چلیے، لیکن یہ آپ سے کہے دیتا ہوں کہ دس منٹ سے زیادہ میں بالکل نہیں دباؤں گا۔‘‘\n\n’’شاباش۔۔۔ شاباش۔‘‘ اس کی بہن اٹھ کھڑی ہوئی اور سرگموں کی کاپی سامنے طاق میں رکھ کر اس کمرے کی طرف روانہ ہوئی جہاں وہ اور مسعود دونوں سوتے تھے۔صحن میں پہنچ کر اس نے اپنی دکھتی ہوئی کمر سیدھی کی اور اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔ مٹیالے بادل جھکے ہوئے تھے۔ ’’مسعود، آج ضرور بارش ہوگی۔‘‘یہ کہہ کر اس نے مسعود کی طرف دیکھا مگر وہ اندر اپنی چارپائی پر لیٹا تھا۔\n\nجب کلثوم اپنے پلنگ پر اوندھے منہ لیٹ گئی تو مسعود نے اٹھ کرگھڑی میں وقت دیکھا۔ ’’ دیکھئے باجی گیارہ بجنے میں دس منٹ باقی ہیں۔ میں پورے گیارہ بجے آپ کی کمر دابنا چھوڑ دوں گا۔‘‘\n\n’’بہت اچھا، لیکن تم اب خدا کے لیے زیادہ نخرے نہ بگھارو۔ ادھر میرے پلنگ پر آکر جلدی کمر دباؤ ورنہ یاد رکھو بڑے زور سے کان اینٹھوں گی۔‘‘ کلثوم نے مسعود کو ڈانٹ پلائی۔ مسعود نے اپنی بڑی بہن کے حکم کی تعمیل کی اور دیوار کا سہارا لے کر پاؤں سے اس کی کمر دباناشروع کردی۔ مسعود کے وزن کے نیچے کلثوم کی چوڑی چکلی کمر میں خفیف سا جھکاؤ پیدا ہوگیا۔ جب اس نے پیروں سے دبانا شروع کیا، ٹھیک اسی طرح جس طرح مزدور مٹی گوندھتے ہیں تو کلثوم نے مزا لینے کی خاطر ہولے ہولے ہائے ہائے کرنا شروع کیا۔\n\nکلثوم کے کولھوں پر گوشت زیادہ تھا، جب مسعود کا پاؤں اس حصے پر پڑا تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ وہ اس بکرے کے گوشت کو دبا رہا ہے جو اس نے قصائی کی دکان میں اپنی انگلی سے چھو کر دیکھا تھا۔ اس احساس نے چند لمحات کے لیے اس کے دل و دماغ میں ایسے خیالات پیدا کیے جن کا کوئی سر تھا نہ پیر، وہ ان کا مطلب نہ سمجھ سکا اور سمجھتا بھی کیسے جبکہ کوئی خیال مکمل نہیں تھا۔\n\nایک دوبار مسعود نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس کے پیروں کے نیچے گوشت کے لوتھڑوں میں حرکت پیدا ہوئی ہے، اسی قسم کی حرکت جو اس نے بکرے کے گرم گرم گوشت میں دیکھی تھی۔ اس نے بڑی بددلی سے کمر دبانا شروع کی تھی مگر اب اسے اس کام میں لذت محسوس ہونے لگی۔ اس کے وزن کے نیچے کلثوم ہولے ہولے کراہ رہی تھی۔ یہ بھنچی بھنچی آواز جو کہ مسعود کے پیروں کی حرکت کا ساتھ دے رہی تھی اس گمنام سی لذت میں اضافہ کررہی تھی۔\n\nٹائم پیس میں گیارہ بج گیے مگر مسعود اپنی بہن کلثوم کی کمر دباتا رہا۔ جب کمر اچھی طرح دبائی جا چکی تو کلثوم سیدھی لیٹ گئی اور کہنے لگی۔ ’’شاباش مسعود، شاباش۔ لو اب لگے ہاتھوں ٹانگیں بھی دبا دو، بالکل اسی طرح۔۔۔ شاباش میرے بھائی۔‘‘\n\nمسعود نے دیوار کا سہارا لے کر کلثوم کی رانوں پر جب اپنا پورا وزن ڈالا تو اس کے پاؤں کے نیچے مچھلیاں سی تڑپ گئیں۔ بے اختیار وہ ہنس پڑی اور دہری ہوگئی۔ مسعود گرتے گرتے بچا، لیکن اس کے تلووں میں مچھلیوں کی وہ تڑپ منجمد سی ہوگئی۔ اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ وہ پھر اسی طرح دیوارکا سہارا لے کر اپنی بہن کی رانیں دبائے، چنانچہ اس نے کہا،’’یہ آپ نے ہنسنا کیوں شروع کردیا۔ سیدھی لیٹ جائیے۔ میں آپ کی ٹانگیں دبا دوں۔‘‘\n\nکلثوم سیدھی لیٹ گئی۔ رانوں کی مچھلیاں ادھر ادھر ہونے کے باعث جو گدگدی پیدا ہوئی تھی اس کا اثر ابھی تک اس کے جسم میں باقی تھا۔ ’’نابھائی میرے گدگدی ہوتی ہے۔ تم اوٹ پٹانگ طریقے سے دباتے ہو۔‘‘\n\nمسعود نے خیال کیا کہ شاید اس نے غلط طریقہ استعمال کیا ہے۔ نہیں، اب کی دفعہ میں پورا بوجھ آپ پر نہیں ڈالوں گا۔۔۔ آپ اطمینان رکھیے۔ اب ایسی اچھی طرح دباؤں گا کہ آپ کو کوئی تکلیف نہ ہوگی۔‘‘\n\nدیوار کا سہارا لے کر مسعود نے اپنے جسم کو تولا اور اس انداز سے آہستہ آہستہ کلثوم کی رانوں پر اپنے پیر جمائے کہ اس کا آدھا بوجھ کہیں غائب ہوگیا۔ ہولے ہولے بڑی ہوشیاری سے اس نے اپنے پیر چلانے شروع کیے۔ کلثوم کی رانوں میں اکڑی ہوئی مچھلیاں اس کے پیروں کے نیچے دب دب کر ادھر ادھر پھسلنے لگیں۔ مسعود نے ایک بار اسکول میں تنے ہوئے رسے پر ایک بازیگر کو چلتے دیکھا تھا۔ اس نے سوچا کہ بازیگر کے پیروں کے نیچے تنا ہوا رسا اسی طرح پھسلتا ہوگا۔\n\nاس سے پہلے کئی بار اس نے اپنی بہن کلثوم کی ٹانگیں دبائی تھیں مگر وہ لذت جو کہ اسے اب محسوس ہورہی تھی پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ بکرے کے گرم گرم گوشت کا اسے بار بار خیال آتا تھا۔ ایک دو مرتبہ اس نے سوچا، ’’کلثوم کو اگر ذبح کردیا جائے تو کھال اتر جانے پر کیا اس کے گوشت میں سے بھی دھواں نکلے گا؟‘‘ لیکن ایسی بیہودہ باتیں سوچنے پر اس نے اپنے آپ کو مجرم محسوس کیا اور دماغ کو اس طرح صاف کردیا جیسے وہ سلیٹ کو اسفنج سے صاف کیا کرتا تھا۔\n\n’’بس بس۔‘‘ کلثوم تھک گئی۔ ’’بس بس۔‘‘\n\nمسعود کو ایک دم شرارت سوجھی۔ وہ پلنگ پر سے نیچے اترنے لگا تو اس نے کلثوم کی دونوں بغلوں میں گدگدی کرنا شروع کردی۔ ہنسی کے مارے وہ لوٹ پوٹ ہوگئی۔ اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ مسعود کے ہاتھوں کو پرے جھٹک دے۔ لیکن جب اس نے ارادہ کرکے اس کے لات جمانی چاہی تو مسعود اچھل کر زد سے باہر ہوگیا اور سلیپر پہن کر کمرے سے نکل گیا۔\n\nجب وہ صحن میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہورہی ہے۔ بادل اور بھی جھک آئے تھے۔ پانی کے ننھے ننھے قطرے آواز پیدا کیے بغیر صحن کی اینٹوں میں آہستہ آہستہ جذب ہورہے تھے۔ مسعود کا جسم ایک دل نواز حرارت محسوس کررہا تھا۔ جب ہوا کا ٹھنڈا ٹھنڈا جھونکا اس کے گالوں کے ساتھ مس ہوا اور دو تین ننھی ننھی بوندیں اس کی ناک پر پڑیں تو ایک جھرجھری سی اس کے بدن میں لہرا اٹھی۔ سامنے کوٹھے کی دیوار پر ایک کبوتر اور کبوتری پاس پاس پَر پھلائے بیٹھے تھے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دونوں دم پخت کی ہوئی ہنڈیا کی طرح گرم ہیں۔ گل داؤدی اور نازبو کے ہرے ہرے پتے اوپر لال لال گملوں میں نہا رہے تھے۔ فضا میں نیندیں گھلی ہوئی تھیں۔ ایسی نیندیں جن میں بیداری زیادہ ہوتی ہے اور انسان کے اردگرد نرم نرم خواب یوں لپٹ جاتے ہیں جیسے اونی کپڑے۔\n\nمسعود ایسی باتیں سوچنے لگا۔ جن کا مطلب اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ وہ ان باتوں کو چھو کردیکھ سکتا تھا مگر ان کا مطلب اس کی گرفت سے باہر تھا، پھر بھی ایک گمنام سا مزا اس سوچ بچار میں اسے آرہا تھا۔\n\nبارش میں کچھ دیر کھڑے رہنے کے باعث جب مسعود کے ہاتھ بالکل یخ ہوگیے اور دبانے سے ان پر سفید دھبے پڑنے لگے تو اس نے مٹھیاں کس لیں اور ان کو منہ کی بھاپ سے گرم کرنا شروع کیا۔ ہاتھوں کو اس عمل سے کچھ گرمی تو پہنچی مگر وہ نم آلود ہوگیے۔ چنانچہ آگ تاپنے کے لیے وہ باورچی خانہ میں چلا گیا۔ کھانا تیار تھا، ابھی اس نے پہلا لقمہ ہی اٹھایا تھا کہ اس کا باپ قبرستان سے واپس آگیا۔\n\nباپ بیٹے میں کوئی بات نہ ہوئی۔ مسعود کی ماں اٹھ کر فوراً دوسرے کمرے میں چلی گئی اور وہاں دیر تک اپنے خاوند کے ساتھ باتیں کرتی رہی۔\n\nکھانے سے فارغ ہو کر مسعود بیٹھک میں چلا گیا اور کھڑکی کھول کر فرش پر لیٹ گیا۔ بارش کی وجہ سے سردی کی شدت بڑھ گئی تھی کیونکہ اب ہوا بھی چل رہی تھی، مگر یہ سردی ناخوشگوار معلوم نہیں ہوتی تھی۔ تالاب کے پانی کی طرح یہ اوپر ٹھنڈی اور اندر گرم تھی۔\n\nمسعود جب فرش پر لیٹا تو اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اس سردی کے اندر دھنس جائے جہاں اس کے جسم کوراحت انگیز گرمی پہنچے۔ دیر تک وہ ایسی شِیرگرم باتوں کے متعلق سوچتا رہا جس کے باعث اس کے پٹھوں میں ہلکی ہلکی سی دکھن پیدا ہوگئی۔ ایک دو بار اس نے انگڑائی لی تو اسے مزا آیا۔ اس کے جسم کے کسی حصّے میں، یہ اس کو معلوم نہیں تھا کہ کہاں، کوئی چیز اٹک سی گئی تھی، یہ چیز کیا تھی۔ اس کے متعلق بھی مسعود کو علم نہیں تھا۔ البتہ اس اٹکاؤ نے اس کے سارے جسم میں اضطراب، ایک دبے ہوئے اضطراب کی کیفیت پیدا کردی تھی۔ اس کا سارا جسم کھنچ کر لمبا ہو جانے کا ارادہ بن گیا تھا۔\n\nدیر تک گدگدے قالین پر کروٹیں بدلنے کے بعد وہ اٹھا اور باورچی خانہ سے ہوتا ہوا صحن میں آنکلا۔ نہ کوئی باورچی خانہ میں تھا اور نہ صحن میں۔ ادھر ادھر جتنے کمرے تھے سب کے سب بند تھے۔ بارش اب رک گئی تھی۔ مسعود نے ہاکی اور گیند نکالی اور صحن میں کھیلنا شروع کردیا۔ ایک بار جب اس نے زور سے ہٹ لگائی تو گیند صحن کے دائیں ہاتھ والے کمرے کے دروازے پرلگی۔ اندر سے مسعود کے باپ کی آواز آئی، ’’کون؟‘‘\n\n’’جی میں ہوں مسعود!‘‘\n\nاندر سے آواز آئی، ’’کیا کررہے ہو؟‘‘\n\n’’جی کھیل رہا ہوں۔‘‘\n\n’’کھیلو۔۔۔‘‘ پھر تھوڑے سے توقف کے بعد اس کے باپ نے کہا،’’ تمہاری ماں میرا سردبا رہی ہے۔۔۔ زیادہ شور نہ مچانا۔‘‘\n\nیہ سن کر مسعود نے گیند وہیں پڑی رہنے دی اور ہاکی ہاتھ میں لیے سامنے والے کمرے کا رخ کیا۔ اس کا ایک دروازہ بند تھا اور دوسرا نیم وا۔۔۔ مسعود کو ایک شرارت سوجھی۔ دبے پاؤں وہ نیم وا دروازے کی طرف بڑھا اور دھماکے کے ساتھ دونوں پٹ کھول دیے۔ دو چیخیں بلند ہوئیں اور کلثوم اور اس کی سہیلی بملا نے جو کہ پاس پاس لیٹی تھی، خوف زدہ ہو کر جھٹ سے لحاف اوڑھ لیا۔\n\nبملا کے بلاؤز کے بٹن کھلے ہوئے تھے اور کلثوم اس کے عریاں سینے کو گھور رہی تھی۔\n\nمسعود کچھ سمجھ نہ سکا، اس کے دماغ میں دھواں سا چھا گیا۔ وہاں سے الٹے قدم لوٹ کر وہ جب بیٹھک کی طرف روانہ ہوا تو اسے معاً اپنے اندر ایک اتھاہ طاقت کا احساس ہوا۔ جس نے کچھ دیر کے لیے اس کی سوچنے سمجھنے کی قوت بالکل کمزور کردی۔بیٹھک میں کھڑکی کے پاس بیٹھ کر جب مسعود نے ہاکی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر گھٹنے پر رکھا تو یہ سوچا کہ ہلکا سا دباؤ ڈالنے پرہاکی میں خم پیدا ہوجائے گا، اور زیادہ زور لگانے پر ہینڈل چٹاخ سے ٹوٹ جائے گا۔ اس نے گھٹنے پر ہاکی کے ہینڈل میں خم تو پیدا کر لیا مگر زیادہ سے زیادہ زورلگانے پر بھی وہ ٹوٹ نہ سکا۔ دیر تک وہ ہاکی کے ساتھ کشتی لڑتا رہا۔ جب وہ تھک کر ہار گیا تو جھنجھلا کر اس نے ہاکی پرے پھینک دی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%A7%DA%BA_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29"} {"title": "دھواں سا اک سمت اٹھ رہا ہے شرارے اڑ اڑ کے آ رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دھواں سا اک سمت اٹھ رہا ہے شرارے اڑ اڑ کے آ رہے ہیں\nیہ کس کی آہیں یہ کس کے نالے تمام عالم پہ چھا رہے ہیں\n\nنقاب رخ سے اٹھا چکے ہیں کھڑے ہوئے مسکرا رہے ہیں\nمیں حیرتئ ازل ہوں اب بھی وہ خاک حیراں بنا رہے ہیں\n\nہوائیں بے خود فضائیں بے خود یہ عنبر افشاں گھٹائیں بے خود\nمژہ نے چھیڑا ہے ساز دل کا وہ زیر لب گنگنا رہے ہیں\n\nیہ شوق کی واردات پیہم یہ وعدۂ التفات پیہم\nکہاں کہاں آزما چکے ہیں کہاں کہاں آزما رہے ہیں\n\nصراحیاں نو بہ نو ہیں اب بھی جماہیاں نو بہ نو ہیں اب بھی\nمگر وہ پہلو تہی کی سوگند اب بھی نزدیک آ رہے ہیں\n\nوہ عشق کی وحشتوں کی زد میں وہ تاج کی رفعتوں کے آگے\nمگر ابھی آزما رہے ہیں مگر ابھی آزما رہے ہیں\n\nعطا کیا ہے مجازؔ فطرت نے وہ مذاق لطیف ہم کو\nکہ عالم آب و گل سے ہٹ کر اک اور عالم بنا رہے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A7%DA%91_%D8%A7%DA%91_%DA%A9%DB%92_%D8%A2_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دھواں کلیجے سے میرے نکلا جلا جو دل بس کہ رشک کھا کر", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دھواں کلیجے سے میرے نکلا جلا جو دل بس کہ رشک کھا کر\nوہ رشک یہ تھا کہ غیر سے ٹک ہنسا تھا چنچل مسی لگا کر\n\nفقط جو چتون پہ غور کیجے تو وہ بھی وہ سحر ہے کہ جس کا\nکرشمہ بندہ غلام غمزہ دغائیں نوکر فریب چاکر\n\nخرام کی ہے وہ طرز یارو کہ جس میں نکلیں کئی ادائیں\nقدم جو رکھنا تو تن کے رکھنا جو پھر اٹھانا تو ڈگمگا کر\n\nلٹک میں بندوں کی دل جو آوے تو خیر بندے ہی اس کو لے لیں\nوگرنہ آوے تو پھر نہ چھوڑے ادھر سے بالا جھمک دکھا کر\n\nمجال کیا ہے جو دو بدو ہو نظر سے کوئی نظر لڑاوے\nمگر کسی نے جو اس کو دیکھا تو سو خرابی سے چھپ چھپا کر\n\nسنے کسی کے نہ درد دل کو وگر سنے تو جھڑک کے اس کو\nیہ صاف کہہ دے تو کیا بلا ہے جو سر پھراتا ہے ناحق آ کر\n\nنظیرؔ وہ بت ہے دشمن جاں نہ ملیو اس سے تو دیکھ ہرگز\nوگر ملا تو خدا ہے حافظ بچے ہیں ہم بھی خدا خدا کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%84%DB%8C%D8%AC%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B3_%DA%A9%DB%81_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دھوبی کا گھاٹ", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جس شخص کے ملبوس کی قسمت میں لکھی ہے\nکرنوں کی تمازت\nرشک آتا ہے مجھ کو\nاس پر\n\nکیوں صرف اچھوتا\nانجان انوکھا\nاک خواب ہے خلوت\nکیوں صرف تصور\nبہلاتا ہے مجھ کو\n\nکیوں صبح شب عیش کا جھونکا\nبن کر\nرخسار کے بے نام اذیت\nسہلاتا ہے مجھ کو؟\nکیوں خواب فسوں گر کی قبا چاک نہیں ہے\nکیوں گیسوئے پیچیدہ و رقصاں\nنمناک نہیں ہے\nاشک دل خوں سے\nکیوں لمس کی حسرت کے جنوں سے\nملتی نہیں مجھ کو\nبے قید رہائی\n\nملبوس پہ کرنوں کی تمازت\nہے دام نظر کا\nاور صبح شب عیش کو گیسو کا مہکتا ہوا جھونکا\nمرہون سحر کا\nہوتا ہی نہیں ہے\n\nکیوں دھوئے نہ پیراہن آلودہ کے دھبے\nمخمور مسرت\nکرنوں کی تمازت\nبن جائے نہ کیوں رنگ شب عیش کا اک عکس مسلسل\n\nمجبور اذیت\nتو مان لے اس عکس کا منظر\nدیتا ہے تجھے جام چشیدہ کی سی لذت\nکیوں سوچ رہا ہے\nجھوٹا ہے یہ پیالہ\nکیا آج زمانے میں کہیں دیکھی ہے تو نے\nدوشیزہ مسرت؟\n\nپھیلے ہوئے ملبوس پہ کرنوں کی تمازت\nہے زیست کے گیسو کی حرارت\nاس شخص کو پیراہن آلودہ کے دھونے ہی سے روزی\nملتی ہے جہاں میں\nتو اس پہ نظر کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%A8%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D8%A7%D9%B9"} {"title": "دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں\nرکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں\n\nدی سادگی سے جان پڑوں کوہ کن کے پاؤں\nہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیرزن کے پاؤں\n\nبھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے یہ\nہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں\n\nمرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دور\nتن سے سوا فگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں\n\nاللہ رے ذوق دشت نوردی کہ بعد مرگ\nہلتے ہیں خود بہ خود مرے اندر کفن کے پاؤں\n\nہے جوش گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرف\nاڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغ چمن کے پاؤں\n\nشب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں\nدکھتے ہیں آج اس بت نازک بدن کے پاؤں\n\nغالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزا نہ ہو\nپیتا ہوں دھوکے خسرو شیریں سخن کے پاؤں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D8%AA%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA"} {"title": "دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں\nکہ ابھی عرش کو چاہیں تو ہلا سکتے ہیں\n\nمجھ سے اغیار کوئی آنکھ ملا سکتے ہیں\nمنہ تو دیکھو وہ مرے سامنے آ سکتے ہیں\n\nیاں وہ آتش نفساں ہیں کہ بھریں آہ تو جھٹ\nآگ دامان شفق کو بھی لگا سکتے ہیں\n\nسوچئے تو سہی ہٹ دھرمی نہ کیجے صاحب\nچٹکیوں میں مجھے کب آپ اڑا سکتے ہیں\n\nحضرت دل تو بگاڑ آئے ہیں اس سے لیکن\nاب بھی ہم چاہیں تو پھر بات بنا سکتے ہیں\n\nشیخی اتنی نہ کر اے شیخ کہ رندان جہاں\nانگلیوں پر تجھے چاہیں تو نچا سکتے ہیں\n\nتو گروہ فقرا کو نہ سمجھ بے جبروت\nذات مولیٰ میں یہی لوگ سما سکتے ہیں\n\nدم ذرا سادھ کے لیتے ہیں پھریری تو ابھی\nسون کھینچی ہوئی لاہوت کو جا سکتے ہیں\n\nگرچہ ہیں مونس و غم خوار تگ و دو میں سہی\nپر تری طبع کو کب راہ پہ لا سکتے ہیں\n\nچارہ ساز اپنے تو مصروف بدل ہیں لیکن\nکوئی تقدیر کے لکھے کو مٹا سکتے ہیں\n\nہے محبت جو ترے دل میں وہ اک طور پہ ہے\nہم گھٹا سکتے ہیں اس کو نہ بڑھا سکتے ہیں\n\nکر کے جھوٹا نہ دیا جام اگر تو نے تو چل\nمارے غیرت کے ہم افیون تو کھا سکتے ہیں\n\nہم نشیں تو جو یہ کہتا ہے کہ قدغن ہے بہت\nاب وہ آواز بھی کب تجھ کو سنا سکتے ہیں\n\nاے نہ آواز سناویں مجھے در تک آ کر\nاپنے پاؤں کے کڑوں کو تو بجا سکتے ہیں\n\nہم تو ہنستے نہیں پر آپ کے ہنسنے کے لیے\nاور اگر سانگ نہیں کوئی بنا سکتے ہیں\n\nکالی کاغذ کی ابھی ایک کتر کر بیچا\nزاہد بزم کے منہ پر تو لگا سکتے ہیں\n\nگھر سے باہر تمہیں آنا ہے اگر منع تو آپ\nاپنے کوٹھے پہ کبوتر تو اڑا سکتے ہیں\n\nجھولتے ہیں یہ جو جھولی میں سو کہتے ہیں مجھے\nایک وعدہ پہ تجھے برسوں جھلا سکتے ہیں\n\nایک ڈھب کے جو قوافی ہیں ہم ان میں انشاؔ\nاک غزل اور بھی چاہیں تو سنا سکتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%85_%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DA%86%D8%A7_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دھوم تھی اپنی پارسائی کی", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دھوم تھی اپنی پارسائی کی\nکی بھی اور کس سے آشنائی کی\n\nکیوں بڑھاتے ہو اختلاط بہت\nہم کو طاقت نہیں جدائی کی\n\nمنہ کہاں تک چھپاؤ گے ہم سے\nتم کو عادت ہے خود نمائی کی\n\nلاگ میں ہیں لگاؤ کی باتیں\nصلح میں چھیڑ ہے لڑائی کی\n\nملتے غیروں سے ہو ملو لیکن\nہم سے باتیں کرو صفائی کی\n\nدل رہا پائے بند الفت دام\nتھی عبث آرزو رہائی کی\n\nدل بھی پہلو میں ہو تو یاں کس سے\nرکھئے امید دل ربائی کی\n\nشہر و دریا سے باغ و صحرا سے\nبو نہیں آتی آشنائی کی\n\nنہ ملا کوئی غارت ایماں\nرہ گئی شرم پارسائی کی\n\nبخت ہم داستانی شیدا\nتو نے آخر کو نارسائی کی\n\nصحبت گاہ گاہی رشکی\nتو نے بھی ہم سے بے وفائی کی\n\nموت کی طرح جس سے ڈرتے تھے\nساعت آ پہنچی اس جدائی کی\n\nزندہ پھرنے کی ہے ہوس حالیؔ\nانتہا ہے یہ بے حیائی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%85_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار\nدیکھیے کیا کچھ ہمارے سر پہ لاتی ہے بہار\n\nشاید عزم یار کی گلشن میں پہنچی ہے خبر\nگل کے پیراہن میں پھولی نئیں سماتی ہے بہار\n\nدیکھنے دے باغباں اب گلستاں اپنا مجھے\nحلقۂ زنجیر میں مہماں بلاتی ہے بہار\n\nشور یہ غنچوں کے واشد کا نہیں اے عندلیب\nاب چمن میں طمطراق اپنا دکھاتی ہے بہار\n\nکیوں پھنسا گلشن میں یوں جا کر عبث سودا تو اب\nمیں نہ کہتا تھا تجھے وہ دیکھ آتی ہے بہار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D9%84_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1"} {"title": "دھوپ سا یو کپول ناری ہے", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دھوپ سا یو کپول ناری ہے\nکرن سورج کی وو کناری ہے\n\nچھپ رقیباں سوں آنا نہیں وو چاند\nکیا رین ہجر کی اندیاری ہے\n\nنہیں اثر کرتا صبر کا مرہم\nدل عاشق میں زخم کاری ہے\n\nگل‌ باغ‌ جنوں ہے رسوائی\nعزت ملک عشق خواری ہے\n\nخون دل بادہ و جگر ہے کباب\nنغمۂ بزم وصل زاری ہے\n\nلیلیٰ مجنوں کا ذکر سرد ہوا\nاب تمہاری ہماری باری ہے\n\nملنا عاشق سوں ہی بہانے سوں\nیہ نصیحت تمن ہماری ہے\n\nمجھ کوں مت جانو یاد سوں غافل\nرات دن دل کوں لو تماری ہے\n\nدل بندھا سخت تیری زلفاں پر\nعقل فائزؔ کی ان بساری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%BE_%D8%B3%D8%A7_%DB%8C%D9%88_%DA%A9%D9%BE%D9%88%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "دھیان عارض کا ہوا زلف چلیپا دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:منشی ٹھاکر پرساد طالب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان طالب مانکپوری (1933)", "year": "1933", "text_ur": "دھیان عارض کا ہوا زلف چلیپا دیکھ کر\nیاد کعبہ آ گیا مجھ کو کلیسا دیکھ کر\n\nتن کے چلنا ہے برا یاں کا چلن اچھا نہیں\nجو ہیں دانا پاؤں وہ رکھتے ہیں دنیا دیکھ کر\n\nنزع میں آنکھیں جو بدلیں میری وہ کہنے لگے\nخوش ہوئے کیا پتلیوں کا ہم تماشا دیکھ کر\n\nتوبۂ زاہد کے دم پر آ بنی اک آن میں\nدست ساقی میں لبالب جام صہبا دیکھ کر\n\nسچ ہے بھائی تھا پھر آخر جوش خوں جاتا کہاں\nرو اٹھا مجنوں مجھے جنگل میں تنہا دیکھ کر\n\nاس لب جاں بخش کی معجز نمائی کا یقیں\nہو گیا طالبؔ کو اعجاز مسیحا دیکھ کر", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D8%B6_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%86%D9%84%DB%8C%D9%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دھیان کی موج کو پھر آئنہ سیما کر لیں", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دھیان کی موج کو پھر آئنہ سیما کر لیں\nکچھ تجلی کی حضوری کا بھی یارا کر لیں\n\nآج کا دن بھی یوں ہی بیت گیا شام ہوئی\nاور اک رات کا کٹنا بھی گوارا کر لیں\n\nجن خیالوں کے الٹ پھیر میں الجھیں سانسیں\nان میں کچھ اور بھی سانسوں کا اضافہ کر لیں\n\nجن ملالوں سے لہو دل کا بنا ہے آنسو\nان کے آنکھوں سے برسنے کا نظارا کر لیں\n\nاحتیاطوں کی گزر گاہیں ہوئی ہیں سنسان\nاب چھپایا ہوا ہر گھاؤ ہویدا کر لیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D9%88%D8%AC_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دہر بھی میرؔ طرفہ مقتل ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دہر بھی میرؔ طرفہ مقتل ہے\nجو ہے سو کوئی دم کو فیصل ہے\n\nکثرت غم سے دل لگا رکنے\nحضرت دل میں آج دنگل ہے\n\nروز کہتے ہیں چلنے کو خوباں\nلیکن اب تک تو روز اول ہے\n\nچھوڑ مت نقد وقت نسیہ پر\nآج جو کچھ ہے سو کہاں کل ہے\n\nبند ہو تجھ سے یہ کھلا نہ کبھو\nدل ہے یا خانۂ مقفل ہے\n\nسینہ چاکی بھی کام رکھتی ہے\nیہی کر جب تلک معطل ہے\n\nاب کے ہاتھوں میں شوق کے تیرے\nدامن بادیہ کا آنچل ہے\n\nٹک گریباں میں سر کو ڈال کے دیکھ\nدل بھی کیا لق و دق جنگل ہے\n\nہجر باعث ہے بد گمانی کا\nغیرت عشق ہے تو کب کل ہے\n\nمر گیا کوہ کن اسی غم میں\nآنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%81%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%B7%D8%B1%D9%81%DB%81_%D9%85%D9%82%D8%AA%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں\nہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں\nتوڑے ہے عجز تنک حوصلہ بر روے زمیں\nسجدہ تمثال وہ آئینہ کہیں جس کو جبیں\nتوڑے ہے نالہ سر رشتۂ پاس انفاس\nسر کرے ہے دل حیرت زدہ شغل تسکیں\nبے دلی ہاے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق\nبیکسی ہاے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں\nہرزہ ہے نغمۂ زیر و بم ہستی و عدم\nلغو ہے آئنۂ فرق جنون و تمکیں\nیاس تمثال بہار آئنۂ استغنا\nوہم آئینۂ پیدائی تمثال یقیں\nخوں ہوا جوش تمنا سے دو عالم کا دماغ\nبزم یاس آں سوے پیدائی و اخفار نگیں\nمثل مضمون وفا باد بدست تسلیم\nصورت نقش قدم خاک بہ فرق تمکیں\nخانہ ویرانی امید و پریشانی بیم\nجوش دوزخ ہے خزان چمن خلد بریں\nلاف دانش غلط و نفع عبادت معلوم\nدرد یک ساغر غفلت ہے چہ دنیا و چہ دیں\nباد افسانۂ بیمار ہے عیسی کا نفس\nاستخواں ریزۂ موراں ہے سلیماں کا نگیں\nنقش معنی ہمہ خمیازۂ عرض صورت\nسخن حق ہمہ پیمانۂ ذوق تحسیں\nعشق بے ربطی شیرازۂ اجزاے حواس\nوصل زنگار رخ آئنۂ حسن یقیں\nکوہ کن گر سنہ مزدور طرب گاہ رقیب\nبے ستوں آئنۂ خواب گران شیریں\nموج خمیازۂ یک نشہ چہ اسلام و چہ کفر\nکجی یک خط مسطر چہ توہم چہ یقیں\nقبلہ و ابروے بت یک رہ خوابیدۂ شوق\nکعبہ و بت کدہ یک محمل خواب رنگیں\nکس نے دیکھا نفس اہل وفا آتش خیز\nکس نے پایا اثر نالۂ دل ہاے حزیں\nعیش بسمل کدۂ عید حریفاں معلوم\nخوں ہو آئینہ کہ ہو جامۂ طفلاں رنگیں\nسامع زمزمۂ اہل جہاں ہوں لیکن\nنہ سر و برگ ستایش نہ دماغ نفریں\nنزع مخمور ہوں اس دید کی دھن میں کہ مجھے\nرشتۂ ساز ازل ہے نگہ باز پسیں\nحیرت آفت زدۂ عرض دو عالم نیرنگ\nموم آئینۂ ایجاد ہے مغز تمکیں\nوحشت دل سے پریشاں ہیں چراغان خیال\nباندھوں ہوں آئنے پر چشم پری سے آئیں\nکوچہ دیتا ہے پریشاں نظری پر صحرا\nرم آہو کو ہے ہر ذرے کی چشمک میں کمیں\nچشم امید سے گرتے ہیں دو عالم جوں اشک\nیاس پیمانہ کش گریۂ مستانہ نہیں\nکس قدر فکر کو ہے نال قلم موے دماغ\nکہ ہوا خوں نگہ شوق میں نقش تمکیں\nعذر لنگ آفت جولان ہوس ہے یارب\nجل اٹھے گرمی رفتار سے پاے چوبیں\nنہ تمنا نہ تماشا نہ تحیر نہ نگاہ\nگرد جوہر میں ہے آئینۂ دل پردہ نشیں\nکھینچوں ہوں آئنے پر خندۂ گل سے مسطر\nنامہ عنوان بیان دل آزردہ نہیں\nرنج تعظیم مسیحا نہیں اٹھتا مجھ سے\nدرد ہوتا ہے مرے دل میں جو توڑوں بالیں\nبس کہ گستاخی ارباب جہاں سے ہوں ملول\nپر پروانہ مری بزم میں ہے خنجر کیں\nاے عبارت تجھے کس خط سے ہے درس نیرنگ\nاے نگہ تجھ کو کہے کس نقطے میں مشق تسکیں\nکس قدر ہرزہ سرا ہوں کہ عیاذاً باللہ\nیک قلم خارج آداب وقار و تمکیں\nجلوۂ ریگ رواں دیکھ کے گردوں ہر صبح\nخاک پر توڑے ہے آئینۂ ناز پرویں\nشور اوہام سے مت ہو شب خون انصاف\nگفتگو بے مزہ و زخم تمنا نمکیں\nختم کر ایک اشارت میں عبارات نیاز\nجوں مہ نو ہے نہاں گوشہ ابرو میں جبیں\nنقش لاحول لکھ اے خامۂ ہذیاں تحریر\nیا علی عرض کر اے فطرت وسواس قریں\nمعنی لفظ کرم بسملۂ نسخۂ حسن\nقبلۂ اہل نظر کعبۂ ارباب یقیں\nجلوہ رفتار سر جادۂ شرع تسلیم\nنقش پا جس کا ہے توحید کو معراج جبیں\nکس سے ممکن ہے تری مدح بغیر از واجب\nشعلۂ شمع مگر شمع پہ باندھے آئیں\nہو وہ سرمایۂ ایجاد جہاں گرم خرام\nہر کف خاک ہے واں گروۂ تصویر زمیں\nمظہر فیض خدا جان و دل ختم رسل\nقبلۂ آل نبی کعبۂ ایجاد یقیں\nنسبت نام سے اس کے ہے یہ رتبہ کہ رہے\nابدا پشت فلک خم شدۂ ناز زمیں\nجلوہ پرواز ہو نقش قدم اس کا جس جا\nوہ کف خاک ہے ناموس دو عالم کی امیں\nفیض خلق اس کا ہی شامل ہے کہ ہوتا ہے سدا\nبوے گل سے نفس باد صبا عطر آگیں\nبرش تیغ کا اس کی ہے جہاں میں چرچا\nقطع ہوجائے نہ سر رشتۂ ایجاد کہیں\nکوہ کو بیم سے اس کے ہے جگر باختگی\nنہ کرے نذر صدا ورنہ متاع تمکیں\nکفر سوز اس کا وہ جلوہ ہے کہ جس سے ٹوٹے\nرنگ عاشق کی طرح رونق بت خانۂ چیں\nوصف دلدل ہے مرے مطلع ثانی کی بہار\nجنت نقش قدم سے ہوں میں اس کی گلچیں\n\nمطلع ثانی\nگرد رہ سرمہ کش دیدۂ ارباب یقیں\nنقش ہر گام دو عالم صفہاں زیر نگیں\nبرگ گل کا ہو جو طوفان ہوا میں عالم\nاس کے جولاں میں نظر آے ہے یوں دامن زیں\nاس کی شوخی سے بہ حیرت کدہ نقش خیال\nفکر کو حوصلۂ فرصت ادراک نہیں\nجلوۂ برق سے ہوجائے نگہ عکس پذیر\nاگر آئینہ بنے حیرت صورت گرچیں\nجاں پناہا دل و جاں فیض رسانا شاہا\nوصی ختم رسل تو ہے بفتواے یقیں\nذوق گلچینی نقش کف پا سے تیرے\nعرش چاہے ہے کہ ہو در پہ ترے خاک نشیں\nتجھ میں اور غیر میں نسبت ہے و لیکن بہ تضاد\nوصی ختم رسل تو ہے باثبات یقیں\nجسم اطہر کو ترے دوش پیمبر منبر\nنام نامی کو ترے ناصیۂ عرش نگیں\nتیری مدحت کے لیے ہیں دل و جاں کام و زباں\nتیری تسلیم کو ہیں لوح و قلم دست و جبیں\nآستاں پر ہے ترے جوہر آئینۂ سنگ\nرقم بندگی حضرت جبریل امیں\nتیرے در کے کیے اسباب نثار آمادہ\nخاکیوں کو جو خدا نے دیے جان و دل و دیں\nداد دیوانگی دل کہ ترا مدحت گر\nذرے سے باندھے ہے خرشید فلک پر آئیں\nکس سے ہوسکتی ہے مداحی ممدوح خدا\nکس سے ہوسکتی ہے آرایش فردوس بریں\nجنس بازار معاصی اسد اللہ اسدؔ\nکہ سوا تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں\nشوخی عرض مطالب میں ہے گستاخ طلب\nہے ترے حوصلۂ فضل پر از بس کہ یقیں\nدے دعا کو مری وہ مرتبۂ حسن قبول\nکہ اجابت کہے ہر حرف پہ سو بار آمیں\nغم شبیر سے ہو سینہ یہاں تک لبریز\nکہ رہیں خون جگر سے مری آنکھیں رنگیں\nطبع کو الفت دلدل میں یہ سرگرمی شوق\nکہ جہاں تک چلے اس سے قدم اور مجھ سے جبیں\nدل الفت نسب و سینۂ توحید فضا\nنگہ جلوہ پرست و نفس صدق گزیں\nصرف اعدا اثر شعلہ و دود دوزخ\nوقف احباب گل و سنبل فردوس بریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%81%D8%B1_%D8%AC%D8%B2_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%DB%8C%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%B9%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دہر میں نقشِ وفا وجہ تسلی نہ ہوا\nہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا\n\nنہ ہوئی ہم سے رقم حیرتِ خطِّ رخِ یار\nصفحۂ آئینہ جولاں گہِ طوطی نہ ہوا\n\nسبزۂ خط سے ترا کاکلِ سرکش نہ دبا\nیہ زمرد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا\n\nمیں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں\nوہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا\n\nدل گزر گاہ خیالِ مے و ساغر ہی سہی\nگر نفَس جادۂ سرمنزلِ تقوی نہ ہوا\n\nہوں ترے وعدہ نہ کرنے پہ بھی راضی کہ کبھی\nگوش منت کشِ گلبانگِ تسلّی نہ ہوا\n\nکس سے محرومیِ قسمت کی شکایت کیجیے\nہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں، سو وہ بھی نہ ہوا\n\nوسعتِ رحمتِ حق دیکھ کہ بخشا جائے\nمجھ سا کافر کہ جو ممنونِ معاصی نہ ہوا\n\nمر گیا صدمۂ یک جنبشِ لب سے غالبؔ\nناتوانی سے حریف دمِ عیسی نہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%88%D8%AC%DB%81_%D8%AA%D8%B3%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "دہلی مرحوم", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر", "year": null, "text_ur": "== کتاب ==\nہندوستان کا قدیم دار الخلافت دہلی ایک ایسا شہر ہے جس کی تاریخ کی طرف توجہ کی جائے تو ہمیں بہ نسبت دیگر مقامات کے یہاں زیادہ دلچسپی کے سامان نظر آئیں۔ افسوس اس شہر کی تاریخ کی طرف بہت کم توجہ کی گئی۔ جس طرح حافظ ابو القاسم علی بن حسن عساکری نے شہر دمشق کی تاریخ اسّی جلدوں میں لکھی تھی اور جس طرح ابوبکر خطیب بغدادی نے شہر بغداد کی تاریخ دس جلدوں میں لکھی تھی، اُسی طرح ضرورت تھی کہ قدمائے ہندوستان میں سے کوئی حوصلہ مند اور واقف کار عالم دہلی کی بھی ایک مکمل تاریخ لکھتا۔ مذکورہ علمائے اسلام نے اپنی تاریخیں اس طرح مکمل کی ہیں کہ جس شہر کی تاریخ لکھی ہے وہاں کے بادشاہوں، امرا اور فضلا اور تمام نامور علما کے تفصیلی حالات، شہر کے تغیرات، اس کی ترقیاں اور اس کے تنزل، وہاں کی مشہور عمارتوں، محلوں اور مسجدوں غرض تمام باتوں کو حتّی الامکان قلمبند کر دیا ہے۔ خاص دہلی کی تاریخ اول تو کوئی لکھی گئی ہی نہیں۔ اگر کچھ پتا چلتا ہے تو اُن تاریخوں سے جو عام پولیٹکل حالت ہند کے متعلق لکھی گئی ہیں۔\n\nصرف ایک منفرد کوشش آنریبل سر سید احمد خان بہادر نے البتہ کی کہ اپنی کتاب “آثار الصنادید” میں انہوں نے دہلی کی کل عمارتوں کا حال لکھا ہے اور جہاں تک ممکن ہوا ہے اُن عمارتوں کی تاریخ بھی تصریح کے ساتھ بتانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ کسی متفرّد کوشش کو کبھی پوری کامیابی نہیں حاصل ہو سکتی۔ آثار الصنادید کی عبارت بتا رہی ہے کہ سید صاحب نے جو کچھ لکھا ہے اس کو تحقیق و تفتیش سے کم تعلق ہے، بلکہ انہوں نے اپنے خیالات کو عام مذاق کی سطح پر قائم کیا ہے اور عام لوگوں کی بتائی ہوئی باتوں کو یکجا کر دیا ہے۔ افسوس سید صاحب کو شاید اتنی مہلت نہ ملی، ورنہ اگر وہ ہندوستان کی تمام تاریخوں کے ورق اُلٹ کے اور خوب تدقیق و تنقید سے کام لے کے اپنی بے مثل کتاب کا دوسرا ایڈیشن خود ہی مرتب کرتے تو وہ کتاب لاجواب اور بے مثل ہو جاتی۔ مگر سچ یہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا، یہ بھی غنیمت بلکہ بہت ہے۔ غریب دہلی ایسی حسرت نصیب ہے کہ اب تو اس کے زوال کا زمانہ ہے، جب وہ عروج پر تھی اس وقت کا اگر خیال کیجیے تو کوئی اتنا پوچھنے والا بھی نہ تھا۔\n\nآج دہلی میں جائیے، اُس کے اطراف میں پہریے، ٹوٹی اور قدامت کی مار کھائی ہوئی عمارتوں کو دیکھیے تو حسرت نصیبی اور بے کسی کا عجب عالمِ خموشاں نظر آئے گا۔ہر عمارت جو کچھ زبان حال سے کہہ رہی ہے، اگر اس کی طرف دل کے کان نہ لگائے جائیں توبھی ہم اپنے قیاسی اجتہادوں سے کام لے کے اُس وقت کی تصویر کا بارونق خاکہ اپنے سامنے قائم کر سکتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ اُس عمارت پر اگلے دنوں کیا رونق ہو گی اور وہ کیسی فرحت و انبساط کی جگہ ہو گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ تاریخوں کے ورق اُلٹ کے دہلی کی گذشتہ رونق دکھائیں اور اپنے ہم وطنوں کو ایک پراثر افسانہ سُنا کے متاثر کریں۔ لیکن افسوس ہے ہمیں اُن کتابوں اور تاریخوں سے اس امر میں کسی قسم کی مدد نہیں مل سکتی جو خاص ہندوستان کے مسلمان مورّخین نے لکھی ہیں۔ ہاں اگر ہم غیر مقامات کے آنے والوں اور اُس عہد میں دہلی کا تماشا دیکھ کے اپنے ہم وطنوں سے بیان کرنے والوں کی طرف توجہ کریں تو غالباً زیادہ لطف انگیز ہوگا۔ مغلیہ دور کے ابتدائی اور وسطی عہدوں میں بعض یوروپین بھی یہاں آئے تھے جنہوں نے اپنے سفر ناموں میں ہندوستان کی اُس اگلی سوسائٹی کی تصویریں دکھائی ہیں۔ ایسے سفر ناموں کواہل ملک بکثرت دیکھ چکے ہیں۔ ڈاکٹر برنی آر کا سفر نامہ خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیر پٹیالہ کی کوشش سے آج اہل ملک کے ہاتھوں میں ہے۔ ہم ابن بطوطہ کی طرف توجہ کرتے ہیں جو تیمور بانی خاندان مغلیہ سے بھی پہلے ہندوستان میں آیا تھا۔ عام خیال ہو گا اور جہاں تک ہم نے سنا ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اکثر لوگوں کی یہی رائے ہے کہ دہلی کی زیادہ شان و شوکت اور آبادی کی رونق شاہجہاں کے بعد سے ہوئی۔ موجودہ عمارتیں جو قدامت کی یادگار کی حیثیت سے ہمارے زمانے تک باقی رہی ہیں، اُن میں سے جو زیادہ قابل قدر اور موجب استعجاب ہیں، ان کا بانی شاہجہاں ہی تھا۔ لیکن ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ قیاس غلط ہے۔\n\nدہلی کی رونق خاندان مغلیہ سے پہلے ہی بہت ترقی پر تھی اور یہاں کا دربار اُن دنوں بڑا با جاہ و جلال دربار خیال کیا جاتا تھا۔ صرف گویا اتنے دعوی کے ثبوت کے لیے ہم وہ حالات پبلک کے سامنے پیش کرتے ہیں جو ابن بطوطہ نے دہلی میں آ کے اپنے چشم دید بیان کیے ہیں۔\n\n٧٣٦ ہجری میں ابن بطوطہ کو شہر دہلی کی زیارت نصیب ہوئی تھی۔ بیان کرتا ہے کہ قصبہ پالم جو ایک بہت بڑے معزز اور مقرب و مشیر سلطان رئیس سید شریف ناصر الدین مطہری کی جاگیر میں تھا، وہاں سے روانہ ہو کے دوسرے روز میں خاص دار الخلافت دہلی میں داخل ہوا۔ یہ ایک بڑا عظیم الشان شہر ہے۔ آبادی بہت زیادہ ہے، مضبوطی اور خوبصورتی دونوں اعتبار سے بے مثل اور لاجواب ہے۔ جیسی مضبوط شہر پناہ دہلی کے گرد بنی ہوئی ہے ویسی عمدہ اور مستحکم شہر پناہ دنیا کے کسی شہر میں نہیں ہے۔ تمام بلاد ہندوستان ہی پر نہیں، بلکہ ساری مشرقی دنیائے اسلام کے شہروں پر دہلی کو ترجیح ہے۔ فی الحال دہلی چار مختلف شہروں پر تقسیم ہے جو قریب قریب اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ وہ حصہ جو خاص دہلی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، وہ تو وہ ٹکڑا ہے جو قدیم شہر ہے اور ہندوؤں کا آباد کیا ہوا ہے جس کو ٥٨٤ ہجری میں مسلمانوں نے فتح کیا تھا (اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ دہلی کو مسلمانوں کے قبضہ میں آئے صرف ١٥٢ برس ہی گذرے تھے جبکہ ابن بطوطہ ہندوستان میں آیا ہے۔ اب اس کے بعد ہم اندازہ کر سکیں گے کہ اس ڈیڑھ سو برس کی مدت میں مسلمان فرمانرواؤں نے دہلی میں کیسی عمارتیں بنائیں اور اُس کو کیسی رونق دی تھی)۔ دوسرا حصہ شہر جسے سیری کہتے ہیں، وہی دار الخلافت کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے جو پیشتر سلطان علاء الدین اور اُس کے بیٹے قطب الدین کا مستقر خلافت تھا۔ یہ شہر سلطانِ وقت نے خلیفہ مستنصر باللہ عباسی کے نواسے غیاث الدین کو دے دیاتھا۔\n\nتیسرا شہر تغلق آباد کہلاتا ہے جس کو سلطان محمد تغلق جس کے عہد میں مجھے ہندوستان کی زیارت نصیب ہوئی اُس کے والد مرحوم سلطان غیاث الدین تغلق نے آباد کیا تھا۔ اس کے آباد ہونے کی ابن بطوطہ نے عجیب وجہ بیان کی ہے، وہ کہتا ہے کہ غیاث الدین تخت نشین ہونے کے پہلے جب سلطان قطب الدین کے امرائے دربار میں تھا تو اتفاقاً ایک روز سلطان قطب الدین کا ایک خوش سواد اور مناسب مقام پر گذر ہوا۔ غیاث الدین نے بادشاہ کی خدمت میں دست بستہ عرض کیا کہ “خداوند عالم! اگر اس مقام پر شاہی قصر اور شہر آباد ہوتا تو نہایت مناسب تھا۔” قطب الدین نے استہزاءً بنانے کے لہجے میں کہا “اچھا جب تم بادشاہ ہونا تو ایسا ہی کرنا۔” خدا کی قدرت کہ قطب الدین کے بعد تاج شاہی غیاث الدین ہی کے سر پر رکھا گیا۔ اس نے اپنے دل میں کہا کہ “اب خدا نے میرے ولی نعمت کی آرزو پوری کر دی تو مجھے بھی اُس کا قول پورا کرنا چاہیے”۔ لہذا اس شہر کی بنیاد ڈالی اور نہایت رفعت و شان سے آباد کیا۔\n\nاور چوتھا شہر جہاں پناہ کے نام سے نامزد ہے اور سلطان عصر سلطان محمد تغلق اس شہر میں رہتا ہے۔ یہ بڑا اولوالعزم بادشاہ ہے۔ اُس نے ارادہ کیا تھا کہ ایک اتنی بڑی شہر پناہ بنائے کہ شہر دہلی کے چاروں حصے اس کے اندر آ جائیں، بلکہ یہ کام شروع بھی کر دیا تھا۔ مگر بوجہ زیادتی مصارف کے بغیر تکمیل کو پہونچے چھوڑ دیا گیا۔ قدیم شہر پناہ دہلی جو عرصہ سے قائم ہے وہ ایسی مستحکم اور مضبوط ہے کہ اُس کے برابر مضبوط اور ویسی عجیب و غریب شہر پناہ دنیا کے کسی شہر کے گرد نہ ہو گی۔ دیوار کا آثار گیارہ گز تک کا دیا گیا ہے اور سارے شہر کے گرد دیوار اتنی ہی چوڑی ہے۔ جابجا اس میں مکانات بنے ہوئے ہیں جن میں محافظین شہر اوراکثر اہل پولیس رہا کرتے ہیں۔ اس شہر پناہ کے اندر جابجا کھتّے ہیں جن میں غلہ بھرا ہوا ہے اور نہایت حفاظت سے رہا کرتا ہے اور بعض جگہ اس شہر پناہ میں اسلحہ اور جنگی ضرورتوں کا سامان فراہم رہتا ہے۔ لیکن غلہ جس حفاظت سے ان کھتّوں میں رہتا ہے اس پر مجھے بھی حیرت ہے۔ مدتوں رہتا ہے، نہ کسی قسم کا تغیر ہوتا ہے اور نہ اُس میں کوئی خرابی پیدا ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ ان کھتوں سے چاول نکالے گئے تھے، اُن کو خود میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا تھا۔ ہاں رنگ میں تو میلا پن آ گیا تھا مگر مزے میں ذرا فرق نہ تھا۔ ان کھتوں میں جو کچھ غلہ تھا سب سلطان بلبن کا فراہم کیا ہوا تھا جس کو نوے برس کا زمانہ گذر چکا تھا۔ اس شہر پناہ پر دو سوار نہایت آسانی سے دوڑ سکتے ہیں۔ دیوار نیچے سے چوڑی ہے اور اوپر سواروں کے دوڑنے کے قابل وسعت چھوڑ کے دیوار کا ایک حلقہ قائم کیا گیا ہے جس کی وجہ سے سوار شہر کی طرف سے تو نظر آ سکتے ہیں، لیکن باہر سے کوئی انہیں نہیں دیکھ سکتا۔ نیچے کا حصے پتھر کا بنا ہوا ہے اور اوپر کی دیوار اینٹ اور چونے سے قائم کی گئی ہے۔ بلندی پر پرقریب قریب برابر برج چلے گئے ہیں جو نہایت خوشنما اور بہت ہی بکار آمد ہیں۔\n\nشہر پناہ کے ٢٨ دروازے ہیں۔ سب سے بڑا دروازہ بدایوں دروازہ ہے۔ باقی ایک منڈی دروازہ، ایک گل دروازہ، شاہ دروازہ، غزنی دروازہ اور پنجابی دروازہ ہے، جس کے باہر دہلی کا قبرستان واقع ہے ۔ اکثر قبروں پر گنبد بنے ہیں اور اگر گنبد نہیں تو ہر قبر کے پاس ایک طاق ضرور بنا ہوا ہے۔ اس قبرستان میں جابجا پھولدار درخت لگے ہوئے ہیں۔ کہیں شبّو کھلی ہے، کہیں رائے بیل دوڑی ہوئی ہے۔ کسی طرف چنبیلی ہے اور کسی جگہ بیلہ لگا ہے جو ہمیشہ کھلے رہتے ہیں اور سارا قبرستان مہکا کرتا ہے۔\n\nدہلی کی جامع مسجد دیکھنے کے قابل ہے۔ اُس کے آگے بہت بڑا اور وسیع صحن ہے۔ دیواریں، چھت اور فرش جس چیز کو دیکھیے سنگ مرمر کی ہے، جس کو عجب صنعت سے ہموار کیا ہے اور سیسہ پگھلا پگھلا کے ان پتھروں کی جُڑائی کی گئی ہے جس سے زیادہ مضبوط جوڑ اور کسی طرح بیٹھ ہی نہیں سکتا۔ لکڑی کا کہیں نام ہی نہیں۔ اس مسجد پر پتھر کے تیرہ گنبد ہیں۔ ممبر بھی پتھر کا ہے۔ چاروں طرف عمارت ہے اور درمیان میں ایک عجیب و غریب ستون جس کی نسبت اس وقت تک یہ نہیں دریافت ہو سکا کہ کس دھات کا بنا ہوا ہے۔ بعض محققین ہندوستان نے مجھ سے بیان کیا کہ سات قسم کی دھاتوں کو ترکیب دے کے ایک نیا دھات بنایا جاتا ہے جسے یہاں فارسی زبان میں ہفت جوش کہتے ہیں۔ یہ ستون بھی اُسی دھات سے بنایا گیا ہے۔ اس ستون کے تھوڑے حصے پر جلا دے دی گئی ہے، جو نہایت ہی آبداری کے ساتھ ضو اور شعاعیں ڈالتا ہے اور مضبوط اس قدر ہے کہ اُس پر لوہا بالکل اثر نہیں کر سکتا۔ کوئی آلہ اُس کو نہیں کاٹ سکتا۔ یہ ستون تیس گز لمبا ہے اور اس کے دور کو میں نے اپنے عمامہ سے ناپا تھا، جس قدر حصہ اس کی لپیٹ میں آ گیا وہ آٹھ گز تھا۔ مسجد کے مشرقی دروازے پر تانبے کے دو بڑے بڑے بت پڑےہوئے ہیں جو پتھریلی زمین پر جم گئے ہیں۔\n\nجس جگہ یہ مسجد بنی ہے وہاں قدیم بت خانہ تھا۔ مسلمانوں نے فتح کرنے کے بعد اسے مسجد بنا لیا۔ مسجد کے شمالی حصہ صحن میں ایک اتنا بڑا مینار ہے جس کی نظیر سے تمام بلادِ اسلام خالی ہیں۔ یہ عجیب و غریب مینار (جسے اب لوگ قطب صاحب کا لاٹ کہتے ہیں) بخلاف ساری مسجد کے سنگِ سرخ سے بنایا گیا ہے۔ مسجد کے اور تمام حصوں میں سنگ مرمر لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مینار کے پتھر میں یہ بھی لطف پیدا کیا گیا ہے کہ اس کے پتھر پر کھود کر نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔ بلندی بہت زیادہ ہے۔ چوٹی سنگ مرمر کی ہے اور اُس کے حاشیوں اور کناروں پر طلاکاری ہے۔ اُس کی بلندی پر چڑھنے کے لیے راستہ اتنا وسیع رکھا گیا ہے کہ ہاتھی بخوبی چڑھ سکتا ہے، بلکہ ایک معتبر و مستند شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ جن دنوں یہ مینار بن رہا تھا، اُن دنوں میں نے اپنی آنکھ سے پتھر لاد لاد کے لے جانے والے ہاتھیوں کو اُس پر چڑھتے دیکھا تھا۔ اس مینار کو سلطان مُعز الدین بن ناصر الدین بن سلطان غیاث الدین بلبن نے تعمیر کیا تھا۔ اُس کے بعد سلطان قطب الدین نے ارادہ کیا کہ مغربی حصہ صحن میں بھی ایک مینار اُس مینار سے زیادہ بلند اور بڑا تعمیر کرائے۔ اس پر عمل شروع کر دیا گیا۔ ایک ثلث حصہ مینار کا بن بھی گیا تھا لیکن سلطان قطب الدین کی عمر نے وفا نہ کی اور قبل تکمیل کے مر گیا۔ پھر سلطان محمد نے ارادہ کیا کہ اُس مینار کو پورا کر دے مگر پھر خدا جانے کس وجہ سے منحوس خیال کر کے چھوڑ دیا۔ اس کی وسعت اتنی رکھی گئی تھی کہ اس میں برابر ایک ساتھ تین تین ہاتھی چڑھ سکتے تھے اور یہ ثلث جس قدر بنا ہے، بلندی میں اُس پہلے مینار کے برابر ہے یعنی اگر تکمیل کو پہنچتا تو اُس کا تگنا بلند ہو جاتا۔ ایک مرتبہ میں اس کی بلندی پر چڑھا تھا ، مجھے وہاں سے تمام بڑے بڑے مکانات شہر کے نظر آئے اور شہر پناہ کی دیواریں باوجود اپنی بلندی اور رفعت کے وہاں سے نہایت ہی پست اور ذرا ذرا سی معلوم ہوتی تھیں؛ اور اچھے خاصے توانا و تندرست اور قوی ہیکل آدمی وہاں سے مجھے چھوٹے چھوٹے بچوں کے برابر معلوم ہوتے تھے۔ اس مینار کی بلندی جس قدر ہے، اُس کی جانب کسی کا خیال بھی نہیں جاتا ہے۔ اس لیے کہ اُس کا پھیلاؤ اور دور اتنا زیادہ ہے کہ کوئی اُسے دیکھ کے اُتنا بلند نہیں تصور کر سکتا ہے۔\n\nسلطان قطب الدین نے ارادہ کیا تھا کہ شہر کے حصہ سیری میں جسے دار الخلافت کہتے ہیں ایک اور جامع مسجد تعمیر کرے جو رفعت و شان میں کُل گذشتہ عمارتوں سے بڑھ کے ہو۔ مگر سوا سامنے کی دیوار اور محرابوں کے کچھ بن نہ سکا۔ اس میں چار قسم کے پتھر لگائے گئے تھے: سنگ مرمر، سنگ موسی، سنگ سرخ اور سنگ سبز۔ اگر یہ مسجد پوری ہو جاتی تو اس میں شک نہیں کہ ساری دنیا میں اُس کے برابر کوئی عمارت نہ ہوتی۔ سلطان محمد نے ارادہ کیا کہ اس کو بھی تکمیل کو پہونچائے لیکن تمام کاریگروں کو بلوا کے صرف مزدوری کا حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ پینتیس لاکھ روپیہ فقط مزدوری میں صرف ہو گا۔ اس پر قیاس کر کے تمام مصارف کو بہت زیادہ تصور کر کے سلطان محمد اپنے ارادے سے دست بردار ہو گیا۔ مگر مجھ سے خاص سلطان کے بعض مقربین نے بیان کیا کہ بدشگونی کے خیال سے اُس نے یہ ارادہ فسخ کر دیا اور بدشگونی یہ کہ سلطان قطب الدین اصل بانی قبل تکمیل کے مار ڈالا گیا تھا۔\n\nشہر دہلی کے باہر ایک بہت بڑا حوض ہے جو سلطان شمس الدین التمش کی جانب منسوب کیا جاتا ہے۔ اہل شہر اُسی کا پانی پیتے ہیں۔ یہ حوض عید گاہ کے قریب ہے۔ اس حوض میں اور کہیں سے پانی نہیں آتا ہے، بلکہ صرف برساتی پانی جمع ہو جایا کرتا ہے۔ اس حوض کا طول دو میل کا ہے اور عرض ایک میل کا اور اس کے مغربی کنارے پر جدھر عید گاہ ہے، پتھر کے زینے بنے ہوئے ہیں اور جابجا دکانیں بھی ہیں جو تلے اوپر بنتی چلی گئی ہیں۔ اور ہر دکان کے نیچے زینے بنے ہیں جو پانی کے اندر تک اُترتے چلے گئے ہیں۔ ہر دکان کے پہلو میں ایک برج بنا ہوا ہے جس میں سیر کرنے والوں یا تفریح کو آ نکلنے والوں کے لیے نہایت عمدہ گنجائش ہے۔ حوض کے عین درمیان میں جہاں سے ہر طرف برابر بُعد ہے، ایک بڑا برج بنا ہوا ہے جس کی عمارت میں منقش پتھر لگایا گیا ہے اور اُس کے دو درجہ قرار دے دیے گئے ہیں۔ علاوہ بریں وہاں تک پہونچنے کا راستہ بھی ہے۔ جب پانی زیادہ ہو جاتا ہے اُن دنوں راستہ بند ہو جاتا ہے اور لوگ صرف کشتیوں کے ذریعے سے جا سکتے ہیں۔ اس برج کے اندر مسجد ہے اور اکثر اوقات برج اور مسجد میں فقرا و متوکلین سکونت پذیر ہیں۔ جب پانی خشک ہو جاتا ہے اور جابجا سے حوض کی زمین کھل جاتی ہے تو اس میں اکثر گنے، کھیرے اور ککڑی اور تربوز اور خوبوزے کی زراعت ہوتی ہے۔\n\nاس حوض کے علاوہ دار الخلافت اور قدیم دہلی کے درمیان میں ایک اور حوض ہے جو مذکورہ حوض سے بڑا ہے اور اُس کے گرد چالیس برج نہایت خوشنمائی اور عظمت و شان کے ساتھ بنائے گئے ہیں۔ اس حوض کے گرد ارباب نشاط کے مکانات بنے ہیں۔ یہیں اُن کا ایک بہت ہی بڑا بازار ہے جس میں ایک جامع مسجد اور بہت سے چھوٹی چھوٹی مسجدیں ہیں۔ وہاں کے معتبر لوگوں کی زبانی میں نے سُنا کہ جو طوائف اور رنڈیاں اس حلقہ میں رہتی ہیں، ماہ مبارک رمضان میں ان مسجدوں میں جمع ہو کے تراویح پڑھا کرتی ہیں اور بہت سے امام معین ہیں جو امامت کیا کرتے ہیں۔ علی ہذا القیاس ڈوم ڈھاری جن کو اُن سے قرابت کا علاقہ ہے، ادائے تراویح میں سرگرمی دکھاتے ہیں؛ بلکہ ایک مرتبہ امیر سیف الدین کے یہاں میں نے ایک تقریب میں خود دیکھا کہ ان لوگوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک جانماز دی گئی، جس کو اُس نے اپنے گھٹنے کے نیچے رکھ لیا اور جیسے ہی اذان کی آواز آئی، اُٹھ کے وضو کیا اور نماز میں مشغول ہو گیا۔\n\nدہلی میں اکثر بزرگان دین کے مزار ہیں، جن کی زیارت نہایت اعتقاد اور سرگرمی سے کی جاتی ہے، خصوص خواجہ قطب الدین بختیار کاکی۔ فقیہ نور الدین کرلانی اور فقیہ علاء الدین کرمانی کے روضے مرجع عام ہو رہے ہیں۔\n\nعلما بھی بڑے بڑے معتبر اور مستند موجود ہیں جن میں سے ایک شیخ محمود کیا ہیں۔ ان کی نسبت لوگوں کو خیال ہے کہ اُنہیں قدرت کی جانب سے دست غیب ہے۔ اس لیے کہ ظاہر میں کوئی آمدنی نہیں اور فیاضی کا یہ عالم ہے کہ ہزارہا روپیہ راہ خدا میں دیتے رہتے ہیں۔ شب و روز مہمانداری اور خدمت فقرا ہی میں گذرتی ہے۔ اور ایک عالم شیخ علاء الدین نیلی ہیں، یہ ہر جمعہ کو وعظ فرمایا کرتے ہیں۔اُن کے وعظ میں یہ اثر ہے کہ کوئی جمعہ اس سے خالی نہیں جاتا کہ لوگ آ کے اُن کے ہاتھ پر کفر و شرک سے توبہ نہ کرتے ہوں اور بعضوں کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اُن کی زبان سے مؤثر الفاظ سُن کے وجد میں آ جاتے ہیں اور از خود رفتہ ہو جاتے ہیں۔\n\nاس قدر حال بیان کر کے ابن بطوطہ نے دہلی کی تاریخ بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ اسلام اس شہر میں کیونکر اور کس عہد میں آیا۔ اور اُس وقت سے اس وقت تک کتنے بادشاہ گذرے اور آخر میں آ کے کہتا ہے کہ موجودہ فرماں روا جس کے عہد میں آنے کی مجھے عزت حاصل ہوئی وہ سلطان محمد شاہ ہے۔ اپنے باپ سلطان غیاث الدین تغلق کے مرنے کے بعد بغیر کسی جھگڑے اور خرخشے کے اور بے اس کے کہ کوئی مزاحمت کرے، وارث تاج و تخت ہوا۔ ایام ولی عہدی میں شاہزادہ جو نا کہلاتا تھا، تخت پر بیٹھ کے سلطان محمد نام اور ابو المجاہد کنیت سے اپنے تئیں مشہور کیا۔\n\nعجیب جامع الاضداد طبیعت کا بادشاہ ہے۔ اُس کے در دولت پر جب گذریے دو باتوں سے خالی نہ پائیے گا۔ کوئی نہ کوئی فقیر و محتاج اپنی کامیابی پر دعائیں ضرور دے رہا ہو گا اور کوئی نہ کوئی گنہگار ضرور قتل ہو رہا ہو گا۔ سلطان جتنا بڑا رحم دل ہے، اُتنا ہی بڑا سخت گیر ہے۔ اُس کے نام کے ساتھ ان دونوں اوصاف کو شہرت ہو گئی ہے اور اسی بنا پر جس طرح دور دور کے محتاج اور فقرا امیدوار ہو کے دہلی کی طرف روانہ ہوتے ہیں، اسی طرح چاہے دہلی سے کتنی ہی دور ہو، مگر جہاں کسی بدمعاش اور ظالم شخص کے سامنے سلطان محمد تغلق کا نام لے دیجیے، فوراً کانپ اُٹھتا ہے۔ مگر لوگوں کو یہ سن کے حیرت ہو گی کہ سلطان ہند باوجود اتنی بڑی سخت گیری اور انتقام پسندی کے انتہا سے زیادہ بے نفس، خلیق اور منکسر المزاج شخص ہے؛ خصوص امور دینی میں۔ دین کا نہایت ادب کرتا ہے، نماز کے بارے میں بڑی احتیاط اور تاکید ہے اور تارک الصلوۃ کو ضرور اس کے دینی جرم پر سزا دیتا ہے۔ لیکن باوجود ان سخت گیریوں کے میرا فیصلہ یہی ہے کہ رحم و فیاضی اُس کے مزاج میں بہ نسبت جوش انتقام کے بڑھی ہوئی ہے۔ اس کے افعال و حرکات کے متعلق میں ایسے ایسے واقعات نقل کروں گا جن کو مؤرخین نے باوجود کثرت جستجو کے نہ شاہان سلف میں سے کسی میں پایا ہو گا اور نہ ہی کسی موجودہ تاجدار میں۔\n\nاس کے بعد ابن بطوطہ اپنے قول کی تصدیق کرانے اور اپنی سچائی پر زور دینے کے لیے لکھتا ہے کہ “میں اللہ جل شانہ، ملائکہ مقربین اور انبیائے معصوم کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ سلطان محمد تغلق کی خرق عادت کے درجہ کو پہونچی ہوئی فیاضیاں جو کچھ میں نے بیان کی ہیں، سب کو نہایت تحقیق سے دریافت کر کے اور صحت پر پورا یقین کر کے لکھا ہے۔ اگرچہ جانتا ہوں کہ بعض لوگ ان باتوں کو محال خیال کریں گے، لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے ان سب کو گویا اپنی آنکھ سے دیکھ کے اور خوب تحقیق کر کے لکھا ہے اور یہ تمام باتیں ان دونوں کل بلادِ مشرق میں اس طرح مشہور ہیں کہ ہر ہر بچہ جانتا ہے”۔\n\n== دہلی اور اُس کا اگلا دربار ==\n\nبادشاہ کا دروازہ (جسے ہندوستان کے پچھلے عہد میں درِ دولت اور قسطنطنیہ میں باب عالی کہتے ہیں) دارِ سرا کہلاتا ہے۔ سرا پردۂ شاہی کے بہت سے دروازے ہیں۔ پہلے دروازے پر بہت سے لوگ مامور ہیں جو ہر وقت پہرہ دیا کرتے ہیں اور اُنہیں میں باجا بجانے والے، شہنائی اور طبل و قرنا بجانے والے بھی موجود رہتے ہیں۔ قاعدہ ہے کہ جہاں کوئی بڑا امیر اور صاحب رتبہ اور ذی اختیار رئیس آیا بس سب کے سب باجا بجانے لگے اور فوراً مبارک باد و دعائے دولت کے شادیانے بجنے لگتے ہیں اور باجوں ہی کی لے میں اُس رئیس کا خیر مقدم ادا کیا جاتا ہے، اور باجوں سے صاف آواز آتی ہے کہ “فلاں رئیس آیا فلاں رئیس آیا”۔ دوسرے اور تیسرے دروازوں پر بھی یہی سامان رہتا ہے اور وہاں بھی اسی طرح نغمہ و سرود میں رؤسا کا خیرمقدم ادا کیا جاتا ہے۔\n\nباب اول کے متصل کچھ دکانیں سی بنی ہوئی ہیں جن میں ہر وقت جلاد اور مجرم کی جان لینے والے فرشتہائے موت بیٹھے رہتے ہیں۔ اور جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں، عادت ہے کہ جب وہاں جائیے اُن لوگوں کو کسی نہ کسی کے قتل میں مصروف پائیے گا، بس بادشاہ کے حکم کی دیر ہے؛ ادھر کسی کے بارے میں سزائے موت کا حکم ہوا اور وہ قتل کے لیے آمادہ ہوئے۔ مجرمین دروازۂ شاہی ہی پر قتل کیے جاتے ہیں۔ پہلے دروازے سے دوسرے دروازے تک ایک بہت بڑی دہلیز بنی ہوئی ہے جس میں کوٹھریاں بنتی چلی گئی ہیں۔ اُن کوٹھریوں میں نگہبان اور محافظین یعنی گارد کے سپاہی باری باری موجود رہتے ہیں اور بڑی ہوشیاری سے پہرا دیا کرتے ہیں۔ دوسرے پھاٹک کے اندر بھی یہی گارد والے ہوتے ہیں۔ پھر اس کے بعد تیسرے دروازے تک جو کوٹھریاں ہیں، اُن میں سب نقیبوں کا سردار جو عرض بیگی کی خدمت سے سرفراز ہے بڑے تزک اور ٹھاٹ سے موجود رہا کرتا ہے۔ اُس کے آگے ایک سونے کا عصا رکھا رہتا ہے اور اکثر یہ عصا اُس کے ہاتھ میں نظر آیا کرتا ہے۔ اس کے سر پر سونے کی مرصّع نہایت عمدہ ٹوپی ہوتی ہے جس پر کلغی بھی ضرور نصب رہتی ہے۔ اس کے دونوں طرف بہت سے نقیب دست بستہ ادب سے کھڑے ہوتے ہیں۔ اُن سب کی ٹوپیاں بھی ویسی ہی طلاکار اور بھاری ہوتی ہیں۔ سب کی کمروں پر پٹکے بندھے ہوئے ہیں اور ہاتھوں میں کوڑے ہیں جن کی موٹھیں سونے یا چاندی کی ہیں۔ اور اس دوسرے دروازے سے نکل کے ایک بہت بڑے ہال میں پہونچتا ہے جس میں بکثرت آدمی بیٹھے رہتے ہیں۔\n\nتیسرے دروازے پر نام لکھ لینے والے رہا کرتے ہیں اور اُن لوگوں کا فرض ہے کہ سوا اُن لوگوں کے جن کو خاص بہ حکم شاہی اجازت ہو اور کسی کو اندر نہ جانے دیں۔ اُن لوگوں کے پاس تمام اُن رؤسا کے نام لکھے ہوئے ہیں جن کو اندر جانے کی اجازت ہے، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ ہر مستحق کَے آدمیوں اور ہمراہیوں کے لے جانے کا مجاز ہے۔ لہذا اس شمار سے زیادہ ہمراہیوں کو وہ نہیں لے جانے دیتے ہیں اور جب کوئی شخص اس دروازے سے گذرتا ہے، فوراً لوگ لکھ لیتے ہیں کہ فلاں شخص فلاں وقت حضوری میں گیا۔ اور بعد نماز عشا کے خود سلطان روزانہ فہرست کو اپنی آنکھ سے ملاحظہ کر لیا کرتا ہے۔ علاوہ آمد و رفت کے اور جو واقعات در دولت پر دن بھر پیش آتے ہیں، اُن کو یہاں کے محرر بطور رپورٹ کے لکھتے جاتے ہیں۔ اُن رپورٹوں کا پیش کرنا جن شاہزادوں کے سپرد ہے، وہی شاہزادے رپورٹوں کو محرروں سے لے کے ملاحظہ شاہی میں لے جاتے ہیں۔ بلکہ یہ خدمت باری باری شاہزادوں کے سپرد ہے۔\n\nدرِ دولت کا ایک یہ بھی دستور ہے کہ جو شخص باب بادشاہی میں تین دن یا اس سے زیادہ غیر حاضر رہے وہ پھر بغیر اجازت شاہی کے اندر نہیں آنے پاتا اور جب وہ پھر حاضری کا ارادہ کرے تو اُس کا فرض ہے کہ اپنا عذر بارگاہ شاہی میں پیش کرے کہ فلاں ضرورت یا اس مرض کی وجہ سے وہ غیر حاضر رہا۔ اور یہ بھی دستور ہے کہ جب وہ عذر پیش کرے تو بعد قبولیت عذر کے بادشاہ کی طرف سے اُس کو حسب رواج و حیثیت کوئی نہ کوئی تحفہ مرحمت ہو اور یہی دستور مسافروں اور بادشاہ کے دربار میں باہر سے آنے والوں کے ساتھ بھی معین ہے۔ یہ ہدایا و تحف بھی ہر حیثیت کے مناسب نامزد کر دیے گئے۔ مثلاً فقہا کو قرآن مجید نذر دیا جاتا ہے، فقرا کو جانماز، تسبیح اور مسواک وغیرہ دی جاتی ہے، روسا اور اُمرا کو گھوڑے، اونٹ اور اسلحہ دیے جاتے ہیں۔\n\nتیسرے پھاٹک سے نکل کے انسان اُس بڑے عالیشان محل میں پہونچتا ہے جسے ہزار ستون کہتے ہیں۔ اس کے ستون لکڑی کے ہیں جن پر روغن پھرا ہوا ہے اور چھت بھی لکڑی کی ہے۔ مگر اُس پر ایسی عجیب و غریب صنّاعی سے بیل بوٹے اور نقش و نگار بنائے گئے ہیں کہ انسان کو حیرت ہوجاتی ہے۔ اس محل میں لوگ آ کے ادب سے بیٹھتے ہیں اور اس میں خود سلطان بھی جلوہ افروز ہوتا ہے۔ یہ محل دیوان عام بھی کہلاتا ہے۔ اس دیوان عام میں سلطان اکثر بعد عصر آ کے بیٹھتا ہے۔ خاص سلطان کی نشست کے لیے وہاں یہ انتظام رہتا ہے کہ ایک مسطح چبوترے پر نہایت نفیس اور برّاق فرش اور فرش پر ایک عمدہ تخت رہتا ہے۔ تخت کی پشت کے جانب گاؤ تکیہ لگا ہوا ہے اور داہنے بائیں دونوں پہلوؤں پر یہی ایک ایک تکیہ رہتا ہے، اور بیٹھنے کی یہ وضع ہوتی ہے جس طرح انسان نماز میں تشہد پڑھنے کے لیے بیٹھتا ہے اور یہی وضع تخت نشینی میں کل شاہان ہند کی ہے۔ اور جب بادشاہ بیٹھتا ہے تو اس کے آگے وزیر اعظم دست بستہ کھڑا ہوتا ہے اور اُس کے پیچھے اہل قلم و اراکین دفتر شاہی صف باندھے کھڑے رہتے ہیں۔ اہل قلم کے پیچھے حاجبین دربار شاہی ٹھہرتے ہیں، یعنی وہ لوگ جو ہر آنے والے کو سونچ سمجھ کے لاتے ہیں اور اُس کی حیثیت کے مناسب اس کی جگہ پر لا کے اسے کھڑا کر دیتے ہیں۔ اُن حاجبوں کا سردار اعظم ہمیشہ دربار دہلی میں ایک معزز اور معتمد علیہ شاہی رہتا ہے۔ سلطان محمد تغلق کے عہد میں یہ خدمت خاص سلطان کے بھتیجے فیروز ملک کےسپرد ہے۔ یہ اپنے تمام ماتحت حاجبوں کے آگے اور خاص سلطان کے قریب رہتا ہے، اُس کے بعد اُس کا ماتحت حاجب رہتا ہے جسے حاجب خاص کہتے ہیں، پھر نائب حاجب خاص جو داروغہ محل بھی مقرر کیا جاتا ہے۔ اور اس حجاب اور نقیبوں کے گروہ میں تقریباً سو آدمی ہیں جو ہر وقت موجود رہتے ہیں۔\n\nجس وقت سلطان بیٹھتا ہے سب کے سب ایک ساتھ شور کر کے کہتے ہیں “بسم اللہ الرحمن الرحیم” اور ملک الکبیر یعنی حاجبوں اور نقیبوں کا سردار مورچھل ہاتھ میں لیے رہتا ہے اور برابر جھلا کرتا ہے۔ ان مذکورہ لوگوں کے بعد سو مسلح جوان صف باندھے تخت کے داہنے جانب کھڑے رہتے ہیں اور سو بائیں جانب؛ اُن کے ہاتھوں میں کوڑے، تلواریں اور تیر کمان رہا کرتے ہیں۔ میمنہ اور میسرہ پر دیوان عام کے طول کے رخ پر قاضی القضات کھڑا ہوتا ہے اور اُس کے قریب ہی خطیب الخطبا یعنی سب خطیبوں کا سردار رہتا ہے۔ پھر تمام قاضی، پھر بڑے بڑے فقہا اور اُن کے بعد بڑے بڑے عمائد شہر اور مشائخ اور بادشاہ کے اعزا و اقربا اور داماد کھڑے رہا کرتے ہیں۔ پھر اُن لوگوں کی صف ہوتی ہے جو کبار اعزا کہلاتے ہیں، کبار اعزا سے مراد غربا و مساکین ہیں۔ پھر اہل فوج ہوتے ہیں۔ ان سب لوگوں کے پیچھے دونوں طرف تیس تیس کوتل گھوڑے نہایت اعلیٰ درجہ کے ساز و یراق سے آراستہ لا کے کھڑے کر دیے جاتے ہیں جن میں سے بعضے گھوڑے تو ایسے ہیں کہ خلافت اسلامیہ عباسیہ کی یادگار ہیں، یعنی اُن پر سیاہ اطلس کا چار جامہ وغیرہ ہوتا ہے اور اُس پر طلائی کام بنا ہوتا ہے اور بعضے کا سامان سفید طلا کار اطلس کا ہوتا ہے۔ یہ گھوڑے خاص سلطان کی سواری کے لیے مخصوص ہیں اور اُن پر سِوا خود بدولت کے اور کسی کی مجال نہیں کہ کبھی سوار ہو سکے۔ دربار میں یہ گھوڑے ٹھہرائے بھی ایسے مقام پر جاتے ہیں کہ سلطان کی نظر وہاں تک پہونچ سکتی ہو اور ہر لحظہ شاہنشاہ ہندکی نگاہ کے سامنے رہیں۔ ان گھوڑوں کے پیچھے پچاس ہاتھی کھڑے کیے جاتے ہیں جن پر ریشمی طلا کار جھولیں پڑی ہوتی ہیں اور جن کے دانتوں پر فولادی انیاں چڑھی ہوتی ہیں تاکہ مجرموں کو یہ ہاتھی بہ سہولت قتل کر سکیں۔ ہر ہاتھی کی گردن پر فیلبان کج بانک ہاتھ میں لیے سوار رہتا ہے اور اُن کی پیٹھ پر بہت بڑی بڑی عماریاں کسی رہتی ہیں جن میں سے ہر ایک میں اتنی وسعت ہوتی ہے کہ اُس پر بیس مسلح سپاہی بآسانی بیٹھ سکیں۔ ہاتھی کے قد و قامت کے لحاظ سے اس شمار میں کبھی کمی و زیادتی بھی ہو جاتی ہے۔ عماری کے چاروں کونوں پر چار عَلم بھی نصب ہوتے ہیں۔ یہ ہاتھی بڑی ہوشیاری اور محنت سے سدھائے گئے ہیں؛ چنانچہ جب چاہا جاتا ہے بادشاہ کے آگے جھک کے آستان بوسی کرتے ہیں اور بڑے ادب سے سر جھکاتے ہیں۔ ان میں سے بھی تیس ہاتھی تخت کے داہنے جانب اور تیس بائیں جانب ٹھہرائے جاتے ہیں۔ اُن ہاتھیوں میں سے جہاں کسی ہاتھی نے بڑھ کے سلطان کے آگے سر نیاز جھکا یا، حجاب اور نقیبوں کے گروہ سے صدائے “بسم اللہ الرحمن الرحیم” بلند ہوتی ہے۔\n\nآداب شاہی میں یہ بھی داخل ہے کہ جتنے عہدہ دار یہاں آ کے ٹھہرنے کے مجاز ہیں، جب وہ دربار میں آ ئیں تو پہلے اُن کا فرض ہے کہ ایک مقام خاص پر جو تسلیم گاہ ہے، جا کے بادشاہ کو سلام کر لیں تو پھر اپنے مقام پر جا کے ٹھہریں۔ اُن لوگوں کے سلام کرنے کے وقت بھی “بسم اللہ” کا نعرہ صف حجاب سے بلند ہوتا ہے۔ لیکن ہندوؤں میں سے کوئی راجا یا عہدہ دار شاہی سلام کرتا ہے تو اُس وقت نقیب بآواز بلند اُس کی طرف خطاب کر کے کہتے ہیں “ھداک اللہ”۔ اور سلطان کے غلام سب لوگوں کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں جن کی وضع سپاہیوں کی ہوتی ہے اور ہر ایک کے ہاتھ میں ڈھال تلوار رہتی ہے۔ اس ترتیب کا یہ نتیجہ ہے کہ جو کوئی بادشاہ تک پہونچنا چاہے تو پہلے ان میں ہو کے گزرے گا، پھر حاجبوں میں ہو کے۔\n\nجب کوئی باہر کا عامل دربار شاہی میں ہدیہ اور تحائف لا کے حاضر ہونا چاہتا ہے تو حاجب جو خدمت عرض بیگی کو سر انجام دیتے ہیں، اپنی اُس مذکورہ ترتیب سے یعنی سب کے آگے امیر حاجب، اُس کے پیچھے اُس کا نائب، پھر خاص حاجب، پھر اُس کا نائب، پھر داروغۂ محل، پھر اُس کا نائب۔ غرض اس گروہ کے تمام لوگ آگے پیچھے اپنی ترتیب کا لحاظ رکھتے ہوئے تخت شاہی کی طرف بڑھتے ہیں اور تین مقاموں پر کھڑے ہو کے آداب شاہی بجا لا کے عرض کرتے ہیں کہ “فلاں شخص در دولت پر حاضر ہے اور آستان بوسی کی آرزو رکھتا ہے”۔ اگر بادشاہ نے اجازت دی تو اُس کو اس طور پر دربار میں لاتے ہیں کہ وہ جو تحفہ یا ہدیہ لایا ہے اُس کو لیے ہوئے لوگ آگے آگے چلتے ہیں تاکہ سلطان کی اُس پر نظر پڑے، وہ شخص قبل اس کے کہ سلطان کے قریب پہونچے دور ہی سے تین بار آداب شاہی بجا لاتا ہے۔ اُس کے بعد حاجبوں کے ٹھہرنے کے مقام پر پہونچتا ہے۔ اگر کوئی بہت بڑا امیر اور معزز شخص ہوا تو امیر حاجب کے برابر کھڑا ہوتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اُس کے پیچھے ہی ٹھہر جاتا ہے۔ جب وہ اپنی جگہ پر ٹھہر گیا تو سلطان بذات خود اُس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور نہایت ہی خلق و محبت اور توجہ کے الفاظ میں باتیں کرتا ہے۔ اُس کے آنے پر مرحبا کہتا ہے اور اگر اُس کی عزت کے لحاظ سے مناسب معلوم ہوا تو پاس بلا کےمصافحہ کرتا ہے اور کبھی کبھی معانقہ بھی کرتا ہے اور اُس کے ہدیوں کو منگوا کے اپنے سامنے رکھتا ہے۔ اگر اسلحہ کپڑوں کے قسم سے کوئی چیز ہوئی تو ہاتھ میں اٹھا کے اُلٹ پلٹ کے بھی دیکھتا ہے اور خواہ مخواہ تحفوں کی تعریف کرتا ہے، صرف اس لیے کہ جس نے پیش کیا ہے، اُس کا دل خوش ہو جائے۔ اس کے بعد اُس کو خلعت مرحمت ہوتا ہے اور اُس کی حیثیت کے مناسب ایک رقم “سر دھونے” کے نام سے اُس کو نقد عطا ہوتی ہے۔ یہ ہندوستان کا دستور ہے کہ بادشاہ شرف حضوری حاصل کرنے والوں کو جو رقم مرحمت فرماتا ہے وہ “غسل سر” کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔\n\nیہ تو اُن ہدیوں کا ذکر تھا جو باہر کے آنے والوں یا ابتداءً شرف حضوری حاصل کرنے والوں کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں۔ لیکن وہ تحائف اور ہدایا جو عمائد شاہی یا خاص عمّال اور چکلہ داروں یا زمینداروں کی طرف سے پیش ہوتے ہیں اُن کا اور دستور ہے۔ امرا اور عمّال کا قاعدہ ہے کہ بہت دنوں تک مال و اسباب نذر شاہی کے لیے فراہم کرتے رہتے ہیں۔ ہاتھی، گھوڑے، سونے چاندی کے برتن اور نیز سونے چاندی کی مسلّم اینٹیں۔ اسی قسم کی تمام چیزیں جب حضوری میں پیش ہوتی ہیں تو شاہی غلام اُن چیزوں کو لے کے بڑھتے ہیں۔ اگر ہاتھی ہوئے تو پہلے ہاتھی، پھر گھوڑے مع لوازم ساز و یراق، پھر اونٹ جن پر مال و اسباب لدا ہوتاہے، تدریجاً بادشاہ کی نظر سے گذر کے خزانہ شاہی میں داخل کیے جاتے ہیں۔\n\nجب سلطان محمد تغلق دولت آباد سے واپس آتا تھا، اُن دنوں وزیر اعظم خواجہ جہاں نے ایک روز اپنے ہدایا ملاحظہ شاہی میں پیش کیے۔ بادشاہ نے شہر بیانہ کے باہر ایک مقام پر اُن ہدیوں کے ملاحظہ سے گذرانے جانے کا حکم دیا تھا۔ اُس موقع پر میں بھی وہاں موجود تھا اور میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا کہ وزیر کے ہدیے اسی ترتیب سے پیش کیے گئے تھے جس طرح میں نے بیان کیا۔ منجملہ اور دولت مندی کے سامانوں کے میں نے اُس موقع پر دیکھا کہ ایک سینی میں عمدہ اور بے بہا یاقوت اور ایک سینی میں بے مثل زمرد اور ایک میں بڑے بڑے موتی بادشاہ کی نذر گذرانے گئے تھے۔ دولت مندی کے یہ نمونے دیکھ کے مجھے حیرت ہو گئی۔ خصوص یہ دیکھ کے کہ سلطان ابو سعید بادشاہ عراق کے بھتیجے حاجی کاون بھی وہاں موجود تھے۔ بادشاہ نے اُن مذکورہ جواہرات میں سے تھوڑا تھوڑا حصہ اُن کو دے دیا تھا۔\n\nدہلی میں عیدین کو بڑی کیفیت ہوتی ہے اور بے شک اُس روز یہاں کی دولت و عظمت کا جبروت نظر آیا کرتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ شاہان دہلی کی عظمت بمقابلہ دیگر فرمانروایان بلاد کے کس قدر بڑھی ہوئی ہے۔ جس روز صبح کو عید ہونے والی ہوتی ہے، اُس روز رات ہی کو بادشاہ کی طرف سے تمام عمائد سلطنت، مقربین خلافت، اہل دولت، معزز لوگوں، نائبوں، حاجبوں، نقیبوں، سرداران عساکر، غلاموں اور پرچہ و پیام پیش کرنے والوں کے پاس حسب مراتب و مدارج خلعت بھیج دیے جاتے ہیں۔ صبح ہوئی اور ہاتھی عمدہ عمدہ مرصع اور طلاکار جھولوں اور عماریوں سے آراستہ کیے جانے لگے۔ یہ ہاتھی سر سے پاؤں تک جواہرات، سونے اور ریشم میں غرق ہوتے ہیں۔ سولہ ہاتھی تو خاص شاہنشاہ کی سواری کے لیے مخصوص ہوتے ہیں جن پر کسی کی مجال نہیں کہ سوار ہو سکے۔ ہر سلطانی ہاتھی کی عماری پر ایک مرصّع چھتر بھی نصب ہوتا ہے جو مرصع کار سونے ہی کے ڈنڈے پر قائم ہوتا ہے۔ اُن میں سے ایک ہاتھی پر سلطان سوار ہوتا ہے اور بڑے جلوس اور دھوم دھام سے سواری عید گاہ کو روانہ ہوتی ہے۔ سلطانی ہاتھی کے آگے غلام صف باندھ کے چلتے ہیں جن کے سروں پر طلائی ٹوپیاں اور کمروں میں طلائی پٹکے ہوتے ہیں، ان میں سے بعضوں کی ٹوپیاں اور پٹکے مرصع کار بھی ہوتے ہیں۔ اُن کے بعد چاؤشوں اور نقیبوں کا ہجوم ہوتا ہے جو پکارتے جاتے ہیں کہ “سواری ہے شاہنشاہ ہندوستان کی”۔ ان نقیبوں کا شمار تین سو ہے، اُس روز سب کے سب ہمراہ رکاب ہوتے ہیں۔ اُن کے بھی سروں پر ہندی ٹوپیاں اور کمروں میں سنہری پیٹیاں ہوتی ہیں اور ہاتھوں میں طلاکار گُرز ہوتے ہیں۔\n\nبادشاہ کے بعد قاضی القضاۃ صدر جہاں ناصر الدین خوارزمی کا ہاتھ ہوتا ہے اور اُن کے جلو میں کل قاضی اور اعزائے خراسان و عراق و شام و مصر و مغرب کے مفلوک الحال ہوتے ہیں جن کی خدمت گزاری سلطنت کی جانب سے کی جاتی ہے۔ اُن میں سے ہر شخص ایک جداگانہ ہاتھی پر سوار ہوتا ہے۔ لیکن ہندوستان میں خراسان کے محتاج و فلاکت زدہ اس کثرت سے آئے اور آتے ہیں کہ یہاں جتنے محتاج ہیں سب خراسانی خیال کیے جاتے ہیں۔ اس گروہ کے بعد مؤذن لوگ بھی ہاتھیوں پر سوار ساتھ ہوتے ہیں جو راستہ میں برابر بآواز بلند کلمات تہلیل و تکبیر کہتے جاتے ہیں۔\n\nدرِ دولت کے باہر تمام فوجیں اور کل عمائد شہر اپنی اپنی فوجوں کے ساتھ جلوس شاہی کے منتظر کھڑے ہوتے ہیں اور اس انتظام سے کہ ہر امیر کے ساتھ علاحدہ باجے، روشن چوکیاں، طبل اور علم اُس کی عزت اور اُس کے رتبہ کے موافق موجود ہوتے ہیں۔ بادشاہ جب مندرجۂ بالا حیثیت سے چل کے در دولت کے باہر نکلتا ہے تو یہ سب لوگ حسب ضابطہ سلامی لیتے ہیں۔ اور اب عید گاہ کی طرف اس شان و شوکت سے جلوس روانہ ہوتا ہے کہ سب کے آگے شاہی ہاتھی اور اُسی حیثیت سے جس طرح ہم بیان کر آئے، یعنی غلام اور چاؤش آگے آگے انتظام کرتے ہوئے اور عام پبلک کو شاہی عظمت و جبروت کی اطلاع دیتے ہوئے۔ اور بادشاہ کے ہاتھی کے بعد ہی قاضی القضاۃ اور اعزا وغیرہ رہتے ہیں اور مؤذن بھی اسی طرح ہاتھیوں پر بیٹھے تکبیر و تہلیل کہتے ہوئے ہمراہ نکل جاتے ہیں، پھر ان سب لوگوں کے بعد امرا و رؤسا کے جلوس اپنی شانداری سے باجے بجاتے ہوئے چلتے ہیں۔ طبل بجتا جاتا ہے اور قرنا پھنکتا جاتا ہے۔ پہلے تو سلطان کے بھائی مبارک خان پورے جلوس اور تمام سامانوں کے ساتھ چلتا ہے۔ پھر بادشاہ کا چچازاد بھائی ملک فیروز اپنے جلوس کے ساتھ بڑھتا ہے۔ پھر حضور کا بھتیجا بہرام خان اپنے ساز و سامان کے ساتھ چلتا ہے۔ پھر وزیر اعظم مع اپنے خدم و چشم کے۔ پھر ملک مجیر بن ذی الرجا اپنی فوج اور اپنے جلوس کے ساتھ روانہ ہوتا ہے۔ پھر دہلی کا بہت بڑا صاحب سطوت رئیس اپنے جلوس کو آگے بڑھاتا ہے جو ملک الکبیر قبولہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ بہت ہی بڑا متمول اور صاحب اختیار شخص ہے۔ اُس کے دفتر کا دیوان اعظم ملک علاء الدین علی مصری معروف بہ ابن شرایشی جس کو میں بہت ہی معتبر شخص جانتا ہوں، خود اُس نے مجھ سے بیان کیا کہ اُس کو خزانہ سلطانی سے بابت مصارف خانگی کے چھتیس لاکھ روپیہ سالانہ ملتا ہے۔ ملک قبولہ کے بعد ملک نکبیہ اپنے جلوس کے ساتھ روانہ ہوتا ہے۔ پھر عزۃ الملک اپنے لوگوں کو بڑھاتا ہے۔ پھر مخلص الملک پھر قطب الملک۔ غرض تمام امرا اپنے جلوس کو لے کے چلتے ہیں۔ یہ سب دہلی کے بہت بڑے رؤسا ہیں اور ایسے ہیں کہ کسی وقت سلطان سے جدا نہیں ہوتے ہیں۔ عید کے روز انہیں حکم ہے کہ اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ اور اپنے عطا شدہ مراتب کا بخوبی اظہار کر کے تزک و احتشام سے ہمراہ رکاب سلطان عید گاہ کو جایا کریں۔ ان سب کے علاوہ اور چھوٹے چھوٹے صدہا رؤسا ہیں جو یکے بعد دیگرے اس سلسلۂ جلوس میں عید گاہ کو جاتے ہیں۔ اور آج کے دن جتنے ہیں سب مسلح ہوتے ہیں اور نیز اُن کے گھوڑے اور ہاتھی بھی خوب آراستہ نظر آتے ہیں۔ بادشاہ عیدگاہ کے دروازے پر پہونچ کے ٹھہر جاتا ہے اور قاضی القضاۃ سے اندر جانے کی درخواست کرتا ہے، پھر امرائے کبار اور نیز اُن بیرونی مصیبت زدہ کبار اعزا کو داخل ہونے کا حکم دیتا ہے۔ جب یہ لوگ جا چکتے ہیں تو خود ہاتھی سے اُتر کر عید گاہ میں جاتا ہے۔ بادشاہ کے پہونچتے ہی امام اُٹھ کے نماز پڑھاتا ہے اور خطبہ پڑھتا ہے۔ اور اگر عید الاضحیٰ ہوئی تو قربانی کے لیے اونٹ حاضر کیا جاتاہے اور سلطان اپنےہاتھ سے نیزہ مار کے اُسے ذبح کرتا ہے۔ ذبح کرنے کے وقت بادشاہ اپنے جسم پر ایک کپڑا لپیٹ لیا کرتا ہے تاکہ لباس شاہی خون کے دھبوں سے محفوظ رہے۔\n\nعید کے دن جو دربار ہوتا ہے وہ بھی نہایت پُرتکلف اور بڑی شان و شوکت سے ہوتا ہے۔ اس کے لیے بہت کچھ اہتمام کیا جاتا ہے لیکن اُس کا حال ہم پھر بیان کریں گے۔ اس لیے کہ اب یہ مضمون بہت طولانی ہو گیا اور اگر زیادہ بڑھ گیا تو لوگوں کی دلچسپی نہ ہو گی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%AD%D9%88%D9%85"} {"title": "دہلی کی آخری شمع/تدبیر", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "رپورتاژ > دہلی کی آخری شمع", "year": null, "text_ur": "تدبیر\n\nہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا\n\nنہ ہو مرنا، تو جینے کا مزا کیا\n\nمیرا نام کریم الدین ہے، میں پانی پت کا رہنے والا ہوں۔ یہ قصبہ دہلی سے چالیس کوس پر بہ جانبِ شمال مغرب واقع ہے اور اپنی لڑائیوں کی وجہ سے تاریخ میں مشہور ہے۔ ہم اچھے کھاتے پیتے لوگ تھے، مولویوں کا خاندان تھا، لیکن زمانے کی گردش نے ایسا پیسا کہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گئے، جائداد ضبط ہو گئی۔ میرے دادا صاحب قبلہ ایک مسجد میں جا بیٹھے اور اللہ اللہ کر کے گزار دی۔ جب ضبط شدہ جائداد کے متعلق دریافت شروع ہوئی تو توکّل نے ان کا دامن پکڑ لیا، اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہمیشہ کے لیے روٹیوں کا سہارا کھو بیٹھے۔ میرے والد سراج الدین مرحوم بہ مصداقِ ’’عصمتِ بی بی از بے چادری‘‘ متوکل بنے رہے اور مسجد میں ایسے بیٹھے کہ مر کر اٹھے۔\n\nمیں ۱۲۳۷ھ میں عین عید الفطر کے دن پیدا ہوا۔ میری تعلیم انہی دونوں بزرگوں کے ہاتھوں ہوئی، لیکن بے چین طبیعت اور خاندانی جھگڑوں نے آخر پانی پت چھڑایا۔ اُس زمانے میں دہلی میں علم کا بڑا چرچا تھا۔ ہر فن کے کاملوں سے دہلی بھری پڑی تھی۔ ہر سمت علم کے چشمے جاری تھے۔‘‘ملا کی دوڑ مسجد تک ’’ مَیں بھی پانی پت چھوڑ دہلی آ گیا۔ شہر میں چھاپے خانے نئے نئے چلے تھے، کاپی نویسی سے گزارا کرتا۔ محنت مزدوری کے بعد بھی ذوقِ علم ہر حلقۂ درس میں مجھے لے جاتا۔ اسی زمانے میں دہلی کالج کی تنظیم جدید ہوئی تھی، طالب علموں کی تلاش تھی، میں بھی اٹھارہ سال کی عمر میں وہاں شامل ہو گیا۔ سولہ روپے وظیفہ بھی مقرر ہوا اور اس طرح میں نے علم کی پیاس بڑی حد تک بجھائی، لیکن یہ وہ زمانہ نہیں تھا کہ علم کو علم کے لیے حاصل کیا جاتا، اب اُس کے ساتھ گزارے کی ایک بڑی شق لگ گئی تھی، اس لیے چند دوستوں کے ساتھ مل کر ایک مطبع کھولا۔ قاضی کے حوض پر مبارک النسا بیگم کی حویلی کرایے پر لی۔ عربی کی مشہور مشہور کتابوں کے ترجمے چھاپے، لیکن مطبع جیسا چلنا چاہیے تھا، نہ چلا۔ یہ اردو شاعری کے شباب کا زمانہ تھا۔ بادشاہ سے لے کر فقیر تک سب اسی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ خیال آیا کہ ایک مشاعرہ قائم کر کے شعرا کے حالات اور ان کا کلام طبع کروں، ممکن ہے کہ اس طرح مطبع چل جائے۔ مجھے شاعری سے نہ کبھی لگاؤ تھا اور نہ اب ہے، بلکہ شعر کہنا میں برا جانتا ہوں، کیوں کہ اہل علم کا یہ پیشہ نہیں ہے۔ وہ لوگ جو معیشت سے فارغ البال ہیں، اپنا دل بہلانے اور حسرت نکالنے کے لیے شاعری کرتے ہیں۔\n\nمیں خود عالم ہوں، میرے باپ دادا عالم تھے، بھلا میں تو اس قسم کی فضولیات کی طرف توجہ بھی نہ کرتا، مگر کیا کروں ضرورت سب خیالات پر حاوی ہو گئی اور مجھے قیامِ مشاعرہ پر مجبور کیا۔ لیکن بڑی مصیبت یہ ہے کہ ایک تو اس شہر میں غریب اور خاص کر پردیسی غریب کو منہ نہیں لگاتے۔ دوسرے یہ کہ میری جان پہچان تھی تو مولویوں سے، وہ بھلا اس معاملے میں میرا کیا ساتھ دے سکتے تھے۔ سوچتے سوچتے نواب زین العابدین خاں عارفؔ پر نظر پڑی۔ ان سے دو چار دفعہ ملنا ہوا تھا۔ بڑے خوش اخلاق آدمی ہیں۔ لال کنویں کے پاس ایک حویلی ہے، اس کو مدرسہ بھی کہتے ہیں، وہاں رہتے ہیں۔ کوئی تیس (۳۰) سال کی عمر ہے۔ گوری رنگت، اونچا قد اور نہایت جامہ زیب آدمی ہیں، البتہ ڈاڑھی بھر کر نہیں نکلی ہے، ٹھوڑی پر کچھ گنتی کے بال ہیں۔ غالب کے بھانجے بھی ہیں اور شاگرد بھی۔ کچھ عرصے تک شاہ نصیر سے بھی اصلاح لی ہے۔ بہرحال ان کی محبت، ان کی شرافت اور سب سے زیادہ ان کے رسوخ نے مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور اس بارے میں ان کی امداد حاصل کرنے پر مجبور کیا۔\n\nایک روز صبح ہی صبح گھر سے نکل کر ان کے مکان پر پہنچا۔ معلوم ہوا کہ وہ حکیم احسن اللہ خاں صاحب وزیرِ اعظم کے مکان پر تشریف لے گئے ہیں۔ حکیم صاحب کا مکان سِرکی والوں ہی میں تھا۔ واپسی میں دروازے پر دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ نواب زین العابدین خاں اندر ہیں۔ چوبدار کے ذریعے سے اطلاع کرائی۔ انھوں نے اندر بلا لیا۔ بڑا عالی شان مکان ہے۔ صحن میں نہر ہے، سامنے بڑا چبوترہ ہے اور چبوترے پر بڑے بڑے دالان در دالان۔ مکان خوب آراستہ پیراستہ ہے۔ ہر چیز سے اِمارت ٹپکتی ہے۔ سامنے گاؤ تکیے سے لگے نواب صاحب بیٹھے تھے۔ میں نے تو ان کو پہچانا بھی نہیں، سوکھ کر کانٹا ہو گئے تھے اور چہرے پر جھریاں پڑ گئی تھیں۔ میں نے سلام کر کے کیفیت پوچھی، کہنے لگے ’’مولوی صاحب! کیا کہوں، کچھ دل بیٹھا جاتا ہے۔ بظاہر کچھ مرض بھی نہیں معلوم ہوتا، علاج کر رہا ہوں، مگر بے نتیجہ۔ بھئی اب ہمارے چل چلاؤ کا زمانہ ہے۔ کچھ دنوں دنیا کی ہوا کھا رہے ہیں، مگر یہ تو کہیے آج آپ کدھر نکل آئے؟‘‘ میں نے واقعات کا اظہار کر کے ضرورت بیان کی۔ تھوڑی دیر سوچتے رہے، پھر ایک آہ بھر کر کہا: ’’میاں کریم الدین! تم کو بات اچھی سوجھی ہے، مگر بھئی اس کا نباہنا مشکل ہے۔ تمھیں خبر نہیں، دہلی کے پہلے مشاعروں نے کیا کچھ دلوں میں فرق ڈال دیے ہیں۔ دل تو میرا بھی چاہتا ہے کہ مرتے مرتے ایک ایسا مشاعرہ دیکھ لوں جس میں یہاں کے سب کاملین فن جمع ہو جائیں، مگر مجھے یہ بیل منڈھے چڑھتی معلوم نہیں ہوتی۔ اچھا تم بھی کوشش کرو، میں بھی کرتا ہوں، ممکن ہے کہ کوئی صورت نکل آئے۔ ہاں ٹھہرو، حکیم صاحب کو آنے دو، ایک تجویز ذہن میں آئی ہے، اگر چل گئی تو میری بھی آخری تمنا پوری ہو جائے گی اور تمھارا بھی کام نکل جائے گا۔‘‘\n\nہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ حکیم صاحب نکل آئے۔ گورے چٹے آدمی ہیں، سفید بھری ہوئی ڈاڑھی، گول چہرہ، اس میں کچھ کچھ چیچک کے داغ، آنکھوں سے ذہانت ٹپکتی تھی۔ سر سے پاؤں تک سفید لباس پہنے ہوئے تھے۔ فن طب میں کامل اور تاریخ کے عالم ہیں۔ میں آداب بجا لایا، میری طرف مسکرا کر دیکھا اور نواب صاحب سے کہا: آپ کی تعریف کیجیے۔ انھوں نے کہا: یہ میرے قدیم ملنے والوں میں سے ہیں۔ خود شاعر نہیں مگر شعر فہم ہیں۔ آج کل خیال پیدا ہوا ہے کہ شعرائے دہلی کا ایک تذکرہ لکھیں اور اُس میں ان کے حلیے اور ان کے کلام کے نمونے دکھائیں۔ مجھ سے مشورہ کرنے آئے تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ مجھے ان چیزوں سے عشق ہے۔ اب اپنا آخری وقت ہے، جی چاہتا ہے کہ پرانے رنگ کا ایک مشاعرہ اور دیکھ لوں، اگر آپ مدد فرمائیں تو یہ مشکل آسان ہو سکتی ہے۔ حکیم صاحب کہنے لگے: میاں عارف! خدا کے لیے ایسی مایوسی کی باتیں نہ کیا کرو۔ ابھی جوان ہو، ان شاء اللہ خود طبیعت مرض پر غالب آ جائے گی اور تمھیں مرض ہی کیا ہے، وہم ہی ہے، مگر ہاں یہ تو بتاؤ تم مجھ سے کس قسم کی مدد چاہتے ہو؟ نواب صاحب نے کہا: حکیم جی! اور کچھ نہیں، اتنا کر دو کہ میاں کریم الدین کو بارگاہ جہاں پناہی تک پہنچا دو۔ میں خود جاتا مگر ہمت نہیں ہوتی۔ میں ان کو سب سمجھادوں گا۔ اگر حضرت ظلّ اللہ اپنا کلام بھیجنے پر راضی ہو گئے تو مشاعرے کا جم جانا کوئی مشکل کام نہیں۔ اور اگر بد قسمتی سے انکار ہو گیا تو مشاعرے کا خیال کرنا ہی فضول ہے۔ اب رہا مشاعرے کا انتظام تو وہ میں خود کر لوں گا کیوں کہ یہ بے چارے ان چیزوں کو کیا سمجھیں۔\n\nحکیم صاحب پہلے تو کچھ سوچتے رہے، پھر کہا: عارفؔ! تمھارے لیے میں سب کچھ کرنے کو تیار ہوں۔ اس لیے اور بھی کروں گا کہ اس سے تمھاری طبیعت بہل جائے گی اور کچھ دنوں اس مشغلے میں لگ کر ممکن ہے کہ تمھارے دل سے مرض کا وہم جاتا رہے۔ بادشاہ سلامت سے تو میں کہتا نہیں، ہاں آپ کے دوست کو صاحب عالم مرزا فتح الملک بہادر سے ملا دیتا ہوں، ان کو آج کل مشاعرے کی لَو لگی ہوئی ہے، حضور سے بھی کئی مرتبہ عرض کر چکے ہیں، مگر وہ ٹال گئے۔ اگر ان صاحب نے ذرا بھی زور دیا تو مجھے یقین ہے کہ صاحبِ عالم کہہ سن کر ضرور اجازت حاصل کر لیں گے۔ اچھا تو مولوی صاحب! کل ایک بجے قلعۂ معلیٰ میں آ جائیے، میں چوبدار سے کہے جاتا ہوں، یہ اندر پہنچا دے گا۔ آگے آپ جانیں اور آپ کی قسمت۔ یہ کہہ کر حکیم صاحب نے خدا بخش کو آواز دی۔ وہ آیا تو اس سے کہا کہ کل یہ صاحب حویلی میں ایک بجے آئیں گے، ان کو میری بیٹھک میں پہنچا دینا۔ یہ کہہ کر وہ نواب صاحب کی طرف متوجہ ہو گئے اور میں آداب کر کے واپس چلا آیا۔\n\nدوسرے روز ایک بجے کے قریب میں مولویانہ ٹھاٹھ سے جُبّہ پہن، شملہ باندھ، قلعۂ معلّیٰ پہنچا۔ لاہوری دروازے کے باہر خدا بخش کھڑے ہوئے تھے، وہ مجھ کو حکیم صاحب کی بیٹھک میں لے گئے۔ یہ بیٹھک، جس کو پہلے زمانے میں ’’نشست‘‘ کہا جاتا تھا، دیوانِ عام سے ملی ہوئی تھی۔ حکیم صاحب بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے، مجھے دیکھ کر بولے: ’’اجی مولوی صاحب! میں نے آپ کا کام کر دیا ہے، صاحبِ عالم مرزا فتح الملک بہادر سے صبح ہی کو ملنا ہو گیا، وہ اس تجویز سے بڑے خوش ہوئے۔ فرماتے تھے: جہاں پناہ سے میں اجازت لیے لیتا ہوں، مگر مشاعرے کا انتظام ایسا ہونا چاہیے کہ ہم لوگ بھی آ سکیں۔ خیر بیٹھیے، شاید ابھی آپ کی یاد ہو۔ میں ایک طرف بیٹھ گیا۔ بیٹھا ہی تھا کہ چوبدار نے آ کر کہا: وہ کریم الدین کون صاحب ہیں، ان کو حضور والا یاد فرماتے ہیں۔ یہ سننا تھا کہ میرے پسینے چھوٹ گئے۔ میں سمجھا تھا کہ حکیم صاحب ہی کے پاس جا کر معاملہ طے ہو جائے گا۔ یہ کیا خبر تھی کہ بارگاہِ جہاں پناہی میں یاد ہو گی اور یاد بھی ایسے وقت کہ میرا سانس بھی پیٹ میں پوری طرح نہ سمایا ہو گا۔ ’’حکم حاکم، مرگِ مفاجات‘‘۔ اٹھا اور چوبدار کے پیچھے پیچھے روانہ ہوا۔ تمام راستے آیۃ الکرسی پڑھتا رہا۔ آنکھ اٹھا کر یہ بھی نہ دیکھا کہ یہ بندۂ خدا کدھر لیے جا رہا ہے۔ اندر سے قلعہ دیکھنے کا مدت سے شوق تھا۔ اب جو موقع ملا تو کن انکھیوں سے بھی دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ چلتے چلتے آندھ آ گئی۔ آخر خدا خدا کر کے چوبدار نے دیوانِ خاص کی سیڑھیوں کے پاس لے جا کر کھڑا کر دیا اور آپ اندر اطلاع دینے چلا گیا۔ حضرت جہاں پناہ اُس وقت حمام میں رونق افروز تھے۔\n\nجن صاحبوں نے دہلی کا قلعہ نہیں دیکھا ہے، وہ شاید نہ سمجھ سکیں کہ گرمیوں میں حمام میں بیٹھنے کے کیا معنی ہیں؟ اصل یہ ہے کہ یہ حمام کیا ہے، ایک عالی شان عمارت ہے۔ اس کے دو درجے ہیں: ایک گرم، دوسرا سرد۔ عمارت کا جو حصہ موتی مسجد کی جانب ہے، وہ گرم ہے اور جو جمنا کے رخ پر ہے وہ سرد ہے۔ ریتی کے رُخ خس کے پردے ڈال کر خس خانہ بنا لیا جاتا ہے۔ اندر نہر بہتی ہے۔ بیچ میں کئی بڑے بڑے حوض ہیں، ان میں فوارے چلتے ہیں۔ حمام کیا ہے، بہشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ چوبدار جو گیا تو آنے کا نام نہیں لیتا۔ دھوپ میں کھڑے کھڑے فِشار ہو گیا۔ پسینے میں تر بہ تر، گردن نیچی کیے کھڑا ہوں اور ناک سے پسینے کی بوندیں ٹپ ٹپ گر رہی ہیں۔ ارادہ ہوا کہ واپس چلا جاؤں، مگر اول تو طلبی کے بعد بھاگ جانا ہی نازیبا، دوسرے راستہ کس کو معلوم۔ خدا خدا کر کے یہ مشکل آسان ہوئی اور چوبدار نے آ کر کہا کہ چلیے۔ اس ایک لفظ نے خود بہ خود پاؤں میں لغزش اور دل میں کپکپی پیدا کر دی۔ خیر کسی نہ کسی طرح الٹے سیدھے پاؤں ڈالتا حمام مبارک میں داخل ہو گیا۔ چوبدار نے آواز دی: ’’ادب سے، نگاہ روبرو، حضرت جہاں پناہ سلامت، آداب بجا لاؤ‘‘۔ میں نواب زین العابدین خاں صاحب سے یہ سبق پورا اور اچھی طرح پڑھ کر آیا تھا۔ دہرا ہو کر سات تسلیمات بجا لایا اور نذر گزارنی۔ نذر دیتے وقت ذرا آنکھ اونچی ہوئی تو وہاں کا رنگ دیکھا۔ حضرت پیر و مرشد ایک چاندی کی پلنگڑی پر لیٹے تھے۔ پائنتی مرزا فخرو بیٹھے پاؤں دبا رہے تھے۔ دہلی میں وہ کون ہے جس نے حضرت ظل اللہ کو نہیں دیکھا۔ میانہ قد، بہت نحیف جسم، کسی قدر لمبا چہرہ، بڑی بڑی روشن آنکھیں، آنکھوں کے نیچے ہڈیاں بہت ابھری ہوئی، لمبی گردن، چوکا ذرا اونچا، پتلی سُتواں ناک، بڑا دہانہ، گہری سانولی رنگت، سر منڈا ہوا، چھدری ڈاڑھی، کلّوں پر بہت کم، ٹھوڑی پر ذرا زیادہ، لبیں کتری ہوئی، ستر برس سے اونچی عمر تھی۔ بال سفید بھک ہو گئے تھے لیکن پھر بھی ڈاڑھی میں اکا دکا سیاہ بال تھا۔ چہرے پر جھریاں تھیں، لیکن باوجود اس پیرانہ سالی اور نقاہت کے آواز میں وہی کرارا پن تھا۔ سبز کمخواب کا ایک بر کا پیجامہ اور سفید ڈھاکے کی ململ کا کرتا زیبِ بدن تھا۔ سامنے ایک چوکی پر جامہ وار کی خفتان اور کارچوبی چو گوشیہ ٹوپی رکھی ہوئی تھی۔\n\nاب رہے مرزا فخرو تو وہ عین مَین باپ کی تصویر تھے۔ بتیس تینتیس برس کی عمر تھی، فرق تھا تو بس یہی کہ وہ بڈھے تھے اور یہ جوان۔ اُن کا رنگ بڑھاپے کی وجہ سے ذرا کلونس لے آیا تھا۔ اِن کا کھلا گیہواں رنگ تھا۔ اُن کی ڈاڑھی سفید تھی، اِن کی سیاہ، ورنہ یہی معلوم ہوتا تھا کہ ایک بادشاہ لیٹے ہیں اور ایک بیٹھے ہیں۔\n\nدونوں نے مجھ پر ایک گہری نظر ڈالی اور بادشاہ سلامت نے فرمایا: اماں تمھارا ہی نام کریم الدین ہے؟ کہیں باہر کے معلوم ہوتے ہو۔ میں نے کہا کہ: خانہ زاد پانی پت کا رہنے والا ہے۔ بچپن ہی سے حضرت ظل اللہ کے سایۂ عاطفت میں آ رہا ہے۔ فرمایا: اماں ابھی تمھارا ہی ذکر مرزا فخرو کر رہے تھے۔ میرا خود جی چاہتا ہے کہ پہلے کی طرح دیوانِ عام میں مشاعرہ کروں، مگر کیا کروں زمانے کی ہوا ایسی بگڑ گئی ہے کہ مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ یہ صحیح ہے کہ ’’بود ہم پیشہ باہم پیشہ دشمن‘‘ لیکن خدا محفوظ رکھے، ایسی دشمنی بھی کس کام کی کہ دو گھڑی مل جل کر نہ بیٹھنے دے۔ دیوانِ عام میں مشاعرہ ہوتا تھا، وہ کچھ دنوں ٹھیک چلا۔ پھر میں نے دیکھا کہ بے لطفی بڑھ رہی ہے، اس لیے بند کر دیا۔ منشی فیض پارساؔ نے اجمیری دروازے کے باہر غازی الدین خاں کے مدرسے میں مشاعرہ شروع کیا، وہ تیلیوں کی طرح بکھر گیا۔ وہ تو کہو غنیمت ہوا کہ ردیف میں ’’تیلیاں‘‘ ہی تھیں، کہیں خدانخواستہ اگر ردیف ’’کڑیاں‘‘ ہوتی تو خدا معلوم کتنوں کے سر پھوٹ جاتے۔ تم مشاعرہ تو کر رہے ہو مگر اُن ہاتھیوں کی ٹکر کیسے سنبھالو گے۔\n\nاستاد ذوقؔ تو بے چارے بے زبان آدمی ہیں، مگر خدا بچائے حافظ ویرانؔ سے، وہ ضرور لڑ مریں گے اور تم جانتے ہو ’’اندھے کی داد نہ فریاد، اندھا مار بیٹھے گا‘‘۔ کسی نے اگر مشاعرے میں استاد پر ذرا بھی چوٹ کر دی تو ان نا بینا صاحب کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ میاں تم سے یہ کام سنبھلتا نظر نہیں آتا۔ میں نے عرض کی کہ قبلۂ عالم! میری کیا ہمت ہے جو میں اتنے بڑے کام میں ہاتھ ڈال سکوں۔ مشاعرے کا سارا انتظام نواب زین العابدین خاں عارفؔ نے اپنے ذمے لیا ہے۔ فرمایا: تو مجھے اطمینان ہے، یہ لڑکا بڑا ہوشیار اور ذہین ہے۔ مرزا نوشہ اور مومن خاں کو وہ سنبھال لے گا۔ رہے استاد ذوقؔ، ان سے میں کہہ دوں گا۔ خدا نے چاہا تو اس طرح مشاعرہ چل جائے گا، مگر میں کہے دیتا ہوں کہ مشاعرے سے پہلے ان لوگوں سے مل لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت پر انکار کر بیٹھیں۔ میں اور مرزا شبوؔ تو آ نہیں سکتے، ہاں مرزا فخرو کو میں اپنی جگہ بھیج دوں گا اور ان شاء اللہ اپنی غزل بھی بھیج دوں گا۔ ہاں یہ بتاؤ کہ تم نے ’’طرح‘‘ کیا رکھی ہے؟ ’’طرح‘‘ ہی تو بڑے جھگڑے کی چیز ہے، یہ ذرا سوچ سمجھ کر دینا۔\n\nیہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ بازو سے آواز آئی: ’’اے ہے! یہ انّا بچے کو کیا بے طرح سلا گئی ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی بادشاہ سلامت نے فرمایا: لو بھئی! یہ خود بہ خود ’’فالِ گوش‘‘ مل گئی۔ تم اس مشاعرے میں کوئی ’’طرح‘‘ ہی نہ دو۔ جس شخص کا جس بحر، جس ردیف، قافیے میں غزل پڑھنے کو دل چاہے پڑھے، نہ لینا ایک نہ دینا دو۔ میں نے عرض کی: ’’پیر و مرشد! تاریخ؟‘‘ فرمایا: ۱۴؍ رجب مقرر کر دو۔ دن بھی اچھا ہے، چاندنی رات بھی ہو گی، آج پانچ تاریخ ہے، نو دن باقی ہیں، اتنے دنوں میں بہت کچھ انتظام ہو سکتا ہے۔ انگریزی کی ۲۰؍ جولائی پڑے گی، موسم بھی ٹھنڈا ہو جائے گا۔ اچھا اب خدا حافظ۔\n\nمیں نے عمر و دولت و اقبال کو دعا دی اور خوش خوش الٹے قدموں واپس ہوا۔ مرزا فخرو بیچ میں کچھ نہیں بولے، مگر میں سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ کیا دھرا انہی کا ہے، ورنہ کہاں میں اور کہاں خلوتِ شاہی۔ سچ ہے ؏\n\nبگڑی بن جاتی ہے جب فضلِ خدا ہوتا ہے\n\nیہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ میرے لیے حضوری اُتنی مشکل نہ تھی جتنا یہ رخصت ہو کر الٹے پاؤں چلنا ہوا۔ زمین پاؤں کو نہیں لگی تھی، اس لیے دو چار قدم ہی چلا ہوں گا کہ پیچھے ایک دیوار سے ٹکرایا۔ اس ٹکر سے ذرا سنبھلا تھا کہ نہر میں پاؤں جا پڑا۔ خیر بہ ہزار مشکل اب جادۂ ادب کو طے کر کے باہر نکل ہی آیا۔ ادھر میں نکلا ادھر چوبدار ساتھ ہوا۔ اس کو انعام دے دلا کر ٹالا۔ حکیم صاحب کے پاس آیا۔ وہ میرے انتظار ہی میں بیٹھے تھے، ان سے تمام واقعہ بیان کیا۔ فرمانے لگے: مولوی صاحب! بات یہ ہے کہ مرزا فخرو بہت دنوں سے مشاعرے کے لیے بے چین ہو رہے تھے، انہی کی یہ کار گزاری ہے۔ ورنہ بھلا یہ معاملہ اس طرح تھوڑی طے ہوتا۔ مگر چلو تمھارا کام بن گیا۔ میاں عارفؔ سے جا کر کہہ دو، وہ میرے ہی ہاں بیٹھے انتظار کر رہے ہوں گے۔\n\nحکیم صاحب کے مکان پر پہنچا تو دیکھا کہ واقعی نواب صاحب میرے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ان سے حالات بیان کیے، کہنے لگے: چلو یہ مشکل تو آسان ہوئی، اب تم یہ کرو کہ کم سے کم استاد ذوقؔ، مرزا نوشہ اور حکیم مومنؔ خاں کے مکان کا گشت لگا ڈالو، مگر دیکھنا ذرا پھونک پھونک کر قدم رکھنا، یہ تینوں بڑے دماغ دار آدمی ہیں۔ اگر ذرا بھی تم سے بات چیت میں لغزش ہوئی تو یاد رکھو بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا۔ جب دیکھو کہ ان میں سے کوئی ہاتھوں سے نکلا ہی جاتا ہے، تو میرا نام لے دینا، کیا عجب ہے کہ میرا نام سن کر راضی ہو جائیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ مبارک النسا بیگم کی حویلی جس میں تمھارا مطبع ہے، دو روز میں خالی کر کے بالکل میرے حوالے کر دو۔ مجھے وہاں نشست کا انتظام کرنا ہو گا۔ میں نے کہا: اور میں کہاں جاؤں؟ فرمانے لگے: میرے مکان پر آٹھ نو روز کے لیے آ جاؤ، تم کو تکلیف تو ہو گی مگر کیا کیا جائے۔ جب قلعے کے لوگوں کو بلا رہے ہیں، تو انہی کے رتبے کے موافق مکان کو بھی درست کرنا ہو گا۔ دیکھیے خرچ کیا پڑتا ہے؟ میں نے کہا: مشاعرے میں خرچ ہی ایسا کون سا ہوتا ہے، زیادہ سے زیادہ سو، سوا سو روپے اٹھ جائیں گے۔ یہ سن کر نواب صاحب مسکرائے اور کہا: میاں کریم الدین! تم کیا جانو کہ ایسے مشاعروں میں کیا خرچ ہو جاتا ہے۔ ہزار دو ہزار میں بھی اگر پُوتھ پورا ہو گیا تو سمجھو کہ سستے چھوٹے۔ یہ سن کر میرے ہاتھوں کے توتے اڑ گئے، میں نے کہا: نواب صاحب! اگر صورتِ حال یہ ہے تو میرا ایسے مشاعرے کو دور ہی سے سلام ہے۔ مطبع تو مطبع، اگر اپنے آپ کو بھی بیچ ڈالوں تو اتنی رقم نہ اٹھے۔ فرمانے لگے: بھئی تم اس خرچ کے جھگڑے میں نہ پڑو، خدا مشکل بھی آسان کر دے گا۔ جب میں نے اس کام میں ہاتھ ڈالا ہے تو میں جانوں اور میرا کام جانے، تم بیٹھے تماشا دیکھو، مگر ہاں کل تک مکان خالی کر دینا۔ نو ہی دن تو رہ گئے ہیں۔ رات کم اور سوانگ بہت ہے۔ اب جاؤ خدا حافظ، تم تھک بھی گئے ہو، ذرا آرام لے لو اور کل صبح ہی سے اِدھر مکان خالی کرنے کی فکر کرو، اُدھر ان تینوں استادوں کے مکان کا چکر لگاؤ، مکان خالی ہو جائے تو فوراً مجھے اطلاع دینا اور خود میرے ہاں چلے آنا۔ اس میں شرم کی کون سی بات ہے۔ آخر میری ہی وجہ سے تو تم اپنا مکان چھوڑ رہے ہو۔\n\nوہاں سے نکل کر میں اپنے گھر آیا، مطبعے کو بند کرتے کرتے اور سامان سمیٹتے سمیٹتے شام ہو گئی۔ صبح اٹھ کر اپنے پہننے اور اوڑھنے کا سامان تو نواب زین العابدین خاں کے مکان پر روانہ کیا اور خود کابلی دروازے کی طرف چلا کہ پہلے استاد ذوقؔ ہی سے بسم اللہ کروں۔\n\nکابلی دروازے کے پاس ہی ان کا مکان ہے۔ مکان بہت چھوٹا ہے۔ چھوٹی سے ڈیوڑھی ہے۔ اس میں ایک طرف جائے ضرور ہے۔ اندر صحن اتنا چھوٹا ہے کہ دو پلنگ بچھنے کے بعد راستہ چلنے کے لیے مشکل سے جگہ رہتی ہے۔ سامنے چھوٹا سا دالان ہے اور اس کے اوپر ایک کمرا۔ صحن میں سے زنانے مکان میں راستہ جاتا ہے۔ جب میں پہنچا تو استاد صحن میں بان کی کھُرّی چار پائی پر بیٹھے حقہ پی رہے تھے، دوسری چار پائی پر ان کے چہیتے شاگرد حافظ غلام رسول ویرانؔ بیٹھے تھے۔ یہ اندھے ہیں اور انہی سے ہوشیار رہنے کے لیے حضرت جہاں پناہ نے ارشاد فرمایا تھا۔ استاد ذوق قد و قامت میں متوسط اندام ہیں۔ رنگ اچھا سانولا ہے، چہرے پر چیچک کے بہت داغ ہیں، آنکھیں بڑی بڑی اور روشن اور نگاہیں تیز ہیں، چہرے کا نقشہ کھڑا کھڑا ہے۔ اُس وقت سفید تنگ پیجامہ اور سفید کرتا اور سفید ہی انگرکھا پہنے ہوئے تھے۔ سر پر ململ کی ٹوپی گول چندوے کی تھی۔\n\nمیرا صحن میں قدم رکھنا ہی تھا کہ میرے پاؤں کی آہٹ سنتے ہی حافظ ویرانؔ نے چونک کر کہا: کون ہے؟ میں نے کہا: کریم الدین، استاد ذوقؔ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ استاد نے اپنا نام سن کر کہا: آئیے آئیے اندر تشریف لائیے۔ میں نے آداب عرض کیا۔ انھوں نے فرمایا: بیٹھو بھئی بیٹھو۔ میں حافظ ویرانؔ کے پاس چار پائی پر بیٹھ گیا۔ کہا: فرمائیے کیسے تشریف لانا ہوا؟ میں نے عرض کی کہ میرا ارادہ قاضی کے حوض پر ایک مشاعرہ شروع کرنے کا ہے، ۱۴؍ رجب تاریخ مقرر ہوئی ہے، اگر حضور بھی از راہِ ذرہ نوازی قدم رنجہ فرمائیں تو بعید از کرم نہ ہو گا۔\n\nمیرا اتنا کہنا تھا کہ حافظ ویرانؔ چراغ پا ہو گئے، کہنے لگے: جائیے، جائیے، کہاں کا مشاعرہ نکالا ہے، استاد کو فرصت نہیں ہے، اُن مرزا لے پالک کے پاس کیوں نہیں جاتے، جو خواہ مخواہ ان کو آ کر دق کرتے ہو۔ استاد نے کہا: بھئی حافظ ویرانؔ! تمھاری زبان نہیں رکتی، بیٹھے بٹھائے دنیا سے لڑائی مول لیتے ہو۔ حافظ ویرانؔ کہنے لگے: استاد! جب وہ آپ کو برا بھلا کہیں تو ہم کیوں چپ بیٹھنے لگے۔ وہ ایک کہیں گے تو ہم سو سنائیں گے۔ اور تو اور میاں آشفتہ کو دن لگے ہیں۔ کل ہی کی بات ہے کہ آپ کو ناوڑا کہہ رہے تھے، مگر میں نے بھی ایسی خبر لی کہ تمام عمر یاد کریں گے، ان کی سات پشت کو توم ڈالا۔ استاد ہنس کر فرمانے لگے: نا بھئی نا، تم میری وجہ سے کیوں بلا میں پڑتے ہو۔ مجھے جس کا جو جی چاہے سو کہے۔ میں نے ان سب کا جواب اس رباعی میں دے دیا ہے:\n\nتو بھلا ہے تو برا ہو نہیں سکتا اے ذوق!\n\nہے برا وہ ہی کہ جو تجھ کو برا جانتا ہے\n\nاور جو خود تو ہی برا ہے تو وہ سچ کہتا ہے\n\nکیوں برا کہنے سے اس کے تو برا مانتا ہے\n\nمیں نے عرض کیا کہ: میں کل بارگاہ سلطانی میں حاضر ہوا تھا، حضرت ظل اللہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اس مشاعرے میں ہم مرزا فتح الملک بہادر کو اپنی طرف سے بھیجیں گے اور اپنی غزل بھی بھیج کر مشاعرے کی عزت بڑھائیں گے۔ یہ سن کر حافظ ویرانؔ تو ٹھنڈے پڑ گئے، استاد نے فرمایا: ہاں بھئی مجھے یاد آ گیا، کل شام کو حضرت پیر و مرشد نے مجھ سے بھی فرمایا تھا اور یہ بھی ارشاد ہوا تھا کہ تو بھی ضرور جائیو۔ میاں! میں ان شاء اللہ تعالیٰ ضرور آؤں گا۔ مگر یہ تو بتاؤ طرح کیا رکھی ہے؟ میں نے واقعہ عرض کیا اور کہا کہ حضرت ظل سبحانی نے ’’طرح‘‘ کا جھگڑا ہی نکال دیا ہے۔ جو شخص جس بحر اور جس ردیف قافیے میں چاہے، آ کر غزل پڑھے۔ استاد تو ’’بہت خوب، بہت خوب‘‘ کہتے رہے، مگر حافظ ویرانؔ کی تیوری کے بل نہیں گئے، برابر بڑبڑاتے ہی رہے کہ اللہ خیر کرے، دیکھیے اس مشاعرے کا کیا حشر ہوتا ہے۔ حضرت پیر و مرشد بھی بیٹھے بیٹھے اُشقُلے چھوڑا کرتے ہیں۔ وہ اپنی کہے گئے، میں تو اٹھ، سلام کر چلا آیا۔\n\nدوسرا حملہ اسد اللہ خاں غالبؔ پر تھا۔ چاندنی چوک سے ہوتا ہوا بلّی ماروں میں آیا۔ حکیم محمود خاں صاحب کے مکان کے سامنے سے قاسم جان کی گلی کٹی ہے۔ بائیں طرف پہلا ہی مکان ان کا تھا۔ یہ مکان مسجد کے پیچھے ہے۔ اس کے دو دروازے ہیں: ایک مردانہ، دوسرا زنانہ۔ محل سرا کا ایک راستہ مردانے مکان میں سے بھی ہے۔ باہر کے دروازے کی دہلیز ذرا دھنسی ہوئی سی ہے۔ دروازے کے اوپر ایک کمرا ہے اور کمرے کے دونوں پہلوؤں میں دو کوٹھریاں، گرمی میں مرزا صاحب دوپہر کے وقت اسی ایک کوٹھری میں رہا کرتے ہیں۔ دروازے سے گزر کر مختصر سا صحن ہے اور سامنے ہی دالان در دالان۔ جب میں پہنچا تو اندر کے دالان میں گاؤ تکیے سے لگے بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے۔\n\nمرزا نوشہ کی عمر کوئی پچاس سال کی ہو گی۔ حسین اور خوش رو آدمی ہیں۔ قد اونچا اور ہاڑ بہت چوڑا چکلا۔ موٹا موٹا نقشہ اورسرخ سفید رنگ ہے لیکن اس میں کچھ کچھ زردی جھلکتی ہے۔ ایسے رنگ کو محاورے میں چمپئی کہا جاتا ہے۔ آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے ہیں، ڈاڑھی بھری ہوئی ہے، مگر گھنی نہیں ہے، سر منڈا ہوا، اُس پر لمبی سیاہ پوستین کی ٹوپی ہے جو کُلاہِ پاپاخ سے ملتی جلتی ہے، ایک بر کا سفید پیجامہ، سفید ململ کا انگرکھا، اُس پر ہلکی زرد زمین کی جامہ وار کا چُغا۔ میری آہٹ پا کر لکھتے لکھتے آنکھ اونچی کی۔ میں نے آداب کیا۔ سلام کا جواب دیا اور آنکھوں سے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں ایک طرف بیٹھ گیا۔ ابھی بیٹھا ہی تھا کہ نواب ضیاء الدین احمد خاں آ گئے۔ یہ امین الدین خاں صاحب نوابِ لوہارو کے بھائی ہیں۔ ریختے میں رخشاںؔ اور فارسی میں نیّرؔ تخلص کرتے ہیں۔ کوئی چالیس سال کی عمر ہے۔ انشا پردازی، جغرافیہ، تاریخ، علم الانساب، اسماء الرجال، تحقیق لغات اور واقفیتِ عامہ میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ مرزا نوشہ کے خلیفہ ہیں۔ چھوٹا قد، بہت گورا رنگ، نازک نازک نقشہ، غلافی آنکھیں، چُگّی ڈاڑھی، چھریرا بدن، غرض نہایت خوب صورت آدمی ہیں۔ ایک برکا سفید پیجامہ اور سفید ہی انگرکھا زیب بدن تھا۔ قالب چڑھی ہوئی چو گوشیہ ٹوپی سر پر تھی۔ ایک بڑا رو مال سموسا بنا کر شانوں پر ڈالے ہوئے تھے۔ میں نے اٹھ کر سلام کیا، انھوں نے بڑھ کر مصافحہ کیا اور خاموش ایک طرف دو زانو نہایت ادب سے بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر میں مرزا غالب بھی لکھنے سے فارغ ہوئے، پہلے نواب صاحب کی طرف مڑے اور کہنے لگے: میاں نیّرؔ! تم کس وقت آ بیٹھے۔ بھئی اس مرزا تفتہؔ نے میرا ناک میں دم کر دیا ہے۔ ظالم کی طبیعت کی روانی کسی طرح کم نہیں ہوتی۔ ہر خط میں آٹھ دس غزلیں اصلاح کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ اصلاح دیتے دیتے تھک جاتا ہوں۔ میری طرف دیکھ کر کہا: آپ شاید مولوی کریم الدین صاحب ہیں۔ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمانے لگے: حضرت! آپ کے تشریف لانے کا مقصد مجھے پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا۔ کل میاں عارفؔ آ کر مجھ سے آپ کے مشاعرے میں چلنے کا وعدہ لے گئے ہیں۔ کہو میاں نیرؔ! تم بھی چلو گے؟ نواب صاحب نے کہا: جہاں آپ وہاں میں، آپ تشریف لے جائیں گے تو ان شاء اللہ میں بھی ضرور ہمراہ ہوں گا۔ مرزا صاحب نے پوچھا: مگر بھئی اب تک علائؔی نہیں آئے، مجھ کو ان کا کل سے انتظار ہے۔ اے لو، وہ آ ہی گئے۔ بھئی بڑی عمر ہے، ابھی میں تم ہی کو پوچھ رہا تھا۔\n\nنواب علاء الدین خاں علائؔی، نواب لوہارو کے ولی عہد ہیں، کوئی تیئیس، چوبیس سال کی عمر ہے۔ متوسط قد، گندمی رنگ، موٹا موٹا نقشہ، گول چہرہ، شربتی آنکھیں اور گھنی چڑھی ہوئی ڈاڑھی ہے۔ لباس میں غلطے کا تنگ مہری کا پیجامہ، سفید جامدانی کا انگرکھا، اس پر سینہ کھلی ہوئی سیاہ مخمل کی نیمہ آستین اور سر پر سیاہ ہی مخمل کی چو گوشیہ ٹوپی تھی۔ وہ بھی آداب کر کے ایک طرف بیٹھ گئے اور کہا: واقعی آج دیر ہو گئی۔ مجھے خود خیال تھا کہ آپ انتظار کر رہے ہوں گے۔ میری طرف دیکھ کر کہا: آپ کی تعریف؟ مرزا نوشہ نے تمام قصہ بیان کیا اور کہا: علائؔی! تم کو بھی چلنا ہو گا، ابھی تو تم شاید لوہارو نہیں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: بہت خوب، آپ تشریف لے جائیں گے تو میں بھی حاضر ہوں گا۔ جب یہ مرحلہ بھی طے ہو گیا تو میں نے اجازت چاہی۔ وہاں سے رخصت ہو کر نواب زین العابدین خاں کے مکان میں آیا۔ انھوں نے مردانے کا ایک حصہ میرے لیے خالی کر دیا تھا۔ جو اسباب صبح میں نے بھیجا تھا، اس کو جما جمایا پایا۔ کپڑے اتارے۔ اندر سے کھانا آیا۔ کھا کر تھوڑی دیر سو رہا۔ چار بجے کے قریب اٹھ کر حکیم مومنؔ خاں کے ہاں جانے کی تیاری کی۔\n\nحکیم صاحب کا مکان چیلوں کے کوچے میں ہے۔ راستے میں مولوی امام بخش صاحب صہبائی مل گئے، یہ کالج میں میرے استاد رہے ہیں۔ کھُلا ہوا گندم گوں رنگ ہے۔ منہ پر کہیں کہیں چیچک کے داغ ہیں، سر پر پٹھے ہیں، بڑے دبلے پتلے آدمی ہیں، کوئی چالیس کی عمر ہو گی۔ ایک بر کا سفید پیجامہ، سفید انگرکھا، کشمیری کام کا جبہ پہنتے اور سر پر چھوٹا سفید صافہ باندھتے ہیں۔ یہ بھی چیلوں کے کوچے ہی میں رہتے ہیں۔ مجھ سے پوچھنے لگے: کہاں جاتے ہو؟ میں نے کہا: حکیم مومنؔ خاں کے پاس۔ پوچھا: کیا کام ہے؟ میں نے حال بیان کیا۔ کہنے لگے: چلو میں بھی وہیں جا رہا ہوں۔ حکیم آغا جان کے چھتے کے سامنے خاں صاحب کا مکان تھا۔ بڑا دروازہ ہے۔ اندر بہت وسیع صحن اور اس کے چاروں طرف عمارت ہے۔ دو طرف دو صحنچیاں ہیں اور سامنے بڑے بڑے دالان در دالان۔ پچھلے دالان کے اوپر کمرا ہے، سامنے کے دالان کی چھت کو کمرے کا صحن کر دیا ہے، لیکن منڈیر بہت چھوٹی رکھی ہے۔ دالانوں میں چاندنی کا فرش ہے۔ اندر کے دالان میں بیچوں بیچ قالین بچھا ہوا ہے، قالین پر گاؤ تکیے سے لگے حکیم صاحب بیٹھے ہیں۔ سامنے حکیم سکھانند المتخلص بہ رقم اور مرزا رحیم الدین حیاؔ مودّب دو زانو بیٹھے ہیں۔ معلوم ہوتا تھا کہ کوئی دربار ہو رہا ہے کہ کسی کو آنکھ اٹھا کر دیکھنے اور بلا ضرورت بولنے کا یارا نہیں۔\n\nحکیم مومنؔ خاں کی عمر تقریباً چالیس سال کی تھی۔ کشیدہ قامت تھے، سرخ و سفید رنگ تھا جس میں سبزی جھلکتی تھی۔ بڑی بڑی روشن آنکھیں، لمبی لمبی پلکیں۔ کھنچی ہوئی بھویں، لمبی سُتواں ناک، پتلے پتلے ہونٹ، اُن پر پان کا لاکھا جما ہوا، مِسّی آلودہ دانت، ہلکی ہلکی مونچھیں، خشخاشی ڈاڑھی، بھرے بھرے بازو، پتلی کمر، چوڑا سینہ اور لمبی لمبی انگلیاں، سر پر گھونگر والے لمبے لمبے بال زلفیں بن کر پشت اور شانوں پر بکھرے ہیں۔ کچھ لٹیں پیشانی کے دونوں طرف کاکلوں کی شکل رکھتی ہیں۔ کانوں کے قریب تھوڑے سے بالوں کو موڑ کر زلفیں بنا لیا تھا۔ بدن پر شربتی ململ کا نیچی چولی کا انگرکھا تھا لیکن اس کے نیچے کرتا نہ تھا اور جسم کا کچھ حصہ انگرکھے کے پردے میں سے دکھائی دیتا تھا۔ گلے میں سیاہ رنگ کا فیتہ، اس میں چھوٹا سا سنہری تعویذ۔ کاکریزی رنگ کے دوپٹے کو بل دے کر کمر میں لپیٹ لیا تھا اور اس کے دونوں سرے سامنے پڑے ہوئے تھے۔ ہاتھ میں پتلا سا خار پُشت، پاؤں میں سرخ گل بدن کا پیجامہ۔ مُہریوں پر سے تنگ، اوپر جا کر کسی قدر ڈھیلا۔ کبھی کبھی ایک برکا پیجامہ بھی پہنتے تھے، مگر کسی قسم کا بھی ہو، ہمیشہ ریشمی اور قیمتی ہوتا تھا۔ چوڑا سرخ نیفہ۔ انگرکھے کی آستینیں آگے سے کٹی ہوئیں، کبھی لٹکتی رہتی تھیں اور کبھی پلٹ کر چڑھا لیتے تھے۔ سر پر گلشن کی دو پلڑی ٹوپی، اُس کے کنارے پر باریک لیس، ٹوپی اتنی بڑی تھی کہ سر پر اچھی طرح منڈھ کر آ گئی تھی۔ اندر سے مانگ اور ماتھے کا کچھ حصہ اور بال صاف جھلکتے تھے۔ غرض یہ کہ نہایت خوش پوشاک اور جامہ زیب آدمی تھے۔ جب میں اور مولوی صہبائی دونوں پہنچے تو حکیم صاحب صاحبِ عالم مرزا رحیم الدین حیاؔ سے کہہ رہے تھے: صاحبِ عالم! تمھارے شطرنج کے نقشوں نے میرا ناک میں دم کر دیا ہے۔ ایک ہوں، دو ہوں، آخر یہ روز روز کی فرمائشیں کوئی کہاں تک پوری کرے۔ صاحبِ عالم نے کہا: استاد! کیا کروں۔ رزیڈنٹ بہادر کے پاس ولایت سے شطرنج کے نقشے حل کرنے کو آیا کرتے ہیں۔ کچھ تو میں خود حل کر کے ان کے پاس بھیج دیتا ہوں، جو سمجھ میں نہیں آتے وہ آپ کے پاس لے آتا ہوں۔ حکیم صاحب نے نظر اٹھا کر ہماری طرف دیکھا، ہمارا سلام لے کر کہا: بیٹھیے بیٹھیے ! ہم بیٹھ گئے اور وہ پھر صاحبِ عالم کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: میاں حیاؔ! جو نقشہ تم لائے ہو وہ تو میرے خیال میں کچھ پیچیدہ نہیں ہے۔ تم کہتے ہو کہ سرخ مہروں کو مات ہو گی، میں کہتا ہوں نہیں، سبز کو ہو گی۔ تم بساط بچھاؤ میں ابھی سمجھائے دیتا ہوں۔ اچھا ذرا مولوی صہبائی سے بات کر لوں اور میاں سکھانند تم بیٹھے انتظار کرتے رہو، میں حکم لگا چکا ہوں کہ جب تک پورب کی طرف سے اِس چھپکلی کا جوڑا نہ آ جائے، یہ سامنے کی دیوار سے نہ جائے گی۔ اس کا جوڑا آئے پر آئے۔ سکھانند حکیم تھے، رقم تخلص کرتے تھے۔ دھرم پورے میں رہتے تھے، کوئی چالیس سال کی عمر تھی، ریختے میں شاہ نصیر کے اور رمل میں خاں صاحب کے شاگرد تھے۔ بڑے خوش پوشاک، خوش وضع، خوش اخلاق، ظریف الطبع، حلیم، خوبصورت اور شکیل آدمی تھے۔ استاد کا ایسا ادب کرتے تھے، جیسے کوئی بیٹا باپ کا کرتا ہے۔ حکیم صاحب کی باتیں سن کر ’’بہت خوب‘‘، ’’بہت مناسب‘‘ کہتے رہے۔ اُن سے گفتگو کر کے حکیم صاحب ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: ارے بھائی صہبائی! تم تو کئی دن سے نہیں آئے، کہو خیریت تو ہے، اور آپ کے ساتھ یہ صاحب کون ہیں؟ مولوی صہبائی نے کہا: یہ پہلے کالج میں میرے شاگرد تھے، اب مطبع کھول لیا ہے، وہاں مشاعرہ کرنا چاہتے ہیں، آپ کو تکلیف دینے آئے ہیں۔ حکیم صاحب نے کہا: بس صاحب مجھے تو معاف ہی کیجیے، اب دہلی کے مشاعرے شریفوں کے جانے کے قابل نہیں رہے۔ ایک صاحب ہیں وہ اپنی امّت کو لے کر چڑھ آتے ہیں۔ شعر سمجھنے کی تو کسی کو تمیز نہیں، مفت میں ’’واہ واہ سبحان اللہ‘‘ کا غل مچا کر طبیعت کو مُنغّض کر دیتے ہیں۔ یہ نہیں سمجھتے کہ:\n\nصائب! دو چیز می شکند قدرِ شعر را\n\nتحسین ناشناس و سکوتِ سخن شناس\n\nدوسرے صاحب ہیں وہ ہدہد کو ساتھ لیے پھرتے ہیں اور خواہ مخواہ استادوں پر حملے کراتے ہیں۔ خود تو میدان میں نہیں آتے، اپنے نا اہل پٹھوں کو مقابلے میں لاتے ہیں۔\n\nاس روز جو اُس جانور نے یہ شعر پڑھ کر:\n\nمرکزِ محورِ گردوں بہ لبِ آب نہیں\n\nناخنِ قوسِ قزح شِبہۂ مضراب نہیں\n\nکہا: یہ غالبؔ کے رنگ میں لکھا ہے، تو میں بیان نہیں کر سکتا کہ مجھ کو کس قدر ناگوار گزرا۔ غالبؔ کے رنگ میں شعر کہنا تو کجا، وہ یا ان کے استاد پہلے مرزا نوشہ کے شعروں کو سمجھ تو لیں۔ اب رہے میرؔ صاحب، تو ان کی بات دوسری ہے۔ وہ بھی واہیات بکتے ہیں مگر کسی پر حملہ نہیں کرتے بلکہ ان کی وجہ سے مشاعرے میں کچھ چہل پہل ہو جاتی ہے۔ بھئی میں نے تو اسی وجہ سے مشاعروں میں جانا ہی ترک کر دیا ہے۔ میں نے عرض کی: اس مشاعرے میں استاد ذوقؔ اور مرزا نوشہ نے آنے کا وعدہ کر لیا ہے۔ حضرت ظلِ سبحانی کی غزل بھی آئے گی۔ فرمایا: ہر شخص مختار ہے، خود آئے، چاہے غزل بھیجے، میں تو نہ آؤں گا نہ غزل بھیجوں گا۔ یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک بنارس کا سوداگر کپڑوں کے دو گٹھے لے کر آیا۔ شہر میں جب کوئی کپڑوں کا سوداگر آتا تو حکیم صاحب کے پاس اس کا آنا لازمی تھا۔ ریشمی کپڑوں سے ان کو عشق تھا۔ کوئی کپڑا پسند آتا تو پھر قیمت کی پروا نہیں کرتے تھے۔ جو مانگتا دیتے۔ اُس سوداگر نے آ کر ایک گٹھری مزدور کے سر پر سے اتاری، اس میں سے پٹ سے ایک چھپکلی نیچے گری اور دوڑ کر سامنے کی دیوار پر چڑھ گئی۔ جو چھپکلی پہلے دیوار پر جمی بیٹھی تھی، وہ لپک کر اس سے آ ملی اور دونوں مل کر ایک طرف چلی گئیں۔ ہم لوگ بیٹھے یہ تماشا دیکھتے رہے۔ جب دونوں چھپکلیاں چلی گئیں تو حکیم صاحب نے کہا: میاں رقم! تم نے دیکھا! انھوں نے کہا: جی ہاں ! ایک خانے کا حساب لگانے میں مجھ سے غلطی ہوئی، میں نے جو اپنی رائے پر اصرار کیا تھا اس کی معافی چاہتا ہوں۔ کہنے لگے: اِس کا خیال نہ کرو، انسان ہی سے غلطی ہوتی ہے۔ ہاں تو میاں صہبائی! مشاعرے کے متعلق ہمارا تو صاف جواب ہے۔ میں نے جب دیکھا کہ خاں صاحب ہاتھوں سے نکلے ہی جا رہے ہیں تو مجھے نواب زین العابدین خاں صاحب کا آخری نسخہ یاد آیا، میں نے کہا: مجھے تو اس مشاعرے سے برائے نام تعلق ہے، سب کیا دھرا نواب زین العابدین خاں عارفؔ کا ہے۔ وہ بہت بیمار ہو گئے ہیں اور اُن کو اب زندگی کی امید نہیں رہی۔ اُن کی آخری خواہش ہے کہ مرتے مرتے ایک ایسا مشاعرہ دیکھ لیں جس میں دہلی کے تمام کاملینِ فن جمع ہوں۔ وہ خود حاضر ہوتے مگر حکیم احسن اللہ خاں صاحب نے ان کو کہیں آنے جانے سے منع کر دیا ہے۔ یہ آخری فقرہ میں نے اپنی طرف سے بڑھا دیا۔ خاں صاحب بڑے غور سے میری بات سنتے رہے۔ میں خاموش ہوا تو مولوی امام بخش صاحب کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: افسوس ہے، کیا خوش فکر اور ذہین شخص ہے، یہ عمر اور مایوسی۔ سچ ہے، ہمیشہ رہے نام اللہ کا! میری طرف دیکھ کر کہا: اچھا بھئی تم جاؤ، میری طرف سے عارفؔ سے کہہ دینا کہ میاں میں ضرور آؤں گا۔ میں نے دیکھا کہ یہ جادو چل گیا تو اور پاؤں پھیلائے اور کہا: نواب صاحب نے یہ بھی فرمایا تھا کہ مولوی صہبائی صاحب، مفتی صدر الدین صاحب اور نواب مصطفے خاں صاحب شیفتہ کو بھی اپنے ہمراہ لائیے گا تو عنایت ہو گی۔ حکیم صاحب کہنے لگے: میاں صہبائی سے تو میں ابھی کہے دیتا ہوں۔ اب رہے آزردہؔ اور شیفتہؔ تو واپس جاتے جاتے اُن سے بھی کہتے جاؤ۔ یہ کہہ دینا کہ میں نے تم کو بھیجا ہے۔ ہاں تاریخ کیا مقرر کی ہے؟ مشاعرہ کہاں ہو گا اور ’’طرح‘‘ کیا ہے؟ میں نے تاریخ بتا کر مکان کا پتا دیا۔ ’’طرح‘‘ کے متعلق حضرت جہاں پناہ کے حضور میں جو گفتگو ہوئی تھی، وہ بیان کی۔ کہنے لگے: ہمارے بادشاہ سلامت بھی عجیب چیز ہیں۔ جو سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے۔ شاید ایسا مشاعرہ کہیں بھی نہ ہوا ہو گا، جس میں ’’طرح‘‘ نہ دی گئی ہو۔ خیر یہ تو اچھا ہوا کہ جھگڑے کا جھونپڑا ہی نہیں رہا۔ مگر بھئی بات یہ ہے کہ جب تک مقابلے کی صورت نہ ہو، نہ شعر کہنے میں جی لگتا ہے نہ پڑھنے میں لطف آتا ہے۔ یہ کہہ کر وہ کپڑے دیکھنے میں مشغول ہو گئے اور میں سلام کر کے رخصت ہوا۔\n\nچتلی قبر کے قریب حویلی عزیز آبادی کے سامنے مفتی صدر الدین صاحب کا مکان تھا، اس کے نزدیک مٹیا محل میں نواب مصطفے خاں صاحب شیفتہؔ رہتے ہیں۔ مفتی صدر الدین کے ہاں جا کر معلوم ہوا کہ شیفتہ بھی مفتی صاحب ہی کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا چلو اس سے بہتر موقع ملنا مشکل ہے، دونوں سے ایک ہی جگہ ملنا ہو گیا۔ یہ سوچ کر اندر گیا۔ مکان کوٹھی کے نمونے کا ہے۔ انگریزی اور ہندوستانی دونوں وضع کو ملا کر بنایا گیا ہے۔ صحن بہت بڑا نہیں ہے، اُس میں مختصر سی نہر ہے۔ سامنے دالان در دالان اور پہلو میں انگریزی وضع کے کمرے ہیں۔ باہر کے دالان میں کواڑ لگا کر، اس کو بھی کمرے کی شکل کا کر دیا ہے۔ دالانوں سے ملا ہوا اونچا چبوترہ ہے۔ چبوترے کے اوپر تخت بچھے ہوئے تھے۔ ان پر چاندنی کا فرش اور دو طرف گاؤ تکیے لگے ہوئے تھے۔ تختوں پر مفتی صاحب اور نواب صاحب بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ مفتی صاحب کی عمر کوئی چھپن ستاون سال کی تھی۔ گداز جسم، سانولا رنگ، چھوٹی چھوٹی آنکھیں ذرا اندر کو دھنسی ہوئی، بھری ہوئی ڈاڑھی، بہت سیدھی سادی وضع کے آدمی ہیں۔ ظاہری نمائش سے کوئی سروکار نہیں۔ بدن میں سفید ایک بر کا پیجامہ، سفید کرتا اور سفید ہی صافہ تھا۔ جامہ زیبی میں حکیم مومنؔ خاں کے بعد دہلی میں نواب مصطفی خاں شیفتہؔ ہی کا نمبر تھا۔ ان کا رنگ گہرا سانولا تھا، لیکن ناک نقشہ غضب کا پایا تھا۔ اُس پر نیچی سیاہ گول ڈاڑھی بہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔ جسم کسی قدر بھاری اور قد متوسط تھا۔ لباس میں بھی زیادہ تکلف نہیں تھا۔ تنگ مہری کا سفید پیجامہ، سفید کرتا، نیچی چولی کا سفید انگرکھا اور قبّہ نما پچ گوشیہ ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ تقریباً انتالیس چالیس سال کی عمر ہے۔\n\nمیں آداب کر کے تخت کے ایک کونے پر دو زانو بیٹھ گیا۔ مفتی صاحب نے آنے کا سبب پوچھا۔ میں نے حکیم مومنؔ خاں کا پیام پہنچا دیا۔ مفتی صاحب نے بڑے تعجب سے پوچھا: ہیں! خاں صاحب نے تو مشاعرے میں نہ جانے کا عہد کر لیا ہے۔ بھئی شیفتہؔ! یہ کیا معاملہ ہے؟ یا خود نہیں جاتے تھے یا دوسروں کو بھی ساتھ گھسیٹ رہے ہیں۔ میں نے نواب زین العابدین خاں عارفؔ کا واقعہ بیان کیا۔ کہنے لگے: ہاں تو یوں کہو، یہ بات ہے، ورنہ مجھے ہی سن کر حیرت ہوئی تھی کہ حکیم صاحب اور مشاعرے میں جائیں۔ اچھا بھائی! عارفؔ سے کہہ دینا کہ میں اور شیفتہؔ دونوں آئیں گے۔ یہاں سے چھٹی ہوئی تو میں یہ سمجھا کہ گویا گنگا نہا لیا۔ خوشی خوشی آ کر نواب زین العابدین خاں صاحب سے واقعہ بیان کیا، وہ بھی مطمئن ہو گئے۔ میں نے جب حکیم مومن خاں کا حال بیان کیا تو اُن کے آنسو نکل آئے، کہنے لگے: میاں کریم الدین! تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ میری حکیم صاحب سے صفائی نہیں ہے۔ میں نے کہا: نواب صاحب! آپ کیا فرماتے ہیں، ان پر تو آپ کی بیماری کے سننے کا ایسا اثر ہوا کہ بیان نہیں کر سکتا، شاید ان کا سگا بھائی بھی ہوتا تو اتنا ہی اثر ہوتا۔ مفتی صاحب سے معلوم ہوا کہ انھوں نے مشاعرے میں نہ جانے کا عہد کر لیا تھا، صرف آپ کی وجہ سے انھوں نے یہ عہد توڑا ہے۔ نواب صاحب نے کہا: میاں ! تم کو ان لوگوں کی محبتوں کا حال کیا معلوم! یہ لوگ وہ ہیں کہ اپنے دشمن کو بھی مصیبت میں نہیں دیکھ سکتے۔ خیر اِس کو جانے دو، اب بتاؤ کہ تمھارا مکان خالی ہو گیا یا نہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں بالکل خالی ہے، حکم ہو تو میں بھی خدمت میں رہ کر مدد کروں۔ فرمایا: نہیں بھئی نہیں، جہاں دو آدمیوں نے مل کر کسی کام میں ہاتھ ڈالا اور وہ خراب ہوا۔ تم اس انتظام کو بس مجھ پر چھوڑ دو، میں جانوں اور میرا کام جانے۔ بلکہ تم تو ادھر آنا بھی نہیں۔ تم نے آ کر اگر میں میخ نکالی تو مجھ پر دہری تہری محنت پڑ جائے گی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D9%85%D8%B9/%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1"} {"title": "دہلی کی آخری شمع/ترتیب", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "رپورتاژ > دہلی کی آخری شمع", "year": null, "text_ur": "ترتیب\nبشعر و سخن مجلس آراستند\n\nنشستند و گفتند و برخاستند\n\nمیں تاریخ ابو الفداء کے ترجمے میں ایسا گتھ گیا کہ سات آٹھ روز تک گھر سے باہر ہی نہ نکلا، نواب زین العابدین خاں کے شوق کی یہ حالت تھی کہ باوجود کمزوری و نقاہت کے روز صبح ہی سے جو باہر نکلتے تو کہیں رات کے آٹھ نو بجے جا کر گھر میں ان کی صورت دکھائی دیتی، اس لیے ان سے ملنا نہیں ہوا کہ کچھ حال پوچھتا۔ بہرحال یہ آٹھ دن آنکھ بند کرتے گزر گئے اور مشاعرے کی تاریخ آ ہی گئی۔ ۱۴؍ رجب کو شام کے ساڑھے سات بجے کے قریب میں بھی مشاعرے میں جانے کو تیار ہوا۔ نواب صاحب کو دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ صبح سے جو گئے ہیں تو اب تک واپس نہیں آئے۔ گھر سے جو نکلا تو بازار میں بڑی چہل پہل دیکھی۔ ہر شخص کی زبان پر مشاعرے کا ذکر تھا، کوئی کہتا: یہ میاں کریم الدین کون ہیں؟ کوئی کہتا: اس سے کیا، کوئی ہوں مگر انتظام ایسا کیا ہے کہ دیکھ کر جی خوش ہوتا ہے۔ میں یہ باتیں سنتا اور دل میں خوش ہوتا ہوا قاضی کے حوض پر آیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سڑک کے دونوں جانب ٹٹیاں لگا کر اور ان میں روشنی کے گلاس جما کر رات کو دن کر دیا ہے۔ سڑک پر خوب چھڑکاؤ ہے، کٹورا بج رہا ہے۔ مبارک النساء بیگم کی حویلی کے بڑے پھاٹک کو گلاسوں، قمقموں اور قندیلوں سے سجا کر گلزارِ آتشیں کر دیا ہے۔ صدر دروازے سے اندر کی دہلیز تک روشنی کا یہ عالم ہے کہ آنکھوں میں چکا چوند آتی ہے۔ مکان کے اندر جو قدم رکھا تو ہوش جاتے رہے۔ یا اللہ! یہ میرا ہی مکان ہے یا کسی شاہی محل میں آ گیا ہوں! گھڑی گھڑی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھتا اور کہتا: واہ میاں عارفؔ واہ! تم نے تو کمال کر دیا۔ کہاں وہ بیچارے کریم الدین کا مکان اور کہاں یہ بادشاہی ٹھاٹھ! واقعی تمھارا کہنا صحیح تھا کہ اگر دو ہزار میں بھی کام نکل جائے تو یہ سمجھو کہ کچھ نہیں اٹھا۔\n\nچونے میں ابرک ملا کر مکان میں قلعی کی گئی تھی جس کی وجہ سے در و دیوار پڑے جگ مگ جگ مگ کر رہے تھے۔ صحن کو بھروا کر تختوں کے چوکے اس طرح بچھائے تھے کہ چبوترہ اور صحن برابر ہو گئے تھے۔ تختوں پر دری، چاندنی کا فرش، اس پر قالینوں کا حاشیہ، پیچھے گاؤ تکیوں کی قطار۔ جھاڑوں، فانوسوں، ہانڈیوں، دیوار گیریوں، قمقموں، چینی قندیلوں اور گلاسوں کی وہ بہتات تھی کہ تمام مکان بقعۂ نور بن گیا تھا۔ جو چیز تھی، خوبصورت اور جو شے تھی، قرینے سے۔ سامنے کی صف کے بیچوں بیچ چھوٹا سا سبز مخمل کا کارچوبی شامیانہ، گنگا جمنی چوبوں پر سبز ہی ریشمی طنابوں سے اِستادہ تھا۔ اس کے نیچے سبز مخمل کی کارچوبی مسند، پیچھے سبز کارچوبی گاؤ تکیہ، چاروں چوبوں پر چھوٹے چھوٹے آٹھ چاندی کے فانوس کسے ہوئے۔ فانوسوں کے کنول بھی سبز۔ چوبوں کے سنہری کلسوں سے لگا کر نیچے تک موٹے موٹے موتیا کے گجرے سہرے کی طرح لٹکے ہوئے، بیچ کی لڑیوں کو سمیت کر کلابتونی ڈوریوں سے، جن کے کونوں پر مقیش کے گپھے تھے، اس طرح چوبوں پر کس دیا گیا تھا کہ شامیانے کے چاروں طرف پھولوں کے دروازے بن گئے تھے۔ دیواروں میں جہاں کھونٹیاں تھیں وہاں کھونٹیوں پر اور جہاں کھونٹیاں نہیں تھیں، وہاں کیلیں گاڑ کر پھولوں کے ہار لٹکا دیے تھے۔ اس سرے سے لگا کر اس سرے تک سفید چھت گیری جس کے حاشیے سبز تھے، کھنچی ہوئی تھی۔ چھت گیری کے بیچوں بیچ موتیا کے ہار لٹکا کر لڑیوں کو چاروں طرف اس طرح کھینچ دیا گیا تھا کہ پھولوں کی چھتری بن گئی تھی۔ ایک صحنچی میں پانی کا انتظام تھا۔ کورے کورے گھڑے رکھے تھے اور شُورے میں جَست کی صراحیاں لگی ہوئی تھیں۔ دوسری صحنچی میں پان بن رہے تھے۔ باورچی خانے میں حقوں کا تمام سامان سلیقے سے جما ہوا تھا۔ جا بہ جا نوکر صاف ستھرا لباس پہنے دست بستہ مودب کھڑے تھے۔ تمام مکان مشک و عنبر اور اگر کی خوشبو سے پڑا مہک رہا تھا۔ قالینوں کے سامنے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر حقوں کی قطار تھی۔ حقے ایسے صاف ستھرے تھے کہ معلوم ہوتا تھا ابھی دکان پر سے اٹھ آئے ہیں۔ حقوں کے بیچ میں جو کچھ جگہ چھوٹ گئی تھی، وہاں چھوٹی چھوٹی تپائیاں رکھ کر ان پر خاصدان رکھ دیے تھے۔ خاصدانوں میں لال قند کی صافیوں میں لپٹے ہوئے پان۔ گلوریوں کو صافیوں میں اس طرح جمایا تھا کہ بیچ میں ایک تہہ پھولوں کی آ گئی تھی۔ خاصدانوں کے برابر چھوٹی چھوٹی کشتیاں، ان میں الائچیاں، چکنی ڈلیاں اور بُن دھنیا۔ مسند کے سامنے چاندی کے دو شمع دان، اندر کافوری بتیاں، اوپر ہلکے سبز رنگ کے چھوٹے کنول۔ شمع دانوں کے نیچے چاندی کے چھوٹے لگن، لگنوں میں کیوڑا۔ غرض کیا کہوں، ایک عجیب تماشا تھا۔ میں تو الف لیلہ کا ابو الحسن ہو گیا۔ جدھر نظر جاتی ادھر ہی کی ہو رہتی۔\n\nمیں اس تماشے میں محو تھا کہ لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے مرزا کریم الدین رساؔ آئے۔ یہ سلاطین زادے ہیں۔ کوئی ستر برس کے پیٹے میں ہیں۔ استعدادِ علمی تو کم ہے، مگر شاعری میں اپنے برابر کسی کو نہیں سمجھتے۔ بہت رحم دل، خوش خلق اور سادہ مزاج ہیں، دغل فصل نام کو نہیں ہے۔ ملاح کہا کرتے ہیں کہ ’’کشتی میں چڑھے سب سے پہلے اور اترے سب سے پیچھے‘‘ انھوں نے اس مقولے کو مشاعرے سے متعلق کر دیا ہے۔ مشاعرے میں سب سے پہلے آتے ہیں اور جب تک ایک ایک کر کے سب نہیں چلے جاتے، یہ اٹھنے کا نام نہیں لیتے۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ مشاعرہ ہو رہا تھا، بڑے زور سے ابر آیا، سب نے جلدی جلدی مشاعرہ ختم کیا، لوگ اپنے اپنے گھر گئے لیکن یہ ٹھہرے اپنی وضع کے پابند، جب تک سب نہ جا چکے اپنی جگہ سے نہ اٹھے۔ ہاں گھڑی گھڑی جھک کر آسمان کو دیکھ لیتے تھے۔ اتنے میں موسلا دھار مینہ برسنا شروع ہوا۔ ایسا برسا کہ جل تھل بھر گئے۔ کہیں دو گھنٹے کے بعد خدا خدا کر کے ذرا مینہ تھما تو یہ بھی اٹھے، مگر ایسا اندھیرا گھپ تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ نہیں سوجھتا تھا۔ مالکِ مکان نے ایک نوکر کو قندیل دے کر ساتھ کر دیا۔ گلیوں میں ٹخنوں ٹخنوں پانی تھا، ان بچارے کے پاؤں میں زردوزی کا قیمتی جوتا، کیچڑ میں پاؤں رکھیں تو کیسے رکھیں۔ آخر چپکے سے نوکر سے کہا: تو اپنا جوتا مجھے دے دے۔ اس کا جوتا کیا تھا، لتیڑے تھے، وہی گھسیٹتے ہوئے چلے، اپنا جوتا بغل میں دبا لیا۔ قلعے پہنچ کر ایک نیا جوتا نوکر کو دیا اور کہا: میاں تو نے آج میرے ساتھ ایسا احسان کیا ہے کہ تمام عمر نہ بھولوں گا۔ جب کبھی تجھے کوئی ضرورت ہو تو میرے پاس آ جایا کیجیو۔ آگے چل کر اس بد معاش نے ان کو بہت دق کیا۔ اول تو اس راز کا ڈھنڈورا پیٹ دیا، دوسرے ہر تیسرے چوتھے ان سے ایک دو روپے مار لاتا، مگر انھوں نے بھی ’’نا‘‘ نہیں کی، جب جاتا کچھ نہ کچھ سلوک ضرور کرتے۔\n\nنواب زین العابدین خاں صاحب نے بڑھ کر لبِ فرش ان کو لیا اور پوچھا: ہیں صاحبِ عالم! میاں حیاؔ آپ کے ساتھ نہیں آئے؟ مرزا رحیم الدین حیاؔ ان کے بڑے بیٹے ہیں، لیکن تھوڑے دنوں سے باپ بیٹے میں کچھ صفائی نہیں رہی ہے۔ نواب صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ صاحبِ عالم ناسور کی طرح پھوٹ بہے، کہنے لگے: نواب! وہ بھلا میرے ساتھ کیوں آتے، جب سے بنارس ہو کر آئے ہیں ان کا تو رنگ ہی بدل گیا۔ میں بچارہ تو کس گنتی میں ہوں، وہ کسی کو بھی اب خاطر میں نہیں لاتے۔ پالا پوسا، بڑا کیا، پڑھایا لکھایا، شاعر بنایا، بٹیریں لڑانا سکھایا اور تخت کی قسم، وہ وہ نسخے بٹیروں کے بتائے ہیں کہ قلعہ تو قلعہ، ہندوستان بھر میں کسی کے فرشتے خاں کو بھی معلوم نہ ہوں گے اور اب وہی صاحب زادے صاحب ہیں کہ استاد ماننا تو در کنار، مجھ کو باپ بھی کہتے شرماتے ہیں۔ ہاں بھئی کیوں نہ ہو، تیرھویں صدی ہے۔ ان کو بنارس بھیج کر میں تو مصیبت میں آ گیا۔ ایک نقصانِ مایہ، دوسرے شمَاتَتِ ہمسایہ۔ بیٹا ہاتھ سے گیا تو گیا، دن رات کی دانتا کلکل اور مول لے لی۔ یہ باتیں کرتے کرتے نواب صاحب نے میاں رساؔ کو لے جا کر ایک جگہ بٹھا دیا۔\n\nابھی ان سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ شہزادوں کا ایک گروہ حافظ عبد الرحمان احسانؔ کو جھرمٹ میں لیے آ پہنچا۔ بھلا دلی شہر میں کون ہے جو ’’حافظ جیو‘‘ کو نہ جانتا ہو۔ جگت استاد ہیں۔ پہلے تو قلعے کا قلعہ ان کا شاگرد تھا، مگر استاد ذوقؔ کے قلعے میں قدم رکھتے ہی ان کا زور ٹوٹا۔ یہ بھی زمانے کی آنکھیں دیکھے ہوئے تھے اور شاہ نصیر سے ٹکّر لڑ چکے تھے، اس بڑھاپے میں بھی خم ٹھونک کر سامنے آ گئے اور مرتے دم تک مقابلے سے نہ ہٹنا تھا نہ ہٹے۔ کوئی نوے برس کی عمر تھی۔ کمر دہری ہونے سے قد کمان بن گیا تھا۔ اپنے زمانے کے بلعم باعور تھے لیکن غزل اس کڑاکے سے پڑھتے تھے کہ تمام مشاعرے پر چھا جاتے تھے۔ اِن کی استادی کا سکہ ایک زمانے سے دلّی پر بیٹھا ہوا تھا۔ پہلے مرزا نیلی کے استاد ہوئے، رفتہ رفتہ عالم بادشاہ غازی نوّر اللہ مرقدہ تک رسائی ہو گئی، وہ اِن کو ’’حافظ جیو‘‘ کہتے تھے، اس لیے اسی نام سے تمام قلعے میں مشہور تھے۔ مصرعے پر مصرع لگانے میں کمال تھا اور سند ایسی تڑاخ سے دیتے تھے کہ معترض منہ دیکھتے رہ جاتے تھے۔ ایک روز بادشاہ سلامت نے مصرع کہا:\n\nصبح بھی بوسہ تو دیتا مجھے اے ماہ نہیں\n\nاِنھوں نے فوراً عرض کی:\n\nنا مناسب ہے میاں، وقتِ سحر گاہ نہیں\n\nکسی نے ’’وقتِ سحر گاہ‘‘ کی ترکیب پر اعتراض کیا، انھوں نے جھٹ صائبؔ کا یہ شعر پڑھا:\n\nآدمی پیر چو شد، حرص جواں می گردد\n\nخواب در وقتِ سحر گاہ گراں می گردد\n\nاور معترض صاحب اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔\n\nبڑے دبلے پتلے آدمی تھے، رنگ بہت کالا تھا۔ شاہ نصیر نے اسی رنگ کا خاکہ اس طرح اڑایا ہے:\n\nاے خالِ رخِ یار! تجھے ٹھیک بناتا\n\nپر چھوڑ دیا حافظِ قرآن سمجھ کر\n\nنواب صاحب نے ان سب کو بھی ہاتھوں ہاتھ لیا اور اپنی اپنی جگہ لا کر بٹھایا۔ ابھی ان کو بٹھانے سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ منشی محمد علی تشنہؔ چُم ننگے، نشے میں چور، جھومتے جھامتے اندر آئے۔ نوجوان آدمی ہیں مگر عجیب حال ہے، کبھی برہنہ پڑے پھرتے ہیں، کبھی کپڑے پہن کر خاصے بھلے آدمی بن جاتے ہیں۔ کسی کے شاگرد نہیں اور پھر سب کے شاگرد ہیں۔ کبھی حکیم آغا جان عیشؔ سے اصلاح لینے لگتے ہیں، کبھی استاد ذوقؔ کے پاس اصلاح کے لیے غزل لے آتے ہیں۔ ذہن بلا کا پایا ہے، لاکھوں شعر زبان کی نوک پر ہیں۔ شعر سنا اور یاد ہوا۔ اکثر ایسا بھی ہوا ہے کہ کسی کی غزل سنی اور یاد کر لی اور مشاعرے میں خود اپنے نام سے وہ غزل پڑھ ڈالی اور وہ بچارہ منہ دیکھتا رہ گیا۔ نواب صاحب آگے بڑھے، پوچھا: منشی جی! یہ کیا رنگ ہے؟ کہنے لگے: اصلی رنگ۔ مشاعرہ کب شروع ہوتا ہے۔ نواب صاحب نے کہا: ابھی شروع ہوتا ہے، آپ بیٹھیے تو سہی۔ خیر ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئے، میاں عارفؔ نے اُن پر ایک دوشالہ لا کر ڈال دیا۔ انھوں نے اٹھا کر پھینک دیا۔ عرض جس طرح ننگے آئے تھے، اسی طرح بے تکلف بیٹھے رہے۔\n\nاس کے بعد تو لوگوں کے آنے کا تانتا بندھ گیا۔ جو آتا، اس کا استقبال نواب صاحب کرتے اور لا لا کر بٹھاتے۔ حکیم مومن خاں آئے، ان کے ساتھ آزردہؔ، شیفتہؔ، صہبائی اور مولوی مملوک العلی تھے۔ مولوی صاحب مدرسۂ دہلی میں مدرسِ اول ہیں۔ عجیب با کمال آدمی ہیں۔ مدرسے میں ان کی ذاتِ با برکات سے وہ فیض ہوا ہے کہ شاید ہی کسی زمانے میں کسی استاد سے ہوا ہو۔ بہت پابندِ شرع ہیں، اس لیے خود شعر نہیں کہتے، مگر سمجھتے ایسا ہیں کہ ان کا کسی شعر کی تعریف کر دینا گویا اس کو دوام کی سند دے دینا ہے۔ کوئی ساٹھ سال کا سِن ہے۔ رہنے والے تو نانوتے کے ہیں، مگر مدتوں سے دہلی میں آ رہے ہیں۔ دن رات پڑھنے پڑھانے سے کام ہے۔ مشاعروں میں کم جاتے ہیں، یہاں شاید مولانا صہبائی ان کو اپنے ساتھ گھسیٹ لائے۔ تھوڑے ہی دن ہوئے، بے چارے پابندی شرع اور تقوے کی وجہ سے چکر میں آ گئے تھے۔ ہوا یہ کہ رزیڈنٹ بہادر مدرسے کے معائنے کو آئے۔ ان کے علم اور رتبے کے خیال سے ہاتھ ملایا۔ جب تک صاحب بہادر وہاں رہے، انھوں نے ہاتھ کو جسم سے اس طرح الگ رکھا جیسے کوئی نجس چیز کو دور رکھتا ہے۔ صاحب کے جاتے ہی بہت احتیاط سے ہاتھ کئی بار دھویا۔\n\nکسی نے جا کر صاحب سے یہ بات لگا دی۔ ان کو بہت غصہ آیا کہ ہم نے تو ہاتھ ملا کر ان کی عزت افزائی کی، انھوں نے اس طرح ہماری توہین کی۔ غرض بڑی مشکل سے معاملہ رفع دفع ہوا۔\n\nمولوی صاحب میرے بھی استاد تھے۔ میں بھی آگے بڑھا، آداب کیا، فرمانے لگے: میاں کریم الدین! میں تم کو ایسا نہیں سمجھتا تھا۔ تم نے دہلی والوں کو مات کر دیا۔ سبحان اللہ! سبحان اللہ! کیا انتظام ہے، دیکھ کر دل خوش ہو گیا، خدا تمھیں اس سے زیادہ حوصلہ دے۔ میں نے عرض کی: مولوی صاحب! بھلا میں کیا اور میری بساط کیا! یہ سب کیا دھرا نواب زین العابدین خاں کا ہے۔ فرمانے لگے: بھئی یہ بھی اچھی ہوئی۔ وہ کہیں کہ سارا انتظام کریم الدین خاں کا ہے، تم کہو کہ نواب صاحب کا ہے، چلو:\n\nمن ترا حاجی بگویم، تو مرا حاجی بگو\n\nابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ مرزا نوشہ پالکی میں سے اترے۔ نیرؔ، علائیؔ، سالکؔ اور حزیںؔ ان کے ہمراہ تھے۔ مرزا غالبؔ آتے ہی مومن خاں کی طرف بڑھے، مصافحہ کیا اور کہا: بھئی حکیم صاحب! آج محمد ناصر جان محزوںؔ کا عظیم آباد سے خط آیا تھا، تم کو بہت بہت سلام لکھا ہے۔ معلوم نہیں کہ کیوں ایکا ایکی پٹنے چلے گئے۔ خواجہ میر دردؔ کے پوتے ہو کر ان کا دہلی چھوڑنا ہم کو تو پسند نہیں آیا، اب یاروں کو روتے ہیں۔ دیکھنا کیا درد بھرا شعر لکھا ہے:\n\nنہ تو نامہ ہی نہ پیغامِ زبانی آیا\n\nآہ محزوںؔ! مجھے یارانِ وطن بھول گئے\n\nارے بھئی رات تو خاصی آ گئی ہے، ابھی تک میاں ابراہیم نہیں آئے، آخر یہ مشاعرہ شروع کب ہو گا؟ حکیم صاحب کچھ جواب دینے ہی والے تھے کہ دروازے کے پاس سے ’’السلام علیکم‘‘ کی آواز آئی۔ مولانا صہبائی نے کہا: اے لیجیے مرزا صاحب! وہ استاد کے نشان کے ہاتھی حافظ ویرانؔ صاحب آ گئے اور وہ آپ کے دوست ہدہد بھی ساتھ ہیں۔ دیکھیے آج کس کے چونچ مارتے ہیں۔ میاں ہدہدؔ کا نام عبد الرحمن ہے، پورب کے رہنے والے ہیں۔ دہلی میں آ کر حکیم آغا جان عیشؔ کے ہاں ٹھہر گئے ہیں، ان کے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ حکیم صاحب ہی کے مشورے سے ہدہد تخلص اختیار کیا، انہی کی تجویز سے چُگی ڈاڑھی رکھی۔ سر منڈا کر نکّو عمامہ باندھا اور اس طرح خاصے کھُٹ بڑھئی ہو گئے۔ انہی کے ذریعے سے دربار میں پہنچے اور ’’طائر الاراکین‘‘، ’’شہپر الملک‘‘، ’’ہدہد الشعرا‘‘، ’’منقار جنگ بہادر‘‘ خطاب پایا۔ شروع شروع میں تو ان کے ظریفانہ کلام سے مشاعرہ چمک جاتا تھا، مگر بعد میں انھوں نے استادانِ فن پر حملے شروع کر دیے۔ کہتے تو یہ ہیں کہ حکیم صاحب کے اشارے سے ایسا کیا، لیکن کچھ بھی ہو، آخر سب کو ان سے کچھ نفرت سی ہو گئی اور بجائے دوسروں کا مذاق اڑانے کے خود ان کا مذاق اڑ جاتا تھا۔ حکیم صاحب علانیہ تو ان کی مدد کر نہیں سکتے تھے، خود ان میں اتنی قابلیت نہ تھی کہ جو دہلی والوں کی پھبتیوں کو سنبھال سکتے، اس لیے تھوڑی ہی دیر میں ٹھنڈے ہو کر رہ جاتے۔ مرزا نوشہ اور حکیم مومن خاں کے ہمیشہ منہ آتے تھے، اسی لیے مرزا نوشہ، مولانا صہبائی کے منہ سے ’’آپ کے دوست‘‘ کا لفظ سن کر مسکرائے اور کہا: بھئی میں تو ان کے منہ کیوں لگنے لگا، مگر آج دیکھا جائے گا، ’’ہر فرعونے را موسیٰ‘‘۔ سنتا ہوں کہ ہمارے میر صاحب، مولوی ہدہد کی شان میں آج کچھ فرمانے والے ہیں۔ ان کے سامنے اگر یہ ’’شہبازِ سخن‘‘ ٹک گئے تو میں سمجھوں گا کہ بڑا کام کیا۔ غرض یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ استاد ذوقؔ بھی اندر آ گئے۔ تمام قلعہ ان کے ساتھ آیا تھا۔ صاحب سلامت کر کے سب اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ قلعے والوں اور ان لوگوں میں جن کا تعلق قلعے سے ہے، سلام کرنے کا کچھ عجیب طریقہ ہے۔ سیدھے کھڑے ہو کر، دایاں ہاتھ اس طرح کان تک لے جاتے ہیں جس طرح کوئی نماز کی نیت باندھتا ہے اور پھر چھوڑ دیتے ہیں، چلو سلام ہو گیا۔ باقی سب لوگوں سے معمولی طرح سلام کرتے ہیں۔ قلعے والوں کی صورت کچھ ایسی ہے کہ ایک ہی نظر میں پہچان لیے جاتے ہیں۔ شہزادے ہوں یا سلاطین زادے، سب کی وضع قطع ایک سی ہے۔ وہی لمبی گردن، وہی پتلی اونچی ناک، لمبا کتابی چہرہ، بڑی بڑی لمبوتری آنکھیں، بڑا دہانہ، اونچا چَوکا، آنکھوں کے نیچے کی ابھری ہوئی ہڈیاں، گہرا سانولا رنگ، ڈاڑھی کلوں پر ہلکی، ٹھوڑی پر زیادہ۔ غرض جیسی مشابہت اِن لوگوں میں ہے، شاید ہی کسی خاندان والوں میں ہو گی۔ امیر تیمور سے لے کر اس وقت تک ان کی شکل میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔\n\nپہلے تو قلعے بھر کا ایک ہی لباس تھا، مگر اب کچھ دو رنگی ہو گئی ہے۔ وجہ یہ ہوئی کہ جب سلیمان شکوہ کا اودھ کے دربار میں رسوخ ہوا، خاندان کے کچھ لوگ تو وہیں جا رہے اور کچھ ایسے ہیں کہ بنارس آتے جاتے رہتے ہیں۔ جو وہاں جا کر آتا ہے، لباس میں نئی تراش خراش کرتا ہے۔ اس طرح اُس کا لباس، آدھا تیتر آدھا بٹیر ہو کر، نہ لکھنؤ کا رہتا ہے نہ دہلی کا۔ اب جو لوگ یہاں بیٹھے ہیں، انہی کو دیکھ لیجیے۔ جو شاہزادے لکھنؤ جا کر آئے ہیں، ان کے سر پر لکھنؤ کی دو پلڑی ٹوپی ہے، اونچی چولی کا انگرکھا ہے۔ نیچے باریک شربتی ململ کا کرتا اور تنگ پیجامہ ہے۔ جنھوں نے قلعہ کبھی نہیں چھوڑا، ان کے جسم پر وہی پرانا لباس ہے۔ سر پر چو گوشیہ ٹوپی، جسم پر نیچی چولی کا انگرکھا، اس کے اوپر مخمل یا جامے وار کی خفتان، پاؤں میں گل بدن یا غلطے کا ایک بر کا پیجامہ۔ جو لوگ لکھنؤ ہو آئے ہیں، انھوں نے ڈاڑھی کو بھی خیر باد کہہ دیا ہے۔ چہرے کی ساخت سے تو ان کو دہلی کا شہزادہ کہہ دو تو کہہ دو، مگر لباس اور وضع قطع سے تو ٹھیٹھ لکھنؤ والے معلوم ہوتے ہیں۔\n\nاستاد ذوق سب سے مل ملا کر شامیانے کے دائیں طرف بیٹھ گئے۔ مشاعرے میں شعرا کو سلسلے سے بٹھانا بھی ایک فن ہے۔ نواب زین العابدین خاں کی تعریف کروں گا کہ جس کو جہاں چاہا، بٹھا دیا اور پھر اس طرح کہ کسی کو نہ کوئی شکوہ ہوا نہ شکایت۔ اگر کوئی ایسی جگہ بیٹھ جاتا جہاں ان کے خیال میں اس کو نہ بیٹھنا چاہیے تھا، تو بجائے اس کے کہ اس کو وہاں سے اٹھاتے، خود ایسی جگہ جا بیٹھتے جہاں اس کو بٹھانا چاہتے۔ تھوڑی دیر کے بعد کہتے: ارے بھئی! ذرا ایک بات تو سننا۔ وہ آ کر ان کے پاس بیٹھ جاتا، اس سے باتیں کرتے رہتے۔ اتنے میں کوئی ایسا شخص آ جاتا جس کو وہ خالی جگہ کے لیے موزوں سمجھتے، اس سے کہتے: تشریف رکھیے، وہ جگہ خالی ہے۔ جب وہ جگہ بھر جاتی تو کسی بہانے سے اٹھ جاتے اور اس طرح دو نشستوں کا انتظام ہو جاتا۔ شہزادوں کا سلسلے سے بٹھانا ذرا ٹیڑھی کھیر ہے، ذرا ذرا سی بات پر بگڑ کر اٹھ جاتے ہیں کہ واہ ہم اور یہاں بیٹھیں! پھر لاکھ منائیے، وہ بھلا کیا ماننے والے ہیں۔ ان جھگڑوں کو استاد ذوق خوب سمجھتے تھے، اس لیے اپنے ساتھ والوں کا انتظام انھوں نے خود کر لیا، مگر اس طرح کہ کسی کو یہ خیال بھی نہیں ہوا کہ یہ محفل کا بندوبست کر رہے ہیں۔ کسی سے کہتے: صاحبِ عالم! ادھر آئیے۔ کسی سے کسی خاص جگہ کی طرف اشارہ کرتے، کہتے: بیٹھو بھئی بیٹھو۔ غرض تھوڑی دیر میں پوری مجلس جم گئی۔ نشست کا یہ انتظام تھا کہ میرِ مشاعرہ کے دائیں جانب وہ لوگ تھے جن کا تعلق قلعے سے تھا اور بائیں طرف شہر کے دوسرے استاد اور ان کے شاگرد تھے۔\n\nایک چیز جو مجھے عجیب معلوم ہوئی، وہ یہ تھی کہ قلعے والے جتنے آئے تھے، سب کے ہاتھوں میں بٹیریں دبی ہوئی تھیں۔ یہ بٹیر بازی اور مرغ بازی کا مرض قلعے میں بہت ہے۔ روزانہ تیتروں، بٹیروں اور مرغوں کی پالیاں ہوتی ہیں۔ ایک شہزادے صاحب نے تو کمال کیا ہے، ایک بڑے چھکڑے پر ٹھاٹھر لگا کر چھوٹا سا گھر بنا لیا ہے اور اوپر چھت پر مٹی ڈال کر کنگنی بو دی ہے۔ ٹھاٹھر میں، خدا جھوٹ نہ بلائے، تو لاکھوں ہی پدڑیاں ہیں، جہاں چاہا، چھکڑا لے گئے اور پدڑیاں اڑا دیں۔ ایسی سدھی ہوئی ہیں کہ جھلّڑ سے ایک بھی پھٹ کر نہیں جاتی۔ انھوں نے جھنڈی ہلائی اور وہ اڑیں۔ انھوں نے آواز دی اور وہ چھت پر بیٹھ گئیں۔\n\nاستاد ذوق کو آئے ہوئے چند ہی منٹ ہوئے ہوں گے کہ مرزا فتح الملک ہوا دار میں سوار آ پہنچے۔ ان کے ساتھ نواب مرزا خاں داغؔ تھے۔ میاں داغؔ کی کوئی سولہ سترہ برس کی عمر ہو گی۔ رنگت تو بہت کالی ہے، مگر چہرے پر غضب کی نرماہٹ ہے۔ بڑی بڑی غلافی آنکھیں، سُتواں ناک، کشادہ پیشانی، سر پر سیاہ مخمل کی لیس لگی ہوئی چو گوشیہ ٹوپی۔ جسم میں ساسلیٹ کا انگرکھا، سبز گل بدن کا پیجامہ، ہاتھ میں ریشمی رومال۔ ہیں تو ابھی نو عمر، مگر شعر ایسا کہتے ہیں کہ سبحان اللہ! شہر بھر میں ان کی غزلیں گائی جاتی ہیں۔ غرض ہوا دار فرش سے ملا کر لگا دیا گیا۔ پہلے میاں داغ اترے اور اتر کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ ان کے بعد مرزا فتح الملک اترے۔ ان کا نیچے قدم رکھنا تھا کہ سب سرو قد کھڑے ہو گئے۔ چار چوبدار سبز کھڑکی دار پگڑیاں باندھے، نیچی نیچی سبز بانات کی اچکنیں پہنے، سرخ شالی رو مال کمر سے لپیٹے، ہاتھوں میں گنگا جمنی عصا اور مورچھل لیے ہوئے ہوا دار کے پیچھے تھے۔ اِدھر مرزا فخرو نے فرش پر قدم رکھا، اُدھر عصا بردار تو ان کے سامنے آ گئے اور مورچھل بردار ان کے پیچھے ہولیے۔ اس سلسلے سے یہ جلوس آہستہ آہستہ شامیانے تک آیا۔ مرزا فخرو نے شامیانے کے قریب کھڑے ہو کر سب کا سلام لیا۔ پھر چاروں طرف نظر ڈال کر کہا: اجازت ہے؟ سب نے کہا: بسم اللہ، بسم اللہ! اجازت پا کر یہ شامیانے میں گئے اور سب کو سلام کر کے بیٹھ گئے۔ دوسرے سب لوگ بیٹھنے کی اجازت کے انتظار میں کھڑے تھے، ان سب کی طرف نظر ڈال کر کہا: تشریف رکھیے، تشریف رکھیے۔ سب لوگ سلام کر کے اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ استاد ذوق نے داغ کو اپنے قریب ہی ایک جگہ بیٹھنے کا اشارہ کیا، وہ وہاں جا بیٹھے۔ مورچھل بردار شامیانے کے پیچھے اور عصا بردار سامنے کی صف کی پشت پر جا کھڑے ہوئے۔ جب یہ سب انتظام ہو گیا تو نواب زین العابدین خاں آگے بڑھے، شامیانے کے پاس جا کر تسلیمات بجا لائے اور دو زانو ہو کر وہیں بیٹھ گئے۔ چپکے چپکے صاحبِ عالم سے کچھ باتیں کیں اور اٹھ کر اپنی جگہ جا بیٹھے۔ ان کے اٹھ کر چلے جانے کے بعد نواب فتح الملک نے دونوں ہاتھ فاتحہ کو اٹھائے۔ ساتھ ہی اہل مجلس نے ہاتھ اٹھائے۔ فاتحۂ خیر کے بعد صاحبِ عالم نے فرمایا: اے خوش نوایانِ چمنِ دہلی! میری کیا بساط ہے جو آپ جیسے استادانِ فن کے ہوتے ہوئے میرِ مشاعرہ بننے کا خیال بھی دل میں لا سکوں، صرف حضرت پیر و مرشد کے فرمان کی تعمیل میں حاضرِ خدمت ہو گیا ہوں، ورنہ کہاں میں اور کہاں ایسے بڑے مشاعرے کی میر مجلسی۔ مُحِبّو! اس مشاعرے کی ایک خصوصیت تو آپ کو معلوم ہے کہ اس کے لیے کوئی ’’طرح‘‘ نہیں دی گئی۔ اس کی دوسری خصوصیت آپ یہ پائیں گے کہ بجائے ایک شمع کے، دو شمعیں گردش کریں گی۔ جس طرح ’’طرح‘‘ کے نکل جانے نے ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر و مُباہات کا دروازہ بند کر دیا ہے، اُسی طرح دو شمعوں کی وجہ سے پڑھنے میں تقدیم و تاخیر سے جو خیالات طبیعتوں کو مکدر کرتے تھے، وہ بھی رفع ہو جائیں گے۔ مشاعرے کی ابتدا کرنے اور ختم کرنے کا خیال بھی اکثر دلوں میں فرق ڈالتا ہے، لیکن اس مشاعرے میں مَیں نے انتہا کو ابتدا کر دیا ہے چنانچہ حضرت ظلِ سبحانی کے کلامِ معجز نظام سے مشاعرے کی ابتدا ہو گی اور اس کے بعد ہی میں اپنی غزل عرض کر کے ابتدا اور انتہا کے فرق کو مٹا دوں گا۔ یہ کہہ کر مرزا فخرو نے ہاتھ کا اشارہ کیا۔ دو چوبدار جو سامنے کھڑے تھے، دونوں شمعیں اٹھا کر ان کے سامنے لائے۔ انھوں نے بسم اللہ کہہ کر فانوس اتارے اور شمعیں جلا کر فانوس چڑھا دیے۔ چوبداروں نے شمعوں کو لے جا کر لگنوں میں رکھ دیا اور سیدھے کھڑے ہو کر مرزا فخرو کی طرف دیکھا۔ انھوں نے گردن سے اشارہ کیا۔ اشارہ پاتے ہی چوبداروں نے بہ آوازِ بلند کہا: حضرات! مشاعرہ شروع ہوتا ہے۔\n\nاس آواز کا سننا تھا کہ ایک سناٹا ہو گیا۔ قلعے والوں نے بٹیریں تھیلیوں میں کر، تکیوں کے پیچھے رکھ دیں۔ نوکروں نے جھٹ پٹ حقے سامنے سے ہٹا دیے اور اُن کی جگہ سب کے سامنے اگال دان، خاصدان اور بُن دھنیے کی تشتریاں رکھ، اپنی اپنی جگہ جا کھڑے ہوئے۔ اتنے میں بارگاہِ جہاں پناہی کا خواص بادشاہ سلامت کی غزل لیے ہوئے قلعے سے آیا۔ اُس کے ساتھ کئی نقیب تھے۔ وہ خود شمع کے قریب آ کر تسلیمات بجا لایا اور غزل پڑھنے کی اجازت چاہی۔\n\nمرزا فخرو نے گردن کے اشارے سے اجازت دی، وہ وہیں بیٹھ گیا، نقیبوں نے آواز لگائی:\n\nحاضرین! حضرت ظلِ سبحانی، صاحب قِرانِ ثانی خلّد اللہ مُلکہ و سلطن کا کلام مُعجِز نظام پڑھا جاتا ہے۔ نہایت ادب کے ساتھ گوشِ دل سے سماعت فرمائیے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D9%85%D8%B9/%D8%AA%D8%B1%D8%AA%DB%8C%D8%A8"} {"title": "دہلی کی آخری شمع/تقدیر", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "رپورتاژ > دہلی کی آخری شمع", "year": null, "text_ur": "تقدیر\n\n در ماندگی میں غالبؔ! کچھ بن پڑے تو جانوں\n\nجب رشتہ بے گرہ تھا، ناخن گرہ کشا تھا\n\nدوسرے روز سب سامان اٹھ گیا اور پھر وہی چھاپے خانے کی گھڑ گھڑ اور پریس مینوں کی گڑ بڑ شروع ہو گئی۔ میں نے دوسرے مہینے پھر مشاعرے کا اعلان کیا، اشتہار بھی تقسیم کیے، مگر گنتی کے آدمی آئے، آخر یہ مجلس بند کرنی پڑی۔ کچھ تو مطبعے کے کام میں نقصان ہوا، کچھ ملازمین پیشگی رقمیں دبا بیٹھے، غرض تھوڑے ہی دنوں میں میرے دو چار جاہل شرکا نے مجھ سے فریب کر کے مطبع چھین لیا۔ ہر چند کہ میں نے سوچا تھا کہ اگر دعویٰ کروں، حاکم بے شک میرا انصاف کرے گا، لیکن چند صدمات پڑ جانے کی وجہ سے وہ ارادہ بھی پورا نہ ہوا۔ اُس مشاعرے کی کیفیت کے مسودات پڑے رہ گئے ہیں، دیکھیے کب چھپتے ہیں اور کون چھاپتا ہے۔\n\nفقط\n\n٭٭٭\n\nتشکر: ادب عالیہ گروپ\n\nٹائپنگ: اسامہ احمد ندوی\n\nتدوین اور ای بک کی تشکیل: Yethrosh، اعجاز عبید\n\n فقط", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D9%85%D8%B9/%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1"} {"title": "دہلی کی آخری شمع/تمہید", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "رپورتاژ > دہلی کی آخری شمع", "year": null, "text_ur": "تمہید\n\nنام نیکِ رفتگاں ضائع مکن\n\nتا بماند نامِ نیکت برقرار\n\nبقول غالبؔ مرحوم ’’انسان ایک محشرِ خیال ہے‘‘ لیکن خیال میں حشر بپا ہونے کے لیے کسی بیرونی تحریک کا ہونا لازمی ہے۔ دماغ خیال کا گنجینہ ہے، لیکن اِس گنجینے کے کھلنے کے واسطے کسی ظاہری اسباب کی کنجی کی ضرورت ہے۔ مجھے بچپن سے شعرائے اردو کے حالات پڑھنے اور سننے کا شوق رہا ہے، مگر کبھی کوئی ایسی تحریک نہیں ہوئی جو ان کے حالات کو ایک جگہ جمع کرنے کا خیال پیدا کرتی اور یہ خیالات الفاظ کی شکل میں ظاہر ہو کر ایک خوش نما چلتی پھرتی تصویر بن جاتے۔\n\nجب کوئی بات ہونے والی ہوتی ہے تو اسباب خود بہ خود پیدا ہو جاتے ہیں۔ اتفاق دیکھیے کہ پرانے قدیم کاغذات میں مجھ کو حکیم مومن خاں مومنؔ دہلوی کی ایک قلمی تصویر ملی۔ تصویر کا ملنا تھا کہ یہ خیال پیدا ہوا کہ تو بھی محمد حسین آزادؔ مرحوم کے نیرنگِ خیال کی محفل شعرا کی طرح ایک مشاعرہ قائم کر، مگر ان لوگوں کے کلام پر تنقید کرنے کی بجائے صرف ان کی چلتی پھرتی تصویریں دکھا۔ خیال میں رفتہ رفتہ پختگی ہوئی اور اس پختگی خیال نے ایک مشاعرے کا خاکہ پیشِ نظر کر دیا، لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ مختلف زمانوں کے شاعروں کو کس طرح ایک جگہ جمع کروں۔ اس عُقدے کو امیر اللہ تسلیمؔ مرحوم کے اس شعر نے حل کر دیا:\n\nجوانی سے زیادہ وقتِ پیری جوش ہوتا ہے\n\nبھڑکتا ہے چراغِ صبح جب خاموش ہوتا ہے\n\nاس شعر کا یاد آنا تھا کہ شعرائے دہلی کا آخری دور آنکھوں کے سامنے پھر گیا اور دل میں یہ بات جم گئی کہ بجائے تمام شعرائے اردو کے، دہلی کے آخری دور کا نقشہ کھینچ دیا جائے۔ قاعدے کی بات ہے کہ مرنے سے پہلے بیمار سنبھالا لیتا ہے۔ اردو شاعری کے حق میں بہادر شاہ ثانی کا زمانہ بھی دہلی کا سنبھالا تھا۔ بادشاہت برائے نام تھی اور جو تنخواہ بادشاہ سلامت کو ملتی تھی، اس میں قلعے کا خرچ بھی مشکل سے چلتا تھا۔ برخلاف اِس کے دکن اور اودھ میں دولت کی گنگا بہہ رہی تھی۔ پھر بھی دریائے جمنا کی چمکیلی ریت دہلی والوں کے لیے نظر فریب رہی اور اس ’’اجڑے دیار‘‘ میں شعرا ہی نہیں ہر فن کے کاملوں کا ایک ایسا مجمع ہو گیا جس کی نظیر ہندوستان تو ہندوستان، دوسرے کسی ملک میں بھی ملنی دشوار ہے۔\n\nزمانہ ایک رنگ پر نہیں رہتا۔ ۱۸۵۷ء سے قبل ہی اُن کاملین فن میں سے بہت سے تو ملکِ عدم کو سدھارے، جو بچے کھچے رہ گئے تھے، ان کو غدر کے طوفان نے تِتّر بِتّر کر دیا۔ جس کو جہاں کچھ سہارا ملا، وہیں کا ہو رہا۔ دہلی برباد ہو کر حیدر آباد اور رام پور آباد ہوئے۔ اکثر شرفا گھروں سے ایسے نکلے کہ پھر ان کو دہلی کی صورت دیکھنی نصیب نہ ہوئی۔ جو رہ گئے ہیں، وہ چلنے چلانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ بہت سے اٹھ گئے، بہت سے اٹھتے جاتے ہیں اور ایک زمانہ وہ آنے والا ہے کہ کوئی یہ بتانے والا بھی نہ رہے گا کہ مومن مرحوم کا مکان کہاں تھا۔ جس طرح سوائے میرے اب شاید کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کی قبر کہاں ہے۔\n\nان چراغ ہائے سحری کو دیکھ دیکھ کر مجھے خیال آیا اور اس خیال کی محرک مومنؔ مرحوم کی تصویر بھی ہوئی کہ اردو کے لیے ان سے ایک ایسا تو چراغ روشن کر لوں جس کی روشنی میں آنے والی نسلیں زبانِ اردو کے اُن محسنوں کی شکلیں (خواہ وہ دھندلی ہی کیوں نہ سہی) دیکھ سکیں اور ان کا کلام پڑھتے وقت کم سے کم ان کی صورتوں کا ایک موہوم سا نقشہ پڑھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے پھر جائے۔ جو لوگ علمی مذاق رکھتے ہیں، وہ جانتے اور سمجھتے ہیں کہ کسی کا کلام پڑھتے وقت اگر اس کی شکل و صورت، حرکات و سکنات، آواز کی کیفیت، نشست و برخاست کے طریقے، طبیعت کا رنگ اور سب سے زیادہ یہ کہ اس کے لباس اور وضع قطع کا خیال دل میں رہے تو اس کا کلام ایک خاص اثر پیدا کر دیتا ہے اور پڑھنے کا لطف دو بالا ہو جاتا ہے، ورنہ مصنف کے حالات سے واقف ہوئے بغیر اس کی کسی کتاب کا پڑھ لینا، گرامو فون کے ریکارڈ سننے سے زیادہ مؤثر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل مہذب ممالک کے کسی مصنف کی کوئی کتاب شائع نہیں ہوتی، جس کے شروع میں اس کے حالات درج نہ کیے جائیں اور وہ واقعات نہ دکھائے جائیں جن کی موجودگی میں وہ تصنیف ضبط تحریر میں آئی۔ یہی خیالات تھے جنہوں نے مجھے ان چند اوراق کے لکھنے پر آمادہ کیا۔ اس البم میں آپ ایسی بہت سی تصویریں دیکھیں گے جو ان کاملین فن نے اپنے ہاتھ سے خود کھینچی ہیں، بہت سے ایسے مرقعے پائیں گے جو دوسرے مصوروں کے ہاتھ کے بنے ہوئے ہیں، بعض ایسے نقش و نگار ملیں گے جو فوٹو یا قلمی تصاویر دیکھ کر الفاظ میں اتارے گئے ہیں۔ اکثر و بیشتر ایسی صورتیں ہوں گی جو خود میں نے بڑے بوڑھوں سے پوچھ کر بنائی ہیں، لیکن ہر صورت میں شہادتِ تائیدی کے مقابلے میں شہادتِ تردیدی کو زیادہ وقعت دی ہے۔ یعنی اگر کسی واقعے کے متعلق ایک بھی مخالف بات معلوم ہوئی تو اُس واقعے کو قطعاً ترک کر دیا۔\n\nاگر اتنے سارے حلیے ایک جگہ ہی جمع ہو جاتے تو یقیناً یہ مضمون فوج کے چہروں کا رجسٹر بن کر بے لطف ہو جاتا، لیکن ادھر تو آزادؔ مرحوم کے نیرنگ خیال نے دل میں مشاعرے کا خیال ڈالا، اُدھر کریم الدین مغفور کی کتاب ’’طبقات الشعرائے ہند‘‘ کے طبقۂ چہارم نے رجب ۱۲۶۱ھ کے ایک مشاعرے کا پتا دیا۔ اب کیا تھا، دونوں کو ملا کر ایک مضمون پیدا کر لیا۔ رہی رنگ آمیزی، اس کی تکمیل میں خود کر دیتا ہوں، البتہ اچھے برے کی ذمہ داری نہیں لیتا۔ بہ حیثیت مورخ ۱۲۶۱ھ کے واقعات میں خود اس طرح لکھ سکتا تھا گویا یہ سب میرے چشم دید ہیں اور:\n\nہمچو سبزہ بارہا روئیدہ ام\n\nہفت صد ہفتاد قالب دیدہ ام\n\nپر نظر رکھتے ہوئے اس زمانے کا بھی ’’مرزا صاحب‘‘ بن سکتا تھا، مگر میرے دل نے گوارا نہیں کیا کہ کریم الدین مرحوم کی کامیابی کا سہرا اپنے سر پر باندھوں اور ایسے شخص کو دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر پھینک دوں جس نے اس مشاعرے میں بہت بڑا حصہ لیا تھا، جس کے مکان پر یہ مشاعرہ ہوا تھا اور جو اس مشاعرے کی روح رواں تھا۔ یہ ضرور ہے کہ ان کی یہ مجلس محدود تھی اور میں نے اس کو اتنی وسعت دی ہے کہ اس زمانے کے تقریباً سب بڑے بڑے شعرا کو اس میں لا بٹھایا ہے۔ اب اس میں مجھے کامیابی ہوئی یا نہیں، اس کا اندازہ قارئین کِرام فرما سکتے ہیں۔ اگر ہوئی ہے تو زِہے نصیب! میری محنت ٹھکانے لگی۔ اگر نہیں ہوئی، تو کم سے کم یہی سمجھ کر میری داد دی جائے کہ مرزا صاحب نے بات تو اچھی پیدا کی تھی مگر نباہ نہ سکے، جو ان سے نہیں ہوا وہ اب ہم کر دکھاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس طرح کوئی قلم کا دھَنی ’’اُن خفتگانِ خاک‘‘ کا کوئی ایسا مرقع تیار کر دے جو بزم ادبِ اردو میں سجانے کے قابل ہو۔\n\nلیجیے اب مولوی کریم الدین صاحب کی جون میں حاضرِ خدمت ہوتا ہوں، لیکن یہ ضرور عرض کیے دیتا ہوں کہ جب میں اپنی تمام محنت کریم الدین صاحب کی نذر کر رہا ہوں تو جو کچھ برا بھلا آپ کو اس مضمون کے متعلق کہنا ہے وہ مجھے نہ کہیے، مولوی صاحب کو کہیے اور خوب دل بھر کر کہیے، میں خوش اور میرا خدا خوش۔ والسلام\n\nمرزا فرحت اللہ بیگ", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D9%85%D8%B9/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%D8%AF"} {"title": "دہلی کی آخری شمع/تکمیل", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "رپورتاژ > دہلی کی آخری شمع", "year": null, "text_ur": "تکمیل\n\nحضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمایش ہے\n\nچمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمایش ہے\n\nنقیب کی آواز کے ساتھ ہی سب اہلِ محفل دو زانو ہو، سنبھل کر بیٹھ گئے اور پاسِ ادب سے سب نے گردنیں جھکا لیں۔ خواص نے بادشاہ سلامت کی غزل خَریطے میں سے نکالی، بوسہ دیا، آنکھوں سے لگایا اور بلند آواز سے سورٹھ کے سُروں میں پڑھنا شروع کیا۔ الفاظ کی نشست، زبان کی خوبی، مضمون کی آمد اور سب سے زیادہ پڑھنے والے کے گلے نے ایک سماں باندھ دیا۔ ایک کیفیت تھی کہ زمین سے آسمان تک چھائی ہوئی تھی۔ کسی کو تعریف کرنے کا بھی ہوش نہ تھا۔ استادانِ فن ہر شعر پر جھومتے تھے۔ کبھی کبھی کسی کے منہ سے ’’سبحان اللہ‘‘ کے الفاظ بہت نیچی آواز میں نکل گئے تو نکل گئے ورنہ ساری مجلس پر ایک عالمِ بے خودی طاری تھا۔ مقطعے پر تو یہ حال ہوا جیسے کسی نے سب پر جادو کر دیا۔ ہر شخص وَجد میں جھوم رہا تھا۔ بہ اصرارِ تمام کئی کئی دفعہ مقطع پڑھوایا اور مضمون اور زبان کی چاشنی کا لطف اٹھایا۔ لیجیے آپ بھی پڑھیے اور زبان کے مزے لیجیے:\n\nنہیں عشق میں اِس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا\n\nغمِ عشق تو اپنا رفیق رہا، کوئی اور بلا سے رہا نہ رہا\n\nنہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر، رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر\n\nپڑی اپنی برائیوں پر جو نظر، تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا\n\nہمیں ساغرِ بادہ کے دینے میں اب، کرے دیر جو ساقی تو ہائے غضب\n\nکہ یہ عہدِ نَشاط، یہ دورِ طَرب، نہ رہے گا جہاں میں سدا، نہ رہا\n\nلگے یوں تو ہزاروں ہی تیر ستم کہ تڑپتے رہے پڑے خاک پہ ہم\n\nولے ناز و کرشمہ کی تیغِ دو دم لگی ایسی کہ تسمہ لگا نہ رہا\n\nظفرؔ! آدمی اُس کو نہ جانیے گا، ہو وہ کیسا ہی صاحبِ فہم و ذَکا\n\nجسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی، جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا\n\nغزل پڑھ چکنے کے بعد خواص نے کاغذ مرزا فخرو کے ہاتھ میں دیا۔ زر افشاں کاغذ پر خود حضرت ظل اللہ کے قلم کی لکھی ہوئی غزل تھی۔ خط ایسا پاکیزہ تھا کہ آنکھوں میں کھبا جاتا تھا۔ مرزا فخرو نے کاغذ لے کر ادھر ادھر دیکھا۔ مملوک العلی نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا: صاحبِ عالم! ہمارا کیا منہ ہے جو ہم حضرت ظل سبحانی کی غزل کی جیسی چاہیے ویسی تعریف کر سکیں، البتہ اُن نوازشاتِ شاہی کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو حضرت پیر و مرشد نے غزل بھیج کر شرکائے مشاعرہ پر مبذول فرمائی ہیں۔ بارگاہِ جہاں پناہی میں ہمارا ناچیز شکریہ پیش کر کے ہماری عزت افزائی فرمائی جائے۔ مرزا فخرو نے خواص کی طرف دیکھا۔ اس نے عرض کی: قبلۂ عالم! میں یہ پیام جاتے ہی پیش گاہِ عالی میں پہنچا دوں گا۔ خواص آداب بجا لا کر جانے والا ہی تھا کہ مرزا فخرو نے روکا اور کہا: جانے سے پہلے صاحبِ عالم و عالمیان حضرت ولی عہد بہادر کی غزل بھی پڑھتے جاؤ، چلتے چلتے مجھے عنایت کی تھی اور فرمایا تھا کہ کسی خوش گلو شخص سے پڑھوانا، بھلا تم سے زیادہ موزوں اور کون شخص مل سکتا ہے؟ یہ کہہ کر جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک کاغذ نکال کر خواص کو دیا۔ اس نے آداب کر کے کاغذ لیا اور وہیں بیٹھ کر یہ غزل سنائی:\n\nدل سے لطف و مہربانی اور ہے\n\nمہربانی کی نشانی اور ہے\n\nقصۂ فرہاد و مجنوں اور ہے\n\nعشق کی میری کہانی اور ہے\n\nروکنے سے کب مرے رکتے ہیں اشک\n\nبلکہ ہوتی خوں فشانی اور ہے\n\nہم سے اے داراؔ وہ کب ہوتے ہیں صاف\n\nان کے دل میں بد گمانی اور ہے\n\nغزل تو بہت پھس پھسی تھی، مگر ولی عہد بہادر کی غزل تھی، بھلا کس کا جگر تھا جو تعریف نہ کرتا، البتہ غالبؔ اور مومنؔ چپ بیٹھے رہے۔ بعض قلعے والوں کو برا بھی معلوم ہوا، مگر ان دونوں کو خوب سمجھتے تھے کہ یہ سچی تعریف کرنے والے لوگ ہیں۔ ولی عہد تو ولی عہد، اگر بادشاہ سلامت کی بھی کمزور غزل ہو تو گردن تک نہ ہلائیں۔\n\nالقصہ خواص تو غزل پڑھ کر رخصت ہوا اور اب حاضرین جلسہ کے پڑھنے کی نوبت آئی۔ مرزا فخرو نے چوبدار کو اشارہ کیا، اس نے دونوں شمعیں لا، شامیانے کے سامنے رکھ دیں۔ صاحبِ عالم نے اپنی غزل نکالی اور ادھر ادھر نظر ڈال کر اور گردن کو ذرا جھکا کر کہا: بھلا میری کیا مجال ہے کہ آپ جیسے کاملین فن کے مقابلے میں کچھ پڑھنے کا دعویٰ کروں، البتہ جو کچھ برا بھلا کہا ہے، وہ بہ نظرِ اصلاح عرض کرتا ہوں:\n\nغم وہ کیا ہے جو جاں گَزا نہ ہوا\n\nدرد وہ کیا جو لا دوا نہ ہوا\n\nحال کھل جائیں غیر کے سارے\n\nپر کروں کیا کہ تو مِرا نہ ہوا\n\nدرد کیا، جس میں کچھ نہ ہو تاثیر\n\nبات کیا، جس میں کچھ مزا نہ ہوا\n\nوہ تو ملتا، پر اے دلِ کم ظرف!\n\nتجھ کو ملنے کا حوصلا نہ ہوا\n\nشکوۂ یار اور زبانِ رقیب\n\nمیرا کیا ہے، ہوا ہوا نہ ہوا\n\nتم رہو اور مجمعِ اغیار\n\nکھیل ٹھہرا، کوئی گِلا نہ ہوا\n\nپھر تمھارے ستم اٹھانے کو\n\nرمزؔ اچھا ہوا، برا نہ ہوا\n\nمرزا فخرو کی آواز تو اونچی نہ تھی مگر پڑھنے میں ایسا درد تھا کہ سن کر دل بے قابو ہو جاتا تھا۔ سارا مشاعرہ ’’واہ واہ اور سبحان اللہ‘‘ کے شور سے گونج رہا تھا۔ تیسرے شعر پر مرزا غالبؔ اور پانچویں پر حکیم مومنؔ خاں نے ایسے جوش سے واہ واہ کی کہ صف سے آگے نکل آئے۔ مرزا فخرو اپنی غزل پڑھتے رہے مگر ان دونوں کو انہی دو شعروں کی رٹ لگی رہی۔ پڑھتے اور مزے میں آ کر جھومتے رہے۔ جب غزل ختم ہوئی تو مرزا نوشہ نے کہا: سبحان اللہ! صاحبِ عالم سبحان اللہ! واہ کیا کہنا ہے، شعر یوں کہتے ہیں، مزا آ گیا۔ استاد ذوق بھی مسکرائے کہ چلو اسی بہانے سے میری تعریف ہو رہی ہے۔ مرزا فخرو نے اٹھ کر سلام کیا اور کہا: یہ آپ اصحاب کی بزرگانہ شفقت ہے جو اس طرح ارشاد ہوتا ہے ورنہ من آنم کہ من دانم۔\n\n وہ جدھر نظر ڈالتے لوگ تعریفیں کرتے اور وہ جھک جھک کر سلام کرتے۔ جب محفل میں ذرا سکون ہوا تو مرزا فخرو نے چوبدار کو اشارہ کیا۔ اس نے شامیانے کے سامنے سے ایک شمع اٹھا سامنے کی صف میں میاں یل کے آگے رکھ دی۔ نام تو ان کا عبد القادر تھا، مگر شہر کا بچہ بچہ ان کو ’’میاں یل‘‘ کہتا تھا۔ ان کو اپنی طاقت پر اتنا غرور تھا کہ کسی پہلوان کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ جس اکھاڑے میں جاتے وہاں خم ٹھونک آتے اور کسی کو جواب میں خم ٹھونکنے کی ہمت نہ ہوتی۔ پہلوانی کی نسبت سے تخلص یلؔ رکھا تھا۔ مضمون بھی رندانہ باندھتے تھے۔ پڑھتے اس طرح تھے گویا میدانِ کار زار میں رجز پڑھ رہے ہیں۔ اس سے غرض نہ تھی کہ کوئی تعریف کرتا ہے یا نہیں، ان کو اپنے شعر پڑھنے سے کام تھا۔ غزل لکھی تھی:\n\nکہہ دو رقیب سے کہ وہ باز آئے جنگ سے\n\nہرگز نہیں ہیں یار بھی کم اُس دبنگ سے\n\nلب کا بڑھا دیا مزا خطِّ سبز نے\n\nساقی نے پشت دی مے صافی کو جنگ سے\n\nدل اب کے بے طرح سے پھنسا زلفِ یار میں\n\nنکلے یہ کیونکہ دیکھیے قیدِ فرنگ سے\n\nآ جائیو نہ پیچ میں ظالم کے، دیکھنا\n\nیاری تو تم نے کی ہے یلؔ اس شوخ و شنگ سے\n\nان کی غزل ختم ہوتے ہی چوبدار نے دوسری شمع اٹھا مرزا علی بیگ کے سامنے رکھ دی۔ یہ بڑے گورے چٹے نوجوان آدمی ہیں، کسرت کا بھی شوق ہے۔ نازنیںؔ تخلص کرتے ہیں۔ دہلی میں بس یہی ایک ریختی گو ہیں۔ اِدھر شمع رکھی گئی، اُدھر نواب زین العابدین خاں نے آواز دی: اوڑھنی لاؤ۔ ایک نوکر فوراً تاروں بھری، گہرے سرخ رنگ کی اوڑھنی لے کر حاضر ہوا۔ نازنیںؔ نے بڑے ناز و ادا سے اس کو اوڑھا۔ ایک پلو کا بُکّل مارا، دوسرا پلو سامنے پھیلا لیا اور خاصی بھلی چنگی عورت معلوم ہونے لگے۔ غزل ایسی لڑ لڑ کر اور اڑ اَڑ کر پڑھی کہ سارا مشاعرہ عش عش کرنے لگا۔ نرت ایسا پیارا کرتے تھے کہ کوئی بیسوا بھی کیا کرے گی۔ دوسرا شعر اس طرح پڑھا کہ گویا ’’باجی‘‘ کو جلانے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ قلعے والوں کو تو اس غزل میں بڑا مزا آیا، مگر جو ریختے کے استاد تھے، وہ خاموش بیٹھے سنتے رہے۔ غزل یہ تھی:\n\nہوئی عشاق میں مشہور، یوسف سا جواں تاکا\n\nبُوا! ہم عورتوں میں تھا بڑا دیدہ زلیخا کا\n\nمجھے کہتی ہیں باجی تو نے تاکا چھوٹے دیور کو\n\nنہیں ڈرنے کی میں بھی، ہاں نہیں تاکا تو اب تاکا\n\nاگر اے نازنیںؔ تو دبلی پتلی کامنی سی ہے\n\nچھریرا سا بدن نامِ خدا ہے تیرے دولھا کا\n\nاب تو دونوں شمعیں اس طرح گردش کرنے لگیں کہ پہلے صف کے سیدھی جانب کا ایک شخص غزل پڑھتا تھا اور پھر الٹی طرف کا۔ اگلے صفحے پر ایک نقشہ دیتا ہوں، اس سے نشست کی کیفیت، پڑھنے والوں کا سلسلہ اور مشاعرے کا انتظام اچھی طرح سمجھ میں آ جائے گا:\n\nنازنیں کے پڑھنے کے بعد دائیں طرف کی شمع ہٹ کر میاں عاشقؔ کے سامنے آئی۔ یہ بچارے ایک مزدور پیشہ آدمی ہیں۔ لکھنا پڑھنا بالکل نہیں جانتے۔ نہ کسی کے شاگرد ہیں، نہ کسی کے استاد۔ شعر اچھا خاصا کہتے ہیں۔ اس مشاعرے میں ایک شعر تو ایسا نکل گیا کہ سبحان اللہ! لکھا ہے:\n\nفقط تو ہی نہ میرا اے بتِ خوں خوار دشمن ہے\n\nترے کوچے میں اپنا ہر در و دیوار دشمن ہے\n\nغزل میں باقی سارے اشعار تو صرف بھرتی کے تھے مگر اِس شعر پر ہر طرف سے بڑی دیر تک واہ واہ ہوتی رہی۔ اُن کی غزل ختم ہونے پر بائیں طرف کی شمع اٹھا کر عبد اللہ خاں اوجؔ کے سامنے رکھ دی گئی۔ یہ بڑے پرانے چالیس پینتالیس برس کے مشّاق شاعر ہیں۔ مضمون کی تلاش میں ہر وقت سر گرداں رہتے ہیں، لیکن ڈھونڈ ڈھانڈ کر ایسے بلند مضامین اور نازک خیالات لاتے ہیں کہ ایک شعر تو کیا، ایک قطعے میں بھی اُن کی سمائی مشکل ہے اور کوشش یہ کرتے ہیں کہ ایک ہی شعر میں مضمون کھپا دیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مطلب کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔ بھلا دوسروں کو تو اِن کے شعروں میں کیا مزہ آئے اور کوئی کیا داد دے، ہاں یہ خود ہی پڑھتے ہیں، خود ہی مزہ لیتے ہی اور خود ہی اپنی تعریف کر لیتے ہیں۔ غزل اس زور و شور سے پڑھتے ہیں کہ زور میں آ کر صفِ مجلس سے گزوں آگے نکل جاتے ہیں۔ ان کے شاگرد تو دو چار ہی ہیں، مگر استاد بھی اِن کو استاد مانتے ہیں۔ بھلا کس کا بل بوتا ہے جو ان کو استاد نہ کہہ کر لڑائی مول لے۔ ادھر انھوں نے شعر پڑھا، ادھر استاد ذوقؔ یا مرزا غالبؔ نے داد دی۔ داد دینے میں ذرا دیر ہوئی اور اِن کے تیور بدلے۔ اِن کے غصے کی بھلا کون تاب لا سکتا ہے، چارو ناچار تعریف کرنی پڑتی، جب کہیں جا کر یہ ٹھنڈے پڑتے۔ غزل ہوئی تھی:\n\nدم کا جو دمدمہ یہ باندھے خیال اپنا\n\nبے پل صراط اتریں، یہ ہے کمال اپنا\n\nطفلی ہی سے ہے مجھ کو وحشت سرا سے نفرت\n\nسُم میں گڑا ہوا ہے آہو کے نال اپنا\n\nکسبِ شہادت اپنا ہے یاد کس کو قاتل\n\nسانچے میں تیغ کے سر لیتے ہیں ڈھال اپنا\n\nچیچک کے آبلوں کی میں باگ موڑتا ہوں\n\n (رکھ کے) دیوی کے آستاں پر سیمیں ہلال اپنا\n\nآخری شعر پر تو مرزا غالبؔ اچھل پڑے، کہنے لگے: واہ میاں اوجؔ! اس شعر کے دوسرے مصرعے نے تو غضب ڈھا دیا ہے۔ بھئی واللہ! الفاظ ’’رکھ کے‘‘ کیا خوب پھنسائے ہیں۔ یہ سب کافر ہیں جو تمھیں استاد کہتے ہیں، میاں تم تو شعر کے خدا ہو خدا۔ غرض سب استادوں نے تعریفوں کے پل باندھ دیے اور میاں اوجؔ پھول کر کپا ہوئے جاتے ہیں۔ جب ذرا سکون ہوا تو سیدھی طرف کی شمع کھسک کر محمد یوسف تمکینؔ کے سامنے آئی۔ اِن کی عمر کوئی پندرہ سولہ سال کی ہو گی۔ مدرسۂ دہلی میں طالبِ علم ہیں۔ غضب کی ظریفانہ طبیعت پائی ہے۔ بات کرنے میں منہ سے پھول جھڑتے ہیں۔ نازک نازک نقشہ، سانولا رنگ، بھرے ہوئے ہاتھ پاؤں۔ جوان ہوں گے تو بڑے خوب صورت آدمی نکلیں گے۔ غزل کہی تھی:\n\nدوزخ بھی جس سے مانگتی ہر دم پناہ تھی\n\nکس دل جلے کی بار خدایا یہ آہ تھی\n\nخانہ خراب ہو ترا اے عشقِ بے حیا\n\nآئین کون سا تھا، یہ کیا رسم و راہ تھی\n\nتو نے جو دل کو میرے صنم خانہ کر دیا\n\nرہتا خدا تھا جس میں، یہ وہ بارگاہ تھی\n\nتمکیںؔ کو اک نگاہ میں دیوانہ کر دیا\n\nجادو فریب آہ یہ کس کی نگاہ تھی\n\nمیاں تمکینؔ کا دل بڑھانے کو سب نے تعریف کی۔ قطعے کو کئی کئی دفعہ پڑھوایا۔ استاد احسانؔ نے کہا: میاں یوسف! کیا کہنا ہے۔ خوب کہتے ہو، کوشش کیے جاؤ، ایک نہ ایک دن استاد ہو جاؤ گے، مگر میاں کسی کے شاگرد ہو جاؤ، بے استاد رہے تو بھٹک نکلو گے۔ میاں تمکینؔ نے مسکرا کر کہا: استاد! میں کہیں آپ کے حکم سے باہر ہو سکتا ہوں، کل ہی ان شاء اللہ استاد اوجؔ کی خدمت میں حاضر ہو جاتا ہوں، استاد ذوق نے کہا: ہاں بھئی ہاں، خوب انتخاب کیا۔ بس یہ سمجھو کہ چند دنوں میں بیڑا پار ہے۔ یہاں یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ دوسری شمع غلام احمد تصویرؔ کے سامنے پہنچ گئی۔ ان کو میاں ببّن بھی کہتے ہیں۔ الف کے نام بے نہیں جانتے مگر طبیعت غضب کی پائی ہے۔ پہلے میاں تنویرؔ کے شاگرد تھے، بعد میں ان سے ٹوٹ کر استاد ذوقؔ سے آملے۔ بھاری بدن، مُنڈی ہوئی ڈاڑھی، چھوٹی چھوٹی مونچھیں، گہرا سانولا رنگ، جسم پر سوسی کا تنگ مہری کا پیجامہ، اوپر سوسی کا کرتا، کندھے پر لٹھے کا رومال، سر پر سوزنی کے کام کی گول ٹوپی۔ بے چارے نیچا بندی کے کام پر گزر اوقات کرتے ہیں۔ بڑے پر گو شاعر ہیں۔ لکھنا پڑھنا تو جانتے ہی نہیں، اس لیے جو کچھ کہتے ہیں دل و دماغ ہی میں ٹھونستے جاتے ہیں۔ یاد اس بلا کی ہے کہ ذرا چھیڑو تو ارگن کی طرح بجنے لگتے ہیں اور ختم کرنے کا نام نہیں لیتے۔ کلام ایسا پاکیزہ ہے کہ بڑے بڑے استادوں کے سر ہل جاتے ہیں۔ ان کو سنو تو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ایک اُمی پڑھ رہا ہے۔ بس یہی سمجھ لو کہ الشعراء تلامیذ الرحمن کی بہترین مثال ہیں۔ غزل کہی تھی:\n\nہجر کی شب تو سحر ہو یا رب!\n\nوہ نہ آیا تو قیامت ہی سہی\n\nجان بے کار تو اپنی نہ گئی\n\nاے ستم گر! تری شہرت ہی سہی\n\nمجھ سے اتنا بھی نہ کھنچیے صاحب!\n\nآپ پر میری طبیعت ہی سہی\n\nجذبۂ دل نہیں لایا تم کو\n\nآپ کی خیر عنایت ہی سہی\n\nہر شعر پر واہ واہ اور سبحان اللہ کے شور سے محفل گونج جاتی تھی۔ غزل تمام ہوئی تو استاد ذوق نے حکیم مومن خاں کی طرف دیکھ کر کہا: خاں صاحب! یہ میاں ببّن بھی غضب کی طبیعت لے کر آئے ہیں۔ کہنے کو تو میرے شاگرد ہیں مگر اب تک ان کے کسی شعر میں اصلاح دینے کی مجھے تو ضرورت نہیں ہوئی۔ کل ایک غزل سنائی تھی، میں تو پھڑک گیا، ایک شعر تو ایسا بے ساختہ نکل گیا ہے کہ تعریف نہیں ہو سکتی۔ ہاں میاں ببّن! وہ کیا شعر تھا؟ میاں ببّن نے ذرا دماغ پر زور ڈالا اور شعر دماغ سے پھسل زبان پر آ گیا، مطلع تھا:\n\nبرچھی تری نگاہ کی پہلو میں آ لگی\n\nپہلو سے دل میں، دل سے کلیجے میں جا لگی\n\nاور شعر یہ تھا:\n\nدامن پہ وہ رکھے نہ رکھے دل رُبا لگی\n\nلیکن ہماری خاک ٹھکانے سے آ لگی\n\nحکیم صاحب نے بہت تعریف کی اور کہا: میاں ببّن! یہ خدا کی دین ہے، یہ بات پڑھنے پڑھانے سے پیدا نہیں ہوتی۔ میاں خوش رہو، اس وقت دل خوش کر دیا۔\n\nان کے بعد شمع محمد جعفر تابشؔ کے سامنے آئی، یہ الہ آباد کے رہنے والے ہیں۔ بہت دنوں سے دلّی میں آ رہے ہیں۔ بچارے گوشہ نشین آدمی ہیں۔ شاعری سے دلی لگاؤ ہے۔ کوئی مشاعرہ نہیں ہوتا جہاں نہ پہنچتے ہوں۔ غزل میں دو شعر بہت اچھے تھے، وہی لکھتا ہوں:\n\nکبھی بِن بادہ رہ نہیں سکتے\n\nتوبہ کچھ ہم کو سازگار نہیں\n\nدل میں خوش ہیں عدو، پر اے تابشؔ\n\nوہ ستم گر کسی کا یار نہیں\n\nمقطعے کی کچھ ایسی پیاری بندش پڑی کہ سب کے منہ سے بے ساختہ واہ واہ نکلی۔ مفتی صدر الدین صاحب کی تو یہ حالت تھی کہ پڑھتے تھے اور جھومتے تھے۔\n\nتابشؔ کے بعد الٹی جانب کی شمع میاں قلقؔ کے آگے گئی۔ خدا اِن سے محفوظ رکھے، بڑے چالاک آدمی ہیں۔ عبد العلی نام ہے، مدراس کے رہنے والے ہیں۔ کوئی تیس برس کی عمر ہے۔ بچپن ہی میں گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ حیدرآباد ہوتے ہوئے دہلی آئے۔ ہزاروں کو تعویذ گنڈے کے جال میں پھنسا کر پٹرا کر دیا۔ ان کی شکل سے لوگ گھبراتے ہیں۔ شاہ صاحب بنے پھرتے ہیں مگر دل کا خدا مالک ہے۔ شعر خاصا کہتے ہیں، لکھا تھا:\n\nجامِ شراب سے خُمِ گردوں تو بن گیا\n\nساقی بنا دے ماہ، پیالہ اچھال کے\n\nہم مشربوں میں چل کے قلقؔ مے کشی کرو\n\nجھگڑے وہاں نہیں ہیں حرام و حلال کے\n\nیہ پڑھ چکے تو شمع منشی محمود جان اوجؔ کے سامنے گئی۔ ان کی غزل میں دو ہی شعر ایسے تھے جن کی تھوڑی بہت تعریف ہوئی، باقی سب بھرتی کے تھے:\n\nآنے میں اُس جانِ جاں کے دیر ہے\n\nکچھ مقدر کا ہمارے پھیر ہے\n\nہے یقین وہ جانِ جاں آتا نہیں\n\nموت آنے میں پھر کیوں دیر ہے\n\nان کے بعد مرزا کامل بیگ کی باری آئی۔ یہ سپاہی پیشہ آدمی ہیں، کاملؔ تخلص کرتے ہیں۔ مشاعرے میں بھی اُوپچی بن کر آئے ہیں۔ غزل اس طرح پڑھی گویا فوج کی کمان کر رہے ہیں۔ دیکھ لو مضمون میں بھی وہی سپاہیانہ رنگ جھلک رہا ہے۔ ان کی غزل میں قطعہ بڑے مزے کا تھا، وہی لکھتا ہوں:\n\nمژگاں سے گر بچے دل، ابرو کرے ہے ٹکڑے\n\nیہ بات میں نے کہہ کر جب اُس سے داد چاہی\n\nکہنے لگا کہ ترکش جس وقت ہووے خالی\n\nتلوار پھر نہ کھینچے تو کیا کرے سپاہی\n\nاب حکیم سید محمد تعشّق کے پڑھنے کا نمبر آیا۔ یہ بڑے پائے کے ادیب ہیں۔ تریسٹھ چونسٹھ برس کی عمر ہے، حکمت میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ غرض کیا کہوں، ایک جامعِ کمالات شخص ہیں، مگر اپنے آپ کو بہت دور کھینچتے ہیں۔ اچھا شعر سنتے ہیں تو بے تاب ہو جاتے ہیں، چاہتے ہیں کہ جس طرح میں تعریف کرتا ہوں اسی طرح دوسرے بھی میرے شعر کی تعریف کریں۔ شعر برا نہیں کہتے، مگر ایسا بھی نہیں ہوتا کہ مشاعرہ چمک اٹھے اور ہر شخص کے منہ سے بے ساختہ واہ واہ نکل جائے۔ آپ خود ہی اِن کا کلام دیکھ لیجیے:\n\nتجھ کو اِس میری آہ و زاری پر\n\nرحم اے فتنہ گر نہیں آتا\n\nوعدۂ شام تو کیا لیکن\n\nکچھ وہ آتا نظر نہیں آتا\n\nتیرے بیمار کا ہے یہ عالم\n\nہوش دو دو پہر نہیں آتا\n\nتعریف تو ہوئی مگر کچھ ان کے دل کو نہ لگی، اس لیے ذرا آزردہ سے ہو گئے۔ اِن کے بعد شمع میر حسین تجلیؔ کے سامنے آئی۔ یہ میر تقی میرؔ کے پوتے ہیں۔ بڑے ظریف اور نکتہ سنج آدمی ہیں۔ کلام میں وہی میر صاحب کا رنگ جھلکتا ہے، زبان پر جان دیتے ہیں۔ غزل تو چھوٹی سی ہوتی ہے مگر جو کچھ کہتے ہیں اچھا کہتے ہیں۔ کیوں نہ ہو، آخر کس کے پوتے ہیں:\n\nمری وفا پہ تجھے روز شک تھا اے ظالم!\n\nیہ سر، یہ تیغ ہے، لے اب تو اعتبار آیا\n\nیہ شوق دیکھو پسِ مرگ بھی تجلیؔ نے\n\nکفن میں کھول دیں آنکھیں، سنا جو یار آیا\n\nدوسرے شعر پر وہ تعریف ہوئی کہ میاں تجلی کی باچھیں کھل گئیں۔\n\nمیاں تجلی پڑھ چکے تو حکیم سکھانند رقمؔ کی باری آئی۔ اِن کو میں حکیم مومن خاں صاحب کے مکان پر دیکھ چکا تھا۔ کلام تو ایسا اچھا نہیں ہوتا مگر پڑھتے خوب ہیں۔ جہاں کسی نے ذرا بھی تعریف کی اور انھوں نے سلام کا تار باندھ دیا، غزل لکھی تھی:\n\nبجھانا آتشِ دل کا بھی کچھ حقیقت ہے\n\nذرا سا کام تجھے چشمِ تر نہیں آتا\n\nعدم سے کوچۂ قاتل کی راہ ملحق ہے\n\nگیا اُدھر جو گزر، پھر ادھر نہیں آتا\n\nہو خاک چارہ گری اس مریض کی تیرے\n\nنظر میں تجھ سا کوئی چارہ گر نہیں آتا\n\nتیسرا شعر حکیم مومنؔ خاں صاحب کے رنگ کا تھا، اس کی انھوں نے بہت تعریف کی، مگر اس کے ساتھ یہ بھی کہا: میاں رقمؔ! یا تو تم حکمت ہی کرو یا شعر ہی کہو، ان دونوں چیزوں کو ملا کر چلانا ذرا مشکل کام ہے۔\n\nشمع کا شیخ نیاز احمد جوشؔ کے سامنے جانا تھا کہ شاگردانِ ذوق ذرا سنبھل بیٹھے۔ جوشؔ کو استاد ذوق بہت عزیز رکھتے ہیں۔ ان کی عمر اٹھارہ انیس سال کی ہے، مگر بلا کے طبّاع اور ذہین ہیں۔ ان کی سخن گوئی اور سخن فہمی کی قلعے بھر میں دھوم ہے، مگر مشاعرے میں انھوں نے جو غزل پڑھی وہ تو مجھے پسند نہ آئی، ہاں قلعے والوں نے واہ واہ کے شور سے مکان سر پر اٹھا لیا۔ استاد ذوقؔ نے بھی سبحان اللہ! سبحان اللہ! کہہ کر شاگرد کا دل بڑھایا۔ غزل دیکھ لیجیے، ممکن ہے کہ میں نے ہی غلط اندازہ لگایا ہو:\n\nکیوں کر وہ ہاتھ آئے کہ یاں زور و زر نہیں\n\nلے دے کے ایک آہ، سو اُس میں اثر نہیں\n\nقسمت سے درد بھی تو ہوا وہ ہمیں نصیب\n\nجس درد کا کہ چارہ نہیں، چارہ گر نہیں\n\nقسمت ہی میں نہیں ہے شہادت، وگرنہ یاں\n\nوہ زخم کون سا ہے کہ جو کارگر نہیں\n\nسجدے میں کیوں پڑا ہے، ارے اٹھ شراب پی\n\nاے جوشؔ مے کدہ ہے، خدا کا یہ گھر نہیں\n\nآپ نے غزل ملاحظہ کر لی۔ میں تو اب بھی یہی کہوں گا کہ کوئی شعر بھی ایسا نہیں جو تعریف کے قابل ہو۔ اب زبردستی کی تعریفیں کرنا دوسری بات ہے۔\n\nان کے بعد مولوی امام بخش صہبائی کے بڑے فرزند محمد عبد العزیز کا نمبر آیا۔ یہ عزیزؔ تخلص کرتے ہیں۔ غزل خوب کہتے ہیں۔ کیوں نہ ہو بڑے باپ کے بیٹے ہیں۔ ہائے کیا کیا شعر نکالے ہیں، لکھتے ہیں:\n\nجوں شمع شغل تیرے سراپا نیاز کا\n\nجلنا جو سوز کا ہے، تو رونا گداز کا\n\nکج فہمیوں سے خلق کی دیکھا کہ کیا ہوا\n\nمنصور کو حریف نہ ہونا تھا راز کا\n\nہم عاصیوں کا بارِ گنہ سے جھکا ہے سر\n\nاور خلق کو گمان ہے ہم پر نماز کا\n\nمغرور تھا ہی، اور وہ مغرور ہو گیا\n\nاِس میں گلہ نہیں مجھے آئینہ ساز کا\n\nاوروں کے ساتھ لطف سے تھا صورتِ نیاز\n\nیاں بڑھ گیا دماغ تغافل سے ناز کا\n\nذرا سچ کہیے گا ساری غزل مرصّع ہے یا نہیں؟ ہاں اس غزل کی جو کچھ تعریف ہوئی بجا ہوئی۔ استاد ذوقؔ نے بھی کہا: بھئی صہبائی! تمھارا یہ لڑکا غضب کا نکلا ہے، خدا اس کی عمر میں برکت دے، ایک دن بڑا نام پیدا کرے گا۔ واہ میاں صاحب زادے واہ! کیا کہنا ہے، دل خوش ہو گیا۔ کیوں نہ ہو، ایسوں کے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ میاں عزیزؔ نے اٹھ کر سلام کیا اور بیٹھ گئے۔\n\nمیاں عزیزؔ کے بعد شمع خواجہ معین الدین یکتاؔ کے سامنے آئی۔ اِن کا کیا کہنا۔ سرکار سے خطابِ خانی پایا ہے، کسی کو خاطر میں ہی نہیں لاتے۔ کبھی کسی کے شاگرد ہوتے ہیں، کبھی کسی کے۔ پہلے احسانؔ سے تلمذ تھا، آج کل مرزا غالب کی طرف ڈھلک گئے ہیں۔ ایسے متلون مزاجوں کو نہ کبھی کچھ کہنا آیا ہے، نہ آئے گا۔ میرا دل بڑا خوش ہوا کہ کسی نے تعریف نہیں کی۔ بڑے جلے ہوں گے۔ بھلا ایسے شعروں کی کوئی خاک تعریف کرتا:\n\nاے آہِ شعلہ زا! یہ خس و خار بھی نہیں\n\nنو آسماں ہیں، دو بھی نہیں، چار بھی نہیں\n\nہے کس کو تابِ شکوۂ دشمن کہ ضعف سے\n\nلب پر ہمارے تذکرۂ یار بھی نہیں\n\nجینا فراقِ یار میں وعدے کی لاگ پر\n\nآسان گر نہیں ہے تو دشوار بھی نہیں\n\nہاں اب جس کے سامنے شمع آئی ہے، وہ شاعر ہے۔ یہ کون ہیں؟ مرزا حاجی بیگ شہرتؔ۔ گورا رنگ، میانہ قد، کوئی ۳۰، ۳۲ برس کی عمر، بڑے بنے سنورے رہتے ہیں۔ پہلے انہی کے مکان پر مشاعرہ ہوتا تھا، اب تھوڑے دنوں سے بند ہے۔ مفتی صدر الدین صاحب کے شاگردِ رشید ہیں۔ کہتے بھی خوب ہیں اور پڑھتے بھی خوب ہیں۔ بڑی پاٹ دار آواز ہے۔ پڑھنے کا ڈھنگ ایسا ہے کہ ایک ایک لفظ دل میں اترتا جاتا ہے، ہر شعر پر تعریفیں ہوئیں اور کیوں نہ ہوتیں، ہر شعر تعریف کے قابل تھا۔ غزل یہ ہے:\n\nایک دن، دو دن، کہاں تک، تو بھی کچھ انصاف کر\n\nیہ تو جلنا روز کا اے سوزِ ہجراں ہو گیا\n\nہے ترقی جوہرِ قابل ہی کے شایاں کہ میں\n\nخاک کا پتلا بنا، پتلے سے انساں ہو گیا\n\nکفر و دیں میں تھا نہ کچھ عُقدہ بہ جز بندِ نقاب\n\nاُس کے کھلتے ہی یہ کارِ مشکل آساں ہو گیا\n\nپہلے دعوائے خدائی اُس بتِ کافر کو تھا\n\nکچھ درستی پر جو آج آیا تو انساں ہو گیا\n\nآخری شعر پر تو مرزا غالب کی یہ حالت تھی کہ گویا بالکل مست ہو گئے ہیں۔ رانوں پر ہاتھ مارتے اور کہتے: واہ میاں شہرتؔ واہ! کمال کر دیا! شعر کیا ہے، اعجاز ہے۔ یہ ایک شعر بڑے بڑے دیوانوں پر بھاری ہے، ہاں کیا کہا ہے سبحان اللہ!\n\nپہلے دعوائے خدائی اس بتِ کافر کو تھا\n\nکچھ درستی پر جو آج آیا تو انساں ہو گیا\n\nغرض اس شعر نے ایک عجیب کیفیت محفل میں پیدا کر دی تھی۔ لوگ خود پڑھتے، ایک دوسرے کو سناتے، مزے لے لے کر جھومتے اور جوش میں واہ واہ اور سبحان اللہ کے نعرے مارتے۔ بڑی دیر میں جا کر محفل میں ذرا سکون ہوا تو شمع نوازش حسین خاں تنویرؔ کے سامنے گئی۔ یہ جوان آدمی ہیں، کوئی بتیس تینتیس برس کے ہوں گے۔ بادشاہ سلامت ان کو بہت عزیز رکھتے ہیں۔ میاں شہرت کے شعر نے وہ جوش پیدا کر دیا تھا کہ ان کی غزل کسی نے بھی غور سے نہیں سنی۔ غزل بھی معمولی تھی، صرف یہ قطعہ خاصا تھا:\n\nجان کر دل میں مجھے اپنا مریضِ تپِ غم!\n\nکہتا لوگوں سے بظاہر بتِ عیّار ہے کیا\n\nرنگِ رخ زرد ہے، تر چشم ہے، لب پر دمِ سرد\n\nپوچھنا اِس سے کہ اس شخص کو آزار ہے کیا\n\nیہ پڑھ چکے تو شمع میر بہادر علی حزیںؔ کے سامنے رکھی گئی۔ یہ بڑے سنجیدہ، متین اور وضع دار آدمی ہیں۔ عارفؔ کے شاگرد ہیں، ان کا ایک شعر بڑے مزے کا ہے:\n\nسبو سے منہ لگائیں گے، اب اتنا صبر ہے کس کو\n\nکہ بھریے خم سے مے شیشے میں اور شیشے سے ساغر میں\n\nجو غزل انھوں نے اس روز مشاعرے میں پڑھی، اس کے یہ دو تین شعر اچھے تھے:\n\nدنیا کی وسعتیں ترے گوشے میں آ گئیں\n\nاللہ ری وسعتیں تری اے تنگنائے دل\n\nجل جل کے آخرش تپشِ غم کے ہاتھ سے\n\nاک داغ رہ گیا مرے پہلو میں، جائے دل\n\nدیکھا وہ اپنی آنکھ سے جو کچھ سنا نہ تھا\n\nاور دیکھیے حزیںؔ ابھی کیا کیا دکھائے دل\n\nمقطعے کو سب نے پسند کیا اور واقعی ہے بھی اچھا۔\n\nان کے بعد شمع ایسے شخص کے سامنے آئی جو خود شاعر، جس کا باپ شاعر، جس کا بھائی شاعر، جس کا سارا خاندان شاعر۔ وہ کون؟ میاں باقر علی جعفری۔ فخر الشعرا نظام الدین ممنونؔ کے چھوٹے بھائی۔ ملک الشعرا قمر الدین منتؔ کے چھوٹے بھائی۔ ان کی غزل میں زور نہ ہو گا تو اور کس کی غزل میں ہو گا۔ دو شعر سنیے، کہتے ہیں:\n\nتیغ یوں دل میں خیالِ نگہِ یار نہ کھینچ\n\nناخدا ترس! تو کعبے میں تو تلوار نہ کھینچ\n\nبے سر و پا چمن و دشت میں عالم کے نہ پھر\n\nنازِ ہر گل نہ اٹھا، منتِ ہر کار نہ کھینچ\n\nغزل کی جیسی تعریف چاہیے، ویسی تعریف نہیں ہوئی، وجہ یہ ہے کہ یہ رنگ اب دہلی سے اٹھتا جاتا ہے، اب تو روز مرہ پر لوگ جان دیتے ہیں، اُس میں اگر مضمون پیدا ہو گیا تو سبحان اللہ! مرزا غالب اس رنگ کے بڑے دلدادہ تھے، وہ بھی اب اس کو چھوڑتے جا رہے ہیں۔\n\nاس کے بعد منشی محمد علی تشنہؔ کے پڑھنے کی باری تھی۔ چوبدار اُن کے سامنے شمع رکھنے میں ذرا ہچکچایا۔ یہ ننگ دھڑنگ مزے میں دو زانو بیٹھے جھوم رہے تھے۔ چوبدار نے مرزا فخرو کی طرف دیکھا، انھوں نے آنکھ سے اشارہ کیا کہ رکھ دے۔ اس نے شمع رکھ دی۔ جب شمع کی روشنی آنکھوں پر پڑی تو میاں تشنہؔ نے بھی آنکھیں کھولیں۔ کچھ سمجھ کر پھونک مار شمع گل کر دی اور کہا: میں بھی کچھ عرض کروں۔ سب نے کہا: ضرور فرمائیے۔ انھوں نے نہایت آزادانہ لہجے میں کچھ گاتے ہوئے، کچھ پڑھتے ہوئے یہ غزل سنائی:\n\nآنکھ پڑتی ہے کہیں، پاؤں کہیں پڑتا ہے\n\nسب کی ہے تم کو خبر، اپنی خبر کچھ بھی نہیں\n\nشمع ہے، گل بھی ہے، بلبل بھی ہے، پروانہ بھی\n\nرات کی رات یہ سب کچھ ہے، سحر کچھ بھی نہیں\n\nحشر کی دھوم ہے، سب کہتے ہیں یوں ہے، یوں ہے\n\nفتنہ ہے اک تری ٹھوکر کا، مگر کچھ بھی نہیں\n\nنیستی کی ہے مجھے کوچۂ ہستی میں تلاش\n\nسیر کرتا ہوں اُدھر کی جدھر کچھ بھی نہیں\n\nایک آنسو بھی اثر جب نہ کرے اے تشنہ!\n\nفائدہ رونے سے اے دیدۂ تر کچھ بھی نہیں\n\nمیں کیا بتاؤں کہ اس غزل کا کیا اثر ہوا! ایک سناٹا تھا کہ زمین سے آسمان تک چھایا ہوا تھا۔ غزل کا مضمون، آدھی رات کی کیفیت، پڑھنے والے کی حالت، غرض یہ معلوم ہوتا تھا کہ ساری محفل کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ اِدھر یہ عالم طاری تھا، اُدھر میاں تشنہؔ ہاتھ جھٹکتے ہوئے اور ’’کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں‘‘ کہتے ہوئے اسی عالم بے خودی میں دروازے سے باہر نکل گئے۔ ان کی ’’کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں‘‘ کی آواز بڑی دیر تک کانوں میں گونجتی رہی۔ جب ذرا طبیعتیں سنبھلیں تو سب کے منہ سے بے اختیار یہی نکلا کہ ’’واقعی کچھ بھی نہیں۔‘‘\n\nمرزا فخرو نے شمع منگا کر روشن کی اور کہا: ہاں صاحب پھر سے شروع کیجیے۔ شمع حافظ محمد حسین بسملؔ کے سامنے رکھی گئی۔ بھلا تشنہؔ کے بعد ان کا کیا رنگ جمتا۔ اول تو یہ نو مشق ہیں، مرزا قادر بخش صابرؔ سے اصلاح لیتے ہیں۔ دوسرے غزل میں بھی کوئی خاص بات نہ تھی، البتہ مقطع اچھا تھا، غزل ملاحظہ ہو:\n\nدل تو نے ہم سے او بتِ کافر اٹھا لیا\n\nاس نازکی پہ بوجھ یہ کیوں کر اٹھا لیا\n\nبارِ گرانِ عشق فلک سے نہ اٹھ سکا\n\nکیا جانے میرے دل نے یہ کیوں کر اٹھا لیا\n\nپیر مُغاں نے بسملِؔ مے کش کو دیکھ کر\n\nشیشہ بغل میں، ہاتھ میں ساغر اٹھا لیا\n\nبہر حال کسی نے سنا کسی نے نہیں سنا، کچھ تھوڑی بہت تعریف بھی ہوئی اور شمع میر حسین تسکینؔ کے پاس پہنچ گئی۔ ان کی کوئی چالیس برس کی عمر ہو گی۔ صہبائی کے شاگرد ہیں، مومن سے بھی اصلاح لی ہے۔ اِن کا خاندان دہلی میں بہت مشہور ہے۔ انہی کے دادا میر حیدر نے میر حسین علی وزیرِ فرخ سیر کو مارا تھا۔ سپاہی پیشہ آدمی ہیں۔ شعر بھی برا نہیں کہتے، لکھا تھا:\n\nہزار طرح سے کرنی پڑی تسلّیِ دل\n\nکسی کے جانے سے گو خود نہیں قرار مجھے\n\nشبِ وصال میں سننا پڑا فسانۂ غیر\n\nسمجھتے کاش نہ اپنا وہ راز دار مجھے\n\nوہ اپنے وعدے پہ محشر میں جلوہ فرما ہیں\n\nنہیں ہے ضعف سے انبوہ میں گزار مجھے\n\nمرے قصور سے دیدار میں ہوئی تاخیر\n\nنہ دیکھنا تھا تماشائے روزگار مجھے\n\nمزے یہ دیکھے ہیں آغازِ عشق میں تسکیںؔ\n\nکہ سوجھتا نہیں اپنا مآلِ کار مجھے\n\nغرض اس غزل نے مشاعرے کا رنگ پھر درست کر دیا اور لوگ ذرا سنبھل کر ہو بیٹھے۔ استاد احسانؔ کے شاگرد خواجہ غلام حسین بیدلؔ کے سامنے شمع آئی، انھوں نے یہ غزل پڑھی:\n\nنگہ کی، چشم کی، زلفِ دوتا کی\n\nسہے اک دل جفا کس کس بلا کی\n\nکب اس گُل کی گلی تک جا سکے ہے\n\nہوا باندھی ہے یاروں نے ہوا کی\n\nبتوں سے ملتے ہو راتوں کو بیدلؔ\n\nتمھیں بھی دن لگے، قدرت خدا کی\n\nساری کی ساری غزل پھس پھسی تھی، بھلا اس کی کون تعریف کرتا۔ ہاں اس کے بعد جو غزل محمد حسین صاحب تائبؔ نے پڑھی، اس میں مزہ آ گیا۔ تائبؔ مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کے بھتیجے ہیں اور فخر الشعرا نظام الدین ممنونؔ کے شاگرد۔ چھوٹی بحر میں ایسی غزل لکھتے ہیں کہ سبحان اللہ اور پڑھنا تو ایسا ہے کہ تعریف نہیں ہو سکتی۔ غزل تھی:\n\nپھر کتاں وار جگر چاک ہوا\n\nپھر کوئی ماہ لقا یاد آیا\n\nکہیے اُس بت کو مشابہ کس کے\n\nدیکھ کر جس کو خدا یاد آیا\n\nعہدِ پیری میں جوانی کی امنگ\n\nآہ کس وقت میں کیا یاد آیا\n\nدوسرے اور تیسرے شعر پر تو یہ حال تھا کہ لوگ تعریفیں کرتے کرتے اور میاں تائبؔ سلام کرتے کرتے تھکے جاتے تھے۔ جب ذرا جوش کم ہوا تو شمع استاد ذوق کے استاد غلام رسول شوقؔ کے سامنے آئی۔ بچارے بڈھے آدمی ہیں، شاہ نصیر کے شاگرد ہیں۔ مسجد عزیز آبادی میں امامت کرتے ہیں۔ شروع شروع میں استاد ذوق نے اِن کو اپنا کلام دکھایا تھا، اسی برتے پر یہ اپنے آپ کو ان کا استاد کہا کرتے ہیں اور اب بھی چاہتے ہیں کہ ذوق اسی طرح آ کر مجھ سے اصلاح لیا کریں۔ مجھے تو کچھ سٹھیائے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ غزل جو پڑھی تو واقعی اس کا مطلع بڑے زور کا تھا، باقی اللہ اللہ خیر سلّا:\n\nلکھا ہوا ہے یہ اُس مہ جبیں کے پردے پر\n\nنہیں ہے کوئی اب ایسا زمیں کے پردے پر\n\nاستاد ذوق کے چھیڑنے کو غالبؔ، مومنؔ، آزردہؔ، صہبائی، غرض جتنے استادانِ فن تھے، سب نے میاں شوقؔ کی بڑی واہ واہ کی۔ وہ سمجھے میرے کلام کی تعریف ہو رہی ہے، یہ نہ سمجھے کہ بنا رہے ہیں۔ ذرا کسی نے واہ واہ کی اور انھوں نے استاد ذوق کی طرف دیکھ کر کہا: دیکھا! شعر یوں کہتے ہیں۔ وہ بے چارے ہنس کر خاموش ہو جاتے۔ ان کے ایک آدھ شاگرد نے جواب دینا بھی چاہا مگر انھوں نے روک دیا۔\n\nخدا خدا کر کے ان سے فراغت ہوئی تو شمع آزادؔ کے سامنے آئی۔ ان کا نام الیگزینڈر ہیڈلے ہے۔ قوم کے فرانسیسی ہیں۔ دہلی میں پیدا ہوئے، یہیں تربیت پائی اور یہیں سے توپ خانے کے کپتان ہو کر الور گئے۔ کوئی اکیس سال کی عمر ہے۔ ڈاکٹری بھی جانتے ہیں، شعر و سخن کا بہت شوق ہے، عارفؔ کے شاگرد ہیں۔ جہاں مشاعرے کی خبر سنی اور دہلی میں آ موجود ہوئے۔ لباس تو وہی فوجی ہے، مگر بات چیت اردو میں کرتے ہیں۔ ایسی صاف اردو بولتے ہیں جیسے کوئی دہلی والا بول رہا ہے۔ شعر بھی کچھ برے نہیں ہوتے۔ ایک فرانسیسی کا اردو میں ایسے شعر کہنا واقعی کمال ہے۔\n\nغزل ملاحظہ ہو:\n\nوہ گرم روِ راہِ معاصی ہوں جہاں میں\n\nگرمی سے رہا نام نہ دامن میں تَری کا\n\nکچھ پاؤں میں طاقت ہو تو کرو دشت نَوَردی\n\nہاتھوں سے مزہ دیکھ ذرا جیب دری کا\n\nچہلم کو عیادت کے لیے وہ مری آئے\n\nآزادؔ! ٹھکانا بھی ہے اس بے خبری کا\n\nآزادؔ کے بعد شمع دوسری طرف میر شجاعت علی تسلّی کے پاس آئی۔ بچارے غریب صورت، فرسودہ لباس، کوئی چونسٹھ پینسٹھ برس کے آدمی ہیں، شاہ نصیر کے بڑے چاہیتے شاگردوں میں تھے۔ اپنے زمانے کے جراتؔ سمجھے جاتے تھے۔ اب بہت دنوں سے دنیا سے کنارہ کشی کر کے قدم شریف میں جا رہے ہیں۔ مشاعرے کی کشش کبھی کبھی ان کو دہلی کھینچ لاتی ہے۔ پڑھنے کا انداز بھی نرالا ہے۔ اس طرح پڑھتے ہیں جیسے کوئی باتیں کر رہا ہو۔ غزل دیکھ لیجیے، یہ معلوم ہوتا ہے کہ عاشق و معشوق میں سوال و جواب ہو رہے ہیں:\n\nکیسی ٹھوکر جڑی ہے حضرتِ دل\n\nپاؤں پر اس کے سر دھرو تو سہی\n\nجب کہا میں نے، تم پہ مرتا ہوں\n\nتم گلے سے مرے لگو تو سہی\n\nبولے وہ، کیا مزے کی باتیں ہیں\n\nخیر ہے کچھ، پرے ہٹو تو سہی\n\nغیر کی کل وہ لگ کے چھاتی سے\n\nمجھ سے کہنے لگے، سنو تو سہی\n\nاس لیے اس کے ہم گلے سے لگے\n\nکہ ذرا جی میں تم جلو تو سہی\n\nاس غزل کی جیسی تعریف ہونی چاہیے تھی، ویسی نہیں ہوئی، کیوں کہ اب وہ وقت آ گیا تھا کہ نیند کے خمار سے سر میں چکر آنے لگے تھے اور برے بھلے کی تمیز دشوار ہو گئی تھی۔ اس کے بعد جو دو ایک غزلیں ہوئیں وہ بس ہو گئیں، نہ کسی نے شوق سے سنا اور نہ مزہ آیا۔\n\nمیاں تسلیؔ کے بعد شورؔ نے غزل پڑھی۔ یہ کوئل کے رہنے والے ہیں۔ قوم کے عیسائی ہیں اور نام جارج پیس ہے، یہ معلوم نہیں کس کے شاگرد ہیں۔ ہاں اکثر دہلی آتے جاتے رہتے ہیں۔ جو کچھ کہہ لیتے ہیں، بہت غنیمت ہے:\n\nعاجز تھا اپنی جان سے ایسا ترا مریض\n\nدیکھے سے جس کے حالتِ عیسی تباہ تھی\n\nبل بے یہ بے خودی کہ خودی سے بھلا دیا\n\nورنہ یہ زیست، مرگ کی اپنی گواہ تھی\n\nدیر و حرم میں تو نہ دے ترجیح زاہدا\n\nجس سمت سر جھکا، وہی بس سجدہ گاہ تھی\n\nان کے بعد محمد عسکری نالاں کی باری آئی۔ بھلا اس نوے برس کے بڈھے کی آواز نیند کے خمار میں کسی کو کیا سنائی دیتی۔ مصحفی کے سب سے پہلے شاگرد ہیں۔ اب تو ان کو بس تبرک سمجھ لو۔ شعر بھی وہی باوا آدم کے وقت کے کہتے ہیں:\n\nسحر کے ہونے کا دل کو خیال رہتا ہے\n\nشبِ وصال بھی دل کو ملال رہتا ہے\n\nوہ بد گماں ہوں کہ اُس بت کے سایے پر بھی مجھے\n\nرقیب ہی کا سدا احتمال رہتا ہے\n\nمیاں نالاںؔ نے پڑھنا ختم ہی کیا تھا کہ شمع میر صاحب کے سامنے پہنچ گئی۔ شمع کا رکھنا تھا کہ ہر شخص سنبھل کر بیٹھ گیا۔ بعض نے انگلیوں سے آنکھیں مل ڈالیں، بعض نے کرتے کے دامن سے رگڑیں۔ بعض اٹھ اور پانی کا چھپکا منہ پر مار آ بیٹھے۔ کیسی نیند اور کہاں کا سونا۔ میرؔ صاحب کے نام نے سب کو چاق چوبند کر دیا۔ مرزا فخرو اب تک ایک پہلو پر بیٹھے تھے، انھوں نے بھی پہلو بدلا۔ استادانِ فن کے چہروں پر مسکراہٹ آئی، نوجوانوں میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ میر صاحب بھی صف سے کچھ آگے نکل آئے۔ مرزا فخرو نے کہا: میر صاحب! یہ ٹھیک نہیں۔ آپ تو بیچ میں آ کر پڑھیے، یہ کہہ کر چوبدار کو اشارہ کیا، اس نے دونوں شمعیں اٹھا کر وسطِ صحن میں رکھ دیں۔ میرؔ صاحب بھی اپنی جگہ سے اٹھ، شامیانے کے عین سامنے آ بیٹھے۔ بھلا دہلی میں کون ہے جو میر صاحب کو نہیں جانتا۔ کون سا مشاعرہ ہے جو ان کی وجہ سے چمک نہیں اٹھتا۔ کون سی محفل ہے، جہاں ان کے قدم کی برکت سے رونق نہیں آ جاتی۔ ان کا نام تو شاید گنتی کے چند لوگ جانتے ہوں، ہم نے جب سنا ان کا نام میر صاحب ہی سنا۔ کوئی ستر برس کی عمر ہے، بڑے سوکھے سہمے آدمی ہیں، غلافی آنکھیں، توتے کی چونچ جیسی ناک، بڑا دہانہ، لمبی ڈاڑھی، بٹیا سا سر، خشخاشی بال، گوری رنگت، اونچا قد۔ غرض ان کے حلیے کو دہلی کے کسی بچے سے بھی پوچھیے تو پورا پورا بتا دے، نہایت صاف ستھرا لباس، سفید ایک بر کا پیجامہ، سفید کرتا، اس پر سفید انگرکھا۔ سر پر ارخ چیں (عرق چیں) ٹوپی، چہرے پر متانت بلا کی تھی، مگر جب غصہ آتا تھا تو پھر کسی کے سنبھالے نہ سنبھلتے تھے۔ چھوٹا ہو یا بڑا، کوئی ان سے بغیر مذاق بات نہیں کرتا تھا اور یہ بھی تڑ سے وہ جواب دیتے تھے کہ منہ پھر جائے۔ اِس سے ان کو غرض نہ تھی کہ جواب ہو بھی گیا یا نہیں۔ مشاعرے میں میاں تمکینؔ سے لے کر بادشاہ سلامت تک اِن کو چھیڑتے تھے۔ انھوں نے نہ اِن کا برا مانا نہ اُن کا۔ جواب دینے میں نہ اِن سے رکے نہ اُن سے۔ غزل ہمیشہ فی البدیہہ پڑھتے تھے۔ لکھ کر لانے کی کبھی تکلیف گوارا نہ کی۔ غزل میں مصرعوں کے توازن کی ضرورت ہی نہ تھی، صرف قافیے اور ردیف سے کام تھا۔ جو کچھ کہنا ہوا، نہایت اطمینان سے نثر میں بیان کرنا شروع کیا۔ بیچ میں دوسروں کے اعتراضوں کا جواب بھی دیتے رہے۔ جب کہتے کہتے تھک گئے تو ردیف اور قافیہ لا، شعر کو ختم کر دیا۔ انھوں نے شعر پڑھنا شروع کیا اور چاروں طرف سے اعتراضوں کی بوچھاڑ ہو گئی۔ یہ بھلا کب دبنے والی آسامی ہیں، چو مکھا لڑتے۔ جب زبان سے نہ دبا سکتے تو زور میں آ کر کھڑے ہو جاتے۔ یہ کھڑے ہوئے اور کسی نہ کسی نے ان کو بٹھا دیا، معترض کو ڈانٹا، میر صاحب کا دل بڑھایا اور پھر وہی اعتراضوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور تو اور مولوی مملوک العلی صاحب کو ان سے الجھنے میں مزہ آتا تھا۔ یہ بھی مولوی صاحب کی وہ خبر لیتے تھے کہ اگر ان کا کوئی شاگرد سن لیتا تو مدرسے سے مولوی صاحب کا سارا رعب داب رخصت ہو جاتا۔\n\nمیر صاحب نے شمع کے سامنے بیٹھتے ہی ساری محفل پر ایک نظر ڈالی اور کہا: حضرات! آج میں یہاں ہدہد کی شان میں ایک قصیدہ سناؤں گا، اپنے منہ میاں مٹھو یہ اپنی تعریف خود تو بہت کر چکے ہیں اب ذرا دل لگا کر اپنی ہجو بھی سن لیں۔ میاں ہدہد سے سب جلے بیٹھے تھے، اب جو سنا کہ ان کی ہجو ہو رہی ہے اور پھر وہ بھی میر صاحب کے منہ سے، سب نے کہا: ہاں میر صاحب ضرور فرمائیے۔ میاں ہدہد، حکیم آغا جان عیشؔ کے پٹھو تھے اور انہی کے بل پر پھدکتے تھے۔ اب جو حکیم صاحب نے سنا کہ میر صاحب ہدہد کی ہجو پر اتر آئے ہیں، تو بہت پریشان ہوئے۔ ڈر تھا کہ کہیں مجھ کو بھی نہ لپیٹ لیں۔ دوسرا کوئی ہجو کرے تو جواب بھی دیا جائے۔ بھلا میر صاحب کی بحرِ طویل کا کون جواب دے سکتا ہے۔ اور تو کچھ بن نہ پڑا، میاں ہدہد کو گاؤ تکیے کے پیچھے غائب کر دیا۔ اب جو میر صاحب ادھر نظر ڈالتے ہیں تو ہدہد ندارد ہیں۔ بہت گھبرائے، ادھر دیکھا ادھر دیکھا، جب کسی طرف نظر نہ آئے تو کہا: ہجو ملتوی کر کے اب میں غزل پڑھتا ہوں۔ سب نے کہا: ہیں میر صاحب! یہ آپ نے ارادہ کیوں تبدیل فرما دیا، پڑھیے میر صاحب، خدا کے لیے پڑھیے، سوداؔ کے بعد ہجو تو اردو زبان سے اٹھ ہی گئی۔ اگر آپ بھی اس طرف توجہ نہ کریں تو غضب ہو جائے گا، زبان ادھوری رہ جائے گی۔ میر صاحب نے کہا: نا بھئی، میاں ہدہد ہوتے تو ہم کو جو کہنا تھا، ان کے منہ پر کہتے۔ ان کے پیٹھ پیچھے ان کو کچھ کہنا ہجو نہیں، غیبت ہے اور میں غیبت کرنے والوں پر لعنت بھیجتا ہوں۔ جب میر صاحب کا یہ رنگ دیکھا تو حکیم آغا جان کے دم میں دم آیا۔ انھوں نے بھی اس ہجو اور غیبت کے بارے میں چند مناسب الفاظ کہے اور خدا خدا کر کے یہ آئی بلا ٹلی۔\n\nاب میر صاحب نے غزل شروع کی۔ کیا پڑھا، خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ بس اتنا تو معلوم ہوا کہ تیر، پیر، کھیر قافیہ، اور ’’ہے‘‘ ردیف ہے۔ اس کے علاوہ میں تو کیا خود میر صاحب بھی نہیں بتا سکتے کہ انھوں نے کیا پڑھا اور مضمون کیا تھا۔ جہاں قافیہ اور ردیف آئی لوگوں نے سمجھ لیا کہ شعر پورا ہو گیا اور تعریفیں شروع ہوئیں۔ کسی نے ایک آدھ اعتراض بھی جڑ دیا۔ اعتراض ہوا اور میر صاحب بگڑے۔ ان کے بگڑنے میں سب کو مزہ آتا تھا۔ اعتراضوں اور میر صاحب کے جوابوں کا رنگ بھی دیکھ لیجیے۔ غزل میں میر صاحب نے جو ایک مصرعے کو کھینچنا شروع کیا تو اتنا کھینچا کہ شیطان کی آنت ہو گیا۔ مولوی مملوک العلی صاحب نے کہا: اجی میر صاحب! یہ مصرع بحر طویل میں جا پڑا۔ میر صاحب نے کہا: مولوی صاحب! کبھی بحر طویل دیکھی بھی ہے یا یوں ہی سنی سنائی باتوں پر اعتراض ٹھونک دیا۔ پہلے مُطَوَّل پڑھیے مطول، جب معلوم ہو گا کہ بحرِ طویل کس کو کہتے ہیں۔ مولوی صاحب بڑے چکرائے، کہنے لگے: میر صاحب! بھلا مطول کو بحر طویل سے کیا واسطہ؟ ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ۔ آپ کا جو جی چاہتا ہے کہہ جاتے ہیں۔ میر صاحب کو اب کسی حمایتی کی تلاش ہوئی، مولانا صہبائی کی طرف دیکھا۔ انھوں نے کہا کہ مولوی صاحب! مطول میں بحر طویل کی بحریں نہیں ہیں تو اور کیا ہے؟ آپ بھی ہمارے میر صاحب کو اپنی علمیت کے دباؤ سے خاموش کر دینا چاہتے ہیں۔ بس اتنی مدد ملنی تھی کہ میر صاحب شیر ہو گئے، کہنے لگے: جی ہاں مولوی صاحب! آپ سمجھتے ہوں گے کہ آپ کے سوا کسی نے مطول پڑھی ہی نہیں۔ اجی حضرت! میں تو روزانہ اس کے دو دور کرتا ہوں۔ کل ہی اس کی ایک بحر میں غزل لکھنے بیٹھا تھا، لکھتے لکھتے تھک گیا۔ ایک مصرع کوئی پونے دو سو صفحے میں لکھا۔ وہ تو کہو کہ بیاض کے صفحے ہی ختم ہو گئے جو مصرع ختم ہوا، ورنہ خدا معلوم اور کہاں تک جاتا۔ مرزا نوشہ نے کہا: میر صاحب! آپ سچ فرماتے ہیں۔ ہمارے مولوی صاحب نے بحر طویل کہاں دیکھی، مجھ سے پوچھو، میرے بھتیجے خواجہ امان کو جانتے ہو؟ اس نے ایک کتاب بوستانِ خیال لکھی ہے۔ یہ یہ بڑی اور یہ موٹی بارہ جلدیں ہیں، بحر طویل کے بس بارہ مصرعوں میں ساری جلدیں ختم ہو گئی ہیں۔ آپ کا مصرع بحر طویل میں نہیں، رباعی کی بحر میں ہے۔ میر صاحب نے بڑے زور سے ’’ہیں‘‘ کی اور بگڑ کر کہا: واہ مرزا صاحب! سیدھے چلتے چلتے آپ بھی بھٹک گئے۔ رباعی کی بحریں آپ کو معلوم بھی ہیں؟ بھلا بتائیے تو سہی کون سی کتاب میں ہیں؟ یہ ذرا ٹیڑھا سوال تھا۔ مرزا غالب ذرا چپ ہوئے تو خود میر صاحب نے کہا: میں تو پہلے ہی جانتا تھا کہ آپ نے زبردستی اعتراض کر دیا ہے۔ مرزا صاحب! اربعین پڑھیے جب معلوم ہو گا کہ رباعی کی بحریں کون کون سی ہیں۔\n\nغرض اسی خوش مذاقی میں کوئی گھنٹہ بھر گزر گیا۔ ہنستے ہنستے جو آنسو نکلے، انھوں نے نیند کے خمار سے آنکھیں صاف کر دیں اور ایسا معلوم ہونے لگا گویا مشاعرے کا دوسرا دور شروع ہو رہا ہے اور سب لوگ تازہ دم ابھی آ کر بیٹھے ہیں۔ جب لوگ اعتراض کرتے کرتے اور میر صاحب جواب دیتے دیتے تھک گئے، تو ایک دفعہ ہی میر صاحب نے کہا: حضرات! غزل ختم ہوئی۔ سب نے کہا: میر صاحب! ابھی مقطع تو آیا ہی نہیں، بے مقطعے کی یہ کیسی غزل؟ میر صاحب نے فرمایا: مقطعے کی اس شاعر کو ضرورت ہے جو بتانا چاہے کہ یہ غزل میری ہے، ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ ہماری غزل کی یہی پہچان ہے، جہاں شروع کی، بس معلوم ہو گیا کہ یہ میر صاحب کے سوا اور کسی کی نہیں ہو سکتی۔ یہ کہتے کہتے انھوں نے جزدان گردانا اور اپنی جگہ آ بیٹھے۔\n\nایک شمع اٹھا کر میر صاحب کے عین مقابل کے شاعر مرزا جمعیت شاہ ماہرؔ کے سامنے رکھ دی گئی۔ یہ شاہ عالم بادشاہ غازی انارَ اللہ برہانَہ کے پوتے اور صابرؔ کے شاگرد ہیں۔ کلام صاف اور زبان بڑی میٹھی ہے۔ لکھا تھا:\n\nہم بھی ضرور کعبے کو چلتے، پر اب تو شیخ\n\nقسمت سے بت کدے ہی میں دیدار ہو گیا\n\nناصح کی بات سننے کا کس کو یہاں دماغ\n\nتیرا ہی ذکر تھا کہ میں ناچار ہو گیا\n\nاے ہم نشیں! وہ حضرتِ ماہرؔ نہ ہوں کہیں\n\nاک پارسا سنا ہے کہ مے خوار ہو گیا\n\nمیر صاحب کے کلام نے سب کی آنکھوں سے نیند کا خمار اتار دیا تھا، اس لیے اس غزل کی جیسی چاہیے ویسی تعریف ہوئی اور میاں ماہرؔ کو محنت کا پورا پورا صلہ مل گیا۔\n\nاُن کے بعد شمع قاضی نجم الدین برقؔ کے سامنے آئی۔ یہ سکندرآباد کے رہنے والے ہیں۔ کوئی بیس بائیس برس کی عمر ہے۔ سر پر لمبے لمبے بال، سانولی رنگت، اس میں سبزی جھلکتی ہوئی، اونچا قد، وجیہہ صورت، سفید غرارے دار پیجامہ، سفید انگرکھا، دو پلڑی ٹوپی، بڑے خوش مزاج، شیریں کلام، ہنس مکھ، بذلہ سنج، وارستہ مزاج، رند مشرب آدمی ہیں۔ پہلے مومنؔ خاں کے شاگرد تھے، پھر ان کے ایما سے میاں تسکین کو کلام دکھانے لگے۔ آواز بڑی دل کش اور طرزِ ادا خوب ہے۔ غزل بھی ایسی پڑھی کہ واہ واہ! کہتے ہیں:\n\nبزمِ اغیار ہے، ڈر ہے نہ خفا تو ہو جائے\n\nورنہ اک آہ میں کھینچوں تو ابھی ہو ہو جائے\n\nحرم و دیر کے جھگڑے ترے چھپنے سے پڑے\n\nورنہ تو پردہ اٹھا دے، تو تو ہی تو ہو جائے\n\nکچھ مزہ ہے یہ ترے روٹھ کے مَن جانے کا\n\nچاہتا ہوں یوں ہی ہر روز خفا تو ہو جائے\n\nتو تو جس خاک کو چاہے، وہ بنے بندۂ پاک\n\nمیں خدا کس کو بناؤں، جو خفا تو ہو جائے\n\nآپ انکار کریں، وصل سے میں در گزرا\n\nکچھ تو ہو جس سے طبیعت مری یکسو ہو جائے\n\nہو نہ ہو بس میں کوئی، کچھ نہیں اس کی پروا\n\nدلِ بے تاب پہ اے برقؔ! جو قابو ہو جائے\n\nاللہ اللہ! در و دیوار سے بے خودی برس رہی تھی۔ جب یہ مصرع پڑھا کہ:\n\nمیں خدا کس کو بناؤں، جو خفا تو ہو جائے\n\nتو ساری محفل پر ایک مستی سی چھا گئی۔ اور تو اور، استادانِ فن کی بھی یہ حالت تھی کہ بار بار شعر پڑھواتے، خود پڑھتے اور مزے لیتے تھے۔\n\nابھی ان کی تعریفیں ختم نہ ہوئی تھیں کہ شمع مرزا منجھلے المتخلص بہ فسوںؔ کے سامنے رکھی گئی۔ یہ نوجوان آدمی ہیں۔ مرزا کریم بخش مرحوم کے فرزند اور حضرت ظل سبحانی کے نواسے ہیں۔ ان کا کیا کہنا، زبان تو ان کے گھر کی لونڈی ہے، گا کر غزل پڑھتے ہیں۔ پڑھتے کیا ہیں، جادو کرتے ہیں۔ ان کی غزل کے دو شعر لکھتا ہوں:\n\nاللہ رے جذبۂ دلِ مضطر، کہ تیر کا\n\nباہر ہمارے پہلو کے سوفار بھی نہیں\n\nکچھ آپی آپ دل یہ مرا بیٹھا جائے ہے\n\nظاہر میں تو الٰہی میں بیمار بھی نہیں\n\nدوسرے شعر میں الفاظ کیا بٹھائے ہیں، نگینے جڑ دیے ہیں۔ آخر کیوں نہ ہو، قلعے کے رہنے والے ہیں۔\n\nان کے بعد سیدھی جانب سے شمع سرک کر لالہ بالمکند حضورؔ کے سامنے آئی۔ یہ ذات کے کھتری اور خواجہ میر دردؔ کے شاگرد ہیں۔ کوئی ستر اسی برس کا سِن ہے۔ سفید نورانی چہرہ، اس پر سفید لباس، بغل میں انگوچھا، کندھوں پر سفید کشمیری رومال۔ بس جی چاہتا تھا کہ اِن کو دیکھے ہی جائیے۔ شمع سامنے آئی تو انھوں نے عذر کیا کہ میں اب سنانے کے قابل نہیں رہا، سننے کے قابل رہ گیا ہوں۔ جب سبھوں نے اصرار کیا تو انھوں نے یہ قطعہ پڑھا:\n\nنہ پاؤں میں جنبش، نہ ہاتھوں میں طاقت\n\nجو اٹھ کھینچیں دامن ہم اس دل ربا کا\n\nسرِ راہ بیٹھے ہیں اور یہ صدا ہے\n\nکہ اللہ والی ہے بے دست و پا کا\n\nقطعہ اس طرح پڑھا کہ خود تصویر ہو گئے۔ ’’نہ پاؤں میں جنبش‘‘ کہتے ہوئے اٹھے مگر پاؤں نے یاری نہ کی، لڑکھڑا کر بیٹھ گئے۔ ’’نہ ہاتھوں میں طاقت‘‘ کہہ کر ہاتھ اٹھائے، مگر ضعف سے وہ بھی کچھ یوں ہی اٹھ کر رہ گئے۔ دوسرا مصرع ذرا تیز پڑھا۔ تیسرا مصرع پڑھتے وقت اس طرح بیٹھ گئے جیسے کوئی بے دست و پا سرِ راہ بیٹھ کر صدا لگاتا ہے اور ایک دفعہ ہی دونوں آنکھوں کو آسمان کی طرف اٹھا کر جو چوتھا مصرع پڑھا تو یہ معلوم ہوتا تھا گویا ساری مجلس پر جادو کر دیا۔ ہر ایک کے منہ سے تعریف کے بجائے بے ساختہ یہی نکل گیا:\n\nکہ اللہ والی ہے بے دست و پا کا\n\nاستاد ذوق نے کہا: یہ خدا کی دین اور خواجہ میر درد کا فیض ہے۔ سبحان اللہ! کیا مؤثر کلام ہے۔ ہم دنیا داروں میں یہ اثر پیدا ہونے کے لیے میر درد ہی جیسا استاد چاہیے۔\n\nاس کلام کے بعد مرزا غلام محی الدین اشکیؔ کی غزل بھلا کون سنتا۔ یہ شاہ عالم بادشاہ غازی کے پوتے ہیں۔ کوئی چالیس سال کی عمر ہے، اونچا قد، سفید پوش، ثقہ صورت آدمی ہیں۔ لکھا تھا:\n\nکچھ وجد نہیں نغمۂ مطرب ہی پہ موقوف\n\nکافی ہے یہاں نالۂ بے ربط درا کا\n\nسجدے میں گرے دیکھ کے تصویرِ بت اشکیؔ\n\nمعلوم ہوا، آپ کا خرقہ تھا ریا کا\n\nان کے بعد شمع صاحبزادہ عباس علی خاں بیتابؔ کے سامنے آئی۔ تیس بتیس برس کا سِن ہو گا۔ رامپور کے رہنے والے اور مومن خاں کے شاگرد ہیں۔ نواب مصطفی خاں شیفتہؔ سے بڑی دوستی ہے، انہی کے ساتھ مشاعرے میں آ گئے تھے۔ بڑی اونچی آواز میں غزل پڑھی، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تحت اللفظ پڑھ رہے ہیں۔ غزل تو کچھ اچھی نہ تھی مگر قطعہ ایسا تھا کہ تعریف نہیں ہو سکتی۔ مے خانے کی تقسیم ایسی خوبی سے کی تھی کہ سبحان اللہ! ہائے لکھا ہے:\n\nمعمور ہے خدا کی عنایت سے مے کدہ\n\nساقی اگر نہیں ہے، نہ ہو، مے سے کام ہے\n\nبیتابؔ پی، خدا نے تجھے بھی دیے ہیں ہاتھ\n\nیہ خم ہے، یہ سبو ہے، یہ شیشہ، یہ جام ہے\n\nبھلا ایسے بڑے مشاعرے میں مرزا فخر الدین حشمت کو پڑھنا کیا ضرور تھا۔ نہ کلام ہی اچھا، نہ پڑھنے کی طرز ہی اچھی، مگر اُن کو روک کون سکتا تھا۔ شہزادے تھے اور وہ بھی شاہ عالم بادشاہ کے پوتے، خیر پڑھ لیا اور بھائی بندوں نے تعریفیں بھی کر دیں۔ خوش ہو گئے۔ غزل یہ تھی:\n\nترے بیمارِ ہجراں کا ترے بن\n\nیہ عالم ہے کہ عالم نوحہ گر ہے\n\nمجھے روتے جو دیکھا، ہنس کے بولے\n\nمرے حشمتؔ! بتا کیوں چشم تر ہے\n\nہاں ان کے بعد جس کے سامنے شمع آئی، وہ نوجوان سہی، مگر شاعر ہے اور ایسا شاعر ہو گا کہ ہندوستان بھر میں نام کرے گا۔ بھلا کون سا مشاعرہ ہے جس میں قربان علی بیگ سالک کی غزل شوق سے نہیں سنی جاتی اور کون سا شعر ہوتا ہے جو بار بار نہیں پڑھوایا جاتا۔ جو ایک دفعہ بھی کسی مشاعرے میں گیا ہے، وہ ان کو دور سے پہچان لے گا۔ چھوٹا سا قد، دبلے پتلے ہاتھ پاؤں، موٹی سی ناک، چھوٹی چھوٹی آنکھیں، موٹی جلد، گندمی رنگ، اس پر چیچک کے داغ، چھدری چھدری چھوٹی سی ڈاڑھی، کلوں پر کم، ٹھوڑی پر زیادہ، سر پر خشخاشی بال، کوئی تیس سال کی عمر۔ بس بخارا کے ترک معلوم ہوتے ہیں، ہاں لباس ان لوگوں سے مختلف ہے۔ نیچی چولی کا انگرکھا، تنگ مہری کا پیجامہ، سر پر سفید گول ٹوپی، ہاتھ میں سفید لٹھے کا رومال۔ شمع کا ان کے سامنے آنا تھا کہ سب سنبھل کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے بھی انگرکھے کی آستین الٹ، ٹوپی کو اچھی طرح جما، اپنے استاد مرزا غالب کی طرف دیکھا۔ ادھر سے مسکرا کر کچھ اشارہ ہوا تو انھوں نے صاحبِ عالم کی طرف دیکھ کر عرض کی: اجازت ہے؟ مرزا فخرو نے کہا: میاں سالکؔ! پڑھو، آخر اس اجازت کی ضرورت ہی کیا ہے۔ سالکؔ نے جیب میں سے کاغذ نکالا، کچھ الٹا پلٹا، پھر ایک بار سنبھل کر کہا: عرض کیا ہے:\n\nانتہا صبر آزمائی کی\n\nہے درازی شبِ جدائی کی\n\nہے برائی نصیب کی کہ مجھے\n\nتم سے امید ہے بھلائی کی\n\nنقش ہے سنگِ آستاں پہ ترے\n\nداستاں اپنی جبہ سائی کی\n\nہے فغاں بعد امتحانِ فغاں\n\nپھر شکایت ہے نارسائی کی\n\nکیا نہ کرتا وصال شادی مرگ\n\nتم نے کیوں مجھ سے بے وفائی کی\n\nراز کھلتے گئے مرے سب پر\n\nجس قدر اس نے خود نمائی کی\n\nکتنے عاجز ہیں ہم کہ پاتے ہیں\n\nبندے بندے میں بو خدائی کی\n\nرہ گئیں دل میں حسرتیں سالکؔ!\n\nآ گئی عمر پارسائی کی\n\nایک ایک شعر پر یہ عالم تھا کہ مجلس لوٹی جاتی تھی، ایک ایک شعر کئی کئی بار پڑھوایا جاتا تھا، ایک ایک لفظ پر تعریفیں ہوتیں اور ایک ایک بندش کی داد ملتی۔ استاد ذوقؔ نے تیسرے شعر پر کہا: واہ میاں سالک کیا کہنا ہے! سب ہی جبہ سائی باندھتے آئے ہیں، تمھاری داستان کو کوئی نہیں پہنچا۔ کیا کلام ہے، کیا روانی ہے، سبحان اللہ! حکیم مومن خاں نے کہا: میاں سالکؔ! یہ جوانی اور مقطعے میں یہ بوڑھا مضمون! تمھاری ’’عمرِ پارسائی‘‘ کو بہت دن پڑے ہیں، ابھی سے تو بڈھوں کی سی باتیں نہ کیا کرو۔ سالکؔ نے جواب دیا: استاد! میں تو جوانی میں بڈھا ہو گیا۔ دیکھیے بڑھاپا دیکھنا نصیب بھی ہوتا ہے یا نہیں، پھر دل میں آئے ہوئے مضمون کیوں چھوڑ دوں۔ بعد میں یہ کون دیکھتا پھرے گا کہ یہ شعر بڈھے نے کہا تھا یا جوان نے۔ ہم نہ رہیں گے مضمون رہ جائے گا۔\n\nجب تعریفوں کا سلسلہ ذرا رُکا تو شمع مرزا رحیم الدین ایجادؔ کے سامنے آئی۔ یہ شہزادے مرزا حسین بخش کے صاحب زادے اور مولانا صہبائی کے شاگرد ہیں۔ کوئی چوبیس پچیس سال کی عمر ہے۔ شعر کہتے ہیں، مگر پھیکے، ہاں پڑھتے بہت اچھی طرح ہیں، گانا خوب جانتے ہیں۔ ان کی آواز شعر کی کمزوری ظاہر ہونے نہیں دیتی:\n\nبت خانے میں تھا یا کہ میں کعبہ کے قریں تھا\n\nاے زاہدِ ناداں! تجھے کیا ہے، میں کہیں تھا\n\nہر چند کہ میں دوست کے ہمراہ نہیں تھا\n\nپر دل وہ بلا ہے وہ جہاں تھا، یہ وہیں تھا\n\nتوڑا ہے یہ کچھ آپ کو میں نے کہ جہاں میں\n\nثابت نہ رہا نام کا جو میرے نگیں تھا\n\nغزل میں تو کیا خاک مزہ آتا، ہاں ان کے گانے میں مزہ آ گیا۔ گا کر پڑھنے کا یہ نیا رنگ قلعے سے چلا ہے، مگر استادانِ فن اس کو پسند نہیں کرتے۔\n\nان کے بعد شمع نواب علاؤ الدین خاں علائیؔ کے سامنے آئی۔ انھوں نے بہت اونچی آواز میں اپنی غزل سنائی۔ مرزا غالبؔ کے بڑے چہیتے شاگرد ہیں، ابھی نو عمر ہیں، شعر اچھا کہتے ہیں۔ کیوں نہ ہو، کس کے شاگرد ہیں۔ غزل دیکھ لو، استاد کا رنگ غالب ہے:\n\nآوارگانِ گل کدۂ آز و آرزو!\n\nحاشا اگر تمھیں سرِ سیر و فراغ ہے\n\nرکھیو سنبھل کے پاؤں، جو بینا ہو چشمِ دل\n\nکیجو سمجھ کے کام، جو روشن دماغ ہے\n\nوہ گل جو آج ہے قدحِ موج خیزِ رنگ\n\nوہ لالہ جو کہ باغ کا چشم و چراغ ہے\n\nگل چور کل ہے سنگِ جفائے سپہر سے\n\nگویا کہ غم کدے کا شکستہ ایاغ ہے\n\nاور لالہ تند بادِ حوادث سے خاک و خوں\n\nگویا دل و جگر کا کسی کے وہ داغ ہے\n\nجس جا کہ تھا ترانۂ بلبل نشاط خیز\n\nاس جا پہ آج دل شکن آوازِ زاغ ہے\n\nمغرورِ جاہ سے یہ کہو تم علائیاؔ!\n\nکل ایک سطحِ خاک ہے، جو آج باغ ہے\n\nعلائیؔ کے پاس سے شمع کا ہٹ کر سامنے آنا تھا کہ مرزا کریم الدین رسا سنبھل کر بیٹھ گئے۔ ایک بڑی لمبی غزل پڑھی مگر ساری کی ساری بے مزہ۔ نہ الفاظ کی بندش اچھی، نہ مضامین میں کوئی خوبی۔ تعقیدوں سے الجھن پیدا ہوتی تھی اور رعایتِ لفظی سے جی گھبراتا تھا۔ ان کے بس دو ہی شعر نمونے کے طور پر لکھ دینا کافی سمجھتا ہوں:\n\nباز آ، ستا تو مجھ کو بہت عشوہ گر نہیں\n\nکرتا کسی پہ ظلم کوئی اس قدر نہیں\n\nگو نزع میں ہوں میں، ترے بن آئے جانِ من!\n\nکرنے کی جان بھی مرے تن سے سفر نہیں\n\nیہ پڑھ چکے تو نواب ضیاء الدین خاں نیرؔ و رخشاںؔ کے پڑھنے کی باری آئی۔ فارسی کے شعر خوب کہتے ہیں، اردو کی غزلیں ذرا پھیکی ہوتی ہیں، لکھا تھا:\n\nپی کے گرنے کا ہے خیال ہمیں\n\nساقیا لیجیو سنبھال ہمیں\n\nشب نہ آئے جو اپنے وعدے پر\n\nگزرے کیا کیا نہ احتمال ہمیں\n\nدل میں مضمر ہیں معنیِ باقی\n\nکسی صورت نہیں زوال ہمیں\n\nتیرے غصے نے ایک دم میں کیا\n\nمُردۂ نُہ ہزار سال ہمیں\n\nطالعِ بد سے نیّرؔ رخشاں\n\nاپنے ہی گھر میں ہے وبال ہمیں\n\nان کے بعد شمع مرزا پیارے رفعتؔ کے سامنے آئی۔ یہ سلاطین زادے ہیں، بٹیریں لڑانے کا بڑا شوق ہے، شعر بھی خوب کہتے ہیں۔ پہلے احسانؔ کے شاگرد تھے، اب مولانا صہبائی سے تلمّذ ہے، کوئی چالیس سال کی عمر ہو گی۔ لکھا تھا:\n\nبسانِ طائرِ رنگِ پریدہ وحشت سے\n\nکسے دماغ ہے اب آشیاں بنانے کا\n\nنہ عذر تھا ہمیں ہونے میں خاک کے، گر ہم\n\nیہ جانتے کہ وہ دامن نہیں بچانے کا\n\nگُندھی تھی کون سے بد مستِ تشنہ لب کی وہ خاک\n\nکہ جس سے خُم یہ بنا ہے شراب خانے کا\n\nبہ ذوق ناز کو دے رخصتِ جفا کہ یہاں\n\nہمیں بھی عزم ہے طاقت کے آزمانے کا\n\nہیں ایک وہ بھی کہ تم سے ہے جن کو راز و نیاز\n\nاور ایک ہم ہیں کہ تکتے ہیں منہ زمانے کا\n\nآخری شعر میں مایوسی کی جو تصویر کھینچی ہے، اس کی تعریف نہیں ہو سکتی۔ کوئی نہ تھا جو اس شعر کے دوسرے مصرعے کو پڑھ کر نہ جھومتا ہو اور بار بار واہ واہ اور سبحان اللہ نہ کہتا ہو۔ ہوتے ہوتے میاں عارفؔ کا نمبر آ ہی گیا۔ بھلا ان کو مشاعرے کے انتظام سے کب فرصت تھی جو غزل لکھتے، پھر بھی چلتے پھرتے کچھ لکھ ہی لیا تھا وہی پڑھ دیا۔ اِس دن رات کی گردش کے بعد اتنا لکھ لینا کمال ہے۔ غزل تھی:\n\nاٹھتا قدم جو آگے کو اے نامہ بر نہیں\n\nپیچھے تو چھوڑ آئے کہیں اس کا گھر نہیں\n\nاوروں کو ہو تو ہو، ہمیں مرنے سے ڈر نہیں\n\nخط لے کے ہم ہی جاتے ہیں، گر نامہ بر نہیں\n\nبے التفاتیوں کا تری شکوہ کیا کریں\n\nاپنے ہی جب کہ نالۂ دل میں اثر نہیں\n\nمطلعے کی سب نے تعریف کی۔ استاد احسانؔ نے کہا: میاں عارفؔ! میں بھی شعر کہتے کہتے بڈھا ہو گیا، لاکھوں شعر سنے، لاکھوں سنائے مگر یہ مضمون بالکل نیا ہے اور کس خوبی سے ادا کیا گیا کہ دل خوش ہو گیا۔ میاں عارف کے بعد شمع مرزا غلام نصیر الدین عرف مرزا منجھلے کے سامنے آئی۔ یہ شہزادے ہیں، احسانؔ کے شاگرد ہیں اور قناعتؔ تخلص کرتے ہیں۔ غزل خاصی کہتے ہی۔ میں تو یہی کہوں گا کہ شہزادوں میں بہت کم ایسے شاعر ہوں گے۔ غزل تھی:\n\nشوق کو کثرتِ نظارہ سے رشک آتا ہے\n\nحشر سے پہلے میسر ہو وہ دیدار مجھے\n\nکعبے تک جانے میں تھی خاطرِ زاہد، ورنہ\n\nدَیر میں بھی تھی سدا رخصتِ دیدار مجھے\n\nجنسِ دزدیدہ کی مانند ہے الجھاؤ میں جان\n\nکہ نہ لیتا ہے نہ پھیرے ہے خریدار مجھے\n\nرازِ دل لب پہ نہ لانا کبھی منصور کہ یاں\n\nکر دیا بات کے کہنے نے گنہ گار مجھے\n\nشمع کا حکیم آغا جان عیشؔ کے سامنے آنا تھا کہ لوگوں میں سرگوشیاں ہوئیں۔ حکیم صاحب بادشاہی اور خاندانی طبیب ہیں۔ زیورِ علم سے آراستہ اور لباسِ کمال سے پیراستہ، صاحبِ اخلاق، خوش مزاج، شیریں کلام، شگفتہ صورت۔ جب دیکھو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسکرا رہے ہیں۔ طبیعت ایسی ظریف و لطیف اور لطیفہ سنج پائی ہے کہ سبحان اللہ! میانہ قد، خوش اندام، سر پر ایک ایک انگل بال سفید، ایسی ہی ڈاڑھی اس گوری سرخ سفید رنگت پر کیا بھلی معلوم ہوتی ہے۔ گلے میں ململ کا کرتا، جیسے چنبیلی کا ڈھیر پڑا ہنس رہا ہے۔ مگر کچھ دنوں سے ان کے دوست ان سے بھی ذرا کھنچ گئے تھے۔ میاں ہدہد کو پال کر انھوں نے سب سے بگاڑ لی۔ شروع شروع میں تو اس کی واہی تباہی باتوں پر کسی نے دھیان نہیں کیا، لیکن جب اس نے استادوں پر حملے شروع کیے، اس وقت ہدہد کے ساتھ ہی حکیم صاحب سے بھی لوگوں کو کچھ نفرت سی ہو گئی۔ غضب یہ کیا کہ اجمیری دروازے والے مشاعرے میں خود انھوں نے مرزا نوشہ پر کھلا ہوا حملہ کر دیا، ایک قطعہ لکھا تھا کہ:\n\nاگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے\n\nمزہ کہنے کا جب ہے، اک کہے اور دوسرا سمجھے\n\nکلامِ میرؔ سمجھے اور زبانِ میرزاؔ سمجھے\n\nمگر اِن کا کہا، یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے\n\nمولوی مملوک العلی نے کہا: حکیم صاحب! شعر کے سمجھ میں نہ آنے کی دو ہی صورتیں ہیں، یا تو شعر ہی بے معنی ہے، یا سمجھنے والے کے دماغ کا قصور ہے۔ ہم سب تو ان کے شعر کو سمجھتے ہیں، پھر اپنے ساتھ ہم غریبوں کو کیوں لپیٹ لیا۔ مومن خاں نے کہا: بھئی! مجھے تو اس قطعے کے تیسرے مصرعے میں بھی شاعرانہ تعلّی معلوم ہوتی ہے۔ بہرحال بڑی مشکل سے معاملہ رفع دفع ہوا۔ اس معرکے کے بعد یہ دوسرا موقع تھا کہ حکیم صاحب مشاعرے میں تشریف لائے تھے۔ میر صاحب نے جو ہدہد کے مقابلے میں اعلانِ جنگ کیا تھا، وہ سن چکے تھے، اب لوگوں میں جو کانا پھوسی ہونے لگی، اس سے اور بھی پریشان ہوئے، پڑھنے میں تامل کیا۔ آخر مرزا فخرو کے اصرار پر یہ غزل پڑھی:\n\nصلح ان سے ہمیں کیے ہی بنی\n\nدل پہ جھگڑا تھا، دل دیے ہی بنی\n\nزہد و تقویٰ دھرے رہے سارے\n\nہاتھ سے اس کے مے پیے ہی بنی\n\nلائے وہ ساتھ غیر کو ناچار\n\nپاس اپنے بٹھا لیے ہی بنی\n\nکس کا تھا پاسِ شوقِ ظلم اے عیشؔ!\n\nان جفاؤں پہ بھی جیے ہی بنی\n\nجب ایسی غزل ہو تو بھلا کون تعریف نہ کرے۔ صلِ علی کے شور اور سبحان اللہ کی آوازوں نے پڑھنے والے اور سننے والے، دونوں کے دلوں سے غبارِ کدورت دور کر دیا۔ اور حکیم صاحب وہی حکیم صاحب ہو گئے جو پہلے تھے، نہ ان سے کسی کو رنج رہا اور نہ ان کو کسی سے ملال۔ ہاں اگر پہلے کہیں میاں ہدہد کچھ چرک جاتے تو خدا معلوم مشاعرے کا کیا رنگ ہو جاتا۔ وہ تو خدا بھلا کرے ہمارے میر صاحب کا، انھوں نے پہلے ہی اس پکھیرو کی زبان بند کر دی۔ خیر، رسیدہ بود بلائے و لے بخیر گذشت۔\n\n حکیم صاحب کے بعد مرزا رحیم الدین حیا کا نمبر آیا۔ یہ وہی میاں حیاؔ ہیں جن کی تعریف مشاعرے میں آتے ہی ان کے والد صاحب قبلہ مرزا کریم الدین رساؔ نے فرمائی تھی۔ بڑے خوش طبع، ذہین، نیک فطرت، بدیہہ گو اور ظریف آدمی ہیں۔ کوئی پینتیس چھتیس سال کی عمر ہے، اکثر بنارس میں رہتے ہیں، کبھی کبھی دہلی چلے آتے ہیں۔ شکل تو بالکل شاہزادوں کی سی ہے، مگر ڈاڑھی منڈی ہوئی اور لباس لکھنؤ والوں کا ہے۔ پہلے اپنے والد کے شاگرد ہوئے، پھر شاہ نصیرؔ سے اصلاح لی، اب اپنا کلام استاد ذوق کو دکھاتے ہیں۔ شطرنج بے مثل کھیلتے ہیں۔ پہلے حکیم اشرف علی خاں سے سیکھی، اب مومن خاں کو گھیرے رہتے ہیں۔ ستار ایسا بجاتے ہیں کہ سبحان اللہ! شاعر بھی اچھے ہیں مگر محنت نہیں کرتے۔ زبان کی چاشنی پر مضمون کو نثار کر دیتے ہیں۔ یہ غزل لکھ کر لائے تھے:\n\nموت ہی چارہ سازِ فرقت ہے\n\nہو چکا وصل، وقتِ رخصت ہے\n\nروز کی داد کون دیوے گا\n\nرنج مرنے کا، مجھ کو راحت ہے\n\nکارواں عمر کا ہے رخت بدوش\n\nاے اجل جلد آ کہ فرصت ہے\n\nسانس اک پھانس سی کھٹکتی ہے\n\nظلم کرنا تمھاری عادت ہے\n\nتم بھی اپنے حیاؔ کو دیکھ آؤ\n\nہر نفس بانگِ کوسِ رحلت ہے\n\nدم نکلتا نہیں، مصیبت ہے\n\nآج اس کی کچھ اور حالت ہے\n\nپانچویں شعر پر ان کے والد نے ٹوکا اور کہا: میاں حیاؔ! لکھنؤ جا کر اپنی شکل تو بدل آئے تھے، اب زبان بھی بدل دی، سانس کو مونث باندھ گئے۔ حیاؔ نے جواب دیا: جی نہیں قبلہ، میں نے استاد ذوق کی تقلید کی ہے، وہ فرماتے ہیں:\n\nسینے میں سانس ہو گی اڑی دو گھڑی کے بعد\n\nبھلا صاحب عالم کب چوکنے والے تھے، کہنے لگے: بھلا ہمارے مقابلے میں آپ کے استاد کا کلام سند ہو سکتا ہے؟ وہ جو چاہیں لکھیں، یہ بتاؤ قلعے میں ’’سانس‘‘ مذکر ہے یا مونث؟ بے چارے حیاؔ مسکرا کر خاموش ہو گئے۔\n\nاب شمع مولانا صہبائیؔ کے رو بہ رو آئی۔ ان کی علمیت کا ڈنکا تمام ہندوستان میں بج رہا ہے۔ ایسے جامع الکمال آدمی کہاں پیدا ہوتے ہیں۔ ہزاروں شاگرد ہیں، اکثر ریختہ کہتے ہیں، ان کو اصلاح دیتے ہیں اور خوب دیتے ہیں، مگر خود ان کا کلام تمام و کمال فارسی ہے۔ میں نے تو ریختے میں نہ کبھی ان کی غزل دیکھی اور نہ سنی اور مشاعرے میں بھی فارسی ہی کی غزل پڑھی۔ خوب خوب تعریفیں ہوئیں مگر ایمان کی بات یہ ہے کہ لوگوں کو مزہ نہ آیا:\n\nہمچو شبنم خویش را فارغز عالم ساختم\n\nمحرمِ خورشید گشتم، باخساں کم ساختم\n\nمُردم و در چشمِ مردم عالمے تاریک گشت\n\nمن مگر شمعم، چو رفتم، بزم برہم ساختم\n\nکفر در کیشم سپاسِ نعمتِ دیدارِ اوست\n\nجلوہ در ہر رنگ دیدم، گردنے خم ساختم\n\nجرمِ عشقم را جز اشد حور و من از ہجرِ دوست\n\nداغ بر دل بردم و خلدش جہنم ساختم\n\nنیست صہبائیؔ چو جامِ جم نصیبم، گو مباد\n\nمے ز خونِ دل کشیدم، خویش را جم ساختم\n\nمقطعے پر تو اتنی تعریفیں ہوئیں کہ بیان سے باہر ہے مگر جو بے چارے فارسی نہیں سمجھتے تھے وہ بیٹھے منہ دیکھا کیے۔ صاف بات تو یہ ہے کہ اردو کے مشاعرے میں فارسی کا ٹھونسنا کچھ مجھے بھی پسند نہ آیا۔\n\nاہاہاہا! زبان کا لطف اٹھانا ہے تو اب سید ظہیر الدین خاں ظہیر کو سنیے۔ ابھی تیس بتیس سال کی عمر ہے، مگر کلام میں خدا نے وہ اثر دیا ہے کہ واہ واہ! ذوقؔ کی اصلاح نے اور سونے پر سہاگے کا کام کیا ہے۔ شکل و صورت سے یہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ ان کی طبیعت اس بلا کی ہے۔ قد خاصا اونچا، چھریرا بدن، کشادہ سینہ، سانولی رنگت، کشادہ دہن، اونچی ستواں ناک، آنکھیں نہ بہت بڑی نہ بہت چھوٹی مگر روشن، گول ڈاڑھی نہ بہت گھنی نہ بہت چھدری، سر پر پٹھے۔ لباس میں انگرکھا، تنگ مہری کا پیجامہ، سر پر سفید گول ٹوپی۔ خوش مزاج اور لطیفہ سنج ایسے کہ منہ سے پھول جھڑتے ہیں۔ پڑھنے کا بھی ایک خاص طرز ہے، لکھنؤ والوں کے تحت اللفظ پڑھنے سے ملتا جلتا ہے۔ ساتھ ہی اشاروں سے ایک ایک لفظ کو سمجھاتے جاتے ہیں، غزل ہوئی تھی:\n\nجبیں اور شوق اُس کے آستاں کا\n\nلٹا ہے قافلہ تاب و تواں کا\n\nمری واماندگی منزل رساں ہے\n\nارادہ اور ارادہ بھی کہاں کا!\n\nرہے پابند دل کے دل میں ارماں\n\nخدا حافظ ہے دل کے کارواں کا\n\nاٹھا سکتے نہیں سر آستاں سے\n\nسراغِ نقشِ پا ہوں کارواں کا\n\nہمیشہ موردِ برق و بلا ہوں\n\nقدم منزل نے پکڑا کارواں کا\n\nدلِ بے تاب نے وہ بھی مٹایا\n\nغضب ہے بارِ منت پاسباں کا\n\nظہیرؔ! آؤ، چلو اب مے کدے کو\n\nمٹے جھگڑا الٰہی آشیاں کا\n\nکسی کو کچھ جو دھوکا تھا فغاں کا\n\nنکالا زہد و تقویٰ ہے کہاں کا\n\nاور تو اور استادانِ فن نے اس غزل کی ایسی داد دی کہ میاں ظہیر کا دل غنچے کی طرح کھل گیا۔ تیسرے شعر پر تو یہ حالت تھی کہ تعریفوں کا سلسلہ ختم ہی نہ ہوتا تھا، سلام کرتے کرتے بچارے کے ہاتھ دکھ گئے ہوں گے۔ جب ذرا سکون ہوا تو سیدھی جانب کی شمع نواب مصطفی خاں شیفتہؔ کے سامنے آئی۔ ان کا کیا کہنا، استادانِ فن میں شمار کیے جاتے ہیں۔ مومنؔ کے شاگرد ہیں مگر خود استاد ہیں۔ انھوں نے کسی شعر کی تعریف کی اور اس کی وقعت بڑھی۔ یہ سن کر ذرا خاموش ہوئے اور شعر دوسروں کی نظروں سے بھی گر گیا۔ زبان کے ساتھ مضمون کو ترتیب دینا ایسے ہی لوگوں کا کام ہے۔ پڑھتے بھی ہیں تو ایک لفظ سمجھا سمجھا کر۔ آواز ایسی اونچی ہے کہ دور اور پاس سب کو صاف سنائی دے۔ غزل پڑھنے سے پہلے ادھر ادھر دیکھا، ذرا انگرکھا درست کیا، ٹوپی درست کی، انگرکھے کی آستینوں کو چڑھایا اور یہ غزل پڑھی:\n\nآرام سے ہے کون جہانِ خراب میں\n\nگل سینہ چاک اور صبا اضطراب میں\n\nسب اس میں محو اور یہ سب سے علاحدہ\n\nآئینے میں ہے آب، نہ آئینہ آب میں\n\nمعنی کی فکر چاہیے، صورت سے کیا حصول\n\nکیا فائدہ ہے موج اگر ہے سراب میں\n\nذات و صفات میں بھی یہی ربط چاہیے\n\nجوں آفتاب و روشنیِ آفتاب میں\n\nوہ قطرہ ہوں کہ موجۂ دریا میں گم ہوا\n\nوہ سایہ ہوں کہ محو ہوا آفتاب میں\n\nبے باک شیوہ، شوخ طبیعت، زباں دراز\n\nملزم ہوا ہے، پر نہیں عاجز جواب میں\n\nتکلیف شیفتہؔ ہوئی تم کو مگر حضور!\n\nاس وقت اتفاق سے وہ ہیں عتاب میں\n\nغزل تو ایسی ہے کہ بھلا کس کا منہ ہے جو تعریف کا حق ادا کر سکے، مگر تعریف بڑی سنبھل کر کی گئی۔ بڑے بڑے مشاعروں میں مَیں نے دیکھا کہ نو مشقوں کے دل تو تعریفوں سے خوب بٹھاتے ہیں، مگر جب استادوں کے پڑھنے کی نوبت آتی ہے تو وہ جوش و خروش نہیں رہتا، بلکہ جوش کے بجائے متانت زیادہ آ جاتی ہے۔ استادوں کے انہی شعروں کی تعریف ہوتی ہے جو واقعی قابلِ تعریف ہوں۔ اگر کسی شعر کی ذرا بے جا تعریف کر دی جائے تو اس سے ان کو تکلیف ہوتی ہے۔ یہ صرف اسی کلام کی تعریف چاہتے ہیں، جس کو یہ خود سمجھتے ہیں کہ اِس کی تعریف ہونی چاہیے۔ شعر پڑھ کر اگر دیکھتے بھی ہیں تو اپنے برابر والوں کی طرف اور وہی داد بھی دیتے ہیں۔ مشاعرے کے باقی لوگ ان کے کلام سے لطف ہی نہیں اٹھاتے، کچھ حاصل بھی کر لیتے ہیں اور ان کے لیے یہ غزلیں کسی طرح استاد کی اصلاح سے کم نہیں ہوتیں۔\n\nان کے بعد شہزادہ مرزا قادر بخش صابر کی باری آئی۔ یہ کوئی چالیس برس کے ہوں گے۔ ان کی شاعری کی قلعے میں بڑی دھوم ہے۔ خود ان کو بھی اپنے کلام پر ناز ہے۔ شعرائے دہلی کا تذکرہ لکھ رہے ہیں، مگر مشہور ہے کہ الف سے لے کری تک مولانا صہبائی کا قلم ہے۔ یہ سچ ہے یا جھوٹ، خدا بہتر جانتا ہے۔ خود انھوں نے اپنے خیالات ایک قطعے میں لکھے ہیں، وہ نقل کرتا ہوں:\n\nپہلے استاد تھے احسانؔ و نصیرؔ و مومنؔ\n\nہوئی احساںؔ سے پر اصلاحِ طبیعت میری\n\nپھر ہوا حضرتِ صہبائی کی اصلاح کا فیض\n\nطبع باریک ہوئی ان کی بدولت میری\n\nاور ہم بزم رہے مومنؔ و ذوقؔ و غالبؔ\n\nاوستادوں ہی سے ہر دم رہی صحبت میری\n\nہند کا فضل و ہنر ذات پہ ہے جن کی تمام\n\nمانتے ہیں وہی اشخاص فضیلت میری\n\nمنعقد ہوتی ہے جب شہر میں بزمِ اِنشاء\n\nکرتے ہیں اہلِ سخن وقعت و عزت میری\n\nاب اس کلام پر ان کو استاد کہو یا جو جی چاہے کہو۔ غزل میں بھی یہی پھیکا رنگ ہے۔ مضمون بھی بلند پایہ نہیں ہیں، مگر سارا شہر ان کو استاد مانتا ہے۔ ہوں گے، ممکن ہے میری ہی سمجھ کا پھیر ہو۔ غزل کہی تھی:\n\nنظارہ برقِ حسن کا دشوار ہو گیا\n\nجلوہ، حجابِ دیدۂ بیدار ہو گیا\n\nمحفل میں میں تو اس لبِ مے گوں کے سامنے\n\nنامِ شراب لے کے گنہ گار ہو گیا\n\nحائل ہوئی نقاب تو ٹھہری نگاہِ شوق\n\nپردہ ہی جلوہ گاہِ رخِ یار ہو گیا\n\nمعلوم یہ ہوا کہ ہے پرسش گناہ کی\n\nعاصی گنہ نہ کردہ گنہگار ہو گیا\n\nاس کی گلی میں آن کے کیا کیا اٹھائے رنج\n\nخاکِ شفا ملی تو میں بیمار ہو گیا\n\nپیری میں ہم کو قطعِ تعلق ہوا نصیب\n\nقامت خمیدہ ہوتے ہی تلوار ہو گیا\n\nیہ پڑھ چکے تو شمع مفتی صدر الدین آزردہؔ کے سامنے پہنچی۔ اس پائے کے عالم شاعر نہیں ہوتے اور ہوتے ہیں تو استاد ہو جاتے ہیں۔ مفتی صاحب کے جتنے شاگرد جید عالم ہیں، اُس سے کہیں زیادہ ان کے تلامذہ شاعر ہیں اور شاعر بھی کیسے کہ بڑے پائے کے۔ مفتی صاحب کہتے تو خوب ہیں، مگر پڑھتے اس طرح ہیں گویا طاب علموں کو سبق دے رہے ہیں۔ آواز بھی ذرا نیچی ہے لیکن ان کی وجاہت کا یہ اثر ہے کہ مشاعرے میں سناٹا ہوتا ہے اور تعریف بھی ہوتی ہے تو خاص خاص شعروں پر اور بہت نیچی آواز میں۔ ہاں مرزا نوشہ ان سے مذاق کرنے میں نہیں چوکتے۔ کبھی کبھی اعتراض بھی کر بیٹھتے ہیں اور مزے مزے کی نوک جھونک ہو جاتی ہے۔ غزل ملاحظہ ہو، کیا پختہ کلام ہے:\n\nنالوں سے میرے کب تہ و بالا جہاں نہیں\n\nکب آسماں زمین و زمیں آسماں نہیں\n\nافسردہ دل نہ ہو، درِ رحمت نہیں ہے بند\n\nکس دن کھلا ہوا درِ پیرِ مغاں نہیں\n\nشب اُس کو حال دل نے جتایا کچھ اس طرح\n\nہیں لب تو کیا، نگہ بھی ہوئی ترجماں نہیں\n\nاے دل! تمام نفع ہے سودائے عشق میں\n\nاک جان کا زیاں ہے، سو ایسا زیاں نہیں\n\nکٹتی کسی طرح بھی نہیں یہ شبِ فراق\n\nشاید کہ گردش آج تجھے آسماں نہیں\n\nکہتا ہوں اُس سے کچھ میں، نکلتا ہے منہ سے کچھ\n\nکہنے کو یوں تو ہے گی زباں اور زباں نہیں\n\nآزردہؔ! ہونٹ تک نہ ہلے اس کے رو بہ رو\n\nمانا کہ آپ سا کوئی جادو بیاں نہیں\n\nآزردہؔ جیسے استاد کے بعد نواب مرزا خاں داغ کا پڑھنا ایک عجیب سی چیز ہے، مگر بات یہ ہے کہ اول تو داغؔ کو سب چاہتے ہیں، دل بڑھاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ کسی دن یہی داغؔ ہندوستان کا چراغ ہو گا۔ دوسرے مرزا فخرو کے خیال سے ان کو استادوں میں جگہ ملی تھی، مگر انھوں نے غزل بھی ایسی پڑھی کہ استاد بھی قائل ہو گئے۔ سترہ اٹھارہ برس کے لڑکے کا اس قیامت کی غزل اور اس جرات سے پڑھنا واقعی کمال ہے۔ میری تو یہ رائے ہے کہ جو زبان داغؔ نے لکھی ہے، وہ شاید ہی کسی کو نصیب ہو گی۔ ذرا زبان کی شوخی، مضمون کی رنگینی اور طبیعت کی روانی ملاحظہ کیجیے اور داد دیجیے:\n\nساز یہ کینہ ساز کیا جانیں\n\nناز والے، نیاز کیا جانیں\n\nشمع رو آپ گو ہوئے لیکن\n\nلطفِ سوز و گداز کیا جانیں\n\nکب کسی در کی جبہ سائی کی\n\nشیخ صاحب نماز کیا جانیں\n\nجو رہِ عشق میں قدم رکھیں\n\nوہ نشیب و فراز کیا جانیں\n\nپوچھیے مے کشوں سے لطفِ شراب\n\nیہ مزہ پاکباز کیا جانیں\n\nجن کو اپنی خبر نہیں اب تک\n\nوہ مرے دل کا راز کیا جانیں\n\nحضرتِ خضر جب شہید نہ ہوں\n\nلطفِ عمرِ دراز کیا جانیں\n\nجو گزرتے ہیں داغؔ پر صدمے\n\nآپ بندہ نواز کیا جانیں\n\nاللہ! اللہ! وہ سہانا وقت، وہ چھوٹی سی آواز، دل کش سُر، وہ الفاظ کی نشست، وہ بندش کی خوب صورتی اور سب سے زیادہ یہ کہ وہ داغ کی بھولی بھالی شکل، ایک عجیب لطف دے رہی تھی۔ ساری محفل میں کوئی نہ تھا جو محوِ حیرت نہ ہو گیا ہو اور کوئی نہ تھا جس کے منہ سے جزاک اللہ، سبحان اللہ اور صل علیٰ کے الفاظ بے ساختہ نکل نہ رہے ہوں۔ مرزا فخرو کی تو حالت یہ تھی کہ گھڑی گھڑی پہلو بدلتے اور دل ہی دل میں خوش ہوتے تھے۔ غزل ختم ہوئی اور کسی کو معلوم نہ ہوا کہ کب ختم ہو گئی۔ جب شمع حکیم مومن خاں مومن کے سامنے پہنچ گئی، اُس وقت لوگوں کا جوش کم ہوا اور اس ریختے کے استاد کا کلام سننے کو سب ہمہ تن گوش ہو گئے۔ انھوں نے شمع کو اٹھا کر ذرا آگے رکھا، ذرا سنبھل کر بیٹھے، بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کی، ٹوپی کو کچھ ترچھا کیا، آستینوں کی چنٹ کو صاف کیا اور بڑی درد انگیز آواز میں دل پذیر ترنم کے ساتھ یہ غزل پڑھی:\n\nالٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ\n\nبے طاقتی کے طعنے ہیں، عذرِ جفا کے ساتھ\n\nبہرِ عیادت آئے وہ، لیکن قضا کے ساتھ\n\nدم ہی نکل گیا مرا آوازِ پا کے ساتھ\n\nمانگا کریں گے اب سے دعا ہجرِ یار کی\n\nآخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ\n\nہے کس کا انتظار کہ خوابِ عدم سے بھی\n\nہر بار چونک پڑتے ہیں آوازِ پا کے ساتھ\n\nسو زندگی نثار کروں ایسی موت پر\n\nیوں روئے زار زار اہلِ عزا کے ساتھ\n\nبے پردہ غیر پاس اسے بیٹھا نہ دیکھتے\n\nاٹھ جاتے کاش ہم بھی جہاں سے حیا کے ساتھ\n\nاس کی گلی کہاں، یہ تو کچھ باغِ خلد ہے\n\nکس جائے مجھ کو چھوڑ گئی موت، لا کے ساتھ\n\nاللہ رے گمرہی، بت و بت خانہ چھوڑ کر\n\nمومنؔ چلا ہے کعبے کو اک پارسا کے ساتھ\n\nشاعری کیا تھی جادو تھا، تمام لوگ ایک عالم محویت میں بیٹھے تھے۔ وہ خود بھی اپنے کلام کا مزہ لے رہے تھے۔ جس شعر میں ان کو زیادہ لطف آتا تھا، اس کے پڑھتے وقت ان کی انگلیاں زیادہ تیزی سے بالوں میں چلنے لگتی تھیں۔ بہت جوش ہوا تو کاکلوں کو انگلیوں میں بل دے کر مڑوڑنے لگے۔ کسی نے تعریف کی تو گردن جھکا کر ذرا مسکرا دیے۔ پڑھنے کا طرز بھی سب سے جدا تھا۔ ہاتھ بہت کم ہلاتے تھے اور ہلاتے بھی کیسے، ہاتھوں کو بالوں سے کب فرصت تھی، ہاں آواز کے زیر و بم اور آنکھوں کے اشاروں سے جادو سا کر جاتے تھے۔ غزل ختم ہوئی تو تمام شعرا نے تعریف کی۔ سن کے مسکرائے اور کہا: آپ لوگوں کی یہی عنایت تو ہماری ساری محنتوں کا صلہ ہیں، میں تو عرض کر چکا ہوں:\n\nہم داد کے خواہاں ہیں، نہیں طالبِ زر کچھ\n\nتحسینِ سخن فہم ہے مومنؔ! صلہ اپنا\n\nان کے بعد شمع استاد احسانؔ کے سامنے آئی۔ میں سمجھا تھا کہ ان کی آواز کیا خاک نکلے گی، مگر شمع کے پہنچتے ہی وہ کیچلی سی بدل کچھ سے کچھ ہو گئے اور اتنی بلند آواز کے ساتھ غزل پڑھی کہ تمام مجلس پر چھا گئے۔ کسی شعر پر مومن خاں کو متوجہ کرتے، کسی پر مرزا نوشہ کو، کسی پر استاد ذوق کو۔ ان کی عظمت کچھ لوگوں کے دلوں پر ایسی چھائی ہوئی تھی کہ جس کو انھوں نے متوجہ کیا، اس کو تعریف کرتے ہی بن پڑی۔ ردیف سخت اور قافیہ مشکل تھا، مگر اس کی استادی کی داد دینی چاہیے کہ ان دشواریوں پر بھی ساری کی ساری غزل مرصّع کہہ گئے ہیں۔ ہائے لکھتے ہیں:\n\nتو کیوں ہے گریہ کُناں اے مرے دلِ محزوں\n\nنہ رو نہ رو کہ نہ تجھ کو کبھی رلائے خدا\n\nبُتو! بتاؤ تو، کیا تم خدا کو دو گے جواب؟\n\nخدا کے بندوں پہ یہ ظلم، بندہ ہائے خدا!\n\nرضا پہ تیری ہوں دن رات اے صنم مصروف\n\nجو اِس پہ تو نہیں راضی، نہ ہو، رضائے خدا\n\nبتوں کے کوچے میں کہتا تھا کل یہی احساںؔ\n\nیہاں کسی کا نہیں ہے کوئی سوائے خدا\n\nجب یہ پڑھ چکے تو مرزا غالب کی باری آئی۔ یہ رنگ ہی دوسرا تھا، صبح ہو چلی تھی، شمع کے سامنے آتے ہی فرمانے لگے: صاحبو! میں بھی اپنی بھیرویں الاپتا ہوں۔ یہ کہہ کر ایسے دل کش اور مؤثر لہجے میں غزل پڑھی کہ ساری محفل محو ہو گئی۔ آواز بہت اونچی اور پر درد تھی۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ مجلس میں کسی کو اپنا قدردان نہیں پاتے، اس لیے غزل خوانی میں فریاد کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ غزل تھی:\n\nدلِ ناداں ! تجھے ہوا کیا ہے؟\n\nآخر اس درد کی دوا کیا ہے؟\n\nہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار\n\nیا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے!\n\nمیں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں\n\nکاش پوچھو کہ مدّعا کیا ہے؟\n\nجب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود\n\nپھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟\n\nیہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں؟\n\nغمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے؟\n\nشکنِ زلفِ عنبریں کیوں ہے؟\n\nنگہِ چشمِ سرمہ سا کیا ہے؟\n\nہم کو ان سے وفا کی ہے امید\n\nجو نہیں جانتے وفا کیا ہے\n\nہاں بھلا کر، ترا بھلا ہو گا\n\nاور درویش کی صدا کیا ہے!\n\nجان تم پر نثار کرتا ہوں\n\nمیں نہیں جانتا دعا کیا ہے\n\nمیں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ\n\nمفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے!\n\nغزل پڑھ کر مسکرائے اور کہا کہ: اب اس پر بھی نہ سمجھیں وہ، تو پھر ان سے خدا سمجھے۔ حکیم آغا جانؔ سمجھ گئے اور کہنے لگے: مرزا صاحب! غنیمت ہے کہ تم اس رنگ کو آخر ذرا سمجھے۔ غرض تعریفوں کے ساتھ ساتھ مذاق بھی ہوتا رہا اور شمع استاد ذوقؔ کے سامنے پہنچ گئی۔ استاد نے مرزا فخرو کی طرف دیکھ کر کہا: صاحبِ عالم! غزل پڑھوں یا کل جو قطعہ ہوا ہے وہ عرض کروں؟ کل رات خدا جانے کیا بات تھی کہ کسی طرح نیند نہیں آتی تھی، لوٹتے لوٹتے صبح ہو گئی، شبِ ہجر کا مزہ آ گیا، اسی کشاکش میں ایک قطعہ ہو گیا ہے، اجازت ہو تو عرض کروں۔ مرزا فخرو نے کہا: استاد! آج کا مشاعرہ سب بندوں سے آزاد ہے، غزل پڑھیے، قصیدہ پڑھیے، رباعی پڑھیے، قطعہ پڑھیے، غرض جو دل چاہے پڑھیے، ہاں کچھ نہ کچھ پڑھیے ضرور۔ استاد ذوقؔ سنبھل کر بیٹھ گئے اور قطعہ ایسی بلند اور خوش آیند آواز میں پڑھا کہ محفل گونج اٹھی اور ان کے پڑھنے کے انداز نے کلام کی تاثیر میں اور زیادہ زور پیدا کر دیا:\n\nکہوں کیا ذوقؔ! احوالِ شبِ ہجر\n\nکہ تھی اک اک گھڑی، سو سو مہینے\n\nنہ تھی شب، ڈال رکھا تھا اک اندھیر\n\nمرے بختِ سیہ کی تیرگی نے\n\nتپِ غم شمع ساں ہوتی نہ تھی کم\n\nاور آتے تھے پسینوں پر پسینے\n\nیہی کہتا تھا گھبرا کر فلک سے\n\nکہ او بے مہر، بد اختر، کمینے!\n\nکہاں میں اور کہاں یہ سب، مگر تھے\n\nمری جانب سے تیرے دل میں کینے\n\nسو اس ظلمت کے پردے میں کیے ظلم\n\nارے ظالم! تری کینہ وری نے\n\nعوض کس بادہ نوشی کے، مجھے آج\n\nپڑے یہ زہر کے سے گھونٹ پینے\n\nحواس و ہوش جو مجھ سے قریں تھے\n\nقرینے سے ہوئے سب بے قرینے\n\nمری سینہ زنی کا شور سن کر\n\nپھٹے جاتے تھے ہمسایوں کے سینے\n\nاٹھایا گاہ اور گاہے بٹھایا\n\nمجھے بے تابی و بے طاقتی نے\n\nکہا جب دل نے، تو کچھ کھا کے سو رہ\n\nبہت الماس کے توڑے نگینے\n\nنہ ٹوٹا جان کا قالب سے رشتہ\n\nبہت ہی جان توڑی جاں کنی نے\n\nبہت دیکھا، نہ دکھلایا ذرا بھی\n\nطلوعِ صبح سے منہ روشنی نے\n\nکہا جی نے مجھے یہ ہجر کی رات\n\nیقیں ہے صبح تک دے گی نہ جینے\n\nلگے پانی چُوانے منہ میں آنسو\n\nپڑھی یسیٰں سرہانے بے کسی نے\n\nمگر دن عمر کے تھوڑے سے باقی\n\nلگا رکھے تھے میری زندگی نے\n\nکہ قسمت سے قریبِ خانہ میرے\n\nاذاں مسجد میں دی بارے کسی نے\n\nبشارت مجھ کو صبحِ وصل کی دی\n\nاذاں کے ساتھ یُمن و فرّخی نے\n\nہوئی ایسی خوشی اللہ اکبر!\n\nکہ خوش ہو کر کہا یہ خود خوشی نے\n\nمؤذن! مرحبا! بروقت بولا\n\nتری آواز مکّے اور مدینے\n\nآخری شعر پر پہنچے تھے کہ برابر کی مسجد سے آواز آئی: اللہ اکبر اللہ اکبر، اللہ اکبر اللہ اکبر۔ اس کے ساتھ ہی سب کے منہ سے نکلا: ’’تری آواز مکّے اور مدینے‘‘ اذان ختم ہوئی تو سب نے دعا کو ہاتھ اٹھائے۔ دعا سے فارغ ہو کر مرزا فخرو نے کہا: صاحبو! کچھ عجیب اتفاق ہے کہ فاتحۂ خیر ہی سے مشاعرہ شروع ہوا تھا اور اب فاتحۂ خیر ہی پر ختم ہوتا ہے۔ یہ کہہ کر انھوں نے دونوں شمعوں کو، جو چکر کھا کر ان کے سامنے آ گئی تھیں، بجھا دیا، شمعوں کے گل ہوتے ہی نقیبوں نے آواز دی: حضرات! مشاعرہ ختم ہوا۔ یہ سننا تھا کہ چلنے کو سب کھڑے ہو گئے۔ سب سے پہلے مرزا فخرو سوار ہوئے اور پھر سب ایک ایک کر کے رخصت ہوئے۔ آخر میں مَیں اور نواب زین العابدین خاں رہ گئے۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ کہنے لگے: میاں کریم الدین! یہ تمھاری نیک نیتی تھی جو اتنا بڑا مشاعرہ بخیر و خوبی ختم ہوا۔ تمھارا کام بھی بن گیا اور میرا ارمان بھی نکل گیا۔ اچھا خدا حافظ!", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D9%85%D8%B9/%D8%AA%DA%A9%D9%85%DB%8C%D9%84"} {"title": "دہلی کی آخری شمع/حواشی", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "رپورتاژ > دہلی کی آخری شمع", "year": null, "text_ur": "١۔ اِن کا نام مرزا فخر الدین، خطاب مرزا فتح الملک، شاہ بہادر، عرف مرزا فخرو اور تخلص رمز تھا۔ بہادر شاہ ثانی کے منجھلے بیٹے تھے۔ مرزا محمد دارا بخت عرف مرزا شبّو ولی عہدِ سلطنت کے انتقال کے بعد ١٨٤٩ء میں ولی عہد ہوئے مگر غدر سے پہلے ہی ١٠ جولائی ١٨٥٢ء میں چالیس سال کی عمر میں انتقال کیا۔ ان کے انتقال کے بعد مرزا جواں بخت کی ولی عہدی کے جھگڑے پڑے۔\n\n٢۔ قلعۂ دہلی کو “لال حویلی” یا صرف حویلی بھی کہا جاتا ہے۔ حافظ عبد الرحمن خاں احسانؔ کا شعر ہے:\n\nمری تنخواہ لوٹی ان لٹیروں نے حویلی میں\nبہادر شاہ غازی کی دوہائی ہے دوہائی ہے\n\n١۔ قلعہ دہلی کے دورِ آخر میں شاہانِ دہلی بعض وقت مرد عورت دونوں کو “اماں” سے خطاب کیا کرتے تھے، چنانچہ اس طرز کلام کی جھلک حیدرآباد کے روزمرہ میں بھی کسی قدر نظر آتی ہے۔ مجھے بڑا تعجب ہے کہ ایک مورخ نے اس طریقہ مخاطبت کی بنا پر قلعہ معلّی کی تہذیب و اخلاق پر حملہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ بادشاہ کے اخلاق کی پستی کا اندازہ اِس سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو بھی “اماں” کہتا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صاحب انگریزی نہیں جانتے تھے ورنہ ان کو یہ پڑھ کر بڑا تعجب ہوتا کہ جس قوم کو وہ تہذیب کا پتلا اور اخلاق کا نمونہ ظاہر کرتے ہیں، اُن کے یہاں بھی خاوند اپنی بیوی کو “اماں” ہی کہتا ہے اور بیوی خاوند کو کبھی “ابا” اور کبھی “دادا” پکارتی ہے۔ میرے خیال میں یہ “ارے میاں” کا اختصار ہے، چنانچہ اب بھی بے تکلف بول چال میں میاں کو “اماں” ہی کہہ جاتے ہیں۔ (اڈیٹر رسالہ اردو)\n\n١۔ اُن دنوں دہلی میں لوگوں نے یہ اڑا رکھا تھا کہ مرزا نوشہ (غالبؔ) مرزا عبد اللہ بیگ کے بیٹے نہیں ہیں، بلکہ انھوں نے اُن کو پال لیا ہے اور یہ دراصل کسی کشمیری کی اولاد ہیں۔ حافظ ویرانؔ نے اِسی طرف اشارہ کیا ہے۔ خدا محفوظ رکھے دہلی والوں سے۔ جو باہر سے آیا ہے، اُس کے حسب نسب میں انھوں نے کیڑے ڈالے۔\n\n٢۔ استاد ذوقؔ کو شہر بھر نائی کہتا ہے، یہ دوسری بات ہے کہ آزادؔ مرحوم نے اُن کے ہاتھ میں استرے کے بجائے تلوار سے کر ان کو سپاہی زادہ بنا دیا ہے۔\n\n١۔ معلوم نہیں کہ یہ کس زبان کا لفظ ہے مگر دہلی میں عام طور پر “شگوفے” کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔\n\n٢۔ قلعہ دہلی کے عجائب خانے میں مرزا غالب کی ایک تصویر ہے، اُس سے یہ لباس لیا گیا ہے۔\n\n١۔ میں نے خود یہ مکان بیس بائیس برس ہوئے دیکھا ہے۔ ٹوٹ کر کھنڈر ہو گیا تھا۔ تین طرف کی عمارت ڈھے گئی تھی۔ سامنے کا حصہ قائم تھا۔ معلوم نہیں کہ اوپر کی منڈیر کیوں اتنی نیچی رکھی گئی تھی۔ اسی منڈیر سے ٹھوکر کھا کر حکیم مومن خاں نیچے گرے، ہاتھ اور بازو ٹوٹ گیا اور اسی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔ خود ہی مرنے کی تاریخ کہی تھی “دست و بازو بشکست”۔\n\n١۔ یہ استاد ذوق اور شہ زادوں کی طرف اشارہ تھا۔\n\n٢۔ اِن کا مفصل حال آگے آئے گا، یہ بھی عجیب رقم تھے۔\n\n١۔ یہ واقعہ ہے۔ اِس کے دیکھنے والے ایک صاحب کا ابھی کوئی بیس برس ہوئے انتقال ہوا ہے۔ میں نے یہ واقعہ خود اُن کی زبانی سنا ہے۔\n\n١۔ پرانے زمانے میں شرفا گھر پر بھی پورا لباس پہنے رہتے تھے۔ زنانے میں جانے کے خاص خاص وقت تھے، ورنہ سارا وقت مردانے ہی میں گزرتا تھا۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی ملنے جلنے والا پاس بیٹھا رہتا۔ عالم ہوئے تو درس کا حلقہ ہوتا۔ شاعر ہوئے تو شعر کا چرچا رہتا۔ غرض کوئی وقت بیکار نہ گزرتا، خاص خاص دوستوں سے مذاق کی گفتگو ہوتی، ورنہ عام طور پر اپنے کو بہت لیے دیے رہتے۔ جہاں جاؤ یہی معلوم ہوتا کہ دربار لگا ہوا ہے۔ ہر شخص دو زانو مودّب بیٹھا ہے۔ بے ضرورت نہ بات کی جاتی ہے نہ جواب دیا جاتا ہے۔ کوئی ہنسی کی بات ہوئی تو ذرا مسکرادیے، کھلکھلا کر ہنسنا معیوب اور بڑھ بڑھ کر بولنا یا اونچی آواز میں بات کرنا خلافِ ادب سمجھا جاتا تھا۔\n\n١۔ سبز رنگ دہلی کا شاہی رنگ تھا۔\n\n١۔ بزرگوں کی زبانی دیوانِ عام کے مشاعروں کا جو حال میں نے سنا ہے، بجنسہ اسی پر اس مشاعرے کا نقشہ قائم کیا ہے۔\n\n١۔ روز روز کی خانہ جنگیوں نے ہر شہزادے کے دل میں یہ خیال پیدا کر دیا تھا کہ کل میں ہی بادشاہ ہو جاؤں، اس لیے قلعے کے سب لوگ خواہ شہزادے ہوں یا سلاطین زادے، ہمیشہ تخت کی، تاج کی اور اسی طرح کی قسمیں کھایا کرتے تھے۔\n\n١۔ اس واقعے کا ذکر ڈاکٹر نذیر احمد مرحوم نے ابن الوقت میں کیا ہے، مگر نام نہیں لکھا ہے۔ یہ واقعہ انہی کی زبانی معلوم ہوا تھا۔ سن کر تعجب ہوا تھا۔ اب ایسے بہت سے لوگوں کو خود اپنی آنکھ سے دیکھ لیا۔\n\n١۔ اس مضمون میں جا بہ جا دہلی والوں کے لباس کا ذکر آیا ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ذرا وضاحت سے اس لباس کو بتا دوں تاکہ پڑھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے اُس محفل کا نقشہ اور اچھی طرح پھر جائے۔ مرزا نوشہ کا ذکر تو جانے ہی دو، وہ تو ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بناتے ہیں۔ ان کی ٹوپی دنیا بھر سے جدا تھی، نہ ترکی نہ تاتاری۔ کھال کو (خواہ سمور ہو یا برّہ) اس طرح سی لیا جاتا تھا کہ نیچے کا گھیر اوپر کے چندوے سے ذرا بڑا رہے۔ اس کے بعد چار کنگرے قائم کر کے کھال کو ٹوپی کی آدھی لمبان تک اس طرح کاٹ لیا کہ ٹوپی گڑگج کی شکل بن گئی۔ بیچ میں چندوے کی جگہ مخمل یا گہرے رنگ کی بانات کنگروں کے کناروں سے ملا کر سی لی، اندر استر دے دیا، چلو مرزا نوشہ کی ٹوپی ہوگئی۔ شہرہ میں کلاہِ تتری کا بہت استعمال ہے، جس کو عام اصطلاح میں چوگوشیہ ٹوپی کہتے ہیں۔ یہ بھی کئی وضع کی ہوتی ہیں اور کئی طرح پہنی جاتی ہیں۔ جو ٹوپی شرفا استعمال کرتے ہیں، اس کا دمہ (گوٹ) ذرا نیچا ہوتا ہے۔ دمے کے اوپر چار پاکھے، پاکھے کی وضع بالکل شاہ جہانی محراب کی سی ہوتی ہے۔ چاروں کو اس طرح ملا کر سیتے ہیں کہ چاروں کونے کمرک (کمرخ) کے نمونے کے ہوجائیں۔ بعض لوگوں نے اس میں ذرا جدت بھی کی ہے وہ یہ کہ دمے کو اونچا کر کے پاکھوں کی لمبان کو چوڑان سے کسی قدر بڑھا دیا ہے اور ان کے سل جانے کے بعد جو پہل پیدا ہوئے ہیں ان کو پھر کاٹ کر کلیاں ڈال دی ہیں۔ اس طرح بجائے چار پہل کے آٹھ پہل ہوگئے ہیں۔ خوب صورتی کے لیے دمے کے کناروں پر پتلی لیس اور گوشوں کے کناروں پر باریک قیطون لگاتے ہیں۔ بادشاہ سلامت کی ٹوپی ہوتی تو اسی نمونے کی ہے، مگر سلمی ستارے کے کام سے لپی ہوئی اور جا بجا موتی اور نگینے ٹکے ہوئے۔ اس قسم کی ٹوپی کئی طرح پہنی جاتی تھی۔ قلعے والے تو پاکھوں کو کھڑا رکھتے ہیں۔ باقی لوگ ان کو کسی قدر دبا لیتے ہیں۔ جو ٹوپی آٹھ پہل کی ہوتی ہے، اس کے پاکھوں کو تو اتنا دبا دیتے ہیں کہ گوشے، دمے کے باہر پھیل کر کنول کی شکل بن جاتے ہیں۔ اس قسم کی ٹوپی ہمیشہ آڑی پہنی جاتی ہے اور وہ بھی اس طرح کہ اُس کا ایک کونا بائیں بھوں کو دبائے۔ اِس ٹوپی کے علاوہ ارخ چین (عرق چین) کی ٹوپی کا بھی رواج ہے۔ اس کا بنانا کچھ مشکل کام نہیں۔ ایک مستطیل کپڑے کے کناروں کو سر کی ناپ کے برابر سی لیا۔ نیچے پتلی سی گوٹ دے دی اور اوپر کے حصے میں چنّٹ دے کر چھوٹا سا گول گتا لگا دیا۔ دہلی کی دو پلڑی ٹوپی اور لکھنؤ کی ٹوپی میں صرف یہ فرق ہے کہ یہاں یہ ٹوپی اتنی بڑی بناتے ہیں کہ سر پر منڈھ جائے۔ بر خلاف اس کے لکھنؤ کی ٹوپی صرف بالوں پر دھری رہتی ہے۔ ان ٹوپیوں کے علاوہ بعض بعض لوگ پچ گوشیہ ٹوپی بھی پہنتے ہیں۔ اس ٹوپی کے پانچ گوشے ہوتے ہیں، لیکن اس کی کاٹ چوگوشیہ ٹوپی سے ذرا مختلف ہے۔ گوشوں کے اوپر کے حصے بس ایسے ہوتے ہیں جیسے فصیل کے کنگرے۔ نیچے دمے کی بجائے پتلی سی گوٹ ہوتی ہے۔ یہ ٹوپی قالب چڑھا کر پہنی جاتی ہے۔ قالب چڑھ کر ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے ہمایوں کے مقبرے کا گنبد۔ عام لوگوں میں بڑے گول چندوے کی ٹوپی کا بھی بہت استعمال تھا۔ بعض تو بالکل سادی ہوتی ہیں (بقیہ صفحۂ گزشتہ سے آگے) اور بعض سوزنی کے کام یا فیتے کے کام کی ہوتی ہیں۔ اس ٹوپی کو بھی قالب چڑھا کر پہنتے ہیں۔ لباس میں انگرکھا بہت پسند کیا جاتا ہے۔ انگرکھے کی چولی اتنی نیچی ہوتی ہے کہ ناف تک آتی ہے۔ چوں کہ ہر شخص کو کسرت کا شوق ہے، اس لیے جسم کی خوب صورتی دکھانے کے لیے آستینیں بہت چست رکھتے ہیں اور بعض شوقین آستینوں کو آگے سے کاٹ کر الٹ لیتے ہیں۔ انگرکھے کے نیچے کرتا بہت کم لوگ پہنتے ہیں۔ قلعے والوں کے انگرکھے کے اوپر جامے دار یا مخمل کی خفتان ہوتی ہے۔ بہت تکلف کیا تو اس کے حاشیوں پر سمور لگا لیا، نہیں تو عموماً پتلی لیس لگاتے ہیں۔ بٹنوں کی بجائے صرف ایک تکمہ اور گھنڈی ہوتی ہے جس کو “عاشق معشوق” یا “چشمے” کہتے ہیں۔ اس کی آستینیں ہمیشہ آدھی ہوتی ہیں۔ قلعے میں تو اس کو خفتان کہا جاتا ہے مگر شہر والے اس سینہ کھلے نیمہ آستین کو “شیروانی” کہتے ہیں۔ انگرکھے کے اوپر چوکور شالی رومال سموسا کرکے پیٹھ پر ڈال لیتے ہیں۔ اس رومال کو عام اصطلاح میں “ارخ چین” کہتے ہیں۔ کمر میں بھی بتی کر کے رومال لپیٹنے کا رواج ہے مگر بہت کم۔ پیجامہ ہمیشہ قیمتی کپڑے کا ہوتا ہے، اکثر گل بدن، غلطے، مشروع، موٹرے، اطلس یا گورنٹ کا ہوتا ہے۔ پرانی وضع کے جو لوگ ہیں، وہ اب بھی ایک بر ہی کا پیجامہ پہنتے ہیں مگر تنگ مہریوں کے پیجامے بھی چل نکلے ہیں۔ سلیم شاہی جوتی کا استعمال شروع ہوگیا ہے پھر بھی دہلی کے شرفا گھیتلی جوتی زیادہ پسند کرتے ہیں۔ شاید ہی شہر بھر میں کوئی ہوگا جس کے ہاتھ میں بانس کی لکڑی اور گز بھر کا لٹھے کا چوکور رومال نہ ہو۔ ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر لمبی پور کا ٹھوس بھاری بانس لیتے، تیل پلاتے، مہندی مل کر باورچی خانے میں لٹکاتے، یہاں تک کہ اس کی رنگت بدلتے بدلتے سیاہ ہو جاتی اور وزن تو ایسا ہو جاتا گویا سیسہ پلا دیا ہے۔ جو نکلتا ہے، اینٹھتا ہوا نکلتا ہے۔ جس کو دیکھو چوڑا سینہ، پتلی کمر، بنے ہوئے ڈنڈ۔ شرفا میں ڈھونڈنے سے شاید ایک بھی نہ نکلے گا جس کو کسرت کا شوق نہ ہو اور وہ بانک، بنوٹ اور لکڑی نہ جانتا ہو۔ بچپن ہی سے ان فنون کی تعلیم دی جاتی ہے۔ مقابلے ہوتے ہیں، واہ واہ سے بچوں اور نوجوانوں کا دل بڑھاتے ہیں اور فنونِ سپہ گری کو شرافت کا تمغا سمجھتے ہیں۔\n\n١۔ مرزا فخرو کے ساتھ نواب مرزا خاں داغ کے آنے کی وجہ یہ تھی کہ نواب شمس الدین خاں کے پھانسی پانے کے بعد ان کی بیوی یعنی داغ کی والدہ کا نکاح مرزا فخرو سے ہوگیا تھا اور اسی نسبت سے داغ قلعے میں رہتے تھے۔ (نواب فتح الملک کا عرف “مرزا فخرو” تھا۔)\n\n٢۔ نواب فتح الملک بہادر بڑے کٹر مسلمان تھے۔ کوئی کام بغیر فاتحۂ خیر کے شروع نہ کرتے تھے، اسی لیے سب قلعے والے ان کو “ملا” یا “ملیٹا” کہا کرتے تھے۔\n\n١۔ اس غرور ہی نے آخر ان کو نیچا دکھایا۔ ان کا روز روز اکھاڑے میں آ کر خم ٹھوکنا لوگوں کو ناگوار گزرا۔ شیخو والوں کے استاد حاجی علی جان نے ایک پٹھا تیار کیا۔ بدن میں تو کچھ ایسا زیادہ نہ تھا مگر داؤں پیچ میں طاق تھا اور پھرتی اس بلا کی تھی کہ کیا کہوں۔ ایک دن جو میاں یل نے حسبِ معمول شیخو والوں کے یہاں آ کر خم ٹھونکے تو لونڈا کپڑے اتار، پیترا بدل سامنے آگیا اور خم ٹھونک کر ہاتھ ملانا چاہا۔ میاں یل کو ہنسی آگئی کہ بھلا یہ پودنا میرا کیا مقابلہ کرے گا۔ ہاتھ ملانے میں تامل کیا۔ استاد علی جان نے کہا: کیوں بھئی ہاتھ کیوں نہیں ملاتے، یا تو ہاتھ ملاؤ یا پھر کبھی اس اکھاڑے میں آ کر خم نہ ٹھونکنا۔ کہنے لگے: استاد! جوڑ تو دیکھ لو، خواہ مخواہ اس لونڈے کو پسوانے سے حاصل؟ استاد نے کہا: میاں جو جیسی کرے گا ویسی بھرے گا۔ دنگل میں تم اسے کچل ڈالنا۔ یہی ہوگا نا کہ ہڈی پسلی تڑوا کر آئندہ کو کان ہو جائیں گے۔ بہرحال دونوں کے ہاتھ مل گئے، تاریخ مقرر ہوگئی۔ اس مشاعرے کے دو چار دن بعد شاہی دنگل میں کشتی قرار پائی۔ عید گاہ کے پاس ہی یہ دنگل ہے۔ دس پندرہ ہزار آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے، مگر اُس روز وہاں تل رکھنے کو جگہ نہ تھی۔ جدھر نظر جاتی سر ہی سر دکھائی دیتے۔ میاں یل کی بے ہودگیوں کی وجہ سے ساری دہلی اس لونڈے کی طرف تھی۔ پہلے چھوٹی موٹی کشتیاں ہوتی رہیں۔ ٹھیک چار بجے یہ دونوں جانگیے پہن، چادریں پھینک دنگل میں اترے۔ اترتے ہی دونوں نے “یا علی” کا نعرہ مارا۔ دو چار ڈھیکلیاں کھائیں۔ کچھ پڑھ کر مٹی سینے پر ڈالی اور خم ٹھونک کر آمنے سامنے ہوگئے۔ دونوں کے جسموں میں زمین آسمان کا فرق تھا، ہاتھی اور (بقیہ گزشتہ صفحے کا) چیونٹی کا مقابلہ تھا۔ تمام دنگل میں سناٹا تھا۔ سوئی بھی گرے تو آواز سن لو۔ وہاں آواز تھی تو “یا علی” کی یا خم ٹھونکنے کی۔ میاں یل نے لونڈے کا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا دیا، وہ آگے کو جھکا۔ یہ کمر پر آگئے، وہ جھٹ غوطہ مار ہاتھوں کو چیر کر نکل گیا۔ انھوں نے اس کا سیدھا ہاتھ پکڑ کر دھوبی پاٹ پر کسنا چاہا۔ وہ توڑ کر کے الگ جا کھڑا ہوا۔ یہ گاؤ زوری کر کے اس کو دبا تو لیتے، لیکن وہ اپنی پھرتی کی وجہ سے ذرا سی دیر میں صاف نکل جاتا۔ آخر ایک دفعہ یہ اس کو دبا ہی بیٹھے۔ وہ چپکا پڑا رہا۔ انھوں نے ہفتے کس لیے۔ تھوڑی دیر تک اس کو خوب رگڑا۔ وہ سہے چلا گیا انھوں نے پہلو میں اُکس کر اس کا سینہ کھولنا چاہا۔ وہ بھی موقع تاک رہا تھا۔ یہ کھینچنے میں ذرا غافل ہوئے، اس نے ٹانگ پر باندھ کر جو اڑایا تو میاں یل چاروں شانے چت جا پڑے۔ لونڈا اچک کر سینے پر سوار ہوگیا۔ “وہ مارا، وہ مارا” کی آوازوں سے دنگل ہل گیا۔ لوگوں نے دوڑ کر لونڈے کو گود میں اٹھا لیا۔ کسی نے پھر کر یہ بھی نہ دیکھا کہ میاں یل کہاں پڑے ہیں۔ یہ بھی چپکے سے اٹھ، چادر اوڑھ، منہ لپیٹ، ایسے غائب ہوئے کہ پھر کسی نے ان کی صورت نہ دیکھی۔ دنگل سے کیا گئے۔ ہمیشہ کے لیے دہلی سے گئے۔ تھے بڑے غیرت مند، وہ دن اور آج کا دن، پھر ان کی صورت نظر نہ آئی، خدا جانے کہاں مر کھپ گئے۔\n\n١۔ آیندہ یہ ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں کہ سیدھی طرف سے شمع بڑھی یا الٹی جانب سے۔ بس یہ سمجھ لیجیے کہ دائیں طرف کا ایک شاعر پڑھتا تھا اور پھر بائیں طرف کا۔\n\n١۔ غدر کے بعد میرؔ صاحب کا انتقال ہوا ہے۔ میاں کالے صاحب کے فرزند میاں نظام الدین صاحب کے مکان پر جو مشاعرہ ہوتا تھا، اس میں بھی یہ شریک ہوتے تھے۔ اُس مشاعرے کے دیکھنے والے اب بھی دہلی میں بہت موجود ہیں۔ انہی لوگوں کی زبانی میر صاحب کے حالات معلوم ہوئے اور درج کیے گئے۔ تذکروں میں تو ان بچاروں کا کیوں ذکر آنے لگا۔\n\n١۔ علمِ معانی اور بلاغت پر علامہ تفتازانی کی ایک مشہور کتاب کا نام مطول ہے۔\n\n٢۔ اربعین فی اصول الدین حضرت امام غزالیؒ کی ایک مشہور تصنیف ہے، جس کو میر صاحب نے رباعیوں کی بحروں سے متعلق کر دیا۔\n\n١۔ قلعے والوں کو خواہ شہزادے ہوں یا سلاطین زادے “صاحب عالم” کہا جاتا ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D9%85%D8%B9/%D8%AD%D9%88%D8%A7%D8%B4%DB%8C"} {"title": "دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے\nکلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے\n\nزمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا\nبدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے\n\nتمہارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں\nگل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے\n\nبہار آئی ہے نشہ میں جھومتے ہیں\nمریدان پیر مغاں کیسے کیسے\n\nعجب کیا چھٹا روح سے جامۂ تن\nلٹے راہ میں کارواں کیسے کیسے\n\nتپ ہجر کی کاہشوں نے کئے ہیں\nجدا پوست سے استخواں کیسے کیسے\n\nنہ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا\nتڑپتے رہے نیم جاں کیسے کیسے\n\nنہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا\nمٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے\n\nبہار گلستاں کی ہے آمد آمد\nخوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے\n\nتوجہ نے تیری ہمارے مسیحا\nتوانا کئے ناتواں کیسے کیسے\n\nدل و دیدۂ اہل عالم میں گھر ہے\nتمہارے لیے ہیں مکاں کیسے کیسے\n\nغم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماں\nہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے\n\nترے کلک قدرت کے قربان آنکھیں\nدکھائے ہیں خوش رو جواں کیسے کیسے\n\nکرے جس قدر شکر نعمت وہ کم ہے\nمزے لوٹتی ہے زباں کیسے کیسے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%81%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92"} {"title": "دہن ہے تنگ شکر اور شکر ترا ہے کلام", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دہن ہے تنگ شکر اور شکر ترا ہے کلام\nلباں ہیں پستہ زنخ سیب و چشم ہیں بادام\n\nتری نگہ سے گئے کھل کواڑ چھاتی کے\nحصار قلب کی گویا تھی فتح تیرے نام\n\nدلوں کی راہ میں خطرے پڑے ہیں کیا یارو\nکہ چند روز سے موقوف ہے پیام و سلام\n\nامیدوار جناب خدا سے ہے حاتمؔ\nکہ ہووے کام کا اس کے شتاب سے انجام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%81%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "دیا جب جام مے ساقی نے بھر کے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیا جب جام مے ساقی نے بھر کے\nتو پچھتائے بہت ہم توبہ کر کے\n\nلپٹ جاؤ گلے سے وقت آخر\nکہ پھر جیتا نہیں ہے کوئی مر کے\n\nوہاں سے آ کے اس کی بھی پھری آنکھ\nوہ تیور ہی نہیں اب نامہ بر کے\n\nکوئی جب پوچھتا ہے حال دل کا\nتو رو دیتے ہیں ہم اک آہ بھر کے\n\nگلوں کے عشق میں دے جان بلبل\nارے یہ حوصلے ایک مشت پر کے\n\nخدا محفوظ رکھے ان کی ضد سے\nجو کہتے ہیں دکھا دیتے ہیں کر کے\n\nرہیں گے خاک میں ہم کو ملا کر\nترے انداز اس نیچی نظر کے\n\nدماغ اپنا نہ کیوں کر عرش پر ہو\nیہ سمجھو تو گدا ہیں کس کے در کے\n\nہوئی ہے قید سے بدتر رہائی\nکیا آزاد اس نے پر کتر کے\n\nاٹھے جاتے ہیں لو دنیا سے ہم آج\nمٹے جاتے ہیں جھگڑے عمر بھر کے\n\nحفیظؔ اب نالہ و فریاد چھوڑو\nکوئی دن یوں بھی دیکھو صبر کر کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%92"} {"title": "دیا جو ساقی نے ساغر مے دکھا کے آن اک ہمیں لبالب", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیا جو ساقی نے ساغر مے دکھا کے آن اک ہمیں لبالب\nاگرچہ مے کش تو ہم نئے تھے پہ لب پہ رکھتے ہی پی گئے سب\n\nچلتے ہیں دینے کو ہم جسے دل وہ ہنس کے لے لے بس اب ہمیں تو\nیہی ہے خواہش یہی تمنا یہی ہے مقصد یہی ہے مطلب\n\nکبھی جو آتے ہیں دیکھنے ہم تو آپ تیوری کو ہیں چڑھاتے\nجو ہر دم آویں تو کیجے خفگی میاں ہم آتے ہیں ایسے کب کب\n\nنہ پی تھی ہم نے یہ مے تو جب تک نظیرؔ ہم میں تھا دین و ایماں\nلگا لبوں سے وہ جام پھر تو کہاں کا دین اور کہاں کا مذہب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D9%85%DB%92_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86_%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A8"} {"title": "دیا ساقی لبالب مجھ کو ساغر", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "دیا ساقی لبالب مجھ کو ساغر\nہوا سارا کدورت دل سوں باہر\n\nعجب تھا مست ساقی جام تیرا\nچھپا باطن لگا دسنے کو ظاہر\n\nاندھارا غیر کا جی سوں گیا ٹل\nہوا خورشید آ انکھیاں میں حاضر\n\nدیا ذرے کو اپنے مہر سوں نور\nہوا تس پر کرم سوں آپ ناظر\n\nلگا کر فیض کا مجھ جگ میں انجن\nکیا ہے گنج سوں باطن کے ماہر\n\nتصدق جان و دل سوں میں سراپا\nنوازش ہے تری دو جگ میں نادر\n\nعلیمؔ اللہ ترا ساقی سچا ہے\nلقب جس کو محی الدینؔ قادر", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A8_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1"} {"title": "دیا ہے بوسہ مجھے جب کہ میں ہوا گستاخ", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیا ہے بوسہ مجھے جب کہ میں ہوا گستاخ\nغلط ہے بات کہ کم رزق ہے گدا گستاخ\n\nتمہاری بزم میں افسردہ مَیں نہ بیٹھوں گا\nنسیم باغ میں چالاک ہے، صبا گستاخ\n\nکہاں ہے غیرتِ شوخی کہ جائے غیرت ہے\nنگاہِ یار سے ہر وقت ہے حیا گستاخ\n\nسفیہ جیسے کہ خدمت سے چل نکلتے ہیں\nغرورِ مہر و وفا نے مجھے کیا گستاخ\n\nلبوں سے جان ہے گستاخ ذوقِ بے حد سے\nزبانِ بوسہ مجھے تو نے کیوں کہا گستاخ\n\nقبول کیوں نہ ہوئی خواہشِ ہم آغوشی\nکہ آشناؤں سے ہوتے ہیں آشنا گستاخ\n\nعنانِ ضبط کوئی شیفتہ سے تھمتی ہے\nکہ ہر کرشمہ ہے چالاک و ہر ادا گستاخ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%AF%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AE"} {"title": "دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیے\nہوا رقیب، تو ہو، نامہ بر ہے، کیا کہیے\n\nیہ ضد کہ آج نہ آوے، اور آئے بِن نہ رہے\nقضا سے شکوہ ہمیں کِس قدر ہے، کیا کہیے!\n\nرہے ہے یوں گِہ و بے گہِ، کہ کُوئے دوست کو اب\nاگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے، کیا کہیے!\n\nزہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب\nکہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے، کیا کہیے\n\nسمجھ کے کرتے ہیں، بازار میں وہ پُرسشِ حال\nکہ یہ کہے کہ، سرِ رہگزر ہے، کیا کہیے؟\n\nتمہیں نہیں ہے سرِ رشتۂ وفا کا خیال\nہمارے ہاتھ میں کچھ ہے، مگر ہے کیا؟ کہیے!\n\nاُنہیں سوال پہ زعمِ جنوں ہے، کیوں لڑیے\nہمیں جواب سے قطعِ نظر ہے، کیا کہیے؟\n\nحَسد، سزائے کمالِ سخن ہے، کیا کیجے\nسِتم، بہائے متاعِ ہُنر ہے، کیا کہیے!\n\nکہا ہے کِس نے کہ غالبؔ بُرا نہیں، لیکن\nسوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے، کیا کہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%B4%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "دیار عشق", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "سب ہی جانتے ہیں کہ شہید میرا دوست اور بڑا پکا دوست تھا۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ امیر تھا اور میں غریب۔ مگر دوستی میں نہ اس نے اس بات کا کبھی خیال کیا اور نہ میں نے کبھی خدا نخواستہ اس کے روپے سے کوئی فائدہ اٹھایا۔ بلکہ میں تو یوں کہوں گا اس کی دوستی سے میں ہی کچھ نقصان میں رہتا تھا۔ بورڈنگ سے شام کو ہم دونوں ٹہلنے نکلے ہیں۔ شہید کو پیاس لگی۔ کہنے لگا، ’’چلو بھئی کچھ پئیں۔‘‘ کسی دکان پر ٹھہرے۔ دو بوتلیں لیمو نیڈ کی کھلوائیں۔ ایک اس نے پی، ایک میں نے پی۔ پینے کے بعد میں نے پیسے نکال، دکان والے کو دیے۔ شہید ’’نہیں نہیں‘‘ کرتا رہا۔ مگر میں نے ایک نہ سنی۔ آپ یقین مانئے کہ اگر کوئی میرے برابر والا ہوتا تو آدھے دام ضرور دھروا لیتا۔ مگر محض اس کی امارت کی وجہ سے میں خود دام دیتا کہ کہیں کسی کو یہ کہنے کی جگہ نہ ہو کہ ’’امیر کا بیٹا سمجھ کر میں نے شہید سے دوستی کی ہے۔‘‘\n\nبہر حال طالب علمی کے زمانے میں میرا اور اس کا خوب ساتھ رہا۔ میں نے بی اے کیا۔ اس نے بھی بی اے کیا۔ میں امتحان وکالت کی تیاری کرنے لگا اور وہ پڑھنا لکھنا چھوڑ اپنے گھر چلا گیا۔ وکالت کا امتحان دینے کے بعد میں تھوڑے دن کے لیے اس کے ہاں گیا۔ ماشاء اللہ بڑا زبردست کار خانہ تھا۔ نوکر چاکر، گاڑی گھوڑا، مکان، باغ، غرض خدا کا دیا سب کچھ موجود تھا۔ مجھ سے بڑی محبت سے ملا۔ اپنے والد سے مجھ کو ملوایا۔ خط نہ لکھنے کی شکایت کرتا رہا۔ ہر پھر کر یہی کہتا تھا کہ ’’بھائی میں بڑی مصیبت میں ہوں، گاؤں کا کام مجھ سے نہیں چل سکتا اور والد صاحب قبلہ زبر دستی مجھے اس میں ٹھونسے دیتے ہیں۔‘‘\n\nشام کو گاڑی پر بیٹھا, مجھے سیر کرانے لے گیا۔ یہ قصبہ بہت آباد ہے۔ لیکن خرابی یہ ہے کہ ندی کے بیچوں بیچ جزیرے کی شکل میں بسا ہوا ہے۔ اس کی باتوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس ندی کی طغیانی اکثر قصبے کو نقصان پہنچا چکی ہے۔ مگر لوگوں کو یہ جگہ کچھ ایسی پسند آئی ہے کہ چھوڑنے کا نام نہیں لیتے۔ غرض اسی طرح چند روز گزار کر میں اپنے گھر چلا آیا۔ وکالت شروع کی۔ خدا کے فضل سے اچھی چلی۔ کوئی دو برس گزرے ہوں گے کہ شہید کا تار آیا، لکھا تھا کہ ’’آج شام کی گاڑی سے پہنچوں گا۔ اسٹیشن پر سواری بھیج دینا۔‘‘ شام کو میں خود اپنی موٹر لے کر اسٹیشن پہنچا۔ شہید ہنستا ہوا ریل سے اترا اور کہنے لگا، ’’ارے بھئی مرزا! میں تو زندگی سے تنگ آ گیا ہوں۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں۔ ہے یہ کہ گاؤں کے حساب کتاب نے مجھے تو مار ڈالا۔ سوچا کہ چلو، تھوڑے دنوں یار کے ہاں رہ آؤ، شاید کچھ طبیعت بہل جائے۔ خیال آنا تھا کہ چل کھڑا ہوا۔ والد صاحب قبلہ روکتے بھی رہے مگر جب انہوں نے تمہارا نام سنا تو خاموش ہو گئے۔ دوسرے اگھائی کا زمانہ نہیں تھا۔ اس لیے بھی انہوں نے مجھے روکنا بے ضرورت سمجھا۔‘‘\n\nشہید کی وجہ سے میں نے بھی اپنا پلنگ مردانہ میں منگوا لیا۔ رات کو اس ظالم نے وہ الٹے سیدھے قصے چھیڑے کہ نیند حرام کر دی۔ معلوم نہیں کہ کیوں اس زمانے میں میرے افسانے بہت پسند کیے جاتے تھے۔ شہید رہ رہ کر یہی سوال کرتا تھا کہ ’’یار یہ بتاؤ ایسے مضمون تم لکھتے کیسے ہو، میں بھی کوشش کرتا ہوں مگر جب خود مجھے اپنا مضمون پسند نہیں آتا تو بھلا دوسرے اس کو کیوں پسند کرنے لگے۔ بھئی ہم تم کو ایسا نہیں سمجھے تھے۔ تم تو چھپے رستم نکلے۔ قسم خدا کی میں اگر ایسے مضمون لکھنے لگوں تو بیڑا پار ہے۔ ایک صفحہ لکھ کر سارے دن کی کلفت دور ہو جائے۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’میاں شہید! میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ مجھے خود نہیں معلوم کہ یہ مضمون کیوں کر لکھ لیتا ہوں۔ اور خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ لوگ اسے کیوں پسند کرتے ہیں۔ اگر ہماری بات مانو تو ایک صلاح دیں۔ تم شادی کر ڈالو۔ پھر گھر داری کے جھگڑوں میں پڑ کر یہ ساری مشکلیں آسان ہو جائیں گی اور مضمون لکھنے کو مواد بھی بہت کچھ مل جائے گا۔‘‘ شہید نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا، ’’میاں مرزا، خدا کے لئے ایسی فال زبان تو منہ سے منت نکالو، میں اور شادی کروں۔ یوں ہی کیا کم جھگڑے میرے پیچھے لگے ہیں جو بیوی کا دم چھلا بھی اپنے ساتھ لگا لوں۔ میں تو چاہتا ہوں کہ آزاد بھی رہوں اور دل بھی بہل جائے۔‘‘ میں نے کہا، ’’حضرت یہ ذرا مشکل کام ہے۔ یہ بات تو صرف دو ہی طرح کے آدمیوں کو حاصل ہے یا دیوانوں کو یا عاشقوں کو۔ خیر دیوانہ بننا تو تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔ ہاں عاشق ہو سکتے ہو۔ پھر کیا ہے کہ میرے دونوں میٹھے ہیں۔ آزادی الگ ملے گی اور مضمون نگار الگ ہو جاؤ گے۔ اور مضمون نگار بھی کیسے کہ رہے نام سائیں کا۔ اگر سارا ہندوستان نہ چیخ اٹھے تو میرا ذمہ۔‘‘\n\nمیں نے تو یہ بات ہنسی ہنسی میں کہی تھی مگر خدا معلوم شہید کیوں سوچ میں پڑ گیا۔ میں نے بات بدلنے کی کوشش بھی کی لیکن اس کو جو چپ لگی تو پھر میری کسی بات کا اس نے جواب نہ دیا۔ آخر باتیں کرتے کرتے مجھے بھی نیند آ گئی۔ صبح جو سو کر اٹھا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ شہید کا پلنگ خالی پڑا ہے۔ آدمی کو بلا کر دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ حضرت چار بجے کی گاڑی سے چل دیے۔ میں نے سب نوکروں کو ڈانٹا کہ مجھے کیوں نہ جگا لیا۔ مگر وہ بچارے کیا کرتے۔ میاں شہید نے ان سے کہہ دیا تھا کہ میں بھائی سے اجازت لے کر جا رہا ہوں۔ کیوں خوا ہ مخواہ جگا کر انہیں حیران کرتے ہو۔\n\nمیں صبح کو ہاتھ منہ دھو، ناشتہ کر دفتر میں آیا۔ کچھ موکل آ گئے تھے۔ ان سے مقدمات سمجھتا رہا۔ نو بجے کے قریب ڈاک آئی۔ خطوں کو دیکھا۔ اخبار اٹھا کر ادھر ادھر الٹا پلٹا۔ ایک جگہ موٹے موٹے حرفوں میں لکھا تھا، ’’ایک قصبہ کی تباہی۔‘‘ معلوم نہیں کیوں اس خبر کو پڑھنے کو جی چاہا۔ دو چار سطریں پڑھی ہوں گی کہ جی گھبرانے لگا اور آنکھوں کے سامنے سے حرف بھاگنے لگے۔ ہائے شہید کا سارا خاندان تباہ ہو گیا۔ سارے کا سارا قصبہ بہہ گیا۔ بھلا وہ بھی کوئی ندی میں ندی تھی جس نے یہ آفت بپا کر دی اور یہ طغیانی ہی کا کون سا موسم تھا۔ بس یہ کہو کہ ان سب بچاروں کی موت ہی آ گئی تھی۔ یا خدا بے چارے شہید پر رحم کر۔ کہیں غریب اس صدمے سے دیوانہ نہ ہو جائے۔\n\nمیں نے اسی وقت شہید کے نام تار دیا لیکن دو ہی گھنٹے کے بعد جواب آ یا کہ ’’قصبہ بالکل تباہ ہو گیا، وہاں کوئی نہیں ہے جس کو تار دیا جائے۔‘‘ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر چپ ہو گیا لیکن دل پر ایسا دھچکا لگا کہ کئی روز تک کھانا پینا حرام ہو گیا۔ رات ہے تو یہی فکر ہے، دن ہے تو یہی فکر ہے کہ اس قصبہ والوں پر کیا گزری ہوگی اور بچارے شہید پر کیا گزرے گی۔\n\nاس واقعہ کو کچھ اوپر ایک سال ہو گیا ہے۔ آج کوئی دو بجے مجھے ایک خط ملا۔ خط ضرور شہید کا ہے۔ طرز تحریر بھی اس کی ہے۔ طریقہ مخاطبت بھی اسی کا ہے۔ املا بھی اسی کی ہے۔ انشاء بھی اسی کی ہے لیکن مضمون اس کا نہیں معلوم ہوتا۔ اب خدا کو خبر ہے کہ شہید دیوانہ ہو گیا ہے یا کوئی اور راز ہے۔ میری کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ خط نقل کیے دیتا ہوں۔ کوئی بھلے آدمی مجھے بتائیں کہ آخر یہ ہے کیا معاملہ۔ یکم اپریل سے تو یہ خیال ہوتاہے کہ اس میرے یار نے مذاق کیا ہے لیکن واقعات کا تسلسل اور عبارت کی نشست کہتی ہے کہ نہیں۔۔۔ اس میں اصلیت ہے اور ضرور اصلیت ہے۔ خواہ ہم اس کو سمجھ سکیں یا نہ سمجھ سکیں۔ بہر حال ملاحظہ ہو۔\n\nاز مسحورا\nیکم اپریل سنہ رواں\n\nیار عزیز! خدا تم سے سمجھے۔ تم نے بیٹھے بٹھائے مجھے عشق کی مصیبت میں پھنسا دیا۔ نہ اس روز تمہارے پاس آتا اور نہ ان مشکلات میں گرفتار ہوتا۔ گھر والے بہے تھے، ان کے ساتھ میں بھی بہہ جاتا۔ نہ جیتا رہتا اور نہ اس عشق کے جنجال میں پڑتا۔ تو خیر سنو، تم اس روز باتیں کرتے کرتے غین ہو گئے اور میں نے سوچنا شروع کیا کہ مرزا کی ترکیب بہت ’’چوکھی‘‘ ہے۔ چلو کہیں چل کر عاشق ہی کیوں نہ ہو جاؤ۔ اگر سچا عاشق ہوا تو پھر کہنا ہی کیا ہے۔ ا گر یوں ہی کچھ لگاؤ ہوا تو مضمون نگار ہو جاؤ گے۔ یہ بھی قسمت آزمائی ہے۔ اس کو بھی کر دیکھو۔ غرض یہی سوچتے سوچتے تین بج گئے۔ چار بجے ریل جاتی تھی۔ میں نے اٹھ کر چپکے چپکے بستر باندھنا شروع کیا۔ خبر نہیں تمہارا نوکر برہان کیوں جاگ اٹھا۔ اس نے مجھے چور سمجھا اور کیا عجب کہ وہ مجھ پر آ کر لکڑی کا وار کرتا۔ کیونکہ اس کا دبے پاؤں آنا خالی از علت نہ تھا۔ مگر جب اس نے مجھے پہچانا تو وہ کچھ گھبرا سا گیا۔\n\nمیں نے اس کو یقین دلایا کہ میں تمہاری اجازت سے جا رہا ہوں۔ صرف ایک مقدمے میں مشورہ لینے آیا تھا۔ کل پیشی ہے اگر چار بجے کی گاڑی سے نہ گیا تو نقصان ہو جائے گا۔ یہ سن کر وہ بھی اسباب سمیٹنے میں میرا شریک ہو گیا۔ اس کےسر پر سامان رکھوا کر اسٹیشن پہنچا۔ تھوڑی دیر میں گاڑی آ گئی۔ میں نے ٹکٹ لیا اور سوار ہو گیا۔ خدا کے لیے برہان کو کچھ نہ کہنا۔ اس میں اس بچارے کا کوئی قصور نہیں ہے۔ جنکشن پر اخبار خریدا۔ اس میں جو کچھ لکھا تھا وہ تم نے بھی پڑھا ہوگا۔ اب تم ہی بتاؤ جب گھر بار رہا نہ ماں باپ بھائی بہن رہے نہ مکان اندوختہ رہا نہ زمین تو پھر میں گھر جا کر کیا کرتا۔ میں اسی خیال میں حیران و پریشان بیٹھا تھا کہ مرغوب آباد سے ایک بڑے میاں سوار ہوئے۔ ایسے باتونی تھے کہ خدا کی پناہ۔ بیٹھنے کے ساتھ ہی انہوں نے میرے سگریٹ کے بکس پر قبضہ کیا اور تڑاتڑ اس طرح سگریٹ پینے شروع کیے کہ تھوڑی ہی دیر میں نو سگریٹوں کا خون کر دیا۔ ان کی باتیں کچھ ایسے مزے کی تھیں کہ میں نے بھی ان کے سامنے سے بکس اٹھانا مناسب نہ سمجھا۔\n\nباتوں باتوں میں وہ کہنے لگے کہ ’’ہمارے مرغوب آباد سے تھوڑے فاصلے پر پہاڑوں کے بیچ میں ایک بستی ہے۔ وہاں آب و ہوا میں کچھ اس بلا کا اثر ہے کہ جہاں کسی نے وہاں قدم رکھا اور عاشق ہوا۔ اور مزا یہ ہے کہ جو وہاں جاتا ہے آنے کا نام نہیں لیتا۔ پہلے تو جانے والوں کو بڑا زور تھا۔ آج یہ گیا کل وہ گیا۔ مگر تھوڑے دنوں سے سرکا رنے وہاں جانے کی ممانعت کر دی ہے اور لوگ خود بھی وہاں جانے سے گھبراتے ہیں۔ اس لئے عاشقوں کے قافلے اب ذرا ادھر کم جاتے ہیں۔ بھئی ہمارے خیال میں تو وہاں پریاں آباد ہیں۔ وہ انسانوں پر کچھ جادو کر کے اس طرح پھانس لیتی ہیں کہ کوئی اللہ کا بندہ واپس آنے کا نام نہیں لیتا۔ اسی وجہ سے سب لوگ اس کو مسحورا کہتے ہیں۔‘‘\n\nیہ مضمون کچھ ایسا دلچسپ تھا کہ میں سارا غم بھول گیا۔ پہلے تو میں یہ سمجھا کہ بڈھا یوں ہی غپیں مار رہا ہے لیکن جب اس بھلے مانس نے قسمیں کھائیں اور اتے پتے کی باتیں بیان کیں، اس وقت مجھے بھی کچھ یقین سا آ گیا۔ سوچا کہ’’میاں شہید جب زندگی گزارنے کا بس یہی ایک رستہ رہ گیا ہے۔ اگر بڈھے کی بات صحیح نکلی تو اچھی گزر جائے گی۔‘‘ غرض یہ سوچ کر میں دوسرے اسٹیشن پر اتر گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ڈاؤن ٹرین بھی مل گئی۔ اس میں سوار ہو مرغوب آباد پہنچا۔ ریل سے اترا۔ سامان اسٹیشن ماسٹر کی تحویل میں دیا۔ صبح ہو چکی تھی۔\n\nاسٹیشن پر تانگے والے کھڑے تھے۔ میں نے ایک سے کہا، ’’میاں تانگے والے، مجھے مسحورا لے چلو گے؟‘‘ یہ سن کر وہ میرا منہ تکنے لگا۔ میں نے کہا، ’’کیوں آخر مسحورا جانا کوئی جرم ہے؟‘‘ اس نے کہا، ’’اجی جائیے۔ پرے ہٹئے، آپ ہمیں پولیس میں گرفتار کرانا چاہتے ہیں۔ اب کہا تو کہا۔ آئندہ یہ لفظ منہ سے نہ نکالنا ورنہ پکڑے جاؤگے۔‘‘ خیر ان باتوں سے یہ تو معلوم ہو گیا کہ بڈھے کی باتوں میں کچھ اصلیت ضرور تھی۔ سارا دن میں نے ادھر ادھر گھوم کر کاٹا اور چپکے چپکے یکے والوں، تانگہ والوں، گاڑی بانوں اور چھکڑے والوں سے مسحورا چلنے کو کہتا رہا مگر کسی نے بھی چلنے کی حامی نہ بھری۔\n\nآخر شام کو ایک بڈھے گاڑی بان نے کہا، ’’میاں میں لے تو چلوں گا مگر ایک شرط ہے کہ مسحورا سے پانچ میل ادھر چھوڑ دوں گا، آگے آپ جانیں اور آپ کا کام جانے۔ رات اندھیری ہے۔ آپ نو بجے مجھ سے گاؤں کے باہر ملئے۔ میں گاڑی جھاڑیوں میں چھپا دوں گا۔ جب گاؤں کے سب لوگ سو جائیں گے، اس وقت ہم دونوں پہاڑوں کی طرف نکل کھڑے ہوں گے۔ مگر میاں میں پچاس روپے لوں گا۔ آپ جانتے ہیں کہ اگر کسی کو ذرا بھی خبر ہو گئی کہ میں کسی مسافر کو مسحورے کی طر ف لے گیا ہوں تو پھر میری خیر نہیں۔‘‘\n\nبہر حال بڑے میاں سے سب کچھ ٹھیرا، میں اسٹیشن گیا۔ تھوڑا سا سامان لے، مختصر سے بچھونے میں لپیٹا۔ ٹرنک اور باقی سامان کرایہ دے اسٹیشن ماسٹر کے سپرد کر دیا۔ ہوٹل میں کچھ کھانا کھایا، کچھ ساتھ رکھا اور نو بجے گاؤں کے باہر پہنچ گیا۔ یہاں گاڑی بان صاحب میرا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے پہلے تو پورے پچاس روے مجھ سے گنوا لیے۔ اس کے بعد میرا سامان اپنی کمر پر لاد ایک طرف کو چلے۔ میں بھی ساتھ ہو گیا۔ کوئی ایک میل کے فاصلے پر جھاڑیاں شروع ہوئیں۔ انہیں جھاڑیوں میں ایک طرف ان کے بیل بندھے تھے اور بہلی کھڑی تھی۔ کوئی دس ساڑھے دس بجے تک میں بہلی میں بستر بچھا لیٹا رہا۔ اور گاڑی بان صاحب کمبل اوڑھے دم سادھے ایک طرف پڑے رہے۔ گیارہ کا عمل ہوگا کہ انہوں نے مجھ سے کہا، ’’میاں چلئے وقت ہو گیا ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’چلو میں تو پہلے سے تیار ہوں۔‘‘ انہوں نے بہلی میں بیل لگائے۔ چارہ وغیرہ سمیٹ کر سانگی میں بھرا۔ بہلی کو پگ ڈنڈی پر ڈالا اور سنسان رات میں یہ دو آدمیوں کا قافلہ خدا معلوم کس طرف روانہ ہوا۔\n\nرات کی ٹھنڈی ٹھڈی ہوا، ہری ہری گھانس کی خوشبو اور بہلی کے نرم نرم ہچکولوں سے میری آنکھ لگ گئی۔ میں مزے کی نیند سو رہا تھا کہ گاڑی بان نے مجھے جھنجھوڑ کر اٹھایا اور کہا، ’’لیجئے میاں۔ اتریے۔ اب اس سے آگے ہم نہیں جاتے۔ دیکھئے اب بھی موقع ہے۔ واپس چلے چلئے پھر یہ نہ کہئے گا کہ اس بڈھے نے میری مٹی خراب کی۔‘‘ میں نے بہت کہا، ’’بڑے میاں ذرا اور آگے لے چلو مجھے راستہ معلوم نہیں۔ اندھیری رات ہے۔ خدا معلوم کدھر کا کدھر نکل جاؤں کچھ اور لے لینا۔‘‘\n\nمگر وہ بڈھا کب ماننے والا تھا کہنے لگا، ’’اجی اب اترتے ہو یا نہیں، مجھے صبح ہونے سے پہلے گھر پہنچناہے۔ کیا اپنے ساتھ مجھے بھی تباہ کرنے کا ارادہ ہے۔ اگر نہیں اترتے تو میں گاڑی پھیرتا ہوں۔ قہر درویش بر جان درویش۔ بہلی سے اترا، سامان کی پوٹلی کندھے پر رکھی۔ بڑے میاں سے راستہ پوچھا اور عاشق ہونے کے لیے اس شان سے روانہ ہو گیا۔ گاڑی بان گاڑی پھیر اس زناٹے سے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا کہ تھوڑی ہی دیر میں نظروں سے غائب ہو گیا۔ کچھ دیر تک تو گاڑی کی کھڑ کھڑ سنائی بھی دی، اس کے بعد بالکل سناٹا ہو گیا۔\n\nجہاں گاڑی بان نے مجھے چھوڑا تھا، وہاں سے پہاڑ کی چڑھائی ختم ہو کر اتار شروع ہوتا تھا۔ چاروں طرف ایسا اندھیرا گھپ تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ نہیں سوجھتا تھا۔ لمبی لمبی گھانس، اونچے اونچے درخت اور کالی کالی چٹانوں نے ایک عجیب وحشت ناک منظر پیدا کر دیا تھا۔ میں ڈرپوک نہیں ہوں لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ کئی دفعہ خیال آیا، میاں شہید واپس چلو۔ بھئی۔ تم خواہ مخواہ بیٹھے بٹھائے کس مصیبت میں گرفتار ہوئے۔ پھر سوچا کہ یار یہاں تو نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن کی صورت ہے۔ واپس جاتے ہو تو مرغوب آباد ہی کا راستہ تمہیں کون سا معلوم ہے۔ اب پڑی ہے تو اٹھاؤ۔ یہ ساری مصیبت تم نے اپنے ہی ہاتھوں مول لی ہے۔\n\nغرض سوچتا تھا اور قدم اٹھائے چلا جاتا تھا۔ خدا معلوم اسی کش مکش خیال میں کتنی دور نکل گیا۔ کوئی دو ڈھائی گھنٹے بعد صبح ہونی شروع ہوئی۔ دھیمی دھیمی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلی۔ آہستہ آہستہ درختوں نے جھومنا اور میٹھے میٹھے سروں میں پرندوں نے گانا شروع کیا۔ دور کی چیزوں نے رفتہ رفتہ صورت اختیار کی۔ مشرق کی طرف کالے بادلوں کے کنارے گلابی ہوئے۔ کہر نے اپنا سفید لبادہ سمیٹا۔ شبنم نے رخصت ہونے کی تیاری کی۔ سورج کا سنہرا تھال اچک کر افق پر آیا۔ لیجئے صبح ہو گئی۔\n\nسامنے ہی ایک چھوٹا سا گاؤں تھا مگر کسی فرش سلیقہ شخص نے کچھ اس طرح بسایا تھا کہ دیکھنے سے دل میں کھپا جاتا تھا۔ صبح کے سہانے وقت میں اس کے سفید سفید مکانات، ہر مکان کے سامنے چھوٹے چھوٹے بغیچے، صاف، صاف، ستھری ستھری پگ ڈنڈیاں، ہرے بھرے کھیت، کھیتوں کے کنارے پر پانی سے لبریز پتلی پتلی نالیاں، دور فاصلے پر اجلی ریتی اور اس میں ندی کا نیلگوں پانی کچھ ایسی بہار دے رہا تھا کہ بیان نہیں کر سکتا۔ میں جہاں تھا وہیں ٹھیر گیا۔ اور بڑی دیر تک اس دلچسپ اور دل کش منظر کو دیکھتا رہا۔ آخر بسم اللہ کہہ کر قدم اٹھایاا ور تھوڑی دیر میں گاؤں میں پہنچ گیا۔ ابھی دوسرے ہی مکان تک پہنچا تھا کہ دروازہ کھلا اور ایک ایسی آفت جان ہستی اس میں سے نکلی کہ جس غرض سے میں چلا تھا وہ حاصل ہو گئی۔ اس کے بعد کچھ نہ پوچھو کہ کیا ہوا اور کیوں کر ہوا۔ بہر حال خدا کا شکر ہے کہ میری محنت ٹھکانے لگ گئی۔\n\nخدا اس کھوسٹ مسافر اور بڈھے گاڑی بان کا بھلا کرے کہ ان دونوں نے مجھے جنت میں پہنچا دیا۔ اب نہ یہاں سے کوئی مجھے جانے دیتا ہے اور نہ خود جانے کو میرا جی چاہتا ہے۔ نہ مجھے یہاں کا حال بیان کرنے کا یارا ہے اور نہ تمہیں اس کے سننے اور سمجھنے کی قدرت۔ بس ہم تو یہ جانتے ہیں کہ\n\nاگر فردوس بروئے زمین است\nہمیں است و ہمیں است و ہمیں است\n\nجاؤ یار تم ہی گھاٹے میں رہے۔ سارے دن سر مغزنی کرتے ہو اور راتوں کو بھی آرام سے نیند نہیں آتی۔والسلام\n\nتمہارا پرانا دوست\nشہید!\n\nمکرر۔ سال بھر کی کوشش کے بعد اس خط کو ڈاک میں ڈلوانے کی صورت نکلی ہے۔ خدا کرے ڈاک میں پڑ جائے اور تم تک پہنچ جائے۔ شہید\n\nلیجئے۔ یہ ہے میاں شہید کا خط۔ اب آپ ہی فرمائیے کہ ہے یہ کیا معاملہ۔ میں نے تمام ریلوے گائیڈ دیکھ ڈالے۔ مجھے تو کسی مرغوب آباد اسٹیشن کا پتہ نہ چلا۔ ڈاک خانوں میں دریافت کیا۔ تار گھر والوں سے پوچھا۔ خط کی بگڑی ہوئی مہر کو پڑھوانے کی کوشش کی۔ مگر میری ساری محنت اکارت گئی۔ آخر تھک تھکا کر بیٹھ رہا۔ پھر خیال آیا کہ چلو کسی رسالے میں سارا واقعہ چھپوا دو، شاید کوئی اللہ کا بندہ اس معمے کو حل کر سکے۔ اب دیکھئے آپ لوگ بھی اس کو حل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اس سے یہ غرض نہیں ہے کہ میں خود مسحورا جانا چاہتا ہوں بلکہ یہ معلوم کرنا ہے کہ آخر یہ عقل مند گیا کہاں ہے اور ہے کس حال میں۔ آپ بھی غور کیجئے میں بھی غور کرتا ہوں۔ شاید کسی کی عقل لڑ جائے اور شہید کا پتا مل جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شہید کا کوئی اور خط آئے اور مسحورا کا کچھ اور اتا پتا معلوم ہو۔ بہر حال اگر اس کا خط آیا تو وہ بھی چھپوا دوں گا تاکہ میں اور آپ دونوں اس خلجان سے نجات پائیں۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "دیت اس قاتل بے رحم سے کیا لیجئے گا", "poet_page": "مصنف:شیر محمد خاں ایمان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیت اس قاتل بے رحم سے کیا لیجئے گا\nاپنی ہی آنکھوں سے اب خون بہا لیجئے گا\n\nپھر نہیں ہونے کی تقصیر تو ایسی ہرگز\nاب کسی طرح میری جان بچا لیجئے گا\n\nاس قدر سنگ دلی تم کو نہیں ہے لازم\nکسی مظلوم کی گاہے تو دعا لیجئے گا\n\nلخت دل خاک میں دیتا ہے کوئی بھی رہنے\nگر پڑے اشک تو آنکھوں سے اٹھا لیجئے گا\n\nپھر نہ پچھتاو کہیں بعد مرے جانے کے\nگالیاں اور ہوں باقی تو سنا لیجئے گا\n\nروٹھ کر جائے کوئی اپنے سے پیارے تو وہیں\nچاہیئے آپ گلے پڑ کے منا لیجئے گا\n\nاپنے مشتاق کو لازم ہے کہ گاہے ماہے\nغیر کی آنکھ بچا گھر میں بلا لیجئے گا\n\nایک مدت ہوئی کچھ حرف و حکایت ہی نہیں\nجی میں ہے آج تو باتوں میں لگا لیجئے گا\n\nکسی جلسے میں جو ایمانؔ کہو تو جانیں\nگھر میں یوں بیٹھے ہوئے شعر بنا لیجئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AA_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D8%B1%D8%AD%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دیتا نہیں دل لے کے وہ مغرور کسی کا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیتا نہیں دل لے کے وہ مغرور کسی کا\nسچ ہے کہ نہ ظالم سے چلے زور کسی کا\n\nآرائش حسن آئینہ رخ کرتے ہو ہر دم\nلینا ہے مگر دم تمہیں منظور کسی کا\n\nبے وجہ نہیں تابش ارباب صفا کو\nہے جلوہ گر اس آئینہ میں نور کسی کا\n\nآتا ہے نظر یاں جو ہر ایوان شکستہ\nیک وقت میں تھا خانۂ معمور کسی کا\n\nوہ شوخ پری رشک بکف تیغ سیہ مست\nآتا ہے کئے شیشۂ دل چور کسی کا\n\nروکوں میں اب اس کو سر راہے کبھی آ کے\nاتنا تو میں رکھوں نہیں مقدور کسی کا\n\nبیدارؔ مجھے یاد اسی کی ہے شب و روز\nنے بات کسی کی ہے نے مذکور کسی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دیتا ہوں دل جسے وہ کہیں بے وفا نہ ہو", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیتا ہوں دل جسے وہ کہیں بے وفا نہ ہو\nیہ عشق میرے واسطے شاید قضا نہ ہو\n\nدور اپنے در سے تم نہ کرو اے صنم اسے\nجس کو ذرا جہاں میں کہیں آسرا نہ ہو\n\nراحت سے مجھ کو نیند تو آئی مزار میں\nپہلو کو میرے چیر کے دل چل بسا نہ ہو\n\nمرنے کے بعد بھی یہی دھڑکا رہا کیا\nمل کر صبا سے خاک ہماری ہوا نہ ہو\n\nشکوہ کروں تو یار کا پر خوف ہے یہی\nنازک مزاج ہے وہ یہ سن کر خفا نہ ہو\n\nپردے سے دل کے بات جو کرتا ہے مجھے سے اب\nآتا ہے یہ خیال کہیں خود خدا نہ ہو\n\nرنگت ہے زرد رخ کی تو خشکی لبوں پر ہے\nآثار عشق کے ہیں کہیں دل لگا نہ ہو\n\nمر جاؤں اے جمیلہؔ اگر عشق غوث میں\nممکن نہیں کہ خاک لحد کیمیا نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "دیتا ہے مجھ کو چرخ کہن بار بار داغ", "poet_page": "مصنف:رنجور عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیتا ہے مجھ کو چرخ کہن بار بار داغ\nاف ایک میرا سینہ ہے اس پر ہزار داغ\n\nدیتے ہیں میرے سینے میں کیا ہی بہار داغ\nکھائے نہ ان کو دیکھ کے کیوں لالہ زار داغ\n\nلالہ کرے گا دل کی مرے کیا برابری\nاس پر ہے ایک داغ یہاں بے شمار داغ\n\nدنیا کے سارے صدمے ہیں کم ہجر یار سے\nدے مدعی کو بھی نہ یہ پروردگار داغ\n\nرکھتا ہے عشق لالہ رخاں دل میں وہ نہاں\nسینے پہ ماہتاب کے ہے آشکار داغ\n\nظلمت سے دی نجات دل داغ دار نے\nروشن مثال شمع ہے زیر مزار داغ\n\nہر دم نہ کیوں لگائے رکھیں سینے سے اسے\nاک ماہ رو کے عشق کی ہے یادگار داغ\n\nقاتل مرے لہو نے بھی کیا گل کھلائے ہیں\nدامن پہ تیرے دیتے ہیں کیا ہی بہار داغ\n\nجو ظلم چاہے رکھ دل رنجورؔ پر روا\nدے تو مگر اسے نہ جدائی کا یار داغ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%DB%81%D9%86_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D8%A7%D8%BA"} {"title": "دیتی ہے وحشت دل فصل بہاراں کی خبر", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیتی ہے وحشت دل فصل بہاراں کی خبر\nاب کہاں وحشیوں کو جیب و گریباں کی خبر\n\nاے نسیم سحری ساتھ مرا کیا دے گی\nباغ سے نکلا تو لاؤں گا بیاباں کی خبر\n\nچشم پر فن نے زمانے پہ کیا وہ جادو\nہوش ہے دیں کا کسی کو نہ ہے ایماں کی خبر\n\nگل پریشانیٔ سنبل پہ ہنسا کرتے ہیں\nاور رکھتے نہیں خود چاک گریباں کی خبر\n\nگلشن دہر میں راحت بھی ہے اور رنج بھی ہے\nدیتی ہے صبح وطن شام غریباں کی خبر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%D9%81%D8%B5%D9%84_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A8%D8%B1"} {"title": "دیتی ہے وحشت دل پھر مجھے تعبیر بہار", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیتی ہے وحشت دل پھر مجھے تعبیر بہار\nجلوہ گر خواب میں رہنے لگی تصویر بہار\n\nسلسلہ چھڑ گیا پھر دل کی گرفتاری کا\nپھر نسیم آج ہلانے لگی زنجیر بہار\n\nحسن اور عشق کی دنیا میں پڑے گی ہلچل\nفتنہ انگیز و جنوں خیز ہے تاثیر بہار\n\nتنگ آنے لگے دیوانے گریبانوں سے\nکچھ تو اے دست جنوں چاہیے تدبیر بہار\n\nدوڑی جاتی ہے گھٹا سوئے چمن بادہ کشو\nپردۂ غیب سے ہونے لگی تدبیر بہار", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D8%B9%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1"} {"title": "دیتے ہو بوسہ تو کہیں لاؤ بھی", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیتے ہو بوسہ تو کہیں لاؤ بھی\nخیر کسی طرح سے شرماؤ بھی\n\nآپ کے وعدوں کو ہمارا سلام\nدیکھ چکے خوب اجی جاؤ بھی\n\nہم تو ابھی صلح پہ موجود ہیں\nفیصلہ یارو کوئی ٹھہراؤ بھی\n\nنقل کباب جگری کیجیے\nکھاؤ میرے سر کی قسم کھاؤ بھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%A7%D8%A4_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "دیتے ہیں میرے جام میں دیکھیں شراب کب", "poet_page": "مصنف:چندر بھان کیفی دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیتے ہیں میرے جام میں دیکھیں شراب کب\nآتا ہے ماہتاب کے گھر آفتاب کب\n\nٹھہرا ہے اک جگہ دل خانہ خراب کب\nدریا میں گھر بنا کے رہا ہے حباب کب\n\nجب چھوڑ دی امید تو وہ مہرباں ہوئے\nناکامیوں میں بخت ہوا کامیاب کب\n\nدیکھا ہے وصل غیر میں شب ان کو دیکھیے\nالٹا اثر دکھاتی ہے تعبیر خواب کب\n\nکیفیؔ کو رند جان کے جانے نہیں دیا\nہے بارگاہ خاص میں وہ باریاب کب", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A8"} {"title": "دیجئے رخصت بوسہ نہیں لے بیٹھیں گے", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیجئے رخصت بوسہ نہیں لے بیٹھیں گے\nپیارے یہ یاد رہے جان بھی دے بیٹھیں گے\n\nپائے دیوار کھڑے رہنے نہ دیجے بہتر\nاور ہٹ کر ترے کوچہ میں پرے بیٹھیں گے\n\nبے سر و پا ہیں کہاں جائیں گے جوں نقش قدم\nخاک پا ہم ترے قدموں ہی تلے بیٹھیں گے\n\nآتش عشق ترے سوختگاں جوں شعلہ\nجب تلک ہیں کوئی آرام لئے بیٹھیں گے\n\nروبرو اس کے اثرؔ آپ بہ ایں زندہ دلی\nکب تلک دل کے تئیں مارے ہوئے بیٹھیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "دید کی سد راہ ہے یہ مژہ", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دید کی سد راہ ہے یہ مژہ\nخار پائے نگاہ ہے یہ مژہ\n\nنت تقاطر ہی اس سے رہتا ہے\nرگ ابر سیاہ ہے یہ مژہ\n\nچشم میری وہ بحر ہیں مواج\nجس کے لب کی گیاہ ہے یہ مژہ\n\nآنکھیں تیری وہ لڑنے والی ہیں\nساتھ جن کے سپاہ ہے یہ مژہ\n\nہر طرح دل میں کھب رہی ہے ترے\nخواہ برچھی ہے خواہ ہے یہ مژہ\n\nآنکھیں مل مل چھپاتے ہو تم کیوں\nدیکھنا کیا گناہ ہے یہ مژہ\n\nدل میں کانٹا سا کچھ چبھے ہے مرے\nکہ حسنؔ کس کی آہ ہے یہ مژہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%AF_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D9%85%DA%98%DB%81"} {"title": "دید گل زار جہاں کیوں نہ کریں سیر تو ہے", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دید گل زار جہاں کیوں نہ کریں سیر تو ہے\nایک دن جانتے ہیں خاتمہ بالخیر تو ہے\n\nرندؔ واعظ سے عبث کرتے ہو شر خیر تو ہے\nدونوں گھر ایک ہیں کعبہ نہ سہی دیر تو ہے\n\nخوشہ چیں بنتا ہے کیوں مزرع ہر دہقاں کا\nوصف انسان نہیں یہ صفت طیر تو ہے\n\nنہ بسر ہووے گی بے نشہ قدح خواروں کی\nہو اگر مے کی منادی ہے فلک سیر تو ہے\n\nآشنا بحر محبت کے شناور ہیں سب\nتو بھی اس آگ کے دریا کو اگر پیر تو ہے\n\nرند و واعظ کے بکھیڑوں میں بھلا کون پڑے\nسب کو معلوم ہے ان دونوں میں اک بیر تو ہے\n\nمرغ دل مردم بیمار پہ صدقہ کر ڈال\nواسطے صحت جان کے عمل طیر تو ہے\n\nجیسے اڑتی سی سنی ہے خبر قتل سفیر\nپوچھتا پھرتا ہوں اک ایک سے کیوں خیر تو ہے\n\nساقیا چند گھڑے مے کے قدح خواروں میں\nصرف للٰلہ اگر ہوں عمل خیر تو ہے\n\nدر گزر ہوتا ہے اور ہوگا بقدر امکاں\nآخر کار یہ پاپوش و سر غیر تو ہے\n\nکہہ لیے رندؔ نے سب قافیے کوئی نہ چھٹا\nانگریزی مگر اک قافیۂ غیر تو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%DA%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "دیدار کی ہوس ہے نہ شوق وصال ہے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیدار کی ہوس ہے نہ شوق وصال ہے\nآزاد ہر خیال سے مست خیال ہے\n\nکہہ دو یہ کوہ کن سے کہ مرنا نہیں کمال\nمر مر کے ہجر یار میں جینا کمال ہے\n\nفتویٰ دیا ہے مفتیٔ ابر بہار نے\nتوبہ کا خون بادہ کشوں کو حلال ہے\n\nآنکھیں بتا رہی ہیں کہ جاگے ہو رات کو\nان ساغروں میں بوئے شراب وصال ہے\n\nبرساؤ تیر مجھ پہ مگر اتنا جان لو\nپہلو میں دل ہے دل میں تمہارا خیال ہے\n\nآنکھیں لڑا کے ان سے ہم آفت میں پڑ گئے\nپلکوں کی ہر زبان پہ دل کا سوال ہے\n\nبت کہہ دیا جو میں نے تو اب بولتے نہیں\nاتنی سی بات کا تمہیں اتنا خیال ہے\n\nمیں دامن نیاز میں اشک چکیدہ ہوں\nکوئی اٹھا کے دیکھ لے اٹھنا محال ہے\n\nپوچھا جو ان سے جانتے ہو تم جلیلؔ کو\nبولے کہ ہاں وہ شاعر نازک خیال ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "دیدنی ہیں دل خراب کے رنگ", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیدنی ہیں دل خراب کے رنگ\nآہ اس چشم پرحجاب کے رنگ\n\nفصل گل میں پڑیں تو خوب کھلیں\nخرقۂ زہد پر شراب کے رنگ\n\nشوق مے دل میں لب پہ ہجو شراب\nہم پہ روشن ہیں سب جناب کے رنگ\n\nنہیں توبہ کی خیر ہیں جو یہی\nجوش ہنگامۂ سحاب کے رنگ\n\nکل کے مقبول آج ہیں مردود\nآہ اس دور انقلاب کے رنگ\n\nقابل دید ہیں وصال کی شب\nآرزو ہائے کامیاب کے رنگ\n\nچہرۂ عاشقی ہے پژمردہ\nکیا ہوئے وہ مئے شباب کے رنگ\n\nخیل خوباں سے ایک میں بھی نہیں\nآپ کے حسن لاجواب کے رنگ\n\nمیری مایوسیوں سے ہیں پیدا\nکشمکش ہائے اضطراب کے رنگ\n\nدل کے ہاتھوں بہت رہے ہیں خراب\nحسرتؔ خانماں خراب کے رنگ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF"} {"title": "دیدہ ہے کہیں دل کہیں اور جان کہیں اور", "poet_page": "مصنف:منتظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیدہ ہے کہیں دل کہیں اور جان کہیں اور\nبیٹھا تو ہوں یاں پر ہے مرا دھیان کہیں اور\n\nکیوں سیر گلستاں کو ہم اس کوچہ سے جاویں\nلگتا ہی نہیں دل کسی عنوان کہیں اور\n\nدنیا میں گو مشکل کوئی آساں نہیں ہوتی\nشاید کہ ہو مشکل مری آسان کہیں اور\n\nفریاد کو جی چاہے تو جز کوچۂ جاناں\nجانا نہ کبھی اے دل نادان کہیں اور\n\nہے طرفہ کہ تجھ سا نہ مرا دوست ہو ناصح\nاور جاؤں سلانے میں گریبان کہیں اور\n\nجس شہر میں ہم رہتے ہیں ہے جائے طلسمات\nایسی تو پری ہوں گی نہ انسان کہیں اور\n\nاے منتظرؔ اس زلف کا تو چھیڑ نہ قصہ\nہو جاوے ترا دل نہ پریشان کہیں اور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "دیدۂ اشک بار ہے اپنا", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیدۂ اشک بار ہے اپنا\nاور دل بے قرار ہے اپنا\n\nرشک صحرا ہے گھر کی ویرانی\nیہی رنگ بہار ہے اپنا\n\nچشم گریاں سے چاک داماں سے\nحال سب آشکار ہے اپنا\n\nہائے ہو میں ہر ایک کھویا ہے\nکون یاں غم گسار ہے اپنا\n\nصرف وہ ایک سب کے ہیں مختار\nان پہ کیا اختیار ہے اپنا\n\nبزم سے ان کی جب سے نکلا ہے\nدل غریب الدیار ہے اپنا\n\nان کو اپنا بنا کے چھوڑیں گے\nبخت اگر سازگار ہے اپنا\n\nپاس تو کیا ہے اپنے پھر بھی مگر\nاس پہ سب کچھ نثار ہے اپنا\n\nہم کو ہستی رقیب کی منظور\nپھول کے ساتھ خار ہے اپنا\n\nہے یہی رسم مے کدہ شاید\nنشہ ان کا خمار ہے اپنا\n\nجیت کے خواب دیکھتے جاؤ\nیہ دل بد قمار ہے اپنا\n\nکیا غلط سوچتے ہیں میراجیؔ\nشعر کہنا شعار ہے اپنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "دیدۂ جوہر سے بینا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیدۂ جوہر سے بینا ہو گیا\nآئنہ محو تماشا ہو گیا\n\nدیکھ کر آئینۂ زانو ترا\nآئنہ محو تماشا ہو گیا\n\nبعد موجد عالم ایجاد میں\nآئنہ محو تماشا ہو گیا\n\nکر دیا حیراں جسے دکھلائی شکل\nآئنہ محو تماشا ہو گیا\n\nوہ حلب پہنچا تو سن لینا یہ حال\nآئنہ محو تماشا ہو گیا\n\nپشت بر دیوار ہے تیری حضور\nآئنہ محو تماشا ہو گیا\n\nسامنے سے تیرے ٹلتا ہی نہیں\nآئنہ محو تماشا ہو گیا\n\nشانہ ہے دل چاک مشاطہ ہے دنگ\nآئنہ محو تماشا ہو گیا\n\nدیکھ کر اس روئے رنگیں کی بہار\nآئنہ محو تماشا ہو گیا\n\nتیرے آگے چشم عاشق کی طرح\nآئنہ محو تماشا ہو گیا\n\nمہرؔ کو سکتا ہے یا اے رشک ماہ\nآئنہ محو تماشا ہو گیا\n\nمحفل عشرت میں مہ رویوں کے مہرؔ\nآئنہ محو تماشا ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دیدۂ حیراں نے تماشا کیا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیدۂ حیراں نے تماشا کیا\nدیر تلک وہ مجھے دیکھا کیا\n\nضبط فغاں گو کہ اثر تھا کیا\nحوصلہ کیا کیا نہ کیا کیا کیا\n\nآنکھ نہ لگنے سے شب احباب نے\nآنکھ کے لگ جانے کا چرچا کیا\n\nمر گئے اس کے لب جاں بخش پر\nہم نے علاج آپ ہی اپنا کیا\n\nبجھ گئی اک آہ میں شمع حیات\nمجھ کو دم سرد نے ٹھنڈا کیا\n\nغیر عیادت سے برا مانتے\nقتل کیا آن کے اچھا کیا\n\nان سے پری وش کو نہ دیکھے کوئی\nمجھ کو مری شرم نے رسوا کیا\n\nزندگیٔ ہجر بھی اک موت تھی\nمرگ نے کیا کار مسیحا کیا\n\nپان میں یہ رنگ کہاں آپ نے\nآپ مرے خون کا دعویٰ کیا\n\nجور کا شکوہ نہ کروں ظلم ہے\nراز مرا صبر نے افشا کیا\n\nکچھ بھی بن آتی نہیں کیا کیجیے\nاس کے بگڑنے نے کچھ ایسا کیا\n\nجائے تھی تیری مرے دل میں سو ہے\nغیر سے کیوں شکوۂ بے جا کیا\n\nرحم فلک اور مرے حال پر\nتو نے کرم اے ستم آرا کیا\n\nسچ ہی سہی آپ کا پیماں ولے\nمرگ نے کب وعدۂ فردا کیا\n\nدعویٔ تکلیف سے جلاد نے\nروز جزا قتل پھر اپنا کیا\n\nمرگ نے ہجراں میں چھپایا ہے منہ\nلو منہ اسی پردہ نشیں کا کیا\n\nدشمن مومنؔ ہی رہے بت سدا\nمجھ سے مرے نام نے یہ کیا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دیدۂ صرف انتظار ہے شمع", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیدۂ صرف انتظار ہے شمع\nمیری حالت کی یادگار ہے شمع\n\nنہیں دل میں کسی کے سوز و گداز\nکہ تماشاۓ روزگار ہے شمع\n\nپئے جنبش سدا تڑپتی ہے\nتپش ناتواں شکار ہے شمع\n\nرخ روشن ہے نور بینائی\nچشم عشاق کا غبار ہے شمع\n\nروز تیرہ میں بد نما خورشید\nشب روشن میں تیرہ کار ہے شمع\n\nیاد گل رخ سے پھول جھڑتے ہیں\nکس بشاشت سے نو بہار ہے شمع\n\nخاک ناسور دل بھرے اس کا\nزخمیٔ گریہ ہائے زار ہے شمع\n\nحسن دیوانہ سب کو کرتا ہے\nاپنے ہی آپ پر نثار ہے شمع\n\nصبح ہوتے ہی ٹمٹماتی ہے\nآپ کی چشم پر خمار ہے شمع\n\nکیوں نہ روئے نہ کس طرح سے جلے\nکہ فغانی راز دار ہے شمع\n\nنہیں بجھتی لگی ہوئی جی کی\nشعلۂ جان سوگوار ہے شمع\n\nہے ادھر داغ برق پروانہ\nاور ادھر چشم ابر بار ہے شمع\n\nحسن بھی ہے مآل کار وبال\nبزم در بزم کیا ہے خار ہے شمع\n\nجھانکنا پردے سے بری خو ہے\nخود بہ خود آپ شرمسار ہے شمع\n\nشب تنہائی اور تو اور یہ\nاے قلقؔ تیری غم گسار ہے شمع", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D9%85%D8%B9"} {"title": "دیر سے کعبے کو ڈرتے ہوئے ہم جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیر سے کعبے کو ڈرتے ہوئے ہم جاتے ہیں\nدیکھ لیتا ہے جو کوئی وہیں تھم جاتے ہیں\n\nآپ نے گھر سے نکالا ہمیں ہم جاتے ہیں\nپھر نہ آئیں گے کبھی کھا کے قسم جاتے ہیں\n\nبے خطا سر مرے قاصد کا قلم ہوتا ہے\nغیر کو تحفہ میں بن بن کے قلم جاتے ہیں\n\nدل کا کیا حال کہوں صبح کو جب اس بت نے\nلے کے انگڑائی کہا ناز سے ہم جاتے ہیں\n\nحضرت داغؔ یہ ہے کوچۂ قاتل اٹھیے\nجس جگہ بیٹھتے ہیں آپ تو جم جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DA%88%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دیر میں یا حرم میں گزرے گی", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیر میں یا حرم میں گزرے گی\nعمر تیرے ہی غم میں گزرے گی\n\nکچھ امید کرم میں گزری عمر\nکچھ امید کرم میں گزرے گی\n\nزندگی یاد دوست ہے یعنی\nزندگی ہے تو غم میں گزرے گی\n\nاب کرم کا یہ ماحصل ہے کہ عمر\nیاد عہد ستم میں گزرے گی\n\nدل کو شوق نشاط وصل نہ چھیڑ\nغم میں گزری ہے غم میں گزرے گی\n\nحسرت دم بدم میں گزری عمر\nعبرت دم بدم میں گزرے گی\n\nحشر کہتے ہیں جس کو اے فانیؔ\nوہ گھڑی شرح غم میں گزرے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "دیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہمارا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہمارا\nہے ختم اس آبلے پر سیر و سفر ہمارا\n\nپلکوں سے تیری ہم کو کیا چشم داشت یہ تھی\nان برچھیوں نے بانٹا باہم جگر ہمارا\n\nدنیا و دیں کی جانب میلان ہو تو کہیے\nکیا جانیے کہ اس بن دل ہے کدھر ہمارا\n\nہیں تیرے آئینے کی تمثال ہم نہ پوچھو\nاس دشت میں نہیں ہے پیدا اثر ہمارا\n\nجوں صبح اب کہاں ہے طول سخن کی فرصت\nقصہ ہی کوئی دم کو ہے مختصر ہمارا\n\nکوچے میں اس کے جا کر بنتا نہیں پھر آنا\nخون ایک دن گرے گا اس خاک پر ہمارا\n\nہے تیرہ روز اپنا لڑکوں کی دوستی سے\nاس دن ہی کو کہے تھا اکثر پدر ہمارا\n\nسیلاب ہر طرف سے آئیں گے بادیے میں\nجوں ابر روتے ہوگا جس دم گزر ہمارا\n\nنشوونما ہے اپنی جوں گرد باد انوکھی\nبالیدہ خاک رہ سے ہے یہ شجر ہمارا\n\nیوں دور سے کھڑے ہو کیا معتبر ہے رونا\nدامن سے باندھ دامن اے ابر تر ہمارا\n\nجب پاس رات رہنا آتا ہے یاد اس کا\nتھمتا نہیں ہے رونا دو دوپہر ہمارا\n\nاس کارواں سرا میں کیا میرؔ بار کھولیں\nیاں کوچ لگ رہا ہے شام و سحر ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "دیر و حرم میں جلوۂ جانانہ ایک ہے", "poet_page": "مصنف:منشی بنواری لال شعلہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیر و حرم میں جلوۂ جانانہ ایک ہے\nپردہ اٹھے تو کعبہ و بت خانہ ایک ہے\n\nگھر ہو کہ طور جلوۂ جانانہ ایک ہے\nکہنے کی بات سو ہیں پر افسانہ ایک ہے\n\nارمان دل میں خاک اڑاتے ہیں سیکڑوں\nمجنوں ہزار پھرتے ہیں ویرانہ ایک ہے\n\nمیں آپ پر فدا ہوں فدا آپ غیر پر\nمیرا اور آپ کا تو کچھ افسانہ ایک ہے\n\nکس ناز سے وہ کہتے ہیں وحشت کے ذکر پر\nشعلہؔ بھی اپنے ڈھنگ کا دیوانہ ایک ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DB%81%DB%92"} {"title": "دیر و حرم کو چھوڑ کے اے دل چل بیٹھو میخانے میں", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "دیر و حرم کو چھوڑ کے اے دل چل بیٹھو میخانے میں\nخوب گزر جائے گی اپنی ساقی سے یارانے میں\n\nسیر طبیعت ہو جائے گی نشہ جو ہے ہووے گا وہی\nفرق نہیں ہے ساقی ہرگز چلو میں پیمانے میں\n\nروح ہے جب تک جسم کے اندر جسم پہ میرے رونق ہے\nکاشانہ آباد ہے جب تک بلبل ہے کاشانے میں\n\nدست تمنا قطع ہوا برباد ہوئی ہے حرص و ہوا\nزیست کی صورت اپنی بندھی اے نفس ترے مر جانے میں\n\nسچ ہے دل کو اپنے بھی جز یاد صنم کچھ دھیان نہیں\nدیکھ تو اے ناصح کیسی ہشیاری ہے دیوانے میں\n\nفکر دنیا سے ہیں چھٹے اس رنج جہاں سے پائی نجات\nلاکھ طرح کی راحت پائی اک اپنے مر جانے میں\n\nپیش جنون بختہ اے دل موت تو زیست سے خوشتر ہے\nشمع کے آگے رقص کناں تھا پروانہ جل جانے میں\n\nحسن نیرنگ اس مہ رو کا دل حزیں میں رہتا ہے\nچشم بینا ہو تو دیکھے بستی ہے ویرانے میں\n\nنقش محبت کہیں نہ پایا لوح دل پر انساں کے\nپھرا قلم کی صورت سے میں برسوں اک اک خانے میں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%86%D9%84_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دیر و حرم ہیں منظر آئین‌ اختلاف", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیر و حرم ہیں منظر آئین‌ اختلاف\nحق پر سدا نظر ہے مری حین‌ اختلاف\n\nبیرون در ہیں صورت‌ و معنی کے پردہ دار\nہیں پردۂ خفا میں قوانین اختلاف\n\nہے برقرار گردش دوران روزگار\nنیرنگئ خیال ہے آئین‌ اختلاف\n\nممنون راستی ہے ہر اک نقطۂ نظر\nمد نظر جہاں میں ہے تمکین اختلاف\n\nکیا پارہ ہائے پیرہن انس بخیہ ہوں\nجب ہوں ادھیڑ بن میں مجانین اختلاف\n\nلازم ہمیں ہے قطع نظر مدح و ذم سے اب\nتحسین اتفاق ہے نفرین اختلاف\n\nدلداریاں کہاں ہیں وہ ساحرؔ کبھی جو تھیں\nخاطر شکن ہیں اب تو مضامین اختلاف", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%E2%80%8C_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D9%84%D8%A7%D9%81"} {"title": "دیر و کعبہ کو رہ گزر سمجھے", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیر و کعبہ کو رہ گزر سمجھے\nدل کو جو کوئی تیرا گھر سمجھے\n\nاشک خونیں بہے تو ہم دل کو\nہدف ناوک نظر سمجھے\n\nنالۂ غیر آتش افشاں ہے\nشب وصلت کی تم سحر سمجھے\n\nنہ اٹھا اپنے آستاں سے ہمیں\nہم تو بیٹھے ہیں اپنا گھر سمجھے\n\nنامہ دے کر نظارہ ہے منظور\nہم تقاضائے نامہ بر سمجھے\n\nغیر سے پوچھتے ہیں کوچۂ یار\nایسے رہزن کو راہبر سمجھے\n\nوہ ستم کرنے آئے ہیں ایجاد\nاور ہم آہ کا اثر سمجھے\n\nصرف کرنا ہے عنصر آبی\nہم ترا گریہ چشم تر سمجھے\n\nاس سے کیا مدعا کہوں سالکؔ\nصلح کی بات کو جو شر سمجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "دین اور دنیا کا تفرقہ ہے مہمل", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دین اور دنیا کا تفرقہ ہے مہمل\nنیت ہی پہ موقوف ہے تنقیح عمل\nدنیا داری بھی عین دیں داری ہے\nمرکوز ہو گر رضائے حق عز و جل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%81%D8%B1%D9%82%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%81%D9%85%D9%84"} {"title": "دین وسیاست", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کلیِسا کی بُنیاد رُہبانیت تھی\nسماتی کہاں اس فقیری میں مِیری\nخصومت تھی سُلطانی و راہبی میں\nکہ وہ سربلندی ہے یہ سربزیری\nسیاست نے مذہب سے پِیچھا چھُٹرایا\nچلی کچھ نہ پِیرِ کلیسا کی پیری\nہُوئی دِین و دولت میں جس دم جُدائی\nہوَس کی امیریِ، ہوَس کی وزیری\nدُوئی ملک و دِیں کے لیے نامرادی\nدوئی چشمِ تہذیب کی نابصیری\nیہ اعجاز ہے ایک صحرا نشیں کا\nبشیری ہے آئینہ دارِ نذیری!\nاسی میں حفاظت ہے انسانیت کی\nکہ ہوں ایک جُنیّدی و اردشیری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D9%88%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA"} {"title": "دیوار پھاندنے میں دیکھوگے کام میرا", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "دیوار پھاندنے میں دیکھوگے کام میرا\nجب دھم سے آ کہوں گا صاحب سلام میرا\n\nہمسائے آپ کے میں لیتا ہوں اک حویلی\nاس شہر میں ہوا جو چندے قیام میرا\n\nجو کچھ کہ عرض کی ہے سو کر دکھاؤں گا میں\nواہی نہ بات سمجھو یوں ہی کلام میرا\n\nاچھا مجھے ستاؤ جتنا کہ چاہو میں بھی\nسمجھوں گا گر ہے انشا اللہ نام میرا\n\nمیں غش ہوا کہا جوں ساقی نے مجھ سے ہنس کر\nیہ سبز جام تیرا اور سرخ جام میرا\n\nپوچھا کسی نے مجھ کو ان سے کہ کون ہے یہ\nتو بولے ہنس کے یہ بھی ہے اک غلام میرا\n\nمحشر کی تشنگی سے کیا خوف سید انشاؔ\nکوثر کا جام دے گا مجھ کو امام میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%AF%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "دیوالی (I)", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کا\nہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کا\nسبھی کے دل میں سماں بھا گیا دوالی کا\nکسی کے دل کو مزا خوش لگا دوالی کا\nعجب بہار کا ہے دن بنا دوالی کا\nجہاں میں یارو عجب طرح کا ہے یہ تیوہار\nکسی نے نقد لیا اور کوئی کرے ہے ادھار\nکھلونے کھیلوں بتاشوں کا گرم ہے بازار\nہر اک دکاں میں چراغوں کی ہو رہی ہے بہار\nسبھوں کو فکر ہے اب جا بجا دوالی کا\nمٹھائیوں کی دکانیں لگا کے حلوائی\nپکارتے ہیں کہ لالہ دوالی ہے آئی\nبتاشے لے کوئی برفی کسی نے تلوائی\nکھلونے والوں کی ان سے زیادہ بن آئی\nگویا انہوں کے واں راج آ گیا دوالی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C_%28I%29"} {"title": "دیوالی (II)", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دوستو کیا کیا دوالی میں نشاط و عیش ہے\nسب مہیا ہے جو اس ہنگام کے شایان ہے\nاس طرح ہیں کوچہ و بازار پر نقش و نگار\nہو عیاں حسن نگارستاں کی جن سے خوب رے\nگرم جوشی اپنی با جام چراغاں لطف سے\nکیا ہی روشن کر رہی ہے ہر طرف روغن کی مے\nمائل سیر چراغاں نخل ہر جا دم بدم\nحاصل نظارہ حسن شمع رویاں پے بہ پے\nعاشقاں کہتے ہیں معشوقوں سے با عجز و نیاز\nہے اگر منظور کچھ لینا تو حاضر ہیں روپے\nگر مکرر عرض کرتے ہیں تو کہتے ہیں وہ شوخ\nہم سے لیتے ہو میاں تکرار و حجت تا بہ کے\nکہتے ہیں اہل قمار آپ میں گرم اختلاط\nہم تو ڈب میں سو رپے رکھتے ہیں تم رکھتے ہو کے\nجیت کا پڑتا ہے جس کا دانوں وہ کہتا ہے یوں\nسوئے دست راست ہے میرے کوئی فرخندہ پے\nہے دسہرے میں بھی یوں گو فرحت و زینت نظیرؔ\nپر دیوالی بھی عجب پاکیزہ تر تیوہار ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C_%28II%29"} {"title": "دیوالی کے دیے", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "چھت کی منڈیر پر دیوالی کے دیے ہانپتے ہوئے بچوں کے دل کی طرح دھڑک رہے تھے۔\n\nمُنی دوڑتی ہوئی آئی۔ اپنی ننھی سی گھگری کو دونوں ہاتھوں سے اوپر اٹھائے، چھت کے نیچے گلی میں موری کے پاس کھڑی ہوگئی۔۔۔ اس کی روئی ہوئی آنکھوں میں، منڈیرپر پھیلے ہوئے دِیوں نے، کئی چمکیلے نگینے جڑ دیے۔۔۔ اس کا ننھا سا سینہ دیے کی لو کی طرح کانپا، مسکرا کر اس نے اپنی مٹھی کھولی، پسینے سے بھیگا ہوا پیسہ دیکھا اور بازار میں دیے لینے کے لیے دوڑ گئی۔\n\nچھت کی منڈیر پر شام کی خنک ہوا میں دیوالی کے دیے پھڑپھڑاتے رہے۔\n\nسریندر دھڑکتے ہوئے دل کو پہلو میں چھپائے، چوروں کی مانند گلی میں داخل ہوا اور منڈیر کے نیچے بے قراری سے ٹہلنے لگا۔۔۔ اس نے دِیوں کی قطار کی طرف دیکھا۔ اسے ہوا میں اچھلتے ہوئے یہ شعلے اپنی رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کے رقصاں قطرے معلوم ہوئے۔۔۔ دفعتاً سامنے والی کھڑکی کھلی۔۔۔ سریندر سرتا پا نگاہ بن گیا۔ کھڑکی کے ڈنڈے کا سہارا لےکر ایک دوشیزہ نے جھک کرگلی میں دیکھا اور فوراً اس کا چہرہ تمتما اٹھا۔کچھ اشارے ہوئے۔ کھڑکی چوڑیوں کی کھنکناہٹ کے ساتھ بند ہوئی اور سریندر وہاں سے مخموری کی حالت میں چل دیا۔\n\nچھت کی منڈیر پر دیوالی کے دیے دلہن کی ساڑی میں ٹکے ہوئے تاروں کی طرح چمکتے رہے۔\n\nسرجو کمہار لاٹھی ٹیکتا ہوا آیا اور دم لینے کے لیے ٹھہر گیا۔ بلغم اس کی چھاتی میں سڑکیں کوٹنے والے انجن کی مانند پھر رہا تھا۔۔۔ گلے کی رگیں دمے کے دورے کے باعث دھونکنی کی طرح کبھی پھولتی تھیں کبھی سکڑ جاتی تھیں۔ اس نے گردن اٹھا کر جگمگ جگمگ کرتے دیوں کی طرف اپنی دھندلی آنکھوں سے دیکھا اور اسے ایسا معلوم ہوا کہ دور۔۔۔ بہت دور۔۔۔ بہت سے بچے قطار باندھے کھیل کود میں مصروف ہیں۔ سرجو کمہار کی لاٹھی منوں بھاری ہوگئی۔ بلغم تھوک کروہ پھر چیونٹی کی چال چلنے لگا۔\n\nچھت کی منڈیر پر دیوالی کے دیے جگمگاتے رہے۔\n\nپھر ایک مزدور آیا۔ پھٹے ہوئے گریبان میں سے اس کی چھاتی کے بال، برباد گھونسلوں کی تیلیوں کے مانند بکھر رہے تھے۔ دِیوں کی قطار کی طرف اس نے سر اٹھا کردیکھا اور اسے ایسا محسوس ہوا کہ آسمان کی گدلی پیشانی پر پسینے کے موٹے موٹے قطرے چمک رہے ہیں۔ پھر اسے اپنے گھر کے اندھیارے کا خیال آیا اور وہ ان تھرکتے ہوئے شعلوں کی روشنی، کنکھیوں سے دیکھتا ہوا آگے بڑھ گیا۔\n\nچھت کی منڈیر پر دیوالی کے دیے آنکھیں جھپکتے رہے۔\n\nنئے اور چمکیلے بوٹوں کی چرچراہٹ کے ساتھ ایک آدمی آیا۔ اور دیوار کے قریب سگریٹ سلگانے کے لیے ٹھہر گیا۔ اس کا چہرہ اشرفی پر لگی ہوئی مہر کی مانند جذبات سے عاری تھا۔ کالر چڑھی گردن اٹھا کر اس نے دِیوں کی طرف دیکھا اور اسے ایسا معلوم ہوا کہ بہت سی کٹھالیوں میں سونا پگھل رہا ہے۔ اس کے چرچراتے ہوئے چمکیلے جوتوں پر ناچتے ہوئے شعلوں کا عکس پڑ رہا تھا۔ وہ ان سے کھیلتا ہوا آگے بڑھ گیا۔\n\nچھت کے منڈیر پر دیوالی کے دیے جلتے رہے۔\n\nجو کچھ انھوں نے دیکھا، جو کچھ انھوں نے سنا، کسی کو نہ بتایا۔ ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا اور سب دیے ایک کرکے بجھ گئے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DB%92"} {"title": "دیوان غالب", "poet_page": "مصنف:مرزا اسد اللہ خان غالب", "kind": "prose", "section": "کام", "year": null, "text_ur": "== فہرست ==\n\nدیباچہ و مقدمہ\n\nغزلیات\n\nقصائد\n\nمثنویاں\n\nخمسہ\n\nمرثیہ و سلام\n\nسہرے و گزارشِ غالب\n\nقطعات\n\nرباعیات و متفرقات\n\nضمیمہ دیوان غالب\n\nکتابیات", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86_%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%A8"} {"title": "دیوانوں میں ذکر دل دیوانہ رہے گا", "poet_page": "مصنف:جگرؔ بسوانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیوانوں میں ذکر دل دیوانہ رہے گا\nجب میں نہ رہوں گا مرا افسانہ رہے گا\n\nگیسو کی بھی نگہت سے وہ بیگانہ رہے گا\nدیوانہ تری زلف کا دیوانہ رہے گا\n\nمجنوں نے کہا نجد میں مجھ سے دم آخر\nآباد ترے دم سے یہ ویرانہ رہے گا\n\nہاتھوں میں وہ مہندی بھی ملیں دل کا لہو بھی\nدونوں کا مگر رنگ جداگانہ رہے گا\n\nکعبہ کی طرف جانے کو ہم جائیں گے زاہد\nدل محو خیال رہ بت خانہ رہے گا\n\nآرام ملے گا نہ زمانے میں جگرؔ کو\nدل میں جو نہ تو اے غم جانانہ رہے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں\nیعنی ہمارے جَیب میں اک تار بھی نہیں\n\nدل کو نیازِ حسرتِ دیدار کر چکے\nدیکھا تو ہم میں طاقتِ دیدار بھی نہیں\n\nملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہے\nدشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں\n\nبے عشق عُمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاں\nطاقت بہ قدرِ لذّتِ آزار بھی نہیں\n\nشوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبالِ دوش\nصحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں\n\nگنجائشِ عداوتِ اغیار اک طرف\nیاں دل میں ضعف سے ہوسِ یار بھی نہیں\n\nڈر نالہ ہائے زار سے میرے، خُدا کو مان\nآخر نوائے مرغِ گرفتار بھی نہیں\n\nدل میں ہے یار کی صفِ مژگاں سے روکشی\nحالانکہ طاقتِ خلشِ خار بھی نہیں\n\nاس سادگی پہ کوں نہ مر جائے اے خُدا!\nلڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں\n\nدیکھا اسدؔ کو خلوت و جلوت میں بارہا\nدیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B4_%D9%BE%DB%81_%D8%B2%D9%86%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دیوانگی نے کیا کیا عالم دکھا دیے ہیں", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیوانگی نے کیا کیا عالم دکھا دیے ہیں\nپریوں نے کھڑکیوں کے پردے اٹھا دیے ہیں\n\nاللہ رے فروغ اس رخسار آتشیں کا\nشمعوں کے رنگ مثل کافور اڑا دیے ہیں\n\nآتش نفس ہوا ہے گل زار کی ہمارے\nبجلی گری ہے غنچے جب مسکرا دیے ہیں\n\nسو بار گل کو اس نے تلووں تلے ملا ہے\nکٹوا کے سرو شمشاد اکثر جلا دیے ہیں\n\nانسان خوبرو سے باقی رہے تفاوت\nاس واسطے پری کو دو پر لگا دیے ہیں\n\nابروئے کج سے خون عشاق کیا عجب ہے\nتلوار نے نشان لشکر مٹا دیے ہیں\n\nکس کس کو خوب کہئے اللہ نے بتوں کو\nکیا گوش و چشم کیا لب کیا دست و پا دیے ہیں\n\nبے یار بام پر جو وحشت میں چڑھ گیا ہوں\nپرنالے روتے روتے میں نے بہا دیے ہیں\n\nوصف کمان ابرو جو کیجیے سو کم ہے\nبے تیر بسملوں کے تودے لگا دیے ہیں\n\nرویا ہوں یاد کر کے میں تیری تند خوئی\nصرصر نے جب چراغ روشن بجھا دیے ہیں\n\nسوز دل و جگر کی شدت پھر آج کل ہے\nپھر پہلوؤں کے تکیے مشعل بنا دیے ہیں\n\nشمعوں کو تو نے دل سے پروانوں کے اتارا\nآنکھوں سے بلبلوں کی گلشن گرا دیے ہیں\n\nوہ بادہ کش ہوں میری آواز پا کو سن کر\nشیشوں نے سر حضور ساغر جھکا دیے ہیں\n\nاشکوں سے خانۂ تن آتشؔ خراب ہوگا\nقصر سپہر رفعت باراں نے ڈھا دیے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دیوانہ شاعر", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "دھواں", "year": "1941", "text_ur": "(اگر مقدس حق دنیا کی نگاہوں سے اوجھل کر دیا جائے تو رحمت ہو اس دیوانے پر جو انسانی دماغ پر سنہرا خواب طاری کر دے۔۔۔ حکیم گورکی)\n\nمیں آہوں کا بیوپاری ہوں،\n\nلہو کی شاعری میرا کام ہے،\nچمن کی وا ماندہ ہواؤ!\n\nاپنے دامن سمیٹ لو۔۔۔کہ\nمیرے آتشیں گیت،\n\nدبے ہوئے سینوں میں تلاطم برپا کرنے والے ہیں۔\n\nیہ بے باک نغمہ درد کی طرح اٹھا، اور باغ کی فضا میں چند لمحے تھر تھرا کر ڈوب گیا۔ آواز میں ایک قسم کی دیوانگی تھی۔۔۔ ناقابل بیان، میرے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ میں نے آواز کی جستجو میں اِدھر اُدھر نگاہیں اٹھائیں۔ سامنے چبوترے کے قریب گھاس کے تختے پر چند بچے اپنی ماماؤں کے ساتھ کھیل کود میں محو تھے، پاس ہی دو تین گنوار بیٹھے ہوئے تھے۔ بائیں طرف نیم کے درختوں کے نیچے مالی زمین کھودنے میں مصروف تھا۔ میں ابھی اسی جستجو میں ہی تھا کہ وہی درد میں ڈوبی ہوئی آواز پھر بلند ہوئی۔\n\nمیں ان لاشوں کا گیت گاتا ہوں،\nجن کی سردی دسمبر مستعار لیتا ہے۔\n\nمیرے سینے سے نکلی ہوئی آہ\nوہ لو ہے جو جون کے مہینے میں چلتی ہے۔\n\nمیں آہوں کا بیوپاری ہوں۔\nلہو کی شاعری میرا کام ہے\n\nآواز کنوئیں کے عقب سے آ رہی تھی۔ مجھ پر ایک رقت سی طاری ہو گئی۔ میں ایسا محسوس کرنے لگاکہ سرد اور گرم لہریں بیک وقت میرے جسم سے لپٹ رہی ہیں۔ اس خیال نے مجھے کسی قدر خوف زدہ کر دیا کہ آواز اس کنوئیں کے قریب سے بلند ہو رہی ہےجس میں آج سے کچھ سال پہلے لاشوں کا انبار لگا ہوا تھا۔ اس خیال کے ساتھ ہی میرے دماغ میں جلیانوالہ باغ کے خونی حادثے کی ایک تصویر کھنچ گئی۔ تھوڑی دیر کے لیے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ باغ کی فضا گولیوں کی سنسناہٹ اور بھاگتے ہوئے لوگوں کی چیخ پکار سے گونج رہی ہے۔ میں لرز گیا۔ اپنے کاندھوں کو زور سے جھٹکا دے کر اور اس عمل سے اپنے خوف کو دور کرتے ہوئے میں اٹھااور کنوئیں کا رخ کیا۔\n\nسارے باغ پر ایک پر اسرار خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ میرے قدموں کے نیچے خشک پتوں کی سرسراہٹ سوکھی ہوئی ہڈیوں کے ٹوٹنے کی آواز پیدا کر رہی تھی۔ کوشش کے باوجود میں اپنے دل سے وہ نامعلوم خوف دور نہ کر سکا جو اس آواز نے پیدا کر دیا تھا۔ ہر قدم پر مجھے یہی معلوم ہوتا تھا کہ گھاس کے سر سبز بستر پر بے شمار لاشیں پڑی ہوئی ہیں جن کی بوسیدہ ہڈیاں میرے پاؤں کے نیچے ٹوٹ رہی ہیں۔ یکایک میں نے اپنے قدم تیز کیے اور دھڑکتے ہوئے دل سے اس چبوترے پر بیٹھ گیاجو کنوئیں کے ارد گرد بنا ہوا تھا۔\n\nمیرے دماغ میں بار بار یہ عجیب سا شعر گونج رہا تھا۔\n\nمیں آہوں کا بیوپاری ہوں\n\nلہو کی شاعری میرا کام ہے\n\nکنوئیں کے قریب کوئی متنفس موجود نہ تھا۔ میرے سامنے چھوٹے پھاٹک کی ساتھ والی دیوار پر گولیوں کے نشان تھے۔ چوکور جالی منڈھی ہوئی تھی۔ میں ان نشانوں کو بیسیوں مرتبہ دیکھ چکا تھا مگر اب وہ نشان جو میری نگاہوں کے عین بالمقابل تھے،دو خونیں آنکھیں معلوم ہو رہے تھے۔ جو دور ۔۔۔بہت دور کسی غیر مرئی چیز کو ٹکٹکی لگائے دیکھ رہی ہوں۔ بلا ارادہ میری نگاہیں ان دو چشم نما سوراخوں پر جم کر رہ گئیں۔ میں ان کی طرف، مختلف خیالات میں کھویا ہوا خدا معلوم کتنے عرصے تک دیکھتا رہاکہ دفعتاًپاس والی روش پر کسی کے بھاری قدموں کی چاپ نے مجھے اس خواب سے بیدار کر دیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا، گلاب کی جھاڑیوں سے ایک دراز قد آدمی سر جھکائے میری طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے دونوں ہاتھ اس کے بڑے کوٹ کی جیبوں میں ٹھنسے ہوئے تھے۔ چلتے ہوئے وہ زیر لب کچھ گنگنا رہا تھا۔ کنویں کے قریب پہنچ کر وہ یکایک ٹھٹکااور گردن اُٹھا کر میری طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’پانی پیوں گا۔‘‘\n\nمیں فوراً چبوترے پر سے اٹھا اور پمپ کا ہینڈل ہلاتے ہوئے اس اجنبی سے کہا، ’’آئیے۔‘‘\n\nاچھی طرح پانی پی چکنے کے بعد اس نے اپنے کوٹ کی میلی آستین سے منہ پونچھا اور واپس چلنے کو ہی تھا کہ میں نے دھڑکتے ہوئے دل سے دریافت کیا، ’’کیا ابھی ابھی آپ ہی گا رہے تھے؟‘‘\n\n’’ہاں۔۔۔مگر آپ کیوں دریافت کر رہے ہیں؟‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا سر پھر اٹھایا۔ اس کی آنکھیں جن میں سرخ ڈورے غیر معمولی طور پر نمایاں تھے،میری قلبی واردات کا جائزہ لیتی ہوئی معلوم ہو رہی تھیں۔ میں گھبرا گیا۔\n\n’’آپ ایسے گیت نہ گایا کریں۔۔۔ یہ سخت خوفناک ہیں۔‘‘\n\n’’خوفناک۔۔۔! نہیں،انہیں ہیبت ناک ہونا چاہیے۔ جب کہ میرے راگ کے ہر سر میں رستے ہوئے زخموں کی جلن اور رکی ہوئی آہوں کی تپش مستور ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ میرے شعلوں کی زبانیں آپ کی برفائی ہوئی روح کو اچھی طرح چاٹ نہیں سکیں۔‘‘ اس نے اپنی نوکیلی ٹھوڑی کو انگلیوں سے کھجلاتے ہوئے کہا۔ یہ الفاظ اس شور کے مشابہ تھے۔ جو برف کے ڈھیلے میں تپی ہوئی سلاخ گزارنے سے پیدا ہوتا ہے۔\n\n’’آپ مجھے ڈرا رہے ہیں؟‘‘\n\n’’میرے یہ کہنے پر اس مردِ عجیب کے حلق سے ایک قہقہہ نما شور بلند ہوا۔ ہا، ہا، ہا۔۔۔ آپ ڈر رہے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ اس وقت اس منڈیر پر کھڑے ہیں جو آج سے کچھ عرصہ پہلے بے گناہ انسانوں کے خون سے لتھڑی ہوئی تھی۔ یہ حقیقت میری گفتگو سے زیادہ وحشت خیز ہے۔‘‘\n\nیہ سن کر میرے قدم ڈگمگا گئے، میں واقعی خونیں منڈیر پر کھڑا تھا۔ مجھے خوف زدہ دیکھ کر وہ پھر بولا، ’’تھرّائی ہوئی رگوں سے بہا ہوا لہو کبھی فنا نہیں ہوتا۔۔۔ اس خاک کے ذرّے ذرّے میں مجھے سرخ بوندیں تڑپتی نظر آ رہی ہیں۔ آؤ، تم بھی دیکھو۔‘‘\n\nیہ کہتے ہوئے اس نے اپنی نظریں زمین میں گاڑ دیں۔ میں کنویں پر سے نیچے اتر آیااور اس کے پاس کھڑا ہو گیا۔ میرا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ دفعتاً اس نے اپنا ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا اور بڑے دھیمے لہجے میں کہا، ’’مگر تم اسے نہیں سمجھ سکو گے۔۔۔ یہ بہت مشکل ہے۔‘‘\n\nمیں اس کا مطلب بخوبی سمجھ رہا تھا۔ وہ غالباً مجھے اس خونی حادثے کی یاد دلا رہا تھا جو آج سے سولہ سال قبل اس باغ میں واقع ہوا تھا۔ اس وقت میری عمر قریباً پانچ سال کی تھی۔ اس لیے میرے دماغ میں اس کے بہت دھندلے نقوش باقی تھے۔ لیکن مجھے اتنا ضرور معلوم تھا کہ اس باغ میں عوام کے ایک جلسے پر گولیاں برسائی گئی تھیں۔ جس کا نتیجہ قریباً دو ہزار اموات تھیں۔ میرے دل میں ان لوگوں کا بہت احترام تھا جنھوں نے اپنی مادرِ وطن اور جذبۂ آزادی کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دی تھیں۔ بس اس احترام کے علاوہ میرے دل میں حادثے کے متعلق اور کوئی خاص جذبہ نہ تھا۔ مگر آج اس مردِعجیب کی گفتگو نے میرے سینے میں ایک ہیجان سا برپا کر دیا۔ میں ایسا محسوس کرنے لگا کہ گولیاں تڑاتڑ برس رہی ہیں اور بہت سے لوگ وحشت کے مارے ادھر ادھر بھاگتے ہوئے ایک دوسرے پر گر کر مر رہے ہیں۔\n\n’’میں سمجھتا ہوں۔۔۔ میں سب کچھ سمجھتا ہوں۔ موت بھیانک ہے۔ مگر ظلم اس سے کہیں خوفناک اوربھیانک ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے سب کچھ کہہ ڈالا ہے۔ اور میرا سینہ بالکل خالی رہ گیا ہے۔ مجھ پر ایک مردنی سی چھا گئی۔ غیر ارادی طور پر میں نے اس شخص کے کوٹ کو پکڑ لیا اور تھرّائی ہوئی آواز میں کہا، ’’آپ کون ہیں۔۔۔؟آپ کون ہیں؟‘‘\n\n’’آہوں کا بیوپاری۔۔۔ ایک دیوانہ شاعر۔‘‘\n\n’’آہوں کا بیوپاری۔۔۔ دیوانہ شاعر‘‘ اس کے الفاظ زیرِ لب گنگناتے ہوئے میں کنوئیں کے چبوترے پر بیٹھ گیا۔ اس وقت میرے دماغ میں اس دیوانے شاعر کا گیت گونج رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا۔ سامنے سپیدے کے دو درخت ہیبت ناک دیوؤں کی طرح انگڑائیاں لے رہے تھے۔ پاس ہی چنبیلی اور گلاب کی خاردار جھاڑیوں میں ہوا آہیں بکھیر رہی تھی۔ دیوانہ شاعر خاموش کھڑا سامنے والی دیوار کی ایک کھڑکی پر نگاہیں جمائے ہوئے تھا، شام کے خاکستری دھندلکے میں وہ ایک سایہ سا دکھائی دیتا تھا، کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ گنگنایا۔\n\n’’آہ! یہ سب کچھ خوفناک حقیقت ہے۔۔۔ کسی صحرا میں جنگلی انسان کے پیروں کے نشانات کی طرح خوفناک!‘‘\n\n’’کیا کہا؟‘‘\n\nمیں ان الفاظ کو اچھی طرح سن نہ سکا تھا۔ جو اس نے منہ ہی منہ میں ادا کیے تھے۔\n\n’’کچھ بھی نہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ میرے پاس آکر چبوترے پر بیٹھ گیا۔\n\n’’مگر آپ گنگنا رہے تھے۔‘‘\n\nاس پر اس نے اپنی آنکھیں ایک عجیب انداز میں سکیڑیں اور ہاتھوں کو آپس میں زور زور سے ملتے ہوئے کہا، ’’سینے میں قید کیے ہوئے الفاظ باہر نکلنے کے لیے مضطرب ہوتے ہیں۔ اپنے آپ سے بولنا اس الوہیت سے گفتگو کرنا ہے۔ جو ہمارے دل کی پہنائیوں میں مستور ہوتی ہے۔‘‘ پھر ساتھ ہی گفتگو کا رخ بدل دیا، ’’کیا آپ نے وہ کھڑکی دیکھی ہے؟‘‘\n\nاس نے اپنی انگلی اس کھڑکی کی طرف اٹھائی جسے وہ چند لمحے پہلے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔ میں نے اس جانب دیکھا۔ چھوٹی سی کھڑکی تھی جو سامنے دیوار کی خستہ اینٹوں میں سوئی معلوم ہوتی تھی۔\n\n’’یہ کھڑکی جس کا ڈنڈا نیچے لٹک رہا ہے؟‘‘ میں نے اس سے کہا، ’’ہاں۔۔۔یہی، جس کا ایک ڈنڈا نیچے لٹک رہا ہے، کیا تم اس پر اس معصوم لڑکی کے خون کے چھینٹے نہیں دیکھ رہے ہوجس کو صرف اس لیے ہلاک کیا گیا تھا کہ ترکشِ استبداد کو اپنے تیروں کی قوّتِ پرواز کا امتحان لینا تھا۔۔۔ میرے عزیز! تمہاری اس بہن کا خون ضرور رنگ لائے گا میرے گیتوں کے زیرو بم میں اس کم سن روح کی پھڑ پھڑاہٹ اور اس کی دل دوز چیخیں ہیں۔ یہ سکون کے دامن کو تار تار کردیں گی۔ ایک ہنگامہ ہو گا۔ سینۂ گیتی شق ہو جائے گا۔ میری بے لگام آواز بلند سے بلند تر ہوتی جائے گی۔۔۔ پھر کیا ہو گا۔۔۔؟ پھر کیا ہو گا۔۔۔؟یہ مجھے معلوم نہیں۔۔۔ آؤ، دیکھو، اس سینے میں کتنی آگ سلگ رہی ہے!‘‘\n\nیہ کہتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور اسے کوٹ کے اندر لے جا کر اپنے سینے پر رکھ دیا۔ اس کے ہاتھوں کی طرح اس کا سینہ بھی غیر معمولی طور پر گرم تھا۔ اس وقت اس کی آنکھوں کے ڈورے بہت ابھرے ہوئے تھے۔ میں نے اپنا ہاتھ ہٹا لیا اور کانپتی ہوئی آواز میں کہا، ’’آپ علیل ہیں۔ کیا میں آپ کو گھر چھوڑ آؤں؟‘‘\n\n’’نہیں میرے عزیز، میں علیل نہیں ہوں۔‘‘ اس نے زور سے اپنے سر کو ہلایا۔ ’’یہ انتقام ہے جو میرے اندر گرم سانس لے رہا ہے، میں اس دبی ہوئی آگ کو اپنے گیتوں کے دامن سے ہوا دیتا ہوں کہ یہ شعلوں میں تبدیل ہو جائے۔‘‘\n\n’’یہ درست ہے مگر آپ کی طبیعت واقعتاً خراب ہے۔ آپ کے ہاتھ بہت گرم ہیں۔ اس سردی میں آپ کو زیادہ بخار ہو جانے کا اندیشہ ہے۔‘‘\n\nاس کے ہاتھوں کی غیر معمولی گرمی اور آنکھوں میں ابھرے ہوئے سرخ ڈورے صاف طور پر ظاہر کر رہے تھے کہ اسے تیز بخار ہے۔‘‘\n\nاس نے میرے کہنے کی کوئی پروا نہ کی اور جیبوں میں ہاتھ ٹھونس کر میری طرف بڑے غور سے دیکھتے ہوئے کہا،’’یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ لکڑی جلے اور دھواں نہ دے۔۔۔میرے عزیز! ان آنکھوں نے ایسا سماں دیکھا ہے کہ انہیں ابل کر باہر آجانا چاہیے تھا۔ کیا کہہ رہے تھے کہ میں علیل ہوں۔۔۔۔ہا، ہا، ہا۔۔۔علالت۔۔۔ کاش کہ سب لوگ میری طرح علیل ہوتے۔۔۔جائیے، آپ ایسے نازک مزاج میری آہوں کے خریدار نہیں ہو سکتے۔‘‘\n’’مگر۔۔۔‘‘\n\n’’مگر وگر کچھ نہیں۔‘‘ وہ دفعتاً جوش میں چلاّنے لگا، ’’انسانیت کے بازار میں صرف تم لوگ باقی رہ گئے ہو جو کھوکھلے قہقہوں اور پھیکے تبسّموں کے خریدار ہو۔ ایک زمانے سے تمہارے مظلوم بھائیوں اور بہنوں کی فلک شگاف چیخیں تمہارے کانوں سے ٹکرا رہی ہیں مگر تمہاری خوابیدہ سماعت میں ارتعاش پیدا نہیں ہوا۔ آؤ، اپنی روحوں کو میری آہوں کی آنچ دو۔ یہ انہیں حساس بنا دے گی۔‘‘\n\nمیں اس کی گفتگو غور سے سن رہا تھا۔ مجھے حیرت تھی کہ وہ چاہتا کیا ہے اور اس کے خیالات اس قدر پریشان ومضطرب کیوں ہیں۔میں نے یہ بھی سوچا کہ شاید وہ پاگل ہے، اس کی گفتگو بامعنی ضرور تھی مگر لہجے میں ایک عجیب قسم کی دیوانگی تھی۔ اس کی عمر یہی کوئی پچیس برس کے قریب ہو گی، داڑھی کے بال جو ایک عرصہ سے مونڈے نہ گئے تھے، کچھ اس انداز میں اس کے چہرے پر اگے ہوئے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کسی خشک روٹی پر بہت سی چیونٹیاں چمٹی ہوئی ہیں۔ گال اندر کو پچکے ہوئے، ماتھا باہر کی طرف ابھرا ہوا،ناک نوکیلی، آنکھیں بڑی جن سے وحشت ٹپکتی تھی۔ سر پر خشک اور خاک آلودہ بالوں کا ایک ہجوم۔ بڑے سے بھورے کوٹ میں وہ واقعی شاعر معلوم ہو رہا تھا۔۔۔ ایک دیوانہ شاعر، جیسا کہ اس نے خود اس نام سے اپنے آپ کو متعارف کرایا تھا۔\n\nمیں نے اکثر اوقات اخباروں میں ایک جماعت کا حال پڑھا تھا۔ اس جماعت کے خیالات دیوانے شاعر کے خیالات سے بہت حد تک ملتے جلتے تھے۔ میں نے خیال کیا کہ شاید وہ بھی اسی جماعت کا رکن ہے۔\n\n’’آپ انقلابی معلوم ہوتے ہیں۔‘‘\n\nاس پر وہ کھل کھلا کر ہنس پڑا۔ ’’آپ نے یہ بہت بڑا انکشاف کیا ہے۔۔۔ میاں، میں تو کوٹھوں کی چھتوں پر چڑھ چڑھ کر پکارتا ہوں۔ میں انقلابی ہوں۔ ۔۔میں انقلابی ہوں۔۔۔ مجھے روک لے جس سے بن پڑتا ہے۔۔۔ آپ نے واقعی بہت بڑا انکشاف کیا ہے۔‘‘ وہ اچانک سنجیدہ ہو گیا۔\n\n’’اسکول کے طالب علموں کی طرح انقلاب کے حقیقی معانی سے تم بھی نا آشنا ہو، انقلابی وہ ہے جو ہر ناانصافی اور ہر غلطی پر چلاّ اٹھے۔ انقلابی وہ ہے جو سب زمینوں، سب آسمانوں، سب زبانوں اور سب وقتوں کا ایک مجسم گیت ہو، انقلابی، سماج کے قصاب خانے کی ایک بیمار اور فاقوں مری بھیڑ نہیں، وہ ایک مزدور ہے، تنو مند، جو اپنے آہنی ہتھوڑے کی ایک ضرب سے ہی ارضی جنّت کے دروازے وا کر سکتا ہے۔ میرے عزیز! یہ منطق، خوابوں اور نظریوں کا زمانہ نہیں، انقلاب ایک ٹھوس حقیقت ہے، یہ یہاں پر موجود ہے۔ اس کی لہریں بڑھ رہی ہیں۔ کون ہے جو اب اس کو روک سکتا ہے۔ یہ بند باندھنے پر نہ رک سکیں گی!‘‘\n\nاس کا ہر لفظ ہتھوڑے کی اس ضرب کے مانند تھا جوسرخ لوہے پر پڑ کر اس کی شکل تبدیل کر رہا ہو۔ میں نے محسوس کیا کہ میری روح کسی غیر مرئی چیز کو سجدہ کر رہی ہے۔\n\nشام کی تاریکی بتدریج بڑھ رہی تھی، نیم کے درخت کپکپا رہے تھے، شاید میرے سینے میں ایک نیا جہاں آباد ہو رہا تھا۔ اچانک میرے دل سے کچھ الفاظ اٹھے اور لبوں سے باہر نکل گئے۔\n\n’’اگر انقلاب یہی ہے، تو میں بھی انقلابی ہوں۔‘‘\n\nشاعر نے اپنا سر اٹھایا اور میرے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، ’’تو پھر اپنے خون کو کسی طشتری میں نکال کر رکھ چھوڑو، کہ ہمیں آزادی کے کھیت کے لیے اس سرخ کھاد کی بہت ضرورت ہے۔۔۔آہ! وہ وقت کس قدر خوشگوار ہو گا جب میری آہوں کی زردی تبسّم کا رنگ اختیار کرلے گی۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ کنوئیں کی منڈیر سے اٹھا اور میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہنے لگا، ’’اس دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو حال سے مطمئن ہیں۔ اگر تمہیں اپنی روح کی بالیدگی منظور ہے تو ایسے لوگوں سے ہمیشہ دور رہنے کی سعی کرنا۔ ان کا احساس پتھرا گیا ہے۔ مستقبل کے جاں بخش مناظر ان کی نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل رہیں گے۔۔۔ اچھا، اب میں چلتا ہوں۔‘‘\n\nاس نے بڑے پیار سے میرا ہاتھ دبایا اور پیشتر اس کے کہ میں اس سے کوئی اور بات کرتا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا جھاڑیوں کے جھنڈ میں غائب ہو گیا۔\n\nباغ کی فضا پر خاموشی طاری تھی۔ میں سر جھکائے ہوئے خدا معلوم کتنا عرصہ اپنے خیالات میں غرق رہا کہ اچانک اس شاعر کی آواز رات کی رانی کی دل نواز خوشبو میں گُھلی ہوئی میرے کانوں تک پہنچی۔ وہ باغ کے دوسرے گوشے میں گا رہا تھا۔\n\nزمین ستاروں کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی ہے۔\n\nاٹھو اور ان نگینوں کو اس کے ننگے سینے پر جڑ دو۔\n\nڈھاؤ، کھودو، چپرو، مارو۔\n\nنئی دنیا کے معمارو! کیا تمہارے بازؤں میں قوت نہیں ہے۔\n\nمیں آہوں کا بیوپاری ہوں۔\n\nلہو کی شاعری میرا کام ہے۔\n\nگیت ختم ہونے پر میں باغ میں کتنے عرصے تک بیٹھا رہا۔ یہ مجھے قطعاً یاد نہیں۔ والد کا بیان ہےکہ میں اس روز گھر بہت دیر سے آیا تھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1"} {"title": "دیوانہ ہوں مجھے نہ تساہل سے باندھئے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیوانہ ہوں مجھے نہ تساہل سے باندھئے\nہاتھوں کو خوب رشتۂ کاکل سے باندھئے\n\nاہل چمن کو اتنا پریشاں نہ کیجئے\nبکھرے ہوئے یہ بال ہیں سنبل سے باندھئے\n\nہرگز نہ ہوجیے کس و ناکس سے ملتجی\nاس غم کدے میں دھیان توکل سے باندھئے\n\nیہ خوب جانتا ہوں کسی کو کرو گے قتل\nخنجر کمر میں آپ تجاہل سے باندھئے\n\nاس گلشن جہان میں بد عہد ہیں سبھی\nبلبل یہاں نہ عہد کسی گل سے باندھئے\n\nاحوال ایک ہے دل وحشت سرشت کا\nیا جز سے باندھئے اسے یا کل سے باندھئے\n\nؔجوشش تو اس طرح کی زمینوں میں یاد رکھ\nمضموں جو باندھئے سو تأمل سے باندھئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B3%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%D8%A6%DB%92"} {"title": "دیوانۂ عشق کو نصیحت توبہ", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دیوانۂ عشق کو نصیحت توبہ\nیہ عقل کی باتیں یہ حماقت توبہ\nجذبہ کسی جذبے ہی سے مٹ سکتا تھا\nنفرت سے بدل گئی محبت توبہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%AD%D8%AA_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81"} {"title": "دیوانے ہوئے صحرا میں پھرے یہ حال تمہارے غم نے کیا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیوانے ہوئے صحرا میں پھرے یہ حال تمہارے غم نے کیا\nافسوس مگر اس بات کا ہے کیا تم نے کیا کیا ہم نے کیا\n\nجب بھڑکی ہے آتش داغ جگر سرد اس کو دیدۂ نم نے کیا\nشاداب چمن میں پھولوں کو ہر شام و سحر شبنم نے کیا\n\nاچھی ہوئی اب کہ بری یہ ہوئی ان باتوں کو خود ہی سمجھو\nالزام ہمیں کیا دیتے ہو جو تم نے کہا وہ ہم نے کیا\n\nتاریک ہوئی ساری دنیا کیا موت ہوئی مجھ بیکس کی\nکم ایسے ہوئے ہیں شہید وفا غم جن کا اک عالم نے کیا\n\nقسمت کی طرح یہ دل نہ پھرا کعبے سے بھی الٹے پاؤں پھرے\nآنکھوں میں گلی وہ پھرنے لگی بے خود یہ طواف حرم نے کیا\n\nکیا ایسی وفا پر ناز کروں جو باعث ہو رسوائی کی\nیہ بات ہوئی مر جانے کی بد نام کسی کو ستم نے کیا\n\nغربت میں تمہاری تربت پر رونے کو حفیظؔ آتا کوئی\nاب شکر کرو آنسو تو پچھے چھڑکاؤ بھی ابر کرم نے کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دیواں وفور غم سے مرا رہ گیا غلط", "poet_page": "مصنف:نبی بخش نایاب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نایاب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "دیواں وفور غم سے مرا رہ گیا غلط\nمضموں غلط ردیف غلط قافیہ غلط\n\nاک اک گھڑی فراق میں سو سو برس کی تھی\nبے یار سب حساب مہ و سال تھا غلط\n\nگر تم نقاب اٹھاؤ رخ تاب دار سے\nخورشید کا ہو دعوائے نور و ضیا غلط\n\nخوش ہے وہی رضا پہ جو ثابت قدم رہے\nہوتا نہیں نصیب کا لکھا ہوا غلط\n\nکس کس خطائے کار کو نایابؔ روؤں میں\nمیرے ہر ایک کام کی ہے ابتدا غلط", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%88%D9%81%D9%88%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D9%84%D8%B7"} {"title": "دیوتاؤں کا صدقہ", "poet_page": "مصنف:قاضی عبدالغفار", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "اشخاص:\n\nکلاڈیس بالبو: ایک رومی امیر جو اپنی بیوی کی بدچلنی سےواقف ہے۔\n\nلینٹولس: روما کا ایک نوجوان امیرزادہ جس سے بالبو کی بیگم کے ناجائز تعلقات ہیں۔\n\nجولیا: بالبو کی بدچلن بیوی۔\n\nگالیا: بالبو کا سکریٹری۔\n\nلوکسٹا: بالبو اور جولیا کی کنیز جو زہر دے کر قتل کرنےکے فن میں دستگاہ رکھتی ہے۔\n\nمنظر\n\nدوپہر ڈھل چکی ہے، آفتاب کی تمازت کم ہوتی جاتی ہے۔ کلوزیم کی دیواروں کا سایہ لمباہوتا جاتا ہے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے۔ یہ وقت ہے جب روما کے رؤسا اور امرا اپنے محلوں کے برآمدوں میں نکل آتے ہیں۔\n\nکلاڈیس بالبو کامحل بنیاد سے گنبد تک خالص مرمر کا بنا ہوا ہے۔ اس محل کے ایک برآمدہ میں بالبو اپنی بیگم کے عاشق لینٹولس کے ساتھ پالسو کا کھیل کھیل رہاہے۔ یہ دونوں مرمر کی نیچی چوکیوں پر رکھے ہوئے ریشم کے موٹے گدوں پر کچھ بیٹھے اور کچھ لیٹے ہوئے کھیل میں مشغول ہیں۔\n\nبالبو: کھیلو۔ کھیلو، پانسہ پھینکو، پانسہ کو روکتے کیوں ہو۔ کس چکر میں ہو؟ (آنکھ مار کر اور سرہلا کر محل کے دروازے کی طرف دیکھتا ہے)\n\nلینٹولس: ’’ہوں۔ کیا کہا؟ پانسہ؟ پانسہ تو پھینک رہا ہوں، یہ دیکھو، یہ مارا، لو چلو اٹھاؤ پانسہ۔‘‘\n\nبالبو: ’’(ایک ہونٹ دانتوں کے نیچے دباکر) تمہارا پانسہ تو سیدھا پڑ رہا ہے۔ مگر کب تک؟ ایسا لوٹےگا کہ یاد کروگے۔ پانسہ کے بھروسہ پر نہ رہنا۔ میرا ہاتھ ابھی نہیں دیکھا۔‘‘\n\nلینٹولس: ’’اجی سب دیکھ لیا۔ دیکھ چکے تمہارا ہاتھ! (پانسہ پھینک کر) پانسہ یوں پھینکتے ہیں، دیکھا؟ اب ذرا سنبھل کر پھینکو۔\n\n(اٹھ کر ٹہلنے لگتاہے۔ دل ہی دل میں باتیں کرتا ہے۔ پانسہ پانسہ سیدھا پانسہ تو میرا ہے۔ اس گدھے کا پانسہ تو الٹا پڑچکا۔ نرا الو کا پٹھا ہے۔ جو روکو میں لے جاتاہوں شوہر آپ ہیں! دیوتاؤں کی دلگی بھی عجیب ہے۔ جولیا جیسی پری کاجوڑا لگایا بھی تو اس لنگور کےساتھ! واہ میرے دیوتاؤ)\n\nبالبو: ’’کیا منمنا رہے ہو، لو پھینکو آخری ہاتھ۔‘‘\n\n(جولیا محل کا پردہ اٹھا کر آتی ہے۔ اس کالباس بھی اتنا ہی حسین اور دلکش ہے۔ جس قدر وہ خود حسین ہے رخسار اورہونٹ غازہ کی سرخی سے گلاب کی طرح سرخ ہیں۔ اس کے جسم پر جواہرات جگمگا رہے ہیں)\n\nجولیا: (بالبو کی طرف منہ بناکر) ’’لینٹولس سے پانسے پھنکوا رہے ہو۔ اور تمہیں خبر نہیں کہ وہ مجھے ساتھ لے کر اس وقت کلوزیم جانےوالا ہے۔ تم کو تو پانسہ پھینکنے کے سوا کوئی کام ہی نہیں، اورجب پھینکوگے الٹا۔\n\nبالبو: ’’بیگم صاحبہ! معاف فرمائیے (منہ بناکر)مجھے کیا خبر تھی کہ لینٹولس کو ساتھ لے کر آپ تماشہ دیکھنے جارہی ہیں۔ لے جائیے، لے جائیے (لینٹولس سے) ’’جائیے جناب، جائیے۔ تشریف لے جائیے۔ مہربان، بیگم صاحبہ کو کلوزیم کا تماشہ دکھانے لے جائیے۔ (ذرا گرمہوکر) ’’جاؤ، تم دونوں جاؤ۔ میں کب کہتاہوں کہ نہ جاؤ۔ ایسے ایسے جاؤ کہ پھر واپس بھی نہ آؤ۔‘‘\n\nجولیا: (جاتے جاتے رک کر) کیا فرمایا۔ مجھ سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہو؟ نہیں چاہتےکہ واپس آؤں۔ تو پھر قصہ ختم کرو۔ میرامہر مجھے دو۔ پورے دولاکھ جیب سے نکالو۔ میں کب تم جیسے گدھوں کے اصطبل میں رہنا چاہتی ہوں۔ مگرجاؤں گی اپنا مہر لے کر۔ اور تمہاری صورت کو آگ لگا کر۔ (زور سے دروازہ بند کرتی ہے اور محل سے نکل جاتی ہے)\n\nبالبو: (سخت غصہ کی حالت میں ٹہل رہا ہے اور بڑبڑاتا جاتا ہے) ’’دیکھوں گا، دیکھوں گا، سمجھوں گا! طلاق لے گی؟ مہر لے گی؟ تو اور تیرا لینٹولس (دروازے کی طرف مکا دکھاتا ہے) لے! مجھ سے اپنا مہر لے اور لینٹولس کی بغل میں چین کر! (آواز دیتا ہے) ’’گلبا۔ گلبا۔۔۔‘‘\n\n(گلبا داخل ہوتا ہے)\n\nبالبو: جاؤ ان دونوں کے پیچھے جاؤ۔ لوکسٹا کو بلاؤ۔ اس سےکہو کہ جس وقت یہ دونوں واپس آئیں تو ان کے لیے تیز شراب کا ایک آخری جام تیار رہے۔ سمجھ گئے میرا مطلب!‘‘\n\n(گلبا جاتا ہے اور بالبو کمرے میں بڑبڑا تاٹہل رہاہے)\n\nبالبو: طلاق، مہر، لینٹولس کی معشوقہ، لوکسٹاکی شراب پی، ایک جام پی لے، میری پیاری بیگم! بیگم صاحب کی عمر کا پیالہ چھلکنا چاہیے۔ آج رات کے کھانے کے بعد، ناہید دیوتا کی قسم میں بغیر جولیا کامہر اداکیے انگیر پینا سے شادی کرسکوں گا۔ دیوتاؤں کا صدقہ!‘‘\n\nدوسراسین\n\n(محل کے باہر سڑک پر)\n\nلینٹولس: کیوں جان من! وہ حلوہ بھی تیار کرلیا جوآج شب کو بالبو صاحب نوش فرمائیں گے۔\n\nجولیا: (مسکراکر) نہیں۔ مگر میری کنیز لوکسٹا تیار کر رہی ہے۔ مطمئن رہو۔ وہ اپنےفن کی ماہر ہے۔ ناہید دیوتا کا سایہ ہمدونوں کے سرپر ہے۔ حلوہ بہت میٹھا ہے۔ بہت مزے کا ہوگا۔ میں نے لوکسٹاکو سمجھا دیا ہے کہ شکر زیادہ ڈالے۔\n\nمیرے عزیز شوہر حلوہ کھا کر سو رہیں گے! نہ طلاق! نہ مہر! بس لوکسٹا کا حلوہ میرے معزز شوہر کےحلق میں! دیوتاؤں کا صدقہ!‘‘\n\n’’پردہ‘‘", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%AA%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B5%D8%AF%D9%82%DB%81"} {"title": "دیکھ اس پری سے کیجئے کیا اب تو جا لگی", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ اس پری سے کیجئے کیا اب تو جا لگی\nچھوٹی ہی کوئی بات ہے پھر یہ بلا لگی\n\nاس لب پہ دیکھتے ہی سے وہ پان کی دھڑی\nشام و شفق ان آنکھوں میں کب خوش نما لگی\n\nیہ دسترس کسے کہ کرے اس کو دست بوس\nسو منتوں سے پاؤں میں اس کے حنا لگی\n\nمیں کیا کیا کہ مجھ کو نکالے ہے وہ صنم\nاے اہل بزم کوئی تو بولو خدا لگی\n\nکس طرح حال دل کہوں اس گل سے باغ میں\nپھرتی ہے اس کے ساتھ تو ہر دم صبا لگی\n\nاس درد دل کا پوچھئے کس سے علاج جا\nاپنی سی کر چکے پہ نہ کوئی دوا لگی\n\nآیا جو مہرباں ہو ستم گر تو اس طرف\nکس وقت کی نہ جانئے تجھ کو دعا لگی\n\nاتنا تو وہ نہیں ہے کہ بیدارؔ دیجے دل\nکیا جانے پیاری اس کی تجھے کیا ادا لگی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D8%A7_%D9%84%DA%AF%DB%8C"} {"title": "دیکھ اس کو اک آہ ہم نے کر لی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ اس کو اک آہ ہم نے کر لی\nحسرت سے نگاہ ہم نے کر لی\n\nکیا جانے کوئی کہ گھر میں بیٹھے\nاس شوخ سے راہ ہم نے کر لی\n\nبندہ پہ نہ کر کرم زیادہ\nبس بس تری چاہ ہم نے کر لی\n\nجب اس نے چلائی تیغ ہم پر\nہاتھوں کی پناہ ہم نے کر لی\n\nنخوت سے جو کوئی پیش آیا\nکج اپنی کلاہ ہم نے کر لی\n\nزلف و رخ مہوشاں کی دولت\nسیر شب ماہ ہم نے کر لی\n\nکیا دیر ہے پھر یہ ابر رحمت\nتختی تو سیاہ ہم نے کر لی\n\nدی ضبط میں جب کہ مصحفیؔ جاں\nشرم اس کی گواہ ہم نے کر لی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DA%A9_%D8%A2%DB%81_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%DB%8C"} {"title": "دیکھ اس کو خواب میں جب آنکھ کھل جاتی ہے صبح", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ اس کو خواب میں جب آنکھ کھل جاتی ہے صبح\nکیا کہوں میں کیا قیامت مجھ پہ تب لاتی ہے صبح\n\nشمع جب مجلس سے مہروؤں کی لیتی ہے اٹھا\nکیا کہوں کیا کیا سنیں اس وقت دکھلاتی ہے صبح\n\nجس کا گورا رنگ ہو وہ رات کو کھلتا ہے خوب\nروشنائی شمع کی پھیکی نظر آتی ہے صبح\n\nپاس تو سوتا ہے چنچل پر گلے لگتا نہیں\nمنتیں کرتے ہی ساری رات ہو جاتی ہے صبح\n\nنیند سے اٹھتا ہے تاباںؔ جب مرا خورشید رو\nدیکھ اس کے منہ کے تئیں شرما کے چھپ جاتی ہے صبح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DA%BE%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%AD"} {"title": "دیکھ او قاتل بسر کرتے ہیں کس مشکل سے ہم", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ او قاتل بسر کرتے ہیں کس مشکل سے ہم\nچارہ گر سے درد نالاں درد سے دل دل سے ہم\n\nہائے کیا بے خود کیا ہے غفلت امید نے\nحال دل کہتے ہیں اپنا پھر اسی قاتل سے ہم\n\nرشک اعدا نے کیے روشن بدن میں استخواں\nشمع محفل ہو کے اٹھے آپ کی محفل سے ہم\n\nاس کو کہتے ہیں وفاداری کہ بعد از قتل بھی\nداغ خوں ہو کر نہ چھوٹے دامن قاتل سے ہم\n\nطول تھی راہ عدم گھبرا کے سوئے قبر میں\nپاؤں پھیلائے تھکے جب دورئ منزل سے ہم\n\nجسم روشن سے نظر آتے ہیں جلوے روح کے\nحسن لیلیٰ دیکھتے ہیں پردۂ محمل سے ہم\n\nخالی از احساں نہیں یہ بھی کہ وقت اضطراب\nخوش تو ہو جاتے ہیں تیرے وعدۂ باطل سے ہم\n\nآؤ آپس میں سمجھ لیں غیر کاہے کو سنے\nتم کہو دل سے ہمارے کچھ تمہارے دل سے ہم\n\nسن کے رو دیتے ہیں اکثر صورت زخم جگر\nآپ شرماتے ہیں اپنے خندۂ باطل سے ہم\n\nرشک ہے حسرت پہ اس کی دل میں آتا ہے یہی\nاپنے قالب کو بدل لیں قالب بسمل سے ہم\n\nسینۂ دل میں ہجوم داغ حسرت ہے نسیمؔ\nپھول چن لیتے ہیں اپنے گلشن حاصل سے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D9%88_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "دیکھ اپنے قرار کرنے کو", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ اپنے قرار کرنے کو\nاور مرے انتظار کرنے کو\n\nتمہیں دیکھے سے کیا تسلی ہو\nجی تو ہوتا ہے پیار کرنے کو\n\nمیری تدبیر اک نہیں کرتا\nہیں نصیحت ہزار کرنے کو\n\nوہ وہ صدمے سہے شب غم میں\nچاہیئے دن شمار کرنے کو\n\nوہ گر آئیں تو پاس کیا ہے اور\nایک جاں ہے نثار کرنے کو\n\nجھوٹے وعدے کیا نہ کیجے آپ\nمفت امیدوار کرنے کو\n\nآپ ہیں روٹھنے ہی کو اور ہم\nمنتیں بار بار کرنے کو\n\nاپنی عیاریوں کو دیکھیں آپ\nاور مرے اعتبار کرنے کو\n\nدل بھی تیرا سا چاہیئے ہے نظامؔ\nعشق کے اختیار کرنے کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88"} {"title": "دیکھ اپنے مائلوں کو کہ ہیں دل جلے پڑے", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ اپنے مائلوں کو کہ ہیں دل جلے پڑے\nپژمردہ، دل فسردہ در اوپر ڈھلے پڑے\n\nچکی چلی ہے چرخ کی داناؤ دیکھ لو\nدانے بہت ہیں اس میں تو ایسے ڈلے پڑے\n\nاوہو جی دے ہی ڈالو نکال ایسی بھوکھ میں\nتم کن تو ہیں سموسے بہت سے تلے پڑے\n\nجب گر پڑوں ہوں پاؤں پہ کہتے ہو منہ کو پھیر\nتم چھوڑ سب کو پند ہمارے بھلے پڑے\n\nجوں جانوں بے کسوں کے تئیں اب نباہ لو\nہم سب طرف سے ہار تمہارے گلے پڑے\n\nتیرا ہو بول بالا سمجھ بوجھ شعر کہہ\nدیکھ اظفریؔ نہ بات ہماری تلے پڑے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%84%DB%92_%D9%BE%DA%91%DB%92"} {"title": "دیکھ بنیاد رب کی آدم ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ بنیاد رب کی آدم ہے\nجان لے گا اگر تو محرم ہے\n\nسب صفت اوس کی دیکھ لے ان میں\nکہہ تو بندہ خدا سے کیا کم ہے\n\nہر نفس کیوں کہیں ہیں صاحب دم\nکہ جہاں بیچ عمر دو دم ہے\n\nپاس ہے اور نظر نہیں آتا\nمیرے وحشی میں اس قدر رم ہے\n\nتیرے بندے ہیں سب ولے سب میں\nبندۂ کمترین حاتمؔ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%A8%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%AF%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "دیکھ بے بادہ کیا ہے اپنا رنگ", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ بے بادہ کیا ہے اپنا رنگ\nرحم اے آسمان مینا رنگ\n\nزور دکھلا رہا ہے کیا کیا رنگ\nواہ وا اے جہان رنگا رنگ\n\nہو گئی صنف سے سبک ایسی\nلے اڑا ہم کو بھی ہمارا رنگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%B1%D9%86%DA%AF"} {"title": "دیکھ تو بے رحم عاشق نیں تجھے چھوڑا نہیں", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ تو بے رحم عاشق نیں تجھے چھوڑا نہیں\nکس قدر بے روئیاں دیکھیں پہ منہ موڑا نہیں\n\nایک چسپاں ہے تجھی پر خوش نمائی کی قبا\nدوسرا کوئی جامہ زیبوں میں ترا جوڑا نہیں\n\nلٹ پٹے سج نیں ترے دل کوں کیا ہے لوٹ پوٹ\nورنہ عالم بیچ ٹک بندوں کا کچھ توڑا نہیں\n\nدیکھنا شیریں کا اس کوں سخت لاگا سنگ میں\nبے سبب فرہاد نیں پتھر سیں سر پھوڑا نہیں\n\nآدمی درکار نہیں سرکار میں حیوان ڈھونڈھ\nکون بوجھے یاں سپاہی کے تئیں گھوڑا نہیں\n\nجیو نے مرنے میں حق اوپر توکل ہے اسے\nآبروؔ نیں زخم کے کھانے میں ہاتھ اوڑا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%B1%D8%AD%D9%85_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دیکھ تو دل کہ جاں سے اُٹھتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "prose", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے\n\nیہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے\n\nگور کس دل جلے کی ہے یہ فلک\n\nشعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے\n\nخانہء دل سے زنہار نہ جا\n\nکوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے\n\nنالہ سر کھینچتا ہے جب میرا\n\nشور ایک آسماں سے اٹھتا ہے\n\nلڑتی ہے اُس کی چشمِ شوخ جہاں\n\nایک آشوب واں سے اٹھتا ہے\n\nسدھ لے گھر کی بھی شعلہء آواز\n\nدود کچھ آشیاں سے اٹھتا ہے\n\nبیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو\n\nجو ترے آستاں سے اٹھتا ہے\n\nیوں اُٹھے آہ اس گلی سے ہم\n\nجیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے\n\nعشق میر اک بھاری پتھر ہے\n\nکب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%8F%D9%B9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دیکھ تو فرقت میں کیا کیا حال دل پر غم ہوا", "poet_page": "مصنف:ناصری لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نذر احباب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "دیکھ تو فرقت میں کیا کیا حال دل پر غم ہوا\nرات بھر سینے میں اے ظالم بڑا ماتم ہوا\n\nدل کے مرنے سے جہاں کب درہم و برہم ہوا\nسینہ کوبی میں نے کی اتنا فقط ماتم ہوا\n\nطاقت فریاد آئی کچھ عجب عالم ہوا\nلو قیامت آ گئی درد جگر پھر کم ہوا\n\nٹانکے ٹوٹے زخم دل کے بڑھ گیا جوش جنوں\nکھل گئیں کلیاں بہار آئی نیا عالم ہوا\n\nسچ تو ہے ہمسایہ کی آفت سے ہوتی ہے گزند\nتیر سینے پر لگا دل کا عجب عالم ہوا\n\nسخت جانی سے مری تو بھی خجل ہوگا ضرور\nدیکھ اے قاتل تری تلوار کا سر خم ہوا\n\nبال کیوں کھولے حسینوں نے بڑھیں رسوائیاں\nمجھ کو تو رونا ہے اس کا کیوں مرا ماتم ہوا", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "دیکھ تو یار بادہ کش! میں نے بھی کام کیا کیا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ تو یار بادہ کش! میں نے بھی کام کیا کیا\nدے کے کباب دل تجھے حق نمک ادا کیا\n\nکیوں سگ یار سے خجل مجھ کو پس از فنا کیا\nکھا گیا استخواں مرے تو نے یہ کیا ہما کیا\n\nزخم جگر سے دم بدم کب نہیں خوں بہا کیا\nتو بھی نہ قاتل اپنے سے دعویٔ خوں بہا کیا\n\nاس بت رشک گل نے جب بند قبا کو وا کیا\nاپنی نظر یہ غنچہ دو ہاتھ سے پھر ملا کیا\n\nکون سے دن نہ یار نے چشم کو سرمہ سا کیا\nکب نہ دل سیاہ بخت خاک میں تو ملا کیا\n\nدل بر شعلہ خو نے جب زلف کو رخ پہ وا کیا\nدل پہ میں سورۂ دخاں کرنے کو دم پڑھا کیا\n\nبادہ کشی کو ساقیا کس کی مجھے بتا حباب\nزور بھنور کے چاک پر ساغر مے بنا کیا\n\nوصل کی رات ہم نشیں کیونکہ کٹی نہ پوچھ کچھ\nبرسر صلح میں رہا تس پہ بھی وہ لڑا کیا\n\nپائے نگار سے لپٹ چور بنی تو آپ کو ہی\nہاتھ نہ کیوں ترے بندھیں کام یہ کیا حنا کیا\n\nدل کی جدائی کا کہوں کس سے میں ماجرائے غم\nسیل سرشک چشم تر شام و سحر بہا کیا\n\nشکل عصائے موسوی تھا تو وہ گیسوئے دراز\nپر اسے دست شانہ نے دے کے خم اور دوتا کیا\n\nزیب سر شہاں کبھی تو نے نہ دیکھا تیرہ بخت\nبال مگس نے کب دلا کار پر ہما کیا\n\nتار نفس الجھ گیا میرے گلو میں آ کے جب\nناخن تیغ یار کو میں نے گرہ کشا کیا\n\nبوسۂ لب سے ایک دن اس کے ہوا نہ کامیاب\nدلبر بد زباں کی میں گالیاں ہی سنا کیا\n\nآ کے سلاسل اے جنوں کیوں نہ قدم لے بعد قیس\nاس کا بھی ہم نے سلسلہ از سر نو بپا کیا\n\nمنہ تو نہ تھا یہ غیر کا اس کو کھلائے برگ پاں\nپر نہ مرا جو بس چلا خون جگر پیا کیا\n\nاس کی شکستگی کا غم کیوں نہ ہو مجھ کو ساقیا\nمیری بغل میں آہ یاں شیشۂ دل رہا کیا\n\nتار نفس جدا کیا بربط تن سے میرے آہ\nکودک مطرب اور کیا تجھ کو کہوں بجا کیا\n\nکوہ کو کھینچتا جو تو کاہ ربا تو جانتے\nاک پر کاہ کو اٹھا ناز کیا تو کیا کیا\n\nکیوں ہو خضر رہ رواں خاک نشینی پہ مری\nجس نے بشکل نقش پا مجھ کو ہے رہ نما کیا\n\nشعلہ رخوں کے عشق نے کنج مزار میں بھی آہ\nسونے دیا نہ چین سے میں تو سدا جلا کیا\n\nمجھ کو ہے ہجر و وصل ایک اس کی خوشی نہ اس کا غم\nکیسی مصیبتوں کے دن بار خدا بھرا کیا\n\nوصل ہوا تو یہ ہوا مار سیاہ جان کر\nرات بھر اپنی زلف کے سائے سے وہ ڈرا کیا\n\nاور میں مدعا طلب عیش سے ناامید ہو\nشعلۂ شمع کی طرح سر کو پڑا دھنا کیا\n\nمدرکۂ بشر ہے کیا پائے جو اس کی کنہ کو\nچاہا جو اس نے سو کیا کون کہے کہ کیا کیا\n\nیعنی بنا کے چشم کو صورت شیشۂ حباب\nصاحب ظرف تھا جو دل جام جہاں نما کیا\n\nاپنی شرارتوں سے وہ باز نہ آیا اے نصیرؔ\nمجھ کو رلا کے ابر ساں برق نمط ہنسا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%B4%21_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دیکھ تیرا جمال کچھ کا کچھ", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ تیرا جمال کچھ کا کچھ\nدل میں آیا خیال کچھ کا کچھ\n\nآج لگتا ہے میری آنکھوں میں\nوہ مرا نونہال کچھ کا کچھ\n\nدیکھ اس من ہرن کی آنکھوں کو\nہو گیا اس کا حال کچھ کا کچھ\n\nخط پہ اس کے تو تھی کچھ اور ہی بہار\nہے فریبندہ خال کچھ کا کچھ\n\nہے ترقی میں اس خوش ابرو کا\nحسن مثل ہلال کچھ کا کچھ\n\nحال دکھلاتے ہیں زمانے کا\nگردش ماہ و سال کچھ کا کچھ\n\nاے جہاں دارؔ مشق شعر میں اب\nتو نے پایا کمال کچھ کا کچھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE"} {"title": "دیکھ دروازے سے مجھ کو وہ پری رو ہٹ گئی", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ دروازے سے مجھ کو وہ پری رو ہٹ گئی\nدیکھتے ہی اس کے میری جان بس چٹ پٹ گئی\n\nتم ادھر دھوتے رہے منہ ہم ادھر روتے رہے\nروتے دھوتے دو گھڑی بارے مزے سے کٹ گئی\n\nگرد کلفت بسکہ چھائی دل سے تا آنکھوں تلک\nنہر تھی جاری جو آنکھوں کی مرے سو پٹ گئی\n\nجی ادا نے زلف نے دل ہوش غمزوں نے لیا\nجنس ہستی اپنی سب غارت میں آ کر بٹ گئی\n\nپردے ہی پردے میں دل کو خاک کر ڈالا مرے\nاس ادا سے وہ پری منہ پر لیے گھونگھٹ گئی\n\nزلف گر چھدری ہوئی تیرے تو مت کھا پیچ و تاب\nکیا ہوا از بس اٹھائے بوجھ دل کے لٹ گئی\n\nکل جو میرا خوش نگہ گزرا چمن سے اے حسنؔ\nموند لی بادام نے آنکھ اور نرگس کٹ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%88%DB%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D9%88_%DB%81%D9%B9_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دیکھ دل کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑ", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ دل کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑ\nگھر ہے اللہ کا یہ اس کی تو تعمیر نہ توڑ\n\nغل سدا وادئ وحشت میں رکھوں گا برپا\nاے جنوں دیکھ مرے پاؤں کی زنجیر نہ توڑ\n\nدیکھ ٹک غور سے آئینۂ دل کو میرے\nاس میں آتا ہے نظر عالم تصویر نہ توڑ\n\nتاج زر کے لیے کیوں شمع کا سر کاٹے ہے\nرشتۂ الفت پروانہ کو گلگیر نہ توڑ\n\nاپنے بسمل سے یہ کہتا تھا دم نزع وہ شوخ\nتھا جو کچھ عہد سو او عاشق دلگیر نہ توڑ\n\nرقص بسمل کا تماشا مجھے دکھلا کوئی دم\nدست و پا مار کے دم تو تہ شمشیر نہ توڑ\n\nسہم کر اے ظفرؔ اس شوخ کماندار سے کہہ\nکھینچ کر دیکھ مرے سینے سے تو تیر نہ توڑ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%88%DA%91"} {"title": "دیکھ عقد ثریا ہمیں انگور کی سوجھی", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ عقد ثریا ہمیں انگور کی سوجھی\nکیوں بادہ کشاں ہم کو بھی کیا دور کی سوجھی\n\nغش کھا کے گرا پہلے ہی شعلے کی جھلک سے\nموسیٰ کو بھلا کہئے تو کیا طور کی سوجھی\n\nہم نے تو اسے دیکھ یہ جانا کہ پری ہے\nپریوں نے جو دیکھا تو انہیں حور کی سوجھی\n\nدیکھا جو نہانے میں وہ گورا بدن اس کا\nبلور کی چوکی پہ جھلک نور کی سوجھی\n\nسر پاؤں سے جب پھنس گئے اس زلف سیہ میں\nجب ہم کو سیاہی شب دیجور کی سوجھی\n\nجنت کے لئے شیخ جو کرتا ہے عبادت\nکی غور جو خاطر میں تو مزدور کی سوجھی\n\nمصنوع میں صانع نظر آوے تو نظیرؔ آہ\nنزدیک کی پھر کیا ہے جہاں دور کی سوجھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%B9%D9%82%D8%AF_%D8%AB%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D9%88%D8%AC%DA%BE%DB%8C"} {"title": "دیکھ لو اک نظر میں کچھ بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "دیکھ لو اک نظر میں کچھ بھی نہیں\nسچ کہا ہے بشر میں کچھ بھی نہیں\n\nشیخ کچھ اپنے آپ کو سمجھیں\nمیکشوں کی نظر میں کچھ بھی نہیں\n\nکچھ نہ ہونے پہ ہو تمہیں سب کچھ\nتم نہیں ہو تو گھر میں کچھ بھی نہیں\n\nکیا سمجھتا ہے آپ کو اے دل\nتو کسی کی نظر میں کچھ بھی نہیں\n\nاے شرفؔ سچ ہے مصرعۂ مصباحؔ\nہم تو اپنی نظر میں کچھ بھی نہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%D9%88_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دیکھ لو تم خوئے آتش اے قمر شیشہ میں ہے", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "دیکھ لو تم خوئے آتش اے قمر شیشہ میں ہے\nعکس داغ مہر کا اتنا اثر شیشہ میں ہے\n\nلوگ کہتے ہیں ترے رخسار تاباں دیکھ کر\nشمع ہے فانوس میں یا آب زر شیشہ میں ہے\n\nرات دن رہتی ہے نیت بادۂ گل رنگ میں\nیہ پری وہ ہے کہ جو آٹھوں پہر شیشہ میں ہے\n\nساعد سیمیں سے تیرے اس کو کیا نسبت بھلا\nتوبہ توبہ کب لطافت اس قدر شیشہ میں ہے\n\nہوتی ہے غرق عرق کیوں تو سوائے بوئے گل\nاور کیا اے بلبل شوریدہ سر شیشہ میں ہے\n\nمے کدہ تیرا رہے آباد خم کی خیر ہو\nہاں پلا دے مجھ کو ساقی جس قدر شیشہ میں ہے\n\nخاک سے میری بھلا کیا وقت کا ہو امتیاز\nہر گھڑی بن کر بگولا منتشر شیشہ میں ہے\n\nیہ گماں ہوتا ہے عکس مہر صہبا دیکھ کر\nداغ الفت کو لئے خون جگر شیشہ میں ہے\n\nحضرت واعظ نہ ایسا وقت ہاتھ آئے گا پھر\nسب ہیں بے خود تم بھی پی لو کچھ اگر شیشہ میں ہے\n\nکھنچ سکے ہرگز مصور سے نہ تمثال عدم\nدیکھ لو تصویر جاناں تا کمر شیشہ میں ہے\n\nتھوڑی تھوڑی راہ میں پی لیں گے گر کم ہے تو کیا\nدور ہے مے خانہ یہ زاد سفر شیشہ میں ہے\n\nمے پلا کر مجھ سے کہتے ہیں وہ ہو کر بے حجاب\nچڑھ گئی آنکھوں پہ جب عینک نظر شیشہ میں ہے\n\nکیوں نہ زور طبع سب احباب دکھلائیں حبیبؔ\nامتحان حسن نظم یک دگر شیشہ میں ہے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D8%A7%DB%92_%D9%82%D9%85%D8%B1_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "دیکھ لو شوق نا تمام مرا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ لو شوق نا تمام مرا\nغیر لے جائے ہے پیام مرا\n\nبے اثر ہے فغان خون آلود\nکیوں نہ ہوئے خراب کام مرا\n\nآتشیں خو سے آرزوئے وصال\nپک گیا اب خیال خام مرا\n\nدیکھنا کثرت بلا نوشی\nکاسۂ آسماں ہے جام مرا\n\nرتبہ افتادگی کا دیکھو ہے\nعرش کے بھی پرے مقام مرا\n\nکس صنم کو چھڑا دیا واعظ\nلے خدا تجھ سے انتقام مرا\n\nہو کے یوسف جو دل چراتے ہو\nکون ہو جائے گا غلام مرا\n\nاس لب لعل کی شکایت ہے\nکیونکہ رنگیں نہ ہو کلام مرا\n\nتو نے رسوا کیا مجھے اب تک\nکوئی بھی جانتا تھا نام مرا\n\nزانوئے بت پہ جان دی دیکھا\nمومنؔ انجام و اختتام مرا\n\nبندگی کام آ رہی آخر\nمیں نہ کہتا تھا کیوں سلام مرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%D9%88_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%86%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D9%85%D8%B1%D8%A7"} {"title": "دیکھ لٹکا سجن تیری لٹ کا", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ لٹکا سجن تیری لٹ کا\nاس کی ہر مو بہ مو میں دل اٹکا\n\nآب تیغ نگہ کے پیاسے کوں\nکم نگاہی کا مار مت پھٹکا\n\nغمزہ تیرا عجب سپاہی ہے\nجس کی دہشت سوں بو الہوس سٹکا\n\nعشق کا زہر اس سوں کیوں تیرے\nناگ تجھ زلف کا جسے چٹکا\n\nمستعد ہیں تیرے یو مردم چشم\nمجھ کو ابرو کا مارنے سٹ کا\n\nہوش داؤدؔ کا ہوا لٹ پٹ\nدیکھ کر تیری ناز کا لٹکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%D9%B9%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%AC%D9%86_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%84%D9%B9_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دیکھ لے جو عالم اس کے حسن بالا دست کا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ لے جو عالم اس کے حسن بالا دست کا\nحوصلہ اتنا کہاں اپنی نگاہ پست کا\n\nنیست رہتے ہم تو یہ سیریں کہاں سے دیکھتے\nیہ فقط احسان ہے اس ذات پاک مست کا\n\nبے صدا آ کر لگا اور ہو گیا سینے کے پار\nیہ خدنگ صاف تھا کس بے نشاں کی شست کا\n\nبات کچھ کہتا ہے اور نکلے ہے منہ سے کچھ نظیرؔ\nیہ نشہ تجھ کو ہوا کس کی نگاہ مست کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دیکھ مجھے طبیب آج پوچھا جو حالت مزاج", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "دیکھ مجھے طبیب آج پوچھا جو حالت مزاج\nکہنے لگا کہ لا علاج بندہ ہوں میں خدا نہیں\nچہرہ ترا بھی زرد ہے آہ لبوں پہ سرد ہے\nیہ تو میاں وہ درد ہے جس کی کوئی دوا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%A8_%D8%A2%D8%AC_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%AA_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC"} {"title": "دیکھ موہن تری کمر کی طرف", "poet_page": "مصنف:ناجی شاکر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ موہن تری کمر کی طرف\nپھر گیا مانی اپنے گھر کی طرف\n\nجن نے دیکھے ترے لب شیریں\nنظر اس کی نہیں شکر کی طرف\n\nہے محال ان کا دام میں آنا\nدل ہے مائل بتاں کا زر کی طرف\n\nتیرے رخسار کی صفائی دیکھ\nچشم دانا کی نئیں گہر کی طرف\n\nہیں خوشامد طلب سب اہل دول\nغور کرتے نئیں ہنر کی طرف\n\nماہ رو نے سفر کیا ہے جدھر\nدل مرا ہے اسی نگر کی طرف\n\nحشر میں پاکباز ہے ناجیؔ\nبدعمل جائیں گے سقر کی طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%85%D9%88%DB%81%D9%86_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "دیکھ وہ برق تبسم بس کہ دل بیتاب ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دیکھ وہ برق تبسم بس کہ دل بیتاب ہے\nدیدۂ گریاں مرا فوارۂ سیماب ہے\nکھول کر دروازۂ میخانہ بولا مے فروش\nاب شکست توبہ میخواروں کو فتح الباب ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D8%AA%D8%A8%D8%B3%D9%85_%D8%A8%D8%B3_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "دیکھ کبیرا رویا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "نمرود کی خدائی", "year": "1950", "text_ur": "نگر نگر ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ جو آدمی بھیک مانگے گا اس کو گرفتار کرلیا جائے۔ گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ لوگ خوشیاں منانے لگے کہ ایک بہت پرانی لعنت دور ہوگئی۔کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ لوگوں نے پوچھا، ’’اے جولاہے تو کیوں روتا ہے؟‘‘\n\nکبیر نے رو کر کہا، ’’کپڑا دوچیزوں سے بنتا ہے۔ تانے اور پیٹے سے۔ گرفتاریوں کا تانا تو شروع ہوگیا پر پیٹ بھرنے کا پیٹا کہاں ہے؟‘‘\n\nایک ایم اے۔ ایل ایل بی کو دو سو کھڈیاں الاٹ ہوگئیں۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ایم اے۔ ایل ایل بی نے پوچھا،’’اے جولاہے کے بچے تو کیوں روتا ہے۔۔۔؟ کیا اس لیے کہ میں نے تیرا حق غصب کرلیا ہے؟‘‘\n\nکبیر نے روتے ہوئے جواب دیا، ’’تمہارا قانون تمہیں یہ نکتہ سمجھاتا ہے کہ کھڈیاں پڑی رہنے دو، دھاگے کا جو کوٹا ملے اسے بیچ دو۔ مفت کی کھٹ کھٹ سے کیا فائدہ۔۔۔ لیکن یہ کھٹ کھٹ ہی جولاہے کی جان ہے!‘‘\n\nچھپی ہوئی کتاب کے فرمے تھے، جن کے چھوٹے بڑے لفافے بنائے جا رہے تھے۔ کبیر کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے وہ تین لفافے اٹھائے اور ان پر چھپی ہوئی تحریر پڑھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ لفافے بنانے والے نے حیرت سے پوچھا، ’’میاں کبیرتم کیوں رونے لگے؟‘‘\n\nکبیر نے جواب دیا، ’’ان کاغذوں پر بھگت سُورداس کی کویتا چھپی ہے۔ لفافے بنا کر اس کی بے عزتی نہ کرو۔‘‘\n\nلفافے بنانے والے نے حیرت سے کہا، ’’جس کا نام سُورداس ہے۔ وہ بھگت کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘\n\nکبیر نے زار و قطار رونا شروع کردیا۔\n\nایک اونچی عمارت پر لکشمی کا بہت خوبصورت بت نصب تھا۔ چند لوگوں نے جب اسے اپنا دفتر بنایا تو اس بت کو ٹاٹ کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیا۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔ دفتر کے آدمیوں نے اسے ڈھارس دی اور کہا، ’’ہمارے مذہب میں یہ بت جائز نہیں۔‘‘\n\nکبیر نے ٹاٹ کے ٹکڑوں کی طرف اپنی نمناک آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا، ’’خوبصورت چیز کو بدصورت بنا دینا بھی کسی مذہب میں جائز نہیں۔‘‘\n\nدفتر کے آدمی ہنسنے لگے۔ کبیردہاڑیں مار مارکر رونے لگا۔\n\nصف آرا فوجوں کے سامنے جرنیل نے تقریر کرتے ہوئے کہا، ’’اناج کم ہے، کوئی پروا نہیں۔ فصلیں تباہ ہوگئی ہیں، کوئی فکر نہیں۔۔۔ ہمارے سپاہی دشمن سے بھوکے ہی لڑیں گے۔‘‘\n\nدو لاکھ فوجیوں نے زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے۔\n\nکبیر چلا چلا کے رونے لگا۔ جرنیل کو بہت غصہ آیا۔ چنانچہ وہ پکار اٹھا، ’’اے شخص، بتا سکتا ہے تو کیوں روتا ہے؟‘‘ کبیر نے رونی آواز میں کہا، ’’اے میرے بہادر جرنیل۔۔۔ بھوک سے کون لڑے گا؟‘‘دو لاکھ آدمیوں نے کبیر مردہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے۔\n\n’’بھائیو، داڑھی رکھو ،مونچھیں کترواؤ اور شرعی پاجامہ پہنو۔۔۔ بہنو، ایک چوٹی کرو، سرخی سفیدہ نہ لگاؤ، برقع پہنو!‘‘ بازار میں ایک آدمی چلا رہا تھا۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھیں نمناک ہوگئیں۔ چلّانے والے آدمی نے اور زیادہ چلّا کر پوچھا، ’’کبیر تو کیوں رونے لگا؟‘‘ کبیر نے اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے کہا،’’تیرا بھائی ہے نہ تیری بہن، اور یہ جو تیری داڑھی ہے۔ اس میں تو نے وسمہ کیوں لگا رکھا ہے۔۔۔ کیا سفید اچھی نہیں تھی۔‘‘\n\nچلّانے والے نے گالیاں دینی شروع کردیں۔ کبیر کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔\n\nایک جگہ بحث ہورہی تھی۔\n\n’’ادب برائے ادب ہے۔‘‘\n\n’’محض بکواس ہے، ادب برائے زندگی ہے۔‘‘\n\n’’وہ زمانہ لد گیا۔۔۔ ادب، پروپیگنڈے کا دوسرا نام ہے۔‘‘\n\n’’تمہاری ایسی کی تیسی۔۔۔‘‘\n\n’’تمہارے اسٹالن کی ایسی کی تیسی۔۔۔‘‘\n\n’’تمہارے رجعت پسند اور فلاں فلاں بیماریوں کے مارے ہوئے فلابیئر اور بادلیئر کی ایسی کی تیسی۔‘‘\n\nکبیر رونے لگا ۔بحث کرنے والے بحث چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ ایک نے اس سے پوچھا، ’’تمہارے تحت الشعور میں ضرور کوئی ایسی چیز تھی جسے ٹھیس پہنچی۔‘‘\n\nدوسرے نے کہا، ’’یہ آنسو بورژوائی صدمے کا نتیجہ ہیں۔‘‘\n\nکبیر اور زیادہ رونے لگا۔ بحث کرنے والوں نے تنگ آکر بیک زبان سوال کیا، ’’میاں، یہ بتاؤ کہ تم روتے کیوں ہو؟‘‘\n\nکبیر نے کہا، ’’میں اس لیے رویا تھا کہ آپ کی سمجھ میں آجائے، ادب برائے ادب ہے یا ادب برائے زندگی۔‘‘\n\nبحث کرنے والے ہنسنے لگے۔ ایک نے کہا، ’’یہ پرولتاری مسخرہ ہے۔‘‘\n\nدوسرے نے کہا، ’’نہیں یہ بورژوائی بہروپیا ہے۔‘‘\n\nکبیر کی آنکھوں میں پھر آنسو آگئے۔\n\nحکم نافذ ہوگیا کہ شہر کی تمام کسبی عورتیں ایک مہینے کے اندر شادی کرلیں اور شریفانہ زندگی بسر کریں۔ کبیر ایک چکلے سے گزرا تو کسبیوں کے اڑے ہوئے چہرے دیکھ کر اس نے رونا شروع کردیا۔ ایک مولوی نے اس سے پوچھا، ’’مولانا! آپ کیوں رو رہے ہیں؟‘‘کبیر نے روتے ہوئے جواب دیا،’’ اخلاق کے معلّم ان کسبیوں کے شوہروں کے لیے کیا بندوبست کریں گے؟‘‘\n\nمولوی، کبیر کی بات نہ سمجھا اور ہنسنے لگا۔ کبیر کی آنکھیں اور زیادہ اشک بار ہوگئیں۔\n\nدس بارہ ہزار کے مجمع میں ایک آدمی تقریر کررہا تھا، ’’بھائیو!بازیافتہ عورتوں کا مسئلہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کا حل ہمیں سب سے پہلے سوچنا ہے ۔اگر ہم غافل رہے تو یہ عورتیں قحبہ خانوں میں چلی جائیں گی، فاحشہ بن جائیں گی۔۔۔ سن رہے ہو، فاحشہ بن جائیں گی۔۔۔ تمہارا فرض ہے کہ تم ان کو اس خوفناک مستقبل سے بچاؤ اور اپنے گھروں میں ان کے لیے جگہ پیدا کرو۔۔۔ اپنے اپنے بھائی، یا اپنے بیٹے کی شادی کرنے سے پہلے تمہیں ان عورتوں کو ہرگز ہرگز فراموش نہیں کرناچاہیے۔\n\nکبیر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ تقریر کرنے والا رک گیا۔ کبیر کی طرف اشارہ کرکے اس نے بلند آواز میں حاضرین سے کہا، ’’دیکھو اس شخص کے دل پر کتنا اثر ہوا ہے۔‘‘\n\nکبیر نے گلو گیر آواز میں کہا، ’’لفظوں کے بادشاہ، تمہاری تقریر نے میرے دل پرکچھ اثر نہیں کیا۔۔۔ میں نے جب سوچا کہ تم کسی مالدار عورت سے شادی کرنے کی خاطر ابھی تک کنوارے بیٹھے ہو تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔‘‘\n\nایک دکان پر یہ بورڈ لگا تھا، ’’جناح بوٹ ہاؤس۔‘‘ کبیر نے اسے دیکھاتو زار و قطار رونے لگا۔\n\nلوگوں نے دیکھا کہ ایک آدمی کھڑاہے۔ بورڈ پر آنکھیں جمی ہیں اور روئے جارہا ہے۔ انھوں نے تالیاں بجانا شروع کردیں، ’’پاگل ہے۔۔۔ پاگل ہے۔‘‘\n\nملک کا سب سے بڑا قائد چل بسا تو چاروں طرف ماتم کی صفیں بچھ گئیں۔ اکثر لوگ بازوؤں پر سیاہ بلے باندھ کر پھرنے لگے۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سیاہ بلّے والوں نے اس سے پوچھا، ’’کیا دکھ پہنچا جو تم رونے لگے؟‘‘\n\nکبیر نے جواب دیا، ’’یہ کالے رنگ کی چندیاں اگر جمع کرلی جائیں تو سیکڑوں کی سترپوشی کرسکتی ہیں۔‘‘\n\nسیاہ بلّے والوں نے کبیر کو پیٹنا شروع کردیا، ’’تم کمیونسٹ ہو، ففتھ کالمسٹ ہو،پاکستان کے غدار ہو۔‘‘\n\nکبیر ہنس پڑا، ’’لیکن دوستو، میرے بازو پر تو کسی رنگ کا بلّا نہیں۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%A8%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دیکھ کر اک جلوے کو تیرے گر ہی پڑا بے خود ہو موسیٰ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ کر اک جلوے کو تیرے گر ہی پڑا بے خود ہو موسیٰ\nان آنکھوں کے صدقے جاؤں جو ہیں ہر دم محو تماشا\n\nزہد و ورع پر بھول نہ زاہد حسن کا منکر ہو نہ دوانے\nصنعاں سے کو لے گیا غافل ایک ادا میں عشوۂ ترسا\n\nدیکھ تجلی حسن کی تیرے کوہ بہے جب ہو کر پانی\nدیوانا سا بھاگا ووہیں چاک گریباں کر کے دریا\n\nکیوں نہ گریباں پھاڑوں اپنا ہاتھ اور میرا اس کا دامن\nطالع ہیں آ کر کے ہوا ہے دامن یوسف دست زلیخا\n\nروز کے وعدے روز بہانے روز یہ کہنا آؤں گا کل\nفائدہ کیا ان باتوں کا ہے ہم نے میاں بس تم کو دیکھا\n\nزلف معنبر اس نے جو کھولی تو یوں محفل ساری مہکی\nآوے چمن سے موسم گل میں باد صبا کا جیسے جھونکا\n\nمدھ میں بھرا ہے جوبن کے وہ حسن سے اس کے ٹپکے ہے مستی\nچاہ ذقن ہے جام بلوریں اور غبغب ہے شیشۂ صہبا\n\nنیم نگہ پر دیتے ہیں دل کو جانو تو کچھ لے لو صاحب\nپھر نہ ملے گا ورنہ تم کو ہرگز ایسا سستا سودا\n\nکیوں نہ چھکے دل دیکھ کے اس کو جس ساقی کا ہووے یارو\nدست نگاریں پنجۂ مرجاں ساعد سیمیں گردن مینا\n\nمصحفیؔ کر کے چاک گریباں چل جنگل کو اے دیوانے\nدیکھ تو کیا پھولا ہے لالہ سرخ ہے کیسا دامن صحرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%DB%81%D9%88_%D9%85%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%B0"} {"title": "دیکھ کر تیری عالم آرائی", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دیکھ کر تیری عالم آرائی\nتیری پنہائی اور پیدائی\nدیکھ راز و نیاز کو ساقیؔ\nخود تماشا و خود تماشائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دیکھ کر جوبن ترا کس کس کو حیرانی ہوئی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ کر جوبن ترا کس کس کو حیرانی ہوئی\nاس جوانی پر جوانی آپ دیوانی ہوئی\n\nپردے پردے میں محبت دشمن جانی ہوئی\nیہ خدا کی مار کیا اے شوق پنہانی ہوئی\n\nدل کا سودا کر کے ان سے کیا پشیمانی ہوئی\nقدر اس کی پھر کہاں جس شے کی ارزانی ہوئی\n\nمیرے گھر اس شوخ کی دو دن سے مہمانی ہوئی\nبیکسی کی آج کل کیا خانہ ویرانی ہوئی\n\nترک رسم و راہ پر افسوس ہے دونوں طرف\nہم سے نادانی ہوئی یا تم سے نادانی ہوئی\n\nابتدا سے انتہا تک حال ان سے کہہ تو دوں\nفکر یہ ہے اور جو کہہ کر پشیمانی ہوئی\n\nغم قیامت کا نہیں واعظ مجھے یہ فکر ہے\nدین کب باقی رہا دنیا اگر فانی ہوئی\n\nتم نہ شب کو آؤ گے یہ ہے یقیں آیا ہوا\nتم نہ مانو گے مری یہ بات ہے مانی ہوئی\n\nمجھ میں دم جب تک رہا مشکل میں تھے تیماردار\nمیری آسانی سے سب یاروں کی آسانی ہوئی\n\nاس کو کیا کہتے ہیں اتنا ہی بڑھا شوق وصال\nجس قدر مشہور ان کی پاک دامانی ہوئی\n\nبزم سے اٹھنے کی غیرت بیٹھنے سے دل کو رشک\nدیکھ کر غیروں کا مجمع کیا پریشانی ہوئی\n\nدعویٰ تسخیر پر یہ اس پری وش نے کہا\nآپ کا دل کیا ہوا مہر سلیمانی ہوئی\n\nکھل گئیں زلفیں مگر اس شوخ مست ناز کی\nجھومتی باد صبا پھرتی ہے مستانی ہوئی\n\nمیں سراپا سجدے کرتا اس کے در پر شوق سے\nسر سے پا تک کیوں نہ پیشانی ہی پیشانی ہوئی\n\nدل کی قلب ماہیت کا ہو اسے کیونکر یقیں\nکب ہوا مٹی ہوئی ہے آگ کب پانی ہوئی\n\nآتے ہی کہتے ہو اب گھر جائیں گے اچھی کہی\nیہ مثل پوری یہاں من مانی گھر جانی ہوئی\n\nعرصۂ محشر میں تجھ کو ڈھونڈ لاؤں تو سہی\nکوئی چھپ سکتی ہے جو صورت ہو پہچانی ہوئی\n\nدیکھ کر قاتل کا خالی ہاتھ بھی جی ڈر گیا\nاس کی چین آستیں بھی چین پیشانی ہوئی\n\nکھا کے دھوکا اس بت کمسن نے دامن میں لیے\nاشک افشانی بھی میری گوہر افشانی ہوئی\n\nبیکسی پر میری اپنی تیغ کی حسرت تو دیکھ\nچشم جوہر بھی بشکل چشم حیرانی ہوئی\n\nبیکسی پر داغؔ کی افسوس آتا ہے ہمیں\nکس جگہ کس وقت اس کی خانہ ویرانی ہوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%A8%D9%86_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دیکھ کر خوش رنگ اس گل پیرہن کے ہاتھ پاؤں", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ کر خوش رنگ اس گل پیرہن کے ہاتھ پاؤں\nپھول جاتے ہیں جوانان چمن کے ہاتھ پاؤں\n\nجب نہ دیکھے چار دن اس گل بدن کے ہاتھ پاؤں\nسوکھ کر کانٹا ہوئے اہل چمن کے ہاتھ پاؤں\n\nہم وہ میکش ہیں جو ہوتا ہے ہمیں رنج خمار\nٹوٹتے ہیں ساقی پیماں شکن کے ہاتھ پاؤں\n\nان کے مقتولوں کی قبریں اس قدر کھودی گئیں\nتھک کے تختہ ہو گئے ہر گورکن کے ہاتھ پاؤں\n\nآتی جاتی چوٹ بھی سچ ہی نظر آتی نہیں\nآج کل چلتے ہیں کیا اس تیغ زن کے ہاتھ پاؤں\n\nخاکساری کا مزا ہوتا جو اے خسرو تجھے\nآب شیریں سے دھلاتا کوہ کن کے ہاتھ پاؤں\n\nہتھکڑی بیڑی بڑی زوروں سے پہنائی مجھے\nاے جنوں شل ہو گئے اہل وطن کے ہاتھ پاؤں\n\nکاٹ ڈالا دست شاخ گل کو پائے سرو کو\nباغباں نے دیکھ کر اس گل بدن کے ہاتھ پاؤں\n\nتوسن مشکیں سے جب اس ترک کی تشبیہ دی\nجوڑ میں ٹھہرے نہ آہوۓ ختن کے ہاتھ پاؤں\n\nاپنے گیسوئے رسا سے یار رسی کی طرح\nباندھتا ہے عاشق چاہ ذقن کے ہاتھ پاؤں\n\nنوجوانان چمن اس گل سے تھراتے ہیں یوں\nجس طرح کانپیں کسی پیر کہن کے ہاتھ پاؤں\n\nشب کو گرم رقص ہوتا ہے جو وہ آتش مزاج\nشمع ساں جلتے ہیں سارے انجمن کے ہاتھ پاؤں\n\nہتھکڑی بیڑی جو مجھ مجنوں کی اتری بعد مرگ\nقبر میں ٹکڑے اڑائیں گے کفن کے ہاتھ پاؤں\n\nہو گئی خم ٹھونک کر دیو خزاں کے سامنے\nکیا کسیلے ہیں جوانان چمن کے ہاتھ پاؤں\n\nشاہد مقصد تمہیں بے واسطہ مل جائے گا\nاے صباؔ چومو نہ شیخ و برہمن کے ہاتھ پاؤں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%81%D9%86_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA"} {"title": "دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے\nکر گئی وابستۂ تن میری عُریانی مجھے\n\nبن گیا تیغِ نگاہِ یار کا سنگِ فَساں\nمرحبا مَیں! کیا مبارک ہے گراں جانی مجھے\n\nکیوں نہ ہو بے التفاتی، اُس کی خاطر جمع ہے\nجانتا ہے محوِ پُرسش ہائے پنہانی مجھے\n\nمیرے غمخانے کی قسمت جب رقم ہونے لگی\nلِکھ دیا منجملۂ اسبابِ ویرانی، مجھے\n\nبد گماں ہوتا ہے وہ کافر، نہ ہوتا، کاشکے!\nاِس قدر ذوقِ نوائے مُرغِ بُستانی مجھے\n\nوائے! واں بھی شورِ محشر نے نہ دَم لینے دیا\nلے گیا تھا گور میں ذوقِ تن آسانی مجھے\n\nوعدہ آنے کا وفا کیجے، یہ کیا انداز ہے؟\nتم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے؟\n\nہاں نشاطِ آمدِ فصلِ بہاری، واہ واہ!\nپھر ہُوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے\n\nدی مرے بھائی کو حق نے از سرِ نَو زندگی\nمیرزا یوسف ہے، غالبؔ! یوسفِ ثانی مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D8%A7%D9%81%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "دیکھ کر دل کو پیچ و تاب کے بیچ", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ کر دل کو پیچ و تاب کے بیچ\nآ پڑا مفت میں عذاب کے بیچ\n\nکون رہتا ہے تیرے غم کے سوا\nاس دل خانماں خراب کے بیچ\n\nتیرے آتش زدوں نے مثل شرار\nعمر کاٹی ہے اضطراب کے بیچ\n\nکیا کہوں تجھ سے اب کے میں تجھ کو\nکس طرح دیکھتا ہوں خواب کے بیچ\n\nشمع فانوس میں نہ جب کے چھپے\nکب چھپے ہے یہ منہ نقاب کے بیچ\n\nٹک تبسم نے کی شکر ریزی\nبارے اب تلخیٔ عتاب کے بیچ\n\nکیا کہے وہ کہ سب ہویدا ہے\nشان تیری تری کتاب کے بیچ\n\nہے غلامی اثرؔ کو حضرت دردؔ\nبہ دل و جاں تری جناب کے بیچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DB%8C%DA%86_%D9%88_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%86"} {"title": "دیکھ کر روئے صنم کو نہ بہل جاؤں گا", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ کر روئے صنم کو نہ بہل جاؤں گا\nمرتے دم لے کے سنبھالا تو سنبھل جاؤں گا\n\nتن کفن پوش تو ہو اور ہی پیراہن میں\nاجلے کپڑے میں بدلتے ہی بدل جاؤں گا\n\nچمن دہر میں وہ برگ خزانی ہوں میں\nگر نہ برباد ہوا آگ میں جل جاؤں گا\n\nہوں وہ ثابت قدم اے چرخ جو بھونچال بھی آئے\nچاہے ٹل جائے زمیں میں نہیں ٹل جاؤں گا\n\nمیں وہ افتادۂ چشم و نظر عالم ہوں\nپاؤں پکڑے گی زمیں بھی تو پھسل جاؤں گا\n\nساز و سامان طرب کچھ نہ اگر ہاتھ آیا\nجھانجھ ہو کر کف افسوس ہی مل جاؤں گا\n\nشادؔ بہکوں نہ کبھی نشۂ دولت ہو ہزار\nکچھ میں کم ظرف نہیں ہوں جو ابل جاؤں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%81%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دیکھ کر شمع کے آغوش میں پروانے کو", "poet_page": "مصنف:ہادی مچھلی شہری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ کر شمع کے آغوش میں پروانے کو\nدل نے بھی چھیڑ دیا شوق کے افسانے کو\n\nذرے ذرے سے گلستاں میں برستی ہے بہار\nکون ایسے میں سنبھالے ترے دیوانے کو\n\nطور نے جس سے حیات ابدی پائی ہے\nلاؤ دہراؤں میں پھر سے اسی افسانے کو\n\nدل سرشار مرا چشم سیہ مست تری\nجذبہ ٹکرا دے نہ پیمانے سے پیمانے کو\n\nصبح کو دیکھ لے اس شمع کا انجام کوئی\nجس نے پھونکا شب امید میں پروانے کو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%BA%D9%88%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88"} {"title": "دیکھ کر مے منہ میں پانی شیخ کے بھر آئے گا", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "دیکھ کر مے منہ میں پانی شیخ کے بھر آئے گا\nچیز اچھی دیکھے گا مفلس کا جی للچائے گا\n\nشعلہ بھڑکا کر رہے گی یہ دبی آگ ایک دن\nگر وہ ٹھنڈی گرمیوں سے دل مرا سلگائے گا\n\nکاکل پرپیچ سے حاصل ہوا یہ مو بہ مو\nہاتھ کو جو کھینچ لے گا پاؤں کو پھیلائے گا\n\nضبط گریہ سے ہے نقصاں قصر تن کے واسطے\nبیٹھ ہی جائے گا گھر پانی اگر مر جائے گا\n\nچشم بددور آنکھ ایسی ہے نشیلی یار کی\nمحتسب کے منہ میں پانی دیکھ کر بھر آئے گا\n\nعشوہ چالاکی کرشمہ ناز غمزہ یار کا\nگرچہ ہے قہر خدا پر دل کو میرے بھائے گا\n\nلے چلی گر وحشت دل جانب صحرا وقارؔ\nرنج و حرماں پاؤں در پر یار کے پھیلائے گا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دیکھ کر کرتی گلے میں سبز دھانی آپ کی", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ کر کرتی گلے میں سبز دھانی آپ کی\nدھان کے بھی کھیت نے اب آن مانی آپ کی\n\nکیا تعجب ہے اگر دیکھے تو مردہ جی اٹھے\nچین نیفے کی ڈھلک پیڑو پہ آنی آپ کی\n\nہم تو کیا ہیں دل فرشتے کا بھی کافر چھین لے\nٹک جھلک دکھلا کے پھر انگیا چھپانی آپ کی\n\nآ پڑے دو سو برس کے مردۂ بے جاں میں جان\nجس کے اوپر دو گھڑی ہو مہربانی آپ کی\n\nچھلے غیروں پاس تو وہ خاتم زر اے نگار\nہے ہمارے پاس بھی اب تک نشانی آپ کی\n\nوقت تو جاتا رہا پر بات باقی رہ گئی\nہے یہ جھوٹی دوستی اب ہم نے جانی آپ کی\n\nکیا عجب صورت رقیب رو سیہ کی دیکھ کر\nخوف سے حالت ہوئی ہو پانی پانی آپ کی\n\nایک عالم کوہ کن کی طرح سر پھوڑے گا اب\nگر اسی صورت رہی شیری زبانی آپ کی\n\nکیا ہمیں لگتی ہے پیاری جب وہ کہتی ہے نظیرؔ\nہے میاں کچھ ان دنوں نا مہربانی آپ کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8%D8%B2_%D8%AF%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "دیکھ کر کرتے گلے میں سبز دھانی آپ کی", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ کر کرتے گلے میں سبز دھانی آپ کی\nدھان کے بھی کھیت نے اب آن مانی آپ کی\n\nکیا تعجب ہے اگر دیکھے تو مردہ جی اٹھے\nچین نیفہ کی ڈھلک پیڑو پہ آنی آپ کی\n\nہم تو کیا ہیں دل فرشتوں کا بھی کافر چھین لے\nٹک جھلک دکھلا کے پھر انگیا چھپانی آپ کی\n\nآ پڑی دو سو برس کے مردۂ بے جاں میں جان\nجس کے اوپر دو گھڑی ہو مہربانی آپ کی\n\nاک لپٹ کشتی کی ہم سے بھی تو کر دیکھو ذرا\nہاں بھلا ہم بھی تو جانیں پہلوانی آپ کی\n\nچھلے غیروں پاس ہے وہ خاتم زر اے نگار\nہے ہمارے پاس بھی اب تک نشانی آپ کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DA%AF%D9%84%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8%D8%B2_%D8%AF%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "دیکھ کر ہر در و دیوار کو حیراں ہونا", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ کر ہر در و دیوار کو حیراں ہونا\nوہ مرا پہلے پہل داخل زنداں ہونا\n\nقابل دید ہے اس گھر کا بھی ویراں ہونا\nجس کے ہر گوشہ میں مخفی تھا بیاباں ہونا\n\nجی نہ اٹھوں گا ہے بیکار پشیماں ہونا\nجاؤ اب ہو چکا جو کچھ تھا مری جاں ہونا\n\nواہمہ مجھ کو دکھاتا ہے جنوں کے ساماں\nنظر آتا ہے مجھے گھر کا بیاباں ہونا\n\nاف مرے اجڑے ہوئے گھر کی تباہی دیکھو\nجس کے ہر ذرہ پہ چھایا ہے بیاباں ہونا\n\nحادثے دونوں یہ عالم میں اہم گزرے ہیں\nمیرا مرنا تری زلفوں کا پریشاں ہونا\n\nالحذر گور غریباں کی ڈرونی راتیں\nاور وہ ان کے گھنے بال پریشاں ہونا\n\nرات بھر سوز محبت نے جلایا مجھ کو\nتھا مقدر میں چراغ شب ہجراں ہونا\n\nکیوں نہ وحشت میں بھی پابند محبت رہتا\nتھا بیاباں میں مجھے قیدئ زنداں ہونا\n\nہوگا اک وقت میں یہ واقعۂ تاریخی\nیاد رکھنا مرے کاشانے کا ویراں ہونا\n\nکچھ نہ پوچھو شب وعدہ مرے گھر کی رونق\nاللہ اللہ وہ سامان سے ساماں ہونا\n\nجوش میں لے کے اک انگڑائی کسی کا کہنا\nتم کو آتا ہی نہیں چاک گریباں ہونا\n\nان کی اس کوشش بے حد کا پتہ دیتا ہے\nچارہ سازوں کا مرے لاش پہ گریاں ہونا\n\nعالم عشق کی فطرت میں خلل آتا ہے\nمان لوں حضرت ناصح کا گر انساں ہونا\n\nسرخ ڈوری تری آنکھوں کی الٰہی توبہ\nچاہیئے تھا انہیں پیوست رگ جاں ہونا\n\nہو چلیں آپ کے بیمار کی آنکھیں بے نور\nقہر تھا صبح کے تارے کا نمایاں ہونا\n\nمیں کروں ضبط ادھر ان کو پسینہ آئے\nچاہئے یوں غم پنہاں کو نمایاں ہونا\n\nاللہ اللہ یہ سلیقہ ترا اے شعلۂ طور\nکس طرح تو نے چھپایا ہے نمایاں ہونا\n\nان سے کرتا ہے دم نزع وصیت یہ عزیزؔ\nخلق روئے گی مگر تم نہ پریشاں ہونا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D8%B1_%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "دیکھ کر یہ چلن تمہارے ہم", "poet_page": "مصنف:منتظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھ کر یہ چلن تمہارے ہم\nخاک میں مل گئے بے چارے ہم\n\nجن ہیں یا دیو بھوت ہیں کیا ہیں\nنہیں لگتے جو تم کو پیارے ہم\n\nبے قراری سے دل کی شب کو ہائے\nدر پہ اس کے بہت پکارے ہم\n\nیہ جو گلزار سا ہے رخ تیرا\nلیں گے اس باغ کو اجارے ہم\n\nداغ اک تحفہ لے کے ہستی میں\nسوئے ملک عدم سدھارے ہم\n\nرات محفل میں کان میں اس کے\nکہہ کے کچھ ہو گئے کنارے ہم\n\nمنتظرؔ دل نے دکھ دیا یہ کہ بس\nمر گئے درد و غم کے مارے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%DA%86%D9%84%D9%86_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "دیکھئے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "دیکھئے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک\nشیشۂ دِیں کے عَوض جام و سبُو لیتا ہے\n\nہے مداوائے جنُون نشترِ تعلیمِ جدید\nمیرا سرجن رگِ ملّت سے لہُو لیتا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A6%DB%92_%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B4%D8%B1%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "دیکھا ادھر کسی نے ادھر میں نے آہ کی", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھا ادھر کسی نے ادھر میں نے آہ کی\nتڑپا رہی ہے قلب کو بجلی نگاہ کی\n\nبن آئے پھر تو حشر میں ہر عذر خواہ کی\nدو اپنے ہاتھ سے جو سزا تم گناہ کی\n\nاب میں یوں ہی لحد میں بھی بدلوں گا کروٹیں\nمیرا تو دم نکلتا تھا کیوں تم نے آہ کی\n\nسمجھے نہ بچپنے سے کہ کس پر پڑے گا تیر\nآئینہ دیکھنے میں بھی ترچھی نگاہ کی\n\nاک اور بھی رفیق مرا چھوٹنے کو ہے\nہاتھوں سے دل پکڑ لیا جب میں نے آہ کی\n\nوہ اور رخ پہ زلف کو بکھرائے آئے ہیں\nتقدیر دیکھیے مرے روز سیاہ کی\n\nمیں مر گیا تھا خندۂ زخم جگر سے بھی\nظالم ہنسی میں جان گئی بے گناہ کی\n\nکچھ آپ کا گلہ تھا نہ شکوہ عدو کا تھا\nشرما کے کیوں حضور نے نیچی نگاہ کی\n\nآنکھوں ہی میں رہے گا یہ صفدرؔ کا خون ہے\nتم آئنے میں دیکھو تو سرخی نگاہ کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A2%DB%81_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "دیکھا تو کہیں نظر نہ آیا ہرگز", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دیکھا تو کہیں نظر نہ آیا ہرگز\nڈھونڈا تو کہیں پتا نہ پایا ہرگز\nکھونا پانا ہے سب فضولی اپنی\nیہ خبط نہ ہو مجھے خدایا ہرگز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D8%B1%DA%AF%D8%B2"} {"title": "دیکھا جو حسن یار طبیعت مچل گئی", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھا جو حسن یار طبیعت مچل گئی\nآنکھوں کا تھا قصور چھری دل پہ چل گئی\n\nہم تم ملے نہ تھے تو جدائی کا تھا ملال\nاب یہ ملال ہے کہ تمنا نکل گئی\n\nساقی تری شراب جو شیشے میں تھی پڑی\nساغر میں آ کے اور بھی سانچے میں ڈھل گئی\n\nدشمن سے پھر گئی نگہ یار شکر ہے\nاک پھانس تھی کہ دل سے ہمارے نکل گئی\n\nپینے سے کر چکا تھا میں توبہ مگر جلیلؔ\nبادل کا رنگ دیکھ کے نیت بدل گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D9%85%DA%86%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دیکھا جو مرگ تو مرنا زیاں نہ تھا", "poet_page": "مصنف:انور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھا جو مرگ تو مرنا زیاں نہ تھا\nفانی کے بدلے ملک بقا کچھ گراں نہ تھا\n\nشب کو بغل میں تھا بھی تو وہ دلستاں نہ تھا\nشوخی یہ کہہ رہی تھی کہ یاں تھا وہاں نہ تھا\n\nبے وجہ منہ چھپانے سے جو تھا نہاں نہ تھا\nپر خیر تھی کچھ اس میں کہ میں بد گمان نہ تھا\n\nیہ تو نہیں کہ اب کے وہ مطلق وہاں نہ تھا\nلیکن سوال وصل یہ کہنے کو ہاں نہ تھا\n\nوہ بت ہی کہوں زمیں پہ جو بلہ گراں نہ تھا\nہم سنگ لیکن اس کا مگر آسماں نہ تھا\n\nحسرت کے صدقے آنکھ کے ملتے ہی کھل گیا\nوہ کچھ کہ ممکنات سے جس کا بیاں نہ تھا\n\nنالہ جو اپنا پایۂ تاثیر سے گرا\nاتنا سبک ہوا کہ میں اتنا گراں نہ تھا\n\nتھے بزم میں وہ غنچۂ افسردہ شرم سے\nکیوں کر کہوں بہار میں رنگ خزاں نہ تھا\n\nکیسی حیا کہاں کی وفا پاس خلق کیا\nہاں یہ سہی کہ آپ کو آنا یہاں نہ تھا\n\nسب کام اپنی ایک نگہ پر ہیں منحصر\nگویا مرے لیے تو بنا آسماں نہ تھا\n\nکیوں مجھ پہ تیز کی نگہ قہر کی چھری\nمیں دور چرخ میں کوئی سنگ فساں نہ تھا\n\nکچھ اپنے دل کے ولولے کچھ زاہدوں کی ضد\nسر پھوڑنے کو ورنہ وہی آستاں نہ تھا\n\nآئینہ کو وہ دیکھتے ہیں ان کی شکل ہم\nتھا ہم کو وہ گماں کہ انہیں وہ گماں نہ تھا\n\nانکار محض محض غلط میزباں سہی\nمانا کہ بزم غیر میں تو میہماں نہ تھا\n\nدشمن حریف راہ وفا ہے خدا کی شاں\nوہاں جس پہ تھا یقین مجھے اس کا گماں نہ تھا\n\nحیران ہوں حجاب جدائی اٹھا نہ کیوں\nوہ نازنیں تھے میں تو کوئی ناتواں نہ تھا\n\nاب آسماں بن کے مرا مدعی بنا\nتھی لب پہ کچھ فغاں تو فلک کا نشاں نہ تھا\n\nٹپکا زمیں پہ گر فلک پیر کو تو کیا\nپھر یہ کہیں گے سب کہ وہ کچھ نوجواں نہ تھا\n\nکچھ جذب دل میں جان کے سمجھے تھے ان کو پاس\nایک وہم سے یقین پہ کیا کچھ گماں نہ تھا\n\nگردوں سے آج ہے فلک ظلم پھٹ پڑا\nسینہ میں آج ہی دم آتش فشاں نہ تھا\n\nحسن جہاں فروز سے جس جا نہ تھے وہ بت\nمیں بے نشانیوں سے جہاں تھا وہاں نہ تھا\n\nیوں خامشی سے خوش کہ وہ تصویر تھے مگر\nیوں بات سے بتنگ کہ گویاں وہاں نہ تھا\n\nبھاری ہوئے یہاں تو سبک ہوگی زندگی\nوہاں تو نظر سے ہم کو گرانا گراں نہ تھا\n\nتھے بے خودی میں پاس وہ ہوش آئی تو گئے\nچوکے غضب ہی ہوش میں آنا یہاں نہ تھا\n\nآنا یہ ان کا صبح کو میری اجل کے ساتھ\nیعنی کہ نالۂ شب غم رائیگاں نہ تھا\n\nتھا کچھ شکست دل سے مرا امتحان صبر\nوہاں اپنی نازکی کا فقط امتحاں نہ تھا\n\nبے مہر یوں نہ ہو کہ یہ خوش ہو کے میں کہوں\nشاید کہ تو رقیب پہ بھی مہرباں نہ تھا\n\nمیں اور روز وصل عدو اور شب فراق\nیہاں آسماں نہ تھا کہ وہاں آسماں نہ تھا\n\nفرہاد کوہ کن تھا یہ اک ہلکی بات ہے\nعاشق تھا بے ستوں کا اٹھانا گراں نہ تھا\n\nشب مجھ سے آنکھ ملتی رہی دل رقیب سے\nیہاں یوں ستم رہا کہ کسی پر عیاں نہ تھا\n\nتھا دوستوں کا یار طریق اور دلوں سے دور\nکیا تھا جو میں غبار پس کارواں نہ تھا\n\nحیران ہوں کہ دم میں ترے کیونکہ آ گیا\nمیں ورنہ اپنے دل میں کہاں سے کہاں نہ تھا\n\nمرتا ہوں کہ کیوں نہ رہا دل میں تیر یار\nآرام جاں تھا کوئی آزار جاں نہ تھا\n\nدیکھا نہ آنکھ اٹھا کے مجھے نازکی سے جھوٹ\nایسا تو کچھ نگاہ کا اٹھانا گراں نہ تھا\n\nخالی در ان کا پایا تو دل وہم سے رکا\nتھا پاسباں میں آپ جو وہاں پاسباں نہ تھا\n\nکس بے دلی سے ہجر میں کی ہم نے زندگی\nدل تھا کہاں کہ یہاں وہ بت دلستاں نہ تھا\n\nمٹ جانا اپنا اس کا رہا سب کے دل پہ نقش\nایک یہ بھی تھا نشاں کہ مرا کچھ نشاں نہ تھا\n\nکچھ وہم سد راہ ستم تھا کہ وقت ذبح\nمیرے گلو پہ خنجر قاتل رواں نہ تھا\n\nانورؔ نے بدلے جان کے لی جنس درد دل\nاور اس پہ ناز یہ کہ یہ سودا گراں نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1%DA%AF_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D8%B2%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "دیکھا نہ ہم نے رشک سے اغیار کی طرف", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھا نہ ہم نے رشک سے اغیار کی طرف\nمنہ پھیر بیٹھے بزم میں دیوار کی طرف\n\nسیل سرشک اپنے ہی گھر میں بہائیں گے\nکیوں جائے یہ بلا تری دیوار کی طرف\n\nبیٹھے بٹھائے آئے جو شامت تو کیا علاج\nدل نے کہا کہ آؤ چلیں یار کی طرف\n\nچاہی تھی داد ہم نے دل صاف کی مگر\nآئینہ ہو گیا ترے رخسار کی طرف\n\nتصویر کو بھی اس کی یہاں تک غرور ہے\nدیکھے کبھی نہ طالب دیدار کی طرف\n\nتقصیر مے فروش کی اے محتسب نہیں\nیہ چیز اڑ کے جاتی ہے مے خوار کی طرف\n\nدی جان کس خوشی سے تہ تیغ داغؔ نے\nلب پر تبسم اور نظر یار کی طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "دیکھا کبھو نہ اس دل ناشاد کی طرف", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھا کبھو نہ اس دل ناشاد کی طرف\nکرتا رہا تو اپنی ہی بیداد کی طرف\n\nجس گل نے سن کے نالۂ بلبل اڑا دیا\nرکھتا ہے گوش کب مری فریاد کی طرف\n\nموند اے پر شکستہ نہ چاک قفس کہ ہم\nٹک یاں کو دیکھ لیتے ہیں صیاد کی طرف\n\nکہتے ہیں گریہ خانۂ دل کر چکا خراب\nآتا ہے چشم اب تری بنیاد کی طرف\n\nخسرو سے کچھ بگاڑ ہے شیریں کو ظاہرا\nپیغام پھیر جاتے ہیں فرہاد کی طرف\n\nلیجو خبر مرے بھی دل زار کی نسیم\nجاوے اگر تو اس ستم آباد کی طرف\n\nقائمؔ تو اس غزل کو یوں ہی سرسری ہی کہہ\nہونا پڑے گا حضرت استاد کی طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "دیکھا کسی نے ہم سے زمانے نے کیا کیا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھا کسی نے ہم سے زمانے نے کیا کیا\nاور کیا کہیں کہ یار یگانے نے کیا کیا\n\nدل چاہتا ہوں اور کو دوں تیرے جور سے\nکہنا نہ پھر کہ ہم سے فلانے نے کیا کیا\n\nقاتل تو اس کا ہر سر مو بال پن سے تھا\nآرائش اس کی زلف کو شانے نے کیا کیا\n\nدینار اور درم کی نہ لا دل کو دام میں\nقاروں سے ہے خبر کہ خزانے نے کیا کیا\n\nحاتمؔ دیا ہے شیخ نے اب دل صنم کے ہاتھ\nدیوانہ میں تو تھا یہ سیانے نے کیا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دیکھا کسی کا ہم نے نہ ایسا سنا دماغ", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھا کسی کا ہم نے نہ ایسا سنا دماغ\nان سنگ دل بتوں کا ہے اللہ کیا دماغ\n\nکرتا نہیں تمیز شریف و رذیل میں\nاس چرخ پیر کا ہے مگر پھر گیا دماغ\n\nدیکھے بہت ہیں ہم نے حسینان پر غرور\nلیکن عجب طرح کا ہے کچھ آپ کا دماغ\n\nکل جتنا ہم نے اس کو منا کے بنایا تھا\nاتنا ہی آج اور ہے بگڑا ہوا دماغ\n\nجب ہوں گے پیش داور محشر کے سامنے\nہم دیکھ لیں گے آپ کا روز جزا دماغ\n\nآیا نہیں سمجھ میں یہ الٹا معاملہ\nبن بن کے کیوں بگڑتا ہے یہ آپ کا دماغ\n\nگل کی بہار گلستاں میں چند روز ہے\nاچھا نہیں ہے اس قدر اے مہ لقا دماغ\n\nاے مشرقیؔ کبھی تھا دماغ اپنا عرش پر\nہے آج کل تو خاک میں اپنا ملا دماغ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA"} {"title": "دیکھا ہے آج راہ میں ہم اک حریر پوش", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھا ہے آج راہ میں ہم اک حریر پوش\nپر یار کچھ نہ پوچھ کہ کیا چھب چہ بر چہ دوش\n\nپیٹوں ہوں کس کے غم میں سر و سینہ میں کہ آج\nہو ہے یہ شش جہت سے تقاضا کہ ہاں بجوش\n\nسجدہ ہو آستان حرم کا نصیب شیخ\nمیں اور سر نیاز و در پیر مے فروش\n\nفریاد تیں سنی نہ مری ورنہ گل تمام\nسننے کو نالہ مرغ چمن کا ہوا ہے گوش\n\nقائمؔ ہے کیا ہلاہل و آب خضر پہ حصر\nآ جائے بزم دست میں جو کچھ سو کیجے نوش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A7%DA%A9_%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%D9%88%D8%B4"} {"title": "دیکھا ہے جس نے یار کے رخسار کی طرف", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھا ہے جس نے یار کے رخسار کی طرف\nہرگز نہ جاوے سیر کوں گل زار کی طرف\n\nآئینہ دل کی چشم میں نور جمال دوست\nروشن ہوا ہے ہر در و دیوار کی طرف\n\nمنظور ہے سلامتیٔ خوں اگر تجھے\nمت دیکھ اس کی نرگس بیمار کی طرف\n\nوہاں نہیں بغیر جوہر شمشیر خوں بہا\nزاہد نہ جا وو ظالم خونخوار کی طرف\n\nہے دل کوں عزم چوک امید وصال پر\nدیوانہ کا خیال ہے بازار کی طرف\n\nکیا پوچھتے ہو تم کہ ترا دل کدھر گیا\nدل کا مکاں کہاں؟ یہی دل دار کی طرف\n\nپروانہ کوں نہیں ہے مگر خوف جاں سراجؔ\nناحق چلا ہے شعلۂ دیدار کی طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "دیکھتا ہے اک عمر سے بندہ", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "دیکھتا ہے اک عمر سے بندہ\nبس یہی باتیں اور یہی فنڈہ\nہوتا ہے کچھ کام نہ دھندہ\nلاؤ چندہ لاؤ چندہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%81"} {"title": "دیکھتے سجدے میں آتا ہے جو کرتا ہے نگاہ", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھتے سجدے میں آتا ہے جو کرتا ہے نگاہ\nتیرے ابرو کی ہے محراب مگر بیت اللہ\n\nیک پلک میں وہ کرے پیس کے فوجیں سرمہ\nجس طرف کو پھرے ظالم تری مژگاں کی سپاہ\n\nبیت بحثی نہ کر اے فاختہ گلشن میں کہ آج\nمصرع سرو سے موزوں ہے مرا مصرع آہ\n\nکشور عشق کی شاہی ہے مگر مجنوں کو\nکہ زمیں تخت ہے سر پر ہے بگولے کی کلاہ\n\nکیوں کر ان کالی بلاؤں سے بچے گا عاشق\nخط سیہ خال سیہ زلف سیہ چشم سیاہ\n\nچاہتا ہے شب زلفاں کی تری عمر دراز\nکہ مرے عشق کا ہووے نہیں قصہ کوتاہ\n\nکیا کہے کیونکہ کہے تجھ سے یہ حاتمؔ غم دل\nکہ وہ ہے شرم سے محجوب و تو ہے بے پرواہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81"} {"title": "دیکھنا اس کی تجلی کا جسے منظور ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھنا اس کی تجلی کا جسے منظور ہے\nسنگ ریزہ بھی نظر میں اس کی کوہ طور ہے\n\nہم سے ہم چشمی انا الحق کو کہاں مقدور ہے\nاشک ہر یک دار مژگاں پر مرے منصور ہے\n\nنحن اقرب کی نہیں ہے رمز سے تو آشنا\nورنہ وہ نزدیک ہے تو آپ اس سے دور ہے\n\nہجر کی شب کو اگر کاٹے تو پھر ہے روز وصل\nنیش کے پردے میں دیکھا نوش بھی مستور ہے\n\nکیا ہوا واعظ کرے ہے شور جوں طبل تہی\nوہ سر بے مغز گویا کانسۂ طنبور ہے\n\nآج ہمیں اور ہی نظر آتا ہے کچھ صحبت کا رنگ\nبزم ہے مخمور اور ساقی نشے میں چور ہے\n\nروز و شب رہتا ہے تیری یاد میں عاشق کا دل\nگو مقصر ہے تری خدمت سے گو معذور ہے\n\nآرزو ہے رات اندھیری میں کہ آوے ماہ رو\nجس کے آگے روشنائی شمع کی بے نور ہے\n\nخاکساروں کو کبھو لاتا نہیں خاطر میں وہ\nحسن کی دولت پر اپنے اس قدر مغرور ہے\n\nعشق ہے دار الشفا اور درد ہے اس کا طبیب\nجو نہیں اس مرض کا طالب سدا رنجور ہے\n\nاب تلک حاتمؔ سے تو واقف نہیں افسوس یار\nشاعری کے فن میں وہ آفاق میں مشہور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا\nشیوۂ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا\n\nاک نظر بھی تری کافی تھی پئے راحت جاں\nکچھ بھی دشوار نہ تھا مجھ کو شکیبا کرنا\n\nان کو یاں وعدے پہ آ لینے دے اے ابر بہار\nجس قدر چاہنا پھر بعد میں برسا کرنا\n\nشام ہو یا کہ سحر یاد انہیں کی رکھنی\nدن ہو یا رات ہمیں ذکر انہیں کا کرنا\n\nصوم زاہد کو مبارک رہے عابد کو صلوٰۃ\nعاصیوں کو تری رحمت پہ بھروسا کرنا\n\nعاشقو حسن جفاکار کا شکوہ ہے گناہ\nتم خبردار خبردار نہ ایسا کرنا\n\nکچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیا ہے حسرتؔ\nان سے مل کر بھی نہ اظہار تمنا کرنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7"} {"title": "دیکھنا جب مجھے کر شان یہ گالی دینا", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھنا جب مجھے کر شان یہ گالی دینا\nکس سے تم سیکھے ہو ہر آن یہ گالی دینا\n\nاختلاط آپ سے اور مجھ سے کہاں کا ایسا\nواہ جی جان نہ پہچان یہ گالی دینا\n\nاب تو ناداں ہو سنا چاہو سو پیارے کہہ لو\nپر تمہیں ہووے گا نقصان یہ گالی دینا\n\nآخرش ہوگی جو ان پر تو کسے بھاوے گا\nچند روز اور ہی مہمان یہ گالی دینا\n\nتہمت بوسہ عبث دیتی ہو منظور جو ہو\nکر کے بے فائدہ بہتان یہ گالی دینا\n\nدیجئے دیجئے ہے عین سعادت اپنی\nعاشقوں پر تو ہے احسان یہ گالی دینا\n\nتیرے غصہ سے جو انشاؔ ہو خفا ناحق ہے\nہاں تجھے چاہئے نادان یہ گالی دینا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%D9%86_%DB%8C%DB%81_%DA%AF%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "دیکھنا جن صورتوں کا شکل تھی آرام کی", "poet_page": "مصنف:مرزا علی لطف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھنا جن صورتوں کا شکل تھی آرام کی\nان سے ہیں مسدود راہیں نامہ و پیغام کی\n\nرخصت اے اہل وطن اب ہم ہیں اور آوارگی\nحق رکھے بنیاد قائم گردش ایام کی\n\nیاد نے ان تنگ کوچوں کی فضا صحرا کی دیکھ\nہر قدم پر جان ماری ہے دل ناکام کی\n\nگردش چشم بتاں کہ بسکہ ساغر نوش ہے\nگردش گردوں کو ہم کہتے تھے گردش جام کی\n\nجب سے کھینچا لطفؔ رنج فرقت یار و دیار\nاب ہوئی معلوم محنت گردش ایام کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D9%86_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے\nمیں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے\n\nہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے\nآبگینہ تندیِ صہبا سے پگھلا جائے ہے\n\nغیر کو یا رب وہ کیوں کر منعِ گستاخی کرے\nگر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے\n\nشوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیے\nدل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے\n\nدور چشمِ بد تری بزمِ طرب سے واہ واہ\nنغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے\n\nگرچہ ہے طرزِ تغافل پردہ دارِ رازِ عشق\nپر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے\n\nاس کی بزم آرائیاں سن کر دلِ رنجور، یاں\nمثلِ نقشِ مدّعائے غیر بیٹھا جائے ہے\n\nہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا\nرنگ کھُلتا جائے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے\n\nنقش کو اس کے مصوّر پر بھی کیا کیا ناز ہیں\nکھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے\n\nسایہ میرا مجھ سے مثلِ دود بھاگے ہے اسدؔ\nپاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%D9%BE_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "دیکھنا وہ گریۂ حسرت مآل آ ہی گیا", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھنا وہ گریۂ حسرت مآل آ ہی گیا\nبیکسی میں کوئی تو پرسان حال آ ہی گیا\n\nجرأت عرض تمنا کا سبب وہ خود ہوئے\nمہرباں دیکھا انہیں لب پر سوال آ ہی گیا\n\nدل کو ہم کب تک بچائے رکھتے ہر آسیب سے\nٹھیس آخر لگ گئی شیشے میں بال آ ہی گیا\n\nبے وفائی سے وفا کا دیتے وہ کب تک جواب\nدل ہی تو ہے رفتہ رفتہ انفعال آ ہی گیا\n\nخود فراموشی کی لذت نامکمل رہ گئی\nباوجود بے خودی تیرا خیال آ ہی گیا\n\nایک مدت سے نہیں ملتا تھا وحشتؔ کا پتا\nلے ترے کوچے میں وہ آشفتہ حال آ ہی گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%82_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D9%85%D8%A2%D9%84_%D8%A2_%DB%81%DB%8C_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا\nہے مطالعہ مطلع انوار کا\n\nبلبل و پروانہ کرنا دل کے تئیں\nکام ہے تجھ چہرۂ گل نار کا\n\nصبح تیرا درس پایا تھا صنم\nشوق دل محتاج ہے تکرار کا\n\nماہ کے سینے اپر اے شمع رو\nداغ ہے تجھ حسن کی جھلکار کا\n\nدل کوں دیتا ہے ہمارے پیچ و تاب\nپیچ تیرے طرۂ طرار کا\n\nجو سنیا تیرے دہن سوں یک بچن\nبھید پایا نسخۂ اسرار کا\n\nچاہتا ہے اس جہاں میں گر بہشت\nجا تماشا دیکھ اس رخسار کا\n\nآرسی کے ہاتھ سوں ڈرتا ہے خط\nچور کوں ہے خوف چوکیدار کا\n\nسرکشی آتش مزاجی ہے سبب\nناصحوں کو گرمئ بازار کا\n\nاے ولیؔ کیوں سن سکے ناصح کی بات\nجو دوانا ہے پری رخسار کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%DB%81%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دیکھنے سے ترے جی پاتا ہوں", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھنے سے ترے جی پاتا ہوں\nآنکھ کے پھیرتے مر جاتا ہوں\n\nتیرے ہونٹوں کے تئیں پان سے لال\nدیکھ کر خون جگر کھاتا ہوں\n\nآرزو میں تری یک مدت سے\nاپنے دل کے تئیں ترساتا ہوں\n\nچاؤ جو دل میں بھرے ہیں پیارے\nتجھ سے کہتا ہوا شرماتا ہوں\n\nبھولے بسرے جو کبھی وحشی سا\nتیرے کوچے کی طرف آتا ہوں\n\nدیکھ دروازے کی صورت تیرے\nنقش دیوار سا ہو جاتا ہوں\n\nتو جو نکلے ہے بدلتا آنکھیں\nاس گھڑی اپنا کیا پاتا ہوں\n\nدل غمگیں کے تئیں مردا سا\nگود میں اپنے اٹھا لاتا ہوں\n\nآنسو پوچھوں ہوں دلاسا دے دے\nمنتیں کر کے میں سمجھاتا ہوں\n\nوہ نہیں مانتا جوں جوں حاتمؔ\nتوں توں جینے سے میں گھبراتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "دیکھنے میں ہیں گرچہ دو پر ہیں یہ دونوں یار ایک", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "دیکھنے میں ہیں گرچہ دو پر ہیں یہ دونوں یار ایک\nوضع میں گو ہوئی دو سر تیغ ہے ذوالفقار ایک\nہم سخن و ہم زباں حضرت قاسم و طپاں\nایک طیش کا جانشیں درد کا یادگار ایک\nنقد سخن کے واسطے ایک عیار آگہی\nشعر کے فن کے واسطے مایۂ اعتبار ایک\nایک وفا و مہر میں تازگی بساط دہر\nلطف و کرم کے باب میں زینت روزگار ایک\nگل کدۂ تلاش کو ایک ہے رنگ ایک بو\nریختے کے قماش کو پود ہے ایک تار ایک\nمملکت کمال میں ایک امیر نامور\nعرصۂ قیل و قال میں خسرو نامدار ایک\nگلشن اتفاق میں ایک بہار بے خزاں\nمیکدۂ وفاق میں بادۂ بے خمار ایک\nزندۂ شوق شعر کو ایک چراغ انجمن\nکشتۂ ذوق شعر کو شمع سر مزار ایک\nدونوں کے دل حق آشنا دونوں رسول پر فدا\nایک محب چار یار عاشق ہشت و چار ایک\nجان وفا پرست کو ایک شمیم نو بہار\nفرق ستیزہ مست کو ابر تگرگ بار ایک\nلایا ہے کہہ کے یہ غزل شائبہ ریا سے دور\nکرکے دل و زبان کو غالبؔ خاکسار ایک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%AF%D9%88_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9"} {"title": "دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے\nبولتا ہے اس میں کیا وہ بولتا کیا چیز ہے\n\nروبرو اس زلف کے دام بلا کیا چیز ہے\nاس نگہ کے سامنے تیر قضا کیا چیز ہے\n\nیوں تو ہیں سارے بتاں غارتگر ایمان و دیں\nایک وہ کافر صنم نام خدا کیا چیز ہے\n\nجس نے دل میرا دیا دام محبت میں پھنسا\nوہ نہیں معلوم مج کو ناصحا کیا چیز ہے\n\nہووے اک قطرہ جو زہراب محبت کا نصیب\nخضر پھر تو چشمۂ آب بقا کیا چیز ہے\n\nمرگ ہی صحت ہے اس کی مرگ ہی اس کا علاج\nعشق کا بیمار کیا جانے دوا کیا چیز ہے\n\nدل مرا بیٹھا ہے لے کر پھر مجھی سے وہ نگار\nپوچھتا ہے ہاتھ میں میرے بتا کیا چیز ہے\n\nخاک سے پیدا ہوئے ہیں دیکھ رنگا رنگ گل\nہے تو یہ ناچیز لیکن اس میں کیا کیا چیز ہے\n\nجس کی تجھ کو جستجو ہے وہ تجھی میں ہے ظفرؔ\nڈھونڈتا پھر پھر کے تو پھر جا بجا کیا چیز ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%AA%D9%84%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%DB%8C%D8%B2_%DB%81%DB%92"} {"title": "دیکھو تو جان تم کوں مناتے ہیں کب سیتی", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھو تو جان تم کوں مناتے ہیں کب سیتی\nبولو خدا کے واسطے ٹک لال لب سیتی\n\nمکھڑا ترا ہے جان یہ اچرج ترا کا چاند\nروزانہ اور خوب جھلکتا ہے شب سیتی\n\nزلفاں کوں کہہ کہ دل کوں کریں آپ میں سیں دور\nیہ پیچ و تاب ان کوں ہے اس کے تعب سیتی\n\nدست سلام سر کے اوپر نقش پا ہے اب\nہر چند خاک راہ ہوا ہوں ادب سیتی\n\nپانی میں ڈوب آگ میں جل کر مرو پہ ایک\nعاشق نہ ہو پکار کے کہتا ہوں سب سیتی\n\nہرجائیو ہر ایک سیں لالچ نہیں ہے خوب\nہے بھیک مانگ کھانا بھلا اس کسب سیتی\n\nباندھا ہے برگ تاک کا کیوں سر پے سیہرہ\nکیا آبروؔ کا بیاہ ہے بنت العنب سیتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%B3%DB%8C%D8%AA%DB%8C"} {"title": "دیکھو تو ذرا غضب خدا کا", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "دیکھو تو ذرا غضب خدا کا\nظالم نے مجھی کو پہلے تاکا\n\nاللہ عطا کرے قناعت\nنسخہ واجب الادا کا\n\nدل دیتا ہوں مفت اور کوئی\nپرساں نہیں نقد ناروا کا\n\nواں مجھ پہ جفائیں ہو رہی ہیں\nیاں ورد ہے لفظ مرحبا کا\n\nآنا ہو تو نزع میں ہوں آؤ\nیہ وقت نہیں ہے التوا کا\n\nاب آئے ہو بن کے تم مسیحا\nجب وقت گزر چکا دوا کا\n\nدامن میں رواں ہیں اشک گلگوں\nمحضر ہے یہ خون مدعا کا\n\nلایا تو ہے ان کو جذب الفت\nآیا تو ہے دھیان بے نوا کا\n\nمیں ہو ہی چکا تھا زندہ درگور\nتم آ گئے شکر ہے خدا کا\n\nدنیا سے گزر چکے تو پرویںؔ\nجھگڑا نہ رہا فنا بقا کا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "دیکھو تو میرے نالہ و آہ و فغاں کی اور", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھو تو میرے نالہ و آہ و فغاں کی اور\nبان اس کڑک سے جاوے ہے کب آسماں کی اور\n\nمسجد کو چھوڑ آئے کلیسائیاں کی اور\nچھوڑا نواح کعبہ چلے ہم بتاں کی اور\n\nزاہد ترے کمال پہ ماریں ہیں پشت پا\nلائے فرو سر اپنا جو پیر مغاں کی اور\n\nسکھ نیند بے خودی کی اسے ترت آ گئی\nلاگا جو گوش ٹک بھی مری داستاں کی اور\n\nٹکڑے جگر کے بہہ چلے ہمراہ سیل اشک\nلاتا ہے کھینچ خار و خس آب رواں کی اور\n\nظالم سلاح باندھ کے آنا بہ قصد قتل\nکیا ہے ضرور، اپنے کسی نیم جاں کی اور\n\nکچھ کم نہیں تری نگہ و ابرو و مژہ\nمت ہاتھ لا تو خنجر و تیغ و سناں کی اور\n\nتیری نگاہ مہر نے مجھ سے وہ کچھ کیا\nجو کچھ کہ چشم ماہ کرے ہے کتاں کی اور\n\nان انکھڑیوں کی پتلیوں سے آنکھ جا لگی\nجا پھرتی نئیں نگاہ اب ان ابرواں کی اور\n\nمصرع یہ اپنا آیا جہاں دارؔ ہم کو یاد\nچھوڑا نواح کعبہ چلے ہم بتاں کی اور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D9%88_%D8%A2%DB%81_%D9%88_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "دیکھو تو کس ادا سے رخ پر ہیں ڈالی زلفیں", "poet_page": "مصنف:آفتاب شاہ عالم ثانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھو تو کس ادا سے رخ پر ہیں ڈالی زلفیں\nجوں مار ڈستی ہیں دل دلبر کی کالی زلفیں\n\nچاہے ہیں جس نہ تس کو باندھیں گرہ میں اپنی\nدل لینے کو بلا ہیں یہ پیچ والی زلفیں\n\nمثل سلاسل اس میں عقدے ہزارہا ہیں\nٹک پیچ و تاب سے میں دیکھیں نہ خالی زلفیں\n\nمار سیہ جدا کب رہتا ہے گنج زر سے\nہوتی نہیں ہیں اس کے رخ سے نرالی زلفیں\n\nتھی رات جو یکایک دن دیکھنے لگے سب\nجب آفتابؔ اس نے رخ سے اٹھا لی زلفیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B3_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%AE_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%88%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دیکھوں تو کہاں تک وہ تلطف نہیں کرتا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھوں تو کہاں تک وہ تلطف نہیں کرتا\nآرے سے اگر چیرے تو میں اف نہیں کرتا\n\nتم دیتے ہو تکلیف، مجھے ہوتی ہے راحت\nسچ جانئے میں اس میں تکلف نہیں کرتا\n\nسب باتیں انہیں کی ہیں یہ؟ سچ بولیو قاصد!\nکچھ اپنی طرف سے تو تصرف نہیں کرتا؟\n\nسو خوف کی ہو جائے، مگر رندِ نظر باز\nدل جلوہ گہِ لانشف و شف نہیں کرتا\n\nشوخی سے کسی طرح سے چین اس کو نہیں ہے\nآتا ہے مگر آ کے توقف نہیں کرتا\n\nاس شوخِ ستم گر سے پڑا ہے مجھے پالا\nجو قتل کئے پر بھی تاسف نہیں کرتا\n\nجو کچھ ہے انا میں وہ ٹپکتا ہے انا سے\nکچھ آپ سے میں ذکرِ تصوف نہیں کرتا\n\nتسکین ہو کیا وعدے سے، معشوق ہے آخر\nہر چند سنا ہے کہ تخلف نہیں کرتا\n\nکیا حال تمہارا ہے ہمیں بھی تو بتاؤ\nبے وجہ کوئی شیفتہ اُف اُف نہیں کرتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D9%84%D8%B7%D9%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7"} {"title": "دیکھوں کب تک گلوں کی یہ تشنہ لبی", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دیکھوں کب تک گلوں کی یہ تشنہ لبی\nفطرت کا گلہ کروں تو ہے بے ادبی\nپیاسے تو ہیں جاں بہ لب مگر ابر کرم\nدریا پہ برستا ہے زہے بوالعجبی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DA%AF%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D8%B4%D9%86%DB%81_%D9%84%D8%A8%DB%8C"} {"title": "دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف\nجوں صید وقت ذبح کے صیاد کی طرف\n\nنے دانہ ہم قیاس کیا نے لحاظ دام\nدھنس گئے قفس میں دیکھ کے صیاد کی طرف\n\nثابت نہ ہووے خون مرا روز باز پرس\nبولیں گے اہل حشر سو جلاد کی طرف\n\nپتھر کی لیکھ تھا سخن اس کا ہزار حیف\nبولی زبان تیشہ نہ فرہاد کی طرف\n\nطرہ کے تیرے واسطے صد چوب شانہ دار\nقمری گئی ہے کاٹنے شمشاد کی طرف\n\nسوداؔ تو اس غزل کو غزل در غزل ہی کہہ\nہونا ہے تجھ کو میرؔ سے استاد کی طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "دیکھی بہار ہم نے کل زور مے کدے میں", "poet_page": "مصنف:ناجی شاکر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھی بہار ہم نے کل زور مے کدے میں\nہنسنے سیں اوس سجن کے تھا شور مے کدے میں\n\nتھے جوش مل سیں ایسی شورش میں داغ دل کے\nگویا کہ کودتے ہیں یہ مور مے کدے میں\n\nپھندا رکھا تھا میں نے شاید کہ وہ پری رو\nدیکھے تو پاس میرے ہو دور مے کدے میں\n\nہے آرزو کہ ہم دم وہ ماہ رو ہو میرا\nدے شام سیں جو پیالہ ہو بھور مے کدے میں\n\nساقی وہی ہے میرا ناجیؔ کہ گر مروں میں\nمجھ واسطے بنا دے جا گور مے کدے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%84_%D8%B2%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%92_%DA%A9%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دیکھی جو زلف یار طبیعت سنبھل گئی", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھی جو زلف یار طبیعت سنبھل گئی\nآئی ہوئی بلا مرے سر پر سے ٹل گئی\n\nپوچھا اگر کسی نے مرا آ کے حال دل\nبے اختیار آہ لبوں سے نکل گئی\n\nعریاں حرارت تپ فرقت سے میں رہا\nہر بار میرے جسم کی پوشاک جل گئی\n\nکیفیت بہار جو یاد آئی زیر خاک\nداغ جنوں سے اپنی طبیعت بہل گئی\n\nاس کے دہان تنگ کی تنگی نہ پوچھئے\nاعجاز سمجھے بات جو منہ سے نکل گئی\n\nفرقت میں ہم بغل جو ہوا برقؔ گور سے\nحسرت وصال یار کی دل سے نکل گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D8%B3%D9%86%D8%A8%DA%BE%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "دیکھی دل دے کے قدر دانی", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھی دل دے کے قدر دانی\nبس بندہ نواز مہربانی\n\nہونی ہے باز پرس اعمال\nکہنی ہے بہت بڑی کہانی\n\nشعلے اٹھتے ہیں استخواں سے\nاللہ رے سوزش نہانی\n\nسونا ہے گوشہ لحد میں\nہاں ہاں وہ رات بھی ہے آنی\n\nاو وعدہ خلاف سالہا سال\nآنکھوں نے کی ہے پاسبانی\n\nآئی پیری پیام رخصت\nبڑھتی جاتی ہے ناتوانی\n\nمستانہ سری نسیمؔ کب تک\nآخر آخر ہے نوجوانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "دیکھیو اس کی ذرا آنکھ دکھانے کا مزا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھیو اس کی ذرا آنکھ دکھانے کا مزا\nچتونوں میں ہے بھرا سارے زمانے کا مزا\n\nکس مزے سے ہے عیاں دزدیٔ دل ہے ظالم\nلوں چرا کیونکہ ترے آنکھ چرانے کا مزا\n\nلذت وصل کوئی پوچھے تو پی جاتا ہوں\nکہہ کے ہونٹوں ہی میں ہونٹوں کے ملانے کا مزا\n\nکیا ترے میکش الفت کا یہ کیفیت ہے\nدرد دل کر کے بیاں رونے رلانے کا مزا\n\nدست بر دل ہو اٹھاتا ہوں عجب لذت درد\nیاد کر ہجر میں وہ ہاتھ بڑھانے کا مزا\n\nجو خموشی میں ہے لذت نہیں گویائی میں\nبے خودی سا ہے کہاں آپ میں آنے کا مزا\n\nاس کے لڑنے کے بھی صدقے کہ نظر آتا ہے\nعین رنجش میں عجب آنکھ لڑانے کا مزا\n\nخواب و خور سے ترے بیمار کو کیا کام کہ ہے\nلذت خواب نہ کچھ اس کو نہ کھانے کا مزا\n\nیاد آتا ہے تو جاتا ہوں خدا جانے کہاں\nوہ لگاوٹ کی نگاہوں میں بلانے کا مزا\n\nکیا کہوں وصل کی شب لے کے بلائیں اس کی\nکیا اٹھاتا ہوں میں زانو پہ بٹھانے کا مزا\n\nمیں تو پھر آپ میں رہتا نہیں دل سے پوچھو\nآگے پھر بھینچ کے چھاتی سے لگانے کا مزا\n\nدر پہ اس پردہ نشیں کے ہو تو با صوت بلند\nشعر اس وقت ہے جرأتؔ سے پڑھانے کا مزا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B2%D8%A7"} {"title": "دیکھیں تجھے نہ آویں گے ہم", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھیں تجھے نہ آویں گے ہم\nکہنا نہیں کر دکھاویں گے ہم\n\nیہ جور کوئی اٹھاوے کب تک\nاٹھ در ہی سے تیرے جاویں گے ہم\n\nگھر سے مجھے مت نکال سن رکھ\nجاویں گے تو پھر نہ آویں گے ہم\n\nتو قطع نظر تو ہم سے کر دیکھ\nنظروں سے تجھے گراویں گے ہم\n\nدو دن کبھو ترے گھر نہ آویں\nگھر اپنے تجھے بلاویں گے ہم\n\nگھر اس کا تو ڈھونڈ کر کے پایا\nیارب اسے گھر بھی پاویں گے ہم\n\nاغماض کرے ہے سب سمجھ کر\nکیا حال اسے سناویں گے ہم\n\nبوسے تو دیے ہیں تیں تو ہنس ہنس\nگالی تری کیوں نہ کھاویں گے ہم\n\nاتنی بھی پکا نہ میری چھاتی\nاے غیر تجھے رجھاویں گے ہم\n\nدل وہ تجھے پوچھے یا نہ پوچھے\nپر یاد تری دلاویں گے ہم\n\nتاب اس کی جفاؤں کی کسی طرح\nحسرتؔ اب تو نہ لاویں گے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D9%88%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے\nتھے وہی بت وہی خدا ٹھہرے\n\nٹھہرے اس در پہ یوں تو کیا ٹھہرے\nبن کے زنجیر بے صدا ٹھہرے\n\nسانس ٹھہرے تو دم ذرا ٹھہرے\nتیز آندھی میں شمع کیا ٹھہرے\n\nزندگانی ہے اک نفس کا شمار\nبے ہوا یہ چراغ کیا ٹھہرے\n\nجس کو تم لا دوا بتاتے تھے\nتمہیں اس درد کی دوا ٹھہرے\n\nعشق کا جرم سہل کام نہیں\nکہ ہر اک لائق سزا ٹھہرے\n\nبیم و امید کی کشاکش میں\nاک دوراہے پہ جیسے آ ٹھہرے\n\nروتی آنکھیں جھلک نہ دیکھ سکیں\nبہتے زخموں پہ کیا دوا ٹھہرے\n\nآرزوؔ وہ ہمیں نصیب کہاں\nکان تک جا کے جو صدا ٹھہرے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1%DB%92"} {"title": "دیکھیں کیا اب کے اسیری ہمیں دکھلاتی ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھیں کیا اب کے اسیری ہمیں دکھلاتی ہے\nلوگ کہتے ہیں کہ پھر فصل بہار آتی ہے\n\nغش چلا آتا ہے اور آنکھ مندی جاتی ہے\nہم کو کیا کیا مری بے طاقتی دکھلاتی ہے\n\nکیا سنا اس نے کہیں رخصت گل کا مذکور\nعندلیب آج قفس میں پڑی چلاتی ہے\n\nطائر روح کو پرواز کا ہر دم ہے خیال\nقفس تن میں مری جان یہ گھبراتی ہے\n\nدیکھ روتے مجھے ہنس ہنس کہے جانا ہر دم\nجان سے مجھ کو تو تیری یہ ادا بھاتی ہے\n\nبزم ہستی میں تو بیٹھا ہے ہوسؔ کیا غافل\nکچھ جو کرنا ہے تو کر عمر چلی جاتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "دیکھیے تو خیال خام مرا", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھیے تو خیال خام مرا\nآپ سے اور برائی کام مرا\n\nکہیں اس بزم تک رسائی ہو\nپھر کوئی دیکھے اہتمام مرا\n\nشب کی باتوں پر اب بگڑتے ہو\nآنکھ اٹھا کر تو لو سلام مرا\n\nنام اک بت کا لب پہ ہے واعظ\nہے یہی ورد صبح و شام مرا\n\nغیر یوں نکلیں اس کی محفل سے\nجس طرح اے نظامؔ نام مرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%AE%D8%A7%D9%85_%D9%85%D8%B1%D8%A7"} {"title": "دیکھیے خاک میں مجنوں کی اثر ہے کہ نہیں", "poet_page": "مصنف:اشرف علی فغاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھیے خاک میں مجنوں کی اثر ہے کہ نہیں\nدشت میں ناقۂ لیلیٰ کا گزر ہے کہ نہیں\n\nوا اگر چشم نہ ہو اس کو نہ کہنا پی اشک\nیہ خدا جانے صدف بیچ گہر ہے کہ نہیں\n\nایک نے مجھ کو ترے در کے اپر دیکھ کہا\nغیر اس در کے تجھے اور بھی در ہے کہ نہیں\n\nآخر اس منزل ہستی سے سفر کرنا ہے\nاے مسافر تجھے چلنے کی خبر ہے کہ نہیں\n\nتوشۂ راہ سبھی ہم سفراں رکھتے ہیں\nتیرے دامن میں فغاںؔ لخت جگر ہے کہ نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "دیکھیے گل کی محبت ہمیں کیا دیتی ہے", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھیے گل کی محبت ہمیں کیا دیتی ہے\nبلبل زار یہ حسرت سے صدا دیتی ہے\n\nتم سلامت رہو زندہ ہے تمہیں سے الفت\nہاتھ اٹھا کر تمہیں حسرت یہ دعا دیتی ہے\n\nکیا کہوں آہ میں تم سے کہ محبت کیا ہے\nیہ وہ شے ہے کہ جو انساں کو مٹا دیتی ہے\n\nسچی الفت بھی عجب چیز ہے اللہ اللہ\nجلوۂ یار کو ہر شے میں دکھا دیتی ہے\n\nسر تسلیم تہ تیغ جھکا دے اپنا\nیہ صدا دل سے مرے اس کی رضا دیتی ہے\n\nوائے بربادئ قسمت کہ پس مرگ صبا\nخاک عشاق جفا کش کی اڑا دیتی ہے\n\nخانۂ دل میں جمیلہؔ یہی اس کی الفت\nیاس و ارمان و تمنا کو بٹھا دیتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "دیکھے اسے ہر آنکھ کا یہ کام نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھے اسے ہر آنکھ کا یہ کام نہیں ہے\nکچھ کھیل تماشائے لب بام نہیں ہے\n\nمیں معترف جرم ہوں جو چاہو سزا دو\nالزام تمنا کوئی الزام نہیں ہے\n\nوہ صبح بھی ہوتی ہے شب تار سے پیدا\nجس کو خطر تیرگئ شام نہیں ہے\n\nجو دل ہے وہ لبریز تمنا ہے مبارکؔ\nاس جام سے اچھا تو کوئی جام نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "دیکھے اگر یہ گرمئ بازار آفتاب", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھے اگر یہ گرمئ بازار آفتاب\nسر بیچ کر ہو تیرا خریدار آفتاب\n\nوہ حسن خود فروش اگر بے نقاب ہو\nمہتاب مشتری ہو خریدار آفتاب\n\nپوشیدہ گیسوؤں میں ہوا روئے پر ضیا\nہے آج میہمان شب تار آفتاب\n\nاس کی تجلیوں سے کرے کون ہم سری\nہو جس کے نقش پا سے نمودار آفتاب\n\nاحباب کو حسنؔ وہ چمکتی غزل سنا\nہر لفظ سے ہو جس کے نمودار آفتاب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%DA%AF%D8%B1%D9%85%D8%A6_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8"} {"title": "دیکھے بلبل جو یار کی صورت", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھے بلبل جو یار کی صورت\nپھر نہ دیکھے بہار کی صورت\n\nبرق دیکھی ہو جس نے سو جانے\nمجھ دل بے قرار کی صورت\n\nدل ترستا ہے دیکھنے کو مرا\nخنجر آب دار کی صورت\n\nجو کوئی دیکھتا ہے روتا ہے\nمجھ دل داغ دار کی صورت\n\nوہی سوداؔ کے دل کی سمجھیں قدر\nدیکھیں جو لالہ زار کی صورت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا\nوابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا\n\nوعدہ تو کیا اس سے دم صبح کا لیکن\nاس دم تئیں مجھ میں بھی اگر جان رہے گا\n\nمنعم نے بنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایا\nپر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا\n\nچھوٹوں کہیں ایذا سے لگا ایک ہی جلاد\nتا حشر مرے سر پہ یہ احسان رہے گا\n\nچمٹے رہیں گے دشت محبت میں سر و تیغ\nمحشر تئیں خالی نہ یہ میدان رہے گا\n\nجانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہرگز\nتا حشر جہاں میں مرا دیوان رہے گا\n\nدل دینے کی ایسی حرکت ان نے نہیں کی\nجب تک جئے گا میرؔ پشیمان رہے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%88_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "دیکھے ہیں بہت چمن اجڑتے بستے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دیکھے ہیں بہت چمن اجڑتے بستے\nکیا کیا گل پیرہن لٹے ہیں سستے\nاے زندہ دلان باغ اتنا نہ ہنسو\nآنسو بھی نکل آتے ہیں ہنستے ہنستے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%A7%D8%AC%DA%91%D8%AA%DB%92_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%92"} {"title": "دیں جسے چاہیں دل ہمارا ہے", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیں جسے چاہیں دل ہمارا ہے\nاس میں کیا آپ کا اجارا ہے\n\nبہکی بہکی جو کرتے ہو تقریر\nسچ کہو دل کہاں تمہارا ہے\n\nجان دیتے ہیں صبر کرتے ہیں\nواہ کیا حوصلہ ہمارا ہے\n\nسینے سے لپٹو یا گلا کاٹو\nہم تمہارے ہیں دل تمہارا ہے\n\nپانی تلوار کا نہ پینے دیا\nسوکھے گھاٹ آپ نے اتارا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "دیں شیخ و برہمن نے کیا یار فراموش", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دیں شیخ و برہمن نے کیا یار فراموش\nیہ سبحہ فراموش وہ زنار فراموش\n\nدیکھا جو حرم کو تو نہیں دیر کی وسعت\nاس گھر کی فضا کر گیا معمار فراموش\n\nبھولے نہ مرے دل سے مرا مصرع جانکاہ\nنالہ نہ کرے مرغ گرفتار فراموش\n\nدل سے نہ گئی آہ ہوس سیر چمن کی\nاور ہم نے کیا رخنۂ دیوار فراموش\n\nیا نالہ ہی کر منع تو یا گریہ کو ناصح\nدو چیز نہ عاشق سے ہو یک بار فراموش\n\nبھولا پھروں ہوں آپ کو اک عمر ہے لیکن\nتجھ کو نہ کیا دل سے میں زنہار فراموش\n\nدل درد سے کس طرح مرا خالی ہو سوداؔ\nوہ ناشنو حرف میں گفتار فراموش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D9%88_%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%85%D9%86_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4"} {"title": "دیں ہی بے ہوش ہے نہ دنیا بے ہوش", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دیں ہی بے ہوش ہے نہ دنیا بے ہوش\nہر شکل سے ہے صورت عقبیٰ بے ہوش\nکس جائے پہ آیا ہوں قلقؔ مے پینے\nہوش بھی کہتا ہے کہ اتنا بے ہوش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%B4_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%B4"} {"title": "دیہاتی بولیاں ۱", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے مضامین", "year": "1942", "text_ur": "آیئے! آپ کو پنجاب کے دیہاتوں کی سیر کرائیں۔ یہ ہندوستان کے وہ دیہات ہیں جہاں رومان، تہذیب و تمدن کے بوجھ سے بالکل آزاد ہے۔ جہاں جذبات بچوں کی مانند کھیلتے ہیں۔ یہاں کا عشق ایسا سونا ہے جس میں مٹی ملی ہوئی ہے۔ تصنع اور بناوٹ سے پاک ان دیہاتوں میں بچوں، نوجوانوں اور بوڑھوں کے دل دھڑکتے ہیں۔ قدم قدم پر آپ کو شاعری نظر آئے گی، جو اوزان کی قید اور لفظی بندشوں سے بالکل آزاد ہے۔\n\nیہاں کی کھلی ہوا میں آپ چلیں پھریں گے تو آپ اپنے اندر ایک نئی زندگی پائیں گے۔ آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ آپ بھی عشق کر سکتے ہیں، آپ کے اندر بھی پھیل کر والہانہ وسعت اختیار کر لینے کی قوت موجود ہے، آپ بھی پرندوں کی زبان سمجھ سکتے ہیں اور ہواؤں کی گنگناہٹ آپ کے لئے بھی کچھ معنی رکھتی ہے۔ جب ابابیلیں خاموش آسمان میں ڈبکیاں لگاتی ہیں اور شام کو چمگادڑیں قطار اندر قطار جنگلوں کی طرف تیرتی ہیں اور گاؤں واپس آنے والے ڈھور ڈنگروں کے گلے میں بندھے ہوئے گھنگرو بجتے ہیں اور فضا پر ایک دلفریب ناچ کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے، تو آپ کا دل بھی کبھی پھیلے گا اور کبھی سکڑے گا۔\n\nوہ دیکھئے، سامنے کچے کوٹھے زمین پر لیٹے ہوئے ہیں۔ دیواروں پر بڑے بڑے اپلوں کی قطار دور تک چلی گئی ہے۔ مٹی کے یہ گھروندے بھی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں کیونکہ ان میں فاصلہ نہیں۔ ایک کوٹھا دوسرے کوٹھے سے ہمکنار ہے، اسی طرح اس کھلے میدان پر ایک اور کھلا میدان بن گیا ہے۔ ان کوٹھوں پر چار پائیاں اوندھی پڑی ہیں۔ گنے کے لمبے لمبے چھلکے جابجا بکھرے ہوئے ہیں۔ دوپہر کا وقت ہے، دھوپ اتنی تیز ہے کہ چیل بھی انڈا چھوڑ دے۔ فضا ایک خوابگوں اداسی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ کبھی کبھی کسی چیل کی باریک چیخ ابھرتی ہے اور خاموشی پر ایک خراش سی پیدا کرتی ہوئی ڈوب جاتی ہے۔۔۔ مگر اس تیز دھوپ میں یہ کوٹھے پر کون چڑھا ہے۔۔۔ ارے، یہ تو کوئی اس گاؤں کی مٹیار (نوجوان لڑکی) ہے۔ دیکھو تو کس انداز سے تپے ہوئے کوٹھے پر ننگے پیر چل رہی ہے۔ یہ لو وہ کھڑی ہو گئی۔ اسے کس کا انتظار ہے۔ اس کی آنکھیں کس کو ڈھونڈ رہی ہیں۔ ببولوں کے جھنڈ میں یہ کیا دیکھ رہی ہے۔ کب تک یہ ایسے کھڑی رہے گی۔ کیا اس کے پیر نہیں جلتے شاید اسی نے یہ کہا ہوگا،\n\nکوٹھے اپر کھلیاں\nمیری سٹرگیاں پیر دیاں تلیاں\nمیرا یار نجر نہ آوے\n\n(ترجمہ، میں کوٹھے پر کھڑی ہوں اور یوں کھڑے کھڑے میرے پیر کے تلوے جل گئے ہیں۔۔۔ لیکن میرا عاشق نظر نہیں آتا۔ )\n\nنہیں اس نے تو گنے کے سوکھے ہوئے چھلکے اکٹھے کرنے شروع کر دیے ہیں۔۔۔ لیکن یہ پھر بار بار ادھر کیوں دیکھتی ہے جدھر بوڑھے برگد کے سائے تلے ایک نوجوان ہاتھ میں ایک لمبی لاٹھی لئے کھڑا ہے۔۔۔ کیا یہ اس کا ’’وہ‘‘ تو نہیں۔۔۔؟ اس کی لاٹھی پر پیتل کے کوکے کتنے چمک رہے ہیں!ہم ادھر نوجوان کی طرف دیکھتے رہے اور ادھر آخری کوٹھے پر جو کہ یہاں سے کافی دور ہے، ایک اور نوجوان لڑکی نمودار ہو گئی۔ دور سے کچھ دکھائی تو نہیں دیتا مگر اس کی ناک کی لونگ کتنی چمک رہی ہے۔ کیا اسی لونگ کے بارے میں یہ کہا گیا تھا،\n\nتیرے لونگ دا پیا لشکارا\nہالیاں نے ہل ڈک لئے\n\n(ترجمہ، تیرے لونگ (ناک کی کیل) نے جب چمک پیدا کی تو ہل چلانے والوں نے اپنے ہل روک لئے۔۔۔ اس خیال سے کہ بجلی چمک رہی ہے اور بارش آ رہی ہے۔)\n\nاجی نہیں یہ تو کچھ اور ہی معاملہ ہے۔۔۔ یہ دیکھئے، ادھر کی لڑکی اس لڑکی کو اشارہ کر رہی ہے۔ شاید اسے آنے کے لئے کہہ رہی ہے، پھر اس طرف بھی جھک کر دیکھتی ہے، جہاں گاؤں کا وہ نوجوان آدمی سائے تلے کھڑا ہے۔ ایک ہاتھ سے لاٹھی پکڑے ہے اور دوسرے ہاتھ سے اپنے گلے میں پڑے ہوئے تعویذوں سے کھیل رہا ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر وہ ’’بولی‘‘ یاد آ جاتی ہے جو اس گاؤں کے تمام لڑکوں کو یاد ہے۔ کیا ہے۔۔۔؟ ہاں۔۔۔\n\nمنڈا موہ لیا تویتاں والا\nدمڑی دا سک مل کے\n\n(ترجمہ، ایک تکڑے جوان کو جس نے آفات سے محفوظ رہنے کے لئے تعویذ پہن رکھے تھے، ایک لڑکی نے دمڑی کا سک (اخروٹ یا کسی اور درخت کی چھال جس سے ہونٹ رنگے جاتے ہیں) مل کر موہ لیا۔)\n\nپھر اشارے ہو رہے ہیں۔ ادھر کی لڑکی اسے جلدی آنے کے لئے اشارہ کر رہی ہے۔۔۔ صاف صاف کیوں نہیں کہہ دیتی،\n\nکوٹھے کوٹھے آ لچھئے\nتینوں بنتو دا یار وکھاواں\n\n(ترجمہ، کوٹھے کوٹھے چلی آ لچھی۔۔۔ میں تجھے بنتو کا عاشق دکھاؤں)\n\nکیا پتہ ہے کہ یہ نوجوان جو برگد کے سائے تلے اپنی مونچھوں کو تاؤ دے رہا ہے، بنتو ہی کا عاشق ہو۔ بنتو کا نہ ہوگا تو کسی اور کا ہوگا۔ کیونکہ بہر حال اسے کسی کا تو عاشق ہونا ہی چاہیئے۔ دیکھئے کس انداز سے کھڑا ہے۔ سر پر سفید کھادی کا صافہ باندھ رکھا ہے اور اپنے آپ کو کس قدر اہم سمجھ رہا ہے۔ اس کو دو نوجوان لڑکیوں نے اس حالت میں دیکھ لیا ہے، اب سارے گاؤں کی کنواریوں کو معلوم ہو جائے گا کہ سر پر سفید کھادی کا صافہ باندھ کر وہ برگد کے سائے تلے کھڑا تھا۔ کیا کیا باتیں نہ ہوں گی۔ پھبتیاں اڑائی جائیں گی اور کنوئیں پر دیر تک ہنسی اور قہقہوں کے چھینٹے اڑتے رہیں گے اور کیا پتہ ہے کہ کوئی شریر چھوکری اونچے سر میں یہ گانا شروع کر دے۔\n\nسر بنھ کے کھدر وا صافا\nچندرا شوقین ہو گیا\n\n(ترجمہ، سر پر کھادی کا صافہ باندھ کر بے چارہ شوقین ہو گیا ہے۔ )\n\nیہ چھوکری جب ہنسے گی تو اس کے دانتوں میں ٹھکی ہوئی سونے کی کیلیں بھی ہنسیں گی اور کیا پتا ہے کہ وہاں پاس ہی کسی جھاڑی کے پیچھے کوئی شریر لونڈا چھپا بیٹھا ہو۔ وہ یہ ہنستی ہوئی کیلیں دیکھ لے اور اٹھ کر جب کھیتوں کا رخ کرے تو دفعتاً اس کے ہونٹ وا ہوں اور یہ بولی پرندے کی طرح پھر سے اڑ جائے۔\n\nموج سنیارا لے گیا\nجنہیں لائیاں دنداں وچ میکھاں\n\n(ترجمہ، مزہ تو وہ سنیارا لے گیا جس نے تمہارے دانتوں میں یہ کیلیں جڑیں۔ )\n\nیہ لڑکا جب کھیتوں سے لوٹ کر گاؤں آئے گا اور شام کو چوپال پر حقے کے دور چلیں گے تو وہاں وہ سفید صافے والا بھی ہوگا۔ اس کو معلوم ہو جائے گا کہ کنوئیں پر پانی بھرنے کے دوران میں کس ظالمانہ طریق پر اس کا مضحکہ اڑایا گیا ہے تو وہ افسردہ اور مغموم ہو جائے گا، اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے اس کو اپنی معشوقہ کی بے رخی ستاتی رہے گی، ایک آہ کی صورت میں آخر کار اس کے سینے میں یہ الفاظ اٹھیں گے۔\n\nکلا ٹکریں تے حال سناواں\nدکھاں وچ پے گئی جندڑی\n\n(ترجمہ، اس میں اپنے کسی دوست کو یا اپنے ہی آپ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اگر تم مجھے اکیلے میں ملو تو میں تمہیں سارا حال سناؤں۔ میری زندگی دکھوں میں گھر گئی ہے۔)\n\nممکن ہے، وہ اپنے کسی دوست کو ہمدرد جان کر حال دل کہے مگر اتفاق ایسا ہو کہ ان دونوں میں کسی بات پر جھگڑا ہو جائے جسے اس نے اپنا ہمدرد بنایا تھا اسے سارے گاؤں میں نشر کر دے اس پر یہ کوئی ضرور کہے گا،\n\nیاری وچ نہ وکیل بنایئے\nلڑکے دس دؤ گا\n\n(ترجمہ، عشق میں کسی کو وکیل نہ بنانا چاہیئے، کیونکہ اگر اس سے لڑائی ہو گئی تو وہ سارا بھید کھول دے گا۔)\n\nپھر نامراد عاشق یہ سمجھ کر کہ اس کا عشق ناکام رہا ہے، ہل چلاتے ہوئے دوپہر کی اداس دھوپ میں یکایک بول اٹھے گا۔\n\nمیری لگدی کسے نہ دیکھی\nتے ٹٹ دی نوں جگ جان دا\n\n(ترجمہ، جب میری اور اس کی محبت ہوئی تو کسی کو پتا تک نہ چلا، مگر اب کہ یہ رشتہ ٹوٹ گیا ہے، ساری دنیا کو معلوم ہو گیا ہے اور جگ ہنسائی کا باعث ہوا ہے۔)\n\nلیکن کیا پتا ہے کہ دوسری طرف اس کی معشوقہ کو بھی کچھ کہنا ہو۔ کیا پتا ہے کہ وہ اس سے محبت کرتی ہو اور ظاہر نہ کر سکتی ہو، کیونکہ یہ بول اس کے منہ سے بغیر کسی وجہ کے تو نہیں نکلیں گے۔\n\nیار سی سرو دا بوٹا\nویہڑے وچ لا رکھدی\n\n(ترجمہ، یار میرا کیا تھا سرو کا درخت تھا۔ بس اسے اپنے صحن میں لگا چھوڑتی۔)\n\nاتنے میں فوج کی بھرتی شروع ہو جائے گی اور اس کا یہ سرو قد یار لام پر چلا جائے گا۔ اس کی دنیا سونی ہو جائے گی۔ جب برسات آئے گی، پیپل کے درختوں میں جھولے پڑیں گے، آم کے درختوں پر پپیہے پیہو پیہو پکاریں گے، کوئلیں کو کیں گی، سارا گاؤں خوش ہو گا تو وہ۔۔۔ وہ اپنے گھر کی گیلی منڈیر کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ کر پکارے گی۔\n\nبول وے نمانیاں کاواں\nکوئلاں کوک دیاں\n\n(ترجمہ، اے نمانے کوے تو ہی بول، کوئلیں کوک رہی ہیں۔۔۔ کوا اگر بولے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ کوئی عزیز آنے والا ہے۔ )\n\nمیدان خالی ہونے پر اس گاؤں میں ایک اور عاشق بھی پیدا ہو جائے گا۔ وہ ہر روز اس امید پر اس کے گھر کے پاس سے گزرا کرے گا کہ ایک روز وہ اسے ضرور بلائے گی اور اشاروں ہی اشاروں میں باتیں ہوں گی مگر ایسا نہیں ہوتا۔ آخرکار وہ تنگ آ کر کہے گا،\n\nکدی چندریئے ہاک نہ ماری\nچوڑے والی بانہہ کڈھ کے\n\nترجمہ، لفظ چندری کا ترجمہ نہیں ہو سکتا۔ اردو میں اس کے لئے کوئی مترادف لفظ مجھے نہیں ملا۔ چندری پنجابی زبان میں مختلف معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کبھی ہمدردی کے طور پر اس کو گفتگو میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں محبت اور شکایت دونوں اس میں شامل ہیں۔ وہ اس کو چندری سے مخاطب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تونے کبھی اپنے چوڑے (ہاتھی دانت کی بنی ہوئی چوڑیوں کا ایک گروہ جو کلائی سے لے کر کہنی تک دیہات کی عورتیں پہنتی ہیں) والا بازو باہر نکال کر مجھے اشارہ نہیں کیا، مجھے اپنے پاس نہیں بلایا۔\n\nایک زمانہ گزر جائے گا۔ عشق کی داستان فسانہ بن جائے گی اور آخر ایک روز یہ دیہاتی حسینہ کسی کے ساتھ بیاہ دی جائے گی۔ اس کے بیاہ پر لوگوں میں چہ میگوئیاں ہوں گی۔ لوگ اس کا اور اس کے خاوند کا مقابلہ کریں گے اور کوئی نوجوان چیخ اٹھے گا،\n\nمنڈا روہی دی ککر دا جا تو\nویاہ کے لے گیا چندر ورگی\n\n(ترجمہ، ’’روہی دی ککر‘‘ ایک خاص قسم کے ببول کو کہتے ہیں، جس کی لکڑی بڑی کرخت اور کالی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک مرد جو کہ روہی کے ببول کی طرح کھردرا اور کالا تھا، چاند جیسی دلہن بیاہ کر لے گیا ہے۔)\n\nپہلی رات آئے گی۔ ہزاروں کپکپاہٹیں اپنے ساتھ لئے۔ ایک پلنگ پر دلہن گٹھڑی بنی ہوئی اپنے حنا آلود ہاتھ جوڑے گی اور اپنے آمادۂ ظلم خاوند سے منت بھرے لہجے میں کہے گی،\n\nمینوں اج دی رات نہ چھیڑیں\nمہندی والے ہتھ جوڑ دی\n\n(ترجمہ، مجھے صرف آج کی رات نہ چھیڑو، دیکھو میں اپنے حنا آلود ہاتھ جوڑ رہی ہوں۔)\n\nکیا وہ مان جائے گا؟ کیا جوڑے ہوئے حنا آلود ہاتھ اس ظالم کے دل میں رحم پیدا کر دیں گے۔۔۔؟ خیر اس قصے کو چھوڑیئے۔ یہ مرحلہ کسی نہ کسی طرح طے ہو ہی جائے گا اور دلہن پرانی ہو جائے گی، پھر جھگڑے شروع ہوں گے اور ایک روز اس کا خاوند اس کے پہلے عاشق کو برا بھلا کہے گا تو وہ اس وقت سینے پر پتھر رکھ کر خاموش تو ہو جائے گی مگر اکیلے میں اس کے منہ سے یہ بول نکلیں گے۔\n\nمیرے یار نوں مندا نہ بولیں\nمیری بھانویں گت پٹ لئیں\n\n(ترجمہ، میری تم چٹیا جڑ سے اکھیڑ لو، مگر میرے یار کو برا نہ کہو۔ )\n\nاور۔۔۔ اور پھر۔۔۔ یونہی عمر بیت جائے گی اور یہ فسانہ اس دیہات میں نئے فسانے پیدا کرے گا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DB%81%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%B1"} {"title": "دیہاتی بولیاں ۲", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے مضامین", "year": "1942", "text_ur": "پنجاب کے چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں بنجاروں کی آمد بہت اہمیت رکھتی ہے۔ عورتیں عام طور پر اپنے سنگھار کا سامان انہی بنجاروں سے خریدتی ہیں۔ دیہاتی زندگی میں بنجارے کو اپنے پیشے اور اپنی چلتی پھرتی دکان کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے، چنانچہ دیہاتی گیتوں اور بولیوں میں اس کا ذکر عام ہے۔ چونکہ وہ ایک جگہ ٹک کر نہیں رہتا اس لئے اسے بے وفائی کی تجسیم بنا دیا گیا ہے۔ مجھے اس وقت کوئی ایسا گیت یاد نہیں آ رہا جس میں بنجارے کا ذکر ہو مگر چند بول میرے ذہن میں گونج رہے ہیں جو میں نے خدا معلوم کہاں اور کب سنے تھے،\n\nاو ونجارا، بھلا ونجارا۔۔۔ اور یار کوارا\nساڈے او ہان دا۔۔۔ ٹھگ ونجارا\n\nمطلب، وہ بنجارا، وہ بھلا بنجارا۔۔۔ وہ ہمارا کنوارا یار ہمارا ہم عمر ہے وہ ٹھگ بنجارا۔۔۔ یہ شاید ایک کنواری لڑکی کے جذبات ہیں جس میں دوشیزہ محبت کے اتار چڑھاؤ بڑی پیاری لہروں کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔\n\nیہ بنجارے کانچ کی رنگ برنگ چوڑیاں بھی لاتے ہیں جو دیہات کی کنواریاں ہاتھوں ہاتھ لیتی ہیں۔ چوڑیاں چڑھانے میں یہ بنجارے بڑی مہارت رکھتے ہیں۔ چنانچہ پارے کی طرح مچلتی ہوئی کلائیوں میں بھی بڑی پھرتی سے کانچ کی کھنکھناتی ہوئی چوڑیاں یوں چٹکیوں میں چڑھا دیتے ہیں۔ وہ کس انداز سے دیہات کی نوجوان لڑکیوں کی انگلیاں چٹخاتے ہیں اور کس انداز سے ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں دباتے ہیں، اس کا تصور آپ خود کیجئے۔۔۔ میرے تصور میں وہ جوان لڑکی ہے جس نے نیلی چوڑیاں پہنی ہیں، اس کی سانولی بانہوں میں یہ چوڑیاں دیکھ کر آسمان بھی نکھر گیا ہے۔۔۔\n\nلڑکی بڑے چاؤ سے بار بار اپنی چوڑیوں کو داد بھری نگاہوں سے دیکھتی جا رہی ہے۔ ادھر کھیتوں کی طرف جہاں کپاس اگ رہی ہے، ببولوں کے جھنڈ میں سے دفعتاً اس کا عاشق نکلتا ہے اور دونوں کی مڈ بھیڑ ہو جاتی ہے۔ جانے کیا بات ہے، دونوں ایک دوسرے سے کھنچے کھنچے نظر آتے ہیں۔ نوجوان اس کو سخت ہاتھوں سے پکڑنا چاہتا ہے، مگر وہ مچھلی کے مانند اس کی گرفت سے پھسل پھسل جاتی ہے۔ تھوڑی سی کشمکش کے بعد وہ کھلکھلا کر ہنستی ہے مگر فوراً ہی مصنوعی سنجیدگی اختیار کر کے کہتی ہے،\n\nاساں نویاں چڑھایاں چوڑیاں\nہتھاں تے نہ ماریں ویریا\n\nمطلب، ہم نے یہ چوڑیاں نئی نئی پہنی ہیں۔۔۔ دیکھو ہمارے ہاتھوں پر نہ مارنا۔\n\nہنسی مذاق ختم ہوتا ہے۔ لڑکی جس کا نام بنتو ہے، بار بار اپنی آنکھ ملتی ہے۔ اس کا چاہنے والا اس سے پوچھتا ہے، ’’کیا ہوا بنتو تیری آنکھ کو کیا ہو گیا ہے؟‘‘ وہ آنکھ مل کر کہتی ہے، ’’تنکا پڑ گیا ہے۔‘‘ اس پر حاسد عاشق کہتا ہے،\n\nکہیڑے یار دا گتاوا کیتا اکھ وچ ککھ پے گیا۔\n\nمطلب، تو نے کس یار کے لئے گائے بھینسوں کا چارہ تیار کیا ہے کہ تیری آنکھ میں تنکا پڑ گیا ہے۔\n\nتھوڑی سی چھیڑ چھاڑ کے بعد میلے کی بات چیت ہوتی ہے۔ بنتو کا دوست بڑے ٹھاٹ سے بیساکھی کے میلے پر جا رہا ہے۔ گلے میں سونے کا یہ موٹا کنٹھا (زیور) پڑا ہے۔ قمیص دھاری دار کپڑے کی ہے، جس سے شہری شب خوابی کا لباس بناتے ہیں۔ ہاتھ میں نئی لاٹھی ہے جس کو تیل پلایا گیا ہے۔ چرچر کرتا جوتا ہے، بالکل نیا جس نے ابھی سے کاٹنا شروع کر دیا ہے۔ جب میلے جانے کے لئے سب لوگ نکلیں گے تو یہ جوتا اس کی لاٹھی سے بندھا ہوگا۔ اس کے پاس ایک چھاتا بھی ہے، جو گاؤں میں اور کسی کے پاس نہیں، ا س لئے وہ اسے ضرور ساتھ لے کر جائے گا۔ بارش نہیں تو کیا۔ شان تو بڑھ جائے گی۔ میلے کا سن کر بنتو کے منہ میں پانی آ جاتا ہے۔ وہ اس سے کہتی ہے،\n\nمیلے چلیاں تے لیا دیویں پہنچی\nوے لے جا میرا گٹ من کے\n\nمطلب، تو میلے پر جا رہا ہے تو میرے لئے ایک پہنچی ضرور لانا۔۔۔ لو میری کلائی کا ناپ لیتے جاؤ۔\n\nستانے کے لئے وہ انکار کر دیتا ہے۔ ہم تمہارے کیا ہوتے ہیں کہ تمہاری روز روز کی فرمائشیں پوری کرتے رہیں۔ نہیں ہم تمہارے لئے میلے سے کچھ نہیں لائیں گے۔ تھوڑی دیر چخ چخ ہوتی ہے، آخر بنتو ملامت آمیز لہجے میں تھک ہار کر اپنے دوست سے کہتی ہے،\n\nمیری اک نہ منی کمجاتا\nتیریاں میں لکھ من دی\n\nمطلب، کم ذات تو نے میری یہ ایک چھوٹی سی بات نہیں مانی اور میں تو تیری لاکھوں باتیں مانتی ہوں۔\n\nاس پر ازراہِ مذاق بنتو کا دوست اس سے کہتا ہے، ’’کیوں۔۔۔؟‘‘ بس۔۔۔؟ یہ تو وہی ہوا۔۔۔\n\nکچی یاری لڈواں دی\nلڈو مک گئے یرانے ٹٹ گئے۔‘‘\n\nمطلب، لڈؤوں کی دوستی (یعنی وہ دوستی جس میں چیزوں کا لین دین ہو) کچی ہوتی ہے۔۔۔ لڈو ختم ہو گئے اور دوستی بھی ختم ہو گئی۔\n\nیہ سن کر بنتو کے احساس کو ٹھیس لگتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور ایک دم اس کے سینے سے آہ اٹھتی ہے وہ سوچتی ہے،\n\nکی کھٹیا ای عشق گل لا کے\nجندڑی نوں روگ لالیا\n\nمطلب، عشق کو گلے لگا کر یعنی محبت کر کے تو نے کیا فائدہ حاصل کیا ہے۔ سوائے اس کے کہ اپنی جان کو ایک روگ لگایا ہے۔۔۔ عشق کرنے سے پہلے کیا اس کے کانوں نے بار بار نہیں سنا تھا۔۔۔\n\nکتے ڈب نہ مری انجانا وے\nعشقے دی نہر وگدی\n\nمطلب، اے انجان تو کہیں ڈوب نہ مرے۔ تیرے آگے عشق کی نہر چل رہی ہے۔\n\nاس کو یہ سب کچھ معلوم تھا، مگر پھر بھی وہ عشق میں گرفتار ہو گئی اور ہر وقت بن ٹھن کے رہنے لگی۔۔۔ ابھی تھوڑے ہی روز ہوئے اس نے محلے کے رنگریز سے کہا تھا،\n\nچُنی رنگ دے للاریا میری\nوے السی دے پھل ورگی\n\nمطلب، اے رنگریز میرا دوپٹہ رنگ دے۔ ایسے رنگ میں جو السی کے پھول کی طرح ہو (السی کے پھول کا رنگ بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ )\n\nاور اس کا عشق کتنا صادق تھا۔ جس روز اس نے یہ سنا تھا کہ وہ بیمار ہے تو اس کو کتنا دکھ ہوا تھا اور جب چوتھے روز دھان کے کھیتوں میں بنتو کی اس سے ملاقات ہوئی تھی تو اس نے کہا تھا،\n\nتیری میری اک جندڑی\nتینوں تاپ چڑھے میں ہونگاں\n\nمطلب، تیری میری اک جان ہے یعنی یک جان و دو قالب والا معاملہ ہے۔ تجھے بخار چڑھے تو میں ہنکارے بھرتی ہوں۔\n\nسوچتے سوچتے وہ اپنے دوست کی طرف ملامت بھری نظروں سے دیکھتی ہے اور کہتی ہے، ’’کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا۔۔۔‘‘\n\nمیرا کالجا گنڈے دے چھل ورگا\nویکھیں یارا پاڑ نہ سٹیں\n\nمطلب، میرا کلیجہ پیاز کے چھلکے کی طرح نازک ہے، دیکھنا کہیں اسے چھیڑ چھاڑ نہ دینا۔\n\nیہ کہہ کر وہ بیری کے پاس بیٹھ کر زار و قطار رونا شروع کر دیتی ہے۔ اس کا عاشق جس نے صرف چھیڑنے کی خاطر اسے لڈؤوں کا طعنہ دیا تھا، سخت پریشان ہوتا ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کرے۔ وہ اس کو ہزار دلاسا دیتا ہے، مگر وہ روئے جاتی ہے۔ معافیاں مانگتا ہے مگر اس کے آنسو نہیں تھمتے۔ بھئی میں نے کیا کہا ہے جو تمہارے آنسو ہی بند نہیں ہوتے۔ کوئی مجھ سے خطا ہو گئی ہو تو معاف کر دو۔ لو اب چپ ہو جاؤ۔ غصے کو تھوک دو۔۔۔ حد ہو گئی ہے۔۔۔ ارے بھئی کچھ تو خیال کرو۔ کوئی یہاں آ نکلے تو کیا سمجھے۔۔۔ بس اب چپ ہو جاؤ۔۔۔ آخر ہوا کیا ہے؟ کچھ مجھے بھی تو پتا چلے۔ وہ روئے جاتی ہے اور اس بات پر اڑ جاتی ہے،\n\nتیرے سامنے بیٹھ کے رونا\nتے دکھ تینوں نہیوں دسنا\n\nمطلب، تیرے سامنے بیٹھ کے روؤں گی پر یہ نہیں بتاؤں گی کہ مجھے دکھ کیا پہنچا ہے۔\n\nعاشق کے لئے یہ کتنا بڑا دکھ ہے۔ بنتو سامنے بیٹھ کے روئے جا رہی ہے۔ پر یہ بتانے کے لئے تیار نہیں کہ اسے کیا دکھ پہنچا ہے۔ اس سے بڑھ کر روحانی سزا وہ اپنے عاشق کو اور کیا دے سکتی ہے۔ چند روز کے بعد یہ بات سارے گاؤں میں پھیل جاتی ہے کہ بنتو اور اس کے عاشق کا آپس میں بگاڑ پیدا ہو گیا ہے، چنانچہ طرح طرح کی باتیں سننے میں آتی ہیں۔ بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے۔ لوگ بنتو کے عاشق کو طعنے دیتے ہیں، چنانچہ وہ بنتو کو مخاطب کر کے کہتا ہے،\n\nکیہ کچئے تیری یاری\nمہنا مہنا ہو کے ٹٹ گئی\n\nمطلب، اے خام عورت (کچی یعنی وہ عورت جو عشق کرنے کے معاملے میں بالکل خام ہو۔) تیری دوستی بھی کیا تھی جو طعنہ طعنہ ہو کر ٹوٹ گئی۔\n\nایک روز بنتو نے اسے دور کٹے ہوئے درختوں کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا۔ اس کے دل میں ایک ہیجان سا برپا ہو گیا،\n\nیاری توڑ کے کھنڈاں تے بے گیاں تے ہن توں کیہڑا رب ہو گیاں۔\n\nمطلب، دوستی ختم کر کے تو مجھ سے دور کٹے ہوئے درختوں کی جڑوں پر بیٹھ گیا ہے، لیکن تو ایسا کرنے سے خدا تو نہیں ہو گیا۔\n\nدرختوں کی ٹنڈ منڈ جڑوں پر ایسے کئی خدا دیہاتوں میں بیٹھے رہتے ہیں جن کی خدائی آن کی آن میں اوندھی ہو جاتی ہے۔۔۔ آسمانوں والا خدا اوپر بیٹھ کر یہ تماشا دیکھتا رہتا ہے اور خاموش رہتا ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%DB%81%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%B2"} {"title": "دے جس کو شراب ناب پانی کا مزا", "poet_page": "مصنف:مرزا علی لطف", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دے جس کو شراب ناب پانی کا مزا\nکیا خاک ہے اس کو زندگانی کا مزا\nاے جان جوانی وہ جواں مرگ مری\nتجھ بن ہو ذرا جیسے جوانی کا مزا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%86%D8%A7%D8%A8_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B2%D8%A7"} {"title": "دے حشر کے وعدے پہ اسے کون بھلا قرض", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دے حشر کے وعدے پہ اسے کون بھلا قرض\nتم لے کے نہ دیتے ہو کسی کا نہ دیا قرض\n\nہے دل میں اگر اس سے محبت کا ارادہ\nلے لیجئے دشمن کے لئے ہم سے وفا قرض\n\nعاشق کے ستانے میں دریغ ان کو نہ ہوگا\nموجود ہیں لینے کو جو مل جائے جفا قرض\n\nاس ہاتھ سے دو قول تو اس ہاتھ سے لو دل\nدیتا ہے کوئی حشر کے وعدے یہ بھلا قرض\n\nمانا کہ جفاؤں کی تلافی ہیں وفائیں\nہوگا نہ ظہیرؔ ان کی اداؤں کا ادا قرض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%92_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D9%82%D8%B1%D8%B6"} {"title": "دے دیں ابھی کرے جو کوئی خوب رو پسند", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دے دیں ابھی کرے جو کوئی خوب رو پسند\nہم کو نہیں پسند دل آرزو پسند\n\nمانند اشک خاک میں آخر ملا دیا\nآئی نہ آسماں کو مری آبرو پسند\n\nتم نے وہاں رقیب کو پہلو میں دی جگہ\nیاں رہ گیا تڑپ کے دل آرزو پسند\n\nعشاق سے وہ پوچھتے ہیں تیغ تول کر\nہے زخم سر پسند کہ زخم گلو پسند\n\nقربان اس ادا کے وہ کہتے ہیں اے نسیمؔ\nآیا ہے عاشقوں میں ہمیں ایک تو پسند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%B1%D9%88_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF"} {"title": "دے صنم حکم تو در پر ترے حاضر ہو کر", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دے صنم حکم تو در پر ترے حاضر ہو کر\nپڑ رہے کوئی مسلمان بھی کافر ہو کر\n\nچٹکیاں لینے کو بس رہ چکے پنہاں دل میں\nکبھی پہلو میں بھی آ بیٹھیے ظاہر ہو کر\n\nجبہہ سائی کا ارادہ ہو تو پہنچا دے گا\nدر تک اوس بت کے خدا حافظ و ناصر ہو کر\n\nغیر کیوں ہم کو اٹھاتا ہے تری محفل سے\nآپ اٹھ جائیں گے برخاستہ خاطر ہو کر\n\nڈھونڈتے رہ گئے پہلو ہی تعجب ہے جلالؔ\nحال دل اوس نے نہ تم کہہ سکے شاعر ہو کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%92_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%AD%DA%A9%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D8%B6%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کر", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کر\nجو ادھر دل میں ہے یا رب وہ ادھر پیدا کر\n\nدود دل عشق میں اتنا تو اثر پیدا کر\nسر کٹے شمع کی مانند تو سر پیدا کر\n\nپھر ہمارا دل گم گشتہ بھی مل جائے گا\nپہلے تو اپنا دہن اپنی کمر پیدا کر\n\nکام لینے ہیں محبت میں بہت سے یا رب\nاور دل دے ہمیں اک اور جگر پیدا کر\n\nتھم ذرا اے عدم آباد کے جانے والے\nرہ کے دنیا میں ابھی زاد سفر پیدا کر\n\nجھوٹ جب بولتے ہیں وہ تو دعا ہوتی ہے\nیا الٰہی مری باتوں میں اثر پیدا کر\n\nآئینہ دیکھنا اس حسن پہ آسان نہیں\nپیشتر آنکھ مری میری نظر پیدا کر\n\nصبح فرقت تو قیامت کی سحر ہے یا رب\nاپنے بندوں کے لیے اور سحر پیدا کر\n\nمجھ کو روتا ہوا دیکھیں تو جھلس جائیں رقیب\nآگ پانی میں بھی اے سوز جگر پیدا کر\n\nمٹ کے بھی دوری گلشن نہیں بھاتی یا رب\nاپنی قدرت سے مری خاک میں پر پیدا کر\n\nشکوۂ درد جدائی پہ وہ فرماتے ہیں\nرنج سہنے کو ہمارا سا جگر پیدا کر\n\nدن نکلنے کو ہے راحت سے گزر جانے دے\nروٹھ کر تو نہ قیامت کی سحر پیدا کر\n\nہم نے دیکھا ہے کہ مل جاتے ہیں لڑنے والے\nصلح کی خو بھی تو اے بانئ شر پیدا کر\n\nمجھ سے گھر آنے کے وعدے پر بگڑ کر بولے\nکہہ دیا غیر کے دل میں ابھی گھر پیدا کر\n\nمجھ سے کہتی ہے کڑک کر یہ کماں قاتل کی\nتیر بن جائے نشانہ وہ جگر پیدا کر\n\nکیا قیامت میں بھی پردہ نہ اٹھے گا رخ سے\nاب تو میری شب یلدا کی سحر پیدا کر\n\nدیکھنا کھیل نہیں جلوۂ دیدار ترا\nپہلے موسیٰ سا کوئی اہل نظر پیدا کر\n\nدل میں بھی ملتا ہے وہ کعبہ بھی اس کا ہے مقام\nراہ نزدیک کی اے عزم سفر پیدا کر\n\nضعف کا حکم یہ ہے ہونٹ نہ ہلنے پائیں\nدل یہ کہتا ہے کہ نالے میں اثر پیدا کر\n\nنالے بیخودؔ کے قیامت ہیں تجھے یاد رہے\nظلم کرنا ہے تو پتھر کا جگر پیدا کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "دے چکے دل تو پھر اب دل پر اجارا کیسا", "poet_page": "مصنف:کیفی کاکوروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "دے چکے دل تو پھر اب دل پر اجارا کیسا\nہم سمجھتے ہیں ہمارا ہے ہمارا کیسا\n\nہر ادا بانکی ہے ہر ناز سے پیارا کیسا\nدل میں رکھ لیجئے انداز ہے سارا کیسا\n\nسرخ پوشاک وہ پہنیں گے خدا خیر کرے\nآج مریخ کا چمکے گا ستارا کیسا\n\nمجھ کو یہ لطف کہ وہ شرط میں بوسے جیتے\nان کو یہ شرم کہ میں جیت میں ہارا کیسا\n\nمردم چشم نے پلکوں سے بلائیں لے لیں\nچشم بددور ہے وہ آنکھ کا تارا کیسا\n\nمیں لئے جاؤں شب وصل مکرر بوسے\nتم کہے جاؤ کہ ہیں ہیں یہ دوبارا کیسا\n\nدم نظارہ نظر باز تڑپ جاتے ہیں\nشوخیٔ چشم سے ہے شوخ اشارہ کیسا\n\nتجھ پہ مرتے ہیں ترے وعدوں پہ ہم جیتے ہیں\nخالی باتوں کا بھی ہوتا ہے سہارا کیسا\n\nصاف آغوش تمنا سے نکل جاتے ہو\nوصل میں وصل سے کرتے ہو کنارا کیسا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%AF%DB%92_%DA%86%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7"} {"title": "ذات اس کی کوئی عجب شے ہے", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذات اس کی کوئی عجب شے ہے\nجس سے سب واقعی عجب شے ہے\n\nواقعی عاشقی عجب شے ہے\nعاشقی واقعی عجب شے ہے\n\nجس کے دل کو لگی وہی جانے\nجان من دل لگی عجب شے ہے\n\nاس میں ہرگز نہیں ہے جائے سخن\nالغرض خامشی عجب شے ہے\n\nبے خودی گر ہو خود تو آ کے ملے\nاے خدا بے خودی عجب شے ہے\n\nاوس پہ مرتا ہوں وقت بوس و کنار\nتیرا کہنا نہ جی عجب شے ہے\n\nایک سے تیس دن نباہ کہ دوست\nایک سے دوستی عجب شے ہے\n\nمنہ پہ کہہ دینا عیب عیب ہے یہ\nعیب پوشی اجی عجب شے ہے\n\nکیا دھواں دار شعلہ رو ہے بنا\nاودی پوشاک بھی عجب شے ہے\n\nآرسی اس سے اہل دید کو ہے\nمت کہو آرسی عجب شے ہے\n\nسرو کو اس کے قد سے کیا نسبت\nمنصفو راستی عجب شے ہے\n\nقبلہ و کعبہ اس کو سمجھے ہے\nحرم شیخ جی عجب شے ہے\n\nایک بوسہ نہ دو نہ تین نہ چار\nیار جی منصفی عجب شے ہے\n\nہونٹ ہوتے ہیں وقت خندہ جدا\nچپ بھلی خامشی عجب شے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%B4%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "ذرا بھی دم ترے بیمار ناتواں میں نہیں", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذرا بھی دم ترے بیمار ناتواں میں نہیں\nمکاں میں یوں ہے کہ جیسے کوئی مکاں میں نہیں\n\nوہ چھیڑ چھیڑ کے پوچھیں نہ دل کے درد کا حال\nکہو زباں سے یہ طاقت مری زباں میں نہیں\n\nچمن میں کس کے لیے بجلیاں تڑپتی ہیں\nگل آشیاں میں نہیں شاخ آشیاں میں نہیں\n\nتمہارے در سے اٹھاتا ہے کیوں ہمیں درباں\nکچھ ایسے لعل لگے سنگ آستاں میں نہیں\n\nمیں سر بکف ہوں وہ خنجر بکف ہیں مقتل میں\nاجل سے کہہ دو کہ اب دیر امتحاں میں نہیں\n\nکریں گے وہ نگہ ناز سے ہدف دل کو\nچڑھی کمان ہے ناوک مگر کمان میں نہیں\n\nجگر نے جی جو چرایا تو دل پکار اٹھا\nشریک حال مرا کوئی امتحاں میں نہیں\n\nنظر نہ کی مرے حال تباہ پر اس نے\nیہ کہہ دیا کہ اثر کچھ مری فغاں میں نہیں\n\nمثل یہ ایک زمانے میں سنتے آئے ہیں\nنہ ہو مکین تو رونق کوئی مکاں میں نہیں\n\nجو پھول آج کف گل فروش میں دیکھا\nوہ باغباں کے بھی اب وہم میں گماں میں نہیں\n\nیہ لطف پوچھئے کچھ آپ مرنے والوں سے\nجناب خضر مزا عمر جاوداں میں نہیں\n\nسنا کہ قصۂ صفدرؔ ہے درد سے خالی\nمزے کی چیز یہی تھی جو داستاں میں نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%85_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ذرا دیکھنا خاکساری ہماری", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذرا دیکھنا خاکساری ہماری\nملی خاک میں خاک ساری ہماری\n\nاسے حشر میں اے خضر دیکھ لیں گے\nاگر زندگی ہے تمہاری ہماری\n\nیہ کہتے ہیں مژگان تر کو دکھا کر\nبجھی زہر میں ہے کٹاری ہماری\n\nوبال جہاں ہیں یہ عالم کے اوپر\nمرے پر بھی ہے لاش بھاری ہماری\n\nہمیں تم ہو روح رواں سے زیادہ\nتمہیں کچھ نہیں جان پیاری ہماری\n\nبہم رہ سکیں کس طرح آگ پانی\nنبھے دوستی کیا تمہاری ہماری\n\nمرے پر بھی اے شادؔ تقدیر بگڑی\nکسی نے نہ عقبیٰ سنواری ہماری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ذرا سوچ کر اے جفا کرنے والے", "poet_page": "مصنف:بیتاب عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذرا سوچ کر اے جفا کرنے والے\nکہیں جی نہ چھوڑیں وفا کرنے والے\n\nگلہ کچھ نہیں مجھ کو واعظ سے لیکن\nیہ کون آپ کا تذکرہ کرنے والے\n\nگھمنڈ ان کو اللہ رے اتنا جفا کا\nتو کیا مر گئے اب وفا کرنے والے\n\nبڑے بے مروت بڑے بے وفا ہو\nہمیشہ بہانہ نیا کرنے والے\n\nگلی میں تری سر بکف ہو کے آئیں\nکہاں ہیں مرا سامنا کرنے والے\n\nوہ بے باک چتون یہی کہہ رہی ہے\nکسی سے نہیں ہم وفا کرنے والے\n\nشہیدان الفت نہ خوش ہوں تڑپ کر\nوہ اس پر نہیں اعتنا کرنے والے\n\nیہ کہتا ہے پروانے کا جل کے مرنا\nوفا کرتے ہیں یوں وفا کرنے والے\n\nسمجھتے ہیں آساں ابھی ان کا ملنا\nبہت دور ہیں حوصلہ کرنے والے\n\nنقاب ان کی جس وقت سرکے گی رخ سے\nقیامت کریں گے حیا کرنے والے\n\nدم نزع آخر نکل آئے آنسو\nکہاں جا کے چوکے وفا کرنے والے\n\nزباں پر مری راز دل اب تو آیا\nمری شرم رکھ لے حیا کرنے والے\n\nدوا سے تو بیمار کچھ اور الجھا\nمرض ہی نہ سمجھے دوا کرنے والے\n\nخموشی مری لاش کی کہہ رہی ہے\nجفا سہتے ہیں یوں وفا کرنے والے\n\nگدا کون بیتاب سا اس گلی میں\nہیں یوں تو بہت سے صدا کرنے والے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D9%88%DA%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "ذرا سی مشق کرے بے ضمیر بن جائے", "poet_page": "مصنف:رزمی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "ذرا سی مشق کرے بے ضمیر بن جائے\nتو کیا عجب ہے کہ انساں وزیر بن جائے\n\nجو کام چور ہو بچے کرائے پر لے لے\nانہیں صدائیں سکھا لے فقیر بن جائے\n\nجوان رند جو ہو روزگار سے محروم\nمرید مجمع کرے اور پیر بن جائے\n\nکچھ اشتہار ہوں کچھ پگڑیاں اچھالنے کو\nیہ خاکسار بھی پھر تو مدیر بن جائے\n\nوہ بدگماں ہیں ولایت کی لڑکیوں سے بہت\nہے ڈر انہیں کہ نہ شوہر سفیر بن جائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%DB%8C_%D9%85%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%B6%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "ذرا غم زدوں کے بھی غم خوار رہنا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذرا غم زدوں کے بھی غم خوار رہنا\nکریں ناز تو ناز بردار رہنا\n\nفراخی و عسرت میں شادی و غم میں\nبہرحال یاروں کے تم یار رہنا\n\nسمجھ نردباں اپنی ناکامیوں کو\nکہ ہے شرط ہمت طلب گار رہنا\n\nکرو شکر ہے یہ عنایت خدا کی\nبلاؤں میں اکثر گرفتار رہنا\n\nاگر آدمی کو نہ ہو مشغلہ کچھ\nبہشت بریں میں ہو دشوار رہنا\n\nخبر بھی ہے آدم سے جنت چھٹی کیوں\nخلاف جبلت تھا بے کار رہنا\n\nسمجھتے ہیں شیروں کو بھی نرم چارہ\nغزالان شہری سے ہشیار رہنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%D8%B2%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%BA%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "ذرا وصل پر ہو اشارہ تمہارا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذرا وصل پر ہو اشارہ تمہارا\nابھی فیصلہ ہے ہمارا تمہارا\n\nبتو دین و دنیا میں کافی ہے مجھ کو\nخدا کا بھروسہ سہارا تمہارا\n\nمحبت کے دعوے ملے خاک میں سب\nوہ کہتے ہیں کیا ہے اجارہ تمہارا\n\nرکاوٹ نہ ہوتی تو دل ایک ہوتا\nتمہارا ہمارا ہمارا تمہارا\n\nنکل کر مرے گھر سے یہ جان لو تم\nنہ ہوگا کسی گھر گزارہ تمہارا\n\nسنا ہے کسی اور کو چاہتا ہے\nوہ دشمن ہمارا وہ پیارا تمہارا\n\nکریں گے سفارش ہم اے داغؔ ان سے\nاگر ذکر آیا دوبارہ تمہارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "ذرہ بھی اگر رنگ خدائی نہیں دیتا", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذرہ بھی اگر رنگ خدائی نہیں دیتا\nاندھا ہے تجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا\n\nدل کی بری عادت ہے جو مٹتا ہے بتوں پر\nواللہ میں ان کو تو برائی نہیں دیتا\n\nکس طرح جوانی میں چلوں راہ پہ ناصح\nیہ عمر ہی ایسی ہے سجھائی نہیں دیتا\n\nگرتا ہے اسی وقت بشر منہ کے بل آ کر\nجب تیرے سوا کوئی دکھائی نہیں دیتا\n\nسن کر مری فریاد وہ یہ کہتے ہیں شاعرؔ\nاس طرح تو کوئی بھی دہائی نہیں دیتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%D8%B1%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ذلت ہے جو پھیلائے بشر پیش دگر ہاتھ", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذلت ہے جو پھیلائے بشر پیش دگر ہاتھ\nیا رب نہ کبھی ہاتھ کا ہو دست نگر ہاتھ\n\nپنجہ کریں خورشید سے بیداروں کی پلکیں\nفرقت کی شب آ جائے جو دامان سحر ہاتھ\n\nہیں صاحب سر پنجہ رئیسوں کو نچاتے\nسر پر جو پڑے چوٹ تو ہوتا ہے سپر ہاتھ\n\nجی میں ہے کہوں ان سے کہ ہوں دست گرفتہ\nوہ سن کے خجل ہوں جو کہیں لاؤ ادھر ہاتھ\n\nکیا دزد حنا ہاتھ لگا سیم بروں کو\nدل ہاتھ سے لے جاتا ہے چوری سے وہ ہر ہاتھ\n\nخورشید کے پنجے سے اشارہ ہے کہ عاقل\nاللہ کی جانب کو اٹھا وقت سحر ہاتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%D9%84%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%B4%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%D8%B4_%D8%AF%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "ذوق الفت اب بھی ہے راحت کا ارماں اب بھی ہے", "poet_page": "مصنف:بشیر الدین احمد دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذوق الفت اب بھی ہے راحت کا ارماں اب بھی ہے\nدل پریشاں روح ترساں چشم گریاں اب بھی ہے\n\nکب سنبھالے سے سنبھلتا ہے دل پر اضطراب\nآہ سوزاں لب پر اب بھی سینہ بریاں اب بھی ہے\n\nسعی کوشش کے لیے میدان ہے اب بھی فراخ\nعزم راسخ کی ضرورت ہم کو ہاں ہاں اب بھی ہے\n\nتخم میں روئیدگی ہر نخل میں بالیدگی\nموسم سرما و گرما باد و باراں اب بھی ہے\n\nخلق میں موجود ہیں اب بھی وہی لعل و گہر\nتشنہ کامیٔ صدف کو ابر نیساں اب بھی ہے\n\nشام بھی ہے صبح بھی ہے اور دن بھی رات بھی\nماہ تاباں اب بھی ہے مہر درخشاں اب بھی ہے\n\nعاشق و معشوق بھی ہیں وصل و ہجر و رشک بھی\nمہر الفت تیغ و خنجر تیر پیکاں اب بھی ہے\n\nہے وہی دیوانگی اب بھی وہی شوریدگی\nجیب و دامن ہدیۂ خار بیاباں اب بھی ہے\n\nشوق و ذوق اب بھی ہے باقی مردہ دل ہم ہیں تو ہیں\nاپنے دل کو حسرت سیر گلستاں اب بھی ہے\n\nعشق کی صورت جو بدلے تو ہو عاشق بھی کچھ اور\nیہ جفا و جور کا ہر وقت خواہاں اب بھی ہے\n\nآ گئی پیری مگر اب تک ہے تو محو خیال\nہم سبق طفلوں کا تو طفل دبستاں اب بھی ہے\n\nگرمئ محفل وہی ہے جمع ہیں احباب بھی\nہستیٔ پروانہ و شمع شبستاں اب بھی ہے\n\nغیرممکن ہے بدل جائے کبھی قانون حق\nحکم یزداں اب بھی ہے اجرائے فرماں اب بھی ہے\n\nکیوں مسلمانوں نے بدلا حال اپنی قوم کا\nتھا جو قرآں بس وہی موجود قرآں اب بھی ہے\n\nقشقہ بالائے جبیں زنار ہے بالائے دوش\nیہ بتا ایمان سے کیا تو مسلماں اب بھی ہے\n\nاتقا و زہد سے دل بستگی باقی نہیں\nدعویٰ اسلام جیسا پہلے تھا ہاں اب بھی ہے\n\nکھو دیئے ایام پیری نے تیرے ہوش و حواس\nاے بشیرؔ بے نوا کچھ دل میں ارماں اب بھی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%D9%88%D9%82_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ذوق سرمستی کو محو روئے جاناں کر دیا", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذوق سرمستی کو محو روئے جاناں کر دیا\nکفر کو اس طرح چمکایا کہ ایماں کر دیا\n\nتو نے یہ اعجاز کیا اے سوز پنہاں کر دیا\nاس طرح پھونکا کہ آخر جسم کو جاں کر دیا\n\nجس پہ میری جستجو نے ڈال رکھے تھے حجاب\nبے خودی نے اب اسے محسوس و عریاں کر دیا\n\nکچھ نہ ہم سے ہو سکا اس اضطراب شوق میں\nان کے دامن کو مگر اپنا گریباں کر دیا\n\nگو نہیں رہتا کبھی پردے میں راز عاشقی\nتم نے چھپ کر اور بھی اس کو نمایاں کر دیا\n\nرکھ دیے دیر و حرم سر مارنے کے واسطے\nبندگی کو بے نیاز کفر و ایماں کر دیا\n\nعارض نازک پہ ان کے رنگ سا کچھ آ گیا\nان گلوں کو چھیڑ کر ہم نے گلستاں کر دیا\n\nان بتوں کی صورت زیبا کو اصغرؔ کیا کہوں\nپر خدا نے وائے ناکامی مسلماں کر دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%D9%88%D9%82_%D8%B3%D8%B1%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%AD%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ذوق نمو کو منزل دوست میں آ کے بھول جا", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذوق نمو کو منزل دوست میں آ کے بھول جا\nاس طرح بے نیاز ہو سر کو جھکا کے بھول جا\n\nداغ فراق کے سوا حاصل عشق کچھ نہیں\nپردۂ جان و دل میں یہ شمع جلا کے بھول جا\n\nاس کے حریم ناز تک کوئی پہنچ سکا کہاں\nراہ گزار شوق کی خاک اڑا کے بھول جا\n\nحلقہ بگوش عشق ہو پھر نہ زوال ہے نہ موت\nپیک قضا پہ آخری تیر چلا کے بھول جا\n\nبزم میں اے نگاہ دوست اس طرح اہل دل سے کھیل\nاس کو مٹا کے بھول جا اس کو بنا کے بھول جا\n\nآئے خزاں میں جو کبھی یاد تجھے بہار کی\nساغر چشم تر سے دو اشک بہا کے بھول جا\n\nدل بھی خراب عشق ہے دل کو بھی دے سزائے شوق\nاس کو بھی طور کی طرح آگ لگا کے بھول جا\n\nحسرت دید میں جو ہے دید میں وہ مزہ نہیں\nپردۂ روئے دوست اٹھا اور اٹھا کے بھول جا\n\nتو بھی دیار دوست میں شوق کے زمزمے الاپ\nباد شمال کی طرح ٹھوکریں کھا کے بھول جا\n\nسطوت قیصرانہ کو شوکت خسروانہ کو\nجام شراب عشق سے ہونٹ ملا کے بھول جا\n\nمیری غزل میں ہے ظفرؔ لطف بقدر ظرف ذوق\nتو اسے گا کے جھوم اٹھ یا اسے گا کے بھول جا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%D9%88%D9%82_%D9%86%D9%85%D9%88_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "ذوق و شوق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "’دریغ آمدم زاں ہمہ بوستاں\nتہی دست رفتن سوئے دوستاں‘\n\nقلب و نظر کی زندگی دشت میں صُبح کا سماں\nچشمۂ آفتاب سے نُور کی ندّیاں رواں\nحُسنِ اَزل کی ہے نمود، چاک ہے پردۂ وجود\nدل کے لیے ہزار سُود ایک نگاہ کا زیاں\nسُرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحابِ شب\nکوہِ اِضم کو دے گیا رنگ برنگ طَیلساں\nگرد سے پاک ہے ہوا، برگِ نخیل دھُل گئے\nریگِ نواح کاظمہ نرم ہے مثلِ پرنیاں\nآگ بُجھی ہُوئی اِدھر، ٹُوٹی ہُوئی طناب اُدھر\nکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواں\nآئی صدائے جِبرئیل، تیرا مقام ہے یہی\nاہلِ فراق کے لیے عیشِ دوام ہے یہی\n\nکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیات\nکُہنہ ہے بزمِ کائنات، تازہ ہیں میرے واردات\nکیا نہیں اور غزنوی کارگہِ حیات میں\nبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہلِ حرم کے سومنات\nذکرِ عرب کے سوز میں، فکرِ عجم کے ساز میں\nنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیّلات\nقافلۂ حجاز میں ایک حُسینؓ بھی نہیں\nگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات\nعقل و دل و نگاہ کا مُرشدِ اوّلیں ہے عشق\nعشق نہ ہو تو شرع و دِیں بُت کدۂ تصوّرات\nصدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق، صبر حُسینؓ بھی ہے عشق\nمعرکۂ وجُود میں بدر و حُنَین بھی ہے عشق\n\nآیۂ کائنات کا معنیِ دیر یاب تُو\nنکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بُو\nجلوَتیانِ مدرسہ کور نگاہ و مُردہ ذوق\nخلوَتیانِ مے کدہ کم طلب و تہی کدُو\nمَیں کہ مری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سُراغ\nمیری تمام سرگزشت کھوئے ہُوؤں کی جُستجو\nبادِ صبا کی موج سے نشوونَمائے خار و خس\nمیرے نَفس کی موج سے نشوونَمائے آرزو\nخُونِ دل و جگر سے ہے میری نَوا کی پرورش\nہے رگِ ساز میں رواں صاحبِ ساز کا لہُو\n’فُرصتِ کشمکش مدہ ایں دلِ بے قرار را\nیک دو شکن زیادہ کُن گیسوے تابدار را‘\n\nلَوح بھی تُو، قلم بھی تُو، تیرا وجود الکتاب\nگُنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب\nعالَمِ آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ\nذرّۂ ریگ کو دیا تُو نے طلوعِ آفتاب\nشوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود\nفقرِ جُنیدؒ و بایزیدؒ تیرا جمالِ بے نقاب\nشوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام\nمیرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب\nتیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئے\nعقل غیاب و جستجو، عشق حضور و اضطراب\nتِیرہ و تار ہے جہاں گردشِ آفتاب سے\nطبعِ زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے\n\nتیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شب\nمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم نخیلِ بے رُطَب\nتازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کُہَن ہُوا\nعشق تمام مصطفیؐ، عقل تمام بُولَہب\nگاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشد\nعشق کی ابتدا عجب، عشق کی انتہا عجب\nعالمِ سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراق\nوصل میں مرگِ آرزو، ہجر میں لذّتِ طلب\nعینِ وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھا\nگرچہ بہانہ جُو رہی میری نگاہِ بے ادب\nگرمیِ آرزو فراق، شورشِ ہاے و ہُو فراق\nمَوج کی جُستجو فراق، قطرے کی آبرو فراق!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%D9%88%D9%82_%D9%88_%D8%B4%D9%88%D9%82"} {"title": "ذوقِ نظر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "خودی بلند تھی اُس خُوں گرفتہ چینی کی\nکہا غریب نے جلاّد سے دمِ تعزیر\nٹھہرَ ٹھہرَ کہ بہت دِل کشا ہے یہ منظر\nذرا میں دیکھ تو لوں تاب ناکیِ شمشیر!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%D9%88%D9%82%D9%90_%D9%86%D8%B8%D8%B1"} {"title": "ذِکر وفِکر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "یہ ہیں سب ایک ہی سالِک کی جُستجو کے مقام\nوہ جس کی شان میں آیا ہے ’عَلَّم الاسما‘\nمقامِ ذکر، کمالاتِ رومیؔ و عطّارؔ\nمقامِ فکر، مقالاتِ بوعلیؔسِینا\nمقامِ فکر ہے پیمائشِ زمان و مکاں\nمقامِ ذکر ہے سُبحانَ ربیّ الاعلیٰ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%D9%90%DA%A9%D8%B1_%D9%88%D9%81%D9%90%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا\nبن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا\n\nمے وہ کیوں بہت پیتے بزمِ غیر میں یا رب\nآج ہی ہوا منظور اُن کو امتحاں اپنا\n\nمنظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے\nعرش سے اُدھر ہوتا، کاشکے مکاں اپنا\n\nدے وہ جس قد ر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے\nبارے آشنا نکلا، ان کا پاسباں، اپنا\n\nدردِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلا دوں\nانگلیاں فگار اپنی، خامہ خونچکاں اپنا\n\nگھستے گھستے مٹ جاتا، آپ نے عبث بدلا\nننگِ سجدہ سے میرے، سنگِ آستاں اپنا\n\nتا کرے نہ غمازی، کر لیا ہے دشمن کو\nدوست کی شکایت میں ہم نے ہمزباں اپنا\n\nہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھے\nبے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D9%88%D8%B4_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "ذکر ایفا کچھ نہیں وعدہ ہی وعدہ ہم سے ہے", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذکر ایفا کچھ نہیں وعدہ ہی وعدہ ہم سے ہے\nرات دن شام و سحر امروز فردا ہم سے ہے\n\nہم نہ کہتے تھے کہ یہ جور و جفا اچھی نہیں\nپوچھ کچھ روز جزا اب تم سے ہے یا ہم سے ہے\n\nدوسروں کے کہنے سننے پر نہ تم جاؤ نہ ہم\nتم سے بس کہنا ہمارا ہے تمہارا ہم سے ہے\n\nشرم وصل غیر سے اٹھتی نہیں اونچی نظر\nدرد سر کیسا یہ سب حیلہ بہانا ہم سے ہے\n\nکون سی خوبی ہے ہم میں جس پر نازاں ہوں نسیمؔ\nجو زمانے سے برا ہے وہ بھی اچھا ہم سے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%8C_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "ذکر جاناں کر جو تجھ سے ہو سکے", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذکر جاناں کر جو تجھ سے ہو سکے\nواعظ احساں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nراز دل ظاہر نہ ہو اے دود آہ\nداغ پنہاں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nپھونکتا ہے مجھ کو یہ سوز دروں\nچشم گریاں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nاے مسیحا مجھ کو ہے آزار عشق\nمیرا درماں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nقیس کو روتا ہوں اے دشت جنوں\nفکر داماں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nچپ ہے کیوں او بت خدا کی واسطے\nکچھ تو ہوں ہاں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nدل تو اس پہ آج صدقے ہو گیا\nتو بھی اے جاں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nلا مغل کی تیغ ابرو کا جواب\nعزم‌ صفہاں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nراز پوشی میری دود آہ کی\nدود قلیاں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nکھیت دکھلا مجھ کو اے شمشیر یار\nکار دہقاں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nخرمن ماہ درخشاں کو اڑا\nکار دہقاں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nتا بہ کے یاد رخ جاناں دلا\nحفظ قرآں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nوہ پری میری مسخر ہو یہ کام\nاے سلیماں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nایک دن دیوار ہی پھاندوں گا میں\nخیر درباں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nیوں ہی ظاہر ہو شب فرقت کی صبح\nداغ پنہاں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nاے فرنگن خانۂ ویراں مرا\nانگلستاں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nکر مرا گھر فیض مقدم سے بہشت\nمجھ کو رضواں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nجھڑکیاں دی گالیاں دی دل دکھا\nاے مری جاں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nنزع میں تو جائے شرب مے پلا\nساقی احساں کہ جو تجھ سے ہو سکے\n\nتو ہی تربت پر مری چادر چڑھا\nماہ تاباں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nاے دل نالاں کہاں تک شور و غل\nضبط افغاں کر جو تجھ سے ہو سکے\n\nمہرؔ یوں فکر پریشاں تا بہ کے\nجمع دیواں کر جو تجھ سے ہو سکے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%B3%DA%A9%DB%92"} {"title": "ذکر دشمن ہے ناگوار کسے", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذکر دشمن ہے ناگوار کسے\nتم سناتے ہو بار بار کسے\n\nمانگ لوں عمر خضر سے لیکن\nتیرے وعدے کا اعتبار کسے\n\nہائے بے چپن کر دیا دم خواب\nتو نے اے آہ شعلہ بار کسے\n\nگالیاں دے رہے ہیں ہونٹوں میں\nاس ادا پر نہ آئے پیار کسے\n\nہے نسیمؔ ایک سنگ دل وہ بت\nدل کو دیتا ہے میرے یار کسے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%DA%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%92"} {"title": "ذکر مہندس بھاسکر کا", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "یہ شخص بہت بڑا عقل مند اور مہندس ہند میں گذرا ہے۔ اس کے برابر ذہین اور عاقل اور سچے علم کی پیروی کرنے والا کوئی اور شخص قوم ہندو میں نہیں ہوا ہے۔ یہ شخص بمقام شہر بنارس بیچ سنہ ۱۱۵۰ء کے پیدا ہوا تھا۔ اس شخص ہماری شاستر کی غلطیوں کو درست کیا لیکن اکثر برہمن اس کے قول پر عمل نہیں کرتے، اگرچہ اس کو اپنا بزرگ سمجھتے ہیں۔ لیکن جو بڑے بڑے فاضل اور عاقل ہیں وہ اس کے کلام کو کلام پر ان پر ترجیح دیتے ہیں۔\n\nکسی شاستر میں لکھا ہے کہ زمین مثل دائرہ کے ہے اور کہیں یہ لکھا ہے کہ وہ مثل مثلث کے ہے۔ بھاسکر نے ان باتوں کو رد کیا اور لکھا کہ زمین کی شکل کروی ہے۔ یہاں سے اس کے ذہن کو دیکھنا چاہئے۔ شاستر میں لکھا ہے کہ زمین سانپ کے پھن، کچھوے اور آٹھ ہاتھیوں پر سہارا پائے ہوئے ہے۔ بھاسکر نے کہا کہ اگرچہ یہ شاستر میں لکھا ہے لیکن محض غلط ہے۔ اس نے کہا کہ زمین ہوا میں ہمارے معبود حقیقی کے ہاتھ میں معلق ہے۔ شاستر میں لکھا ہے کہ اقلیم جمبو میں جو سمیرو پہاڑ ہے اس کے پیچھے آفتاب چھپ جاتا ہے۔ اس وقت رات ہو جاتی ہے۔ اس کو مہاراج بھاسکر نے غلط کہا اور فرمایا کہ یہ بات غلط ہے۔\n\nغرض کہ اس طور پر اس کامل مہندس نے بہت سی غلطیاں نکالیں اور ان کی کتاب بہت مشہور و معروف سدھانت شرومنی ہے۔ یہ کتاب حساب میں مسمی نیلاوتی اپنے لڑکے کے واسطے اس نے تصنیف کی تھی اور یہ کتاب بہت مفید ہے اور بہت مشہور کتاب بیج گنت علم ریاضی میں نہایت عمدہ ہے اور اس میں جبر و مقابلہ ایسے اچھے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اہل عرب کے جبر و مقابلے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ خصوصاً جہاں کہ بھاسکر مہاراج نے مقادیر غیر منقطع کا بیان کیا ہے، وہ واقعی بہت خوب ہے اور اس سے اس کی فضیلت اور قابلیت بخوبی عیاں ہوتی ہے۔ وفات کا سنہ اس مہندس اور حکیم اکمل کا معلوم نہیں۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DB%81%D9%86%D8%AF%D8%B3_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B3%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ذکر میرا اگر آ جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذکر میرا اگر آ جاتا ہے\nسن کے وہ صاف اڑا جاتا ہے\n\nغم ترا حصہ ہے میرا لیکن\nدل چرا کر اسے کھا جاتا ہے\n\nکیا نزاکت ہے کہ آپ آئنہ میں\nعکس کے ساتھ کھنچا جاتا ہے\n\nناز سے کھینچ نہ مجھ پر تلوار\nغیر مشتاق ہوا جاتا ہے\n\nحسرتیں دل کی مٹی جاتی ہیں\nقافلہ ہے کہ لٹا جاتا ہے\n\nراہ میں گر نہ پڑے خط یا رب\nنامہ بر مثل ہوا جاتا ہے\n\nداغؔ کو دیکھ کے بولے یہ شخص\nآپ ہی آپ جلا جاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیں\nغیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دُور نہیں\n\nوعدۂ سیرِ گلستاں ہے، خوشا طالعِ شوق\nمژدۂ قتل مقدّر ہے جو مذکور نہیں\n\nشاہدِ ہستیِ مطلق کی کمر ہے عالَم\nلوگ کہتے ہیں کہ “ہے” پر ہمیں منظور نہیں\n\nقطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن\nہم کو تقلیدِ تُنک ظرفیِ منصور نہیں\n\nحسرت! اے ذوقِ خرابی، کہ وہ طاقت نہ رہی\nعشقِ پُر عربَدہ کی گوں تنِ رنجور نہیں\n\nظلم کر ظلم! اگر لطف دریغ آتا ہو\nتُو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں\n\nمیں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمھیں\nکس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ “ہم حور نہیں”\n\nپیٹھ محراب کی قبلے کی طرف رہتی ہے\nمحوِ نسبت ہیں، تکلّف ہمیں منظور نہیں\n\nصاف دُردی کشِ پیمانۂ جم ہیں ہم لوگ\nوائے! وہ بادہ کہ افشردۂ انگور نہیں\n\nہُوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالبؔ\nمیرے دعوے پہ یہ حجّت ہے کہ مشہور نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DB%81_%D8%A8%D8%AF%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ذکر ہر صبح و شام ہے تیرا", "poet_page": "مصنف:ناجی شاکر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ذکر ہر صبح و شام ہے تیرا\nورد عاشق کوں نام ہے تیرا\n\nمت کر آزاد دام زلف سیں دل\nبال باندھا غلام ہے تیرا\n\nلشکر غم نے دل سیں کوچ کیا\nجب سے اس میں مقام ہے تیرا\n\nجام مے کا پلانا ہے بے رنگ\nشوق جن کوں مدام ہے تیرا\n\nآج ناجیؔ سے رم نہ کر اے شوخ\nدیکھ مدت سیں رام ہے تیرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "رابطہ ہے مجھے شیشے سے نہ پیمانے سے", "poet_page": "مصنف:نہال سیوہاروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رابطہ ہے مجھے شیشے سے نہ پیمانے سے\nپھر وہ کیا بات ہے منسوب ہوں مے خانے سے\n\nاہل مے خانہ سلیقے سے پئیں آب حیات\nورنہ پھر موت ہے چھلکے گی جو پیمانے سے\n\nایک عالم سے جدا مصلحتیں ہیں اس کی\nکون ہر بات پہ الجھے ترے دیوانے سے\n\nخرد آشوب ہے ہر نکتۂ عرفان حیات\nاور بڑھتا ہے جنوں عقل کے بڑھ جانے سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B7%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92"} {"title": "رات", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "گیا دن ہوئی شام آئی ہے رات\nخدا نے عجب شے بنائی ہے رات\nنہ ہو رات تو دن کی پہچان کیا\nاٹھائے مزہ دن کا انسان کیا\nہوئی رات خلقت چھٹی کام سے\nخموشی سی چھائی سر شام سے\nلگے ہونے اب ہاٹ بازار بند\nزمانے کے سب کار بہوار بند\nمسافر نے دن بھر کیا ہے سفر\nسر شام منزل پہ کھولی کمر\nدرختوں کے پتے بھی چپ ہو گئے\nہوا تھم گئی پیڑ بھی سو گئے\nاندھیرا اجالے پہ غالب ہوا\nہر اک شخص راحت کا طالب ہوا\nہوئے روشن آبادیوں میں چراغ\nہوا سب کو محنت سے حاصل فراغ\nکسان اب چلا کھیت کو چھوڑ کر\nکہ گھر میں کرے چین سے شب بسر\nغریب آدمی جو کہ مزدور ہیں\nمشقت سے جن کے بدن چور ہیں\nوہ دن بھر کی محنت کے مارے ہوئے\nوہ ماندے تھکے اور ہارے ہوئے\nنہایت خوشی سے گئے اپنے گھر\nہوئے بال بچے بھی خوش دیکھ کر\nگئے بھول سب کام دھندھے کا غم\nسویرے کو اٹھیں گے اب تازہ دم\nکہاں چین یہ بادشہ کو نصیب\nکہ جس بے غمی سے ہیں سوتے غریب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "رات اس تنک مزاج سے کچھ بات بڑھ گئی", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رات اس تنک مزاج سے کچھ بات بڑھ گئی\nوہ روٹھ کر گیا تو غضب رات بڑھ گئی\n\nیہ کہیو ہم نشیں مجھے کیا کیا نہ کہہ گئے\nمیں گھٹ گیا نہ آپ کی کچھ ذات بڑھ گئی\n\nبوسے کے نام ہی پہ لگے کاٹنے زباں\nکتنی عمل سے آگے مکافات بڑھ گئی\n\nچشموں سے میرے شہر میں طوفان گریہ ہے\nنادان جانتے ہیں کہ برسات بڑھ گئی\n\nسمجھا تھا میں کمر ہی تلک زلف کا کمال\nوہ پانو سے بھی آگے کئی ہات بڑھ گئی\n\nاغیار سے نہیں ہے سروکار یار کو\nمیرے بہ رغم ان پہ عنایات بڑھ گئی\n\nبے طوریوں سے اس کی بیاںؔ میں تو کھنچ رہا\nغیروں کی اس کے ساتھ ملاقات بڑھ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%D8%B3_%D8%AA%D9%86%DA%A9_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "رات اور ریل", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "پھر چلی ہے ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئی\nنیم شب کی خامشی میں زیر لب گاتی ہوئی\n\nڈگمگاتی جھومتی سیٹی بجاتی کھیلتی\nوادی و کہسار کی ٹھنڈی ہوا کھاتی ہوئی\n\nتیز جھونکوں میں وہ چھم چھم کا سرود دل نشیں\nآندھیوں میں مینہ برسنے کی صدا آتی ہوئی\n\nجیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیت\nایک اک لے میں ہزاروں زمزمے گاتی ہوئی\n\nنونہالوں کو سناتی میٹھی میٹھی لوریاں\nنازنینوں کو سنہرے خواب دکھلاتی ہوئی\n\nٹھوکریں کھا کر لچکتی گنگناتی جھومتی\nسر خوشی میں گھنگروؤں کی تال پر گاتی ہوئی\n\nناز سے ہر موڑ پر کھاتی ہوئی سو پیچ و خم\nاک دلہن اپنی ادا سے آپ شرماتی ہوئی\n\nرات کی تاریکیوں میں جھلملاتی کانپتی\nپٹریوں پر دور تک سیماب جھلکاتی ہوئی\n\nجیسے آدھی رات کو نکلی ہو اک شاہی برات\nشادیانوں کی صدا سے وجد میں آتی ہوئی\n\nمنتشر کر کے فضا میں جا بجا چنگاریاں\nدامن موج ہوا میں پھول برساتی ہوئی\n\nتیز تر ہوتی ہوئی منزل بمنزل دم بہ دم\nرفتہ رفتہ اپنا اصلی روپ دکھلاتی ہوئی\n\nسینۂ کہسار پر چڑھتی ہوئی بے اختیار\nایک ناگن جس طرح مستی میں لہراتی ہوئی\n\nاک ستارہ ٹوٹ کر جیسے رواں ہو عرش سے\nرفعت کہسار سے میدان میں آتی ہوئی\n\nاک بگولے کی طرح بڑھتی ہوئی میدان میں\nجنگلوں میں آندھیوں کا زور دکھلاتی ہوئی\n\nرعشہ بر اندام کرتی انجم شب تاب کو\nآشیاں میں طائر وحشی کو چونکاتی ہوئی\n\nیاد آ جائے پرانے دیوتاؤں کا جلال\nان قیامت خیزیوں کے ساتھ بل کھاتی ہوئی\n\nایک رخش بے عناں کی برق رفتاری کے ساتھ\nخندقوں کو پھاندتی ٹیلوں سے کتراتی ہوئی\n\nمرغ زاروں میں دکھاتی جوئے شیریں کا خرام\nوادیوں میں ابر کے مانند منڈلاتی ہوئی\n\nاک پہاڑی پر دکھاتی آبشاروں کی جھلک\nاک بیاباں میں چراغ طور دکھلاتی ہوئی\n\nجستجو میں منزل مقصود کی دیوانہ وار\nاپنا سر دھنتی فضا میں بال بکھراتی ہوئی\n\nچھیڑتی اک وجد کے عالم میں ساز سرمدی\nغیظ کے عالم میں منہ سے آگ برساتی ہوئی\n\nرینگتی مڑتی مچلتی تلملاتی ہانپتی\nاپنے دل کی آتش پنہاں کو بھڑکاتی ہوئی\n\nخودبخود روٹھی ہوئی بپھری ہوئی بکھری ہوئی\nشور پیہم سے دل گیتی کو دھڑکاتی ہوئی\n\nپل پہ دریا کے دما دم کوندتی للکارتی\nاپنی اس طوفان انگیزی پہ اتراتی ہوئی\n\nپیش کرتی بیچ ندی میں چراغاں کا سماں\nساحلوں پر ریت کے ذروں کو چمکاتی ہوئی\n\nمنہ میں گھستی ہے سرنگوں کے یکایک دوڑ کر\nدندناتی چیختی چنگھاڑتی گاتی ہوئی\n\nآگے آگے جستجو آمیز نظریں ڈالتی\nشب کے ہیبت ناک نظاروں سے گھبراتی ہوئی\n\nایک مجرم کی طرح سہمی ہوئی سمٹی ہوئی\nایک مفلس کی طرح سردی میں تھراتی ہوئی\n\nتیزئی رفتار کے سکے جماتی جا بجا\nدشت و در میں زندگی کی لہر دوڑاتی ہوئی\n\nڈال کر گزرے مناظر پر اندھیرے کا نقاب\nاک نیا منظر نظر کے سامنے لاتی ہوئی\n\nصفحۂ دل سے مٹاتی عہد ماضی کے نقوش\nحال و مستقبل کے دل کش خواب دکھلاتی ہوئی\n\nڈالتی بے حس چٹانوں پر حقارت کی نظر\nکوہ پر ہنستی فلک کو آنکھ دکھلاتی ہوئی\n\nدامن تاریکئ شب کی اڑاتی دھجیاں\nقصر ظلمت پر مسلسل تیر برساتی ہوئی\n\nزد میں کوئی چیز آ جائے تو اس کو پیس کر\nارتقائے زندگی کے راز بتلاتی ہوئی\n\nزعم میں پیشانی صحرا پہ ٹھوکر مارتی\nپھر سبک رفتاریوں کے ناز دکھلاتی ہوئی\n\nایک سرکش فوج کی صورت علم کھولے ہوئے\nایک طوفانی گرج کے ساتھ ڈراتی ہوئی\n\nایک اک حرکت سے انداز بغاوت آشکار\nعظمت انسانیت کے زمزمے گاتی ہوئی\n\nہر قدم پر توپ کی سی گھن گرج کے ساتھ ساتھ\nگولیوں کی سنسناہٹ کی صدا آتی ہوئی\n\nوہ ہوا میں سیکڑوں جنگی دہل بجتے ہوئے\nوہ بگل کی جاں فزا آواز لہراتی ہوئی\n\nالغرض اڑتی چلی جاتی ہے بے خوف و خطر\nشاعر آتش نفس کا خون کھولاتی ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B1%DB%8C%D9%84"} {"title": "رات اور شاعر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "رات\nکیوں میری چاندنی میں پھرتا ہے تُو پریشاں\nخاموش صورتِ گُل، مانندِ بُو پریشاں\nتاروں کے موتیوں کا شاید ہے جوہری تُو\nمچھلی ہے کوئی میرے دریائے نور کی تُو\nیا تُو مری جبیں کا تارا گرا ہُوا ہے\nرفعت کو چھوڑ کر جو بستی میں جا بسا ہے\nخاموش ہو گیا ہے تارِ ربابِ ہستی\nہے میرے آئنے میں تصویرِ خوابِ ہستی\nدریا کی تہ میں چشمِ گرادب سو گئی ہے\nساحل سے لگ کے موجِ بے تاب سو گئی ہے\nبستی زمیں کی کیسی ہنگامہ آفریں ہے\nیوں سو گئی ہے جیسے آباد ہی نہیں ہے\nشاعر کا دل ہے لیکن ناآشنا سکُوں سے\nآزاد رہ گیا تُو کیونکر مرے فسوں سے؟\n\nشاعر\nمَیں ترے چاند کی کھیتی میں گُہر بوتا ہوں\nچھُپ کے انسانوں سے مانندِ سحَر روتا ہوں\nدن کی شورش میں نکلتے ہوئے گھبراتے ہیں\nعُزلتِ شب میں مرے اشک ٹپک جاتے ہیں\nمجھ میں فریاد جو پنہاں ہے، سُناؤں کس کو\nتپشِ شوق کا نظّارہ دِکھاؤں کس کو\nبرقِ ایمن مرے سینے پہ پڑی روتی ہے\nدیکھنے والی ہے جو آنکھ، کہاں سوتی ہے!\nصفَتِ شمعِ لحد مُردہ ہے محفل میری\nآہ، اے رات! بڑی دُور ہے منزل میری\nعہدِ حاضر کی ہوا راس نہیں ہے اس کو\nاپنے نقصان کا احساس نہیں ہے اس کو\nضبطِ پیغامِ محبّت سے جو گھبراتا ہوں\nتیرے تابندہ ستاروں کو سُنا جاتا ہوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1"} {"title": "رات بھر جو سامنے آنکھوں کے وہ مہ پارہ تھا", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رات بھر جو سامنے آنکھوں کے وہ مہ پارہ تھا\nغیرت مہتاب اپنا دامن نظارہ تھا\n\nبن گئے گرداب سیل اشک جائے گرد باد\nابر تر کی طرح میں جس دشت میں آوارہ تھا\n\nتو نے آنکھیں پھیر لیں یاں کام آخر ہو گیا\nطائر جاں پائے بند رشتۂ نظارہ تھا\n\nشب ترے پرتو سے لبریز لطافت تھا چمن\nہر گل شبو سے جاری نور کا فوارہ تھا\n\nمجھ کو دم لینے کی بھی فرصت نہ دنیا میں ملی\nروز مولد شادیانہ کوچ کا نقارا تھا\n\nخرمی ہوتی ہے بے دردوں کو سیر باغ میں\nہم نے جس گل پر نظر کی اک گل صد پارہ تھا\n\nخواب میں بھی یار تک ممکن نہ تھا دخل رقیب\nجن دنوں اپنا خیال اخبار کا ہرکارہ تھا\n\nشب نظر کی میں نے فرقت میں جو سوئے آسماں\nاژدہا تھی کہکشاں عقرب ہر اک سیارہ تھا\n\nاے اجل دی تو نے بار جسم سے آ کر نجات\nکب سے میری پیٹھ پر یہ خاک کا پشتارہ تھا\n\nخوف سب جاتا رہا دل سے عذاب ہجر کا\nنقد جاں دینا گناہ عشق کا کفارہ تھا\n\nکہتے ہیں مارا گیا وہ جرم تیغ ناز سے\nکوچۂ قاتل میں ناسخؔ نام جو بیچارہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "رات بھر گردش تھی ان کے پاسبانوں کی طرح", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رات بھر گردش تھی ان کے پاسبانوں کی طرح\nپانو میں چکر تھا میرے آسمانوں کی طرح\n\nدل میں ہیں لیکن انہیں دل سے غرض مطلب نہیں\nاپنے گھر میں رہتے ہیں وہ مہمانوں کی طرح\n\nدل کے دینے کا کہیں چرچا نہ کرنا دیکھنا\nلے کے دل سمجھا رہے ہیں مہربانوں کی طرح\n\nنام پر مرنے کے مرتے ہیں مگر مرتے نہیں\nکون جی سکتا ہے ہم سے سخت جانوں کی طرح\n\nدل جو کچھ کہتا ہے کرتے ہیں وہی بیخودؔ مگر\nسن لیا کرتے ہیں سب کی بے زبانوں کی طرح", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "رات جب تک مرے پہلو میں وہ دل دار نہ تھا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رات جب تک مرے پہلو میں وہ دل دار نہ تھا\nدل کو مجھ سے مجھے کچھ دل سے سروکار نہ تھا\n\nگرد اس کوچے کے کس دن یہ گناہ گار نہ تھا\nواے حسرت کہ کوئی رخنہ بہ دیوار نہ تھا\n\nکل تو بیمار کو تھا تیرے نہ بستر پہ قرار\nآج بستر تھا فقط اور وہ بیمار نہ تھا\n\nشکر اے باد فنا جوں شجر سوختہ میں\nتھا تو گلشن میں ولے قابل گل زار نہ تھا\n\nنہیں تل دھرنے کی جاگہ جو بہ افزونیٔ حسن\nدیکھا شب اس کو تو اک خال بہ رخسار نہ تھا\n\nرات کیا بات تھی بتلا ترے صدقے جاؤں\nآہیں بھرنا وہ ترا خالی از اسرار نہ تھا\n\nدل کو دھر نوک سناں پر وہ یہ بولا ہنس کے\nہم نے منصور کو دیکھا بہ سر دار نہ تھا\n\nبحث میں چشم تر و ابر کی کل تھا جو سماں\nکبھی اس شکل سے رونے کا بندھا تار نہ تھا\n\nذبح ہم سامنے ہوتے ہی ہوئے قاتل کے\nباوجودیکہ کوئی ہاتھ میں ہتھیار نہ تھا\n\nبعد مردن مرے تابوت پہ سب روتے تھے\nچشم پر آب مگر اک وہ ستم گار نہ تھا\n\nلیک کیا منہ کو چھپاتا تھا جو کہتے تھے یہ لوگ\nاس کو ظاہر میں تو مرنے کا کچھ آزار نہ تھا\n\nطبع کہہ اور غزل، ہے یہ نظیریؔ کا جواب\nریختہ یہ جو پڑھا قابل اظہار نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں\nشام اودھ کی تو بنارس کی سحر رکھتے ہیں\n\nبھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا\nتاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں\n\nڈھونڈھ لیتا میں اگر اور کسی جا ہوتے\nکیا کہوں آپ دل غیر میں گھر رکھتے ہیں\n\nاشک قابو میں نہیں راز چھپاؤں کیوں کر\nدشمنی مجھ سے مرے دیدۂ تر رکھتے ہیں\n\nکیسے بے رحم ہیں صیاد الٰہی توبہ\nموسم گل میں مجھے کاٹ کے پر رکھتے ہیں\n\nکون ہیں ہم سے سوا ناز اٹھانے والے\nسامنے آئیں جو دل اور جگر رکھتے ہیں\n\nدل تو کیا چیز ہے پتھر ہو تو پانی ہو جائے\nمیرے نالے ابھی اتنا تو اثر رکھتے ہیں\n\nچار دن کے لیے دنیا میں لڑائی کیسی\nوہ بھی کیا لوگ ہیں آپس میں شرر رکھتے ہیں\n\nحال دل یار کو محفل میں سناؤں کیوں کر\nمدعی کان ادھر اور ادھر رکھتے ہیں\n\nجلوۂ یار کسی کو نظر آتا کب ہے\nدیکھتے ہیں وہی اس کو جو نظر رکھتے ہیں\n\nعاشقوں پر ہے دکھانے کو عتاب اے جوہرؔ\nدل میں محبوب عنایت کی نظر رکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%AF%D9%86_%DA%86%DB%8C%D9%86_%DB%81%D9%85_%D8%A7%DB%92_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%82%D9%85%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رات سنسان ہے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میز چپ چاپ گھڑی بند کتابیں خاموش\nاپنے کمرے کی اداسی پہ ترس آتا ہے\nمیرا کمرہ جو مرے دل کی ہر اک دھڑکن کو\nسالہا سال سے چپ چاپ گنے جاتا ہے\nجہد ہستی کی کڑی دھوپ میں تھک جانے پر\nجس کی آغوش نے بخشا ہے مجھے ماں کا خلوص\nجس کی خاموش عنایت کی سہانی یادیں\nلوریاں بن کے مرے دل میں سما جاتی ہیں\nمیری تنہائی کے احساس کو زائل کرنے\nجس کی دیواریں مرے پاس چلی آتی ہیں\n\nسامنے طاق پہ رکھی ہوئی دو تصویریں\nاکثر اوقات مجھے پیار سے یوں تکتی ہیں\nجیسے میں دور کسی دیس کا شہزادہ ہوں\nمیرا کمرہ مرے ماضی کا حقیقی مونس\nآج ہر فکر ہر احساس سے بیگانہ ہے\nاپنے ہم راز کواڑوں کے احاطے کے عوض\nآج میں جیسے مزاروں پہ چلا آیا ہوں\nگرد آلودہ کلنڈر پہ اجنتا کے نقوش\nمیرے چہرے کی لکیروں کی طرف دیکھتے ہیں\nجیسے اک لاش کی پھیلی ہوئی بے بس آنکھیں\nاپنے مجبور عزیزوں کو تکا کرتی ہیں\n\nیہ کتابیں بھی مرا ساتھ نہیں دیتیں آج\nکیٹسؔ کی نظم ارسطوؔ کے حکیمانہ قول\nسنگ مرمر کی عمارت کی طرح ساکت ہیں\nتو ہی کچھ بات کر اے میرے دھڑکتے ہوئے دل\nتو ہی اک میرا سہارا ہے مرا مونس ہے\nتو ہی اس سرد اندھیرے میں چراغاں کر دے\nلکشمی دیوی تو مری بات نہیں سن سکتیں\nمجھ کو معلوم ہے کیا بیت چکی ہے تجھ پر\nمیرے چہرے کے سلگتے ہوئے زخموں کو بھی دیکھ\nمیری آنکھوں پہ مری فکر پہ پابندی ہے\nمیں اسے چاہوں بھی تو یاد نہیں کر سکتا\nتو اسے کھو کے مچل سکتا ہے رو سکتا ہے\nاور میں لٹ کے بھی فریاد نہیں کر سکتا\n\nاسی آئینے نے دیکھے ہیں ہمارے جھگڑے\nیہی زینہ ہے جہاں میں نے اسے چوما تھا\nان قمیضوں میں ان الجھے ہوئے رومالوں میں\nاس کے بالوں کی مہک آج بھی آسودہ ہے\nجو کبھی میری تھی انکار پہ بھی میری تھی\nاب فقط بزم تصور میں نظر آتی ہے\nرات بھر جاگ کے لکھی ہوئی تحریروں سے\nاب بھی ان آنکھوں کی تصویر ابھر آتی ہے\n\nچاندنی کھل کے نکھر آئی ہے دروازے پر\nاوس سے بھیگتے جاتے ہیں پرانے گملے\nکس قدر نرم ہے کلیوں کا سہانا سایہ\nجیسے وہ ہونٹ جنہیں پا کے بھی میں پا نہ سکا\nاے تڑپتے ہوئے دل اور سنبھل اور سنبھل\nیہ تری چاپ سے جاگ اٹھیں گی تو کیا ہوگا\n\nصبح کیا جانے کہاں ہوتی ہے کب ہوتی ہے\nجانے انسان نے کس وقت یہ نعمت پائی\nمیری قسمت میں بس اک سلسلۂ شام و سحر\nمیرے کمرے کے مقدر میں فقط تنہائی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%B3%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "رات سے آنسو مری آنکھوں میں پھر آنے لگا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رات سے آنسو مری آنکھوں میں پھر آنے لگا\nیک رمق جی تھا بدن میں سو بھی گھبرانے لگا\n\nوہ لڑکپن سے نکل کر تیغ چمکانے لگا\nخون کرنے کا خیال اب کچھ اسے آنے لگا\n\nلعل جاں بخش اس کے تھے پوشیدہ جوں آب حیات\nاب تو کوئی کوئی ان ہونٹھوں پہ مر جانے لگا\n\nحیف میں اس کے سخن پر ٹک نہ رکھا گوش کو\nیوں تو ناصح نے کہا تھا دل نہ دیوانے لگا\n\nحبس دم کے معتقد تم ہو گے شیخ شہر کے\nیہ تو البتہ کہ سن کر لعن دم کھانے لگا\n\nگرم ملنا اس گل نازک طبیعت سے نہ ہو\nچاندنی میں رات بیٹھا تھا سو مرجھانے لگا\n\nعاشقوں کی پائمالی میں اسے اصرار ہے\nیعنی وہ محشر خرام اب پاؤں پھیلانے لگا\n\nچشمک اس مہ کی سی دل کش دید میں آئی نہیں\nگو ستارہ صبح کا بھی آنکھ جھپکانے لگا\n\nکیونکر اس آئینہ رو سے میرؔ ملیے بے حجاب\nوہ تو اپنے عکس سے بھی دیکھو شرمانے لگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7"} {"title": "رات مچّھر نے کَہ دیا مجھ سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "رات مچھّر نے کہہ دیا مجھ سے\nماجرا اپنی ناتمامی کا\n\nمجھ کو دیتے ہیں ایک بُوند لہُو\nصِلہ شب بھر کی تشنہ کامی کا\n\nاور یہ بِسوہ دار، بے زحمت\nپی گیا سب لہُو اسامی کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DA%86%D9%91%DA%BE%D8%B1_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%8E%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92"} {"title": "رات واں گل کی طرح سے جسے خنداں دیکھا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رات واں گل کی طرح سے جسے خنداں دیکھا\nصبح بلبل کی روش ہمدمِ افغاں دیکھا\n\nکوئی بے جان جہاں میں نہیں جیتا لیکن\nتیرے مہجور کو جیتے ہوئے بے جاں دیکھا\n\nمیں نے کیا جانئے کس ذوق سے دی جاں دمِ قتل\nکہ بہت اس سے ستم گر کو پشیماں دیکھا\n\nنہ ہوا یہ کہ کبھی اپنے گلے پر دیکھیں\nیوں تو سو بار ترا خنجرِ براں دیکھا\n\nاس طرف کو بھی نگہ تا سرِ مژگاں آئی\nبارے کچھ کچھ اثرِ گریۂ پنہاں دیکھا\n\nپانی پانی ہوئے مرقد پہ مرے آ کے وہ جب\nشمع کو نعش پہ پروانے کی، گریاں دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "رات پردے سے ذرا منہ جو کسو کا نکلا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رات پردے سے ذرا منہ جو کسو کا نکلا\nشعلہ سمجھا تھا اسے میں پہ بھبھوکا نکلا\n\nمہر و مہ اس کی پھبن دیکھ کے حیران رہے\nجب ورق یار کی تصویر دورو کا نکلا\n\nیہ ادا دیکھ کے کتنوں کا ہوا کام تمام\nنیمچہ کل جو ٹک اس عربدہ جو کا نکلا\n\nمر گئی سرو پہ جب ہو کے تصدق قمری\nاس سے اس دم بھی نہ طوق اپنے گلو کا نکلا\n\nمصحفیؔ ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم\nتیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%B3%D9%88_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "رات پیاسا تھا میرے لوہو کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رات پیاسا تھا میرے لوہو کا\nہوں دوانہ ترے سگ کو کا\n\nشعلۂ آہ جوں توں اب مجھ کو\nفکر ہے اپنے ہر بن مو کا\n\nہے مرے یار کی مسوں کا رشک\nکشتہ ہوں سبزۂ لب جو کا\n\nبوسہ دینا مجھے نہ کر موقوف\nہے وظیفہ یہی دعا گو کا\n\nمیں نے تلوار سے ہرن مارے\nعشق کر تیری چشم و ابرو کا\n\nشور قلقل کے ہوتی تھی مانع\nریش قاضی پہ رات میں تھوکا\n\nعطر آگیں ہے باد صبح مگر\nکھل گیا پیچ زلف خوشبو کا\n\nایک دو ہوں تو سحر چشم کہوں\nکارخانہ ہے واں تو جادو کا\n\nمیرؔ ہر چند میں نے چاہا لیک\nنہ چھپا عشق طفل بد خو کا\n\nنام اس کا لیا ادھر اودھر\nاڑ گیا رنگ ہی مرے رو کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%84%D9%88%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "رات کرتا تھا وہ اک مرغ گرفتار سے بحث", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رات کرتا تھا وہ اک مرغ گرفتار سے بحث\nمیں بھی تا صبح رکھی بلبل گل زار سے بحث\n\nنو بہاراں میں وہ ہو جاوے ہے کیوں سرخ مگر\nداغ دل کو ہے مرے لالۂ کہسار سے بحث\n\nطالب علم محبت جو میں تھا طفلی میں\nتھی نت آنکھوں کی مرے حسن رخ یار سے بحث\n\nصلح کل میں مری گزرے ہے محبت کے بیچ\nنہ تو تکرار ہے کافر سے نہ دیں دار سے بحث\n\nسو زباں گو ہوئیں منہ میں ترے اے غنچۂ گل\nتجھ کو لازم نہیں کرنا مری منقار سے بحث\n\nشیوہ ہر چند کہ اپنا نہیں طالب علمی\nتو بھی موجود ہیں ہم کرنے کو دو چار سے بحث\n\nیوں ہوئی ہار گلے کا مرے وہ نرگس مست\nجوں کرے راہ میں کوئی کسی ہشیار سے بحث\n\nہوں وہ دیوانہ کہ اک شب بھی جو میں گھر میں رہوں\nرات کو صبح کروں کر در و دیوار سے بحث\n\nعقل کل نے نہیں الزام دیا اس کو حسود\nدور ہو، کر نہ عبث مصحفیؔ زار سے بحث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%A7%DA%A9_%D9%85%D8%B1%D8%BA_%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%AD%D8%AB"} {"title": "رات کی بات", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "چوڑیاں بجتی ہیں چھاگل کی صدا آتی ہے\nفرط بیتابی سے اٹھ اٹھ کے نظر بیٹھ گئی\nتھام کر آس ہر آہٹ پہ جگر بیٹھ گئی\nمیرا غم خانہ عبارت رہا تاریکی سے\nموج مہتاب کہاں خاک بہ سر بیٹھ گئی\nشبنم آلود ہوا جاتا ہے شب کا داماں\nتارے چمکے ہیں کہ اب گرد سفر بیٹھ گئی\nبھیگتی رات نہا کر مرے اشک خوں میں\nجانے کو اٹھی ہی تھی اٹھ کے مگر بیٹھ گئی\n\nاس نے دیکھا کہ مری رانی لجاتی آئی\nآنکھیں ملتی ہوئی فتنوں کو جگاتی آئی\n\nسر سے ڈھلکا ہوا آنچل شکن آلود لباس\nچھڑی آنکھوں میں مچلتی ہوئی نیندوں کی جھلک\nسو گئی تھی ذرا خود سب کو سلاتے شاید\nنیند کچی تھی کہ دی وعدے نے دل پر دستک\nچونک کر اٹھی تو دیکھا کہ ستارے بن کر\nاوج افلاک پہ ہے مانگ کی افشاں کی دمک\nشیشۂ مہ سے چھلک کر مئے تند و بے درد\nاس کے ماتھے سے چرا لیتی ہے سونے کی ڈلک\nچوڑیاں ہاتھوں میں تھامے چلی ہولے ہولے\nکر دے غمازی مبادا کہیں چھاگل کی چھنک\nسرخی ٹیکے کی جبیں پر ذرا پھیلی پھیلی\nجس طرح جام سے کچھ تھوڑی سی مے جائے چھلک\n\"زلفیں یوں چہرے پہ بکھری ہوئی مانگیں تھیں دل\nجس طرح ایک کھلونے پہ مٹیں دو بالک\"\nجس طرح غم خانے پہ پہنچی تو کچھ آیا جو خیال\nچوڑیاں چھوڑ دیں چھاگل بھی ہنسی چھانا چھنک\n\nفکر ہے آئی تو ہے نیند کی گوماتی ہے\nچوڑیاں بجتی ہیں چھاگل کی صدا آتی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "رات کیا کیا مجھے ملال نہ تھا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رات کیا کیا مجھے ملال نہ تھا\nخواب کا تو کہیں خیال نہ تھا\n\nآج کیا جانے کیا ہوا ہم کو\nکل بھی ایسا تو جی نڈھال نہ تھا\n\nبولے سب دیکھ میری جاں کاوی\nیہ تو فرہاد کا بھی حال نہ تھا\n\nجب تلک ہم نہ چاہتے تھے تجھے\nتب تک ایسا ترا جمال نہ تھا\n\nاب تو دل لگ گیا ہے کیوں کہ نہ آئیں\nپہلے کہتے تو کچھ محال نہ تھا\n\nٹل گیا دیکھ یوں ترا ابرو\nکہ گویا چرخ پر ہلال نہ تھا\n\nٹک نہ ٹھہرا مرے وہ پاس آ کر\nکچھ تماشا تھا یہ وصال نہ تھا\n\nدیکھ شب اپنے رشک لیلیٰ کو\nدنگ تھا میں تو مجھ میں حال نہ تھا\n\nسن کے بولا تمام قصۂ قیس\nعشق کا اس کو بھی کمال نہ تھا\n\nاتنا رویا لہو تو کب جرأتؔ\nابھی دامن ترا تو لال نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاں", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاں\nجو آشفتہ سری ہے مقدر اس میں قید مقام کہاں\n\nبھیگی رات ہے سونی گھڑیاں اب وہ جلوۂ عام تمام\nبندھن توڑ کے جاؤں لیکن اے دل اے ناکام کہاں\n\nاب وہ حسرت رسوا بن کر جزو حیات ہے برسوں سے\nجس سے وحشت کرتے تھے تم اب وہ خیال خام کہاں\n\nزیست کی رہ میں اب ہم بے حس تنہا سر بہ گریباں ہیں\nکچھ آلام کا ساتھ ہوا تھا وہ بھی نافرجام کہاں\n\nکرنی کرتے راہیں تکتے ہم نے عمر گنوائی ہے\nخوبی قسمت ڈھونڈ کے ہاری ہم ایسے ناکام کہاں\n\nاپنے حال کو جان کے ہم نے فقر کا دامن تھاما ہے\nجن داموں یہ دنیا ملتی اتنے ہمارے دام کہاں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D9%88%DB%81_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "رات کے رہنے کا نہ ڈر کیجیے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رات کے رہنے کا نہ ڈر کیجیے\nایک تو شب یاں بھی سحر کیجیے\n\nلوگ کہیں گے تمہیں ہرجائی ہے\nدل میں اک عالم کے نہ گھر کیجیے\n\nدیکھتے ہو میری طرف کیا میاں\nاپنی بھی صورت پہ نظر کیجیے\n\nآ ہی لیا بے خبری نے ہمیں\nکون ہے یاں کس کو خبر کیجیے\n\nغیر کو جا دیتے ہو گھر میں اگر\nمیرے تئیں شہر بدر کیجیے\n\nدیکھ نگاہیں تری کہتی ہے خلق\nایسی نگاہوں سے حذر کیجیے\n\nپھر نہیں ملنا ترا مشکل میاں\nجاں کا گر اپنی ضرر کیجیے\n\nمنزل ہستی میں بہت ہم رہے\nمصحفیؔ اب یاں سے سفر کیجیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%8C%DB%92"} {"title": "رات کے پچھلے پہر", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "شام ہی سے تھی فضا میں کسی جلتے ہوئے کپڑے کی بساند\nاور ہوا چلتی تھی جیسے\nاس کے زخمی ہوں قدم\nدیدۂ مہر نے ان جانے خطر سے مڑ کر\nجاتے جاتے بڑی حسرت سے کئی بار زمیں کو دیکھا\nلیکن اس سبز لکیر\nاس درختوں کی ہری باڑ کے پار\nکچھ نہ پایا کوئی شعلہ نہ شرار\nاور پھر رات کے تنور سے ابلا پانی\nتیرگیوں کا سیہ فوارہ\nدیکھتے دیکھتے تصویر ہر ایک چیز کی دھندلانے لگی\nدور تک کالے سمندر کی ہمکتی لہریں\nہانپتے سینوں کی مانند کراں تا کراں پھیل گئیں\nاور جب رات پڑی\nسسکیاں بن گئیں جھونکوں کی صدا\nدم بخود ہو گئے اس وقت در و بام\nجیسے آہٹ کسی طوفاں کی سنا چاہتے ہوں\nآنکھیں مل مل کے چراغوں کی لوؤں نے دیکھا\nلیکن اس سبز لکیر\nاس درختوں کی ہری باڑ کے پار\nکچھ نہ پایا کوئی شعلہ نہ شرار\nرات کے پچھلے پہر\nناگہاں نیند سے چونکی جو زمین\nاس کے ہونٹوں پہ تھی غم ناک کراہ\nکرب انگیز کراہ\nاس کے سینے پہ رواں\nبوٹ لوہے کے گمکتے ہوئے بوٹ\nجس طرح کانچ کی چادر پہ لڑکھتی ہوئی پتھر کی سلیں\nہر قدم ایک نئی چیخ جنم لیتی تھی\nخاک سے داد ستم لیتی تھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DA%86%DA%BE%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%81%D8%B1"} {"title": "رات گزرے ہے مجھے نزع میں روتے روتے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رات گزرے ہے مجھے نزع میں روتے روتے\nآنکھیں پھر جائیں گی اب صبح کے ہوتے ہوتے\n\nکھول کر آنکھ اڑا دید جہاں کا غافل\nخواب ہو جائے گا پھر جاگنا سوتے سوتے\n\nداغ اگتے رہے دل میں مری نومیدی سے\nہارا میں تخم تمنا کو بھی بوتے بوتے\n\nجی چلا تھا کہ ترے ہونٹ مجھے یاد آئے\nلعل پائیں ہیں میں اس جی ہی کے کھوتے کھوتے\n\nجم گیا خوں کف قاتل پہ طرح میرؔ زبس\nان نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%D8%B2%D8%B9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88%D8%AA%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%AA%DB%92"} {"title": "رات یاد نگہ یار نے سونے نہ دیا", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رات یاد نگہ یار نے سونے نہ دیا\nشادئ وعدۂ دل دار نے سونے نہ دیا\n\nہو گئی صبح در خانہ پہ بیٹھے بیٹھے\nفتنۂ چشم فسوں کار نے سونے نہ دیا\n\nشب وہ بے کل رہے کاکل میں پھنسا کر اس کو\nشور و فریاد دل زار نے سونے نہ دیا\n\nتھا شب ہجر میں اک خون کا دریا جاری\nایک پل دیدۂ خوں بار نے سونے نہ دیا\n\nرات بھر خون جگر ہم نے کیا ہے عارفؔ\nفکر رنگینیٔ اشعار نے سونے نہ دیا\n\nاس تن زار پہ ایک بار گراں ہے یہ بھی\nیار کے سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا\n\nاب تو کر دیویں رہا وہ مجھے شاید کہ انہیں\nمیری زنجیر کی جھنکار نے سونے نہ دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DA%AF%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "راحت نہ مل سکی مجھے مے خانہ چھوڑ کر", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راحت نہ مل سکی مجھے مے خانہ چھوڑ کر\nگردش میں ہوں میں گردش پیمانہ چھوڑ کر\n\nخم میں سبو میں جام میں نیت لگی رہی\nمے خانے ہی میں ہم رہے مے خانہ چھوڑ کر\n\nآنکھوں کو چھوڑ جاؤں الٰہی میں کیا کروں\nہٹتی نہیں نظر رخ جانانہ چھوڑ کر\n\nآتا ہے جی میں ساقئ مہ وش پہ بار بار\nلب چوم لوں ترا لب پیمانہ چھوڑ کر\n\nہوتی کہاں ہے دل سے جدا دل کی آرزو\nجاتا کہاں ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر\n\nدو گھونٹ نے بڑھا دیے رندوں کے حوصلے\nمینا و خم پہ جھک پڑے پیمانہ چھوڑ کر\n\nپھر بوئے زلف یار نے آ کر ستم کیا\nپھر چل دیا مجھے دل دیوانہ چھوڑ کر\n\nیاد آئی کس کی آنکھ کہ رند اٹھ کھڑے ہوئے\nپیمانہ توڑ کر مے و مے خانہ چھوڑ کر\n\nدنیا میں عافیت کی جگہ ہے یہی جلیلؔ\nجانا کہیں نہ گوشۂ مے خانہ چھوڑ کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84_%D8%B3%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "راحت کہاں نصیب تھی جو اب کہیں نہیں", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راحت کہاں نصیب تھی جو اب کہیں نہیں\nوہ آسماں نہیں ہے کہ اب وہ زمیں نہیں\n\nہو جوش صدق دل میں تو راحت بغل میں ہو\nقائم یہ آسمان رہے یا زمیں نہیں\n\nحب وطن کو ہمت مردانہ چاہیئے\nدرکار آہ سینۂ اندوہ گیں نہیں\n\nخون دل و جگر سے اسے سینچ اے عزیز\nکشت وطن ہے یہ کوئی کشت جویں نہیں\n\nحق گوئی کی صدا تھی نہ رکنی نہ رک سکی\nکب وار کی سنانیں گلوں میں چبھیں نہیں\n\nداغ غم وطن ہے نشان عزیز خلق\nدل پر نہ جس کا نقش ہو یہ وہ نگیں نہیں\n\nجنگ وطن میں صدق کے ہتھیار کا ہے کام\nدرکار اس میں اسلحۂ آہنیں نہیں\n\nگھر بار تیرا پر تو کسی چیز کو نہ چھیڑ\nیہ بات تو حریفوں کی کچھ دل نشیں نہیں\n\nجس بات پر عزیز اڑے ہیں اڑے رہیں\nکہنے دیں ان کو اونچے گلے سے نہیں نہیں\n\nکیا جانے دل جگر کو مرے جو یہ کہہ گیا\nدامن بھی تار تار نہیں آستیں نہیں\n\nمعبود ہے وطن ہوں پرستار اسی کا میں\nدیر و حرم میں جو جھکے یہ وہ جبیں نہیں\n\nکیفیؔ اسی سے خیریت ہند میں ہے دیر\nحب وطن کا جوش کہیں ہے کہیں نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "راز الفت کے عیاں رات کو سارے ہوتے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راز الفت کے عیاں رات کو سارے ہوتے\nہم کئی بار انہیں گھبرا کے پکارے ہوتے\n\nشعلۂ حسن کو روکا ہے نقاب رخ نے\nابھی موتی ترے کانوں کے شرارے ہوتے\n\nجانتے تھے کہ اتارو گے لحد میں ہم کو\nمیلے کپڑے ابھی تم نے نہ اتارے ہوتے\n\nمیرے مرنے کے رہے منتظر احسان کیا\nکیوں سہی آپ نے تکلیف سدھارے ہوتے\n\nسامنے میرے رقیبوں کو دکھائے ابرو\nآپ نے اس سے تو خنجر مجھے مارے ہوتے\n\nساتھ آہوں کے شب غم میں جو دل اڑ جاتا\nآبلے اوج یہ پاتے کہ ستارے ہوتے\n\nدور سے بھی نہ ہوا یار کا دیدار نصیب\nخیر باتیں نہ ہوئی تھیں تو اشارے ہوتے\n\nعشق بازی نہ رہی دل جو گیا واہ رشیدؔ\nدم نکل جاتا پہ ہمت تو نہ ہارے ہوتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92"} {"title": "راز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہے\nسب سے پہلے دل شاعر پہ عیاں ہوتا ہے\n\nسخت خوں ریز جب آشوب جہاں ہوتا ہے\nنہیں معلوم یہ انسان کہاں ہوتا ہے\n\nجب کوئی حادثۂ کون و مکاں ہوتا ہے\nذرہ ذرہ میری جانب نگراں ہوتا ہے\n\nجو نظر کردۂ صاحب نظراں ہوتا ہے\nاسی دیوانے کے قدموں پہ جہاں ہوتا ہے\n\nجب کوئی عشق میں برباد جہاں ہوتا ہے\nمجھ کو محسوس خود اپنا ہی زیاں ہوتا ہے\n\nمتزلزل ہے ادب گاہ محبت کی زمیں\nکوئی دیکھے تو یہ ہنگامہ کہاں ہوتا ہے\n\nکہیں ایسا تو نہیں وہ بھی ہو کوئی آزار\nتجھ کو جس چیز پہ راحت کا گماں ہوتا ہے\n\nدل غنی ہو تو ہر اک رنج بھی دل کی راحت\nذہن مفلس ہو تو ہر سود زیاں ہوتا ہے\n\nامتحاں گاہ محبت میں نہ رکھے وہ قدم\nموت کے نام سے جس کو خفقاں ہوتا ہے\n\nیہی وہ منزل دشوار ہے جس منزل میں\nختم ہر مرحلۂ سود و زیاں ہوتا ہے\n\nہر قدم معرکۂ کرب و بلا ہے درپیش\nہر نفس سانحۂ مرگ جواں ہوتا ہے\n\nناز جس خاک وطن پر تھا مجھے آہ جگرؔ\nاسی جنت پہ جہنم کا گماں ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%82_%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "راز دل دوست کو سنا بیٹھے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راز دل دوست کو سنا بیٹھے\nمفت میں مدعی بنا بیٹھے\n\nانجمن ہے تری طلسم رشک\nآشنا ہیں جدا جدا بیٹھے\n\nکثرت سجدہ سے پشیماں ہیں\nکہ ترا نقش پا مٹا بیٹھے\n\nکل جو تاج و حشم کو چھوڑ اٹھے\nآج وہ تیرے در پہ آ بیٹھے\n\nکی ہے آخر کو ناشتا شکنی\nداغ پر داغ ہم تو کھا بیٹھے\n\nطرز ساقی سے دیر کے سب لوگ\nکر رہے ہیں خدا خدا بیٹھے\n\nشاخ گل کی نزاکتوں سے ڈرے\nبار تھے مشت پر اڑا بیٹھے\n\nشکوہ عاشق کشی کا فرض نہ تھا\nیاد یہ کیا انہیں دلا بیٹھے\n\nدرد سر تھی دعا محبت میں\nہاتھ ہم جان سے اٹھا بیٹھے\n\nاے قیامت تو اٹھ کے پوچھ مزاج\nہیں وہ کچھ آپ ہی خفا بیٹھے\n\nروئے اتنے کہ خوں ہوئی امید\nخود جہاز اپنا ہم بہا بیٹھے\n\nبے تکلف مقام الفت ہے\nداغ اٹھے کہ آبلہ بیٹھے\n\nآسماں ڈھ پڑا اٹھے فتنے\nجس جگہ لے کے مدعا بیٹھے\n\nرسم تعظیم عشق تو دیکھو\nدرد اٹھا کہ جی مرا بیٹھے\n\nاے قلقؔ تم سا بد دماغ ہے کون\nچرخ کی ضد پہ گھر لٹا بیٹھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92"} {"title": "راز دل لاتے ہیں زباں تک ہم", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راز دل لاتے ہیں زباں تک ہم\nدکھ بھریں اے خدا کہاں تک ہم\n\nاور وہ ہم سے کھنچتے جاتے ہیں\nمنتیں کرتے ہیں جہاں تک ہم\n\nنہ اڑا باغباں کہ گلشن دل\nاور ہیں آمد خزاں تک ہم\n\nآپ کے لطف نے تو قہر کیا\nخوب تھے جور آسماں تک ہم\n\nآسماں تک گیا ہے سیل سرشک\nدل کو رویا کریں کہاں تک ہم\n\nان کا آنا بھی اب نہیں منظور\nجان سے تنگ ہیں یہاں تک ہم\n\nتیرا پیغام بھی سنا دیں گے\nاے حسنؔ پہنچیں تو وہاں تک ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%DB%81%D9%85"} {"title": "راز عشق اظہار کے قابل نہیں", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راز عشق اظہار کے قابل نہیں\nجرم یہ اقرار کے قابل نہیں\n\nآنکھ پر خوں شق جگر دل داغ دار\nکوئی نذر یار کے قابل نہیں\n\nدید کے قابل حسیں تو ہیں بہت\nہر نظر دیدار کے قابل نہیں\n\nدے رہے ہیں مے وہ اپنے ہاتھ سے\nاب یہ شے انکار کے قابل نہیں\n\nجان دینے کی اجازت دیجیے\nسر مرا سرکار کے قابل نہیں\n\nچھوڑ بھی گلشن کو اے نرگس کہیں\nیہ ہوا بیمار کے قابل نہیں\n\nشاعری کو طبع رنگیں چاہیئے\nہر زمیں گل زار کے قابل نہیں\n\nخامشی میری یہ کہتی ہے جلیلؔ\nدرد دل اظہار کے قابل نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A7%D8%B8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچا\nکیا ایک بھی ہمارا خط یار تک نہ پہنچا\n\nاللہ رے نا توانی جب شدت قلق میں\nبالیں سے سر اٹھایا دیوار تک نہ پہنچا\n\nروتے تو رحم آتا سو اس کے روبرو تو\nاک قطرہ خوں بھی چشم خوں بار تک نہ پہنچا\n\nعاشق سے مت بیاں کر قتل عدو کا مژدہ\nپیغام مرگ ہے یہ بیمار تک نہ پہنچا\n\nبے بخت رنگ خوبی کس کام کا کہ میں تو\nتھا گل ولے کسی کی دستار تک نہ پہنچا\n\nمفت اول سخن میں عاشق نے جان دے دی\nقاصد بیان تیرا اقرار تک نہ پہنچا\n\nتھی خار راہ تیری مژگاں کی یاد پھر شب\nتا صبح خواب چشم بیدار تک نہ پہنچا\n\nبخت رسا عدو کے جو چاہے سو کہے اب\nیک بار یار مجھ تک میں یار تک نہ پہنچا\n\nغیروں سے اس نے ہرگز چھوڑی نہ ہاتھاپائی\nجب تک اجل کا صدمہ دو چار تک نہ پہنچا\n\nمومنؔ اسی نے مجھ سے دی برتری کسی کو\nجو پست فہم میرے اشعار تک نہ پہنچا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%A9_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7"} {"title": "راز چشم مے گوں ہے کیف مدعا میرا", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "راز چشم مے گوں ہے کیف مدعا میرا\nغیر کی نظر سے ہے دور میکدہ میرا\n\nواسطے کی خوبی نے سہل منزلیں کر دیں\nحسن عشق کا رہبر عشق رہنما میرا\n\nکر دیا مجھے بے خود ان کی بے نیازی نے\nکہہ رہا ہوں خود ان سے دل سنبھالنا میرا\n\nہائے خوف بدنامی وائے فکر ناکامی\nبے وفا کے ہاتھوں میں حاصل وفا میرا\n\nلطف خلوت و جلوت ہم نہ پا سکے لیکن\nدھوم ہر طرف ان کی ذکر جا بہ جا میرا\n\nطرز والہانہ کی داد کب ملی مجھ کو\nناز دوست کب نکلا صورت آشنا میرا\n\nسوچنے لگے گی کچھ تیری خوش نگاہی بھی\nرائیگاں نہ جائے گا یوں ہی دیکھنا میرا\n\nمیں نے جب کبھی دیکھا سر جھکا لیا تو نے\nتو نے جب کبھی دیکھا دل تڑپ گیا میرا\n\nعشرت حجاب از خود چارہ ساز دل کیا ہو\nساز ہو جب اے ظالم سوز آشنا میرا\n\nمیری خستہ حالی نے سعیٔ خود شناسی کی\nان کی خود نمائی نے جب کیا گلہ میرا\n\nہے جو حضرت منظورؔ اعتبار ایں و آں\nاذن بے خودی لے کر پوچھئے پتا میرا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%85%DB%92_%DA%AF%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%81_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "راس آیا ہے مجھے وحشت میں مر جانا مرا", "poet_page": "مصنف:رسا رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راس آیا ہے مجھے وحشت میں مر جانا مرا\nوہ مجھے روئے یہ کہہ کر ہائے دیوانا مرا\n\nغیر کو ساقی نے جب بھر کر دیا جام شراب\nآنسوؤں سے ہو گیا لبریز پیمانا مرا\n\nمیرے رونے پر وہ ان کا مسکرانا بار بار\nاور بلائیں لے کے وہ قدموں پہ گر جانا مرا\n\nحضرت ناصح کی باتیں میں سمجھتا ہی نہیں\nنا سمجھ ہیں دل لگی سمجھے ہیں سمجھانا مرا\n\nاے رساؔ وہ بھی شریک محفل ماتم ہوئے\nخضر بھی مرتے ہیں جس پر وہ ہے مر جانا مرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%B3_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%B1%D8%A7"} {"title": "راست اگر سرو سی قامت کرے", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راست اگر سرو سی قامت کرے\nیار کی آنکھوں میں قیامت کرے\n\nپانی ہووے آرسی اس مکھ کو دیکھ\nزہرہ اسے کیا کہ اقامت کرے\n\nطور مری عقل و خرد سے ہے دور\nمجھ کو سبی خلق ملامت کرے\n\nچھب ہوئے جس شخص کو تجھ ماہ سی\nسرو قداں بیچ امامت کرے\n\nدہر میں فائزؔ سا نہیں ایک تن\nعشق کے قانون میں قیامت کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D8%B3%DB%8C_%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "راضی ٹک آپ کو رضا پر رکھیے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "راضی ٹک آپ کو رضا پر رکھیے\nمائل دل کو تنک قضا پر رکھیے\nبندوں سے تو کچھ کام نہ نکلا اے میرؔ\nسب کچھ موقوف اب خدا پر رکھیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D8%B6%DB%8C_%D9%B9%DA%A9_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D8%B6%D8%A7_%D9%BE%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92"} {"title": "رام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "لبریز ہے شرابِ حقیقت سے جامِ ہند\nسب فلسفی ہیں خطّۂ مغرب کے رامِ ہند\n\nیہ ہندیوں کے فکرِ فلک رس کا ہے اثر\nرفعت میں آسماں سے بھی اُونچا ہے بامِ ہند\n\nاس دیس میں ہوئے ہیں ہزاروں مَلَک سرشت\nمشہور جن کے دَم سے ہے دُنیا میں نامِ ہند\n\nہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز\nاہلِ نظر سمجھتے ہیں اس کو امامِ ہند\n\nاعجاز اُس چراغِ ہدایت کا ہے یہی\nروشن تر از سحَر ہے زمانے میں شامِ ہند\n\nتلوار کا دھنی تھا، شجاعت میں فرد تھا\nپاکیزگی میں، جوشِ محبّت میں فرد تھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D9%85"} {"title": "رام کھلاون", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "خالی بوتلیں، خالی ڈبے", "year": "1950", "text_ur": "کھٹمل مارنے کے بعد میں ٹرنک میں پرانے کاغذات دیکھ رہا تھا کہ سعید بھائی جان کی تصویر مل گئی۔ میز پر ایک خالی فریم پڑا تھا۔۔۔ میں نے اس تصویر سے اس کو پر کردیا اور کرسی پر بیٹھ کر دھوبی کا انتظارکرنے لگا۔\n\nہر اتوار کو مجھے اسی طرح انتظار کرنا پڑتا تھا کیونکہ ہفتے کی شام کو میرے دھلے ہوئے کپڑوں کا اسٹاک ختم ہو جاتا تھا۔۔۔ مجھے اسٹاک تو نہیں کہنا چاہیے اس لیے کہ مفلسی کے اس زمانے میں میرے صرف اتنے کپڑے تھے جو بمشکل چھ سات دن تک میری وضعداری قائم رکھ سکتے تھے۔\n\nمیری شادی کی بات چیت ہورہی تھی اور اس سلسلے میں پچھلے دو تین اتواروں سے میں ماہم جارہا تھا۔ دھوبی شریف آدمی تھا۔ یعنی دھلائی نہ ملنے کے باوجودہر اتوار کو باقاعدگی کے ساتھ پورے دس بجے میرےکپڑے لے آتا تھا، لیکن پھر بھی مجھے کھٹکا تھا کہ ایسا نہ ہو میری نادہندگی سے تنگ آ کر کسی روز میرے کپڑے چور بازار میں فروخت کردے اورمجھے اپنی شادی کی بات چیت میں بغیر کپڑوں کے حصہ لینا پڑے جو کہ ظاہر ہے بہت ہی معیوب بات ہوتی۔\n\nکھولی میں مرے ہوئے کھٹملوں کی نہایت ہی مکروہ بو پھیلی ہوئی تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اسے کس طرح دباؤں کہ دھوبی آگیا، ’’ساب سلام۔‘‘ کرکے اس نے اپنی گٹھری کھولی اور میرے گنتی کے کپڑے میز پر رکھ دیے۔ ایسا کرتے ہوئے اس کی نظر سعید بھائی جان کی تصویر پر پڑی۔ ایک دم چونک کر اس نے اس کو غور سے دیکھنا شروع کردیا۔ اور ایک عجیب اور غریب آواز حلق سے نکالی، ’’ہے ہے ہے ہیں؟‘‘\n\nمیں نے اس سے پوچھا، ’’کیا بات ہے دھوبی؟‘‘\n\nدھوبی کی نظریں اس تصویر پر جمی رہیں، ’’یہ تو ساعیدشالیم بالشٹر ہے؟‘‘\n\n’’کون؟‘‘\n\nدھوبی نے میری طرف دیکھا اور بڑے وثوق سے کہا، ’’ساعیدشالیم بالشٹر۔‘‘\n\n’’تم جانتے ہو انھیں؟‘‘\n\nدھوبی نے زور سے سر ہلایا، ’’ہاں۔۔۔ دو بھائی ہوتا۔۔۔ ادھر کولابا میں ان کا کوٹھی ہوتا۔۔۔ ساعیدشالیم بالشٹر۔۔۔ میں ان کا کپڑا دھوتا ہوتا۔‘‘\n\nمیں نے سوچا یہ دو برس پہلے کی بات ہوگی کیونکہ سعید حسن اور محمد حسن بھائی جان نے فجی آئی لینڈ جانے سے پہلے تقریباً ایک برس بمبئی میں پریکٹس کی تھی۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا، ’’دو برس پہلے کی بات کرتے ہوتم؟‘‘\n\nدھوبی نے زور سے سرہلایا، ’’ہاں۔۔۔ ساعیدشالیم بالشٹر جب گیا تو ہم کو ایک پگڑی دیا۔۔۔ ایک دھوتی دیا۔۔۔ ایک کرتہ دیا۔۔۔ نیا۔۔۔ بہت اچھا لوگ ہوتا۔۔۔ ایک کا داڑھی ہوتا۔۔۔ یہ بڑا۔‘‘ اس نے ہاتھ سے داڑھی کی لمبائی بتائی اور سعید بھائی جان کی تصویر کی طرف اشارہ کرکے کہا، ’’یہ چھوٹا ہوتا۔۔۔ اس کا تین باوا لوگ ہوتا۔۔۔ دو لڑکا، ایک لڑکی۔۔۔ ہمارے سنگ بہت کھیلتا ہوتا۔۔۔ کولابے میں کوٹھی ہوتا۔۔۔ بہت بڑا۔۔۔۔۔۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’دھوبی یہ میرے بھائی ہیں۔‘‘ دھوبی نے حلق سے عجیب و غریب آواز نکالی، ’’ہے ہے ہے ہیں۔۔۔؟ ساعیدشالیم بالشٹر؟‘‘ میں نے اس کی حیرت دورکرنے کی کوشش کی اور کہا، ’’یہ تصویر سعید حسن بھائی جان کی ہے۔۔۔ داڑھی والے محمد حسن ہیں۔۔۔ ہم سب سے بڑے۔‘‘\n\nدھوبی نے میری طرف گھور کے دیکھا، پھر میری کھولی کی غلاظت کا جائزہ لیا۔۔۔ ایک چھوٹی سی کوٹھری تھی بجلی کی لائٹ سے محروم۔ ایک میز تھا۔ ایک کرسی اور ایک ٹاٹ کی کوٹ جس میں ہزارہا کھٹمل تھے۔ دھوبی کو یقین نہیں آتا تھا کہ میں ساعیدشالیم بالشٹر کا بھائی ہوں۔ لیکن جب میں نے اس کو ان کی بہت سی باتیں بتائیں تو اس نے سر کو عجیب طریقے سے جنبش دی اور کہا، ’’ساعیدشالیم بالشٹر کولابے میں رہتا اور تم اس کھولی میں!‘‘\n\nمیں نے بڑے فلسفیانہ انداز میں کہا، ’’دنیا کے یہی رنگ ہیں دھوبی۔۔۔ کہیں دھوپ کہیں چھاؤں۔۔۔ پانچ انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔‘‘\n\n’’ہاں ساب۔۔۔ تم بروبر کہتا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر دھوبی نے گٹھری اٹھائی اور باہر جانے لگا۔ مجھے اس کے حساب کا خیال آیا۔ جیب میں صرف آٹھ آنے تھے جو شادی کی بات چیت کے سلسلے میں ماہم تک آنے جانے کے لیے بمشکل کافی تھے۔ صرف یہ بتانے کے لیے میری نیت صاف ہے میں نے اسے ٹھہرایا اور کہا، ’’دھوبی۔۔۔ کپڑوں کا حساب یاد رکھنا۔۔۔ خدا معلوم کتنی دھلائیاں ہو چکی ہیں۔‘‘\n\nدھوبی نے اپنی دھوتی کا لانگ درست کیا اور کہا، ’’ساب ہم حساب نہیں رکھتے۔۔۔ ساعیدشالیم بالشٹر کا ایک برس کام کیا۔۔۔ جو دے دیا، لے لیا۔۔۔ ہم حساب جانت ہی نا ہیں۔‘‘ یہ کہہ وہ چلا گیا اور میں شادی کی بات چیت کے سلسلے میں ماہم جانے کے لیے تیار ہونے لگا۔بات چیت کامیاب رہی۔۔۔ میری شادی ہوگئی۔ حالات بھی بہتر ہوگئے اور میں سکینڈ پیر خان اسٹریٹ کی کھولی سے جس کا کرایہ نو روپے ماہوار تھا ،کلیئر روڈ کے ایک فلیٹ میں جس کا کرایہ پینتیس روپے ماہوار تھا، اٹھ آیا اور دھوبی کو ماہ بماہ باقاعدگی سے اس کی دھلائیوں کے دام ملنے لگے۔\n\nدھوبی خوش تھا کہ میرے حالات پہلے کی بہ نسبت بہتر ہیں چنانچہ اس نے میری بیوی سے کہا، ’’بیگم ساب۔۔۔ ساب کا بھائی ساعیدشالیم بالشٹر بہت بڑا آدمی ہوتا۔۔۔ ادھر کولابہ میں رہتا ہوتا۔۔۔ جب گیا تو ہم کو ایک پگڑی، ایک دھوتی، ایک کرتا دیا ہوتا۔۔۔ تمہارا ساب بھی ایک دن بڑا آدمی بنتا ہوتا۔‘‘\n\nمیں اپنی بیوی کو تصویر والا قصہ سنا چکا تھا اور اس کو یہ بھی بتا چکا تھا کہ مفلسی کے زمانے میں کتنی دریا دلی سے دھوبی نے میرا ساتھ دیا تھا۔۔۔ جب دے دیا، جو دے دیا،اس نے کبھی شکایت کی ہی نہ تھی۔۔۔ لیکن میری بیوی کو تھوڑے عرصے کے بعد ہی اس سے یہ شکایت پیدا ہوگئی کہ وہ حساب نہیں کرتا۔ میں نے اس سے کہا، ’’چار برس میرا کام کرتا رہا۔۔۔ اس نے کبھی حساب نہیں کیا۔‘‘ جواب یہ ملا، ’’حساب کیوں کرتا۔۔۔ ویسے دوگنے چوگنے وصول کرلیتا ہوگا۔‘‘\n\n’’وہ کیسے؟‘‘\n\n’’آپ نہیں جانتے۔۔۔ جن کے گھروں میں بیویاں نہیں ہوتیں ان کو ایسے لوگ بے وقوف بنانا جانتے ہیں۔‘‘\n\nقریب قریب ہر مہینے دھوبی سے میری بیوی کی چخ چخ ہوتی تھی کہ وہ کپڑوں کا حساب الگ اپنے پاس کیوں نہیں رکھتا۔ وہ بڑی سادگی سے صرف اتنا کہہ دیتا، ’’بیگم ساب۔۔۔ ہم حساب جانت نا ہیں۔ تم جھوٹ نا ہیں بولے گا۔۔۔ساعیدشالیم بالشٹر جو تمہارے ساب کا بھائی ہوتا۔۔۔ ہم ایک برس اس کا کام کیا ہوتا۔۔۔ بیگم ساب بولتا دھوبی تمہارا اتنا پیسہ ہوا۔۔۔ ہم بولتا، ٹھیک ہے۔‘‘\n\nایک مہینے ڈھائی سو کپڑے دھلائی میں گئے۔ میری بیوی نے آزمانے کے لیے اس سے کہا، ’’دھوبی اس مہینے ساٹھ کپڑے ہوئے۔‘‘ اس نے کہا، ’’ٹھیک ہے۔۔۔ بیگم ساب، تم جھوٹ نا ہیں بولے گا۔‘‘ میری بیوی نے ساٹھ کپڑوں کے حساب سے جب اس کو دام دیے تو اس نے ماتھے کے ساتھ روپے چھوا کر سلام کیا اور چلنے لگا۔میری بیوی نے اسے روکا، ’’ٹھیرودھوبی،ساٹھ نہیں ،ڈھائی سو کپڑے تھے۔۔۔لو اپنے باقی روپے،میں نے مذاق کیا تھا۔‘‘ دھوبی نے صرف اتنا کہا، ’’بیگم ساب تم جھوٹ ناہیں بولے گا۔‘‘ باقی کے روپےاپنے ماتھے کے ساتھ چھوا کر سلام کیا اور چل گیا۔\n\nشادی کے دو برس بعد میں دلی چلا گیا۔ ڈیڑھ سال وہاں رہا، پھر واپس بمبئی آگیا اور ماہم میں رہنے لگا۔ تین مہینے کے دوران میں ہم نے چار دھوبی تبدیل کیے کیونکہ بے حدبے ایمان اور جھگڑالو تھے۔ ہر دھلائی پر جھگڑا کھڑا ہو جاتا تھا۔ کبھی کپڑے کم نکلتے تھے، کبھی دھلائی نہایت ذلیل ہوتی تھی۔ ہمیں اپنا پرانی دھوبی یاد آنے لگا۔ ایک روز جب کہ ہم بالکل بغیر دھوبی کے رہ گئے تھے وہ اچانک آگیا اور کہنے لگا، ’’ساب کو ہم نے ایک دن بس میں دیکھا۔۔۔ ہم بولا، ایسا کیسا۔۔۔ ساب تو دلی چلا گیا تھا۔۔۔ ہم نے ادھر بائی کھلہ میں تپاس کیا۔ چھاپہ والا بولا، ادھر ماہم میں تپاس کرو۔۔۔ باجو والی چالی میں ساب کا دوست ہوتا۔۔۔ اس سے پوچھا اور آگیا۔‘‘ ہم بہت خوش ہوئے اور ہمارے کپڑوں کے دن ہنسی خوشی گزرنے لگے۔\n\nکانگریس برسر اقتدار آئی تو امتناعِ شراب کا حکم نافذ ہوگیا۔ انگریزی شراب ملتی تھی لیکن دیسی شراب کی کشید اور فروخت بالکل بند ہوگئی۔ ننانوے فی صدی دھوبی شراب کے عادی تھے۔۔۔ دن بھر پانی میں رہنے کے بعد شام کو پاؤ آدھ پاؤ شراب ان کی زندگی کا جزو بن چکی تھی۔۔۔ ہمارا دھوبی بیمار ہوگیا۔ اس بیماری کا علاج اس نے اس زہریلی شراب سے کیا جو ناجائز طور پر کشید کرکے چھپے چوری بکتی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے معدے میں خطرناک گڑ بڑ پیدا ہوگئی جس نے اس کو موت کے دروازے تک پہنچا دیا۔\n\nمیں بے حد مصروف تھا۔ صبح چھ بجے گھر سے نکلتا تھا اور رات کو دس ساڑھے دس بجے لوٹتا تھا۔ میری بیوی کو جب اس کی خطرناک بیماری کا علم ہوا تو وہ ٹیکسی لے کر اس کے گھر گئی۔ نوکر اور شوفر کی مدد سے اس کو گاڑی میں بٹھایا اور ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ ڈاکٹر بہت متاثر ہوا چنانچہ اس نے فیس لینے سے انکار کردیا۔ لیکن میری بیوی نے کہا، ’’ڈاکٹر صاحب، آپ سارا ثواب حاصل نہیں کرسکتے۔‘‘ ڈاکٹر مسکرایا، ’’تو آدھا آدھا کرلیجیے۔‘‘ ڈاکٹر نے آدھی فیس قبول کرلی۔\n\nدھوبی کا باقاعدہ علاج ہوا۔ معدے کی تکلیف چند انجکشنوں ہی سے دور ہوگئی۔ نقاہت تھی، وہ آہستہ آہستہ مقوی دواؤں کے استعمال سے ختم ہوگئی۔ چند مہینوں کے بعد وہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھا اور اٹھتے بیٹھتے ہمیں دعائیں دیتا تھا، ’’بھگوان ساب کو ساعیدشالیم بالشٹر بنائے۔۔۔ ادھر کولابے میں ساب رہنے کو جائے۔۔۔ باوا لوگ ہیں۔۔۔ بہت بہت پیسہ ہو۔۔۔ بیگم ساب دھوبی کو لینے آیا۔۔۔ موٹر میں۔۔۔ ادھر کِلے (قلعے) میں بہت بڑے ڈاکٹر کے پاس لے گیا جس کے پاس میم ہوتا۔۔۔ بھگوان بیگم ساب کو خُس رکھے۔۔۔‘‘\n\nکئی برس گزر گئے۔ اس دوران میں کئی سیاسی انقلاب آئے۔ دھوبی بلاناغہ اتوار کو آتا رہا۔ اس کی صحت اب بہت اچھی تھی۔ اتنا عرصہ گزرنے پر بھی وہ ہمارا سلوک نہیں بھولا تھا۔ ہمیشہ دعائیں دیتا تھا۔ شراب قطعی طور پر چھوٹ چکی تھی۔ شروع میں وہ کبھی کبھی اسے یاد کیا کرتا تھا۔ پر اب نام تک نہ لیتا تھا۔ سارا دن پانی میں رہنے کے بعد تھکن دور کرنے کے لیے اب اسے دارو کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔\n\nحالات بہت زیادہ بگڑ گئے تھے۔ بٹوارہ ہوا تو ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے۔ ہندوؤں کے علاقوں میں مسلمان اور مسلمانوں کے علاقوں میں ہندو دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں ہلاک کیے جانے لگے۔ میری بیوی لاہور چلی گئی۔ جب حالات اور زیادہ خراب ہوئے تو میں نے دھوبی سے کہا، ’’دیکھو دھوبی اب تم کام بند کردو۔۔۔ یہ مسلمانوں کا محلّہ ہے، ایسا نہ ہو کوئی تمہیں مار ڈالے۔‘‘ دھوبی مسکرایا، ’’ساب اپن کو کوئی نہیں مارتا۔‘‘ ہمارے محلے میں کئی وارداتیں ہوئیں مگر دھوبی برابر آتا رہا۔\n\nایک اتوار میں گھر میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ کھیلوں کے صفحےپر کرکٹ کے میچوں کا اسکور درج تھا اور پہلے صفحات پر فسادات کے شکار ہندوؤں اور مسلمانوں کے اعداد و شمار۔۔۔ میں ان دونوں کی خوفناک مماثلت پر غور کررہا تھا کہ دھوبی آگیا۔ کاپی نکال کر میں نے کپڑوں کی پڑتال شروع کردی تو دھوبی نے ہنس ہنس کے باتیں شروع کردیں۔ ساعیدشالیم بالشٹر بہت اچھا آدمی ہوتا۔۔۔ یہاں سے جاتا تو ہم کو ایک پگڑی، ایک دھوتی، ایک کرتہ دیا ہوتا۔۔۔۔۔۔ تمہارا بیگم ساب بھی ایک دم اچھا آدمی ہوتا۔۔۔\n\nباہر گام گیا ہے نا۔۔۔؟ اپنے ملک میں۔۔۔؟ادھر کاگج لکھو تو ہمارا سلام بولو۔۔۔ موٹر لے کر آیا ہماری کھولی میں۔۔۔ ہم کو اتنا جلاب آنا ہوتا۔۔۔ ڈاکٹر نے سوئی لگایا۔۔۔ ایک دم ٹھیک ہوگیا۔۔۔ ادھر کاگج لکھو توہمارا سلام بولو۔۔۔ بولو رام کھلاون بولتا ہے، ہم کو بھی کاگج لکھو۔۔۔ ‘‘میں نے اس کی بات کاٹ کر ذرا تیزی سے کہا،’’ دھوبی۔۔۔ دارو شروع کردی؟ ‘‘دھوبی ہنسا،’’ دارو؟۔۔۔ دارو کہاں سے ملتی ہے ساب؟ ‘‘میں نے اور کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا۔ اس نے میلے کپڑوں کی گٹھری بنائی اور سلام کرکے چلا گیا۔\n\nچند دنوں میں حالات بہت ہی زیادہ خراب ہوگئے۔ لاہور سے تار پر تار آنے لگے کہ سب کچھ چھوڑو اور جلدی چلے آؤ۔ میں نے ہفتے کے روز ارادہ کرلیا کہ اتوار کو چل دوں گا۔ لیکن مجھے صبح سویرے نکل جانا تھا۔ کپڑے دھوبی کے پاس تھے۔ میں نے سوچا کرفیو سے پہلے پہلے اس کے ہاں جا کر لے آؤں، چنانچہ شام کو وکٹوریہ لے کر مہالکشمی روانہ ہوگیا۔\n\nکرفیو کے وقت میں بھی ایک گھنٹہ باقی تھا۔ اس لیے آمدورفت جاری تھیں۔ ٹریمیں چل رہی تھیں۔ میری وکٹوریہ پل کے پاس پہنچی تو ایک دم شور برپا ہوا۔ لوگ اندھا دھند بھاگنے لگے۔ ایسا معلوم ہوا جیسے سانڈوں کی لڑائی ہورہی ہے۔۔۔ ہجوم چھدرا ہوا تو دیکھا، دوربھٹیوں کے پاس بہت سے دھوبی لاٹھیاں ہاتھ میں لیے ناچ رہے ہیں اور طرح طرح کی آوازیں نکال رہے ہیں۔ مجھے ادھر ہی جانا تھا مگر وکٹوریہ والے نے انکارکردیا۔ میں نے اس کو کرایہ ادا کیا اور پیدل چل پڑا۔۔۔ جب دھوبیوں کے پاس پہنچا تو وہ مجھے دیکھ کر خاموش ہوگئے۔میں نے آگے بڑھ کر ایک دھوبی سے پوچھا، ’’رام کھلاون کہاں رہتا ہے؟‘‘ ایک دھوبی جس کے ہاتھ میں لاٹھی تھی، جھومتا ہوا اس دھوبی کے پاس آیا جس سے میں نے سوال کیاتھا، ’’کیا پوچھت ہے؟‘‘\n\n’’پوچھت ہے رام کھلاون کہاں رہتا ہے؟‘‘\n\nشراب سے دھت دھوبی نے قریب قریب میرے اوپر چڑھ کر پوچھا، ’’تم کون ہے؟‘‘\n’’میں۔۔۔؟ رام کھلاون میرا دھوبی ہے۔‘‘\n\n’’رام کھلاون تہار دھوبی ہے۔۔۔ تو کس دھوبی کا بچہ ہے۔‘‘\n\nایک چلایا، ’’ہندو دھوبی یا مسلمین دھوبی کا۔‘‘\n\nتمام دھوبی جو شراب کے نشے میں چور تھے ،مکے تانتے اور لاٹھیاں گھماتے میرے اردگرد جمع ہوگئے۔ مجھے ان کے صرف ایک سوال کا جواب دینا تھا۔ مسلمان ہوں یا ہندو۔۔۔؟ میں بے حد خوف زدہ ہوگیا۔ بھاگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ میں ان میں گھرا ہوا تھا۔ نزدیک کوئی پولیس والا بھی نہیں تھا جس کو مدد کے لیےپکارتا۔۔۔ اور کچھ سمجھ میں نہ آیا تو بے جوڑ الفاظ میں ان سے گفتگو شروع کردی۔ رام کھلاون ہندو ہے۔۔۔ ہم پوچھتا ہے وہ کدھر رہتا ہے۔۔۔ اس کی کھولی کہاں ہے۔۔۔ دس برس سے وہ ہمارا دھوبی ہے۔۔۔ بہت بیمار تھا۔۔۔ ہم نے اس کا علاج کرایا تھا۔۔۔ ہماری بیگم۔۔۔ ہماری میم صاحب یہاں موٹر لے کر آئی تھی۔۔۔ یہاں تک میں نے کہا تو مجھے اپنے اوپر بہت ترس آیا۔ دل ہی دل میں بہت خفیف ہوا کہ انسان اپنی جان بچانے کے لیے کتنی نیچی سطح پر اتر آتا ہے اس احساس نے جرأت پیدا کردی چنانچہ میں نے ان سے کہا، ’’میں مسلمین ہوں۔‘‘\n\n’’مار ڈالو۔۔۔ مار ڈالو‘‘ کا شوربلند ہوا۔ دھوبی جو کہ شراب کے نشے میں دھت تھا ایک طرف دیکھ کرچلایا، ’’ٹھہرو۔۔۔ اسے رام کھلاون مارے گا۔‘‘ میں نے پلٹ کردیکھا۔ رام کھلاون موٹا ڈنڈا ہاتھ میں لیے لڑکھڑا رہا تھا۔ اس نے میری طرف دیکھا اور مسلمانوں کو اپنی زبان میں گالیاں دینا شروع کردیں۔ ڈنڈا سر تک اٹھا کر گالیاں دیتا ہوا وہ میری طرف بڑھا۔ میں نے تحکمانہ لہجے میں کہا، ’’رام کھلاون!‘‘\n\nرام کھلاون دہاڑا، ’’چپ کر بے رام کھلاون کے۔۔۔‘‘\n\nمیری آخری امید بھی ڈوب گئی۔ جب وہ میرے قریب آپہنچا تو میں نے خشک گلے سے ہولے سے کہا، ’’مجھے پہچانتے نہیں رام کھلاون؟‘‘ رام کھلاون نے وار کرنے کے لیے ڈنڈا اٹھایا۔۔۔ ایک دم اس کی آنکھیں سکڑیں، پھر پھیلیں، پھر سکڑیں۔ ڈنڈا ہاتھ سے گرا کر اس نے قریب آکر مجھے غور سے دیکھا اور پکارا، ’’ساب!‘‘ پھر وہ اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوا ’’یہ مسلمین نہیں۔۔۔ساب ہے۔۔۔ بیگم ساب کا ساب۔۔۔ وہ موٹر لے کر آیا تھا۔۔۔ ڈاکٹر کے پاس لے گیا تھا۔۔۔ جس نے میرا جلاب ٹھیک کیا تھا۔‘‘\n\nرام کھلاون نے اپنے ساتھیوں کو بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانے۔۔۔ سب شرابی تھے۔ توتو میں میں شرع ہوگئی۔ کچھ دھوبی رام کھلاون کی طرف ہوگئے اور ہاتھا پائی پر نوبت آگئی۔ میں نے موقع غنیمت سمجھا اور وہاں سے کھسک گیا۔دوسرے روز صبح نو بجے کے قریب میرا سامان تیار تھا۔ صرف جہاز کے ٹکٹوں کا انتظار تھا جو ایک دوست بلیک مارکیٹ سے حاصل کرنے گیا تھا۔میں بہت بے قرار تھا۔ دل میں طرح طرح کے جذبات ابل رہے تھے۔ جی چاہتا تھا کہ جلدی ٹکٹ آجائیں اور میں بندرگاہ کی طرف چل دوں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اگر دیر ہوگئی تو میرا فلیٹ مجھے اپنے اندر قید کرلے گا۔\n\nدروازہ پر دستک ہوئی۔ میں نے سوچا ٹکٹ آگئے۔ دروازہ کھولا تو باہر دھوبی کھڑاتھا۔\n\n’’ساب سلام!‘‘\n\n’’سلام‘‘\n\n’’میں اندر آجاؤں؟‘‘\n\n’’آؤ‘‘\n\nوہ خاموشی سے اندر داخل ہوا۔ گٹھری کھول کر اس نے کپڑے نکال پلنگ پر رکھے۔ دھوتی سے اپنی آنکھیں پونچھیں اور گلو گیر آواز میں کہا، ’’آپ جارہے ہیں ساب؟‘‘\n\n’’ہاں!‘‘\n\nاس نے رونا شروع کردیا، ’’ساب، مجھے ماف کردو۔۔۔ یہ سب دارو کا قصور تھا۔۔۔ اور دارو۔۔۔ دارو آج کل مفت ملتی ہے۔۔۔ سیٹھ لوگ بانٹتا ہے کہ پی کر مسلمین کو مارو۔۔۔ مفت کی دارو کون چھوڑتا ہے ساب۔۔۔ ہم کو ماف کردو۔۔۔ ہم پئے لا تھا۔۔۔ ساعیدشالیم بالشٹر ہمارا بہت مہربان ہوتا۔۔۔ ہم کو ایک پگڑی، ایک دھوتی، ایک کرتا دیا ہوتا۔۔۔ تمہارا بیگم ساب ہمارا جان بچایا ہوتا۔۔۔ جلاب سے ہم مرتا ہوتا۔۔۔ وہ موٹر لے کر آتا۔ ڈاکٹر کے پاس لے جاتا۔ اتنا پیسہ خرچ کرتا۔۔۔ ملک ملک جاتا۔۔۔ بیگم ساب سے مت بولنا۔ رام کھلاون۔۔۔‘‘\n\nاس کی آواز گلے میں رندھ گئی۔ گٹھری کی چادر کاندھے پر ڈال کر چلنے لگا تو میں نے روکا، ’’ٹھہرو رام کھلاون!‘‘\n\nلیکن وہ دھوتی کا لانگ سنبھالتا تیزی سے باہر نکل گیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D9%88%D9%86"} {"title": "رامائن کا ایک سین", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نام\nراہ وفا کی منزل اول ہوئی تمام\nمنظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظام\nدامن سے اشک پونچھ کے دل سے کیا کلام\nاظہار بے کسی سے ستم ہوگا اور بھی\nدیکھا ہمیں اداس تو غم ہوگا اور بھی\nدل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نونہال\nخاموش ماں کے پاس گیا صورت خیال\nدیکھا تو ایک در میں ہے بیٹھی وہ خستہ حال\nسکتا سا ہو گیا ہے یہ ہے شدت ملال\nتن میں لہو کا نام نہیں زرد رنگ ہے\nگویا بشر نہیں کوئی تصویر سنگ ہے\nکیا جانے کس خیال میں گم تھی وہ بے گناہ\nنور نظر یہ دیدۂ حسرت سے کی نگاہ\nجنبش ہوئی لبوں کو بھری ایک سرد آہ\nلی گوشہ ہائے چشم سے اشکوں نے رخ کی راہ\nچہرہ کا رنگ حالت دل کھولنے لگا\nہر موئے تن زباں کی طرح بولنے لگا\nآخر اسیر یاس کا قفل دہن کھلا\nافسانۂ شدائد رنج و محن کھلا\nاک دفتر مظالم چرخ کہن کھلا\nوا تھا دہان زخم کہ باب سخن کھلا\nدرد دل غریب جو صرف بیاں ہوا\nخون جگر کا رنگ سخن سے عیاں ہوا\nرو کر کہا خموش کھڑے کیوں ہو میری جاں\nمیں جانتی ہوں جس لیے آئے ہو تم یہاں\nسب کی خوشی یہی ہے تو صحرا کو ہو رواں\nلیکن میں اپنے منہ سے نہ ہرگز کہوں گی ہاں\nکس طرح بن میں آنکھوں کے تارے کو بھیج دوں\nجوگی بنا کے راج دلارے کو بھیج دوں\nدنیا کا ہو گیا ہے یہ کیسا لہو سپید\nاندھا کیے ہوئے ہے زر و مال کی امید\nانجام کیا ہو کوئی نہیں جانتا یہ بھید\nسوچے بشر تو جسم ہو لرزاں مثال بید\nلکھی ہے کیا حیات ابد ان کے واسطے\nپھیلا رہے ہیں جال یہ کس دن کے واسطے\nلیتی کسی فقیر کے گھر میں اگر جنم\nہوتے نہ میری جان کو سامان یہ بہم\nڈستا نہ سانپ بن کے مجھے شوکت و حشم\nتم میرے لال تھے مجھے کس سلطنت سے کم\nمیں خوش ہوں پھونک دے کوئی اس تخت و تاج کو\nتم ہی نہیں تو آگ لگا دوں گی راج کو\nکن کن ریاضتوں سے گزارے ہیں ماہ و سال\nدیکھی تمہاری شکل جب اے میرے نونہال\nپورا ہوا جو بیاہ کا ارمان تھا کمال\nآفت یہ آئی مجھ پہ ہوئے جب سفید بال\nچھٹتی ہوں ان سے جوگ لیا جن کے واسطے\nکیا سب کیا تھا میں نے اسی دن کے واسطے\nایسے بھی نامراد بہت آئیں گے نظر\nگھر جن کے بے چراغ رہے آہ عمر بھر\nرہتا مرا بھی نخل تمنا جو بے ثمر\nیہ جائے صبر تھی کہ دعا میں نہیں اثر\nلیکن یہاں تو بن کے مقدر بگڑ گیا\nپھل پھول لا کے باغ تمنا اجڑ گیا\nسرزد ہوئے تھے مجھ سے خدا جانے کیا گناہ\nمنجدھار میں جو یوں مری کشتی ہوئی تباہ\nآتی نظر نہیں کوئی امن و اماں کی راہ\nاب یاں سے کوچ ہو تو عدم میں ملے پناہ\nتقصیر میری خالق عالم بحل کرے\nآسان مجھ غریب کی مشکل اجل کرے\nسن کر زباں سے ماں کی یہ فریاد درد خیز\nاس خستہ جاں کے دل پہ چلی غم کی تیغ تیز\nعالم یہ تھا قریب کہ آنکھیں ہوں اشک ریز\nلیکن ہزار ضبط سے رونے سے کی گریز\nسوچا یہی کہ جان سے بیکس گزر نہ جائے\nناشاد ہم کو دیکھ کے ماں اور مر نہ جائے\nپھر عرض کی یہ مادر ناشاد کے حضور\nمایوس کیوں ہیں آپ الم کا ہے کیوں وفور\nصدمہ یہ شاق عالم پیری میں ہے ضرور\nلیکن نہ دل سے کیجیے صبر و قرار دور\nشاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کی\nکچھ مصلحت اسی میں ہو پروردگار کی\nیہ جعل یہ فریب یہ سازش یہ شور و شر\nہونا جو ہے سب اس کے بہانے ہیں سر بسر\nاسباب ظاہری میں نہ ان پر کرو نظر\nکیا جانے کیا ہے پردۂ قدرت میں جلوہ گر\nخاص اس کی مصلحت کوئی پہچانتا نہیں\nمنظور کیا اسے ہے کوئی جانتا نہیں\nراحت ہو یا کہ رنج خوشی ہو کہ انتشار\nواجب ہر ایک رنگ میں ہے شکر کرد گار\nتم ہی نہیں ہو کشتہ نیرنگ روزگار\nماتم کدہ میں دہر کے لاکھوں ہیں سوگوار\nسختی سہی نہیں کہ اٹھائی کڑی نہیں\nدنیا میں کیا کسی پہ مصیبت پڑی نہیں\n\nدیکھے ہیں اس سے بڑھ کے زمانے نے انقلاب\nجن سے کہ بے گناہوں کی عمریں ہوئیں خراب\nسوز دروں سے قلب و جگر ہو گئے کباب\nپیری مٹی کسی کی کسی کا مٹا شباب\nکچھ بن نہیں پڑا جو نصیبے بگڑ گئے\nوہ بجلیاں گریں کہ بھرے گھر اجڑ گئے\nماں باپ منہ ہی دیکھتے تھے جن کا ہر گھڑی\nقائم تھیں جن کے دم سے امیدیں بڑی بڑی\nدامن پہ جن کے گرد بھی اڑ کر نہیں پڑی\nماری نہ جن کو خواب میں بھی پھول کی چھڑی\nمحروم جب وہ گل ہوئے رنگ حیات سے\nان کو جلا کے خاک کیا اپنے ہات سے\nکہتے تھے لوگ دیکھ کے ماں باپ کا ملال\nان بے کسوں کی جان کا بچنا ہے اب محال\nہے کبریا کی شان گزرتے ہی ماہ و سال\nخود دل سے درد ہجر کا مٹتا گیا خیال\nہاں کچھ دنوں تو نوحہ و ماتم ہوا کیا\nآخر کو رو کے بیٹھ رہے اور کیا کیا\nپڑتا ہے جس غریب پہ رنج و محن کا بار\nکرتا ہے اس کو صبر عطا آپ کردگار\nمایوس ہو کے ہوتے ہیں انساں گناہ گار\nیہ جانتے نہیں وہ ہے دانائے روزگار\nانسان اس کی راہ میں ثابت قدم رہے\nگردن وہی ہے امر رضا میں جو خم رہے\nاور آپ کو تو کچھ بھی نہیں رنج کا مقام\nبعد سفر وطن میں ہم آئیں گے شاد کام\nہوتے ہیں بات کرنے میں چودہ برس تمام\nقائم امید ہی سے ہے دنیا ہے جس کا نام\n\nاور یوں کہیں بھی رنج و بلا سے مفر نہیں\nکیا ہوگا دو گھڑی میں کسی کو خبر نہیں\nاکثر ریاض کرتے ہیں پھولوں پہ باغباں\nہے دن کی دھوپ رات کی شبنم انہیں گراں\nلیکن جو رنگ باغ بدلتا ہے ناگہاں\nوہ گل ہزار پردوں میں جاتے ہیں رائیگاں\nرکھتے ہیں جو عزیز انہیں اپنی جاں کی طرح\nملتے ہیں دست یاس وہ برگ خزاں کی طرح\nلیکن جو پھول کھلتے ہیں صحرا میں بے شمار\nموقوف کچھ ریاض پہ ان کی نہیں بہار\nدیکھو یہ قدرت چمن آرائے روزگار\nوہ ابر و باد و برف میں رہتے ہیں برقرار\nہوتا ہے ان پہ فضل جو رب کریم کا\nموج سموم بنتی ہے جھونکا نسیم کا\nاپنی نگاہ ہے کرم کارساز پر\nصحرا چمن بنے گا وہ ہے مہرباں اگر\nجنگل ہو یا پہاڑ سفر ہو کہ ہو حضر\nرہتا نہیں وہ حال سے بندے کے بے خبر\nاس کا کرم شریک اگر ہے تو غم نہیں\nدامان دشت دامن مادر سے کم نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B3%DB%8C%D9%86"} {"title": "راکھی", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "چلی آتی ہے اب تو ہر کہیں بازار کی راکھی\nسنہری سبز ریشم زرد اور گلنار کی راکھی\nبنی ہے گو کہ نادر خوب ہر سردار کی راکھی\nسلونوں میں عجب رنگیں ہے اس دل دار کی راکھی\nنہ پہنچے ایک گل کو یار جس گل زار کی راکھی\n\nعیاں ہے اب تو راکھی بھی چمن بھی گل بھی شبنم بھی\nجھمک جاتا ہے موتی اور جھلک جاتا ہے ریشم بھی\nتماشا ہے اہا ہا ہا غنیمت ہے یہ عالم بھی\nاٹھانا ہاتھ پیارے واہ وا ٹک دیکھ لیں ہم بھی\nتمہاری موتیوں کی اور زری کے تار کی راکھی\n\nمچی ہے ہر طرف کیا کیا سلونوں کی بہار اب تو\nہر اک گل رو پھرے ہے راکھی باندھے ہاتھ میں خوش ہو\nہوس جو دل میں گزرے ہے کہوں کیا آہ میں تم کو\nیہی آتا ہے جی میں بن کے بامھن، آج تو یارو\nمیں اپنے ہاتھ سے پیارے کے باندھوں پیار کی راکھی\n\nہوئی ہے زیب و زینت اور خوباں کو تو راکھی سے\nولیکن تم سے اے جاں اور کچھ راکھی کے گل پھولے\nدوانی بلبلیں ہوں دیکھ گل چننے لگیں تنکے\nتمہارے ہاتھ نے مہندی نے انگشتوں نے ناخن نے\nگلستاں کی چمن کی باغ کی گل زار کی راکھی\n\nادا سے ہاتھ اٹھتے ہیں گل راکھی جو ہلتے ہیں\nکلیجے دیکھنے والوں کے کیا کیا آہ چھلتے ہیں\nکہاں نازک یہ پہنچے اور کہاں یہ رنگ ملتے ہیں\nچمن میں شاخ پر کب اس طرح کے پھول کھلتے ہیں\nجو کچھ خوبی میں ہے اس شوخ گل رخسار کی راکھی\n\nپھریں ہیں راکھیاں باندھے جو ہر دم حسن کے تارے\nتو ان کی راکھیوں کو دیکھ اے جاں چاؤ کے مارے\nپہن زنار اور قشقہ لگا ماتھے اپر بارے\nنظیرؔ آیا ہے بامھن بن کے راکھی باندھنے پیارے\nبندھا لو اس سے تم ہنس کر اب اس تیوہار کی راکھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%DA%A9%DA%BE%DB%8C"} {"title": "راہ راست", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جو حق پر ہے ایمان کامل ہمارا\nبنا لے گا کیا زور باطل ہمارا\nجو ہم متحد ہو کے رہتے وطن میں\nنہ تھا کوئی مد مقابل ہمارا\nغلامی کی خو بو مسلط ہے ہم پر\nدماغ اب ہمارا نہ اب دل ہمارا\nرہ راست سے گر قدم ڈگمگایا\nنہ ہوگا گزر تا بہ منزل ہمارا\nجہاں سینٹ پر سینٹ ہیں اہل عالم\nوہاں درجہ فصل ہے نل ہمارا\nہیں آوارۂ دشت مجنوں کی صورت\nنہ لیلیٰ ہماری نہ محمل ہمارا\nنہ کشتی نہ کشتی کے ملاح اپنے\nنہ دریا نہ دریا کا ساحل ہمارا\nتعصب نے برباد ہم کو کیا ہے\nیہی ہے یہی صرف قاتل ہمارا\nوطن پر مسلط ہیں انگریز جب تک\nپنپنا یقیناً ہے مشکل ہمارا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA"} {"title": "راہ رستے میں تو یوں رہتا ہے آ کر ہم سے مل", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راہ رستے میں تو یوں رہتا ہے آ کر ہم سے مل\nکم گیا لیکن وہ یار خانگی گھر ہم سے مل\n\nدل تڑپتا ہے پڑا اس سینۂ صد چاک میں\nکھول کر بند قبا تو اے سمن بر ہم سے مل\n\nبے نیاز اس حسن کو اور ناز کو برپا رکھے\nبے تکلف ہو کے تو اے ناز پرور ہم سے مل\n\nپہنچنا تم تک میاں اپنا تو اک اشکال ہے\nہووے تا ملنا ترا ہم کو میسر ہم سے مل\n\nہر مصیبت بھر کے میں پہنچا ہوں تیرے در تلک\nبے مروت ایک دم آ گھر سے باہر ہم سے مل\n\nاب تو اس بے دست و پا سے ہو نہیں سکتی تلاش\nڈھونڈ لے کر ہم کو اے رزق مقدر ہم سے مل\n\nان دنوں رہتی ہے مجھ کو بے قراری بیشتر\nقصد کر کے تو مکرر اور مقرر ہم سے مل\n\nسیر رکھتی ہیں مری بے تابئیں اس وقت زور\nحرف ہمارا گر نہیں ہے تجھ کو باور ہم سے مل\n\nہو گیا تیری ہوا خواہی میں حسرتؔ تو بہ باد\nبیٹھا کیا ہے خاک میں ہم کو ملا کر ہم سے مل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84"} {"title": "راہ میں حق کے عزیزاں آپ کو قرباں کرو", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "راہ میں حق کے عزیزاں آپ کو قرباں کرو\nیا نہیں اس پر تصدق اپنا جسم و جاں کرو\n\nسالکاں کب لگ چلو گے رہ میں حق کے مور چل\nعشق کی تیزی کو اپنے چھیڑ کر جولاں کرو\n\nکاں تلک خاطر رکھو گے آرزو میں تنگ کر\nغنچہ دل باد صبا سوں عشق کے خنداں کرو\n\nعقل نفسانی تمن میں برقعۂ حیوان ہے\nپھاڑ کر پردہ نظر کا آپ کو انساں کرو\n\nخانۂ دل کو رکھو آباد حق کی یاد سوں\nعشق کی آتش سوں تن کو جال کر ویراں کرو\n\nتوڑ کر تن کو کرو باریک پردے کی مثال\nشمع نورانی لگا فانوس تن تاباں کرو\n\nدیکھتے رہو روز و شب انکھیاں سوں تم رب کا جمال\nنین کی تھالی میں اس کو جیوں در غلطاں کرو\n\nپھیرتے رہو دید کا منکا نظر کے تار میں\nرات دن انکھیاں کو اپنی اس طرف گرداں کرو", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "راہ میں صورت نقش کف پا رہتا ہوں", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راہ میں صورت نقش کف پا رہتا ہوں\nہر گھڑی بننے بگڑنے کو پڑا رہتا ہوں\n\nعمر رفتہ نہ کبھی آئے منانے کے لئے\nمدتیں گزریں کہ جینے سے خفا رہتا ہوں\n\nصفت کینہ مرا گھر ہے فلک کے دل میں\nگرہ دشمن خاطر میں بندھا رہتا ہوں\n\nفتنۂ حشر یہ کہتا ہے مجھے پوچھے کون\nدامن یار کے گوشہ میں پڑا رہتا ہوں\n\nقید ہوں پر ستم غفلت جوہر سے منیرؔ\nغصہ بن کر دل زنداں میں بھرا رہتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D9%86%D9%82%D8%B4_%DA%A9%D9%81_%D9%BE%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "راہ و رسم ابتدائی دیکھ لی", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راہ و رسم ابتدائی دیکھ لی\nانتہائے بے وفائی دیکھ لی\n\nسامنے تعریف غیبت میں گلہ\nآپ کے دل کی صفائی دیکھ لی\n\nاب نہیں ملنا کسی سے بھی پسند\nسب کی اچھائی برائی دیکھ لی\n\nنام بھی دامن پہ سرخی کا نہیں\nدیدہ و دل کی کمائی دیکھ لی\n\nبے خبر ہیں وہ مرے حالات سے\nنالۂ دل کی رسائی دیکھ لی\n\nعشق اپنا ہے فقط اتنا رواںؔ\nاچھی صورت آگے آئی دیکھ لی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%88_%D8%B1%D8%B3%D9%85_%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C"} {"title": "راہ و رسم خط کتابت ہی سہی", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راہ و رسم خط کتابت ہی سہی\nگل نہیں تو گل کی نکہت ہی سہی\n\nدل لگی کا کوئی ساماں چاہئے\nقحط معنی ہو تو صورت ہی سہی\n\nبے دماغی بندہ پرور اس قدر\nآپ کی سب پر حکومت ہی سہی\n\nدوستی کا میں نے کب دعویٰ کیا\nدور کی صاحب سلامت ہی سہی\n\nبسکہ ذکرالعیش نصف العیش ہے\nیاد ایام فراغت ہی سہی\n\nوقت ملنے کا معین کیجئے\nخواہ فردائے قیامت ہی سہی\n\nحسن صورت کا نہ کھا اصلاً فریب\nکلک صنعت گر کی صنعت ہی سہی\n\nکچھ نہ کرنا بھی مگر اک کام ہے\nگر نہیں صحبت تو عزلت ہی سہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%88_%D8%B1%D8%B3%D9%85_%D8%AE%D8%B7_%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں میں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں میں\nاور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں\n\nیہ بھی تم جانتے ہو چند ملاقاتوں میں\nآزمایا ہے تمہیں ہم نے کئی باتوں میں\n\nغیر کے سر کی بلائیں جو نہیں لیں ظالم\nکیا مرے قتل کو بھی جان نہیں ہاتھوں میں\n\nابر رحمت ہی برستا نظر آیا زاہد\nخاک اڑتی کبھی دیکھی نہ خراباتوں میں\n\nیا رب اس چاند کے ٹکڑے کو کہاں سے لاؤں\nروشنی جس کی ہو ان تاروں بھری راتوں میں\n\nتمہیں انصاف سے اے حضرت ناصح کہہ دو\nلطف ان باتوں میں آتا ہے کہ ان باتوں میں\n\nدوڑ کر دست دعا ساتھ دعا کے جاتے\nہائے پیدا نہ ہوئے پاؤں مرے ہاتھوں میں\n\nجلوہ یار سے جب بزم میں غش آیا ہے\nتو رقیبوں نے سنبھالا ہے مجھے ہاتھوں میں\n\nایسی تقریر سنی تھی نہ کبھی شوخ و شریر\nتیری آنکھوں کے بھی فتنے ہیں تری باتوں میں\n\nہم سے انکار ہوا غیر سے اقرار ہوا\nفیصلہ خوب کیا آپ نے دو باتوں میں\n\nہفت افلاک ہیں لیکن نہیں کھلتا یہ حجاب\nکون سا دشمن عشاق ہیں ان ساتوں میں\n\nاور سنتے ابھی رندوں سے جناب واعظ\nچل دئے آپ تو دو چار صلٰواتوں میں\n\nہم نے دیکھا انہیں لوگوں کو ترا دم بھرتے\nجن کی شہرت تھی یہ ہرگز نہیں ان باتوں میں\n\nبھیجے دیتا ہے انہیں عشق متاع دل و جاں\nایک سرکار لٹی جاتی ہے سوغاتوں میں\n\nدل کچھ آگاہ تو ہو شیوۂ عیاری سے\nاس لئے آپ ہم آتے ہیں تری گھاتوں میں\n\nوصل کیسا وہ کسی طرح بہلتے ہی نہ تھے\nشام سے صبح ہوئی ان کی مداراتوں میں\n\nوہ گئے دن جو رہے یاد بتوں کی اے داغؔ\nرات بھر اب تو گزرتی ہے مناجاتوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "راہ پر خار ہے کیا ہونا ہے", "poet_page": "مصنف:احمد رضا خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راہ پر خار ہے کیا ہونا ہے\nپاؤں افگار ہے کیا ہونا ہے\n\nکام زنداں کے کیے اور ہمیں\nشوق گلزار ہے کیا ہونا ہے\n\nجان ہلکان ہوئی جاتی ہے\nبار سا بار ہے کیا ہونا ہے\n\nپار جانا ہے نہیں ملتی ناؤ\nزور پر دھار ہے کیا ہونا ہے\n\nروشنی کی ہمیں عادت اور گھر\nتیرہ و تار ہے کیا ہونا ہے\n\nبیچ میں آگ کا دریا حائل\nقصد اس پار ہے کیا ہونا ہے\n\nساتھ والوں نے یہیں چھوڑ دیا\nبے کسی یار ہے کیا ہونا ہے\n\nآخری دید ہے آؤ مل لیں\nرنج بے کار ہے کیا ہونا ہے\n\nدل ہمیں تم سے لگانا ہی نہ تھا\nاب سفر بار ہے کیا ہونا ہے\n\nکیوں رضاؔ کڑھتے ہو ہنستے اٹھو\nجب وہ غفار ہے کیا ہونا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "راہ کر کے اس بت گمراہ نے دھوکا دیا", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "راہ کر کے اس بت گمراہ نے دھوکا دیا\nگر پڑے اندھے کنوئیں میں چاہ نے دھوکا دیا\n\nہو گئے مغرور مجھ کو عاشق اپنا جان کر\nہائے اس دل کا برا ہو آہ نے دھوکا دیا\n\nجان کر اس بت کا گھر کعبہ کو سجدہ کر لیا\nاے برہمن مجھ کو بیت اللہ نے دھوکا دیا\n\nمیں نے جانا بال منہ پر کھول کر آئے حضور\nچھپ کر ابر تر میں قرص ماہ نے دھوکا دیا\n\nشیح صاحب آپ کو بت خانے میں لایا منیرؔ\nپیر و مرشد بندۂ درگاہ نے دھوکا دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%AF%D9%85%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%86%DB%92_%D8%AF%DA%BE%D9%88%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "راہرو", "poet_page": "مصنف:محمد دین تاثیر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آج میں دور بہت دور نکل آیا ہوں\nبے طلب تگ و دو\nدل میں کاوش نہ تلاش\nنہ کوئی خواہش مخفی نہ تمنائے معاش\nہوس خام نہ سودائے تمام\nیوں ہی چلتا ہوا چلتا ہوا آ پہنچا ہوں\nپے بہ پے گام بہ گام\nکس قدر دور نکل آیا ہوں\nاس سے پہلے بھی چلا ہوں میں نئی راہوں پر\nشاہراہوں سے پرے\nخار زاروں میں گھسٹتی ہوئی اک سرخ لکیر\nاک سسکتی ہوئی دل دوز نفیر\nسرسراتے ہوئے ملبوس\nمہکتی ہوئی سانس\nلذت و کرب کا مدھم بم و زیر\nآج لیکن میں بہت دور نکل آیا ہوں\nاور اک شام سر راہ گزار\nوہ مری لغزش پا میری وہ بے راہروی\nخود فراموش سبک دوش عمل\nاپنے اجداد کے ناکردہ گناہوں کی عقوبت سے بری\nاک ہرن چوکڑی بھرتا ہوا خاموش خرام\nشام کے وقت سر راہ گزار\nمیں بہت دور بھٹک نکلا تھا\nآج لیکن میں بہت دور نکل آیا ہوں\nآپ سے آپ بہت دور بہت دور نکل آیا ہوں\nشاہراہوں سے پرے دور گزر گاہوں سے\nبے طلب بے تگ و دو\nخانقاہوں سے الگ دور صنم خانوں سے\nہوس خام نہ سودائے تمام\nیوں ہی چلتا ہوا چلتا ہوا آ پہنچا ہوں\nپے بہ پے گام بہ گام\nکس قدر دور بہت دور نکل آیا ہوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%DB%81%D8%B1%D9%88"} {"title": "راہنما بن جاؤں", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "درد جس دل میں ہو اس دل کی دوا بن جاؤں\nکوئی بیمار اگر ہو تو شفا بن جاؤں\nدکھ میں ہلتے ہوئے لب کی میں دعا بن جاؤں\nاف وہ آنکھیں کہ ہیں بینائی سے محروم کہیں\nروشنی جن میں نہیں نور جن آنکھوں میں نہیں\nمیں ان آنکھوں کے لیے نور ضیا بن جاؤں\nہائے وہ دل جو تڑپتا ہوا گھر سے نکلے\nاف وہ آنسو جو کسی دیدۂ تر سے نکلے\nمیں اس آنسو کے سکھانے کو ہوا بن جاؤں\nدور منزل سے اگر راہ میں تھک جائے کوئی\nجب مسافر کہیں رستے سے بھٹک جائے کوئی\nخضر کا کام کروں راہنما بن جاؤں\nعمر کے بوجھ سے جو لوگ دبے جاتے ہیں\nناتوانی سے جو ہر روز جھکے جاتے ہیں\nان ضعیفوں کے سہارے کو عصا بن جاؤں\nخدمت خلق کا ہر سمت میں چرچا کر دوں\nمادر ہند کو جنت کا نمونہ کر دوں\nگھر کرے دل میں جو افسرؔ وہ صدا بن جاؤں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7_%D8%A8%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA"} {"title": "راہی طرف عالم بالا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "راہی طرف عالم بالا ہوں میں\nدنیا سے عدم کو جانے والا ہوں میں\nیارب ترا نام پاک جپنے کے لیے\nگویا اک ہڈیوں کی مالا ہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ربط ہے ناز بتاں کو تو مری جان کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ربط ہے ناز بتاں کو تو مری جان کے ساتھ\nجی ہے وابستہ مرا ان کی ہر اک آن کے ساتھ\n\nاپنے ہاتھوں کے بھی میں زور کا دیوانہ ہوں\nرات دن کشتی ہی رہتی ہے گریبان کے ساتھ\n\nجو جفا جو ہیں انہیں سنگ دلی لازم ہے\nکام تلوار کو رہتا ہے سدا سان کے ساتھ\n\nگر مسیحا نفسی ہے یہی مطرب تو خیر\nجی ہی جاتے ہیں چلے تیری ہر اک تان کے ساتھ\n\nدردؔ ہر چند میں ظاہر میں تو ہوں مور ضعیف\nزور نسبت ہے ولے مجھ کو سلیمانؔ کے ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%A8%D8%B7_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "رتا ہے ابرواں پر ہاتھ اکثر لاوبالی کا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رتا ہے ابرواں پر ہاتھ اکثر لاوبالی کا\nہنر سیکھا ہے اس شمشیر زن نے بید مالی کا\n\nہر اک جو عضو ہے سو مصرع دلچسپ ہے موزوں\nمگر دیوان ہے یہ حسن سر تا پا جمالی کا\n\nنگیں کی طرح داغ رشک سوں کالا ہوا لالا\nلیا جب نام گلشن میں تمہارے لب کی لالی کا\n\nرقیباں کی ہوا ناچیز باتاں سن کے یوں بد خو\nوگرنہ جگ میں شہرا تھا صنم کی خوش خصالی کا\n\nہمارے حق میں نادانی سوں کہنا غیر کا مانا\nگلا اب کیا کروں اس شوخ کی میں خوردسالی کا\n\nیہی چرچا ہے مجلس میں سجن کی ہر زباں اوپر\nمرا قصہ گویا مضموں ہوا ہے شعر حالی کا\n\nتمہارا قدرتی ہے حسن آرائش کی کیا حاجت\nنہیں محتاج یہ باغ سدا سر سبز مالی کا\n\nلگے ہے شیریں اس کو ساری اپنی عمر کی تلخی\nمزہ پایا ہے جن عاشق نیں تیرے سن کے گالی کا\n\nمبارک نام تیرے آبروؔ کا کیوں نہ ہو جگ میں\nاثر ہے یو ترے دیدار کی فرخندہ فالی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1_%D9%84%D8%A7%D9%88%D8%A8%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے\nوہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہے\nکرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنی\nجو ظرف کہ خالی ہے صدا دیتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "رتبہ کچھ عاشقی میں نہ کم ہے فقیر کا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رتبہ کچھ عاشقی میں نہ کم ہے فقیر کا\nہیں جس کے سب صنم وہ صنم ہے فقیر کا\n\nتکیہ اسے نہ بھول کے کہنا کبھی میاں\nتکیہ نہیں یہ باغ ارم ہے فقیر کا\n\nرہتا ہے پھر وہ پھولتا مثل سدا سہاگ\nجس گل بدن پہ لطف و کرم ہے فقیر کا\n\nگھٹ جائیں جس کو دیکھ کے لاکھوں تری گھٹا\nاے ابر تر وہ دیدۂ نم ہے فقیر کا\n\nلکھتا ہے بن تراشے ہی حرفوں کے جوڑ توڑ\nاے خوش نویس یہ وہ قلم ہے فقیر کا\n\nظل ہما بھی واں سے سعادت کرے حصول\nجس سر زمیں پہ نقش قدم ہے فقیر کا\n\nہیں زیر سایہ اس کے ہزاروں گدا و شاہ\nبیرق اسے نہ کہہ یہ علم ہے فقیر کا\n\nکیونکر لکھے نہ فقر کے شان و شکوہ کو\nیارو نظیرؔ پر بھی کرم ہے فقیر کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "رتی، ماشہ، تولہ (افسانہ)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "رتی، ماشہ، تولہ", "year": "1956", "text_ur": "زینت اپنے کالج کی زینت تھی۔ بڑی زیرک، بڑی ذہین اور بڑے اچھے خدو خال کی صحتمند نوجوان لڑکی۔ جس طبیعت کی وہ مالک تھی اس کے پیشِ نظر اس کی ہم جماعت لڑکیوں کو کبھی خیال بھی نہ آیا تھاکہ وہ اتنی مقدار پسند عورت بن جائے گی۔ ویسے وہ جانتی تھیں کہ چائے کی پیالی میں صرف ایک چمچ شکر ڈالنی ہے، زیادہ ڈال دی جائے تو پینے سے انکار کر دیتی ہے، قمیص اگر آدھا انچ بڑی یا چھوٹی سِل جائے تو کبھی نہیں پہنے گی۔ لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ شادی کے بعد وہ اپنے خاوند سے بھی نپی تلی محبت کرے گی۔\n\nزینت سے ایک لڑکے کو محبت ہوگئی وہ اس کے گھر کے قریب ہی رہتا تھا بلکہ یوں کہیے کہ اس کا اور زینت کا مکان آمنے سامنے تھا۔ ایک دن اس لڑکے نے جس کا نام جمال تھا اسے کوٹھے پر اپنے بال خشک کرتے دیکھا تو وہ سر تاپا محبت کے شربت میں شرابور ہوگیا۔\n\nزینت وقت کی پابند تھی۔ صبح ٹھیک چھ بجے اٹھتی، اپنی بہن کے دو بچوں کو اسکول کے لیے تیار کرتی، اس کے بعد خود نہاتی اور سر پر تولیہ لپیٹ کر اوپر کوٹھے پر چلی جاتی اور اپنے بال جو اس کے ٹخنوں تک آتے تھے، سکھاتی، کنگھی کرتی اور نیچے چلی جاتی۔ جوڑا وہ اپنے کمرے میں کرتی تھی۔\n\nاس کی ہر حرکت اور اس کے ہر عمل کے وقت معین تھے۔ جمال اگر صبح ساڑھے چھ بجے اٹھتا اور حوائج ضروری سے فارغ ہو کر اپنے کوٹھے پر پہنچتا تو اسے نا امیدی کا سامنا کرنا پڑتا، اس لیے کہ زینت اپنے بال سکھا کر نیچے چلی گئی ہوتی تھی۔ ایسے لمحات میں وہ اپنے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرتا اور ادھر ادھر دیکھ کے واپس نیچے چلا جاتا۔ اس کو سیڑھیاں اترتے ہوئے یوں محسوس ہوتا کہ ہر زینہ کنگھی کا ایک دندانہ ہے جو اترتے ہوئے ایک ایک کر کے ٹوٹ رہا ہے۔\n\nایک دن جمال نے زینت کو ایک رقعہ بھیجا۔ وقت پر وہ کوٹھے پر پہنچ گیا تھا جبکہ زینت اپنے ٹخنوں تک لمبے بال سکھا رہی تھی۔ اس نے یہ تحریر جو خوشبودار کاغذ پر تھی، روڑے میں لپیٹ کر سامنے کوٹھے پر پھینک دی۔ زینت نے یہ کاغذی پیراہن میں ملبوس پتھر اٹھایا۔ کاغذ اپنے پاس رکھ لیا اور پتھر واپس پھینک دیا۔ لیکن اس کو جمال کی شوخئ تحریر پسند نہ آئی اور وہ سر تا پا فریاد بن گئی۔ اس نے لکھا تھا۔\nزلف برہم سنبھال کر چلیے\n\nراستہ دیکھ بھال کر چلیے\nموسمِ گُل ہے اپنی بانھوں کو\n\nمیری بانھوں میں ڈال کر چلیے\n\nموسمِ گل قطعاً نہیں تھا۔ اس لیے اس آخری شعر نے اس کو بہت کوفت پہنچائی۔ اس کے گھر میں کئی گملے تھے جن میں بوٹے لگے ہوئے تھے، یہ سب کے سب مرجھائے ہوئے تھے۔ جب اس نے یہ شعر پڑھا تو اس کا ردِعمل یہ ہوا کہ اس نے مرجھائے ہوئے،بے گل بوٹے اکھاڑے اور اس کنستر میں ڈال دیا جس میں کوڑا کرکٹ وغیرہ جمع کیا جاتا تھا۔\n\nایک زلف اس کی برہم رہتی تھی۔ لیکن راستہ دیکھ بھال کر چلنے کا سوال کیا پیدا ہوتا تھا۔ زینت نے سوچا کہ یہ محض شاعرانہ تک بندی ہے لیکن اس کے بال ٹخنوں تک لمبے تھے۔ اسی دن جب اس کو یہ رقعہ ملا تو نیچے سیڑھیاں اترتے ہوئے جب ایک زینے پر اپنی ایک بھانجی کے کان سے گری ہوئی سونے کی بالی اٹھانی پڑی تو وہ اس کی سینڈل سے الجھ گئے اور گرتے گرتے بچی۔ چنانچہ اس دن سے اس نے راستہ دیکھ بھال کر چلنا شروع کیا۔ مگر اس کی بانھوں میں بانھیں ڈال کر چلنے میں سخت اعتراض تھا۔ وہ اسے زیادتی سمجھتی تھی۔ اس لیے کہ موسم گل نہیں تھا، موسم گل بھی ہوتا تو اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ پھولوں سے بانہوں کا کیا تعلق ہے۔ اس کے نزدیک بانہوں میں بانھیں ڈال کر چلنا بڑا واہیات بلکہ سوقیانہ ہے۔ چنانچہ جب وہ دوسرے روز صبح ۶ بجے اُٹھی اور اپنی بھانجیوں کو اسکول کے لیے تیار کرنا چاہا تو اسے معلوم ہوا کہ اتوار ہے۔ اس کے دل و دماغ میں وہ دو شعر سوار تھے۔\n\nاس نے اسی وقت تہیہ کر لیا تھا کہ وہ بچیوں کو تیار کرے گی، اس کے بعد نہائے گی اور اپنے کمرے میں جا کر جمال کا رقعہ پڑھ کر اسے جی ہی جی میں کوسے گی مگر اتوار ہونے کے باعث اس کا یہ تہیہ درہم برہم ہوگیا۔ اسے وقت سے پہلے غسل کرنا پڑا، حالانکہ وہ اپنے روز مرہ کے اوقات کے معاملے میں بڑی پابند تھی۔\n\nاس نے غسل خانے میں ضرورت سے زیادہ وقت صرف کیا۔ دو بالٹیوں سے پہلے نہاتی تھی دو بالٹیوں سے اب بھی نہائی۔ لیکن آہستہ آہستہ اس نے نہاتے وقت اپنی بانھوں کو دیکھا جو سڈول اور خوبصورت تھیں، پھر اسے جمال کی بانھوں کا خیال آیا لیکن اس نے ان کو دیکھا ہی نہیں تھا۔ قمیص کی آستینوں کے اندر چھپی رہتی تھیں، ان کے متعلق وہ کیا رائے قائم کرسکتی تھی۔ بہر حال وہ اپنے گدرائے ہوئے بازو دیکھ کر مطمئن ہوگئی اور جمال کو بھول گئی۔\n\nغسل میں کچھ زیادہ ہی دیر ہوگئی۔ اس لیے کہ وہ اپنے حسن و جمال کے متعلق اندازہ کرنے بیٹھ گئی تھی۔ اس نے کافی دیر غور کرنے پر یہ نتیجہ نکالا کہ وہ زیادہ حسین تو نہیں لیکن قبول صورت اور جوان ضرور ہے۔ جوان وہ بلا شبہ تھی۔ وہ چھوٹی مختصر سی ریشمی چیز جو اس نے اپنے بدن سے اتار کر لکس صابن کی ہوائیوں میں دھوئی تھی، اس کے سامنے ٹنگی تھی۔ یہ گیلی ہونے کے باوجود بہت سی چغلیاں کھا رہی تھی۔\n\nاس کے بعد روڑے میں لپٹا ہوا ایک اور خط آیا، اس میں بے شمار اشعار تھے۔ شعروں سے اسے نفرت تھی، اس لیے کہ وہ انھیں محبت کا عامیانہ ذریعہ سمجھتی تھی۔ خط آتے رہے، زینت وصول کرتی رہی لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔\n\nوہ محبت کے شدید جذبے کی قائل نہیں تھی۔ اس کو جمال پسند تھا، اس لیے کہ وہ خوش شکل اور صحت مندجوان تھا۔ اس کے متعلق وہ لوگوں سے بھی سن چکی تھی کہ وہ بڑے اچھے خاندان کا لڑکا ہے۔ شریف ہے ،اس کو اور کسی لڑکی سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔ غالباً یہی وجہ تھی، ایک دن اس نے اپنی نوکرانی کے دس سالہ بچے کے ہاتھ اس کو یہ رقعہ لکھ کر بھیج دیا، ’’آپ کی رقعہ نویسی پر مجھے اس کے سوا اور کوئی اعتراض نہیں کہ یہ شعروں میں نہ ہوا کرے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ کوئی مجھے چاندی اور سونے کے ہتھوڑوں سے کوٹ رہا ہے۔‘‘\n\nیہ خط ملنے کے بعد جمال نے اشعار لکھنے بند کر دیے۔ لیکن اس کی نثر اس سے بھی کہیں زیادہ جذبات سے پر ہوتی تھی۔ زینت کی طبع پر یہ بھی گراں گزرتی۔ وہ سوچتی یہ کیسا آدمی ہے۔ وہ رات کو سوتی تو اپنا کمرہ بند کر کے قمیص اتار دیتی تھی، اس لیے کہ اس کی نیند پر یہ ایک بوجھ سا ہوتا تھا۔ مگر جمال تو اس کی قمیص کے مقابلے میں کہیں زیادہ بوجھل تھا۔ وہ اسے کبھی برداشت نہ کرسکتی لیکن اس کو اس بات کا کا مل احساس تھا کہ وہ اس سے والہانہ محبت کرتا ہے۔\n\nیہی وجہ ہے کہ زینت نے جمال کو کئی موقعے دیے کہ وہ اس سے ہم کلام ہوسکے۔ وہ اس سے جب پہلی بار ملا تو کانپ رہا تھا۔ کانپتے کانپتے اور ڈرتے ڈرتے اس نے ایک ناول بغیر عنوان کے اپنی جیب سے نکالا اور زینت کو پیش کیا،’’اسے پڑھیے۔۔۔ میں۔۔۔ اس سے آگے وہ کچھ نہ کہہ سکا اور کانپتا لرزتا زینت کے گھر سے نکل گیا۔‘‘\n\nزینت کو بڑا ترس آیالیکن اس نے سوچا کہ اچھا ہوا۔ اس لیے کہ اس کے پاس زیادہ وقت تخلیے کے لیے نہیں تھا۔ اس کے ابا ٹھیک ساڑھے سات بجے آنے والے تھے اور جمال سوا سات بجے چل دیا تھا۔ اس کے بعد جمال نے ملاقات کی درخواست کی تو زینت نے اسے کہلا بھیجا کہ وہ اس سے پلازہ میں شام کا پہلا شو شروع ہونے سے دس منٹ پہلے مل سکے گی۔ زینت وہاں پندرہ منٹ پہلے پہنچی۔ جو سہیلی اس کے ساتھ تھی اس کو کسی بہانے اِدھر اُدھر کر دیا۔ دس منٹ اس نے باہر گیٹ کے پاس جمال کا انتظار کیا، جب وہ نہ آیا تو کسی تکدر کے بغیر وہاں سے ہٹی اور اپنی سہیلی کو تلاش کر کے اندر سنیما میں چلی گئی۔\n\nجمال اس وقت پہنچا جب وہ فرسٹ کلاس میں داخل ہو رہی تھی۔ زینت نے اسے دیکھا، اس کے ملتجی چہرے اور اس کی معافی کی خواستگار آنکھوں کو، مگر اس نے اس کو گیٹ کیپر کی بھی حیثیت نہ دی اور اندر داخل ہوگئی۔ شو چونکہ شروع ہو چکا تھا اس لیے اس نے اتنی نوازش کی کہ جمال کی طرف دیکھ کر گیٹ کیپر سے کہا، ’’معاف کیجیے گا ہم لیٹ ہوگئے۔ ‘‘\n\nجمال شو ختم ہونے تک باہر کھڑا رہا۔ جب لوگوں کا ہجوم سینما کی بلڈنگ سے نکلا تو اس نے زینت کو دیکھا۔ آگے بڑھ کے اس سے بات کرنا چاہی مگر اس نے اس کے ساتھ بالکل اجنبیوں سا سلوک کیا چنانچہ اسے مایوس گھر لوٹنا پڑا۔\n\nاس کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ بال بنوانے اور نہا دھو کر کپڑے پہننے میں اسے دیر ہوگئی تھی۔ اس نے رات کو بڑی سوچ بچار کے بعد ایک خط لکھا جو معذرت نامہ تھا۔ وہ زینت کو پہنچا دیا، یہ خط پڑھ کر جب وہ مقررہ وقت پر کوٹھے پر آئی تو جمال نے اس کے تیوروں سے محسوس کیا کہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ اس کے بعد خط و کتابت کا سلسلہ دیر تک جاری رہا۔ زینت کو جمال سے شکایت رہتی کہ وہ خط بہت لمبے لکھتا ہے جو ضرورت سے زیادہ جذبات سے پر ہوتے ہیں۔ وہ اختصار کی قائل تھی، محبت اس کو بھی جمال سے ہو چکی تھی مگر وہ اس کے اظہار میں اپنی طبیعت کے موافق کفایت برتتی تھی۔\n\nآخر ایک دن ایسا آیا کہ زینت شادی پر آمادہ ہوگئی مگر ادھر دونوں کے والدین رضا مند نہیں ہوتے تھے۔ بہر حال بڑی مشکلوں کے بعد یہ مرحلہ طے ہوا اور جمال کے گھر زینت دلہن بن کے پہنچ گئی۔ حجلۂ عروسی سجا ہوا تھا، ہر طرف پھول ہی پھول تھے۔ جمال کے دل و دماغ میں ایک طوفان برپا تھا، عشق و محبت کا۔ اس نے چنانچہ عجیب و غریب حرکتیں کیں، زینت کو سر سے پاؤں تک اپنے ہونٹوں کی سجدہ گاہ بنا ڈالا۔\n\nزینت کو جذبات کا یہ بے پناہ بہاؤ پسند نہ آیا، وہ اکتا گئی۔ ٹھیک دس بجے سو جانے کی عادی تھی۔اس نے جمال کے تمام جذبات ایک طرف جھٹک دیے اور سو گئی۔\nجمال نے ساری رات جاگ کر کاٹی۔ زینت حسبِ معمول صبح ٹھیک چھ بجے اٹھی اور غسل خانے میں چلی گئی۔ باہر نکلی تو اپنے ٹخنوں تک لمبے بالوں کا بڑی چابک دستی سے جوڑا بنانے میں مصروف ہوگئی۔ اس دوران میں وہ صرف ایک مرتبہ جمال سے مخاطب ہوئی، ’’ڈارلنگ مجھے بڑا افسوس ہے۔ ‘‘\n\nجمال اس ننھے سے جملے سے ہی خوش ہوگیا جیسے کسی بچے کو کھلونا مل گیا ہو۔ اس نے دل ہی دل میں اس فضا ہی کو چومنا شروع کر دیا جس میں زینت سانس لے رہی تھی۔ وہ اس سے والہانہ طور پر محبت کرتا، اس قدر شدید انداز میں کہ زینت کی مقدار پسند طبیعت برداشت نہیں کرتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ ایک طریقہ طے ہو جائے جس کے مطابق محبت کی جائے ۔\n\nایک دن اس نے جمال سے کہا، ’’آپ مجھ سے یقیناًناراض ہو جاتے ہوں گے کہ میری طرف سے محبت کا جواب تار کے سے اختصار سے ملتا ہے لیکن میں مجبور ہوں،میری طبیعت ہی کچھ ایسی ہے۔ آپ کی محبت کی میں قدر کرتی ہوں لیکن پیار مصیبت نہیں بن جانا چاہیے،آپ کا پیار بعض اوقات میرے لیے بہت بڑی مصیبت بن جاتا ہے، آپ کو اس کا خیال رکھنا چاہیے۔\n\nجمال نے بہت خیال رکھا۔ ناپ تول کر بیوی سے محبت کی مگر ناکام رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان دونوں میں ناچاقی ہوگئی۔ زینت نے بہت سوچا کہ طلاق ہی بہتر صورت ہے جو بد مزگی دور کرسکتی ہے۔ چنانچہ جمال سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد اس نے طلاق کے لیے جمال کو کہلوا بھیجا۔ اس نے جواب دیا کہ مر جائے گا مگر طلاق نہیں دے گا۔ وہ اپنی محبت کا گلا ایسے بے رحم طریقے سے گھونٹنا نہیں چاہتا۔\n\nزینت کے لیے جمال کی یہ محبت بہت بڑی مصیبت بن گئی تھی۔ اس نے اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت میں پہلے روز جب فریقین حاضر ہوئے تو عجیب تماشا ہوا۔ جمال نے زینت کو دیکھا تو اس کی حالت غیر ہوگئی۔ اس کے وکیل نے مجسٹریٹ سے درخواست کی کہ سماعت اور کسی تاریخ پر ملتوی کر دی جائے۔ زینت کو بڑی کوفت ہوئی، وہ چاہتی تھی کہ جلد کوئی فیصلہ ہو۔ اگلی تاریخ پر جمال حاضر عدالت نہ ہوا کہ وہ بیمار ہے۔ دوسرے مہینے کی تاریخ پر بھی وہ نہ آیا تو زینت نے ایک رقعہ لکھ کر جمال کو بھیجا کہ وہ اسے پریشان نہ کرے اور جو تاریخ مقرر ہوئی ہے اس پر وہ ٹھیک وقت پر آئے۔ تاریخ سولہ اگست تھی۔ رات سے موسلا دھار بارش ہو رہی تھی، زینت حسبِ معمول صبح چھ بجے اٹھی، نہا دھو کر کپڑے پہنے اور اپنے وکیل کے ساتھ تانگے میں عدالت پہنچ گئی۔ اس کو یقین تھا کہ جمال وہاں موجود ہوگا اس لیے کہ اس نے اس کو لکھ بھیجا تھا کہ وقت پر پہنچ جائے۔ مگر جب اس نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی اور اسے جمال نظر نہ آیا تو اس کو بہت غصہ آیا۔\n\nمقدمہ اس دن سر فہرست تھا۔ مجسٹریٹ نے عدالت میں داخل ہوتے ہی تھوڑی دیر کے بعد جمال اور زینت کو بلایا۔ زینت اندر جانے ہی والی تھی کہ اس کو جمال کی آواز سنائی دی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس کا چہرہ خون میں لِتھڑا ہوا تھا، بالوں میں کیچڑ ،کپڑوں پر خون کے دھبے،لڑکھڑاتا ہوا وہ اس کے پاس آیا اور معذرت بھرے لہجے میں کہا،’’زینت مجھے افسوس ہے، میری موٹر سائیکل پھسل گئی اور میں ۔۔۔‘‘\n\nجمال کے ماتھے پر گہرا زخم تھا جس سے خون نکل رہا تھا۔ زینت نے اپنا دوپٹہ پھاڑا اور پٹی بنا کر اس پر باندھ دی اور جمال نے جذبات سے مغلوب ہو کر وہیں عدالت کے باہر اس کا منہ چوم لیا۔ اس نے کوئی اعتراض نہ کیا بلکہ وکیل سے کہا کہ وہ طلاق لینا نہیں چاہتی، مقدمہ واپس لے لیا جائے۔\n\nجمال دس دن ہسپتال میں رہا۔ اس دوران میں زینت اس کی بڑی محبت سے تیمار داری کرتی رہی۔ آخری دن جب جمال مشین پر اپنا وزن دیکھ رہا تھا تو اس نے زینت سے دبی زبان سے پوچھا، ’’میں اب تم سے کتنی محبت کرسکتا ہوں؟‘‘\n\nزینت مسکرائی، ’’ایک من۔ ‘‘\n\nجمال نے وزن کرنے والی مشین کی سوئی دیکھی اور زینت سے کہا، ’’مگر میرا وزن تو ایک من تیس سیر ہے۔ میں یہ فالتو تیس سیر کہاں غائب کروں؟ ‘‘\n\nزینت ہنسنے لگی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AA%DB%8C%D8%8C_%D9%85%D8%A7%D8%B4%DB%81%D8%8C_%D8%AA%D9%88%D9%84%DB%81_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29"} {"title": "رجوع بندہ کی ہے اس طرح خدا کی طرف", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رجوع بندہ کی ہے اس طرح خدا کی طرف\nپھرے ضمیر خبر جیسے مبتدا کی طرف\n\nبعید کیا ہے مروت سے تیری اے شہ حسن\nنگاہ لطف سے دیکھے جو تو گدا کی طرف\n\nکہاں وہ زلف کہاں خون نافۂ آہو\nجو مشک سمجھے ہیں وہ لوگ ہیں خطا کی طرف\n\nالجھ کے شانے سے کھاتا ہے سیکڑوں جھٹکے\nقصور سے یہ ترے گیسوئے رسا کی طرف\n\nخدا نے درد محبت عطا کیا ہے جسے\nاسے توجہ خاطر نہیں دوا کی طرف\n\nملا جو تم نے لہو دست و پا میں عاشق کا\nنہ ہوگا میل طبیعت کو پھر حنا کی طرف\n\nکرے گا یار مری جنگ غیر میں امداد\nجو آشنا ہیں وہ ہوتے ہیں آشنا کی طرف\n\nفراق یار میں رہتا ہے یوں تصور گور\nخیال جیسے مسافر کا ہو سرا کی طرف\n\nنہ ہوگا ہم سفر روح پیکر خاکی\nیہ سوئے ارض رواں ہوگا وہ سما کی طرف\n\nبہت خراب رہا بت کدے میں اے آتشؔ\nخدا پرست ہے چل خانۂ خدا کی طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AC%D9%88%D8%B9_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "رحم کر ظالم مرا حال پریشاں دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:نبی بخش نایاب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نایاب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "رحم کر ظالم مرا حال پریشاں دیکھ کر\nکون ہنستا ہے کسی کو غم میں گریاں دیکھ کر\n\nداستاں آؤ میں دردوں کی سناؤں آپ کو\nبعد میرے کیا کرو گے میرا دیواں دیکھ کر\n\nدیکھیے آئے نہ آئے ناز حوروں کا پسند\nمیں چلا ہوں غور سے انداز خوباں دیکھ کر\n\nآپ کو کرتے ہوئے برباد کیوں آیا نہ رحم\nآفتیں روتی ہیں میرے گھر کو ویراں دیکھ کر\n\nعدل کو نایابؔ رکھ ہر کام میں مد نظر\nحق نے دو آنکھیں تجھے بخشی ہیں میزاں دیکھ کر", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AD%D9%85_%DA%A9%D8%B1_%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے\nنبض بیمار وفا دود چراغ کشتہ ہے\n\nدل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں\nورنہ یاں بے رونقی سود چراغ کشتہ ہے\n\nنشۂ مے بے چمن دود چراغ کشتہ ہے\nجام داغ شعلہ اندود چراغ کشتہ ہے\n\nداغ ربط ہم ہیں اہل باغ گر گل ہو شہید\nلالہ چشم حسرت آلود چراغ کشتہ ہے\n\nشور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ کا\nصبح یک بزم نمک سود چراغ کشتہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AD%D9%85_%DA%A9%D8%B1_%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D9%88%D8%AF_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%DA%A9%D8%B4%D8%AA%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "رحمت خداوندی کے پھول", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "ٹھنڈا گوشت", "year": "1950", "text_ur": "زمینداراخبار میں جب ڈاکٹر راتھر پر رحمت خدا وندی کے پھول برستے تھے تو یار دوستوں نے غلام رسول کا نام ڈاکٹر راتھر رکھ دیا۔ معلوم نہیں کیوں، اس لیے کہ غلام رسول کو ڈاکٹرراتھر سے کوئی نسبت نہیں تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایم بی بی ایس میں تین بار فیل ہو چکا تھا،مگر کہاں ڈاکٹرراتھر، کہاں غلام رسول۔\n\nڈاکٹرراتھر ایک اشتہاری ڈاکٹر تھا جو اشتہاروں کے ذریعے سے قوتِ مردمی کی دوائیں بیچتا تھا۔ خدا اور اس کے رسول کی قسمیں کھا کھا کر اپنی دواؤں کو مجرب بتاتا تھا اور یوں سیکڑوں روپے کماتا تھا۔ غلام رسول کو ایسی دوائیوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ شادی شدہ تھااور اس کو قوت مردمی بڑھانے والی چیزوں کی کوئی حاجت نہیں تھی، لیکن پھر بھی اس کے یار دوست اس کو ڈاکٹر راتھر کہتے تھے۔ اس کا یا کلپ کو اس نے تسلیم کرلیا تھا۔ اس لیے کہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس کے دوستوں کو یہ نام پسند آگیا تھا۔ اور یہ ظاہر ہے کہ غلام رسول کے مقابلے میں ڈاکٹرراتھر کہیں زیادہ موڈرن ہے۔\n\nاب غلام رسول کو ڈاکٹر راتھر ہی کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ اس لیے کہ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھنا چاہیے۔\n\nڈاکٹر راتھر میں بے شمار خوبیاں تھیں۔ سب سے بڑی خوبی اس میں یہ تھی کہ وہ ڈاکٹر نہیں تھا اور نہ بننا چاہتا تھا۔ وہ ایک اطاعت مند بیٹے کی طرح اپنے ماں باپ کی خواہش کے مطابق میڈیکل کالج میں پڑھتا تھا۔ اتنے عرصے سے کہ اب کالج کی عمارت اس کی زندگی کا ایک جزو بن گئی تھی۔ وہ یہ سمجھنے لگا تھا کہ کالج اس کے کسی بزرگ کا گھر ہے جہاں اس کو ہر روز سلام عرض کرنے کے لیے جانا پڑتا ہے۔\n\nاس کے والدین مصر تھے کہ وہ ڈاکٹری پاس کرے۔ اس کے والد کو یقین تھا کہ وہ ایک کامیاب ڈاکٹر کی صلاحیتیں رکھتا ہے۔ اپنے بڑے لڑکے کے متعلق مولوی صباح الدین نے اپنی بیوی سے پیش گوئی کی تھی کہ وہ بیرسٹر ہوگا۔ چنانچہ جب اس کو ایل ایل بی پاس کراکے لندن بھیجا گیا توہ بیرسٹر بن کر ہی آیا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کی پریکٹس دوسرے بیرسٹروں کے مقابلے میں بہت ہی کم تھی۔\n\nگو ڈاکٹر راتھر تین مرتبہ ایم بی بی ایس کے امتحان میں فیل ہو چکا تھا، مگر اس کے باپ کو یقین تھا کہ وہ انجام کاربہت بڑا ڈاکٹر بنے گا اور ڈاکٹر راتھر اپنے باپ کا اس قدر فرماں بردار تھا کہ اس کو بھی یقین تھا کہ ایک روز وہ لنڈن کے ہارلے اسٹریٹ میں بیٹھا ہوگا اور اس کی ساری دنیا میں دھوم مچی ہو گی۔\n\nڈاکٹر راتھر میں بے شمار خوبیاں تھیں۔ ایک خوبی یہ تھی کہ سادہ لوح تھا۔ لیکن سب سے بڑی برائی اس میں یہ تھی کہ پیتا تھا اور اکیلا پیتا تھا۔ شروع شروع میں تو اس نے بہت کوشش کی کہ اپنے ساتھ کسی اور کو نہ ملائے لیکن یار دوستوں نے اس کو تنگ کرنا شروع کردیا۔ ان کو اس کا ٹھکانا معلوم ہوگیا۔ ’’سیوائے بار‘‘ میں شام کو سات بجے پہنچ جاتے تھے۔ مجبوراً ڈاکٹر راتھر کو نہیں اپنے ساتھ پلانا پڑتی۔ یہ لوگ اس کا گن گاتے، اس کے مستقبل کے متعلق بھی حوصلہ افزا باتیں کرتے۔ راتھر نشے کی ترنگ میں بہت خوش ہوتا اوراپنی جیب خالی کردیتا۔\n\nپانچ چھ مہینے اسی طرح گزر گئے۔ اس کو اپنے باپ سے دو سوروپے ماہوار ملتے تھے۔ رہتا الگ تھا۔ مکان کا کرایہ بیس روپے ماہانہ تھا۔ دن اچھے تھے۔ روز راتھر کی بیوی کو فاقے کھینچنے پڑتے، لیکن پھر بھی اس کا ہاتھ تنگ ہوگیا اس لیے کہ راتھر کو دوسروں کو پلانا پڑتی تھی۔\n\nان دنوں شراب بہت سستی تھی۔ آٹھ روپے کی ایک بوتل۔ ادھا چار روپے آٹھ آنے میں ملتا تھا۔ مگر ہرروز ایک ادھا لینا، یہ ڈاکٹر راتھر کی بساط سے باہر تھا۔ اس نے سوچا کہ گھرمیں پیا کرے۔ مگر یہ کیسے ممکن تھا۔ اس کی بیوی فوراً طلاق لے لیتی، اس کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کا خاوند شراب کا عادی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو شرابیوں سے سخت نفرت تھی، نفرت ہی نہیں، ان سے بہت خوف آتا تھا۔ کسی کی سرخ آنکھیں دیکھتی توڈر جاتی، ہائےڈاکٹر صاحب، کتنی ڈراؤنی آنکھیں تھیں اس آدمی کی۔۔۔ ایسا لگتا تھا کہ شرابی ہے۔‘‘\n\nاور ڈاکٹرراتھر دل ہی دل میں سوچتا کہ اس کی آنکھیں کیسی ہیں، کیا پی کر آنکھوں میں سرخ ڈورے آتے ہیں۔۔۔؟ کیا اس کی بیوی کو اس کی آنکھیں ابھی تک سرخ نظر نہیں آئیں۔۔۔؟ کب تک اس کاراز راز رہے گا۔۔۔؟منہ سے بو تو ضرور آتی ہوگی۔۔۔کیا وجہ ہے کہ اس کی بیوی نے کبھی نہیں سونگھی۔ پھر وہ یہ سوچتا’’نہیں‘‘ میں بہت احتیاط برتتا ہوں۔ میں نے ہمیشہ منہ پرے کرکے اس سے بات کی ہے۔ ایک دفعہ اس نے پوچھا تھا کہ آپ کی آنکھیں آج سرخ کیوں ہیں تو میں نے اس سے کہا تھا، دھول پڑگئی ہے۔ اسی طرح ایک بار اس نے دریافت کیا تھا، یہ بو کسی ہے، تو میں نے یہ کہہ کر ٹال دیا تھا، ’’آج سگار پیا تھا۔۔۔۔ بہت بو ہوتی ہے کم بخت میں۔‘‘\n\nڈاکٹر راتھر اکیلا پینے کا عادی تھا۔ اس کو ساتھی نہیں چاہیے تھے۔ وہ کنجوس تھا۔ اس کے علاوہ اس کی جیب بھی اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ دوستوں کو پلائے۔ اس نے بہت سوچا کہ ایسی ترکیب کیا ہوسکتی ہے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ یعنی یہ مسئلہ کچھ اس طرح حل ہو کہ وہ گھرمیں پیا کرے جہاں اس کے دوستوں کو شرکت کرنے کی جرات نہیں ہوسکتی تھی۔\n\nڈاکٹر راتھر، پورا ڈاکٹر تو نہیں تھالیکن اس کو ڈاکٹری کی چند چیزوں کا علم ضرور تھا۔ وہ اتنا جانتا تھا کہ دوائیں بوتلوں میں ڈال کر دی جاتی ہیں۔ اور ان پر اکثر یہ لکھا ہوتا ہے، ’’شیک دی بوٹل بی فور یوز۔‘‘ اس نے اتنے علم میں اپنی ترکیب کی دیواریں استوار کیں۔ آخر میں بہت سوچ بچار کے بعد اس نے یہ سوچا کہ وہ گھر ہی میں پیا کرے گا۔ سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔ وہ دوا کی بوتل میں شراب ڈلوا کر گھر رکھ دے گا۔ بیوی سے کہے گا کہ اس کے سر میں درد ہے اور اس کے استاد ڈاکٹر سید رمضان علی شاہ نے اپنے ہاتھ سے یہ نسخہ دیاہے اور کہا ہے کہ شام کو ہر پندرہ منٹ کے بعد ایک خوراک پانی کے ساتھ پیا کرے، انشاء اللہ شفا ہو جائے گی۔\n\nیہ ترکیب تلاش کرلینے پر ڈاکٹر راتھر بے حد خوش ہوا۔ اپنی زندگی میں پہلی بار اس نے یوں محسوس کیا جیسے اس نے ایک نیا امریکا دریافت کرلیا ہے، چنانچہ صبح سویرے اٹھ کر اس نے اپنی بیوی سے کہا،’’نسیمہ!آج میرے سرد میں بڑا درد ہورہا ہے۔۔۔ ایسا لگتا ہے پھٹ جائے گا۔‘‘\n\nنسیمہ نے بڑے تردو سے کہا، ’’کالج نہ جائیے آج۔‘‘\n\nڈاکٹر راتھر مسکرایا، ’’پگلی،آج تو مجھے ضرور جانا چاہیے۔۔۔ ڈاکٹر سید رمضان علی شاہ صاحب سے پوچھوں گا۔ ان کے ہاتھ میں بڑی شفاہے۔‘‘\n\n’’ہاں ہاں، ضرور جائیے۔۔۔۔ میرے متعلق بھی ان سے بات کیجیے گا۔‘‘\n\nنسیمہ کو سیلان الرحم کی شکایت تھی،جس سے ڈاکٹر راتھر کو کوئی دلچسپی نہیں تھی، مگر اس نے کہا، ’’ہاں ہاں بات کروں گا۔۔۔مگر مجھے یقین ہے کہ وہ میرے لیے کوئی نہایت ہی کڑوی اور بدبو دار دوا تجویز کردیں گے۔‘‘\n\n’’آپ خود ڈاکٹر ہیں، دوائیں مٹھائیاں تو نہیں ہوتیں۔‘‘\n\n’’ٹھیک ہے، لیکن بدبو دار دواؤں سے مجھے نفرت ہے۔‘‘\n\n’’آپ دیکھیے تو سہی کیسی دوا دیتے ہیں۔ ابھی سے کیوں ایسی رائے قائم کررہے ہیں آپ؟‘‘\n\n’’اچھا‘‘ کہہ کر ڈاکٹر راتھر اپنے سر کو دباتا کالج چلا گیا۔ شام کو وہ دوا کی بوتل میں وسکی ڈلوا کر لے آیا اور اپنی بیوی سے کہا، ’’میں نے تم سے کہا تھا نا کہ ڈاکٹر سیدرمضان علی شاہ ضرور کوئی ایسی دوا لکھ کر دیں گےجو بے حد کڑوی اور بدبودار ہوگی۔۔۔ لو،ذرا اسے سونگھو۔‘‘ بوتل کا کارک اتار کر اس نے بوتل کا منہ اپنی بیوی کی ناک کے ساتھ لگا دیا۔ اس نے سونگھا اور ایک دم ناک ہٹا کر کہا، ’’بہت واہیات سی بو ہے۔‘‘\n\n’’اب ایسی دوا کون پیے؟‘‘\n\n’’نہیں نہیں۔۔۔ آپ ضرور پئیں گے۔۔۔ سر کا درد کیسے دور ہوگا۔‘‘\n\n’’ہو جائے گا اپنے آپ۔‘‘\n\n’’اپنے آپ کیسے دور ہوگا۔۔۔ یہی تو آپ کی بری عادت ہے۔ دوا لاتے ہیں مگر استعمال نہیں کرتے۔‘‘\n\n’’یہ بھی کوئی دوا ہے۔۔۔ ایسا لگتا ہے جیسے شراب ہے۔‘‘\n\n’’آپ تو جانتے ہی ہیں کہ انگریزی دواؤں میں شراب ہوا کرتی ہے۔‘‘\n\n’’لعنت ہے ایسی دواؤں پر۔‘‘\n\nڈاکٹر راتھر کی بیوی نے خوراک کے نشان دیکھے اور حیرت سے کہا، ’’اتنی بڑی خوراک!‘‘\n\nڈاکٹر راتھر نے برا سا منہ بنایا۔’’یہی تو مصیبت ہے۔‘‘\n\n’’آپ مصیبت مصیبت نہ کہیں، اللہ کا نام لے کر پہلی خوراک پئیں۔۔۔ پانی کتناڈ النا ہے۔‘‘\n\nڈاکٹر راتھر نے بوتل اپنی بیوی کے ہاتھ سے لی اورمصنوعی طور پر بادل ناخواستہ کہا، ’’سوڈا منگوانا پڑے گا۔۔۔ عجیب و غریب دوا ہے۔۔۔ پانی نہیں سوڈا۔‘‘\n\nیہ سن کر نسیمہ نے کہا، ’’سوڈا اس لیے کہا ہوگا کہ آپ کا معدہ خراب ہے۔‘‘\n’’خدا معلوم کیا خراب ہے۔‘‘ یہ کہہ کرڈاکٹر راتھر نے ایک خوراک گلاس میں ڈالی۔ ’’بھئی خدا کی قسم میں نہیں پیوں گا۔‘‘\n\nبیوی نے بڑے پیار سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا، ’’نہیں نہیں۔۔۔ پی جائیے۔۔۔ ناک بند کرلیجیے ۔۔۔ میں اسی طرح فیور مکسچر پیا کرتی ہوں۔‘‘\n\nڈاکٹر راتھر نے بڑے نخروں کے ساتھ شام کا پہلا پیگ پیا۔ بیوی نے اس کو شاباش دی اور کہا، ’’پندرہ منٹ کے بعد دوسری خوراک۔ خدا کے فضل و کرم سے درد یوں چٹکیوں میں دورہو جائے گا۔‘‘\n\nڈاکٹر راتھر نے سارا ڈھونگ کچھ ایسے خلوص سے رچایا تھا کہ اس کومحسوس ہی نہ ہوا کہ اس نے دوا کے بجائے شراب پی ہے، لیکن جب ہلکا سا درد اس کے دماغ میں نمودار ہوا تو وہ دل ہی دل میں خوب ہنسا۔ ترکیب خوب تھی۔ اس کی بیوی نے عین پندرہ منٹ کے بعد دوسری خوراک گلاس میں انڈیلی۔ اس میں سوڈا ڈالا اور ڈاکٹر راتھر کے پاس لے آئی،’’یہ لیجئے دوسری خوراک۔۔۔ کوئی ایسی بری بو تو نہیں ہے۔‘‘\n\nڈاکٹر راتھر نے گلاس پکڑ کر بڑی بددلی سے کہا، ’’تمہیں پینا پڑے تو معلوم ہو۔۔۔ خدا کی قسم شراب کی سی بو ہے۔۔۔ ذرا سونگھ کر تو دیکھو!‘‘\n\n’’آپ تو بالکل میری طرح ضد کرتے ہیں۔‘‘\n\n’’نسیمہ، خدا کی قسم ضد نہیں کرتا۔۔۔ ضد کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے، لیکن۔۔۔ خیر،ٹھیک ہے۔‘‘ یہ کہہ کر ڈاکٹر راتھر نے گلاس منہ سے لگایا اور شام کا دوسرا پیگ غٹاغٹ چڑھا گیا۔\n\nتین خوراکیں ختم ہوگئیں۔ ڈاکٹرراتھر نے کسی قدر افاقہ محسوس کیا، لیکن دوسرے روز پھر سر میں درد عود کر آیا۔ ڈاکٹر راتھر نے اپنی بیوی سے کہا، ’’ڈاکٹر سید رمضان علی شاہ نے کہا ہے کہ یہ مرض آہستہ آہستہ دور ہوگا، لیکن دوا کا استعمال برابر جاری رہنا چاہیے۔ خدا معلوم کیا نام لیا تھا انھوں نے بیماری کا۔۔۔ کہا تھا معمولی سر کا درد ہوتا تو دو خوراکوں ہی سے دور ہو جاتا۔ مگر تمہارا کیس ذرا سیریس ہے۔‘‘\n\nیہ سن کر نسیمہ نے تردو سے کہا، ’’تو آپ کو دوا اب باقاعدہ پینی پڑے گی۔‘‘\n\n’’میں نہیں جانتا۔۔۔ تم وقت پر دے دیا کرو گی تو قہر درویش برجان درویش پی لیا کروں گا۔‘‘\n\nنسیمہ نے ایک خوراک سوڈے میں حل کرکے اس کو دی۔ اس کی بو ناک میں گھسی تو متلی آنے لگی مگر اس نے اپنے خاوند پر کچھ ظاہر نہ ہونے دیا۔ کیونکہ اس کو ڈر تھا کہ وہ پینے سے انکار کردے گا۔ڈاکٹر راتھر نے تین خوراکیں اپنی بیوی کے بڑے اصرار پر پیں۔ وہ بہت خوش تھی کہ اس کا خاوند اس کا کہا مان رہا ہے، کیونکہ بیوی کی بات ماننے کے معاملے میں ڈاکٹر بہت بدنام تھا۔\n\nکئی دن گزر گئے۔ خوراکیں یپنے اور پلانے کا سلسلہ چلتا رہا۔ ڈاکٹر راتھر بڑا مسرور تھا کہ اس کی ترکیب سود مند ثابت ہوئی۔ اب اسے دوستوں کا کوئی خدشہ نہیں تھا۔ ہر شام گھر میں بسر ہوتی۔ ایک خوراک پیتا اور لیٹ کر کوئی افسانہ پڑھنا شروع کردیتا۔ دوسری خوراک عین پندرہ منٹ کے بعد اس کی بیوی تیار کرکے لے آتی۔ اسی طرح تیسری خوراک اس کو بن مانگے مل جاتی۔۔۔ ڈاکٹر راتھر بے حد مطمئن تھا۔ اتنے دن گزر جانے پر اس کے اور اس کی بیوی کے لیے یہ دوا کا سلسلہ ا یک معمول ہوگیا تھا۔\n\nڈاکٹر راتھر اب ایک پوری بوتل لے آیا تھا۔ اس کا لیبل وغیرہ اتار کر اس نے اپنی بیوی سے کہا تھا، ’’کیمسٹ میرا دوست ہے۔ اس نے مجھ سے کہا،’’ آپ ہر روز تین خوراکیں لیتے ہیں،دوا آپ کو یوں مہنگی پڑتی ہے۔ پوری بوتل لے جائیے۔ اس میں سے چھوٹی نشانوں والی بوتل میں ہر روز تین خوراکیں ڈال لیا کیجیے۔۔۔ بہت سستی پڑے گی اس طرح آپ کو یہ دوا۔‘‘\n\nیہ سن کر نسیمہ کوخوشی ہوئی کہ چلو بچت ہوگئی۔ ڈاکٹر راتھر بھی خوش تھا کہ اس کے کچھ پیسے بچ گئے، کیونکہ روزانہ تین پیگ لینے میں اسے زیادہ دام دینے پڑے تھے۔ اور بوتل آٹھ روپوں میں مل جاتی تھی۔\n\nکالج سے فارغ ہو کر ڈاکٹر راتھر ایک دن گھر آیا تو اس کی بیوی لیٹی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر راتھر نے اس سے کہا، ’’نسیمہ کھانا نکالو، بہت بھوک لگی ہے۔‘‘\n\nنسیمہ نے کچھ عجیب سے لہجے میں کہا، ’’کھانا۔۔۔ کیا آپ کھانا کھا نہیں چکے؟‘‘\n’’نہیں تو۔‘‘\n\n’’نسیمہ نے ایک لمبی’’ نہیں ‘‘ کہی،’’ آپ۔۔۔ کھانا کھا چکے ہیں۔۔۔ میں نے آپ کو دیا تھا۔‘‘\n\nڈاکٹر راتھر نے حیرت سے کہا، ’’کب دیا تھا؟ میں ابھی ابھی کالج سے آرہا ہوں۔‘‘\n\nنسیمہ نے ایک جمائی لی، ’’جھوٹ ہے۔۔۔ آپ کالج تو گئے ہی نہیں۔‘‘\n\nڈاکٹرراتھر نے سمجھا، نسیمہ مذاق کررہی ہے، چنانچہ مسکرایا، ’’چلو اٹھو، کھانا نکالوسخت بھوک لگی ہے۔‘‘\n\nنسیمہ نے ایک اور لمبی ’’نہیں‘‘ کہی۔ ’’آپ جھوٹ بولتے ہیں، میں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا تھا۔‘‘\n\n’’کب۔۔۔؟ حد ہوگئی ہے۔۔۔ چلو اٹھو، مذاق نہ کرو۔‘‘ یہ کہہ کر ڈاکٹر راتھر نے اپنی بیوی کا بازو پکڑا۔ ’’خدا کی قسم میرے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔‘‘\n\nنسیمہ کھکھلا کر ہنسی، ’’چوہے۔۔۔ آپ یہ چوہے کیوں نہیں کھاتے؟‘‘\n\nڈاکٹرراتھرنے بڑے تعجب سے پوچھا، ’’کیا ہوگیا ہے تمہیں؟‘‘\n\nنسیمہ نے سنجیدگی اختیار کرکے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور اپنے خاوند سے کہا، ’’میں۔۔۔ میں۔۔۔ سرد میں درد تھا میرے۔۔۔ آپ کی دوا کی دو خو۔۔۔ خو۔۔۔۔ خوراکیں پی ہیں۔۔۔ چوہے۔۔۔ چوہے بہت ستاتے ہیں۔۔۔ ان کو مارنے والی گولیاں لے آئیے۔۔۔ کھانا۔۔۔؟ نکالتی ہوں کھانا۔‘‘\n\nڈاکٹر راتھر نے اپنی بیوی سے صرف اتنا کہا،’’تم سو جاؤ، میں کھانا کھا چکا ہوں۔‘‘\n\nنسیمہ زور سے ہنسی، ’’میں نے جھوٹ تو نہیں کہا۔‘‘\n\nڈاکٹر راتھر نے جب دوسرے کمرے میں جا کر مضطرب حالت میں زمیندار کا تازہ پرچہ کھولا تو اس کو ایک خبر کی سرخی نظر آئی۔ ’’ڈاکٹر راتھر پر رحمت خداوندی کے پھول۔‘‘ اس کے نیچے یہ درج تھا کہ پولیس نے اس کو دھوکا دہی کے سلسلے میں گرفتار کرلیا ہے۔\n\nغلام رسول عرف ڈاکٹر راتھر نے یہ خبر پڑھ کر یوں محسوس کیا کہ اس پر رحمت خدا وندی کے پھول برس رہے ہیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%AA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D9%88%D9%86%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84"} {"title": "رحمت کا تیرے امیدوار آیا ہوں", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "رحمت کا تیرے امیدوار آیا ہوں\nمنہ ڈھانپے کفن میں شرمسار آیا ہوں\nآنے نہ دیا بار گنہ نے پیدل\nتابوت میں کاندھوں پہ سوار آیا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا\nپھر کے برج سنبلہ میں آفتاب آ جائے گا\n\nتیرا احساں ہوگا قاصد گر شتاب آ جائے گا\nصبر مجھ کو دیکھ کر خط کا جواب آ جائے گا\n\nہو نہ بیتاب اتنا گر اس کا عتاب آ جائے گا\nتو غضب میں اے دل خانہ خراب آ جائے گا\n\nاس قدر رونا نہیں بہتر بس اب اشکوں کو روک\nورنہ طوفاں دیکھ اے چشم پر آب آ جائے گا\n\nپیش ہووے گا اگر تیرے گناہوں کا حساب\nتنگ ظالم عرصۂ روز حساب آ جائے گا\n\nدیکھ کر دست ستم میں تیری تیغ آب دار\nمیرے ہر زخم جگر کے منہ میں آب آ جائے گا\n\nاپنی چشم مست کی گردش نہ اے ساقی دکھا\nدیکھ چکر میں ابھی جام شراب آ جائے گا\n\nخوب ہوگا ہاں جو سینہ سے نکل جائے گا تو\nچین مجھ کو اے دل پر اضطراب آ جائے گا\n\nاے ظفرؔ اٹھ جائے گا جب پردہ شرم و حجاب\nسامنے وہ یار میرے بے حجاب آ جائے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE_%D8%AC%D9%88_%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%D9%86%D8%A8%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%DA%86_%D9%88_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "رخ روشن دکھائیے صاحب", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رخ روشن دکھائیے صاحب\nشمع کو کچھ جلائیے صاحب\n\nروح ہو کر سمائیے صاحب\nمیرے قالب میں آئیے صاحب\n\nشیخ جی ہو تمہیں سرود حرام\nآپ اپنی نہ گائیے صاحب\n\nوصل کی شب قریب آئی ہے\nاب نہ مہندی لگائیے صاحب\n\nخون عشاق ہے معانی میں\nشوق سے پان کھائیے صاحب\n\nمیں تجلی طور دیکھوں گا\nآج کوٹھے پہ آئیے صاحب\n\nآپ دل میں بگاڑ رکھتے ہیں\nبس نہ باتیں بنائیے صاحب\n\nچشم تر رونے پر ہے آمادہ\nاور سوکھی سنائیے صاحب\n\nبوسۂ رخ تو چاہتے ہو سخیؔ\nکہیں منہ کی نہ کھائیے صاحب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8"} {"title": "رخ روشن پہ صفا لوٹ گئی", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رخ روشن پہ صفا لوٹ گئی\nزلف پر کالی بلا لوٹ گئی\n\nسن کے گلشن میں مرے نالہ و آہ\nبلبل نغمہ سرا لوٹ گئی\n\nاس بت مست پہ مے خانہ میں\nدختر رز بخدا لوٹ گئی\n\nہم نہ مرتے اس ادا پر لیکن\nپاؤں پر آ کے قضا لوٹ گئی\n\nتنگ ہوں اپنی طبیعت سے میں\nجو حسین اس کو ملا لوٹ گئی\n\nاے سخیؔ خوب غزل تو نے کہی\nسن کے طبع شعرا لوٹ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D9%BE%DB%81_%D8%B5%D9%81%D8%A7_%D9%84%D9%88%D9%B9_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "رخ زلف میں بے نقاب دیکھا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رخ زلف میں بے نقاب دیکھا\nمیں تیرہ شب آفتاب دیکھا\n\nمحروم ہے نامہ دار دنیا\nپانی سے تہی حباب دیکھا\n\nسرخی سے ترے لبوں کی ہم نے\nآتش کو میان آب دیکھا\n\nقاصد کا سر آیا اس گلی سے\nنامے کا مرے جواب دیکھا\n\nجانا یہ ہم نے وفات کے بعد\nدیکھا جو جہاں میں خواب دیکھا\n\nآفت کا نشانہ ہو چکا تھا\nمیں دل کی طرف شتاب دیکھا\n\nاک وضع نہیں مزاج معشوق\nگہہ لطف و گہے عتاب دیکھا\n\nآنکھوں سے بہاریں گزریں کیا کیا\nکس کس کا نہ میں شباب دیکھا\n\nکل مے کدے میں بغیر ساقی\nاوندھا قدح شراب دیکھا\n\nکیں اس نے جفائیں بے حسابی\nاک دن نہ کبھو حساب دیکھا\n\nسینے سے نکل پڑا نہ آخر\nدل کا مرے اضطراب دیکھا\n\nکیا ہوگی فلاح بعد مردن\nجیتے تو سدا عذاب دیکھا\n\nآبادی ہے اس کی مصحفیؔ کم\nعالم کے تئیں خراب دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "رخ سے برقع جو الٹ دے وہ تو آفت ہو جائے", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رخ سے برقع جو الٹ دے وہ تو آفت ہو جائے\nقد کشی ہو تو نمودار قیامت ہو جائے\n\nدولت حسن بتاں سے تو نہ رہئے محروم\nبادشاہی نہ ہو پر عشق کی دولت ہو جائے\n\nحال دیکھے ترے حیراں کا جو اے آئنہ رو\nہے یقیں دیدۂ تصویر کو رقت ہو جائے\n\nنام گھر جانے کا لے یار اگر تو شب وصل\nخانۂ تن سے یہاں جان بھی رخصت ہو جائے\n\nطائر باغ اسیران بلا ناحق ہیں\nابھی اڑ جائیں تصور میں جو ہمت ہو جائے\n\nانتظار بت بے پیر سے کیا اس کا عجب\nمر گئے پر بھی جو وا دیدۂ حسرت ہو جائے\n\nدوستوں کا یہ ہوا حال کہ کہتی ہے خلق\nدشمنوں کو بھی ترے ساتھ نہ الفت ہو جائے\n\nاک نظر دیکھے ترا حسن جو اے آئینہ رو\nابھی تصویر کا وا دیدۂ حیرت ہو جائے\n\nطبع عالی یہی کہتی ہے قلم سے ہر دم\nشعر وہ لکھ تو کہ آفاق میں شہرت ہو جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AF%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "رخ نگار سے ہے سوز جاودانی شمع", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رُخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمع\nہوئی ہے آتشِ گُل آبِ زندگانیِ شمع\n\nزبانِ اہلِ زباں میں ہے مرگِ خاموشی\nیہ بات بزم میں روشن ہوئی زبانیِ شمع\n\nکرے ہے صِرف بہ ایمائے شعلہ قصہ تمام\nبہ طرزِ اہلِ فنا ہے فسانہ خوانیِ شمع\n\nغم اُس کو حسرتِ پروانہ کا ہے اے شعلہ\nترے لرزنے سے ظاہر ہے ناتوانیِ شمع\n\nترے خیال سے رُوح اہتزاز کرتی ہے\nبہ جلوہ ریزیِ باد و بہ پرفشانیِ شمع\n\nنشاطِ داغِ غمِ عشق کی بہار نہ پُوچھ\nشگفتگی ہے شہیدِ گُلِ خزانیِ شمع\n\nجلے ہے، دیکھ کے بالینِ یار پر مجھ کو\nنہ کیوں ہو دل پہ مرے داغِ بد گمانیِ شمع", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%AC%D8%A7%D9%88%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B4%D9%85%D8%B9"} {"title": "رخ و زلف پر جان کھویا کیا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رخ و زلف پر جان کھویا کیا\nاندھیرے اجالے میں رویا کیا\n\nہمیشہ لکھے وصف دندان یار\nقلم اپنا موتی پرویا کیا\n\nکہوں کیا ہوئی عمر کیوں کر بسر\nمیں جاگا کیا بخت سویا کیا\n\nرہی سبز بے فکر کشت سخن\nنہ جوتا کیا میں نہ بویا کیا\n\nبرہمن کو باتوں کی حسرت رہی\nخدا نے بتوں کو نہ گویا کیا\n\nمزا غم کے کھانے کا جس کو پڑا\nوہ اشکوں سے ہاتھ اپنے دھویا کیا\n\nزنخداں سے آتشؔ محبت رہی\nکنوئیں میں مجھے دل ڈبویا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE_%D9%88_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DA%BE%D9%88%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "رخ و زلف کا ہوں فسانہ خواں یہی مشغلہ یہی کام ہے", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رخ و زلف کا ہوں فسانہ خواں یہی مشغلہ یہی کام ہے\nمجھے دن کا چین عذاب جاں مجھے شب کی نیند حرام ہے\n\nترے انتظار میں ہے تعب یہ مریض ہجر ہے جاں بہ لب\nکہیں آ بھی وعدہ خلاف اب کہ یہاں تو کام تمام ہے\n\nکہوں حسرتوں کا ہجوم کیا در دل تک آ کے وہ بے وفا\nمجھے یہ سنا کے پلٹ گیا کہ یہاں تو مجمع عام ہے\n\nنہ وہ مہر و ماہ کی تابشیں نہ وہ اختروں کی نمائشیں\nنہ وہ آسماں کی ہیں گردشیں نہ وہ صبح ہے نہ وہ شام ہے\n\nمرے دم پہ عشق میں ہے بنی تجھے وعظ و پند کی ہے پڑی\nمرے ناصحا تجھے بندگی تری دوستی کو سلام ہے\n\nنہ ستائیں وہ نہ ستائیں وہ ادھر آئیں وہ ادھر آئیں وہ\nنہ سہی مجھی کو بلائیں وہ یہ خیال باطل و خام ہے\n\nتپ غم سے ہوتی ہے اب مفر کہ طبیب مرگ ہے چارہ گر\nمرا قصہ آج ہے مختصر مری داستان تمام ہے\n\nہے کہاں وہ ساقیٔ تند خو کہ ہے میکدے میں یہ ہا و ہو\nکہیں سرنگوں ہیں خم و سبو کہیں شیشہ ہے کہیں جام ہے\n\nنہیں دل کو فکر یہ بے سبب گیا دن کہاں ہوئی رات کب\nمجھے روز وصل ہے عجب ابھی صبح تھی ابھی شام ہے\n\nنہ وہ میہمان حریم دل نہ خیال اس کا مقیم دل\nہوئی قطع رسم قدیم دل نہ پیام ہے نہ سلام ہے\n\nکہیں حسن والوں کے درمیاں یہ غزل سنی تو کہا کہ ہاں\nیہ ہے نظم ثاقبؔ خوش بیاں یہ اسی کا طرز کلام ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE_%D9%88_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%B4%D8%BA%D9%84%DB%81_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "رخ پر رہی وہ زلف معنبر تمام رات", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رخ پر رہی وہ زلف معنبر تمام رات\nروشن نہ وصل میں ہوا یہ گھر تمام رات\n\nدیکھا تو غور سے ترے بیمار کو نہیں\nاس پر پڑی رہی ہے یہ چادر تمام رات\n\nدل کو بھی بھول بھول گیا بے خودی میں کچھ\nڈھونڈا کیا میں کل جو ترا گھر تمام رات\n\nہووے گا قتل صبح کو کوئی جو سخت جاں\nکرتے رہے ہیں تیز وہ خنجر تمام رات\n\nعارفؔ نہیں ہے ہم کو صبوحی کی احتیاط\nلیتے ہیں نام ساقیٔ کوثر تمام رات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE_%D9%BE%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%85%D8%B9%D9%86%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "رخ پر ہے ملال آج کیسا", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رخ پر ہے ملال آج کیسا\nدل بر ہے ملال آج کیسا\n\nاس خال سے کیا ملی ہے ذلت\nاختر ہے ملال آج کیسا\n\nبے یار نہیں ہوا ترا دور\nساغر ہے ملال آج کیسا\n\nکیا آئی ہے یاد تیغ قاتل\nاے سر ہے ملال آج کیسا\n\nہے راحت وصل کے جو آمد\nمضطر ہے ملال آج کیسا\n\nاندر میری آہ سن کے بولے\nباہر ہے ملال آج کیسا\n\nکیا آئی ہے کچھ خبر سخیؔ کی\nگھر گھر ہے ملال آج کیسا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7"} {"title": "رخ پری چشم پری زلف پری آن پری", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رخ پری چشم پری زلف پری آن پری\nکیوں نہ اب نام خدا ہو ترے قربان پری\n\nجھمکے جھمکے وہ ثریا کے کرن پھول وہ پھول\nبندے بالے پری موتی پری اور کان پری\n\nرشک خورشید جبیں ابر سیہ سی پٹی\nلہر چوٹی کی غضب زلف پریشان پری\n\nحسن گل زار قمر شکل صراحی گردن\nمہ جبیں سیب ذقن چاہ زنخدان پری\n\nمار غمزہ کی بلا تیر نگہ دست سناں\nتیغ ابرو کی ستم ترکش مژگان پری\n\nمسکرانے کی ادا جیسے چمک بجلی کی\nآن ہنسنے کی قیامت لب و دندان پری\n\nآنکھ مستی کی بھری شوخ نگاہیں چنچل\nقہر کاجل کی کھچاوٹ مسی و پان پری\n\nبینی اور نتھ کا وہ عالم کہ چھدے دل جس سے\nحور چنی کی جھلک گوہر غلطان پری\n\nدھکدھکی چاند سی جگنو بھی ستاروں کی مثال\nعطرداں طرفہ وہ توڑے بھی درخشان پری\n\nچاک سینے کا غضب صاف بدن موتی سا\nایک تصویر سی کرتی کا گریبان پری\n\nپشت گلبرگ شکم سیم کمر تار نگاہ\nسان بلور گلاوٹ میں ہر اک ران پری\n\nگھیرا پشواز کا وہ جس کے کناری قرباں\nچال آفت کی نشاں جنبش دامان پری\n\nکیا کہوں اس کے سراپا کی میں تعریف نظیرؔ\nقد پری دھج پری عالم پری اور شان پری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86_%D9%BE%D8%B1%DB%8C"} {"title": "رخ کسی کا نظر نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رخ کسی کا نظر نہیں آتا\nکوئی آتا نظر نہیں آتا\n\nکیا کہوں کیا ملال رہتا ہے\nکیا کہوں کیا نظر نہیں آتا\n\nسننے والے تو بات کے لاکھوں\nکہنے والا نظر نہیں آتا\n\nدور سے وہ جھلک دکھاتے ہیں\nچاند پورا نظر نہیں آتا\n\nکھوئی کھوئی نظر یہ کیوں مضطرؔ\nکچھ کہو کیا نظر نہیں آتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "رخ ہر اک تیر نظر کا ہے مرے دل کی طرف", "poet_page": "مصنف:مخمور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رخ ہر اک تیر نظر کا ہے مرے دل کی طرف\nآنے والے آ رہے ہیں اپنی منزل کی طرف\n\nڈوبنے والے کی مایوسی پہ دل تھرا گیا\nکس نگاہ یاس سے دیکھا تھا ساحل کی طرف\n\nسچ ہے اک اجڑی ہوئی دنیا کے کیا لیل و نہار\nتم سے بھی اب تو نہ دیکھا جائے گا دل کی طرف\n\nکس فسردہ خاطری سے رات بھر جلتی رہی\nدیر تک دیکھا کیے ہم شمع محفل کی طرف\n\nاپنی مرضی سے نہیں اپنے ارادے سے نہیں\nہر مسافر کے قدم اٹھتے ہیں منزل کی طرف\n\nتم کو کیا معلوم کیا بنتی ہے دل پر عشق میں\nآئنہ لے کر ذرا دیکھو مقابل کی طرف\n\nہو گیا مخمورؔ راز زندگی کا انکشاف\nموج آتی ہے فنا ہونے کو ساحل کی طرف", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "رخسار آج دھو کر شبنم نے پنکھڑی کے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رخسار آج دھو کر شبنم نے پنکھڑی کے\nکچھ اور بخش ڈالے انداز دل کشی کے\n\nایثار خود شناسی توحید اور صداقت\nاے دل ستون ہیں یہ ایوان بندگی کے\n\nرنج و الم میں کچھ کچھ آمیزش مسرت\nہیں نقش کیسے دل کش تصویر زندگی کے\n\nفرضی خدا بنائے سجدے کئے بتوں کو\nاللہ رے کرشمے احساس کم تری کے\n\nقلب و جگر کے ٹکڑے یہ آنسوؤں کے قطرے\nاللہ راس لائے حاصل ہیں زندگی کے\n\nصحرائیوں سے سیکھے کوئی رموز ہستی\nآبادیوں میں اکثر دشمن ہیں آگہی کے\n\nجان خلوص بن کر ہم اے شکیبؔ اب تک\nتعلیم کر رہے ہیں آداب زندگی کے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%AC_%D8%AF%DA%BE%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%B4%D8%A8%D9%86%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%BE%D9%86%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%8C_%DA%A9%DB%92"} {"title": "رخسار کو ہے زلف شکن در شکن سے ربط", "poet_page": "مصنف:سید امیر حسن بدر", "kind": "poetry", "section": "غزل > خمخانۂ بدر (1928)", "year": "1928", "text_ur": "رخسار کو ہے زلف شکن در شکن سے ربط\nیعنی ہے شیخ کعبہ کو اب برہمن سے ربط\n\nیوں ہی ہے مجھ کو اس بت پیماں شکن سے ربط\nہے چند روزہ روح کا جیسے بدن سے ربط\n\nپھولوں کو جس طرح ہو بہار چمن سے ربط\nیوں ہی تھا مجھ کو بھی کسی گل پیرہن سے ربط\n\nرکھتا نہیں ہوں صرف حسین و حسن سے ربط\nہے مجھ کو چار یار سے اور پنجتن سے ربط\n\nخوشیاں منائیں غیر نہ اس ارتباط پر\nمجھ سے بھی تھا کبھی بت پیماں شکن سے ربط\n\nحمد و ثنا میں تیری میں رطب الساں رہوں\nجب تک رہے دہن میں زباں کو سخن سے ربط\n\nدیوانہ چشم و گیسوئے مشکیں کا ہوں ترے\nرکھتا ہوں اس لئے میں غرال ختن سے ربط\n\nہم بھی کسی کے تیر نظر کے شکار تھے\nہم کو بھی تھا کبھی کسی ناوک فگن سے ربط\n\nکس درجہ طول ہے شب تار فراق یار\nشاید ہے اس کو زلف شکن در شکن سے ربط\n\nتیر نظر سے دل کو نہ چھلنی بناؤ بدرؔ\nاچھا نہیں ہے اس بت ناوک فگن سے ربط", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B4%DA%A9%D9%86_%D8%AF%D8%B1_%D8%B4%DA%A9%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%A8%D8%B7"} {"title": "رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہے", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہے\nکیوں آنکھ جھپکتی ہے کیا سامنے سورج ہے\n\nدنیا کی زمینوں سے اے چرخ تو کیا واقف\nاک اک یہاں پنہاں کاؤس ہے ایرج ہے\n\nدروازے پہ اس بت کے سو بار ہمیں جانا\nاپنا تو یہی کعبہ اپنا تو یہی حج ہے\n\nاے ابروئے جاناں تو اتنا تو بتا ہم کو\nکس رخ سے کریں سجدہ قبلے میں ذرا کج ہے\n\nانصاف کرو لوگو انصاف کرو پیارو\nشاعرؔ کی زمانے میں دنیا سے نئی دھج ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AA%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%AC%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DA%BE%D8%AC_%DB%81%DB%92"} {"title": "رخصت اے ہم سفرو شہر نگار آ ہی گیا", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رخصت اے ہم سفرو شہر نگار آ ہی گیا\nخلد بھی جس پہ ہو قرباں وہ دیار آ ہی گیا\n\nیہ جنوں زار مرا میرے غزالوں کا جہاں\nمیرا نجد آ ہی گیا میرا تتار آ ہی گیا\n\nآج پھرتا بہ چمن درپئے گل ہائے چمن\nگنگناتا ہوا زنبور بہار آ ہی گیا\n\nگیسوؤں والوں میں ابرو کے کماں داروں میں\nایک صید آ ہی گیا ایک شکار آ ہی گیا\n\nباغبانوں کو بتاؤ گل و نسریں سے کہو\nاک خراب گل و نسرین بہار آ ہی گیا\n\nخیر مقدم کو مرے کوئی بہ ہنگام سحر\nاپنی آنکھوں میں لیے شب کا خمار آ ہی گیا\n\nزلف کا ابر سیہ بازوئے سیمیں پہ لیے\nپھر کوئی خیمہ زن ساز بہار آ ہی گیا\n\nہو گئی تشنہ لبی آج رہین کوثر\nمیرے لب پر لب لعلین نگار آ ہی گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%D8%A7%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%D9%81%D8%B1%D9%88_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A2_%DB%81%DB%8C_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی\nسینکڑوں ڈوب گئے پھر بھی ہے اتنا پانی\n\nآنکھ سے بہہ نہیں سکتا ہے بھرم کا پانی\nپھوٹ بھی جائے گا چھالا تو نہ دے گا پانی\n\nچاہ میں پاؤں کہاں آس کا میٹھا پانی\nپیاس بھڑکی ہوئی ہے اور نہیں ملتا پانی\n\nدل سے لوکا جو اٹھا آنکھ سے ٹپکا پانی\nآگ سے آج نکلتے ہوئے دیکھا پانی\n\nکس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی\nجھوم کر آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی\n\nپھیلتی دھوپ کا ہے روپ لڑکپن کا اٹھان\nدوپہر ڈھلتے ہی اترے گا یہ چڑھتا پانی\n\nٹکٹکی باندھے وہ تکتے ہیں میں اس گھات میں ہوں\nکہیں کھانے لگے چکر نہ یہ ٹھہرا پانی\n\nکوئی متوالی گھٹا تھی کہ جوانی کی امنگ\nجی بہا لے گیا برسات کا پہلا پانی\n\nہاتھ جل جائے گا چھالا نہ کلیجے کا چھوؤ\nآگ مٹھی میں دبی ہے نہ سمجھنا پانی\n\nرس ہی رس جن میں ہے پھر سیل ذرا سی بھی نہیں\nمانگتا ہے کہیں ان آنکھوں کا مارا پانی\n\nنہ ستا اس کو جو چپ رہ کے بھرے ٹھنڈی سانس\nیہ ہوا کرتی ہے پتھر کا کلیجہ پانی\n\nیہ پسینہ وہی آنسو ہیں جو پی جاتے تھے ہم\nآرزوؔ لو وہ کھلا بھید وہ ٹوٹا پانی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B3_%D8%A7%D9%86_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "رس بھرے ہونٹ", "poet_page": "مصنف:محمد دین تاثیر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "رس بھرے ہونٹ\nپھول سے ہلکے\nجیسے بلور کی صراحی میں\nبادۂ آتشیں نفس چھلکے\nجیسے نرگس کی گول آنکھوں سے\nایک شبنم کا ارغواں قطرہ\nشفق صبح سے درخشندہ\nدھیرے دھیرے سنبھل سنبھل ڈھلکے\nرس بھرے ہونٹ یوں لرزتے ہیں.....!\nیوں لرزتے ہیں جس طرح کوئی\nرات دن کا تھکا ہوا راہی\nپاؤں چھلنی نگاہ متزلزل\nوقت صحرائے بیکراں کہ جہاں\nسنگ منزل نما نہ آج نہ کل.....\nدفعتاً دور..... دور!..... آنکھ سے دور\nشفق شام کی سیاہی میں\nقلب کی آرزو نگاہی میں\nفرش سے عرش تک جھلک اٹھے\nایک دھوکا..... سراب..... منبع نور.....!\nرس بھرے ہونٹ دیکھ کر تاثیرؔ\nرات دن کے تھکے ہوئے راہی\nیوں ترستے ہیں، یوں لرزتے ہیں.....!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B3_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88%D9%86%D9%B9"} {"title": "رس کی انوکھی لہریں", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میں یہ چاہتی ہوں کہ دنیا کی آنکھیں مجھے دیکھتی جائیں یوں دیکھتی جائیں جیسے\nکوئی پیڑ کی نرم ٹہنی کو دیکھے\nلچکتی ہوئی نرم ٹہنی کو دیکھے\nمگر بوجھ پتوں کا اترے ہوئے پیرہن کی طرح سچ کے ساتھ ہی فرش پر ایک مسلا ہوا\nڈھیر بن کر پڑا ہو\nمیں یہ چاہتی ہوں کہ جھونکے ہوا کے لپٹتے چلے جائیں مجھ سے\nمچلتے ہوئے چھیڑ کرتے ہوئے ہنستے ہنستے کوئی بات کہتے ہوئے لاج کے بوجھ\nسے رکتے رکتے سنبھلتے ہوئے رس کی رنگین سرگوشیوں میں\nمیں یہ چاہتی ہوں کبھی چلتے چلتے کبھی دوڑتے دوڑتے بڑھتی جاؤں\nہوا جیسے ندی کی لہروں سے چھوتے ہوئے سرسراتے ہوئے بہتی جاتی ہے رکتی\nنہیں ہے\nاگر کوئی پنچھی سہانی صدا میں کہیں گیت گائے\nتو آواز کی گرم لہریں مرے جسم سے آ کے ٹکرائیں اور لوٹ جائیں ٹھہرنے نہ پائیں\nکبھی گرم کرنیں کبھی نرم جھونکے\nکبھی میٹھی میٹھی فسوں ساز باتیں\nکبھی کچھ کبھی کچھ نئے سے نیا رنگ ابھرے\nابھرتے ہی تحلیل ہو جائے پھیلی فضا میں\nکوئی چیز میرے مسرت کے گھیرے میں رکنے نہ پائے\n\nمسرت کا گھیرا سمٹتا چلا جا رہا ہے\nکھلا کھیت گندم کا پھیلا ہوا ہے\nبہت دور آکاش کا شامیانہ انوکھی مسہری بنائے رسیلے اشاروں سے بہکا رہا ہے\nتھپیڑوں سے پانی کی آواز پنچھی کے گیتوں میں گھل کر پھسلتے ہوئے اب نگاہوں سے اوجھل ہوئی جا رہی ہے\nمیں بیٹھی ہوئی ہوں\nدوپٹا میرے سر سے ڈھلکا ہوا ہے\nمجھے دھیان آتا نہیں ہے مرے گیسوؤں کو کوئی دیکھ لے گا\nمسرت کا گھیرا سمٹتا چلا جا رہا ہے\nبس اب اور کوئی نئی چیز میرے مسرت کے گھیرے میں آنے نہ پائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%A9%DA%BE%DB%8C_%D9%84%DB%81%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رساؔ کو دل میں رکھتے ہیں رساؔ کے جاننے والے", "poet_page": "مصنف:رسا رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رساؔ کو دل میں رکھتے ہیں رساؔ کے جاننے والے\nوفا کی قدر کرتے ہیں وفا کے جاننے والے\n\nتری تیغ ادا کھنچتے ہی اپنی جان جاتی ہے\nقضا سے پہلے مرتے ہیں قضا کے جاننے والے\n\nبھری ہیں شوخیاں لاکھوں تری نیچی نگاہوں میں\nہمیں ہیں کچھ تری شرم و حیا کے جاننے والے\n\nمری فریاد سن کر کچھ انہیں پروا نہیں ہوتی\nنڈر بیٹھے ہیں آہ نارسا کے جاننے والے\n\nرساؔ کو سب نے سمجھایا مگر سمجھا نہ کچھ ظالم\nہوئے مجبور اس مرد خدا کے جاننے والے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%94_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%94_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "رساکشی", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "میں اپنے اس افسانے کو ایک موٹے سے رسے کے نام نامی پر معنون کرتا ہوں جو بڑے زور و شور سے کھینچا جا رہا ہے۔\n\n(۱)\n\nعرصہ کئی سال کا ہوا ہم دو دوست دسمبر کی چھٹیوں میں اپنے وطن لاہور سے کلکتے گئے۔ وہاں سے واپسی کا ذکر ہے کہ میرے دوست تو وہیں رہ گئے اور میں کلکتے سے سیدھا وطن روانہ ہوا۔ راستے کا ذکر ہے۔ ایک انتہا سے زیادہ ہیبت ناک خان صاحب کا سفر میں ساتھ ہوا۔ ان کے ساتھ ایک نوعمر برقع پوش خاتون بھی تھیں اور بہت جلد معلوم ہوگیا کہ باپ بیٹی ہیں۔ ان خان صاحب کی بڑی زبردست مونچھیں تھیں۔ تمول اور آرام نے چہرہ انار کی طرح سرخ کر دیا تھا۔ سفید شلوار پر ایک کوٹ پہنے تھے اور قومی لباس زیب تن کیے رئیسانہ انداز کے ساتھ افغانی جلال کی بولتی ہوئی تصویر تھے۔ ہم سیکنڈ کلاس میں سفر کر رہے تھے اور ایک جگہ جب ہم صرف تین مسافر درجے میں رہ گئے تو مجھ سے ان کی گفتگو ہوئی۔\n\nصاحب زادی صاحبہ چہرے سے نقاب الٹ کر باہر کی طرف منہ کیے بیٹھی تھیں اور ظلم تو دیکھیے کہ ان کو تو اجازت کہ مجھے دیکھیں اور ادھر میرا یہ حال کہ ادھر نظر نہیں کر سکتا کیونکہ بدقسمتی سے خان صاحب کے پاس علاوہ مونچھوں کے کمر پیٹی میں ایک چاندی کے دستہ کا خوشنما خنجر بھی تھا۔ اور اس امر کی تحقیقات کی مجھے قطعی ضرورت نہ تھی کہ خاں صاحب اس کا استعمال موقعوں پر کرتے ہیں یا کبھی بے موقع بھی۔ صاحب زادی صاحبہ نے یہ محسوس کر لیا میں سر بھی نہیں اٹھا سکتا تو ان کو اور بھی آزادی حاصل ہوگئی۔\n\nلیکن غور فرمائیے کہ ان کو نہ کیسے دیکھتا۔ نہایت ہی صاف شفاف بلور کا سا رنگ تھا اور چہرہ نوجوانی کے نور کے سبب ریشم کے برقعے میں جگمگا رہاتھا۔ یہ مجھے تسلیم ہے کہ ناک نقشے پر غور کرنے کی ہمت نہ ہوئی، در اصل ایک جھپکی سے زائد دیکھنا اپنی جوانی سے ہاتھ دھونا تھا۔ خان صاحب بیٹی سے کبھی کبھار پشتو میں ’’دغدغائے‘‘ پھر میرے اوپر بھی عنایت ہوئی۔ یعنی موسم کی شکایت۔ ریل کے محکمے کی نالائقی پر مجھے ان کی صائب رائے سے اتفاق کرنا پڑا۔ اس کے بعد ہی کچھ سیاست کے بارے میں بات چیت ہوئی اور وہ بھی کچھ اس طرح کہ انہوں نے جو میرا نام پوچھا تو میں نے یہی سمجھا کہ اگر میں نے اصلی نام بتا دیا اور ان کو یہ معلوم ہوگیا کہ میں ہندو ہوں تو محض اس بنا پر یہ مجھے قتل تو خیر نہیں کریں گے مگر سفر ضرور ’’میلا‘‘ ہو جائے گا۔ باپ اور بیٹی دونوں مجھے قطعی دوسری نظروں سے دیکھیں گے۔ لہٰذا کیا فائدہ سچ بولنے سے۔ چنانچہ میں نے اپنا نام نور محمد بتا دیا اور یہ کہ کلکتے میں تجارت کرتا ہوں۔ خاں صاحب بھی تجارت کرتے تھے اور ایکس پور میں رہتے تھے، وہیں جا رہے تھے۔ اور میری خوش مزاجی کی داد دیجیے کہ میں نے کہا، ’’اوہو ایکس پور تو میں خود دو روز کے لیے اتروں گا۔‘‘\n\nیہ سنتے ہی خان صاحب افغانی اخلاق کا نمونہ بن گئے۔ کہنے لگے، ’’میرے یہاں ٹھہرنا پڑے گا۔‘‘ میں نے تھوڑے سے اصرار پر منظور کر لیا۔ مگر میں یہ پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ میرا اترنا وہاں مشروط ہے۔ اسٹیشن پر مجھے تار موجود ملے گا اور میرا اترنا یا نہ اترنا مشروط ہے۔\n\nاس کے بعد میں عرض نہیں کر سکتا کہ خان صاحب کے اخلاق کا کیا عالم ہوگیا۔ وہی خوفناک چہرہ اب اخلاق و محبت کا آئینہ ہو گیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ صاحب زادی صاحبہ کے برقعے کے نقاب کا نہ صرف زاویہ مختلف ہو گیا بلکہ آنکھ کے قریب پیشانی مع دو ایک سنہری لٹوں کے کھولنے میں اندیشہ نہیں رہا۔ اور پھر سفر تو سفر ہے۔ میں ان کے وجود سے اس قدر خائف ہو چکا تھا کہ اس طرف سے لوٹا بھی نہ اٹھا سکتا تھا، خان صاحب نے فوراً نہ صرف اجازت دی تھی بلکہ اس کو اسلامی شعار اور پردے کی بیجا سختی قرار دیا تھا۔\n\n(۲)\n\nمیں نے ابھی تک سوا اس کے کچھ بھی طے نہ کیا تھا کہ خان صاحب کے ساتھ سفر دلچسپی سے گزرے، لیکن اب سوا اس کے چارہ ہی نہ تھا کہ خان صاحب کے گھر مہمان ہوں۔ بات یہ ہوئی کہ ایک اسٹیشن پر خان صاحب اتر کر گھومنے لگے۔ صافہ اور کوٹ ان کا ان کی جگہ پر ہی تھا۔ گھومتے گھومتے وہ حضرت ذرا دور نکل گئے اور وہ بھی ایسے کہ گاڑی چھوٹ گئی اور ان کو مجبوراً ایک انٹر کلاس میں بیٹھنا پڑا۔ مگر ستم ہو گیا۔ صاحب زادی صاحبہ نہ صرف گھبرا گئیں، بلکہ گھبرا کر گاڑی چلتے ہی اپنے والد بزرگوار کے بارے میں چلائیں۔ مطلب یہ کہ میں دیکھوں۔ میں نے دیکھا بھی اور کہا کہ ’’آپ گھبرائیں نہیں وہ دوسری جگہ بیٹھ گئے ہوں گے۔‘‘ انہوں نے انتہائی گھبراہٹ میں بالمشافہ سوال کیے اور میں نے انتہائی احترام اور تمیز سے ان کو ہر طرح اطمینان دلا دیا، لیکن ان کو چین کہاں۔ کہنے لگیں، ’’خدا کرے وہ بیٹھ گئے ہوں۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’محترمہ آپ گھبرائیں نہیں۔‘‘ وہ بولیں، ’’میں انتہا سے زیادہ پریشان ہوں کیونکہ وہ چلتی گاڑی میں کبھی نہیں بیٹھ سکتے۔‘‘ میں نے بیٹی کے منہ سے باپ کی ناقابل تردید ضخامت کے قصیدے کی تشبیب پر غور کیا اور کہا، ’’مگر گاڑی چلتے ہی بیٹھ گئے ہوں گے۔‘‘\n\n’’مگر بھیڑ بھی تو کتنی تھی۔۔۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’محترمہ آپ مطمئن رہیں۔ گھبرائیں نہیں۔‘‘ وہ چپ ہوگئیں۔ برقعے کا نقاب ان کے سرپر تھا مگر وہ داہنی طرف سے کپڑے سے وہ اپنا آدھا چہرہ اب بھی چھپائے تھیں۔ اب انہوں نے اس کو اپنے خوبصورت دانتوں میں دبا لیا۔ حیرت اور گونہ پریشانی چہرے پر تھی۔ میری طرف حیران پریشان دیکھ رہی تھیں۔\n\n’’اگلا اسٹیشن کب آئے گا؟‘‘\n\nمیں نے بتا دیا۔\n\n’’میں بڑی ممنون ہوں گی اگر آپ گاڑی رکتے ہی۔۔۔‘‘\n\n’’محترمہ آپ مطمئن رہیں۔ میں گاڑی رکتے ہی اتر پڑوں گا۔ آپ کے گھبرانے سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’شکریہ۔ صد شکریہ آپ کا۔ میں مجبور ہوں۔ معاف کیجیے گا آپ کو بہت تکلیف دی۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’کوئی مضائقہ نہیں۔ میں ہر خدمت کے لیے حاضر ہوں۔‘‘ مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں نے ان کے خوبصورت اور دلکش چہرے اور ناک نقشے کو خوب غور سے دیکھ لیا تھا اور پھر اس پر ان کا انگریزی لب و لہجہ۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھ ہی لیا، ’’اگر ناگوار خاطر نہ ہو اور میں قابل معافی سمجھا جاؤں تو کیا میں آپ سے ایک سوال کر سکتا ہوں۔۔۔ مگر نہیں غالباً۔۔۔‘‘\n\n’’آپ شوق سے پوچھ سکتے ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’مگر شائستگی کے خیال سے۔۔۔ در اصل۔۔۔ میں۔۔۔ معاف کیجیے گا۔۔۔ محترمہ۔۔۔ ممکن ہے آپ کے والد صاحب قبلہ ناپسند فرمائیں۔۔۔ آپ کی انگریزی گفتگو کا لب و لہجہ کس قدر انگریزی ہے۔۔۔‘‘\n\n’’میری والدہ انگریز تھیں۔۔۔ کرنل اوسرم کی لڑکی۔‘‘\n\n’’اچھا۔‘‘ میں نے مطمئن ہو کر کہا، ’’معاف کیجیے گا۔ مجھے حق تو نہ تھا اس قسم کے سوال کا بالخصوص خان صاحب کی وجہ سے۔ مگر میں سخت متحیر تھا۔۔۔‘‘\n\nوہ بڑے فخر کے ساتھ بولیں، ایسے کہ گویا ضرورتاً، ’’مگر آپ کو سخت تعجب ہوگا کہ ساری عمر انہوں نے نہ پھر کبھی انگریزی لباس پہنا اور نہ پردے سے باہر نکلیں اور روزہ نماز کی سخت پابند تھیں۔ سخت پردہ کرتی تھیں۔‘‘\n\nاب پردے اور روزے کا سوال رہا الگ، نماز کا نام سن کر میں سخت چکرایا۔ کہیں پوچھ بیٹھے کہ نماز میں کیا پڑھتے ہیں۔ کلمہ تو یاد تھا۔ مگر نماز سے قطعی ناواقف تھا۔ حالانکہ ہزاروں مرتبہ لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ مگر اب جو غور کرتا ہوں تو کچھ یاد نہیں پڑتا۔ سوا سجدہ اور رکوع اور اللہ اکبر کے۔ اور وہ بھی رکوع کا نام رکوع تو اب معلوم ہوا، آدھا جھکنا کہہ سکتا تھا۔ ہاں سجدے کا نام یاد تھا۔ خیر میں نے دل میں کہا۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ مسلمان نوجوان آج کل نماز نہیں پڑھتے۔ ہم بھی انہیں میں سے سہی۔ کپڑے سب انگریزی ٹھیرے، دیکھا جائے گا اور پھر یہ بھی خیال کہ کون ہمیں ان دلربا خاتون سے شادی کرنا ہے جو اس مخمصے میں پڑیں۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ ایسے انگریزی میں ڈوبے ہوئے مسلمان نوجوان تصور کرلیے جائیں گے جو کلمے سے آگے کچھ نہیں جانتے۔\n\n(۳)\n\nجب اگلا اسٹیشن آیا تو پہلا کام میں نے یہ کیا کہ گاڑی ہلکی ہوتے ہی قبل رکنےکے کود پڑا۔ اس تندہی اور زور کے ساتھ کہ معلوم ہو کہ اگر میں نہ گیا تو گویا خان صاحب ملیں گے ہی نہیں۔ چشم زدن میں خان صاحب کو لے آیا اور میں نے دونوں کو خوش کرنے کے لیے کہا، ’’خان صاحب۔ معاف کیجیے گا۔ باپ بیٹی میں ایسی محبت کم از کم میں نے آج تک نہیں دیکھی۔‘‘ اور یہ کہہ کر میں نے تمام حیرانیوں کو دس سے ضرب دے کر جو بیان کیا ہے تو یہ حال ہے کہ باپ اور بیٹی دونوں ایسے خوش کہ بیان نہیں کر سکتا۔ اس اسٹیشن کے بعد ہمارے ’’مسافری‘‘ برتاؤ ترقی کرکے کہیں سے کہیں پہنچے۔ حتی کہ ایکس پور کا اسٹیشن آنے سے پہلے ہی طے ہو چکا تھا کہ میں ضرور ہی اتروں گا۔ خواہ تار آئے یا نہ آئے۔ چنانچہ میں نے اس حکم کی بخوشی تعمیل کی۔\n\nپہلے تو سنتا ہی تھا۔ اب تجربے نے ثابت کردیا کہ افغانی خلوص کیا ہے؟ خان صاحب کی دولڑکیاں اور دو لڑکے تھے۔ یہ لڑکی سب سے بڑی تھی اور اس کا نام عالم تھا۔ مجھے یہاں رساکشی کے مسئلہ کو پیش کرنا ہے اور اخلاقیات پر بحث نہیں ہے۔ لہٰذا میں قدرے آزادی سے کام لے کر ناظرین سے کوئی امر پوشیدہ نہ رکھوں گا۔\n\nخان صاحب کا بڑا کاروبار تھا اور بہت سے فوجی ٹھیکے تھے۔ اس کاروبار سے قطع نظر کر کے مجھے تو اپنے کام سے کام تھا۔ میں اب دل میں یہ سوچ رہا تھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ شادی ہو جائے۔ جہاں تک مذہب کا سوال ہے میں ذات کا کھتری، ہندو کا بچہ۔ مگر ہندو اس لیے کہ ہندو کے گھر میں پیدا ہوا۔ رہ گئی مذہبیت تو سچ پوچھیے نہ میں رام کا دلدادہ اور نہ اللہ میاں کا شوقین۔ سوال یہ تھا کہ کیوں نہ میں اس لڑکی سے شادی کی کوشش کروں۔ کہاں لاہور، کہاں ’’ایکس پور۔‘‘ انہیں کبھی پتہ نہیں چل سکے گا اور پتہ چل بھی گیا تو جھگڑا ختم۔ مسلمان ہوکر نماز وغیرہ سیکھ لوں گا۔ لیکن ایک بات ضرور تھی۔ میری موجودہ بیوی کیا کہے گی۔ مجھے اپنی پیاری بیوی کتنی عزیز ہے اور تھی، میں عرض نہیں کرسکتا۔ صورت شکل اور محبت کا جہاں تک تعلق ہے، مجھے اپنی پیاری بیوی بے حد عزیز تھی۔ خیال آیا اور چلا گیا۔ اسے کیا پتہ چلے گا اور بالفرض پتہ چل بھی گیا تو خفا ہو جائے گی نا۔ راضی کر لیں گے۔ ویسی ہی دیوانی ہے محبت میں۔ راضی کر لوں گا۔\n\nان امور کو دل میں طے کر کے میں ترکیب سوچنے لگا کہ کیا کرنا چاہیے۔ یہ تو کہہ ہی چکا تھا کہ ماں باپ نہیں۔ بہن بھائی نہیں۔ شادی ابھی ہوئی نہیں ہے۔ صرف تجویز کرنا باقی تھا۔ ضرورت یہ محسوس ہوئی کہ خان صاحب کا باپ کی طرح احترام کیا جائے۔ مثلاً دوڑ کر پانی پلا دیا، چیز اٹھا دی، حتی کہ جوتا اٹھا دیا۔ اس آخری ترپ نے بازی جیت لی اور پھر رخصت ہوتے وقت کوئی سو روپیہ کے تحائف وغیرہ سے میں نے خان صاحب کے بچوں کی خاطر کی۔ اب بتائیے کہ مجھ سے بہتر اور کوئی نوجوان ممکن تھا! ہاں یہ کہنے کی اجازت دیجیے کہ اگر افغانیوں سے صورت شکل ہاتھ پیر میں بہتر نہیں تو ہیٹا نہیں ہوں۔ اب رہا روپیہ تو خان صاحب سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ ہوگا۔ کم و بیش دو ہزار روپے مہینے کی سکنی جائیداد کی آمدنی تھی۔\n\nلاہور پہنچ کر میں نے اور تحفے بھیجے اور لکھا کہ کلکتے واپس جا رہا ہوں۔ خان صاحب نے پہلی ہی دفعہ میں اپنےکئی دوست احباب سے ملاقات کرا دی تھی۔ کلکتے جاتے میں میں پھر ’’ایکس پور‘‘ آیا اور اب کی دفعہ خان صاحب کے خاص خاص دوستوں کے لیے لاہور سے پھل وغیرہ لایا۔ سب کے سب مجھ سے اتنا خوش ہوئے ہیں کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ اور اسی طرح میں دوچار دفعہ جو ’’ایکس پور‘‘ پہنچا تو زمین ہموار تھی۔ خان صاحب کے ایک گہرے دوست کے ذریعے عندیہ جولیا، خان صاحب کو تیار پایا۔ پھر کیا تھا دس ہزار روپیہ میں نے اس حماقت کے لیے علیحدہ نکالا اور عالم کے لیے وہ زیورات اور کپڑے تیار کرائے کہ خان صاحب بھی دنگ رہ گئے۔ اب یہ سوال کہ خان صاحب نے قبل شادی کسی کے ذریعے لاہور میں تحقیقات کروا لی ہوتی تو عرض ہے کہ یہ ان کی غلطی کہیے ورنہ انتظام میں نے اس کا بھی کرلیا تھا۔ اس سے زائد اور کیا اطمینان ممکن تھا کہ خود پیغام میرے چچا یعنی لاہور کے ایک ایسے رئیس نے دیا تھا جن کے مسلمان ہونے میں تو شک تھا ہی نہیں۔ دو ایک جاننے والے خود ’’ایکس پور‘‘ میں موجود تھے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کا بھتیجا میرا دوست نور محمد تھا جو وقت بگڑے پر بھی کام آنے والا دوست تھا۔\n\nقصے کو مختصر کرتا ہوں۔ اپنی نور نظر عالم کو خان صاحب نے میری نور نظر بنا دیا۔ میں نے اپنی جدید بیوی کو کیسا پایا؟ کچھ عرض نہیں کرسکتا۔ سچ کہتا ہوں کہ محبت میں اس نے پہلی بیوی کو بھلا دیا۔ ایسا کہ میں خود فنا ہو کر رہ گیا۔ اپنے ساتھ کلکتے لے گیا اور معقول مکان کرایے پر لے کر ٹھاٹ سے رہنے لگا۔\n\n(۴)\n\nہم دونوں میاں بیوی بے طرح خوش تھے لیکن بہت جلدعالم کو میرے تجارتی معاملات کی طرف سے شبہ ہوا۔ میں نے کہہ دیا کہ کاروبار سست ہے مگر عرض ہے کہ چست اور سست کیسا بھی کاروبار ہو، اس کا وجود تو نہیں چھپتا۔ چنانچہ اقبال کرنا پڑا کہ کاروبار بند ہے اور ترکیب چلائی کہ ساجھے میں ہے اور اصل پوچھئے تو عالم کو بھی سیر و تفریح سے اور عشق و محبت سے کہاں فرصت جو اس تحقیقات میں سر کھپائیں۔ میری طرف سے اجازت تھی کہ جو چاہیں خرچ کریں اور جب جی چاہے باپ کے پاس جائیں۔\n\nاس دوران میں لاہور بھی جانا پڑا۔ وہاں محبت کی ماری سرلا دیوی حیران کہ مجھے ایکا ایکی یہ کیا ہوا کہ اِدھر اُدھر غائب ہوں۔ اس سے تو یہ کہہ سکتا تھا کہ تجارت کرتا ہوں۔ اس کی محبت اور الفت بدستور تھی اور میں کہتا ہوں کہ مجھے اس کی دلربا اور معصوم صورت مسکراتے پھول کی طرح کھلی دیکھ کر رحم آیا۔ وہ ہرگز اس کی مستحق نہ تھی کہ اس کے ہوتے ہوئے کسی حور کو بھی جگہ دی جائے۔\n\nبہت جلد میں نے محسوس کیا کہ میں رساہوں بلکہ رساکشی شروع ہو چکی تھی۔ مجھے دو طرف جوابدہی کرنی پڑ رہی تھی۔ لاہور سے زیادہ دن تک غائب رہنے کے وجوہات کلکتے میں پیش کروں اور کاروبار اور گھر کلکتے میں ہوتے ہوئے قریبی رشتہ داروں کے نہ ہوتے ہوئے لاہور میں رہنے کا عذر معقول پیش کروں۔ در اصل مجھ سے غلطی ہوئی، مجھے یہ کہنا چاہیے تھا کہ کاروبار کی ایک شاخ لاہور میں ہے۔ یہ رساکشی اس قسم کی تھی کہ دونوں طرف کی محبت اور معاملات مجھے اپنی اپنی طرف اس طرح کھینچتے تھے کہ ازخود دوڑنا پڑتا تھا تب جاکر بمشکل رسی ڈھیلی ہوتی تھی۔\n\nچند مہینے بھی نہ گزرنے پائے تھے کہ لاہور کی ٹیم نے زور لگانا شروع کیا۔ سرلانے صدائے احتجاج بلند کی۔ اس نے صاف صاف کہہ دیا کہ جہاں چلو، مجھے بھی لے چلو اور کیوں نہ کہتی، مہارانی شری سیتاجی کی پرستار تھی۔ اب میں اس سے یہ کیونکر کہتا کہ نیک بخت وہاں راستے میں ایک زبردست مونچھوں والا ہیبت ناک خان ایسا رہتا ہے کہ جس کو دیکھتے ہی تمہارے دیوتا کوچ کر جائیں گے۔\n\n(۵)\n\nعید کے موقع پر ’’ایکس پور‘‘ آیا ہوا تھا۔ بعد عید دوست احباب کے یہاں اپنے خسر صاحب کے ساتھ ملنے گیا۔ ایک سپرنٹنڈنٹ ڈاک خانہ جات تھے۔ ان سے بھی ملنا تھا۔ خان صاحب نے کہا کہ تم بچوں کو لے کر چلو میں آتا ہوں۔ اب یقین مانیے کہ میں جو سالوں کو لے کر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے پرانے دوست احمد علی بیٹھے ہیں۔ مجھے دیکھتے ہی چلائے، ’’ارے یار تو کہاں؟‘‘\n\nاب میں کیا عرض کروں! کاٹو تو لہو نہیں بدن میں! یہ سوال نہیں کہ اس موقعے پر مجھے کیا کرنا چاہیے تھا۔ یہ پوچھیے میں نے کیا کیا۔ یہ کہ تعجب سے انہیں دیکھنے لگا۔ میں نے کہا، ’’معاف کیجیے گا۔ میں نے جناب کو پہچانا نہیں۔۔۔ غلط فہمی ہوئی ہوگی۔۔۔ خوب۔۔۔ جی نہیں۔ میں تو کبھی جناب کے ساتھ نہیں پڑھا۔۔۔‘‘\n\n’’ارے۔۔۔!‘‘ گھبراکر احمد علی نے کہا؛’’باؤلا ہوا ہے۔۔۔‘‘ میں نے کہا، ’’مجھے سخت افسوس ہے کہ جناب ایک قطعی انجان ہو کر میری سخت توہین کر رہے ہیں اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اب اگر جناب نے زیادتی کی تو مجھے کیا کرنا پڑے گا۔۔۔‘‘\n\nسپرنٹنڈنٹ صاحب فوراً بیچ میں پڑ گئے۔ انہوں نے احمد علی صاحب کو ڈانٹا اور روکا اور ان سے کہا غلط فہمی ہوئی ہے۔ مگر توبہ کیجیے وہ بھلا مانس ماننے والا تھا۔ میرے رخسار پر ایک کھرونچہ تھا جو بچپن میں انہی حضرت احمد علی کے تیز ناخن سے لگا تھا۔ چنانچہ احمد علی نے اب اس کا حوالہ دیا۔ میں کیا کرتا مجبوراً بدمزگی کے ساتھ وہاں سے رخصت ہو کر ہانپتا کانپتا گھر پہنچا۔ خسر صاحب کا انتظار کیا مگر وہ نہ آئے۔\n\nاب میں بڑے سوچ میں پڑ گیا کہ معاملہ بگڑ گیا۔ لیکن یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ احمد علی آج ہی چلا جائے گا۔ خان صاحب گھر پر آئے تو معلوم ہواکہ سپرنٹنڈنٹ صاحب کے یہاں نہیں گئے۔ در حالیکہ نہ صرف وہاں ہو کر آئے تھے بلکہ حقیقت معلوم کرکے ایک آدمی کو دریافت حال کے لیے تعینات کرکے آئے تھے۔ مگر میں نے خدا کا شکر ادا کیا اور پھر ان میں کوئی تغیر ہی نہ دیکھا۔ مگر دوسرے روز میں سپرنٹنڈنٹ صاحب کے پاس خود گیا تاکہ معلوم کروں کہ معاملات کی صورت کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ احمد علی نے ساری حقیقت بیان کردی ہے۔ مگر معاملہ غلط فہمی کے عذر کے آگے کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے بھی اصلیت چھپائی۔ چنانچہ وہاں سے واپس آکر میں نے خود اپنے خسر صاحب سے اس ’’دلچسپ‘‘ غلط فہمی کا واقعہ ہنس ہنس کر بیان کیا۔ عالم نے بھی اسے دلچسپی سے سنا اور احمد علی کی حماقت کا خوب مذاق اڑایا گیا۔ قصہ مختصر میرے خسر صاحب خود مشکوک ہو چکے تھے مگر انہوں نے اس امر کو ایسے پوشیدہ رکھا کہ میں معلوم نہ کر سکا اور میں بے خبری میں تھا کہ ایک دم سے طوفان پھٹ پڑا۔\n\nعید کے چوتھے یا پانچویں روز کا ذکر ہے کہ عالم نے کلکتے چلنے کو کہا اور میرا ارادہ ہوا کہ لاہور جاؤں کیونکہ لاہور کا رسا بڑے زور سے کھینچ رہا تھا۔ لیکن اس لاہور اور کلکتے کے سوال کو میرے خسر صاحب نے یہ کہہ کر طے کر دیا۔ ابھی ہفتہ بھر اور ٹھہرنا چاہیے۔ میں رک گیا اور اصل میں مجھے نہیں معلوم تھا کہ مجھے کیوں روک رہے ہیں۔\n\nاس کے تیسرے دن کا ذکر ہے۔ کوئی نو بجے ہوں گے۔ میں باہر برآمدے میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا کہ خسر صاحب کا موٹر آکر رکا۔ کہیں باہر سے آئے تھے۔ موٹر سے اتر کر وہ برآمدے میں آئے ہیں۔ میں کھڑا ہوا ہوں کہ بجلی کی طرح خان صاحب نے خنجر سے میرے اوپر حملہ کر کے غضب ناک شیر کی طرح گرج کر کہا، ’’کافر!‘‘ میں قطعی اس کے لیے تیار نہ تھا اور اگر اخبار والا ہاتھ موقع پر نہ پہنچ جاتا تو خنجر میرے سینے میں پیوست ہو گیا تھا۔ خنجر کو اخبار نے روکا اور میرا ہاتھ زخمی ہوا۔ میں چیخ کر قریب کی کرسی گھسیٹ کر تڑپ کر بھاگا اور خان صاحب شیر غراں کی طرح پشتو میں گالیاں اور لفظ ’’کافر‘‘ کا نعرہ مارتے میرے پیچھے۔ میں چیختا، خدا کے واسطے دیتا، کلمہ پڑھتا گھر میں گھسا۔ میں کہاں پناہ ڈھونڈ سکتا تھا؟ عالم کے سوا اور مجھے کون بچا سکتا تھا؟\n\nتیر کی طرح جھپٹ کر میں عالم کے کمرے میں پہنچا۔ وہ صوفے پر بیٹھی کسی کام میں مشغول تھی مگر اس بلوے کی گڑبڑ سن کر کھڑی ہوئی کہ میں پہنچا۔ دوڑ کر میں نے اس کے پیر پکڑ لیے، ’’خدا کے واسطے مجھے بچا۔۔۔‘‘ تڑپ کر میں اس کی پشت پر پہنچا۔ کیونکہ غضب ناک شیر آپہنچا تھا۔ میں چیختا جا رہا تھا۔ سن تو لیجیے۔ بلند آواز سے کلمہ پڑھتا ہوں۔ مگر کون سنتا ہے۔ لیکن بیوی پھر بیوی ہے۔ عالم نے سینہ سپر ہوکر دیوانہ وار روتے ہوئے اپنے کو درمیان میں ڈال دیا۔ خان صاحب کی خون فشاں آنکھوں سے غیظ و غضب کی چنگاریاں اڑ رہی تھیں۔ ’’کافر بچہ۔۔۔‘‘ انہوں نے گرج کر کہا، ’’مار ڈالوں گا‘‘ اور لڑکی کو جھٹکا دے کر پھر حملہ آور ہوئے کہ میری سالی بھی روتی ہوئی آگئی تھی اور اب دونوں بہنیں باپ سے لپٹ پڑیں اور روک لیا۔ عالم اپنے باپ کے ہاتھ میں لپٹ گئیں اور دونوں بیٹیاں ایسی روئیں اور اِدھر میں نے کلمہ پڑھ پڑھ کے دہائی دے کے قبل اپنے قتل ہونے کے دو منٹ مانگے تو خان صاحب کو رکنا پڑا۔ خنجر علیحدہ رکھنا پڑا اور ٹھنڈے دل سے تو خیر ناممکن تھا۔ یوں سمجھیے ’’گرم دل‘‘ سے میری بات سننے پر راضی ہوئے۔\n\nمیں نے دولفظوں میں اپنی برأت پیش کی۔ وہ یہ کہ میں ہندو بے شک تھا مگر عرصہ ہوا مسلمان ہوگیا اور مسلمان ہوں۔ رہ گئی ہندو بیوی تو مذہب بدلنے کے بعد سے مجھ سے اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اپنے اسلام لانے کا ثبوت دے سکتا ہوں۔ اور پھر قصہ ہی کیا ہے، میں کہتا ہوں کہ مسلمان ہو چکا اور ہوں اور بالفرض پہلے نہیں تو اب ہوں لا الہ اللہ محمد رسول اللہ۔ جو میرے اسلام میں شک کرے وہ بقول علماء خود کافر۔ چلیے چھٹی ہوئی۔ اب رہ گیا یہ سوال کہ میں نے یہ بات پہلے سے کیوں نہ کھول دی۔ بے شک میری خطا ہوئی اور موجود ہوں، جو سزا چاہیں دے لیجیے۔\n\n’’تونے دھوکا دیا ہمیں۔۔۔‘‘ خان صاحب نے پھر گرم ہوکر کہا، ’’ہندو بچہ کہیں کا۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’قبلہ عالم مجھے اپنی خطا تسلیم ہے۔ جو کچھ بھی کہیے دھوکا کہہ لیجیے خواہ فریب۔‘‘\n\nجھگڑا یوں طے ہونا قرار پایا کہ ہندوستان بھر کے مشہور علماء کو تار دے کر پوچھا جائے کہ ایسا ایسا معاملہ ہے، آپ کیا فتویٰ دیتے ہیں۔ اور اگر کہیں میرے خلاف فتویٰ آئے کہ کافر نے دھوکا دے کر لڑکی خراب کی تو میں قتل کردیا جاؤں گا اور فی الحال میں زیر حراست سمجھا گیا۔ اپنی بیوی اور سالی کی حراست میں رہا۔\n\nاس حادثہ فاجعہ کی خبر سن کر خان صاحب کے جملہ ہمدرد اور دوست دوڑ پڑے۔ لیکن جو بھی مجھ سے ملا اس نے یہی فیصلہ دیا کہ خطا ضرور میری ہے۔ مگر اب قصہ یوں ختم ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ چنانچہ طول و طویل تار ہندوستان کے جملہ کفر سازی کے کارخانوں کے مشہور منیجروں کو دیے گئے اور ان سب مولویوں نے یہی لکھا کہ شادی کالعدم نہیں ہوئی اور اگر ایسی صورت میں کوئی اپنے اسلام لانے کا پورا ثبوت بہم پہنچا سکے تو مضائقہ نہیں ہے۔ یہی کافی ہے کہ نکاح کے وقت اس نے اسلام کا اقرار کیا اور اب بھی مسلمان ہے اور اس کا یہ کہہ دینا کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں قطعی کافی ہے اور بمنزلہ تکرار کے ہے۔\n\nجب ہر طرح کا مذہبی اطمینان ہو گیا تو اب خان صاحب نے یہ فرمایا کہ تم دھوکہ باز ہو۔ مجھے یقین نہیں کہ اپنی ہندو بیوی کو چھوڑ چکے ہو۔ لہٰذا مجھ سے اب ایک تحریر اسٹامپ پر لکھ کر رجسٹری کرائی گئی او راس میں میں نے یہ لکھ دیا کہ میں عرصہ ہوا مسلمان ہو چکا ہوں اور میری پہلی بیوی سرلا دیوی جو ہندو ہے، اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ میں اس کا شوہر اور نہ وہ میری بیوی۔ اب غور فرمائیے کہ یہاں تو یہ تحریر اور وہاں وہ غریب بے خبر گھر کی مالکہ بنی بیٹھی ہے۔ آپ کہیں گے کہ میں نے ایسی تحریر کیوں لکھی؟ جواب یہ کہ زبردست کا ٹھینگا سر پر! نہ کیسے لکھتا۔ علاوہ اس تحریر کے ساتھ ہی یہ تحریر بھی مجھ سے لکھوا لی کہ میں نے دھوکا دے کر شادی کر لی اور میں گنہگار اور خطاوار اور قابل سزا ہوں اور آپ کو اختیار ہے کہ اس دھوکہ دہی پر مجھے سزا دلوا دیں۔\n\nمیں نے یہ بھی بذریعہ اس تحریر کے تسلیم کرلیا کہ فلاں فلاں میں فلاں بات میں نے جھوٹ اور دھوکے سے لکھی اور یہ دھوکا دہی محض عالم کے ساتھ نکاح کرنے کی غرض سے تھی۔ یہ بھی تسلیم کرلیا کہ محض فریب اور دھوکا دینے کی نیت سے میں نے اپنی اصلیت چھپائی اور اپنے دوسرے فرضی عزیزوں کو مسلمان بتایا اور یہ سب فریب دہی میں نے محض عالم کے ساتھ نکاح کرنے کے لیے کی اور میں خطاوار اور قصور وار ہوں۔ نیز توہین اور خرچہ اور نقصان و ایذا رسانی کی تلافی بھی میرے ذمے ہے اور عالم اور ان کے والد کو اختیار ہے کہ جب چاہیں مجھے سزا دلا سکتے ہیں اور تلافی پر بھی مجبور کر سکتے ہیں۔\n\nاور اس تحریر کے بعد ایک دوسری رجسٹری دستاویز کے ذریعہ اپنی جائیداد سکنی لاہور قیمتی پندرہ ہزار بعوض مہر اپنی زوجہ عالم کے حق میں مکفول کی اور وعدہ کیا کہ قبضہ لاہور چل کر دلا دوں گا۔ ایک دوسری دستاویز کے ذریعہ اپنی زوجہ عالم کے حق میں بطور گزر خرچ پانچ سو روپیہ ماہوار لکھے اور اس کی ادائیگی کی سبیل میں بقیہ جائداد کو مکفول کیا اور قبضہ اپنی زوجہ عالم کو لاہور چل کر دلا دینے کو کہا۔ تیسری دستاویز کے ذریعہ اپنےخسر صاحب کو اپنا محتار عالم مقرر کیا اور اپنی ساری جائیداد منقولہ و غیر منقولہ پر کامل اختیار اور انتظام دے دیا۔ اور اب یہ تمام دستاویزیں لکھ لکھ کر خسر صاحب میرے ساتھ لاہور چلنے کو ہوئے تاکہ میری پہلی بیوی کی مکمل علیحدگی اور جائیداد پر قبضہ کر کے قصہ ختم کر سکیں۔\n\nجیسا کہ میں عرض کر چکا، ان دستاویزات کو لکھ کر میں قتل ہونے سے بچا۔ دیکھا جائے تو میں نے بھی ستم کیا تھا۔ آگ سے کھیل رہا تھا۔ خان صاحب تو ان دستاویزات کے لکھ دینے سے مجھ سے تو راضی کیا ہوتے لیکن مجھے قتل نہ کرنے پر راضی ہوگئے مگر عالم کا اطمینان بھی تو کرنا تھا۔ انگلش خون میں افغانی آمیزش! اور اِدھر سچ پوچھیے تو میں پھر ایک لالہ ٹھہرا۔ مجھے عالم ہی نے بچایا تھا اور سچ پوچھیے تو مجھے عالم ایسی عزیز اور پیاری تھی کہ میں اسے چھوڑنے کا یا اسے رنج پہنچانے کا خیال بھی نہ کرسکتا۔ ایسی غیور اور جانباز لڑکی اور ایسی محبت کرنے والی اور ایسی خوبصورت عورت سے کیسے نہ محبت ہو۔ پھر عالم کی یہ کیفیت کہ سچ پوچھیے تو وہ نہ میری جائیداد چاہتی تھی نہ دستاویزات۔ وہ تو مجھے چاہتی تھی اور اپنے مذہب کو۔ میرا ہندو ہو جانا یا مسلمان نہ ہونا اس کے لیے ایسا تھا کہ دنیا میں کوئی شے اس کی تلافی نہ کر سکتی تھی۔ لہٰذا عالم کو راضی کرنا دو طرح مجھ پر فرض آیا۔ ایک تو محبت کے لیے اور دوسرے اپنی جان کی حفاظت کے لیے۔\n\nایک محبت کرنےوالی سچی اور پاکباز بیوی کو رضامند کر لینا، ایک جھوٹے شوہر کے لیے بہت آسان ہے۔ چنانچہ میں نے عالم کو نہ صرف راضی کر لیا بلکہ اس نے ٹھیکہ لے لیا کہ بشرطیکہ میں ہندو نہ ہو جاؤں یعنی بدستور مسلمان رہوں، میری جان قطعی محفوظ رہے گی۔ اس حادثے کے تیسرے ہی روز لاہور جانا پڑا۔ میری پوزیشن کی نزاکت کا اندازہ لگانا آسان ہے۔ مگر نہیں واقعات ہی سن لیجیے۔\n\nخان صاحب مع اپنے دو خطرناک دوستوں کے مع خنجراور ریوالور کے میرے ساتھ تھے۔ ہم سب مل کر گھر پہنچے۔ یہاں پہنچے جو سہی تو خان صاحب کا پارہ چڑھ گیا۔ کہیں ہندو کا گھر چھپائے چھپتا ہے اور پھر جب میں مسلمان ہوچکا تو یہاں پر ’’ہندو رواج‘‘ چہ معنی دار۔ نوکروں کی دھوتیاں اور گول لوٹے ہی دیکھ کر خان صاحب چمک گئے، پھر یہ کیا معاملہ؟ بیوی گھر میں ہے مگر جواب کون دے۔ میں گھر میں جو گیا تو اپنی دل کی کلی یعنی رساکش نمبر 1 کو پھول کی طرح کھلا پایا۔ مگر مجھے محبت جتانے کی فرصت کہاں۔ میں نے دولفظوں میں مصیبت بیان کی۔ ایک غلطی ہوگئی ہے اور جان جوکھم میں پڑگئی تو ایسا ایسا کرنا پڑا ہے۔ بڑے خونی سے سابقہ پڑا ہے، اب بہتر کہ مجھے بچاؤ۔ یعنی اس وقت چوں نہ کرو اور عارضی طور پر اپنے میکے چلی جاؤ۔ ہندو بیوی بھی کتنی غریب اور بے کس ہوتی ہے مگر اس کے یہ معنی تو نہیں کہ سرلا مجھ سے ہاتھ دھو بیٹھے۔\n\nیہاں یہ ضرورت نہیں کہ یہ بتاؤں کہ اس کا یہ سن کر حال کیا ہوا۔ اس نے خود گھبرا کر مجھے لعن طعن کی۔ مگر فوراً ہی میری تجویز کے سامنے کس انداز سے سر تسلیم خم کیا ہے کہ میں نے اس کا سر چوم لیا۔ بیچاری حواس باختہ ہوکر گھبرا کر بولی، ’’جائیداد روپیہ سب تمہارا ہے۔ تم نے دے دیا۔ خوب کیا۔ سب دے دو مگر جان چھڑاؤ۔ اب رہ گئے تم۔ تو تم میرے ہو اور میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے لپک کر میرا کوٹ پکڑ لیا، ’’میں نہیں جانے دوں گی۔۔۔ نہ جاؤ اس خوفناک پٹھان کے پاس۔۔۔ وہ تمہیں مار ڈالے گا۔۔۔ میں نہیں جانے دوں گی۔۔۔ منیب جی کو بلالو اور جائیداد وغیرہ کے بارے میں جو جی چاہے کرو۔ کہہ دو ان سے کہ تم جاؤ۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر رونا شروع کیا۔\n\nاب باہر عجیب معاملہ۔ منیب جی احمق نے گویا خان صاحب کے غصے پر دھار رکھ دی۔ قصہ کو یوں مختصر کرتا ہوں کہ سرلا لپٹ گئی اور اس نے نہ چھوڑا۔ اِدھر خان صاحب بگڑ کھڑے ہوئے۔ نوکروں کی کس کی مجال تھی جو ان کی خونی آنکھوں سے آنکھ ملا سکتا۔ گڑبڑ بڑھی، سرلا کے چچازاد بھائی کو کوئی بلانے دوڑا مگر خان صاحب کو یہ شبہ ہو گیا کہ میں چھپ رہا ہوں۔ وہ غصے میں گھر کے اندر گھس پڑے۔ سرلا میرا دامن پکڑے کھڑی رو رہی تھی کہ میں خان صاحب کی صورت دیکھ کر لرز گیا۔ مگر وا ری بیوی۔ اِدھر خان صاحب گرجے ہیں اور اُدھر سرلا جان پر کھیل کر لپکی خان صاحب کی طرف، ایک لکڑی لے کر، جو منہ میں آیا سناتی ہوئی۔\n\n’’ٹھیر جو جا کم بخت۔۔۔ آمجھے مار۔۔۔‘‘ اور پہنچتے پہنچتے لکڑی جو سنبھالی ہے تو وہ ایسے بدحواس ہو کر بھاگے ہیں کہ گرتے گرتے بچے۔ مگر اس کے یہ معنی تھوڑی تھے کہ خان صاحب دب گئے، وہ ایک کمزور عورت کے سامنے آنا نہیں چاہتے تھے اور انہوں نے جھٹ میرے لیے ریوالور نکال لیا مجھے مارنے کو اور میں نے خیریت اسی میں سمجھی کہ سرلا کو جھٹک کر خان صاحب کے پیر پکڑ لوں۔ چیل کی طرح جھپٹ کر خان صاحب مجھے باہر لے گئے۔ میرے سالے صاحب بھی آگئے اور ’’رساکشی‘‘ شباب پر پہنچی مگر خان صاحب کی جیت رہی، مجھے گرفتار کر کے لے گئے۔ غلطی خود ان کی تھی، میں منع کرتا تھا کہ گھر نہ چلیے۔ ضرورت ہی نہ تھی۔ وہ نہ مانے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میں اب بھی قتل نہیں ہوا!\n\nقصے کو مختصر کرتا ہوں۔ خان صاحب نے ایک دعویٰ میری طرف سے سرلا کے خلاف دائر کرایا۔ بابت استقرار حق بدیں امر کہ میں مسمی نور محمد مسلمان ہوں اور سرلا دیوی اب میری بیوی نہیں رہی اور میرا اس سے اب کوئی تعلق نہیں رہا اور نہ میں اس کی کفالت کا ذمہ دار ہوں۔ اس کے جواب میں سرلا نے بھی دعویٰ استقرار حق بدیں امر کہ مسمی شنکر لال حال نور محمد از روئے ہندو دھرم شاستر میرا جائز شوہر ہے۔ مجھے خرچ وغیرہ دینے سے منکر ہے اور مجھے زوجیت سے اپنی خارج کہتا ہے۔ لہٰذا ہزار روپیہ ماہوار خرچ گزارہ اور رہائش کو مکان دلایا جائے اور حکم امتناعی دوامی اس امر کا صادر ہو کہ مجھے اپنی زوجیت سے خارج نہ کرے۔\n\nیہ دونوں دعوے سرگرمی سے دائر کر دیے گئے اور رساکشی زوروں میں شروع ہو گئی۔ تمام دستاویزات جو ’’ایکس پور‘‘ میں بحق عالم رجسٹری کرائی گئی تھیں، ان کی از سرنو لاہور میں پھر رجسٹری ہوئی اور جملہ جائیداد غیر منقولہ کے کاغذات اور قبضہ خان صاحب نے بہ نوک خنجر مجھ سے لے لیا اور دونوں طرف سے مقدمہ کی سرگرمی سے پیروی ہونے لگی۔ آپ کہیں گے کہ میں نے سرلا کے ساتھ ظلم کیا۔ ظلم بے شک کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا قتل ہو جاتا؟ یا عالم کے ساتھ ظلم کرتا۔ آخر کرتا کیا؟\n\nمگر اب میری عقلمندی کی تعریف کیجیے کہ ایک طرف تو یہ رساکشی ہو رہی ہے اور دوسری طرف میں سرلا سے بھی ملتا ہوں اور کیسے کیسے غریب کو سمجھاتا ہوں کہ خدا کی بندی صبر کر، مت گھبرا۔ میں اول تیرا اور آخر تیرا۔ میں مسلمان نہیں ہوں۔ تو گھبرا مت اطمینان رکھ مگر وہ بیچاری کیا کرے۔ مسلمانوں کو اور پٹھانوں کو سینکڑوں کوسنے دیتی ہے اور روتی ہے اور ہار کر غریب آخر یہی کہتی ہے کہ میں تمہاری لونڈی ہوں مجھے چھوڑنا مت اور میں جواب میں کہتا ہوں کہ نیک بخت تو میری اور میں تیرا۔ ان مقدموں اور جائیداد کے جھگڑوں کو ہونے دے۔ بس میری جان کی خیرمنا۔ جو اس خان سے جان بچی تو تیرا ہی ہوں۔\n\nادھر تو یہ حال اور اُدھر والوں کو کچھ اطمینان تو ہوا تھا مگر بہت جلد پتہ چل گیا کہ میں چھپ چھپ کر سرلا سے ملتا ہوں۔ کوئی ثبوت ان کے پاس نہ تھا، لہٰذا میں انکار کر جاتا اور جانا ثابت ہوتا بھی تو بہانہ کر دیتا۔ خان صاحب نے اب یہ ترکیب کی تھی کہ مقدمے کی پیشی کے دن مجھے اپنے ساتھ لاہور لاتے تھے ورنہ ’’ایکس پور‘‘ میں اپنے ساتھ رکھتے تھے اور وہ بھی گویا زیر حوالات۔ لیکن میں نے کئی مرتبہ یہ کیا کہ کلکتے اور دوسری جگہ کا بہانہ کرکے لاہور سرلا کی دلجوئی کرکے سہارا دے کر لوٹ آیا۔ لیکن بات چھپ نہ سکتی تھی اور ایک دفعہ پکڑا گیا۔ خان صاحب نے تو خنجر دکھائے مگر عالم کا مارے رنج و غم کے برا حال ہو گیا۔ خان صاحب نے مجھ سے توبہ نامے اور اقرار نامے لکھائے کہ اب سرلا سے ملنے نہ جاؤں گا اور اگر جاؤں تو جو سزا چاہیں دیں اور پھر انہیں بھی توڑ دیا۔\n\nہر دفعہ خطا قبول کرکے عالم اور ان کے باپ کے آگے سر جھکا دیتا کہ حاضر ہوں۔ جو سزا چاہیں دے لیں۔ سچ مچ سرخان صاحب کے پیروں میں رکھ دیتا۔ ان کے ملنے والوں کے آگے ہر دفعہ ہاتھ جوڑتا اور ہر دفعہ وعدے کرتا اور پھر توڑ دیتا۔ در اصل ناممکن تھا کہ میں رساکش نمبر 1 کو بالکل ہی چھوڑ دوں۔ ارادہ کرتا، پھر ایک غیبی طاقت سے مجبور ہو جاتا۔ وہ بے قصور تھی۔ وہ بڑے زور و شور سے کھینچنے والی ’’رساکش‘‘ تھی جس نے رسا پہلے پکڑا تھا۔ اس نے اپنی زندگی میرے پیچھے تج دی تھی۔ خطا میری اور وہ معافی مانگتی! بھلا بتائیے تو میں اس فرشتہ سیرت بیوی کو کیسے چھوڑ دیتا۔\n\nیہ کیسے ممکن تھا کہ کبھی کبھار بھی اس سے نہ ملوں اور اِدھر خان صاحب اور عالم کا یہ خیال کہ ذرا ڈھیل ڈالی نہیں کہ میں پھر ہندو ہوا۔ بلکہ خان صاحب تو کہتے تھے کہ میں مسلمان ہی نہیں۔ اپنے کو کہتے تھے کہ مولویوں کے فتاوے سے مجبور ہوں ورنہ کب کا قتل کر کے قصہ پاک کرتا۔ ایک دفعہ جب میں کئی بار وعدہ خلافی کر چکا تو خان صاحب نے یہ ارادہ کیا کہ طلاق لے لیں۔ مگر یہ سنتے ہی عالم کو غش پہ غش آنے لگےاور چھوٹی سالی نے الگ رو رو کر برا حال کر لیا۔ در اصل عالم مجھے نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ لہٰذا یہ خیال ہی ترک کرنا پڑا۔ حالانکہ اگر ایسا کرتے تو میری سب جائیداد، مہر اور اقرار ناموں اور تاوان وغیرہ میں ان کو مل سکتی تھی۔ قصہ مختصر جہاں تک میری ذات کا تعلق تھا میں نے سرلا سے ملنا بند نہ کیا اور ہر وعدہ خلافی پر کوئی نہ کوئی نئی تحریر نئی دستاویز مرتب ہوتی تھی۔ مگر میں تو عہد نامہ توڑنے ہی کے لیے لکھتا تھا۔\n\nاب کچھ مقدمے کا حال سنیے۔ سرلا نے بیان دیے کہ وہ میری بیوی ہے اور دھرم شاستر کی رو سے شادی شدہ ہے اور مجھے نہیں چھوڑنا چاہتی۔ میں نے یہ بیان دیا کہ میں مسلمان ہوگیا ہو ںاور اب یہ میری زوجہ نہیں رہی۔ دونوں مقدمے میں ہارا۔ عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ ہندو قانون کی رو سے میاں اور بیوی میں طلاق نہیں ہو سکتی۔ خواہ میاں اپنا مذہب چھوڑ دے یا بیوی اپنا مذہب چھوڑ دے۔ ہندو دھرم شادی کو معاہدہ نہیں مانتا بلکہ فریقین کا تعلق عمر بھر کے لیے مذہب کی بنیاد پر قائم کرتا ہے جو کسی طرح بھی نہیں ٹوٹ سکتا، لہٰذا ہم فیصلہ دیتے ہیں کہ مسماۃ سرلا دیوی مسمی نور محمد سابق سیٹھ شنکر لال کی جائز بیوی ہے اور رہے گی اور گزارہ اور رہائش کے لیے مکان پانے کی مستحق ہے۔ گزارہ ہم پانچ سو روپیہ ماہوار مقرر کرتے ہیں اور جس مکان میں وہ رہتی ہے، اس پر تاحیات قابض رہے گی۔ رہ گیا یہ امر کہ ہم نور محمد کو حکم دیں کہ وہ سرلا دیوی کو بطور اپنی زوجہ کے رکھے تو بوجہ تبدیل مذہب ہو جانے کے ہم اس بارے میں کوئی خاص حکم صادر نہیں کرتے اور فریقین کو ان کی مرضی پر چھوڑتے ہیں۔\n\nجو دعویٰ میری طرف سے ہوا تھا وہ مع خرچہ خارج ہوا اور اس میں یہ طے ہوا کہ اس معاملے میں شرع محمدیؐ کا قانون کہ ایک مسلمان شوہر ایک ہندو بیوی کا جائز شوہر نہیں ہو سکتا، ناقابل نفاذ ہے۔ لہٰذا حکم ہوا کہ مسمی نور محمد کی بیوی سرلا دیوی ہے اور بدستور رہے گی۔ ان دونوں مقدمات کی ہم نے ہائی کورٹ تک اپیل کی اور ہار گئے اور معلوم ہوا کہ ہندوستان کے تمام ہائی کورٹوں کا متفقہ فیصلہ یہی ہے۔ یہ تھا وہ اٹل فیصلہ جس نے طے کر دیا کہ ’’رساکشی‘‘ زور میں جاری ہے۔ خان صاحب پچھڑ کر رہ گئے۔ عالم پست ہو کر رہ گئیں اور سرلا دیوی اکڑ کر رہ گئیں۔ رہ گیا میں، تو حضرت ایک ’’رساکشی‘‘ کے مضبوط رسے کی طرح تن کر رہ گیا اور دونوں طرف کے ’’رساکش‘‘ اب لگا رہے ہیں زور ڈٹ ڈٹ کے۔\n\nخان صاحب نے بدحواس ہو کر دو تین اور دستاویزات لکھوائیں۔ مجھے بھلا کیا انکار ہو سکتا تھا، فوراً لکھ دیں۔ یہ تمام دستاویزات ایسی ہیں کہ ان کی خلاف ورزی کرکے میں ایک منٹ جیل سے باہر نہیں رہ سکتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ میں تو جیل جانے کو تیار ہوں اور خاں صاحب مجھے کب کا جیل پہنچا چکے ہوتے جو کہیں عالم بچانے والی بیچ میں نہ ہوتی۔\n\nاب اس کے بعد نوبت یہ پہنچی کہ عالم بھی جزبز رہنے لگیں اور تازہ ترین دستاویزیں ایسی خطرناک تھیں اور خان صاحب کا غصہ اور عالم کی نظریں ایسی ترچھی ہوئیں کہ میں نے سرلا سے ہر طرح قطع تعلق کر لیا۔ ایسا کہ خان صاحب اور عالم دونوں راضی ہوگئے اور تمام شبہات رفع ہوگئے اور خود غور کیجیے کہ میں بقول خود خان صاحب کہاں تک وعدہ خلافی کرتا۔ آخرش عالم کی محبت اور خان صاحب کی خوفناک آنکھ کی چشم پوشی سے شرمندہ ہو کر مسخر ہو گیا اور حلف جو اٹھایا تھا کہ اب کبھی سرلا کی طرف رخ بھی نہ کروں گا اس کا پاس ایسا کیا کہ خود خان صاحب قائل ہوگئے کہ اب میری نگرانی کی چنداں ضرورت نہیں رہی۔\n\nعرض ہے کہ جب معاملات خوشگواری کے اس اطمینان کے درجہ کو پہنچے تو اللہ نے کرم کیا۔ خان صاحب کو خدا نے چاند سا نواسہ عطا فرمایا اور اس بچہ کا چھٹے دن عقیقہ ہوا یعنی سر گھوٹا گیا۔ مگر غور تو کیجیے کہ سر تو بیٹے کا گھٹے اور اولے پڑیں باپ کے سر پر، یعنی اسی دن شام کو یہ خبر پہنچی کہ میری جان سے پیاری سرلا دیوی جی نے بھی کرم فرمایا ہے اور وہ مضمون کہ یک نہ شد دو شد، اللہ نے ایک چھوڑ دو بیٹے ایک دم جو عنایت کیے ہیں تو بدہضمی تو آپ سمجھیں ویسے ہی بری ہوتی ہے اور پھر خوشی کی۔ نتیجہ یہ کہ غنیمت سمجھیے جو خان صاحب نے نواسے کو یتیم نہیں کر دیا اور میں بچ گیا اور پھر وہی رساکشی!\n\nاور اب اس رساکشی کا کیا حال ہے۔ اس سے اندازہ لگ سکتا ہے کہ سرلا کے پاس جاتا ہوں تو وہ کہتی ہے کہ تم تو مسلمان ہو، ہرگز ہندو نہیں ہو۔ اور عالم سے لاکھ کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں خدارا یقین کرو مگر وہ نہیں مانتی۔ آپ جانیں عورت ذات چیز ہی ایسی ہے۔ چنانچہ اب تو یہ مضمون ہے،\n\nعالمِ تنگ نظر نے مجھے کافر جانا\nاور سرلا یہ سمجھتی ہے مسلماں ہوں میں\n\nاور میں دل میں ہنستا ہوں اور پریشان ہوکر دل میں کہتا ہوں،\n\nچہ تدبیر اے مسلمانان کہ من خود را نمی دانم\nنہ ترساؤ یہودی ام نہ گبرم نے مسلمانم\n\nقصہ مختصر رساکشی جاری ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B3%D8%A7%DA%A9%D8%B4%DB%8C"} {"title": "رسم ایسوں سے بڑھانا ہی نہ تھا", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رسم ایسوں سے بڑھانا ہی نہ تھا\nخدمت ناصح میں جانا ہی نہ تھا\n\nبڑھ گئے کچھ اور ان کے حوصلے\nرونے والوں کو ہنسانا ہی نہ تھا\n\nدل کا بھی رکھنا تھا ہم کو کچھ خیال\nاس طرح آنسو بہانا ہی نہ تھا\n\nکل زمانہ خود مٹا دیتا جنہیں\nایسے نقشوں کو مٹانا ہی نہ تھا\n\nبے پیے واعظ کو میری رائے میں\nمسجد جامع میں جانا ہی نہ تھا\n\nرہ گیا آنکھوں میں نقشہ آپ کا\nنزع میں صورت دکھانا ہی نہ تھا\n\nخود وہ دے دیتے تو اچھا تھا عزیزؔ\nکیا کہیں یوں زہر کھانا ہی نہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B3%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے\nعظمت عشق بڑھا دی ہم نے\n\nجب کوئی تازہ شگوفہ پھوٹا\nکی گلستاں میں منادی ہم نے\n\nجب چمن میں نہ کہیں چین ملا\nباب زنداں پہ صدا دی ہم نے\n\nآنچ صیاد کے گھر تک پہنچی\nاتنی شعلوں کو ہوا دی ہم نے\n\nخون دل سے در مے خانہ پر\nتیری تصویر بنا دی ہم نے\n\nدل کو آنے لگا بسنے کا خیال\nآگ جب گھر کو لگا دی ہم نے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B3%D9%85_%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92"} {"title": "رسم و رواج کی پابندی کے نقصانات", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اپنے اس آرٹیکل کو بعض بڑے بڑے حکیموں کی تحریروں سے اخذ کر کر لکھتے ہیں۔ کیا عمدہ قول ایک بڑے دانا کا ہے کہ ’’انسان کی زندگی کا منشایہ ہے کہ اس کے تمام قوی اور جذبات نہایت روشن اور شگفتہ ہوں اور ان میں باہم نامناسبت اور تناقض واقع نہ ہو بلکہ سب کا مل کر ایک کامل اور نہایت متناسب مجموعہ ہو۔‘‘ مگر جس قوم میں کہ پرانی رسم و رواج کی پابندی ہوتی ہے یعنی ان رسموں پر نہ چلنے والا مطعون اور حقیر سمجھا جاتا ہے وہاں زندگی کا منشا معلوم ہو جاتا ہے۔\n\nایک اور بڑے دانا شخص کی رائے کا یہ نتیجہ ہے کہ آزادی اور اپنی خوشی پر چلنا جہاں تک کہ دوسروں کو ضرر نہ پہونچے، ہر انسان کی خوشی اور اس کا حق ہے۔ پس جہاں کہیں معاشرت کا قاعدہ جس کا کوئی چلتا ہے، خاص اس کی خصلت پر مبنی نہیں ہے بلکہ اگلی روایتوں پر یا پرانی رسم و رواج پر مبنی ہے تو وہاں انسانوں کی خوشحالی کا ایک بڑا جزو موجود نہیں ہے اور جو کہ خوشحالی ہر فرد بشر کی اور نیز کل کی ترقی کا بہت بڑا جزو ہے تو اس ملک میں جہاں رسموں کی پابندی ہے وہ جزو بھی ناپید ہوتا ہے۔\n\nکسی شخص کی یہ رائے نہ ہوگی کہ آدمیوں کو بجز ایک دوسرے کی تقلید کے اور کچھ مطلق نہ کرنا چاہیے۔ اور نہ کوئی شخص یہ کہے گا کہ آدمیوں کو اپنی اوقات بسری کے طریقے اور اپنے کاروبار کی کارروائی میں اپنی خوشی اور اپنی رائے کے مطابق کوئی بھی نہ کرنی چاہیے۔ سیدھا طریقہ یہ ہے کہ آدمی کو اس کی جوانی میں اس طرح سے تعلیم ہونی چاہیے کہ اور لوگوں کے تجربوں سے جو نتیجے تحقیق ہو چکے ہیں ان کے فوائد سے مستفید ہو او ر پھر جب اس کی عقل پختگی پر پہنچے تو خود ان کی بھلائی اور برائی کو جانچے۔\n\nبے سوچے اور بے سمجھے رسوما ت کی پابندی کرنے سے گو وہ رسمیں اچھی ہی کیوں نہ ہوں، آدمی کی ان صفتوں کی ترقی اور شگفتگی نہیں ہوتی جو خدائے تعالیٰ نے ہر آدمی کو جدا جدا عنایت کی ہیں۔ ان قوتوں کا برتاؤ جو کسی چیز کی بھلائی برائی دریافت کرنے اور کسی بات پر رائے دینے اور دو باتوں میں امتیاز کرنے اور عقل و فہم کو تیز رکھنے بلکہ اخلاقی باتوں کی بھلائی اور برائی تجویز کرنے میں مستعمل ہوتی ہیں، صرف ایسی ہی صورت میں ممکن ہے جب کہ ہم کو ہر بات کے پسند یا ناپسند کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ جو شخص کوئی بات رسم کی پابندی سے اختیار کرتا ہے وہ شخص اس بات کو پسند یا نا پسند نہیں کرتا۔ اور نہ ایسے شخص کو اس چیز کی تمیز یا خواہش میں کچھ تجربہ ہوتا ہے، اخلاقی اور عقلی قوتوں کی ترقی اس صوت میں حاصل ہوتی ہے جب کہ وہ استعمال میں لائی جاویں ان قوتوں کو اوروں کی تقلید کرنے سے کسی بات کی مشق حاصل نہیں ہوتی بلکہ ایسے شخص کے لیے بجز ایسی قوت تقلید کے جو بندر میں ہوتی ہے اور کسی قوت کی حاجت نہیں۔\n\nالبتہ جو شخص اپنا طریقہ خود پسند کرتا ہے وہ اپنی تمام قوتوں سے کام لیتا ہے۔ زمانہ حال پر نظر کرنے کے لیے اس کو قوت تحقیق در کار ہوتی ہے اور انجام کار پر غور کے لیے قوت تجویز اور اس کا تصفیہ کرنے کو قوت استقرائ اور بھلا برا ٹھہرانے کو قوت امتیاز اور سب باتوں کے تصفیہ کو بعد اس پر قائم رہنے کے لیے قوت استقلال، اور یہی سب کام ہیں جو انسان کے کرنے کے لائق ہیں۔ آدمی مثل ایک کل کے نہیں ہے کہ جو اس کے واسطے مقرر کر دیا ہے اسی کو انجام دیا کرے، بلکہ وہ ایک ایسا درخت ہے جو ان اندرونی قوتوں سے جو خدا نے اس میں رکھی ہیں اور جن کے سبب وہ زندہ مخلوق کہلاتا ہے ہر چہار طرف پھیلے اور بڑھے، پھولے اور پھلے۔\n\nجو امر کہ پسندیدہ اور تسلیم کے قابل ہے، وہ یہ ہے کہ لوگ اپنے فہم اور اپنی عقل سے کام لیں اور رسم و رواج کی پابندی بھی ایک معقول طور پر رکھیں یعنی جو عمدہ و مفید ہیں ان کو اختیار کریں، جو قابل اصلاح ہوں ان میں ترمیم کریں اور جو بری اور خراب ہوں ان کی پابندی چھوڑ دیں، نہ یہ کہ اندھوں کی طرح یا ایک کل کی مانند ہمیشہ اسی سے لپٹے رہیں۔\n\nیہ بات خیال کی جاتی ہے کہ رسومات کی پابندی نہ کرنے سے آدمی خراب کاموں اور بری باتوں میں مبتلا ہو جاتا ہے، مگر یہ بات صحیح نہیں ہے اس لیے کہ انسان کی ذات میں جیسے کہ خراب کام کرنے کی قوتیں اور جذبے ہیں، ویسے ہی ان کے روکنے کی قوتیں اور جذبیں بھی ہیں۔ مثلاً ایمان یا نیکی جو ہر انسان کے دل میں ہے۔ پس خراب کام ہونے کا یہ باعث نہیں ہے کہ اس نے رسومات کی پابندی نہیں کی بلکہ یہ باعث ہے کہ اس نے ایک قسم کی قوتوں اور جذبوں کو شگفتہ اور شاداب اور قوی کیا ہے اور دوسری قسم کی قوتوں اور جذبوں کو پژمردہ اور ضعیف۔ اگر رسومات کی پابندی نہ رکھنے کے ساتھ انسان کا ایمان ضعیف نہ ہو، یا وہ دلی نیکی جو ہر انسان کے دل میں ہے پژمردہ نہ ہو تو بجز عمدہ اور پسندیدۃ باتوں کے اور کسی بات کا ارتکاب نہ ہو۔\n\nہمارے زمانہ میں ہر شخص اعلیٰ سے لے کر ادنیٰ تک رسم و رواج کا ایسا پابند ہے جیسے کوئی شخص ایک بڑے زبردست حاکم کے نیچے اپنی زندگی بسر کرتا ہو، کوئی شخص یا کوئی خاندان اپنے دل سے یہ بات نہیں پوچھتا کہ ہم کو کیا کرنا چاہیے اور ہمارے مناسب یا ہماری پسند اور ہماری پسند کے لایق کیا بات ہے یا جو عمدہ صفتیں مجھ میں ہیں، ان کا ظہور نہایت عمدگی سے کس طرح ممکن ہے اور کون سی بات ان کی ترقی اور شگفتگی کی معاون ہے بلکہ وہ اپنے دل سے یہ پوچھتے ہیں کہ میری حالت اور رتبہ اور مقدور کے آدمی کس رسم و رواج کے مطابق کام کر تے ہیں۔ اور اگر کوئی اس سے بھی زیادہ بےوقوف ہوا تو وہ اپنے دل سے اس سے بھی زیادہ بد تر سوال کرتا ہے اور یوں پوچھتا ہے کہ جو لوگ مجھ سے برتر ہیں اور رتبہ اور مقدور میں زیادہ ہیں وہ کن رسموں کو بجا لاتے ہیں تاکہ یہ شخص بھی ویسا ہی کر کر انہی کی سی شان میں شامل ہو۔\n\nاس بات سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ جو لوگ اس طرح پر رسومات کو بجا لاتے ہیں وہ اپنی خواہش اور مرضی سے ان رسومات کو اور چیزوں پر ترجیح دیتے ہیں اور ترجیح دے کر پسند کرتے ہیں۔ نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کو بجز ایسی بات کے جو رسمی ہوتی ہیں اور کسی بات کی خواہش کرنے کا موقع یا اتفاق نہیں ہوتا اور اس لیے طبیعت خود متحمل او رمطیع رسموں کی پابندی کی ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ جو باتیں د ل کی خوشی کی کرنی ہوتی ہیں ان میں بھی اوروں کے مطابق کام کرنے کا خیال اول دل میں آتا ہے۔\n\nغرض کہ ان کی پسند وہی ہوتی ہے جو بہت سے لوگوں کی ہے۔ وہ صرف ایسی باتوں کے پسند کرنے پر راغب ہوتے ہیں جو عام پسند ہوں اور مذاق اور اصلی سلیقہ جو رسم و رواج کے مطابق نہ ہو، اس سے ایسی ہی گریز کی جاتی ہے جیسے کہ جرموں سے، یہاں تک کہ اپنی خاص طبیعت کی پیروی نہ کرتے نہ کرتے ان میں اپنی طبیعت ہی باقی نہیں رہتی کہ جس کی پیروی کریں اور ان کی ذاتی قوتیں بالکل پذمردہ اور بے کار رہنے کے سبب بالکلیہ ضائع ہو جاتی ہیں اور وہ شخص اپنی دلی خواہش کرنے اور ذاتی خوشی اٹھانے کے قابل نہیں رہتے اور عموماً ایسی طبع زاد رائیں یا خیالات نہیں رکھتے جو خاص ان کی اصلی خوشی سے مخصوص ہوں۔ اب غور کرنا چاہیے کہ انسان کی ایسی حالت پسندیدہ ہو سکتی ہے یا نہیں۔\n\nرسومات جو مقرر ہوئی ہیں، غالباً اس زمانہ میں جب کہ وہ مقرر ہوئیں، مفید تصور کی گئی ہوں مگر اس بات پر بھروسہ کرنا کہ در حقیقت وہ ایسی ہی ہیں محض غلطی ہے۔ ممکن ہے کہ جن لوگوں نے ان کو مقرر کیا ان کی رائے میں غلطی ہو، ان کا تجربہ صحیح نہ ہو یا ان کا تجربہ نہایت محدود اور صر ف چند اشخاص سے متعلق ہو یا ا س تجربہ کا حال صحیح صحیح بیان ہوا ہو۔ یا وہ رسم اس وقت اور اس زمانہ میں مفید ہو یا وہ رسم جن حالت پر قائم کی گئی تھی، کسی شخص کی وہ حالت نہ ہو۔ غرض کہ رسموں کی پابندی میں مبتلا رہنا ہر طرح پر نقصان کا باعث ہے۔ اگر کوئی نقصان نہ ہو تو یہ نقصان تو ضرور ہے کہ آدمی کی عقل اور دانش اور جودتِ طبع اور قوت ایجاد باطل ہو جاتی ہے۔\n\nیہ بات بے شک ہے کہ کسی عمدہ بات کی ایجاد کی لیاقت ہر ایک شخص کو نہیں ہوتی، بلکہ چند دانا شخصوں کو ہوتی ہے، جن کی پیروی اور سب لوگ کرتے ہیں لیکن رسم کی پابندی اور اس قسم کی پیروی میں بہت بڑا فرق ہے۔ رسومات کی پابندی میں اس کی بھلائی و برائی ومفید و غیر مفید و مناسب حال و مطابق طبع ہونے یا نہ ہونے کا مطلق خیال نہیں کیا جاتا اور بغیر سوچے سمجھے اس کی پابندی کی جاتی ہے اور دوسری حالت میں بوجہ پسندیدہ ہونے کے اور اس لیے دوسری حالت میں جو قوتیں ترقی کی انسان میں ہیں وہ معدوم و مفقود نہیں ہوتیں الا پہلی حالت میں معدوم و نابود ہو جاتی ہیں۔\n\nرسم کی پابندی ہر جگہ انسان کی ترقی کی مانع و مزاحم ہے۔ چنانچہ وہ پابندی ایسی قوت طبعی کے جس کے ذریعہ سے بہ نسبت معمولی باتوں کے کوئی بہتر بات کرنے کا قصد کیا جاوے برابر رہتی ہے اور انسان کی تنزلِ حالت کا اصلی باعث ہوتی ہے۔ اب اس رائے کو دنیا کی موجودہ قوموں کے حال سے مقابلہ کرو۔ تمام مشرقی یا ایشیائی ملکوں کا حال دیکھو کہ ان ملکوں میں تمام باتوں کے تصفیہ کا مدار رسم و رواج پر ہے۔ ان ملکوں میں مذہب اور استحقاق اور انصاف کے لفظوں سے رسموں کی پابندی مراد ہوتی ہے۔ پس اب دیکھ لو کہ مشرقی یا ایشیائی قوموں کا جن میں مسلمان بھی داخل ہیں کیسا ابتر اور خراب اور ذلیل حال ہے۔\n\nان مشرقی یا ایشیائی قوموں میں بھی کسی زمانہ میں قوت عقل اور جو دت طبع اور مادہ ایجاد ضرور موجود ہوگا جس کی بدولت وہ باتیں ایجاد ہوئیں جو اب رسمیں ہیں اس لیے کہ ان کے بزرگ ماں کے پیٹ سے تربیت یافتہ اور حسن معاشرت کے فنون سے واقف پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ یہ سب باتیں انہوں نے اپنی محنت اور علم اور عقل اور جودت طبع سے ایجاد کی تھیں اور انہی وجوہات سے دنیا کی نہایت بڑی اور قوی اور مشہور قوموں سے ہو گئے تھے۔ مگر اب ان کا حال دیکھو کہ کیا ہے؟ اسی رسومات کی پابندی سے ان کا مآل یہ ہوا ہے کہ اب وہ ایسی قوموں کے محکوم ہیں اور ایسے لوگوں کی آنکھوں میں ذلیل ہیں جن کے آباء و اجداد اس وقت جنگلوں میں آوارہ پڑے پھرتے تھے، جس وقت ان قوموں کے آباء و اجداد عالی شان محلوں میں رہتے تھے اور بڑے بڑے عبادت خانے اوار مکانات شاہی اور شہنشاہی محل بنواتے تھے۔ اس کا سبب یہی تھا کہ اس زمانہ میں ان قوموں میں رسم کی پابندی قطعی نہ تھی اور جو کسی قدر تھی تو اس کے ساتھ ہی آزادی اور ترقی کا جوش ان میں قایم تھا۔\n\nتواریخ سے ثابت ہے کہ ایک قوم کسی قدر عرصہ تک ترقی کی حالت پر رہتی ہے اور اس کے بعد ترقی مسدود ہو جاتی ہے۔ مگر یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ ترقی کب مسدود ہوتی ہے۔ یہ اسی وقت مسدود ہوتی ہے جب کہ اس قوم میں سے وہ قوت اٹھ جاتی ہے جس کے سبب سے نئی نئی باتیں پیدا ہوتی ہیں اور ٹھیک ٹھیک مسلمانوں کا اس زمانہ میں یہی حال ہے بلکہ میں نے غلطی کی کیوں کہ ترقی مسدود ہونے کا زمانہ بھی گزر گیا اور تنزل اور ذلت و خواری کا زمانہ بھی انتہا درجہ کو پہنچ گیا ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ بات کہے کہ یورپ کی قوموں میں بھی جو اس زمانہ میں ہر قسم کی ترقی کی حالت میں شمار ہوتی ہیں، بہت سی رسمیں ہیں اور ان رسموں کی نہایت درجہ پر پابندی ہے تو وہ قومیں کیوں ترقی پر ہیں؟\n\nیہ اعتراض سچ ہے اور در حقیقت یورپ میں رسموں کی پابندی کا نہایت نقصان ہے اور اگر اس کی اصلاح نہ ہوتی رہے گی جیسے کہ اب تک ہوتی رہتی رہی ہے تو ان کو بھی بدنصیبی کا دن پیش آوےگا مگر یورپ میں اور مشرقی ملکوں کی پابندی رسومات میں ایک بڑا فرق ہے۔ یورپ میں رسومات کی پابندی ایک عجیب اور نئی بات ہونے کو تو مانع ہے مگر رسومات کی تبدیلی کا کوئی مانع نہیں۔ اگر کوئی شخص عمدہ رسم نکالے اور سب لوگ پسند کریں، فی الفور پرانی رسم چھوڑ دی جائیگی اور نئی رسم اختیار کر لی جاوےگی اور اس سبب سے ان لوگوں کے قوائے عقلی اور حالت تمیز اور قوت ایجاد ضائع نہیں ہوتی۔\n\nتم دیکھو کہ یہ پوشاک جو اب انگریزوں کی ہے ان کے باپ دادا کی نہیں ہے، بالکل اپنی پوشاک بدل دی ہے۔ ہر درجہ کے لوگوں کا جو مختلف لباس تھا اس رسم کو چھوڑ دیا گیا ہے اور ضرور سمجھا گیا ہے کہ ہر شخص ایک سا مثل اوروں کے لباس پہنے۔ اس وقت کوئی رسم یورپ میں ایسے درجہ پر نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی رسم اس کے بر خلاف مگر اس سے عمدہ ایجاد کرے اور لوگ اس پر اتفاق کریں اسی وقت تبدیل نہ ہو سکے اور اسی تبدیلی کے ساتھ ان کی ترقی بھی ہوتی جاتی ہے۔ چنانچہ نئی نئی کلیں ہمیشہ ایجاد ہوتی رہتی ہیں اور تا وقتیکہ ان کی جگہ بہتر کلیں ایجاد نہ ہوجاویں وہ بدستور رہتی ہیں۔ ملکی معاملات اور تعلیم میں بلکہ اخلاق میں بلکہ مذہب میں ہمیشہ ترقی کے خواہاں ہیں۔ پس یہ تصور کرنا کہ یورپ بھی مثل ہمارے مگر دوسری قسم کی رسموں میں مبتلا ہے، محض نادانی اور نا واقفیت کا سبب ہے۔\n\nالبتہ یورپ میں اور بالتخصیص انگریزوں میں جو بات نہایت عمدہ اور قابل تعریف اور لائق خواہش کے ہے اور درحقیقت بغیر اس کے کوئی قوم مہذب اور ترقی یافتہ نہیں ہو سکتی وہی بات اس کی تنزل کا باعث ہوگی۔ بشرطیکہ اس کی اصلاح نہ ہوتی رہے گی۔ اور وہ یہ ہے کہ تمام انگریز جو حبّ وطن میں نامی ہیں اس بات پر نہایت کوشش اور جاں فشانی کر رہے ہیں کہ کل قوم کے لوگ یکساں ہو جاویں اور سب اپنے خیالات اور طریقے یکساں مسائل اور قواعد کے تحتِ حکومت کر دیں اور ان کوششوں کا نتیجہ انگلستان میں روز بروز ظاہر ہو جاتا ہے۔ جو حالات کہ اب خاص خاص لوگوں اور فرقوں کے پائے جاتے ہیں اور جن کے سبب ان کی خاص خاص عادتیں قایم ہوئی ہیں وہ اب روز بروز ایک دوسرے کے مشابہ ہوتی جاتی ہیں۔\n\nانگلستان میں اس زمانہ سے پہلے مختلف درجوں کے لوگوں اور مختلف ہمسایوں کے لوگ اور مختلف پیشہ والے گویا جدا جدا دنیا میں رہتے تھے یعنی سب کا طریقہ اور عادت جدا جدا تھی۔ اب وہ سب طریقے اور عادتیں ہر ایک کی ایسی مشابہ ہو گئی ہیں کہ گویا سب کے سب ایک ہی محلّہ کے رہنے والے ہیں۔ انگلستان میں بہ نسبت سابق کے اب بہت زیادہ رواج ہو گیا ہے کہ لوگ ایک ہی قسم کی تصنیفات کو پڑھتے ہیں اور ایک ہی سی باتیں سنتے ہیں اور ایک ہی سی چیزیں دیکھتے ہیں اور ایک ہی سے مقاموں میں جاتے ہیں اور یکساں باتوں کی خواہش رکھتے ہیں اور یکساں ہی چیزوں کا خوف کرتے ہیں اور ایک ہی سے حقوق اور آزادی سب کو حاصل ہے۔ اور ان حقوق اور آزادیوں کے قائم رکھنے کے ذریعہ بھی یکساں ہیں اور یہ مشابہت اور مساوات روز بروز ترقی پاتی جاتی ہے۔ اور تعلیم و تربیت کی مشابہت اور مساوات سے اس کو اور زیادہ وسعت ہوتی ہے۔\n\nتعلیم کے اثر سے تمام لوگ عام خیالات کے اور غلبہ اور رائے کے پابند ہوتے جاتے ہیں اور جو عام ذخیرہ حقائق اور مسائل اور رایوں کا موجود ہے اس پر سب کو رسائی ہوتی ہے۔ آمد و رفت کے ذریعوں کی ترقی سے مختلف مقاموں کے لوگ مجتمع اور شامل ہوتے ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جاتے ہیں اور اس سبب سے بھی مشابہت مذکور ترقی پاتی ہے۔ کارخانوں اور تجارت کی ترقی سے آسایش اور آرام کے وسیلے اور فائدے زیادہ شائع ہوتے ہیں اور ہر قسم کی عالی ہمتی بلکہ بڑی سے بڑی اولوالعزمی کے کام ایسی حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ ہر شخص ان کے کرنے کو موجو دو مستعد ہوتا ہے۔ کسی خاص شخص یا گروہ پر منحصر نہیں رہا ہے، بلکہ اولوا لعزمی تمام لوگوں کی خاصیت ہوتی جاتی ہے اور ان سب پر آزادی اور عام رائے کا غلبہ بڑھتا جاتا ہے اور یہ تمام امور ایسے ہیں جیسے انگلستان کے تمام لوگوں کی رائیں اور عادتیں او ر طریق زندگی اور قواعد معاشرت اور امورات رنج و راحت یکساں ہوتے جاتے ہیں اور بلا شبہ ملک اور قوم کے مہذب ہونے کا اور ترقی پر پہنچنے کا یہی نتیجہ ہے اور ایسا عمدہ نتیجہ ہے کہ اس سے عمدہ نہیں ہو سکتا۔\n\nمگر باوصف اس کے ہم اس نتیجہ کو بشرطیکہ اس کی اصلاح نہ ہوتی رہے بدعت تنزل قرار دیتے ہیں تو ضرور ہم کو کہنا پڑے گا کہ کیوں یہ عمدہ نتیجہ باعث تنزل ہوگا۔ سبب اس کا یہ ہے کہ جب سب لوگ ایک سی طبیعت اور عادت اور خیال کے ہو جاتے ہیں تو ان کی طبیعتوں میں سے وہ قوتیں جو نئی باتوں کے ایجاد کرنے اور عمدہ عمدہ خیالات کے پیدا کرنے اور قواعد حسن معاشرت کو ترقی دینے کی ہیں، زائل اور کمزور ہو جاتی ہیں اور ایک زمانہ ایسا آتا ہے کہ ترقی ٹھہر جاتی ہے اور پھر ایسا زمانہ ہوتا ہے کہ تنزل شروع ہو جاتا ہے۔\n\nاس معاملہ میں ہم کو ملک چین کے حالات پر غور کرنے سے عبرت ہوتی ہے۔ چینی بہت لئیق آدمی ہیں بلکہ اگر بعض باتوں پر لحاظ کیا جاوے تو عقلمند بھی ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کی خوش قسمتی سے ابتدا ہی میں ان کی قوم میں بہت اچھی اچھی رسمیں قائم ہو گئیں۔ اور یہ کام ان لوگوں کا تھا جو اس قوم میں نہایت دانا اور بڑے حکیم تھے۔\n\nچین کے لوگ اس بات میں مشہور و معروف ہیں کہ جو عمدہ سے عمدہ دانش اور عقل کی باتیں ان کو حاصل ہیں ان کو ہر شخص کی طبیعت پر بخوبی منقش کرنے کے واسطے اور اس بات کے لیے جن شخصوں کو وہ دانشمندی کی باتیں حاصل ہیں ان کو بڑے بڑے عہدے ملیں نہایت عمدہ طریقے ان میں رائج ہیں۔ اور وہ طریقے حقیقت میں بہت ہی عمدہ ہیں۔ بے شک جن لوگوں نے اپنا ایسا دستور قائم رکھا، انہوں نے انسان کی ترقی کے اسرار کو پا لیا اور اس لئے چاہیے تھا کہ وہ قوم تمام دنیا میں ہمیشہ افضل رہتی مگر بر خلاف اس کے ان کی حالت سکون پذیر ہو گئی ہے اور ہزاروں برس سے ساکن ہے اور اگر ان کی کبھی کچھ اور ترقی ہوگی تو بے شک غیر ملکوں کے لوگوں کی بدولت ہوگی۔ اس خرابی کا سبب یہی ہوا کہ اس تمام قوم کی حالت یکساں اور مشابہ ہو گئی اور سب کے خیالات اور طریق معاشرت ایک سے ہو گئے اور سب کے سب یکساں قواعد اور مسائل کی پابند ی میں پڑ گئے اور اس سبب سے وہ قوتیں جن سے انسان کو روز بروز ترقی ہوتی ہے ان میں سے معدوم ہو گئیں۔\n\nپس جبکہ ہم مسلمان ہندوستان کے رہنے والے جن کی رسومات بھی عمدہ اصول و قواعد پر مبنی نہیں ہے بلکہ کوئی رسم اتفاقیہ اور کوئی رسم بلا خیال اور قوموں کے اختلا ط سے آ گئی ہے . جس میں ہزاروں نقص اور برائیاں ہیں، پھر ہم ان رسومو ں کے پابند اور نہ ان کی بھلائی برائی پر اور نہ خود کچھ اصلا ح اور درستی کی فکر میں ہوں بلکہ اندھا دھندی سے اسی کی پیروی کرتے چلے جاویں تو سمجھنا چاہیے کہ ہمارا حال کیا ہوگیا ہے اور آئندہ کیا ہونے والا ہے۔\n\nہماری نوبت چینیوں کے حال سے بھی رسومات کی پابندی کے سبب بد تر ہو گئی ہے اور اب ہم میں خود اتنی طاقت نہیں رہی کہ ہم اپنی ترقی کر سکیں۔ اس لیے بجز اس کے کہ دوسری قوم ہماری ترقی اور ہمارے قوائے عقلی کی تحریک کا باعث ہو اور کچھ چارہ نہیں۔ بعد اس کے کہ ہمارے قوائے عقلیہ تحریک میں آجاویں اور پھر قوت ایجاد ہم میں شگفتہ ہوتب ہم پھر اس قابل ہوں گے کہ اپنی ترقی کے لئے کچھ کر سکیں۔\n\nمگر جب کہ ہم دوسری قوموں سے از راہ تعصب نفرت رکھیں اور کوئی نیا طریقہ زندگی کا کہ وہ کیسا ہی بے عیب ہو اختیار کرنا، صرف بسبب اپنے تعصب یا رواج کی پابندی کے معیوب سمجھیں تو پھر ہم کو اپنی بھلائی اور اپنی ترقی کی کیا توقع ہے۔ مگر چونکہ ہم مسلمان ہیں اور ایک مذہب رکھتے ہیں جس کو ہم دل سے سچ جانتے ہیں اس لیے ہم کو مذہبی پابندی ضرور ہے، اور وہ اسی قدر ہے کہ جو بات معاشرت اور تمدن اور زندگی بسر کرنے اور دنیاوی ترقی کی اختیار کرتے ہیں اس کی نسبت اتنا دیکھ لیں کہ وہ مباحات شرعیہ میں سے ہے یا محرمات شرعیہ سے، در صورت ثانی بلا شبہ ہم کو احتراز کرنا چاہیے اور در صورت اول بلا لحاظ پابندی رسوم کے اور بلا لحاظ اس بات کے کہ لوگ ہم کو برا کہتے ہیں یا بھلا، اس کو اختیار کرنا ضروری بلکہ واسطے ترقی قومی کے فرض ہے۔\n\nخدا ہمہ مسلمانان را بریں کار توفیق دہد۔ آمین", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B3%D9%85_%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%AC_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%B5%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%AA"} {"title": "رسماً ہی ان کو نالۂ دل کی خبر تو ہو", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رسماً ہی ان کو نالۂ دل کی خبر تو ہو\nیعنی اثر نہ ہو تو فریب اثر تو ہو\n\nہم بھی تمہاری بزم میں ہیں درخور کرم\nاچھا وہ مستقل نہ سہی اک نظر تو ہو\n\nکیا فرض ہے کہ ہم نہ ہوں تقدیر آزما\nدنیا پڑی ہوئی ہے در یار پر تو ہو\n\nسب کہہ رہے ہیں ہم پہ گراں ہے شب فراق\nاس کا بھی کچھ علاج کریں گے سحر تو ہو\n\nسیمابؔ آدھی رات کو آئیں وہ بے قرار\nتیری دعائے نیم شبی میں اثر تو ہو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B3%D9%85%D8%A7%D9%8B_%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88"} {"title": "رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے ، کب تک رہے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے ، کب تک رہے\nحُبِ وطن، مستِ خواب، دیکھئیے ، کب تک رہے\n\nدل پہ رہا مدتوں غلبۂ یاس و ہراس\nقبضۂ خرم و حجاب، دیکھئیے ، کب تک رہے\n\nتابہ کجا ہوں دراز سلسلہ ہائے فریب\nضبط کی، لوگوں میں تاب، دیکھئیے ، کب تک رہے\n\nپردۂ اصلاح میں کوششِ تخریب کا\nخلقِ خدا پر عذاب، دیکھئیے ، کب تک رہے\n\nنام سے قانون کے ، ہوتے ہیں کیا کیا ستم\nجبر، بہ زیرِ انقلاب، دیکھئیے ، کب تک رہے\n\nدولتِ ہندوستان قبضۂ اغیار میں\nبے عدد و بے حساب، دیکھئیے ، کب تک رہے\n\nہے تو کچھ اُکھڑا ہوا بزمِ حریفاں کا رنگ\nاب یہ شراب و کباب، دیکھئیے ، کب تک رہے\n\nحسرتِ آزاد پر جورِ غلامانِ وقت\nاز رہِ بُغض و عناد، دیکھئیے ، کب تک رہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B3%D9%85%D9%90_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%A7%D8%A8_%D8%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D8%8C_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "رسوا وہ ہوا جو مست پیمانہ ہوا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "رسوا وہ ہوا جو مست پیمانہ ہوا\nلپکا جو سایہ پر وہ دیوانہ ہوا\nانگلینڈ سے اپنا دل جو لایا نہ درست\nمحروم ادھر ادھر سے بیگانہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "رسوا ہوئے بغیر نہ ناز بتاں اٹھا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رسوا ہوئے بغیر نہ ناز بتاں اٹھا\nجب ہو گئے سبک تو یہ بار گراں اٹھا\n\nمعنی میں کر تلاش معاش دماغ و دل\nحیواں صفت نہ لذت کام و دہاں اٹھا\n\nگر خندہ یاد آئے تو سینہ کو چاک کر\nگر غمزہ یاد آئے تو زخم سناں اٹھا\n\nیا آنکھ اٹھا کے چشم فسوں ساز کو نہ دیکھ\nیا عمر بھر مصائب دور زماں اٹھا\n\nاس انجمن میں جائیے اب کس امید پر\nہم بیٹھنے نہ پائے کہ وہ بد گماں اٹھا\n\nبے یاد دوست عمر گرامی نہ صرف کر\nاس گنج شائگاں کو نہ یوں رائیگاں اٹھا\n\nوصل و فراق وہم سہی دل لگی تو ہے\nپھر ہم کہاں جو پردۂ راز نہاں اٹھا\n\nپروانہ کی تپش نے خدا جانے کان میں\nکیا کہہ دیا کہ شمع کے سر سے دھواں اٹھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "رسوائی", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ٹیکا لگاؤں مانگ بھی صندل سے بھر چکوں\nدلہن بنوں تو چاہیے جوڑا سہاگ کا\nمہندی رچے گی پوروں کہیں جا کے دیر میں\nکنگھی کروں تو چڑھتی ہے کالوں کی اور لہر\nافشاں ہے بخت بھی کہ رہا ان کے پھیر میں\nکہتی ہے سانجھ بھور کے اب گھاٹ اتر چکوں\nتم بیٹھو میں تو آئی پہ جی سے گزر چکوں\nاتنے دنوں تو دل کی لگی نے خدائی کی\nپائل بجے تو بنسی کی دھن ناچ ناچ اٹھے\nبد نامیاں کرشمے مرے دیوتا کے ہیں\nدیدے گھما گھما کے کہیں کیوں نہ گوپیاں\nان کے چلن تو بگڑے ہوئے ابتدا کے ہیں\nبپتا نہ ہوگی کل سے لگائی بجھائی کی\nدہکے شفق تو دہکے چتا جگ ہنسائی کی\n\nچیخیں سن سن کے سبھی نیند کے ماتے جاگے\nسامنے دہکی ہوئی آگ کا پیکر دیکھا\nچل کے دو چار قدم پھر سے پلٹ کر جولاں\nچیخیں شعلوں کے دہکنے پہ لپک اٹھتی تھیں\nدود کے حلقے رواں ہوئے فلک چرخ زناں\nسب یہ سمجھے کہ کوئی غول بیابانی ہے\nیوں ہی لوکا جو لگانے کو نکل آیا یہاں\nباد پا آگ تھی یا لال رسیلی ساڑی\nچھایا کالوں کی تھی شعلوں کی زبانوں کا دھواں\nیک بیک کندنی باہیں بھی اٹھیں چیخ کے ساتھ\nکانپتے آئے نظر پھول سے مہندی بھرے ہاتھ\nایک نے بڑھ کے وہیں آگ پہ ڈالا پانی\nآگ یوں پانی کی شہہ پائے تو دوزخ نہ بنے\nجیتے جی اشکوں سے کیا دل کی لگی بجھتی تھی\nآگ پانی میں لڑائی جو چتا پر بھی ٹھنے\nخاک ڈالی تو ہوئیں پھر کہیں مدھم آنچیں\nبخت رسوا ہو تو رسوائی بنا کیسے منے\nپوچھو جلنے کی تو جانے وہی جس تن لاگے\nچیخیں سن سن کے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "رسوائے عشق میں ترا شیدا کہیں جسے", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رسوائے عشق میں ترا شیدا کہیں جسے\nعشاق میں مثال ہے رسوا کہیں جسے\n\nسینہ چمن ہے غنچۂ دل ہے شگفتہ دل\nتیری نگاہ ہے چمن آرا کہیں جسے\n\nغم پروریدہ ہے دل شوریدگان عشق\nفرقت کی ایک رات ہے دنیا کہیں جسے\n\nمنسوب کفر دیر سے ایماں حرم سے ہے\nاک رہ گیا ہوں میں کہ تمہارا کہیں جسے\n\nہم غیر معتبر سہی اور غیر معتبر\nکہنا بجا ہے آپ کا جیسا کہیں جسے\n\nساحرؔ نفس وہ دام ہے جس میں کہ ہے اسیر\nموج دم خیال کہ عنقا کہیں جسے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%DB%92"} {"title": "رسوائے عشق ہے ترا شیدا کہیں جسے", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رسوائے عشق ہے ترا شیدا کہیں جسے\nعشاق میں مثال ہے رسوا کہیں جسے\n\nسینہ چمن ہے غنچۂ دل ہے شگفتہ دل\nتیری نگاہ ہے چمن آرا کہیں جسے\n\nغم پروریدہ ہے دل شوریدگان عشق\nفرقت کی ایک رات ہے دنیا کہیں جسے\n\nمنسوب کفر دیر سے ایماں حرم سے ہے\nاک رہ گیا ہوں میں کہ تمہارا کہیں جسے\n\nہم غیر معتبر سہی اور غیر معتبر\nکہنا بجا ہے آپ کا جیسا کہیں جسے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%DB%92"} {"title": "رشتۂ الفت کو توڑوں کس طرح", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "ریختی", "year": null, "text_ur": "رشتہ الفت کو توڑوں کس طرح\nعشق سے میں منہ کو موڑوں کس طرح\n\nپونچھنے سے اشک کے فرصت نہیں\nآستیں کو میں نچوڑوں کس طرح\n\nبعد مدت ہاتھ آیا ہے مرے\nاب میں اس کو چھوڑوں کس طرح\n\nوہ لگاتا ہی نہیں چھاتی کو ہاتھ\nاپنی چھاتی میں مروڑوں کس طرح\n\nشیشہ دل توڑ کر رنگیںؔ مرا\nاب تو کہتا ہے میں جوڑوں کس طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%82_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88%DA%91%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "رشتۂ دم سے جان ہے تن میں", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رشتۂ دم سے جان ہے تن میں\nمنکے منکے سے تیرے سمرن میں\n\nدیدۂ دل سے دیکھتا ہوں تجھے\nسوچتا ہوں جب اپنے میں من میں\n\nگل ہے شبنم سے آہ دیدۂ تر\nبن وہ گل رو کے صبح گلشن میں\n\nکربلا کے بگولے سارے کاش\nخاک اڑاتا ہوا پھروں بن میں\n\nگوہر آب دار کے مانند\nاشک غلطاں ہیں میرے دامن میں\n\nسرو گل زار سا سہاتا ہے\nوہ مرا یار گھر کے آنگن میں\n\nاپنی صورت کو اے شہنشہ حسن\nعشقؔ کے دیکھ دل کے درپن میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%82_%D8%AF%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رشتۂ رسم محبت مت توڑ", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رشتۂ رسم محبت مت توڑ\nتوڑ کر دل کو قیامت مت توڑ\n\nکام ناکامی بھی اک کام سہی\nتوڑ امید کو ہمت مت توڑ\n\nرات فرقت کی پڑی ہے اے دل\nایک ہی نالے میں طاقت مت توڑ\n\nاس کی رحمت کو نہ بے کار سمجھ\nمے و میخانے کی نیت مت توڑ\n\nدیکھ اچھی نہیں یہ خر مستی\nساغر بادۂ فرصت مت توڑ\n\nاے دل امید رہائی مت باندھ\nاور آفت سر آفت مت توڑ\n\nپوچھ مت لذت مے اے واعظ\nجانور دام شریعت مت توڑ\n\nصحن مسجد کو کیے جا پامال\nقید آئین طریقت مت توڑ\n\nمے کدہ دیکھ کے جنت کو نہ بھول\nحرص سے بند قناعت مت توڑ\n\nاس کا احسان اٹھانا ہے ہمیں\nگردن اے بار ندامت مت توڑ\n\nاے قلقؔ بت کدے میں باندھ احرام\nہم سے للہ رفاقت مت توڑ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%82_%D8%B1%D8%B3%D9%85_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%D8%AA_%D8%AA%D9%88%DA%91"} {"title": "رشتے میں تری زلف کے ہے جان ہمارا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رشتے میں تری زلف کے ہے جان ہمارا\nبے جا نہیں سنبل کے اوپر مان ہمارا\n\nسرمایۂ آشفتہ دلی جمع ہوا ہے\nآ دیکھ صنم حال پریشان ہمارا\n\nجیوں صورت دیوار ہوا محو تمنا\nمشتاق ترا ہے دل حیران ہمارا\n\nدرپیش ہے ہم کوں سفر منزل مقصود\nبس آہ سحر گاہ یہ سامان ہمارا\n\nتیرے لب شیریں کی سنا جب سیں حکایت\nکاشانۂ زنبور ہوا کان ہمارا\n\nمجنوں کی طرح وحشی صحرائے جنوں نہیں\nہے وسعت مشرب سیتی میدان ہمارا\n\nکہتے ہیں تری زلف کوں دیکھ اہل شریعت\nقربان ہے اس کفر پر ایمان ہمارا\n\nآزاد کئے قید سیں تسبیح کی اس کوں\nہے گردن زنار پہ احسان ہمارا\n\nسینہ کے طبق میں ہے کباب دل پرسوز\nجس دن سے غم ہجر ہے مہمان ہمارا\n\nاے شوخ کشش سیں ترے ابرو کی کماں کی\nدل ہاتھ سیں جاتا ہے ہر اک آن ہمارا\n\nاے جان سراجؔ ایک غزل درد کی سن جا\nمجموعۂ احوال ہے دیوان ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "رشحات", "poet_page": "مصنف:م حسن لطیفی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کوئی شاخ تشنہ و خشک جس سے ہری نہ ہو وہ سحاب کیا\nجو چھلک کے رنگ نہ بھر سکے رگ و ریشہ میں وہ شباب کیا\nدل گم شدہ کو میں ڈھونڈنے کہیں شب کو محو جنوں چلا\nتو صدا سی آئی یہ سینہ سے کہ تلاش خانہ خراب کیا\nطرب آفریں سہی رت کبھی ملے بار سوز کو ساز میں\nنہ تنوع اتنا بھی جس کی طرز نوا میں ہو وہ رباب کیا\nنہیں پھول پھول مہک بغیر کھلے بلا سے کھلا کرے\nہو مشام تازہ نہ جس کی روح شمیم سے وہ گلاب کیا\nشکنیں یہ شرم نہاں کی ہیں نظر آ رہا ہے جو پردہ سا\nتہوں میں اگر نہ حیائے جلوہ دبی ہوئی تو حجاب کیا\nجو لکھے تھے شوق سے خط انہیں فقط اتنا ان کا جواب تھا\nکہ جواب ایسی جسارتوں کا سکوت ہو تو جواب کیا\nجو پلائی ہے تو یہ مستئ مے عیش رات کا ساتھ دے\nہو دراز تشنہ نہ جس کا شمع کے بجھنے تک وہ شراب کیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B4%D8%AD%D8%A7%D8%AA"} {"title": "رشوت", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بغیر اجازت", "year": "1955", "text_ur": "احمد دین کھاتے پیتے آدمی کا لڑکا تھا۔۔۔ اپنے ہم عمر لڑکوں میں سب سے زیادہ خوش پوش مانا جاتا تھا۔۔۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ بالکل خستہ حال ہو گیا۔\n\nاس نے بی اے کیا اور اچھی پوزیشن حاصل کی۔۔۔ وہ بہت خوش تھا۔۔۔ اس کے والد خان بہادر عطاء اللہ کا ارادہ تھا کہ اسے اعلیٰ تعلیم کے لیے ولایت بھیجیں گے۔ پاسپورٹ لے لیا گیا تھا۔۔۔ سوٹ وغیرہ بھی بنوا لیے گئے تھے کہ اچانک خان بہادر عطاء اللہ نے جو بہت شریف آدمی تھے، کسی دوست کے کہنے پر سٹہ کھیلنا شروع کر دیا۔\n\nشروع میں انہیں اس کھیل میں کافی منافع ہوا۔۔۔ وہ خوش تھے کہ چلو میرے بیٹے کی اعلیٰ تعلیم کا خرچ ہی نکل آیا۔۔۔ مگر لالچ بری بلا ہے۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ ان کی پشت پر چوگنی ہے ۔۔۔جیتتے ہی چلے جائیں گے۔\n\nان کا وہ دوست جس نے ان کو اس راستے پر لگایا تھا بار بار ان سے کہتا تھا:\n\n’’ خان صاحب۔۔۔ ماشاء اللہ آپ قسمت کے دھنی ہیں۔۔۔ مٹی میں بھی ہاتھ ڈالیں تو سونا بن جائے۔‘‘\n\nاور وہ اس قسم کی چاپلوسیوں کے ذریعے خان بہادر سے سو دو سو روپے اینٹھ لیتا۔ خان بہادر کو بھی کوئی تکلیف محسوس نہ ہوتی، اس لیے کہ انہیں بغیر محنت کے ہزاروں روپے مل رہے تھے۔ احمد دین ذہین اور باشعور لڑکا تھا۔۔۔ اس نے ایک دن اپنے باپ سے کہا، ’’ابا جی! یہ آپ نے جو سٹہ بازی شروع کی ہے۔۔۔ معاف کیجیے گا، اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔۔۔‘‘\n\nخان بہادر نے تیز لہجے میں اس سے کہا، ’’برخوردار ! تمہیں میرے کاموں میں دخل دینے کی جرأت نہیں ہونی چاہیے۔ میں جو کچھ کر رہا ہوں ٹھیک ہے۔۔۔ جتنا روپیہ آرہا ہے، وہ میں اپنے ساتھ قبر میں لے کر نہیں جاؤں گا۔ یہ سب تمہارے کام آئے گا۔۔۔‘‘\n\nاحمد دین نے بڑی معصومیت سے پوچھا، ’’لیکن ابا جی،یہ کب تک آتا رہے گا ۔۔۔ہوسکتا ہے کل کو یہ جانے بھی لگے۔۔۔‘‘\n\nخان بہادر بھنا گئے۔\n\n’’بکو مت۔۔۔ آتا ہی رہے گا۔‘‘\n\nروپیہ آتا رہا۔۔۔لیکن ایک دن خان بہاد نے کئی ہزار روپے کی رقم داؤ پر لگا دی۔۔۔ لیکن نتیجہ صفر نکلا۔۔۔ دس ہزار ہاتھ سے دینے پڑے۔\n\nتاؤ میں آ کر انہوں نے بیس ہزار روپے کا سٹہ کھیلا۔۔۔ ان کو یقین تھا کہ ساری کسر پوری ہو جائے گی۔۔۔ لیکن صبح جب انہوں نے اخبار دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ بیس ہزار بھی گئے۔ خان بہادر ہمت ہارنے والے نہیں تھے۔انہوں نے اپنا ایک مکان گروی رکھ کر پچاس ہزار روپے لیے اور سب کا سب اللہ کا نام لے کر چاندی کے سٹے پر لگا دیے۔\n\nاللہ کانام تو خیر اللہ کا نام ہے۔۔۔ وہ چاندی اور سونے کی مارکیٹ پر کیا کنٹرول کرسکتا ہے۔۔۔ صبح ہوئی تو خان بہادر کو معلوم ہوا کہ چاندی کا بھاؤ ایک دم گر گیاہے۔۔۔ ان کو اس قدر صدمہ ہوا کہ دل کے دورے پڑنے لگے۔\n\nاحمد دین نے ان سے کہا، ’’ابا جی۔۔۔ چھوڑ دیجیے اس بکواس کو۔۔۔‘‘\n\nخان بہادر نے بڑے غصے میں اپنے بیٹے سے کہا، ’’تم بکواس مت کرو۔۔۔میں جو کچھ کر رہا ہوں ٹھیک ہے۔‘‘\n\nاحمد دین نے مودبانہ کہا، ’’لیکن ابا جان۔۔۔ یہ جو آپ کو دل کی تکلیف شروع ہو گئی ہے،اس کی وجہ کیا ہے؟‘‘\n\n’’مجھے کیا معلوم۔۔۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔۔۔ ایسے عارضے انسان کو ہوتے ہی رہتے ہیں۔‘‘\nاحمد دین نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا،’’ جی ہاں ۔۔۔ انسان کو ہر قسم کے عارضے ہوتے رہتے ہیں لیکن ان کی کوئی وجہ بھی تو ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر آپ کوئی ایسی چیز کھا لیں جس میں ہیضے کے جراثیم ہوں اور۔۔۔ ‘‘\n\nخان بہادر کو اپنے بیٹے کی یہ گفتگو پسند نہیں تھی۔\n\n’’ تم چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔ میرا مغز مت چاٹو۔۔۔ میں ہر چیز سے واقف ہوں۔‘‘\n\nاحمد دین نے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے کہا، ’’یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔۔۔ کوئی انسان بھی ہر چیز سے واقف ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔‘‘\n\nاحمد دین چلا گیا۔\n\nخان بہادر اندرونی طور پر خود کو بہت بڑا چغد سمجھنے لگے تھے۔ لیکن وہ اپنے اس احساس کو اپنے لڑکے پر ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔\n\nبستر پر لیٹے انہوں نے بار بار خود سے کہا، ’’خان بہادر عطاء اللہ۔۔۔ تم خان بہادر بنے پھرتے ہو۔۔۔ لیکن اصل میں تم اول درجے کے بیوقوف ہو۔‘‘\n\n’’ تم اپنے بیٹے کی بات پر کان کیوں نہیں دھرتے۔۔۔ جبکہ تم جانتے ہو کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے صحیح ہے۔‘‘\n\n’’ جتنا روپیہ تم نے حاصل کیا تھا، اس سے دگنا روپیہ تم ضائع کر چکے ہو۔۔۔ کیا یہ درست ہے؟‘‘\n\nخان بہادر جھنجھلا گئے اور بڑ بڑانے لگے، ’’سب درست ہے۔۔۔ سب درست ہے۔۔۔ ایک میں ہی غلط ہوں لیکن میرا غلط ہونا ہی صحیح ہوگا۔۔۔ بعض اوقات غلطیاں بھی صحت کا سامان مہیا کر دیتی ہیں۔‘‘\n\nپندرہ دن بستر پر لیٹے اور علاج کرانے کے بعد جب وہ کسی قدر ہی تندرست ہوئے تو انہوں نے اپنا ایک اور مکان بیچ دیا ۔۔۔ یہ پچیس ہزار روپے میں بکا ۔خان صاحب نے یہ سب روپے سٹے پر لگا دیے۔ ان کو پوری امید تھی کہ وہ اپنی اگلی پچھلی کسر پوری کر لیں گے مگر قسمت نے یاوری نہ کی اور وہ ان پچیس ہزار روپوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔احمد دین پیچ و تاب کھا کے رہ گیا، اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اپنے باپ کو کس طرح سمجھائے، وہ اس کی کوئی بات سنتے ہی نہیں تھے۔ احمد دین نے آخری کوشش کی اور ایک دن جب اس کا باپ اپنے کمرے میں حقہ پی رہا تھا اور معلوم نہیں کس سوچ میں غرق تھا کہ اس سے ڈرتے ڈرتے مخاطب ہوا:\n\n’’ ابا جی۔۔۔!‘‘\n\nخان بہادر صاحب سوچ میں اس قدر غرق تھے کہ انہوں نے اپنے لڑکے کی آواز ہی نہیں سنی۔احمد دین نے آواز کو ذرا بلند کیا:\n\n’’ ابا جی۔۔۔ ابا جی! ‘‘\n\nخان بہادر چونکے، ’’کیا ہے۔۔؟ ‘‘\n\nاحمد دین کانپ گیا۔۔۔\n\n’’کچھ نہیں ابا جی۔۔۔ مجھے۔۔۔ مجھے آپ سے ایک بات کہنا تھی۔‘‘\n\nخان بہادر نے حقے کی نڑی اپنے منہ سے جدا کی، ’’کہو ، کیا کہنا ہے۔۔۔‘‘\n\nاحمد دین نے بڑی لجاجت سے کہا، ’’مجھے یہ عرض کرنا ہے ۔۔۔ یہ درخواست کرنا تھی۔۔۔ کہ۔۔۔ آپ سٹہ کھیلنا بند کر دیں۔۔۔‘‘\n\nحقے کا ایک زور دار کش لے کر وہ احمد دین پر برس پڑے، ’’تم کون ہوتے ہو مجھے نصیحت کرنے والے ۔۔۔میں جانوں میرا کام۔ کیا اب تک تمہارے ہی مشورے سے میں سارے کام کرتا رہا ہوں۔۔۔ دیکھو ،میں تم سے کہے دیتا ہوں کہ آئندہ میرے معاملے میں کبھی دخل نہ دینا۔۔۔ مجھے یہ گستاخی ہرگز پسند نہیں۔۔۔ سمجھے!‘‘\n\nاحمد دین کی گردن جھکی ہوئی تھی، ’’جی میں سمجھ گیا۔۔۔‘‘\n\nاور یہ کہہ کر وہ اپنے باپ کے کمرے سے نکل گیا۔\n\nسٹے کی لت شراب کی عادت سے بھی کہیں زیادہ بری ہوتی ہے۔ خان بہادر اس میں کچھ ایسے گرفتار ہوئے کہ جائیداد۔۔۔ سب کی سب اس خطرناک کھیل کی نذر ہوگئی۔ مرحوم بیوی کے زیور تھے۔۔۔ وہ بھی بک گئے۔۔۔ اور نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ ان کے دل کے عارضے نے کچھ ایسی شکل اختیار کی کہ وہ ایک روز صبح سویرے غسل خانے میں داخل ہوتے ہی دھم سے گرے اور ایک سیکنڈ کے اندر اندر دم توڑ دیا۔\n\nاحمد دین کو ظاہر ہے کہ اپنے باپ کی وفات کا بہت صدمہ ہوا۔۔۔ وہ کئی دن نڈھال رہا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کرے۔۔۔ بی اے پاس تھا،اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔۔۔ مگر اب سارا نقشہ ہی بدل گیا تھا۔ اس کے باپ نے ایک پھوٹی کوڑی بھی اس کےلیےنہیں چھوڑی تھی۔ مکان۔۔۔ جس میں وہ تنہا رہتا تھا۔۔۔ رہن تھا۔\n\nیہاں سے اس کو کچھ عرصے کے بعد نکلنا پڑا۔ گھر کی مختلف چیزیں بیچ کر اس نے چار پانچ سو روپے حاصل کیے اور ایک غلیظ محلے میں ایک کمرہ کرائے پر لے لیا مگر پانچ سو روپے کب تک اس کا ساتھ دے سکتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ ایک برس تک بڑی کفایت شعاری سے گزارا کر لیتا۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوتا۔\n\nاحمد دین نے سوچا، ’’مجھے ملازمت کر لینی چاہیے !چاہے وہ کیسی بھی ہو۔۔۔ پچاس ساٹھ روپے ماہوار مل جائیں۔۔۔ تو گزارا ہو جائے گا۔‘‘ اس کی ماں کو مرے اتنے ہی برس ہوگئے تھے جتنے اس کو جیتے، احمد دین نے حالانکہ اس کی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔۔۔ نہ اس کو دودھ پینا نصیب ہوا تھا۔۔۔ پھر بھی وہ اکثر اس کو یاد کر کے آنسو بہاتا رہتا۔ احمد دین نے ملازمت حاصل کرنے کی انتہائی کوشش کی۔۔۔ مگر کامیابی نہ ہوئی۔۔۔ اتنے بے روزگار اور بے کار آدمی تھے کہ وہ خود کو اس بے روزگاری اور بے کاری کے سمندر میں ایک قطرہ سمجھتا تھا۔ لیکن اس احساس کے باوجود اس نے ہمت نہ ہاری۔۔۔ اور اپنی تگ و دو جاری رکھی۔\n\nبہت دنوں کے بعد اسے معلوم ہوا کہ اگر کسی افسر کی مٹھی گرم کی جائے تو ملازمت ملنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے لیکن وہ مٹھی گرم کرنے کا مسالا کہاں سے لاتا۔ ایک دفتر میں جب وہ ملازمت کے سلسلے میں گیا تو ہیڈ کلرک نے اس سے شفیقانہ انداز میں کہا:\n\n’’دیکھو برخوردار! یوں خالی خولی کام نہیں چلے گا۔۔۔ جس اسامی کے لیے تم نے درخواست دی ہے، اس کے لیے پہلے ہی دو سو پچاس درخواستیں وصول ہو چکی ہیں۔۔۔ میں بڑا صاف گو آدمی ہوں۔۔۔ پانچ سو روپے اگر تم دے سکتے ہو تو یہ ملازمت تمہیں یقیناً مل جائے گی۔‘‘ اب احمد دین پانچ سو روپے کہاں سے لاتا، اس کے پاس بمشکل بیس یا تیس روپے تھے۔ چنانچہ اس نے ہیڈ کلرک سے کہا، ’’جناب! میرے پاس اتنے روپے نہیں۔۔۔ آپ ملازمت دلوا دیجیے، تنخواہ میں سے آدھی رقم آپ لے لیا کریں۔‘‘\n\nہیڈ کلرک ہنسا، ’’تم ہمیں بیوقوف بناتے ہو۔۔۔جاؤ، چلتے پھرتے بنو۔۔۔‘‘ احمد دین بہت دیر تک چلتا پھرتا رہا ۔۔۔مگر اسے اطمینان سے کہیں بیٹھنے کا موقع نہ ملا۔ جہاں جاتا، رشوت کا سوال سامنے ہوتا۔۔۔ دنیا شاید رشوت ہی کی وجہ سے عالم وجود میں آئی ہے۔ شاید خدا کو کسی نے رشوت دی ہو اور اس نے یہ دنیا بنا دی ہو۔احمد دین کے پاس جب پیسہ بھی نہ رہا تو مزدوری شروع کر دی۔ بوجھ اٹھاتا اور ہر روز دوروپے کما لیتا۔ مہنگائی کا زمانہ تھا، گو دونوں وقت کا کھانا بھٹیار خانے میں کھاتا لیکن اسے کافی خرچ برداشت کرنا پڑتا۔ زیادہ سے زیادہ ایک آنہ بچ رہتا۔\n\nاحمد دین مزدوری کرتا، مگر اس کے دل و دماغ پر رشوت کا چکر گھومتا رہتا تھا۔ یہ ایک بہت بڑی لعنت تھی اور وہ چاہتا تھا کہ اس سے کسی طرح نجات حاصل کرے۔۔۔ اور مزدوری چھوڑ کر کوئی ایسی ملازمت اختیار کرے جو اس کے شایانِ شان ہو۔ آخر وہ بی اے پاس تھا۔۔۔ فرسٹ کلاس۔ اس نے سوچا کہ نماز پڑھنا شروع کر دے، خدا سے دعا مانگے کہ وہ اس کی سنے۔ چنانچہ اس نے باقاعدہ پانچ وقت کی نماز شروع کر دی۔ یہ سلسلہ ایک وقت تک جاری رہا مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔اس دوران میں اس کے پاس تیس روپے جمع ہو چکے تھے۔ صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ ڈاک خانے گیا۔ تیس روپے کا پوسٹل آرڈر لیا اور لفافے میں ڈال کر ساتھ ہی ایک رقعہ بھی رکھ دیا جس کا مضمون کچھ اس قسم کا تھا:\n\n’’اللہ میاں۔۔۔ میں سمجھتا ہوں تم بھی رشوت لے کر کام کرتے ہو۔ میرے پاس تیس روپے ہیں جو تمہیں بھیج رہا ہوں۔۔۔ مجھے کہیں اچھی سی ملازمت دلوا دو۔۔۔ بوجھ اٹھا اٹھا کر میری کمر دوہری ہوگئی ہے۔‘‘\n\nلفافے پر اس نے پتہ لکھا:\n\n’’بخدمت جناب اللہ میاں۔۔۔ مالکِ کائنات۔‘‘\n\nچند روز بعد احمد دین کو ایک خط ملا جو ’’کائنات‘‘ اخبار کے ایڈیٹر کی طرف سے تھا۔ اس کا نام محمد میاں تھا، خط کے ذریعے اس نے احمد دین کو بلایا تھا۔ وہ ’’کائنات‘‘ کے دفتر گیا جہاں مترجم کی حیثیت سے سو روپیہ ماہوار پر رکھ لیا گیا۔\n\nاحمد دین نے سوچا۔۔۔ آخر رشوت کام آ ہی گئی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B4%D9%88%D8%AA"} {"title": "رشک سے غیروں کے جی کھوتے ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رشک سے غیروں کے جی کھوتے ہیں ہم\nکیا بروں کی جان کو روتے ہیں ہم\n\nبے خودانہ اپنی ہشیاری رہی\nجاگتے ہیں کچھ تو کچھ سوتے ہیں ہم\n\nاپنے گھر رہنے دے کیوں کر حور وش\nحضرت آدم ہی کے پوتے ہیں ہم\n\nجاں کنی اپنا ہے کام اے کوہ کن\nعشق میں پتھر نہیں ڈھوتے ہیں ہم\n\nداغؔ ہے کس کو میسر درد عشق\nرنج ہوتا ہے تو خوش ہوتے ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "رشک عدو میں دیکھو جاں تک گنوا ہی دیں گے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رشک عدو میں دیکھو جاں تک گنوا ہی دیں گے\nلو جھوٹ جانتے ہو اک دن دکھا ہی دیں گے\n\nآواز کی طرح سے بیٹھیں گے آج اے جاں\nدیکھیں تو آپ کیوں کر ہم کو اٹھا ہی دیں گے\n\nاڑ جاؤں گا جہاں سے عاشق کا رنگ ہو کر\nنقش قدم نہیں ہوں جس کو مٹا ہی دیں گے\n\nغیروں کی جستجو کی مدت سے آرزو ہے\nیہ یاد وہ نہیں ہے جس کو بھلا ہی دیں گے\n\nشعلے نکل رہے ہیں ہر استخواں سے اپنی\nشمعیں یہ وہ نہیں ہیں جس کو بجھا ہی دیں گے\n\nخاموش گفتگو ہیں افسردہ آرزو ہیں\nوہ دل نہیں ہمارا جس کو ہنسا ہی دیں گے\n\nاس خاک تک پہنچ کر پھرنا نسیمؔ مشکل\nہوں اشک اوفتادہ کیوں کر اٹھا ہی دیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف\nعقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا\n\nذرہ ذرہ ساغر مے خانۂ نیرنگ ہے\nگردش مجنوں بہ چشمک‌ ہائے لیلیٰ آشنا\n\nشوق ہے ساماں طراز نازش ارباب عجز\nذرہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا\n\nمیں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے\nعافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا\n\nشکوہ سنج رشک ہم دیگر نہ رہنا چاہئے\nمیرا زانو مونس اور آئینہ تیرا آشنا\n\nکوہ کن نقاش یک تمثال شیریں تھا اسدؔ\nسنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا\n\nخود پرستی سے رہے باہم دگر نا آشنا\nبیکسی میری شریک آئینہ تیرا آشنا\n\nآتش موئے دماغ شوق ہے تیرا تپاک\nورنہ ہم کس کے ہیں اے داغ تمنا آشنا\n\nجوہر آئینہ جز رمز سر مژگاں نہیں\nآشنا کی ہم دگر سمجھے ہے ایما آشنا\n\nربط یک شیرازۂ وحشت ہیں اجزائے بہار\nسبزہ بیگانہ صبا آوارہ گل نا آشنا\n\nبے دماغی شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہیں\nیار تیرا جام مے خمیازہ میرا آشنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D8%B5_%D8%AD%DB%8C%D9%81"} {"title": "رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رفتارِ عمر قطعِ رہ اضطراب ہے\nاس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے\n\nمینائے مے ہے سروِ نشاطِ بہار سے\nبالِ تَدَر و جلوۂ موجِ شراب ہے\n\nزخمی ہوا ہے پاشنہ پائے ثبات کا\nنے بھاگنے کی گوں، نہ اقامت کی تاب ہے\n\nجادادِ بادہ نوشیِ رنداں ہے شش جہت\nغافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے\n\nنظّارہ کیا حریف ہو اس برقِ حسن کا\nجوشِ بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے\n\nمیں نامراد دل کی تسلّی کو کیا کروں\nمانا کہ تیری رخ سے نگہ کامیاب ہے\n\nگزرا اسدؔ مسرّتِ پیغامِ یار سے\nقاصد پہ مجھ کو رشکِ سوال و جواب ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D9%82%D8%B7%D8%B9_%D8%B1%DB%81_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "رفتار و طور و طرز و روش کا یہ ڈھب ہے کیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رفتار و طور و طرز و روش کا یہ ڈھب ہے کیا\nپہلے سلوک ایسے ہی تیرے تھے اب ہے کیا\n\nہم دل زدہ نہ رکھتے تھے تم سے یہ چشم داشت\nکرتے ہو قہر لطف کی جاگا غضب ہے کیا\n\nعزت بھی بعد ذلت بسیار چھیڑ ہے\nمجلس میں جب خفیف کیا پھر ادب ہے کیا\n\nآئے ہم آپ میں تو نہ پہچانے پھر گئے\nاس راہ صعب عشق میں یارو تعب ہے کیا\n\nحیراں ہیں اس دہن کے عزیزان خوردہ بیں\nیہ بھی مقام ہائے تامل طلب ہے کیا\n\nآنکھیں جو ہوویں تیری تو تو عین کر رکھے\nعالم تمام گر وہ نہیں تو یہ سب ہے کیا\n\nاس آفتاب بن نہیں کچھ سوجھتا ہمیں\nگر یہ ہی اپنے دن ہیں تو تاریک شب ہے کیا\n\nتم نے ہمیشہ جور و ستم بے سبب کیے\nاپنا ہی ظرف تھا جو نہ پوچھا سبب ہے کیا\n\nکیوں کر تمہاری بات کرے کوئی اعتبار\nظاہر میں کیا کہو ہو سخن زیر لب ہے کیا\n\nاس مہ بغیر میرؔ کا مرنا عجب ہوا\nہر چند مرگ عاشق مسکیں عجب ہے کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%88_%D8%B7%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%B7%D8%B1%D8%B2_%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%B4_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%DA%88%DA%BE%D8%A8_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں\nساتھ اس کارواں کے ہم بھی ہیں\n\nشمع ہی سر نہ دے گئی برباد\nکشتہ اپنی زباں کے ہم بھی ہیں\n\nہم کو مجنوں کو عشق میں مت بوجھ\nننگ اس خانداں کے ہم بھی ہیں\n\nجس چمن زار کا ہے تو گل تر\nبلبل اس گلستاں کے ہم بھی ہیں\n\nنہیں مجنوں سے دل قوی لیکن\nیار اس ناتواں کے ہم بھی ہیں\n\nبوسہ مت دے کسو کے در پہ نسیم\nخاک اس آستاں کے ہم بھی ہیں\n\nگو شب اس در سے دور پہروں پھریں\nپاس تو پاسباں کے ہم بھی ہیں\n\nوجہ بیگانگی نہیں معلوم\nتم جہاں کے ہو واں کے ہم بھی ہیں\n\nمر گئے مر گئے نہیں تو نہیں\nخاک سے منہ کو ڈھانکے ہم بھی ہیں\n\nاپنا شیوہ نہیں کجی یوں تو\nیار جی ٹیڑھے بانکے ہم بھی ہیں\n\nاس سرے کی ہے پارسائی میرؔ\nمعتقد اس جواں کے ہم بھی ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%81%D8%AA%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم کیجئے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم کیجئے\nعالم ارواح سے صحبت کوئی دم کیجئے\n\nحالت غم کو نہ بھولا چاہئے شادی میں بھی\nخندۂ گل دیکھ کر یاد اشک شبنم کیجئے\n\nعیب الفت روز اول سے مری طینت میں ہے\nداغ لالہ کے لیے کیا فکر مرہم کیجئے\n\nاپنی راحت کے لیے کس کو گوارا ہے یہ رنج\nگھر بنا کر گردن محراب کو خم کیجئے\n\nعشق کہتا ہے مجھے رام اس بت وحشی کو کر\nحسن کی غیرت اسے سمجھاتی ہے رم کیجئے\n\nرات صحبت گل سے دن کو ہم بغل خورشید سے\nرشک اگر کیجے تو رشک بخت شبنم کیجئے\n\nدیدہ و دل کو دکھایا چاہئے دیدار یار\nحسن کے عالم سے آئینوں کو محرم کیجئے\n\nشکل گل ہنس ہنس کے روز وصل کاٹے ہیں بہت\nہجر کی شب صبح رو کر مثل شبنم کیجئے\n\nتھی سزا اپنی جو شادی مرگ قسمت نے کیا\nہجر میں کس نے کہا تھا وصل کا غم کیجئے\n\nآپ کی نازک کمر پر بوجھ پڑتا ہے بہت\nبڑھ چلے ہیں حد سے گیسو کچھ انہیں کم کیجئے\n\nاٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں\nروئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے\n\nروز مردم شب کیے دیتا ہے سرمہ پوچھیے\nخون ہوتے ہیں بہت شوق حنا کم کیجئے\n\nآئینہ کو روبرو آنے نہ دیجے یار کے\nشانہ سے آتشؔ مزاج زلف برہم کیجئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%81%D8%AA%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%A7%DB%92_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "رفعت کبھی کسی کی گوارا یہاں نہیں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رفعت کبھی کسی کی گوارا یہاں نہیں\nجس سر زمیں کے ہم ہیں وہاں آسماں نہیں\n\nدو روز ایک وضع پہ رنگ جہاں نہیں\nوہ کون سا چمن ہے کہ جس کو خزاں نہیں\n\nعبرت کی جا ہے لاکھوں ہی طفل و جواں نہیں\nپیری میں بھی خیال اجل کا یہاں نہیں\n\nدشمن اگر وہ دوست ہوا ہے تو کیا عجب\nیاں اعتماد دوستیٔ جسم و جاں نہیں\n\nرفتار ناز میں یہ لچک جاتی ہے کہ بس\nگویا تری کمر میں صنم استخواں نہیں\n\nمنعم کے شکر میں بھی ہلائیں کبھی کبھی\nتنہا برائے لذت دنیا زباں نہیں\n\nپژمردہ ایک ہے تو شگفتہ ہے دوسرا\nباغ جہاں میں فصل بہار و خزاں نہیں\n\nجن کے سروں پر آپ مگس راں رہے ہما\nان کا لحد میں آج کوئی استخواں نہیں\n\nدھوکا نہ کھا ظروف وضو کو تو دیکھ کر\nمسجد ہے مے فروش کی ناسخؔ دکاں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%81%D8%B9%D8%AA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رقص", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "چھوڑ یورپ کے لیے رقصِ بدن کے خم و پیچ\nرُوح کے رقص میں ہے ضربِ کِلیم اللّٰہی!\nصِلہ اُس رقص کا ہے تشنگیِ کام و دہن\nصِلہ اِس رقص کا درویشی و شاہنشاہی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%82%D8%B5"} {"title": "رقص مستی دیکھتے جوش تمنا دیکھتے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رقص مستی دیکھتے جوش تمنا دیکھتے\nسامنے لا کر تجھے اپنا تماشا دیکھتے\n\nکم سے کم حسن تخیل کا تماشا دیکھتے\nجلوۂ یوسف تو کیا خواب زلیخا دیکھتے\n\nکچھ سمجھ کر ہم نے رکھا ہے حجاب دہر کو\nتوڑ کر شیشے کو پھر کیا رنگ صہبا دیکھتے\n\nروز روشن یا شب مہتاب یا صبح چمن\nہم جہاں سے چاہتے وہ روئے زیبا دیکھتے\n\nقلب پر گرتی تڑپ کر پھر وہی برق جمال\nہر بن مو میں وہی آشوب و غوغا دیکھتے\n\nصد زماں و صد مکاں و ایں جہاں و آں جہاں\nتم نہ آ جاتے تو ہم وحشت میں کیا کیا دیکھتے\n\nاس طرح کچھ رنگ بھر جاتا نگاہ شوق میں\nجلوہ خود بیتاب ہو جاتا وہ پردا دیکھتے\n\nجن کو اپنی شوخیوں پر آج اتنا ناز ہے\nوہ کسی دن میری جان ناشکیبا دیکھتے\n\nمے کدے میں زندگی ہے شور نوشا نوش ہے\nمٹ گئے ہوتے اگر ہم جام و مینا دیکھتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%82%D8%B5_%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92"} {"title": "رقص و موسیقی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "شعر سے روشن ہے جانِ جبرئیل و اہرمن\nرقص و موسیقی سے ہے سوز و سُرورِ انجمن\nفاش یوں کرتا ہے اک چینی حکیم اسرارِ فن\nشعر گویا رُوحِ موسیقی ہے، رقص اس کا بدن!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%82%D8%B5_%D9%88_%D9%85%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%82%DB%8C"} {"title": "رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے\nثاقب! حرکت یہ کی ہے بے جا تم نے\nحاجی کلّو کو دے کے بے وجہ جواب\nغالبؔ کا پکا دیا کلیجا تم نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%82%D8%B9%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AC%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92"} {"title": "رقیب", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "تمہی کو آج مرے روبرو بھی ہونا تھا\nاور ایسے رنگ میں جس کا کبھی گماں بھی نہ ہو\nنگاہ تند غضب ناک دل کلام درشت\n\nچمن میں جیسے کسی باغباں کی آنکھوں نے\nروش کے ساتھ ہی ننھے سے ایک پودے کو\nشگفتہ ہو کے سنورتے نکھرتے دیکھا ہو\nمری تمہاری کہانی یہی کہانی ہے\n\nروش پر سر کو اٹھائے ہر ایک سوچ سے دور\nمیں اپنی دھن میں مگن تھا ہر تازہ قدم\nمرے افق پہ چمکتے ہوئے ستارے کی\nہر اک کرن کو مرے پاس لائے جاتا تھا\nمجھے نہ خار کا اندیشہ تھا نہ ٹھوکر کا\nمگر یہ بھول تھی میری وہ خود فراموشی\n\nمرے ہی سامنے آئی ہے اور صورت میں\nنگاہ تند غضب ناک دل کلام درشت\nمگر اب اس کی ضرورت نہیں میں سوچتا ہوں\nتمہی کو آج مرے روبرو نہ ہونا تھا\nجہاں میں اور بھی تھے مجھ سے تم سے بڑھ کے کہیں\nجو اجنبی تھے جنہیں اجنبی ہی رہنا تھا\n\nمجھے کسی نے بتایا ہے آپ کے یہ دوست\nہمیشہ رات گئے اپنے گھر کو آتے ہیں\nلبوں سے سیٹی بجاتے ہیں گنگناتے ہیں\nکسی کی آہ کسی کے کرم سے مٹتی ہے\n\nمیں تجھ سے کہتی ہوں بہنا یہ کیا زمانہ ہے\nنہ اپنے نام کا کچھ پاس ہے نہ گھر کی لاج\nگئے مہینے سے ہر روز رات کو چھپ کر\nہماری بی بی کسی مردوئے سے ملتی ہے\n\nمجھے یہ فکر نہیں نوکروں کو عادت ہے\nکہ پر کو کوا بناتے ہیں رائی کا پربت\nبس ایک دھیان کسی تیر کی طرح سیدھا\nیہ سوچ بن کے مرے دل میں آ ٹھہرتا ہے\nیہی ہے جس کا کبھی نام لاجونتی تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8"} {"title": "رقیب جوڑ چلا تم ملال کر بیٹھے", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رقیب جوڑ چلا تم ملال کر بیٹھے\nکدھر خیال گیا کیا خیال کر بیٹھے\n\nخیال اسی پہ رہے دیکھ بھال کر بیٹھے\nتمہاری بزم میں دل کو سنبھال کر بیٹھے\n\nمرے گناہ پر ان زاہدوں کو حیرت ہے\nیہ آدمی کو فرشتہ خیال کر بیٹھے\n\nبچاؤں کیونکر اسے کس طرح انہیں ٹالوں\nغضب ہوا کہ وہ دل کا سوال کر بیٹھے\n\nرقیب خوش ہوئے اب تو تمہیں قرار آیا\nکہ مثل رنگ مرا خون اچھال کر بیٹھے\n\nفلک کی چال ہے یہ آدمی کی چال نہیں\nچلے تو لاکھوں ہی کو پائمال کر بیٹھے\n\nخموش کیوں ہو یہ نطق آدمی کا زیور ہے\nجو کوئی بیٹھے کہیں بول چال کر بیٹھے\n\nخبر نہیں کہ ہے کاجل کی کوٹھری دنیا\nیہاں جو بیٹھے وہ دامن سنبھال کر بیٹھے\n\nجہاں ہے نقش بر آب اس میں دم کے دم ہے قیام\nکوئی کسی سے یہاں کیا ملال کر بیٹھے\n\nتڑپ رہا تھا زمیں پر تڑپنے دیتے تم\nکسی کا دل ہو کوئی پائمال کر بیٹھے\n\nٹٹولتے ہیں جگر کو کہ دل کو ڈھونڈتے ہیں\nوہ میرے سینے میں کیوں ہاتھ ڈال کر بیٹھے\n\nوہ میرا دل نہیں اے جاں رقیب کا دل ہے\nتمہارا تیر جگہ دیکھ بھال کر بیٹھے\n\nکیا خیال ذرا بھی نہ خون عاشق کا\nحنا سے تم کف گل رنگ لال کر بیٹھے\n\nہجوم چاک گریبانوں کا ہے کوچے میں\nحضور پردے سے کیوں سر نکال کر بیٹھے\n\nیہ کیا کیا کہ انہیں دے دیا دل اے اکبرؔ\nتمہیں خبر نہیں وہ تم سے چال کر بیٹھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8_%D8%AC%D9%88%DA%91_%DA%86%D9%84%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92"} {"title": "رقیب نفس کا مکھ موڑتا رہ", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "رقیب نفس کا مکھ موڑتا رہ\nہوا اور حرص کے تئیں توڑتا رہ\n\nاٹھا سنگ ریاضت دست دل سوں\nسدا شیشے کو تن کے توڑتا رہ\n\nشجاعت ساتھ لے کر ذکر کا تیغ\nسڑک غفلت کے دل پر چھوڑتا رہ\n\nلگایا ہے اگر رشتہ پرت کا\nنظر کے سلسلے سوں جوڑتا رہ\n\nعلیمؔ اللہ ہووے ایک دم دور\nیہ بد خصلت کو یک یک توڑتا رہ", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8_%D9%86%D9%81%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DA%A9%DA%BE_%D9%85%D9%88%DA%91%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81"} {"title": "رقیبوں کا مجھ سے گلا ہو رہا ہے", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رقیبوں کا مجھ سے گلا ہو رہا ہے\nیہ کیا کر رہے ہو یہ کیا ہو رہا ہے\n\nدعا کو نہیں راہ ملتی فلک کی\nکچھ ایسا ہجوم بلا ہو رہا ہے\n\nوہ جو کر رہے ہیں بجا کر رہے ہیں\nیہ جو ہو رہا ہے بجا ہو رہا ہے\n\nوہ نا آشنا بے وفا میری ضد سے\nزمانے کا اب آشنا ہو رہا ہے\n\nچھپائے ہوئے دل کو پھرتے ہیں بیخودؔ\nکہ خواہاں کوئی دل ربا ہوا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "رقیبوں کو ہم راہ لانا نہ چھوڑا", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رقیبوں کو ہم راہ لانا نہ چھوڑا\nنہ چھوڑا مرا جی جلانا نہ چھوڑا\n\nبلائیں ہی لے لے کے کاٹی شب وصل\nستم گار نے منہ چھپانا نہ چھوڑا\n\nوہ کہتے ہیں لے اب تو سونے دے مجھ کو\nکوئی دل میں ارماں پرانا نہ چھوڑا\n\nوہ سینے سے لپٹے رہے گو شب وصل\nدل زار نے تلملانا نہ چھوڑا\n\nمحبت کے برتاؤ سب چھوڑ بیٹھے\nمگر ہاں ستانا جلانا نہ چھوڑا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7"} {"title": "رلوا کے مجھ کو یار گنہ گار کر نہیں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رلوا کے مجھ کو یار گنہ گار کر نہیں\nآنکھیں ہیں تر تو ہوں مرا دامن تو تر نہیں\n\nامید وصل سے بھی تو صدمہ نہ کم ہوا\nکیا درد جائے گا جو دوا کا اثر نہیں\n\nدن کو بھی داغ دل کی نہ کم ہوگی روشنی\nیہ لو ہی اور ہے یہ چراغ سحر نہیں\n\nتنہا چلیں ہیں معرکۂ عشق جھیلنے\nان کی طرف خدائی ہے کوئی ادھر نہیں\n\nخالی صفائی قلب سے بہتر ہے داغ عشق\nکیا عیب ہے کہ جس کے مقابل ہنر نہیں\n\nقاتل کی راہ دیکھ لے دم بھر نہ زہر کھا\nاے دل قضا کو آنے دے بے موت مر نہیں\n\nکیوں کر یہاں نہ ایک ہی کروٹ پڑا رہوں\nہو کا مقام گور کی منزل ہے گھر نہیں\n\nرن کھن پڑیں گے جب کہیں دکھلائے گا وہ شکل\nبے کشت خوں ہوئی یہ مہم ہو کے سر نہیں\n\nآنکھیں جھپک رہی ہیں مری برق حسن سے\nپیش نظر ہو تم مجھے تاب نظر نہیں\n\nیارو بتاؤ کس طرف آنکھیں بچھاؤں میں\nاس شوخ کی کدھر کو ہے آمد کدھر نہیں\n\nبندہ نواز سب ہیں رکوع و سجود میں\nطاعت سے غافل آپ کی کوئی بشر نہیں\n\nپریوں کے پاس جاؤں میں کیوں دل کو بیچنے\nسودا جو مول لوں یہ مجھے درد سر نہیں\n\nدرد فراق یار سے دونوں ہیں بے قرار\nقابو میں دل نہیں متحمل جگر نہیں\n\nراہ عدم میں ساتھ رہے گی تری ہوس\nپروا نہیں نہ ہو جو کوئی ہم سفر نہیں\n\nخلوت سرائے یار میں پہنچے گا کیا کوئی\nوہ بند و بست ہے کہ ہوا کا گزر نہیں\n\nاٹھوا کے اپنی بزم سے دل کو مرے نہ توڑ\nپہلو میں دے کے جا مجھے برباد کر نہیں\n\nہستی کدھر ہے عالم ارواح ہے کہاں\nغفلت زدہ ہوں مجھ کو کہیں کی خبر نہیں\n\nزنجیر اتر گئی ترا دیوانہ مر گیا\nسناٹا قید خانے میں ہے شور و شر نہیں\n\nچندرا کے مجھ کو بولے وہ آخر جو شب ہوئی\nفق ہو گیا ہے رنگ کسی کا سحر نہیں\n\nبرپا ہے حشر و نشر جو رفتار یار سے\nیہ کون سا چلن ہے قیامت اگر نہیں\n\nدر نجف تو جسم ہے اس نازنین کا\nموئے نجف میں بال پڑا ہے کمر نہیں\n\nدیدار کا لگا کے میں آیا ہوں آسرا\nامیدوار ہوں مجھے مایوس کر نہیں\n\nیارو ستم ہوا ہوئی آخر شب وصال\nسینہ شرفؔ یہ کوٹ رہے ہیں گجر نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%84%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رمز آشنا ملے کئی اہل نظر ملے", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رمز آشنا ملے کئی اہل نظر ملے\nپھر بھی یہ جستجو رہی کوئی بشر ملے\n\nعادل بھی ہو رحیم بھی ہو کارساز بھی\nسب کچھ تو ہو مگر ذرا ہم سے نظر ملے\n\nانکار سجدہ ہے یہاں کس رو سیاہ کو\nشایان سجدہ بھی تو مگر کوئی در ملے\n\nیہ ہے کمال جہل کہ معراج آگہی\nہر لمحہ جستجو ہے کچھ اپنی خبر ملے\n\nعیش گریز پا کا تصور بھی مٹ گیا\nغم ایسے مستقل ملے اور اس قدر ملے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%85%D8%B2_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D9%85%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%D9%84%DB%92"} {"title": "رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہے\nدل داغ گشتہ کباب ہے جگر گداختہ آب ہے\n\nمری خلق محو کلام سب مجھے چھوڑتے ہیں خموش کب\nمرا حرف رشک کتاب ہے مری بات لکھنے کا باب ہے\n\nجو وہ لکھتا کچھ بھی تو نامہ بر کوئی رہتی منہ میں ترے نہاں\nتری خامشی سے یہ نکلے ہے کہ جواب خط کا جواب ہے\n\nرہے حال دل کا جو ایک سا تو رجوع کرتے کہیں بھلا\nسو تو یہ کبھو ہمہ داغ ہے کبھو نیم سوز کباب ہے\n\nکہیں گے کہو تمہیں لوگ کیا یہی آرسی یہی تم سدا\nنہ کسو کی تم کو ہے ٹک حیا نہ ہمارے منہ سے حجاب ہے\n\nچلو میکدے میں بسر کریں کہ رہی ہے کچھ برکت وہیں\nلب نا توواں کا کباب ہے دم آب واں کا شراب ہے\n\nنہیں کھلتیں آنکھیں تمہاری ٹک کہ مآل پر بھی نظر کرو\nیہ جو وہم کی سی نمود ہے اسے خوب دیکھو تو خواب ہے\n\nگئے وقت آتے ہیں ہاتھ کب ہوئے ہیں گنوا کے خراب سب\nتجھے کرنا ہووے سو کر تو اب کہ یہ عمر برق شتاب ہے\n\nکبھو لطف سے نہ سخن کیا کبھو بات کہہ نہ لگا لیا\nیہی لحظہ لحظہ خطاب ہے وہی لمحہ لمحہ عتاب ہے\n\nتو جہاں کے بحر عمیق میں سر پر ہوا نہ بلند کر\nکہ یہ پنج روزہ جو بود ہے کسو موج پر کا حباب ہے\n\nرکھو آرزو مئے خام کی کرو گفتگو خط جام کی\nکہ سیاہ کاروں سے حشر میں نہ حساب ہے نہ کتاب ہے\n\nمرا شور سن کے جو لوگوں نے کیا پوچھنا تو کہے ہے کیا\nجسے میرؔ کہتے ہیں صاحبو یہ وہی تو خانہ خراب ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%85%D9%82_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%88%D8%A8%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%85_%D8%AC%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "رموز خاموشی", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "poetry", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "چور کار بے فضول من بر آید\nمراد روئے سخن گفتن نہ شاید\nدگر بینم کہ نابینا و چاہ است\nاگر خاموش نشینم گناہ است", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%85%D9%88%D8%B2_%D8%AE%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4%DB%8C"} {"title": "رموز محبت", "poet_page": "مصنف:اثر صہبائی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جب آنکھ کھول کے دیکھا تو ہو گیا مستور\nیہ میرا دیدۂ بینا ہی اک حجاب ہوا\nتو چھپ گیا مہ و انجم میں لالہ و گل میں\nہر ایک جلوۂ رنگیں ترا نقاب ہوا\nجب آنکھ بند ہوئی تو ہی جلوہ آرا تھا\n\nمری زبان کھلی شرح عاشقی کے لیے\nمرا بیاں تھا مرقع مری خجالت کا\nہر ایک حرف میں تھا غیریت کا افسانہ\nمری زباں نے کیا خوں مری محبت کا\nمرے سکوت میں طوفان عشق برپا تھا\n\nمرے حواس رہے تیرے وصل میں حائل\nجو بے خودی میں ہوا غرق تو ملا مجھ کو\nعجیب شے ہے محبت میں خود فراموشی\nفنا ہوا تو ملی لذت بقا مجھ کو\nمرا وجود ہی اے دوست ایک پردہ تھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%85%D9%88%D8%B2_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA"} {"title": "رنج اور رنج بھی تنہائی کا", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنج اور رنج بھی تنہائی کا\nوقت پہنچا مری رسوائی کا\n\nعمر شاید نہ کرے آج وفا\nکاٹنا ہے شب تنہائی کا\n\nتم نے کیوں وصل میں پہلو بدلا\nکس کو دعویٰ ہے شکیبائی کا\n\nایک دن راہ پہ جا پہنچے ہم\nشوق تھا بادیہ پیمائی کا\n\nاس سے نادان ہی بن کر ملئے\nکچھ اجارہ نہیں دانائی کا\n\nسات پردوں میں نہیں ٹھہرتی آنکھ\nحوصلہ کیا ہے تماشائی کا\n\nدرمیاں پائے نظر ہے جب تک\nہم کو دعویٰ نہیں بینائی کا\n\nکچھ تو ہے قدر تماشائی کی\nہے جو یہ شوق خود آرائی کا\n\nاس کو چھوڑا تو ہے لیکن اے دل\nمجھ کو ڈر ہے تری خود رائی کا\n\nبزم دشمن میں نہ جی سے اترا\nپوچھنا کیا تری زیبائی کا\n\nیہی انجام تھا اے فصل خزاں\nگل و بلبل کی شناسائی کا\n\nمدد اے جذبۂ توفیق کہ یاں\nہو چکا کام توانائی کا\n\nمحتسب عذر بہت ہیں لیکن\nاذن ہم کو نہیں گویائی کا\n\nہوں گے حالیؔ سے بہت آوارہ\nگھر ابھی دور ہے رسوائی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "رنج راحت اثر نہ ہو جائے", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنج راحت اثر نہ ہو جائے\nدرد کا دل میں گھر نہ ہو جائے\n\nمنہ چھپانا پڑے نہ دشمن سے\nاے شب غم سحر نہ ہو جائے\n\nکفر منظور ہے مجھے دل سے\nوہ مسلمان اگر نہ ہو جائے\n\nہاتھ الجھا رہے گریباں میں\nچاک دامن ادھر نہ ہو جائے\n\nہے ظہیرؔ ایک مرد سنجیدہ\nہاں جو آشفتہ سر نہ ہو جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "رنج میں بھی شاد رہنا چاہئے", "poet_page": "مصنف:ہاجر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنج میں بھی شاد رہنا چاہئے\nیہ مقولہ یاد رہنا چاہئے\n\nہجر میں ناشاد رہنا چاہئے\nخستہ و برباد رہنا چاہئے\n\nسن ہی لیں گے وہ کبھی فریاد غم\nبرسر فریاد رہنا چاہئے\n\nخود بخود ہو جائیں گے وہ مہرباں\nطالب بیداد رہنا چاہئے\n\nکس لئے پھنستا ہے اے دل زلف میں\nقید سے آزاد رہنا چاہئے\n\nخواہ سر پر آسماں بھی آ پڑے\nآدمی کو شاد رہنا چاہئے\n\nچھوٹ کر ہم نے قفس سے یہ کہا\nکچھ ستم صیاد رہنا چاہئے\n\nچھوڑ کر دل آپ جاتے ہیں کہاں\nیہ مکاں آباد رہنا چاہئے\n\nوعدہ تو ہم سے کئے جاتے ہو تم\nشرط یہ ہے یاد رہنا چاہئے\n\nرحم آ ہی جائے گا ہاجرؔ انہیں\nعشق میں برباد رہنا چاہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81%D9%86%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "رنج و غم و فراق میں جو مبتلا نہیں", "poet_page": "مصنف:عزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی", "kind": "poetry", "section": "غزل > چشمۂ کوثر (1934)", "year": "1934", "text_ur": "رنج و غم و فراق میں جو مبتلا نہیں\nدنیا میں اس کی زیست کا کچھ بھی مزا نہیں\n\nلے لو قسم کہ ہم نے تمہارے سوا صنم\nاس نقد دل کو اور کسی کو دیا نہیں\n\nاے دل بتوں کے عشق نے برباد کر دیا\nورنہ جہاں میں ہم سا کوئی با وفا نہیں\n\nبالکل درست یہ کہ بتوں میں وفا کہاں\nان سے تو دل لگانے کا کچھ بھی مزا نہیں\n\nپائی سزا خراب ہوئے عشق کیوں کیا\nیہ سب خطا ہے دل کی ہماری خطا نہیں\n\nدم لاکھ اس کے عشق کا بھرتے رہے مگر\nپھر بھی کسی کا وہ کبھی دل آشنا نہیں\n\nانصاف میرا اور ترا ہوگا ایک دن\nوہ کون سا ستم ہے جو مجھ پر کیا نہیں\n\nمعشوق پر جفا سے میں ناچار ہو گیا\nاس غم سے چھوٹتا مگر آتی قضا نہیں\n\nآہ و فغاں سے فائدہ کچھ بھی نہیں عزیزؔ\nیہ بت ہیں سنگ دل انہیں خوف خدا نہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D9%88_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے\nدل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے\n\nپاس ناموس عشق تھا ورنہ\nکتنے آنسو پلک تک آئے تھے\n\nوہی سمجھا نہ ورنہ ہم نے تو\nزخم چھاتی کے سب دکھائے تھے\n\nاب جہاں آفتاب میں ہم ہیں\nیاں کبھو سرو و گل کے سائے تھے\n\nکچھ نہ سمجھے کہ تجھ سے یاروں نے\nکس توقع پہ دل لگائے تھے\n\nفرصت زندگی سے مت پوچھو\nسانس بھی ہم نہ لینے پائے تھے\n\nمیرؔ صاحب رلا گئے سب کو\nکل وے تشریف یاں بھی لائے تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%D8%AC_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "رنج کی جب گفتگو ہونے لگی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنج کی جب گفتگو ہونے لگی\nآپ سے تم تم سے تو ہونے لگی\n\nچاہیئے پیغام بر دونوں طرف\nلطف کیا جب دوبدو ہونے لگی\n\nمیری رسوائی کی نوبت آ گئی\nان کی شہرت کو بہ کو ہونے لگی\n\nہے تری تصویر کتنی بے حجاب\nہر کسی کے رو بہ رو ہونے لگی\n\nغیر کے ہوتے بھلا اے شام وصل\nکیوں ہمارے رو بہ رو ہونے لگی\n\nناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدر\nآرزو کی آرزو ہونے لگی\n\nاب کے مل کر دیکھیے کیا رنگ ہو\nپھر ہماری جستجو ہونے لگی\n\nداغؔ اترائے ہوئے پھرتے ہیں آج\nشاید ان کی آبرو ہونے لگی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%D8%AC_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A8_%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%8C"} {"title": "رنج ہے اس رنج سے ہم کو تو غم اس غم سے ہے", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنج ہے اس رنج سے ہم کو تو غم اس غم سے ہے\nجو شکایت ہم کو ان سے ہے وہ ان کو ہم سے ہے\n\nکیا پڑی ہے پھر کسی کے واسطے روتا ہے کیوں\nآبروئے عشق اپنے دیدۂ پر نم سے ہے\n\nجھوٹے منہ کوئی تسلی بھی نہیں دیتا کبھی\nپھر یہ کیوں صاحب سلامت اپنی اک عالم سے ہے\n\nدشمنوں کا دو ہی دن میں سب بھرم کھل جائے گا\nان کی ساری شان و شوکت ایک میرے دم سے ہے\n\nہاتھ جوڑے منتیں کیں خیر وہ تو من گئے\nاور لوگوں کو بھی اب ایسی تمنا ہم سے ہے\n\nاس مذاق خاص کے بھی لوگ دیکھے ہیں کہیں\nآپ کی بھی جان پہچان آخر اک عالم سے ہے\n\nسب صفیؔ کی آہ پر بے ساختہ کہتے ہیں واہ\nاس کا رونا بھی مگر کچھ تال سے ہے سم سے ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%D8%AC_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے", "poet_page": "مصنف:شیخ علی بخش بیمار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے\nاب اور ہی معشوق سے یارانہ کریں گے\n\nباندھیں گے کسی اور ہی جوڑے کا تصور\nسر دھیان میں اس زلف کے مارا نہ کریں گے\n\nامکان سے خارج ہے کہ ہوں تجھ سے مخاطب\nہم نام کو بھی تیرے پکارا نہ کریں گے\n\nیک بار کبھی بھولے سے آ جائیں تو آ جائیں\nلیکن گزر اس گھر میں دوبارا نہ کریں گے\n\nکیا خوب کہا تو نے جو کھولوں ابھی آغوش\nملنے سے مرے آپ کنارا نہ کریں گے\n\nگو خاک میں مل جائیں ہم اور وضع بدل جائیں\nپر تجھ سے ملاقات خود آرا نہ کریں گے\n\nاس نرگس بیمارؔ سے رکھتے ہیں شباہت\nہرگز سوئے عبہر بھی اشارا نہ کریں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%D8%AC%D8%B4_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "رنجش کی کوئی اس کی روایت نہ سنی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "رنجش کی کوئی اس کی روایت نہ سنی\nبے صرفہ کسو وقت حکایت نہ سنی\nتھا میرؔ عجب فقیر صابر شاکر\nہم نے اس سے کبھو شکایت نہ سنی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%D8%AC%D8%B4_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%86%DB%8C"} {"title": "رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو\nتجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو\n\nناخن خدا نہ دے تجھے اے پنجۂ جنوں\nدے گا تمام عقل کے بخیے ادھیڑ تو\n\nاس صید مضطرب کو تحمل سے ذبح کر\nدامان و آستیں نہ لہو میں لتھیڑ تو\n\nچھٹتا ہے کون مر کے گرفتار دام زلف\nتربت پہ اس کی جال کا پائے گا پیڑ تو\n\nاے زاہد دو رنگ نہ پیر آپ کو بنا\nمانند صبح کاذب ابھی ہے ادھیڑ تو\n\nیہ تنگنائے دہر نہیں منزل فراغ\nغافل نہ پاؤں حرص کے پھیلا سکیڑ تو\n\nہو قطع نخل الفت اگر پھر بھی سبز ہو\nکیا ہو جو پھینکے جڑ ہی سے اس کو اکھیڑ تو\n\nجو سوتی بھیڑ باعث غوغا جگائے پھر\nدروازہ گھر کا اس سگ دنیا پہ بھیڑ تو\n\nعمر رواں کا توسن چالاک اس لیے\nتجھ کو دیا کہ جلد کرے یاں سے ایڑ تو\n\nآوارگی سے کوئے محبت کی ہاتھ اٹھا\nاے ذوقؔ یہ اٹھا نہ سکے گا کھکھیڑ تو", "license": "PD-old-70", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%D8%AF_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91_%D8%AA%D9%88"} {"title": "رندوں کو بہشت کی خبر دے ساقی", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "رندوں کو بہشت کی خبر دے ساقی\nاک جام پلا کے مست کر دے ساقی\nپیمانۂ عمر ہے چھلکنے کے قریب\nبھر دے ساقی شراب بھر دے ساقی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%B4%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%AF%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "رنگ بدلا ہے کئی دن سے مزاج یار کا", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "رنگ بدلا ہے کئی دن سے مزاج یار کا\nجوڑ شاید چل گیا پھر آج کل اغیار کا\n\nکس قدر پایا سویدائے دل عاشق نے اوج\nرفتہ رفتہ تل بنا آخر ترے رخسار کا\n\nاب تو آ کر دیکھ جانا چاہئے تجھ کو ضرور\nحال ہے نوع دگر عیسیٰ ترے بیمار کا\n\nبے خودی میں زخم دل پر جبکہ پڑتی ہے نظر\nہوتا ہے دھوکا تمہارے روزن دیوار کا\n\nحال درد دل بیاں کس سے کروں میں بد نصیب\nتو ہی جب پرساں نہ ہو لے میرے حال زار کا\n\nبات کرنا ہو گیا مشکل بتوں کے سامنے\nپڑ گیا پھندا گلے میں رشتۂ زنار کا\n\nہو گیا ہوں ناتواں ایسا تمہارے ہجر میں\nتوڑنا مشکل ہوا ہے آنسوؤں کے تار کا\n\nاک فقط تیرے کشیدہ ہونے سے یہ حال ہے\nبھاگتا ہے سایہ تک مجھ سے تری دیوار کا\n\nناتواں ایسا ہوں پس کر خاک ہو جاؤں ابھی\nسایہ پڑ جائے اگر مجھ پر تری دیوار کا\n\nاب تو صورت اپنی دکھلاؤ خدا کے واسطے\nدم نکلتا ہے تمہارے طالب دیدار کا\n\nاپنی کم فہمی سے انجمؔ ہم نہایت تنگ ہیں\nذہن میں آتا نہیں مضموں دہان یار کا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%A8%D8%AF%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "رنگ تصویر جہاں کو ترا نقشا سمجھا", "poet_page": "مصنف:پیارے لال رونق دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنگ تصویر جہاں کو ترا نقشا سمجھا\nذرہ ذرہ کو میں اک حسن سراپا سمجھا\n\nمحو حیرت جو تصور نے بنایا مجھ کو\nاپنی تصویر کو میں تیرا سراپا سمجھا\n\nبے خود جلوہ کبھی اور کبھی ہشیار رہا\nکبھی معبود کبھی خود کو میں بندہ سمجھا\n\nوائے غفلت کہ سراب آسا نہ جانا اس کو\nبھول اتنی ہوئی دنیا کو میں دنیا سمجھا\n\nدیدۂ تر نے اٹھائے وہ شب غم طوفاں\nجو گرا آنکھ سے قطرہ اسے دریا سمجھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D9%82%D8%B4%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7"} {"title": "رنگ جمنے نہ دیا بات کو چلنے نہ دیا", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنگ جمنے نہ دیا بات کو چلنے نہ دیا\nکوئی پہلو مرے مطلب کا نکلنے نہ دیا\n\nکچھ سہارا بھی ہمیں روز ازل نے نہ دیا\nدل بدلنے نہ دیا بخت بدلنے نہ دیا\n\nکوئی ارماں ترے جلووں نے نکلنے نہ دیا\nہوش آنے نہ دیا غش سے سنبھلنے نہ دیا\n\nچاہتے تھے کہ پیامی کو پتا دیں تیرا\nرشک نے نام ترا منہ سے نکلنے نہ دیا\n\nشمع رو میں نے کہا تھا مری ضد سے اس نے\nشمع کو بزم میں اپنے کبھی جلنے نہ دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AC%D9%85%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D9%84%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہے", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہے\nدھوم ہے پژمردہ پھولوں میں بہار آنے کو ہے\n\nیار کوچے میں ترے دھونی رمانے کے لیے\nغمزدہ حسرت زدہ اک خاکسار آنے کو ہے\n\nرحم کرنا اب کی میری آنکھ کھلنے کی نہیں\nآخری غش مجھ کو اے پروردگار آنے کو ہے\n\nکوئی دم میں حشر ہوگا کچھ خبر بھی ہے تمہیں\nبے قراری لاتی ہے اک بے قرار آنے کو ہے\n\nبھاگے جاتے ہیں بگولے کانپتا ہے نجد قیس\nخاک اڑی کس کی یہاں کس کا غبار آنے کو ہے\n\nہوش اڑے جاتے ہیں یارو روح ہے سہمی ہوئی\nصید گاہ عشق سے کس کا شکار آنے کو ہے\n\nجان جاں تو کیجو جاں بخشی کہ تجھ کو دیکھنے\nایک بے کس بے خود و بے اختیار آنے کو ہے\n\nدرد تنہائی سے چھڑاتا ہے عالم نزع کا\nبے قراری کوچ کرتی ہے قرار آنے کو ہے\n\nگل رخوں کی بزم میں جانے کو ہے میرا غبار\nپیشوائی کے لئے ابر بہار آنے کو ہے\n\nاب مری آنکھوں کو ہوگا ولولہ دیدار کا\nحسرت ان میں آ چکی ہے انتظار آنے کو ہے\n\nہوگی اب آراستہ تربت شہید ناز کی\nچادر گل بچھتی ہے شمع مزار آنے کو ہے\n\nبے وفا تم با وفا میں دیکھیے ہوتا ہے کیا\nغیظ میں آنے کو تم ہو مجھ کو پیار آنے کو ہے\n\nغنچہ و گل کر رہی ہیں کیوں گریباں چاک چاک\nکون سے رشک چمن کا دل فگار آنے کو ہے\n\nہجر میں دم گھٹنے کو ہے کوچ ہے تفریح کا\nسانس رکنے کو ہے ہچکی چند بار آنے کو ہے\n\nبیٹھی ہے لیلیٰ گریباں پھاڑنے کے واسطے\nکس کے مجنوں کا لباس تار تار آنے کو ہے\n\nغش سے چونکو آنکھ کھولو دم نہ توڑو اے شرفؔ\nشکر کا سجدہ کرو اٹھ بیٹھو یار آنے کو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AC%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%B9_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "رنگ دل رنگ نظر یاد آیا", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنگ دل رنگ نظر یاد آیا\nتیرے جلووں کا اثر یاد آیا\n\nوہ نظر بن گئی پیغام حیات\nحلقۂ شام و سحر یاد آیا\n\nیہ زمانہ یہ دل دیوانہ\nرشتۂ سنگ و گہر یاد آیا\n\nیہ نیا شہر یہ روشن راہیں\nاپنا انداز سفر یاد آیا\n\nراہ کا روپ بنی دھوپ اپنی\nکوئی سایہ نہ شجر یاد آیا\n\nکب نہ اس شہر میں پتھر برسے\nکب نہ اس شہر میں سر یاد آیا\n\nگھر میں تھا دشت نوردی کا خیال\nدشت میں آئے تو گھر یاد آیا\n\nگرد اڑتی ہے سر راہ خیال\nدل ناداں کا سفر یاد آیا\n\nایک ہنستی ہوئی بدلی دیکھی\nایک جلتا ہوا گھر یاد آیا\n\nاس طرح شام کے سائے پھیلے\nرات کا پچھلا پہر یاد آیا\n\nپھر چلے گھر سے تماشا بن کر\nپھر ترا روزن در یاد آیا\n\nکسی پتھر کی حقیقت ہی کیا\nدل کا آئینہ مگر یاد آیا\n\nآنچ دامان صبا سے آئی\nاعتبار گل تر یاد آیا\n\nدل جلا دھوپ میں ایسا اب کے\nپاؤں یاد آئے نہ سر یاد آیا\n\nگر پڑے ہاتھ سے کاغذ باقیؔ\nاپنی محنت کا ثمر یاد آیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "رنگ دیکھا تری طبیعت کا", "poet_page": "مصنف:فروغ حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنگ دیکھا تری طبیعت کا\nہو چکا امتحاں محبت کا\n\nیہی نقشہ رہا جو فرقت کا\nبت بنا لیں گے تیری صورت کا\n\nنہ ملو تم گلے رقیبوں سے\nخون ہوتا ہے میری حسرت کا\n\nتیری رفتار نے نشان دیا\nنام سنتے تھے ہم قیامت کا\n\nدیکھتا ہوں پری جمالوں کو\nمجھ کو لپکا ہے اچھی صورت کا\n\nملتی جلتی ہے زلف شب گوں سے\nکیا مقدر ہے شام فرقت کا\n\nتیری ٹھوکر کے آگے او ظالم\nپاؤں جمتا نہیں قیامت کا\n\nوہ مرے حال پر ترے الطاف\nوہ زمانہ تری محبت کا\n\nسن کے دشمن کی بات پی جاؤں\nمقتضا یہ نہیں ہے غیرت کا\n\nوہ بگڑتے ہیں مجھ سے بن بن کر\nرنگ رخ رنگ ہے طبیعت کا\n\nجانتے ہیں فروغؔ کو ہم بھی\nاک یہی شخص ہے مروت کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "رنگ سے پیرہن سادہ حنائی ہو جائے", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنگ سے پیرہن سادہ حنائی ہو جائے\nپہنے زنجیر جو چاندی کی طلائی ہو جائے\n\nخود فروشی کو جو تو نکلے بہ شکل یوسف\nاے صنم تیری خریدار خدائی ہو جائے\n\nخط توام کی طرح عاشق و معشوق ہیں ایک\nدونوں بے کار ہیں جس وقت جدائی ہو جائے\n\nتنگی گوشۂ عزلت ہے بیاں سے باہر\nنہیں امکان کہ چیونٹی کی سمائی ہو جائے\n\nیہی ہر عضو سے آتی ہے صدا فرقت میں\nوقت یہ وہ ہے جدا بھائی سے بھائی ہو جائے\n\nاپنی ہی آگ میں اے برقؔ جلا جاتا ہوں\nعنصر خاک ہو تربت جو لڑائی ہو جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%81%D9%86_%D8%B3%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D8%AD%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی\nواعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئی\n\nطیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حور\nجلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی\n\nمچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمے پہ شاد ہے\nصیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی\n\nچمکا ترا جمال جو محفل میں وقت شام\nپروانہ بیقرار ہوا شمع جل گئی\n\nعقبیٰ کی باز پرس کا جاتا رہا خیال\nدنیا کی لذتوں میں طبیعت بہل گئی\n\nحسرت بہت ترقیٔ دختر کی تھی انہیں\nپردہ جو اٹھ گیا تو وہ آخر نکل گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DB%8C%D8%AA_%D8%A8%D8%AF%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "رنگ صحبت بدلتے جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنگ صحبت بدلتے جاتے ہیں\nساتھ کے یار چلتے جاتے ہیں\n\nجن کی کرتے ہو تم مسیحائی\nوہ مریض اب سنبھلتے جاتے ہیں\n\nدل میں ہونے لگا حضور کا گھر\nآپ سانچے میں ڈھلتے جاتے ہیں\n\nزلف الجھتے ہے ان کے بالوں سے\nسانپ کا سر کچلتے جاتے ہیں\n\nشائق قتل کوئے قاتل میں\nکودتے اور اچھلتے جاتے ہیں\n\nدیکھتے ہیں وہ اپنا جوبن آپ\nاب تو کچھ کچھ سنبھلتے جاتے ہیں\n\nہم تو روتے ادھر سے آتے ہیں\nآپ ادھر سے مچلتے جاتے ہیں\n\nمہرؔ سوئے تھے کس کے ساتھ کہ صبح\nٹھنڈے ٹھنڈے بھی جلتے جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%D8%AF%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رنگ لایا ہے ہجوم ساغر و پیمانہ آج", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنگ لایا ہے ہجوم ساغر و پیمانہ آج\nبھر گئیں سیرابیوں سے محفل رندانہ آج\n\nبسکہ زیب محفل ہے وہ جلوہ جانانہ آج\nہے سراپا آرزو ہر عاشق دیوانہ آج\n\nیہ ہوا بے تابیوں پر نشۂ مے کا اثر\nکہہ دیا سب ان سے حال شوق گستاخانہ آج\n\nرشک سے مٹ مٹ گئے ہم تشنہ کا مان وصال\nجب ملا لب ہائے ساقی سے لب پیمانہ آج\n\nہے فروغ بزم یکتائی جو وہ شمع جمالی\nآ گئی ہے دل میں بھی تابی پروانہ آج\n\nہیں سرور و وصل سے لبریز مشتاقوں کے دل\nکر رہی ہیں آرزوئیں سجدۂ شکرانہ آج\n\nحسرتیں دل کی ہوئی جاتی ہیں پامال نشاط\nہے جو وہ جان تمنا رونق کاشانہ آج\n\nغرق ہے رنگنیوں میں مستیوں سے چور چور\nہے سراپا بے خودی وہ نرگس مستانہ آج\n\nمیہمانِ خانۂ دل ہے جو وہ رشک بہار\nہو گیا ہے غیرت فردوس یہ ویرانہ آج\n\nمل گیا اچھا سہارا عذر مستی کا ہمیں\nلے لیا آغوش میں اس گل کو بے باکانہ آج\n\nخم لگا دے ہم بلا نوشوں کے منہ سے ساقیا\nکام آئے گا نہ ساگر آج نے پیمانہ آج\n\nدیکھئیے اب رنگ کیا لائے وہ حسن دلفریب\nآئینہ پیش نظر ہے ہاتھ میں ہے کاشانہ آج\n\nمیں ہی اے حسرت نہیں محو جمال روئے یار\nپڑ رہی ہیں سب کی نگاہیں وہ مشتاقانہ آج", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%AC%D9%88%D9%85_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "رنگ میلا نہ ہوا جامۂ عریانی کا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنگ میلا نہ ہوا جامۂ عریانی کا\nسر و ساماں ہے ہمیں بے سر و سامانی کا\n\nآئینہ دیکھے ہے وہ اور اسے آئینہ\nزور عالم ہے دلا عالم حیرانی کا\n\nدم ہستی پہ حباب اپنی عبث ابھرے تھا\nآنکھ کھلتے ہی مقام اس پہ کھلا فانی کا\n\nتشنگی خاک بجھے اشک کی طغیانی سے\nعین برسات میں بگڑے ہے مزا پانی کا\n\nزلف گر کھینچ سکے یار کے تو شانے سے\nہاتھ یک دست قلم کیجئے گا مانیؔ کا\n\nجھڑ گئی ابر بہاری کی بھی شیخی لیکن\nنہ گھٹا زور مرے اشک کی طغیانی کا\n\nاے جنوں روز رہے ہے مرے دامن سے لگا\nہوں قدم بوس نہ کیوں خار بیابانی کا\n\nکیوں نہ انگشت نما ہووے ہلال ابرو\nزور عالم ہے ترے قشقۂ پیشانی کا\n\nدل نہ چھٹ زلف بتاں چشم کا باندھے ہے خیال\nیاد مضموں ہے پریشاں کو پریشانی کا\n\nجام و مینا جو بنے آبلہ و داغ نصیرؔ\nدل نے سامان کیا کس کی یہ مہمانی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%85%DB%82_%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "رنگ پر کل تھا ابھی لالۂ گلشن کیسا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنگ پر کل تھا ابھی لالۂ گلشن کیسا\nبے چراغ آج ہے ہر ایک نشیمن کیسا\n\nدل پر داغ جو ہوتا ہے لحد میں بیتاب\nجھلملاتا ہے چراغ سر مدفن کیسا\n\nمیں کہیں کا نہ رہا باد خزاں کے چلتے\nاڑ گیا میرے مقدر سے نشیمن کیسا\n\nاب خدا جانے بہار آتی ہے اس میں کہ نہیں\nمیرے دم سے کبھی آباد تھا گلشن کیسا\n\nچھپ کے راتوں کو کہیں آپ نہ آئے نہ گئے\nبے سبب نام ہوا آپ کا روشن کیسا\n\nمال ہاتھوں نے لیا ہونٹھوں نے افشاں چن لی\nآ کے قابو میں لٹا آپ کا جوبن کیسا\n\nہم نے دیکھے ہیں مقامات تجلی ان کے\nطور کہتے ہیں کسے وادیٔ ایمن کیسا\n\nہے ابھی میرے بڑھاپے میں جوانی کیسی\nہے ابھی ان کی جوانی میں لڑکپن کیسا\n\nذبح کے وقت بہت صاف رہا تھا یہ تو\nدے اٹھا خون دم حشر یہ دامن کیسا\n\nتو دھری جائے گی اس گھر سے جو نکلی کوئی بات\nنگہ شوق یہ دیوار میں روزن کیسا\n\nمیری سج دھج تو کوئی عشق بتاں میں دیکھے\nساتھ قشقہ کے ہے زنار برہمن کیسا\n\nآئے ہیں داغ نیا دینے وہ مجھ کو پس مرگ\nآج پھیلا ہے اجالا سر مدفن کیسا\n\nمسی مالیدہ لب یار کی سن کر تعریف\nمنہ پھلائے ہوئے ہے غنچۂ سوسن کیسا\n\nباغباں کام ہمیں کیا ہے وہ اجڑے کہ رہے\nجب ہمیں باغ سے نکلے تو نشیمن کیسا\n\nپارسا بن کے ریاضؔ آئے ہیں میخانے میں\nآپ بیٹھے ہیں بچائے ہوئے دامن کیسا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%84_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%82_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7"} {"title": "رنگ گفتگو", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ناز تھا خوبئ گفتار پہ مجھ کو لیکن\nآج پھولوں نے پکارا مجھے رنگ و بو سے\nتو نظر آیا کہ پتھر بھی زباں رکھتے ہیں\n\nہر مکاں مکینوں کی ہے تفسیر نظر\nشوکت شاہ کا عنوان بنا اس کا محل\nسنگ دیوار نے دی اس کے تحفظ کو زباں\nجھونپڑی غربت مزدور کی ہے مرثیہ خواں\nچیتھڑے چیختے ہیں جیب کی ناداری پر\nآبلہ پائی سے آتی ہے سفر کی خوشبو\nگرد ملبوس سے ملتی ہے مسافر کی خبر\nکس کی آواز سنوں کس کی صدا پر بولوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88"} {"title": "رنگ ہے اے ساقیٔ سرشار قیصر باغ میں", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنگ ہے اے ساقیٔ سرشار قیصر باغ میں\nپھول پیتے ہیں ترے مے خوار قیصر باغ میں\n\nدیکھ کر رنگیں ترا رخسار قیصر‌ باغ میں\nگل سے بلبل ہو گئے بیزار قیصر‌ باغ میں\n\nساتھ ہے اک غیرت گل زار قیصر‌ باغ میں\nبلبلوں کو دے رہے ہیں خار قیصر‌ باغ میں\n\nباتیں بلبل کو سنا شیداۓ رخ گل کو بنا\nکبک کو چل کر دکھا رفتار قیصر باغ میں\n\nصورت ادریس جنت سے نکلتے ہیں کہیں\nاب تو لایا طالع بیدار قیصر‌ باغ میں\n\nشاہد گل موتیوں میں لد رہے ہیں آج کل\nابر تر رہتا ہے گوہر بار قیصر‌ باغ میں\n\nبلبلیں گل سے خفا ہوں قمریاں شمشاد سے\nسیر ہو چلیے جو آپ اے یار قیصر‌ باغ میں\n\nکس طرح حوروں کو لا کر خلد سے دکھلائیے\nکیا بہار آئی ہے اب کے بار قیصر‌ باغ میں\n\nدیکھ پائیں میرے سینے کے اگر گل ہائے داغ\nبلبلیں ہوں گی گلے کا ہار قیصر‌ باغ میں\n\nموسم گل میں یہیں جوش جنوں کی ہے بہار\nرنگ لا کر آئیں گے سو بار قیصر‌ باغ میں\n\nاے صنم اللہ رے جلوہ ترا حیرت فزا\nبت بنے ہیں صاحب زنار قیصر‌ باغ میں\n\nوہ مرض کھوے طبیبوں کی بھی آنکھیں کھل گئیں\nہے مسیحا نرگس بیمار قیصر‌ باغ میں\n\nخلد میں آ کر شراب خلد سے بھی اجتناب\nجام مے سے زاہدا انکار قیصر‌ باغ میں\n\nقامت بالا کا رتبہ ہے دوبالا سرو سے\nطرہ ہے سنبل پہ زلف یار قیصر‌ باغ میں\n\nدور میں سلطان عالم کی ہیں یہ کیفیتیں\nغیرت جم ہے ہر اک مے خوار قیصر‌ باغ میں\n\nدیکھ کر روئے مصفا یار کا حیرت ہوئی\nآئنے ہیں پشت بر دیوار قیصر باغ میں\n\nہے پئے ابر بہاری یہ محل آبرو\nآئے زیر سایۂ دیوار قیصر‌ باغ میں\n\nدیکھ کر تیرے رخ رنگیں کو اے رشک بہار\nگل ہوئے ہیں باغباں پر بار قیصر‌ باغ میں\n\nجائیے وقت مسیحائی ہے اے روح رواں\nمنتظر ہے نرگس بیمار قیصر باغ میں\n\nتجھ سے اور گل سے ہوئی بحث جمال اے غنچہ لب\nمجھ سے بلبل سے ہوئی تکرار قیصر‌ باغ میں\n\nنکہت گل سے صباؔ ہم مست رہتے ہیں مدام\nبادۂ گلگوں نہیں درکار قیصر باغ میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D9%94_%D8%B3%D8%B1%D8%B4%D8%A7%D8%B1_%D9%82%DB%8C%D8%B5%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رنگت یہ رخ کی اور یہ عالم نقاب کا", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنگت یہ رخ کی اور یہ عالم نقاب کا\nدامن میں کوئی پھول لیے ہے گلاب کا\n\nچاروں طرف سے اس پہ نگاہوں کا بار ہے\nمشکل ہے ان کو رخ سے اٹھانا نقاب کا\n\nتسکین خاک دیتے ہیں رکھ کر جگر پہ ہاتھ\nپہلو بدل رہے ہیں مرے اضطراب کا\n\nمدت ہوئی وہی ہے زمانے کا انقلاب\nنقشا کھنچا ہوا ہے مرے اضطراب کا\n\nبچپن کہاں تک ان کی امنگوں کو روکتا\nآخر کو رنگ پھوٹ ہی نکلا شباب کا\n\nرونا خوشی کا روتی ہے بلبل بہار میں\nچھڑکاؤ ہو رہا ہے چمن میں گلاب کا\n\nجھلکی دکھا کے اور وہ بجلی گرا گئے\nاچھا کیا علاج مرے اضطراب کا\n\nخاک چمن پہ شبنم و گل کا عجب ہے رنگ\nساغر کسی سے چھوٹ پڑا ہے شراب کا\n\nکھوئے ہوئے ہیں شاہد و معنی کی دھن میں ہم\nیہ بھی جلیلؔ ایک جنوں ہے شباب کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF%D8%AA_%DB%8C%DB%81_%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "رنگروٹ کی بیوی", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "جنگ کے آخری زمانے میں جو کشمکش میدان جنگ پر ہوگی، اس کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ ڈسٹرکٹ رکوٹنگ افسر یعنی ضلع کے سپاہی بھرتی کرنے والے افسر کے یہاں گشتی چٹھی آگئی تھی کہ کم قد کے سپاہی بھی بھرتی کر لیے جائیں اور یہ واقعہ ہے کہ اس زمانہ میں اکثر ایسے سپاہی بھرتی کر کے بھیجے گئے کہ اگر کوئی آدمی ان کے ایک چانٹا مار دیتا تو غش کھا جاتے۔ یہ سپاہی مختلف چھاؤنیوں میں چھ ماہ کی ٹریننگ کے بعد لڑائی پر بھیج دیے جاتے۔\n\nرنگروٹ اس طرح پر بھرتی ہوئے تھے کہ زمینداروں اور تعلقہ داروں سے حسب حیثیت رنگروٹ طلب کیے جاتے تھے مگر رنگروٹ ناپید تھے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ رنگروٹ سپلائی کرنے کے ٹھیکیدار پیدا ہوگئے تھے۔ جب رنگروٹ نہیں ملتے تھے اور زمیندار لوگ گورنمنٹ کی خوشنودی کے لیے رنگروٹ دینا چاہتے تھے تو وہ ٹھیکہ داروں کو آرڈر دیتے تھے اور یہ لوگ زمیندار کی طرف سے رنگروٹ داخل کر دیتےتھے۔\n\n(۱)\n\nایک روز کا ذکر ہے کہ میں دفتر میں بیٹھا ہوا روزانہ کا کام کر رہا تھا کہ ایک ٹھیکے دار ایک نوجوان کو لے کر آیا۔ اس نوجوان کی عمر کوئی اٹھارہ یا بیس برس کی ہوگی۔ چہرے سے شرافت عیاں تھی۔ معلوم ہوا کہ راجپوت ہے۔ گندمی رنگ تھا اور چھریرا مگر سپاہیانہ بدن تھا۔ ٹھیکے دار نے میرے کان میں چپکے سے کہا کہ یہ رنگروٹ فلاں زمیندار کی طرف سے ہے۔ شاید اس نوجوان لڑکے نے یہ سن لیا۔ اس نے مشکوک نظروں سےمیری طرف دیکھا، پھر ٹھیکے دار کی طرف دیکھا اور مجھ سے کہا، ’’میں از خود اپنی مرضی سے لڑائی پر جانے کے لیے آیا ہوں۔ میں کسی کی طرف سے نہیں جا رہا ہوں اور نہ میں روپے کے لالچ سے آیا ہوں اور نہ روپیہ لینا چاہتا ہوں۔ یہ مجھ کو چالیس روپے دیتے تھے اور کہتے تھے کہ بھرتی ہوتے وقت یہ کہہ دینا کہ فلاں زمیندار کی طرف سے ہم آئے ہیں، میں نے یہ نامنظور کر دیا اور آپ بھی نوٹ کرلیں کہ میں کسی کی طرف سے نہیں آیا اور اگرمجھ کو اس میں دھوکہ دیا جائے گا تو میں بھرتی نہیں ہوتا۔‘‘\n\nیہ بھلا مجھے کس طرح منظور تھا کہ ایسے رنگروٹ کو ہاتھ سے نکل جانے دوں۔ میں نے اس کا اطمینان کرا دیا۔ خوانچہ والا پاؤ بھر مٹھائی کا دونہ لے کرآیا اور میں نے کہا کہ ایک دونہ مٹھائی کا اور لاؤ۔ لڑکے سے میں نے کہا کہ صبح کا وقت ہے تم مٹھائی کھا لو۔ کچھ تکلف کے بعد اس نے مٹھائی کھائی۔ دفتر ایک بڑی کوٹھی میں تھا، جس میں متعدد کمروں کے علاوہ زنان خانہ بھی تھا۔ بڑا بھاری صحن تھا اور زنان خانے کی دیوار کے اندر متعدد کمرے ملازمین وغیرہ کے لیے تھے۔ اس زنان خانہ میں اب رنگروٹ رکھے جاتے تھے تاکہ وہ باہر کے بھڑکانے والوں سے نہ مل سکیں اور علیحدہ رہیں۔ میں نے امرسنگھ کو (یہ نام اس نوجوان کا تھا) اندر بھجوا دیا اور جلد سے جلد اسپتال بھیج کر ڈاکٹری معائنہ کرا کر اس کے کاغذات مرتب کر لیے۔ ضلع کے رکروٹنگ افسر کو سپاہی بھرتی کرنے کی اجازت نہیں ہے، قلی البتہ بھرتی کر سکتا تھا۔ دوسرے روز صبح کو رکروٹنگ افسر آنے والا تھا جس کے روبرو بھرتی ہونے والے سپاہی پیش کیا کرتا تھا اور وہ بھرتی کر لیتا تھا، اور نشانی انگوٹھا یا دستخط فارم پر کر دیتا ہے تو وہ گورنمنٹ سے عہد کر لیتا ہے کہ میں ملازمت سے نہ بھاگوں گا اور جہاں گورنمنٹ بھیجے گی وہاں جاؤں گا اور اگر اس کے خلاف کروں تو سزا دی جائے۔\n\nلہٰذا بعد دستخط کردینے کے اگر کوئی سپاہی بھاگے تو فوج سے بھاگا کہلاتا ہےاور فوجی قانون کے مطابق اس کو گولی تک سے اڑا دیا جا سکتا ہے (حالانکہ یہ ہندوستان میں کہیں نہیں ہوا) لہٰذا ہم لوگ بھرتی کرنے والے رنگروٹ کو عوام سے اسی وقت تک بچائے رکھتے تھے جب تک وہ بھرتی نہ ہوا ہو۔ بھرتی کرتے وقت کم از کم میرے علم میں کوئی واقعہ ایسا نہیں جہاں رنگروٹوں کو دھوکا دیا گیا ہو۔ ان سے صاف صاف سب کہہ دیا جاتا تھا اور برضا و رغبت وہ دستخط کرتے تھے۔ میرے ضلع میں اور نیز دوسرے اضلاع میں جہاں تک میرا علم ہے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ معاہدے کے فارم کو بغیر سمجھائے ہوئے نشان انگوٹھا یا دستخط لیے ہوں۔ جنہوں نے ایسا کیا، غلط کیا اور گورنمنٹ کے حکم کے خلاف کیا۔\n\n(۲)\n\nشام کو رکروٹنگ افسر کا میرے نام تار گیا کہ رنگروٹ روکے رکھو۔ میں بجائے کل کے دو روز بعد آں گا۔ مجھے گونہ تشویش ہوئی کیونکہ جب رنگروٹ بہت سے جمع ہو جاتے تھے تو ان کے عزیز و رشتے دار آکر ان سے ملنا چاہتے تھے اور اکثر ان کو بہکاتے تھے، یا اکثر اپنے کسی عزیز کی تلاش کرنے آتے تھے، جو گھر سے لڑ کر چلا آیا ہو اور پھر اگر اس کو پاجاتے تو راضی کر کے واپس لے جاتے تھے۔ یہاں یہ دستور تھا کہ ہرکس و ناکس سےکہہ دیا جاتا تھا کہ یہاں تمہارا کوئی عزیز نہیں آیا، مگر بعض ایسے ہوتے تھے کہ تاک میں لگے رہتے اور موقع پا کر دیکھ لیتے۔\n\nدوسرے روز صبح کو ایک ٹٹو پر بیٹھے ہوئے ایک زمیندار نما دیہاتی صاحب تشریف لائے۔ حالانکہ حلیہ سے بالکل گنوار معلوم ہوتے تھے، مگر شین قاف ضرورت سے زیادہ درست تھا۔ بہت جلد معلوم ہوگیا کہ یہ امر سنگھ کے باپ ہیں۔ زمیندار ہیں اور آنریری منصفی میں نامزد ہیں۔ امرسنگھ کی اپنی سوتیلی ماں سے ہمیشہ لڑائی رہتی ہے۔ امر سنگھ پڑھنا چاہتا ہے لیکن سوتیلی ماں پڑھنے نہیں دیتی تھی۔ اس کے گھر کی زمینداری تھوڑی سی تھی اور امر سنگھ کی شادی بڑے گھر میں ہوئی جہاں سوا امر سنگھ کی بیوی کے اور کوئی مالک نہیں۔ امرسنگھ کی بیوی کی بھی اپنے شوہر کی سوتیلی ماں سے نہیں بنتی۔ ابھی حال میں بڑی لڑائی ہوئی، جس میں زیادتی امر سنگھ کی بیوی کی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ امر سنگھ کی بیوی اپنے گھر چلی گئی اور امرسنگھ دوسرے ہی روز سے غائب ہے، شاید وہ لڑائی پر جانے کی نیت سے یہاں آیا ہوگا۔\n\nیہ سب سن کر اس کا یہ جواب دیا گیا کہ امرسنگھ یا امرسنگھ کے حلیے کے کسی نوجوان سے لاعلمی ظاہر کی گئی، بلکہ یہ کہا گیا کہ اس عمر والا لیا ہی نہیں جا سکتا تھا۔ ٹھاکر صاحب نے کہا کہ اگر آیا بھی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ ہم راجپوت ہیں، لڑنا مرنا ہمارا کام ہے۔ اگر مجھ سے اجازت لے کر جاتا تو کیا میں منع کر دیتا۔ یہاں ان سے کہا گیا کہ بے شک آپ ایسے ہیں مگر کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ یہاں آیا ہوتا اورآپ ایسے جنگجو اور گورنمنٹ کے خیرخواہ سے اس امر کو خواہ مخواہ چھپایا جاتا۔ ٹھاکر صاحب بے نیل و مرام واپس چلے گئے۔ یہاں تو روز ہی کا دستور تھا کہ ایسے دو چار آدمی آتے تھے اور چلے جاتے تھے۔ کوئی نئی بات نہ تھی اور آئی گئی ہوگئی۔\n\n(۳)\n\nاتفاق کی بات ہے کہ شام ہی کو رکروٹنگ افسر صاحب آگئے۔ ان کے روبرو علاوہ رنگروٹوں کے امر سنگھ بھی پیش ہوا اور بھرتی کر لیا گیا۔ وہ پڑھا لکھا تھا، آٹھویں جماعت تک گورنمنٹ اسکول میں پڑھ چکا تھا۔ اس نے معاہدہ کے فارم کو خود غور سے پڑھا اور دستخط کر دیے۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس کو معمولی سی حرارت ہوگئی۔ لہٰذا اور رنگروٹ تو جھانسی بھیج دیے گئے، لیکن وہ رہ گیا۔ شام کو سول سرجن صاحب کو بلا کر میں نے اس کو دکھایا، معمولی دوا دے کر چلے گئے، مگر یہ کہہ گئے کہ اسے دو ایک روز سفر نہ کرنا چاہیے۔\n\nدوسرے دن کا ذکر ہے کہ صبح آٹھ بجے ہوں گے۔ میں دفتر میں بیٹھا تھا اور کچھ لوگ جو کاروبار سے آئے تھے، ان سے گفتگو کر رہا تھا کہ میری نظر بنگلے کے پھاٹک پر پڑی۔ ایک سیاہ فام ادھیڑ عمر کے گنوار کے ساتھ کوئی عورت کھڑی تھی۔ میں نے غور بھی نہ کیا کہ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہی گنوار ایک بھرتی کرنے والے سپاہی سے کچھ باتیں کر رہا ہے۔ فوراً میں نے دریافت کیا کہ کیا ہے۔ سپاہی آگے آیا اور اس نے کہا کہ ’’یہ نائی ہے اور امر سنگھ کو پوچھتا ہے اور میں نے کہہ دیا کہ ہم نہیں جانتے کون امرسنگھ۔‘‘ یہ سن کر میں چپ ہو رہا کہ سپاہی اس کو ٹال دے گا اور کام میں لگ گیا۔ میں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ وہ کہاں گیا اور کدھر گیا۔ جب ذرا بھیڑ بھاڑ کم ہوئی اور میں تنہا رہ گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی نائی مع اس عورت کے چلا آ رہا ہے۔ وہ میرے سامنے ہاتھ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF%D8%B1%D9%88%D9%B9_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D9%88%DB%8C"} {"title": "رنگ‌ گل شگفتہ ہوں آب رخ چمن ہوں میں", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رنگ‌ گل شگفتہ ہوں آب رخ چمن ہوں میں\nشمع حرم چراغ دیر قشقہ برہمن ہوں میں\n\nکثرت جور یار سے سب ہیں یہ میرے جزو تن\nسوز و ملال و یاس و درد رنج و غم و محن ہوں میں\n\nمیں ہوں نسیم تو بہار میں ہوں شمیم زلف یار\nگو کہ نظر سے ہوں نہاں داخل انجمن ہوں میں\n\nسرو نشیں اور ہیں شاخ نشیں گل اور ہیں\nقمریٔ آشیاں خراب بلبل بے وطن ہوں میں\n\nخندہ زناں ہیں تجھ پہ گو یہ خردان روزگار\nاہل خرد میں اے ہوسؔ رونق انجمن ہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%86%DA%AF%E2%80%8C_%DA%AF%D9%84_%D8%B4%DA%AF%D9%81%D8%AA%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A2%D8%A8_%D8%B1%D8%AE_%DA%86%D9%85%D9%86_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رو رہا تھا میں بھری برسات تھی", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رو رہا تھا میں بھری برسات تھی\nحال کیا کھلتا اندھیری رات تھی\n\nمیرے نالوں سے ہے برہم باغباں\nیہ خفا ہونے کی کوئی بات تھی\n\nدن نہیں دیکھا سوائے شام ہجر\nزندگی بھر میں یہی اک رات تھی\n\nنالہ و آہ و فغاں سے بڑھ گئی\nورنہ الفت اک ذرا سی بات تھی\n\nحشر تک لایا جہاں سے درد دل\nکس کو دیتا کیا کوئی سوغات تھی\n\nبند کیں آنکھیں کہ دیکھوں خواب صبح\nکھول کر جب آنکھ دیکھا رات تھی\n\nاے صبا غنچوں نے ہنس کر کیا کہا\nان کا قصہ تھا کہ میری بات تھی\n\nاللہ اللہ وحدت شام فراق\nایک میری ایک اس کی ذات تھی\n\nآپ ہی گن دیں مصائب ہجر کے\nیوں تو کہنے کے لئے اک رات تھی\n\nہچکیوں سے راز الفت کھل گیا\nآ گئی منہ پر جو دل میں بات تھی\n\nشمع مرقد تجھ سے شکوہ ہے مجھے\nمیرے گھر میں بھی اندھیری رات تھی\n\nکچھ نہ کچھ ثاقبؔ نے پیدا کر لیا\nیہ زمیں تو دشمن ابیات تھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "رو کے ان آنکھوں نے دریا کر دیا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رو کے ان آنکھوں نے دریا کر دیا\nابر کو پانی سے پتلا کر دیا\n\nحسن ہے اک فتنہ گر اس نے وہیں\nجس کو چاہا اس کو رسوا کر دیا\n\nتم نے کچھ ساقی کی کل دیکھی ادا\nمجھ کو ساغر مے کا چھلکا کر دیا\n\nبیٹھے بیٹھے پھر گئیں آنکھیں مری\nمجھ کو ان آنکھوں نے یہ کیا کر دیا\n\nاس نے جب مجھ پر چلائی تیغ ہائے\nکیوں میں اپنا ہاتھ اونچا کر دیا\n\nمصحفیؔ کے دیکھ یوں چہرے کا رنگ\nعشق نے کیا اس کا نقشا کر دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%86_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "روئے تاباں مانگ موئے سر دھواں بتی چراغ", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روئے تاباں مانگ موئے سر دھواں بتی چراغ\nکیا نہیں انساں کی گردن پر دھواں بتی چراغ\n\nکچھ نہ پوچھو زاہدوں کے باطن و ظاہر کا حال\nہے اندھیرا گھر میں اور باہر دھواں بتی چراغ\n\nدود‌ افغان و رگ جان و سویدا دل میں ہے\nبند ہے قندیل کے اندر دھواں بتی چراغ\n\nطور پر جا کر چراغ طور کیوں دیکھے کوئی\nکیا مکانوں میں نہیں پتھر دھواں بتی چراغ\n\nہو موافق کیوں کر اے پروانے سایہ گستری\nہے مخالف زیر بال و پر دھواں بتی چراغ\n\nکانپتا ہے ہاتھ تاثیر دل بیتاب سے\nمیں کروں روشن تو ہو مضطر دھواں بتی چراغ\n\nصورت بخشش دکھاویں کاغذ و سطر و حروف\nہو عمل نامہ سر محشر دھواں بتی چراغ\n\nخضر ہے بحری مسافر کا منار روشنی\nہے جہازوں کے لیے رہبر دھواں بتی چراغ\n\nکیا ضرورت روشنی کی بے خودی کی بزم میں\nزلف ساقی‌ موج مے ساغر دھواں بتی چراغ\n\nشعلہ‌ رویوں کے مقابل رنگ جمتا ہی نہیں\nاڑ نہ جائے بزم سے بن کر دھواں بتی چراغ\n\nکس سلیقہ سے ہے روشن محفل‌ ارض و سما\nآسماں پر چاند ہے گھر گھر دھواں بتی چراغ\n\nصبح تک کرتے رہے روشن دلوں سے ہمسری\nشام سے روشن نفس ہو کر دھواں بتی چراغ\n\nعشق کی گرمی نے پھونکا پردے پردے میں مجھے\nمیری چادر میں مرا بستر دھواں بتی چراغ\n\nزلف و رخسار و نظر ہیں دشمن ایمان و دیں\nلوٹنے نکلے ہیں وہ لے کر دھواں بتی چراغ\n\nمیں وہ طائر ہوں جو ہوں کم خرچ اور بالا نشیں\nایک جگنو یاں ہے اور گھر گھر دھواں بتی چراغ\n\nشب کو مائلؔ وقت آرایش مصاحب تھے یہی\nپھول سرمہ آئنہ زیور دھواں بتی چراغ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF_%D9%85%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%AA%DB%8C_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA"} {"title": "روئے کوئی کیا گئی جوانی یوں کر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "روئے کوئی کیا گئی جوانی یوں کر\nجاتی ہے نسیم و گل کی نکہت جوں کر\nپیری آندھی سی میرؔ ناگہ آئی\nہم برگ خزاں سے اس میں ٹھہریں کیوں کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "رواں دواں نہیں یاں اشک چشم تر کی طرح", "poet_page": "مصنف:امانت لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رواں دواں نہیں یاں اشک چشم تر کی طرح\nگرہ میں رکھتے ہیں ہم آبرو گہر کی طرح\n\nسنی صفت کسی خوش چشم کی جو مردم سے\nخیال دوڑ گیا آنکھ پر نظر کی طرح\n\nچھپی نہ خلق خدا سے حقیقت خط شوق\nاڑا جہاں میں کبوتر مرا خبر کی طرح\n\nسوائے یار نہ دیکھا کچھ اور عالم میں\nسما گیا وہ مری آنکھ میں نظر کی طرح\n\nعدم کی راہ میں کھٹکا رہا جہنم کا\nسفر نے دل کو جلایا مرے سقر کی طرح\n\nکھلے جو سب تو بندھا تار میٹھی باتوں کا\nشکر گرہ میں وہ رکھتے ہیں نیشکر کی طرح\n\nوہ عندلیب ہوں شہپر جو میرا مل جائے\nچڑھائیں سر پہ سلاطیں ہما کے پر کی طرح\n\nزکوٰۃ دے زر گل کی بہار میں گلچیں\nچمن میں پھول لٹا اشرفی کے زر کی طرح\n\nگری ہے چھٹ کے جو زانو پہ شام کو افشاں\nستارے یار کے دامن میں ہیں سحر کی طرح\n\nمشاعرے کا امانتؔ ہے کس کو ہجر میں ہوش\nکہاں کے شعر کہاں کی غزل کدھر کی طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AA%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "رواں رہتا ہے کس کی موج میں دن رات تو پانی", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رواں رہتا ہے کس کی موج میں دن رات تو پانی\nتجھے کس گوہر نایاب کی ہے جستجو پانی\n\nوہی میرے لیے ساقی مئے گلفام بن جائے\nجو اپنے دست نازک سے پلا دے مجھ کو تو پانی\n\nاگر دریا میں تم دست حنائی اپنے دھو لیتے\nتو اب تک ہو گیا ہوتا کبھی کا سرخ رو پانی\n\nکیا کرتے تھے بڑھ بڑھ کر بہت باتیں صفائی کی\nمرے اشکوں نے کر دی موتیوں کی آبرو پانی\n\nبہت آسان ہے مضطر ذلیل و خوار ہو جانا\nجو مشکل ہے تو چشم خلق میں کچھ آبرو پانی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D9%88%D8%AC_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%86_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "رواںؔ کس کو خبر عنوان آغاز جہاں کیا تھا", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رواںؔ کس کو خبر عنوان آغاز جہاں کیا تھا\nزمیں کا کیا تھا نقشہ اور رنگ آسماں کیا تھا\n\nیہی ہستی اسی ہستی کے کچھ ٹوٹے ہوئے رشتے\nوگرنہ ایسا پردہ میرے ان کے درمیاں کیا تھا\n\nترا بخشا ہوا دل اور دل کی یہ ہوسکاری\nمرا اس میں قصور اے دستگیر عاصیاں کیا تھا\n\nاگر کچھ روز زندہ رہ کے مر جانا مقدر ہے\nتو اس دنیا میں آخر باعث تخلیق جاں کیا تھا\n\nہم اتنے فاصلے پر آ گئے ہیں عہد ماضی سے\nخبر یہ بھی نہیں اجداد کا نام و نشاں کیا تھا\n\nکسی برق تجلی پر ذرا سا غور کر لینا\nاگر یہ جاننا ہو عالم روح رواںؔ کیا تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA%D8%94_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%B9%D9%86%D9%88%D8%A7%D9%86_%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "روبرو آنا چھپانا چھوڑ دے", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روبرو آنا چھپانا چھوڑ دے\nلن ترانی کا سنانا چھوڑ دے\n\nجلوہ گر ہو جا مرے دل میں صنم\nکو بہ کو مجھ کو پھرانا چھوڑ دے\n\nاب تو مشت خاک باقی رہ گئی\nشعلۂ فرقت جلانا چھوڑ دے\n\nرنج سہنے کی نہیں طاقت مجھے\nغیر کی محفل میں جانا چھوڑ دے\n\nمثل بت خاموش ہو جاؤں گا میں\nگر سلاسل غل مچانا چھوڑ دے\n\nاے صبا سرگشتہ میں کب تک رہوں\nمیری مٹی کا اڑانا چھوڑ دے\n\nتار تار اب ہو گئے دامن مرے\nپنجۂ وحشت سنانا چھوڑ دے\n\nرخ پہ آ کر بے ادب کرتے ہیں بل\nگیسوؤں کا سر چھڑانا چھوڑ دے\n\nہوں جمیلہؔ کی طرح میں غمزدہ\nاے فلک میرا ستانا چھوڑ دے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D8%A2%D9%86%D8%A7_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%92"} {"title": "روتے ہیں سن کے کہانی میری", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روتے ہیں سن کے کہانی میری\nکاش سنتے وہ زبانی میری\n\nکٹ گیا غیر مرے نالوں سے\nواہ ری سیف زبانی میری\n\nآئنہ دیکھ کے فرماتے ہیں\nکس غضب کی ہے جوانی میری\n\nپھر تمہیں نیند نہیں آنے کی\nکہیں سن لی جو کہانی میری\n\nبار کیا پاؤں تری محفل میں\nہے سبک تجھ پہ گرانی میری\n\nہمہ تن گوش بنے سنتے ہیں\nغیر کہتا ہے کہانی میری\n\nیاد آؤں گا جفا کاروں کو\nبے نشانی ہے نشانی میری\n\nالتجا ایک مقدر دو تھے\nغیر کی مانی نہ مانی میری\n\nحشر میں کچھ نہ ہوا مجھ سے سوال\nواہ ری ہیچ مدانی میری\n\nاب اٹھیں گے ترے در سے مر کر\nکبھی اٹھتی نہیں ٹھانی میری\n\nمیرے اشعار فغان دل ہیں\nقدر کرتا ہے فغانیؔ میری\n\nخسرو ملک سخن دانی ہوں\nداد ہے باج ستانی میری\n\nدل میں پوشیدہ رہے گی کب تک\nآتش شوق نہانی میری\n\nتار گیسو سے نظر جا الجھی\nدیکھنا ریشہ داوانی میری\n\nدل کی حالت سے خبر دیتی ہے\nاثرؔ آشفتہ بیانی میری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "روح کو آج ناز ہے اپنا وقار دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:شوق قدوائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روح کو آج ناز ہے اپنا وقار دیکھ کر\nاس نے چڑھائیں تیوریاں میرا قرار دیکھ کر\n\nقصد گلہ نہ تھا مگر حشر میں شوق جوش سے\nہاتھ مرا نہ رک سکا دامن یار دیکھ کر\n\nدیکھ کے ایک بار انہیں دل سے تو ہاتھ دھو چکے\nدیکھیے کیا گزرتی ہے دوسری بار دیکھ کر\n\nآتے ہیں وہ تو پہلے ہی رنج سے صاف ہو رہوں\nآ کے کہیں پلٹ نہ جائیں دل میں غبار دیکھ کر\n\nوصل سے گزرے اے خدا ہاں یہ شگون چاہیئے\nصبح کو ہم اٹھا کریں روئے نگار دیکھ کر\n\nکعبہ کو جا نہ شوقؔ ابھی نیت زندگی بخیر\nہم بھی چلیں گے تیرے ساتھ اب کی بہار دیکھ کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%AD_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%AC_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%88%D9%82%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "روح کو راہ عدم میں مرا تن یاد آیا", "poet_page": "مصنف:امانت لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روح کو راہ عدم میں مرا تن یاد آیا\nدشت غربت میں مسافر کو وطن یاد آیا\n\nچٹکیاں دل میں مرے لینے لگا ناخن عشق\nگلبدن دیکھ کے اس گل کا بدن یاد آیا\n\nوہم ہی وہم میں اپنی ہوئی اوقات بسر\nکمر یار کو بھولے تو دہن یاد آیا\n\nبرگ گل دیکھ کے آنکھوں میں ترے پھر گئے لب\nغنچہ چٹکا تو مجھے لطف سخن یاد آیا\n\nدر بدر پھر کے دلا گھر کی ہمیں قدر ہوئی\nراہ غربت میں جو بھولے تو وطن یاد آیا\n\nآہ کیوں کھینچ کے آنکھوں میں بھر آئے آنسو\nکیا قفس میں تجھے اے مرغ چمن یاد آیا\n\nپھر امانتؔ مرا دل بھول گیا عیش و طرب\nپھر مجھے روضۂ سلطان زمن یاد آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%AD_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%B9%D8%AF%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D9%86_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "روح کی موت", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "چمک سکے جو مری زیست کے اندھیرے میں\nوہ اک چراغ کسی سمت سے ابھر نہ سکا\nیہاں تمہاری نظر سے بھی دیپ جل نہ سکے\nیہاں تمہارا تبسم بھی کام کر نہ سکا\n\nلہو کے ناچتے دھارے کے سامنے اب تک\nدل و دماغ کی بے چارگی نہیں جاتی\nجنوں کی راہ میں سب کچھ گنوا دیا لیکن\nمرے شعور کی آوارگی نہیں جاتی\n\nنہ جانے کس لئے اس انتہائے حدت پر\nمرا دماغ سلگتا ہے جل نہیں جاتا\nنہ جانے کیوں ہر اک امید لوٹ جانے پر\nمرے خیال کا لاوا پگھل نہیں جاتا\n\nنہ جانے کون سے ہونٹوں کا آسرا پا کر\nتمہارے ہونٹ مری تشنگی کو بھول گئے\nوہی اصول جو محکم تھے نرم سائے میں\nذرا سی دھوپ میں نکلے تو جھول جھول گئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%AD_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D9%88%D8%AA"} {"title": "روح کے جانے کی قالب سے کوئی مدت نہیں", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روح کے جانے کی قالب سے کوئی مدت نہیں\nصبر کر اے دل تجھے کیا صبر کی طاقت نہیں\n\nکیا مری بیتابیٔ دل باعث وحشت نہیں\nیہ خلش پہلو کی میرے مونس غربت نہیں\n\nدل نہیں ہے وہ نہیں ہے عشق کا جس میں گزر\nوہ بھی کوئی آنکھ ہے جس آنکھ میں حسرت نہیں\n\nکوئی خواہاں سیم و زر کا کوئی طالب تخت کا\nمیرے آگے فقر سے بہتر کوئی دولت نہیں\n\nآؤ بیٹھو شوق سے خود کو چھپا کر دل میں تم\nاس سے بہتر دو جہاں میں گوشۂ عزلت نہیں\n\nخلق ہمت اور مروت ہیں شرف انسان کے\nوہ کبھی انساں نہیں ہے جس میں یہ حالت نہیں\n\nخون دل پیتا ہے اور کھاتا ہے وہ لخت جگر\nآب و دانہ کی ترے بیمار کو حاجت نہیں\n\nلے کے دل میرا دم رخصت وہ یہ کہنے لگے\nخلعت تحسیں سے بہتر کوئی بھی خلعت نہیں\n\nاے جمیلہؔ صورت تصویر میں خاموش ہوں\nضعف حد سے بڑھ گیا نالوں کی اب قدرت نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%AD_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%A7%D9%84%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%AF%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں\nایک ہنگامہ ہے اے یار ترے کوچے میں\n\nفرش رہ ہیں جو دل افگار ترے کوچے میں\nخاک ہو رونق گلزار ترے کوچے میں\n\nسرفروش آتے ہیں اے یار ترے کوچے میں\nگرم ہے موت کا بازار ترے کوچے میں\n\nشعر بس اب نہ کہوں گا کہ کوئی پڑھتا تھا\nاپنے حالی مرے اشعار ترے کوچے میں\n\nنہ ملا ہم کو کبھی تیری گلی میں آرام\nنہ ہوا ہم پہ جز آزار ترے کوچے میں\n\nملک الموت کے گھر کا تھا ارادہ اپنا\nلے گیا شوق غلط کار ترے کوچے میں\n\nتو ہے اور غیر کے گھر جلوہ طرازی کی ہوس\nہم ہیں اور حسرت دیدار ترے کوچے میں\n\nہم بھی وارستہ مزاجی کے ہیں اپنی قائل\nخلد میں روح تن زار ترے کوچے میں\n\nکیا تجاہل سے یہ کہتا ہے کہاں رہتے ہو\nترے کوچے میں ستم گار ترے کوچے میں\n\nشیفتہؔ ایک نہ آیا تو نہ آیا کیا ہے\nروز آ رہتے ہیں دو چار ترے کوچے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "روز دلہائے مے کشاں ٹوٹے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روز دلہائے مے کشاں ٹوٹے\nاے خدا جام آسماں ٹوٹے\n\nدشمنی اس زمین کی دیکھو\nگنبد قبر دوستاں ٹوٹے\n\nوصف ابروئے پر شکن جو نہ ہو\nکیا عجب خنجر زباں ٹوٹے\n\nرنگ لائے اگر شکستہ دلی\nبلبلو شاخ آشیاں ٹوٹے\n\nنکہت گل سے بس گیا گلشن\nغنچہ کیا چٹکے عطرداں ٹوٹے\n\nخوب پھیلی ہے بوئے بادۂ عشق\nشیشۂ دل کہاں کہاں ٹوٹے\n\nلے اڑے گی ہوائے بام ہمیں\nنہ کریں گے جو نردباں ٹوٹے\n\nقصد پرواز کا جو بوجھ پڑا\nبازوئے مرغ ناتواں ٹوٹے\n\nلکھنؤ چل کے جی لگاؤں منیرؔ\nکس لئے دل مرا یہاں ٹوٹے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%AF%D9%84%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%DB%92_%DA%A9%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D9%B9%D9%88%D9%B9%DB%92"} {"title": "روز دینے لگے آزار یہ کیا", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روز دینے لگے آزار یہ کیا\nاور سمجھتے ہو اسے پیار یہ کیا\n\nجرم الفت کی ہے تقدیر یہ کیوں\nہم سے رہتے ہیں وہ بیزار یہ کیا\n\nناتوانی ہوئی ہمدرد مری\nدرد کہتا ہے کہ سرکار یہ کیا\n\nتم تو غارت گر دل ہو صاحب\nپھر تمہیں کہتے ہیں دل دار یہ کیا\n\nآہ کی میں نے تو بولے ہے ہے\nجی اٹھا عاشقؔ بیمار یہ کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "روز فراق ہر طرف اک انتشار تھا", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روز فراق ہر طرف اک انتشار تھا\nمیں بے قرار تھا تو جہاں بیقرار تھا\n\nنقش طلسم میرا دل داغدار تھا\nتھا دن کو پھول رات کو شمع مزار تھا\n\nیادش بخیر یاد ہیں دل کی مصیبتیں\nپہلو میں اک ستم زدۂ روزگار تھا\n\nاللہ رے شام غم مرے دل کی شکستگی\nتاروں کا ٹوٹنا بھی مجھے ناگوار تھا\n\nوحشت طراز تھی کشش شام بیکسی\nمرقد سے اپنے دور چراغ مزار تھا\n\nکیا دیتے ہم کسی کو دعائے سلامتی\nاپنی ہی زندگی کا کسے اعتبار تھا\n\nسیمابؔ نالہ کر کے پشیمانیاں فضول\nوہ کام کیوں کیا جو انہیں ناگوار تھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدا\nلالہ ساں داغ اٹھانے کو ہوئے ہم پیدا\n\nہوں میں وہ نخل کہ ہر شاخ مری آرا ہے\nہوں میں وہ شاخ کہ ہوں برگ تبردم پیدا\n\nمیں جو روتا ہوں مرے زخم جگر ہنستے ہیں\nشادی و غم سے کیا ہے مجھے توام پیدا\n\nچاہنے والے ہزاروں نئے موجود ہوئے\nخط نے اس گل کے کیا اور ہی عالم پیدا\n\nدرد سر میں ہو کسی کے تو مرے دل میں ہو درد\nواسطے میرے ہوا ہے غم عالم پیدا\n\nزخم خنداں ہیں بعینہ لب خنداں اپنے\nشادمانی میں ہے یاں حالت ماتم پیدا\n\nآسماں شوق سے تلواروں کا مینہ برسا دے\nمہ نو نے ترے ابرو کا کیا خم پیدا\n\nکام اپنا نہ ہوا جب کجیٔ ابرو سے\nگیسوئے یار ہوئے درہم و برہم پیدا\n\nشبہ ہوتا ہے صدف کا مجھے ہر غنچے پر\nکہیں موتی نہ کریں قطرۂ شبنم پیدا\n\nچپ رہو دور کرو منہ نہ مرا کھلواؤ\nغافلو زخم زباں کا نہیں مرہم پیدا\n\nقلزم فکر میں ہر چند لگائے غوطے\nدر مضموں کوئی یاروں سے ہوا کم پیدا\n\nدوست ہی دشمن جاں ہو گیا اپنا آتشؔ\nنوش داروں نے کیا یاں اثر سم پیدا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D9%85%D9%88%D9%84%D9%88%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7"} {"title": "روز کہتے تھے کبھی غیر کے گھر دیکھ لیا", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روز کہتے تھے کبھی غیر کے گھر دیکھ لیا\nآج تو آنکھ سے اے رشک قمر دیکھ لیا\n\nکعبۂ دل سے ملی منزل مقصود کی راہ\nیار کا ہم نے اسی کوچے میں گھر دیکھ لیا\n\nجانب غیر اشارہ جو ہوا جانتے ہیں\nہم نے خود آنکھ سے دیکھا کہ ادھر دیکھ لیا\n\nکون سوتا ہے کسے ہجر میں نیند آتی ہے\nخواب میں کس نے تمہیں ایک نظر دیکھ لیا\n\nجب کہا میں نے نہیں کوئی چلو میرے گھر\nخوب رستے میں ادھر اور ادھر دیکھ لیا\n\nبولے چلنے میں نہیں عذر مجھے کچھ لیکن\nخوف یہ ہے کسی مفسد نے اگر دیکھ لیا\n\nآہوں سے آگ لگا دیں گے دل دشمن میں\nچھپ کے رہتے ہیں جہاں آپ کا گھر دیکھ لیا\n\nبچ گیا نقد دل اب کے تو نظر سے اس کی\nآئے گا پھر بھی اگر چور نے گھر دیکھ لیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B2_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "روزِ غم میں کیا قیامت ہے شبِ عشرت کی یاد", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روزِ غم میں کیا قیامت ہے شبِ عشرت کی یاد\nاشکِ خوں سے آ گئیں رنگینیاں صحبت کی یاد\n\nمیری حالت دیکھ لو تغئیر کتنی ہو چکی\nوصل کے دن دم بہ دم کیوں شیشۂ ساعت کی یاد\n\nمیں ہوں بے کس اور بے کس پر ترحم ہے ضرور\nحسنِ روز افزوں دلا دینا مری حالت کی یاد\n\nطاقتِ جنبش نہیں اس حال پہ قصدِ عدم\nمر گئے پر بھی رہے گی اپنی اس ہمت کی یاد\n\nغالباً ایامِ حرماں بے خودی میں کٹ گئے\nآتی ہے پھر آرزو بھولی ہوئی مدت کی یاد\n\nدل لگانے کا ارادہ پھر ہے شائد شیفتہ\nایسی حسرت سے جو ہے گزری ہوئی الفت کی یاد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B2%D9%90_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%A8%D9%90_%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "روزہ خور کی سزا", "poet_page": "مصنف:چودھری محمد علی ردولوی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "لوگ کہتے ہیں کہ ہر بڑی چیز کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ اصلیت کو ظاہر کردیتی ہے۔ دولت کے لیے شاعر کہتا ہے،\n\nبادہ نوشیدن و ہشیار نشستن سہل است\nگر بہ دولت برسی مست نہ گردی مردی\n\nشراب کے لیے یہی کہا جاسکتا ہے کہ آدمی کی شرافت اور کمینہ پن کو آئینہ کردیتی ہے۔ حج اور دوسری بڑی عبادتوں کے لیے کچھ ایسی ہی باتیں مشہور ہیں۔ اکثر جاہلوں کو کہتے سنا ہے کہ ایمان حجر اسود میں چمٹ کر وہیں رہ گیا۔ اسی قبیل کی ایک کہانی مجھ کو بھی یاد آگئی، سن لیجیے مگر اس کے پہلے عرض یہ ہے کہ دو تین معترضہ جملے بھی ہیں۔ کنایہ میں جو لطف ہے وہ تصریح میں کہاں۔ مگر ڈر لگتا ہے کہ اگر بیان کرتے نہ بنا تو قصہ گپ چپ کا لڈو ہوکر رہ جائے گا۔ برنارڈ شا اسی وجہ سے پچاس صفحے کے ڈرامے کے پہلے دو سو صفحے کا دیباچہ لکھتے ہیں، چھوٹے سارے بالے میاں بڑی ساری پونچھ۔ حضرات ہم کوئی دعویٰ اس قسم کا نہیں کرسکتے۔ ایک چھوٹی سی تمہید لکھنے کے بعد اطمینان سا ہوجاتا ہے کہ اب باوجود ہماری کج بیانی کے لوگ بات کی تہہ تک پہنچ ہی جائیں گے۔\n\nشیخ جی سے نہ مجھ سے ہم مذاقی تھی نہ ہم سنی، مگر میرے ان کے مراسم تھے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ میں ایک دوست کے یہاں بیٹھا ہوا کچھ قلمی کتابوں کا ذکر کر رہا تھا کہ شیخ جی آگیے اور ہم لوگوں کی باتیں سن کر کہنے لگے۔ میرے پاس کچھ قلمی تصویریں ہیں۔ مجھ کو تعجب ہوا کہ شیخ جی ہڈیوں کا روزگار کرتے ہیں۔ ایسے پڑھے لکھے بھی نہیں ہیں، ان کے یہاں قلمی کتابیں کہاں سے آئیں مگر انھوں نے کہا کہ اگر ابھی چلیے تو دکھادوں۔ میں اٹھا چلا گیا، انھوں نے پانچ چھ کتابیں دکھلائیں۔ ایک عملیات کی کتاب، ایک زہر عشق، ایک رقعات عالم گیری جو پچیس تیس برس ادھر کے لکھے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ چند پرانے اوراق قصے کے، خط معمولی تھا اور کاغذ بھی ایسا ہی ویسا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ کسی نے اپنے لیے زہر عشق تو اس وجہ سے نقل کی ہوگی کہ اس کا چھپنا ممنوع تھا اور رقعات عالم گیری وغیرہ پیسے بچانے کو یا مشق کرنے کو نقل کی ہوگی البتہ دو اور کتابیں تھیں۔ ایک منطق الطیر اور ایک کلیات سعدی، یہ دونوں ولایت کے خط کی تھیں اور بعد کو کئی سو برس کی مستند ثابت ہوئیں۔ یہ دونوں نسخے دیکھ کر میری آنکھیں کھل گئیں۔\n\nمیں نے کہا شیخ جی یہ آپ نے کہاں سے پائے۔ معلوم ہوا کہ کوئی عزیز ان کے کہیں مولوی گیری پر نوکر تھے۔ اور آخر عمر میں شیخ جی کے یہاں آکر رہے تھے اور یہیں انتقال بھی ہوا۔ ان کے مختصر اثاثے میں یہ کتابیں بھی نکلی تھیں۔ میں نے چاہا کہ شیخ جی مجھ سے ان دونوں کتابوں کے دام لے لیں مگر وہ کسی طرح راضی نہ ہوئے۔ میں نے یہ بھی بتایا کہ یہ کمیاب اور قیمتی کتابیں ہیں اور بھلے چنگے دام ملیں گے۔ مگر شیخ جی نے باوجود کاروباری آدمی ہونے کے اس کو کسی طرح منظور نہیں کیا، اس کی دو وجہیں تھیں ایک تو یہ کہ شیخ جی دوسرے مذاق کے آدمی تھے جس میں کتابوں کا نہ ذکر تھا نہ قدر۔ دوسرے ان کی ایک غرض مجھ سے اٹکی تھی اور اسی وجہ سے میں چاہتا تھا کہ وہ دام لے لیں مگر انھوں نے نہ مانا اور کہنے لگے کہ اگر میں نے ان کتابوں کو نہ لیا تو ان کو شکایت ہوگی۔ گو میں ان کا احسان نہیں لینا چاہتا تھا مگر ان نسخوں کو دیکھ کر منھ میں پانی بھر آیا اور میری خوغرضی نے غریب دوراندیشی کو چپ ہی کردیا۔\n\nاس کے بعد شیخ صاحب ہمارے یہاں زیادہ آنے لگے۔ رفتہ رفتہ مراسم گہرے ہوگیے۔ ہمارے بے تکلف ہم مذاق احباب میں ایک صاحب کچھ خدائی فوجدار قسم کے تھے جن کو یہ بے جوڑ دوستی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی اور شیخ جی اور ان کاسامنا اگر ہوجاتا تھا تو منٹ دومنٹ کے بعد کوئی نہ کوئی بہانا کرکے وہ اٹھ جاتے تھے۔ اکثر مجھ سے کہابھی کہ شیخ جی اور تمہاری دوستی کے دو ہی معنی ہوسکتے ہیں۔ یا تو تم ہڈی کا روزگار کرنا چاہتے ہو یا شیخ جی عنقریب شعر کہنا شروع کردیں گے۔ شیح جی سے مراسم کی بناپر ان کے ایک قرض دار میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ایک جزو جائداد میری شیخ جی کے پاس رہن باقبضہ ہے جس کو شرائط دستاویز کی بنا پر میں آٹھ نو برس نہیں چھڑا سکتا۔ اگر آپ اپنے دوست سے سفارش کردیں تو میرا کام بن جائے۔\n\nمیں: حضرت، معاملات میں مجھ کو نہ ڈالیے۔ میرے اور شیخ جی کے نازک مراسم اس بارکو شاید نہ برداشت کرسکیں اور شاید روپیہ بھی آپ سے فراہم نہ ہوسکے۔\n\nوہ صاحب: روپیہ میں کہاں پاتا، مگراس وقت ایک شخص اس جائداد کو بیع لینے پر تیار ہوگیا ہے۔ اگر یہ معاملہ ہوجائے تو شیخ جی کا قرضہ نکالنے کے بعد مجھ کو سو دو سو روپیہ بچ جائیں گے۔\n\nان صاحب کی مفلوک الحالی اور شریف تباہی پر مجھ کو تاسف آیا اور میں نے کہنے کا وعدہ کرلیا مگر اس سے زیادہ امید نہیں دلائی۔ دوسرے دن شیخ جی سے ملاقات ہوئی۔\n\nمیں: شیخ جی آپ کے فلاں عزیز اور راہن کہتے تھے کہ اگر آپ ان کو مرہونہ جائداد بیع کرنے کی اجازت دے دیں تو آپ کاقرضہ ادا کرنے کے بعد ان کو سو دو سو روپیہ بچ جائیں گے۔\n\nشیخ جی: اس جائداد میں اتنی گنجائش کہاں ہے۔ میں نے جو روپیہ ان کو دیا ہے، وہی اس کے دام سے زیادہ ہے اور اس کو کون مول لے گا۔\n\nمیں: میں نے صرف اس وجہ سےعرض کردیا کہ میں نے راہن صاحب سے وعدہ کیا تھا، ورنہ میں نہ آپ کے نقصان کا ساتھی ہوں نہ راہن صاحب سے مجھ سے اس قدر مراسم ہیں کہ آپ ایسے عنایت فرماؤں پر زور ڈالنے کی جرات کروں۔\n\nشیخ صاحب: جی نہیں۔ آپ کا فرمانا ایسا نہیں ہے کہ میں خیال نہ کروں۔ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اگر میرا روپیہ وصول ہوجائے تو مجھ کو کوئی عذر نہیں۔\n\nمیں: دیکھیے شیخ صاحب میں پھر عرض کرتا ہوں کہ اگر مجھ کو کسی سے واسطہ ہے تو آپ سے۔ ان صاحب سے تو صرف شناسائی ہے۔ آپ میرے خیال سے ایسا ہرگز نہ کیجیے گا۔ میں آپ کے نقصان کا ساتھی کیسے ہوسکتا ہوں۔ اس معاملہ میں میری حیثیت ایک پیغام پہنچانے والے سے زیادہ نہیں ہے۔\n\nشیخ جی: جی نہیں، انھوں نے کچھ تو سمجھ کر آپ سے کہلایا ہے۔ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں جائداد چھوڑنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں۔ یہ خوشخبری میں نے راہن صاحب کو دے دی۔\n\nرمضان شریف کا مہینہ، نچوڑ کاوقت تھا کہ راہن صاحب نازل ہوگیے۔ شیخ صاحب کو آدمی گیا کہ ذرا تکلیف کیجیے۔ وہ بھی تشریف لائے میرے پڑھنےوالےاس میٹھی پھیکی کہانی پر مجھ سے خفا نہ ہوجئے، آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کو دل بے تاب تھا۔\n\nتقریب کچھ تو بہرملاقات چاہیے\n\nاگر کوئی رنگین کہانی دماغ میں نہ تھی تو کیا کرتا۔\n\n’’گندام اگر بہم نہ رسد بھس غنیمت است‘‘\n\nشیخ جی یعنی مرتہن صاحب اور خریدار صاحب دونوں روزے سے تھے اور ایک دوسرے کو یوں دیکھتے تھے جیسے اپنے مقابل ہی سے روزہ افطار کرنے کا ارادہ ہے۔ خالی موقع اور وقت کاانتظار ہے۔ شیخ جی کے انداز پر میرا ماتھا پہلے ہی ٹھنکا تھا کہ یہ اتنے سہل میں راضی ہوگیے ہیں، اس کے معنی کیا ہیں۔ بے چارے نے پیسہ پیسہ جوڑ کر اپنی حیثیت بنائی ہے اگر یہ اسی طرح کی دریادلی سے کام لیا کرتے توآج یہ اطمینان کہاں سے نصیب ہوتا، ہو نہ ہو یہ مجھ کو زیربار احسان کیا چاہتے ہیں۔ اور پھر خیال آتا تھا کہ تم کون اتنے بڑے آدمی ہو کہ جس کے ذریعے سے ان کا ہزار پانچ سو کافائدہ ہونے والا ہے۔ دو بدوگفتگو میں سچائی کی ایک کھنک ہوتی ہے جیسےکھرے روپیہ میں۔ ان کی گفتگو دل کی کسوٹی پر پرکھتا تھا، اور رہ جاتا تھا۔ راہن صاحب کی پریشان حالی بھی ایک طرف دل میں جگہ کرچکی تھی۔ اس وجہ سے قوت متصرفہ بھی کچھ کمزور سی پڑگئی تھی۔ اسی پس و پیش میں تھا کہ مرتہن صاحب بھی آگیے اور ان کو یہ خوشخبری دینا ہی پڑی۔\n\nمرتہن صاحب: آپ ہی خریدیں گے۔\n\nراہن صاحب: جی ہاں۔\n\nمرتہن صاحب: آپ کیا کھاکے خریدیں گے۔\n\nخریدار صاحب: ارے ہم تو یہ خرید لیں اور آپ کو بھی خرید لیں۔\n\nمرتہن صاحب: آپ ضرور خریدیں گے، ایسے جھپ جھالیے بہت دیکھے ہیں۔\n\nخریدار صاحب: جھپ جھالیے ہوگے تم اور تمہارے باپ، ہڈیاں بیچ یچ کر چار پیسے جمع کرلیے ہیں، اس پر آئے ہیں ہم سے باتیں کرنے۔\n\nمرتہن صاحب: اور تم نے سوائے تھانہ داروں کی دلالی کرنےکے عمربھر کیا کیا ہے۔ کچھ پونجی ہوگئی بس اپنے آپے سے باہر ہوگیے۔\n\nمیں: ہاں ہاں صاحب، آپ لوگ لڑتے کیوں ہیں شریفوں کی طرح باتیں کیجیے۔ آپ معاملہ طے کرنے آئے ہیں یا گالی گلوج کرنے۔\n\nخریدار صاحب: میں نے تو کچھ کہا بھی نہیں تھا۔ یہ توانھوں نے آتے ہی آتے اس قسم کی باتیں شروع کیں۔\n\nراہن صاحب: اچھا اب آپ ہی طرح دے جائیے ہوگا۔\n\nخریدار صاحب: طرح کیا دی جائے، کہیں دو چار سو روپیہ پانچ چھ روپیہ سیکڑہ پر لگائے ہوں گے، اس پر آئے ہیں مقابلہ کرنے۔\n\nشیخ جی: (گرج کر) بارہ روپیہ سیکڑہ سے کم پر تو ہم بات نہیں کرتے ہیں۔\n\nخریدار صاحب: چلو ہمارے ساتھ، ہم چوبیس روپیہ سیکڑہ تک کی دستاویزیں دکھلادیں اور کمیشن اوپر سے۔ تم کو نصیب نہ ہوا ہوگا یہ نرخ لینا۔\n\nمیں: ان فضول باتوں سے کون مطلب، اگر آپ کو لڑنا ہی ہے تو باہر جاکر لڑیے۔\n\nناظرین ان حضرات کی طرف سے میری معذرت قبول کیجیے۔ خدا کے یہ نیک روزہ دار بندے نہ خاندانی مہاجن تھے نہ باپ دادا کے وقت سے سودخوری کے مشاق تھے۔\n\nاسی وجہ سے معاملہ فہمی میں کچھ کسر باقی رہ گئی تھی مگر قرینے سے معلوم ہوتا تھا کہ ایک پشت کے بعد باوجود رمضان شریف کے بردباری اور سودخوری دونوں میں مضبوط ہوجائیں گے۔ ان حضرات کے منھ سے جھاگ اڑ رہی تھی۔ لہریں نہیں بلکہ جوار بھاٹے آرہے تھے۔ ہونٹوں کے کناروں پر سمندر پھین جمتا جاتا تھا اور ان دو نیک لوگوں میں ہم روزہ خور گناہ گار پھنس گیے تھے۔ ان کے منھ سے خوشبوؤں کے بقعے بھق بھق اڑ رہے تھے اور ہم محسوس کر رہے تھے کہ روزہ نہ رکھنے کے عذاب میں گرفتار ہیں۔ اسی تو تو میں میں کے درمیان میں ہمارے خدائی فوجدار قسم والے دوست بھی آگیے۔ تھوڑی دیر چپ رہے۔ اس کے بعد میری پریشانی دیکھ کر کہنے لگے، ’’شیخ جی سے دوستی بھی کروگے اور روزہ بھی نہ رکھوگے اور روزہ دار کے منھ کی بو سے بھی گھبراؤگے۔ آخر تمہارا حشر کیا ہونے والا ہے۔‘‘", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B2%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%B2%D8%A7"} {"title": "روزی مل جائے مال و دولت نہ سہی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "روزی مل جائے مال و دولت نہ سہی\nراحت ہو نصیب شان و شوکت نہ سہی\nگھر بار میں خوش رہیں عزیزوں کے ساتھ\nدربار میں باہمی رقابت نہ سہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B2%DB%8C_%D9%85%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%A7%D9%84_%D9%88_%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "روش اس چال میں تلوار کی ہے", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روش اس چال میں تلوار کی ہے\nموت عشاق گنہ گار کی ہے\n\nگل و گلشن سے کبھی جی نہ لگائے\nیہ صدا مرغ گرفتار کی ہے\n\nرشک گلشن ہو الٰہی یہ قفس\nیہ صدا مرغ گرفتار کی ہے\n\nنکہت گل نہ صبا بھی لائی\nیہ صدا مرغ گرفتار کی ہے\n\nآ کے بے پردہ ملیں وہ دم نزع\nیہ دعا عاشق بیمار کی ہے\n\nپیش محراب نہ کیوں سجدے ہوں\nصورت اس ابروئے خم دار کی ہے\n\nچال وہ چل کہ نہ ہو محشر خیز\nیہ روش چرخ جفاکار کی ہے\n\nمجھ کو ہنگامۂ محشر سے غرض\nبس تمنا ترے دیدار کی ہے\n\nطلب راہ خدا میں لیکن\nپیروی حیدر کرار کی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B4_%D8%A7%D8%B3_%DA%86%D8%A7%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "روش حسن مراعات چلی جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روش حسن مراعات چلی جاتی ہے\nہم سے اور ان سے وہی بات چلی جاتی ہے\n\nاس جفا جو سے بایمائے تمنا اب تک\nہوس لطف و عنایات چلی جاتی ہے\n\nمل ہی جاتے ہیں پشیمانئ غم کے اسباب\nشوق حرماں کی مدارات چلی جاتی ہے\n\nہم سے ہر چند وہ ظاہر میں خفا ہیں لیکن\nکوشش پرسش حالات چلی جاتی ہے\n\nدن کو ہم ان سے بگڑتے ہیں وہ شب کو ہم سے\nرسم پابندئ اوقات چلی جاتی ہے\n\nاس ستم گر کو ستم گر نہیں کہتے بنتا\nسعئ تاویل خیالات چلی جاتی ہے\n\nنگہ یار سے پا لیتے ہیں دل کی باتیں\nشہرت کشف و کرامات چلی جاتی ہے\n\nحیرت حسن نے مجبور کیا ہے حسرتؔ\nوصل جاناں کی یوں ہی رات چلی جاتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B4_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%B9%D8%A7%D8%AA_%DA%86%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "روش سادہ بیانی میری", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روش سادہ بیانی میری\nہے یہ تیغ صفہانی میری\n\nنا شناسا کو نہ آئے باور\nداستاں اس کی زبانی میری\n\nمیری ہستی ہے ممیز بہ عدم\nبے نشانی ہے نشانی میری\n\nرخنہ گر ہے مری آزادی میں\nہوس بال فشانی میری\n\nسبق جہل کی تکرار پہ اب\nمنحصر ہے ہمہ دانی میری\n\nدوستی وضع تن آسانی کی\nبن گئی دشمن جانی میری\n\nخاتمہ ہے مری تمہید میں درج\nہے دل آویز کہانی میری\n\nزیرکی دام فریب دل ہے\nہے تحیر نگرانی میری\n\nدل ہو ساقی لب دریا ساغر\nسہل ہے پیاس بجھانی میری\n\nصبح طفلی ہے بڑھاپا میرا\nشام پیری تھی جوانی میری\n\nایک چکر ہے بشکل گرداب\nبند برپا ہے روانی میری\n\nوجہ باقی مرے معنی کو سمجھ\nصورت البتہ ہے فانی میری\n\nبزم کثرت کا تماشائی ہوں\nوحدت صرف ہے بانی میری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B4_%D8%B3%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "روشن تمام کعبہ و بت خانہ ہو گیا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روشن تمام کعبہ و بت خانہ ہو گیا\nگھر گھر جمال یار کا افسانہ ہو گیا\n\nصورت پرست کب ہوئے معنی سے آشنا\nعالم فریب طور کا افسانہ ہو گیا\n\nچشم ہوس ہے شیفتۂ حسن ظاہری\nدل آشنائے معنی بیگانہ ہو گیا\n\nآساں نہیں ہے آگ میں دانستہ کودنا\nدیوانہ شوق وصل میں پروانہ ہو گیا\n\nکیفیت حیات تھی دم بھر کی میہماں\nلبریز پیتے ہی مرا پیمانہ ہو گیا\n\nاشکوں سے جام بھر گئے ساقی کی یاد میں\nکچھ تو مآل مجلس رندانہ ہو گیا\n\nدیر و حرم بھی ڈھ گئے جب دل نہیں رہا\nسب دیکھتے ہی دیکھتے ویرانہ ہو گیا\n\nکل کی ہے بات جوش پہ تھا عالم شباب\nیادش بخیر آج اک افسانہ ہو گیا\n\nآئینہ دیکھتا ہے گریباں کو پھاڑ کر\nوحشی اب اپنا آپ ہی دیوانہ ہو گیا\n\nکیا جانے آج خواب میں کیا دیکھا یاسؔ نے\nکیوں چونکتے ہی آپ سے بیگانہ ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%D9%88_%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام\nدہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام\n\nحیرت غرور حسن سے شوخی سے اضطراب\nدل نے بھی تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام\n\nاللہ ری جسم یار کی خوبی کہ خودبخود\nرنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام\n\nدل خون ہو چکا ہے جگر ہو چکا ہے خاک\nباقی ہوں میں مجھے بھی کر اے تیغ زن تمام\n\nدیکھو تو چشم یار کی جادو نگاہیاں\nبے ہوش اک نظر میں ہوئی انجمن تمام\n\nہے ناز حسن سے جو فروزاں جبین یار\nلبریز آب نور ہے چاہ ذقن تمام\n\nنشو و نمائے سبزہ و گل سے بہار میں\nشادابیوں نے گھیر لیا ہے چمن تمام\n\nاس نازنیں نے جب سے کیا ہے وہاں قیام\nگلزار بن گئی ہے زمین دکن تمام\n\nاچھا ہے اہل جور کیے جائیں سختیاں\nپھیلے گی یوں ہی شورش حب وطن تمام\n\nسمجھے ہیں اہل شرق کو شاید قریب مرگ\nمغرب کے یوں ہیں جمع یہ زاغ و زغن تمام\n\nشیرینئ نسیم ہے سوز و گداز میرؔ\nحسرتؔ ترے سخن پہ ہے لطف سخن تمام", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85"} {"title": "روشن دل عارف سے فزوں ہے بدن ان کا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روشن دل عارف سے فزوں ہے بدن ان کا\nرنگیں ہے طبیعت کی طرح پیرہن ان کا\n\nمحروم ہی رہ جاتی ہے آغوش تمنا\nشرم آ کے چرا لیتی ہے سارا بدن ان کا\n\nجن لوگوں نے دل میں ترے گھر اپنا کیا ہے\nباہر ہے دو عالم سے مری جاں وطن ان کا\n\nہر بات میں وہ چال کیا کرتے ہیں مجھ سے\nالفت نہ نبھے گی جو یہی ہے چلن ان کا\n\nعارض سے غرض ہم کو عنادل کو ہے گل سے\nہے کوچۂ معشوق ہمارا چمن ان کا\n\nہے صاف نگاہوں سے عیاں جوش جوانی\nآنکھوں سے سنبھلتا نہیں مستانہ پن ان کا\n\nیہ شرم کے معنی ہیں حیا کہتے ہیں اس کو\nآغوش تصور میں نہ آیا بدن ان کا\n\nغیروں ہی پہ چلتا ہے جو اب ناز کا خنجر\nکیوں بیچ میں لایا تھا مجھے بانکپن ان کا\n\nغیروں نے کبھی پاک نظر سے نہیں دیکھا\nوہ اس کو نہ سمجھیں تو یہ ہے حسن ظن ان کا\n\nاس زلف و رخ و لب پہ انہیں کیوں نہ ہو نخوت\nتاتار ہے ان کا حلب ان کا یمن ان کا\n\nاللہ رے فریب نظر چشم فسوں ساز\nبندہ ہے ہر اک شیخ ہر اک برہمن ان کا\n\nآیا جو نظر حسن خداداد کا جلوہ\nبت بن گیا منہ دیکھ کے ہر برہمن ان کا\n\nمرقد میں اتارا ہمیں تیوری کو چڑھا کر\nہم مر بھی گئے پر نہ چھٹا بانکپن ان کا\n\nگزری ہوئی باتیں نہ مجھے یاد دلاؤ\nاب ذکر ہی جانے دو تم اے جان من ان کا\n\nدلچسپ ہی آفت ہے قیامت ہے غضب ہے\nبات ان کی ادا ان کی قد ان کا چلن ان کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D8%AF%D9%84_%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D8%B2%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "روشن کیا جو حق نے چراغ انتقام کا", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "روشن کیا جو حق نے چراغ انتقام کا\nدل صر صر فنا سے بجھا اہل شام کا\nاندھیر کچھ گھٹا فلک نیلی فام کا\nتلنے لگا سفید و سیہ صبح و شام کا\nگل شمع فتح کا صفت غنچہ کھل گیا\nمختار کو جہاد کا پرونہ مل گیا\n\nہمت پکاری ظالموں کے قلب چاک کر\nبو جہل سیرتوں کو خراب و ہلاک کر\nاصحاب بو تراب کا دل غم اسے پاک کر\nاحباب بو لہب کو جلا کر تو خاک کر\nعنتر کے ہمسروں کا جدا تن سے فرق کر\nمرحب کی قوم کوچۂ ہب ہب میں غرب کر\n\nہاں گلشن قصاص کو خنجر سے آب دے\nہاں تیر کی زباں سے عدو کو جواب دے\nہاں اتقیا کو مژدۂ اجرو ثواب دے\nہاں اشقیا کو وعدۂ قہر و جواب دے\nسر سبز برق نیزہ سے تخم مراد کر\nروشن نسیم تیغ سے شمع جہاد کر\n\nہمت کا درس تجھ کو سکندر سے چاہئے\nجرأت کا اخذ مالک اشتر سے چاہئے\nخدمت کا بادہ کاسۂ قنبر سے چاہئے\nنقد خلوص کیسہ بوذر سے چاہئے\nاسلام میں برابر سلماؓ ںمکیں ہو تو\nاخلاص میں اویس قرن کے قریں ہو تو\n\nیوں خضر حکم حق جو ہوا اس کا رہنما\nلبیک کی سکندر طالع نے دی ندا\nسکہ پڑا سفید و سیہ پر جدا جدا\nچاندی دکھائی چاند نے خورشید نے طلا\nبولا قرار کون و مکاں میں بھلا کرے\nوہ کیجئے کہ کون و مکاں حق عطا کرے\n\nاور چتر سر بنے پر وبال ہمائے فتح\nکی زیب تن قضا و قدر نے قبائے فتح\nروح القدس نے چہرے پہ دم کی دعائے فتح\nشوکت نے غرب و شرق میں کھولا لوائے فتح\nیاں تک دراز آرزوئے جنگ ہوگئی\nتن پر قبائے ہفت فلک تنگ ہوگئی\n\nدکھلایا آفتاب نے آئینہ با ادب\nچار آئینہ بھی اپنا جری نے کیا طلب\nدکھلا کے چار چار پہر اپنے روز و شب\nبولا یہ پیش کش ہو ہماری قبول اب\nاک دن کا چار آئینہ ہے ایک رات کا\nحافظ خدا ہے آٹھ پہر تیری ذات کا\n\nآہن کا خود مرتبہ پارس کا کیوں نہ پائے\nیہ پیرو حسینؑ جسے اپنے سر چڑھائے\nدرجے سر بلند نے یہ خود کے بڑھائے\nمضمون جس کے پیر فلک کے نہ ہاتھ آئے\nنازاں ہوا یہ خود سر بے عدیل پر\nپھینکی کلاہ فتح نے عرش جلیل پر\n\nزیب کمر وہ تیغ ظفر کی پئے مصاف\nجو سرکشان دہر کے سر پر تھی موشگاف\nباندھی جری نے وہ سپر آسماں غلاف\nسورج گہن میں آئے جو ہواس سے بر خلاف\nترکش میں چیدہ چیدہ خدنگ اس نے بھر لئے\nعقرب پئے اقارب شمر و عمر لیے\n\nوہ دونوں رخ تھے یا کہ پئے نذر شیر حق\nشمس و قمر لیے تھے زر وسیم کے طبق\nلب کہ وہ جن کے رنگ سے گل ہو عرق عرق\nاور کلیات غنچہ پریشاں ورق ورق\nکیا خط و عارض و لب و گیسو سے کام تھا\nمختار چین و روم و سمرقند و شام تھا\n\nاور نطق طوطی شکرستان ذکر حق\nیا دفتر مناقب حیدرؑ کا اک ورق\nتھی وہ زبان بلبل سدرہ سے ہم سبق\nکہتا تھا اس زباں سے وہ صادق جو حرف حق\nوصف علیؑ و آل نبیؐ برزبان ماست\nگویا زباں برائے ہمیں دردہان ماست\n\nہمدست لاکھ رستم دستاں ہوں اس سے کب\nہاتھ اس کا تھا وہ ہاتھ کہ جس نے بحکم رب\nکی بیعت امام زبردستوں سے طلب\nجو دست بیع اس سے ہوا درجے پائے سب\nچوما قدم تو خلد کے آٹھوں چمن ملے\nپہنچا جو ہاتھ پنجے تلک پنچتن ملے\n\nوہ دونوں ہاتھ تھے الف انتقام کے\nوہ دو الف شریک ازل سے امام کے\nہنگام جنگ تیغ و سپر تھام تھام کے\nاعدا سے لیں قصاص شہ تشنہ کام کے\nبے ان کے داد خواہ کبھی معترف نہ ہوں\nانصاف نصف ہووے جو یہ دو الف نہ ہوں\n\nرگ رگ میں ریشے ریشے میں تھا جوہر وفا\nپیدا ہوا تو مادر مختار نے سنا\nہاتف نے دی ندا میں پسر پر ترے فدا\nاک دن قصاص لے گا یہ بے کس حسینؑ کا\nیہ شیفتہ ہے فاطمہؑ کے نور عین پر\nواجب شفاعت اس کی ہے روح حسینؑ پر\n\nحقا کہ جز فضائل مختار خوش خصال\nگر ہے کوئی حدیث تقیے پہ ہے وہ دال\nجب رن میں باغ فاطمہؑ ہوتا تھا پائمال\nروکر حسینؑ کہتے تھے ا ئےرب ذوالجلال\nباغی تباہ کرتے ہیں گلزار کو مرے\nمختار کر قصاص کا مختار کو مرے\n\nسجاد سے یہ چند حدیثوں میں ہے خبر\nمحسن ہے اہل بیت کامختار نامور\nکیا ہم کو اختیار تھا جب مرگئے پدر\nپوشاک ماتم اس نے بدلوائی سر بسر\nلازم ہے دوستان حسینؑ شہید کو\nتحسین اسے کیا کریں نفریں یزید کو\n\nکونے میں جب کہ آئے تھے مسلم نکو سیر\nبیعت سے ان کی پہلے ہوا تھا یہ بہرہ ور\nٹھہرا کے یہ قصور بس اس بے قصور پر\nخواہان جان و مال تھا مرجانہ کا پسر\nآہوئے کعبہ رن میں جب امت کا صید تھا\nمختار قید خانے میں کونے کے قید تھا\n\nواں رن میں سر حسینوں کے ہوتے تھے قلم\nزنداں کے در پہ سر پہ پٹکتا تھا دم بدم\nدیتا تھا کربلا کو ندا وہ اسیر غم\nافسوس اے حسینؑ نہیں اپنے بس میں ہم\nکھیتی لٹی بتولؑ کی دشت جہاد میں\nسادات آئے مجلس ابن زیاد میں\n\nابن زیاد بولا کہ مختارؑ کو بلاؤ\nسیدانیوں کے ہاتھ بندھے اس کو بھی دکھاؤ\nلائے تو پوچھا بیوؤں کو کیادوں سزا بتاؤ\nلو تم بڑے محب ہو انہیں قید سے چھڑاؤ\nہیں سر برہنہ فکر لباس و ردا کرو\nمومن تو ہو حمایت آل عبا کرو\n\nمشکیں بندھی تھیں رو کے دلاور نے یہ کہا\nبدلا نہ اس کا لوں تو جبھی کہیو تو بھلا\nکہتے ہیں اس گھڑی سے وہ رویا کیا سدا\nزنداں سے بھی چھٹا تو اسیر الم رہا\nہر روزیہ دعا تھی کہ روز جہاد ہو\nطالع خدا کے مہر سے صبح مراد ہو\n\nمقبول کی خدا نے یہ دیندار کی دعا\nیعنی یزید نحس نے کی شام میں قضا\nعازم قصاص کا ہوا مختار باوفا\nعابد کے آستانے پہ آیا پئے رضا\nدر پر سنا کہ بیبیوں میں شورو شین ہے\nعاشور سے زیادہ عزائے حسینؑ ہے\n\nزینبؑ کی آرہی ہے یہ آواز وا اخا\nبانوؑ پکارتی ہے کہ اکبرؑ کدھر گیا\nبیمار ایک لڑکی یہ کہتی ہے برملا\nہے ہے نہ میرے درد کی اب تک ملی دوا\nبھولے بہن کو اکبرؑ عالی خصال بھی\nبابا نہ کربلا سے پھرے اب کے سال بھی\n\nالقصہ سن کے آمد مختار کی خبر\nدر پر امام آئے حرم سب قریب در\nمختار نے قدم پہ جھکایا ادب سے سر\nدل میں جو آرزو تھی کہی ہاتھ باندھ کر\nفرمایا مسکرا کے شہ بے نظیر نے\nہم کو خبر یہ دی ہے جناب امیرؑ نے\n\nپھر پشت سے لباس مبارک اٹھا کے ہائے\nمولا نے تازیانوں کے اس کو نشان دکھائے\nزینبؑ پکاریں بھائی اگر شمر ہاتھ آئے\nسر اس کا کاٹ لیجیو جیتا نہ جانے پائے\nبولی سکینہؑ سب سے وہ ظالم زیاد ہے\nاس کا طمانچہ آج تلک مجھ کو یاد ہے\n\nاس نے کہا بفضل خدا ہوئے گا یونہیں\nسنیو کہ غرق خوں ہوئی کوفے کی سب زمیں\nسجاد سے ودا ع ہوا پھر وہ اہل دیں\nآئی ندا بقیع سے مختار آفریں\nاب تک وہی ہے جوش مرے شور و شین کا\nہاں انتقام لے مرے بے کس حسینؑ کا\n\nعابدؑ نے اک غلام سے اپنے کیا خطاب\nکہتے تھے اس کو فارس ہیجا ابوتراب\nلے جا مرا فرس وہ دے آیا اسے شتاب\nغازی چڑھا جو اس پہ ہوئی فتح ہم رکاب\nبیمار کربلا کا وہ رخش صبیح تھا\nصحت کے ساتھ چلنے میں نبض مسیح تھا\n\nاس تیز رو کو کاہ سے تھی نفرت دلی\nیعنی کہ لفظ کاہ میں ہے حرف کاہلی\nگردش سے چرخ راہ کی جس دم عناں ہلی\nحقا ہوائے خلد اسے کھانے کو ملی\nپریاد ذوالجناح میں اندوہناک تھا\nجیب ہلال نعل اسی غم سے چاک تھا\n\nرفتار گرم سے دل سیماب پارہ تھا\nہر قطرۂ عرق سے یہ حسن آشکارا تھا\nطوفان پر جہاز ہوا پر ستارہ تھا\nبادل پہ برق آب رواں پر شرارہ تھا\nآندھی کی طرح آتا تھا وہ رزمگاہ میں\nلیکن چراغ نعل کے روشن تھے راہ میں\n\nدل سے میان راہ پہ مختار نے کہا\nلے نائب حسینؑ سے تو جنگ کی رضا\nاب چل پئے زیارت مظلوم کربلا\nتو گو کہ با وفا ہے پہ ہے عمر بے وفا\nلازم زیارت پسر بوترابؑ ہے\nہر ہر قدم پہ عمرۂ و حج کا ثواب ہے\n\nلکھتا ہے کربلا میں جو آیا وہ باوفا\nپڑھنے لگا زیارت قبر شہ ہدا\nبولا لپٹ کے قبر سے روحی لک الفدا\nاے تشنۂ سقیفہ و صحرائے کربلا\nاے فخر صد ذبیح و صد ایوب السلام\nمحبوب ذوالجلال کے محبوب السلام\n\nکچھ اپنے سوگواروں کی تم کو خبر ہے آہ\nزینب تری بہن کفنی پہنے ہے سیاہ\nروتی ہے شام سے ترے حجرے پہ تاپگاہ\nاوروں کا قبر فاطمہؑ پر حال ہے تباہ\nہمشکل مصطفی سے یہ کہہ دو مزار میں\nصغراؑ کھڑی ہے در پہ ترے انتظار میں\n\nتقدیر میں سکینہؑ نے ماتم جو پایا ہے\nچھوٹا سا ایک تعزیہ خانہ بنایا ہے\nعباسؑ کا علم سر منبر لگایا ہے\nعابدؑ سے رو کے کہتی ہے غم دل پہ چھایا ہے\nبھائی بہن حقوق شہ دیں ادا کریں\nتم مرثیہ پدر کا پڑھو ہم بکا کریں\n\nبہلانے اس کو آتی ہیں ہمجولیاں اگر\nکہتی ہے اب نہ کھیلوں گی میں تم میں بیٹھ کر\nتم سب ہو باپ والی میں دکھیا ہوں بے پدر\nماتم ہے کربلا کے شہیدوں کا میرے گھر\nاماں ہماری بیوہ ہوئیں بابا مرگئے\nرونے کے دن میں کھیلنے کے دن گزر گئے\n\nسمجھانے کو سکینہؑ کے اب آپ جائیے\nصغراؑ کو خواب میں رخ اکبرؑ دکھائے\nکبراؑ ہے بے قرار گلے سے لگائیے\nروتی ہے ماں کی قبر پہ زینبؑ اٹھائیے\nعابدؑ کی لو خبر کہ بہت ناتوان ہے\nبالائے پشت نیزوں کا اب تک نشان ہے\n\nکانپا ہر ایک نام پہ شبیرؑ کا مزار\nاس نے حضور قبر دھری تیغ آبدار\nاور عرض کی کہ اے پسر شاہ ذوالفقار\nبندھوائیں آپ تیغ تو ہوئے کشود کار\nاذن جہاد مانگتا ہوں کس امید سے\nاس لب سے حکم دو جو کھلا چوب بید سے\n\nیہ کہتے کہتے ہو گیا بے ہوش وہ سعید\nپر عین غش میں دیدۂ باطن کی تھی یہ دید\nروضہ میں برج قبر سے نکلا ہلال عید\nاور یا حسینؑ کہہ کے اٹھے قبروں سے شہید\nہاتھوں پہ سر کٹے شہدا تھے لیے ہوئے\nزہراؑ جلو میں بال پریشاں کئے ہوئے\n\nہے پیش پیش فوج خدا حر نامور\nباندھے ہوئے بتولؑ کا رومال حق پر\nسردار کے قریب علمدار خوش سیر\nاصغرؑ کی لاش گود میں شہ کی لہو میں تر\nبولا کہ سہل عقدۂ دشوار ہیں مرے\nاتنے خدا کے شیر مددگار ہیں مرے\n\nمختار کو حسینؑ نے اس وقت دی ندا\nنانا سلام کہتے ہیں اماں تجھے دعا\nمظلوم کے قصاص کا خواہاں ہے مرحبا\nدنیا میں فتح حشر میں فردوس دے خدا\nتحقیق کرکے ناریوں کو نار دیجیو\nحیدرؑ کے دوستوں کو نہ آزار دیجیو\n\nپھر شاہ نے خطاب یہ عباسؑ سے کیا\nہاں میرے شیر تو اسے شمشیر کر عطا\nسیف خدا نے تیغ اسے دے کے یہ کہا\nسقائے فوج ہم ترے ہوں گے دم وغا\nلے تیغ باندھ ہو تجھے ملک و عمل نصیب\nقبضہ تجھے نصیب اور اعدا کو پھل نصیب\n\nآنکھیں کھلیں کریموں کے لطف عمیم سے\nکھلتے ہیں جیسے صبح کو غنچے نسیم سے\nرخصت ہوا مزار امام کریم سے\nگویا مقام طور کا چھوٹا کلیم سے\nیوں تیز رو تھا منزل مقصد کی راہ میں\nجس طرح ذوالفقار علیؑ حرب گاہ میں\n\nکوفے میں پھر کے کوچہ بہ کوچہ یہ دی صدا\nیاروں کوئی شہید ہے بے کس حسینؑ سا\nجس کی نہ کچھ دیت نہ قصاص اور خوں بہا\nاک تن سے خون پنجتن پاک کا بہا\nایسا بھی ملتوی کوئی دعویٰ رہا نہیں\nسید کا خوں بہا ہے مگر خوں بہا نہیں\n\nابن ابو تراب کی الفت ہے تم کو خاک\nخاک عزا سے گیسوئے زینب کئے نہ پاک\nیثرب میں جا کے دیکھو لباس حرم ہے چاک\nاور کربلا میں حوروں کی ہے آہ دردناک\nفوج حسینؑ کا ہوا جنگل میں خاتمہ\nزینبؑ وطن میں روتی ہے مقتل میں فاطمہؑ\n\nسن آیا کربلا میں فرشتوں کی میں فغاں\nستر ہزار واں مع فطرس ہیں نوحہ خواں\nدیکھ آیا غش میں فوج خدا کی شکوہ و شاں\nرنگیں کفن گلوں میں جراحت سے خوں رواں\nاذن جہاد مانگا جو رو کر غلام نے\nعباسؑ نے تو سیف رضادی امام\n\nہاں طالبان خون حسینؑ آؤ جلد آؤ\nمانند تیغ جوہر مردانگی دکھاؤ\nحق تم کو آزماتا ہے تم دل کو آزماؤ\nسردو تو کربلا کے شہیدوں کا رتبہ پاؤ\nجس کا عقیدہ پاک ہے وہ کامیاب ہے\nاب بھی وہی جہاد کا اجر و ثواب ہے\n\nیہ خلہ ہے یہ میوہ یہ کوثر ہے یہ جناں\nیہ حور یہ قصور یہ طوبیٰ یہ بوستاں\nیہ جنس آبرو ہے یہ بیعانہ نقد جاں\nیہ گویا رزمگاں یہ چوگاں یہ امتحاں\nیہ سر ہے یہ بدن یہ کفن ہے یہ تیغ ہے\nشیر خدا کے شیروں کو پھر کیا دریغ ہے\n\nیہ سن کے تازہ دم ہوئے حیدرؑ کے د وست دار\nمردے ہوں جیسے قم قم عیسی سے ہوشیار\nکافور ہفت عضو پہ مل مل کے ایک بار\nنکلے پہن پہن کے کفن بہر کارزار\nکوچوں میں یہ ہجوم خلائق کا حال تھا\nسائے کو ساتھ لے کے گزرنا محال تھا\n\nبہر جہاد پیروں نے فورا کیا خضاب\nاہل شباب سمجھے خزاں موسم شباب\nکنگنا کسی نے کھول کے باندھی کمر شتاب\nمشاطہ کو کسی نے دیا بیاہ کا جواب\nکہتے تھے فکر عقد نہ خواہش دلہن کی ہے\nشادی قصاص خون شہ بے وطن کی ہے\n\nزہراؑ کی لونڈیوں کے عقیدوں کو دیکھنا\nبچوں کو لا کے جھولے سےمردوں کو دے دیا\nپوچھا جو وارثوں نے تو رو رو کے یہ کہا\nدعویٰ انہیں بھی ہے علی اصغرؑ کے خون کا\nظلم و جفائے لشکر بے پیر یاد ہے\nاصغرؑ کا حلق یاد ہے اور تیر یاد ہے\n\nسب نقش دل سے حیدریوں نے مٹادیئے\nبیٹوں کو اپنے خلعت عقبیٰ پنہا دیئے\nنوشاہوں کو سلاح عروسوں نے لادیئے\nاور مہر بخش کر یہ سخن بھی سنادیئے\nظلم عدو یہ لکھ لو دل پاش پاش پر\nاک شب کی بیاہی روئی تھی دولہا کی لاش پر\n\nفوجوں سے اس قدر ہوئی معمور حرب گہہ\nباقی رہی علم کے کھڑے ہونے کی جگہ\nترتیب میمنہ ہوئی ترکیب میسرہ\nقلب و جناح سے ہوئی آراستہ سپہ\nکوفہ سلاح پوشوں سے آباد ہوگیا\nتختہ زمیں کا بیضۂ فولاد ہوگیا\n\nکیا دوستان شاہ نجف کی کروں ثنا\nنازاں تھی جن کے حسن عقیدت پہ خود ولا\nلشکر میں چار حافظ قرآں جدا جدا\nپڑھتے تھے چار سمت فصاحت سے ہل اتیٰ\nجبریل واں فلک پہ خضرؑ یاں زمین پر\nدم کرتے ہیں دعائیں سبھوں کی جبین پر\n\nہاں مومنو یہ فوج ہی فوج امام ہے\nمد نگہ نظارۂ ہر خاص و عام ہے\nہشیار جبرئیل کا یاں اہتمام ہے\nجاسوس عقل و فکر و تصور کا کام ہے\nیوں محو ہو کے سیر کرو ان کے اوج کی\nآنکھوں میں مثل سرمہ پڑے گرد فوج کی\n\nپیر و جواں کھڑے ہیں برابر چہل ہزار\nتیر و کماں کی طرح مہیائے کارزار\nکہتی ہے روح فاطمہؑ حسرت سے بار بار\nہے ہے نہ کربلا میں ہوئے یہ رفیق و یار\nجب رن کے قصد تھا خلف بوتراب کو\nجنت سے آ کے تھاما تھا میں نے رکاب کو\n\nمختار کے غلام میں دو صاحب ہنر\nاک فتح ایک خیر نہیں جن کے دل میں شر\nجب ہو غلام فتح تو کیونکر نہ ہو ظفر\nپیدا ہے فتح طالع مختار نامور\nاک دیکھتا ہے ایک کے رخ کو سپاہ میں\nمصحف کو ختم کرتے ہیں سب اک نگاہ میں\n\nنازل یزیدیوں پہ جو حق کا غضب ہوا\nاجماع دوستان امیر عرب ہوا\nماتم حسینوں کا عدالت طلب ہوا\nمختار نامور کو یہ الہام رب ہوا\nہاں بند راہ فتنے کی تیغ رواں سے کر\nہاں فتح باب فتح کلید سناں سے کر\n\nلہرا رہا ہے غازیوں کے سر پہ وہ علم\nدامن پہ جس کے نام علیؑ ولی رقم\nپھر یہ علم ہے دست علمدار میں علم\nیا بہر استغاثہ اٹھا نالۂ حرم\nپنجے سے اس کے چہرۂ خورشید زرد ہے\nزنیت کا مد آہ ہے رتبے میں فرد ہے\n\nچہرے پہ نوجوانوں کے پیدا خط شباب\nاک نقطہ ان کے خال کا ہے حسن کی کتاب\nدیکھیں جو آئینے میں خط رخ کی آب و تاب\nجوہر خط شعاع ہو آئینہ آفتاب\nرخ پر عرق کو دیکھ کے حیرت بڑی ہوئی\nہے دن کو آفتاب پہ شبنم پڑی ہوئی\n\nرخ پر ہیں قطرہ ہائے عرق در آبدار\nیا ایک برگ گل کے نگہبان ہیں ہزار\nخورشید پر ستارے ہیں غلطیدہ بے شمار\nیا ماہتاب کے ہیں جگر گوشے آشکار\nجس دم ڈھلیں یہ عارض پر آب و تاب سے\nسیارے ہوں فلک پہ ثوابت حجاب سے\n\nآنکھوں سے آشکار ہےعلم و حیا تمام\nخورشید و ماہ آنکھ چراتے ہیں صبح و شام\nکیا میم مردمک کی ضیا میں کروں کلام\nشمس و قمر کے دل میں ہے اس میم کا مقام\nچشم سیہ کا وصف ہے باہر حساب سے\nآنکھوں میں چھپتا پھرتا ہے سرمہ حجاب سے\n\nپیشانیوں کا ان کی کہوں کیا جلال و جاہ\nتاریک شب میں بھی اگر ان پر کو نگاہ\nپڑھ لو نماز صبح فضیلت کے وقت واہ\nخال جبیں سفیدے کی جا صبح کا گواہ\nابرو سے تیس شب ہے نظارہ ہلال کا\nحد حساب ایک ہے یاں ماہ و سال کا\n\nمکتوب حسن گردن انور بہ تاب و آب\nاک مد ہلال اس کا ہے اک فرد آفتاب\nگوہر طرف پڑا ہے شب زلف کا حجاب\nلیکن عیاں ہے مطلع گردن کی آب و تاب\nگردن کا نور گیسووں سے آشکار ہے\nخورشید نکلا پردۂ شب تار تار ہے\n\nرخ گلشن بہشت ہے غیرت دہ ارم\nنہر اس میں شیر و شہد کی دندان و لب بہم\nہے خط رخ و ہ خوب کہ لکھیں ثنا جو ہم\nاصلاح سے بری ہو یہ سب نظم یک قلم\nکیونکر کوئی نوشتۂ حق کو غلط کہے\nجس کو سواد خط نہ ہو وہ اس کو خط کہے\n\nبینی کا کیا قلمر و رخ پر ہے عز و جاہ\nزیر قلم ہے حسن کا کشورازل سے آہ\nچہرے کو چاند کہتے ہیں سب صاحب نگاہ\nبینی ہے بیچ میں کہ الف درمیان ماہ\nبینی کے وصف لکھنے کی کیوں آرزو نہ ہو\nبے اس الف کے لاکھ لکھو آبرو نہ ہو\n\nوصف دہان تنگ میں عالم کشادہ لب\nاک نقطے میں زمانے کا مضموں بھرا ہے سب\nانگشت حیف ہے تہ دنداں کہ ہے غضب\nوہ کربلا میں خشکی حلق شہ عرب\nمرنے پہ منہ کھلا تھا شہ مشرقین کا\nنیزے سے کٹ گیا لب بالا حسینؑ کا\n\nدنداں ذرا بھی وقت تبسم جو ہوں عیاں\nمثل صدف کہر سے ہو لبریز آسماں\nشکر فروش مصر حلاوت ہر اک زباں\nرنگینی کلام ہے شیرینیٔ بیاں\nحیراں لبوں کے نور سے اہل کمال ہیں\nیہ ہونٹ ہیں کہ زیر و زبر دو ہلال ہیں\n\nموئے کمر کی یہ قد گلگوں میں ہے بہار\nجس طرح لعل سے ہو رگ لعل آشکار\nپٹکے سے اور بھی ہوا یہ نقطہ پیچیدار\nمعنی میں عقل و فہم الجھتے ہیں بار بار\nسادہ ہی نقش رہنے دیا اس مراد کا\nکھل جائے گا بندھا ہوا مضموں جہاد کا\n\nقد راستی سے سایہ صفت پیرو امام\nجاکر حریم باغ میں گر یہ کریں قیام\nاپنا امام جان کے ہر قد کو لا کلام\nسرو چمن نماز پڑھیں پشت پر تمام\nارزاں ملے تو مول یہ طوبیٰ کو لیتے ہیں\nبیعانہ سدرہ کا الف قد سے دیتے ہیں\n\nخوبی و فور نور بدن کی ہے یہ عیاں\nکڑیاں زرہ کی ہیں رگ جاں کی طرح نہاں\nجو شے نظر نہ آئے کروں اس کا کیا بیاں\nسب کو گماں زرہ کا ہے لیکن زرہ کہاں\nصاحب ہنر محب ہیں شہ ذوالفقار کے\nپہنا ہے بر میں تیغوں کا جوہر اتار کے\n\nہیں خودوہ کہ جن سے بروج فلک ہیں کم\nہاتھوں میں یک قلم الف تیغ ہیں علم\nخط شکست فرد سپر پر کریں رقم\nدیکھو کمان و تیر بھی ہیں نون و القلم\nنور سپر کے جلوے سے پر نور ہے زرہ\nیہ طور ہیں تو سورۂ والطور ہے زرہ\n\nحسن سلاح یہ ہے سنو زور کا بیاں\nپائے شکوہ کوہ پہ رکھیں جو یہ جواں\nسرمہ ہو کوہ چار طرف چشمے ہوں رواں\nچاہیں زمیں بلند کریں مثل آسماں\nجب کہہ کے یا جناب امیرؑ آئیں جوش پر\nمثل سپر فلک کو بھی رکھیں یہ دوش پر\n\nپنجے سے گر یہ کلۂ رستم کو دیں فشار\nدنداں نکل پڑیں صفت دانۂ انار\nمثل زرہ یہ جوہر فولاد لیں اتار\nنعرہ کریں تو کوہ صدا دیں نہ ایک بار\nجب یا حسینؑ کہہ کے یہ قبضے کو چوم لیں\nیوسفؑ سے مصر لیں تو سکندر سے روم لیں\n\nہمت یہ ہے جو زرنہ ہو یہ سر عطا کریں\nجرأ ت یہ ہے کہ لاکھوں سے تنہا دعا کریں\nطلعت یہ ہے کہ ذرے کو شمس الضحیٰ کریں\nقدرت یہ ہے کہ شمع سے شعلہ جدا کریں\nدشمن اگر فلک پہ بھی وقت جدال جائے\nتیغ ان کی آسمان پہ مثل ہلال جائے\n\nہو آگ سرد خوف سے یہ گرم ہوں اگر\nلو ہا ہو موم سنگ ہو پانی دم نظر\nآہستہ پنجہ رکھ دیں جو دشمن کے پنجے پر\nدر آئے صاف پنجے میں یوں پنجہ سر بسر\nپھر سوزن خرد کو نہ یارا رفو کا ہو\nدستانہ ان کے ہاتھ کا پنجہ عدو کا ہو\n\nمرکب عراقی و عربی رشک حور طور\nیکساں ہر ایک راہ ہے ان گھوڑوں کے حضور\nدریا و کوہ پست و بلند و قریب و دور\nچل پھر کا امتحاں جو کریں صاحب شعور\nغصے سے یاں تلک یہ ضعیف و نزار ہوں\nتاگے کی طرح سوئی کے ناکے سے پار ہو\n\nبال ان کے شہپر ملک الموت موبمو\nوالجمع ان سے دوست پریشاں مگر عدو\nہوں قطرہ زن تو چرخ پہ کرلے ہما وضو\nمحراب نعل میں رہے سجدے کی آرزو\nبے بال و پر مثال شرر اڑتے پھرتے ہیں\nبن بن کے بجلیاں صف دشمن پہ گرتے ہیں\n\nجلاد کربلا کے ہیں موجود اس طرف\nخولی و شیث و ابن ربیعئ ناخلف\nوہ یا یزید کہتے ہیں یہ یاشہ نجف\nتیغیں اپی ہوئی نظر آتی ہیں صف بصف\nکس پر جفا و ظلم کا واں خاتمہ نہیں\nہاں بہر ذبح اک پسر فاطمہؑ نہیں\n\nگوپال آ ہنی لیے اک سمت بد گہر\nبھالے سنبھالے دوش پہ اک طرف نیزہ ور\nاک سولئے کمندوں کے حلقے زبوں سیر\nتھے اپنے اپنے غول میں وہ غول سر بسر\nگرز گراں تھے بعض گراں سر لئے ہوئے\nبعضے شریر صارم وجمدھر لئے ہوئے\n\nوہ رستمان حرب عرق و عرب کے بل\nوہ ٹولیاں سواروں کی وہ پیدلوں کے دل\nوہ ڈانڈ پر چمکتے ہوئے برچھیوں کے پھل\nسریاں وہ گول گول وہ پیکان چو پہل\nاڑنا وہ بیرقوں کا لچکنا نشانوں کا\nبل کھانا رایتوں کا دمکنا سنانوں کا\n\nتیشے لئے سواروں کے ہمراہ خیل تاش\nہوں جن کے دست جور سے کہسار پاش پاش\nبد خواہ و بدمست و بد آئین و بد قماش\nجمالوں کی وہ صوت حدی سامعہ خراش\nمحمل سے تھی کسے ہوئے آنچل ہوائے تند\nناقے تھے یا ہوئی تھی مشکل ہوائے تند\n\nکوسوں تلک تھے دامن جنگل میں کینہ خواہ\nکوتہ ہوئی تھی وسعت صحرا پئے سپاہ\nبھیڑ اس قدر کہ پیک نظر کو ملے نہ راہ\nفکر و قیاس وہم جہاں جا کے ہو تباہ\nہم راہ ان خبیثوں کا رہبر مگر ہوا\nناری دخان شعلہ بنے جب گزر ہوا\n\nمختار نعرہ زن تھا سوئے لشکر گراں\nہاں بہر حرب و ضرب بڑھو کھول کر نشاں\nنکلا ادھر سے مرۂ ظالم لئے سناں\nیہ وہ تھا جس نے مارا تھا اکبرؑ کو نوجواں\nیاں سے یتیم مالک اشتر رواں ہوا\nگویا کہ حلق کفر پہ خنجر رواں ہوا\n\nحشمت ابد ابد تھی تو رونق ازل ازل\nہستی پکارنے لگی ہر سو اجل اجل\nقالب کا روح کو تھا اشارہ نکل نکل\nبولی زمین گاوز میں سے سنبھل سنبھل\nہاں رن میں آمد آمد مرد دلیر ہے\nیہ شیر کردگار کے شیروں کا شیر ہے\n\nمرہ نے وہ رجز پڑھا جس سے ہوئے وہ غش\nبولا شقی میں قاتل اکبرؑ ہوں شیروش\nیہ بولے ہم ہیں فدیۂ سادات فاقہ کش\nجن کے عزیز رن میں موئے کہہ کے الطعش\nازدر لقب دیا ہے مجھے کرد گار نے\nبخشی ہے تیغ فتح شہ ذولفقار نے\n\nازرق یزیدی فوج میں تھا فخر رو و شام\nنام آوروں کی تیغوں پہ کندہ تھاجس کا نام\nرہتا تھا محو ضرب شجاعوں سے صبح و شام\nاور نام ان کے لکھے تھے اک فرد پر تمام\nباندھا تھا شانے پر وہ نوشتہ غرور سے\nکم جانتا تھا زور سلیماں کو زور سے\n\nاک دفعہ خود روم کیا اس نے زیب سر\nاور زیب جسم کی زرۂ مصر سر بسر\nچار آئینہ حلب کا سنوارا ادھر ادھر\nلٹکا لیا کمان کیانی کو دوش پر\nمکے کی ڈھال رخ پہ امید نجات میں\nایک تیغ ہند زیر رکاب ایک ہاتھ میں\n\nجنبش میں آیا کوہ کی صورت میں وہ شریر\nگردش میں لایا نیزے کو مانند چرخ پیر\nرہوار مغربی پہ چڑھا بہردار و گیر\nزریں کمر غلام لیے سب کمان و تیر\nحیران اس کی دید سے ہر ایک جواں ہوا\nلشکر سے یا معاویہ کہہ کر رواں ہوا\n\nجاکر حضور ابن حسنؑ اس نے دی ندا\nازرق مرا خطاب ہے مشہور جا بجا\nاے طفل جنگجو ترا نام و نسب ہے کیا\nفرمایا نام قابض ارواح ہے مرا\nہنگامۂ حیات کو اب فوت جانیو\nاپنے لیے مجھے ملک الموت جانیو\n\nیہ کہہ کے اس لئیم ازل پر کیا جووار\nابرو کی ب کو دو کیا دال دہن کو چار\nاللہ رے آتش دم شمشیر شعلہ بار\nارزق کی تیغ پر جو پڑا عکس ایک بار\nمثل سپند جوہر شمشیر اڑ گئے\nرن کی زمیں سے اختر سیار مڑ گئے\n\nکیا کاٹنے میں آب دم تیغ تیز تھا\nتیزاب سے بھی تیز بوقت ستیز تھا\nرہوار بے حواس دم جست و خیز تھا\nپر لنگ انکے ہاتھ سے پائے گریز تھا\nپٹکا پکڑ کے لے گئے یوں اس کو زین سے\nوہ زین سے جدا ہوا مرکب زمین سے\n\nہم میں بھی ہیں انہیں کے کرم سے یہ سب ہنر\nسن ہو گیا یہ سنتے ہی سر ہنگ خیرہ سر\nجینے سے ہاتھ اٹھا کے لگائی سناں مگر\nغازی نے دار خالی دیا رخش پھیر کر\nپھر نیزہ کاٹا تیغ سے یوں ایک ضرب میں\nاک نصف شرق میں گرا اک نصف غرب میں\n\nنیزے کے بدلے نیزہ لگا یا جو دوڑ کر\nشمع سناں کا ہو گیا فانوس اس کا سر\nپر وانہ وار چلنے لگے مرغ جاں کے پر\nبولے گرا کے آب دہن اس کی ریش پر\nدوزخ میں جا یزید کی خدمت کے واسطے\nدنیا میں تیرا نام ہے لعنت کے واسطے\n\nتنہا ادھر تھے آپ ہزاروں شقی ادھر\nاس پر نہ تھا ہر اس زہے دل خوشا جگر\nچلتی تھیں برچھیاں کبھی تیغیں کبھی تبر\nسب کو جواب دیتی تھی اک تیغ شعلہ ور\nپھرتی تھی جب کہ ضرب عدد روک روک کر\nدو کرتی تھی ہر ایک کو پھر ٹوک ٹوک کر\n\nپر جس شقی پر عکس حسام ظفر گرا\nدو ٹکرے ہو کے نصف ادھر نصف ادھر گرا\nسائے کی طرح پاؤں پہ سردوڑ کر گرا\nغل تھا زمیں پہ کفر و ضلالت کا در گرا\nجب وقت ضرب ہاتھ میں شمشیر پھر گئی\nمالک کی سب کی آنکھوں میں تصویر پھر گئی\n\nتن سے علیحدہ ہوئیں تیغیں مع کمر\nقرص سپر کے ساتھ اڑے تیز تیز پر\nبکتر زرہ کے ساتھ کٹے ہو کے خوں میں تر\nچلوں کے ساتھ ہاتھ تو تھے سر کے ساتھ سر\nرایت سناں کے ساتھ جھکے کانپتے ہوئے\nپرچم گرے پھر ہروں سے منہ ڈھانپتے ہوئے\n\nاک منہ کے دو منہ آئے نظر وہ صفائے تیغ\nنابیں تھیں یادو ابروئے جنگ آزمائے تیغ\nجوہر تھی یا کہ خندۂ دنداں نمائے تیغ\nوہ چم وہ خم وہ باڑھ وہ بانکی ادائے تیغ\nزخموں کے گل کھلے جو وہ گلگوں قبا چلی\nدل پس گئے جدھر کو وہ نازک ادا چلی\n\nپڑھتی ہوئی زبان سے ناد علی پھری\nتعزیر اہل شام کو دی جان لی پھری\nسینوں میں اور دلوں میں خفی اور جلی پھری\nکس کس ادا و ناز سے اٹھی چلی پھری\nدامان دشت خون سے گل رنگ ہوگیا\nبھاگاجو اسپ کوئی تو چورنگ ہوگیا\n\nوہ دم کس اس کا اور وہ چم خم و آب و تاب\nآفت کی باڑھ قہر کا کاٹ اور غضب کی آب\nجس ناب سے کہ زہرۂ رستم ہو خون ناب\nدریائے تیغ ہر پل محشر کا تھا جواب\nدریا چڑھا وہ خوں کا کہ پیراک ڈر گئے\nنالوں کے پل پہ سر بدنوں سے اتر گئے\n\nبسمل پڑے تھے دن میں کہیں کہہ کہیں پہ مہ\nنیزوں کے بند قرص سپر حلقۂ زرہ\nکھولی اجل نے ناخن تدبیر سے گرہ\nاستادہ خاک پر کہیں سیسر کہیں پہ زہ\nجمدھر کہیں عمود کہیں برچھیاں کہیں\nترکش کہیں خدنگ کہیں اور کماں کہیں\n\nشپیرؑ کے غلاموں سے کہتے تھے اشقیا\nتم کیا ہو ہم پہ ورنہ ہوئے شاہ دوسرا\nہم نے قلم کیا سر فرزند مرتضیٰ\nہم نے رسولؐ زادیوں کی چھین لی قبا\nزندہ خدا کرے اگر ابن بتولؑ کو\nپھر کاٹیں بوسہ گاہ جناب رسولؐ کو\n\nاصغرؑ جو زندہ ہو تو ابھی تیر پھر لگائیں\nزخمی کریں جگر کو جو اکبرؑ کا سینہ پائیں\nشانے امام حسینؑ کے بازو کے کاٹ لائیں\nمقدور ہو تو بلوے میں سادات کو پھرائیں\nمنظور قتل عام کی اب سیر ہے تمہیں\nشر ہم سے کرنے آئے ہو کچھ خیر ہے تمہیں\n\nدیتے تھے یہ جواب غلامان مرتضی\nہاں یہ غرور ہے تمہیں اے لعنت خدا\nواں رحم تھا کرم تھا مروت تھی صبر تھا\nجتنا خدا کا حکم تھا اتنا ہر اک لڑا\nچمکی تھی تیغ جب کہ شہ کم سپاہ کی\nکس نے دہائی دی تھی رسالت پناہ کی\n\nخیر ان کی ان کے ساتھ شجاعت تھی یا کرم\nاب آج اس طرح سے لڑو تم تو جانیں ہم\nلیکن حلال خون عدوئے امام ہے\nتم کو بھی ماریں بچوں کے سر بھی کریں قلم\nکھانا ہمیں حرام ہے پینا حرام ہے\nلیکن حلال خون عدوئے امام ہے\n\nاک دن میں دیکھ لیجیو کس کس کا خون بہا\nکس کس کی عورتیں پھریں کوچوں میں بے ردا\nسب کچھ یہ ہم کریں گے مگر وا مصبتا\nدل سے مٹے گا داغ نہ زینب کی قید کا\nکونین ہوں جو قتل تو راضی خدا نہ ہو\nیعنی حسینؑ فاطمہؑ کا خوں بہانہ ہو\n\nجب خون ناحق شہدا جوش زن ہوا\nاور انتقام کا ترو تازہ چمن ہوا\nمختار مورد مدد پنچتن ہوا\nمحو قصاص قتل شہ بے کفن ہوا\nکوفہ سلاح پوشوں سے آباد ہوگیا\nتختہ زمیں کا بیضۂ فولاد ہوگیا\n\nآیا ادھر سے جب ورقہ جنگ کو ادھر\nقبضے میں تیغ سطر تھی اور نقصے کی سپر\nاس نامور نے تیغ کے ڈورے سے سربسر\nمسطرپئے رقم کیا ورقہ کے جسم پر\nتنخواہ زخم دے کے دل افسردہ کردیا\nورقہؔ کا چہرہ فرد برآوردہ کردیا\n\nبولی اجل کے ٹکڑے برابر ہوئے ہیں چار\nپر بے دلیل عقل کو آیا نہ اعتبار\nرگ رگ کو عضو عضو کو اس نے کیا شمار\nگن ڈالے موئے کاسۂ سر بھی سب ایک بار\nکیا ہاتھ تھا تلا ہوا اس خوش خصال کا\nٹکڑوں میں سر کے فرق نہ تھا ایک بال کا\n\nاسحاقؔ نام آ کے ہوا پھر تو رزم خواہ\nدرہ اسی نے مارا تھا بنت علیؑ کو آہ\nتیغ سفید دوش پہ رکھے تھا روسیاہ\nغازی نے ہاتھ زیر بغل سے بڑھا کے واہ\nیوں نوک تیغ کھینچی کہ غش وہ بھی کر گیا\nقبضہ تو ہاتھ میں رہا اور پھل اتر گیا\n\nتو طرفہ بے خودی کہ نہ ان پہ ہوا گماں\nسمجھا کسی نے پشت پہ کی دزدیٔ نہاں\nدیکھا قفا کو تیغ کا پھل تھا وہاں کہاں\nپر تیغ ابن مالک اشتر پڑی یہاں\nرخ تو ادھر تھا فرق جسد پر ادھر نہ تھا\nواں دیکھا پھل نہ تھا جو مڑایاں تو سر نہ تھا\n\nآکر دغا طلب ہوا پھر خازن عمر\nنام اس کا در ہمی تھا سیہ قلب بدسیر\nشکل فلوس تن پہ زرہ آتی تھی نظر\nتیغ ان کی مثل سکہ ہوئی اس پہ کار گر\nیوں تیغ خوردہ ہو کے زمیں کے تلے گیا\nگویا چرا کے دزد اجل اس کو لے گیا\n\nلکھا ہے تہ نشیں ہوا افسل مثال دُرد\nمردہ نہ پایا ڈھونڈ پھرے گو بزرگ و خرد\nتحت الثریٰ کو قہر خدا نے کیا سپرد\nتھا درہمی زمیں نے کیا اس کو خورد برد\nقارون کے خزانہ میں وہ تیرہ دل گیا\nیہ درہمی بھی درہموں میں جاکے مل گیا\n\nآئی ندا علیؑ کی کہ شاباش میرے شیر\nمختار بولا ایدک اللہ اے دلیر\nاب ہم لڑیں گے دم لو وغا کو ہوئی ہے دیر\nتم سیر ہوگے خون سے ان کے نہ بندہ سیر\nہاں بڑھ کے کیا ہٹو کہ علیؑ کے غلام ہو\nسقے کو بھیج دوں تم اگر تشنہ کام ہو\n\nبولا وہ مڑ کے پیاس تو ہے پر نہیں ہراس\nسقہ کھڑا ہوا ہے سکینہؑ کا میرے پاس\nکہتے ہیں پانی پی لے جو تجھ کو لگی ہے پیاس\nآقا کو میرا دھیان ہے آقا کو میرا پاس\nپانی کا نام زہر سے اس دم زیاد ہے\nوہ کربلا کا پیاسا بھی کچھ تم کو یاد ہے\n\nناگاہ اس طرف سے کماندار اک بڑھا\nاستاد اپنی فی میں تھا وہ بانی جفا\nسوفار لب کو وا کئے دیتے تھے بددعا\nچلہ کماں نے باندھا تھا جلد اس کو ہو قضا\nبھاگا لگا کے تیر وہ تیر رواں کی شکل\nغازی نے بڑھ کے کھینچا گریباں کماں کی شکل\n\nتیغ اس نے کی حوالۂ رو جلد کھینچ کر\nوہ آنکھ پر پڑی پہ ہوئی کچھ نہ کار گر\nابرو کی تیغ چشم کو جیسے نہ دے نظر\nغازی نے زہ کماں کو کیا اور کہا ٹھہر\nاک جنبش مژہ میں اسے کور کردیا\nپلکوں کی طرح تیروں سے آنکھوں کو بھردیا\n\nجب ایک ایک ورنہ ہوا بانی جفا\nباہم دہل بجاتے بڑھے سارے اشقیا\nطبل خروج یاں بھی بجا پھر تو جا بجا\nلشکر سے لشکر آ کے غرض راہ میں ملا\nناحق گروہ ظلم جو شیعوں سے لڑتا تھا\nخون گلو انہیں کا گریباں پکڑتا تھا\n\nمیداں میں فوج لڑتی تھی باہم ادھر ادھر\nافسر تھا ان کا روکش مختار نامور\nدونوں کا یوں مقابلہ جس طرح خیر و شر\nگہہ دور گاہ پاس گہے وقفۂ ہنر\nمل کر کبھی سپر سے سپر منہ کی کھا گئی\nلڑ کر کبھی سناں سے سناں لڑکھڑا گئی\n\nآیا نہ اس کی فوج سے کوئی پئے مدد\nاک دو کے بیچ میں نہیں جیسے کوئی عدد\nمہر سپر کی تیغ نے مانی نہ کچھ سند\nجس طرح خار سے سپر آبلہ ہو رد\nبل رشتۂ کمر کی گرہ سے نکل گیا\nچھن چھن کے دل کا درد زرہ سے نکل گیا\n\nشرما کے وہ تو بھاگ گیا صورت شرر\nمختار سوئے فوج پھرا سینہ تان کر\nانگشتری کی طرح سے سرہائے اہل شر\nنیزے کی پور پور میں آنے لگے نظر\nہر چشم میں سناں پہ چبھوتا تھا خشم میں\nپتلی نہ مثل دیدۂ سوزن تھی چشم میں\n\nکھینچا بغل میں تنگ زرہ پوش کو اگر\nکڑیاں رگوں کی طرح چبھیں تن میں سر بسر\nاور سر میں ضرب مشت لگائی جو دوڑ کر\nنکلا مثال آبلہ تلوے سے خود سر\nاک دم میں خون فوج کے دریارواں ہوئے\nکیا یسفک الدما کے معنی عیاں ہوئے\n\nشامی کو زور حشر کا نقشہ دکھادیا\nرومی کے دل سے رتبۂ قیصر بھلا دیا\nمصری کو زہر خنجر ہندی پلا دیا\nکوفی کو کاف مرگ کا مرکز بنادیا\nاہل حلب تھے شیشہ صفت چور تیغ سے\nزنگی کو مثل زنگ کیا دور تیغ سے\n\nغازی تھے محو رزم لیے تیغ اور سپر\nپیدا ہلال فتح بھی تھا اور شب ظفر\nکٹ کر نشان ان کے گرے تھے ادھر ادھر\nانبار نیزہ و سپر و تیغ و خود وسر\nتھا شور الحذر فلک بے دریغ سے\nدل چاک تھا زمیں چکا چاک تیغ سے\n\nمختار کہتا تھا کہ بروح ابوتراب\nڈوبے گی جب تلک نہ لہو سے مری رکاب\nمیں خانماں کروں گا ستمگاروں کا خراب\nکی شیعۂ علیؑ کی دعا حق نے مستجاب\nخون آ کے اس کے پاؤں پڑا قتل گاہ میں\nیعنی کہ بس کوئی نہیں باقی سپاہ میں\n\nمختار نامور نے کیا سجدۂ خدا\nقاتل جو کچھ رہے تھے اسیران کو کرلیا\nشمر وسناں تھے حرملا تھا ابن سعد تھا\nکی بزم عیش صبح کو ایوان میں بپا\nجلوہ زیادہ ہوگیا بزم مراد کا\nدو عیشیں تھیں کہ آیا سر ابن زیاد کا\n\nسب قاتلوں کو بزم میں بلوا کے یہ کہا\nکیوں آہ فاطمہؑ کا اثر آج تو کھلا\nپھر حرملہ کو تو دہ کیا تیر عدل کا\nاہل خطا پہ چلنے لگے تیر بے خطا\nتلوار سے پیام اجل برملا دیا\nپھر بورئیے میں رکھ کے بدن کو جلا دیا\n\nناری ہوا جو خاک تو دی عدل نے ندا\nبس آج سرمہ دیدۂ انصاف کو ملا\nپر خاک ہونے پر بھی صدا تھی جلا جلا\nاور سر کیا عمر کابھی دیداروں نے جدا\nدوڑا کے گھوڑے لاش پہ سب حرف زن ہوئے\nپامال اس کے حکم سے ستردو تن ہوئے\n\nتھرایا شمر دیکھ کے یہ حالت عمر\nسب نے گرایا پشت بخاک اس کو کھینچ کر\nاک سنگ لا کے چھوڑ دیا اس کے سینے پر\nرویا شقی تو بولا یہ مختار خوش سیر\nخاموش استغاثہ نہ اے بدنہاد کر\nوہ بیٹھنا حسینؑ کے سینے پہ یاد کر\n\nزینبؑ خداکے واسطے دیتی رہی اور آہ\nبیٹھا رہا تو سینے پہ سید کے بے گناہ\nبنت سکینہؑ کرتی رہی وا محمداہؐ\nکاٹا کیا تو چین سے احمدؐ کی بوسہ گاہ\nانجام ہے یہ خون شہ بے گناہ کا\nدیکھا اثر جناب رسالتؐ کی آہ کا\n\nیہ کہہ کے سر اتار لیا تن سے ایک بار\nپھر تو سناں پہ چلنے لگے برچھیوں کے وار\nغل تھا یہ ہے وہ دشمن مولائے بے دیار\nبالشت بھر جگہ سے ہوا جس کا نیزہ پار\nشہ رگ جو کاٹی تیغ سے اس روسیاہ کی\nمردود نے تو آہ کی ہاتف نے واہ کی\n\nہنگامۂ قصاص تھا برپا کہ ناگہاں\nمسلم کے اک یتیم کا قاتل ہوا عیاں\nتھامے ہوئے تھا مرکب زخمی کی وہ عناں\nآنسو تھے دونوں آنکھوں سے اس گھوڑے کے رواں\nراکب کی یاد دیکھ کے مرکب کو آگئی\nوہ آہ سب نے کی کہ زمیں تھر تھرا گئی\n\nناگاہ ایک بچہ وہاں آیا رشک ماہ\nمنہ بھولا بھولا رخ پہ سیادت کا عزو جاہ\nپر ٹوپی اس کے سر پہ نہ کرتا گلے میں آہ\nگیسو پہ خاک ڈالے ہوئے مثل داد خواہ\nفاقے سے تھا یہ حال کہ جان اس کی جاتی تھی\nآواز استخواں سے لرزنے کی آتی تھی\n\nقاتل کے گرد جمع تھے مومن ادھر ادھر\nمختار تک نہ جا سکا وہ غیرت قمر\nفاقے سے گر کے رونے لگا در پہ بیٹھ کر\nمختار بولا کون یہ ہے لاؤ تو خبر\nسب نے کہا غریب سا اک لڑکا روتا ہے\nجرأت نے دی ندا کہ یہ مسلم کا پوتا ہے\n\nمحفل میں اس کو لا کے مخاطب ہوئے بشر\nسید تمہارا نام کہا اس نے بے پدر\nبے کس یتیم مسلم بیکس کا ہوں پسر\nمختار بولا سیدنا آئے تم کدھر\nرو کر کہا کہ وقت میں یاں تک خلل پڑا\nفاقوں کے مارے بھائی میں گھر سے نکل پڑا\n\nمحفل میں سب نے نوحہ کیا وا محمدؐاہ\nیہ حال مصطفےٰ کے یگانوں کا آہ آہ\nمختار نے پنہایا اسے کرتا اور کلاہ\nوہ بولا میری ماں بھی ہے عریاں خدا گواہ\nمختار نے دراہم و خلعت منگادیئے\nسید نے چھوٹے ہاتھ دعا کو اٹھا دیئے\n\nمختار نے کہا کہ طلب کچھ تو اور کر\nبولا دکھا کے باپ کے قاتل کو وہ پسر\nبس یہ ہے آرزو کہ ہمیں کاٹیں اس کا سر\nاک نیمچہ منگا کے دیا اس نے جلد تر\nفاقوں سے گونقیہ بہت وہ یتیم تھا\nپر نیمچہ جو مارا تو قاتل دو نیم تھا\n\nپھر نیزوں پر علم کئے مختار نے وہ سر\nاور کشتیوں میں اس نے دھرا رخت و مال و زر\nبولا یہ دوستان علیؑ سے وہ خوش سیر\nلے جاؤ ہے یہ ہدیۂ سجاد نامور\nکہنا کوئی حسینؑ کا قاتل رہا نہیں\nپر بے حسینؑ جینے کا اپنے مزا نہیں\n\nزینبؑ کو میری سمت سے یہ دیجیو پیام\nاے سیدہ حسینؑ کا تو کب ہے انتقام\nپر قاتلوں کو قتل کیا میں نے لاکلام\nرخت سیہ اتار اب اے خواہر امام\nآئی ندا وہ سوگ نہ حاشا اتارے گی\nزینبؑ اتارے گی تو نہ زہراؑ اتارے گی\n\nلے کر چلے یہ ہدیہ غلامان بوتراب\nمثل نزول رحمت حق پہنچے واں شتاب\nاس دم مگر ہوئے در عابد پہ بار یاب\nجب چاشت کھا رہے تھے امام فلک جناب\nبچوں پہ ہو نہ فاقہ یہ مطلب تمام تھا\nان کا تو ماحضر غم قتل امام تھا\n\nفضہ کو مومنوں نے بلایا قریب در\nوہ سر بھی کشتیاں بھی اسے سونپیں سربسر\nمختار کا پیام کہا ہاتھ باندھ کر\nفضہ وہ ہدیے لے گئی زینبؑ کو دی خبر\nدن آج تو خدا نے دکھایا مراد کا\nبی بی مبارک آیا سرابن زیاد کا\n\nحجرے میں اپنے بھائی کے وہ کرتی تھی بکا\nآہ و فغاں کے دھیان میں اس نے نہ کچھ سنا\nبولی مبارکی کسے دیتی ہے کیا ہوا\nاٹھ آیا کیا مزار سے دل بند مصطفیٰ\nکیا جیتا قتل گاہ سے اکبرؑ پھرا مرا\nکیا گھنٹیوں مدینے میں اصغرؑ پھرا مرا\n\nوہ بولی قاتلوں کے سر آئے جدا جدا\nزینبؑ پکاری آئے تو آنے دے مجھ کو کیا\nایسے شقی اگر ہوئے بے سرہزارہا\nداغ حسینؑ مٹتا ہے دل سے کہیں بھلا\nمحشر تلک رہے گا یہ ناسور سینے میں\nہے ہے حسینؑ قبر میں زینبؑ مدینے میں\n\nمرجانہ کے پسر کا جو عابدؑ نے دیکھا سر\nبولے حرم سے قدرت حق پر کرو نظر\nاک دن وہ تھا کہ کھاتا تھا کھانا یہ بد سیر\nجب شمر لے گیا تھا سر شاہ بحر و بر\nبارہ گلے بندھے ہوئے اک ریسمان سے\nہم تم کھڑے تھے چپکے اسیروں کی شان سے\n\nاور ایک روز یہ ہے کہ ہم کھاتے ہیں غذا\nسر اس کا میرے سامنے یہ ہے دھرا ہوا\nسجدے کو گر پڑے حرم شیر کبریا\nآئیں گھروں سے عورتیں سن کر یہ ماجرا\nہر سر کی سمت کو یہ حرم کا اشارا تھا\nلوٹا تھا اس نے اس نے ہمیں نیزہ مارا تھا\n\nدیکھا سکینہؑ نے جو سر شمر بد صفات\nگرنے لگی وہ سہم کے صغراؑ کا تھامے ہاتھ\nبولی بہن ڈرو نہ ہے ڈرنے کی کون بات\nانگلی اٹھا کے آہ پکاری وہ نیک ذات\nکیوں کر نہ میں ڈروں کہ بہت صدمے پائے ہیں\nصغراؑ ہمیں اسی نے طمانچے لگائے ہیں\n\nعابدؑ سے یہ کہا کہ ذرا مجھ کو دو یہ سر\nلے جاؤں اس کو قبر رسالتؑ پناہ پر\nاور قبر کو ہلاؤں کہ یا سید البشر\nحاضر ہے شمر جس نے لیا ہے مرا گہر\nپوچھو تو کیا جواب یہ دیتا ہے آپ کو\nمارا ہے کس خطا پہ سکینہؑ کے باپ کو\n\nناگہ کیا امام نے ان کشتیوں کو وا\nدیکھا سفید کپڑوں کو اور آگئی حیا\nرو کر زنان ہاشمیہ سے یہ پھر کہا\nسمجھاؤ تم پھوپھی کو کہ بس ہوچکی عزا\nحجرے سے باہر آتی ہے نے پانی پیتی ہیں\nاعجاز ہے حسینؑ کے غم کا کہ جیتی ہیں\n\nکہنا مری طرف سے کہ اے صاحب عزا\nشپیرؑ کی عزا کا تمہیں اجر دے خدا\nیثرب میں اب تلک کوئی دولہا نہیں بنا\nسرمہ زنان ہاشمیہ نے نہیں دیا\nیہ تو وہ غم ہے حشر تلک خلق روئے گی\nپر اب مدینے والوں کو تکلیف ہوئے گی\n\nلائیں جو کشتیاں سوئے زینبؑ وہ نوحہ گر\nدیکھا زمیں پہ بیٹھی ہے تنہا جھکائے سر\nنام حسینؑ لکھتی ہیں انگلی سے خاک پر\nلے کر بلائیں حرفوں کی ملتی ہیں چشم پر\nسب گرد بیٹھیں رونے کو منہ ڈھانپ ڈھانپ کر\nقبر رسولؑ رہ گئی بس کانپ کانپ کر\n\nجب رو چکیں تو کشتیوں کو کھول کر کہا\nیہ کپڑے سب ہیں ہدیۂ مختار باوفا\nہم صدقے سوگ اتارئیے اے بنت مرتضی\nاب تک کسی نے ہم میں سے شانہ نہیں کیا\nہم کپڑے پہنیں آب بھی وعدہ جو لیجئے\nدیں سرمہ ہم بھی آپ اگر سرمہ دیجئے\n\nزینب پکاری آہ کہاں جاؤں اے خدا\nلوگو مجھے نہ تنگ کرو بہر مصطفی\nگھر چھوڑ دوں اگر مرے رونے پہ ہو خفا\nجنگل میں جا کے بھائی کی خاطر کروں بکا\nمرتے ہوئے بھی سوگ نہ ہرگز بڑھاؤں گی\nفردوس میں یہی کفنی پہنے جاؤں گی\n\nکیا اک فقط حسینؑ برادر کا سوگ ہے\nاے صاحبو بتولؑ کے گھر بھر کا سوگ ہے\nاکبر کا سوگ ہے علیؑ اصغرؑ کا سوگ ہے\nکس کا اتاروں سوگ بہتر کا سوگ ہے\nاک اک برس جو سوگ کی ان کے ہوس کروں\nماتم مسافروں کا بہتر برس کروں\n\nشادی تمہیں جہاں میں برابر نصیب ہو\nعقد پسر عروسیٔ دختر نصیب ہو\nزینب کو ماتم علی اکبرؑ نصیب ہو\nیہ بوریائے سوگ برادر نصیب ہو\nمرتی ہوئی میں گنج شہیداں پہ جاؤں گی\nجن کا ہے سوگ قبر پہ ان کی بڑھاؤں گی\n\nاچھا میں سرمہ دیتی ہوں خاک شفا منگاؤ\nلو سوگ میں بڑھاتی ہوں بھائی سے پوچھ آؤ\nاچھا یہ کپڑے گنج شہیداں پہ لے کے جاؤ\nمس کرکے خاک پاک سے زینبؑ کے پاس لاؤ\nہدئیے میں سوگواروں کے یہ پیرہن دیا\nحضرت کی لاش کو نہ کسی نے کفن دیا\n\nسر ڈھانپ لوں کہو علی اکبرؑ بھی آئیں گے\nبدلوں میں کپڑے بھائی گلے سے لگائیں گے\nعباسؑ قتل گاہ سے تشریف لائیں گے\nپونچھوں میں آنسو منہ علی اصغرؑ دکھائیں گے\nمانگو دعا بتولؑ کی جائی کے واسطے\nمرجائے روتی روتی یہ بھائی کے واسطے\n\nزندہ ہوں صاحبو میں تمہاری نگاہ میں\nمردہ ہوں میں فراق شہ کم سپاہ میں\nزینب کہاں ہے آل رسالت پناہ میں\nوہ وقت عصر ذبح ہوئی قتل گاہ میں\nزہراؑ کے رشتہ داروں کی تقدیر پھر گئی\nسب کے گلے پہ شمر کی شمشیر پھر گئی\n\nگر تم کو اپنے ساتھ رلاؤں گناہگار\nرونے کو گھر تمہارے جو آؤں گناہگار\nیا اپنے گھر کسی کو بلاؤں گناہگار\nمہماں جو شادی بیاہ میں جاؤں گناہگار\nشادی کی رسم اٹھ گئی اس خاندان سے\nسب تھا حسین تک وہ سدھارے جہان سے\n\nپھر ماں کی قبر پر گئی زینبؑ برہنہ پا\nبولی پسر کو روتی ہو تنہا لحد میں کیا\nبی بی ہمارے رونے سے اب خلق ہے خفا\nدو پہلوئے شکستہ میں تھوڑی سی مجھ کو جا\nاماں بلا لو قبر میں مجھ بے نصیب کو\nہم آپ مل کے روئیں حسینؑ غریب کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D9%82_%D9%86%DB%92_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D9%82%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "روشن ہزار چند ہیں شمس و قمر سے آپ", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روشن ہزار چند ہیں شمس و قمر سے آپ\nغائب ہیں پر نگاہ کی صورت نظر سے آپ\n\nآنکھیں بچھاتے پھرتے ہیں مشتاق راہ میں\nکیا جانیے گزرتے ہیں کس رہ گزر سے آپ\n\nروئے کوئی غریب تو ہنسنا نہ چاہئے\nواقف نہیں کسی کے فغان اثر سے آپ\n\nکانٹے بھرے ہیں خط میں جو چھوتے نہیں اسے\nاتنا نہ ہاتھ کھینچیے میری خبر سے آپ\n\nرہ گیر کیوں تڑپتے ہیں تشویش تھی مجھے\nاب کھل گیا کہ جھانکتے ہیں چاک در سے آپ\n\nحمام نے تو اور بھی چمکا دیا بدن\nگویا نہا کے نکلے ہیں آب گہر سے آپ\n\nلائیں گے راہ پر یہ رخ و زلف ایک دن\nدیکھیں گے شام تک مرا رستہ سحر سے آپ\n\nآنکھوں کی طرح رونے لگیں روزن مکاں\nپوچھیں ہمارا حال جو دیوار و در سے آپ\n\nمریخ پن مزاج میں اعضا میں نازکی\nتیغ شعاع باندھئے اپنی کمر سے آپ\n\nاے زاہدان خشک یہ غیرت کا ہے مقام\nآگاہ آج تک نہیں خالق کے گھر سے آپ\n\nظاہر ہے مرغ قبلہ نما بھی گواہ ہے\nکعبے کی سمت پوچھتے ہیں جانور سے آپ\n\nکیوں کر ملک کہوں کہ ملک خادم آپ کے\nہیں وہ بشر کہ ملتی ہیں خیر البشر سے آپ\n\nجو بات آپ کی ہے مشیت خدا کی ہے\nبے شبہ مختلط ہیں قضا و قدر سے آپ\n\nپھسلا ہے میرے آنسوؤں میں پاؤں آپ کا\nبندے کا سر اتارئیے آج اپنے سر سے آپ\n\nاے بحرؔ رحم کھائے گا وہ رونے پر ضرور\nدھو رکھئے اپنے منہ کو ذرا چشم تر سے آپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D9%85%D8%B3_%D9%88_%D9%82%D9%85%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "روشن ہمارا دل ہے محمد کے نور سے", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "روشن ہمارا دل ہے محمد کے نور سے\nلائے ہیں اس چراغ کو ہم کوہ طور سے\n\nموسیٰ نے اس کو طور پہ دیکھا تھا دور سے\nروشن ہوئی ہے شمع حرم جس کے نور سے\n\nخلوت ہو ایسی جس میں فرشتے نہ سن سکیں\nاک دل کی بات عرض کروں گا حضور سے\n\nاس کے کرم نے کھینچ لیا جالیوں کے پاس\nڈرتا تھا میں سلام پڑھا میں نے دور سے\n\nجب تک نبی کی یاد نہ دل میں سمائے گی\nخالی نہ ہوگا دل مرا کبر و غرور سے\n\nدیدار ہو خدا کا زیارت رسول کی\nفردوس سے غرض ہے نہ مطلب ہے حور سے\n\nمیری نظر خطا نہ کرے گی یقین ہے\nپہچان لوں گا حشر میں حضرت کو دور سے\n\nعشق نبی سے نشہ عرفاں میں چور ہوں\nدھویا ہے میں نے دل کو شراب طہور سے\n\nآئیں گے آپ دل میں یہ وعدہ تو کیجیے\nمیں کعبہ مانگ لوں گا خدائے غفور سے\n\nروح القدس سے روح نے پایا ہے میری فیض\nسیکھی ہے نعت گوئی بڑے ذی شعور سے\n\nتڑپوں گا میں فراق نبی میں تمام عمر\nیہ وعدہ لے لیا ہے دل ناصبور سے\n\nرتبے کو مصطفیٰ کے ملائک سے پوچھیے\nسجدے کا حکم پہلے ملا ہے ظہور سے\n\nبیخودؔ کو جام بادہ کوثر ہو وہ عطا\nجنت میں جھومتا رہے جس کے سرور سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "روشن ہیں دل کے داغ نہ آنکھوں کے شب چراغ", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روشن ہیں دل کے داغ نہ آنکھوں کے شب چراغ\nکیوں شام ہی سے بجھ گئے محفل کے سب چراغ\n\nوہ دن نہیں کرن سے کرن میں لگے جو آگ\nوہ شب کہاں چراغ سے جلتے تھے جب چراغ\n\nتیرہ ہے خاکداں تو فلک بے نجوم ہے\nلائے کہاں سے مانگ کے دست طلب چراغ\n\nروشن ضمیر آج بھی ظلمت نصیب ہیں\nتم نے دیے ہیں پوچھ کے نام و نسب چراغ\n\nوہ تیرگی ہے دشت وفا میں کہ الاماں\nچمکے جو موج ریگ تو پائے لقب چراغ\n\nدن ہو اگر تو رات سے تعبیر کیوں کریں\nسورج کو اہل ہوش دکھاتے ہیں کب چراغ\n\nاے باد تند وضع کے پابند ہم بھی ہیں\nپتھر کی اوٹ لے کے جلائیں گے اب چراغ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA"} {"title": "روشن ہے کہ شاد سخن آرا میں ہوں", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "روشن ہے کہ شاد سخن آرا میں ہوں\nسمجھو نہ مجھے غیر تمہارا میں ہوں\nمغرب میں شعاع بڑھ کے پہنچے گی ضرور\nمشرق کا چمکتا ہوا تارا میں ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D8%A2%D8%B1%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "رومی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "غلَط نِگر ہے تری چشمِ نیم باز اب تک\nترا وجُود ترے واسطے ہے راز اب تک\nترا نیاز نہیں آشنائے ناز اب تک\nکہ ہے قیام سے خالی تری نماز اب تک\nگُسَستہ تار ہے تیری خودی کا ساز اب تک\nکہ تُو ہے نغمۂ رومیؔ سے بے نیاز اب تک!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%85%DB%8C"} {"title": "رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندُستان", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندُستان\nتُو بھی اے فرزندِ کُہستاں! اپنی خودی پہچان\n\nاپنی خودی پہچان\nاو غافل افغان!\n\nموسم اچھّا، پانی وافر، مٹّی بھی زرخیز\nجس نے اپنا کھیت نہ سینچا، وہ کیسا دہقان\n\nاپنی خودی پہچان\nاو غافل افغان!\n\nاُونچی جس کی لہر نہیں ہے، وہ کیسا دریاے\nجس کی ہوائیں تُند نہیں ہیں، وہ کیسا طوفان\n\nاپنی خودی پہچان\nاو غافل افغان!\n\nڈھُونڈ کے اپنی خاک میں جس نے پایا اپنا آپ\nاُس بندے کی دہقانی پر سُلطانی قربان\n\nاپنی خودی پہچان\nاو غافل افغان!\n\nتیری بے عِلمی نے رکھ لی بے عِلموں کی لاج\nعالِم فاضِل بیچ رہے ہیں اپنا دین ایمان\n\nاپنی خودی پہچان\nاو غافل افغان!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%85%DB%8C_%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%92%D8%8C_%D8%B4%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%92%D8%8C_%D8%A8%D8%AF%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%8F%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"} {"title": "رونا ان کا کام ہے ہر دم جل جل کر مر جانا بھی", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "رونا ان کا کام ہے ہر دم جل جل کر مر جانا بھی\nجان جہاں عشاق تمہارے شمع بھی ہیں پروانہ بھی\n\nساری عمر میں جو گزری تھی ہم پر وہ روداد لکھی\nپر ہوئی یوں مشہور کہ جیسا ہو نہ کوئی افسانہ بھی\n\nعشق سبھی کرتے ہیں مگر جو حالت مجھ پر طاری ہے\nمنہ سے کہوں گر ہاتھ ملے گا اپنا بھی بیگانہ بھی\n\nپوچھتے کیا ہو میرا ٹھکانا ایک جگہ گر ہو تو کہوں\nراہ گزر ہے یار کا در ہے مسجد بھی مے خانہ بھی\n\nراہ طلب میں چلتے پھرتے لاکھوں آتے جاتے ہیں\nخلق میں ہے عشاق کی منزل کعبہ بھی بت خانہ بھی\n\nمجھ پر وہ بے طور خفا ہیں غیروں کے بہکانے سے\nملنا کیسا بات کہاں کی بند ہے آنا جانا بھی\n\nایک ہمیں کیا پیچ میں ہیں اس زلف دوتا کی الفت سے\nمار سیہ ہم رنگ ہے اپنا سنبل تر بھی شانہ بھی\n\nکر دی صحبت درہم و برہم کس کی چشم کے افسوں نے\nبہکا ساقی ڈھلکی بوتل اور چھلکا پیمانہ بھی\n\nواعظ کے منہ پر نہ کہو کچھ شرع کی حرمت لازم ہے\nرندی میں مشروط نہیں ہیں باتیں آزادانہ بھی\n\nخنجر ابرو تیغ نگہ تقریر مسلسل چشم سیاہ\nتیز بھی ہے خوں ریز بھی دل آویز بھی ہے مستانہ بھی\n\nکوچہ میں اس کے جمع ہیں عاشق بھیڑ لگی ہے کوسوں تک\nشور بھی ہے ہنگامہ بھی ہے شانے سے چھلتا شانہ بھی\n\nخلوت دل میں چین سے بیٹھو کس سے تکلف کرتے ہو\nگھر ہے تمہارا تم ہو یہاں مہمان بھی صاحب خانہ بھی\n\nنام حبیبؔ مضطر کا معلوم نہیں سب کہتے ہیں\nدرد رسیدہ آفت دیدہ وحشی بھی دیوانہ بھی", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%D8%AC%D9%84_%D8%AC%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "رونا وہی جو خوف الٰہی سے روئیے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رونا وہی جو خوف الٰہی سے روئیے\nسونا وہی جو اس کے تصور میں سوئیے\n\nکپڑے سفید دھو کے جو پہنے تو کیا ہوا\nدھونا وہی جو دل کی سیاہی کو دھوئیے\n\nدہقاں کی طرح دانہ زمین میں نہ بو عبث\nبونا وہی جو تخم عمل دل میں بوئیے\n\nکھویا گیا ہے شیخ قیامت کے وہم میں\nکھونا وہی کہ آپ کو آپ ہی میں کھوئیے\n\nحاتمؔ تو گو کہ خاک ہوا کیمیا کہاں\nہونا وہی جو خاک سے اکسیر ہوئیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%86%D8%A7_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D9%88%D9%81_%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "رونا ہے بدا جنہیں وہ جم جم روئیں", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "رونا ہے بدا جنہیں وہ جم جم روئیں\nجب عیش مہیا ہو تو ہم کیوں کھوئیں\nفردا معلوم و راز فردا معلوم\nرات اپنی ہے پھر کیوں نہ مزے سے سوئیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%AF%D8%A7_%D8%AC%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%85_%D8%AC%D9%85_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہریار کی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روندی ہوئی ہے کوکبہ شہریار کی\nاترائے کیوں نہ خاک سرِ رہگزار کی\n\nجب اس کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ\nلوگوں میں کیوں نمود نہ ہو لالہ زار کی\n\nبُھوکے نہیں ہیں سیرِ گلستان کے ہم ولے\nکیوں کر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%86%D8%AF%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%A9%D8%A8%DB%82_%D8%B4%DB%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "رونق عہد جوانی الوداع", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رونق عہد جوانی الوداع\nالودع اے شادمانی الوداع\n\nالصلا اے عہد پیری الصلا\nاے نشاط و شادمانی الوداع\n\nالفراق اے عیش داراں الفراق\nاے مراد و کامرانی الوداع\n\nالصلا اے کندیٔ ہوش و حواس\nاے طبیعت کی روانی الوداع\n\nاے حیات جاودانی السلام\nرنج‌ ہائے دار فانی الوداع\n\nسر پہ ہے موسم خزاں کا آ گیا\nاے ہزار بوستانی الوداع", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%86%D9%82_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%B9"} {"title": "رونقوں پر ہیں بہاریں ترے دیوانوں سے", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رونقوں پر ہیں بہاریں ترے دیوانوں سے\nپھول ہنستے ہوئے نکلے ہیں نہاں خانوں سے\n\nلاکھ ارمانوں کے اجڑے ہوئے گھر ہیں دل میں\nیہ وہ بستی ہے کہ آباد ہے ویرانوں سے\n\nلالہ زاروں میں جب آتی ہیں بہاریں ساقی\nآگ لگ جاتی ہے ظالم ترے پیمانوں سے\n\nاب کوئی دیر میں الفت کا طلب گار نہیں\nاٹھ گئی رسم وفا ہائے صنم خانوں سے\n\nپاس آتے گئے جس درجہ بیابانوں کے\nدور ہوتے گئے ہم اور بیابانوں سے\n\nاب کے ہم راہ گزاریں گے جنوں کا موسم\nدامنوں کی یہ تمنا ہے گریبانوں سے\n\nاس زمانے کے وہ مے نوش وہ بدمست ہیں ہم\nپارسا ہو کے نکلتے ہیں جو مے خانوں سے\n\nہائے کیا چیز ہے کیفیت سوز الفت\nکوئی پوچھے یہ ترے سوختہ سامانوں سے\n\nپھر بہار آئی جنوں خیز ہوائیں لے کر\nپھر بلاوے مجھے آتے ہیں بیابانوں سے\n\nخاک کس مست محبت کی ہے ساقی ان میں\nکہ مجھے بوئے وفا آتی ہے پیمانوں سے\n\nغیر کی موت پہ وہ روتے ہیں اور ہم افسرؔ\nزہر پیتے ہیں چھلکتے ہوئے پیمانوں سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%86%D9%82%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "رونقیں آبادیاں کیا کیا چمن کی یاد ہیں", "poet_page": "مصنف:طالب علی خان عیشی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رونقیں آبادیاں کیا کیا چمن کی یاد ہیں\nبوئے گل کی طرح ہم گلشن کے خانہ زاد ہیں\n\nجلوہ فرمائی کا مژدہ کس نے بھیجا ہے کہ آج\nدیدہ و دل ہم دگر صرف مبارک باد ہیں\n\nکس کی مژگاں نے ہمارے ساتھ کاوش کی شروع\nخون کے قطرہ رگوں میں نشتر فصاد ہیں\n\nیاں رضا محبوب کی منظور خاطر ہے فقط\nوصل ہو یا ہجر ہو ہر امر میں ہم شاد ہیں\n\nکر چکا عیشیؔ طواف خانۂ کعبہ کا قصد\nجب تلک ہندوستاں کا مے کدہ آباد ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%86%D9%82%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے\nدھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے\n\nصرف بہائے مے ہوئے آلات مے کشی\nتھے یہ ہی دو حساب سو یوں پاک ہو گئے\n\nرسوائے دہر گو ہوئے آوارگی سے تم\nبارے طبیعتوں کے تو چالاک ہو گئے\n\nکہتا ہے کون نالۂ بلبل کو بے اثر\nپردے میں گل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے\n\nپوچھے ہے کیا وجود و عدم اہل شوق کا\nآپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے\n\nکرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ\nکی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے\n\nاس رنگ سے اٹھائی کل اس نے اسدؔ کی نعش\nدشمن بھی جس کو دیکھ کے غم ناک ہو گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "رونے سے جو بھڑاس تھی دل کی نکل گئی", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رونے سے جو بھڑاس تھی دل کی نکل گئی\nآنسو بہائے چار طبیعت سنبھل گئی\n\nمیں نے ترس ترس کے گزاری ہے ساری عمر\nمیری نہ ہوگی جان جو حسرت نکل گئی\n\nبے چین ہوں میں جب سے نہیں دل لگی کہیں\nوہ درد کیا گیا کہ مرے دل کی کل گئی\n\nکہتا ہے چارہ گر کہ نہ پائے گا اندمال\nاچھا ہوا کہ زخم کی صورت بدل گئی\n\nاے شمع ہم سے سوز محبت کے ضبط سیکھ\nکم بخت ایک رات میں ساری پگھل گئی\n\nشاخ نہال عمر ہماری نہ پھل سکی\nیہ تو ہے وہ کلی جو نکلتے ہی جل گئی\n\nدیکھا جو اس نے پیار سے اغیار کی طرف\nشاعرؔ قسم خدا کی مری جان جل گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DA%91%D8%A7%D8%B3_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "رونے میں ابر تر کی طرح چشم کو میرے جوش ہے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رونے میں ابر تر کی طرح چشم کو میرے جوش ہے\nنالہ میں آہ رعد سا شور ہے اور خروش ہے\n\nرعد نے شور سے پکار مستوں کو یہ نوید دی\nتم ہو کدھر اے مے کشو موسم ناے و نوش ہے\n\nچاک کروں ہوں جیب صبر طالع عندلیب دیکھ\nسننے کو اس کا درد دل گل ہی بہ شکل گوش ہے\n\nکن نے چمن میں مے کشی کی ہے صبا تو سچ کہو\nجام ہے گل کے ہاتھ میں غنچہ سبو بہ دوش ہے\n\nکون دوانہ مر گیا اس کے عزا میں اب تلک\nاس کے لباس سر بہ سر چشم سیاہ پوش ہے\n\nنالہ ہے خانہ زاد عشق لیک کہاں سر و دماغ\nاپنے تو قافلے کے بیچ جو ہے جرس خموش ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DA%86%D8%B4%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%DB%81%DB%92"} {"title": "رونے کی یہ شدت ہے کہ گھبرا گئیں آنکھیں", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رونے کی یہ شدت ہے کہ گھبرا گئیں آنکھیں\nاشکوں کی یہ کثرت ہے کہ تنگ آ گئیں آنکھیں\n\nدل سخت ہی کافر کا پر آنکھوں میں حیا ہے\nسنتے ہی جفا کا گلہ شرما گئیں آنکھیں\n\nمحراب میں ہوتا نہیں مستوں کا گزارہ\nابرو کے تلے خوب جگہ پا گئیں آنکھیں\n\nوہ طالب دیدار کے پاس آئیں مگر کیا\nحیرت کا یہ عالم ہے کہ کوبا گئیں آنکھیں\n\nفرہاد نے کیا دیکھ کے سر تیشے سے پھوڑا\nسوجھا نہ کچھ اس رو سے کہ تہرا گئیں آنکھیں\n\nدل دے کے رہا گریۂ خونی کا مجھے شغل\nباقی تھا جگر سو اسے یوں کہا گئیں آنکھیں\n\nچڑھتے نہیں اب میری نظر میں مہ و خورشید\nدیکھا تجھے کیا میں نے کہ اترا گئیں آنکھیں\n\nآ کر ترے کوچے میں نہ کچھ ہم سے بن آئی\nجاتے ہوئے اک منہ تھا کہ برسا گئیں آنکھیں\n\nاتنا بھی نہ سمجھے کہ بلاے‌ٔ دل و دین ہے\nناظمؔ تمہیں کیوں اس کی پسند آ گئیں آنکھیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%B4%D8%AF%D8%AA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "روٹھو گے بے سبب تو منایا نہ جائے گا", "poet_page": "مصنف:منشی بہاری لال مشتاق دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روٹھو گے بے سبب تو منایا نہ جائے گا\nبے جا تمہارا ناز اٹھایا نہ جائے گا\n\nوہ ساتھ لائیں غیر کو گر بزم میں تو کیا\nآنکھوں پہ منتوں سے بٹھایا نہ جائے گا\n\nیوں میرے ساتھ بزم میں غیروں کا بیٹھنا\nوہ اعتراض ہے کہ اٹھایا نہ جائے گا\n\nہوگا اثر جو دل میں تو خود جان لیں گے وہ\nمشتاقؔ ہم سے عشق جتایا نہ جائے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%B9%DA%BE%D9%88_%DA%AF%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%B3%D8%A8%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "روٹھے ہوئے کہ اپنے ذرا اب منائے زلف", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روٹھے ہوئے کہ اپنے ذرا اب منائے زلف\nپیارا ہے دل تو ناز بھی دل کے اٹھائے زلف\n\nدر گزرے دل کی یاد سے ہم جان تو بچی\nپیچھے پڑی ہے جان کے اب کیوں بلائے زلف\n\nوہ کیوں بتائے ہم کو دل گم شدہ کا حال\nپوچھیں جناب خضر تو رستہ بتائے زلف\n\nبکھرائے بال دیکھ لیا کس کو بام پر\nہر وقت ہائے زلف ہے ہر لحظہ ہائے زلف\n\nکس طرح ان حسینوں کے بھرتی رہی ہے کان\nپہنچے نہ تیرے کان میں اے دل صداۓ زلف\n\nبل کھا کے دوش ناز سے گرنا ادھر ادھر\nوہ زلف اور ہائے وہ کافر ادائے زلف\n\nلے کر بلائیں خود وہ کشاکش میں پڑ گیا\nدل زلف کو ستائے نہ دل کو ستائے زلف\n\nپھندے میں اس کے طائر دل آ رہے گا آپ\nمرغ نظر کو دام میں پہلے پھنسائے زلف\n\nپینگائے اور یہ جوبنوں کا رہنمائے دل\nصد سالہ زاہدوں کو تو برسوں جھلائے زلف\n\nآشفتگان زلف کا برہم ہے کیوں مزاج\nکہتا ہے کون کوئی نہ ہو مبتلائے زلف\n\nسائے سے اس کے بھاگتے ہیں لوگ دور دور\nبگڑی ہوئی ہے آج کل ایسی ہوائے زلف\n\nتم نام ان کی زلف کو رکھتے ہو کیوں ریاضؔ\nسن لے تو ایک ایک کی سو سو سنائے زلف", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81"} {"title": "روٹیاں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاں\nپھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاں\nآنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاں\nسینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاں\nجتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں\nروٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھرا\nکرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جا\nدیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیا\nٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سوا\nسو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاں\nجس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہے\nخالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہے\nچولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہے\nجتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہے\nاس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاں\nآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نام\nیا چکی چولھے کے جہاں گل زار ہوں تمام\nواں سر جھکا کے کیجے ڈنڈوت اور سلام\nاس واسطے کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقام\nپہلے انہیں مکانوں میں آتی ہیں روٹیاں\nان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بور\nآٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نور\nپیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چور\nہرگز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنور\nاس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاں\nپوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے\nیہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کے\nوہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دے\nہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتے\nبابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں\nپھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیا\nاس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیا\nوہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیا\nکشف القلوب اور یہ کشف القبور کیا\nجتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں\nروٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئے\nگلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئے\nدو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئے\nچودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئے\nیہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاں\nروٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہو\nمیلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہو\nبھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہو\nسچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہو\nاللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاں\nاب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیں\nپورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیں\nاور جن کے آگے روغنی اور شیرمال ہیں\nعارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیں\nپکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاں\nکپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطے\nلمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطے\nباندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطے\nسب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطے\nجتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں\nروٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھا\nاسوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگا\nگھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتا\nاور اس سوا جو غور سے دیکھا تو جا بہ جا\nسو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاں\nروٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑے\nکچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتے\nیہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لے\nگھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زینہار اسے\nاس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاں\nاشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیں\nسچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیں\nکہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیں\nاشراف سب میں کہئے تو اب نان بائی ہیں\nجن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاں\nدنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہے\nیا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہے\nکوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہے\nسب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہے\nنوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاں\nروٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیر\nروکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیر\nیا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیر\nگیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیرؔ\nہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D9%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "روک دے موت کو بھی آنے سے", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "روک دے موت کو بھی آنے سے\nکون اٹھے تیرے آستانے سے\n\nبجلیاں گرتی ہیں گریں ہم پر\nان کو مطلب ہے مسکرانے سے\n\nہو مبارک شباب کی دولت\nکچھ تو دلوا لئے خزانے سے\n\nدخت رز اور تو کہاں ملتی\nکھینچ لائے شراب خانے سے\n\nجان پر بن گئی شرفؔ آخر\nکیا ملا ہائے دل لگانے سے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%DA%A9_%D8%AF%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92"} {"title": "روکتا ہے غم اظہار سے پندار مجھے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "روکتا ہے غم اظہار سے پندار مجھے\nمیرے اشکوں سے چھپا لے مرے رخسار مجھے\n\nدیکھ اے دشت جنوں بھید نہ کھلنے پائے\nڈھونڈنے آئے ہیں گھر کے در و دیوار مجھے\n\nسی دیے ہونٹ اسی شخص کی مجبوری نے\nجس کی قربت نے کیا محرم اسرار مجھے\n\nمیری آنکھوں کی طرف دیکھ رہے ہیں انجم\nجیسے پہچان گئی روح شب تار مجھے\n\nجنس ویرانی صحرا میری دوکان میں ہے\nکیا خریدے گا ترے شہر کا بازار مجھے\n\nجرس گل نے کئی بار پکارا لیکن\nلے گئی راہ سے زنجیر کی جھنکار مجھے\n\nناوک ظلم اٹھا دشنۂ اندوہ سنبھال\nلطف کے خنجر بے نام سے مت مار مجھے\n\nساری دنیا میں گھنی رات کا سناٹا تھا\nصحن زنداں میں ملے صبح کے آثار مجھے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D8%B8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "رویا نہ ہوں جہاں میں گریباں کو اپنے پھاڑ", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رویا نہ ہوں جہاں میں گریباں کو اپنے پھاڑ\nایسا نہ کوئی دشت ہے ظالم نہ کوئی اجاڑ\n\nآتا ہے محتسب پئے تعزیر مے کشو\nپگڑی کو اس کی پھینک دو داڑھی کو لو اکھاڑ\n\nثابت تھا جب تلک یہ گریباں خفا تھا میں\nکرتے ہی چاک کھل گئے چھاتی کے سب کواڑ\n\nمیرے غبار نے تو ترے دل میں کی ہے جا\nگو میری مشت خاک سے دامن کی تئیں تو جھاڑ\n\nتاباںؔ زبس ہوائے جنوں سر میں ہے مرے\nاب میں ہوں اور دشت ہے یہ سر ہے اور پہاڑ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%A7%DA%91"} {"title": "رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح\nاٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح\n\nآتا نہیں ہے وہ تو کسی ڈھب سے داؤ میں\nبنتی نہیں ہے ملنے کی اس کے کوئی طرح\n\nتشبیہ کس سے دوں کہ طرح دار کی مرے\nسب سے نرالی وضع ہے سب سے نئی طرح\n\nمر چک کہیں کہ تو غم ہجراں سے چھوٹ جائے\nکہتے تو ہیں بھلے کی ولیکن بری طرح\n\nنے تاب ہجر میں ہے نہ آرام وصل میں\nکم بخت دل کو چین نہیں ہے کسی طرح\n\nلگتی ہیں گالیاں بھی ترے منہ سے کیا بھلی\nقربان تیرے پھر مجھے کہہ لے اسی طرح\n\nپامال ہم نہ ہوتے فقط جور چرخ سے\nآئی ہماری جان پہ آفت کئی طرح\n\nنے جائے واں بنے ہے نے بن جائے چین ہے\nکیا کیجیے ہمیں تو ہے مشکل سبھی طرح\n\nمعشوق اور بھی ہیں بتا دے جہان میں\nکرتا ہے کون ظلم کسی پر تری طرح\n\nہوں جاں بہ لب بتان ستم گر کے ہاتھ سے\nکیا سب جہاں میں جیتے ہیں مومنؔ اسی طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%A2%D9%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%DB%81%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "رُخصت اے بزمِ جہاں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "رُخصت اے بزمِ جہاں! سُوئے وطن جاتا ہوں مَیں\nآہ! اس آباد ویرانے میں گھبراتا ہوں مَیں\nبسکہ مَیں افسردہ دل ہوں، درخورِ محفل نہیں\nتُو مرے قابل نہیں ہے، مَیں ترے قابل نہیں\nقید ہے، دربارِ سُلطان و شبستانِ وزیر\nتوڑ کر نکلے گا زنجیرِ طلائی کا اسیر\nگو بڑی لذّت تری ہنگامہ آرائی میں ہے\nاجنبیّت سی مگر تیری شناسائی میں ہے\nمدّتوں تیرے خود آراؤں سے ہم صحبت رہا\nمدّتوں بے تاب موجِ بحر کی صورت رہا\nمدّتوں بیٹھا ترے ہنگامۂ عشرت میں مَیں\nروشنی کی جُستجو کرتا رہا ظُلمت میں مَیں\nمدّتوں ڈھُونڈا کِیا نظّارۂ گُل، خار میں\nآہ، وہ یوسف نہ ہاتھ آیا ترے بازار میں\nچشمِ حیراں ڈھُونڈتی اب اور نظّارے کو ہے\nآرزو ساحل کی مجھ طوفان کے مارے کو ہے\nچھوڑ کر مانندِ بُو تیرا چمن جاتا ہوں مَیں\nرُخصت اے بزمِ جہاں! سُوئے وطن جاتا ہوں مَیں\n\nگھر بنایا ہے سکوتِ دامنِ کُہسار میں\nآہ! یہ لذّت کہاں موسیقیِ گُفتار میں\nہم نشینِ نرگسِ شہلا، رفیقِ گُل ہوں مَیں\nہے چمن میرا وطن، ہمسایۂ بُلبل ہوں مَیں\nشام کو آواز چشموں کی سُلاتی ہے مجھے\nصبح فرشِ سبز سے کوئل جگاتی ہے مجھے\nبزمِ ہستی میں ہے سب کو محفل آرائی پسند\nہے دلِ شاعر کو لیکن کُنجِ تنہائی پسند\n\nہے جُنوں مجھ کو کہ گھبراتا ہوں آبادی میں مَیں\nڈھُونڈتا پھرتا ہوں کس کو کوہ کی وادی میں مَیں؟\nشوق کس کا سبزہ زاروں میں پھراتا ہے مجھے؟\nاور چشموں کے کناروں پر سُلاتا ہے مجھے؟\nطعنہ زن ہے تُو کہ شیدا کُنجِ عُزلت کا ہوں مَیں\nدیکھ اے غافل! پیامی بزمِ قُدرت کا ہوں مَیں\nہم وطن شمشاد کا، قُمری کا مَیں ہم راز ہوں\nاس چمن کی خامشی میں گوش بر آواز ہوں\nکچھ جو سنتا ہوں تو اَوروں کو سُنانے کے لیے\nدیکھتا ہوں کچھ تو اَوروں کو دِکھانے کے لیے\nعاشقِ عُزلت ہے دل، نازاں ہوں اپنے گھر پہ مَیں\nخندہ زن ہوں مسندِ دارا و اسکندر پہ مَیں\nلیٹنا زیرِ شجر رکھتا ہے جادُو کا اثر\nشام کے تارے پہ جب پڑتی ہو رہ رہ کر نظر\nعِلم کے حیرت کدے میں ہے کہاں اس کی نمود!\nگُل کی پتّی میں نظر آتا ہے رازِ ہست و بود", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%8F%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%B2%D9%85%D9%90_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "رُوحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ\nمشرق سے اُبھرتے ہوئے سُورج کو ذرا دیکھ\nاس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھُپا دیکھ\nایّامِ جُدائی کے سِتم دیکھ، جفا دیکھ\nبے تاب نہ ہو معرکۂ بِیم و رجا دیکھ!\n\nہیں تیرے تصرّف میں یہ بادل، یہ گھٹائیں\nیہ گُنبدِ افلاک، یہ خاموش فضائیں\nیہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں\nتھیں پیشِ نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں\nآئینۂ ایّام میں آج اپنی ادا دیکھ!\n\nسمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے\nدیکھیں گے تجھے دُور سے گردُوں کے ستارے\nناپید ترے بحرِ تخیّل کے کنارے\nپہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے\nتعمیرِ خودی کر، اَثرِ آہِ رسا دیکھ!\n\nخورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میں\nآباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہُنر میں\nجچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں\nجنّت تری پنہاں ہے ترے خُونِ جگر میں\nاے پیکرِ گِل کوششِ پیہم کی جزا دیکھ!\n\nنالندہ ترے عُود کا ہر تار ازل سے\nتُو جنسِ محبّت کا خریدار ازل سے\nتُو پِیرِ صنم خانۂ اسرار ازل سے\nمحنت کش و خُوں ریز و کم آزار ازل سے\nہے راکبِ تقدیرِ جہاں تیری رضا، دیکھ!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%8F%D9%88%D8%AD%D9%90_%D8%A7%D8%B1%D8%B6%DB%8C_%D8%A2%D8%AF%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "رِندوں کو بھی معلوم ہیں صُوفی کے کمالات", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "رِندوں کو بھی معلوم ہیں صُوفی کے کمالات\nہر چند کہ مشہور نہیں ان کے کرامات\nخود گیری و خودداری و گلبانگِ ’اَنا الحق‘\nآزاد ہو سالک تو ہیں یہ اس کے مقامات\nمحکوم ہو سالک تو یہی اس کا ’ہمہ اوست‘\nخود مُردہ و خود مرقد و خود مرگ مفاجات!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%D9%90%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D9%8F%D9%88%D9%81%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA"} {"title": "رکتا نہیں انقلاب چارا کیا ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "رکتا نہیں انقلاب چارا کیا ہے\nحیراں ہیں ملک بشر بچارا کیا ہے\nتسکیں کے لیے مگر ہے کافی یہ خیال\nجو کچھ ہے خدا کا ہے ہمارا کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8_%DA%86%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "رکھا سر پر جو آیا یار کا خط", "poet_page": "مصنف:بہرام جی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھا سر پر جو آیا یار کا خط\nگیا سب درد سر کیا تھا دوا خط\n\nدیا خط اور ہوں قاصد کے پیچھے\nہوا تاثیر میں کیا کہربا خط\n\nوہیں قاصد کے منہ پر پھینک مارا\nدیا قاصد نے جب جا کر مرا خط\n\nہے لازم حال خیریت کا لکھنا\nکبھی تو بھیج او نا آشنا خط\n\nرہا ممنون کاغذ ساز کا میں\nسنا دے گا اسے سب ماجرا خط\n\nپتا ملتا نہیں اس بے نشاں کا\nلیے پھرتا ہے قاصد جا بجا خط\n\nرہی حسرت یہ ساری عمر بہرامؔ\nنہ مجھ کو یار نے ہرگز لکھا خط", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%B7"} {"title": "رکھا پا جہاں میں نگارا زمیں پر", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھا پا جہاں میں نگارا زمیں پر\nبہت سر کو واں ہم نے مارا زمیں پر\n\nجنوں جوش مارے ہے دیوار و در سے\nہوا کس پری کا گزارا زمیں پر\n\nنہیں ہے یہ آہ فلک سا کہ ہم نے\nعلم شور سودا کا گاڑھا زمیں پر\n\nقدم جس جگہ رکھا اس سنگ دل نے\nنہ ہو واں بجز سنگ خارا زمیں پر\n\nنظر سے تری جس نے ہم کو گرایا\nفلک سے اٹھا کر کے مارا زمیں پر\n\nتو روئے زمیں دیکھ لے سیر ہو کر\nنہ ہوگا گزر پھر دوبارا زمیں پر\n\nترے نقش پا کو کہے اپنا ہم سر\nنہیں ہے یہ منہ تو ہمارا زمیں پر\n\nوہ زہرہ جبیں مہرباں ہووے حسرتؔ\nکہاں ہے یہ اپنا ستارا زمیں پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%BE%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "رکھتا ہوں طلائی رنگ اور اشک بھی موتی ہے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھتا ہوں طلائی رنگ اور اشک بھی موتی ہے\nمنعم کے بھی گھر آخر دولت یہی ہوتی ہے\n\nسنبل کی پریشانی کب کم تھی کہ پھر تس پر\nشبنم جو سرشک اس کے مژگاں میں پروتی ہے\n\nعالی سے میں جا پوچھا کیا واقعہ یاں گزرا\nگل چاک گریباں ہے شبنم ہے کہ روتی ہے\n\nدم سرد ہی وہ بھر کر یہ مجھ سے لگا کہنے\nہر صبح گلستاں کی حالت یہی ہوتی ہے\n\nعشقؔ اپنی فنا کا خوف سرکش کے نہیں دل میں\nکب شمع یہ ہے روشن جو صبح بھی ہوتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "رکھتا ہوں میں حق پر نظر کوئی کچھ کہو کوئی کچھ کہو", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھتا ہوں میں حق پر نظر کوئی کچھ کہو کوئی کچھ کہو\nہشیار ہوں یا بے خبر کوئی کچھ کہو کوئی کچھ کہو\n\nقسمت مقدر بوجھ کر غفلت میں آ کر حرص سے\nپھر کیا ہے پھرنا در بدر کوئی کچھ کہو کوئی کچھ کہو\n\nجز معصیت کے کچھ نہیں ہے کام مجھ عاصی کے تئیں\nہر روز و ہر شام و سحر کوئی کچھ کہو کوئی کچھ کہو\n\nکچھ نیک و بد کہنے کا اب خطرہ نہیں ہے خلق کا\nیکساں کیا نفع و ضرر کوئی کچھ کہو کوئی کچھ کہو\n\nہے چار دن کی زندگی خوش رہ کے آخر کے تئیں\nدنیا سے جانا ہے گزر کوئی کچھ کہو کوئی کچھ کہو\n\nحاتمؔ توقع چھوڑ کر عالم میں تا شاہ و گدا\nآ کر لگا حیدر کے در کوئی کچھ کہو کوئی کچھ کہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D9%82_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81%D9%88"} {"title": "رکھتا ہے اپنے حسن پر وہ دل ربا گھمنڈ", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "رکھتا ہے اپنے حسن پر وہ دل ربا گھمنڈ\nجیسے عبادت اپنے اوپر پارسا گھمنڈ\nشایاں ہے اس کے حسن پر اس کا غرور بھی\nافریدیؔ تو نہ کیجیو بہر خدا گھمنڈ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D9%85%D9%86%DA%88"} {"title": "رکھتا ہے صدا ہونٹ کو جوں گل کی کلی چپ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھتا ہے صدا ہونٹ کو جوں گل کی کلی چپ\nوہ غنچہ دہن آہ یہ سیکھا ہے بھلی چپ\n\nسوتا ہے تو لیتا ہوں میں یوں چوری سے بوسہ\nجوں منہ میں کھلا دے کوئی مصری کی ڈلی چپ\n\nمنت سے کہا ہم نے تو تم آہ نہ بولے\nجب غیر نے کی گدگدی پھر کچھ نہ چلی چپ\n\nپروانے سے عاشق کے تئیں شمع جلا کر\nپھر آپ بھی روتی ہے کھڑی بخت جلی چپ\n\nسبزی بھی اگی باغ میں غنچے بھی کھلے آہ\nپر اس مری گونگی کے لبوں سے نہ ٹلی چپ\n\nغصے میں رقیب آتا ہے جب بھوت سا بن کر\nپڑھتا ہوں میں جب دل میں کھڑا نعت علی چپ\n\nمر جائیں پہ شکوے کی کبھی بات نہ نکلے\nیہ ہونٹ وہ ہیں جن میں ازل سے ہے پلی چپ\n\nجس دم یہ خبر جا کے رقیبوں کو ہوئی پھر\nبس سنتے ہی سن ہو گئے اور سانس نہ لی چپ\n\nالٹی ہی سمجھ یار کی سنتا ہے نظیرؔ آہ\nزنہار نہ کچھ بولیو یاں سب سے بھلی چپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B5%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%86%D9%B9_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%84%DB%8C_%DA%86%D9%BE"} {"title": "رکھتا ہے صلح سب سے دل اس کا پہ مجھ سے جنگ", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھتا ہے صلح سب سے دل اس کا پہ مجھ سے جنگ\nغیروں کے حق میں موم ہے اور میرے حق میں سنگ\n\nکیسا وصال کس کا فراق اور کہاں کا عشق\nتھی عالم جوانی کی بس یہ بھی اک ترنگ\n\nکیا تب ملے گی آہ مجھے آرزوئے دل\nمر جائے گی تڑپ کے مرے جی کی جب امنگ\n\nحیراں میں اپنے حال پہ چوں آئینہ نہیں\nعالم کے منہ کو دیکھ کے میں رہ گیا ہوں دنگ\n\nآتا ہے کیا نظر اسے شعلہ میں شمع کے\nدیتا ہے جان بوجھ کے کیوں اپنا جی پتنگ\n\nلیتا تھا نام غیر نکل آیا میرا نام\nآخر جھلک گیا ہے محبت کا رنگ ڈھنگ\n\nواقف نہیں نشاں سے میں اس یار کے حسنؔ\nجس کے لئے اڑا دیا سب اپنا نام و ننگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B5%D9%84%D8%AD_%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%86%DA%AF"} {"title": "رکھتا ہے گو قدیم سے بنیاد آگرہ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھتا ہے گو قدیم سے بنیاد آگرہ\nاکبر کے نام سے ہوا آباد آگرہ\n\nیاں کے کھنڈر نہ اور جگہ کی عمارتیں\nیارو عجب مقام ہے دل شاد آگرہ\n\nشداد زر لگا نہ بناتا بہشت کو\nگر جانتا کہ ہووے گا آباد آگرہ\n\nتوڑے کوئی قلعے کو کوئی لوٹے شہر کو\nاب کس سے اپنی مانگے بھلا داد آگرہ\n\nاب تو ذرا سا گاؤں ہے بیٹی نہ دے اسے\nلگتا تھا ورنہ چین کا داماد آگرہ\n\nیک بارگی تو اب مجھے یارب تو پھر بسا\nکرتا ہے اب خدا سے یہ فریاد آگرہ\n\nاک خوبرو نہیں ہے یہاں ورنہ ایک دن\nتھا رشک حسن بلخ و نوشاد آگرہ\n\nہرگز وطن کی یاد نہ آوے اسے کبھی\nجو کر کے اپنی جاں کو کرے شاد آگرہ\n\nاس میں سدا خوشی سے رہا ہے ترا نظیرؔ\nیارب ہمیشہ رکھیو تو آباد آگرہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%88_%D9%82%D8%AF%DB%8C%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%DA%AF%D8%B1%DB%81"} {"title": "رکھتی ہے جو خوش چاہ تمہاری ہم کو", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "رکھتی ہے جو خوش چاہ تمہاری ہم کو\nاور کرتی ہے شاد باری باری ہم کو\nکچھ دیر جو کہ تھی ہم نے دل دیتے وقت\nاب تک ہے اسی کی سرشاری ہم کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%DA%86%D8%A7%DB%81_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "رکھتے ہیں جو ہم چاہ تمہاری دل میں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "رکھتے ہیں جو ہم چاہ تمہاری دل میں\nآرام کی ہے امیدواری دل میں\nتم حکم قرار کو نہ دو گے جب تک\nالبتہ رہے گی بے قراری دل میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%DA%86%D8%A7%DB%81_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رکھتے ہیں خضر سے نہ غرض رہ نما سے ہم", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھتے ہیں خضر سے نہ غرض رہ نما سے ہم\nچلتے ہیں بچ کے دور ہر اک نقش پا سے ہم\n\nمانوس ہو چلے ہیں جو دل کی صدا سے ہم\nشاید کہ جی اٹھے تری آواز پا سے ہم\n\nیا رب نگاہ شوق کو دے اور وسعتیں\nگھبرا اٹھے جمال جہت آشنا سے ہم\n\nمخصوص کس کے واسطے ہے رحمت تمام\nپوچھیں گے ایک دن یہ کسی پارسا سے ہم\n\nاو مست ناز حسن تجھے کچھ خبر بھی ہے\nتجھ پر نثار ہوتے ہیں کس کس ادا سے ہم\n\nیہ کون چھا گیا ہے دل و دیدہ پر کہ آج\nاپنی نظر میں آپ ہیں ناآشنا سے ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%B6%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%D8%B1%DB%81_%D9%86%D9%85%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیض", "poet_page": "مصنف:ماہ لقا بائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیض\nدامن میں لیا اپنے ہے دریا نے گہر فیض\n\nپر نور عجب کیا ہے کرے مجھ کو کرم سے\nرکھتی ہے دو عالم پہ تری ایک نظر فیض\n\nاک جام پہ بخشے ہے یہاں رتبہ جسم کو\nکس کی نگہ مست سے رکھتا ہے خمر فیض\n\nمحروم نہیں کوئی ترے خوان کرم سے\nہے حصر خدائی کا ہی تجھ پہ مگر فیض\n\nچنداؔ رہے پرتو سے ترے یا علی روشن\nخورشید کو ہے در سے ترے شام و سحر فیض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%AA%D8%B1_%D9%81%DB%8C%D8%B6"} {"title": "رکھنا خم گیسو میں یا دل کو رہا کرنا", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھنا خم گیسو میں یا دل کو رہا کرنا\nکچھ کہہ تو سہی ظالم آخر تجھے کیا کرنا\n\nکیا تم سے زیادہ ہے دنیا میں حسیں کوئی\nایمان سے کہہ دینا انصاف ذرا کرنا\n\nسہنی بھی جفا ان کی کرنی بھی وفا ان سے\nان کی بھی خوشی کرنی دل کا بھی کہا کرنا\n\nبوسہ بھی مجھے دینا ہونٹوں میں بھی کچھ کہنا\nجینے کی دوا دینا مرنے کی دعا کرنا\n\nترچھی چتون نے لاکھوں ہی کئے بسمل\nاے ترک ترا ناوک کیا جانے خطا کرنا\n\nبیداد کا اب شکوہ بے جا ہے نسیمؔ ان سے\nتھا تم کو محبت کا اظہار ہی کیا کرنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AE%D9%85_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7"} {"title": "رکھو جو مقابل اس کے سارا عالم", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "رکھو جو مقابل اس کے سارا عالم\nدنیا بخدا ہے اک ذرے سے بھی کم\nاس اک ذرے میں ہے ہماری کیا اصل\nنافہم ہیں کر رہے ہیں ناحق ہم ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85"} {"title": "رکھو خدمت میں مجھ سے کام تو لو", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھو خدمت میں مجھ سے کام تو لو\nبات کرتے نہیں سلام تو لو\n\nمے پیو تم سرور ہو مجھ کو\nہاتھ سے میرے ایک جام تو لو\n\nبات تم نے نہیں کی غیر سے کل\nسر پہ اللہ کا کلام تو لو\n\nبندہ ہوتا ہوں آپ کا بے دام\nہووے درکار اگر غلام تو لو\n\nناز و انداز حسن و خوبی میں\nکون ہے تم سا اس کا نام تو لو\n\nآپ فرمائیں جو بجا لاؤں\nکبھی مجھ سے بھی کوئی کام تو لو\n\nمنہ سے آنے لگے گی عطر کی بو\nنام گیسوئے مشک فام تو لو\n\nپہلے کر لو رسائی زلف تلک\nسلسلے کو جنوں کے تھام تو لو\n\nپھر تڑپ لیجیو گرفتارو\nدم بھر آرام زیر دام تو لو\n\nمے پیو جو نہیں پلاتے ہو\nمجھ کو دیتے نہیں ہو جام تو لو\n\nناز بردار دوسرا مجھ سا\nکون عاشق ہے اس کا نام تو لو\n\nرندؔ حاضر ہیں شیشہ و ساغر\nمے نہ سمجھو اگر حرام تو لو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%AE%D8%AF%D9%85%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D9%84%D9%88"} {"title": "رکھو وہ شیوہ نہ مد نظر نظر میں رہے", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھو وہ شیوہ نہ مد نظر نظر میں رہے\nکہ جس سے راز محبت بشر بشر میں رہے\n\nچمن جو بن کے ترا رہ گزر گزر میں رہے\nتو نخل طور کا جلوہ شجر شجر میں رہے\n\nعزیز تر ہے اگر ہو سرشک میں تاثیر\nلطیف تر ہے جو آب گہر گہر میں رہے\n\nادھر تمام کیا آسماں نے اپنا کام\nادھر پھنسے ہوئے اہل ہنر ہنر میں رہے\n\nوفور غم سے یہ جی میں ہے روئیے اس طرح\nنہ دل میں حال نہ خون جگر جگر میں رہے\n\nبری خبر ہو تو اس طرح نامہ بر کہنا\nکہ صدق و کذب کا شک بے خبر خبر میں رہے\n\nسمجھ کے عشق کر اے دل کہ کیا نہیں معلوم\nجو سوچتے نہیں نفع و ضرر ضرر میں رہے\n\nاٹھاؤ قبر میں بھی لذت خلش تا حشر\nخدا کرے کہ خدنگ جگر جگر میں رہے\n\nوفا ہماری ستم آپ کے کچھ ایسے ہوں\nکہ مدتوں یہی چرچا بشر بشر میں رہے\n\nشب فراق ملی تیرہ روزگاری میں\nسحر گزر گئی اور ہم سحر میں رہے\n\nہم ان کی بزم میں بیٹھے رہے ولیکن یوں\nکہ جیسے رہرو راہ خطر خطر میں رہے\n\nکھچے جو سینے سے نالہ تو چاہیے اے دل\nمثال معنی لفظ اثر اثر میں رہے\n\nشب وصال کی یا رب نہ روشنی کم ہو\nوہ نور عارض رشک قمر قمر میں رہے\n\nتمیز غم کو دیا تھا فلک نے عیش اتنا\nکہ جیسے جلوۂ رنگ شرر شرر میں رہے\n\nہمارے قتل کو لو نازکی سے پہلے صلاح\nابھی تو خنجر زیب کمر کمر میں رہے\n\nادائے شرم میں لاکھوں اشارے ہیں سالکؔ\nجھکی ہوئی یہ کسی کی نظر نظر میں رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%B4%DB%8C%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AF_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "رکھی ہرگز نہ ترے رخ نے رخ بدر کی قدر", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھی ہرگز نہ ترے رخ نے رخ بدر کی قدر\nکھوئی کاکل نے بھی آخر کو شب قدر کی قدر\n\nعزت و قدر کی اس گل سے توقع ہے عبث\nواں نہ عزت کی کچھ عزت ہے نہ کچھ قدر کی قدر\n\nراستی خوار ہے اس چشم فسوں پرور سے\nہاں مگر منزلت مکر ہے اور غدر کی قدر\n\nمے پرستوں میں ہے یوں ساغر و مینا کا وقار\nجیسے اسلام میں ہو محتسب و صدر کی قدر\n\nکفش برداری سے اس مہر کی چمکا ہے نظیرؔ\nورنہ کیا خاک تھی اس ذرۂ بے قدر کی قدر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D8%B1%DA%AF%D8%B2_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D8%AE_%D9%86%DB%92_%D8%B1%D8%AE_%D8%A8%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%AF%D8%B1"} {"title": "رکھیں ہیں جی میں مگر مجھ سے بد گمانی آپ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھیں ہیں جی میں مگر مجھ سے بد گمانی آپ\nجو میرے ہاتھ سے پیتے نہیں ہیں پانی آپ\n\nگھڑی گھڑی نہ کریں ہم پہ مہربانی آپ\nکہ حسن رکھتے ہیں اور عالم جوانی آپ\n\nمیں بوسہ لے لے کے رخ کا اٹھا دیا پردہ\nاسی غرور پہ کرتے تھے لن ترانی آپ\n\nمیں اپنا حال جو کہنے لگا تو یوں بولا\n\"سنے ہے کون؟ کہا کیجیے کہانی آپ\"\n\nمیں بے گناہ سزا وار گالیوں کا نہیں\nنہ میرے ساتھ کریں اتنی بد زبانی آپ\n\nمصوروں نے قلم رکھ دیے ہیں ہاتھوں سے\nبناویں آئنے میں اپنا نقش ثانی آپ\n\nوفا کی اس سے طلب کر نہ ہرگز اے ناداں\nکہ بے وفا ہے طلسم جہان فانی آپ\n\nشراب وصل کا کس کی پیا ہے یہ ساغر\nخمار شب سے جو رکھتے ہیں سرگرانی آپ\n\nیہ بے وفا بھی میاں مصحفیؔ کسی کے ہوئے\nبتوں پہ کرتے ہو کیوں اتنی جانفشانی آپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%AF_%DA%AF%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا\nچلی جاتی ہے فرمائش کبھی یہ لا کبھی وہ لا\n\nمجھے ان کہنہ افلاکوں میں رہنا خوش نہیں آتا\nبنایا اپنے دل کا ہم نیں اور ہی ایک نو محلا\n\nرہی ہے سر نوا سنمکھ گئی ہے بھول منصوبہ\nتری انکھیوں نیں شاید مات کی ہے نرگس شہلا\n\nکیا تھا غیر نیں ہم رنگ ہو کر وصل کا سودا\nتمہارا دیکھ مکھ کا آفتاب اس کا تو دل دہلا\n\nکف پا یار کا ہے پھول کی پنکھڑی سے نازک تر\nمرا دل نرم تر ہے اس کے ہوتے اس سے مت سہلا\n\nجوابوں میں غزل کے آبروؔ کیوں کہل کرتا ہے\nتو اک ادنیٰ توجہ بیچ کہہ لیتا ہے مت کہلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A7%D9%84%DA%86%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%D8%A8%DB%81%D9%84%D8%A7"} {"title": "رکھے ہیں آپ ہاتھ جہاں اب وہاں نہیں", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھے ہیں آپ ہاتھ جہاں اب وہاں نہیں\nہم کیا بتائیں درد کہاں ہے کہاں نہیں\n\nدل لے گئے وہ درد محبت کہاں رہے\nعبرت کا ہے محل کہ مکیں ہے مکاں نہیں\n\nاے برق کس کے واسطے بیتاب آج ہے\nاس باغ میں مرا تو کہیں آشیاں نہیں\n\nقاتل سمجھ کے آج ذرا تیغ ناز کھینچ\nیہ امتحاں ترا ہے مرا امتحاں نہیں\n\nچھوٹیں گے عمر بھر تری زلفوں کے کیا اسیر\nکاٹے کٹیں کسی کے یہ وہ بیڑیاں نہیں\n\nلو اک جہاں انہیں کا طرف دار ہو گیا\nمحشر میں آج کوئی مرا ہم زباں نہیں\n\nدنیا میں حشر اٹھے بھی تو کیا دیکھ کر اٹھے\nمرے مزار کا تو کہیں بھی نشاں نہیں\n\nتم کیا بدل گئے زمانہ بدل گیا\nاب وہ زمیں نہیں ہے وہ اب آسماں نہیں\n\nمسکن زمین شعر میں صفدرؔ بنا لیا\nرہتے ہیں اس زمیں پہ جہاں آسماں نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%BE_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رکھے ہے رنگ کچھ ساقی شراب ناب آتش کا", "poet_page": "مصنف:ممنونؔ نظام الدین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکھے ہے رنگ کچھ ساقی شراب ناب آتش کا\nمقطر کیا کیا لے کر گل شاداب آتش کا\n\nمرے یہ گرم آنسو پونچھ مت دست نگاریں سے\nکہ ان آنکھوں سے رہتا ہے رواں سیلاب آتش کا\n\nتہ مژگاں نہاں رکھتے ہیں ہم لخت دل سوزاں\nیہاں خاشاک میں رکھا ہے اخگر داب آتش کا\n\nنگاہ گرم سے اس کی دل بیتاب روکش ہے\nحریف آخر ہوا یہ پارۂ سیماب آتش کا\n\nجو سیل اشک و آہ گرم کو ٹک دیجیے رخصت\nنشاں دریا کا گم ہو نام ہو نایاب آتش کا\n\nشکیب و تاب و ہوش و صبر سوز غم سے سب سلگا\nہوا طعمہ غرض اپنا تمام اسباب آتش کا\n\nعرق اس شعلہ گوں عارض پہ کیا صنع الٰہی ہے\nنہیں دیکھا ہے ہم نے ربط باہم آب آتش کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%86%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "رکے ہے آمد و شد میں نفس نہیں چلتا", "poet_page": "مصنف:جارج پیش شور", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رکے ہے آمد و شد میں نفس نہیں چلتا\nیہی ہے حکم الٰہی تو بس نہیں چلتا\n\nہوا کے گھوڑے پہ رہتا ہے وہ سوار مدام\nکسی کا اس کے برابر فرس نہیں چلتا\n\nگزشتہ سال جو دیکھا وہ اب کے سال نہیں\nزمانہ ایک سا بس ہر برس نہیں چلتا\n\nنہیں ہے ٹوٹے کی بوٹی جہان میں پیدا\nشکستہ جب ہوا تار نفس نہیں چلتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D9%85%D8%AF_%D9%88_%D8%B4%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%81%D8%B3_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "رگوں میں وہ لہُو باقی نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "رگوں میں وہ لہُو باقی نہیں ہے\nوہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہے\nنماز و روزہ و قربانی و حج\nیہ سب باقی ہیں، تُو باقی نہیں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%84%DB%81%D9%8F%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "رہ جائے کیوں نہ ہجر میں جاں آ کے لب تلک", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہ جائے کیوں نہ ہجر میں جاں آ کے لب تلک\nہم آرزوئے بوسہ بہ پیغام اب تلک\n\nکہتے ہیں بے وفا مجھے میں نے جو یہ کہا\nمرتے رہیں گے آپ پہ، جیتے ہیں جب تلک\n\nتمکینِ حسن ہے کہ نہ بے تاب ہو سکا\nخلوت میں بھی کوئی قلقِ بے ادب تلک\n\nآ جائے کاش موت ہی تسکیں نہ ہو، نہ ہو\nہر وقت بے قرار رہے کوئی کب تلک\n\nوہ چشمِ التفات کہاں اب جو اس طرف\nدیکھیں، کہ ہے دریغ نگاہِ غضب تلک\n\nایسے کریم ہم ہیں کہ دیتے ہیں بے طلب\nپہنچاؤ یہ پیام اجلِ جاں طلب تلک\n\nمایوس لطف سے نہ کر اے دشمنی شعار\nامید سے اٹھاتے ہیں ہم جور اب تلک\n\nیاں عجزِ بے ریا ہے نہ واں نازِ دل فریب\nشکرِ بجا رہا گلۂ بے سبب تلک\n\nایسی ہی بے قراری رہی متصل اگر\nاے شیفتہ ہم آج نہیں بچتے شب تلک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D8%AA%D9%84%DA%A9"} {"title": "رہ جائے یا بلا سے یہ جان رہ نہ جائے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہ جائے یا بلا سے یہ جان رہ نہ جائے\nتیرا تو اے ستمگر ارمان رہ نہ جائے\n\nجو دل کی حسرتیں ہیں سب دل میں ہوں تو بہتر\nاس گھر سے کوئی باہر مہمان رہ نہ جائے\n\nاقرار وصل تو ہے ایسا نہ ہو نہ آئیں\nمشکل ہماری ہو کر آسان رہ نہ جائے\n\nاے سوز غم جلا دے اے درد خوں رلا دے\nکچھ ان کی دل لگی کا سامان رہ نہ جائے\n\nسب منزلیں ہوئیں طے محشر ہے اور اے دل\nیہ ایک رہ گیا ہے میدان رہ نہ جائے\n\nوہ جام کفر پرور بھر دے کہ مست کر دے\nمستوں کے دل میں ساقی ایمان رہ نہ جائے\n\nآ کر پلٹ نہ خالی اے مرگ جان لے جا\nفانیؔ کے سر پہ تیرا احسان رہ نہ جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B1%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوں", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوں\nکشش حسن کی دیکھنا چاہتا ہوں\n\nکوئی دل سا درد آشنا چاہتا ہوں\nرہ عشق میں رہنما چاہتا ہوں\n\nتجھی سے تجھے چھیننا چاہتا ہوں\nیہ کیا چاہتا ہوں یہ کیا چاہتا ہوں\n\nخطاؤں پہ جو مجھ کو مائل کرے پھر\nسزا اور ایسی سزا چاہتا ہوں\n\nوہ مخمور نظریں وہ مدہوش آنکھیں\nخراب محبت ہوا چاہتا ہوں\n\nوہ آنکھیں جھکیں وہ کوئی مسکرایا\nپیام محبت سنا چاہتا ہوں\n\nتجھے ڈھونڈھتا ہوں تری جستجو ہے\nمزا ہے کہ خود گم ہوا چاہتا ہوں\n\nیہ موجوں کی بے تابیاں کون دیکھے\nمیں ساحل سے اب لوٹنا چاہتا ہوں\n\nکہاں کا کرم اور کیسی عنایت\nمجازؔ اب جفا ہی جفا چاہتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%B9%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "رہ و رسم آشنائی", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "زمیں نئی تھی، فلک نا شناس تھا جب ہم\nتری گلی سے نکل کر سوئے زمانہ چلے\nنظر جھکا کے بہ انداز مجرمانہ چلے\n\nچلے بہ جیب دریدہ، بہ دامن صد چاک\nکہ جیسے جنس دل و جاں گنوا کے آئے ہیں\nتمام نقد سیادت لٹا کے آئے ہیں\n\nجہاں اک عمر کٹی تھی، اسی قلمرو میں\nشناخت کے لئے ہر شاہراہ نے ٹوکا\nہر اک نگاہ کے نیزے نے راستہ روکا\n\nجہاں جلے تھے ترے حسن آتشیں کے کنول\nوہاں الاؤ تو کیا، راکھ کا نشاں بھی نہ تھا\nچراغ کشتۂ محفل دھواں دھواں بھی نہ تھا\n\nمسافرت نے پکارا نئے افق کی طرف\nاگر وفا کی شریعت کا یہ صلہ ہوگا\nنئے افق سے تعارف کے بعد کیا ہوگا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81_%D9%88_%D8%B1%D8%B3%D9%85_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "رہ و رسمِ حرم نا محرمانہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "رہ و رسمِ حرم نا محرمانہ\nکلیسا کی ادا سوداگرانہ\nتبرّک ہے مرا پیراہنِ چاک\nنہیں اہلِ جُنوں کا یہ زمانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81_%D9%88_%D8%B1%D8%B3%D9%85%D9%90_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "رہ کر مکان میں مرے مہمان جائیے", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہ کر مکان میں مرے مہمان جائیے\nمیرا بھی ایک بار کہا مان جائیے\n\nکہتا ہر ایک ہے تری تصویر دیکھ کر\nاس شکل اس شبیہ کے قربان جائیے\n\nمجھ کو پلا کے بزم میں کہنے لگے وہ آج\nبس جائیے یہاں سے مری جان جائیے\n\nسنبل نے آج نرگس حیراں سے یہ کہا\nجب جائیے چمن میں پریشان جائیے\n\nمیں نے کہا یہ ان سے جب آئے وہ وقت نزع\nہے آخری سوال مرا مان جائیے\n\nنقش قدم ترا ہے ہر اک غیرت چمن\nاے یار تیری چال کے قربان جائیے\n\nاے یار دیکھ زلف معنبر نہ کھول تو\nآگے ہی دل ہے اپنا پریشان جائیے\n\nجس سے کبھی تھا تم کو شب و روز اختلاط\nیہ ہے وہی تو مشرقیؔ پہچان جائیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%85%DB%81%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "رہ کے پردے میں رخ پر نور کی باتیں نہ کر", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہ کے پردے میں رخ پر نور کی باتیں نہ کر\nدور سے باتیں سنا کر دور کی باتیں نہ کر\n\nبیٹھ کر دنیا میں زاہد حور کی باتیں نہ کر\nرہ کے اتنی دور اتنی دور کی باتیں نہ کر\n\nلن ترانی جلوۂ جاناں تری اچھی نہیں\nمیں کوئی موسیٰ نہیں ہوں طور کی باتیں نہ کر\n\nمیری بے ہوشی بڑھی جاتی ہے اس تدبیر سے\nچارہ گر تو دیدۂ مخمور کی باتیں نہ کر\n\nاپنا غم مجھ کو پرائے غم سے یاد آنے لگا\nہم نشیں مجھ سے دل رنجور کی باتیں نہ کر\n\nپاس آنے کو جو کہتا ہوں تو مضطرؔ ناز سے\nکہتے ہیں چل دور اتنی دور کی باتیں نہ کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%AE_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "رہ گئے اشکوں میں لخت جگر آتے آتے", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "رہ گئے اشکوں میں لخت جگر آتے آتے\nرک گئے بحر سے لعل و گہر آتے آتے\n\nتھم گئے قطرۂ خون جگر آتے آتے\nرک گئے مجمر دل سے شرر آتے آتے\n\nہوتے ہوتے نہ ہوا مصرع رنگیں موزوں\nبند کیوں ہو گیا خون جگر آتے آتے\n\nتھم گئے اشک مرے آنکھ سے ڈھلتے ڈھلتے\nرہ گئے چشم صدف سے گہر آتے آتے\n\nرہ گیا کہنے پہ غمازوں کے سن سن کے مری\nپھر گیا یار مرا راہ پر آتے آتے\n\nدے دیا نقد دل اس بت کو بغیر از جانے\nہو گیا راہ میں کیسا ضرر آتے آتے\n\nدیکھتے دیکھتے دیکھیں گے مرے جوہر طبع\nآئیں گے آئیں گے اہل نظر آتے آتے\n\nکیا بھرا زنگ کدورت سے یہ آئینہ دل\nجو نظر آئے نہ وہ پھر نظر آتے آتے\n\nگردش چشم نے کس کو تہ و بالا نہ کیا\nہو گئے زیر و زبر راہ پر آتے آتے\n\nاشک خونی نہیں آتے ہیں جو آنکھوں سے تری\nکیوں رکی منتہیؔ دل کی خبر آتے آتے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%B4%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%AE%D8%AA_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92"} {"title": "رہ گیا پر وہ ترے چاک گریبانوں کا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہ گیا پر وہ ترے چاک گریبانوں کا\nحشر میں کوئی بھی پرساں نہیں دیوانوں کا\n\nراہ چلتے ہوئی ہے دولت دیدار نصیب\nاس میں احسان نہیں آپ کے دربانوں کا\n\nیاد آتی ہیں جنوں خیز ہوائیں ان کی\nاب نہ وہ ہم ہیں نہ عالم وہ بیابانوں کا\n\nارے دیوانے ذرا چل کے انہیں دیکھ تو لے\nمے کدوں میں ہے مزا شیخ پری خانوں کا\n\nبت خدا ہوں کہ نہ ہوں ہے مگر اتنی توقیر\nبت کدہ آج بھی کعبہ ہے مسلمانوں کا\n\nچشم ساقی کی طرح ہے اثر انداز اے شیخ\nبعد توبہ کے چھلکنا بھرے پیمانوں کا\n\nچٹکیاں آپ نہ لیں مہندی لگے ہاتھوں سے\nکام دیں گے نہ یہ ناخن کبھی پیکانوں کا\n\nقحط جائے بھی مگر یہ نہیں جانے کے ریاضؔ\nکہ مرے گھر ہے اجارہ مرے مہمانوں کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "رہا نہ حلقۂ صُوفی میں سوزِ مشتاقی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "رہا نہ حلقۂ صُوفی میں سوزِ مشتاقی\nفسانہ ہائے کرامات رہ گئے باقی\n\nخراب کوشکِ سُلطان و خانقاہِ فقیر\nفغاں کہ تخت و مصلّٰی کمالِ زرّاقی\n\nکرے گی داورِ محشر کو شرمسار اک روز\nکتابِ صُوفی و مُلّا کی سادہ اوراقی\n\nنہ چینی و عربی وہ، نہ رومی و شامی\nسما سکا نہ دو عالم میں مردِ آفاقی\n\nمئے شبانہ کی مستی تو ہو چکی، لیکن\nکھٹک رہا ہے دلوں میں کرشمۂ ساقی\n\nچمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر\nکہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی\n\nعزیز تر ہے متاعِ امیر و سُلطاں سے\nوہ شعر جس میں ہو بجلی کا سوز و بَرّاقی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AD%D9%84%D9%82%DB%82_%D8%B5%D9%8F%D9%88%D9%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%B2%D9%90_%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "رہا کرتے ہیں مے خانوں میں ہم پیر مغاں ہو کر", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہا کرتے ہیں مے خانوں میں ہم پیر مغاں ہو کر\nطبیعت زندہ دل رکھتی ہے پیری میں جواں ہو کر\n\nچھپے تھے قبر میں گردش زدہ کیا شادماں ہو کر\nیہاں بھی ساتھ ہے دوران سرکا آسماں ہو کر\n\nہوا ہے شہرہ داغوں کا نثار گل رخاں ہو کر\nاڑی بوئے وفا میری نسیم بوستاں ہو کر\n\nجھکے گی رفتہ رفتہ شاخ نخل قد کماں ہو کر\nکھنچے گا طول فرقت کا زہ تیر فغاں ہو کر\n\nمشابہ کر دیا کیوں ضعف نے ان کی نزاکت سے\nمجھے خود اپنے اوپر رشک آیا ناتواں ہو کر\n\nگئی رونق بھی چہرے کی حواس و عقل جاتے ہیں\nاڑا سب رنگ رخ وحشت میں گرد کارواں ہو کر\n\nزمیں پر سوزش غم سے گرے گا آسماں جل کر\nشرار دل چلا سر حلقۂ دور فغاں ہو کر\n\nتصدق ان پہ ہوتا ہوں جو شعلے دل سے اٹھتے ہیں\nبسر کرتا ہوں میں پروانۂ شمع فغاں ہو کر\n\nفنا ہو کر کہیں مٹتی ہے یا رب شورش وحشت\nفغاں کرتا ہوں میں زنجیر باب لا مکاں ہو کر\n\nخدا سمجھے ہماری آہ سوزاں سے جدائی میں\nکہ ساری دل کی طاقت اڑ گئی منہ سے دھواں ہو کر\n\nدل نالاں نے ہم سایوں کو بھی دشمن کیا اپنا\nرہا کرتے ہیں ہم بتیس دانتوں میں زباں ہو کر\n\nہمیشہ سے نظرؔ ہم محو یاد روئے روشن ہیں\nچمک اس درد کی رسی سے ہم دل میں نور جاں ہو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%BE%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "رہا کرتے ہیں یوں عشاق تیری یاد و حسرت میں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہا کرتے ہیں یوں عشاق تیری یاد و حسرت میں\nبسے رہتے ہیں جیسے پھول اپنی اپنی نکہت میں\n\nکھچا حسن وفا ہو کر جو یہ تصویر وحدت میں\nخدا کا نور شامل ہو گیا انساں کی صورت میں\n\nنہیں ہے لذت دنیا و ما فیہا جو قسمت میں\nخدا معلوم حصہ ہے مرا کس خوان نعمت میں\n\nصفائی رخ بڑھی ایسی ہوا آئینہ حیرت میں\nجوانی میں نظر آنے لگا منہ اس کی صورت میں\n\nپھلوں پھولوں گا میں دنیا سے جا کر باغ جنت میں\nازل سے پرورش ہوتا ہوں میں گل زار رحمت میں\n\nمحل عشق میں جو خون مشتاقوں کا بہتا ہے\nہوا کرتی ہیں رنگ آمیزیاں اس کی عمارت میں\n\nکرو ایسی ادائیں ہم سے ہم تصویر ہو جائیں\nرہیں ہم اور تم اک جاں دو قالب ہو کے خلوت میں\n\nملی ہے میری قسمت سے مجھے نعمت توکل کی\nجو مرغوب خدا ہیں وہ مزے ہیں اس کی لذت میں\n\nخدائی وجد کرتی ہے جہاں میں چہچہاتا ہوں\nہزاروں میں ہوں اک بلبل ترے گل زار قدرت میں\n\nنماز پنجگانہ میں بھی ہر جا ذکر اسی کا ہے\nتشہد میں اذاں میں سجدے میں نیت میں رکعت میں\n\nمچل جانے پر اس نافہم کے رحم اس کو آیا ہے\nلیا ہے میرے طفل اشک کو دامان رحمت میں\n\nدل آزاری کا ہم صورت سے اپنے مشورہ لیں گے\nالٰہی خیر آئینہ طلب ہوتا ہے خلوت میں\n\nمرے پر بھی شرفؔ کی دونوں آنکھیں ڈبڈباتی ہیں\nخدا جانے کہ دم نکلا ہے ان کا کس کی حسرت میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B9%D8%B4%D8%A7%D9%82_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رہا گر کوئی تا قیامت سلامت", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہا گر کوئی تا قیامت سلامت\nپھر اک روز مرنا ہے حضرت سلامت\n\nجگر کو مرے عشقِ خوں نابہ مشرب\nلکھے ہے “خداوندِ نعمت سلامت”\n\nعلی اللّرغمِ دشمن، شہیدِ وفا ہوں\nمبارک مبارک سلامت سلامت\n\nنہیں گر سر و برگِ ادراک معنی\nتماشائے نیرنگ صورت سلامت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%A7_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA"} {"title": "رہبان کا قیس کا محبوب ہے تو", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "رہبان کا قیس کا محبوب ہے تو\nاور برہمن و شیخ کا مرغوب ہے تو\nہوں اہل کنشت یا کہ اہل مسجد\nہر رنگ کے طالبوں کا مطلوب ہے تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D8%A8%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D9%82%DB%8C%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88"} {"title": "رہبر طبل و نشاں اور ذرا تیز قدم", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہبر طبل و نشاں اور ذرا تیز قدم\nہاں مرے عزم جواں اور ذرا تیز قدم\n\nاس اندھیرے سے نہ گھبرا کہ ذرا اور آگے\nہے چراغاں کا سماں اور ذرا تیز قدم\n\nکہیں مایوس نہ ہونا جو نگاہوں سے ابھی\nان کی محفل ہے نہاں اور ذرا تیز قدم\n\nیہ یقیں ہے کہ پہنچ جائیں گے ان تک اک دن\nچلئے بے وہم و گماں اور ذرا تیز قدم\n\nبجھ نہ جائیں رہ ہستی میں تمنا کے چراغ\nخواجۂ راہرواں اور ذرا تیز قدم\n\nکس بلندی پہ رواں تم ہو زمیں کے ذرو\nہیں ستارے نگراں اور ذرا تیز قدم\n\nمل ہی جائے گا کہیں شہر نگاراں اخترؔ\nاے پرستار بتاں اور ذرا تیز قدم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D8%A8%D8%B1_%D8%B7%D8%A8%D9%84_%D9%88_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B2_%D9%82%D8%AF%D9%85"} {"title": "رہتا تو ہے اس بزم میں چرچا مرے دل کا", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہتا تو ہے اس بزم میں چرچا مرے دل کا\nاچھا ہے یہ اچھا ہو نہ سودا مرے دل کا\n\nہے جوش قلق معرکہ آرا مرے دل کا\nہنگامہ ہے دل پر مرے برپا مرے دل کا\n\nہے سیر نگاہوں میں شبستان عدو کی\nکیا مجھ سے چھپاتے ہو تماشا مرے دل کا\n\nاک مشغلہ ٹھہری ہے تمہیں رنجش بے جا\nاک کھیل ہوا تم کو ستانا مرے دل کا\n\nبے خود ہوں تصور میں کسی برق ادا کے\nسرمایۂ تسکیں ہے تڑپنا مرے دل کا\n\nبرباد نہ جائے گی ظہیرؔ اپنی مصیبت\nآخر تو کہیں صبر پڑے گا مرے دل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D8%B1%DA%86%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "رہتا ہے زلف یار مرے من سے من لگا", "poet_page": "مصنف:باقر آگاہ ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہتا ہے زلف یار مرے من سے من لگا\nاے ناگ ترے ہاتھ یہ کیا خوب من لگا\n\nدیکھا ہے جن نے روئے دل افروز کو ترے\nبے شک نظر میں باغ ارم اس کی بن لگا\n\nسرسبز نت رکھیں گے انہیں میرے اشک و آہ\nاے نو بہار حسن جو چاہے چمن لگا\n\nسینہ سپر کر آؤں گا کوچے میں میں ترے\nگرچہ رقیب بیٹھے ہیں واں تن سے تن لگا\n\nکیا فائدہ ہے قصۂ رضوان سے تجھے\nکوئی شمع رو پری ستے تو بھی لگن لگا\n\nآگاہؔ خار خار جدائی سے ہے حزیں\nیک بار تو گلے سے اسے گل بدن لگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%86_%D9%84%DA%AF%D8%A7"} {"title": "رہتا ہے میرے دل میں ترا نور رات دن", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "رہتا ہے میرے دل میں ترا نور رات دن\nاک شعلہ برق زن ہے سر طور رات دن\n\nمانند مہر و ماہ حسینوں میں ہے فراق\nکیوں ایک ایک سے نہ رہے دور رات دن\n\nہم نے ملائی آنکھ یہ منہ ہے سحاب کا\nجاری ہے زخم چشم کا ناسور رات دن\n\nتیرے لیے مثال مہ و مہر و نجم و چرخ\nپھرتے ہیں لنج و لنگ و کر و کور رات دن\n\nکچھ غم فراق کا ہے نہ کچھ وصل کی خوشی\nہوں اس کے ذوق و شوق میں مسرور رات دن\n\nمنہ کس کا میرا ذکر کرے اس کے روبرو\nرہتا ہے ورنہ خلق کا مذکور رات دن\n\nخواہش ہر آئنہ ہے ادھر بھی نظر رہے\nگو آئینہ نظر کے ہے منظور رات دن\n\nدل میں جو بس رہی ہے کوئی نازنیں حسیں\nپھرتی ہے میری آنکھوں میں اک حور رات دن\n\nسوزش ہے داغ ہجر میں اس سے سوا وقارؔ\nبھرتا ہوں جتنا مرہم کافور رات دن", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%AF%D9%86"} {"title": "رہتا ہے کب اک روش پر آسماں", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہتا ہے کب اک روش پر آسماں\nکھاتا ہے چکر پہ چکر آسماں\n\nکر دیا برباد اک دم میں مجھے\nکیا کیا تو نے ستم گر آسماں\n\nآہ کرتے ہیں ہزاروں دل فگار\nپر نہ ٹوٹا تیرا خنجر آسماں\n\nروند ڈالوں پاؤں کے نیچے تجھے\nدل میں آتا ہے جفا گر آسماں\n\nرات کو برساتا ہے پتھر اگر\nدن کو برساتا ہے اخگر آسماں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A8_%D8%A7%DA%A9_%D8%B1%D9%88%D8%B4_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA"} {"title": "رہتا ہے ہمیشہ جو مری یار بغل میں", "poet_page": "مصنف:ہاجر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہتا ہے ہمیشہ جو مری یار بغل میں\nجلتے ہیں اسے دیکھ کے اغیار بغل میں\n\nکیا لطف ہو گر عیش کے سامان بہم ہوں\nمعشوق بھی ہو شوخ طرحدار بغل میں\n\nہر وقت جو آغوش میں رہتا تھا ہماری\nاب اوس کو لیے پھرتے ہیں اغیار بغل میں\n\nکس طرح میں سمجھوں کہ وہ کرتے ہیں محبت\nآتے نہیں بھولے سے بھی اک بار بغل میں\n\nمے نوشی کا جب حظ ہے کہ ہو بر لب دریا\nساغر ہو اگر ہاتھ میں تو یار بغل میں\n\nسب مٹ گئی ہاجرؔ شب فرقت کی مصیبت\nخوب اس کو دبا کر جو کیا پیار بغل میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%BA%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رہتا ہے ہڈیوں سے مری جو ہما لگا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہتا ہے ہڈیوں سے مری جو ہما لگا\nکچھ درد عاشقی کا اسے بھی مزہ لگا\n\nغافل نہ سوز عشق سے رہ پھر کباب ہے\nگر لائحہ اس آگ کا ٹک دل کو جا لگا\n\nدیکھا ہمیں جہاں وہ تہاں آگ ہو گیا\nبھڑکا رکھا ہے لوگوں نے اس کو لگا لگا\n\nمہلت تنک بھی ہو تو سخن کچھ اثر کرے\nمیں اٹھ گیا کہ غیر ترے کانوں آ لگا\n\nاب آب چشم ہی ہے ہمارا محیط خلق\nدریا کو ہم نے کب کا کنارے رکھا لگا\n\nہر چند اس کی تیغ ستم تھی بلند لیک\nوہ طور بد ہمیں تو قیامت بھلا لگا\n\nمجلس میں اس کی بار نہ مجھ کو ملی کبھو\nدروازے ہی سے گرچہ بہت میں رہا لگا\n\nبوسہ لبوں کا مانگتے ہی منہ بگڑ گیا\nکیا اتنی میری بات کا تم کو برا لگا\n\nعالم کی سیر میرؔ کی صحبت میں ہو گئی\nطالع سے میرے ہاتھ یہ بے دست و پا لگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%DA%88%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85%D8%A7_%D9%84%DA%AF%D8%A7"} {"title": "رہنے دے شب اپنے پاس مجھ کو", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہنے دے شب اپنے پاس مجھ کو\nاوروں سا نہ کر قیاس مجھ کو\n\nرہ جا کہ کہوں گا حال دل کا\nآ جائیں تنک حواس مجھ کو\n\nدل نازک و کار عشق در پیش\nاپنا ہے نپٹ ہراس مجھ کو\n\nیارب گیا کون یاں سے مہماں\nلگتا ہے یہ گھر اداس مجھ کو\n\nمحرم سے تو سنیو حال میرا\nنئیں طاقت التماس مجھ کو\n\nحیرت نے کیا ہے یک جہاں کا\nجوں آئینہ روشناس مجھ کو\n\nکو جامۂ خاک و خوں کہ قائمؔ\nسجتا تھا وہی لباس مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیں", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیں\nکون ہے اپنے ہوش میں ظالم کس کا گریباں چاک نہیں\n\nجب تھا زمانہ دیوانوں کا اب فرزانے آئے ہیں\nجب صحرا میں لالہ و گل تھے اب گلشن میں خاک نہیں\n\nفتنوں کی ارزانی سے اب ایک اک تار آلودہ ہے\nہم دیکھیں کس کس کے دامن ایک بھی دامن پاک نہیں\n\nموج تلاطم خیر ہیں ہم ساحل کے قریب آتے ہی نہیں\nوقت کی رو میں بہہ جائیں ہم ایسے خس و خاشاک نہیں\n\nدرد و کرب سے حشر بپا ہونٹوں پہ تبسم ہے اخترؔ\nدل کا عالم کچھ بھی رہے آنکھیں تو مگر نمناک نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%B7%D9%86%D8%B2_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%B4%D8%AA%D8%B1_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DA%A9_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "رہنے والوں کو ترے کوچے کے یہ کیا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:میر تسکینؔ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہنے والوں کو ترے کوچے کے یہ کیا ہو گیا\nمیرے آتے ہی یہاں ہنگامہ برپا ہو گیا\n\nتیرا آنا تھا تصور میں تماشا شمع رو\nمیرے دل پر رات پروانوں کا بلوا ہو گیا\n\nضبط کرتا ہوں ولے اس پر بھی ہے یہ جوش اشک\nگر پڑا جو آنکھ سے قطرہ وہ دریا ہو گیا\n\nاس قدر مانا برا میں نے عدو کا سن کے نام\nآخر اس کی ایسی باتوں کا تماشا ہو گیا\n\nکیا غضب ہے التجا پر موت بھی آتی نہیں\nتلخ کامی پر ہماری زہر میٹھا ہو گیا\n\nدیکھ یوں خانہ خرابی غیر واں قابض ہوا\nجس کے گھر کو ہم یہ سمجھے تھے کہ اپنا ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "رہوں کاہے کو دِل خستہ پھروں کاہے کو آوارہ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہوں کاہے کو دِل خستہ پھروں کاہے کو آوارہ\nاگر آں ترک شیرازی بدست آرد دِل ما را\n\nخُدا گر مُجھ گدا کو سلطنت بخشے تُو میں یارو\nبہ خال ہندوش بخشم سمرقند و بخارا را\n\nہم اپنا تُو بہشت و چشمۂ کوثر سمجھتے ہیں\nکنار آب رکناباد و گلگشت مصلیٰ را\n\nزمیں پر آیا جب یوسف اسی دِن آسماں رویا\nکے عشق از پردۂ عصمت بروں آرد زلیخا را\n\nیہ ظالم سنگ دِل محبوب جادوگر ستم پیشہ\nچناں بردند صبر از دِل کے ترکاں خوان یغما را\n\nجُو صاحب حسن ہیں ہرگز نہیں محتاج زینت کہ\nبہ آب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روئے زیبا را\n\nبتوں کی گالیوں میں بھی عجب لذت نکلتی ہے\nجواب تلخ می زیبد لب لعل شکر خا را\n\nتُو ہستی کی گرہ پر عقل کہ ناخن نہ توڑ اے دِل\nکے کس نکشود و نکشاید بہ حکمت ایں معما را\n\nنظیرؔ اس لطف سے تضمین کر تُو مصرعہ حافظ\nکے بر نظم تو افشاند فلک عقد ثریا را", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%90%D9%84_%D8%AE%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%81"} {"title": "رہی ان کی چین جبیں دیر تک", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہی ان کی چین جبیں دیر تک\nچڑھایا کئے آستیں دیر تک\n\nاڑاتی رہی خاکساروں کی خاک\nتمہاری گلی کی زمیں دیر تک\n\nکسی کے جو آنے کی امید تھی\nرہی لب پہ جان حزیں دیر تک\n\nرہی دیکھ کر نقشۂ کوئے یار\nتحیر میں خلد بریں دیر تک\n\nوہ نیرنگیاں میرے رونے میں تھیں\nکہ ہنستے رہے سب حسیں دیر تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%DB%8C%D9%86_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری\nنہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری\n\nبرنگ صوت جرس تجھ سے دور ہوں تنہا\nخبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری\n\nترے نہ آج کے آنے میں صبح کے مجھ پاس\nہزار جائے گئی طبع بدگماں میری\n\nوہ نقش پئے ہوں میں مٹ گیا ہو جو رہ میں\nنہ کچھ خبر ہے نہ سدھ ہے گی رہ رواں میری\n\nشب اس کے کوچے میں جاتا ہوں اس توقع پر\nکہ ایک دوست ہے واں خواب پاسباں میری\n\nاسی سے دور رہا اصل مدعا جو تھا\nگئی یہ عمر عزیز آہ رائیگاں میری\n\nترے فراق میں جیسے خیال مفلس کا\nگئی ہے فکر پریشاں کہاں کہاں میری\n\nنہیں ہے تاب و تواں کی جدائی کا اندوہ\nکہ ناتوانی بہت ہے مزاج داں میری\n\nرہا میں در پس دیوار باغ مدت لیک\nگئی گلوں کے نہ کانوں تلک فغاں میری\n\nہوا ہوں گریۂ خونیں کا جب سے دامن گیر\nنہ آستین ہوئی پاک دوستاں میری\n\nدیا دکھائی مجھے تو اسی کا جلوہ میرؔ\nپڑی جہان میں جا کر نظر جہاں میری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D9%81%D8%AA%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "رہی نہ پختگی عالم میں دور خامی ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہی نہ پختگی عالم میں دور خامی ہے\nہزار حیف کمینوں کا چرخ حامی ہے\n\nنہ اٹھ تو گھر سے اگر چاہتا ہے ہوں مشہور\nنگیں جو بیٹھا ہے گڑ کر تو کیسا نامی ہے\n\nہوئی ہیں فکریں پریشان میرؔ یاروں کی\nحواس خمسہ کرے جمع سو نظامیؔ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%AE%D8%AA%DA%AF%DB%8C_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D9%85%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "رہین بیم ہستی ہے دل دیوانہ برسوں سے", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہین بیم ہستی ہے دل دیوانہ برسوں سے\nہوا کی زد میں ہے اپنا چراغ خانہ برسوں سے\n\nخوشا اے جوش حسرت اشک بھر آئے ہیں آنکھوں میں\nترستا تھا چراغاں کو مرا کاشانہ برسوں سے\n\nیہ حسن و عشق افکار ازل کی یادگاریں ہیں\nزبان دہر دہراتی ہے یہ افسانہ برسوں سے\n\nجنون عشق کو معراج پر پہنچا دیا ہم نے\nہے اپنے چاک پیراہن میں اک ویرانہ برسوں سے\n\nیہ حسرت ہے جوانی باریاب حسن ہو جائے\nہے آوارہ یہ موج نکہت مستانہ برسوں سے\n\nجھکا دوں عرش و کرسی کو اگر وہ سامنے آئیں\nلیے پھرتا ہوں شوق سجدۂ رندانہ برسوں سے\n\nمحبت میں ظفرؔ ہے بے خودی بھی شعلہ تابی بھی\nمئے دوآتشہ پیتا ہوں میں روزانہ برسوں سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%DB%8C%D9%86_%D8%A8%DB%8C%D9%85_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو\nہم سخن کوئی نہ ہو اور ہمزباں کوئی نہ ہو\n\nبے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے\nکوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو\n\nپڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار\nاور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%AC%DA%AF%DB%81_%DA%86%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "رہے جو شب کو ہم اس گل کے سات کوٹھے پر", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہے جو شب کو ہم اس گل کے سات کوٹھے پر\nتو کیا بہار سے گزری ہے رات کوٹھے پر\n\nیہ دھوم دھام رہی صبح تک اہا ہا ہا\nکسی کی اتری ہے جیسے برات کوٹھے پر\n\nمکاں جو عیش کا ہاتھ آیا غیر سے خالی\nپٹے کے چلنے لگے پھر تو ہات کوٹھے پر\n\nگرایا شور کیا گالیاں دیں دھوم مچی\nعجب طرح کی ہوئی واردات کوٹھے پر\n\nلکھیں ہم عیش کی تختی کو کس طرح اے جاں\nقلم زمین کے اوپر دوات کوٹھے پر\n\nکمند زلف کی لٹکا کے دل کو لے لیجے\nیہ جنس یوں نہیں آنے کی ہات کوٹھے پر\n\nخدا کے واسطے زینے کی راہ بتلاؤ\nہمیں بھی کہنی ہے کچھ تم سے بات کوٹھے پر\n\nلپٹ کے سوئے جو اس گل بدن کے ساتھ نظیرؔ\nتمام ہو گئیں حل مشکلات کوٹھے پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D9%88%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "رہے خیال تنک ہم بھی رو سیاہوں کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہے خیال تنک ہم بھی رو سیاہوں کا\nلگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا\n\nنہیں ستارے یہ سوراخ پڑ گئے ہیں تمام\nفلک حریف ہوا تھا ہماری آہوں کا\n\nگلی میں اس کی پھٹے کپڑوں پر مرے مت جا\nلباس فقر ہے واں فخر بادشاہوں کا\n\nتمام زلف کے کوچے ہیں مار پیچ اس کی\nتجھی کو آوے دلا چلنا ایسی راہوں کا\n\nاسی جو خوبی سے لائے تجھے قیامت میں\nتو حرف کن نے کیا گوش دادخواہوں کا\n\nتمام عمر رہیں خاک زیر پا اس کی\nجو زور کچھ چلے ہم عجز دست گاہوں کا\n\nکہاں سے تہ کریں پیدا یہ ناظمان حال\nکہ پوچ بافی ہی ہے کام ان جلاہوں کا\n\nحساب کاہے کا روز شمار میں مجھ سے\nشمار ہی نہیں ہے کچھ مرے گناہوں کا\n\nتری جو آنکھیں ہیں تلوار کے تلے بھی ادھر\nفریب خوردہ ہے تو میرؔ کن نگاہوں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%AA%D9%86%DA%A9_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%D9%88_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "رہے دنیا میں محکوم دل بے مدعا ہو کر", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہے دنیا میں محکوم دل بے مدعا ہو کر\nخوشا انجام اٹھے بھی تو محروم دعا ہو کر\n\nوطن کو چھوڑ کر جس سر زمیں کو میں نے عزت دی\nوہی اب خون کی پیاسی ہوئی ہے کربلا ہو کر\n\nبتاؤ ایسے بندے پر ہنسی آئے کہ غیظ آئے\nدعا مانگے مصیبت میں جو قصداً مبتلا ہو کر\n\nکھلا آخر فریب مے چلا جب درد کا ساغر\nبندھا زور خمار اندیشۂ روز جزا ہو کر\n\nنگاہ یاسؔ ہی گویا دوبارہ زندگی پائی\nجو چونکا خواب غفلت کے مزے سے آشنا ہو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%88%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظ", "poet_page": "مصنف:ماہ لقا بائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظ\nہوا نہ آہ کا اپنے کبھی اثر محظوظ\n\nدریغ چشم کرم سے نہ رکھ کہ اے ظالم\nکرے ہے دل کو مرے تیری یک نظر محظوظ\n\nنہ بار بار ہوس ہو نبات کی مجھ کو\nرکھے جو ایک ہی بوسہ میں لب شکر محظوظ\n\nتماشہ ایک خدائی کا ہم دکھاتے ہیں\nتو کیجئے بندہ نوازی ہوئے ہو مگر محظوظ\n\nیہی دعا ہے کہ چنداؔ کا دل علی ولی\nتیرے کرم سے رہے شام اور سحر محظوظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85_%D9%88%DB%81_%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D8%A8%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D8%B8%D9%88%D8%B8"} {"title": "رہے نو روز عشرت آفریں جوش بہار افزا", "poet_page": "مصنف:ماہ لقا بائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہے نو روز عشرت آفریں جوش بہار افزا\nگل افشاں ہے کرم تیرا چمن میں دہر کے ہر جا\n\nنہ پوچھو کوئی عیش و خرمی کو عہد میں اس کے\nکہ جس کے فیض سے گھر گھر ہے دور ساغر صہبا\n\nارسطو جاہ وہ فرخ نژاد اہل عالم ہے\nکہ جس کے فضل و بخشش کا جہاں میں ہے علم برپا\n\nدعا ہے یہ موالی کی تصدق سے ائمہ کے\nرکھے سائے میں اپنے لطف کے تجھ کو علی مولیٰ\n\nنہیں کچھ زیب اے مہر سپہر معدلت اس میں\nعیاں چنداؔ پہ جو کچھ ہے نوازش یہ کرم فرما", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%DB%92_%D9%86%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%D8%A2%D9%81%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%81%D8%B2%D8%A7"} {"title": "رہے نہ ایک بھی بیداد گر ستم باقی", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہے نہ ایک بھی بیداد گر ستم باقی\nرکے نہ ہاتھ ابھی تک ہے دم میں دم باقی\n\nاٹھا دوئی کا جو پردا ہماری آنکھوں سے\nتو کعبے میں بھی رہا بس وہی صنم باقی\n\nبلا لو بالیں پہ حسرت نہ دل میں میرے رہے\nابھی تلک تو ہے تن میں ہمارے دم باقی\n\nلحد پہ آئیں گے اور پھول بھی اٹھائیں گے\nیہ رنج ہے کہ نہ اس وقت ہوں گے ہم باقی\n\nیہ چار دن کے تماشے ہیں آہ دنیا کے\nرہا جہاں میں سکندر نہ اور نہ جم باقی\n\nتم آؤ تار سے مرقد پہ ہم قدم چومیں\nفقط یہی ہے تمنا تری قسم باقی\n\nرساؔ یہ رنج اٹھایا فراق میں تیرے\nرہے جہاں میں نہ آخر کو آہ ہم باقی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%AF%D8%B1_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "رہے ہم آشیاں میں بھی تو برق آشیاں ہو کر", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہے ہم آشیاں میں بھی تو برق آشیاں ہو کر\nلگا دی آگ اپنے گھر میں سرگرم‌ فغاں ہو کر\n\nنہ اپنے غم زدوں کو خوش کرو اب مہرباں ہو کر\nبتو تم خوش رہو ہم کیا کریں گے شادماں ہو کر\n\nکھلے غنچے نہ بو پھوٹی نہ شاخ گل پھلی پھولی\nقفس میں جب سے ہم آئے بہار آئی خزاں ہو کر\n\nچلے ہو گل بداماں کچھ تو کہتے جاؤ ان سے بھی\nکہ تم سے کہہ رہے ہیں کچھ عنادل ہم زباں ہو کر\n\nجواں ہونے نہ پائے تھے کہ دل آیا حسینوں پر\nاجل یہ کہتی آئی کیا کرو گے تم جواں ہو کر\n\nہوئے پست ایسے ان کی خاک بھی اڑتے نہیں دیکھی\nرہے رہنے کو کتنے اس زمیں پر آسماں ہو کر\n\nجو کھل کر وار موسیٰ پر تو ہم پر چوٹ پردے میں\nوہی جلوہ عیاں ہو کر وہی جلوہ نہاں ہو کر\n\nقیامت ان کی چھیڑیں ہیں مرے بیتاب کرنے کو\nجو ناوک آئے چٹکی سے تو ان کی چٹکیاں ہو کر\n\nملایا خاک ہو کر حسرتوں کو اپنی مٹی میں\nچھپایا کارواں کو ہم نے گرد کارواں ہو کر\n\nکبھی تقریر ساقی میں جو لغزش اس نے پائی ہے\nتو موج مے نے ہم سے گفتگو کی ہے زباں ہو کر\n\nیہ رنگیں نعرۂ مستانہ کس کے ہیں ارے زاہد\nصدا ناقوس کی دے دی کہیں گونجی اذاں ہو کر\n\nترے کوچے میں پیسا ہے اسی نے ہم غریبوں کو\nگرا ہے سایۂ دیوار ہم پر آسماں ہو کر\n\nکسی محرم سنبھالے گی نہ دہرائے ہوئے آنچل\nرہیں گے وہ نہ قابو میں کسی کے بھی جواں ہو کر\n\nدکن میں کیا وزیر فوج نے مہماں نوازی کی\nجناب شادؔ کے در سے پھرے ہم شادماں ہو کر\n\nریاضؔ اس وضع سے پہنچے کہ بولے میکدے والے\nبزرگ خضر صورت آئے جنت میں جواں ہو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "رہے ہے روکش نشتر ہر آبلہ دل کا", "poet_page": "مصنف:ممنونؔ نظام الدین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "رہے ہے روکش نشتر ہر آبلہ دل کا\nیہ حوصلہ ہے کوئی بلبے حوصلہ دل کا\n\nعبث نہیں ہے یہ وابستۂ پریشانی\nکسی کی زلف کو پہنچے ہے سلسلہ دل کا\n\nہجوم غمزہ و خیل کرشمہ لشکر ناز\nعجب سپاہ سے ٹھہرا مقابلہ دل کا\n\nکہوں میں کیا کہ ہوا کیسے بے جگہ مائل\nہے اپنے بخت کا شکوہ نہیں گلہ دل کا\n\nشب فراق نے چھوڑا نہ صبر و تاب شکیب\nلگی یہ آگ کہ اسباب سب جلا دل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%88%DA%A9%D8%B4_%D9%86%D8%B4%D8%AA%D8%B1_%DB%81%D8%B1_%D8%A2%D8%A8%D9%84%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ریاضؔ اک چلبلا سا دل ہو ہم ہوں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ریاضؔ اک چلبلا سا دل ہو ہم ہوں\nحسینوں کی بھری محفل ہو ہم ہوں\n\nکہا لیلیٰ سے کس نے دل ہو تو ہو\nکبھی تو ہو ترا محمل ہو ہم ہوں\n\nمزا دے جائے ہم کو خواب غفلت\nمزا آ آئے تم غافل ہو ہم ہوں\n\nذرا ہم بھی سنیں تم نے کہا کیا\nعدو سے جب سر محفل ہو ہم ہوں\n\nلئے حلقے میں ہوں سب اہل محشر\nکمر میں ہاتھ ہو قاتل ہو ہم ہوں\n\nبنے تل آنکھ کا گھٹ کر شب وصل\nہماری آنکھ میں یہ تل ہو ہم ہوں\n\nتری الٹی چھری دل میں اتر جائے\nعدو جب اس طرح بسمل ہو ہم ہوں\n\nیہ تھک کر بیٹھنا ہو وجہ آرام\nمزا ہے سختیٔ منزل ہو ہم ہوں\n\nنہ خلوت چاہئے ہم کو نہ معشوق\nریاضؔ اک آرزوئے دل ہو ہم ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%B6%D8%94_%D8%A7%DA%A9_%DA%86%D9%84%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D8%B3%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88_%DB%81%D9%85_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "ریت کی طرح کناروں پہ ہیں ڈرنے والے", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ریت کی طرح کناروں پہ ہیں ڈرنے والے\nموج در موج گئے پار اترنے والے\n\nآج کانٹوں سے گریبان چھڑائیں تو سہی\nلالہ و گل پہ کبھی پاؤں نہ دھرنے والے\n\nروپ سے چھب سے پھبن سے کوئی آگاہ نہیں\nنقش کار لب و عارض ہیں سنورنے والے\n\nکوئی جینے کا سلیقہ ہو تو میں بھی جانوں\nموت آسان ہے مر جاتے ہیں مرنے والے\n\nمیرے جینے کا یہ اسلوب پتہ دیتا ہے\nکہ ابھی عشق میں کچھ کام ہیں کرنے والے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%88%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "ریستوران میں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہم اک چائے کی میز پہ آ کر\nعشق کا قصہ لے بیٹھے تھے\nہر خاتون بڑی کومل تھی\nمرد نہایت دل والے تھے\n\nمعتبران شہر میں اک نے\nاس کو فلاطونی ٹھہرایا\nان کی شریک حیات نے اس پر\nطنز سے \"جی اچھا!\" فرمایا\n\nپادریوں میں اک یہ بولے\nعشق گھریلو ہو نہ تو اس سے\nنظم شکم برہم ہوتا ہے\nاک لڑکی نے پوچھا \"کیسے؟\"\n\nاک خاتون نے یہ فرمایا\nعشق میں ہے تلوار کی تیزی\nاور اس دوران میں اٹھ کر\nچائے کی پیالی شوہر کو دی\n\nایک گوشہ بالکل خالی تھا\nتم بھی جو آتیں ہم مل رہتے\nعشق کا مطلب سب پا جاتے\nگو ہم منہ سے کچھ بھی نہ کہتے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%8C%D8%B3%D8%AA%D9%88%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ریفارم کی حد", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "دھونے کی ہے اے رفارمر جا باقی\nکپڑے پہ ہے جب تلک کہ دھبا باقی ہے\nدھو شوق سے دھبے کو پہ اتنا نہ رگڑ\nدھبا رہے کپڑے پہ نہ کپڑا باقی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B1%DB%8C%D9%81%D8%A7%D8%B1%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%AF"} {"title": "ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے\nکشاد و بست مژہ سیلی ندامت ہے\n\nنہ جانوں کیونکہ مٹے طعن بد عہدی\nتجھے کہ آئنہ بھی ورطۂ ملامت ہے\n\nبہ پیچ و تاب ہوس سلک عافیت مت توڑ\nنگاہ عجز سر رشتۂ سلامت ہے\n\nوفا مقابل و دعواۓ عشق بے بنیاد\nجنون ساختہ و فصل گل قیامت ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2_%D8%A8%D8%B3%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B4%D9%82_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "زاروں سے ڈریے پھولیے زر پر نہ زور پر", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زاروں سے ڈریے پھولیے زر پر نہ زور پر\nکیجے نگاہ حال سلیمان و مور پر\n\nروک اپنے نفس بد کو کہ حاصل ہے اختیار\nبیمار پر حکیم کو حاکم کو چور پر\n\nہو آبرو بڑھانی تو یہ کہہ اب بحر کو\nملتا ملائمت سے ہے کس زور و شور پر\n\nاک عمر سے وظیفہ ہے صاحب کے نام کا\nناخن کے خط ہیں انگلیوں کے پور پور پر\n\nنرگس کے چشم بد کا ہے ناحق تمہیں خیال\nالزام بد نگاہی کا تہمت ہے کور پر\n\nپاؤں اپنا میرے سینہ پہ رکھ دیجے ایک بار\nاک لات بھی تو ماریے حاتم کی گور پر\n\nالفت میں دل امڈتے ہی سر تن سے اڑ گیا\nسرپوش جوش مے سے نہ ٹھہرا مٹھور پر\n\nکل تک جو شمع محفل عیش و نشاط تھے\nجلتا نہیں چراغ ہے آج ان کی گور پر\n\nبلبل سے ہم نے لڑکے کیا سر عشق فاش\nواقف ہزار تھے تو کھلا اب کرور پر\n\nہوتے ہو باغ میں جو غزل خواں تم اے نسیمؔ\nخندہ گلوں کو آتا ہے بلبل کے شور پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%88%D8%B1%DB%8C%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%B2%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%B2%D9%88%D8%B1_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "زاغ کہتا ہے نہایت بدنُما ہیں تیرے پَر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "زاغ کہتا ہے نہایت بدنُما ہیں تیرے پَر\nشَپرّک کہتی ہے تجھ کو کور چشم و بے ہُنر\nلیکن اے شہباز! یہ مُرغانِ صحرا کے اچھُوت\nہیں فضائے نیلگوں کے پیچ و خَم سے بے خبر\nان کو کیا معلوم اُس طائر کے احوال و مقام\nرُوح ہے جس کی دمِ پرواز سر تا پا نظر!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A7%D8%BA_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%D8%A8%D8%AF%D9%86%D9%8F%D9%85%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%BE%D9%8E%D8%B1"} {"title": "زانو پر اس کے رات رہا سر تمام رات", "poet_page": "مصنف:ابراہیم عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاجز (1934)", "year": "1934", "text_ur": "زانو پر اس کے رات رہا سر تمام رات\nپیش نظر رہا رخ دلبر تمام رات\n\nکس سے کہوں کٹی مری کیوں کر تمام رات\nتڑپا کیا مرا دل مضطر تمام رات\n\nبیٹھا رہا ہوں شام سے اکثر تمام رات\nگنتا رہا ہوں ہجر میں اختر تمام رات\n\nایسا بندھا تصور ابرو کہ خواب میں\nکاٹا کیا گلا دم خنجر تمام رات\n\nکیا جانتا ہے وحشت شبہائے تار کو\nکاٹی ہو جیسے شمع جلا کر تمام رات\n\nہو گرچہ بے نوا وہی سلطان وقت ہے\nجس کو ہے وصل یار میسر تمام رات\n\nاے عاجزؔ ان کی کیوں نہ دعا مستجاب ہو\nکرتے ہیں جو عبادت داور تمام رات", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A7%D9%86%D9%88_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%B3%D8%B1_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "زانو پہ قد خم شدہ سر کو لایا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "زانو پہ قد خم شدہ سر کو لایا\nجاے دنداں کو ہم نے خالی پایا\nآنکھوں کی بصارت میں تفاوت آیا\nپیری نے عجب سماں ہمیں دکھلایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A7%D9%86%D9%88_%D9%BE%DB%81_%D9%82%D8%AF_%D8%AE%D9%85_%D8%B4%D8%AF%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "زاہد اس راہ نہ آ مست ہیں مے خوار کئی", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زاہد اس راہ نہ آ مست ہیں مے خوار کئی\nابھی یاں چھین لیے جبہ و دستار کئی\n\nسنگ دل کوں نہ کسی کی ہوئی افسوس خبر\nمر گئے سر کوں پٹک کر پس دیوار کئی\n\nناتواں مجھ سا بھلا کون ہے انصاف تو کر\nچشم فتاں کے ترے گرچہ ہیں بیمار کئی\n\nدل کی بیتابی سے اور چشم کی بے خوابی سے\nنظر آنے لگے اب عشق کے آثار کئی\n\nجوں ہی وہ ہوش ربا آ کے نمودار ہوا\nنقش دیوار ہوئے طالب دیدار کئی\n\nابرو و چشم و نگاہ و مژہ ہر اک خوں خوار\nایک دل ہے مرا تس پر ہیں دل آزار کئی\n\nاے مسیحائے زماں دیکھ ٹک آ کر احوال\nکہ تری چشم کے یاں مرتے ہیں بیمار کئی\n\nکھینچ مت زور سے شانے کو تو اے مشاطہ\nدل ہیں اس زلف کے بالوں میں گرفتار کئی\n\nکف پا ہیں ترے صحرا کی نشانی بیدارؔ\nمر گیا تو بھی پھپھولوں میں رہے خار کئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D8%A7%D8%B3_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%A2_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A6%DB%8C"} {"title": "زاہد بھی میری طرح اسی پر فدا نہ ہو", "poet_page": "مصنف:راجہ نوشاد علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زاہد بھی میری طرح اسی پر فدا نہ ہو\nکعبہ کے پردے میں بت کافر چھپا نہ ہو\n\nتقدیر ہے خلاف تمہاری خطا نہیں\nبگڑو ہمیں سے اور کسی سے خفا نہ ہو\n\nآمین کہہ رہے ہیں بتان صنم کدہ\nمقبول بارگاہ خدا کیوں دعا نہ ہو\n\nبدلا اگر وفا کا جفا ہو جہان میں\nاو نا شناس قدر وفا پھر وفا نہ ہو\n\nپائے صنم پہ سر ہے تمنا یہ دل میں ہے\nمیرے سوا قبول کسی کی دعا نہ ہو\n\nالٹیں تو کس کے سامنے الٹیں نقاب رخ\nجب کوئی ان کا دیکھنے والا رہا نہ ہو\n\nقاتل یہ آرزو ترے بسمل کے دل میں ہے\nخنجر ہلال بن کے گلے سے جدا نہ ہو\n\nباقی رہے نہ حد کوئی تیرے غرور کی\nاو بے وفا جو حسن ترا بے وفا نہ ہو\n\nسجدہ کریں ہم اس بت کافر کو دیر میں\nکچھ بے خودیٔ عشق میں خوف خدا نہ ہو\n\nاپنا خرام ناز عبث دیکھتے ہو تم\nدیکھو مرا نشان لحد مٹ گیا نہ ہو\n\nزاہد حرم سے لائے تجھے کون کھینچ کر\nگر بت کدہ میں جلوۂ شان خدا نہ ہو\n\nمرنے کے بعد ان کی حیا ہم سے کم ہوئی\nوہ کہہ رہے ہیں روٹھنے والے خفا نہ ہو\n\nرنجیدہ ہو کے در سے جو اٹھتا ہوں کہتے ہیں\nدنیا میں زندگی سے کوئی یوں خفا نہ ہو\n\nآتے ہو تم جو روز عیادت کے واسطے\nمقصود اس سے یہ ہے کہ مجھ کو شفا نہ ہو\n\nساقیٔ پاک دل ہمیں آتا نہیں مزہ\nجب تک شریک دور کوئی پارسا نہ ہو\n\nوہ حکم دے چکے ہیں کہ اب ان کی بزم میں\nدنیا کی گفتگو ہو مرا تذکرہ نہ ہو\n\nقدموں پہ سر جھکائے بڑی دیر ہو گئی\nباہیں گلے میں ڈال بھی دو اب خفا نہ ہو\n\nساقی پلا خدا کے لئے آج رات بھر\nاس کی تو کچھ خبر نہیں کل کیا ہو کیا نہ ہو\n\nنوشادؔ وہ جو ناز سے آئیں تو دیکھنا\nجس کا قضا ہے نام وہ ان کی ادا نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%D9%81%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "زاہد در مسجد پہ خرابات کی تو نے", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زاہد در مسجد پہ خرابات کی تو نے\nجی بھی یوں ہی چاہے تھا کرامات کی تو نے\n\nجانے دے بس اب یار کہ یہ بھی نہیں کچھ کم\nاعمال کی دل کے جو مکافات کی تو نے\n\nایدھر تو میں نالاں ہوں ادھر غیر نہ جانے\nاب کس سے مری جان ملاقات کی تو نے\n\nاللہ ری محبت تری تعلیم کہ جو بات\nدشوار تھی مجھ پر سو مساوات کی تو نے\n\nقائمؔ رہ پر خوف ہے اور دور ہے منزل\nکب پہنچے گا ظالم جو یہیں رات کی تو نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF_%D9%BE%DB%81_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92"} {"title": "زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں\nتجھ کو لپٹ پڑیں گے دیوانے آدمی ہیں\n\nغیروں کی دوستی پر کیوں اعتبار کیجے\nیہ دشمنی کریں گے بیگانے آدمی ہیں\n\nجو آدمی پہ گزری وہ اک سوا تمہارے\nکیا جی لگا کے سنتے افسانے آدمی ہیں\n\nکیا جرأتیں جو ہم کو درباں تمہارا ٹوکے\nکہہ دو کہ یہ تو جانے پہچانے آدمی ہیں\n\nمے بوند بھر پلا کر کیا ہنس رہا ہے ساقی\nبھر بھر کے پیتے آخر پیمانے آدمی ہیں\n\nتم نے ہمارے دل میں گھر کر لیا تو کیا ہے\nآباد کرتے آخر ویرانے آدمی ہیں\n\nناصح سے کوئی کہہ دے کیجے کلام ایسا\nحضرت کو تا کہ کوئی یہ جانے آدمی ہیں\n\nجب داور قیامت پوچھے گا تم پہ رکھ کر\nکہہ دیں گے صاف ہم تو بیگانے آدمی ہیں\n\nمیں وہ بشر کہ مجھ سے ہر آدمی کو نفرت\nتم شمع وہ کہ تم پر پروانے آدمی ہیں\n\nمحفل بھری ہوئی ہے سودائیوں سے اس کی\nاس غیرت پری پر دیوانے آدمی ہیں\n\nشاباش داغؔ تجھ کو کیا تیغ عشق کھائی\nجی کرتے ہیں وہی جو مردانے آدمی ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "زاہد نہیں مسجد سے کم حرمت مے خانہ", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زاہد نہیں مسجد سے کم حرمت مے خانہ\nمستوں کی جماعت میں محراب ہے پیمانہ\n\nکیوں زلف تری الجھی رہتی ہے اے جانانہ\nحاضر ہے دل صد چاک درکار ہو گر شانہ\n\nدیکھے جو تری صورت ہو جائے ہے دیوانہ\nہے عکس سے تجھ رخ کے آئینہ پری خانہ\n\nاس دل کا مرے جلنا رکھتا ہے وہ کیفیت\nدیکھے گا جو پروانہ ہو جائے گا مستانہ\n\nاک نقد نگہ پر عشقؔ بکتا ہے تو کر سودا\nدے بہر خریداری دیدار کا بیعانہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%85_%D8%AD%D8%B1%D9%85%D8%AA_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "زاہد کے دل میں بت ہے مسلماں نہیں رہا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زاہد کے دل میں بت ہے مسلماں نہیں رہا\nیہ برہمن ہے صاحب ایماں نہیں رہا\n\nملتے ہیں ہاتھ یاس سے دست جنوں مرے\nافسوس کوئی تار گریباں نہیں رہا\n\nصد شکر اپنے ساتھ دل اس کو بھی لے گیا\nجو چھیڑتا تھا ہم کو وہ ارماں نہیں رہا\n\nتصویر یار مجھ کو تصور بنا چکا\nپر شکر ہے خدا کا پریشاں نہیں رہا\n\nپہنچا دیا صبا نے اسے کوئے یار میں\nاپنا غبار بے سر و ساماں نہیں رہا\n\nلب بستہ دفعتاً جو ہوا زخم دل مرا\nدلبر کے خوان کا وہ نمکداں نہیں رہا\n\nانسانیت ہے جس میں دلا ہے وہ آدمی\nحیوانیت ہے جس میں وہ انساں نہیں رہا\n\nافشا یہ راز عشق ہوا میری آہ سے\nجس کو چھپا رہے تھے وہ پنہاں نہیں رہا\n\nعاشق کی تربتوں کو مٹا کر یہ کہہ دیا\nلو اب نشان گور غریباں نہیں رہا\n\nاپنی صدا سنا کے ہر اک یاں سے چل بسا\nگلشن میں کوئی مرغ خوش الحاں نہیں رہا\n\nجو قیدئ محن تھے جمیلہؔ وہ چل بسے\nزنداں میں کوئی صاحب زنداں نہیں رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "زاہدو روضۂ رضواں سے کہو عشق اللہ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زاہدو روضۂ رضواں سے کہو عشق اللہ\nعاشقو کوچۂ جاناں سے کہو عشق اللہ\n\nجس کی آنکھوں نے کیا بزم دو عالم کو خراب\nکوئی اس فتنۂ دوراں سے کہو عشق اللہ\n\nیارو دیکھو جو کہیں اس گل خنداں کا جمال\nتو مرے دیدۂ گریاں سے کہو عشق اللہ\n\nہیں جو وہ کشتۂ شمشیر نگاہ قاتل\nجا کے ان گنج شہیداں سے کہو عشق اللہ\n\nآہ کے ساتھ مرے سینے سے نکلے ہے دھواں\nاے بتاں مجھ دل بریاں سے کہو عشق اللہ\n\nیاد میں اس کے رخ و زلف کی ہر آن نظیرؔ\nروز و شب سنبل و ریحاں سے کہو عشق اللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%B6%DB%82_%D8%B1%D8%B6%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "زبان بند رہی دل کا مدعا نہ کہا", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زبان بند رہی دل کا مدعا نہ کہا\nمگر نگاہ نے اس انجمن میں کیا نہ کہا\n\nمحیط شوق میں ہم ڈوبتے ابھرتے رہے\nخدا گواہ کبھی جور نا خدا نہ کہا\n\nصنم کدہ ہے کہ اک محفل خدا ونداں\nبہت خفا ہوا وہ بت جسے خدا نہ کہا\n\nہزار خضر نما لوگ راستوں میں ملے\nہمارے دل نے کسی کو بھی رہنما نہ کہا\n\nیہ کائنات تو ہے خیر مجھ سے بیگانہ\nاگر نگاہ نے تیری بھی آشنا نہ کہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7"} {"title": "زبان حال سے ہم شکوۂ بیداد کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زبان حال سے ہم شکوۂ بیداد کرتے ہیں\nدہان زخم قاتل دم بدم فریاد کرتے ہیں\n\nسمجھ کر کیا اسیران قفس فریاد کرتے ہیں\nتوجہ بھی کہیں فریاد پر صیاد کرتے ہیں\n\nعذاب قبر سے پاتے ہیں راحت عشق کے مجرم\nپس مرداں جفائیں یار کی جب یاد کرتے ہیں\n\nنہ کہہ بہر خدا تو بندگان عشق کو کافر\nبتوں کی یاد میں زاہد خدا کو یاد کرتے ہیں\n\nذرا صیاد چل کر دیکھ تو کیا حال ہے ان کا\nاسیران قفس فریاد پر فریاد کرتے ہیں\n\nبتان سنگ دل کے ہاتھ سے دل ہی نہیں نالاں\nبرابر دیر میں ناقوس بھی فریاد کرتے ہیں\n\nبناتے ہیں ہزاروں زخم خنداں خنجر غم سے\nدل ناشاد کو ہم اس طرح پر شاد کرتے ہیں\n\nملے لذت جو ایذا سے تو باز آتے ہیں ایذا سے\nستم ایجاد ہیں طرز ستم ایجاد کرتے ہیں\n\nاثرؔ کو دیکھ کر کیا روح کو صدمہ پہنچتا ہے\nخدا سمجھے بتوں سے کس قدر بیداد کرتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%82_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "زبان دانی", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو\nکہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے\n\nایس ڈبلیو فیلن صاحب انسپکٹر مدارس حلقہ بہار کو اردو زبان دانی کا بڑا شوق تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے گورنمنٹ کو توجہ دلائی تھی کہ اردو زبان کی ایک ڈکشنری ایسی مرتب کرائی جائے جو یوروپین لوگوں کے لئے ہادی اور چراغ ہدایت ہو۔ اور فیلن صاحب ہی اس کام کے لئے منتخب کئے گئے تھے اور اردو لغت کی تالیف کے وقت انہوں نے اپنی مدد کے لئے منشی سید احمد صاحب فرہنگ آصفیہ، منشی چرنجی لال صاحب مؤلف مخزن المحاورات اور منشی فیاض الدین صاحب کو لیا تھا۔ منشی فیاض الدین مرزا الہٰی بخش صاحب باشاہ زادہ گور گانی کی سرکار میں ناخن بندی رکھتے تھے اور لال قلعہ کی آخری بہار، بہادر شاہ کے دربار انہو ں نے خوب دیکھے تھے۔ اور بزم آخر منشی صاحب نے اسی باعث سے عجیب و غریب خوب لکھی ہے کہ لال قلعہ اور بادشاہ کو انہوں نے سالہا سال دیکھا تھا۔\n\nفیلن صاحب کا قاعدہ تھا کہ وہ پٹنہ عظیم آباد سے دلّی آتے تھے۔ ان کے یہ لائق فائق حواری یا مددگار قلم دوات، کاغذ پنسل لے کر ان کے ساتھ ہوتے تھے اور دلی کے گلی کوچوں میں ڈانواں ڈول پھرا کرتے تھے۔ فقط محاوروں کی چاہ میں کبھی زردوزوں کے، کبھی دبکیّوں کے، کبھی کند لاکشوں وغیرہ پیشہ وروں کے کارخانوں میں گھس جاتے۔ جو جو اوزار یا سامان اس کارخانے میں پاتے تھے ان کے ناموں کی پوچھ گچھ کرتے تھے۔ ان کے کاموں کی اصطلاحوں کی چھان بین کرتے تھے اور مددگار کوئی ناگری میں، کوئی انگریزی میں، کوئی اردو میں ان الفاظ، ان محاورات، ان اصطلاحوں کو لکھتے جاتے تھے۔\n\nفیلن صاحب کو میرزا رجب علی صاحب سرور کا فسانہ عجائب پڑھتے پڑھتے حفظ ہو گیا۔ میرامّن دہلوی کا چار درویش بھی نوک زبان تھا۔ کبھی چاندنی چوک میں جو تہ والوں سے بحث ہورہی ہے، کہ پھکلائی اور کسوں کے کیا معنی ہیں۔ ٹاٹ بافی کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔ کبھی نان بائی کی دکان پر نہاری اور خمیری کے خمیر اور مصالحہ کی تحقیق کر رہے ہیں۔ کبھی فتحپوری کے میوہ فروشوں اور کنجڑوں سے بات کر کے اپنا دل ہرا کر رہے ہیں۔ غرض یہ کہ چومیرد مبتلا میرد، چوخیزد مبتلا خیزد۔ صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک وہ اور ان کے اسسٹنٹ اردو بول چال کی تصحیح کرتے رہتے تھے۔ اسی طرح مسٹر فیلن لکھنؤ جاکر مہینوں پڑے رہتے تھے اور وہاں کی بولی کی بھی ارباب کمال سے چھان پھٹک فرمایا کرتے تھے۔\n\nکفر گیرد کافر ملت شود\nہر چہ گیرد علتی علت شود\n\nفیلن صاحب اردو زبان پر حاوی ہو گئے تھے۔ ان کا لب و لہجہ بھی اردو بولنے میں سنور گیا تھا اور ڈاکٹر صاحب موصوف کو بھروسہ ہوگیا تھا کہ میں اردو اہل زبان کی طرح جان گیا ہوں اور اس کی وہ ہر طرح جانچ کیا کرتے تھے۔ ایک دن اسی خیال میں وہ دلّی کے کسی کوچہ سے گزر رہے تھے۔ جو انہوں نے دیکھا کہ ایک حلال خوری اپنے ڈھیلے پائنچوں کو باندھے کانوں میں موتیا کے پھول پہنے کلہ میں پان کی گلوری دبائے کولھے پر ٹوکرہ رکھے چلی آتی ہے۔ فیلن صاحب خوب جان گئے تھے کہ دلی کی حلال خوریاں پاک اردو بولتی ہیں۔ اس سے کہنے لگے، ’’کیوں بی مہترانی میں فرنگی ہوکر سچ کہنا کیسی اردو بولتا ہوں۔‘‘ مہترانی بولی، ’’صاحب میرے کولھے پر بوجھ ہے۔ اسے ذرا ڈلاؤ پر ڈال آؤں تو میں آپ کا امتحان لوں گی۔ اور سچ سچ بتادوں گی کہ آپ کو اردو آ گئی یا نری دون کی لیتے ہیں۔‘‘\n\nصاحب نے کہا، میں کھڑا ہوں۔ تم کام کر کے پلٹ آؤ۔ حلال خوری پلٹ آئی اور فیلن صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگی، ’’بھلا صاحب! بتائیے تو سہی، ہمارے شہر میں ’’چہرے کی لینی‘‘ کسے کہتے ہیں۔‘‘ یہ نئی اصطلاح سن کر فیلن صاحب کے ہوش اڑ گئے۔ اور حلال خوری کے سامنے بغلیں جھانکنے لگے۔ جب فیلن صاحب سے جواب نہ بن پڑا اور وہ نہ سمجھے کہ چہرے کی لینی کسے کہتے ہیں تو حلال خوری نے کہا، ’’جاکو کام واہی کو ساجے، اور کرے سو ٹھینگا باجے۔‘‘ دلی کی بولی دلی والے ہی بول سکتے ہیں اور جو ان کی نقل کرتا ہے وہ الگ پہچانا جاتا ہے۔\n\nفراق دہلوی عرض کرتا ہے کہ سچ مچ اردو ایسی ہی ہے جو حلال خوری کا بیان۔ فیلن صاحب کا تو یہ قصہ سنا سنایا ہے۔ اب جو صاحب اردو کو دلی لکھنؤ کی قید سے آزاد فرما چکے ہیں، وہ تشریف لائیں اور اسی نسخہ کو آزمائیں۔ اگر الزام نہ کھائیں تو جو چور کا حال وہ میرا حال اور لاف و گزاف کے لینے کی صحیح نہیں۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "زبان درگور", "poet_page": "مصنف:عظیم الدین احمد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "صبا اس سے یہ کہہ جو اس طرف ہو کر گزرتا ہو\nقدم او جانے والے روک میرا حال سنتا جا\nکبھی میں بھی جواں تھا میں بھی حسن و علم رکھتا تھا\nوہی میں ہوں مجھے اب دیکھ اگر چشم تماشا ہو\n\nجوانی کی امنگیں شوق علمی ذہن و طباعی\nذکاوت حوصلہ حلم و مروت رحم و غم خواری\nخیال اقربا احباب کے عیبوں کی ستاری\nقناعت دوست مجھ سے دور کوسوں بغض و طماعی\n\nغرض ایسی بہت سی خوبیاں تھیں موت نے لیکن\nبنا ڈالا مرے آتش کدے کو خاک کا تودا\nشراروں کے عوض اب بہہ رہا ہے برف کا دریا\nمسافر غور سے سن گور سے بچنا ہے نا ممکن", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D8%B1%DA%AF%D9%88%D8%B1"} {"title": "زبان شمع کھلتی ہے نہ کچھ پروانہ کہتا ہے", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زبان شمع کھلتی ہے نہ کچھ پروانہ کہتا ہے\nمگر سارا زمانہ بزم کا افسانہ کہتا ہے\n\nبقدر ظرف قسمت میرے ساقی کی عنایت ہے\nکوئی پیمانہ کہتا ہے کوئی مے خانہ کہتا ہے\n\nحجاب لالہ و گل کو مہ و انجم کے پردے کو\nوہی کہتا ہوں میں جو جلوۂ جانانہ کہتا ہے\n\nشب غم میں جو اپنے دل سے کچھ کہنے کو کہتا ہوں\nتو جس سے بخت سو جائے وہی افسانہ کہتا ہے\n\nخدا کہتے ہیں کہہ لینے دو تم ارباب ملت کو\nمحبت تو یہی کہتی ہے جو دیوانہ کہتا ہے\n\nیہی ایمان مستی ہے یہی ہے دین مستوں کا\nوہی ہوتا ہے جو کچھ ساقئ مے خانہ کہتا ہے\n\nیہی کیفیؔ یہی ہے بے پیے ساقی کا متوالا\nقدم مستانہ رکھتا ہے سخن مستانہ کہتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے\nوہ خود اگر کہیں ملتا تو گفتگو کرتے\n\nوہ زخم جس کو کیا نوک آفتاب سے چاک\nاسی کو سوزن مہتاب سے رفو کرتے\n\nسواد دل میں لہو کا سراغ بھی نہ ملا\nکسے امام بناتے کہاں وضو کرتے\n\nوہ اک طلسم تھا قربت میں اس کے عمر کٹی\nگلے لگا کے اسے اس کی آرزو کرتے\n\nحلف اٹھائے ہیں مجبوریوں نے جس کے لیے\nاسے بھی لوگ کسی روز قبلہ رو کرتے\n\nجنوں کے ساتھ بھی رسمیں خرد کے ساتھ بھی قید\nکسے رفیق بناتے کسے عدو کرتے\n\nحجاب اٹھا دیے خود ہی نگار خانوں نے\nہمیں دماغ کہاں تھا کہ آرزو کرتے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D8%B1%D8%AD_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "زبان گویا", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اے میری بلبل ہزار داستان! اے میری طوطی شیوا بیان! اے میری قاصد! اے میری ترجمان! اے میری وکیل! اے میری زبانٍ! سچ بتا، توکس درخت کی ٹہنی اور کس چمن کا پودا ہے؟ کہ تیرے ہر پھول کا رنگ جدا اور تیرے ہر پھل میں ایک نیا مزہ ہے۔ کبھی تو ایک ساحر فسوں ساز ہے جس کے سحر کا رد، نہ جادو کا اتار۔ کبھی تو ایک افعی جاں گداز ہے جس کے زہر کی رد نہ کاٹے کا منتر۔ تو وہی زبان ہے کہ بچپن میں کبھی اپنے ادھورے بولوں سے غیروں کا جی لبھاتی تھی اور کبھی اپنی شوخیوں سے ماں باپ کادل دکھاتی تھی۔ تو وہی زبان ہے کہ جوانی میں کہیں اپنی نرمی سے دلوں کا شکار کرتی تھی اور کہیں اپنی تیزی سے سینوں کو فگار کرتی تھی۔\n\nاے میری زبان! دشمن کو دوست بنانا اور دوست کودشمن کر دکھانا تیرا ایک ادنی کھیل ہے جس کے تماشے سیکڑوں دیکھے اور ہزاروں دیکھنے باقی ہیں۔ اے میری بنی بات کی بگاڑنے والی! اور میرے بگڑے کاموں کی سنوارنے والی! روتے کو ہنسانا اور ہنستے کو رلانا، روٹھے کو منانا اور بگڑے کو بنانا، نہیں معلوم تونے کہاں سیکھا؟ اور کس سے سیکھا؟ کہیں تیری باتیں بس کی گانٹھیں ہیں اور کہیں تیرے بول شربت کے گھونٹ ہیں، کہیں تو شہد ہے اور کہیں حنظل، کہیں تو زہر ہے اور کہیں تریاق۔\n\nاے زبان! ہمارے بہت سے آرام اور بہت سی تکلیفیں، ہمارے سیکڑوں نقصان اور ہزاروں فائدے، ہماری عزت، ہماری ذلت، ہماری نیک نامی، ہماری بدنامی، ہمارا سچ، ہمارا جھوٹ، صرف تیری ایک ’’ہاں‘‘ اور ایک ’’نہیں‘‘ پر موقوف ہے۔ تیری اس ’’ہاں‘‘ اور ’’نہیں‘‘ نے کروڑوں کی جانیں بچائیں اور لاکھوں کے سر کٹوائے۔\n\nاے زبان! تو دیکھنے میں تو ایک پارہ گوشت کے سوا نہیں مگر تیری طاقت نمونہ قدرت الہی ہے۔ دیکھ! اس طاقت کو رائیگاں نہ کھو اور اس قدرت کو خاک میں نہ ملا۔ راستی تیر اجوہر ہے اور آزادی تیرازیور۔ دیکھ اس جوہر کو برباد نہ کر اور اس زیور کو زنگ نہ لگا۔ تو دل کی امین ہے اور روح کی ایلچی۔ دیکھ دل کی امانت میں خیانت نہ کر اور روح کے پیغام پرحاشیے نہ چڑھا۔ اے زبان! تیرا منصب بہت عالی ہے اور تیری خدمت نہایت ممتاز، کہیں تیرا خطاب کاشف اسرار ہے اور کہیں تیرا لقب محرم راز۔ علم کہ ایک خزانہ غیبی ہے اور دل اس کا خزانچی۔ حوصلہ اس کاقفل ہے اور تو اس کی کنجی۔ دیکھ اس قفل کو بے اجازت نہ کھول اور اس خزانے کو بے موقع نہ اٹھا۔ وعظ و نصیحت تیرا فرض ہے اور تلقین و ارشاد تیرا کام۔ ناصح مشفق تیری صفت ہے اور مرشد برحق تیرا نام۔ خبردار! اس نام کوعیب نہ لگانا اور اس فرض سے جی نہ چرانا، ورنہ یہ منصب عالی تجھ سے چھن جائےگا اور تیری بساط میں وہی ایک گوشت کا چھیچڑا رہ جائےگا۔\n\nکیا تجھ کویہ امید ہے کہ تو جھوٹ بھی بولے اور طوفان بھی اٹھائے، تو غیبت بھی کرے اور تہمت بھی لگائے، توفریب بھی کرے اور چغلیاں بھی کھائے اور پھر وہی زبان کی زبان کہلائے۔ نہیں! ہرگز نہیں!! اگر تو سچی زبان ہے تو زبان ہے ورنہ زبوں ہے بلکہ سراسر زیان ہے۔ اگر تیرا قول صادق ہے تو شہدِ فائق ہے ورنہ تھوک دینے کے لائق ہے۔ اگر تو راست گفتار ہے تو ہمارے منہ میں اور دوسروں کے دلوں میں جگہ پائےگی ورنہ گدی سے کھینچ کر نکالی جائےگی۔\n\nاے زبان! جنہوں نے تیرا کہنا مانا اور جو تیرا حکم بجالائے انہوں نے سخت الزام اٹھائے اور بہت پچھتائے۔ کسی نے انہیں فریبی اور مکار کہا۔ کسی نے گستاخ اور منہ پھٹ ان کا نام رکھا، کسی نے ریاکار ٹھہرایا اور کسی نے سخن ساز۔ کسی نے بد عہد بنایا اور کسی نے غماز، غیبت اور بہتان، مکر اور افترا، طعن اور تشنیع، گالی اور دشنام، پھکڑ اور ضلع جگت اور پھبتی۔ غرض دنیا بھر کے عیب ان میں نکلے اوروہ ان سب کے سزاوار ٹھہرے۔ اے زبان! یاد رکھ۔ ہم تیرا کہنا نہ مانیں گے اور تیرے قابو میں ہرگز نہ آئیں گے۔ ہم تیری ڈور ڈھیلی نہ چھوڑیں گے اور تجھے مطلق العنان نہ بنائیں گے۔ ہم جان پر کھیلیں گے پر تجھ سے جھوٹ نہ بلوائیں گے۔ ہم سر کے بدلے ناک نہ کٹوائیں گے۔ اے زبان! ہم دیکھتے یں کہ گھوڑا جب اپنے آقا کو دیکھ کر محبت کے جوش میں آتا ہے توبے اختیار ہنہناتا ہے اور کتا جب پیار کے مارے بے تاب ہو جاتا ہے تو اپنے مالک کے سامنے دم ہلاتا ہے۔ سبحان اللہ! وہ نام کے جانور اور ان کا ظاہر و باطن یکساں۔ ہم نام کے آدمی اور ہمارے دل میں ’’نہیں‘‘ اور زبان پر ’’ہاں۔‘‘\n\nالہی! اگر ہم کو رخصت گفتار ہے تو زبان راست گفتار دے اور اگردل پر تجھ کو اختیار ہے تو زبان پرہم کو اختیار دے۔ جب تک دنیا میں رہیں سچے کہلائیں اور جب تیرے دربار میں آئیں تو سچے بن کر آئیں۔ آمین۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%DA%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7"} {"title": "زبانوں پر نہیں اب طور کا فسانہ برسوں سے", "poet_page": "مصنف:اقبال سہیل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زبانوں پر نہیں اب طور کا فسانہ برسوں سے\nتجلی گاہ ایمن ہے دل دیوانہ برسوں سے\n\nکچھ ایسا ہے فریب نرگس مستانہ برسوں سے\nکہ سب بھولے ہوئے ہیں کعبہ و بت خانہ برسوں سے\n\nوہ چشم فتنہ گر ہے ساقئ مے خانہ برسوں سے\nکہ باہم لڑ رہے ہیں شیشہ و پیمانہ برسوں سے\n\nنہ اب منصور باقی ہے نہ وہ دار و رسن لیکن\nفضا میں گونجتا ہے نعرۂ مستانہ برسوں سے\n\nچمن کے نونہال اس خاک میں پھولیں پھلیں کیونکر\nیہاں چھایا ہوا ہے سبزۂ بیگانہ برسوں سے\n\nیہ آنکھیں مدتوں سے خوگر برق تجلی ہیں\nنشیمن بجلیوں کا ہے مرا کاشانہ برسوں سے\n\nترے قرباں ادھر بھی ایک جھونکا ابر رحمت کا\nجبینوں میں گرہ ہے سجدۂ شکرانہ برسوں سے\n\nسہیلؔ اب کس کو سجدہ کیجئے حیرت کا عالم ہے\nجبیں خود بن گئی سنگ در جانانہ برسوں سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%B7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "زباں رکھ غنچہ ساں اپنے دہن میں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زباں رکھ غنچہ ساں اپنے دہن میں\nبندھی مٹھی چلا جا اس چمن میں\n\nنہ کھول اے یار میرا گور میں منہ\nکہ حسرت ہے مری جاگا کفن میں\n\nرکھا کر ہاتھ دل پر آہ کرتے\nنہیں رہتا چراغ ایسی پون میں\n\nجلے دل کی مصیبت اپنے سن کر\nلگی ہے آگ سارے تن بدن میں\n\nنہ تجھ بن ہوش میں ہم آئے ساقی\nمسافر ہی رہے اکثر وطن میں\n\nخرد مندی ہوئی زنجیر ورنہ\nگزرتی خوب تھی دیوانہ پن میں\n\nکہاں کے شمع و پروانے گئے مر\nبہت آتش بجاں تھے اس چمن میں\n\nکہاں عاجز سخن قادر سخن ہوں\nہمیں ہے شبہ یاروں کے سخن میں\n\nگداز عشق میں بہ بھی گیا میرؔ\nیہی دھوکا سا ہے اب پیرہن میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%81_%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%81%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "زباں مدعا آشنا چاہتا ہوں", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زباں مدعا آشنا چاہتا ہوں\nدل اب زندگی سے خفا چاہتا ہوں\n\nادا کو ادا آشنا چاہتا ہوں\nتجھی پر تجھے مبتلا چاہتا ہوں\n\nوفا چاہتے ہیں وفا چاہتا ہوں\nوہ کیا چاہتے ہیں میں کیا چاہتا ہوں\n\nمحبت کو رسوا کیا چاہتا ہوں\nنظر محرم التجا چاہتا ہوں\n\nتعین غم عشق کا چاہتا ہوں\nانہیں چاہتا ہوں یہ کیا چاہتا ہوں\n\nترے دل کو درد آشنا چاہتا ہوں\nبھلا چاہتا ہوں برا چاہتا ہوں\n\nبہت تنگ ہے وہم ہستی کی دنیا\nمیں عالم ہی اب دوسرا چاہتا ہوں\n\nشب ہجر تیرا تصور ہی تو ہے\nتجھے آج تجھ سے جدا چاہتا ہوں\n\nمری موت ماتم کا حسن طلب ہے\nسکوں ایک ہنگامہ زا چاہتا ہوں\n\nخطا ڈھونڈتا ہوں عطاؤں کے قابل\nعطا چاہتے ہیں خطا چاہتا ہوں\n\nپھر اس بزم کو ڈھونڈتی ہیں نگاہیں\nپھر اک شکوۂ برملا چاہتا ہوں\n\nوہ فریاد کا عہد پھر یاد آیا\nپھر اک نالۂ نارسا چاہتا ہوں\n\nپھر آداب فرقت ہیں ملحوظ یعنی\nہجوم بلا در بلا چاہتا ہوں\n\nپھر اک سجدۂ توبہ کی آرزو ہے\nتجھے آپ سے پھر خفا چاہتا ہوں\n\nپھر امیدوار کرم ہوں کہ فانیؔ\nستم ہائے شوق آزما چاہتا ہوں\n\nکوئی وجہ تسکیں نہیں غم نہ راحت\nخدا جانے فانیؔ میں کیا چاہتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "زباں پہ حرف شکایت ارے معاذ اللہ", "poet_page": "مصنف:ہادی مچھلی شہری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زباں پہ حرف شکایت ارے معاذ اللہ\nمجھے ترے ستم صبر آزما کی قسم\n\nبس اک نگاہ کرم کا امیدوار ہوں میں\nجفا شعار تجھے میری التجا کی قسم\n\nتو ہے بہار تو دامن مرا ہو کیوں خالی\nاسے بھی بھر دے گلوں سے تجھے خدا کی قسم\n\nغضب کی چھیڑ ہے ہادیؔ یہ اور کیا کہیے\nوہ کھا رہے ہیں مرے ترک مدعا کی قسم", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D8%AD%D8%B1%D9%81_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B0_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "زباں کو بند کریں یا مجھے اسیر کریں", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زباں کو بند کریں یا مجھے اسیر کریں\nمرے خیال کو بیڑی پنہا نہیں سکتے\n\nیہ کیسی بزم ہے اور کیسے اس کے ساقی ہیں\nشراب ہاتھ میں ہے اور پلا نہیں سکتے\n\nیہ بیکسی بھی عجب بیکسی ہے دنیا میں\nکوئی ستائے ہمیں ہم ستا نہیں سکتے\n\nکشش وفا کی انہیں کھینچ لائی آخر کار\nیہ تھا رقیب کو دعویٰ وہ آ نہیں سکتے\n\nجو تو کہے تو شکایت کا ذکر کم کر دیں\nمگر یقیں ترے وعدوں پہ لا نہیں سکتے\n\nچراغ قوم کا روشن ہے عرش پر دل کے\nاسے ہوا کے فرشتے بجھا نہیں سکتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "زباں ہے بے خبر اور بے زباں دل", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "زباں ہے بے خبر اور بے زباں دل\nکہے کس طرح سے راز نہاں دل\n\nنہیں دنیا کو دل داری کی عادت\nسنائے کس کو اپنی داستاں دل\n\nنہ پوچھو بے ٹھکانوں کا ٹھکانا\nوہیں ہم بھی تھے سرگرداں جہاں دل\n\nکٹی ہے زندگی سب رنج کھاتے\nکہے کیا عمر بھر کی داستاں دل\n\nہمیں بھی تھی کبھی ملنے کی لذت\nہمارا بھی کبھی تھا نوجواں دل\n\nنہ باز آؤں گا میں الفت سے جب تک\nاٹھائے جائے گا جور بتاں دل\n\nغم الفت غم دنیا غم دیں\nاٹھائے بار کیا کیا ناتواں دل\n\nسمجھ میں خاک آئے عقل کی بات\nگئے ہوش و خرد آیا جہاں دل\n\nانہیں رحم آئے تو کیا آئے پرویںؔ\nوہ لا پروا ہے میرا بے زباں دل", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%84"} {"title": "زحال مسکیں مکن تغافل دوراے نیناں بنائے بتیاں", "poet_page": "مصنف:امیر خسرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زحال مسکیں مکن تغافل دوراے نیناں بنائے بتیاں\nکہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں\n\nشبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چوں عمر کوتاہ\nسکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں\n\nیکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم بہ برد تسکیں\nکسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں\n\nچوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخر\nنہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں\n\nبحق آں مہ کہ روز محشر بداد مارا فریب خسروؔ\nسپیت من کے دوراے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%85%D8%B3%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DA%A9%D9%86_%D8%AA%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A7%DB%92_%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "زحمت مہر درخشاں", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "ٹھنڈا گوشت", "year": "1950", "text_ur": "بمبئی چھوڑ کر کراچی سے ہوتا ہوا غالباً سات یا آٹھ جنوری ۱۹۴۸ء کو یہاں لاہور پہنچا۔ تین مہینے میرے دماغ کی عجیب و غریب حالت رہی۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کہاں ہوں۔ بمبئی میں ہوں۔ کراچی میں اپنے دوست حسن عباس کے گھر بیٹھا ہوں یا لاہور میں ہوں جہاں کئی ریستورانوں میں قائد اعظم فنڈ جمع کرنے کے سلسلے میں رقص و سرود کی محفلیں اکثر جمتی تھیں۔\n\nتین مہینے تک میرا دماغ کوئی فیصلہ نہ کر سکا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پردے پر ایک ساتھ کئی فلم چل رہے ہیں۔ آپس میں گڈمڈ۔۔۔ کبھی بمبئی کے بازار اور اس کی گلیاں، کبھی کراچی کی چھوٹی چھوٹی تیز رفتار ٹریمیں اور گدھا گاڑیاں اور کبھی لاہور کے پرشور ریستوران۔۔۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا میں کہاں ہوں۔۔۔ سارا دن کرسی پر بیٹھا خیالات میں کھویا رہتا۔ آخر ایک دن چونکا کیونکہ جو روپیہ میں بمبئی سے اپنے ساتھ لایا تھا، کچھ تو گھر میں اور کچھ گھر سے کچھ دور کلفٹن بار میں جذب ہو چکا تھا۔۔۔ اب مجھے قطعی طور پر معلوم ہو گیا کہ میں لاہور میں ہوں۔ جہاں کبھی کبھی میں اپنے مقدمات کے سلسلے میں آیا کرتا تھا اور کرنال شاپ سے بہت سے خوبصورت چپل خرید کر اپنے ساتھ لے جایا کرتا تھا۔\n\nمیں نے سوچنا شروع کیا کہ اب کیا کام کیا جائے۔ استفسار کرنے پر معلوم ہوا کہ تقسیم کے بعد فلمی کاروبار قریب قریب مفلوج ہو چکا ہے جن فلم کمپنیوں کے بورڈ نظر آتے ہیں، وہ ان بورڈوں ہی تک محدود ہیں۔۔۔ بہت تشویش ہوئی۔۔۔ الاٹمنٹوں کا بازار گرم تھا۔ مہاجر اور غیر مہاجر دھڑا دھڑ اپنے اثر و رسوخ سے کارخانے اور دکانیں الاٹ کرا رہے تھے۔ مجھے مشورہ دیا گیا، مگر میں نے اس لوٹ کھسوٹ میں حضہ نہ لیا۔\n\nانہی دنوں معلوم ہوا کہ فیض احمد فیض اور چراغ حسن حسرت مل کر ایک روزنامہ جدید خطوط پر شائع کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ میں ان حضرات سے ملا۔ اخبار کا نام ’’امروز‘‘ تھا جو آج ہر ایک کی زبان پر ہے۔ پہلی ملاقات پر اخبار کی ’’ڈمی‘‘ تیار کی جا رہی تھی۔ دوسری ملاقات ہوئی تو ’’امروز‘‘ کے غالباً چار پرچے نکل چکے تھے۔ اخبار کی گٹ اپ دیکھ کر جی بہت خوش ہوا۔ طبیعت میں اکساہٹ پیدا ہوئی کہ لکھوں لیکن جب لکھنے بیٹھا تو دماغ کو منشتر پایا۔ کوشش کے باوجود ہندوستان کو پاکستان سے اور پاکستان کو ہندوستان سے علیحدہ نہ کر سکا۔ بار بار دماغ میں یہ الجھن پیدا کرنے والا سوال گونجتا۔ کیا پاکستان کا ادب علیحدہ ہوگا۔۔۔ اگر ہو گا تو کیسے ہوگا۔ وہ سب کچھ جو سالم ہندوستان میں لکھا گیا تھا اس کا مالک کون ہے۔۔۔ کیا اس کو بھی تقسیم کیا جائے گا۔۔۔ کیا ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کے بنیادی مسائل ایک جیسے نہیں۔۔۔ کیا ادھر اردو بالکل ناپید ہو جائے گی۔ یہاں پاکستان میں اردو کیا شکل اختیار کے گی۔۔۔ کیا ہماری اسٹیٹ مذہبی اسٹیٹ ہے۔۔۔ اسٹیٹ کے تو ہم ہر حالت میں وفادار رہیں گے مگر کیا ہمیں حکومت پر نکتہ چینی کی اجازت ہوگی۔۔۔ آزاد ہو کر کیا یہاں کے حالات فرنگی عہد حکومت کے حالات سے مختلف ہوں گے۔\n\nگردوپیش جدھر بھی نظر ڈالتا تھا، انتشار ہی انتشار دکھائی دیتا تھا۔ کچھ لوگ بے حد ہوش تھے۔ کیونکہ ان کے پاس ایک دم دولت آ گئی تھی، لیکن اس خوشی میں بھی انتشار تھا۔ جیسے وہ بکھر کر ایک دن ہوا ہو جانے والی ہے۔۔۔ اکثر مغموم و متفکر تھے کیونکہ وہ لٹ پٹ کر آئے تھے۔۔۔ مہاجروں کے کیمپ دیکھے۔ یہاں خود انتشار کے رونگٹے کھڑے دیکھے۔ کسی نے کہا اب تو حالات بہت بہتر ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے کی حالت دیدنی تھی۔ میں سوچنے لگا اگر یہ حالات کی بہتری ہے تو ابتری معلوم نہیں کیسی ہوگی۔۔۔ غرض کہ عجیب افراط و تفریط کا عالم تھا۔ ایک کا قہقہہ دوسرے کی آہ سے دست و گریباں تھا۔ ایک کی زندگی دوسرے کے عالم نزع سے مصروف پیکار تھی۔ دو دھارے بہہ رہے تھے۔ ایک زندگی کا دھارا۔ ایک موت کا۔ ان کے درمیان خشکی تھی جس پر گر سنگی و تشنگی، شکم سیری و بلا نوشی ساتھ ساتھ چلتی تھیں۔۔۔!\n\nفضا پر مردنی طاری تھی۔ جس طرح گرمیوں کے آغاز میں آسمان پر بے مقصد اڑتی ہوئی چیلوں کی چیخیں اداس ہوتی ہیں، اسی طرح ’’پاکستان زندہ باد‘‘ اور ’’قائد اعظم زندہ باد‘‘ کے نعرے بھی کانوں کو اداس اداس لگتے تھے۔ ریڈیو کی لہریں اقبال مرحوم کا یک آہنگ کلام شب و روز اپنے کاندھوں پر اٹھا اٹھا کر تھک اور اکتا گئی تھیں۔ فیچر پروگرام کچھ اس قسم کے ہوتے تھے کہ مرغیاں کس طرح پالی جاتی ہیں۔ جوتے کیسے بنائے جاتے ہیں۔ فن زراعت کیا ہے۔ ریفیوجی کیمپوں میں کتنے آدمی آئے اور کتنے گئے۔ قریب قریب تمام درخت ننگے بچے تھے۔۔۔ سردیوں سے بچنے کےلئے غریب مہاجرین نے ان کی چھال اتار کر اپنی کھال گرم کی تھی۔ ٹہنیاں کاٹ کر پیٹ کی آگ ٹھنڈی کی تھی۔ ان ننگے بچے درختوں سے فضا اور بھی دل شکن حد تک اداس ہو گئی تھی۔ بلڈنگوں کی طرف دیکھتا تھا تو ایسا محسوس ہوتا تھا سوگ میں ہیں۔ ان کے مکیں بھی ماتم زدہ تھے۔ بظاہر ہنستے تھے۔ کھیلتے تھے۔ کوئی کام مل جاتا تھا تو وہ بھی کرتے تھے مگر گویا یہ سب کچھ خلا میں ہو رہا تھا۔ ایک ایسے خلا میں جو لبالب ہونے پر بھی خالی تھا۔\n\nمیں اپنے عزیز دوست احمد ندیم قاسمی سے ملا۔ ساحر لدھیانوی سے ملا۔ ان کے علاوہ اور لوگوں سے بھی ملا۔ سب میری طرح ذہنی طور پر مفلوج تھے۔ میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ یہ جو اتنا زبردست بھونچال آیا ہے، شاید اس کے کچھ جھٹکے آتش فشاں پہاڑ میں اٹکے ہوئے ہیں۔ باہر نکل آئیں تو فضا کی نوک پلک درست ہوگی، پھر صحیح طور پر معلوم ہو سکے گا کہ صورت حالات کیا ہے۔\n\nسوچ سوچ کر میں عاجز آ گیا تھا، چنانچہ آوارہ گردی شروع کر دی۔ بے مطلب سارا دن گھومتا رہتا۔ خود خاموش رہتا لیکن دوسروں کی سنتا رہتا۔۔۔ بے ہنگم باتیں، بے جوڑ دلیلیں، خام سیاسی مباحثے۔۔۔ اس آوارہ گردی سے یہ فائد ہ ہوا کہ میرے دماغ میں جو گردوغبار اڑ رہا تھا، آہستہ آہستہ بیٹھ گیا اورمیں نے سوچا کہ ہلکے پھلکے مضامین لکھنا چاہئیں۔ چنانچہ میں نے ’’ناک کی قسمیں‘‘، ’’دیواروں پر لکھنا‘‘ جیسے فکاہیہ مضامین ’’امروز‘‘ کے لئے لکھے جو پسند کئے گئے۔۔۔ آہستہ آہستہ مزاح خود بخود طنزیہ رنگ اختیار کر گیا۔ یہ تبدیلی مجھے بالکل محسوس نہ ہوئی۔ میں لکھتا گیا اور میرے قلم سے ’’سوال پیدا ہوتا ہے‘‘ اور ’’سویرے جو کل آنکھ میری کھلی‘‘ جیسے تیز و تند مضمون نکل گئے۔ جب مجھے اس امر کا احساس ہوا کہ میرے قلم نے گردوپیش چھائی ہوئی دھند میں ٹٹول ٹٹول کر ایک راستہ تلاش کر لیا ہے تو مجھے خوشی ہوئی۔ دماغ کا بوجھ بھی کسی قدر ہلکا ہو گیا۔ میں نے زور شور سے لکھنا شروع کر دیا۔ مضامین کا یہ مجموعہ بعد میں ’’تلخ ترش اور شیریں‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔\n\nطبیعت افسانے کی طرف مائل نہیں ہوتی تھی۔ اس صنف ادب کو میں بہت سنگین سمجھتا ہوں۔ اس لئے افسانہ لکھنے سے گریز کرتا تھا، لیکن انہی دنوں میرے عزیز دوست احمد ندیم قاسمی جو غالباً اوٹ پٹانگ چیزیں لکھ لکھ کر تنگ آ گئے تھے، ریڈیو پاکستان، پشاور سے علیحدہ ہو کر لاہور چلے آئے اور ادارہ فروغ اردو کے اشتراک سے ایک ماہنامہ پرچہ ’’نقوش‘‘ جاری کیا۔ ان کے اصرار کے باوجود میں ’’نقوش‘‘ کے پہلے چند پرچوں کے لئےکوئی کہانی نہ لکھ سکا۔ جب وہ ناراض ہو گئے تو میں نے پاکستان میں اپنا پہلا افسانہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ لکھا جو میرے اس مجموعے کا اب عنوان ہو گیا ہے۔\n\nقاسمی صاحب نے یہ افسانہ میرے سامنے پڑھا۔ وہ خاموش پڑھتے رہے، مگر مجھے ان کا رد عمل معلوم نہ ہو سکا۔ افسانہ ختم کرنے کے بعد انہوں نے مجھ سے معذرت بھرے لہجے میں کہا، ’’منٹو صاحب معاف کیجئے، افسانہ بہت اچھا ہے، لیکن ’نقوش‘ کے لئے بہت گرم ہے۔‘‘ قاسمی صاحب سے کبھی بحث نہیں ہوئی تھی، اس لئے میں نے خاموشی سے افسانہ واپس لے لیا اور ان سے کہا، ’’بہت بہتر تو میں آپ کے لئے دوسرا افسانہ لکھ دوں گا آپ کل شام تشریف لے آیئے گا۔‘‘ قاسمی صاحب جب دوسرے روز شام کو تشریف لائے تو میں اپنے دوسرے افسانے ’’کھول دو‘‘ کی اختتامی سطور لکھ رہا تھا، میں نے قاسمی صاحب سے کہا، ’’ایک منٹ۔۔۔ آپ بیٹھئے، میں افسانہ مکمل کر کے آپ کو دیتا ہوں۔۔۔ اس افسانے کی اختتامی سطور چونکہ بہت ہی اہم تھیں اس لئے قاسمی صاحب کو کافی دیر انتظار کرنا پڑا۔ جب افسانہ مکمل ہو گیا تو میں نے مسودہ ان کے حوالے کر دیا، ’’پڑھ لیجئے۔ خدا کرے آپ کو پسند آ جائے۔‘‘\n\nقاسمی صاحب نے افسانہ پڑھنا شروع کیا۔ اختتامی سطور پر پہنچے تو میں نے نوٹ کیا جیسے کسی نے ان کو جھنجھوڑ دیا ہے۔۔۔ افسانہ ختم کرنے کے بعد وہ کچھ نہ بولے۔ میں نے ان سے پوچھا، ’’کیسا ہے؟‘‘ قاسمی صاحب پر افسانے کا اثر ابھی تک غالب تھا۔ مختصراً کہا، ’’اچھا ہے۔۔۔ میں لئے جاتا ہوں۔‘‘ اور آپ رخصت لے کر چلے گئے۔ ’’کھول دو‘‘ قاسمی صاحب کے پرچے ’’نقوش‘‘ میں شائع ہوا۔ قارئین نے پسند کیا۔ ہر ایک کا رد عمل یکساں تھا۔ آخری سطور سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی تھیں، لیکن ایک دم ہم سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا حادثہ وقوع پذیر ہوا۔ حکومت کو یہ افسانہ امن عامہ کے مفاد کے منافی نظر آیا، چنانچہ حکم ہوا، ’’نقوش‘‘ کی اشاعت چھ مہینے تک بند رہے۔۔۔ اخباروں میں حکومت کے اس اقدام کے خلاف احتجاجاً بہت کچھ لکھا گیا مگر امتناعی حکم اپنی جگہ پر قائم رہا۔ میں نے ایک روز قاسمی صاحب سے مسکرا کر کہا، ’’اگر آپ ’ٹھنڈا گوشت‘ شائع کرتے تو شاید یہ بجلی آپ کے آشیانے پر نہ گرتی۔‘‘\n\nکافی دن گزرنے پر ’’ادب لطیف‘‘ کے نائب مدیر میرے پاس آئے اور ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ لے گئے۔۔۔ افسانے کی کتابت ہو گئی۔ کاپیاں جم گئیں۔ پروف نکل آئے۔ غلطیاں درست کر کے جب واپس پریس میں گئیں تو کسی کی نظر ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ والی کاپی پر پڑی۔ اس نے افسانہ پڑھا تو چھاپنے سے انکار کر دیا۔ قہر درویش برجان درویش، اس افسانے کے بغیر ہی پرچہ شائع کیا گیا۔ چودھری برکت علی صاحب کوئٹے میں تھے۔ واپس آئے تو انہوں نے ’’ادب لطیف‘‘ کے دوسرے شمارے میں ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ چھپوانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔۔۔ افسانے کا مسودہ مجھے واپس دے دیا گیا۔\n\nاس دوران میں کراچی سے محترمہ ممتاز شیریں کے متعدد خط آ چکے تھے کہ میں ان کے ’’نیا دور‘‘ کے لئے کوئی افسانہ بھیجوں۔ میں نے اٹھا کر ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ ان کو روانہ کر دیا۔ کافی دیر کے بعد جواب آیا کہ ہم دیر تک سوچتے رہے کہ اسے شائع کیا جائے یا نہیں۔ افسانہ بہت اچھا ہے۔ مجھے بہت پسند ہے لیکن ڈر ہے کہ حکومت کے احتساب کے شکار نہ ہو جائیں۔ ’ٹھنڈا گوشت‘ یہاں سے بھی ٹھنڈا ہو کر واپس میرے پاس پہنچ گیا۔۔۔ میں نے سوچا اب اسے کسی رسالے میں نہیں چھپوانا چا ہیئے۔\n\nچھ مہینے کی مدت پوری نہیں ہوئی تھی کہ حکومت نے ’’نقوش‘‘ پر سے ’’نہ چھاپو‘‘ والی قید ہٹا دی، چنانچہ میں نے ’’نیا ادارہ‘‘ کے لئے ایک مجموعہ مرتب کیا جس کا عنوان میں نے ’’نمرود کی خدائی‘‘ رکھا، اس میں ’’کھول دو‘‘ کے ساتھ میں نے ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ بھی شامل کر دیا، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ عزیزی عارف عبد المتین رسالہ ’’جاوید‘‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے تو آپ میرے پیچھے پڑ گئے کہ ان کو ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ کا مسودہ اشاعت کے لئے دوں۔ کافی دیر میں نے ٹال مٹول کی مگر آخر ان کے پیہم اصرار پر میں نے ’’نیا ادارہ‘‘ کے مالک چودھری نذیر احمد صاحب کو ایک چٹ لکھ دی کہ یہ ’’جاوید‘‘ والے اپنا پرچہ ضبط کرانا چاہتے ہیں۔۔۔ براہ کرم ان کو ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ کا مسودہ دے دیجئے۔ عارف صاحب افسانے کا مسودہ لے آئے اور اسے ’’جاوید‘‘ کے خاص نمبر مطبوعہ مارچ ۱۹۴۹ء میں شائع کر دیا۔\n\nپرچہ چھپ کر مارکیٹ میں آ گیا۔ اندرونی اور بیرونی ایجنسیوں میں بھی تقسیم ہو گیا۔ یہاں تک تو خیریت رہی۔ ایک مہینہ گزر گیا۔ میں مطمئن ہو گیا کہ اب ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ پر کوئی آفت نہیں آئے گی، مگر پریس برانچ کی باگیں ابھی تک چودھری محمد حسین صاحب (اب مرحوم) کے ہاتھ میں تھیں۔ گو ضعیفی کے باعث ان کے ہاتھ بہت کمزور ہو چکے تھے۔ مگر انہوں نے زور کا ایک جھٹکا دیا اور پولیس کی مشینری حرکت میں آ گئی۔ میں نے ایک روز اڑتی اڑتی سنی کہ چھاپہ پڑا ہے اور پولیس ’’جاوید‘‘ کے خاص نمبر کے پرچے اٹھا کر لے گئی ہے۔ میں نے جان پہچان کے چند لوگوں سے پوچھا۔ کسی نے اس خبر کی تصدیق کی۔ کسی نے کہا، ’’اجی ہٹایئے، یہ جاوید والوں کا پبلسٹی اسٹنٹ ہے۔‘‘ اس دوران میں ’’جاوید‘‘ کے مالک مسٹر نصیر انور کا رقعہ ملا۔\n\n’’منٹو صاحب! ایک خبر سنئے۔۔۔ آج پولیس نے دفتر ’’جاوید‘‘ پر چھاپہ مارا۔ تلاشی لینے پر بچے کھچے چند پرچے اپنے قبضے میں لے لئے۔ باقی پرچوں کی جانچ پڑتال ہوئی تو ڈسپیچ رجسٹر نے واضح کر دیا کہ تمام پرچہ ہندو پاک کے مختلف اسٹیشنوں پر سپلائی ہو چکا ہے۔ رجسٹر میں سے تمام ایجنسیوں کے پتے نوٹ کر لئے گئے اور آئندہ سپلائی کا حساب کتاب بند کر دیا گیا۔ یہ کارروائی گرفتاری کا پیش خیمہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ جلد ہی ملزموں کے کٹہرے میں ہوں گے۔۔۔ لیکن ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ ایک مقامی ادارہ اس چھاپے کو اختراع اور پروپیگنڈے سے منسوب کرتا ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ خیر اس کی تصدیق خود بخود ہو جائے گی۔ مجھے تو یہ کہنا ہے کہ اب ذرا وہیں چلیئے۔ جہاں تین بار سزا پانے پر آپ بری قرار دیے گئے۔ میرا خیال ہے کہ یہ بار آخری بار ہوگی۔‘‘\n\nخبر کی تصدیق ہو گئی۔ معاملہ پریس ایڈوائزری بورڈ کے سامنے پیش ہوا جس کے کنوینر کرنل فیض احمد فیضؔ ایڈیٹر پاکستان ٹائمز تھے۔ اس میں ’’جاوید‘‘ کے مالک مسٹر نصیر انور بھی موجود تھے۔ ان کی زبانی اس میٹنگ کی مختصر روئیداد سنئے، ’’پاکستان ٹائمز کے دفتر میں پریس ایڈوائزری بورڈ کی میٹنگ تھی۔ فیض احمد فیضؔ کنوینر تھے۔ میٹنگ میں ایف ڈبلیو بسٹن (سول ملٹری گزٹ) مولانا اختر علی (زمیندار) حمید نظامی (نوائے وقت) وقار انبالوی (سفینہ) اور امین الدین صحرائی (جدید نظام) شریک تھے۔ چودھری محمد حسین نے ’’جاوید‘‘ کا خاص نمبر پیش کیا۔ آپ نے سب سے پہلے پرچے کے باغیانہ اور اشتعال انگیز مضامین نظم و نثر گنوائے۔ ’’غلامی سے آزادی تک‘‘، ’’رقص بسمل‘‘، ’’سیلاب چین‘‘ یہ تھیں نظمیں۔ مضامین میں سے ’’لورینگ سے فلیٹی تک‘‘، ’’کھیڑا بہادر کی جے‘‘ اور ’’چین کتنی دور ہے‘‘ زیر بحث لائے گئے۔\n\nفیض حکومت کے عائد کردہ الزام کی تردید کرتے رہے۔ دیگر اراکین نے ہاں میں ہاں ملائی اور یوں یہ سیاسی الزام ٹل گیا، لیکن نزلہ گرا ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ پر۔ فیض نے جب اسے غیر فحش قرار دیا تو مولانا اختر علی گرج اٹھے۔ ’’نہیں نہیں، اب ایسا ادب پاکستان میں نہیں چلے گا۔‘‘ جناب صحرائی نے اس پر صاد کیا۔ وقار صاحب نے افسانے کو ملعون و مطعون قرار دیا۔ حمید نظامی نے نوائے وقت کا ساتھ دیا اور جب ایف ڈبلیو بسٹن کو چودھری صاحب نے انگریزی میں ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ سمجھایا تو مجھے بے اختیار ہنسی آ گئی۔ فرمانے لگے، ’’اس کہانی کی تھیم یہ ہے کہ ہم مسلمان اتنے بے غیرت ہیں کہ سکھوں نے ہماری مردہ لڑکی تک نہیں چھوڑی۔۔۔‘‘ مجھے ہنسی تو آ گئی تھی، لیکن جب صاحب غلط ترجمانی پر مصر رہے تو مجھے افسوس ہوا۔۔۔ میں نے لاکھ سمجھایا۔ فیض صاحب نے بھی ہر طرح سے اطمینان دلایا، لیکن فیصلہ یہ ہوا کہ اب عدالت ہی اس کا فیصلہ کرے۔‘‘\n\nچنانچہ چند دن بعد میں، نصیر انور اور عارف عبد المتین گرفتار کر لئے گئے۔ گرفتار کرنے والے سب انسپکٹر چودھری خدا بخش تھے۔ بے حد شریف، کئی دن میرے مکان کے چکر کاٹتے رہے۔ ان دنوں میں اکثر باہر ہوتا۔ آخر ایک روز وہ مجھ سے ملنے میں کامیاب ہو گئے۔ بڑے اخلاق سے پیش آئے اور کہا، ’’کل صبح کسی دوست کے ساتھ تھانہ سول لائنز میں تشریف لے آیئے گا تاکہ آپ کی ضمانت ہو جائے۔‘‘ اس سے پہلے کئی مرتبہ مجھے پولیس کے آدمیوں سے پالا پڑ چکا تھا۔ چودھری خدا بخش صاحب کا نرم رویہ مجھ پر بہت اثر انداز ہوا۔ دوسرے روز صبح کو میں تھانے میں حاضر ہو گیا۔ میرے دوست شیخ سلیم نے دستخط کئے اور ہم مقدمے کے پہلے مرحلے سے فارغ ہو گئے۔ عارف عبدالمتین بہت ہی پریشان تھے۔ ان کا حلق خشک ہو جاتا تھا۔ یہ حیرت کی بات ہے۔ کیونکہ وہ کمیونسٹ پارٹی کے سرگرم کارکن ہیں۔ عدالت سے خدا معلوم کیوں اتنے خائف تھے۔ بہرحال سمن جاری ہوئے۔ سماعت کی تاریخ مقرر ہوئی اور ہم تینوں ضلع میں حاضر ہوئے۔\n\nمیرے لئے یہ جگہ کوئی نئی جگہ نہیں تھی۔ اپنے پچھلے تین مقدموں کے سلسلے میں یہاں کئی مرتبہ آ چکا تھا اور دھول پھانک چکا تھا۔۔۔ نام تو ضلع کچہری ہے لیکن بے حد غلیظ جگہ ہے۔ مچھر، مکھیاں، کیڑے مکوڑے۔۔۔ ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی جھنکاریں، نہایت ہی دقیانوس ٹائپ رائٹروں کی اکتا دینے والی ٹپ ٹپ۔ تین ٹانگوں والی کرسیاں جن کی نشست کا بیدہی غائب ہے۔ دیواروں پر سے پلستر اکھڑ رہا ہے۔ باغ ہے جس کا لان افلاس زدہ میلے کچیلے کشمیری کے سر کی طرح گنجا ہے۔ برقع پوش عورتیں ننگے گرد سے اٹے ہوئے فرش پر آلتی پالتی مارے بیٹھی ہیں۔ کوئی گندی گالیاں بک رہا ہے۔ کوئی بسور رہا ہے۔ اندر کمروں میں مجسٹریٹ صاحبان نہایت ہی واہیات میزوں کے پاس بیٹھے مقدموں کی سماعت فرما رہے ہیں۔ پاس دوست یار بیٹھے ہیں۔ دوران سماعت میں ان سے بھی گفتگو جاری رہتی ہے۔\n\nالفاظ ضلع کچہری کی صحیح تصویر نہیں کھینچ سکتے۔۔۔ یہاں کی فضا الگ۔ یہاں کا ماحول الگ۔ یہاں کی زبان الگ۔ یہاں کی اصطلاحات الگ۔۔۔ عجیب و غریب جگہ ہے۔ خدا اس سے دور ہی رکھے۔ آپ کو نقل لینی ہو تو درخواست کے ساتھ ’’پہیے‘‘ لگانے پڑیں گے۔ کوئی مثل معائنے کے لئے نکلوانی ہو تو بھی ’’پہیے‘‘ لگانے پڑیں گے۔ کسی افسر سے ملنا ہو تو بھی ’’پہیے‘‘ لگانے پڑیں گے۔ اگر کام فوری کرانا ہے تو پہیوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔۔۔ غور سے دیکھنے کی ضرورت نہیں، اگر آپ کی آنکھیں دیکھ سکتی ہیں تو آپ کو ضلع کچہری میں ہر عرضی پہیوں پر چلتی نظر آئے گی۔ ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک چار پہیے۔ دوسرے دفتر سے تیسرے دفتر تک جانے کے لئے آٹھ پہیے وقس علی ہذا۔ اگر آپ عادی مجرم نہیں تو آپ کے دل میں یہ زبردست خواہش پیدا ہو گی کہ کوئی آپ کے پہیے لگا دے اور دھکا دے دے تاکہ آپ ضلع کچہری سے باہر نکل جائیں۔\n\nوکیل کا سوال درپیش تھا۔ عدالت میں حاضر ہونے سے پہلے جناب تصدق حسین خالد سے ملاقات ہوئی۔ آپ نے کمال مہربانی سے خود ہی کہا کہ وہ ہمارے مقدمے کی پیروی کرنے میں مسرت محسوس کریں گے، چنانچہ ان کو ہی تکلیف دی گئی۔ خالد صاحب آئے۔ ہم ملزمین میاں اے ایم سعید پی سی ایس مجسٹریٹ درجہ اول کی عدالت میں پیش ہوئے۔ میاں صاحب موصوف کسی زمانے میں کپتانی کے عہدے پر فائز تھے۔ مگر اب ان سے بندوق لے کر عدل و انصاف کی ترازو ان کے ہاتھ میں دے دی گئی تھی۔۔۔ چھوٹی چھوٹی تیز آنکھیں، چھریرا بدن، رنگ سانولا۔۔۔ کرسی پر بڑی تمکنت سے بیٹھے تھے۔ ہم ملزمین سلام کر کے کٹہرے میں کھڑے ہوئے تو اب ہماری طرف دیکھے بغیر میاں تصدق حسین خالد کی طرف متوجہ ہوئے۔ ایک بار پھر ضمانتیں ہوئیں۔ اس کے بعد دوسری سماعت کی تاریخ مل گئی۔ ہم نے میاں سعید صاحب کو سلام کیا اور عدالت سے باہر نکل آئے۔۔۔ جون کا مہینہ تھا۔ سب کے حلق خشک تھے۔ مگر عارف عبدالمتین کا حلق تو بالکل لکڑی ہو رہا تھا۔۔۔ کاش وہاں کوئی پارٹی ممبر ہوتا۔\n\nدو تین پیشیاں اس طرح بھگتے۔ موسم ظالمانہ حد تک گرم ہو چکا تھا، لیکن قہر درویش برجان درویش، ’’آواز پڑنے تک‘‘ عدالت کے باہر کھڑے رہتے۔ کیونکہ ڈر تھا کہ اگر ہم ادھر ادھر ہو گئے تو مجسٹریٹ صاحب کا قہر نازل ہو جائے گا۔ شروع ہی سے ان کا رویہ بہت سخت تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ پہلے ہی سے اپنے دل میں ہمارے خلاف فیصلہ مرتب کر چکے ہیں۔ میاں خالد نے مجھ سے کہا، ’’کیوں نہ ہم اس عدالت سے اپنا مقدمہ منتقل کرا لیں۔ مجسٹریٹ کا رویہ صاف مخاصمانہ ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’میاں صاحب چھوڑیئے۔ دوسری عدالت میں مقدمہ لے گئے تو کیا ہمیں وہاں لڈو پیڑے کھلائے جائیں گے۔ رہنے دیجئے مقدمے کو یہیں۔‘‘ میاں خالد مان گئے۔ چنانچہ دو تین پیشیاں بھگتے۔ استغاثے کی طرف سے مسٹر محمد یعقوب ولد میاں غلام قادر منیجر کپور آرٹ پریس لاہور، شیخ محمد طفیل حلیم اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ڈی سی آفس لاہور، سید ضیاء الدین احمد مترجم پریس برانچ پنجاب گورنمنٹ اور چند اور حضرات رسمی طور پر پیش کئے گئے۔\n\nسید ضیاء الدین نے کہا کہ میری رائے میں ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ تمام کا تمام فحش ہے۔ میاں خالد کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جہاں تک مصنف کی کوشش کا تعلق ہے وہ نیک ہے، مگر انداز اظہار اور استعمال الفاظ غلط ہے۔ میاں خالد نے گواہ سے ایک اور سوال کیا، ’’کیا مصنف کو اپنے کردار کے منہ میں ایسے الفاظ نہیں ڈالنے چاہئیں جو اس کی صحیح شخصیت پیش کریں۔‘‘ سید صاحب نے جواب دیا، ’’جس قسم کا کردار ہو ویسے ہی الفاظ استعمال کرنے چاہئیں۔‘‘ آپ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مصنف کا یہ کام ہے کہ وہ اچھے برے کردار تخلیق کرے۔\n\nشہادت استغاثہ ختم ہوئی۔ مجسٹریٹ صاحب نے حسب ضابطہ رسمی طور پر ہم سے چند سوال کئے جن کا مختصر جواب دے دیا گیا۔ یہ سلسلہ عدالتی زبان میں ’’استفسار ملزم بلاحلف‘‘ کہلاتا ہے اور کچھ اس قسم کا ہوتا ہے۔\n\nسوال عدالت، آپ پر الزام ہے کہ آپ نے بحیثیت مصنف مضمون ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ جو کہ رسالہ ’’جاوید‘‘ کے خاص نمبر میں بغرض اشاعت نصیر انور پرنٹر و پبلشر ملزم ہمراہی اور عارف عبد المتین اور نصیر انور ایڈیٹر رسالہ مذکور کو، جو کہ فحش تھا دیا۔ یہ جرم زیر دفعہ ۲۹۲ تعزیرات ہند کی تعریف میں آتا ہے۔ آپ وجہ ظاہر کریں کہ کیوں نہ آپ کو اس جرم کی سزا دی جائے؟\n\nجواب، (جو خالد صاحب نے میری طرف سے دیا) میں نے افسانہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ ’جاوید‘ میں بغرض اشاعت دیا، لیکن وہ فحش نہیں تھا اور نہ میں اسے فحش تصور کرتا ہوں۔ یہ افسانہ اصلاحی ہے۔\n\nسوال عدالت، مقدمہ کیوں بنایا گیا؟\n\nجواب، پولیس بہتر جانتی ہے۔ اس کا نقطۂ اخلاق و اصلاح ہم سے مختلف ہے۔\n\nسوال عدالت، کچھ اور کہنا چاہتے ہیں؟\n\nجواب، اس موقعہ پر نہیں!\n\nاب ہم سے صفائی کے گواہوں کی فہرست پیش کرنے کے لئے کہا گیا۔ یہ فہرست ہم نے پہلے ہی سے تیار کر رکھی تھی۔ چنانچہ فوراً پیش کر دی گئی۔ میاں سعید صاحب نے جب بتیس نام دیکھے تو خفا ہو گئے۔ کہا، ’’میں اتنا ہجوم نہیں بلا سکتا۔‘‘ میاں خالد نے اصرار کیا کہ ہر گواہ اپنی جگہ پر بہت اہم ہے۔ میاں سعید نے اپنے انداز میں مضحکہ اڑانے کی کوشش کی۔ ممتاز شیریں صاحبہ کا نام پڑھا تو اشارہ کیا، ’’یہ ممتاز شانتی کون ہے؟‘‘ عدالت کے آدمی میاں صاحب کے اس مذاق پر ہنسے۔ ہم ہونٹ بھینچے خاموش رہے۔ بڑی مشکلوں کے بعد مجسٹریٹ صاحب درجہ اول چودہ گواہ بلانے پر راضی ہوئے، چنانچہ فہرست پر نشان لگا دیے گئے۔ سمن جاری ہوئے۔ میں کسی گواہ سے نہ ملا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ ہر ایک میرے افسانے کے متعلق اپنی بے لاگ رائے دے تاکہ مجھے اپنی صحیح پوزیشن معلوم ہو سکے۔\n\nجن گواہوں کے سمن کی تعمیل ہو چکی تھی ان کو صبح سویرے عدالت میں حاضر ہونا پڑتا تھا۔ میں بے حد شرمندہ تھا کیونکہ غریب کام کاج چھوڑ کر کئی کئی گھنٹے کھڑے رہتے تھے۔ ہم تو ملزم تھے لیکن ان کی حالت بھی ہم جیسی تھی۔ ہم اندر کٹہرے میں کھڑے رہتے تھے اور وہ عدالت کے باہر لوہے کے جنگلے کے ساتھ لگے انتظار کرتے رہتے تھے کہ انہیں کب آواز پڑتی ہے۔ میرے دوست شیخ سلیم کی حالت قابل رحم تھی۔ صبح شام پینے کا عادی۔ سارا وقت جمائیاں لیتا رہتا تھا۔ آخر اس سے یہ اذیت برداشت نہ کی گئی۔ چھوٹی بوتل میں وسکی بھر کے لے آتا اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد پیتا رہتا۔۔۔ ادب سے اس کو دور کا بھی واسطہ نہیں۔۔۔ لیکن جب وہ دوسروں سے باتیں کرتا تو یہی کہتا، ’’آخر فحاشی ہے کیا۔ منٹو کا افسانہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ میں نے پڑھا نہیں لیکن یہ فحش نہیں ہو سکتا۔ منٹو آرٹسٹ ہے۔‘‘\n\nہماری طرف سے پہلے گواہ سید عابد علی عابد ایم اے ایل ایل بی پرنسپل دیال سنگھ کالج، لاہور تھے۔ آپ نے بیان دیتے ہوئے کہا، ’’میں نے رسالہ ’جاوید‘ میں ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ پڑھا ہے۔۔۔ یہ ایک ادب پارہ ہے۔۔۔ منٹو صاحب کی میں نے تمام تصانیف پڑھی ہیں۔ پریم چند کے بعد جو مختصر افسانہ نگار مشہور ہوئے، ان میں سعادت حسن منٹو کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔۔۔ اس افسانے سے ایشر سنگھ کے کردار کا نمایاں ترین اثر یہ ہے کہ اس نے جو ناروا حرکت کی، اس کی سزا اسے فطرت کی طرف سے نفسیاتی نامردی کی صورت میں مل گئی۔‘‘\n\nعدالت کے ایک سوال پر عابد صاحب نے کہا، ’’ولی ؔ سے لے کر غالبؔ تک سب وہ چیز جسے فحش کہا جاتا ہے لکھتے چلے آئے ہیں۔ لٹریچر کبھی فحش نہیں ہوتا، جو ایک بار لٹریچر قرار دیا جا چکا ہو۔‘‘\n\nاستغاثے کی طرف سے سوال کیا گیا، ’’کیا ادب مقصود بالذات ہے۔‘‘ عابد صاحب نے جواب دیا، ’’میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ ادب تنقید حیات ہے اور اس میں اس سوال کا جواب شامل ہے۔ ہر معقول انسان کے قول اور فعل کا مطلب ہوتا ہے، لیکن تمام انسان معقول نہیں ہوتے۔ ہر قول یا فعل سوسائٹی کی نظروں میں اچھا یا برا ہو سکتا ہے۔ اچھے اور برے فعل جانچنے کے لئے بے شمار معیار ہوتے ہیں۔‘‘ استغاثے کے ایک اور سوال کے جواب میں عابد صاحب نے کہا، ’’یہ افسانہ میرے سب بچوں اور بچیوں نے پڑھا ہے۔۔۔ میری ایک لڑکی جو فورتھ ائیر میں پڑھتی ہے۔ اس سے کئی بار ’’سیکس‘‘ پر علمی بحث ہو چکی ہے جو اس کے نصاب کا جزو ہے۔‘‘ پھر آپ نے کہا، ’’خاص آدمیوں سے جو کہ ادیب ہیں اس افسانے کے بارے میں میرا تبادلہ خیالات ہوا۔ سب نے اس کو بہت سراہا۔‘‘\n\nصفائی کے دوسرے گواہ مسٹر احمد سعید پروفیسر نفسیات دیال سنگھ کالج، لاہور تھے۔ آپ نے اپنے بیان میں کہا کہ، ’’ افسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘ فحش نہیں ہے۔ اس میں ایک بہت بڑا جنسی مسئلہ ہے۔ ان کے نزدیک لفظ فحش کی کوئی بنیاد ہی نہیں۔ دوسرے الفاظ میں فحاشی ایک اضافی چیز ہے۔ ذہنی طور پر بیمار اشخاص پر ’ٹھنڈا گوشت‘پڑھنے سے برا اثر ہو سکتا ہے۔‘‘\n\nتیسرے گواہ ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم ایم اے ایل ایل بی پی ایچ ڈی سابق ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کشمیر تھے۔ آپ نے اپنے بیان میں کہا، ’’انسانی نفسیات کے اندر جو خیر و شر ہے، ادیب کا یہ کام ہے کہ وہ اس کو اس انداز سے پیش کرے کہ جس سے انسانی زندگی کے حقائق سمجھنے میں مدد مل سکے۔ برے کردار کو اس انداز سے پیش کرے کہ اس کی برائی دیکھ کر نفرت پیدا ہو۔‘‘ خلیفہ صاحب نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا، زیربحث افسانے کے کردار ایشر سنگھ سے شدید کراہت اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ یہ کردار بالکل صحیح ہے۔ ایسے کرداروں پر خاص کیفیتوں کے ماتحت جسمانی حالت درست ہونے کے باوجود نفسیاتی نامردی طاری ہو سکتی ہے۔\n\nان تین گواہوں کے بیان ایک پیشی میں ہوئے۔ چونکہ یہ خاصے طویل تھے اور ایک ایک لفظ خود مجسٹریٹ صاحب کو لکھنا پڑتا تھا، اس لئے وہ جھنجھلا جھنجھلا جاتے تھے۔ کئی بار آپ نے تنگ آ کر کہا، ’’میں مجسٹریٹ ہوں یا محرر۔‘‘ لیکن بہرحال انہیں اپنا فرض ادا کرنا ہی پڑتا تھا۔\n\nاس پیشی میں ایک بڑی دلچسپ بات ہوئی۔ میرے ہاتھ میں سگریٹوں کا ڈبہ غالباً کریون اے کا تھا۔ مجسٹریٹ صاحب کی نظر پڑی تو آپ نے مجھے ایک بہت بڑی ڈانٹ پلائی، ’’یہ گھر نہیں ہے۔۔۔ عدالت ہے۔‘‘ میں نے مودبانہ عرض کیا، ’’لیکن حضور میں پی تو نہیں رہا ہوں۔‘‘ آپ نے اور زیادہ گرم ہو کر کہا، ’’خاموش رہو۔ ڈبہ اپنی جیب میں رکھو۔‘‘ میں نے حکم کی تعمیل کی۔۔۔ مجسٹریٹ صاحب درجہ اول نے میز پر سے اپنا سگریٹ ٹن اٹھایا اور ایک سگریٹ سلگا کر پینا شروع کر دیا۔۔۔ اور میں ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا اس کا بکھرا ہوا دھواں پیتا رہا۔\n\nاگلی پیشی پر میاں تصدق حسین خالد تشریف نہ لائے۔ کیونکہ ان کے گھر میں کوئی علیل تھا۔ ہمیں تاریخ مل گئی۔ اس تاریخ پر میاں صاحب موصوف تشریف نہ لائے۔ ان کا لڑکا ولایت سے واپس آ رہا تھا۔ وہ کراچی اس کے استقبال کے لئے چلے گئے تھے۔ ہم سخت الجھن میں گرفتار ہو گئے۔ میں نے مجسٹریٹ صاحب سے مودبانہ گزارش کی کہ ہمیں تاریخ دے دی جائے اس لئے کہ ہمارا وکیل موجود نہیں۔۔۔ آپ نے اس سے انکار کر دیا اور حکم دیا کہ کارروائی شروع ہو۔ میں بہت سٹپٹایا۔ گواہ کو آوازیں دی گئی۔ ڈاکٹر سعید اللہ ایم اے ایل ایل بی، پی ایچ ڈی، ڈی ایس سی (ان دنوں پاکستان ائیرفورس کے سولین آفیسر) تشریف لائے۔ اب میں سوچنے لگا کہ کیا کروں، مگر شاید اس لئے کہ خاندان کے سب بزرگ وکیل اور باپ سب جج تھے۔ دو بڑے بھائی بیرسٹر ہیں اور اس لحاظ سے خون میں کسی قدر قانون گھلا ہوا تھا، میں نے میاں تصدق حسین صاحب خالد کی جگہ سنبھال لی اور اپنے گواہ نمبر ۴ ڈاکٹر سعید اللہ صاحب سے بیان دلوانا شروع کر دیا۔ بات بات پر مجسٹریٹ صاحب مجھے ٹوکتے، ’’تم اس طرح سوال نہیں کر سکتے۔ ۔ تم یہ بات نہیں پوچھ سکتے۔‘‘ میں ڈٹا رہا۔\n\nڈاکٹر صاحب کا بیان آدھا ختم ہوا تھا کہ عدالت کے کمرے میں چار نوجوان وکیل کالے کوٹ پہنے بڑے چست، بڑے بانکے داخل ہوئے اور ڈاکٹر سعید اللہ صاحب کے پاس کھڑے ہو گئے۔ ایک جس کی پتلی پتلی مونچھیں تھیں اور جس کا رنگ باقی دو کے مقابلے میں کسی قدر سانولا تھا، میرے ساتھ کٹہرے کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب مجھے سانس لینے کا موقعہ ملا تو اس نے میرے کان میں کہا، ’’منٹو صاحب کیا ہم آپ کے مقدمے کی پیروی کر سکتے ہیں۔‘‘ میں نے کچھ نہ سوچا اور کہا، ’’جی ہاں آپ کر سکتے ہیں۔‘‘ چنانچہ پتلی پتلی مونچھوں والے اس نوجوان وکیل نے پیروی شروع کر دی۔ مجسٹریٹ صاحب نے اس سے پوچھا، ’’آپ کیسے؟‘‘\n\nوکیل نے مسکرا کر جواب دیا، ’’حضور میں ان کا وکیل ہوں۔ کیوں منٹو صاحب؟‘‘ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ کارروائی شروع ہوئی۔ اس وکیل کے باقی تین ساتھی بھی حصہ لینے لگے۔۔۔ ان کی سرگرمی میں بڑا دلکش لڑکپن تھا۔ وہ جو کالج کے زندہ دل طلبا میں ہوتا ہے۔۔۔ مجسٹریٹ بھنا گئے۔ آپ نے ان تین سے پوچھا، ’’آپ حضرات کیوں بیچ میں بول رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے جواب دیا، ’’حضور ہم ملزموں کے وکیل ہیں۔۔۔ کیوں منٹو صاحب؟‘‘ میں نے پہلے کی طرح اثبات میں سر ہلایا۔\n\nڈاکٹر سعید اللہ صاحب نے اپنے بیان میں جو کچھ کہا میں اسے مختصراً پیش کرتا ہوں۔۔۔ آپ نے فرمایا، ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ پڑھنے کے بعد میں خود ٹھنڈا گوشت بن گیا۔ پژمردگی اور افسردگی، یہ تھا اس کا اثر۔ یہ افسانہ شہوانی ہیجان ہر گز پیدا نہیں کرتا۔۔۔ ایشر سنگھ کا کردار پیش کرنے کے لئے مصنف نے دو تین دفعہ گالی استعمال کی ہے، مگر شاید فن کار نے اسے مناسب سمجھا ہو، مگر گالی کی شکل اس نے اس طرح بدلی کہ گالی معلوم نہیں ہوتی۔۔۔ اگر وہ گالی جو ایشر سنگھ نے استعمال کی ہے گالی بھی رہتی تو بھی میرے نزدیک افسانہ فحش نہ ہوتا۔ گالی فحش بھی ہو سکتی ہے اور فحش نہیں بھی ہو سکتی۔ اگر فن کار صحیح فنکار ہے تو وہ گالی کو بغیر ضرورت کبھی استعمال نہیں کرتا۔ اس افسانے میں گالی کا استعمال فن کارانہ ہے۔‘‘\n\nپروسی کیوٹر صاحب بڑے نستعلیق قسم کے آدمی تھے۔ بہت بانکے، کج کلاہ۔ گردن میں ہلکا سا شاندار خم۔ آنکھوں پر ’رم لس‘ چشمہ، جسے وہ بار بار اپنی ناک سے اتارتے اور جماتے تھے۔ آپ نے از راہ تمسخر کچھ کہا تو ڈاکٹر صاحب برس پڑے۔ اس زور سے کہ دوسرے کمرے میں صوفی تبسم صاحب کرسی پر اچھل کر باہر نکل آئے۔ بہرحال معاملہ ٹل گیا۔ پروسی کیوٹر صاحب نے جن کا نام غالباً محمد اقبال تھا، ڈاکٹر صاحب سے پوچھا، ’’نفس مضمون کے لحاظ سے مختلف ادبا کو مختلف القاب دیے گئے ہیں۔ مثلاً راشد الخیری کو مصور غم، اقبال کو مصور حقیقت اور خواجہ حسن نظامی کو مصور فطرت۔۔۔ آپ۔۔۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے اقبال صاحب کی بات کاٹ کر کہا، ’’میں ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ کے مصنف کو مصور حیات کا لقب دوں گا۔‘‘\n\nاب کرنل فیض احمد فیضؔ ایڈیٹر پاکستان ٹائمز کی باری آئی۔ آپ نے اپنے بیان میں کہا، ’’میری رائے میں افسانہ فحش نہیں ہے۔ ایک افسانے کے الگ الفاظ کو فحش یا غیر فحش کہنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ افسانے پر تنقید کرتے وقت مجموعی طور پر تمام افسانہ زیرنظر ہوگا اور ہونا چاہیئے۔ محض عریانی کسی چیز کے فحش ہونے کی دلیل نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس افسانے کے مصنف نے فحش نگاری نہیں کی لیکن ادب کے اعلیٰ تقاضوں کو بھی پورا نہیں کیا، کیونکہ اس میں زندگی کے بنیادی مسائل کا تسلی بخش تجزیہ نہیں ہے۔‘‘ جرح کے جواب میں فیض صاحب نے کہا، ’’میری بھپیاں لے رہے تھے۔‘‘ اگر موضوع تقاضا کرے تو میں ایسے الفاظ کا استعما ل جائز سمجھتا ہوں۔ ’منہ بھر بھر کے بوسے لئے‘، ’چوس چوس کر اس کا سارا سینہ تھوکوں سے لتھیڑ دیا۔ ‘ یہ الفاظ پارلیمنٹری نہیں لیکن ادبی اعتبار سے جائز ہیں۔‘‘\n\nفیضؔ صاحب کے بعد صوفی غلام مصطفیٰ تبسم صاحب پروفیسر گورنمنٹ کالج، لاہور تشریف لائے۔ آپ نے اپنے بیان میں کہا، ’’افسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘ لوگوں کے اخلاق کو خراب نہیں کرتا۔ ہو سکتا ہے اس کے بعض فقرے الگ ہو کر فحش ہوں اور بعض نہ ہوں۔ انسانی جنسیات کو ادب کا موضوع بنا کر ہمارے لٹریچر کا رجحان ایک صحیح سمت کی طرف جا رہا ہے۔‘‘ جرح کا جواب دیتے ہوئے صوفی صاحب نے فرمایا، ’’کوئی افسانہ یا ادب پارہ فحش نہیں ہو سکتا۔ جب تک لکھنے والے کا مقصد ادب نگاری ہے۔ ادب بحیثیت ادب کے کبھی فحش نہیں ہوتا۔‘‘\n\nاقبال صاحب نے اپنی ناک پر سے کئی مرتبہ جلدی جلدی ’رم لس‘ چشمہ اتارا اور جمایا۔ وہ صوفی صاحب کو گھیر گھار کر اپنے مطلب کی بات کہلوانا چاہتے تھے، مگر صوفی صاحب طفل مکتب نہیں تھے۔ بیس برس سے استادی کرتے چلے آئے تھے۔ اقبال صاحب کے جال میں نہ پھنسے۔ ایک مرتبہ تو آپ نے صاف کہہ دیا، ’’دیکھئے صاحب! آپ لاکھ الٹ پھیر کریں لیکن میں وہی کچھ کہوں گا جو مجھے کہنا ہے۔‘‘\n\nاقبال صاحب نے سوال کیا، ’’اگر کسی تحریر، افسانے یا ادب پارے کے نتائج مخرب الاخلاق ہوں مگر مصنف کا مقصد تخریب اخلاق نہ ہو تو آپ اس افسانے کو فحش کہیں گے یا نہیں۔‘‘ صاف ظاہر تھا کہ اقبال صاحب کیا چاہتے ہیں۔ صوفی صاحب نے مسکرا کر جواب دیا، ’’نہیں۔۔۔ ا س لئے کہ پڑھنے والوں کے اپنے ذہنی رجحانات شامل ہوں گے نہ کہ مصنف کا مطلب۔ تخلیق ادب مصنف اپنی طبع سے مجبور ہو کر کرتا ہے۔ یہ تخلیق اوروں کے لئے بھی ہوتی ہے۔‘‘ اقبال صاحب نے ایک اور سوال کیا، ’’اگر اس تصنیف سے لوگوں کے اخلاق پر برا اثر پڑے تو اس کی ذمہ داری ادیب پر ہو گی یا نہیں۔‘‘ صوفی صاحب نے کھٹ سے جواب دیا، ’’وہ بری الذّمہ ہے۔‘‘ اقبال صاحب نے عاجز آ کر پوچھا، ’’آخر مخرب اخلاق تحریر کیا ہے؟‘‘ صوفی صاحب نے جواب دیا، ’’وہ تحریر جس سے لکھنے والے کا مقصد محض تخریبِ اخلاق ہو۔‘‘ اقبال صاحب نے ناک پر اپنا ’رم لس‘ چشمہ جمایا اور گردن کو ذرا اورخمیدہ کر کے جرح بند کر دی۔\n\nڈاکٹر آئی لطیف ہیڈ آف دی سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ ایف سی کالج، لاہور بلائے گئے۔ میں نے ان کا نام سنا تھا لیکن دیکھا کبھی نہیں تھا۔ آپ صوفی صاحب کے بیان کے دوران میں میاں سعید صاحب کے پاس بیٹھے تھے اور رسالہ ’’جاوید‘‘ کا خاص نمبر ان کے ہاتھ میں تھا۔ میں نے ان کی طرف غور ہی نہیں کیا تھا۔ جب وہ بیان دینے لگے تو میں نے انہیں غور سے دیکھا۔۔۔ کالا رنگ، سب سے پہلے مجھے ان کی تیکھی مونچھیں نظر آئیں۔ آپ نے رسالہ ایک طرف رکھا اور کہنا شروع کیا، ’’میں نے ’ٹھنڈا گوشت‘ ابھی ابھی پڑھا ہے۔ یہ ایک غلط رسالے میں چھپا ہے۔ میرا مطلب ہے یہ افسانہ ایک پوپولر رسالے میں نہیں چھپنا چاہیئے تھا، اگر یہ کسی سائینٹفک رسالے میں کیس ہسٹری کے طور پر مردمی اور نامردی کی تائید یا تردید میں چھپتا تو اس پر فحاشی کا الزام عائد نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔ جن الفاظ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ بولنے میں ان کو برا سمجھتا ہوں، لیکن کیس ہسٹری میں یہ الفاظ بڑی اہمیت رکھیں گے۔‘‘\n\nخدا معلوم کیا بات ہوئی کہ ڈاکٹر لطیف نے ایک دم پوچھا، ’’مسٹر منٹو کون ہیں۔‘‘ میں نے کہا، ’’جناب یہ خاکسار ہے۔‘‘ ڈاکٹر صاحب کی تیکھی مونچھیں تھرتھرائیں۔ آپ نے مجھ سے کچھ کہا اور بیان دینے میں مشغول ہو گئے۔ وکیل صاحب نے میرے کان میں کہا، ’’منٹو صاحب آپ کا یہ گواہ تو ہو سٹائل ہو گیا ہے۔ اب آپ اس پر جرح کر سکتے ہیں۔‘‘ میں نے کہا، ’’ہٹایئے۔‘‘ لیکن وکیل صاحب نے جرح کر ہی دی۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر لطیف صاحب نے کہا، ’’افسانہ ایسے رسالے میں جس کو ہر بچہ، بوڑھا، لڑکا، لڑکی پڑھ سکے، نہیں چھپنا چاہیئے تھا۔ کیونکہ ایسی طباع جو جذبات کو مشتعل کرنے والے تاثرات قبول کرنے والی ہوں، یہ افسانہ پڑھ کر مشتعل ہوں گی۔‘‘ جرح ختم ہوئی۔ ڈاکٹر لطیف صاحب میرے پاس آئے۔ ہاتھ ملایا اور کہا، ’’آپ نے مجھے گواہی کے لئے بلایا تھا تو کم از کم مل لئے ہوتے۔‘‘ میں نے مسکرا کر جواب دیا۔ انشاء اللہ اب ملاقات کا شرف حاصل کروں گا۔ ڈاکٹر صاحب نے پھر ہاتھ ملایا اور چلے گئے۔\n\nاب میں ان چار نوجوان وکیلوں کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جو بڑے ڈرامائی انداز میں میرے مقدمے میں داخل ہوئے تھے۔ پتلی پتلی مونچھوں، تیکھی ناک اور سانولے رنگ والے شیخ خورشید احمد تھے۔ کافی ہاؤس ان کے بغیر نامکمل ہے۔ دوسرے تین تھے مسٹر مظہر الحق، مسٹر سردار محمد اقبال اور مسٹر اعجاز محمد خان۔ آپ لوگوں کو بار روم میں معلوم ہوا کہ میں خود اپنا کیس کنڈکٹ کر رہا ہوں اور پریشان ہوں تو وہ میری مدد کے لئے چلے آئے۔۔۔ میں نے ان کا شکریہ مناسب و موزوں الفاظ میں ادا کیا۔ شیخ خورشید احمد نے کہا، ’’اس کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ لیکن داد دیجئے کہ میں نے آپ کا افسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘پڑھا کیا دیکھا تک نہیں۔‘‘ ہم سب خوب ہنسے۔۔۔ شیخ نے کہا، ’’اور میں شرط لگانے کے لئے تیار ہوں کہ مسٹر اقبال نے بھی یہ افسانہ ابھی تک نہیں پڑھا۔‘‘\n\nہماری طرف سے سات گواہ اب تک پیش ہوئے تھے۔ بقایا گواہوں کو بلوانے کے لئے جب شیخ خورشید صاحب نے عدالت سے درخواست کی جو مسترد کر دی گئی۔ مجسٹریٹ صاحب نے اس خیال سے کہ ہمارا پلڑا وزنی ہے، عدالت کی طرف سے چار گواہ طلب کئے۔ مولانا تاجور نجیب آبادی، شورش کاشمیری، ابو سعید بزمی اور ڈاکٹر محمد دین تاثیر۔ کئی تاریخیں بھگتیں مگر یہ حضرات جمع نہ ہوئے۔ آخر ایک تاریخ پر سب آ گئے۔ تاجور صاحب سے علیک سلیک ہوئی تو آپ نے لکچر پلانا شروع کر دیا۔ کہ میں ایسے غلیظ فحش اور واہیات افسانے لکھتا ہوں۔ میں خاموش سنتا رہا، ا س لئے کہ مولانا کے ساتھ بحث کرنا فضول تھا۔\n\nآغا شورش بڑے پرشور طریقے پر ملے۔ ابو سعید بزمی نے مجھ سے ایک سگریٹ لیا اور سلگا کر ٹہلنے لگے۔ آواز پڑی تو حاضر عدالت ہوئے۔ کارروائی شروع ہوئی۔ پہلے گواہ منجانب عدالت شمس العلماء مولانا احسان اللہ خان تاجور نجیب آبادی پروفیسر دیال سنگھ کالج لاہور تھے۔ آپ نے فرمایا، ’’ٹھنڈا گوشت کسی مسجد میں یا کسی مجلس میں جماعتی حیثیت میں سننا پسند نہیں کیا جا سکتا، اگر کوئی پڑھے تو اپنا سر سلامت لے کر نہ جا سکے۔ چالیس سالہ ادبی زندگی میں ایسا ذلیل اور گندہ مضمون میری نظر سے نہیں گزرا۔‘‘ میں نے مولانا سے چند سوال کئے تو آپ نے جواباً کہا، ’’یہ افسانہ میں نے پہلی بار دیال سنگھ کالج میں پڑھا لیکن پورا نہیں پڑھا۔ تھوڑا سا پڑھا اور لغو سمجھ کر بند کر دیا۔۔۔ مثنوی گلزار نسیم میں بکاؤلی اور تاج الملوک کی شادی کا تذکرہ اخلاق سے متصادم ہے۔۔۔ فسانہ عجائب، مثنوی بہار عشق، مثنوی فریب عشق اور الف لیلیٰ میں جو فحش حصے ہیں وہ فحش ہیں۔ حکایت خانم وکنیز کا ذکر مثنوی مولانا روم میں آتا ہے لیکن میں نے نہیں پڑھا۔۔۔ جنسی ترغیب کا پہلو مثنوی مولانا روم میں نہیں ہو سکتا۔‘‘\n\nجی چاہتا تھا کہ مولانا کو خوب ستاؤں مگر میں نے مناسب خیال نہ کیا اور چند سوال اور کر کے ان کو چھوڑ دیا۔۔۔ اب آغا شورش کاشمیری ولد آغا نظام الدین ایڈیٹر ہفتہ وار ’’چٹان‘‘ مونچھوں کے اندر مسکراہٹیں بکھیرتے تشریف لائے۔ میری طرف دیکھ کر آپ کھل کر مسکرائے اور بیان دینا شروع کر دیا۔ آپ نے فرمایا، ’’جہاں تک میرے علم اور احساسات کا تعلق ہے میں نے ’ٹھنڈا گوشت‘ سے اچھے تاثرات فراہم نہیں کئے۔ جس سماج اور گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں اس کے پیش نظر میں ایسا مضمون اپنے پرچے میں شائع نہیں کروں گا۔ میرا مدرسہ فکر اسے گوارا نہیں کرتا۔‘‘\n\nاستغاثے کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آغا صاحب نے کہا، ’’اس سے اوباش قاری کو ترغیب ہوتی ہے، ان لوگوں کو جن کا رجحان طبیعت خاص طور پر بدکاری کی طرف مائل ہو۔‘‘ ہماری طرف سے آغا صاحب پر کوئی جرح نہ کی گئی۔۔۔ ابو سعید بزمی ایڈیٹر احسان لاہور پیش ہوئے تو آپ نے افسانے کو مخرب اخلاق قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’افسانہ معنی و مطلب کی وجہ سے قابلِ اعتراض ہے۔‘‘ میں نے بزمی سے پوچھا، ’’کیوں حضرت! یہ بتایئے کیا اسی عدالت میں آپ کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ چل رہا ہے؟‘‘ آپ نے جب ’’جی ہاں‘‘ کہا تو مجسٹریٹ صاحب نے حیرت سے پوچھا، ’’میری عدالت میں؟‘‘ بزمی صاحب نے پھر جواب دیا، ’’جی ہاں!‘‘ مجسٹریٹ صاحب نے قلم سے سر کھجا کر پائپ سلگایا اور اپنے کام میں مشغول ہو گئے۔\n\nآخری گواہ منجانب عدالت پیش ہوئے یعنی ڈاکٹر تاثیر صاحب پرنسپل اسلامیہ کالج، لاہور۔ آپ نے اپنے بیان میں کہا، ’’کہانی ادبی لحاظ سے ناقص ہے لیکن ہے ادبی، نشان لگائے ہوئے الفاظ کچھ اس کہانی کے لئے ضروری ہیں کچھ غیر ضروری۔ کچھ الفاظ ایسے ہیں جن کو ناشائستہ کہا جا سکتا ہے لیکن میں فحش اس لئے نہیں کہتا کہ لفظ فحش کی تعریف کے متعلق میں واضح نہیں ہوں۔۔۔ میرے خیال میں جن لوگوں کا میلان بدکاری کی طرف ہے ان کے لئے اس مضمون سے جنسی کراہت ہوگی، جنسی ترغیب نہیں ہوگی۔ ’ٹھنڈا گوشت‘ کا مطلب مردہ لڑکی ہے۔ میں اس کہانی کو ایک عام جنسی کہانی سمجھتا ہوں۔ یہ جنسی اخلاق خراب نہیں کرتی۔‘‘\n\nعدالت کی تمام کارروائی ختم ہوئی۔ اب فیصلہ باقی تھا جو میاں اے ایم سعید صاحب سماعت کے دوران میں کئی مرتبہ زبانی سنا چکے تھے۔ شیخ خورشید احمد کو یقین تھا کہ ہم سب کو جرمانہ ہوگا۔۔۔ فیصلے کی تاریخ سولہ جنوری (یہی سال) مقرر ہوئی۔ نصیر انور بالکل بے پروا تھا۔ ساری سماعت کے دوران میں وہ ہنستا مسکراتا رہا۔ عارف عبد المتین البتہ سارا وقت بہت پریشان رہے۔ ان کی اس پریشانی کا باعث یہ بھی تھا کہ ان کے معمر والد بڑے ہراساں تھے۔ جب صفائی کی گواہیاں ختم ہوئی تھیں تو میں نے اپنا تحریری بیان داخل کیا تھا۔ اس کو پڑھ کر مجھے اچھی طرح یاد ہے، مجسٹریٹ صاحب نے فرمایا تھا، ’’یہ بیان ہی ملزم کو سزا دینے کے لئے کافی ہے۔‘‘\n\nیہ بیان حسب ذیل ہے، میں افسانہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ مطبوعہ ماہنامہ ’’جاوید‘‘ لاہور کا مصنف ہوں جو استغاثے کے نزدیک عریاں اور فحش ہے۔ مجھے اس سے اختلاف ہے۔ یہ افسانہ کسی بھی نکتہ نظر سے ایسا نہیں ہے۔ فحاشی کے متعلق بہت کچھ کہا جا چکا ہے اور کہا جا سکتا ہے، مگر یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ ’’ادب‘‘ ہرگز ہرگز فحش نہیں ہو سکتا۔ افسانہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ کو اگر ادب کے دائرے سے باہر کر دیا جائے تو اس کے فحش ہونے یا نہ ہونے کا سوال پیدا ہو سکتا ہے، مگر یہ افسانہ ایک ادیب کی تصنیف ہے جو ادب جدید میں کافی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا ثبوت اس کی تصانیف ہیں اور وہ مضامین ہیں جو قریب قریب ہر ادبی رسالے میں اس کے فن پر شائع ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے تین مرتبہ چند افسانوں کے بارے میں شبہ ہوا تھا کہ وہ فحش ہیں۔ چنانچہ مجھ پر مقدمے چلے۔ سزائیں ہوئیں، لیکن اپیل کرنے پر ہر بار سیشن کورٹ میں مجھے اور میرے افسانوں کو فحاشی کے الزام سے بری کیا گیا۔\n\nمیرے ایک مقدمے کے سلسلے میں مسٹر ایم آر بھاٹیہ ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلے کے یہ الفاظ قابل غور ہیں، ’’قابل غور امر ہے کہ ایسے اشخاص ملزمین کی صفائی میں پیش ہوئے ہیں جو اردو زبان کے عالم ہونے کی حیثیت میں بہت مشہور ہیں۔ مثال کے طور پر خان بہادر عبدالرحمن چغتائی، مسٹر کے ایل کپور پروفیسر ڈی اے وی کالج، راجندر سنگھ بیدی اور ڈاکٹر آئی لطیف پروفیسر ایف سی کالج جو بطور گواہان صفائی پیش ہوئے۔ ان سب کی رائے ہے کہ مضمون (بو) میں ایسی کوئی چیز نہیں جو شہوانی حسیات پیدا کرے بلکہ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مضمون ترقی پسند ہے اور اردو ادب کے موڈرن رجحان سے تعلق رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ استغاثے کے گواہ نمبر چار بشیر نے دوران جرح میں تسلیم کیا کہ مضمون انسان کے اخلاق پر برا اثر نہیں ڈالتا۔\n\nماتحت عدالت فاضلہ نے ہندوستانی نوجوان کی تعیش پسند زندگی کا ذکر کرتے ہوئے افسوس کیا ہے کہ اس بات پر ماتم کیا ہے کہ ملک میں ہندوستانیوں کا پرانا کیریکٹر نابود ہو رہا ہے (ماتحت عدالت کے فاضل جج) نے وہ خوبیاں بھی یاد کرائی ہیں۔ جن کے لئے ہم ہندوستانی کبھی مشہور تھے اور نصیحت کی ہے کہ نئے فیشنوں کو ختم کر دینا چاہیئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ماتحت عدالت فاضلہ کے خیالات ترقی پسند نہیں ہیں۔۔۔ ہمیں زمانے کے ساتھ ساتھ چلنا ہے۔۔۔ حسین چیز ایک دائمی مسرت ہے۔ آرٹ جہاں بھی ملے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیئے آرٹ خواہ وہ تصویر کی صورت میں ہو یا مجسمے کی شکل میں۔ سوسائٹی کے لئے قطعی طور پر ایک پیش کش ہے۔ چاہے اس کا موضوع غیر مستوری کیوں نہ ہو۔ یہی کلیہ تحریروں پر بھی منطبق ہوتا ہے۔\n\nجب ملک کے مشہور و معروف آرٹسٹوں اور ادیبوں نے ملزمین کے حق میں کہا ہے۔ سارا فیصلہ یہیں ہو جاتا ہے۔ زیربحث مضمون ایسا نہیں کہ جس پر کسی قانونی عدالت میں نکتہ چینی کی جائے۔ اس لئے مجھے اپیل منظور کرنے میں کوئی پس و پیش نہیں۔ جرمانہ اگر ادا کیا گیا ہے تو واپس کیا جائے۔ میں اپیل کرنے والوں کو بری کرتا ہوں۔‘‘\n\nاس فیصلے سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آرٹ فحش نہیں ہو سکتا ہے اور کسی فن پارے پر کسی قانونی عدالت میں نکتہ چینی نہیں کی جانی چا ہیئے۔ کوئی لٹریری پیس یعنی ادب پارہ معیاری یا غیر معیاری ہو سکتا ہے۔ ا س لئے کہ آرٹسٹ ہو سکتا ہے اپنا معیار قائم نہ رکھ سکے۔ افسانہ نگار کا ہر افسانہ اس کا شاہکار نہیں ہو سکتا۔ ’ٹھنڈا گوشت‘ کے اسٹینڈرڈ کے بارے میں کہا سنا جا سکتا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ افسانہ میرے دوسرے افسانوں کے پائے کا نہیں۔ یہ کام ادبی نقادوں کا ہے اور انہیں اس بات کا حق ہے کہ وہ جانچیں، پرکھیں، مگر اس افسانے پر کسی صورت میں بھی فحاشی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ ا س لئے کہ مصنف کی طرف سے افسانوی ادب میں اچھا برا جیسا بھی ہے یہ ایک اضافہ ہے، لیکن اس صورت میں کہ مجھے اپنی پوزیشن صاف کرنا ہے۔ آیئے ہم اس افسانے کو اچھی طرح جانچیں کہ اس میں فحاشی کا کوئی پہلو نکلتا ہے یا نہیں۔\n\nافسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘ جیسا کہ ظاہر ہے کہ ایک افسانہ ہے جس کا عقبی منظر یوں تو گزشتہ فسادات ہیں، لیکن دراصل جس کی بنیاد انسانی نفسیات پر قائم ہے اور انسانی نفسیات کا ’’جنس‘‘ سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ افسانے میں دو کردار ہیں۔ ایشر سنگھ اور اس کی داشتہ یا بیوی کلونت کور کا۔ دونوں ٹھیٹ قسم کے گنوار سکھ ہیں۔ دونوں جنسی لحاظ سے بہت تگڑے ہیں۔ یوں کہنا چاہیئے کہ ایشر سنگھ کو جنسی تشفی صرف کلونت کور ایسی عورت ہی سے اور کلونت کور کو جنسی تشفی صرف ایشر سنگھ ایسے مضبوط اور توانا مرد ہی سے مل سکتی تھی۔ دونوں کی جنسی زندگی بڑی ہموار تھی، لیکن ایک ایسا وقت آیا ہے جب کلونت کور محسوس کرتی ہے کہ ایشر سنگھ تبدیل ہو گیا ہے۔ اس کی جنسی محبت میں پہلی سی توانائی نہیں رہی۔ وہ اس سے بے رخی برت رہا ہے۔ کسی اور عورت سے اس نے ناطہ جوڑ لیا ہے۔\n\nاصل بات یہ تھی کہ سردار ایشر سنگھ ایک زبردست نفسیاتی رد عمل کا شکار تھا۔ جس کے باعث اس کی جنسی توانائی قریب قریب مفلوج ہو چکی تھی۔ وہ لوٹ مار کے دوران میں قتل و غارت کرنے کے بعد ایک نوجوان مسلم دوشیزہ اٹھا لایا تھا کہ تبدیلی کے طور پر وہ اس سے جنسی حظ اٹھائے، مگر جب اس نے ایسا کرنا چاہا تو اسے معلوم ہوا کہ لڑکی دہشت کے مارے اس کے کندھوں پر ہی مر چکی تھی اور اس کے سامنے ایک ٹھنڈی لاش پڑی تھی۔ اس کی تپی ہوئی شہوانی خواہشات کے سامنے ٹھنڈے گوشت کا لوتھڑا۔ اس کا ایشر سنگھ کو کچھ ایسا زبردست احساس ہوا کہ نفسیاتی طور پرنامرد ہو گیا۔\n\nاگر ایشر سنگھ کو ٹھنڈی عورتوں سے سابقہ پڑا ہوتا، اگر ایشر سنگھ خود ٹھنڈا مرد ہوتا تو اتنا زبردست نفسیاتی ردعمل نہ ہوتا، مگر جیسا کہ اس کا کردار پینٹ کیا گیا ہے، وہ جنسی لحاظ سے بہت ہی توانا تھا اور اس کا جنسی رشتہ ایک ایسی عورت سے تھا جو ہر لحاظ سے اس کا ہم پایہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اوپر بیان کئے گئے حادثے نے اسے جنسی لحاظ سے بالکل نکما کر دیا۔ یہ بات یہاں قابل غور ہے کہ قتل و غارت نے اور لوٹ مارنے ایشر سنگھ پر کوئی اثر نہیں کیا تھا۔ اس نے کئی انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا مگر اس کے ضمیر پر احساس کی ایک ہلکی سی خراش بھی نہ آئی تھی، لیکن جب وہ لڑکی کی ٹھنڈی لاش پر جھکا تو اس کی مردانگی غائب ہو گئی۔\n\nافسانہ’ٹھنڈا گوشت‘ کے بطن میں جو کچھ بھی ہے، ظاہر ہے کہ فحش نہیں۔ عنوان ہی ایک بین ثبوت ہے کہ افسانہ پڑھنے والوں کے دل و دماغ میں شہوت کی گرم لہریں نہیں دوڑائے گا۔ جو حادثہ ایشر سنگھ کو پیش آیا وہ کیسے کسی قاری کی شہوانی جذبات کی طرف مائل کر سکتا ہے۔ ایشر سنگھ کا اندازِ گفتگو اس کا اپنا ہے۔ ہزاروں آدمی عام روزمرہ کی زندگی میں وہ الفاظ استعمال کرتے ہیں جو مصنف نے اس کے منہ سے کہلوائے ہیں۔ اس کی حرکات غیر فطری نہیں۔ اسی طرح کلونت کور کے متعلق کہا جا سکتا ہے۔ استغاثے کے فاضل وکیل نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایشر سنگھ کے مکالموں میں گالیاں استعمال کی گئی ہیں۔ میں یہاں گالی کی نفسیات پر بحث نہیں کروں گا، مگر یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ وہ الفاظ جو استغاثے کے وکیل کے نزدیک گالی ہیں اصل میں گالی نہیں ہیں۔ میں یہاں گالی کی ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔ اردو کے مشہور شاعر مرزا غالب، مرزا شہاب الدین خان صاحب کے نام ایک رقعے میں لکھتے ہیں،\n\n’’یہ اشعار جو تم نے بھیجے ہیں۔ خدا جانے کس ولدالزنا نے داخل کر دیے ہیں۔۔۔ اگر یہ شعر متن میں پائے بھی جاویں تو یوں سمجھنا کسی ملعون زن جلب نے اصل کلام کو چھیل کر یہ خرافات لکھ دیے ہیں۔‘‘ (اردوئے معلی صفحہ ۲۱۷)\n\nمرزا شہاب الدین کے نام ایک اور خط میں ارشاد ہوتا ہے، ’’میاں وہ قاضی مسخرہ تو چوتیا ہے۔‘‘ (اردوئے معلی صفحہ ۳۱۸)\n\nگالی کے یہ نمونے تو ہوگئے، لیکن اگر کوئی شخص گفتگو کے دوران میں یہ کہے، ’’میں بھی عجیب چوتیا ہوں کہ آپ یہاں اور میں آپ کو لاہور ڈھونڈتا پھرا۔‘‘ تو ظاہر ہے لفظ ’’چوتیا‘‘ گالی نہیں۔ ’’سالا‘‘ ہمارے یہاں بہت بڑی گالی متصور کی جاتی ہے۔ لیکن بمبئی میں لفظ ’’سالا‘‘ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ عام گفتگو میں آپ کو وہاں ایسے کئی فقرے سننے میں آئیں گے۔\n\n’’ہمارا باپ سالا بڑا اچھا آدمی ہے۔‘‘\n\n’’سالا ہم سے مشٹیک ہو گیا۔‘‘\n\n’’سالا کیسی بات کرتا ہے۔‘‘\n\nماں بہن کی گالی یو پی اور پنجاب میں گفتگو میں عام استعمال ہوتی ہے اور کسی کے کان کھڑے نہیں ہوتے۔ خاص گالی اکثر لوگوں کا تکیہ کلام بن جاتی ہے۔ ایشر سنگھ بھی چند گالیوں کو تکیہ کلام کے طور پر ہی استعمال کرتا ہے۔ ا س لئے استغاثے کے فاضل وکیل کا اس نکتے پر زور دینا بالکل بیکار ہے۔ اس کے علاوہ یہ اہم بات بھی پیش نظر رہنی چاہیئے کہ ایشر سنگھ جیسے اجڈ اور گنوار آدمی سے شائستہ کلامی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ اس کے منہ میں اگر مصنف نے مہذب اور شائستہ الفاظ ڈالے ہوتے تو افسانے میں حقیقت نگاری کا خاتمہ ہو جاتا۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ افسانہ ایک بہت ہی بھونڈی شکل اختیار کر لیتااور آرٹ کی سطح سے بہت ہی نیچے خرافات کے کھڈ میں جا گرتا۔\n\nسوال ہے۔۔۔ جو چیز جیسی ہے اسے من و عن کیوں نہ پیش کیا جائے۔ ٹاٹ کو اطلس کیوں بنایا جائے۔ غلاظت کے ڈھیر کو عود و عنبر کے انبار میں کیوں تبدیل کیا جائے۔۔۔ حقیقت سے انحراف کیا ہمیں بہتر انسان بننے میں ممد و معاون ہو سکتا ہے۔۔۔ ہر گز نہیں۔۔۔ پھر ایشر سنگھ کے کردار اور اس کی گفتار پر اعتراض کیا معنی رکھتا ہے۔ ایشر سنگھ گندہ ذہن سہی، افسانے کا موضوع گھناؤنا سہی، لیکن کیا اس کو پڑھنے کے بعد ہمیں انسانیت کی وہ رمق دکھائی نہیں دیتی جو ایشر سنگھ کے سیاہ قلب میں خود اس کا مکروہ فعل پیدا کرتا ہے اور یہ ایک صحت مند چیز ہے کہ اس افسانے کا مصنف انسانوں اور انسانیت سے مایوس نہیں ہوا۔ اگر مصنف نے ایشر سنگھ کے دل و دماغ پر نفسیاتی ردعمل پیدا نہ کیا ہوتا تو یقیناً ’ٹھنڈا گوشت‘ ایک نہایت ہی مہمل چیز ہوتی۔\n\nمجھے افسوس ہے کہ وہ تحریر جو انسانوں کو بتاتی ہے کہ وہ انسان سے حیوان بن کر بھی انسانیت سے علیحدہ نہیں ہو سکتے۔ فحش اور شہوات کو ابھارنے والی سمجھی جا رہی ہے اور یہ لطیفہ ہے کہ افسانے میں ایک انسان کو اس کی رہی سہی انسانیت ایک بہت بڑی سزا دیتی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ایشر سنگھ کو اپنی چری ہوئی گردن کا بالکل احساس نہیں تھا، اس کو آخری سانس تک صرف ایک ہی بات ستاتی رہی۔۔۔ کہ وہ ایک ٹھنڈی لاش سے زنا کرنے والا تھا۔\n\nفرانس میں مشہور ناول نگار فلابئیر کی تصنیف ’مادام بوواری‘ پر فحاشی کے الزام میں مقدمہ چلا تو وکیل صفائی موسیوسینار نے فاضلانہ بحث کے دوران میں کہا، ’’حضرات! یہ کتاب جو بقول وکیل استغاثہ شہوانی جذبات کو بھڑکاتی ہے۔ موسیو فلابئیر کے وسیع مطالعے اور غوروفکر کا نتیجہ ہے۔ اس نے اپنی توجہ متین فطرت کی وساطت سے ایسے ہی متین اور ملول مضامین کی طرف منعطف کی ہے۔ وہ ایسا آدمی نہیں جس کے خلاف وکیل استغاثہ نے ہیجان خیز تصویروں کی نقاشی کے الزام میں جگہ جگہ اپنی تقریر میں زہر اگلا ہے۔۔۔ میں پھر دہراتا ہوں کہ فلابیر کی فطرت میں بے انتہا سنگینی، شدید سنجیدگی اور بے پناہ ملال بھرا پڑا ہے۔‘‘\n\nمیں اپنے متعلق صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں ایک شریف خاندان کا فرد ہوں۔ اتفاق سے میرا پیشہ تصنیف و تالیف ہے۔ اپنی فطرت اور جو تعلیم و تربیت مجھے ملی ہے اس کی بدولت میں نے آج تک سستا اور سوقیانہ ادب پیش نہیں کیا۔ اردو کے جدید ادب سے جو ذرا سا بھی واسطہ رکھتے ہیں، ان کو میرے ادبی مقام کا علم ہے۔ افسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘میں فلابئیر کی فطرت کی بے انتہا سنگینی اور شدید سنجیدگی شاید نہ ہو لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ بے پناہ ملال سے بھرا پڑا ہے اور جب سوال ملال کا ہو تو شہوت کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔\n\nاب افسانے کے اس پہلو سے بھی دیکھا جائے کہ مصنف کی نیت کیا ہے۔ رائے صاحب لالہ سنت رام کی عدالت میں اپنے افسانے ’’دھواں‘‘ کے سلسلے میں صفائی کا بیان دیتے ہوئے میں نے کہا تھا، ’’تحریر و تقریر میں، شعر و شاعری میں، سنگ سازی و صنم تراشی میں فحاشی تلاش کرنے کے لئے سب سے پہلے اس کی ترغیب ٹٹولنی چاہیئے، اگر یہ ترغیب موجود ہے، اگر اس کا ایک شائبہ بھی نظر آ رہا ہے تو وہ تحریر، وہ تقریر، وہ شعر وہ بت قطعی طور پر فحش ہے۔‘‘ ظاہر ہے کہ ایسی کوئی ترغیب زیربحث افسانے میں نہیں۔ میں افسانے کا تجزیہ اوپر کر چکا ہوں جو یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ مصنف کی نیت میں کوئی فرق نہیں تھا اور اس نے محض ایک نفسیاتی حقیقت کو اس کے صحیح روپ میں افسانے کی صورت میں پیش کیا ہے۔\n\nافسانہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ پڑھ کر اگر کسی صاحب کے جذبات برانگیختہ ہوں تو انہیں کسی ذہنی معالج سے رجوع کرنا چا ہیئے۔ افسانہ ’’دھواں‘‘ ہی کی صفائی کے سلسلے میں، میں نے اپنے بیان میں کہا تھا، ’’ایک مریض جسم، ایک بیمار ذہن ہی ایسا غلط اثر لے سکتا ہے۔ جو لوگ روحانی، ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تندرست ہیں، اصل میں انہیں کے لئے شاعر شعر کہتا ہے، افسانہ نگار افسانہ لکھتا ہے اور مصور تصویر بناتا ہے۔ میرے افسانے تندرست اور صحت مند لوگوں کے لئے ہیں۔ نورمل انسانوں کے لئے، جو عورت کے سینے کو عورت کا سینہ ہی سمجھتے ہیں اور اس سے زیادہ آگے نہیں بڑھتے۔ جو عورت اور مرد کے رشتے کو استعجاب کی نظر سے نہیں دیکھتے۔‘‘ افسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘ بھی دوسرے ادب پاروں کی طرح صحت مند دماغوں کے لئے ہے۔ ایسے دماغوں کے لئے نہیں ہے، جو معصوم اور پاکیزہ چیزوں میں بھی شہوت کرید لیتے ہیں۔\n\nاگر کوئی عورت لوہے کی مشین کی حرکت سے شہوانی لذت حاصل کر لیتی ہے تو کیا اس لوہے کی مشین یا اس کی حرکت پر سفلی جذبات برانگیختہ کرنے کا الزام دھرا جائے گا۔۔۔ دنیا میں تو ایسے اشخاص بھی موجود ہیں جو مقدس کتابوں سے بھی شہوانی لذت حاصل کرلیتے ہیں، مگر ایسے لوگوں کا علاج ہونا چاہیئے۔\n\nامریکہ میں مشہور مصنف جیمز جوئیس کی تصنیف ’یولی سیز‘ کو فحاشی سے بری کرتے ہوئے جج وولزے نے اپنے فیصلے میں لکھا، ’’ایک خاص کتاب ایسے جذبات اور خیالات پیدا کر سکتی ہے یا نہیں۔ اس کا فیصلہ عدالت کی رائے کے ذریعے یہ دیکھ کر ہوگا کہ اوسط درجے کے جنسی جبلتیں رکھنے والے آدمی پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے۔ ایسے آدمی پر جسے فرانسیسی ’معمولی قسم کی حسیات رکھنے والا انسان‘ کہتے ہیں اور جس کی حیثیت قانون تفتیش کی اس شاخ میں ایک فرضی عامل کی ہوتی ہے جیسے عدالت خفیفہ کے مقدموں میں ’سمجھ بوجھ والے آدمی‘ کی حیثیت ہوتی ہے، یا رجسٹری کے قانون میں ایجاد کے مسئلے کے متعلق ’فن کے ماہر‘ کی۔‘‘ قانون کا تعلق صرف اوسط درجے کے آدمی سے ہے، چنانچہ افسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘ کےمتعلق کوئی فیصلہ مرتب کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیئے کہ اس کے مطالعے سے ایک اوسط درجے کی جنسی جبلتیں رکھنے والے آدمی کے دل و دماغ پر کیا اثر ہوتا ہے۔\n\nمشہور امریکی ناول نگار ارسکائن کیلڈول کی تصنیف ’’گوڈز لٹل ایکٹر‘‘ کو فحاشی کے الزام سے بری کرتے ہوئے عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا، ’’مصنف کا مقصد ایک سچی تصویر پینٹ کرنا تھا۔ ایسی تصویروں میں بعض ضروری تفصیلوں کا آ جانا لابدی امر ہے اور چونکہ ایسی تفصیلوں کا گہرا تعلق زندگی کے جنسی پہلو سے ہوتا ہے، اس لئے انہیں بہیمانہ صاف گوئی کے ساتھ بیان کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے عدالت یہ حکم صادر نہیں کر سکتی کہ ایسی تصویریں سرے سے بنائی ہی نہ جائیں۔۔۔ کرداروں کی زبان بلاشبہ بھدی اور گندی ہے، مگر عدالت مصنف سے ان پڑھ اور غیر مہذب لوگوں کے منہ میں شائستہ زبان ڈال دینے کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتی۔‘‘\n\nافسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘ ایک سچی تصویر ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں۔ بڑی ہی بہیمانہ صاف گوئی سے اس میں ایک نفسیاتی حقیقت کی نقاب کشائی کی گئی ہے، اگر اس میں کہیں گندگی اور غلاظت ہے تو اسے مصنف کے ساتھ نہیں بلکہ افسانے کے کرداروں کی ذہنی سطح کے ساتھ منسوب کرنا چاہیئے۔ کسی تحریر کے چند الفاظ اگر چمٹے سے اٹھا کر لوگوں کو دکھائے جائیں کہ فحش ہیں تو اس سے کوئی صحیح اندازہ نہیں ہوگا۔۔۔ ان الفاظ کی جداگانہ اشاعت قابل گرفت ہو سکتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے غالب، میر، ارسٹوفین، چاسر، بوکشیو، بلکہ کتاب مقدس تک کے بعض مقامات کو قابل تعزیر گردانا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی تحریر کو سمجھنے کے لئے اسے مجموعی طور ہی سے دیکھنا پڑے گا۔\n\nمجھے آخر میں یہ کہنے کی اجازت دی جائے کہ مجھے انتہائی افسوس ہے کہ استغاثے کی طرف سے میری تصنیف ’ٹھنڈا گوشت‘ پر کوئی ادبی تنقید نہیں ہوئی، اگر ایسا ہوتا تو مجھے دلی مسرت ہوتی۔ افسانے میں اگر کوئی فنی کمزوری رہ گئی تھی، بیان میں اگر کوئی سقم تھا، انشاء میں اگر کوئی خامی تھی تو مجھے اس کا علم ہو جاتا اور میں کچھ حاصل کرتا۔ لیکن میں یہاں ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا ہوں اور ایک نہایت ہی گھناؤنے الزام کا منہ دیکھ رہا ہوں کہ میں نے اپنی تصنیف کے ذریعے سے لوگوں کے شہوانی جذبات ابھارے ہیں۔۔۔ اس کے خلاف میرے دل سے احتجاج کے سوا اور کیا چیز نکل سکتی ہے۔ حیرت ہے کہ ’ٹھنڈا گوشت‘ پڑھ کر قاری کا ذہن خوف و نفرت میں ملفوف ہونے کے بجائے شہوت سے ملوث کیسے ہو سکتا ہے۔ اور بھی حیرت ہے کہ ایشر سنگھ کو جو ہولناک سزا ملی وہ پڑھنے والے کے دل و دماغ میں شہوانی جذبات کیسے بیدار کر سکتی ہے۔\n\nسولہ جنوری آن پہنچی۔ شیخ سلیم بہت پریشان تھا۔ اس پریشانی کے باعث اس نے زیادہ پینا شروع کر دی۔ نصیر انور حسب معمول بے پروا تھا۔ عزیزی عارف عبد المتین کا حلق پہلے سے زیادہ خشک ہو گیا تھا۔ سولہ جنوری کی صبح کو پانچ سو روپے جیب میں ڈال کر میں ضلع کچہری روانہ ہوا۔ شیخ سلیم پہلے ہی سے وہاں موجود تھا۔ صبح سے پی رہا تھا۔ بوتل پتلون کی جیب میں تھی۔ خود بہت مضطرب تھا، لیکن بار بار مجھے تسلی دیتا تھا، ’’بھائی جان، فکر کی کوئی بات نہیں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ میں یہ سن کر مسکرا دیتا۔ اتنے میں نصیر انور اور عارف عبدالمتین بھی آ گئے۔ عارف نے مجھ سے بڑے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا، ’’منٹو صاحب! آپ کا کیا خیال ہے۔ کیا ہوگا؟‘‘ میں نے جواب دیا، ’’وہی ہوگا جو منظور خدا ہوگا۔‘‘\n\nمجسٹریٹ صاحب آ چکے تھے مگر فیصلہ سنانے کے آثار دکھائی نہیں دیتے تھے۔ گیارہ بج گئے۔ بارہ بج گئے۔ پانی پی پی کر ہمارے پیٹ اپھر گئے، مگر آواز نہ پڑی۔ اتنے میں میرے ایک مخبر نے مجھے بتایا کہ فیصلہ تیار ہے، مگر میاں اے ایم سعید اس میں شاید کچھ ترمیم کرنا چاہتے ہیں۔ ۔ تھوڑی دیر کے بعد پتا چلا کہ میاں صاحب غائب ہیں۔ یعنی اپنے کمرے میں موجود نہیں اور یہ کہ انہوں نے صبح سے کسی مقدمے کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ایک صاحب نے یہ کہا کہ وہ بہت پریشان ہیں۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ تھوڑی دیر کے بعد مخبر پکی خبر لایا۔ ایک طرف لے جا کر اس نے مجھ سے سرگوشی میں کہا، ’’میں فیصلہ دیکھ آیا ہوں۔۔۔ جلدی جلدی میں دیکھا ہے۔ صرف چند آخری سطریں۔ آپ کو یقیناً سزا ہوگی اور جرمانہ بھی۔۔۔ آپ کے نام کے آگے یہ لکھا تھا۔۔۔ And Sentence him to undergo اس کے آگے جگہ خالی تھی۔ دوسرے ملزموں کو صرف جرمانہ ہوگا۔ میں جاتا ہوں اور ضامن کا بندوبست کرتا ہوں۔‘‘\n\nمیں سوچنے لگا۔ سزا کتنی ہوگی۔ ایک ماہ کی، دو ماہ کی یا چند دنوں کی؟ میں نے کسی سے بات نہ کی، البتہ شیخ خورشید صاحب کو سب کچھ بتا دیا۔ آپ نے فوراً ضمانت کے کاغذ تیار کر لئے اور مجھ سے کہا، ’’گھبرایئے نہیں منٹو صاحب! سزا زیادہ سے زیادہ دس بارہ یوم کی ہوگی۔‘‘ لیکن پھر کچھ سوچ کر تشویش ناک لہجے میں کہا، ’’لیکن ایسا نہ ہو ضمانت لینے سے انکار کردے۔‘‘ یہ سن کر مجھے بہت تشویش ہوئی کیونکہ مجسٹریٹ صاحب کا رویہ شروع ہی سے مخاصمانہ رہا تھا، لیکن کچھ کہا بھی تو نہیں جا سکتا تھا۔ خاموش دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتا رہا۔ آخر مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے شیخ سلیم کو ساری بات بتا دی۔ میرے جی کا بوجھ تو کسی قدر ہلکا ہو گیا، مگر شیخ بیچارہ اور زیادہ مضطرب ہو گیا، لیکن تسلی دینے کی خاطر مجھ سے کہا، ’’کچھ فکر نہ کرو بھائی جان۔۔۔ میں ٹیکسی لے کر وہاں جیل میں پہنچوں گا۔۔۔ روپیہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ میں ایسے معاملے نبیڑناجانتا ہوں۔۔۔ میرا خیال ہے آپ اس وقت ایک بڑا پیگ لگا لیجئے۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’نہیں شیخ صاحب۔۔۔ شام کو۔‘‘ شیخ صاحب نے کہا، ’’تو آپ مطمئن رہیں، میں آپ کو وہاں پہنچا دوں گا۔‘‘ یہ سن کر مجھے بے اختیار ہنسی آ گئی۔۔۔ ایک بج چکا تھا۔ شیخ سلیم، نصیر انور اور میں نے گورنمنٹ کالج کے ہوسٹل کے سامنے گھاس کے میدان پر بیٹھ کر ’’آلو چھولے‘‘ کھائے اور اس خیال سے کہ کہیں آواز نہ پڑ جائے، جلدی لوٹ آئے اور فیصلے کا انتظار کرنے لگے۔ نصیر انور اور عارف عبدالمتین سے میں نے اشارتاً کئی بار کہہ دیا تھا کہ وہ جرمانے کا بندوبست کر لیں تاکہ عین وقت پر پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔۔۔ شیخ سلیم پی پی کر اسکیمیں سوچ رہا تھا کہ وہ جیل میں مجھ تک کیسے پہنچے گا اور میری آسائش کا بندوبست کن ذرائع سے کرے گا۔\n\nعزیزی مشتاق احمد اپنے ایک دولت مند دوست شریف صاحب کو میری ضمانت دینے کے لئے پکڑ لائے تھے۔ یہ غریب بھی ہماری طرح کھڑے بور ہو رہے تھے۔ شیخ سلیم کو غصہ تھا کہ جب وہ موجود ہے تو کوئی اور ضمانت دینے کے لئے کیوں لایا گیا۔ میں نے ان سے کہا، ’’شیخ صاحب! اگر آپ کو ضمانت دینے ہی کا شوق ہے تو دو ملزم اور موجود ہیں۔‘‘ شیخ صاحب اس وقت اچھے موڈ میں تھے۔ میری یہ بات سن کر مسکرا دیے اور ایک پیگ اور چڑھا کر اسکیمیں سوچنے میں محو ہو گئے۔ ان کو اس بات کی بہت فکر تھی کہ منٹو کی شام خراب ہو جائے گی۔\n\nپانچ بج گئے۔ تشویش اور تردد بڑھتا گیا۔ نصیر بالکل بے پروا تھا۔ جیسے کچھ ہونے والا نہیں۔ اس کی یہ بے پروائی قابل رشک تھی۔ عارف عبد المتین کا حلق اب اتنا خشک ہو چکا تھا کہ اس نے بولنا بند کر دیا تھا۔۔۔ ساڑھے پانچ ہوئے تو ہمیں بلایا گیا۔ فوراً شیخ خورشید صاحب کو اطلاع دی گئی۔ وہ بھاگے بھاگے آئے۔ ہم سب حاضر عدالت ہوئے۔ میاں اے ایم سعید دانتوں تلے قلم دبائے، سامنے میز پر فیصلے کے کاغذ رکھے سوچ میں غرق بیٹھے تھے۔ شیخ خورشید کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ بے حد مضطرب ہیں۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ شیخ سلیم کا رنگ زرد تھا۔ عارف عبدالمتین بار بار ہونٹوں پر خشک زبان پھیر رہا تھا۔۔۔ نصیر انور اسی طرح بے پروا تھا۔\n\nپریس رپورٹر موجود تھے۔ کاغذ پنسل ہاتھ میں لئے وہ بڑی بے چینی سے فیصلے کے انتظار کر رہے تھے۔ چند لمحات مکمل سکوت طاری رہا۔ اس کے بعد میاں ایم اے سعید صاحب کھنکارے۔ دانتوں کی گرفت سے قلم آزاد کیا۔ نب کو روشنائی دکھائی، فیصلے کے کاغذ الٹ پلٹ کئے اور بہت سوچ سوچ کر ایک کاغذ پر خالی جگہیں پر کیں۔۔۔ اس کے بعد میرے بارے میں اپنا فیصلہ صادر فرمایا۔۔۔ تین مہینے قید بامشقت اور تین سو روپے جرمانہ۔۔۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں اکیس یوم مزید قید بامشقت۔۔۔ شیخ سلیم کا رنگ اور زیادہ زرد ہو گیا۔ اس نے نگاہوں ہی نگاہوں میں مجھے تسلی دی۔ گویا یہ کہہ رہا ہے، ’’کچھ فکر نہ کرو، میں وہاں جیل میں ضرور پہنچوں گا۔‘‘\n\nمیں یہ سوچنے لگا تھا کہ مجسٹریٹ ضمانت قبول کرے گا یا نہیں۔۔۔ تھوڑے وقفے کے بعد میاں اے ایم سعید نے دوسری خالی جگہیں پر کیں اور بقایا دو ملزمین کے بارے میں فیصلہ سنایا۔۔۔ تین تین سو روپیہ جرمانہ۔۔۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں اکیس یوم قید بامشقت۔ میں نے جرمانہ داخل کر دیا۔ شیخ خورشید صاحب نے میری ضمانت کے کاغذ پیش کئے تو میاں اے ایم سعید نے کہا، ’’میں اگر ضمانت منظور کرتا ہوں تو سزا کا مطلب ہی فوت ہو جاتا ہے۔‘‘ شیخ خورشید صاحب نے یہ استدلال پیش کیا، ’’آپ کا ارشاد درست۔ ملزم نے جرمانہ ادا کر دیا ہے جو اپیل منظور ہونے کی صورت میں یقیناً واپس مل جائے گا۔ لیکن وہ دو تین دن جو ضمانت ہونے سے پہلے میرا مؤکل جیل میں کاٹے گا۔ اپیل منظور ہونے پر کیا اسے واپس مل جائیں گے۔‘‘\n\nاستدلال بہت معقول تھا، مگر پھر بھی میاں اے ایم سعید کچھ دیر اڑے رہے۔ آخر میں کرم فرمائی کی اور میری ضمانت قبول کر لی۔ عارف عبد المتین کے والد صاحب نے ان کا جرمانہ ادا کر دیا۔ اب رہ گئے نصیر انور۔ ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بڑی بے پروائی سے کہا، ’’میرے پاس تو فی الحال کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ مجسٹریٹ صاحب نے حکم دیا کہ ہتھکڑی لگاؤ اور جیل بھیج دو۔ نصیر انور اسی طرح خاموش کھڑا رہا۔ میرے پاس دو سو روپے موجود تھے۔ چودھری نذیر مالک نیا ادارہ سے میں نے کہا کہ ایک سو روپے کا بندوبست کر دیں، مگر ان سے نہ ہو سکا۔ سپاہی ہتھکڑیاں لئے نصیر کی پیٹھ پیچھے کھڑا تھا۔ ان کی جھنکار عدالت کے کمرے میں گونج رہی تھی۔ باہر پولیس وین تھی۔ یعنی سارے لوازمات موجود تھے۔ آخر خورشید صاحب ہی کام آئے۔ آپ نے میاں اے ایم سعید صاحب سے بڑے مناسب و موزوں الفاظ میں درخواست کی کہ وہ نصیر انور کی ضمانت لے لیں۔ جرمانے کا روپیہ وہ کل صبح داخل کر دیں گے۔ مجسٹریٹ صاحب نے یہ درخواست قبول کر لی۔ اب ضامن کا سوال تھا۔ شیخ خورشید صاحب نے پوچھا، ’’ان کی ضمانت کون دے گا۔‘‘\n\nکوئی آگے نہ بڑھا۔ اچانک شیخ سلیم نے، جواب تک نشے میں دھت ہو چکے تھے، شیخ خورشید صاحب سے مخمور لہجے میں کہا، ’’نصیر صاحب کی ضمانت میں دیتا ہوں۔‘‘ میرا دل دھڑکنے لگا، اگر عدالت کو معلوم ہو گیا کہ شیخ صاحب پئے ہوئے ہیں تو ان کی ضمانت کون دے گا۔۔۔ مجھے یقین تھا کہ وہ ضرور دھر لئے جائیں گے اور سارا معاملہ چوپٹ ہو جائے گا۔۔۔ میں اسی خوف کے مارے کمرے سے باہر چلا گیا۔ بار بار اندر جھانک کر دیکھتا کہ شیخ سلیم گرفتار ہوئے ہیں یا کہ نہیں، لیکن خیریت گزری۔ نصیر انور کی ضمانت ہو گئی۔۔۔ شیخ صاحب جھومتے ہوئے باہر نکلے اور مجھے گلے لگا کر رونے لگے، ’’اللہ میاں نے میرے بھائی کو بچا لیا۔‘‘ یہ کہہ کر آپ نے جیب سے بوتل نکال کر ایک گھونٹ بھرا جو کہ آخری تھا، ’’چلو بھئی چلیں۔ کہیں دکان بند نہ ہو جائے۔‘‘\n\nنصیر انور بہت ممنون و متشکر تھا۔ بار بار شیخ سلیم کا شکریہ ادا کرتا تھا۔ شیخ صاحب نے اس سے کہا، ’’شکریہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے آپ میرے دوست کے دوست ہیں۔‘‘\n\nاب سیشن میں اپیل دائر کرنے کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ میاں اے ایم سعید کے فیصلے کی نقل حاصل کرنے کے لئے درخواست دی۔ جب نہ ملی تو درخواست کے ساتھ نو ’’پہیے‘‘ لگائے۔۔۔ نقل مل گئی۔ میاں صاحب کا فیصلہ انگریزی میں تھا۔ ذیل میں اس کا اردو ترجمہ درج ہے،\n\nفیصلہ، ایک اردو رسالہ بہ بنام ’’جاوید‘‘ کے ایڈیٹر عارف عبدالمتین اور اس کے پبلشر نصیر انور کو معہ ایک مصنف مسمی سعادت حسن منٹو کے میرے پاس مقدمہ زیر دفعہ ۲۹۲ پی پی سی کے لئے بھیجا گیا ہے۔ موخر الذکر ملزم کے خلاف یہ الزام ہے کہ وہ ایک فحش کہانی جس کا عنوان ’ٹھنڈا گوشت‘ ہے، کا مصنف ہے اور جو مذکورہ بالا رسالہ کے ایک خاص نمبر میں شائع ہوئی ہے۔ دوسرے دو ملزموں کے خلاف یہ الزام ہے کہ انہوں نے اس کہانی کو مندرجہ بالا انداز میں شائع کرنے کا جرم کیا ہے۔\n\nرسالہ ’جاوید‘ کا خاص نمبر مارچ ۱۹۴۹ء میں شائع ہوا تھا۔ یہ سید ضیاء الدین مترجم پریس برانچ حکومت پنجاب کے علم میں آیا، جو اس مقدمہ میں گواہ استغاثہ (۳) کی حیثیت سے پیش ہوا ہے۔ اس کا یہ فرض ہے کہ وہ کسی بھی طبع شدہ چیز میں کوئی فحش مواد محسوس کرے تو اس سے حکومت پنجاب کو مطلع کرے۔ اس کے خیال میں مذکورہ بالا ایڈیشن میں شائع شدہ کہانی بعنوان ’ٹھنڈا گوشت‘ فحش تھی، چنانچہ اس نے حکومت پنجاب کی توجہ اس طرف مبذول کرائی اور اس غرض کے لئے قانونی کارروائی کے لئے کہا۔ اس کہانی کی تصنیف اور خاص نمبر میں اس کی اشاعت سے انکار نہیں کیا گیا اور نہ پہلے دونوں ملزم رسالے کے مدیر اور ناشر ہونے سے منکر ہیں۔ لہٰذا اب سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ کہانی بعنوان ’ٹھنڈا گوشت‘ فحش ہے یا نہیں۔\n\nاستغاثے نے مذکورہ رسالے کے خاص نمبر کو پیش کیا ہے جو ریکارڈ میں (Ex.P.F) کی حیثیت سے درج کیا گیا ہے۔ کہانی جو اس قانونی چارہ جوئی کا موضوع ہے، اس شمارے کے صفحہ ۸۸ سے۹۳ تک چھپی ہے۔ میں نے نہایت غور سے اس کہانی کو پڑھا۔ جو موضوع کی تشکیل کرتی ہے اور دیکھا کہ اس میں گندہ طرز بیان اور ناشائستہ گالیاں استعمال کی گئی ہیں۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا، اس کہانی میں کئی شہوت پرستانہ مقامات پیش کئے گئے ہیں اور جنسی اشارات کا اکثر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ طے کرنے کے لئے کہ آیا کوئی تصنیف مثلاً زیربحث کہانی فحش ہے یا نہیں، ضروری ہے کہ ایک معیار مقرر کیا جائے جس سے فحاشی کی تمیزکی جا سکے۔\n\n۳ کیو بی (۱۸۶۸ء) میں ہکلن رپورٹ میں اسی موضوع کے ایک مشہور مقدمے میں لارڈ کوک بورن جی نے صفحہ نمبر ۳۶۰ (یا صفحہ ۳۷۱) پر فحاشی کا یہ معیار مقرر کیا تھا، اس قسم کا الزام زدہ مواد جو ان لوگوں کو بداخلاقی اور بدچلنی کی ترغیب دے جن کے اذہان اس قسم کے مخرب اخلاق اثرات قبول کر سکتے ہوں اور جن کے ہاتھوں میں اس قسم کا مواد پہنچ سکتا ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کی تمام عدالت ہائے عالیہ ہمیشہ اس معیار کی تقلید کرتی رہی ہیں۔ اس معیار سے یہ ظاہر ہے کہ قانون میں مستعملہ عریانی اس ماحول سےمتعلق ہے جس میں کہ یہ جانچی جانی ہے، وہ باتیں جو ایک پاکستانی کے اخلاق کے لئے ضرر رساں خیال کی جائیں۔ جہاں تک ایک فرانسیسی کا تعلق ہے، بالکل بے ضرر سمجھی جا سکتی ہیں۔ ہر سوسائٹی کے اپنے اخلاقی معیار ہوتے ہیں اور وہ چیزیں جو ایک سوسائٹی کا اخلاقی قوام خیال کی جاتی ہیں، بعض اوقات اسی دوسری سوسائٹی کے معیار کے مطابق غیر اخلاقی ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح اظہار کے بعض اسالیب کا اثر مختلف سوسائٹیوں کے افراد پر مختلف ہوتا ہے۔ خواہ یہ اظہار مخالف معیاروں کے نزدیک غیر اخلاقی ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئے زیربحث کہانی کے فحش یا غیر فحش ہونے کا فیصلہ پاکستان کے مروجہ اخلاقی معیاروں کے پس منظر پر کرنا ہوگا اور اس اثر کے مطابق جو اس قسم کی تحریر اس سوسائٹی میں رہنے والے لوگوں کے اذہان پر ڈالے گی۔\n\nلارڈ کوک برن کا قائم کردہ معیار ایک مکمل اور جامع تعریف نہیں ہے۔ یہ جیساکہ اس کا مفہوم ظاہر کرتا ہے صرف ایک معیار ہے۔ اس کے علاوہ کچھ اور بھی معیار ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک وہ رجحان ہے (یہ الزام زدہ مواد میں موجود ہے) جو قارئین کے اخلاقی احساسات کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ یہ معیار بھی قارئین کے اخلاق پر منحصر ہے۔ استغاثہ نے ابتدا میں صرف پانچ گواہ پیش کئے اور اپنا کیس بند کر دیا۔\n\nگواہ استغاثہ، ۱۔ مسٹر محمد یعقوب منیجر کپور پرنٹنگ پریس۔ ۲۔ شیخ محمد طفیل۔۔۔ ۴۔ مرزا محمد اسلم گواہ استغاثہ ۵۔ خدا بخش نے ان امور کے متعلق شہادت دی جن کا فحاشی سے کوئی تعلق نہیں۔ گواہ استغاثہ ۳ سید ضیاء الدین نے دوسرے امور بیان کرنے کے علاوہ اپنی رائے ظاہر کی کہ زیربحث کہانی فحش ہے۔ تاہم ریکارڈ میں کوئی اس قسم کا مواد نہیں جس سے ظاہر ہو کہ یہ گواہ ماہر ادب سمجھا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں قانون شہادت کی دفعہ ۴۵ کی رو سے اس کی شہادت قابل قبول نہیں ہے۔ اس لئے جہاں تک فحاشی کے مسئلے کا تعلق ہے، استغاثے کا کیس جیسا کہ ابتداً پیش کیا گیا، خود عدالت کی رائے اور الزام زدہ مواد کے مطالعہ کے بعد اس کی ماہیت پر منحصر ہو گا۔\n\nملزمین نے صفائی میں سات گواہ ادبی امور کے ماہرین کی حیثیت سے پیش کئے۔ ان گواہوں کی شہادت سے یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ زیر بحث تحریر فحش نہیں ہے۔ صفائی کے اختتام پر استغاثے نے درخواست کی کہ مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر کچھ اور ماہرین بطور عدالتی گواہ بلائے جائیں اور میں نے انصاف کی خاطر چار اور ماہروں کو بطور عدالتی گواہ بلوایا۔ بیشتر ماہرین نے خواہ وہ صفائی کی طرف سے پیش ہوئے یا عدالت کی طرف سے کسی نہ کسی فریق کے حق میں، رائے دی کہ زیربحث کہانی فحش ہے یا نہیں۔ جیساکہ پہلے کہا جا چکا ہے، تعزیرات میں جو فحاشی کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے، اس کی ٹیکنیکل اہمیت ہے، جس کا تعین عدالت کو کرنا ہے۔ ماہرین کی شہادت اسی حد تک ضروری ہے۔ جہاں تک یہ ادب کے مروجہ معیاروں، اظہار کی شستگی، سوقیانہ پن، اخلاقی یا غیر اخلاقی حیثیت اور اس رجحان کے متعلق جو کوئی تحریر قارئین کے اذہان پر اثر انداز ہو روشنی ڈالتی ہے۔ ان امور سے یہ تعین کرنا عدالت کا کام ہے کہ کوئی چیز ’فحاشی‘ کی شرائط کو پورا کرتی ہے یا نہیں۔\n\nصفائی کے گواہ (۱) مسٹر عابد علی عابد (۲) مسٹر احمد سعید (۳) ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم (۴) ڈاکٹر سعید اللہ (۵) فیض احمد فیض (۶) صوفی غلام مصطفی تبسم (۷) ڈاکٹر آئی لطیف سب صاحب علم ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق کیونکہ آرٹ زندگی کا آئینہ دار ہے۔ اس لئے فن کار کوئی ایسی چیز جو زندگی کی سچی تصویر ہو، حقیقت پسندانہ طور پر پیش کرنے سے اپنے حقوق سے تجاوز نہیں کرتا۔ اس لئے وہ یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ زندگی کا حقیقت پسندانہ اظہار فحش نہیں ہو سکتا۔ وہ زیربحث کہانی کی غیر شائستہ زبان اور اس کے سوقیانہ محاوروں کو بھی قابل گرفت نہیں سمجھتے۔ کیونکہ یہ اس قسم کی گفتگو کی نمائندگی کرتے ہیں، جو پیش کردہ کردار کے نوع کے لوگ بولتے ہیں۔ ان میں سے بعض نے یہ کہا ہے کہ زیربحث کہانی میں قارئین کے اخلاق کو بگاڑنے کا کوئی میلان نہیں پایا جاتا۔ بعض نے اس نکتے پر خاموشی اختیار کی۔ عدالتی گواہ (۱) مولانا تاجور (۲) آغا شورش کاشمیری (۳) مولانا ابو سعید بزمی (۴) ڈاکٹر تاثیر بھی اسی پائے کے علمی آدمی ہیں۔ ان گواہوں کی شہادت سے یہ بات نمایاں ہوتی ہے کہ زیربحث کہانی ’برا ادب‘ ہے اور غیر شائستگی سے پیش کی گئی ہے۔\n\nصفائی کے گواہ (۷) ڈاکٹر آئی لطیف نے رائے ظاہر کی کہ اگر زیربحث کہانی کسی میڈیکل جریدے میں شائع ہوتی تو یہ ایک سبق آموز کیس ہسٹری ہوتی، لیکن ایک مقبول عام رسالے میں جسے ہر شخص پڑھ سکتا ہے، ناموزوں معلوم ہوتی ہے۔ صفائی کے گواہ (۵) کرنل فیض احمد فیض کا خیال ہے کہ اگرچہ وہ اسے فحش نہیں کہہ سکتے تاہم یہ کہانی ادب کا کوئی اچھا نمونہ نہیں۔ اس میں بعض غیر شائستہ محاورے استعمال کئے گئے ہیں۔ جن سے اجتناب کیا جا سکتا تھا۔ عدالتی گواہ نمبر(۱) مولانا تاجور نے اس کی سخت اور غیر مبہم الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ انہوں نے اپنے چالیس سالہ ادبی تجربہ میں اس سے زیادہ کوئی چیز غیر شائستہ نہیں دیکھی۔ عدالتی گواہ نمبر(۴) ڈاکٹر تاثیر کی رائے ہے کہ اس میں ان لوگوں کا اخلاق بگاڑنے کا رجحان موجود ہے، جو شہوانی حرص کی طرف مائل ہوتے ہیں۔\n\nپاکستان کے مروجہ اخلاقی معیار قرآن پاک کی تعلیم کے حوالے سے بہت صحیح طور پر معلوم ہو سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ غیر شائستگی اور شہوانیت کی لگام شیطان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ غیر شائستگی، شہوانیت، نفس پرستی اور سوقیانہ پن زندگی میں موجود ہے۔ اگر ادبی مذاق کے اس معیار کو تسلیم کر لیا جائے جسے صفائی کے گواہوں نے بیان کیا ہے تو زندگی کے پہلوؤں کا حقیقت نگارانہ اظہار اچھا ادب ہو سکتا ہے لیکن پھر بھی یہ ہمارے معاشرے کے اخلاقی معیار کی خلاف ورزی کرے گا۔ ملزم سعادت حسن منٹو کی لکھی ہوئی کہانی ایک سوقیانہ آدمی کے کردار کو پیش کرتی ہے جو اپنی معشوقہ سے، جسے بہت شہوت پرست دکھایا گیا ہے، وحشیانہ اور سوقیانہ انداز سے جنسی فعل کا طالب ہوتا ہے۔ جنسی تضمین کے ساتھ غیر شائستہ گالیوں کا استعمال عام کیا گیا ہے، جنسی نوع کے افعال کے سلسلے میں نسوانی جسم کے بعض پوشیدہ اعضاء کا ذکر نہایت بدتہذیبی سے کیا گیا ہے۔ ساری کہانی ایک ناشائستہ جنسی معاملے پر مرکوز ہے۔ درحقیقت جنسی بدتہذیبی ہی اس کہانی کا بنیادی تصور ہے۔\n\nادبی اور نفسیاتی ماہر کہانی کا ایک خاص انداز سے رد عمل قبول کر سکتے ہیں۔ تاہم میری رائے میں ایک الّھڑ نابالغ پر اس قسم کی کہانی کا ردعمل اظہار، بول چال اور خیالات میں غیر شائستگی کی حوصلہ افزائی کی صورت میں ہوگا۔ سعادت حسن منٹو جیسے بزعم خود مشہور مصنف کی مثال پیش نظر رکھتے ہوئے وہ نوجوان جو اس کہانی کو پڑھیں گے اسی طرح سے غیر شائستگی کو تقویت دیں گے۔ کہانی بعنوان ’ٹھنڈا گوشت‘ کو غور سے پڑھنے کے بعد مجھے اطمینان ہو گیا ہے کہ اس میں قارئین کا اخلاق بگاڑنے کا میلان موجود ہے اور یہ ہمارے ملک کے مروجہ اخلاقی معیاروں کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ ا س لئے میں ملزم سعادت حسن منٹو کو ایک فحش تحریر پیش کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہوں، اور اسے زیردفعہ ۲۹۲، پی پی سی تین ماہ قید بامشقت اور تین سو روپے جرمانے کی سزا دیتا ہوں۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں اس کو مزید ۲۱ یوم کی سزا بھگتنی پڑے گی۔\n\nملزمین عارف عبد المتین اور نصیر انور جو واضح طور پر جریدے کے مدیر اور ناشر ہیں، جس میں مذکورہ کہانی شائع ہوئی ہے، ایک فحش تصنیف کی اشاعت عام کے مجرم ہیں اور وہ بھی اسی دفعہ کے تحت آتے ہیں۔ تاہم ان کے معاملے میں ان کی کم عمری کے پیش نظر اور پھر یہ کہ کہانی کا مصنف ایک ایسا شخص تھا، جو خاصی ادبی شہرت کا مالک ہے، انہیں اس اعتماد کی وجہ سے کہانی قبول کر لی ہوگی کہ یہ قابل قبول ادب پارہ ہوگا، میں ان ہر دو ملزموں کے لئے تین تین سو روپیہ جرمانے کی نرم سزا تجویز کرتا ہوں چونکہ یہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے گی۔ ا س لئے میں اس کے مطابق حکم دیتا ہوں عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں ملزمین عارف عبد المتین اور نصیر انور کو اکیس یوم قید بامشقت بھگتنی پڑے گی۔\n\nدستخط\nاے ایم سعید مجسٹریٹ درجہ اول لاہور\n\n۲۸ جنوری ۱۹۵۰ء کو سیشن میں اپیل دائر کر دی گئی۔ تاریخ ملنے پر ہم مہر الحق صاحب سیشن جج، لاہور کی عدالت میں پیش ہوئے۔ آپ نے اس بنا پر کہ وہ مجھے اور میرے خاندان کو بہت اچھی طرح جانتے تھے اور ہم شہر (یعنی امرتسر کے) تھے۔ مقدمہ مسٹر جوشوا ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں منتقل کر دیا۔ دوسری پیشی پر حاضر ہوئے تو معلوم ہوا کہ مسٹر جوشوا نے کیس واپس مہر الحق صاحب کو بھیج دیا ہے۔ یہ عذر ظاہر کر کے کہ وہ اردو زبان اچھی طرح نہیں جانتے۔۔۔ مہر الحق صاحب نے سوچ بچار کے بعد مقدمہ عنایت اللہ خان صاحب ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کے سپرد کر دیا۔ ہم حاضر ہوئے تو عنایت اللہ خان صاحب نے ہمارے وکیل سے فرمایا، ’’یہ کیس چونکہ میرے لئے اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، ا س لئے میں اچھی طرح اسٹڈی کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے لئے وقت درکار ہے میں آپ کو ایک مہینے بعد کی تاریخ دیتا ہوں۔‘‘\n\nشیخ خورشید احمد نے کہا ٹھیک ہے، چنانچہ دلائل کے لئے دس جولائی کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ شیخ خورشید صاحب نے عدالت سے باہر آ کر مجھ سے کہا، ’’اچھا ہے۔ اس دوران میں میں بھی خوب تیاری کر لوں گا۔‘‘ لیکن انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ہمارا کیس غلط آدمی کے پاس گیا ہے جو بڑا تنگ خیال ہے۔ داڑھی رکھتا ہے۔ نماز روزے کا پابند ہے۔ میں نے کہا، ’’ہٹایئے، یہاں نہیں تو ہائی کورٹ میں دیکھا جائے گا۔‘‘ شیخ خورشید صاحب نے اس دوران میں اپنی رہبری کے لئے مجھ سے کہا کہ میں اپنے افسانے ’ٹھنڈا گوشت‘ پر ایک مختصر سا تبصرہ لکھ دوں، چنانچہ میں نے درج ذیل سطور لکھ کر ان کے حوالے کر دیں۔\n\nیوں تو کہانی بظاہر جنسی نفسیات کے ایک نکتے کے گرد گھومتی ہے، لیکن درحقیقت اس میں انسان کے نام ایک نہایت ہی لطیف پیغام دیا گیا ہے کہ وہ ظلم و تشدد اور بربریت و حیوانیت کی آخری حدود تک پہنچ کر بھی اپنی انسانیت نہیں کھوتا، اگر ایشر سنگھ اپنی انسانیت کھو چکا ہوتا تو مردہ عورت کا احساس اس پر اتنی شدت سے کبھی اثر نہ کرتا کہ وہ اپنی مردانگی ہی سے عاری ہو جاتا۔ اتنے شدید قسم کے اثر کو نفسیاتی نقطۂ نگاہ سے مناسب و موزوں اور قریب از حقیقت دکھانے کے لئے ضروری تھا کہ ایشر سنگھ کو جنسی لحاظ سے عام مردوں کے مقابلے میں زیادہ قوی بتایا جاتا، چنانچہ مصنف نے کہانی میں جگہ جگہ اپنے قلم کی جنبش سے بقدر کفایت ایسا کیا ہے۔\n\nایشر سنگھ کے کردار کے جنسی پہلو کو اور زیادہ اجاگر کرنے اور اس طرح اسے اس کے دردناک انجام کو قاری کے لئے قابل قبول بنانے کے لئے مصنف نے کلونت کور کا کردار پیش کیا ہے جو ایشر سنگھ ہی کی طرح عام عورتوں کے مقابلے میں جنسی لحاظ سے کہیں زیادہ قومی اور توانا ہے۔ اگر ایشر سنگھ ایک عام مرد ہوتا، اسی طرح اگر کلونت کور ایک عام عورت ہوتی تو یقینی طور پر افسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘ کا انجام کچھ اور ہی ہوتا۔ عام مرد پر جس کا جنسی تعلق ایک عام عورت سے رہا ہو، ایک لڑکی کی ٹھنڈی لاش ہر گز ہر گز وہ نفسیاتی اثر نہیں کر سکتی جو ایشر سنگھ نے اپنے قومی اور توانا جنسی کردار کے باعث محسوس کیا۔۔۔ اور اس شدت سے محسوس کیا کہ وہ اس کے نیچے دب کر، بلکہ پس کر اپنی مردانگی کھو بیٹھا۔\n\nشہوت ایک جذبہ آتشیں ہے۔ انسان میں اگر یہ جذبہ بیدار ہو تو اس کے جسم میں گرم رو دوڑ جاتی ہے۔ اس کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ اس کا دل و دماغ تپ جاتا ہے۔ زیر بحث افسانے کا عنوان ’ٹھنڈا گوشت‘ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ عنوان جو کہ معنوی اعتبار ہی سے ٹھنڈا ہے، قاری کے دل و دماغ میں کسی قسم کی گرمی پیدا نہیں کر سکتا۔\n\nاگر کوئی عورت جنسی لحاظ سے کمزور ہو تو ہم اسے ’ٹھنڈی عورت‘ کہتے ہیں، یعنی ایسی عورت جو مرد میں جنسی خواہش پیدا نہیں کرتی۔ افسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘ میں کلائمکس پیدا کرنے والی ایک لڑکی کی ٹھنڈی لاش ہے۔ ایسی ٹھنڈی لاش جو ایشر سنگھ جیسے پرجوش شہوانی مرد کی ساری مردانگی پر برف کی سل کی طرح گرتی ہے اور اسے یخ بستہ کر دیتی ہے۔۔۔ ہم بخوبی سوچ سکتے ہیں کہ ’ٹھنڈا گوشت‘ پڑھنے والے قارئین پر جو یقیناً ایشر سنگھ کی طرح پرجوش شہوانی انسانی نہیں ہو سکتے، اس کہانی کے انجام نے کس قسم کا اثر چھوڑا ہوگا۔۔۔ صفائی کے گواہ ڈاکٹر سعید اللہ ایم اے، ایل ایل بی، پی ایچ ڈی، ڈی ایس سی نے اپنے تاثر کو مختصر مگر جامع الفاظ میں کیا خوب بیان کیا ہے، ’’افسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘ پڑھنے کے بعد میں خود ’ٹھنڈا گوشت‘ بن گیا۔‘‘\n\nجہاں تک نورمل انسانوں کا تعلق ہے، ہم بلاخوف تردید کہہ سکتے ہیں کہ یہ افسانہ پڑھنے کے بعد ان کا رد عمل بعینہ ایسا ہی ہوگا۔ یہ جدابات ہے کہ وہ ڈاکٹر سعید اللہ صاحب کی طرح اپنے محسوسات کو بطریق احسن بیان نہ کر سکیں۔۔۔ ابنارمل انسانوں کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ ایسے لوگ موجود ہیں جو لاشوں سے بھی مباشرت کر سکتے ہیں۔\n\n’ٹھنڈا گوشت‘ میں مرد اور عورت کے جنسی تعلقات کو کسی مقام پر بھی لذیذ انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ اولاً اس لئے کہ ایسا انداز افسانے کے مقصد سے متصادم تھا۔ ثانیاً ا س لئے کہ افسانے کا مصنف ’شہوت نگار‘ نہیں ہے۔ ’ٹھنڈا گوشت‘ کوئی جوڑ دار آسن نہیں پیش کرتا۔ امساک کا نسخہ نہیں بتاتا۔ کسی خفیہ تصویر کی جھلک نہیں دکھاتا۔ ’ٹھنڈا گوشت‘ البتہ ایک دردناک تصویر ہے ایک ایسے مرد کی جس میں انسانیت کی رمق، اس کے کردار کی تمام ہولناکیوں کے باوجود باقی تھی۔۔۔ اس رمق نے گو اسے انجام کار نامرد بنا دیا اور وہ اپنے جنسی رفیق کے حسد کے باعث نہایت ہی تکلف دہ موت سے ہمکنار ہوا، لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ مرتے ہوئے اسے اپنی موت کا احساس بالکل نہیں تھا۔ اس لئے کہ اس کے دل و دماغ پر صرف ایک چیز مسلط تھی۔۔۔ اس لڑکی کی لاش کا برف ناک رد عمل جس کے ساتھ وہ مباشرت کرنا چاہتا تھا۔\n\nمرنے سے پہلے ایشر سنگھ کو اپنی بہمیت کا احساس بھی ہوا۔۔۔ اور یہ احساس اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی ظلمت میں روشنی کی ایک کرن تھی۔ مصنف لکھتا ہے، ’’لہو ایشر سنگھ کی زبان تک پہنچ گیا۔ جب اس نے اس کا ذائقہ چکھا تو اس کے بدن پر جھرجھری سے دوڑ گئی۔۔۔ اس نے اپنے آپ سے کہا، اور میں۔۔۔ اور میں۔۔۔ بھینی یا چھ آدمیوں کو قتل کر چکا ہوں۔۔۔ اسی کرپان سے!‘‘\n\nایشر سنگھ نے اپنی کرپان سے چھ آدمی قتل کئے تھے۔ جو نفسیاتی حادثہ اسے پیش آیا، اس سے پہلے غالباً اس نے کبھی غور نہ کیا ہوگا کہ اس کے ہاتھوں چھ آدمیوں کا خون ہو چکا ہے۔۔۔ مگر اب وہ اپنے خون کا ذائقہ چکھتے ہوئے سوچتا ہے، بلکہ یوں کہئے کہ یہ سوچنے کے قابل ہو جاتا ہے کہ جس کرپان نے میرا گلا کاٹا ہے، اس سے میں چھ آدمی کاٹ چکا ہوں۔۔۔ اور جب وہ ’’چھ آدمیوں کو قتل کر چکا ہوں‘‘ کے ساتھ ’’بھینی یا‘‘ استعمال کرتا ہے تو کیا ہمیں اس گالی میں اس کی روح کی دردناک چیخ سنائی نہیں دیتی۔۔۔ آپ سنیئے، ’’اور میں۔۔۔ اور میں۔۔۔ بھینی یا چھ آدمیوں کو قتل کر چکا ہوں۔۔۔ اسی کرپان سے!‘‘\n\n’’یعنی ایشر سنگھ۔۔۔ تو درد اور تکلیف محسوس کر رہا ہے۔۔۔ لیکن جانتا ہے تو کہ اس کرپان سے تو نے چھ آدمی مارے ہیں۔‘‘\n\nایشر سنگھ سے ہم اس کے خیالات و محسوسات کے خوش اسلوب بیان کی توقع نہیں کر سکتے۔ وہ ایک گنوار آدمی ہے، لیکن اس نے اپنے خام انداز میں سب کچھ بیان کر دیا۔۔۔ اور یہ خام انداز اپنی جگہ پر مناسب و موزوں ہے۔ ایشر سنگھ کی قوت مردمی سلب ہو چکی تھی، لیکن وہ اپنے اندر ایک نئی کروٹ محسوس کر رہا تھا۔۔۔ اس کے مقابلے میں کلونت کور کے دل و دماغ پر صرف ایک خیال مسلط تھا۔۔۔ اس عورت کا جس نے اس کے خیال کے مطابق اس کے شوہر ایشر سنگھ کو موہ لیا تھا۔ وہ پوچھتی ہے، ’’کون ہے وہ حرا م زادی؟‘‘\n\nمصنف لکھتا ہے، ’’ایشر سنگھ کی آنکھیں دھندلا رہی تھیں۔ ایک ہلکی سی چمک ان میں پیدا ہوئی اور اس نے کلونت کور سے کہا، ’’گالی نہ دے اس بھڑوی کو۔‘‘\n\nان چھ الفاظ میں کیا مصنف نے ایشر سنگھ کے سارے جذبات جمع نہیں کر دیے؟ وہ کلونت کور کو منع کرتا ہے کہ وہ اس عورت کو گالی نہ دے، لیکن خود اسے ’’بھڑوی‘‘ کہتا ہے۔ دراصل اس گالی کا رخ اس کی اپنی ذات کی طرف ہے۔ وہ بظاہر تو رحم اس عورت پر کھاتا ہے جس کو کلونت کور ’حرام زادی‘ کہتی ہے، لیکن درحقیقت اس کو رحم اپنی حالت پر آتا ہے۔ ذرا آگے چلئے تو سارا مطلب واضح ہو جاتا ہے۔\n\nکلونت کور چلائی، ’’میں پوچھتی ہوں، وہ کون ہے؟‘‘\n\nایشر سنگھ کے گلے میں آواز رندھ گئی، ’’بتاتا ہوں،‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیرا اور اس پر اپنا جیتا جیتا خون دیکھ کر مسکرایا۔\n\n’’انسان ماں یا بھی ایک عجیب چیز ہے۔‘‘\n\nیہاں ہم ایشر سنگھ کو ایک فلسفی۔۔۔ ایک خام فلسفی کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور اس خام فلسفی کے عقب میں ہمیں صرف ایک چیز نظر آتی ہے۔۔۔ اس لڑکی کی ٹھنڈی لاش جس سے ایشر سنگھ جیسا ’گرم مرد‘ مباشرت کرنا چاہتا ہے۔۔۔ وہ مسکراتا ہے۔۔۔ صرف مسکرانے کے لئے نہیں۔ اس کی مسکراہٹ دراصل اس کی حیرت کا مظہر ہے۔۔۔ چونکہ وہ سمجھ نہیں سکتا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے، اس لئےوہ مسکرا دیتا ہے اور اپنے مضطرب ذہن سے فرار حاصل کرنے کے لئے خود سے کہتا ہے، ’’انسان ماں یا بھی ایک عجیب چیز ہے۔‘‘\n\nیہ ایک بہت بڑا المیہ ہے جو کسی انسان کے ساتھ پیش آ سکتا ہے۔۔۔ اس کو شہوانی جذبات کی برانگیختگی سے کیونکر منسوب کیا جا سکتا ہے؟ کہانی، جس میں ایک قوی اور توانا مرد کی شہوت سرد ہو جاتی ہے، پڑھنے والوں کے سفلی جذبات کیسے مشتعل کر سکتی ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ ’ٹھنڈا گوشت‘ میں چند ایسے الفاظ اور فقرے موجود ہیں جن کو اگر افسانے کے جسم سے نوچ کر علیحدہ کر کے دیکھا جائے تو وہ ناشائستہ اور غیر مہذب معلوم ہوں گے، مگر وہ افسانے کا لازمی جزو ہیں، جن کے بغیر افسانہ مکمل نہیں ہو سکتا۔ کسی لفظ کو یا کسی فقرے کو اس کے گرد کے ماحول کے ساتھ ہی دیکھنا پڑتا ہے۔\n\nاگر آپ ’جگ ساپزل‘ میں سے ایک ٹکڑے کو اٹھا لیں اور کہیں، ’’یہ تو گدھے کی دم ہے۔‘‘ تو ظاہر ہے کہ آپ اپنی رائے صحیح طور پر قائم نہیں کر رہے، اس لئے کہ اس ٹکڑے کو اس کے صحیح مقام پر رکھ کر ’جگ ساپزل‘ کو من حیث المجموع دیکھنا پڑے گا، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ ٹکڑا دوسرے ٹکڑوں کے ساتھ جڑ کر کسی خوبصورت عورت کے گلے میں پڑی ہوئی لومڑ کی کھال کی شکل اختیار کر جائے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ جو ناشائستہ اور غیر مہذب الفاظ یا فقرے ہیں وہ کس قسم کے انسان کے منہ سے نکلے ہیں۔ ایشر سنگھ ایک گنوار اور غیر مہذب انسان ہے۔ اس کے منہ سے ہم شائستہ اور مہذب گفتگو کی توقع نہیں کر سکتے۔ اب ہم گالیوں کی طرف آتے ہیں جو ایشر سنگھ کے مکالموں میں ہمیں نظر آتی ہیں۔\n\nہم اس حقیقت سے کبھی اغماض نہیں کر سکتے کہ اکثر مہذب اور غیر مہذب انسان (مرد اور عورتیں) اپنی روزہ مرہ کی گفتگو میں گالیاں استعمال کرتے ہیں۔ ایشر سنگھ اپنی گفتگو میں گالیاں بغیر کسی تکلف کے استعمال کرتا ہے۔ اس لئے کہ اس کا مقصد گالی دینا نہیں۔ اکثر مقامات پر وہ گالی کو بطور تکیہ کلام کے استعمال کرتا ہے، ملاحظہ ہو،\n\n’’اور میں۔۔۔ اور میں۔۔۔ بھینی یا چھ آدمیوں کو قتل کر چکا ہوں۔‘‘ ظاہر ہے کہ گالی کا رخ نہ تو خود ایشر سنگھ کی طرف ہے، نہ ان چھ آدمیوں کی طرف جنہیں وہ قتل کر چکاہے۔\n\n’’گلا چرا ہوا ہے ماں یا میرا۔‘‘ ظاہر ہے کہ ’گلے‘ کی کوئی ماں نہیں ہے جس کو وہ گالی دے رہا ہے۔\n\n’’یہ کڑی یا دماغ ہی خراب ہے۔‘‘ اس کے متعلق بھی ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ دماغ کی کوئی بیٹی نہیں ہے جس کو وہ گالی دے رہا ہے۔\n\nاسی طرح کلونت کور ایک جگہ کہتی ہے، ’’یہ بھی کوئی ماں یا جواب ہے؟‘‘ دو مقامات پر ایشر سنگھ کہتا ہے، ’’انسان ماں یا بھی عجیب چیز ہے۔۔۔ انسان کڑی یا بھی عجیب چیز ہے!‘‘ جیسا کہ صفائی کے گواہ مسٹر آئی لطیف نے کہا ہے، یہ گالیاں اپنی جگہ بہت نفسیاتی اہمیت رکھتی ہیں۔ افسانے کو غور سے پڑھنے کے بعد قاری سمجھ سکتا ہے کہ ان گالیوں میں ایشر سنگھ کے مضطرب اور متجسس دل و دماغ کی کرب انگیز کیفیت جھلکیاں لیتی ہیں۔۔۔ وہ اپنی حالت کا صحیح جائزہ لینا چاہتا ہے، لیکن ناکام رہتا ہے اور آخر کار ان الفاظ میں فرار حاصل کرتا ہے۔ ’’انسان ماں یا بھی عجیب چیز ہے۔۔۔ انسان کڑی یا بھی عجیب چیز ہے!‘‘\n\nدس جولائی کا دن گرجتا ہوا آن پہنچا۔ مجھے سخت تشویش لاحق تھی۔ گھر میں سب دعائیں مانگ رہے تھے کہ خداخیر کرے۔ جج صاحب نے خاص کیس سمجھتے ہوئے چار گھنٹے بحث کے لئے وقف کر رکھے تھے۔ مجھے ڈر تھا کہ میاں اے ایم سعید کی طرح کہیں عنایت اللہ خان صاحب کا رویہ بھی مخاصمانہ نہ ہو۔ کیونکہ ضبط کرنا میرے لئے بہت مشکل ہے۔ میاں سعید صاحب کی عدالت میں کئی دفعہ ایسے موقعے آئے تھے کہ میں چھلک پڑوں مگر حیرت ہے میں نے کیسے ضبط کیا۔ ہم سب صبح حاضر عدالت ہوئے تو عنایت اللہ خان صاحب نے اپنے دھیمے لہجے میں شیخ خورشید صاحب سے کہا، ’’معاف کیجئے، آپ کو آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑے گا۔ میں ذرا یہ چھوٹے چھوٹے معاملے طے کر لوں۔‘‘\n\nہم عدالت سے باہر نکل آئے۔۔۔ عارف عبد المتین خاموش تھا۔ شیخ خورشید صاحب بھی خاموش تھے۔ اپنے ساتھ وہ موٹی موٹی قانونی کتابوں کا ایک ڈھیر اٹھا کے لائے ہوئے تھے۔ ان کا دماغ شاید ان کے حوالوں میں گم تھا۔ میں ہائی کورٹ کی سوچ رہا تھا۔ نصیر انور چھدری گھاس پر رومال بچھا کر اس پر بیٹھا غالباً کوئی کشمیری گیت گنگنا رہا تھا۔ پونے گھنٹے کے بعد ہمیں بلایا گیا۔ ہم عدالت کے کمرے میں داخل ہوئے۔ جج صاحب کو سلام کیا۔۔۔ عنایت اللہ خان صاحب نے گردن کی ایک ہلکی سی جنبش سے اس کا جواب دیا۔ ہم ملزموں کے کٹہرے کی طرف بڑھنے لگے تو آپ نے اپنی دھیمی آواز میں کہا، ’’کرسیوں پر تشریف رکھئے۔‘‘ میں سمجھا کہ شاید یہ کسی اور سے کہا گیا ہے، مگر ان کا روئے سخن ہماری طرف ہی تھا۔ مجھے بڑا خوشگوار تعجب ہوا۔۔۔ ہم کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ نصیر انور کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ وہ بے حد مطمئن نظر آتا تھا۔\n\nپیشتر اس کے کہ بحث شروع ہوتی جج صاحب بولے، ’’میں نے اس کیس کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ آپ حضرات مطمئن رہیں۔ کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ میں نے مثل میں سے صرف عدالت ماتحت کا فیصلہ پڑھا ہے۔ گواہیوں کا میں نے مطالعہ کرنا غیر ضروری سمجھا ہے۔ البتہ افسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘ بہت غور سے پڑھا ہے۔‘‘\n\nبحث شروع ہونے والی تھی کہ عنایت اللہ خان صاحب نے استغاثے اور صفائی کے وکیلوں کی توجہ چند نکات کی طرف دلائی اور وضاحت چاہی۔ شیخ خورشید احمد خاموش رہے۔ ایک دو مرتبہ جج صاحب کی تائید میں البتہ کچھ ضرور کہا۔ پروسی کیوٹر صاحب کی تردید خود خان صاحب کر رہے تھے۔ قریباً آدھا گھنٹہ قانونی موشگافیاں کرنے کے بعد آپ نے مسکرا کر کہا، ’’میں سعادت حسن منٹو کو اگر سزا دوں تو وہ یہ کہیں گے ایک داڑھی والے نے مجھے سزا دی۔‘‘ اس کے بعد وہ کچھ دیر اور عدالت ماتحت کے فیصلے پر کچھ کہتے رہے۔ آخر میں ہم سے مخاطب ہوئے، ’’کیا آپ لوگوں نے جرمانہ ادا کر دیا تھا۔‘‘ ہم سب نے کہا، ’’جی ہاں۔‘‘ اس پر جج صاحب نے کہا، ’’آپ بری ہیں۔ جرمانہ آپ کو پورے کا پورا واپس مل جائے گا۔ میں چند لمحات کچھ سوچ نہ سکا کہ کیا ہوا ہے۔ شیخ خورشید صاحب نے میرا شانہ پکڑ کر ہلایا اور کہا، ’’اٹھئے حضرت۔ آپ بری ہیں۔‘‘\n\nعدالت سے باہر نکل کر جب میں نے چپراسیوں کو دس روپے انعام کے طور پر دیے تو مجھے احساس ہوا کہ میں واقعی بری ہوں اور یہ کہ چوتھی مرتبہ میرا انجام بخیر و خوبی ہوا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا جس نے ایک بہت بڑی لعنت سے مجھے رہائی دلائی۔ شیخ خورشید صاحب اپنی کامیابی پر بہت خوش تھے اور بجا خوش تھے۔ عنایت اللہ خان صاحب کے انگریزی زبان میں لکھے ہوئے فیصلے کا اردو ترجمہ یہ ہے،\n\nاپیل بخلاف حکم مسٹر اے ایم سعید مجسٹریٹ درجہ اول لاہور\n\nمورخہ ۱۶ جنوری ۱۹۵۰ء\n\nدعوے از دفعہ ۲۹۲ پی پی سی\n\nسزا، عارف عبد المتین تین سو روپیہ جرمانہ، بصورت عدم ادائیگی تین ہفتہ قید بامشقت۔ سعادت حسن منٹو کو تین ماہ قید بامشقت اور تین سو روپیہ جرمانہ، بصورت عدم ادائیگی اکیس یوم قید بامشقت۔ نصیر انور تین سو روپیہ جرمانہ۔ بصورت عدم ادائیگی تین ہفتے قید بامشقت۔\n\nفیصلہ، یہ تین نوجوانوں عارف عبد المتین، نصیر انور اور سعادت حسن منٹو کی طرف سے ایک اپیل ہے۔ اول الذکر دونوں ایک اردو رسالہ ’جاوید‘ کے علی الترتیب مدیر اور ناشر ہیں۔ تیسرا ایک ادیب ہے جس نے مذکورہ رسالے کے مارچ ۱۹۴۹ء میں شائع شدہ ایک خاص نمبر میں اپنی ایک کہانی جس کا نام ’ٹھنڈا گوشت‘ہے، چھپنے کے لئے دی۔ انہیں بحکم میاں اے ایم سعید مجسٹریٹ درجہ اول لاہور مورخہ ۱۶ جنوری ۱۹۵۰ء زیردفعہ ۲۹۲ پی پی سی (فحش کتابوں کی فروخت وغیرہ) کی خلاف ورزی کے سلسلے میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ مصنف مسٹر منٹو کو تین ماہ قید بامشقت اور تین سو جرمانہ بصورت عدم ادائیگی جرمانہ ۲۱ یوم مزید قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے۔ دوسرے دو یعنی مدیر اور ناشر کو صرف تین تین سو جرمانہ بصورت عدم ادائیگی تین تین ہفتہ قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے۔\n\nیہ تینوں اپیل میں پیش ہوئے ہیں۔ واقعات فیصلہ زیر اپیل میں موجود ہیں۔ مضمون کی طرف حکومت کی توجہ پریس برانچ کے ایک عہدیدار نے مبذول کرائی تھی اور چیف سیکرٹری نے قانونی چارہ جوئی کا حکم دیا تھا۔ میں نے فریقین کے فاضل مشیران قانون کو سنا ہے اور مثل کا مطالعہ کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ملزم کے خلاف جرم ثابت نہیں کیا جا سکا اور سزا برقرار نہیں رہ سکتی۔ میرا خیال ہے کہ مضمون زیربحث کو فحش اور خاص طور پر خلاف قانون قرار نہیں دیا جا سکتا۔\n\nملزمین رسالہ سے اپنا تعلق مانتے ہیں۔ اب طے کرنے کے لئے فقط ایک سوال ہے کہ کہانی فحش اور خصوصاً خلاف قانون ہے یا کہ نہیں۔ اس سلسلے میں کئی نکتے پیدا ہوتے ہیں اولاً یہ کہ لفظ ’فحش‘ سے ہم کیا مراد لیتے ہیں۔ دوم یہ کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں ماہرین کی شہادت پیش کی جا سکتی ہے۔ سوم یہ کہ آیا مضمون زیربحث قابل اطلاق معیاروں کے مطابق فحش قرار دیا جا سکتا ہے؟ میں نے قانون جرائم ایڈیشن ۱۹۴۵ء میں رتن لال وغیرہ کی کومنٹری دیکھی ہے اور وہاں اٹھائے ہوئے سوالوں پر فریقین کے پیش کردہ دلائل پر غور کیا ہے۔\n\nفحاشی کی جانچ کا معیار وہاں یہ مقرر کیا گیا ہے، ’’آیا فحاشی کے تحت الزام زدہ مضمون میں ان لوگوں کے اخلاق بگاڑنے اور ان کو بری ترغیب دینے کا میلان ہے جن کے ذہن ایسے غیر اخلاقی اثرات قبول کرنے کے لئے تیار ہیں؟ اور جن کے ہاتھوں میں اس قسم کی تصنیف عوام کے اخلاق کے لئے ضرر رساں ہے اور اندازہ کیا جائے کہ وہ جن کے ہاتھ میں پہنچے گی، ان کے ذہن میں بدچلنی اور بدکاری کا اثر پیدا کرے گی تو یہ ایک فحش اشاعت ہوگی۔ قانون کا منشا ہے کہ اس کو روکے، اگر کوئی تحریر حقیقتاً کسی ایک بھی جنس کے نوجوانوں یا زیادہ عمر کے لوگوں کے اذہان کو انتہائی گندے اور شہوت پرستانہ قسم کے خیالات سمجھائے تو اس کی اشاعت خلاف قانون ہے خواہ ملزم کے پیش نظر کوئی در پردہ مقصد ہی کیوں نہ ہو جو معصوم حتیٰ کہ قابل تعریف ہو۔ کوئی چیز جو شہوانی جذبات کو مشتعل کرے، فحش ہے۔‘‘\n\nپھر ایسے فیصلے بھی ہیں جو قرار دیتے ہیں کہ محض فقروں اور جملوں کو اس لئے معاف نہیں کیا جاتا کہ باقی کی اشاعت ناقابل اعتراض ہے اور کہ یہ کوئی جواز نہیں کہ شائع شدہ مضمون کسی ممتاز مصنف کا لکھا ہوا ہے یا ایسے اسلوب میں لکھا گیا ہے جو آسانی سے ہر ایک کی سمجھ میں نہیں آ سکتا یا یہ کہ اشاعت میڈیکل ہے اور صرف مخصوص گاہکوں کے پاس بیچی جاتی ہے۔ ہمیں نہ صرف تصنیف کی ماہئیت کو بلکہ حاضر معاشرہ کی حالت کو بھی دیکھنا ہے، اگر تصنیف بازار میں آزادانہ مہیا ہو سکتی ہے تو ہمیں یہ طے نہیں کرنا کہ مخصوص یا خواہش سے خریدنے والے گاہک اور پڑھنے والے کون ہیں۔ ہمیں تو صرف یہ دیکھنا ہے کہ آیا یہ عوام تک پہنچ سکتی ہے؟ جن میں دونوں جنس کے جواں سال اور بڑی عمر کے لوگ بھی شامل ہیں۔ پس ہمیں تصنیف کی ماہئیت کا اپنے سماج کی موجودہ حالت کی روشنی میں تعین کرنا ہے۔\n\nمیرے خیال میں اس معاملے کو اس مقام پر چھوڑا جا سکتا ہے اور ہمیں اس کی طرف بعد میں رجوع کرنا چاہیئے۔ جب ہم اس مسئلے پر غور کر چکیں کہ آیا یہ سوال ماہروں کی رائے سے طے ہو سکتا ہے یا نہیں۔ جہاں تک اس امر کا تعلق ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ ماہروں کی رائے سے ہرگز طے پانے والا نہیں۔ ہمیں اس پر غور نہیں کرنا کہ اس کے متعلق کچھ خاص اور ممتاز ادیب کیا رائے قائم کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف ہمیں یہ پڑتا لنا ہے کہ پڑھنے والوں پر عام طور پر تحریر و تصنیف کا کیا رد عمل ہوگا۔\n\nاگر میرا یہ خیال درست ہے تو فاضل عدالت ماتحت کی ریکارڈ کردہ شہادتوں کا کوئی حصہ اس نکتے کے لحاظ سے قابل قبول نہیں رہ سکتا، اگر بفرض محال ہم حضرات جو فریقین یا عدالت کی طرف سے پیش ہوئے، ان کی شہادت کو عام پڑھنے والوں کی شہادت کی حیثیت سے قبول کریں اور کسی ایک فریق کو خاص اہمیت نہ دیں تو ریکارڈ شدہ شہادت عدالت کو کوئی زیادہ مدد نہیں دیتی۔ گواہوں کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ زیربحث مضمون انتہائی فحش ہے۔ دوسری جماعت نے اس کے خلاف بیان دیا ہے اور اسے ایک ایسا فن پارہ قرار دیا ہے جس میں کوئی بھی غیر اخلاقی چیز نہیں۔\n\nغور کرنے پر یہ پتہ چل سکتا ہے کہ یہ رائے عین قدرتی فرق ہے۔ مختلف طبقوں کے پڑھنے والوں کا رد عمل مختلف ہوتا ہے۔ جب تک ہم جانچ کا ایک معیار مقرر نہ کریں، جس کو پیش نظر رکھا جائے، اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکتا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ مختلف مزاجوں، عمروں، پیشوں اور مختلف قسم کی تعلیم حاصل کئے ہوئے لوگوں کا رد عمل بھی ضرور مختلف ہوگا اور علاوہ اس کے کہ یہ طے ہے کہ اخلاق ایک اضافی اصطلاح ہے۔ فحاشی کے سوال پر نظریات ضرور ایک دوسرے سے مختلف اور بہت نمایاں حد تک مختلف ہوں گے۔ میری رائے میں صحیح بات یہ ہے کہ اس مسئلے کو اس ’افسانوی آدمی‘، ’پبلک کے ایک عام رکن‘ کے نقطۂ نظر سے جانچنا چاہیئے۔ یہ طے کر چکنے کے بعد ہمیں یہ دیکھنے کے لئے زیربحث مضمون پر غور کرنا ہے کہ یہ ہمارے سماج کے مسلمہ اخلاقی نظریات کے خلاف کہاں تک جاتا ہے۔\n\nاس موقعہ پر مجھے زیراپیل فیصلے کے ایک غلط مفروضے اور گمراہ کرنے والی دلیل کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ فاضل مجسٹریٹ نے اس بیان سے ابتدا کی کہ ’فحاشی‘ کی اصطلاح اس ماحول کے ساتھ متعلق ہے جس میں اس کے متعلق فیصلہ کیا جانا ہے۔ اس نے کہا کہ مختلف قوموں اور سوسائٹیوں کے معیار مختلف ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک وہ درست تھا۔ اس نے غلطی وہاں کی جب اس نے یہ سمجھا کہ پاکستان کے مروجہ اخلاقی معیار قرآن پاک کی تعلیم کے سوا اور کہیں سے زیادہ صحیح طریقے پر معلوم نہیں ہو سکتے۔ پھر وہ یہ کہتا ہے کہ اس کے مطابق ’غیر شائستگی اور شہوت پرستی شیطان کی طرف سے ہے۔ ‘\n\nاس میں شک نہیں کہ یہ ہمارا آدرش ہے لیکن سوال یہ نہیں ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہمارے سماج کی اصلی حالت کیا ہے۔ جیسا کہ ظاہر ہے ہم نے اپنا نصب العین ابھی تک حاصل نہیں کیا۔ اپیل کرنے والوں کو اس کے مطابق جانچنا چاہیئے جس طرح کہ ہماری سوسائٹی ہے نہ کہ اسی طرح جیسا کہ اسے ہونا چاہیئے۔\n\nجب ہم سوچتے ہیں کہ کیسی کیسی مطبوعات مارکیٹ میں موجود ہیں جن پر کوئی احتساب قائم نہیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ زیربحث مضمون کہیں کم قابل اعتراض ہے۔ متعدد ’اسراری‘ مطبوعات کی اشاعت کے خلاف کوئی پابندی نہیں جن سے زیادہ اور کوئی چیز فحش نہیں ہو سکتی۔ سینماؤں میں ’تماشاؤں‘ کی نمائش پر کوئی احتساب نہیں جو زیربحث مضمون سے کچھ کم قابل اعتراض نہیں ہوتے، اگر ہمیں مغربی تہذیب کو اپنانا اور اس کو پسند کرنا ہے جیسا کہ ہم کر رہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم ایسی تحریر پر جیسی کہ ہمارے سامنے موجود ہے، معقول طور پر فحاشی کا اعتراض نہیں کر سکتے۔ یہ تو اس تہذیب کا لازمی نتیجہ ہے اور حسب معمول اس کے علاوہ کچھ نہیں۔\n\nچوما چاٹی اور بغل گیری ایک ایسی چیز ہے جو ہر روز سینماؤں میں پیش کی جاتی ہے۔ بدکاری وہ عام اور بنیادی زمین ہے جس پر ’سچی کہانیاں‘ اور دائمی مثلثیں استوار کی جاتی ہیں۔ درحقیقت یہی تمام انگریزی اور مغربی ناولوں کا بنیادی پلاٹ ہے۔ اگر ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا تو مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ہم کیوں ان نوجوانوں پر سختی کریں۔\n\nزیربحث کہانی رسالے کے صفحہ ۸۸ سے لے کر ۹۳ تک چھپی ہے۔ قصہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ ایک خاص شخص کا جس کا نام ایشر سنگھ تھا، ایک خاص عورت کلونت کور کے ساتھ ناجائز تعلق تھا۔ اس نے فسادات کے دوران میں ایک مکان میں چھ آدمیوں کو قتل کر دیا تھا اور ایک خوبصورت لڑکی کو وہاں سے اٹھا لایا تھا۔ اس نے اس لڑکی کے ساتھ زنا بالجبر کرنے کی کوشش کی، لیکن اسے پتا چلا کہ لڑکی مر چکی ہے۔ ’ٹھنڈا گوشت‘ ہے۔ اس کہانی کے مطابق اس انکشاف نے ایشر سنگھ پر ایسا اثر کیا اور اس کے شہوانی جذبات کو اتنا سن کر دیا کہ جب وہ بعد میں کلونت کور کے پاس گیا تو وہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کے ساتھ سو سکے۔ حالانکہ اس نے اس مقصد کے لئے ابتدائی اقدام اٹھائے تھے۔\n\nاس میں یہاں وہاں کچھ ناشائستہ اصطلاحیں اور کچھ قابل اعتراض الفاظ موجود ہیں اور کچھ سوقیانہ گالیاں بھی۔۔۔ بالکل اسی قسم کی جو ہماری سوسائٹی کے نچلے طبقے میں عام ہیں۔ اب کسی مضمون کی ماہیت پر غور کرنے کے لئے آدمی کو کئی اصطلاحات اور تصریحات کو زیرنظر رکھنا پڑے گا۔ مثلاً چند ایک کا نام لیں تو ایک مضمون ’باذوق‘ یا ’بدذوق‘، ’غیر مناسب‘ یا ’سوقیانہ‘، ’ ناشائستہ‘ یا ’فحش‘ ہوسکتا ہے۔ اتنے تدریجی رنگوں کے امتزاج کو ایک دوسرے سے الگ ہٹا کر اس مضمون کو جسے فحش قرار دیا جاتا ہ ہو، قطعی طور پر ’غیرشائستہ‘، ’غیراخلاقی ‘، ’ضرررساں‘ اور ’بہت کچھ اور‘ ہونا چاہیئے لیکن زیادہ سے زیادہ جو میں اس مضمون کے متعلق کہوں گا، وہ یہ ہے کہ یہ سوقیانہ اور ناشائستہ ہے۔\n\nفاضل پی پی ایس نے کسی ایسے خاص قابل اعتراض پیروں کی طرف اشارہ نہیں کیا جس کو وہ یقینی طور پر ’فحش ‘قرار دیتا۔ کسی شخص نے کہانی کی چند سطروں پر نشان لگائے ہیں لیکن وہ ایسی ہی ہیں جن کے متعلق میں پیشتر ذکر کر چکا ہوں اور ان کو دوبارہ پیش کرنے سے کوئی مفید مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ مجھے اس لئے فاضل عدالت ماتحت سے اختلاف ہے، لیکن میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ مجھے اس مضمون سے اتفاق ہے۔ میں اسے ’فحش‘یا زیادہ قابل اعتراض نہیں سمجھتا۔ چنانچہ میں اپیل منظور کرتا ہوں اور تینوں اپیل کرنے والوں کو بری کرتا ہوں۔ وہ پہلے ہی ضمانت پر ہیں۔ جرمانہ اگر ادا کیا گیا ہے تو وہ سارے کا سارا واپس دیا جائے۔\n\nایک لطیفہ سنیئے۔ گیارہ جولائی کی صبح کو نذیر احمد چودھری مالک ’نیا ادارہ‘ اور مدیر ’سویرا‘ جو دوسرے ترقی پسندوں کے ساتھ مل کر مجھے رجعت پسند قرار دے چکے ہیں اور حلف اٹھا چکے ہیں کہ میری کوئی تحریر اپنے ’سویرا‘ میں شائع نہیں کریں گے، تشریف لائے۔ بغل گیر ہو کر بڑی گرم جوشی سے مبارکباد دی اور کہا، ’’منٹو صاحب، اب ’ٹھنڈا گوشت‘ عنایت فرما دیجئے۔ میں ’نمرود کی خدائی‘ میں شامل کر لوں۔‘‘ میں چودھری صاحب کی اس درخواست پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔\n\nچند دن ہوئے کوہاٹ سے ایک صاحب آفیسر کیڈٹ مظہر علی خاں کا خط موصول ہوا، ’’مجھے امید ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ میں کون ہوں۔ ریاض صاحب کی دکان پر آپ سے چند ملاقاتوں ہی نے مجھے آپ کا گرویدہ بنا دیا۔ بہت دن ہوئے میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ آپ کو ’ٹھنڈا گوشت‘ سے نجات مل گئی ہے۔ فرصت کم ہونے کے باعث آپ کو مبارکباد کا خط نہ لکھ سکا۔ اب گو مبارکباد بہت دیر سے ہے، لیکن پھر بھی آپ قبول فرمائیں۔ مجھے پکا یقین ہے کہ ایسی مخالفتوں کے باوجود آپ کے مداح بڑھتے ہی جائیں گے۔ سنا ہے چودھری محمد حسین صاحب جو آپ کے ساتھ اکثر نوک جھوک کرتے رہتے تھے، اس دنیا ہی سے چل بسے۔ اب تو معاملہ کچھ بے مزہ سا ہو گیا، لیکن دنیا میں سر پھروں کی کمی نہیں۔ کوئی اور صاحب ان کی جگہ ضرور سنبھال لیں گے۔‘‘\n\nمجھے چودھری محمد حسین صاحب کی وفات کا بہت افسوس ہے۔ خدا ان کو غریقِ رحمت کرئے۔ اب کہ وہ اس دنیا میں نہیں، میں ان کے متعلق کچھ کہنا نہیں چاہتا۔ ان کی جگہ اگر کوئی دوسرا سنبھال لے گا تو میں کہوں گا،\n\nسر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%AD%D9%85%D8%AA_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D8%B4%D8%A7%DA%BA"} {"title": "زخم اس سوکے کی کاری ہے خدا خیر کرے", "poet_page": "مصنف:باقر آگاہ ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زخم اس سوکے کی کاری ہے خدا خیر کرے\nلوہو سیلاب سا جاری ہے خدا خیر کرے\n\nسیل صہبا کی مرے سر سے گزر گئی یہ ہنوز\nچشم میں تیری خماری ہے خدا خیر کرے\n\nسیر ہوں ہستئ موہوم سے اس طرح کہ اب\nعدم اس جی کی پیاری ہے خدا خیر کرے\n\nکس کے جلوہ کا ہوں زخمی کہ لب زخم کے بیچ\nخندۂ صبح بہاری ہے خدا خیر کرے\n\nہو گیا ہوں میں نت اس چشم سے بیمار آگاہ\nدارو اس درد کی بھاری ہے خدا خیر کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D9%88%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت\nدل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت\n\nجب نہ تب جاگہ سے تم جایا کیے\nہم تو اپنی اور سے آئے بہت\n\nدیر سے سوئے حرم آیا نہ ٹک\nہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت\n\nپھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے\nپر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت\n\nگر بکا اس شور سے شب کو ہے تو\nروویں گے سونے کو ہم سایے بہت\n\nوہ جو نکلا صبح جیسے آفتاب\nرشک سے گل پھول مرجھائے بہت\n\nمیرؔ سے پوچھا جو میں عاشق ہو تم\nہو کے کچھ چپکے سے شرمائے بہت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%AC%DA%BE%DB%8C%D9%84%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA"} {"title": "زخم دل ہم دکھا نہیں سکتے", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زخم دل ہم دکھا نہیں سکتے\nدل کسی کا دکھا نہیں سکتے\n\nوہ یہاں تک جو آ نہیں سکتے\nکیا مجھے بھی بلا نہیں سکتے\n\nوعدہ بھی ہے تو ہے قیامت کا\nجس کو ہم آزما نہیں سکتے\n\nآپ بھی بحر اشک ہیں گویا\nآگ دل کی بجھا نہیں سکتے\n\nان سے امید وصل اے توبہ\nوہ تو صورت دکھا نہیں سکتے\n\nان کو گھونگھٹ اٹھانے میں کیا عذر\nہوش میں ہم جو آ نہیں سکتے\n\nمانگتے موت کی دعا لیکن\nہاتھ دل سے اٹھا نہیں سکتے\n\nان کو دعوائے یوسفی آسیؔ\nخواب میں بھی جو آ نہیں سکتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%85_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%92"} {"title": "زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک\nکیا مزا ہوتا، اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک\n\nگردِ راہِ یار ہے سامانِ نازِ زخمِ دل\nورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک\n\nمجھ کو ارزانی رہے، تجھ کو مبارک ہو جیو\nنالۂ بُلبُل کا درد اور خندۂ گُل کا نمک\n\nشورِ جولاں تھا کنارِ بحر پر کس کا کہ آج\nگِردِ ساحل ہے بہ زخمِ موجۂ دریا نمک\n\nداد دیتا ہے مرے زخمِ جگر کی، واہ واہ!\nیاد کرتا ہے مجھے، دیکھے ہے وہ جس جا نمک\n\nچھوڑ کر جانا تنِ مجروحِ عاشق حیف ہے\nدل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک\n\nغیر کی منت نہ کھینچوں گا پَے توفیرِ درد\nزخم، مثلِ خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک\n\nاس عمل میں عیش کی لذٓت نہیں ملتی اسدؔ\nزورِ نسبت مَے سے رکھتا ہے نصارا کا نمک\n\nیاد ہیں غالبؔ! تُجھے وہ دن کہ وجدِ ذوق میں\nزخم سے گرتا، تو میں پلکوں سے چُنتا تھا نمک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%DA%86%DA%BE%DA%91%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B7%D9%81%D9%84%D8%A7%D9%86_%D8%A8%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7_%D9%86%D9%85%DA%A9"} {"title": "زخم ہے اور نمک فشانی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زخم ہے اور نمک فشانی ہے\nدوستی دشمنیٔ جانی ہے\n\nنقش اول ہے چہرۂ یوسف\nاور ترا چہرہ نقش ثانی ہے\n\nتیرے کوچے سے مانع رفتار\nہم کو اپنی ہی ناتوانی ہے\n\nحسن میں چہرہ اس گل تر کا\nنقش رنگین کلک مانی ہے\n\nاس پہ پروانے گو ہجوم کریں\nشمع کی وہ ہی کم زبانی ہے\n\nاس سرا میں سبھی مسافر ہیں\nیعنی جو ہے سو کاروانی ہے\n\nعالم اس کی صفا کا مجھ سے نہ پوچھ\nنظم میں تیری جو روانی ہے\n\nمصحفیؔ شعر سادہ کہنے میں\nوقت کا اپنے تو فغانی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%AE%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%D9%85%DA%A9_%D9%81%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "زخمی نہ بھول جائیں مزے دل کی ٹیس کے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زخمی نہ بھول جائیں مزے دل کی ٹیس کے\nللہ چھڑکے جاؤ نمک پیس پیس کے\n\nغصہ ہے زہر حق میں دل بے انیس کے\nالماس پیستے ہو عبث دانت پیس کے\n\nمیلی نگاہ ہوتی ہے آئینہ دیکھ کر\nنظارے مدتوں سے ہیں روئے نفیس کے\n\nخلوت میں ہی تصور جاناں ندیم ہے\nطالب جلیس کے ہیں نہ خواہاں انیس کے\n\nمعنی نہ پائے جوہر شمشیر یار کے\nٹکڑے جگر کے ہو گئے ٹکڑے کسیس کے\n\nپھیکا ہی ذائقہ دہن زخم کا رہا\nکیا بد مزا ہوا میں نمک پیس پیس کے\n\nپیر فلک کسی کو نہ دے گا زر نجوم\nیعنی درم ہیں یہ کف دست خسیس کے\n\nکٹ کٹ گیا میں دیکھ کے مضمون قتل کو\nاے بت قلم ہوں ہاتھ ترے خوش نویس کے\n\nدس بیس ہر مہینے میں ابرو نظر پڑے\nاس سال سارے چاند ہوئے تیس تیس کے\n\nحرف آ گیا شکستگیٔ دل کے لکھنے میں\nٹوٹے قلم ہزاروں شکستہ نویس کے\n\nلکھتے ہیں چھپ کے کاتب اعمال سب کا حال\nاعمال نامہ پرچہ ہیں خفیہ نویس کے\n\nمکتوب میں عبارت رنگیں لکھو منیرؔ\nفقرے نہیں پسند دقیق و سلیس کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%AE%D9%85%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B2%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%B9%DB%8C%D8%B3_%DA%A9%DB%92"} {"title": "زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سے\nجانے کا نہیں چور مرے زخم جگر سے\n\nہم خوب ہیں واقف ترے انداز کمر سے\nیہ تار نکلتا ہے کوئی دل کے گہر سے\n\nپھر آئے اگر جیتے وہ کعبہ کے سفر سے\nتو جانو پھرے شیخ جی اللہ کے گھر سے\n\nسرمایۂ امید ہے کیا پاس ہمارے\nاک آہ ہے سینہ میں سو نامید اثر سے\n\nوہ خلق سے پیش آتے ہیں جو فیض رساں ہیں\nہیں شاخ ثمر دار میں گل پہلے ثمر سے\n\nحاضر ہیں مرے جذبۂ وحشت کے جلو میں\nباندھے ہوئے کہسار بھی دامن کو کمر سے\n\nلبریز مئے صاف سے ہوں جام بلوریں\nزمزم سے ہے مطلب نہ صفا سے نہ حجر سے\n\nاشکوں میں بہے جاتے ہیں ہم سوئے در یار\nمقصود رہ کعبہ ہے دریا کے سفر سے\n\nفریاد ستم کش ہے وہ شمشیر کشیدہ\nجس کا نہ رکے وار فلک کی بھی سپر سے\n\nکھلتا نہیں دل بند ہی رہتا ہے ہمیشہ\nکیا جانے کہ آ جائے ہے تو اس میں کدھر سے\n\nاف گرمیٔ وحشت کہ مری ٹھوکروں ہی میں\nپتھر ہیں پہاڑوں کے اڑے جاتے شرر سے\n\nکچھ رحمت باری سے نہیں دور کہ ساقی\nروئیں جو ذرا مست تو مے ابر سے برسے\n\nمیں کشتہ ہوں کس چشم سیہ مست کا یا رب\nٹپکے ہے جو مستی مری تربت کے شجر سے\n\nنالوں کے اثر سے مرے پھوڑا سا ہے پکتا\nکیوں ریم سدا نکلے نہ آہن کے جگر سے\n\nاے ذوقؔ کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا\nبہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%AE%D9%85%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%88%DA%A9_%D8%AF%D8%B2%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "زرگر و حداد خوش ہوں وہ کریں تدبیر ہم", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زرگر و حداد خوش ہوں وہ کریں تدبیر ہم\nطوق زر تم پہنو پہنیں آہنی زنجیر ہم\n\nاور دیوانوں سے رکھتے ہیں ذرا توقیر ہم\nڈالتے ہیں آپ اپنے پاؤں میں زنجیر ہم\n\nکفر و دیں کے قاعدے دونوں ادا ہو جائیں گے\nذبح وہ کافر کرے منہ سے کہیں تکبیر ہم\n\nیوں ہی خوش کرتے ہیں دل اپنا امید وصل میں\nکھینچتے ہیں ایک جا اپنی تری تصویر ہم\n\nآ گیا جس دن خیال جوشش دیوانگی\nچاک کر ڈالیں گے اپنا نامۂ تقدیر ہم\n\nسن تو او ظالم بھلا یہ بھی کوئی انصاف ہے\nلائق الطاف اعدا قابل تعزیر ہم\n\nوصل میرے ان کے ہوگا کچھ اب اس میں شک نہیں\nکہہ دو آمیں دے چکے اس خواب کی تعبیر ہم\n\nروز کا جھگڑا اٹھائے کون کر لیتے ہیں آج\nامتحان کاوش قاتل تہ شمشیر ہم\n\nکیوں نہ مستغنی رہیں فضل خدا سے اے نسیمؔ\nرکھتے ہیں ملک سخن کی واقعی جاگیر ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%B1%DA%AF%D8%B1_%D9%88_%D8%AD%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%85"} {"title": "زعم نہ کیجو شمع رو بزم کے سوز و ساز پر", "poet_page": "مصنف:سائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زعم نہ کیجو شمع رو بزم کے سوز و ساز پر\nرکھیو نظر بجائے ناز خاطر پیر ناز پر\n\nزیب نہیں ہے شیخ یہ مے کش پاکباز پر\nتہمتیں سو لگائے گا داغ جبیں نیاز پر\n\nکہتا ہوں ہر حسیں سے میں نیت عشق ہے مری\nآئے گا میرا دل مگر شاہد دل نواز پر\n\nفرق حیات و مرگ کا مرغ چمن کے دل سے پوچھ\nدیتا ہے فوق دام کو چنگل شاہباز پر\n\nخواب لحد ہے پر سکوں عہد حیات پر الم\nموت نہ کیوں ہو طعنہ زن زندگئ دراز پر\n\nسنگ در حبیب پر ہوتا ہوں سجدہ ریز میں\nخلق خدا ہے معترض مجھ پہ مری نماز پر\n\nمنعم بے بصر یوں ہی دیکھیے تا کجا رہے\nمحو نشاط و خوش دلی نغمۂ تار ساز پر\n\nفخر عمل نہ چاہیئے سعی عمل ضرور ہے\nآنکھ رہے لگی ہوئی رحمت کارساز پر\n\nدر پہ بتوں کے دی صدا سائلؔ بے نوا نے یہ\nفضل خدا رہے مدام حال گدا نواز پر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D8%B9%D9%85_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D9%88_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%B1%D9%88_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "زلف اندھیر کرنے والی ہے", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زلف اندھیر کرنے والی ہے\nتم نے ناگن بلا کی پالی ہے\n\nقلمیں رخسار یار پر دیکھو\nسرخ ہے پھول سبز ڈالی ہے\n\nغیر پر لطف ہے ستم ہم پر\nان کی جو بات ہے نرالی ہے\n\nواہ کیا منہ سے پھول جھڑتے ہیں\nکتنی پیاری تمہاری گالی ہے\n\nمرغ دل بھی ہے ساتھ چڑیا کے\nجال انگیا کی ان کی جالی ہے\n\nشب فرقت کو دیکھ بخت سیاہ\nکوئی بھی رات اتنی کالی ہے\n\nکیوں قیامت کی چال چلتی ہو\nاس میں عاشق کی پائمالی ہے\n\nدہن یار کا پتا نہ لگا\nبات کہنے کو اک بنا لی ہے\n\nناف معشوق صاف موتی کی\nننھی منی سی اک پیالی ہے\n\nکیوں کر ان کو دوں مہر و مہ سے مثال\nجن کو دعویٰ بے مثالی ہے\n\nرنگ لائی گلوریاں کہہ کر\nلال ہونٹھوں پہ اور لالی ہے\n\nدل تصور میں محو رہتا ہے\nعاشق شاہد خیالی ہے\n\nکیوں ہنسائے نہ مجھ سے رند کو بنگ\nدخت رز کی بہن ہے سالی ہے\n\nدم غنیمت ہے اس مسیحا کا\nاب طبیبوں سے شہر خالی ہے\n\nخاک اڑائی ہے ان کے کوچہ کی\nہم نے سر پر زمیں اٹھا لی ہے\n\nدل مرا لے کے عرش پر ہے دماغ\nاور ہی اب مزاج عالی ہے\n\nکیوں بتوں کی ہمیں محبت دی\nکیا مصیبت خدا نے ڈالی ہے\n\nواں کبھی غیر سے کبھی ہم ہیں\nروز موقوفی اور بحالی ہے\n\nدے کے اک بوسۂ لب جاں بخش\nتن بے جاں میں جان ڈالی ہے\n\nکیا بلا گوری گوری رنگت پر\nزلف کالی ہے آنکھ کالی ہے\n\nحال میں شاعری کا ہے یہ ڈھنگ\nاپنا جو شعر ہے وہ حالی ہے\n\nدیکھو مجھ پر بہت ستم نہ کرو\nپاس اے جان کوتوالی ہے\n\nہم سے انکار وصل کا ہے عبث\nہوگی جو بات ہونے والی ہے\n\nان کے کوچہ میں خاک ہو جائیں\nہم نے اک راہ یہ نکالی ہے\n\nیار پہلو میں ہے نہ جام شراب\nیہ بھی خالی ہے وہ بھی خالی ہے\n\nہے ستم یہ انیلے پن کا بناؤ\nکان میں ایک ایک بالی ہے\n\nاس کے مذہب کا اعتبار ہے کیا\nمہرؔ اک رند لاابالی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "زلف اگر دل کو پھنسا رکھتی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زلف اگر دل کو پھنسا رکھتی ہے\nآنکھ پردوں میں چھپا رکھتی ہے\n\nساتھ فہمیدگی گر ہووے تو پھر\nبت پرستی بھی مزا رکھتی ہے\n\nچہچہا رنگ مرے خون کا سا\nترے پانو کی حنا رکھتی ہے\n\nآرسی ہوتی ہے سنمکھ تیرے\nکچھ بھی آنکھوں میں حیا رکھتی ہے\n\nکر دیا اس نے تو مجھ کو مدہوش\nکس کی بو باد صبا رکھتی ہے\n\nخاک دہلی کی ذرا سیر تو کر\nکہ عجب آب و ہوا رکھتی ہے\n\nہائے تیکھی نگہ اس کافر کی\nکیا کہوں میں جو ادا رکھتی ہے\n\nتیری تصویر کو لے کر شیریں\nاپنی چھاتی سے لگا رکھتی ہے\n\nجب تلک آوے ہے تو پھر کے یہ چال\nخاک میں مجھ کو ملا رکھتی ہے\n\nآرسی سے نہ کرو کج نظری\nاس کا تم سے وہ گلا رکھتی ہے\n\nآہ میری ہے اثر سے ہم دوش\nطالع زلف رسا رکھتی ہے\n\nکیا ہے تقصیر جو ہم کو تجھ سے\nگردش چرخ جدا رکھتی ہے\n\nجھک پڑے ہے تیری پا بوسی کا\nزلف بھی شوق بلا رکھتی ہے\n\nگوشت اور پوست بھی گل جاتا ہے\nجسم کے بیچ یہ کیا رکھتی ہے\n\nمصحفیؔ نام ہے جس چیز کا چاہ\nآدمی کو تو کھپا رکھتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D9%86%D8%B3%D8%A7_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "زلف تیری نے پریشاں کیا اے یار مجھے", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زلف تیری نے پریشاں کیا اے یار مجھے\nتیری آنکھوں نے کیا آپ سا بیمار مجھے\n\nدل بجھا جائے ہے اغیار کی شورش پہ مرا\nسرد کرتی ہے تری گرمئ بازار مجھے\n\nعقل ہی موجب تکلیف ہوئی ہے ناداں\nکر گئی بے خبری آ کے خبردار مجھے\n\nتخت اور چتر سلاطیں کو مبارک ہووے\nبس ہے کوچے میں ترے سایۂ دیوار مجھے\n\nجوں مثال اس کی نمودار ہوئی توں ہی بیاںؔ\nطپش دل نے کیا خواب سے بیدار مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "زلف تیری ہوئی کمند مجھے", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زلف تیری ہوئی کمند مجھے\nاس میں باندھا ہے بند بند مجھے\n\nخاک سیتی سجن اٹھا کے کیا\nعشق تیرے نے سر بلند مجھے\n\nتیرے غم سوں ہوا ہوں دیوانہ\nنہ کیا نفع کوئی پند مجھے\n\nنہیں جگ بیچ اور اے دل بر\nوصل بن تیرے سود مند مجھے\n\nمیں گرفتار ہوں ترے مکھ پر\nجگ میں نئیں اور کچھ پسند مجھے\n\nفائزؔ اس طور سے ہوا ہے ملول\nتوں جلاتا ہے جیوں سپند مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D9%85%D9%86%D8%AF_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "زلف جاناں پہ طبیعت مری لہرائی ہے", "poet_page": "مصنف:شیر سنگھ ناز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زلف جاناں پہ طبیعت مری لہرائی ہے\nسانپ کے منہ میں مجھے میری قضا لائی ہے\n\nآج مے خانے پہ گھنگھور گھٹا چھائی ہے\nایک دنیا ہے کہ پینے کو امڈ آئی ہے\n\nزلف شب رنگ کا ہے عکس یہ پیمانے میں\nیا پری کوئی یہ شیشے میں اتر آئی ہے\n\nتو بتا ناوک جاناں تری کیا ہے نیت\nخنجر یار نے تو سر کی قسم کھائی ہے\n\nحور و غلماں مری آنکھوں میں سمائیں کیوں کر\nکس میں تیری سی ادا تیری سی رعنائی ہے\n\nکچھ مداوا نہ ہوا تم سے مریض غم کا\nکیا اسی برتے پہ دعوائے مسیحائی ہے\n\nسرخی خون شہیداں کی جھلک ہے اس میں\nدست قاتل پہ غضب رنگ حنا لائی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%84%DB%81%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئی", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئی\nہم کو اپنی تیرہ روزی کی حقیقت کھل گئی\n\nکیا تماشا ہے رگ لیلیٰ میں ڈوبا نیشتر\nفصد مجنوں باعث جوش محبت کھل گئی\n\nدل کا سودا اک نگہ پر ہے تری ٹھہرا ہوا\nنرخ تو کیا پوچھتا ہے اب تو قیمت کھل گئی\n\nآئینے کو ناز تھا کیا اپنے روئے صاف پر\nآنکھ ہی پر دیکھتے ہی تیری صورت کھل گئی\n\nتھی اسیران قفس کو آرزو پرواز کی\nکھل گئی کھڑکی قفس کی کیا کہ قسمت کھل گئی\n\nتیرے عارض پر ہوا آخر غبار خط نمود\nکھل گئی آئینہ رو دل کی کدورت کھل گئی\n\nبے تکلف آئے تم کھولے ہوئے بند قبا\nاب گرہ دل کی ہمارے فی الحقیقت کھل گئی\n\nباندھی زاہد نے توکل پر کمر سو بار چست\nلیکن آخر باعث سستی ہمت کھل گئی\n\nکھلتے کھلتے رک گئے وہ ان کو تو نے اے ظفرؔ\nسچ کہو کس آنکھ سے دیکھا کہ چاہت کھل گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D8%AE_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D9%84%D8%B9%D8%AA_%DA%A9%DA%BE%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "زلف دلبر لے گئی دل گھات سے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زلف دلبر لے گئی دل گھات سے\nمیں تو بے دل ہو رہا ہوں رات سے\n\nاے دل بے تاب ایتا مت تڑپ\nجی بتنگ آیا ہے تیرے سات سے\n\nاب تو اے ابر مژہ کھل جا شتاب\nبھیگ گئے ہم اشک کی برسات سے\n\nرشک سے مجھ اشک خوں کے دیکھ لال\nرنگ مہندی کیں نہ اڑ جا ہات سے\n\nسو حلاوت دل مرا پاتا ہے عشق\nلب شکر کی ایک میٹھی بات سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%AF%DA%BE%D8%A7%D8%AA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "زلف شب رنگ جو بنائی ہے", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زلف شب رنگ جو بنائی ہے\nان دنوں شانے کی بن آئی ہے\n\nحیف ثابت ہے جیب نے دامن\nاور جنون میں بہار آئی ہے\n\nکہے پروانہ شمع رو تجھ کو\nاس کی آنکھوں میں چربی چھائی ہے\n\nمیری ان کی بگاڑ ہونے سے\nخوب اغیار کی بن آئی ہے\n\nپانی مانگے گا کیا دہان زخم\nتیغ اک آب دار کہانی ہے\n\nکلمہ ان بتوں نے پڑھوایا\nخوبروئی ہے یا خدائی ہے\n\nہمہ تن ہو گئے ہیں آئینہ\nخود نمائی سی خود نمائی ہے\n\nیار سے ہو بھلا رقیبوں کا\nاے سخیؔ بس یہی برائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B4%D8%A8_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "زلف مشکین یار قہری ہے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زلف مشکین یار قہری ہے\nکیا قیامت کا ناگ زہری ہے\n\nدھوپ سیں غم کی تازگی ہے اسے\nدل نہیں ہے گل دوپہری ہے\n\nذاکر غم کوں دل کے حلقے میں\nنالہ و آہ ذکر جہری ہے\n\nدامن یار نہیں کناری دار\nصفحۂ جدول سنہری ہے\n\nوحشیٔ دشت بے خودی ہے سراجؔ\nگرچہ عالم کے نزد شہری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%85%D8%B4%DA%A9%DB%8C%D9%86_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%82%DB%81%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "زلف چھٹتی ترے رخ پر تو دل اپنا پھرتا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زلف چھٹتی ترے رخ پر تو دل اپنا پھرتا\nگھر کو بے شام نہیں صبح کا بھولا پھرتا\n\nدیکھنے کو جو مرا تو نہ تماشا پھرتا\nتو میں جوں شعلۂ جوالہ نہ چلتا پھرتا\n\nکب جفاؤں سے تری دل ہے ہمارا پھرتا\nشک اگر تجھ کو ہے ظالم تو دوبارہ پھرتا\n\nبخت برگشتۂ مجنوں ابھی سیدھے ہو جائیں\nدشت میں آئے اگر ناقۂ لیلیٰ پھرتا\n\nگردش چرخ سے سر کیوں نہ مہ و خور کا پھرے\nکہ شب و روز یہ رہتا ہے ہنڈولا پھرتا\n\nجنس دل کا تری اس زلف سے پھرنا معلوم\nہو کے خط کش جو بکے وہ نہیں سودا پھرتا\n\nخال رخسار بتاں کا نہیں بھرتا یہ خیال\nکشور دل میں ہمارے ہے کنھیا پھرتا\n\nدل کی قسمت میں ازل سے تھی لکھی تشنہ لبی\nکیوں نہ اس چاہ ذقن سے یہ پیاسا پھرتا\n\nشرم سے دامن ساحل میں چھپی ہے ہر موج\nتو جو اٹھکھیلیوں سے ہے لب دریا پھرتا\n\nدرد دل عشق کی چوسر میں نہ کٹتی ہرگز\nگر کبھی جیت کا اپنی کوئی پاسا پھرتا\n\nآج پیری میں بھی اپنے نہ پھرے بخت سیاہ\nکہ درختوں کا بھی دن ڈھلتے ہی سایا پھرتا\n\nٹوٹ جاتی جو کبھی آس ترے ملنے کی\nتو نہ لٹو کی طرح دل یہ ہمارا پھرتا\n\nباعث جنبش انساں ہے تو اے تار نفس\nورنہ یہ بیٹھ کے اٹھتا نہ یہ چلتا پھرتا\n\nسیر صحرائے جنوں خیز کا ارماں نہ رہا\nتیرے ہاتھوں سے میں کیا آبلۂ پا پھرتا\n\nتو نے ہر کام پہ کی چشم نمائی ورنہ\nمیں بگولے کی طرح خاک اڑاتا پھرتا\n\nاپنے گریے کی دکھاتا میں تجھے طغیانی\nگر شب وصل مرے پاس نہ تو آ پھرتا\n\nانجم چرخ بھی بن جاتے ہیں مانند حباب\nماہ کا صورت گرداب ہے بالا پھرتا\n\nلکھ نصیرؔ ایک غزل اور بدل کر کے ردیف\nتوسن خامہ ہے اب دیکھ تو کیسا پھرتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%86%DA%BE%D9%B9%D8%AA%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D8%AE_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%A7"} {"title": "زلف کا کیا اس کی چٹکا لگ گیا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زلف کا کیا اس کی چٹکا لگ گیا\nزور دل کے ہاتھ لٹکا لگ گیا\n\nتار مژگاں پر چلا جاتا ہے اشک\nکام پر لڑکا یہ نٹ کا لگ گیا\n\nچشم و ابرو پر نہیں موقوف کچھ\nجان من دل جس کا اٹکا لگ گیا\n\nجام گل میں کیوں نہ دے شبنم گلاب\nصبح دم غنچے کو چٹکا لگ گیا\n\nمنزل گم کردہ اک میں ہوں نصیرؔ\nراہ سے جو کوئی بھٹکا لگ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D9%B9%DA%A9%D8%A7_%D9%84%DA%AF_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "زلف کو تھا خیال بوسے کا", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "زلف کو تھا خیال بوسے کا\nخط نے لکھا سوال بوسے کا\n\nدوہرے پتوں کے زیر سایہ ہوا\nسب قلم بند حال بوسے کا\n\nچشمک خال رخ نے صاف کہا\nہے تبسم مآل بوسے کا\n\nسبزۂ نو دمیدہ نے مارا\nگرد رخسار جال بوسے کا\n\nرہ گیا تیرے مکھڑے پر باقی\nاب مکاں خال خال بوسے کا\n\nہو غضب اپنے بال نوچ لیے\nہے یہ سارا وبال بوسے کا\n\nتیرے غصے سے اب کوئی انشاؔ\nچھوڑتا ہے خیال بوسے کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "زلفوں کا بکھرنا اک تو بلا، عارض کی جھلک پھر ویسی ہی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زلفوں کا بکھرنا اک تو بلا، عارض کی جھلک پھر ویسی ہی\nآنکھوں کا مٹکنا ہوش ربا، ہر ایک پلک پھر ویسی ہی\n\nوہ شوخ جو گزرے مثل صبا، تو بھڑکے نہ کیوں کر آتش دل\nاک طور کی اس کی جنبش پا، دامن کی جھٹک پھر ویسی ہی\n\nکوئی کیوں نہ گریباں چاک کرے اب دیکھ کے چھب کو اس بت کی\nپنڈے کا جھلکنا ہائے خدا، چولی کی مسک پھر ویسی ہی\n\nدل کیوں نہ کرے سینے میں تپش، جب یار کی ہو یہ راہ و روش\nرفتار میں اک البیلی ادا، اور قد کی لچک پھر ویسی ہی\n\nہم کیوں نہ کف افسوس ملیں، جب وے ہی ترا پابوس کریں\nدامن سے زیادہ بند قبا، زلفوں کی لٹک پھر ویسی ہی\n\nوہ ماہ چھپایا تو نے کہاں ہے جس سے جگر پر داغ مرے\nصورت تو دکھا دے مجھ کو ذرا جلدی سے فلک پھر ویسی ہی\n\nاے مصحفیؔ میرے حال پہ اب کیوں کر نہ کوئی افسوس کرے\nبے ساختہ دل بیتاب ہوا آنسو کی ڈھلک پھر ویسی ہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%84%D9%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%A9%DA%BE%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%8C_%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D8%B6_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%DA%BE%D9%84%DA%A9_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%88%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%8C"} {"title": "زلفیں چھوڑیں ہیں کہ جوڑا اس نے چھوڑا سانپ کا", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زلفیں چھوڑیں ہیں کہ جوڑا اس نے چھوڑا سانپ کا\nدیکھیے کس کس کو ڈستا ہے یہ جوڑا سانپ کا\n\nگورے گالوں پر ترے زلفیں یہ لہراتی نہیں\nیاسمیں زار صباحت میں ہے جوڑا سانپ کا\n\nعشق ان زلفوں کا مجھ سے ترک ہونے کا نہیں\nہے مرا ہم زاد اے ناصح یہ جوڑا سانپ کا\n\nدونوں زلفیں یار کی الٹی ہیں بالوں پر مرے\nوجد کرتا ہے صدائے نے یہ جوڑا سانپ کا\n\nمنڈ گئیں زلفیں ہیں شاعر کس سے اب دیں گے مثال\nہو گیا تشبیہ کی خاطر بھی توڑا سانپ کا\n\nعمر بھر دل کو خیال گیسوئے پیچاں رہا\nدھیان اس نادان نے ہرگز نہ چھوڑا سانپ کا\n\nنقرئی موباف چوٹی میں رہا ان کی سدا\nکینچلی نے عمر بھر پیچھا نہ چھوڑا سانپ کا\n\nپڑ گئی ایذا دہندی کی تری زلفوں کو خو\nکاٹتا ہے اڑ کے عاشق کو یہ جوڑا سانپ کا\n\nکچھ سمجھ کر رہا ہوں یار کی زلفوں کی داشت\nپالتا ہوں اپنے کٹوانے کو جوڑا سانپ کا\n\nشام سے ان گیسوؤں کی یاد میں جو سو رہا\nخواب میں دیکھا کیا تا صبح جوڑا سانپ کا\n\nعشق میں گیسو و ابرو کے اگر دینی ہے جان\nنیش عقرب کھا کے پی لے زہر تھوڑا سانپ کا\n\nواسطے موذی کے آخر میں بھی موذی بن گیا\nسر کسی حالت میں بے کچلے نہ چھوڑا سانپ کا\n\nعشق گیسو میں نہ قطرہ بھی تلف ہونے دیا\nزہر سارا حلق میں میں نے نچوڑا سانپ کا\n\nخط پہ آتے ہیں بہت لہرا کے گیسو یار کے\nسبزہ نوخیز پر غش ہے یہ جوڑا سانپ کا\n\nحلقۂ گیسوئے شب کو ذرۂ افشاں چنی\nرات کو چن چن کے اک اک دانت توڑا سانپ کا\n\nہر قدم پر مار کر سر کر رہا ہے ناگ پیچ\nاب چلن سیکھا ہے اس موذی نے تھوڑا سانپ کا\n\nدشمن جانی کو اپنے دی نہ ایذا رندؔ نے\nدانت ہی توڑا نہ چھالا اس نے پھوڑا سانپ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%84%D9%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%88%DA%91%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%86%D9%BE_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئے\nالٰہی اب تو خزاں جائے اور بہار آئے\n\nستم ظریفیٔ فطرت یہ کیا معمہ ہے\nکہ جس کلی کو بھی سونگھوں میں بوئے یار آئے\n\nچمن کی ہر کلی آمادۂ تبسم ہے\nبہار بن کے مری جان نو بہار آئے\n\nہیں تشنہ کام ہم ان بادلوں سے پوچھے کوئی\nکہاں بہار کی پریوں کے تخت اتار آئے\n\nترے خیال کی بے تابیاں معاذ اللہ\nکہ ایک بار بھلائیں تو لاکھ بار آئے\n\nوہ آئیں یوں مرے آغوش عشق میں اخترؔ\nکہ جیسے آنکھوں میں اک خواب بے قرار آئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%D9%B9%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "زمانہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "جو تھا نہیں ہے، جو ہے نہ ہو گا، یہی ہے اک حرفِ محرمانہ\nقریب تر ہے نُمود جس کی، اُسی کا مشتاق ہے زمانہ\nمِری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں\nمَیں اپنی تسبیحِ روز و شب کا شُمار کرتا ہوں دانہ دانہ\nہر ایک سے آشنا ہوں، لیکن جُدا جُدا رسم و راہ میری\nکسی کا راکب، کسی کا مَرکب، کسی کو عبرت کا تازیانہ\nنہ تھا اگر تُو شریکِ محفل، قصور میرا ہے یا کہ تیرا\nمِرا طریقہ نہیں کہ رکھ لوں کسی کی خاطر میء شبانہ\nمِرے خم و پیچ کو نجومی کی آنکھ پہچانتی نہیں ہے\nہدَف سے بیگانہ تِیر اُس کا، نظر نہیں جس کی عارفانہ\nشفَق نہیں مغربی اُفق پر یہ جُوئے خوں ہے، یہ جوئے خوں ہے!\nطلوعِ فردا کا منتظر رہ کہ دوش و امروز ہے فسانہ\nوہ فکرِ گُستاخ جس نے عُریاں کِیا ہے فطرت کی طاقتوں کو\nاُسی کی بیتاب بجلیوں سے خطر میں ہے اُس کا آشیانہ\nہوائیں اُن کی، فضائیں اُن کی، سمندر اُن کے، جہاز اُن کے\nگِرہ بھنور کی کھُلے تو کیونکر، بھنور ہے تقدیر کا بہانہ\nجہانِ نَو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پِیر مر رہا ہے\nجسے فرنگی مُقامِروں نے بنا دیا ہے قِمار خانہ\nہَوا ہے گو تُند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے\nوہ مردِ درویش جس کو حق نے دیے ہیں اندازِ خسروانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "زمانہ (الطاف حسین حالی)", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "جب زمانہ بدلے تم بھی بدل جاؤ۔زمانہ کی نیرنگیاں مشہور اور اس کی تلون مزاجیاں ضرب المثل ہیں۔ وہ سدا ایک حال پر نہیں رہتا۔ وہ ہمیشہ ایک چال پر نہیں چلتا۔ وہ گرگٹ کی طرح برابر رنگ بدلتا رہتاہے۔ وہ اس پتھر کی طرح جو پہاڑ کی چوٹی سے لڑھکایا جائے، ہزاروں پلٹے کھاتا چلا جاتا ہے۔ وہ جوروپ بھرتا ہے اس کے چہرہ پر کھل جاتا ہے۔ وہ جو ٹھاٹھ بدلتا ہے اس کا رنگ ساری مجلس پرچھا جاتا ہے۔ وہ کبھی دن کی روشنی میں اور کبھی رات کی تاریکی میں، کبھی گرمی کی تپش میں اور کبھی جاڑے کی ٹھر میں ظہور کرتا ہے، پر کسی بھیس میں اس کا رنگ جمے بغیر نہیں رہتا۔ جب وہ دن کا بانا بدلتا ہے تو رات کے سارے عمل باطل کر دیت اہے۔ سوتوں کو نیند سے جگاتا ہے۔ نکموں کو کام پر لگاتا ہے۔ طبیعتوں سے سستی کو دور کرتا ہے اور دلوں کو امنگوں سے بھر دیتا ہے۔ جب وہ رات کا برقع اوڑھتا ہے تو دن کی ساری کائنات حرف غلط کی طرح مٹا دیتا ہے۔ مزدوروں کا دل محنت سے اچاٹ کرتا ہے، جفاکش کو بستر راحت کی طرف کھینچ کر لاتا ہے اورساری دنیا پر غفلت کا پردہ ڈال دیتا ہے۔ گرمی میں اس کی بازی کا نقشہ کچھ اور ہے اورجاڑے میں اس کی حکومت کا ڈھنگ کچھ اور۔مبارک ہیں وہ جنہوں نے اس کے تیور پہچانے اور اس کی چال ڈھال کو نگاہ میں رکھا۔ جدھر کو وہ چلااس کے ساتھ ہو لئے۔ اس نے رخ پھیرا اس کے ساتھ پھر گئے۔ گرمی میں گرمی کا سامان کیا اور جاڑے میں جاڑے کی تیاری کی۔ دن کودن کی طرح بسر کیا اور رات کو رات کی طرح کاٹا اور بدنصیب ہیں وہ جنہوں نے اس کی پیروی سے جی چرایا اور اس کی فراہمی سے ناک چڑھائی۔ گرمی پڑے پر انہوں نے جاڑے کے کپڑے نہ اتارے اور ہلکے پھلکے نہ بنے۔ دن نکلا پرانہوں نے کروٹ نہ بدلی اور خواب شبینہ سے بیدار نہ ہوئے اوراب وہ بہت جلد دیکھیں گے کہ پیچھے کون رہا اور منزل تک کون پہنچا؟جو لوگ زمانے کی پیروی نہیں کرتے وہ گویا زمانے کو اپنا پیرو بنانا چاہتے ہیں مگریہ ان کی سخت خام خیالی ہے۔ چند مچھلیاں دریا کے بہاؤ کو نہیں روک سکتیں اور جھاڑیاں ہوا کا رخ نہیں پھیر سکتیں۔ اسی لئے ایک پختہ کار شاعر نے کہا ہے۔ ع زمانہ باتو ساز دو تو باز مانہ بساز۔اور عرب کے ایک حکیم کا قول ہے کہ ’’در مع الدھر کیف ما دار (یعنی جدھر کو زمانہ پھرے اس کے ساتھ پھر جاؤ) شیخ اکبر فرماتے ہیں کہ ’’صرھیولی لکل صورۃ۔‘‘ (یعنی اپنی ذات میں ایسی قابلیت پیدا کرو کہ جس رنگ کو چاہے فوراً قبول کرلے) یہ اس لئے فرمایا کہ زمانہ کبھی انقلاب سے خالی نہیں رہتا اور اس کا مقابلہ انسان ضعیف البنیان سے نہیں ہو سکتا۔ پس انسان میں ایسی قابلیت ہونی ضرور ہے کہ جیسی ضرورت دیکھے ویسا بن جائے تاکہ زمانے کا کوئی انقلاب اس کو سخت صدمہ نہ پہنچائے۔ آندھی کے پرزور حملے انہیں تناور درختوں کو نقصان پہنچاتے ہیں جو اپنی جگہ سے ٹلنا نہیں چاہتے پر چھوٹے چھوٹے لچکدار پودے جو ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ جھک جاتے ہیں ہمیشہ برقرار رہتے ہیں۔ اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عارضی یا چند روزہ کامیابی متقضائے وقت کی مخالفت میں بھی حاصل ہو سکتی ہے مگر جو لوگ دنیا میں آ کر کامیابی کا پورا پورا استحقاق حاصل کر گئے، وہ وہی تھے جنہوں نے متقضائے وقت کو ہاتھ سے نہ دیا اور جیسا زمانہ دیکھا ویسا بن گئے۔حکیم اوحدالدین انوری 1 جس نے اپنے زمانے کے تمام علوم میں کامل دستگاہ حاصل کی تھی اور پھر عجم کے ان تین شاعروں میں شمار کیا گیا جو ’’پیمبرشعر‘‘ مانے گئے ہیں 2 اگر وہ متقضائے وقت کی پیروی نہ کرتا تو یہ شہرت اورعزت اس کو ہرگز حاصل نہ ہوتی۔ وہ خراسان کی ایک بستی زاکان نامی میں ٹھہرا ہوا تھاکہ اتفاق سے اس عہد کے ملک الشعراء ابوالفرح سنجری کا لشکر بھی وہیں آ کر ٹھہرا۔ انوری نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہ سارا جلوس سنجری کے ساتھ ہے، کہا، ’’سبحان اللہ علم کا مرتبہ ایسا بلند اور میں اس قدر مفلس، میں ایسا ذلیل اور اس شخص کو یہ جاہ وحشمت؟ اب مجھ کو بھی قسم ہے جو شاعر ہی بن کر نہ کھاؤں۔‘‘ چنانچہ اسی رات کو ایک قصیدہ سلطان 3 سنجر کی مدح میں لکھ کر تمام کیا، جس کا مطلع یہ ہے۔گر دل و دست بحر و کاں باشددل و دست خدائیگاں باشدپھرتمام عمرشاعری کی بدولت خوش حال اور فارغ البال رہا اوردنیا میں شہر ت اور بلند نامی حاصل کی۔ایک مجلس میں شیخ ابوالفضل کے کمالات اور ترقیات کا مذکور تھا۔ ایک صاحب بولے، ’’وہ باایں ہمہ کمالات اگر اس زمانہ (یعنی انیسویں صدی) میں ہوتا تو شاید عدالتوں میں عرضی نویسی کرکے اپنا پیٹ پالتا۔‘‘ ہم نے کہا، ’’اگر وہ اس زمانے میں ہوتا تو ہرگز اپنی کامیابی کا ذریعہ اس لیاقت کو نہ گردانتا جس کی بدولت اس نے سولہویں صدی عیسوی میں ترقیات حاصل کی تھیں بلکہ اس عہد میں وہ کم سے کم ایم۔ اے یا ایل ایل ڈی کا درجہ ضرور حاصل کرتا اور کچھ نہیں تو لندن کے کسی نامی گرامی اخبار کا کارسپانڈنٹ (نامہ نگار) ضرور ہوتا۔‘‘ یہ ہمارا ایک سرسری جواب تھا جو اس وقت بلا تامل زبان سے نکل گیا۔ مگراب غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جواب بالکل صحیح تھا۔ ابوالفضل کی ذات میں ہرزمانے کا رنگ بدلنے کی ایسی قابلیت تھی کہ وہ جس زمانے میں ہوتا اس زمانے کی حیثیت کے موافق ضرور اپنے ہم چشموں میں ممتاز ہوتا۔ وہ ایک رقعہ میں جو غالباً اس نے اپنے باپ کے نام لکھا ہے تحریر کرتا ہے کہ ’’بعض لوگ میری نسبت یہ کہتے ہیں کہ ایک طالب علم کواس قدر منصب جلیل تک پہنچا دینا بادشاہ کو زیبانہ تھا۔ اس لے میری بھی اب یہی تمنا ہے کہ سپہ گری کا کوئی کارنمایاں دکھاؤں۔‘‘ اس کا یہ قول نرادعویٰ ہی دعویٰ نہ تھا بلکہ اس نے مرتے وقت نرسنگھ 4 دیوبندیلے کے مقابلے میں اپنی قابلیت کا جوہر سب پرظاہر کر دیا۔ مقابلے کے وقت اس کے اکثر ہمراہی بھاگ گئے تھے اور چندآدمی جو بچے تھے وہ اس کو یہ صلاح دے رہے تھے کہ اس تھوڑی سی جمعیت پر بندیلے کا مقابلہ کرنا مصلحت نہیں مگر وہ نہایت ترشی سے یہ کہہ کر کہ ’’مگر بگریزم؟‘‘ اکیلا فوج مخالف میں جا گھسا۔ لیکن چونکہ پیمانہ عمر لبریز ہو چکا تھا، گھوڑا ٹھوکر کھا کر گرا اور اس کے گرتے ہی مخالفوں نے شیخ کا کام تمام کر دیا۔سلطان شہاب الدین غوری 5 کو مؤرخوں نے بہت سخت اور تندمزاج لکھا ہے اور اس کے ثبوت کے لئے اس کی وہ زیادتی پیش کرتے ہیں جو فتح اجمیر کے بعداس سے ظہور میں آئی یعنی کئی ہزار آدمی جوفتح کے بعد بچ رہے تھے، ان سب کو تیغ بے دریغ کے حوالے کیا۔ مگر باوجود اس کے اس کی سختی اور تند مزاجی کو اس سبب سے مذموم نہیں سمجھا کہ جس فتنہ و فساد کے زمانے میں وہ مسلط ہوا تھا اس کے لئے ایسے ہی مزاج کا بادشاہ ہونا سزاوار تھا۔جس طرح دنیا کی بہبودی کا مدار مقتضائے وقت کی موافقت پر ہے اسی طرح دین کی کامیابی بھی اسی پر موقوف ہے۔ کتاب مقدس (توریت) میں خداتعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کی بڑی تعریف اس بات پر کی ہے کہ وہ مصریوں کے تمام علوم میں کامل تھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ نبوت جیسا جلیل القدر منصب بھی اسی شخص کو عطا ہوتا ہے جس میں زمانہ حال کے حسب حال ہونے کی پوری پوری قابلیت ہوتی ہے۔ہمارے نبی برحق علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو دعوت اسلام میں نمایاں کامیابی حاصل کی اس کا بڑا ذریعہ عبارات قرآنی کی حلاوت اور ملاحت تھی۔ جس کا مدار بالکل متقضائے وقت کی موافقت پر تھا کیونکہ اس وقت شعروشاعری کے شور سے تمام عرب گونج رہا تھا اور فصاحت و بلاغت کے دعوے نہایت توجہ سے سنے جاتے تھے۔ کوئی کمال علم ادب کے ہم پلہ نہ سمجھا جاتا تھا اور کوئی ہتھیار تیغ زبان کے برابر کارگر نہ ہوتا تھا۔ آں حضرت (صلعم) کے بعد پہلی اور دوسری خلافت میں جو اسلام کو ترقی روز افزوں نصیب ہوئی اور کوئی فتنہ ایسا حادث نہ ہوا جو اس کے زور وطاقت کی مزاحمت کرتا، اس کااصلی سبب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ منصب خلافت کے لئے آگے پیچھے ایسے دو شخص انتخاب کئے گئے جن کا چلن اور برتاؤ بالکل متقضائے وقت کے موافق تھا اور اس سبب سے زمانہ ان کا معین و مددگار بن گیا۔ چنانچہ اسی مصلحت کے لئے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب مرتضویؓ کے استخلاف کی نسبت وانی لااراکم فاعلین 6 فرمایا اور شیخین ؓ 7 کی نبست کچھ تردد ظاہر نہ فرمایا۔عمرفاروقؓ 8 کی شدت چونکہ مقتضائے وقت کے موافق تھی اس لئے مرزعہ اسلام کے حق میں ابررحمت کا کام کرگئی اور عثمان 9 ذی النورینؓ کی مروت جو انہوں نے مروان بن الحکم 10 وغیرہ کے ساتھ برتی، چونکہ وہ متقضائے وقت کے موافق نہ تھی اسی لئے اس فتنہ عظیم کی اصل قرار دی گئی جو آپؓ کے آخرعہد خلافت میں رونما ہوا اور جس کا نتیجہ آپ کی شہادت تھا۔ ایک زمانے میں متقضائے وقت یہ تھا کہ محدثین اسلام (اسی خیال سے کہ رسول مقبولؐ کے ارشادات تمام و کمال فراہم ہو جائیں) روایات کے اخذ کرنے میں رطب ویا بس کی کچھ تمیز نہ کرتے تھے۔ پھر دوسرے زمانے کا مقتضایہ ہوا کہ ان روایتوں کی تنقید اور ان کے راویوں کی چھان بین کی جائے اورصحیح کو سقیم سے، قوی کو ضعیف سے، معروف کو منکر سے اور ثابت کو موضوع سے جدا کیا جائے۔ اگروہ پہلا طبقہ متقضائے وقت کا لحاظ نہ کرتا توعلم نبیؐ کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا۔ اور اگر یہ دوسرا گروہ کھڑا نہ ہوتا تو حق وباطل اور صدق و کذب کا امتیاز دشوار ہو جاتا۔بڑی دلیل اس بات کی کہ متقضائے وقت کا لحاظ ضروریات دین سے ہے، وہ روایت ہے جس کو مسلم 11 نے ابوہریرہ 12 سے روایت کیا ہے۔ اس روایت کا ماحصل یہ ہے کہ آں حضرت صلعم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ ’’جو شخص صدق دل سے لاالہ الا اللہ کہے گا وہ ضرور بخشا جائےگا۔‘‘ عمر فاروق یہ سن کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ’’اس بشارت سے لوگ اعمال صالحہ کی بجاآوری میں قصور کریں گے۔ آپ ؐ نے فاروق اعظم ؓ کی اس رائے کو پسند فرمایا اورتاوقتیکہ روایات کی تدوین کرنے کی ضرورت نہ پڑی یہ خوشخبری تمام امت میں عام نہ ہوئی۔ الغرض دنیا کی بہبودی یا دین کی کامیابی متقضائے وقت کی موافقت کے بغیرحاصل نہیں ہو سکتی۔مگر اس موافقت سے ہماری یہ مراد ہرگز نہیں کہ مثلاً بے دینی اور الحاد کے زمانے میں دین ومذہب سے ہاتھ اٹھا بیٹھیں اورعیش و عشرت کے زمانے میں جفاکشی اورمحنت سے دست بردار ہو جائیں، یا جہاں خوشامد کا بازارگرم ہو وہاں خوشامدی بن جائیں اور جہاں مسخرہ پن کا زور ہو وہاں غیرت اور حمیت کو بالائے طاق رکھ دیں۔ نہیں بلکہ ہماری رائے میں کوئی برے سے برا زمانہ ایسا نہیں ہوتا جس میں متقضائے وقت کے موافق کوئی نہ کوئی جائز طریقہ کامیابی کا موجود نہ ہو۔ جب فلسفہ یونانیہ یونانی زبان سے عربی زبان میں منتقل ہوا اور بطلیموس 13 اور ارسطو 14 کے خیالات عرب اورعجم کے گلی کوچوں میں منشتر ہو گئے تو الحاد اور بے دینی نے لوگوں کے دلوں میں چٹکیاں لینی شروع کیں۔ یہاں تک کہ نصوص قرآنی اورحادیث نبوی پر دھڑا دھڑ اعتراض ہونے لگے اور جابجا دین میں رخنے نکلنے لگے، اس وقت علما کے فروغ اور کامیابی کے دو طریقے پائے جاتے تھے۔ ایک ناجائز اور دوسرا جائز۔ ناجائز طریقہ یہ تھا کہ مسائل فلسفیہ کی تائید کرکے الحاد کی آگ کو اور مشتعل کر دیتے اور آزادی جیسی من بھاتی چیز کو دنیامیں پھیلا کر دنیوی فروغ حاصل کرتے۔جائز ذریعہ یہ تھا کہ شریعت اور حکمت میں تطبیق یا مسائل حکمیہ کی تغلیط کرکے الحاد کی آنچ سے دین کو بچاتے اور معترضوں کی زبان بند کرتے۔ چنانچہ علمائے اسلام نے (شکراللہ سعیھم) یہی جائز طریقہ اختیار کیا اور فلسفہ یونانیہ کے مقابلے میں ایک جدا فلسفہ قائم کیا جواہل اسلام میں علم کلام کے نام سے مشہور ہے۔جلال الدین اکبر کا زمانہ (جیسا کہ اکثرمؤرخوں نے لکھا ہے) ظاہر اًبے دینی اورالحاد کا زمانہ ثابت ہوتا ہے اور اس سبب سے ممکن ہے کہ بہت سے لوگوں کی کامیابی کا ذریعہ یہی بے دینی اور الحادہو، مگر تاریخ کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے عہد میں کامیابی کا بڑا ذریعہ شجاعت و بہادری یا فضل و کمال اورعلم و ہنر تھا۔ کیونکہ اس کے درباریوں اورمقربوں میں کوئی آدمی ایسا نہیں معلوم ہوتا جس نے بغیر کسی کمال یا ہنر کے محض بے دینی اورالحاد کے ذریعہ سے معتدبہ امتیاز حاصل کیا ہو بلکہ اس کے ارکان دولت میں ایسے آدمی پائے جاتے ہیں جو اپنے مذہبی قواعد کے نہایت پابند تھے اورجنہوں نے صرف اپنے فضل و کمال کی بدولت بادشاہ کے دل میں جگہ پائی تھی جیسے ملا فتح اللہ شیرازی 15 مسلمانوں اور راجہ ٹوڈرمل 16 ہندوؤں میں۔ یہ دونوں شخص اکبری دورمیں مذہب کے نہایت متعصب گنے جاتے تھے۔ باایں ہمہ ملا نے اپنے علوم عقلیہ و نقلیہ کے سبب اور راجہ نے حساب سیاق کی مہارت سے یا دانشمندی اورحسن تدبیر کی جہت سے دربارشاہی میں جو مرتبہ حاصل کیا وہ سب پرروشن و ہویدا ہے۔بہرحال جہاں کامیابی کے دوچار ناجائز طریقے پائے جاتے ہیں وہاں کوئی نہ کوئی جائزطریقہ بھی ضرور موجود ہوتا ہے اور جو کامیابی ان ناجائز طریقوں سے حاصل ہوتی ہے وہ اس کامیابی کے برابر کبھی پائیدار اور مستحکم نہیں ہوتی جو جائز طریقہ سے حاصل ہو سکتی ہے، ہم نے بارہا تجربہ کیا ہے کہ جن درباروں میں مثلاً خوشامد کا بازار گرم تھا اورجہاں حاکم کی مرضی کے خلاف بولنا جرائم کبیرہ کے ارتکاب سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا تھا، جب وہاں کوئی سچا اور آزادطبیعت کا آدمی پہنچا تو اگرچہ اس کو چند روز اپنی آزادطبیعت کی کسی قدر روک تھام کرنی پڑی لیکن آخر اس کی راستی اپنا رنگ جمائے بغیر نہ رہی، رفتہ رفتہ اسی کا قول معتبر ٹھہرا اور اسی کی صلاح نیک سمجھی گئی۔ان تمام شہادتوں سے ہم بآسانی یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ ہندوستان کی اکثر قومیں جو روز بروز اقبال مند ہوتی جاتی ہیں اور مسلمانوں کی قوم بداقبالی کے بھنور اور ذلت کی دلدل سے کسی طرح نہیں نکلتی، اس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ اور لوگ اپنی حالت کو زمانے کے موافق بناتے جاتے ہیں لیکن مسلمان اپنی وضعداری کو ہاتھ سے نہیں دیتے۔اے ہندوستان کے مسلمانو! کیا تم ابھی اسی عالم میں ہو جس میں تمہارے آبا و اجداد زندگی بسر کر گئے ہیں اورکیا تم اسی کھیتی کے پروان چڑھنے کے منتظر ہو جس میں تمہارے بزرگوں نے تخم افشانی کی تھی؟ مدت ہوئی کہ وہ عالم گزر گیا اور وہ کھیتی دریا برد ہو گئی۔ ذراآنکھیں کھولو اور دیکھو کہ تم کون ہو؟ اورکہاں ہو؟ تمہاری گرہ میں جودام ہیں وہ بازار میں آج پھوٹی کوڑی کو نہیں چلتے۔ تمہاری دکان میں جو مال ہے اسے کوئی مفت بھی لینا نہیں چاہتا۔ تمہارے چراغ میں جو تیل تھا وہ جل لیا اور تمہاری کھیتی میں جو پانی تھا وہ سوکھ گیا۔ دیکھو! تمہاری ناؤ بودی ہے اور دریا دم بدم چڑھتا جاتا ہے۔ تمہارا قافلہ پیادہ ہے اور منزلیں کٹھن آتی جاتی ہیں۔اس تمہید سے ناظرین کو ضرور یہ خیال پیدا ہوگا کہ ہم آگے چل کر اپنی قوم کو انگریزی پڑھنے، میز کرسی لگانے، کوٹ پتلون پہننے اور چھری کانٹے سے کھانے کی ترغیب دیں گے، کیوں کہ ظاہرا ًزمانہ حال کا مقتضایہی معلوم ہوتا ہے۔ مگر ان کو یاد رہے کہ ہماری مراد اس تمہید سے یہ ہرگز نہیں ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ جس بری حالت میں ہیں اس سے نکلنے کی جو سیدھی راہ انہیں نظر آئے، اسی راہ کو اختیار کریں اور جس طرح ہو سکے اپنا قدم آگے بڑھائیں کیونکہ زمانہ بآواز بلند کہہ رہا ہے من استوی یوماہ فھو مغبون یعنی جس کے دودن ایک حالت پر گزریں وہ خسارہ میں رہا اور در و دیوار سے یہ صدا آ رہی ہے کہ۔ ع یا قدم آگے بڑھاؤ ورنہ لو راہ عدم۔دنیا میں آج کل ایک عام گھوڑ دوڑ کا تماشا ہور ہا ہے۔ ہرگروہ کے شہسوار جوق جوق اس میں آتے ہیں اور اپنے اپنے ہنر دکھاتے جاتے ہیں۔ کچھ ان میں سے گجردم آتے ہی برق خاطف کی طرح ایک آن واحد میں گزر گئے، کچھ ان سے پیچھے پہنچے، کچھ راہ میں ہیں مگر افتاں و خیزاں چلے جاتے ہیں۔ کتنوں نے اپنے گھوڑوں کی ابھی باگ اٹھائی ہے، کتنے چلنے کی تیاری کررہے ہیں لیکن بہتوں کو ابھی گھوڑدوڑ کی خبر بھی نہیں پہنچی، ان کے گھوڑے تھان پر بندھے ہوئے ہیں اور خود آرام سے پڑے سوتے ہیں۔ شاید وہ اس وقت بیدار ہوں گے جب گھوڑدوڑ کا وقت نکل جائےگا اور وہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔ اے مسلمانو! ہم کوخوف ہے کہ وہ ناکام گروہ کہیں تمہاری ہی قوم نہ ہو! اور وہ ہاتھ جوحسرت سے ملے جائیں گے تمہارے ہی ہاتھ نہ ہوں۔اے مسلمانو! تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ جوشے تم کو ابھرنے نہیں دیتی وہ کیا ہے؟ اور جس کے سبب تم جنبش نہیں کر سکتے وہ کون سی بندش ہے؟یاد رکھو وہ تمہاری بے ہودہ تقلید ہے جس نے تم کو مذہبی امور ہی میں مجبور اور بے اختیار نہیں کیا بلکہ تجارت میں، زراعت میں، علم و ہنر میں، حرفے اور پیشے میں، غرض ہر کام میں تمہاری عقلوں پر پردہ اور ہر راہ میں تمہارے پاؤں میں بیڑی ڈال رکھی ہے۔ اورتم کو اس پرند جانور کی مانند بے بس کر رکھا ہے جس کے پر کٹے ہوں اور آنکھیں سی ہوئی ہوں، نہ توم میں طاقت پرواز ہے، نہ نگاہ دوربیں۔ تقلید نے تم کو تمام دینی اور دنیوی ترقیوں سے فارغ البال کر رکھا ہے اور تمہارے کان میں یہ پھونک دیا ہے کہ جو کچھ کرنا تھا سو اگلے کر گئے۔ اب اس سے زیادہ کرنا غیر ممکن ہے۔ تمہارے نزدیک جس قطع کی کشتی طوفان نوح میں بنائی گئی تھی اس سے بہتر کوئی وضع انسان کے ذہن میں نہیں آ سکتی اور جو پیشہ آج سے ہزار برس پہلے تمہارے بزرگوں نے اختیار کیا تھا اس کے سوا کسی حیلے سے تم روٹی نہیں کما سکتے، تمہارے نزدیک تمام عقل انسانی پہلے طبقوں پرتقسیم ہو گئی اور انہوں نے تمہارے لئے کوئی موقع ایسا نہ چھوڑا جس میں تم کو اپنی انسانیت سے کچھ کام لینے کی ضرورت پڑے۔شیخ 17 نے قانون میں بدن انسان کی تشریح جو لکھ دی، سو لکھ دی اور محمدحسین دکنی برہان قاطع میں لغات فارسی کی تحقیق کر گیا سو کر گیا۔ اب کون ہے جو قانون سے کچھ بڑھ کر لکھ سکے یا برہان میں کوئی عیب نکال سکے؟ تم صرف انہیں لوگوں کی تقلید نہیں کرتے جن کے ساتھ تم کو حسن عقیدت ہے بلکہ طب میں جالینوس 18 کی، منطق میں ارسطو کی، ہندوستان کی رسموں میں ہندوؤں کی تقلید کو بھی اسی قدر ضروری جانتے ہو جس قدرمذہب میں امام اعظم 19 کی تقلید تمہار نزدیک واجب و لازم ہے۔ اگر کسی کو اس بات میں تامل ہو تو نکاح بیوگان کے معاملہ میں غور کرے اور دیکھے کہ اس کا مجوز کون ہے؟ اور مانع کون؟ اور ہندوستان کے عام مسلمانوں نے مجوز کے حکم کی تعمیل کی ہے یا مانع کا کہنا مانا ہے۔اسی تقلید کی بدولت تم میں ایک اور مرض پیدا ہو گیا ہے جس نے تمہاری رہی سہی ہمت خاک میں ملادی ہے اور تم کو بالکل اپاہج کر دیا ہے۔ پوچھو وہ کیا ہے؟ وہ خانہ خراب وضعداری ہے، جس کی ہدایت سے تم ترقی کرنے والوں کومتلون مزاج سمجھتے ہو اور ڈھورڈنگروں کی طرح سدا ایک حالت پر رہنے کو کمال نفس انسانی قرار دیتے ہو۔ ہندوستان کے وضعداروں کی یہ رائے ہے کہ آدمی اپنی زندگی میں جو طریقہ یا جو حالت اختیار کرے اس کو آخرعمر تک ترک نہیں کرنا چاہئے۔ جوانی میں اگر داڑھی چڑھانے کی عادت ہو جائے تو سن شیخوخت تک اس وضع کو نباہنا ضروری ہے اور بچپن میں اگر کامدار ٹوپی پہننے کالپکا پڑجائے تو بڑھاپے کے جھریائے ہوئے چہرے کوبھی اس سے محروم نہیں رکھنا چاہئے۔چنانچہ معتبرراویوں سے سنا گیا ہے کہ دو بزرگوار نجف خانی جن کا سن شریف ساٹھ پینسٹھ سے متجاوز ہو گیا تھا اور نہایت متقی اور متورع آدمی تھے ہرجمعہ کو شاہد عبدالعزیز صاحب 20 کے درس میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ شاہ صاحب بھی ان کی کمال تعظیم کرتے تھے۔ باایں ہمہ تقدس دونوں حضرات داڑھی گھٹواتے تھے۔ بعض منہ پھٹ آدمیوں نے جوان پراعتراض کیا تویہ فرمایا کہ ہم خود اس حرکت سے منفعل ہیں مگر کیا کریں جو وضع قدیم سے چلی آتی ہے اس کے خلاف کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ اسی طرح ایک شریفوں کی بستی میں ایک صاحب سن رسیدہ بڑے نمازی اور پرہیزگار تھے مگرعشاء کی نماز کبھی نہ پڑھتے تھے۔ لوگوں نے سبب پوچھا تو فرمایا کہ بچپن میں تو اس سبب سے نہ پڑھی کہ کھانا کھاتے ہی شام سے سو رہے تھے۔ جوانی میں لہوولعب مانع رہا، اب بڑھاپے میں نئی بات کرتے ہوئے جی ہچکچاتا ہے۔خیر ہم اپنے قدما کی اس رائے پر اعتراض نہیں کرتے کیوں اس وقت زمانے کا متقضایہی تھا۔ سلطنت مغلیہ پرزوال آ چکا تھا، ترقی کی راہیں فتنہ وفساد کے سبب چاروں طرف سے مسدود تھیں۔ طبیعتوں پر مایوسی اور افسردگی چھائی ہوئی تھی، ایسے وقت میں تنزل کے جس قدر آثار مسلمانوں میں پائے جاتے، تھوڑے تھے۔ مگر ہم کو اپنے ہم عصروں کے حال پربے اختیار رونا آتا ہے جو اس امن اور آزادی کے زمانے میں بھی وضعداری کے حصار سے باہرنہیں نکلتے اور متقضائے وقت کو نہیں دیکھتے۔ نہ آپ ترقی کرنا چاہتے ہیں اورنہ اوروں کی ترقی کو پسند کرتے ہیں۔ جو شخص اپنی پست حالت سے نکل کر اچھی حالت میں آنا چاہتا ہے اس کونرامتلون مزاج یا بے استقلال ہی نہیں بتاتے بلکہ اس پر انواع واقسام کی رائیں لگاتے ہیں جن میں سب سے ہلکا الحاد کا فتویٰ ہے۔شائستہ ملکوں میں آج کل ترقی کی یہ صورت ہے کہ جوشخص پانچ سات برس کہیں پردیس میں رہ آتا ہے وہ اس قابل نہیں رہتا کہ وطن میں پہنچ کر اسی وقت وہاں کی عام مجلسوں میں شریک ہو جائے، جتنے دنوں وہ باہر رہتا ہے اتنی مدت میں وہاں اس قدر ترقی ہو جاتی ہے کہ یہ وہاں پہنچ کر ایک دوسرا عالم دیکھتا ہے اور اپنے تئیں اس شعر کا مصداق پاتا ہے،عبارت کو تہ و دل تنگ و خاصان ملک زیباچہ داند مرد صحرائی طریق کار سازی راسچ یہ ہے کہ آیۃ کل یوم ھوفی شان کے معنی ایسے ہی ملکوں میں جاکر کھلتے ہیں اور انسان کا اشرف المخلوقات اورخلیفۃ الرحمن ہونا وہیں جا کر ثابت ہوتا ہے نہ کہ ہندوستان میں اور خاص کر ہمارے بھائی مسلمانوں میں، جن کی حالت کو دیکھ کر خداتعالیٰ کی قدرت اور اس کی فیاضی ایک خاص حد تک محدود معلوم ہوتی ہے اور اس آیت کے معنی صرف اعتقاد اًتسلیم کرنے پڑتے ہیں کہ 21 ولقد کرمنا بنی آدم و حملنھم فی البر والبحر ورزقنھم من الطیبات و فضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا۔بار خدایا! ہماری قوم کو تقلید بے جا اور وضعداری بے سروپا سے نجات دے اور ان کو دینی ودنیوی ترقیات پر آمادہ کر۔ ان کا ادب ان کو قدماء سے آگے نہیں بڑھنے دیتا اور ان کی وضعداری پستی سے بلندی کی طرف نہیں جانے دیتی۔ کاش یہ بے ادب متلون مزاج ہی بن کرقدم آگے بڑھائیں اور جوہر قابل کی قدر پہچانیں جو تونے بنی انسان کے تمام اگلے اور پچھلے طبقوں کو یکساں عنات کیا ہے،\nسر روحانیاں داری بلے خود را نہ دیدستیبخواب خود در آتا قبلہ روحانیاں بینی\n\nحاشیے(۱) محی الدین ابن عربی ملقب بہ شیخ اکبر، فتوحات مکیہ و فصوص کے مصنف بہت سے علوم بالخصوص تصوف اور فلسفہ کے زبردست عالم، اندلس کے شہرمرسیہ میں ۱۰ رمضان ۵۶۰ھ کو پیدا ہوئے۔ کثیرالتصانیف آزاد، نڈر اورنہایت صاف بیان شخ تھے۔ آپ نے ۶۳۸ھ میں بمقام دمشق رحلت کی اورمیدان قاسیون میں دفن ہوئے۔(۲) انوری فارسی زبان کااعلیٰ درجہ کا شاعر، بڑاحکیم اور فلسفی تھا۔ اہل سخن اسے پیمبرسخن مانتے ہیں۔ آپ کو نجوم کا بھی دعوی تھا جس کی بدولت بڑی بڑی تکلیفیں اٹھائیں۔ سلطان سنجر کے دربار سے بھاگ کر بلخ چلا گیا۔ بلخ والوں سے ناراض ہوکر بلخ اور اہل بلخ کو ہجومیں ایک قصیدہ لکھا۔ اس پر لوگوں نے ناراض ہو کر ۵۸۲ھ میں قتل کر ڈالا۔(۳) اس فقرے میں مشہور و معروف رباعی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے،درشعر سہ کس پیمبرانندہرچند کہ لا نبی بعدیابیات قصیدہ وغزل رافردوسی و انوری و سعدی(۴) سلطان سنجر۔ فارس کا نہایت مشہور اورعلم دوست بادشاہ تھا۔ ۱۰۹۴ء میں تخت پر بیٹھا۔ ۱۱۵۳ء میں ترکمانوں پر حملہ کیا۔ وہاں گرفتار ہو گیا۔ چار سال تک ان کی قیدمیں رہا۔ اس کی غیرحاضری میں اس کی بیوی سلطانہ خاتون نہایت قابلیت اور خوبی کے ساتھ حکومت کرتی رہی۔ سنجر آخر قید سے فرار ہوا۔ اور تھوڑے ہی دن حکومت کرنے پایا تھا کہ ۱۱۵۷ء میں پیغام اجل آ گیا۔(۵) شیخ ابوالفضل نہایت فاضل، بڑا ادیب اور شہنشاہ اکبر کا وزیراعظم تھا۔ آئین اکبری اور اکبرنامہ اس کی مشہور تصانیف ہیں۔ فیضی کا بھائی اور شیخ مبارک کا بیٹا تھا۔ ۹۵۷ھ میں پیدا ہوا اور صرف ۲۳ سال کی عمر میں وزیراعظم ہو گیا۔ جہانگیر کے اشارے سے نرسنگھ دیو نے ۱۰۱۱ھ میں قتل کیا۔(۶) نرسنگھ دیوبندیلہ دکن کا ایک لٹیرا اور قزاق تھا۔ جب بادشاہ نے ابوالفضل کو دکن کی مہم پربھیجا تو اسی نرسنگھ دیو نے شہزادہ سلیم کی تحریک سے ابوالفضل پر اس مہم کی واپسی پر اجین کے قریب حملہ کیا۔ ابوالفضل کمال شجاعت و بہادری سے لڑا لیکن مارا گیا۔(۷) شہاب الدین غوری۔ افغانستان کے پہاڑی علاقوں کا حاکم، ہندوستان میں سلطنت اسلامیہ کی بنیاد ڈالنے والا اور نہایت اولوالعزم اور باہمت بادشاہ تھا۔ اس نے ۱۲۰۲ تک حکومت کی ہے۔ ہندوستان پر پہلے حملے میں پر تھی راج والئی دہلی و اجمیر سے شکست کھا کر واپس لوٹ گیا مگر تیسرے سال ۱۱۵۳ میں پرتھی راج کو تھانیسر کے مقام پر بڑی سخت شکست دی جس میں تقریباً ایک سو پچاس راجہ پرتھی راج کی امداد کو اپنی اپنی فوجیں لے کر آئے تھے۔ اس فتح سے تمام شمالی ہندوستان شہاب الدین کے قبضہ میں آ گیا۔ واپسی پر شہاب الدین اپنے غلام قطب الدین نامی کو ہندوستان کا بادشاہ کرکے چھوڑ گیا جس کی اولاد نے مدتوں یہاں سلطنت کی ہے۔(۸) یعنی میں تمہیں کرنے والا نہیں دیکھتا۔(۹) شیخین سے مراد حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ہیں۔(۱۰) عمر فاروق، صدیق اکبر کے جانشیں، اسلام کے دوسرے خلیفہ۔ آپ کے عہد مبارک میں تمام عراق، عرب، شام، ایران اور مصر کے ممالک مسلمانوں کے قبضہ میں آئے اور اسلام کو وہ شوکت حاصل ہوئی جس کی نظیر مستقبل میں پھر نہ مل سکی۔ ساڑھے دس سال خلافت کرنے کے بعد صبح کی نماز پڑھتے ہوئے ایک غلام کے ہاتھ سے شہید ہوئے۔ آپ نے ۱۳ھ (۶۳۴ء) سے ۲۳ھ ۶۴۲ء تک خلافت کی۔ آپ کا بے نظیرعدل، انتہا درجے کی سادگی، خوش انتظامی مشہور و معروف ہے۔(۱۱) عثمان ذی النورین اسلام کے تیسرے خلیفہ ہیں۔ فارس کے اکثر شہر شاہ روم کا علاقہ اور شمالی افریقہ کے بعض ممالک آپ کے عہدمیں اسلامی حکومت میں شامل ہوئے۔ نہایت رحم دل، رقیق القلب اور منکسرالمزاج تھے۔ ۱۲ سال خلافت کرکے بعد۵ ۷ سال کی عمر میں شہید ہوئے۔ آپ نے ۲۴ھ (۶۴۴ء سے ۳۵ھ ۶۵۶ء تک خلافت کی ہے۔)(۱۲) مروان ابن الحکم۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاحقیقی عم زاد بھائی اور بڑا عیارشخص تھا۔ اسی کی شرارتیں اور چالاکیاں حضرت خلیفہ ثالثؓ کی پرالم شہاد ت کا باعث ہوئیں۔ بنی امیہ کی حکومت قائم ہونے پر یہ اپنی ہوشیاری سے معاویہ ثانی کی وفات کے بعد ۶۴ھ ۶۸۴ء میں تمام دنیائے اسلام کا بادشاہ ہو گیا۔ مگرصرف ۲۹۸ دن حکومت کرنے پایا تھا کہ اس کی بیوی زینب نے ۲ رمضان ۶۵ھ مطابق ۱۲ اپریل ۶۸۵ء کو اسے زہر دے کر مار ڈالا۔(۱۳) مسلم۔ امام مسلم بن حجاج نیشاپوری بہت بڑے محدث اور امام المحدثین حضرت امام بخاری کے خاص اور ممتاز شاگردوں میں سے تھے۔ صحاح ستہ کی کتابوں میں صحیح بخاری کے بعد آپ کی کتاب کا درجہ ہے جو عام طور پرصحیح مسلم کے نام سے مشہور ہے۔ ۲۰۴ھ میں پیدا ہوئے اور ۲۶۱ھ میں انتقال فرمایا۔(۱۴) ابوہریرہ حضور صلعم کے بڑے پایہ کے صحابیوں میں سے ہیں۔ ۵۷ھ میں وفات پائی۔۔(۱۵) بطلیموس مصر کا ایک مشہور مہندس، علم نجوم و ہندسہ کا ماہر، پہلا جغرافیہ داں اور ہیئت کی مشہور کتاب ’’محبطی‘‘ کا مصنف ہے۔ اسی نے پہلے پہل کرہ ارض کا نقشہ بنایا اور نظام شمسی کی تحقیقات کی۔ ۸۰ برس کی عمر میں ۲۴۷ قبل مسیح وفات پائی۔(۱۶) ارسطو معروف بہ ارسطاطالیس۔ حکمائے یونان کا سرگروہ، شہنشاہ سکندر اعظم کا استاد اور افلاطون کا شاگرد تھا۔ صرف، نحو، ادب، معانی، علم الاخلاق، سیاست مدن، طبیعات، الہیات اور ریاضیات کا زبردست عالم تھا۔ اہل علم میں ’’معلم اول‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ ۲۸۴ء ق م پیدا ہوا اور ۳۱۲ ق م وفات پائی۔(۱۷) ملا فتح اللہ شیرازی دربار اکبری کا نہایت گراں پایہ عالم اور مقتدر رئیس تھا۔ باوجود تقدس مذہبی کے علوم عقلیہ مثلاً ہیئت وہندسہ، نجوم، رمل، حساب، طلسمات، نیر نجات خوب جانتا تھا۔ خصوصاً علم ہیئت میں نہایت کامل تھا اور علوم عربیہ، حدیث، تفسیر اور علم کلام سے بھی خوب واقف تھا۔ کشمیر میں ۵۹۷ھ میں وفات پائی۔(۱۸) ٹوڈرمل عہد اکبر کا بہت بڑا محاسب اور قانون مالگزاری کامدون، اکبر اس سے بہت خوش تھا۔ اوراس کو اپنے بہترین رفیقوں میں سے سمجھتا تھا۔ ۱۵۸۹ء میں وفات پائی۔(۱۹) شیخ الرئیس بوعلی حسین علی بن سینا۔ حکمائے اسلام میں بڑا حاذق طبیب اور بے نظیر فاضل گزرا ہے۔ صرف ونحو، زبان دانی، طب، ہندسہ وہیئت، منطق اور فلسفہ وغیرہ تمام مروجہ وقت علوم و فنون میں صرف سولہ سال کی عمر میں وہ کمال پیدا کیاکہ شیخ (پروفیسر یااستاد) کے لقب سے پکارا جانے لگا۔ ’’قانون‘‘اس کی طبی تصانیف میں ایسی جامع کتا ب ہے جس کی نظیر نہیں۔ اس کے علاہ مختلف علوم و فنون پر اس نے اور بھی بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ ۳ صفر ۲۷۵ھ کو پیدا ہوا اور ۵۳ سال کی عمر میں درد قولنج سے ۴۲۸ھ میں وفات پائی۔(۲۰) جالینوس۔ یونان کامشہور حکیم اوراعلیٰ درجہ کا طبیب تھا۔ ۱۳۰ تا ۲۰۱ق۔ م(۲۱) امام اعظم۔ نعمان ثابت نام۔ ابوحنیفہ کنیت اورامام اعظم لقب ہے۔ ۸۰ھ میں پیدا ہوئے۔ اہل سنت والجماعت کے امام، بہت بڑے فقیہ، مجتہد اورمحقق شریعت تھے۔ خلیفہ وقت نے باوجود اصرار کے عہدہ قضا قبول نہ کرنے کی وجہ سے قیدکردیاتھا اوروہیں ۱۵۰ھ میں خفیہ طورپر زہر دے کر اس آفتاب علم کا خاتمہ کردیاگیا۔(۲۲) شاہ عبدالعزیز۔ ہندوستان کے قابل فخر اور مایہ ناز محدث حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے نامور فرزنداور نہات قابل اورعالم باعمل بزرگ تھے۔ تفسیر فتح العزیز، تحفہ اثناعشریہ اورسرالشہادتین آپ کی مشہور کتابیں ہیں۔ ۱۱۵۹ھ ۱۷۴۶ء میں پیدا ہوئے اور ۱۲۳۹ھ ۱۸۲۴ء میں انتقال فرمایا۔(۲۳) یہ آیت پندرھویں پارہ اور سورہ بنی اسرائیل کے ساتویں رکوع کے آخر میں ہے ’’اورالبتہ ہم نے بزرگی دی انسان کواور اس کو بحروبرپرحاکم بنایا اور تمام پاکیزہ اشیا میں اس کے لئے سامان معاش رکھے اور جتنی چیزیں ہم نے پیدا کی ہیں ان میں سے اکثر پرانسان کوفضیلت دی۔‘‘", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%28%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%81_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86_%D8%AD%D8%A7%D9%84%DB%8C%29"} {"title": "زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدارِ یار ہو گا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدارِ یار ہو گا\nسکُوت تھا پردہ دار جس کا، وہ راز اب آشکار ہوگا\n\nگزر گیا اب وہ دَور ساقی کہ چھُپ کے پیتے تھے پینے والے\nبنے گا سارا جہان مے‌خانہ ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا\n\nکبھی جو آوارۂ جُنوں تھے، وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے\nبرہنہ پائی وہی رہے گی، مگر نیا خارزار ہو گا\n\nسُنا دیا گوشِ منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر\nجو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا، پھر اُستوار ہو گا\n\nنکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا\nسُنا ہے یہ قُدسیوں سے مَیں نے، وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا\n\nکِیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میں\nتو پیرِ میخانہ سُن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے، خوار ہو گا\n\nدیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے\nکھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہو گا\n\nتمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی\nجوشاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہو گا\n\nسفینۂ برگِ گُل بنا لے گا قافلہ مُورِ ناتواں کا\nہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا\n\nچمن میں لالہ دِکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو\nیہ جانتا ہے کہ اس دِکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہو گا\n\nجو ایک تھا اے نگاہ تُو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایا\nیہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہو گا\n\nکہا جو قُمری سے مَیں نے اک دن، یہاں کے آزاد پا بہ گِل ہیں\nتو غُنچے کہنے لگے، ہمارے چمن کا یہ رازدار ہو گا\n\nخدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھِرتے ہیں مارے مارے\nمیں اُس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا\n\nیہ رسمِ بزمِ فنا ہے اے دل! گناہ ہے جنبشِ نظر بھی\nرہے گی کیا آبرُو ہماری جو تُو یہاں بے قرار ہو گا\n\nمیں ظُلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو\nشررفشاں ہوگی آہ میری، نفَس مرا شعلہ بار ہو گا\n\nنہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدّعا تیری زندگی کا\nتو اک نفَس میں جہاں سے مِٹنا تجھے مثالِ شرار ہو گا\n\nنہ پُوچھ اقبالؔ کا ٹھکانا، ابھی وہی کیفیت ہے اُس کی\nکہیں سرِ رہ گزار بیٹھا ستم کشِ انتظار ہو گا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D8%8C_%D8%B9%D8%A7%D9%85_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D9%90_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "زمانہ خدا کو خدا جانتا ہے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زمانہ خدا کو خدا جانتا ہے\nیہی جانتا ہے تو کیا جانتا ہے\n\nاسی میں دل اپنا بھلا جانتا ہے\nکہ اک ناخدا کو خدا جانتا ہے\n\nوہ کیوں سر کھپائے تری جستجو میں\nجو انجام فکر رسا جانتا ہے\n\nخدا ایسے بندے سے کیوں پھر نہ جائے\nجو بیٹھا دعا مانگنا جانتا ہے\n\nزہے سہو کاتب کہ سارا زمانہ\nمجھی کو سراپا خطا جانتا ہے\n\nانوکھا گنہ گار یہ سادہ انساں\nنوشتے کو اپنا کیا جانتا ہے\n\nیگانہؔ تو ہی جانے اپنی حقیقت\nتجھے کون تیرے سوا جانتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "زمانہ دیکھے گا جب مرے دل سے محشر اُٹھّے گا گفتگو کا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "زمانہ دیکھے گا جب مرے دل سے محشر اُٹھّے گا گفتگو کا\nمری خموشی نہیں ہے، گویا مزار ہے حرفِ آرزو کا\n\nجو موجِ دریا لگی یہ کہنے، سفر سے قائم ہے شان میری\nگُہر یہ بولا صدف نشینی ہے مجھ کو سامان آبرو کا\n\nنہ ہو طبیعت ہی جن کی قابل، وہ تربیت سے نہیں سنورتے\nہُوا نہ سرسبز رہ کے پانی میں عکس سروِ کنارِ جُو کا\n\nکوئی دل ایسا نظر نہ آیا نہ جس میں خوابیدہ ہو تمنّا\nالٰہی تیرا جہان کیا ہے، نگار خانہ ہے آرزو کا\n\nکھُلا یہ مر کر کہ زندگی اپنی تھی طلسمِ ہوَس سراپا\nجسے سمجھتے تھے جسمِ خاکی، غُبار تھا کُوئے آرزو کا\n\nاگر کوئی شے نہیں ہے پنہاں تو کیوں سراپا تلاش ہوں میں\nنِگہ کو نظّارے کی تمنا ہے، دل کو سودا ہے جُستجو کا\n\nچمن میں گُلچیں سے غنچہ کہتا تھا، اتنا بیدرد کیوں ہے انساں\nتری نگاہوں میں ہے تبسّم شکستہ ہونا مرے سبو کا\n\nریاضِ ہستی کے ذرّے ذرّے سے ہے محبّت کا جلوہ پیدا\nحقیقتِ گُل کو تُو جو سمجھے تو یہ بھی پیماں ہے رنگ و بو کا\n\nتمام مضموں مرے پرانے، کلام میرا خطا سراپا\nہُنر کوئی دیکھتا ہے مجھ میں تو عیب ہے میرے عیب جُو کا\n\nسپاس شرطِ ادب ہے ورنہ کرم ترا ہے ستم سے بڑھ کر\nذرا سا اک دل دیا ہے، وہ بھی فریب خوردہ ہے آرزو کا\n\nکمالِ وحدت عیاں ہے ایسا کہ نوکِ نشتر سے تُو جو چھیڑے\nیقیں ہے مجھ کو گرے رگِ گُل سے قطرہ انسان کے لہُو کا\n\nگیا ہے تقلید کا زمانہ، مجاز رختِ سفر اُٹھائے\nہوئی حقیقت ہی جب نمایاں تو کس کو یارا ہے گفتگو کا\n\nجو گھر سے اقبالؔ دور ہُوں میں، تو ہوں نہ مُحزوں عزیز میرے\nمثالِ گوہر وطن کی فرقت کمال ہے میری آبرو کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D8%A7%D9%8F%D9%B9%DA%BE%D9%91%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جان اسدؔ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جان اسدؔ\nوگرنہ ہم تو توقع زیادہ رکھتے ہیں\n\nتن بہ بند ہوس در ندادہ رکھتے ہیں\nدل ز کار جہاں اوفتادہ رکھتے ہیں\n\nتمیز زشتی و نیکی میں لاکھ باتیں ہیں\nبہ عکس آئنہ یک فرد سادہ رکھتے ہیں\n\nبہ رنگ سایہ ہمیں بندگی میں ہے تسلیم\nکہ داغ دل بہ جبین کشادہ رکھتے ہیں\n\nبہ زاہداں رگ گردن ہے رشتۂ زنار\nسر بہ پاۓ بت نا نہادہ رکھتے ہیں\n\nمعاف بے ہودہ گوئی ہیں ناصحان عزیز\nدل بہ دست نگارے ندادہ رکھتے ہیں\n\nبہ رنگ سبزہ عزیزان بد زباں یک دست\nہزار تیغ بہ زہر آب دادہ رکھتے ہیں\n\nادب نے سونپی ہمیں سرمہ سائی حیرت\nز بن بستہ و چشم کشادہ رکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B3%D8%AE%D8%AA_%DA%A9%D9%85_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%B3%D8%AF%D8%94"} {"title": "زمانہ قدیم میں کبوتروں کی ڈاک", "poet_page": "مصنف:ابو الکلام آزاد", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(۱) اثر خامۂ مولوی ابوالکلام محی الدین احمد آزادؔ دہلوی مقیم کلکتہبسکہ دارد اشتیاق دیدن مطلوب مابال بر بال کبوتر برد مکتوب ماریل کی حیرت انگیز ایجاد نے جن لوگوں کو کسی خبر کے جلد حاصل کرنے کا خوگر بنا دیا ہے وہ تعجب میں ہوں گے کہ زمانۂ قدیم میں جب کہ نہ تو یہ قوتیں مجتمع ہوئی تھیں اور نہ یہ ڈاک کا انتظام تھا، ضروری خبریں شہر بشہر کیسے پہنچتی ہوں گی؟ جنگ کے موقعوں میں کس طریق سے کام لیا جاتا ہوگا؟ فون کی ضرورت، اسباب رسد کی کمی، آلات حرب کی غیر موجودگی، ان سب باتوں کی جن کی فی الوقت ضرورت ہوا کرتی ہے شہر میں کیسے خبر ہوتی ہوگی؟ فتح و ظفر، جن کا مدار انہیں باتوں کی موجودگی پر ہے، کسی فریق کو کیسے نصیب ہوتی ہوگی؟ ضرور ہے کہ فتح کا مدار اتفاقات پر ہوگا۔ یا جن فریق کے پاس ان چیزوں کی زیادہ کمی ہوتی ہوگی وہ ہی شکست کا دل شکن منہ دیکھتا ہوگا مگر ہم انہیں زمانہ قدیم کی تاریخوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں جن کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت نے اس زمانے کی ضرورتوں کے موافق اسی قسم کے ذرائع پیدا کر دیے تھے اور ان سے اسی طرح کے کام نکلتے تھے جو آج اس زمانے کی رفتار سے تیز چلنے والی ریل سے عموماً نکلتے ہیں۔ تاریخ عالم کے دیکھنے والے اور افسانہ عالم کے سننے والے خوب جانتے ہیں کہ دنیا کے کارخانے اسی روش پر چلتے آئے ہیں۔ ایک زمانے میں اس زمانے کی ضرورتوں کے موافق کوئی چیز رفع ضرورت کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی اور آگے چل کر کسی دوسری چیز کی ایجاد اسے فضول ٹھہرا دیتی تھی۔ اور اس وقت اسی قسم کی ضرورتیں پیدا ہو جاتی تھیں۔ دنیائے تاریک میں ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے کہ بحری سفر کے لیے کوئی ذریعہ نہ تھا اور دنیا کی ضرورتیں بھی رفع ہوتی تھیں۔ پھر ایک زمانہ ایسا آیا کہ اس بحری سفر کا ایک آسان ذریعہ پیدا ہوا جسے کشتی سے تعبیر کرتے ہیں اور اس کی دنیا میں ضرورتیں پیدا ہو گئیں۔ پھر اس زمانے بعد کشتی میں اقسامی تغیرات ہوتے رہے اور اپنی اپنی ضرورتیں پیدا کرتے رہے۔ رفتہ رفتہ ایک وہ زمانہ آیا کہ کشتی نے اپنی وسعت میں ترقی کی۔ اور حالت ترقی کا نام اہل دنیا نے جہاز رکھا۔ اس کے بعد یورپ نے اجتماع عناصر سے اسٹیم کا راز دریافت کرکے دخانی جہاز (اسٹیمر) جاری کیا۔ اب وہی جہاز جس کی وسعت اور تیز رفتاری پر زمانہ تعجب کرتا تھا، جس کی ایجاد نے تمام متمدن دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا، فضول خیال کیا جانے لگا اور ہر طرف ملک میں اسٹیمر کا عالمگیر رواج ہو گیا۔ اب سوچو کہ یہ کیوں ہوا؟ کس لیے ہوا؟ بس اس کا یہی جواب ہے کہ قدرت نے دنیا کے کارخانے ہی اس طریق پر رکھے ہیں اور اسی میں نظام عالم کا بڑا بھاری راز ہے۔ پچھلے زمانے میں جس حیرت ناک طریقے سے جلد خبر کے پہنچ جانے کا ذریعہ پیدا کیا گیا تھا، واقعی بات یہ ہے کہ وہ ریل سے کہیں زیادہ تعجب خیز ہے کیونکہ ریل کی ایجاد کتنی ہی حیرت انگیز کیوں نہ ہو مگر فی نفسہ ریل اس قابل نہیں ہے کہ اسے عقل تعجب کی نگاہ سے دیکھے۔ چند قوتوں کا اجتماع عجیب و غریب سرعت پیدا کر سکتا ہے۔ یہ کوئی تعجب کرنے والی بات نہیں ہے۔ مگر ایک ایسی جاندار مخلوق جس میں نہ تو عقل ہو، نہ فراست ہو، نہ قوت ممیزہ ہو، ایسے ایسے کام کرے جو انسانی قواعد کے شایان ہیں، نہایت ہی تعجب خیز امر ہے! اور اس کام کے دریافت کرنے والے کی عجیب و غریب اور حیرت ناک فراست اور خداداد قوت عقلی ثابت ہوتی ہے۔ کسی ایسے زمانے میں کہ بظاہر کوئی سامان انتقال ذہنی کا نہ ہو، کسی ذہنی چیز کی ایجاد تعجب خیز ہے۔ نہ کہ ایسے زمانے میں کہ اس کے سیکڑوں اسباب موجود ہوں اور ایجادات نے اس راستے کی داغ بیل ڈال دی ہو! جس حیوان کے ذریعے سے یہ انسانی کام لیا گیا تھا وہ ہمارے عربک لٹریچر میں انبیاء الطیور، خطماء الطیور، ملائکۃ الملوک 1 کے مقدس ناموں سے موسوم ہے اور عام زبانوں میں اسے’’کبوتر‘‘ کہتے ہیں۔ جس کی ظاہری صورت میں کوئی وجہ انتقال ذہنی کی نہیں پائی جاتی۔ کیا کوئی شخص ’’کبوتر‘‘ کی بھولی بھالی صورت دیکھ کر یہ کہہ سکتا ہے کہ اس مساوی صورت میں اس قدر فراست کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا گیا ہے؟ موجود کی اس لیاقت پر عش عش کرنا چاہیے۔ پچھلے زمانے میں ان کبوتروں کی ڈاک سے شاہان وقت اور امرائے زمانہ نے اس قدر فوائد حاصل کئے ہیں کہ غالباً آج کل تمام دنیا کے کبوتروں کی تجارت میں اس قدر زمانہ منتفع نہ ہوتا ہوگا۔ تاریخ کی کتابوں میں یہ مثل اور واقعات کے تاریخی حیثیت سے لکھا جاتا ہے اور علم ادب کی کتابیں اس حیوان کی صفات سے بھری پڑی ہیں۔ اس وقت ہمارے سامنے علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی عجیب و غریب کتاب حسن المحاضرہ نے اخبار مصر و القاہرہ اور علامہ ابن فضل اللہ دمشقی کی التعریف بالمصطلح الشریف رکھی ہوئی ہیں اور ہم ان کی ورق گردانی سے اپنی انتشار طبیعت کی گردش کو دور کر رہے ہیں۔ ان دونوں کتابوں میں کبوتروں کی ڈاک کی پوری کیفیت اور احوال نہایت ہی دلچسپ طریقے سے تحریر کئے گئے ہیں۔ ہم ناظرین کی دلچسپی کے لیے ان دونوں مستند کتابوں اور نیز بعض اور ادب کی معتبر کتابوں سے (مثل مصنفات قاضی محی الدین اور کاتب عماد وغیرہ وغیرہ کے اور بعض مغربی تصنیفات سے) کچھ ان کا حال ترجمہ کر کے ترتیب دیتے ہیں جس سے ہماری نئی روشنی کے پرستاروں کو معلوم ہوگا کہ ’’ایجادات‘‘ کا سلسلہ کچھ اس نئے زمانے ہی پر موقوف نہیں ہے بلکہ پچھلے زمانوں میں بھی حیرت انگیز ایجادات کا سلسلہ دیکھنے والوں کو متعجب بنا چکا ہے۔ ہم کو خوف ہے کہ کوئی صاحب ہمارے اس بیان کو شاعرانہ خیال پر محمول نہ فرمائیں کیوں کہ بلبل کے نغموں اور کبوتر کی نامہ بری کو حضرات شعرا نے بالخصوص بہت چھکایا ہے اور ان کی دیوان اول سے آخر تک اس کے بیانات سے بھرے پڑے ہیں۔ مگر نہیں! اس وجہ سے کسی ایسے تاریخی واقعے کی صحت میں جس سے تمام مستند تاریخیں مالا مال ہوں کچھ فرق نہیں آ سکتا۔ کیا لیلیٰ مجنوں کے سچے نالوں کو ہم اس وجہ سے کہ شاعر انہیں زیادہ تر اپنی شعری ضرورتوں کے موقعوں پر پیش کیا کرتے ہیں، فرضی ٹھہرائیں گے؟ اور علم ادب عربی کی کتابیں اٹھاکر اور ان میں شاعری کی حیثیت سے خاندان برا مکہ کی باتیں پڑھ کر بوجہ تعلق شعری کے ان کو غلط کہیں گے؟ فافھموا و لاتکونوا من الغافلین۔ اس کا موجد کون ہے؟ اس امر کا پتہ لگانا دراصل نہایت مشکل ہے کہ اس کا موجد کون ہے؟ مغربی اور مشرقی تاریخیں اس بارے میں بالکل خاموش ہیں۔ ہاں اسلامی تاریخ اس امر کا ضرور پتہ دیتی ہے کہ اسلامی سلسلۂ سلطنت میں سب سے پہلے نور الدین محمود زنگی کے وقت میں اس کی ابتدا ہوئی اور گویا اسلام میں اس کی داغ بیل ڈالنے والا نور الدین ٹھہرا۔ بعض تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جس زمانے میں شام اور مصر پر یورپ کے متواتر حملے ہو رہے تھے اور بے خبری کے سبب سے موقع پر کسی قسم کی شاہی فوج نہیں پہنچ سکتی تھی، اس وقت نور الدین محمود زنگی نے کبوتروں کی ڈاک اپنے تمام قلمرو میں قائم کی۔ اوران کے ذریعے سے خبر رسانی کا انتظام کیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ یورپ کی دست اندازیوں سے پہلے سلطان کو خبر ہو جایا کرتی تھی اور وہ موقع پر فوج بھیج کر اس کا کافی انسداد کر دیتا تھا۔ اس طریقے کے برتنے سے تھوڑے ہی دنوں میں سلطان کی سلطنت امن و امان میں آ گئی اور ہر طرف اس کے انتظام کا ڈنکے بجنے لگے۔ لیکن اب بحث طلب یہ امر ہے کہ سلطان نے کس سن میں یہ انتظام کیا؟ جس سے یہ نتیجہ نکل سکے کہ اسلام میں کس سن سے اس ڈاک کی ابتدا ہوئی۔ مورخین کو اس میں اختلاف ہے مگر ہمارے نزدیک سب سے زیادہ مستند قول یہ ہے کہ ’’یہ انتظام ۵۶۷ھ میں ہوا۔‘‘ پس اسلام میں اس طریقہ کو رائج کرنے والا جسے اضافی حیثیت سے موجد کہنا چاہیے، ’نور الدین محمود زنگی‘ ہے۔ نورالدین کے بعد مشہور اسلامی فاتح صلاح الدین کے زمانے میں بھی اس سے کام لیا گیا۔ چنانچہ محاصرہ عکا کے زمانے میں بھی اہل شہر اس طریق سے لشکر تک خبریں پہنچایا کرتے تھے۔ اس زمانے کا مشہور پیراک ’’عیسیٰ‘‘ جب کچھ روپیہ یا مال واسباب لے جایا کرتا تو رسید اہل شہر کو کبوتروں کے ذریعہ سے ارسال کر کے اطمینان دلا دیتے تھے، اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کبوتروں پر کس قدر اعتماد تھا۔ بغداد میں بھی خلیفہ الناصر الدین اللہ نے ادھر خاص توجہ کی تھی اور ایک محکمہ کبوتروں کی غور و پرداخت کے لئے قائم کیا تھا۔ مصر میں جس وقت اس کی قسمت کی باگ فاطمی خلفاء کے ہاتھ میں تھی، کبوتروں کی ڈاک کا بہت رواج تھا۔ ان لوگوں نے بہ نسبت اور بادشاہوں کے ادھر زیادہ توجہ کی تھی۔ السیاتی انشاء اللہ تعالیٰ۔ کبوتروں کی تعلیم اور ان کی غور و پرداخت ہر ایک قسم کے کبوتروں میں نامہ بری کے لئے ’’موصل‘‘ کے کبوتر سب سے اعلیٰ گنے جاتے تھے اور ان کو مناسیب کہتے تھے۔ اور پھر ان کبوتروں میں خاص خاص نسل کے کبوتر عمدہ اور قیمتی گنے جاتے تھے۔ چنانچہ بغداد میں خلیفۂ ناصر کے وقت میں ایک ایک موصلی عمدہ کبوتر ہزار ہزار دینار تک فروحت ہوتا تھا۔ ان کے خاص خاص شجرہ نسب ہوا کرتے تھے اور نسب نامے بڑی تحقیق کے ساتھ لکھے جاتے تھے۔ ان کی غور پرداخت کے لئے خاص ایک وسیع محکمہ قائم کیا گیا تھا (یہ محکمہ۵۹۱ ہجری میں قائم کیا تھا) جن میں ان کی تعلیم کے لئے اس فن کے جاننے والے مقرر کئے جاتے تھے۔ اور اس محکمہ میں اس قسم کی کتابیں تصنیف ہوئی تھیں، جن میں ان کے نسب نامے اور طریقہ تعلیم وغیرہ بطور دستورالعمل کے درج ہوں۔ چنانچہ قاضی محی الدین بن ظاہر نے ایک کتاب ان کے عادات، خصائل اور طریق پیغام رسانی پر لکھی ہے جس کا نام تمائم الحاتم ہے۔ الغرض ان کی غور پرداخت کی طرف خاص توجہ تھی اور بڑی محنتوں اور صرف کثیر کے بعد کہیں ان سے مفید کام لئے جاتے تھے۔ (۲) اثر خامۂ مولوی ابو الکلام محی الدین احمد آزادؔ دہلوی، مقیم کلکتہڈاک کا یہ طریقہ تھا کہ تمام قلمرو میں تقریباً تیس چالیس میل کے فاصلے پر ان کی چوکیاں مقرر کی گئی تھیں۔ ہر چوکی میں ایک عمدہ کبوتر خانہ بنا کر ان میں کبوتروں کے رہنے کی جگہ بنائی گئی تھی۔ وہاں ایک منشی مقرر کیا گیا تھا۔ جب کسی قسم کی خبر اس تک پہنچتی۔ فوراً وہ ایک کاغذ پر لکھ کر کبوتر کے بازو پر باندھ دیتا تھا اور کبوتر وہاں سے نہایت تیز اڑتا ہوا دوسری چوکی پر پہنچتا تھا۔ وہاں کا منشی فوراً اس کے بازو سے خط کھول کر دوسرے کبوتر کے بازو پر باندھ دیتا تھا۔ وہ وہاں سے اڑ کر تیسری چوکی پر آتا اور وہاں سے پھر اسی طرح چوکی بہ چوکی ہوتے ہوئے قلیل عرصے میں خبر منزل منقصود تک پہنچ جاتی۔ اور اگر کبھی مختلف دو خبروں کے سبب سے یا زیادتی خبر کے سبب سے دو کبوتروں پر تقسیم کر کے ایک ساتھ بھیجے جاتے تو ایک دوسرے کی خبر دونوں کبوتروں کے خطوں میں دے دی جاتی تھی۔ اس سے مقصود یہ تھا اگر جانے میں کسی وجہ سے دوسرے کبوتر کو دیر ہو جائے تو اس کا انتظار کیا جائے۔ خبر لکھنے کا کاغذخبر لکھنے کا خاص کاغذ ہوتا تھا۔ جو اپنی ساخت میں سبک اور ہلکا ہوتا۔ اس مخصوص کاغذ کا نام ’’لسان الخلق‘‘ میں ’’ورق الطیر‘‘ رکھا گیا تھا، اور اسی نام سے وہ تمام قلمرو میں مشہور تھا۔ لکھنے کا یہ طریقہ تھا اور کیا اچھا طریقہ تھا کہ ابتدا میں بجائے بسم اللہ الخ کے لکھنے کے بسم اللہ پڑھ لیا جاتا تھا۔ کیونکہ ہر حیوان کا قاعدہ ہے کہ اس پر جس قدر کم بوجھ ہوتا ہے اسی قدر وہ تیز رفتار ہوتا ہے۔ برخلاف اس کے چرند پرند کہ انہیں تو بوجھ فطرتاً نہ عادی ہونے کے ذرا بوجھ بھی چلنے پھرنے میں حائل ہوتا ہے۔ اس لیے لکھائی، کاغذ، سیاہی ہر ایک امر میں اس امر کا خیال کیا جاتا تھا کہ اس میں زائد باتیں اور فضول رسوم کی پابندی نہ کی جائے۔ بلکہ صرف مطلب نہایت اختصار کے ساتھ لکھ دیا جائے۔ چنانچہ اسی لیے بسم اللہ نہیں لکھی جاتی تھی۔ ہاں آخر میں نیک فالی کی غرض سے حسبنا اللہ و نعم الوکیل لکھ دیتے تھے اور خط میں آس پاس حاشیہ بھی نہیں چھوڑتے تھے۔ یہ خطوط جس قدر لکھے جاتے تھے بادشاہ وقت کو لکھے جاتے تھے۔ اس لیے ایشیائی طریق تحریر کے موافق ضرور تھا کہ القاب و آداب اور خوشامدانہ الفاظ ابتدا میں لکھے جاتے۔ مگر نہیں! وہاں یہ طریقہ ترک کر دیا گیا تھا اور بجائے اس کے صرف ایک چھوٹا سا مگر معزز خطابیہ لفظ سے بادشاہ کو یاد کرتے تھے اور بلا کسی اور بات کے اصل مطلب شروع ہو جاتا تھا اور آخر میں صرف دن اور وقت لکھ دیا جاتا تھا۔ بادشاہ کا یہ حال تھا کہ اپنے ہاتھ سے خط کھول کر پڑھتا تھا۔ خاص شاہی منزل کے اوپر نزد لگاہ کبوتروں کی بنائی گئی تھی۔ حکم تھا کہ جب نزول الطیر ہو اس وقت بادشاہ کو گودہ خواب استراحت اور اکل و شرب ہی میں مشغول کیوں نہ ہو، اطلاع دی جائے۔ ایک منٹ کا وقفہ نہ کیا جائے۔ چوکیوں کا فاصلہکبوتروں کی چوکی کہاں سے کہاں تک تھی اور کس قدر فاصلے پر تھی؟ اس کا صحیح طور سے پتہ نہیں چلتا۔ ہاں التعریف میں لکھا ہے کہ عموماً تیس چالیس میل کا فاصلہ ہوا کرتا تھا۔ کہیں اس سے کم کہیں اس سے زیادہ۔ غالباً راہ کی صعوبتیں ان حدود کی معیار تھی۔ ۷۴۸ ہجری میں (جب کہ کبوتروں کے ڈاک کی حالت تنزل میں تھی) جہاں اور جس قدر فاصلے پر چوکیاں مقرر ہوئی تھیں ان کا ہم ایک نقشہ کتاب التعریف سے مرتب کر کے پیش کرتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ ترقی کے وقت کیا کیفیت ہوگی؟ ۷۴۸ ہجری میں کبوتروں کی ڈاک کی چوکیاں(ماخوذ از کتاب التعریف علامہ ابن فضل اللہ رحمۃ اللہ) شمارہ از تا کیفیت۱ قاہرہ اسکندریہ۲ قاہرہ ومیاط۳ قاہرہ سویز۴ قاہرہ بلیسحوالی میں واقع ہے۔ قسطاط سے تیس میل کا فاصلہ ہے۔ ۵ بلیسص الحیہفرات اور دجلہ دو نہریں ہیں ان دونوں کے درمیان میں صالحیہ واقع ہے۔ ۶ صالحیہ قطیا ریگستان مصر میں ایک بستی ہے۔ ۷ قطیا داروہشام کی حد جہاں ختم ہوئی ہے وہاں ہے۔ ۸ دروہ غزہ۹ غزہ بلد الخیل۱۰ غزہ بیت المقدس۱۱ غزہ نابلسیہ شہر بیت المقدس سے چالیس میل کے فاصلے پر ہے۔ ۱۲ غزہ لد۱۳ لد قاقونیہ ایک قلعہ کا نام ہے جو رملہ کے قریب ہے۔ ۱۴ اربل طفس۱۵ طفس صنمین دمشق سے دومیل کے فاصلے پر ہے (اور اس نام کو ’’دو‘‘ سے کتنی رعایت۔) ۱۶ صنمین دمشق۱۷ دمشق بعلبک، بعلبک دو جملوں سے مرکب ہے بعل اور بک سے۔ پہلا بت کا اور دوسرا بادشاہ کا نام ہے۔ آزادؔ۱۸ دمشق قاراقارا، وہی مقام ہے جس کا ذکر عہد جدید اور قدیم میں ہے۔ ۱۹ دمشق قرتبین تدمر سے یہ بھی دو منزل کے فاصلے پر ہے (اور لطف یہ کہ یہ تنبیہ کا صیغہ ہے) آزادؔ۲۰ جبنین صفل ایک پہاڑی پر یہ بستی آباد ہے (سرحد حمص پر) ۲۱ جبنین بیسان اردن کے حوالی میں ہے۔ ۲۲ بیسان اذرعات شام کا ایک قصبہ ہے۔ ۲۳ طفس اذرعات۲۴ قارا حمص۲۵ حمص حماہ۲۶ حماہ معرہ حوالی حلب میں اس سے پندرہ میل کے فاصلے پر ہے۔ ۲۷ معرہ حلب۲۸ حلب بیرہ حوالی حلب میں ایک قلعہ کا نام ہے۔ ۲۹ حلب قلعۃ المسلمین نام سے ظاہر ہے۔ ۳۰ حلب بہسنی فرات کے کنارے پر قریب سمیاطؔ کے ایک قلعہ ہے۔ ۳۱ قویتین تدمر حلب سے چار پانچ دن کا راستہ ہے۔ ۳۲ تدمر سخنہ۳۳ سخنہ قباقب لیکن چنددنوں سے یہاں ڈاک بند ہو گئی ہے۔ ۳۴ قباقبر حبہ قباقب سے رحبہ اور تدمر سے قباقب تک ڈاک جاری ہے۔ کبوتروں کی غور و پرداخت اور ان کے محکمےترتیب کے لحاظ سے تو ہم بہت دیر سے اس عنوان پر پہنچے ورنہ اس عنوان کا بیان سب سے پہلے ہونا تھا۔ کیونکہ جن کبوتروں کے یہ کچھ اوصاف بیان کئے جاتے ہیں ان کے متعلق ہر ایک شخص غور میں ہوگا کہ وہ کیسے ہوں گے؟ ان میں فطرتاً یہ اوصاف ہوں گے؟ یا انہیں سکھایا پڑھایا جاتا ہوگا؟ آخر اس کی صورت کیا ہوگی؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کبوتر ویسے ہی کبوتر ہوں گے جیسے کہ آج کل شیرازی کبوتر ہوا کرتے ہیں۔ یقیناً ان کی صورت بھی ایسی ہی ہوگی (دیکھو فزیالوجی) مگر شہر موصل میں ایک قسم کے کبوتر ہوتے تھے۔ جن کا نام وہاں کی اصطلاح میں مناسیب ہے۔ یہ کبوتر فطرتاً بہ نسبت اور کبوتروں کے انسان سے مانوس اور چالاک ہوتے ہیں۔ انہیں سے یہ کام لیا جاتا تھا۔ ان کبوتروں کی بھی بہت سی اقسام ہیں۔ خاص خاص نسل اور خاص خاص قسموں کے کبوتر انتخاب کئے جاتے تھے۔ الناصرالدین اللہ نے بغداد میں اور فاطمی خلفاء نے مصر میں جو محکمے قائم کئے تھے ان میں اس قسم کے لوگ خاص طور سے ملازم تھے جو کبوتروں کے اقسام سے واقف اور ان کے شجرۂ نسب کے حافظ تھے۔ خاص نسل کے عمدہ کبوتر ہزار ہزار دینار تک فروخت ہوتے تھے اور محکمہ انہیں بخوشی خرید کرتا تھا۔ اس قسم کی کتابیں تالیف کی گئی تھیں جن میں ان کے نسب نامے، انسانی انساب کی طرح مشجر لکھے جاتے تھے۔ اور ان کے موافق ان کی غور و پرداخت کی جاتی تھی۔ اس کے بعد کبوتروں کو اڑا اڑا کر اور تعلیم یافتہ کبوتروں کے ہمراہ پھرا کر سکھایا جاتا تھا اور ان کی چالاک طبیعت فوراً سیکھ جاتی تھی۔ پچھلے زمانے میںسلاطین وقت نے اس سے بڑے بڑے فوائد حاصل کئے ہیں اور بہت سے ملکی امور میں ان سے مدد لی ہے۔ جس زمانے میں کہ نور الدین سلطان کے تمام مقبوضات پر یورپ کے حملات کا سیلاب جاری تھا اور اس کے متعلق خیال کیا گیا تھا کہ تھوڑے ہی دنوں میں یہ مہلک سیلاب تمام سلطنت کو بہا کر لے جائےگا، اس وقت ان ہی کبوتروں کے باعث تمام سلطنت اس سیلاب عظیم سے محفوظ ہو گئی اور بر وقت مدد پہنچ جانے کے سبب سے اس کا اچھی طرح انتظام کر لیا گیا۔ بغداد کے خلیفہ الناصر الدین اللہ نے بھی (جیسا کہ تم پڑھ چکے ہو) ادھر توجہ کی تھی اور کبوتروں کی ڈاک اپنی قلمرو میں جاری کی تھی۔ اس کا یہ نتیجہ ہوا تھا کہ تمام سلطنت کے کسی واقعہ سے وہ بے خبر نہ رہتا تھا۔ اس کی بادشاہت کا رعب شام سے ہندوستان تک پہنچا ہوا تھا۔ چین تک اس کا اثر حکومت پہنچا۔ اور اسپین تک اس کے نام پر دعائیں دی گئیں۔ و ہذا ایضاًمن برکاتہ البرامکہ! سلطان صلاح الدین نے بھی کبوتروں سے بہت وقتوں میں مدد لی ہے اور انہیں کے ذریعے سے پیامبری کر کے کام نکالا ہے۔ (محاصرہ عکا۔) لڑائی کے موقعوں میں جب اور کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تو کبوتروں ہی کی طرف توجہ کی جاتی ہے اور انہیں کے ذریعہ سے مخبری کا کام ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کی نظیر بہت سی لڑائیوں میں ملےگی۔ عربک لٹریچر اور کبوتر یوں تو اردو و فارسی دونوں زبانوں کے قصیدوں میں بکثرت کبوتروں کی نامہ بری کا ذکر موجود ہے۔ مگر عربی لٹریچر جس قدراس سے مؤثر ہوا ہے، غالباً کوئی لٹریچر اس قدر نہ ہوا ہوگا۔ اہل ادب نے ان کی مداح سرائی کی ہے اور خاص قصیدے اور مختلف نظمیں ان کے اوصاف میں لکھی ہیں۔ عجیب و غریب ناموں سے یاد کیا ہے۔ خطماء الطیر ملائکۃ الملوک۔ ملک الطیور۔ اور کیا کیا کچھ پر لطف نام رکھے گئے ہیں۔ بعض افاضل ادب نے مقفی نثریں اور رنگین عبارتیں ان کی مدح میں لکھی ہیں۔ اور ان میں کبوتروں کو سبھی کچھ بنایا ہے۔ آج کلتو نامہ بر کبوتروں کی کہیں سے آواز نہیں آتی۔ تار برقی کی حیرت ناک ایجاد نے یہ سب کچھ خواب و خیال کر دیا ہے۔ اب نہ کسی محکمے کی ضرورت ہے نہ موصل میں جا کرمناسیب کے تلاش کرنے کی۔ بس دو روپیہ جیب سے نکال کر تار آفس میں جاکر دے دیجئے۔ کاغذ کے لیے ورق الطیر کی آپ کو ضرورت نہ ہوگی۔ ورق التار پر جو مفت ملا کرتا ہے خبر لکھ دیجئے۔ ہاں اختصار اسی طرح مد نظر رہے۔ ارجنٹ تار ہی دو گھنٹے میں مکتوب الیہ کو پہنچ جائے گی! لیجئے! کہاں کے کبوتر اور کیسا محکمہ!دنیائے شاعریگو اس وقت کبوتروں کی نامہ بری موقوف ہو گئی ہے۔ مگر خیر سے’’دنیائے شاعری‘‘ میں ابھی تک بڑے زور و شور سے جاری ہے۔ اس عجیب دنیا میں یہ حضرت کبوتر عجیب عجیب کام کرتے ہیں۔ کبھی توعشاق کی خبریں، ان کی دردناک کیفیت معشوق تک پہنچا دیتے ہیں اور کبھی بے چارے عاشق پر توجہ نہیں کرتے، اور معشوقانہ انداز دکھلاتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مژدہ وصل سے عشاق کو مسرور کر دیں مگر بہت کم۔ اس دنیا میں اس کبوتر کو قاصد اور صبا کے برابر جگہ دی جاتی ہے جو ان کے لئے باعث افتخار ہے۔ ان کی موجودگی کو عشاق اپنی قسمت کی یاوری اور ان کی عدم موجودگی کو بدنصیبی سمجھتے ہیں۔ اور حالت یاس میں کہتے ہیں کہنہ قاصدے نہ صبا ہے نہ مرغ نامہ برےکسے زبیکسی ماتمی برد خبرے بعض اوقات کبوتر کو بھی مشتاق دیدار سمجھتے ہیں اور ان کی اس تیز رفتاری کو اسی خود غرضی پر محمول کرتے ہیں، بسکہ دارد اشتیاق دیدن مطلوب مابال بر بال کبوتر می زند مکتوب ماکبھی کبوتر کی سرخ سرخ آنکھیں اس طور پر تسلیم کی جاتی ہیں کہ ہمارے درد وغم کو دیکھ کر آنکھوں سے خون رو رہا ہے! سرخی چشم کبوتر ہیچ میدانی کہ چیست نامہ می برداز من و بر حال من خون مہگیرستغرض دنیائے شاعری میں اس کی نامہ بری خوب جاری ہے۔ احوال ما زحوصلۂ نامہ بیش بودبرخے از ان بیان کبوتر نوشتہ امجواب نامۂ من غیر نا امیدی نیستزدست سو دن بال کبوترم پیداستتابرد شوق نامۂ رنگین کبوترمگردید لال وار سپید و سیاہ و سرخقاصد ادا می نامہ تواند نہ عرض شوقحیف از زبان کہ بال کبوتر نمی شودآزادؔ دہلوی۔ از کلکتہ\n\nحاشیہ\n\n(۱) چنانچہ قاضی فاضل نے اس قسم کے اور بہت سے نام تعریفی اور توصیفی لکھے ہیں اور علامہ فیروزی نے بھی یہ نام لکھے ہیں۔ ۱۲۔ آزادؔ۔\n\n(۲) آج کل بھی جن مقامات پر تار برق نہیں ہے وہاں ان کبوتروں سے خبر رسانی کا کام لیا جاتا ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%82%D8%AF%DB%8C%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%D9%88%D8%AA%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DA%88%D8%A7%DA%A9"} {"title": "زمانہ میں فسانہ بن گئی دیوانگی میری", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زمانہ میں فسانہ بن گئی دیوانگی میری\nترے پردہ نے کی پردہ نشیں پردہ دری میری\n\nتو ہی اے بے خودیٔ شوق کر کچھ رہبری میری\nاسی مرکز پہ لیکن آج تک ہے بے خودی میری\n\nہر اک پردہ اٹھا دے گی کسی دن بے خودی میری\nکہ جان منزل مقصود ہے گم گشتگی میری\n\nوہی بے تابیاں جن کو بلائے جاں سمجھتا تھا\nوہی بیتابیٔ پیہم بنی ہے زندگی میری\n\nنہ صحرا ہے نہ گلشن ہے نہ رستہ ہے نہ منزل ہے\nخدا جانے کہاں لے جا رہی ہے بے خودی میری\n\nترے جلوے ہر اک شے میں نظر آنے لگے لیکن\nیہیں محدود ہو کر رہ نہ جائے بے خودی میری\n\nحدود بے نیازی تک تو مجھ کو کھینچ لائی ہے\nنہ جانے اب کہاں لے جائے گی وارفتگی میری\n\nتری صورت نگاہوں سے کبھی اوجھل نہیں ہوتی\nکرشمے ہیں ترے جلوؤں کے یا صورت گری میری\n\nنگاہیں ملتفت لب پر تبسم کیف آنکھوں میں\nٹھہر جائے اسی مرکز پہ یا رب زندگی میری\n\nفلک پابوس ہوتا ہے ملائک سجدہ کرتے ہیں\nکہاں لے آئی مجھ کو آج شان بندگی میری\n\nنعیم خلد تو بدلہ ہے جاں کا مل گیا لیکن\nبہائے درد دل اور قیمت دیوانگی میری\n\nحجابات محبت خود بخود طے ہوتے جاتے ہیں\nنگاہ کفر ساماں کر رہی ہے رہبری میری\n\nمنیرؔ اک دن زمانہ کو زمانہ میں بنا دوں گا\nکہاں تک رائیگاں جائے گی آخر بے خودی میری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "زمانہ کیا دیکھیے دکھائے نہ جانے کیا انقلاب آئے", "poet_page": "مصنف:نہال سیوہاروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زمانہ کیا دیکھیے دکھائے نہ جانے کیا انقلاب آئے\nفلک کے تیور ہیں خشمگیں سے زمیں کے دل میں غبار سا ہے\n\nکمال دیوانگی تو جب ہے رہے نہ احساس جیب و دامن\nاگر ہے احساس جیب و دامن تو پھر جنوں ہوشیار سا ہے\n\nکچھ آج ایسی ہی جی پہ گزری دبی ہوئی تھی جو چوٹ ابھری\nجسے سنبھالے ہوا تھا دل میں وہ نالہ بے اختیار سا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "زمانہ ہے کہ گزرا جا رہا ہے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زمانہ ہے کہ گزرا جا رہا ہے\nیہ دریا ہے کہ بہتا جا رہا ہے\n\nوہ اٹھے درد اٹھا حشر اٹھا\nمگر دل ہے کہ بیٹھا جا رہا ہے\n\nلگی تھی ان کے قدموں سے قیامت\nمیں سمجھا ساتھ سایا جا رہا ہے\n\nزمانے پر ہنسے کوئی کہ روئے\nجو ہونا ہے وہ ہوتا جا رہا ہے\n\nمرے داغ جگر کو پھول کہہ کر\nمجھے کانٹوں میں کھینچا جا رہا ہے\n\nبہار آئی کہ دن ہولی کے آئے\nگلوں میں رنگ کھیلا جا رہا ہے\n\nرواں ہے عمر اور انسان غافل\nمسافر ہے کہ سوتا جا رہا ہے\n\nسر میت ہے یہ عبرت کا نوحہ\nمحبت کا جنازہ جا رہا ہے\n\nجلیلؔ اب دل کو اپنا دل نہ سمجھو\nکوئی کر کے اشارا جا رہا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "زمانۂ حاضر کا انسان", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "’عشق ناپید و خرد میگزدش صُورتِ مار‘\nعقل کو تابعِ فرمانِ نظر کر نہ سکا\nڈھُونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا\nاپنے افکار کی دُنیا میں سفر کر نہ سکا\nاپنی حِکمت کے خم و پیچ میں اُلجھا ایسا\nآج تک فیصلۂ نفع و ضرر کر نہ سکا\nجس نے سورج کی شُعاعوں کو گرفتار کیا\nزندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%AD%D8%A7%D8%B6%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86"} {"title": "زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہے", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہے\nہزاروں میں وہ دل ربا ایک ہے\n\nخداوند ارض و سما ایک ہے\nقسم ہے خدا کی خدا ایک ہے\n\nبرابر ہے اپنا وجود و عدم\nہماری بقا اور فنا ایک ہے\n\nعدم ابتدا ہے عدم انتہا\nمری ابتدا انتہا ایک ہے\n\nنہ ہوں گے یہ حادث رہے گا قدیم\nغرض سب ہیں فانی بقا ایک ہے\n\nذرا غور سے مرأت دل کو دیکھ\nیہ آئینۂ حق نما ایک ہے\n\nجنہیں کفر و الحاد کہتا ہے شیخ\nفقط پھیر ہے راستا ایک ہے\n\nجہاں میں ہیں غافل بہت سے طریق\nمگر راہ صدق و صفا ایک ہے\n\nمآل سخن ذکر ہے یار کا\nکہوں سو طرح مدعا ایک ہے\n\nمحل فقر کا ہے عجائب مقام\nیہاں مسند و بوریا ایک ہے\n\nکہاں اس کے آگے کسی کا فروغ\nوہ خورشید رو مہ لقا ایک ہے\n\nفضیلت ملی ایک کو ایک پر\nغرض ایک سے یاں سوا ایک ہے\n\nبچے گا نہ کاوش سے مژگاں کے دل\nکہ نشتر بہت آبلہ ایک ہے\n\nجفاکار دم باز کاذب محیل\nمیں واقف ہوں وہ بے وفا ایک ہے\n\nہے انبوہ عشاق عیسیٰ کے گھر\nمریض اتنے دار الشفا ایک ہے\n\nنہیں بچتا دونوں کا مارا ہوا\nتری زلف اور اژدہا ایک ہے\n\nنہ آنا تو اس زلف کے پیچ میں\nارے دل وہ کالی بلا ایک ہے\n\nہزاروں شہید محبت ہیں دفن\nگلی اس کی اور کربلا ایک ہے\n\nہر اک درد کا ہے مداوا وہ لب\nمرض سیکڑوں ہیں دوا ایک ہے\n\nدوئی کو نہ دے دل میں غافل جگہ\nزباں ایک ہے اور خدا ایک ہے\n\nکہو گے جو کچھ تو سنو گے بھی رندؔ\nہنسی میں تو شاہ و گدا ایک ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%81_%D9%84%D9%82%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DB%81%DB%92"} {"title": "زمانے پر نہ سہی دل پہ اختیار رہے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زمانے پر نہ سہی دل پہ اختیار رہے\nدکھا وہ زور کہ دنیا میں یادگار رہے\n\nکہاں تلک دل غم ناک پردہ دار رہے\nزبان حال پہ جب کچھ نہ اختیار رہے\n\nنظام دہر نے کیا کیا نہ کروٹیں بدلیں\nمگر ہم ایک ہی پہلو سے بے قرار رہے\n\nہنسی میں لغزش مستانہ اڑ گئی واللہ\nتو بے گناہوں سے اچھے گناہ گار رہے\n\nابھارتی ہے ہوس توبۂ رہائی کی\nکہ دل کے ساتھ زباں کیوں گناہ گار رہے\n\nدکھا دوں چیر کے دل درد دل کہوں کب تک\nزباں پہ کیوں یہ تقاضائے ناگوار رہے\n\nتڑپ تڑپ کے اٹھاؤں گا زندگی کے مزے\nخدا نہ کردہ مجھے دل پہ اختیار رہے\n\nسزائے عشق بقدر گناہ نا ممکن\nیہی بہت ہے کہ برہم مزاج یار رہے\n\nزمانہ اس کے سوا اور کیا وفا کرتا\nچمن اجڑ گیا کانٹے گلے کا بار رہے\n\nخزاں کے دم سے مٹا خوب و زشت کا جھگڑا\nچلو یہ خواب ہوا گل رہے نہ خار رہے\n\nجواب دے کے نہ توڑو کسی غریب کا دل\nبلا سے کوئی سراپا امیدوار رہے\n\nمزہ تو جب ہے یگانہؔ کہ یہ دل خودبیں\nخودی کے نشے میں بیگانۂ خمار رہے\n\nیگانہؔ حال تو دیکھو زمانہ سازوں کا\nہوا میں جیسے بگولا خراب و خوار رہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "زمانے کا بھروسا کیا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زمانے کا بھروسا کیا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے\nیہی ہے رنگ دنیا کا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے\n\nجوانی کی ہے آمد حسن کی ہر دم ترقی ہے\nتری صورت ترا نقشہ ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے\n\nنہ آئے گا قرار اس کو نہ ممکن ہے قیام اس کو\nہمارا دل ترا وعدہ ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے\n\nکبھی تو جستجو اس کی کبھی گم آپ ہو جانا\nمری وحشت مرا سودا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے\n\nغرور حسن ہے سر میں خیال دلبری دل میں\nدماغ ان کا مزاج ان کا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے\n\nذرا میں مہرباں ہونا ذرا میں جان کے دشمن\nعجب دل ہے حسینوں کا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے\n\nتمہیں کیوں اس قدر غم ہے حفیظؔ اپنی تباہی کا\nیہی دنیا کا ہے نقشہ ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D9%88%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%DB%92"} {"title": "زمانے کی یہ گردش جاودانہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "زمانے کی یہ گردش جاودانہ\nحقیقت ایک تُو، باقی فسانہ\nکسی نے دوش دیکھا ہے نہ فردا\nفقط امروز ہے تیرا زمانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%D8%AC%D8%A7%D9%88%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "زمزمہ نالۂ بلبل ٹھہرے", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زمزمہ نالۂ بلبل ٹھہرے\nمیں جو فریاد کروں غل ٹھہرے\n\nنغمۂ کن کے کرشمے دیکھو\nکہیں قم قم کہیں قلقل ٹھہرے\n\nجال میں کاتب اعمال پھنسیں\nدوش پر آ کے جو کاکل ٹھہرے\n\nرات دن رہتی ہے گردش ان کو\nچاند سورج قدح مل ٹھہرے\n\nمیرا کہنا ترا سننا معلوم\nجنبش لب ہی اگر گل ٹھہرے\n\nجان کر بھی وہ نہ جانیں مجھ کو\nعارفانہ ہی تجاہل ٹھہرے\n\nعاشقی میں یہ تنزل کیسا\nآپ ہم کیوں گل و بلبل ٹھہرے\n\nتجھ پہ کھل جائے جو راز ہمہ اوست\nفلسفی دور و تسلسل ٹھہرے\n\nآنکھ سے آنکھ میں پیغام آئے\nگر نگاہوں کا توسل ٹھہرے\n\nکھل گئی بے ہمگی با ہمگی\nکل میں جب محو ہوئے کل ٹھہرے\n\nدل سے دل بات کرے آنکھ سے آنکھ\nعاشقی کا جو توسل ٹھہرے\n\nکیوں نہ فردوس میں جائے مائلؔ\nجب محمد کا توسل ٹھہرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%B2%D9%85%DB%81_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1%DB%92"} {"title": "زمزمہ کس کی زباں پر بہ دل شاد آیا", "poet_page": "مصنف:امانت لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زمزمہ کس کی زباں پر بہ دل شاد آیا\nمنہ نہ کھولا تھا کہ پر باندھنے صیاد آیا\n\nقد جو بوٹا سا ترا سرو رواں یاد آیا\nغش پہ غش مجھ کو چمن میں تہ شمشاد آیا\n\nلے اڑی دل کو سوئے دشت ہوائے وحشت\nپھر یہ جھونکا مجھے کر دینے کو برباد آیا\n\nکس قدر دل سے فراموش کیا عاشق کو\nنہ کبھی آپ کو بھولے سے بھی میں یاد آیا\n\nدل ہوا سرو گلستاں کے نظارے سے نہال\nشجر قامت دل دار مجھے یاد آیا\n\nہو گئی قطع اسیری میں امید پرواز\nاڑ گئے ہوش جو پر کاٹنے صیاد آیا\n\nہو گیا حسرت پرواز میں دل سو ٹکڑے\nہم نے دیکھا جو قفس کو تو فلک یاد آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%B2%D9%85%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "زمِستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "زمِستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی\nنہ چھُوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحَرخیزی\n\nکہیں سرمایۂ محفل تھی میری گرم گُفتاری\nکہیں سب کو پریشاں کر گئی میری کم آمیزی\n\nزمامِ کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا!\nطریقِ کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی\n\nجلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو\nجُدا ہو دِیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی\n\nسوادِ رومۃُ الکبریٰ میں دلّی یاد آتی ہے\nوہی عبرت، وہی عظمت، وہی شانِ دل آویزی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D9%90%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%B4%D9%85%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%B2%DB%8C"} {"title": "زمین مے کدۂ عرش بریں معلوم ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زمین مے کدۂ عرش بریں معلوم ہوتی ہے\nیہ خشت خم فرشتے کی جبیں معلوم ہوتی ہے\n\nپری اڑنے میں زلف عنبریں معلوم ہوتی ہے\nیہ کالی شکل بھی کتنی حسیں معلوم ہوتی ہے\n\nمری حسرت تبسم آفریں معلوم ہوتی ہے\nچھپی تیرے تبسم میں نہیں معلوم ہوتی ہے\n\nشفق کہہ لے کوئی چاہے شفق گوں آسماں کہہ لے\nہمیں تو کوئے قاتل کی زمیں معلوم ہوتی ہے\n\nچلی ہے تیغ تو کس ناز سے تھم تھم کے رک رک کر\nیہ کچھ ان سے زیادہ نازنیں معلوم ہوتی ہے\n\nارے ساقی ذرا میری شراب تلخ تو لانا\nمئے کوثر تو بالکل انگبیں معلوم ہوتی ہے\n\nچھپی ہے وہ نگاہ شوخ بھی مژگاں کے سائے میں\nچھری بھی آج زیر آستیں معلوم ہوتی ہے\n\nابھارو تو ذرا شاید مرا ڈوبا ہوا دل ہو\nکوئی شے بحر غم میں تہہ نشیں معلوم ہوتی ہے\n\nنہیں اب درد دل لیکن ابھی تک ہے اثر کچھ کچھ\nچمک رہ رہ کے پہلو میں کہیں معلوم ہوتی ہے\n\nاثر ڈالا ہے حسرت نے نگاہ شوق پر کتنا\nکہ وہ اب بھی نگاہ واپسیں معلوم ہوتی ہے\n\nیہ اے صیاد رہ رہ کر چمکتی ہے کہاں بجلی\nجہاں میرا نشیمن تھا وہیں معلوم ہوتی ہے\n\nلپک اس کی چمک اس کی وہی دم خم وہی عالم\nیہ بجلی کوئی آہ آتشیں معلوم ہوتی ہے\n\nریاضؔ ایسی مرے دل سے لگی ہے جام کوثر کی\nمے انگور اب اچھی نہیں معلوم ہوتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86_%D9%85%DB%92_%DA%A9%D8%AF%DB%82_%D8%B9%D8%B1%D8%B4_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "زمین و آسماں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ممکن ہے کہ تُو جس کو سمجھتا ہے بہاراں\nاَوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا\nہے سلسلہ احوال کا ہر لحظہ دِگرگُوں\nاے سالکِ رہ! فکر نہ کر سُود و زیاں کا\nشاید کہ زمیں ہے یہ کسی اور جہاں کی\nتُو جس کو سمجھتا ہے فلک اپنے جہاں کا!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86_%D9%88_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA"} {"title": "زمین و اہل زمیں کے بنانے والے سن", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "زمین و اہل زمیں کے بنانے والے سن\nترا یہ ڈھنگ ہے کتنا عجیب اور نیارا\nکہ دست خاص سے اپنے اچھوتی اک مورت\nبنائی اور بنا کے زمیں پہ دے مارا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86_%D9%88_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%D8%B3%D9%86"} {"title": "زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویا", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویا\nہماری بیکسی کو دیکھ کر سارا جہاں رویا\n\nمیں جب نکلا چمن سے شبنم آب گلستاں رویا\nاداسی چھا گئی ایسی خود آخر باغباں رویا\n\nنہ آیا رحم کچھ بھی آہ دل میں اس ستم گر کے\nہماری جبہہ سائی کے اثر سے آستاں رویا\n\nہر اک عضو بدن ماتم کناں ہے دل کے جانے سے\nہوا یوسف جو گم تو کارواں کا کارواں رویا\n\nخلل افگن تری بزم طرب میں کون ہو ظالم\nہوا کیا گر ترے کوچے میں کوئی تفتۂ جاں رویا\n\nمرے آنسو تری بیداد کا پردہ نہ کھولیں گے\nعبث یہ بدگمانی ہے میں کب رویا کہاں رویا\n\nعدو خوش ہوں تو ہوں اے بے مروت تیری محفل میں\nمرا تو حال یہ ہے جب کبھی آیا یہاں رویا\n\nجفائے دشمناں اور بے وفائی ہائے یاراں سے\nبہت غم دیدہ ہو کر وحشتؔ آزردہ جاں رویا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7"} {"title": "زمیں سے اٹھی ہے یا چرخ پر سے اتری ہے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "زمیں سے اٹھی ہے یا چرخ پر سے اتری ہے\nیہ آگ عشق کی یا رب کدھر سے اتری ہے\n\nاترتی نجد میں کب تھی سواریٔ لیلیٰ\nٹک آہ قیس کے جذب اثر سے اتری ہے\n\nنہیں نسیم بہاری یہ ہے پری کوئی\nاڑن کھٹولے کو ٹھہرا جو فر سے اتری ہے\n\nنہ جان اس کو شب مہ یہ چاندنی خانم\nکمند نور پہ اوج قمر سے اتری ہے\n\nچلو نہ دیکھیں تو کہتے ہیں دشت وحشت میں\nجنوں کی فوج بڑے کر و فر سے اتری ہے\n\nنہیں یہ عشق تجلی ہے حق تعالی کی\nجو راہ زینۂ بام نظر سے اتری ہے\n\nلباس آہ میں لکھنے کے واسطے انشاؔ\nقلم دوات تجھے عرش پر سے اتری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D9%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "زمیں کو سر پہ اٹھائے ہوئے نہ چل غافل", "poet_page": "مصنف:عنایت اللہ روشن بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زمیں کو سر پہ اٹھائے ہوئے نہ چل غافل\nاگر ہے ہوش تو ہشیار ہو سنبھل غافل\n\nیہاں نہ دل کو مسرت نہ روح کو راحت\nیہ گھر خراب ہے اس سے ابھی نکل غافل\n\nقضا کسی کو نہ چھوڑے گی شاہ ہو کہ گدا\nنہ تو رہے گا نہ دولت نہ یہ محل غافل\n\nضرور دل پہ اثر ہو تری نصیحت کا\nکہے زباں سے جو خود اس پہ کر عمل غافل\n\nفضول عمر نہ کھو کھیل کود میں روشنؔ\nیہ وہ متاع ہے جس کا نہیں بدل غافل", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%86%D9%84_%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84"} {"title": "زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے\nزمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے\n\nتری بانکی چتون نے چن چن کے مارے\nنکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے\n\nنہ گل ہیں نہ غنچے نو بوٹے نہ پتے\nہوئے باغ نذرِ خزاں کیسے کیسے\n\nیہاں درد سے ہاتھ سینے پہ رکھا\nوہاں ان کو گزرے گماں کیسے کیسے\n\nہزاروں برس کی ہے بڑھیا یہ دنیا\nمگر تاکتی ہے جواں کیسے کیسے\n\nترے جاں نثاروں کے تیور وہی ہیں\nگلے پر ہیں خنجر رواں کیسے کیسے\n\nجوانی کا صدقہ ذرا آنکھ اٹھاؤ\nتڑپتے ہیں دیکھو جواں کیسے کیسے\n\nخزاں لوٹ ہی لے گئی باغ سارا\nتڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے\n\nامیرؔ اب سخن کی بڑی قدر ہو گی\nپھلے پھولیں گے نکتہ داں کیسے کیسے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92"} {"title": "زنجیر سے ہونے کا نہیں دل بھاری", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "زنجیر سے ہونے کا نہیں دل بھاری\nہوں پاؤں میں کتنی ہی سلاسل بھاری\nکعبہ کا سفر ہی کیا ہے گھر سے در تک\nدل سے دل تک مگر ہے منزل بھاری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AC%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "زندان کائنات میں محصور کر دیا", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زندان کائنات میں محصور کر دیا\nمحفل سے اپنی تم نے بہت دور کر دیا\n\nآتے ہو دینے دعوت دار و رسن ہمیں\nجب ہم نے ترک شیوۂ منصور کر دیا\n\nفطرت یہی ازل سے ہے برق جمال کی\nاس نے جسے تباہ کیا طور کر دیا\n\nتم نے ہمارے ظرف نظر پر نہ کی نگاہ\nسارے جہاں کو حسن سے معمور کر دیا\n\nسیمابؔ کوئی مرتبہ منصور کا نہ تھا\nلفظ خودی کی شرح نہ مشہور کر دیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D8%B5%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "زنداں نصیب ہوں مرے قابو میں سر نہیں", "poet_page": "مصنف:اقبال سہیل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زنداں نصیب ہوں مرے قابو میں سر نہیں\nمیرا سجود ان کے لیے معتبر نہیں\n\nکیا ہے فریب نرگس غماز اگر نہیں\nبے وجہ تو کشاکش قلب و جگر نہیں\n\nتقسیم گل پہ بحث عنادل میں چھڑ گئی\nگلزار لٹ رہا ہے کچھ اس کی خبر نہیں\n\nلذت شناس غم کو ہے اظہار غم حرام\nروتا ہوں اور دامن مژگاں بھی تر نہیں\n\nمیرے سجود شوق سے ہو جائے بے نیاز\nاتنا بلند حوصلۂ سنگ در نہیں\n\nیوں باغباں نے ہمت پرواز چھین لی\nایسی بھری بہار ہے اور ایک پر نہیں\n\nتحسین ناشناس کا بھوکا نہیں سہیلؔ\nمیں آبرو فروش متاع ہنر نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "زندگانی سراب کی سی طرح", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زندگانی سراب کی سی طرح\nباد بندی حباب کی سی طرح\n\nتجھ اوپر خون بے گناہوں کا\nچڑھ رہا ہے شراب کی سی طرح\n\nکون چاہے گا گھر بسر تجھ کو\nمجھ سے خانہ خراب کی سی طرح\n\nٹک خبر لے کہ تیرے ہاتھوں سیں\nجل رہا ہوں کباب کی سی طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "زندگی", "poet_page": "مصنف:وحید الدین سلیم", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ذرے ذرے میں دواں روح و رواں پاتا ہوں میں\nزندگی کو ایک بحر بیکراں پاتا ہوں میں\nغنچہ غنچہ نطق پر آمادہ آتا ہے نظر\nپتے پتے کی زباں کو نغمہ خواں پاتا ہوں میں\nزندہ ہستی کی خبر دیتی ہے رفتار نفس\nبوئے گل کو زندگی کا ترجماں پاتا ہوں میں\nبرق کی جنبش ہو یا باد صبا کا ہو خرام\nزندگی کا ہر تموج میں نشاں پاتا ہوں میں\nاس سے آگے بھی ہیں روحیں اڑتی پھرتی بے شمار\nطائر سدرہ کا جس جا آشیاں پاتا ہوں میں\nہو چکی ہے حکمراں جس نخل پر باد خزاں\nاس کی رگ رگ میں بہار بے خزاں پاتا ہوں میں\nچار سو راہ سفر پر دوڑتی ہے جب نظر\nزندگی کو کارواں در کارواں پاتا ہوں میں\nجانے والوں کی تباہی کے نشانوں میں نہاں\nآنے والی ہستیوں کی بستیاں پاتا ہوں میں\nالغرض سمجھے ہو جن کو موت کی بربادیاں\nزندگی کے انقلاب ان میں نہاں پاتا ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C"} {"title": "زندگی انساں کی اک دَم کے سوا کچھ بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "زندگی انساں کی اک دَم کے سوا کچھ بھی نہیں\nدَم ہوا کی موج ہے، رم کے سوا کچھ بھی نہیں\n\nگُل تبسّم کہہ رہا تھا زندگانی کو مگر\nشمع بولی، گِریۂ غم کے سوا کچھ بھی نہیں\n\nرازِ ہستی راز ہے جب تک کوئی محرم نہ ہو\nکھُل گیا جس دَم تو محرم کے سوا کچھ بھی نہیں\n\nزائرانِ کعبہ سے اقبالؔ یہ پُوچھے کوئی\nکیا حرم کا تحفہ زمزم کے سوا کچھ بھی نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%D9%8E%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ\nہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%8C_%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%94"} {"title": "زندگی ایک اذیت ہے مجھے", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زندگی ایک اذیت ہے مجھے\nتجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھے\n\nدل میں ہر لحظہ ہے صرف ایک خیال\nتجھ سے کس درجہ محبت ہے مجھے\n\nتری صورت تری زلفیں ملبوس\nبس انہی چیزوں سے رغبت ہے مجھے\n\nمجھ پہ اب فاش ہوا راز حیات\nزیست اب سے تری چاہت ہے مجھے\n\nتیز ہے وقت کی رفتار بہت\nاور بہت تھوڑی سی فرصت ہے مجھے\n\nسانس جو بیت گیا بیت گیا\nبس اسی بات کی کلفت ہے مجھے\n\nآہ میری ہے تبسم تیرا\nاس لیے درد بھی راحت ہے مجھے\n\nاب نہیں دل میں مرے شوق وصال\nاب ہر اک شے سے فراغت ہے مجھے\n\nاب نہ وہ جوش تمنا باقی\nاب نہ وہ عشق کی وحشت ہے مجھے\n\nاب یوں ہی عمر گزر جائے گی\nاب یہی بات غنیمت ہے مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%D8%B0%DB%8C%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "زندگی بھر دہر کی نیرنگیاں دیکھا کئے", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زندگی بھر دہر کی نیرنگیاں دیکھا کئے\nگردش ایام و دور آسماں دیکھا کئے\n\nہم اسیران قفس کی ہائے رے مجبوریاں\nسامنے آنکھوں کے جلتا آشیاں دیکھا کئے\n\nآشیاں باندھا کئے ہر فصل گل میں ہم صفیر\nاور ہم اپنے قفس کی تیلیاں دیکھا کئے\n\nآشیاں باندھا مگر آسودگی کا ذکر کیا\nکس طرح گرتی ہیں اس پر بجلیاں دیکھا کئے\n\nجان بھی آخر مرض کے ساتھ رخصت ہو گئی\nہم تری رہ اے مسیحائے زماں دیکھا کئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%8C%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%A6%DB%92"} {"title": "زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں\nہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں\n\nبے ادب گریۂ محرومئ دیدار نہیں\nورنہ کچھ در کے سوا حاصل دیوار نہیں\n\nآسماں بھی ترے کوچہ کی زمیں ہے لیکن\nوہ زمیں جس پہ ترا سایۂ دیوار نہیں\n\nہائے دنیا وہ تری سرمہ تقاضہ آنکھیں\nکیا مری خاک کا ذرہ کوئی بیکار نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%AC%D8%A8%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "زندگی زہر کا اک جام ہوئی جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:نہال سیوہاروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زندگی زہر کا اک جام ہوئی جاتی ہے\nکیا سے کیا یہ مے گلفام ہوئی جاتی ہے\n\nکچھ گزاری ہے غم عشق و محبت میں حیات\nکچھ سپرد غم ایام ہوئی جاتی ہے\n\nپھر کسی مرد براہیم کا محتاج ہے دہر\nپھر وہی کثرت اصنام ہوئی جاتی ہے\n\nہوس سیر تماشہ ہے کہ ہوتی نہیں ختم\nزندگی ہے کہ سبک گام ہوئی جاتی ہے\n\nجو کبھی خالق ہنگامۂ طوفاں تھی وہ موج\nحیف خو کردۂ آرام ہوئی جاتی ہے\n\nصحبت پیر مغاں میں یہ کھلی عظمت عشق\nعقل بھی درد تہ جام ہوئی جاتی ہے\n\nتم جو آئے ہو تو شکل در و دیوار ہے اور\nکتنی رنگین مری شام ہوئی جاتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%B2%DB%81%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "زندگی ساز دے رہی ہے مجھے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "زندگی ساز دے رہی ہے مجھے\nسحر و اعجاز دے رہی ہے مجھے\nاور بہت دور آسمانوں سے\nموت آواز دے رہی ہے مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "زندگی سلسلۂ وہم و گماں ہے یارو", "poet_page": "مصنف:مجید لاہوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زندگی سلسلۂ وہم و گماں ہے یارو\nدل بے تاب کو تسکین کہاں ہے یارو\n\nوہی صیاد کی گھاتیں ہیں وہی کنج قفس\nفصل گل رہن غم جور خزاں ہے یارو\n\nوہی افکار کی الجھن وہی ماحول کا جبر\nذہن پا بستہ زنجیر گراں ہے یارو\n\nوہی حسرت وہی لب اور وہی مہر سکوت\nشوق کو جرأت اظہار کہاں ہے یارو\n\nعزم کی رہ بھی وہی راہ میں کانٹے بھی وہی\nدور کوسوں مری منزل کا نشاں ہے یارو\n\nبے وفائی کا خدارا مجھے الزام نہ دو\nتم پہ حال دل بیتاب عیاں ہے یارو\n\nکاش میں کہہ بھی سکوں کاش کوئی سن بھی سکے\nآہ وہ راز کہ جو راز نہاں ہے یارو\n\nمیرے ہونٹوں پہ ہے اک نغمۂ بے صوت و صدا\nدل میں اک محشر فریاد و فغاں ہے یارو\n\nاک تغافل کہ جو ہے وجہ پریشانئ دل\nایک یاد ان کی ہے جو راحت جاں ہے یارو\n\nآج ساحل کے قریں ڈوبنے والا ہے مجیدؔ\nناخدا کو تو پکارو وہ کہاں ہے یارو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%82_%D9%88%DB%81%D9%85_%D9%88_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88"} {"title": "زندگی مرگ کی مہلت ہی سہی", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زندگی مرگ کی مہلت ہی سہی\nبہر واماندہ اقامت ہی سہی\n\nدوستی وجہ عداوت ہی سہی\nدشمنی بہر رفاقت ہی سہی\n\nطول دیتے ہو عداوت کو کیوں\nمختصر قصۂ الفت ہی سہی\n\nرکھ کسی وضع سے احسان کی خو\nمجھ کو آزار سے راحت ہی سہی\n\nآپ کا بھی نہیں چھٹتا دامن\nمیرے در پہ مری شامت ہی سہی\n\nعاقبت حشر کو آنا اک دن\nروٹھ جانا تری عادت ہی سہی\n\nکچھ بھی اے بخت میسر ہے تجھے\nیا تجسس سے فراغت ہی سہی\n\nکوچۂ غیر میں چل کر رہیے\nگر نہیں عیش تو حسرت ہی سہی\n\nیہی تقریب ستم ہو اے کاش\nہر طرح غیر سے نفرت ہی سہی\n\nاب تو اٹھ آئے لحد سے بے تاب\nنہ سہی چال قیامت ہی سہی\n\nیادگاری کی کوئی بات تو ہو\nموت اپنی تری رخصت ہی سہی\n\nعدل و انصاف قیامت معلوم\nآہ و فریاد کی فرصت ہی سہی\n\nاے قلقؔ شکر ستم بے جا کیوں\nآہ و فریاد کی فرصت ہی سہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DA%AF_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%81%D9%84%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "زندگی نام ہے جس چیز کا کیا ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:شیر سنگھ ناز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زندگی نام ہے جس چیز کا کیا ہوتی ہے\nچلتی پھرتی یہ زمانے کی ہوا ہوتی ہے\n\nسیر دنیا کی نہ کچھ یاد خدا ہوتی ہے\nعمر انہیں جھگڑوں میں تاراج فنا ہوتی ہے\n\nروح جب قالب خاکی سے جدا ہوتی ہے\nکس کو معلوم کہاں جاتی ہے کیا ہوتی ہے\n\nفکر دنیا سے سوا ہو جسے عقبیٰ کا خیال\nوہ طبیعت ہی زمانے سے جدا ہوتی ہے\n\nدل پر غم ابھی بن جائے دوائے تسکین\nوہ نظر ڈال جو مانوس وفا ہوتی ہے\n\nصادق القول کی پہچان یہی ہے اے نازؔ\nدل میں ڈر ہوتا ہے آنکھوں میں حیا ہوتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DA%86%DB%8C%D8%B2_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "زندگی نام ہے محبت کا", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زندگی نام ہے محبت کا\nمرگ انجام ہے محبت کا\n\nکس طرح نکلے باغ سے بلبل\nبوئے گل دام ہے محبت کا\n\nخاص مجھ پر نہیں نگاہ کرم\nقاعدہ عام ہے محبت کا\n\nروح کے واسطے تن خاکی\nایک احرام ہے محبت کا\n\nمیری ضد سے ہوس پرستوں میں\nنام بد نام ہے محبت کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "زندگی کا کس لیے ماتم رہے", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زندگی کا کس لیے ماتم رہے\nملک بستا ہے مٹے یا ہم رہے\n\nدل رہے پیری میں بھی تیرا جواں\nآخری دم تک یہی دم خم رہے\n\nچاہیئے انسان کا دل ہو غنی\nپاس مال و زر بہت یا کم رہے\n\nکیا اسی جنت کی یہ تحریص ہے\nجس میں کچھ دن حضرت آدم رہے\n\nوصل سے مطلب نہ رکھ تو عشق کا\nدم بھرے جا دم میں جب تک دم رہے\n\nلاگ اک دن بن کے رہتی ہے لگاؤ\nہاں لگاوٹ کچھ نہ کچھ باہم رہے\n\nعشق نے جس دل پہ قبضہ کر لیا\nپھر کہاں اس میں نشاط و غم رہے\n\nشرق سے جب نور چمکا تو کہاں\nبرگ گل پر قطرۂ شبنم رہے\n\nحسن کی دنیا کا ہے دائم شباب\nحشر تک اس کا یہی عالم رہے\n\nہے سرور حسن کیفیؔ لا یزال\nدر خور ظرف اس میں بیش و کم رہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%B3_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%AA%D9%85_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "زندگی کیا ہے جو دل ہو تشنۂ ذوق وفا", "poet_page": "مصنف:اختر علی اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زندگی کیا ہے جو دل ہو تشنۂ ذوق وفا\nیعنی یہ پردہ تو اٹھ سکتا ہے آسانی کے ساتھ\n\nگفتگوئے صورت و معنی ہے عنوان حیات\nکھیلتے ہیں وہ مری فطرت کی حیرانی کے ساتھ\n\nتم نے ہر ذرے میں برپا کر دیا طوفان شوق\nاک تبسم اس قدر جلووں کی طغیانی کے ساتھ\n\nدل کی آبادی ہے اخترؔ دل کی بربادی کا نام\nاک تعلق ہے مری ہستی کو ویرانی کے ساتھ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D8%B4%D9%86%DB%82_%D8%B0%D9%88%D9%82_%D9%88%D9%81%D8%A7"} {"title": "زندگی ہوگی مری اے غم دوراں اک روز", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زندگی ہوگی مری اے غم دوراں اک روز\nمیں سنواروں گا تری زلف پریشاں اک روز\n\nگل کھلائے گی نئی موج بہاراں اک روز\nٹوٹ ہی جائیں گے قفل در زنداں اک روز\n\nکتنے الجھے ہوئے حالات زمانہ ہیں ابھی\nہوں گے شانے پہ مرے گیسوئے جاناں اک روز\n\nاہل زنداں سے یہ کہہ دو کہ ذرا صبر کریں\nہوگا ہر سمت گلستاں ہی گلستاں اک روز\n\nآ کے اک روز جلاؤں گا مرادوں کے دئے\nتیری محفل میں کروں گا میں چراغاں اک روز\n\nجان دیتا ہوں ابھی عشق کے انداز پہ میں\nحسن ہوگا مرے پہلو میں غزل خواں اک روز\n\nکچھ اندھیرے ہیں ابھی راہ میں حائل اخترؔ\nاپنی منزل پہ نظر آئے گا انساں اک روز", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%DA%A9_%D8%B1%D9%88%D8%B2"} {"title": "زندے وہی ہیں جو کہ ہیں تم پر مرے ہوے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زندے وہی ہیں جو کہ ہیں تم پر مرے ہوے\nباقی جو ہیں سو قبر میں مردے بھرے ہوئے\n\nمست الست قلزم ہستی میں آئے ہیں\nمثل حباب اپنا پیالہ بھرے ہوئے\n\nاللہ رے صفائے تن نازنین یار\nموتی ہیں کوٹ کوٹ کے گویا بھرے ہوئے\n\nدو دن سے پاؤں جو نہیں دبوائے یار نے\nبیٹھے ہیں ہاتھ ہاتھ کے اوپر دھرے ہوئے\n\nان ابروؤں کے حلقہ میں وہ انکھڑیاں نہیں\nدو طاق پر ہیں دو گل نرگس دھرے ہوئے\n\nبعد فنا بھی آئے گی مجھ مست کو نہ نیند\nبے خشت خم لحد میں سرہانے دھرے ہوئے\n\nنکلیں جو اشک بے اثر آنکھوں سے کیا عجب\nپیدا ہوئے ہیں طفل ہزاروں مرے ہوئے\n\nلکھے گئے بیاضوں میں اشعار انتخاب\nرائج رہے وہی کہ جو سکے کھرے ہوئے\n\nالٹا صفوں کو تیغ نے ابروئے یار کی\nتیر مژہ سے درہم و برہم پرے ہوئے\n\nآتشؔ خدا نے چاہا تو دریائے عشق میں\nکودے جو اب کی ہم تو ورے سے پرے ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%92_%D9%88%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%81_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88%DB%92"} {"title": "زنہار ہمت اپنے سے ہرگز نہ ہاریے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "زنہار ہمت اپنے سے ہرگز نہ ہاریے\nشیشے میں اس پری کو نہ جب تک اتارئیے\n\nاوضاع ڈھونڈ ڈھاڈ کے یاروں سے سیکھئے\nہوتے نہیں جہان میں ہم سے نیارئیے\n\nاے اشک گرم کر مرے دل کا علاج کچھ\nمشہور ہے کہ چوٹ کو پانی سے دہارئے\n\nجو اہل‌ فقر و شاہ کمہارے کے ہیں مرید\nپالے ہیں ان سبھوں نے کبوتر کمہارئے\n\nگلنے کی دال یاں نہیں بس خشکہ کھائیے\nاے شیخ صاحب آپ نہ شیخی بگھاریے\n\nکل جن کو کھیرے ککڑی کیا کوس کاٹ کر\nآج اس پری نے ان کو دیئے نرم آریے\n\nہو آب میں کدر تو ٹھہر جائیے ٹک ایک\nدل میں کدورت آوے تو کیوں کر نتھاریے\n\nہے کون سی یہ وضع بھلا سوچیے تو آپ\nباتیں ادھر کو کیجے ادھر آنکھ ماریے\n\nپوچھے حقیقت ایک نے جو امن راہ کی\nتو بولے سر جھکا کے بچا وہ مدارئیے\n\nخطرہ نہ آپ کیجے بس اب خیر شوق سے\nسونا اچھالتے ہوئے گھر کو سدھارئے\n\nہے جو بلند حوصلہ ان کی یہ چال ہے\nکیا پھر انہیں بگاڑئے جن کو سنوارئیے\n\nپنڈت جی ہم میں ان میں بھلا کیسے ہونے کے\nپوتھی کو اپنے کھولیے کچھ تو بچارئے\n\nانشاؔ کوئی جواب بھی دینا نہیں ہمیں\nبانگ جرس کی طرح کہاں تک پکاریے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%AA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D8%B1%DA%AF%D8%B2_%D9%86%DB%81_%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DB%92"} {"title": "زوال بغداد", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "آسماں را حق بود گر خوں بیار و بر زمین\nبزوال ملک مستعصم امیر المومنین\n\nیہ وہ شعر ہے جو شیخ سعدیؒ نے بغداد کی تباہی پر کہا تھا۔ ہم آج اس تباہی کا ذکر کرتے ہیں جو زوال بغداد کے نام سے مشہور ہے۔ چنگیز خاں کے بہت سے القاب ہیں، جن میں سے خان اعظم، خاقان اعظم اور قہر خدا مشہور عام ہیں مگر اصلی نام اس کا تموچن تھا۔ ۱۱۵۵ء میں پیدا ہوا اور ۱۱۸۹ء میں خاقان اعظم تسلیم کیا گیا اور دشت قپچاک سے لے کر منگولیا تک اس کے زیر نگیں آگیا۔ ان مغلوں کی قوم کا جن کا یہ خاقان تھا، مشہور مؤرخ عبد اللطیف ہے، جس نے حسب ذیل الفاظ میں ذکر کیا ہے،\n\n’’ان کے مرد اور عورت دونوں لڑتے ہیں، تیر ان کا خاص حربہ ہے اور غذا میں جو گوشت بھی مل جائے، کھا جاتے ہیں۔ ان کے قتل عام میں کسی کو اماں نہیں ملتی۔ کیونکہ یہ عورتوں اور معصوم بچوں تک کو نہیں چھوڑتے۔‘‘\n\nاسلامی دنیا سے چنگیز خاں کو کوئی تعلق ہی نہ تھا اور الگ تھلگ تھا، لیکن اس کی سلطنت کی سرحد خوارزم شاہ کی سرحد سے ملتی تھی۔ مسلمانوں کی شامت جو آئی تو خوارزم شاہ کے ایک گورنر نے، کچھ منگولیا سے تاجرآئے تھے، ان کو مروا ڈالا اور ان کا اسباب ضبط کر لیا۔ چنگیز خاں نےکوئی بے قاعدگی نہ کی اور گورنر کو سزا دلوانا چاہی، لیکن اس کے جواب میں خوارزم شاہ نے اس ایلچی کو قتل کرا دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ قہر خدا کو جنبش ہوئی اور طوفان کی طرح پہلا حملہ دس لاکھ کی جمعیت سے خوارزم پر ہوا۔ خوارزم شاہ کی فوج اس طوفان کے آگے منٹ بھر بھی نہ ٹھہر سکی۔ شہر اور گاؤں اور قصبہ اور قلعہ کل کے کل فتح کر کے تباہ کر دیے گئے اور ایکوں ایک متنفس قتل کر دیا گیا۔ خجند ایسا خوبصورت اور خوش حال شہر بھی تباہ کر دیا گیا اور مرد، عورت بچے سب قتل کر دیے گئے۔\n\nاس کے بعد بخارا کا نمبر آیا اور اس کا بھی یہی حال ہوا کہ سوائے لاشوں اور خاک کے ڈھیر کے کچھ نہ رہا۔ اس کے بعد قہر خدا مع اپنی فوج بلائے بے درماں کے سمرقند کی طرف بڑھا۔ اسلامی دنیا میں نہیں، بلکہ دنیا میں اس وقت سمرقند ایک یکتا شہر تھا۔ نہ صرف ماوراء لنہر کا دار الخلافہ تھا بلکہ تجارت اور صنعت و حرفت اور خوشحالی میں دنیا کا کوئی شہر اس کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔ گویا اس کی وہ حیثیت تھی جو آج لندن یا پیرس یا برلن کی ہو سکتی ہے۔ تین میل کے دور میں سمرقند کا قلعہ تھا اور صرف افواجِ متعینہ کی تعداد ایک لاکھ دس ہزار تھی۔ جس شہر میں اتنی زبردست فوجی چھاؤنی ہو، اس کی وسعت کا اندازہ لگانا آسان ہے۔ سمرقند کو چاروں طرف سے چنگیزی فوجوں نے گھیر لیا اور اس اثناء میں ساٹھ ہزار ترکی سپاہیوں نے غداری کی اور چنگیزی فوج سے جا ملے۔ مگر ان کو بھی چنگیزیوں نے نہ معلوم کس مصلحت کی بنا پر قتل کر ڈالا۔\n\nجب کوئی امید نہ رہی تو شہر کے اماموں اور قاضیوں نے صلح کی درخواست کی، لیکن اس پر بھی سارے شہر کو تباہ کر کے، سوائے دستکاروں اور صناعوں کو چھوڑ کر، کہ جن کی تعداد پچاس ہزار کے قریب تھی بوڑھے، بچے، عورتیں، جوان سب کے سب قتل کر دیے گئے، جن کی تعداد ساڑھے نو لاکھ تھی۔ جس شہر کی آبادی دس لاکھ ہو اور اس میں سے ساڑھے نو لاکھ مار ڈالے جائیں اور سارا شہر منہدم کردیا جائے تو وہ قہر خدا نہیں تو اور کیا ہے۔ سمرقند اور بخارا کے بعد اب بلخ کا نمبر آیا اور قہر خدا اس طرف چلا۔ سمرقند کا حال سن کر بلخ والے کانپ رہے تھے اور بجائے لڑنے کے چنگیز خاں کے پاس صلح کے لیے اماں طلب کرنے سفیر بھیجے اور بہت تحفے تحائف نذر کیے۔ چنگیز خاں نے تحفے تحائف قبول کیے اور اماں دی، لیکن کہا کہ مجھ کو شہر بلخ کی مردم شماری کرنا ہے۔ لہٰذا لوگ باہر شہر کے آجائیں۔ چنانچہ اس بہانےسے سب کو باہر بلا کر ایک ایک کو قتل کر ڈالا اور شہر کو جلا کر راکھ کا ڈھیر کر دیا۔\n\nاس کے بعد خیوہ قدیم کا نمبر آیا اور شہر فتح کر کے ہر ذی روح کو قتل کرکے آگ لگا دی اور دریائے امور کے بند توڑ کر شہر کو تہ آب کر دیا اور نام و نشان تک مٹا دیا۔ وہاں سے نیسا پہنچا اور وہاں صرف ستر ہزار مردعورتوں اور بچوں کو زمین پر لٹا کر باندھ دیا اور سب کو تیروں سے فنا کر دیا۔ اس کے بعد نیشا پور (بنو طاہر کا دار الخلافہ تھا) کا نمبر آیا اور خاص نیشاپور اور اس کے گرد و نواح میں مرد عورتیں جواں بچے سب ملا کر ستر لاکھ سینتالیس ہزار نفوس قتل کیے۔ شہر نیشا پور کے ساتھ ایک اور جدت کی گئی کہ مسمار کر کے شہر میں ہل چلوا کر جو بو دیے گئے۔ ظاہر ہے کہ محض رسم کو پورا کیا ورنہ درحقیقت جو کی کاشت مقصود نہ تھی۔ اس کے بعد ہرات کی طرف طوفان بڑھا اور ہرات کا بھی وہی حال ہوا اور شہر کا نام و نشان تک مٹا دیا۔ خاص ہرات اور اس کے گرد و نواح میں سولہ لاکھ آدمی قتل کر دیے گئے اور ہرات کایہ حال ہوا کہ مغلوں کی واپسی کے بعد شہر کی جامع مسجد میں صرف چالیس آدمیوں کا مجمع ممکن تھا۔\n\nہرات کے بعد زلے کا نمبر آیا جو گورنری کا صدر مقام تھا۔ اس کے بعد ہمدان اور دنباور کا نمبر آیا اور ان کا بھی وہی حال ہوا۔ وہاں سے چنگیز نے جلال الدین خوارزم کا پیچھا کیا اور دریائے انڈس تک اس کو دوڑا مارا۔ جہاں جہاں سے ہو کر چنگیزی فوجیں گئیں ویرانہ چھوڑ گئیں۔ عراق کی طرف متوجہ ہوا تھا مگر وہاں خلیفہ کی فوجوں کے آگے دال نہ گل سکی تھی۔ غرض تمام وسط ایشیا اور ایران کو تباہ و برباد کرکے ریگستان بنا دیا، تمام مشہور شہر کھنڈر پڑے ہوئے تھے اور تام شاہراہیں سنسان پڑی تھیں۔ چنگیز خاں کا واپسی پر انتقال ہو گیا۔ اس قتل عام میں قریب دو کروڑ کے جانیں ضائع ہوئیں بلکہ بعضوں کا تو اندازہ اس سے کہیں زیادہ ہے، اور گو واقعات کو دیکھتے ہوئے مبالغہ نہیں معلوم ہوتا مگر پھر بھی ہم انہیں اعداد کو کافی خیال کرتے ہیں۔\n\nچنگیزخاں کے قریب سو بیٹے تھے۔ جن میں سے مشہور یہ ہیں، باطو خاں، منگو خاں، قبلائی خاں، چغتائی خاں، ہلاکو خاں وغیرہ۔ قبلائی خاں، فغفور چین ہوا۔ باطو خاں باپ کے تخت پر بیٹھا اور چغتائی خاں اپنی اولاد کی وجہ سے مشہور ہوئے۔\n\nخان اعظم چنگیز خاں کی وفات کے بعد ہلاکو خاں ایران میں متعین تھا۔ خلیفہ بغداد مستعصم کا زمانہ آیا۔ بغداد کے باہر یہ مصیبت برپا تھی اور خاص بغداد میں لوگ وہ کام کر رہے تھے جو آج کل ہندوستان میں ہو رہا ہے۔ حنفی اور حنبلی مسلمانوں میں لڑائیاں نہیں ہوتی تھیں بلکہ بلوے ہوتے تھے۔ وہ ان کو کافر کہتے تھے اور وہ ان کو، علاوہ اس کے شیعہ سنیوں میں الگ سرپھٹول ہو رہی تھی۔ خلیفہ صاحب نے شیعوں کا محلہ تباہ کرا کر ان کو غلام بنا ڈالا اور اس پر روایت ہے کہ شیعہ وزیر نے ہلاکو خاں کو بلا بھیجا۔\n\nہلاکو خاں نے خلیفہ کو خط لکھا کہ جب ہم رودبار کی مہم پر گئے تھے تو ہم نے تجھ سے امداد مانگی تھی لیکن تو نے ایک آدمی تک نہ دیا۔ اب تجھ کو چاہیے کہ اپنا رویہ بدل ڈال۔ ورنہ تیری سلطنت اور خزانہ سب جاتا رہے گا۔ خلیفہ کا بھی خون ہاشمی جوش میں آگیا اور بغیر فوج یا کسی سہارے کے جواب سخت دیا اور قاصدوں کی توہین کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بغداد کا لاتعداد فوج سے محاصرہ کر لیا گیا۔ چاروں طرف بلندیوں پر سے پتھر اور مشتعل رال کے گولے شہر والوں پر برسنے لگے اور چالیس روز کے سخت محاصرے کے بعد یہ طے ہوا کہ ہلاکو خاں سے صلح کی جائے۔ ہلاکو خاں نے دھوکہ دے کر خلیفہ کے خاص افسران کو اپنے کیمپ میں بلایا اور ذرا سے بہانے پر سب کو قتل کر ڈالا۔ آخر کو یہ طے ہوا کہ شہر کو بچانے کے لیے صلح کی جائے۔ چنانچہ خود خلیفہ مع اپنے بھائی اور دونوں بیٹوں اور قریب تین ہزار آدمیوں کے ہلاکو خاں کے خیمے میں گئے۔\n\nیہ تین ہزار آدمی شہر کے بڑے بڑے قاضی، شیخ، امام اور دوسرے بڑے لوگ تھے۔ ہلاکو خاں نے سب کا بڑی خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔ خلیفہ اور تینوں شہزادوں کو شرف باریابی بھی بخشا۔ جب خلیفہ کو ہر طرح کا اطمینان دلا دیا تو ہلاکو خاں نے خلیفہ سے کہا کہ مجھ کو بغداد شہر خاص کی ذرا مردم شماری کرنا ہے لہٰذا حکم بھیج دیجیے کہ تمام مسلح آدمی اور باشندے شہر سے باہر آ جائیں۔ چنانچہ جب سب آگئے تو گرفتار کر لیے گئے اور دوسرے روز ہلاکو خاں نے سب کو قتل کر کے خاص بغداد شہر کی تباہی کا حکم دے دیا۔\n\nشاہی محل کے ایک ہال میں ایک سونےکا درخت تھا۔ جس کی ڈالیوں پر سنہری پرندے بنے ہوئے تھے اور اس میں جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ دوسرے ہال میں جس کا نام ایوانِ فردوسی تھا، نہایت عالیشان جھاڑو فانوس لٹک رہے تھے۔ دیواروں اور چھتوں پر لعل و گوہر کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے اور ان کا نہایت خوشنما رنگ اس کی زیبائش میں اور بھی چار چاند لگا رہا تھا۔ غرض یہ کہ ایوان فردوسی کیا تھا ایک قابل دید نظارہ۔\n\nدریا کے ہر دو کناروں پر میلوں تک آمنے سامنے محل بنے ہوئے تھے اور علاوہ محلات کے باغات بھی تھے۔ دریا کے کنارے کنارے پانی کی سطح تک سنگ مرمر کی سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں۔ دریا میں ہزار کشتیاں پڑی ہوئی تھیں جو ذواک کہلاتی تھیں۔ جن پر خوب صورت جھنڈیاں لگی ہوئی تھیں جو شعاعوں کی طرح سطح آب پر لہرا لہرا کر ایک عجیب نظارہ پیدا کر رہی تھیں، جنہوں نے گویا اس سین میں جان ڈال دی تھی۔ اعلیٰ طبقے کے بغدادی انہیں کشتیوں میں بیٹھ کر شہر کے ایک حصہ سے دوسرے میں بغرض سیر و تفریح جاتے تھے۔ بہت سے گھاٹ دریا کے کنارے میلوں تک پھیلے ہوئے تھے اور ان پر تمام بیڑا لنگر ڈالے رہتا تھا، جس میں بڑی چھوٹی اور جنگی کشتیاں و جہاز ہر قسم کے تھے۔ اس میں اونچے اونچےبلند جنگی جہاز اور ان کے آس پاس پولیس کی کشتیاں تھیں۔\n\nجامع مسجد نہایت ہی خوبصورت اور عالیشان عمارت تھی۔ ایوان جو کہ قصر الخلد کہلاتا تھا، اس کے بیچ میں ایک بڑا زبردست ہرے رنگ کا گنبد بنا ہوا تھا۔ جو قریب اسی ہاتھ (۱۱۲فٹ) اونچا تھا۔ گنبد کی چوٹی پر ایک گھوڑے سوار کا پتلا بنا ہوا تھا۔ جس کے ہاتھ میں ایک بھالا تھا۔ غرض بغداد کیا تھا کہ شہروں میں دلہن اور کیوں نہ ہو کہ اس قدر زبردست سلطنت کا دارالخلافہ برسوں رہا، جہاں دنیا کی دولت سمٹ کر آگئی تھی۔ غرض یہ تھا وہ جس کی تباہی کا حکم دیا گیا۔\n\nبغداد کی تباہی کے حالات کا حال قلم بند کرنے کے لیے کسی استاد کے قلم کی ضرورت ہے، مثلاً گبن۔ عورتیں اور بچے جو اپنے گھروں سے باہر کلام پاک ہاتھ میں لیے ہوئے منت سماجت کرتے ہوئے نکلے، وہیں کے وہیں کچل دیے گئے۔ نازک عورتیں جن کی تربیت و پرورش نہایت نزاکت سے ہوئی اور جنہوں نے کبھی گھر سے باہر نکلنے کی اور اس طرح مجمع میں آنے کی ہمت بھی نہ کی ہوگی، وہ گلیوں اور سڑکوں پر کھینچ کھینچ کر لائی گئیں اور ان پر سخت جبر و تشدد ہوا اور قتل کردی گئیں۔ صنعتی اور علمی خزانے جو کہ بڑی محنت اور جانفشانی اور بڑی مدت سے بادشاہوں نے اکٹھے کیے تھے، تلف کر دیے گئے اور عرب و عجم کی جو کچھ بھی بچی کھچی تہذیب تھی وہ سب چند گھنٹوں میں تہس نہس کردی گئی۔\n\nتین روز تک کشت و خون جاری رہا اور تمام گلی کوچوں میں خون کے نالے بہتے رہے اور دریائے دجلہ کا پانی میلوں تک سرخ ہو گیا۔ محلات، مساجد اور روضہ جات، سنہری گنبدوں کی وجہ سے جلا کر خاک کر دیے گئے۔ شفاخانوں میں مریض، کالجوں میں طالب علم اور استاد تہ تیغ کر دیے گئے۔ مقبروں میں شیخوں اور اماموں کی لاشیں جلا کر خاک کردی گئیں۔ کتابیں یا تو آگ میں پھینک دی گئیں اور یا دجلہ میں ڈبو دی گئیں۔ اس طرح سے ہزاروں برس کے اکٹھے کیے ہوئے علمی خزانے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نیست و نابود کر دیے گئے اور یہ قوم کی قوم ہمیشہ کے لیے برباد کر دی گئی۔\n\nچار روز تک مسلسل قتل عام جاری رہا۔ اس کے بعد خلیفہ مستعصم کو بھی مع اس کے لڑکوں اور خاندان والوں کے قتل کردیا گیا۔ کچھ افراد خاندانِ عباسیہ کے البتہ اس غارت گری سے بچ گئے۔ بغداد جو علم اور تہذیب کا مرکز تھا، تہ و بالا کر دیا گیا۔ بغداد کی آبادی بیس لاکھ تھی۔ جس میں سے قریب سولہ لاکھ قتل کر دی گئی۔ عرب اور ایران کے مصنفوں نے نہایت ہی عبرتناک طریقے پر اس لوٹ اور غارت گری کا حال قلم بند کیا ہے جس میں ہزارہا جنگلی بت پرستوں نے اسلامی دنیا کو تباہ کر دیا اور یہ واقعہ تیرہویں صدی کے درمیانی حصہ میں ہوا۔ اس کے حالات پڑھ کر کیسے سے کیسا سخت دل آدمی بھی آنسو بہائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ منگولیا کے باشندوں نے کیسے مظالم کیے اور کس طرح سے انسانوں کو چن چن کر قتل کر دیا اور ہر قسم کے علوم کے خزانے برباد کر دیے۔\n\nابن الاثیر لکھتا ہے کہ تاتاریوں کا حملہ ایک ایسا سنسنی خیز و زبردست حادثہ تھا جس کااثر تمام دنیا پر پڑا اور خاص طور پر مسلمانوں پر کہ جو اپنی نظیر آپ ہے۔ اس کے علاوہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس وقت سے اب تک ایسے جانکاہ حادثے کی کوئی مثال پیش نظر نہیں ہے۔ علامہ جوینی ’’جہاں کشا‘‘ کا مصنف، جو کہ اس وقت ہلاکو کے یہاں ملازم تھا، لکھتا ہے کہ اس انقلاب نے دنیا کو مغلوب کر دیا۔ علم اور عالموں کو تباہ کر دیا اور خاص طور پر خراسان میں جو کہ علم اور ادب کا مرکز تھا، عالموں کو تلوار کے گھاٹ اتار دیا اور یہ زمانہ علم و سائنس کے قحط کا زمانہ ہے۔\n\nبغداد کی تباہی کے بعد اس جنگلی گروہ نے دریائے فرات کو عبور کیا اور عراق پہنچے اور جہاں جہاں یہ لوگ گئے وہاں انہوں نے اسی طرح کشت و خون جاری رکھا۔ ایڈیسا، حیرن اور دوسرے اہم شہروں کے باشندوں کے خون میں بھی اپنی تلوار رنگی۔ حلب میں پچاس ہزار آدمی قتل کیے گئے اور دس ہزار عورتوں اور بچوں کو غلام بنا کر فروخت کر دیا گیا۔ حیرن والوں نے شہر حوالے کردیا اس شرط پر کہ شہر کو تباہ نہ کیا جائے لیکن باشندوں کو تباہ کردیا۔ حتیٰ کہ دودھ پیتے بچوں کو قتل کر دیا گیا، قصہ مختصر سارا ملک مع بغداد تباہ کر دیا گیا۔\n\nاس خوفناک تباہی پر اسلام کے تین مشہور شاعروں کے تین اشعار قابل غور ہیں۔ سعدیؒ کا شعر مضمون کی سرخی کے ساتھ پیش ہے۔ جس میں گویا سعدی نے خون کے آنسو بہائے ہیں۔ حالی نے گویا جل کر کہا ہے،\n\nاڑا لے گئی باد پندار جس کو\nبہا لے گئی سیلِ تاتار جس کو\n\nجیسے کوئی ماں اپنے بچوں کے چوٹ لگنے پر جل کر کہتی ہے۔ ’’چلو اچھا ہوا، خوب ہوا۔‘‘ اقبال نے اس سانحۂ عظیم کا نوٹس تک لینے سے انکار کیا ہے اور لیا بھی ہے تو کس استغنا سے۔ فرماتے ہیں،\n\nہے عیاں یورش تاتار کے افسانوں سے\nباسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانوں سے\n\nاقبال در اصل بہت بلند اڑتا ہے۔ اس کے نزدیک بغداد یا دلی کی تباہی کوئی حیثیت ہی نہیں رکتھی جب کہ اصل شے کعبہ ہے چنانچہ کیا غضب ہوا؟ کچھ بھی نہیں۔ نئے چوکیدار نے پرانے چوکیدار کو مار ڈالا! اقبال کے نزدیک محض چوکیدار بدل گیا اور واقعہ بھی یہی ہے کہ اسلام اور اس کا کعبہ ایسے ہزار بغداد تباہ ہوں تب بھی جوں کا تو ہے اور رہے گا۔\n\nہلاکو خاں کا قول تھا کہ خدا نے مجھے مسلمانوں کے مارنے کے لیے پیدا کیا ہے اور نعوذ باللہ، کہتا تھا کہ کعبے کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا اور یہ کہہ کر سچ مچ چلا وہ حجاز کی طرف۔ دیکھا جائے تو اسلام کی قوت کیا بلکہ سیاہی وجود ہی مٹ چکا تھا۔ اسلامی دنیا اس سرے سے اس سرے تک مع آبادی فنا کر ڈالی گئی تھی، کس میں بوتا تھا جو اس گروہ کو روکتا۔ لیکن سلطان مصری نے اپنے کو مع اپنی مختصر جمعیت کے مغلوں اور کعبے کے درمیان ڈال دیا۔ مقام عین الجلوۃ پر گھمسان کا معرکہ ہوا جس میں ’’خدام کعبہ‘‘ کو فتح اور مغلوں کو شکست ہوئی، نہ صرف شکست بلکہ ایسی شکست کہ پھر عراق تک میں مصریوں نے مغلوں کو نہ چھوڑا اور سارے ملک سے نکال دیا، ہر جگہ شکست دی۔ مگر بغداد تباہ ہو چکا تھا اور اس خوفناک زوال کے بعد پھر کبھی بغداد کو اور اسلامی فکر و فن و صنعت کو عروج حاصل نہیں ہوا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%88%D8%A7%D9%84_%D8%A8%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%AF"} {"title": "زور پر آہ تھی اور نالۂ شب گیر بھی تھا", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زور پر آہ تھی اور نالۂ شب گیر بھی تھا\nمانتا ہم کو کبھی یہ فلک پیر بھی تھا\n\nحور کا دھیان رہا وقت شہادت سب کو\nمحو صورت پہ تری میں دم تکبیر بھی تھا\n\nدر بدر مجھ کو کیا در سے اٹھا کر اپنے\nتیرا عاشق تو میں تھا شہر میں تشہیر بھی تھا\n\nبندگی قہر ہے الزام اٹھاتے ہی بنی\nحشر میں پیش اگرچہ خط تقدیر بھی تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%88%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%B4%D8%A8_%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "زور ہے گرمئ بازار ترے کوچے میں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زور ہے گرمئ بازار ترے کوچے میں\nجمع ہیں تیرے خریدار ترے کوچے میں\n\nدیکھ کر تجھ کو قدم اٹھ نہیں سکتا اپنا\nبن گئے صورت دیوار ترے کوچے میں\n\nپاؤں پھیلائے زمیں پر میں پڑا رہتا ہوں\nصورت سایۂ دیوار ترے کوچے میں\n\nگو تو ملتا نہیں پر دل کے تقاضے سے ہم\nروز ہو آتے ہیں سو بار ترے کوچے میں\n\nایک ہم ہیں کہ قدم رکھ نہیں سکتے ورنہ\nاینڈتے پھرتے ہیں اغیار ترے کوچے میں\n\nپاسبانوں کی طرح راتوں کو بے تابی سے\nنالے کرتے ہیں ہم اے یار ترے کوچے میں\n\nآرزو ہے جو مروں میں تو یہیں دفن بھی ہوں\nہے جگہ تھوڑی سی درکار ترے کوچے میں\n\nگر یہی ہیں ترے ابرو کے اشارے قاتل\nآج کل چلتی ہے تلوار ترے کوچے میں\n\nحال دل کہنے کا ناسخؔ جو نہیں پاتا بار\nپھینک جاتا ہے وہ اشعار ترے کوچے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D9%85%D8%A6_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "زور یارو آج ہم نے فتح کی جنگ فلک", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زور یارو آج ہم نے فتح کی جنگ فلک\nیک طمانچے میں کبودی کر دیا رنگ فلک\n\nگرمئ دوکاں پر اپنی شیشہ گر سرکش نہ ہو\nڈھونڈھتا پھرتا ہے تیرے سر کے تئیں سنگ فلک\n\nکج روی سے اس کی گر عاقل ہے تو غافل نہ رہ\nان دنوں اور ہی نظر آتا ہے کچھ ڈھنگ فلک\n\nتو جو تل بیٹھے تو پلے چاہئے ہوں مہر و ماہ\nایسی میزاں کے تئیں لازم ہے پاسنگ فلک\n\nشوق ہے گر سیر بالا کا تو حاتمؔ ہو سوار\nکہکشاں سے کھینچ کر لایا ہوں اب تنگ فلک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%88%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D8%A2%D8%AC_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%81%D8%AA%D8%AD_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%86%DA%AF_%D9%81%D9%84%DA%A9"} {"title": "زوروں پہ ہے روز ناتوانی میری", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "زوروں پہ ہے روز ناتوانی میری\nبد تر پیری سے ہے جوانی میری\nدنیا میں پھنسا دیا عدم سے لا کر\nگزری زنداں میں زندگانی میری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "زُہد اور رندی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اک مولوی صاحب کی سُناتا ہوں کہانی\nتیزی نہیں منظور طبیعت کی دِکھانی\n\nشُہرہ تھا بہت آپ کی صُوفی منَشی کا\nکرتے تھے ادب اُن کا اعالی و ادانی\n\nکہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوّف میں شریعت\nجس طرح کہ الفاظ میں مضمَر ہوں معانی\n\nلبریز مئے زُہد سے تھی دل کی صراحی\nتھی تہ میں کہیں دُردِ خیالِ ہمہ دانی\n\nکرتے تھے بیاں آپ کرامات کا اپنی\nمنظور تھی تعداد مُریدوں کی بڑھانی\n\nمُدّت سے رہا کرتے تھے ہمسائے میں میرے\nتھی رند سے زاہد کی ملاقات پُرانی\n\nحضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پُوچھا\nاقبالؔ، کہ ہے قُمریِ شمشادِ معانی\n\nپابندیِ احکامِ شریعت میں ہے کیسا؟\nگو شعر میں ہے رشکِ کلیمِؔ ہمَدانی\n\nسُنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتا\nہے ایسا عقیدہ اثَرِ فلسفہ دانی\n\nہے اس کی طبیعت میں تشُّیع بھی ذرا سا\nتفضیلِ علیؓ ہم نے سُنی اس کی زبانی\n\nسمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات میں داخل\nمقصود ہے مذہب کی مگر خاک اُڑانی\n\nکچھ عار اسے حُسن فروشوں سے نہیں ہے\nعادت یہ ہمارے شُعَرا کی ہے پُرانی\n\nگانا جو ہے شب کو تو سحَر کو ہے تلاوت\nاس رمز کے اب تک نہ کھُلے ہم پہ معانی\n\nلیکن یہ سُنا اپنے مُریدوں سے ہے مَیں نے\nبے داغ ہے مانندِ سحرَ اس کی جوانی\n\nمجموعۂ اضداد ہے، اقبالؔ نہیں ہے\nدل دفترِ حکمت ہے، طبیعت خفَقانی\n\nرِندی سے بھی آگاہ، شریعت سے بھی واقف\nپُوچھو جو تصوّف کی تو منصور کا ثانی\n\nاس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کھُلتی\nہو گا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی\n\nالقصّہ بہت طول دیا وعظ کو اپنے\nتا دیر رہی آپ کی یہ نَغْز بیانی\n\nاس شہر میں جو بات ہو، اُڑ جاتی ہے سب میں\nمَیں نے بھی سُنی اپنے اَحِبّا کی زبانی\n\nاک دن جو سرِ راہ مِلے حضرتِ زاہد\nپھر چھِڑ گئی باتوں میں وہی بات پُرانی\n\nفرمایا، شکایت وہ محبّت کے سبب تھی\nتھا فرض مرا راہ شریعت کی دِکھانی\n\nمَیں نے یہ کہا کوئی گِلہ مجھ کو نہیں ہے\nیہ آپ کا حق تھا ز رہِ قُربِ مکانی\n\nخم ہے سرِ تسلیم مرا آپ کے آگے\nپِیری ہے تواضع کے سبب میری جوانی\n\nگر آپ کو معلوم نہیں میری حقیقت\nپیدا نہیں کچھ اس سے قصورِ ہمہ دانی\n\nمَیں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناسا\nگہرا ہے مرے بحرِ خیالات کا پانی\n\nمجھ کو بھی تمنّا ہے کہ ’اقبال‘ کو دیکھوں\nکی اس کی جُدائی میں بہت اشک فشانی\n\nاقبالؔ بھی ’اقبال‘ سے آگاہ نہیں ہے\nکچھ اس میں تمسخر نہیں، واللہ نہیں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%D9%8F%DB%81%D8%AF_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B1%D9%86%D8%AF%DB%8C"} {"title": "زہاد کا غفلت سے ہے اوراد و سجود", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "زہاد کا غفلت سے ہے اوراد و سجود\nہے عید کی تصویر میں رنگ معبود\nفانی حجت میں ہے تو ہی یا باقی\nنسیان میں بھی ہے یاد تری یا موجود", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%DB%81%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%A7%D8%AF_%D9%88_%D8%B3%D8%AC%D9%88%D8%AF"} {"title": "زہر عشق", "poet_page": "مصنف:مرزا شوقؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "لکھ قلم پہلے حمد رب ودود\nکہ ہر اک جا پہ ہے وہی موجود\n\nذات معبود جاودانی ہے\nباقی جو کچھ کہ ہے وہ فانی ہے\n\nہمسر اس کا نہیں ندیم نہیں\nسب ہیں حادث کوئی قدیم نہیں\n\nنعت\n\nمدح احمد زباں پہ کیونکر آئے\nبحر کوزے میں کس طرح سے سمائے\n\nذات احمد کو کوئی کیا جانے\nیا علی جانے یا خدا جانے\n\nمنقبت\n\nمدح حیدر میں کھولئے جو دہن\nاس سے آگے نہیں ہے جائے سخن\n\nکوئی حیدر کا مرتبہ سمجھا\nکوئی بندہ کوئی خدا سمجھا\n\nبیان عشق\n\nہے بنا جب سے گلشن ایجاد\nہوئی ہر شے ہر ایک کو امداد\n\nرنگ خوبی عطا کیا گل کو\nنالۂ و درد بخشا بلبل کو\n\nماہ کو نور لطف ہالے کو\nچشم نرگس کو داغ لالے کو\n\nراستی کی عطا صنوبر کو\nپیچ سنبل کو آب گوہر کو\n\nسختی ساری بتوں کے دل میں دی\nالفت انساں کے آب و گل میں دی\n\nعشق سے کون ہے بشر خالی\nکر دیئے جس نے گھر کے گھر خالی\n\nپڑتے ہیں اس میں جان کے لالے\nڈالتا ہے جگر میں بت خانے\n\nجو کہ واقف تھے سب قرینوں سے\nخاک چھنوائی ان حسینوں سے\n\nاس سے امید رکھنا ہے بے جا\nبھائی مجنوں سے کیا سلوک کیا\n\nمنہ سے کرنے نہ دی فغاں اس نے\nمارے چن چن کے نوجواں اس نے\n\nاس نے جس سے ذرا تپاک کیا\nسب سے پہلے اسے ہلاک کیا\n\nآتش ہجر سے رلاتا ہے\nآگ پانی میں یہ لگاتا ہے\n\nمار ڈالا تماش بینوں کو\nزہر کھلوا دیا حسینوں کو\n\nبس میں ڈالے نہ کبریا اس کے\nرحم دل میں نہیں ذرا اس کے\n\nآغاز داستان\n\nایک قصہ غریب لکھتا ہوں\nداستان عجیب لکھتا ہوں\n\nتازہ اس طرح کی حکایت ہے\nسننے والوں کو جس سے حیرت ہے\n\nجس محلے میں تھا ہمارا گھر\nوہیں رہتا تھا ایک سوداگر\n\nمرد اشراف صاحب دولت\nتاجروں میں کمال ذی عزت\n\nغم نہ تھا کچھ فراغ بالی سے\nتھا بہت خاندان عالی سے\n\nایک دختر تھی اس کی ماہ جبیںؔ\nشادی اس کی نہیں ہوئی تھی کہیں\n\nثانی رکھتی نہ تھی وہ صورت میں\nغیرت حور تھی حقیقت میں\n\nسبز نخل گل جوانی تھا\nحسن یوسف فقط کہانی تھا\n\nاس سن و سال پر کمال خلیق\nچال ڈھال انتہا کی نستعلیق\n\nچشم بد دور وہ حسیں آنکھیں\nرشک چشم غزال چیں آنکھیں\n\nتھا جو ماں باپ کو نظر کا ڈر\nآنکھ بھر کر نہ دیکھتے تھے ادھر\n\nتھی زمانے میں بے عدیل و نظیر\nخوش گلو، خوش جمال خوش تقریر\n\nتھا نہ اس شہر میں جواب اس کا\nحسن لاکھوں میں انتخاب اس کا\n\nشعر گوئی سے ذوق رہتا تھا\nلکھنے پڑھنے کا شوق رہتا تھا\n\nرخ پہ گیسو کی لہر آفت تھی\nجو ادا اس کی تھی قیامت تھی\n\nتھا یہ اس گل کا جامہ زیب بدن\nسادی پوشاک میں تھے سو جوبن\n\nسارا گھر اس پہ رہتا تھا قرباں\nروح گر ماں کی تھی تو باپ کی جاں\n\nنور آنکھوں کا دل کا چین تھی وہ\nراحت جان والدین تھی وہ\n\nپہلی نظر\n\nایک دن چرخ پر جو ابر آیا\nکچھ اندھیرا سا ہر طرف چھایا\n\nکھل گیا جب برس کے وہ بادل\nقوس تب آسماں پہ آئی نکل\n\nدل مرا بیٹھے بیٹھے گھبرایا\nسیر کرنے کو بام پر آیا\n\nخفقاں دل کا جو بہلنے لگا\nاس طرف اس طرف ٹہلنے لگا\n\nدیکھا اک سمت جو اٹھا کے نظر\nسامنے تھی وہ دخت سوداگر\n\nساتھ ہجمولیاں بھی تھیں دو چار\nدیکھتی تھیں وہ آسماں کی بہار\n\nبام سے کچھ اترتی جاتی تھیں\nچہلیں آپس میں کرتی جاتی تھیں\n\nرہ گئی جب اکیلی وہ گل رو\nنگراں سیر کو ہوئی ہر سو\n\nہوئی میری جو اس کی چار نگاہ\nمنہ سے بے ساختہ نکل گئی آہ\n\nحال دل کا نہیں کہا جاتا\nخوب سنبھلا، نہیں غش آ جاتا\n\nنہ ہوا گو کلام فی ما بین\nروح قالب میں ہو گئی بے چین\n\nتیر الفت جو تھا لگا کاری\nاشک بے ساختہ ہوئے جاری\n\nسامنے وہ کھڑی تھی ماہ منیر\nچپ کھڑا تھا میں صورت تصویر\n\nتاب نظارہ اتنی لا نہ سکا\nکہ اشارے سے بھی بلا نہ سکا\n\nدیکھتا اس کو بار بار تھا میں\nمحو حسن و جمال یار تھا میں\n\nگو میں روکے ہوئے ہزار رہا\nدل پہ لیکن نہ اختیار رہا\n\nاسی صورت سے ہو گئی جب شام\nلائی پاس اس کے اک کنیز پیام\n\nبیٹھی ناحق بھی ہولیں کھاتی ہیں\nامی جان آپ کی بلاتی ہیں\n\nگیسو رخ پر ہوا سے ہلتے ہیں\nچلئے اب دونوں وقت ملتے ہیں\n\nسن کے لونڈی کے منہ سے یہ پیغام\nگئی کوٹھے کے نیچے وہ گلفام\n\nاس کا جلوہ نہ جب نظر آیا\nمیں بھی روتا ہوا اتر آیا\n\nشام سے پھر سحر کی مر مر کے\nشب وہ کاٹی خدا خدا کر کے\n\nاضطراب عاشق\n\nپڑ گیا دل میں غم سے اک ناسور\nیہی اس دن سے پڑ گیا دستور\n\nدن میں سو بار بام پر جانا\nدیکھنا بھالنا چلے آنا\n\nجب نہ دیکھا وہاں پہ وہ گل رو\nفرط غم سے نکل پڑے آنسو\n\nلاکھ چاہا نہ ہو سکا دل سخت\nپئے تسکیں رہی یہ آمد و رفت\n\nگزرے کچھ دن تو رنج کے مارے\nزر درخسار ہو گئے سارے\n\nہو گئی پھر تو ایسی حالت زار\nجیسے برسوں کا ہو کوئی بیمار\n\nدل کو تھی غم سے خود فراموشی\nلگ گئی لب پہ مہر خاموشی\n\nنہ رہا دل کو ضبط کا یارا\nسر جہاں پایا دھڑ سے دے مارا\n\nرنج لاکھوں طرح کے سہتے تھے\nلب تھے خاموش اشک بہتے تھے\n\nہجر سے غیر ہوگئی حالت\nغم سے بالکل بدل گئی صورت\n\nہوا حیران اپنا بیگانہ\nجس نے دیکھا مجھے نہ پہچانا\n\nماں باپ کی فہمائش\n\nدیکھے ماں باپ نے جو یہ انداز\nروح قالب سے کر گئی پرواز\n\nپوچھا مجھ سے یہ کیا ہے حال ترا\nکس طرف ہے بندھا خیال ترا\n\nسچ بتا دے کہ دھیان کس کا ہے\nدل میں غم میری جان کسی کا ہے\n\nرنج کس شعلہ رو کا کھاتے ہو\nشمع کی طرح پگھلے جاتے ہو\n\nزرد چہرہ ہے ارغواں کی طرح\nٹکڑے پوشاک ہے کتاں کی طرح\n\nکون سی ماہ رو پہ مرتے ہو\nسچ کہو کس کو پیار کرتے ہو\n\nیہ کہو مہ جبیں ملا ہے کون؟\nتم کو ایسا حسیں ملا ہے کون؟\n\nکھاتے ہو پیتے ہو نہ سوتے ہو\nروز اٹھ اٹھ کے شب کو روتے ہو\n\nنہیں معلوم کون ہے وہ چھنال\nکر دیا میرے لال کا یہ حال\n\nمیرے بچے کی جو کڑھائے جان\nسات بار اس کو میں کروں قربان\n\nاللہ آمیں سے ہم تو یوں پالیں\nآپ آفت میں جاں کو یوں ڈالیں\n\nتیرے پیچھے کی تلخ سب اوقات\nدن کو دن سمجھی اور نہ رات کو رات\n\nپالا کس کس طرح تمہیں جانی\nکون منت تھی جو نہیں مانی\n\nروشنی مسجدوں میں کرتی تھی\nجا کے درگاہ چوکی بھرتی تھی\n\nاب جو نام خدا جوان ہوئے\nایسے مختار میری جان ہوئے\n\nہاں میاں سچ ہے یہ خدا کی شان\nتم کرو جان بوجھ کر ہلکان\n\nہم تو یوں پھونک پھونک رکھیں قدم\nآپ دیتے پھریں ہر ایک پہ دم\n\nہم یہاں رنج و غم میں روتے ہیں\nآپ غیروں پہ جان کھوتے ہیں\n\nیوں مٹاؤ گے جان کر ہم کو\nتھی نہ اس روز کی خبر ہم کو\n\nدیکھتی ہوں جو تیرا حال زبوں\nخشک ہوتا ہے میرے جسم کا خون\n\nیوں تو برباد تو شباب نہ کر\nمٹی ماں باپ کی خراب نہ کر\n\nکچھ تو کہہ ہم سے اپنے قلب کا حال\nکس کا بھایا ہے تجھ کو حسن و جمال\n\nدل ہوا تیرا شیفتہ کس کا\nسچ بتا ہے فریفتہ کس کا\n\nکیسا دو دن میں جی نڈھال ہوا\nدائی بندی کا کیا یہ حال ہوا\n\nآئینہ تو اٹھا کے دیکھ ذرا\nست گیا دو ہی دن میں منہ کیسا\n\nسدھ نہ کھانے کی ہے نہ پینے کی\nکونسی پھر امید جینے کی\n\nکس کی الفت میں ہے یہ حال کیا\nکچھ نہ ماں باپ کا خیال کیا\n\nدل پہ گزرا ہے کیا ملال تو کہہ\nمنہ سے ناشدنی اپنا حال تو کہہ\n\nیوں ہی گر ہو گیا تو سودائی\nدور پہونچے گی اس کی رسوائی\n\nایسے دیوانے کو بھرے گا کون؟\nشادی اور بیاہ پھر کرے گا کون؟\n\nکردیا کس نے ایسا آوارہ\nکہ نہیں بنتا اب کوئی چارہ\n\nآگے تو یہ نہ تھا ترا دستور\nکس سے سیکھا ہے اس طرح کے امور\n\nمیرے تو دیکھ کر گئے اوسان\nلیلیٰ مجنوں کے تونے کاٹے کان\n\nباتیں یہ والدین کی سن کر\nاور اک قلب پر لگا نشتر\n\nشرم کے مارے منہ کو ڈھانپ لیا\nکچھ نہ ماں باپ کو جواب دیا\n\nگزرا یاں تک تو یہ ہمارا حال\nاب بیان اس کا ہوتا ہے احوال\n\nمیں تو کھائے ہوئے تھا عشق کا تیر\nپر ہوئی اس کے دل پہ بھی تاثیر\n\nچھلکے آنکھوں کے دونوں پیمانے\nدل لگا آپ ہی آپ گھبرانے\n\nآتش عشق سے اٹھا جو دھواں\nباتوں باتوں میں بڑھ گیا خفتاں\n\nگوش فریاد قلب سننے لگے\nخود بخود ہاتھ پاؤں دھننے لگے\n\nدرد و غم دل کو آ گیا جو پسند\nسونا راتوں کا ہو گیا سوگند\n\nموج الفت اسے ڈبونے لگی\nایک الجھن سی دل کو ہونے لگی\n\nگھٹنے طاقت لگی جو روز بروز\nآتش ہجر ہو گئی دل سوز\n\nداغ جوں جوں جگر کے جلتے تھے\nاشک گرم آنکھ سے نکلتے تھے\n\nگرم نالے تھے لب پہ آہ سرد\nدل میں ہوتا تھا میٹھا میٹھا درد\n\nیوں تڑپتا تھا اس کے سینے میں دل\nجس طرح لوٹے طائر بسمل\n\nہو گئی جب کمال حالت زار\nجی میں باقی رہا نہ صبر و قرار\n\nنامۂ حسن\n\nلکھنے پڑھنے سے تھا جو اس کو ذوق\nسو چ کر دل میں لکھا اک خط شوق\n\nبھیجا مجھ کو وہ بے خطر نامہ\nڈر سے لکھا مگر نہ سرنامہ\n\nایک ماما نے آ کے چپکے سے\nخط دیا ان کا ہاتھ میں میرے\n\nکھول کر میں نے جو اسے دیکھا\nکچھ عجب درد سے یہ لکھا تھا\n\nہو یہ معلوم تم کو بعد سلام\nغم فرقت سے دل ہے بے آرام\n\nاپنے کوٹھے پہ تو نہیں آتا\nدل ہمارا بہت ہے گھبراتا\n\nشکل دکھلا دے کبریا کے لئے\nبام پر آ ذرا خدا کے لئے\n\nاس محبت پہ ہو خدا کی مار\nجس نے یوں کر دیا مجھے نا چار\n\nسارے الفت نے کھو دیئے اوسان\nورنہ یہ لکھتی میں خدا کی شان\n\nاب کوئی اس میں کیا دلیل کرے\nجس کو چاہے خدا ذلیل کرے\n\nجواب عشق\n\nپڑھ کے میں نے لکھا یہ اس کو جواب\nکیا لکھوں تم کو اپنا حال خراب\n\nبن گئی یاں تو جان پر میری\nخوب لی آپ نے خبر میری\n\nہجر میں مر کے زندگانی کی\nاب بھی پوچھا تو مہربانی کی\n\nجب سے دیکھا ہے آپ کا دیدار\nدل سے جاتا رہا ہے صبر و قرار\n\nروز تپ سے بخار رہتا ہے\nسر پہ اک جن سوار رہتا ہے\n\nتیرے قدموں کی ہوں قسم کھاتا\nہوش دو دو پہر نہیں آتا\n\nپوچھتا ہے جو کوئی آ کے حال\nاور ہوتا ہے میرے دل کو ملال\n\nکہوں کس کس سے اس کہانی کو\nآگ لگ جائے اس جوانی کو\n\nہوگئی ہے کچھ ایسی طاقت طاق\nاٹھ نہیں سکتا بار رنج فراق\n\nہل کے پانی پیا نہیں جاتا\nورنہ حکم آپ کا بجا لاتا\n\nپاتا طاقت جو طالب دیدار\nبام پر آتا دن میں سو سو بار\n\nپہنچا جس وقت سے ترا مکتوب\nزندگی کا بندھا ہے کچھ اسلوب\n\nرنج راحت سے گر بدل جائے\nکیا عجب ہے جو دل سنبھل جائے\n\nپیش قدمی جو تم نے کی مرے ساتھ\nاس میں ذلت کی کون سی ہے بات\n\nنہیں کچھ اس میں آپ کا ہے قصور\nمیری الفت کا یہ اثر ہے ضرور\n\nعشق کا ہے اثر مرے واللہ\nورنہ تم لکھتیں یہ معاذ اللہ\n\nتم تو وہ لوگ ہوتے ہو جلاد\nنہیں سنتے کوئی کرے فریاد\n\nہو بلا سے کسی کا حال برا\nکوئی مرجائے تم کو کیا پروا\n\nنہیں ممکن تمہارا بل جائے\nدم بھی عاشق کا گر نکل جائے\n\nاب میں لکھتا ہوں آپ کو یہ حضور\nوصل کی فکر چاہیئے ہے ضرور\n\nاس میں غفلت جو تو نے کی اے ماہ\nحال ہو گا مرا کمال تباہ\n\nغیر ہے ہجر سے مری حالت\nغم اٹھانے کی اب نہیں طاقت\n\nدل پہ آفت عجیب آئی ہے\nجان بچ جائے تو خدائی ہے\n\nجان کو کس گھڑی قرار آیا\nغش نے فرصت جو دی بخار آیا\n\nتپش دل نے گر کیا ہشیار\nوہم آنے لگے ہزار ہزار\n\nدل کی وحشت نے کچھ جو مارا جوش\nوہ بھی جاتے رہے جو آئے تھے ہوش\n\nآشنا دوست آ گئے جو کبھو\nجس نے دیکھا نکل پڑے آنسو\n\nجھوٹ سمجھیں اسے حضور نہیں\nجان جاتی رہے تو دور نہیں\n\nمر گئے ہم تو رنج فرقت سے\nپر خبر کی نہ اپنی حالت سے\n\nاب جو بھیجی یہ آپ نے تحریر\nہے یہ لازم کہ وہ کرو تدبیر\n\nسختیاں ہجر کی بدل جائیں\nدل کی سب حسرتیں نکل جائیں\n\nدے کے خط میں نے یہ کہا اس سے\nجلد اس کا جواب لا اس سے\n\nپہونچا جب اس تلک مرا مکتوب\nہنس کے بولی کہ واہ وا کیا خوب\n\nجواب خط\n\nپھر کیا یہ جواب میں تحریر\nکچھ قضا تو نہیں ہے دامن گیر\n\nذکر ان باتوں کا یہاں کیا تھا\nچھیڑنے کو ترے یہ لکھا تھا\n\nایسی باتیں تھیں کب یہاں منظور\nتھا فقط تیرا امتحاں منظور\n\nیہ تو لکھے تھے سب ہنسی کے کلام\nورنہ ان باتوں سے مجھے کیا کام\n\nمجھ کو ایسی تھی کیا تری پروا\nبام پر تو بلا سے آ کہ نہ آ\n\nبات تھی یہ کمال عقل سے دور\nجھوٹ لکھنے پہ ہوگئے مغرور\n\nتم پہ مرتی میں کیا قیامت تھی\nکیا مرے دشمنوں کی شامت تھی\n\nمیری جانب سے یہ گماں کیا خوب\nجھوٹ جم جم سے ہے بہت مرغوب\n\nیہ نہ سمجھا کہ ماجرا کیا ہے؟\nیوں بھی کوئی کسی کو لکھتا ہے\n\nکالا دانا ذرا اتر والو\nرائی لون اس سمجھ پہ کر ڈالو\n\nتجھ پہ مرتے بھی گر مرے بد خواہ\nیوں نہ لکھتی کبھی معاذ اللہ\n\nجان پا پوش سے نکل جاتی\nپر طبیعت نہ یوں بدل جاتی\n\nایسی باتوں میں ہوتا ہے بدنام\nاب نہ لکھیئے گا اس طرح کے کلام\n\nرنج آ جاتا ہے اسی کد سے\nنہ بڑھے آدمی کبھی حد سے\n\nکیا سمجھ کر لکھا تھا یہ مضمون\nاچھی ہوتی نہیں ہے اتنی دون\n\nجی میں ٹھانی ہے کیا بتاؤ تو؟\nخانگی کسبی کوئی سمجھے ہو\n\nمال زادی نہیں یہاں کوئی\nجو کرے تم سے گرمیاں کوئی\n\nدیکھ تحریر فیل لائے آپ\nخوب جلدی مزے میں آئے آپ\n\nطالب وصل جو ہوئے ہم سے\nہے گا سادہ مزاج جم جم سے\n\nوصال دوست\n\nرہی کچھ روز تو یہی تحریر\nپھر موافق ہوئی مری تقدیر\n\nہوئے اس گل سے وصل کے اقرار\nاٹھ گئی درمیاں سے سب تکرار\n\nجو کہا تھا ادا کیا اس نے\nوعدہ اک دن وفا کیا اس نے\n\nرات بھر میرے گھر میں رہ کے گئی\nصبح کے وقت پھر یہ کہہ کے گئی\n\nبات اس دم کی یاد رکھئے گا\nایک دن یہ مزا بھی چکھئے گا\n\nبگڑے گی جب نہ کچھ بن آئے گی\nآپ کے پیچھے جان جائے گی\n\nلو مری جان جاتی ہوں اب تو\nیاد رکھئے گا میری صحبت کو\n\nجو خدا پھر ملائے گا تم سے\nتو کہوں گی میں حال آ تم سے\n\nسن کے میں نے دیا یہ اس کو جواب\nنہ کرو دل کو اس قدر بے تاب\n\nکہتی تم کیا ہو یہ خدا نہ کرے\nیہ ستم ہووے کبریا نہ کرے\n\nعمر بھر ہم وفا نہ توڑیں گے\nزندگی بھر نہ منہ کو موڑیں گے\n\nپیار کرتی جو تھی وہ غیرت حور\nرکھا ملنے کا اس نے یہ دستور\n\nپنج شنبہ کو جاتی تھی درگاہ\nواں سے آتی تھی میرے گھر وہ ماہ\n\nعیش ہونے لگے مرے ان کے\nغیر جلنے لگے یہ سن سن کے\n\nآتش ہجر\n\nاتفاق ایسا پھر ہوا ناگاہ\nدو مہینے تلک نہ آئی وہ ماہ\n\nقطع سب ہو گئے پیام و سلام\nنہ رہی شکل راحت و آرام\n\nطبع کو ہو گئی پریشانی\nعقل کو تھی عجیب حیرانی\n\nدل کو تشویش تھی یہ حد سے زیاد\nدفعتاً پڑ گئی یہ کیا افتاد\n\nتھی نہ مجھ سے یہاں کسی کو لاگ\nکس نے اس طرح کی لگائی آگ\n\nدل میں کس نے یہ اس کے بل ڈالا\nجو مرے عیش میں خلل ڈالا\n\nکچھ تو ایسا ہوا ہے افسانہ\nجو یہاں تک نہ ہو سکا آنا\n\nنہیں معلوم کیا پڑی افتاد\nجو فراموش کی ہماری یاد\n\nکون ایسا ہے جائے گھر اس کے\nکس کو بھیجوں مکان پر اس کے\n\nکیوں نہ بیزار ہوں میں جینے سے\nنہیں دیکھا ہے دو مہینے سے\n\nجان آنکھوں میں کھنچ کے آئی ہے\nاب نہیں طاقت جدائی ہے\n\nکرلیا ہو سکا جہاں تک صبر\nاب کہو دل کرے کہاں تک صبر\n\nدو مہینے نہ دیکھے جب گل کو\nچین کس طرح آئے بلبل کو\n\nرات پھر کس طرح گزاری جائے\nکسی طرح دل کی بے قراری جائے\n\nطبع کس طرح پھر بہل جائے\nجسم سے روح جب نکل جائے\n\nآخری ملاقات\n\nآئی نوچندی اتنے میں ناگاہ\nاس بہانے سے آئی وہ درگاہ\n\nبس کہ مرتی تھی نام پر میرے\nچھپ کے آئی وہاں سے گھر میرے\n\nتھی نہ فرصت جو اشکباری سے\nاتری روتی ہوئی سواری سے\n\nپھر لپٹ کر مرے گلے اک بار\nحال کرنے لگی وہ یوں اظہار\n\nاقربا میرے ہوگئے آگاہ\nتم سے ملنے کی اب نہیں کوئی راہ\n\nمشورے یہ ہوئے ہیں آپس میں\nبھیجتے ہیں مجھے بنارس میں\n\nوہ چھٹے ہم سے جس کو پیار کریں\nجبر کیونکر یہ اختیار کریں\n\nگو ٹھکانے نہیں ہیں ہوش و حواس\nپر یہ کہنے کو آئی ہوں ترے پاس\n\nآخری التماس\n\nجائے عبرت سرائے فانی ہے\nمورد مرگ ناگہانی ہے\n\nاونچے اونچے مکان تھے جن کے\nآج وہ تنگ گور میں ہیں پڑے\n\nکل جہاں پر شگوفہ و گل تھے\nآج دیکھا تو خار بالکل تھے\n\nجس چمن میں تھا بلبلوں کا ہجوم\nآج اس جا ہے آشیانۂ بوم\n\nبات کل کی ہے نوجواں تھے جو\nصاحب نوبت و نشاں تھے جو\n\nآج خود ہیں نہ ہے مکاں باقی\nنام کو بھی نہیں نشاں باقی\n\nغیرت حورمہ جبیں نہ رہے\nہیں مکاں گر تو وہ مکیں نہ رہے\n\nجو کہ تھے بادشاہ ہفت اقلیم\nہوئے جا جا کے زیر خاک مقیم\n\nکوئی لیتا نہیں اب اس کا نام\nکون سی گور میں گیا بہرام\n\nاب نہ رستم نہ سام باقی ہے\nاک فقط نام نام باقی ہے\n\nکل جو رکھتے تھے اپنے فرق پہ تاج\nآج ہیں فاتحہ کو وہ محتاج\n\nتھے جو خود سر جہان میں مشہور\nخاک میں مل گیا سب ان کا غرور\n\nعطر مٹی کا جو نہ ملتے تھے\nنہ کبھی دھوپ میں نکلتے تھے\n\nگردش چرخ سے ہلاک ہوئے\nاستخواں تک بھی ان کے خاک ہوئے\n\nتھے جو مشہور قیصر و مغفور\nباقی ان کا نہیں نشان قبور\n\nتاج میں جن کے ٹکتے تھے گوہر\nٹھوکریں کھاتے ہیں وہ کاسۂ سر\n\nرشک یوسف جو تھے جہاں میں حسیں\nکھا گئے ان کو آسمان و زمیں\n\nہر گھڑی منقلب زمانہ ہے\nیہی دنیا کا کارخانہ ہے\n\nہے نہ شیریں نہ کوہکن کا پتا\nنہ کسی جا ہے نل دمن کا پتا\n\nبوئے الفت تمام پھیلی ہے\nباقی اب قیس ہے نہ لیلی ہے\n\nصبح کو طائران خوش الحان\nپڑھتے ہیں کل من علیہا فان\n\nموت سے کس کو رستگاری ہے\nآج وہ کل ہماری باری ہے\n\nزندگی بے ثبات ہے اس میں\nموت عین حیات ہے اس میں\n\nہم بھی گر جان دے دیں کھا کر سم\nتم نہ رونا ہمارے سر کی قسم\n\nدل کو ہمجولیوں میں بہلانا\nیا مری قبر پر چلے آنا\n\nجا کے رہنا نہ اس مکان سے دور\nہم جو مرجائیں تیری جان سے دور\n\nروح بھٹکے گی گر نہ پائے گی\nڈھونڈھنے کس طرف کو جائے گی\n\nروکے رہنا بہت طبیعت کو\nیاد رکھنا مری وصیت کو\n\nضبط کرنا اگر ملال رہے\nمیری رسوائی کا خیال رہے\n\nمیرے مرنے کی جب خبر پانا\nیوں نہ دوڑے ہوئے چلے آنا\n\nجمع ہولیں سب اقربا جس دم\nرکھنا اس وقت تم وہاں پہ قدم\n\nکہے دیتی ہوں جی نہ کھونا تم\nساتھ تابوت کے نہ رونا تم\n\nہو گئے تم اگرچہ سودائی\nدور پہونچے گی میری رسوائی\n\nلاکھ تم کچھ کہو نہ مانیں گے\nلوگ عاشق ہمارا جانیں گے\n\nطعنہ زن ہوں گے سب غریب و امیر\nقبر پر بیٹھنا نہ ہو کے فقیر\n\nسامنا ہو ہزار آفت کا\nپاس رکھنا ہماری عزت کا\n\nجب جنازہ مرا عزیز اٹھائیں\nآپ بیٹھے وہاں نہ اشک بہائیں\n\nمیری منت پہ دھیان رکھئیے گا\nبند اپنی زبان رکھئے گا\n\nتذکرہ کچھ نہ کیجئے گا مرا\nنام منہ سے نہ لیجئے گا مرا\n\nاشک آنکھوں سے مت بہائیے گا\nساتھ غیروں کی طرح جائیے گا\n\nآپ کاندھا نہ دیجئے گا مجھے\nسب میں رسوا نہ کیجئے گا مجھے\n\nرنگ دل کے بدل نہ جائیں کہیں\nمنہ سے نالے نکل نہ جائیں کہیں\n\nساتھ چلنا نہ سر کے بال کھلے\nتا کسی شخص پر نہ حال کھلے\n\nہوتے آتش کے ہیں یہ پر کالے\nتاڑ جاتے ہیں تاڑنے والے\n\nہو بیاں گر کسی جگہ مرا حال\nتم نہ کرنا کچھ اس طرف کو خیال\n\nذکر سن کر مرا نہ رو دینا\nمیری عزت نہ یوں ڈبو دینا\n\nرنج فرقت مرا اٹھا لینا\nجی کسی اور جا لگا لینا\n\nہوگا کچھ میری یاد سے نہ حصول\nدل کو کر لینا اور سے مشغول\n\nرنج کرنا نہ میرا میں قربان\nسن لو گر اپنی جان ہے تو جہان\n\nدے نہ اس کو خدا کبھی کوئی درد\nہو تا نازک کمال ہے دل مرد\n\nدل میں کڑھنا نہ مجھ سے چھوٹ کے تو\nرونا مت سینہ کوٹ کوٹ کے تو\n\nآ کے رو لینا میری قبر کے پاس\nتا نکل جائے تیرے دل کی بھڑاس\n\nآنسو چپکے سے دو بہا لینا\nقبر میری گلے لگا لینا\n\nاگر آ جائے کچھ طبیعت پر\nپڑھنا قرآن میری تربت پر\n\nغنچۂ دل مرا کھلا جانا\nپھول تربت پہ دو چڑھا جانا\n\nرو کے کرنا نہ اپنا حال زبوں\nتا نہ ہو جائے دشمنوں کو جنوں\n\nدیکھئے کس طرح پڑے گی کل\nسخت ہوتی ہے منزل اول\n\nمیرے مرقد پہ روز آنا تم\nفاتحہ سے نہ ہاتھ اٹھانا تم\n\nہے یہ حاصل سب اتنی باتوں سے\nمٹی دینا تم اپنے ہاتوں سے\n\nعمر بھر کون کس کو روتا ہے\nکون صاحب کسی کا ہوتا ہے\n\nکبھی آ جائے گر ہمارا دھیان\nجاننا ہم پہ ہو گئی قربان\n\nدل میں کچھ آنے دیجیو نہ ملال\nخواب دیکھا تھا کیجیو یہ خیال\n\nرنج و راحت جہاں میں تو ام ہے\nکہیں شادی ہے اور کہیں غم ہے\n\nہے کسی جا پہ جشن شام و پگاہ\nہے کسی جا صدائے نالہ و آہ\n\nمرگ کا کس کو انتظار نہیں\nزندگی کا کچھ اعتبار نہیں\n\nپھر ملاقات دیکھیں ہو کہ نہ ہو\nآج دل کھول کر گلے مل لو\n\nخوب سا آج دیکھ بھال لو تم\nدل کی سب حسرتیں نکال لو تم\n\nآؤ اچھی طرح سے کر لو پیار\nکہ نکل جائے کچھ تو دل کا بخار\n\nدل میں باقی رہے نہ کچھ ارمان\nخوب مل لو گلے سے میں قربان\n\nحشر تک ہو گی پھر یہ بات کہاں\nہم کہاں تم کہاں یہ رات کہاں\n\nکہہ لو سن لو جو کچھ کہ جی میں آئے\nپھر خدا جانے کیا نصیب دکھائے\n\nدل کو اپنے کرو ملول نہیں\nرونے دھونے سے کچھ حصول نہیں\n\nہم کو گاڑے جو اپنے دل کو کڑھائے\nہم کو ہے ہے کرے جو اچک بہائے\n\nعمر تم کو تو ہے ابھی کھینا\nدن بہت سے پڑے ہیں رو لینا\n\nباہیں دونوں گلے میں ڈال لو آج\nجو جو ارمان ہوں نکال لو آج\n\nپھر خدا جانے کیا مشیت ہے\nاتنی صحبت بہت غنیمت ہے\n\nکل کسے بیٹھ کر کرو گے پیار\nکس کی لو گے بلائیں تم ہر بار\n\nکل گلے سے کسے لگاؤ گے\nیوں کسے گود میں بٹھاؤ گے\n\nحال کس کا سنائے گی آ کر\nکس کی ماما بلائے گی آ کر\n\nہم تو اٹھتے ہیں اس مکاں سے کل\nاب تو جاتے ہیں اس جہاں سے کل\n\nیاد اپنی تمہیں دلاتے جائیں\nپان کل کے لئے لگاتے جائیں\n\nہو چکا آج جو کہ تھا ہونا\nکل بسائیں گے قبر کا کونا\n\nخاک میں ملتی ہے یہ صورت عیش\nپھر کہاں ہم کہاں یہ صحبت عیش\n\nدیکھ لو آج ہم کو جی بھر کے\nکوئی آتا نہیں ہے پھر مر کے\n\nختم ہوتی ہے زندگانی آج\nخاک میں ملتی ہے جوانی آج\n\nچپ رہو کیوں عبث بھی روتے ہو\nمفت کاہے کو جان کھوتے ہو\n\nسمجو اس شب کو شب برات کی رات\nہم ہیں مہماں تمہارے رات کی رات\n\nچین دل کو نہ آئے گا تجھ بن\nاب کے بچھڑے ملیں گے حشر کے دن\n\nاب تم اتنی دعا کرو مری جان\nکل کی مشکل خدا کرے آسان\n\nپھل اٹھایا نہ زندگانی کا\nنہ ملا کچھ مزا جوانی کا\n\nدل مین لے کر تمہاری یاد چلے\nباغ عالم سے نا مراد چلے\n\nکہتی ہے بار بار ہمت عشق\nہے یہی مقتضائے غیرت عشق\n\nچارپائی پہ کون پڑ کے مرے\nکون یوں ایڑیاں رگڑ کے مرے\n\nعشق کا نام کیوں ڈبو جائیں\nآج ہی جان کیوں نہ کھو جائیں\n\nجب تلک چرخ بے مدار رہے\nیہ فسانہ بھی یادگار رہے\n\nبولی گھبرا کے پھر ٹھہر مری جان\nکچھ سنا بھی کہ کیا بجا اس آن\n\nحسرت دل نگوڑی باقی ہے\nاور یہاں رات تھوڑی باقی ہے\n\nگود میں اپنی پھر بٹھا لو جان\nپھر گلے سے ہمیں لگا لو جان\n\nڈال دو پھر گلے میں باہوں کو\nپھر گلوری چبا کے منہ میں دو\n\nپھر کہاں ہم کہاں یہ صحبت یار\nکر لو پھر ہم کو بھینچ بھینچ کے پیار\n\nپھر مرے سر پہ رکھ دو سر اپنا\nگال پھر رکھ دو گال پر اپنا\n\nپھر اسی طرح منہ کو منہ سے ملو\nپھر وہی باتیں پیار کی کر لو\n\nلہر پھر چڑھ رہی ہے کالوں کی\nبو سنگھا دو تم اپنے بالوں کی\n\nپھر ہم اٹھنے لگیں بٹھا لو تم\nپھر بگڑ جائیں ہم منا لو تم\n\nپھر لبوں کو چبا کے بات کرو\nپھر ذرا مسکرا کے بات کرو\n\nپھر بلائیں تمہاری یار لیں ہم\nآؤ پھر سر سے سر اتار لیں ہم\n\nرو نہ اس طرح سے تو زار و قطار\nدشمنوں کو کہیں چڑھے نہ بخار\n\nآپ اچھے بھلے بچھڑ جائیں\nاور لینے کے دینے پڑ جائیں\n\nکاٹ لے کوئی دھڑ سے سر میرا\nبال بیکا نہ ہو مگر تیرا\n\nمیں دل و جاں سے ہوں فدا تیری\nلے کے مر جاؤں میں بلا تیری\n\nاب تو کیوں ٹھنڈی سانسیں بھرتا ہے\nکیوں مرے دل کے ٹکڑے کرتا ہے\n\nمیں ابھی تو نہیں گئی ہوں مر\nکیوں سجائی ہیں آنکھیں رو رو کر\n\nاس قدر ہو رہا ہے کیوں غمگیں\nکیوں مٹاتا ہے اپنی جان حزیں\n\nکر نہ رو رو کے اپنا حال زبوں\nارے ظالم ابھی تو جیتی ہوں\n\nاشک بہتے ہیں ناگوار ترے\nتو نہ رو ہو گئی نثار ترے\n\nایسے قصے ہزار ہوتے ہیں\nیوں کہیں مردوے بھی روتے ہیں\n\nیوں تو آنسو نہ تو بہا اپنے\nدل کو مضبوط رکھ ذرا اپنے\n\nرنج سے میرے کچھ اداس نہ ہو\nیوں تو للہ بد حواس نہ ہو\n\nتم تو اتنے میں ہو گئے رنجور\nتھک گئے اور ابھی ہے منزل دور\n\nاسی غم نے تو مجھ کو مارا ہے\nصدمہ تیرا نہیں گوارا ہے\n\nاپنے مرنے کا کچھ نہیں ہے الم\nدل میں میرے فقط ہے اس کا غم\n\nجان ہم نے تو اس طرح کھوئی\nکون تیری کرے گا دل جوئی\n\nآ کے سمجھائے گا بجھائے گا کون\nاس طرح سے گلے لگائے گا کون\n\nکون رو کے گا اس طبیعت کو\nکس سے کہہ جاؤں اس وصیت کو\n\nگو کہ بے جا ترا ہراس نہیں\nکوئی دل سوز بھی تو پاس نہیں\n\nمیں کہاں ہوں جو ساتھ دوں تیرا\nہاتھ میں کس کے ہاتھ دوں تیرا\n\nیوں تسلی تری کرے گا کون\nمیری صورت بھلا مرے گا کون\n\nکون یوں خوش کرے گا دل تیرا\nدل ہے اس غم سے مضمحل تیرا\n\nجی لگے گا نہ ساتھ میں اس کا\nدل لئے رہنا ہاتھ میں اس کا\n\nپر میں اب اس کا کیا کروں کمبخت\nآسماں دور ہے زمیں ہے سخت\n\nگو کہ عقبیٰ میں رو سیاہ چلی\nمگر اپنی سی میں نباہ چلی\n\nجی کو تم پر فدا کیا میں نے\nحق وفا کا ادا کیا میں نے\n\nبولی پھر زانوؤں پہ مار کے ہاتھ\nنہیں معلوم اب ہے کتنی رات\n\nجوں جوں گھڑیال واں بجاتا تھا\nجی مرا سنسنایا جاتا تھا\n\nیوں تو کوئی نہ درد و غم میں کڑھے\nپھولے جاتے ہیں ہاتھ پاؤں مرے\n\nکچھ عجب ہو رہا ہے جان کا طور\nکہتی ہوں کچھ نکلتا ہے کچھ اور\n\nآنسو آنکھوں میں بھر بھر آتے ہیں\nدست و پا سارے تھرتھراتے ہیں\n\nدل کو سمجھاتی ہوں میں بہتیرا\nپر سنبھلتا نہیں ہے جی میرا\n\nگو تو بیٹھا ہوا ہے پاس مرے\nپر ٹھکانے نہیں حواس مرے\n\nہوش آئے ہوئے بھی جاتے ہیں\nدل میں کیا کیا خیال آتے ہیں\n\nپیش یوں فرقت حبیب نہ ہو\nکسی دشمن کو بھی نصیب نہ ہو\n\nدوسرا اب یہ اور ماتم ہے\nسانگ باقی بہت ہیں شب کم ہے\n\nخاک تسکین جان زار کریں\nاب وصیت کریں کہ پیار کریں\n\nسن کے میں نے دیا یہ اس کو جواب\nدل کو میرے بس اب کرو نہ کباب\n\nتم تو یوں اپنی جان دو مری جان\nمیں وصیت سنوں خدا کی شان\n\nدل سے رکھنا ذرا یہ اپنے دور\nکون کمبخت یہ کرے گا امور\n\nمجھ پہ یہ دن تو کبریا نہ کرے\nتم مرو میں جیوں خدا نہ کرے\n\nجان دے دو گی تم جو کھا کر سم\nمیں بھی مرجاؤں گا خدا کی قسم\n\nجو یہ دیکھے گا خوب روئے گا\nآگے پیچھے جنازہ ہوئے گا\n\nاک ذرا مجھ سے تو کہو یہ حال\nجی میں کیا آیا آپ کے یہ خیال\n\nدل ہی دل میں الم اٹھاتی ہو\nجان دیتی ہو، زہر کھاتی ہو\n\nپہونچا ماں باپ سے اگر ہے الم\nاس کا کرنا نہ چاہئیے تمہیں غم\n\nجو کہ ہوتے ہیں قوم کے اشراف\nیوں ہی کرتے ہیں وہ قصور معاف\n\nکچھ تمہیں پر نہیں ہے یہ افتاد\nسب کے ماں باپ ہوتے ہیں جلاد\n\nصدمہ ہر اک پہ یہ گزرتا ہے\nزہر کھا کھا کے کوئی مرتا ہے\n\nشکوہ ماں باپ کا تو ناحق ہے\nان کا اولاد پر بڑا حق ہے\n\nہوں جو ناراض یہ قیامت ہے\nان کے قدموں کے نیچے جنت ہے\n\nتم تو نام خدا سے ہو دانا\nاس پہ رتبہ نہ ان کا پہچانا\n\nکیا بھروسہ حیات کا ان کی\nنہ برا مانو بات کا ان کی\n\nہوش رہتے نہیں ہیں اس سن کے\nیہ تو مہمان ہیں کوئی دن کے\n\nاتنی سی بات کا غبار ہے کیا\nان کے کہنے کا اعتبار ہے کیا\n\nغور سے کیجئے جو دل میں خیال\nان کا غصہ نہیں ہے جائے ملال\n\nسن کے اس نے دیا یہ مجھ کو جواب\nہم نے دیکھی نہیں ہے چشم عتاب\n\nبے حیا ایسی زندگی کو سلام\nمنہ پہ آئے نہ تھے کبھی یہ کلام\n\nطعنے سنتی ہوں دو مہینے سے\nموت بہتر ہے ایسے جینے سے\n\nخون دل کب تلک پیے کوئی\nبے حیا بن کے کیا جیے کوئی\n\nنوج انسان بے حمیت ہو\nآدمی کیا نہ جس کو غیرت ہو\n\nبات وہ کس طرح بشر سے اٹھے\nنہ سنی ہو کبھی جو کانوں سے\n\nوہ سنے جس کو اس کی عادت ہے\nاس میں کیا اپنی اپنی غیرت ہے\n\nپر مرے جیتے جی تو بہر خدا\nاپنے مرنے کا ذکر منہ پہ نہ لا\n\nکون سا پڑ گیا ہے رنج و محن\nجان کیوں دیں گے آپ کے دشمن\n\nتم نے جی دینے کی جو کی تدبیر\nحشر کے روز ہوں گی دامن گیر\n\nتو سلامت جہاں میں رہ مری جاں\nنکلیں ماں باپ کے ترے ارماں\n\nواسطے میرے اپنا دل نہ کڑھا\nچاند سی بنو گھر میں بیاہ کے لا\n\nہے یہی لطف زندگانی کا\nدیکھ سکھ اپنی نوجوانی کا\n\nچار دن ہے یہ نالہ و فریاد\nعمر بھر کون کس کو کرتا ہے یاد\n\nلطف دینا کے جب اٹھاؤ گے\nہم کو دو دن میں بھول جاؤ گے\n\nآخری گھڑیاں\n\nتھا یہی ذکر جو بجا گھڑیال\nسنتے ہی اس کے ہو گئی بے حال\n\nہو گیا فرط غم سے چہرہ زرد\nدست و پا تھرتھرا کے ہو گئے سرد\n\nمردنی رخ پہ چھا گئی اس کے\nدل میں وحشت سما گئی اس کے\n\nدل میں گزرا جو اس کے صبح کا شک\nہوئی استادہ جا کے زیر فلک\n\nٹھنڈی جس دم چلی نسیم سحر\nہو گیا حال اور بھی ابتر\n\nاتنے میں صبح کی بجی وردی\nدونی چہرے کی ہو گئی زردی\n\nہوئے ثابت جو صبح کے آثار\nہو گئی اور اس کی حالت زار\n\nبید کی طرح جسم تھرایا\nسر سے لے پاؤں تک عرق آیا\n\nباتیں کرنی جو تھیں سو بھول گئی\nدم لگا چڑھنے سانس پھول گئی\n\nبولی گھبرا کے رہیو اس کے گواہ\nاور کہا لا الہ الا اللہ\n\nاب فقط یہ ہے خوں بہا میرا\nبخش دیجو کہا سنا میرا\n\nکہہ کے وہ پھر چمٹ گئی اک بار\nاور کیا خوب بھینچ بھینچ کے پیار\n\nسر سے لے کر بلائیں تا بہ قدم\nبولی تم پر نثار ہوتے ہیں ہم\n\nآگ لگ جائے وہ گھڑی کمبخت\nبام پر آئی تھی میں کون سے وقت\n\nپھر یہ بولی وہ پوچھ کر آنسو\nمیرے سر کی قسم نہ کڑھیو تو\n\nآزماتی تھی تجھ کو کستی تھی\nمیں ترے چھیڑنے کو ہنستی تھی\n\nمفارقت\n\nکہہ کے یہ بات ہو گئی وہ سوار\nیاں بندھا آنسوؤں کا آنکھ سے تار\n\nآتش غم بھڑک گئی دونی\nتپش قلب نے کی افزونی\n\nیاد آتی تھی جب وصیت یار\nوہم لاتا تھا دل ہزار ہزار\n\nتھی مصیبت جو یہ بلا انگیز\nدھیان آتے تھے کیا کیا وحشت خیز\n\nدل میں کہنے کا اس کے تھا جو ملال\nآتے تھے ذہن میں عجیب خیال\n\nکون روکے گا جا کے گھر بیٹھے\nجو کہا ہے وہی نہ کر بیٹھے\n\nہر گھڑی تھا جو اضطراب فزوں\nچپکا روتا تھا بیٹھا میں محزوں\n\nکہ اٹھا ایک سمت سے وہ غل\nہوش جس سے کہ اڑ گئے بالکل\n\nشعلہ اک آگ کا بھڑکنے لگا\nمثل بسمل کے دل تڑپنے لگا\n\nیوں تو گزرے تھے دوپہر روتے\nاور ہاتھوں کے اڑ گئے توتے\n\nہو گیا دل کو اس طرح کا ہراس\nآئے سو سو طریق کے وسواس\n\nکہا اک دوست سے کہ تم جا کر\nجلد اس شور و غل کی لاؤ خبر\n\nروتے ہیں ہم سے بد نصیب کوئی\nمر گیا ان کا کیا حبیب کوئی\n\nیوں جو اپنی یہ جان کھوتے ہیں\nکون ہیں کس لیے یہ روتے ہیں\n\nکیا ہوا ان پہ صدمۂ جاں کاہ\nیہ جو کرتے ہیں ایسے نالہ و آہ\n\nدوڑے آخر ادھر مرے احباب\nلے کر آئے خبر وہاں سے شتاب\n\nکیا اس طرح آ کے مجھ سے بیاں\nکہ یہاں سے ہے اک قریب مکاں\n\nباغ کے پاس جو بنا ہے گھر\nواں فروکش ہے ایک سوداگر\n\nیوں تو اک شور راہ بھر میں ہے\nپر یہ آفت انہیں کے گھر میں ہے\n\nصاف کھلتا نہیں ہے یہ اسرار\nمر گیا کوئی یا کہ ہے بیمار\n\nپر یہ ہوتا ہے عقل سے ادراک\nکہ نہیں بے سبب اڑاتے خاک\n\nکچھ نہ کچھ تو ہے ایسی ہی روداد\nکہ یہ ہے شور نالہ و فریاد\n\nنہیں برپا یہ بے سبب ماتم\nہے نکلتا کسی جوان کا دم\n\nہر بشر ہو رہا ہے دیوانہ\nکوئی مرتا ہے صاحب خانہ\n\nنہیں قابو میں ہے کسی کا دل\nپیٹتے سر ہیں صاحبان محل\n\nنہیں دیتا سنائی کچھ بالکل\nہے فقط ایک ہائے ہائے کا غل\n\nتھمتا اک دم بھی واں خروش نہیں\nکس سے پوچھیں کسی میں ہوش نہیں\n\nروتے جس درد سے ہیں وہ اس دم\nدیکھا جاتا نہیں خدا کی قسم\n\nکہہ گئی تھی جو وہ کہ کھاؤں گی زہر\nمیں یہ سمجھا کہ ہو گیا وہی قہر\n\nگو حیا سے نہ اس کا نام لیا\nدونوں ہاتھوں سے دل کو تھام لیا\n\nدوستوں نے جو دیکھی یہ صورت\nبولے اس طرح از رہ الفت\n\nحال دل یوں تمہارا غیر تو ہے\nمگر اس وقت کیا ہے خیر تو ہے\n\nبے سبب کس لئے ہوئے ہو اداس\nاڑ گئے کیوں تمہارے ہوش و حواس\n\nکون سی آفت آ گئی اس دم\nمردنی منہ پہ چھا گئی اس دم\n\nکیا ہے جو اتنے بے قرار ہو اب\nکوئی مرجائے تم سے کیا مطلب\n\nایسی حالت جو بیچ و تاب کی ہے\nتم کو کیا وجہ اضطراب کی ہے\n\nشہر میں لوگ روز مرتے ہیں\nخفقان اس کا کوئی کرتے ہیں\n\nفکر کرنا ہے اس طرح کی زبوں\nیونہی ہو جاتا ہے بشر مجنوں\n\nسن کے ماں باپ کیا کہیں گے بتاؤ\nہوش پکڑو ذرا حواس میں آؤ\n\nتم کو کیا ہے جو جان کھوتے ہو\nبے سبب آپ ہی آپ روتے ہو\n\nہو رہے ہو ملول کس غم سے\nحال دل کا تو کچھ کہو ہم سے\n\nطعنہ آمیز دوستوں کے بیاں\nہوئے معلوم نشتر رگ جاں\n\nنہ دیا ان کو مارے غم کے جواب\nڈھانپ کر منہ کیا بہانۂ خواب\n\nاٹھ گئے دوست آشنا جس دم\nکھول کر منہ کو چپکے اٹھے ہم\n\nحال دل سینہ میں ہوا جو تباہ\nبیٹھا کمرے سے آن کر سر راہ\n\nدیکھا برپا ہے ایک حشر کا غل\nبھیڑ سے بند راہ ہے بالکل\n\nاس طرف سے جو لوگ آتے ہیں\nیہی آپس میں کہتے جاتے ہیں\n\nوالدین کا ماتم\n\nحال ان کا بھی جائے رقت ہے\nداغ اولاد کا قیامت ہے\n\nنوچ ڈالے ہیں سارے سر کے بال\nکیا پریشاں ہے والدین کا حال\n\nآفت تازہ سر پہ ہے آئی\nبک رہے ہیں مثال سودائی\n\nدھیان ان کی طرف جو جاتا ہے\nغم سے منہ کو کلیجہ آتا ہے\n\nجو کہ تھے ان میں صاحب اولاد\nحال ابتر تھا ان کا حد سے زیاد\n\nکہتے تھے کوٹ کر سر و سینہ\nکیوں نہ دشوار ان کو ہو جینا\n\nمرگ اولاد کا وہ ماتم ہے\nرنج و غم جس قدر کریں کم ہے\n\nکوئی کہتا تھا کیسی آفت ہے\nنوجواں مرنا بھی قیامت ہے\n\nیوں تو ہے از پئے زمانا مرگ\nنہ مرے پر کوئی جوانا مرگ\n\nآتش غم سے دل ہوا ہے کباب\nہے تپاں مثل ماہئ بے آب\n\nچشمہ جاری ہے چشم گریاں کا\nہوش باقی نہیں تن و جاں کا\n\nنہیں دم بھر کسی کو واں آرام\nدیکھنے والے رو رہے ہیں تمام\n\nپھوڑ ڈالے ہیں سب نے سر اپنے\nسر و پا کی نہیں خبر اپنے\n\nبنئے بقال جان کھوتے ہیں\nسارے دوکان دار روتے ہیں\n\nحال دیکھا جو میں یہ اٹھ کر\nہل گیا سینے میں دل مضطر\n\nنہ رہی تاب رنج کے مارے\nلگے تھرانے دست و پا سارے\n\nبحر الفت نے دل میں مارا جوش\nگر پڑا ہو کے خاک پر بے ہوش\n\nعشق کی تھی جو دل کو بیماری\nغش کا عالم سا ہو گیا طاری\n\nدو گھڑی بعد پھر جو آیا ہوش\nدیکھا برپا عجب ہے جوش و خروش\n\nمحبوب کا جنازہ\n\nآگے آگے ہے کچھ جلوس رواں\nسر کھلے کچھ ہیں پیچھے پیر و جواں\n\nسن رسیدہ ہیں عورتیں کچھ ساتھ\nسینہ و سر پہ مارتی ہیں ہاتھ\n\nکوئی ماما ہے کوئی دائی ہے\nکوئی انا کوئی کھلائی ہے\n\nجب وہ بھرتی ہیں غم سے آہ سرد\nسننے والوں کے دل میں ہوتا ہے درد\n\nہوتا غیروں کو ہے ملال ان کا\nدیکھا جاتا نہیں ہے حال ان کا\n\nکچھ بیاں ایسے ہوتے جاتے ہیں\nراستے والے روتے جاتے ہیں\n\nاس کے پیچھے پڑی پھر اس پہ نگاہ\nکہ نہ دیکھے بشر معاذاللہ\n\nشامیانہ نیا زری کا ہے\nنیچے تابوت اس پری کا ہے\n\nسہرا اس پر بندھا ہے اک زرتار\nجیسے گلشن کی آخر ہو بہار\n\nتھی پڑی اس پہ ایک چادر گل\nجس سے خوشبو نکلتی تھی بالکل\n\nعود سوز آگے آگے روشن تھے\nمر گئے پر بھی لاکھ جوبن تھے\n\nبھیڑ تابوت کے تھی ایسی ساتھ\nجیسے آئے کسی دلہن کی برات\n\nسب وضیع و شریف تھے ہمراہ\nبھیڑ تھی اس قدر کہ تنگ تھی راہ\n\nساتھ تھے خویش و اقربا سارے\nرو رہے تھے غریب بے چارے\n\nپیچھے پیچھے تھا سب سے سوداگر\nمو پریشاں، اداس، خاک بسر\n\nآگے آگے جنازہ جاتا تھا\nغش اسے ہر قدم پہ آتا تھا\n\nہاتھ تھامے تھے اقربا سارے\nتا کسی جا پہ سر نہ دے مارے\n\nحال اس درجہ ہو رہا تھا زبوں\nبہتا جاتا تھا سر کے زخم سے خوں\n\nسب امیر و فقیر روتے تھے\nدیکھ کر راہ گیر روتے تھے\n\nپیچھے سب کے پنس میں تھی مادر\nکہتی جاتی تھی اس طرح رو کر\n\nتیری میت پہ ہو گئی میں نثار\nکم سخن ہائے میری غیرت دار\n\nدل پہ جو گزری کچھ بیان نہ کی\nکچھ وصیت بھی میری جان نہ کی\n\nکچھ نہیں ماں کی اب خبر تم کو\nکس کی یہ کھا گئی نظر تم کو\n\nدل ضعیفی میں میرا توڑ گئیں\nبیٹا اس ماں کو کس پہ چھوڑ گئیں\n\nتازہ پیدا جگر پہ داغ ہوا\nگھر مرا آج بے چراغ ہوا\n\nدل کو ہاتھوں سے کوئی ملتا ہے\nجی سنبھالے نہیں سنبھلتا ہے\n\nزہر دے دے کوئی میں کھا جاؤں\nیا زمیں شق ہو میں سما جاؤں\n\nداغ تیرا جگر جلاتا ہے\nچاند سا مکھڑا یاد آتا ہے\n\nمٹ گیا لطف زندگانی کا\nدل کو غم ہے تری جوانی کا\n\nبیاہ تیرا رچانے پائی نہ میں\nکوئی منت بڑھانے پ ائی نہ میں\n\nتیری صورت پہ ہوگئی قرباں\nچلیں دنیا سے کیسی پر ارماں\n\nہوئیں کس بات پر خفا بولو\nاماں واری ذرا جواب تو دو\n\nبولتیں تم نہیں پکارے سے\nاب جیوں گی میں کس سہارے سے\n\nکیا قضا نے جگر پہ داغ دیا\nآج گھر میرا بے چراغ کیا\n\nنکلا ماں باپ کا نہ کچھ ارمان\nہائے بیٹا نہ تم چڑھیں پروان\n\nایسی اس ماں سے ہوگئیں بیزار\nلی نہ خدمت بھی پڑ کے کچھ بیمار\n\nنہ جیؤں گی ترے فراق میں میں\nدل تڑپتا ہے آنکھیں ڈھونڈتی ہیں\n\nکس مصیبت میں پڑ گئی بیٹا\nکوکھ میری اجڑ گئی بیٹا\n\nعمر کٹنی تھی ایسے صدمے میں\nٹھوکریں تھیں لکھی بڑھاپے میں\n\nسن کے اس طرح اس کی ماں کے بین\nاور سینے میں دل ہوا بے چین\n\nتھی وصیت جو اس پری کی یاد\nسب کے پیچھے میں ہو لیا ناشاد\n\nگو یہ طاقت نہ تھی کہ چلتا راہ\nلے چلا جذب عشق پر ہمراہ\n\nپیچھے ان سب کے جو رواں تھا میں\nصورت گرد کارواں تھا میں\n\nگہ تڑپتا تھا صورت بسمل\nبیٹھ جاتا تھا گاہ تھام کے دل\n\nجوں جوں کرتا تھا ضبط میں نالہ\nدل ہوا جاتا تھا تہ و بالا\n\nمرغ بسمل کی میری صورت تھی\nیاں گرا واں گرا یہ حالت تھی\n\nالعرض پہنچا ساتھ ان کے وہاں\nدفن کا اس کے تھا مقام جہاں\n\nقبر کھدتی جو واں نظر آئی\nلاکھ روکا پہ چشم بھر آئی\n\nدیکھ کر یہ جو لوگ رونے لگے\nٹکڑے ٹکڑے جگر کے ہونے لگے\n\nطاقت ضبط گر یہ جب نہ رہی\nدل سے اپنے یہ میں نے بات کہی\n\nکہہ کے کیا مر گئی وہ جان تجھے\nکچھ وصیت کا بھی ہے دھیان تجھے\n\nہو نہ للہ بے قرار اتنا\nضبط کر نالہ ہو سکے جتنا\n\nدل کو سمجھا کے یہ گیا میں وہاں\nجمع سب ان کے اقربا تھے جہاں\n\nدل آفت زدہ کو بہلا کر\nچپکا بیٹھا میں اک طرف جا کر\n\nاشک آنکھوں سے گو نہ بہتے تھے\nلوگ پر دیکھ کر یہ کہتے تھے\n\nحال چہرے کا آج کیسا ہے؟\nخیر تو ہے مزاج کیسا ہے؟\n\nلال آنکھیں ہیں تمتمائے ہیں گال؟\nوجہ کیا ہے بیان کیجئے حال؟\n\nمنہ پہ اک مردنی سی چھائی ہے\nچہرے پر چھٹ رہی ہوائی ہے\n\nبولا میں اور کچھ نہیں ہے بات\nشب کو سویا نہیں میں ساری رات\n\nاس پہ پیدل جو آیا میں مجبور\nرنگ چہرے کا ہو گیا کافور\n\nترک عادت بھی اک عداوت ہے\nرات کا جاگنا قیامت ہے\n\nدل کا شک ان کے سب نکال دیا\nیہی کہہ سن کے ان کو ٹال دیا\n\nغل ہوا اتنے میں سب آتے جائیں\nفاتحہ پڑھتے جائیں جاتے جائیں\n\nسن کے یہ سب گئے وہاں احباب\nبخشا پڑھ پڑھ کے فاتحہ کا ثواب\n\nجب کہ اس سے بھی ہو گئی فرصت\nآئے جتنے تھے ہو گئے رخصت\n\nپائی تنہا جو میں نے یار کی قبر\nدل کو باقی رہی نہ طاقت صبر\n\nتھا جو اس شمع رو کا پروانہ\nدوڑا کر آیا مثل دیوانہ\n\nگر پڑا آ کے قبر پر اک بار\nاور رونے لگا میں زار و قطار\n\nنہ رہا تھا جو اختیار میں دل\nلوٹا تربت پہ صورت بسمل\n\nمر گئی تھی جو مجھ پہ وہ گلفام\nزندگی ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%DB%81%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "زہراب حسن", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "حسن اک کیف جاودانی ہے\nاور جو چیز ہے وہ فانی ہے\n\nحسن کے دن بھی کیف پرور ہیں\nحسن کی رات بھی سہانی ہے\n\nحسن کی صبح اک شکست جمیل\nحسن کی شام کامرانی ہے\n\nیہ کچھ افسانۂ تخیل ہے\nکچھ حقیقت کی ترجمانی ہے\n\nکچھ ترے حسن کا کرشمہ ہے\nکچھ مری طبع کی روانی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%DB%81%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AD%D8%B3%D9%86"} {"title": "زہراب ہو عطا کہ مئے لالہ گوں ملے", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زہراب ہو عطا کہ مئے لالہ گوں ملے\nساقی کسی طرح مرے دل کو سکوں ملے\n\nہم لوگ ہیں زمین کی زینت وگرنہ یوں\nجھک کر زمین سے فلک نیلگوں ملے\n\nجن کی متاع عقل پہ دنیا کو ناز تھا\nوہ بھی فریب خوردۂ دنیائے دوں ملے\n\nدانشوروں کو دشت میں دیکھا گریز پا\nاہل جنوں شناور دریائے خوں ملے\n\nاے ہم سفر بہار کی منزل قریب ہے\nہر سمت آج راہ میں سیلاب خوں ملے\n\nاب تم کو رنج ہے کہ وہ دیوانہ ہو گیا\nایسا ہی تھا تو عابدؔ وحشی سے کیوں ملے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%DB%81%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88_%D8%B9%D8%B7%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%A6%DB%92_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D9%85%D9%84%DB%92"} {"title": "زہرہ سہیل شمس خور بدر بہا تو کون ہے", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زہرہ سہیل شمس خور بدر بہا تو کون ہے\nہوش ربا ستم گر مہ لقا تو کون ہے\n\nبھوت خبیث نازنیں گل پری بلا کہوں\nدل لگی اچھی یہ نہیں مجھ سے ہنسا تو کون ہے\n\nراگ خیال گاتا ہے رقص خوشی دکھاتا ہے\nدور سے کیوں رجھاتا ہے پاس تو آ تو کون ہے\n\nبند ہیں لب جواب میں گھر گیا میں عذاب میں\nآیا جو میرے خواب میں ایسا برا تو کون ہے\n\nاب نہ پیام وصل دے ہجر کا کون غم سہے\nدور ہو دور ہو ارے پاس نہ آ تو کون ہے\n\nآیا ہے کس کے جیش سے بولتا ہے جو طیش سے\nمحفل بزم عیش سے دور ہو جا تو کون ہے\n\nبول نہ اخترؔ اب کبھی ہٹ تھی یہ ایک شخص کی\nطرح جو سب سے کی بری یہ تو بتا تو کون ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%DB%81%D8%B1%DB%81_%D8%B3%DB%81%DB%8C%D9%84_%D8%B4%D9%85%D8%B3_%D8%AE%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%AF%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "زیب النساء", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "بمبئی کے سفرمیں ایک عزیز دوست نے جو انگریزی تصنیفات پر زیادہ اعتماد رکھتے ہیں انڈین میگزین اینڈ ریویو کا ایک آرٹیکل دکھلایا جو زیب النساء کی سوانح عمری کے متعلق تھا، مجھ کو افسوس ہوا کہ ایک ایسے معزز پرچہ کا سرمایہ معلومات تمام تر بازاری قصے تھے جس میں سے ایک شرمناک قصہ عاقل خان رازی کا بھی ہے، اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ خود مسلمانوں میں بازاری اہل قلم نے زیب النساء کے جو حالات تجارتی غرض سے قلمبند کئے وہ بالکل بے سروپا ہیں۔ اس بنا پر خیال ہوا کہ زیب النساء کے متعلق صحیح معلومات یکجا کردیے جائیں، جس سے یہ فائدہ ہوگا کہ غلط معلومات کی اصلاح ہو جائے گی۔زیب النساء کی ولادتزیب النساء اورنگ زیب کی سب سے پہلی اولاد تھی، اس کی ماں جس کا نام دلرسن بانو بیگم تھا، شاہ نواز خاں صفوی کی بیٹی تھی، شاہ نواز خاں کا اصلی نام بدیع الزماں ہے۔ جہانگیر کے زمانے میں معزز عہدوں پر ممتاز ہو کر شاہ نواز خاں کے خطاب سے ملقب ہوا، شاہجہاں کے زمانے میں بھی کارہائے نمایاں کئے، چونکہ لیاقت ذاتی کے ساتھ عالی خاندان بھی تھا، شاہ جہاں نے ۱۰۴۷ھ میں کہ اس کی سلطنت کا دسواں سال تھا، اورنگ زیب کی شادی اس کی بیٹی سے کردی، چار لاکھ مہر باندھا گیا، طالب کلیم نے مادہ تاریخ کہا، دو گوہر بہ یک عقد دوراں کشید۔ 1زیب النساء شادی کے دوسرے سال شوال ۱۰۴۸ ہجری میں پیدا ہوئی۔ عالمگیری امرا میں عنایت اللہ خاں نہایت معززعہدہ دار تھا۔ اس کی ماں حافظہ مریم قابل اور تعلیم یافتہ تھی، زیب النساء جب پڑھنے کے قابل ہوئی تو اورنگ زیب نے اس کی تعلیم کے لئے حافظہ مریم کو مقرر کیا جس نےحسب دستور سب سے پہلے قرآن مجید کی تعلیم دی، 2 زیب النساء نے قرآن مجید حفظ یاد کیا۔ جس کے صلہ میں اورنگ زیب نے تیس ہزار اشرفی انعام میں دی۔ 3 تمام تاریخیں اور تذکرے متفق اللفظ ہیں کہ زیب النساء نے عربی اور فارسی کی تعلیم نہایت اعلیٰ درجہ کی حاصل تھی۔ اوربڑے بڑے علما و فضلا اس کی خدمت میں رہتے تھے، لیکن اس کے اساتذہ میں سب سے زیادہ مقرب اور باریاب ملا سعید اشرف ماژندرانی تھے جو ملا سعید تقی مجلسی کے نواسے تھے۔ عالمگیر کے آغاز جلوس میں ایران سے آئے اور عالمگیر نے ان کو زیب النساء کی تعلیم کے لئے مقرر کیا۔ 4 اس وقت زیب النساء کی عمر تقریبا اکیس برس کی تھی۔ اس سے قیاس ہوسکتا ہے کہ تیموریوں میں مستورات کی تعلیم کا سلسلہ کس قدر ممتد ہوتا تھا۔ زیب النسا نظم و نثر میں ملا سعید ہی سے اصلاح لیتی تھی۔ملا اشرف شاعر بھی تھے اور شاعری ہی کے وصف سے مشہور ہیں۔ قریبا ۱۳۔۱۴ برس وہ تعلیم کے تعلق سے زیب النساء کی خدمت میں رہے۔ ۱۰۸۳ ہجری میں وطن جانا چاہا۔ زیب النساء کی خدمت میں ایک قصیدہ لکھ کرپیش کیا جس میں رخصت کی درخواست کو اس طرح ادا کیا تھا۔یک بار از وطن نتواں برگرفت دلدرغربتم اگرچہ فزوں ست اعتبارایں پیش و قرب و بعد تفاوت نمی کندگو خدمت حضور بنا شد مر اشعارنسبت چو باطنی ست چہ دہلی چہ اصفہاندل پیش تست من چہ بہ کابل چہ قندہار 5 زیب النساء نے جس قسم کی تعلیم پائی تھی اور خود اس کا مذاق طبیعت جس قسم کا واقع ہوا تھا، اس کے لحاظ سے وہ پالیٹکس سے بالکل نا آشنا تھی تاہم عالمگیر کے پرپیچ عہد حکومت میں وہ بھی اس بدنامی سے نہ بچ سکی۔ ۱۰۹۱ ھ میں راجپوتوں نے جب عام بغاوت کی اور عالمگیر نے ان کے دبانے کے لئے شہزادہ اکبر کو فوج گراں دے کر جودھ پور کی طرف روانہ کیا تو راجپوتوں کے بہکانے سے شہزادہ خود باغی ہوگیا۔ اور عالمگیر کے مقابلے کو بڑھا۔ زیب النساء اور شہزادہ اکبر حقیقی بھائی بہن تھے۔ دونوں میں خط و کتابت بھی تھی۔ یہ خطوط پکڑے گئے اور عالمگیر نے اس کے انتقام میں زیب النساء کی تنخواہ جو چار لاکھ سالانہ تھی بند کردی۔ اس کے ساتھ تمام مال و متاع ضبط کر لیا گیا اور قلعہ سلیم گڑھ میں رہنے کا حکم ہوا 6لیکن معلوم ہوتا ہے کہ بہت جلد اس کی بے گناہی ثابت ہوئی اور عفو قصور کر دیا گیا کیونکہ ۱۰۹۴ ھ میں جب حمیدہ بانو بیگم (والدہ روح اللہ خاں) نے انتقال کیا، تو رسم تعزیت ادا کرنے کے لئے عالمگیر نے زیب النساء کو روح اللہ کے گھر بھیجا۔ اسی سن میں جب شہزادہ کام بخش (عالمگیر کا سب سے چھوٹا بیٹا) 7 کی شادی ہوئی تو تقریب کی رسمیں زیب النساء ہی کے محل میں ہوئیں اور عالمگیر کے حکم سے تمام ارکان دربار زیب النساء کی ڈیوڑھی تک پا پیادہ گئے۔زیب النساء نے شادی نہیں کی۔ عام طور پر مشہور ہے کہ سلاطین تیموریہ لڑکیوں کی شادیاں نہیں کرتے تھے۔ اس غلط روایت کو یورپین مصنفوں نے بہت شہرت دی ہے اور اس سے ان کو شاہی بیگمات کی بدنامی پھیلانے میں بہت مدد ملی ہے، لیکن یہ قصہ ہی سرے سے بے بنیاد ہے۔ خود عالمگیر کی دوبیٹیاں زبدۃ النساء بیگم اور مہرالنساء بیگم سپہر شکوہ اور ایزد بخش (پسرشہزادہ مراد) سے بیاہی تھیں۔ چنانچہ ماثرعالمگیری میں دونوں شادیوں کی تاریخیں اورمختصر حالات لکھے ہیں اور خاتمہ کتاب میں بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ عالمگیر زیب النساء کی نہایت عزت کرتا تھا۔ جب وہ کہیں باہر سے آتی تھی تو اس کے استقبال کے لئے شہزادوں کو بھیجتا تھا۔ سفر و حضر میں اس کو ساتھ رکھتا تھا۔ کشمیر کے دشوار سفر میں بھی وہ ساتھ تھی۔ لیکن جب عالمگیر دکن گیا تو اس نے غالبا ًعلمی زندگی کی وجہ سے پائے تخت کو چھوڑنا مناسب نہ سمجھا، اس کی چھوٹی بہن زینت النساء عالمگیر کے ساتھ آگئی چنانچہ اس کا نام بار بار واقعات میں آتا ہے۔ زیب النساء نے دلی میں قیام کیا اور وہیں پیوند زمین ہوئی۔ زیب النساء نے ۱۱۱۰ ہجری میں جو عالمگیر کی حکومت کا اڑتالیسواں ساتھ تھا، دلی میں انتقال کیا۔ ادخلی جنتی مادہ تاریخ ہے۔عالمگیر اس زمانے میں دکن کی فتوحات میں مصروف تھا۔ یہ خبر سن کر سخت غمزدہ ہوا۔ بے اختیار آنکھوں سے آنسو نکلے اور باوجود انتہا درجہ کے استقلال مزاج کے صبر کی تا ب نہ لاسکا۔ سید امجد خاں، شیخ عطاء اللہ اور حافظ خان کے کے نام حکم صادر ہوا کہ اس کے ایصال ثواب کے لئے زکوۃ و خیرات دیں۔ اور مرحومہ کا مقبرہ تیار کرائیں۔ 8 خانی خان نسخہ مطبوعہ کلکتہ میں زیب النساء کا نام اور اس کے واقعات ۱۱۲۲ ہجری تک آتے ہیں۔ لیکن یہ صریح غلطی ہے۔ کاتبوں نے غلطی سے زینت النساء کو زیب النساء سے بدل دیا ہے۔کمالات علمی اور عام اخلاق و عاداتتمام مؤرخین نے بہ تصریح لکھا ہے کہ زیب النساء علوم عربیہ اور فارسی زبان دانی میں کمال رکھتی تھی۔ نستعلیق، نسخ اورشکستہ خط نہایت عمدہ لکھتی تھی۔ لیکن اس کی تصنیفات سے آج کوئی چیز موجود نہیں۔ عام طور پر مشہور ہے کہ وہ مخفی تخلص کرتی تھی۔ اور دیوان مخفی جو چھپ کر شائع ہو چکا ہے اسی کا ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں۔ کسی تاریخ یا تذکرہ میں اس کے تخلص یا دیوان کا ذکر نہیں۔ مولوی غلام علی آزاد ید بیضا میں لکھتے ہیں۔ ایں دو بیت از نام او مسموع شدہ۔ پھر دو شعر نقل کئے ہیں۔ اس کا دیوان ہوتا تو صرف دو شعر کا ذکر کیوں کرتے۔ مخزن الغرائب ایک تذکرہ ہے جو احمد علی سندیلوی کی تصنیف ہے۔ مصنف نے نہایت کثرت سے فارسی تذکرے بہم پہنچائے ہیں۔ اور ان سے حالات اور اشعار انتخاب کئے ہیں۔ زیب النساء کے حال میں لکھتے ہیں، ’’اما دیوان اشعارش جائے بہ نظر نیامدہ۔ مگر در تذکرہ انتخابش بہ نظر آمدہ لیکن اعتبار را تشاید۔ سبب آنکہ شعر اساتذہ صاحب آں تذکرہ بنام بیگم نوشتہ بود۔‘‘اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ وہ شاعر تھی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کا کلام ضائع ہوگیا۔ اسی تذکرہ میں ملا سعید اشرف کے حال میں لکھا ہے کہ زیب النساء کی بیاض خاص ایک خواص کے ہاتھ سے جس کا نام ارادت فہم تھا، حوض میں گر پڑی۔ چنانچہ سعید اشرف نے اس پر ایک قصہ لکھا جو آگے آئے گا۔ غالبا ًیہ اشعار کی بیاض ہوگی۔ تذکروں میں یہ دو شعر زیب النساء کے نام سے منقول ہیں۔بشکند دستے کہ خم در گردن یارے نشدکور بہ چشمے کہ لذت گیر دیدارے نشدصد بہار آخر شد و ہر گل بہ فرقے جا گرفتغنچہ باغ دل مازیب ِ دستارے نشدزیب النساء کی تصنیفات و تالیفات سے زیب المنشات کا ذکر البتہ تذکروں میں آیا ہے۔ تذکرہ الغرائب کے مصنف نے لکھا ہے کہ میں نے اس کو دیکھا ہے، زیب النساء کے خطوط اور رقعات کا مجموعہ ہے۔علم پروریزیب النساء نے خود کوئی تصنیف کی ہو یا نہ کی ہو لیکن اس نے اپنی نگرانی میں اہل فن سے بہت سی عمدہ کتابیں تصنیف کرائیں۔ مولوی غلام علی آزاد ید بیضا میں لکھتے ہیں، ’’ہمت بہ ترقیہ حال ارباب فضل و کمال مصروف مے داشتہ۔ و جماعت کثیر از علما و شعرا و منشیان و خوشنویساں بہ سایہ قدردانی او آسودہ بودند و کتب و رسائل بنام او ہمت تالیف پذیرفتہ۔‘‘ زیب النساء کا دربار حقیقت میں ایک اکاڈمی (بیت العلوم) تھی۔ ہر فن کے علما اور فضلا نوکر تھے جو ہمیشہ تصنیف اور تالیف میں مصروف رہتے تھے۔ یہ کتابیں عموماً اس کے نام موسوم ہوتی تھیں یعنی ان کتابوں کے نام کا پہلا جز زیب کا لفظ ہوتا تھا۔ اس سے اکثر تذکرہ نویسوں کو دھوکہ ہوا ہے اور انہوں نے وہ کتابیں زیب النساء کی تصنیفات میں شمار کیں۔زیب النسا نے جو کتابیں تصنیف کرائیں ان میں زیادہ قابل ذکر تفسیر کبیر کا ترجمہ ہے۔ یہ مسلم ہے کہ تفسیروں میں امام رازی کی تفسیر سے زیادہ جامع کوئی تفسیر نہیں۔ اس لئے زیب النسا نے ملا صفی الدین آردبیلی کو، جو کشمیر میں مقیم تھے، حکم دیا کہ اس کا فارسی میں ترجمہ کریں۔ چنانچہ اس کا نام زیب التفاسیر رکھا گیا۔ بعض تذکرہ نویسوں نے غلط لکھ دیا ہے کہ وہ زیب النساء کی مستقل تصنیف ہے۔زیب النسا نے تصنیف و تالیف کا جو محکمہ قائم کیا تھا اس کے ساتھ ایک عظیم الشان کتب خانے کا ہونا بھی ضروری تھا۔ جس سے مصنفین فائدہ اٹھا سکیں۔ چنانچہ بیگم موصوف نے ایک نہایت عظیم الشان کتب خانہ قائم کیا۔ مصنف ماثر عالمگیری کا بیان ہے 9 کہ اس کتب خانہ کی نظیر کسی کی نظر سے نہ گزری ہوگی۔ مصنف مذکور کے اصلی الفاظ یہ ہیں، ’’در سرکار علیہ کتاب خانہ گرد آمدہ بود کہ بہ نظر ہیچ یکے در نیامدہ باشد۔‘‘ زیب النسا کے حسن مذاق سے بڑا نفع یہ ہوا کہ عالمگیر کی خشک مزاجی نے جو نقصان پہنچایا تھا اس کی تلافی ہوگئی۔ یاد ہوگا کہ دربار میں ملک الشعراء کا عہدہ ابتدائے سلطنت سے چلا آتا تھا۔ جس پر فیضی، طالب، آملی، قدسی، کلیم مامور رہ چکے تھے۔ عالمگیر نے اس عہدہ کو موقوف کر دیا اور دفعتاً شعرا گویا بے خانماں ہوگئے۔ لیکن زیب النسا کی قدردانی نے پھر وہ دربار قائم کر دیا۔ مختلف تقریبوں پر شعرا قصیدے اور نظمیں لکھ کر پیش کرتے تھے اور گراں بہا انعام پاتے تھے۔ زیب النساء کی شعر دوستی کا یہ اثر ہوا کہ اہل سخن معمولی عرض معروض بھی شعر ہی میں کرتے تھے۔ اس قسم کے چند واقعات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ اوپر ہم لکھ آئے ہیں کہ ارادت فہم نام ایک خواص کے ہاتھ سے زیب النساء کی بیاض خاص حوض میں گر پڑی تھی۔ اس جرم کی معافی کے لئے ملا سعید اشرف ماژندرانی نے یہ قطعہ لکھ کر پیش کیا۔اے ادا فہمے کہ پیشت فاضلان عصر راشستن مجموعہ اندیشہ باب افتادہ استدر خم افلاطون زیاد دانشت سرخوش بودہمچو مخمورے کہ در فکر شراب افتادہ استگاہ گاہے گرز بے آدابی باد صباازل گل روے عرقناتک نقاب افتادہ استآب حسرت در دہان اختران گرویدہ استآتش غیرت بہ جان آفتاب افتادہ استذہن صافت تا علم گردید در دانشوریطبع افلاطون زبس دراضطراب افتادہ استدفتر فرہنگ در چنگش مجزا گشتہ استاز کفش مجموعہ دانش در آب افتادہ استعرض حالے ہست در خاطر کہ در اظہار آںبند بندم موج سان در اضطراب افتادہ استآں بیاض خاصہ شاہی کہ در اطراف آںجائے افشاں نقطہائے انتخاب افتادہ استآں مرصع خواں گہر ریزی کہ باشد جلوہ گردُر الفاظش بسے با آب و تاب افتادہ استدوش از دست ارادت فہم خاکم در دہنچوں بیاض سینہ ماہی در آب افتادہ استنہ ہمیں از یاد معدن رفت لعل آبدارگوہرغلطاں ہم از چشم سحاب افتادہ استبحر شعر آبدارش تازہ طوفان کردہ استکشتیش در چار موج اضطراب افتادہ استگوئیا از سر بدر رفت ست آب جدولشکایں چنیں گلزار اشعارش خراب افتادہ استآہ ازیں غم در دل پیر و جواں پیچیدہ استلرزہ زیں ہیبت بہ جانِ شیخ و شاب افتادہ استبسکہ می بندند ہر یک بر گلوے دیگرےگر بیاض گردنش خوانند تاب افتادہ استمن چہ گوئم کان چو مژگان خودش برگشت بختدرتپ ایں غم چناں از خورد و خواب افتادہ استزاں زماں بازار پریشان حالی و آشفتگیہمچو زلف خویشتن درپیچ و تاب افتادہ استرفت رنگ آتشیں چوں شمع صبح از عارضشہمچو نبض موج اندر اضطراب افتادہ استفیض بخشا زودتر پروانہ بخشائےکاتشے دروئے چو شمع ازالتہاب افتادہ استورنہ 10 خواہی دید، یک دم دفتر افلاک رااز ہجوم گریہ اش یک سرخراب افتادہ استنعمت خاں عالی اس زمانے کا مشہور شاعر تھا۔ ایک دفعہ اس نے ایک مرصع کلغی جو دستار پر لگاتے تھے، زیب النسا کی خدمت میں فروخت کے لئے پیش کی۔ زیب النسا نے رکھ لی۔ لیکن جیسا کہ درباروں کا معمول ہے، قیمت کے ملنے میں دیر ہوئی۔ نعمت خاں نے یہ رباعی لکھ کر بھیجی۔اے بند گیت سعادت اختر مندرخدمت تو عیاں شدہ جوہر منگر جیغہ خریدنی ست پس کوز رمندر نیست خریدنی بزن بر سر من(اگر خریدنا ہے تو دام دلوایئے اور نہ خریدنا ہو تو میرے سر ماریئے) بیگم نے پانچ ہزار روپے دلوائے اور کلغی واپس کردی۔ 11 ملا سعید اشرف جو زیب النساء کا استاد تھا، اور زیب النسا اسی سے نظم و نثر میں اصلاح لیتی تھی، بڑے پایہ کا شاعر تھا۔ تمام تذکروں میں اس کے حالات تفصیل سے لکھے ہیں۔ بیگم اس کو بہت عزیز رکھتی تھی۔ ایک دفعہ اس نے ایک لونڈی ملا صاحب کے پاس بھیجی کہ اس کو خدمت میں رکھئے۔ کنیز ملا صاحب کے مذاق کے موافق نہ تھی۔ ایک طول طویل قطعہ اس کی ہجو میں لکھ کر بیگم کو بھیجا۔ آغاز کا شعر یہ تھا۔قدر دانشور شناسا نور چشم عالماایکہ ہرگز قدرت ہم چشمیت حور انداشتمولوی غلام علی آزاد نے صرف یہی ایک شعر نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس میں قاب قوسین او ادنی کا قافیہ فحش موقع پراستعمال کیا تھا۔ لیکن یہ نہایت تعجب کی بات ہے۔ زیب النسا تو زاہدانہ مذاق رکھتی تھی۔ شاہی بیگمات کے دربار میں عموماً کسی کو اس قسم کی بے اعتدالی کی جرأت نہیں ہوسکتی تھی۔ جہاں آرا بیگم (زیب النسا کی پھوپھی) ایک دفعہ باغ کی سیر کو نکلی۔ ہر طرف پردہ کرا دیا گیا۔ میر صیدی طہرانی ایک مشہور شاعر تھا۔ وہ کسی حجرہ میں چھپ کر سواری کا تماشا دیکھ رہا تھا۔ بیگم کا ہاتھی پاس سے گزرا تو بے ساختہ صیدی نے یہ مطلع پڑھا۔برقع بہ رخ افگندہ برد ناز بہ باغشتا نگہت گل بیختہ آید بہ دماغش(باغ میں برق پہن کر اس لئے جاتی ہیں کہ پھول کی خوشبو چھن کر دماغ میں آئے۔) بیگم نے حکم دیا کہ شاعر کو کشاں کشاں سامنے لائیں۔ بیگم نے بار بار مطلع پڑھوا کر سنا اور پانچ ہزار روپے دلوا دیئے۔ لیکن ساتھ ہی حکم دیا کہ شہر سے نکال دیا جائے۔ 12 (یعنی یہ گستاخی کیوں کی) اس واقعہ سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ بیگمات کے لئے کس قسم کے آداب مقرر تھے۔اخلاق و عاداتزیب النسا اگرچہ درویشانہ اور منصفانہ مذاق رکھتی تھی، تاہم شاہجہاں کی پوتی تھی۔ اس لئے نفاست پسندی اور امارت کے سامان بھی لازمی تھے۔ عنایت اللہ خاں جو امرائے عالمگیری میں مقرب خاص تھا، زیب النسا کا میر خانساماں تھا۔ 13 کشمیر میں جا بجا خوشگوار اورخوش منظر چشمے ہیں۔ ان میں سے ایک چشمہ جس کا نام احول تھا، زیب النسا کی جاگیر میں تھا۔ زیب النسا نے اس کے متصل ایک نہایت پر تکلف باغ اور شاہانہ عمارتیں تیار کرائی تھیں۔ چنانچہ عالمگیر جب ۱۰۷۳ میں کشمیر کے سفر کو گیا ہے تو اس مقام پر ایک دن قیام کیا اور زیب النسا نے قاعدے کے موافق نذر پیش کی اور روپے نچھاور کئے۔ 14 ۱۰۹۰ ہجری میں ابرک کا ایک بڑا خیمہ تیار کرایا تھا۔ جو تمام تر شیشہ معلوم ہوتا تھا۔ نعمت خاں عالی نے اس کی تعریف میں ایک چھوٹی سی مثنوی لکھی۔ جس کے چند اشعار حسب ذیل ہیں۔ازاں خرگاہ طلقش چشم بد دورکہ شد از جلوہ اش نور علی نورتعالی اللہ چہ روشن بارگاہےکدورت را در ینج انیست راہےزنورش گشتہ خیرہ چشم کوکبکمینہ خانہ زادش ماہ نخشبفروغش گرچنیں دارد جہاں تابکسے شب را نخواہد دید در خوابچو عاجز گشت نطقم از ثنایششدم جویائے تاریخ بنایشپے تاریخ آں گفتار زمانہبرد زنگ دلم آئینہ خانہبھائیوں سے نہایت محبت رکھتی تھی۔ ۱۱۰۵ ہجری میں جب اعظم شاہ مرض استسقا میں سخت بیمار ہوا تو زیب النسا نے اس کی تیمارداری اس محبت سے کی کہ تمام ایام مرض تک اس پرہیزی غذا کے سوا جو خود شہزادہ کھاتا تھا، کوئی اورغذا نہیں کھائی۔ محمد اکبر جس زمانے میں عالمگیر سے باغی ہو کر راجپوتوں سے مل گیا ہے، اس زمانے میں بھی زیب النسا نے اس سے برادرانہ راہ و رسم اور خط و کتابت ترک نہ کی۔ جس کے صلے میں اس کی تنخواہ اور جاگیر ضبط ہوگئی۔ 15 زیب النسا کے متعلق جھوٹے قصےزیب النسا کے متعلق متعدد جھوٹے قصے مشہور ہوگئے ہیں جن کو یورپین مصنفوں نے اور زیادہ آب و رنگ دیا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ زیب النسا اور عاقل خاں سے عاشقی اور معشوقی کا تعلق تھا اور زیب النسا اس کو چوری چھپے سے محل میں بلایا کرتی تھی۔ ایک دن عالمگیر محل میں موجود تھا کہ اس کو پتہ لگا کہ عاقل خاں محل میں ہے اور حمام کی دیگ میں چھپا دیا گیا ہے۔ عالمگیر نے انجان بن کر اسی دیگ میں پانی گرم کرنے کا حکم دیا۔ عاقل خاں نے اخفائے راز کے لحاظ سے دم نہ مارا اور جل کر رہ گیا۔ مرنے کے وقت یہ مطلع کہا تھا۔بعد مردن زجفائے تو اگر یاد کنماز کفن دست برون آرم و فریاد کنمعاقل خاں کا مفصل تذکرہ مآثر الامرا میں موجود ہے اور چونکہ شاعر تھا، تمام تذکروں میں بھی اس کے حالات مذکور ہیں۔ لیکن اس واقعہ کا کہیں نام و نشان نہیں۔ جن کتابوں میں اس کا حال مل سکتا تھا اور جو مستند اور معتبر خیال کی جاتی ہیں حسب ذیل ہیں۔ عالمگیرنامہ، مآثر عالمگیری، مآثر الامرا، تذکرہ سرخوش، خزانہ عامرہ، سرو آزاد، ید بیضا۔ ان کتابوں میں ایک حرف بھی اس واقعہ کے متعلق موجود نہیں حالانکہ اس کی وفات کا تذکرہ سب نے لکھا ہے جو ۱۱۰۷ ہجری واقع ہوئی۔ دوسرا واقعہ یہ مشہور ہے کہ ایک دفعہ زیب النسا نے یہ مصرع کہا، از ہم نمی شود ز حلاوت جدا لبم۔ چاہتی تھی کہ مطلع ہو جائے لیکن دوسرا مصرع اس کی جوڑ کا موزوں نہیں ہوتا تھا۔ ناصرعلی کے پاس مصرع لکھ کر بھیجا۔ اس نے برجستہ کہا،از ہم نمی شود زحلاوت جدا لبمشاید رسید بر لبِ زیب النسا لبملیکن جو شخص تیموریوں کے جاہ و جلال اور آداب و آئین سے واقف ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ بیچارے ناصرعلی کو خواب میں بھی اس گستاخی کی جرأت نہیں ہو سکتی تھی۔\n\nحاشیے(۱) مآثر الامرا، جلد دوم صفحہ ۶۷۱،۶۷۰(۲) مآثر الامرا، جلد دوم، صفحہ ۸۲۸(۳) مآثر عالمگیری، صفحہ ۵۳۸(۴) سرو آزاد، تذکرہ ملااشرف(۵) سرو آزاد، تذکرہ ملا اشرف ماژندرانی(۶) مآثر عالمگیری، صفحہ ۳۰۴(۷) مآثر عالمگیری، صفحہ ۲۲۵(۸) صفحہ عالمگیری، صفحہ ۲۶۲(۹) مآثر عالمگیری، صفحہ ۵۳۹(۱۰) یہ تمام اشعار تذکرہ مجمع الغرائب اشرف سعید کے حالات میں نقل کئے ہیں۔(۱۱) خزانہ عامرہ، تذکرہ نعمت خاں علی۔(۱۲) خزانہ عامرہ، ذکر صیدی طہرانی(۱۳) مآثر الامرا، جلد دوم، تذکرہ عنایت اللہ خاں، صفحہ ۸۲۸(۱۴) عالمگیرنامہ، مطبوعہ کلکتہ۔ صفحہ ۸۳۶(۱۵) مآثر الامرا، جلد اول، صفحہ ۵۹۹، مآثرعالمگیری میں زیب النسا کی بجائے زینت النسا کا نام لکھا ہے، لیکن یہ وہی لفظی اشتباہ ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%DB%8C%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%B3%D8%A7%D8%A1"} {"title": "زیر زمیں رہوں کہ تہہ آسماں رہوں", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زیر زمیں رہوں کہ تہہ آسماں رہوں\nاے جستجوئے یار بتا میں کہاں رہوں\n\nمصروف شکر نعمت پیر مغاں رہوں\nاللہ مجھ کو یوں ہی پلائے جہاں رہوں\n\nگھل کر بھی جانب در پیر غاں رہوں\nموج شراب ناب بنوں اور رواں رہوں\n\nیارب حریق شعلۂ عشق بتاں رہوں\nدوزخ کی آگ لے کے مقیم جناں رہوں\n\nظالم یہ بزم حسن کا اچھا رواج ہے\nتو شمع ہو کے بھی نہ جلے میں تپاں رہوں\n\nاے چشم یار موت کا پہلو بچا کے تو\nایسی نگاہ ڈال کہ میں نیم جاں رہوں\n\nآب حیات پی کے خضر کیا یہاں رہے\nمیں ٹھان لوں تو کچھ نہ پیوں اور یہاں رہوں\n\nبن جائیں میری طرز فنا کی کہانیاں\nایسا مٹا کہ صاحب نام و نشاں رہوں\n\nساقی وہ خاص طور کی تعلیم دے مجھے\nاس میکدے میں جاؤں تو پیر مغاں رہوں\n\nمضطرؔ وجود ذات نے گھر تک بھی لے لیا\nجب خود وہ ہر جگہ ہے تو اب میں کہاں رہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%DB%81%DB%81_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "زیر زمیں ہوں تشنۂ دیدار یار کا", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زیر زمیں ہوں تشنۂ دیدار یار کا\nعالم وہی ہے آج تلک انتظار کا\n\nگزرا شراب پینے سے لے کون درد سر\nساقی دماغ کس کو ہے رنج خمار کا\n\nمحشر کے روز بھی نہ کھلے گی ہماری آنکھ\nصدمہ اٹھا چکے ہیں شب انتظار کا\n\nعبرت کی جا ہے عالم دنیا نہ کر غرور\nسر کاسۂ گدا ہے کسی تاجدار کا\n\nبعد فنا بھی ہے مرض عشق کا اثر\nدیکھو کہ رنگ زرد ہے میرے غبار کا\n\nالفت نہ کچھ پری سے نہ کچھ حور سے ہے عشق\nمشتاق برقؔ روز ازل سے ہے یار کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%B4%D9%86%DB%82_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "زیر نقاب آب گوں ہائے رے ان کی جالیاں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زیر نقاب آب گوں ہائے رے ان کی جالیاں\nہم کو تو بس ڈبو گئیں نیل کے کٹرے والیاں\n\nتیغ جو رکھی سان پر سدھ جو سنبھالی اس نے ٹک\nوضعیں نئی تراشیاں طرزیں نئی نکالیاں\n\nہم پہ تو برسے صبح تک خنجر و تیغ و تیر ہی\nابر بلا سے کم نہیں ہجر کی راتیں کالیاں\n\nشعلے کی جوں مدد کرے دود نخست خار و خس\nمسی سے اور دھواں ہوئیں ہونٹوں کی اس کی لالیاں\n\nموکمران باغ حسن لچکیں جو مثل شاخ بید\nدل کو نہ کیوں ہلاویں پھر ان کی یہ نو نہالیاں\n\nاک شرر آہ کا مری باعث شور و شر ہوا\nجگنو کو دیکھ جس طرح لڑکے بجاویں تالیاں\n\nصاحب نعمت اس طرح رہتے ہیں سب سے سرخ رو\nسوئے زمیں جھکی رہیں میوے کی جیسے ڈالیاں\n\nکس سے پڑھاوے کوئی خط انشا ہی جس کا ہو غلط\nیعنی کہ اس نے بے نقط بھیجی ہیں لکھ کے گالیاں\n\nکنج قفس میں باغ سے آئے تھے جو نئے اسیر\nصوتیں انہوں کی ساری رات میرے جگر میں سالیاں\n\nمصحفیؔ اس کی بزم میں بھوکے ہیں ناز کے جو لوگ\nگالیوں کی جگہ انہوں ملتی ہیں کیا سہالیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%A8_%DA%AF%D9%88%DA%BA_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "زیست کا حاصل بنایا دل جو گویا کچھ نہ تھا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زیست کا حاصل بنایا دل جو گویا کچھ نہ تھا\nغم نے دل کو دل بنایا ورنہ کیا تھا کچھ نہ تھا\n\nوہ تو میرے سامنے تھے دیکھنے کی دیر تھی\nمیں نے آنکھیں بند کر لیں ورنہ پردا کچھ نہ تھا\n\nیا الم کوشی رہی یا خود فراموشی رہی\nدل کسی دن دل نہ تھا یا درد تھا یا کچھ نہ تھا\n\nکچھ سمجھ کر خود ہی ہم نے جان دے دی دل کے ساتھ\nان کی نظروں کا ابھی ایسا تقاضا کچھ نہ تھا\n\nآپ کا دیوانہ تھا یہ ادعا باطل سہی\nفانیؔ دیوانہ دیوانہ بھی تھا یا کچھ نہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "زیست ہونی تعجبات ہے اب", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زیست ہونی تعجبات ہے اب\nمر ہی جانا بس ایک بات ہے اب\n\nدور میں تیرے ہے وہ کچھ اندھیر\nنہیں معلوم دن ہے رات ہے اب\n\nدل ہے زندہ نہ جی ہی جیتا ہے\nزندگی بد تر از ممات ہے اب\n\nاتنے بے دید بے شنید ہوئے\nنہ توجہ نہ التفات ہے اب\n\nہجر کیسا وصال ہو بالفرض\nکچھ ہی صورت ہو مشکلات ہے اب\n\nجی ہی لینا بہ لطف ہے منظور\nاس قدر جو تفضلات ہے اب\n\nجیتے جی تو رہا وصال محال\nمر چکے پر توقعات ہے اب\n\nکچھ نہ پوچھو اثرؔ کی بے چینی\nنہ سکونت ہے نے ثبات ہے اب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%8C_%D8%AA%D8%B9%D8%AC%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8"} {"title": "زینت عنواں ہے مضموں عالم توحید کا", "poet_page": "مصنف:منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "زینت عنواں ہے مضموں عالم توحید کا\nمطلع دیواں نہ کیوں مطلع بنے خورشید کا\n\nیہ سواد نامہ ہے یا سرمۂ تسخیر ہے\nہے بیاض صفحہ یا ہے نور صبح عید کا\n\nدیر میں ہے وہ نہ ہے کعبہ میں اور ہے سب کہیں\nطالب نظارہ کو گر ہو سلیقہ دید کا\n\nہو جو اس کے نام پر آغاز پورا ہو وہ کام\nہے برآرندہ وہی ہر شخص کی امید کا\n\nجو ملا اس سے اسے کہتا ہے عالم مر گیا\nنام مردہ رکھ دیا ہے زندۂ جاوید کا\n\nلن ترانی ہی رہی اس شوخ کو عشاق سے\nحوصلہ پیدا نہ کس کس کو ہوا گو دید کا\n\nتازہ مضموں سحرؔ اپنی طبع موزوں سے نکال\nہو نہ تو طرز سخن میں آشنا تقلید کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B2%DB%8C%D9%86%D8%AA_%D8%B9%D9%86%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B6%D9%85%D9%88%DA%BA_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہوا", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہوا\nہنس کے بولے شاہ صاحب کس طرف آنا ہوا\n\nٹوٹے بت مسجد بنی مسمار بت خانہ ہوا\nجب تو اک صورت بھی تھی اب صاف ویرانہ ہوا\n\nہر جگہ موجود سمجھا اس کو سجدہ کر لیا\nخواہ مسجد خواہ گرجا خواہ بت خانہ ہوا\n\nباز رکھتی ہے ہمیں خدمت سے ازخود رفتگی\nآن نکلیں گے کبھی گر آپ میں آنا ہوا\n\nبیشتر بلبل سے تھا سر میں مرے شور جنوں\nفصل گل آنے نہ پائی تھی کہ دیوانہ ہوا\n\nگرمی فرقت میں جب اشکوں سے مژگاں تر ہوئیں\nمردمان چشم کے رہنے کو خس خانہ ہوا\n\nکارخانے جتنے ہیں دنیا کے سب ہیں بے ثبات\nآنکھ سے جو آج دیکھا کل وہ افسانہ ہوا\n\nہنستے ہنستے دل لگی کے واسطے ناپا جو آج\nسرو کا قد اس سہی قامت کے تا شانہ ہوا\n\nیوسف مصر محبت کیسا ارزاں بک گیا\nنقد دل قیمت ہوئی اک بوسہ بیعانہ ہوا\n\nجل کے اس نے جان دی یہ نالے کر کے رہ گئی\nعشق بلبل پر بھی فائق عشق پروانہ ہوا\n\nعشق دنداں کی خطا پر قتل جو مجھ کو کیا\nاس لیے شمشیر قاتل میں بھی دندانہ ہوا\n\nمیں نے جانا کاسۂ سر ہے کسی مے خوار کا\nواژگونہ دست ساقی میں جو پیمانہ ہوا\n\nمژدہ باد اے بادہ خوارو دور واعظ ہو چکا\nمدرسے کھولے گئے تعمیر مے خانہ ہوا\n\nرندؔ ہوں روز ازل سے ہوں میں وارفتہ مزاج\nاس لیے طور سخن بھی اپنا رندانہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "سائے", "poet_page": "مصنف:محمد دین تاثیر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ایسی راتیں بھی کئی گزری ہیں\nجب تری یاد نہیں آتی ہے\nدرد سینے میں مچلتا ہے مگر\nلب پہ فریاد نہیں آتی ہے\nہر گنا سامنے آ جاتا ہے\nجیسے تاریک چٹانوں کی قطار\nنہ کوئی حیلۂ تیشہ کاری\nنہ مداوائے فرار\nایسی راتیں بھی ہیں گزری مجھ پر\nجب تری راہ گزر میں سائے\nہر جگہ چار طرف تھے چھائے\nتو نہ تھی تیری طرح کے سائے\nسائے ہی سائے تھے لرزاں لرزاں\nکبھی آئے کبھی بھاگے کبھی بھاگے کبھی آئے\nسائے ہی سائے تھے تری راہ گزر کے سائے\nایسی راتیں بھی ہیں گزری مجھ پر\nجب تری یاد نہیں آتی ہے\nلب پہ فریاد نہیں آتی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "ساتوں فلک کیے تہ و بالا نکل گیا", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساتوں فلک کیے تہ و بالا نکل گیا\nآخر شب فراق میں نالہ نکل گیا\n\nوحشت نے مجھ پہ عرصۂ ہستی کیا جو تنگ\nگھبرا کے سوئے عالم بالا نکل گیا\n\nسر دے دے باد گیسوئے جاناں کی چاہ میں\nپیٹا کرو لکیر کو کالا نکل گیا\n\nیعقوب وار روتا میں اس بت کے ہجر میں\nیوسف مرا خدائے تعالیٰ نکل گیا\n\nفرقت میں اس کی شدت گریہ کہاں تلک\nبرسا برس کے ابر کا جھالا نکل گیا\n\nروکا کیے ملائکہ ہفت آسمان کے\nساتوں فلک کو توڑ کے نالہ نکل گیا\n\nسوئے نہ ساکنان محلہ سحر تلک\nبے ساختہ جو رات کو نالہ نکل گیا\n\nکیوں کر نہ روئیے دل گم گشتہ کے لیے\nناز و نعم سے تھا جسے پالا نکل گیا\n\nپیر مغاں فقیر کو سمجھے شراب خور\nجس میکدے میں لے کے پیالا نکل گیا\n\nجاتا نہ گھر سے آپ کے ضد سے رقیب کی\nلیکن بہ پاس خاطر والا نکل گیا\n\nجھٹکا جو الجھی زلف کو جھنجھلا کے یار نے\nہالے سے مچھلی کان سے بالا نکل گیا\n\nکس رشک گل کی دیکھی قبا اس نے تنگ چست\nباہر جو اپنے جامے سے لالہ نکل گیا\n\nدانہ تھا کیا حرام کا رزق حلال میں\nمنہ سے جو اے کریم نوالہ نکل گیا\n\nبوٹا کہو نہ قامت دلبر کو شاعرو\nاب سرو سے بھی وہ قد بالا نکل گیا\n\nروندا کیا میں خار بیاباں کو اے جنون\nہر اک بچا کے پاؤں کا چھالا نکل گیا\n\nکمبل میں اپنے گرم رہا میں فقیر مست\nکیا گیا نہ دور دار دونا نکل گیا\n\nپھر چل دلا نہ کوچۂ گیسو کا قصد کر\nہے آج راہ کاٹ کے کالا نکل گیا\n\nاکتا گیا بہ تنگ ہوا کیا کرے غریب\nآخر تمہارا چاہنے والا نکل گیا\n\nمہمان ہے فقیر ہے سن لیں گے آپ رندؔ\nمرشد کا اپنے کر کے پیالا نکل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%81%D9%84%DA%A9_%DA%A9%DB%8C%DB%92_%D8%AA%DB%81_%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ساتھ رہتے اتنی مدت ہو گئی", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساتھ رہتے اتنی مدت ہو گئی\nدرد کو دل سے محبت ہو گئی\n\nکیا جوانی جلد رخصت ہو گئی\nاک چھلاوا تھی کہ چمپت ہو گئی\n\nدل کی گاہک اچھی صورت ہو گئی\nآنکھ ملتے ہی محبت ہو گئی\n\nفاتحہ پڑھنے وہ آئے آج کیا\nٹھوکروں کی نذر تربت ہو گئی\n\nلاکھ بیماری ہے اک پرہیز مے\nجان جوکھوں ترک عادت ہو گئی\n\nتفرقہ ڈالا فلک نے بارہا\nدو دلوں میں جب محبت ہو گئی\n\nوہ گلہ سن کر ہوئے یوں منفعل\nعائد اپنے سر شکایت ہو گئی\n\nدوستی کیا اس تلون طبع کی\nچار دن صاحب سلامت ہو گئی\n\nواہ رے عالم کمال عشق کا\nمیری ان کی ایک صورت ہو گئی\n\nان کے جاتے ہی ہوئی کایا پلٹ\nخم مسرت یاس حسرت ہو گئی\n\nپی کے یوں تم کب بہکتے تھے حفیظؔ\nرات کیا بے لطف صحبت ہو گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%AF%D8%AA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ساتھ سائے کی طرح وحشت میں عریانی ہوئی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساتھ سائے کی طرح وحشت میں عریانی ہوئی\nمجھ سے دیوانے کے پیچھے یہ بھی دیوانی ہوئی\n\nصدقے ان کی زلف کے میری پریشانی ہوئی\nمیں تو دیوانہ تھا یہ بھی آج دیوانی ہوئی\n\nان کے آنچل میں ادا بن کر قیامت چھپ چکی\nوہ مری جانی ہوئی وہ میری پہچانی ہوئی\n\nکس کے جلوے نے نگاہ شوق پر ڈالا اثر\nطور کے دامن میں اچھی برق جولانی ہوئی\n\nاب جو کھل کھیلیں یہ جوبن کوئی اس کو کیا کرے\nپردے پردے میں بہت ان کی نگہبانی ہوئی\n\nمانتے ہیں وہ مجھے یہ غیر کو تسلیم ہے\nمان لیتے ہیں مری یہ بات ہے مانی ہوئی\n\nغیر ہی کے ہو رہیں اب کیا رفو کرتے ہیں وہ\nچاک دامانی سے ان کی چاک دامانی ہوئی\n\nقحط تھا کتنے مزے کا حسن ارزاں بک گیا\nاس گرانی میں مزے آئے وہ ارزانی ہوئی\n\nزلف و رخ نے مارا تارا دیدہ و دل کیا کہیں\nکس کو حیرانی ہوئی کس کو پریشانی ہوئی\n\nزمزمی میں جام مے میں گر گیا پانی سوا\nتھی مری قسمت میں جیسی آج سب پانی ہوئی\n\nوعدہ دشمن سے نہ تھا تو حشر میں شرمائے کیوں\nاس طرح وہ چپ ہیں گویا بات ہے مانی ہوئی\n\nدیکھ کر سبزہ مری تربت کا بدلی وضع جور\nآسمانی آپ کی پوشاک کیوں دھانی ہوئی\n\nڈھیر ہیں کتنے یہاں بام حسیناں سے بلند\nجنس دل اٹھتی نہیں اتنی فراوانی ہوئی\n\nپاک صاف ایسی ہے جس نے پی فرشتہ بن گیا\nزاہدو یہ حور کے دامن میں ہے چھانی ہوئی\n\nبند ٹوٹے مسکی محرم رنگ اڑا جوبن لٹا\nغیر کے گھر جا کے ان کی خوب مہمانی ہوئی\n\nآئیں جائیں گے عدو ہم توڑ کر بیٹھیں گے پاؤں\nآپ نے درباں بنایا ہم سے دربانی ہوئی\n\nشکل کیا کھنچتی مری میں گرد باد دشت تھا\nگرد تصویر جنوں سے صنعت مانی ہوئی\n\nپیتے ہی دنیا کے جھگڑوں سے ہوئے بے فکر ہم\nکس قدر دشواریاں تھیں کتنی آسانی ہوئی\n\nدامن گلچیں میں بھی کچھ پھول برسائے ریاضؔ\nکہیے کچھ اس کی زمیں میں بھی گل افشانی ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ساتھ ساتھ اہل تمنا کا وہ مضطر جانا", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساتھ ساتھ اہل تمنا کا وہ مضطر جانا\nاللہ اللہ ترا بزم سے اٹھ کر جانا\n\nرہبری کر کے مری خضر بھی چکر میں پڑے\nاب انہیں جلوہ گہہ یار میں اکثر جانا\n\nداغ کم حوصلگی دل کو گوارا نہ ہوا\nورنہ کچھ ہجر میں دشوار نہ تھا مر جانا\n\nسادگی سے یہ گماں ہے کہ بس اب رحم کیا\nمطمئن ہوں کہ مجھے آپ نے مضطر جانا\n\nنشہ میں بھی ترے بیخودؔ کی تعلی نہ گئی\nبادۂ ہوش ربا کو مئے کوثر جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "ساتھ میں اغیار کے میں بھی صف مقتل میں ہوں", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساتھ میں اغیار کے میں بھی صف مقتل میں ہوں\nصورت ترکیب موزوں مصرع مہمل میں ہوں\n\nمجھ سا رنگیں طبع ہے تیرہ درونوں میں خراب\nمیں شراب ارغوانی ہوں مگر بوتل میں ہوں\n\nگندہاے نا تراشیدہ ہیں ہم صحبت مری\nان دنوں تو میں بھی خوشبو کی طرح صندل میں ہوں\n\nآدمی بے حس و مس میں صورت مردم گیاہ\nشہر میں ہوں میں الٰہی یا کسی جنگل میں ہوں\n\nپردہ دار گریۂ بے اختیاری فقر ہے\nبرق ہے ابر سیہ میں اور میں کمل میں ہوں\n\nحاصل نیکی ہوں نیکوں کو بدوں کو بد ہوں مہرؔ\nمیرا ہی پرتو عنت میں ہے میں ہی حنظل میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B5%D9%81_%D9%85%D9%82%D8%AA%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "ساتھی", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میں اس کو پانا بھی چاہوں\nتو یہ میرے لیے نا ممکن ہے\nوہ آگے آگے تیز خرام\nمیں اس کے پیچھے پیچھے\nافتاں خیزاں\nآوازیں دیتا\nشور مچاتا\nکب سے رواں ہوں\nبرگ خزاں ہوں\nجب میں اکتا کر رک جاؤں گا\nوہ بھی پل بھر کو ٹھہر کر\nمجھ سے آنکھیں چار کرے گا\nپھر اپنی چاہت کا اقرار کرے گا\nپھر میں\nمنہ توڑ کے\nتیزی سے گھر کی جانب لوٹوں گا\nاپنے نقش قدم روندوں گا\nاب وہ دل تھام کے\nمیرے پیچھے لپکتا آئے گا\nندی نالے\nپتھر پربت پھاند آ جائے گا\nمیں آگے آگے\nوہ پیچھے پیچھے\nدونوں کی رفتار ہے اک جیسی\nپھر یہ کیسے ہو سکتا ہے\nوہ مجھ کو یا میں اس کو پا لوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیا", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیا\nدریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا\n\nلگتا تھا بے کراں مجھے صحرا میں آسماں\nپہنچا جو بستیوں میں تو خانوں میں بٹ گیا\n\nیا اتنا سخت جان کہ تلوار بے اثر\nیا اتنا نرم دل کہ رگ گل سے کٹ گیا\n\nبانہوں میں آ سکا نہ حویلی کا اک ستون\nپتلی میں میری آنکھ کی صحرا سمٹ گیا\n\nاب کون جائے کوئے ملامت کو چھوڑ کر\nقدموں سے آ کے اپنا ہی سایہ لپٹ گیا\n\nگنبد کا کیا قصور اسے کیوں کہو برا\nآیا جدھر سے تیر ادھر ہی پلٹ گیا\n\nرکھتا ہے خود سے کون حریفانہ کشمکش\nمیں تھا کہ رات اپنے مقابل ہی ڈٹ گیا\n\nجس کی اماں میں ہوں وہی اکتا گیا نہ ہو\nبوندیں یہ کیوں برستی ہیں بادل تو چھٹ گیا\n\nوہ لمحۂ شعور جسے جانکنی کہیں\nچہرے سے زندگی کے نقابیں الٹ گیا\n\nٹھوکر سے میرا پاؤں تو زخمی ہوا ضرور\nرستے میں جو کھڑا تھا وہ کہسار ہٹ گیا\n\nاک حشر سا بپا تھا مرے دل میں اے شکیبؔ\nکھولیں جو کھڑکیاں تو ذرا شور گھٹ گیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%AD%D9%84_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے\nبس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کف قاتل میں ہے\n\nدیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا\nمیں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے\n\nگرچہ ہے کس کس برائی سے ولے باایں ہمہ\nذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے\n\nبس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی\nیہ جو اک لذت ہماری سعی بے حاصل میں ہے\n\nرنج رہ کیوں کھینچے واماندگی کو عشق ہے\nاٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے\n\nجلوہ زار آتش دوزخ ہمارا دل سہی\nفتنۂ شور قیامت کس کے آب و گل میں ہے\n\nہے دل شوریدۂ غالبؔ طلسم پیچ و تاب\nرحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "سارا عالم گوش بر آواز ہے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سارا عالم گوش بر آواز ہے\nآج کن ہاتھوں میں دل کا ساز ہے\n\nتو جہاں ہے زمزمہ پرداز ہے\nدل جہاں ہے گوش بر آواز ہے\n\nہاں ذرا جرأت دکھا اے جذب دل\nحسن کو پردے پہ اپنے ناز ہے\n\nہم نشیں دل کی حقیقت کیا کہوں\nسوز میں ڈوبا ہوا اک ساز ہے\n\nآپ کی مخمور آنکھوں کی قسم\nمیری مے خواری ابھی تک راز ہے\n\nہنس دیے وہ میرے رونے پر مگر\nان کے ہنس دینے میں بھی اک راز ہے\n\nچھپ گئے وہ ساز ہستی چھیڑ کر\nاب تو بس آواز ہی آواز ہے\n\nحسن کو ناحق پشیماں کر دیا\nاے جنوں یہ بھی کوئی انداز ہے\n\nساری محفل جس پہ جھوم اٹھی مجازؔ\nوہ تو آواز شکست ساز ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%AF%D9%88%D8%B4_%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92"} {"title": "سارس کی تارک الوطنی", "poet_page": "مصنف:راشد الخیری", "kind": "prose", "section": null, "year": null, "text_ur": "== کتاب ==\n\nارتشی کے وسیع میدان میں چاندنی رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی اور دامن کوہ میں خاموش چشمہ کے کنارے ایک سارس کا جوڑا تارک الوطن ہونے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ گو ان کے دماغ (یعنی احساس انسانی کا مرکز) اس قوت سے محروم تھے جو اس قصد کے نقائص و تکالیف ان کی آنکھوں کے سامنے پیش کردیتی، تاہم وطن کی مفارقت کا اثر ان کے اعضائے جسمانی، ان کی حرکات سکنات سے ظاہر تھا۔ دونوں خموشی کے ساتھ کھڑے پہاڑ کی بلند چوٹیوں کو حسرت کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔ آبشار بلندی سے گرتے تھے اور اس بھولی بھالی مخلوق کی قوت سامعہ ہوا کے تیز جھونکوں کی بدولت معمول سے زیادہ کام کر رہی تھی۔ دو ڈیڑھ گھنٹہ تک یہ جوڑا قدرت کی اس دلچسپی اور وطن کے در و دیوار کو غور سے دیکھتا رہا، آخر چاند کی روشنی کا انحطاط سارس کی توجہ میں خلل انداز ہوا اور وہ آتش فشاں پہاڑ جو قمر چہار دہم کے اندر صاف و روشن نظر آرہے تھے، دھندلے دکھائی دینے لگے۔\n\nزمین اپنے محور کے گرد چکر کھاتی ہوئی رات کو کنارِ صبح تک لے آئی۔ شیر اور چیتے جن کی دھاڑوں نے تمام جنگل سر پر اٹھا رکھا تھا، اپنے اپنے غاروں میں جانے شروع ہوگئے اور کسی خوش الحان پرند نے تاڑ کے درخت پر سے صبح صادق کا مژدہ سنایا۔\n\nایک خاص خیال میں اس قدر دیر تک متوجہ رہنے پر بھی نر کی قوت متخیلہ کچھ زیادہ کار آمد نہ ہوئی۔ وہ سوچ نہ سکا کہ غربت میں کیا کیا مصیبتیں پیش آئیں گی اور کیسی کیسی دقتیں اٹھانی پڑیں گی۔ چاند کی روشنی لمحہ بہ لمحہ پھیکی پڑ رہی تھی۔ سارس نے دفعتاً اپنا منہ مادہ کی طرف کیا، اس کے کندھوں پر اپنی گردن رکھی، اس کے کامنی پروں کو جو فاختائی مائل تھے آنکھوں سے لگایا اور اس طرح جذبات قلب پورے کرکے کہنے لگا: “چل چل پیاری مادہ! ایسے میں اڑ چلیں۔ ٹھنڈے ٹھنڈے بہت دور نکل جائیں گے ورنہ مشرقی شہسوار تختِ آسمان پر جلوہ گر ہو جائے گا اور پھر تیرے نازک بازو شاید گرم ہوا کا مقابلہ آسانی سے نہ کرسکیں۔ اٹھ اٹھ من موہنی مادہ چل کھڑی ہو، میری زندگی کی تمام خوشیاں تیرے ان چمکدار پروں میں پوشیدہ ہیں۔ تیرا یہ حسن دلفریب میری زندگی برقرار رکھنے اور مجھ کو ہمیشہ کامیاب بنانے کے لیے کافی ہے”۔\n\nچونکہ سارس اپنے سفر کا ارادہ، اپنی تارک الوطنی کا قصد شام ہی سے ظاہر کر چکا تھا، اس لیے مادہ نے اپنے گلابی مائل سرخ رخسار قریب لاکر پہلے سچی محبت کا جواب دیا اور پھر اس طرح مخاطب ہوئی:\n\n“مجھ کو حکم کی تعمیل میں عذر نہیں مگر کیا کروں قدرت نے میری سرشت میں یہ مادہ ودیعت کیا ہے کہ مرغزار کے پتے پتے کی جدائی، جہاں مَیں چھوٹی سے بڑی ہوئی، محسوس کروں۔ پہاڑ کی چوٹیاں اُس وقت سے میرے سامنے ہیں جب سے میری آنکھ کھلی، آبشاروں کی آوازیں اس وقت سے میرے کانوں میں ہیں جب سے میں ان کو سننے کے قابل ہوئی۔ یہ درختوں کے پتے اور کنار نہر کے خودرو پھول جو ہمیشہ سے میری آنکھوں میں بسے ہوئے ہیں، ان کا فراق مجھے سخت تکلیف دہ ہوگا۔ اُس پار پہنچ کر نئی زمین ہوگی، نیا آسمان، نیا دانہ، نیا پانی؛ مگر یہ سرزمین جس کے چپے چپے اور کونے کونے پر میرے قدم چلے ہیں، مجھ سے چھوٹ جائے گی؛ اور یہ ہوا جس نے مجھ کو تھپک تھپک کر لوریاں دی ہیں مجھ سے کوسوں دور ہوجائے گی۔ آخر مجھے معلوم تو ہو وہ کیا چیز ہے جس نے تم کو ایسا دل برداشتہ کیا کہ وطن جیسی چیز کو عمر بھر کے لیے خیر باد کہتے ہو؟”\n\nسارس: میں نہیں چاہتا کہ ایسی جگہ زندگی بسر کروں جہاں بے وفا اور خود غرض انسان کا گزر ہو سکے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ ایسی نفس پرور مخلوق کے خیالات سے متاثر ہو کر میری آئندہ نسل برباد ہو جائے گی۔\n\nمادہ: تم مجھ کو اجازت دو تو میں اس قدر عرض کرنے کی جرأت کروں کہ ہمارا اس حد تک انسان سے نفرت کرنا ایک قسم کی محسن کشی ہے جو ہمارا شیوہ نہیں۔ دنیا بالکل اجاڑ ہوتی، ہم ہی جیسے کائیں کائیں کرنے والے چاروں طرف آباد ہوتے، کائنات کی کل ہستی یہ ہوتی کہ لنگوروں کی چھلانگیں، چیلوں کی چل ، ہرن چکائے، بارہ سنگے، سانپ، مچھلی، کینچوے، کچھوے وغیرہ وغیرہ۔\n\nقدرت کو ضرورت تھی ایک ایسی مخلوق کی جو نظام عالم کی داد دے اور صنعتِ دنیا کو دیکھ کر صناع حقیقی کے کمال کا اعتراف کرے۔ پس انسان کی خلقت ضرورت ہے قدرت کی اور یہ اسی مخلوق کا کام تھا کہ اپنی محنت اور عقل کی بدولت پہاڑوں سے چشمے بہا دیے اور آسمان پر بے پر و بال اس طرح پہنچا کہ چاند تاروں کی حقیقت معلوم کرلی۔ کیا آپ کو اس سے انکار ہے کہ یہ طرح طرح کے میوے، یہ ہرے بھرے کھیت، یہ لہلہاتے ہوئے درخت جن سے ہمارے گرد و پیش کی زمین مالامال ہے، ہم کو محض انسان کی سعی سے میسر ہوئے؛ ورنہ پہاڑوں کے سنگریزے ہماری خوراک ہوتی اور کوہ آتش فشاں کا ملغوبہ ہمارا پانی۔\n\nایسی اچھی اور کارآمد مخلوق جس کی محنت سے ہم ہر طرح مستفید ہوں، اس قدر نفرت کی مُستوجب نہیں۔\n\nسارس: مگر انسان جیسی دغاباز شے جو تیری نگاہ میں اشرف اور میری رائے میں ارذل ہے، ہرگز پسند کے قابل نہیں۔ اس کی سرشت میں دھوکا، اس کی طینت میں دغا اور اس کی گھٹی میں خود غرضی پڑی ہوئی ہے۔ افسوس میں نے صبح ہی صبح ایک نہایت منحوس چیز کا نام لیا، انسان! کیسا انسان؟ دغا باز مکار! جس کی محبت جھوٹی ،جس کی باتیں بناوٹی، جس کا دل ظلمت کدہ، سچا احساس اس سے کوسوں دور اور اچھے خیال اس سے میلوں پرے۔ دیکھ وہ سورج کی کرنیں پہاڑ کی چوٹیوں پر پڑنے لگیں۔ اب ہمارا یہاں بیٹھنا ٹھیک نہیں۔ افسوس آج کا سفر ملتوی ہوا، چل پہاڑ پر چل اور حیاتِ انسانی کی کیفیت مجھ سے سن۔\n\nآٹھ دس برس کا عرصہ ہوا، میں بچہ ہی سا تھا۔ ایک رات جبکہ چاندنی چاروں طرف چھٹکی ہوئی تھی، میرے باپ نے باہر نکل کر دیکھا؛ درختوں کے پتوں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر ایک نور سا برس رہا تھا۔ پیاری بی بی! تجھے کبھی پردیس جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ اگر راستہ میں میرا قدیمی مکان پڑا تو میں تجھے دکھاؤں گا کہ وہ کیسا پرفضا مقام ہے۔ دامن کوہ سے چشموں کا اترا اترا کر اور مچل مچل کر چلنا تجھ کو بتا دے گا کہ فطرت نے میری پرورش کے واسطے کیسی دلفریب اور دلچسپ جگہ انتخاب کی تھی۔ ہاں تو شبِ ماہ اپنا بناؤ سنگھار کیے پردۂ دنیا پر جلوہ گر تھی، والد مرحوم کا دل سیر کو چاہا۔ مجھے اور میری ماں کو ساتھ لیا اور ہم تینوں ہوا میں اڑے۔ تاروں نے بساطِ فلک کو جبینِ عروس بنا رکھا تھا۔ ہم کو کسی خاص جگہ پر جانا مقصود نہ تھا، ہوا کے جھونکوں نے پورب کی طرف دھکیل دیا اور ہم چاندنی کا لطف اٹھاتے اسی طرف کو روانہ ہو گئے۔\n\nرات اٹھلا اٹھلا کے اپنا رستہ طے کر رہی تھی۔ ہم جزیرہ ارسیوان میں پہنچے تو ہمارا گزر قصر سلطانی پر ہوا۔ دیکھتے کیا ہیں کہ شہزادہ الیاس بھی ہماری طرح شب ماہ کا لطف اٹھا رہا ہے اور اس کی معشوقہ برابر میں بیٹھی ٹھنک ٹھنک کر باتیں کر رہی ہے۔ الیاس ٹکٹکی باندھے اس کی صورت دیکھ رہا تھا۔ کچھ عجب قسم کی محبت اُس کی آنکھوں سے ٹپک رہی تھی۔ چونکہ محبت کا وہ مادہ ہمارے دماغ اور جمال سے ارفع و اعلیٰ ہے، میں اس کی صراحت سے مجبور ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ شہزادی کی ایک ایک ادا الیاس کا کلیجہ مجروح کر رہی ہے۔ وہ دیوانہ وار شہزادی پر نثار ہو رہا تھا، کبھی اس کے نازک ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھتا تھا، کبھی آراستہ و پیراستہ زلف کو سونگھ کر جھومتا ، کچھ دیر تک تو اس طرح قلب مضطرب کو تسکین دی اور پھر بیتاب ہو کر کہنے لگا: “سلطنت کا لطف بھی اسی وقت تک ہے جب تک کہ تو میری آنکھوں کے سامنے ہو، ورنہ شہزادی تمام سامان عیش ہیچ ہے۔ لا گل اندام! اپنے پیارے ہاتھوں سے ایک جام تو دے”۔\n\nشاید عورت کی فطرت ہی میں یہ داخل ہوگا کہ شہزادی الیاس کو اس قدر والہ و شیدا دیکھ کر بے انتہا خوش ہوئی۔ اس کے حسن کی چمک پہلے سے دوچند ہو گئی، گلاب سے رخساروں میں سرخی جھلکنے لگی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ چاہتی تھی کہ آگے بڑھ کر شیشہ و ساغر اٹھائے، الیاس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگا: “ان ہاتھوں کو اس قسم کی تکلیف دینا منشائے قدرت کے خلاف ہے”۔ یہ کہہ کر شہزادہ الیاس نے جام بلوریں آگے رکھا، شہزادی ساغر تیار کر رہی تھی کہ اتفاق سے شیشہ ٹوٹا اور کلائی بالکل لہو لہان ہو گئی۔ اس وقت الیاس کی بے چینی بیان نہیں ہوسکتی۔ آنکھ سے آنسو نکل پڑے، رومال بھگو کر کلائی پر باندھا اور کہنے لگا: “اس خون کا ہر قطرہ میرے کلیجہ سے نکل رہا ہے۔ کاش میرا پورا ہاتھ کٹ جاتا، میں مر جاتا، شہید ہو جاتا مگر میری وجہ سے اس سرخ وسفید کلائی کو یہ اذیت نہ ہوتی”۔\n\nشہزادہ یہیں تک پہنچا تھا کہ میری ماں اپنے خاصۂ فطرت کے موافق والد مرحوم کی طرف متوجہ ہوئی اور کہنے لگی: “سچ یہ ہے، انسان سے زیادہ محبت کی قدر کوئی مخلوق نہیں کر سکتی”۔ یہ کہہ کر وہ اور اس کے پیچھے پیچھے ہم باپ بیٹے اڑے اور اپنے گھر کو واپس آئے۔\n\nمجھے ٹھیک یاد نہیں کہ اس واقعہ کے کتنے روز بعد ایک روز میں سمتِ مشرق سے آرہا تھا، رستہ میں جزیرہ ارسیوان پڑا، میرے دل نے گوارا نہ کیا کہ شہزادی کو جس کے ساتھ مجھے اس رات اتنی ہمدردی ہو گئی تھی، بغیر دیکھے چلا جاؤں؛ چنانچہ میں قصر سلطانی پر ٹھٹکا۔ دوپہر کا سنسان وقت تھا اور گرمی نہایت شدت سے پڑ رہی تھی، دیکھتا کیا ہوں کہ الیاس غمگین و محزون پڑا رو رہا ہے دفعتاً ایک شخص آیا اور خط دے کر چلا گیا۔ مجھے سخت تعجب تھا کہ الیاس نے سیکڑوں مرتبہ وہ خط کھولا، پڑھا اور سر آنکھوں پر رکھا۔ آخر بآواز بلند کہنے لگا: “ظالم اب تک اسی ہٹ پر قائم ہے کہ شہزادی کی زندگی میں مجھ سے کسی تعلق کی امید بالکل فضول۔ خیر یہ کیا بڑی بات ہے، لاؤ آج اس قضیہ کا بھی فیصلہ کردوں”۔ یہ کہہ کر الیاس اندر گیا اور ایک خنجر آبدار لے کر باہر نکلا۔ اس کی دھار دیکھی اور کمر میں لگا کر اس کمرہ میں آیا جو میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ آہ پیاری مادہ! آگے بیان کرتے ہوئے کلیجہ کٹتا ہے، وہی شہزادی جو کسی وقت الیاس کے دل پر اچھی طرح قابض اور تمام سلطنت کی مالک تھی، سر پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی اور آنکھ سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔ الیاس کی صورت دیکھتے ہی شہزادی گھبرا کر اٹھی۔ گو وہ بالکل ساکت کھڑی تھی مگر سر سے پا تک ایک نا امیدی کی تصویر تھی۔ اس کی بڑی اور رسیلی آنکھیں جو اس وقت گلابی ہو گئی تھیں، بہ حسرت و یاس الیاس کے چہرے پر تھیں اور اس کے تکلیف دہ خیالات کی پریشانی کا اظہار اس کی صورت سے ظاہر تھا۔ نرم اور نازک رخسار گلاب کی پتیوں کی طرح آفات ناگہانی سے مرجھا چکے تھے اور وہ دل جس میں کبھی عشرت و شادمانی کا راج تھا، اس وقت مصائب کی پوٹ بنا ہوا تھا۔\n\nپہلو میں ننھا سا دل رکھنے والی مادہ! مجھے اندیشہ ہے اب واقعات تجھ کو رُلا نہ دیں۔ جس وقت سفاک الیاس نے کمر سے خنجر نکالا، اس کی چمک دیکھ کر شہزادی سہم گئی، اوسان جاتے رہے، تھر تھر کانپنے لگی۔ الیاس آگے بڑھا،شہزادی کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹا اور کہا تیرا جام عمر لبریز ہوچکا۔ یہ خنجر تیرا کام تمام کر دے گا۔ ادھر آ اور مرنے کے واسطے تیار ہو۔\n\nاتنا کہہ کر خنجر اٹھایا۔ چاہتا تھا کہ کام تمام کر دے، شہزادی نے بہ منت یہ الفاظ کہے:\n\n“میں بے گناہ ہوں۔ جس دماغ میں آج سے پندرہ بیس برس پہلے میری محبت کے خیالات بھرے ہوئے تھے آج اس میں قتل کی تجویزیں ہیں۔ بادشاہ کی جن آنکھوں سے آج خون ٹپک رہا ہے، یہ کبھی میری طرف پیار و محبت سے بھی اٹھی ہیں۔ اگر تیری کامیابی صرف میری موت پر منحصر ہے تو میں یہ جان قربان کرتی ہوں، لیکن نافرمانی کا الزام میرے اوپر بہتان ہے۔ الیاس! وہ کام نہ کر کہ میرے دونوں بچے دنیا میں ذلت کی زندگی بسر کریں۔ میں جانتی ہوں کہ تھوڑی دیر میں میرا جسم فرش پر تڑپ رہا ہوگا اور جب تک تیری آنکھیں مجھ کو مردہ نہ دیکھ لیں، دل ٹھنڈا نہیں ہو سکتا۔ میں اپنا خون معاف کرتی ہوں، بائیس برس تیرے ساتھ زندگی بسر کی۔ تیری بدولت دنیا کے لطف اٹھائے۔ ایک ایسے رفیق کو جان نذر کر دینی کوئی بڑی بات نہیں۔ اب میں اجازت دیتی ہوں کہ تو شوق سے اپنی خواہش پوری کر”۔\n\nابھی یہ پہلا فقرہ ختم بھی نہ ہوا تھا کہ ظالم الیاس نے آبدار خنجر کو حرکت دی اور عین اُس وقت جبکہ مظلوم شہزادی کی آنکھیں اپنے خاوند کے چہرے کو تک رہی تھیں، اس کے کلیجے میں بھونک دیا۔\n\nکیوں مادہ! کیا وہ مذہب اور اخلاق اور قانون جس پر انسان بہت کچھ نازاں ہے اور سمجھتا ہے کہ ابتدائے دنیا سے آج تک ہم نے بہت کچھ ترقی کرلی، یہی تعلیم دیتا ہے؟ کیا وہ شہزادی جس نے عفت و عصمت جیسی چیز قربان کر دی، کیا وہ عورت جس کو الیاس نے زبردستی اپنی محبت کا یقین دلایا، اسی سلوک کی مستحق تھی؟ کس طرح سنگدل الیاس کا ہاتھ ایک بے گناہ، برسوں کی رفیق اور برسوں کی ساتھی عورت پر اٹھا۔\n\nیہ کچھ ایسا درد انگیز سماں تھا کہ میرے پر شل اور ہاتھ پاؤں پٹڑا ہو گئے، طاقت پرواز نہ رہی۔ آفتاب غروب ہو چکا تھا، میں نے وہیں بسیرا کیا اور رات کو جس وقت میں نے یہ دیکھا کہ ایک نئی عورت الیاس کی خواب گاہ میں داخل ہوئی اور الیاس اس کے استقبال کو اٹھا، مجھ میں دیکھنے کی تاب نہ رہی۔ میں اڑا اور راتوں رات اپنے گھر پہنچا۔\n\nمیرا دماغ اس وقت بالکل صحیح نہ تھا، پریشان خیالات نے میری قوت زائل کردی تھی۔ ہر چند چاہتا تھا کہ تھوڑی سی نیند لے کر دماغ کو تسکین دوں مگر بے گناہ شہزادی کی آخری گفتگو میرے کانوں میں موجود تھی اور کسی طرح نہ بھولتی تھی۔\n\nبدقت تمام رات بسر کی لیکن کائنات کی اس قابل ناز شے یعنی انسان کے مطالعہ کا مجھ کو اس قدر شوق ہوا کہ میں پھر آبادی میں پہنچا۔ شہر میں ایک پہاڑی تھی جس پر سہ منزلہ اور چو منزلہ مکان بنے ہوئے تھے، ان میں سے ایک بلند مکان دیکھ کر میں ممٹی پر جا بیٹھا۔\n\nقوت مشاہدہ میری مددگار تھی، تمام شہر میری آنکھ کے سامنے تھا اور میری آنکھ افعال انسانی پر بغرض تحقیقات پڑ رہی تھی۔ میرا خیال تھا کہ وہ ما بہ الامتیاز شے جس نے اس مخلوق کو اشرف بنا دیا، حیات انسانی کی رہنما ہوگی مگر مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ ان سیکڑوں اور ہزاروں ذی روح لوگوں میں ایک متنفس بھی ایسا نظر نہ آیا جس پر انسان کا اطلاق جائز ہوسکتا۔\n\nاُن بخارات کی طرح جو شدتِ حرارت و تمازتِ آفتاب سے پہاڑ کی چٹانوں یا تپتے ہوئے کرۂ زمین سے نکل کر ہوا میں اڑتے رہتے ہیں، میری نگاہ ابھی تک کہیں ٹھہری نہ تھی اور مطالعہ انسان کے اشتیاق نے مجھ کو اس قدر بے تاب کر دیا تھا کہ قوتِ باصرہ کی رفتار حد آخر تک پہنچ چکی تھی۔ رنگ برنگ کی اشیا، مختلف ہیئت و صورت کے اجسام سامنے سے گزر رہے تھے؛ مگر چونکہ متجسس نگاہ سرعت کے ساتھ دیکھ رہی تھی، مَیں ان میں سے کسی کو تمیز نہ کر سکا، یہاں تک کہ ایک زرد دوپٹہ بیچ میں آکر حائل ہوا اور میری تمام توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ یہ دوپٹہ انسان کے اُس کمزور فرقے کے سر پر تھا جو عورت کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے، لیکن یہ کپڑا بجائے سرخ رنگ اور چمکدار ہونے کے پھٹا ہوا اور میلا کچیلا تھا۔ الیاس کے ظلم اور شہزادی کی منت و زاری نے میرے دل میں اس فرقے کی حمایت پیدا کر دی تھی۔ میں نے سر سے پاؤں تک اس عورت کو دیکھا، گو شہزادی کی طرح اس کے پاس دلفریبی کا کوئی سامان نہ تھا اور باوجود یہ کہ ہوا کے ٹھنڈے ٹھنڈے جھونکے بجائے دل و دماغ کو تر و تازہ کرنے کے، اس چار دیواری سے جس میں یہ موجود تھی ٹکرا ٹکرا کر واپس جا رہے تھے۔ تاہم اس کے چہرے سے خوشی کا مینہ برس رہا تھا اور جہاں تک میرا قیاس حیوانی کام دے سکا، میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ فکر و غم کی گھٹا اس کے قلب سے بالکل نا آشنا ہے۔ افسوس میرے نتیجہ نے مجھ کو مغالطہ دیا، میں نہ سمجھ سکا کہ یہ حالت مستقل نہیں عارضی ہے اور یہ زور کا چھینٹا تھوڑی دیر بعد کھل جائے گا اور یہ دل جو اس وقت باغ باغ ہے، اس پر حوادث کی بجلی چمک چمک کر اور کڑک کڑک کر گرے گی۔\n\nیہ عورت ایک ٹوٹے سے کُھرّے کھٹولے پر صحن میں بیٹھی تھی اور اندر اس کی تین چار ہم جنسیں مختلف کاموں میں مصروف تھیں۔ اس زرد ڈوپٹہ میں مجھے کوئی چیز کلبلاتی ہوئی نظر آئی، وہ کوئی بے جان نہ تھی، جاندار تھی اور طاقتور بھی تھی اور یہ کوشش کر رہی تھی کہ کسی طرح اس پھٹے ہوئے ڈوپٹہ کو ہٹا کر باہر نکلے؛ مگر عورت کی طاقت غالب تھی۔ وہ چاروں طرف سے ڈوپٹہ کو چھپاتی تھی اور چاہتی تھی کہ یہ قوت اور اس کا یہ فعل ان ہم جنسوں کے علم میں نہ آئے جو سامنے ہیں۔ کچھ دیر تک ان دونوں میں کشمکش رہی اور بالآخر چھوٹی طاقت میں بڑی طاقت کی طرف سے تھوڑی سی محبت شامل ہوئی۔ ڈوپٹہ سر کا تو میں نے دیکھا کہ ایک ننھا سا بچہ گود میں پڑا دودھ پی رہا ہے۔ نرم رخساروں پر ہنسی کی جھرّیاں، پیارے پیارے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور ماں کے منہ پر ٹکٹکی تھی۔ بچہ کی یہ کیفیت دیکھ کر چونکہ میں خود صاحب اولاد تھا، کس قدر خوش ہوا ہوں بیان نہیں کر سکتا۔ اس کا ننھا سا دل دنیا کے تفکرات سے بالکل آزاد تھا۔ اس کی تمام سلطنت ماں کی گود تھی جس میں پڑا ہوا حکومت کر رہا تھا۔ جس پیار اور محبت سے ماں کی نگاہیں اس بچہ پر پڑ رہی تھیں، وہ کوئی میرے دل سے پوچھے۔ جھکتی تھی، طرح طرح کے منہ بناکر چمٹتی تھی، مختلف ناموں سے پکارتی تھی، بھینچ بھینچ کر لپٹتی تھی۔ اس کی گود میں ایک ایسی لازوال دولت اور بیش بہا خزانہ تھا جس کی خوشی کا احساس کسی طرح ختم نہ ہوتا تھا۔ مامتا دماغ میں خیال اور خیال میں بلندیاں، دل میں حوصلے اور حوصلوں میں امیدیں پیدا کر رہی تھی۔ اس کی حرکات قریب قریب مجنونانہ تھیں، مگر کچھ ایسی خوشی سے لبریز تھیں کہ اس کا پتہ مجھ کو اُن خوشیوں میں بھی نہ ملا جو الیاس و شہزادی کے پاس شب ماہ میں تھیں۔ فرطِ محبت سے چومتے چومتے خیالات نے امیدوں کو جامۂ کامیابی پہنایا۔ چاہتی تھی کہ کلیجہ سے لگا کر ہولے ہولے تھپڑ مارے۔ دفعۃً ایک ہم جنس سنگ دل کی خفگی اور فقرے نے اس کی امیدوں کو خاک میں ملا دیا:\n\n“کیوں ری انّا کمبخت! تو نے پھر اپنے بچہ کو دودھ دیا!”\n\nخدا معلوم اس فقرے کی تہ میں ایسی کیا چیز چھپی تھی جو بے فکر دل پر تیر کی طرح جا کر لگی اور ہشاش بشاش چہرہ کو جس پر رنج و غم کا نشان تک نہ تھا، بالکل سہما دیا۔ اتنی عمر ہونے آئی، مگر آج تک اتنی جلدی مَیں نے کبھی آسمان کو بھی رنگ بدلتے نہ دیکھا۔ جس کے وہم و گمان میں بھی انقلاب کا اندیشہ نہ تھا، جو خلقت اور صنعت سب کو ہیچ سمجھ رہی تھی، جس کی تمام خوشیاں، جس کے تمام خیالات اس دو ڈھائی سیر کے لوتھڑے میں محدود تھے، جس کے دماغ میں اس بے بہا نعمت نے اپنا سکہ بٹھا رکھا تھا اور جس کے دل میں یہ ننھا سا لال راج کر رہا تھا، دفعتاً سٹ پٹا گئی۔ بچہ کو وہیں پٹخا اور سہمی ہوئی سامنے آ کھڑی ہوئی۔ منہ پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں اور گھگیا گھگیا کر کہہ رہی تھی: “نہیں تو بیگم! بڑی دیر سے رو رہا تھا، میں نے گود میں اٹھا لیا”۔\n\nماں کی گود کا فراق اور دودھ کا چھٹنا تھا کہ ننھا سا دل پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ تعجب تو یہ تھا کہ ہرچند چیخا چلایا، مگر واقعات نے ماں کو اتنی اجازت نہ دی کہ اپنی صورت دکھا کر فوری رنج کی تلافی کر دیتی۔ ہاں اتنا ضرور تھا کہ جوں جوں اظہار تکلیف میں جس کا ذریعہ رونے کے سوا بچے کے پاس کچھ اور نہ تھا، زیادتی ہوتی جاتی تھی، ماں کا خون خشک ہوتا جاتا تھا۔ میں دور بیٹھا ہوا بہت کچھ تڑپا مگر بے بس تھا۔ بہتیرا غور کیا مگر قیاس نے مدد نہ دی کہ اس سنگدل عورت کے فعل پر کوئی رائے قائم کرتا۔ ہرچند وجہِ ارتکاب سوچتا تھا مگر کوئی خیال ٹھیک نہ بیٹھا، با وجود اس ناکامی کے کہ دماغ نے کوئی صائب رائے نہ دی، چونکہ افراط تخیلات کا مرض مجھ کو لاحق ہے اس جھگڑے کے الٹ پھیر میں پھنسا رہا۔ ممکن ہے کہ غلط ہو مگر میں جو قیاس لگا سکا اور جو رائے قائم کرنے پر مجبور تھا وہ یہ تھی کہ زرد ڈوپٹہ والی عورت کی کچھ ایسی اغراض اِن ہم جنسوں سے وابستہ تھیں جن کا پورا ہونا ضروریات زندگی میں شامل اور بقائے حیات کا جزوِ لازمی تھا۔\n\nمگر اے مادہ! بشریت اسی کا نام ہے اور ان حرکات کا فاعل انسان کہے جانے کا مستحق ہے؟\n\nبول بول پیاری مادہ، کس دل سےاس شقی القلب عورت نے ماں بیٹوں کے دورِ محبت کو درہم برہم کر دیا۔ وہ ذرا سا دل جو آزادی سے پڑا ہوا کلکاریاں مار رہا تھا، اس سنگ دل کی وجہ سے چیخیں مار مار کر رونے لگا اور اس کو پروا بھی نہ ہوئی۔ محض اپنے بچے کی محبت باعتبار تموّل بر تر ہونے کا زعم یا اسی کے قریب قریب کچھ اور ہونے کی رعونت۔ کیا سب جائز تھے؟ اس لیے کہ اپنی ہی جیسی عورت، اپنی ہی جیسی انسان کی مامتا صرف اس وجہ سے کہ اس کی ضرورتیں اٹکی ہوئی ہیں، اپنی مامتا پر قربان کردے اور ایسا نا جائز فائدہ اٹھائے کہ مجھ جیسا جانور تک لعن طعن کریں؟ بول بول پیاری مادہ کچھ تو بول۔ ننھے ننھے کلیجوں پر تیر لگانے والی مخلوق، مجروح دلوں پر برچھیاں چلانے والی مخلوق اور اشرف؟ توبہ توبہ!! اے آسمان پر بادشاہت اور زمین پر حکومت کرنے والے! الامان الحفیظ۔ بچائیو اس مخلوق سے جو اتنی ارذل اور پناہ میں رکھیو اس فرقے سے جو اس قدر خود غرض ہو۔\n\nمادہ پیاری مادہ! باتوں ہی باتوں میں دن کہیں کا کہیں پہنچا اور سورج سر پر آ گیا۔ میں نہ کہتا تھا کہ ایسی منحوس مخلوق کا صبح ہی صبح نام لیا، خدا خیر کرے۔ خواہش یہ ہے کہ آئندہ کسی ایسی شے کا وجود میرے ذہن میں نہ ہو۔ آ اور دامن کوہ میں چل۔ جو کچھ کہا کچھ نہیں کہا، ابھی بہت کچھ کہنا ہے۔\n\nمیں اس تماشے میں ایسا محو اور اس واقعہ سے اتنا متاثر ہوا کہ بھوک پیاس غارت ہوئی۔ ہرچند جی چاہا کہ نیچے اتروں اور اپنے پروں کی ٹھنڈی ہوا سے معصوم دماغ کو تر و تازہ کروں مگر اندیشہ اور اندیشہ کیا یقین تھا کہ اگر بھولے سے بھی ان حدود میں داخل ہو جاؤں گا جہاں حضرت انسان کے قدم پہنچتے ہیں تو آزادی کا خاتمہ ہوگااور پر قینچ ہو کر کسی کونے میں پھینک دیا جاؤں گا۔ اڑا اور جدھر منہ اٹھا اُدھر کا رخ کیا۔ جہاں انسان کی طرف سے اس قدر نفرت آمیز خیالات میرے دماغ میں جڑ پکڑے جاتے تھے، وہیں تحقیقات مزید کی خواہش اور یقین کی ضرورت بھی اس درجہ محسوس ہو رہی تھی کہ میں آبادی میں چکر لگاتا رہا۔ گرمی نہایت شدت سے پڑ رہی تھی اور چونکہ حرارتِ آفتاب اس وقت پورے زور پر تھی۔ نازک مزاج انسان کو اتنی برداشت کہاں؟ کوئی تہ خانوں میں گھسا، کوئی خس خانوں میں۔ ہاں ایک جگہ تین چار آدمی کھڑے دکھائی دیے۔ ان کو دیکھ کر میں نے بھی طاقت پرواز کو کمزور کیا، دیکھتا کیا ہوں کہ ایک موٹا تازہ آدمی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ادھر ادھر ٹہل رہا ہے۔ اتنا ہی موٹا مگر عمر میں کچھ چھوٹا ایک شخص جس کی صورت بڑے موٹے سے بہت ہی ملتی جلتی تھی، ایک طرف چپکا کھڑا تھا۔ دو تین آدمی اور بھی تھے مگر مجھے دیکھ کر تو کیا، کسی ضرورت ہی سے سمجھنا چاہیے باہر چلے گئے۔\n\nگو پچھلے واقعہ نے اس چیز کو جو انسانی و شیطانی حرکات میں ما بہ الامتیاز ہے، دماغ سے قریب قریب غارت کردیا تھا۔ مگر پھر بھی میں ایسی اعلیٰ و اشرف مخلوق سے بدظن نہ ہوا اور میں نے فیصلہ کیا کہ انسانی تاریخ کے بدنما دھبے شاید مذہب کے رگڑوں کا مقابلہ نہ کرسکیں اور جو طبیعتیں اصول مذہب جیسی مؤثر شے سے متاثر ہو چکی ہیں، ان سے ایسی کمینہ حرکات کا ظہور نہ ہوگا۔ مگر جانور اور مجھ جیسے آزاد کے واسطے یہ تو آسان نہ تھا کہ میں محض انسان کی صورت دیکھ کر یہ پتہ لگا لوں کہ یہ مذہب کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ تاہم واقعات پر نظر ڈالنے سے پہلے میں نے جیبوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے لحیم شحیم کو اسی غرض سے دیکھا۔ اس کا سر منڈا ہوا تھا، بگلے کا پر سفید ڈاڑھی، پیشانی پر نور، گٹے، ٹخنوں سے اونچا پائجامہ ۔ مختصر یہ کہ کچھ ایسا تقدس ٹپک رہا تھا کہ میرے دل نے بلا تامل اس شخص کے انسان ہونے کی شہادت دی۔ میں منتظر تھا کہ اس کے قول و فعل سے کس طرح واقفیت حاصل کروں، دفعتاً اس بڑے موٹے نے چھوٹے موٹے سے کہا:\n\n“یہ صرف فتنہ پروازوں کی شرارت ہے جو تم کو میری طرف سے بھڑکا رہے ہیں۔ میں اگر تمھارا دشمن ہوں گا تو دوست کس کا ہوں گا۔ یہ دولت اور ریاست سب مل جانے والی چیزیں ہیں مگر تم جیسا برابر کا بھائی، نہ ماں باپ زندہ ہو کر آئیں گے، نہ نصیب ہوگا۔ صدقہ کردوں تم پر سے وہ جائداد جو تمھارے دل میں میری طرف سے گرہ ڈالے۔ بھائی سلیم! تم نے کس طرح یقین کرلیا کہ میں حکام کو تمہاری بغاوت کا یقین دلا رہا ہوں اور اس کمبخت موضع عزیز آباد کے واسطے! لاحول ولاقوة! اگر خدا کوئی چیز ہے اور مرنے کے بعد اس کے حضور میں افعال دنیوی کا جواب دینا ہے تو میں اس کو شاہد کرتا ہوں کہ اگر تم سے دغا کروں تو خدا سے۔ تم بلا تامل اس دستاویز پر دستخط کردو۔ والله باللہ ثم باللہ اس کو میری بدنیتی پر محمول نہ کرو۔ تمھاری ریاست تم کو مبارک ہو۔ میری یہ کوشش دوراندیشی پر مبنی ہے کہ اگر خدانخواستہ ایسی ویسی ہو تو یہ آبائی نشانیاں جہاں باپ دادا کی ہڈیاں گڑی ہوئی ہیں نیست نابود نہ ہو جائیں”۔\n\nباپ دادا کا نام لیتے ہوئے اس شخص کی آنکھ میں آنسو بھر آئے اور کچھ ایسے درد سے تقریر کی کہ چھوٹے موٹے نے فوراً ہی دستخط کردیے۔ نہ معلوم اس کاغذ میں کیا خدائی کی دولت تھی کہ دستخط ہوتے ہی بڑا موٹا باغ باغ ہو گیا اور کاغذ ہاتھ میں لے یہ جا وہ جا۔ ابھی اس شخص کو گئے مشکل سے ایک گھنٹہ ہوا ہوگا کہ چند طاقتور انسان رنگ برنگ کی وردیاں پہنے درّانہ گھس آئے اور اس چھوٹے موٹے کو زنجیروں میں جکڑ ایک طرف لے چلے۔ اس شخص کی گریہ و زاری اور اظہار بے گناہی پر کلیجہ کٹتا تھا۔ زمین پر یہ چھوٹی سی جماعت اور ہوا پر میں اکیلا۔ مختصر یہ کہ ہم سب ایک ایسی جگہ پہنچے جو عدالت کے نام سے تعبیر کی جاتی تھی۔ سب سے پہلا شخص جس نے اس مظلوم کے باغی ہونے کی شہادت دی، وہی بڑا موٹا تھا۔ پس پیاری مادہ جانے دے، میں نے تیرے ننھے سے دل کو بہت تکلیف پہنچائی۔ ایسا نہ ہو اس قسم کے واقعات تیری صحت پر برا اثر کریں۔ حقیقی بھائی سے زیادہ دوست کون ہو سکتا تھا۔ اس شخص کو جلا وطنی کا حکم ہوا۔ جس وقت اس کو کشاں کشاں لے چلے ہیں، وہ نہایت حسرتناک وقت تھا۔ قیدی نے بڑے بھائی کی طرف دیکھا اور کہا: “بھائی جان! موضع عزیزآباد میرے پاس رہا نہ تمھارے پاس رہے گا۔ چار دن کی زندگی کے واسطے تم نے مجھ سے میرے پیارے چھڑوائے۔ میں تو چلا لیکن اب تم اس جگہ چلنے کے واسطے تیار رہو جہاں میرا تمھارا انصاف ہوگا اور جہاں میری شکایت کے بغیر اس کا فیصلہ ہو جائے گا”۔\n\nبتا پیاری بتا، کچھ تو بتا۔ کیا اب بھی تو اس مخلوق کے ہمسایہ میں رہنا پسند کرتی ہے؟ وہ دن اور آج کا دن، میں نے تو عہد کر لیا کہ آبادی کی طرف رخ نہ کروں گا۔ لیکن کل شام کو میں نے یہاں بھی حضرت انسان کی صورت دیکھی۔ بس اڑ اور چل وطن کو خیرباد کہہ اور عزیز و اقارب کو خداحافظ۔\n\nتمام شد", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DA%A9_%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%B7%D9%86%DB%8C"} {"title": "سارے عالم سے مرے غم کا ہے افسانہ جدا", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سارے عالم سے مرے غم کا ہے افسانہ جدا\nدل کے ماتم کے لیے چاہیے غم خانہ جدا\n\nگرچہ وحشت کا نہیں ہے کوئی افسانہ جدا\nپر نظر آتا ہے سب سے ترا دیوانہ جدا\n\nقربت حسن غضب ہے کہ سر محفل ناز\nاس کے لب سے نہیں ہوتا لب پیمانہ جدا\n\nاے خدا کشمکش یاس و تمنا کب تلک\nان کے رہنے کے لئے دل میں ہو ہر خانہ جدا\n\nآج تنگ آ کے یہ ناصح کو دیا میں نے جواب\nمذہب شیخ جدا مشرب رندانہ جدا\n\nخشک ہو جائے جو باقی ہے رگ جاں میں لہو\nدل سے ہونا نہ ابھی اے غم جانانہ نہ جدا\n\nبے خودی میں بھی رقابت کا مگر ہے احساس\nایک صحرا میں ہے دیوانے سے دیوانہ جدا\n\nصبر کی مجھ کو جدائی میں ہے تلقین فضول\nیہ تو جب ہو کہ رہے شمع سے پروانہ جدا\n\nدشت جاگیر ہے مجنوں کی تو کیا فکر نظرؔ\nکھود کر گھر کو بنا لیجئے ویرانہ جدا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%AF%D8%A7"} {"title": "سارے عالم میں تیری خوشبو ہے", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سارے عالم میں تیری خوشبو ہے\nاے میرے رشک گل کہاں تو ہے\n\nبرچھی تھی وہ نگاہ دیکھو تو\nلہو آنکھوں میں ہے کہ آنسو ہے\n\nایک دم میں ہزار دفتر طے\nچشم حسرت غضب سخن گو ہے\n\nتو ہی تو اور بال بال اپنا\nفاختہ اور شور کوکو ہے\n\nتجھ کو دیکھے پھر آپ میں رہ جائے\nدل پر اتنا کسی کو قابو ہے\n\nجوش اشک و تصور قد یار\nسرو گویا کھڑا لب جو ہے\n\nحد نہ پوچھو ہماری وحشت کی\nدل میں ہر داغ چشم آہو ہے\n\nجس نے مومن بنا لیا ہم کو\nوہ تمہارا ہی مصحف رو ہے\n\nجس کے کشتے ہیں زندۂ جاوید\nوہ تمہاری ہی تیغ ابرو ہے\n\nدل جو بے مدعا ہو کیا کہنا\nیہی ویرانہ عالم ہو ہے\n\nپل بھی ہے فخر جونپور آسیؔ\nخواب گاہ جناب شیخو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%B4%D8%A8%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "سارے عالم میں نور ہے تیرا", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "سارے عالم میں نور ہے تیرا\nہر جگہ پر ظہور ہے تیرا\n\nشرق سے غرب قاف سے تا قاف\nتذکرہ دور دور ہے تیرا\n\nدل عاشق کو کیوں جلاتا ہے\nیہ بھی کیا کوہ طور ہے تیرا\n\nمیں کہاں اور تیرا نام کہاں\nسب کرم کا وفور ہے تیرا\n\nشب فرقت کو کیوں دراز کیا\nکیا یہ روز نشور ہے تیرا\n\nاس ستم گر کا کیا کریں شکوہ\nاو رے دل سب قصور ہے تیرا\n\nرحم کر آسماں پہ اے باری\nبندۂ پر قصور ہے تیرا\n\nاس کو کہتے ہیں انجمؔ عاصی\nنام رب غفور ہے تیرا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "سارے عشاق سے ہم اچھے ہیں", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سارے عشاق سے ہم اچھے ہیں\nہاں ترے سر کی قسم اچھے ہیں\n\nالجھا ہی رہنے دو زلفوں کو صنم\nجو نہ کھل جائیں بھرم اچھے ہیں\n\nکوئی جنچتا نہیں اس بت کے سوا\nاور بھی یوں تو صنم اچھے ہیں\n\nحشر تک مجھ کو جلائے رکھا\nیہ حسینوں کے بھی دم اچھے ہیں\n\nبحث ہو جائے تو سب پر کھل جائے\nہیں بھلے آپ کہ ہم اچھے ہیں\n\nغیر کی کچھ نہیں شرکت اس میں\nہم کو یہ تیرے ستم اچھے ہیں\n\nجیتے ہیں آرزوئے قتل میں ہم\nدم ترے تیغ دو دم اچھے ہیں\n\nنہ ہوا کعبہ کا دیدار نصیب\nہم سے آہوئے حرم اچھے ہیں\n\nخوب ہے وقت جو کٹ جاتا ہے\nجو گزر جاتے ہیں دم اچھے ہیں\n\nپوچھتے کیا ہیں مزاج کیفیؔ\nآپ کا لطف و کرم اچھے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D8%A7%D9%82_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سارے کشتوں سے جدا ڈھنگ اضطراب دل کا ہے", "poet_page": "مصنف:انوری جہاں بیگم حجاب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سارے کشتوں سے جدا ڈھنگ اضطراب دل کا ہے\nکیوں نہ ہو بسمل بھی تو کس چلبلے قاتل کا ہے\n\nچھپ نہیں سکتا وہ خون اپنے دل بسمل کا ہے\nمٹ نہیں سکتا جو دھبہ دامن قاتل کا ہے\n\nامتحاں مد نظر کس منچلے بسمل کا ہے\nمعرکہ آرا جو یوں ہر ناز اس قاتل کا ہے\n\nبے اجازت اٹھ کے سینہ سے لگائے آپ کو\nحوصلہ اتنا بھی اک ارمان والے دل کا ہے\n\nآپ کو یاد آ گئیں ہیں کس کی بزم آرائیاں\nحضرت دل کہیے تو قصد آج کس محفل کا ہے\n\nاس طرف مچلا ہوا ہے وصل میں وہ چلبلا\nاس طرف جوش اضطراب آرزوئے دل کا ہے\n\nوصل کی شب خون کرنا آرزوئے وصل کا\nاو تمناؤں کے دشمن کام یہ قاتل کا ہے\n\nمعرکہ آرائیاں ہیں آج حسن و عشق کی\nسامنا اس جلوہ گہ میں دل ربا سے دل کا ہے\n\nاپنے آدھی رات کو آنے کا باعث کیوں بنے\nوہ کہیں قائل بھی جذب الفت کامل کا ہے\n\nموت آئی ہے مجھے او بحر خوبی وصل میں\nمیرا بیڑا ڈوبنے والا لب ساحل کا ہے\n\nسینہ سے سینہ ملا دینا تو کچھ مشکل نہیں\nیار مشکل تو ترے دل سے ملانا دل کا ہے\n\nشوخیٔ قاتل میں ہے بسمل کا رنگ اضطراب\nرنگ بسمل کی تڑپ میں شوخئ قاتل کا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%B4%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%DA%88%DA%BE%D9%86%DA%AF_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ساز دل تشنۂ مضراب تمنا نہ رہا", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساز دل تشنۂ مضراب تمنا نہ رہا\nدیدۂ شوق تماشا ہے تماشا نہ رہا\n\nدل رہا دل میں مگر جوش تمنا نہ رہا\nانجمن رہ گئی اور انجمن آرا نہ رہا\n\nہے وہی طور وہی برق وہی شان جمال\nہاں کوئی آگ سے اب کھیلنے والا نہ رہا\n\nدامن موج بھی ہاتھوں سے چھٹا جاتا ہے\nڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا نہ رہا\n\nآج وہ سر ترے قدموں پہ جھکا جاتا ہے\nجو حرم میں بھی کبھی ناصیہ فرسا نہ رہا\n\nیک بیک یوں نہ سر بزم اٹھانی تھی نقاب\nجلوے بیتاب ہیں اور دیکھنے والا نہ رہا\n\nرہ گئی آنکھ بھی کچھ اشک بہا کر خاموش\nیعنی دل قابل اظہار تمنا نہ رہا\n\nدل کہیں تھا کہیں نظریں تھیں خیالات کہیں\nمیں رہا بزم میں اس طرح کہ گویا نہ رہا\n\nمژدۂ وصل سنا کر بھی اسے دیکھ لیا\nترا دیوانہ ہر اک حال میں دیوانہ رہا\n\nیوں تو ہر ایک سے کہتے تھے فسانہ دل کا\nاس نے جب پوچھا تو پھر کہنے کا یارا نہ رہا\n\nپھر بھی کچھ دل کو تسلی سی تو ہوتی ہے منیرؔ\nگو کبھی منتظر وعدۂ فردا نہ رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D8%B4%D9%86%DB%82_%D9%85%D8%B6%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "ساز ہستی کی صدا عرش بریں تک پہنچے", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساز ہستی کی صدا عرش بریں تک پہنچے\nاے خوشا جنس امانت کہ امیں تک پہنچے\n\nہائے وہ شان تغافل کہ ہے مجھ سے مخصوص\nہائے وہ عرض تمنا کہ تمہیں تک پہنچے\n\nمنزلیں اور بھی تھیں منزل جاناں کے سوا\nہم بہ محرومیٔ تقدیر وہیں تک پہنچے\n\nہاتھ میں مشعل خورشید جلو میں تارے\nکس تکلف سے ہم اس ماہ جبیں تک پہنچے\n\nاے خدا وہم غلط کار کو دے اذن جنوں\nکہ خرد مرحلۂ ذوق یقیں تک پہنچے\n\nاپنی افتاد کی روداد یہ ہے اہل نظر\nسوئے افلاک رواں تھے کہ زمیں تک پہنچے\n\nہم خرابات نشینوں کا وہ عالی ہے مقام\nکہ جو کم ظرف رہے تخت و نگیں تک پہنچے\n\nپہلے فردوس کی محفل سے نکالے گئے ہم\nپھر تری محفل فردوس قریں تک پہنچے\n\nدولت دیں پہ بہت ناز ہے مجھ کو عابدؔ\nکاش یہ بات کسی دشمن دیں تک پہنچے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D8%AF%D8%A7_%D8%B9%D8%B1%D8%B4_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%92"} {"title": "ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں\nناز والے نیاز کیا جانیں\n\nشمع رو آپ گو ہوئے لیکن\nلطف سوز و گداز کیا جانیں\n\nکب کسی در کی جبہہ سائی کی\nشیخ صاحب نماز کیا جانیں\n\nجو رہ عشق میں قدم رکھیں\nوہ نشیب و فراز کیا جانیں\n\nپوچھئے مے کشوں سے لطف شراب\nیہ مزا پاکباز کیا جانیں\n\nبلے چتون تری غضب ری نگاہ\nکیا کریں گے یہ ناز کیا جانیں\n\nجن کو اپنی خبر نہیں اب تک\nوہ مرے دل کا راز کیا جانیں\n\nحضرت خضر جب شہید نہ ہوں\nلطف عمر دراز کیا جانیں\n\nجو گزرتے ہیں داغؔ پر صدمے\nآپ بندہ نواز کیا جانیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سازگار ہے ہم دم ان دنوں جہاں اپنا", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سازگار ہے ہم دم ان دنوں جہاں اپنا\nعشق شادماں اپنا شوق کامراں اپنا\n\nآہ بے اثر کس کی نالہ نارسا کس کا\nکام بارہا آیا جذبۂ نہاں اپنا\n\nکب کیا تھا اس دل پر حسن نے کرم اتنا\nمہرباں اور اس درجہ کب تھا آسماں اپنا\n\nالجھنوں سے گھبرائے مے کدے میں در آئے\nکس قدر تن آساں ہے ذوق رائیگاں اپنا\n\nکچھ نہ پوچھ اے ہم دم ان دنوں مرا عالم\nمطرب حسیں اپنا ساقی جواں اپنا\n\nعشق اور رسوائی کون سی نئی شے ہے\nعشق تو ازل سے تھا رسوائے جہاں اپنا\n\nتم مجازؔ دیوانے مصلحت سے بیگانے\nورنہ ہم بنا لیتے تم کو رازداں اپنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%B2%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%AF%D9%85_%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "سازیک ذرہ نہیں فیض چمن سے بے کار", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "سازیک ذرہ نہیں فیض چمن سے بے کار\nسایۂ لالۂ بے داغ سویداے بہار\nمستی باد صبا سے ہے بہ عرض سبزہ\nریزۂ شیشۂ مے جوہر تیغ کہسار\nسنگ یہ کار گہ ربط نزاکت ہے کہ ہے\nخندۂ بے خودی کبک بدندان شرار\nسبز ہے جام زمرد کی طرح داغ پلنگ\nتازہ ہے ریشۂ نارنج صفت روے شرار\nکشتۂ افعی زلف سیہ شیریں کو\nبے ستوں سبزے سے ہے سنگ زمرد کا مزار\nحسرت جلوۂ ساقی ہے کہ ہر پارۂ ابر\nسینہ بے تابی سے ملتا ہے بہ تیغ کہسار\nدشمن حسرت عاشق ہے رگ ابر سیاہ\nجس نے برباد کیا ریشۂ چندیں شب تار\nمستی ابر سے گلچین طرب ہے حسرت\nکہ اس آغوس میں ممکن ہے دو عالم کا فشار\nکوہ و صحرا ہمہ معموری شوق بلبل\nراہ خوابیدہ ہوی حندۂ گل سے بیدار\nچشم بر چشم چنے ہے بہ تماشا مجنوں\nہر دو سوخانۂ زنجیر نگہ کا بازار\nخانۂ تنگ ہجوم دو جہاں کیفیت\nجام جمشید ہے یاں قالب خشت دیوار\nسونپے ہے فیض ہوا صورت مژگان یتیم\nسرنوشت دو جہاں ابر بیک سطر غبار\nکف ہر خاک بگر دوں شدہ قمری پرواز\nدام ہر کاغذ آتش زدہ طاؤس شکار\nسنبل و دام کمیں خانۂ خواب صیاد\nنرگس و جام سیہ مستی چشم بیدار\nطرہ ہا بس کہ گرفتار صبا ہیں شانہ\nزانوے آئنہ پرمارے ہے دست بے کار\nبس کہ یک رنگ ہیں دل کرتی ہے ایجاد نسیم\nلالے کے داغ سے جوں نقطہ و خط سنبل زار\nاے خوشا فیض ہواے چمن نشو و نما\nبادہ پر زور و نفس مست و مسیحا بیمار\nکاٹ کر پھینکیے ناخن تو با انداز ہلال\nقوت نامیہ اس کو بھی نہ چھوڑے بیکار\nہمت و نشو و نما میں یہ بلندی ہے کہ سرد\nپر قمری سے کرے صیقل تیغ کہسار\nہر کف خاک جگر تشنۂ صد رنگ ظہور\nغنچے کے میکدے میں مست تامل ہے بہار\nکس قدر عرض کروں ساغر شبنم یارب\nموجۂ سبزۂ نوخیز ہے لبریز خمار\nغنچۂ لالہ سیہ مست جوانی ہے ہنوز\nشبنم صبح ہوئی رعشۂ اعضاے بہار\nجوش بیداد تپش سے ہوئی عریاں آخر\nشاخ گلبن پہ صبا چھوڑ کے پیراہن خار\nساز عریانی کیفیت دل ہے لیکن\nیہ مئے تند نہیں موج خرام اظہار\nموج مے پر ہے برات نگرانی امید\nگل نرگس سے کف جام پہ ہے چشم بہار\nگلشن و میکدہ سیلابی یک موج خیال\nنشہ و جلوۂ گل برسر ہم فتنہ غبار\nمیکدے میں ہو اگر آرزوے گل چینی\nبھول جا یک قدح بادہ بہ طاق گلزار\nموج گل ڈھونڈھ بہ خلوت کدۂ غنچۂ باغ\nگم کرے گوشۂ میخانہ میں گر تو دستار\nپشت لب تہمت خط کھینچے ہے بے جا یعنی\nسبز ہے موج تبسم بہ ہواے گفتار\nکھینچے گر مانی اندیشہ چمن کی تصویر\nسبز مثل خط نوخیز ہو خط پرکار\nجاے حیرت ہے کہ گلبازی اندیشۂ شوق\nاس زمیں میں نہ کرے سبز قلم کی رفتار\n\nطلع ثانی\nلعل سی کی ہے پئے زمزمہ مدحت شاہ\nطوطی سبزہ کہسار نے پیدا منقار\nکسوت تاک میں ہے نشۂ ایجاد ازل\nسبحہ عرض دو عالم بکف آبلہ دار\nبہ نظر گاہ گلستان خیال ساقی\nبیخودی دام رگ گل سے ہے پیمانہ شکار\nبہ ہواے چمن جلوہ ہے طاؤس پرست\nباندھے ہے پیر فلک موج شفق سے زنار\nیک چمن جلوۂ یوسف ہے بچشم یعقوب\nلالہ ہا داغ برافگندہ و گل ہا بے خار\nبیضۂ قمری کے آئینے میں پنہاں صیقل\nسرو بیدل سے عیاں عکس خیال قد یار\nعکس موج گل و سر شاری انداز حباب\nنگہ آئنہ کیفیت دل سے دوچار\nکس قدر ساز دوعالم کو ملی جرأت ناز\nکہ ہوا ساغر بے حوصلۂ دل سرشار\nورنہ وہ ناز ہے جس گلشن بیداد سے تھا\nطور مشعل بکف از جلوۂ تنزیہ بہار\nسایۂ تیغ کو دیکھ اس کے بہ ذوق یک زخم\nسینۂ سنگ پہ کھینچے ہے الف بال شرار\nبت کدہ بہر پرستش گری قبلۂ ناز\nباندھے زنار رگ سنگ میان کہسار\nسبحہ گرواں ہے اسی کی کف امید کا ابر\nبیم سے جس کے صبا توڑے ہے صد جا زنار\nرنگریز گل و جام دوجہاں ناز و نیاز\nاولیں دور امامت طرب ایجاد بہار\nجوش طوفان کرم ساقی کوثر ساغر\nنہ فلک آئنہ ایجاد کف گوہر بار\nپہنے ہے پیرہن کاغذ ابری نیساں\nیہ تنک مایہ ہے فریادی جوش ایثار\nوہ شہنشاہ کہ جس کی پئے تعمیر سرا\nچشم جبریل ہوئی قالب خشت دیوار\nفلک العرش ہجوم خم دوش مزدور\nرشتۂ فیض ازل ساز طناب معمار\nسبزہ نہ چمن ویک خط پشت لب بام\nرفعت ہمت صد عارف و یک اوج حصار\nواں کی خاشاک سے حاصل ہو جسے یک پرکاہ\nوہ رہے مروحۂ بال پری سے بے زار\nپر یہ دولت تھی نصیب نگہ معنی ناز\nکہ ہوا صورت آئینہ میں جوہر بیدار\nذرہ اس گرد کا خرشید کو آئینہ ناز\nگرد اس دشت کی امید کو احرام بہار\nخاک صحراے نجف جوہر سیر عرفا\nچشم نقش قدم آئینہ بخت بیدار\nاے خوشا مکتب شوق و بلدستان مراد\nسبق نازکی ہے عجز کو صد جا تکرار\nمشقی نقش قدم نسخۂ آب حیواں\nجادۂ دشت نجف عمر خضر کا طومار\nجلوۂ تمثال ہے ہر ذرہ نیرنگ سواد\nبزم آئینہ تصویر نما مشت غبار\nدو جہاں طالب دیدار تھا یارب کہ ہنوز\nچشمک ذرہ سے ہے گرم نگہ کا بازار\nہے نفس مایۂ شوق دو جہاں ریگ رواں\nپاے رفتار کم و حسرت جولاں بسیار\nآفرینش کو ہے واں سے طلب مستی ناز\nعرض خمیازہ ایجاد ہے ہر موج غبار\nدشت الفت چمن و آبلہ مہماں پرور\nدل جبریل کف پا پہ ملے ہے رخسار\nیاں تک انصاف نوازی کہ اگر ریزۂ سنگ\nبے خبر دے بکف پاے مسافر آزار\nیک بیاباں تپش بال شرر سے صحرا\nمغز کہسار میں کرتا ہے فرو نشتر خار\nفرش اس دشت تمنا میں نہ ہوتا گر عدل\nگرمی شعلۂ رفتار سے جلتے خس و خار\nابر نیساں سے ملے موج گہر کا تاواں\nخلوت آبلہ میں گم کرے گر تو رفتار\nیک جہاں بسمل انداز پر افشانی ہے\nدام سے اس کے قضا کو ہے رہائی دشوار\nموج طوفان غضب چشمہ نہ چرخ حباب\nذوالفقار شہ مرداں خط قدرت آثار\nموج ابروے قضا جس کے تصور سے دو نیم\nبیم سے جس کے دل شحنۂ تقدیر فگار\nشعلہ تحریر سے اس برق کی ہے کلک قضا\nبال جبریل سے مسطر کش سطر زنہار\nموج طوفاں ہو اگر خون دو عالم ہستی\nہے حنا کو سر ناخن سے گزرنا دشوار\nدشت تسخیر ہو گر گرد خرام دلدل\nنعل در آتش ہر ذرہ ہے تیغ کہسار\nبال رعنائی دم موجۂ گلبند قبا\nگردش کاسۂ سم چشم پری آئنہ دار\nگرد رہ اس کی بھریں شیشۂ ساعت میں اگر\nہر نفس راہ میں ٹوٹے نفس لیل و نہار\nنرم رفتار ہو جس کوہ پہ وہ برق گداز\nرفتن رنگ حنا ہے تپش بال شرار\nہے سراسر روی عالم ایجاد اسے\nجیب خلوت کدۂ غنچہ میں جولان بہار\nجس کے حیرت کدۂ نقش قدم میں مانی\nخون صد برق سے باندھے بکف دست نگار\nذوق تسلیم تمنا سے بہ گلزار حضور\nعرض تسخیر تماشا سے بہ دام اظہار\nمطلع تازہ ہوا موجۂ کیفیت دل\nجام سرشار مے و غنچۂ لبریز بہار\n\nمطلع ثالث\nفیض سے تیرے ہے اے شمع شبستان بہار\nدل پروانہ چراغاں پر بلبل گلزار\nشکل طاؤس کرے آئنہ خانہ پرواز\nذوق میں جلوے کے تیرے بہ ہواے دیدار\nگرد جولاں سے ہے تیری بگریبان خرام\nجلوۂ طور نمک سودۂ زخم تکرار\nجس چمن میں ہو ترا جلوۂ محروم نواز\nپر طاؤس کرے گرم نگہ کا بازار\nجس ادب گاہ میں تو آئنہ شوخی ہو\nجلوہ ہے ساقی مخموری تاب دیوار\nتو وہ ساقی ہے کہ ہر موج محیط تنزیہہ\nکھینچے خمیازے میں تیرے لب ساغر کا خمار\nگرد باد آئنہ فتراک دماغ دل ہا\nتیرا صحراے طلب محفل پیمانہ شکار\nذوق بے تابی دیدار سے تیرے ہے ہنوز\nجوش جوہر سے دل آئنہ گلدستۂ خار\nتیری اولاد کے غم سے ہے بروے گردوں\nسلک اختر میں مہ نو مژۂ گوہر بار\nمدح میں تیری نہاں زمزمۂ نعت نبی\nجام تیرے عیاں بادۂ جوش اسرار\nہم عبادت کو ترا نقش قدم مہر نماز\nہم ریاضت کو ترے حوصلے سے استظہار\nتیرا پیمانۂ مے نسخہ ادوار ظہور\nتیرا نقش قدم آئینہ شان اظہار\nآیت رحمت حق بسملۂ مصحف ناز\nمسطر موجۂ دیباچۂ درس اسرار\nقبلۂ نور نظر کعبۂ اعجاز مسیح\nمژۂ دیدۂ نخچیر سے نبض بیمار\nتہمت بے خودی کفر نہ کھینچے یارب\nکمی ربط نیاز و خط ناز بسیار\nناز پروردۂ صد رنگ تمنا ہوں ولے\nپرورش پائی ہے جوں غنچہ بہ خون اظہار\nتنگی حوصلہ گرداب دو عالم آداب\nدید یک غنچہ سے ہوں بسمل نقصان بہار\nرشک نظارہ تھی یک برق تجلی کہ ہنوز\nتشنۂ خون دو عالم ہوں بہ عرض تکرار\nوحشت فرصت یک جیب کشش نے کھویا\nصورت رنگ حنا ہاتھ سے دامان بہار\nشعلہ آغاز ولے حیرت داغ انجام\nموج مے لیک زسر تا قدم آغوش خمار\nہے اسیر ستم کشمکش دام وفا\nدل وارستۂ ہفتا دو دو ملت بیزار\nمژۂ خواب سے کرتا ہوں بآسایش درد\nبخیۂ زخم دل چاک بہ یک دستہ شرار\nمحرم درد گرفتاری مستی معلوم\nہوں نفس سے صفت نغمہ بہ بند رگ تار\nتھا سر سلسلہ جنبانی صد عمر ابد\nسازہا مفت بہ ریشم کدۂ نالۂ زار\nلیکن اس رشتۂ تحریر میں سر تا سر فکر\nہوں بہ قدر عدد حرف علی سبحہ شمار\nجوہر دست دعا آئنہ یعنی تاثیر\nیک طرف نازش مژگان و دگر سو غم خار\nمردمک سے ہو عزا خانۂ اقبال نگاہ\nخاک در کی ترے جو چشم نہ ہو آئنہ دار\nدشمن آل نبی کو بطرب خانۂ دہر\nعرض خمیازۂ سیلاب ہو طاق دیوار\nدوست اس سلسلۂ ناز کے جوں سنبل و گل\nابر میخانہ کریں ساغر خرشید شکار\nلنگر عیش پہ سرشار تماشاے دوام\nکہ رہے خون خزاں سے بہ حنا پاے بہار\nزلف معشوق کشش سلسلۂ وحشت ناز\nدل عاشق شکن آموز خم طرۂ یار\nمئے تمثال پری نشۂ مینا آزاد\nدل آئینہ طرب ساغر بخت بیدار\nدید تا دل اسدؔ آئینۂ یک پر تو شوق\nفیض معنی سے خط ساغر راقم سرشار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%B2%DB%8C%DA%A9_%D8%B0%D8%B1%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%81%DB%8C%D8%B6_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%B1"} {"title": "ساس اور بہو", "poet_page": "مصنف:رشید جہاں", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "لو آج صبح ہی سے انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔\n\n’’اے بہن! کیا پوچھتی ہو کہ تمہاری ساس کیوں خفا ہو رہی ہیں۔ ان کی عادت ہی یہ ہے۔ ہر آئے گئے سب کے سامنے میرا رونا لے کر بیٹھ جاتی ہیں۔ ساری دنیا کے عیب مجھ میں ہیں۔ صورت میری بری، پھوہڑ میں، بچوں کو رکھنا میں نہیں جانتی، اپنے بچوں سے مجھے دشمنی، میاں کی میں بیری، غرضیکہ کوئی برائی نہیں جو مجھ میں نہیں اور کوئی خوبی نہیں جو ان میں نہیں۔ اگر میں کھانا پکاؤں تو زبان پر رکھ کر فوراً تھوک دیں گی۔ اور وہ نام رکھیں گی کہ خدا کی پناہ کہ دوسرا بھی نہ کھا سکے۔ شروع شروع میں تومجھے کھانا پکانے میں کافی دلچسپی تھی۔ تم جانتی ہو کہ اپنے گھر پر بھی اکثر پکا لیتی تھی اور میری اماں کو اتنا اچھا کھانا پکانا آتا ہے کہ اپنے رشتہ داروں میں ہر جگہ مشہور ہیں۔ یہاں تو جو پکایا اس میں برائی نکلی کہ نمک تو دیکھو زہر، مزا ایسا کہ مٹی کھا لو۔ ایک دن خود ہی بڑے پکائے اتنے برے تھے کہ ہمارے سسر نے کہا کہ ایسے واہیات بڑے کس نے بنائے ہیں۔ خوب بڑبڑائیں کہ تم کو تو بس بہو کے ہاتھ کی چیزیں اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ ساری عمر یہی تو پکا پکا کر کھلاتی رہی ہے۔ اب میں کیا بولتی۔ خوب ہنسے کہ تمہارا صبر پڑا۔ میں نے سوچا کہ کام کرو اور باتیں بھی سنو تو اس سے بہتر نہ ہی کرو۔ کھانے پکانے ہی پر کیا ہے۔\n\nسینے پرونے میں جو کبھی کبھار ایک آدھ چیز درزی سے سلوا لوں تو بس پھر سنو۔ مہینوں ہر آئے گئے کے سامنے ہوتا ہے کہ ہماری بہوصاحب تو میم صاحب ہیں وہ تو درزی سے سلواتی ہیں۔ ہر چیز اپنی، بچوں کی، ان کے کرتے، پاجامے خود ہی سی لیتی ہوں لیکن کبھی کبھار کسی نئی قسم کے بلاؤز یا کوٹ کو دل چاہنے لگے تو درزی کو دے دیتی ہوں۔ چھپا کر دیتی ہوں پھر بھی ان کے اتنے مخبر میرے پیچھے لگے رہتے ہیں کہ ہربات کی خبر کر ہی دیتے ہیں۔ جب میں نئی نئی آئی تھی تو ان کا ایک چکن کا کرتہ میں نے سی دیا تھا۔ ہر ایک کو دکھایا گیا اور برائی کی گئی جو دیکھے چپ ہو جائے۔ اچھے خاصے کرتے کی کوئی کیسے برائی کر دے۔ جب کسی نے برائی نہ کی تو اس کو سارا ادھیڑ ڈالا اور پھر کسی اور سے سلویا۔ دل تو میرا بھی چاہا کہ اب سب کو دکھاؤں لیکن میں یہ کسے کر سکتی تھی۔ وہ بڑا ہونے اور ساس بننے کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ہر وقت پڑھا لکھا ہونے کا طعنہ ہے۔ کوئی کتاب میرے ہاتھ میں دیکھیں جو جل جاتی ہیں۔ کسی کو خط لکھتا دیکھ لیں تو سمجھتی ہیں کہ انہیں کی برائی لکھ رہی ہوں۔ کوئی بات ہی ان کو میری پسند نہیں اور سب سے بری بات جو لگتی ہے کہ ہم دونوں میاں بیوی کبھی خوش نہ رہیں ۔ کبھی اگر یہ کچھ میرے لئے لے آئیں اور خبر ہو جائے تو جل بھن کر رہ جاتی ہیں اورا ٹھتے بیٹھنے ان کو طعنہ ہے کہ تم تو بیوی کے غلام ہو۔ہر وقت میری برائی ان کے سامنے کرتی ہیں، وہ سنکر ٹال جاتے ہیں۔ کبھی ماں سے بگڑ بھی جاتے ہیں اور کبھی ہنس کر کہہ بھی دیتے ہیں کہ ’’ ہاں بہت بری ہے، اماں میری دوسری کر دو۔‘‘ اس وقت تو ان کو باتیں سناتی ہیں کہ ’’جو تمہارے میں یہ ہمت ہوتی تو یہ سر ہی کیوں چڑھتی؟‘‘ اور دوسروں کے سامنے کہتی پھرتی ہیں کہ میرا لڑکا تو اپنی قسمت کو روتا ہے۔ مجھ سے کہتا ہے کہ میری دوسری کردو۔ وہ تو میں ہی ہوں کہ اپنے بچے پر ان بیوی کے لئے ظلم کر رہی ہوں، کوئی دوسری والی ہوتی تو کبھی کا کر دیتی۔ نہ اس کروٹ چین ہے نہ اس کروٹ۔ بچوں کے اوپر لو۔ بالکل ناس ہو گیا ہے جس بات کو میں ہاں کہوں گی یہ نا۔ جس بات کو منع کروں گی یہ ضرور کر کے دیں گے۔ اب باہر کوئی سودے والا پکارے بچے تو ضرور مانگیں گے۔ مجھے یہ سودے والوں سے مکھیوں کا بھنکتا سودا بچوں کو لے کر دینا پسند نہیں۔ میری ضد میں ضرور لے کر دیں گی۔ پچھلے سال برسات میں بڑے لڑکے کو ملائی کی برف کھا کر وہ زور کا بخار چڑھا۔ دو مہینے لئے بیٹھی رہی۔ اس میں بھی لڑائی کہ بچے کو بھوکا مارے دے رہی ہے۔ انجکشن لگوا لگوا کر چھید کر دیئے۔ روز نئے نئے تعویذ آتے تھے اور ساتھ میں مولوی صاحب جھاڑ پھونک کے واسطے لائے جاتے تھے۔ جب کسی طرح نہیں مانیں تو میں بیمار بچے کو اٹھا کر ہوسپٹل لے گئی کہ کچھ تو آرام ملے۔ وہ تو کہو بے چاری ڈاکٹرنی میری دوست ہے ورنہ کون کسی کی بات سنتا ہے۔ یہ وہاں بھی جا کر چار باتیں ڈاکٹروں، نرسوں کواور دس مجھ کو سنا آتی ہیں۔\n\nبچوں کو وقت پر دودھ دینے کی ہماری ساس ایسی دشمن ہیں کہ کیا بتاؤں۔ وہ کہتی ہیں کہ ماں ہو کر بچوں کی دشمن ہوں، بچے پھڑکتے ہیں اور میں بیٹھی دیکھتی رہتی ہوں اور میرا دل پتھر کا ہے، میں بچوں کو پیدا ہوتے ہی کسی پھل کا عرق یعنی نارنگی یا سیب کا دیتی ہوں جب پہلے بچے کو میں نے دیا تو کھڑی اور بیٹھی پیٹتی تھیں کہ میں ہرگز نہیں دینے دوں گی۔ یہ تو بچے کو نمونیا کر کے مارنا چاہتی ہے۔ ہمارے سسر بے چارے بڑے نیک ہیں، انہوں نے سمجھایا، جب یہ کسی طرح نہیں مانیں تو مجھے میرے میکے چھوڑ آئے۔ چھ مہینے وہاں رہی پھر یہ جا کر لے آئے۔ مہینوں بات نہیں کی۔ رات کو کہتی تھیں کہ بچے کو اپنے پاس سلاؤ۔ میں الگ سلاتی ہوں تو ظلم کرتی ہوں۔ میرے تو تین بچے ہیں۔ سب پہلے دن سے الگ سوتے ہیں کہ کوئی بھوت پلیٹ چمٹ جائے گا۔ بچے کو اٹھا کر اپنے پاس سلاتی تھیں۔ اور تو اور رات کو دیکھو تو دودھ کٹوری سے بتی ڈال کر پلا رہی ہیں۔ جو میں منع کروں تو اٹھواروں کی ٹھن جاتی ہے۔ ہر بچے پر اسی طرح دق کرتی ہیں۔\n\nمجھ کو گندہ، پھوہڑ نہ معلوم کیا کیا کہتی ہیں۔ ذرا ان کی طرف جا کر دیکھو، ہر طرف پیک پڑی ہوئی، مکھیاں بھنکتی ہوئی، اس کا نام صفائی ہے۔ اگالدان پاس رکھا ہے لیکن صحن میں جب تھوکیں گی تو زمین پر۔ پاس بیٹھتے ہوئے گھن آتی ہے لیکن میں جو ہر چیز جگہ پر رکھتی ہوں، چلمن مکھیوں کی وجہ سے ڈالتی ہوں تو گندی ہوں۔\nاب سال بھر سے یہ خفگی کہ چولہا الگ کر لیا۔ اب کوئی کسی وقت بھی دونوں باورچی خانے جا کر دیکھ لے۔ میرے ہاں کبھی نہ ترکاری پھیلی ملے گی نہ برتن۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میرے ہاں ایک بھی مکھی نہ ملے گی، ان کے ہاں ہر وقت مکھیوں کی بارات لگی ہے۔ کہتی ہیں کہ میں ہر جگہ میں فنائل ڈال ڈال کر نحوست پھیلاتی ہوں۔ ان کے خیال میں تو سلیقہ کے یہ معنی ہیں کہ نوکروں کو خوب تنگ کرو۔ پیٹ بھر کر کھانے کو نہ دو۔ ہر ایک روٹی اور چاول اور دال کو بیٹھے بیٹھے گنا کرو۔ نوکر بھی تو آدمی ہوتے ہیں۔ دو روز میں گھبرا کر بھاگ جاتے ہیں۔ میں نوکروں کے کپڑے بناتی ہوں، زبردستی نہلوا کر بدلواتی ہوں تو کہتی ہیں کہ میاں کے روپے کادرد نہیں۔ نوکروں کو بادشاہ بنا رکھا ہے اور ایک الزام یہ بھی ہے کہ ان کے نوکر میرے نوکروں کو دیکھ کر خراب ہوئے جاتے ہیں۔ میں گھر کے سب آدمیوں کو بگاڑ دیتی ہوں۔\n\nاور تو اور گھر میں کوئی آ جائے تو خفا ہوتی ہیں کہ سامنے کیوں ہوتی ہو۔ پردہ کیوں نہیں کرتیں۔اب ان کے کئی دوست ہیں، جن سے بے تکلفی ہے، بھابی بھابی کرتے ہوئے آ جاتے ہیں۔ ایک آدھ دفعہ ایسا بھی ہوا کہ یہ گھر پر نہ ہوئے، بس قیامت اٹھاتی کہ میم بن گئی ہے۔ مردوں سے ملتی ہے۔ بے شرم ہے نہ معلوم کیا کیا کہا۔ جو میں نے کہا کہ آپ کی لڑکی بھی تو بے پردہ نکلتی ہے۔ اس کا میاں تو زبردستی نکالتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ تو اتنی نیک ہیں کہ ان کا نکلنے کو دل نہیں چاہتا اور میاں کے ظلم سے باہر نکلتی ہیں۔ میں اتنی خراب ہوں کہ میاں کی مرضی کے خلاف نکلتی ہوں۔ ہر ایک کے سامنے یہی کہتی ہیں کہ اپنی شرم کو غصہ کا گھونٹ پی کر چپ ہو جاتا ہے۔ ہماری نند تو کسی مدرسہ میں بھی نہیں پڑھیں شادی کے بعد میاں نے پڑھوایا، لکھوایا۔ ہر جگہ آتی جاتی ہیں اور ہماری ساس کو بھی اچھی طرح معلوم ہے لیکن چھپا جاتی ہیں۔ پچھلی دفعہ جب آئیں تو میں انے اماں کے سامنے پوچھا کہ سچ بتاؤ کیا زبردستی کی جاتی ہے جب باہر نکلتی ہو یا اپنی مرضی سے۔ وہ بولیں کیوں کیا بات ہے۔ میں تو اپنی مرضی سے نکلتی ہوں اب مجھے کوئی پردے میں رکھنا بھی چاہے تو نہ رہوں۔ تو ہماری ساس سن کر کیا کہتی ہیں کہ میرے لڑکے کو تو مجھ سے چھڑا لیا ہے اس کے دل میں میری نفرت بٹھا دی اب میرے دوسرے بچوں پر بھی صاف کر رہی ہے میرے ہر بچے کے سامنے میری برائی کیا کرو۔ الٹ بھی ان کا پلٹ بھی ان کا ۔ وہی کام میں کروں تو برا ہو جاتا ہے اور ان کی لڑکی کریں تو اچھا ہو جاتا ہے۔\n\nان کو کبھی میرے سے ہنس کر بات کرتے تو دیکھ ہی نہیں سکتیں۔ انہیں سب سے زیادہ رنج اس بات کا ہے کہ یہ مجھ سے کیوں محبت کرتے ہیں۔ میں کمرے میں آئی اور جو یہ مجھ سے خوش ہو کر بول لئے تو غضب ہو جاتا ہے اور تو اور ہر وقت میری صورت کی برائی ان کے سامنے ہوتی ہے۔ ان کو بھی شرات سوجھتی ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ اماں اور تو سب عیب ہیں لیکن شکل تو بہت اچھی ہے۔ کہنے لگتی ہیں، شرم نہیں آتی جورو کی تعریف میرے سامنے کرتا ہے ان کو تو ہنسی آتی رہتی ہے میرا دل جل جاتا ہے۔ میں تو چپکے سے اٹھ کر چلی آتی ہوں۔ ہر وقت میرا اپنا مقابلہ بیٹے کے سامنے کرتی رہتی ہیں۔ بھلا کہاں ماں کہاں بیوی۔ان کا تو اس دن کلیجہ ٹھنڈا ہو جس دن یہ مجھے یا تو ماریں یا گھر سے نکال دیں۔ یا دوسری شادی کر لیں اور بھی جو میری دیورانیاں، جٹھانیاں ہیں وہ الگ الگ شہروں میں ہیں، جب وہ آجاتی ہیں تو تھوڑے دن تو ان کی خاطر ہوتی ہے، پھر ان میں بھی عیب نکلنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اور پھر یہ ہوتا ہے کہ میں نے سب کو بلا کر ان کے خلاف ’’مس کوٹ‘‘ بنائی ہے۔ بری تو سب ہی بہوئیں ہیں لیکن سب سے بری میں ہوں اور بد قسمتی سے تھوڑی پڑھی لکھی ہوں تو میم صاحب کا خطاب مل گیا ہے۔ میں تو جب یہ اپنی بڑبڑاہٹ شروع کرتی ہیں تو ادھر جا کر کواڑ بند کر کے کچھ کام کرنے لگتی ہوں کہ نہ سنوں گی نہ برا لگے گا۔ اب صبح سے اس بات پر بڑبڑا رہی ہیں کہ بچوں کے میں نے کل ٹائیفائڈ کے ٹیکے لگوا دیئے۔ ان کو تھوڑا تھوڑا بخار ہے۔ بڑا لڑکا بہت لاڈلا ہے اور جا کر پاس لیٹ گیا۔ اس کے سرپر ہاتھ رکھ کر جو باتیں سنائی شروع کی ہیں، اب دو گھنٹے تو ہو گئے ابھی دیکھو کب تک یہ سلسلہ چلتا ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D9%88"} {"title": "ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیا", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیا\nپھر زندگی کے جزر کو مد ہم نے کر دیا\n\nوقت اپنا زر خرید تھا ہنگام مے کشی\nلمحے کو طول دے کے ابد ہم نے کر دیا\n\nدل پند واعظاں سے ہوا ہے اثر پذیر\nاس کو خراب صحبت بد ہم نے کر دیا\n\nتسبیح سے سبو کو بدل کر خدا کو آج\nبالاتر از شمار و عدد ہم نے کر دیا\n\nبادہ تھا یا عروس فراست تھی جام میں\nجو کہہ دیا بہک کے سند ہم نے کر دیا\n\nمصرعوں میں گیسوؤں کی فصاحت کا بھر کے رنگ\nاپنی ہر اک غزل کو سند ہم نے کر دیا\n\nتشبیہ دے کے قامت جاناں کو سرو سے\nاونچا ہر ایک سرو کا قد ہم نے کر دیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B2%DB%81%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D8%AF_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ساقی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "نشہ پِلا کے گِرانا تو سب کو آتا ہے\nمزا تو جب ہے کہ گِرتوں کو تھام لے ساقی\n\nجو بادہ کش تھے پُرانے، وہ اُٹھتے جاتے ہیں\nکہیں سے آبِ بقائے دوام لے ساقی!\n\nکٹی ہے رات تو ہنگامہ گُستری میں تری\nسحَر قریب ہے، اللہ کا نام لے ساقی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "ساقی (مجاز لکھنوی)", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مری مستی میں بھی اب ہوش ہی کا طور ہے ساقی\nترے ساغر میں یہ صہبا نہیں کچھ اور ہے ساقی\n\nبھڑکتی جا رہی ہے دم بدم اک آگ سی دل میں\nیہ کیسے جام ہیں ساقی یہ کیسا دور ہے ساقی\n\nوہ شے دے جس سے نیند آ جائے عقل فتنہ پرور کو\nکہ دل آزردۂ تمییز لطف‌‌ و جور ہے ساقی\n\nکہیں اک رند اور واماندۂ افکار تنہائی\nکہیں محفل کی محفل طور سے بے طور ہے ساقی\n\nجوانی اور یوں گھر جائے طوفان حوادث میں\nخدا رکھے ابھی تو بے خودی کا دور ہے ساقی\n\nچھلکتی ہے جو تیرے جام سے اس مے کا کیا کہنا\nترے شاداب ہونٹوں کی مگر کچھ اور ہے ساقی\n\nمجھے پینے دے پینے دے کہ تیرے جام لعلیں میں\nابھی کچھ اور ہے کچھ اور ہے کچھ اور ہے ساقی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%28%D9%85%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D9%88%DB%8C%29"} {"title": "ساقی ترے بغیر ہے محفل سے دل اچاٹ", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقی ترے بغیر ہے محفل سے دل اچاٹ\nسو جیسے جی اداس ہے سو دل سے دل اچاٹ\n\nسوئے عدم پھرے چلے جاتے ہیں قافلے\nسب ہم سفر ہیں زیست ہے منزل سے دل اچاٹ\n\nجس روز سے کہ شوق اسیری ہوا مجھے\nصیاد ہے شکار عنادل سے دل اچاٹ\n\nٹھکرائے بھی نہ آ کے لحد فاتحہ کجا\nمر کر ہوا ہوں اس بت قاتل سے دل اچاٹ\n\nجز مرگ کچھ نہیں ہے تپ ہجر کا علاج\nہم نقش چاٹ کر ہوئے عامل سے دل اچاٹ\n\nکانٹوں پہ مثل قیس کہاں تک رواں دواں\nلیلاے‌ٔ جاں ہے جسم کی محمل سے دل اچاٹ\n\nدوزخ مجھے بہشت کے بدلے قبول ہے\nایسا ہوں ایک حور شمائل سے دل اچاٹ\n\nجھنکار سے میں چار قدم آگے جاؤں گا\nزندان میں ہوا جو سلاسل سے دل اچاٹ\n\nمجنوں کی چال لیلیٰ اگر دو قدم چلے\nتابوت دل پسند ہو محمل سے دل اچاٹ\n\nقاتل ہمارے دل کو تڑپتا نہ چھوڑ جا\nاک دم کے واسطے نہ ہو بسمل سے دل اچاٹ\n\nاے بحرؔ یار ساتھ نہیں جائیے کہاں\nگلشن سے جی اداس ہے محفل سے دل اچاٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%DA%86%D8%A7%D9%B9"} {"title": "ساقی جو دیئے جائے یہ کہہ کر کہ پئے جا", "poet_page": "مصنف:رسا رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقی جو دئے جائے یہ کہہ کر کہ پئے جا\nتو میں بھی پئے جاؤں یہ کہہ کر کہ دیئے جا\n\nجانے کی جو ضد ہے تو مجھے زہر دئے جا\nاتنا تو کہا مان لے اتنا تو کئے جا\n\nکچھ اور نہ کر مجھ پہ جفائیں تو کئے جا\nکچھ اور نہ لے میری دعائیں تو لئے جا\n\nکیا لذت تعزیر نے مجبور کیا ہے\nآتا ہے یہی جی میں کہ تقصیر کئے جا\n\nکم بخت رساؔ تیری رسائی نہیں ان تک\nتو خوب سا اسلام کو بدنام کئے جا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "ساقی خم خانہ تھا جو صبح و شام", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقی خم خانہ تھا جو صبح و شام\nروز آدینہ تھا مسجد میں امام\n\nجس نے چشم مست ساقی دیکھ لی\nتا قیامت اس پہ ہشیاری حرام\n\nاس لب جاں بخش کی باتیں تھیں یا\nمعجزات عیسی گردوں مقام\n\nہو گیا اس کو قیامت کا یقیں\nجس نے دیکھا سرو قامت کا خرام\n\nچشمۂ آب بقا کی لہر تھی\nوہ عبارت وہ اشارت لا کلام\n\nمرحبا عطر گریباں کی شمیم\nہے معطر جس سے روحانی مشام\n\nتھی زباں یا قاطع اوہام یا\nذوالفقار حیدری تھی بے نیام\n\nجس نے دیکھا نرگس شہلا کا خواب\nاس نے پایا رمز قلبی لا ینام\n\nقال اتممت علیکم نعمتی\nہو گئیں سب خوبیاں اس پر تمام\n\nجس نے چاٹی عتبۂ علیا کی خاک\nتلخیٔ دوراں سے ہو کیوں تلخ کام\n\nاے صبا صحرائے جاں میں کر تلاش\nکس طرف ہیں وہ سُرادق وہ خیام\n\nخلوت لیلیٰ میں تو گزرے اگر\nتو یہ کہہ دینا ہمارا بھی پیام\n\nتشنگان‌ شوق ہیں گم کردہ راہ\nتو بھی چل بہر خدا دو چار گام\n\nبحر میں برپا ہوا جوش و خروش\nحبذا رشحات کاسات الکرام\n\nسونپ دی تھی دست قدرت نے تجھے\nناقۂ لیلائے‌ معنی کی زمام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%AE%D9%85_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D9%85"} {"title": "ساقی سے جو ہم نے مے کا اک جام لیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ساقی سے جو ہم نے مے کا اک جام لیا\nپیتے ہی نشے کا یہ سرانجام لیا\nمعلوم نہیں جھک گئے یا بیٹھے رہے\nیا گر پڑے یا کسی نے پھر تھام لیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ساقی شراب ہے تو غنیمت ہے اب کی اب", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقی شراب ہے تو غنیمت ہے اب کی اب\nپھر بزم ہوگی جب تو سمجھ لیجو جب کی جب\n\nساغر کے لب سے پوچھیے اس لب کی لذتیں\nکس واسطے کہ خوب سمجھتا ہے لب کی لب\n\nکم فرصتی سے عمر کی اپنی ہزار حیف\nجتنی تھیں خواہشیں وہ رہیں دل میں سب کی سب\n\nسن کر وہ کل کی آج نہ ہو کس طرح خفا\nاے نا شناس طبع کہی تو نے کب کی کب\n\nپھولا ہوا بدن میں سماتا نہیں نظیرؔ\nوہ گل بدن جو پاس رہا اس کے شب کی شب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%BA%D9%86%DB%8C%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%A8"} {"title": "ساقی ظہور صبح و ترشح ہے نور کا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقی ظہور صبح و ترشح ہے نور کا\nدے مے یہی تو وقت ہے نور و ظہور کا\n\nکوچہ میں اس کے جس کو جگہ مل گئی وہ پھر\nمائل ہوا نہ صحن چمن کے سرور کا\n\nیہ گل جو ہم نے ہاتھ پہ کھائے ہیں روبرو\nہم کو یہی ملا ہے تبرک حضور کا\n\nسیماب جس کو کہتے ہیں سیماب یہ نہیں\nدل آب ہو گیا ہے کسی ناصبور کا\n\nمے پی کے عاشقی کے خرابات میں نظیرؔ\nنے ڈر ہے محتسب کا نہ صدر الصدور کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%88_%D8%AA%D8%B1%D8%B4%D8%AD_%DB%81%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ساقی قدح شراب دے دے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقی قدح شراب دے دے\nمہتاب میں آفتاب دے دے\n\nساقی باقی جو کچھ ہے لے لے\nباقی ساقی شراب دے دے\n\nلیلیٰ میں نے تجھے بنایا\nمجنوں مجھ کو خطاب دے دے\n\nپیاسا جاتا ہے نشتر یار\nاو رگ کچھ خون ناب دے دے\n\nاس بت سے نسیم زر نہ تو مانگ\nجو چاہے وہ بے حساب دے دے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%82%D8%AF%D8%AD_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%DB%92_%D8%AF%DB%92"} {"title": "ساقی مجھے خمار ستائے ہے لا شراب", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقی مجھے خمار ستائے ہے لا شراب\nمرتا ہوں تشنگی سے اے ظالم پلا شراب\n\nمدت سے آرزو ہے خدا وہ گھڑی کرے\nہم تم پئیں جو مل کے کہیں ایک جا شراب\n\nمشرب میں تو درست خراباتیوں کے ہے\nمذہب میں زاہدوں کے نہیں گر روا شراب\n\nساقی کے تئیں بلاؤ اٹھا دو طبیب کو\nمستوں کے ہے مرض کی جہاں میں دوا شراب\n\nبے روئے یار او مطرب و ابرو بہار و باغ\nحاتمؔ کے تئیں کبھی نہ پلائے خدا شراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AE%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%84%D8%A7_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "ساقی نامہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ہُوا خیمہ زن کاروانِ بہار\nاِرم بن گیا دامنِ کوہسار\nگُل و نرگس و سَوسن و نسترن\nشہیدِ ازل لالہ خونیں کفن\nجہاں چھُپ گیا پردۂ رنگ میں\nلہُو کی ہے گردش رگِ سنگ میں\nفضا نِیلی نِیلی، ہوا میں سُرور\nٹھہَرتے نہیں آشیاں میں طیُور\nوہ جُوئے کُہستاں اُچکتی ہوئی\nاَٹکتی، لچکتی، سرکتی ہوئی\nاُچھلتی، پھِسلتی، سنبھلتی ہوئی\nبڑے پیچ کھا کر نِکلتی ہوئی\nرُکے جب تو سِل چِیر دیتی ہے یہ\nپہاڑوں کے دل چِیر دیتی ہے یہ\nذرا دیکھ اے ساقی لالہ فام!\nسُناتی ہے یہ زندگی کا پیام\nپِلا دے مجھے وہ میء پردہ سوز\nکہ آتی نہیں فصلِ گُل روز روز\nوہ مے جس سے روشن ضمیرِ حیات\nوہ مے جس سے ہے مستیِ کائنات\nوہ مے جس میں ہے سوزوسازِ ازل\nوہ مے جس سے کھُلتا ہے رازِ ازل\nاُٹھا ساقیا پردہ اس راز سے\nلڑا دے ممولے کو شہباز سے\n\nزمانے کے انداز بدلے گئے\nنیا راگ ہے، ساز بدلے گئے\nہُوا اس طرح فاش رازِ فرنگ\nکہ حیرت میں ہے شیشہ بازِ فرنگ\nپُرانی سیاست گری خوار ہے\nزمیں مِیر و سُلطاں سے بیزار ہے\nگیا دَورِ سرمایہ داری گیا\nتماشا دِکھا کر مداری گیا\nگراں خواب چِینی سنبھلنے لگے\nہمالہ کے چشمے اُبلنے لگے\nدلِ طُورِ سینا و فاراں دو نِیم\nتجلّی کا پھر منتظر ہے کلیم\nمسلماں ہے توحید میں گرم جوش\nمگر دل ابھی تک ہے زُنّار پوش\nتمدّن، تصوّف، شریعت، کلام\nبُتانِ عَجم کے پُجاری تمام!\nحقیقت خرافات میں کھو گئی\nیہ اُمّت روایات میں کھو گئی\nلُبھاتا ہے دل کو کلامِ خطیب\nمگر لذّتِ شوق سے بے نصیب!\nبیاں اس کا منطق سے سُلجھا ہُوا\nلُغَت کے بکھیڑوں میں اُلجھا ہُوا\nوہ صُوفی کہ تھا خدمتِ حق میں مرد\nمحبّت میں یکتا، حِمیّت میں فرد\nعَجم کے خیالات میں کھو گیا\nیہ سالک مقامات میں کھو گیا\nبُجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے\nمسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہیِ\n\nشرابِ کُہن پھر پِلا ساقیا\nوہی جام گردش میں لا ساقیا!\nمجھے عشق کے پَر لگا کر اُڑا\nمری خاک جُگنو بنا کر اُڑا\nخِرد کو غلامی سے آزاد کر\nجوانوں کو پِیروں کا استاد کر\nہری شاخِ مِلّت ترے نم سے ہے\nنفَس اس بدن میں ترے دَم سے ہے\nتڑپنے پھٹرکنے کی توفیق دے\nدلِ مرتضیٰؓ، سوزِ صدّیقؓ دے\nجگر سے وہی تِیر پھر پار کر\nتمنّا کو سِینوں میں بیدار کر\nترے آسمانوں کے تاروں کی خیر\nزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیر\nجوانوں کو سوزِ جگر بخش دے\nمرا عشق، میری نظر بخش دے\nمری ناؤ گِرداب سے پار کر\nیہ ثابت ہے تُو اس کو سیّار کر\nبتا مجھ کو اسرارِ مرگ و حیات\nکہ تیری نگاہوں میں ہے کائنات\nمرے دیدۂ تَر کی بے خوابیاں\nمرے دل کی پوشیدہ بے تابیاں\nمرے نالۂ نیم شب کا نیاز\nمری خلوَت و انجمن کا گداز\nاُمنگیں مری، آرزوئیں مری\nاُمیدیں مری، جُستجوئیں مری\nمری فطرت آئینۂ روزگار\nغزالانِ افکار کا مرغزار\nمرا دل، مری رزم گاہِ حیات\nگمانوں کے لشکر، یقیں کا ثبات\nیہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر\nاسی سے فقیری میں ہُوں مَیں امیر\nمرے قافلے میں لُٹا دے اسے\nلُٹا دے، ٹھِکانے لگا دے اسے!\n\nدما دم رواں ہے یمِ زندگی\nہر اک شے سے پیدا رمِ زندگی\nاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمود\nکہ شُعلے میں پوشیدہ ہے موجِ دُود\nگراں گرچہ ہے صُحبتِ آب و گِل\nخوش آئی اسے محنت آب و گِل\nیہ ثابت بھی ہے اور سیاّر بھی\nعناصر کے پھندوں سے بیزار بھی\nیہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسِیر\nمگر ہر کہیں بے چگُوں، بے نظیر\nیہ عالَم، یہ بُت خانۂ شش جہات\nاسی نے تراشا ہے یہ سومنات\nپسند اس کو تکرار کی خُو نہیں\nکہ تُو مَیں نہیں، اور مَیں تُو نہیں\nمن و تُو سے ہے انجمن آفریں\nمگر عینِ محفل میں خلوَت نشیں\nچمک اس کی بجلی میں، تارے میں ہے\nیہ چاندی میں، سونے میں، پارے میں ہے\nاسی کے بیاباں، اسی کے بَبُول\nاسی کے ہیں کانٹے، اسی کے ہیں پھُول\nکہیں اس کی طاقت سے کُہسار چُور\nکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حور\nکہیں جُرّہ شاہینِ سیماب رنگ\nلہُو سے چکوروں کے آلُودہ چنگ\nکبوتر کہیں آشیانے سے دُور\nپھَڑکتا ہُوا جال میں ناصبُور\n\nفریبِ نظر ہے سکُون و ثبات\nتڑپتا ہے ہر ذرّۂ کائنات\nٹھہَرتا نہیں کاروانِ وجود\nکہ ہر لحظہ ہے تازہ شانِ وجود\nسمجھتا ہے تُو راز ہے زندگی\nفقط ذوقِ پرواز ہے زندگی\nبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلند\nسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسند\nسفر زندگی کے لیے برگ و ساز\nسفر ہے حقیقت، حضَر ہے مجاز\nاُلجھ کر سلجھنے میں لذّت اسے\nتڑپنے پھٹرکنے میں راحت اسے\nہُوا جب اسے سامنا موت کا\nکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کا\nاُتر کر جہانِ مکافات میں\nرہی زندگی موت کی گھات میں\nمذاقِ دوئی سے بنی زوج زوج\nاُٹھی دشت و کہسار سے فوج فوج\nگُل اس شاخ سے ٹُوٹتے بھی رہے\nاسی شاخ سے پھُوٹتے بھی رہے\nسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثبات\nاُبھرتا ہے مِٹ مِٹ کے نقشِ حیات\nبڑی تیز جولاں، بڑی زود رس\nاَزل سے اَبد تک رمِ یک نفَس\nزمانہ کہ زنجیرِ ایّام ہے\nدَموں کے اُلٹ پھیر کا نام ہے\n\nیہ موجِ نفَس کیا ہے تلوار ہے\nخودی کیا ہے، تلوار کی دھار ہے\nخودی کیا ہے، رازِ درُونِ حیات\nخودی کیا ہے، بیداریِ کائنات\nخودی جلوہ بدمست و خلوَت پسند\nسمندر ہے اک بُوند پانی میں بند\nاندھیرے اُجالے میں ہے تابناک\nمن و تُو میں پیدا، من و تُو سے پاک\nازل اس کے پیچھے، اَبد سامنے\nنہ حد اس کے پیچھے، نہ حد سامنے\nزمانے کے دریا میں بہتی ہوئی\nسِتم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی\nتجسّس کی راہیں بدلتی ہوئی\nوما دم نگاہیں بدلتی ہوئی\nسبک اس کے ہاتھوں میں سنگِ گراں\nپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگِ رواں\nسفر اس کا انجام و آغاز ہے\nیہی اس کی تقویم کا راز ہے\nکِرن چاند میں ہے، شرر سنگ میں\nیہ بے رنگ ہے ڈُوب کر رنگ میں\nاسے واسطہ کیا کم و بیش سے\nنشیب و فرازوپس و پیش سے\nاَزل سے ہے یہ کشمکش میں اسِیر\nہُوئی خاکِ آدم میں صُورت پذیر\nخودی کا نشیمن ترے دل میں ہے\nفلک جس طرح آنکھ کے تِل میں ہے\n\nخودی کے نِگہباں کو ہے زہرِ ناب\nوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آب\nوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمند\nرہے جس سے دُنیا میں گردن بلند\nفرو فالِ محمود سے درگزر\nخودی کو نِگہ رکھ، ایازی نہ کر\nوہی سجدہ ہے لائقِ اہتمام\nکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرام\nیہ عالم، یہ ہنگامۂ رنگ و صوت\nیہ عالم کہ ہے زیرِ فرمانِ موت\nیہ عالم، یہ بُت خانۂ چشم و گوش\nجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوش\nخودی کی یہ ہے منزلِ اوّلیں\nمسافر! یہ تیرا نشیمن نہیں\nتری آگ اس خاک داں سے نہیں\nجہاں تجھ سے ہے، تُو جہاں سے نہیں\nبڑھے جا یہ کوہِ گراں توڑ کر\nطلسمِ زمان و مکاں توڑ کر\nخودی شیرِ مولا، جہاں اس کا صید\nزمیں اس کی صید، آسماں اس کا صید\nجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمود\nکہ خالی نہیں ہے ضمیرِ وجود\nہر اک منتظر تیری یلغار کا\nتری شوخیِ فکر و کردار کا\nیہ ہے مقصدِ گردشِ روزگار\nکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکار\nتُو ہے فاتحِ عالمِ خوب و زِشت\nتجھے کیا بتاؤں تری سرنوشت\nحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگ\nحقیقت ہے آئینہ، گُفتار زنگ\nفروزاں ہے سِینے میں شمعِ نفَس\nمگر تابِ گُفتار کہتی ہے، بس!\n’اگر یک سرِ مُوے برتر پَرم\nفروغِ تجلّی بسوزد پَرم،", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81"} {"title": "ساقی نامہ (میر تقی میر)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "ہے قابل حمد وہ سرانداز\nجو سب میں ہوا ہے جلوہ پرداز\nاس کو مئے حسن نے چھکایا\nہستی کا نشہ اسی سے آیا\nپی ان نے شراب خودپرستی\nطاری ہوئی اس پہ زور مستی\nوہ مست شراب ناز ہے فرد\nخورشید ہے اس کا جام پرورد\nہے گردش چشم اس سے افسوں\nپھر جائے ہے جس کے ساتھ گردوں\nظلمت ہے دوئی کی تجھ سے احول\nآخر ہے وہی وہی ہے اول\nعالم ہے قرابۂ مئے خام\nہے دور سپہر گردش جام\nمشہور جہاں جو کیف و کم ہے\nبے نشہ جو ہووے تو ستم ہے\nوہ مست نیاز ہے حرم میں\nوہ رفتۂ ناز ہے صنم میں\nہے آب رخ زمانہ اس سے\nروشن ہے تمام خانہ اس سے\nمینا میں جو سرکشی ہے وہ ہے\nصہبا میں جو دلکشی ہے وہ ہے\nشمشاد ہے سرفراز اس سے\nگل دیدۂ نیم باز اس سے\nخوگر اسے نازپیشگی ہے\nوہ ہے کہ جسے ہمیشگی ہے\nعکس اس کا پڑا ہے جام مے میں\nآتی ہے صدا اسی کی نے میں\nہے جلوہ گری میں یاں بصد ناز\nوہ مست گزارہ و سرانداز\nسو رنگ ہیں اس کے یاد رکھ تو\nہر جلوہ سے دل کو شاد رکھ تو\nعالم میں جو کچھ نمود میں ہے\nہر لحظہ اسے سجود میں ہے\nکر یاد اسی کو اور مے پی\nجیتا رہے کوئی دن تو خوش جی\nاب روے سخن چمن کو کریے\nمیناے دل اور مے سے بھریے\nآئی ہے بہار مے گساراں\nپھولے ہیں چمن میں گل ہزاراں\nآئی ہے بہار و ہر خیاباں\nہے لطف ہوا سے گل بہ داماں\nآئی ہے بہار زہدکیشاں\nہے توبۂ بادہ دل پریشاں\nآئی ہے بہار مرغ گلزار\nکرتا ہے نواے سینہ افگار\nلایا ہے بہ زور اس کا نالہ\nمجھ کو بھی براے سیر لالہ\nساقی جو کروں میں بے ادائی\nمعذور رکھ اب بہار آئی\nگل باد صبا کے تا کمر ہے\nدامان بلند ابر تر ہے\nغنچہ کی گلابیاں بھری ہیں\nتکلیف کی منتظر دھری ہیں\nظالم مئے ناب دے ہوا ہے\nیک جرعہ شراب دے ہوا ہے\nہر سر میں ہے شور فصل دے کا\nجھمکے ہے ہوا سے رنگ مے کا\nاطراف چمن کھلا ہے لالہ\nہر پھول شراب کا ہے پیالہ\nآیا ہے چمن پہ ابر جوشاں\nآب رخ کار سبزپوشاں\nتحریک نسیم دم بہ دم ہے\nتکلیف ہواے گل ستم ہے\nابروں نے بھی کی ہے مے پرستی\nاٹھتے ہیں بصد سیاہ مستی\nبوندوں کا جو لگ رہا ہے جھمکا\nرنگ گل و لالہ زور چمکا\nہے گل کی ہوا سبو کشی میں\nبلبل کا دماغ بوکشی میں\nہر شاخ ہے شوخ جام در دست\nنرگس ہے کسو کی نرگس مست\nہے رنگ ہوا کا آفتابی\nجھومیں ہیں نہال جوں شرابی\nہے سرو جوان نشہ در سر\nلوٹے ہے روش پہ سبزۂ تر\nچشمک کرے ہے حباب جو کا\nیعنی کہ ہے دور اب سبو کا\nساقی قدحے کہ ذوق مل ہے\nمطرب غزلے کہ فصل گل ہے\n\nغزل\n\nشب وہ جو پیے شراب نکلا\nجانا یہ کہ آفتاب نکلا\n\nقربان پیالۂ مئے ناب\nجس سے کہ ترا حجاب نکلا\n\nتجھ بن جو پیا تھا قرط مے کا\nآنکھوں سے ہو خون ناب نکلا\n\nمستی میں شراب کی جو دیکھا\nعالم یہ تمام خواب نکلا\n\nشیخ آتے تو مے کدے میں آیا\nپر ہو کے بہت خراب نکلا\n\nیک جرعہ شراب ہی میں واعظ\nہر مسخرگی کا باب نکلا\n\nتھا غیرت بادہ عکس گل سے\nجس جوے چمن سے آب نکلا\n\nہو صرف شراب کاش ساقی\nیہ شیشۂ عمر ہے جو باقی\nبے ساغر مے خنک ہے جینا\nرکھتا ہے شگوں شراب پینا\nلا بادۂ کہنہ سال نو ہے\nسجادہ بھی بابت گرو ہے\nدروازۂ مے کدہ کھلا ہے\nہر پیر و جواں کو الصلا ہے\nاینڈے ہے ہر ایک مست جوں تاک\nلیتے نہیں نام دامن پاک\nہر مغبچہ فتنہ زیر سر ہے\nہر گوشے میں عالم دگر ہے\nمستی نگاہ عقل دشمن\nخوبی خرام مرد افگن\nکہتے گئے صاحب کرامات\nہم ہی نہیں قابل خرابات\nجو لوگ کہ اس جگہ سے اٹھے\nکب حلقہ و خانقہ سے اٹھے\nیاں پیتے ہیں جام بے خودی کا\nہے دور تمام بے خودی کا\nمستی سے ہر ایک صبح صد بار\nخورشید کا سر ہے اور دیوار\nہے قابل سیر خرقہ پوشاں\nدریا دلی شراب نوشاں\nان لوگوں کی ہر کمینہ صف میں\nکشتی ہے شہ و گدا کی کف میں\nہر کوچے میں رہتی تھی منادی\nتا رسم خردوری اٹھا دی\nاز خود شدن اک مقام ہے گا\nوہ مرتبہ یاں مدام ہے گا\nہرچند ہے دور پر کہاں تک\nاک لغزش پا میں یاں سے واں تک\nبے خود ہو کہ یہ حجاب اٹھے\nدل یاں سے کہیں شتاب اٹھے\nپہنچیں ہیں فنا کو بے خودی سے\nپاتے ہیں خدا کو بے خودی سے\nپی جرعہ و ہوش کو دعا کہہ\nہر بادہ فروش کو دعا کہہ\nوشش میں ہے بادۂ کہن سال\nعبرت ہو جسے خوش اس کا احوال\nاب دل میں مرے بھی جوش آیا\nاب وقت وداع ہوش آیا\nکھینچوں میں کہاں تلک دم سرد\nساقی وہ شراب شعلہ پرورد\nوہ داروے درد بے حضوراں\nوہ مایۂ نور چشم کوراں\nسرمایۂ عمر جاودانی\nیعنی وہی آب زندگانی\nوہ میوۂ خوش رسیدہ بارے\nوہ عیش دل گزیدہ بارے\nآئینۂ حسن خودپسنداں\nزینت دہ عنبریں کمنداں\nوہ رنگ رخ بہار یعنی\nوہ بادۂ خوش گوار یعنی\nیاقوت گداز دادۂ عشق\nیعنی وہی جام بادۂ عشق\nوہ لطف ہوا وہ سیر مہتاب\nوہ شعلۂ غوطہ خورد در آب\nوہ کام دل سبو بدوشاں\nیعنی کہ وہی شراب جوشاں\nوہ موجب دل خوشی کہاں ہے\nوہ داروے بے ہشی کہاں ہے\nوہ جس کی طرف کو ہے تہ دل\nیعنی وہی ماہ شیشہ منزل\nوہ آتش تیز آب آمیز\nوہ عربدہ جو وہ فتنہ انگیز\nوہ مقصد جان ناامیداں\nوہ روسیہی روسفیداں\nوہ رونق کارگاہ شیشہ\nوہ شوکت بارگاہ شیشہ\nوہ جس سے ہے توبہ موپریشاں\nوہ جس سے ہو گفتگو پریشاں\nوہ دامن خشک جس سے جل جائے\nثابت قدموں کا پاؤں چل جائے\nوہ سرخی چشم خوب رویاں\nاسباب خرابی نکویاں\nوہ دلبر خودسر و شلائیں\nوہ رہزن راہ دین و آئیں\nوہ جس سے غبار دل سے دھوؤں\nمینا کے گلے سے لگ کے روؤں\nمستی کی مجھے بھی خواہشیں ہیں\nاس عقل سے دل کو کاہشیں ہیں\nلا اس کو جو آستین جھاڑوں\nپھر ہاتھ چلے تو جیب پھاڑوں\nبے ہوش شراب ناب رہیے\nیوں تا بہ کجا کباب رہیے\nہے مستی بے خودی ضروری\nکھل جائے مقام بے شعوری\nدل غم سے بھرا ہے زور میرا\nتا عرش گیا ہے شور میرا\nہے دل میں کہ گل کی اور رو ہو\nشیشہ ہو بغل میں اور تو ہو\nہر گام پہ لغزش قدم ہو\nتکلیف شراب دم بہ دم ہو\nجب سجدہ کناں ہوں صبح خیزاں\nجب کاکل صبح ہو پریشاں\nجب نکلے ستارۂ سحرگہ\nکر نعرۂ الصبوح یک رہ\nہے ذوق شراب صبح گاہی\nبے لطف نہیں ہے روسیاہی\nجب ہووے نشہ ترنگ آوے\nمستی مجھے باغ میں لٹاوے\nشیشہ مرے منھ کو تو لگاوے\nکر ایسی نگاہ جو چھکاوے\nجب بے خودی تمام آوے\nسر پر مرے ہوش رو کے جاوے\nرخصت ہے تجھے کہ میں نہ ہوں گا\nبے ہوش و خرد ہی پھر رہوں گا\nبیٹھا تو کروں گا شکر تیرا\nہو ورنہ قبول عذر میرا\n\nمقولۂ شاعر\n\nکیا میرؔ شراب تونے پی ہے\nبیہودہ یہ گفتگو جو کی ہے\nیا آب سیہ ترے قلم نے\nیہ تجھ سے عجب کیا ہے ہم نے\nتو کاہے کو اتنا ہرزہ گو تھا\nکب در گرو شراب تو تھا\nبس مے سے زباں کو اب نہ تر کر\nمستی سخن پہ ٹک نظر کر\nہے نشۂ سامعہ دوبالا\nپھر حرف نہ جائے گا سنبھالا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81_%28%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%D9%82%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%29"} {"title": "ساقی نامہ (نظم طباطبائی)", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "نہیں یہ عہد اور ہے ساقی\nاہل یورپ کا دور ہے ساقی\nکی ہے کوشش انہوں نے خاطر خواہ\nپائی ہے مدتوں میں ہند کی راہ\nکر کے زحمت جو آئے اتنی دور\nمحض ترویج بادہ تھی منظور\nجو مسلماں ہیں امت انگریز\nمے کشی سے انہیں نہیں پرہیز\nبادہ خواری کا شغل گھر گھر ہے\nاور تاڑی تو شیر مادر ہے\nپہلے پاسی چمار پیتے تھے\nمردم بے وقار پیتے تھے\nاب تو اہل علوم پیتے ہیں\nماحیان رسوم پیتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81_%28%D9%86%D8%B8%D9%85_%D8%B7%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C%29"} {"title": "ساقی و شراب و جام و پیمانہ کیا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ساقی و شراب و جام و پیمانہ کیا\nشمع و گل و عندلیب و پروانہ کیا\nنیک و بد و خانقاہ و مے خانہ کیا\nہے راہ یگانگی میں بیگانہ کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%88_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ساقی و واعظ میں ضد ہے بادہ کش چکر میں ہے", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقی و واعظ میں ضد ہے بادہ کش چکر میں ہے\nتو بہ لب پر اور لب ڈوبا ہوا ساغر میں ہے\n\nروک لے اے ضبط جو آنسو کہ چشم تر میں ہے\nکچھ نہیں بگڑا ہے اب تک گھر کی دولت گھر میں ہے\n\nدب گیا تھا میرے مرنے سے جو اے محشر خرام\nکیا وہی خوابیدہ فتنہ صورت محشر میں ہے\n\nجس کو تو چاہے جلا دے جس کو چاہے مار دے\nوہ بھی تیری بات میں یہ بھی تری ٹھوکر میں ہے\n\nدل کے مٹ جانے سے جوش عشق گھٹ سکتا ہے کیا\nدل سے کیا مطلب کہ یہ سودا تو میرے سر میں ہے\n\nمانتا ہے آستاں کو تیرے کعبہ اور کون\nیہ ہمارا ہی نشان سجدہ سنگ در میں ہے\n\nاحسنؔ آوارہ قسمت کی نہ پوچھو گردشیں\nاپنے گھر بیٹھا ہوا تقدیر کے چکر میں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%88_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B6%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%B4_%DA%86%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ساقی کوثر کے پیارے السلام", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "سلام", "year": null, "text_ur": "ساقی کوثر کے پیارے السلام\nتشنہ لب سید ہمارے السلام\nصبح تیرے قتل کی تھی صبح قیر\nشام کے لوگوں کے مارے السلام\nآسماں خم ہے تری تعظیم میں\nتیرے ساجد ہیں ستارے السلام\nتھے ہزاروں خصم جانی اس طرف\nتم گئے بیکس بچارے السلام\nفوج دشمن کی جو چڑھ آئی تمام\nتم ہوئے ایک ایک اتارے السلام\nبحر خوں میں غرق ہو چھوٹے بڑے\nلگ گئے تم سب کنارے السلام\nگور میں لاشیں تمھاری بے نماز\nتم امام دیں تھے سارے السلام\nراہ حق میں تجھ سے جانبازی ہوئی\nبے خطر سر دینے ہارے السلام\nکیا کہے اب میرؔ غم کش اس سوا\nکاے ہمیشہ کے دکھارے السلام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%AB%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "ساقی کے کرم سے فیض یہ جاری ہے", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ساقی کے کرم سے فیض یہ جاری ہے\nیا پیر خر کی غم خواری ہے\nصف توڑ کے بٹ رہی ہے رندوں میں شراب\nمعلوم نہیں کہ مری کب باری ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%81%DB%8C%D8%B6_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا\nنغمہ بر لب خم بہ سر بادہ بہ جام آ ہی گیا\n\nاپنی نظروں میں نشاط جلوۂ خوباں لیے\nخلوتی خاص سوئے بزم عام آ ہی گیا\n\nمیری دنیا جگمگا اٹھی کسی کے نور سے\nمیرے گردوں پر مرا ماہ تمام آ ہی گیا\n\nجھوم جھوم اٹھے شجر کلیوں نے آنکھیں کھول دیں\nجانب گلشن کوئی مست خرام آ ہی گیا\n\nپھر کسی کے سامنے چشم تمنا جھک گئی\nشوق کی شوخی میں رنگ احترام آ ہی گیا\n\nمیری شب اب میری شب ہے میرا بادہ میرے جام\nوہ مرا سرو رواں ماہ تمام آ ہی گیا\n\nبارہا ایسا ہوا ہے یاد تک دل میں نہ تھی\nبارہا مستی میں لب پر ان کا نام آ ہی گیا\n\nزندگی کے خاکۂ سادہ کو رنگیں کر دیا\nحسن کام آئے نہ آئے عشق کام آ ہی گیا\n\nکھل گئی تھی صاف گردوں کی حقیقت اے مجازؔ\nخیریت گزری کہ شاہیں زیر دام آ ہی گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DA%AF%D9%84%D9%81%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%D8%A7%DB%81%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%A2_%DB%81%DB%8C_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوں", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوں\nباراں ہو اور ہوا ہو سبزہ ہو اور ہم ہوں\n\nزاہد ہو اور تقویٰ عابد ہو اور مصلیٰ\nمالا ہو اور برہمن صہبا ہو اور ہم ہوں\n\nمجنوں ہیں ہم ہمیں تو اس شہر سے ہے وحشت\nشہری ہوں اور بستی صحرا ہو اور ہم ہوں\n\nیارب کوئی مخالف ہووے نہ گرد میرے\nخلوت ہو اور شب ہو پیارا ہو اور ہم ہوں\n\nدیوانگی کا ہم کو کیا حظ ہو ہر طرف گر\nلڑکے ہوں اور پتھرتے بلوا ہو اور ہم ہوں\n\nاوروں کو عیش و عشرت اے چرخ بے مروت\nغصہ ہو اور غم ہو رونا ہو اور ہم ہوں\n\nایمان و دیں سے تاباںؔ کچھ کام نہیں ہے ہم کو\nساقی ہو اور مے ہو دنیا ہو اور ہم ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%86%D9%85%D9%86_%DB%81%D9%88_%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%85_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "ساقی ہیں روز نو بہار یک دو سہ چار پنج و شش", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقی ہیں روز نو بہار یک دو سہ چار پنج و شش\nدے مجھے جام خوش گوار یک دو سہ چار پنج و شش\n\nبوسہ میں لوں گا گن کے یار یک دو سہ چار پنج و شش\nکہہ چکا بس میں ایک بار یک دو سہ چار پنج و شش\n\nپہنچیں نہ تجھ کو گل عذار یک دو سہ چار پنج و شش\nرخ ترا ایک اور بہار یک دو سہ چار پنج و شش\n\nگھیریں رہیں ہیں تجھ کو یار یک دو سہ چار پنج و شش\nصید تو جو کرے شکار یک دو سہ چار پنج و شش\n\nصبح وصال کا بھی دن دیکھوں گا اے خدا کبھی\nہو چکیں شام انتظار یک دو سہ چار پنج و شش\n\nجی مرا چاہتا ہے یوں ہووے جو دسترس کبھی\nتجھ پر کروں میں جاں نثار یک دو سہ چار پنج و شش\n\nبوسوں کے تیرے لب پہ ہیں میرے ادھار بے شمار\nدے ہے تو کچھ بھی کر شمار یک دو سہ چار پنج و شش\n\nہجر کی شب اے ماہ رو رو رو گنیں ہیں صبح تک\nتارے یہ چشم اشکبار یک دو سہ چار پنج و شش\n\nانگلیوں پہ گنوں ہوں میں گھڑیاں امید وصل میں\nجوں گنے صاحب قمار یک دو سہ چار پنج و شش\n\nشش جہت جہاں کے پیچ منہ کروں جدھر کو میں\nہوتے ہیں مجھ سے غم دو چار یک دو سہ چار پنج و شش\n\nحسرتؔ غم زدہ کا غم کھاوے گا تو اگر نہ یار\nاس کے ہیں تجھ سے غم گسار یک دو سہ چار پنج و شش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D9%86%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%88_%D8%B3%DB%81_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D8%B4%D8%B4"} {"title": "ساقی ہے نہ مے ہے نہ دف وچنگ ہے ہولی", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقی ہے نہ مے ہے نہ دف وچنگ ہے ہولی\nکیا حال ہے امسال یہ کیا رنگ ہے ہولی\n\nآئی ہے جو فرقت میں مرا خون کرے گی\nیہ بھی ترے آنے کا کوئی ڈھنگ ہے ہولی\n\nہم خاک اڑاتے ہیں دھولینڈی ہے یہاں پر\nہم تک نہیں آتی کبھی کیا لنگ ہے ہولی\n\nسو بار جلاتا ہوں میں اک آہ سے دم میں\nآ کر مرے ویرانے میں کیا تنگ ہے ہولی\n\nنکلا مہ نخشب کہ گرا چاہ میں یوسف\nیا حوض کے اندر مہ گل رنگ ہے ہولی\n\nپچکاری اگر خامہ ہے تو رنگ سیاہی\nرنگینی مضموں سے مرے دنگ ہے ہولی\n\nہر بت عوض قمقمہ دل مانگ رہا ہے\nاس سال کی واللہ کہ بے رنگ ہے ہولی\n\nاے مہرؔ ترے گرد ہیں مہ رو کئے تصویر\nفانوس خیالی ہے کہ ارژنگ ہے ہولی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%81_%D9%88%DA%86%D9%86%DA%AF_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C"} {"title": "ساقی ہے گرچہ بے شمار شراب", "poet_page": "مصنف:ماہ لقا بائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقی ہے گرچہ بے شمار شراب\nنہیں خوش تر سوائے یار شراب\n\nقتل پر کس کے آج ہوتی ہے\nتوسن حسن پر سوار شراب\n\nرکھ کرم پر ترے نظر مجرم\nنوش کرتے ہیں بے شمار شراب\n\nان کو آنکھیں دکھا دے ٹک ساقی\nچاہتے ہیں جو بار بار شراب\n\nیا علی حشر میں دو چنداؔ کو\nآب کوثر کی خوش گوار شراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "ساقی یہ پلا اس کو جو ہو جام سے واقف", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقی یہ پلا اس کو جو ہو جام سے واقف\nہم آج تلک مے کے نہیں نام سے واقف\n\nمستی کے سوا دور میں اس چشم سیہ کے\nکافر ہو جو ہو گردش ایام سے واقف\n\nمر کر بھی تہ خاک نہ آسودہ ہوئے آہ\nاے عشق نہ تھے ہم ترے انجام سے واقف\n\nصیاد کی الفت سے پھنسے آن کے ورنہ\nتھے کاہے کو ہم اس قفس و دام سے واقف\n\nملنے کا پیام اس سے کہو جا کے عزیزو\nجو اس کے نہ ہو وصل کے پیغام سے واقف\n\nاوروں سے قسم کھائیے اور ہم تو مری جاں\nہیں خوب تمہاری قسم اقسام سے واقف\n\nکوئی نہیں کرتا جو کیا تو نے نظیرؔ آہ\nدل اس کو دیا جس کے نہیں نام سے واقف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D9%BE%D9%84%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%82%D9%81"} {"title": "ساقیا ابر ہے دے جام شتاب ایک پر ایک", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقیا ابر ہے دے جام شتاب ایک پر ایک\nآج محفل میں گرے مست شراب ایک پر ایک\n\nگل بازی ہے حسینوں میں مرا افسانہ\nپھینک دیتا ہے محبت کی کتاب ایک پر ایک\n\nجوش پر ہے جو ترا حسن تو اے پردہ نشیں\nروز کرتا ہے غضب بند نقاب ایک پر ایک\n\nتوڑ اس طرح سے اے نالۂ دل ساتوں فلک\nکہ گریں ٹوٹ کے یہ خانہ خراب ایک پر ایک\n\nلب جو سیر کو آیا ہے جو وہ بحر جمال\nٹوٹا پڑتا ہے تماشے کو حباب ایک پر ایک\n\nیاد آتی ہے انہیں دم بہ دم اک بات نئی\nروز آتا ہے مرے خط کا جواب ایک پر ایک\n\nجب کبھی داغؔ کیا ہم نے سوال بوسہ\nسیکڑوں اس نے دئے سخت جواب ایک پر ایک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AF%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9"} {"title": "ساقیا مر کے اٹھیں گے ترے مے خانے سے", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقیا مر کے اٹھیں گے ترے مے خانے سے\nعہد و پیماں ہیں یہی زیست میں پیمانے سے\n\nتو کہاں آئی مرا درد بٹانے کے لیے\nاے شب ہجر نکل جا مرے غم خانے سے\n\nکون ہوتا ہے مصیبت میں کسی کا دل سوز\nاٹھ گئی شمع بھی جل کر مرے کاشانے سے\n\nکچھ یہی کوہ کن و قیس پہ گزری ہوگی\nملتی جلتی ہے کہانی مرے افسانے سے\n\nجبہ فرسائے در کعبہ تھے کل تک تو ظہیرؔ\nگرتے پڑتے ہوئے آج آتے ہیں میخانے سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ساقیا کس کو ہوس ہے کہ پیو اور پلاؤ", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقیا کس کو ہوس ہے کہ پیو اور پلاؤ\nاب وہ دل ہی نہ رہا اور امنگیں نہ وہ چاؤ\n\nرہنے دے ذکر خم زلف مسلسل کو ندیم\nاس کے تو دھیان سے بھی ہوتا ہے دل کو الجھاؤ\n\nکوچۂ عشق میں جانا نہ کبھی بھول کے تم\nہے وہاں آب دم تیغ کا ہر جا چھڑکاؤ\n\nکیا ضرورت کہ حسینوں کے دہن کی خاطر\nتم کمر باندھ کے ملک عدمستاں تک جاؤ\n\nکیوں مٹو نقش قدم ساں کسی رفتار پہ تم\nبیٹھے بٹھلائے غرض کیا ہے کہ اک حشر اٹھاؤ\n\nکس طرح کوئی انہیں راہ پہ لائے یا رب\nاور برگشتہ ہوئے جاتے ہیں جتنا سمجھاؤ\n\nنا خدا بن کے خدا پار کر اس کا بیڑا\nبے طرح پھنس گئی ہے ہند کی منجدھار میں ناؤ\n\nیہ نہیں ہے کہ نہیں قابلیت کچھ ان میں\nہمتیں ہارنے کا ہو گیا کچھ ان کا سبھاؤ\n\nغرب ہے مشرق خورشید علوم و حکمت\nاب یہ لازم ہے کہ لو اپنی ادھر کو ہی لگاؤ\n\nجو قدامت پہ اڑے بیٹھے ہیں وہ ہیں گمراہ\nان سے بچنا ہیں غضب ان کے اتار اور چڑھاؤ\n\nایشیا کے تو تمہیں نام سے کہنا ہی نہیں\nوہی صورت ہے اسے کتنا ہی الٹو پلٹاؤ\n\nرسم و مذہب سے نہ تم غیر بنو آپس میں\nہو چلت میں کوئی یا ٹھاہ میں سم پر مل جاؤ\n\nبس کرو رہنے بھی دو وعظ و نصیحت کیفیؔ\nناصحوں کو تو یہاں پڑتی ہیں بازار کے بھاؤ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%B3_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%BE%D9%84%D8%A7%D8%A4"} {"title": "ساقیا ہے یہ جام کا عالم", "poet_page": "مصنف:نواب سلیمان شکوہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ساقیا ہے یہ جام کا عالم\nجیسے ماہ تمام کا عالم\n\nکبک رفتار اپنی بھول گئے\nدیکھو اس کے خرام کا عالم\n\nاب خدا پھر ہمیں نہ دکھلائے\nشب ہجراں کی شام کا عالم\n\nتجھ پہ ہے ان دنوں میں نام خدا\nکچھ عجب دھوم دھام کا عالم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85"} {"title": "سال نو کا ہنگامہ", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "برطانیہ کی چھڑ گئی ہندوستاں سے جنگ\nحالانکہ اس سے جنگ ہے سارے جہاں سے جنگ\nگیتا سے اور گرنتھ سے زور آزمائیاں\nقرآن کی آیتوں کے قشون گراں سے جنگ\nارجن کے اور بھیم کے گھر سے مقابلہ\nپھر خاندان سرور کون و مکاں سے جنگ\nتوحید کے علم کو جھکانے کے حوصلے\nجو قدسیوں کے ہاتھ میں ہے اس نشاں سے جنگ\nسرحد کے غازیوں کو کچلنے کی نیتیں\nبچے سے جنگ بوڑھے سے جنگ اور جواں سے جنگ\nصلح و سلام و امن و اماں جس کی ہے متاع\nغارت گروں کی ٹھن گئی اس کارواں سے جنگ\nبرق اور دخاں پہ کیوں نہ ہو ایمان خندہ زن\nکرنے چلی ہے آج زمیں آسماں سے جنگ\nہے زیر دستیوں پہ زبردستیوں کی تاخت\nموران نیم جان کی ہے پیل دماں سے جنگ\nدھاوا سپاہ جبر کا ہے خیل صبر پر\nتوپ اور تفنگ کی ہے قلم اور زباں سے جنگ\nہم ناتواں سہی ہے خدا تو ہمارے ساتھ\nاب بھی وہ کرتے ہیں تو کریں ناتواں سے جنگ\nذرہ کے ساتھ جنگ ہے جنگ آفتاب سے\nخفاش کی عبث ہے شہہ خاوراں سے جنگ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%84_%D9%86%D9%88_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%85%DB%81"} {"title": "سال گرہ کا تحفہ", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میری بارہویں سال گرہ پر\nسب نے نوازا تحفے دے کر\nابا اک سائیکل لے آئے\nامی نے لڈو بنوائے\nدیدی نے کپڑے سلوائے\nبھیا گیند اور بلا لائے\nہر اک کچھ نہ کچھ لایا تھا\nاک تحفہ تھا ماسٹر جی کا\nماسٹر جی لائے تھے کھلونا\nسب سے الگ سب سے نرالا\nاک قطار میں تین تھے بندر\nکیا خوبی تھی ان کے اندر\nاک تھا ہاتھ سے آنکھیں موندے\nدوسرا منہ پر ہاتھ تھا رکھے\nاور جو تیسرا بندر دیکھا\nہاتھ جو تھا کانوں پر رکھا\nماسٹر جی سے پوچھا میں نے\nکیسا کھلونا ہے کیا جانے\nکہنے لگے لو غور سے سن لو\nپہلے سن لو پھر منہ کھولو\nاک کہتا ہے برا نہ دیکھو\nدوسرا بولے برا نہ بولو\nاور تیسرے کا یہ ہے کہنا\nبرا کسی سے کبھی نہ سننا\nکیوں بھئی کیسا ہے یہ تحفہ\nہے کہ نہیں یہ سب کی پسند کا\nماسٹر جی کی باتیں سن کر\nملی نصیحت سال گرہ پر\nخوش تھے میرے امی ابا\nتحفہ دیکھ کے ماسٹر جی کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%84_%DA%AF%D8%B1%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%AD%D9%81%DB%81"} {"title": "سامان خور و خواب کہاں سے لاؤں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "سامانِ خور و خواب کہاں سے لاؤں؟\nآرام کے اسباب کہاں سے لاؤں؟\nروزہ مِرا اِیمان ہے غالبؔ! لیکن\nخَسخانہ و برفاب کہاں سے لاؤں؟", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%AE%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%84%D8%A7%D8%A4%DA%BA"} {"title": "سامان دیوالی کا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کا\nہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کا\nسبھی کے دل میں سماں بھا گیا دوالی کا\nکسی کے دل کو مزا خوش لگا دیوالی کا\nعجب بہار کا ہے دن بنا دوالی کا\n\nجہاں میں یارو عجب طرح کا ہے یہ تیوہار\nکسی نے نقد لیا اور کوئی کرے ہے ادھار\nکھلونے کھیلوں بتاشوں کا گرم ہے بازار\nہر اک دکاں میں چراغوں کی ہو رہی ہے بہار\nسبھوں کو فکر ہے اب جا بجا دوالی کا\n\nمٹھائیوں کی دکانیں لگا کے حلوائی\nپکارتے ہیں کہ \"لا لا! دوالی ہے آئی\"\nبتاشے لے کوئی برفی کسی نے تلوائی\nکھلونے والوں کی ان سے زیادہ بن آئی\nگویا انہوں کے واں راج آ گیا دوالی کا\n\nصرف حرام کی کوڑی کا جن کا ہے بیوپار\nانہوں نے کھایا ہے اس دن کے واسطے ہے ادھار\nکہے ہے ہنس کے قرض خواہ سے ہر اک اک بار\nدوالی آئی ہے سب دے دلائیں گے اے یار\nخدا کے فضل سے ہے آسرا دوالی کا\n\nمکان لیپ کے ٹھلیا جو کوری رکھوائی\nجلا چراغ کو کوڑی وہ جلد جھنکائی\nاصل جواری تھے ان میں تو جان سی آئی\nخوشی سے کود اچھل کر پکارے او بھائی\nشگون پہلے کرو تم ذرا دوالی کا\n\nشگن کی بازی لگی پہلے یار گنڈے کی\nپھر اس سے بڑھ کے لگی تین چار گنڈے کی\nپھری جو ایسی طرح بار بار گنڈے کی\nتو آگے لگنے لگی پھر ہزار گنڈے کی\nکمال نرخ ہے پھر تو لگا دوالی کا\n\nکسی نے گھر کی حویلی گرو رکھا ہاری\nجو کچھ تھی جنس میسر بنا بنا ہاری\nکسی نے چیز کسی کسی کی چرا چھپا ہاری\nکسی نے گٹھری پڑوسن کی اپنی لا ہاری\nیہ ہار جیت کا چرچا پڑا دوالی کا\n\nکسی کو داؤ پہ لانکّی موٹھ نے مارا\nکسی کے گھر پہ دھرا سوختہ نے انگارا\nکسی کو نرد نے چوپڑ کے کر دیا زارا\nلنگوٹی باندھ کے بیٹھا ازار تک ہارا\nیہ شور آ کے مچا جا بجا دوالی کا\n\nکسی کی جورو کہے ہے پکار اے پھڑوے\nبہو کی نوگرے بیٹے کے ہاتھ کے کھڑوے\nجو گھر میں آوے تو سب مل کیے ہیں سو گھڑوے\nنکل تو یاں سے ترا کام یاں نہیں بھڑوے\nخدا نے تجھ کو تو شہدا کیا دوالی کا\n\nوہ اس کے جھونٹے پکڑ کر کہے ہے ماروں گا\nترا جو گہنہ ہے سب تار تار اتاروں گا\nحویلی اپنی تو اک داؤ پر میں ہاروں گا\nیہ سب تو ہارا ہوں خندی تجھ بھی ہاروں گا\nچڑھا ہے مجھ کو بھی اب تو نشا دوالی کا\n\nتجھے خبر نہیں خندی یہ لت وہ پیاری ہے\nکسی زمانے میں آگے ہوا جو جواری ہے\nتو اس نے جورو کی نتھ اور ازار اتاری ہے\nازار کیا ہے کہ جورو تلک بھی ہاری ہے\nسنا یہ تو نے نہیں ماجرا دوالی کا\n\nجہاں میں یہ جو دیوالی کی سیر ہوتی ہے\nتو زر سے ہوتی ہے اور زر بغیر ہوتی ہے\nجو ہارے ان پہ خرابی کی فیر ہوتی ہے\nاور ان میں آن کے جن جن کی خیر ہوتی ہے\nتو آڑے آتا ہے ان کے دیا دوالی کا\n\nیہ باتیں سچ ہیں نہ جھوٹ ان کو جانیو یارو!\nنصیحتیں ہیں انہیں دل سے مانیو یارو!\nجہاں کو جاؤ یہ قصہ بکھانیو یارو!\nجو جواری ہو نہ برا اس کا مانیو یارو\nنظیرؔ آپ بھی ہے جواریا دیوالی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "سامان ہزار جستجو یعنی دل", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "سامان ہزار جستجو یعنی دل\nساغر کش خون آرزو یعنی دل\nپشت و رخ آئنہ ہے دین و دنیا\nمنظور ہے دو جہاں سے نو یعنی دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D8%B9%D9%86%DB%8C_%D8%AF%D9%84"} {"title": "سامنا ہے نگاہ قاتل کا", "poet_page": "مصنف:نواب امراوبہادر دلیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سامنا ہے نگاہ قاتل کا\nدیکھنا حوصلہ مرے دل کا\n\nہائے کہنا ادا سے قاتل کا\nہم کو دکھلاؤ رقص بسمل کا\n\nچلے منہ پھیر کر وہ مقتل سے\nحال دیکھا گیا نہ بسمل کا\n\nجوش وحشت میں تیرا دیوانہ\nکیوں نہ مشتاق ہو سلاسل کا\n\nکھینچ کر ان کو میرے گھر لایا\nاثر آخر کو جذب کامل کا\n\nشیخ خاموش ہو خدا کے لئے\nذکر رندوں میں کیا مسائل کا\n\nکاش وہ چٹکیاں ہی لیں آ کر\nمشغلہ کچھ تو ہو دکھے دل کا\n\nبوسہ دے ڈالو حسن کی خیرات\nرد نہ کیجے سوال سائل کا\n\nاے صبا کر بھی قیس پر احسان\nتو ہی پردہ اٹھا دے محمل کا\n\nشک تھا مٹی کا نہ ہو عاشق کے\nعطر کیوں کر وہ سونگھتے گل کا\n\nنزع میں بھی دلیرؔ آئے نہ وہ\nرہ گیا دل میں حوصلہ دل کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "سامنے آئنہ تھا مستی تھی", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سامنے آئنہ تھا مستی تھی\nان پر اک شان خود پرستی تھی\n\nمجھ کو کعبہ میں بھی ہمیشہ شیخ\nیاد ایام بت پرستی تھی\n\nصرف دل ہی نہیں جلا میرا\nذرہ ذرہ میں اس کے بستی تھی\n\nکیوں زلیخا تری عدالت میں\nحسن کی جنس ایسی سستی تھی\n\nسوجھتا تھا نہ انتظار میں کچھ\nدیکھنے کو نگہ ترستی تھی\n\nدیکھنے ہم گئے تھے قبر عزیزؔ\nہائے کیا بیکسی برستی تھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "سامنے اس صف مژگاں کہ میں کل جاؤں گا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سامنے اس صف مژگاں کہ میں کل جاؤں گا\nچھد تُو جاؤں گا پر آگے سے نہ ٹل جاؤں گا\n\nتیغ اس ابرو کی جب معرکہ آرا ہوگی\nاپنی جاں بازی کہ گوہر میں اگل جاؤں گا\n\nہے کف پا وُہ مصفا کے جسے دھیان میں لا\nپائے نظارہ یہ کہتا ہے پھسل جاؤں گا\n\nمُجھ کو دیتے ہو عبث خانۂ زنجیر میں جا\nجوں صدا میں ابھی اس گھر سے نکل جاؤں گا\n\nآپ سے چاہوں تُو اٹھ جاؤں گا اس بزم سے میں\nاُور اِک ہوں بھی کرو گے تو مچل جاؤں گا\n\nگرچہ ہوں بے حرکت ضعف سے جوں آتش سنگ\nپر جُو چھیڑا تُو شرر ساں میں اچھل جاؤں گا\n\nموم ہوں میں تُو بتاں مُجھ کو نہ سمجھو آہن\nٹک بھی تم گرم ہوئے تُو میں پگھل جاؤں گا\n\nغصہ ہو کر تم اگر لاکھ طرح بدلو رنگ\nمیں وُہ یک رنگ نہیں ہوں جُو بدل جاؤں گا\n\nبیکلی آج بھی واں لے گئی مُجھ کو تُو نظیرؔ\nمیں نے ہر چند یہ چاہا تھا کے کل جاؤں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B5%D9%81_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "سامنے اس کے رو نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سامنے اس کے رو نہیں سکتا\nچپ رہوں یہ بھی ہو نہیں سکتا\n\nسنگ و آہن گداز ہوتے ہیں\nاس کا دل نرم ہو نہیں سکتا\n\nآگ سے طفل اشک ڈرتا ہے\nدل کے داغوں کو دھو نہیں سکتا\n\nجس طرح سو گئے مرے طالع\nاس طرح کوئی سو نہیں سکتا\n\nمثل فرہاد عشق میں ؔجوشش\nجاں کوئی مفت کھو نہیں سکتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "سامنے ان کے تڑپ کر اس طرح فریاد کی", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سامنے ان کے تڑپ کر اس طرح فریاد کی\nمیں نے پوری شکل دکھلا دی دل ناشاد کی\n\nاب یہی ہے وجہ تسکیں خاطر ناشاد کی\nزندگی میں نے دیار حسن میں برباد کی\n\nہوش پر بجلی گری، آنکھیں بھی خیرہ ہو گئیں\nتم تو کیا تھے، اک جھلک سی تھی تمہاری یاد کی\n\nچل دیا مجنوں تو صحرا سے کسی جانب مگر\nاک صدا گونجی ہوئی ہے نالہ و فریاد کی\n\nنغمۂ پر درد چھیڑا میں نے اس انداز سے\nخود بہ خود مجھ پر نظر پڑنے لگی صیاد کی\n\nدل ہوا مجبور جس دم اشک حسرت بن گیا\nروح جب تڑپی تو صورت بن گئی فریاد کی\n\nاس حریم قدس میں کیا لفظ و معنی کا گزر\nپھر بھی سب باتیں پہنچتی ہیں لب فریاد کی\n\nتمتما اٹھے وہ عارض میرے عرض شوق پر\nحسن جاگ اٹھا وہیں جب عشق نے فریاد کی\n\nآشیاں میں اب کسی صورت نہیں پڑتا ہے چین\nتھی نظر تاثیر میں ڈوبی ہوئی صیاد کی\n\nشعر میں رنگینی جوش تخیل چاہیئے\nمجھ کو اصغرؔ کم ہے عادت نالہ و فریاد کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%DA%91%D9%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "سامنے سے جو وہ نگار گیا", "poet_page": "مصنف:میر شیر علی افسوس", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سامنے سے جو وہ نگار گیا\nدل پہ تیر نگاہ مار گیا\n\nدیکھو بیتابی دل کی اس در پر\nایک دن میں ہزار بار گیا\n\nمنزل عشق تک نہ پہنچا آہ\nمیں تو چلتے ہی چلتے ہار گیا\n\nتیرے قربان کے تو لائق ہوں\nاور کاموں سے گو میں ہار گیا\n\nپاس سے اس کے سب گئے خورسند\nایک افسوسؔ سوگوار گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%88%DB%81_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سانحہ", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "درد و غم حیات کا درماں چلا گیا\nوہ خضر عصر و عیسیٔ دوراں چلا گیا\nہندو چلا گیا نہ مسلماں چلا گیا\nانساں کی جستجو میں اک انساں چلا گیا\nرقصاں چلا گیا نہ غزل خواں چلا گیا\nسوز و گداز و درد میں غلطاں چلا گیا\nبرہم ہے زلف کفر تو ایماں سرنگوں\nوہ فحر کفر و نازش ایماں چلا گیا\nبیمار زندگی کی کرے کون دل دہی\nنباض و چارہ ساز مریضاں چلا گیا\nکس کی نظر پڑے گی اب عصیاں پہ لطف کی\nوہ محرم نزاکت عصیاں چلا گیا\nوہ راز دار محفل یاراں نہیں رہا\nوہ غم گسار بزم عریفاں چلا گیا\nاب کافری میں رسم و راہ دلبری نہیں\nایماں کی بات یہ ہے کہ ایماں چلا گیا\nاک بے خود سرور دل و جاں نہیں رہا\nاک عاشق صداقت پنہاں چلا گیا\nبا چشم نم ہے آج زلیخائے کائنات\nزنداں شکن وہ یوسف زنداں چلا گیا\nاے آرزو وہ چشمۂ حیواں نہ کر تلاش\nظلمات سے وہ چشمۂ حیواں چلا گیا\nاب سنگ و خشت و خاک و خذف سر بلند ہیں\nتاج وطن کا لعل درخشاں چلا گیا\nاب اہرمن کے ہاتھ میں ہے تیغ خوں چکاں\nخوش ہے کہ دست و بازوئے یزداں چلا گیا\nدیو بدی سے معرکۂ سخت ہی سہی\nیہ تو نہیں کہ زور جواناں چلا گیا\nکیا اہل دل میں جذبۂ غیرت نہیں رہا\nکیا عزم سر فروشیٔ مرداں چلا گیا\nکیا باغیوں کی آتش دل سرد ہو گئی\nکیا سرکشوں کا جذبۂ پنہاں چلا گیا\nکیا وہ جنون و جذبۂ بیدار مر گیا\nکیا وہ شباب حشر بداماں چلا گیا\nخوش ہے بدی جو دام یہ نیکی پہ ڈال کے\nرکھ دیں گے ہم بدی کا کلیجہ نکال کے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%AD%DB%81"} {"title": "سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں\nیہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں\n\nبحر ہستی میں ہوں مثال حباب\nمٹ ہی جاتا ہوں جب ابھرتا ہوں\n\nاتنی آزادی بھی غنیمت ہے\nسانس لیتا ہوں بات کرتا ہوں\n\nشیخ صاحب خدا سے ڈرتے ہوں\nمیں تو انگریزوں ہی سے ڈرتا ہوں\n\nآپ کیا پوچھتے ہیں میرا مزاج\nشکر اللہ کا ہے مرتا ہوں\n\nیہ بڑا عیب مجھ میں ہے اکبرؔ\nدل میں جو آئے کہہ گزرتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%B3_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%88%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "سانپ سر مار اگر جو جاوے مر", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سانپ سر مار اگر جو جاوے مر\nنہ کرے زلف کے تری سر بر\n\nنام لیلیٰ کا دم بدم لے لے\nمارتا ہے جنگل میں مجنوں بڑ\n\nعاشقاں دیکھ تیری سنگ دلی\nجان دیتے ہیں دم بدم مر مر\n\nآبروؔ جیو ڈوب جاتا ہے\nبے خودی کی جب آوتی ہے لہر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%86%D9%BE_%D8%B3%D8%B1_%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%92_%D9%85%D8%B1"} {"title": "ساون کی گھٹا", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مسکراتی ہوئی آتی ہے گھٹا ساون کی\nجی لبھاتی ہوئی آتی ہے گھٹا ساون کی\nگیت کوئل کے پپیہوں کی صدا مور کا شور\nگنگناتی ہوئی آتی ہے گھٹا ساون کی\nکیوں نہ ہم جولیاں گلزار میں جھولا جھولیں\nلہلہاتی ہوئی آتی ہے گھٹا ساون کی\nکوہساروں کا خیابانوں کا گلزاروں کا\nمنہ دھلاتی ہوئی آتی ہے گھٹا ساون کی\nموج نکہت سے خدائی مہک اٹھی اخترؔ\nپھول اڑاتی ہوئی آتی ہے گھٹا ساون کی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7"} {"title": "ساڑھے تین آنے", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "ٹھنڈا گوشت", "year": "1950", "text_ur": "”میں نے قتل کیوں کیا۔ ایک انسان کے خون میں اپنے ہاتھ کیوں رنگے، یہ ایک لمبی داستان ہے۔ جب تک میں اس کے تمام عواقب و عواطف سے آپ کو آگاہ نہیں کروں گا، آپ کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔ مگر اس وقت آپ لوگوں کی گفتگو کا موضوع جرم اور سزا ہے۔ انسان اور جیل ہے۔ چونکہ میں جیل میں رہ چکا ہوں، اس لیے میری رائے نادرست نہیں ہوسکتی۔ مجھے منٹو صاحب سے پورا اتفاق ہے کہ جیل، مجرم کی اصلاح نہیں کرسکتی۔ مگر یہ حقیقت اتنی بار دہرائی جا چکی ہے کہ اس پر زور دینے سے آدمی کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی محفل میں ہزار بار سنایا ہوا لطیفہ بیان کررہا ہے۔ اور یہ لطیفہ نہیں کہ اس حقیقت کو جانتے پہچانتے ہوئے بھی ہزار ہا جیل خانے موجود ہیں۔ ہتھکڑیاں ہیں اور وہ ننگِ انسانیت بیڑیاں۔ میں قانون کا یہ زور پہن چکا ہوں۔ “\n\nیہ کہہ کر رضوی نے میری طرف دیکھا اور مسکرایا۔ اس کے موٹے موٹے حبشیوں کے سے ہونٹ عجیب انداز میں پھڑکے۔\n\n”اس کی چھوٹی چھوٹی مخمور آنکھیں، جو قاتل کی آنکھیں لگی تھیں چمکیں۔ ہم سب چونک پڑے تھے۔ جب اس نے یکا یک ہماری گفتگو میں حصہ لینا شروع کردیا تھا۔ وہ ہمارے قریب کرسی پر بیٹھا کریم ملی ہوئی کوفی پی رہا تھا۔ جب اس نے خود کو متعارف کرایا تو ہمیں وہ تمام واقعات یاد آگئے جو اس کی قتل کی واردات سے وابستہ تھے۔ وعدہ معاف گواہ بن کر اس نے بڑی صفائی سے اپنی اور اپنے دوستوں کی گردن پھانسی کے پھندے سے بچا لی تھی۔ وہ اسی دن رہا ہوکر آیا تھا۔ بڑے شائستہ انداز میں وہ مجھ سے مخاطب ہوا۔\n\n”معاف کیجیے گا منٹو صاحب۔ آپ لوگوں کی گفتگو سے مجھے دلچسپی ہے۔ میں ادیب تو نہیں، لیکن آپ کی گفتگو کا جو موضوع ہے اس پر اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں کچھ نہ کچھ ضرور کہہ سکتا ہوں۔ پھر اس نے کہا۔\n\n”میرا نام صدیق رضوی ہے۔ لنڈا بازار میں جو قتل ہوا تھا، میں اس سے متعلق تھا۔ “\n\nمیں نے اس قتل کے متعلق صرف سرسری طور پر پڑھا تھا۔ لیکن جب رضوی نے اپنا تعارف کرایا تو میرے ذہن میں خبروں کی تمام سرخیاں ابھر آئیں۔ ہماری گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ آیا جیل مجرم کی اصلاح کرسکتی ہے۔ میں خود محسوس کررہا تھا۔ ہم ایک باسی روٹی کھا رہے ہیں۔ رضوی نے جب یہ کہا۔\n\n”یہ حقیقت اتنی بار دہرائی جا چکی ہے کہ اس پر زور دینے سے آدمی کو یوں محسوس ہوتا ہے۔ جیسے وہ کسی محفل میں ہزار بار سنایا ہوا لطیفہ بیان کررہا ہے۔\n\n”تو مجھے بڑی تسکین ہوئی۔ میں نے یہ سمجھا جیسے رضوی نے میرے خیالات کی ترجمانی کردی ہے۔ کریم ملی ہوئی کوفی کی پیالی ختم کرکے رضوی نے اپنی چھوٹی چھوٹی مخمور آنکھوں سے مجھے دیکھا اور بڑی سنجیدگی سے کہا۔ منٹو صاحب آدمی جرم کیوں کرتا ہے۔ جرم کیا ہے، سزا کیا ہے۔ میں نے اس کے متعلق بہت غور کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر جرم کے پیچھے ایک ہسٹری ہوتی ہے۔ زندگی کے واقعات کا ایک بہت بڑا ٹکرا ہوتا ہے، بہت اچھا ہوا، ٹیڑھا میڑھا۔ میں نفسیات کا ماہر نہیں۔ لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ انسان سے خود جرم سرزد نہیں ہوتا۔ حالات سے ہوتا ہے! “\n\nنصیر نے کہا۔\n\n”آپ نے بالکل درست کہا ہے۔ “\n\nرضوی نے ایک اور کافی کا آرڈر دیا اور نصیر سے کہا۔\n\n”مجھے معلوم نہیں جناب، لیکن میں نے جو کچھ عرض کیا ہے اپنے مشاہدات کی بنا پر عرض کیا ہے ورنہ یہ موضوع بہت پرانا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وکٹر ہیوگو۔ فرانس کا ایک مشہور ناولسٹ تھا۔ شاید کسی اور ملک کا ہو۔ آپ تو خیر جانتے ہی ہوں گے، جرم اور سزا پر اس نے کافی لکھا ہے۔ مجھے اس کی ایک تصنیف کے چند فقرے یاد ہیں۔ “\n\nیہ کہہ کروہ مجھ سے مخاطب ہوا۔\n\n”منٹو صاحب، غالباً آپ ہی کا ترجمہ تھا۔ کیا تھا؟ وہ سیڑھی اتار دو جو انسان کوجرائم اور مصائب کی طرف لے جاتی ہے۔ لیکن میں سوچتا کہ وہ سیڑھی کون سی ہے۔ اس کے کتنے زینے ہیں۔ کچھ بھی ہو، یہ سیڑھی ضرور ہے، اس کے زینے بھی ہیں، لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں، بے شمار ہیں، ان کو گننا، ان کا شمار کرنا ہی سب سے بڑی بات ہے\n\n”منٹو صاحب، حکومتیں رائے شماری کرتی ہیں، حکومتیں اعداد و شمار کرتی ہیں، حکومتیں ہر قسم کی شماری کرتی ہیں۔ اس سیڑھی کے زینوں کی شماری کیوں نہیں کرتیں۔ کیا یہ ان کا فرض نہیں۔ میں نے قتل کیا۔ لیکن اس سیڑھی کے کتنے زینے طے کرکے کیا۔ حکومت نے مجھے وعدہ معاف گواہ بنا لیا، اس لیے کہ قتل کا ثبوت اس کے پاس نہیں تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ میں اپنے گناہ کی معافی کس سے مانگوں۔ وہ حالات جنہوں نے مجھے قتل کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اب میرے نزدیک نہیں ہیں، ان میں اور مجھ میں ایک برس کا فاصلہ ہے۔ میں اس فاصلے سے معافی مانگوں یا ان حالات سے جو بہت دور کھڑے میرا منہ چڑا رہے ہیں۔ “\n\nہم سب رضوی کی باتیں بڑے غور سے سن رہے تھے۔ وہ بظاہر تعلیم یافتہ معلوم نہیں ہوتا تھا، لیکن اس کی گفتگو سے ثابت ہوا کہ وہ پڑھا لکھا ہے اور بات کرنے کا سلیقہ جانتا ہے۔ میں نے اس سے کچھ کہا ہوتا، لیکن میں چاہتا تھا کہ وہ باتیں کرتا جائے اور میں سنتا جاؤں۔ اسی لیے میں اس کی گفتگو میں حائل نہ ہوا۔ اس کے لیے نئی کوفی آگئی تھی۔ اسے بنا کر اس نے چند گھونٹ پیے اور کہنا شروع کیا۔\n\n”خدا معلوم میں کیا بکواس کرتا رہا ہوں، لیکن میرے ذہن میں ہر وقت ایک آدمی کا خیال رہا ہے۔ اس آدمی کا، اس بھنگی کا جو ہمارے ساتھ جیل میں تھا۔ اس کو ساڑھے تین آنے چوری کرنے پر ایک برس کی سزا ہوئی تھی۔ “\n\nنصیر نے حیرت سے پوچھا۔ صرف ساڑھے تین آنے چوری کرنے پر؟ ”\n\nرضوی نے یخ آلود جواب دیا۔\n\n”جی ہاں۔ صرف ساڑھے تین آنے کی چوری پر۔ اور جو اس کو نصیب نہ ہوئے، کیونکہ وہ پکڑا گیا۔ یہ رقم خزانے میں محفوظ ہے اور پھگو بھنگی غیر محفوظ ہے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے وہ پھر پکڑا جائے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے اس کا پیٹ پھر اسے مجبور کرے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس سے گُو مُوت صاف کرانے والے اس کی تنخواہ نہ دے سکیں، کیونکہ ہو سکتا ہے اس کو تنخواہ دینے والوں کو اپنی تنخواہ نہ ملے۔ یہ ہو سکتا ہے کا سلسلہ منٹو صاحب عجیب وغریب ہے۔ سچ پوچھئے تو دنیا میں سب کچھ ہو سکتا ہے۔ رضوی سے قتل بھی ہوسکتا ہے۔ “\n\nیہ کہہ کروہ تھوڑے عرصے کے لیے خاموش ہو گیا۔ نصیر نے اس سے کہا۔\n\n”آپ پھگو بھنگی کی بات کررہے تھے۔ ؟ “\n\nرضوی نے اپنی چھدری مونچھوں پرسے کوفی رومال کے ساتھ پونچھی۔\n\n”جی ہاں۔ پھگو بھنگی چور ہونے کے باوجود، یعنی وہ قانون کی نظروں میں چور تھا۔ لیکن ہماری نظروں میں پورا ایماندار۔ خدا کی قسم میں نے آج تک اس جیسا ایماندار آدمی نہیں دیکھا، ساڑھے تین آنے اس نے ضرور چرائے تھے، اس نے صاف صاف عدالت میں کہہ دیا تھا کہ یہ چوری میں نے ضرور کی ہے، میں اپنے حق میں کوئی گواہی پیش نہیں کرنا چاہتا۔ میں دو دن کا بھوکا تھا، مجبوراً مجھے کریم درزی کی جیب میں ہاتھ ڈالنا پڑا۔ اس سے مجھے پانچ روپے لینے تھے۔ دو مہینوں کی تنخواہ۔ حضور اس کا بھی کچھ قصور نہیں تھا۔ اس لیے کہ اس کے کئی گاہکوں نے اس کی سلائی کے پیسے مارے ہوئے تھے۔ حضور، میں پہلے بھی چوریاں کر چکا ہوں۔ ایک دفعہ میں نے دس روپے ایک میم صاحب کے بٹوے سے نکال لیے تھے۔ مجھے ایک مہینے کی سزا ہوئی تھی۔ پھر میں نے ڈپٹی صاحب کے گھر سے چاندی کا ایک کھلونا چرایا تھا اس لیے کہ میرے بچے کو نمونیا تھا اور ڈاکٹر بہت فیس مانگتا تھا۔ حضور میں آپ سے جھوٹ نہیں کہتا۔ میں چور نہیں ہوں۔ کچھ حالات ہی ایسے تھے کہ مجھے چوریاں کرنی پڑیں۔ اور حالات ہی ایسے تھے کہ میں پکڑا گیا۔ مجھ سے بڑے بڑے چور موجود ہیں لیکن وہ ابھی تک پکڑے نہیں گئے۔ حضور، اب میرا بچہ بھی نہیں ہے، بیوی بھی نہیں ہے۔ لیکن حضور افسوس ہے کہ میرا پیٹ ہے، یہ مر جائے تو سارا جھنجھٹ ہی ختم ہو جائے، حضور مجھے معاف کردو۔ لیکن حضور نے اس کو معاف نہ کیا اور عادی چور سمجھ کر اس کو ایک برس قید بامشقت کی سزا دے دی۔ “\n\nرضوی بڑے بے تکلف انداز میں بول رہا تھا۔ اس میں کوئی تصنع، کوئی بناوٹ نہیں تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ الفاظ خود بخود اس کی زبان پر آتے اور بہتے چلتے جارہے ہیں۔ میں بالکل خاموش تھا۔ سگریٹ پہ سگریٹ پی رہا تھا اور اس کی باتیں سن رہا تھا۔ نصیر پھر اس سے مخاطب ہوا۔\n\n”آپ پھگو کی ایمانداری کی بات کررہے تھے؟ “\n\n”جی ہاں۔ “\n\nرضوی نے جیب سے بیٹری نکال کر سلگائی۔\n\n”میں نہیں جانتا قانون کی نگاہوں میں ایمانداری کیا چیز ہے، لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ میں نے بڑی ایمانداری سے قتل کیا تھا۔ اور میرا خیال ہے کہ پھگو بھنگی نے بھی بڑی ایمانداری سے ساڑھے تین آنے چرائے تھے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ ایماندار کو صرف اچھی باتوں سے کیوں منسوب کرتے ہیں، اور سچ پوچھیے تو میں اب یہ سوچنے لگا ہوں کہ اچھائی اور برائی ہے کیا۔ ایک چیز آپ کے لیے اچھی ہو سکتی ہے، میرے لیے بری۔ ایک سوسائٹی میں ایک چیز اچھی سمجھی جاتی ہے، دوسری میں بری۔ ہمارے مسلمانوں میں بغلوں کے بال بڑھانا گناہ سمجھا جاتا ہے، لیکن سکھ اس سے بے نیاز ہیں۔ اگریہ بال بڑھانا واقعی گناہ ہے تو خدا ان کو سزا کیوں نہیں دیتا اگر کوئی خدا ہے تو میری اس سے درخواست ہے کہ خدا کے لیے تم یہ انسانوں کے قوانین توڑ دو، ان کی بنائی ہوئی جیلیں ڈھا دو۔ اور آسمانوں پر اپنی جیلیں خود بناؤ۔ خود اپنی عدالت میں ان کو سزا دو، کیونکہ اور کچھ نہیں تو کم از کم خدا تو ہو۔ “\n\nرضوی کی اس تقریر نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اس کی خامکاری ہی اصل میں تاثر کا باعث بھی۔ وہ باتیں کرتا تھا تو یوں لگتا ہے جیسے وہ ہم سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے دل ہی دل میں گفتگو کررہا ہے۔ اس کی بیڑی بجھ گئی تھی، غالباً اس میں تمباکو کی گانٹھ اٹکی ہوئی تھی۔ اس لیے کہ اس نے پانچ چھ مرتبہ اس کو سلگانے کی کوشش کی۔ جب نہ سلگی تو پھینک دی اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔\n\n”منٹو صاحب، پھگو مجھے اپنی تمام زندگی یاد رہے گا۔ آپ کو بتاؤں گا تو آپ ضرورکہیں گے کہ جذباتیت ہے، لیکن خدا کی قسم جذباتیت کو اس میں کوئی دخل نہیں۔ وہ میرا دوست نہیں تھا۔ نہیں وہ میرا دوست تھا کیونکہ اس نے ہر بار خود کو ایسا ہی ثابت کیا۔ “\n\nرضوی نے جیب میں سے دوسری بیڑی نکالی مگر وہ ٹوٹی ہوئی تھی۔ میں نے اسے سگریٹ پیش کیا تو اس نے قبول کرلیا۔\n\n”شکریہ۔ منٹو صاحب، معاف کیجیے گا، میں نے اتنی بکواس کی ہے حالانکہ مجھے نہیں کرنی چاہیے تھی اس لیے کہ ماشاء اللہ آپ۔ “\n\nمیں نے اس کی بات کاٹی۔\n\n”رضوی صاحب، میں اس وقت منٹو نہیں ہوں صرف سعادت حسن ہوں۔ آپ اپنی گفتگو جاری رکھئے۔ میں بڑی دلچسپی سے سن رہا ہوں۔ “\n\nرضوی مسکرایا۔ اس کی چھوٹی چھوٹی مخمور آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی۔ آپ کی بڑی نوازش ہے۔ پھر وہ نصیرسے مخاطب ہوا۔\n\n”میں کیا کہہ رہا تھا۔ “\n\nمیں نے اس سے کہا۔\n\n”آپ پھگو کی ایمانداری کے متعلق کچھ کہنا چاہتے تھے۔ “\n\n”جی ہاں“\n\nیہ کہہ کراس نے میرا پیش کیا ہوا سگریٹ سلگایا۔\n\n”منٹو صاحب، قانون کی نظروں میں وہ عادی چور تھا۔ بیڑیوں کے لیے ایک دفعہ اس نے آٹھ آنے چرائے تھے۔ بڑی مشکلوں سے، دیوار پھاند کر جب اس نے بھاگنے کی کوشش کی تھی تو اس کے ٹخنے کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ قریب قریب ایک برس تک وہ اس کا علاج کراتا رہا تھا، مگر جب میرا ہم الزام دوست جرجی بیس بیڑیاں اس کی معرفت بھیجتا تو وہ سب کی سب پولیس کی نظریں بچا کر میرے حوالے کردیتا۔ وعدہ معاف گوا ہوں پر بہت کڑی نگرانی ہوتی ہے، لیکن جرجی نے پھگو کو اپنا دوست اور ہمراز بنا لیا تھا۔ وہ بھنگی تھا، لیکن اس کی فطرت بہت خوشبودار تھا۔ شروع شروع میں جب وہ برجی کی بیڑیاں لے کر میری پاس آیا تو میں نے سوچا، اس حرامزادے چور نے ضرور ان میں سے کچھ غائب کرلی ہوں گی، مگر بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ قطعی طور پر ایماندار تھا۔ بیڑی کے لیے اس نے آٹھ آنے چراتے ہوئے اپنے ٹخنے کی ہڈی تڑوا لی تھی مگر یہاں جیل میں اس کو تمباکو کہیں سے بھی نہیں مل سکتا تھا، وہ جرجی کی دی ہوئی بیڑیاں تمام و کمال میرے حوالے کردیتا تھا، جیسے وہ امانت ہوں۔ پھر وہ کچھ دیر ہچکچانے کے بعد مجھ سے کہتا، بابو جی، ایک بیڑی تو دیجیے اور میں اس کو صرف ایک بیڑی دیتا۔ انسان بھی کتنا کمینہ ہے! “\n\nرضوی نے کچھ اس انداز سے اپنا سر جھٹکا جیسے وہ اپنے آپ سے متنفر ہے۔\n\n”جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں مجھ پر بہت کڑی پابندیاں عائد تھیں۔ وعدہ معاف گواہوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ جرجی البتہ میرے مقابلے میں بہت آزاد تھا۔ اس کو رشوت دے دلا کر بہت آسانیاں مہیا تھیں۔ کپڑے مل جاتے تھے۔ صابن مل جاتا تھا۔ بیڑیاں مل جاتی تھیں۔ جیل کے اندر رشوت دینے کے لیے روپے بھی مل جاتے تھے۔ پھگو بھنگی کی سزا ختم ہونے میں صرف چند دن باقی رہ گئے تھے، جب اس نے آخری بار جرجی کی دی ہوئی بیڑیاں مجھے لا کر دیں۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ وہ جیل سے نکلنے پر خوش نہیں تھا۔ میں نے جب اس کو مبارکباد دی تو اس نے کہا۔\n\n”بابو جی، میں پھر یہاں آجاؤں گا۔ بھوکے انسان کو چوری کرنی ہی پڑتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک بھوکے انسان کو کھانا کھاناہی پڑتا ہے۔ بابو جی آپ بڑے اچھے ہیں، مجھے اتنی بیڑیاں دیتے رہے۔ خدا کرے آپ کے سارے دوست بری ہو جائیں۔ جرجی بابو آپ کو بہت چاہتے ہیں۔ “\n\nنصیر نے یہ سن کر غالباً اپنے آپ سے کہا۔\n\n”اور اس کو صرف ساڑھے تین آنے چرانے کے جرم میں سزا ملی تھی۔ “\n\nرضوی نے گرم کافی کا ایک گھونٹ پی کر ٹھنڈے انداز میں کہا۔\n\n”جی ہاں صرف ساڑھے تین آنے چرانے کے جرم میں۔ اور وہ بھی خزانے میں جمع ہیں۔ خدا معلوم ان سے کس پیٹ کی آگ بجھے گی! “\n\nرضوی نے کافی کا ایک اور گھونٹ پیا اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔\n\n”ہاں منٹو صاحب، اس کی رہائی میں صرف ایک دن رہ گیا تھا۔ مجھے دس روپوں کی اشد ضرورت تھی۔ میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ مجھے یہ روپے ایک سلسلے میں سنتری کو رشوت کے طور پر دینے تھے۔ میں نے بڑی مشکلوں سے کاغذ پنسل مہیا کرکے جرجی کو ایک خط لکھا تھا اور پھگو کے ذریعہ سے اس تک بھجوایا تھا کہ وہ مجھے کسی نہ کسی طرح دس روپے بھیج دے۔ پھگو ان پڑھ تھا۔ شام کو وہ مجھ سے ملا۔ جرجی کا رقعہ اس نے مجھے دیا۔ اس میں دس روپے کا سرخ پاکستانی نوٹ قید تھا۔ میں نے رقعہ پڑھا۔ یہ لکھا تھا۔ رضوی پیارے دس روپے بھیج تو رہا ہوں، مگر ایک عادی چور کے ہاتھ، خدا کرے تمہیں مل جائیں۔ کیونکہ یہ کل ہی جیل سے رہا ہو کر جا رہا ہے ۔ “\n\nمیں نے یہ تحریر پڑھی تو پھگو بھنگی کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔ اس کو ساڑھے تین آنے چرانے کے جرم میں ایک برس کی سزا ہوئی تھی۔ میں سوچنے لگا اگر اس نے دس روپے چرائے ہوتے تو ساڑھے تین آنے فی برس کے حساب سے اس کو کیا سزا ملتی؟ ”\n\nیہ کہہ کررضوی نے کافی کا آخری گھونٹ پیا اور رخصت مانگے بغیر کافی ہاؤس سے باہر چلا گیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%DA%91%DA%BE%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D9%86_%D8%A2%D9%86%DB%92"} {"title": "سایہ اگر نصیب ہو دیوار یار کا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سایہ اگر نصیب ہو دیوار یار کا\nکیا مرتبہ بلند ہو اپنے مزار کا\n\nوہ دشت ہولناک وہ حب وطن کا جوش\nپھر پھر کے دیکھنا وہ کسی بے دیار کا\n\nلو دے رہی ہے شام سے آج آہ آتشیں\nشعلہ بھڑک رہا ہے دل داغ دار کا\n\nتصویر نزع دیکھنا چاہو تو دیکھ لو\nرہ رہ کے جھلملانا چراغ مزار کا\n\nپر تولنے لگے پھر اسیران بدنصیب\nشاید قریب آ گیا موسم بہار کا\n\nموئے سفید کانپتے ہاتھ اور جام مے\nدکھلا رہے ہیں رنگ خزاں میں بہار کا\n\nانگڑائیوں کے ساتھ کہیں دم نکل نہ جائے\nآساں نہیں ہے رنج اٹھانا خمار کا\n\nساقی گرا نہ دیجیو یہ جام آخری\nدل ٹوٹ جائے گا کسی امیدوار کا\n\nمستوں کی روحیں بھٹکیں گی اچھا نہیں ہے اب\nگھرگھر کے آنا قبروں پر ابر بہار کا\n\nدیکھو تو اپنے وحشیوں کی جامہ زیبیاں\nاللہ رے حسن پیرہن تار تار کا\n\nجرم گزشتہ عفو کن و ماجرا مپرس\nمارا ہوا ہوں اس دل بے اختیار کا\n\nدنیا سے یاسؔ جانے کو جی چاہتا نہیں\nاللہ رے حسن گلشن ناپائیدار کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%DB%8C%DB%81_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8_%DB%81%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "سب اختیار میرا تج ہات ہے پیارا", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب اختیار میرا تج ہات ہے پیارا\nجس حال سوں رکھے گا ہے او خوشی ہمارا\n\nنینا انجھوں سوں دھوؤں پگ اپ پلک سوں جھاڑوں\nجے کئی خبر سو لیاوے مکھ پھول کا تمھارا\n\nبتخانہ نین تیرے ہور بت نین کیاں پتلیاں\nمج نین میں پوجاری پوجا ادھان ہمارا\n\nاس پتلیاں کی صورت کئی خواب میں جو دیکھے\nرشک آئے مج کرے مت کوئی سجدہ اس دوارا\n\nتج خیال کی ہوس تھے ہے جیو ہمن سو زندہ\nاو خیال کد نہ جاوے ہم سر تھے ٹک بہارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D8%AC_%DB%81%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا\nسر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیا\n\nاک اشارۂ فردا ایک جنبش لب کیا\nدیکھ دکھاتا ہے وعدہ تذبذب کیا\n\nچلو بھر میں متوالی دو ہی گھونٹ میں خالی\nیہ بھری جوانی کیا جذبۂ لبالب کیا\n\nہاں دعائیں لیتا جا گالیاں بھی دیتا جا\nتازگی تو کچھ پہنچے چاہتا رہوں لب کیا\n\nشامت آ گئی آخر کہہ گیا خدا لگتی\nراستی کا پھل پاتا بندۂ مقرب کیا\n\nالٹی سیدھی سنتا رہ اپنی کہہ تو الٹی کہہ\nسادہ ہے تو کیا جانے بھانپنے کا ہے ڈھب کیا\n\nسب جہاد ہیں دل کے سب فساد ہیں دل کے\nبے دلوں کا مطلب کیا اور ترک مطلب کیا\n\nہو رہے گا سجدہ بھی جب کسی کی یاد آئی\nیاد جانے کب آئے زندہ داریٔ شب کیا\n\nآندھیاں رکیں کیوں کر زلزلے تھمیں کیوں کر\nکارگاہ فطرت میں پاسبانیٔ رب کیا\n\nکار مرگ کے دن کا تھوڑی دیر کا جھگڑا\nدیکھنا ہے یہ ناداں جینے کا ہے کرتب کیا\n\nپڑ چکے بہت پالے ڈس چکے بہت کالے\nموذیوں کے موذی کو فکر نیش عقرب کیا\n\nمیرزا یگانہؔ واہ زندہ باد زندہ باد\nاک بلائے بے درماں کیا تھے تم اور اب کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روح", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روح\nبے علم ہے اگر تو وہ انساں ہے نا تمام\nبے علم و بے ہنر ہے جو دنیا میں کوئی قوم\nنیچر کا اقتضا ہے رہے بن کے وہ غلام\nتعلیم اگر نہیں ہے زمانہ کے حسب و حال\nپھر کیا امید دولت و آرام و احترام\nسید کے دل میں نقش ہو اس خیال کا\nڈالی بنائے مدرسہ لے کر خدا کا نام\nصدمے اٹھائے رنج سہے گالیاں سنیں\nلیکن نہ چھوڑا قوم کے خادم نے یہ کام\nدکھلا دیا زمانہ کو زور دل و دماغ\nبتلا دیا وہ کرتے ہیں کرنے والے کام\nنیت جو تھی بخیر تو برکت خدا نے دی\nکالج ہوا درست بہ صد شان و احتشام\nسرمائے میں کمی تھی سہارا کوئی نہ تھا\nسید کا دل تھا درپئے تکمیل انتظام\nآخر اٹھا سفر کو وہ مرد خستہ پئے\nاحباب چند ساتھ تھے ذی علم و خوش کلام\nقسمت کہ رہبری سے ملی منزل مراد\nفرماں روائے ملک دکن کو کیا سلام\nحالت دکھائی اور ضرورت بیان کی\nخوبی ث التماس کیا قوم کا پیام\nرحم آ گیا حضور کو حالت پہ قوم کی\nپھر کیا تھا موجزن ہوا دریا فیض عام\nماہانہ دو ہزار کیا اک ہزار ث\nامید ث زیادہ عطا تھی یہ لا کلام\nاکبرؔ کی ی دعا ہے خدا کی جناب میں\nتا حشر اس رئیس و ریاست کو ہو قیام\nکیا وقت پر ہوئی ہے کہ بے احتجاج فکر\nتاریک اپنی آپ ہے فیاضی نظام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%AD"} {"title": "سب حسینوں میں وہ پیارا خوب ہے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب حسینوں میں وہ پیارا خوب ہے\nایک چہرہ جسم سارا خوب ہے\n\nایسے مکھڑے کی بلائیں لیجیے\nبھولا بھولا پیارا پیارا خوب ہے\n\nمیری محفل میں کبھی آتے نہیں\nغیر کے گھر میں گزارا خوب ہے\n\nدونوں آنکھیں قاتل عشاق ہیں\nلشکر مژگاں صف آرا خوب ہے\n\nچرخ پر تم کو چڑھا کر دیکھیے\nکون سا تاروں میں تارا خوب ہے\n\nتم جو آئے جسم میں جان آ گئی\nجان میں پیرا تمہارا خوب ہے\n\nپاس اپنے ہو اگر تصویر یار\nزندگانی کا سہارا خوب ہے\n\nکیوں ملیں ہم آپ سے چوری چھپے\nبات جو ہے آشکارا خوب ہے\n\nتو کہا میں نے تو آزردہ ہوئے\nغیر کی گالی گوارا خوب ہے\n\nچاند سے بڑھتی ہے آنکھوں کی ضیا\nخوب روؤں کا نظارا خوب ہے\n\nدوستوں سے انحراف اچھا نہیں\nدشمنوں سے بھی مدارا خوب ہے\n\nمانگ بالوں میں ہی کیا ہے آب دار\nڈوب مرنے کو یہ دھارا خوب ہے\n\nآبرو جاتی رہے گی آپ کی\nبحرؔ اب اس سے کنارا خوب ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "سب حوصلہ جو صرف ہوا جورِ یار کا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب حوصلہ جو صرف ہوا جورِ یار کا\nمجھ پر گلہ رہا ستمِ روزگار کا\n\nتھا کیا ہجوم بہرِ زیارت ہزار کا\nگل ہو گیا چراغ ہمارے مزار کا\n\nجور و جفا بھی غیر پر اے یارِ دل شکن\nکچھ بھی خیال ہے دلِ امیدوار کا\n\nکھلنے لگے ہیں از سرِ نو غنچہائے زخم\nیہ فیض ہے صبا کے دمِ مشک بار کا\n\nگر چاہتے ہو جامہ نہ ہو چاک ناصحو\nمنگوا دو پیرہن مجھے اس گل عذار کا\n\nہر کوچہ میں کھلی ہے جو دکانِ مے فروش\nکیا فصل ہے شراب کی، موسم بہار کا؟\n\nگھبرا کے اور غیر کے پہلو سے لگ گئے\nدیکھا اثر یہ نالۂ بے اختیار کا\n\nوہ آتے آتے غیر کے کہنے سے تھم گئے\nاب کیا کروں علاج دلِ بے قرار کا\n\nآزاد ہے عذابِ دو عالم سے شیفتہ\nجو ہے اسیر سلسلۂ تاب دار کا!", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D8%AD%D9%88%D8%B5%D9%84%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%B5%D8%B1%D9%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%B1%D9%90_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "سب رنگ میں اس گل کی مرے شان ہے موجود", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب رنگ میں اس گل کی مرے شان ہے موجود\nغافل تو ذرا دیکھ وہ ہر آن ہے موجود\n\nہر تار کا دامن کے مرے کر کے تبرک\nسربستہ ہر اک خار بیابان ہے موجود\n\nعریانی تن ہے یہ بہ از خلعت شاہی\nہم کو یہ ترے عشق میں سامان ہے موجود\n\nکس طرح لگاوے کوئی داماں کو ترے ہاتھ\nہونے کو تو اب دست و گریبان ہے موجود\n\nلیتا ہی رہا رات ترے رخ کی بلائیں\nتو پوچھ لے یہ زلف پریشان ہے موجود\n\nتم چشم حقیقت سے اگر آپ کو دیکھو\nآئینۂ حق میں دل انسان ہے موجود\n\nکہتا ہے ظفرؔ ہیں یہ سخن آگے سبھوں کے\nجو کوئی یہاں صاحب عرفان ہے موجود", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B4%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF"} {"title": "سب سے بہتر ہے کہ مجھ پر مہرباں کوئی نہ ہو", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب سے بہتر ہے کہ مجھ پر مہرباں کوئی نہ ہو\nہم نشیں کوئی نہ ہو اور رازداں کوئی نہ ہو\n\nمریے اس حسرت میں گر قاتل نہ ہاتھ آوے کہیں\nروئیے اپنے پہ خود گر نوحہ خواں کوئی نہ ہو\n\nبیچ میں ہے میرے اس کے تو ہی اے آہ حزیں\nصلح کیوں کر ہووے جب تک درمیاں کوئی نہ ہو\n\nشکوہ کس سے کیجیے خالق کی مرضی ہے یہی\nنکتہ چیں پیدا ہوں لاکھوں نکتہ داں کوئی نہ ہو\n\nمجھ تلک قاتل تو قاتل موت بھی آتی نہیں\nکس کو دیجے جان جب خواہان جاں کوئی نہ ہو\n\nمانے گر کوئی نصیحت عارفؔ دل خستہ کی\nبھول کر بھی والۂ آتش بجاں کوئی نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "سب سے تم اچھے ہو تم سے مری قسمت اچھی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب سے تم اچھے ہو تم سے مری قسمت اچھی\nیہی کم بخت دکھا دیتی ہے صورت اچھی\n\nحسن معشوق سے بھی حسن سخن ہے کم یاب\nایک ہوتی ہے ہزاروں میں طبیعت اچھی\n\nمیری تصویر بھی دیکھی تو کہا شرما کر\nیہ برا شخص ہے اس کی نہیں نیت اچھی\n\nکس صفائی سے کیا وصل کا تو نے انکار\nاس محل پر تو زباں میں تری لکنت اچھی\n\nجو ہو آغاز میں بہتر وہ خوشی ہے بد تر\nجس کا انجام ہو اچھا وہ مصیبت اچھی\n\nتم بتاؤ تو سہی مہر و محبت کے گواہ\nایسے دعوے میں تو جھوٹی ہی شہادت اچھی\n\nزور و زر سے بھی کہیں داغؔ حسیں ملتے ہیں\nاپنے نزدیک تو ہے سب سے اطاعت اچھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C"} {"title": "سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریں", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریں\nسیرِ گلشن وہ کریں شوق سے ، تنہا نہ کریں\n\nاب تو آتا ہے یہی جی میں کہ اے محو جفا\nکچھ بھی ہو جائے مگر تری تمنّا نہ کریں\n\nمیں ہوں مجبور تو مجبور کی پرسش ہے ضرور\nوہ مسیحا ہیں تو بیمار کو اچھا نہ کریں\n\nدردِ دل اور نہ بڑھ جائے تسلی سے کہیں\nآپ اس کام کا زنہار ارادہ نہ کریں\n\nشکوۂ جور تقاضائے کرم عرض وفا\nتم جو مل جاؤ کہیں ہم کو تو کیا کیا نہ کریں\n\nنورِ جاں کے لئے کیوں ہو کسی کامل کی تلاش\nہم تری صورت زیبا کا تماشا نہ کریں\n\nحال کھل جائے گا بیتابیِ دل کا حسرت\nبار بار آپ انہیں شوق سے دیکھا نہ کریں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%BE%DB%8C%DA%BA%D8%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سب شریک صدمہ و آزار کچھ یوں ہی سے ہیں", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب شریک صدمہ و آزار کچھ یوں ہی سے ہیں\nیار کچھ یوں ہی سے ہیں غم خوار کچھ یوں ہی سے ہیں\n\nان کے سب افعال سب اطوار کچھ یوں ہی سے ہیں\nقول کچھ یوں ہی سے ہیں اقرار کچھ یوں ہی سے ہیں\n\nاپنے دیوانے سے مل لیجے اسی میں خیر ہے\nآپ ابھی رسوا سر بازار کچھ یوں ہی سے ہیں\n\nجس جگہ دیکھو نصیحت کے لیے موجود ہیں\nحضرت ناصح خدائی خوار کچھ یوں ہی سے ہیں\n\nدست وحشت نے گریباں کا صفایا کر دیا\nجیب کے پردے میں تھوڑے تار کچھ یوں ہی سے ہیں\n\nان کے آنے کی خبر سن کر اڑا دی ہے خبر\nورنہ مضطرؔ واقعی بیمار کچھ یوں ہی سے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D8%B4%D8%B1%DB%8C%DA%A9_%D8%B5%D8%AF%D9%85%DB%81_%D9%88_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سب شکایت ہے زندگانی کی", "poet_page": "مصنف:میر مظفر حسین ضمیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب شکایت ہے زندگانی کی\nجان نے دشمنیٔ جانی کی\n\nہم سبک دوش ہی جہاں سے گئے\nنہ کسی طبع نے گرانی کی\n\nہاں سبک سار کر دے اے قاتل\nجسم پر سر نے سرگرانی کی\n\nروح تن پر وبال دوش ہوئی\nہے یہ افراط ناتوانی کی\n\nعشق برباد کر گیا آخر\nتھی خبر کس کو ناگہانی کی\n\nایسی اک تیغ آب دار لگا\nپھر نہ مانگوں جو بوند پانی کی\n\nدل ہوا فرط داغ سے اک باغ\nعشق نے خوب باغبانی کی\n\nاک ذرا کھول چشم عبرت میں\nسیر کر اس جہان فانی کی\n\nسینہ پر داغ حسرت و حرماں\nاک نشانی ہے یہ جوانی کی\n\nجو ہیں آسودگان عیش انہیں\nکیا خبر اس غم نہانی کی\n\nکیوں نہ ہو اشتیاق نظم ضمیرؔ\nدھوم ہے اس کی خوش بیانی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "سب لطف ہے خاک زندگی کا", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب لطف ہے خاک زندگی کا\nہو خانہ خراب عاشقی کا\n\nہر وقت کی ضد بری ہے دیکھو\nکہنا بھی کیا کرو کسی کا\n\nیوں داد وہ دیتے ہیں وفا کی\nیہ کام نہیں ہے آدمی کا\n\nدل کش نہ ہوں کیوں نسیمؔ کے شعر\nشاگرد ہے داغؔ دہلوی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D9%84%D8%B7%D9%81_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں\nہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں\n\nتیور ترے اے رشک قمر دیکھ رہے ہیں\nہم شام سے آثار سحر دیکھ رہے ہیں\n\nمیرا دل گم گشتہ جو ڈھونڈا نہیں ملتا\nوہ اپنا دہن اپنی کمر دیکھ رہے ہیں\n\nکوئی تو نکل آئے گا سر باز محبت\nدل دیکھ رہے ہیں وہ جگر دیکھ رہے ہیں\n\nہے مجمع اغیار کہ ہنگامۂ محشر\nکیا سیر مرے دیدۂ تر دیکھ رہے ہیں\n\nاب اے نگہ شوق نہ رہ جائے تمنا\nاس وقت ادھر سے وہ ادھر دیکھ رہے ہیں\n\nہر چند کہ ہر روز کی رنجش ہے قیامت\nہم کوئی دن اس کو بھی مگر دیکھ رہے ہیں\n\nآمد ہے کسی کی کہ گیا کوئی ادھر سے\nکیوں سب طرف راہ گزر دیکھ رہے ہیں\n\nتکرار تجلی نے ترے جلوے میں کیوں کی\nحیرت زدہ سب اہل نظر دیکھ رہے ہیں\n\nنیرنگ ہے ایک ایک ترا دید کے قابل\nہم اے فلک شعبدہ گر دیکھ رہے ہیں\n\nکب تک ہے تمہارا سخن تلخ گوارا\nاس زہر میں کتنا ہے اثر دیکھ رہے ہیں\n\nکچھ دیکھ رہے ہیں دل بسمل کا تڑپنا\nکچھ غور سے قاتل کا ہنر دیکھ رہے ہیں\n\nاب تک تو جو قسمت نے دکھایا وہی دیکھا\nآئندہ ہو کیا نفع و ضرر دیکھ رہے ہیں\n\nپہلے تو سنا کرتے تھے عاشق کی مصیبت\nاب آنکھ سے وہ آٹھ پہر دیکھ رہے ہیں\n\nکیوں کفر ہے دیدار صنم حضرت واعظ\nاللہ دکھاتا ہے بشر دیکھ رہے ہیں\n\nخط غیر کا پڑھتے تھے جو ٹوکا تو وہ بولے\nاخبار کا پرچہ ہے خبر دیکھ رہے ہیں\n\nپڑھ پڑھ کے وہ دم کرتے ہیں کچھ ہاتھ پر اپنے\nہنس ہنس کے مرے زخم جگر دیکھ رہے ہیں\n\nمیں داغؔ ہوں مرتا ہوں ادھر دیکھیے مجھ کو\nمنہ پھیر کے یہ آپ کدھر دیکھ رہے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D9%84%D9%88%DA%AF_%D8%AC%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%88%DB%81_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سب ماسوائے عشق فریب سراب ہے", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب ماسوائے عشق فریب سراب ہے\nمیں بھی ہوں خواب میری جوانی بھی خواب ہے\n\nہے بوئے گل کہیں کہیں رنگ شراب ہے\nہر چیز میں شریک کسی کا شباب ہے\n\nمیری نظر سوال ہے اور برملا سوال\nان کی نظر جواب ہے اور لا جواب ہے\n\nدل کارزار عشق و وفا میں ہے پیش پیش\nطوفاں کے سامنے ہے اگرچہ حباب ہے\n\nشمع جمال دوست کی اف رے تجلیاں\nکونین ایک دائرہ التہاب ہے\n\nوہ حسن انتخاب جہاں ہے اگر تو ہو\nمیری بھی دو جہاں میں نظر انتخاب ہے\n\nآزاد دو جہاں ہوں سلامت غرور عشق\nاب میری بے خودی بھی خودی کا جواب ہے\n\nعرفان دل نہیں تجھے اے شکوہ سنج دوست\nاس آئنے میں راز شہود و حجاب ہے\n\nاک حسن بے نیاز جہاں تھا وہیں رہا\nورنہ ہر انقلاب کے بعد انقلاب ہے\n\nدنیائے عشق دیر نہیں ہے حرم نہیں\nیہ سرزمیں ورائے جہان خراب ہے\n\nطوفاں کی ٹھوکروں میں ہمیشہ سے ہوں ظفرؔ\nوہ شمع ہوں ہواؤں میں جو شعلہ تاب ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D9%85%D8%A7%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "سب مخالف جب کنارے ہو گئے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب مخالف جب کنارے ہو گئے\nہم میں اور اس میں اشارے ہو گئے\n\nآئے اور بیٹھے نہ کچھ شکوہ نہیں\nیہ غنیمت ہے کہ بارے ہو گئے\n\nجب چڑھ آئی رو بہ رو فوج جنوں\nہم بھی سنمکھ ہو اتارے ہو گئے\n\nہجر نے اس کو جلایا اس قدر\nداغ سینے پر انگارے ہو گئے\n\nجانتے تھے اپنے ہم ہوش و حواس\nیک نگہ میں سب تمہارے ہو گئے\n\nچشم تو تیغے تھے آگے ہی میاں\nسرمہ دینے سے دو دھارے ہو گئے\n\nکان کے موتی تری زلفوں میں رات\nخلق کی نظروں میں تارے ہو گئے\n\nجب ہوئے حاتمؔ ہم اس سے آشنا\nدوست بھی دشمن ہمارے ہو گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D9%85%D8%AE%D8%A7%D9%84%D9%81_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "سب میں ہوں پھر کسی سے سروکار بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "سب میں ہوں پھر کسی سے سروکار بھی نہیں\nغافل اگر نہیں ہوں تو ہشیار بھی نہیں\n\nقیمت اگر وہ دیتے ہیں تکرار بھی نہیں\nکچھ ہم کو دل کے دینے میں انکار بھی نہیں\n\nنسبت ہے جسم و روح کی اللہ رے اتحاد\nسبحہ اگر نہیں ہے تو زنار بھی نہیں\n\nبیٹھا ہوں اس کی یاد میں بھولا ہوں غیر کو\nزاہد اگر نہیں ہوں ریاکار بھی نہیں\n\nجائیں وہ قتل غیر کو ہم رشک سے مریں\nایسی تو اپنی جان سے بیزار بھی نہیں\n\nآنا ہو آؤ ورنہ یہ کہہ دو نہ آئیں گے\nسن لو یہ دو ہی باتیں ہیں طومار بھی نہیں\n\nسودا تمام ہو گیا بازار اٹھ گیا\nوہ دل بھی اب نہیں وہ خریدار بھی نہیں\n\nطرز جفا بھی بھول گئی کیا وفا کے ساتھ\nدل دار گر نہیں ہو دل آزار بھی نہیں\n\nلیں گے ہزار در سے پلٹ کر در مراد\nمنعم نہ دیں تو کیا تری سرکار بھی نہیں\n\nبھیجیں گے حسب حال انہیں گو نہ لکھ سکیں\nکیا دامن اور دیدۂ خوں بار بھی نہیں\n\nبلبل چمن کو دیکھ خزاں کے ستم کو دیکھ\nگل کا تو ذکر کیا ہے کہیں خار بھی نہیں\n\nآزاد ہیں شراب کے عادی نہیں حبیبؔ\nاحباب گر پلائیں تو انکار بھی نہیں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D9%88%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سب نقش اس فلک کے نگینے پہ آ رہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب نقش اس فلک کے نگینے پہ آ رہے\nکار جہاں تمام کمینے پہ آ رہے\n\nآگے جو دلبری تھی سو عاشق کشی ہے اب\nجو کام مہر کے تھے سو کینے پہ آ رہے\n\nغصے میں جوش مارا جو دریائے حسن نے\nجلوے نزاکتوں کے پسینے پہ آ رہے\n\nڈرتا ہے دل کہ اس پہ ترقی نہ ہو کہیں\nملنے کے وقت اب تو مہینے پہ آ رہے\n\nتو کچھ نہ بولے اور مزہ ہو کہ میرا ہاتھ\nکاندھے سے تیرے مستی میں سینے پہ آ رہے\n\nدریائے دل کی موج سے خطرہ ہے چشم کو\nمت یہ کہیں اچھل کے سفینے پہ آ رہے\n\nپولی تلے گزر گئی لاکھوں کی عمر اب\nگنبد میں کوئی کون سے جینے پہ آ رہے\n\nجن کا دماغ عرش پہ تھا اب ہیں پائمال\nکوٹھے پہ جو کہ رہتے تھے زینے پہ آ رہے\n\nگنج نہاں سے دل کے تو واقف ہوے نہ ہم\nکیا فائدہ جو زر کے دفینے پہ آ رہے\n\nدو دن کے چاؤ چوز حسنؔ کے وہ ہو چکے\nپھر رفتہ رفتہ اپنے قرینے پہ آ رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D8%A7%D8%B3_%D9%81%D9%84%DA%A9_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DA%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D8%A2_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "سب ٹھاٹھ یہ اک بوند سے قدرت کی بنا ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب ٹھاٹھ یہ اک بوند سے قدرت کی بنا ہے\nیاں اور کسی کی نہ منی ہے نہ منا ہے\n\nبالفرض اگر ہم ہوے حوا کے شکم سے\nآدم کے تئیں دیکھیے وہ کس کا جنا ہے\n\nیاں لوگ دولہن دولہا کے قصے میں پھنسے ہیں\nواں اور بنت ہے نہ بنی ہے نہ بنا ہے\n\nحکمت کا الٹ پھیر نہیں جن کی نظر میں\nوہ کہتے ہیں غافل یہ بقا ہے یہ فنا ہے\n\nلے عرش سے تا فرش جو روشن ہے طلسمات\nیہ نور سب اس نور کی چھلنی سے چھنا ہے\n\nہم کچے سے کچا اسے سمجھے ہیں وگرنہ\nاس دیگ کے چاول میں کنی ہے نہ کنا ہے\n\nملنا بھی غرض کا ہے لڑائی بھی غرض کی\nنہیں اور کسی سے کوئی روٹھا نہ منا ہے\n\nحاجت نہ بر آئی تو وہیں کرنے لگے ہجو\nاور ہو گیا مطلب تو ہیں وصف و ثنا ہے\n\nیابس کہیں مرطوب کہیں گرم کہیں سرد\nمصری میں کہیں زہر ہلاہل میں سنا ہے\n\nایک اس کی دوا سمجھی نہیں جاتی نظیرؔ آہ\nکچھ زور ہی معجون کا نسخہ یہ بنا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D9%88%D9%86%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "سب پہ تو مہربان ہے پیارے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب پہ تو مہربان ہے پیارے\nکچھ ہمارا بھی دھیان ہے پیارے\n\nآ کہ تجھ بن بہت دنوں سے یہ دل\nایک سونا مکان ہے پیارے\n\nتو جہاں ناز سے قدم رکھ دے\nوہ زمین آسمان ہے پیارے\n\nمختصر ہے یہ شوق کی روداد\nہر نفس داستان ہے پیارے\n\nاپنے جی میں ذرا تو کر انصاف\nکب سے نامہربان ہے پیارے\n\nصبر ٹوٹے ہوئے دلوں کا نہ لے\nتو یوں ہی دھان پان ہے پیارے\n\nہم سے جو ہو سکا سو کر گزرے\nاب ترا امتحان ہے پیارے\n\nمجھ میں تجھ میں تو کوئی فرق نہیں\nعشق کیوں درمیان ہے پیارے\n\nکیا کہے حال دل غریب جگرؔ\nٹوٹی پھوٹی زبان ہے پیارے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "سب چلے تیرے آستاں کو چھوڑ", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب چلے تیرے آستاں کو چھوڑ\nبد زباں اب تو اس زباں کو چھوڑ\n\nمت اٹھا یار تیرے کوچے میں\nآن بیٹھے ہیں دو جہاں کو چھوڑ\n\nوقت سختی کے آہ جاتی ہے\nجان بھی جسم ناتواں کو چھوڑ\n\nصحبت راست کب ہو کج سے برآر\nتیر آخر چلا کماں کو چھوڑ\n\nدست بیداد باغباں سے آہ\nہم چلے آخر آشیاں کو چھوڑ\n\nباغ سے وہ پھرا تو مرغ چمن\nلگ چلے ساتھ گلستاں کو چھوڑ\n\nناتوانی سے مثل نقش قدم\nرہے ناچار کارواں کو چھوڑ\n\nہم نشیں کہہ تمام قصۂ عشق\nآج کل پر نہ داستاں کو چھوڑ\n\nیہ مرا حال ہے جو وہ قاتل\nاٹھ گیا دم کے میہماں کو چھوڑ\n\nجس طرح پھیر حلق پر خنجر\nدے کوئی مرغ نیم جاں کو چھوڑ\n\nکر جوانی پہ رحم جرأتؔ کی\nبس غم عشق اس جواں کو چھوڑ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A2%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91"} {"title": "سب کائنات حسن کا حاصل لئے ہوئے", "poet_page": "مصنف:باسط بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب کائنات حسن کا حاصل لئے ہوئے\nبیٹھا ہوں دل میں عشق کی محفل لئے ہوئے\n\nاک اک نظر فریبیٔ ساحل لئے ہوئے\nہر موج سامنے ہے مرا دل لئے ہوئے\n\nسرمایۂ نشاط غم دل لئے ہوئے\nہوں یعنی کیف عشق کا حاصل لئے ہوئے\n\nپھر کشتیٔ حیات ہے گرداب غم کے ساتھ\nطوفان بے نیازیٔ ساحل لئے ہوئے\n\nجی چاہتا ہے تھک کے کہیں بیٹھ جائیے\nآغوش پائے شوق میں منزل لئے ہوئے\n\nجب لطف ہے کہ میں بھی رہوں اپنے ہوش میں\nآؤ مری نگاہ مرا دل لئے ہوئے\n\nوہ مست و محو اپنے فروغ نشاط میں\nمیں مطمئن ہوں درد بھرا دل لئے ہوئے\n\nاے قیس دید اپنے حجابوں سے ہوشیار\nہر پردۂ نگاہ ہے محمل لئے ہوئے\n\nمجھ پر بھی کچھ کرم نگہ نیشتر نواز\nمیں بھی ہوں ایک درد بھرا دل لئے ہوئے\n\nباسطؔ کسی جہت سے نہ ہو آشنا مگر\nہلکا سا اک تصور منزل لئے ہوئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%A7%D8%AA_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D9%84%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "سب کو الجھائے ہوئے ہے زلف پیچاں ان دنوں", "poet_page": "مصنف:ابراہیم عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاجز (1934)", "year": "1934", "text_ur": "سب کو الجھائے ہوئے ہے زلف پیچاں ان دنوں\nکون سنتا ہے مرا حال پریشاں ان دنوں\n\nہو رہا ہوں محو دید روئے جاناں ان دنوں\nکیوں نہ ہوں پھر صورت آئینہ حیراں ان دنوں\n\nمصحف رخ نور افشانی سے بیضاوی ہوا\nہو گئے کیا متحد تفسیر و قرآں ان دنوں\n\nصاحت دل آئنہ ہے اور آنکھیں دوربیں\nکیوں نظر آتا نہیں پھر روئے جاناں ان دنوں\n\nرات دن گوشے میں کب تک عشق لیلائے جمال\nبن کے مجنوں کیجئے سیر بیاباں ان دنوں\n\nاب سکندر پور رشک خطہ شیراز ہے\nلائے ہیں تشریف استاد سخنداں ان دنوں\n\nلکھنؤ کی شاعری منسوخ ہے اس دور میں\nرشک ناسخؔ ہے ہر اک طفل‌ دبستاں ان دنوں\n\nشاعران دہر کو اب ہے پریشانی نصیب\nکرتے ہیں استاد اکمل جمع دیواں ان دنوں\n\nاک جگہ رہنے نہیں دیتی زمانے کی ہوا\nہو رہا ہوں مثل اوراق پریشاں ان دنوں\n\nرات دن عاجزؔ نوازی ان کو اب منظور ہے\nکیوں نہ ہو پھر بستۂ زنجیر احساں ان دنوں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%84%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%BE%DB%8C%DA%86%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%86%D9%88%DA%BA"} {"title": "سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے\nکون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے\n\nگھر سے باہر نہ نکلتا کبھی اپنے خورشید\nہوس گرمیٔ بازار لیے پھرتی ہے\n\nوہ مرے اختر طالع کی ہے واژوں گردش\nکہ فلک کو بھی نگوں سار لیے پھرتی ہے\n\nکر دیا کیا ترے ابرو نے اشارہ قاتل\nکہ قضا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی ہے\n\nجا کے اک بار نہ پھرنا تھا جہاں واں مجھ کو\nبے قراری ہے کہ سو بار لیے پھرتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%B3_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "سب کو گمان بھی کہ میں آگاہ راز تھا", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب کو گمان بھی کہ میں آگاہ راز تھا\nکس درجہ کامیاب فریب مجاز تھا\n\nمثل مہہ دو ہفتہ وہی سرفراز تھا\nجس کی جبین شوق پہ داغ نیاز تھا\n\nپوچھو نہ حال کشمکش یاس و آرزو\nوہ بھی عجیب مرحلۂ جانگداز تھا\n\nجب تک حقیقتوں سے مرا دل تھا بے خبر\nبیچارہ مبتلائے غم امتیاز تھا\n\nجھونکا ہوائے سرو کا رندوں کے واسطے\nخمخانۂ بہار سے حکم جواز تھا\n\nاہل جہاں کے کفر و توہم کا کیا علاج\nآئینہ کہہ رہا ہے کہ آئینہ ساز تھا\n\nمضمر تھے میری ذات میں اسرار کائنات\nمیں آپ راز آپ ہی خود شرح راز تھا\n\nآئیں پسند کیا اسے دنیا کی راحتیں\nجو لذت آشنائے ستم ہائے ناز تھا\n\nخلقت سمجھ رہی تھی جسے اضطراب دل\nپنہاں اسی میں ہستی عاشق کا راز تھا\n\nاچھا ہوا ہمیشہ کو چپ ہو گیا رواںؔ\nاک اک نفس غریب کا ہستی گداز تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "سب کو ہے منظور اس رخسار گل گوں کی طرف", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب کو ہے منظور اس رخسار گل گوں کی طرف\nدیکھتا ہے کون میری چشم پر خوں کی طرف\n\nساتھ ناقہ کے خدا جانے کدھر رم کر گئی\nگرد محمل بھی نہ پہنچی آہ مجنوں کی طرف\n\nجان و دل میں بے طرح بگڑی ہے تیرے عشق میں\nکیجیے دل کی طرف یا جان محزوں کی طرف\n\nزلف و رخ ہے روز و شب کیا دیکھتے رہتے ہو تم\nمنصفی سے ٹک تو دیکھو اپنے مفتوں کی طرف\n\nخضر تک کیجو مدد تو بھی کہ تا بھولے نہ راہ\nناقۂ لیلیٰ چلا ہے آج مجنوں کی طرف\n\nگرچہ ہیں تیری ہی گردش سے نگہ کی ہم خراب\nپر اشارہ اس کا کر دیتے ہیں گردوں کی طرف\n\nکیونکہ آوے چین تیرے وحشیوں کو بعد مرگ\nخاک ہو کر جب تلک جاویں نہ ہاموں کی طرف\n\nنام میں بھی ہے عیاں عاشق کی آشفتہ سری\nدیکھتے تو ہو گے اکثر بید مجنوں کی طرف\n\nبسکہ اس کی زلف کے آشفتہ ہیں ہم اے حسنؔ\nشعر میں بھی دھیان ہے پیچیدہ مضموں کی طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D9%84_%DA%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں\nخاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں\n\nیاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں\nلیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں\n\nتھیں بنات النعش گردوں دن کو پردے میں نہاں\nشب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں\n\nقید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر\nلیکن آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو گئیں\n\nسب رقیبوں سے ہوں ناخوش پر زنان مصر سے\nہے زلیخا خوش کہ محو ماہ کنعاں ہو گئیں\n\nجوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شام فراق\nمیں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں\n\nان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام\nقدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں\n\nنیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں\nتیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں\n\nمیں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیا\nبلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں\n\nوہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار\nجو مری کوتاہیٔ قسمت سے مژگاں ہو گئیں\n\nبسکہ روکا میں نے اور سینے میں ابھریں پے بہ پے\nمیری آہیں بخیۂ چاک گریباں ہو گئیں\n\nواں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب\nیاد تھیں جتنی دعائیں صرف درباں ہو گئیں\n\nجاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا\nسب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہو گئیں\n\nہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم\nملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں\n\nرنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج\nمشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں\n\nیوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاں\nدیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%D9%88_%DA%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%85%D8%A7%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سب کہتے ہیں دیکھ اس کو سر راہ زمیں پر", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب کہتے ہیں دیکھ اس کو سر راہ زمیں پر\nکس راہ سے آیا یہ اتر ماہ زمیں پر\n\nبیمار کی تیرے تو کہانی ہے بڑی پر\nقصہ ہے اب اک دم میں ہی کوتاہ زمیں پر\n\nتو چھت پہ چڑھا اس کے ہے ایسا کہ بس آخر\nچھوڑے گی اتروا کے تری چاہ زمیں پر\n\nیہ وہ دل مضطر ہے کہ جوں برق تپیدہ\nگاہے بہ فلک آئے نظر گاہ زمیں پر\n\nکچھ سوچ کے بس کانپنے لگتا ہوں میں جرأتؔ\nپڑتا ہے قدم زور سے جب آہ زمیں پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "سب کہتے ہیں مرکز بدی ہے دنیا", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "سب کہتے ہیں مرکز بدی ہے دنیا\nکس کی مردود کی ہوئی ہے دنیا\nشاکی دنیا کا ہے ہر اک دنیا میں\nآخر کس کے لیے بنی ہے دنیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DA%A9%D8%B2_%D8%A8%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیں\nکٹتی ہیں آنکھوں ہی میں ہجر کی ساری راتیں\n\nہائے کیا پیار سے سوتے تھے لپٹ کر اے جان\nیاد ہر دم مجھے آتی ہیں وہ پیاری راتیں\n\nدونوں زلفوں میں ہیں خورشید سے تاباں عارض\nروز روشن کے برابر ہیں تمہاری راتیں\n\nجو گھڑی ہے نظر آتی ہے مجھے ایک پہاڑ\nہیں غضب فرقت محبوب کی بھاری راتیں\n\nہجر میں صبح سے تا شام بجائے شبنم\nمیری آنکھوں سے لہو رکھتی ہیں جاری راتیں\n\nسن پڑے رہتے ہیں بے یار اندھیرے میں ہم\nہیں شب گور کے مانند ہماری راتیں\n\nشب تاریک جدائی میں یہ چلاتا ہوں\nدق بہت کرتی ہیں یا حضرت باری راتیں\n\nتیری زلفوں کے لیے شانہ بکف ہے ہر دن\nاور کرتی ہیں تری آئینہ داری راتیں\n\nفصل گل میں وہ گل تر نہیں گل کر دے چراغ\nکہ سیہ چاہئیں اے باد بہاری راتیں\n\nمرغ زرین فلک پر ہے یقین خفاش\nکس قدر میرے دنوں میں ہوئیں ساری راتیں\n\nدن کے بدلے بھی یہی آتی ہیں غم خواری کو\nمجھ سے رکھتی ہیں بہت ہجر میں یاری راتیں\n\nدن تو ناسخؔ کے بہ ہر حال گزر جاتے ہیں\nپر جدائی میں بہت لاتی ہیں خواری باتیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A8_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سب کے جلوے نظر سے گزرے ہیں", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب کے جلوے نظر سے گزرے ہیں\nوہ نہ جانے کدھر سے گزرے ہیں\n\nموج آواز پائے یار کے ساتھ\nنغمے دیوار و در سے گزرے ہیں\n\nآج آیا ہے اپنا دھیان ہمیں\nآج دل کے نگر سے گزرے ہیں\n\nگھر کے گوشے میں تھے کہیں پنہاں\nجتنے سیلاب گھر سے گزرے ہیں\n\nزلف کے خم ہوں یا جہان کے غم\nمر مٹے ہم جدھر سے گزرے ہیں\n\nصدف تہ نشیں بھی کانپ گیا\nکیسے طوفان سر سے گزرے ہیں\n\nباغ شاداب موج گل ہی نہیں\nسیل خوں بھی ادھر سے گزرے ہیں\n\nجب چڑھی ہے کماں کہیں عابدؔ\nتیرے میرے جگر سے گزرے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%92_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیں\nہم سر زلف گرہ گیر لیے پھرتے ہیں\n\nکون تھا صید وفادار کہ اب تک صیاد\nبال و پر اس کے ترے تیر لیے پھرتے ہیں\n\nتو جو آئے تو شب تار نہیں یاں ہر سو\nمشعلیں نالۂ شب گیر لیے پھرتے ہیں\n\nتیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت\nہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں\n\nمعتکف گرچہ بظاہر ہوں تصور میں مگر\nکو بہ کو ساتھ یہ بے پیر لیے پھرتے ہیں\n\nرنگ خوبان جہاں دیکھتے ہی زرد کیا\nآپ زور آنکھوں میں اکسیر لیے پھرتے ہیں\n\nجو ہے مرتا ہے بھلا کس کو عداوت ہوگی\nآپ کیوں ہاتھ میں شمشیر لیے پھرتے ہیں\n\nسرکشی شمع کی لگتی نہیں گر ان کو بری\nلوگ کیوں بزم میں گل گیر لیے پھرتے ہیں\n\nتا گنہ گاری میں ہم کو کوئی مطعوں نہ کرے\nہاتھ میں نامۂ تقدیر لیے پھرتے ہیں\n\nقصر تن کو یوں ہی بنوا یہ بگولے ناسخؔ\nخوب ہی نقشۂ تعمیر لیے پھرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AC%DB%8C%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سبب کیا پوچھتے ہو عشق کی آشفتہ حالی کا", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سبب کیا پوچھتے ہو عشق کی آشفتہ حالی کا\nدوانہ ہے کسو دلبر کی وضع لاوبالی کا\n\nبھرا ہے شہد کانوں میں سماعت کی حلاوت سے\nکہوں کیا ذائقہ شیریں دہن کی خوش مقالی کا\n\nتری آنکھوں کے آگے رو کے آہ سرد بھرتا ہوں\nکہ نت ہے ذوق مستوں کو ہوائے برشگالی کا\n\nدل بے تاب جیوں سیماب حسرت سے تڑپتا ہے\nادا سے جب لہکتا ہیگا موتی اس کی بالی کا\n\nکیا ہوں عشق میں تعریف اس مہ رو کے ابرو کی\nہر اک مصرع ہے میرا رشک دیوان ہلالی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%B4%D9%81%D8%AA%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "سبحہ سے مطلب نہ کچھ زنار سے", "poet_page": "مصنف:منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سبحہ سے مطلب نہ کچھ زنار سے\nہیں جدا ہم کافر و دیں دار سے\n\nعشق ہے اس ابروئے خم دار سے\nکاٹوں گا اک دن گلا تلوار سے\n\nدل مرا اٹکا ہے چشم یار سے\nہے محبت مردم بیمار سے\n\nیوں عوض لوں جی میں ہے اغیار سے\nگھر جلا دوں آہ آتش بار سے\n\nہیں عیاں کچھ عشق کے آثار سے\nشعلے اٹھتے ہیں دل افگار سے\n\nکیوں نہ دل اپنا نزار و زار ہو\nکچھ نظر آتے ہو تم بیزار سے\n\nرشک سے دل میں نہ کیوں جل جائے شمع\nلو نکلتی ہے ترے رخسار سے\n\nہجر میں ہو کیوں نہ لذت وصل کی\nہے مزا انکار میں اقرار سے\n\nکوچۂ کاکل میں کھو کر نقد دل\nمول سودا لائے ہم بازار سے\n\nجھانکے روزن سے جو تجھ کو رخنہ گر\nپھوڑ ڈالوں سر کو میں دیوار سے\n\nجان آفت میں پڑی ہے اے طبیب\nموت بہتر ہجر کے آزار سے\n\nہر قدم پر شور محشر ہے بپا\nپستے ہیں دل آپ کی رفتار سے\n\nخضر لا کر دیں اگر آب بقا\nمیں نہ بدلوں شربت دیدار سے\n\nتیغ ابرو کا جو بوسہ دے تو دے\nورنہ ظالم قتل کر تلوار سے\n\nخلعت عریانی اور جاگیر دشت\nہم نے پایا عشق کی سرکار سے\n\nسرو کے چہرہ کمر سینہ کہاں\nاس کو کیا تشبیہ قد یار سے\n\nہجر میں جنگل سے ہے گلشن سوا\nگل بھی مجھ کو کم نہیں ہیں خار سے\n\nجائے آسائش نہیں ہے دوسری\nبڑھ کے تیرے سایۂ دیوار سے\n\nروز تنہائی میں رہتی ہے یہاں\nگفتگو پہروں خیال یار سے\n\nزلف و عارض چشم و ابرو خال و خط\nدل نہیں بچتا انہیں دو چار سے\n\nبوسہ اب قند مکرر ہو گیا\nدونی لذت ہو گئی تکرار سے\n\nشرط میں بوسوں کی بھی کیا لطف ہے\nجیت میں کم تر مزا ہے ہار سے\n\nایک گل رو پر ہوا دل داغ داغ\nپھول لائے آج ہم گل زار سے\n\nکوئی میکش پھر نہ بیٹھا ایک دم\nمیں جو اٹھا خانۂ خمار سے\n\nبلبلیں اس رشک گل کے ہجر میں\nنوچتی ہیں اپنے پر منقار سے\n\nسحرؔ بھیجیں گے غزل یہ یار کو\nشوق ہے اس کو مرے اشعار سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8%D8%AD%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B2%D9%86%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہی", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہی\nزاہد عیار کیوں کیسی کہی\n\nکٹ گئے اغیار کیوں کیسی کہی\nچھا گئی ہر بار کیوں کیسی کہی\n\nہیں یہ سب اقرار جھوٹے یا نہیں\nکیجئے اقرار کیوں کیسی کہی\n\nروٹھنے سے آپ کا مطلب یہ ہے\nاس کو آئے پیار کیوں کیسی کہی\n\nکہہ دیا میں نے سحر ہے جھوٹ موٹ\nہو گئے بیدار کیوں کیسی کہی\n\nایک تو کہتے ہیں صدہا بھپتیاں\nاور پھر اصرار کیوں کیسی کہی\n\nناصحا یہ بحث دیوانوں کے ساتھ\nعقل کی ہے مار کیوں کیسی کہی\n\nیا خفا تھے یا ذرا سی بات پر\nہو گئی بوچھار کیوں کیسی کہی\n\nمجھ سے بیعت کر لے تو بھی واعظا\nہاتھ لانا یار کیوں کیسی کہی\n\nسرمہ دے کر دل کے لینے کا ہے قصد\nآنکھ تو کر چار کیوں کیسی کہی\n\nجان دے دے چل کے در پر یار کے\nاو دل بیمار کیوں کیسی کہی\n\nکیا ہی بگڑے ہو پتے کی بات پر\nہو گئے بیزار کیوں کیسی کہی\n\nاب تو حیدرؔ اور ہی کچھ رنگ ہیں\nمانتا ہوں یار کیوں کیسی کہی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8%D8%AD%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%81%DB%8C"} {"title": "سبزہ بالائے ذقن دشمن ہے خلق اللہ کا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سبزہ بالائے ذقن دشمن ہے خلق اللہ کا\nرہروؤں کی موت ہے خس پوش ہونا چاہ کا\n\nمل بٹھانا ہے فلک منظور کس دل خواہ کا\nبرج میزان میں نہیں بے وجہ آنا ماہ کا\n\nبس کہ پھرتا ہے خیال آنکھوں میں اس دل خواہ کا\nرنگ رو کے اڑنے میں عالم ہے گرد راہ کا\n\nصفحۂ دل سے اٹھاؤں کس طرح نقش صنم\nملک میں ہوتا کسی کے گھر نہیں اللہ کا\n\nکم بضاعت سے خیال خام ہے کثرت کو فیض\nاکتفا کرتا نہیں لشکر کو پانی چاہ کا\n\nراہ ہستی میں ہے رخسار صنم سے زندگی\nتازہ دم کرتا مسافر کو ہے تکیہ راہ کا\n\nلاش بھی گلیوں میں کھنچوا کر کیا ہے قتل یار\nطول ہی دینا مزا ہے قصۂ کوتاہ کا\n\nپست فطرت سے سوائے رنج کچھ حاصل نہیں\nپا بہ گل کشتی کو کر دیتا ہے پانی تھاہ کا\n\nچھوڑ کر عشق صنم زاہد نہ ہو مفتون حور\nکب یقیں لاتا ہے دانا دور کی افواہ کا\n\nدل کو ابروئے صنم کا شیفتہ کرتی ہے آنکھ\nدرس دیتا ہے معلم پہلے بسم اللہ کا\n\nاے صنم بندہ نوازی ہے صفت اللہ کی\nحیف ہے خالی پھرے سائل تری درگاہ کا\n\nمائل معشوقۂ خسرو نہ ہو اے کوہ کن\nشیر کے جھوٹے کو کھانا کام ہے روباہ کا\n\nجوش اشک آتشیں کا باعث آہ سرد ہے\nگرم کرتی ہے ہوا جاڑے کی پانی چاہ کا\n\nنزع میں آیا نہ بالیں پر مرے یار اس لیے\nآخر ہر ماہ ہے معمول چھپنا ماہ کا\n\nہوں وہ ابتر طفل جس کو جان کھونا کھیل ہے\nکنج مرقد ہے گھروندا میری بازی گاہ کا\n\nآسماں روئے زمیں ہے یار ماہ چار دہ\nحلقۂ احباب گرد اس کے ہے ہالہ ماہ کا\n\nوہ دہن ہے چشمۂ شیریں تبسم موج ہے\nوہ ذقن ہے چاہ خال اس میں توا ہے چاہ کا\n\nناتواں میری طرح سے ہے جو عشق حسن سے\nکوہ سے بھاری ترازو میں ہو پلہ کاہ کا\n\nشعر کہتا ہوں میں اے آتشؔ خدا کی حمد میں\nمیری ہر اک بیت پر عالم ہے بیت اللہ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8%D8%B2%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B0%D9%82%D9%86_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%84%D9%82_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "سبزہ تمہارے رخ کے لئے تنگ ہو گیا", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سبزہ تمہارے رخ کے لئے تنگ ہو گیا\nطوطی کا عکس آئنے میں زنگ ہو گیا\n\nپست و بلند دہر میں کھاتا ہوں ٹھوکریں\nایسا سمند عمر رواں لنگ ہو گیا\n\nبسمل کو بھی تڑپنے کی ملتی نہیں جگہ\nکیا عرصئہ حیات جہاں تنگ ہو گیا\n\nہم زاد سے بھی یہ تن لاغر ہوا سبک\nتولا تو اپنے سایہ کا پاسنگ ہو گیا\n\nجوش جنوں نے جسم کے پرزے اڑا دئیے\nرخت برہنگی بھی مجھے تنگ ہو گیا\n\nاس بت سے جسم زار جو لپٹا شب وصال\nعالم کو احتمال رگ سنگ ہو گیا\n\nمضمون آہ گرم نے جلوہ دکھا دیا\nاڑ کر ہوا میں نامہ مرا چنگ ہو گیا\n\nنالے کئے تصور گیسو میں رات بھر\nدل ہم صفیر مرغ شب آہنگ ہو گیا\n\nسر کٹ کے گر پڑا اسی قاتل کے پاؤں پر\nجلاد سے ملاپ دم جنگ ہو گیا\n\nاڑ اڑ کے میرے چہرہ پر اے شوخ رہ گیا\nمرغ شکستہ بال مرا رنگ ہو گیا\n\nکرتا رہا لغات کی تحقیق عمر بھر\nاعمال نامہ نسخۂ فرہنگ ہو گیا\n\nمنہ تک بھی ضعف سے نہیں آ سکتی دل کی بات\nدروازہ گھر سے سیکڑوں فرسنگ ہو گیا\n\nمحروم ہوں میں خدمت استاد سے منیرؔ\nکلکتہ مجھ کو گور سے بھی تنگ ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8%D8%B2%DB%81_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سبزۂ خط ہے پیمبر رخ ہے قرآن بہار", "poet_page": "مصنف:نسیم میسوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سبزۂ خط ہے پیمبر رخ ہے قرآن بہار\nتو ہے قبلہ تو ہے کعبہ تو ہے ایمان بہار\n\nمیرے رونے سے ہوئی فصل گلستان بہار\nہو گیا میزاب دیدہ میر سامان بہار\n\nسرو کو جوگی سمجھ کر فال کھلوانے لگی\nکیا خزاں میں رہتے ہیں بلبل کو ارمان بہار\n\nشاخ گل جنبش کہاں کرتے ہیں متوالوں کی طرح\nبلبلوں کے بوسے لے لیتے ہیں مستان بہار\n\nہجر بے امید وصلت میں کوئی جینا بھی ہے\nبلبلوں کے ہوتے ہیں کچھ عہد و پیمان بہار\n\nسرو کے مصرع کے معنی بلبلوں سے پوچھ لو\nعندلیبوں سے سنو شرح گلستان بہار\n\nزلف گل رو کے گلے مل کر جو آئے گی نسیمؔ\nہوگی سنبل افعیٔ گنج شہیدان بہار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8%D8%B2%DB%82_%D8%AE%D8%B7_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%B1%D8%AE_%DB%81%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1"} {"title": "سبق ایسا پڑھا دیا تو نے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سبق ایسا پڑھا دیا تو نے\nدل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے\n\nہم نکمے ہوئے زمانے کے\nکام ایسا سکھا دیا تو نے\n\nکچھ تعلق رہا نہ دنیا سے\nشغل ایسا بتا دیا تو نے\n\nکس خوشی کی خبر سنا کے مجھے\nغم کا پتلا بنا دیا تو نے\n\nکیا بتاؤں کہ کیا لیا میں نے\nکیا کہوں میں کی کیا دیا تو نے\n\nبے طلب جو ملا ملا مجھ کو\nبے غرض جو دیا دیا تو نے\n\nعمر جاوید خضر کو بخشی\nآب حیواں پلا دیا تو نے\n\nنار نمرود کو کیا گلزار\nدوست کو یوں بچا دیا تو نے\n\nدست موسیٰ میں فیض بخشش ہے\nنور و لوح و عصا دیا تو نے\n\nصبح موج نسیم گلشن کو\nنفس جاں فزا دیا تو نے\n\nشب تیرہ میں شمع روشن کو\nنور خورشید کا دیا تو نے\n\nنغمہ بلبل کو رنگ و بو گل کو\nدلکش و خوش نما دیا تو نے\n\nکہیں مشتاق سے حجاب ہوا\nکہیں پردہ اٹھا دیا تو نے\n\nتھا مرا منہ نہ قابل لبیک\nکعبہ مجھ کو دکھا دیا تو نے\n\nجس قدر میں نے تجھ سے خواہش کی\nاس سے مجھ کو سوا دیا تو نے\n\nرہبر خضر و ہادی الیاس\nمجھ کو وہ رہنما دیا تو نے\n\nمٹ گئے دل سے نقش باطل سب\nنقشہ اپنا جما دیا تو نے\n\nہے یہی راہ منزل مقصود\nخوب رستے لگا دیا تو نے\n\nمجھ گنہ گار کو جو بخش دیا\nتو جہنم کو کیا دیا تو نے\n\nداغؔ کو کون دینے والا تھا\nجو دیا اے خدا دیا تو نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8%D9%82_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%BE%DA%91%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92"} {"title": "سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری\nنہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزری\n\nملیں تو فائزان منزل مقصود سے پوچھوں\nگزر گاہ محبت سے گزر جانے پہ کیا گزری\n\nکسی کو میرے کاشانے سے ہمدردی نہیں شاید\nہر اک یہ پوچھتا ہے میرے کاشانے پہ کیا گزری\n\nنہ ہو جو زندگی انجام وہ وجدان ناقص ہے\nحضور شمع بعد وجد پروانے پہ کیا گزری\n\nبتائیں برہمن اور شیخ ان کی خانہ جنگی میں\nخدا خانے پہ کیا بیتی صنم خانے پہ کیا گزری\n\nتو اپنے ہی مآل سوز غم پر غور کر پہلے\nتجھے اس سے نہیں کچھ بحث پروانے پہ کیا گزری\n\nکسی حکمت سے کر دے کوئی گویا مرنے والوں کو\nیہ راز اب تک ہے سربستہ کہ مر جانے پہ کیا گزری\n\nتری ہر سو تجلی اور میری ہر طرف نظریں\nتجھے تو یاد ہوگا آئینہ خانے پہ کیا گزری\n\nزباں منہ میں ہے عرض حال کر تو نے تو دیکھا ہے\nکہ خوئے ضبط و خاموشی سے پروانے پہ کیا گزری\n\nوہ کہتا تھا خدا جانے بہار آئے تو کیا گزرے\nخدا جانے بہار آئی تو دیوانے پہ کیا گزری\n\nیہ ہے سیمابؔ اک نا گفتہ بہ افسانہ کیا کہیے\nوطن سے کنج غربت میں چلے آنے پہ کیا گزری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8%D9%88_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%8C"} {"title": "سبھوں سے یوں تو ہے دل آپ کا خوش", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سبھوں سے یوں تو ہے دل آپ کا خوش\nاگر پوچھو تو ہے ہم سے ہی نا خوش\n\nخوشی تیری ہی ہے منظور ہم کو\nبلا سے گر کوئی نا خوش ہو یا خوش\n\nرواق چشم و قصر دل کیا سیر\nنہ کی پر آپ نے یاں کوئی جا خوش\n\nجفا کر یا وفا مختار ہے تو\nمجھے یکساں ہے کیا نا خوش ہے کیا خوش\n\nنہیں اس میں تو غیر از جور لیکن\nمجھے کیا جانے کیا آئی ادا خوش\n\nکیا ہے گرچہ نا خوش تو نے ہم کو\nرکھے پر اے بتاں تم کو خدا خوش\n\nخوشی ہے سب کو روز عید کی یاں\nہوئے ہیں مل کے باہم آشنا خوش\n\nبھلا کچھ بھی مناسب ہے مری جاں\nکہ ہو تو آج کے دن مجھ سے نا خوش\n\nبتا ایسی کوئی تدبیر بیدارؔ\nکہ جس سے ہووے میرا دل ربا خوش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%B4"} {"title": "سبھی انداز حسن پیارے ہیں", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سبھی انداز حسن پیارے ہیں\nہم مگر سادگی کے مارے ہیں\n\nاس کی راتوں کا انتقام نہ پوچھ\nجس نے ہنس ہنس کے دن گزارے ہیں\n\nاے سہاروں کی زندگی والو\nکتنے انسان بے سہارے ہیں\n\nلالہ و گل سے تجھ کو کیا نسبت\nنا مکمل سے استعارے ہیں\n\nہم تو اب ڈوب کر ہی ابھریں گے\nوہ رہیں شاد جو کنارے ہیں\n\nشب فرقت بھی جگمگا اٹھی\nاشک غم ہیں کہ ماہ پارے ہیں\n\nآتش عشق وہ جہنم ہے\nجس میں فردوس کے نظارے ہیں\n\nوہ ہمیں ہیں کہ جن کے ہاتھوں نے\nگیسوئے زندگی سنوارے ہیں\n\nحسن کی بے نیازیوں پہ نہ جا\nبے اشارے بھی کچھ اشارے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گا\nجو کی کچھ شکایت تو جھنجھلائیے گا\n\nوہ برق تجلی کی جو جلوہ گاہ\nوہیں حضرت دل نہ رہ جائیے گا\n\nادب کی جگہ مرنے والو ہے قبر\nسمجھ کر یہاں پاؤں پھیلائیے گا\n\nغریب اب تو قدموں میں ہی آ پڑا\nدل ناتواں کو نہ ٹھکرائیے گا\n\nخبر بھی ہے کچھ بار عصیاں کی شوقؔ\nہوئی واں جو پرسش تو شرمایئے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D8%B4_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا\nوہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا\n\nبیاں کیا کیجیے بیداد کاوش ہائے مژگاں کا\nکہ ہر یک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیح مرجاں کا\n\nنہ آئی سطوت قاتل بھی مانع میرے نالوں کو\nلیا دانتوں میں جو تنکا ہوا ریشہ نیستاں کا\n\nدکھاؤں گا تماشا دی اگر فرصت زمانے نے\nمرا ہر داغ دل اک تخم ہے سرو چراغاں کا\n\nکیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے\nکرے جو پرتو خورشید عالم شبنمستاں کا\n\nمری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی\nہیولیٰ برق خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا\n\nاگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر\nمدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا\n\nخموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیں\nچراغ مردہ ہوں میں بے زباں گور غریباں کا\n\nہنوز اک پرتو نقش خیال یار باقی ہے\nدل افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا\n\nبغل میں غیر کی آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ\nسبب کیا خواب میں آ کر تبسم ہائے پنہاں کا\n\nنہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگا\nقیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا\n\nنظر میں ہے ہماری جادۂ راہ فنا غالبؔ\nکہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%A6%D8%B4_%DA%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%AC%D8%B3_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%B1%D8%B6%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں\nابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں\n\nتہی، زندگی سے نہیں یہ فضائیں\nیہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں\n\nقناعت نہ کر عالمِ رنگ و بُو پر\nچمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں\n\nاگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم\nمقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں\n\nتو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا\nترے سامنے آسماں اور بھی ہیں\n\nاسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جا\nکہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں\n\nگئے دن کہ تنہا تھا مَیں انجمن میں\nیہاں اب مِرے رازداں اور بھی ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ستارہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "قمر کا خوف کہ ہے خطرۂ سحَر تجھ کو\nمآلِ حُسن کی کیا مِل گئی خبر تجھ کو؟\nمتاعِ نُور کے لُٹ جانے کا ہے ڈر تجھ کو\nہے کیا ہراسِ فنا صورتِ شرر تجھ کو؟\nزمیں سے دُور دیا آسماں نے گھر تجھ کو\nمثالِ ماہ اُڑھائی قبائے زر تجھ کو\nغضب ہے پھر تری ننھّی سی جان ڈرتی ہے!\nتمام رات تری کانپتے گزرتی ہے\n\nچمکنے والے مسافر! عجب یہ بستی ہے\nجو اوج ایک کا ہے، دوسرے کی پستی ہے\nاجل ہے لاکھوں ستاروں کی اک ولادتِ مہر\nفنا کی نیند مئے زندگی کی مستی ہے\nوداعِ غنچہ میں ہے رازِ آفرینشِ گُل\nعدم، عدم ہے کہ آئینہ دارِ ہستی ہے!\nسکُوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں\nثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%81"} {"title": "ستارے کاپیغام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "مجھے ڈرا نہیں سکتی فضا کی تاریکی\nمِری سرشت میں ہے پاکی و دُرخشانی\nتُو اے مسافرِ شب! خود چراغ بن اپنا\nکر اپنی رات کو داغِ جگر سے نُورانی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85"} {"title": "ستم ایجاد رہوگے ستم ایجاد رہے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم ایجاد رہوگے ستم ایجاد رہے\nاس میں اب شاد رہے یا کوئی ناشاد رہے\n\nآپ نے عہد کیا ہے مری غم خواری کا\nاب اجازت ہو تو یہ عہد مجھے یاد رہے\n\nگر مری توبہ کو مقبول شکست توبہ\nمیری تدبیر میں تقدیر کی افتاد رہے\n\nقید ہستی سے بہت تم نے کیے ہیں آزاد\nکوئی اس قید محبت کی بھی میعاد رہے\n\nوہ خدائی ہو تو ہو شان تجلی تو نہیں\nجس تجلی میں نگاہوں کو خدا یاد رہے\n\nظلم ہے تجھ سے بہ تقریب تکلف منسوب\nورنہ تقدیر وفا یہ ہے کہ برباد رہے\n\nدل آباد کا فانیؔ کوئی مفہوم نہیں\nہاں مگر جس میں کوئی حسرت برباد رہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھو", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھو\nامتحاں عشق و ہوس کا یہ نیا رکھا ہے\nہر گھڑی عاشق مضطر سے وہ ملتی ہے شبیہ\nنقشہ بگڑی ہوئی صورت کا بنا رکھا ہے\nشکوۂ ہجر سے اے داغؔ اثر کی امید\nآپ نے نام شکایت کا دعا رکھا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "ستم تیر نگاہ دل ربا تھا", "poet_page": "مصنف:ہجر ناظم علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم تیر نگاہ دل ربا تھا\nہمارے حق میں پیغام قضا تھا\n\nہوا اچھا کہ وہ گھر سے نہ نکلے\nکسے معلوم کس کے دل میں کیا تھا\n\nمجھے وہ یاد کرتے ہیں یہ کہہ کر\nخدا بخشے نہایت باوفا تھا\n\nامید وصل کی حالت نہ پوچھو\nفقط اک آسرا ہی آسرا تھا\n\nبہت اچھا ہوا وہ لے گئے دل\nبڑا ضدی نہایت بے وفا تھا\n\nنہیں معلوم اس کمسن کو یہ بھی\nہمارے دل میں کیا ہے اور کیا تھا\n\nنہ پوچھو جلوہ گاہ ناز کا جمال\nہر اک محو جمال دل ربا تھا\n\nسنا ہے مےکشی کرنے لگا ہجرؔ\nوہ مرد باخدا تو پارسا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ستم دوست فکر عداوت کہاں تک", "poet_page": "مصنف:آزاد انصاری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم دوست فکر عداوت کہاں تک\nکہاں تک وفا سے بغاوت کہاں تک\n\nخلاف سلوک محبت کے خوگر\nخلاف سلوک محبت کہاں تک\n\nمسلسل ستم کی حکومت کے بانی\nمسلسل ستم کی حکومت کہاں تک\n\nاٹھو درد کی جستجو کر کے دیکھیں\nتلاش سکون طبیعت کہاں تک\n\nکبھی حکم پیر مغاں بھی بجا لا\nفقط اتباع شریعت کہاں تک\n\nکبھی کچھ نتیجہ نکالو تو جانیں\nفقط خبط معلوم و علت کہاں تک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D9%88%D8%AA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "ستم سا کوئی ستم ہے ترا پناہ تری", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم سا کوئی ستم ہے ترا پناہ تری\nپڑی ہے چار طرف اک تراہ تراہ تری\n\nطریق پر جو نہیں تو ہے رہ نہ میرے ساتھ\nوہ راہ میری ہے اے جان سن یہ راہ تری\n\nدلا تو عشق میں ہر لحظہ اشک خونیں رو\nکہ سرخ روئی اسی سے ہے رو سیاہ تری\n\nمیں اتنا بازیٔ الفت میں کیوں نہ ہوں ششدر\nجو مانگو پانچ دو پڑتے ہیں خواہ مخواہ تری\n\nغزل جوشت ہو احساںؔ تو واہ واہ نہ کر\nکہے گی خلق کہ وائے ہے واہ واہ تری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%BE%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ستم سے گو یہ ترے کشتۂ وفا نہ رہا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم سے گو یہ ترے کشتۂ وفا نہ رہا\nرہے جہان میں تو دیر میں رہا نہ رہا\n\nکب اس کا نام لیے غش نہ آ گیا مجھ کو\nدل ستم زدہ کس وقت اس میں جا نہ رہا\n\nملانا آنکھ کا ہر دم فریب تھا دیکھا\nپھر ایک دم میں وہ بے دید آشنا نہ رہا\n\nموئے تو ہم پہ دل پر کو خوب خالی کر\nہزار شکر کسو سے ہمیں گلہ نہ رہا\n\nادھر کھلی مری چھاتی ادھر نمک چھڑکا\nجراحت اس کو دکھانے کا اب مزہ نہ رہا\n\nہوا ہوں تنگ بہت کوئی دن میں سن لیجو\nکہ جی سے ہاتھ اٹھا کر وہ اٹھ گیا نہ رہا\n\nستم کا اس کے بہت میں نزار ہوں ممنون\nجگر تمام ہوا خون و دل بجا نہ رہا\n\nاگرچہ رہ گئے تھے استخوان و پوست ولے\nلگائی ایسی کہ تسمہ بھی پھر لگا نہ رہا\n\nحمیت اس کے تئیں کہتے ہیں جو میرؔ میں تھی\nگیا جہاں سے پہ تیری گلی میں آ نہ رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%B4%D8%AA%DB%82_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "ستم فراق کے صدموں نے اے نگار کیا", "poet_page": "مصنف:عنایت اللہ روشن بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم فراق کے صدموں نے اے نگار کیا\nجگر کو خون کیا دل کو داغدار کیا\n\nیہ شعبدے ہیں ترے انقلاب دہر نہیں\nارے فقیر اسے تو نے شہریار کیا\n\nکبھی بہشت کے قابل نہ تھے مرے اعمال\nکریم تیرے کرم نے امیدوار کیا\n\nہزار حیف کہ مرقد پہ بھی ہوا اندھیر\nہوا نے کشتہ چراغ سر مزار کیا\n\nستم شعار ستم کا خراب ہے انجام\nبرا کیا ستم اے چرخ اختیار کیا\n\nعدم میں قافلے والے پہنچ گئے روشنؔ\nیہ گھر اجاڑ کے آباد وہ دیار کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%B5%D8%AF%D9%85%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ستم میں بھی تو پہلو ان کی زینت کہ نکلتے ہیں", "poet_page": "مصنف:راز رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم میں بھی تو پہلو ان کی زینت کہ نکلتے ہیں\nہمارے خوں شدہ دل کو حسیں تلووں سے ملتے ہیں\n\nشگاف سینہ سوراخ جگر چاک دل عاشق\nمحبت کی گلی سے سیکڑوں رستے نکلتے ہے\n\nتمہاری مانگ کے عاشق ہیں شیخ و برہمن دونوں\nیہ وہ رستہ ہے جس پر دوست دشمن ساتھ چلتے ہیں\n\nکھٹک آج آنسوؤں کی دے رہی ہے یہ خبر مجھ کو\nچبھے تھے دل میں جو کانٹے وہ آنکھوں سے نکلتے ہیں\n\nمیں اس الفت کے صدقہ ہوں میں اس نفرت کے قرباں ہوں\nجگہ ہے رازؔ کی دل میں مگر صورت سے جلتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%DB%8C%D9%86%D8%AA_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ستم ناروا کو روتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم ناروا کو روتے ہیں\nچرخ تیری جفا کو روتے ہیں\n\nخون رلوا رہی ہے یاد وفا\nاک سراپا وفا کو روتے ہیں\n\nاس طرح آئی وقت سے پہلے\nآنے والی قضا کو روتے ہیں\n\nاب یہ اس تک پہنچ نہیں سکتا\nنالۂ نارسا کو روتے ہیں\n\nبہہ گیا آنکھ سے لہو ہو کر\nدل درد آشنا کو روتے ہیں\n\nجان لے کر گیا وہ آخر کار\nمرض لا دوا کو روتے ہیں\n\nجانے والے کی یہ نشانی ہے\nدیکھ کر نقش پا کو روتے ہیں\n\nدرد سا درد ہے بھرا اس میں\nٹوٹے دل کی صدا کو روتے ہیں\n\nروتے جو آئے تھے رلا کے گئے\nابتدا انتہا کو روتے ہیں\n\nرنگ و بو اب کہاں وہ گل ہی نہیں\nاس چمن کی ہوا کو روتے ہیں\n\nہے فضائے چمن غبار آلود\nہم مکدر فضا کو روتے ہیں\n\nخاک میں ملنے کو ہے سب کا حسن\nگل رنگیں قبا کو روتے ہیں\n\nمہندی پس کر لہو رلاتی ہے\nپسنے والی حنا کو روتے ہیں\n\nنفس سرد یہ بنی بھی تو کیا\nموج باد صبا کو روتے ہیں\n\nباغ عالم میں اس طرح بے دید\nنرگس نیم وا کو روتے ہیں\n\nچھا گئی کیسی تیرگی ان پر\nمہر و مہ کی ضیا کو روتے ہیں\n\nکام آیا نہ یہ کسی کے بھی\nخضر آب بقا کو روتے ہیں\n\nچپ ہیں یوں جیسے ان میں جان نہیں\nلب معجزنما کو روتے ہیں\n\nاب سوئے آسماں نہیں اٹھتا\nاپنے دست دعا کو روتے ہیں\n\nجان کو لے کے ساتھ جانا تھا\nاس دل مبتلا کو روتے ہیں\n\nدے گیا داغ غم یہ کون ریاضؔ\nہم غم دیر پا کو روتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D9%86%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ستم کامیاب نے مارا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم کامیاب نے مارا\nکرم لا جواب نے مارا\n\nخود ہوئی گم ہمیں بھی کھو بیٹھی\nنگہ بازیاب نے مارا\n\nزندگی تھی حجاب کے دم تک\nبرہمئ حجاب نے مارا\n\nعشق کے ہر سکون آخر کو\nحسن کے اضطراب نے مارا\n\nخود نظر بن گئی حجاب نظر\nہائے اس بے حجاب نے مارا\n\nمیں ترا عکس ہوں کہ تو میرا\nاس سوال و جواب نے مارا\n\nکوئی پوچھے کہ رہ کے پہلو میں\nتیر کیا اضطراب نے مارا\n\nبچ رہا جو تری تجلی سے\nاس کو تیرے حجاب نے مارا\n\nاب نظر کو کہیں قرار نہیں\nکاوش انتخاب نے مارا\n\nسب کو مارا جگرؔ کے شعروں نے\nاور جگرؔ کو شراب نے مارا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "ستم کرو نہ کرو اختیار باقی ہے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم کرو نہ کرو اختیار باقی ہے\nجو ہم نہیں تو ہمارا مزار باقی ہے\n\nگئی بہار مگر اپنی بے خودی ہے وہی\nسمجھ رہا ہوں کہ اب تک بہار باقی ہے\n\nہزار مرحلۂ انتظار طے بھی ہوئے\nہزار مرحلۂ انتظار باقی ہے\n\nشکست توبہ ہے ایسی ثواب میں داخل\nابھی سے توبہ مبارکؔ بہار باقی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D9%88_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں\nتکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D8%B4_%D9%85%D8%B5%D9%84%D8%AD%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ستم ہو جائے تمہید کرم ایسا بھی ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم ہو جائے تمہید کرم ایسا بھی ہوتا ہے\nمحبت میں بتا اے ضبط غم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nبھلا دیتی ہیں سب رنج و الم حیرانیاں میری\nتری تمکین بے حد کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nجفائے یار کے شکوے نہ کر اے رنج ناکامی\nامید و یاس دونوں ہوں بہم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nمرے پاس وفا کی بدگمانی ہے بجا تم سے\nکہیں بے وجہ اظہار کرم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nتری دل داریوں سے صورت بیگانگی نکلی\nخوشی ایسی بھی ہوتی ہے الم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nوقار صبر کھویا گریہ ہائے بے قراری نے\nکہیں اے اعتبار چشم نم ایسا بھی ہوتا ہے\n\nبدعوائے وفا کیوں شکوہ سنج جور ہے حسرتؔ\nدیار شوق میں اے محو غم ایسا بھی ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا\nتمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں کمی نہ کرنا\n\nہماری میت پہ تم جو آنا تو چار آنسو بہا کے جانا\nذرا رہے پاس آبرو بھی کہیں ہماری ہنسی نہ کرنا\n\nکہاں کا آنا کہاں کا جانا وہ جانتے ہی نہیں یہ رسمیں\nوہاں ہے وعدے کی بھی یہ صورت کبھی تو کرنا کبھی نہ کرنا\n\nلیے تو چلتے ہیں حضرت دل تمہیں بھی اس انجمن میں لیکن\nہمارے پہلو میں بیٹھ کر تم ہمیں سے پہلو تہی نہ کرنا\n\nنہیں ہے کچھ قتل ان کا آساں یہ سخت جاں ہیں برے بلا کے\nقضا کو پہلے شریک کرنا یہ کام اپنی خوشی نہ کرنا\n\nہلاک انداز وصل کرنا کہ پردہ رہ جائے کچھ ہمارا\nغم جدائی میں خاک کر کے کہیں عدو کی خوشی نہ کرنا\n\nمری تو ہے بات زہر ان کو وہ ان کے مطلب ہی کی نہ کیوں ہو\nکہ ان سے جو التجا سے کہنا غضب ہے ان کو وہی نہ کرنا\n\nہوا اگر شوق آئنے سے تو رخ رہے راستی کی جانب\nمثال عارض صفائی رکھنا برنگ کاکل کجی نہ کرنا\n\nوہ ہی ہمارا طریق الفت کہ دشمنوں سے بھی مل کے چلنا\nیہ ایک شیوہ ترا ستم گر کہ دوست سے دوستی نہ کرنا\n\nہم ایک رستہ گلی کا اس کی دکھا کے دل کو ہوئے پشیماں\nیہ حضرت خضر کو جتا دو کسی کی تم رہبری نہ کرنا\n\nبیان درد فراق کیسا کہ ہے وہاں اپنی یہ حقیقت\nجو بات کرنی تو نالہ کرنا نہیں تو وہ بھی کبھی نہ کرنا\n\nمدار ہے ناصحو تمہیں پر تمام اب اس کی منصفی کا\nذرا تو کہنا خدا لگی بھی فقط سخن پروری نہ کرنا\n\nبری ہے اے داغؔ راہ الفت خدا نہ لے جائے ایسے رستے\nجو اپنی تم خیر چاہتے ہو تو بھول کر دل لگی نہ کرنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7"} {"title": "ستم ہے تیرے عاشق کے لئے بیمار ہو جانا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم ہے تیرے عاشق کے لئے بیمار ہو جانا\nبڑی آفت ہے دل کے ہاتھ سے ناچار ہو جانا\n\nبدل جانا نگاہوں کا تو دیکھا پر نہیں دیکھا\nدل عاشق سے اس کا تیر بن کر پار ہو جانا\n\nنصیحت سے وہ باز آتا نہیں تم باز آؤ گے\nپہنچنا سامنے ناصح کے جب سرشار ہو جانا\n\nکیا ہے اشک حسرت تو نے رسوا مجھ کو محفل میں\nکہا کس نے کہ یوں میرے گلے کا ہار ہو جانا\n\nاکیلے میں تصور خوب کرنا اس ستم گر کا\nلحد میں خواب غفلت سے اگر بے دار ہو جانا\n\nدل پر غم رقیب رو سیہ دیکھے نہیں تجھ کو\nگلی میں اس کی جا کر سایۂ دیوار ہو جانا\n\nنہیں فرقت گوارا طائر دل تم کو دلبر کے\nپہنچتے ہی اسیر گیسوئے خم دار ہو جانا\n\nخدا حافظ ہے اپنا دیکھیے کیسی گزرتی ہے\nبڑی مشکل ہے راہ عشق کا دشوار ہو جانا\n\nقدم بوسی میسر ہو کسی صورت سے اس بت کی\nجمیلہؔ بعد مردن خاک کوئے یار ہو جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "ستم ہے مبتلائے عشق ہو جانا جواں ہو کر", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم ہے مبتلائے عشق ہو جانا جواں ہو کر\nہمارے باغ ہستی میں بہار آئی خزاں ہو کر\n\nجوانی کی دعائیں مانگی جاتی تھیں لڑکپن میں\nلڑکپن کے مزے اب یاد آتے ہیں جواں ہو کر\n\nخدا رکھے دل مایوس میں امید باقی ہے\nیہی گل ہے جو بو دیتا ہے پامال خزاں ہو کر\n\nمجھے شبنم بنا رکھا ہے ان خورشید رویوں نے\nرلاتے ہیں نہاں ہو کر مٹاتے ہیں عیاں ہو کر\n\nہمیں وہ تھے کہ ہوتی تھی بسر پھولوں کے غنچے میں\nہمیں اب اے فلک تنکے چنیں بے آشیاں ہو کر\n\nدر جاناں کے آگے کب تحیر بڑھنے دیتا ہے\nجو آتا ہے وہ رہ جاتا ہے سنگ آستاں ہو کر\n\nنہال شمع میں کیا خوشنما اک پھول آیا تھا\nستم ڈھایا نسیم صبح نے باد خزاں ہو کر\n\nتقاضا سن کا بھی اللہ کیا شے ہے کہ یوسف سے\nزلیخا ناز کرتی ہے نئے سر سے جواں ہو کر\n\nجلیلؔ آخر جو کی ہے شاعری کچھ کام بھی نکلے\nکسی بت کو مسخر کیجیے معجز بیاں ہو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ستم ہے وہ پھر بد گماں ہو رہا ہے", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ستم ہے وہ پھر بد گماں ہو رہا ہے\nپس امتحاں امتحاں ہو رہا ہے\n\nخوشی کیوں نہ ہو قتل ہونے کی مجھ کو\nوہ نا مہرباں مہرباں ہو رہا ہے\n\nتصدق تجھی پر زمیں ہو رہی ہے\nتجھی پر فدا آسماں ہو رہا ہے\n\nمجھے ہچکیوں نے خبر دی ہے آ کر\nمرا ذکر جو کچھ وہاں ہو رہا ہے\n\nچلو سیر کر آئیں جنت کی عاشقؔ\nعجب کچھ تماشا وہاں ہو رہا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%D8%AF_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ستی", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے ستی اے جلوہ گاہ شعلۂ تنویر حسن\nپاک دامانی کا نقشہ ہے تری تصویر حسن\nیہ تن نازک ترا یہ شعلہ ہائے آتشیں\nیہ چتا کی آتش سوزاں یہ جسم نازنیں\nصاعقہ ہے برق کا تیرے دل مضطر کی آگ\nپھونک دیتی ہے تجھے سوز غم شوہر کی آگ\nخاک ہو کر بھی ترے داغ جگر بجھتے نہیں\nآہ تیری راکھ کے برسوں شرر بجھتے نہیں\nہند کو ہے ناز تیری ہمت مردانہ پر\nتو چراغ کشتہ ہے خاکستر پروانہ پر\nآگ میں ہے تو سپند شوق جلنے کے لیے\nشمع ماتم ہے شب غم میں پگھلنے کے لیے\nگرمی ہنگامۂ محشر تری محفل میں ہے\nسرد جو ہوتی نہیں وہ آگ تیرے دل میں ہے\nکب گوارا آہ ہے سوز غم شوہر تجھے\nہے ہر اک تار نفس اک شعلۂ مضطر تجھے\nاف ری شوہر کی چتا پر شعلہ افروزی تری\nجیتے جی سوز محبت میں جگر سوزی تری\nجاں گدازی کی ادا یہ شمع محفل میں کہاں\nگرمی سوز وفا یہ شمع محفل میں کہاں\nوہ چتا کی آتش جاں سوز، وہ دود سیاہ\nشوہر مردہ کا سر وہ زانو نازک پہ آہ\nآگ کے وہ ہائے شعلے اور وہ مکھڑا چاند سا\nلب پہ کم کم شوخی برق تبسم کی ادا\nہلکا پھلکا جسم نازک پر دوپٹہ سرخ سرخ\nوصل روحانی کی شادی سے وہ چہرہ سرخ سرخ\nعالم دود سیہ وہ زلف عنبر فام میں\nدوڑنے والے وہ شعلے حلقہ ہائے دام میں\nآتش سوزاں میں بھی وہ آہ شوہر کا خیال\nاور وہ دل میں گرمی ہنگامۂ شوق وصال\nجل کے سوز اضطراب شوق میں پروانہ وار\nخلد میں شوہر سے ہونا اف وہ خوش خوش ہمکنار\nڈال دینا وہ گلے میں ہنس کے بانہیں پیار سے\nدل لبھا لینا ادائے شیوۂ گفتار سے\nہلکی ہلکی چاندنی کیفیت گل گشت باغ\nوہ لب جو آہ حسن و عشق کے دو شب چراغ\nتجھ پہ اے ناز آفریں شوہر پرستی ختم ہے\nاک شرار آرزو میں تیری ہستی ختم ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AA%DB%8C"} {"title": "سجاد کو فلک نے کس کس طرح ستایا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "سجاد کو فلک نے کس کس طرح ستایا\nکنبے کو ووں کھپایا گھر بار یوں لٹایا\nسر باپ کا کٹایا تھا سر پہ جس کا سایہ\nلاشے کو اس کے تس پر یوں دھوپ میں جلایا\n\nرخصت نہ تھی کہ مردہ اس کا اٹھا کے جاوے\nمہلت نہ تھی کہ گھر کے لوگوں کے تیں چھپاوے\nفرصت نہ تھی کہ رسمیں میت کی کرنے پاوے\nہر گام ضعف تن نے سو مرتبہ گرایا\n\nگھر کی طرف جو دیکھا سو لٹتے گھر کو دیکھا\nبھائی میں دم نہ دیکھا بے سر پدر کو دیکھا\nدیکھا جدھر نہ اپنا کوئی ادھر کو دیکھا\nہوتا کوئی تو کہتا تو پرسے کو نہ آیا\n\nآغشتہ خاک و خوں میں جو تھے ہوئے پڑے تھے\nجوں اشک یار و یاور سارے چوئے پڑے تھے\nمشفق پدر برادر دونوں موئے پڑے تھے\nشفقت نہ کی کنھوں نے احوال تو دکھایا\n\nنے کوئی یار جانی نے لطف کچھ زبانی\nکھانا ملا نہ پانی کاہے کی زندگانی\nغیروں کی سرگرانی پھر اپنی ناتوانی\nطاقت نہ تھی بدن میں پر کیا ستم اٹھایا\n\nقوت نہ پاؤں سر میں حیراں غم پدر میں\nباقی نہ کچھ جگر میں نومیدی سی نظر میں\nدشمن تمام گھر میں ناموس رہگذر میں\nغیرت نے دل جلایا خجلت نے جاں کھپایا\n\nکہتا تھا یوں وہ مہموم غم میں سبھوں کے مغموم\nعمو موا ہو مسموم مقتول جد مرحوم\nبابا کفن سے محروم میں ہوں اسیر مظلوم\nدو ہاتھ جو کھلے تھے سو ان کو بھی بندھایا\n\nکیا تپ نے تن میں چھوڑا خوں جملگی نچوڑا\nخالی پدر کا گھوڑا دکھلاویں غیر کوڑا\nدل جیسے پکا پھوڑا ہر دم ہو تھوڑا تھوڑا\nپرخار بادیہ میں ننگے قدم چلایا\n\nحالت تھی اضطراری اک دل میں بے قراری\nآنکھوں سے اشک جاری ہونٹوں پہ آہ و زاری\nوہ جسم کی نزاری دکھ اس طرح کا بھاری\nجب آنکھ اٹھا کے دیکھا تب ایک داغ کھایا\n\nبیمار وہ گراں تھا ازبسکہ ناتواں تھا\nآرام اسے کہاں تھا ساتھ ایک کارواں تھا\nغم کا کبھو بیاں تھا روتا کبھوں رواں تھا\nکیا رسم رحم یکسر واں اٹھ گئی تھی آیا\n\nاصغر موا بچارا اکبر سو ووں سدھارا\nقاسم کو جی سے مارا بابا کا سر اتارا\nقوم و قبیلہ سارا یوں کر گیا کنارہ\nپانی دیا نہ قطرہ دریاے خوں بہایا\n\nجامہ گلے میں آبی لب خشک دل کبابی\nگھر بار کی خرابی اندوہ بے حسابی\nپھر سب کی پرعتابی چلنے کی یہ شتابی\nنے باپ کو اٹھایا نے بھائی کو گڑایا\n\nوہ انکسار اس کا کوئی نہ یار اس کا\nدل سب نزار اس کا جی بے قرار اس کا\nجنگل گذار اس کا چھوٹا دیار اس کا\nکر رحم پاس اس کے کنبہ تنک بلایا\n\nہر طرف شور و شر تھا درپیش اسے سفر تھا\nآگے سر پدر تھا لٹتا ادھر کو گھر تھا\nصبر آہ کس قدر تھا اللہ کیا جگر تھا\nیہ کچھ ستم اٹھایا پر منھ پہ کچھ نہ آیا\n\nلاشوں پہ ہو نکلنا ناچار پاؤں چلنا\nسینے میں جی کا جلنا شرمندگی سے گلنا\nرہ رہ کے ہاتھ ملنا حیرت سے لب نہ ہلنا\nدل تو ہوا تھا خوں سب یہ غم کہاں سمایا\n\nجاہ و حشم کو رووے ناز و نعم کو رووے\nبابا کے دم کو رووے اہل حرم کو رووے\nفرط الم کو رووے یا چشم نم کو رووے\nغم نے جدا کھپایا تپ نے جدا سکھایا\n\nبیماری بے دوائی بختوں کی نارسائی\nبابا رہا نہ بھائی ان سب کو موت آئی\nیاروں کی بے وفائی لوگوں کی بے روائی\nاسباب کی کمی نے بہتیرا ہے کڑھایا\n\nجو تھا سو واں کمینہ اس کا کہاں قرینہ\nہر اک کو اس سے کینہ دشوار اس کا جینا\nہر گام لوہو پینا آ آگیا پسینہ\nپھر جسم کے مرض نے جی کو بہت گھٹایا\n\nبابا کی جستجو میں ملنے کی آرزو میں\nاک حزن گفتگو میں اک درد مو بہ مو میں\nطوق گراں گلو میں پھر سر پہ ایسی دھومیں\nاس خاک میں ملے کو کیا خاک میں ملایا\n\nقوت کوئی جتاوے باتیں کوئی بتاوے\nکوڑا کوئی دکھاوے کڑیاں کوئی سناوے\nوہ آنکھ کیا ملاوے رونا چلا ہی آوے\nبے چارے ناتواں پر کیا زور آزمایا\n\nپلکیں رہیں نہ کیوں تر آنکھیں نہ لاوے کیوں بھر\nوہ دشت اور وہ در پھر اس پہ سیکڑوں ڈر\nپیدا نہ ہووے رہبر کھویا نہ جاوے کیوں کر\nبیکس کھنچا جو آیا سر باپ کا نہ پایا\n\nجنگل میں آ اترنا بابا کا مفت مرنا\nتنہائی کا گذرنا درد اپنا سب بسرنا\nدکھ اس طرح کا بھرنا ناچار صبر کرنا\nبندہ تھا وہ بھی لیکن کیا ظرف تھا خدایا\n\nالقصہ لوگ سارے جی سے گئے بچارے\nبیٹے بھتیجے پیارے شہ کے تمام مارے\nتاچند کڑھیے بارے دکھ کھینچ کھینچ ہارے\nان شہریوں نے مر کر جنگل وہ سب بسایا\n\nباقی اسیر تھے سب فریاد و نالہ برلب\nمت پوچھنا کوئی اب تھا دن سیاہ جوں شب\nہے میرؔ بات بے ڈھب خاموشی ہی ہے انسب\nان قیدیوں کو کن نے ہو ملتفت چھڑایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سجادہ ہے میرا فلک نیلی فام", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "سجادہ ہے میرا فلک نیلی فام\nتسبیح کواکب آفتاب اس کا امام\nتارے گنتا ہوں میں سحر تک ناظمؔ\nتسبیح امام تک پہنچ کر ہو تمام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AC%D8%A7%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%86%DB%8C%D9%84%DB%8C_%D9%81%D8%A7%D9%85"} {"title": "سجدہ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "کالی شلوار", "year": "1941", "text_ur": "گلاس پربوتل جھکی تو ایک دم حمید کی طبیعت پر بوجھ سا پڑ گیا۔ ملک جو اس کے سامنے تیسرا پیگ پی رہا تھا فوراً تاڑ گیا کہ حمید کے اندر روحانی کشمکش پیدا ہوگئی ہے۔ وہ حمید کو سات برس سے جانتا تھا، اوران سات برسوں میں کئی بار حمید پر ایسے دورے پڑ چکے تھے جن کا مطلب اس کی سمجھ سے ہمیشہ بالاتر رہا تھا، لیکن وہ اتنا ضرور سمجھتا تھا کہ اس کے لاغر دوست کے سینے پر کوئی بوجھ ہے، ایسا بوجھ جس کا احساس شراب پینے کے دوران میں کبھی کبھی حمید کے اندر یوں پیداہوتا ہے جیسے بے دھیان بیٹھے ہوئے آدمی کی پسلیوں میں کوئی زور سے ٹہوکا دے دے۔\n\nحمید بڑا خوش باش انسان تھا۔ ہنسی مذاق کا عادی، حاضر جواب، بذلہ سنج۔ اس میں بہت سی خوبیاں تھیں جو زیادہ نزدیک آکر اس کے دوست ملک نے معلوم کی تھیں۔ مثال کے طور پر سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بے حد مخلص تھا، اس قدر مخلص کہ بعض اوقات اس کا اخلاص ملک کے لیے عہد عتیق کا رومانی افسانہ بن جاتا تھا۔\n\nحمید کے کردار میں ایک عجیب وغریب بات جوملک نے نوٹ کی یہ تھی، کہ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے ناآشنا تھیں۔ یوں تو ملک بھی رونے کے معاملے میں بڑا بخیل تھا مگر وہ جانتا تھا کہ جب کبھی رونے کا موقع آئے گا وہ ضرور رو دے گا۔ اس پر غم افزا باتیں اثر ضرور کرتی تھیں مگر وہ اس اثر کو اتنی دیر اپنے دماغ پر بیٹھنے کی اجازت دیتا تھا جتنی دیر گھوڑا اپنے تنے ہوئے جسم پر مکھی کو۔\n\nغموں سے دور رہنے والے اور ہر وقت ہنسی مذاق کے عادی حمید کی زندگی میں نہ جانے ایسا کون سا واقعہ الجھا ہوا تھا کہ وہ کبھی کبھی قبرستان کی طرح خاموش ہو جاتا تھا۔ ایسے لمحات جب اس پر طاری ہوتے تو اس کا چہرہ ایسی رنگت اختیار کرلیتا تھا جو تین دن کی باسی شراب میں بے جان سوڈا گھولنے سے پیدا ہوتی ہے۔\n\nسات برس کے دوران میں کئی بار حمید پر ایسے دورے پڑ چکے تھے مگر ملک نے آج تک اس سے ان کی وجہ دریافت نہ کی تھی۔ اس لیے نہیں کہ ان کی وجہ دریافت کرنے کی خواہش اس کے دل میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ دراصل بات یہ ہے کہ ملک پرلے درجے کا سست اور کاہل واقع ہوا تھا۔ اس خیال سے بھی وہ حمید کے ساتھ اس معاملے میں بات چیت نہیں کرتا تھا کہ ایک طول طویل کہانی اسے سننا پڑے گی اور اس کے چوتھے پیگ کا سارا سرور غارت ہو جائے گا۔ شراب پی کر لمبی چوڑی آپ بیتیاں سننا یا سنانا اس کے نزدیک بہت بڑی بدذوقی تھی۔ اس کے علاوہ وہ کہانیاں سننے کے معاملے میں بہت ہی خام تھا۔ اسی خیال کی وجہ سے کہ وہ اطمینان سے حمید کی داستان نہیں سن سکے گا، اس نے آج تک اس سے ان دوروں کی بابت دریافت نہیں کیا تھا۔\n\nکرپارام نے حمید کے گلاس میں تیسرا پیگ ڈال کر بوتل میز پر رکھ دی اور ملک سے مخاطب ہوا، ’’ملک، اسے کیا ہوگیا ہے۔‘‘ ملک خاموش رہا لیکن حمید مضطرب ہوگیا۔ اس کے اعصاب زور سے کانپ اٹھے۔ کرپا رام کی طرف دیکھ کر اس نے مسکرانے کی کوشش کی، اس میں جب ناکامی ہوئی تو اس کا اضطراب اور بھی زیادہ ہوگیا۔حمید کی یہ بہت بڑی کمزوری تھی کہ وہ کسی بات کو چھپا نہیں سکتا تھا اور اگر چھپانے کی کوشش کرتا تو اس کی وہی حالت ہوتی جو آندھی میں صرف ایک کپڑے میں لپٹی ہوئی عورت کی ہوتی ہے۔\n\nملک نے اپنا تیسرا پیگ ختم کیا اور اس فضا کو جو کچھ عرصہ پہلے طرب افزا باتوں سے گونج رہی تھی، اپنی بے محل ہنسی سے خوشگوار بنانے کے لیے اس نے کرپا رام سے مخاطب ہو کر کہا، ’’کرپا۔ تم مان لو اسے اشوک کمار کا فلمی عشق ہوگیا ہے۔۔۔ بھئی یہ اشوک کمار بھی عجیب چیز ہے۔ پردے پر عشق کرتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کاسٹرآئل پی رہا ہے۔‘‘\n\nکرپا رام، اشوک کمارکو اتنا ہی جانتا تھا جتنا کہ مہاراجہ اشوک اور اس کی مشہور آہنی لاٹھ کو۔ فلم اور تاریخ سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ البتہ وہ ان کے فوائد سے ضرور آگاہ تھا۔ کیونکہ وہ عام طور پر کہا کرتا تھا، ’’مجھے اگر کبھی بے خوابی کا عارضہ لاحق ہو جائے تو میں یا تو فلم دیکھنا شروع کردوں گا یا چکرورتی کی لکھی ہوئی تاریخ پڑھنا شروع کردوں گا۔‘‘ وہ ہمیشہ حساب دان چکرورتی کو مورخ بنا کر اپنی مسرت کے لیے ایک بات پیدا کرلیا کرتا تھا۔\n\nکرپا رام چار پیگ پی چکا تھا۔ چار پیالہ پیگ، نشہ اس کے دماغ کی آخری منزل تک پہنچ چکا تھا۔ آنکھیں سیکڑ کر اس نے حمید کی طرف اس اندازسے دیکھا جیسے وہ کیمرے کا فوکس کررہا ہے، ’’تمہارا گلاس ابھی تک ویسے کا ویسا پڑا ہے۔‘‘\n\nحمید نے دردِ سر کے مریض کی سی شکل بنا کرکہا، ’’بس۔۔۔ اب مجھ سے زیادہ نہیں پی جائے گی۔‘‘\n\n’’تم چغد ہو۔۔۔ نہیں چغد نہیں کچھ اور ہو۔۔۔ تمہیں پینا ہوگی۔ سمجھے، یہ گلاس اور اس بوتل میں جتنی پڑی ہے سب کی سب تمہیں پینا ہوگی۔ شراب سے جو انکار کرے وہ انسان نہیں حیوان ہے۔۔۔ حیوان بھی نہیں، اس لیے کہ حیوانوں کو اگر انسان بنا دیا جائے تووہ بھی اس خوبصورت شے کو کبھی نہ چھوڑیں ،تم سن رہے ہو ملک۔۔۔ ملک نے اگر یہ ساری شراب اس کے حلق میں نہ انڈیل دی تو میرا نام کرپا رام نہیں گھسیٹا رام آرٹسٹ ہے۔‘‘ گھسیٹا رام آرٹسٹ سے کرپا رام کو سخت نفرت تھی صرف اس لیے کہ آرٹسٹ ہوکر اس کا نام گھسیٹا رام تھا۔\n\nملک کا منہ سوڈا ملی وسکی سے بھرا ہوا تھا۔ کرپا رام کی بات سن کر وہ بے اختیار ہنس پڑا جس کے باعث اس کے منہ سے ایک فوارہ سا چھوٹ پڑا، ’’کرپا رام خدا کے لیے تم گھسیٹا رام آرٹسٹ کا نام نہ لیا کرو۔ میری انتڑیوں میں ایک طوفان سا مچ جاتا ہے۔۔۔ لاحول ولا۔۔۔ میری پتلون کا ستیاناس ہوگیا ہے۔۔۔ لو بھئی، حمید، اب تو تمہیں پینا ہی پڑے گی۔ کرپا رام، گھسیٹا رام بنے یا نہ بنے لیکن میں ضرور کرپا رام بن جاؤں گا اگرتم نے یہ گلاس خالی نہ کیا۔۔۔ لو پیو۔۔۔ پی جاؤ۔۔۔ ارے میرا منہ کیا دیکھتے ہو۔۔۔ یہ تمہارے چہرے پر یتامت کیسی برس رہی ہے۔۔۔ کرپا رام اٹھو۔۔۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے۔ زبردستی کرنا ہی پڑے گی۔‘‘\n\nکرپا رام اور ملک دونوں اٹھے اور حمید کو زبردستی پلانے کی کوشش کرنے لگے۔ حمید کو روحانی کوفت تو ویسے ہی محسوس ہورہی تھی، جب کرپا رام اور ملک نے اس کو جھنجھوڑنا شروع کیا تو اس کو جسمانی اذیت بھی پہنچی جس کے باعث وہ بے حد پریشان ہوگیا۔\n\nاس کی پریشانی سے کرپا رام اور ملک بہت محظوظ ہوئے۔ چنانچہ انھوں نے ایک کھیل سمجھ کر حمید کو اور زیادہ تنگ کرنا شروع کیا۔ کرپا رام نے گلاس پکڑ کر اس کے سر میں تھوڑی سی شراب ڈال دی۔ اور نائیوں کے انداز میں جب اس نے حمید کا سر سہلایا تو وہ اس قدر پریشان ہوا کہ اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آگئے۔ اس کی آواز بھرا گئی۔ اس کے سارے جسم میں تشنج سا پیدا ہوا اور ایک دم کاندھے ڈھیلے کرکے اس نے رونی اور مردہ آواز میں کہا، ’’میں بیمار ہوں۔۔۔ خدا کے لیے مجھے تنگ نہ کرو۔‘‘\n\nکرپا رام اسے بہانہ سمجھ کر حمید کو اور زیادہ تنگ کرنے کے لیے کوئی نیا طریقہ سوچنے ہی والا تھا کہ ملک نے ہاتھ کے اشارے سے اسے پرے ہٹا دیا، ’’کرپا، اس کی طبیعت واقعی خراب ہے۔۔۔ دیکھو تو رو رہا ہے۔‘‘ کرپا رام نے اپنی موٹی کمر جھکا کر غور سے دیکھا، ’’ارے۔۔۔ تم تو سچ مچ رو رہے ہو۔‘‘ حمید کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے، جس پر سوالوں کی بوچھارشروع ہوگئی۔\n\n’’کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔۔؟ خیر تو ہے؟‘‘\n\n’’یہ تم رو کیوں رہے ہو؟‘‘\n\n’’ بھئی حد ہو گئی۔۔۔ ہم تو صرف مذاق کررہے تھے۔‘‘\n\n’’ کچھ سمجھ میں بھی تو آئے۔۔۔ کیا تکلیف ہے تمہیں؟‘‘\n\nملک اس کے پاس بیٹھ گیا، ’’بھئی مجھے معاف کردو اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو۔‘‘\n\nحمید نے جیب سے رومال نکال کر اپنے آنسو پونچھے اور کچھ کہتے کہتے خاموش ہوگیا۔ جذبات کی شدت کے باعث اس کی قوتِ گویائی جواب دے گئی۔ تیسرے پیگ سے پہلے اس کے چہرے پر رونق تھی، اس کی باتیں سوڈے کے بلبلوں کی طرح تروتازہ اور شگفتہ تھیں مگر اب وہ باسی شراب کی طرح بے رونق تھا۔ وہ سکڑ سا گیا تھا۔ اس کی حالت ویسی ہی تھی جیسی بھیگی ہوئی پتلون کی ہوتی ہے۔\n\nکرسی پر وہ اس انداز سے بیٹھا تھا گویا وہ اپنے آپ سے شرمندہ ہے۔ اپنے آپ کو چھپانے کی بھونڈی کوشش میں وہ ایک ایسا بے جان لطیفہ بن کے رہ گیا تھا جو بڑے ہی خام انداز میں سنایا گیا ہو۔ملک کو اس کی حالت پربہت ترس آیا، ’’حمید، لو اب خدا کے لیے چپ ہو جاؤ۔۔۔ واللہ تمہارے آنسوؤں سے مجھے روحانی تکلیف ہورہی ہے۔ مزا تو سب کِرکرا ہو ہی گیا تھا۔ مگر یوں تمہارے ایکا ایکی آنسو بہانے سے میں بہت مغموم ہوگیا ہوں۔۔۔ خدا جانے تمہیں کیا تکلیف ہے۔۔۔؟‘‘\n\n’’کچھ نہیں، میں بہت جلد ٹھیک ہو جاؤں گا۔ کبھی کبھی مجھے ایسی تکلیف ہو جایا کرتی ہے۔‘‘ یہ کہہ کروہ اٹھا، ’’اب میں اجازت چاہتا ہوں۔‘‘\n\nکرپا رام بوتل میں بچی ہوئی شراب کو دیکھتا رہا اور ملک یہ ارادہ کرتا رہا کہ حمید سے آج پوچھ ہی لے کہ وقتاً فوقتاً اسے یہ دورے کیوں پڑتے ہیں مگر وہ جا چکا تھا۔حمید گھر پہنچا تو اس کی حالت پہلے سے زیادہ خراب تھی۔ کمرے میں چونکہ اس کے سوا اور کوئی نہیں تھا اس لیے وہ رو بھی نہ سکتا تھا۔ اس کی آنسوؤں سے لبالب بھری ہوئی آنکھوں کو کرسیاں اور میزیں نہیں چھلکا سکتی تھیں۔\n\nاس کی خواہش تھی کہ اس کے پاس کوئی آدمی موجود ہو جس کے چھیڑنے سے وہ جی بھر کے رو سکے مگر ساتھ ہی اس کی یہ بھی خواہش تھی کہ وہ بالکل اکیلا ہو۔۔۔ ایک عجیب کشمکش اس کے اندر پیدا ہوگئی تھی۔وہ کرسی پر اس انداز سے اکیلا بیٹھا تھا جیسے شطرنج کا پٹا ہوا مہرہ بساط سے بہت دور پڑا ہے۔ سامنے میز پر اس کی ایک پرانی تصویر چمکدار فریم میں جڑی رکھی تھی۔ حمید نے اداس نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تو سات برس اس تصویر اور اس کے درمیان تھان کی طرح کھلتے چلے گئے۔۔۔!\n\nٹھیک سات برس پہلے برسات کے انہی دنوں میں رات کو وہ ریلوے رسٹوران میں ملک عبدالرحمن کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔ اس وقت کے حمید اور اِس وقت کے حمید میں کتنا فرق تھا۔۔۔ کتنا فرق تھا۔ حمید نے یہ فرق اس شدت سے محسوس کیا کہ اسے اپنی تصویر میں ایک ایسا آدمی نظر آیا جس سے ملے اس کو ایک زمانہ گزر گیا ہے۔\n\nاس نے تصویر کو غور دیکھا تو اس کے دل میں یہ تلخ احساس پیدا ہوا کہ انسانیت کے لحاظ سے وہ اس کے مقابلے میں بہت پست ہے۔ تصویر میں جو حمید ہے اس حمید کے مقابلے میں بدرجہا افضل و برتر ہے جوکرسی پر سرنیوڑھائے بیٹھا ہے۔ چنانچہ اس احساس نے اس کے دل میں حسد بھی پیدا کردیا۔\n\nایک سجدے۔۔۔ صرف ایک سجدے نے اس کا ستیاناس کردیا تھا۔\n\nآج سے ٹھیک سات برس پہلے کا ذکرہے۔ برسات کے یہی دن تھے۔ رات کو ریلوے رسٹوران میں اپنے دوست ملک عبدالرحمن کے ساتھ بیٹھا تھا۔ حمید کویہ شرارت سوجھی تھی کہ بغیر بوکی شراب ،جن ،کا ایک پورا پیگ لیمونیڈ میں ملا کر اس کو پلادے اور جب وہ پی جائے تو آہستہ سے اس کے کان میں کہے،’’مولانا ایک پورا پیگ آپ کے ثوابوں بھرے پیٹ میں داخل ہو چکا ہے۔‘‘\n\nبیرے سے مل ملا کر اس نے اس بات کا انتظام کردیا تھا کہ آرڈر دینے پر لیمونیڈ کی بوتل میں جن کا ایک پیگ ڈال کر ملک کو دے دیا جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حمید نے وسکی پی اور ملک بظاہر بے خبری کی حالت میں جن کا پورا پیگ چڑھا گیا۔\n\nحمید چونکہ تین پیگ پینے کا ارادہ رکھتا تھا اس لیے ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد اس نے پوچھا، ’’ملک صاحب، آپ یوں بیکار نہ بیٹھیے میں تیسرا پیگ بڑی عیاشی سے پیا کرتا ہوں۔آپ ایک اور لیمونیڈ منگوا لیجیے۔‘‘ ملک رضا مند ہوگیا، چنانچہ ایک اور لیمونیڈ آگیا۔ اس بیرے نے اپنی طرف سے جن کا ایک پیگ ملا دیا تھا۔\n\nملک سے حمید کی نئی نئی دوستی ہوئی تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حمید اس شرارت سے باز رہتا مگر ان دنوں وہ اس قدر زندہ دل اور شرارت پسند تھا کہ جب بیرا ملک کے لیے لیمونیڈ کا دوسرا گلاس لایا اور اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا تووہ اس خیال سے بہت خوش ہوا کہ ایک کے بجائے دو پیگ ملک کے پیٹ کے اندر چلے جائیں گے۔\n\nملک آہستہ آہستہ لیمونیڈ ملی جِن پیتا رہا اور حمید دل ہی دل میں اس کبوترکی طرح گٹگٹاتا رہا جس کے پاس ایک کبوتری آبیٹھی ہو۔ اس نے جلدی جلدی اپنا تیسرا پیگ ختم کیا اور ملک سے پوچھا، ’’اور پئیں گے آپ۔‘‘ ملک نے غیرمعمولی سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا، ’’نہیں۔‘‘ پھر اس نے بڑے روکھے انداز میں کہا، ’’اگر تمہیں اور پینا ہے تو پیو، میں جاؤں گا۔ مجھے ایک ضروری کام ہے۔‘‘\n\nاس مختصر گفتگو کے بعد دونوں اٹھے۔ حمید نے دوسرے کمرے میں جا کر بل ادا کیا۔ جب وہ رسٹوران سے باہر نکلے تو ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ حمید کے دل میں یہ خواہش چٹکیاں لینے لگی کہ وہ ملک پراپنی شرارت واضح کردے مگر اچھے موقع کی تلاش میں کافی وقت گزر گیا۔ ملک بالکل خاموش تھا اور حمید کے اندر پُھلجھڑی سی چھوٹ رہی تھی۔ بے شمار ننھی ننھی خوبصورت اور شوخ و شنگ باتیں اس کے دل و دماغ میں پیدا ہو ہو کر بجھ رہی تھیں۔ وہ ملک کی خاموشی سے پریشان ہورہا تھا اور جب اس نے اپنی پریشانی کا اظہار نہ کیا تو آہستہ آہستہ اس کی طبیعت پر ایک افسردگی سی طاری ہوگئی۔ وہ محسوس کرنے لگا کہ اس کی شرارت اب دم کٹی گلہری بن کر رہ گئی ہے۔\n\nدیر تک دونوں بالکل خاموش چلتے رہے۔ جب کمپنی باغ آیا تو ملک ایک بنچ پر مفکرانہ انداز میں بیٹھ گیا۔ چند لمحات ایسی خاموشی میں گزرے کہ حمید کے دل میں وہاں سے اٹھ بھاگنے کی خواہش پیدا ہوئی مگر اس وقت زیادہ دیر تک دبے رہنے کے باعث اس کی تمام تیزی اور طراری ماند پڑ چکی تھی۔\n\nملک بنچ پر سے اٹھ کھڑا ہوا، ’’حمید تم نے آج مجھے روحانی تکلیف پہنچائی ہے۔۔۔ تمہیں یہ شرارت نہیں کرنی چا ہیے تھے۔‘‘ اس آواز میں اور درد پیدا ہوگیا، ’’تم نہیں جانتے کہ تمہاری اس شرارت سے مجھے کس قدر روحانی تکلیف پہنچی ہے۔ اللہ تمہیں معاف کرے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلا گیا اورحمید نے اپنے آپ کو بڑی شدت سےگناہ گار محسوس کرنے لگا۔ معافی مانگنے کا خیال اس کو آیا تھا مگر ملک باغ سے نکل کر باہر سڑک پر پہنچ چکا تھا۔\n\nملک کے چلےجانے کے بعد حمید گناہ اور ثواب کے چکر میں پھنس گیا۔ شراب کے حرام ہونے کے متعلق اس نے جتنی باتیں لوگوں سے سنی تھیں سب کی سب اس کے کانوں میں بھنبھنانے لگیں، ’’شراب اخلاق بگاڑ دیتی ہے۔۔۔ شراب، خانہ خراب ہے، شراب پی کر آدمی بے ادب اور بے حیا ہو جاتا ہے۔ شراب اسی لیے حرام ہے۔ شراب صحت کا ستیاناس کردیتی ہے۔ اس کے پینے سے پھیپھڑے چھلنی ہو جاتے ہیں۔۔۔ شراب۔۔۔‘‘\n\nشراب، شراب کی ایک لامتناہی گردان حمید کے دماغ میں شروع ہوگئی۔ اور اس کی تمام برائیاں ایک ایک کرکے اس کے سامنے آگئیں، ’’سب سے بڑی برائی تو یہ ہے۔‘‘ حمید نے محسوس کیا، ’’کہ میں نے بے ضرر شرارت سمجھ کر ایک شریف آدمی کو دھوکے سے شراب پلا دی ہے۔ ممکن ہے وہ پکا نمازی اور پرہیزگار ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غلطی میری ہے اور سارا گناہ میرے ہی سر ہوگا مگر اسے جو روحانی تکلیف پہنچی ہے اس کا کیا ہوگا؟ واللہ باللہ میرا یہ مقصد نہیں تھا کہ اسے تکلیف پہنچے۔۔۔ میں اس سے معافی مانگ لوں گا اور ۔۔۔ لیکن اس سے معافی مانگ کر بھی تو میرا گناہ ہلکا نہیں ہوگا۔ ایک میں نے شراب پی۔۔۔ اوپر سے اس کو دھوکا دےکر پلائی۔‘‘\n\nوسکی کا نشہ اس کے دماغ میں جمائیاں لینے لگا جس سے اس کا احساس گناہ گھناؤنی شکل اختیار کرگیا،’’مجھے معافی مانگنی چاہیے۔ مجھے شراب چھوڑ دینی چاہیے۔۔۔ مجھے گناہوں سے پاک زندگی بسرکرنی چاہیے۔ ‘‘اس کو شراب شروع کیے صرف دو برس ہوئے تھے۔ ابھی تک وہ اس کا عادی نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ اس نے گھر لوٹتے ہوئے راستے میں دوسری باتوں کے ساتھ اس پر بھی غور کیا،’’میں شراب کو ہاتھ تک نہیں لگاؤں گا۔ یہ کوئی ضروری چیز نہیں ۔ میں اس کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہوں۔۔۔ دنیا کہتی ہے۔۔۔ دنیا کہتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ منہ سے لگی ہوئی یہ چھٹ ہی نہیں سکتی۔ میں اسے بالکل چھوڑ دوں گا۔۔۔ میں اس خیال کو غلط ثابت کردوں گا۔‘‘\n\nیہ سوچتے ہوئے حمید نے خود کو ایک ہیرو محسوس کیا۔ پھر ایک دم اس کے دماغ میں خدا کا خیال آیا جس نے اسے تباہی سے بچا لیا تھا، ’’مجھے شکر بجا لانا چاہیے کہ میرے سینے میں نور پیدا ہوگیا ہے۔ میں نہ جانے کتنی دیر تک اس کھائی میں پڑا رہتا۔‘‘\n\nوہ اپنی گلی میں پہنچ چکا تھا۔ اوپر آسمان پر گدلے بادلوں میں چاند صابن کے جھاگ لگے گالوں کا نقشہ پیش کررہا تھا۔ ہوا خنک تھی۔ فضا بالکل خاموش تھی۔۔۔ حمید پر خدا کے رعب اور شراب نوشی سے بچ جانے کے احساس نے رقت طاری کر دی۔ اس نے شکرانے کا سجدہ کرنا چاہا۔ وہیں پتھریلی زمین پر اس نے گھٹنے ٹیک کر اپنا ماتھا رگڑنا چاہا۔ اس خیال سے کہ اسے کوئی دیکھ لے گا وہ کچھ دیر کے لیے ٹھٹک گیا مگر فوراً ہی یہ سوچ کر کہ یوں خدا کی نگاہوں میں اس کی وقعت بڑھ جائے گی وہ ڈبکی لگانے کے انداز میں جھکا اوراپنی پیشانی گلی کے ٹھنڈے ٹھنڈے پتھریلے فرش کے ساتھ جوڑ دی۔\n\nجب وہ اٹھا تو اس نے اپنے آپ کو ایک بہت بڑا آدمی محسوس کیا۔ ا س نے جب آس پاس کی اونچی دیواروں کو دیکھا تو وہ اسے اپنے قد کے مقابلے میں بہت پست معلوم ہوئیں۔\n\nاس واقعہ کے ڈیڑھ مہینے بعد اسی کمرے میں جہاں اب حمید بیٹھا اپنی سات برس کی پرانی تصویر پر رشک کھا رہا تھا۔ اس کا دوست ملک آیا۔ اندر آتے ہی اس نے اپنی جیب سے بلیک اینڈ وائٹ کا ادھا نکالا اور زور سے میز پر رکھ کر کہا، ’’حمید آؤ۔۔۔ آج پئیں اور خوب پئیں۔۔۔ یہ ختم ہو جائے گی تو اور لائیں گے۔‘‘\n\nحمید اس قدر متحیر ہوا کہ وہ اس سے کچھ بھی نہ کہہ سکا۔ ملک نے دوسری جیب سے سوڈے کی بوتل نکالی، تپائی پر سے گلاس اٹھا کر اس میں شراب انڈیلی۔ سوڈے کی بوتل انگوٹھے سے کھولی، اور حمید کی متحیر آنکھوں کے سامنے وہ دو پیگ غٹاغٹ پی گیا۔حمید نے تتلاتے ہوئے کہا، ’’لیکن۔۔۔ لیکن۔۔۔ اس روز تم نے مجھے اتنا برا بھلا کہا تھا۔۔۔‘‘\n\nملک نے ایک قہقہہ بلند کیا، ’’تم نے مجھ سے شرارت کی۔ میں نے بھی اس کے جواب میں تم سے شرارتاً کچھ کہہ دیا۔۔۔ مگر بھئی ایمان کی بات ہے جو مزہ اس روز جِن کے دو پیگ پینے میں آیا ہے زندگی بھر کبھی نہیں آئے گا۔ لو اب چھوڑو اس قصے کو۔۔۔ وسکی پیو۔ جِن وِن بکواس ہے۔ شراب پینی ہو تو وسکی پینی چاہیے۔‘‘ یہ سن کر حمید کو ایسا محسوس ہوا تھا کہ جو سجدہ اس نے گلی میں کیا تھا ٹھنڈے فرش سے نکل کر اس کی پیشانی پر چپک گیا ہے۔یہ سجدہ بھوت کی طرح حمید کی زندگی سے چمٹ گیا تھا۔ اس نے اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے پھر پینا شروع کیا۔ مگر اس سے بھی کچھ فائدہ نہ ہوا۔\n\nان سات برسوں میں جو اس کی پرانی تصویر اور اس کے درمیان کھلے ہوئے تھے، یہ ایک سجدہ بے شمار مرتبہ حمید کو اس کی اپنی نگاہوں میں ذلیل و رسوا کر چکا تھا۔ اس کی خودی، اس کی تخلیقی قوت، اس کی زندگی کی وہ حرارت جس سے حمید اپنے ماحول کو گرما کے رکھنا چاہتا تھا ،اس سجدے نے قریب قریب سرد کردی تھی۔ یہ سجدہ اس کی زندگی میں ایک ایسی خراب بریک بن گئی تھی جو کبھی کبھی اپنے آپ اس کے چلتے ہوئے پہیوں کو ایک دھچکے کے ساتھ ٹھہرا دیتی تھی۔\n\nسات برس کی پرانی تصویر اس کے سامنے میز پر پڑی تھی۔ جب سارا واقعہ اس کے دماغ میں پوری تفصیل کے ساتھ دہرایا جا چکا تھا تو اس کے اندر ایک ناقابل بیان اضطراب پیدا ہوگیا۔ وہ ایسا محسوس کرنے لگا جیسے اس کو قے ہونے والی ہے۔وہ گھبرا کر اٹھا اور سامنے کی دیوار کے ساتھ اس نے اپنا ماتھا رگڑنا شروع کردیاجیسے وہ اس سجدے کا نشان مٹانا چاہتا ہے۔ اس عمل سے اسے جب جسمانی تکلیف پہنچی تو وہ پھر کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔ سر جھکا کر اور کاندھے ڈھیلے کرکے اس نے تھکی ہوئی آواز میں کہا، ’’اے خدا، میرا سجدہ مجھے واپس دے دے۔۔۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81"} {"title": "سجن مجھ پر بہت نا مہرباں ہے", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سجن مجھ پر بہت نا مہرباں ہے\nکہاں وہ عاشقاں کا قدر داں ہے\n\nکہوں احوال دل کا اس کو کیونکر\nبہت نازک مزاج و بد زباں ہے\n\nمرا دل بند ہے اس نازنیں پر\nعجب اس خوش لقا میں ایک آں ہے\n\nبھواں شمشیر ہیں و زلف پھانسی\nہر اک پلک اس کی مانند سناں ہے\n\nخدا اس کو رکھے دنیا میں محفوظ\nنہال آرزو آرام جاں ہے\n\nچندر بے وقر ہے اس بدر آگے\nصفا اس مکھ کی ہر اک پر عیاں ہے\n\nسمجھتا ہے ترے اشعار فائزؔ\nخدا کے فضل سوں وہ نکتہ داں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AC%D9%86_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D9%86%D8%A7_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "سجن ٹک ناز سوں مجھ پاس آ آہستہ آہستہ", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سجن ٹک ناز سوں مجھ پاس آ آہستہ آہستہ\nچھپی باتیں اپس دل کی سنا آہستہ آہستہ\n\nغرض گویاں کی باتاں کوں نہ لا خاطر منیں ہرگز\nسجن اس بات کوں خاطر میں لا آہستہ آہستہ\n\nہر اک کی بات سننے پر توجہ مت کر اے ظالم\nرقیباں اس سیں ہوئیں گے جدا آہستہ آہستہ\n\nمبادا محتسب بدمست سن کر تان میں آوے\nطنبورہ آہ کا اے دل بجا آہستہ آہستہ\n\nولیؔ ہرگز اپس کے دل کوں سینے میں نہ رکھ غمگیں\nکہ بر لاوے گا مطلب کوں خدا آہستہ آہستہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AC%D9%86_%D9%B9%DA%A9_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%A2_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81"} {"title": "سحر البیان", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "کروں پہلے توحید یزداں رقم\nجھکا جس کے سجدے کو اول قلم\n\nسر لوح پر رکھ بیاض جبیں\nکہا: دوسرا کوئی تجھ سا نہیں\n\nقلم پھر شہادت کی انگلی اٹھا\nہوا حرف زن یوں کہ: رب العلا!\n\nنہیں کوئی تیرا، نہ ہوگا شریک\nتری ذات ہے وحدہٗ لا شریک\n\nپرستش کے قابل ہے تواے کریم!\nکہ ہے ذات تیری غفور رحیم\n\nرہ حمد میں تیری عزّ و جل!\nتجھے سجدہ کرتا چلوں سر کے بل\n\nوہ، الحق کہ ایسا ہی معبود ہے\nقلم جو لکھے، اس سے افزود ہے\n\nسبھوں کا وہی دین و ایمان ہے\nیے دل ہیں تمام اور وہی جان ہے\n\nتر و تازہ ہے اس سے گلزار خلق\nوہ ابر کرم، ہے ہوا دار خلق\n\nاگرچہ وہ بے فکر و غیّور ہے\nولے پرورش سب کی منظور ہے\n\nکسی سے بر آوے نہ کچھ کام جاں\nجو وہ مہرباں ہو، تو گل مہرباں\n\nاگرچہ یہاں کیا ہے اور کیا نہیں\nپر، اس بن تو کوئی کسی کا نہیں\n\nموئے پر نہیں اس سے رفت و گزشت\nاسی کی طرف سب کی ہے بازگشت\n\nرہا کون اور کس کی بابت رہی\nموئے اور جیتے وہی ہے وہی\n\nنہاں سب میں، اور سب میں ہے آشکار\nیہ سب اس کے عالم ہیں ہژدہ ہزار\n\nڈرے سب ہیں اس سے، وہی سب سے پیش\nہمیشہ سے ہے اور رہے گا ہمیش\n\nچمن میں، ہے وحدت کے، یکتا وہ گل\nکہ مشتاق ہیں اس کے سب جز و کُل\n\nاسی سے ہے کعبہ، اسی سے کنشت\nاسی کا ہے دوزخ، اسی کا بہشت\n\nجسے چاہے جنت میں دیوے مقام\nجسے چاہے دوزخ میں رکھے مدام\n\nوہ ہے مالکُ الملک دنیا و دیں\nہے قبضے میں اس کے زمان و زمیں\n\nسدا بے نمودوں کی اس سے نمود\nدل بستگاں کی ہے اس سے کشود\n\nاسی کی نظر سے ہے ہم سب کی دید\nاسی کے سخن پر ہے سب کی شنید\n\nوہی نور، ہے سب طرف جلوہ گر\nاسی کے یہ ذرے ہیں شمس و قمر\n\nنہیں اس سے خالی غرض کوئی شے\nوہ کچھ شے نہیں، پر ہر اک شے میں ہے\n\nنہ گوہر میں ہے وہ، نہ ہے سنگ میں\nو لیکن چمکتا ہے ہر اک رنگ میں\n\nوہ ظاہر میں ہر چند ظاہر نہیں\nپہ، ظاہر کوئی، اس سے باہر نہیں\n\nتامل سے کیجے اگر غور کچھ\nتو سب کچھ وہی ہے، نہیں اور کچھ\n\nاسی گل کی بو سے ہے خوش بو گلاب\nپھرے ہے لیے ساتھ دریا، حباب\n\nپر، اس جوش میں آ کے، بہنا نہیں\nسمجھنے کی ہے بات، کہنا نہیں\n\nقلم، گو زباں لاوے اپنی ہزار\nلکھے کس طرح حمد پروردگار\n\nکہ عاجز ہے یاں انبیا کی زباں\nزبان قلم کو یہ قدرت کہاں!\n\nاس عہدے سے کوئی بھی نکلا کہیں!\nسوا عجز، درپیش یاں کچھ نہیں\n\nوہ معبود یکتا، خدائے جہاں\nکہ جس نے کیا ’’کن‘‘ میں کون و مکاں\n\nدیا عقل و ادراک اس نے ہمیں\nکیا خاک سے پاک اس نے ہمیں\n\nپیمبر کو بھیجا ہمارے لیے\nوصی اور امام اس نے پیدا کیے\n\nجہاں کو انھوں نے دیا انتظام\nبرائی بھلائی سجھائی تمام\n\nدکھائی انھوں نے ہمیں راہ راست\nکہ تا، ہو نہ، اس راہ کی باز خواست\n\nسو وہ کون سی راہ؟ شرع نبی\nکہ رستے کو جنت کے سیدھی گئی\n\nنعت حضرت رسالت پناہ کی\nنبی کون، یعنی رسول کریم\n\nنبوت کے دریا کا در یتیم\nہوا گو کہ ظاہر میں امی لقب\n\nپہ، علم لدنی کھلا دل پہ سب\nبغیر از لکھے، اور کیے بے رقم\n\nچلے حکم پر اس کے لوح و قلم\nہوا علم دیں اس کا جو آشکار\n\nگزشتہ ہوئے حکم، تقویم پار\nاٹھا کفر اسلام ظاہر کیا\n\nبتوں کو خدائی سے باہر کیا\nکیا حق نے نبیوں کا سردار اسے\n\nبنایا نبوت کا حق دار اسے\nنبوت جو کی اس پہ حق نے تمام\n\nلکھا: اشرفُ الناس، خیرُ الانام\nبنایا سمجھ بوجھ کر خوب اسے\n\nخدا نے کیا اپنا محبوب اسے\nکروں اس کے رتبے کا کیا میں بیاں\n\nکھڑے ہوں جہاں باندھ صف مرسلاں\nمسیح اس کی خر گاہ کا پارہ دوز\n\nتجلیٔ طور اس کی مشعل فروز\nخلیل اس کے گلزار کا باغباں\n\nسلیماں سے کئی مہر دار اس کے یاں\nخضر اس کی سرکار کا آبدار\n\nزرہ ساز داؤد سے دس ہزار\nمحمد کی مانند جگ میں نہیں\n\nہوا ہے نہ ایسا، نہ ہو گا کہیں\nیہ تھی رمز، جو اس کے سایہ نہ تھا\n\nکہ رنگ دوئی واں تک آیا نہ تھا\nنہ ہونے کا سایے کا تھا یہ سبب\n\nہوا صَرف پوشش میں کعبے کی سب\nوہ قد اس لیے تھا نہ سایہ فگن\n\nکہ تھا گل وہ اک معجزے کا بدن\nبنا سایہ اس کا لطیف اس قدر\n\nنہ آیا لطافت کے باعث نظر\nعجب کیا جو اس گل کا سایہ نہ ہو\n\nکہ تھا وہ، گل قدرت حق کی بو\nخوش آیا نہ، سایے کو، ہونا جدا\n\nاسی نور حق کے رہا زیر پا\nنہ ڈالی کسی شخص پر اپنی چھانو\n\nکسی کا نہ منہ دیکھا، دیکھ اس کے پانو\nوہ ہوتا زمیں گیر کیا فرش پر\n\nقدم اس کے سایے کا تھا عرش پر\nنہ ہونے کی سایے کے اک وجہ اور\n\nمجھے خوب سوجھی، پہ ہے شرط غور\nجہاں تک کہ تھے یاں کے اہل نظر\n\nسمجھ مایۂ نور، کحلُ البصر\nسبھوں نے لیا پتلیوں پر اٹھا\n\nزمیں پر نہ سایے کو گرنے دیا\nسیاہی کا پتلی کی ہے یہ سبب\n\nوہی سایہ پھرتا ہے آنکھوں میں اب\nوگرنہ یہ تھی چشم اپنی کہاں\n\nاسی سے یہ روشن ہے سارا جہاں\nنظر سے جو غائب وہ سایا رہا\n\nملائک کے دل میں سمایا رہا\nنہیں ہمسر اس کا کوئی، جو علی\n\nکہ بھائی کا بھائی، وصی کا وصی\nہوئی جو نبوت نبی پر تمام\n\nہوئی نعمت اس کے وصی پر تمام\nجہاں فیض سے ان کے ہے کام یاب\n\nنبی آفتاب و علی ماہتاب\nمنقبت حضرت امیرالمومنین کی\n\nعلی دین و دنیا کا سردار ہے\nکہ مختار کے گھر کا مختار ہے\n\nدیار امامت کے گلشن کا گل\nبہار ولایت کا باغ سبل\n\nعلی راز دار خدا و نبی\nخبردار سر خفی و جلی\n\nعلی بندۂ خاص درگاہ حق\nعلی سالک و رہبر راہ حق\n\nعلیّ ولی، ابن عمّ رسول\nلقب شاہ مردان و زوج بتول\n\nکہے یوں جو چاہے کوئی بیر سے\nپہ نسبت علی کو نہیں غیر سے\n\nخدا نفس پیغبرش خداندہ است\nدگر افضلیت بہ کس ماندہ است؟\n\nیہاں بات کی بھی سمائی نہیں\nنبی و علی میں جدائی نہیں\n\nنبی و علی، ہر دو نسبت بہم\nدُو تا و یکے، چوں زبان قلم\n\nعلی کا عدوٗ: دوزخی، دوزخی\nعلی کا محب: جنتی، جنتی\n\nنبی اور علی، فاطمہ اور حسن\nحسین ابن حیدر، یہ ہیں پنج تن\n\nہوئی ان پہ دو جگ کی خوبی تمام\nانہوں پر درود اور انہوں پر سلام\n\nعلی سے لگا تا بہ مہدیٔ دیں\nیہ ہیں ایک نور خدائے بریں\n\nاُنہوں سے ہے قائم امامت کا گھر\nکہ بارہ ستوں ہیں یہ اثنا عشر\n\nصغیرہ، کبیرہ سے یہ پاک ہیں\nحساب عمل سے یہ بے باک ہیں\n\nہوا یاں سے ظاہر کمال رسول\nکہ بہتر ہوئی سب سے آل رسول\n\nسلام ان پہ جو ان کے اصحاب ہیں\nوہ اصحاب کیسے، کہ احباب ہیں\n\nخدا نے انہوں کو کہا مومنیں\nوہ ہیں زینت آسمان و زمیں\n\nخدا ان سے راضی، رسول ان سے خوش\nعلی ان سے راضی، بتول ان سے خوش\n\nہوئی فرض ان کی ہمیں دوستی\nکہ ہیں دل سے وہ جاں نثار نبی\n\nمناجات\nالٰہی! بہ حق رسول امیں\n\nبہ حق علی و بہ اصحاب دیں\nبہ حق بتول و بہ آل رسول\n\nکروں عرض جو میں، سو ہوئے قبول\nالٰہی! میں بندہ گنہگار ہوں\n\nگناہوں میں اپنے گراں بار ہوں\nمجھے بخشیو میرے پروردگار!\n\nکہ ہے تو کریم اور آمرزگار\nمری عرض یہ ہے کہ جب تک جیوں\n\nشراب محبت کو تیری پیوں\nسوا تیری الفت کے، اور سب ہے ہیچ\n\nیہی ہو، نہ ہو اور کچھ ایچ پیچ\nجو غم ہو، تو ہو آل احمد کا غم\n\nسوا اس الم کے نہ ہو کچھ الم\nرہے سب طرف سے مرے دل کو چین\n\nبہ حق حسن اور بہ حق حسین\nکسی سے نہ کرنی پڑے التجا\n\nتو کر خود بہ خود میری حاجت روا\nصحیح اور سالم سدا مجھ کو رکھ\n\nخوشی سے ہمیشہ خدا! مجھ کو رکھ\nمری آل اولاد کو شاد رکھ\n\nمرے دوستوں کو تو آباد رکھ\nمیں کھاتا ہوں جس کا نمک اے کریم!\n\nسدا رحم کر اس پہ تو اے رحیم!\nجیوں آبرو اور حرمت کے ساتھ\n\nرہوں میں عزیزوں میں عزت کے ساتھ\nبر آویں مرے دین و دنیا کے کام\n\nبہ حق محمد علیہ السلام\nتعیریف سخن کی\n\nپلا مجھ کو ساقی! شراب سخن\nکہ مفتوح ہو جس سے باب سخن\n\nسخن کی مجھے فکر دن رات ہے\nسخن ہی تو ہے، اور کیا بات ہے\n\nسخن کے طلب گار ہیں عقل مند\nسخن سے ہے نام نکو یاں بلند\n\nسخن کی کریں قدر مردان کار\nسخن، نام ان کا رکھے برقرار\n\nسخن سے وہی شخص رکھتے ہیں کام\nجنہیں چاہیے ساتھ نیکی کے نام\n\nسخن سے سلف کی بھلائی رہی\nزبان قلم سے بڑائی رہی\n\nکہاں رستم و گیو و افراسیاب\nسخن سے رہی یاد یہ نقل خواب\n\nسخن کا صلہ یار دیتے رہے\nجواہر سدا مول لیتے رہے\n\nسخن کا سدا گرم بازار ہے\nسخن سنج اس کا خریدار ہے\n\nرہے جب تلک داستان سخن\nالٰہی! رہے قدردان سخن\n\nمدح شاہ عالم بادشاہ کی\nخدیو فلک شاہ عالی گہر\n\nزمیں بوس ہوں جس کے شمس و قمر\nجہاں اس کے پرتو سے ہے کام یاب\n\nوہ ہے برج اقلیم میں آفتاب\nاسی مہر سے ہے منور یہ ماہ\n\nجہاں ہووے اور ہو جہاں دار شاہ\nوہ مہر منور، یہ ماہ منیر\n\nاور اس کا یہ نجم سعادت وزیر\nمدح وزیر آصف الدولہ کی\n\nفلک رتبہ نوّاب عالی جناب\nکہ ہے آصف الدولہ جس کا خطاب\n\nوزیر جہاں، حاکم عدل و داد\nہے آبادیٔ ملک جس کی مراد\n\nجہاں، عدل سے اس کے آباد ہے\nغریبوں، فقیروں کا دل شاد ہے\n\nپھرے بھاگتا مور سے فیل مست\nزبردست ظالم، پہ ہے زیردست\n\nکتاں پر کرے مہ اگر بد نظر\nتو آدھا ادھر ہووے آدھا ادھر\n\nکسی کا اگر مفت لے زلف دل\nتو کھایا کرے پیچ وہ متصل\n\nوہ انصاف سے جو گزرتا نہیں\nکسی پر کوئی شخص مرتا نہیں\n\nتو ہو باگ، بکری میں کچھ گفتگو\nاگر اس کا چیتا نہ ہووے کبھو\n\nگر آواز سن صید کی، کچھ کہے\nتو باز آئے چپّک کہ بہری رہے\n\nپھرے شمع کے گرد گر آ کے چور\nصبا کھینچ لے جاوے اس کو بہ زور\n\nنہ لے جب تلک شمع پروانگی\nپتنگے کے پر کو نہ چھیڑے کبھی\n\nاگر آپ سے اس پہ وہ آ گرے\nتو فانوس میں شمع چھپتی پھرے\n\nگر احیاناً اس کے جلیں بال و پر\nتو گل گیر، لے شمع کا کاٹ سر\n\nاسے عدل کی جو طرح یاد ہے\nکسے یاد ہے؟ یہ خدا داد ہے\n\nستم اس کے ہاتھو سے رویا کرے\nسدا فتنۂ دہر سویا کرے\n\nگھروں میں فراغت سے سوتے ہیں سب\nپڑے گھر میں چور اپنے روتے ہیں سب\n\nوہ ہے باعث امن خرد و کلاں\nکہ ہے نام سے اس کے مشق اماں\n\nبیان سخاوت کروں گر رقم\nتو در ریز کاغذ پہ ہووے قلم\n\nنظر سے توجہ کی دیکھا جدھر\nدیا مثل نرگس اسے سیم و زر\n\nسخاوت یہ ادنیٰ سی ایک اس کی ہے\nکہ اک دں دو شالے دیے سات سے\n\nسوا اس کے، ہے اور یہ داستاں\nکہ ہو جس پہ قربان حاتم کی جاں\n\nہوئی کم جو اک بار کچھ برشگال\nگرانی سی ہونے لگی ایک سال\n\nغریبوں کا دم سا نکلنے لگا\nتوکل کا بھی پانو چلنے لگا\n\nوزیرالممالک نے تدبیر کر\nخدا کی دیا راہ پر مال و زر\n\nمحلے محلے کیا حکم یہ\nکہ باڑے کی اس غم کے کھولیں گرہ\n\nیہ چاہا کہ خلقت کسی ڈھب جیے\nٹکے لاکھ لاکھ ایک دن میں دیے\n\nیہ لغزش پڑی ملک میں جو تمام\nلیا ہاتھ نے اس کے گرتوں کو تھام\n\nیہ بندہ نوازی، یہ جاں پروری\nیہ آئین سرداری و سروری\n\nہوئے ذات پر اس سخی کی تمام\nتکلف ہے آگے سخاوت کا نام\n\nفقیروں کی بھی یاں تلک تو بنی\nکہ اک اک یہاں ہو گیا ہے غنی\n\nیہ کیا دخل آواز دے جو گدا\nچٹکنے کی گل کے نہ ہووے صدا\n\nقدح لے کے نرگس جو ہووے کھڑی\nتو خجلت سے جاوے زمیں میں گڑی\n\nنہ ہو اس کا شامل جو ابر کرم\nاثر ابر نیساں سے ہووے عدم\n\nہر اک کام اس کا: جہاں کی مراد\nفلاطوں طبیعت، ارسطو نژاد\n\nجب ایسا وہ پیدا ہوا ہے بشر\nتب اس کو دیا ہے یہ کچھ مال و زر\n\nلکھوں گر شجاعت کا اس کی بیاں\nقلم ہو مرا رستم داستاں\n\nغضب سے وہ ہاتھ اپنا جس پر اٹھائے\nاجل کا طمانچہ قسم اس کی کھائے\n\nکرے جس جگہ زور اس کا نمود\nدل آہن کا اس جا پہ ہووے گبود\n\nچلے تیغ گر اس کی زور مصاف\nنظر آوے دشمن کا میدان صاف\n\nاگر بے حیائی سے کوئی عدو\nملا دیوے اس تیغ سے منہ کبھو\n\nتو ایسے ہی کھا کر گرے سر کے بل\nکہ سر پر کھڑی اس کے رووے اجل\n\nنہ ہو کیونکے وہ تیغ برق غضب\nکہ برش کی تشدید، جوہر ہیں سب\n\nلگاوے اگر کوہ پر ایک بار\nگزر جائے یوں، جیسے صابن میں تار\n\nہوئی ہم قسم اس سے تیغ اجل\nنکل آئے یہ، گر پڑے وہ اگل\n\nغضب سے، غضب، اس کے کانپا کرے\nتہور بھی ہیبت سے اس کی ڈرے\n\nاور اس زور پر ہے یہ علم و حیا\nکہ ہے خلق کا جیسے دریا بہا\n\nجہاں تک کہ ہیں علم و نسب و کمال\nہر اک فن میں ماہر ہے وہ خوش خصال\n\nسخن داں، سخن سنج، شیریں زباں\nوزیر جہان و وحید زماں\n\nسخن کی نہیں اس سے پوشیدہ بات\nغوامض ہیں سب سہل اس کے نکات\n\nسلیقہ ہر اک فن میں، ہر بات میں\nنکلتی نئی بات دن رات میں\n\nسدا سیر پر اور تماشے پہ دل\nکشادہ دلی اور خوشی متصل\n\nنہ ہو اس کو کیوں کر ہواے شکار\nتہور شعاروں کا ہے یہ شعار\n\nدلیروں کے تئیں، ہے دلیروں سے کام\nکہ رہتا ہے شیروں کو شیروں سے کام\n\nشہاں را ضروراست مشق شکار\nکہ آید پئے صید دل ہا بہ کار\n\nکھلے، بند جتنے ہیں صحرا میں صید\nہیں نواب کے دام الفت میں قید\n\nزمہرش دل آہواں سوختہ\nبہ فتراک او چشمہا دوختہ\n\nشجاعت کا، ہمت کا یہ، کام ہے\nدرم ہاتھ میں ہے کہ یا دام ہے\n\nنہ ہوتا اگر اس کو عزم شکار\nدرندوں سے بچتا نہ شہر و دیار\n\nنہ بچتے جہاں بیچ خرد و بزرگ\nیہ ہو جاتے سب لقمۂ شیر و گرگ\n\nیہ انسان پر اس کا احسان ہے\nکہ بے خوف انسان کی جان ہے\n\nبنائی جہاں اس نے نخچیر گاہ\nرہے صید واں آکے شام و پگاہ\n\nرکھا صید بحری پہ جس دم خیال\nلیا پشت پر اپنی ماہی نے جال\n\nمگر اپنا دیتے ہیں جی جان کر\nکہ ٹاپو پہ گرتے ہیں آن آن کر\n\nنہ سمجھو نکلتے ہیں دریا میں سوس\nخوشی سے اچھلتے ہیں دریا میں سوس\n\nچرندوں کا دل اس طرف ہے لگا\nپرندوں کو رہتی ہے اس کی ہوا\n\nپلنگوں کا ہے بلکہ چیتا یہی\nکمر آ بندھاوے ہماری وہی\n\nکھڑے اَرنے ہوتے ہیں سر جوڑ جوڑ\nکہ جی کون دیتا ہے بد بد کے ہوڑ\n\nخبر اس کی سن کر نہ گینڈا چلے\nکہ ہاتھی بھی ہو مست، اینڈا چلے\n\nجو کچھ دل میں گینڈے کے آوے خیال\nتو بھاگے اس آگے سپر اپنی ڈال\n\nاطاعت کے حلقے سے بھاگے جو فیل\nپلک، اس کی آنکھوں میں، ہو تفتہ میل\n\nسو وہ تو اطاعت میں یک دست ہیں\nنشے میں محبت کے سب مست ہیں\n\nاسی کے لیے گو کہ ہیں وے پہاڑ\nقدم اپنے رکھتے ہیں سب گاڑ گاڑ\n\nکہ شاید مشرف سواری سے ہوں\nسر افراز چل کر عماری سے ہوں\n\nچلن جب یہ کچھ ہوویں حیوان کے\nتو پھر حق بہ جانب ہے انسان کے\n\nکسے ہو نہ صحبت کی اس کی ہوس\nولے کیا کرے، جو نہ ہو دسترس\n\nفلک بار گاہا، ملک در گہا!\nجدا میں جو قدموں سے تیرے رہا\n\nنہ کچھ عقل نے اور نہ تدبیر نے\nرکھا مجھ کو محروم تقدیر نے\n\nپراب عقل نے میرے کھولے ہیں گوش\nدیا ہے مدد سے تری مجھ کو ہوش\n\nسو میں، اک کہانی بنا کر نئی\nدر فکر سے گوندھ لڑیاں کئی\n\nلے آیا ہوں خدمت میں بہر نیاز\nیہ امید ہے پھر، کہ ہوں سرفراز\n\nمرے عذر تقصیر ہوویں قبول\nبہ حق علی و بہ آل رسول\n\nرہے جاہ و حشمت یہ تیری مدام\nبہ حق محمد، علیہ السلام\n\nرہیں شاد و آباد کل خیر خواہ\nپھریں اس گھرانے کے دشمن تباہ\n\nاب آگے کہانی کی ہے داستاں\nذرا سنیو دل دے کے اس کا بیاں\n\nآغاز داستاں\nکسی شہر میں تھا کوئی بادشاہ\n\nکہ تھا وہ شہنشاہ گیتی پناہ\nملک خو، ملک شاہ رکھتا تھا نام\n\nفلک پر مہ و مہر اس کے غلام\nبہت حشمت و جاہ و مال و منال\n\nبہت فوج سے اپنی فرخندہ حال\nکئی بادشاہ اس کو دیتے تھے باج\n\nخطا اور ختن سے وہ لیتا خراج\nکوئی دیکھتا آ کے جب اس کی فوج\n\nتو کہتا کہ: ہے بحر ہستی کی موج\nطویلے کے اس کے جو ادنی تھے خر\n\nانھیں نعل بندی میں ملتا تھا زر\nجہاں تک کہ سرکش تھے اطراف کے\n\nوہ اس شہ کے رہتے تھے قدموں لگے\nرعیت تھی آسودہ و بے خطر\n\nنہ غم مفلسی کا، نہ چوری کا ڈر\nعجب شہر تھا اس کا مینو سواد\n\nکہ قدرت خدائی کی آتی تھی یاد\nلگے تھے ہر اک جا پہ وہاں سنگ و خشت\n\nہر اک کوچہ اس کا، تھا رشک بہشت\nزمیں سبز و سیراب عالم تمام\n\nنظر کو طراوت وہاں صبح و شام\nکہیں چاہ و منبع، کہیں حوض و نہر\n\nہر اک جا پہ آب لطافت کی لہر\nعمارت تھی گچ کی وہاں پیش تر\n\nکہ گزرے صفائی سے جس پر نظر\nکروں اس کی وسعت کا کیا میں بیاں\n\nکہ جوں اصفہاں، تھا وہ نصف جہاں\nہنر مند واں اہل حرفہ تمام\n\nہر اک نوع کی خلق کا ازدحام\nیہ دل چسپ بازار تھا چوک کا\n\nکہ ٹھہرے جہاں، بس وہیں دل لگا\nجہاں تک یہ رستے تھے بازار کے\n\nکہے تو کہ تختے تھے گلزار کے\nصفا پر جو اس کی نظر کر گئے\n\nاسے دیکھ کر سنگ مرمر گئے\nکہوں قلعے کی اس کے کیا میں شکوہ\n\nگئے دب، بلندی کو دیکھ اس کی، کوہ\nوہ دولت سرا خانۂ نور تھا\n\nسدا عیش و عشرت سے معمور تھا\nہمیشہ خوشی، رات دن سیر باغ\n\nنہ دیکھا کسی دل پہ، جز لالہ، داغ\nسدا عیش و عشرت، سدا راگ و رنگ\n\nنہ تھا زیست سے کوئی اپنی بہ تنگ\nغنی وہاں وا، جو کہ آیا تباہ\n\nعجب شہر تھا وہ عجب بادشاہ\nنہ دیکھا کسی نے کوئی واں فقیر\n\nہوئے اس کی دولت سے گھر گھر امیر\nکہاں تک کہوں اس کا جاہ و حشم\n\nمحل و مکاں اس کا رشک ارم\nہزاروں پری پیکر اس کے غلام\n\nکمر بستہ خدمت میں حاضر مدام\nسدا ماہ رویوں سے صحبت اسے\n\nسدا جامہ زیبوں سے رغبت اسے\nکسی طرف سے وہ نہ رکھتا تھا غم\n\nمگر ایک اولاد کا تھا الم\nاسی بات کا اس کے تھا دل پہ داغ\n\nنہ رکھتا تھا وہ اپنے گھر کا چراغ\nدنوں کا عجب اس کے یہ پھیر تھا\n\nکہ اس روشنی پہ یہ اندھیر تھا\nوزیروں کو اک روز اس نے بلا\n\nجو کچھ دل کا احوال تھا، سو کہا\nکہ میں کیا کروں گا یہ مال و منال\n\nفقیری کا ہے میرے دل کو خیال\nفقیر اب نہ ہوں، تو کروں کیا علاج\n\nنہ پیدا ہوا وارث تخت و تاج\nجوانی مری ہو گئی سب بسر\n\nنمودار پیری ہوئی سر بہ سر\nدریغا کہ عہد جوانی گذشت\n\nجوانی مگو، زندگانی گذشت\nبہت ملک پر جان کھویا کیا\n\nبہت فکر دنیا میں رویا کیا\nزہے بے تمیزی و بے حاصلی\n\nکہ از فکر دنیا، ز دیں غافلی\nوزیروں نے کی عرض کہ اے آفتاب!\n\nنہ ہو تجھ کو ذرہ کبھی اضطراب\nفقیری جو کیجے تو دنیا کے ساتھ\n\nنہیں خوب، جانا ادھر خالی ہاتھ\nکرو سلطنت، لے کے اعمال نیک\n\nکہ تا دو جہاں میں رہے حال نیک\nجو عاقل ہوں، وے سوچ میں ٹک رہیں\n\nکہ ایسا نہ ہووے کہ پھر سب کہیں\nتو کار زمیں را نکو ساختی\n\nکہ بر آسماں نیز پرداختی\nیہ دنیا جو ہے مزرع آخرت\n\nفقیری میں ضائع کرو اس کو مت\nعبادت سے اس کشت کو آب دو\n\nوہاں جا کے خرمن ہی تیار لو\nرکھو یاد عدل و سخاوت کی بات\n\nکہ اس فیض سے ہے تمہاری نجات\nمگر ہاں، یہ اولاد کا ہے جو غم\n\nسو اس کا تردد بھی کرتے ہیں ہم\nعجب کیا کہ ہووے تمہارے خلف\n\nکرو تم نہ اوقات اپنی تلف\nنہ لاؤ کبھی یاس کی گفتگو\n\nکہ قرآں میں آیا ہے: لا تقنطو\nبلاتے ہیں ہم اہل تنجیم کو\n\nنصیبوں کو اپنے ذرا دیکھ لو\nتسلی تو دی شاہ کو اس نمط\n\nولے اہل تنجیم کو بھیجے خط\nنجومی و رَمّال اور برہمن\n\nغرض یاد تھا جن کو اس ڈھب کا فن\nبلا کر انہیں شہ کنے لے گئے\n\nجوں ہی رو بہ رو شہ کے سب وے گئے\nپڑا جب نظر وہ شہ تاج و تخت\n\nدعا دی کہ ہوں شہ کے بیدار بخت\nکیا قاعدے سے نہڑ کر سلام\n\nکہا شہ نے: میں تم سے رکھتا ہوں کام\nنکالو ذرا اپنی اپنی کتاب\n\nمرا ہے سوال، اس کا لکھو جواب\nنصیبوں میں دیکھو تو میرے کہیں\n\nکسی سے بھی اولاد ہے یا نہیں\nیہ سن کر، وے رمال طالع شناس\n\nلگے کھینچنے زائچے بے قیاس\nدھرے تختے آگے، لیا قرعہ ہاتھ\n\nلگا دھیان اولاد کا اس کے ساتھ\nجو پھینکیں، تو شکلیں کئی بیٹھیں مل\n\nکئی شکل سے دل گیا ان کا کھل\nجماعت نے رمال کی عرض کی\n\nکہ ہے گھر میں امید کے کچھ خوشی\nیہ سن ہم سے اے عالموں کے شفیق\n\nبہت ہم نے تکرار کی ہر طریق\nبیاض اپنی دیکھی جو اس رَمل کی\n\nتو ایک ایک نکتہ، ہے فرد خوشی\nہے اس بات پر اجتماع تمام\n\nکہ طالع میں فرزند ہے تیرے نام\nزن و زوج کے گھر میں ہے گی فرح\n\nپیا کر مے وصل کا تو قدح\nنجومی بھی کہنے لگے در جواب\n\nکہ ہم نے بھی دیکھی ہے اپنی کتاب\nنحوست کے دن سب گئے ہیں نکل\n\nعمل اپنا سب کر چکا ہے زحل\nستارے نے طالع کے، بدلے ہیں طور\n\nخوشی کا کوئی دن میں آتا ہے دور\nنظر کی جو تسدیس و تثلیث پر\n\nتو دیکھا کہ ہے نیک سب کی نظر\nکیا پنڈتوں نے جو اپنا بچار\n\nتو کچھ انگلیوں پر کیا پھر شمار\nجنم پترا شاہ کا دیکھ کر\n\nتُلا اور بِرچھک پہ کر کر نظر\nکہا: رام جی کی ہے تم پر دیا\n\nچندرما سا بالک ترے ہووے گا\nنکلتے ہیں اب تو خوشی کے بچن\n\nنہ ہو گر خوشی، تو نہ ہوں برہمن\nمہاراج کے ہوں گے مقصد شتاب\n\nکہ آیا ہے اب پانچواں آفتاب\nنصیبوں نے کی آپ کے یاوری\n\nکہ آئی ہے اب ساتویں مشتری\nمقرر ترے، چاہیے، ہو پسر\n\nکہ دیتی ہے یوں اپنی پوتھی خبر\nوہ لیکن مقدر ہے کچھ اور بھی\n\nکہ ہیں اس بھلے میں، برے طور بھی\nیہ لڑکا تو ہو گا، ولے کیا کہیں\n\nخطر ہے اسے بارھویں برس میں\nنہ آوے یہ خورشید بالائے بام\n\nبلندی سے خطرہ ہے اس کو تمام\nنہ نکلے یہ بارہ برس رشک مہ\n\nرہے برج میں یہ مہ چاردہ\nکہا شہ نے یہ سن کے، ان کے تئیں\n\nکہو، جی کا خطرہ تو اس کو نہیں؟\nکہا: جان کی سب طرح خیر ہے\n\nمگر دشت غربت کی کچھ سیر ہے\nکوئی اس پہ عاشق ہو جن و پری\n\nکوئی اس کی معشوق ہو استری\nکچھ ایسا نکلتا ہے پوتھی میں اب\n\nخرابی ہو اس پر کسی کے سبب\nہوئی کچھ خوشی شہ کو اور کچھ الم\n\nکہ دنیا میں توام ہیں شادی و غم\nکہا شہ نے: اس پر نہیں اعتبار\n\nجو چاہے کرے میرا پروردگار\nیہ فرما، محل میں در آمد ہوئے\n\nمنجم وہاں سے بر آمد ہوئے\nخدا پر زبس اس کا تھا اعتقاد\n\nلگا مانگنے اپنی حق سے مراد\nخدا سے لگا کرنے وہ التجا\n\nلگا آپ مسجد میں رکھنے دیا\nنکالا مرادوں کا آخر سراغ\n\nلگائی ادھر لَو، تو پایا چراغ\nسحاب کرم نے کیا جو اثر\n\nہوئی کشت امید کی بارور\nاسی سال میں، یہ تماشا سنو\n\nرہا حمل اک زوجۂ شاہ کو\nجو کچھ دل پہ گزرے تھے رنج و تعب\n\nمبدّل ہوئے وے خوشی ساتھ سب\nخوشی سے پلا مجھ کو ساقی! شراب\n\nکوئی دم میں بجتا ہے چنگ و رباب\nکروں نغمۂ تنہنیت کو شروع\n\nکہ اک نیک اختر کرے ہے طلوع\nداستان تولد ہونے کی شاہ زادہ بے نظیر کے\n\nگئے نو مہینے جب اس پر گزر\nہوا گھر میں شہ کے تولد پسر\n\nعجب صاحب حسن پیدا ہوا\nجسے مہرومہ دیکھ شیدا ہوا\n\nنظر کو نہ ہو حسن پر اُس کے تاب\nاسے دیکھ، بے تاب ہو آفتاب\n\nہوا وہ جو اُس شکل سے دل پذیر\nرکھا نام اس کا شہ بے نظیر\n\nخواصوں نے، خواجہ سراؤں نے جا\nکئی نذریں گزرانیاں اور کہا\n\nمبارک تجھے اے شہ نیک بخت!\nکہ پیدا ہوا وارث تاج و تخت\n\nسکندر نژاد اور دارا حشم\nفلک مرتبت اور عطارد رقم\n\nرہے اس کے اقلیم زیر نگیں\nغلامی کریں اس کی خاقان چیں\n\nیہ سنتے ہی مژدہ، بچھا جا نماز\nکیے لاکھ سجدے، کہ اے بے نیاز!\n\nتجھے فضل کرتے نہیں لگتی بار\nنہ ہو تجھ سے مایوس، امید دار\n\nدوگانہ غرض شکر کا کر ادا\nتہیہ کیا شاہ نے جشن کا\n\nوے نذریں خواصوں کی، خوجوں کی لے\nانہیں خلعت و زر کا انعام دے\n\nکہا: جاؤ، جو کچھ کہ درکار ہو\nکہو خانساماں سے تیار ہو\n\nنقیبوں کو بلوا کے یہ کہ دیا\nکہ نقار خانے میں دو حکم جا\n\nکہ نوبت خوشی کی بجاویں تمام\nخبر سن کے یہ شاد ہوں خاص و عام\n\nیہ مژدہ جو پہنچا، تو نقارچی\nلگا ہر جگہ بادلا اور زری\n\nبنا ٹھاٹھ نقار خانے کا سب\nمہیا کر اسباب عیش و طرب\n\nغلاف اس پہ بانات پر زر کے ٹانک\nشتابی سے نقاروں کو سینک سانک\n\nدیا چوب کو پہلے بم سے ملا\nلگی پھیلنے ہر طرف کو صدا\n\nکہا زیر سے بم نے بہر شگوں\nکہ دوں دوں خوشی کی خبر کیوں نہ دوں\n\nبجے شادیانے جو واں اس گھڑی\nہوئی گرد و پیش آ کے خلقت کھڑی\n\nبہم مل کے بیٹھے جو شہنا نواز\nبنا منہ سے پھرکی، لگا اس پہ ساز\n\nسروں پر وے سر پیچ معمول کے\nخوشی سے، ہوئے گال گل، پھول کے\n\nلگے لینے اپجیں خوشی سے نئی\nاڑانا لگا بجنے اور سگھڑئی\n\nٹکوروں میں نوبت کے شہنا کی دھن\nسگھڑ سننے والوں کو کرتی تھی سن\n\nترھی اور قرنائے شادی کے دم\nلگے بھرنے زیل اور کھرج میں بہم\n\nسنی جھانجھ نے جو خوشی کی نوا\nتھرکنے لگا، تالیوں کو بجا\n\nنئے سر سے عالم کو عشرت ہوئی\nکہ لڑکے کے ہونے کی نوبت ہوئی\n\nمحل سے لگا تابہ دیوان عام\nعجب طرح کا اک ہوا ازدحام\n\nچلے لے کے نذریں وزیر و امیر\nلگے کھینچنے زر کے تودے فقیر\n\nدیے شاہ نے شاہزادے کے نانو\nمشائخ کو اور پیر زادوں کو گانو\n\nامیروں کو جاگیر، لشکر کو زر\nوزیروں کو الماس و لعل و گہر\n\nخواصوں کو، خوجوں کو جوڑے دیے\nپیادے جو تھے، ان کو گھوڑے دیے\n\nخوشی سے کیا یاں تلک زر نثار\nجسے ایک دینا تھا، بخشے ہزار\n\nکیا بھانڈ اور بھکتیوں نے ہجوم\nہوئی ’’آہے آہے مبارک‘‘ کی دھوم\n\nلگا کنچنی، چونا پزنی تمام\nکہاں تک میں لوں نرت کاروں کا نام\n\nجہاں تک کہ سازندے تھے ساز کے\nدھنی دست کے اور آواز کے\n\nجہاں تک کہ تھے گایک اور تنت کار\nلگے گانے اور ناچنے ایک بار\n\nلگے بجنے قانون و بین و رباب\nبہا ہر طرف جوئے عشرت کا آب\n\nلگی تھاپ طبلوں پہ مردنگ کی\nصدا اونچی ہونے لی چنگ کی\n\nکمانچوں کو، سارنگیوں کو بنا\nخوشی سے ہر اک ان کی تربیں ملا\n\nلگا تار پر موم مرچنگ کے\nملا سر طنبوروں کے یک رنگ کے\n\nستاروں کے پردے بنا کر درست\nبجانے لگے سب وے چالاک و چست\n\nگئی بائیں کی آسماں پر گمک\nاٹھا گنبد چرخ سارا دھمک\n\nخوشی کی زبس ہر طرف تھی بساط\nلگے ناچنے اس پہ اہل نشاط\n\nکناری کے جوڑے چمکتے ہوئے\nدو پانوں میں گھنگرو جھنکتے ہوئے\n\nوہ گھٹنا، وہ بڑھنا اداؤں کے ساتھ\nدکھانا وہ رکھ رکھ کے چھاتی پہ ہاتھ\n\nدو بالے چمکتے ہوئے کان میں\nپھڑکنا وہ نتھنے کا ہر آن میں\n\nکبھی دل کو پاؤں سے مل ڈالنا\nنظر سے کبھی دیکھنا بھالنا\n\nدکھانا کبھی اپنی چھب مسکرا\nکبھی اپنی انگیا کو لینا چھپا\n\nکسی کے وہ مکھڑے پہ نتھ کی پھبن\nکسی کے چمکتے ہوئے نورتن\n\nوہ دانتوں کی مسی، وہ گل برگ تر\nشفق میں عیاں جیسے شام و سحر\n\nوہ گرمی کے چہرے، کہ جوں آفتاب\nجسے دیکھ کر دل کو ہو اضطراب\n\nچمکنا گلوں کا صفا کے سبب\nوہ گردن کے ڈورے قیامت، غضب\n\nکبھی منہ کے تئیں پھیر لینا ادھر\nکبھی چوری چوری سے کرنا نظر\n\nدوپٹے کو کرنا کبھی منہ کی اوٹ\nکہ پردے میں ہو جائیں دل لوٹ پوٹ\n\nہر اک تان میں ان کو ارمان یہ\nکہ دل لیجئے تان کی جان یہ\n\nکوئی فن میں سنگیت کے شعلہ رو\nبرم، جوگ، لچھمی کی لے، پر ملو\n\nکوئی ڈیڑھ گت ہی میں پانوں تلے\nکھڑی عاشقوں کے دلوں کو ملے\n\nکوئی دائرے میں بجا کر پرن\nکوئی ڈھمڈھمی میں دکھا اپنا فن\n\nغرض ہر طرح دل کو لینا انہیں\nنئی طرح سے داغ دینا انہیں\n\nکبھی مار ٹھوکر، کریں قتل عام\nکبھی ہاتھ اٹھا، لیویں گرتے کو تھام\n\nکہیں دھرپت اور گیت کا شور و غل\nکہیں قول و قلبانہ و نقش و گل\n\nکہیں بھانڈ کے ولولوں کا سماں\nکہیں ناچ کشمیریوں کا وہاں\n\nمنجیرا، پکھاوج، گلے ڈال ڈھول\nبجاتے تھے اس جا کھڑے، باندھ غول\n\nمحل میں جو دیکھو تو اک ازدحام\nمبارک سلامت کی تھی دھوم دھام\n\nوہاں بھی تو تھی عیش و عشرت کی دھوم\nپری پیکروں کا ہر اک جا ہجوم\n\nچھٹی تک غرض تھی خوشی ہی کی بات\nکہ دن عید اور رات تھی شب برات\n\nبڑھے ابر ہی ابر میں جوں ہلال\nمحل میں لگا پلنے وہ نو نہال\n\nبرس گانٹھ جس سال اس کی ہوئی\nدل بستگاں کی گرہ کھل گئی\n\nوہ گل جب کہ چوتھے برس میں لگا\nبڑھایا گیا دودھ اس ماہ کا\n\nہوئی تھی جو کچھ پہلے شادی کی دھوم\nاسی طرح سے پھر ہوا وہ ہجوم\n\nطوائف وہی اور وہی راگ و رنگ\nہوئی بلکہ دونی خوشی کی ترنگ\n\nوہ گل پانو سے اپنے جس جا چلا\nوہاں آنکھ کو نرگسوں نے ملا\n\nلگا پھرنے وہ سرو جب پانو پانو\nکیے بَردے آزاد تب اس کے نانو\n\nداستان تیاری میں باغ کی\nمے ارغوانی پلا ساقیا!\n\nکہ تعمیر کو باغ کی دل چلا\nدیا شہ نے ترتیب اک خانہ باغ\n\nہوا رشک سے جس کے، لالے کو داغ\nعمارت کی خوبی، دروں کی وہ شان\n\nلگے جس میں زر بفت کے سا یبان\nچقیں اور پردے بندھے زر نگار\n\nدروں پر کھڑی دست بستہ بہار\nکوئی دور سے در پر اٹکا ہوا\n\nکوئی زہ پہ خوبی سے لٹکا ہوا\nوہ مقیش کی ڈوریاں سر بہ سر\n\nکہ مہ کا بندھا جس میں تار نظر\nچقوں کا تماشا، تھا انکھوں کا جال\n\nنگہ کو وہاں سے گزرنا محال\nسنہری، مغرق چھتیں ساریاں\n\nوہ دیوار اور در کی گل کاریاں\nدیے چار سو آئنے جو لگا\n\nگیا چوگنا لطف اس میں سما\nوہ مخمل کا فرش اس میں ستھرا کہ بس\n\nبڑھے جس کے آگے نہ پاے ہوس\nرہیں لخلخے اس میں روشن مدام\n\nمعطر شب و روز جس سے مشام\nچھپر کھٹ مرصع کا دالان میں\n\nچمکتا تھا اس طرح ہر آن میں\nزمیں پر تھی اس طور اس کی جھلک\n\nستاروں کی جیسے فلک پر چمک\nزمیں کا کروں دھاں کی کیا میں بیا ں\n\nکہ صندل کا اک پارچہ تھا عیاں\nبنی سنگ مر مر سے چو پڑ کی نہر\n\nگئی چارسو، اس کے پانی کی لہر\nقرینے سے گرد اس کے سروسہی\n\nکچھ اک دور دور اس سے سیب و بہی\nکہوں کیا میں کیفیت دار بست\n\nلگائے رہیں تاک وہاں مے پرست\nہواے بہاری سے گل لہلہے\n\nچمن سارے شاداب اور ڈہڈ ہے\nزمرد کی مانند سبزے کا رنگ\n\nروش کا، جواہر ہوا جس سے سنگ\nروش کی صفائی پہ بے اختیار\n\nگل اشرفی نے کیا زر نثار\nچمن سے بھرا باغ، گل سے چمن\n\nکہیں نرگس و گل، کہیں یاسمن\nچنبیلی کہیں اور کہیں موتیا\n\nکہیں راے بیل اور کہیں موگرا\nکھڑے شاخ شبو کے ہر جانشان\n\nمدن بان کی اور ہی آن بان\nکہیں ارغواں اور کہیں لالہ زار\n\nجدی اپنے موسم میں سب کی بہار\nکہیں چاندنی میں گلوں کی بہار\n\nہر اک گل سفیدی سے مہتاب وار\nکھڑے سرو کی طرح چمپے کے جھاڑ\n\nکہے تو کہ خوش بوئیوں کے پہاڑ\nکہیں زرد نسریں، کہیں نسترن\n\nعجب رنگ پر زعفرانی چمن\nپڑی آبجو، ہر طرف کو بہے\n\nکریں قمریاں سرو پر چہچہے\nگلوں کا لب نہر پر جھومنا\n\nاسی اپنے عالم میں منہ چومنا\nوہ جھک جھک کے گرنا خیابان پر\n\nنشے کا سا عالم گلستان پر\nلیے بیلچے ہاتھ میں مالنے\n\nچمن کو لگیں دیکھنے بھالنے\nکہیں تخم پاشی کریں کھود کر\n\nپنیری جماویں کہیں گود کر\nکھڑے شاخ در شاخ باہم نہال\n\nرہیں ہاتھ جوں مست گردن پہ ڈال\nلب جو کے آئینے میں دیکھ قد\n\nاکڑنا کھڑے سرو کا جد نہ تد\nخراماں صبا صحن میں چار سو\n\nدماغوں کو دیتی پھرے گل کی بو\nکھڑے نہر پر قاز اور قر قرے\n\nلیے ساتھ مرغابیوں کے پرے\nصدا قر قروں کی، بطوں کا وہ شور\n\nدرختوں پہ بگلے، منڈیروں پہ مور\nچمن آتش گل سے دہکا ہوا\n\nہوا کے سبب باغ مہکا ہوا\nصبا جو گئی ڈھیریاں کر کے بھول\n\nپڑے ہر طرف مونسریوں کے پھول\nوہ کیلوں کی اور مونسریوں کی چھانو\n\nلگی جائیں آنکھیں لیے جن کا نانو\nخوشی سے گلوں پر سدا بلبلیں\n\nتعشق کی آپس میں باتیں کریں\nدرختوں نے برگوں کے کھولے ورق\n\nکہ لیں طوطیاں بوستاں کا سبق\nسماں قمریاں دیکھ اس آن کا\n\nبڑھیں باب پنجم گلستان کا\nدوا، دائیاں اور مغلانیاں\n\nپھریں ہر طرف اس میں جلوہ کناں\nخواصوں کا اور لونڈیوں کا ہجوم\n\nمحل کی وہ چہلیں، وہ آپس کی دھوم\nتکلف کے پہنے پھریں سب لباس\n\nرہیں رات دن شاہ زادے کے پاس\nکنیزان مہ رو کی ہر طرف ریل\n\nچنبیلی کوئی اور کوئی راے بیل\nشگوفہ کوئی اور کوئی کام روپ\n\nکوئی چت لگن اور کوئی سیام روپ\nکوئی کیتکی اور کوئی گلاب\n\nکوئی مہ رتن اور کوئی ماہتاب\nکوئی سیوتی اور ہنس مکھ کوئی\n\nکوئی دل لگن اور تن سکھ کوئی\nادھر اور ادھر آتیاں جاتیاں\n\nپھریں اپنے جوبن میں اتراتیاں\nکہیں چٹکیاں اور کہیں تالیاں\n\nکہیں قہقہے اور کہیں گالیاں\nکہیں اپنی پٹی سنوارے کوئی\n\nاری اور تری کہہ پکارے کوئی\nبجاتی پھرے کوئی اپنے کڑے\n\nکہیں ’’ہوئے رے‘‘ اور کہیں ’’واچھڑے‘‘\nدکھاوے کوئی گو کھرو موڑ موڑ\n\nکہیں سوت بونٹی، کہیں تار توڑ\nادا سے کوئی بیٹھی حقہ پیے\n\nدم دوستی کوئی بھر بھر جیے\nکوئی حوض میں جاکے غوطہ لگائے\n\nکوئی نہر پر پانو بیٹھی ہلائے\nکوئی اپنے توتے کی لیوے خبر\n\nکوئی اپنی مینا پہ رکھے نظر\nکسی کو کوئی دھول مارے کہیں\n\nکوئی جان کو اپنی وارے کہیں\nکوئی آرسی اپنے آگے دھرے\n\nادا سے کہیں بیٹھی کنگھی کرے\nمقابا کوئی کھول مسی لگائے\n\nلبوں پر دھڑی کوئی بیٹھی جمائے\nہوا ان گلوں سے دوبالا سماں\n\nاسی باغ میں یہ بھی باغ رواں\nغرض لوگ تھے یہ جو ہر کام کے\n\nسو سب واسطے اس کے آرام کے\nپلا جب وہ اس ناز و نعمت کے ساتھ\n\nپدر اور مادر کی شفقت کے ساتھ\nہوئی اس کے مکتب کی شادی عیاں\n\nہوا پھر انہیں شادیوں کا سماں\nمعلم، اتالیق، منشی، ادیب\n\nہر اک فن کے استاد بیٹھے قریب\nکیا قاعدے سے شروع کلام\n\nپڑھانے لگے علم اس کو تمام\nدیا تھا زبس حق نے ذہن رسا\n\nکئی برس میں علم سب پڑھ چکا\nمعانی و منطق، بیان و ادب\n\nپڑھے اس نے منقول و معقول سب\nخبردار حکمت کے مضمون سے\n\nغرض جو پڑھا اس نے، قانون سے\nلگا ہیئت و ہندسہ تا نجوم\n\nزمیں آسماں میں پڑی اس کی دھوم\nکیے علم نوک زباں حرف حرف\n\nاسی نحوسے عمر کی اس نے صرف\nعطارد کو اس کی لگی آنے ریس\n\nہوا سادہ لوحی میں وہ خوش نویس\nہوا جب کہ نو خط وہ شیریں رقم\n\nبڑھا کر لکھے سات سے، نو قلم\nلیا ہاتھ جب خامۂ مشک بار\n\nلکھا نسخ و ریحان و خط غبار\nعروس الخطوط اور ثلث و رقاع\n\nخفی و جلی مثل خط شعاع\nشکستہ لکھا اور تعلیق جب\n\nرہے دیکھ، حیراں، اتالیق سب\nکیا خط گلزار سے جب فراغ\n\nہوا صفحۂ قطعہ، گلزار باغ\nکروں علم کو اس کے کیا میں عیاں\n\nکروں مختصر یاں سے اب یہ بیاں\nکماں کے جو درپے ہوا بے نظیر\n\nلیا کھینچ چلے میں سب فن تیر\nصفائی میں سو فار، پیکاں کیا\n\nگیا جب کہ تودے پہ، طوفاں کیا\nرکھا چھوٹتے ہی جو لکڑی پہ من\n\nلیا اپنے قبضے میں سب اس کا فن\nہوئیں دست و بازو کی سر سائیاں\n\nاڑائیں کئی ہاتھ میں گھائیاں\nرکھا موسیقی پر بھی کچھ جو خیال\n\nکیے قید سب اس نے ہاتھوں میں تال\nطبیعت گئی کچھ جو تصویر پر\n\nرکھے رنگ سب اس نے مد نظر\nکئی دن میں سیکھا یہ کسب تفنگ\n\nکہ حیراں ہوئے دیکھ، اہل فرنگ\nسو ان کمالوں کے، کتنے کمال\n\nمروت کی خو، آدمیت کی چال\nرذالوں سے، نفروں سے نفرت اسے\n\nغرض قابلوں ہی سے صحبت اسے\nگیا نام پر اپنے وہ دل پذیر\n\nہر اک فن میں سچ مچ ہوا بے نظیر\nداستان سواری کی تیاری کے حکم میں\n\nپلا ساقیا! مجھ کو اک جام مل\nجوانی پر آیا ہے ایام گل\n\nغنیمت شمر صحبت دوستاں\nکہ گل پنج روز است در بوستاں\n\nثمر لے بھلائی کا، گر ہو سکے\nشتابی سے بو لے، جو کچھ بو سکے\n\nکہ رنگ چمن پر نہیں اعتبار\nیہاں چرخ میں ہے خزان و بہار\n\nپڑی جب گرہ بارہویں سال کی\nکھلی گل جھڑی غم کے جنجال کی\n\nکہا شہ نے بلوا نقیبوں کو شام\nکہ ہوں صبح حاضر سبھی خاص و عام\n\nسواری تکلف سے تیار ہو\nمہیا کریں، جو کہ درکار ہو\n\nکریں شہر کو مل کے آئینہ ہند\nسواری کا ہو لطف جس سے دو چند\n\nرعیت کے خوش ہوں صغیر و کبیر\nکہ نکلے گا کل شہر میں بے نظیر\n\nیہ فرما، محل میں گئے بادشاہ\nنقیبوں نے سن حکم، لی اپنی راہ\n\nہوئی شب، لیا مہ نے جام شراب\nگیا سجدۂ شکر میں آفتاب\n\nخوشی سے گئی جلد جو شب گزر\nہوئی سامنے سے نمایاں سحر\n\nعجب شب تھی وہ جوں سحر روسپید\nعجب روز تھا مثل روز امید\n\nگیا مژدۂ صبح لے ماہتاب\nاٹھا سورج آنکھوں کو ملتا شتاب\n\nکہا شاہ نے اپنے فرزند کو\nکہ بابا! نہا دھو کے تیار ہو\n\nداستان حمام کے نہانے کی لطافت میں\nپلا آتشیں آب پیر مغاں!\n\nکہ بھولے مجھے گرم و سرد جہاں\nاگر چاہتا ہے مرے دل کا چین\n\nنہ دینا وہ ساغر جو ہو قلتین\nکدورت مرے دل کی دھو ساقیا\n\nذرا شیشئہ مے کو دھو دھا کے لا\nکہ سر گرم حمام ہے بے نظیر\n\nگیا ہے نہانے کو ماہ منیر\nہوا جب کہ داخل وہ حمام میں\n\nعرق آ گیا اس کے اندام میں\nتن نازنیں نم ہوا س کا گل\n\nکہ جس طرح ڈوبے ہے شبنم میں گل\nپرستار، باندھے ہوئے لنگیاں\n\nمہ و مہر سے طاس لے کر وہاں\nلگے ملنے اس گل بدن کا بدن\n\nہوا ڈہڈہا آب سے وہ چمن\nنہانے میں یوں تھی بدن کی دمک\n\nبرسنے میں بجلی کی جیسے چمک\nلبوں پر جو پانی پھرا سر بہ سر\n\nنظر آئے، جیسے دو گل برگ تر\nہوا قطرۂ آب یوں چشم بوس\n\nکہے تو، پڑے جیسے نرگس پہ اوس\nلگا ہونے ظاہر جو اعجاز حسن\n\nٹپکنے لگا اس سے انداز حسن\nگیا حوض میں جو شہ بے نظیر\n\nپڑا آب میں عکس ماہ منیر\nوہ گورا بدن اور بال اس کے تر\n\nکہے تو کہ ساون کی شام و سحر\nنمی کا تھا بالوں کی عالم عجب\n\nنہ دیکھی کوئی خوب تر اس سے شب\nکہوں اس کی خوبی کی کیا تجھ سے بات\n\nکہ جوں بھیگتی جاوے صحبت میں رات\nزمیں پر تھا اک موجۂ نور خیز\n\nہوا جب وہ فوارہ ساں آب ریز\nزمرد کے لے ہاتھ میں سنگ پا\n\nکیا خادموں نے جو آہنگ پا\nہنسا کھلکھلا وہ گل نو بہار\n\nلیا کھینچ پانوں کو بے اختیار\nعجب عالم اس نازنیں پر ہوا\n\nاثر گد گدی کا جبیں پر ہوا\nہنسا اس ادا سے کہ سب ہنس پڑے\n\nہوئے جی سے قربان چھوٹے بڑے\nدعائیں لگے دینے بے اختیار\n\nکہا: خوش رکھے تجھ کو پرور دگار\nکہ تیری خوشی سے، ہے سب کی خوشی\n\nمبارک تجھے روز و شب کی خوشی!\nنہ آوے کبھی تیری خاطر پہ میل\n\nچمکتا رہے یہ فلک کا سہیل\nکیا غسل جب اس لطافت کے ساتھ\n\nاڑھا کھیس، لائے اسے ہاتھوں ہاتھ\nنہا دھو کے نکلا وہ گل اس طرح\n\nکہ بدلی سے نکلے ہے مہ جس طرح\nغرض شاہ زادے کو نہلا دھلا\n\nدیا خلعت خسروانہ پنہا\nجواہر سراسر پنہایا اسے\n\nجواہر کا دریا بنایا اسے\nلڑی، لٹکن اور کلغی اور نورتن\n\nعدد ایک سے ایک زیب بدن\nمرصع کا سر پیچ جوں موج آب\n\nمصفّا بہ شکل گل آفتاب\nوہ موتی کے مالے بہ صد زیب و زین\n\nکہیں جس کو آرام جاں، دل کا چین\nجواہر کا تن پر عجب تھا ظہور\n\nکہ ایک ایک عدد اس کا، تھا کوہ طور\nغرض ہو کے اس طرح آراستہ\n\nخراماں ہوا سرو نوخاستہ\nنکل گھر سے جس دم ہوا وہ سوار\n\nکیے خوان گوہر کے اس پر نثار\nزبس تھا سواری کا باہر ہجوم\n\nہوا جب کہ ڈنکا، پڑی سب میں دھوم\nبرابر برابر کھڑے تھے سوار\n\nہزاروں ہی تھی ہاتھیوں کی قطار\nسنہری، رپہری تھیں عماریاں\n\nشب و روز کی سی طرح داریاں\nچمکتے ہوئے بادلوں کے نشان\n\nسواروں کے غٹ اور بھالوں کی شان\nہزاروں تھی اطراف میں پالکی\n\nجھلا بور کی جگمگی نالکی\nکہاروں کی زر بفت کی کرتیاں\n\nاور ان کے دبے پانو کی پھرتیاں\nبندھیں پگڑیاں تاش کی سر اوپر\n\nچکا چوندھ میں جس سے آوے نظر\nوہ ہاتھوں میں سونے کے موٹے کڑے\n\nجھلک جس کی ہر ہر قدم پر پڑے\nوہ ماہی مراتب، وہ تخت رواں\n\nوہ نوبت، کہ دولھا کا جس سے سماں\nوہ شہنائیوں کی صدا خوش نوا\n\nسہانی وہ نوبت کی اس میں صدا\nوہ آہستہ گھوڑوں پہ نقارچی\n\nقدم با قدم بالباس زری\nبجاتے ہوئے شادیا نے تمام\n\nچلے آگے آگے ملے، شاد کام\nسوار اور پیادے، صغیر و کبیر\n\nجلو میں تمامی امیر و وزیر\nوے نذریں کہ جس جس نے تھیں ٹھانیاں\n\nشہ و شاہ زادے کو گزرانیاں\nہوئے حکم سے شاہ کے پھر سوار\n\nچلے سب قرینے سے باندھے قطار\nسجے اور سجائے سبھی خاص و عام\n\nلباس زری میں ملبس تمام\nطرق کے طرق اورپرے کے پرے\n\nکچھ ایدھر ادھر، کچھ ورے، کچھ پرے\nمرصع کے سازوں سے کوتل سمند\n\nکہ خوبی میں روح الفرس سے دو چند\nوہ فیلوں کی اور میگ ڈمبر کی شان\n\nجھلکتے وہ مقیش کے سایبان\nچلی پایۂ تخت کے ہو قریب\n\nبہ دستور شاہانہ نپتی جریب\nسواری کے آگے کیے اہتمام\n\nلیے سونے روپے کے عاصے تمام\nنقیب اور جلو دار اور چوبدار\n\nیہ آپس میں کہتے تھے ہر دم پکار\nاسی اپنے معمول و دستور سے\n\nادب سے تفاوت سے اور دور سے\nیلو! نوجوانو! بڑھے جائیو\n\nدو جانب سے باگیں لیے آئیو\nبڑھے جائیں آگے سے، چلتے قدم\n\nبڑھے عمر و دولت قدم با قدم\nغرض اس طرح سے سواری چلی\n\nکہے تو کہ باد بہاری چلی\nتماشائیوں کا جدا تھا ہجوم\n\nہر اک طرف تھی ایک عالم کی دھوم\nلگا قلعے سے شہر کی حد تلک\n\nدکانوں پہ تھی بادلے کی جھلک\nکیا تھا زبس شہر آئینہ بند\n\nہوا چوک کا لطف واں چار چند\nمنڈھے تھے تمامی سے دیوار و در\n\nتمامی وہ تھا شہر، سونے کا گھر\nرعیت کی کثرت، ہجوم سپاہ\n\nگزرتی تھی رک رک کے ہر جانگاہ\nہوئے جمع کھوٹھوں پہ جو مردوزن\n\nہر اک سطح تھی جوں زمین چمن\nیہ خالق کی سن قدرت کا ملہ\n\nتماشے کو نکلی زن حاملہ\nلگا لنج سے تا ضعیف و نحیف\n\nتماشے کو نکلے وضیع و شریف\nوحوشوں، طیوروں تلک بے خلل\n\nپڑے آشیانوں سے اپنے نکل\nنہ پہنچا جو اک مرغ قبلہ نما\n\nسو وہ آشیانے میں تڑپھا کیا\nزبس شاہ زادہ بہت تھا حسیں\n\nہوئے دیکھ عاشق کہین و مہیں\nنظر جس کو آیا وہ ماہ تمام\n\nکیا اس نے جھک جھک کے اس کو سلام\nدعا شاہ کو دی کہ بار الٰہ!\n\nسدا یہ سلامت رہے مہر و ماہ\nیہ خوش اپنے مہ سے رہے شہر یار\n\nکہ روشن رہے شہر، پروردگار!\nغرض شہر سے باہر اک سمت کو\n\nکوئی باغ تھا شہ کا، اس میں سے ہو\nگھڑی چار تک خوب سی سیر کر\n\nرعیت کو دکھلا کے اپنا پسر\nاسی کثرت فوج سے ہو سوار\n\nپھر اشہر کی طرف وہ شہر یار\nسواری کو پہنچا گئی فوج، ادھر\n\nگئے اپنی منزل میں شمس و قمر\nجہاں تک کہ تھیں خادمان محل\n\nخوشی سے وہ ڈیوڑھی تک آئیں نکل\nقدم اپنے حجروں سے باہر نکال\n\nلیا سب نے، آپیشوا، حال حال\nبلائیں لگیں لینے سب ایک بار\n\nکیا جی کو یک دست سب نے نثار\nگیا جب محل میں وہ سر و رواں\n\nبندھا ناچ اور راگ کا پھر سماں\nپہر رات تک، پہنے پوشاک وہ\n\nرہا ساتھ سب کے طرب ناک وہ\nقضارا وہ شب، تھی شب چار دہ\n\nپڑا جلوہ لیتا تھا ہر طرف مہ\nنظارے سے تھا اس کے، دل کو سرور\n\nعجب عالم نور کا تھا ظہور\nعجب جوش تھا نور مہتاب کا\n\nکہے تو کہ دریا تھا سیماب کا\nہوا شاہ زادے کا دل بے قرار\n\nیہ دیکھی جو واں چاندنی کی بہار\nکچھ آئی جو اس مہ کے جی میں ترنگ\n\nکہا: آج کوٹھے پہ بچھے پلنگ\nخواصوں نے جا شاہ سے عرض کی\n\nکہ شہ زادے کی آج یوں ہے خوشی\nارادہ ہے کوٹھے پر آرام کا\n\nکہ بھایا ہے عالم لب بام کا\nکہا شہ نے: اب تو گئے دن نکل\n\nاگر یوں ہے مرضی تو کیا ہے خلل\nپر اتنا ہے، اس سے خبردار ہوں\n\nجنھوں کی ہے چوکی، وہ بیدار ہوں\nلب بام پر جب یہ سووے صنم\n\nکریں سورۂ نور کو اس پہ دم\nتمھارا مرا بول بالا رہے\n\nیہ اس گھر کا قائم اجالا رہے\nکہا تب خواصوں نے: حق سے امید\n\nیہی ہے کہ ہم بھی رہیں رو سفید\nپھریں حکم لے وہاں سے پھر شاہ کا\n\nبچھونا کیا جا کے اس ماہ کا\nقضارا وہ دن تھا اسی سال کا\n\nغلط وہم ماضی میں تھا حال کا\nسخن مولوی کا یہ سچ ہے قدیم\n\nکہ آگے قضا کے، ہو احمق حکیم\nپڑے اپنے اپنے جو سب عیش بیچ\n\nنہ سوجھی زمانے کی کچھ اونچ نیچ\nیہ جانا کہ یوں ہی رہے گا یہ دور\n\nزمانے کا سمجھا انہوں نے نہ طور\nکہ اس بے وفا کی نئی ہے ترنگ\n\nیہ گرگٹ بدلتا ہے ہر دم میں رنگ\nکرا بادۂ عیش درجام ریخت\n\nکہ صد شام بر فرق صبحش نہ پیخت\nنداری تعجب ز نیرنگ دہر\n\nکہ آرد زیک حقہ تریاک و زہر\nداستان شاہ زادے کے کوٹھے پر سونے کی اور پری کے اڑا کر لے جانے کی\n\nشتابی سے اٹھ ساقی بے خبر!\nکہ چاروں طرف ماہ ہے جلوہ گر\n\nبلوریں گلابی میں دے بھر کے جام\nکہ آیا بلندی پہ ماہ تمام\n\nجوانی کہاں اور کہاں پھر یہ سن\nمثل ہےکہ ہے چاندنی چار دن\n\nاگر مے کے دینے میں کچھ دیر ہے\nتو پھر جان یہ تو کہ اندھیر ہے\n\nوہ سونے کا جو تھا جڑاؤ پلنگ\nکہ سیمیں تنوں کو ہو جس پر امنگ\n\nکھنچی چادر ایک اس پہ شبنم کی صاف\nکہ ہو چاندنی، جس صفا کی غلاف\n\nدھرے اس پہ تکیے کئی نرم نرم\nکہ مخمل کو ہو جس کے دیکھے سے شرم\n\nکہاں تک کوئی اس کی خوبی کو پائے\nجسے دیکھ، آنکھوں کو آرام آئے\n\nکسے اس پہ کسنے وہ مقیش کے\nکہ جھبوں میں تھے جس کے موتی لگے\n\nسراسر ادقچے رزی باف کے\nکہ تھے رشک آئینہ صاف کے\n\nوہ گل تکیے اس کے جو تھے رشک ماہ\nکہ ہر وجہ تھی ان کو خوبی میں راہ\n\nکہوں اس کے گل تکیوں کا کیا بیاں\nکہ بے وجہ رکھتا نہ تھا گال واں\n\nکبھی نیند میں جب کہ ہوتا تھا وہ\nتو رخسار رکھ اپنا، سوتا تھا وہ\n\nچھپائے سے ہوتا نہ، حسن اس کا ماند\nکہے تو، لگائے تھے مکھڑے پہ چاند\n\nزبس نیند میں تھا جو وہ ہورہا\nبچھونے پہ آتے ہی بس سورہا\n\nوہ سویا جو اس آن سے بے نظیر\nرہا پاسباں اس کا ماہ منیر\n\nہوا اس کے سونے پہ عاشق جو ماہ\nلگا دی ادھر اپنی اس نے نگاہ\n\nوہ مہ اس کے کوٹھے کا ہالا ہوا\nغرض واں کا عالم دو بالا ہوا\n\nوہ پھولوں کی خوش بو، وہ ستھرا پلنگ\nجوانی کی نیند اور وہ سونے کا رنگ\n\nجہاں تک کہ چوکی کے تھے باری دار\nہوا جو چلی، سو گئے ایک بار\n\nغرض سب کو واں عالم خواب تھا\nمگر جاگتا ایک مہتاب تھا\n\nقضارا ہوا اک پری کا گزر\nپڑی شاہ زادے پہ اس کی نظر\n\nبھبھوکا سا دیکھا جو اس کا بدن\nجلا آتش عشق سے اس کا تن\n\nہوئی حسن پر اس کے جی سے نثار\nوہ تخت اپنا لائی ہوا سے اتار\n\nجو دیکھا، تو عالم عجب ہے یہاں\nمنور ہے سارا زمیں آسماں\n\nدوپٹے کو اس مہ کے منہ سے اٹھا\nدیا گال سے گال اپنا م", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86"} {"title": "سحر جو نکلا میں اپنے گھر سے تو دیکھا اک شوخ حسن والا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سحر جو نکلا میں اپنے گھر سے تو دیکھا اک شوخ حسن والا\nجھلک وہ مکھڑے میں اس صنم کے کہ جیسے سورج میں ہو اجالا\n\nوہ زلفیں اس کی سیاہ پر خم کہ ان کے بل اور شکن کو یارو\nنہ پہنچے سنبل نہ پہنچے ریحاں نہ پہنچے ناگن نہ پہنچے کالا\n\nادائیں بانکی عجب طرح کی وہ ترچھی چتون بھی کچھ تماشہ\nبھنویں وہ جیسے کھنچی کمانیں پلک سناں کش نگاہ بھالا\n\nوہ آنکھیں مست اور گلابی اس کی کہ ان کو دیکھے تو دیکھتے ہی\nمئے محبت کا اس کی دل کو ہو کیا ہی گہرا نشہ دوبالا\n\nلبوں پہ سرخی وہ پان کی کچھ کہ لعل بھی منفعل ہو جس سے\nوہ آن ہنسنے کی بھی پھر ایسی کہ جس کا عالم ہے کچھ نرالا\n\nوہ جامہ زیبی وہ دل فریبی وہ سج دھج اس کی وہ قد زیبا\nکہ دیکھ جس پر فدا ہوں دل سے وہ جن کو کہتے ہیں سرو بالا\n\nنگہ لڑائی ہے اس نے جس دم جھٹک لیا جھپ تو دل کو میرے\nادا ادا نے ادھر دبوچا پلک پلک نے ادھر اچھالا\n\nجو لے لیا دل کو میرے یارو تو اس نے لی راہ اپنے گھر کی\nپڑا تڑپتا میں رہ گیا واں زباں پہ آہ اور لبوں پہ نالہ\n\nبہت یہ میں نے تو چاہا پوچھوں میں نام اس کا ولے وو گل رو\nنہ مجھ سے بولا نہ کی اشارت نہ دی تسلی نہ کچھ سنبھالا\n\nپری رخ من شکر لب من و مے تو باز آ بہ پیش چشمم\nبیاد سرو تو بے قرارم نہال عشقت شدہ است بالا\n\nفداے وجہک عشی شرقاً و موع نہراً و من فراقک\nکثیر حزنا مع الہموم ثقیل ہجرا و کالجبالا\n\nتسا دے ملنے نوں دل ہے بے کل ایہی او گلاں نت آکھدا ہے\nسدا لے مینوں دے اپنے گھر وچ نہیں تو اتھے اسا دے نال آ\n\nتمہاری آسا لگی ہے نس دن تمہارے درشن کو ترسیں نیناں\nدلارے سندر انوٹھے ابرن ہٹیلے موہن انوکھے لالا\n\nچہن کے من کو جو چھننوں تھی اے یار کائیں لگائی اتنی\nبھرایتیں آ کر کھبر لو مہاں کی پلک کٹارا جو تھاں نے گھالا\n\nاگن برت ہے ہیا میں مورے برہ میں تیرے اے من موہنواں\nتورے جو نیناں نے موہا مہکو نہ جینوں تنکو بھوا وکھالا\n\nجگت سبہا امت برہمکھ اٹک کہسوا ممن کرن کھا\nدوانی کینی تمن سریجن نہ سدھ کی گر پر نہ بدھ کی جھالا\n\nکبھی تو ہنس کر شتاب آ جا نظیرؔ کی بھی طرف ٹک اے جاں\nبنا کے سج دھج پھرا کے دامن لگا کے ٹھوکر ہلا کے بالا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنا\nیہ سر جھکتے ہیں یا دیوار زنداں دیکھتے رہنا\n\nہر اک اہل لہو نے بازیٔ ایماں لگا دی ہے\nجو اب کی بار ہوگا وہ چراغاں دیکھتے رہنا\n\nادھر سے مدعی گزریں گے ایقان شریعت کے\nنظر آ جائے شاید کوئی انساں دیکھتے رہنا\n\nاسے تم لوگ کیا سمجھو گے جیسا ہم سمجھتے ہیں\nمگر پھر بھی کریں گے اس سے پیماں دیکھتے رہنا\n\nسمجھ میں آ گیا تیری نگاہوں کے الجھنے پر\nبھری محفل میں سب کا ہم کو حیراں دیکھتے رہنا\n\nہزاروں مہرباں اس راستے پر ساتھ آئیں گے\nمیاں یہ دل ہے یہ جیب و گریباں دیکھتے رہنا\n\nدبا رکھو یہ لہریں ایک دن آہستہ آہستہ\nیہی بن جائیں گی تمہید طوفاں دیکھتے رہنا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D8%AC%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D8%BA%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%B1%DB%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "سحر کو بھی مری محفل میں برہمی نہ ہوئی", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سحر کو بھی مری محفل میں برہمی نہ ہوئی\nتمام رات ہوئی درد میں کمی نہ ہوئی\n\nغرور حسن تمنائے دل کا دشمن تھا\nوہ کون دن تھا کہ جس دن ہماہمی نہ ہوئی\n\nامنڈ رہی ہے مرے دل کے ساتھ برسوں سے\nیہ کوئی نہر ہوئی آنکھ کی نمی نہ ہوئی\n\nمیں اپنے قتل کا شاکی نہیں ہوا تو ہوا\nیہ رنج ہے کہ ترے ظلم میں کمی نہ ہوئی\n\nلحد پہ آنے کی انداز سیکڑوں تھے مگر\nخوش آئی وضع انہیں وہ جو ماتمی نہ ہوئی\n\nالٹ الٹ گئے دل میرے انتقال کے بعد\nیہ کیا کہ آپ کی زلفوں میں برہمی نہ ہوئی\n\nہزاروں اٹھ گئے آغوش دہر سے لیکن\nعجیب گھر ہے زمانہ جہاں غمی نہ ہوئی\n\nیہ جسم روح بہی خواہ کا رہا دشمن\nتمام عمر کبھی صلح باہمی نہ ہوئی\n\nہر ایک کے لئے کھینچا روا نہیں ثاقبؔ\nبھوؤں کا حسن ہی کیا ہے اگر خمی نہ ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%85%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "سحر گہہ عید میں دور سبو تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سحر گہہ عید میں دور سبو تھا\nپر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا\n\nغلط تھا آپ سے غافل گزرنا\nنہ سمجھے ہم کہ اس قالب میں تو تھا\n\nچمن کی وضع نے ہم کو کیا داغ\nکہ ہر غنچہ دل پر آرزو تھا\n\nگل و آئینہ کیا خورشید و مہ کیا\nجدھر دیکھا تدھر تیرا ہی رو تھا\n\nکرو گے یاد باتیں تو کہو گے\nکہ کوئی رفتۂ بسیار گو تھا\n\nجہاں پر ہے فسانے سے ہمارے\nدماغ عشق ہم کو بھی کبھو تھا\n\nمگر دیوانہ تھا گل بھی کسو کا\nکہ پیراہن میں سو جاگا رفو تھا\n\nکہیں کیا بال تیرے کھل گئے تھے\nکہ جھونکا باؤ کا کچھ مشکبو تھا\n\nنہ دیکھا میرؔ آوارہ کو لیکن\nغبار اک ناتواں سا کو بہ کو تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DA%AF%DB%81%DB%81_%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D8%A8%D9%88_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "سحر ہم نے چمن اندر عجب دیکھا کل اک دل بر", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سحر ہم نے چمن اندر عجب دیکھا کل اک دل بر\nسہی قامت پری پیکر مقطع وضع خوش منظر\n\nسخن بر غنچہ لب گل رو جبین مہر اور کماں ابرو\nدو چشم شوخ پر جادو نگہ تیر اور مژہ نشتر\n\nشمیم زلف مشک افشاں تغافل سو ستم ساماں\nغرور اور ناز بے پایاں مزاج اور طبع نازک تر\n\nادائیں سب فسوں آئیں نہ چھوڑیں دل نہ چھوڑیں دیں\nفریب و عشوہ صلح آگیں عتاب و غمزہ جنگ آور\n\nیہ دیکھا ہم نے جب عالم تو رکھ دل ہاتھ پر ہمدم\nکہا ہیں نذر کرتے ہم جو لے لیجے تو ہے بہتر\n\nکہا لے جا تو اپنا دل کہ تو کیا اور تیرا دل\nنہ لیویں ہم تو ایسا دل کہا جب ہم نے یوں ہنس کر\n\nیہی اک دل ہے بچارا بھلا ہے یا کہ ناکارہ\nاگرچہ ہے یہ آوارہ و لیکن ہے وفا پرور\n\nجو نامنظور کرتے ہو تو کر دو یہ کب اٹھتا ہے\nہے جب تک دم میں دم اس کے رہے گا یہ اسی در پر\n\nنظیرؔ اس نے سنا یہ جب تو بولا یوں وہ شیریں لب\nہمارا ہو چکا یہ اب بس اس قصے کو کوتہ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%B1_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D9%84_%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B1"} {"title": "سخت جانی کا سہی افسانہ ہے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سخت جانی کا سہی افسانہ ہے\nشاہد تیغ زباں دندانہ ہے\n\nمقتل عالم مرا ویرانہ ہے\nدیدۂ بسمل چراغ خانہ ہے\n\nشمع روشن عارض جانانہ ہے\nخال مشکیں شمع کا پروانہ ہے\n\nدل میں عکس چہرۂ جانانہ ہے\nآئنے کا آئنے میں خانہ ہے\n\nکون دنیا میں رہے دیوانہ ہے\nایک اجڑا سا مسافر خانہ ہے\n\nتیری محفل کعبہ ہے اے شمع رو\nطائر قبلہ نما پروانہ ہے\n\nآنکھیں ملتا ہوں تمہاری زلف سے\nپنجۂ مژگاں برنگ شانہ ہے\n\nشمع رویوں کی تجلی دیکھیے\nکرمک شب تاب ہر پروانہ ہے\n\nآب خنجر کیا شراب ناب تھی\nرقص بسمل لغزش مستانہ ہے\n\nخلق عالم ہمیں پہنچتا ہے گزند\nنفس امارہ سگ دیوانہ ہے\n\nبادہ نوشان ازل ہیں سیر چشم\nجس طرف دیکھیں ادھر مے خانہ ہے\n\nابر آتا ہے تو بکتی ہے شراب\nنقد رحمت حاصل مے خانہ ہے\n\nایک تیرے نام کا کرتا ہوں ذکر\nمجھ کو ورد سبحۂ یکدانہ ہے\n\nکھاتے ہیں انگور پیتے ہیں شراب\nبس یہی مستوں کا آب و دانہ ہے\n\nکس طرف کرتے ہو سجدے زاہدو\nکعبہ ایک اجڑا ہوا بت خانہ ہے\n\nچشم موسیٰ کے ہوں پردے کان میں\nلن ترانی کا بیان افسانہ ہے\n\nٹھنڈے ٹھنڈے سوتے ہیں زیر زمیں\nگور اپنے واسطے تہہ خانہ ہے\n\nکیا بنے سودا ترا اے خود فروش\nمول جو ہم نے کہا بیعانہ ہے\n\nدیکھتے ہیں بت مری بیتابیاں\nسر بہکنا سجدۂ شکرانہ ہے\n\nکیا ترا آئینۂ رو صاف ہے\nنقد جاں لیتا یہاں جرمانہ ہے\n\nگرم نالے سرد ہیں اے ہم صفیر\nظاہراً کنج قفس خس خانہ ہے\n\nکی مے مفت آج قاضی نے حلال\nفی سبیل اللہ ہر مے خانہ ہے\n\nاختلاط اپنے عناصر میں نہیں\nجو ہے میرے جسم میں بیگانہ ہے\n\nکیا سمندر کو دکھائیں گرمیاں\nدوزخ اپنا ایک آتش خانہ ہے\n\nہو گئے مثل سلیماں اہل عشق\nاے پری کیا ہمت مردانہ ہے\n\nدل ہے آئینہ تو اسکندر ہوں میں\nحسن کی دولت مرا نذرانہ ہے\n\nعرش تک گردوں سے دیکھا اے صنم\nسات زینے کا یہ بالا خانہ ہے\n\nکھیل جاتے ہیں ہزاروں جان پر\nعشق بازی بازیٔ طفلانہ ہے\n\nجان دیتا ہوں مگر آتی نہیں\nموت کو بھی ناز معشوقانہ ہے\n\nپاتے ہیں نقد زر گل بے حساب\nباغ عالم اس کا دولت خانہ ہے\n\nآج ہے محو شنا وہ شمع رو\nہر پر ماہی پر پروانہ ہے\n\nدل کہاں یہ نفس امارہ کہاں\nآئنہ پیش سگ دیوانہ ہے\n\nعفت مشاطہ کس سے ہو بیاں\nپنجۂ مریم تمہارا شانہ ہے\n\nمے کدہ کے کام دل سے لیجئے\nخم کا خم پیمانہ کا پیمانہ ہے\n\nلکھنؤ کا مجھ کو سودا ہے منیرؔ\nدل حسین آباد پر دیوانہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AE%D8%AA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "سخت دشوار ہے پہلو میں بچانا دل کا", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سخت دشوار ہے پہلو میں بچانا دل کا\nکچھ نگاہوں سے برستا ہے چرانا دل کا\n\nہائے دل اور دل زار کے ہم سے برتاؤ\nاور پھر تم سے دل زار پہ آنا دل کا\n\nشمع سے زینت پہلو ہے نہ پروانے سے\nتم کو منظور ہے ہر طرح جلانا دل کا\n\nناصحو زلف کے الجھاؤ برے ہوتے ہیں\nکچھ ہنسی کھیل سمجھتے ہو چھڑانا دل کا\n\nقہر ڈھائے ترے اظہار تمنا نے ظہیرؔ\nحال کہتا ہے کسی سے کوئی دانا دل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AE%D8%AA_%D8%AF%D8%B4%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "سخت نازک مزاج دلبر تھا", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سخت نازک مزاج دلبر تھا\nخیر گزری کہ دل بھی پتھر تھا\n\nمختصر حال زندگی یہ ہے\nلاکھ سودا تھا اور اک سر تھا\n\nان کی رخصت کا دن تو یاد نہیں\nیہ سمجھئے کہ روز محشر تھا\n\nخاک نبھتی مری ترے دل میں\nایک شیشہ تھا ایک پتھر تھا\n\nتم مرے گھر جو آنے والے تھے\nکھولے آغوش صبح تک در تھا\n\nابر رحمت جو ہو گیا مشہور\nکسی مے کش کا دامن تر تھا\n\nجب انہیں شوق تھا سنورنے کا\nایک اک آئنہ سکندر تھا\n\nآنسوؤں کی تھی کیا بساط مگر\nدیکھتے دیکھتے سمندر تھا\n\nکیسی آزاد زندگی ہے جلیلؔ\nدر دل پر جب اپنا بستر تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AE%D8%AA_%D9%86%D8%A7%D8%B2%DA%A9_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "سختی کا جواب نرمی ہے", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "فتنہ کو جہاں تلک ہو دیجے تسکیں\nزہر اگلے کوئی تو کیجے باتیں شیریں\nغصہ غصے کو اور بھڑکاتا ہے\nاس عارضہ کا علاج بالمثل نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AE%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%86%D8%B1%D9%85%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "سختیاں کرتا ہوں دل پر، غیر سے غافل ہوں میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "سختیاں کرتا ہوں دل پر، غیر سے غافل ہوں میں\nہائے کیا اچھّی کہی ظالم ہوں میں، جاہل ہوں میں\n\nمیں جبھی تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی نہ تھی\nجو نمودِ حق سے مٹ جاتا ہے وہ باطل ہوں میں\n\nعلم کے دریا سے نِکلے غوطہ زن گوہر بدست\nوائے محرومی! خزف چینِ لبِ ساحل ہوں میں\n\nہے مری ذلّت ہی کچھ میری شرافت کی دلیل\nجس کی غفلت کو مَلَک روتے ہیں وہ غافل ہوں میں\n\nبزمِ ہستی! اپنی آرائش پہ تُو نازاں نہ ہو\nتُو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں میں\n\nڈھُونڈتا پھرتا ہوں اے اقبالؔ اپنے آپ کو\nآپ ہی گویا مسافر، آپ ہی منزل ہوں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1%D8%8C_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سخن مشتاق ہے عالم ہمارا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سخن مشتاق ہے عالم ہمارا\nبہت عالم کرے گا غم ہمارا\n\nپڑھیں گے شعر رو رو لوگ بیٹھے\nرہے گا دیر تک ماتم ہمارا\n\nنہیں ہے مرجع آدم اگر خاک\nکدھر جاتا ہے قد خم ہمارا\n\nزمین و آسماں زیر و زبر ہے\nنہیں کم حشر سے اودھم ہمارا\n\nکسو کے بال درہم دیکھتے میرؔ\nہوا ہے کام دل برہم ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "سخن میں کامرانی کر رہا ہوں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سخن میں کامرانی کر رہا ہوں\nضعیفی میں جوانی کر رہا ہوں\n\nغرور نقش اول پیش کیا جائے\nمیں کار نقش ثانی کر رہا ہوں\n\nنہ سمجھے گا کوئی مجھ کو پیمبر\nعبث دعوائے ثانی کر رہا ہوں\n\nاجل تو ہی سبک کر مجھ کو آ کر\nدلوں پر میں گرانی کر رہا ہوں\n\nدل معشوق پتھر ہے تو ہووے\nمیں اس کو پانی پانی کر رہا ہوں\n\nتصور ہے کہاں مجھ پاس تیرا\nمیں خود باتیں زبانی کر رہا ہوں\n\nنہیں پاس اس کے بیٹھا بے سبب میں\nگلوں کی پاسبانی کر رہا ہوں\n\nکبھی تو بھی تو میرے خواب میں آ\nمیں تیری یاد جانی کر رہا ہوں\n\nفرشتے کا گزر اس تک نہیں ہے\nمیں آپھی بد گمانی کر رہا ہوں\n\nنہیں اے مصحفیؔ فہمیدہ کوئی\nعبث جادو بیانی کر رہا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "سخن کو رتبہ ملا ہے مری زباں کے لئے", "poet_page": "مصنف:محسن کاکوروی", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "سخن کو رتبہ ملا ہے مری زباں کیلئے\nزباں ملی ہے مجھے نعت کے بیاں کیلئے\n\nزمیں بنائی گئی کس کے آستاں کیلئے\nکہ لا مکاں بھی اٹھا سر و قد مکاں کیلئے\n\nترے زمانے کے باعث زمیں کی رونق ہے\nملا زمین کو رتبہ ترے زماں کیلئے\n\nکمال اپنا دیا تیرے بدر عارض کو\nکلام اپنا اتارا تری زباں کیلئے\n\nنبی ہے نار ترے دشمنوں کے جلنے کو\nبہشت وقف ترے عیش جاوداں کیلئے\n\nتھی خوش نصیبی عرش بریں شب معراج\nکہ اپنے سر پہ قدم شاہ مرسلاں کیلئے\n\nنہ دی کبھی ترے عارض کو مہر سے تشبیہ\nرہا یہ داغ قیامت تک آسماں کیلئے\n\nعجب نہیں جو کہے تیرے فرش کو کوئی عرش\nکہ لا مکاں کا شرف ہے ترے مکاں کیلئے\n\nخدا کے سامنے محسن پڑھوں گا وصف نبی\nسجے ہیں جھاڑ یہ باتوں کے لا مکاں کیلئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AE%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92"} {"title": "سخنورانِ عہد سے خطاب", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "اے نکتہ وران سخن آرا و سخن سنج\nاے نغمہ گران چمنستان معافی\n\nمانا کہ دل افروز ہے افسانۂ عذرا\nمانا کہ دل آویز ہے سلمیٰ کی کہانی\n\nمانا کہ اگر چھیڑ حسینوں سے چلی جائے\nکٹ جائے گا اس مشغلے میں عہد جوانی\n\nگرمائے گا یہ ہمہمہ افسردہ دلوں کو\nبڑھ جائے گی دریائے طبیعت کی روانی\n\nمانا کہ ہیں آپ اپنے زمانے کے نظیریؔ\nمانا کہ ہر اک آپ میں ہے عرفی ثانی\n\nمانا کی حدیث خط و رخسار کے آگے\nبے کار ہے مشائیوں کی فلسفہ دانی\n\nمانا کہ یہی زلف و خط و خال کی روداد\nہے مایۂ گل کاریٔ ایوان معافی\n\nلیکن کبھی اس بات کو بھی آپ نے سوچا\nیہ آپ کی تقویم ہے صدیوں کی پرانی\n\nمعشوق نئے بزم نئی رنگ نیا ہے\nپیدا نئے خامے ہوئے ہیں اور نئے مانیؔ\n\nمژگاں کی سناں کے عوض اب سنتی ہے محفل\nکانٹوں کی کتھا برہنہ پائی کی زبانی\n\nلذت وہ کہاں لعل لب یار میں ہے آج\nجو دے رہی ہے پیٹ کے بھوکوں کی کہانی\n\nبدلا ہے زمانہ تو بدلیے روش اپنی\nجو قوم ہے بے دار یہ ہے اس کی نشانی\n\nاے ہم نفسو یاد رہے خوب یہ تم کو\nبستی نئی مشرق میں ہمیں کو ہے بسانی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AE%D9%86%D9%88%D8%B1%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%B7%D8%A7%D8%A8"} {"title": "سخیؔ سے چھوٹ کر جائیں گے گھر آپ", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سخیؔ سے چھوٹ کر جائیں گے گھر آپ\nاجی کچھ خیر بھی ہے ہیں کدھر آپ\n\nوہ عاشق ہیں کہ مرنے پر ہمارے\nکریں گے یاد ہم کو عمر بھر آپ\n\nپری سمجھیں پری، حوریں کہیں حور\nہوئے کس نور کے پیدا بشر آپ\n\nنہ عاشق ہیں زمانہ میں نہ معشوق\nادھر ہم رہ گئے ہیں اور ادھر آپ\n\nدکھائیں گے ہم اپنی لاغری بھی\nابھی تو دیکھیے اپنی کمر آپ\n\nمرے نالے اگر سننے کا ہے شوق\nتو صاحب ہاتھ رکھیے کان پر آپ\n\nرسائی اس کے زلفوں تک نہ ہوگی\nسخیؔ بے فائدہ ماریں نہ سر آپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D8%94_%D8%B3%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%88%D9%B9_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "سدا رنگ مینا چمکتا رہا", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سدا رنگ مینا چمکتا رہا\nہمیشہ یہ سبزہ لہکتا رہا\n\nوہ کوچہ ہے الفت کا جس میں سدا\nخضر راہ بھولا بھٹکتا رہا\n\nکھلا یہ جہاں پردۂ در ہلا\nجہاں جو رہا سر پٹکتا رہا\n\nبتا لاغری سے ہے پر بال بھی\nمیں آنکھوں میں سب کی کھٹکتا رہا\n\nلبالب یہاں ہو چکا جام عمر\nوہاں ساغر مے چھلکتا رہا\n\nبرستی رہی قبر پر بیکسی\nغریبوں کا مدفن ٹپکتا رہا\n\nرہا نعرہ زن کوئے جاناں میں شادؔ\nگلستاں میں بلبل چہکتا رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AF%D8%A7_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%A7_%DA%86%D9%85%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "سدا فکر روزی ہے تا زندگی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سدا فکر روزی ہے تا زندگی ہے\nجو جینا یہی ہے تو کیا زندگی ہے\n\nچھپا منہ نہ اپنا کہ مر جائیں گے ہم\nپری رو ترا دیکھنا زندگی ہے\n\nمجھے خضر سے دو نہ جینے میں نسبت\nکہ اس کی بہ آب بقا زندگی ہے\n\nتری بے وفائی کا شکوہ کریں کیا\nخود اپنی ہی یاں بے وفا زندگی ہے\n\nاجل کے سوا اس کی دارو نہیں کچھ\nعجب درد دور از دوا زندگی ہے\n\nتو گلشن میں رہ گل یہ کہتا تھا اس سے\nترے دم سے میری صبا زندگی ہے\n\nجنہوں نے کیا ہے دل آئینہ اپنا\nانہیں لوگوں کی با صفا زندگی ہے\n\nکہاں کی ہوا تک رہا ہے تو ناداں\nکہ پل مارتے یاں ہوا زندگی ہے\n\nنہ ہم مفت مرتے ہیں کوئے بتاں میں\nکہ مرنے سے یاں مدعا زندگی ہے\n\nتو اے مصحفیؔ گر ہے عاشق فنا ہو\nکہ عاشق کو بعد از فنا زندگی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AF%D8%A7_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%B2%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%A7_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "سدا ہے اس آہ و چشم تر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سدا ہے اس آہ و چشم تر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں\nنکل کے دیکھو تم اپنے گھر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں\n\nوہ شعلہ رو ہے سوار توسن اور اس کا توسن عرق فشاں ہے\nعجب ہے اک سیر دوپہر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں\n\nہنسے ہے کوٹھے پہ میرا یوسف میں زیر دیوار رو رہا ہوں\nعزیزو دیکھو مری نظر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں\n\nپتنگ کیوں کر نہ ہووے حیراں کہ شمع شب کو دکھا رہی ہے\nبہ چشم گریاں و تاج زر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں\n\nنہا کے افشاں چنو جبیں پر نچوڑو بالوں کو بعد اس کے\nدکھاؤ عاشق کو اس ہنر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں\n\nکہاں ہے جوں شعلہ شاخ پر گل کدھر ہے فصل بہار شبنم\nترے ہے اعجاز طرفہ تر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں\n\nکرو نہ دریا پہ مے کشی تم ادھر کو آؤ تو میں دکھاؤں\nسرشک ہر نالہ و جگر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں\n\nکدھر کو جاؤں نکل کے یارب کہ گرم و سرد زمانہ مجھ کو\nدکھائے ہے شام تک سحر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں\n\nوہ تیغ کھینچے ہوئے ہے سر پر میں سر جھکائے ہوں اشک ریزاں\nدکھاؤں اے دل تجھے کدھر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں\n\nغضب سے چیں بر جبیں دکھائے بدن سے ٹپکے بھی ہے پسینہ\nعیاں ہے یارو نئے ہنر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں\n\nنصیرؔ لکھی ہے کیا غزل یہ کہ دل تڑپتا ہے سن کے جس کو\nبندھے ہے یوں کب کسی بشر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%A2%DB%81_%D9%88_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AA%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%BE%DB%81_%D8%A8%D8%AC%D9%84%DB%8C_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7%DA%BA"} {"title": "سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو\nہم آسمان سے لائے ہیں ان زمینوں کو\n\nپڑھیں درود نہ کیوں دیکھ کر حسینوں کو\nخیال صنعت صانع ہے پاک بینوں کو\n\nکمال فقر بھی شایاں ہے پاک بینوں کو\nیہ خاک تخت ہے ہم بوریا نشینوں کو\n\nلحد میں سوئے ہیں چھوڑا ہے شہ نشینوں کو\nقضا کہاں سے کہاں لے گئی مکینوں کو\n\nیہ جھریاں نہیں ہاتھوں پہ ضعف پیری نے\nچنا ہے جامۂ اصلی کی آستینوں کو\n\nلگا رہا ہوں مضامین نو کے پھر انبار\nخبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو\n\nبھلا تردد بے جا سے ان میں کیا حاصل\nاٹھا چکے ہیں زمیندار جن زمینوں کو\n\nانہیں کو آج نہیں بیٹھنے کی جا ملتی\nمعاف کرتے تھے جو لوگ کل زمینوں کو\n\nیہ زائروں کو ملیں سرفرازیاں ورنہ\nکہاں نصیب کہ چومیں ملک جبینوں کو\n\nسجایا ہم نے مضامیں کے تازہ پھولوں سے\nبسا دیا ہے ان اجڑی ہوئی زمینوں کو\n\nلحد بھی دیکھیے ان میں نصیب ہو کہ نہ ہو\nکہ خاک چھان کے پایا ہے جن زمینوں کو\n\nزوال طاقت و موئے سپید و ضعف بصر\nانہیں سے پائے بشر موت کے قرینوں کو\n\nنہیں خبر انہیں مٹی میں اپنے ملنے کی\nزمیں میں گاڑ کے بیٹھے ہیں جو دفینوں کو\n\nخبر نہیں انہیں کیا بندوبست پختہ کی\nجو غصب کرنے لگے غیر کی زمینوں کو\n\nجہاں سے اٹھ گئے جو لوگ پھر نہیں ملتے\nکہاں سے ڈھونڈ کے اب لائیں ہم نشینوں کو\n\nنظر میں پھرتی ہے وہ تیرگی و تنہائی\nلحد کی خاک ہے سرمہ مآل بینوں کو\n\nخیال خاطر احباب چاہیئے ہر دم\nانیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%D9%82%DB%8C_%D8%A8%D9%84%D9%86%D8%AF_%D8%A8%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88"} {"title": "سدھاری قوت دل تاب اور طاقت سے کہہ دیجو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سدھاری قوت دل تاب اور طاقت سے کہہ دیجو\nہوئے ہیں ناتواں ہم بستر راحت سے کہہ دیجو\n\nموا بھی میں تو اے یارو جو یاروں سے مرے ہووے\nسلام شوق اس کا تم مری تربت سے کہہ دیجو\n\nگر اے قاصد تو اس کے روبرو جاوے اشارے سے\nدعا میری بھی اس معشوق کم فرصت سے کہہ دیجو\n\nسنو اے یارو اک معشوق ہرجائی کے جلوے نے\nپھرایا در بدر میرے تئیں غربت سے کہہ دیجو\n\nبیاں جو جو کہ صورت تجھ سے کی ہے میں نے اے قاصد\nتو اس کے کان میں جھک کر اسی صورت سے کہہ دیجو\n\nبھلا اس کا تو دل خوش ہووے گا اس بات کو سن کر\nنہ پہنچے مدعا کو اپنے ہم حسرت سے کہہ دیجو\n\nہوا دیوانہ، تھا وہ مصحفیؔ تیرا جو سودائی\nصبا گر اس گلی میں جائے، جمعیت سے کہہ دیجو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%AF%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D9%88%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B7%D8%A7%D9%82%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%AC%D9%88"} {"title": "سر اپنے کو تجھ پر فدا کر چکے ہم", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سر اپنے کو تجھ پر فدا کر چکے ہم\nحق آشنائی ادا کر چکے ہم\n\nتو سمجھے نہ سمجھے ہمیں ساتھ تیرے\nجو کرنی تھی اے بے وفا کر چکے ہم\n\nخدا سے نہیں کام اب ہم کو یارو\nکہ اک بت کو اپنا خدا کر چکے ہم\n\nمیں پوچھا مرا کام کس دن کروگے\nتو یوں منہ پھرا کر کہا کر چکے ہم\n\nگھرس لے تو اب ان کو چیرے میں اپنے\nتماشائے زلف دوتا کر چکے ہم\n\nتو جاوے نہ جاوے جو کرنی تھی ہم کو\nسماجت تری اے صبا کر چکے ہم\n\nنہ بولیں گے پیارے تری ہی سنیں گے\nتو دشنام دے اب دعا کر چکے ہم\n\nکبھو کام اپنا کسی سے نہ نکلا\nبہت خلق کی التجا کر چکے ہم\n\nلڑی مصحفیؔ آنکھ جس سے کہ اپنی\nپر آخر اسے آشنا کر چکے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%B1_%D9%81%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "سر اکبر حیدری، صدرِ اعظم حیدر آباد دکن کے نام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "تھا یہ اللہ کا فرماں کہ شکوہِ پرویز\nدو قلندر کو کہ ہیں اس میں ملوکانہ صفات\nمجھ سے فرمایا کہ لے، اور شہنشاہی کر\nحُسنِ تدبیر سے دے آنی و فانی کو ثبات\nمَیں تو اس بارِ امانت کو اُٹھاتا سرِ دوش\nکامِ درویش میں ہر تلخ ہے مانندِ نبات\nغیرتِ فقر مگر کر نہ سکی اس کو قبول\nجب کہا اُس نے یہ ہے میری خدائی کی زکات!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D8%AD%DB%8C%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%8C_%D8%B5%D8%AF%D8%B1%D9%90_%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85_%D8%AD%DB%8C%D8%AF%D8%B1_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%AF%DA%A9%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85"} {"title": "سر جو رہتا ہے مرا رونے سے اکثر بھاری", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سر جو رہتا ہے مرا رونے سے اکثر بھاری\nپاؤں پر رکھتا نہیں ان کے سمجھ کر بھاری\n\nبے تکلف حرکت کچھ جو فلک کرتا ہے\nآج کل مجھ پہ ستارہ ہے مقرر بھاری\n\nغیر کے سامنے یوں مجھ پہ یکایک نہ اٹھے\nدست نازک میں تیرے کاش ہو زیور بھاری\n\nاور کچھ ہیں ترے دل بند کے تیور بہ خدا\nآج کی رات ہر اک بت کو ہے آذر بھاری\n\nاپنے گھر میں ہے مجھے روز مصیبت عارفؔ\nتین دن گور میں ہوتے ہیں مقرر بھاری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "سر جھکاتا نہیں کبھی شیشہ", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سر جھکاتا نہیں کبھی شیشہ\nہم سے کرتا ہے سرکشی شیشہ\n\nکرہ‌ نار ہے مرا سینہ\nشیشۂ دل ہے آتشی شیشہ\n\nدل میں رکھا تھا اس کو دل بھی گیا\nاڑ گئی لے کے اک پری شیشہ\n\nدختر رز پہ زور عالم ہے\nاس پری سے ہوا پری شیشہ\n\nخون روتا ہے قہقہے کے ساتھ\nخوب ہنستا ہے یہ ہنسی شیشہ\n\nزخم دل کا جو پھٹ گیا انگور\nہوئے گا مے کا مستجی شیشہ\n\nیاد آتا ہے مجھ کو دل اے مہرؔ\nدیکھتا ہوں میں جب کبھی شیشہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%D8%AC%DA%BE%DA%A9%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%81"} {"title": "سر رہ اب نہ یوں مجھ کو پکارو تم ہی آ جاؤ", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سر رہ اب نہ یوں مجھ کو پکارو تم ہی آ جاؤ\nذرا زحمت تو ہوگی راز دارو تم ہی آ جاؤ\n\nکہیں ایسا نہ ہو دم توڑ دیں حسرت سے دیوانے\nقفس تک ان سے ملنے کو بہارو تم ہی آ جاؤ\n\nبھروسا کیا سفینے کا کئی طوفان حائل ہیں\nہماری نا خدائی کو کنارو تم ہی آ جاؤ\n\nابھی تک وہ نہیں آئے یقیناً رات باقی ہے\nہماری غم گساری کو ستارو تم ہی آ جاؤ\n\nشکیبؔ غم زدہ کو درد سے ہے اب کہاں فرصت\nاگر کچھ وقت مل جائے تو پیارو تم ہی آ جاؤ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%D8%B1%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D8%AA%D9%85_%DB%81%DB%8C_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%A4"} {"title": "سر سید احمد خاں اور ان کے کام", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "یہ وہ سب سے پہلا مضمون ہے جو سرسید کے کاموں کی تائید اور حمایتیں مولانا حالی نے لکھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولانا حالی سرسید کے اس وقت سے ساتھ تھے جب کہ انہوں نے ولایت سے واپسی کے بعد ابھی اپنی تعلیمی اور اصلاحی تحریک شروع نہیں کی تھی۔ صرف قومی خدمت کا خیال ظاہر کیا تھا اور قوم کی اصلاح کے لئے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کی شکل میں پہلا قدم اٹھایا تھا۔ (محمد اسماعیل)ان دنوں میں جناب مولوی سیدا حمد خاں بہادر تمام ہندوستان کی تربیت میں عموماً اور ہماری قوم کی تہذیب اوراصلاح میں خصوصا جواں مردانہ سعی اور کوشش کر رہے ہیں، اوراپنے اس احسان کی بنیادڈال رہے ہیں جس کے بوجھ سے ہم اور ہمارے اخلاق کبھی سبکدوش نہ ہوں گے۔ اہل ملک میں سے جولوگ سید صاحب کی سرگرمی اور جاں فشانی کوشائبہ اغراض نفسانی سے پاک اور منزہ نہیں جانتے، یا ان کی رائے کو قرین صواب نہیں سمجھتے، یا ان کو مسلک ہدی سے متجاوز رکھتے ہیں، اگرچہ میں نہ کبھی پہلے ان کا ہم زبان ہوا، نہ اب ہوں اور امید ہے کہ آگے کو بھی نہ ہوں گا، مگر اس میں شک نہیں کہ اس تحریر سے پہلے ان کے باب میں میری رائے کبھی تذبذب اورترددسے خالی نہیں رہی، لیکن الحمدللہ کہ میرے تذبذب کا منشا کوئی داعیہ نفسانی نہ تھا، لہٰذا میرے خلوص نے مجھے اس مرض سے نجات دی اور جورائے میری اب ہے غالبا ًیہی قرین صواب بھی ہے۔میرے نزدیک سید صاحب کی نسبت لوگوں کا سوء ظن بہ حسب اختلاف طبائع ان چار وجہوں سے کسی نہ کسی وجہ پر مبنی ہے،۱۔ یا تو یہ بات ہے کہ ہم جنسوں کی خیرخواہی اور ان کی بہبودگی کے لئے تہ دل سے کوشش کرنی اور اپنے عزیز وقت کا ایک معتدبہ حصہ خاص ایسے کام میں صرف کرنا اور بہ حسب متقضائے مقام، عقلی اور مالی تدبیروں میں مضائقہ نہ کرنا اس زمانے میں ایسا نادرالوجود ہے کہ اگر مردان خدا میں سے کوئی جواں مرد اس راہ میں قدم رکھتا ہے تو وہ شوائب غرض سے پاک نہیں سمجھا جاتا اوراس کا خلوص ریاکاری کے سوا اور کسی بات پر محمول نہیں ہوتا۔۲۔ یا جیسا کہ ہرقوم، ہر ملک اور ہر زمانے میں جن لوگوں نے گزشتہ زمانے کی رسوم وعادات پراعتراض کیا ہے، یا سلف کے قانون معاشرت میں کوئی نیا انقلاب پیدا کرنا چاہا ہے، وہ ضرور ہدف طعن و ملامت ہوئے ہیں، اسی طرح سید صاحب کے حسن قبول میں خلل واقع ہوا۔۳۔ یا یہ کہ سید صاحب اپنی صاف باطنی اور کھرے پن سے بعض کلمات ایسے کہہ اٹھتے ہیں جن کو سن کربعض سامعین کا حوصلہ تنگی کرتا ہے اور وہ کلمات بجائے محبت کے ان کے دلوں میں مخالفت کی بنیاد ڈالتے ہیں۔۴۔ کیا عجب ہے کہ سید صاحب کاتقرب سلطانی بھی کسی تنگ ظراف اور تنگ چشم کی نظروں میں کھٹکتا ہو۔ 1 ان چاروں وجوہات میں سے کوئی وجہ ایسی نہیں معلوم ہوتی جس کی طرف کچھ التفات کیا جائے اور جس سے ان کی حقیقی اور نفس الامری خوبیوں کو کچھ ضرر پہنچے۔اور بعض لوگ سید صاحب پر جواعتراض کرتے ہیں کہ اولاد کی دنیوی تعلیم میں اس قدر کوشش کرنی اور آداب دین سے بالکل کورا رکھنا کہاں تک قرین صواب ہے؟ سید صاحب پر یہ بھی اعتراض ہوتا ہے کہ لباس و طعام وغیرہ میں ابنائے جنس کی مخالفت پر اس قدر مبالغہ کرنا جیسے کوئی فرض و واجبات پر کرتا ہے اور جو نتائج قوم کی تالیف اور موافقت پر مترتب ہوتے ہیں ان پر لحاظ نہ فرمانا، کون سی مصلحت کا متقضا ہے؟ پہلی بات کا جواب دینا ہمارے ذمہ نہیں کیوں کہ جو امور سیدصاحب کی ذات خاص سے متعلق ہیں وہ ہماری بحث سے خارج ہیں۔ دوسرا امر بے شک ایسا ہے کہ جب تک اس کا جواب نہ دیا جائےگا، اس وقت تک سیدصاحب اوران کے خاص مددگار اپنے ذمہ سے فارغ نہ ہوں گے۔ اور میں صرف اس جواب پر اکتفا کرتا ہوں کہ میں نے سیدصاحب کے معصوم ہونے کا دعویٰ نہیں کیا، مگراس قدر ضرور جانتا ہوں کہ آج سید صاحب اپنی کوششوں کے اعتبار سے اس حدیث کے صحیح مصداق ہیں کہ ’’سید القوم خادمہم۔‘‘ سید صاحب کے کارنامے، ۱۔ کتاب، خطبات احمدیہ، جو انہوں نے لندن میں جاکر تالیف کی ہے، ظاہر ہے کہ اپنے لئے ایک عمدہ ذخیرہ آخرت کا مہیا کیا ہے۔ اور کیا عجب ہے کہ فریضہ حج جو باوجود استطاعت اور قرب مسافت کے ان سے ادا نہ ہو سکا، اس کی تلافی اس تالیف سے ہو جائے، مگر قوم کو بھی اس احسان کی شکرگزاری سے چارہ نہیں۔ اگرچہ اس کتاب میں اکثرمضامین اور خیالات ایسے ہیں جن میں ہم جناب مؤلف کو منفرد نہیں کہہ سکتے لیکن اوربہت سی حیثیتیں ایسی ہیں جن کے اعتبار سے اس کتاب کو اثبات نبوت کی پہلی کتاب کہنا چاہئے اور جن کے لحاظ سے یہ کہنا غیر موزوں نہیں کہ آج مولوی سید احمد خاں صاحب کے سوا دوسرے سے اس کام کا سرا نجام ہونا محال تھا۔۲۔ رعیت کی آزادی، جو اس سلطنت کی بے بہا اور برگزیدہ خاصیتوں میں سے ایک خاصیت ہے اور جس کی حقیقت نہ جاننے سے سلطنت کی بڑی خوبی ہماری آنکھوں سے چھپی ہوئی تھی، اگر سچ پوچھئے تو اس کی معرفت کا دروازہ جو ہم پر کھلا، اس کی کنجی سید صاحب کی آزاد تحریریں ہیں۔ ہم کو وہ زمانہ یاد ہے کہ ایام غدر کے بعد ہنوز بغاوت کی آگ مدھم نہیں ہوئی تھی اور گورنمنٹ کی نگاہ تمام ہندوستانیوں پرعموما ًاور مسلمانوں پرخصوصاً غضب آلود پڑی تھی اور چند نااہلوں اور خیرہ سروں کے الزام نے برٹش انڈیا کی کل قوموں کو خوف و رجا اور امیدوبیم کے بھنورمیں ڈال رکھا تھا، اورکیا دوست اور کیا دشمن اور کیا مخالف اور کیا موافق سب کے دلوں پر رعب سلطنت چھایا ہوا تھا، اس وقت اس اولوالعزم جواں مرد نے وہ کام کیا جس سے گورنمنٹ کی حق پسندی اور حق شناسی رعایا پر، اور رعایا کی بے گناہی اور بے جرمی گورنمنٹ پر ’’کالشمس فی رابعۃ النہار‘‘ آشکارا ہو گئی۔ رسالہ اسباب بغاوت ہند 2 کا لکھنا اگرچہ سید صاحب کی آزاد اور بے باک طبیعت کی بے شمار موجوں میں سے ایک موج تھی۔ لیکن ہمارے گراں بار کرنے کویہ احسان کچھ کم نہ تھا۔۳۔ انگلستان سے جو وہ ہر فن اورعلم کی منتخب کتابیں اپنے ساتھ لائے ہیں اور یہاں ان کے اردو میں ترجمے کرانے کی سبیلیں نکالنے میں سرگرم ہیں، اگرغور سے دیکھئے تو یہ ہمارے ان مقاصد جلیلیہ میں سے ہے جن کے حاصل ہونے کی توقع ہم کو اس سے پہلے گورنمنٹ کے سوااور کسی سے نہ تھی اور جن پر ہمارے وہ کام اٹکے ہوئے ہیں جن کے نہ ہونے سے ہم پر ’’انسان بالفعل‘‘ کا اطلاق اب تک صحیح نہیں ہوا۔۴۔ پرچہ تہذیب الاخلاق جو سید صاحب کی حسن توجہ سے ابھی جاری ہوا ہے 3 یہ بھی ہماری حدت بصر اور تیزی نظر کے لئے ایک بہت عمدہ وسیلہ ہے۔ بعض لوگ اس پریہ اعتراض کرتے ہیں کہ ’’امرمعاش میں اس قدر منہمک ہونے کی ترغیب دینی گویا امر معاد کی طرف سے بالکل ذہول اور غفلت کا پردہ ڈالنا ہے، کیوں کہ چین، مصر اور یونان کی تواریخ سے معلوم ہوتاہے کہ ان لوگوں کی عقل معاش کو جس قدر ترقی ہوتی گئی، اسی قدرعقل معاد میں تنزل ہوتا گیا، اور رفتہ رفتہ امردین میں ایسے کوتاہ بیں اور ناعاقبت اندیش ہو گئے کہ ان کی حماقت کی مثالیں شمار اور بیان کی حد سے باہر ہیں۔ اور اب یورپ کی اعلی درجے کی ترقی سے جو نتائج دین اور مذہب پر مترتب ہوئے ہیں وہ ایسے روشن اور ظاہر ہیں کہ ان کے بیان کرنے کی حاجت نہیں۔‘‘ اگرچہ یہ اعتراض ایسا نہیں ہے جس سے ’تہذیب الاخلاق‘ کی خوبی کو دھبہ لگے لیکن اس سے بچنے کے لئے میانہ روی اختیار کرنی اور اعتدال کی حد سے تجاوز نہ کرنا قرین صواب ہی نہیں بلکہ واجب ہے۔ اور اس پرچے کا مقبول خاص وعام ہونا زیادہ تر اسی بات پر موقوف ہے۔۴۔ علی گڑھ سوسائٹی 4 جو اپنے بانی کے حسن سلیقہ اور نیک نیتی پر گواہی دیتی ہے اور جس کی دیکھا دیکھی اور بہت سی علمی مجلسیں ہندوستان میں منعقد ہوئیں اگرچہ آج تک اس کی خوبی کو نہیں پہنچیں۔ اس کی مثال ہمارے نزدیک ایسی ہے جیسے ایک خشک پودے میں پانی دیا جائے۔ جس طرح پانی دینے سے خشک پودا اسی وقت سرسبز اور بارور نہیں ہو جاتا، اسی طرح اس سوسائٹی کے فوائد اور منافعے اگرچہ بالفعل محسوس نہیں ہوتے، لیکن ہم لوگ ان سے برابر متمتع ہوتے چلے جاتے ہیں اور اب جواس کے بانی اور سرگروہ اور میر مجلس یعنی مولوی سید احمد خاں بہادر عنقریب علی گڑھ میں رونق افروز ہونے والے ہیں، امید ہے کہ ان کی موجودگی میں ان کی کوششیں اور زیادہ با آور ہوں گی۔۵۔ کمیٹی خواست گار ترقی تعلیم، اہل اسلام، جس کے سرمنشا اور مہتمم سید صاحب ممدوح ہیں، اس کا قائم ہونا اس مرض کا علاج ہے جس نے ہماری قوم میں انس باقی نہیں رکھا اور جو اس کمیٹی کے قائم ہونے سے پہلے لاعلاج معلوم ہوتا تھا۔ کاش ہمارے ملک کے دولت مند مسلمان اس کمیٹی کے مطالب اور مقاصد کوغور سے دیکھیں اور سمجھیں کہ سید صاحب نے ان کے اور ان کی قوم کے لئے کیسا اعلی طریقہ نکالا ہے اور وہ بارگراں جو سید صاحب نے محض بہ متقضائے رقت جنسیت اپنے سر پر رکھاہے، اس کے اٹھانے میں آپ بھی شریک ہوں۔ اور صرف روپے پیسے ہی سے نہیں بلکہ جان و دل سے ان کی امداد کریں۔یہاں کے مسلمانوں میں جو روز بروز جہل پھیلتا جاتاہے اور جس بات میں وہ ہندوستان کی عام قوموں میں ممتاز گنے جاتے تھے، اب اسی بات میں سب سے زیادہ مبتذل ہوتے جاتے ہیں۔ اس کا بڑا سبب دولت مند مسلمانوں کی بے اعتنائی، تن آسانی اور نفس پروری ہے۔ کیا وہ اس بات کو گوارا کرتے ہیں کہ دلی اور لکھنؤ سے شہر، جو ہندوستان کے بڑے دارالعلم گنے جاتے ہیں، ان میں کوئی اتنا نہ رہے جس سے یہ پوچھا جائے کہ نماز میں کتنے فرض ہیں اور وضو کن کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے؟ کیا وہ اس بات کو جائز رکھتے ہیں کہ جو شائستہ قوم آج ہندوستان میں فرماں روا ہے اور جس کے زن و مرد اوپیرو جوان سب علم و دانش کے پتلے اور جہل و ناشائستگی کے دشمن ہیں، ان کے عہد میں مسلمانوں سے زیادہ کوئی ذلیل و خوار نہ رہے؟سید صاحب کی جو یہ تمنا ہے کہ مسلمانوں کے حسن اتفاق سے ہر ضلع میں کم سے کم ایک مدرسہ ایسا قائم ہوجس میں علوم قدیمیہ اور فنون جدیدیہ کی تعلیم بہ وجہ شائستہ ممکن ہو، سو خداتعالیٰ ان کی یہ آرزو پوری کرے۔ ظاہراً اس کوشش کے بارور ہونے میں ابھی بہت دن باقی ہیں، ہاں اگر دولت مند اور ذی مقدور مسلمانوں نے اس مہم عظیم کا بوجھ صرف سید صاحب ہی پر نہ ڈالا اوران کے درد میں آپ بھی شریک ہوئے اور اپنے عیش وعشرت کے اوقات و مصارف کا ایک معتدبہ حصہ ان کی غم خوار ی میں صرف کیا، تو البتہ خدا تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ ہندوستان کے پانچ سات بڑے بڑے شہروں میں ایسے مدرسوں کی بنیاد پڑ جائے اور جو تاریکی ساری قوم پر چھا رہی ہے اس کے دور ہونے کی کچھ کچھ امید بندھے۔اگر مسلمانوں نے اب بھی بے پروائی کو کام فرمایا اورسید صاحب کا ساتھ دینے میں کوتاہی کی اوراپنی آئندہ نسلوں کے لئے کچھ پودے نہ لگائے تو ان کی وہی مثل ہوگی جسیا کہ شمالی امریکہ کے وحشیوں کے حال میں لکھا ہے کہ جس وقت لین گسٹو کا وہ عہدنامہ لکھا گیا جو ۱۷۴۴ ع میں سلطنت ورجینا اور چھ قوموں میں بمقام پنسل وینیا قرار پایا تھا، تو اس کے لکھے جانے کے بعد سلطنت ورجینا کے ایلچیوں نے امریکہ والوں سے کہا کہ ’’وانمیزبرگ‘‘ میں ایک کالج ہے، اس میں اس ملک کے لڑکوں کی تربیت کے لئے کچھ روپیہ جمع ہے، اگر تم میں سے چھ قوموں کے سردار اپنے لڑکے کالج میں بھیج دیں تو ہماری سرکار سے ہر شئے کا سر انجام ہو سکتا ہے اور یورپ کے کل علوم ان کو سکھائے جائیں گے۔‘‘ ان وحشیوں نے کہا، ’’پہلے ایک بار ہمارے لڑکوں نے اضلاع شمالی کے کالجوں میں تعلیم پائی تھی اوران کو تمہارے علوم سکھائے تھے مگر وہ پڑھ لکھ کر آئے تو ہمارے کام کے نہ تھے۔ بھاگنا، جنگل میں رہنا، کوٹھا بنانا، ہرن پکڑنا، کچھ نہ جانتے تھے۔ ہم کو منظور نہیں کہ اپنی اولاد کوعلم پڑھا کر اپنے کاموں سے بالکل کھودیں۔‘‘ میں نے یہ جوکچھ لکھا ہے، اس سے مجھ کو مولوی سیدا حمد خاں کا خوش کرنا منظور نہیں، نہ ان کے مخالفوں سے بحث کرنی مقصود ہے، بلکہ اس کا منشا وہ ضرورت اور وہ مصلحت ہے جس کے سبب سے بھولے کوراہ بتائی جاتی اورمریض کو دوائے تلخ کی ترغیب دی جاتی ہے۔ وما علینا الاالبلاغحاشیے(۱) سید صاحب سرکاری ملازم اور جج عدالت خفیفہ تھے۔ (اسماعیل)(۲) ’خطبات احمدیہ‘ ابھی تک اردومیں نہ چھپی تھی، صرف اس کا خلاصہ انگریزی میں سید صاحب نے لندن سے ۱۸۷۰ع میں شائع کیا تھا۔ (محمداسماعیل)(۳) یہ رسالہ سید صاحب نے ۱۸۵۸ع میں لکھا تھا۔ (محمداسماعیل)(۴) رسالہ ’تہذیب الاخلاق‘ کا پہلا پرچہ ۲۴ دسمبر ۱۸۷۰ع کو شائع ہوا تھا۔ (محمداسماعیل)(۵) اس کا نام ’سائنٹیفک سوسائٹی‘ تھا اور یہ سیدصاحب نے یہ مقام غازی پور ۱۸۶۳ع میں قائم کی تھی۔ جب سید صاحب کی تبدیلی علی گڑھ میں ہو گئی تو وہ سوسائٹی کو اپنے ساتھ علی گڑھ لے آئے اور پھر یہی اس کامستقل مستقر قرار پایا۔ (محمداسماعیل)(۶) اس کمیٹی کا پہلا جلسہ ۲۶ دسمبر ۱۸۷۰ع کو سرسید نے بنارس میں منعقد کیا جہاں سے یہ کمیٹی بعد میں علی گڑھ منتقل ہو گئی۔ (محمداسماعیل)", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%AE%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85"} {"title": "سر سید مرحوم اور اردو لٹریچر", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "سرسید کے جس قدر کارنامے ہیں اگرچہ رفارمیشن اور اصلاح کی حیثیت ہر جگہ نظرآتی ہے، لیکن جو چیزیں خصوصیت کے ساتھ ان کی اصلاح کی بدولت ذرے سے آفتاب بن گئیں، ان میں ایک اردو لٹریچر بھی ہے۔ سرسید ہی کی بدولت اردو اس قابل ہوئی کہ عشق وعاشقی کے دائرے سے نکل کر ملکی، سیاسی، اخلاقی، تاریخی ہر قسم کے مضامین اس زور اور اثر، وسعت و جامعیت، سادگی اور صفائی سے ادا کر سکتی ہے کہ خود اس کے استاد یعنی فارسی زبان کو آج تک یہ بات نصیب نہیں۔ ملک میں آج بڑے بڑے انشا پرداز موجود ہیں جو اپنے اپنے مخصوص دائرہ مضمون کے حکمراں ہیں، لیکن ان میں سے ایک شخص بھی نہیں جو سرسید کے بار احسان سے گردن اٹھا سکتا ہو۔ بعض بالکل ان کے دامن تربیت میں پلے ہیں، بعضوں نے دور سے فیض اٹھایا ہے، بعض نے مدعیانہ اپنا الگ رستہ نکالا، تاہم سرسید کی فیض پذیری سے بالکل آزاد کیونکر رہ سکتے تھے۔ سرسید کی جس زمانے میں نشو و نما ہوئی، دلی میں اہل کمال کا مجمع تھا، اور امرا اور رؤسا سے لے کر ادنیٰ طبقے تک میں علمی مذاق پھیلا ہوا تھا۔ سرسید جس سوسائٹی کے ممبر تھے اس کے بڑے ارکان مفتی صدر الدین خاں آرزردہ، مرزاغالب اور مولانا صہبائی تھے۔ ان میں سے ہرشّخص تصنیف و تالیف کا مالک تھا اور انہی بزرگوں کی صحبت کا اثر تھا کہ سرسید نے ابتدا ہی میں جو مشغلہ علمی اختیار کیا وہ تصنیف و تالیف کا مشغلہ تھا۔ اول وہ رواج عام کے اقتضا سے شاعری کے میدان میں آئے، آہی تخلص اختیار کیا اور اردو میں ایک چھوٹی سی مثنوی لکھی، جس کا ایک مصرع انہی کی زبانی سنا ہوا مجھے یاد ہے، نام میرا تھا کام ان کا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کو شاعری سے مناسبت نہ تھی، اس لئے وہ بہت جلد اس کوچے سے نکل آئے اور نثر کی طرف توجہ کی۔ چونکہ حقائق اور واقعات کی طرف ابتدا سے میلان تھا اس لئے دلی کی عمارتوں اور یادگاروں کی تحقیقات شروع کی اور نہایت محنت و کوشش سے اس کام کو انجام دے کر ۱۸۴۷ میں ایک مبسوط کتاب لکھی جو آثار الصنادید کے نام سے مشہور ہے۔ اس وقت اگرچہ سرسید کے سامنے اردو نثر کے بعض بعض عمدہ نمونے موجود تھے، خصوصا ًمیر امن صاحب کی چہار درویش جو ۱۸۰۲ میں تالیف ہوئی تھی اور جس کی سادگی، صفائی اور واقعہ طرازی آج بھی موجودہ تصنیفات کی ہمسری کا دعویٰ کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ مضمون جو اختیار کیا گیا تھا، یعنی عمارات اور ابنیہ کی تاریخ وہ تکلف اور آورد سے اِبا کرتا تھا، تاہم آثار الصنادید میں اکثرجگہ بیدل اور ظہوری کا رنگ نظرآتا ہے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ سرسید کی رات دن کی صحبت مولانا امام بخش صہبائی سے رہتی تھی، اور مولانا موصوف بیدل کے ایسے دلدادہ تھے کہ ان کا کلمہ پڑھتے تھے اور جو کچھ لکھتے تھے، اسی طرز میں لکھتے تھے۔ سرسید نے مجھ سے خود بیان کیا کہ آثار الصنادید کے بعض بعض مقامات بالکل مولانا امام بخش صہبائی کے لکھے ہوئے ہیں ،جو انہوں نے میری طرف سے اور میرے نام سے لکھ دیے تھے۔ بہرحال اس کتاب میں جہاں جہاں انشا پردازی کا زور دکھایا ہے، اس کا نمونہ یہ ہے، ’’ان حضرت کی طبع رسا شکلِ رابع سے پہلے اس سے نتیجہ حاصل کرتی ہے کہ بدیہی الانتاج سے ارباب فہم و ذکا اور ناخن فکرعقدہ لا ینحل کو پہلے اس سے وا کرتا ہے کہ گرہ حباب کو انگشت موج دریا۔ معنی فہمی اس درجہ کہ راست و درست سمجھ لیا کہ زبان سو سن نے کیا کہا اور رمز شناسی اس مرتبہ کہ واقعی معلوم ہوگیا کہ نگاہ نرگس نے کیا اشارہ کیا۔ اگر ان کی رائےروشن معجزنما ہو تو نقطہ موہوم کو انگشت سے تقسیم کرے اور جزلا یتجزی کو دویم۔‘‘اگرچہ اس سے بہت پہلے یعنی ۱۸۳۶ میں مولوی محمد حسین آزاد کے والد بزرگوار مولوی محمد باقر نے اردو اخبارکے نام سے اردو کا ایک پرچہ نکالا تھا اور خود سرسید نے ایک پرچہ جاری کیا تھا جس کا نام سید الاخبار تھا اور دونوں پرچوں کی زبان، ضرورت کے اقتضا سے سادہ اور صاف ہوتی تھی۔ تاہم اس وقت تک یہ زبان علمی زبان نہیں سمجھی جاتی تھی اس لئے جب کوئی شخص علمی حیثیت سے کچھ لکھتا تھا تو اسی فارسی نما طرز میں لکھتا تھا۔ سرسید نے بھی اسی وجہ سے آثار الصنادید میں جہاں انشا پردازی سے کام لیا اسی طرز کو برتا۔ آثار الصنادید جس زمانے میں نکلی، اس کے تھوڑے ہی دنوں کے بعد تقریبا ۱۸۵۰ میں دلی کے مشہور شاعر مرزاغالب نے اردو کی طرف توجہ کی، یعنی مکاتبات وغیرہ اردو میں لکھنے شروع کئے اور چونکہ وہ جس طرف متوجہ ہوتے تھے، اپنا کوچہ الگ نکال کر رہتے تھے، اس لئے انہوں نے تمام ہم عصروں کے برخلاف مکاتبے کو مکالمہ کردیا۔ مکاتبات میں وہ بالکل اس طرح ادائے مطلب کرتے تھے جیسے دو آدمی آمنےسامنے بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ بہت سے خطوط میں انسانی جذبات، مثلاً رنج وغم، مسرت و خوشی، حسرت و بے کسی کو نہایت خوبی سے ادا کیا ہے۔ اکثر جگہ واقعات کو اس بے ساختگی سے ظاہر کیا کہ واقعے کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا بے جا نہیں کہ اردو انشا پردازی کا آج جو انداز ہے اور جس کے مجدد اور امام سرسید مرحوم تھے اس کا سنگ بنیاد در اصل مرزا غالب نے رکھا تھا۔ سرسید کو مرزا سے جو تعلق تھا، وہ ظاہر ہے۔ اس لئے کچھ شبہ نہیں ہو سکتا کہ سرسید ضرور مرزا کی طرز سے مستفید ہوئے۔ اسی زمانے میں ہندوستان کے ہرحصے میں کثرت سے اردو اخبارات جاری ہوگئے اور انشا پردازی کو روز بروز ترقی ہوتی گئی۔ اخبارات کو ہرقسم کے اخلاقی، تمدنی، ملکی،مذہبی، تاریخی مسائل سے کام پڑتا تھا، اس لئے ہرقسم کے مضامین لکھے گئے، تاہم انشا پردازی کا کوئی خاص اسٹائل متعین نہیں ہوا تھا۔ اس کےعلاوہ جو کچھ تھا ابتدائی حالت میں تھا۔ ۱۲۸۷ھ میں جس کو آج کم و بیش ۲۷ برس ہوئے، سرسید نے قوم کی حالت کی اصلاح کے لئے تہذیب الاخلاق کا پرچہ نکالا اور اردو انشا پردازی کو اس رتبے پر پہنچا دیا جس کے آگے اب ایک قدم بڑھنا بھی ممکن نہیں۔ سرسید نے اردو میں جو باتیں پیدا کیں اس کو وہ مختصراً تہذیب الاخلاق میں خود ایک مقام پر لکھتے ہیں، ان کی خاص عبارت یہ ہے،’’جہاں تک ہم سے ہوسکا ہم نے اردو زبان کی، علم و ادب کی ترقی میں اپنے ناچیز پرچوں کے ذریعہ سے کوشش کی۔ مضمون کے ادا کا ایک سیدھا اور صاف طریقہ اختیار کیا۔ رنگین عبارت سے جو تشبیہات اور استعارات خیالی سے بھری ہوئی ہے اور جس کی شوکت صرف لفظوں ہی لفظوں میں رہتی ہے اور دل پر اس کا کچھ اثرنہیں ہوتا، پرہیز کیا۔ اس میں کوشش کی جو کچھ لطف ہو، مضمون کے ادا میں ہو۔ جو اپنے دل میں ہو، وہی دوسرے کے دل میں پڑے تاکہ دل سےنکلے اوردل میں بیٹھے۔‘‘ اس آرٹیکل میں سرسید نے انشاپردازی کے اور بہت سے اصول بنائے ہیں جن کو اس موقع پر ہم اختصار کی وجہ سے قلم انداز کرتے ہیں۔ سرسید کی انشاپردازی کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ہر قسم کے مختلف مضامین پر کچھ نہ کچھ بلکہ بہت کچھ لکھا ہے اورجس مضمون کو لکھا ہے اس درجے پر پہنچا دیا ہے کہ اس سے بڑھ کر ناممکن ہے۔ فارسی اور اردو میں بڑے بڑے شعرا اور نثار گزرے ہیں، لیکن ان میں ایک بھی ایسا نہ تھا جو تمام قسم کے مضامین کا حق ادا کر سکتا۔ فردوسی بزم میں رہ جاتا ہے، سعدی رزم کے مرد میدان نہیں، نظامی رزم بزم دونوں کے استاد ہیں، لیکن اخلاق کے کوچے سے آشنا نہیں، ظہوری صرف مدحیہ نثر لکھ سکتا ہے، برخلاف اس کے سرسید نے اخلاق، معاشرت، پالیٹکس، مناظر قدرت وغیرہ وغیرہ سب پر لکھا ہے اور جو کچھ لکھا ہے لاجواب لکھا ہے۔ مثال کے طور پر بعض بعض مضامین کے جستہ جستہ فقرے نقل کرتے ہیں۔ امید کی خوشی پر ایک مضمون لکھا ہے جس میں امید کو مخاطب کیا ہے، اس کے چند فقرے یہ ہیں، ’’دیکھ نادان بے بس بچہ گہوارے میں ہوتا ہے، اس کی مصیبت زدہ ماں اپنے دھندے میں لگی ہوئی ہے، اور اس گہوارے کی ڈوری بھی ہلاتی جاتی ہے، ہاتھ کام میں اور دل بچے میں ہے، اور زبان سے اس کو یوں لوری دیتی ہے، سورہ میرے بچے سورہ، اے اپنے باپ کی مورت اور میرے دل کی ٹھنڈک سورہ، اے میرے دل کی کونپل سورہ، بڑھ اور پھل پھول، تجھ پر کبھی خزاں نہ آئے، تیری ٹہنی میں کبھی کوئی خار نہ پھوٹے، کوئی کٹھن گھڑی تجھ کو نہ آئے، سورہ میرے بچے سورہ، میری آنکھوں کے نور اورمیرے دل کے سرور میرے بچے سورہ، تیرا مکھڑا چاند سے بھی زیادہ روشن ہوگا، تیری خصلت تیرے باپ سے بھی اچھی ہوگی، تیری شہرت، تیری لیاقت، تیری محبت جو تو ہم سے کرے گا، ہمارے دل کو تسلی دیں گی۔ سورہ میرے بچے سورہ، سورہ میرے بالے سورہ۔‘‘’’یہ امید کی خوشیاں ماں کو اس وقت تھیں جب کہ بچہ غوں غاں بھی نہیں کر سکتا تھا۔ مگرجب وہ ذرا اور بڑا ہوا اور معصوم ہنسی سے ماں کے دل کو شاد کرنے لگا اور اماں اماں کہنا سیکھا، اس کی پیاری آواز ادھورے لفظوں میں اس کی ماں کے کان میں پہنچنے لگی، آنسوؤں سے اپنی ماں کی آتش محبت کے بھڑکانے کے قابل ہوا۔ پھر مکتب سے اس کو سرو کار پڑا۔ رات کو ماں کے سامنے دن کا پڑھا ہوا سبق غمزدہ دل سے سنانے لگا اور جب کہ وہ تاروں کی چھاؤں میں اٹھ کر منہ ہاتھ دھوکر اپنے ماں باپ کے ساتھ صبح کی نماز میں کھڑا ہونے لگا اور اپنے بے گناہ دل، بے گناہ زبان سے، بے ریا خیال سے خدا کا نام پکارنے لگا تو امید کی خوشیاں اور کس قدر زیادہ ہوگئیں اور ہماری پیاری امید! تویہی ہے جومہد سے لحد تک ہمارے ساتھ ہے۔‘‘’’وہ دلاور سپاہی لڑائی کے میدان میں کھڑا ہے، کوچ پرکوچ کرتے تھک گیا ہے، لڑائی کے میدان میں جبکہ بہادروں کی صفیں کی صفیں چپ چاپ کھڑی ہوتی ہیں اور لڑائی کا میدان ایک سنسان کاعالم ہوتا ہے، دلوں میں عجیب قسم کی خوف ملی ہوئی جرأت ہوتی ہے اور جب کہ لڑائی کا وقت آتا ہے اور وہ آنکھ اٹھا کر نہایت بہادری سے بالکل بے خوف ہوکر لڑائی کے میدان کو دیکھتا ہے اور جبکہ بجلی سی چمکنے والی تلواریں اور سنگینیں ، اس کی نظر کے سامنے ہوتی ہیں، اور بادل کی سی کڑکنے والی اور آتشیں پہاڑ کی سی آگ برسانے والی توپوں کی آواز سنتا ہے اور جبکہ اپنے ساتھی کو خون میں لتھڑا ہوا زمین پر پڑا ہوا دیکھتا ہے۔ تو اے بہادروں کی قوت بازو! اور اے بہادروں کی ماں! تیرے ہی سبب سے فتح مندی کا خیال اس کے دل کو تقویت دیتا ہے، اس کان نقارے میں سے تیرے ہی نغمے کی آواز سنتا ہے۔‘‘تم دیکھ سکتے ہو کہ ان چند سطروں میں کس طرح نیچر کی تصویر کھینچی ہے اور اس میں کس قدر درد اور اثر پیدا کیا ہے۔ پالیٹکس کا راستہ اس سے بالکل الگ ہے۔ پنجاب میں جب یونیورسٹی قائم ہو رہی تھی، جس میں اورینٹل تعلیم پر بہت زور دیا گیا تھا، سرسید کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اس سے پالیٹکس کی بنا پر ہم کو اعلیٰ تعلیم سے روکنا مقصود ہے، اس وقت سرسید نے پے در پے تین آرٹیکل لکھے۔ ان آرٹیکلوں نے یونیورسٹی کے بانیوں کو اس قدر گھبرا دیا کہ خاص ان آرٹیکلوں کے جواب میں سیکڑوں مضامین لکھے گئے۔ اور ان کا مجموعہ یک جا کر کے ایک مستقل کتاب تیار کی۔ افسوس ہے کہ اختصار کی وجہ سے ہم ان آرٹیکلوں کا کوئی حصہ نقل نہیں کرسکتے۔ سرسید نے انشا پردازی کی ترقی کے جو طریقے ایجاد کئے، ان میں ایک یہ تھا کہ بہت سے اعلیٰ درجے کے انگریزی مضامین کو اردو زبان کا قالب پہنایا، لیکن ترجمے کے ذریعہ سے نہیں کیوں یہ طریقہ اب تک بے سود ثابت ہوا ہے، بلکہ اس طرح کہ انگریزی کے خیالات اردو میں اردوکی خصوصیات کے ساتھ ادا کئے۔ امید کی خوشی کا مضمون جس کے ہم نے بعض فقرات اوپر نقل کئے، در اصل ایک انگریزی مضمون سے ماخوذ ہے۔ انگریزی میں اڈیسن اور اسنیل بڑے مضمون نگار گزرے ہیں۔ سرسید نے ان کے متعدد مضامین کو اپنی زبان میں ادا کیا۔ سرسید کی انشا پردازی کا بڑا کمال اس موقع پرمعلوم ہوتا ہے جب وہ کسی علمی مسئلے پر بحث کرتے ہیں۔ اردو زبان چونکہ کبھی علمی زبان کی حیثیت سے کام میں نہیں لائی گئی، اس میں علمی اصطلاحات ، علمی الفاظ اور علمی تلمیحات بہت کم ہیں، اس لئے اگر کسی علمی مسئلے کو اردو میں لکھنا چاہو تو الفاظ مساعدت نہیں کرتے، لیکن سرسید نے مشکل سے مشکل مسائل کو اس وضاحت، صفائی اور دل آویزی سے ادا کیا ہے کہ پڑھنے والا جانتا ہے کہ وہ کوئی دلچسپ قصہ پڑھ رہا ہے۔ پروفیسر رینان نے جو فرانس کا ایک بڑا مصنف گزرا ہے، اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’’عربی زبان میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ فلسفی مسائل کو ادا کر سکے۔‘‘ رینان جن مسائل کے ادا کرنے کے لئےعربی زبان کو نا قابل سمجھا ہے (گویا اس کا خیال محض غلط ہے) سرسید نے اردو جیسی کم مایہ زبان میں وہ مسائل ادا کر دیے ہیں۔ سرسید نے فلسفہ الہیات پرجو کچھ اپنی مختلف تحریروں میں لکھا ہے، وہ فلسفے کے اعلیٰ درجے کے مسائل ہیں۔ زمانہ جانتا ہے کہ مجھ کو سرسید کے مذہبی مسائل سے سخت اختلاف تھا اور میں ان کے بہت سے عقائد و خیالات کو بالکل غلط سمجھتا تھا۔ تاہم اس سے مجھ کو کبھی انکار نہ ہوسکا کہ ان مسائل کو سرسید نے جس طرح اردو زبان میں ادا کیا، کوئی اور شخص کبھی ادا نہیں کرسکتا۔ سرسید کی تحریروں میں جا بجا ظرافت اور شوخی بھی ہوتی ہے لیکن نہایت تہذیب اور لطافت کے ساتھ۔ مولوی علی بخش خاں صاحب مرحوم جو سرسید کے رد میں رسالے لکھا کرتے تھے، حرمین شریفین گئےاور وہاں سے سرسید کی تکفیر کا فتویٰ لائے۔ اس پرسرسید ایک موقع پر تہذیب الاخلاق میں لکھتے ہیں، ’’جو صاحب ہماری تکفیر کے فتوے لینے کو مکہ معظمہ تشریف لے گئے تھے اور ہمارے کفر کی بدولت ان کو حج اکبرنصیب ہوا، ان کے لائے ہوئے فتوؤں کے دیکھنے کے ہم بھی مشتاق ہیں۔بہ بین کرامت بت خانہ مرا ای شیخ کہ چون خراب شود خانہ خدا گرددسبحان اللہ ہمارا کفربھی کیا کفر ہے، کہ کسی کو حاجی اور کسی کو ہاجی، اور کسی کو کافر اور کسی کو مسلمان بناتا ہے۔باران کہ درلطافت طبعش خلاف نیست در باغ لالہ روید و در شورہ بوم خس۔‘‘تہذیب الاخلاق جب بند ہوا ہے، تو سرسید نے خاتمے پر جو مضمون لکھا ہے، اس کے ابتدائی فقرے یہ ہیں۔ ’’سوتوں کو جھنجھوڑتے ہیں کہ جاگ اٹھیں۔ اگر اٹھ کھڑے ہوئے تو مطلب پورا ہوگیا اور اگر نیند میں اٹھانے سے کچھ بڑبڑائے، کچھ جھنجھلائے، ادھر ہاتھ جھٹک دیا، ادھر پیر جھٹک دیا اور اینڈے پڑے سوتے ہیں تو بھی توقع ہوئی کہ تھوڑی دیر بعد جگ اٹھیں گے۔ شاید ہمارے بھائیوں کی اس اخیر درجہ تک نوبت آگئی ہے۔ اگر یہ خیال ٹھیک ہو تو ہم کو بھی زیادہ نہ چھیڑنا چاہئے، بچے اٹھاتے وقت کہہ اٹھتے ہیں کہ ہم کو اٹھائے جاؤگے ، تو ہم اور پڑے رہیں گے، تم ٹھہرجاؤ ہم آٖپ ہی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ بچہ کڑوی دوا پیتے وقت منہ بسور کرماں سے کہتا ہے کہ بی! یہ مت کہے جاؤ کہ شاباش بیٹا پی لے پی لے، تم چپ رہو، میں آپ ہی پی لوں گا۔ لو بھائیو! اب ہم بھی نہیں کہتے کہ اٹھو اٹھو، پی لو پی لو۔‘‘حقیقت یہ ہے کہ سرسید نے اردو انشا پردازی پر جواثر ڈالا ہے اس کی تفصیل کے لئے دو چار صفحے کافی نہیں ہو سکتے۔ یہ کام در حقیقت مولانا حالی کا ہے، وہ لکھیں گے اور خوب لکھیں گے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ لکھ چکے ہیں اور خوب لکھا ہوگا۔ میں کالج کی طرف سے مجبور کیا گیا تھا۔ اس وقت جب کہ تمام ملک میں سرسید کا آوازہ ماتم گونج رہا ہے، اور ہر شخص ان کے کارناموں کے سننے کا شائق ہے، کچھ نہ کچھ مختصر طور پر فورا ًلکھنا چاہئے، میں نے اسی کی تعمیل کی ورنہ میں مولانا حالی کی مقبوضہ سرزمین میں مداخلت کا کوئی حق نہیں رکھتا اور اس شعر کا مصداق بننا نہیں چاہتا،بھلا تردد بے جا سے اس میں کیا حاصل اٹھا چکے ہیں زمیندار جن زمینوں کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D9%85%D8%B1%D8%AD%D9%88%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C%DA%86%D8%B1"} {"title": "سر شام اس نے منہ سے جو رخ نقاب الٹا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سر شام اس نے منہ سے جو رخ نقاب الٹا\nنہ غروب ہونے پایا وہیں آفتاب الٹا\n\nجو کسی نے 'قیس و لیلیٰ' اسے لا کے دی مصور\nنہ حیا کے مارے اس نے ورق کتاب الٹا\n\nمیں حساب بوسہ جی میں کہیں اپنے کر رہا تھا\nوہ لگا مجھی سے کرنے طلب اور حساب الٹا\n\nجو ہیں آشنائے مشرب وہ کسی سے ہوں نہ سائل\nاسی واسطے رہے ہے قدح حباب الٹا\n\nمہ چار دہ کا عالم میں دکھاؤں گا فلک کو\nاگر اس نے پردہ منہ سے شب ماہتاب الٹا\n\nجو خفا ہوا میں جی میں کسی بات پر شب وصل\nسحر اٹھ کے میرے آگے وہیں اس نے خواب الٹا\n\nبہ سوال بوسہ اس نے مجھے رک کے دی جو گالی\nمیں ادب کے مارے اس کو نہ دیا جواب الٹا\n\nکہیں چشم مہر اس پر تو نہ پڑ گئی ہو یا رب\nجو نکلتے صبح گھر سے وہ پھرا شتاب الٹا\n\nمیں ہوا ہوں جس پہ عاشق یہ شگرف ماجرا ہے\nکہ مرے عوض لگا ہے اسے اضطراب الٹا\n\nکسی مست کی لگی ہے مگر اس کے سر کو ٹھوکر\nجو پڑا ہے میکدے میں یہ خم شراب الٹا\n\nیہ مقام آفریں ہے کہ بزور مصحفی نے\nانہی قافیوں کو پھر بھی بصد آب و تاب الٹا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D8%AE_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D9%B9%D8%A7"} {"title": "سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریے\nمنزل ہزار سخت ہو ہمت نہ ہاریے\n\nمقسوم کا جو ہے سو وہ پہنچے گا آپ سے\nپھیلائیے نہ ہاتھ نہ دامن پساریے\n\nطالب کو اپنے رکھتی ہے دنیا ذلیل و خوار\nزر کی طمع سے چھانتے ہیں خاک نیاریے\n\nتنہائی ہے غریبی ہے صحرا ہے خار ہے\nکون آشنائے حال ہے کس کو پکاریے\n\nتم فاتحہ بھی پڑھ چکے ہم دفن بھی ہوئے\nبس خاک میں ملا چکے چلئے سدھاریے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DB%92"} {"title": "سر شوریدہ پائے دشت پیما شام ہجراں تھا", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سر شوریدہ پائے دشت پیما شام ہجراں تھا\nکبھی گھر تھا بیاباں میں کبھی گھر میں بیاباں تھا\n\nترے کشتے کو محشر خواب آسائش کا ساماں تھا\nکہ صور افسانہ گو تھا زلزلہ گہوارۂ جنباں تھا\n\nجسے سب نوح کے فرزند کہتے ہیں کہ طوفاں تھا\nکسی جاندادۂ خاموش کا اندوہ پنہاں تھا\n\nبلا سے چور کر دو چور کر دو شیشۂ دل کو\nاسی میں قید حسرت تھی اسی میں بند ارماں تھا\n\nنہ کھولی آنکھ وقت نزع بیمار محبت نے\nکسی کا پردہ رکھنا تھا کوئی آنکھوں میں پنہاں تھا\n\nاکیلے اے بتو ہم بھی نہ سوئے کنج مرقد میں\nجو اس پہلو میں حسرت تھی تو اس پہلو میں ارماں تھا\n\nگئے تھے روندنے دل کو لیے بیٹھے ہیں تلووں کو\nفرو رگ رگ میں نشتر تھے نہاں نس نس میں پیکاں تھا\n\nمری ہستی کی محشر میں کوئی تعبیر کیا کرتا\nکسی زلف پریشاں کا میں اک خواب پریشاں تھا\n\nقیامت تک پس از مردن رہی اک ٹیس سی دل میں\nوہ کہتے ہیں کہ پیکاں تھا میں کہتا ہوں کہ ارماں تھا\n\nحضور بلبل کلک بیاںؔ کس طرح کھلتے منہ\nکہ بوئے غنچہ ساں محجوب نطق ہر سخن واں تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%D8%B4%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "سر عرش بریں ہے زیر پائے‌ پیر میخانہ", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سر عرش بریں ہے زیر پائے‌ پیر میخانہ\nکمال اوج پر ہے حسن عالمگیر مے خانہ\n\nفروغ بادہ سے روشن ہوئی تقدیر مے‌ خانہ\nکہ ہے ہر بادہ کش روشن چراغ پیر مے‌ خانہ\n\nمیں دیوانہ ہوں اور دیر و حرم سے مجھ کو وحشت ہے\nپڑی رہنے دو میرے پاؤں میں زنجیر مے خانہ\n\nتصور دل میں رہتا ہے کسی کی چشم مے گوں کا\nکھینچی رہتی ہے آنکھوں میں مرے تصویر مے خانہ\n\nزیارت کو چلے ہیں شیخ و زاہد فی امان اللہ\nخدا کی شان ہے کچھ پھر گئی تقدیر مے خانہ\n\nپری شیشے میں اور ساغر میں ہے خورشید‌ نورنگیں\nوہ ہے تسخیر مے خانہ یہ ہے تنویر مے خانہ\n\nجو پہنچا مے کدہ میں چھوڑ کر دیر و حرم ساحرؔ\nجھکا سر ذوق مستی میں زہے تاثیر مے خانہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%D8%B9%D8%B1%D8%B4_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92%E2%80%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "سر مرا کاٹ کے پچھتائیے گا", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سر مرا کاٹ کے پچھتائیے گا\nکس کی پھر جھوٹی قسم کھائیے گا\n\nتھام لوں دل کو ذرا ہاتھوں سے\nابھی پہلو سے نہ اٹھ جائیے گا\n\nکہئے یاران عدم کیا گزری\nکچھ لب گور سے فرمائیے گا\n\nیوسف حسن اگر غم ہوگا\nآپ یعقوب نظر آئیے گا\n\nکر کے اثبات دہن کیجئے وصف\nدیکھیے منہ کی ابھی کھائیے گا\n\nکم بھی دینے میں بہت فائدہ ہے\nبوسہ اک دیجئے دس پائیے گا\n\nخط پہ خط لکھیے گا اے شاہ سوار\nگھوڑی کاغذ کی بھی دوڑائیے گا\n\nمردم چشم سے آئے جو حجاب\nآنکھ کے پردے میں چھپ جائیے گا\n\nکیا گریباں نے گلا گھونٹا ہے\nادھر اے دست جنوں آئیے گا\n\nکہہ کے پاؤں سے چلے یار کے گھر\nہم جو اٹھنے لگیں سو جائیے گا\n\nکہہ کے یہ تم ہو بڑے ہر بابے\nدر بدر کیا مجھے پھروائیے گا\n\nکیوں بناوٹ سے اجی روتے ہیں آپ\nجھوٹے موتی کسے دکھلائیے گا\n\nجام ساقی سے جو مانگا تو کہا\nبھر کے اشک آنکھ میں پی جائیے گا\n\nمصحف رخ کی قسم میں ہے مزہ\nہم سے قرآن یہ اٹھوائیے گا\n\nخط غلامی کا نہیں اے یوسف\nخط جو نکلا ہے نہ شرمایئے گا\n\nہم نے یوسف جو کہا کیوں بگڑے\nمول لے گا کوئی بک جائیے گا\n\nحضرت کعبہ جو بن جائیے عرش\nدل کی وسعت نہ کبھی پائیے گا\n\nہم بھی آ نکلیں گے مسجد میں وزیرؔ\nخشت خم لے کے جو بنوائیے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%B9_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DA%86%DA%BE%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "سر ملا ہے عشق کا سودا سمانے کے لئے", "poet_page": "مصنف:منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سر ملا ہے عشق کا سودا سمانے کے لئے\nآنکھیں دیں انسان کو آنسو بہانے کے لئے\n\nاس کا ہنسنا یاد آتا ہے رلانے کے لئے\nکچھ بہانہ چاہئے آنسو بہانے کے لئے\n\nکوئی زاہد بن گیا ہے کوئی واعظ بن گیا\nکیسے کیسے سوانگ ہیں روٹی کمانے کے لئے\n\nنقد دل کو وارتے ہیں ہم لب پاں خوردہ پر\nنذر لائے ہیں تمہارے پان کھانے کے لئے\n\nمجھ پہ ہے چشم عتاب اوروں پہ شفقت کی نظر\nمجھ کو عزرائیل عیسیٰ ہو زمانے کے لئے\n\nکعبۂ امید کی تعظیم واجب تھی ضرور\nہم نے بوسے سحرؔ اس کے آستانے کے لئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%D9%85%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92"} {"title": "سر و گردن کی جدائی دیکھو", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سر و گردن کی جدائی دیکھو\nتیغ قاتل کی صفائی دیکھو\n\nتیغ لچکا کے اٹھائی دیکھو\nنہ مڑک جائے کلائی دیکھو\n\nمجھ سے کہتا ہے لہو مل کے مرا\nیہ مرے دست حنائی دیکھو\n\nمحفل یار تلک پہنچایا\nمیری قسمت کی رسائی دیکھو\n\nٹوٹ جائے نہ ہماری توبہ\nپھر گھٹا چرخ پہ چھائی دیکھو\n\nمیں کہاں اور کہاں رفعت عرش\nمگر آہوں کی رسائی دیکھو\n\nکیوں بگڑتے ہو کسی سے عالمؔ\nاپنی قسمت کی برائی دیکھو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%D9%88_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "سر چشم صبر دل دیں تن مال جان آٹھوں", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "سر چشم صبر دل دیں تن مال جان آٹھوں\nصدقہ کئی ہیں تم پر لو مہربان آٹھوں\n\nسج دھج نگہ اکڑ چھب حسن و ادا و شوخی\nنام خدا ہیں تجھ میں اے نوجوان آٹھوں\n\nفردنگ و چنگ و نے دف بین و رباب و سرنی\nہم ساز و ہم نوا ہیں لیتے ہیں تان آٹھوں\n\nساتوں سروں میں مطرب گت بھی یہ گتھ رہے ہیں\nہیں سم پہ آ ٹھہرتے یکجا ندان آٹھوں\n\nرخ خال و زلف و خط لب دنداں ذقن زنخداں\nاس کے ہیں اپنے دشمن انشاؔ ہر آن آٹھوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%86_%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A2%D9%B9%DA%BE%D9%88%DA%BA"} {"title": "سر کاٹ کے کر دیجئے قاتل کے حوالے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سر کاٹ کے کر دیجئے قاتل کے حوالے\nہمت مری کہتی ہے کہ احسان بلا لے\n\nہر قطرۂ خوں سوز دروں سے ہے اک اخگر\nجلاد کی تلوار میں پڑ جائیں گے چھالے\n\nنادان نہ ہو عقل عطا کی ہے خدا نے\nیوسف کی طرح تم کو کوئی بیچ نہ ڈالے\n\nہستی کی اسیری سے شرر سے ہیں سوا تنگ\nچھوٹے تو ادھر پھر کے نہیں دیکھنے والے\n\nسالک کو یہی جادے سے آواز ہے آتی\nپامال جو ہو راہ وہ منزل کی نکالے\n\nصیاد چمن ہی میں کرے مرغ چمن ذبح\nلبریز لہو سے ہی درختوں کے ہوں تھالے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D9%B9_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "سر کو تن سے مرے جدا کیجے", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سر کو تن سے مرے جدا کیجے\nیہ بھی جھگڑا ہے فیصلہ کیجے\n\nمجھ پہ تہمت صنم پرستی کی\nشیخ صاحب خدا خدا کیجے\n\nلعل کو اس کے لب سے کیا نسبت\nیہ بھی اک بات ہے سنا کیجے\n\nلو وہ آتے ہیں جلد حضرت دل\nفکر صبر گریز پا کیجے\n\nہم غنیمت اسی کو سمجھیں گے\nلو وفا وعدۂ جفا کیجے\n\nاپنا کینہ بنوں کہ یاد رقیب\nکس طرح اس کے دل میں جا کیجے\n\nیاں تو مطلب ہی کچھ نہیں رکھتے\nجو کسی سے کہیں روا کیجے\n\nمدعی گھات ہی میں رہتے ہیں\nکیوں کہ واں عرض مدعا کیجے\n\nدکھ جو مجروحؔ نے سہے غم سے\nاس کا کیا شرح ماجرا کیجے\n\nمر گیا وہ پہ یاد آتا ہے\nاس کا کہنا کہ آہ کیا کیجے\n\nسخت مشکل ہے یار کا کھلنا\nیہ گرہ کس طرح سے وا کیجے\n\nصبر کے فائدے بہت ہیں ولے\nدل ہی بس میں نہ ہو تو کیا کیجے\n\nغیر کی پاسباں کی درباں کی\nکس کی جا جا کے التجا کیجے\n\nاس کی وہ آنکھ اب نہیں مجروحؔ\nجلد کچھ اپنا سوجھتا کیجے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92"} {"title": "سر کو نوشہ کے مرے شاہ نے باندھا سہرا", "poet_page": "مصنف:نسیم میسوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سر کو نوشہ کے مرے شاہ نے باندھا سہرا\nسورۂ نور کا دکھلاتا ہے جلوہ سہرا\n\nریش یعقوب نے رکھی ہے رخ یوسف پر\nچشم بد دور کہ ہے زلف زلیخا سہرا\n\nباغ الفت سے حسینوں نے جو کلیاں بینی\nاس پری کے لئے پریوں نے بنایا سہرا\n\nجدولیں سونے کی یاقوت رقم نے کھینچی\nیا ہے مصحف پہ سر لوح مطلا سہرا\n\nجلوۂ طور کا موسی کو گماں ہو جاتا\nمیرے نوشہ جو ذرا دیکھتے سر کا صحرا\n\nشعلۂ حسن جو ان کا نہ چھپا سہرے میں\nعجز سے آپ کو قدموں پہ گرایا سہرا\n\nپوتے پڑپوتوں کے تم باندھیو سر کو سہرے\nجیسا بابا نے تمہارے تمہیں باندھا سہرا\n\nحب کا تعویذ بنے پھول ہر اک سہرے کا\nوصل یار اس کو ہو جس نے ترا دیکھا سہرا\n\nاوفتادہ بھی ہے یہ اور بڑا شوخ بھی ہے\nگل رخسار کا لے لیتا ہے بوسہ سہرا\n\nسہرا جو باندھتے ہیں ہند میں نوشاہوں کو\nچشم بد کے لئے شاید ہے یہ نکلا سہرا\n\nپنجۂ مہر سے زہرا نے بلائیں لے لیں\nجب نسیمؔ چمن شوق نے لکھا سہرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D9%88%D8%B4%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%DB%81%D8%B1%D8%A7"} {"title": "سر کھینچ نہ شمشیر کشیدہ کی طرح", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "سر کھینچ نہ شمشیر کشیدہ کی طرح\nہر ایک سے جھک قوس خمیدہ کی طرح\nمنظور نظر ہے جو حفاظت اپنی\nہو گوشہ نشیں مردم دیدہ کی طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86_%D9%86%DB%81_%D8%B4%D9%85%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B4%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "سر گزشتِ آدم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "سُنے کوئی مِری غربت کی داستاں مجھ سے\nبھُلایا قصّۂ پیمانِ اوّلیں میں نے\n\nلگی نہ میری طبیعت ریاضِ جنّت میں\nپیا شعُور کا جب جامِ آتشیں میں نے\n\nرہی حقیقتِ عالم کی جُستجو مجھ کو\nدِکھایا اوجِ خیالِ فلک نشیں میں نے\n\nمِلا مزاج تغیّر پسند کچھ ایسا\nکِیا قرار نہ زیرِ فلک کہیں میں نے\n\nنکالا کعبے سے پتھّر کی مورتوں کو کبھی\nکبھی بُتوں کو بنایا حرم نشیں میں نے\n\nکبھی میں ذوقِ تکلّم میں طور پر پہنچا\nچھُپایا نورِ ازل زیرِ آستیں میں نے\n\nکبھی صلیب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایا\nکِیا فلک کو سفر، چھوڑ کر زمیں میں نے\n\nکبھی میں غارِ حرا میں چھُپا رہا برسوں\nدیا جہاں کو کبھی جامِ آخریں میں نے\n\nسُنایا ہند میں آ کر سرودِ ربّانی\nپسند کی کبھی یُوناں کی سر زمیں میں نے\n\nدیارِ ہند نے جس دم مری صدا نہ سُنی\nبسایا خطّۂ جاپان و مُلکِ چیں میں نے\n\nبنایا ذرّوں کی ترکیب سے کبھی عالم\nخلافِ معنیِ تعلیمِ اہلِ دیں میں نے\n\nلہُو سے لال کیا سینکڑوں زمینوں کو\nجہاں میں چھیڑ کے پیکارِ عقل و دیں میں نے\n\nسمجھ میں آئی حقیقت نہ جب ستاروں کی\nاسی خیال میں راتیں گزار دیں میں نے\n\nڈرا سکِیں نہ کلیسا کی مجھ کو تلواریں\nسِکھایا مسئلۂ گردشِ زمیں میں نے\n\nکشش کا راز ہوَیدا کِیا زمانے پر\nلگا کے آئنۂ عقلِ دُور بیں میں نے\n\nکِیا اسیر شعاعوں کو، برقِ مُضطر کو\nبنادی غیرتِ جنّت یہ سرزمیں میں نے\n\nمگر خبر نہ مِلی آہ! رازِ ہستی کی\nکِیا خرد سے جہاں کو تہِ نگیں میں نے\n\nہُوئی جو چشمِ مظاہر پرست وا آخر\nتو پایا خانۂ دل میں اُسے مکیں میں نے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%DA%AF%D8%B2%D8%B4%D8%AA%D9%90_%D8%A2%D8%AF%D9%85"} {"title": "سراب حیات", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے\nعمر یوں ہی تمام ہوتی ہے\n\nکیوں! کس خیال میں ہو؟ آج آپ کی طبیعت کچھ متفکر معلوم ہوتی ہے۔ نہیں کوئی بات نہیں ہے۔ یوں ہی سست ہے۔ آدمی کو کبھی کچھ خیال ہوتے ہیں کبھی کچھ۔ ان ہی خیالات سے کبھی آپ ہی آپ خوش ہوتا ہے، کبھی آپ ہی آپ متفکر ہوتا ہے۔\n\nبھلا کہیے تو سہی کہ کن خیالات نے آپ کو متفکر کیا ہے؟ ہم بھی تو سنیں! چند روز ہوئے کہ میں نے ایک گھنٹہ اپنے کمرے میں لگایا ہے۔ اس کا لنگر ٹوٹ گیا تھا، وہ بند تھا، نہ چلتا تھا، نہ آواز دیتا تھا۔ ایک دوست نے مہربانی سے اس کو بنا دیا۔ وہ چلنے لگا اور آواز دینے لگا۔ میں دیکھتا ہوں کہ وہ دن رات چلتا ہے، ایک سے اپنا دورہ شروع کرتا ہے اور بارہ پر ختم کر دیتا ہے۔ اس کی ایک الٹ پھیر میں دن رات ختم ہو جاتا ہے۔ جب ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم نے کیا کیا؟ تو معلوم ہوتا ہے، کچھ نہیں۔ یہی دھن کئی دن سے مجھے لگی ہوئی تھی اور اسی خیال میں غلطاں و پیچاں تھا کہ یکا یک ہمارے دوست پادری رجب علی صاحب نے ایک کتاب بھیجی جس کے سرے پر لکھا تھا، ’’سرابِ حیات۔‘‘ میں بہت خوش ہوا اور سمجھا کہ شاید اس سے کچھ عقدہ حل ہوگا۔\n\nیہ کتا ب در اصل انگریزی میں ہے اور جانسن نے بڑی ٖفصاحت و بلاغت سے لکھی ہے۔ اس کا ترجمہ پنڈت بشمبر ناتھ نے کچھ کمی بیشی کے ساتھ نہایت قابلیت سے اردو زبان میں کیا ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے نہایت لائق اور مشہور اور عقل مند اور فصیح و ظریف و شاعر، فیاض و بخیل آدمیوں کا جو ہمارے زمانے سے تھوڑے ہی دن پہلے اسی دنیا میں موجود تھے ذکر کیا ہے، اور پھر دکھایا ہے کہ کس طرح حسرت و افسوس سے اس دنیا سے گیے۔ تمام مال و دولت چھوڑ گیے۔ نہ وہ عقل مندی کام آئی اور نہ وہ متاعِ دنیا۔ زبانِ حال سے یوں کہتے کہتے مر گئے۔\n\nکس لیے آئے تھے کیا ہم کر چلے\nتہمتیں چند اپنے ذمّہ دھر چلے\n\nاس کتاب نے بہ عوض سلجھانے کے میرے خیالات کو اور الجھا دیا اور یہ سوال دل میں پیدا ہوا کہ ’’کس لیے آئے تھے؟‘‘ اسی سوچ میں تھا کہ میں نے اپنے کمرہ کا دروازہ کھولا۔ ایک خوش نما ندی اور سر سبز درخت اور شاداب کھیتی پر میری نظر پڑی۔ میں نے دیکھا کہ ندی کا پانی بہا چلا جاتا ہے، پچھلا آتا ہے اور اگلا چلا جاتا ہے۔ درختوں کو میں نے دیکھا کہ پرانے جاتے ہیں اور نئے آتے ہیں۔ پکی کھیتی کاٹی جاتی ہے اور نئی بوئی جاتی ہے۔ یہی آوا گون لگ رہا ہے۔ یہ ا س لیے آئے تھے اور کس لیے گئے۔ کیا یہ بھی کچھ حسرتیں لے گئے۔\n\nکچھ سمجھ میں نہیں آیا مگر میں نے غور کیا کہ شاید یہ مسئلہ کہ’’کس لیے آئے تھے اور کیا کر چلے‘‘ متحرک جان داروں سے متعلق ہوگا۔ میں نے سب کی حالت پر اپنا خیال دوڑایا۔ میں نے شیر کا خیال کیا جو سب سے زیادہ خوب صورت، سب سے زیادہ شان دار، سب سے زیادہ شجاع، سب سے زیادہ غیور ہے، مگر سب میں موذی اور زند بار آزار مشہور ہے۔ جب اس کی مردہ لاش کا میں نے دھیان کیا تو دیکھا ایک بے حرکت لاشہ پھول کر پیٹ پھٹا ہوا، انتڑیاں گیدڑوں کی کھائی ہوئی، سنہری کھال خاک میں ملی ہوئی، گوشت گل کر زمین پر پڑا ہوا، ہڈیوں کا ڈھانچا ہی ڈھانچا تھا اور غالبا ًوہ بھی چند روز کو۔\n\nمیں سمجھا کہ یہ تو اسی قسم کا جانور تھا جس قسم کے آدمیوں کا ’’سراب ِ حیات‘‘ میں جانسن نے ذکر کیا ہے، کسی اس سے عمدہ جانور کو دیکھو۔\n\nاتنے میں کتے کا مجھے خیال آیا۔ میں سمجھا کہ سب جانوروں میں یہی خدا رسیدہ ہے۔ قناعت، محبت، رفاقت، دوستی، وفاداری، اپنے مالک کی اطاعت اور سب سے زیادہ کسر نفسی اسی پر ختم ہے۔ سب دور دور کرتے ہیں۔ مثلاً مولوی تو نجس العین بتاتے ہیں مگر یہ غریب سب کے سامنے عاجزی اور کسر نفسی سے دم ہلاتا اور سر جھکاتا ہے۔ مگر جب وہ بھی مرا تو ایک لاشہء بے حرکت تھا۔ نہ وہ دم کا ہلانا تھا نہ سر کا جھکانا، نہ وہ رفاقت تھی نہ وہ اطاعت۔ چند روز میں اسی طرح ہڈیوں کا ڈھانچا تھا۔ منہ کھلا، جبڑا ننگا، دانت اور کچلیاں کھلی ہوئیں اور ہزاروں چیونٹیاں اس میں گھسی ہوئی۔ میں نہایت متعجب ہوا، کہا کہ میاں انجام تو دونوں کا ایک سا ہی ہوا۔\n\nمیں نے کہا نہیں کسی مقدس جانور کو لو۔ میں نے کبوتر کا خیال کیا جو دنیا میں سب سے مقدس شمار ہوتا ہے۔ بھولی بھالی صورت، پیاری پیاری باتیں، جو رو خصم نہایت محبت، دونوں کا سوشیل برتاؤ نہایت میٹھا۔ تقدس میں بھی سب سے بڑھاہوا۔ نوح علیہ السلام کے لیے زیتون کی مبارک ٹہنی لانے والا، مسیح کے لیے روح القدس بن کر اترنے والا، مکہ معظمہ میں کعبہ کا طواف کرنے والا، تمام خانقاہوں کا مجاور ہوکر رہنے والا، اپنے پروں کی ہوا سے بیماروں کو شفا بخشنے والا، ہندوؤں اور بودہست لوگوں کو جی کے بچاؤ کی ہدایت کرنے والا، مگر جب اس کا بھی انجام دیکھا تو ا س سے زیادہ کچھ نہ پایا کہ پرنچے ہوئے کہیں پڑے ہیں، چونچ کہیں اور پنجے کہیں، چند روز تک سینہ ڈھانچا پڑا ہے، پھر وہ بھی نہیں۔\n\nمیں نے اپنے خیال کو انسان کی طرف پلٹا کہ یکایک میرے سامنے سلطان عبد العزیز خاں کا ماجرا آموجود ہوا جو نہایت مشہور اور بہادر شخص تھا۔ لڑائیوں میں نہایت دلیری و دانائی سے لڑا تھا۔ پندرہ برس سے قسطنطنیہ کے تختِ شاہی پر جلوس کرتا تھا، لوگ کہتے ہیں کہ نہایت فضول خرچ تھا۔ عورتوں پر بہت فریفتہ تھا چناں چہ ۵۳ عورتیں اس کی حرم سرا میں تھیں۔ ملک میں روپیہ کی کمی تھی۔ شاہی خزانہ خالی تھا۔ باغیوں سے سلطنت میں آفت برپا تھی۔ مگر اس نے کئی کروڑ روپیہ اپنے خزانہ میں عیاشی کے لیے چھپا رکھا تھا۔ اپنی پیاری جورو کی خوشی کے لیے ترکوں کی ولی عہدی کی پرانی رسم کو توڑنا چاہتا تھا۔ اس جورو سے جو بیٹا تھا۔ اس کو ولی عہد بنا نا چاہتا تھا اور ملک کی بربادی کا کچھ خیال نہ کر اس کام کے پور ا ہونے کو ملک کے دشمن آدمیوں کو اپنا دوست بناتا تھا۔\n\nکیا دیکھتا ہوں کہ اپنے جرموں میں اسی کی سلطنت کے لوگوں نے اس پر یورش کی۔ تخت سے اتار دیا اور محل سے نکال ایک چھوٹے سے مکان میں قید کر دیا۔ سلطنت جانے کی حسرت نے اس کے دل کو بے تاب کر دیا اور اپنے تئیں آپ مار مرا۔ میرے خیال نے جھٹ ہاتھ دوڑایا۔ پہلے تو ماتھے پر رکھا پھر نتھنوں کے سامنے لے گیا کہ شاید کچھ سانس چلتی ہو۔ سینہ کو ٹٹولا، ہاتھ کو دیکھا، پاؤں کو دیکھا، چاروں طرف غور کیا، بجز ایک لاش کے کچھ نہ پایا، سینہ پر کان لگایا کہ شاید وہ ہڈیاں اچھل رہی ہوں مگر کچھ پتہ نہ لگا۔ میں سمجھا کہ اب اس میں کچھ نہیں۔ چند روز میں یہ گوشت و پوست بھی نہ ہوگا، صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جاوے گا اور چند روز بعد وہ بھی نہ ہوگا۔ مجھے جانسن کی ’’سرابِ حیات‘‘ یاد آئی اور سمجھا کہ دنیا کی حسرت میں مرا۔ اس لیے اس کا یہ حال ہوا۔\n\nمجھ کو اشتیاق ہوا کہ کسی بڑے خدا رسیدہ دنیا کی طرف سے پژ مردہ مرے ہوئے کا حال دیکھوں۔ پنجاب کا ایک نہایت متبرک شخص میری آنکھوں میں پھر گیا۔ اس کے دیکھنے سے میں بہت خوش ہوا۔ خدا کے سوا اور کچھ کلام نہ تھا۔ عبادت کے سوا کچھ کام نہ تھا، دنیا اور اس کا عیش محض بے حقیقت تھا۔ جو لو تھی وہ خدا و رعقبیٰ سے لگی ہوئی تھی۔ اتفاقات سے ان کا بھی آخری وقت آ پہنچا۔ اپنی اول منزل کی انہوں نے وصیت کی اپنے دوستوں کو نصیحت۔ نہایت شاداں و فرحاں سفر کی تیاری کی اور بغیر کسی ارمان و حسرت کے جان دی۔ میرے خیال نے جھٹ ہاتھ بڑھایا، ماتھے پر رکھا، نتھنوں کے سامنے کیا، دل ٹٹولا، سینہ ٹٹولا، ہاتھ دیکھا، پاؤں دیکھا، کچھ نہ تھا، سینہ پر ٹکٹکی باندھی کہ اس کے اندر سے ضرور کچھ روشنی جھلکتی ہوگی پر کچھ نہ تھی۔ میں گھبرایا اور بے اختیار بولا کہ اجی حضرت بولوتو سہی۔ وہاں کیا تھا، سانس بھی نہ تھی۔ میں نے کہا کہ یہ تو ویسا ہی معاملہ ہوگیا جیسا کہ ان سے پہلوں کے ساتھ ہوا تھا۔ دنیا کی حسرت لے جانے اور عبادت کے شوق میں مر جانے میں تو اب تک کچھ فرق نہیں دکھائی دیا۔\n\nاتنے میں لوگ ان کی تجہیز و تکفین کرنے لگے۔ قدیم خانقاہ میں اگلے سجادہ نشینوں کی قبروں کے برابر قبر کھودنے لگے۔ میں نے گھبرا کر کہا کہ دو چار دن رہنے تو دو۔ مجھے سمجھ تو لینے دو کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ باولا ہوا ہے۔ کوئی مردوں کو رکھتا بھی ہے تمام کھال بکس جاوے گی، گوشت گل پڑے گا، ہڈیوں کا ڈھانچا نکل آوے گا، کوّے اور چیلیں منڈلانے لگیں گی، ہڈیوں کے ڈھانچہ سے لوگ ڈر کر بھاگنے لگیں گے۔ یہ سن کر تو میں ششدر رہ گیا۔ تمام اگلے لاشے میری آنکھوں میں پھر گئے۔ میں نے کہا کہ میاں اور سب کا بھی تو یہی حال ہوا تھا۔ کیا یہی بات سچ ہے۔\n\nچو آہنگ رفتن کند جان پاک\nچہ بر تخت مردن چہ برروئے خاک\n\nمیں نہایت متردد و متفکر، حیران و ششدر وہاں سے اٹھا اور دل بہلانے کے لیے اپنے باغ میں گیا جو ایک بہت بڑا باغ تھا اور جوانی اور ولولے کے زمانے میں میں نے اس کو از سر نو نہایت خوب صورت و خوش نما آراستہ کیا تھا اور وہاں اکثر دوستوں کا اور بڑے بڑے نامی اور باکمال لوگوں کا مجمع ہوتا تھا۔ غالب کی د ل کش و محبت آمیز بزرگانہ باتوں سے، آزردہ کی دل چسپ و دل ربا فصاحت سے، شیفتہ کی متین و نیم خندہ زن وضع سے، صہبائی جاں نواز کے میخانہ محبت سے دل شادشاد رہتا تھا۔\n\nادھر ادھر پھر رہا تھا۔ ایک چمن میں پہنچا جس کی نئی کھدائی ہوئی تھی، مٹی میں ایک ہڈی دکھائی دی جس کو میں بکرے کی سری سمجھا۔ میں نے ٹھوکر مار کر پرے پھینک دیا، جب وہ نکلی تو بکرے کی سری نہ تھی بلکہ آدمی کی کھوپڑی تھی۔ میں نے اپنے دل سے کہا کہ ایک دن اس طرح کوئی شخص میری کھوپڑی کو بھی ٹھوکر مارےگا۔ میں نے دوڑ کر اسے اٹھا لیا اور دیکھا صرف ہڈیاں جوڑی رہ گئی ہیں۔ پیشانی کی ہڈی پر خط، خط میں شاید وہی نوشتہ تقدیر ہو، پر پڑھی نہیں گئی۔ آنکھوں کی جگہ ایک گڑھا اور حلقہ تھا، انگلی ڈالو تو کچھ نہیں، ناک کی خوب صورتی بالکل نہ تھی، ایک شکستہ تھوڑی سی اونچی نہایت بد نما ہڈی کا نشان تھا ااور اس کا سوراخ نہایت ہی برا معلوم ہوتا تھا۔ وہ دانت جن کو موتی اور اولوں کی باڑ کہتے تھے، ایسے ہیبت ناک دکھائی دیتے تھے کہ دل کانپنا تھا۔\n\nمیں نے اپنی بے ادبی کی جو نادانستہ ہوئی معافی چاہی اور پوچھا کہ تم کون ہو؟ کیا مذہب تھا؟ عالم تھے، فقیر تھے، دنیا کی حسرت میں مرے یا خدا کی عبادت میں؟ ہر چند پوچھا، کچھ جواب نہیں ملا۔ پھر میں اس کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا کہ شاید کچھ نشان بھلائی برائی کا ملے، کچھ نہ ملا۔ ایک بڈھا باغبان میری ان سب باتوں کو دیکھ رہا تھا کہ میاں کیا دیکھتے ہو؟ اچھے بروں کا، گیدڑ بھیڑیے کا، مرے پر سب کا ایک سا حال ہو جاتا ہے۔ میں سخت متعجب ہوا اور جانسن کی ’’سراب حیات‘‘ کو یاد کیا کہ پھر اس نے کیا کہا۔\n\nمیرے دوست نے کہا کہ تمہارے خیال بھی نہایت خام ہیں اور تمہارے متفکر ہونے پر بھی نہایت افسوس ہے۔ تم اس مٹی کے ڈھیر اور سڑنے والے گوشت اور گلنے والی ہڈیوں میں کیا ڈھونڈتے تھے، جو چیز دیکھنے کی تھی وہ تو اس میں تھی ہی نہیں۔ میں نے پوچھا کہ پھر وہ کہاں تھی؟ اس نے کہا کہ معلوم نہیں، پھر پوچھا کہ کیسی تھی، بولا کہ معلوم نہیں۔ پھر پوچھا کہ کہ دکھائی دیتی تھی کہا نہیں، پھر پوچھا کہ کہاں گئی، کہا معلوم نہیں۔\n\nاس جواب سوال سے میں اور بھی متحیر ہوا کہ جس چیز کا کسی طرح پر علم نہیں اس کی نسبت کہتا ہے کہ تھی۔ بولا کہ خدا نے کہا ہے۔ میں نے کہا سچ۔ ’’ولکن لیطمئن قلبی۔‘‘ یہ سنا اور سن کر خاموش رہا۔ میں نے کہا کہ یہ سب تمہارے خیالات ہیں کہ وہ شخص دنیا کی حسرت میں مرا اور وہ شخص خدا کی عبادت میں مرے۔ پر سب برابر ہیں۔ جو بات سچ ہے وہ آپس کی ہمدردی، قومی اعانت، قومی بھلائی ہے، جب کہ ہماری قوم کا دنیا میں یہ حال ہے کہ ذلت و خواری، نکبت و جہالت میں مبتلا ہے۔ تو اگر کوئی دنیا کی حسرت میں مر کر جہنم میں گیا تو ہماری جوتی سے اور عبادت کر بہشت میں گیا تو ہماری بلا سے، ان کا کیا رونا ہے۔ جیتوں کو رو، جو مردوں سے بھی بدتر ہیں۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA"} {"title": "سراج", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سڑک کے کنارے", "year": "1953", "text_ur": "ناگ پاڑہ پولیس چوکی کے اس طرف جو چھوٹا سا باغ ہے، اس کے بالکل سامنے ایرانی کے ہوٹل کے باہر، بجلی کے کھمبے کے ساتھ لگ کر ڈھونڈو کھڑا تھا۔ دن ڈھلے، مقررہ وقت پر وہ یہاں آجاتا اور صبح چار بجے تک اپنے دھندے میں مصروف رہتا۔\n\nمعلوم نہیں اس کا اصل نام کیا تھا، مگر سب اسے ڈھونڈو کہتے تھے۔ اس لحاظ سے تو یہ بہت مناسب تھا کہ اس کا کام اپنے مؤکلوں کے لیے ان کی خواہش اور پسند کے مطابق ہر نسل اور ہر رنگ کی لڑکیاں ڈھونڈنا تھا۔یہ دھندہ وہ قریب قریب دس برس سے کررہا تھا۔ اس دوران میں ہزاروں لڑکیاں اس کے ہاتھوں سے گزر چکی تھیں۔ ہر مذہب کی، ہر نسل کی، ہر مزاج کی۔\n\nاس کا اڈہ شروع سے یہی رہا تھا۔ ناگ پاڑہ پولیس چوکی کے اس طرف،باغ کے بالکل سامنے، ایرانی ہوٹل کے باہر بجلی کے کھمبے کے ساتھ۔۔۔ کھمبا اس کا نشان بن گیا تھا۔ بلکہ مجھے تو وہ ڈھونڈو ہی معلوم ہوتا تھا۔ میں جب کبھی ادھر سے گزرتا اور میری نظر اس کھمبے پر پڑتی، جس پر جگہ جگہ چونے اور کتھے کی انگلیاں پونچھی گئی تھیں تو مجھے ایسا لگتا کہ ڈھونڈو کھڑا ہے اور کالے کانڈی اور سینکے لی سوپاری والا پان چبا رہا ہے۔\n\nیہ کھمبا کافی اونچا تھا،ڈھونڈو بھی دراز قد تھا۔۔۔ کھمبے کے اوپر بجلی کے تاروں کا ایک جال سا بچھا تھا۔ کوئی تار دور تک دوڑتا چلا گیا تھا اور دوسرے کھمبے کے تاروں کے الجھاؤ میں مدغم ہوگیا تھا۔ کوئی تار کسی بلڈنگ میں اور کوئی کسی دکان میں چلا گیا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اس کھمبے کی پہنچ دور دور تک ہے۔ وہ دوسرے کھمبوں سے مل کر گویا سارے شہر پر چھایا ہوا ہے۔\n\nاس کھمبے کے ساتھ ٹیلی فون کے محکمے نے ایک بکس لگا رکھا تھا، جس کے ذریعے سے وقتاً فوقتاً تاروں کی درستی وغیرہ کی جانچ پڑتال کی جاتی تھی۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ ڈھونڈو بھی اسی قسم کا ایک بکس ہے جو لوگوں کی جنسی جانچ پڑتال کے لیے کھمبے کے ساتھ لگا رہتا ہے۔ کیونکہ اسے آس پاس کے علاقے کے علاوہ دور دور کے علاقوں کے ان تمام سیٹھوں کا پتا تھا جن کو وقفوں کے بعد یا ہمیشہ ہی اپنی جنسی خواہشات کے تنے ہوئے یا ڈھیلے تار درست کرانے کی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔\n\nاسے ان تمام چھوکریوں کا بھی پتا تھا جو اس دھندے میں تھیں،وہ ان کے جسم کے ہر خدوخال سے واقف تھا، ان کی ہر نبض سے آشنا تھا، کون کس مزاج کی ہے اور کس وقت اور کس گاہک کے لیے موزوں ہے، اس کو اس کا بخوبی اندازہ تھا۔ لیکن ایک صرف اس کو سراج کے متعلق ابھی تک کوئی اندازہ نہیں ہوا تھا۔ وہ اس کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکا تھا۔\n\nڈھونڈو کئی بار مجھ سے کہہ چکا تھا،’’سالی کا مستک پھرے لا ہے۔۔۔ سمجھ میں نہیں آتا منٹو صاحب، کیسی چھوکری ہے۔۔۔ گھڑی میں ماشہ گھڑی میں تولا۔۔۔ کبھی آگ، کبھی پانی۔ ہنس رہی ہے۔۔۔ قہقہے لگا رہی ہے۔۔۔لیکن ایک دم رونا شروع کردے گی۔۔۔ سالی کی کسی سے نہیں بنتی۔۔۔ بڑی جھگڑالو ہے۔ ہر پسنجر سے لڑتی ہے۔ سالی سے کئی بار کہہ چکا کہ دیکھ، اپنا مستک ٹھیک کر، ورنہ جا، جہاں سے آئی ہے۔۔۔ انگ پر تیرے کوئی کپڑا نہیں۔۔۔ کھانے کو تیرے پاس ڈیڑھیا نہیں۔۔۔ مارا ماری اور دھاندلی سے تو میری جان کام نہیں چلے گا۔۔۔ پر وہ ایک تخم ہے، کسی کی سنتی ہی نہیں۔‘‘\n\nمیں نے سراج کو ایک دو مرتبہ دیکھا ہے۔ بڑی دبلی پتلی لڑکی تھی مگر خوبصورت۔۔۔ اس کی آنکھیں ضرورت سے زیادہ بڑی تھیں۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کے بیضوی چہرے پر صرف اپنی بڑائی جتانے کی خاطر چھائی ہوئی ہیں۔ میں نے جب اس کو پہلی مرتبہ کلیئر روڈ پر دیکھا تھا تو مجھے بڑی الجھن ہوئی تھی۔ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی تھی کہ اس کی آنکھوں سے کہوں کہ بھئی تم تھوڑی دیر کے لیے ذرا ایک طرف ہٹ جاؤ تاکہ میں سراج کو دیکھ سکوں۔ لیکن میری اس خواہش کے باوجود ،جو یقیناً میری آنکھوں نے اس کی آنکھیں تک پہنچا دی ہوگی، وہ اسی طرح اس کے سفید بیضوی چہرے پرچھائی رہیں۔\n\nمختصر سی تھی، مگر اس اختصار کے باوجود بڑی جامع معلوم ہوتی تھی۔ ایسالگتا تھا کہ وہ ایک صراحی ہے جس میں ایک حجم سے زیادہ پانی ملی ہوئی شراب بھرنے کی کوشش کی گئی ہے اور نتیجے کے طور پر سیال چیز دباؤ کے باعث ادھر ادھر تڑپ کر بہہ گئی ہے۔\n\nمیں نے پانی ملی ہوئی شراب اس لیے کہا ہے کہ اس میں تلخی تھی، وہی جو تیز و تند شراب کی ہوتی ہے، مگر ایسا لگتا تھا کسی دھوکے باز نے اس میں پانی ملا دیا ہے، تاکہ مقدار زیادہ ہو جائے۔ مگر سراج میں نسائیت کی جو مقدار تھی، ویسی کی ویسی موجود تھی اور اس جھنجھلاہٹ سے، جو اس کے گھنے بالوں سے، اس کی تیکھی ناک سے، اس کے بھنچے ہوئے ہونٹوں سے اور اس کی انگلیوں سے، جو نقشہ نویسوں کی نوکیلی اور تیز تیز پنسلیں معلوم ہوتی تھیں، میں نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ وہ ہر چیز سے ناراض ہے۔ ڈھونڈو سے۔۔۔ اس کھمبے سے جس کے ساتھ لگ کر وہ کھڑا رہتا تھا۔۔۔ ان گاہکوں سے جو اس کے لیے لائے جاتے تھے۔۔۔اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے بھی جو اس کے سفید بیضوی چہرے پر قبضہ جمائے رکھتی تھیں۔ اس کی پتلی پتلی، نوکیلی انگلیاں جو نقشہ نویسوں کی پنسلوں کی طرح تیز تھیں، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ان سے بھی ناراض ہے۔ شاید اس لیے کہ جو نقشہ سراج بنانا چاہتی تھی وہ نہیں بنا سکتی تھیں۔\n\nیہ تو ایک افسانہ نگار کے تاثرات ہیں جو چھوٹے سے تل میں سنگِ اسود کی تمام سختیاں بیان کرسکتا ہے۔۔۔ آپ ڈھونڈو کی زبانی سراج کے متعلق سنیے اس نے مجھ سے ایک دن کہا، ’’منٹو صاحب۔۔۔ آج سالی نے پھر ٹنٹا کردیا۔۔۔ وہ تو جانے کس دن کا ثواب کام آگیا اور آپ کی دعا سے یوں بھی ناگ پاڑہ چوکی کے سب افسر مہربان ہیں، ورنہ کل ڈھونڈو اندر ہوتا۔۔۔ وہ دھمال مچائی کہ میں تو باپ رے باپ کہتا رہ گیا۔‘‘\n\nمیں نے اس سے پوچھا، ’’کیا بات ہوئی تھی؟‘‘\n\n’’وہی جو ہوا کرتی ہے۔۔۔ میں نے لاکھ لعنت بھیجی اپنی ہشت پشت پر کہ حرامی جب تو اس چھوکری کو اچھی طرح جانتا ہے تو پھر کیوں انگلی لیتا ہے۔۔۔ کیوں اس کو نکال کر لاتا ہے۔ تیری ماں لگتی ہے یا بہن۔۔۔ میری تو کوئی عقل کام نہیں کرتی منٹو صاحب!‘‘\n\nہم دونوں ایرانی کے ہوٹل میں بیٹھے تھے۔ ڈھونڈو نے کوفی ملی چائے پرچ میں انڈیلی اور سڑپ سڑپ پینے لگا، ’’اصل بات یہ ہے کہ سالی سے مجھے ہمدردی ہے۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘\n\nڈھونڈو نے سر کو ایک جھٹکا دیا،’’جانے کیوں۔۔۔ یہ سالا معلوم ہو جائے تو یہ روز کا ٹنٹا ختم نہ ہو۔‘‘ پھر اس نے ایک دم پرچ میں پیالی اوندھی کرکے مجھ سے کہا، ’’آپ کو معلوم ہے۔۔۔ ابھی تک کنواری ہے۔‘‘\n\nیقین مانیے کہ میں ایک لحظے کے لیے چکرا گیا۔\n\n’’کنواری!‘‘\n\n’’آپ کی جان کی قسم!‘‘\n\nمیں نے جیسے اس کو اپنی بات پر نظرثانی کرنے کے لیے کہا، ’’نہیں ڈھونڈو۔‘‘\n\nڈھونڈو کو میرا یہ شک ناگوار معلوم ہوا،’’میں آپ سے جھوٹ نہیں کہتا منٹو صاحب۔۔۔ سولہ آنے کنواری ہے۔۔۔ آپ مجھ سے شرط لگا لیجیے۔‘‘\n\nمیں صرف اسی قدر کہہ سکا، ’’مگر ایسا کیونکر ہوسکتا ہے۔‘‘\n\nڈھونڈو نے بڑے وثوق کے ساتھ کہا، ’’ایسا کیوں ہو نہیں سکتا۔۔۔ سراج جیسی چھوکری تو اس دھندے میں بھی رہ کر ساری عمر کنواری رہ سکتی ہے۔۔۔ سالی کسی کو ہاتھ ہی نہیں لگانے دیتی۔۔۔ مجھے اس کی ساری ہشٹری معلوم نہیں۔۔۔ اتناجانتا ہوں پنجابن ہے۔۔۔ لیمنگٹن روڈ پر میم صاحب کے پاس تھی۔ وہاں سے نکالی گئی کہ ہر پیسنجر سے لڑتی تھی۔ دو تین مہینے نکل گئے کہ مڈام کے پاس دس بیس اور چھوکریاں تھیں۔۔۔ پر منٹو صاحب کوئی کب تک کسے کھلاتا ہے۔۔۔ اس نے ایک دن تین کپڑوں میں نکال باہر کیا۔۔۔یہاں سے فارس روڈ میں دوسری مڈام کے پاس پہنچی۔ وہاں بھی اس کا مستک ویسے کا ویسا تھا۔ ایک پیسنجر کے کاٹ کھایا۔۔۔ دو تین مہینے یہاں گزرے۔۔۔ پر سالی کے مزاج میں تو جیسے آگ بھری ہوئی ہے، اب کون اسے ٹھنڈا کرتا پھرے۔۔۔ پھر خدا آپ کا بھلا کرے، کھیت و اڑی کے ایک ہوٹل میں رہی۔۔۔ پر یہاں بھی وہی دھمال۔۔۔ منیجر نے تنگ آکر چلتا کیا۔۔۔ کیا بتاؤں منٹو صاحب، نہ سالی کو کھانے کا ہوش ہے نہ پینے کا۔۔۔ کپڑوں میں جوئیں پڑی ہیں، سر دو دو مہینے سے نہیں دھویا۔۔۔ چرس کے ایک دو سگرٹ مل جائیں کہیں سے تو پھونک لیتی ہے۔۔۔ یا کسی ہوٹل سے دور کھڑی ہو کر، فلمی ریکارڈ سنتی رہتی ہے۔‘‘\n\nمیرے لیے یہ تفصیل کافی تھی۔ اس کے رد عمل سے میں آپ کو آگاہ نہیں کرنا چاہتا کہ افسانہ نگار کی حیثیت سے یہ نامناسب ہے۔میں نے ڈھونڈو سے محض سلسلہ گفتگو قائم رکھنے کے لیے پوچھا، ’’تم اسے واپس کیوں نہیں بھیج دیتے۔ جب کہ اسے اس دھندے سے کوئی دلچسپی نہیں۔۔۔ کرایہ تم مجھ سے لے لو!‘‘\n\nڈھونڈو کو یہ بات بھی ناگوار معلوم ہوئی،’’منٹو صاحب کرائے سالے کی کیا بات ہے۔۔۔ میں نہیں دے سکتا۔‘‘\n\nمیں نے ٹوہ لینی چاہی،’’پھر اسے واپس کیوں نہیں بھیجتے؟‘‘\n\nڈھونڈو کچھ عرصے کے لیے خاموش ہوگیا۔ کان میں اڑسے ہوئے سگرٹ کا ٹکڑا نکال کر اس نے سلگایا اور دھوئیں کو ناک کے دونوں نتھنوں سے باہر پھینک کر اس نے صرف اتنا کہا،’’میں نہیں چاہتا کہ وہ جائے۔‘‘\n\nمیں نے سمجھاالجھے ہوئے دھاگے کا ایک سرا میرے ہاتھ میں آگیا ہے،’’ کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟‘‘\n\nڈھونڈو پر اس کا شدید رد عمل ہوا، ’’آپ کیسی باتیں کرتے ہیں منٹو صاحب۔‘‘ پھر اس نے دونوں کان پکڑ کر کھینچے، ’’قرآن کی قسم میرے دل میں ایسا پلید خیال کبھی نہیں آیا۔۔۔ مجھے بس۔۔۔‘‘ وہ رک گیا، ’’مجھے بس، کچھ اچھی لگتی ہے!‘‘\nمیں نے بڑا صحیح سوال کیا، ’’کیوں؟‘‘\n\nڈھونڈو نے بھی اس کا بڑا صحیح جواب دیا، ’’اس لیے۔۔۔ اس لیے کہ وہ دوسروں جیسی نہیں۔۔۔باقی جتنی ہیں سب پیسےکی پیر ہیں۔۔۔ حرامی ہیں اول درجے کی۔۔۔ پر یہ جو ہے نا۔۔۔ کچھ عجیب و غریب ہے۔۔۔ نکال کے لاتا ہوں تو راضی ہو جاتی ہے۔۔۔ سودا ہو جاتا ہے۔۔۔ ٹیکسی یا وکٹوریہ میں بیٹھ جاتی ہے۔۔۔ اب منٹو صاحب، پیسنجر سالا موج شوق کے لیے آتا ہے۔۔۔ مال پانی خرچ کرتا ہے۔۔۔ ذرا دبا کے دیکھتا ہے۔۔۔ یا ویسے ہی ہاتھ لگا کے دیکھتا ہے۔۔۔بس دھمال مچ جاتی ہے۔ ۔۔مارا ماری شروع کردیتی ہے۔۔۔ آدمی شریف ہو تو بھاگ جاتا ہے۔ پیے لا ہو۔۔۔ یا موالی ہو تو آفت۔۔۔ ہر موقعے پر مجھے پہنچنا پڑتا ہے۔۔۔ پیسے واپس کرنے پڑتے ہیں اور ہاتھ پیر الگ جوڑنے پڑتے ہیں۔۔۔ قسم قرآن کی صرف سراج کی خاطر۔۔۔ اور منٹو صاحب آپ کی جان کی قسم اسی سالی کی وجہ سے میرا دھندا آدھا رہ گیا ہے۔۔۔!‘‘\n\nمیرے ذہن نے سراج کا جو عقبی منظر تیار کیا تھا، میں اس کا ذکر کرنا نہیں چاہتا، لیکن اتنا ہے کہ جو کچھ ڈھونڈو نے مجھے بتایا وہ اس کے ساتھ ٹھیک طور پر جمتا نہیں تھا۔میں نے ایک دن سوچا کہ ڈھونڈو کو بتائے بغیر سراج سے ملوں۔ وہ بائی کلہ اسٹیشن کے پاس ہی ایک نہایت واہیات جگہ میں رہتی تھی، جہاں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر تھے، آس پاس کا تمام فضلہ تھا۔ کارپوریشن نے یہاں غریبوں کے لیے جست کے بے شمار جھونپڑے بنا دیے تھے۔ میں یہاں ان بلند بام عمارتوں کا ذکر کرنا نہیں چاہتا جو اس غلاظت گاہ سے تھوڑی دور ایستا دہ تھیں کیونکہ ان کا اس افسانے سے کوئی تعلق نہیں۔ دنیا نام ہی نشیب و فراز کا ہےیا رفعتوں اورپستیوں کا۔\n\nڈھونڈو سے مجھے اس کے جھونپڑے کا اتا پتا معلوم تھا، میں وہاں گیا۔۔۔ اپنے خوش وضع کپڑوں کو اس ماحول سے چھپائے ہوئے۔۔۔ لیکن یہاں میری ذات متعلق نہیں۔بہر حال میں وہاں گیا۔۔۔ جھونپڑے کے باہر ایک بکری بندھی تھی۔ اس نے مجھے دیکھا تو ممیائی۔ اندرسے ایک بڑھیا نکلی۔۔۔ جیسے پرانی داستانوں کے کرم خوردہ انبار سے کوئی کٹنی لاٹھی ٹیکتی ہوئی۔۔۔ میں لوٹنے ہی والا تھا کہ ٹاٹ کے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے پردے کے پیچھے مجھے دو بڑی بڑی آنکھیں نظر آئیں۔۔۔ بالکل اسی طرح پھٹی ہوئی جس طرح وہ ٹاٹ کا پردہ تھا۔ پھر میں نے سراج کا سفیدبیضوی چہرہ دیکھا اور مجھے ان غاصب آنکھوں پر بڑا غصہ آیا۔\n\nاس نے مجھے دیکھ لیا تھا۔ معلوم نہیں اندر کیا کام کررہی تھی،فوراً سب چھوڑ چھاڑ کر باہر آئی۔ اس نے بڑھیا کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور مجھ سے کہا، ’’آپ یہاں کیسے آئے؟‘‘\n\nمیں نے مختصراً کہا، ’’تم سے ملنا تھا۔‘‘\n\nسراج نے بھی اختصار ہی کے ساتھ کہا، ’’آؤ اندر‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’نہیں میرے ساتھ چلیے۔‘‘\n\nاس پر کرم خوردہ داستانوں کی کرم خوردہ کٹنی بڑے دکاندارانہ انداز میں بولی، ’’دس روپے ہوں گے۔‘‘\n\nمیں نے بٹوہ نکال کر دس روپے اس بڑھیا کو دے دیے اور سراج سے کہا، ’’آؤ سراج۔۔۔‘‘\n\nسراج کی بڑی بڑی آنکھوں نے ایک لحظے کے لیے میری نگاہوں کو راستہ دیا کہ اس کے چہرے کی سڑک پر چند قدم چل سکیں۔۔۔ میں ایک بار پھر اسی نتیجے پر پہنچا کہ وہ خوبصورت تھی۔۔۔ سکڑی ہوئی خوبصورتی۔۔۔ حنوط لگی خوبصورتی۔۔۔ صدیوں کی محفوظ و مامون اور مدفون کی ہوئی خوبصورتی۔۔۔ میں نے ایک لحظے کے لیے یوں محسوس کیا کہ میں مصر میں ہوں اور پرانے دفینوں کی کھدائی پر مامور کیا گیا ہوں۔\n\nمیں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔۔۔ سراج میرے ساتھ تھی۔ ہم دونوں ایک ہوٹل میں تھے۔ وہ میرے سامنے، اپنے غلیظ کپڑوں میں ملبوس بیٹھی تھی اور اس کی بڑی بڑی آنکھیں اس کے بیضوی چہرے پر قبضہ مخالفانہ کیےہوئے تھیں۔ مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ انھوں نے صرف سراج کے چہرے ہی کو نہیں، اس کے سارے وجود کو ڈھانپ لیا ہے کہ میں اس کے کسی روئیں کو بھی نہ دیکھ سکوں۔\n\nبڑھیا نے جو قیمت بتائی تھی، میں نے ادا کردی تھی۔ اس کے علاوہ میں نے چالیس روپے اور سراج کو دیے تھے۔۔۔ میں چاہتا تھا کہ وہ مجھ سے بھی اسی طرح لڑے جھگڑے، جس طرح وہ دوسروں کے ساتھ لڑتی جھگڑتی ہے۔ چنانچہ اسی غرض سے میں نے اس سے کوئی ایسی بات نہ کی جس سے محبت اور خلوص کی بو آئے۔۔۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں سے بھی میں خائف تھا۔ وہ اتنی بڑی تھیں کہ میرے علاوہ میرے اردگرد کی ساری دنیا بھی دیکھ سکتی تھیں۔\n\nوہ خاموش تھی۔۔۔ واہیات طریقے پر اسے چھیڑنے کے لیے ضروری تھا کہ میرے جسم اور ذہن میں غلط قسم کی حرارت ہو۔ چنانچہ نے وسکی کے چار پیگ پیے اور اس کو عام پیسنجروں کی طرح چھیڑا، اس نے کوئی مزاحمت نہ کی۔ میں نے ایک زبردست فضول حرکت کی۔ میرا خیال تھا کہ وہ بارود جو اس کے اندر بھری پڑی ہے، اس کو بھک سے اڑانے کے لیے یہ چنگاری کافی ہے، مگر حیرت ہے کہ وہ کسی قدر پرسکون ہوگئی۔ اٹھ کر اس نے مجھے اپنی بڑی بڑی آنکھوں کے پھیلاؤ میں سمیٹتے ہوئے کہا،’’چرس کا ایک سگریٹ منگوا دو مجھے!‘‘\n\n’’شراب پیو!‘‘\n\n’’نہیں۔۔۔ چرس کا سگرٹ پیوں گی!‘‘\n\nمیں نے اسے چرس کا سگرٹ منگوا دیا۔۔۔ اسے ٹھیٹ چرسیوں کے انداز میں پی کر اس نے میری طرف دیکھا۔۔۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں اب اپنا تسلط چھوڑ چکی تھیں۔۔۔ مگر اسی طرح جس طرح کوئی غاصب چھوڑتا ہے۔۔۔ اس کا چہرہ مجھے ایک اجڑی ہوئی، ایک بربادشدہ سلطنت نظر آیا۔۔۔ تاخت و تاراج ملک، اس کا ہر خط، ہر خال۔۔۔ ویرانی کی ایک لکیر تھی۔\n\nمگر یہ ویرانی کیا تھی۔۔۔؟ کیوں تھی۔۔۔؟ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ آبادیاں ہی ویرانوں کا باعث ہوتی ہیں۔۔۔ کیا وہ اسی قسم کی آبادی تھی جو شروع ہونے کے بعد کسی حملہ آور کے باعث ادھوری رہ گئی تھی اور آہستہ آہستہ اس کی دیواریں جو ابھی گز بھر بھی اوپر نہیں اٹھی تھیں کھنڈر بن گئی تھیں۔\n\nمیں چکر میں تھا، لیکن آپ کو میں اس چکر میں نہیں ڈالنا چاہتا۔۔۔ میں نے کیا سوچا، کیا نتیجہ برآمد کیا، اس سے آپ کو کیا مطلب۔\n\nسراج کنواری تھا یا نہیں، میں اس کے متعلق جاننا نہیں چاہتا تھا۔ سلفے کے دھوئیں میں، البتہ اس کی محزون و مخمور آنکھوں میں مجھے ایک ایسی جھلک نظر آئی تھی جس کو میرا قلم بھی بیان نہیں کرسکتا۔میں نے اس سے باتیں کرنا چاہیں مگر اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں نے چاہا کہ وہ مجھ سے لڑے جھگڑے، مگر یہاں بھی اس نے مجھے ناامید کیا۔\n\nمیں اسے گھر چھوڑ آیا۔\n\nڈھونڈوکو جب میرے اس خفیہ سلسلے کا پتہ چلا تو وہ بہت ناراض ہوا۔ اس کے دوستانہ اور تاجرانہ جذبات دونوں بہت بری طرح مجروح ہوئے تھے۔ اس نے مجھے صفائی کا موقعہ نہ دیا۔ صرف اتنا کہا، ’’منٹو صاحب آپ سے یہ امید نہ تھی!‘‘ اور یہ کہہ کر وہ کھمبے سے ہٹ کر ایک طرف چلا گیا۔\n\nعجیب بات ہے کہ دوسرے روز شام کو وقتِ مقررہ پر وہ مجھے اپنے اڈے پر نظر نہ آیا۔ میں سمجھا شاید بیمار ہے مگر اس سے اگلے روز بھی وہ موجود نہیں تھا۔\n\nایک ہفتہ گزر گیا۔ وہاں سے میرا صبح شام آنا جانا ہوتا تھا۔ میں جب اس کھمبے کو دیکھتا،مجھے ڈھونڈویاد آتا۔ میں بائی کلہ اسٹیشن کے پاس ہی جو واہیات جگہ تھی وہاں بھی گیا۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ سراج کہاں ہے۔ مگر وہاں اب صرف وہ کرم خوردہ کٹنی رہتی تھی۔ میں نے اس سے سراج کے متعلق پوچھا تووہ پوپلی مسکراہٹ میں لاکھوں برس کی پرانی جنسی کروٹیں بدل کر بولی، ’’وہ گئی۔۔۔ اور ہیں۔۔۔ منگواؤں؟‘‘\n\nمیں نے سوچا،اس کا کیا مطلب ہے۔ ڈھونڈو اور سراج دونوں غائب ہیں اور وہ بھی میری اس خفیہ ملاقات کے بعد۔۔۔ لیکن میں اس ملاقات کے متعلق اتنا متردد نہیں تھا۔۔۔ یہاں پھر میں اپنے خیالات آپ پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا لیکن مجھے یہ حیرت ضرور تھی کہ وہ دونوں غائب کہاں ہوگئے۔ ان میں محبت کی قسم کی کوئی چیز نہیں تھی۔ ڈھونڈو ایسی چیزوں سے بالاتر تھا۔ اس کی بیوی تھی، بچے تھے اور وہ ان سے بے حد محبت کرتا تھا، پھر یہ سلسلہ کیا تھا کہ دونوں بیک وقت غائب تھے۔میں نے سوچا، ہوسکتا ہے کہ اچانک ڈھونڈو کے دماغ میں یہ خیال آگیا ہو کہ سراج کو واپس گھر جانا چاہیے۔ اس کے متعلق وہ پہلے فیصلہ نہیں کرسکا تھا، پر اب اچانک کرلیا ہو۔\n\nغالباً ایک مہینہ گزر گیا۔\n\nایک شام اچانک مجھے ڈھونڈو نظر آیا۔ اسی کھمبے کے ساتھ، مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے بڑی دیر کرنٹ فیل رہنے کے بعد ایک دم واپس آگیا ہے۔ اس کھمبے میں جان پڑ گئی۔ ٹیلی فون کے ڈبے میں بھی۔۔۔ چاروں طرف، اوپر تاروں کے پھیلے ہوئے جال، ایسا لگتا تھا آپس میں سرگوشیاں کررہے ہیں۔میں اس کے پاس سے گزرا۔۔۔ اس نے میری طرف دیکھا اور مسکرایا۔\n\nہم دونوں ایرانی کے ہوٹل میں تھے۔ میں نے اس سے کچھ نہ پوچھا۔ اس نے اپنے لیے کوفی ملی چائے اور میرے لیے سادہ چائے منگوائی اور پہلو بدل کر اس نے ایسی نشست قائم کی کہ جیسے وہ مجھے کوئی بہت بڑی بات سنانے والا ہے، مگر اس نے صرف اتنا کہا،’’اور سناؤ منٹو صاحب۔‘‘\n\n’’کیا سنائیں ڈھونڈو۔۔۔ بس گزر رہی ہے۔‘‘\n\nڈھونڈو مسکرایا، ’’ٹھیک کہا آپ نے۔۔۔بس گزر رہی ہے۔۔۔ اور گزرتی جائے گی۔۔۔ لیکن یہ سالا گزرتے رہنا یا گزرنا بھی عجیب چیز ہے۔۔۔ سچ پوچھیے تو اس دنیا میں ہر چیز عجیب ہے۔‘‘\n\nمیں نے صرف اتنا کہا، ’’تم ٹھیک کہتے ہو ڈھونڈو۔‘‘\n\nچائے آئی اور ہم دونوں نے پینا شروع کی۔ ڈھونڈو نے پرچ میں اپنی کوفی ملی چائے انڈیلی اور مجھ سے کہا، ’’منٹو صاحب۔۔۔ اس نے مجھے بتا دی تھی ساری بات۔۔۔ کہتی تھی، وہ سیٹھ جو تمہارا دوست ہے اس کا مستک پھرے لا ہے۔‘‘\n\nمیں ہنسا، ’’کیوں؟‘‘\n\n’’بولی۔۔۔ مجھے ہوٹل لے گیا۔۔۔ اتنے روپے دیے۔۔۔ پر سیٹھوں والی کوئی بات نہ کی۔‘‘\n\nمیں اپنے اناڑی پن پر بہت خفیف ہوا، ’’وہ قصہ ہی کچھ ایسا تھا ڈھونڈو۔‘‘\n\nاب ڈھونڈو پیٹ بھر کے ہنسا، ’’میں جانتا ہوں۔۔۔ مجھے معاف کردینا کہ میں اس روز تم سے ناراض ہوگیا تھا۔‘‘ اس کے اندازِ گفتگو میں ان جانے میں بے تکلفی پیدا ہوگئی، ’’پر اب وہ قصہ خلاص ہوگیا ہے۔‘‘\n\n’’کون سا قصہ؟‘‘\n\n’’اس سالی کا سراج کا۔۔۔ اور کس کا۔۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا کیا، ’’کیا ہوا؟‘‘\n\nڈھونڈو گٹکنے لگا، ’’جس روز آپ کے ساتھ گئی۔۔۔ واپس آکر مجھ سے کہنے لگی۔۔۔ میرے پاس چالیس روپے ہیں۔۔۔ چلو مجھے لاہور لے چلو۔۔۔ میں بولا سالی، یہ ایک دم تیرے سر پر کیا بھوت سوار ہوا۔۔۔ بولی، نہیں۔۔۔ چل ڈھونڈو، تجھے میری قسم۔۔۔ اور منٹو صاحب، آپ جانتے ہیں۔۔۔ میں سالی کی کوئی بات نہیں ٹال سکتا کہ مجھے اچھی لگتی ہے۔۔۔ میں نے کہا چل۔۔۔ سو ٹکٹ کٹا کے ہم دونوں گاڑیوں میں سوارہوئے۔۔۔ لاہور پہنچ کر ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔۔۔مجھ سے بولی۔ ڈھونڈو۔ ایک برخا لا دے میں لے آیا۔۔۔ اسے پہن کر وہ لگی سڑک سڑک اور گلی گلی گھومنے۔۔۔ کئی دن گزر گئے۔۔۔میں بولا، یہ بھی اچھی رہی ڈھونڈو۔ سراج سالی کا مستک تو پھرے لا تھا۔ سالا تیرا بھی بھیجا پھر گیا جو تو اتنی دور اس کے ساتھ آگیا ۔۔۔منٹو صاحب!آخر ایک دن اس نے ٹانگہ رکوایا اور ایک آدمی کی طرف اشارہ کرکے مجھ سے کہنے لگی۔۔۔ ڈھونڈو۔۔۔ اس آدمی کو میرے پاس لے آ۔۔۔ میں چلتی ہوں واپس سرائے میں۔۔۔میری عقل جواب دے گئی۔\n\nمیں ٹانگے سے اترا تو وہ غائب۔۔۔ اب میں اس آدمی کے پیچھے پیچھے۔۔۔آپ کی دعا سے اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے۔۔۔ میں آدمی آدمی کو پہچانتا ہوں۔ دو باتیں کیں اور میں تاڑ گیا کہ موج شوق کرنے والا ہے۔۔۔ میں بولا بمبئی کا خاص مال ہے۔۔۔ بولا، ابھی چلو۔۔۔ میں بولا، نہیں پہلے مال پانی دکھاؤ۔ اس نے اتنے سارٹ نوٹ دکھائے۔۔۔ میں دل میں بولا۔۔۔ چلو ڈھونڈو۔۔۔ یہاں بھی اپنا دھندا چلتا رہے۔۔۔ پر میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی تھی کہ سراج سالی نے سارے لاہور میں اسی کو کیوں چنا۔۔۔ میں نے کہا، چلتا ہے۔۔۔ ٹانگہ لیا اور سیدھا سرائے میں۔۔۔ سراج کو خبر کی۔۔۔ وہ بولی، ابھی ٹھہر۔۔۔میں ٹھہر گیا۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد اس آدمی کو جو اچھی شکل کا تھا، اندر لے گیا۔۔۔ سراج کو دیکھتے ہی وہ سالا یوں بدکا جیسے گھوڑا۔۔۔ سراج نے اس کو پکڑ لیا۔‘‘\n\nڈھونڈو نے یہاں پہنچ کر پیالی سے اپنی ٹھنڈی کوفی ملی چائے ایک ہی جرعے میں ختم کی اور بیڑی سلگانے لگا۔\n\nمیں نے اس سے کہا، ’’سراج نے اس کو پکڑ لیا۔‘‘\n\nڈھونڈو نے بلند آواز میں کہا ،’’ہاں جی۔۔۔ پکڑ لیا اس سالے کو۔۔۔ کہنے لگی۔ اب کہاں جاتا ہے۔۔۔ میرا گھر چھڑا کر تو مجھے اپنے ساتھ کس لیے لایا تھا۔۔۔ میں تجھ سے محبت کرتی تھی۔۔۔ تو نے بھی مجھ سے یہی کہا تھا کہ تو مجھ سے محبت کرتا ہے۔۔۔ پر جب میں اپنا گھر بار، اپنا ماں باپ چھوڑ کر تیرے ساتھ بھاگ نکلی اور امرتسر سے ہم دونوں یہاں آئے۔۔۔ اسی سرائے میں آکر ٹھہرے تو رات ہی رات تو بھاگ گیا۔۔۔ مجھے اکیلی چھوڑ کر۔۔۔ کس لیے لایا تھا تو مجھے یہاں۔۔۔ کس لیے بھگایا تھا تو نے مجھے۔۔۔ میں ہر چیز کے لیے تیار تھی۔۔۔پر تو میری ساری تیاریاں چھوڑ کر بھاگ گیا۔۔۔ آ۔۔۔ اب میں نے تمہیں بلایا ہے۔۔۔ میری محبت ویسی کی ویسی قائم ہے۔۔۔ آ۔۔۔ اور منٹو صاحب، وہ اس کے ساتھ لپٹ گئی۔۔۔ اس سالے کے آنسو ٹپکنے لگے۔۔۔رو رو کر معافیاں مانگنے لگا۔۔۔ مجھ سے غلطی ہوئی۔۔۔ میں ڈر گیا تھا۔۔۔ میں اب کبھی تم سے علیحدہ نہیں ہوں گا۔ قسمیں کھاتا رہا۔۔۔ جانے کیا بکتا رہا۔۔۔ سراج نے مجھے اشارہ کیا۔۔۔ میں باہر چلا گیا۔۔۔صبح ہوئی تو میں باہر کھاٹ پر سو رہا تھا۔۔۔ سراج نے مجھے جگایا اور کہا۔۔۔ چلو ڈھونڈو۔۔۔ میں بولا، کہاں۔۔۔؟بولی، واپس بمبئی۔۔۔ میں بولا۔۔۔ وہ سالا کہاں ہے۔۔۔ سراج نے کہا۔ سورہا ہے۔۔۔ میں اس پر اپنا بُرخا ڈال آئی ہوں۔‘‘\n\nڈھونڈو نے اپنے لیے دوسری کوفی ملی چائے کا آرڈر دیا تو سراج اندر د اخل ہوئی۔۔۔ اس کا سفید بیضوی چہرہ نکھرا ہوا تھا اور اس پر اس کی بڑی بڑی آنکھیں دو گرے ہوئے سگنل معلوم ہوتی تھیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%AC"} {"title": "سراسر خجلت و شرمندگی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سراسر خجلت و شرمندگی ہے\nہماری بھی بھلا کیا زندگی ہے\n\nسدا کوئی رہا ہے نے رہے گا\nاسی کی ذات کو پائندگی ہے\n\nخیال خوب رویاں کیونکے چھوٹے\nطبیعت میں مری خواہندگی ہے\n\nنظر اپنی بھی واں جا ہی پڑے ہے\nجہاں آرائش و زیبندگی ہے\n\nغزل خوانی کر اب اے مصحفیؔ ترک\nہوا قد خم یہ وقت بندگی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%B1_%D8%AE%D8%AC%D9%84%D8%AA_%D9%88_%D8%B4%D8%B1%D9%85%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "سراغ رساں", "poet_page": "مصنف:قاضی عبدالغفار", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "اکتوبر کے مہینے کی ۶ تاریخ تھی اور سال تھا ۱۸۸۵ء۔ ۸۵ نہ ہوگا تو ۸۶ء ہوگا۔ غرض تھے گلابی جاڑے۔ ایک فرد کی سردی تھی، صبح صبح تھانہ میں بھنگی جھاڑو لگا رہا تھا۔ اور داروغہ جی برآمدہ میں اپنے پلنگ پر آدھے لیٹے آدھے بیٹھے، حقہ پی رہے تھے۔ منہ ان کا ابھی باسی تھا۔ رات کے جمع شدہ چیز ہنوز آنکھوں کے کویوں میں جمع تھے۔\n\nایک شخص بھاگا ہوا آیا:\n\n’’سلام داروغہ جی! غضب ہوگیا داروغہ جی، غضب ہوگیا سرکار!‘‘\n\n’’ابے غضب کے بچے کچھ کہتا بھی ہے یا خواہ مخواہ چیخے جاتا ہے۔‘‘ داروغہ جی نے چڑ چڑاکر فرمایا۔\n\n’’داروغہ جی بڑا بھاری قتل ہوگیا۔ ہمارے میاں کو کسی نے مار ڈالا۔۔۔ ہائے۔ ہائے!‘‘\n\n’’کون ہے تیرا میاں، ابے کس نے مار ڈالا، صاف صاف سیدھی سیدھی بات کر، ورنہ دوں گا ایک لات!‘‘\n\n’’اجی سرکار! ہمارے میاں خداداد خاں زمیندار پتوکھیڑہ کل شام تو اچھے خاصے تھے، اور اب کمرہ کے دروازہ بند ہے۔ پکارتے پکارتے میں تھک گیا۔ دروازہ پیٹا، آوازیں دیں، گھر میں کہرام مچا ہوا ہے۔‘‘\n\n’’ابے کہرام سے ہمیں کیا کام، مرغی کے، یہ بتا وہ رات گئے کہاں تھے؟‘‘\n\n’’کہیں نہیں سرکار۔۔۔ اب سرکار کو تو معلوم ہی ہے۔ ان کا آنا جانا موہنی طوائف کے یہاں تھا۔ وہیں سے شام کو واپس آئے تھے۔ بس پھر تو کہیں گئے نہیں۔ وہ تو داروغہ جی اچھے خاصے تھے۔ ہائے ہائے۔ یہ کیا ہوگیا۔ ہائے ہائے۔‘‘\n\n’’سن بے حرامزادہ! جو پوچھوں وہ بتا۔ بک بک کرے گا تو ابھی منھ ٹیڑھا کردوں گا۔ ہاں، بتا اب، کس نےقتل کیا ان کو۔۔۔ ٹھیک ٹھیک بتا۔‘‘\n\n’’اےلو! سرکار،بھلا مجھے کیا معلوم؟ یہ تو سرکار آپ ہی معلوم کریں گے۔‘‘\n\n’’کیوں بے! ہم تیرے باپ کے نوکر ہیں۔ ہم معلوم کریں گے اور تو نہ بتائے گا۔ بتا، بول۔۔۔ نہ بتائے گا؟ اٹھوں پھر میں؟‘‘\n\n’’سرکار! اولاد کی قسم مجھے معلوم نہیں۔‘‘\n\n’’اولاد کا جنا! حرامی سالا!۔۔۔ ارے کوئی ہے، ذرا لے تو جاؤ اس اولاد کے جنے کوحوالات میں! ان حرامزادہ کو یہ تو خبر ہے کہ ان کے آقا صاحب قتل کردیے گئے۔ مگر یہ معلوم نہیں کہ کس نےقتل کیا۔۔۔ ہم سے پوچھتا ہے سالا۔۔۔ ہم ان کو بتائیں۔۔۔ لینامنشی جی! ذرا تھوڑی سی ٹھکنتی تو کرڈالو۔ باز خان کے سپرد کرڈالو۔ وہ اس کا مزاج درست کرلیں گے۔۔۔‘‘\n\nمقتول زمیندار صاحب کے دروازہ پر کانسٹیبل ٹہل رہے ہیں۔ داروغہ جی وردی پہنے پیٹی لگائے محلہ کے لوگوں کے بیانات لے رہے ہیں:\n\n’’ہاں تو مقتول شراب بہت پیتا تھا۔ موہنی طوائف سےاس کا تعلق تھا؟ اور بیوی سے کس بات پر جھگڑا ہوا کرتاتھا؟۔۔۔ بتاؤ جی، صاف صاف کہو۔۔۔ ہاں! تو وہ موہنی کے گھر سےشام کو کس وقت آیا تھا۔ تم نے واپس آتے دیکھا، کوئی سات بجے کے قریب، ٹھیک! پھر تم سے کچھ بات کی تھی؟ بات نہیں کی؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے، جھوٹ مت بکو۔ سچ سچ بات کہو۔ شراب پئے ہوا تھا۔ نشہ زیادہ معلوم ہوتاتھا۔ پھر تم سے بات کیوں نہیں ہوئی؟ نشہ کی حالت میں تو ضروربات ہونی چاہیے تھی۔۔۔ جھوٹے ہو تم۔۔۔ بکواس نہ کرو۔۔۔ یہ کیا بھید ہے کہ تم نے اس سے بات نہیں کی۔ اچھا مان لیا کہ اس نے بات نہیں کی۔ مگر تم نے بات کیوں نہ کی؟ تمہیں سانپ سونگھ کیا تھا؟ تمہاری زبان کو دیمک چاٹ گئی تھی؟ کیوں جی؟ نہیں بتاؤگے؟ اچھا مجھے بھی دیکھا ہے ٹیڑھی انگلیوں سے صاف گھی نکال لیتا ہوں۔ ہونہہ! جمعدار ذرا لے جاؤ اس بدمعاش کو حوالات میں۔۔۔ ہم آتے ہیں۔ ابھی۔۔۔\n\nاب داروغہ جی نے موقعہ کا معائنہ شروع کیا:\n\nدوسری منزل پر وہ کمرہ تھا۔ دروازہ اندر سے بند تھا۔ باہر کی طرف ایک کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔ داروغہ جی نے بہت غور سے اس کودیکھا:\n\n’’اگر کوئی گھر کا آدمی نہیں ہے تو وہ ضرور ادھر سے چڑھ کر داخل ہوا اور ادھر ہی سے نکل گیا۔ ذرا دیکھنا باہر کی دیوار پر کوئی نشان تو نہیں ہے۔‘‘\n\nدیوار پرنشان بہت تھے۔ لمبے، سیدھے، گول ہر قسم کے نشان تھے۔\n\n’’اچھا اب دیوار کے نیچے زمین پر دیکھو۔‘‘ ڈبیا میں سے پان نکال کر کھاتے ہوئے داروغہ جی نے ہدایت فرمائی۔ بارش ہوچکی تھی، نرم زمین پر انسان اور جانور کے قدموں کے سینکڑوں نشانات موجود تھے۔\n\n’’ٹھیک ہے۔ ٹھیک ہے۔ رات میں ادھر سےآیا۔ ادھر ہی سے آیا۔ ادھر سے نہ آیا تو پھر کدھر سے آیا (داروغہ جی نے حاضرین کی طرف نظر کرکےاس سوال پر زوردیا کہ گویا کسی نےان کی رائے پر اشتباہ ظاہر کیا ہے) بیشک ادھر سے آیا! مگر چڑھا کیسے؟‘‘\n\n’’جی صاحب، چڑھنے کا کیا ہے، چڑھ گیا ہوگا۔ رسی باندھ کر، بانس رکھ کر۔‘‘ ایک محلہ والے نے لقمہ دیا۔۔۔\n\n’’پاگل ہو‘‘ داروغہ جی نے جھڑکا ’’کہیں قیاسات سے سراغ رسانی کی جاتی ہے۔ پکے نشانات اور اشارے ملنے چاہئیں۔ اچھا اب دیکھو یہاں قریب کوئی سیڑھی موجود ہے یا نہیں؟‘‘\n\n’’زمیندار صاحب کے اصطبل میں ایک بانس کی سیڑھی رکھی ہوئی ملی۔‘‘\n\n’’ہاں۔ اب دیکھو بات سمجھ میں آئی۔ کھڑکی کھلی ہوئی، دروازہ اندر سے بند۔ دیوار پر نشان۔ سیڑھی موجود۔ قاتل کاراستہ معلوم ہوگیا!!‘‘ داروغہ جی نے خاص طور پر ان صاحب کی طرف نظر کرکے فرمایا جنہوں نے رسی اور بانس کا ذکر کیا تھا۔\n\n’’کھڑکی کھلی ملی ہوگی۔ قاتل اندر گھس آیا ہوگا۔ بھئی مقتول تو ہمیشہ کے بے فکر تھے ہی۔ ہم تو جانتے تھے۔ کسی دن یہ حشر ہونے والا ہے۔ عیاشی۔ شراب خواری۔ بری صحبت۔‘‘\n\nناصحانہ انداز میں داروغہ جی نے اپنے شانے ہلاکر افسوس کا اظہار فرمایا۔ ’’کیوں شیخ جی! میں کچھ غلط کہتا ہوں؟ سیدھے سیدھے چلتے تو آج اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے ہوتے۔ اب مرے پڑے ہیں۔ بھائی خدا بچائے!‘‘\n\n’’ہاں صاحب خدا بچائے۔‘‘ محلہ والوں نے آواز میں آواز ملائی۔\n\n’’ارے میاں! ہم سے کیا کہتے ہو۔ ہم تو روز ایسے سینکڑوں تماشے دیکھا کرتے ہیں۔‘‘\n\nکمرہ کے دروازہ میں باہر سے قفل لگاکر مہر کردی گئی۔ کھڑکی کے نیچے ایک کانسٹیبل مقرر کیا گیا اور داروغہ جی محلہ والوں کو سمیٹ کر تھانہ میں آگئے۔ چلتے وقت مقتول کے کسی عزیز نےمقتول کی لاش اور کفن دفن کاکچھ ذکر کیا۔ داروغہ جی پل پڑے ’’ارے میاں، کچھ قتل بھی ہے۔ ابتدائی تحقیقات تو ہولینے دو۔ ابھی تو جناب میں لاش کو ہاتھ بھی نہ لگانے دوں گا۔ ایسی گھبراہٹ کیا ہے۔ آخر کفن دفن تو ہونا ہی ہے۔اب نہیں، دس گھنٹہ بعد سہی۔‘‘\n\nیہ کہہ کر داروغہ جی۔ داروغہ جی کے پیچھے چھ کانسٹیبل۔ کانسٹیبلوں کے پیچھے محلہ والے، محلہ والوں کے پیچھے محلہ کے لونڈے اور محلہ کے لونڈوں کے پیچھے محلہ کے دو تین کتے۔\n\nتحقیقات کی پہلی منزل ختم ہوئی۔\n\nکھانا کھاکر، حقہ پی کر، داروغہ جی نے تھوڑا ساقیلولہ کیا۔ اس کے بعد پھر اپنی جھبے دار پگری سر پر رکھ کر معائنہ موقع فرمانے کی غرض سے نکلے۔ مکان کے چاروں کونوں پر کانسٹیبل کھرے تھے۔ کمرہ کے داروازہ کا تالا داروغہ جی نے خود کھولا۔ آگے آگے وہ۔ اُن کے پیچھے جمعدار صاحب کمرہ میں داخل ہوئے۔\n\n’’دیکھو جمعدار۔ کوئی اندر نہ آنے پائے۔ نوجوان افسران اکثر یہی تو غلطی کرتے ہیں کہ روک ٹوک نہیں کرتے۔ لوگ موقع واردات پر جمع ہوجاتے ہیں اور جرم کے نشانات مٹ جاتے ہیں۔ کسی کو مت آنے دو۔‘‘\n\nیہ حکم دے کر داروغہ جی نے تفتیش کی دوسری منزل میں قدم رکھا۔\n\nکمرہ کی حالت یہ تھی:\n\nدروازہ پر میلے ململ کے پردے۔ فرش پر ایک پرانا قالین۔ ایک کونے میں کھڑکی کے پاس ایک مسہری جن کے پردے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے۔ بستر کی چادر و تکیہ کے غلاف میلے۔ ایک کونے میں جوتوں کے چند جوڑے۔ ان پر گرد جمی ہوئی۔ مسہری کے پاس ایک چھوٹی میز پرایک گلاس اور راکھ دانی۔ فرش پر سگریٹوں کے بہت سےٹکڑے تھے۔\n\nداروغہ نے بہت احتیاط کے ساتھ بستر کی لٹکتی ہوئی چادر کواٹھاکر مسہری کے پیچھے جھانکا۔ وہاں دس بارہ وسکی کی خالی بوتلیں پڑی ہوئی تھیں اورایک دو ٹوٹے ہوئے گلاس۔ پھر داروغہ جی نے کھڑکی سے جھانکا۔\n\n’’بہت اونچی ہے۔ ضرور سیڑھی لگائی ہوگی۔ دیکھو جمعدار انگلیوں کے نشانات۔ادھر دیکھو۔ ان کیواڑوں پر۔ ان کافوٹو لینا ہوگا اور یہ بوتلیں بھی سب تھانے لے جاؤ اوریہ ٹوٹے ہوئے گلاس بھی اور یہ راکھ دانی بھی اور۔۔۔ یہ تو دیکھو۔ قالین پر یہ دھبہ کیسا ہے؟ ہے تو سرخی مائل۔ تعجب نہیں کہ خون کا دھبہ ہو۔ اس کو بھی لے جاؤ تھانہ۔\n\n’’مگر‘‘ جمعدار نے کہا ’’سرکار مقتول کی لاش کہاں ہے؟‘‘\n\n’’توبہ! عجب گھونگے ہو۔ جو بات آدمی کی سمجھ میں نہ آئے۔ اس کا کہناکیا ضرور ہے۔ پہلے قاتل کا کھوج تو لگاؤ۔ مقتول کی لاش بھی مل جائے گی۔ اور اگر نہ بھی ملے تو بھی قتل تو قتل ہے۔ ابھی تو زندہ پکڑو۔ مردہ تو مردہ ہے اس کی فکر پھر کرلینا۔۔۔ سمجھے؟‘‘\n\nداروغہ جی نے بہت پرمعنی لہجہ میں کہا ’’سمجھے؟‘‘\n\n’’لیکن سرکار!‘‘ بے عقل جمعدار نے پھر کہا ’’اگر قتل اسی کمرہ میں ہوا، تو پھر لاش کہاں گئی؟‘‘\n\n’’اونہہ! کیا کوڑھ مغز ہو، اورے بھائی۔ قتل ہوا۔ یہ تو مانتے ہونا کہ قتل ہوا۔ اچھا اب یہ بھی مان لیا کہ اسی کمرہ میں ہوا، بہتر! اب یہ بتاؤ کہ قاتل کہاں گیا؟ قاتل اگر مل گیا تو مقتول کی لاش کا بھی پتہ مل جائے گا۔ اور وہ نہ ملا تو پھر لاش ملے یا نہ ملے۔ سب یکساں ہے! بھائی میرے! ان باتوں کے سمجھنےکے لیے تجربہ چاہیے، تجربہ!۔۔۔ یاد نہیں۔ پچھلے سال اس سوداگر کا قتل! لاش کو قاتل کہاں سے کہاں لے گئے تھے۔ اب تو جمعدار تم یوں سمجھ لو کہ ارتکابِ جرم تو ہوا۔ لاش نہیں ہے نہ سہی البتہ یہ ہم بھی مانتے ہیں کہ اگر لاش اس کمرہ میں نہیں تو قاتل ایک آدمی نہ تھا۔ کم از کم دو ہوں گے جو لاش کو اٹھاکر لے گئے۔۔۔ یہ دیکھو یہ کیا ہے تکیہ پر خون کا نشان۔۔۔ اگر تکیہ پر خون کا دھبہ ہے تو سمجھ لو کہ سوتے میں قتل کیا گیا۔ اچھا تو اٹھاؤ یہ تکیہ بھی لو، لے چلو تھانہ کو۔‘‘\n\n’’اس بوٹ کے تسمے کہاں ہیں؟‘’ ایک جوتے کو ٹھوکر مار کر داروغہ جی نے فرمایا۔۔۔ ’’دونوں تسمے نکال لیے گئے ہیں۔۔۔ اس سے کیا پتہ چلتا ہے، کچھ سمجھے جمعدار؟‘‘ پھر جمعدار کے جواب کا انتظار کیے بغیر ’’اگر یہ خون کے دھبے خون کے دھبے نہیں ہیں، تو اغلب یہ ہے کہ جوتوں کے تسموں سے گلاگھونٹا گیا ہے۔۔۔ یہ ذرا دور کی کوڑی۔۔۔‘‘ داروغہ جی مسکرائے! ’’کیوں جمعدار۔۔۔ ہے پتے کی بات؟‘‘\n\nاتنے میں پولیس کے ڈاکٹر صاحب بھی تشریف لے آئے۔ وہ بہت آہستہ آہستہ کمرے میں داخل ہوئے جیسے ٹہلتے ہوئے کلب میں جارہے ہیں۔ ایک اخبار ان کے ہاتھ میں تھا۔\n\n’’ارے میاں داروغہ جی، سنا تم نے؟ سرحد پر جنگ شروع ہوگئی۔ بھئی یہ سرحدی پٹھان بھی بلائے بے درماں ہیں۔اخبار کہتا ہے کہ سرحد کی طرف فوجیں جارہی ہیں۔۔۔ اب پھر چلے گی کچھ روز۔۔۔‘‘\n\nداروغہ جی کو نہ سرحد کی جنگ سے کوئی دلچسپی تھی نہ سرحد کے پٹھانوں سے۔ انہوں نے سنی ان سنی کرکے کہا:\n\n’’ڈاکٹر، دیکھو تو قالین پر یہ خون کا دھبہ ہے نا؟‘‘\n\nڈاکٹر صاحب نے جیب سے عینک کا خانہ نکالا۔ خانہ میں سے عینک نکالی۔ پھر جیب میں سے رومال نکالا۔ رومال سے عینک کے دونوں شیشے صاف کیے۔ اس کے بعد ناک کی نوک پر عینک کی کمانی رکھ کر قالین کی طرف متوجہ ہوئے۔\n\n’’دھبہ تو ضرور ہے کچھ سرخی مائل بھی ہے۔ خون ہی ہوگا۔ ممکن ہے خون ہو۔ معلوم تو خون ہی ہوتاہے۔ خون ہے۔ ضرور خونہی ہے۔ سنا تم نے۔ داروغہ۔ یار ہماری چھاؤنی سےبھی فوج جانے والی ہے اور جو کہیں ہم کو بھی حکم مل گیا تو ہوگی بڑی کوفت اور بے لطفی۔‘‘\n\n’’اچھا فرض کرو‘‘ داروغہ جی نے جمعدار کو مخاطب کرکے کہا ’’فرض کرو یہ خون ہے تو پھر گویا یہ ثابت ہوتا ہے کہ مقتول کو دوطرح قتل کیا گیا۔ پہلے چھری یا کسی آلہ دھار وار سے اور پھر دی گئی پھانسی، جوتے کے تسموں سے، یا یوں ہوا کہ پہلے پھانسی دی پھر چھری بھونک دی! اور نہیں تو پھر یا خون کا دھبہ غلط یاجوتے کے تسموں والی بات!‘‘ اس طرح داروغہ جی نے گویا اپنی قطعی رائے ظاہر فرمائی۔\n\n’’اور اگر دونوں باتیں غلط نہ ہوئیں، نہ تسمے، نہ پھانسی،پھر۔۔۔ ارے یار چل بھی یہاں سے۔ بس ہوگئی تفتیش کامل۔ سنتے ہیں کہ گاندھی جی نے اپنے آشرم کا سارا گھرونداتوڑ ڈالا۔ ارے یار۔ یہ تو کچھ عجب آدمی ہے۔ گاندھی۔ بھئی واہ!‘‘\n\n’’افوہ! بکے جاتے ہو‘‘ داروغہ جی جھنجلاگئے۔۔۔ ’’معاملہ کو الجھاؤمت، سلجھاؤ، تفتیش کایہی بنیادی اصول ہے۔‘‘\n\nاپنی اخبار بینی کی داد داروغہ جی سے نہ پاکر ڈاکٹر صاحب نے عینک اتار کر اس کے خانہ میں رکھ لی۔ اور خانہ جیب میں۔ اور یہ فرماتےہوئے چل دیے:\n\n’’اچھا یار شام کو آئیں گے۔ لاش کا پتہ چل جائے تو ہمیں بلا لیجو۔‘‘\n\n’’اس صندوقچی کو دیکھو۔ اس میں کیا ہے؟۔۔۔ گھڑی پرانی معلوم ہوتی ہے۔ ۱۲ روپے، ایک انگشتری، لو تو بس (جمعدار کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا) یہ الجھاؤ تو سلجھ گیا۔۔۔ قتل کی غرض چوری نہ تھی۔ مال موجود ہے۔ اب اگر قتل کی کوئی وجہ ہوسکتی ہے تو دشمنی!‘‘\n\nداروغہ جی نے خالص منطقی استدلال فرمایا ’’یہ بات تو صاف ہے سمجھے جمعدار۔‘‘\n\nجمعدارنے سر ہلاکر اثبات کا اشارہ کیا۔ وہ اکثر اثبات ہی کا اشارہ کرنے کے عادی تھے!!\n\n’’اچھا جی! پتے کی باتیں تو سب معلوم ہوگئیں۔ اب ذرا دماغ پر زور دو۔ قاتل کون ہوسکتاہے؟‘‘ داروغہ جی نے اب دوسرانکتہ حل فرمانے کی کوشش شروع کی۔ جمعدار صاحب نے اپنی عقل کے پانسے پھینکنے شروع کیے:\n\n’’سرکار! مقتول کاکوئی دشمن ہی یقیناً اس کا قاتل ہے۔‘‘ جمعدار صاحب نے گویا یہ ایک بالکل نئی بات ڈھونڈ نکالی۔ پھر انہوں نے دشمنوں کی فہرست پیش کی۔\n\n’’منولال بنئے سے بہت مقدمہ بازی ہو رہی تھی۔ میں نے سنا ہے کہ اپنے نوکر کو بھی۔۔۔ وہی جو اب حوالات میں ہے بہت مارا پیٹا کرتے تھے۔۔۔ کہتے ہیں کہ بیوی سے بھی ان بن رہتی تھی، موہنی طوائف کے معاملہ میں خان بہادر صاحب سےبھی لاگ ڈانٹ تھی۔ اب خدا ہی جانے سرکار، ان میں سے کس نے یہ کارروائی کی!‘‘ جمعدار صاحب گویا امکانات کے پورے میدان پر پھیل گئے!\n\n’’اونہہ۔۔۔‘‘ داروغہ جی کے دل کو بات نہ چپکی۔۔۔ ’’تم تو جمعداربے پر کی اڑانےلگے۔ ارے میاں، تک بندی سے کیا فائدہ، قدم قدم بڑھنا چایے۔ قاتل کا پتہ لگانے سے پہلے پتہ لگانے کے صحیح طریقہ کا پتہ لگانا چاہیے۔ یعنی یہ معلوم کرنا چاہیے کہ پتہ کس ذریعہ سے لگ سکتا ہے۔ ملازم کو تو میں نے بند کر ہی دیا۔۔۔ سالا پچاس جوتوں میں سب کھول دے گا۔۔۔ اور دوچار کو اور بند کردوں۔۔۔ بس ان سب کا عرق نچور لیجیو۔۔۔ یہ نہیں کہ کاتا اور لے دوری۔۔۔ ہلکی آنچ پر تفتیش کی ہانڈی پکاؤ۔۔۔ ہاں جمعدار!‘‘\n\n’’بجا ہے سرکار! پھرآپ کاتجربہ اور آپ کی عقل ہم جاہلوں، گنواروں کے پاس کہاں؟‘‘\n\nبارہ دن گزر گئے، مقتول کی لاش کا پتہ نہیں۔ قاتل بھی لاپتہ ہے۔ تفتیش جاری ہے اور داروغہ نے مسل مرتب کرلی ہے۔ شہادتیں تیار ہیں۔ ثبوت کے گواہ بھی تجویز ہوگئے ہیں۔ مجسٹریٹ سے گرفتاری کا وارنٹ مانگا جانے والا ہے۔ ہر چیز تیار ہے۔ درحقیقت سارا مقدمہ اور چالان تیار ہے۔ صرف خفیف سی کمی یہ رہ گئی ہے کہ ابھی قاتل کا پتہ نہیں چلا۔ اور اس کے علاوہ غیراہم سہی، لیکن ایک کمی یہ بھی ہے کہ مقتول کی لاش کا پتہ نہیں۔ مشتبہ اشخاص کئی ہیں۔ بحث صرف یہ ہے کہ کس کے اور کتنوں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرایا جائے۔ رات کو داروغہ جی کھانا کھاکر اپنے بستر پر لیٹے ہیں، سامنےایک مونڈھے پر تھانہ کے ’’منشی جی‘‘ اور جمعدار بیٹھے ہیں۔ تینوں کے بیچ میں ۔۔۔ اس تثیث کامرکزی نقطہ۔۔۔ ایک حقہ رکھا ہوا ہے۔ گفتگو بہت رازدارانہ ہے۔\n\n’’اجی، ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ وارنٹ ہوجائے۔ کسی کے خلاف ہی ہو۔ مقدمہ تو عدالت میں آجائے۔ ثبوت تو تیار ہو ہی جائے گا۔ اور اس میں آسانی بھی بڑی ہے جو کوئی اپنے کو بے گناہ کہے گا وہ عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرے گا۔ کردے ثابت۔ ہم اگر تین ملزم پیش کریں گے، ایک اگر بری ہوگا تو دو رہ جائیں گے۔ دو اگر بری ہوگئے تب بھی ایک تو رہے گا۔‘‘\n\n’’اور اگر تینوں عدالت سےبری ہوگئے؟‘‘ منشی جی نے لقمہ دیا۔ عدالتی کارروائیوں کے متعلق داروغہ جی کے مشیر خاص منشی جی تھے۔\n\n’’منشی جی تم بھی کیا باتیں کرتے ہو، تین ملزموں میں سے ایک بھی مجرم ثابت نہ ہوسکے؟‘‘\n\nدس دن اور گزر گئے۔ داروغہ جی نے تین ملزموں کے گرفتاری کے وارنٹ حاصل کرلیے۔ سب سے پہلے پولیس کی جماعت موہنی طوائف کے گھر وارنٹ کی تعلیم کرنےپہنچی۔\n\n’’ارے کواڑ کھولو! کہاں ہے موہنی؟ کیا کہا، نہیں ہے؟یہاں نہیں ہے تو کہاں ہے؟ چھپ کر کہاں جائے گی، حرامزادی، بمبئی گئی ہے، یہ نہ کہہ دیا حج کرنے گئی ہے۔ بتاؤ سالو! کہاں ہے ملزمہ، ہم سے بچ کر کہاں جائے گی سسری! یہ پولیس ہے پولیس ہنسی ٹھٹھا نہیں ہے۔ ابھی حاضر کرو ملزمہ کو۔۔۔ نہیں تو۔۔۔‘‘\n\n’’سرکار! وہ تو قسم خدا کی بیس پچیس روز سے یہاں نہیں ہیں۔ بمبئی گئی ہوئی ہیں۔‘‘\n\n’’بمبئی کی ایسی تیسی۔ سچ بتاؤ کہاں چھپایا ہے۔۔۔ یوں نہبتائے گی۔ حرامزادی، چوٹی پکڑ کر لگاؤ تو ایک چانٹا۔ ابھی ٹھیک کیے دیتا ہوں، مجھے بھی کوئی تماشبین سمجھا ہے، ناٹکہ جی! میں تھانہ دار ہوں۔ تھانہ دار۔ لینا جمعدار ذرا بڑھیا ڈہڈو کی خبر!‘‘\n\nداروغہ جی ایک بید کا ٹکڑا ہاتھ میں لیے، سگریٹ منہ میں دبائے ٹہل رہے ہیں:\n\n’’جیسی چاہو قسم لے لو داروغہ جی۔ موہنی یہاں نہیں ہے، ہاں کل آنے والی ہے۔ وہ بمبئی سےآج چلی ہوگی۔ ہزار گواہ پیش کردوں گی۔ اس کو گئے تو بیس پچیس دن ہوگئے۔ کیوں استاد جی کہتے نہیں ہو، تم ہی تو اس کو پہنچانے اسٹیشن پر گئے تھے۔ اور داروغہ جی آپ سے کیا پردہ ہے۔ آپ جاکر پوچھ نہ لیجیے، وہ تو خان صاحب کے ساتھ گئی ہے۔\n\n’’کون خان صاحب، بتا حرامزادی کون خان صاحب، ہم نہیں جانتے کون خان صاحب، ملزمہ کو حاضر کر۔‘‘\n\n’’ارے وہی خان صاحب۔ داروغہ میاں، انہیں کون نہیں جانتا؟ وہی ناپتوکیڑہ کے زمیندار۔ خداداد خاں۔۔۔ کیوں استاد جی، تم نے تو دونوں کو ریل میں سوار ہی کرایا تھا۔‘‘\n\nاس شب کو داروغہ جی نے اپنے روزنامچہ میں کیا کھپایا اور منشی جی نے کیا لکھا۔۔۔ ہمیں معلوم نہیں۔ تفتیش بہرحال نامکمل ہی رہی۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%D8%B1%D8%B3%D8%A7%DA%BA"} {"title": "سراپا حسن سمدھن گویا گلشن کی کیاری ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سراپا حسن سمدھن گویا گلشن کی کیاری ہے\nپری بھی اب تو بازی حسن میں سمدھن سے ماری ہے\n\nکھنچی کنگھی گندھی چوٹی جمی پٹی لگا کاجل\nکماں ابرو نظر جادو نگہ ہر اک دلاری ہے\n\nجبیں مہتاب آنکھیں شوخ شیریں لب گہر دنداں\nبدن موتی دہن غنچہ ادا ہنسنے کی پیاری ہے\n\nنیا کم خواب کا لہنگا جھمکتے تاش کی انگیا\nکچیں تصویر سی جن پہ لگا گوٹا کناری ہے\n\nملائم پیٹ مخمل سا کلی سی ناف کی صورت\nاٹھا سینہ صفا پیڑو عجب جوبن کی ناری ہے\n\nسریں نازک کمر پتلی خط گل زار روما دل\nکہوں کیا آگے اب اس کے مقام پردہ داری ہے\n\nلٹکتی چال مدھ ماتی چلے بچھوں کو جھنکاتی\nادا میں دل لیے جاتی عجب سمدھن ہماری ہے\n\nبھرے جوبن پہ اتراتی جھمک انگیا کی دکھلاتی\nکمر لہنگے سے بل کھاتی لٹک گھونگھٹ کی بھاری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%BE%D8%A7_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B3%D9%85%D8%AF%DA%BE%D9%86_%DA%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی\nعبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا\n\nبقدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی\nجو تو دریاۓ مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا\n\nز بس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا\nچرایا زخم ہائے دل نے پانی تیغ قاتل کا\n\nنگاۂ چشم حاسد وام لے اے ذوق خود بینی\nتماشائی ہوں وحدت خانۂ آئینۂ دل کا\n\nشرر فرصت نگہ سامان یک عالم چراغاں ہے\nبہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا\n\nسراسر تاختن کو شش جہت یک عرصہ جولاں تھا\nہوا واماندگی سے رہ رواں کی فرق منزل کا\n\nمجھے راہ سخن میں خوف گم راہی نہیں غالب\nعصاۓ خضر صحراۓ سخن ہے خامہ بے دل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%BE%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D9%86_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%88_%D9%86%D8%A7_%DA%AF%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C"} {"title": "سرخ رو ہونے کے قابل کیا حنا تھی میں نہ تھا", "poet_page": "مصنف:نواب شاہجہاں بیگم شاہجہاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرخ رو ہونے کے قابل کیا حنا تھی میں نہ تھا\nآپ کے قدموں کے نیچے اس کو جا تھی میں نہ تھا\n\nدیکھتے کیا ہو ادھر گر زلف برہم ہو گئی\nیہ سراسر حرکت باد صبا تھی میں نہ تھا\n\nجل گئے اغیار سب محفل میں آنے سے مرے\nاے پری یہ گرمیٔ آہ رسا تھی میں نہ تھا\n\nکیوں نہ اس حسرت سے میرا شیشۂ دل چور ہو\nباغ تھا ساقی تھا سبزہ تھا ہوا تھی میں نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%AE_%D8%B1%D9%88_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "سرخ چشم اتنی کہیں ہوتی ہے بیداری سے", "poet_page": "مصنف:نواب محمد یار خاں امیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرخ چشم اتنی کہیں ہوتی ہے بیداری سے\nلہو اترا ہے تری آنکھوں میں خوں خواری سے\n\nوقت رخصت کے ترے اے مرے جی کے دشمن\nتھام تھام آج رکھا دل کو میں کس خواری سے\n\nبس میں آیا جو تمہارے اسے چاہو سو کرو\nکیا ستم آدمی سہتا نہیں لاچاری سے\n\nکس نے نظروں میں خدا جانے اسے مل ڈالا\nنرگس آج آنکھ اٹھاتی نہیں بیماری سے\n\nکیا کہوں ولولۂ شوق کو تیرے میں امیرؔ\nگھر میں جاتے ہیں پرائے تو خبرداری سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%AE_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92"} {"title": "سرخ ہو جاتا ہے منہ میری نظر کے بوجھ سے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرخ ہو جاتا ہے منہ میری نظر کے بوجھ سے\nکیا بنے گی زیور گلہائے تر کے بوجھ سے\n\nیوں ہوئے ہیں خاک بعد دفن تیرے ناتواں\nپس گئے ہیں چادر گلہائے تر کے بوجھ سے\n\nشرم گو کم ہو گئی پر نازکی کو کیا کریں\nاب جھکے جاتے ہیں خود اپنی نظر کے کے بوجھ سے\n\nاف ری تیری ناتوانی لاغری اللہ رے ضعف\nایک ہی کروٹ سے ہوں داغ جگر کے بوجھ سے\n\nہلتے ہیں ابرو ترے بار گل رخسار سے\nجس طرح شاخیں لچکتی ہیں ثمر کے بوجھ سے\n\nدل سے آہیں چل چکی ہیں ہو گیا ممکن وصال\nاب لبوں تک آ نہیں سکتیں اثر کے بوجھ سے\n\nیاس و حسرت سے یہ بلبل کی گرانباری ہوئی\nلاکھ من کا ہے قفس اک مشت پر کے بوجھ سے\n\nجامۂ اصلی بہت کہنہ ہوا ہے اے رشیدؔ\nچاک ہو جائے نہ اشک چشم تر کے بوجھ سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%AE_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D9%88%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92"} {"title": "سرد آج کل اس درجہ زمانے کی ہوا ہے", "poet_page": "مصنف:محی الدین فوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرد آج کل اس درجہ زمانے کی ہوا ہے\nانجام کے احساس سے دل کانپ رہا ہے\n\nوہ شکل جو آتے ہی نظر ہو گئی غائب\nجادو ہے کہ بجلی کہ چھلاوا کہ بلا ہے\n\nکشمیر جسے کہتے ہیں سب غیرت فردوس\nجب تو ہی نہیں ہے پاس تو دوزخ سے سوا ہے\n\nکہسار پر یہ ابر کے پھرتے ہوئے سائے\nاک عالم شاداب تجھے ڈھونڈ رہا ہے\n\nگر بادلہ سر پر ہے تو مخمل ہے تہہ پا\nالقصہ عجب منظر پر زیب و ضیا ہے\n\nآ اور مری چشم تصور میں سما جا\nآئینہ ترا دیر سے بے عکس پڑا ہے\n\nاے فوقؔ میں ہوں اس لیے محتاج رفاقت\nتنہا رہ منزل میں کوئی چھوڑ گیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%AF_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D8%B1%D8%AC%DB%81_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "سرد مہری سے تری دل جو تپاں رکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:اشک رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرد مہری سے تری دل جو تپاں رکھتے ہیں\nہمہ تن برف ہیں آہوں میں دھواں رکھتے ہیں\n\nسیل غم آنکھ کے پردے میں نہاں رکھتے ہیں\nناتواں بھی ترے کیا تاب و تواں رکھتے ہیں\n\nفرش رہ کس کے لئے ہم دل و جاں رکھتے ہیں\nخوبرو پاؤں زمیں پر ہی کہاں رکھتے ہیں\n\nبات میں بات اسی کی ہے سنو تم جس کی\nیوں تو کہنے کو سبھی منہ میں زباں رکھتے ہیں\n\nجب سے دشوار ہوا سانس کا آنا جانا\nہم نگاہوں میں جہان گزراں رکھتے ہیں\n\nکس سے بے دردئ احباب کا شکوہ کیجے\nنام بے تابئ دل کا خفقاں رکھتے ہیں\n\nآنکھ کھولی ہے تو صیاد کے گھر کھولی ہے\nہم قفس پر ہی نشیمن کا گماں رکھتے ہیں\n\nپھول بھی منہ سے جھڑیں بات بھی کانٹے کی رہے\nیہ ادا اور سخن ساز کہاں رکھتے ہیں\n\nلوگ روتے بھی ہیں تربت میں لٹا کر اے اشکؔ\nاور سینے پہ بھی اک سنگ گراں رکھتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%AF_%D9%85%DB%81%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%BE%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سردی", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اف رے یہ سردی کا موسم\nکانپ رہے ہیں دیکھو تو ہم\nکیسی کڑاکے کی سردی ہے\nجیسے ہوا میں برف بھری ہے\nپہنے ہوئے ہیں کوئی سوئیٹر\nیا ہے گلے میں اونی مفلر\nکوئی رضائی اوڑھے بیٹھا\nچادر میں ہے کوئی لپٹا\nدستانے اور موزے پہنے\nگھوم رہے ہیں دیکھو بچے\nآگ ہے آگے تاپ رہے ہیں\nکمبل میں لپٹے بیٹھے ہیں\nواہ رے سردی واہ رے سردی\nدن چھوٹے ہیں رات ہے لمبی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%AF%DB%8C"} {"title": "سرزمین زلف میں کیا دل ٹھکانے لگ گیا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرزمین زلف میں کیا دل ٹھکانے لگ گیا\nاک مسافر تھا سر منزل ٹھکانے لگ گیا\n\nگلشن ہستی نہیں جائے شگفتن اے صبا\nدیکھ جو غنچہ گیا یاں کھل ٹھکانے لگ گیا\n\nآبرو رکھ لی خدا نے اس کی ہم چشموں میں آہ\nتیغ ابرو کا تری گھائل ٹھکانے لگ گیا\n\nفرصت یک دم پہ پھولا تھا حباب آب جو\nتھا جو نقش صفحۂ باطل ٹھکانے لگ گیا\n\nجان شیریں دی ترے عاشق نے بھی جوں کوہ کن\nسر سے اپنے مار کر اک سل ٹھکانے لگ گیا\n\nرکھ قدم ہشیار ہو کر عشق کی منزل میں آہ\nجو ہوا اس راہ میں غافل ٹھکانے لگ گیا\n\nچھاؤں میں نخل مژہ کی لوٹتا ہے طفل اشک\nخاک میں یا رفتہ رفتہ مل ٹھکانے لگ گیا\n\nآشنا کوئی نہ دیکھا غرق بحر عشق کا\nایک دم میں جو تہ ساحل ٹھکانے لگ گیا\n\nبے کلی کیوں کر نہ ہووے اس کی فرقت میں نصیرؔ\nعشق میں اس گل بدن کے دل ٹھکانے لگ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%B9%DA%BE%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سرسراہٹ", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہاں ان سلوٹوں پر ہاتھ رکھ دوں\nیہ لہریں ہیں بہی جاتی ہیں اور مجھ کو بہاتی ہیں\nیہ موج بادہ ہیں ساغر کی خوابیدہ فضا دل میں\nاچانک جاگ اٹھتی ہے\nحقیقت کے جہاں سے کوئی اس دنیا میں در آئے\nتو اس کے ہونٹ متبسم ہوں شاید قہقہہ اٹھ کر\nمرے دل کو جکڑ لے اپنے ہاتھوں سے\nمگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ لہریں ابھی تک ساحلی منظر سے ناواقف ہیں یوں ہی اک بہانا کر رہی ہیں اک بہانہ کس کو کہتے ہیں\n\nبہانے ہی بہانے ہیں\nبڑھا کر رکھ دیا لہروں پہ میں نے ہاتھ مرا ہاتھ اک کشتی کی مانند ایک موج تند\nکی افتاد کے جلوے کو مرے سامنے لا کر ہوا ہے گم\nیہ سب موج تخیل کی روانی تھی\nمگر میں سوچتا ہوں بات جو کہنے کی تھی میں نے نہ کیوں پہلے ہی کہہ دی وقت کا\nبے فائدہ مصرف\nہر اک پوشیدہ منظر کو\nاگل ڈالے گا اک لمحہ وہ آئے گا\nکہ جب اس بات کے سننے پہ سننے والے سوچیں گے\nبہانہ کیا تھا سلوٹ کیا تھی موج بادہ بھی کیا تھی\nمگر شب کی اندھیری خلوت گمنام کے پردے میں کھو کر ان کو یہ معلوم ہو جائے گا اک پل میں\nاور اک لذت کے کیف مختصر میں کھو کے وہ بے ساختہ یہ بات کہہ اٹھیں گے کیا\nمجھ کو اجازت ہے\nیہاں ان سلوٹوں پر ہاتھ رکھ دوں یہ جھجک کیسی\nیہ لہریں ہیں انہیں نسبت ہے کالی رات کے غم ناک دریا سے\nجو بہتا ہی چلا جاتا ہے رکتا ہی نہیں پل کو\nجسے کچھ بھی غرض اس سے نہیں میں ہاتھ رکھوں یا جھجک اس ہاتھ کو میرے\nکلیجے سے لگا دے اور میں سو جاؤں ان لہروں کے بستر میں\nکلیجے سے لگا دے اور میں سو جاؤں ان لہروں کے بستر میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%B3%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%B9"} {"title": "سرسری بھی ہے کارگر بھی ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرسری بھی ہے کارگر بھی ہے\nیہ کٹاری بھی ہے نظر بھی ہے\n\nکسے تاکا کسے کیا بسمل\nاو کماندار کچھ خبر بھی ہے\n\nکون کہتا ہے گل نہیں سنتے\nآہ بلبل میں کچھ اثر بھی ہے\n\nگو مری داستاں ہے طول بہت\nتم سنو تو یہ مختصر بھی ہے\n\nمجمع البرزخین ہے انسان\nیہ فرشتہ بھی ہے بشر بھی ہے\n\nنذر ہے جو پسند آئے تمہیں\nدل بھی موجود ہے جگر بھی ہے\n\nوار تیری نگہ کا روکے کون\nکہیں اس تیغ کی سپر بھی ہے\n\nیہ بھی خدمت میں سر بلند رہے\nآئنہ دار اک قمر بھی ہے\n\nان کے وعدوں کا کچھ یقین نہیں\nگفتگو میں اگر مگر بھی ہے\n\nغیر نے تیغ پر گلہ نہ دھرا\nکوئی میرا سا بے جگر بھی ہے\n\nغیر کیا معرکے میں آئیں گے\nبزدلوں کا یہاں گزر بھی ہے\n\nاٹھو اکبرؔ چلو مدینے کو\nاس سے بہتر کوئی سفر بھی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%B3%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DA%AF%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میں\nیاں لگ ہنر میں عشق کے کامل ہوا ہوں میں\n\nسینکوں نگاہ گرم سیں خوش چشم کی مجھے\nشمشیر اس بھواں کے سیں گھائل ہوا ہوں میں\n\nمانند آسماں ہے مشبک مرا جگر\nکس کی نگہ سیں آج مقابل ہوا ہوں میں\n\nبھاری ہے دیکھنا مرا تجھ کن رقیب کوں\nچھاتی پے اس کی آج بجرسل ہوا ہوں میں\n\nزلف مطول و دہن مختصر کوں دیکھ\nتیرے درس کے علم میں فاضل ہوا ہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سرسید کے مزار پر", "poet_page": "مصنف:محمد صادق ضیا", "kind": "poetry", "section": "نظم > صبح مشرق (1938)", "year": "1938", "text_ur": "چراغ علم روشن ہے حقیقت کی ہواؤں پر\nحکومت کر رہا ہے ایک گوشے سے فضاؤں پر\n\nیہ سر سبزی و شادابی جو ویرانی کا حاصل ہے\nرگوں میں اس کی پوشیدہ تموج خیز اک دل ہے\n\nابھی تک خاک میں اس کی ہے جوش ارتقا باقی\nلحد پر گھاس کے پتوں میں ہے نشوونما باقی\n\nابھی تک انجمن میں گونج باقی ہے صداؤں کی\nابھی تک کھیلتی ہے خاک سے شوخی ہواؤں کی\n\nیہ بزم خواب سرسید یہ نقش عظمت رفتہ\nمے ایثار سے لبریز ہے اک جام نورانی\n\nمحبت کی طرح آباد رکھے گا خدا اس کو\nمٹا سکتی نہیں دنیائے حادث کی ہوا اس کو\n\nمیں ذوق علم لے کر تربت سید پر آیا ہوں\nعقیدت کے شگفتہ پھول اپنے ساتھ لایا ہوں\n\nتری وحشت لئے پھرتی ہے گرم جستجو مجھ کو\nسکوں اندوز ہونے کی بہت ہے آرزو مجھ کو\n\nفضاؤں میں محبت کی حقیقت آشنا ہوں میں\nاک آغوش ادب میں پرورش پاتا رہا ہوں میں\n\nبقدر ذوق تکمیل تمنا کی تمنا ہے\nاسی آغوش میں معراج فردا کی تمنا ہے\n\nتمنا ہے جہان علم میں چمکوں سہا بن کر\nجمود ظلمت ہستی پہ چھا جاؤں ضیا بن کر\n\nتمنا ہے کہ دنیا مجھ سے یکسر نور ہو جائے\nیہ تاریکی سمٹ کر ایک دن کافور ہو جائے\n\nتمنا ہے کہ سرسید بنوں یا شبلیؔ و حالیؔ\nکہ ان ارباب محفل کی ابھی تک ہے جگہ خالی\n\nالٰہی خاک سرسید سے کچھ چنگاریاں دے دے\nمذاق دل ترستا ہے تپش سامانیاں دے دے\n\nمری قسمت میں اس مے خانے کا ساغر نہیں یا رب\nعوض میں اس کے مجھ کو مشرب پیر مغاں دے دے\n\nجہاں اک طائر سدرہ کسی دن چہچہایا تھا\nانہیں شاخوں پہ مجھ کو اختیار آشیاں دے دے\n\nجو میرے ساز فطرت میں نیا اک سوز بھرنا ہے\nتو جوہرؔ اور ظفرؔ کیسی زبان نغمہ خواں دے دے\n\nمجھے درکار ہے پھر ملک و ملت کی حدی خوانی\nنذیرؔ و شبلیؔ و حالیؔ کا انداز بیاں دے دے\n\nغبار رہ گزار دہر میں آلودگی کب تک\nمرے زریں تصور کو بساط کہکشاں دے دے\n\nدماغ و ذہن میں اک جنگ برپا ہے خیالوں کی\nاسے ہموار کر کے اک سکون جاوداں دے دے\n\nاگر ہے قافلے کے ساتھ چلنا میرا نا ممکن\nتو مجھ کو رہنما کر دے مجھے اک کارواں دے دے\n\nزمیں پر پاؤں پھیلانے کی گنجائش اگر کم ہے\nمجھے بادل بنا دے سیر کو اک آسماں دے دے\n\nاگر تخئیل سرسید ہے اب گلدستۂ ماضی\nجوانی کی امنگوں کو نئی انگڑائیاں دے دے\n\nپیام کامیابی دے مجھے ایوان رفعت سے\nمیں خالی ہاتھ جا سکتا نہیں سید کی تربت سے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے", "poet_page": "مصنف:بسمل عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": "1922", "text_ur": "سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے\nدیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے\n\nاے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار\nلے تری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے\n\nوائے قسمت پاؤں کی اے ضعف کچھ چلتی نہیں\nکارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے\n\nرہرو راہ محبت رہ نہ جانا راہ میں\nلذت صحرا نوردی دورئ منزل میں ہے\n\nشوق سے راہ محبت کی مصیبت جھیل لے\nاک خوشی کا راز پنہاں جادۂ منزل میں ہے\n\nآج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار\nآئیں وہ شوق شہادت جن کے جن کے دل میں ہے\n\nمرنے والو آؤ اب گردن کٹاؤ شوق سے\nیہ غنیمت وقت ہے خنجر کف قاتل میں ہے\n\nمانع اظہار تم کو ہے حیا، ہم کو ادب\nکچھ تمہارے دل کے اندر کچھ ہمارے دل میں ہے\n\nمے کدہ سنسان خم الٹے پڑے ہیں جام چور\nسرنگوں بیٹھا ہے ساقی جو تری محفل میں ہے\n\nوقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں\nہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے\n\nاب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ وہ ارماں کی بھیڑ\nصرف مٹ جانے کی اک حسرت دل بسملؔ میں ہے", "license": "PD-US-1923-abroad", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "سرمایہ داری", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کلیجہ پھنک رہا ہے اور زباں کہنے سے عاری ہے\nبتاؤں کیا تمہیں کیا چیز یہ سرمایہ داری ہے\nیہ وہ آندھی ہے جس کی رو میں مفلس کا نشیمن ہے\nیہ وہ بجلی ہے جس کی زد میں ہر دہقاں کا خرمن ہے\nیہ اپنے ہاتھ میں تہذیب کا فانوس لیتی ہے\nمگر مزدور کے تن سے لہو تک چوس لیتی ہے\nیہ انسانی بلا خود خون انسانی کی گاہک ہے\nوبا سے بڑھ کے مہلک موت سے بڑھ کر بھیانک ہے\nنہ دیکھے ہیں برے اس نے نہ پرکھے ہیں بھلے اس نے\nشکنجوں میں جکڑ کر گھونٹ ڈالے ہیں گلے اس نے\nبلائے بے اماں ہے طور ہی اس کے نرالے ہیں\nکہ اس نے غیظ میں اجڑے ہوئے گھر پھونک ڈالے ہیں\nقیامت اس کے غمزے جان لیوا ہیں ستم اس کے\nہمیشہ سینۂ مفلس پہ پڑتے ہیں قدم اس کے\nکہیں یہ خوں سے فرد مال و زر تحریر کرتی ہے\nکہیں یہ ہڈیاں چن کر محل تعمیر کرتی ہے\nغریبوں کا مقدس خون پی پی کر بہکتی ہے\nمحل میں ناچتی ہے رقص گاہوں میں تھرکتی ہے\nبظاہر چند فرعونوں کا دامن بھر دیا اس نے\nمگر گل باغ عالم کو جہنم کر دیا اس نے\nدرندے سر جھکا دیتے ہیں لوہا مان کر اس کا\nنظر سفاک تر اس کی نفس مکروہ تر اس کا\nجدھر چلتی ہے بربادی کے ساماں ساتھ چلتے ہیں\nنحوست ہم سفر ہوتی ہے شیطاں ساتھ چلتے ہیں\nیہ اکثر لوٹ کر معصوم انسانوں کو راہوں میں\nخدا کے زمزمے گاتی ہے چھپ کر خانقاہوں میں\nیہ ڈائن ہے بھری گودوں سے بچے چھین لیتی ہے\nیہ غیرت چھین لیتی ہے حمیت چھین لیتی ہے\nیہ انسانوں سے انسانوں کی فطرت چھین لیتی ہے\nیہ آشوب ہلاکت فتنۂ اسکندر و دارا\nزمیں کے دیوتاؤں کی کنیز انجمن آرا\nہمیشہ خون پی کر ہڈیوں کے رتھ میں چلتی ہے\nزمانہ چیخ اٹھتا ہے یہ جب پہلو بدلتی ہے\nگرجتی گونجتی یہ آج بھی میداں میں آتی ہے\nمگر بد مست ہے ہر ہر قدم پر لڑکھڑاتی ہے\nمبارک دوستو لبریز ہے اب اس کا پیمانہ\nاٹھاؤ آندھیاں کمزور ہے بنیاد کاشانہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D9%85%D8%A7%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "سرمایۂ اعتبار دے دیں تم کو", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "سرمایۂ اعتبار دے دیں تم کو\nرنگ حسن بہار دے دیں تم کو\nاس سے بہتر کہ نت نئے شکوے ہوں\nہر چیز کا اختیار دے دیں تم کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D9%85%D8%A7%DB%8C%DB%82_%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "سرمایۂ علم و فضل کھویا میں نے", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "سرمایۂ علم و فضل کھویا میں نے\nسب دفتر پارینہ ڈبویا میں نے\nبس ہے تری خاک پا تیمم کے لیے\nاے دوست وضو سے ہاتھ دھویا میں نے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D9%85%D8%A7%DB%8C%DB%82_%D8%B9%D9%84%D9%85_%D9%88_%D9%81%D8%B6%D9%84_%DA%A9%DA%BE%D9%88%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92"} {"title": "سرمہ جو زیب چشم سیہ فام ہو گیا", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرمہ جو زیب چشم سیہ فام ہو گیا\nفتنہ سوار ابلق ایام ہو گیا\n\nپیمانے کے طواف میں ہے میکشوں کی آنکھ\nتار نگاہ ان کا خط جام ہو گیا\n\nآیا جو سیر کو لب ساحل وہ بادہ نوش\nدریا میں جو حباب اٹھا جام ہو گیا\n\nاے دل فراق یار میں مرنا ہے زندگی\nجانباز عاشقوں میں ترا نام ہو گیا\n\nٹکڑے دل و جگر کے اڑانے سے فائدہ\nاے تیغ ناز اب تو مرا کام ہو گیا\n\nزلفوں کی یاد میں نظر آیا جو روئے یار\nتھا کفر کا خیال پر اسلام ہو گیا\n\nاس زلف کے خیال نے افسردہ دل کیا\nٹھنڈا چراغ عمر سر شام ہو گیا\n\nملتے نہیں وہ ہم سے اب اتنے ضعیف ہیں\nلبریز عمر خضر کا بھی جام ہو گیا\n\nطاقت بدن میں آ گئی چہرہ بحال ہے\nتشریف لائے آپ کہ آرام ہو گیا\n\nتو شام کو جو آیا ٹہلنے کے واسطے\nسرتاج کوہ طور ترا بام ہو گیا\n\nسرمے سے اڑ چلا تری آنکھوں کا حسن اور\nکیا تیز گام ابلق ایام ہو گیا\n\nہم ابتدائے عشق ہی میں ہو گئے تمام\nآغاز جس کو سمجھے تھے انجام ہو گیا\n\nخلعت دیا جو زخموں کا قاتل کی تیغ نے\nنام آوری کا خوب سرانجام ہو گیا\n\nکہتا ہے طعن سے تو ہمیں بندۂ خدا\nاتنا مزاج او بت خود کام ہو گیا\n\nقاصد نے بے دھڑک جو سنایا جواب شوق\nپیغام یار موت کا پیغام ہو گیا\n\nپھیلا یہ سحر چشم فسوں ساز یار کا\nپٹنہ ہمارا خطۂ آشام ہو گیا\n\nقسمت میں پختگی جو نہ روز ازل سے تھی\nجو پھل ہمیں ملا ثمر خام ہو گیا\n\nاس رشک گل نے دیکھتے ہی صید کر لیا\nتار نگاہ ناز مجھے دام ہو گیا\n\nاب ذکر بھی ہمارا تمہیں ناگوار ہے\nایسا ذلیل عاشق ناکام ہو گیا\n\nحاصل ہوئی ہے یہ برکت نعت پاک سے\nاکبرؔ ترا بھی شاہ سخن نام ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D9%85%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%B2%DB%8C%D8%A8_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%D9%81%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے\nکہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا\n\nرخصت نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم\nتیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا\n\nخلوت آبلۂ پا میں ہے جولاں میرا\nخوں ہے دل تنگیٔ وحشت سے بیاباں میرا\n\nحسرت نشۂ وحشت نہ بہ سعیٔ دل ہے\nعرض خمیازۂ مجنوں ہے گریباں میرا\n\nفہم زنجیری بے ربطی دل ہے یارب\nکس زباں میں ہے لقب خواب پریشاں میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D9%85%DB%82_%D9%85%D9%81%D8%AA_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%82%DB%8C%D9%85%D8%AA_%DB%8C%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "سرو قد لالہ رخ و غنچہ دہن یاد آیا", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرو قد لالہ رخ و غنچہ دہن یاد آیا\nپھر بہار آئی مجھے لطف چمن یاد آیا\n\nگو کہ تھی سلطنت مصر مگر آخر کار\nاس حکومت پہ بھی یوسف کو وطن یاد آیا\n\nرگ گل پر ہے کبھی اور کبھی غنچہ پہ نگاہ\nباغ میں کس کی کمر کس کا دہن یاد آیا\n\nسفر ملک عدم کی ہوئی ایسی عجلت\nزاد رہ کچھ نہ بجز گور و کفن یاد آیا\n\nصحبت لالہ رخاں عہد شباب و شب وصل\nمئے کہنہ جو ملی داغ کہن یاد آیا\n\nجب سے آیا ہے نظر یہ ترا حسن بے داغ\nکبک کو ماہ نہ بلبل کو چمن یاد آیا\n\nتیرے سودائی کو پھر جوش ہوا وحشت کا\nقیدیٔ زلف کو پھر طوق و رسن یاد آیا\n\nپان کھا کر جو اگال آپ نے تھوکا صاحب\nجوہری محو ہوے لعل یمن یاد آیا\n\nبعد مدت کے طلب آپ نے بندہ کو کیا\nشکر صد شکر میں اے مشفق من یاد آیا\n\nفصل گل آتے ہی آغاؔ نے بھی وحشت کی لی\nکیسی یہ چال چلا کس کا چلن یاد آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D9%82%D8%AF_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%B1%D8%AE_%D9%88_%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%81_%D8%AF%DB%81%D9%86_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سرو میں رنگ ہے کچھ کچھ تری زیبائی کا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرو میں رنگ ہے کچھ کچھ تری زیبائی کا\nجامۂ گل میں ہے چھاپہ تری رعنائی کا\n\nپاؤں سے راز کھلا بادیہ پیمائی کا\nجو پھپھولا تھا ڈھنڈھورا ہوا رسوائی کا\n\nساتھ آیا کوئی میری نہ کوئی جائے گا ساتھ\nمورد لطف ازل سے ہوں میں تنہائی کا\n\nزلف کی ایک ہی جھٹکے میں کلیجہ پھڑکا\nبہت ایوب کو دعویٰ تھا شکیبائی کا\n\nچار دن اور جوانی کے گزر جانے دو\nحال پوچھیں گے جوانوں سے توانائی کا\n\nجوش میں کوئی نہیں جامہ دری کا مانع\nہتھکڑی ہاتھ پکڑتی نہیں سودائی کا\n\nحال قابیل کا ہابیل سے پوچھے کوئی\nوہ زمانہ ہے کہ بھائی ہے عدو بھائی کا\n\nلشکر غم کی چڑھائی ہے خبردار اے دل\nمورچہ ٹوٹنے پائی نہ شکیبائی کا\n\nکیوں نہ پلکیں ہوں جفا کار جو آفت ہوں بھویں\nبل ہے تیروں کو کمانوں کی توانائی کا\n\nکوئی سجدہ تری درگاہ کی قابل نہ ہوا\nلے چلا داغ جبیں پر میں جبیں جائی کا\n\nاف نہیں کرتے ہیں عشاق ستم سہتے ہیں\nکیا ہی دلبر کو سلیقہ ہے دل آرائی کا\n\nیار کی حسن جوانی کا میں دیوانہ ہوں\nخط رخسار ہے محضر مری رسوائی کا\n\nمثل نے سینے میں پڑ جائیں گے چھید اے بلبل\nنہ اڑا طرز مرے زمزمہ پیرائی کا\n\nعکس آئینے میں صورت کا پتا دیتا ہے\nکھل گیا حال دوئی سے تری یکتائی کا\n\nاپنے ہستی کو سمجھتا رہے برباد انسان\nچار عنصر نہیں جھونکا ہے یہ چوپائی کا\n\nبرق گریہ ہے شب و روز بتوں کے غم میں\nبحرؔ تیرا ہے جنم مردم دریائی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%DB%8C%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "سرو گلشن پر سخن اس قد کا بالا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرو گلشن پر سخن اس قد کا بالا ہو گیا\nہر نہال اس شرم سیں جنگل کا پالا ہو گیا\n\nآوتا ہے یہ بہا ہو آنکھ سیں دامن تلک\nطفل اشک اس آج کل میں کیا جوالا ہو گیا\n\nجب سیں اس الماس کی پہنچی کا ہے آنسو میں عکس\nتب سیں ہر تار فلک ہیروں کا مالا ہو گیا\n\nدل جگر کی پھکڑیاں آہوں کے تاروں میں پرو\nبیٹھ کر دوکان غم پر پھول والا ہو گیا\n\nاشک باراں آہ بجلی اشک کی کالی گھٹا\nماہ رو بن کس طرح کا برشگالا ہو گیا\n\nباغ میں سرما تھا اور تھی یاد دل دار دو رنگ\nمجھ کوں ہر برگ گل رعنا دوشالا ہو گیا\n\nنیند سیں کھل گئیں مری آنکھیں سو دیکھا یار کوں\nیا اندھارا اس قدر تھا یا اجالا ہو گیا\n\nہجر کی مٹھ میں تصور اس غزالی چشم کا\nعشق کے بیراگیوں کو مرگ چھالا ہو گیا\n\nبھر رہا ہے بس کہ دود آہ میرا اے سراجؔ\nآسماں جیوں پردۂ فانوس کالا ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D9%88_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سرود", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "آیا کہاں سے نالۂ نَے میں سرورِ مے\nاصل اس کی نَے نواز کا دل ہے کہ چوبِ نَے\nدل کیا ہے، اس کی مستی و قُوّت کہاں سے ہے\nکیوں اس کی اک نگاہ اُلٹتی ہے تختِ کے\nکیوں اس کی زندگی سے ہے اقوام میں حیات\nکیوں اس کے واردات بدلتے ہیں پے بہ پے\nکیا بات ہے کہ صاحبِ دل کی نگاہ میں\nجچتی نہیں ہے سلطنتِ روم و شام و رے\nجس روز دل کی رمز مُغنّی سمجھ گیا\nسمجھو تمام مرحلہ ہائے ہُنر ہیں طے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%AF"} {"title": "سرودِ حرام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "نہ میرے ذکر میں ہے صُوفیوں کا سوز و سُرور\nنہ میرا فکر ہے پیمانۂ ثواب و عذاب\nخدا کرے کہ اُسے اتفاق ہو مجھ سے\nفقیہِ شہر کہ ہے محرمِ حدیث و کتاب\nاگر نَوا میں ہے پوشیدہ موت کا پیغام\nحرام میری نگاہوں میں ناے و چنگ و رباب!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%AF%D9%90_%D8%AD%D8%B1%D8%A7%D9%85"} {"title": "سرودِ حلال", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "کھُل تو جاتا ہے مُغَنّی کے بم و زیر سے دل\nنہ رہا زندہ و پائندہ تو کیا دل کی کشود!\nہے ابھی سینۂ افلاک میں پنہاں وہ نَوا\nجس کی گرمی سے پِگھل جائے ستاروں کا وجود\nجس کی تاثیر سے آدم ہو غم و خوف سے پاک\nاور پیدا ہو ایازی سے مقامِ محمودؔ\nمہ و انجم کا یہ حیرت کدہ باقی نہ رہے\nتُو رہے اور تِرا زمزمۂ لا موجود\nجس کو مشروع سمجھتے ہیں فقیہانِ خودی\nمنتظر ہے کسی مُطرب کا ابھی تک وہ سرود!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%AF%D9%90_%D8%AD%D9%84%D8%A7%D9%84"} {"title": "سرور افزا ہوئی آخر شراب آہستہ آہستہ", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرور افزا ہوئی آخر شراب آہستہ آہستہ\nہوا وہ بزم مے میں بے حجاب آہستہ آہستہ\n\nرخ روشن سے یوں اٹھی نقاب آہستہ آہستہ\nکہ جیسے ہو طلوع آفتاب آہستہ آہستہ\n\nکیا جب شوق نے اس سے خطاب آہستہ آہستہ\nحیا نے بھی دیا آخر جواب آہستہ آہستہ\n\nوہ مستی خیز نظریں رفتہ رفتہ لے اڑیں مجھ کو\nکیا کاشانۂ دل کو خراب آہستہ آہستہ\n\nبڑھا ہنگامۂ شوق اس قدر بزم حریفاں میں\nکہ رخصت ہو گیا اس کا حجاب آہستہ آہستہ\n\nکیا کامل ہمیں اک عمر میں سوز محبت نے\nہوئے ہم آتش غم سے کباب آہستہ آہستہ\n\nعبث تھا ضبط کا دعویٰ ستم اس کے ستم نکلے\nنگاہیں ہو گئیں آخر پر آب آہستہ آہستہ\n\nدبستان وفا میں عمر بھر کی صفحہ گردانی\nسمجھ میں آئی الفت کی کتاب آہستہ آہستہ\n\nبقدر شوق اسے تاب طپیدہ تھی کہاں قاتل\nکیا بسمل نے تیرے اضطراب آہستہ آہستہ\n\nبلا ہیں شاہدان شہر وحشتؔ مے پرستی میں\nہوا میں ان کی صحبت میں خراب آہستہ آہستہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%81%D8%B2%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81"} {"title": "سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ\nنکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ\n\nجواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ\nحیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ\n\nشب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو\nکبھی فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ\n\nسوال وصل پر ان کو عدو کا خوف ہے اتنا\nدبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ\n\nوہ بے دردی سے سر کاٹیں امیرؔ اور میں کہوں ان سے\nحضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%AA%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%AE_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81"} {"title": "سرکنڈوں کے پیچھے (افسانہ)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سرکنڈوں کے پیچھے", "year": "1955", "text_ur": "کون سا شہر تھا، اس کے متعلق جہاں تک میں سمجھتا ہوں، آپ کو معلوم کرنے اور مجھے بتانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بس اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ وہ جگہ جو اس کہانی سے متعلق ہے، پشاور کے مضافات میں تھی۔ سرحد کے قریب۔ اور جہاں وہ عورت تھی، اس کا گھر جھونپڑا نما تھا۔۔۔ سرکنڈوں کے پیچھے۔\n\nگھنی باڑھ تھی، جس کے پیچھے اس عورت کا مکان تھا، کچی مٹی کا بنا ہوا۔ چونکہ یہ باڑھ سے کچھ فاصلے پر تھا، اس لیے سرکنڈوں کے پیچھے چھپ سا گیا تھا کہ باہر کچی سڑک پر سے گزرنے والا کوئی بھی اسے دیکھ نہیں سکتا تھا۔سرکنڈے بالکل سوکھے ہوئے تھے مگر وہ کچھ اس طرح زمین میں گڑے ہوئے تھے کہ ایک دبیز پردہ بن گیے تھے۔ معلوم نہیں اس عور ت نے خود وہاں پیوست کیے تھے یا پہلے ہی سے موجود تھے۔ بہر حال، کہنا یہ ہے کہ وہ آہنی قسم کے پردہ پوش تھے۔\n\nمکان کہہ لیجئے یا مٹی کا جھونپڑا، صرف چھوٹی چھوٹی تین کوٹھریاں تھیںمگر صاف ستھری۔ سامان مختصر تھا مگر اچھا۔ پچھلے کمرے میں ایک بہت بڑا نواڑی پلنگ تھا۔ اس کے ساتھ ایک طاقچہ تھا جس میں سرسوں کے تیل کا دیا رات بھر جلتا رہتا تھا۔۔۔ مگر یہ طاقچہ بھی صاف ستھرا رہتا تھا۔ اور وہ دیا بھی جس میں ہر روز نیا تیل اور بتی ڈالی جاتی تھی۔\n\nاب میں آپ کو اس عورت کا نام بتادوں جو اس مختصر سے مکان میں، جو سرکنڈوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا، اپنی جوان بیٹی کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔\nمختلف روایتیں ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ اس کی بیٹی نہیں تھی ایک یتیم لڑکی تھی، جس کو اس نے بچپن سے گود لے کرپال پوس کر بڑا کیا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کی ناجائز لڑکی تھی۔ کچھ ایسے بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ وہ اس کی سگی بیٹی تھی۔۔۔ حقیقت جو کچھ بھی ہے، اس کے متعلق وثوق سے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ یہ کہانی پڑھنے کے بعد آپ خودبخود کوئی نہ کوئی رائے قائم کرلیجئے گا۔\n\nدیکھیے، میں آپ کو اس عورت کا نام بتانا بھول گیا۔۔۔ بات اصل میں یہ ہے کہ اس کا نام کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اس کا نام آپ کچھ بھی سمجھ لیجیے، سکینہ، مہتاب، گلشن یا کوئی اور۔ آخر نام میں کیا رکھا ہے لیکن آپ کی سہولت کی خاطر میں اسے سردار کہوں گا۔\n\nیہ سردار، ادھیڑ عمر کی عورت تھی۔ کسی زمانے میں یقیناخوبصورت تھی۔ اس کے سرخ و سفید گالوں پر گو کسی قدر جھریاں پڑ گئی تھیں، مگر پھر بھی وہ اپنی عمر سے کئی برس چھوٹی دکھائی دیتی تھی مگر ہمیں اس کے گالوں سے کوئی تعلق نہیں۔\n\nاس کی بیٹی، معلوم نہیں وہ اس کی بیٹی تھی یا نہیں، شباب کا بڑا دلکش نمونہ تھی۔ اس کے خدوخال میں ایسی کوئی چیز نہیں تھی جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکے کہ وہ فاحشہ ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس کی ماں اس سے پیشہ کراتی تھی اور خوب دولت کما رہی تھی۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس لڑکی کو، جس کا نام پھر آپ کی سہولت کی خاطر نواب رکھے دیتا ہوں، کو اس پیشے سے نفرت نہیں تھی۔\n\nاصل میں اس نے آبادی سے دور ایک ایسے مقام پر پرورش پائی تھی کہ اس کو صحیح ازدواجی زندگی کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ جب سردار نے اس سے پہلا مرد بستر پر۔۔۔ نواڑی پلنگ پر متعارف کروایا تو غالباً اس نے یہ سمجھا کہ تمام لڑکیوں کی جوانی کا آغاز کچھ اسی طرح ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی اس کسبیانہ زندگی سے مانوس ہوگئی تھی اور وہ مرد جو دور دور سے چل کر اس کے پاس آتے تھے اور اس کے ساتھ اس بڑے نواڑی پلنگ پر لیٹتے تھے، اس نے سمجھا تھا کہ یہی اس کی زندگی کا منتہیٰ ہے۔\n\nیوں تو وہ ہر لحاظ سے ایک فاحشہ عورت تھی، ان معنوں میں جن میں ہماری شریف اور مطہر عورتیں ایسی عورتوں کو دیکھتی ہیں، مگر سچ پوچھیے تو اس امر کا قطعاً احساس نہ تھا کہ وہ گناہ کی زندگی بسر کررہی ہے۔۔۔ وہ اس کے متعلق غور بھی کیسے کرسکتی تھی جب کہ اس کو اس کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔اس کے جسم میں خلوص تھا۔ وہ ہر مرد کو جو اس کے پاس ہفتے ڈیڑھ ہفتے کے بعد طویل مسافت طے کرکے آتا تھا، اپنا آپ سپرد کردیتی تھی، اس لیے کہ وہ یہ سمجھتی تھی کہ ہر عورت کا یہی کام ہے۔ اور وہ اس مرد کی ہر آسائش، اس کے ہر آرام کا خیال رکھتی تھی۔ وہ اس کی کوئی ننھی سی تکلیف بھی برداشت نہیں کرسکتی تھی۔\n\nاس کو شہر کے لوگوں کے تکلفات کا علم نہیں تھا۔ وہ یہ قطعاً نہیں جانتی تھی کہ جو مرد اس کے پاس آتے ہیں، صبح سویرے اپنے دانت برش کے ساتھ صاف کرنے کے عادی ہیں اور آنکھیں کھول کر سب سے پہلے بستر میں چائے کی پیالی پیتے ہیں، پھر رفع حاجت کے لیے جاتے ہیں، مگر اس نے آہستہ آہستہ بڑے الہڑ طریقے پر ان مردوں کی عادات سے کچھ واقفیت حاصل کرلی تھی۔ پر اسے بڑی الجھن ہوتی تھی کہ سب مرد ایک طرح کے نہیں ہوتے تھے۔ کوئی صبح سویرے اٹھ کر سگریٹ مانگتا تھا، کوئی چائے اور بعض ایسے بھی ہوتے جو اٹھنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔ کچھ ساری رات جاگتے رہتے اور صبح موٹر میں سوار ہو کر بھاگ جاتے تھے۔\n\nسردار بے فکر تھی۔ اس کو اپنی بیٹی پر، یا جو کچھ بھی وہ تھی، پورا اعتماد تھا کہ وہ اپنے گاہکوں کو سنبھال سکتی ہے، اس لیے وہ افیم کی ایک گولی کھا کرکھاٹ پر سوئی رہتی تھی۔ کبھی کبھار جب اس کی ضرورت پڑتی۔۔۔ مثال کے طور پر جب کسی گاہک کی طبیعت زیادہ شراب پینے کے باعث یکدم خراب ہوتی تو وہ غنودگی کے عالم میں اٹھ کر نواب کو ہدایات دے دیتی تھی کہ اس کو اچار کھلادے یا کوشش کرے کہ وہ نمک ملا گرم گرم پانی پلا کر قے کرادے اور بعد میں تھپکیاں دے کر سلا دے۔\n\nسردار اس معاملے میں بڑی محتاط تھی کہ جونہی گاہک آتا، وہ اس سے نواب کی فیس پہلے وصول کرکے اپنے نیفے میں محفوظ کرلیتی تھی اور اپنے مخصوص انداز میں دعائیں دے کر کہ تم آرام سے جھولے جھولو، افیم کی ایک گولی ڈبیا میں سے نکال کر منہ میں ڈال کر سو جاتی۔\n\nجو روپیہ آتا، اس کی مالک سردار تھی۔ لیکن جو تحفے تحائف وصول ہوتے، وہ نواب ہی کے پاس رہتے تھے۔ چونکہ اس کے پاس آنے والے لوگ دولت مند ہوتے، اس لیے وہ بڑھیا کپڑا پہنتی اور قسم قسم کے پھل اور مٹھائیاں کھاتی تھی۔\n\nوہ خوش تھی۔۔۔ مٹی سے لپے پتے اس مکان میں جو صرف تین چھوٹی چھوٹی کوٹھریوں پر مشتمل تھا، وہ اپنی دانست کے مطابق بڑی دلچسپ اور خوش گوار زندگی بسر کررہی تھی۔۔۔ ایک فوجی افسر نے اسے گرامو فون اور بہت سے ریکارڈلا دیے تھے۔ فرصت کے اوقات میں وہ ان کو بجا بجا کر فلمی گانے سنتی اور ان کی نقل اتارنے کی کوشش کیا کرتی تھی۔ اس کے گلے میں کوئی رس نہیں تھا مگر شاید وہ اس سے بے خبر تھی۔۔۔ سچ پوچھیے تو اس کو کسی بات کی خبر بھی نہیں تھی اور نہ اس کو اس بات کی خواہش تھی کہ وہ کسی چیز سے باخبر ہو۔جس راستے پر وہ ڈال دی گئی تھی، اس کو اس نے قبول کرلیا تھا۔۔۔ بڑی بے خبری کے عالم میں۔\n\nسرکنڈوں کے اس پار کی دنیا کیسی ہے، اس کے متعلق وہ کچھ نہیں جانتی تھی سوائے اس کےکہ ایک کچی سڑک ہے جس پر ہر دوسرے تیسرے دن ایک موٹر دھول اڑاتی ہوئی آتی ہے اور رک جاتی ہے۔ ہارن بجتا ہے۔ اس کی ماں یا جو کوئی بھی وہ تھی، کھٹیا سے اٹھتی ہے اور سرکنڈوں کے پاس جا کر موٹر والے سے کہتی ہے کہ موٹر ذرا دور کھڑی کرکے اندر آ جائے۔ اور وہ اندر آجاتا ہے اور نواڑی پلنگ پر اس کے ساتھ بیٹھ کر میٹھی میٹھی باتوں میں مشغول ہو جاتا ہے۔\n\nاس کے ہاں آنے جانے والوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔ یہی پانچ چھ ہوں گے مگر یہ پانچ چھ مستقل گاہک تھے اور سردار نے کچھ ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ ان کا باہم تصادم نہ ہو۔ بڑی ہوشیار عورت تھی۔۔۔ وہ ہر گاہک کے لیے خاص دن مقرر کردیتی، اور ایسے سلیقے سے کہ کسی کو شکایت کا موقع نہ ملتاتھا۔\n\nاس کے علاوہ ضرورت کے وقت وہ اس کا بھی انتظام کرتی رہتی کہ نواب ماں نہ بن جائے۔ جن حالات میں نواب اپنی زندگی گزار رہی تھی، ان میں اس کا ماں بن جانا یقینی تھا مگر سردار دو ڈھائی برس سے بڑی کامیابی کے ساتھ اس قدرتی خطرے سے نبٹ رہی تھی۔\n\nسرکنڈوں کے پیچھے یہ سلسلہ دو ڈھائی برس سے بڑے ہموار طریقے پر چل رہا تھا۔ پولیس والوں کو بالکل علم نہیں تھا۔ بس صرف وہی لوگ جانتے تھے جو وہاں آتے تھے۔یا پھر سردار اور اس کی بیٹی نواب، یا جو کوئی بھی وہ تھی۔\n\nسرکنڈوں کے پیچھے، ایک دن مٹی کے اس مکان میں ایک انقلاب برپا ہوگیا۔ ایک بہت بڑی موٹر جو غالباً ڈوج تھی وہاں آکے رکی۔ ہارن بجا۔ سردار باہر آئی تو اس نے دیکھا کوئی اجنبی ہے۔ اس نے اس سے کوئی بات نہ کی۔ اجنبی نے بھی اس سے کچھ نہ کہا۔ موٹر دور کھڑی کرکے وہ اترا اور سیدھا ان کے گھر میں گھس گیا جیسے برسوں کا آنے جانے والا ہو۔\n\nسردار بہت سٹپٹائی، لیکن دروازے کی دہلیز پر نواب نے اس اجنبی کا بڑی پیاری مسکراہٹ سے خیر مقدم کیا اور اسے اس کمرے میں لے گئی جس میں نواڑی پلنگ تھا۔ دونوں اس پر ساتھ ساتھ بیٹھے ہی تھے کہ سردار آگئی۔۔۔ ہوشیار عورت تھی۔ اس نے دیکھا کہ اجنبی کسی دولت مند گھرانے کا آدمی ہے۔ خوش شکل ہے، صحت مند ہے۔ اس نے اندر کوٹھری میں داخل ہو کر سلام کیا اور پوچھا، ’’آپ کو ادھر کاراستہ کس نے بتایا؟‘‘\n\nاجنبی مسکرایا اور بڑے پیار سے نواب کے گوشت بھرے گالوں میں اپنی انگلی چبھو کرکہا، ’’اس نے؟‘‘\n\nنواب تڑپ کر ایک طرف ہٹ گئی، ایک ادا کے ساتھ کہا، ’’ہائیں۔۔۔ میں تو کبھی تم سے ملی بھی نہیں؟‘‘\n\nاجنبی کی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر اور زیادہ پھیل گئی۔ ’’ہم تو کئی بار تم سے مل چکے ہیں۔‘‘\n\nنواب نے پوچھا، ’’کہاں۔۔۔ کب؟‘‘ حیرت کے عالم میں اس کا چھوٹا سا منہ کچھ اس طور پر وا ہوا کہ اس کے چہرے کی دلکشی میں اضافے کا موجب ہوگیا۔ اجنبی نے اس کا گدگدا ہاتھ پکڑ لیا اور سردار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’تم یہ باتیں ابھی نہیں سمجھ سکتیں۔۔۔ اپنی ماں سے پوچھو۔‘‘\n\nنواب نے بڑے بھول پن کے ساتھ اپنی ماں سے پوچھا کہ یہ شخص اس سے کب اور کہاں ملا تھا۔ سردار سارا معاملہ سمجھ گئی کہ وہ لوگ جو اس کے یہاں آتے ہیں، ان میں سے کسی نے اس کے ساتھ نواب کا ذکر کیا ہوگا اور سارا اتا پتا بتا دیا ہوگا چنانچہ اس نے نواب سے کہا، ’’میں بتادوں گی تمہیں۔‘‘ اور یہ کہہ کروہ باہر چلی گئی۔ کھٹیا پر بیٹھ کر اس نے ڈبیا میں سے افیم کی گولی نکالی اور لیٹ گئی۔ وہ مطمئن تھی کہ آدمی اچھا ہے گڑ بڑ نہیں کرے گا۔\n\nوثوق سے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا، لیکن اغلب یہی ہے کہ اجنبی جس کا نام ہیبت خان تھا اور ضلع ہزارہ کا بہت بڑارئیس تھا، نواب کے الہڑ پن سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے رخصت ہوتے وقت سردار سے کہا کہ آئندہ نواب کے پاس اور کوئی نہ آیا کرے۔ سردار ہوشیار عورت تھی۔ اس نے ہیبت خان سے کہا، ’’خان صاحب! یہ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔ کیا آپ اتنا روپیہ دے سکیں گے کہ۔۔۔ ‘‘\n\nہیبت خان نے سردار کی بات کاٹ کر جیب میں ہاتھ ڈالا اور سو سو کے نوٹوں کی ایک موٹی گڈی نکالی اور نواب کے قدموں میں پھینک دی۔ پھر اس نے اپنی ہیرے کی انگوٹھی انگلی سے نکالی اور نواب کو پہنا کر تیزی سے سرکنڈوں کے اس پار چلا گیا۔\n\nنواب نے نوٹوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ بس دیر تک اپنی سجی ہوئی انگلی کودیکھتی رہی جس پر کافی بڑے ہیرے سے رنگ رنگ کی شعاعیں پھوٹ رہی تھیں۔ موٹر اسٹارٹ ہوئی اور دھول اڑاتی چلی گئی۔ اس کے بعد وہ چونکی اور سرکنڈوں کے پاس آئی، مگر اب گردوغبار کے سوا سڑک پر کچھ نہ تھا۔\n\nسردار نوٹوں کی گڈی اٹھا کر انھیں گن چکی تھی۔ ایک نوٹ اور ہوتا تو پورے دو ہزار تھے۔ مگر اس کو اس کا افسوس نہیں تھا۔ سارے نوٹ اس نے اپنی گھیرے دار شلوارکے نیفے میں بڑی صفائی سے اڑسے اور نواب کو چھوڑ کر اپنی کھٹیا کی طرف بڑھی اور ڈبیا میں سے افیم کی ایک بڑی گولی نکال کر اس نے منہ میں ڈالی اور بڑے اطمینان سے لیٹ گئی اور دیر تک سوتی رہی۔\n\nنواب بہت خوش تھی۔بار بار اپنی اس انگلی کو دیکھتی تھی جس پر ہیرے کی انگوٹھی تھی۔۔۔ تین چار روز گزرگیے۔ اس دوران میں اس کا ایک پرانا گاہک آیا جس سے سردار نے کہہ دیا کہ پولیس کا خطرہ ہے، اس لیے اس نے یہ دھندہ بند کردیا ہے۔ یہ گاہک جو خاصا دولت مند تھا، بے نیل و مرام واپس چلا گیا۔ سردار کو ہیبت خان نے بہت متاثر کیا تھا۔ اس نے افیم کھا کر پینگ کے عالم میں سوچا تھا کہ اگر آمدن اتنی ہی رہے جتنی کہ پہلے تھی اور آدمی صرف ایک ہوتو بہت اچھا ہے۔ چنانچہ اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ باقیوں کو آہستہ آہستہ یہ کہہ کرٹرخا دے گی کہ پولیس والے اس کے پیچھے ہیں اور یہ نہیں دیکھ سکتی کہ ان کی عزت خطرے میں پڑے۔\n\nہیبت خان ایک ہفتے کے بعد نمودار ہوا۔ اس دوران میں سردار دو گاہکوں کو منع کر چکی تھی کہ وہ اب ادھر کا رخ نہ کریں۔وہ اسی شان سے آیا جس شان سے پہلے روز آیا تھا۔ آتے ہی اس نے نواب کو اپنی چھاتی کے ساتھ بھینچ لیا۔ سردار نے اس سے کوئی بات نہ کی۔ نواب اسے۔۔۔ بلکہ یوں کہیے کہ ہیبت خان اسے اس کوٹھری میں لے گیا جہاں نواڑی پلنگ تھا۔ اب کے سردار اندر نہ آئی اور اپنی کھٹیا پر افیم کی گولی کھا کر اونگھتی رہی۔\n\nہیبت خان بہت محظوظ ہوا۔ اس کو نواب کا الہڑ پن اور بھی زیادہ پسند آیا۔ وہ پیشہ ور رنڈیوں کے چلتروں سے قطعاً ناواقف تھی۔ اس میں وہ گھریلو پن بھی نہیں تھا جو عام عورتوں میں ہوتا ہے۔ اس میں کوئی ایسی بات تھی جو خود اس کی اپنی تھی۔ دوسروں سے مختلف۔ وہ بستر میں اس کے ساتھ اس طرح لیٹتی تھی، جس طرح بچہ اپنی ماں کے ساتھ لیٹتا ہے۔ اس کی چھاتیوں پر ہاتھ پھیرتا ہے۔ اس کی ناک کے نتھنوں میں انگلیاں ڈالتا ہے، اس کے بال نوچتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ سو جاتا ہے۔\n\nہیبت خان کے لیے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ اس کے لیے عورت کی یہ قسم بالکل نرالی، دلچسپ اور فرحت بخش تھی۔ وہ اب ہفتے میں دوبار آنے لگا تھا۔ نواب اس کے لیے ایک بے پناہ کشش بن گئی تھی۔سردار خوش تھی کہ اس کے نیفے میں اڑسنے کے لیے کافی نوٹ مل جاتے ہیں۔۔۔ لیکن نواب اپنے الہڑ پن کے باوجود بعض اوقات سوچتی تھی کہ ہیبت خان ڈرا ڈرا سا کیوں رہتا ہے۔ اگر کچی سڑک پر سے، سرکنڈوں کے اس پار کوئی لاری یا موٹر گزرتی ہے تو وہ کیوں سہم جاتا ہے۔ کیوں اس سے الگ ہو کرباہر نکل جاتا ہے اور چھپ چھپ کر دیکھتا ہے کہ کون تھا۔\n\nایک رات بارہ بجے کے قریب سڑک پرسے کوئی لاری گزری۔ ہیبت خان اور نواب دونوں ایک دوسرے سے گتھے ہوئے سورہے تھے کہ ایک دم ہیبت خان بڑے زور سے کانپا اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ نواب کی نیند بڑی ہلکی تھی۔ وہ کانپا تو وہ سر سے پیر تک یوں لرزی جیسے اس کے اندر زلزلہ آگیا ہے۔ چیخ کر اس نے پوچھا، ’’کیا ہوا؟‘‘\n\nہیبت خان اب کسی قدر سنبھل چکا تھا۔ اس نے خود کو اور زیادہ سنبھال کر اس سے کہا، ’’کوئی بات نہیں۔۔۔ میں۔۔۔ میں شاید خواب میں ڈرگیا تھا۔‘‘\n\nلاری کی آواز دور سے رات کی خاموشی میں ابھی تک آرہی تھی۔\n\nنواب نے اس سے کہا، ’’نہیں خان۔۔۔ کوئی اور بات ہے۔ جب بھی کوئی موٹر یا لاری سڑک پر سے گزرتی ہے، تمہاری یہی حالت ہوتی ہے۔‘‘\n\nہیبت خان کی شاید یہ دکھتی رگ تھی جس پر نواب نے ہاتھ رکھ دیا تھا۔ اس نے اپنا مردانہ وقار قائم رکھنے کے لیے بڑے تیز لہجے میں کہا، ’’بکتی ہو تم۔۔۔ موٹروں اور لاریوں سے ڈرنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟‘‘\n\nنواب کا دل بہت نازک تھا۔ ہیبت خان کے تیزلہجے سے اس کو ٹھیس لگی اور اس نے بلک بلک کر رونا شروع کردیا۔ ہیبت خان نے جب اس کو چپ کرایا تووہ اپنی زندگی کے ایک لطیف ترین خط سے آشنا ہوا اور اس کا جسم نواب کے جسم سے اور زیادہ قریب ہوگیا۔\n\nہیبت خان اچھے قد کاٹھ کا آدمی تھا۔ اس کا جسم گٹھا ہوا تھا۔ خوبصورت تھا۔ اس کی بانھوں میں نواب نے پہلی بار بڑی پیاری حرارت محسوس کی تھی۔ اس کو جسمانی لذت کی الف بے اسی نے سکھائی تھی۔ وہ اس سے محبت کرنے لگی تھی۔ یوں کہیے کہ وہ شے جو محبت ہوتی ہے، اس کے معانی اب اس پر آشکار ہورہے تھے۔ وہ اگر ایک ہفتہ غائب رہتا تو نواب گراموفون پر دردیلے گیتوں کے ریکارڈ لگا کر خود ان کے ساتھ گاتی اور آہیں بھرتی تھی۔ مگر اس کو اس بات کی بڑی الجھن تھی کہ ہیبت خان موٹروں کی آمدورفت سے کیوں گھبراتا ہے۔\n\nمہینوں گزر گیے۔ نواب کی سپردگی اور اس کے التفات میں اضافہ ہوتا گیا۔ مگر ادھر اس کی الجھن بڑھتی گئی کہ اب ہیبت خان چند گھنٹوں کے لیے آتا اور افراتفری کے عالم میں واپس چلا جاتا تھا۔ نواب محسوس کررہی تھی کہ یہ سب کسی مجبوری کی وجہ سے ہے، ورنہ ہیبت خان کا جی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ دیر ٹھہرے۔\n\nاس نے کئی مرتبہ اس سے اس بارے میں پوچھا، مگر وہ گول کرگیا۔ ایک دن صبح سویرے اس کی ڈوج سرکنڈوں کے پار رکی۔ نواب سو رہی تھی۔ ہارن بجا تو چونک کر اٹھی۔ آنکھیں ملتی ملتی باہر آئی۔ اس وقت تک ہیبت خان اپنی موٹر دور کھڑی کرکے مکان کے پاس پہنچ چکا تھا۔ نواب دوڑ کر اس سے لپٹ گئی۔ وہ اسے اٹھا کر اندر کمرے میں لے گیا جہاں نواڑ کا پلنگ تھا۔\n\nدیر تک دونوں باتیں کرتے رہے۔ پیار محبت کی باتیں۔۔۔ معلوم نہیں نواب کے دل میں کیا آئی کہ اس نے اپنی زندگی کی پہلی فرمائش کی۔’’خان۔۔۔ مجھے سونے کے کڑے لا دو۔‘‘\n\nہیبت خان نے اس کی موٹی موٹی گوشت بھری سرخ و سفید کلائیوں کو کئی مرتبہ چوما اور کہا، ’’کل ہی آجائیں گے۔ تمہارے لیے تو میری جان بھی حاضر ہے۔‘‘\n\nنواب نے ایک ادا کے ساتھ،مگر اپنے مخصوص الہڑ انداز میں کہا، ’’خان صاحب۔۔۔ جانے دیجیے۔۔۔ جان تو مجھے ہی دینی پڑے گی۔‘‘\n\nہیبت خان یہ سن کر کئی بار اس کے صدقے ہوا۔۔۔ اور بڑا پرلطف وقت گزار کے چلا گیا، اور وعدہ کر گیا کہ وہ دوسرے دن آئے گا اور سونے کے کڑے اس کے نرم نرم ہاتھوں میں خود پہنائے گا۔\n\nنواب خوش تھی۔ اس رات وہ دیر تک مسرت بھرے ریکارڈ بجا بجا کر اس چھوٹی سی کوٹھری میں ناچتی رہی جس پر نواڑی پلنگ تھا۔۔۔ سردار بھی خوش تھی۔ اس رات اس نے پھر اپنی ڈبیا سے افیم کی ایک بڑی گولی نکالی اور اسے نگل کرسو گئی۔\n\nدوسرے دن نواب اور زیادہ خوش تھی کہ سونے کے کڑے آنے والے ہیں اور ہیبت خان خود اس کو پہنانے والا ہے۔ وہ سارا دن منتظر رہی پر وہ نہ آیا۔ اس نے سوچا شاید موٹر خراب ہوگئی ہو۔۔۔ شاید رات ہی کو آئے مگر وہ ساری رات جاگتی رہی اور ہیبت خان نہ آیا۔ اس کے دل کو، جو بہت نازک تھا، بڑی ٹھیس پہنچی۔ اس نے اپنی ماں کو، یا جو کچھ بھی وہ تھی، بار بار کہا، ’’دیکھو، خان نہیں آیا، وعدہ کرکے پھر گیا ہے۔‘‘ لیکن پھر وہ سوچتی اور کہتی، ’’ایسا نہ ہو، کچھ ہوگیا ہو۔‘‘ اور وہ سہم جاتی۔\n\nکئی باتیں اس کے دماغ میں آتی تھیں۔ موٹر کا حادثہ، اچانک بیماری، کسی ڈاکو کا حملہ۔۔۔ لیکن بار بار اس کو لاریوں اور موٹروں کی آوازوں کا خیال آتا تھا جن کو سن کر ہیبت خان ہمیشہ بوکھلا جاتا تھا۔۔۔ وہ اس کے متعلق پہروں سوچتی تھی، مگر اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا۔\n\nایک ہفتہ گزر گیا۔ اس دوران میں اس کا کوئی پرانا گاہک بھی نہ آیا، اس لیے کہ سردار ان سب کو منع کر چکی تھی۔ تین چار لاریاں اور دو موٹریں البتہ اس کچی سڑک پر سے دھول اڑاتی گزریں۔ نواب کا ہر بار یہی جی چاہا کہ دوڑتی ہوئی ان کے پیچھے جائے اور ان کو آگ لگا دے۔ اس کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہی وہ چیزیں ہیں جو ہیبت خان کے یہاں آنے میں رکاوٹ کا باعث ہیں، مگر پھر سوچتی کہ موٹریں اور لاریاں رکاوٹ کا کیا باعث ہو سکتی ہیں، وہ اپنی کم عقلی پر ہنستی۔\n\nلیکن یہ بات اس کے فہم سے بالاتر تھی کہ ہیبت خان جیسا تنومند مرد ان کی آواز سن کر سہم کیوں جاتا ہے۔ اس حقیقت کو اس کے دماغ کی پیدا کی ہوئی دلیل جھٹلا نہیں سکتی تھی۔ اور جب ایسا ہوتا تو بے حد رنجیدہ اور مغموم ہو جاتی اور گراموفون پر دردیلے ریکارڈ لگا کر سننا شروع کردیتی اور اس کی آنکھیں نمناک ہو جاتیں۔\n\nایک ہفتے کے بعد دوپہر کو جب نواب اور سردار کھانا کھا کر فارغ ہو چکی تھیں اور کچھ دیر آرام کرنے کی سوچ رہی تھیں کہ اچانک باہر سڑک پر سے موٹر کے ہارن کی آواز سنائی دی۔ دونوں یہ آواز سن کر چونکیں کیوں کہ ہیبت خان کی ڈوج کے ہارن کی آواز نہیں تھی۔۔۔ سردار باہر لپکی کہ دیکھے کون ہے، پرانا آدمی ہوا تو اسے ٹرخا دے گی۔ مگر جب وہ سرکنڈوں کے پاس پہنچی تو اس نے دیکھا کہ ایک نئی موٹر میں ہیبت خان بیٹھا ہے۔ پچھلی نشست پر ایک خوش پوش اور خوبصورت عورت ہے۔\n\nہیبت خان نے موٹر کچھ دور کھڑی کی اور باہر نکلا۔ اس کے ساتھ ہی پچھلی نشست سے وہ عورت۔۔۔ دونوں ان کے مکان کی طرف بڑھے۔ سردار نے سوچا کہ یہ کیا سلسلہ ہے۔عورت کے لیے تو ہیبت اتنی دور سے چل کر یہاں آتا ہے، پھر یہ عورت جو اتنی خوبصورت ہے، جوان ہے، قیمتی کپڑوں میں ملبوس ہے، اس کے ساتھ یہاں کیا کرنے آئی ہے۔\n\nوہ ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ ہیبت خان اس خوبصورت کے ساتھ جس نے بیش قیمت زیور پہنے ہوئے تھے، مکان میں داخل ہوگیا۔ وہ ان کے پیچھے پیچھے چلی۔ اس کی طرف ان دونوں میں سے کسی نے دھیان ہی نہیں دیا تھا۔ جب وہ اندر گئی تو ہیبت خان، نواب اور وہ عورت تینوں نواڑی پلنگ پر بیٹھے تھے اور خاموشی طاری تھی۔۔۔ عجیب قسم کی خاموشی۔ زیوروں سے لدی پھندی عورت البتہ کسی قدر مضطرب نظر آتی تھی کہ اس کی ایک ٹانگ بڑے زور سے ہل رہی تھی۔\n\nسردار دہلیز کے پاس ہی کھڑی ہوگئی۔ اس کے قدموں کی آہٹ سن کر جب ہیبت خان نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے سلام کیا۔۔۔ ہیبت خان نے کوئی جواب نہ دیا۔وہ سخت بوکھلایا ہوا تھا۔ اس عورت کی ٹانگ ہلنا بند ہوئی اور وہ سردار سے مخاطب ہوئی، ’’ہم آئے ہیں۔ کھانے پینے کا تو بندوبست کرو۔‘‘ سردار نے سرتاپا مہمان نواز بن کر کہا، ’’جو تم کہو، ابھی تیار ہو جاتا ہے۔‘‘ اس عورت نے جس کے خدوخال سے صاف مترشح تھا کہ بڑی دھڑلے کی عورت ہے، سردار سے کہا، ’’تو چلو تم باورچی خانے میں۔۔۔ چولہا سلگاؤ۔۔۔ بڑی دیگچی ہے گھرمیں؟‘‘\n\n’’ہے!‘‘ سردار نے اپنا وزنی سرہلایا۔\n\n’’تو جاؤ اس کو دھو کرصاف کرو۔ میں ابھی آئی۔‘‘ وہ عورت پلنگ پر سے اٹھی اور گراموفون کو دیکھنے لگی۔\n\nسردار نے معذرت بھرے لہجے میں اس سے کہا، ’’گوشت وغیرہ تو، یہاں نہیں ملے گا۔‘‘\n\nاس عورت نے ایک ریکارڈ پر سوئی رکھی، ’’مل جائے گا۔ تم سے جو کہا ہے، وہ کرو۔۔۔ اور دیکھو آگ کافی ہو۔‘‘\n\nسردار یہ احکام لے کر چلی گئی۔ اب وہ خوش پوش عورت مسکرا کر نواب سے مخاطب ہوئی، ’’نواب! ہم تمہارے لیے سونے کے کڑے لے کر آئے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنا وینٹی بیگ کھولا اور اس میں سے باریک سرخ کاغذ میں لپٹے ہوئے کڑے نکالے جو کافی وزنی اور خوبصورت تھے۔\n\nنواب اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے خاموش ہیبت خان کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے کڑوں کو ایک نظر دیکھا اور اس سے بڑی نرم و نازک مگر سہمی ہوئی آواز میں پوچھا، ’’خان یہ کون ہے؟‘‘اس کا اشارہ اس عورت کی طرف تھا۔\n\nوہ عورت کڑوں سے کھیلتے ہوئے بولی، ’’میں کون ہوں۔۔۔ میں ہیبت خان کی بہن ہوں۔‘‘ اور یہ کہہ کر اس نے ہیبت خان کی طرف دیکھا جو اس کے اس جواب پر سکڑ گیا تھا۔ پھر وہ نواب سے مخاطب ہوئی، ’’میرا نام ہلاکت ہے۔‘‘\n\nنواب کچھ نہ سمجھی۔ مگر وہ اس عورت کی آنکھوں سے خوف کھا رہی تھی جو یقیناً خوبصورت تھیں مگر بڑے خوفناک طور پر کھلی۔ ان میں جیسے آگ برس رہی تھی۔\n\nوہ آگے بڑھی اور اس نے سمٹی ہوئی، سہمی ہوئی نواب کی کلائیاں پکڑیں اور اس میں کڑے ڈالنے لگی۔ لیکن اس نے اس کی کلائیاں چھوڑ دیں اور ہیبت خان سے مخاطب ہوئی، ’’تم جاؤ ہیت خان۔۔۔ میں اسے اچھی طرح سجا بنا کر تمہاری خدمت میں پیش کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ ہیبت خان مبہوت تھا۔ جب وہ نہ اٹھا تو ہ عورت جس نے اپنا نام ہلاکت بتایا تھا، ذرا تیزی سے بولی۔’’جاؤ۔۔۔ تم نے سنا نہیں؟‘‘ ہیبت خان، نواب کی طرف دیکھتا ہوا باہر چلا گیا۔ وہ بہت مضطرب تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کہاں جائے اور کیا کرے۔\n\nمکان کے باہر جو برآمدہ ساتھا، اس کے ایک کونے میں ٹاٹ لگا باورچی خانہ تھا۔ جب وہ اس کے پاس پہنچا تو اس نے دیکھا کہ سردارآگ سلگا چکی ہے۔ اس نے اس سے کوئی بات نہ کی اور سرکنڈوں کے اس پار سڑک پر چلا گیا۔۔۔ اس کی حالت نیم دیوانوں کی سی تھی۔ ذرا سی آہٹ پر بھی وہ چونک اٹھتا تھا۔ جب اس کو دور سے ایک لاری آتی ہوئی دکھائی دی تو اس نے سوچا کہ وہ اسے روک لے اور اس میں بیٹھ کر وہاں سے غائب ہو جائے۔ مگر جب وہ پاس آئی تو ایسی دھول اڑی کہ وہ اس میں غائب ہوگیا۔ اس نے آوازیں دیں،مگر گرد کے باعث اس کا حلق اس قابل ہی نہیں تھا کہ بلند آواز نکال سکے۔\n\nگردوغبار کم ہوا تو ہیبت خان نیم مردہ تھا۔۔۔ اس نے چاہا کہ سرکنڈوں کے پیچھے اس مکان میں جائے جہاں اس نے کئی دن اور کئی راتیں نواب کے الہڑ پہلو میں گزاری تھیں، مگر وہ نہ جاسکا۔ اس کے قدم ہی نہیں اٹھتے تھے۔\n\nوہ بہت دیر تک کچی سڑک پر کھڑا سوچتا رہا کہ یہ معاملہ کیا ہے۔ وہ عورت جو اس کے ساتھ آئی تھی، اس کے ساتھ اس کے کافی پرانے تعلقات تھے، صرف اس بنا پر کہ بہت دیر ہوئی، وہ اس کے خاوند کی موت کا افسوس کرنے گیا تھا جو اس کا لنگوٹیا تھا۔ مگر اتفاق سے یہ ماتم پرسی ان دونوں کے باہمی تعلق میں تبدیل ہوگئی۔ خاوند کی موت کے دوسرے ہی دن وہ اس کے گھر میں تھا، اور اس عورت نے اس کو ایسے تحکم سے اندر بلا کر اپنا آپ اس کے سپرد کیا تھا جیسے وہ اس کا نوکر ہے۔\n\nہیبت خان عورت کے معاملے میں بالکل کورا تھا۔ جب شاہینہ نے اس سے اپنے عجیب و غریب تحکم بھرے التفات کا اظہار کیا تو اس کے لیے یہی بڑی بات تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاہینہ کے پاس بے اندازہ دولت تھی۔ کچھ اپنی اور کچھ اپنے مرحوم خاوند کی، مگر اسے اس دولت سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اس کو شاہینہ سے صرف یہی دلچسپی تھی کہ وہ اس کی زندگی کی سب سے پہلی عورت تھی۔ وہ اس کے تحکم کے نیچے شاید اس لیے دب کے رہ گیا تھا کہ وہ بالکل اناڑی تھا۔\n\nبہت دیر تک وہ کچی سڑک پر کھڑا سوچتا رہا۔ آخر اس سے نہ رہا گیا۔ سرکنڈوں کے پیچھے مکان کی طرف بڑھا تو اس نے برآمدے میں ٹاٹ لگے باورچی خانے میں سردار کو کچھ بھونتے ہوئے دیکھا۔ اندر اس کمرے کی طرف گیا جہاں نواڑ کا پلنگ تھا تو دروازہ بند پایا۔ اس نے ہولے سے دستک دی۔\n\nچند لمحات کے بعد دروازہ کھلا۔ کچے فرش پر اس کو سب سے پہلے خون ہی خون نظر آیا۔ وہ کانپ اٹھا۔ پھر اس نے شاہینہ کو دیکھا جو دروازہ کے پٹ کے ساتھ کھڑی تھی۔ اس نے ہیبت خان سے کہا، ’’میں نے تمہاری نواب کو سجا بنا دیا ہے!‘‘ ہیبت خان نے اپنے خشک گلے کو تھوک سے کسی قدر تر کرکے اس سے پوچھا، ’’کہاں ہے؟‘‘ شاہینہ نے جواب دیا۔’’کچھ تو اس پلنگ پر ہے۔۔۔ لیکن اس کا بہترین حصہ باورچی خانہ میں ہے۔‘‘\n\nہیبت خان پر اس کا مطلب سمجھے بغیر ہیبت طاری ہوگئی۔ وہ کچھ کہہ نہ سکا۔ وہیں دہلیز کے پاس کھڑا رہا۔ مگر اس نے دیکھا کہ فرش پر گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بھی ہیں اور۔۔۔ ایک تیز چھری بھی پڑی ہے۔ اور نواڑی پلنگ پر کوئی لیٹا ہے جس پر خون آلود چادرپڑی ہے۔ شاہینہ نے مسکرا کر کہا، ’’چادر اٹھا کر دکھاؤں۔۔۔ تمہاری سجی بنی نواب ہے۔۔۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے سنگھار کیا ہے۔۔۔ لیکن تم پہلے کھانا کھا لو۔ بہت بھوک لگی ہوگی، سردار بڑا لذیذ گوشت بھون رہی ہے۔ اس کی بوٹیاں میں نے خود اپنے ہاتھ سے کاٹی ہیں۔‘‘\n\nہیبت خان کے پاؤں لڑکھڑائے۔۔۔ زور سے چلایا، ’’شاہینہ تم نے یہ کیا کیا!‘‘\n\nشاہینہ مسکرائی۔ ’’جان من!یہ پہلی مرتبہ نہیں۔۔۔ دوسری مرتبہ ہے۔ میرا خاوند، اللہ اسے جنت نصیب کرے، تمہاری طرح ہی بے وفا تھا۔ میں نے خود اس کو اپنے ہاتھوں سے مارا تھا اور اس کا گوشت پکا کر چیلوں اور کوؤں کو کھلایا تھا۔۔۔ تم سے مجھے پیار ہے، اس لیے میں نے تمہارے بجائے۔۔۔ ‘‘\n\nاس نے فقرہ مکمل نہ کیا اور پلنگ پر سے خون آلود چادر ہٹادی۔۔۔ ہیبت خان کی چیخ اس کے حلق کے اندر ہی دھنسی رہی اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔\n\nجب اسے ہوش آیا تو اس نے دیکھا کہ شاہینہ کار چلا رہی ہے اور وہ غیر علاقے میں ہیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D9%86%DA%88%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DB%8C%DA%86%DA%BE%DB%92_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29"} {"title": "سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہے\nتسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے\n\nلیتا نہیں مرے دل آوارہ کی خبر\nاب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے\n\nکیجیے بیاں سرور تپ غم کہاں تلک\nہر مو مرے بدن پہ زبان سپاس ہے\n\nہے وہ غرور حسن سے بیگانۂ وفا\nہرچند اس کے پاس دل حق شناس ہے\n\nپی جس قدر ملے شب مہتاب میں شراب\nاس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے\n\nہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ\nمجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے\n\nکیا غم ہے اس کو جس کا علیؔ سا امام ہو\nاتنا بھی اے فلک زدہ کیوں بد حواس ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%DA%AF%D8%B4%D8%AA%DA%AF%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B3_%DB%81%DB%92"} {"title": "سری کرشن", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہوا طلوع ستاروں کی دل کشی لے کر\nسرور آنکھ میں نظروں میں زندگی لے کر\nخودی کے ہوش اڑانے بصد نیاز آیا\nنئے پیالوں میں صہبائے بے خودی لے کر\nفضائے دہر میں گاتا پھرا وہ پریت کے گیت\nنشاط خیز و سکوں ریز بانسری لے کر\nجہان قلب سراپا گداز بن ہی گیا\nہر ایک ذرہ محبت کا ساز بن ہی گیا\n\nجمال و حسن کے کافر نکھار سے کھیلا\nریاض عشق کی رنگیں بہار سے کھیلا\nپیمبروں کی کبھی رسم کی ادا اس نے\nگوالا بن کے کبھی سبزہ زار سے کھیلا\nبہا دئے کبھی ٹھوکر سے پریم کے چشمے\nکبھی جمن کبھی گنگا کی دھار سے کھیلا\nہنسی ہنسی میں وہ دکھ درد جھیلتا ہی رہا\nکرشمہ باز زمانے سے کھیلتا ہی رہا\n\nکیا زمانے کو معمور اپنے نغموں سے\nسکھائے عشق کے دستور اپنے نغموں سے\nصداقت اور محبت کی اس نے دی تعلیم\nاندھیریوں میں بھرا نور اپنے نغموں سے\nلطافتوں سے کیا ارض ہند کو لبریز\nکثافتوں کو کیا دور اپنے نغموں سے\nفلک کو یاد ہیں اس عہد پاک کی باتیں\nوہ بانسری وہ محبت کی سانولی راتیں\n\nدلوں میں رنگ محبت کو استوار کیا\nسواد ہند کو گیتا سے نغمہ بار کیا\nجو راز کوشش نطق و زباں سے کھل نہ سکا\nوہ راز اپنی نگاہوں سے آشکار کیا\nاداسیوں کو نئی زندگی عطا کر دی\nہر ایک ذرے کو دل دے کے بے قرار کیا\nجو مشرب اس کا نہ اس طرح عام ہو جاتا\nجہاں سے محو محبت کا نام ہو جاتا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%B4%D9%86"} {"title": "سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھا", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھا\nہمیں ظل ہما سے سایۂ دیوار بہتر تھا\n\nمجھے دکھ پھر دیا تو نے منڈا کر سبزۂ خط کو\nجراحت کو مرے وہ مرہم زنگار بہتر تھا\n\nمجھے زنجیر کرنا کیا مناسب تھا بہاراں میں\nکہ گل ہاتھوں میں اور پاؤں میں میرے خار بہتر تھا\n\nہموں نے ہجر سے کچھ وصل میں دھڑکے بہت دیکھے\nہمارے حق میں اس راحت سے وہ آزار بہتر تھا\n\nمرا دل مر گیا جس دن کہ نظارہ سے باز آیا\nیقیںؔ پرہیز اگر کرتا تو یہ بیمار بہتر تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%D9%84%D8%B7%D9%86%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "سزاوار ارے آرے ہوئے ہیں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سزاوار ارے آرے ہوئے ہیں\nبھلا اتنے تو ہم بارے ہوئے ہیں\n\nنہ رکھتے ہم سے بل زلفوں کے حلقے\nمگر اس کے یہ سنکارے ہوئے ہیں\n\nتمہاری دیکھ کر عیاریوں کو\nمیاں کچھ ہم بھی عیارے ہوئے ہیں\n\nبلاتے ہی نہ آئے ہم تو بولا\nکہیں یہ نقد دل ہارے ہوئے ہیں\n\nپھر آپی یوں نظیرؔ اس نے کہا ہاں\nکسی چنچل کے للکارے ہوئے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D8%B2%D8%A7%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A2%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سفر آخر شب", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بہت قریب سے آئی ہوائے دامن گل\nکسی کے روئے بہاریں نے حال دل پوچھا\n\nکہ اے فراق کی راتیں گزارنے والو\nخمار آخر شب کا مزاج کیسا تھا\n\nتمہارے ساتھ رہے کون کون سے تارے\nسیاہ رات میں کس کس نے تم کو چھوڑ دیا\n\nبچھڑ گئے کہ دغا دے گئے شریک سفر\nالجھ گیا کہ وفا کا طلسم ٹوٹ گیا\n\nنصیب ہو گیا کس کس کو قرب سلطانی\nمزاج کس کا یہاں تک قلندرانہ رہا\n\nفگار ہو گئے کانٹوں سے پیرہن کتنے\nزمیں کو رشک چمن کر گیا لہو کس کا\n\nسنائیں یا نہ سنائیں حکایت شب غم\nکہ حرف حرف صحیفہ ہے، اشک اشک قلم\n\nکن آنسوؤں سے بتائیں کہ حال کیسا ہے\nبس اس قدر ہے کہ جیسے ہیں سرفراز ہیں ہم\n\nستیزہ کار رہے ہیں جہاں بھی الجھے ہیں\nشعار راہ زناں سے مسافروں کے قدم\n\nہزار دشت پڑے، لاکھ آفتاب ابھرے\nجبیں پہ گرد، پلک پر نمی نہیں آئی\n\nکہاں کہاں نہ لٹا کارواں فقیروں کا\nمتاع درد میں کوئی کمی نہیں آئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%D8%B4%D8%A8"} {"title": "سفر ہے دشوار خواب کب تک بہت پڑی منزل عدم ہے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سفر ہے دشوار خواب کب تک بہت پڑی منزل عدم ہے\nنسیمؔ جاگو کمر کو باندھو اٹھاؤ بستر کہ رات کم ہے\n\nنسیمؔ غفلت کی چل رہی ہے امنڈ رہی ہیں قضا کی نیندیں\nکچھ ایسا سوئے ہیں سونے والے کہ جاگنا حشر تک قسم ہے\n\nجوانی و حسن و جاہ و دولت یہ چند انفاس کے ہیں جھگڑے\nاجل ہے استادہ دست بستہ نوید رخصت ہر ایک دم ہے\n\nبسان دست سوال سائل تہی ہوں ہر ایک مدعا سے\nنیاز ہے بے نیازیوں سے بغل میں دل صورت صنم ہے\n\nمآل کار جہان فانی کبھی نہیں ایک قاعدے پر\nجو چار دن ہے وفور راحت تو بعد اس کے غم و الم ہے\n\nدریغ کرنا نہ زور بازو مٹا لے ساری کدورتوں کو\nہوس نہ رہ جائے کوئی قاتل کہ سر تہ خنجر دودم ہے\n\nزبان روکو بہک رہے ہو سرور دوشینہ جوش پر ہے\nمے وصال شب تمنا ہر ایک لب سے ابھی بہم ہے\n\nیہ مصرع مخبر مصیبت کمال ہم کو پسند آیا\nنسیمؔ جاگو کمر کو باندھو اٹھاؤ بستر کہ رات کم ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%81%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%B4%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D9%BE%DA%91%DB%8C_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%D8%B9%D8%AF%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "سفید جھوٹ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "poetry", "section": "لذت سنگ", "year": "1948", "text_ur": "ہاتھا پائی سے ہانپتے جانا\nکھلتے جانے میں ڈھانپتے جانا\n\nوہ ترا منہ سے منہ بھڑا دینا\nوہ ترا جیب کا لڑا دینا\n\nوہ ترا پیار سے لپٹ جانا\nاور دل کھول کے چمٹ جانا\n\nہولے ہولے پکارنے لگنا\nڈھیلے ہاتھوں سے مارنے لگنا\n\nمنہ سے کچھ کچھ پڑے بکے جانا\nچھوٹ جانے کے گوں تکے جانا\n\nتھک کے کہنا خدا کے واسطے چھوڑ\nنیند آئی ہے اب مجھے نہ جھنجوڑ\n\nوہ ترا ڈھیلے چھوڑنا بے بس\nوہ ترا سست ہو کے کہنا بس\n\nبات باقی نہیں رہی اب تو\nرات باقی نہیں رہی اب تو\n\nکہیں تیری یہ بات نبڑے گی\nیا یونہی ساری رات نبڑے گی\n\nمجھ میں باقی کچھ اب تو بات نہیں\nصبح بھی ہو چکی ہے رات نہیں\n\nدیکھ اب آگے مار بیٹھوں گی\nیا کسو کو پکار بیٹھوں گی\n\nآدمی کی جو ریخ نکلے گی\nمنہ سے کیونکر نہ چیخ نکلے گی\n\nکبھو پھر بھی تو کام ہو وے گا\nدیکھیو کون ساتھ سووے گا\n\nلب سے لب مرے ملائے رکھنا\nبازو سے وہ سر اٹھائے رکھنا\n\nوہ سینے پہ لیٹ کے ستانا\nمطلب کہ سخن پہ روٹھ جانا\n\nوہ منہ میں زبان کی لذتیں ہائے\nظاہر حرکت سے رغبتیں ہائے\n\nاپنا جو ہوا کچھ اور ارادہ\nجی چاہا کہ اس سے بھی زیادہ\n\nوہ ہاتھ کو رکھ کے جوش انکار\nوا کرنے نہ دینا بندِ شلوار\n\nوہ ہاتھ کو دم بدم جھٹکنا\nوہ تکئے پر سر کو دے پٹکنا\n\nآہستہ لگانی آہ لاتیں\nحیلہ کی وہ کیسی کیسی باتیں\n\nوہ ہا تھ کو زور سے چھڑانا\nوہ ہو کے تنگ کاٹ کھانا\n\nوہ نیچے پڑے ہی تلملانا\nقابو سے تڑپ کے نکلے جانا\n\nوہ چیں بجبیں ہو کے کہنا\nکن بے کسوں سے رو کے کہنا\n\nبس تم کو یہی شغل دن رات\nاچھی نہیں لگتی مجھ کو یہ بات\n\nبھرتا ہی نہیں ہے تیرا جی بس\nکرتا ہی نہیں ہے تو کبھی بس", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%81%DB%8C%D8%AF_%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9"} {"title": "سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اس کو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "سلام", "year": null, "text_ur": "سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اس کو\nتو پھر کہیں کہ کچھ اس سے سوا کہیں اس کو\nنہ بادشاہ نہ سلطاں یہ کیا ستایش ہے\nکہو کہ خامس آل عبا کہیں اس کو\nخدا کی راہ میں شاہی و خسروی کیسی\nکہو کہ رہبر راہ خدا کہیں اس کو\nخدا کا بندہ خداوندگار بندوں کا\nاگر کہیں نہ خداوند کیا کہیں اس کو\nفروغ جوہر ایماں حسین ابن علی\nکہ شمع انجمن کبریا کہیں اس کو\nکفیل بحشش امت ہے بن نہیں پڑتی\nاگر نہ شافع روز جزا کہیں اس کو\nمسیح جس سے کرے اخذ فیض جاں بخشی\nستم ہے کشتۂ تیغ جفا کہیں اس کو\nوہ جس کے ماتمیوں پر ہے سلسبیل سبیل\nشہید تشنہ لب کربلا کہیں اس کو\nعدو کے سمع رضا میں جگہ نہ پائے وہ بات\nکہ جن و انس و ملک سب بجا کہیں اس کو\nبہت ہے پایۂ گرد رہ حسین بلند\nبقدر فہم ہے گر کیمیا کہیں اس کو\nنظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرہ خاک\nکہ لوگ جوہر تیغ قضا کہیں اس کو\nہمارے درد کی یارب کہیں دوا نہ ملے\nاگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اس کو\nہمارا منہ ہے کہ دیں اس کے حسن صبر کی داد\nمگر نبی و علی مرحبا کہیں اس کو\nزمام ناقہ کف اس کے میں ہے کہ اہل یقیں\nپس از حسین علی پیشوا کہیں اس کو\nوہ ریگ تفتۂ وادی پہ گام فرسا ہے\nکہ طالبان خدا رہنما کہیں اس کو\nامام وقت کی یہ قدر ہے کہ اہل عناد\nپیادہ لے چلیں اور نا سزا کہیں اس کو\nیہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمن دیں\nعلی سے آ کے لڑے اور خطا کہیں اس کو\nیزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا پایہ\nبرا نہ مانیے گر ہم برا کہیں اس کو\nعلی کے بعد حسن اور حسن کے بعد حسین\nکرے جو ان سے برائی بھلا کہیں اس کو\nنبی کا ہو نہ جسے اعتقاد کافر ہے\nرکھے امام سے جو بغض کیا کہیں اس کو\nبھرا ہے غالبؔ دلخستہ کے کلام میں درد\nغلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اس کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%B4%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88"} {"title": "سلامت رہیں دل میں گھر کرنے والے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سلامت رہیں دل میں گھر کرنے والے\nاس اجڑے مکاں میں بسر کرنے والے\n\nگلے پر چھری کیوں نہیں پھیر دیتے\nاسیروں کو بے بال و پر کرنے والے\n\nاندھیرے اجالے کہیں تو ملیں گے\nوطن سے ہمیں در بدر کرنے والے\n\nگریباں میں منہ ڈال کر خود تو دیکھیں\nبرائی پہ میری نظر کرنے والے\n\nاس آئینہ خانے میں کیا سر اٹھاتے\nحقیقت پر اپنی نظر کرنے والے\n\nبہار دو روزہ سے دل کیا بہلتا\nخبر کر چکے تھے خبر کرنے والے\n\nکھڑے ہیں دوراہے پہ دیر و حرم کے\nتری جستجو میں سفر کرنے والے\n\nسر شام گل ہو گئی شمع بالیں\nسلامت ہیں اب تک سحر کرنے والے\n\nکجا صحن عالم کجا کنج مرقد\nبسر کر رہے ہیں بسر کرنے والے\n\nیگانہؔ وہی فاتح لکھنؤ ہیں\nدل سنگ و آہن میں گھر کرنے والے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں\nمجھے دل لگی کے ٹھکانے بہت ہیں\n\nجو تشریف لاؤ تو ہے کون مانع\nمگر خوئے بد کو بہانے بہت ہیں\n\nاثر کر گئی نفس رہزن کی دھمکی\nکہ یاں مرد کم اور زنانے بہت ہیں\n\nمعطل نہیں بیٹھتے شغل والے\nشکار افگنوں کو نشانے بہت ہیں\n\nکرو دل کے ویرانے کی کنج کاوی\nدبے اس کھنڈر میں خزانے بہت ہیں\n\nنہ اے شمع رو رو کے مر شام ہی سے\nابھی تجھ کو آنسو بہانے بہت ہیں\n\nہوا میری روداد پر حکم آخر\nکہ مشہور ایسے فسانے بہت ہیں\n\nنہیں ریل یا تار برقی پے موقوف\nچھپے قدرتی کارخانے بہت ہیں\n\nبچے کیونکہ بے چارہ مرغ گرسنہ\nبہ کثرت ہیں دام اور دانے بہت ہیں\n\nبس اک آستانہ ہے سجدہ کے قابل\nزمانہ میں گو آستانے بہت ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D8%B1%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سلسلہ چھڑ گیا جب یاسؔ کے افسانے کا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سلسلہ چھڑ گیا جب یاسؔ کے افسانے کا\nشمع گل ہو گئی دل بجھ گیا پروانے کا\n\nعشق سے دل کو ملا آئنہ خانے کا شرف\nجگمگا اٹھا کنول اپنے سیہ خانے کا\n\nخلوت ناز کجا اور کجا اہل ہوس\nزور کیا چل سکے فانوس سے پروانے کا\n\nلاش کم بخت کی کعبے میں کوئی پھکوا دے\nکوچۂ یار میں کیوں ڈھیر ہو پروانے کا\n\nوائے حسرت کہ تعلق نہ ہوا دل کو کہیں\nنہ تو کعبے کا ہوا میں نہ صنم خانے کا\n\nتشنہ لب ساتھ چلے شوق میں سائے کی طرح\nرخ کیا ابر بہاری نے جو مے خانے کا\n\nواہ کس ناز سے آتا ہے ترا دور شباب\nجس طرح دور چلے بزم میں پیمانے کا\n\nاہل دل مست ہوئے پھیل گئی بوئے وفا\nپیرہن چاک ہوا جب ترے دیوانے کا\n\nسر شوریدہ کجا عشق کی بیگار کجا\nمگر اللہ رے دل آپ کے دیوانے کا\n\nدیکھ کر آئنے میں چاک گریباں کی بہار\nاور بگڑا ہے مزاج آپ کے دیوانے کا\n\nکیا عجب ہے جو حسینوں کی نظر لگ جائے\nخون ہلکا ہے بہت آپ کے دیوانے کا\n\nآپ اب شمع سحر بڑھ کے گلے ملتی ہے\nبخت جاگا ہے بڑی دیر میں پروانے کا\n\nدل بے حوصلہ تکتا ہے خریدار کی راہ\nکوئی گاہک نہیں ٹوٹے ہوئے پیمانے کا\n\nبزم میں صبح ہوئی چھا گیا اک سناٹا\nسلسلہ چھڑ گیا جب آپ کے افسانے کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%81_%DA%86%DA%BE%DA%91_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%94_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "سلسلۂ جنبان وحشت میں نئی تدبیر سے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سلسلۂ جنبان وحشت میں نئی تدبیر سے\nطوق منت کے بدلتے ہیں مری زنجیر سے\n\nآپ لے جائیں انہیں یا دل کے ٹکڑے جوڑ دیں\nمیری خاطر جمع ہو جائے کسی تدبیر سے\n\nنزع میں بھی کی گئیں ہم پر بہت سی سختیاں\nسیکڑوں طوفاں اٹھے آب دم شمشیر سے\n\nنزع میں ہیں پاؤں میرے کوئے جاناں کی طرف\nچاہتا ہوں میں پہنچ جاؤں کسی تدبیر سے\n\nاک نظر انصاف سے کیجے ذرا سوئے رشیدؔ\nعاشقانہ کیا غزل اب ہو سکے اس پیر سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%82_%D8%AC%D9%86%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "سلسلۂ روز و شب", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "خدا نے الاؤ جلایا ہوا ہے\nاسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے\nہر اک سمت اس کے خلا ہی خلا ہے\nسمٹتے ہوئے دل میں وہ سوچتا ہے\nتعجب کہ نور ازل مٹ چکا ہے\n\nبہت دور انسان ٹھٹھکا ہوا ہے\nاسے ایک شعلہ نظر آ رہا ہے\nمگر اس کے ہر سمت بھی اک خلا ہے\nتخیل نے یوں اس کو دھوکا دیا ہے\n\nازل ایک پل میں ابد بن گیا ہے\nعدم اس تصور پہ جھنجھلا رہا ہے\nنفس دو نفس کا بہانہ بنا ہے\nحقیقت کا آئینہ ٹوٹا ہوا ہے\nتو پھر کوئی کہہ دے یہ کیا ہے وہ کیا ہے\nخلا ہی خلا ہے خلا ہی خلا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%82_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D9%88_%D8%B4%D8%A8"} {"title": "سلف سے لوگ ان پہ مر رہے ہیں ہمیشہ جانیں لیا کریں گے", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سلف سے لوگ ان پہ مر رہے ہیں ہمیشہ جانیں لیا کریں گے\nیہی کرشمے ہوا کیے ہیں یہی کرشمے ہوا کریں گے\n\nہمیں جو بے جرم پیستے ہو یہ جانتے ہو کہ کیا کریں گے\nخدا نے چاہا تو سرمہ ہو کر تمہاری آنکھوں میں جا کریں گے\n\nنہ رہنے دیں گے کبھی وہ باہم تپاک دیکھیں گے ان میں جس دم\nبدن سے خارج کریں گے جاں کو جگر سے دل کو جدا کریں گے\n\nچمک ہے اس میں محبتانہ یہ بے قراری ہے عاشقانہ\nمزا اٹھائیں گے درد دل کا کبھی نہ اس کی دوا کریں گے\n\nبڑھا تو ہے ربط ہم سے تم سے خدا نے چاہا تو دیکھ لو گے\nتمہارے پہلو میں یار دل کی طرح ہمیشہ رہا کریں گے\n\nکسی کا احسان ہم نہ لیں گے کسی کو تکلیف کچھ نہ دیں گے\nخدا نے پیدا کیا ہے ہم کو خدا ہی سے التجا کریں گے\n\nجب آئیں گے وہ پئے عیادت تو ہوگی دل کو امید صحت\nزمانہ مجھ کو دعا کرے گا مسیح میری دوا کریں گے\n\nنہیں خوش اعمال اگر نہیں ہوں فرشتے تربت میں خشمگیں ہوں\nخدا کی رحمت سے مطمئن ہوں یہ کیا کریں گے وہ کیا کریں گے\n\nتمام ہوتے ہیں دیکھ جاؤں جمال آ کے ہمیں دکھاؤ\nتمہارے غم میں لبوں پہ دم ہے کوئی گھڑی میں قضا کریں گے\n\nرہے گی یاد ان کی خوش خرامی مرا سخن ہے یہ لا کلامی\nقدم نہ پردے سے وہ نکالیں مری نظر میں پھرا کریں گے\n\nرلائے جاتی ہے ان کی حسرت چلی ہی آتی ہے مجھ کو رقت\nرہیں گی کاہے کو میری آنکھیں جو یوں ہی آنسو بہا کریں گے\n\nملا ہے آرام آشیاں کا نہیں کچھ اندیشہ باغباں کا\nرہا بھی ہوں گے تو آ کے اکثر ہم اس قفس میں رہا کریں گے\n\nکہیں ٹھکانا نہیں ہمارا تمہاری شفقت کا ہے سہارا\nغریب ہیں دو ہمیں دلاسا تمہارے حق میں دعا کریں گے\n\nلرز رہے ہیں ستانے والے خدا کے آگے کئی ہیں نالے\nگریز ان سے کرے گا محشر یہ وہ قیامت بپا کریں گے\n\nاگر چھٹے بھی قفس سے بلبل کرے گی برباد حسرت گل\nرسائی ہوگی نہ آشیاں تک چمن میں تنکے چنا کریں گے\n\nقبول ہوگی دعا ہماری کریں گے جس دم ہم آہ و زاری\nکبھی نہ جائے گی اوپر اوپر ہماری حاجت روا کریں گے\n\nنگاہیں ان پر جو ہم نے ڈالیں انہوں نے آنکھیں شرفؔ نکالیں\nستم یہ ڈھایا ہے کم سنی میں جوان ہو کے وہ کیا کریں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%84%D9%81_%D8%B3%DB%92_%D9%84%D9%88%DA%AF_%D8%A7%D9%86_%D9%BE%DB%81_%D9%85%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "سلک گوہر", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "prose", "section": "نثر", "year": null, "text_ur": "میر انشاء اللہ خاں دہلوی (متوفی 1233؁ھ – 1818؁ء) اردو زبان کے مایۂ ناز ادیب ہیں۔اُن کے دماغ میں جتنی ہمہ گیری تھی، ہندوستانی شعرا اور ادیبوں میں اس کی مثال بمشکل ہی مل سکے گی۔ عربی، فارسی، ترکی، پشتو، اردو، ہندی، پوربی، بنگلہ، پنجابی، کشمیری سب میں کہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ خوب کہا ہے۔ پھر ہر زبان کی نثر پر بھی قدرت رکھتے تھے اور نظم پر بھی۔ بے نقط کے بھی استاد بھے اور بول چال میں بھی اہل زبان جیسی مہارت حاصل تھی۔\n\nصاحبِ قلم ہوتے ہوئے صاحب سیف بھی تھے۔ محمد بیگ خاں ہمدانی کے ساتھ متعدد جنگی معرکوں میں شریک ہو کر داد شجاعت دی۔ ایک بار جے نگر میں ہمدانی کے بھتیجے مرزا اسمعیل بیگ خاں سے کسی بات پر بگڑ بیٹھے۔ بیچارے کو جان چھڑانا مشکل ہو گئی تھی۔ لوگوں نے بیچ میں پڑ کر معاملہ سلجھایا، ورنہ یہ تو کٹار لےکر جھپٹ ہی پڑے تھے۔\n\nشجاعت کے ساتھ خوش بیانی اور ظرافت کے بھی پتلے تھے۔ جہاں بیٹھ جاتے، باتوں کے باغ لگاتے اور چٹکلوں کے گل کھلاتے۔ بات میں بات ایسی پیدا کر دیتے کہ سننے والے عش عش کر اُٹھتے۔ جو ہتھے چڑھ جاتا، چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب، اُسے چھیڑتے اور بدقسمتی سے چڑھ جاتا تو چھیڑ چھیڑ کر پاگل بنا دیتے۔\n\nہنسی دل لگی کے ساتھ رکھ رکھاؤ بھی غضب کا تھا۔ بڑے بڑے آدمیوں کو بھی خلاف مزاج بات نہ کہنے دیتے۔ ایک دن نواب سالار جنگ کے بیٹے مرزا قاسم علی خاں کسی شعر میں ان سے اُلجھ پڑے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نواب سعادت علی خاں کے روبرو انھیں قائل ہونا پڑا۔\n\nذکاوت اور طباعی میں طاق تھے۔ غزلوں اور قصائد کی نت نئی زمینیں نکالتے اور اشعار میں اچھوتے مضمون باندھنے کی کوشش کرتے تھے۔ 16 برس کی عمر میں نواب شجاع الدولہ کی صحبت میں داخل ہوئے اور مرتے دم تک کبھی نواب نجف خاں کے لشکر میں رہے، کبھی بندیل کھنڈ میں جا براجے؛ ابھی میرزا سلیمان شکوہ بہادر کے ندیم تھے، وہاں سے اُٹھ کر الماس علی خاں خواجہ سرا کے ہم جلسہ بن بیٹھے؛ آخر میں نواب سعادت علی خاں بہادر کے زیر سایہ مزے اُڑائے اور اُن کی رات دن کی صحبتوں کا کھلونا بنے رہے۔ مگر اس جہاں گردی اور ہرجائی پن کے باوجود تصنیف و تالیف کا شغل برابر جاری رکھا اور سچی بات یہ ہے کہ اپنی طبیعت کے جوہر یہاں بھی خوب خوب دکھائے۔\n\nان کی تصنیفات میں سے کلیات نظم، دریائے لطافت اور رانی کیتکی کی کہانی مشہور ہیں اور چھپ کر شائع بھی ہو چکی ہیں۔ مخزن الغرائب (ورق 60 ب) میں چند سورتوں کی بے نقط تفسیر کا بھی حوالہ ملتا ہے، مگر یہ کتاب کہیں نظر سے نہیں گذری۔ کتابخانہ عالیہ رامپور میں ان کی دو اور کتابیں محفوظ ہیں جن کے نسخے کسی دوسری جگہ نہیں پائے جاتے۔\n\n(١) پہلی کتاب، انشا کے ترکی روزنامچے کے چند اوراق ہیں جن میں پنجشنبہ 18؍ جمادی الاولی 1223؁ھ (12؍ جولائی 1808؁ء) سے جمعہ 25؍ جمادی الآخرہ سال مذکور (18؍ اگست سال مذکور) تک کے روزمرہ واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض بہت دلچسپ اور مفید ہیں۔ مثلاً:\n\n1) یکشنبہ 5 جمادی الآخرہ کو نواب سعادت علی خاں بہادر کے حضور میں تصاویر کا ایک مرقع پیش ہوا۔ کسی تصویر کے سر پر بے ڈھنگی سی پگڑی تھی۔ آفرین علی خاں اُسے دیکھ کر بول اُٹھے کہ یہ تو پگڑی نہیں، فراسیس کی ٹوپی ہے۔\n\nانشا لکھتے ہیں کہ میں نے آہستہ آہستہ یہ پڑھا: “پگڑی تو نہیں، ہے یہ فراسیس کی ٹوپی”۔ حضور نے سن لیا اور فرمایا “صاحب، چلّا کے کیوں نہیں پڑھتے؟ دیکھو، میاں آفرین علی خاں، تم پر یہ مصرع ہوا ہے۔”\n\nاُنھوں نےکہا “پیر و مرشد ، کیسا مصرع؟”\n\nفرمایا : “ہم کیا جانیں؟ انھوں نے کہا ہے:\n\nپگڑی تو نہیں، ہے یہ فراسیس کی ٹوپی\n\nمیں نے کہا “یہ عجیب زمین نکلی! حضور کی زبان سے ارشاد ہوا ہے، غلام کو ان سے کیوں پھنساتے ہیں؟ اکثر ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ کہنے والے کا مقصد نہیں اور بات موزوں ہو جاتی ہے۔”([1])\n\nاس اندراج سے انشا کی ایک مشہور غزل کی صحیح شان نظم کا پتا چل جاتا ہے، جو کلیات کے بیان سے قدرے مختلف ہے۔\n\nسہ شنبہ 7 ماہ مذکور کے تحت لکھا ہے کہ جناب عالی کے صاحبزادے حسین علی خاں بہادر کی فرمائش پر میں نے یہ ٹھیٹ ہندوستانی جملہ بولا: “پرانے دھرانے ڈاگ، بوڑھے گھاگ، سر ہلا کر، منہ تھتھا کر، ناک بھوں چڑھا کر یہ کھڑاگ لاے۔”\n\nیہ جملہ قدرے تغیر کے ساتھ رانی کیتکی کی کہانی میں موجود ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ مذکورہ کہانی 7 جمادی الآخرہ 1223؁ھ (1808؁ء) کے بعد لکھی گئی تھی۔\n\nاگر اس روزنامچے کا مکمل نسخہ دستیاب ہو جائے تو انشا اور دربارِ اودھ کے متعلق بہت سے مفید باتیں ہمارے علم میں آ سکیں گی۔\n\n2) دوسری کتاب “سلک گوہر” ہے، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود ہے۔ یہ ایک مختصر کہانی ہے جسے اپنی طبیعت کی اپج دکھانے کے لیے انشا نے بے نقط اردو میں لکھنے کی کوشش کی ہے۔\n\nجہاں تک لطفِ زبان کا تعلق ہے، انشا کا قلم وہ گلکاریاں دکھانے میں بالکل ناکام رہا ہے، جو اُس کی دوسری کتابوں میں جگہ جگہ نظر آتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انشا نے یہ کوئی انوکھی کوشش کی تھی۔ اُس سے پہلے، علاوہ چھوٹی چھوٹی عبارتوں یا خطوط کے، ملک الشعرای ہند فیضی کی دو کتابیں “موارد الکلم” اور “سواطع الالہام” نثر عربی میں اور “دیوانِ مادح” نظم فارسی میں موجود اور مشہور و مقبول ہو چکی تھیں۔ خود انشا ہی نے ایک بے نقط قصیدہ، ایک بے نقط دیوان اور ایک بے نقط فارسی مثنوی “طور الاسرار” کے نام سے 1214؁ھ (1799؁ء) میں تالیف کی تھی۔ چنانچہ اس کا ایک شعر “سلک گوہر” کے دیباچے میں نواب سعادت علی خاں بہادر کی مدح کرتے ہوئے نقل بھی کیا ہے۔\n\nدراصل اس بے لطفی کی وجہ یہ ہے کہ عام اردو بول چال کا سرمایۂ الفاظ انشا کے عہد میں یونہی کم تھا، اُس پر طرہ یہ ہوا کہ ہندی کے وہ سب لفظ جن میں ٹ، ڈ یا ڑ پائی جاتی ہے، اس بنا پر چھوڑنا پڑے کہ اُس زمانے میں ان پر چھوٹی سی “ط” لکھنے کی جگہ چار چار نقطے لگائے جاتے تھے۔ اگر موجودہ چلن انشا کے دور میں بھی پایا جاتا تو عبارت کی سانس اتنی نہ گھٹ جاتی۔ اب صرف دو راستے باقی رہتے تھے، پہلا یہ کہ سنسکرت اور ہندی کے بے نقط الفاظ زیادہ کھپائے جائیں اور دوسرا یہ کہ عربی و فارسی سے مدد لی جائے۔ چونکہ انشا کے بہت بعد تک ہندو اور مسلمان دونوں اپنی تحریر و تقریر میں سنسکرت اور ہندی کے نامانوس الفاظ سے پرہیز کیا کرتے تھے اور اُن کی جگہ عربی و فارسی کے وہ لفظ بھی لکھ اور بول لیتے تھے جو عام طور پر مستعمل نہ تھے۔ اس لیے انشا نے بھی رواجِ زمانہ کے مطابق عربی و فارسی کے ذخیرۂ الفاظ ہی سے دریوزہ گری کی اور وسعتِ داماں بڑھانے کے لیے عربی کے اُن لفظوں کو بھی الف کے ساتھ لکھ کر غیر منقوط بنا لیا جو الف مقصورہ پر ختم ہوتے اور “ی” کے ساتھ لکھنے میں آتے تھے، مگر اس سے پیاس نہیں بجھا کرتی۔ جن لفظوں اور ترکیبوں سے کان آشنا نہ ہوں، اُن کا مطلب سمجھ بھی لیا جائے، تب بھی لطف حاصل نہیں ہوا کرتا اور یہ نامانوس پن سنسکرت اور ہندی ہی میں نہیں، عربی و فارسی الفاظ میں بھی بے کیفی ہی کا موجب ہوتا ہے۔\n\nاس عیب کو دور کرنے کے لیے انشا نے مطالب و معانی میں جدت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ باراتیوں میں مختلف طبقات کی نمائندگی کی غرض و غایت یہی نظر آتی ہے، اور اُن کی ہیئت کذائی، عادات و خصائل اور بول چال کی مصورانہ نقالی اسی کی شاہد عادل ہے۔ مگر اشکال و اغلاق کے بھاری بھر کم پردے اٹھا کر شاہد معنی کا دیدار کیا جائے تو بجائے تسکین کے وحشت اور جھنجھلاہٹ ہی بڑھے گی۔\n\nبہر حال انشا کی یہ کوشش اردو زبان کی تاریخ میں ایک دلچسپ اضافہ کرتی اور اپنے سیٹھے پن کے باوجود مستحقِ ستایش تھی؛ اس لیے کتاب خانۂ رامپور کی طرف سے اسے شائع کیا جا رہا ہے۔\n\nچونکہ اس کتاب کا صرف ایک ہی مخطوطہ دستیاب ہوا اور محققین واقف ہیں کہ ایک قلمی نسخے پر کسی متن کی بنیاد رکھی جائے تو مشتبہ مقامات کا رہ جانا ناگزیر سا ہوا کرتا ہے؛ اس لیے اگر اس چھوٹی سی کتاب میں آپ کو بھی متعدد جگہوں پر ٹھہر جانا پڑے، تو مرتب معذور و معاف خیال کیا جائے۔ اگر کسی اہل ذوق کو اس کا دوسرا مخطوطہ دستیاب ہو تو بعد مقابلہ صحیح الفاظ و فقرات سے مطلع کر کے مرتب کو ممنون فرمایا جائے۔\n\nآخر میں یہ واضح کر دینا مناسب ہوگا کہ زیر نظر مطبوعہ نسخے میں اس کی کوشش کی گئی ہے کہ الفاظ کا وہ املا برقرار رکھا جائے جس میں کسی حرف کے اندر نقطہ داری کا عیب نہ پیدا ہوتا ہو۔ ایسا کرنے میں بعض جگہ بمجبوری نسخے کے کاتب سے اختلاف بھی کرنا پڑا ہے۔ مثلاً اُس نے عربی لفظ “عل” کو کہیں اس طرح اور بعض جگہ “علا” لکھا ہے، پہلی صورت انشا کے مقصد کے خلاف تھی، اس لیے مطبوعہ نسخے میں موخر الذکر کو اختیار کیا گیا ہے۔\n\nکہیں کہیں کاتب نے الفاظ کے املا میں بے ضرورت رد و بدل بھی کر دیا تھا۔ مثلاً ہائے مختفی پر ختم ہونے والے لفظوں کوکبھی الف کے ساتھ بھی تحریر کیا تھا۔ چونکہ ہائے مختفی غیر منقوط حرف ہے، اس بنا پر ایسے الفاظ پوری کتاب میں اصلی املا پر برقرار رکھے گئے ہیں۔\n\nخدا کرے یہ کتاب بھی سلسلۂ مطبوعاتِ کتابخانۂ رامپور کے پچھلے نمبروں کی طرح اہلِ ذوق کو پسند آئے اور اعلیٰ حضرت فرمانروائے رامپور دام اقبالہم و ملکہم کے مبارک عہد میں اور زیادہ مفید اور اہم علمی کام انجام پائیں۔ آمین!\n\nکتابخانہ عالیہ، ریاست رامپور امتیاز علی عرشی\n\n 10 اگست سنہ 1948؁ء ناظم کتاب خانہ\n\n﷽\n\nسمرِ ماہ ساطع ملک روس و ملکۂ گوہر آرا\nدر حمد و درود رسول و ولدِعم و آلِ اطہار او،\n\nسلمہُم اللہُ المَلِک السلامُ و کرّمہُم!\n\nعالم عالم حمد، صحرا صحرا درود، اللہ صمد ودود، اور رسولِ کردگار، سر گروہ رُسُل، محمد محمود، اور آلہ الاطہار کو؛ اور سو لاکھ سلام ہر سحر و مسا اُس ماہ مصرِ اسلام، مدار المہام سرکارِ ملک علام، امامِ ہمام، اسد اللہ کو، کہ مع([2]) عساکر و اعلام مدام معرکہ آرا رہا۔ اس حد کو علم کس کا، اور کس کا حوصلہ کہ مرحلہ گرد اُس راہ کا ہو! اللہم صلی علا([3]) محمد و آلہ، و عُلُوہ و کمالہ!\n\n کلامِ مصرع دار\n\nمداد مردمکِ حور و کلک سدرہ کدھر\nکہ ہو مُسودۂ حمدِ داورِ عالم\nمدام وردِ درودِ رسول “صلِ علا\nمُحمد و علا آلہ” کرو ہر دم\n\nاطلاع اسمِ موسسِ کلام، سلمہُ اللہُ مع آلہ و اولادہ\n\nواہ، واہ، او دل آگاہ، او مرادِ کلمہ “لوآراد اللہ”، ہمسرِ املا، ولولہ!([4]) سلسلۂ کلام کو حور آسا اور محاورۂ اردو کو امردِ سادہ رُو کر دکھلا، اور اسم اُس کلام کا “سلکِ گوہر” رکھ اور آ۔\n\nمدحِ حاکم عصر، ادامہُ اللہ\n\nاور اُس حکامِ عصر، مالک الرؤساء و سادہ آرا کو کر دعا، کہ عدل اُس کا مرسوم، اور اسمِ مُعلا اُس کا “لہُ السعادہ” معلوم ہوا۔\n\nکلامِ مصرع دار([5])\n\nاللہ وُرا مراد دادہ\nاعطا علماً، لہ السعادہ\n\nالٰہا، مدام عالم عالم اُس کا محکوم اور حاسد اُس کا معدوم ہو!\n\nدر اساسِ کلام\n\nدر عالمِ علوِ حوصلہ، کہ سالہا سال ہم کو سودا سا مطالعۂ احوالِ ملوکِ عالم کا رہا، ملکِ روس اور ملکۂ گوہر آرا کا حال اس طرح معلوم ہوا۔\n\nدر گلگدۂ سمر و احوالِ طلوع سحر\n\nہرگاہ سحر گاہ ماہِ امردِ کم عمرِ سادہ رو، اھلا گہلا رسمسا سا، مسرورِ سکر، مدامِ طہور ۔۔۔۔([6]) مرصع محل کا وارد ہو کر آرام گاہ معہود کو سدھارا۔ اور عروس ہوا کا سلسلہ([7]) ہلا ،اور ہر طرح کا گل، سرد سرد اوس اور سہاگ لہر کھا کر کھلا، اور لمعۂ مہر کا ورود سرِ کوہسارِ طلا کار ہوا۔\n\nوصولِ ملکِ روس در مصور محل\n\nملکِ روس، راس الرؤسِ ممالک، محروسہ، سوار کار ہما کردارِ صر صر اطوار، ہنراہِ علم و دہل و کوس، مرحلہ گردِ گردا گردِ دورۂ گردِ صحرا، در صدد ارادۂ آہو([8])، رہ گم کردہ، آلودۂ ہراس و وسواس، واردِ حصارِ طلا کارِ سرکارِ ملکہ گوہر آرا ہوا۔ اللہ، اللہ! وہ عہدِ موسمِ گل کا ولولہ([9])، اور سو کوس لالۂ حمرا کھلا، اور وہ اُس مصور محل اور معطر محل کا ارم کا سا عالم!\n\nاحوالِ سرا سر ملالِ ملکِ مسطور\n\nحاصل کہ وہ ہمسرِ کسرا و دارا ملکِ مسطور، مصور محل کو گھور گھور، ملکۂ گوہر آرا کا گردۂ رو مصورِ لوحِ مردمک کر کر محو و آرارہ ہوا، اور اُس کو سارا درد و الم گوارا۔ وہ اُس کا احوالِ سراسر ملال اگر سرِ مو محرر ہو، سو معلوم۔مدرکہ، حواس، واہمہ کل معدوم۔ ولولہ اور دھوم دھام، مدام اُس کا کام؛ اور اُس مصور محل کو سو سو سلام، اور ہمراہ دم سرد اس طور کا کلام:\n\nکلامِ مصرع دار([10])\n\nاور کس کا آسرا ہو سرگروہ اس راہ کا؟\nآسرا ا للہ اور آلِ رسول اللہ کا\n\nاحوالِ اطلاع ملکۂ گوہر آرا و ورودِ ملکِ روس در معطر محل\n\nملکۂٔ گوہر آرا کا دل اس حال کا مطلع ہوا۔ اُس دم محرمِ اسرار، مہر کردار، ہم عمر، ماہ رو کو کہا کہ “ادھر([11]) آؤ۔ اور اُس کو لاؤ”۔ ہر گاہ مار مہرہ عطاردِ الماس آسا کا لگا، اور محل لسع مارِ مد سما کالا ہوا، اور مداد مردمکِ حورِ ملاءِ اعلا کا مسودہ کھلا، اور وسواس کا کلسرا اُس کا اُگلا ہوا سم کھا کر سو رہا، اور گہوارہ کودکِ ماہِ مراد کا ہلا، ملکِ روس کلاہِ مکلل گوہر و الماس و لعل رکھ کر، اُس صدورِ امر کا مامور ہوا، سہما ہوا مع([12]) ماہ رو واردِ معطر محل ہو کر کراہا۔\n\nاول اول سلسلہ کلام کا اس طرح کھلا۔ ملکۂ گوہر آرا کا سر ہلا کہ “ہاء! راہ و رسمِ معمول و مرسوم سوا اگر سرکار کا اور ارادہ ہو، سو معلوم، الوداع، آرام! اور دھوم دھام کا واسطہ اور سارا رولا کس کام؟ واللہ کہ حد گرما گرم ہو! اس طور کا سراسر آگ اور لاگ لگاؤ والا اور مردو۱ کم ہوا ہو گا۔ اگر سودا ہوا ہو، کالا لہو کم کرواؤ۔ اور اگر ہولِ دل ہو، دواء المسکِ سرد و گرم کھاؤ۔\n\nگوہمسر ماہ مصر ہو ،عامل ملا لگاؤ،کلام اللہ دم کراؤ۔وہ موا سودا در گور کہ سارا گھر کا گھر رسوا ہو۔لو، ہمارا کہا کرو۔سرکو ،راہ لو ،گھر سدھارو،مگر اس مہر کو لو،اور ہر طرح دل کو دلاسا دو۔اور اس کا گل کھاؤ ،لاگ کو آگ لگاؤ، والد اور والدہ کو مطلع کرو۔مہرۂ مہر کو ہلاؤ۔مسودہ اس کام کا ہو ،سو لکھو،لکھاؤ۔مہرکر ، صدر الصدور کو حوالہ کر ارسال کرو۔اگر ہم دگر کو وہ مراسلہ اور معاملہ گوارا ہو،حصول وصل کلام ہوگا ۔والا لا حول ولا۔\n\nورود ملک روس در کوہ طلا ومکالمۂ طاؤوس ،مرادوملک مسطور\n\nحاصل کہ وہ اداس رک رکاؤکا کلمہ وکلام مسموع کرکر ،ملک روس کا حد سوا دل دکھا ،گولا سا لگا۔ملکۂ گوہر آرا کو وداع کرکر کہا :“اوہ! ہو،سو ہو،ہوا سو ہوا، طالع کا لکھا ہوگا”۔ محروم اور ملول،راکھ دھول سر کو مل دل صر صر آسا صحرا کا رہگرا ہوکر،اس طور دلاسا دہ دل ہوا کہ “لو،مولا،اداسا کسو ، دسا کرو۔اس معطر محل اور گہماگہم کو لوکا آگ کا لگاکر دھدکار دو”۔ مدعا کہ وہ اکلا آلودۂ الم ،دو سال کامل دوا دو، روا رو کر کر سرِ کوہِ طلا آ دھمکا۔ لعل کا گھر ادھر اور الماس کا سہ درہ، اور لوحِ سحر، اور ہد ہد طلسم، اور مرد صد سالہ اُس کو محسوس ہوا۔ وہ سالکِ مسالکِ وداد کامل طاؤس آسا معرکہ سماع و حال کا گرم کر کر کوکا، اور مردِ معمرِ صد سالہ اس صدا کا آگاہ ہو کر للکارا کہ “او وارد راہ، مدعا دل کا کہ، اگر مال و ملک درکار ہو، کمر کھول؛ اور اگر معاملۂ دل ہو، اُس ماہر و کا اسم ہم کو معلوم کروا، سرمۂ طلسم، اور سرکارِ موسا([13]) کا عصا وہ طور والا، اور مدد کا رسا اور کاسہ([14]) امداد ہو گا۔ اُس سرمۂ طلسم کا وہ کام کہ اس کو لگا کر گھر گھر کل کو گھورا کرو، اور دوسرا مطلعِ حال ہو، سو معلوم؛ اور عصا وہ عصا کہ گاہ مار گاہ دوحہ کردار ہو؛ اور رسا وہ رسا کہ ہر ماہ رو کو کس لو؛ اور کاسہ وہ کاسہ([15]) کہ ہر طرح کاطعام کھاؤ، کھلاؤ، دو، لو، اُس کا طعام کد کم ہو”۔\n\nملکِ روس اس صدا کا سامع ہو کر کھلا، اور کہا، کہ “اسم اس گدا کا ماہ ساطع ولد مہر طالع ملکِ روس، اور علم اُس ماہرو کا کہ دل اُس کا والہ ہوا، ملکۂ گوہر آرا سرکار کا سامعہ آرا ہوا ہو گا۔ واللہ! کہ دوسرا اُس سا ہو، سو اصلا۔\n\nمحامدِ اوصالِ([16]) ملکۂٔ گوہر آرا\n\nاُس حورِ ارم کا وہ عالم، اور آس مراد کا موسم کہ اللہ، اللہ! کمر، کولا اور ادا، واہ ، واہ، واہ! ممدوحۂ سما و سمک، کاکل دودِ آہ ملک، دمک طلا کار، مہر کردار، دلک ماہ اطوار، وہ لوحِ طالع مساہم لوح طلسمِ اسرارِ دادار کردگار، اور وہ دو ہلالِ مساہم، ہمدگر مادۂ سحرِ حلال۔ اور وہ معادلِ رماحِ معرکہ آرا ھُوَ ھُوَ سماکِ رامح۔ اور وہ دو صادِ کلکِ مالکِ معاد کا وہ عالم اور دھوم، کہ لوحِ([17]) مہر و ماہ و سوادِ دورۂ دھر ہر ہر واحد محکوم۔ اور محلِ سمع ہر واحد محسود، کل۔ اور معاملہ دمِ ادا اُس مساہم و ہمدمِ صور کا کہ حامل اور محرک ہالۂ طلا کا مع لعلِ واحد اور دو گوہر ہوا۔ اللہ، اللہ! واللہ کہ واہ، اور واہ سو واہ، سو لاکھ واہ! اور دو گال کا اس طرح کا کمال، کہ ہو ہو مہر و ماہ کا سا حال۔ اور اُس سلکِ گوہر اور لعلِ احمر کا وہ احوال، کہ لالۂ حمرا اور اوس کا عالم ۔اور وہ محلِ مسِ اہلِ دول امرودِ ارم آسا آرام روحِ حور، اور گود اُس کا([18]) سہا کا دارِ سرور۔ گلا کوکلا کا سا، اللہ، اللہ! وہ لولو : لا لا کا ہار، اور محل اُس کا مساہم سحر محرکِ مردہ۔ لاکھ سر کا ہو کر سرو اگر علم آرا ہو، اُس کو کہدو کہ اُس سرو کا سا مراد کا (ہو)([19])۔ کولہا([20]) وہ کولہا کہ در اصل عسل دار مگس وار ہو۔ اور وہ موردِ حمل گدگدا، اوہو ہو ہو، اہا ہا ہا! گرہ مو([21])۔ کمر اُس گرہ کا معا کسہ۔ سُرّہ وہ سرہ، ہمسر کلمۂ سرہ۔ اور وہ اودا اودا([22]) سا لہلہا مو دار مدِ عکسِ مار کا کل، الہا، المدد، المدد! اور روماول کا کالا گود سر کا سہارا کھا کر رودِ ماء العمر کا طامع ہوا۔ اور ہالۂٔ گہر دارِ طلا کا مور، سہاگ لہر والا ہلا اور اُس کو گھورا([23])، سہم سہم دودلا ہو کر، دو کوہِ الماس کا آسرا کر، رُک رہا۔ اور وہ موردِ الماس و لعل و گہر، کہ ہر گرد اُس کو مل مل محسودِ سما و سمک ہو، سہا و عطارد کا گھر۔ اور وہ گول گول ساعدِلامع موردِ مرور ماہ، اور وہ مادۂ([24]) مار کا مولد کہ ہر عروس کا رسوا گھر ہو، لاکھ دل کا محل آرام۔ اور وہ دو کوہِ طلا، اُس دو کرۂ مدور اور گول گول کا معاکسہ کمر کہ([25]) مردار کا وہم کم رکھ، محلِ سروکار کو مسودۂ سمِ آہو لکھ۔ اور عکس اُس آگ کا، وہ آگ کہ محاورۂ کلامِ اہلِ مکہ ہو([26]) ورل آسا۔ اور وہ دو محلِ سرِ اہلِ ہراس و وسواس، دو کاسِ مدور، الماس۔ اور وہ دو عمود طلا کہ داماد عروس کو گھر لا کر اُس کا حامل ہو، مدارِ سرورِ اہل ہوس۔ اور وہ حاملِ سلسلۂ صدا آرا سمکِ طلا۔ اور وہ دس کلک لعلِ احمر مدارِ ہرکار، معصرِ دل اور معاکسہ مساہم ہر واحد کا، اور وہ مصلحِ عکسِ صلح اُس دم کہ حا کو سمسم اسودِ مداد کار کہہ کر معلم کرو، دس دس ہلال ہمراہ ماہ کامل۔\n\nکلام مہر آلودِ طاؤس مراد\n\nالحاصل وہ مردِ صد سالہ اس کلام کو مسموع کر کر رحم آور ہوا، اور اُس کو کہا کہ “وہ سرمہ اور وہ عصا اور وہ کاسہ اور رسا اگر درکار ہو، لو، اور مدعا دل کا ہر طرح حاصل کرو۔ و اِلا سرِ کوہ رہو، دال اوگرا ہو گا، سو کھاؤ۔”\n\nوہ دلدادہ رو کر اس طرح کلام آرا ہوا کہ “مدعا دل کا حصول وصال دلدار سوا اور ہو، سو معلوم۔ اللہ کا رحم اور سرکار کا کرم اگر مددگار ہو، حل ہر گرہ سہل، اور دکھ درد دور ہو گا۔”\n\nورودِ طاؤس مراد در محل و مکالمۂ او و گلرو\n\nہر گاہ اس طرح کا مکالمہ ہمدگر مکمل ہوا، وہ کمال آگاہ داد رس ہر اہلِ درد گھر کو سدھارا، اور کل اہل و اولاد کو للکارا، اور مولودۂ مسعودہ([27]) گلرو کو کہا کہ “او گل رو، ادھر آ، کہ مہر طالع کا ولدِ اسعد، ماہ ساطع ملک روس، ملکۂ گوہر آرا کا والہ و دلدادہ ہو کر ادھر وارد ہوا۔ اللہ، اللہ! عالم اُس کا اس طرح کا:\n\nکلامِ مصرع دار\n\nاہلا گہلا رسمسا، گورا گورا، واہ!\nسادا سادا، گد گدا، گول گدا کا، آہ!\n\nاور معا کسہ اُس محامد کا اس طور:\n\nمعاکسۂ کلامِ مسطور\n\nگورا گورا، واہ! اہلا گہلا رسمسا\nگول گدا کا، آہ! سادا سادا گد گدا\n\nوہ کام کر کہ اس امردِ سادۂ دلدادہ کو آسرا سہارا، اور دل اُس کا لہلہا ہو”۔\n\nگلرو کا، مسکرا کسمسا کر، کمر کولہا([28]) ہلا کر، مالا مال ہو کر، سر ہلا اور دل کھلا، اور کہا کہ “اس کلام کا مآل([29]) ہو، سو معلوم کرواؤ۔”\n\nکہا کہ “وہ سرمہ اور وہ کاسہ اور وہ رسا اور وہ عصا لا دو کہ اُس کا کام اور ہم کو آرام ہو۔”\n\nکہا: “دادا، وہ موا کاسہ واسہ([30])، سرمہ اُرمہ، رسا وسا، عصا وصا، کس کام، واسطہ، مدعا؟ ملکۂ گوہر آرا اور ہم ہم عمر اور ہم کلام۔ اُس کا کام ہم کو کل معلوم، اور ہمارا سارا اسرار اُس کو۔ اگر واسطہ ہمارا ہو گا، مدعا لا کلام ہوا، و اِلا، لا۔ اُس کو کہ دو کہ گلرو کا کہا ہو، اور سر مُو اصلا۔”\n\n وصلِ ماہ ساطع و گلرو کہ مساس و معاملہ طورِ دگر آمدہ\n\nمرد صد سالہ اس کلام کا آگاہ ہو کر، اُدھر رہگرا ہو، اور اُس کو کہا: “آ، ملکِ روس کو دلا سادہ ہو۔”\n\nالحاصل، اُس مرد آوارہ کا اور اُس کا ہمدگر ملاؤ ہوا۔ لہر، گو کھرو، ململ، گھاس، اطلس کا سادا سادا طور کر کر، اُس ساحرہ کا دل کھلا۔ اُس دم وہ لعل کا گھر ادھر، اور الماس کا سہ درہ([31]) وا ہوا۔ مردِ صد سالہ، گلرو کا دادا، علاحدہ دور رہا۔ مدعا کہ ماہِ ساطع ہمراہِ گلرو اُس گھر کا صدر آرا ہوا، اور سلسلۂ کلامِ گلرو اول اول اس طرح ہلا:\n\nکلام مصرع دار\n\nآگ([32]) لگاؤ، گرم ہو، آہ، رہا سہا کرو\nوہ کہ دُراؤ([33]) والا ہو، اُس کو اکل کھرا کرو\nدور کرو دراؤ کو، سارا گلہ ہوا کرو\nہم کو ملو، دلو، کھلو، کھولو، گرہ کو وا کرو\nآو، گھلو، ملو، کھلو، گود کو گد گدا کرو\nکوکھ([34]) مسوسو، کوس لو، اور ملولا گولا([35]) کھاؤ\nرولا کرو کہ دھوم دھام، آو، مگر ملو ملاؤ\nگرم رہِ سلوک ہو، مروحہ مہر کا ہلاؤ\nدور کرو دھاک کو([36])، لہرا سہاگ کا لگاؤ\nدکھ کو سکھا کر([37]) آگ دو، راکھ کو سرمہ سا کرو\n\nماہ ساطع، گلرو کو گھور گھور گرما گرم ہوا، اور کہا : “اوہ، لو آو، کہو، سو ہو۔”\n\nاول حد سوا مساس ہوا، اور مساس ہو کر عمود کا سر ہلا، اور رس کا درا وا ہوا، اور اس کام کا لگاّ لگا۔ ہر گاہ لہرا لہرا دم مار مار کر، وہ راہ مار گھسا، اور دھکا([38]) گہرا لگا، گلرو کا کولہا دکھا، مسوسا کھا کر کہا : “کس طرح کا مردوا ملا، کہ رس کا محرم ہو، سو اصلا، اس کام کو آگ کا لوکا! موا گد گدا گدا کا سا سادہ لوح کدھر دھر دھمکا؟ ملکۂ گوہر آرا کو رسوا کر کر ادھر آ کودا۔ اس کو مکا، اُس کو دھول، اس کو ہودا۔ لو اور گل کھلا کہ لال لال اودا اودا سا لوہو گرا۔ حملہ کر کر گوکھرو سارا ملا دلا۔ آدم کہ موا گدھا۔”\n\nالحاصل وہ کالا، آس مراد والا، اوس لس دار اگل کر مردہ([39]) سا ہو کر گرا۔ گلرو کا اُس دم لعلِ گوہر دار ہلا اور کہا: “موا ملکۂ گوہر آرا کا مردودِ درگاہ گھر کا مالک ہوا۔ الہا! لوکا لگا اس سہاگ کو! وہ لگا کس طرح اور کس کام کا کہ گہرا گد کا مار ہم کو ادھموا کر کر ہوا ہو، لوگو، اس طرح کا لگور دوسرا ہو، سو معلوم۔ اول اول دعا اور سلام اور کلام کو حوالۂ سہو کر کر اور مدعا کو آ لگا۔”\n\nماہ ساطع اول دم کھا رہا۔ ہر گاہ گلرو کا کلام سارا مکمل ہوا، سر ہلا کر کہا کہ “واہ، واہ، حد کرم([40])، ہم سا اور سادہ لوح دوسرا کد ہو گا کہ سرکارِ والا کا کام اس طرح کر کر سادہ لوح کا سادہ لوح رہا۔ کرم اور مہر کدھر، کہ مورد ملال ہوا! واللہ! اگر ملکۂ گوہر آرا کو اس طرح کا سرور حاصل ہوا، معاً اس حور کو مل کر معلوم کرو کہ مار رکھا ہوگا۔”\n\nصعودِہدہد، گلرو، و وصولِ او در مصور محلِ ملکۂ گوہر آرا\n\nاُس دم اُس ساحرہ کا سحر معلوم ہوا۔ واہ، واہ! اِلو، گلرو کدھر، گلرو کا ہد ہد ہوا، اور وہ ہد ہد صعود کر کر ہوا کو ملا۔ ملکۂ گوہر آرا کا گھر اُس کا آرام گاہ ہوا، اور سر اُس کا کھلا۔ اُس دم ملکۂ گوہر آرا کا دل گل گل کھلا، اور اُس کا آگا روک کر کہا کہ “سرک، او کم مہر۔ سال و ماہ سلام ولام، لکھا وکھا؟، روکھا سوکھا دلاسا، سو اصلا۔ سراسر سہو محو، دور ہو، لا حول ولا۔ اس لاگ کو آگ کا لوکا!”\n\nاُس دم ہد ہد آدم ہوا، اور وہ آدم کھل کھلا کر اس طرح کھلا کہ “مالک ہو۔ کہو، سو کہو، اور گلہ([41]) کرو، مارو، ہمارا اور مدعا ہو، سو معلوم، الا ملکۂٔ گوہر آرا کا ہر طرح سرور۔ او ماہرو، ادھر آ، ہمارا اور ملکۂ گوہر آرا کا معاملہ لکھ رکھ۔ کل کو اِدھر اُدھر گلہ ہو([42])، گواہ ہو کر کہ کہ گلرو کا دوس ہو، سو معلوم۔ اُس کا الحاح سوا اور طرح کا کلام ہو، سو اصلا۔\n\nماہ رو کا سو ادا کھا کر، لعلِ گوہر دار ہلا، اور کہا کہ “لو، آؤ۔ دم لو، آرام کرو۔ راگ واگ گاؤ۔ ہمدگر کا گلہ ولہ([43]) سارا دور کرو۔ گال ملو، گال ملواؤ۔ محرم کھولو، محرم کھلواؤ۔ مساس کرو، مساس کرواؤ۔ گول گول کولھا ملو ملواؤ، آہ واہ کرو کرواؤ۔ گلرو کا اسم “گلو” رکھو اور ماہرو کو ہمدگر، صلاح کار کر کر اس کا صلہ([44]) دو۔”\n\nالحاصل، سرِ محرم کھلا اور ہر طرح کا مساس اور گھل گھلاؤ، اور مل ملاؤ ہو کر راگ کا لہرا لگا۔ ملکۂ گوہر آرا کا سُوہا، واہ، واہ! اور گلرو کا دائرہ، اللہ، اللہ! ملکۂ گوہر آرا کا دل اُس کا دائرہ مسموع کر کر مسرور ہوا، سراہ کر کہا کہ “گلرو، اگر اس دم مال اور ملک درکار ہوکہو، کسو اور کو دلوا دو۔ اور اس گوہر آرا کو مملوکہ معلوم کرو۔” کہا کہ اس گلرو کو وہ دو کہ اُس کو درکار اور اصل مدعا اور مراد ہو۔\n\nکہا کہ “گُلُو، کہ”\n\nکہا کہ “ماہ ساطع ولدِ مہر طالع، ملکِ روس، حورسا امرد گوہر آرا کا مساہم، اہلِ کمال کا ممدوح۔ ہر کام کا کس والا، اُس حور کا کہ اسم اُس کا گوہر آرا اور والد اُس کا والا گہر اور والدہ مہر آرا ہو، والہ ہو کر واردِ کوہِ طلا ہوا۔ اور دادا([45]) طاؤس مراد کو مل، اہلِ دل اور رحم والا معلوم کر، سارا احوال کہا۔ دادا کمال مصر ہوا اور کہا کہ گلرو، اس دلدادۂ رُوسادہ کا کام کر دو۔ ملکۂ گوہر آرا کا گھر اگر معلوم ہو، ہُدہُد وُد ہو، کوکلا ووکلا ہو کر صاعد ہو، اور اُس گوہر آرا کا احوال معلوم کر۔ اگر اسہل ہو، لگا اس کام کا لگا۔ اور اگر اس طرح محال ہو، اور صلاح کر۔ سو اس دم اس مملوکہ کا آمد آمد کا واسطہ اس کام سوا اورہو، سو معلوم۔ اور اس سوا کام اور ہو، سو اصلا”۔\n\nکہا کہ “وہ امرد معلوم ہوا کہ طاؤسِ مراد کا گھر کُودا، اور اُس لعل کا مالک ہوا کہ لعل کا ادھر گھر اور الماس کاسہ درہ اُس کا وہ ہوا دار، اور اسم اُس لعل کا گلرو۔ واہ، واہ! اِلُو امرد اور کس والا ہر طرح ممدوح ہو، وہ لعل کا گھر ادھر اور الماس کا سہ درہ اور ہوا کا عالم اور گہرا گد کا اور کُھل کُھلاؤ اور مل ملاؤ۔ اُوہ، اُوہ! اس آمد کا مآل دراصل لگاؤ کا کمال، اور محرم کا ملا دلا گوکھرو اُس کام کا گواہ حال۔ گلرو کا مائل گوہر آرا کا طامع ہو، سو اصلاً۔”\n\nکہا: “ملکہ([46])، اس طرح کا کلام کم اور سارا گلہ([47]) گم کرو۔ گوہر آرا کا والہ و دلدادہ گلرو کا محرمِ اسرار ہو، واہ عدل! لو سر کو، مآلِ کار معلوم کر کر اس طرح کہا کرو۔”\n\nکہا: “اگر مُکرو، مُکرو۔ دل کا احوال سو اللہ کو معلوم ہو گا۔”\n\nکہا: “ملکہ، کلام سرکار کا اصلِ اصل۔ وہ سرکار کا مملوک اور گلرو مملوکہ۔ اُس مملوکِ مردہ کو محرمِ اسرار کر کر عمرِ مدام کا مالک کرو۔”\n\nکہا : “اگر سرورِ دلِ سرکار اس طرح ہو، طوعاً و کرھاً اولا([48])۔ اما مہر آرا کو آگاہ کرو کہ ملک والا گہر، ہمارا اور اُس کا مالک، اس احوال کو مسموع کر مسرور ہو۔ اگر اس کا اُس کا حکم لو، اس طرح کا مردوا حور سا امرد، واہ، واہ!”\n\nگلرو کا ملال دور اور دل مسرور ہوا، اور ملکۂ مہر آرا کو سلام کر کر کہا کہ “اما، گوہر آرا کا دل، ماہ ساطع ولدِ مہر طالع ملکِ روس، کا طامعِ وصال ہوا۔ واللہ! اُس سا امرد اور حور سا مردوا اور ہو، سو معلوم۔ گوہر آرا کا ماہرِ حال ماہرو اور اس گلرو سوا اور ہو، سو اصلا۔ رو رو کر حال اُس کا اس طرح ہوا کہ کہو اور روؤ([49])۔”\n\nمہر آرا کا دل ملول ہوا اور کہا کہ “اُس امردِ سادہ رو حور طور کو لا۔”\n\nگلرو کا اُس دم مکرر ہُدہُد ہوا، اور وہ ماہ ساطع امردِ دلدادہ، آلودہ درد و الم کا، مکرر اُس مصور محل کو آ دھمکا۔\n\nکلام در حصول اہمِ مرام\n\nالحاصل دولہا([50]) ہو کر وِسادہ آرا ہوا، اور لاکھ حورِ طاؤس کردار اور سو لاکھ اہل سرود کا لگا لگا، اس طرح کہ کوسِ رعد آسا،اور دہلِ([51]) سامعہ سا، اور اور دمامۂ اسد صدا، اور عودِ حمامہ آوا کا ہمدگر مل کر سُروُر۔مدہم و دہم، سادہ وادہ، اور گاہ اور صعود کر کر سرگم کا حورِ ارم کا سا عالم ہوا۔ اور ادھر کامود، گاہ مدھ مادھ اور ملار، گاہ کدارا اور مالکوس سا راگِ سامع آرا مسموع کر دل ملوک اور اُمرا کا کھلا۔ ممولا اور کلو کا وہ کلام کہ “کملا محرم دل دادہ” ہر سامع کو سراسر آگ لگا کر الگ ہو رہا، اور سادھو مادھوکا ادا دکھا دکھا کر دھوم دھام کا رولا کہ سُدہارس کا کھا ہوا وہ “دِر دِر، دِر دِر، درا، درا، آہِ دِر دِر، دِر دِر، درا درا۔”\n\nکلامِ مصرع دار\n\nوصلِ دلدار آمدہ دردِ دلِ ما را دوا\nرو، ارسطو، رو ،ارسطو، دردِ سر ما رامدہ\n\nکودکِ دہ سالہ اور مردِ معمرِ صد سالہ کو رُلا رلا کر روح کو آ لگا۔ گل محمد کا سالا، مکھو، ہر گاہ دائرہ سمہال کر کوکلا سا اس طرح کوکا :\n\nگوکل کر مورلا کوک رہو ہو\nرادھا ہر کا ہو اُور سدھارو\n\nاُس دم ہر دل کا ارادہ کر کر کرا آگ کا کر، ہمراہ رود و سرود راگ کا لہرا اور سُر سم کا لگا لگا کر علاحدہ علاحدہ ہر گروہ([52]) آد م کا طور اور ہُو ہُو ہر کدام کا کلام، اس اس طرح ادا ہوا کہ واہ، و اصلا۔ کلو، مرادو، امامو کا کہرا کہرا([53]) گہرا گہرا کہروا، دُھرا دھرا کر کولہا([54]) ہِلا ہِلا، گلا لہر لہرا، دولہا([55]) کو گھور گھور، دم سادھ، گم ہو، گا گا کر : “اودہو مہرا گہرا والا حاکم ہم را” اس طور کہ، واہ!\n\nاور واہ، واہ! وہ رہس لالہ رامداس کا، اور وہ سارا عالم، اور کالا کمل والا گوالا، اور وہ سو سر کا کالا، اور وہ اوس، اور وہ گھاس، اور لاکھ گؤ کا دودھ، اور گؤرس، اور لاکھ گاگر، اور رس کا ساگر، اور اُس راگ کا لگاؤ، اور آگ کا الاؤ، اور ہر ہر درگ مرگ سا، ممولا سا، اور گوکل کا سارا اُداسا، اور اُدھر کا ادھورا دلاسا، اور وہ دھوم دھام کا رولا، اور راولا کوسا، اور آس کا لگا لگا کر، سولہ سولہ سو کا مسوسا، رو رو کُہک کہک سُلگ سُلگ دہک دہک، سر گال کوراکھ دھول مل، اس طور کہ\n\nہاہا، او دھو ہردوارکا کو سدھا رو\nکا ہو کہا دوس سگرو دوس ہمارو\n\nاور واہ واہ! وہ آلہا او دل کا راگ ہُمک ہمک اور کورو کا گھما کا، اور ہر ہر سور اور سُودر کا گھل گھلاؤ گہک گہک، اور واہ! وہ سرِ راہ گولر کا آسرا اور کولک کا لگا، اور وارد و صادر کا دُگھدھا، اور ادھر اُدھر ہرکارہ لگا ہوا، اور آمدِ مالِ سوداگر، محرر اُس کام کا لا لا گردھر اور للُو اُس کا سالا اور سسرا اُس کا مادھو رام، اور ہمدگر اس طور کا کلام کہ “مہر کا گھور محمد سرور کو راگ اس طرح ہوا کہ ہوا کو کوا کرا۔”\n\nکلامِ مصرع دار\n\nمہِ ما امرد سدہ سدہ([56])\nدردا دردا ددہ([57]) صدا\nکہ درا درا اِدرا([58]) گدا\nہُد ہُد ہما کو سر و دُم ہلا\nہُلولُوم ہُلولُوم ہُلولُوم ہُلولُوم\n\nاور گھورک گھورک گھور گھور مردِ حمد آور کا کلام اور کُراگ اس طرح کا\n\nکلامِ مصرع دار([59])\n\nکورار کورار کورار اول گورلوک و کلگوارہ\nسوکار سوکار و کولار کولسام و اور گولسام\nاول کور گولوک دور مو کور گولوک دور اول کور\nگولوک دور موکور گورلوک دور مولوموک دور\n\nواہ، واہ! وہ دورہارا، دکھا دکھا، دھمکا دھمکا کر، معاملہ([60]) حال کا سا اُس گروہِ دذآسا کا، کہ اصل مولدِ کل روہ اور ہر واحد اُس گروہ کا عکسِ مرادِ احمر([61])، اور کل کا طور سو اس طرح کہ عمامہ ململ کا اور دس اطلس گلدار کا گھگرا دُمِ طاؤس سا، اور کالا کمل کسا ہوا کمر کا سہارا، سرمہ سراسر گُھلا ہوا، اور وسمہ لگا ہوا، اور وہ ہرارا اور حملہ گہرا، اور سرود کا لہرا، اور سر ہلا ہلا اُکس اُکس کود کود اعادہ اس کلام کا: “ملا سردارا، اِسکؤا، اِسکؤا۔” اور اللہ، اللہ! وہ مکالمہ علماءِ اہل دہ کا ہمدگر اس طور کہ “ملا صدرہ اس اس لِکھس رہا۔ ملا محمود مع اولہ اَس اَس کہس، اور حمدلاہ([62]) سُلم مُسلم والا دُؤ کو رد کرس۔ در اصل عِلمِ کا گھر، سو مدرسہ ملا سعد کا رہا۔ وما عداہا لا۔ اس کو درک کرو اور کا اور وہ کہ العلم مع العمل، کالمسك مع العسل۔”\n\nاور وہ مردود، درگاہ سالار و مدار کا رولا، راکھ دھول سر کو لگا([63]) اور الاؤ آگ کا سلگا، اور وہ دھمال اور دھد کار کا معرکہ کہ “مدار مدار مدار، سالار سالار سالار۔”\n\nاور واہ واہ! وہ کلام لا لا سدا سکھ کا کہ کھرا اُس سا دوسرا کم ہو گا، محو کاسۂ مدام ہو کر اس طرح کہ “درا درا درا، درا،راگ کا سرا۔در در در دور کر،در در در کس کا دُر، اُس امرد کا کہ ماہ آسا سا دہ رو ہو”۔ اور وہ ملمع کلہ کہ ماء الورد اور دُر دارو ملاؤ کر کر در کلوم دِہ۔ او مردک اُلو گُلو، حماِ ر صحرا گدھا گُدو، مگو، “کل کلا کلوا” مع “اکل، اکلا، اکلوا” کُلو لحمِ مملح، دگر راحِ آرامِ دل دہ، مل کر سورہ۔ اور اعادہ ہر دم اس کلامِ مہمل کا کہ “اللہ اور رام، کلاہما واحد”۔ لا حول ولا۔\n\nاور محاکمہ گروہِ ملاحِ اہلِ اسلام کا اس طور([64]) : “مُسُعُدا گُتُو، کُدا وُ ہُم کُرو، رُسا کُسُو اُس کُسو، دُوہُو، گُورُس کُرُو، لُکا دُہُرو، مُو لُوک مُو لُوک مُسکا کہاؤ کُہوا کھاو گُولُوک۔”\n\nمکالمہ او سوال، اور وہ دوارکا داس او سوال کا کورۂ حداد سا گال، اور وہ لس دار رال کا معاملہ گؤمکھ سا کلا، سر کھلا، اور اُس کا وہ محلِ امعا دمادمۂ رعد صدا، اور مکارام مکارام اُس کا گر، اور سرگم کا سا سُر۔\n\nمعاملۂ اہلِ حال\n\nاور وہ آمد آمد اہلِ کمال، اور وہ عمامہ، وہ کلاہ، وہ رِدا اور سماع و حال، اور وہ عرس کا احوال؛ اور وہ ولولہ اور سودا، اور وہ سوکھا ساکھا گردۂ مدور([65]) اور کاسہ([66]) دال عدس کا رُوکھا؛ اور حرص و ہوا، اور وہ راگ اور صدا، اور دائرہ اور دورہ([67]) “اللہ ہُو” کا؛ اور وہ اُہو ہُو ہُو، اَہا ہا ہا سر اور عصا اور رومال ہلا ہلا کر، رو رو، رُلا رُلا کر۔\n\nاور وہ لاہور کا سکھ گرو امر داس والا، اور اُس مردود سُؤر کا “واہ گرو واہ گرو” کا معاملہ اس طور کہ لا حول ولا۔\n\nاور وہ دس مرد کہ ہر واحد کا سو دھرا مولد اور ماوا، اور اسم ہر واحد کا اس طرح: رُولدُو([68]) گُلو([69])، گھمّا([70])، دُھوما، ملھّا، سلھّا، کلا، مہروُ، محمد مراد، سمُو، آ کر ہر واحد اس طرح کوکا، اور دُھرا دھل محرمِ صدا ہوا۔\n\n کلامِ مصرع دار\n\nکرم اللہ دا لکھ طرح دا، اس دولہا دا لال رومال\nسرور سرور سرور سرور آکھ رہا کر گھمّا لال\nسہرا دا([71]) سرور دا رُولدو، سرور راول دولہا ہوءک\nدولہا دا گھر اللہ وساؤک، سرور دا اِہ کولا ہوءک\n\nاور ، ملّھو، اور عصمو، اور امامو، اور مرادو اور کرمو، کہ ہر واحد کا گھر لاہور، اور کام ہر واحد کا سو ہلا آ کر اس طرح ہر واحد کا راگ ہمدم سمیع اہل سرور ہوا :\n\nکلامِ مصرع دار\n\nاما دا اِہ لال دُلارا دُولہا ککر ملہو وال([72])\n\nاکھ([73]) ملاوک گھور رہا اَہ اما والا عصمو وال\n\nآسا مل اما دا محرم کرم محمد مما مِلدا\n\nاکھ(٧٣) ملاوک ککر دولہا آ کھ مرادو کرمو وال\n\nسر سودا کلاہِ دود آسا ہد ہد اور مور کا سا طُرہ لگا ہوا سو دور دھر کر گلا ولا کس سا لال لال ہو، گھور گھور، گھورک گھورک، کود کود لُم اور مکرا اور مسکول کا گرما گرم گول گول گولا سا سلام، اور مسکرا مسکرا طاؤس وار کام، اور کلام اس طور :\n\nوہو وہو او کلا آدم کالا آدم\n\nلاو ول لاو ول درام درام\n\nاور سوگوارا دارو اور رال کو آگ لگا کر معرکہ آرا ہوا۔ ماہ ساطع اور ملکہ گوہر آرا کو اس طور کا کلامِ مداحِ معرکہ آرا مسموع ہوا کہ اللہ، اللہ!\n\nکلامِ مصرع دار([74])\n\nحور عروسِ مدعا، صلی علی محمد\n\nعطر سہاگ کا لگا، صلی علی محمد\n\nواہ، وہ عالم اور ادا، سہرا ملا دلا ہوا\n\nطورِ سحر سو رسمسا، صلی علی محمد\n\nسلسلۂ کلام گرم، اور ہوا وہ سرد سرد\n\nوصل سہا و مہر کا، صلی علا محمد\n\nواردِ معرکہ ہوا مہرہ ماہ و مہر([75]) کو\n\nاور عطاردِ سما، صلی علی محمد\n\nآس مراد کا ادھر اور اُدھر کو گل کھلا\n\nگل کدہ سارا لہلہا، صلی علی محمد\n\nمعرکہ دھوم دھام کا، وہ محل اور اُس کا وہ\n\nکارِ مرصع و طلا، صلی علی محمد\n\nصدرِ صدورِ رسم و راہ واردِ محکمہ([76]) ہوا\n\nمہر ملوک کا لکھا، صلی علی محمد\n\nطرۂ لعل و گوہر اور سلسلہ راگ([77]) کا کھلا\n\nوا درۂ ارم ہوا، صلی علی محمد\n\nصلی علی محمد، آلِ رسول کا رہا\n\nہم کو مدام آسرا، صلی علی محمد\n\nسورۂ حمد اور درود ورد کر انشا،([78]) واہ واہ\n\nواہ، کرور واہ وا، صلی علی محمد\n\nاُس مداح کو اس کا صلہ([79]) آگرا، اور اُس کا گردا گرد اور کمرِ مرصع اور عطر اور طرۂ گرہر اور ہار گل([80]) کا ملا، اور کہا کہ “واہ، واللہ، واہ!۔”\n\nاور حکم عالم مطاع کامو اور کادو اور گوگا اور رمو اور کملو کو صادر ہوا کہ کل اس کو گاؤ۔ لاکھ حصارِ طلا کار، دس لاکھ ہالۂ ماہ کردار اور سولہ لاکھ سہ درۂ الماس وار، اور سو لاکھ طاؤسِ ہما کردار، ہر ہر واحد آگ کا کرمع([81]) گلکدۂ ارم اگل اگل معرکہ آرا رہا۔\n\nاور رعد صدا وہ گرما گرم گولا کہ سما و سمک کو دہلا دہلا ہلا ہلا کر محلِ طلوعِ صد مہر و ماہ و سہا و عطارد ہوا، اُس کا عالم اس طور کا کہ واہ!\n\nاور وہ کرہ مدور سا اطلس کا کہ آگ کا لگاؤ اور دود اُس کا حاملِ ہوا، اُس کا صعود، اللہ اللہ!\n\nہر گاہ ماہ عالم آرا کا سدس عہدِ عمل رہا، اسعد الدولہ ملا محمد کامل، اور اکرام الدولہ ملا محمد لامع کو دو گواہ کر کر دولہا آمادۂ وصال دلدار رہا۔ اور عروس کا سرآمد وکلا صدر الصدور، صدر الدولہ، مکرم الملک ملا محمد واسع ہوا۔ اور داماد کا عماد الدولہ، مصلح الملک ملا محمود۔ الحاصل وہ دس سطر کہ عروس و داماد کا معاملۂ([82]) ہمدگر اُس سوا ہو، سو معلوم، مع([83]) مہر و مُہر و گواہ دولہا([84]) حوالۂ سمع کر کر محل سرا کو سدھارا۔ اللہ، اللہ! وہ آس مراد کا موسم اور اُس دولہا کا طرۂ الماس اور لعل کا عالم۔ اور وہ سہرا سلسلۂ گوہر اور گل کا اہلا گہلا، اور وہ ہارِ مرصع کا لہلہا، اور وہ سہاگ کا عطر، اور وہ محل سرا کا معاملہ، اور گھر کا وہ سُر راگ علاحدہ علاحدہ اور طور کا۔ اور کل رسم و رسوم اور معمول، اور اللہ کا رحم اور دھوم دھام، اور وہ ماہ رو کا گُلگلا سا گال اور اُس دم کا حال، اور وہ گہما گہم، اور وہ ملولا، اور وہم اور مسوسا، اور ہراس اور لاکھ طرح کا وسواس۔ اور اس ہم عمر کا دلاسا اور اُس کا اُداس اُداس کلمہ و کلام، اور اُس کا گھلاؤ ملاؤ، اور وہ سُوھلا کہ “لو، وہ اگلا اکہرا دُھرا ہو کر اس طرح آ لگا” اور اُس کا رکاؤ اور دل کا گھاؤ اور رکھ رکھاؤ۔\n\nواہ واہ، وہ محل سرا کہ طرحِ اساس اس طور حدِ معمار ہو، سو معلوم۔ ہر موسم کا علاحدہ علاحدہ عالم۔ موسمِ سرما کا عالم اس طور : وسطِ گلکدہ گول گھر کلاہِ سمور آسا، اور ہر ہر در کو اصلِ طوس لگا ہوا، لمعۂ مہر وسط السما، سرو سا دگلا ہوا کا گد گدا ملمع مطلا۔ اگر کا عطر اُس کا حوصلہ آرا، اور راگ کا سُرور سَرا وِرا معلوم، مگر مدھ مادھ کا دورہ، اور عود کا ہرارا، اور ہا ہا ہا! وہ گہما گہم کا موسم، اور دمکلا وہ کہ اُس کا اس طرح کا عالم کہ دو کوس والا مار کھا کر لال ہو۔ اور وہ کلال اور گالم گال، اور وہ آمد آمد کا سُر اور دھمال، اور راگ اس طرح :\n\nمادھو ہو درس دکھاؤ رادھا کو دوؤ ادھر گہکر سدارس لو\n\nاور موسمِ گرما کا حال اس طرح کہ طلوعِ ماہِ طلسم کس سحر کا سا معرکہ، موگرا کا گھر، گوہر آمودہ ہر در، گردا گرد لہر اور گو کھرو کا لہرا، اور راگ واگ اصلا، مگر کامود اور کدارا۔\n\nاور اللہ اللہ! وہ اودا اودا احاطہ کوہسار کا سا گردا گردِ دورۂ عالم، اور وہ اھا گہلا لہلہا ہرا ہرا موسم، اور واہ واہ! وہ عروسِ رعد کا رولا کہ اس طرح معلوم ہو کہ آگ کا کُرہ، ہل ہل کر گرا۔ اور وہ مدِ طلا کار اور دلک اور دمک اور موسل دھار اور سارا محل سرا طور طاؤس ہوا دار۔ اور ہر ہر در اور ہر ہر کھم کو سُوہا ململ اور سوہا ادرسہ لگا ہوا۔\n\nاور واہ واہ! وہ کوکلا اور وہ کدم اور اُس کا گلا کسا ہوا محو و آوارہ، اُس کا ہار رسا گہوارۂ مرصع کا اور راگ واگ، گو([85]) دہدکار، کس کو درکار مگر ملار ملار ملار۔\n\nالحاصل اُس حورِ ماہ آسا کو وصل اُس سروِ دلآرا کو حاصل ہوا۔ او لوگو، سر کھول کھول دعا کرو کہ: الہا، اُس طرح کہ ملکۂ گوہر آرا اور ماہ ساطع کا ہمدگر مدعا ملا، اُس طرح ہمارا اور کل عالم کا دل مسرور اور دکھ دلدَّر دور ہو!\n\nاہلِ عالم کو معلوم ہو کہ معمارِ اساسِ “سلکِ گوہر” طلسم کا اسم، مرادِ “لَو اَرادَ اللہ”([86]) ہمسرِ املا، ولدِ مدلولِ “مَا اَرادَ اللہ”([87]) مصدر، ولدِ معلوم “لَمَـــعَ اللہ”([88]) ہوا۔ سو ہم اور ہمارا والد اور ہمارا دادا سگِ درگاہِ اسد اللہ، رحمہم اللہ، ہر کدام کو مسموع ہوا ہوگا کہ وہ مردِ عمدہ، والد محررِ سطور کا آلِ رسول اور صلاح کارِ اُمرا، سر آمد حکما مع علم و کوس ہمسرِ رؤسا، دلاورِ معارکِ اہلِ حسام دو دم، سالکِ مسالکِ کرم، سرگروہِ اہلِ ہمم رہا، اور سحر و مسا مدام، دمامۂ حمامہ صدا اُس کا سرِ عام، اور عموماً اطعامِ وارد و صادر کا واسطہ، اور محرکِ سلسلۂ صلہ([89]) اور علوِ حوصلہ اُس کا وہ کہ دم سوال ہر کدام کو موسم سرما گرما گرم کمل اور موسمِ گرما دوہر ملا۔ مردِ طعام دہ، مددگارِ کہ ومہ، درد دکھ کا سہارا، گھر اُس کا اہلِ کمال کا آسرا۔ الٰہا، اس کا صلہ(٨٩) اُس کو دلسارا رور اور مدامِ طہور عطا کر۔ اور سو لاکھ گرہ کو وا کر!\n\n[1]۔ اس عبارت میں “انشا لکھتے ہیں”کے بعد سے یہاں تک خود انشا کے اپنے الفاظ ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس نے جگہ جگہ ترکی عبارت کے ساتھ اردو جملے لکھے ہیں۔\n\n[2]۔ اصل : معہ ۔ لیکن ضمیر غائب کا اضافہ نادان کاتبوں کی غلطی سے ہوتا رہا ہے۔ اس لیے میں نے متن میں اصلاحی صورت اختیار کرنا مناسب خیال کیا۔\n\n[3]۔ اصل میں یہاں “علیٰ” اور آیندہ کہیں کہیں “علی” اور زیادہ تر “علا” لکھا ہے، تاکہ حرف یا سے جو اصلاً نقطہ دار ہے، احتراز کیا جا سکے۔ اس منشا کے پیش نظر میں نے ہر جگہ الف سے لکھنے کو ترجیح دی ہے۔\n\n[4]۔ اصل میں “ولولا” ہے، لیکن بعض جگہ کاتب نے صحیح املا “ولولہ” بھی برقرار رکھا ہے۔ چونکہ ہائے ہوز خود بے نقط ہے، میں نےہر جگہ صحیح املا کو ترجیح دی ہے۔\n\n[5]۔ ملاحظہ ہو کلیات انشا: 182\n\n[6]۔ اصل میں یہاں ایک لفظ کی بقدر جگہ میں نقطے ہیں۔\n\n[7]۔ اصل : سلسلا۔\n\n[8]۔ اصل : آہو رہ گم کردہ۔ مگر میرے نزدیک “رہ گم کردہ” ملک روس کی صفت ہو ناچاہیے۔\n\n[9]۔ اصل : ولولا۔\n\n[10]۔ ملاحظہ ہو کلیات انشا : 230 حاشیہ۔\n\n[11]۔ اصل : اودھر\n\n[12]۔ اصل : معہ\n\n[13]۔ اصل میں کاتب نے “موسا” لکھا تھا۔ مصحح نے چھیل کر “موسیٰ” بنا دیا۔ میں نے پہلی کتابت کو ترجیح دیتے ہوئے “موسا” کو متن میں جگہ دی ہے۔\n\n[14]۔ اصل : کاسا۔\n\n[15]۔ اصل:کاسا وہ کاسا۔\n\n[16]۔ اصل میں اس لفظ کے نیچے لکھا ہے : “یعنی اوصاف سراپا”\n\n[17]۔ جملے کی عبارت چاہتی ہے کہ “وہ موسم” پڑھا جائے، مگر اصل میں “وہ” نہیں ہے۔\n\n[18]۔ آج کل گود کو مؤنث بولتے ہیں۔ غالباً انشا نے آغوش کے قیاس پر مذکر لکھا ہے۔\n\n[19]۔ اصل : ندارد۔ میں نے جملۂ سابق پر قیاس کر کے بڑھا دیا ہے۔\n\n[20]۔ اصل : “کولا” دونوں جگہ پر۔\n\n[21]۔ اصل : مو کمر۔\n\n[22]۔ اصل : اواد او داسا۔\n\n[23]۔ اصل : “گھوارا” بضم کاف۔\n\n[24]۔ اصل : “مادہ” بتشدید دال۔ مگر یہاں “نر” کی مقابل “مادہ” مراد ہے۔ مادۂ مار، سانپن۔\n\n[25]۔ اصل: “کمر کہہ” دونوں جگہ۔\n\n[26]۔ یعنی ران، جو عربی لفظ نار بمعنی آگ کا عکس ہے۔\n\n[27]۔ اصل : مسعود\n\n[28]۔ اصل : “کولا”\n\n[29]۔ اصل : مال\n\n[30]۔ اصل : کاسا واسا\n\n[31]۔ اصل : درا\n\n[32]۔ کلیات انشا قلمی، 145 الف میں “لاگ لگاؤ” ہے۔ مطبوعہ دہلی : 235 سلک گوہر کے مطابق ہے۔\n\n[33]۔ کلیات قلمی و مطبوعہ دہلی : “دوراو”۔\n\n[34]۔ اصل : گو کہ۔ کلیات قلمی : کو کو، و مطبوعہ دہلی : گو کہ۔\n\n[35]۔ قلمی : کو کہ، م د : گو کہ۔\n\n[36]۔ م د : دھاگ۔\n\n[37]۔ ق میں کاتب نے سہواً “سکھا کے” لکھ دیا ہے۔\n\n[38]۔ اصل : دکہکا۔\n\n[39]۔ اصل : مردا۔\n\n[40]۔ اصل : گرم\n\n[41]۔ اصل : گلا۔\n\n[42]۔ اصل : کلا۔\n\n[43]۔ اصل : گلا و لا۔\n\n[44]۔ اصل : صلا۔\n\n[45]۔ اصل : داد\n\n[46]۔ اصل : ملکا\n\n[47]۔ اصل : گلا\n\n[48]۔ اصل میں پہلے “اولی” تھا۔ کسی نے چھیل کر “اولا” بنا دیا ہے۔\n\n[49]۔ اصل : رؤ۔\n\n[50]۔ اصل : دولہ۔\n\n[51]۔ اصل : دہل دل\n\n[52]۔ اصل : کروہ۔\n\n[53]۔ اصل : کہرا کہرا۔\n\n[54]۔ اصل : کولا۔\n\n[55]۔ اصل : دولہ۔\n\n[56]۔ بین السطور میں اس کے معنی لکھے ہیں : سادہ سادہ۔\n\n[57]۔ ان لفظوں کے نیچے لکھا ہے : درا دا، درادہ دادہ۔\n\n[58]۔ اس لفظ کے نیچے لکھا ہے : ادھر۔\n\n[59]۔ پہلا شعر قصیدۂ بے نقط موسوم بہ طور الکلام کا آٹھواں شعر اور ترکی زبان کا ہے۔ کلیات قلمی (ورق 210 الف) میں اس کے الفاظ یہ ہیں:\n\nکورار کورار اول کور کو لک و کلکوار\nسوکار سوکار و کولر کولسام اور کلسام\n\nمطبوعہ دہلی (ص 128) میں اس طرح لکھا ہے :\n\nکورار کورار کولار اول کورو کلکوارہ\nسوکار سوکار و کولر کو لسام اور کلسام\n\nدوسرا شعر غالباً اسی موقع کے لیے کہا گیا تھا۔ کلیات میں اس کا پتا نہیں چلتا۔\n\n[60]۔ اصل : معاملا\n\n[61]۔ اصل میں لفظ کے نیچے لکھا ہے : “یعنی خرس”۔ احمر کو فارسی میں سرخ کہتے ہیں اور سرخ کا عکس خرس ہے۔\n\n[62]۔ اصل: حمدلاہ۔ مولوی حمد اللہ سندیلی نے محب اللہ بہاری کی منطق کی عربی کتاب \"مسلم العوےم\" کی شرح لکھی ہے، جو مصنف کے نام سے \"حمد اللہ\" مشہور ہے۔ مسلم، یعنی مسلم الثبوت، اصول فقہ حنفی کی ایک عربی کتاب ہے، جو ملا محب اللہ بہاری کی دوسری تصنیف ہے۔\n\n[63]۔ اصل : لگاو۔\n\n[64]۔ ڈاکٹر صدیقی صاحب اپنے گرامی نامہ مورخہ 22 جون سنہ 1946؁ء میں تحریر فرماتے ہیں :\n\n“وہ جو ملاحوں کی بولی کی نقل اُتاری ہے، وہ بنگال کے ملاحوں کی نقل ہے۔ بنگالی زبان کی بہت ہی عام چیز یہ ہے کہ آپ کا فتحہ ان کے ہاں ضمہ ہو جاتا ہے اور اکثر کسی قدر اشباع کے ساتھ اور کبھی پورا “و” ہو کر ان کی زبان سے نکلتا ہے، جیسے گھر گھور اور گنگا کو گونگا کہتے ہیں۔ انشا پیدا ہی بنگال میں ہوئے تھے، ملاحی کا پیشہ کرنے والے بنگال میں مسلمان ہی ہیں۔ اس لیے یہ بہت قرین قیاس ہے کہ بنگال کے ملاح مراد ہیں۔”\n\n[65]۔ بین السطور میں لکھا ہے : نان۔\n\n[66]۔ اصل : کاسا۔\n\n[67]۔ اصل : دورا۔\n\n[68]۔ دریائے لطافت میں رلدو بے واو معدولہ لکھا ہے۔\n\n[69]۔ دریائے لطافت میں کلو لکھا ہے۔\n\n[70]۔ دریائے لطافت (ص 252) میں کھما لکھا ہے اور پنجابی نام بتایا ہے۔\n\n[71]۔ اصل : کا ۔ مگر پنجابی میں یہ علامت اضافت مستعمل نہیں ہے، اس لیے میں نے پنجابی علامت “دا” کو متن میں لکھنا مناسب خیال کیا۔\n\n[72]۔ اصل میں تینوں مصرعوں میں “ول” ہے۔\n\n[73]۔ اصل : آکہہ۔\n\n[74]۔ کلیات انشا قلمی : 141 ب، کلیات مطبوعہ دہلی : 233۔\n\n[75]۔ اصل : و، ندارد۔\n\n[76]۔ ق و م : حاکم۔\n\n[77]۔ ق و م : ہار۔\n\n[78]۔ مقطع میں بہ مجبوری منقوط لفظ استعمال کیا گیا ہے۔\n\n[79]۔ اصل : صلا۔\n\n[80]۔ اصل : کل۔\n\n[81]۔ اصل : معہ۔\n\n[82]۔ اصل : معاملا۔\n\n[83]۔ اصل : معہ۔\n\n[84]۔ اصل : دولہ۔\n\n[85]۔ اصل : کو۔\n\n[86]۔ اصل کے بین السطور میں اس جملے کے نیچے لکھا ہے : “ان شاء اللہ”۔ دیباچے کے حاشیے میں اس کی وضاحت کی جا چکی ہے۔\n\n[87]۔ اصل کے بین السطور میں اس جملے کے نیچے لکھا ہے : “ماشاء اللہ”۔ یہ انشا کے والد کا نام ہے، مصدر ان کا تخلص تھا۔ “ما اراد اللہ” کے معنی ہیں جو اللہ نے چاہا۔ یہی مطلب و معنی “ماشاء اللہ” کے ہیں۔ پس جملۂ ثانی جملۂ اول کا مدلول یعنی مطلب ٹھہرا۔\n\n[88]۔ اصل کے بین السطور میں اس فقرے کے نیچے “نور اللہ” لکھا ہے۔\n\n[89]۔ اصل : صلا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%84%DA%A9_%DA%AF%D9%88%DB%81%D8%B1"} {"title": "سلیم خاں کہ وہ ہے نور چشم واصل خاں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "سلیم خاں کہ وہ ہے نور چشم واصل خاں\nحکیم حاذق و دانا ہے وہ لطیف کلام\nتمام دہر میں اس کے مطب کا چرچا ہے\nکسی کو یاد بھی لقمان کا نہیں ہے نام\nاسے فضائل علم و ہنر کی افزایش\nہوئی ہے مبدع عالم سے اس قدر انعام\nکہ بحث علم میں اطفال ابجدی اس کے\nہزار بار فلاطوں و دے چکے الزام\nعجیب نسخہ نادر لکھا ہے ایک اس نے\nکہ جس میں حکمت و طب ہی کے مسئلے ہیں تمام\nنہیں کتاب ہے اک منبع نکات بدیع\nنہیں کتاب ہے اک معدن جواہر کام\nکل اس کتاب کے سال تمام میں جو مجھے\nکمال فکر میں دیکھا خرد نے بے آرام\nکہا یہ جلد کہ تو اس میں سوچتا کیا ہے\nلکھا ہے نسخہ تحفہ یہی ہے سال تمام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%84%DB%8C%D9%85_%D8%AE%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%88%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%B1_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%88%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D8%AE%D8%A7%DA%BA"} {"title": "سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا\nغلَط تھا اے جُنوں شاید ترا اندازۂ صحرا\nخودی سے اس طلسمِ رنگ و بُو کو توڑ سکتے ہیں\nیہی توحید تھی جس کو نہ تُو سمجھا نہ مَیں سمجھا\nنِگہ پیدا کر اے غافل تجلّی عینِ فطرت ہے\nکہ اپنی موج سے بیگانہ رہ سکتا نہیں دریا\nرقابت عِلم و عرفاں میں غلَط بینی ہے منبر کی\nکہ وہ حلّاج کی سُولی کو سمجھا ہے رقیب اپنا\nخدا کے پاک بندوں کو حکومت میں، غلامی میں\nزِرہ کوئی اگر محفوظ رکھتی ہے تو استغنا\nنہ کر تقلید اے جبریل میرے جذب و مستی کی\nتن آساں عرشیوں کو ذکر و تسبیح و طواف اَولیٰ!\n\nبہت دیکھے ہیں مَیں نے مشرق و مغرب کے میخانے\nیہاں ساقی نہیں پیدا، وہاں بے ذوق ہے صہبا\nنہ ایراں میں رہے باقی، نہ تُوراں میں رہے باقی\nوہ بندے فقر تھا جن کا ہلاکِ قیصر و کسریٰ\nیہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتا ہے\nگلیمِ بُوذرؓ و دَلقِ اَویسؓ و چادرِ زہراؓ!\nحضورِ حق میں اسرافیل نے میری شکایت کی\nیہ بندہ وقت سے پہلے قیامت کر نہ دے برپا\nنِدا آئی کہ آشوبِ قیامت سے یہ کیا کم ہے\n’گرفتہ چینیاں احرام و مکّی خفتہ در بطحا‘!\nلبالب شیشۂ تہذیبِ حاضر ہے مئے ’لا‘ سے\nمگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانۂ ’اِلّا‘\nدبا رکھّا ہے اس کو زخمہ‌ور کی تیز دستی نے\nبہت نیچے سُروں میں ہے ابھی یورپ کا واوَیلا\nاسی دریا سے اُٹھتی ہے وہ موجِ تُند جولاں بھی\nنَہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا\n\nغلامی کیا ہے؟ ذوقِ حُسن و زیبائی سے محرومی\nجسے زیبا کہیں آزاد بندے، ہے وہی زیبا\nبھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر\nکہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بِینا\nوہی ہے صاحبِ امروز جس نے اپنی ہمّت سے\nزمانے کے سمندر سے نکالا گوہرِ فردا\nفرنگی شیشہ گر کے فن سے پتھّر ہوگئے پانی\nمری اِکسیر نے شیشے کو بخشی سختیِ خارا\nرہے ہیں، اور ہیں فرعون میری گھات میں اب تک\nمگر کیا غم کہ میری آستیں میں ہے یدِ بیضا\nوہ چنگاری خس و خاشاک سے کس طرح دب جائے\nجسے حق نے کِیا ہو نیستاں کے واسطے پیدا\nمحبّت خویشتن بینی، محبّت خویشتن داری\nمحبّت آستانِ قیصر و کسریٰ سے بے پروا\nعجب کیا گرمہ و پرویں مرے نخچیر ہو جائیں\n’کہ برفتراکِ صاحب دولتے بستم سرِ خُود را‘\nوہ دانائے سُبل، ختم الرُّسل، مولائے کُلؐ جس نے\nغُبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا\nنگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر\nوہی قُرآں، وہی فُرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ\nسنائیؔ کے ادب سے میں نے غوّاصی نہ کی ورنہ\nابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لُولوئے لالا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D8%A7_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%81%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7"} {"title": "سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہے\nمجھے یاد آنے والے تو کہاں ہے\n\nخدائی کہکشاں کہتی ہے جس کو\nوہ عذرا کا خرام رائیگاں ہے\n\nاندھیرے بادلوں سے پوچھ زاہد\nمری کھوئی ہوئی توبہ کہاں ہے\n\nیہ کس نے پیار کی نظروں سے دیکھا\nکہ میرے دل کی دنیا پھر جواں ہے\n\nجوانی رائیگاں جائے تو اچھا\nجوانی ایک خواب رائیگاں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B8%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "سمایا جب سے ہے وہ گلعذار آنکھوں میں", "poet_page": "مصنف:منشی شیو پرشاد وہبی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وہبی (1870)", "year": "1870", "text_ur": "سمایا جب سے ہے وہ گلعذار آنکھوں میں\nہر ایک گل نظر آتا ہے خار آنکھوں میں\n\nبتاؤ کس کا ہوا جام آرزو لبریز\nکہ نشہ کا ہے ابھی تک خمار آنکھوں میں\n\nیہ کس کے دید کی مشتاق ہے دم آخر\nکہ میری روح کو ہے انتظار آنکھوں میں\n\nجو چاہتے ہو عصا ٹیک کر اٹھے بیمار\nلگاؤ سرمۂ دنبالہ دار آنکھوں میں\n\nوہ رشک گل جو نہیں ہے ہمارے پہلو میں\nبرنگ خار سے فصل بہار آنکھوں میں\n\nتمہاری دید کے سودے میں آ گیا سو بار\nتڑپ تڑپ کے دل بے قرار آنکھوں میں\n\nاسی سبب سے تو کھلتی نہیں ہے آنکھ مری\nپھرا ہی کرتی ہے تصویر یار آنکھوں میں\n\nمیں دیکھتا نہیں بے وجہ سبزہ نوخیز\nکبھی ہے سبزۂ خط کی بہار آنکھوں میں\n\nمثال مردمک چشم ہے یہ مد نظر\nرہیں حضور ہی لیل و نہار آنکھوں میں\n\nدعا یہ رہتی ہے وہبیؔ کہ ان کے تلوے کا\nلگاؤں سرمے کی صورت غبار آنکھوں میں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D9%84%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل", "poet_page": "مصنف:محسن کاکوروی", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل\nبرق کے کاندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جَل\n\nگھر میں اشنان کریں سرو قدانِ گوکل\nجا کے جَمُنا پہ نہانا بھی ہے اِک طولِ اَمَل\n\nخبر اُڑتی ہُوئی آئی ہے مہابن میں ابھی\nکہ چلے آتے ہیں تیرَتھ کو ہَوا پر بادل\n\nتہ و بالا کئے دیتے ہیں ہَوا کے جھونکے\nبیڑے بھادوں کے نکلتے ہیں بھرے گنگا جَل\n\nکبھی ڈُوبی کبھی اچھلی مہِ نَو کی کشتی\nبحرِ اخضر میں طلاطم سے پڑی ہے ہلچل\n\nشبِ دیجور اندھیرے میں ہے بادل کے نہاں\nلیلیٰ محمل میں ہے ڈالے ہوئے منہ پر آنچل\n\nآتشِ گل کا دُھواں بامِ فلک پر پہنچا\nجم گیا منزلِ خورشید کی چھت میں کاجل\n\nجس طرف سے گئی بجلی پھر اُدھر آ نہ سکی\nقلعۂِ چرخ میں ہے بھول بھلیّاں بادل\n\nآئنہ آبِ تموّج سے بہا جاتا ہے\nکہیے تصویر سے گرنا نہ کہیں دیکھ سنبھل\n\nآج یہ نشوونُما کا ہے ستارہ چمکا\nشاخ میں کاہکشاں کہ نکل آئی کوپل\n\nخضر فرماتے ہیں سنبل سے تِری عمر دراز\nپھول سے کہتے ہیں پھلتا رہے گلزارِ اَمَل\n\nدیکھتے دیکھتے بڑھ جاتی ہے گلشن کی بہار\nدیدۂِ نرگسِ شہلا کو نہ سمجھو احوَل\n\nلہریں لیتا ہے جو بجلی کے مقابل سبزہ\nچرخ پر بادلا پھیلا ہے زمیں پر مخمل\n\nہمزباں وصفِ چمن میں ہوئے سب اہلِ چمن\nطوطیوں کی ہے جو تضمین تو بلبل کی غزل\n\nجگنو پھرتے ہیں جو گلبن میں تو آتی ہے نظر\nمصحفِ گل کے حواشی پہ طلائی جدوَل\n\nشاخ پر پھول ہیں جنبش میں زمیں پر سنبل\nسب ہَوا کھاتے ہیں گلشن میں سوار و پیدل\n\nآہِ قمری میں مزا اور مزے میں تاثیر\nسرو میں دیکھیے پھول آنے لگے پھول میں پھل\n\nخندہ ہائے گلِ قالیں سے ہُوا شورِ نشور\nکیا عجب ہے جو پریشان ہے خوابِ مخمل\n\nشاخِ شمشاد پہ قمری سے کہو چھیڑے ملار\nنونہالانِ گلستاں کو سنائے یہ غزل\n\nطُرفہ گردش میں گرفتار عجب پھیر میں ہے\nسُرمہ ہے نیند مِری دیدۂِ بیدار کھرل\n\nسمتِ کاشی سے گیا جانبِ مَتُھرا بادل\nتیرتا ہے کبھی گنگا کبھی جَمُنا بادل\n\nسمتِ کاشی سے گیا جانبِ مَتُھرا بادل\nبُرج میں آج سرِ کشن ہے کالا بادل\n\nشاہدِ گل کا لئے ساتھ ہے ڈولا بادل\nبرق کہتی ہے مبارک تجھے سہرا بادل\n\nخوب چھایا ہے سرِ گوکل ومَتُھرا بادل\nرنگ میں آج کنھیّا کے ہے ڈُوبا بادل\n\nسطحِ افلاک نظر آتی ہے گنگا جَمُنی\nروپ بجلی کا سنہرا ہے روپہلا بادل\n\nچرخ پر بجلی کی چل پھر سے نظر آتا ہے\nسبزہ چمکائے ہلاتا ہُوا برچھا بادل\n\nبجلی دو چار قدم چل کے پلٹ جائے نہ کیوں\nوہ اندھیرا ہے کہ پھرتا ہے بھٹکتا بادل\n\nجب تلک بُرج میں جَمُنا ہے یہ کُھلنے کا نہیں\nہے قسم کھائے اُٹھائے ہُوئے گنگا بادل\n\nچشمۂِ مہر ہے عکسِ زرِ گل سے دریا\nپرتوِ برق سے ہے سونے کا بجرا بادل\n\nمری آنکھوں میں سماتا نہیں یہ جوش و خروش\nکسی بیدرد کو دِکھلا یہ کرشمہ بادل\n\nتپش دل کا اڑایا ہُوا نقشہ بجلی\nچشمِ پُر آب کا دھویا ہُوا خاکہ بادل\n\nدلِ بیتاب کی ادنٰی سی چمک ہے بجلی\nچشمِ پُر آب کا ہے ایک کرشمہ بادل\n\nاپنی کم ظرفیوں سے لاکھ فلک پر چڑھ جائے\nمیری آنکھوں کا ہے اُترا ہُوا صدقہ بادل\n\nکچھ ہنسی کھیل نہیں جوششِ گِریہ کا ضبط\nیہ مرا دل ہے یہ میرا ہے کلیجا بادل\n\nراجہ اندر ہے پری خانہِ مے کا پانی\nنغمہِ مے کا سرِ کشن کنھیّا بادل\n\nدیکھتا گر کہیں مُحسؔن کی فغان و زاری\nنہ گرجتا کبھی ایسا نہ برستا بادل\n\nپھر چلا خامہ قصیدہ کی طرف بعدِ غزل\nکہ ہے چکر میں سخن گو کا دماغِ مختل\n\nمے گلرنگ ہے کیا شمعِ شبِ فکر کا پھول\nچلتے چلتے جو قلم ہاتھ سے جاتا ہے نکل\n\nہے سخن گو کو نہ انشا کی نہ املا کی خبر\nہوگئی نظم کی انشا کی خبر سب مہمل\n\nدل میں کچھ اور ہے پر منہ سے نکلتا ہے کچھ اور\nلفظ بے معنی ہیں اور معنی ہیں سب بے اٹکل\n\nکتنا بے قید ہُوا کتنا یہ آوارہ پھرا\nکوئی مندر نہ بچا اُس سے نہ کوئی استل\n\nکبھی گنگا پہ بھٹکتا ہے کبھی جَمُنا پر\nگھاگھرا پر کبھی گزرا کبھی سوئے چمل\n\nچھینٹے دینے سے نہ محفوظ رہی قلزم و نیل\nنہ بچا خاک اُڑانے سے کوئی دشت و جبل\n\nہاں یہ سچ ہے کہ طبیعت نے اُڑایا جو غبار\nہوئی آئینہِ مضموں کی دو چنداں صیقل\n\nاِک ذرا دیکھیے کیفیتِ معراجِ سخن\nہاتھ میں جامِ زحل شیشہِ مہ زیرِ بغل\n\nگرتے پڑتے کہاں مستانہ کہاں رکھا پاؤں\nکہ تصور بھی جہاں جا نہ سکے فرق کے بل\n\nیعنی اُس نور کے میدان میں پہنچا کہ جہاں\nخرمنِ برقِ تجلٰی کا لقب ہے بادل\n\nتارِ بارانِ مسلسل ہے ملائک کا دُرود\nبہرِ تسبیحِ خداوندِ جہاں عزوجل\n\nکہیں طوبٰی کہیں کوثر کہیں فردوسِ بریں\nکہیں بہتی ہُوئی نہرِ لبن و نہرِ عسل\n\nکہیں جبریل حکومت پہ کہیں اسرافیل\nکہیں رضواں کا کہیں ساقیِ کوثر کا عمل\n\nکنزِ مخفی کے کسی سمت نہاں تہ خانے\nاِک طرف مظہرِ قدرت کے عیاں شیش محل\n\nعاشقِ جلوہ طلبگار کہیں چشمِ قبول\nنازِ محبوب کے پردے میں کہیں حسنِ عمل\n\nگلِ بیرنگیِ مطلق سے لہکتے گلزار\nبے نیازی کے ریاحیں سے مہکتے جنگل\n\nباغِ تنزیہ میں سرسبز نہالِ تشبیہ\nانبیا جس کی ہیں شاخیں عرَفا ہیں کوپل\n\nگلِ خوشرنگ رسولِ مدنی عربی\nزیب دامانِ ابد طُرّہِ دستارِ ازل\n\nنہ کوئی اس کا مشابہ ہے نہ ہمسر نہ نظیر\nنہ کوئی اس کا مماثل نہ مقابل نہ بدل\n\nاوجِ رفعت کا قمر نخلِ دو عالَم کا ثمر\nبحرِ وحدت کا گہَر چشمۂِ کژت کا کنول\n\nمہرِ توحید کی ضو اوجِ شرف کا مہِ نَو\nشمعِ ایجاد کی لَو بزمِ رسالت کا کنول\n\nمرجعِ رُوحِ امیں زیب دہ عرشِ بریں\nحامیِ دینِ متیں ناسخِ ادیان و مِلَل\n\nہفت اقلیمِ ولایت میں شہِ عالیجاہ\nچار اطرافِ ہدایت میں نبیِ مُرسل\n\nجی میں آتا ہے لکھوں مطلعِ برجستہ اگر\nوجد میں آ کے قلم ہاتھ سے جائے نہ اُچھل\n\nمنتخب نسخہِ وحدت کا یہ تھا روزِ ازل\nکہ نہ احمد کا ہے ثانی نہ احد کا اوّل\n\nدورِ خورشید کی بھی حشر میں ہو جائے گی صبح\nتا ابد دورِ محمد کا ہے روزِ اوّل\n\nشبِ اسرٰی میں تجلی سے روئے انور کی\nپڑ گئی گردنِ رفرف میں سنہری ہیکل\n\nسجدہِ شکر میں ہے ناصیہِ عرشِ بریں\nخاکِ سے پائے مقدس کی لگا کر صندل\n\nافضلیت پہ تری مشتمل آثار و کتب\nاوّلیت پہ تِری متفق ادیان و مِلَل\n\nلطف سے تیرے ہوئی شوکتِ ایماں محکم\nقہر سے سلطنتِ کفر ہوئی مستاصل\n\nجس طرف ہاتھ بڑھیں کفر کے چھٹ جائیں قدم\nجس جگہ پاؤں رکھیں سجدہ کریں لات و ہبل\n\nہوسکا ہے کہیں محبوبِ خدا غیرِ خدا\nاِک ذرا دیکھ سمجھ کر مری چشمِ احوَل\n\nرفع ہونے کا نہ تھا وحدت و کثرت کا خلاف\nمیمِ احمد نے کیا آ کے یہ قصہ فیصل\n\nنظر آئے مجھے احمد میں اگر دالِ دوئی\nروزِ محشر ہوں الٰہی میری آنکھیں احوَل\n\nپھر اُسی طرز کی مشتاق ہے موّاجیِ طبع\nکہ ہے اس بحر میں اِک قافیہ اچھا بادل\n\nکیا جھکا کعبے کی جانب کو ہے قبلا بادل\nسجدے کرتا ہے سوئے طیبہ و بطحا بادل\n\nچھوڑ کر بتکدہِ ہند و صنم خانہ ِ بُرج\nآج کعبہ میں بچھائے ہے مُصلّا بادل\n\nسبزۂ چرخ کو اندھیاری لگا کر لایا\nشہسوارِ عربی کے لئے کالا بادل\n\nبحرِ امکاں میں رسولِ عربی دُرِّ یتیم\nرحمتِ خاص خداوندِ تعالٰی بادل\n\nقبلۂِ اہلِ نظر کعبہِ ابروئے حضور\nموئے سَر قبلے کو گھیرے ہوئے کالا بادل\n\nرشک سے شعلۂ رخسار کے روتی ہے برق\nبرق کے منہ پہ رکھے ہوئے پلّا بادل\n\nدُور پہنچی لبِ جاں بخشِ نبی کی شہرت\nسُن زرا کہتے ہیں کیا حضرتِ عیسٰی بادل\n\nچشمِ انصاف سے دیکھ آپ کے دندان شریف\nدُرِّ یکتا ہے تیرا گرچہ یگانا بادل\n\nتھا بندھا تار فرشتوں کا درِ اقدس پر\nشبِ معراج میں تھا عرشِ مُعلّٰی بادل\n\nآمد ورفت میں تھا ہم قدمِ برق براق\nمرغزارِ چمنِ عالَمِ بالا بادل\n\nہفت اقلیم میں اس دیں کا بجا ہے ڈنکا\nتھا تری عام رسالت کا گرجتا بادل\n\nآستانے کا ترے دہر میں وہ رتبہ ہے\nکہ جو نکلا تو جھکائے ہُوئے کاندھا بادل\n\nتُو وہ فیاض ہے در پر ترے سائل کی طرح\nفلکِ پیر کو لایا دیے کاندھا بادل\n\nتیغ میدانِ شجاعت میں چمکتی بجلی\nہاتھ گلزارِ سخاوت میں برستا بادل\n\nمحسؔن اب کیجیے گلزارِ مناجات کی سیر\nکہ اجابت کا چلا آتا ہے گہرا بادل\n\nسب سے اعلٰی تری سرکار ہے سب سے افضل\nمیرے ایمانِ مفصل کا یہی ہے مجمل\n\nہے تمنا کہ رہے نعت سے تیری خالی\nنہ مرا شعر نہ قطعہ نہ قصیدہ نہ غزل\n\nدین و دنیا میں کسی کا نہ سہارا ہو مجھے\nصرف تیرا ہی بھروسہ تری قوت ترا بل\n\nہو مرا ریشہِ امید وہ نخلِ سرسبز\nجس کی ہر شاخ میں ہو پھول ہر اِک پھول میں پھل\n\nآرزو ہے کہ ترا دھیان رہے تا دمِ مرگ\nشکل تیری نظر آئے مجھے جب آئے اجل\n\nروح سے میری کہیں پیار سے یوں عزرائیل\nکہ مری جان مدینے کو جو چلتی ہے تو چل\n\nدمِ مردن یہ اشارہ ہو شفاعت کا تری\nفکرِ فردا تُو نہ کر دیکھ لیا جائیگا کل\n\nیادِ آئینہِ رُخسار سے حیرت ہو مجھے\nگوشۂ قبر نظر آئے مجھے شیش محل\n\nمیزباں بن کے نکیرین کہیں گھر ہے ترا\nنہ اُٹھانا کوئی تکلیف نہ ہونا بیکل\n\nرُخِ انور کا ترے دھیان رہے بعدِ فنا\nمیرے ہمراہ چلے راہِ عدم میں مشعل\n\nحذف ہوں میرے گناہانِ ثقیل اور خفیف\nآئیں میزاں میں جب افعالِ صحیح و معتل\n\nمیری شامت سے ہو آراستہ گیسوئے سیاہ\nعارضِ شاہدِ محشر ہو اگر حُسنِ عمل\n\nصفِ محشر میں ترے ساتھ ہو تیرا مدّاح\nہاتھ میں ہو یہی مستانہ قصیدہ یہ غزل\n\nکہیں جبریل اشارے سے کہ ہاں! بسم اللہ\nسمتِ کاشی سے چلا جانبِ مَتھُرا بادل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D8%AA%D9%90_%DA%A9%D8%A7%D8%B4%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A8%D9%90_%D9%85%D8%AA%DA%BE%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84"} {"title": "سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہے\nبقدر ظرف ہر اک آدمی سمندر ہے\n\nابھر کے ڈوب گئی کشتئ خیال کہیں\nیہ چاند ایک بھنور چاندنی سمندر ہے\n\nجو داستاں نہ بنے درد بیکراں ہے وہی\nجو آنکھ ہی میں رہے وہ نمی سمندر ہے\n\nنہ سوچیے تو بہت مختصر ہے سیل حیات\nجو سوچیے تو یہی زندگی سمندر ہے\n\nتو اس میں ڈوب کے شاید ابھر سکے نہ کبھی\nمرے حبیب مری خامشی سمندر ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D8%B4%D9%86%DB%81_%D9%84%D8%A8%DB%8C_%D8%B3%D9%85%D9%86%D8%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹ", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹ\nجو اس نے آئنہ دیکھا تو خود ہی کھائی چوٹ\n\nنظر لڑی جو نظر سے تو دل پر آئی چوٹ\nگرے کلیم سر طور ایسی کھائی چوٹ\n\nلبوں پہ بن گئی مسی جو دل پر آئی چوٹ\nجگہ بدل کے لگی کرنے خود نمائی چوٹ\n\nبڑے دماغ سے مارا نظر سے جب مارا\nبڑے غرور سے آئی جو دل پر آئی چوٹ\n\nکسی کا طور پہ نکلا ہے ہاتھ پردے سے\nبڑا مزا ہو کرے گر تری کلائی چوٹ\n\nیہ دوڑ دھوپ لڑکپن کی یک قیامت ہے\nکہ ٹھوکروں سے قیامت نے خوب کھائی چوٹ\n\nابھی اٹھی نہ تھی نیچی نگاہ ظالم کی\nتڑپ کے دل نے کہا وہ جگر پہ آئی چوٹ\n\nجو آئے حشر میں وہ سب کو مارتے آئے\nجدھر نگاہ پھری چوٹ پر لگائی چوٹ\n\nجو دل کا آئنہ مل مل کے ہم نے صاف کیا\nپھسل پھسل کے تمہاری نظر نے کھائی چوٹ\n\nکلف نہیں ہے نشاں ہے یہ چاند ماری کا\nہمارے چاند نے لو چاند پر لگائی چوٹ\n\nغش آ رہا ہے مجھے ذکر لن ترانی سے\nلگی ہے دل پہ مرے لو سنی سنائی چوٹ\n\nرکیں گے کیا کف گستاخ دست رنگیں سے\nکہیں نہ کھائے ترا پنجۂ حنائی چوٹ\n\nدل و جگر کو بتا کر وہ لوٹنا میرا\nوہ پوچھنا ترا کس کس جگہ پر آئی چوٹ\n\nمریض ہجر یہ سمجھا جو چمکی چرخ پہ برق\nیہ آگ سینکنے لائی شب جدائی چوٹ\n\nاٹھے تڑپ کے اٹھے تو گرے گرے تو مرے\nپھڑک کے رہ گئے وہ چوٹ پر لگائی چوٹ\n\nپڑے گی آہ جو میری کھلیں گے بند قبا\nشب وصال کرے گی گرہ کشائی چوٹ\n\nگرا ہوں خلد سے لنکا میں پہلے طور پہ بعد\nجہاں جہاں میں گیا ساتھ ساتھ آئی چوٹ\n\nوہ جھانک جھانک کے لڑتے ہیں مجھ سے یہ کہہ کر\nجو ہم نے وار کیا تم نے کیوں بچائی چوٹ\n\nجو درد دل میں اٹھا ان کی یاد کھچ آئی\nدکھاتی ہے اثر جذب کہربائی چوٹ\n\nاٹھا اٹھا کے دل مضطرب نے دے ٹپکا\nگرا گرا کے مجھے چوٹ پر لگائی چوٹ\n\nنگاہ شوخ سے جس دم نگاہ شوق لڑی\nبڑا ہی لطف رہا یہ گئی وہ آئی چوٹ\n\nلگائی اس نے جو ٹھوکر تو جی اٹھا مائلؔ\nنکل کے جان پھر آئی کچھ ایسی کھائی چوٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%91%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%86%D9%88%D9%B9"} {"title": "سمجھ کے دیکھو اے عارفاں تم کیا ہے حق نے یہ بھید کیسا", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "سمجھ کے دیکھو اے عارفاں تم کیا ہے حق نے یہ بھید کیسا\nاپے ہے اول اپے ہے آخر اپے چہ مخفی اپے چہ پیدا\n\nاپے کہا کن اپے چہ فیکوں اپے ہے صانع اپے ہے صنعت\nاپے احد اور اپے چہ احمد اپے ہے آدم اپے ہے حوا\n\nاپے ہے مطلب اپے ہے طالب اپے ہے دل کش اپے ہے عاشق\nاپے چہ مجنوں اپے چہ لیلہ اپے ہے یوسف اپے زلیخا\n\nاپے چہ کہتا اپے چہ سنتا اپے ہے دانا اپے ہے بینا\nاپے چہ قایم رہے ہمیشہ اپے چہ قادر اپے توانا\n\nعلیمؔ مت کہہ یہ راز مخفی پیا کی الفت میں رہ سدا تو\nاگر سنے اس سخن کو غافل گڑھے گا اوس پر کٹھن معما", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AD%D9%82_%D9%86%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7"} {"title": "سمجھ کے ظلم کرو اے بتو خدا بھی ہے", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سمجھ کے ظلم کرو اے بتو خدا بھی ہے\nتمہارے جور و جفا کی کچھ انتہا بھی ہے\n\nاگر میں جاؤں گا پوچھوں گا یہ مسیحا سے\nکہ میرے درد جگر کی کوئی دوا بھی ہے\n\nکبھی رہا مرے لب تک کبھی وہاں پہنچا\nیہ نالہ میرا رسا اور نارسا بھی ہے\n\nفسانہ قیس کا لوگوں سے سن لیا ہوگا\nیہ میرا قصۂ غم آپ نے سنا بھی ہے\n\nمسافران عدم آئے دو گھڑی کے لیے\nسرائے دہر میں آ کر کوئی رہا بھی ہے\n\nتماشا دیکھیے وہ بعد قتل بھول گیا\nکہ میرے در پہ کوئی کشتۂ ادا بھی ہے\n\nجفا و جور سے ان کے تو ہو گیا عاجز\nبتوں کے عشق کا اس دل میں حوصلا بھی ہے\n\nسمجھ کے خار مغیلاں تو سر اٹھا اپنا\nکہ رہروؤں میں اک عاشق برہنہ پا بھی ہے\n\nسفینہ بحر مصیبت سے پار کر دے گا\nخدا سمجھتے ہو جس کو وہ ناخدا بھی ہے\n\nاٹھاؤ شوق سے منزل میں تم قدم اپنے\nکہ راہزن جو ہے اس میں وہ رہنما بھی ہے\n\nنظر سے شیخ کی چھپ کر چلا ہوں پینے کو\nجمیلہؔ ابر ہے بارش ہے اور ہوا بھی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%B8%D9%84%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%AA%D9%88_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "سمجھ گھر یار کا میں شہ نشین دل کو دھوتا ہوں", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سمجھ گھر یار کا میں شہ نشین دل کو دھوتا ہوں\nکہیں ہیں لوگ دیوانے کہ دیوانہ ہوں روتا ہوں\n\nبجھائے اشک یہ خوں کے جو فوارے اچھلتے ہیں\nمژہ سے یار کے لے نشتر آنکھوں میں چبھوتا ہوں\n\nمدد اے خضر گریہ غرق کریو ناؤ دل آج ہی\nیہ ہے ڈبوانے والا میں اسے پہلے ڈبوتا ہوں\n\nبت سنگین دل کی دیکھ تصویر آنکھیں پتھرائیں\nٹھٹک ہوں نقش قالیں سا نہ روتا ہوں نہ سوتا ہوں\n\nمیں کوئے میکشان و مہوشاں کے متصل پہنچا\nخبردار اے حریفو اب حواس و ہوش کھوتا ہوں\n\nمبادا میرے گل رو کا گل رخسار مرجھاوے\nپھوار اے اظفریؔ دے آنسوؤں کی میں بھگوتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%DB%81_%D9%86%D8%B4%DB%8C%D9%86_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "سمجھا لہُو کی بوند اگر تُو اسے تو خیر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "سمجھا لہُو کی بوند اگر تُو اسے تو خیر\nدِل آدمی کا ہے فقط اک جذبۂ بلند\nگردش مہ و ستارہ کی ہے ناگوار اسے\nدل آپ اپنے شام و سحَر کا ہے نقش بند\nجس خاک کے ضمیر میں ہے آتشِ چنار\nممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%D9%84%DB%81%D9%8F%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%88%D9%86%D8%AF_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%8F%D9%88_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AE%DB%8C%D8%B1"} {"title": "سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کو", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کو\nیہ دوستی سمجھتا ہے دشمن کے پیار کو\n\nنکلا چمک کے مہر قیامت بھی اور ہم\nبیٹھے رہے چھپائے دل داغ دار کو\n\nساقی نہ مے نہ جام نہ مینا نہ میکدہ\nآمد بہار کی ہو مبارک بہار کو\n\nکیا کیا بگاڑ میں بھی ادائیں ہیں دل فریب\nکتنے بناؤ آتے ہیں گیسوئے یار کو\n\nناصح کا امتحان مبارکؔ ہو ایک دن\nتھوڑی پلا کے دیکھیے اس ہوشیار کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88"} {"title": "سمجھایا بہت دل کو سمجھانے کو کیا کہیے", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سمجھایا بہت دل کو سمجھانے کو کیا کہیے\nدیوانہ ہے دیوانہ دیوانے کو کیا کہیے\n\nآتے ہی چلے جانا کیا آنا ہے کیا جانا\nاس آنے کو کیا کہیے اس جانے کو کیا کہیے\n\nہے شمع ستم آرا جو کہئے اسے کہئے\nپروانہ ہے پروانہ پروانے کو کیا کہیے\n\nبت خانہ و کعبہ میں یکساں ہے ترا جلوہ\nکعبہ تو ہوا کعبہ بت خانے کو کیا کہیے\n\nکیا کیا نہ کمال انساں کرتا ہے اثرؔ پیدا\nصد حیف مگر اس کے مر جانے کو کیا کہیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کو", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کو\nشہادت غیب کی خاطر تو حاضر ہے گواہی کو\n\nنہیں ممکن کہ ہم سے ظلمت امکان زائل ہو\nچھڑا دے آہ کوئی کیوں کے زنگی سے سیاہی کو\n\nعجب عالم ہے ایدھر سے ہمیں ہستی ستاتی ہے\nادھر سے نیستی آتی ہے دوڑی عذر خواہی کو\n\nنہ رہ جاوے کہیں تو زاہدا محروم رحمت سے\nگنہ گاروں میں سمجھا کریو اپنی بے گناہی کو\n\nنہ لازم نیستی اس کو نہ ہستی ہی ضروری ہے\nبیاں کیا کیجیے اے دردؔ ممکن کی نناہی کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%86%D8%A7_%D9%81%DB%81%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%DB%92_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D9%88"} {"title": "سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا\nپھر ان دنوں میں دیدۂ خوں بار نم ہوا\n\nآئے برنگ ابر عرق ناک تم ادھر\nحیران ہوں کہ آج کدھر کو کرم ہوا\n\nتجھ بن شراب پی کے موئے سب ترے خراب\nساقی بغیر تیرے انہیں جام سم ہوا\n\nکافر ہمارے دل کی نہ پوچھ اپنے عشق میں\nبیت الحرام تھا سو وہ بیت الصنم ہوا\n\nخانہ خراب کس کا کیا تیری چشم نے\nتھا کون یوں جسے تو نصیب ایک دم ہوا\n\nتلوار کس کے خون میں سر ڈوب ہے تری\nیہ کس اجل رسیدہ کے گھر پر ستم ہوا\n\nآئی نظر جو گور سلیماں کی ایک روز\nکوچے پر اس مزار کے تھا یہ رقم ہوا\n\nکاے سرکشاں جہان میں کھینچا تھا میں بھی سر\nپایان کار مور کی خاک قدم ہوا\n\nافسوس کی بھی چشم تھی ان سے خلاف عقل\nبار علاقہ سے تو عبث پشت خم ہوا\n\nاہل جہاں ہیں سارے ترے جیتے جی تلک\nپوچھیں گے بھی نہ بات جہاں تو عدم ہوا\n\nکیا کیا عزیز دوست ملے میرؔ خاک میں\nنادان یاں کسو کا کسو کو بھی غم ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%B3%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "سمند گرم جو یاں اس سوار کا پہنچا", "poet_page": "مصنف:میر شیر علی افسوس", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سمند گرم جو یاں اس سوار کا پہنچا\nغبار تا فلک اس خاکسار کا پہنچا\n\nتو سچ بتا کہ تجھے اتنی کیوں ہے بے چینی\nمگر پیام کسی بے قرار کا پہنچا\n\nملے ہے پاؤں سے اپنے وہ لالہ رو ہر دم\nیہ مرتبہ تو دل داغدار کا پہنچا\n\nہے یاں تلک تو نزاکت گلوں کے گجرے سے\nلچکنے لگتا ہے اس گل غدار کا پہنچا\n\nقفس سے چھٹنے کی امید ہی نہیں افسوسؔ\nحصول کیا ہے جو مژدہ بہار کا پہنچا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D9%86%D8%AF_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7"} {"title": "سمندر کا بلاوا", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہ سرگوشیاں کہہ رہی ہیں اب آؤ کہ برسوں سے تم کو بلاتے بلاتے مرے\nدل پہ گہری تھکن چھا رہی ہے\nکبھی ایک پل کو کبھی ایک عرصہ صدائیں سنی ہیں مگر یہ انوکھی ندا آ رہی ہے\nبلاتے بلاتے تو کوئی نہ اب تک تھکا ہے نہ آئندہ شاید تھکے گا\nمرے پیارے بچے مجھے تم سے کتنی محبت ہے دیکھو اگر\nیوں کیا تو\nبرا مجھ سے بڑھ کر نہ کوئی بھی ہوگا خدایا خدایا\nکبھی ایک سسکی کبھی اک تبسم کبھی صرف تیوری\nمگر یہ صدائیں تو آتی رہی ہیں\nانہی سے حیات دو روزہ ابد سے ملی ہے\nمگر یہ انوکھی ندا جس پہ گہری تھکن چھا رہی ہے\nیہ ہر اک صدا کو مٹانے کی دھمکی دئیے جا رہی ہے\n\nاب آنکھوں میں جنبش نہ چہرے پہ کوئی تبسم نہ تیوری\nفقط کان سنتے چلے جا رہے ہیں\nیہ اک گلستاں ہے ہوا لہلہاتی ہے کلیاں چٹکتی ہیں\nغنچے مہکتے ہیں اور پھول کھلتے ہیں کھل کھل کے مرجھا کے\nگرتے ہیں اک فرش مخمل بناتے ہیں جس پر\nمری آرزوؤں کی پریاں عجب آن سے یوں رواں ہیں\nکہ جیسے گلستاں ہی اک آئینہ ہے\nاسی آئینے سے ہر اک شکل نکھری سنور کر مٹی اور مٹ ہی گئی پھر نہ ابھری\nیہ پربت ہے خاموش ساکن\nکبھی کوئی چشمہ ابلتے ہوئے پوچھتا ہے کہ اس کی چٹانوں کے اس پار کیا ہے\nمگر مجھ کو پربت کا دامن ہی کافی ہے دامن میں وادی ہے وادی میں ندی\nہے ندی میں بہتی ہوئی ناؤ ہی آئینہ ہے\nاسی آئینے میں ہر اک شکل نکھری مگر ایک پل میں جو مٹنے لگی ہے تو\nپھر نہ ابھری\nیہ صحرا ہے پھیلا ہوا خشک بے برگ صحرا\nبگولے یہاں تند بھوتوں کا عکس مجسم بنے ہیں\n\nمگر میں تو دور ایک پیڑوں کے جھرمٹ پہ اپنی نگاہیں جمائے ہوئے ہوں\nنہ اب کوئی صحرا نہ پربت نہ کوئی گلستاں\nاب آنکھوں میں جنبش نہ چہرے پہ کوئی تبسم نہ تیوری\nفقط ایک انوکھی صدا کہہ رہی ہے کہ تم کو بلاتے بلاتے مرے دل پہ\nگہری تھکن چھا رہی ہے\nبلاتے بلاتے تو کوئی نہ اب تک تھکا ہے نہ شاید تھکے گا\nتو پھر یہ ندا آئینہ ہے فقط میں تھکا ہوں\n\nنہ صحرا نہ پربت نہ کوئی گلستاں فقط اب سمندر بلاتا ہے مجھ کو\nکہ ہر شے سمندر سے آئی سمندر میں جا کر ملے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%85%D9%86%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D9%84%D8%A7%D9%88%D8%A7"} {"title": "سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا\nکہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا\n\nکیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے\nبخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا\n\nزیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف\nقاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا\n\nاڑتا ہے شوق راحت منزل سے اسپ عمر\nمہمیز کہتے ہیں گے کسے تازیانہ کیا\n\nزینہ صبا کا ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاک\nبام بلند یار کا ہے آستانہ کیا\n\nچاروں طرف سے صورت جاناں ہو جلوہ گر\nدل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا\n\nصیاد اسیر دام رگ گل ہے عندلیب\nدکھلا رہا ہے چھپ کے اسے دام و دانہ کیا\n\nطبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال\nہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا\n\nآتی ہے کس طرح سے مرے قبض روح کو\nدیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا\n\nہوتا ہے زرد سن کے جو نامرد مدعی\nرستم کی داستاں ہے ہمارا فسانہ کیا\n\nترچھی نگہ سے طائر دل ہو چکا شکار\nجب تیر کج پڑے تو اڑے گا نشانہ کیا\n\nصیاد گل عذار دکھاتا ہے سیر باغ\nبلبل قفس میں یاد کرے آشیانہ کیا\n\nبیتاب ہے کمال ہمارا دل حزیں\nمہماں سرائے جسم کا ہوگا روانہ کیا\n\nیوں مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے\nآتشؔ غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%DB%81%DB%8C_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سن رکھ او خاک میں عاشق کو ملانے والے", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سن رکھ او خاک میں عاشق کو ملانے والے\nعرش اعظم کے یہ نالے ہیں بلانے والے\n\nیہ صدا سنتے ہیں اس کوچہ کے جانے والے\nجان کر جان نہ کھو کون ہے آنے والے\n\nچین تجھ کو بھی نہ ہو مجھ کو ستانے والے\nتو بھی ٹھنڈا نہ رہے جی کے جلانے والے\n\nکب ہیں اس دل سے بتاں ہاتھ اٹھانے والے\nیہ وہ کافر ہیں کہ مسجد کے ہیں ڈھانے والے\n\nجنگ ہی گر تجھے منظور ہے پھر آنکھ لڑا\nیہ بھی اک جنگ ہے او آنکھ لڑانے والے\n\nکی تو عیار سی سازش ہے ولے غنچہ دہن\nچٹکیوں میں ہیں یہ جوبن کے اڑانے والے\n\nان کے ہنسنے پہ نہ جا ان کے ہنسانے سے نہ ہنس\nتیرے ہنسنے پہ جو ہنستے ہیں ہنسانے والے\n\nبن بلائے ترے آ کر تجھے بہکاتے ہیں\nسخت نا خواندہ ہیں یہ تجھ کو پڑھانے والے\n\nاشک خونیں کی ہوں میں سیل میں ڈوبا رہتا\nیہ میرا رنگ ہے او پان چبانے والے\n\nیوں گجر صبح کا جلدی سے بجے وصل کی رات\nارے بے رحم ارے دل کے ستانے والے\n\nگزری جو مجھ پہ سو گزری ہے نہ گزری تجھ پر\nگھڑی گھڑیال کی گھڑیال بجانے والے\n\nکیوں نہ ان نالوں کو میں پاے بہ زنجیر رکھوں\nاے جنوں کون ہیں یہ غل کے مچانے والے\n\nجب کہا میں نے کہ سن حال کہا طعن سے یہ\nتم سلامت رہو احوال سنانے والے\n\nپاؤں کو ہاتھ لگایا تو لگا کہنے سرک\nتجھ کو قربان کروں ہاتھ لگانے والے\n\nمطلع مطلع احساںؔ سے تو ہو رشک قمر\nتجھ پہ عاشق ہوئے پیغام کے لانے والے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D9%88_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "سن رکھو اسے دل کا لگانا نہیں اچھا", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سن رکھو اسے دل کا لگانا نہیں اچھا\nدنیا یہ بری ہے یہ زمانہ نہیں اچھا\n\nسب لوٹ لیا ایک نظر دیکھ کے مجھ کو\nاے دز‌د نگہ دل کا چرانا نہیں اچھا\n\nکیوں جھینپتے ہو غیروں میں ہاں پھر تو کہو وہ\nگالی ہی تو تھی بات بنانا نہیں اچھا\n\nعریاں بدنی پر نہ حبابوں کی پڑے آنکھ\nدریا میں مری جان نہانا نہیں اچھا\n\nافسوس کی صورت نہ بناؤ نہ رلاؤ\nدل پستہ ہے ہونٹوں کا چبانا نہیں اچھا\n\nروتے ہیں ہنساتے ہو بھری بزم میں صاحب\nچپ بیٹھے رہو دھیان بٹانا نہیں اچھا\n\nکوچے سے چلے جائیے اخترؔ کہیں اب اور\nمضمون بہت عشق کا چھانا نہیں اچھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7"} {"title": "سن سوز دروں کو اس کے جلیے بھنیے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "سن سوز دروں کو اس کے جلیے بھنیے\nہر حرف پہ افسوس سے سر کو دھنیے\nکیا کیا اب سانجھ سے کہے گا تا صبح\nآؤ ٹک میرؔ کی کہانی سنیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%AF%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D9%86%DB%8C%DB%92"} {"title": "سن فصل گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیں", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سن فصل گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیں\nکیا بلبلوں نے دیکھو دھومیں مچائیاں ہیں\n\nبیمار ہو زمیں سے اٹھتے نہیں عصا بن\nنرگس کو تم نے شاید آنکھیں دکھائیاں ہیں\n\nدیکھ اس کو آئنہ بھی حیران ہو گیا ہے\nچہرے پہ جان تیرے ایسی صفائیاں ہیں\n\nخورشید اس کو کہئے تو جان ہے وہ پیلا\nگر مہ کہوں ترا منہ تو اس پہ جھائیاں ہیں\n\nیوں گرم یار ہونا پھر بات بھی نہ کہنا\nکیا بے مروتی ہے کیا بے وفائیاں ہیں\n\nجھمکی دکھا جھجھک کر دل لے کے بھاگ جانا\nکیا اچپلائیاں ہیں کیا چنچلائیاں ہیں\n\nقسمت میں کیا ہے دیکھیں جیتے بچیں کہ مر جائیں\nقاتل سے اب تو ہم نے آنکھیں لڑائیاں ہیں\n\nدل عاشقوں کا لے کر پھر یار نہیں یہ دلبر\nان بے مروتوں کی کیا آشنائیاں ہیں\n\nپھر مہرباں ہوا ہے تاباںؔ مرا ستم گر\nباتیں تری کسی نے شاید سنائیاں ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86_%D9%81%D8%B5%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سن لیوے اگر تو مری دل دار کی آواز", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "سن لیوے اگر تو مری دل دار کی آواز\nہرگز نہ سنے پھر کبھوں مزمار کی آواز\n\nکھل جاویں اگر کان ترے دل کے تو بے شک\nہر سمت سے پھر آئے تجھے یار کی آواز\n\nسن کر وہ صدا طائر دل کی مرے بولے\nشاید کہ یہ ہے بلبل گل زار کی آواز\n\nہو جاوے کماں تیر فلک بار الم سے\nسن لیوے جو تیرے لب سوفار کی آواز\n\nمردہ کو جلا کر کے بناوے ہے مسیحا\nاے عیسیٰ دوراں تری رفتار کی آواز\n\nسنتا ہوں میں آثمؔ شہ خادم کے لبوں سے\nہر لحظہ بدل شبلی اور عطار کی آواز", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86_%D9%84%DB%8C%D9%88%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2"} {"title": "سن لے یہ التماس مرا دوستانہ ہے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سن لے یہ التماس مرا دوستانہ ہے\nہشیار ہو کہ تیر اجل کا نشانہ ہے\n\nکب تک رہے گی مسند کمخواب زیر پا\nکاہے خمیدہ یار ترا شامیانہ ہے\n\nدنیا کے مخمصے ہیں یہ فرزند و اقربا\nبیگانہ سب سے ہو کہ اجل کا یگانہ ہے\n\nاے عندلیب جان چمن جسم پر نہ پھول\nویرانہ ایک روز ترا آشیانہ ہے\n\nانفاس مستعار پہ کیا اعتبار زیست\nاک دم میں مثل موج صبا تو روانہ ہے\n\nیہ جلوہ ہاے بو قلموں بے ثبات ہیں\nہے زندگی طلسم جہاں اک فسانہ ہے\n\nرکتی نہیں ہے باگ کسی شہسوار سے\nہر دم سمند عمر کو اک تازیانہ ہے\n\nکیا سر کشان دہر کے قصے نہیں سنے\nکیا ہو گئے وہ لوگ کہاں وہ زمانہ ہے\n\nکہنا تھا جو نسیمؔ تجھے سب سنا چکے\nنزدیک اختتام ترا کارخانہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86_%D9%84%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B3_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "سن کے فرقت چپ ہوا ایسا کہ مردا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سن کے فرقت چپ ہوا ایسا کہ مردا ہو گیا\nپوچھتا ہے یار رو رو کر تجھے کیا ہو گیا\n\nدیکھ کر چشم سیاہ ماہ رو وحشت ہوئی\nچاندنی میں اس ہرن کا رنگ کالا ہو گیا\n\nکر دیا ابرو نے دو ٹکڑے برنگ ذوالفقار\nایک ہی تلوار میں ساری کا آدھا ہو گیا\n\nکیا دیا بوسہ لب شیریں کا ہو کر ترش رو\nمنہ ہوا میٹھا تو کیا دل اپنا کھٹا ہو گیا\n\nمنہ جو اس یوسف نے پھیرا ہو گئے بیکار سب\nدیدۂ یعقوب چاہ آئنہ اندھا ہو گیا\n\nدل جو تڑپا داغ سے روشن جہان دل ہوا\nبرق جب چمکی اندھیرے میں اجالا ہو گیا\n\nعرشؔ اس کی سرد مہری تا دم آخر رہی\nدل ہوا ٹھنڈا نہ سارا جسم ٹھنڈا ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%DA%86%D9%BE_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سن کے لوگوں کے زہر سے فقرے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "سن کے لوگوں کے زہر سے فقرے\nدیکھ کر اپنے گھر کی بربادی\nمیں بھی جب مسکرا ہی لیتا ہوں\nتم تو کتنا بدل گئی ہوگی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B2%DB%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D9%82%D8%B1%DB%92"} {"title": "سن کے میرے عشق کی روداد کو", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سن کے میرے عشق کی روداد کو\nلوگ بھولے قیس کو فرہاد کو\n\nاے نگاہ یاس ہو تیرا برا\nتو نے تڑپا ہی دیا جلاد کو\n\nبعد میرے اٹھ گئی قدر ستم\nاب ترستے ہیں حسیں بیداد کو\n\nاک ذرا جھوٹی تسلی ہی سہی\nکچھ تو سمجھا دو دل ناشاد کو\n\nہائے یہ درد جگر کس سے کہوں\nکون سنتا ہے مری فریاد کو\n\nجائیں گے دنیا سے سب کچھ چھوڑ کر\nہاں مگر لے کر کسی کی یاد کو\n\nاب مجھے مانیں نہ مانیں اے حفیظؔ\nمانتے ہیں سب مرے استاد کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D9%88"} {"title": "سنئے اے جاں کبھی اسیر کی عرض", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنئے اے جاں کبھی اسیر کی عرض\nاپنے کوچے کے جا پذیر کی عرض\n\nچھد گیا دل زباں تلک آتے\nہم نے جب کی نگہ کے تیر کی عرض\n\nاس گھڑی کھلکھلا کے ہنس دیجے\nہے یہی اب تو کہنہ پیر کی عرض\n\nجب تو اس گل بدن شکر لب نے\nیوں کہا سن کے اس حقیر کی عرض\n\nاب تلک دھن ہے حسن دنداں کی\nدیکھ اس پوپلے نظیرؔ کی عرض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%A6%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%B1%D8%B6"} {"title": "سنا بھی کبھی ماجرا درد و غم کا کسی دل جلے کی زبانی کہو تو", "poet_page": "مصنف:سائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنا بھی کبھی ماجرا درد و غم کا کسی دل جلے کی زبانی کہو تو\nنکل آئیں آنسو کلیجہ پکڑ لو کروں عرض اپنی کہانی کہو تو\n\nتمہیں رنگ مے شیخ مرغوب کیا ہے گلابی ہو یا زعفرانی کہو تو\nپلائے کوئی ساقئ حور پیکر مصفا کشیدہ پرانی کہو تو\n\nتمنائے دیدار ہے حسرت دل کہ تم جلوہ فرما ہو میں آنکھیں سینکوں\nنہ کہہ دینا موسیٰ سے جیسے کہا تھا مری عرض پر لن ترانی کہو تو\n\nوفا پیشہ عاشق نہیں دیکھا تم نے مجھے دیکھ لو جانچ لو آزما لو\nتمہارے اشارے پہ قربان کر دوں ابھی مایۂ زندگانی کہو تو\n\nکہاں میں کہاں داستاں کا تقاضا مرے ضبط درد نہاں کا ہے کہنا\nپھر اس پر یہ تاکید بھی ہے برابر نہ کہنا پرانی کہانی کہو تو\n\nمرے نامۂ شوق کی سطر میں ہے جگہ اک جو سادہ وہ مہمل نہیں ہے\nمیں ہو جاؤں خدمت میں حاضر ابھی خود بتانے کو اس کے معانی کہو تو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D8%A7%D8%AC%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%88_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88"} {"title": "سنا کر حال قسمت آزما کر لوٹ آئے ہیں", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنا کر حال قسمت آزما کر لوٹ آئے ہیں\nانہیں کچھ اور بیگانہ بنا کر لوٹ آئے ہیں\n\nپھر اک ٹوٹا ہوا رشتہ پھر اک اجڑی ہوئی دنیا\nپھر اک دلچسپ افسانہ سنا کر لوٹ آئے ہیں\n\nفریب آرزو اب تو نہ دے اے مرگ مایوسی\nہم امیدوں کی اک دنیا لٹا کر لوٹ آئے ہیں\n\nخدا شاہد ہے اب تو ان سا بھی کوئی نہیں ملتا\nبزعم خویش ان کو آزما کر لوٹ آئے ہیں\n\nبچھے جاتے ہیں یا رب کیوں کسی کافر کے قدموں میں\nوہ سجدے جو در کعبہ پہ جا کر لوٹ آئے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D8%A2%D8%B2%D9%85%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%D9%88%D9%B9_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سنا ہم کو آتے جو اندر سے باہر", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنا ہم کو آتے جو اندر سے باہر\nپھرے الٹے پیروں باہر سے باہر\n\nکڑی میں نہ دے ساتھ یار دلی تک\nشرر چوٹ کھا کر ہو پتھر سے باہر\n\nیوں ہی کالعدم ہم میان لحد تھے\nمٹایا نشاں اس پہ ٹھوکر سے باہر\n\nنہ کر ہرزہ گردی جو ذی آبرو ہے\nنکلتا نہیں آئنہ گھر سے باہر\n\nجناں سے ہوئی مدت آدم کو نکلے\nوطن سے ہوں میں زندگی بھر سے باہر\n\nوہ محروم دولت ہوں برگشتہ قسمت\nاڑے خاک گھر میں جو ہو برسے باہر\n\nمٹے گردش بخت کیا لاغروں کی\nنہ ہو کاہ گرداب چکر سے باہر\n\nلڑاتے جو ہو شادؔ سے گھر میں آنکھیں\nنظر ڈالو ہم پر بھی تیور سے باہر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1"} {"title": "سنا ہے حال ترے کشتگاں بیچاروں کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنا ہے حال ترے کشتگاں بیچاروں کا\nہوا نہ گور گڑھا ان ستم کے ماروں کا\n\nہزار رنگ کھلے گل چمن کے ہیں شاہد\nکہ روزگار کے سر خون ہے ہزاروں کا\n\nملا ہے خاک میں کس کس طرح کا عالم یاں\nنکل کے شہر سے ٹک سیر کر مزاروں کا\n\nعرق فشانی سے اس زلف کی ہراساں ہوں\nبھلا نہیں ہے بہت ٹوٹنا بھی تاروں کا\n\nعلاج کرتے ہیں سودائے عشق کا میرے\nخلل پذیر ہوا ہے دماغ یاروں کا\n\nتری ہی زلف کو محشر میں ہم دکھا دیں گے\nجو کوئی مانگے گا نامہ سیاہ کاروں کا\n\nخراش سینۂ عاشق بھی دل کو لگ جائے\nعجب طرح کا ہے فرقہ یہ دل فگاروں کا\n\nنگاہ مست کے مارے تری خراب ہیں شوخ\nنہ ٹھور ہے نہ ٹھکانا ہے ہوشیاروں کا\n\nکریں ہیں دعویٰ خوش چشمی آہوان دشت\nٹک ایک دیکھنے چل ملک ان گنواروں کا\n\nتڑپ کے مرنے سے دل کے کہ مغفرت ہو اسے\nجہاں میں کچھ تو رہا نام بے قراروں کا\n\nتڑپ کے خرمن گل پر کبھی گر اے بجلی\nجلانا کیا ہے مرے آشیاں کے خاروں کا\n\nتمہیں تو زہد و ورع پر بہت ہے اپنے غرور\nخدا ہے شیخ جی ہم بھی گناہ گاروں کا\n\nاٹھے ہے گرد کی جا نالہ گور سے اس کی\nغبار میرؔ بھی عاشق ہے نے سواروں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%B4%D8%AA%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%DA%86%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "سنا ہے زخمی تیغ نگہ کا دم نکلتا ہے", "poet_page": "مصنف:حیرت الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنا ہے زخمی تیغ نگہ کا دم نکلتا ہے\nترا ارمان لے اے قاتل عالم نکلتا ہے\n\nنہ آنکھوں میں مروت ہے نہ جائے رحم ہے دل میں\nجہاں میں بے وفا معشوق تم سا کم نکلتا ہے\n\nکہا عاشق سے واقف ہو تو فرمایا نہیں واقف\nمگر ہاں اس طرف سے ایک نامحرم نکلتا ہے\n\nمحبت اٹھ گئی سارے زمانے سے مگر اب تک\nہمارے دوستوں میں باوفا اک غم نکلتا ہے\n\nپتا قاصد یہ رکھنا یاد اس قاتل کے کوچے سے\nکوئی نالاں کوئی بسمل کوئی بے دم نکلتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D8%AE%D9%85%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%D9%86%DA%AF%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%85_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "سنا ہے چاہ کا دعویٰ تمہارا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "سنا ہے چاہ کا دعویٰ تمہارا\nکہو جو کچھ کہ چاہو مہرباں ہو\nکنارا یوں کیا جاتا نہیں پھر\nاگر پائے محبت درمیاں ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%B9%D9%88%DB%8C%D9%B0_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "سنا ہے کوچ تو ان کا پر اس کو کیا کہیے", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنا ہے کوچ تو ان کا پر اس کو کیا کہیے\nزبان خلق کو نقارۂ خدا کہیے\n\nمسی لگا کے سیاہی سے کیوں ڈراتے ہو\nاندھیری راتوں کا ہم سے تو ماجرا کہیے\n\nہزار راتیں بھی گزریں یہی کہانی ہو\nتمام کیجیے اس کو نہ کچھ سوا کہیے\n\nہوا ہے عشق میں خاصان حق کا رنگ سفید\nیہ قتل عام نہیں شوخئ حنا کہیے\n\nتراب پائے حسینان لکھنؤ ہے یہ\nیہ خاکسار ہے اخترؔ کو نقش پا کہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "سناؤں تمہیں زندگی کی کہانی", "poet_page": "مصنف:ہوش بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سناؤں تمہیں زندگی کی کہانی\nغم جاودانی غم جاودانی\n\nنہ سمجھا وہ اسرار ہستی نہ سمجھا\nیہاں جس نے غم کی حقیقت نہ جانی\n\nمحبت میں اک درس عبرت بنے گی\nمری نا مرادی مری سخت جانی\n\nمحبت کی دنیا لٹی جا رہی ہے\nجوانی اور اس پر کسی کی جوانی\n\nتصور میں ہیں عہد ماضی کی باتیں\nنہ وہ سر خوشی ہے نہ وہ سرگرانی\n\nنہ جانے کہاں تک یہ دنیا سنے گی\nکسی کا فسانہ کسی کی زبانی\n\nمجھے ہوشؔ یہ درس غم نے دیا ہے\nکہ ہستی کا دھوکا ہے اک شادمانی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "سناتا کیا میں اسے طاقت بیان نہ تھی", "poet_page": "مصنف:نبی بخش نایاب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نایاب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "سناتا کیا میں اسے طاقت بیان نہ تھی\nکچھ ایسی ویسی محبت کی داستان نہ تھی\n\nترے سوا کوئی اس گھر میں کس طرح آتا\nدل فگار تھا کنجرے کی یہ دکان نہ تھی\n\nوہ سنگ کعبہ جو اک بوسہ گاہ عالم ہے\nکہیں تمہارے ہی گھر کی تو آستان نہ تھی\n\nجناں میں دیکھ کے حوریں تو کیوں نہ یاد آتا\nکہ تیری سی وہ ملاحت وہ آن بان نہ تھی\n\nوہ بوسہ تیغ کا پھر بار بار کیوں لیتا\nاگر لہو میں مرے بوئے زعفران نہ تھی\n\nسب ایک آن میں بے پردہ راز ہو جاتا\nتو شکر کر کہ ہمیں خوئے امتحان نہ تھی\n\nغضب کہ کس طرح اس بت نے مار ڈالا مجھے\nکماں میں تیر نہ تھا ہاتھ میں کمان نہ تھی\n\nکہیں جنوں تو نہیں ہو گیا تجھے نایابؔ\nتو اس کے پیچھے جو دوڑا یہ تیری شان نہ تھی", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%B7%D8%A7%D9%82%D8%AA_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "سناٹے کا عالم قبر میں ہے ہے خواب عدم آرام نہیں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سناٹے کا عالم قبر میں ہے ہے خواب عدم آرام نہیں\nامکان نمود صبح نہیں امید چراغ شام نہیں\n\nدل نامے کے شک لے پرزے کیا اے وائے نصیبے کا یہ لکھا\nپیشانی پر ان کی مہر نہیں سر نامے پہ میرا نام نہیں\n\nجاتے ہیں جو اجڑے زندہ چمن اس باغ جہاں کی وجہ یہ ہے\nگل زار یہ جس گلفام کا ہے اس باغ میں وہ گلفام نہیں\n\nبچھ جائیں گے بلبل آ کے ہزاروں ٹوٹ پڑیں گے جعل یہ ہے\nصیاد گلابی پہنے ہے کپڑے چادر گل ہے دام نہیں\n\nاس نجد میں خوف اے لیلیٰ نہ کر اس غمزدہ کی لے جا کے خبر\nمجنوں سے ترا وحشی ہے ترا بے چارہ کوئی ضرغام نہیں\n\nآگاہ کیا ہے دل کو ہمارے کس نے تمہاری خوبیوں سے\nانصاف کرو منصف ہو تمہیں پھر کیا ہے جو یہ الہام نہیں\n\nدل دیتے ہی ان کو گھلنے لگے نظروں میں اجل کے تلنے لگے\nآغاز محبت سے یہ کھلا چاہت کا بخیر انجام نہیں\n\nعالم ہے عجب گیتئ عدم کا چار طرف ہے عالم ہو\nآسائش جان و روح نہیں راحت کا کوئی ہنگام نہیں\n\nجانا ہے عدم کی راہ ہمیں ہونا ہے فنا فی اللہ ہمیں\nلیتے ہیں یہاں دم چند نفس ہستی سے ہمیں کچھ کام نہیں\n\nپھر آنکھ کبھی کھلنے کی نہیں نیند آئے گی اک دن ایسی ہمیں\nہونا ہے یہی سوچے ہیں جو ہم یہ خواب و خیال خام نہیں\n\nچورنگ نہیں کیوں کھیلتے اب کس کشتے پہ رحم آیا ہے تمہیں\nخوں ریزیوں کا کیوں شوق نہیں کیوں زیب کمر صمصام نہیں\n\nاقلیم خموشاں سے تو سدا اک غمزدہ آتی ہے یہ صدا\nہیں سیکڑوں شاہنشاہ یہاں پر حکم نہیں احکام نہیں\n\nدنیا میں جو تھا تابع تھا جہاں معلوم نہیں پہونچا وہ کہاں\nعبرت کا محل کہتے ہیں اسے اب گور میں بھی بہرام نہیں\n\nبلبل کی فغاں پر خندہ زنی غنچوں نے جو کی پژمردہ ہوئے\nسچ ہے کہ حزین و غمزدہ ہو ہنسنے کا بخیر انجام نہیں\n\nدیدار کے بھوکے تیرے جو ہیں ہے ختم انہیں پر نفس کشی\nکچھ خواہش و فکر فوت نہیں دنیا کے مزے سے کام نہیں\n\nتم قبر میں کیوں اٹھ بیٹھے شرفؔ آرام کرو آرام کرو\nیاران وطن روتے ہیں تمہیں کچھ حشر نہیں کہرام نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%A7%D9%B9%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%82%D8%A8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%B9%D8%AF%D9%85_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سنبلِ تر ہے پریشاں زلفِ اکبر دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنبلِ تر ہے پریشاں زلفِ اکبر دیکھ کر\nکٹ گیا ہے ماہِ تاباں روئے انور دیکھ کر\n\nآب ہو جائے گا حُسنِ روئے اکبر دیکھ کر\nسامنے آئینہ لانا، اے سکندر دیکھ کر\n\nجب چلی اعدا پہ تیغِ شہ، پکارے جبرئیل\nیا حُسین ابنِ علی! خادم کے شہپر دیکھ کر\n\nحشر تھا اہلِ حرم میں وقتِ قتلِ شاہِ دیں\nروتے تھے دشمن بھی شہ کو زیرِ خنجر دیکھ کر\n\nخم ہوئی شہ کی کمر، ہاتھوں کی طاقت گھٹ گئی\nدونوں شانوں سے قلم، دستِ برادر دیکھ کر\n\nکی رسائی بختِ حُر نے جب، تو پہنچا شہ کے پاس\nآ گیا خود راہ پر جنت کا رہبر دیکھ کر\n\nجب جھپٹ کر بابِ خیبر کو اکھاڑا آپ نے\nہو گئے کفار ششدر، زورِ حیدر دیکھ کر\n\nکربلا کے بَن میں جا پہنچے جو شاہِ بحر و بر\nخوش ہوئے مقتل کو سب انصار و یاور دیکھ کر\n\nمسکرائے دیکھ کر صحرا کو ہم شکلِ نبی\nتن گئے دریا کو عباسِ دلاور دیکھ کر\n\nہو چکیں جس وقت مُہریں فردِ قتلِ شاہ پر\nرو دیے خود شاہ اپنے خوں کا محضر دیکھ کر\n\nخاک پر بے دم پڑے ہیں سب عزیز و اقربا\nروتے ہیں شبیر لاشوں کو برابر دیکھ کر\n\nکہتے تھے یہ حلق ہے نانا کا میرے حلق پر\nپھیرنا شمشیر او شمرِ ستمگر دیکھ کر\n\nخلد میں یاد آئی جب عباس کو بچوں کی پیاس\nرو دیا وہ با وفا بھی سوئے کوثر دیکھ کر\n\nپیشِ خالق سب ہیں یکساں، رشک او غافل نہ کر\nآپ کو کم دیکھ کر، اوروں کو برتر دیکھ کر\n\nآسماں پر شرم سے برقِ درخشاں چھپ گئی\nذوالفقارِ حیدرِ صفدر کے جوہر دیکھ کر\n\nصُرّۂ خاکِ شفا سے یوں کھِلا تربت میں دل\nجس طرح بلبل ہو بالیدہ گُلِ تر دیکھ کر\n\nکربلا کو ہند سے جاتے اگر ہم اے انیس\nشاد ہو جاتے وہ صحرائے منور دیکھ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%A8%D9%84%D9%90_%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%B2%D9%84%D9%81%D9%90_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "سنتا نہیں کسو ہی کی وہ یار دیکھنا", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنتا نہیں کسو ہی کی وہ یار دیکھنا\nکیجو نہ اس سے حال دل اظہار دیکھنا\n\nگستاخ بے طرح ہے تجھ آغوش سے یہ ہاتھ\nہو جائے گا گلے کا ترے ہار دیکھنا\n\nتجھ در پہ مثل نقش قدم ایک عمر سے\nپیارے فتادہ ہے یہ گنہ گار دیکھنا\n\nگھر تیرے گئے پہ تجھ کوں نہ پایا بلا رقیب\nمجھ کو ہوا یہ گل کے عوض خار دیکھنا\n\nشمع جمال اپنے پہ چاہے جو امتحاں\nپروانہ وار مجھ کو بھی یک بار دیکھنا\n\nکوئی تیرہ بخت مجھ سا بھی ہوگا جہان میں\nتجھ زلف سے ملا نہ مجھے تار دیکھنا\n\nاس راز عشق کو کہیں رو رو کے شمع ساں\nاظہار کیجیو نہ جہاں دارؔ دیکھنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%D9%88_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "سنتا نہیں کچھ کسی سے بڑھ بڑھ کے سوا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "سنتا نہیں کچھ کسی سے بڑھ بڑھ کے سوا\nکہتا نہیں کوئی کچھ پڑھ پڑھ کے سوا\nپڑھنے کا نہ ٹھیک اصول بڑھنے کی نہ راہ\nاور قبلہ کوئی نہیں علی گڑھ کے سوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7"} {"title": "سنتر پنچ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بغیر اجازت", "year": "1955", "text_ur": "میں لاہور کے ایک اسٹوڈیو میں ملازم ہوا۔۔۔ جس کا مالک میرا بمبئی کا دوست تھا ۔۔۔اس نے میرا استقبال کیا۔۔۔ میں اس کی گاڑی میں اسٹوڈیو پہنچا تھا، بغل گیر ہونے کے بعد اس نے اپنی شرافت بھری مونچھوں کو جو غالباً کئی دنوں سے ناتراشیدہ تھیں۔۔۔ تھرکاکر کہا:\n\n’’کیوں خواجہ! چھوڑ دی۔۔۔‘‘\n\nمیں نے جواب دیا، ’’چھوڑنی پڑی۔۔۔‘‘\n\nاسٹوڈیو کا مالک جو اچھا فلم ڈائریکٹر بھی ہے (میں اسے سہولت کی خاطر گیلانی کہوں گا) مجھے اپنے خاص کمرے میں لے گیا۔۔۔ ادھر ادھر کی بے شمار باتیں کرنے کے بعد اس نے چائے منگوائی جو نہایت ذلیل تھی، زبردستی پلائی۔۔۔ کئی سگریٹ اس دوران خود پھونکے اور مجھ سے پھنکوائے۔ مجھے ایک ضروری کام سے جانا تھا۔۔۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا، ’’یار، چھوڑو اب چائے کی بکواس کو۔۔۔ مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے آج اتنے برسوں کے بعد کیسے یاد کر لیا۔‘‘\n\n’’بس ایک دن اچانک یاد آگیے۔۔۔ بلالیا۔۔۔ بتاؤ اب صحت کیسی ہے۔۔۔‘‘\n\n’’ تمہاری دعا سے ٹھیک ہے۔۔۔‘‘ میرے لہجے میں دوستانہ طنز تھا۔ وہ ہنسا۔۔۔\n\n’’واہ، میرے مولوی صاحب۔۔۔ میرا خیال ہے کہ جب سے تم خشک خشک ہوئے ہو۔۔۔ تمہاری ہر وقت شگفتہ رہنے والی طبیعت ٹھہرے پانی کی طرح ٹھہر گئی ہے۔۔۔‘‘\n\n’’ہوگا ایسا ہی۔۔۔ ‘‘\n\n’’ہوگا کیا۔۔۔ ہے ہی ایسا معاملہ۔۔۔ لیکن خدا نہ کرے، ایسی ذہانت جس کے سب معترف ہیں ۔۔۔اس کا بھی یہی حشر ہو۔۔۔ کیا تم اب بھی فلم کہانی کا ڈھانچہ تیار کر سکتے ہو۔۔۔ فرسٹ کلاس کہانی۔۔۔‘‘\n\nمیں نے اس سے کہا، ’’فرسٹ، سیکنڈ، انٹر اور تھرڈ میں نہیں جانتا۔۔۔ البتہ کہانی ضرور ہوگی۔۔۔تم سوچتے ہو فرسٹ کی کہانی، وہ اسکرین پر آتے ہی تھرڈ نہ بن جائے۔۔۔ یا تھرڈ جس کو تم نے ڈبوں میں بند کر کے گودام میں رکھ چھوڑا تھا۔۔۔ وہ گولڈن جوبلی فلم ثابت ہو۔۔۔ کیا درست نہیں۔۔۔ خیر ان باتوں کو چھوڑو تم یہ بتاؤ کہ چاہتے کیا ہو۔‘‘\n\nاس نے مجھے ایک سگریٹ سلگا کر دیا اور سنجیدگی سے کہا، ’’دیکھو منٹو۔۔۔ میں ایک کہانی چاہتا ہوں۔۔۔ بڑا دلچسپ رومان ہو اور تم مجھے اس کا مفصل اسکیچ ایک ہفتے کے اندر اندر دے دو۔۔۔ کیونکہ میں فلم ڈسٹری بیوٹر سے کنٹریکٹ کر چکا ہوں تم بتاؤ کتنی دیر میں لکھ لو گے۔‘‘\n\n’’فراغت سے ایک مہینے کے بعد۔۔۔‘‘\n\nسردیوں کا موسم تھا اس نے اپنے ہاتھ ایک دوسرے کے ساتھ بڑے زور کے ساتھ ملے۔۔۔ اس کے اس عمل سے دو چیزیں ظاہر ہوتی تھیں اول یہ کہ اس کے ہاتھ گرم ہوگئے ہیں۔۔۔ دوم یہ کہ اس کے سر کا بوجھ ہلکا ہوگیا ہے کہ اس کو کہانی وقت پر مل جائے گی اور وہ جو کہ میری طرح تیزی سے کام کرنے والا ہے ،اسے وقت مقررہ کے اندر اندر ڈائریکٹ کر کے اس کے پرنٹ ڈسٹری بیوٹر کے حوالے کر دے گا اور کنٹریکٹ کی رو سے جو بقایا رقم اس کے نام نکلتی تھی ، اسی وقت میز پر دھروالے گا۔اس نے چند لمحات غور کیا۔\n\n’’ کل ہی کام شروع کر دے گا۔۔۔‘‘\n\nمیں نے جواب دیا، ’’ کام تو میں شروع کر دوں۔۔۔ لیکن یہاں میرے لیے کوئی علیحدہ کمرہ ہونا چاہیے۔‘‘\n\n’’ہو جائے گا۔۔۔‘‘\n\n’’اور ایک اسسٹنٹ۔۔۔‘‘\n\n’’مل جائے گا۔۔۔ تو کل سے آنا شروع کر دو گے؟‘‘\n\nمیں نے اس سے کہا، ’’دیکھو گیلانی۔۔۔ میرے گھر سے اور تمہارے اسٹوڈیو تک کا فاصلہ کافی ہے۔۔۔ تانگے میں آؤں تو قریب قریب ڈیڑھ گھنٹہ۔۔۔ بس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘\n\nاس نے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘\n\n’’یعنی اس کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔۔۔ بس اسٹینڈ پر کھڑے رہو۔۔۔خدا خدا کر کے پانچ نمبر کی بس آگئی۔۔۔مسافروں سے بھری ہوئی اور وہ بغیر ٹھہرے چل دی اور تم خود کو دنیا کا کم ترین انسان محسوس کرتے ہو۔۔۔جی میں آتا ہے کہ خودکشی کر لو۔۔۔ یا پھر دنیا والوں کی بے رخی سے نجات حاصل کرنے کے لیے سنیاس دھارلو۔۔۔‘‘\nگیلانی نے اپنی شرارت بھری مونچھیں تھرکائیں۔\n\n’’میں شرط بدنے کےلیے تیار ہوں کہ تم کبھی دنیا تیاگ نہیں سکتے جس دنیا میں ہر قسم کی شراب ملتی ہے۔۔۔ اور خوبصورت عورتیں بھی۔۔۔‘‘\n\nمیں نے چڑ کر کہا، ’’عورتیں جائیں جہنم میں۔۔۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں بمبئی کے ہر اسٹوڈیو میں ، جہاں میں نے کام کیا، ان سے دور ہی رہا۔‘‘\n\n’’تم تو خیر اپنے وقت کے ڈون جو آن donjyan ہو۔‘‘\n\n’’مذاق اڑاتے ہو تم خواجہ میرا۔‘‘\n\nمیں نے سنجیدگی کے ساتھ اس سے کہا، ’’نہیں گیلانی\n\nع یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔۔۔\n\nیایوں کہہ لو\n\nایں سعادت بزور بازو نیست\n\nتا نہ بخشد خدائے بخشندہ۔‘‘\n\nگیلانی مسکرایا۔۔۔\n\n’’خدائے بخشندہ تو بڑے عرصے سے تمہیں مرحوم و مغفور کر چکا ہے۔۔۔ تم بخشی ہوئی روح ہو۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’اس سے کیا ہوتا ہے ۔۔۔ میں اپنے گناہوں کی سزا بھگتنا چاہتا ہوں۔۔۔‘‘\n\n’’فلسفہ مت بگھارو یار ۔۔۔یہ بتاؤ کیا ابھی تک تمہارے پاس وہ اردو ٹائپ رائٹر موجود ہے۔‘‘\n\n’’اچھا تو یہ بتاؤ کہ وہ ایکٹریس جس سے تم نے کلکتہ میں شادی کی تھی، ابھی تک تمہارے پاس موجود ہے۔۔۔‘‘\n\nگیلانی نے فخریہ انداز میں جواب دیا،’’موجود کیوں نہیں ہوگی۔۔۔ گویا تمہاری نظر میں ایکٹریس اور ٹائپ رائٹر میں کوئی فرق نہیں۔۔۔‘‘\n\nمیں نے اس سے کہا، ’’کیا فرق ہے۔۔۔ ایک فلم پر ٹائپ کرتی ہے۔۔۔ دوسری کاغذ پر۔۔۔ دونوں کسی وقت بھی بگڑ سکتی ہیں۔۔۔‘‘\n\nگیلانی میری ان باتوں سے تنگ آگیا تھا۔۔۔ آخر میں نے اس کو دلاسا دیا، ’’یار، یہ سب مذاق تھا۔۔۔ تو میں کل آجاؤں۔۔۔ میرا مطلب ہے تم گاڑی بھیج دو گے؟‘‘\n\nگیلانی صوفے پر سے اٹھا۔۔۔ اس کے ساتھ میں بھی۔۔۔ اس نے کہا، ’’ہاں۔۔۔ ہاں بھئی۔۔۔ کب چاہیے تمہیں گاڑی؟‘‘\n\n’’کوئی وقت بھی مقرر کر لو۔۔۔ ساڑھے نو بجے صبح۔۔۔‘‘\n\n’’ٹھیک ہے۔‘‘\n\n’’تم کاغذ وغیرہ آج ہی منگوا لینا۔۔۔ تاکہ میں اسٹوڈیو پہنچتے ہی کام شروع کر دوں۔۔۔ اور تم سے الٹا نہ سنوں کہ دیکھو تم نے مجھے لیٹ ڈاؤن دیا۔ میرا اتنے ہزار روپے کا نقصان ہو گیا ہے۔‘‘\n\nگیلانی نے بڑے پیار سے کہا، ’’کیابکتے ہو یار۔۔۔ میں تمہاری طبیعت سے کیا واقف نہیں۔۔۔ کبھی کبھی تم ڈبکی لگا جایا کرتے ہو۔‘‘\n\nمیں نے اس کو یقین دلایا،نہیں ایسا نہیں ہوگا۔۔۔ تم مطمئن رہو۔۔۔ ہاں میرا ٹائپ رائٹر یہاں محفوظ تو رہے گا؟‘‘ گیلانی کی عادت ہے کہ وہ ذرا ذرا سی بات پر چِڑ جاتا ہے۔\n\n’’محفوظ نہیں رہے گا تو کیا غنڈے اغواہ کرنے آ جائیں گے۔ اپنے کسی عاشق کے ساتھ تمہاری مشین بھاگ نکلے گی۔۔۔‘‘\n\nمیں بہت ہنسا۔ہنستے ہنساتے ہم دونوں نے اسٹوڈیو کا چکر لگایا۔۔۔ اس کے بعد اس نے مجھے الوداع کہی اور میں اسی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگیا۔۔۔ جہاں پہنچتے ہی میں نے ٹائپ رائٹر کی جھاڑ پونچھ کی۔۔۔ اس لیے کہ ایک مدت سے میں نے اسے استعمال نہیں کیا تھا کیونکہ فلمی کہانی لکھنے کا اس دوران میں کوئی موقع ہی میسر نہ آیا۔بگڑا ہوا مکینک یا مستری آرٹسٹ بن جاتا ہے، یہ میرا اپنا ذاتی اختراع کردہ محاورہ ہے۔ گیلانی شروع شروع میں مکینک تھا۔۔۔ بگڑ کر وہ آرٹسٹ بن گیا، پر وہ محنتی تھا۔\n\nجب وہ مستری تھا تو اسے زیادہ سہولتیں میسر نہیں تھیں لیکن جب کیمرہ قلی سے ترقی کرتا کرتا کیمرہ مین بن گیا تو اس نے کیمرے کے ہر پیچ کے متعلق اپنی خداداد ذہانت اور جستجو طلب طبیعت کی بدولت یہ دریافت کر لیا کہ ان کا لوہے کے اس چوکھٹے میں اپنی اپنی جگہ کیا مصرف ہے۔ کیمرے کو وہ الٹا کرتا۔۔۔ کبھی سیدھا۔۔۔ کبھی اس کا گیٹ کھول کر بیٹھ جاتا اور گھنٹوں اس سے اپنے مختلف سائز کے پیچ پرزوں کے ذریعے بوس و کنار میں مشغول رہتا۔\n\nفرصت کے اوقات۔۔۔ یعنی جب شوٹنگ نہیں ہوتی تھی۔۔۔ وہ اپنی سائیکل پر شہر پہنچتا اور سارا دن کباڑیوں کی دکانوں پر صرف کرتا۔۔۔ اس کو دنیا کے تمام کباڑیوں سے محبت ہے، اور ان کے کباڑ خانوں کو وہ بڑی مقدس جگہیں تصور کرتا تھا۔ وہ ان دکانوں میں بیٹھ کر منصوبہ تیار کرتا رہتا کہ سلائی مشین کا ہینڈل جو بیکار پڑا ہے اگر لوہے کے فلائی ٹکڑے کے ساتھ ویلڈ کر دیا جائے اور اس کے فلاں کے اندر چھوٹے پنکھے جو نکڑوالی دکان میں موجود ہیں، لگا دئیے جائیں تو فرسٹ کلاس دھونکنی بن سکتی ہے۔ خدا معلوم وہ کیا کیا سوچتا تھا۔۔۔ ان دنوں در اصل ذہنی ورزش کر رہا تھا۔۔۔ یہ وہ تیاری تھی جو وہ اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔\n\nاس نے ایڈیٹنگ بھی اسی طرح سیکھی۔۔۔ آس پاس کی ہر ننھی سے ننھی شے کا مطالعہ کیا، اور آخر ایک دن اس نے اسٹوڈیو کی ایک فلم کی ایسی عمدہ ایڈیٹنگ کی کہ لوگ دنگ رہ گئے۔\n\nسیٹھ نے سوچا کہ اچھے کیمرہ مین تو مل جائیں گے مگر ایسا با کمال ایڈیٹر جو سیلو لائیڈ کے چھوٹے بڑے فیتے کے ٹکڑوں کو اس چابک دستی سے جوڑتا ہے کہ پھر اس میں مزید کتربیونت ہو ہی نہیں سکتی۔ چنانچہ ایڈیٹنگ ڈیپارٹ منٹ کاہیڈبنا دیا۔ تنخواہ اس کی وہی رہی جو بحیثیت کیمرہ مین تھی۔ وہ اپنا کام بڑی محنت اور تندہی سے کرتا رہا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ لیبارٹری سے بھی دلچسپی لیتا تھا۔\nتھوڑی ہی دیر میں اس نے اس کے کل پرزوں میں چند اصلاحات اور ترکیبیں پیش کیں جو بڑی رد و کد کے بعد قبول کر لی گئیں۔۔۔ نتیجہ دیکھا گیا تو بڑا حوصلہ افزا تھا۔\n\nسیٹھ نے ایک دن سوچا:\n\n’’کیوں نہ گیلانی کو ایک فلم ڈائریکٹ کرنے کا موقع دیا جائے۔‘‘\n\nجب اس سے پوچھا، ’’تم کوئی فلم ڈائریکٹ کر لو گے؟‘‘ تو اس نے بڑی خود اعتمادی سے جواب دیا، ’’ہاں سیٹھ۔۔۔ پر اس میں کوئی دخل نہ دے۔‘‘\n\nکہانی آدھی گیلانی نے خود بنائی ۔۔۔آدھی ادھر ادھر کے منشیوں سے لکھوائی اور اللہ کا نام لے کر شوٹنگ شروع کر دی۔۔۔ یہ فلم ختم ہوا اور نمائش کے لیےمقامی سینما ہاؤس میں پیش کیا گیا تو اس نے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ اس کے بعد اس نے لاہور میں دو فلم بنائے۔۔۔ یہ بھی سلور جوبلی ہٹ ثابت ہوئے۔۔۔ ایک کلکتہ جا کر پھر بنایا۔۔۔ وہ بھی کامیاب تھا۔ یہاں وہ بمبئی پہنچا۔۔۔ کیونکہ وہاں کے فلم سازوں نے بڑی تگڑی تگڑی آفریں بھیجی تھیں۔۔۔ چنانچہ ایک جگہ اس نے آفر قبول کر کے کنٹریکٹ پر دستخط کر دیے اور کہانی ’’چن وے‘‘ کا منظر نامہ خود لکھا۔۔۔ فلم بن گیا۔۔۔ اور اتنا بڑا باکس آفس ثابت نہ ہوا۔۔۔\n\nشاید اس لیے کہ بٹوارے کے باعث دوسرے شہروں کے مانند بمبئی میں بھی فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے جس طرح دوسرے مسلمان ہجرت کررہے تھے اس طرح گیلانی بھی بمبئی چھوڑ کر کراچی چلا گیا۔۔۔ یہاں سے وہ لاہور پہنچا اور ایک اسٹوڈیو کی داغ بیل رکھی۔۔۔ ساؤنڈ ریکارڈ سٹ سے لے کر کیلیں ٹھوکنے والے تک کو اس کی ذاتی نگرانی میں کام کرنا پڑتا تھا۔۔۔ قصہ مختصر کہ اسٹوڈیو تیار ہوگیا۔\n\nلاہور کے مسلمان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے۔\n\nجب یہ اسٹوڈیو بنا تو ان کی جان میں جان آئی۔۔۔ چنانچہ یہاں شوٹنگ شروع ہوگئی۔۔۔ اس کے بعد یہ چل نکلا۔۔۔ گیلانی اس دوران میں اسٹیج اور ادھر ادھر کے متعلقہ سامان کو درست اور مرمت کرانے میں مشغول رہا۔ اس کا دست راست لاہور ہی کا ایک نوجوان سراج دین تھا۔۔۔ جو قریب قریب آٹھ برس سے اس کے ساتھ تھا ،نے کہا، ٹائپ رائٹر کی دال لے کر کھا لو۔ اس کے بعد گیلانی نے خود میرے ٹائپ رائٹر کا معائنہ کیا اور فیصلہ صادر کر دیا کہ مشین میں کوئی نقص نہیں۔مگر سراج اپنے تجربے کے بل بوتے پر مصر تھا۔\n\n’’نہیں حضور۔۔۔ یہ اب مرمت طلب ہو چکی ہے۔۔۔ بڑے اور چھوٹے رولر سب نئے لگوانے پڑیں گے۔۔۔ اوور ہالنگ ہوگی۔۔۔ اس کا کتا بھی ناقص ہو چکا ہے، وہ بھی پڑے گا۔‘‘\n\n’’تمہاری ٹانگوں پر۔۔۔‘‘\n\n’’آپ میرا مذاق نہ اڑائیے۔۔۔ اچھا۔۔۔ خیر آپ ہی صحیح کہتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنے گنجے سر پر ٹوپی درست کرتا ہوا چلا گیا۔\n\nگیلانی نے اپنا خاص ٹول بکس منگوایا اور مشین کے سب پرزے الگ الگ کر کے رکھ دیے کوئی پرزہ پتھر پر گھسایا۔۔۔ کوئی ریگ مار پر۔۔۔ کسی کے سریش لگائی۔۔۔ کسی کو تیل۔ اور ان کو دوبارہ فٹ کر کے فتح مندانہ انداز میں میری طرف دیکھا اور کہا، ’’کیوں صاحب! ٹھیک ہوگئی یا نہیں۔۔۔‘‘\n\nمیں نے ایسے ہی کہہ دیا، ’’ہاں اب ٹھیک ہے۔‘‘\n\nگیلانی نے اپنے پاس کھڑے اسسٹنٹ کو بلایا، ’’جاؤ، اس الو کے پٹھے ایکسپرٹ سراج کو بلا کر لاؤ۔‘‘\n\nچند منٹ میں سراج حاضر ہوگیا۔اس نے مشین چلائی تو دس پندرہ بار ٹپ ٹپ کرنے کے بعد ہی خاموش ہوگئی۔ سراج نے گیلانی سے کچھ نہ کہا۔تھوڑے وقفے کے بعد گیلانی بڑے تحکمانہ لہجے میں اس سے مخاطب ہوا،’’اچھا تم اسے بناؤ۔۔۔ دیکھیں تم کیا تیر مارتے ہو۔‘‘\n\nمجھے اپنی پندرہ سالہ عزیز مشین کی اس درگت پر ترس آرہا تھا۔۔۔ مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔۔۔ جب اس کے انجر پنجر ڈھیلے ہوئے میری آنکھوں کے سامنے پڑے تھے۔ دوسرے دن سراج نے اپنا ٹول بکس ریکارڈنگ میں سے منگوایا اور میری مشین پر اپنی ماہرانہ سرجری شروع کر دی۔ ضروری پرزے نکال کر اس نے علیحدہ رکھ لیے اور باقی حصّے پٹرول میں ڈال دیے۔ اب ان کی چتا جلانے کیلیے صرف ماچس کی ایک تیلی ہی کافی تھی۔\n\nمیں خاموش رہا۔\n\nیہ سب کچھ دیکھتا رہا۔\n\nکتے کے جبڑوں کو ایک پلاس کے ساتھ زور سے پکڑا اور میری طرف کرتے ہوئے بولا:\n\n’’لو دیکھ لو۔۔۔ میں نہ کہتا تھا ۔۔۔ کتا کام نہیں کر رہا۔۔۔ اس کا تو سنترپنچ ہی خراب ہے۔۔۔‘‘\n\n’’سنتر پنچ۔۔۔‘‘\n\n’’ہاں!‘‘\n\nاور سراج ایک بار پھر اس کا سنتر پنچ ٹھیک کرنے لگا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%AA%D8%B1_%D9%BE%D9%86%DA%86"} {"title": "سنتے ہی دل ہو گیا اس یار کا اسرار مست", "poet_page": "مصنف:مسکین شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "سنتے ہی دل ہو گیا اس یار کا اسرار مست\nہوشیاری کیا کرے جب دل ہو سو سو بار مست\n\nشہرۂ آفاق اس مہ سے یہ ہے مستوں کا حال\nپھینکتے ہیں سر سے اپنے خاک پر دستار مست\n\nسر برہنہ بے سر و ساماں جو دل افگار ہیں\nبزم مستاں میں وہی مشہور ہیں سردار مست\n\nبے خودی دیوانگی میں اس طرح سرشار ہیں\nبھولتے ہیں آپ کو ہو کافر و دیں دار مست\n\nکب انہیں دیر و حرم یاد آئے ہے اے زاہدو\nکوئے جاناں میں ہزاروں ہو گئے ہشیار مست\n\nکیفیت دونوں جہاں کی ہے وہاں حاصل تمام\nجب نظر آویں کسی جا پر کہیں دو چار مست\n\nحال آ جائے ابھی سب ساکنان چرخ کو\nتو بھی ہو جاوے اے مسکیںؔ سن کے یہ اشعار مست", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D8%AA"} {"title": "سنو بات اس کی الفت کا بڑھانا اس کو کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنو بات اس کی الفت کا بڑھانا اس کو کہتے ہیں\nکہا شب خواب میں آ کر کہ آنا اس کو کہتے ہیں\n\nقدم وادیٔ وحشت ناک الفت میں رکھا ہم نے\nہزار آفات کا سر پر اٹھانا اس کو کہتے ہیں\n\nہماری بات کاٹی غیر کی تائید کی اس نے\nگھٹانا اس کو کہتے ہیں بڑھانا اس کو کہتے ہیں\n\nجو روٹھے ہم تو بولے بے دلی سے تم کہ آ مل جا\nادھر کو دیکھیو کیوں جی منانا اس کو کہتے ہیں\n\nدل مضطر کے باعث روز و شب رہتے ہیں بس لرزاں\nدر و دیوار خانہ تلملانا اس کو کہتے ہیں\n\nوہ دشمن اپنا سمجھے ہے بہ دل میں دوست ہوں جس کا\nکہوں کیا اور پر الٹا زمانہ اس کو کہتے ہیں\n\nیہ بولے دیکھ سب تصویر اس کی اور مری یکجا\nپری رو اس کو کہتے ہیں دوانہ اس کو کہتے ہیں\n\nکیا ہے شیفتہ عالم کو اپنا اس پری رو نے\nدوانہ اک جہاں کو کر دکھانا اس کو کہتے ہیں\n\nیہ چشم گوہر افشاں حضرت دل جلوہ فرما ہیں\nنکل گھر سے در دولت پہ آنا اس کو کہتے ہیں\n\nجو گلشن میں کسی نے دیکھ کھلنا غنچۂ گل کا\nکہا بس آ کے یاں لذت اٹھانا اس کو کہتے ہیں\n\nتبسم کر کے یوں مجھ سے کہا اس شوخ نے او بے\nادھر کو دیکھ ادا سے مسکرانا اس کو کہتے ہیں\n\nغزل اور اس زمیں میں پڑھیے وہ جرأتؔ کہ سن جس کو\nکہیں عاشق کلام عاشقانہ اس کو کہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سنو تو خوب ہے ٹک کان دھر میرا سخن پیارے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنو تو خوب ہے ٹک کان دھر میرا سخن پیارے\nکہ عاشق پر نہ ہونا اس قدر بھی دل کٹھن پیارے\n\nکدھر ہو بے خبر ہو کیا مگر احوال سیں میرے\nادھر دیکھو اے ظالم لاوبالی من ہرن پیارے\n\nنہ کر آزردہ خاطر بلبل بے تاب کوں ہرگز\nغنیمت بوجھ دو دن کی بہار اے من ہرن پیارے\n\nپھنسا ہے مجھ سری کا صید آ کر دام میں تیرے\nکیا تو نے مگر کچھ سحر اے جادو نین پیارے\n\nتغافل مت کرو اے نو بہار گلشن خوبی\nتمہارے بن نپٹ بے آب ہے دل کا چمن پیارے\n\nمرے دل کی کلی مرجھا رہی ہے صرصر غم سیں\nکرو ٹک مسکرا کر بات اے شیریں دہن پیارے\n\nسراجؔ اب شعلۂ الفت میں جیوں پروانہ جلتا ہے\nنہ جانوں تجھ ستی اس کوں لگی ہے کیا لگن پیارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D9%B9%DA%A9_%DA%A9%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "سنو گے مجھ سے میرا ماجرا کیا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنو گے مجھ سے میرا ماجرا کیا\nکہا کرتے ہیں افسانوں میں کیا کیا\n\nنہیں تشویش آئندہ کہ ہو کب\nگزشتہ کا تحیر ہے کہ تھا کیا\n\nنہ کر تفتیش ہے خلوت نشیں کون\nتأمل کر کہ ہے یہ برملا کیا\n\nہے اک آئینہ خانہ بزم کثرت\nبتاؤں غیر کس کو ماسوا کیا\n\nفقط مذکور ہے اک نسبت خاص\nمقدر ہے خبر کیا مبتدا کیا\n\nجہاں نقش قدم ہو روح قدسی\nوہاں پہنچے گی عقل نارسا کیا\n\nلگاؤں شیٔاً للہ کی صدا کیوں\nبھلا دوں یفعل اللہ ما یشا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D9%88_%DA%AF%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D8%AC%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سنو یہ قصۂ جانکاہ کربلاے حسین", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "سنو یہ قصۂ جانکاہ کربلاے حسین\nرکھو ادھر کو بھی ٹک گوش از براے حسین\nجہاں سے واسطے امت کے جی سے جائے حسین\nہزار حیف کہ امت نہ ہو فداے حسین\n\nحسین آکے مدینے سے خانماں سے گیا\nحسین تشنہ گرسنہ ہو اس جہاں سے گیا\nحسین بیکس و بے یار اپنی جاں سے گیا\nجگر ہو سنگ کا سننے کو ماجراے حسین\n\nحسین بے دل و غمناک بے وطن بھی ہوا\nحسین جی سے گیا ٹکڑے سب بدن بھی ہوا\nحسین کو نہ ہوئی گور بے کفن بھی ہوا\nحسین کو کوئی کیا کہہ کے روئے ہائے حسین\n\nحسین کا سا جگر کن نے یاں کیا ہے کہو\nکسو نے جی کے تئیں اس طرح دیا ہے کہو\nکوئی تو خون جگر جن نے یوں پیا ہے کہو\nحسین جانے ہے یا جانے ہے خداے حسین\n\nجبیں پہ زخم لگا چشمہ چشمہ خون بہا\nخیال آئے بہت جی میں لیک کچھ نہ کہا\nجھکا کے سر کے تئیں سجدے میں رہا سو رہا\nجفا کی تیغ تھی مرآت حق نماے حسین\n\nجو تعزیے کی ہو مجلس بکا کرو یارو\nغم حسین میں چپکے رہا کرو یارو\nبجاے چشم بھی اب گوش وا کرو یارو\nکہ سرگذشت کہے ہے سر جداے حسین\n\nحسین کشتہ ہوں تیرے ثبات پا کا ہائے\nحسین تو ہی تھا شائستہ اپنی جا کا ہائے\nترا ہی کام اٹھانا تھا اس بلا کا ہائے\nکیا ہے ایسا جگر کن نے تجھ سواے حسین\n\nکہیں عزا کہیں آنکھوں کو چشمہ ساں ہیں جوش\nتمام خلق میں انواع ہیں گے جوش و خروش\nجہان قدس کے باشندگاں ہیں نیلی پوش\nنہیں ہیں ہم ہی فقط کشتۂ وفاے حسین\n\nجراحتوں سے تھا یاقوت رنگ خوں جاری\nحسین ہائے تری اٹھ گئی سبھا ساری\nلڑی سی ٹوٹ گئی موتیوں کی یک باری\nملے ہیں خاک میں کیا لعل پارہ ہاے حسین\n\nکیا حسین کا برباد خانماں سارا\nپسر حسین کا کس ظلم سے جواں مارا\nحسین آپ مرا بیکسانہ بے چارہ\nحسین رونے کی جاگہ ہے ہائے ہائے حسین\n\nحسین جان سے اپنی گیا نہ دم مارا\nہزار حیف کہ اس کو بصد ستم مارا\nاسی کا دل تھا جو اس راہ میں قدم مارا\nرضاے حق ہے جو کچھ تھی وہی رضاے حسین\n\nحسین دل زدہ نے صبر سا کیا ہے صبر\nہوا ہے تشنہ لبی سے قیامت اس پر جبر\nہزار حیف نہ صحرا سے اٹھ کے برسا ابر\nدریغ پانی نہ دریا کنارے پائے حسین\n\nغضب ہوا ہے ان اسلامیان بے دیں سے\nحسین قتل ہوا سر جدا کیا کیں سے\nنکالے اس کے جنازے کو کون تزئیں سے\nہوا اسیر پسر جو رہا بجاے حسین\n\nمندیں حسین کی آنکھیں کہا بلا آئی\nتمام فوج مخالف کی اس طرح دھائی\nجفا رہے ہوئے لوگوں کو کیسی دکھلائی\nجلائے خیمے لٹائی حرم سراے حسین\n\nحرم کے لوگ معزز تھے موپریشاں سب\nبرہنہ پا و سر اونٹوں پہ تھے نمایاں سب\nبرشتہ سوختہ اس واقعے سے حیراں سب\nزباں پہ ہائے حسین اور لب پہ ہائے حسین\n\nکوئی تھی نوحے کی سرگرم غم کش و ناشاد\nکسو کے دل سے نکلتی تھی خونچکاں فریاد\nسکینہ روتی تھی ہر لحظہ باپ کو کر یاد\nرہے نہ رکھے کسو کے مگر منائے حسین\n\nکوئی کہے تھی کہ اکبر کو مر نہ جانا تھا\nنہ جنگ گاہ میں عباس کو بلانا تھا\nچچا کے ساتھ نہ قاسم کو آہ آنا تھا\nکوئی رہا نہ جسے ہم کو سونپ جائے حسین\n\nکوئی کہے تھی کہ ہے عابدیں بہت بیمار\nبدن تو شدت تپ سے ہے اس کا زار و نزار\nکرے ہے اس پہ بھی دلجوئی ہووے ہے جو خوار\nولے سکینہ کی خاطر کہاں سے لائے حسین\n\nکوئی کہے تھی کہ اب اک یہی ہے نام خدا\nسواے اس کے جو دیکھو تو کوئی بھی نہ رہا\nزناں اسیر ہوئیں مرد ایک ایک موا\nکہاں حسین کے گذرے ہیں اقرباے حسین\n\nعزیز و خویش و پسر لگ گئے کنارے سب\nستم سے ظلم سے یعنی گئے ہیں مارے سب\nغریق خون کے دریا میں ہیں بچارے سب\nکوئی نگاہ نہ چڑھتا تھا آشناے حسین\n\nکوئی کہے تھی کہا ہوگا شہ نے کیا کہیے\nیہی ہے مصلحت اب تو کہ جور ہی سہیے\nگلے کو رکھ کے تہ تیغ چپکے مر رہیے\nنہ مقتضی ہوئی کہنے کی کچھ حیاے حسین\n\nکوئی کہے تھی کہ ایسا نہ ہوئے گا کوئی\nہر ایک بات میں تھی تابعوں سے خوش گوئی\nسلوک اس کے کریں یاد یا کہ دلجوئی\nکہیں تو کیا کہیں کس منھ سے ہو ثناے حسین\n\nسیاہ کاسہ فلک کو مگر تھا سودا کچھ\nکہ ان نے ٹک نہ کی اس میہماں کی پروا کچھ\nادھر کو موذی کریں زہرمار کیا کیا کچھ\nسواے غصہ و غم اور کچھ نہ کھائے حسین\n\nکوئی کہے تھی کہ غارت ہوا ہمارا گھر\nملا ہے خاک میں شہ بازگوں ہوا افسر\nحرم کے لوگ جو ہیں سو اسیر و گرم سفر\nرہے تو رووے کھڑی لے کوئی عزاے حسین\n\nبہن سے کہتی تھی رو رو کے زینب اے کلثوم\nچلا تھا بھائی مدینے سے کیسے وقت شوم\nشتابی راہ جو کرتا تھا قطع تھا معلوم\nکہ سر کے مارے ہی جانا تھا مدعاے حسین\n\nکبھی کہے تھی زمانہ الٹ گیا اک بار\nنہ اس چمن میں رہے کچھ نہال نے تھے خار\nخزاں نے لوٹے ہیں کیا پات پات کر گلزار\nہوا اب اوروں کی ہے یاں کہ اب ہواے حسین\n\nکوئی کہے تھی کہ یہ بھی خدا کی باتیں ہیں\nکبھو کے دن بڑے ہیں یا کبھو کی راتیں ہیں\nنشان کھوئے وہی دشمنوں کی گھاتیں ہیں\nنگوں پڑا ہے سر خاک پر لواے حسین\n\nکوئی یہ کہتی تھی وہ وقت آگیا دیکھو\nامام وقت گلے کو کٹا گیا دیکھو\nجراحت ایسی سر اوپر اٹھا گیا دیکھو\nکہ سر رہا نہ جو سجدے کو پھر جھکائے حسین\n\nوہ ابتدا ہے محمدؐ گلے لگاتا تھا\nعلیؓ عزیز بہت رکھ کے سر چڑھاتا تھا\nسو کربلا میں سر اس کا سناں پہ جاتا تھا\nدکھائی چرخ نے اس طور انتہاے حسین\n\nیہ کہہ کے شام کی جانب ہوئے اسیر رواں\nقلم کی میرؔ نے بے تاب ہوکے رکھ لی زباں\nکہ آگے خوب نہ تھا ایسے واقعے کا بیاں\nشفیع حشر میں بس ہے اسے ولاے حسین", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D9%82%D8%B5%DB%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D8%A8%D9%84%D8%A7%DB%92_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86"} {"title": "سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں\nاپنا ہے اس پر آشیاں نخل جو بارور نہیں\n\nسنتے ہو اہل قافلہ میں کوئی راہ بر نہیں\nدیکھ رہا ہوں تم میں سے ایک بھی راہ پر نہیں\n\nموت کا گھر ہے آسماں اس سے کہیں مفر نہیں\nنکلیں تو کوئی در نہیں بھاگیں تو رہ گزر نہیں\n\nپہلے جگر پر آہ کا نام نہ تھا نشاں نہ تھا\nآخر کار یہ ہوا آہ تو ہے جگر نہیں\n\nصبح ازل سے تا ابد قصہ نہ ہوگا یہ تمام\nجور فلک کی داستاں ایسی بھی مختصر نہیں\n\nبرگ خزاں رسیدہ ہوں چھیڑ نہ مجھ کو اے نسیم\nذوق فغاں کا ہے مجھے شکوۂ ابر تر نہیں\n\nمنکر حشر ہے کدھر دیکھے تو آنکھ کھول کر\nحشر کی جو خبر نہ دے ایسی کوئی سحر نہیں\n\nشبنم و گل کو دیکھ کر وجد نہ آئے کس طرح\nخندہ بے سبب نہیں گریہ بے اثر نہیں\n\nتیرے فقیر کا غرور تاجوروں سے ہے سوا\nطرف کلہ میں دے شکن اس کو یہ درد سر نہیں\n\nکوشک و قصر و بام و در تو نے بنا کئے تو کیا\nحیف ہے خانماں خراب دل میں کسی کے گھیر نہیں\n\nنالہ کشی رقیب سے میری طرح محال ہے\nدل نہیں حوصلہ نہیں زہرہ نہیں جگر نہیں\n\nشاطر پیر آسماں واہ ری تیری دست برد\nخسرو و کیقباد کی تیغ نہیں کمر نہیں\n\nشان کریم کی یہ ہے ہاں سے ہو پیشتر عطا\nلطف عطا کا کیا ہو جب ہاں سے ہو پیشتر نہیں\n\nلاکھ وہ بے رخی کرے لاکھ وہ کج روی کرے\nکچھ تو ملال اس کا ہو دل کو مرے مگر نہیں\n\nسن کے برا نہ مانئے سچ کو نہ جھوٹ جانئے\nذکر ہے کچھ گلہ نہیں بات ہے نیشتر نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%DA%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سنگ در بن کر بھی کیا حسرت مرے دل میں نہیں", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنگ در بن کر بھی کیا حسرت مرے دل میں نہیں\nتیرے قدموں میں ہوں لیکن تیری محفل میں نہیں\n\nراہ الفت کا نشاں یہ ہے کہ وہ ہے بے نشاں\nجادہ کیسا نقش پا تک کوئی منزل میں نہیں\n\nکھو چکے رو رو کے گھر باہر کی ساری کائنات\nاشک کیسے آنکھ میں اب خون بھی دل میں نہیں\n\nبزم آرائی سے پہلے دیکھ او نادان دیکھ\nکون ہے محفل میں تیری کون محفل میں نہیں\n\nپوچھتا ہے آرزو احسنؔ کی تو کیا بار بار\nتیرے ملنے کے سوا کوئی ہوس دل میں نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D8%AF%D8%B1_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سنگ در دیکھ کے سر یاد آیا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنگ در دیکھ کے سر یاد آیا\nکوئی دیوانہ مگر یاد آیا\n\nپھر وہ انداز نظر یاد آیا\nچاک دل تا بہ جگر یاد آیا\n\nذوق ارباب نظر یاد آیا\nسجدہ بے منت سر یاد آیا\n\nہر تبسم پہ یہ کھاتا ہوں فریب\nکہ انہیں دیدۂ تر یاد آیا\n\nپھر ترا نقش قدم ہے درکار\nسجدۂ راہ گزر یاد آیا\n\nجمع کرتا ہوں غبار رہ دوست\nسر شوریدہ مگر یاد آیا\n\nہائے وہ معرکۂ ناوک ناز\nدل بچایا تو جگر یاد آیا\n\nآئینہ اب نہیں دیکھا جاتا\nمیں بعنوان دگر یاد آیا\n\nدرد کو پھر ہے مرے دل کی تلاش\nخانہ برباد کو گھر یاد آیا\n\nاس کو بھولے تو ہوئے ہو فانیؔ\nکیا کروگے وہ اگر یاد آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D8%AF%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سنگ طفلاں فدائے سر نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنگ طفلاں فدائے سر نہ ہوا\nآج اس کوچے میں گزر نہ ہوا\n\nہم بھی تھے جوہر گراں مایہ\nپر کوئی صاحب نظر نہ ہوا\n\nامن عالم میں کیوں نہیں یا رب\nاس کے قابل مگر بشر نہ ہوا\n\nبے کسی پردہ دار درد ہوئی\nخیر گزری کہ اپنا گھر نہ ہوا\n\nقدردانی کی کیفیت معلوم\nعیب کیا ہے اگر ہنر نہ ہوا\n\nسر جھکائے جو آتے ہو وحشتؔ\nمگر اس بزم میں گزر نہ ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D8%B7%D9%81%D9%84%D8%A7%DA%BA_%D9%81%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "سنگم", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "پریاگ میں ملی ہے جمنا سے آ کے گنگا\nپگھلا ہوا یہ نیلم بہتا ہوا وہ ہیرا\nان کی جدائیوں نے کھینچا ہے نقش جوزا\nان کی روانیاں ہیں شان خدائے یکتا\nسنگم کی سیڑھیوں پر موتی لڑھک رہا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%DA%AF%D9%85"} {"title": "سنگم (افسر میرٹھی)", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "پریاگ پہ بچھڑی ہوئی بہنیں جو ملی ہیں\nپانی کی زمیں پر بھی تو کلیاں سی کھلی ہیں\nکچھ گنگا کا رکنا\nکچھ جمنا کا جھکنا\nپھر دونوں کا ملنا\nوہ پھول سے کھلنا\nکس شوق سے اٹھلاتی ہوئی ساتھ چلی ہیں\nیہ عشق و محبت کے نظارے ازلی ہیں\nکہتے ہیں کہ جنت سے بھی آئی ہے بہن ایک\nگو تینوں کا ہی اصل میں گھر ایک وطن ہے\nگھر جب سے چھٹا تھا\nدل سرد ہوا تھا\nوہ کوہ سے گرنا\nوہ دشت میں پھرنا\nراتوں کو وہ سنسان بیابان میں چلنا\nسہمے ہوئے تاروں کا وہ سینے میں مچلنا\nتھا وہ سفر دشت میں میدان میں بن میں\nخاموش پہاڑوں میں گلستاں میں چمن میں\nجنگل سے نکلنا\nرکتے ہوئے چلنا\nکچھ بڑھ کے پلٹنا\nڈر ڈر کے سمٹنا\nمر مر کے اکیلے یہ گزارا ہے زمانہ\nجیسے کوئی دنیا میں نہ ہو اپنا یگانہ\nخالی کبھی جاتی نہیں بے لفظ صدائیں\nآخر کو اثر کر گئیں خاموش دعائیں\nجاگا ہے مقدر\nپریاگ پہ آ کر\nاب غم نہ سہیں گے\nتنہا نہ رہیں گے\nپریاگ پہ بہنوں کو ملایا ہے خدا نے\nمدت میں یہ دن آج دکھایا ہے خدا نے\nکیا جوش محبت سے بغل گیر ہوئی ہیں\nوارفتگئ شوق کی تصویر ہوئی ہیں\nاللہ رے محبت\nسرمایۂ راحت\nیہ کس کو خبر تھی\nدل ملتے ہیں یوں بھی\nہوں گی نہ جدا حشر تک اب ایسے ملی ہیں\nخوش بہنیں ہیں یا پانی پہ کلیاں سی کھلی ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%DA%AF%D9%85_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%B9%DA%BE%DB%8C%29"} {"title": "سنیما", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "وہی بُت فروشی، وہی بُت گری ہے\nسنیما ہے یا صنعتِ آزری ہے\nوہ صنعت نہ تھی، شیوۂ کافری تھا\nیہ صنعت نہیں، شیوۂ ساحری ہے\nوہ مذہب تھا اقوامِ عہدِ کُہَن کا\nیہ تہذیبِ حاضر کی سوداگری ہے\nوہ دُنیا کی مٹّی، یہ دوزخ کی مٹّی\nوہ بُت خانہ خاکی، یہ خاکستری ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%DB%8C%D9%85%D8%A7"} {"title": "سنے راتوں کوں گر جنگل میں میرے غم کی واویلا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سنے راتوں کوں گر جنگل میں میرے غم کی واویلا\nتو مجنوں قبر سیں اٹھ کر پکارے آہ یا لیلیٰ\n\nہمارا خون ناحق نیں ہوا ضائع ارے قاتل\nزمیں سے گل ہو نکلا آسماں پر ہو شفق پھیلا\n\nہرن سب ہیں براتی اور دوانہ بن کا دولہا ہے\nبہ ہر خلعت کوں عریانی کی پھرتا ہے بنا چھیلا\n\nشراب صاف دے تا صاف ہو ساقی غبار غم\nہمارا دل نپٹ گرد کدورت سے ہے اب میلا\n\nسراجؔ اس شعلہ رو کی تنگ پوشی کوں کہاں پہنچے\nکہ ہے جامہ بدن میں شمع کے فانوس کا ڈھیلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%86%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%86%DA%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%D8%A7%D9%88%DB%8C%D9%84%D8%A7"} {"title": "سو بار تم تو سامنے آ کر چلے گئے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سو بار تم تو سامنے آ کر چلے گئے\nدھوکا سا ایک ہم کو دکھا کر چلے گئے\n\nکی ہم سے باغباں نے یہ کاوش کہ آخرش\nہم آشیاں کو آگ لگا کر چلے گئے\n\nہونے دیا نہ مجھ سے تمہیں شرم نے دو چار\nجب مل گئے تو سر کو جھکا کر چلے گئے\n\nآتا ہوا جو دور سے دیکھا مجھے تو وے\nرستے میں مجھ سے منہ کو چھپا کر چلے گئے\n\nاب میں ہوں اور وہ زلف ہے یاران بے وفا\nدام بلا میں مجھ کو پھنسا کر چلے گئے\n\nٹھوکر سے اپنے پانو کے گلشن میں خوش قداں\nصد فتنہ ہائے خفتہ جگا کر چلے گئے\n\nہے غیر سے بھی ربط تمہیں میں جو یہ کہا\nسوگند میرے سر کی وہ کھا کر چلے گئے\n\nآئے کبھی جو باغ میں دیوانگان دشت\nآنکھوں سے جوئے خون بہا کر چلے گئے\n\nہرگز رہا نہ ان کا نشاں وہ جو مصحفیؔ\nقصر و محل زمیں پہ بنا کر چلے گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "سو بار قتل کر ہمیں تو اور جلائے جا", "poet_page": "مصنف:رفیع احمد عالی", "kind": "poetry", "section": "غزل > یادگار عالی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "سو بار قتل کر ہمیں تو اور جلائے جا\nجس طرح دل میں آئے ترے آزمائے جا\n\nاے شاہ حسن در پہ پڑا ہے ترے فقیر\nنقش قدم کی طرح اسے بھی مٹائے جا\n\nپڑتا ہوں تیرے پاؤں مجھے نیم جاں نہ چھوڑ\nجلاد ایک ہاتھ تو پورا لگائے جا\n\nعالیؔ کی قبر پر نہ اٹھا فاتحہ کو ہاتھ\nٹھوکر ہی پاؤں سے کوئی ظالم لگائے جا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%82%D8%AA%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "سو حسرتیں تو آئیں گیا ایک دل گیا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سو حسرتیں تو آئیں گیا ایک دل گیا\nملنا تھا جو مجھے مری قسمت کا مل گیا\n\nاس نے لیا جو آئنے میں بوسہ اپنا آپ\nاللہ رے نازکی لب گلفام چھل گیا\n\nاللہ رے جامہ زیب تری جامہ زیبیاں\nپہنا جو تو نے رنگ وہی رنگ کھل گیا\n\nجنت اسی کا نام اگر ہے تو بس سلام\nمحفل میں تیری جو کوئی آیا خجل گیا\n\nمیں نے تو اپنے واسطے کی تھی دعائے وصل\nالٹا اثر ہوا وہ رقیبوں سے مل گیا\n\nہستی میں ہیں عدم کے مزے عاشقوں کو داغؔ\nقالب میں جان آتے ہی پہلو سے دل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سو حشر میں لیے دل حسرت مآب میں", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سو حشر میں لیے دل حسرت مآب میں\nآباد ہو رہا ہوں جہان خراب میں\n\nہم اپنی بے قراری دل سے ہیں بے قرار\nآمیزش سکوں ہے اس اضطراب میں\n\nاب سیر گل کہاں، دل رنگیں نظر کہاں\nاک خواب تھا جو دیکھ لیا تھا شباب میں\n\nبڑھ بڑھ کے چھپ رہے ہیں پس پردہ بار بار\nکیا کیا تکلفات ہیں ترک حجاب میں\n\nاحسنؔ دل ان کو دو مگر اتنا تو پوچھ لو\nلیتے ہو تم یہ نقد رقم کس حساب میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D9%85%D8%A2%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سو داغ تمناؤں کے ہم کھائے ہوئے ہیں", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سو داغ تمناؤں کے ہم کھائے ہوئے ہیں\nگل جتنے ہیں اس باغ میں مرجھائے ہوئے ہیں\n\nشرمندہ ہوں میں اپنی دعاؤں کے اثر سے\nوہ آج پریشان ہیں گھبرائے ہوئے ہیں\n\nخودداریٔ گیسو کا ہے اس رخ پہ یہ عالم\nجھکنا جو پڑا ان کو تو بل کھائے ہوئے ہیں\n\nاب تم بھی ذرا حسن جہاں سوز کو روکو\nہم تو دل بے تاب کو سمجھائے ہوئے ہیں\n\nاے دست کرم پھینک دے کونین کو اس میں\nدامن کو ترے سامنے پھیلائے ہوئے ہیں\n\nپھوڑیں گے جبیں اب ترے در پر ترے محتاج\nبرباد ہیں تقدیر کے ٹھکرائے ہوئے ہیں\n\nآتا ہے بڑھا بحر کرم جوش میں کیفیؔ\nہم اپنے گناہوں پہ جو شرمائے ہوئے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سو طرح کا میرے لیے سامان کیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "سو طرح کا میرے لیے سامان کیا\nپورا اک عمر کا ارمان کیا\nسید سے ملا پہ مدرسہ بھی دیکھا\nحالیؔ نے عجب طرح کا احسان کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سو قصوں سے بہتر ہے کہانی مرے دل کی", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سو قصوں سے بہتر ہے کہانی مرے دل کی\nسن اس کو تو اے جان زبانی مرے دل کی\n\nہر نالے میں یاں ٹکڑے جگر ہوتا ہے بلبل\nآسان نہیں طرز اڑانی مرے دل کی\n\nہونی ہے شہید ایک نہ اک روز تمنا\nموقوف ہو کیا مرثیہ خوانی مرے دل کی\n\nپیری میں بھی ملتا ہے جو کمسن کوئی محبوب\nکرتی ہے وہیں عود جوانی مرے دل کی\n\nتقسیم کیے پارۂ دل بزم بتاں میں\nہر ایک کے ہے پاس نشانی مرے دل کی\n\nاک بات میں ہو جائے مسخر وہ پری رو\nسنتا ہی نہیں سحر بیانی مرے دل کی\n\nہے ابر تو کیا چاہے فلک کو بھی جلا دے\nبجلی میں کہاں شعلہ فشانی مرے دل کی\n\nزلفوں میں کیا قید نہ ابرو سے کیا قتل\nتو نے تو کوئی بات نہ مانی مرے دل کی\n\nیہ بار غم عشق سمایا ہے کہ ناسخؔ\nہے کوہ سے دہ چند گرانی مرے دل کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88_%D9%82%D8%B5%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "سو کی اک بات میں کہی تو ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سو کی اک بات میں کہی تو ہے\nیعنی جو کچھ کہ ہے وہی تو ہے\n\nدید وا دیدہ کو غنیمت جان\nحاصل زندگی یہی تو ہے\n\nتیرے دیدار کے لئے یہ دیکھ\nجان آنکھوں میں آ رہی تو ہے\n\nڈھ گیا ہو نہ خانۂ دل آج\nسیل خوں چشم سے بہی تو ہے\n\nواں بھی راحت ہو یا نہ ہو دیکھیں\nاک مصیبت یہاں سہی تو ہے\n\nمجھ سا عریاں کہاں ہے گل اس کے\nرنگ کے بر میں اک یہی تو ہے\n\nتیرے احوال سے حسنؔ بارے\nاس کو تھوڑی سی آگہی تو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "سو کینڈل پاور کا بلب", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سڑک کے کنارے", "year": "1953", "text_ur": "وہ چوک میں قیصر پارک کے باہر جہاں ٹانگے کھڑے رہتے ہیں، بجلی کے ایک کھمبے کے ساتھ خاموش کھڑا تھا اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا۔۔۔ کوئی ویرانی سی ویرانی ہے!\n\nیہی پارک جو صرف دو برس پہلے اتنی پررونق جگہ تھی، اب اجڑی پچڑی دکھائی دیتی تھی۔ جہاں پہلے عورت اور مرد شوخ و شنگ فیشن کے لباسوں میں چلتے پھرتے تھے، وہاں اب بے حد میلے کچیلے کپڑوں میں لوگ ادھر ادھر بےمقصد پھر رہے تھے۔ بازار میں کافی بھیڑ تھی مگر اس میں وہ رنگ نہیں تھا جو ایک میلے ٹھیلے کا ہوا کرتا تھا۔ آس پاس کی سیمنٹ سے بنی ہوئی بلڈنگیں اپنا روپ کھو چکی تھیں۔ سرجھاڑ منہ پھاڑ ایک دوسرے کی طرف پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھیں۔ جیسے بیوہ عورتیں۔\n\nوہ حیران تھا کہ وہ غازہ کہاں گیا۔ وہ سیندور کہاں اڑگیا۔ وہ سر کہاں غائب ہوگئے جو اس نے کبھی یہاں دیکھے اور سنے تھے۔۔۔ زیادہ عرصہ کی بات نہیں، ابھی وہ کل ہی تو(دو برس بھی کوئی عرصہ ہوتا ہے) یہاں آیا تھا۔ کلکتے سے جب اسے یہاں کی ایک فرم نے اچھی تنخواہ پر بلایا تھا تو اس نے قیصر پارک میں کتنی کوشش کی کہ اسے کرائے پر ایک کمرہ ہی مل جائے مگر وہ ناکام رہا تھا۔ ہزار فرمائشوں کے باوجود۔\nمگراب اس نے دیکھا کہ جس کنجڑے، جولا ہے اور موچی کی طبیعت چاہتی تھی، فلیٹوں اور کمروں پر اپنا قبضہ جما رہا تھا۔\n\nجہاں کسی شان دار فلم کمپنی کا دفتر ہوا کرتا تھا، وہاں چولہے سلگ رہے ہیں۔ جہاں کبھی شہر کی بڑی بڑی رنگین ہستیاں جمع ہوتی تھیں،وہاں دھوبی میلے کپڑے دھو رہے ہیں۔\n\nدو برس میں اتنا بڑا انقلاب!\n\nوہ حیران تھا۔ لیکن اس کواس انقلاب کا پس منظر معلوم تھا۔ اخباروں کے ذریعہ سے اور ان دوستوں سے جو شہرمیں موجود تھے، اسے سب پتہ لگ چکا تھا کہ یہاں کیسا طوفان آیا تھا۔ مگر وہ سوچتا تھا کہ یہ کوئی عجیب و غریب طوفان تھا جو عمارتوں کا رنگ و روپ بھی چوس کر لے گیا۔ انسانوں نے انسان قتل کیے۔ عورتوں کی بے عزتی کی،لیکن عمارتوں کی خشک لکڑیوں اور ان کی اینٹوں سے بھی یہی سلوک کیا۔اس نے سنا تھا کہ اس طوفان میں عورتوں کو ننگا کیا گیا تھا۔ ان کی چھاتیاں کاٹی گئی تھیں۔ یہاں اس کے آس پاس جو کچھ تھا،سب ننگا اور جوبن بریدہ تھا۔\n\nوہ بجلی کے کھمبے کے ساتھ لگا اپنے ایک دوست کا انتظار کررہا تھا۔ جس کی مدد سے وہ اپنی رہائش کا کوئی بندوبست کرنا چاہتا تھا۔ اس دوست نے اس سے کہا کہ تم قیصر پارک کے پاس جہاں ٹانگے کھڑے رہا کرتے ہیں میرا انتظار کرنا۔\n\nدو برس ہوئے جب وہ ملازمت کے سلسلے میں یہاں آیا تو یہ ٹانگوں کا اڈا بہت مشہور جگہ تھی، سب سے عمدہ، سب سے بانکے ٹانگے صرف یہیں کھڑے رہتے تھے،کیونکہ یہاں سے عیاشی کا ہر سامان مہیا ہو جاتا تھا۔ اچھے سے اچھا ریسٹورنٹ اور ہوٹل قریب تھا۔ بہترین چائے، بہترین کھانا اور دوسرے لوازمات بھی۔ شہر کے جتنے بڑے دلال تھے وہ یہیں دستیاب ہوتے تھے۔ اس لیے کہ قیصر پارک میں بڑی بڑی کمپنیوں کے باعث روپیہ اور شراب پانی کی طرح بہتے تھے۔\n\nاس کو یاد آیا کہ دو برس پہلے اس نے اپنے دوست کے ساتھ بڑے عیش کیے تھے۔ اچھی سے اچھی لڑکی ہر رات کو ان کی آغوش میں ہوتی تھی۔ اسکاچ جنگ کے باعث نایاب تھی مگر ایک منٹ میں درجنوں بوتلیں مہیا ہو جاتی تھیں۔\n\nٹانگے اب بھی کھڑے تھے مگر ان پروہ کلغیاں، وہ پھندنے، وہ پیتل کے پالش کیے ہوئے سازو سامان کی چمک دمک نہیں تھی۔ یہ بھی شاید دوسری چیزوں کے ساتھ اڑ گئی تھی۔\n\nاس نے گھڑی میں وقت دیکھا۔ پانچ بج چکے تھے۔ فروری کے دن تھے۔ شام کے سائے چھانے شروع ہوگئے تھے۔ اس نے دل ہی دل میں اپنے دوست کو لعنت ملامت کی اور دائیں ہاتھ کے ویران ہوٹل میں موری کے پانی سے بنائی ہوئی چائے پینے کے لیے جانے ہی والا تھا کہ کسی نے اس کو ہولے سے پکارا۔ اس نے خیال کیا کہ شاید اس کا دوست آگیا۔ مگر جب اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک اجنبی تھا۔ عام شکل و صورت کا، لٹھے کی نئی شلوار میں جس میں اب اور زیادہ شکنوں کی گنجائش نہیں تھی۔ نیلی پاپلین کی قمیص جو لانڈری میں جانے کے لیے بیتاب تھی۔\n\nاس نے پوچھا، ’’کیوں بھئی!تم نے مجھے بلایا؟‘‘\n\nاس نے ہولے سے جواب دیا، ’’جی ہاں۔‘‘\n\nاس نے خیال کیاکہ مہاجر ہے بھیک مانگنا چاہتا ہے،’’کیا مانگتے ہو؟‘‘\n\nاس نے اسی لہجے میں جواب دیا،’’جی کچھ نہیں۔‘‘پھر قریب آکر کہا،’’کچھ چاہیے آپ کو؟‘‘\n\n’’کیا؟‘‘\n\n’’کوئی لڑکی وڑکی۔‘‘یہ کہہ کر وہ پیچھے ہٹ گیا۔\n\nاس کے سینے میں ایک تیر سا لگا کہ دیکھو اس زمانے میں بھی یہ لوگوں کے جنسی جذبات ٹٹولتا پھرتا ہے۔۔۔ اور پھر انسانیت کے متعلق اوپر تلے اس کے دماغ میں بڑے حوصلہ شکن خیالات آئے۔ انہی خیالات کے زیر اثر اس نے پوچھا۔\n\n’’کہاں ہے؟‘‘\n\nاس کا لہجہ دلال کے لیے امید افزا نہیں تھا۔ چنانچہ قدم اٹھاتے ہوئے اس نے کہا، ’’جی نہیں آپ کو ضرورت نہیں معلوم ہوتی۔‘‘\n\nاس نے اس کو روکا،’’یہ تم نے کس طرح جانا۔ انسان کو ہر وقت اس چیز کی ضرورت ہوتی ہے جو تم مہیا کرسکتے ہو۔۔۔ وہ سولی پر بھی۔۔۔ جلتی چتا میں بھی۔۔۔‘‘\n\nوہ فلسفی بننے ہی والا تھا کہ رک گیا۔’’دیکھو۔۔۔ اگر کہیں پاس ہی ہے تو میں چلنے کے لیے تیار ہوں۔ میں نے یہاں ایک دوست کو وقت دے رکھا ہے۔‘‘\n\nدلال قریب آگیا،’’پاس ہی۔۔۔ بالکل پاس۔‘‘\n\n’’کہاں؟‘‘\n\n’’یہ سامنے والی بلڈنگ میں۔‘‘\n\nاس نے سامنے والی بلڈنگ کو دیکھا۔\n\n’’اس میں۔۔۔ اس بڑی بلڈنگ میں؟‘‘\n\n’’جی ہاں۔‘‘\n\nوہ لرز گیا۔’’اچھا۔۔۔ تو۔۔۔؟‘‘\n\nسنبھل کر اس نے پوچھا،’’میں بھی چلوں؟‘‘\n\n’’چلیے۔۔۔ لیکن میں آگے آگے چلتا ہوں۔‘‘اور دلال نے سامنے والی بلڈنگ کی طرف چلنا شروع کردیا۔\n\nوہ سیکڑوں روح شگاف باتیں سوچتا اس کے پیچھے ہولیا۔\n\nچند گزوں کا فاصلہ تھا،فوراً طے ہوگیا۔ دلال اور وہ دونوں اس بڑی بلڈنگ میں تھے۔ جس کی پیشانی پر ایک بورڈ لٹک رہا تھا۔۔۔ اس کی حالت سب سے خستہ تھی، جگہ جگہ اکھڑی ہوئی اینٹوں، کٹے ہوئے پانی کے نلوں اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیرتھے۔\n\nاب شام گہری ہوگئی تھی۔ ڈیوڑھی میں سے گزر کر آگے بڑھے تو اندھیرا شروع ہوگیا۔ چوڑا چکلا صحن طے کرکے وہ ایک صرف مڑا۔ عمارت بنتے بنتے رک گئی تھی۔ ننگی اینٹیں تھیں۔ چونا اور سیمنٹ ملے ہوئے سخت ڈھیر پڑے تھے اور جا بجا بجری بکھری ہوئی تھی۔\n\nدلال نامکمل سیڑھیاں چڑھنے لگا کہ مڑ کر اس نے کہا، ’’آپ یہیں ٹھہریئے۔ میں ابھی آیا۔‘‘\n\nوہ رک گیا۔ دلال غائب ہوگیا۔ اس نے منہ اوپر کرکے سیڑھیوں کے اختتام کی طرف دیکھا تو اسے تیز روشنی نظر آئی۔\n\nدو منٹ گزر گئے تو دبے پاؤں وہ بھی اوپر چڑھنے لگا۔ آخری زینے پر اسے دلال کی بہت زور کی کڑک سنائی دی۔ ’’اٹھتی ہے کہ نہیں؟‘‘\n\nکوئی عورت بولی،’’کہہ جودیا مجھے سونے دو۔‘‘اس کی آواز گھٹی گھٹی سی تھی۔\nدلال پھر کڑکا،’’ میں کہتا ہوں اٹھ۔۔۔ میرا کہا نہیں مانے گی تو یاد رکھ۔۔۔‘‘\n\nعورت کی آوازئی، ’’تو مجھے مار ڈال۔۔۔ لیکن میں نہیں اٹھوں گی۔ خدا کے لیے میرے حال پر رحم کر۔‘‘\n\nدلال نے پچکارا،’’ اٹھ میری جان۔ ضد نہ کر۔ گزارہ کیسے چلے گا۔‘‘\n\nعورت بولی،’’گزارہ جائے جہنم میں۔ میں بھوکی مر جاؤں گی۔ خدا کے لیے مجھے تنگ نہ کر۔ مجھے نیند آرہی ہے۔‘‘\n\nدلال کی آواز کڑی ہوگئی،’’تو نہیں اٹھے گی حرامزادی، سور کی بچی۔۔۔‘‘\n\nعورت چلانے لگی،’’میں نہیں اٹھوں گی۔۔۔ نہیں اٹھوں گی۔۔۔ نہیں اٹھوں گی۔‘‘\n\nدلال کی آواز بھنچ گئی۔\n\n’’آہستہ بول۔۔۔ کوئی سن لے گا۔۔۔ لے چل اٹھ۔۔۔ تیس چالیس روپے مل جائیں گے۔‘‘\nعورت کی آواز میں التجا تھی۔۔۔ دیکھ میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔ میں کتنے دنوں سے جاگ رہی ہوں۔۔۔ رحم کر۔۔۔ خدا کے لیے مجھ پر رحم کر۔۔۔‘‘\n\n’’بس ایک دو گھنٹے کے لیے۔۔۔ پھر سو جانا۔۔۔ نہیں تو دیکھ مجھےسختی کرنی پڑے گی۔‘‘\n\nتھوڑی دیر کے لیے خاموشی طاری ہوگئی۔ اس نے دبے پاؤں آگے بڑھ کر اس کمرے میں جھانکا جس میں بڑی تیز روشنی آرہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ ایک چھوٹی سی کوٹھری ہے جس کے فرش پر ایک عورت لیٹی ہے۔۔۔ کمرے میں دو تین برتن ہیں، بس اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ دلال اس عورت کے پاس بیٹھا اس کے پاؤں داب رہا تھا۔\n\nتھوڑی دیر کے بعد اس نے اس عورت سے کہا،’’لے اب اٹھ۔۔۔ قسم خدا کی ایک دو گھنٹے میں آجائے گی۔۔۔ پھر سو جانا۔‘‘\n\nوہ عورت ایک دم یوں اٹھی جیسے آگ دکھائی ہوئی چھچھوندر اٹھتی ہے اور چلائی،’’اچھا اٹھتی ہوں۔‘‘\n\nوہ ایک طرف ہٹ گیا۔ اصل میں وہ ڈر گیا تھا۔ دبے پاؤں وہ تیزی سے نیچے اتر گیا۔ اس نے سوچا کہ بھاگ جائے۔۔۔ اس شہر ہی سے بھاگ جائے۔۔۔ اس دنیا سے بھاگ جائے۔۔۔ مگر کہاں؟‘‘\n\nپھر اس نے سوچا کہ یہ عورت کون ہے؟ کیوں اس پر اتنا ظلم ہورہا ہے؟ اور یہ دلال کون ہے؟ اس کا کیا لگتا ہے اور یہ اس کمرے میں اتنا بلب جلا کر جو سوکینڈل پاور سے کسی طرح بھی کم نہیں تھا۔ کیوں رہتے ہیں۔ کب سے رہتے ہیں؟‘‘\n\nاس کی آنکھوں میں اس تیز بلب کی روشنی ابھی تک گھسی ہوئی تھی۔ اس کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ مگر وہ سوچ رہا تھا کہ اتنی تیز روشنی میں کون سو سکتا ہے؟ اتنا بڑا بلب؟ کیا وہ چھوٹا نہیں لگا سکتے۔ یہی پندرہ پچیس کینڈل پاور کا؟\nوہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ آہٹ ہوئی۔ اس نے دیکھا کہ دو سائے اس کے پاس کھڑے ہیں۔ ایک نے جو دلال کا تھا۔ اس سے کہا، ’’دیکھ لیجیے۔‘‘\n\nاس نے کہا،’’دیکھ لیا ہے۔‘‘\n\n’’ٹھیک ہے نا؟‘‘\n\n’’ٹھیک ہے۔‘‘\n\n’’چالیس روپے ہوں گے۔‘‘\n\n’’ٹھیک ہے۔‘‘\n\n’’دے دیجیے۔‘‘\n\nوہ اب سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ جیب میں اس نے ہاتھ ڈالا اور کچھ نوٹ نکال کر دلال کے حوالے کردیے۔\n\n’’دیکھ لو کتنے ہیں!‘‘\n\nنوٹوں کی کھڑکھڑاہٹ سنائی دی۔\n\nدلال نے کہا،’’پچاس ہیں۔‘‘\n\nاس نے کہا،’’پچاس ہی رکھو۔‘‘\n\n’’صاحب سلام‘‘\n\nاس کے جی میں آئی کہ ایک بہت بڑا پتھر اٹھا کر اس کو دے مارے۔\n\nدلال بولا،’’ تو لے جائیے اسے۔ لیکن دیکھیے تنگ نہ کیجیے گا اور پھر ایک دو گھنٹے کے بعد چھوڑ جائیے گا۔‘‘\n\n’’بہتر۔‘‘\n\nاس نے بڑی بلڈنگ کے باہر نکلنا شروع کیا جس کی پیشانی پر وہ کئی بار ایک بہت بڑا بورڈ پڑھ چکا تھا۔ باہر ٹانگہ کھڑا تھا۔ وہ آگے بیٹھ گیا اور عورت پیچھے۔ دلال نے ایک بار پھر سلام کیا اور ایک بار پھر اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ ایک بہت بڑا پتھر اٹھا کر اس کے سر پر دے مارے۔\n\nٹانگہ چل پڑا۔۔۔ وہ اسے پاس ہی ایک ویران سے ہوٹل میں لے گیا۔۔۔ دماغ کو حتی المقدور اس تکدر سے جو اسے پہنچ چکا تھا نکال کر اس نے اس عورت کی طرف دیکھا جو سرسے پیر تک اجاڑ تھی۔۔۔ اس کے پپوٹے سوجے ہوئے تھے۔آنکھیں جھکی ہوئی تھیں۔ اس کا اوپر کا دھڑ بھی سارے کا سارا خمیدہ تھا جیسے وہ ایک ایسی عمارت ہے جو پل بھر میں گر جائے گی۔\n\nوہ اس سے مخاطب ہوا، ’’ذراگردن تو اونچی کیجیے۔‘‘\n\nوہ زور سے چونکی،’’کیا؟‘‘\n\n’’کچھ نہیں۔۔۔ میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ کوئی بات تو کیجیے۔‘‘\n\nاس کی آنکھیں سرخ بوٹی ہورہی تھیں جیسے ان میں مرچیں ڈالی گئی ہوں۔۔۔ وہ خاموش رہی۔\n\n’’آپ کا نام؟‘‘\n\n’’کچھ بھی نہیں؟‘‘اس کے لہجے میں تیزاب کی سی تیزی تھی۔\n\n’’آپ کہاں کی رہنے والی ہیں؟‘‘\n\n’’جہاں کی بھی تم سمجھ لو۔‘‘\n\n’’آپ اتنا روکھا کیوں بولتی ہیں۔‘‘\n\nعورت اب قریب قریب جاگ پڑی اور اس کی طرف لال بوٹی آنکھوں سے دیکھ کر کہنے لگی،’’تم اپنا کام کرو۔ مجھے جانا ہے۔‘‘\n\nاس نے پوچھا،’’کہاں؟‘‘\n\nعورت نے بڑی روکھی بے اعتنائی سے جواب دیا،’’جہاں سے مجھے تم لائے ہو۔‘‘\n\n’’آپ چلی جائیے۔‘‘\n\n’’تم اپنا کام کرونا۔۔۔ مجھے تنگ کیوں کرتے ہو؟‘‘\n\nاس نے اپنے لہجے میں دل کا سارا درد بھر کے اس سے کہا،’’ میں تمہیں تنگ نہیں کرتا۔۔۔ مجھے تم سے ہمدردی ہے۔‘‘\n\nوہ جھلاّ گئی،’’مجھے نہیں چاہیے کوئی ہمدرد۔‘‘پھر قریب قریب چیخ پڑی،’’تم اپنا کام کرو اور مجھے جانے دو۔‘‘\n\nاس نے قریب آکر اس کے سر پر ہاتھ پھیرنا چاہا تو اس عورت نے زور سے ایک طرف جھٹک دیا۔ ’’میں کہتی ہوں مجھے تنگ نہ کرو۔ میں کئی دنوں سے جاگ رہی ہوں۔۔۔جب سے آئی ہوں،جاگ رہی ہوں۔‘‘\n\nوہ سرتا پا ہمدردی بن گیا۔\n\n’’سو جاؤ یہیں۔‘‘\n\nعورت کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔ تیز لہجے میں بولی،’’میں یہاں سونے نہیں آئی۔۔۔ یہ میرا گھر نہیں۔‘‘\n\n’’تمہارا گھر وہ ہے جہاں سے تم آئی ہو؟‘‘\n\nعورت اور زیادہ خشمناک ہوگئی۔\n\n’’اف۔۔۔بکواس بند کرو۔۔۔میرا کوئی گھر نہیں۔۔۔ تم اپنا کام کرو ورنہ مجھے چھوڑ آؤ اور اپنے روپے لے لو اس۔۔۔ اس۔۔۔‘‘ وہ گالی دیتی دیتی رہ گئی۔\n\nاس نے سوچا کہ اس عورت سے ایسی حالت میں کچھ پوچھنا اور ہمدردی جتانا فضول ہے۔ چنانچہ اس نے کہا، ’’چلو، میں تمہیں چھوڑ آؤں۔‘‘\n\nاور وہ اسے اس بڑی بلڈنگ میں چھوڑ آیا۔\n\nدوسرے دن اس نے قیصر پارک کے ایک ویران ہوٹل میں اس عورت کی ساری داستان اپنے دوست کو سنائی۔ دوست پر رقت طاری ہوگئی۔ اس نے بہت افسوس کا اظہار کیا اور پوچھا، ’’کیا جوان تھی؟‘‘\n\nاس نے کہا،’’ مجھے معلوم نہیں۔۔۔ میں اسے اچھی طرح بالکل نہ دیکھ سکا۔۔۔ میرے دماغ میں توہر وقت یہ خیال آتا تھا کہ میں نے وہیں سے پتھر اٹھا کر دلال کا سر کیوں نہ کچل دیا۔‘‘\n\nدوست نے کہا،’’واقعی بڑے ثواب کا کام ہوتا۔‘‘\n\nوہ زیادہ دیر تک ہوٹل میں اپنے دوست کے ساتھ نہ بیٹھ سکا۔ اس کے دل و دماغ پر پچھلے روز کے واقعہ کا بہت بوجھ تھا۔ چنانچہ چائے ختم ہوئی تو دونوں رخصت ہوگئے۔\n\nاس کا دوست چپکے سے ٹانگوں کے اڈے پر آیا۔ تھوڑی دیر تک اس کی نگاہیں اس دلال کو ڈھونڈتی رہیں مگر وہ نظر نہ آیا۔ چھ بج چکے تھے۔ بڑی بلڈنگ سامنے تھی چند گزوں کے فاصلے پر۔ وہ اس طرف چل دیا اور اس میں داخل ہوگیا۔\n\nلوگ اندر آجارہے تھے۔ مگر وہ بڑے اطمینان سے اس مقام پر پہنچ گیا۔ کافی اندھیرا تھا مگر جب وہ ان سیڑھیوں کے پاس پہنچا تو اسے روشنی دکھائی دی ۔اوپر دیکھا اور دبے پاؤں اوپر چڑھنے لگا۔ کچھ دیر وہ آخری زینے پر خاموش کھڑا رہا۔ کمرے سے تیز روشنی آرہی تھی۔ مگر کوئی آواز، کوئی آہٹ اسے سنائی نہ دی۔ آخری زینہ طے کرکے وہ آگے بڑھا۔ دروازے کے پٹ کھلے تھے۔ اس نے ذرا ادھر ہٹ کر اندر جھانکا۔ سب سے پہلے اسے بلب نظر آیا جس کی روشنی اس کی آنکھوں میں گھس گئی۔ ایک دم وہ پرے ہٹ گیا تاکہ تھوڑی دیر اندھیرے کی طرف منہ کرکے اپنی آنکھوں سے چکا چوند نکال سکے۔\n\nاس کے بعد وہ پھر دروازے کی طرف بڑھا مگر اس انداز سے کہ اس کی آنکھیں بلب کی تیز روشنی کی زد میں نہ آئیں۔ اس نے اندر جھانکا۔فرش کا جو حصہ اسے نظر آیا۔ اس پر ایک عورٹ چٹائی پر لیٹی تھی۔ اس نے اسے غور سے دیکھا۔سو رہی تھی۔ منہ پر دوپٹہ تھا۔ اس کا سینہ سانس کے اتار چڑھاؤ سے ہل رہا تھا۔۔۔ وہ ذرااور آگے بڑھا۔اس کی چیخ نکل گئی مگر اس نے فوراً ہی دبالی۔۔۔ اس عورت سے کچھ دور ننگے فرش پر ایک آدمی پڑا تھا۔ جس کا سر پاش پاش تھا۔۔۔ پاس ہی خون آلود اینٹ پڑی تھی۔ یہ سب اس نے ایک نظر دیکھا۔۔۔ اور سیڑھیوں کی طرف لپکا۔۔۔ پاؤں پھسلا اور نیچے۔۔۔ مگر اس نے چوٹوں کی کوئی پروا نہ کی اور ہوش و حواس قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے بمشکل اپنے گھر پہنچا اور ساری رات ڈراؤنے خواب دیکھتا رہا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%86%DA%88%D9%84_%D9%BE%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D9%84%D8%A8"} {"title": "سوئے دیار خندہ زن وہ یار جانی پھر گیا", "poet_page": "مصنف:تعشق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سوئے دریا خندہ زن وہ یار جانی پھر گیا\nموتیوں کی آبرو پر آج پانی پھر گیا\n\nسوئیاں سی کچھ دل وحشی میں پھر چبھنے لگیں\nٹھیک ہونے کو لباس ارغوانی پھر گیا\n\nہتھکڑی بھاری ہے میرے ہاتھ کی آج اے جنوں\nدست جاناں کا کہیں چھلا نشانی پھر گیا\n\nزور پیدا کر کہ پہنچے جیب تک دست جنوں\nاب تو موسم اے وفور ناتوانی پھر گیا\n\nسرفروشان محبت سے نہ ہوگی آنکھ چار\nمنہ جو اس کی تیغ کا اے سخت جانی پھر گیا\n\nکہتے ہو ہم آج ملک حسن کے ہیں بادشاہ\nکیا ہما بالائے سر اے یار جانی پھر گیا\n\nکیوں کبوتر کے عوض ہدہد نہ لایا خط شوق\nاس خطا پر مجھ سے وہ بلقیس ثانی پھر گیا\n\nبوسہ کیسا اک لب شیریں سے گالی بھی نہ دی\nآج پھر امیدوار مہربانی پھر گیا\n\nاے ضعیفی سایہ سر پر سے گیا دھوپ آ گئی\nفصل بدلی آفتاب زندگانی پھر گیا\n\nگر پڑے آنسو عروج ماہ کامل دیکھ کر\nمری نظروں میں ترا عہد جوانی پھر گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D9%86%D8%AF%DB%81_%D8%B2%D9%86_%D9%88%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سوئے مے کدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی", "poet_page": "مصنف:آغا حشر کاشمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سوئے مے کدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی\nوہ نگاہ سے پلاتے تو کچھ اور بات ہوتی\n\nگو ہوائے گلستاں نے مرے دل کی لاج رکھ لی\nوہ نقاب خود اٹھاتے تو کچھ اور بات ہوتی\n\nیہ بجا کلی نے کھل کر کیا گلستاں معطر\nاگر آپ مسکراتے تو کچھ اور بات ہوتی\n\nیہ کھلے کھلے سے گیسو انہیں لاکھ تو سنوارے\nمرے ہاتھ سے سنورتے تو کچھ اور بات ہوتی\n\nگو حرم کے راستے سے وہ پہنچ گئے خدا تک\nتری رہ گزر سے جاتے تو کچھ اور بات ہوتی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%85%DB%92_%DA%A9%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C"} {"title": "سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے\nگنگناتے ہوئے اک شوخ کا افسانہ چلے\n\nشہر سلمیٰ ہے سر راہ گھٹائیں ہم راہ\nساقیا آج تو دور مے و پیمانہ چلے\n\nاس طرح ریل کے ہم راہ رواں ہے بادل\nساتھ جیسے کوئی اڑتا ہوا مے خانہ چلے\n\nشہر جاناں میں اترنے کی تھی ہم پر قدغن\nیوں چلے جیسے کوئی شہر سے بیگانہ چلے\n\nگرچہ تنہا تھے مگر ان کے تصور کے نثار\nاپنے ہمراہ لیے ایک پری خانہ چلے\n\nکھیل امید کے دیکھو کہ نہ کی ان کو خبر\nپھر بھی ہم منتظر جلوۂ جانانہ چلے\n\nان کا پیغام نہ لائے ہوں یہ رنگیں بادل\nورنہ کیوں ساتھ مرے بے خود و مستانہ چلے\n\nگھر سے بہ عشرت شاہانہ ہم آئے تھے مگر\nان کے کوچے سے چلے جب تو فقیرانہ چلے\n\nبادلو خدمت سلمیٰ میں یہ کہہ دو جا کر\nکہ ترے شہر میں ہم آ کے غریبانہ چلے\n\nحسرت و شوق کے عالم میں چلے یوں اخترؔ\nمسکراتا ہوا جیسے کوئی دیوانہ چلے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D9%84%DA%A9%D8%AA%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "سوائے رحمت رب کچھ نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سوائے رحمت رب کچھ نہیں ہے\nبہت کچھ تھا مگر اب کچھ نہیں ہے\n\nجہاں میں ہوں مگر کیا جانئے کیوں\nمجھے دنیا سے مطلب کچھ نہیں ہے\n\nیہ وقت نزع ہے کیا نذر دوں میں\nاب آئے ہو یہاں جب کچھ نہیں ہے\n\nاندھیرے میں وہ سوجھی یہ نہ سوجھی\nتری شب ہے مری شب کچھ نہیں ہے\n\nفقط تقدیر کی کایا پلٹ ہے\nمناسب اور انسب کچھ نہیں ہے\n\nنہ پوچھو دل سے اس کی راہ کا حال\nسوائے عشق مذہب کچھ نہیں ہے\n\nنہ ہو گر شام ہجراں کے برابر\nتو بہر وصل اک شب کچھ نہیں ہے\n\nپس دل اب کہاں آبادیٔ دہر\nجو سب کچھ تھا وہی سب کچھ نہیں ہے\n\nخدا کا واسطہ کیا دوں اسے میں\nجہاں میں جس کا مذہب کچھ نہیں ہے\n\nچمن تھا جب چمن تھا آشیاں بھی\nوہیں تھا میں جہاں اب کچھ نہیں ہے\n\nمحصل نظم ثاقبؔ کا نہ پوچھو\nفقط لفظیں ہیں مطلب کچھ نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%AA_%D8%B1%D8%A8_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "سوائے عشق بتاں اور مجھ کو کام نہیں", "poet_page": "مصنف:ہاجر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سوائے عشق بتاں اور مجھ کو کام نہیں\nانہی کا ذکر ہے لب پر خدا کا نام نہیں\n\nتلاش یار میں آوارہ وار پھرتا ہوں\nمثال چرخ مجھے ایک دم قیام نہیں\n\nرقیب کے لئے بھر بھر کے جام آتے ہیں\nہمارے واسطے پینے کا انتظام نہیں\n\nسلوک غیر سے جو ہے وہ ہم سے ہوتا ہے\nتمہاری بزم میں تفریق خاص و عام نہیں\n\nحسین جتنے ہیں سب مال و زر کے بندے ہیں\nیہاں تو عشق ہے لیکن گرہ میں دام نہیں\n\nکسی سے روز تصور میں بات ہوتی ہے\nقسم خدا کی مجھے حاجت پیام نہیں\n\nنہ کر وصال میں ان سے گلہ دل ناداں\nخوشی کا وقت ہے رونے کا یہ مقام نہیں\n\nہر ایک شعر میں ہجراں بتاں کا رونا ہے\nترے کلام میں ہاجرؔ خوشی کا نام نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سوارِ ناقہ و محمل نہیں مَیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "سوارِ ناقہ و محمل نہیں مَیں\nنشانِ جادہ ہوں، منزل نہیں مَیں\nمری تقدیر ہے خاشاک سوزی\nفقط بجلی ہوں مَیں، حاصل نہیں مَیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%90_%D9%86%D8%A7%D9%82%DB%81_%D9%88_%D9%85%D8%AD%D9%85%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%8E%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سوال", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اک مفلسِ خود دار یہ کہتا تھا خدا سے\nمَیں کر نہیں سکتا گِلۂ دردِ فقیری\nلیکن یہ بتا، تیری اجازت سے فرشتے\nکرتے ہیں عطا مردِ فرومایہ کو مِیری؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84"} {"title": "سوال دید پہ تیوری چڑھائی جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سوال دید پہ تیوری چڑھائی جاتی ہے\nمجال دید پہ بجلی گرائی جاتی ہے\n\nخدا بخیر کرے ضبط شوق کا انجام\nنقاب میری نظر سے اٹھائی جاتی ہے\n\nاسی کو جلوۂ ایمان عشق کہتے ہیں\nہجوم یاس میں بھی آس پائی جاتی ہے\n\nاب آ گئے ہو تو اور اک ذرا ٹھہر جاؤ\nابھی ابھی مری میت اٹھائی جاتی ہے\n\nمرے قیاس کو اپنی تلاش میں کھو کر\nمرے حواس کو دنیا دکھائی جاتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D9%88%D8%B1%DB%8C_%DA%86%DA%91%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "سوال وصل پہ عذر وصال کر بیٹھے", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سوال وصل پہ عذر وصال کر بیٹھے\nوہ کس خیال سے ایسا خیال کر بیٹھے\n\nاب آؤ مان بھی جاؤ جو کچھ ہوا وہ ہوا\nذرا سی بات کا اتنا ملال کر بیٹھے\n\nہم اٹھتے بیٹھتے بھی ان کے پاس ڈرتے ہیں\nوہ اور کچھ نہ الٰہی خیال کر بیٹھے\n\nوہ اس لیے مرے پہلو میں بیٹھتے ہی نہیں\nکہ یہ کہیں نہ سوال وصال کر بیٹھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%BE%DB%81_%D8%B9%D8%B0%D8%B1_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92"} {"title": "سوال کیا کروں تجھ سے گناہ گار ہوں میں", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "سوال کیا کروں تجھ سے گناہ گار ہوں میں\nنگاہ چار ہو کیوں کر کہ شرمسار ہوں میں\n\nروانہ رکھ کہ جہاں میں ذلیل و خوار ہوں میں\nجو ہوں سو ہوں پہ ترے در کا خاکسار ہوں میں\n\nپڑا ہوا ہوں بتوں کی گلی میں دل تھامے\nصبا سنبھل کے ذرا چل نحیف و زار ہوں میں\n\nکسی سے مطلب دل میرا حل نہیں ہوتا\nسوال مسئلۂ جبر و اختیار ہوں میں\n\nجفا و ظلم اس کے گلا کروں کیوں کر\nستم شعار ہے وہ اور وفا شعار ہوں میں\n\nتمہیں بتاؤ کرے صبر کب تلک کوئی\nنہ ہر کسی سے ہنسو تم نہ اشک بار ہوں میں\n\nاسی کو کہتے ہیں یارب نصیب کی یاری\nکہ یار وہ بھی نہ ہو اور بے دیار ہوں میں\n\nوفا کا لطف ملے گر ہزار جانیں ہوں\nنثار تجھ پہ مری جاں ہزار بار ہوں میں\n\nزباں ہو بند زباں سے اگر سوال کروں\nقلم ہوں ہاتھ اگر مدعا نگار ہوں میں\n\nالٰہی جذب محبت میں دے اثر اتنا\nکلیجہ تھام لے وہ بھی جو بے قرار ہوں میں\n\nہزار اپنی کہوں اس کی ایک بھی نہ سنوں\nخدا وہ دن کرے اس سے کہیں دو چار ہوں میں\n\nمیں مست بادۂ حب علی ہوں اے انجمؔ\nکبھی بہک نہ سکے جو وہ بادہ خوار ہوں میں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سوالی", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "گزر رہے ہیں برابر تباہیوں کے جلوس\nیہ زندگی کے مسافر کہاں چلے جائیں\nیہ اشتہار غموں کے الم کی تصویریں\nیہ زندگی ہے نہیں گرد زندگی بھی نہیں\nجواں امیدیں فضائے حیات سے مایوس\nتنور سینہ کا ایندھن ہیں وہ تمنائیں\nجلی حروف میں یہ حادثوں کی تحریریں\nکہ جن سے دل کے اندھیرے میں کچھ کمی بھی نہیں\nیہ آدمی ہیں نہیں بے بسی کی تقریریں\nبپا ہے حشر مگر آنکھ دیکھتی بھی نہیں\n\nگزر رہے تھے وہ ہستی کے مجرمان ازل\nقدم بڑھائے ہوئے میں کہاں چلا آیا\nجنہیں بہشت کی راحت بھی سازگار نہ تھی\nسلگتی پانی میں سورج کی لاش وہ ڈوبی\nوہ زندگی کے مسافر وہ ہمرہان اجل\nفضا میں پھیل گیا تیرگی کا سرمایہ\nگزر گئے کہ انہیں موت ناگوار نہ تھی\nفلک پہ جاگی ستاروں کی شان محبوبی\nوہ رہ گزار مرے دل کی رہ گزار نہ تھی\nابل پڑے مری آنکھوں سے غم کے آنسو بھی\n\nسکوت شب ہے کمال سکون ہے پیدا\nیہ چاہتا ہوں یونہی بے سبب چلا جاؤں\nسکون شب سے یہ دل میں خیال آتا ہے\nوہ زندگی ہے کہاں جس کو ساتھ لے جاؤں\nوہ زندگی ہے کہاں جس کو ساتھ لے جاؤں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "سوامی رام تیرتھ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ہم بغَل دریا سے ہے اے قطرۂ بے تاب تو\nپہلے گوہر تھا، بنا اب گوہرِ نایاب تو\n\nآہ! کھولا کس ادا سے تو نے رازِ رنگ و بو\nمیں ابھی تک ہوں اسیرِ امتیازِ رنگ و بو\n\nمِٹ کے غوغا زندگی کا شورشِ محشر بنا\nیہ شرارہ بُجھ کے آتش خانۂ آزر بنا\n\nنفیِ ہستی اک کرشمہ ہے دلِ آگاہ کا\n’لا‘ کے دریا میں نہاں موتی ہے ’الاّاللہ‘ کا\n\nچشمِ نابینا سے مخفی معنیِ انجام ہے\nتھم گئی جس دم تڑپ، سیماب سیمِ خام ہے\n\nتوڑ دیتا ہے بُتِ ہستی کو ابراہیمِ عشق\nہوش کا دارُو ہے گویا مستیِ تسنیمِ عشق", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%AA%DA%BE"} {"title": "سوتے ہیں ہم زمیں پر کیا خاک زندگی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سوتے ہیں ہم زمیں پر کیا خاک زندگی ہے\nماٹی میں سن رہے ہیں ناپاک زندگی ہے\n\nغیر از لباس ظاہر صورت نہ پکڑے معنی\nتصویر کے ورق پر پوشاک زندگی ہے\n\nسر کاٹ کر نہ میرا فتراک سے لگاوے\nسمجھے اگر وہ اس کی فتراک زندگی ہے\n\nکیوں کر کرے نہ ہر دم قطع منازل عمر\nتیغ زباں سے اپنی چالاک زندگی ہے\n\nجیتے ہیں دیکھ کر ہم زلف سیہ کو اس کی\nافیونیوں کی جیسے تریاک زندگی ہے\n\nدے وصل کا تو وعدہ جھوٹا انہوں کو جا کر\nاس بات سے جنہوں کی املاک زندگی ہے\n\nمعنی نیاز کے اک نکلیں ہیں بسکہ اس میں\nالحمد میں ہماری ایاک زندگی ہے\n\nگر ناک ہو نہ منہ پر کیا لطف زندگی کا\nانسان کے بدن میں یہ ناک زندگی ہے\n\nدو دن میں آ رہے ہے خط کا جواب واں سے\nاے مصحفیؔ ہماری یہ ڈاک زندگی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "سودا بیچنے والی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "پھندنے", "year": "1955", "text_ur": "سہیل اورجمیل، دونوں بچپن کے دوست تھے۔۔۔ ان کی دوستی کو لوگ مثال کے طور پر پیش کرتے تھے۔ دونوں اسکول میں اکٹھے پڑھے۔ پھر اس کے بعد سہیل کے باپ کا تبادلہ ہوگیا اور وہ راولپنڈی چلا گیا۔ لیکن ان کی دوستی پھر بھی قائم رہی۔ کبھی جمیل راولپنڈی چلا جاتا اور کبھی سہیل لاہور آجاتا۔\n\nدونوں کی دوستی کا اصل سبب یہ تھا کہ وہ حسن پسند تھے۔ وہ خوبصورت تھے۔۔۔ بہت خوبصورت، لیکن وہ عام خوبصورت لڑکوں کی مانند بدکردار نہیں تھے،ان میں کوئی عیب نہیں تھا، دونوں نے بی اے پاس کیا۔ سہیل نے راولپنڈی کے گارڈن کالج اور جمیل نے لاہور کے گورنمنٹ کالج سے۔۔ بڑے اچھے نمبروں پر۔ اس خوشی میں انھوں نے بہت بڑی دعوت کی۔ اس میں کئی لڑکیاں بھی شریک تھیں۔\n\nجمیل قریب قریب سب لڑکیوں کو جانتا تھا مگر ایک لڑکی کو جب اس نے دیکھا،جس سے وہ قطعاً ناآشنا تھا، تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کے سارے خواب پورے ہوگئے ہیں۔ اس نے اس لڑکی کے متعلق،جس کا نام جمیلہ تھا، دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سلمیٰ کی چھوٹی بہن ہے۔ سلمیٰ کے مقابلے میں جمیلہ بہت حسین تھی۔ سلمیٰ کی شکل و صورت سیدھی سادی تھی لیکن جمیلہ کا ہر نقش تیکھا اور دل کش تھا۔ جمیل اس کو دیکھتے ہی اس کی محبت میں گرفتار ہوگیا۔\n\nاس نے فوراً اپنے دل کے جذبات سے اپنے دوست کو آگاہ کردیا۔ سہیل نے اس سے کہا، ’’ہٹاؤ یار۔۔۔ تم نے اس لڑکی میں کیا دیکھا ہے جو اس بری طرح لٹو ہوگئے ہو؟‘‘ جمیل کو برا لگا،’’تمہیں حسن کی پرکھ ہی نہیں۔۔۔اپنا اپنا دل ہے۔۔۔ تمہیں اگر جمیلہ میں کوئی بات نظر نہیں آئی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے دکھائی نہ دی ہو۔‘‘\n\nسہیل ہنسا، ’’تم ناراض ہورہے ہو۔۔۔ لیکن میں پھر بھی یہی کہوں گا کہ تمہاری یہ جمیلہ برف کی ڈلی ہے، اس میں حرارت نام کو بھی نہیں۔۔۔ عورت کا دوسرا نام حرارت ہے۔‘‘\n\n’’حرارت پیدا کرلی جاتی ہے۔‘‘\n\n’’برف میں؟‘‘\n\n’’برف بھی تو حرارت ہی سے پیدا ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’تمہاری یہ منطق عجیب وغریب ہے۔۔۔ اچھا بھئی جو چاہتے ہو، سو کرو۔۔۔ میں تو یہی مشورہ دوں گا کہ اس کا خیال اپنے دل سے نکال دو اس لیے کہ وہ تمہارے لائق نہیں ہے۔۔۔ تم اس سے کہیں زیادہ خوبصورت ہو۔‘‘\n\nدونوں میں ہلکی سی چخ ہوئی لیکن فوراً صلح ہوگئی۔ جمیل،سہیل کے مشورے کے بغیر اپنی زندگی میں کوئی قدم نہیں اٹھاتا تھا۔ اس نے جب اپنے دوست پر یہ واضح کردیا کہ وہ جمیلہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا تو سہیل نے اسے اجازت دے دی کہ جس قسم کی چاہے، جھک مار سکتا ہے۔\n\nسہیل راولپنڈی چلا گیا۔ جمیل نے جو جمیلہ کے عشق میں بری طرح مبتلا تھا، اس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش شروع کردی، مگر مصیبت یہ تھی کہ اس کی بڑی بہن سلمیٰ اس کو محبت کی نظروں سے دیکھتی تھی۔اس نے ان کے گھر آنا جانا شروع کیا تو سلمیٰ بہت خوش ہوئی۔ وہ یہ سمجھتی تھی کہ جمیل اس کے جذبات سے واقف ہو چکا ہے،اس لیے اس سے ملنے آتا ہے۔ چنانچہ اس نے غیر مبہم الفاظ میں اپنی محبت کا اظہار شروع کردیا۔ جمیل سخت پریشان تھا کہ کیا کرے۔\n\nجب وہ ان کے گھر جاتا تو سلمیٰ اپنی چھوٹی بہن کو کسی نہ کسی بہانے سے اپنے کمرے سے باہر نکال دیتی اور جمیل دانت پیس کے رہ جاتا۔ کئی بار اس کے جی میں آئی کہ وہ سلمیٰ سے صاف صاف کہہ دے کہ وہ کس غرض سے آتا ہے۔ اس کواس سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ اس کی چھوٹی بہن سے محبت کرتا ہے۔۔بے حد مختصر لمحات جو جمیل کو جمیلہ کی چند جھلکیاں دیکھنے کے لیے نصیب ہوتے تھے، اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس سے کئی باتیں کرنے کی کوشش کی اور یہ بار آورثابت ہوا۔\n\nایک دن اسے جمیلہ کا رقعہ ملا،جس کی عبارت یہ تھی،’’میری بہن جس غلط فہمی میں گرفتار ہیں، اس کو آپ دور کیوں نہیں کرتے۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ مجھ سے ملنے آتے ہیں لیکن باجی کی موجودگی میں آپ سے کوئی بات نہیں ہوسکتی۔۔۔ البتہ آپ باہر جہاں بھی چاہیں، میں آسکتی ہوں۔‘‘\n\nجمیل بہت خوش ہوا۔ لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کون سی جگہ مقرر کرے اور پھر جمیلہ کو اس کی اطلاع کیسے دے۔ اس نے کئی محبت نامے لکھے اور پھاڑ دیے۔ اس لیے کہ ان کی ترسیل بڑی مشکل تھی۔۔۔ آخر اس نے یہ سوچا کہ سلمیٰ سے ملنے جائے اور موقع ملے تو جمیلہ کو اشارۃً وہ جگہ بتا دے، جہاں وہ اس سے ملنا چاہتا ہے۔\n\nقریب قریب ایک مہینے تک وہ سلمیٰ سے ملنے جاتا رہا مگر کوئی موقع نہ ملا۔ لیکن ایک دن جب جمیلہ کمرے میں موجود تھی اور سلمیٰ اسے کسی بہانے سے باہر نکالنے والی تھی، جمیل نے بڑی بے ربطی سے بڑبڑاتے ہوئے کہا، ’’لارنس گارڈن۔۔۔پانچ بجے۔‘‘\nجمیلہ نے یہ سنا اور چلی گئی۔ سلمیٰ نے بڑی حیرت سے پوچھا،’’یہ آپ نے کیا کہا تھا؟‘‘\n\n’’تم ہی سے تو کہا تھا۔‘‘\n\n’’کیا کہا تھا؟‘‘\n\n’’لارنس گارڈن۔۔۔ پانچ بجے‘‘\n\n’’میں چاہتا تھا کہ تم کل لارنس گارڈن میرے ساتھ چلو۔ میرا جی چاہتا ہے کہ ایک پکنک ہو جائے۔‘‘\n\nسلمیٰ خوش ہوگئی اور فوراً رضا مند ہوگئی کہ وہ جمیل کے ساتھ دوسرے روز شام کو پانچ بجے لارنس گارڈن میں ضرور جائے گی۔ وہ سینڈوچز بنانے میں مہارت رکھتی تھی،چنانچہ اس نے بڑے پیار سے کہا،’’چکن سینڈوچز کا انتظام میرے ذمے رہا۔‘‘اسی شام کو پانچ بجے لارنس باغ میں جمیل اور جمیلہ سینڈوچ بنے ہوئے تھے۔ جمیل نے اس پر اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا تو جمیلہ نے کہا، ’’میں اس سے غافل نہیں تھی۔ پر کیا کروں، بیچ میں باجی حائل تھیں۔‘‘\n\n’’تو اب کیا کیا جائے؟‘‘\n\n’’ایسی ملاقاتیں زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکیں گی۔‘‘\n\n’’یہ تو درست ہے۔۔۔کل مجھے صرف اس ملاقات کی پاداش میں تمہاری باجی کے ساتھ یہاں آنا پڑے گا۔‘‘\n\n’’اسی لیے تو میں سوچتی ہوں کہ اس کا کیا حل ہوسکتا ہے۔‘‘\n\n’’اتنی جلدی نہ کرو۔۔۔ مجھے سوچنے دو۔‘‘\n\n’’تم حوصلہ رکھتی ہو؟‘‘\n\n’’کیوں نہیں۔۔۔ آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے۔۔۔؟ میں ابھی آپ کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔ بتائیے، کہاں چلنا ہے؟‘‘\n\n’’آپ سوچ لیجیے۔‘‘\n\n’’کل شام کو چار بجے تم کسی نہ کسی بہانے سے یہاں چلی آنا، میں تمہارا انتظار کررہا ہوں گا۔ اس کے بعد ہم راولپنڈی روانہ ہو جائیں گے۔‘‘\n\n’’طوفان بھی ہو تو میں کل اس مقررہ وقت پر یہاں پہنچ جاؤں گی۔‘‘\n\n’’اپنے ساتھ زیور وغیرہ مت لانا۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’میں تمہیں خود خرید کے دے سکتا ہوں۔‘‘\n\n’’میں اپنے زیور نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔ باجی نے مجھے اپنی ایک بالی بھی آج تک پہننے کے لیے نہیں دی۔ میں اپنے زیور اس کے لیے چھوڑ جاؤں؟‘‘\n\nدوسرے دن شام کو سلمیٰ سینڈوچز تیار کرنے میں مصروف تھی کہ جمیلہ نے الماری میں سے اپنے زیور اور اچھے اچھے کپڑے نکالے،انھیں سوٹ کیس میں بند کیا اور باہر نکل گئی۔ کسی کو کانوں کان بھی خبر نہ ہوئی۔ سلمیٰ سینڈوچز تیار کرتی رہی اور جمیل اور جمیلہ دونوں ریل میں سوار تھے جو راولپنڈی کی طرف تیزی سے جارہی تھی۔\n\nراولپنڈی پہنچ کرجمیل اپنے دوست سہیل کے پاس گیا جو اتفاق سے گھر میں اکیلا تھا۔ اس کے والدین ایبٹ آباد میں منتقل ہوگئے تھے۔ سہیل نے جب ایک برقعہ پوش عورت جمیل کے ساتھ دیکھی تو بڑا متحیر ہوا،مگر اس نے اپنے دوست سے کچھ نہ پوچھا۔\nجمیل نے اس سے کہا، ’’میرے ساتھ جمیلہ ہے۔۔۔ میں اسے اغوا کرکے تمہارے پاس لایا ہوں۔‘‘\n\nسہیل نے پوچھا، ’’اغوا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘\n\n’’بڑا لمبا قصہ ہے۔۔۔ میں پھر کبھی سنادوں گا۔۔۔‘‘ پھر جمیل جمیلہ سے مخاطب ہوا، ’’برقع اتار دو اور اس گھر کو اپنا گھر سمجھو۔ سہیل میرا عزیز ترین دوست ہے۔‘‘\n\nجمیلہ نے برقع اتار دیا اور شرمیلی نگاہوں سے جن میں کسی اور جذبے کی بھی جھلک تھی، سہیل کی طرف دیکھا۔ سہیل کے ہونٹوں پر عجیب قسم کی مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ اپنے دوست سے مخاطب ہوا، ’’اب تمہارا ارادہ کیا ہے؟‘‘\n\nجمیل نے جواب دیا، ’’شادی کرنے کا۔۔۔ لیکن فوراً نہیں۔ میں آج ہی واپس لاہور جانا چاہتا ہوں تاکہ وہاں کے حالات معلوم ہوسکیں۔۔۔ ہوسکتا ہے بہت گڑ بڑ ہو چکی ہو۔ میں اگر وہاں پہنچ گیا تو مجھ پر کسی کو شک نہیں ہوگا۔ دو تین روز وہاں رہوں گا۔ اس دوران میں تم ہماری شادی کا انتظام کردینا۔‘‘\n\nسہیل نے ازراہ مذاق کہا، ’’بڑے عقلمند ہوتے جارہے ہو تم۔‘‘\n\nجمیل، جمیلہ کی طرف دیکھ کر مسکرایا، ’’یہ تمہاری صحبت ہی کا نتیجہ ہے۔‘‘\n\n’’تم آج ہی چلے جاؤ گے؟‘‘\n\nجمیل نے جواب دیا، ’’ابھی۔۔۔ اسی وقت۔ مجھے صرف اپنے اس سرمایہ حیات کو تمہارے سپرد کرنا تھا۔ یہ میری امانت ہے۔‘‘\n\nجمیل اپنی جمیلہ کو سہیل کے حوالے کرکے واپس لاہور آگیا۔ وہاں کافی گڑبڑ مچی ہوئی تھی۔ وہ سلمیٰ سے ملنے گیا۔ اس نے شکایت کی کہ وہ کہاں غائب ہوگیا تھا۔ جمیل نے اس سے جھوٹ بولا، ’’مجھے سخت زکام ہوگیا تھا۔ افسوس ہے کہ میں تمہیں اس کی اطلاع نہ دے سکا، اس لیے کہ ہمارا ٹیلی فون خراب تھا اور نوکر کو امی جان نے کسی وجہ سے برطرف کردیا تھا۔‘‘\n\nسلمیٰ جب مطمئن ہوگئی تو اس نے جمیل کو بتایا کہ اس کی بہن کہیں غائب ہوگئی ہے۔ بہت تلاش کی ہے مگر نہیں ملی۔ اپنے زیور کپڑے ساتھ لے گئی ہے۔۔۔ معلوم نہیں کس کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔\n\nجمیل نے بڑی ہمدردی کا اظہار کیا۔ سلمیٰ اس سے بڑی متاثر ہوئی اور اسے مزید یقین ہوگیا کہ جمیل اس سے محبت کرتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ جمیل نے محض رواداری کی خاطر اپنی جیب سے رومال نکال کر اس کی نمناک آنکھیں پونچھیں اور مصنوعی محبت کا اظہار کیا۔ سلمیٰ اپنی بہن کی گمشدگی کا صدمہ کچھ دیر کے لیے بھول گئی۔\n\nجب جمیل کو اطمینان ہوگیا کہ اس پر کسی کو بھی شبہ نہیں تووہ ٹیکسی میں راولپنڈی پہنچا۔ بڑا بیتاب تھا۔ لاہور میں اس نے تین دن کانٹوں پر گزارے تھے۔ ہر وقت اس کی آنکھوں کے سامنے جمیلہ کا حسین چہرہ رقص کرتا رہتا۔دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ وہ جب اپنے دوست کے گھر پہنچا تو اس نے جمیلہ کو آواز دی۔ اس کو یقین تھا کہ اس کی آواز سنتے ہی وہ اڑتی ہوئی آئے گی اور اس کے سینے کے ساتھ چمٹ جائے گی۔۔۔ مگر اسے ناامیدی ہوئی۔\n\nاس کا دوست اس کی آواز سن کر آیا۔ دونوں ایک دوسرے کے گلے ملے۔ جمیل نے تھوڑے توقف کے بعد پوچھا، ’’جمیلہ کہاں ہے؟‘‘\n\nسہیل نے کوئی جواب نہ دیا۔ جمیل بڑا مضطرب تھا۔ اس نے پھر پوچھا، ’’یار۔۔۔جمیلہ کو بلاؤ۔‘‘\n\nسہیل نے بڑے رقت آمیز لہجے میں کہا، ’’وہ تو اسی روز چلی گئی تھی۔‘‘\n’’کیا مطلب؟‘‘\n\n’’جب تم یہاں اسے چھوڑ کر گئے تو وہ دو تین گھنٹوں کے بعد غائب ہوگئی۔۔۔ اسے غالباً تم سے محبت نہیں تھی۔‘‘\n\nجمیل پھر لاہور آیا۔ مگر سلمیٰ سے اسے معلوم ہوا کہ اس کی بہن ابھی تک غائب ہے، بہت ڈھونڈا مگر نہیں ملی۔ چنانچہ جمیل کو پھرراولپنڈی جانا پڑا تاکہ وہ اس کی تلاش وہاں کرے۔وہ اپنے دوست کے گھر نہ گیا۔ اس نے سوچا کہ ہوٹل میں ٹھہرنا چاہیے۔ جہاں سے مطلوبہ معلومات حاصل ہونے کی توقع ہو سکتی ہے۔ جب اس نے راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں کمرہ کرائے پر لیا تو اس نے دیکھا کہ جمیلہ ساتھ والے کمرے میں سہیل کی آغوش میں ہے۔\n\nوہ اسی وقت اپنے کمرے سے نکل آیا، لاہور پہنچا،جمیلہ کے زیورات اس کے پاس تھے،یہ اس نے بیمہ کراکر اپنے دوست کو بھیج دیے اور صرف چند الفاظ ایک کاغذ پر لکھ کر ساتھ رکھ دیے، ’’میں تمہاری کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔۔۔ جمیلہ کو میرا سلام پہنچا دینا۔‘‘\n\nدوسرے دن وہ سلمیٰ سے ملا۔ وہ اس کو جمیلہ سے کہیں زیادہ خوب صورت دکھائی دی۔ وہ اپنی بہن کی گمشدگی کے غم میں رو رہی تھی۔ جمیل نے اس کی آنکھیں چومیں اور کہا، ’’یہ آنسو بیکار ضائع نہ کرو۔۔۔ انھیں ان اشخاص کے لیے محفوظ رکھو، جو ان کے مستحق ہیں۔‘‘\n\n’’لیکن وہ میری بہن ہے۔‘‘\n\n’’بہنیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔۔۔ اسے بھول جاؤ۔‘‘\n\nجمیل نے سلمیٰ سے شادی کرلی۔ دونوں بہت خوش تھے۔ گرمیوں میں مری گئے تو وہاں انھوں نے جمیلہ کو دیکھا جس کا حسن ماند پڑ گیا تھا اور نہایت واہیات قسم کا میک اپ کیے تھے، پنڈی پوائنٹ پر یوں چل پھر رہی تھی جیسے اسے کوئی سودا بیچنا ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%DA%86%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "سودا تھا بلائے جوش پر رات", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سودا تھا بلائے جوش پر رات\nبستر پر بچھائے نشتر رات\n\nبگڑے تھے یہاں وہ آن کر رات\nبے طور بنی تھی جان پر رات\n\nہم تا سحر آپ میں نہیں تھے\nکیا جانے رہے وہ کس کے گھر رات\n\nافسانہ سمجھ کے سو گئے وہ\nکام آئی فغان بے اثر رات\n\nآئینے میں ہو نہ موم جادو\nسوتے نہیں اب وہ تا سحر رات\n\nتارے آنکھیں جھپک رہے تھے\nتھا بام پہ کون جلوہ گر رات\n\nاندھیرا پڑا زمانے میں ہائے\nنے دن کو ہے مہر نے قمر رات\n\nاس لیل و نہار غم نے مارا\nہے روز سے سیاہ تر رات\n\nکیا پوچھو ہو منکر و نکیر آہ\nبگڑے جو وہ طعن غیر پر رات\n\nیہ بات بڑھی کہ مر گئے ہم\nموت آئی تھی قصہ مختصر رات\n\nاس گھر میں ہے عیش خلد مومنؔ\nکیا جانے کہاں ہے دن کدھر رات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%BE%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "سودا ہے جو دل دے کے خریدار سے الجھے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سودا ہے جو دل دے کے خریدار سے الجھے\nسلجھے ہوئے ہم سے نہ کبھی یار سے الجھے\n\nہونے نہ دیا رشک نے اظہار تمنا\nہر بات میں ہم اپنی ہی گفتار سے الجھے\n\nالجھاؤ سے الجھاؤ ہیں اس عشق میں یا رب\nدلدار سے اٹکے تھے کہ اغیار سے الجھے\n\nکیا سیر ہو شانے سے لڑے گر دل صد چاک\nایک ایک گرفتار گرفتار سے الجھے\n\nاٹکے تو کسی چشم فسوں ساز سے اٹکے\nالجھے تو کسی طرۂ طرار سے الجھے\n\nچوری سے بھی پہنچے نہ ترے گھر میں کبھی ہم\nبرسوں یوں ہی خار سر دیوار سے الجھے\n\nکھلتے نہیں تم داغؔ الجھتی ہے طبیعت\nاچھے کسی عیار سے مکار سے الجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%84%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "سوداؔ شعر میں ہے بڑائی تجھ کو", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "سوداؔ شعر میں ہے بڑائی تجھ کو\nتشریف سخن عرش سے آئی تجھ کو\nعالم تجھے اس فن میں پیمبر سمجھا\nپوجا جہلا نے بخدائی تجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%94_%D8%B4%D8%B9%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DA%91%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "سودائے سجدہ شام و سحر میرے سر میں ہے", "poet_page": "مصنف:رنجور عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سودائے سجدہ شام و سحر میرے سر میں ہے\nاے بت کشش کچھ ایسی ترے سنگ در میں ہے\n\nمیں کب ہوں یہ مرا تن بے جاں حضر میں ہے\nروح روان قالب تن تو سفر میں ہے\n\nیہ ایک اثر تو ادویۂ چارہ گر میں ہے\nشدت اب اور بھی مرے درد جگر میں ہے\n\nسودائے عشق زلف سیہ جس کے سر میں ہے\nکب مطلق امتیاز اسے نفع و ضرر میں ہے\n\nکیا آئے گا کسی بت شیریں دہن پہ دل\nکیوں میٹھا میٹھا درد ہمارے جگر میں ہے\n\nچھیڑا مجھے کہ نوح کا طوفاں بپا ہوا\nاک بحر اشک بند مری چشم تر میں ہے\n\nپہنچا کسی کو صدمہ کہ ہم لوٹنے لگے\nسارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے\n\nنوک مژہ کا رہنے لگا دل میں پھر خیال\nشدت کی ٹیس پھر مرے زخم جگر میں ہے\n\nسودائے زلف یار میں ہے درد سر ضرور\nاک خاص لطف بھی مگر اس درد سر میں ہے\n\nمیرا یہ نخل دل بھی ہے آزاد مثل سرو\nگل اس شجر میں ہے نہ ثمر اس شجر میں ہے\n\nچاہے تو لا مکاں کی بھی لے آئے یہ خبر\nیہ زور طائر دل بے بال و پر میں ہے\n\nدشنام سے بھی یار کی آتی ہے بوئے لطف\nکچھ شک نہیں کہ خیر نہاں اس کے شر میں ہے\n\nکچھ شک نہیں کہ قرب قیامت کی ہے دلیل\nیہ فتنہ و فساد کہ اب بحر و بر میں ہے\n\nہو اس سے میرے دیدۂ تر کا مقابلہ\nرنجورؔ اس کی تاب کہاں ابر تر میں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "سودائے گیسوئے سیۂ یار ہو گیا", "poet_page": "مصنف:رادھے شیام رستوگی احقر", "kind": "poetry", "section": "غزل > نقشہاے رنگ رنگ (1929)", "year": "1929", "text_ur": "سودائے گیسوئے سیۂ یار ہو گیا\nآزاد تھا جو دل سو گرفتار ہو گیا\n\nمجلس میں جس طرف تری ترچھی نظر پڑی\nاک تیر تھا کہ توڑ کے صف پار ہو گیا\n\nسچ ہے یہ حرص کرتی ہے انسان کو خراب\nغم کھایا اس قدر کہ میں بیمار ہو گیا\n\nدل کو قرار ہے نہ تو جاں کو قرار ہے\nیہ عشق ہے الٰہی کہ آزار ہو گیا\n\nانبائے جنس سے جو اٹھائیں اذیتیں\nصورت سے آدمی کی میں بیزار ہو گیا\n\nسیر چمن کو یار جو آیا تو دیکھنا\nآنکھوں میں عندلیب کے گل خار ہو گیا\n\nاحقرؔ گلہ رہا نہ عداوت کا غیر کی\nجب یار قتل کرنے پہ تیار ہو گیا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B3%DB%8C%DB%82_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سوراج", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "ہے کل کی ابھی بات کہ تھے ہند کے سرتاج\nدیتے تھے تمہیں آ کے سلاطین زمن باج\n\nکیا رنگ زمانے نے یہ بدلا ہے کہ تم کو\nدنیا کی ہر اک قوم سمجھتی ہے ذلیل آج\n\nدامان نگہ جس کی فضا کے لئے تھا تنگ\nوہ باغ ہوا دیکھتے ہی دیکھتے تاراج\n\nجب تک رہے تم دست نگر اپنے خدا کے\nہونے نہ دیا اس نے تمہیں غیر کا محتاج\n\nجو ہو گئے اس کے وہ ہوا ان کا نگہباں\nاس کی ہے جنہیں شرم ہے ان کی بھی اسے لاج\n\nمٹ جاؤ مگر حق کو نہ مٹتے ہوئے دیکھو\nسیکھو یہ روش گر تمہیں لینا ہے سوراج", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%A7%D8%AC"} {"title": "سوراج کے لیے", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "نمرود کی خدائی", "year": "1950", "text_ur": "مجھے سن یاد نہیں رہا، لیکن وہی دن تھےجب امرتسر میں ہر طرف ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کے نعرے گونجتے تھے۔ ان نعروں میں، مجھے اچھی طرح یاد ہے، ایک عجیب قسم کا جوش تھا۔۔۔ ایک جوانی۔۔۔ ایک عجیب قسم کی جوانی۔ بالکل امرتسر کی گجریوں کی سی، جو سر پر اپلوں کے ٹوکرے اٹھائے بازاروں کو جیسے کاٹتی ہوئی چلتی ہیں۔۔۔ خوب دن تھے۔ فضا میں جو وہ جلیانوالہ باغ کے خونیں حادثے کا اداس خوف سمویا رہتا تھا، اس وقت بالکل مفقود تھا۔ اب اس کی جگہ ایک بے خوف تڑپ نے لے لی تھی۔۔۔ ایک اندھا دھند جَست نے جو اپنی منزل سے ناواقف تھی۔\n\nلوگ نعرے لگاتے تھے، جلوس نکالتے تھے اور سیکڑوں کی تعداد میں دھڑادھڑ قید ہو رہے تھے۔ گرفتار ہونا ایک دلچسپ شغل بن گیا تھا۔ صبح قید ہوئے۔ شام چھوڑ دیے گئے، مقدمہ چلا، چند مہینوں کی قید ہوئی، واپس آئے، ایک نعرہ لگایا، پھر قید ہوگئے۔\n\nزندگی سے بھرپور دن تھے۔ ایک ننھا سا بلبلہ پھٹنے پر بھی ایک بہت بڑا بھنور بن جاتا تھا۔ کسی نے چوک میں کھڑے ہو کر تقریر کی اور کہا، ’’ہڑتال ہونی چاہیے۔‘‘ چلیے جی، ہڑتال ہوگئی۔ ایک لہر اٹھی کہ ہر شخص کو کھادی پہننی چاہیے تاکہ لنکا شائز کے سارے کارخانے بند ہو جائیں۔۔۔ بدیشی کپڑوں کا بائیکاٹ شروع ہو گیا اور ہر چوک میں الاؤ جلنے لگے، لوگ جوش میں آکر کھڑے کھڑے وہیں کپڑے اتارتے اور الاؤ میں پھینکتے جاتے، کوئی عورت اپنے مکان کے شہ نشین سے اپنی ناپسندیدہ ساڑی اچھالتی تو ہجوم تالیاں پیٹ پیٹ کر اپنے ہاتھ لال کرلیتا۔\n\nمجھے یاد ہے ،کوتوالی کے سامنے ٹاؤن ہال کے پاس ایک الاؤ جل رہا تھا۔۔۔ شیخو نے، جو میرا ہم جماعت تھا، جوش میں آکر اپنا ریشمی کوٹ اتارا اور بدیشی کپڑوں کی چتا میں ڈال دیا۔ تالیوں کا سمندر بہنے لگا۔ کیونکہ شیخو ایک بہت بڑے ’’ٹوڈی بچے‘‘ کا لڑکا تھا، اس غریب کا جوش اور بھی زیادہ بڑھ گیا، اپنی بوسکی کی قمیص اتار وہ بھی شعلوں کی نذر کردی، لیکن بعد میں خیال آیا کہ اس کے ساتھ سونے کے بٹن تھے۔\n\nمیں شیخو کا مذاق نہیں اڑاتا، میرا حال بھی ان دنوں بہت دگرگوں تھا۔ جی چاہتا تھا کہ کہیں سے پستول ہاتھ میں آجائے تو ایک دہشت پسند پارٹی بنائی جائے۔ باپ گورنمنٹ کا پنشن خوار تھا، اس کا مجھے کبھی خیال نہ آیا۔ بس دل و دماغ میں ایک عجیب قسم کی کھد بد رہتی تھی۔ بالکل ویسی ہی جیسی فلاش کھیلنے کے دوران دوپان میں رہا کرتی ہے۔\n\nاسکول سے تو مجھے ویسے ہی دلچسپی نہیں تھی مگر ان دنوں تو خاص طور پر مجھے پڑھائی سے نفرت ہوگئی تھی۔۔۔ گھر سے کتابیں لے کر نکلتا اور جلیانوالہ باغ چلا جاتا، اسکول کا وقت ختم ہونے تک وہاں کی سرگرمیاں دیکھتا رہتا یا کسی درخت کے سائے تلے بیٹھ کر دورمکانوں کی کھڑکیوں میں عورتوں کو دیکھتااور سوچتا کہ ضرور ان میں سے کسی کو مجھ سے عشق ہو جائے گا۔۔۔ یہ خیال دماغ میں کیوں آتا، اس کے متعلق میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔\n\nجلیانوالہ باغ میں خوب رونق تھی۔ چاروں طرف تنبو اور قناتیں پھیلی ہوئی تھیں، جو خیمہ سب سے بڑا تھا، اس میں ہر دوسرے تیسرے روز ایک ڈکٹیٹر بناکے بٹھا دیا جاتا تھا۔ جس کو تمام والنٹیر سلامی دیتے تھے۔ دو تین روز یا زیادہ سے زیادہ دس پندرہ روز تک یہ ڈکٹیٹر کھادی پوش عورتوں اور مردوں کی نمسکاریں، ایک مصنوعی سنجیدگی کے ساتھ وصول کرتا۔ شہر کے بنیوں سے لنگر خانے کے لیے آٹا چاول اکٹھا کرتا اور دہی کی لسی پی پی کر، جو خدا معلوم جلیانوالہ باغ میں کیوں اس قدر عام تھی، ایک دن اچانک گرفتار ہو جاتا اور کسی قید خانے میں چلا جاتا۔\n\nمیرا ایک پرانا ہم جماعت تھا شہزادہ غلام علی، اس سے میری دوستی کا اندازہ آپ کو ان باتوں سے ہوسکتا ہے کہ ہم اکٹھے دو دفعہ میٹرک کے امتحان میں فیل ہو چکے تھے اور ایک دفعہ ہم دونوں گھر سے بھاگ کربمبئی گئے ،خیال تھا کہ روس جائیں گے مگر پیسے ختم ہونے پر جب فٹ پاتھوں پرسونا پڑا تو گھر خط لکھے، معافیاں مانگیں اور واپس چلے آئے۔شہزادہ غلام علی خوبصورت جوان تھا۔ لمبا قد، گورا رنگ جو کشمیریوں کا ہوتا ہے۔ تیکھی ناک، کھلنڈری آنکھیں، چال ڈھال میں ایک خاص شان تھی جس میں پیشہ ور غنڈوں کی کج کلاہی کی ہلکی سی جھلک بھی تھی۔\n\nجب وہ میرے ساتھ پڑھتا تھا تو شہزادہ نہیں تھا۔ لیکن جب شہرمیں انقلابی سرگرمیوں نے زور پکڑا اور اس نے دس پندرہ جلسوں اور جلوسوں میں حصہ لیا تو نعروں ،گیندے کے ہاروں، جوشیلے گیتوں اور لیڈی والنٹیرز سے آزادانہ گفتگوؤں نے اسے ایک نیم رس انقلابی بنا دیا، ایک روز اس نے پہلی تقریر کی، دوسرے روز میں نے اخبار دیکھے تو معلوم ہوا کہ غلام علی شہزادہ بن گیا ہے۔\n\nشہزادہ بنتے ہی غلام علی سارے امرتسر میں مشہور ہوگیا۔ چھوٹا سا شہر ہے، وہاں نیک نام ہوتے یا بدنام ہوتے دیر نہیں لگتی۔ یوں تو امرتسری عام آدمیوں کے معاملے میں بہت حرف گیر ہیں، یعنی ہر شخص دوسروں کے عیب ٹٹولنے اور کرداروں میں سوراخ ڈھونڈنے کی کوشش کرتا رہتا ہےلیکن سیاسی اور مذہبی لیڈروں کے معاملے میں امرتسری بہت چشم پوشی سے کام لیتے ہیں۔ ان کو دراصل ہر وقت ایک تقریر یا تحریک کی ضرورت رہتی ہے۔ آپ انھیں نیلی پوش بنا دیجیے یا سیاہ پوش، ایک ہی لیڈر چولے بدل بدل کر امرتسر میں کافی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے۔ لیکن وہ زمانہ کچھ اور تھا۔ تمام بڑے بڑے لیڈر جیلوں میں تھے اور ان کی گدیاں خالی تھیں۔ اس وقت لوگوں کو لیڈروں کی کوئی اتنی زیادہ ضرورت نہ تھی۔ لیکن وہ تحریک جو کہ شروع ہوئی تھی اس کو البتہ ایسے آدمیوں کی اشد ضرورت تھی جو ایک دو روز کھادی پہن کر جلیانوالہ باغ کے بڑے تنبو میں بیٹھیں، ایک تقریر کریں اور گرفتار ہو جائیں۔\n\nان دنوں یورپ میں نئی نئی ڈکٹیٹر شپ شروع ہوئی تھی، ہٹلر اور مسولینی کا بہت اشتہار ہورہا تھا۔ غالباً اس اثر کے ماتحت کانگریس پارٹی نے ڈکٹیٹر بنانے شروع کردیے تھے۔ جب شہزادہ غلام علی کی باری آئی تو اس سے پہلے چالیس ڈکٹیٹر گرفتار ہو چکے تھے۔\n\nجونہی مجھے معلوم ہوا کہ اس طرح غلام علی ڈکٹیٹر بن گیا ہے تو میں فوراً جلیانوالہ باغ میں پہنچا۔ بڑے خیمے کے باہر والنٹیروں کا پہرہ تھا۔ مگر غلام علی نے جب مجھے اندر سے دیکھا تو بلا لیا۔۔۔ زمین پر ایک گدیلا تھا جس پر کھادی کی چاندنی بچھی تھی۔ اس پر گاؤ تکیوں کا سہارا لیے شہزادہ غلام علی چند کھادی پوش بنیوں سے گفتگو کررہا تھا جو غالباً ترکاریوں کے متعلق تھی۔ چند منٹوں ہی میں اس نے یہ بات چیت ختم کی اور چند رضا کاروں کو احکام دے کروہ میری طرف متوجہ ہوا۔ اس کی یہ غیر معمولی سنجیدگی دیکھ کر میرے گدگدی سی ہو رہی تھی۔ جب رضا کار چلے گئے تو میں ہنس پڑا۔\n\n’’سنا بے شہزادے۔‘‘\nمیں دیر تک اس سے مذاق کرتا رہا۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ غلام علی میں تبدیلی پیدا ہوگئی ہے۔ ایسی تبدیلی جس سے وہ باخبر ہے ۔ چنانچہ اس نے کئی بار مجھ سے یہی کہا، ’’نہیں سعادت۔۔۔ مذاق نہ اڑاؤ۔ میں جانتا ہوں میرا سر چھوٹا اور یہ عزت جو مجھے ملی ہے بڑی ہے۔۔۔ لیکن میں یہ کھلی ٹوپی ہی پہنے رہنا چاہتا ہوں۔‘‘\n\nکچھ دیر کے بعد اس نے مجھے دہی کی لسی کا ایک بہت بڑا گلاس پلایا اور میں اس سے یہ وعدہ کرکے گھر چلاگیا کہ شام کو اس کی تقریر سننے کے لیے ضرور آؤں گا۔شام کو جلیانوالہ باغ کھچا کھچ بھرا تھا۔ میں چونکہ جلدی آیا تھا، اس لیے مجھے پلیٹ فارم کے پاس ہی جگہ مل گئی۔۔۔ غلام علی تالیوں کے شور کے ساتھ نمودار ہوا۔۔۔ سفید بے داغ کھادی کے کپڑے پہنے وہ خوبصورت اور پر کشش دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ وہ کج کلاہی کی جھلک جس کا میں اس سے پہلے ذکر کر چکا ہوں،اس کی اس کشش میں اضافہ کررہی تھی۔تقریباً ایک گھنٹے تک وہ بولتا رہا۔ اس دوران میں کئی بارمیرے رونگٹے کھڑے ہوئے اور ایک دو دفعہ تو میرے جسم میں بڑی شدت سے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں بم کی طرح پھٹ جاؤں۔ اس وقت میں نے شاید یہی خیال کیا تھا کہ یوں پھٹ جانے سے ہندوستان آزاد ہو جائے گا۔\n\nخدا معلوم کتنے برس گزر چکے ہیں۔ بہتے ہوئے احساسات اور واقعات کی نوک پلک جو اس وقت تھی، اب پوری صحت سے بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن یہ کہانی لکھتے ہوئے میں جب غلام علی کی تقریر کا تصور کرتا ہوں تو مجھے صرف ایک جوانی بولتی دکھائی دیتی تھی، جو سیاست سے بالکل پاک تھی۔۔۔ اس میں ایک ایسے نوجوان کی پر خلوص بےباکی تھی جو ایک دم کسی راہ چلتی عورت کو پکڑلے اور کہے،’’دیکھو میں تمہیں چاہتا ہوں۔‘‘ اور دوسرے لمحے قانون کے پنجے میں گرفتار ہو جائے ۔اس تقریر کے بعد مجھے کئی تقریریں سننے کا اتفاق ہوا ہےمگر وہ خام دیوانگی، وہ سرپھری جوانی، وہ الھڑ جذبہ، وہ بے ریش و بروت للکار جو میں نے شہزادہ غلام علی کی آواز میں سنی، اب اس کی ہلکی سی گونج بھی مجھے کبھی سنائی نہیں دی۔ اب جو تقریریں سننے میں آتی ہیں،وہ ٹھنڈی سنجیدگی، بوڑھی سیاست اور شاعرانہ ہوش مندی میں لپٹی ہوتی ہیں۔\n\nاس وقت دراصل دونوں پارٹیاں خام کار تھیں،حکومت بھی اور رعایا بھی۔ دونوں نتائج سے بے پروا، ایک دوسرے سے دست و گریباں تھے۔ حکومت قید کی اہمیت سمجھے بغیر لوگوں کو قید کررہی تھی اور جو قید ہوتے تھے ان کو بھی قید خانوں میں جانے سے پہلے قید کا مقصد معلوم نہیں ہوتا تھا۔ ایک دھاندلی تھی مگر اس دھاندلی میں ایک آتشیں انتشار تھا۔ لوگ شعلوں کی طرح بھڑکتے تھے، بجھتے تھے، پھر بھڑکتے تھے۔ چنانچہ اس بھڑکنے اور بجھنے، بجھنے اور بھڑکنے نے غلامی کی خوابیدہ، اداس اور جمائیوں بھری فضا میں گرم ارتعاش پیدا کردیا تھا۔\n\nشہزادہ غلام علی نے تقریر ختم کی تو سارا جلیانوالہ باغ تالیوں اور نعروں کا دہکتا ہوا الاؤ بن گیا۔ اس کا چہرہ دمک رہا تھا۔ جب میں اس سے الگ جا کر ملا اور مبارک باد دینے کے لیے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دبایا تو وہ کانپ رہا تھا۔ یہ گرم کپکپاہٹ اس کے چمکیلے چہرے سے بھی نمایاں تھی۔ وہ کسی قدر ہانپ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں پرجوش جذبات کی دمک کے علاوہ مجھے ایک تھکی ہوئی تلاش نظر آئی، وہ کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ ایک دم اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے علیحدہ کیا اور سامنے چنبیلی کی جھاڑی کی طرف بڑھا۔\n\nوہاں ایک لڑکی کھڑی تھی۔ کھادی کی بے داغ ساڑی میں ملبوس۔\n\nدوسرے روز مجھے معلوم ہوا کہ شہزادہ غلام علی عشق میں گرفتار ہے۔ وہ اس لڑکی سے، جسے میں نے چنبیلی کی جھاڑی کے پاس باادب کھڑی دیکھا تھا،محبت کررہا تھا۔ یہ محبت یک طرفہ نہیں تھی کیونکہ نگار کو بھی اس سے والہانہ لگاؤ تھا۔ نگار جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ایک مسلمان لڑکی تھی۔۔۔ یتیم! زنانہ ہسپتال میں نرس تھی اور شاید پہلی مسلمان لڑکی تھی جس نے امرتسر میں بے پردہ ہوکر کانگریس کی تحریک میں حصہ لیا۔ کچھ کھادی کے لباس نے، کچھ کانگریس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے باعث اور کچھ ہسپتال کی فضا نے نگار کی اسلامی خوکو، اس تیکھی چیز کو جو مسلمان عورت کی فطرت میں نمایاں ہوتی ہے تھوڑا سا گھسا دیا تھا جس سے وہ ذرا ملائم ہوگئی تھی۔\n\nوہ حسین نہیں تھی لیکن اپنی جگہ نسوانیت کا ایک نہایت ہی دیدہ چشم منفرد نمونہ تھی۔ انکسار، تعظیم اور پرستش کا وہ ملا جلا جذبہ جو آدرش ہندو عورت کا خاصہ ہے نگار میں اس کی خفیف سی آمیزش نے ایک روح پر ور رنگ پیدا کردیا تھا۔ اس وقت تو شاید یہ کبھی میرے ذہن میں نہ آتا، مگر یہ لکھتے وقت میں نگار کا تصور کرتا ہوں تو وہ مجھے نماز اور آرتی کا دلفریب مجموعہ دکھائی دیتی ہے۔شہزادہ غلام علی کی وہ پرستش کرتی تھی اور وہ بھی اس پر دل و جان سے فدا تھا ۔جب نگار کے بارے میں اس سے گفتگو ہوئی تو پتا چلا کہ کانگریس تحریک کے دوران میں ان دونوں کی ملاقات ہوئی اور تھوڑے ہی دنوں کے ملاپ سے وہ ایک دوسرے کے ہوگئے۔\n\nغلام علی کا ارادہ تھا کہ قید ہونے سے پہلے پہلے وہ نگار کو اپنی بیوی بنالے۔ مجھے یاد نہیں کہ وہ ایسا کیوں کرنا چاہتا تھا کیونکہ قید سے واپس آنے پر بھی وہ اس سے شادی کرسکتا تھا۔ ان دنوں کوئی اتنی لمبی قید نہیں تھی۔ کم سے کم تین مہینے اور زیادہ سے زیادہ ایک برس۔ بعضوں کو تو پندرہ بیس روز کے بعد ہی رہا کردیا جاتا تھا تاکہ دوسرے قیدیوں کے لیے جگہ بن جائے۔ بہر حال وہ اس ارادے کو نگار پر بھی ظاہر کرچکا تھا اور وہ بالکل تیار تھی۔ اب صرف دونوں کو بابا جی کے پاس جا کر ان کا آشیرواد لینا تھا۔\n\nبابا جی جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے بہت زبردست ہستی تھی۔ شہر سے باہر لکھ پتی صراف ہری رام کی شاندارکوٹھی میں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ یوں تو وہ اکثر اپنے آشرم میں رہتے جو انھوں نے پاس کے ایک گاؤں میں بنا رکھا تھا مگر جب کبھی امرتسر آتے تو ہری رام صراف ہی کی کوٹھی میں اترتے اور ان کے آتے ہی یہ کوٹھی بابا جی کے شیدائیوں کے لیے مقدس جگہ بن جاتی۔ سارا دن درشن کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا۔ دن ڈھلے وہ کوٹھی سے باہر کچھ فاصلے پر آم کے پیڑوں کے جھنڈ میں ایک چوبی تخت پر بیٹھ کر لوگوں کو عام درشن دیتے، اپنے آشرم کے لیے چندہ اکٹھا کرتے۔ آخر میں بھجن وغیرہ سن کر ہر روز شام کو یہ جلسہ ان کے حکم سے برخاست ہو جاتا۔بابا جی بہت پرہیز گار، خدا ترس، عالم اور ذہین آدمی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو، مسلمان، سکھ اور اچھوت سب ان کے گرویدہ تھے اور انھیں اپنا امام مانتے تھے۔ سیاست سے گو باباجی کو بظاہر کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر یہ ایک کھلا ہوا راز ہے کہ پنجاب کی ہر سیاسی تحریک انہی کے اشارے پر شروع ہوئی اور انہی کے اشارے پر ختم ہوئی۔\n\nگورنمنٹ کی نگاہوں میں وہ ایک عقدۂ لاینحل تھے، ایک سیاسی چیستاں ،جسے سرکارِ عالیہ کے بڑے بڑے مدبر بھی نہ حل کرسکتے تھے۔ بابا جی کے پتلے پتلے ہونٹوں کی ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ہزار معنی نکالے جاتے تھے مگر جب وہ خود اس مسکراہٹ کا بالکل ہی نیا مطلب واضح کرتے تو مرعوب عوام اور زیادہ مرعوب ہو جاتے۔\n\nیہ جو امرتسر میں سول نافرمانی کی تحریک جاری تھی اور لوگ دھڑا دھڑ قید ہوررہے تھے، اس کے عقب میں جیسا کہ ظاہر ہے، بابا جی ہی کا اثر کارفرما تھا۔ ہر شام لوگوں کو عام درشن دیتے وقت وہ سارے پنجاب کی تحریک آزادی اور گورنمنٹ کی نت نئی سخت گیریوں کے متعلق اپنے پوپلے منہ سے ایک چھوٹا سا۔۔۔ ایک معصوم سا جملہ نکال دیا کرتے تھے، جسے فوراً ہی بڑے بڑے لیڈر اپنے گلے میں تعویذ بنا کرڈال لیتے تھے۔\n\nلوگوں کا بیان ہے کہ ان کی آنکھوں میں ایک مقناطیسی قوت تھی، ان کی آواز میں ایک جادو تھا اور ان کا ٹھنڈا دماغ۔۔۔ ان کا وہ مسکراتا ہوتا دماغ، جس کو گندی سے گندی گالی اور زہریلی سے زہریلی طنز بھی ایک لحظے کے ہزارویں حصے کے لیے برہم نہیں کرسکتی تھی، حریفوں کے لیے بہت ہی الجھن کا باعث تھا۔\n\nامرتسر میں بابا جی کے سیکڑوں جلوس نکل چکے تھے، مگر جانے کیا بات ہے کہ میں نے اور تمام لیڈروں کو دیکھا، ایک صرف ان ہی کو میں نے دور سے دیکھا نہ نزدیک سے۔ اسی لیے جب غلام علی نے مجھ سے ان کے درشن کرنے اور ان سے شادی کی اجازت لینے کے متعلق بات چیت کی تو میں نے اس سے کہا کہ جب وہ دونوں جائیں تو مجھے بھی ساتھ لیتے جائیں۔\n\nدوسرے ہی روز غلام علی نے تانگے کا انتظام کیا اور ہم صبح سویرے لالہ ہری رام صراف کی عالی شان کوٹھی میں پہنچ گئے۔ بابا جی غسل اور صبح کی دعا سے فارغ ہو کر ایک خوبصورت پنڈتانی سے قومی گیت سن رہے تھے۔ چینی کی بے داغ سفید ٹائلوں والے فرش پر آپ کھجور کے پتوں کی چٹائی پر بیٹھے تھے، گاؤ تکیہ ان کے پاس ہی پڑا تھا مگر انھوں نے اس کا سہارا نہیں لیا تھا۔کمرے میں سوائے ایک چٹائی کے، جس کے اوپر بابا جی بیٹھے تھے اور فرنیچر وغیرہ نہیں تھا۔ ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک سفید ٹائلیں چمک رہی تھیں۔ ان کی چمک نے قومی گیت گانے والی پنڈتانی کے ہلکے پیازی چہرے کو اور بھی زیادہ حسین بنا دیا تھا۔\n\nبابا جی گو ستر بہتر برس کے بڈھے تھے مگر ان کا جسم (وہ صرف گیروے رنگ کا چھوٹا سا تہمد باندھے تھے) عمر کی جھریوں سے بے نیاز تھا، جلد میں ایک عجیب قسم کی ملاحت تھی۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ہر روز اشنان سے پہلے روغن زیتون اپنے جسم پر ملواتے ہیں۔شہزادہ غلام علی کی طرف دیکھ کروہ مسکرائے ،مجھے بھی ایک نظر دیکھا اور ہم تینوں کی بندگی کا جواب اسی مسکراہٹ کو ذرا طویل کرکے دیا اور اشارہ کیا کہ ہم بیٹھ جائیں۔\n\nمیں اب یہ تصویر اپنے سامنے لاتا ہوں تو شعور کی عینک سے یہ مجھے دلچسپ ہونے کے علاوہ بہت ہی فکر خیز دکھائی دیتی ہے۔ کھجور کی چٹائی پر ایک نیم برہنہ معمر جوگیوں کا آسن لگائے بیٹھا ہے۔ اس کی بیٹھک سے، اس کے گنجے سر سے، اس کی ادھ کُھلی آنکھوں سے، اس کے سانولے ملائم جسم سے، اس کے چہرے کے ہر خط سے ایک پرسکون اطمینان، ایک بے فکر تیقن مترشح تھا کہ جس مقام پر دنیا نے اسے بٹھا دیا ہے، اب بڑے سے بڑا زلزلہ بھی اسے وہاں سے نہیں گرا سکتا۔۔۔ اس سے کچھ دور وادی کشمیر کی ایک نوخیز کلی، جھکی ہوئی، کچھ اس بزرگ کی قربت کے احترام سے، کچھ قومی گیت کے اثر سے، کچھ اپنی شدید جوانی سے، جو اس کی کھردردی سفید ساڑی سے نکل کر قومی گیت کے علاوہ اپنی جوانی کا گیت بھی گانا چاہتی تھی، جو اس بزرگ کی قربت کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ کسی ایسی تندرست اور جوان ہستی کی بھی تعظیم کرنے کی خواہش مند تھی جو اس کی نرم کلائی پکڑ کر زندگی کے دہکتے ہوئے الاؤ میں کود پڑے۔ اس کے ہلکے پیازی چہرے سے، اس کی بڑی بڑی سیاہ متحرک آنکھوں سے، اس کے کھادی کے کھردرے بلاؤز میں ڈھکے ہوئے متلاطم سینے سے ،اس معمر جوگی کے ٹھوس تیقن اور سنگین اطمینان کے تقابل میں ایک خاموش صدا تھی کہ آؤ، جس مقام پر میں اس وقت ہوں،وہاں سے کھینچ کر مجھے یا تو نیچے گرا دو یا اس سے بھی اوپر لے جاؤ۔\n\nاس طرف ہٹ کر ہم تین بیٹھے تھے۔ میں، نگار اور شہزادہ غلام علی۔۔۔۔ میں بالکل چغد بنا بیٹھا تھا۔ بابا جی کی شخصیت سے بھی متاثر تھا اور اس پنڈتانی کے بے د اغ حسن سے بھی۔ فرش کی چمکیلی ٹائلوں نے بھی مجھے مرعوب کیا تھا۔ کبھی سوچتا تھا کہ ایسی ٹائلوں والی ایک کوٹھی مجھے مل جائے تو کتنا اچھا ہو۔ پھر سوچتا تھا کہ یہ پنڈتانی مجھے اور کچھ نہ کرنے دے، ایک صرف مجھے اپنی آنکھیں چوم لینے دے۔ اس کے تصور سے بدن میں تھرتھری پیدا ہوتی تو جھٹ اپنی نوکرانی کا خیال آتا جس سے تازہ تازہ مجھے کچھ وہ ہوا تھا۔ جی میں آتا کہ ان سب کو، یہاں چھوڑ کر سیدھا گھر جاؤں۔۔۔ شاید نظر بچا کر اسے اوپر غسل خانے تک لے جانے میں کامیاب ہو سکوں، مگر جب بابا جی پر نظر پڑتی اور کانوں میں قومی گیت کے پرجوش الفاظ گونجتے تو ایک دوسری تھرتھری بدن میں پیدا ہوتی اور میں سوچتا کہ کہیں سے پستول ہاتھ آجائے تو سول لائن میں جا کر انگریزوں کو مارنا شروع کردوں۔\n\nاس چغد کے پاس نگار اور غلام علی بیٹھے تھے۔ دو محبت کرنے والے دل، جو تنہا محبت میں دھڑکتے دھڑکتے اب شاید کچھ اکتا گئے تھے اور جلدی ایک دوسرے میں محبت کے دوسرے رنگ دیکھنے کے لیے مدغم ہونا چاہتے تھے۔ دوسرے الفاظ میں وہ بابا جی سے، اپنے مسلمہ سیاسی رہنما سے شادی کی اجازت لینے آئے تھے اور جیسا کہ ظاہر ہے ان دونوں کے دماغ میں اس وقت قومی گیت کے بجائے ان کی اپنی زندگی کا حسین ترین مگر ان سنا نغمہ گونج رہا تھا۔\n\nگیت ختم ہوا ،بابا جی نے بڑے مشفقانہ انداز سے پنڈتانی کو ہاتھ کے اشارے سے آشیرواد دیا اور مسکراتے ہوئے نگار اور غلام علی کی طرف متوجہ ہوئے۔ مجھے بھی انھوں نے ایک نظر دیکھ لیا۔غلام علی شاید تعارف کے لیے اپنا اور نگار کا نام بتانے والا تھا مگر بابا جی کا حافظہ بلا کا تھا۔ انھوں نے فوراً ہی اپنی میٹھی آواز میں کہا،’’شہزادے ،ابھی تک تم گرفتار نہیں ہوئے؟‘‘\n\nغلام علی نے ہاتھ جوڑ کر کہا، ’’جی نہیں۔‘‘\n\nبابا جی نے قلم دان سے ایک پنسل نکالی اور اس سے کھیلتے ہوئے کہنے لگے، ’’مگر میں تو سمجھتا ہوں تم گرفتار ہو چکے ہو۔‘‘\n\nغلام علی اس کا مطلب نہ سمجھ سکا۔ لیکن بابا جی نے فوراً ہی پنڈتانی کی طرف دیکھا اور نگار کی طرف اشارہ کرکے،’’نگار نے ہمارے شہزادے کو گرفتار کرلیا ہے۔‘‘\n\nنگار محجوب سی ہوگئی۔ غلام علی کا منہ فرطِ حیرت سےکھلا کا کھلا رہ گیا اور پنڈتانی کے پیازی چہرے پر ایک دعائیہ چمک سی آئی۔ اس نے نگار اور غلام علی کو کچھ اس طرح دیکھا جیسے یہ کہہ رہی ہے، ’’بہت اچھا ہوا۔‘‘ بابا جی ایک بار پھر پنڈتانی کی طرف متوجہ ہوئے، ’’یہ بچے مجھ سے شادی کی اجازت لینے آئے ہیں۔۔۔ تم کب شادی کررہی ہو کمل؟‘‘\n\nتو اس پنڈتانی کا نام کمل تھا۔ بابا جی کے اچانک سوال سے وہ بوکھلا گئی۔ اس کا پیازی چہرہ سرخ ہوگیا۔ کانپتی ہوئی آواز میں اس نے جواب دیا، ’’میں تو آپ کے آشرم میں جارہی ہوں۔‘‘ ایک ہلکی سی آہ بھی ان الفاظ میں لپٹ کرباہر آئی جسے بابا جی کے ہشیار دماغ نے فوراً نوٹ کیا۔ وہ اس کی طرف دیکھ کر جوگیانہ انداز میں مسکرائے اور غلام علی اور نگار سے مخاطب ہو کرکہنے لگے،’’ تو تم دونوں فیصلہ کر چکے ہو۔‘‘\n\nدونوں نے دبی زبان میں جواب دیا، ’’جی ہاں۔‘‘\n\nبابا جی نے اپنی سیاست بھری آنکھوں سے ان کو دیکھا،’’انسان جب فیصلے کرتا ہے تو کبھی کبھی ان کو تبدیل کردیا کرتا ہے۔‘‘\n\nپہلی دفعہ بابا جی کی بارعب موجودگی میں غلام علی نے، اس کی الھڑ اور بیباک جوانی نے کہا،’’یہ فیصلہ اگر کسی وجہ سے تبدیل ہو جائے تو بھی اپنی جگہ پر اٹل رہے گا۔‘‘\n\nبابا جی نے آنکھیں بند کرلیں اور جرح کے انداز میں پوچھا،’’کیوں؟‘‘\n\nحیرت ہے کہ غلام علی بالکل نہ گھبرایا۔ شاید اس دفعہ نگارسے جو اسے پرخلوص محبت تھی وہ بول اٹھی، ’’بابا جی ہم نے ہندوستان کو آزادی دلانے کا جو فیصلہ کیا ہے، وقت کی مجبوریاں اسے تبدیل کرتی رہیں مگر جو فیصلہ ہے وہ تو اٹل ہے۔‘‘ بابا جی نے جیسا کہ میرا اب خیال ہے کہ اس موضوع پر بحث کرنا مناسب خیال نہ کیا چنانچہ وہ مسکرا دیے۔۔۔ اس مسکراہٹ کا مطلب بھی ان کی تمام مسکراہٹوں کی طرح ہر شخص نے بالکل الگ الگ سمجھا۔ اگر بابا جی سے پوچھا جاتا تو مجھے یقین ہے کہ وہ اس کا مطلب ہم سب سے بالکل مختلف بیان کرتے۔\n\nخیر۔۔۔ اس ہزار پہلو مسکراہٹ کو اپنے پتلے ہونٹوں پر ذرا اور پھیلاتے ہوئے انھوں نے نگار سے کہا،’’نگار تم ہمارے آشرم میں آجاؤ۔۔۔ شہزادہ تو تھوڑے دنوں میں قید ہو جائے گا۔‘‘\n\nنگار نے بڑے دھیمے لہجے میں جواب دیا، ’’جی اچھا۔‘‘\n\nاس کے بعد بابا جی نے شادی کا موضوع بدل کر جلیانوالہ باغ کیمپ کی سرگرمیوں کا حال پوچھنا شروع کردیا۔ بہت دیر تک غلام علی، نگار اور کمل گرفتاریوں، رہائیوں، دودھ،لسی اور ترکاریوں کے متعلق باتیں کرتے رہے اور جو میں بالکل چغد بنا بیٹھا تھا، یہ سوچ رہا تھا کہ بابا جی نے شادی کی اجازت دینے میں کیوں اتنی مین میخ کی ہے۔ کیا وہ غلام علی اور نگار کی محبت کو شک کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔۔۔؟ کیا انھیں غلام علی کے خلوص پرشبہ ہے؟\n\nنگار کو انھوں نے کیا آشرم میں آنے کی اس لیے دعوت دی کہ وہاں رہ کر وہ اپنے قید ہونے والے شوہر کا غم بھول جائے گی۔۔۔؟لیکن بابا جی کے اس سوال پر’’ کمل تم کب شادی کررہی ہو؟‘‘ کمل نے کیوں کہا تھا کہ میں تو آپ کے آشرم میں جارہی ہوں۔۔۔؟ آشرم میں کیا مرد عورت شادی نہیں کرتے۔۔۔۔؟ میرا ذہن عجب مخمصے میں گرفتار تھا۔ مگر ادھر یہ گفتگو ہورہی تھی کہ لیڈی والنٹیرز کیا پانچ سو رضاکاروں کے لیے چپاتیاں وقت پر تیار کرلیتی ہیں؟ چولہے کتنے ہیں؟ اور توے کتنے بڑے ہیں؟ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک بہت بڑا چولہا بنالیا جائے اور اس پر اتنا بڑا توا رکھا جائے کہ چھ عورتیں ایک ہی وقت میں روٹیاں پکا سکیں؟\n\nمیں یہ سوچ رہا تھا کہ پنڈتانی کمل کیا آشرم میں جا کر باباجی کو بس قومی گیت اور بھجن ہی سنایا کرے گی۔ میں نے آشرم کے مرد والنٹیر دیکھے تھے۔ گر وہ سب کے سب وہاں کے قواعد کے مطابق ہر روز اشنان کرتے تھے، صبح اٹھ کر داتن کرتے تھے، باہر کھلی ہوا میں رہتے تھے، بھجن گاتے تھے،مگر ان کے کپڑوں سے پسینے کی بو پھر بھی آتی تھی۔ ان میں اکثر کے دانت بدبودار تھے اور وہ جو کھلی فضا میں رہنے سے انسان پر ایک ہشاش بشاش نکھار آتا ہے،ان میں بالکل مفقود تھا۔\n\nجھکے جھکے سے، دبے دبے سے۔۔۔ زرد چہرے،دھنسی ہوئی آنکھیں، مرعوب جسم۔۔۔ گائے کے نچڑے ہوئے تھنوں کی طرح بے حس اور بے جان۔۔۔ میں ان آشرم والوں کو جلیانوالہ باغ میں کئی بار دیکھ چکا تھا۔۔۔ اب میں یہ سوچ رہا تھا کہ کیا یہی مرد جن سے گھاس کی بو آتی ہے،اس پنڈتانی کو جو دودھ، شہد اور زعفران کی بنی ہے، اپنی کیچڑ بھری آنکھوں سے گھوریں گے۔ کیا یہی مرد جن کا منہ اس قدر متعفن ہوتا ہے، اس لوبان کی مہک میں لپٹی ہوئی عورت سے گفتگو کریں گے؟\n\nلیکن پھر میں نے سوچا کہ نہیں ہندوستان کی آزادی شاید ان چیزوں سے بالاتر ہے۔ میں اس ’’شاید‘‘ کو اپنی تمام حب الوطنی اور جذبۂ آزادی کے باوجود نہ سمجھ سکا۔ کیونکہ مجھے نگار کا خیال آیا جو بالکل میرے قریب بیٹھی تھی اور بابا جی کو بتارہی تھی کہ شلجم بہت دیر میں گلتے ہیں۔۔۔ کہاں شلجم اور کہاں شادی جس کے لیے وہ اور غلام علی اجازت لینے آئے تھے۔\n\nمیں نگار اور آشرم کے متعلق سوچنے لگا۔ آشرم میں نے دیکھا نہیں تھا،مگر مجھے ایسی جگہوں سے جن کو آشرم، ودیالہ جماعت خانہ، تکیہ، یا درس گاہ کہا جائے، ہمیشہ سے نفرت ہے۔ جانے کیوں؟میں نے کئی اندھ ودیالوں اور اناتھ آشرموں کے لڑکوں اور ان کے متنظموں کو دیکھا ہے، سڑک میں قطار باندھ کرچلتے اور بھیک مانگتے ہوئے۔ میں نے جماعت خانے اور درس گاہیں دیکھی ہیں۔ ٹخنوں سے اونچا شرعی پائجامہ، بچپن ہی میں ماتھے پر محراب، جو بڑے ہیں ان کے چہرے پر گھنی داڑھی۔۔۔ جو نوخیر ہیں ان کے گالوں اور ٹھڈی پر نہایت ہی بدنما موٹے اور مہین بال۔۔۔ نماز پڑھتے جارہے ہیں لیکن ہر ایک کے چہرے پر حیوانیت۔۔۔ ایک ادھوری حیوانیت مصلے پر بیٹھی نظر آتی ہے۔\n\nنگار عورت تھی۔ مسلمان، ہندو، سکھ یا عیسائی عورت نہیں۔۔۔ وہ صرف عورت تھی، نہیں عورت کی دعا تھی جو اپنے چاہنے والے کے لیے یا جسے وہ خود چاہتی ہے صدق دل سے مانگتی ہے۔میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ بابا جی کے آشرم میں جہاں ہر روز قواعد کے مطابق دعا مانگی جاتی ہے۔ یہ عورت جو خود ایک دعا ہے، کیسے اپنے ہاتھ اٹھا سکے گی۔\n\nمیں اب سوچتا ہوں تو باباجی، نگار، غلام علی، وہ خوبصورت پنڈتانی اور امرتسر کی ساری فضا جو تحریک آزادی کے رومان آفریں کیف میں لپٹی ہوئی تھی، ایک خواب سا معلوم ہوتا ہے۔ ایسا خواب جو ایک بار دیکھنے کے بعد جی چاہتا ہے آدمی پھر دیکھے۔ بابا جی کا آشرم میں نے اب بھی نہیں دیکھا، مگر جو نفرت مجھے اس سے پہلے تھی اب بھی ہے۔وہ جگہ جہاں فطرت کے خلاف اصول بنا کر انسانوں کو ایک لکیر پرچلایا جائے، میری نظروں میں کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ آزادی حاصل کرنا بالکل ٹھیک ہے! اس کے حصول کے لیے آدمی مر جائے، میں اس کو سمجھ سکتا ہوں، لیکن اس کے لیے اگر اس غریب کو ترکاری کی طرح ٹھنڈا اور بے ضرر بنا دیا جائے تو یہی میری سمجھ سے بالکل بالاتر ہے۔\n\nجھونپڑوں میں رہنا، تن آسانیوں سے پرہیز کرنا، خدا کی حمد گانا، قومی نعرے مارنا۔۔۔ یہ سب ٹھیک ہے ،مگر یہ کیا کہ انسان کی اس حِس کو جسے طلبِ حسن کہتے ہیں آہستہ آہستہ مردہ کردیا جائے۔ وہ انسان کیا جس میں خوبصورتی اور ہنگاموں کی تڑپ نہ رہے۔ ایسے آشرموں، مدرسوں، ودیالوں اور مولیوں کے کھیت میں کیا فرق ہے۔\n\nدیر تک بابا جی، غلام علی اور نگار سے جلیانوالہ باغ کی جملہ سرگرمیوں کے متعلق گفتگو کرتے رہے۔ آخر میں انھوں نے اس جوڑے کو، جو کہ ظاہر ہے کہ اپنے آنے کا مقصد بھول نہیں گیا تھا، کہا کہ وہ دوسرے روز شام کو جلیانوالہ باغ آئیں گے اور ان دونوں کو میاں بیوی بنا دیں گے۔\n\nغلام علی اور نگار بہت خوش ہوئے۔ اس سے بڑھ کر ان کی خوش نصیبی اور کیا ہو سکتی تھی کہ بابا جی خود شادی کی رسم ادا کریں گے۔ غلام علی، جیسا کہ اس نے مجھے بہت بعد میں بتایا، اس قدر خوش ہوا تھا کہ فوراً ہی سے اس بات کا احساس ہونے لگا تھا کہ شاید جو کچھ اس نے سنا ہے غلط ہے۔ کیونکہ بابا جی کے منحنی ہاتھوں کی خفیف سی جنبش بھی ایک تاریخی حادثہ بن جاتی تھی۔ اتنی بڑی ہستی ایک معمولی آدمی کی خاطر جو محض اتفاق سے کانگریس کا ڈکٹیٹر بن گیا ہے، چل کے جلیانوالہ باغ جائے اور اس کی شادی میں دلچسپی لے۔ یہ ہندوستان کے تمام اخباروں کے پہلے صفحے کی جلی سرخی تھی۔\n\nغلام علی کا خیال تھا بابا جی نہیں آئیں گے کیونکہ وہ بہت مصروف آدمی ہیں لیکن اس کا یہ خیال، جس کا اظہار دراصل اس نے نفسیاتی نقطہ نگاہ سے صرف اس لیے کیا تھا کہ وہ ضرور آئیں، اس کی خواہش کے مطابق غلط ثابت ہوا۔۔۔ شام کے چھ بجے جلیانوالہ باغ میں جب رات کی رانی کی جھاڑیاں اپنی خوشبو کے جھونکے پھیلانے کی تیاریاں کررہی تھیں اور متعدد رضاکار دولہا دلہن کے لیے ایک چھوٹا تنبو نصب کرکے اسے چمیلی، گیندے اور گلاب کے پھولوں سے سجا رہے تھے،بابا جی اس قومی گیت گانے والی پنڈتانی، اپنے سیکریٹری اور لالہ ہری رام صراف کے ہم راہ لاٹھی ٹیکتے ہوئے آئے۔ ان کی آمد کی اطلاع جلیانوالہ باغ میں صرف اسی وقت پہنچی، جب صدر دروازے پر لالہ ہری رام کی ہری موٹر رکی۔\n\nمیں بھی وہیں تھا۔ لیڈی والنٹیرز ایک دوسرے تنبو میں نگار کو دلہن بنا رہی تھیں۔ غلام علی نے کوئی خاص اہتمام نہیں کیا تھا۔ سارا دن وہ شہر کے کانگریسی بنیوں سے رضا کاروں کے کھانے پینے کی ضروریات کے متعلق گفتگو کرتا رہا تھا۔ اس سے فارغ ہوکر اس نے چند لمحات کے لیے نگار سے تخلیے میں کچھ بات چیت کی تھی۔ اس کے بعد جیسا کہ میں جانتا ہوں، اس نے اپنے ماتحت افسروں سے صرف اتنا کہا تھا کہ شادی کی رسم ادا ہونے کے ساتھ ہی وہ اور نگار دونوں جھنڈا اونچا کریں گے۔\n\nجب غلام علی کو بابا جی کی آمد کی اطلاع پہنچی تو وہ کنوئیں کے پاس کھڑا تھا۔ میں غالباً اس سے یہ کہہ رہا تھا،’’غلام علی تم جانتے ہوں یہ کنواں، جب گولی چلی تھی، لاشوں سے لبالب بھر گیا تھا۔۔۔ آج سب اس کا پانی پیتے ہیں۔۔۔ اس باغ کے جتنے پھول ہیں۔ اس کے پانی نے سینچے ہیں۔ مگر لوگ آتے ہیں اور انھیں توڑ کر لے جاتے ہیں۔۔۔ پانی کے کسی گھونٹ میں لہو کا نمک نہیں ہوتا، پھول کی کسی پتی میں خون کی لالی نہیں ہوتی۔۔۔ یہ کیا بات ہے؟‘‘\n\nمجھے اچھی طرح یاد ہے، میں نے یہ کہہ کر اپنے سامنے، اس مکان کی کھڑکی کی طرف دیکھا جس میں، کہا جاتا ہے کہ ایک نو عمر لڑکی بیٹھی تماشا دیکھ رہی تھی اور جنرل ڈائر کی گولی کا نشانہ بن گئی تھی۔ اس کے سینے سے نکلے ہوئے خون کی لکیر چونے کی عمر رسیدہ دیوار پر دھندلی ہورہی تھی۔اب خون کچھ اس قدر ارزاں ہوگیا کہ اس کے بہنے بہانے کا وہ اثر ہی نہیں ہوتا۔ مجھے یاد ہے کہ جلیانوالہ باغ کے خونیں حادثے کے چھ سات مہینے بعد جب میں تیسری یا چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا،مارا ماسٹر ساری کلاس کو ایک دفعہ اس باغ میں لے گیا۔ اس وقت یہ باغ باغ نہیں تھا۔ اجاڑ، سنسان اور اونچی نیچی خشک زمین کا ایک ٹکڑا تھا، جس میں ہر قدم پر مٹی کے چھوٹے بڑے ڈھیلے ٹھوکریں کھاتے تھے۔ مجھے یاد ہے مٹی کا ایک چھوٹا سا ڈھیلا جس پر جانے پان کی پیک کے دھبے یا کیا تھا، ہمارے ماسٹر نے اٹھا لیا تھا اور ہم سے کہا تھا۔ دیکھو اس پر ابھی تک ہمارے شہیدوں کا خون لگا ہے۔\n\nیہ کہانی لکھ رہا ہوں اور حافظے کی تختی پر سیکڑوں چھوٹی چھوٹی باتیں ابھر رہی ہیں مگر مجھے تو غلام علی اور نگار کی شادی کا قصہ بیان کرنا ہے۔\n\nغلام علی کو جب بابا جی کی آمد کی خبر ملی تو اس نے دوڑ کر سب والنٹیر اکٹھے کیے جنہوں نے فوجی انداز میں ان کو سیلوٹ کیا۔ اس کے بعد کافی دیر تک وہ واور غلام علی مختلف کیمپوں کا چکرلگاتے رہے۔ اس دوران میں بابا جی نے، جن کی مزاحیہ حس بہت تیز تھی، لیڈی والنٹیرز اور دوسرے ورکرز سے گفتگوکرتے وقت کئی فقرے چست کیے۔\n\nادھر ادھر مکانوں میں جب بتیاں جلنے لگیں اور دھندلا اندھیرا سا جلیانوالہ باغ پر چھا گیا تو رضا کار لڑکیوں نے ایک آواز ہو کر بھجن گانا شروع کیا۔ چند آوازیں سریلی، باقی سب کن سری تھیں مگر ان کا مجموعی اثر بہت خوشگوار تھا۔ بابا جی آنکھیں بندکیے سن رہے تھے۔ تقریباً ایک ہزار آدمی موجود تھے،جو چبوترے کے اردگرد زمین پر بیٹھے تھے۔ بھجن گانے والی لڑکیوں کے علاوہ ہر شخص خاموش تھا۔بھجن ختم ہونے پر چند لمحات تک ایسی خاموشی طاری رہی جو ایک دم ٹوٹنے کے لیے بے قرارہو۔ چنانچہ جب بابا جی نے آنکھیں کھولیں اور اپنی میٹھی آواز میں کہا، ’’بچو، جیسا کہ تمہیں معلوم ہے،میں یہاں آج آزادی کے دو دیوانوں کو ایک کرنے آیا ہوں۔‘‘ تو سارا باغ خوشی کے نعروں سے گونج اٹھا۔\n\nنگار دلہن بنی چبوترے کے ایک کونے میں سر جھکائے بیٹھی تھی۔ کھادی کی ترنگی ساڑی میں بہت بھلی دکھائی دے رہی تھی۔ بابا جی نے اشارے سے اسے بلایا اور غلام علی کے پاس بٹھا دیا۔ اس پر اور خوشی کے نعرے بلند ہوئے۔غلام علی کا چہرہ غیر معمولی طور پر تمتما رہا تھا۔ میں نے غور سے دیکھا، جب اس نے نکاح کا کاغذ اپنے دوست سے لے کربابا جی کو دیا تو اس کا ہاتھ لرز گیا۔ چبوترے پر ایک مولوی صاحب بھی موجود تھے۔ انھوں نے قرآن کی وہ آیت پڑھی جو ایسے موقعوں پر پڑھا کرتے ہیں۔ بابا جی نے آنکھیں بند کرلیں۔ ایجاب و قبول ختم ہوا تو انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں دولھا دلہن کو آشیرواد دی اور جب چھوہاروں کی بارش شروع ہوئی تو انھوں نے بچوں کی طرح جھپٹ جھپٹ کر دس پندرہ چھوہارے اکٹھے کرکے اپنے پاس رکھ لیے۔\n\nنگار کی ایک ہندو سہیلی نے شرمیلی مسکراہٹ سے ایک چھوٹی سی ڈبیا غلام علی کو دی اور اس سے کچھ کہا۔ غلام علی نے ڈبیا کھولی اور نگار کی سیدھی مانگ میں سیندور بھر دیا۔ جلیانوالہ باغ کی خنک فضا ایک بار پھر تالیوں کی تیز آواز سے گونج اٹھی۔\n\nبابا جی اس شور میں اٹھے۔ ہجوم ایک دم خاموش ہوگیا۔\n\nرات کی رانی اور چمیلی کی ملی جلی سوندھی سوندھی خوشبو، شام کی ہلکی پھلکی ہوا میں تیر رہی تھی، بہت سہانا سماں تھا، بابا جی کی آواز آج اور بھی میٹھی تھی۔ غلام علی اور نگار کی شادی پر اپنی دلی مسرت کا اظہار کرنے کے بعد انھوں نے کہا:یہ دونوں بچے اب زیادہ تندہی اور خلوص سے اپنے ملک اور قوم کی خدمت کریں گے۔ کیونکہ شادی کا صحیح مقصد مرد اور عورت کی پرخلوص دوستی ہے۔ ایک دوسرے کے دوست بن کر غلام علی اور نگار یکجہتی سے سوراج کے لیے کوشش کرسکتے ہیں۔ یورپ میں ایسی کئی شادیاں ہوتی ہیں جن کا مطلب دوستی اور صرف دوستی ہوتا ہے۔ ایسے لوگ قابل احترام ہیں جو اپنی زندگی سے شہوت نکال پھینکتے ہیں۔\n\nبابا جی دیر تک شادی کے متعلق اپنے عقیدے کا اظہار کرتے رہے۔ ان کا ایمان تھا کہ صحیح مزا صرف اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب مرد اور عورت کا تعلق صرف جسمانی نہ ہو۔ عورت اور مرد کا شہوانی رشتہ ان کے نزدیک اتنا اہم نہیں تھا جتنا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ ہزاروں آدمی کھاتے ہیں، اپنے ذائقے کی حس کو خوش کرنے کے لیےلیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا کرنا انسانی فرض ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو کھاتے ہیں زندہ رہنے کے لیے ۔اصل میں صرف یہی لوگ ہیں جو خوردونوش کے صحیح قوانین جانتے ہیں۔ اسی طرح وہ انسان جو صرف اس لیے شادی کرتے ہیں کہ انھیں شادی کے مطہر جذبے کی حقیقت اور اس رشتے کی تقدیس معلوم ہو،حقیقی معنوں میں ازدواجی زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔\n\nبابا جی نے اپنے اس عقیدے کو کچھ اس وضاحت، کچھ ایسے نرم و نازک خلوص سے بیان کیا کہ سننے والوں کے لیے ایک بالکل نئی دنیا کے دروازے کھل گئے۔ میں خود بہت متاثر ہوا۔ غلام علی جو میرے سامنے بیٹھا تھا، بابا جی کی تقریر کے ایک ایک لفظ کو جیسے پی رہا تھا۔ بابا جی نے جب بولنا بند کیا تو اس نے نگار سے کچھ کہا۔ اس کے بعد اٹھ کر اس نے کانپتی ہوئی آواز میں یہ اعلان کیا،’’میری اور نگار کی شادی اسی قسم کی آدرش شادی ہوگی، جب تک ہندوستان کو سوراج نہیں ملتا،میرا اور نگار کا رشتہ بالکل دوستوں جیسا ہوگا۔۔۔‘‘\n\nجلیانوالہ باغ کی خنک فضا دیر تک تالیوں کے بے پناہ شور سے گونجتی رہی۔ شہزادہ غلام علی جذباتی ہوگیا۔ اس کے کشمیری چہرے پر سرخیاں دوڑنے لگیں۔ جذبات کی اسی دوڑ میں اس نے نگار کو بلند آواز میں مخاطب کیا، ’’نگار! تم ایک غلام بچے کی ماں بنو۔۔۔ کیا تمہیں یہ گوارا ہوگا؟‘‘ نگار جو کچھ شادی ہونے پر اور کچھ بابا جی کی تقریر سن کر بوکھلائی ہوئی تھی، یہ کڑک سوال سن کر اور بھی بوکھلا گئی۔ صرف اتنا کہہ سکی، ’’جی۔۔۔؟ جی نہیں۔‘‘\n\nہجوم نے پھر تالیاں پیٹیں اور غلام علی اور زیادہ جذباتی ہوگیا۔ نگار کو غلام بچے کی شرمندگی سے بچا کر وہ اتنا خوش ہوا کہ وہ بہک گیا اور اصل موضوع سے ہٹ کر آزادی حاصل کرنے کی پیچ دار گلیوں میں جا نکلا۔ ایک گھنٹے تک وہ جذبات بھری آواز میں بولتا رہا۔ اچانک اس کی نظر نگار پر پڑی۔ جانے کیا ہوا۔۔۔ ایک دم اس کی قوت گویائی جواب دے گئی۔ جیسے آدمی شراب کے نشے میں بغیر کسی حساب کے نوٹ نکالتا جائے اور ایک دم بٹوہ خالی پائے۔ اپنی تقریر کا بٹوہ خالی پا کر غلام علی کو کافی الجھن ہوئی مگر اس نے فوراً ہی بابا جی کی طرف دیکھا اور جھک کرکہا،’’بابا جی۔۔۔ ہم دونوں کو آپ کا آشیرواد چاہیے کہ جس بات کا ہم نے عہد کیا ہے، اس پر پورے رہیں۔‘‘\n\nدوسرے روز صبح چھ بجے شہزادہ غلام علی کو گرفتار کرلیا گیا۔ کیونکہ اس تقریر میں جو اس نے سوراج ملنے تک بچہ پیدا نہ کرنے کی قسم کھانے کے بعد کی تھی، انگریزوں کا تختہ الٹنے کی دھمکی بھی تھی۔گرفتار ہونے کے چند روز بعد غلام علی کو آٹھ مہینے کی قید ہوئی اور ملتان جیل بھیج دیا گیا۔ وہ امرتسر کا اکیالیسواں ڈکٹیٹر تھا اور شاید چالیس ہزارواں سیاسی قیدی۔ کیونکہ جہاں تک مجھے یاد ہے، اس تحریک میں قید ہونے والے لوگوں کی تعداد اخباروں نے چالیس ہزار ہی بتائی تھی۔\n\nعام خیال تھا کہ آزادی کی منزل اب صرف دو ہاتھ ہی دور ہے۔ لیکن فرنگی سیاست دانوں نے اس تحریک کا دودھ ابلنے دیا اور جب ہندوستان کے بڑے لیڈروں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو یہ تحریک ٹھنڈی لسی میں تبدیل ہوگئی۔آزادی کے دیوانے جیلوں سے باہر نکلے تو قید کی صعوبتیں بھولنے اور اپنے بگڑے ہوئے کاروبار سنوارنے میں مشغول ہو گئے۔ شہزادہ غلام علی سات مہینے کے بعد ہی باہر آگیا تھا۔ گو اس وقت پہلا سا جوش نہیں تھا،پھر بھی امرتسر کے اسٹیشن پر لوگوں نے اس کا استقبال کیا۔ اس کے اعزاز میں تین چار دعوتیں اور جلسے بھی ہوئے۔ میں ان سب میں شریک تھا مگر یہ محفلیں بالکل پھیکی تھیں۔ لوگوں پر اب ایک عجیب قسم کی تھکاوٹ طاری تھی جیسے ایک لمبی دوڑ میں اچانک دوڑنے والوں سے کہہ دیا گیا تھا، ’’ٹھہرو، یہ دوڑ پھر سے شروع ہوگی۔‘‘ اور اب جیسے یہ دوڑنے والے کچھ دیر ہانپنے کے بعد دوڑ کے مقام آغاز کی طرف بڑی بے دلی کے ساتھ واپس آرہے تھے۔\n\nکئی برس گزر گئے۔۔۔ یہ بے کیف تھکاوٹ ہندوستان سے دور نہ ہوئی تھی۔ میری دنیا میں چھوٹے موٹے کئی انقلاب آئے۔ داڑھی مونچھ اگی، کالج میں داخل ہوا، ایف اے میں دوبارہ فیل ہوا،والد انتقال کرگئے، روزی کی تلاش میں ادھر ادھر پریشان ہوا، ایک تھرڈ کلاس اخبار میں مترجم کی حیثیت سے نوکری کی، یہاں سے جی گھبرایا تو ایک بار پھر تعلیم حاصل کرنے کا خیال آیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں داخل ہوا اور تین ہی مہینے بعد دق کا مریض ہو کرکشمیر کے دیہاتوں میں آوارہ گردی کرتا رہا۔ وہاں سے لوٹ کر بمبئی کا رخ کیا۔ یہاں دو برسوں میں تین ہندو مسلم فساد دیکھے۔ جی گھبرایا تو دلی چلا گیا۔ وہاں بمبئی کے مقابلے میں ہر چیز سست رفتار دیکھی۔ کہیں حرکت نظر بھی آئی تو اس میں ایک زنانہ پن محسوس ہوا۔ آخر یہی سوچا کہ بمبئی اچھا ہے۔ کیا ہوا ساتھ والے ہمسائے کو ہمارا نام تک پوچھنے کی فرصت نہیں۔ جہاں لوگوں کو فرصت ہوتی ہے،وہاں ریا کاریاں اور چال بازیاں زیادہ پیدا ہوتی ہیں۔ چنانچہ دلی میں دو برس ٹھنڈی زندگی بسر کرنے کے بعد سدا متحرک بمبئی چلا آیا۔\n\nگھر سے نکلے اب آٹھ برس ہو چلے تھے۔ دوست احباب اور امرتسر کی سڑکیں، گلیاں کس حالت میں ہیں، اس کا مجھے کچھ علم نہیں تھا، کسی سے خط و کتابت ہی نہیں تھی جو پتہ چلتا۔ دراصل مجھے ان آٹھ برسوں میں اپنے مستقبل کی طرف سے کچھ بے پروائی سی ہوگئی تھی۔۔۔ کون بیتے ہوئے دنوں کے متعلق سوچے۔ جو آٹھ برس پہلے خرچ ہو چکا ہے،اس کا اب احساس کرنے سے فائدہ۔۔۔؟ زندگی کے روپے میں وہی پائی زیادہ اہم ہے جسے تم آج خرچنا چاہتے ہو یا جس پرکل کسی کی آنکھ ہے۔\n\nآج سے چھ برس پہلے کی بات کررہا ہوں، جب زندگی کے روپے اور چاندی کے روپے سے، جس پر بادشاہ سلامت کی چھاپ ہوتی ہے، پائی خارج نہیں ہوئی تھی۔ میں اتنا زیادہ قلاش نہیں تھاکیونکہ فورٹ میں اپنے پاؤں کے لیے ایک قیمتی شو خریدنے جارہا تھا۔آرمی اینڈ نیوی اسٹور کے اس طرف ہاربنی روڈ پر جوتوں کی ایک دکان ہے جس کی نمائشی الماریاں مجھے بہت دیر سے اس طرف کھینچ رہی تھیں۔ میرا حافظہ بہت کمزور ہے ،چنانچہ یہ دکان ڈھونڈنے میں کافی وقت صرف ہوگیا۔\n\nیوں تو میں اپنے لیے ایک قیمتی شو خریدنے آیا تھا مگر جیسا کہ میری عادت ہے، دوسری دکانوں میں سجی ہوئی چیزیں دیکھنے میں مصروف ہوگیا۔ ایک اسٹور میں سگریٹ کیس دیکھے، دوسرے میں پائپ، اسی طرح فٹ پاتھ پر ٹہلتا ہوا جوتوں کی ایک چھوٹی سی دکان کے پاس آیا اور اس کے اندر چلا گیا کہ چلو یہیں سے خرید لیتے ہیں، دکاندار نے میرا استقبال کیا اور پوچھا،’’کیا مانگتا ہے صاحب۔‘‘\n\nمیں نے تھوڑی دیر یاد کیا کہ مجھے کیا چاہیے، ’’ہاں۔۔۔ کریپ سول شو۔‘‘\n\n’’ادھر نہیں رکھتا ہم۔‘‘\n\nمون سون قریب تھی۔ میں نے سوچا گم بوٹ ہی خرید لوں،’’گم بوٹ نکالو۔‘‘\n\n’’باجو والے کی دکان سے ملیں گے۔۔۔ ربڑ کی کئی چیز ہم ادھر نہیں رکھتا۔‘‘\n\nمیں نے ایسے ہی پوچھا، ’’کیوں؟‘‘\n\n’’سیٹھ کی مرضی!‘‘\n\nیہ مختصر مگر جامع جواب سن کر میں دکان سے باہر نکلنے ہی والا تھا کہ ایک خوش پوش آدمی پر میری نظر پڑی جو باہر فٹ پاتھ پر ایک بچہ گود میں اٹھائے پھل والے سے سنگترہ خرید رہا تھا۔ میں باہر نکلا اور وہ دکان کی طرف مڑا، ’’ارے۔۔۔ غلام علی۔۔۔‘‘\n\n’’سعادت !‘‘\n\nیہ کہہ کر اس نے بچے سمیت مجھے اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔ بچے کو یہ حرکت ناگوار معلوم ہوئی، چنانچہ اس نے رونا شروع کردیا۔ غلام علی نے اس آدمی کو بلایا جس نے مجھ سے کہا تھا کہ ربڑ کی کوئی چیز ادھر ہم نہیں رکھتا اور اسے بچہ دے کر کہا ’’جاؤ اسے گھر لے جاؤ۔‘‘ پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوا، ’’کتنی دیر کے بعد ہم ایک دوسرے سے ملے ہیں۔‘‘\n\nمیں نے غلام علی کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا۔۔۔ وہ کج کلاہی، وہ ہلکا سا غنڈا پن جو اس کی امتیازی شان تھا۔ اب بالکل مفقود تھا۔۔۔ میرے سامنے آتشیں تقریریں کرنے والے کھادی پوش نوجوان کی جگہ ایک گھریلو قسم کا عام انسان کھڑا تھا۔۔۔ مجھے اس کی وہ آخری تقریر یاد آئی، جب اس نے جلیانوالہ باغ کی خنک فضا کو ان گرم الفاظ سے مرتعش کیا تھا، ’’نگار۔۔۔ تم ایک غلام بچے کی ماں بنو۔۔۔ کیا تمہیں یہ گوارا ہوگا۔۔۔‘‘ فوراً ہی مجھے اس بچے کا خیال آیاجو غلام علی کی گود میں تھا۔ میں اس سے یہ پوچھا،’’یہ بچہ کس کا ہے؟‘‘ غلام علی نے بغیر کسی جھجک کے جواب دیا،’’میرا۔۔۔ اس سے بڑا ایک اور بھی ہے۔۔۔ کہو، تم نے کتنے پیدا کیے۔‘‘\n\nایک لحظے کے لیے مجھے محسوس ہوا جیسے غلام علی کے بجائے کوئی اور ہل بول رہا ہے۔ میرے دماغ میں سیکڑوں خیال اوپر تلے گرتے گئے۔ کیا غلام علی اپنی قسم بالکل بھول چکا ہے؟کیا اس کی سیاسی زندگی اس سے قطعاً علیحدہ ہو چکی ہے؟ ہندوستان کو آزادی دلانے کا وہ جوش، وہ ولولہ کہاں گیا؟ اس بے ریش و بروت للکار کا کیا ہوا۔۔۔؟ نگار کہاں تھی۔۔۔؟کیا اس نے دو غلام بچوں کی ماں بننا گوارا کیا۔۔۔؟ شاید وہ مرچکی ہو۔ہو سکتا ہے، غلام علی نے دوسری شادی کرلی ہو۔\n\n’’کیا سوچ رہے ہو۔۔۔ کچھ باتیں کرو۔ اتنی دیر کے بعد ملے ہیں۔‘‘ غلام علی نے میرے کاندھے پر زور سے ہاتھ مارا۔\n\nمیں شاید خاموش ہوگیا تھا۔ ایک دم چونکا اور ایک لمبی ’’ہاں‘‘ کرکے سوچنے لگا کہ گفتگو کیسے شروع کروں۔ لیکن غلام علی نے میرا انتظار نہ کیا اور بولنا شروع کردیا، ’’یہ دکان میری ہے۔ دو برس سے میں یہاں بمبئی میں ہوں۔ بڑا اچھا کاروبار چل رہا ہے۔ تین چار سو مہینے کے بچ جاتے ہیں۔ تم کیا کررہے ہو۔ سنا ہے کہ بہت بڑے افسانہ نویس بن گئے ہو۔ یاد ہے ہم ایک دفعہ یہاں بھاگ کے آئے تھے۔۔۔ لیکن یار عجیب بات ہے،اس بمبئی اور اس بمبئی میں بڑا فرق محسوس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے وہ چھوٹی تھی اور یہ بڑی ہے۔‘‘\n\nاتنے میں ایک گاہک آیا، جسے ٹینس شو چاہیے تھا۔ غلام علی نے اس سے کہا،’’ربڑ کا مال اِدھر نہیں ملتا۔ بازو کی دکان میں چلے جائیے۔‘‘\n\nگاہک چلا گیا تو میں نے غلام سے پوچھا، ’’ربڑ کا مال تم کیوں نہیں رکھتے؟ میں بھی یہاں کریپ سول شو لینے آیا تھا۔‘‘\n\nیہ سوال میں نے یونہی کیا تھالیکن غلام علی کا چہرہ ایک دم بے رونق ہوگیا۔\n\nدھیمی آواز میں صرف اتنا کہا، ’’مجھے پسند نہیں۔‘‘\n\n’’کیا پسند نہیں؟‘‘\n\n’’یہی ربڑ۔۔۔ ربڑ کی بنی ہوئی چیزیں۔‘‘یہ کہہ کر اس نے مسکرانے کی کوشش کی۔ جب ناکام رہا تو زور سے خشک سا قہقہہ لگایا، ’’میں تمہیں بتاؤں گا۔ ہے تو بالکل واہیات سی چیز، لیکن۔۔۔ لیکن میری زندگی سے اس کا بہت گہرا تعلق ہے۔‘‘\n\nتفکر کی گہرائی غلام علی کے چہرے پر پیدا ہوئی۔ اس کی آنکھیں جن میں ابھی تک کھلنڈرا پن موجود تھا، ایک لحظے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%A7%D8%AC_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "سورج کی کرنوں کا گیت", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سنہری سورج نے آسماں پر\nکہا کہ کیا بھیجوں میں زمیں کو\nیہ راگ تھا کرنوں کی زباں پر\nزمیں پہ جانے دو تم ہمیں کو\n\nترس گیا دھوپ کو زمانہ\nہیں کب سے چھائی ہوئی گھٹائیں\nجو آج کر دو ہمیں روانہ\nزمین پر نور جا بچھائیں\n\nگھٹا کے پردوں کو چاک کر دیں\nزمین پر روشنی لٹائیں\nچمن کو کیچڑ سے پاک کر دیں\nدرختوں سے کھیلیں اور کھلائیں\n\nیہ گیت گاتی ہوئی جہاں میں\nچھما چھم آئیں سنہری کرنیں\nہر ایک گھر میں ہر اک مکاں میں\nمچل کے چھائیں سنہری کرنیں\n\nجو بچے اس وقت سو رہے ہیں\nیہ ان کے بستر پہ جھومتی ہیں\nوہ چپ ہیں بے ہوش ہو رہے ہیں\nیہ ان کی آنکھوں کو چومتی ہیں\n\nیہ ان کے گالوں پہ گرتی ہیں\nتو گال ہو جاتے ہیں سنہری\nیہ ان کے بالوں پہ گرتی ہیں جب\nتو بال ہو جاتے ہیں سنہری\n\nرسیلی لے میں سنا رہی ہیں\nکہ اٹھو جاگ اٹھو پیارے بچو\nہوائیں بھی گیت گا رہی ہیں\nکہ آؤ اب کھیلو پیارے بچو\n\nبس اٹھ کھڑے ہو ہماری خاطر\nیہ سوچو آئے ہیں ہم کہاں سے\nاور اس پہ دیکھو تمہاری خاطر\nیہ تحفہ لائے ہیں آسماں سے\n\nیہ تحفہ تم جانتے ہو کیا ہے\nسنہری سورج کی روشنی ہے\nوہ دیکھو سورج چمک رہا ہے\nشفق کی وادی لہک رہی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%AA"} {"title": "سوز دل کا ذکر اپنے منہ پہ جب لاتے ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سوز دل کا ذکر اپنے منہ پہ جب لاتے ہیں ہم\nشمع ساں اپنی زباں سے آپ جل جاتے ہیں ہم\n\nدم بدم اس شوخ کے آزردہ ہو جانے سے آہ\nجب نہیں کچھ اپنا بس چلتا تو گھبراتے ہیں ہم\n\nبیٹھنے کو تو نہیں آئے ہیں یاں اے باغباں\nکیوں خفا ہوتا ہے اتنا ہم سے تو جاتے ہیں ہم\n\nدل سے ہم چھٹ جائیں یا دل ہم سے چھٹ جاوے کہیں\nاس کے الجھیڑے سے اب تو سخت اکتاتے ہیں ہم\n\nدل خدا جانے کدھر گم ہو گیا اے دوستاں\nڈھونڈھتے پھرتے ہیں کب سے اور نہیں پاتے ہیں ہم\n\nدونوں دیوانے ہیں کیا سمجھیں گے آپس میں عبث\nہم کو سمجھاتا ہے دل اور دل کو سمجھاتے ہیں ہم\n\nیاد میں اس گلبدن کی آج کل تو اے حسنؔ\nباغ میں پھر پھر کے اپنے دل کو بہلاتے ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "سوز دل ہر شب ہمیں اپنا ہی بتلاتی ہے شمع", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سوز دل ہر شب ہمیں اپنا ہی بتلاتی ہے شمع\nدل کا جلنا ہم دکھاتے ہیں تو جل جاتی ہے شمع\n\nیہ دھواں نیں درد سے بھرتی ہے آہیں جاں گداز\nکس نزاکت سات ایک ایک اشک ٹپکاتی ہے شمع\n\nسر ستے پاؤں تلک غرق عرق بے وجہ نیں\nبے حجاب اس شعلہ رو کو دیکھ شرماتی ہے شمع\n\nشعلہ رو کے دیکھنے کی یاں تلک مشتاق ہے\nپاؤں تک سر سے لگا کر آنکھ بن جاتی ہے شمع\n\nعشقؔ پروانے کے ماتم میں وہ اپنے بال کھول\nسوز دل سے آہ کیا رونے میں بھر جاتی ہے شمع", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D8%B1_%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D9%85%D8%B9"} {"title": "سوز سے ساز کیا چاہئے اب", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "سوز سے ساز کیا چاہئے اب\nنے سے آواز کیا چاہئے اب\n\nکھا کے تیر نگہ ناز اس کو\nقدر انداز کیا چاہئے اب\n\nجس میں جی جسم میں آئے اے جاں\nہاں وہ اعجاز کیا چاہئے اب\n\nدل میں آتا ہے ترے غم کو یار\nمحرم راز کیا چاہئے اب\n\nکان تک اس کے تو پہنچے یکبار\nایسی آواز کیا چاہئے اب\n\nحسن کا وصف ترے صورت خط\nخامہ پرواز کیا چاہئے اب\n\nروغن قاز ملے وصف ناز\nتازہ پرداز کیا چاہئے اب\n\nتا نہ ہو طائر جاں صید کہیں\nچشم دل باز کیا چاہئے اب\n\nطائر فکر کو سستی سے وقارؔ\nتیز پرواز کیا چاہئے اب", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%A8"} {"title": "سوز شمع ہجر سے شب جل گئے", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سوز شمع ہجر سے شب جل گئے\nڈھلتے ڈھلتے آنسو ہم خود ڈھل گئے\n\nکل کا وعدہ کیا رقیبوں سے کیا\nکرتے آج آپس میں کچھ کل کل گئے\n\nوہ اٹھا کر یک قدم آیا نہ گاہ\nہم قدم ساں اس کے سر کے بل گئے\n\nکب چھپی چھب تختی اور وہ چال ڈھال\nگو کہ منہ پر کر کے تم اوجھل گئے\n\nشرط تھی مانوں گا جو مانگو گے تم\nنام بوسہ سنتے ہی کچھ ٹل گئے\n\nسادہ رو تو دل کے اجلے چور ہیں\nہاتھ لے یہ مال کرتے ٹل گئے\n\nغنچۂ دل اظفریؔ تقریب سیر\nگل رخاں پامال کر مل دل گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D8%AC%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "سوز غم دوری نے جلا رکھا ہے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "سوز غم دوری نے جلا رکھا ہے\nآہوں نے کنول دل کا بجھا رکھا ہے\nنکلو کہیں جلد عمر آخر ہے انیسؔ\nاس ہند سیہ بخت میں کیا رکھا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%84%D8%A7_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "سوز و گداز عشق کا لذت چشیدہ ہوں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سوز و گداز عشق کا لذت چشیدہ ہوں\nمانند آبلہ ہمہ تن آب دیدہ ہوں\n\nگر تو نہ ہو تو پھر کسی کافر کا دل لگے\nدوزخ میں آرمیدہ ارم سے رمیدہ ہوں\n\nاللہ ر کشاکش دیر و حرم کہ میں\nظالم ہزار ہاتھ سے دامن دریدہ ہوں\n\nپروانہ پاس شمع کے بلبل ہے گل کے پاس\nاک میں کہ تیری بزم میں خلوت گزیدہ ہوں\n\nافتادگی پہ بھی نہ گئی اس کی جستجو\nگویا زمیں پہ سایۂ مرغ پریدہ ہوں\n\nاے آرزوئے تازہ نہ کر مجھ سے چھیڑ چھاڑ\nمیں پائے شوق و دست تمنا بریدہ ہوں\n\nاے داغؔ جس کے واسطے روز جزا بنا\nوہ کون ہے وہ میں ہی تو آفت رسیدہ ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%88_%DA%AF%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%DA%86%D8%B4%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "سوز پروانہ نور دین شمع", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "سوز پروانہ نور دین شمع\nتار زنار دل نشین شمع\n\nقطرۂ خون زخم پروانہ\nقشقۂ تازۂ جبین شمع\n\nتم بھی دو ایک بوسہ بہر خدا\nکہ ہے گلگیر بوسہ چین شمع\n\nدانۂ عشق بو رہا ہے پتنگ\nسوختہ گرچہ ہے زمین شمع\n\nمیری عرض حیات کا ہے طول\nنفس تنگ واپسین شمع\n\nآہ پروانہ کا پریشاں دود\nبن گیا زلف عنبرین شمع\n\nقدر مجنوں نہ ہوگی میرے بعد\nخاک جگنو ہو جانشین شمع\n\nروز اول سے ہیں بہم مربوط\nدست پروانہ آستین شمع\n\nحق میں پروانہ کے ہے تیر شہاب\nاے وقارؔ آہ آتشین شمع", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D8%B4%D9%85%D8%B9"} {"title": "سوزش دل سے مفت گلتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سوزش دل سے مفت گلتے ہیں\nداغ جیسے چراغ جلتے ہیں\n\nاس طرح دل گیا کہ اب تک ہم\nبیٹھے روتے ہیں ہاتھ ملتے ہیں\n\nبھری آتی ہیں آج یوں آنکھیں\nجیسے دریا کہیں ابلتے ہیں\n\nدم آخر ہے بیٹھ جا مت جا\nصبر کر ٹک کہ ہم بھی چلتے ہیں\n\nتیرے بے خود جو ہیں سو کیا چیتیں\nایسے ڈوبے کہیں اچھلتے ہیں\n\nفتنہ درسر بتان حشر خرام\nہائے رے کس ٹھسک سے چلتے ہیں\n\nنظر اٹھتی نہیں کہ جب خوباں\nسوتے سے اٹھ کے آنکھ ملتے ہیں\n\nاس سر زلف کا خیال نہ چھوڑ\nسانپ کے سر ہی یاں کچلتے ہیں\n\nتھے جو اغیار سنگ سینے کے\nاب تو کچھ ہم کو دیکھ ٹلتے ہیں\n\nشمع رو موم کے بنے ہیں مگر\nگرم ٹک ملیے تو پگھلتے ہیں\n\nمیرؔ صاحب کو دیکھیے جو بنے\nاب بہت گھر سے کم نکلتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B2%D8%B4_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%81%D8%AA_%DA%AF%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سوزش شعلۂ فرقت سے فنا ہو جانا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سوزش شعلۂ فرقت سے فنا ہو جانا\nمرض غم کے لیے ہے یہ دوا ہو جانا\n\nسہل ہے ناوک مژگاں کا قضا ہو جانا\nغمزۂ چشم کا آساں ہے جفا ہو جانا\n\nآرزو تجھ سے یہ کہتا ہوں شب فرقت میں\nخود دعا ہونا کبھی دست دعا ہو جانا\n\nصورت خاک گلستاں میں نہ رہنا اے دل\nمثل بو دامن گلشن سے جدا ہو جانا\n\nداغ بن کر تو رہا دامن قاتل پہ مگر\nبوئے خوں بہر خدا بوئے وفا ہو جانا\n\nبے قراری سے تو راحت ہو کوئی دم حاصل\nجسم سے جان حزیں جلد جدا ہو جانا\n\nشب غم دل سے جمیلہؔ نے یہی رو کے کہا\nمل کے مٹی میں تو نقش کف پا ہو جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B2%D8%B4_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%82_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "سولی چڑھے جو یار کے قد پر فدا نہ ہو", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سولی چڑھے جو یار کے قد پر فدا نہ ہو\nپھانسی چڑھے جو قیدی زلف رسا نہ ہو\n\nمضموں وہ کیا جو لذت غم سے بھرا نہ ہو\nشاعر وہ کیا کلام میں جس کے مزا نہ ہو\n\nبد نام میرے واسطے وہ دل ربا نہ ہو\nیارب عدو کے ہاتھ سے میری قضا نہ ہو\n\nجب اپنی کوئی بات بغیر از دعا نہ ہو\nدشمن کے کہنے سننے سے ناداں خفا نہ ہو\n\nہو وہ اگر خلاف موافق ہوا نہ ہو\nڈوبے وہ ناؤ جس کا خدا ناخدا نہ ہو\n\nدلدادگی کو حسن خداداد کم نہیں\nناصح اگر نہیں ہے بتوں میں وفا نہ ہو\n\nروز جزا وہ شوخ ملے ہم کو اے خدا\nاس کے سوا کچھ اور عدو کی سزا نہ ہو\n\nمشکل کا سامنا ہو تو ہمت نہ ہاریے\nہمت ہے شرط صاحب ہمت سے کیا نہ ہو\n\nبت آذران وقت بنائیں اگر ہزار\nتیرا نظیر ایک بھی نام خدا نہ ہو\n\nدھوکے میں میرے قتل کیا اس نے غیر کو\nقاتل کا کیا قصور جو میری قضا نہ ہو\n\nسچ ہے کہ ہر کمال کو دنیا میں ہے زوال\nایسا بڑا ہے کون جو آخر گھٹا نہ ہو\n\nروز جزا سے واعظ ناداں اسے ڈرا\nصدمہ شب فراق کا جس نے سہا نہ ہو\n\nملتا نہیں پتا ترے چھلے کے چور کا\nاے گل بدن یہ شوخی دزد حنا نہ ہو\n\nتیرا گلہ نہ غیر کا شکوہ زباں پہ ہے\nکرتا ہوں عرض حال ستم گر خفا نہ ہو\n\nپاتے ہیں کج سرشت جزا اپنے فعل کی\nکہتی ہے راستی کہ برے کا بھلا نہ ہو\n\nبلبل نہ پھول خندۂ صبح بہار پر\nناداں کہیں یہ خندۂ دنداں نما نہ ہو\n\nتیری زباں پہ آئے اگر حرف التیام\nکیوں کر شکست دل کے لئے مومیا نہ ہو\n\nغافل مریض عشق کی تو نے خبر نہ لی\nتھا غیر اس کا حال وہ اب تک ہو یا نہ ہو\n\nشرمندہ اے کریم نہ ہوں عاشقوں میں ہم\nپرسش ہمارے قتل کی روز جزا نہ ہو\n\nکرتا ہے اے اثرؔ دل خوں گشتہ کا گلہ\nعاشق وہ کیا کہ خستۂ تیغ جفا نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D9%84%DB%8C_%DA%86%DA%91%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%AF_%D9%BE%D8%B1_%D9%81%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "سونے دیتا نہیں شب بھر دل بیمار مجھے", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سونے دیتا نہیں شب بھر دل بیمار مجھے\nدرد نے اٹھ کے پکارا ہے کئی بار مجھے\n\nچل کے ظالم نہ دکھا شوخئ رفتار مجھے\nنظر آتے ہیں قیامت کے سب آثار مجھے\n\nقبر پر جب مری آتے ہیں تو رو دیتے ہیں\nبعد مرنے کے وہ سمجھے ہیں وفادار مجھے\n\nآپ سے آئے تھے محفل میں تری او ظالم\nہائے اب آپ میں آنا ہوا دشوار مجھے\n\nوہ اندھیرا ہے شب ہجر کہ دم گھٹتا ہے\nزلف بن بن کے ستاتی ہے شب تار مجھے\n\nمیں رہوں یا نہ رہوں اتنی اجازت دے دو\nکہ پڑا رہنے دیں درباں پس دیوار مجھے\n\nجب کمر جھک گئی پھر زیست کی امید کہاں\nکیا سنبھالے گی یہ گرتی ہوئی دیوار مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "سونے کی انگوٹھی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بغیر اجازت", "year": "1955", "text_ur": "’’چھتے کا چھتہ ہوگیا آپ کے سر پر۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ بال نہ کٹوانا کہاں کا فیشن ہے۔۔۔‘‘\n\n’’فیشن ویشن کچھ نہیں۔۔۔تمہیں اگر بال کٹوانے پڑیں تو قدرِ عافیت معلوم ہو جائے۔۔۔‘‘\n\n’’میں کیوں بال کٹواؤں‘‘\n\n’’کیا عورتیں کٹواتی نہیں۔۔۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں ایسی موجود ہیں جو اپنے بال کٹواتی ہیں۔۔۔ بلکہ اب تو یہ فیشن بھی چل نکلا ہے کہ عورتیں مردوں کی طرح چھوٹے چھوٹے بال رکھتی ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’لعنت ہے ان پر۔۔۔‘‘\n\n’’کس کی۔۔۔‘‘\n\n’’خدا کی اور کس کی۔۔۔ بال تو عورت کی زینت ہیں۔۔۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ عورتیں کیوں اپنے بال مردوں کی مانند بنوالیتی ہیں، پھر پتلو نیں پہنتی ہیں۔۔۔ نہ رہے ان کا وجود دنیا کے تختے پر۔۔۔‘‘\n\n’’وجود تو خیر آپ کی اس بد دعا سے ان نیک بخت عورتوں کا دنیا کے اس تختے سے کسی حالت میں بھی غائب نہیں ہوگا۔۔۔ ویسے ایک چیز سے مجھے تم سے کُلّی اتفاق ہے کہ عورت کو پتلون جسے سلیکس کہتے ہیں، نہیں پہننی چاہیے۔۔۔ اور سگریٹ بھی نہ پینے چاہئیں‘‘\n\n’’اور آپ ہیں کہ دن میں پورا ایک ڈبا پھونک ڈالتے ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’اس لیے کہ میں مرد ہوں۔۔۔ مجھے اس کی اجازت ہے۔‘‘\n\n’’کس نے دی تھی یہ اجازت آپ کو۔۔۔ میں اب آئندہ سے ہر روز صرف ایک ڈبیا منگا کر دیا کروں گی۔۔۔‘‘\n\n’’اور وہ جو تمہاری سہیلیاں آتی ہیں، ان کو سگریٹ کہاں سے ملیں گے؟‘‘\n\n’’وہ کب پیتی ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’اتنا سفید جھوٹ نہ بولا کرو۔۔۔ ان میں سے جب بھی کوئی آتی ہے تم میرا سگریٹ کا ڈبا اٹھا کر اندر لے جاتی ہو۔۔۔ ساتھ ہی ماچس بھی۔۔۔ آخر مجھے آواز دے کر تمہیں بلانا پڑتا ہے اور میرا ڈبا مجھے واپس ملتا ہے اس میں سے پانچ چھ سگریٹ غائب ہوتے ہیں۔۔۔‘‘\n\nپانچ چھ سگریٹ۔۔۔ جھوٹ تو آپ بول رہے ہیں۔۔۔ وہ تو بیچاریاں مشکل سے ایک سگریٹ پیتی ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’ایک سگریٹ پینے میں انہیں مشکل کیا محسوس ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’میں آپ سے بحث کرنا نہیں چاہتی۔۔۔ آپ کو تو اور کوئی کام ہی نہیں، سوائے بحث کرنے کے۔۔۔‘‘\n\n’’ہزاروں کام ہیں۔۔۔ تم کون سے ہل چلاتی ہو۔۔۔ سارا دن پڑی سوئی رہتی ہو۔‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ آپ تو چوبیس گھٹنے جاگتے اور وظیفہ کرتے رہتے ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’وظیفے کی بات غلط ہے۔۔۔ البتہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں صرف رات کو چھ گھنٹے سوتا ہوں۔۔۔‘‘\n\n’’اور دن کو۔۔۔‘‘\n\n’’کبھی نہیں۔۔۔ بس آنکھیں بند کر کے تین چار گھنٹے لیٹا رہتا ہوں کہ اس سے آدمی کو بہت آرام ملتا ہے۔۔۔ ساری تھکن دور ہو جاتی ہے۔‘‘\n\n’’یہ تھکن کہاں سے پیدا ہوتی ہے۔۔۔ آپ کونسی مزدوری کرتے ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’مزدوری ہی تو کرتا ہوں۔۔۔ صبح سویرے اٹھتا ہوں۔۔۔ اخبار پڑھتا ہوں۔۔۔ ایک نہیں سپر۔۔۔ پھر ناشتہ کرتا ہوں۔۔۔ نہاتا ہوں اور پھر تمہاری روز مرہ کی چخ چخ کے لیے تیار ہو جاتا ہوں۔۔۔‘‘\n\n’’یہ مزدوری ہوئی۔۔۔ اور آپ یہ تو بتائیے کہ روز مرہ کی چخ چخ کا الزام کہاں تک درست ہے۔۔۔‘‘\n\n’’جہاں تک اسے ہونا چاہیے۔۔۔ شروع شروع میں۔۔۔ میرا مطلب شادی کے بعد دو برس تک بڑے سکون میں زندگی گزر رہی تھی لیکن پھر ایک دم تم پر کوئی ایسا دورہ پڑا کہ تم نے ہر روز مجھ سے لڑنا جھگڑنا اپنا معمول بنا لیا۔۔۔ پتہ نہیں اس کی وجہ کیا ہے۔۔۔‘‘\n\n’’وجہ ہی تو مردوں کی سمجھ سے ہمیشہ بالا تر رہتی ہے۔۔۔ آپ لوگ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔۔۔‘‘\n\n’’مگر تم سمجھنے کی مہلت بھی دو۔۔۔ ہر روز کسی نہ کسی بات کا شوشہ چھوڑ دیتی ہو۔۔۔ بھلا آج کیا بات تھی جس پر تم نے اتنا چیخنا چلانا شروع کر دیا۔‘‘\n\n’’گویا یہ کوئی بات ہی نہیں کہ آپ نے پچھلے چھ مہینوں سے بال نہیں کٹوائے! اپنی اچکنوں کے کالر دیکھیے۔۔۔ میلے چِیکٹ ہو رہے ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’ڈرائی کلین کرا لوں۔۔۔‘‘\n\n’’پہلے اپنا سر ڈرائی کلین کرایے۔۔۔ وحشت ہوتی ہے اللہ قسم آپ کے بالوں کو دیکھ کر۔۔۔ جی چاہتا ہے مٹی کا تیل ڈال کر ان کو آگ لگا دوں۔۔۔‘‘\n\n’’تاکہ میرا خاتمہ ہی ہو جائے۔۔۔ لیکن مجھے تمہاری اس خواہش پر کوئی بھی اعتراض نہیں۔۔۔ لاؤ باورچی خانے سے مٹی کے تیل کی بوتل۔۔۔ آہستہ آہستہ میرے سر میں ڈالو اور ماچس کی تیلی جلا کر اس کو آگ دکھا دو۔۔۔ خس کم جہاں پاک۔۔۔‘‘\n\n’’یہ کام آپ خود ہی کیجیے۔۔۔ میں نے آگ لگائی تو آپ یقیناًکہیں گے کہ تمہیں کسی کام کا سلیقہ نہیں۔۔۔‘‘\n\n’’یہ تو حقیقت ہے کہ تمہیں کسی بات کا سلیقہ نہیں۔۔۔ کھانا پکانا نہیں جانتی، سینا پرونا تمہیں نہیں آتا۔۔۔ گھر کی صفائی بھی تم اچھی طرح نہیں کرسکتیں، بچوں کی پرورش ہے تو اس کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔۔۔‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ بچوں کی پرورش تو اب تک ماشاء اللہ، آپ ہی کرتے آئے ہیں، میں تو بالکل ہی نکمی ہوں۔۔۔‘‘\n\n’’میں اس معاملے میں کچھ اور نہیں کہنا چاہتا۔۔۔ تم خدا کے لیے اس بحث کو بند کرو‘‘\n\n’’میں بحث کہاں کر رہی ہوں۔۔۔ آپ تو معمولی باتوں کو بحث کا نام دے دیتے ہیں‘‘\n\n’’تمہارے نزدیک یہ معمولی باتیں ہوں گی! تم نے میرا دماغ چاٹ لیا ہے۔۔۔ میرے سر پر ہمیشہ اتنے ہی بال رہے ہیں۔۔۔ اور تم اچھی طرح جانتی ہو کہ مجھے اتنی فرصت نصیب نہیں ہوتی کہ حجام کے پاس جاؤں۔۔۔‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ آپ کو اپنی عیاشیوں سے فرصت ہی کہاں ملتی ہے۔۔۔‘‘\n\n’’کن عیاشیوں سے۔۔۔‘‘\n\n’’آپ کام کیا کرتے ہیں۔۔۔ کہاں ملازم ہیں۔۔۔ کیا تنخواہ پاتے ہیں۔ آپ کو تو ہر وہ کام بہت بڑی لعنت معلوم ہوتا ہے جس میں آپ کو محنت مشقت کرنی پڑے۔‘‘\n\n’’میں کیا محنت مشقت نہیں کرتا۔۔۔ ابھی پچھلے دنوں اینٹیں سپلائی کرنے کا میں نے جو ٹھیکہ لیا تھا، جانتی ہو میں نے دن رات ایک کر دیا تھا۔‘‘\n\n’’گدھے کام کررہے تھے۔ آپ تو سوتے رہے ہوں گے۔‘‘\n\n’’گدھوں کا زمانہ گیا۔۔۔ لاریاں کام کر رہی تھیں۔۔۔ اور مجھے ان کی نگرانی کرنا پڑتی تھی۔۔۔ دس کروڑ اینٹوں کا ٹھیکہ تھا۔۔۔ مجھے ساری رات جاگنا پڑتا تھا۔۔۔‘‘\n\n’’میں مان ہی نہیں سکتی کہ آپ ایک رات بھی جاگ سکیں۔۔۔‘‘\n\n’’اب اس کا کیا علاج ہے کہ تم نے میرے متعلق ایسی غلط رائے قائم کرلی ہے اور میں جانتا ہوں کہ تم ہزار ثبوت دینے پر بھی مجھ پر یقین نہیں کرو گی۔۔۔‘‘\n\n’’میرا یقین آپ پر سے، عرصہ ہوا اٹھ گیا ہے۔ آپ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں۔‘‘\n\n’’بہتان تراشی میں تمہاری ہم پلہ اور کوئی عورت نہیں ہو سکتی۔۔۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔۔۔‘‘\n\n’’ٹھہریے۔۔۔ پرسوں آپ نے مجھ سے کہا کہ آپ کسی دوست کے ہاں گئے تھے لیکن جب شام کو آپ نے تھوڑی سی پی۔۔۔ تو چہک چہک کر مجھے بتایا کہ آپ ایک ایکٹریس سے مل کر آئے ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’وہ ایکٹریس بھی تو اپنی دوست ہے۔۔۔ دشمن تو نہیں۔۔۔ میرا مطلب ہے اپنے ایک دوست کی بیوی ہے۔۔۔‘‘\n\n’’آپ کے دوستوں کی بیویاں عموماً یا تو ایکٹریس ہوتی ہیں، یا طوائفیں‘‘\n\n’’اس میں میرا کیا قصور۔۔۔‘‘\n\n’’قصور تو میرا ہے۔۔۔‘‘\n\n’’وہ کیسے۔۔۔‘‘\n\n’’ایسے کہ میں نے آپ سے شادی کر لی۔۔۔ میں ایکٹریس ہوں نہ طوائف۔۔۔‘‘\n\n’’مجھے ایکٹریسوں اور طوائفوں سے سخت نفرت ہے۔۔۔ مجھے ان سے کوئی دلچسپی نہیں۔۔۔ وہ عورتیں نہیں سلیٹیں ہیں جن پر کوئی بھی چند حروف یا لمبی چوڑی عبارت لکھ کر مِٹا سکتا ہے۔۔۔‘‘\n\n’’تو اس روز آپ کیوں اس ایکٹریس کے پاس گئے۔۔۔‘‘\n\n’’میرے دوست نے بلایا۔۔۔ میں چلا گیا۔۔۔ اس نے ایک ایکٹریس سے جو پہلے چار شادیاں کر چکی تھی، نیا نیا بیاہ رچایا تھا مجھے اس سے متعارف کرایا گیا۔‘‘\n\n’’چار شادیوں کے بعد بھی وہ خاصی جوان دکھائی دیتی تھی۔۔۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ وہ عام کنواری جوان لڑکیوں کے مقابلے میں ہر لحاظ سے اچھی تھی۔‘‘\n\n’’وہ ایکٹریسیں کس طرح خود کو چست اور جوان رکھتی ہیں۔‘‘\n\n’’مجھے اس کے متعلق کوئی زیادہ علم نہیں۔۔۔ بس اتنا سنا ہے کہ وہ اپنے جسم اور جان کی حفاظت کرتی ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’میں نے تو سنا ہے کہ بڑی بد کردار ہوتی ہیں اول درجے کی فاحشہ۔۔۔‘‘\n\n’’اللہ بہتر جانتا ہے۔۔۔ مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔‘‘\n\n’’آپ ایسی باتوں کا جواب ہمیشہ گول کر جاتے ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’جب مجھے کسی خاص چیز کے متعلق کچھ علم ہی نہ ہو تو میں جواب کیا دوں۔۔۔ میں تمہارے مزاج کے متعلق بھی وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ۔‘‘\n\n’’دیکھئے! آپ میرے متعلق کچھ نہ کہا کیجیے۔۔۔ آپ ہمیشہ میری بے عزتی کرتے رہتے ہیں۔۔۔ میں یہ برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔‘‘\n\n’’میں نے تمہاری بے عزتی کب کی ہے۔‘‘\n\n’’یہ بے عزتی نہیں کہ پندرہ برسوں میں آپ میرا مزاج نہیں جان سکے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں مخبوط الحواس ہوں۔ نیم پاگل ہوں، جاہل ہوں اجڈ ہوں۔‘‘\n\n’’یہ تو خیر تم نہیں۔۔۔ لیکن تمہیں سمجھنا بہت مشکل ہے۔ ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آیا کہ تم نے میرے بالوں کی بات کس غرض سے شروع کی۔۔۔ اس لیے کہ جب بھی تم کوئی بات شروع کرتی ہو اس کے پیچھے کوئی خاص بات ضرور ہوتی ہے۔۔۔‘‘\n\n’’خاص بات کیا ہو گی۔۔۔ بس آپ سے صرف یہی کہنا تھا کہ بال اتنے بڑھ گئے ہیں، کٹوا دیجیے۔۔۔ حجام کی دکان یہاں سے کتنی دور ہے، زیادہ سے زیادہ دو سو گز کے فاصلے پر ہو گی۔۔۔ جائیے۔۔۔ میں پانی گرم کرتی ہوں۔‘‘\n\n’’جاتا ہوں۔۔۔ ذرا ایک سگریٹ پی لوں۔‘‘\n\n’’سگریٹ وگریٹ آپ نہیں پئیں گے۔۔۔ لیجیے اب تک۔۔۔ ٹھہرئیے، میں ڈبا دیکھ لوں۔۔۔ میرے اللہ۔۔۔ بیس سگریٹ پھونک چکے ہیں آپ۔۔۔ بیس۔۔۔‘‘\n\n’’یہ تو کچھ زیادہ نہ ہوئے۔۔۔ بارہ بجنے والے ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’زیادہ باتیں مت کیجیے۔۔۔ سیدھے حجام کے پاس جائیے۔۔۔ اور یہ اپنے سر کا بوجھ اتروائیے۔۔۔‘‘\n\n’’جاتا ہوں۔۔۔ کوئی اور کام ہو تو بتا دو۔۔۔‘‘\n\n’’میرا کوئی کام نہیں۔۔۔ آپ اس بہانے سے مجھے ٹالنا چاہتے ہیں۔‘‘\n\n’’اچھا تو میں چلا۔۔۔‘‘\n\n’’ٹھہرئیے۔۔۔‘‘\n\n’’ٹھہر گیا۔۔۔ فرمائیے۔۔۔‘‘\n\n’’آپ کے بٹوے میں کتنے روپے ہوں گے۔‘‘\n\n’’پانچ سو کے قریب۔۔۔‘‘\n\nتو یوں کیجیے۔۔۔ بال کٹوانے سے پہلے انار کلی سے سونے کی ایک انگوٹھی لے آئیے۔۔۔ آج میری ایک سہیلی کی سالگرہ ہے۔۔۔ دو ڈھائی سو روپے کی ہو۔۔۔‘‘\n\n’’میری تو وہیں، انار کلی ہی میں حجامت ہو جائے گی۔۔۔ میں جاتا ہوں۔۔۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%88%D9%B9%DA%BE%DB%8C"} {"title": "سوچ میں تیرے سنا رات جو کھٹکا پٹکا", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سوچ میں تیرے سنا رات جو کھٹکا پٹکا\nسر کو تکیے سے اٹھا پٹی پہ دے دے پٹکا\n\nتو نے گر کنگھی جو کاکل کو پکڑ کر جھٹکا\nدل پڑا پھرتا ہے سر مارتا بھولا بھٹکا\n\nلخت دل آ سر مژگاں پہ لٹکتے ہیں پڑے\nتیری الفت نے بھلا سانگ دکھایا نٹ کا\n\nجب نہ تب بوسے پہ ہٹتے ہو کہ دوں گا نہ کبھی\nمان کر یہ نہ مری جان پھر ایسی ہٹ کا\n\nکیوں تری چال لٹک دیکھ کے دل لٹکے ہیں\nکچھ تو ہم کو بھی بتا کس سے یہ سیکھا لٹکا\n\nنٹ کھٹی دیکھ تری میں تو اچنبھے میں رہا\nدل جھپٹ ہاتھ سے جھٹ راگ سنایا کھٹکا\n\nگھر بسے بول بھی کچھ کیا ہے خرابی ٹھانی\nکب تلک ہم سے پھرے گا یوں ہی پھٹکا پھٹکا\n\nدل گم گشتہ کی ہر اک سے میں کرتا ہوں تلاش\nچور جو تھا وہی آنکھوں کو چرا کر سٹکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%88%DA%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%BE%D9%B9%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D9%B9%DA%A9%D8%A7"} {"title": "سُلطان ٹِیپُو کی وصیّت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "تُو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول\nلیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول\nاے جُوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تُند و تیز\nساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول\nکھویا نہ جا صَنم کدۂ کائنات میں\nمحفل گداز! گرمیِ محفل نہ کر قبول\nصُبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جِبرئیل نے\nجو عقل کا غلام ہو، وہ دِل نہ کر قبول\nباطل دُوئی پسند ہے، حق لا شریک ہے\nشِرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%8F%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%86_%D9%B9%D9%90%DB%8C%D9%BE%D9%8F%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%D8%B5%DB%8C%D9%91%D8%AA"} {"title": "سُلطانی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے\nوہ فقر جس میں ہے بے پردہ روحِ قُرآنی\nخودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنی\nیہی مقام ہے کہتے ہیں جس کو سُلطانی\nیہی مقام ہے مومن کی قُوّتوں کا عیار\nاسی مقام سے آدم ہے ظِلّ سُبحانی\nیہ جبر و قہر نہیں ہے، یہ عشق و مستی ہے\nکہ جبر و قہر سے ممکن نہیں جہاں بانی\nکِیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو\nکہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی\nمثالِ ماہ چمکتا تھا جس کا داغِ سجود\nخرید لی ہے فرنگی نے وہ مسلمانی\nہوا حریفِ مہ و آفتاب تُو جس سے\nرہی نہ تیرے ستاروں میں وہ دُرخشانی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%8F%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "سُلطانیِ جاوید", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "غوّاص تو فطرت نے بنایا ہے مجھے بھی\nلیکن مجھے اعماقِ سیاست سے ہے پرہیز\nفطرت کو گوارا نہیں سُلطانیِ جاوید\nہر چند کہ یہ شُعبدہ بازی ہے دل آویز\nفرہاد کی خارا شکنی زندہ ہے اب تک\nباقی نہیں دنیا میں مُلوکِیّتِ پرویز!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%8F%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%90_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%AF"} {"title": "سُلَیمٰی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "جس کی نمود دیکھی چشمِ ستارہ بیں نے\nخورشید میں، قمر میں، تاروں کی انجمن میں\n\nصُوفی نے جس کو دل کے ظُلمت کدے میں پایا\nشاعر نے جس کو دیکھا قُدرت کے بانکپن میں\n\nجس کی چمک ہے پیدا، جس کی مہک ہویدا\nشبنم کے موتیوں میں، پھُولوں کے پیرہن میں\n\nصحرا کو ہے بسایا جس نے سکُوت بن کر\nہنگامہ جس کے دم سے کاشانۂ چمن میں\n\nہر شے میں ہے نمایاں یوں تو جمال اس کا\nآنکھوں میں ہے سُلَیمیٰ! تیری کمال اس کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%8F%D9%84%D9%8E%DB%8C%D9%85%D9%B0%DB%8C"} {"title": "سُنا ہے مَیں نے، کل یہ گفتگو تھی کارخانے میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "سُنا ہے مَیں نے، کل یہ گفتگو تھی کارخانے میں\nپُرانے جھونپڑوں میں ہے ٹھکانا دست‌کاروں کا\n\nمگر سرکار نے کیا خوب کونسل ہال بنوایا\nکوئی اس شہر میں تکیہ نہ تھا سرمایہ داروں کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%8F%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%8E%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92%D8%8C_%DA%A9%D9%84_%DB%8C%DB%81_%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سچ اور جھوٹ کا رزم نامہ", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "عہد قدیم کے مؤرخ لکھتے ہیں کہ اگلے زمانہ میں فارس کے شرفا اپنے بچوں کے لئے تین باتوں کی تعلیم میں بڑی کوشش کرتے تھے۔ شہ سواری، تیراندازی اور راست بازی۔ شہ سواری اور تیراندازی تو بے شک سہل آ جاتی ہوگی، مگر کیا اچھی بات ہوتی کہ اگر ہمیں معلوم ہو جاتا کہ راست بازی کن کن طریقوں سے سکھاتے تھے اور وہ کون سی سپر تھی کہ جب دروغ دیوزاد آکر ان کے دلوں پر شیشہ جادو مارتا تھا، تو یہ اس چوٹ سے اس کی اوٹ میں بچ جاتے تھے۔\n\nاس میں شک نہیں کہ دنیا بری جگہ ہے۔ چند روزہ عمر میں بہت سی باتیں پیش آتی ہیں، جو اس مشت خاک کو اس دیوآتش زاد کی اطاعت کے لئے مجبور کرتی ہیں۔ انسان سے اکثر ایسا جرم ہو جاتا ہے کہ اگر قبولے تو مرنا پڑتا ہے، ناچار مکرنا پڑتا ہے، کبھی ابا فریبی کرکے جاہلوں کو پھنساتا ہے، جب لقمہ رزق کا پاتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت مزے دنیا کے ہیں کہ مکرودغاان کی چاٹ لگاتی ہے، اور جزوی جزوی خطائیں ہوجاتی ہیں جن سے مکرتے ہی بن آتی ہے۔ غرض بہت کم انسان ہوں گے جن میں یہ حوصلہ و استقلال ہو کہ راستی کے راستے میں ہر دم ثابت قدم ہی رہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ انسان کے سچ بولنے کے لئے سننے والے بھی ضرور ہیں، کیوں کہ خوشامد جس کی دکان میں آج موتی برس رہے ہیں اس سے زیادہ جھوٹ کیا ہوگا اور کون ایسا ہے جو اس قید کا زنجیر نہیں۔ ڈرپوک بیچارا ڈر کا مارا خوشامد کرتا ہے۔ تابع دار امید کا بھوکا آقا کو خوش کرکے پیٹ بھرتا ہے۔ دوست محبت کا بندہ ہے۔ اپنے دوست کے دل میں اسی سے گھر کرتا ہے۔ ایسے بھی ہیں کہ نہ غلام ہیں، نہ ڈرپوک ہیں۔ انہیں باتوں باتوں میں خوش کر دینے ہی کا شوق ہے۔ اسی طرح جب جلسوں میں نمود یے گدھوں کے دعوے بل ڈاگ 1 کی آواز سے کئی میدان آگے نکل جاتے ہیں، توان میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں کچھ امید، کچھ ڈر، کچھ مروت سے، غرض چار ناچار کبھی ان کے ساتھ ساتھ، کبھی پیچھے پیچھے دوڑنا پڑتا ہے۔ سچ کا عجب حال ہے کہ اتنا تو اچھا ہے، مگر پھر بھی لوگ اسے ہر وقت اچھا نہیں سمجھتے، چنانچہ جب کسی شے پر دل آتا ہے اور سچ اس کے برخلاف ہوتا ہے تو اس وقت سچ سے زیادہ کوئی برا نہیں معلوم ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ حضرت انسان کو حقیقت اور واقعیت سے کچھ غرض نہیں۔ جس چیز کو جی نہیں چاہتا، اس کا جاننا بھی نہیں چاہتے۔ جو بات پسند نہیں آتی اس کا ذکر بھی نہیں سنتے، اس کا ن سنتے ہیں، اس کان سے نکال دیتے ہیں۔ حکیموں نے جھوٹ سے متنفر ہونے کی بہت سی تدبیریں نکالی ہیں اور جس طرح بچوں کو کڑوی دوا مٹھائی میں ملاکر کھلاتے ہیں، اسی طرح انواع و اقسام کے رنگوں میں اس کی نصیحتیں کیں ہیں تاکہ لوگ اسے ہنستے کھیلتے چھوڑ دیں۔ واضح ہوکہ ملکہ صداقت زمانی، سلطان آسمانی کی بیٹی تھی جوکہ ملکہ دانش خاتون کے پیٹ سے پیدا ہوئی تھی۔ جب ملکہ موصوفہ نے ہوش سنبھالا تو اول تعلیم و تربیت کے سپرد ہوئی۔ جب انہوں نے اس کی پرورش میں اپنا حق ادا کر لیا تو باپ کے دربارمیں سلام کو حاضر ہوئی۔ اسے نیکی اور نیک ذاتی کے ساتھ خوبیوں اور محبوبیوں کے زیور سے آراستہ دیکھ کر سب نے صدق دل سے تعریف کی۔ عزت دوام کا تاج مرصع سر پر رکھا گیا اورحکم ہوا کہ جاؤ اولاد آدم میں اپنا نور پھیلاؤ۔ عالم سفلی میں دروغ دیوزاد ایک سفلہ نابکار تھا کہ حمق تیرہ دماغ اس کا باپ تھا اور ہوس ہوا پرست اس کی ماں تھی۔ اگرچہ اسے دربار میں آنے کی اجازت نہ تھی، مگر جب کسی تفریح کی صحبت میں تمسخر اور ظرافت کے بھانڈ آیا کرتے تھے توان کی سنگت میں وہ بھی آ جاتا تھا۔ اتفاقاً اس دن وہ بھی آیاہوا تھا اور بادشاہ کو ایسا خوش کیا تھا کہ اسے ملبوس خاص کا خلعت مل گیا تھا۔ یہ منافق دل میں سلطان آسمانی سے سخت عداوت رکھتا تھا۔ ملکہ کی قدر و منزلت دیکھ کر اسے حسد کی آگ نے بھڑکایا۔ چنانچہ وہاں سے چپ چپاتے نکلا اور ملکہ کے عمل میں خلل ڈالنے کو ساتھ ساتھ روانہ ہوا۔ جب یہ دو دعوے دار نئے ملک اور نئی رعیت کے تسخیر کرنے کو اٹھے تو چونکہ بزرگان آسمانی کو ان کی دشمنی کی بنیاد ابتدا سے معلوم تھی، سب کی آنکھیں ادھر لگ گئیں کہ دیکھیں ان کی لڑائی کا انجام کیا ہو؟ سچ کے زور و قوت کو کون نہیں جانتا۔ چنانچہ ملکہ صداقت کو بھی حقیقت کے دعوے تھے۔ اٹھی اور اپنے زور میں بھری ہوئی تھی؛ اسی واسطے بلند اٹھی۔ اکیلی آئی اور کسی کی مدد ساتھ نہ لائی۔ ہاں آگے آگے فتح و اقبال نور کا غبار اڑاتے آتے تھے اور پیچھے پیچھے ادراک پری پرواز تھا۔ مگرصاف معلوم ہوتا تھا کہ تابع ہے، شریک نہیں۔ ملکہ کی شان شاہانہ تھی، اور دبدبہ خسروانہ تھا۔ اگرچہ آہستہ آہستہ آتی تھی، مگر استقلال کا رکاب پکڑے تھا۔ اور جو قدم اٹھتا تھا، دس قدم آگے پڑتا نظر آتا تھا۔ ساتھ اس کے جب ایک دفعہ جم جاتا تھا، تو انسان کیا فرشتہ سے بھی نہ ہٹ سکتا تھا۔ دروغ دیوزاد بہروپ بدلنے میں طاق تھا، ملکہ کی ہربات کی نقل کرتا تھا اور نئے نئے سوانگ بھرتا تو وضع اس کی گھبرائی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ دنیا کی ہوا و ہوس، ہزاروں رسالے اور پلٹنیں اس کے ساتھ لیے تھیں او ر چوں کہ یہ ان کی مدد کا محتاج تھا، اسی لالچ کامارا کمزور تابع داروں کی طرح ان کے حکم اٹھاتا تھا۔ ساری حرکتیں اس کی بے معنی تھیں اور کام بھی الٹ پلٹ، بے اوسان تھے۔ کیونکہ استقلال ادھر نہ تھا۔ اپنی شعبدہ بازی اور نیرنگ سازی سے فتح یاب تو جلد ہو جاتا تھا، مگر تھم نہ سکتا تھا، ہواوہوس اس کے یار وفادار تھے اور اگر کچھ تھے تو وہی سنبھالتے رہتے تھے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہو جاتا تھا کہ دونوں کا آمنا سامنا ہوکر سخت لڑائی آ پڑتی تھی۔ اس وقت دروغ دیوزاد اپنی دھوم دھام بڑھانے کے لئے سرپر بادل کا دھواں دھار پگڑ لپیٹ لیتا تھا۔ لاف و گزاف کو حکم دیتا کہ شیخی اور نمود کے ساتھ آگے جاکر غل مچانا شروع کر دو۔ ساتھ ہی دغا کو اشارہ کر دیتا تھا کہ گھات لگاکر بیٹھ جاؤ۔ دائیں ہاتھ میں طراری کی تلوار، بائیں ہاتھ میں بے حیائی کی ڈھال ہوتی تھی۔ غلط نما تیروں کا ترکش آویزاں ہوتا تھا۔ ہواوہوس دائیں بائیں دوڑتے پھرتے تھے۔ دل کی ہٹ دھرمی، بات کی پچ، پیچھے سے زور لگاتے تھے۔ غرض کبھی مقابلہ کرتا تھا تو ان زوروں کے بھروسے پر کرتا تھا اور باوجود اس کے کہ ہمیشہ یہی چاہتا ھتا کہ دور دور سے لڑائی ہو۔ میدان میں آتے ہی تیروں کی بوچھاڑ کر دیتا تھا، مگر وہ بھی بادہوائی، اٹکل پچو، بے ٹھکانے ہوتے تھے۔ خود ایک جگہ پر نہ ٹھہرتا تھا۔ دم بدم جگہ بدلتا تھا کیونکہ حق کی کمان سے جب تیر نظر اس کی طرف سر ہوتا تھا تو جھٹ تاڑ جاتا تھا۔ ملکہ کے ہاتھ میں اگرچہ باپ کی کڑک بجلی کی تلوارنہ تھی، مگر تو بھی چہرہ ہیبت ناک تھا اور رعب خداداد کا خود سر پر دھرا تھا۔ جب معرکہ مار کر ملکہ فتح یاب ہوتی تھی تو یہ شکست نصیب اپنے تیروں کا ترکش پھینک، بے حیائی کی ڈھال منہ پر لئے، ہوا و ہوس کی بھیڑ میں جاکر چھپ جاتا تھا۔ نشان لشکر گر پڑتا تھا اور لوگ پھر یرا پکڑے زمین پر گھسیٹتے پھرتے تھے۔ ملکہ صداقت زمانی کبھی کبھی زخمی بھی ہوتی تھی۔ مگرسانچ کو آنچ نہیں، زخم جلد بھر جاتے تھے اور وہ جھوٹا نابکار جب زخم کھاتا تھا تو ایسے سڑتے تھے کہ اوروں میں بھی وبا پھیلا دیتے تھے۔ مگر ذرا انگور بندھے اور پھر میدان میں آن کودا۔ دروغ دیوزاد نے تھوڑے ہی تجربہ میں معلوم کر لیا تھا کہ بڑائی اور دانائی کا پردہ اسی میں ہے کہ ایک جگہ نہ ٹھہروں۔ اس لئے دھوکہ بازی اور شبہ کاری کو حکم دیاکہ ہمارے چلنے پھرنے کے لئے ایک سڑک تیار کرو، 2مگراس طرح کے ایچ پیچ اور ہیر پھیر دے کر بناؤ کہ شاہراہ صداقت جو خط مستقیم میں ہے اس سے کہیں نہ ٹکرائے۔ چنانچہ جب اس نابکار پرکوئی حملہ کرتا تھا تو اسی رستہ سے جدھر چاہتا تھا، نکل جاتاتھا اور جدھر سے چاہتا تھا پھر آن موجود ہوتا تھا۔ ان رستوں سے اس نے ساری دنیا پرحملے کرنا شروع کر دیے اور بادشاہت اپنی تمام عالم میں پھیلا کردروغ شاہ دیوزاد کا لقب اختیار کیا۔ جہاں جہاں فتح پاتا تھا، ہوا و ہوس کو اپنا نائب چھوڑتا اور آپ فوراً کھسک جاتا۔ وہ اس فرماں روائی سے بہت خوش ہوتے تھے۔ اور جب ملکہ کا لشکر آتا تھا توبڑی گھاتوں سے مقابلے کرتے تھے۔ جھوٹی قسموں کی ایک لمبی زنجیر بنائی تھی۔ سب اپنی کمریں اس سے جکڑ لیتے تھے کہ ہرگز ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑیں گے۔ مگر سچ کے سامنے جھوٹ کے پاؤں کہاں؟ لڑتے تھے اور متابعت کرکے ہٹتے تھے۔ پھر ادھر ملکہ نے منہ پھیرا، ادھر باغی ہو گئے۔ ملکہ جب آسمان سے نازل ہوئی تھی تو سمجھتی تھی کہ بنی آدم میرے آنے سے خو ش ہوں گے۔ جو بات سنیں گے اسے مانیں گے اورحکومت میری تمام عالم میں پھیل کر مستقل ہو جائےگی۔ مگر یہاں دیکھا کہ گزارہ بھی مشکل ہے۔ لوگ ہٹ دھرمی کے بندے ہیں اور ہوا وہوس کے غلام ہیں اور اس میں بھی شک نہیں کہ ملکہ کی حکومت آگے بڑھتی تھی مگربہت تھوڑی تھوڑی۔ اس پر بھی یہ دشواری تھی کہ ذرا اس طرف ہٹی اور پھر بد عملی ہو گئی کیونکہ ہواوہوس جھٹ بغاوت کا نقارہ بجا، دشمن کے زیر علم جا موجود ہوتے تھے۔ ہر چند ملکہ صداقت زمانی ان باتوں سے کچھ دبتی نہ تھی کیوں کہ اس کا زور کسی کے بس کانہ تھا، مگر جب باربار ایسے پاجی کمینے کو اپنے مقابلہ پر دیکھتی تھی اور اس میں سوا مکر و فریب اور کمزوری و بے ہمتی کے اصالت اور شجاعت کا نام نہ پاتی تھی تو گھٹتی تھی اور دل میں پیچ و تاب کھاتی تھی۔ جب سب طرح سے ناامید ہوئی توغصہ ہوکر اپنے باپ سلطان آسمانی کو لکھا کہ آپ مجھے اپنے پاس بلا لیجئے۔ دنیا کے لوگ اس شیطان کے تابع ہوکر جن بلاؤں میں خوش ہیں ان ہی میں رہا کریں۔ اپنے کئے کی سزا آپ پالیں گے۔ سلطان آسمانی اگرچہ اس عرضی کو پڑھ کر بہت خفا ہوا مگر پھر بھی کوتاہ اندیشوں کے حال پر ترس کھایا اور سمجھا کہ اگر سچ کا قدم دنیا سے اٹھا توجہان اندھیر اور تمام عالم تہ وبالا ہوجائےگا۔ چنانچہ اس خیال سے اس کی عرض نا منظور کی۔ ساتھ اس کے یہ بھی گوارہ نہ ہوا کہ میرے جگر کا ٹکڑا جھوٹے بداصلوں کے ہاتھوں یوں مصیبت میں گرفتار رہے۔ اسی وقت عالم بالا کے پاک نہادوں کو جمع کرکے ایک انجمن منعقدکی۔ اس میں دو امرتنقیح طلب قرار پائے۔\n\n(۱) کیا سبب ہے کہ ملکہ کی کارروائی اورفرماں فرمائی دنیا میں ہردل عزیز نہیں۔ (۲) کیا تدبیر ہے جس سے اس کے آئین حکومت کو جلد اہل عالم میں رسائی ہو اور اسے بھی ان تکلیفوں سے رہائی ہو۔ کمیٹی میں یہ بات کھلی کہ درحقیقت ملکہ کی طبیعت میں ذرا سختی ہے اور کارروائی میں تلخی ہے۔ صدرانجمن نے اتفاق رائے کرکے اس قدر زیادہ کہا کہ ملکہ کے دماغ میں اپنی حقیت کے دعوؤں کادھواں اس قدربھرا ہوا ہے کہ وہ ہمیشہ ریل گاڑی کی طرح سیدھے خط میں چل کر کامیابی چاہتی ہیں، جس کا زور طبیعتوں کو سخت اور دھواں آنکھوں کو کڑوا معلوم ہوتا ہے۔ بعض اوقات لوگوں کو اس کی راستی سے نقصان اٹھانے پڑتے ہیں۔ کبھی ایسے فساد اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جن کا سنبھالنا مشکل ہو جاتاہے اور یہ زمانہ ایسا ہے کہ دور اندیشی اور صلاح وقت کے بغیر کام نہیں چلتا۔ پس اسے چاہئے کہ جس طرح ہو سکے اپنی سختی اور تلخی کی اصلاح کرے۔ جب تک یہ نہ ہوگا لوگ اس کی حکومت کو رغبت سے قبول نہ کریں گے کیوں دیودروغ کی حکومت کا ڈھنگ بالکل اس کے خلاف ہے۔ اول تو اس میں فارغ البالی بہت ہے اور جو لوگ اس کی رعایا میں داخل ہوجاتے ہیں، انہیں سوا عیش و آرام کے دنیاکی کسی بات سے خبر نہیں ہوتی۔ دوسرے وہ خود بہروپیہ ہے۔ جو صورت سب کو بھائے وہی روپ بھر لیتا ہے اور اوروں کی مرضی کا جامہ پہنے رہتا ہے۔ غرض اہل انجمن نے صلاح کرکے ملکہ کی طرز لباس بدلنے کی تجویز کی۔ چنانچہ ایک ویسا ہی ڈھیلا ڈھالا جامہ تیار کیا جیسا کہ جھوٹ پہنتا تھا اوروہ پہن کر لوگوں کو جل دیا کرتا تھا۔ اس جامہ کا مصلحت زمانہ نام ہوا۔ چنانچہ اس خلعت کو زیب بدن کرکے ملکہ پھر ملک گیری کواٹھی۔ جس ملک میں پہنچتی اور آگے کو راستہ مانگتی، ہوا وہوس حاکم وہاں کے اسے دروغ دیوزاد سمجھ کر آتے اور شہر کی کنجیاں نذر گزرانتے۔ ادھر اس کا دخل ہوا ادھر ادراک آیا اور جھٹ وہ جامہ اتار لیا۔ جامہ کے اترتے ہی اس کی اصل روشنی اور ذاتی حسن وجمال پھر چمک کر نکل آیا۔ چنانچہ اب یہی وقت آ گیا ہے، یعنی جھوٹ اپنی سیاہی کو ایسا رنگ آمیزی کر کے پھیلاتا ہے کہ سچ کی روشنی کو لوگ اپنی آنکھوں کے لئے مضر سمجھنے لگے ہیں۔ اگر سچ کہیں پہنچ کر اپنا نور پھیلانا چاہتا ہے تو پہلے جھوٹ سے کچھ زرق برق کے کپڑے مانگ تانگ کر لاتا ہے۔ جب تبدیل لباس کرکے وہاں جا پہنچتا ہے تو وہ لفافہ اتار کر پھینک دیتا ہے۔ پھر اپنا اصلی نور پھیلاتا ہے کہ جھوٹ کی قلعی کھل جاتی ہے۔ حاشیے(۱) ایک قسم کا شکاری کتا ہے، جسے ہندوستانی زبان میں گلڈانگ کہتے ہیں۔ (۲) جب جھوٹ کی قلعی کھلنے لگتی ہے تو جھوٹا آدمی ایسی باتیں پیش کرتا ہے جس سے لوگ شبہ اور شک میں پڑ جائیں اور سمجھیں کہ ہو تو سکتا ہے، شاید جو یہ کہتا ہے وہی سچ ہو۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D8%B2%D9%85_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81"} {"title": "سچ اگر پوچھو تو نا پیدا ہے یک رو آشنا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سچ اگر پوچھو تو نا پیدا ہے یک رو آشنا\nسارے عالم میں جو ہوں شاید تو یک دو آشنا\n\nحاضر و غائب ہو یکساں ظاہر و باطن ہو صاف\nاس طرح کا کم نظر آیا ہے یکسو آشنا\n\nہم وہ مخلص ہیں کہ آنکھیں دیکھتے گزری ہے عمر\nجی نکل جاوے جو ہو ہم سے کج ابرو آشنا\n\nسارے عالم سے کروں میں ترک رسم دوستی\nمجھ سے ہووے اے مرے دشمن اگر تو آشنا\n\nکس کے کوچے میں تو ہو نکلی تھی ہاں سچ کہہ نسیم\nتجھ میں جو بو ہے سو ہے مدت سے یہ بو آشنا\n\nجاں بہ لب ہوں میں تو ان یاروں کی خوش خلقی کو دیکھ\nہے معاذ اللہ جو ہو صحبت میں بد خو آشنا\n\nایک بھی ہم نے نہ دیکھا دوست حاتمؔ بعد مرگ\nہے تکلف بر طرف کو یار اور کو آشنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%86_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%86%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DA%A9_%D8%B1%D9%88_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7"} {"title": "سچ تو یہ ہے بے جگہ ربط ان دنوں پیدا کیا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سچ تو یہ ہے بے جگہ ربط ان دنوں پیدا کیا\nسوچ ہے ہر دم یہی ہم کو کہ ہم نے کیا کیا\n\nوہ گیا اٹھ کر جدھر کو میں ادھر حیران سا\nاس کے جانے پر بھی کتنی دیر تک دیکھا کیا\n\nمیری اور اس شوخ کی صاحب سلامت جو ہوئی\nصبر و طاقت نے کہا لو ہم نے تو مجرا کیا\n\nسیر گل کرتا تھا وہ اور آہ بیتابی سے میں\nہر طرف گلشن میں جوں آب رواں دوڑا کیا\n\nجب تلک کرتے رہے مذکورہ اس کا مجھ سے لوگ\nجی میں کچھ سوچا کیا میں اور دل دھڑکا کیا\n\nدرد دل کہنا مرا شاید کہ اس نے سن لیا\nورنہ کیوں مجھ کو دھراتا ہے بھلا اچھا کیا\n\nدم بہ دم حسرت سے دیکھوں کیوں نہ سوئے چرخ میں\nاس نے اوروں کا کیا اس کو ہمیں جس کا کیا\n\nدل ملے پر بھی ملاپ ایسی جگہ ہوتے رہے\nجو ادھر تڑپا کیے ہم وہ ادھر تڑپا کیا\n\nمل گئے تھے ایک بار اس کے جو میرے لب سے لب\nعمر بھر ہونٹوں پہ اپنے میں زباں پھیرا کیا\n\nبس کہ ہے وہ شہرۂ آفاق اس کے واسطے\nیہ دل دیوانہ کس کس شخص سے جھگڑا کیا\n\nسوزش دل کیا کہوں میں جب تلک جیتا رہا\nایک انگارا سا پہلو میں مرے دہکا کیا\n\nعشق بازی میں کہا جرأتؔ کو سب نے دیکھ کر\nیہ عزیز اپنی ہمیشہ جان پر کھیلا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%86_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AC%DA%AF%DB%81_%D8%B1%D8%A8%D8%B7_%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سچ کہو", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچ\nہے بھلے مانسوں کا پیشہ سچ\nسچ کہو گے تو تم رہوگے عزیز\nسچ تو یہ ہے کہ سچ ہے اچھی چیز\nسچ کہو گے تو تم رہوگے شاد\nفکر سے پاک رنج سے آزاد\nسچ کہو گے تم رہوگے دلیر\nجیسے ڈرتا نہیں دلاور شیر\nسچ سے رہتی ہے تقویت دل کو\nسہل کرتا ہے سخت مشکل کو\nسچ ہے سارے معاملوں کی جان\nسچ سے رہتا ہے دل کو اطمینان\nسچ میں راحت ہے اور آسانی\nسچ سے ہوتی نہیں پشیمانی\nسچ ہے دنیا میں نیکیوں کی جڑ\nسچ نہ ہو تو جہان جائے اجڑ\nسچ کہو گے تو دل رہے گا صاف\nسچ کرا دے گا سب قصور معاف\nسچ سے زنہار در گزر نہ کرو\nدل میں کچھ خوف اور خطر نہ کرو\nجس کو سچ بولنے کی عادت ہے\nوہ بڑا نیک با سعادت ہے\nوہی دانا ہے جو کہ ہے سچا\nاس میں بڈھا ہو یا کوئی سچا\nہے برا جھوٹ بولنے والا\nآپ کرتا ہے اپنا منہ کالا\nفائدہ اس کو کچھ نہ دے گا جھوٹ\nجائے گا ایک روز بھانڈا پھوٹ\nجھوٹ کی بھول کر نہ ڈالو خو\nجھوٹ ذلت کی بات ہے آخ تھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%86_%DA%A9%DB%81%D9%88"} {"title": "سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچ", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچ\nہے بھلے مانسوں کا پیشہ سچ\n\nسچ کہو گے تو تم رہو گے عزیز\nسچ تو یہ ہے کہ سچ ہے اچھی چیز\n\nسچ کہو گے تو تم رہو گے شاد\nفکر سے پاک رنج سے آزاد\n\nسچ کہو گے تو تم رہو گے دلیر\nجیسے ڈرتا نہیں دلاور شیر\n\nسچ سے رہتی ہے تقویت دل کو\nسہل کرتا ہے سخت مشکل کو\n\nجس کو سچ بولنے کی عادت ہے\nوہ بڑا نیک با سعادت ہے\n\nسچ ہے سارے معاملوں کی جان\nسچ سے رہتا ہے دل کو اطمینان\n\nسچ میں راحت ہے اور آسانی\nسچ سے ہوتی نہیں پشیمانی\n\nسچ ہے دنیا میں نیکیوں کی جڑ\nسچ نہ ہو تو جہان جائے اجڑ\n\nسچ کہو گے تو دل رہے گا صاف\nسچ سے ہو جائیں گے قصور معاف\n\nسچ سے زنہار در گزر نہ کرو\nدل میں کچھ خوف اور خطر نہ کرو\n\nوہی دانا ہے جو کہ ہے سچا\nاس میں بوڑھا ہو یا کوئی بچا\n\nہے برا جھوٹ بولنے والا\nآپ کرتا ہے اپنا منہ کالا\n\nفائدہ اس کو کچھ نہ دے گا جھوٹ\nجائے گا ایک روز بھانڈا پھوٹ\n\nجھوٹ کی بھول کر نہ ڈالو خو\nجھوٹ ذلت کی بات ہے اخ تھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%86_%DA%A9%DB%81%D9%88_%D8%B3%DA%86_%DA%A9%DB%81%D9%88_%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%B3%DA%86"} {"title": "سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "وسوخت", "year": null, "text_ur": "سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو\nیاں بہت رہتے ہو خوش باش کہ واں رہتے ہو\nان دنوں یاروں کی آنکھوں سے نہاں رہتے ہو\nخوش رہو میرؔ مری جان جہاں رہتے ہو\nاک طرف بیٹھے ہوئے ہم بھی لہو پیتے ہیں\nعشق کی جان کو دیتے ہیں دعا جیتے ہیں\n\nدل خوشی ہوتا نہیں سبزے سے یا سنبل سے\nیعنی اب عشق نہیں مجھ کو خط و کاکل سے\nہم نشیں داغ کھلے دل پہ مرے سب گل سے\nآ چمن زار میں گل بازی کروں بلبل سے\nشاخ گل پر تو وہ ہو اور لب جو پر میں\nداغ کو دل پہ وہ لے گل کے تئیں رو پر میں\n\nہے زمیں خشک مرے دیدۂ تر سے نایاب\nشہر و کہسار و بیابان سبھی ہیں شاداب\nہر طرف اشک سے میرے ہیں رواں صد سیلاب\nکام کرتی ہے جہاں تک کہ نظر اب ہے آب\nہے عبث جیتے جی میرے تجھے بارش کا خیال\nمیں تو روتا ہوں ترے غم میں علیٰ قدر حال\n\nریزے الماس کے اور مشت نمک مشک کی بو\nکس کو یہ سارے بہم پہنچے ہیں ان سے مل تو\nلذت درد سے مقدور ہو جب تک کر خو\nدیکھ زنہار نہ دے مرہم بدرو کو رو\nننگ و ناموس کو مجروحوں کے رکھ مدنظر\nمنھ بھرائی میں مری جان لے اے زخم جگر\n\nمدتیں گذریں کہ اے شوخ یہ خواری ہے مجھے\nتجھ سے بے رحم ستمگار سے یاری ہے مجھے\nروز و شب درد و غم و نالہ و زاری ہے مجھے\nبلکہ ہر روز کی شب ہجر میں بھاری ہے مجھے\nاہل دل جان کے رکھتا ہے مجھے عشق بتنگ\nکاشکے دل کے عوض کوئی ملا ہوتا سنگ\n\nعاقبت کا نظر آیا نہ یک آثار ہمیں\nدل کی بے تابی نے ہرچند رکھا خوار ہمیں\nحیف صد حیف میسر نہ ہوا یار ہمیں\nتیرے کوچے میں کہیں سایۂ دیوار ہمیں\nتاکہ واں نالہ و فریاد کیا کرتے ہم\nاک طرف بیٹھ تجھے یاد کیا کرتے ہم\n\nکب تلک ہاتھ سے خوباں نہ جفاکاری دیں\nاس وفاداری کے بدلے یہ ہمیں خواری دیں\nتم کہو کب تئیں ہم داد وفاداری دیں\nعشق بن جرم جو کچھ ہو تو گنہگاری دیں\nقصد فریاد ہے گر یار ٹک انصاف کریں\nپھر وے گو سن کے کدورت سے ہمیں صاف کریں\n\nمت برس خاک پہ عشاق کی ہم کیا کم تھے\nحرف دیروزہ ہے یہ دیدہ ہمارے یم تھے\nموج سیلاب سے آنسو کے گئے عالم تھے\nیعنی اے ابر کسی عہد میں ہم ہی ہم تھے\nعزم کر رونے کا آبادی سے گر اٹھتے تھے\nبیٹھ کر دشت میں طوفان ہی کر اٹھتے تھے\n\nکون تھا یاں کہ مجھے دیکھ ندامت رکھے\nیا مرے سر پہ نصیحت سے قیامت رکھے\nمیرؔ صدسال خدا تجھ کو سلامت رکھے\nتو نہ ہووے نہ مجھے کرکے ملامت رکھے\nورنہ اب تک تو مری خاک بھی ہوجاتی ہوا\nلے گئی ہوتی تبرک کی طرح باد صبا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%86_%DA%A9%DB%81%D9%88_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "سچ ہے تیری ہی آرزو مجھ کو", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سچ ہے تیری ہی آرزو مجھ کو\nکہیں جینے دے یوں ہی تو مجھ کو\n\nبندہ نو خرید ہوں ہر دم\nرکھیے آنکھوں کے رو بہ رو مجھ کو\n\nکل تک اس کی تلاش تھی لیکن\nآج ہے اپنی جستجو مجھ کو\n\nپہلے وہ تھا کہ تم نہ تھے آگاہ\nاب وہ ہوں سن لو کو بہ کو مجھ کو\n\nواں شکایت پہ وہ حکایت ہے\nکہ نہیں جائے گفتگو مجھ کو\n\nاے حیات دو روزہ لے آئی\nکن گرفتاریوں میں تو مجھ کو\n\nداغؔ یکسو ہو خوش نہیں آتی\nناامیدانہ آرزو مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%86_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "سچ ہے کہ آہ سرد مری بے اثر نہیں", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سچ ہے کہ آہ سرد مری بے اثر نہیں\nپتھر کو جھاڑیے تو نکلتا شرر نہیں\n\nاوروں کو ہو تو ہو ہمیں مرنے سے ڈر نہیں\nخط لے کے ہم ہی جاتے ہیں گر نامہ بر نہیں\n\nہر چند مجھ میں کوئی کمال و ہنر نہیں\nہر چرخ کینہ دوز سے میں بے خطر نہیں\n\nاٹھتا قدم جو آگے کو اب راہبر نہیں\nپیچھے تو چھوڑ آئے کہیں اس کا گھر نہیں\n\nدل لے کے دے وہ بوسہ یہ ہے مقتضائے سن\nقیمت ہے اس کی کیا اسے اب تک خبر نہیں\n\nبے اختیار روتے ہیں پڑھ پڑھ کے مرثیے\nالفت میں تیری گر یہ مرا پردہ در نہیں\n\nعرش بریں پہ جا کے رکیں شوق کے قدم\nعارفؔ یہ آشیانۂ خیر البشر نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%86_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%DB%81_%D8%B3%D8%B1%D8%AF_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سچ ہے کہ انہوں نے ملک لے رکھا ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "سچ ہے کہ انہوں نے ملک لے رکھا ہے\nہم لوگوں سے کمپ کو پرے رکھا ہے\nلیکن ہے ادائے شکر ہم پر لازم\nکھانے بھر کو ہمیں بھی دے رکھا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%86_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D9%86%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D9%85%D9%84%DA%A9_%D9%84%DB%92_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "سچ ہے کہ جہاں میں سیر کیا کیا دیکھی", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "سچ ہے کہ جہاں میں سیر کیا کیا دیکھی\nمشرق کی طرف برق تجلی دیکھی\nمغرب میں وہ روشنی گئی بن کے ہلال\nدیکھا نہ ادھر کسی کی دیکھا دیکھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%86_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C"} {"title": "سچی شاعری", "poet_page": "مصنف:وحید الدین سلیم", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "مولانا روم فرماتے ہیں شاعری جزویست از پیغمبری۔ مگر یہ وہ شاعری نہیں ہے جس میں انسان کے دل کی اور اس کے خیالات، عادات اور جذبات کی ہو بہو تصویر نہیں کھینچی گئی۔ بلکہ وہ شاعری ہے جو انسان کی زندگی میں رہنمائی کرتی ہے۔ اس کے اندرونی ہولناک جذبات کا خاکہ اڑاتی ہے اور ان سے نفرت دلاتی ہے۔ عمدہ اخلاق اور شائستہ عادات کی تعلیم دیتی ہے اور ہر وقت انسان کی اصلاح پر آمادہ رہتی ہے۔ یہی کام پیغمبروں کا ہے جو بنی آدم کی اصلاح کے لیے دنیا میں آئے اور دنیا کو امن و امان، صلح کل اور ہمدردی کی ہدایت کر گئے۔ اس لحاظ سے اگر ایسی شاعری کو پیغمبری کا جز بتایا جائے تو بالکل صحیح ہے اور اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ سچی شاعری دنیا اور اہل دنیا کے پاس نبوت کا پیغام لاتی ہے اور ان کے اخلاق اور جذبات کو راہ راست پر لگاتی ہے۔\n\nہماری موجودہ شاعری جو اردو زبان میں نظم کی بنیاد پڑنے کے وقت سے آج تک ایک ہی حالت پر ہے اور ا س میں سوائے ایک آدھ بزرگ کے کسی نے تبدیلی اور اصلاح کا نام نہیں لیا ہے، نہایت بری اور مضر اور حقیقت سے دور ہے۔ کیا فائدہ ہے اس بات کے بیان کرنے سے کہ ممدوح کا مکان آسمان سے باتیں کرتا ہے یا اس کی بنیاد تحت الثریٰ میں ہے؟ کیا مطلب ہے اس بات کے کہنے سے کہ اس کا گھوڑا فرشتوں کے ساتھ ہم پرواز ہے یا اس کی تلوار بجلی پر کاٹ کرتی ہے؟ کیا ضرورت ہے اس تعریف کی کہ تصور آسمان کی نو کرسیوں پر چڑھ کر ممدوح کی رکاب کو چومتا ہے؟ کیا حاجت ہے اس اپچ کی کہ ممدوح کی ہیبت سے وہ دشمن جو ابھی رحم مادر میں ہے دو ٹکڑے ہوئے جاتا ہے؟ یہ مثال ان فضول اور خارج از حقیقت مبالغوں کی ہے جو ہمارے شعرا اپنے قصائد میں لاتے ہیں۔\n\nغزلوں پر غور کرو تو ان کی حالت قصائد سے بھی ابتر ہے۔ ان میں اکثر ایسے جھوٹے اور فحش اور ناپاک جذبات کی تصویر کھینچی جاتی ہے جو سننے والوں کے دل پر برا اثر ڈالتے ہیں اور ان کو دین و دنیا سے گمراہ کر دیتے ہیں۔ اسی طرح جس صنف کا خیال کرو، یا تو اس میں فضول مبالغے ہوں گے یا مضر اور قابل نفرت خیالات ہوں گے۔ زبان عمدہ، محاورات پاکیزہ، الفاظ دھلے ہوئے مگر معنی نفرت انگیز یا حیرت خیز ہیں۔ عرب کی قدیم شاعری میں اکثر فطرت کے حالات بیان کیے جاتے تھے مگر شاعر جب اپنے خاص ناگفتہ بہ واقعات کو سچائی کے ساتھ بلکہ فخر کے ساتھ بیان کرتا تھا تو سننے والوں کے دلوں پر اس کا برا اثر ہوتا تھا اور وہ بھی اخلاق کے دائرہ سے باہر نکلنے اور بیجا آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کو افتخار کا باعث خیال کرتے تھے۔\n\nاس میں شک نہیں کہ ظہور اسلام کے بعد عرب کی شاعری میں جو انقلاب ہوا وہ اخلاق کے لحاظ سے تو عمدہ تھا مگر اس میں زور اور اثر باقی نہ رہا تھا۔ اس کے بعد جب عباسیوں کا دور دورہ ہوا تو شاعری اس لحاظ سے نہایت پست درجہ پر پہنچ گئی کہ الفاظ کے طمطراق اور شان و شوکت کے ساتھ ایسے مضامین باندھے جانے لگے جو مبالغہ اور خوشامد سے لبریز تھے اور ان میں واقعیت اور آزادی کا جوہر نہیں چمکتا تھا۔ عرب کی شاعری کے اسی دور میں ایرانیوں کی شاعری کا سورج طلوع ہوا۔ اس میں شک نہیں کہ فارسی زبان کے بڑے بڑے شاعروں کے کلام میں تصوف اور اخلاق کا عنصر موجود ہے مگر اکثر شعرا الفاظ کی چمک دمک اور تخیل کی بھول بھلیاں میں رہ گئے اور شاعری کا مفید پہلو ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔\n\nفارسی زبان بہ نسبت عرب کی زبان کے نہایت محدود تھی اور اس میں الفاظ کی تعداد بھی کم تھی مگر خیالات کے ادا کرنے کے لیے انہی الفاظ کی سیکڑوں بلکہ ہزاروں ترکیبیں نکل آئیں۔ بیشک اسی طریقہ سے زبان میں وسعت اور رنگینی پیدا ہو گئی مگر خیالات کا عمدہ اور پاکیزہ ہونا اور چیز ہے جس سے اکثر فارسی کے شعرا محروم رہے۔ فارسی شاعری کے اخیر دور میں جو اس کے انحطاط کا زمانہ تھا، اردو شاعری نے جنم لیا اور وہ بالکل اسی کے سانچے میں ڈھالی گئی۔ یہی سبب تھاکہ اردو زبان کے شاعروں نے جب آنکھ کھول کر دیکھا تو ان کی گردوپیش مدح و ذم حسن و عشق کے وہی نمونے موجود تھے جو ایران کی سرزمین سے لائے گئے تھے۔\n\nہم کو اس موقع پر نہ شاعری کی حقیقت بیان کرنی ہے نہ اس کی تاریخ لکھنی مقصود ہے، بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اس بات کو ظاہر کر دیں کہ سچی شاعری سے جس کی بنیاد حقیقت اور واقعیت پر رکھی جاتی ہے اور جس میں اخلاق کے مفید پہلو دکھائے جاتے ہیں اور مضر اور ناپاک جذبات کا خاکہ اڑایا جاتا ہے، دنیا میں نہایت اعلیٰ درجہ کی اصلاح ہوتی ہے اور اس سے سوسائٹی کی حالت دن بدن ترقی کرتی ہے اور قوم اور ملک کو فائدہ پہنچتا ہے برخلاف اس کے جو شاعر مبالغوں اور فضول گوئیوں اور نفس کی بےجا امنگوں کے اظہار میں مشغول رہتے ہیں۔ وہ دنیا کے لیے نہایت خوفناک درندے ہیں۔ وہ لوگوں کو شہد میں زہر ملاکر چٹاتے ہیں اور انسان کے پردہ میں شیطان بن کر آتے ہیں۔ خدا ہماری قوم کو ایسے شاعروں سے اور ان کی ایسی شاعری سے نجات دے۔\n\nاعلیٰ درجہ کے شاعر جو اخلاق کو نظم کے دل فریب سانچے میں ڈھالتے ہیں اور پیغمبری کاایک فرض ادا کرتے ہیں اور دنیا کے لٹریچر کو اپنی نصیحتوں اور ہدایتوں سے مالامال کرتے ہیں اور سوسائٹی کو حسنِ معاشرت کی تعلیم دیتے ہیں، وہ زندگی میں بھی فائدہ رسانی کرتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی ان کا فیض جاری رہتا ہے۔ ان کا نام ابدالآباد تک زندہ ہے اور ان کا کام ہمیشہ قابل تحسین و آفرین ہے۔ یورپ کا شاعر کیٹس اپنی ایک نظم میں ایسے شاعروں کی روحوں سے خطاب کرتا ہے اور کہتا ہے، ’’اے انسان کے جذبات اور انبساط کے مطربو! تم اپنی پاک روحیں اس دنیا میں چھوڑ گئے ہو، کیا تم آسمان پر بھی روحیں رکھتے ہو اور اس طرح ایک ہی وقت میں دو عالموں میں زندہ ہو۔ ہاں وہ روحیں جو عرش پر ہیں، آفتاب اور ماہتاب کی کرنوں سے مخاطب رہتی ہیں اور آسمانی چشموں کے حیرت انگیز شور سے ہم صدا ہیں، وہ بہشت کے درختوں کی ہلکی سرسراہٹ سے سرگوشیاں کرتی ہیں اور جنت کے سبز ہ زاروں میں، جن کے نازک درختوں کی کونپلوں کو ڈائنا کے ہرنوں کے نوجوان اور خوبصورت بچے چر رہے ہیں، آرام سے پاؤں پھیلائے بیٹھے ہیں۔\n\nدرخت اپنے پھولوں سے ان پر سایہ کرتے ہیں۔ گلاب کے پودے پھبک رہے ہیں اور ان کی خوشبو دور تک نرم ہوا کے جھونکوں میں بہہ رہی ہے۔ جو دنیاکے پرندوں کی طرح بےعقل اور خیال کے پتلے نہیں ہیں بلکہ ان کے گلے سے الہامی راگ نکلتے ہیں اور وہ آسمان کے گہرے اسرار بیاں کرتے ہیں اور قدرت کے دل فریب واقعات سناتے ہیں۔ تم آسمان پر زندہ اور زمین پر بھی زندہ ہو۔ تم جو اپنی پاک اور معصوم روحیں اس زمین پر چھوڑ گئے ہو، وہ ہم کو تمہاری تلاش کا رستہ بتاتی ہیں، جہاں سے گزر کر تم خوشی اور مسرت کی دنیا میں پہنچ گئے ہو۔ وہاں نیند ہے، نہ تھکن ہے۔ دنیا میں تمہاری روحیں فانی انسان کو برابر ہدایت کرتی ہیں اور ان کی ہفت روزہ زندگی کو، ان کی تکلیفوں اور ان کی خوشبوں کو، ان کی الفتوں اور ان کی نفرتوں کو، ان کی عزت اور ان کی غیرت کو، ان کی کمزوری اور ان کی قوت کو ظاہر کر رہی ہیں اور آسمان پر بسنے والو! تم ہر روز ہم کو عقل کی باتیں سکھاتے ہو اگرچہ ہم سے بہت دور جا بسے ہو۔‘‘", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%86%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C"} {"title": "سڑک کے کنارے (افسانہ)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سڑک کے کنارے", "year": "1953", "text_ur": "یہی دن تھے، آسمان اس کی آنکھوں کی طرح ایسا ہی نیلا تھا جیسا کہ آج ہے۔ دھلا ہوا، نتھرا ہوا، اور دھوپ بھی ایسی ہی گنگنی تھی۔ سہانے خوابوں کی طرح۔ مٹی کی باس بھی ایسی ہی تھی جیسی کہ اس وقت میرے دل و دماغ میں رچ رہی ہے، اور میں نے اسی طرح لیٹے لیٹے اپنی پھڑپھڑاتی ہوئی روح اس کے حوالے کردی تھی۔‘‘\n\nاس نے مجھ سے کہا تھا، ’’تم نے مجھے جو یہ لمحات عطا کیے ہیں یقین جانو۔ میری زندگی ان سے خالی تھی۔۔۔ جو خالی جگہیں تم نے آج میری ہستی میں پر کی ہیں، تمہاری شکر گزار ہیں۔ تم میری زندگی میں نہ آتیں تو شاید وہ ہمیشہ ادھوری رہتی۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتامیں تم سے اور کیا کہوں۔۔۔ میری تکمیل ہوگئی ہے۔ ایسے مکمل طور پر کہ محسوس ہوتا ہے مجھے اب تمہاری ضرورت نہیں رہی۔۔۔ اور وہ چلا گیا۔۔۔ ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔‘‘\n\n’’میری آنکھیں روئیں۔۔۔ میرا دل رویا۔۔۔ میں نے اس کی منت سماجت کی۔ اس سے لاکھ مرتبہ پوچھا کہ میری ضرورت اب تمہیں کیوں نہیں رہی۔۔۔ جبکہ تمہاری ضرورت۔۔۔ اپنی تمام شدتوں کے ساتھ اب شروع ہوئی ہے۔ ان لمحات کے بعد جنہوں نے بقول تمہارے، تمہاری ہستی کی خالی جگہیں پُر کی ہیں۔‘‘\n\nاس نے کہا، ’’تمہارے وجود کے جس جس ذرے کی میری ہستی کی تعمیر و تکمیل کو ضرورت تھی، یہ لمحات چن چن کر دیتے رہے۔۔۔ اب کہ تکمیل ہوگئی ہے تمہارا میرا رشتہ خود بخود ختم ہوگیا ہے۔‘‘\n\nکس قدر ظالمانہ لفظ تھے۔ مجھ سے یہ پتھراؤ برداشت نہ کیا گیا۔ میں چیخ چیخ کر رونے لگی۔ مگر اس پر کچھ اثر نہ ہوا۔ میں نے اس سے کہا، ’’یہ ذرے جن سے تمہاری ہستی کی تکمیل ہوئی ہے، میرے وجود کا ایک حصہ تھے۔۔۔ کیا ان کا مجھ سے کوئی رشتہ نہیں۔۔۔ کیا میرے وجود کا بقایا حصہ ان سے اپنا ناطہ توڑ سکتا ہے؟ تم مکمل ہوگئے ہو۔۔۔ لیکن مجھے ادھورا کرکے۔۔۔ کیا میں نے اسی لیے تمہیں اپنا معبود بنایا تھا؟‘‘\n\nاس نے کہا، ’’بھونرے، پھولوں اور کلیوں کا رس چوس چوس کر شہد کشید کرتے ہیں، مگر وہ اس کی تلچھٹ تک بھی ان پھولوں اور کلیوں کے ہونٹوں تک نہیں لاتے۔۔۔ خدا اپنی پرستش کراتا ہے، مگر خود بندگی نہیں کرتا۔۔۔ عدم کے ساتھ خلوت میں چند لمحات بسر کرکے اس نے وجود کی تکمیل کی۔۔۔ اب عدم کہاں ہے۔۔۔ اس کی اب وجود کو کیا ضرورت ہے۔ وہ ایک ایسی ماں تھی جو وجود کو جنم دیتے ہی زچگی کے بستر پر فنا ہوگئی تھی۔‘‘\n\nعورت رو سکتی ہے، دلیلیں پیش نہیں کرسکتی۔ اس کی سب سے بڑی دلیل اس کی آنکھ سے ڈھلکا ہوا آنسو ہے۔۔۔ میں نے اس سے کہا۔ ’’دیکھو۔۔۔ میں رو رہی ہوں۔۔۔ میری آنکھیں آنسو برسا رہی ہیں تم جارہے ہو تو جاؤ، مگر ان میں سے کچھ آنسوؤں کو تو اپنے رومال کے کفن میں لپیٹ کر ساتھ لیتے جاؤ۔۔۔ میں تو ساری عمر روتی رہوں گی۔۔۔ مجھے اتنا تو یاد رہے گا کہ چند آنسوؤں کے کفن دفن کا سامان تم نے بھی کیا تھا۔۔۔ مجھ خوش کرنے کے لیے!‘‘\n\nاس نے کہا، ’’میں تمہیں خوش کرچکا ہوں۔ تمہیں اس ٹھوس مسرت سے ہمکنار کرچکا ہوں۔ جس کے تم سراب ہی دیکھا کرتی تھیں۔ کیا اس کا لطف اس کا کیف، تمہاری زندگی کے بقایا لمحات کا سہارا نہیں بن سکتا۔ تم کہتی ہوکہ میری تکمیل نے تمہیں ادھورا کردیا ہے۔ لیکن یہ ادھورا پن ہی کیا تمہاری زندگی کو متحرک رکھنے کے لیے کافی نہیں۔ میں مرد ہوں۔۔۔ آج تم نے میری تکمیل کی ہے۔ کل کوئی اور کرے گا۔ میراوجود کچھ ایسے آب و گل سے بنا ہے جس کی زندگی میں ایسے کئی لمحات آئیں گے جب وہ خود کو تشنہ تکمیل سمجھے گا۔ اورتم ایسی کئی عورتیں آئیں گی جو ان لمحات کی پیدا کی ہوئی خالی جگہیں پُر کریں گی۔‘‘\n\nمیں روتی رہی۔ جھنجھلاتی رہی۔\n\nمیں نے سوچا، یہ چند لمحات جو ابھی ابھی میری مٹھی میں تھے۔۔۔ نہیں۔۔۔ میں ان لمحات کی مٹھی میں تھی۔۔۔ میں نے کیوں خود کو ان کے حوالے کردیا۔ میں نے کیوں اپنی پھڑپھڑاتی روح ان کے منہ کھولے قفس میں ڈال دی۔ اس میں مزا تھا۔ ایک لطف تھا۔۔۔ ایک کیف تھا۔۔۔ تھا، ضرور تھا۔۔۔ اور یہ اس کے اور میرے تصادم میں تھا۔ لیکن۔۔۔یہ کیا کہ وہ ثابت و سالم رہا۔۔۔ اورمجھ میں تریڑے پڑ گئے۔۔۔ یہ کیا، کہ وہ اب میری ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ لیکن میں اور بھی شدت سے اس کی ضرورت محسوس کرتی ہوں۔ وہ طاقتور بن گیا ہے۔ میں نحیف ہوگئی ہوں۔۔۔ یہ کیا کہ آسمان پر دو بادل ہم آغوش ہوں۔۔۔ ایک رو رو کر برسنے لگا، دوسرا بجلی کا کوندا بن کر اس بارش سے کھیلتا، کدکڑے لگاتا بھاگ جائے۔ یہ کس کا قانون ہے؟ آسمانوں کا؟ زمینوں کا یا ان کے بنانے والوں کا؟\n\nمیں سوچتی رہی اور جھنجھلاتی رہی۔\n\nدو روحوں کا سمٹ کر ایک ہو جانا اور ایک ہو کر والہانہ وسعت اختیار کرجانا۔۔۔ کیا یہ سب شاعری ہے۔۔۔ نہیں، دو روحیں سمٹ کر ضرور اس ننھے سے نکتے پر پہنچتی ہیں جو پھیل کرکائنات بنتا ہے۔۔۔ لیکن اس کائنات میں ایک روح کیوں کبھی کبھی گھائل چھوڑ دی جاتی ہے۔۔۔ کیا اس قصور پر کہ اس نے دوسری روح کو اس ننھے سے نکتے پر پہنچنے میں مدد تھی۔\n\nیہ کیسی کائنات ہے۔\n\nیہی دن تھے۔ آسمان اس کی آنکھوں کی طرح ایسا ہی نیلا تھا جیسا کہ آج ہے۔ اور دھوپ بھی ایسی ہی کنکنی تھی۔ اور میں نے اسی طرح لیٹے لیٹے اپنی پھڑپھڑاتی ہوئی روح اس کے حوالے کردی تھی۔ وہ موجود نہیں ہے۔ بجلی کا کوندا بن کر جانے وہ کن بدلیوں کی گریہ و زاری سے کھیل رہا ہے۔ اپنی تکمیل کر کے چلا گیا۔۔۔ ایک سانپ تھا جو مجھے ڈس کر چلا گیا۔۔۔ لیکن اب اس کی چھوڑی ہوئی لکیر کیوں میرے پیٹ میں کروٹیں لے رہی ہے۔۔۔ کیا یہ میری تکمیل ہورہی ہے؟\n\nنہیں، نہیں۔۔۔ یہ کیسے تکمیل ہو سکتی ہے۔۔۔ یہ تو تخریب ہے۔۔۔\n\nلیکن یہ میرے جسم کی خالی جگہیں پُر ہورہی ہیں۔۔۔ یہ جو گڑھے تھے کس ملبے سے پُر کیے جارہے ہیں۔ میری رگوں میں یہ کیسی سرسراہٹیں دوڑ رہی ہیں۔ میں سمٹ کر اپنے پیٹ میں کس ننھے سے نکتے پر پہنچنے کے لیے پیچ و تاب کھا رہی ہوں۔ میری ناؤ ڈوب کر اب کن سمندروں میں ابھرنے کے لیے اٹھ رہی ہے؟\n\nیہ میرے اندر دہکتے ہوتے چولھوں پر کس مہمان کے لیے دودھ گرم کیا جارہا ہے۔ یہ میرا دل میرے خون کو دھنک دھنک کر کس کے لیے نرم و نازک رضائیاں تیار کررہا ہے۔ یہ میرا دماغ میرے حالات کے رنگ برنگ دھاگوں سے کس کے لیے ننھی منی پوشاکیں بن رہا ہے؟\n\nمیرا رنگ کس کے لیے نکھر رہا ہے۔۔۔ میرے انگ انگ اور روم روم میں پھنسی ہوئی ہچکیاں لوریوں میں کیوں تبدیل ہورہی ہیں۔\n\nیہی دن تھے۔۔۔ آسمان اس کی آنکھوں کی طرح ایسا ہی نیلا تھا جیسا کہ آج ہے۔۔۔ لیکن یہ آسمان اپنی بلندیوں سے اتر کر کیوں میرے پیٹ میں تن گیا ہے۔۔۔ اس کی نیلی نیلی آنکھیں کیوں میری رگوں میں دوڑتی پھرتی ہیں؟\n\nمیرے سینے کی گولائیوں میں مسجدوں کے محرابوں ایسی تقدیس کیوں آرہی ہے؟\n\nنہیں، نہیں۔۔۔ یہ تقدیس کچھ بھی نہیں۔ میں ان محرابوں کو ڈھا دوں گی۔۔۔ میں اپنے اندر تمام چولھے سرد کردوں گی جن پر بن بلائے مہمان کی خاطر داریاں چڑھی ہیں۔۔۔ میں اپنے خیالات کے تمام رنگ برنگ دھاگے آپس میں الجھا دوں گی۔\n\nیہی دن تھے۔۔۔ آسمان اس کی آنکھوں کی طرح ایسا ہی نیلا تھا جیسا کہ آج ہے۔۔۔ لیکن میں وہ دن کیوں یاد کرتی ہوں جن کے سینے پر سے وہ اپنے نقش قدم بھی اٹھا کر لے گیا تھا۔۔۔\n\nلیکن یہ۔۔۔ یہ نقش قدم کس کا ہے۔۔۔ یہ جو میرے پیٹ کی گہرائیوں میں تڑپ رہا ہے۔۔۔؟ کیایہ میرا جانا پہچانا نہیں۔۔۔\n\nمیں اسے کھرچ دوں گی۔۔۔ اسے مٹادوں گی۔۔۔ یہ رسولی ہے۔۔۔ پھوڑا ہے۔۔۔ بہت خوفناک پھوڑا۔\n\nلیکن مجھے کیوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ پھاہا ہے۔۔۔ پھاہا ہے تو کس زخم کا؟ اس زخم کا جو وہ مجھے لگا کر چلا گیا تھا؟ نہیں نہیں۔۔۔ یہ تو ایسا لگتا ہے کسی پیدائشی زخم کے لیے ہے۔۔۔ ایسے زخم کے لیے جو میں نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔ جو میری کوکھ میں جانے کب سے سورہا تھا۔\n\nیہ کوکھ کیا۔۔۔؟ فضول سی مٹی کی ہنڈکلیا۔۔۔ بچوں کا کھلونا۔ میں اسے توڑ پھوڑ دوں گی۔\n\nلیکن یہ کون میرے کان میں کہتا ہے، ’’یہ دنیا ایک چوراہا ہے۔۔۔ اپنا بھانڈا کیوں اس میں پھوڑتی ہے۔۔۔ یاد رکھ تجھ پر انگلیاں اٹھیں گی۔\n\nانگلیاں۔۔۔ ادھر کیوں نہ اٹھیں گی، جدھر وہ اپنی ہستی مکمل کرکے چلا گیا تھا۔۔۔ کیا ان انگلیوں کو وہ راستہ معلوم نہیں۔۔۔ یہ دنیا ایک چوراہا ہے۔۔۔ لیکن اس وقت تو وہ مجھے ایک دوراہے پر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔ ادھر بھی ادھورا پن تھا۔ ادھر بھی ادھورا پن۔۔۔ ادھر بھی آنسو، ادھر بھی آنسو۔‘‘\n\nلیکن یہ کس کا آنسو،میرے سیپ میں موتی بن رہا ہے۔۔۔ یہ کہاں بندھے گا؟\n\nانگلیاں اٹھیں گی۔۔۔ جب سیپ کا منہ کھلے اور موتی پھسل کر باہر چوراہے میں گر پڑے گا تو انگلیاں اٹھیں گی۔۔۔ سیپی کی طرف بھی اور موتی کی طرف بھی۔۔۔ اور یہ انگلیاں سنپولیاں بن بن کر ان دونوں کو ڈسیں گی اور اپنے زہر سے ان کو نیلا کردیں گی۔\n\nآسمان اس کی آنکھوں کی طرح ایسا ہی نیلا تھا جیسا کہ آج ہے۔ یہ گر کیوں نہیں پڑتا۔۔۔ وہ کون سے ستون ہیں جو اس کو تھامے ہوئے ہیں۔۔۔ کیا اس دن جو زلزلہ آیا تھا وہ ان ستونوں کی بنیادیں ہلا دینے کے لیے کافی نہیں تھا۔۔۔ یہ کیوں اب تک میرے سر کے اوپر اسی طرح تنا ہوا ہے؟\n\nمیری روح پسینے میں غرق ہے۔۔۔ اس کا ہر مسام کھلا ہوا ہے۔ چاروں طرف آگ دہک رہی ہے۔ میرے اندر کٹھالی میں سونا پگھل رہا ہے۔ دھونکنیاں چل رہی ہیں۔ شعلے بھڑک رہے ہیں۔ سونا، آتش فشاں پہاڑ کے لاوے کی طرح ابل رہا ہے۔ میری رگوں میں نیلی آنکھیں دوڑ دوڑ کر ہانپ رہی ہیں۔۔۔ گھنٹیاں بج رہی ہیں۔۔۔ کوئی آرہا ہے۔ کوئی آرہا ہے۔۔۔ بند کردو۔۔۔ بند کردو کواڑ۔۔۔\n\nکٹھالی الٹ گئی ہے۔ پگھلا ہوا سونا بہہ رہا ہے۔ گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ وہ آرہا ہے۔۔۔ میری آنکھیں مند رہی ہیں۔۔۔ نیلا آسمان گدلا ہو کر نیچے آرہا ہے۔۔۔\n\nیہ کس کے رونے کی آواز ہے۔ اسے چپ کراؤ۔۔۔ اس کی چیخیں میرے دل پر ہتھوڑے مار رہی ہیں۔ چپ کراؤ۔۔۔ اسے چپ کراؤ۔۔۔ اسے چپ کراؤ۔۔۔ میں گود بن رہی ہوں۔۔۔ میں کیوں گودبن رہی ہوں۔۔۔\n\nمیری بانہیں کھل رہی ہیں۔۔۔ چولھوں پر دودھ ابل رہا ہے۔ میرے سینے کی گولائیاں پیالیاں بن رہی ہیں۔۔۔ لاؤ اس گوشت کے لوتھڑے کو میرے دل کے دھنکے ہوئے خون کے نرم نرم گالوں میں لٹا دو۔۔۔ مت چھینو۔۔۔مت چھینو اسے۔۔۔ مجھ سے جدا نہ کرو۔ خدا کے لیے مجھ سے جدا نہ کرو۔\n\nانگلیاں۔۔۔انگلیاں۔۔۔ اٹھنے دو انگلیاں۔۔۔ مجھے کوئی پروا نہیں۔۔۔ یہ دنیا چوراہا ہے۔۔۔ پھوٹنے دومیری زندگی کے تمام بھانڈے۔۔۔\n\nمیری زندگی تباہ ہو جائے گی؟ ہو جانے دو! مجھے میرا گوشت واپس دے دو۔۔۔ میری روح کا یہ ٹکڑا مجھ سے مت چھینو۔۔۔ تم نہیں جانتے یہ کتنا قیمتی ہے۔۔۔ یہ گوہر ہے جو مجھے ان چند لمحات نے عطا کیا ہے۔۔۔ ان چند لمحات نے جنہوں نے میرے وجود کے کئی ذرے چن چن کر کسی کی تکمیل کی تھی اور مجھے اپنے خیال میں ادھورا چھوڑ کے چلے گئے تھے۔۔۔ میری تکمیل آج ہوئی ہے۔\n\nمان لو۔۔۔مان لو۔۔۔ میرے پیٹ کے خلا سے پوچھو۔۔۔ میری دودھ بھری ہوئی چھاتیوں سے پوچھو۔۔۔ ان لوریوں سے پوچھو، جو میرے انگ انگ اور روم روم میں تمام ہچکیاں سلا کر آگے بڑھ رہی ہیں۔۔۔ ان جھولنوں سے پوچھو جومیرے بازوؤں میں ڈالے جارہے ہیں۔ میرے چہرے کی زردیوں سے پوچھو جو گوشت کے اس لوتھڑے کے گالوں کو اپنی تمام سرخیاں چساتی رہی ہیں۔۔۔ ان سانسوں سے پوچھو، جو چھپے چوری اس کو اس کا حصہ پہنچاتے رہے ہیں۔\n\nانگلیاں۔۔۔ اٹھنے دو انگلیاں۔۔۔ میں انھیں کاٹ ڈالوں گی۔۔۔ شور مچے گا۔۔۔ میں یہ انگلیاں اٹھا کر اپنے کانوں میں ٹھونس لوں گی۔۔۔ میں گونگی ہو جاؤں گی، بہری ہو جاؤں گی، اندھی ہو جاؤں گی۔۔۔ میرا گوشت، میرے اشارے سمجھ لیا کرے گا۔۔۔ میں اسے ٹٹول ٹٹول کر پہچان لیا کروں گی۔۔۔\n\nمت چھینو۔۔۔ مت چھینو اسے۔۔۔ یہ میری کوکھ کی مانگ کا سیندور ہے۔۔۔۔ یہ میری ممتا کے ماتھے کی بندیا ہے۔۔۔ میرے گناہ کا کڑوا پھل ہے؟ لوگ اس پرتھو تھو کریں گے؟ میں چاٹ لوں گی یہ سب تھوکیں۔۔۔ آنول سمجھ کر صاف کردوں گی۔۔۔ دیکھو، میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔ تمہارے پاؤں پڑتی ہوں۔\n\nمیرے بھرے ہوئے دودھ کے برتن اوندھے نہ کرو۔۔۔ میرے دل کے دھنکے ہوئے خون کے نرم نرم گالوں میں آگ نہ لگاؤ۔۔۔ میری بانہوں کے جھولوں کی رسیاں نہ توڑو۔۔۔ میرے کانوں کو ان گیتوں سے محروم نہ کرو جو اس کے رونے میں مجھے سنائی دیتے ہیں۔\nمت چھینو۔۔۔ مت چھینو۔۔۔ مجھ سے جدا نہ کرو۔۔۔ خدا کے لیے مجھے اس سے جدا نہ کرو۔\n\nلاہور، ۲۱جنوری\n\nدھوبی منڈی سے پولیس نے ایک نوزائیدہ بچی کو سردی سے ٹھٹھرتے سڑک کے کنارے پڑی ہوئی پایا اور اپنے قبضے میں لے لیا۔ کسی سنگدل نے بچی کی گردن کو مضبوطی سے کپڑے میں جکڑ رکھا تھا اور عریاں جسم کو پانی سے گیلے کپڑے میں باندھ رکھا تھا تاکہ وہ سردی سے مر جائے۔ مگر وہ زندہ تھی۔ بچی بہت خوبصورت ہے۔ آنکھیں نیلی ہیں۔ اس کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%91%DA%A9_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1%DB%92_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29"} {"title": "سکوت درویش جاہل", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مصروف جو یوں وظیفہ خوانی میں ہیں آپ\nخیر اپنی سمجھتے بے زبانی میں ہیں آپ\nبولیں کچھ منہ سے یا نہ بولیں حضرت\nمعلوم ہے ہم کو جتنے پانی میں ہیں آپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%A9%D9%88%D8%AA_%D8%AF%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%B4_%D8%AC%D8%A7%DB%81%D9%84"} {"title": "سکوں پذیر جنون شباب ہو نہ سکا", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سکوں پذیر جنون شباب ہو نہ سکا\nشگفت موسم گل کامیاب ہو نہ سکا\n\nاڑائے برق و گل و لالہ نے بہت خاکے\nمگر کوئی مرے دل کا جواب ہو نہ سکا\n\nوہاں ہم آرزوئے خواب عیش کیا کرتے\nجہاں قیام بمقدار خواب ہو نہ سکا\n\nبدل گئیں وہ نگاہیں یہ حادثہ تھا اخیر\nپھر اس کے بعد کوئی انقلاب ہو نہ سکا\n\nوہاں پیام کی گنجائشیں کہاں سیمابؔ\nجہاں سلام مرا مستجاب ہو نہ سکا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B0%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D9%86%D9%88%D9%86_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D8%A7"} {"title": "سکھایا عقل نے برسوں ہمیں علم و ہنر سب کچھ", "poet_page": "مصنف:نبی بخش نایاب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نایاب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "سکھایا عقل نے برسوں ہمیں علم و ہنر سب کچھ\nجو سوچا تو جنوں ہی تھا جنوں سے بیشتر سب کچھ\n\nاگر اک تو نہیں تو میرے قبضے میں نہیں کچھ بھی\nاگر تو ہے تو ہے پکھراج اور لعل اور گہر سب کچھ\n\nنظر آیا ہمیں اصلی ٹھکانا مدعا اصلی\nجب آنکھیں بند کر لیں نیک اور بد دیکھ کر سب کچھ\n\nمرا سر پھوڑنا رونا تڑپنا غش پہ غش آنا\nبتا دینا زبانی بھی انہیں اے نامہ بر سب کچھ\n\nمحبت ہے تو پھر صبر و سکوں ہوش و خرد کیا ہیں\nلٹائے جا تو اس میداں میں اے صاحب نظر سب کچھ\n\nہوا جو کچھ تھا میرے پاس نذر خانہ ویرانی\nدل محکم دماغ اعلیٰ تر سنگیں جگر سب کچھ\n\nمتاع رنج و غم گنجینہ ہائے حسرت و حرماں\nمحبت میں بھلا کیا کچھ نہیں ہے میرے گھر سب کچھ\n\nمتاع حسن سے اک ذرہ وہ نایابؔ اگر دے دے\nاٹھا دوں شش جہت نہ آسماں شمس و قمر سب کچھ", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%A9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%B9%D9%82%D9%84_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D9%84%D9%85_%D9%88_%DB%81%D9%86%D8%B1_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DA%86%DA%BE"} {"title": "سکۂ داغ جنوں ملتے جو دولت مانگتا", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سکۂ داغ جنوں ملتے جو دولت مانگتا\nتنگ کرتی مفلسی گر میں فراغت مانگتا\n\nرنج سے فرصت نہ ملتی میں جو راحت مانگتا\nبوجھ ہوتا سر پہ گر قاروں کی دولت مانگتا\n\nگر مجھے ہوتی خبر میرا مسیحا آئے گا\nاے اجل اک دم کی میں بھی تجھ سے مہلت مانگتا\n\nخضر کی سی زندگی ہوتی جو مجھ ناکام کی\nمیں دعائے وصل جاناں تا قیامت مانگتا\n\nاشک کے دریا نے رکھ لی آبرو اے چشم تر\nمرتے دم دو گز زمین کیا بہر تربت مانگتا\n\nکس کی آمد آمد اپنے کلبۂ احزاں میں ہے\nپیشوائی کو ہے دل پہلو سے رخصت مانگتا\n\nدر گزرتا جان تک کرتا زمیں اوس سے عزیز\nمجھ سے دربان در جاناں جو رشوت مانگتا\n\nنزع تک دیدار کی حسرت رہی مشتاق کو\nاے مسیحا مر گیا بیمار شربت مانگتا\n\nدر بدر پھرنے نے میری قدر کھوئی اے فلک\nان کے دل میں ہے جگہ ملتی جو خلوت مانگتا\n\nمنتیں کر کے چھڑاتا بلبلوں کو دام سے\nمیں زر گل دیتا اگر صیاد قیمت مانگتا\n\nآدمیت سے ہیں دور ان زاہدوں کے قول و فعل\nحق موروثی تھا میرا کیوں میں جنت مانگتا\n\nجان دی ناحق کو مکارہ کے دم میں آن کر\nکوہ کن شیریں سے محنت کی جو اجرت مانگتا\n\nقصد کرتا گر بلندی کا تو پستی دیکھتا\nکند ہو جاتی طبیعت گر میں جودت مانگتا\n\nزلف کے جنجال میں پھنسنے کی خود کرتا دعا\nمیں سڑی تھا جو خدا سے اپنی شامت مانگتا\n\nقائل اپنی گفتگو سے خاص کا ہوتا کلیم\nسعدیٔ شیراز بھی مجھ سے فصاحت مانگتا\n\nیار ہوتا باغ ہوتا ایسے گر ہوتے نصیب\nمے کشی کی محتسب سے میں اجازت مانگتا\n\nدشت وحشت خیز میں عریاں ہے آغاؔ آپ ہی\nقاصد جاناں کو کیا دیتا جو خلعت مانگتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%A9%DB%82_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%AA%D8%A7"} {"title": "سکی آج پیالا انند کا پلا منج", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سکی آج پیالا انند کا پلا منج\nو یاقوت ادھراں کی مستی دلا منج\n\nمحل دستے ہیں نور کے ات صفا سوں\nسکی لیا سجن کوں منا کر بلا منج\n\nگگن سے طبق موتیاں سوں بھری ہوں\nپیا آرتی تائیں پیو کوں ہلا منج\n\nترے نیہ بن جیونا منج نہ بھاوے\nمسیحا نمن آپ دم سوں جلا منج\n\nادھر تیرے بن منج نہ بھاویں عقیقاں\nبدن تیرے بن نیں ہے نیکا طلا منج\n\nترے حسن بن ہور منج نین میں کد\nنہ آوے کہ ہے اس سیتیں ابتلا منج\n\nنبی صدقے قطباؔ علی مہر سیتے\nبندھا دل کہیں نیں انن بن ولا منج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%AC_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D9%86%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D9%84%D8%A7_%D9%85%D9%86%D8%AC"} {"title": "سکی تج زلف ہے جیواں کے آخذ", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سکی تج زلف ہے جیواں کے آخذ\nدسن تیرے اہیں رتناں کے آخذ\n\nتری نیناں تھے پنچے ہیں منتر سب\nترے نازاں ہیں سب ستھراں کے آخذ\n\nسہے تج سیس پرانچل سہیلی\nسہے سب عاشق در واں کے آخذ\n\nتری پتلیاں بھلائیاں ہیں جگت کوں\nنین دو مست ہیں مستاں کے آخذ\n\nنکھاں میرے ہیں تج جوبن کے مشتاق\nادھر میرے ترے بوسیاں کے آخذ\n\nعلی نانواں و کہیا یو غزل قطبؔ\nعلی نانواں ہیں سب کاماں کے آخذ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AC_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DB%8C%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%AE%D8%B0"} {"title": "سکی مکھ صفحے پر تیرے لکھیا راقم ملک مصرع", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سکی مکھ صفحے پر تیرے لکھیا راقم ملک مصرع\nخفی خط سوں لکھیا نازک ترے دونوں پلک مصرع\n\nقلم لے کر جلی لکھیا جو کئی بھی نا سکیں لکھنے\nلکھیا ہے وو کدھن مکھ تیرے صفحے پر الک مصرع\n\nسو لکھ لکھ کر پریشاں ہو قلم لٹ آپ کہتے ہیں\nمقابل اوس کے ہوسے نہ لکھیں گے گر دو لک مصرع\n\nبزاں کر دیکھ مکھ دھن کا دوانی ہو بہانے سوں\nکئے سب خوش نویساں سٹ قلم لکھ نئیں نہ سک مصرع\n\nقلم مکھڑے سوں ناسک لے لیکھے ہے لب کو سرخی سوں\nجو کئی بھی دیکھ کہتے ہیں لکھیا ہے کیا خوبک مصرع\n\nسکی کے کچ پہ نازک خط نہ بوجھے کوئی کنے لکھیا\nقطبؔ کوں پوچھے تو یوں کے لکھیا ہے میرا نک مصرع", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DA%A9%DA%BE_%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%84%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A7%D9%82%D9%85_%D9%85%D9%84%DA%A9_%D9%85%D8%B5%D8%B1%D8%B9"} {"title": "سگریٹ اور فاؤنٹین پن", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "رتی، ماشہ، تولہ", "year": "1956", "text_ur": "’’میرا پارکر ففٹی ون کا قلم کہاں گیا؟‘‘\n\n’’جانے میری بلا۔۔۔‘‘\n\n’’میں نے صبح دیکھا کہ تم اس سے کسی کو خط لکھ رہی تھیں، اب انکار کر رہی ہو۔‘‘\n\n’’میں نے خط لکھا تھا مگر اب مجھے کیا معلوم کہ وہ کہاں غارت ہوگیا۔‘‘\n\n’’یہاں تو آئے دن کوئی نہ کوئی چیز غارت ہو تی ہی رہتی ہے، مینٹل پیس پر آج سے دس روز ہوئے میں نے اپنی گھڑی رکھی صرف اس لیے کہ میری کلائی پر چند پھنسیاں نکل آئی تھیں، دوسرے دن دیکھا وہ غائب تھی۔‘‘\n\n’’کیا میں نے چرا لی تھی؟‘‘\n\n’’میں نے یہ کب کہا، سوال تو یہ ہے کہ وہ گئی کہاں۔۔۔ تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میں نے یہ گھڑی وہیں رکھی تھی،اس کے ساتھ ہی دس روپے آٹھ آنے تھے، وہ تو رہے لیکن گھڑی جس کی قیمت دو سو پچھتر روپے تھی وہ غائب ہوگئی۔ تم پر میں نے چوری کا الزام کب لگایا؟‘‘\n\n’’ایک گھڑی آپ کی پہلے بھی گم ہوگئی تھی۔‘‘\n\n’’ہاں۔۔۔‘‘\n\n’’میں تو یہ کہتی ہوں کہ آپ نے خود انھیں بیچ کھایا ہے۔‘‘\n\n’’بیگم تم ایسی بے ہودہ باتیں نہ کیا کرو ،مجھے وہ دونوں گھڑیاں بہت عزیز تھیں۔ اس کے علاوہ ان کو بیچنے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا تھا تم جانتی ہو کہ میری آمدنی اللہ کے فضل سے کافی ہے، بینک میں اس وقت میرے دس ہزار سے کچھ اوپر روپے جمع ہیں، گھڑیاں بیچنے کی ضرورت مجھے کیسے پیش آسکتی تھی۔‘‘\n\n’’کسی دوست کو دے دی ہوگی‘‘\n\n’’کیوں، کیامجھے ان کی ضرورت نہیں تھی؟ میں تو گھڑی کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں ایسا چھکڑا ہوں جس میں کوئی پہیہ نہیں، وقت کا کچھ پتہ نہیں چلتا گھر میں کلاک ہے مگر وہ تمہاری طرح نازک مزاج ہے ذرا موسم بدلے تو جناب بند ہو جاتے ہیں پھر جب موسم ان کے مزاج کے موافق ہو تو چلنا شروع کر دیتے ہیں۔‘‘\n\n’’یعنی میں کلاک ہوں۔ ‘‘\n\n’’میں نے صرف تشبیہ کے طور پر کہا تھا۔ کلاک تو بہت کام کی چیز ہے ‘‘\n\n’’ اور میں کسی کام کی چیز نہیں۔ شرم نہیں آتی آپ کو ایسی باتیں کرتے۔‘‘\n\n’’میں نے تو صرف مذاق کے طور پر یہ کہہ دیا تھا، تم خواہ مخواہ ناراض ہوگئی ہو۔‘‘\n\n’’میں آج تک کبھی آپ سے خواہ مخواہ ناراض ہوئی ہوں ،آپ خود ایسے موقعے دیتے ہیں کہ مجھے ناراض ہونا پڑتا ہے۔‘‘\n\n’’تو چلیے اب صلح ہو جائے۔‘‘\n\n’’صلح ولح کے متعلق میں کچھ نہیں جانتی ،ان پندرہ برسوں میں آپ سے میں پندرہ ہزار مرتبہ صلح صفائی کر چکی ہوں مگر نتیجہ کیا نکلا ہے۔ وہی ڈھاک کے تین پات۔‘‘\n\n’’ڈھاک کے تین پاتوں کو چھوڑو، تم مجھے میرا پارکر قلم لا کے دے دو ،مجھے چند بڑے ضروری خط لکھنے ہیں۔‘‘\n\n’’مجھے کیا پتہ ہے کہ وہ کہاں ہے ؟ لے گیا ہوگا کوئی اٹھا کر۔۔۔ اب میں ہر چیزکا دھیان تونہیں رکھ سکتی۔‘‘\n\n’’تو پھر تم کس مرض کی دوا ہو؟‘‘\n\n’’میں نہیں جانتی لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ آپ میری زندگی کا سب سے بڑا روگ ہیں۔‘‘\n\n’’تو یہ روگ دور کرو ،ہر روگ کا کوئی نہ کوئی علاج موجود ہوتا ہے۔‘‘\n\n’’خدا ہی بہتر کرے گا، یہ روگ۔۔۔ کسی حکیم یا ڈاکٹر سے دور ہونےوالا نہیں۔‘‘\n\n’’اگر تمہاری یہی خواہش ہے کہ مرجاؤں تو میں اس کے لیے تیار ہوں۔ میرے پاس اتفاق سے اس وقت قاتل زہر موجود ہے۔ میں تمہارے سامنے کھا کر مر جاتا ہوں۔‘‘\n\n’’مر جائیے۔‘‘\n\n’’اس کے لیے تو میں تیار ہوں تاکہ روز روز کی بک بک اور جھک جھک ختم ہو جائے۔‘‘\n\n’’آپ تو چاہتے ہیں کہ اپنے فرائض سے چھٹکارا ملے۔ بیوی بچے جائیں بھاڑ میں، آپ آرام سے قبر میں سوتے رہیں لیکن میں آپ سے کہے دیتی ہوں کہ وہاں کا عذاب یہاں کے عذاب سے ہزار گنا زیادہ ہوگا۔‘‘\n\n’’ہوا کرے۔۔۔ میں نے جو فیصلہ کیا ہے اس پر قائم ہوں۔‘‘\n\n’’آپ کبھی اپنے فیصلے پر قائم نہیں رہے۔‘‘\n\n’’یہ سب جھوٹ ہے ۔میں جب کوئی فیصلہ کرتا ہوں تو اس پر قائم رہتا ہوں۔ ابھی پچھلے دنوں میں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں سگریٹ نہیں پیوں گا چنانچہ اب تک اس پر قائم ہوں۔ ‘‘\n\n’’پاخانے میں سگریٹ کے ٹکڑے کہاں سے آتے ہیں۔‘‘\n\n’’مجھے کیا معلوم۔۔۔ تم پیتی ہوگی۔‘‘\n\n’’میں۔۔۔ مجھے تو اس چیز سے سخت نفرت ہے۔‘‘\n\n’’ہو گی، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاخانہ بھی کوئی ایسی معقول جگہ ہے جہاں پرسگریٹ پیے جائیں۔‘‘\n\n’’چوری چھپے جو پینا ہوا ،پاخانے کے علاوہ اور موزوں و مناسب جگہ کیا ہوسکتی ہے؟ آپ میرے ساتھ فراڈ نہیں کرسکتے۔ میں آپ کی رگ رگ کو پہچانتی ہوں۔‘‘\n\n’’یہ تم نے مجھ سے آج ہی کہا کہ میں پاخانے میں چھپ چھپ کر سگریٹ پیتا ہوں۔‘‘\n\n’’میں نے اس لیے اس کا ذکر آپ سے نہیں کیا تھا۔ آپ چونکہ تمباکو کے عادی ہو چکے ہیں اس لیے سگریٹ نوشی آپ ترک نہیں کرسکتے لیکن یہ بہر حال بہتر ہے کہ آپ دو ایک سگریٹ دن میں پی لیتے ہیں جہاں آپ پچاس کے قریب پھونکتے تھے۔‘‘\n\n’’میں نے ڈھائی برس میں ایک سگریٹ بھی نہیں پیا۔ بھنگی پیتا ہوگا۔‘‘\n\n’’بھنگی گولڈ فلیک اور کریون اے نہیں پی سکتا۔‘‘\n\n’’حیرت ہے۔ ‘‘\n\n’’کس بات کی۔۔۔ حیرت تو مجھے ہے کہ آپ صاف انکار کر رہے ہیں، مجھے بنا رہے ہیں۔‘‘\n\n’’نہیں میں سوچ رہا ہوں کہ یہ سگریٹ وہاں کون پیتا ہے۔‘‘\n\n’’آپ کے سوا اور کون پی سکتا ہے، مجھے تو اس کے دھوئیں سے کھانسی ہو جاتی ہے، مجھے تو اس سے سخت نفرت ہے، معلوم نہیں آپ لوگ کس طرح اس واہیات چیز کا دھواں اپنے اندر کھینچتے ہیں۔‘‘\n\n’’خیر اس کو چھوڑو۔۔۔ میرا پار کر قلم مجھے دو۔۔۔‘‘\n\n’’میرے پاس نہیں ہے۔‘‘\n\n’’تمہارے پاس نہیں ہے تو کیا میرے پاس ہے۔ آج صبح تم خدا معلوم کسے خط لکھ رہی تھیں، تمہاری انگلیوں میں میرا ہی قلم تھا۔‘‘\n\n’’تھا۔ لیکن مجھے کیا معلوم کہاں گیا۔ میں نے آپ کے میز پر رکھا ہو گا۔ اور آپ نے اٹھا کر کسی دوست کو دے دیا ہوگا۔ آپ ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔‘‘\n\n’’دیکھو بیگم میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ قلم میں نے کسی دوست کو نہیں دیا، ہو سکتا ہے کہ تم نے اپنی کسی سہیلی کو دے دیا ہو۔‘‘\n\n’’ میں کیوں اتنی قیمتی چیز کسی سہیلی کو دینے لگی۔ وہ تو آپ ہیں کہ ہزاروں اپنے دوستوں میں لٹا دیتے ہیں۔‘‘\n\n’’اب سوال یہ ہے کہ وہ قلم ہے کہاں ؟مجھے چند ضروری خط لکھنے ہیں، جاؤ میری جان ! ذرا تھوڑی سی تکلیف کرو ممکن ہے ڈھونڈنے سے مل جائے۔‘‘\n\n’’نہیں ملے گا۔۔۔ آپ فضول مجھے تکلیف دینا چاہتے ہیں۔ ‘‘\n\n’’تو ایسا کرو دوات اور پن ہولڈر لے آؤ۔‘‘\n\n’’دوات تو صبح آپ کی بچی نے توڑ دی ،پن ہولڈر بھانجے کے بیٹے نے۔‘‘\n\n’’اتنے پن ہولڈر تھے، کہاں گئے؟‘‘\n\n’’آپ ہی استعمال کرتے ہیں۔‘‘\n\n’’میں نے آج تک پن ہولڈر کبھی استعمال نہیں کیا، کبھی کبھی تم کیا کرتی ہو۔‘‘\n\n’’آپ کی بچیاں آفت کی پتلیاں ہیں، وہی توڑ پھوڑ کے پھینک دیتی ہوں گی۔‘‘\n\n’’تم دھیان کیوں نہیں دیتیں۔‘‘\n\n’’کس کس چیز کا دھیان رکھوں ۔مجھے گھر کے کام کاج سے فرصت نہیں ہے۔‘‘\n\n’’اسی لیے تو میری دو گھڑیاں غائب ہوگئیں۔ جب دیکھو لیٹی رہتی ہو۔ خدا معلوم گھر کا کام کاج لیٹے لیٹےکیسے کرتی ہو۔‘‘\n\n’’گھر کا سارا کام تو آپ کرتے ہیں۔‘‘\n\n’’میں اس کا دعوی نہیں کرتا، بہر حال جو کچھ میں کرسکتا ہوں کرتا رہتا ہوں۔‘‘\n\n’’کیا کرتے ہیں آپ ؟‘‘\n\n’’ہفتے میں ایک دو دفعہ مارکیٹ جاتا ہوں، مرغی اور مچھلی خرید کر لاتا ہوں، انڈے بھی ،کوئلے کا پرمٹ بھی حاصل کرتا ہوں، گھی کا بندوبست کرتا ہوں اب میں اور کیا کرسکتا ہوں۔‘‘\n\n’’مصروف آدمی ہوں، دفتر میں جاتا ہوں، وہاں نہ جاؤں تو مہینہ ختم ہونے کے بعد سات سو روپے کیسے آسکتے ہیں۔‘‘\n\n’’ان سات سو روپوں میں سے آپ مجھے کتنے دیتے ہیں؟‘‘\n\n’’پورے سات سو روپے۔‘‘\n\n’’ٹھیک ہے لیکن آپ اپنا گزارہ کس طرح کرتے ہیں؟‘‘\n\n’’ اللہ بہتر جانتا ہے۔‘‘\n\n’’رشوت لیتے ہیں اور کیا ،ورنہ ساری تنخواہ مجھے دینے کے بعد آپ پانچ سو پچپن کے سگریٹ نہیں پی سکتے۔‘‘\n\n’’میں نے سگریٹ پینے ترک کر دیے ہیں۔‘‘\n\n’’آپ جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟‘‘\n\n’’میں بحث نہیں کرنا چاہتا۔ تم میرا پارکر قلم ذرا ڈھونڈ کے نکالو۔‘‘\n\n’’میں آپ سے کہہ چکی ہوں کہ میرے پاس نہیں ہے۔‘‘\n\n’’تو اور کس کے پاس ہے؟‘‘\n\n’’مجھے کیا معلوم، میں نے صبح خط لکھ کر مینٹل پیس پر رکھ دیا۔‘‘\n\n’’وہاں تو اس کا نام و نشان نہیں۔‘‘\n\n’’آپ نے کسی دوست کو بخش دیا ہوگا۔۔۔ گیارہ بجے آپ کے چند دوست آئے تھے۔‘‘\n\n’’میرے دوست کہاں تھے۔ صرف ملاقات کرنے آئے تھے۔ میں تو ان کا نام بھی نہیں جانتا۔‘‘\n\n’’میرا نام بھی آپ بھول گئے ہوں گے، بتائیے کیا ہے۔‘‘\n\n’’تمہارا نام۔۔۔ لیکن بتانے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔۔۔ تم ۔۔۔ تم ہو۔۔۔ بس ۔۔۔؟‘‘\n\n’’ان پندرہ برسوں میں آپ کو میرا نام بھی یاد نہیں رہا، میری سمجھ میں نہیں آتا آپ کس قسم کے انسان ہیں۔‘‘\n\n’’قسمیں پوچھو گی تو حیران رہ جاؤ گی، ایک کروڑ سے زیادہ ہوں گی، اب جاؤ میرا قلم ڈھونڈو۔‘‘\n\n’’میں نہیں جانتی کہاں ہے۔‘‘\n\n’’یہ قمیص تم نے نئی سلوائی ہے۔‘‘\n\n’’ہاں!‘‘\n\n’’گریبان بہت خوبصورت ہے۔۔۔ ارے یہ اس میں تو میرا قلم اٹکا ہوا ہے۔۔۔‘‘\n\n’’سچ میں نے یہاں اڑس لیا ہوگا۔ معاف کیجیے گا۔‘‘\n\n’’ٹھہرو میں خود نکال لیتا ہوں۔ ممکن ہے تم قمیص پھاڑ ڈالو۔‘‘\n\n’’یہ کیا گرا ہے؟‘‘\n\n’’یہ کیا ہے۔۔۔ ارے یہ تو پانچ سو پچپن سگرٹوں کا ڈبہ ہے ،کہاں سے آگیا ہے؟‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D9%B9_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%81%D8%A7%D8%A4%D9%86%D9%B9%DB%8C%D9%86_%D9%BE%D9%86"} {"title": "سہائے", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "خالی بوتلیں، خالی ڈبے", "year": "1950", "text_ur": "’’یہ مت کہو کہ ایک لاکھ ہندو اور ایک لاکھ مسلمان مرے ہیں، یہ کہو کہ دو لاکھ انسان مرے ہیں۔ اور یہ اتنی بڑی ٹریجڈی نہیں کہ دو لاکھ انسان مرے ہیں، ٹریجڈی اصل میں یہ ہے کہ مارنے اور مرنے والے کسی بھی کھاتے میں نہیں گئے۔ ایک لاکھ ہندومار کر مسلمانوں نے یہ سمجھا ہوگا کہ ہندو مذہب مر گیا ہے، لیکن وہ زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ اسی طرح ایک لاکھ مسلمان قتل کرکے ہندوؤں نے بغلیں بجائی ہوں گی کہ اسلام ختم ہوگیا ہے، مگر حقیقت آپ کے سامنے ہے کہ اسلام پر ایک ہلکی سی خراش بھی نہیں آئی۔ وہ لوگ بے وقوف ہیں جو سمجھتے ہیں کہ بندوقوں سے مذہب شکار کیے جاسکتے ہیں۔۔۔ مذہب، دین، ایمان، دھرم، یقین، عقیدت۔۔۔ یہ جو کچھ بھی ہے ہمارے جسم میں نہیں، روح میں ہوتا ہے۔۔۔ چھرے، چاقو اور گولی سے یہ کیسے فنا ہو سکتا ہے؟‘‘\n\nممتاز اس روز بہت ہی پرجوش تھا۔ ہم صرف تین تھے جو اسے جہاز پر چھوڑنے کے لیے آئے تھے۔۔۔ وہ ایک غیر متعین عرصے کے لیے ہم سے جدا ہو کر پاکستان جارہا تھا۔۔۔ پاکستان، جس کے وجود کے متعلق ہم میں سے کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔\n\nہم تینوں ہندو تھے۔ مغربی پنجاب میں ہمارے رشتہ داروں کو بہت مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ ممتاز ہم سے جدا ہورہا تھا۔ جگل کو لاہور سے خط ملا کہ فسادات میں اسکا چچا مارا گیا ہے تو اس کو بہت صدمہ ہوا۔ چنانچہ اسی صدمے کے زیر اثر باتوں باتوں میں ایک دن اس نے ممتاز سے کہا، ’’میں سوچ رہا ہوں اگر ہمارے محلے میں فساد شروع ہو جائے تو میں کیا کروں گا۔‘‘\n\nممتاز نے اس سے پوچھا، ’’کیا کرو گے؟‘‘ جگل نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا، ’’میں سوچ رہا ہوں، بہت ممکن ہے میں تمہیں مار ڈالوں۔‘‘\n\nیہ سن کر ممتاز بالکل خاموش ہوگیا اور اس کی یہ خاموشی تقریباً آٹھ روز تک قائم رہی اور اس وقت ٹوٹی جب اس نے اچانک ہمیں بتایا کہ وہ پونے چار بجے سمندری جہاز سے کراچی جارہا ہے۔\n\nہم تینوں میں سے کسی نے اس کے اس ارادے کے متعلق بات چیت نہ کی۔ جگل کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ ممتاز کی روانگی کا باعث اس کا یہ جملہ ہے، ’’میں سوچ رہا ہوں۔ بہت ممکن ہے، میں تمہیں مار ڈالوں۔‘‘ غالباً وہ اب تک یہی سوچ رہا تھا کہ وہ مشتعل ہو کر ممتاز کو مار سکتا ہے یا نہیں۔۔۔ ممتاز کو جو کہ اس کا جگری دوست تھا۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہم تینوں میں سب سے زیادہ خاموش تھا۔ لیکن عجیب بات ہے کہ ممتاز غیر معمولی طور پر باتونی ہوگیا تھا۔۔۔ خاص طور پر روانگی سے چند گھنٹے پہلے۔\n\nصبح اٹھتے ہی اس نے پینا شروع کردی۔ اسباب وغیرہ کچھ اس انداز سے باندھا اور بندھوایا جیسے وہ کہیں سیر و تفریح کے لیے جارہا ہے۔۔۔ خود ہی بات کرتا تھا اور خود ہی ہنستا تھا۔کوئی اور دیکھتا تو سمجھتا کہ وہ بمبئی چھوڑنے میں ناقابلِ بیان مسرت محسوس کررہا ہے، لیکن ہم تینوں اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ صرف اپنے جذبات چھپانے کیلیے ہمیں اور اپنے آپ کو دھوکا دینے کی کوشش کررہا ہے۔\n\nمیں نے بہت چاہا کہ اس سے اس کی یک لخت روانگی کے متعلق بات کروں۔ اشارۃًمیں نے جگل سے بھی کہا کہ وہ بات چھیڑے مگر ممتاز نے ہمیں کوئی موقعہ ہی نہ دیا۔\n\nجگل تین چار پگ پی کر اور بھی زیادہ خاموش ہوگیا اور دوسرے کمرے میں لیٹ گیا۔ میں اور برج موہن اس کے ساتھ رہے۔ اسے کئی بل ادا کرنے تھے۔ ڈاکٹروں کی فیسیں دینی تھیں۔ لانڈری سے کپڑے لانے تھے۔۔۔ یہ سب کام اس نے ہنستے کھیلتے کیے، لیکن جب اس نے ناکے کے ہوٹل کے بازو والی دکان سے ایک پان لیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ برج موہن کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر وہاں سے چلتے ہوئے اس نے ہولے سے کہا، ’’یاد ہے برج۔۔۔ آج سے دس برس پہلے جب ہمارا حال بہت پتلا تھا، گوبند نے ہمیں ایک روپیہ ادھار دیا تھا۔‘‘\n\nراستے میں ممتاز خاموش رہا۔ مگر گھر پہنچتے ہی اس نے پھر باتوں کا لامتناہی سلسلہ شروع کردیا، ایسی باتوں کا جن کا سر تھا نہ پیر، لیکن وہ کچھ ایسی پرخلوص تھیں کہ میں اور برج موہن برابر ان میں حصہ لیتے رہے۔ جب روانگی کا وقت قریب آیا تو جگل بھی شامل ہوگیا، لیکن جب ٹیکسی بندرگاہ کی طرف چلی تو سب خاموش ہوگئے۔\n\nممتاز کی نظریں بمبئی کے وسیع اور کشادہ بازاروں کو الوداع کہتی رہیں۔ حتیٰ کہ ٹیکسی اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ گئی۔ بےحد بھیڑ تھی۔ ہزارہا ریفیو جی جارہے تھے۔ خوشحال بہت کم اور بدحال بہت زیادہ۔۔۔ بے پناہ ہجوم تھا لیکن مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اکیلا ممتاز جارہا ہے۔ ہمیں چھوڑ کر ایسی جگہ جارہا ہے جو اس کی دیکھی بھالی نہیں۔ جواس کے مانوس بنانے پر بھی اجنبی رہے گی۔ لیکن یہ میرا اپنا خیال تھا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ ممتاز کیا سوچ رہا تھا۔\n\nجب کیبن میں سارا سامان چلا گیا تو ممتاز ہمیں عرشے پر لے گیا۔۔۔ ادھر جہاں آسمان اور سمندر آپس میں مل رہے تھے، ممتاز دیر تک دیکھتا رہا، پھر اس نے جگل کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا، ’’یہ محض فریبِ نظر ہے۔۔۔ آسمان اور سمندر کا آپس میں ملنا۔۔۔ لیکن یہ فریبِ نظر کس قدر دلکش ہے۔۔۔ یہ ملاپ!‘‘\n\nجگل خاموش رہا۔ غالباً اس وقت بھی اس کے دل و دماغ میں اس کی یہ کہی ہوئی بات چٹکیاں لے رہی تھی، ’’میں سوچ رہا ہوں۔ بہت ممکن ہے میں تمہیں مار ڈالوں۔‘‘\n\nممتاز نے جہاز کے بار سے برانڈی منگوائی، کیونکہ وہ صبح سے یہی پی رہا تھا۔۔۔ ہم چاروں گلاس ہاتھ میں لیے جنگلے کے ساتھ کھڑے تھے۔ ریفیو جی دھڑا دھڑ جہاز میں سوار ہورہے تھے اور قریب قریب ساکن سمندر پر آبی پرندے منڈلا رہے تھے۔\n\nجگل نے دفعتاً ایک ہی جرعے میں اپنا گلاس ختم کیا اور نہایت ہی بھونڈے انداز میں ممتاز سے کہا، ’’مجھے معاف کردینا ممتاز۔۔۔ میرا خیال ہے میں نے اس روز تمہیں دکھ پہنچایا تھا۔‘‘\n\nممتاز نے تھوڑے توقف کے بعد جگل سے سوال کیا، ’’جب تم نے کہا تھا میں سوچ رہا ہوں۔۔۔ بہت ممکن ہے میں تمہیں مارڈ الوں۔۔۔ کیا اس وقت واقعی تم نے یہی سوچا تھا۔۔۔ نیک دلی سے اسی نتیجے پر پہنچے تھے۔‘‘\n\nجگل نے اثبات میں سر ہلایا، ’’لیکن مجھے افسوس ہے۔‘‘\n\n’’تم مجھے مار ڈ التے تو تمہیں زیادہ افسوس ہوتا۔‘‘ ممتاز نے بڑے فلسفیانہ انداز میں کہا۔ ’’لیکن صرف اس صورت میں اگر تم نے غور کیا ہوتا کہ تم نے ممتاز کو۔۔۔ ایک مسلمان کو۔۔۔ ایک دوست کو نہیں بلکہ ایک انسان کو مارا ہے۔۔۔ وہ اگر حرامزادہ تھا تو تم نے اس کی حرامزدگی کو نہیں بلکہ خود اس کو مار ڈالا ہے۔۔۔ وہ اگر مسلمان تھا تو تم نے اس کی مسلمانی کو نہیں اس کی ہستی کو ختم کیا ہے۔۔۔ اگر اس کی لاش مسلمانوں کے ہاتھ آتی تو قبرستان میں ایک قبر کا اضافہ ہو جاتا۔ لیکن دنیا میں ایک انسان کم ہو جاتا۔‘‘\n\nتھوڑی دیر خاموش رہنے اور کچھ سوچنے کے بعد اس نے پھر بولنا شر وع کیا، ’’ہو سکتا ہے، میرے ہم مذہب مجھے شہید کہتے، لیکن خدا کی قسم اگر ممکن ہوتا تو میں قبر پھاڑ کر چلانا شروع کردیتا۔ مجھے شہادت کا یہ رتبہ قبول نہیں۔۔۔ مجھے یہ ڈگری نہیں چاہیے جس کا امتحان میں نے دیا ہی نہیں۔۔۔ لاہور میں تمہارے چچا کو ایک مسلمان نے مار ڈالا۔۔۔ تم نے یہ خبر بمبئی میں سنی اور مجھے قتل کردیا۔۔۔ بتاؤ، تم اور میں کس تمغے کے مستحق ہیں؟ اور لاہور میں تمہارا چچا اور اس کا قاتل کس خلعت کا حقدار ہے۔۔۔ میں تو یہ کہوں گا، مرنے والے کتے کی موت مرے اور مارنے والوں نے بیکار۔۔۔ بالکل بیکار اپنے ہاتھ خون سے رنگے۔۔۔‘‘\n\nباتیں کرتے کرتے ممتاز بہت جذباتی ہوگیا۔ لیکن اس زیادتی میں خلوص برابر کا تھا۔ میرے دل پر خصوصاً اس کی اس بات کا بہت اثر ہوا کہ مذہب، دین، ایمان، یقین، دھرم، عقیدت۔۔۔ یہ جو کچھ بھی ہے ہمارے جسم کے بجائے روح میں ہوتا ہے۔ جو چھرے، چاقو اور گولی سے فنا نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ میں نے اس سے کہا، ’’تم بالکل ٹھیک کہتے ہو۔‘‘\n\nیہ سن کر ممتاز نے اپنے خیالات کا جائزہ لیا اور قدرےبے چینی سے کہا، ’’نہیں بالکل ٹھیک نہیں۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ یہ سب ٹھیک توہے۔ لیکن شاید میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں، اچھی طرح ادا نہیں کرسکا۔۔۔ مذہب سے میری مراد، یہ مذہب نہیں، یہ دھرم نہیں، جس میں ہم میں سے ننانوے فی صدی مبتلا ہیں۔۔۔ میری مراد اس خاص چیز سے ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے مقابلے میں جداگانہ حیثیت بخشتی ہے۔۔۔ وہ چیز جو انسان کو حقیقت میں انسان ثابت کرتی ہے۔۔۔ لیکن یہ چیز کیا ہے؟ افسوس ہے کہ میں اسے ہتھیلی پر رکھ کر نہیں دکھا سکتا۔‘‘ یہ کہتے کہتے ایک دم اس کی آنکھوں میں چمک سی پیدا ہوئی اور اس نے جیسے خود سے پوچھنا شروع کیا، ’’لیکن اس میں وہ کون سی خاص بات تھی؟ کٹر ہندو تھا۔۔۔ پیشہ نہایت ہی ذلیل لیکن اس کے باوجود اس کی روح کس قدر روشن تھی؟‘‘\n\nمیں نے پوچھا، ’’کس کی؟‘‘\n\n’’ایک بھڑوے کی۔‘‘ ہم تینوں چونک پڑے۔ ممتاز کے لہجے میں کوئی تکلف نہیں تھا، اس لیے میں نے سنجیدگی سے پوچھا، ’’ایک بھڑوے کی؟‘‘\n\nممتاز نے اثبات میں سر ہلایا۔’’مجھے حیرت ہے کہ وہ کیسا انسان تھا اور زیادہ حیرت اس بات کی ہے کہ وہ عرفِ عام میں ایک بھڑوا تھا۔۔۔ عورتوں کا دلال۔۔۔ لیکن اس کا ضمیر بہت صاف تھا۔‘‘\n\nممتاز تھوڑی دیر کے لیے رک گیا، جیسے وہ پرانے واقعات اپنے دماغ میں تازہ کررہا ہے۔۔۔ چند لمحات کے بعد اس نے پھر بولنا شروع کیا، ’’اس کا پورا نام مجھے یاد نہیں۔۔۔ کچھ سہائے تھا۔۔۔ بنارس کا رہنے والا۔ بہت ہی صفائی پسند۔ وہ جگہ جہاں وہ رہتا تھا گو بہت ہی چھوٹی تھی مگر اس نے بڑے سلیقے سے اسے مختلف خانوں میں تقسیم کررکھا تھا۔۔۔ پردے کا معقول انتظام تھا۔ چارپائیاں اور پلنگ نہیں تھے۔ لیکن گدیلے اور گاؤ تکیے موجود تھے۔ چادریں اور غلاف وغیرہ ہمیشہ اجلے رہتے تھے۔ نوکر موجود تھا مگر صفائی وہ خود اپنے ہاتھ سے کرتا تھا۔۔۔ صرف صفائی ہی نہیں، ہر کام۔۔۔ اور وہ سر سے بلا کبھی نہیں ٹالتا تھا۔ دھوکا اور فریب نہیں کرتا تھا۔۔۔ رات زیادہ گزر گئی ہے اور آس پاس سے پانی ملی شراب ملتی ہے تو وہ صاف کہہ دیتا تھا کہ صاحب اپنے پیسے ضائع نہ کیجیے۔۔۔ اگر کسی لڑکی کے متعلق اسے شک ہے تو وہ چھپاتا نہیں تھا۔۔۔ اور تو اور اس نے مجھے یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ تین برس کے عرصے میں بیس ہزار روپے کما چکا ہے۔۔۔ ہر دس میں سے ڈھائی کمیشن کے لے لے کر۔۔۔ اسے صرف دس ہزار اور بنانے تھے۔۔۔ معلوم نہیں صرف دس ہزار اور کیوں، زیادہ کیوں نہیں۔۔۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ تیس ہزار روپے پورے کرکے وہ واپس بنارس چلا جائے گا اور بزازی کی دکان کھولے گا۔۔۔ میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ صرف بزازی ہی کی دکان کھولنے کا آرزو مند کیوں تھا۔‘‘\n\nمیں یہاں تک سن چکا تو میرے منہ سے نکلا، ’’عجیب و غریب آدمی تھا۔‘‘\n\nممتاز نے اپنی گفتگو جاری رکھی، ’’میرا خیال تھا کہ وہ سر تا پا بناوٹ ہے۔۔۔ ایک بہت بڑا فراڈ ہے۔ کون یقین کرسکتا ہے کہ وہ ان تمام لڑکیو ں کو جو اس کے دھندے میں شریک تھیں، اپنی بیٹیاں سمجھتا تھا۔ یہ بھی اس وقت میرے لیے بعید از وہم تھا کہ اس نے ہر لڑکی کے نام پر پوسٹ آفس میں سیونگ اکاؤنٹ کھول رکھا تھا اور ہر مہینے کل آمدنی وہاں جمع کراتا تھا۔ اور یہ بات تو بالکل ناقابل یقین تھی کہ وہ دس بارہ لڑکیوں کے کھانے پینے کا خرچ اپنی جیب سے ادا کرتا ہے۔۔۔ اس کی ہر بات مجھے ضرورت سے زیادہ بناوٹی معلوم ہوتی تھی۔۔۔ ایک دن میں اس کے یہاں گیا تو اس نے مجھ سے کہا، امینہ اور سکینہ دونوں چھٹی پر ہیں۔۔۔ میں ہر ہفتے ان دونوں کو چھٹی دے دیتا ہوں تاکہ باہر جا کر کسی ہوٹل میں ماس وغیرہ کھا سکیں۔۔۔ یہاں تو آپ جانتے ہیں سب ویشنو ہیں۔۔۔ میں یہ سن کر دل ہی دل میں مسکرایا کہ مجھے بنا رہا ہے۔۔۔ ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ احمد آباد کی اس ہندو لڑکی نے جس کی شادی اس نے ایک مسلمان گاہک سے کرادی تھی، لاہور سے خط لکھا ہے کہ داتا صاحب کے دربار میں اس نے ایک منت مانی تھی جو پوری ہوئی۔ اب اس نے سہائے کے لیے منت مانی ہے کہ جلدی جلدی اس کے تیس ہزار روپے پورے ہوں اور وہ بنارس جا کر بزازی کی دکان کھول سکے۔ یہ سن کر تو میں ہنس پڑا۔ میں نے سوچا، چونکہ میں مسلمان ہوں۔ اس لیے مجھے خوش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔‘‘\n\nمیں نے ممتاز سے پوچھا، ’’تمہارا خیال غلط تھا؟‘‘\n\n’’بالکل۔۔۔ اس کے قول و فعل میں کوئی بعد نہیں تھا۔۔۔ ہو سکتا ہے اس میں کوئی خامی ہو، بہت ممکن ہے اس سے اپنی زندگی میں کئی لغزشیں سرزد ہوئی ہوں۔۔۔ مگر وہ ایک بہت ہی عمدہ انسان تھا۔‘‘ جگل نے سوال کیا۔ ’’یہ تمہیں کیسے معلوم ہوا؟‘‘\n\n’’اس کی موت پر‘‘ یہ کہہ کر ممتاز کچھ عرصے کے لیے خاموش ہوگیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے ادھر دیکھنا شروع کیا جہاں آسمان اور سمندر ایک دھندلی سی آغوش میں سمٹے ہوئے تھے۔ ’’فسادات شروع ہو چکے تھے۔۔۔ میں علی الصبح اٹھ کر بھنڈی بازار سے گزر رہا تھا۔۔۔ کرفیو کے باعث بازارمیں آمدورفت بہت ہی کم تھی۔ ٹرام بھی نہیں چل رہی تھی۔۔۔ ٹیکسی کی تلاش میں چلتے چلتے جب میں جے جے ہسپتال کے پاس پہنچا، تو فٹ پاتھ پر ایک آدمی کو میں نے بڑے سے ٹوکرے کے پاس گھٹری سی بنے ہوئے دیکھا۔ میں نے سوچا کوئی پاٹی والا (مزدور) سو رہا ہے۔۔۔ لیکن جب میں نے پتھر کے ٹکڑوں پر خون کے لوتھڑے دیکھے تو رک گیا۔۔۔ واردات قتل کی تھی، میں نے سوچا اپنا راستہ لوں، مگر لاش میں حرکت پیدا ہوئی۔۔۔ میں پھر رک گیاآس پاس کوئی نہ تھا۔ میں نے جھک کر اس کی طرف دیکھا۔ مجھے سہائے کا جانا پہچانا چہرہ نظر آیا، مگر خون کے دھبوں سے بھرا ہوا۔ میں اس کے پاس فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا اور غور سے دیکھا۔۔۔ اس کی ٹول کی سفید قمیص جو ہمیشہ بے داغ ہوا کرتی تھی لہو سے لتھڑی ہوئی تھی۔۔۔ زخم شاید پسلیوں کے پاس تھا۔ اس نے ہولے ہولے کراہنا شروع کردیا تو میں نے احتیاط سے اس کا کندھا پکڑ کر ہلایا جیسے کسی سوتے کو جگایا جاتا ہے۔ ایک دو بار میں نے اس کو نامکمل نام سے بھی پکارا۔۔۔ میں اٹھ کر جانے ہی والا تھا کہ اس نے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔۔ دیر تک وہ ان ادھ کھلی آنکھوں سےٹکٹکی باندھے مجھے دیکھتا رہا۔۔۔ پھر ایک دم اس کے سارے بدن میں تشنج کی سی کیفیت پیدا ہوئی اور اس نے مجھے پہچان کر کہا، ’’آپ؟۔۔۔آپ؟‘‘\n\nمیں نے اس سے تلے اوپر بہت سی باتیں پوچھنا شروع کردی۔ وہ کیسے ادھر آیا۔ کس نے اس کو زخمی کیا۔ کب سے وہ فٹ پاتھ پر پڑا ہے۔۔۔ سامنے ہسپتال ہے، کیا میں وہاں اطلاع دوں؟\n\n’’اس میں بولنے کی طاقت نہیں تھی۔ جب میں نے سارے سوال کر ڈالے تو کراہتے ہوئے اس نے بڑی مشکل سے یہ الفاظ کہے۔ میرے دن پورے ہو چکے تھے۔۔۔ بھگوان کو یہی منظور تھا!‘‘\n\nبھگوان کو جانے کیا منظور تھا، لیکن مجھے یہ منظور نہیں تھا کہ میں مسلمان ہوکر، مسلمانوں کے علاقے میں ایک آدمی کو جس کے متعلق میں جانتا تھا کہ ہندو ہے، اس احساس کے ساتھ مرتے دیکھوں کہ اس کامارنے والا مسلمان تھا اور آخری وقت میں اس کی موت کے سرہانے جو آدمی کھڑاتھا، وہ بھی مسلمان تھا۔۔۔ میں ڈرپوک تو نہیں، لیکن اس وقت میری حالت ڈرپوکوں سے بدتر تھی۔ ایک طرف یہ خوف دامن گیر تھا، ممکن ہے میں ہی پکڑا جاؤں، دوسری طرف یہ ڈر تھا کہ پکڑا نہ گیا تو پوچھ گچھ کے لیے دھیر لیا جاؤں گا۔ ایک بار خیال آیا، اگر میں اسے ہسپتال لے گیا تو کیا پتا ہے اپنا بدلہ لینے کی خاطر مجھے پھنسا دے۔ سوچے، مرنا تو ہے، کیوں نہ اسے ساتھ لے کر مروں۔۔۔ اسی قسم کی باتیں سوچ کر میں چلنے ہی والا تھا۔ بلکہ یوں کہئے کہ بھاگنے والا تھا کہ سہائے نے مجھے پکارا، میں ٹھہر گیا۔ نہ ٹھہرنے کے ارادے کے باوجود میرے قدم رک گئے۔ میں نے اس کی طرف اس انداز سے دیکھا، گویا اس سے کہہ رہا ہوں، جلدی کرو میاں مجھے جانا ہے۔ اس نے درد کی تکلیف سے دوہرا ہوتے ہوئے بڑی مشکلوں سے اپنی قمیص کے بٹن کھولے اور اندر ہاتھ ڈالا، مگر جب کچھ اور کرنے کی اس میں ہمت نہ رہی تو مجھ سے کہا، ’’نیچے بنڈی ہے۔۔۔ ادھر کی جیب میں کچھ زیوراور بارہ سو روپے ہیں۔ یہ۔۔۔ یہ سلطانہ کا مال ہے۔۔۔ میں نے۔۔۔ میں نے ایک دوست کے پاس رکھا ہوا تھا۔۔۔ آج اسے۔۔۔ آج اسے بھیجنے والا تھا۔۔۔ کیونکہ۔۔۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں خطرہ بہت بڑھ گیا ہے۔۔۔ آپ اسے دے دیجیے گا اور۔۔۔ کہئے گا فوراً چلی جائے۔۔۔ لیکن۔۔۔ اپنا خیال رکھیے گا!‘‘\n\nممتاز خاموش ہوگیا، لیکن مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس کی آواز، سہائے کی آواز میں جو جے جے ہسپتال کے فٹ پاتھ پر ابھری تھی، دور، ادھر جہاں آسمان اور سمندر ایک دھندلی سی آغوش میں مدغم تھے، حل ہورہی ہے۔\n\nجہاز نے وسل دیا تو ممتاز نے کہا، ’’میں سلطانہ سے ملا۔۔۔ اس کو زیور اور روپیہ دیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔‘‘\n\nجب ہم ممتاز سے رخصت ہو کر نیچے اترے تو وہ عرشے پر جنگلے کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔ اس کا داہنا ہاتھ ہل رہا تھا۔۔۔ میں جگل سے مخاطب ہوا، ’’کیا تمہیں ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ ممتاز، سہائے کی روح کو بلا رہا ہے۔۔۔ ہم سفر بنانے کے لیے؟‘‘\n\nجگل نے صرف اتنا کہا، ’’کاش، میں سہائے کی روح ہوتا!‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "سہارا", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اوس کی بوندوں میں نمکینی نہیں\nپھول گر چاہے کہ اپنی رات کے انجام کو\nایک ہی لمحے میں یکسر جان لے\nاس کو لازم ہے ہوا کے سرد جھونکے سے کہے\nجاؤ اس کے آنسوؤں کو چوم لو\nآنسوؤں کو چوم کر محسوس یہ ہونے لگا\nایک آنسو ایک بوند\nایک پل میں ایک بحر نیلگوں\nبن کے چھا جاتا ہے تنہا ناؤ پر\nکیا ہوا گر اوس کی بوندوں میں نمکینی نہیں\nاوس کی بوندوں میں نمکینی اگر ہوتی تو کیا\nپھول اس میں تیرتے ہی تیرتے\nاپنی منزل تک پہنچ سکتا نہ تھا اک ناؤ بن سکتا نہ تھا\nپھول کیا ہے تو کہ میں\nپھول میں ہوں تو نہیں\nتو تو بحر نیلگوں میں ایک تنہا ناؤ ہے\nبہتی جاتی ہے ذرا رکتی نہیں\nتجھ کو یہ معلوم کب ہے اوس کی بوندوں میں نمکینی نہیں\nتو فقط باتوں کے بل پر اپنی راتوں کی رسیلی چھاؤں میں\nیہ سمجھتی ہے کہ ہر لمحہ اچانک پھیل کر\nشش جہت پر دل دھڑکتے ہی میں یوں چھانے لگا\nجیسے اک ٹھہراؤ فرقت کی اندھیری رات میں\nدرد کے ہم دوش لذت کو بھی اکساتا رہے\nلے پیالہ تھام لے\nاس میں باقی ہے ابھی زہر غم\nجس کو پی کر میں بھی اپنی زندگی سے بھاگتا پھرتا رہا\nگفتگو سے فائدہ کچھ بھی نہیں لیکن مجھے\nہر اشارا دام ہے الفاظ کا\nجس میں طائر پھڑ پھڑاتے چیختے\nچیختے ہی چیختے خاموش ہو جاتے ہوئے\nجان لیتے ہیں کہ اب وہ رات ہی درماں بنے گی درد کے انبار کا\nجس کے بکھرے دامن صد چاک میں\nپھول کی بھیگی ہوئی پتی پہ بوندیں اوس کی\nساتھ لاتی ہیں گداز روح کی ہلکی ملاحت کو جسے\nچکھ کے کہتی ہے زباں کیوں اب کہو\nاوس کی بوندوں میں نمکینی نہیں\nدیکھ دور\nایک تنہا ناؤ بحر نیلگوں پہ رفتہ رفتہ بڑھتے بڑھتے آ رہی ہے پاس دیکھ\nدور کی چیزیں بھی یوں\nباتوں باتوں میں قریب آ جائیں گی کیا تھی خبر\nدیکھ تو\nرشتۂ عہد تخیل بند تھا\nکھلنے لگا\nرفتہ رفتہ اک نئی صورت نظر آنے لگی\nاک نئی صورت مگر کچھ نقش تو مانوس ہیں\nاور ہر لمحے سے ہر آنسو سے قصر نیلگوں استادہ ہے\nدور اس کی چھت میں دو فانوس ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کو", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کو\nہٹاؤ راہ محبت سے رہنماؤں کو\n\nبنا رہا ہوں حسیں اور مہ لقاؤں کو\nسجا رہا ہوں میں آفاق کی فضاؤں کو\n\nنظر نظر سے ملاتا ہوں مسکراتا ہوں\nجنوں کی شان دکھاتا ہوں دل رباؤں کو\n\nقدم قدم پہ نئے انقلاب رقصاں ہیں\nدعائیں دیتے ہیں ہم آپ کی اداؤں کو\n\nملا جو دامن ساحل تو ایسی موج آئی\nسفینے سونپ دئیے ہم نے ناخداؤں کو\n\nنگاہ پھیرنے والوں سے پوچھتا ہوں میں\nتم آزماؤ گے کب تک مری وفاؤں کو\n\nابھی تو دشت و دمن میں بہار آئی ہے\nابھی چمن میں کھلانے ہیں گل ہواؤں کو\n\nچلے ہیں جانب دار و رسن خراباتی\nگنہ کا رنگ دکھانا ہے پارساؤں کو\n\nہر ایک لمحۂ نو کا اب احترام کرو\nنیا پیام دو اخترؔ نئی فضاؤں کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%92_%D8%B4%DA%A9%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%D9%88"} {"title": "سہارا موجوں کا لے لے کے بڑھ رہا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سہارا موجوں کا لے لے کے بڑھ رہا ہوں میں\nسفینہ جس کا ہے طوفاں وہ ناخدا ہوں میں\n\nخود اپنے جلوۂ ہستی کا مبتلا ہوں میں\nنہ مدعی ہوں کسی کا نہ مدعا ہوں میں\n\nکچھ آگے عالم ہستی سے گونجتا ہوں میں\nکہ دل سے ٹوٹے ہوئے ساز کی صدا ہوں میں\n\nپڑا ہوا ہوں جہاں جس طرح پڑا ہوں میں\nجو تیرے در سے نہ اٹھے وہ نقش پا ہوں میں\n\nجہان عشق میں گو پیکر وفا ہوں میں\nتری نگاہ میں جب کچھ نہیں تو کیا ہوں میں\n\nتجلیات کی تصویر کھینچ کر دل میں\nتصورات کی دنیا بسا رہا ہوں میں\n\nجنون عشق کی نیرنگیاں ارے توبہ\nکبھی خدا ہوں کبھی بندۂ خدا ہوں میں\n\nبدلتی رہتی ہے دنیا مرے خیالوں کی\nکبھی ملا ہوں کبھی یار سے جدا ہوں میں\n\nحیات و موت کے جلوے ہیں میری ہستی میں\nتغیرات دوعالم کا آئنا ہوں میں\n\nتری عطا کے تصدق ترے کرم کے نثار\nکہ اب تو اپنی نظر میں بھی دوسرا ہوں میں\n\nبقا کی فکر نہ اندیشۂ فنا مجھ کو\nتعینات کی حد سے گزر گیا ہوں میں\n\nمجھی کو دیکھ لیں اب تیرے دیکھنے والے\nتو آئنہ ہے مرا تیرا آئینا ہوں میں\n\nمیں مٹ گیا ہوں تو پھر کس کا نام ہے بیدمؔ\nوہ مل گئے ہیں تو پھر کس کو ڈھونڈھتا ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%84%DB%92_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سہل تھا مسہل و لے یہ سخت مشکل آپڑی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "سہل تھا مسہل و لے یہ سخت مشکل آپڑی\nمجھ پہ کیا گزرے گی اتنے روز حاضر بن ہوے\nتین دن مسہل سے پہلے تین دن مسہل کے بعد\nتین مسہل تین تبریدیں یہ سب کے دن ہوے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%81%D9%84_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D8%B3%DB%81%D9%84_%D9%88_%D9%84%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%AE%D8%AA_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%A2%D9%BE%DA%91%DB%8C"} {"title": "سہیں کب تک جفائیں بے وفائی دیکھنے والے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سہیں کب تک جفائیں بے وفائی دیکھنے والے\nکہاں تک جان پر کھیلیں جدائی دیکھنے والے\n\nترے بیمار غم کی اب تو نبضیں بھی نہیں ملتیں\nکف افسوس ملتے ہیں کلائی دیکھنے والے\n\nخدا سے کیوں نہ مانگیں کیوں کریں منت امیروں کی\nیہ کیا دیں گے کسی کو آنہ پائی دیکھنے والے\n\nبتوں کی چاہ بنتی ہے سبب عشق الٰہی کا\nخدا کو دیکھ لیتے ہیں خدائی دیکھنے والے\n\nمہینوں بھائی بندوں نے مرا ماتم کیا مضطرؔ\nمہینوں روئے خالی چارپائی دیکھنے والے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%AC%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "سہے ستم پہ ستم پھر بھی مدعا نہ ملا", "poet_page": "مصنف:سید واجد علی فرخ بنارسی", "kind": "poetry", "section": "غزل > تجلیات فرخ (1930)", "year": "1930", "text_ur": "سہے ستم پہ ستم پھر بھی مدعا نہ ملا\nہمیں تو درد میں بھی درد کا مزا نہ ملا\n\nفریب شوق نے ناکام جستجو رکھا\nتلاش جس کی تھی اس کا کہیں پتا نہ ملا\n\nوہ خاک جور کی لذت سے آشنا ہوتے\nجنہیں کہ حوصلہ صبر آزما نہ ملا\n\nازل سے گرم رو راہ جستجو ہوں میں\nہنوز منزل مقصود کا پتا نہ ملا\n\nطلسم دہر میں اک وہم ہے وجود بشر\nہمیں تلاش سے اپنا بھی کچھ پتا نہ ملا\n\nملا کے خاک میں ہیں بے نیازیاں اب تک\nتمہاری طرح کوئی دیر آشنا نہ ملا\n\nبناتے کعبۂ مقصود جس کو ہم فرخؔ\nرہ طلب میں کوئی ایسا نقش پا نہ ملا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D9%BE%DB%81_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "سہے غم پئے رفتگاں کیسے کیسے", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سہے غم پئے رفتگاں کیسے کیسے\nمرے کھو گئے کارواں کیسے کیسے\n\nوہ چتون وہ ابرو وہ قد یاد سب ہے\nسناؤں میں گزرے بیاں کیسے کیسے\n\nمرے داغ سوزاں کا مضموں نہ سوچو\nجلے کہہ کے آتش‌ زباں کیسے کیسے\n\nرہا عشق سے نام مجنوں کا ورنہ\nتہ خاک ہیں بے نشاں کیسے کیسے\n\nشب وصل میں مہ کو عریاں کریں گے\nعیاں ہوں گے راز نہاں کیسے کیسے\n\nکمر یار کی ناتوانی میں ڈھونڈی\nتوہم ہوئے درمیاں کیسے کیسے\n\nکلیجے میں اخترؔ پھپھولے پڑے ہیں\nمرے اٹھ گئے قدرداں کیسے کیسے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%81%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D9%BE%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D9%81%D8%AA%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92"} {"title": "سیاحت ظریف", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "کچھ ریل گھر کا حال کروں مختصر بیاں\nوہ نو بجے کا وقت وہ ہنگامے کا سماں\nقلیوں کا لاد لاد کے لانا وہ پیٹیاں\nبجنا وہ گھنٹیوں کا وہ انجن کی سیٹیاں\nگڑ بڑ مسافروں کی بھی اک یادگار تھی\nعورت پہ مرد مرد پہ عورت سوار تھی\nالقصہ ریل جب سوئے جھانسی رواں ہوئی\nاور شکل لکھنؤ کی نظر سے نہاں ہوئی\nجو تھرڈ میں تھے ان کے لیے بھی اماں ہوئی\nپنجوں پہ دھکے کھا کے جگہ کچھ عیاں ہوئی\nتھا تیسرا پہر نہ بخوبی ہوئی تھی شام\nچھوٹا جو ساتھ ریل کا ہم سب سے والسلام\nیعنی سواد بمبئی اس دم نظر پڑا\nٹھہری ٹرین اک ایک مسافر اتر پڑا\nکچھ بمبئی کا حال کروں مختصر بیاں\nچوڑی سڑک دو رویہ کئی منزلے مکاں\nہر سو ملوں کا شہر میں پھیلا ہوا دھواں\nہر ایک مالے کے لیے دس بیس سیڑھیاں\nکمرہ ہر ایک کاٹھ کا پنجرہ سلا ہوا\nہر اک مکیں پھندیت ہو جیسے پلا ہوا\nبیٹھے اٹھے وہیں پہ وہیں کھانا بھی پکائے\nمنہ ہاتھ دھوئے چاہے وہیں بیٹھ کر نہائے\nسونے کے واسطے نہ مسہری اگر بچھائے\nپھیلیں نہ پیر گنڈلی جو مارے تو ہاں سمائے\nایسی جگہ پہ گر کہیں رہنے کو جا ملے\nانساں کو زندگی میں لحد کا مزا ملے\nبائیس فروری کی سحر جب میاں ہوئی\nاٹھے سویرے جیسے ہی ظلمت نہاں ہوئی\nاسباب باندھ بوندھ کے ہشیار ہو گئے\nگاڑی بلائی چلنے کو تیار ہو گئے\nپہنچا ہر اک جہاز پر جس طرح ہو سکا\nلیکن کہیں پہ ملتی نہ تھی بیٹھنے کی جا\nاسباب چار سمت تھا پھیلا پڑا ہوا\nسنتا نہ تھا کوئی جو کوئی تھا پکارتا\nبرقع میں عورتیں تھیں مگر غیر حال تھا\nریلا وہ تھا قدم کا ٹھہرنا محال تھا\nکچھ کھنڈ میں بھرے گئے اسباب کی طرح\nکچھ بے قرار ہو گئے سیماب کی طرح\nاک جا پہ کچھ سما جو گئے آپ کی طرح\nکچھ گھومتے ہی رہ گئے گرداب کی طرح\nموجوں کا اٹھنا اور وہ تلاطم کہ الحذر\nبے خود ہوئے یہ سب کہ نہ اپنی رہی خبر\nقے سے مسافروں کا بہت غیر حال تھا\nچکر وہ تھا کہ سر کا اٹھانا محال تھا\nتھیں جن کے ساتھ عورتیں ان کا نہ پوچھو حال\nلے جانا اور لانا تھا اک جان کا وبال\nسیڑھی سے ان کو لے کے اترنا تھا اک محال\nبے پردگی کا دھیان نہ پردے کا تھا خیال\nیہ پردہ داری جان کے اوپر عذاب تھی\nان عورتوں سے مردوں کی مٹی خراب تھی\nکہتی تھی کوئی لو مرا برقع اٹک گیا\nہے ہے نیا تھا تین جگہ سے مسک گیا\nصاحب سنبھالو سر سے دوپٹہ کھسک گیا\nلو پائنچہ الجھ گیا مقنع سرک گیا\nلو بیوی پان دان کا ڈھکنا بھی گر گیا\nآفت پڑے جہاز پہ کتھا بھی گر گیا\nتوبہ یہ میرے بچے کا بٹوہ بھی گر گیا\nپہنچوں گی اب کی گرچہ اصل خیر سے میں گھر\nبیوی امیٹھے کان کروں گی نہ پھر سفر\nوہ کون لوگ ہیں کہ جو آتے ہیں بار بار\nسچ ہے بوا کہ گھر ہے غنیمت ہزار بار", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%D8%B8%D8%B1%DB%8C%D9%81"} {"title": "سیاست", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اس کھیل میں تعیینِ مراتب ہے ضروری\nشاطر کی عنایت سے تو فرزیں، میں پیادہ\nبیچارہ پیادہ تو ہے اک مہرۂ ناچیز\nفرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA"} {"title": "سیاستِ افرنگ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "تری حریف ہے یا رب سیاستِ افرنگ\nمگر ہیں اس کے پُجاری فقط امیر و رئیس\nبنایا ایک ہی اِبلیس آگ سے تُو نے\nبنائے خاک سے اُس نے دو صد ہزار ابلیس!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D9%90_%D8%A7%D9%81%D8%B1%D9%86%DA%AF"} {"title": "سیاسی بینگن", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مسلم سے تنفر اور کفار سے یارانہ\nآخر یہ قلا بازی کیوں کھا گئے مولانا\nلکشمی کی محبت نے دل موہ لیا اتنا\nمنہ موڑ کے کعبے سے پہنچے سوئے بت خانہ\nاسلام تعجب سے انگشت بدنداں ہے\nمرگھٹ میں جلے شمع توحید کا پروانہ\nتھالی میں سیاست کی بینگن کی طرح لنڈھکے\nاور اس کو سمجھتے ہیں اک چال حریفانہ\nپبلک کے پھنسانے کو سب جال کے پھندے تھے\nیہ دیش یہ عمامہ اور سبحۂ صد دانہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D9%86%DA%AF%D9%86"} {"title": "سیاسی پیشوا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اُمید کیا ہے سیاست کے پیشواؤں سے\nیہ خاک باز ہیں، رکھتے ہیں خاک سے پیوند\nہمیشہ مور و مگس پر نگاہ ہے ان کی\nجہاں میں ہے صفَتِ عنکبوت ان کی کمند\nخوشا وہ قافلہ، جس کے امیر کی ہے متاع\nتخیّلِ ملکوتی و جذبہ ہائے بلند!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%B4%D9%88%D8%A7"} {"title": "سیاہ لہو", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ایک دل اور اتنے بار گراں\nاونگھتے پیڑ سرنگوں گلیاں\nمضمحل نور مضمحل خوشیاں\nان گنت خواب ان گنت ارماں\nبے مہک پھول ادھ کھلی کلیاں\n\nبادشاہوں کا قصۂ من و تو\nتیرہ سکوں کا تیرہ تر جادو\nسرخ تاریکیاں سیاہ لہو\nمنتشر رات منتشر گیسو\nبے اثر آہ بے اثر آنسو\n\nذہن کی قبر دل کا ویرانہ\nفکر روزی تلاش مے خانہ\nکوئی با عقل کوئی دیوانہ\nمیری تحقیق اس کا افسانہ\nزرد بتی اداس پروانہ\n\nالغرض اک نہ اک غم گل و خار\nفلسفے کا خمار عشق کا بار\nدل کو اک صبح و شام کا آزار\nحسرت صلح و حسرت پیکار\nصید ابلیس و کشتۂ یزداں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81_%D9%84%DB%81%D9%88"} {"title": "سیاہ کار سیہ رو خطا شعار آیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سیاہ کار سیہ رو خطا شعار آیا\nتری جناب میں تیرا گناہ گار آیا\n\nخزاں کا دور گیا موسم بہار آیا\nمگر نہ اس دل بے صبر کو قرار آیا\n\nکہیں جواب نہ تو نے دیا یہاں کے سوا\nجہاں میں یوں تو بہت میں تجھے پکار آیا\n\nسرائے دہر میں چھوڑا تن کثیف اپنا\nیہ بوجھ سر سے مسافر ترا اتار آیا\n\nہمارے نالۂ دل کا نہ پوچھئے احوال\nگلی سے یار کی ہمت بھی اب کے ہار آیا\n\nپڑی جو قیس کے اوپر نظر بیاباں میں\nمجھے غریب کے اوپر غضب کا پیار آیا\n\nنہ اپنے پاؤں سے آنا ملا گلی میں تری\nیہاں بھی چار کے کاندھوں پہ میں سوار آیا\n\nیہ اضطراب ہے کیوں ہے کدھر کا قصد اے روح\nکہاں سے آئی طلب کس جگہ سے تار آیا\n\nبرا خزاں کا ہو دیکھے جو سوکھے سوکھے ہونٹ\nغریب پھول پہ مجھ کو غضب کا پیار آیا\n\nمری نہ پوچھ کہ تیری گلی میں خاک ہوں میں\nتجھی کو میری وفا کا نہ اعتبار آیا\n\nلحد نے کھول کے آغوش دی جگہ جو مجھے\nلپٹ کے رہ گئے ہم کو بھی خوب پیار آیا\n\nیقین جان لے ساقی کہ خم کی خیر نہیں\nخدا نہ کردہ جو اب کے مجھے خمار آیا\n\nمرے نصیب کہاں اس طرح کے دیدۂ تر\nسنوں یہ خوش خبری کان سے کہ یار آیا\n\nنگہ نے ان کی جہاں صید نو کو تاک لیا\nادا نے ان کی کہا لے نیا شکار آیا\n\nترے فراق کے خوگر نہ مر مٹے جب تک\nقضا کے آنے کا تب تک نہ اعتبار آیا\n\nدلا پلٹ گیا قسمت کا پہلے ہی پاسا\nاب اپنی جیت کہاں دل جب اپنا ہار آیا\n\nجب اختیار چمن پر نہیں تو ہم کو کیا\nہزار بار اگر موسم بہار آیا\n\nشکایت دل مضطر کہاں تلک اے موت\nدعائیں دوں گا تجھے گر اسے قرار آیا\n\nجواب خط کا نہ قاصد سے ماجرا پوچھو\nہے صاف چہرہ سے ظاہر کہ شرمسار آیا\n\nنظر میں پھر گئی چال آپ کی جوانی کی\nجو لڑکھڑاتا ہوا کوئی بادہ خوار آیا\n\nجو مانگتے تو ہمیں باغباں سے کیا ملتا\nغریب پھول تو دامن کو بھی پسار آیا\n\nنہ اپنے نالۂ دل کو ملا جواب کہیں\nنکل کے دل سے تجھے عرش تک پکار آیا\n\nعدم میں شادؔ کو کیا ولولہ ہو جنت کا\nکہ یہ غریب تو ہستی سے دل کو مار آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%D8%B1%D9%88_%D8%AE%D8%B7%D8%A7_%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سیاہی جیسے گر جائے دم تحریر کاغذ پر", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سیاہی جیسے گر جائے دم تحریر کاغذ پر\nمری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہاۓ ہجراں کی\n\nکہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کی\nکہ شمع خانۂ دل آتش مے سے فروزاں کی\n\nہمیشہ مجھ کو طفلی میں بھی مشق تیرہ روزی تھی\nسیاہی ہے مرے ایام میں لوح دبستاں کی\n\nدریغ! آہ سحر گہ کار باد صبح کرتی ہے\nکہ ہوتی ہے زیادہ سرد مہری شمع رویاں کی\n\nمجھے اپنے جنوں کی بے تکلف پردہ داری تھی\nولیکن کیا کروں آوے جو رسوائی گریباں کی\n\nہنر پیدا کیا ہے میں نے حیرت آزمائی میں\nکہ جوہر آئینہ کا ہر پلک ہے چشم حیراں کی\n\nخدایا کس قدر اہل نظر نے خاک چھانی ہے\nکہ ہیں صد رخنہ جوں غربال دیواریں گلستاں کی\n\nہوا شرم تہی دستی سے سے وہ بھی سرنگوں آخر\nبس اے زخم جگر اب دیکھ لے شورش نمکداں کی\n\nبیاد گرمیٔ صحبت بہ رنگ شعلہ دہکے ہے\nچھپاؤں کیونکہ غالبؔ سوزشیں داغ نمایاں کی\n\nجنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی\nنمک پاش خراش دل ہے لذت زندگانی کی\n\nکشاکش‌ ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی\nہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی\n\nنہ کھینچ اے سعیٔ دست نارسا زلف تمنا کو\nپریشاں تر ہے موئے خامہ سے تدبیر مانی کی\n\nکہاں ہم بھی رگ و پے رکھتے ہیں انصاف بہتر ہے\nنہ کھینچے طاقت خمیازہ تہمت ناتوانی کی\n\nتکلف برطرف فرہاد اور اتنی سبکدستی\nخیال آساں تھا لیکن خواب خسرو نے گرانی کی\n\nپس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہ طفلاں ہے\nشرار سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی\n\nاسدؔ کو بوریے میں دھر کے پھونکا موج ہستی نے\nفقیری میں بھی باقی ہے شرارت نوجوانی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81%DB%8C_%D8%AC%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%85_%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "سید سے آج حضرت واعظ نے یہ کہا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سید سے آج حضرت واعظ نے یہ کہا\nچرچا ہے جا بجا ترے حال تباہ کا\nسمجھا ہے تو نے نیچر و تدبیر کو خدا\nدل میں ذرا اثر نہ رہا لا الہ کا\nہو تجھ سے ترک صوم و صلوٰۃ و زکوٰۃ و حج\nکچھ ڈر نہیں جناب رسالت پناہ کا\nشیطان نے دکھا کے جمال عروس دہر\nبندہ بنا دیا ہے تجھے حب جاہ کا\nاس نے دیا جواب کہ مذہب ہو یا رواج\nراحت میں جو مخل ہو وہ کانٹا ہے راہ کا\nافسوس ہے کہ آپ ہیں دنیا سے بے خبر\nکیا جانیے جو رنگ ہے شام و پگاہ کا\nیورپ کا پیش آئے اگر آپ کو سفر\nگزرے نظر سے حال رعایا و شاہ کا\nوہ آب و تاب و شوکت ایوان خسروی\nوہ محکموں کی شان وہ جلوہ سپاہ کا\nآئے نظر علوم جدیدہ کی روشنی\nجس سے خجل ہو نور رخ مہر و ماہ کا\nدعوت کسی امیر کے گھر میں ہو آپ کی\nکمسن مسوں سے ذکر ہو الفت کا چاہ کا\nنوخیز دل فریب گل اندام نازنیں\nعارض پہ جن کے بار ہو دامن نگاہ کا\nرکئے اگر تو ہنس کے کہے اک بت حسیں\nسن مولوی یہ بات نہیں ہے گناہ کا\nاس وقت قبلہ جھک کے کروں آپ کو سلام\nپھر نام بھی حضور جو لیں خانقاہ کا\nپتلون و کوٹ و بنگلہ و بسکٹ کی دھن بندھے\nسودا جناب کو بھی ہو ترکی کلاہ کا\nمنبر پہ یوں تو بیٹھ کے گوشے میں اے جناب\nسب جانتے ہیں وعظ ثواب و گناہ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%D9%86%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7"} {"title": "سید صاحب سکھا گئے ہیں جو شعور", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "سید صاحب سکھا گئے ہیں جو شعور\nکہتا نہیں تم سے میں کہ ہوں اس سے نفور\nسوتوں کو جگا دیا انہوں نے لیکن\nاللہ کا نام لے کے اٹھنا ہے ضرور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%D8%B3%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%B4%D8%B9%D9%88%D8%B1"} {"title": "سیر اس سبزۂ عارض کی ہے دشوار بہت", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سیر اس سبزۂ عارض کی ہے دشوار بہت\nاے دل آبلہ پا راہ میں ہیں خار بہت\n\nلو نہ لو دل مجھے بھاتی نہیں تکرار بہت\nمفت بکتا ہے مرا مال خریدار بہت\n\nخوش رہو یار اگر ہم سے ہو بیزار بہت\nدل اگر اپنا سلامت ہے تو دل دار بہت\n\nغم نہیں گو ہم اکیلے ہیں اور اغیار بہت\nحق اگر اپنی طرف ہے تو طرف دار بہت\n\nپاؤں پھیلاؤ نہ اب تو مرے پاس آنے میں\nایڑیاں تم نے رگڑوائی ہیں اے یار بہت\n\nکیا کروں گا میں بھلا باغ اجارے لے کر\nآشیانوں کو ہیں اک مشت خس و خار بہت\n\nطعن رندوں پہ نہ کر شیخ خدا لگتی بول\nاس کے الطاف بہت ہیں کہ گنہ گار بہت\n\nکیا زمانے میں محبت کا مرض پھیلا ہے\nاچھے دو چار نظر آتے ہیں بیمار بہت\n\nلمبے لمبے ترے بالوں کا مجھے سودا ہے\nطول کھینچے گا مری جان یہ آزار بہت\n\nتلخیٔ مرگ کا ہرگز مجھے اندیشہ نہیں\nبیٹھی منہ پر ہے مرے یار کی تلوار بہت\n\nبس تمہاری یہی خو سخت بری لگتی ہے\nتھوڑی تقصیر پہ ہو جاتے ہو بیزار بہت\n\nگھر میں اس بت کے رسائی نہ ہوئی پر نہ ہوئی\nبحرؔ نے پتلی بھی گاڑی پس دیوار بہت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%A8%D8%B2%DB%82_%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D8%B6_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%B4%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%AA"} {"title": "سیر ایران", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر", "year": null, "text_ur": "== فہرست کتاب ==\n* دیباچہ\n* لکچر", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86"} {"title": "سیر بہار حسن ہی انکھیوں کا کام جان", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سیر بہار حسن ہی انکھیوں کا کام جان\nدل کوں شراب شوق کا ساغر مدام جان\n\nطرز نگاہ عجز یہی عرض حال ہے\nاے رمز داں ہمن کے انکھیوں کا کلام جان\n\nرسوا کریں گے تجھ کوں جگت میں نہال اشک\nانجھواں کوں دشت اور صف مژگاں کو شام جان\n\nتیری گلی میں دیدہ و دل فرش راہ ہیں\nآہستہ ٹک قدم کوں رکھ اے خوش خرام جان\n\nوحدت میں بے خودی کا عبادت ہوا ہے نام\nمے خانے کوں ادب سیتی بیت الحرام جان\n\nتیغ اجل سوں کس کا سلامت رہا ہے جیو\nشوخی سیں جب نگاہ کریں قتل عام جان\n\nاس کوں شرف ہے جس کی کریں بندگی قبول\nجو آبروؔ طلب ہیں سو اپنا غلام جان", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%AC%D8%A7%D9%86"} {"title": "سیر دنیا سے غرض تھی محو دنیا کر دیا", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سیر دنیا سے غرض تھی محو دنیا کر دیا\nمیں نے کیا چاہا مرے اللہ نے کیا کر دیا\n\nروکنے والا نہ تھا کوئی خدا کو اس لیے\nجو کچھ آیا اس کے جی میں بے محابا کر دیا\n\nہاں اسی کم بخت دل نے کر دیا افشائے راز\nہاں اسی کم بخت دل نے مجھ کو رسوا کر دیا\n\nعشق جا ان تیری باتوں میں نہیں آنے کے ہم\nاچھے اچھوں کو جہاں میں تو نے رسوا کر دیا\n\nزندگی بیٹھی تھی اپنے حسن پر بھولی ہوئی\nموت نے آتے ہی سارا رنگ پھیکا کر دیا\n\nحسن نے پہلے تو سب مجھ پر حقیقت کھول دی\nاور پھر خاموش رہنے کا اشارا کر دیا\n\nحسن کو پہنا چکے جب خود نمائی کا لباس\nعشق نے سر پیٹ کر پوچھا کہ یہ کیا کر دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D9%88_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سیر زندگی", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "ایک حکیم کا قول ہے کہ زندگی ایک میلہ ہے اور اس عالم میں جو رنگا رنگ کی حالتیں ہم پر گزرتی ہیں، یہی اس کے تماشے ہیں۔ لڑکپن کے عالم کو پیچھے چھوڑ کر آ گے بڑھے، نوجوان ہوئے اور پختہ سال انسان ہوئے اس سے بڑھ کر بڑھاپا دیکھا اور حق پوچھو تو تمام عمر انسانی کا عطر وہی ہے۔\n\nبہت سے گرم و سرد زمانے کے دیکھتا ہے، نشیب و فراز عالم کے طے کرتا ہے۔ بچپن سے لے کر ساری جوانی کے تجربوں میں گزارتا ہے۔ جب گھس پس کر بڈھا ہو لیتا ہے تو ذرا آدمی بنتا ہے اور اس قاہوتا ہے کہ جو سنے یا دیکھے اسے کچھ سمجھ بھی سکے۔\n\nجب اس فقرے پر غور کیا اور آدمی کی ادلتی بدلتی حالت کا تصور کیا تو مجھے انواع و اقسام کے خیال گزرے۔ اول تو وقت بوقت اس کی ضرورتوں اور حاجتوں کا بدلنا ہے کہ ہر دم ادنی ادنی چیز کا محتاج ہے۔ پھر اس کی طبیعت کا رنگ پلٹنا ہے کہ ابھی ایک چیز کا طلب گار ہوتا ہے، ابھی اس سے بیزار ہوتا ہے اور جو اس کے برخلاف ہے اس کا عاشق زار ہوتا ہے۔\n\nپھر غلفت ہے کہ وقت کے دریا میں تیراتی پھرتی ہے۔ لطف یہ ہے کہ سب خرابیاں دیکھتا ہے اور چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔ میرا دل ان خیالات میں غرق تھا کہ دفعتاً درد و مصیبت کی فریاد، خوشی کے ولولے، ڈر کی چیخیں ہواؤں کے زور، پانی کے شور ایسے اٹھے کہ میں بے اختیار اچھل پڑا۔ (1)\n\nاول تو دل بہت حیران ہوا۔ بعد تھوڑی دیر کے حواس ٹھکانے ہوئے تو آس پاس کچھ لوگ نظر آئے۔ پوچھنے لگا کہ ہم کس عالم میں ہیں اور کہاں جاتے ہیں اور اس فعل کا کیا سبب ہے؟\n\nایک شخص برابر سے بولا کہ صاحب جاتے کہا ں ہو دریائے حیات میں تیر رہے ہو، پہلے تو لڑکپن کی نہر تھی کہ جس میں کچھ کشتیوں (2) کی کمزوری سے کچھ ملاحوں کی غفلت سے، کچھ ان کی بے وقوفی سے لاکھوں بھائی بند غارت ہو گئے۔ وہ نہر تو ہم اتر آئے ہیں، اب مانجھدار سمندر ہے اور ہم ہیں۔ کبھی طوفان ہے کبھی گرداب ہے، کبھی موجوں کے تھپیڑے کھا رہے ہیں۔ یہاں ملاحوں کی ہوشیاری اور چالاکی کے سوا کوئی صورت بچاؤ کی نہیں۔ ملاح بھی اس لاکھوں کے انبوہ میں سے انتخاب کئے ہیں، جو رستہ بتانے اور پار اتار دیے کے دعوے باندھے بیٹھے تھے مگر حقیقت میں نہ یہاں ناخدا کی پیش کی جاتی ہے نہ ملاح کی۔ فقط خدا کی آس ہے اور بس،\n\nجہاز عمر رواں پر سوار بیٹھے ہیں\nسوار خاک ہیں بے اختیار بیٹھے ہیں\n\nیہ سن کر میں نے ادھر ادھر غور سے دیکھنا شروع کیا اور دل نے کہا کہ پلے ب ذرا نظر اٹھا کر تو دیکھ لو۔ دیکھا تو فی الحقیقت ایک نہر خوشنما گلزار کے بیچ میں لہراتی چلی جاتی ہے۔ ہمراہی میرے دیکھتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔ اس کی لہروں میں ظاہرانہ کچھ زور تھا نہ شور تھا مگر جو شخص ذرا ہاتھ ڈالتا تھا وہ اسے بلبلے کی طرح بہا لے جاتی تھی ان گلزاروں کا کچھ حال دیکھنا چاہو تو بالکل اندھیرا تھا اور کوئی نہ کہہ سکتا تھا کہ باغ کہاں سے شروع (1) ہوتا ہے۔ یعنی جس نے آنکھ کھولی تھی اپنے تئیں باغ ہی میں دیکھا تھا دائیں بائیں اور سامنے بھی پانی ہی پانی تھا کہ اپنی لہر بھر میں بہتا چلا جاتا تھا اور دھند اتنی چھائی ہوئی تھی کہ تیز سے تیز نظر بھی کام نہ کرتی تھی (2)۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اس دریا میں بڑے بڑے پتھروں کی چٹانیں ہیں، اور جا بجا گرداب پڑتے ہیں بہت سے لوگ ایسے تھے (1) کہ اپنی اپنی کشتیوں میں باد مراد کے مزے لیتے چلے جاتے تھے اور جو بچارے پیچھے رہ گئے تھے ان پر قہقہے اڑاتے جاتے تھے۔ مگر یہ بھی ہنستے ہنستے ان ہی گردابوں میں ڈوبتے جاتے تھے۔ دلوں کا اضطراب اور آنکھوں کا اندھیرا یہ غضب تھا کہ چالاک سے چالاک آدمی بھی مشکل سے سنبھل سکتا تھا، ان ہی میں ایسے لوگ بھی تھے کہ (2) ناواقفیت و نادانی کے سبب سے اپنے ساتھیوں کو گردابوں میں ڈال دیتے تھے اور موجوں کے تھپیڑے انھیں چٹانوں پر ٹکرا کر مار ڈالتے تھے . پانی برابر لہریں مارتا چلا جاتا تھا اور کشتی کو اس کی ٹکر پر چڑھا لانے کا تو ذکر کیا ہے اتنی مجال نہ تھی کہ کوئی پہلو کاٹ کر بھی دھارے کے سامنے سے چڑھ آئے یا کاش کہ جہاں سے چلا تھا پھر وہیں (3) آجائے۔ سب اپنی اپنی کشتیوں کو برابر روک تھام سے سنبھالے چلے جاتے تھے، اور لطف یہ کہ ہر شخص کے دل میں یہی خیال تھا کہ مجھے کچھ خطرہ نہیں۔ اگر ہے تو اور ہم سفروں کو ہے اوروں کے انجام دیکھ رہے تھے اور اپنی بد انجامی نہ معلوم ہوتی تھی، خود اسی مصیبت میں مبتلا تھے اور اپنا خیال نہ کرتے تھے۔ جب موجوں کا زور ہوتا تھا تو قسمت اور بد اعمالی جو پر سے پر ملائے برابر عالم ہوا میں اڑاتی چلی جاتی تھیں، وہ لوگوں کو بہلا لیتی تھیں۔ ہر شخص (3) خوش ہوتا تھا، اور دل میں اپنے تئیں مبارکباد دیتا تھا کہ الحمدللہ میری کشتی کو کچھ خطر نہیں ہے جو گرداب اوروں کو نگل گیا، میں اس سے بچ جاؤں گا، اور جن چٹانوں نے اور کشتیوں کو ٹکرا کر ڈبودیا میں انھیں بھی بے لاگ پھاند جاؤں گا۔ غفلت نے ایسا پردہ آنکھوں پر ڈالا تھا کہ ساتھ کے جہازوں کی تباہی بھی دیکھتے تھے مگر اسی راستے چلے جاتے تھے۔ اس بے پروا ہی کا یہ حال تھا کہ دم بھر اور طرف متوجہ ہوتے تھے تو چپو بھی ہاتھ سے رکھ کر بھول جاتے تھے، پھر ناچار ہو کر اپنے تئیں قسمت پر چھوڑ دیتے تھے۔\n\nیہ سستی اور بے پرواہی ان کی کچھ اس لیے نہ تھی کہ ایسی زندگی سے سیر ہو گئے تھے، کیوں کہ جب ڈوبنے لگتے تھے تو سب چلاتے تھے۔ داد بیداد کرتے تھے اور اپنے اپنے دوستوں کو چیخیں مار کر پکارتے تھے برائے خدا کوئی آؤ اور ہمیں سنبھالو، اور اکثر اخیر وقت میں لوگوں کو نصیحتیں بھی کرتے تھے کہ ہم تو اپنی حماقتوں کی بدولت ان حالتوں پہنچے، تم بچے رہنا۔ چنانچہ ان کی اس ہمدردی اور محبت پرستی پر بہت سی تعریفیں بھی ہوتی تھیں، مگر ذراسی دیر میں پھر بھول جاتے تھے، نہ وہ آپ سمجھتے تھے نہ ان نصحیت پر کوئی عمل کرتا تھا۔ ادھر ادھر جزیروں کے کناروں پر کشتیاں اور جہاز ٹوٹے پھوٹے پڑے تھے، بہت سے مسافروں (2) کی ہڈیاں پڑی تھیں۔ بہتیرے نیم جان بہتیرے ایسی بیکسی اور تکلیف کی حالتوں میں تڑپتے تھے کہ دیکھا نہ جاتا تھا۔ ایک دوسرے کو ان کی مصیبت دکھا کر عبرت دلاتا تھا۔ مگر اپنے دل پر ذرا اثر نہ لاتا تھا۔ جس کشتی پر (2) ہم سوار تھے حق یہ کہ اس کے جوڑ بند بھی دریائے حیات کی موجوں کی صدمے اٹھانے کے قابل نہ تھے بلکہ رستے ہی میں ٹوٹتے نظر آتے تھے اور سب ساتھیوں کو یقین تھا کہ کیسی ہی پھرتی کریں یا زور لگائیں، ڈوبنے سے بچتے نہیں۔\n\nجب ان آفتوں کا باہر چرچا ہوا تو جو جو مست غفلت زندگی کے نشہ سے سرخوش بیٹھے تھے۔ وہ بھی غمگین ہو گئے۔ اچھے اچھے دلیروں کے دل ڈر گئے اور بز دلے نامردوں کو زندگی عذاب موت ہو گئی بلکہ رنج و غم کے بعد جن راحتوں کی امید ہوتی ہے، اس سے بالکل مایوس ہو گئے۔ مگر لطف یہ ہے کہ جن لوگوں کو اس آفت میں زیادہ خطرہ تھا (1) وہی زیادہ تر بے پروا تھے بلکہ سب کا جی یہی چاہتا تھا کہ کسی طرح اس خطرہ کا خیال دور ہی دور رہے، اور جو جانتے تھے کہ آگے ایسی مصیبتیں آئینگی، جو اٹھائی نہ جائیں گی، وہ سامنے نگاہ بھر کے نہ دیکھتے تھے اس وقت کے لے کچھ نہ کچھ مشغلے نکال لیتے تھے۔ امید تو ہمیشہ اس رستے میں ساتھ ہی رہتی تھی۔ اس سے ہنس کھیل کر دل بہلاتے (2) رہتے تھے۔\n\nجن لوگوں کی امید سے بہت راہ تھی ان سے اس نے رفاقت کے بڑے بڑے وعدے کر رکھے تھے، مگر اس میں اتنی سکت بھی نہ تھی۔ جس کے سہارے سے بھاگ کر تو بچ جاتے۔ فقط اتنا وعدہ تھا کہ اوروں سے کچھ پیچھے ڈوبوگے اور یہ بھولے بھالے احمق اتنے ہی وعدے پر راضی تھے۔ درحقیقت امید کی باتیں ان سے مسخرا پن کے طور پر تھیں کیوں کہ جتنی ان کی کشتیاں پرانی ہوتی جاتی تھیں اتنی ہی بے خبری کے عہد نامے تازے کرتی تھی اور تعجب یہ ہے کہ جنھیں ڈوبنے کا یقین تھا وہی کاروبار کے لیے زیادہ کمر کستے تھے۔\n\nدریائے زندگی میں ایک بہت خوشنما جزیرہ نظر آیا۔ اس کے کنارے پر دریا سے لگا ہوا ایک بلند منارہ تھا، اس پر سونے کے حرفوں سے لکھا تھا۔\n\n’’بداعتدالیوں کا گلزار۔‘‘ جہاں تک جزیرہ کی حد تھی وہاں تک پہاڑ کی بڑی بڑی چٹانیں بلند تھیں۔ اسی واسطے ایسے ہیبت ناک گرداب پڑتے تھے جہاں سے کشتی کا نکلنا ممکن نہ تھا۔ یہ چٹانیں پانی میں ڈوبی ہوئی تھیں اور جتنی کھلی تھیں نہایت سرسبز اور خوشنما تھیں۔\n\nجوانان مرغزار یعنی ہرے بھرے درخت ایک دوسرے کے گلے میں ہاتھ ڈالے جھوم رہے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیں، وہیں آرام اپنی پلنگڑی بچھائے لیٹا تھا، اور خوشی میٹھے میٹھے سروں میں پڑی ایک ترانہ لہرا رہی تھی۔ یہی مقام رہ گزر عام کا تھا۔ اس لئے جو لوگ ادھر سے گزرتے تھے یہاں کی سرسبزی ان کی آنکھوں میں طراوت دیتی تھی۔ ادراک کا ناخدا داہنے ہاتھ پر دوربین لگائے کھڑا تھا کہ مسافروں کو اسی سکڑے رستے سے نکال لے جاتا تھا۔ مگر خرابی یہ تھی کہ وہ کشتی (1) کھینے کے لئے ان سے ڈانڈا مانگتا تھا کہ صحیح سلامت یہاں سے نکال دے۔ یہ اس سبز باغ پر ایسے محو ہو رہے تھے کہ جواب (2) بھی نہ دیتے تھے۔ خواہ وہ خفا ہو کر کہے خواہ منتوں سے مانگے۔ تھوڑے ہی ہوں گے جو اس کا کہنا بھی مانتے ہوں گے اور دیتے تھے تو اس شرط پر دیتے تھے کہ ان سبزہ زاروں کے پاس سے ہو کر نکلنا کہ ذرا دیکھ کر ہی دل خوش کر لیں۔ اور عہدلے لو کہ پھر رستے بھر ہم کہیں نہ اٹکیں گے نہ سمجھتے تھے کہ برتنا تو درکنار ان بلاؤں کے پاس کو نکلنا بھی غضب ہے چھوا اور موا۔\n\nمیں نے دیکھا کہ آخر ادراک چابک دست ان کے تقاضوں اور منتوں سے دق ہو گیا اور جزیرۂ مذکور کی طرف لے چلا۔ اس جزیرہ نے کشتی کو اس طرح کھینچا جیسے مقناطیس (1)سوئی کھینچے جانے والے بھی گئے تو سہی مگر بہت پچتا ئے اور جتنا زور تھا سب لگا دیا لیکن پانی کے آگے ایک نہ چلا۔ غم غلط مسافر اس عالم میں بھی ناچ کود کر خوشیاں مناتے رہے اور مفت جانیں گنوا بیٹھے۔ ہاں جن لوگوں (2)پر ادراک چابک دست کی چالاکی کی تدبیر کار گر ہوئی وہ بچے مگر بڑے دکھ اٹھا کر بچے اور نکلے تو جس طرح پہلے چلے جاتے تھے اسی طرح موجوں کے تھپیڑوں میں پڑ گئے پانی کے طلاطم کا یہ عالم تھا کہ کشتی چل نہ سکتی تھی، اور یہ بھی باد مخالف اور طغیانی کے ڈر کے مارے ڈرتے ڈرتے کشتی کو لئے جاتے تھے۔ آخر ادھر ان کے زور گھٹتے گئے ادھر کشتی حیات کے جوڑ بند خراب ہوتے گئے۔ خلاصہ یہ کہ رفتہ رفتہ سب ڈوب گئے مگر جو ڈوبتا تھا اپنی کوتاہ اندیشی جو پچھتاتا تھا اور اوروں کو نصیحت کرتا جاتا تھا کہ،\n\nمن نہ کردم شما حذر بکنید\n\nخبردار کوئی جزیرہ بے اعتدالی کے سامنے نہ آنا۔\n\nخدا کی قدرت کو جو ایسی پھوٹی کشتیوں کی مرمت کرتے تھے۔ ان کے کاریگر بھی وہیں موجود (1) تھے۔ بہت لوگوں کو اپنے کاریگروں پر بڑا بھروسہ تھا اور بعض کشتیاں بھی ایسی تھیں کہ انہیں تھوڑا ہی صدمہ پہنچا تھا۔ مگر معلوم ہوا کہ جنھوں نے تھوڑا صدمہ اٹھایا تھا وہ بھی کچھ بہت نہ جیئے۔ روز بروز مرض بڑھتا گیا۔ آخر ڈوب ہی گئے۔ بلکہ تعجب یہ ہے کہ بعض ضرب رسیدہ ایسے تھے کہ کاریگروں نے خود ان کی مدد میں پہلو بچایا۔ (2) مگر بہتیرے کاریگر خود ضرب رسیدوں سے پہلے ڈوب گئے کہ وہ خود اپنی آفتوں میں مبتلا تھے۔\n\nغرض سیر زندگی میں چالاک لوگوں نے بھی اگر پایا تو اتنا ہی پایا کہ یہ پیچھے ڈوبے، وہ پہلے ڈوبے۔ بہتیرے مسافر ایسے بھی تھے کہ لڑکپن سے جن ہمراہیوں کے ساتھ ساتھ چلے آتے تھے، انھیں غوطے کھاتے دیکھتے جاتے تھے اور آگے بڑھتے جاتے تھے۔ یعنی باد مخالف برابر غرق کیے جاتی تھی، نہ ان بے چاروں کو محنت تدبیر کرنی پڑتی تھی نہ غم انتظار اٹھانا پڑتا تھا۔ جو لوگ خوشی کی ٹکر کھا کر بچ نکلے تھے وہ بھی آہستہ آہستہ ضعیف ہی ہوتے گئے۔ اگرچہ ہاتھ پاؤں مار مار کر پانی سے بہت لڑے۔ مگر جو اوروں پر پہلے گزری تھی وہ ان پر پیچھے گزری۔ آخر معلوم ہوا تو یہی ہوا کہ امید کو بھی کنارہ کامیابی تک پہنچنا مشکل ہے۔ یہ حالت دیکھ میرا دل ایسا زندگی سے بیزار ہوا کہ آنکھیں بند کر کے اس دریا میں کود پڑوں۔ اتنے میں دیکھتا ہوں کہ ایک شخص نورانی صورت، سبز لباس پہنے سامنے کھڑا ہے اور اپنے عصا سے اشارہ کر کے پاس بلاتا ہے۔ میں نزدیک گیا تو اس نے اپنا ہاتھ میرے منھ پر پھیرا اور عصا اٹھا کر سامنے اشارہ کیا خدا جانے دوربیں الہی سے میری آنکھیں روشن کر دیں۔ یا کہر جو دھواں دھار ہو رہی تھی اسے اپنی برکت سے اڑا دیا۔ دیکھوں تو سبحان اللہ صبح سعادت کا وقت ہی چمن کے لہلہے، مرغان سحر کے چہچہے، پھولوں پر شبنم صبا اور نسیم کم کم۔ جزیرے کے جزیرے میووں سے جھومتے اور پھولوں سے لہلہاتے ہیں۔ ان کے بیچ میں سمندر کا پانی جگمگ جاگمگ لہریں مار رہا ہے۔ بڑے بڑے امرا شرفا خلعت ہائے فاخرہ اور زرق برق کے لباس پہنے پھولوں کے طرے سر پر ہار گلے میں ڈالے ادھر ادھر درختوں میں شعر پڑھتے پھرتے ہیں۔ کچھ فواروں کے نیچے حوض میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں کچھ پھولوں کی کیاریوں میں بے تکلف لوٹتے ہیں اور گانا سن رہے ہیں۔ غرض کہ ہجوم بہار اور رسیلی آوازوں کے ستاروں نے وہ جھمگٹ کر رکھا تھا کہ شور قیامت بھی آئے تو خبر نہ ہو۔ اس عالم کو دیکھ کر میرا ساغر دل خوشی سے چھلک گیا اور بے اختیار یہی جی چاہا کہ اگر باز کے پر ہاتھ آ جائیں تو اڑوں اور اس باغ فرح بخش میں جا پڑوں لیکن اس پیر بزرگ نے کہا کہ وہاں جانے کا کوئی رستہ نہیں۔ الادروازہ موت کہ جس سے تم ڈرتے ہو، دیکھو وہ سر سبز اور رنگین جزیرے جو سامنے نظر آتے ہیں اور سمندر کی قالین پر گل کاری کر رہے ہیں۔ حقیقت میں اس سمندر سے بھی زیادہ پھیلاؤ رکھتے ہیں۔ جہاں تک تمھاری نظر کام کر سکے بلکہ جہاں تک تمھارا خیال دوڑ سکے اس سے بھی آگے تک لا انتہا چلے جاتے ہیں۔ مرنے کے بعد نیک مردوں اور صاحب دلوں کے گھر یہیں ہوں گے جن جن لذتوں کو دل چاہے اور طبیعت کیفیت اٹھائے سب یہاں موجود ہیں۔ ہر جزیرہ باغ جنت کا مکان ہے کہ اپنے اپنے مکین کے لائق شان ہے کیوں آزاد! کیا یہ مقام اس لائق نہیں کہ جان تک بھی ہو تو دے دیجئے اور انھیں لیجئے کیا اس زندگانی کو مصیبت سمجھنا چاہیے جس کی بدولت یہ نعمتیں حاصل ہوتی ہیں کیا موت سے ڈرنا چاہیئے ؟ کیا ملک عدم کو خوش ہو کر نہ چلنا چاہیئے ؟ جس کی بدولت ایسی ایسی نعمتیں حاصل ہوں۔ نہیں نہیں ہر گز نہیں اور سنتے ہو! نہ سمجھنا کہ انسان جس کے لئے یہ بے زوال سامان ہیں۔ اسے یونہی پیدا کر دیا ہے۔ دنیا مقام امتحان ہے۔ ہم تم یہاں امتحان دینے آئے ہیں۔ امتحان کا نام سنتے ہی چونک پڑا آنکھ کھول کر دیکھا تو کچھ نہ تھا۔\n\n(نیرنگ خیال حصہ اول از محمد حسین آزاد)", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C"} {"title": "سیر عدم (مسافران عدم کے پسماندوں کی سرگزشت)", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "جب کوئی نہایت چہیتی چیز ہمارے ہاتھ سے نکل جائے اورمعلوم ہوکہ اب ہاتھ نہ آئے گی توکیا دل بے قرارہوتاہے اور جان صحرائے تصور میں کیسی اس کے پیچھے بھٹکتی پھرتی ہے، مگر جب تھک کر ناچار ہوجاتی ہے تو اداس بے آس ہوکرآتی ہے اور اپنے ٹھکانے پرگرپڑتی ہے۔ عقل وفہم البتہ دلِ غم گین کوسہارا دے سکتے ہیں۔ مگردل ایسا بھولابھالاشخص ہے کہ ذرا نہیں سمجھتا اورجوغذا اس کے جی کوبھاتی ہے اسی کوڈھونڈتا ہے۔ درحقیقت یاد جو دل کی ہمسائی ہے، وہ ہمیشہ غم کو خانہ دل میں بلاتی ہے اور ایام گزشتہ میں جومزے اٹھائے ہیں یا دولت کھوکر عیش اڑائے ہیں ان کی گزری ہوئی بہاروں کے افسانے سناتی ہے۔\n\nکسی کواس دولت وعظمت کا غباراڑتا دکھائی دیتاہے، جن کی سواری گزرگئی۔ کسی کواقربا کی آوازیں اوردوستوں کی باتیں سناتی ہے، جوشہر خموشاں میں پڑے سوتے ہیں۔ کبھی عزیزوں کی صورتوں اوران کی طبیعتوں کی تصویریں دکھاتی ہے، کبھی پیاروں کے پیار اوران کی محبتوں کے افسانے سناتی ہے۔ دل نے حسرت واشتیاق کوبھی اپنے گوشے میں رکھ چھوڑا ہے۔ وہ ان باتوں سے ایسے پھولتے اورپھلتے ہیں کہ دل پھٹ کرٹکڑے ٹکڑے ہوجاتاہے۔ مگرزمانہ اور اس پر وقت کا گزرجانا حالت مذکورہ کوکچھ کچھ کمزورکرتاہے۔ ساتھ اس کے یا توعقل وفہم آکر حسرت واشتیاق کودباتے ہیں یاکوئی اورباہر کا شوق ان سے بھی زبردست آتاہے، وہ ان کازور گھٹاتاہے۔\n\nمیں ان خیالات میں پڑاتھا جونیند آگئی۔ دیکھتا ہوں کہ گویاایک چٹیل میدان، صحرائے بیابان سمندرکا کنارہ ہے اور میں وہاں بہت سے لوگوں میں کھڑا ہوں کہ جن کے سوگوار چہرے ان کے دل کے غم واندوہ کی گواہی دیتے ہیں۔ ہمارے سامنے جودریابہہ رہاتھا، اس کا چپ چاپ بہاؤ اور سناٹے کا چڑھاؤ پکاررہاتھا کہ یہاں تھاہ کاپتا نہیں۔ اس دریا کو دیائے اشک کہتے ہیں۔ اسی دریا میں ایک ٹوٹی پھوٹی سی کشتی بھی پڑی ہوئی تھی۔ چنانچہ معلوم ہواکہ بہت سے مسافر پارجانے والوں نے اضطراب اوربے صبری سے اس میں بیٹھ بیٹھ کر اسے خراب کردیاہے۔ مصیبت اس کشتی پرملاحی کرتی تھی۔ چنانچہ وہ اسے فوراً ہمارے پاس لے آئی۔ ہم بھی سوارہونے کوتیار ہی تھے کہ اتنے میں ایک بی بی دیرینہ سال شرم وحیا کا برقعہ اوڑھے علم کی لاٹھی ٹیکتی آئی۔ شفقت مادرانہ سے ایک ایک کا نام لے کرپکارا اور سفر دریا کے خطربیان کرنے لگی تاکہ ہم کسی طرح سے اپنے ارادہ سے بازرہیں۔\n\nاکثرلوگوں نے اسے پہچان لیا کہ بی بی صابرہ خاتون ہیں۔ چنانچہ بعض اشخاص جو رورو کر آنکھوں سے دریا بہارہے تھے، انہوں نے اس کاکہامانا اور پیچھے ہٹ آئے۔ باقی ہم میں سے سوارہوئے۔ بڑھیا بے چاری کی نیک ذاتی اوراس کے دل کی خیرخواہی نے مصیبت زدوں کاساتھ چھوڑنا گوارہ نہ کیا۔ اورکہا کہ اے فرزندو! اگرتم کہو تومیں بھی تمہارے ساتھ سوار ہولوں کہ بھلا اگرسفر میں دقت پڑے تو تمہیں تسکین یا صلاح مناسب تودے سکوں۔\n\nغرض ہم کشتی میں سوارہوکر سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ کشتی چل نکلی اور بادبان کھل گئے۔ مگران بادبانوں میں فقط آہوں کادھواں بھرا تھا کیوں کہ اس ملک کی ہوا یہی تھی۔ رستہ میں اگرچہ بہت سے صدمے اور تہلکے اٹھائے مگر اکثر لوگ ہم میں سے ایسے تھے کہ انہیں اس کی پروا بھی نہ تھی۔ غرض بہزاردقت کشتی کنارہ پر لگی۔ جب پاراترے تو دیکھا کہ ایک جزیرہ ہے۔ مگروہاں ایسی دھند چھائی ہوئی تھی کہ سورج نے اپنی شعاعوں کے ہزاروں تیرمارے، ایک پار نہ جاسکا۔ سامنے ایک بھیانک اندھیرا اس طرح پھیلا ہوا تھا کہ جولوگ ہم میں ذرا دلوں کے نرم تھے وہ تواس مقام کودیکھ کر سخت گھبرائے اور ناچارہوکر صبر کے دامن کو ہاتھ لگایا۔ چنانچہ اس نے ایک طرف کواشارہ کیا اوروہ ہمیں وہیں چھوڑکرادھر اترگئے۔ پھریہ بھی ہم نے سنا کہ اس کے پتے کے بموجب جزیرہ کی سرحد پرپہنچ کر انہیں ایک پایاب مقام ہاتھ آگیا۔\n\nمیں ابھی تک انہیں لوگوں کے ساتھ تھا جن کا یہ ارادہ تھا کہ جزیرہ کے بیچوں بیچ ہی میں جاکردم لیں گے۔ چنانچہ وہ سب نہایت آہستگی اور سنجیدگی سے جیسے کوئی جنازہ کولئے جاتا ہے، چلے جاتے تھے۔ انہی ہم سفروں کے حلقہ رفاقت میں میں بھی چلاجاتا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہم ایک سرسبزبن میں جھاڑیوں کے اندر اندر چلے جاتے ہیں اوران درختوں کوقبرستان پرہی سایہ کرنے کا عشق ہے۔ یہاں کچھ آدمی بھی رہتے معلوم ہوتے تھے مگر وہ بھی نالہ وزاری میں مصروف تھے کہ کسی طرح انہیں تسکین نہ ہوتی تھی۔ کوئی شاخ درخت کوپکڑے کھڑاتھا اورزارزارروتا تھا۔ کوئی اپنے ہاتھ کو مروڑتا تھا اور دل مسوس کررہ جاتاتھا۔ کوئی چھاتی پیٹتا تھا اوربال نوچتا تھا۔ کوئی خاموش تھا، مگر ایسا معلوم ہوتاتھا گویا صدمہ غم سے سکتہ کاعالم ہوگیا ہے۔ ان حالات کودیکھ کر اور آوازوں کو سن کرہمارا غم اوربھی زیادہ ہوا۔ بلکہ ایک رفیق توایسا بے تاب ہوا کہ رستہ پرایک درخت کاٹہنا جھکا ہواتھا، اس نے ارادہ کیا کہ اس میں لٹک کررہ جائے مگرساتھیوں نے تسلی دلاسادے کرسنبھالا۔\n\nاب ہم چلتے چلتے ایسے مقام پر پہنچے کہ زمین آسمان اندھیراوربالکل سنسان مقام تھا۔ جنگل کی سائیں سائیں ٹہنی ٹہنی سے رونے کی آواز، ہوا کا گھٹاؤ، دلوں کے دھڑکنے سے جب ہمارا حال بہت ابترہوا توسب کو یقین ہوگیا کہ اب ہم کنج غم کے پاس آپہنچے۔ وہ ایک گہری گھاٹی کے بیچ میں اندھیراگھپ ایک لمبا غارتھا۔ اسی کے رستوں کے ایچ پیچ میں کچھ کچھ پانی بھرا تھا۔ مگرعجب رنگت پائی تھی کہ نہ کالی نہ لالی۔ وہی نیلا کیچڑپانی تھا کہ نالہ وزاری کی آوازوں پرآہستہ آہستہ سرسراتا تھا اورمارے غم کے دل کولہوپانی کرکے بہاتاتھا۔ غارمذکور کے اندر ایک تہہ خانہ تھا جس کے دروازہ پر آہ کے قلم اورتیرہ بختی کی سیاہی سے لکھا تھا کہ کلبہ احزان کا دہان غم یہی ہے۔\n\nاندراس غارمصیبت کے دیوغم انجام کاوجود بدنمود نظرآتا تھا۔ اس کے رستے میں کوڑا، کانٹے اور سانپ بچھوؤں کے ڈنک بکھرے ہوئے تھے۔ جس تخت پر اس کاجلوس حاکمانہ تھا وہ ایک ٹوٹی پھوٹی پہاڑی کی چٹان تھی۔ تکیوں کی جگہ پیچھے اورپہلوؤں میں کئی کڈھنگے بے ڈھنگے پتھرڈال دیتے تھے۔ سرپر تاج بے کلاہی دھرا تھا۔ جس پر اندھا دھند اندھیرا چھایا ہواتھا اور بارغم کے مارے سرکو بازو پر سہارا دیے ہوئے تھا۔ اس شان سے اپنی غم پرست وغم آئین رعایا پرحکمرانی کرتا تھا اور افسردہ، پژمردہ، چپ چاپ، خاموش، خود اپنے خیال میں گم ہوکرحماقت کی تصویر بن گیاتھا۔\n\nاس کے ایک طرف ملامت وافسردگی کھڑی تھی کہ مارے ضعف کے جھکتے جھکتے نقش زمین ہوگئی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ غش آگیا۔ دوسری طرف فکر تھاکہ دم بدم کی سرگوشی سے ہزاروں وہم ووسواس کے عذاب میں گرفتار تھا۔ زردی سر پر کھڑی رومال ہلاتی تھی کہ رنگ دھواں ہوکر اڑے جاتے تھے۔ پہلومیں درد بیٹھا تھا کہ جونک کی طرح اندرلہو پیے جاتا تھا۔ تمام غم خانہ میں ویرانی و بربادی چھائی ہوئی تھی اوراس کھنڈر کے چھیدوں میں کئی چراغ سحری بھی ٹمٹمارہے تھے، جن کے نیلے نیلے شعلے اٹھتے تھے اور اپنی ہی نلاہٹ میں بیٹھ کر اٹھ کھڑے ہوتے تھے کہ وہ غم کی حالت اصلی کواوربھی زیادہ خوف سے روشن کرتے تھے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو اکثر لوگ رستہ کے دھکوں کے مارے جاتے ہی گرپڑے۔ چنانچہ جوظالم ستم گارتخت کے آس پاس کھڑے تھے ان کے حوالے ہوگئے۔ بعض خوش نصیب تھے کہ رنج وعذاب سہتے سہتے دروازے کی طرف بھاگے۔\n\nوہاں بی بی صابرہ خاتون ان کے استقبال کے لئے منتظر کھڑی تھیں کیونکہ جب ہم اندر گئے تو اس بے چاری کووہاں چھوڑگئے تھے۔ اس کی رفاقت ایسے وقت میں نہایت غنیمت معلوم ہوئی۔ چنانچہ اس نے ہمیں اس کلبہ احزان کے گردایک چکردیا۔ جب پچھواڑے کی طرف آئے تو ایک بلندی نظر آئی۔ اس پر چڑھ کر دفعتاً معلوم ہوا کہ گویا ہم اس ماتم درہ کے نکاس کی راہ پرآگئے۔ اس بلندی پر اس نے کہا کہ فرزندو! یہاں ذرا ٹھہر کر دم لے لوکہ تمہارے ہوش وحواس ٹھکانے آجائیں۔ چنانچہ فی الحقیقت خمارغم کی سرگرانی سے آنکھیں ہماری جوزمین میں لگی ہوئی تھیں اب ذرا کھلتی معلوم ہوئیں اور ایک قسم کی خوشی محسوس ہوئی، جس نے زبانوں پر تسکین کامزہ دیا۔ یا تو دنیا اندھیر معلوم ہوتی تھی یا ایسا معلوم ہواگویا ہم چھاؤں میں ہیں۔ یہاں ہم نے اپنے ہمراہیوں کے شمار پربھی خیال کیا کہ کتنے لوگ جزیرہ میں داخل تھے۔ چنانچہ ان کی کثرت سے دل کوایک اورقسم کی خوشی ہوئی جس کوتسلی سمجھنا چاہئے۔\n\nہرچند یہ خوشی کہ اوروں کومبتلائے غم دیکھ کر حاصل ہوئی تھی، معیوب ہے، مگر اس وقت قابل عذرتھی کیوں کہ وقت کو خیال کرو یعنی دیکھو کہ ہم خود کس آفت میں مبتلا تھے۔ اسی واسطے ہم کوفقط ان کے حال زار پررحم نہ آیا۔ ہاں یہ افسوس آیا کہ ہائے ہم سب کیسی بے کسی اوربے چارگی کی حالت میں گرفتار ہیں۔ بلکہ اس میں کچھ انس انسانیت اور رحم ہمدردی بھی شامل تھا۔ اگرچہ دل اس وقت ایسے اندھیرے اورعالم مدہوشی میں تھا کہ اسے کسی بات کا ہوش نہ تھا۔ مگرجوں جوں آگے بڑھے ہوش میں آتا گیا۔ تھوڑی دور چل کرایک دوسرے کو پہچاننے لگے۔ بلکہ ایک ایک کوغم گین دیکھ کر پوچھنے لگا کہ ہم کب ملے تھے اوروہ کیا مصیبتیں تھیں کہ جن کے لئے ہم سب جمع ہوئے تھے۔ ہر ایک نے اپنی سرگزشت بیان کی۔ سارے ماجرے سن کرسب نے ایک دوسرے کی تکلیف کوتولا اور باہم مقابلہ کیا۔ پھرآپس میں ہی رحم کرکے ایک دوسرے کے حال پر بہت افسوس کئے۔\n\nغرض اس طرح غم ناک قافلہ نے رفیقوں کوصبروتسلی کے توشے دے کر تھوڑی سی مصیبت کی راہ قطع کی۔ آخر ان درختوں کاتنگ راستہ ذرا کھلنا شروع ہوا اور ہوابھی کچھ کچھ صاف ہونے لگی۔ تھوڑی دور سے صبح کا سفیدہ غبار کی طرح اڑتا معلوم ہوا۔ وہ ایسا رہ رہ کر ابھرتا تھا جیسے کہیں دوربجلی چمکتی ہو۔ چمکارے اس کے ذرا ماندتھے۔ مگرباوجود اس کے دل کوفرحت بخشتے تھے۔ چنانچہ اس ملک میں اسے دل کابہلاوا کہتے تھے۔ تھوڑی دیرمیں یہ روشنی زیادہ نظرآنے لگی اورپھر زیادہ ترروشن اوردیر تک ٹھہرنے لگی۔ بعدا س کے وہ آئیں جنہوں نے اب تک زمین وآسمان کودھواں دھار کررکھا تھا۔ نسیم وصبا کی سنسناہٹ بن گئیں، اور تمام جزیرہ پرجودیو ہیبت کا ساچھایا ہوا تھا، وہ بھی کم ہونے لگا۔\n\nاب ہم چلتے چلتے اس پایاب مقام پرپہنچے جہاں سے ہمیں پاراترناتھا۔ یہاں دیکھیں تووہ ماتم زدے بھی بیٹھے ہیں جوپہلے ہمارے ساتھ ادھر اترے تھے اورپھر کلبہ احزان کے دروازہ سے گھبراکر بھاگ تھے۔ لیکن یہاں بیٹھے انتظار کررہے تھے کہ جس طرح ساتھ ادھرآئے تھے، ساتھ ہی پھردنیا میں دوبارہ پیدا ہوں جس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ بھی کلبہ احزان کی تکلیفوں میں شریک حال تھے۔ اگرچہ اورطرف پانی بہت گہرا تھا مگر ادھربالکل پایاب تھا۔ جب ہم دریا اترے توتمام دوست آشنا استقبال کوآئے کیوں کہ انہیں ہماری عمردوبارہ کی مبارک باد دینے کے لئے تسلی بلاکرلائی تھی۔ ان میں سے بعض توہمیں اتنے دن تک جدا رہنے کے لئے ملامت کرتے تھے بعض کہتے تھے کہ خیرجوہوا، سوہوا، پھرادھر جانے کا ارادہ نہ کرنا۔\n\nبعض دانش مندوں نے سفر کا حال بھی نہ پوچھا کہ مبادا پھر رنج تازہ جائے۔ مگریہ ہرشخص نے کہاکہ اگرتقدیر سے ایسا سفرپیش آئے تو صبر سے بہتر کوئی رفیق راہ نہیں۔ یہاں صبر نے چاروں طرف سے اپنی تعریفیں اور شکریہ سن سن کرہمیں تسلی کے سپرد کردیا۔ تسلی نے اس پرتبسم کیا۔ تبسم کے ساتھ ہی ادھر سے ادھر آسمان کا رنگ ارغوانی ہوگیا اور شب ماتم صبح ہوکر روز روشن بن گئی۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%B9%D8%AF%D9%85_%28%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D8%B9%D8%AF%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B3%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%B1%DA%AF%D8%B2%D8%B4%D8%AA%29"} {"title": "سیر چمن ہے اور وہ گل رو کنار میں", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سیر چمن ہے اور وہ گل رو کنار میں\nمیں بے پیے بھی مست ہوں اب کی بہار میں\n\nکب سے ہوں کیا بتاؤں تلاش بہار میں\nاک پھول بھی نہ تھا چمن روزگار میں\n\nچالیں نئی نئی سی ہیں رفتار یار میں\nپڑ جائے گا خلل روش-روزگار میں\n\nدل اور جان دونوں بھی ہیں کس شمار میں\nآپ اختیار میں ہیں تو سب اختیار میں\n\nکیوں ناامید آپ کا امیدوار ہو\nسب کچھ ہے کیا نہیں نگۂ شرمسار میں\n\nمجھ کو جب اپنی بات کا رہتا نہیں خیال\nکیوں بد ظنی نہ آئے دل رازدار میں\n\nاس سے زیادہ لطف کا طالب نہیں ہوں میں\nامید بن کے رہ دل امیدوار میں\n\nیا موت آئے گی مجھے یا نیند آئے گی\nاور ایک شب گزار تو دوں انتظار میں\n\nاے درد عشق بات تو جب ہے کہ میرے دوست\nمرنے کے بعد چین نہ پاؤں مزار میں\n\nنالہ خلاف وعدہ کیا ہائے کیا کیا\nسن لے جو وہ تو فرق پڑا اعتبار میں\n\nوہ کیوں بلائیں بزم میں مجھ بد نصیب کو\nگھل مل کے بیٹھنا نہیں آتا ہے چار میں\n\nمیں نے بھی توبہ توڑ دی اپنی تو کیا ہوا\nدنیا کے لوگ کیا نہیں کرتے بہار میں\n\nمیرا وقار آپ کا آرام بھی گیا\nآخر یہ کیا بلا ہے دل بے قرار میں\n\nاک تازہ واردات ہے ہر ایک دم کے ساتھ\nمیرے ارادے آ نہیں سکتے شمار میں\n\nسو مہربانیوں کے عوض مسکرا دیا\nسرکار نے کمال کیا اختصار میں\n\nہوگا جب ان کا قہر قیامت ہی آئے گی\nزندے رہیں گے گھر میں نہ مردے مزار میں\n\nکہتے ہیں لوگ موت سے بد تر ہے انتظار\nمیری تمام عمر کٹی انتظار میں\n\nنکلے گا اب کے جو بھی ترا اے مغاں نواز\nپھولوں میں رکھ کے دیں گے تجھے ہم بہار میں\n\nناصح بھی چارہ گر بھی یہ دو دو عذاب کیوں\nمنکر نکیر آتے ہیں وہ بھی مزار میں\n\nکھائی ہوئی قسم تو خدا کے لئے نہ کھا\nاپنی طرف سے فرق نہ ڈال اعتبار میں\n\nزاہد کی طرح اور ہیں مسجد میں سیکڑوں\nیہ کس شمار میں ہے وہاں کس قطار میں\n\nعشق اور آپ واہ صفیؔ واہ واہ وا\nغم اور ہائے زندگئ مستعار میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%86%D9%85%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سیر کر عندلیب کا احوال", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سیر کر عندلیب کا احوال\nہیں پریشاں چمن میں کچھ پر و بال\n\nطبع غم تو گئی طبیب ولے\nپھر نہ آیا کبھو مزاج بحال\n\nسبزہ نو رستہ رہ گزار کا ہوں\nسر اٹھایا کہ ہو گیا پامال\n\nکیوں نہ دیکھوں چمن کو حسرت سے\nآشیاں تھا مرا بھی یاں پرسال\n\nسرد مہری کی بسکہ گل رو نے\nاوڑھی ابر بہار نے بھی شال\n\nہجر کی شب کو یاں تئیں تڑپا\nکہ ہوا صبح ہوتے میرا وصال\n\nہم تو سہہ گزرے کج روی تیری\nنہ نبھے پر اے فلک یہ چال\n\nدیدۂ تر پہ شب رکھا تھا میرؔ\nلکۂ ابر ہے مرا رومال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%B9%D9%86%D8%AF%D9%84%DB%8C%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84"} {"title": "سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا\nجس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا\n\nسب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا\nجس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا\n\nبوئے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار\nہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دلگیر کا\n\nکیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا\nکام ہے اک تیرے منہ پر کھینچنا شمشیر کا\n\nرہ گزر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر\nاس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا\n\nبس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے درد سر\nکام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا\n\nنالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم\nقد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا\n\nجو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے\nتشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا\n\nخون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک\nمفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا\n\nلخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے\nفائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا\n\nگور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا\nعیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا\n\nکس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں\nرنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B5%D8%AF_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%D8%AE%DA%86%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "سیراب آب جو سے قدح اور قدح سے ہم", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سیراب آب جو سے قدح اور قدح سے ہم\nسر خوش گلوں کی بو سے قدح اور قدح سے ہم\n\nمکھڑے پہ ہے گلال جو اس مست ناز کے\nرنگیں ہے عکس رو سے قدح اور قدح سے ہم\n\nپیر مغاں کرم ہے جو سیراب ہو سکے\nتیرے نم وضو سے قدح اور قدح سے ہم\n\nبزم شراب رقص کی مجلس سے کم نہیں\nناچے ہے پرملو سے قدح اور قدح سے ہم\n\nحلقے نہیں یہ زلف میں ساقی کی بلکہ ہے\nوابستہ مو بہ مو سے قدح اور قدح سے ہم\n\nحرمت لکھی شراب کی یاں تک کہ کھنچ رہا\nزاہد کی گفتگو سے قدح اور قدح سے ہم\n\nشیشہ جو پھوٹ جائے تو پھوٹے ولے نہ ہو\nیارب جدا سبو سے قدح اور قدح سے ہم\n\nوہ تفرقہ پڑا کہ بہت دور رہ گیا\nدست پیالہ جو سے قدح اور قدح سے ہم\n\nاے مصحفیؔ ہمیں تو گوارا نہیں یہ نیش\nنوش اس کے لب سے چوسے قدح اور قدح سے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%A8_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D9%82%D8%AF%D8%AD_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%82%D8%AF%D8%AD_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "سیرِ فلک", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "تھا تخیُّل جو ہم سفر میرا\nآسماں پر ہُوا گزر میرا\nاُڑتا جاتا تھا اور نہ تھا کوئی\nجاننے والا چرخ پر میرا\nتارے حیرت سے دیکھتے تھے مجھے\nرازِ سر بستہ تھا سفر میرا\nحلقۂ صُبح و شام سے نکلا\nاس پُرانے نظام سے نکلا\n\nکیا سُناؤں تمھیں اِرم کیا ہے\nخاتمِ آرزُوئے دیدہ و گوش\nشاخِ طُوبیٰ پہ نغمہ ریز طُیور\nبے حجابانہ حُور جلوہ فروش\nساقیانِ جمیل جام بدست\nپینے والوں میں شورِ نوشانوش\nدُور جنّت سے آنکھ نے دیکھا\nایک تاریک خانہ، سرد و خموش\nطالعِ قیس و گیسوئے لیلیٰ\nاُس کی تاریکیوں سے دوش بدوش\nخُنک ایسا کہ جس سے شرما کر\nکُرۂ زمہریر ہو رُوپوش\nمَیں نے پوچھی جو کیفیت اُس کی\nحیرت انگیز تھا جوابِ سروش\nیہ مقامِ خُنک جہنّم ہے\nنار سے، نُور سے تہی آغوش\nشعلے ہوتے ہیں مُستعار اس کے\nجن سے لرزاں ہیں مردِ عبرت کوش\nاہلِ دنیا یہاں جو آتے ہیں\nاپنے انگار ساتھ لاتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D9%90_%D9%81%D9%84%DA%A9"} {"title": "سیماب جل گیا تو اسے گرد بولئے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سیماب جل گیا تو اسے گرد بولئے\nعاشق فنا ہوا تو اسے مرد بولئے\n\nشربت کوں خون دل کے پیو زہر کا سا گھونٹ\nایسا طبیب کاں ہے جسے درد بولئے\n\nہے کیا کتاب مطلع انوار رخ ترا\nسورج کوں جس کا یک ورق زرد بولئے\n\nجیوں بو ہوئے ہیں محو ہر یک رنگ گل میں ہم\nاے بلبلو صدائے انا الورد بولئے\n\nالبتہ ہووے مطلع دیوان آفتاب\nتجھ حسن کی صفت میں اگر فرد بولئے\n\nبازی ہے جان ہجر ہے ہار اور وصال جیت\nغم ہے بساط دل کوں مرے نرد بولئے\n\nہے آگ عاشقوں کا دم سرد اے سراجؔ\nاور آگ کی لپٹ کوں دم سرد بولئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%A8_%D8%AC%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%A6%DB%92"} {"title": "سیماب پشت گرمی آئینہ دے ہے ہم", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سیماب پشت گرمی آئینہ دے ہے ہم\nحیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے\n\nآغوش گل کشودہ براۓ وداع ہے\nاے عندلیب چل کہ چلے دن بہار کے\n\nیوں بعد ضبط اشک پھروں گرد یار کے\nپانی پیے کسو پہ کوئی جیسے وار کے\n\nبعد از وداع یار بہ خوں در تپیدہ ہیں\nنقش قدم ہیں ہم کف پاۓ نگار کے\n\nہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ\nلائق نہیں رہے ہیں غم روزگار کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%A8_%D9%BE%D8%B4%D8%AA_%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%92_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "سینکڑوں گل ہوئے خوش رنگ چمن میں کھل کے", "poet_page": "مصنف:مرزا علی لطف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سینکڑوں گل ہوئے خوش رنگ چمن میں کھل کے\nآخرش خاک ہوئے خاک میں سب رل مل کے\n\nجس گھڑی یار مرا مجھ سے جدا ہونے لگا\nروئے ہم خوب طرح اس کے گلے مل مل کے\n\nآہ کیدھر کو چلے جاتے ہو چھوڑے تنہا\nہم رہو ہم بھی مسافر ہیں اسی منزل کے\n\nلطفؔ یہ شعر کہا جس نے عجب شاعر تھا\nجس کے سننے سے ہوئے ٹکڑے ہزاروں دل کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DA%A9%DA%91%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D9%84_%DA%A9%DB%92"} {"title": "سینہ تو ڈھونڈ لیا متصل اپنا ہم نے", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سینہ تو ڈھونڈ لیا متصل اپنا ہم نے\nنہیں معلوم دیا کس کو دل اپنا ہم نے\n\nعہد کیا کر کے ترے در سے اٹھے تھے قسمت\nپھر دکھایا تجھے روئے خجل اپنا ہم نے\n\nمیری آلودگیوں سے نہ کر اکراہ اے شیخ\nکچھ بنایا تو نہیں آب و گل اپنا ہم نے\n\nسخت کافر کا دل افسوس نہ شرمایا کبھی\nپوجا جوں بت تو بہت سنگ دل اپنا ہم نے\n\nپانی پہنچا سکے جب تک مری چشم نمناک\nجل بجھا پایا دل مشتعل اپنا ہم نے\n\nبعد سو رنجش بے جا کے نہ پایا بغلط\nنہ پشیمان تجھے منفعل اپنا ہم نے\n\nدر غریبی نہ تھا کچھ اور میسر حسرتؔ\nعشق کی نذر کیا دین و دل اپنا ہم نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AA%D8%B5%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92"} {"title": "سینہ صافی سوں مثل درپن کر", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سینہ صافی سوں مثل درپن کر\nشمع فانوس دل کی روشن کر\n\nیاد کر کے خیال گل رو کا\nدشت دل میں بہار گلشن کر\n\nگر نہیں سبحہ ہاتھ میں ہر وقت\nدانۂ دم سوں پیو کی سمرن کر\n\nگرچہ حائل ہے پردۂ غفلت\nدیدۂ دل کوں کھول روزن کر\n\nعیب پوشی کوں خلق کی داؤدؔ\nچشم سیتی پلک کوں سوزن کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%B5%D8%A7%D9%81%DB%8C_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AB%D9%84_%D8%AF%D8%B1%D9%BE%D9%86_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "سینہ صافی کی ہے جسے عینک", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سینہ صافی کی ہے جسے عینک\nاس کوں دیدار یار ہے بے شک\n\nصفحۂ دل کوں داغ کی کر مہر\nعشق کے شاہ نے دیا دستک\n\nرہزن عقل سیں نہیں وسواس\nہوں حمایت میں عشق کی جب تک\n\nبوالہوس سوز دل کوں کیا جانے\nنہ جلے ہرگز آگ میں ابرک\n\nغیر کا نقش غیر نقش نگار\nصفحۂ دل ستی کیا ہوں حک\n\nشور ہے بس کہ تجھ ملاحت کا\nدل ہمارا ہوا ہے کان نمک\n\nگر جلا چاہتا ہے مثل سراجؔ\nاے دل اس شعلہ رو کی دیکھ جھلک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%B5%D8%A7%D9%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%B9%DB%8C%D9%86%DA%A9"} {"title": "سینہ میں دل ہے دل میں داغ داغ میں سوز و ساز عشق", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سینہ میں دل ہے دل میں داغ داغ میں سوز و ساز عشق\nپردہ بہ پردہ ہے نہاں پردہ نشیں کا راز عشق\n\nناز کبھی نیاز ہے اور نیاز ناز عشق\nختم ہوا نہ ہو کبھی سلسلۂ دراز عشق\n\nعشق ادا نواز حسن حسن کرشمہ ساز عشق\nآج سے کیا ازل سے ہے حسن سے ساز باز عشق\n\nاپنی خبر کہاں انہیں جن پہ کھلا ہے راز عشق\nسارے شعور مٹ گئے جب ہوا امتیاز عشق\n\nہوش و خرد بھی الفراق بینی و بینک کہیں\nحضرت دل کا خیر سے ہے سفر حجاز عشق\n\nپیر مغاں کے پائے ناز اور مرا سر نیاز\nہوتی ہے میکدے میں روز اپنی یونہی نماز عشق\n\nحسرت و یاس و آرزو شوق کا اقتدا کریں\nکشتۂ غم کی لاش پر دھوم سے ہو نماز عشق\n\nعشق کی ذات ہی سے ہے خوبیٔ حسن و شان حسن\nحسن کے دم قدم سے ہے سارا یہ سوز و ساز عشق\n\nاے دل دردمند پھر نالہ ہو کوئی دل گداز\nسونی پڑی ہے بزم شوق چھیڑ دے اپنا ساز عشق\n\nہوش و خرد عدوے عشق عشق ہے دشمن خرد\nہے نہ ہوا نہ ہو کبھی عقل سے ساز باز عشق\n\nبیدمؔ خستہ ہے کہاں اصل میں کوئی اور ہے\nزمزمہ سنج بے خودی نغمہ طراز ساز عشق", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا\nبس ہجوم یاس جی گھبرا گیا\n\nتجھ سے کچھ دیکھا نہ ہم نے جز جفا\nپر وہ کیا کچھ ہے کہ جی کو بھا گیا\n\nکھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری\nجی میں یہ کس کا تصور آ گیا\n\nمیں تو کچھ ظاہر نہ کی تھی جی کی بات\nپر مری نظروں کے ڈھب سے پا گیا\n\nپی گئی کتنوں کا لوہو تیری یاد\nغم ترا کتنے کلیجے کھا گیا\n\nمٹ گئی تھی اس کے جی سے تو جھچک\nدردؔ کچھ کچھ بک کے تو چونکا گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "سینہ کوبی کر چکے غم کر چکے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سینہ کوبی کر چکے غم کر چکے\nجیتے جی ہم اپنا ماتم کر چکے\n\nدیکھیے ملتے ہیں کس دن یار سے\nعید بھی کر لیں محرم کر چکے\n\nدھیان ان آنکھوں کا جانے کا نہیں\nیہ ہرن پالے ہوئے رم کر چکے\n\nدل لگا کر دکھ اٹھائے بے شمار\nدم شماری بھی کوئی دم کر چکے\n\nاب کہاں مثل عناصر اتحاد\nچار دن وہ ربط باہم کر چکے\n\nاب تو زلفوں کو نہ رکھو فرد فرد\nدفتر عالم کو برہم کر چکے\n\nخاک اب ان آنسوؤں کو روکئے\nیہ ہمیں رسوائے عالم کر چکے\n\nدیدہ و دل کی بدولت عشق ہیں\nروئے برسوں مدتوں غم کر چکے\n\nوہ ہمیں ملتا نہیں کیا کیجیے\nاپنی سی تو جست و جو ہم کر چکے\n\nواعظو جو چاہو فرماؤ ہمیں\nبیعت پیر مغاں ہم کر چکے\n\nبحرؔ مستغنی ہیں فکر شعر سے\nگوہر معنی فراہم کر چکے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A8%DB%8C_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%DA%A9%DB%92_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%DA%A9%DB%92"} {"title": "سینہ ہے پرزے پرزے جائے رفو نہیں یاں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سینہ ہے پرزے پرزے جائے رفو نہیں یاں\nٹانکے لگاویں کس کو دل کی تو بو نہیں یاں\n\nساقی ہے سرو و گل ہے مطرب ہے اور ترانہ\nافسوس اک یہی ہے ایسے میں تو نہیں یاں\n\nہر چند تو ہمیشہ پیش نظر ہے اس پر\nچھٹ تیری جستجو کے کچھ جستجو نہیں یاں\n\nمجلس سے اپنی گل کو بھجوا دے پھر چمن میں\nکس واسطے کہ اس کا وہ رنگ و بو نہیں یاں\n\nحیران ہوں کہ کیجے کس سے سراغ عشرت\nماتم کدہ ہے عالم جز ہائے و ہو نہیں یاں\n\nجو آرزو دلوں میں مضمر ہے صاحبوں کے\nہے آرزو تو لیکن وہ آرزو نہیں یاں\n\nآئے تھے ہم چمن میں سن کر تری خبر کو\nپھر کیا کریں گے رہ کر ظالم جو تو نہیں یاں\n\nاہل سخن کا یارب کیوں محتسب ہے دشمن\nکلک و دوات ہے کچھ جام و سبو نہیں یاں\n\nقربانیان الفت سب سر کٹے پڑے ہیں\nشمشیر کے حوالے کس کا گلو نہیں یاں\n\nمجلس میں تیری ٹھہرے کیا مصحفیؔ کہ ناداں\nغیر از ابے تبے تو کچھ گفتگو نہیں یاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%B2%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%B2%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D9%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "سینہ ہے چاک جگر پارہ ہے دل سب خوں ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سینہ ہے چاک جگر پارہ ہے دل سب خوں ہے\nتس پہ یہ جان بہ لب آمدہ بھی محزوں ہے\n\nاس سے آنکھوں کو ملا جی میں رہے کیوں کر تاب\nچشم اعجاز مژہ سحر نگہ افسوں ہے\n\nآہ یہ رسم وفا ہووے بر افتاد کہیں\nاس ستم پر بھی مرا دل اسی کا ممنوں ہے\n\nکبھو اس دشت سے اٹھتا ہے جو ایک ابر تنک\nگرد نمناک پریشاں شدۂ مجنوں ہے\n\nکیونکے بے بادہ لب جو پہ چمن میں رہیے\nعکس گل آب میں تکلیف مئے گلگوں ہے\n\nپار بھی ہو نہ کلیجے کے تو پھر کیا بلبل\nمصرع نالہ جگر کاوی ہے گو موزوں ہے\n\nشہر کتنا جو کوئی ان میں سرشک افشاں ہو\nرو کش گریۂ غم حوصلۂ ہاموں ہے\n\nخون ہر یک رقم شوق سے ٹپکے تھا ولے\nوہ نہ سمجھا کہ مرے نامے کا کیا مضموں ہے\n\nمیرؔ کی بات پہ ہر وقت یہ جھنجھلایا نہ کر\nسڑی ہے خبطی ہے وہ شیفتہ ہے مجنوں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D8%A8_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "سینۂ پر سوز یکسو چشم گریاں یک طرف", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سینۂ پر سوز یکسو چشم گریاں یک طرف\nدل بچے کیا یک طرف آتش ہے طوفاں یک طرف\n\nدام سبزے کے سے بچنا طائر دل ہے محال\nسبزۂ خط یک طرف زلف پریشاں یک طرف\n\nمستعد ہیں اس بت طناز پر بہر نثار\nیک طرف صبر و دل و دیں جان و ایماں یک طرف\n\nکس پہ شب خوں مارنے کوں کی صف آرا فوج ناز\nیک طرف سیاہی مسی کی سرخی پاں یک طرف\n\nپھر بہار آئی جو باہم مستعد جنگ ہیں\nیک طرف دست جنوں جیب و گریباں یک طرف\n\nٹک سما کر اے جہاں دارؔ آج اس کوچے میں جا\nتیغ بر کف ہے وہ یکسو اور رقیباں یک طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%82_%D9%BE%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%DB%8C%DA%A9%D8%B3%D9%88_%DA%86%D8%B4%D9%85_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%8C%DA%A9_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں\nہم اپنے دل کو طور بنائے ہوئے تو ہیں\n\nتاثیر جذب شوق دکھائے ہوئے تو ہیں\nہم تیرا ہر حجاب اٹھائے ہوئے تو ہیں\n\nہاں کیا ہوا وہ حوصلۂ دید اہل دل\nدیکھو نا وہ نقاب اٹھائے ہوئے تو ہیں\n\nتیرے گناہ گار گناہ گار ہی سہی\nتیرے کرم کی آس لگائے ہوئے تو ہیں\n\nاللہ ری کامیابی آوارگان عشق\nخود گم ہوئے تو کیا اسے پائے ہوئے تو ہیں\n\nیوں تجھ کو اختیار ہے تاثیر دے نہ دے\nدست دعا ہم آج اٹھائے ہوئے تو ہیں\n\nذکر ان کا گر زباں پہ نہیں ہے تو کیا ہوا\nاب تک نفس نفس میں سمائے ہوئے تو ہیں\n\nمٹتے ہوؤں کو دیکھ کے کیوں رو نہ دیں مجازؔ\nآخر کسی کے ہم بھی مٹائے ہوئے تو ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سینے میں اگر ہو دل بیدار محبت", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سینے میں اگر ہو دل بیدار محبت\nہر سانس ہے پیغمبر اسرار محبت\n\nوہ بھی ہوئے جاتے ہیں طرفدار محبت\nاچھے نظر آتے نہیں آثار محبت\n\nہشیار ہو اے بے خود و سرشار محبت\nاظہار محبت! ارے اظہار محبت\n\nتا دیر نہ ہو دل بھی خبردار محبت\nاک یہ بھی ہے انداز فسوں کار محبت\n\nتوہین نگاہ کرم یار کہاں تک\nدم لینے دے اے لذت آزار محبت\n\nسب پھونک دیئے خار و خس مذہب و ملت\nاللہ رے یک شعلۂ رخسار محبت\n\nکونین سے کیا اہل محبت کو سروکار\nکونین ہے خود حاشیہ بردار محبت\n\nجو عرش کی رفعت کو بھی اس در پہ جھکا دے\nایسا بھی کوئی جذبۂ سرشار محبت\n\nمیں نے انہیں تاریک فضاؤں میں بھی اکثر\nدیکھے ہیں برستے ہوئے انوار محبت\n\nناصح کو ہے کیوں میری محبت سے سروکار\nچہرے سے تو کھلتے نہیں آثار محبت\n\nمیں اور یہ نمکین غم عشق ارے توبہ\nتو اور یہ احساس گراں بار محبت!\n\nاب عرض محبت کی جگرؔ کیوں نہیں جرأت\nوہ سامنے ہیں گرم ہے بازار محبت", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA"} {"title": "سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے\nاس عشق میں ہر فصل کی سوغات رہی ہے\n\nکس طرح خود اپنے کو یقیں آئے کہ اس سے\nہم خاک نشینوں کی ملاقات رہی ہے\n\nصوفی کا خدا اور تھا شاعر کا خدا اور\nتم ساتھ رہے ہو تو کرامات رہی ہے\n\nاتنا تو سمجھ روز کے بڑھتے ہوئے فتنے\nہم کچھ نہیں بولے تو تری بات رہی ہے\n\nہم میں تو یہ حیرانی و شوریدگئ عشق\nبچپن ہی سے منجملۂ عادات رہی ہے\n\nاس سے بھی تو کچھ ربط جھلکتا ہے کہ وہ آنکھ\nبس ہم پہ عنایات میں محتاط رہی ہے\n\nالزام کسے دیں کہ ترے پیار میں ہم پر\nجو کچھ بھی رہی حسب روایات رہی ہے\n\nکچھ میرؔ کے حالات سے حاصل کرو عبرت\nلے دے کے اب اک عزت سادات رہی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%AA_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "سینے پہ کتنے داغ لیے پھر رہا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:نیر سلطانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سینے پہ کتنے داغ لیے پھر رہا ہوں میں\nزخموں کا ایک باغ لیے پھر رہا ہوں میں\n\nڈر ہے کہ تیرگی میں قدم ڈگمگا نہ جائے\nاک شہر بے چراغ لیے پھر رہا ہوں میں\n\nساقی نہ پوچھ آج کے شیشہ گروں کا حال\nٹوٹا ہوا ایاغ لیے پھر رہا ہوں میں\n\nکیا جانے کس کے نام ہے یہ نامۂ کرم\nملتا نہیں سراغ لیے پھر رہا ہوں میں\n\nپوچھے نہ جس کو حال نہ مستقبل حسیں\nماضی کا وہ دماغ لیے پھر رہا ہوں میں\n\nنیرؔ ہو ایسے دور میں کیا روشنی کی بات\nبن تیل کا چراغ لیے پھر رہا ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%D8%AA%D9%86%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "سینے کا اب تک ہے زخم آلا میاں", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سینے کا اب تک ہے زخم آلا میاں\nہے انی مژگاں کی یا بھالا میاں\n\nکس زمانے کی یہ دشمن تھی مری\nاس محبت کا ہو منہ کالا میاں\n\nعشق میں تیرے لٹے سب در اشک\nایسی ور خرچی نے گھر گھالا میاں\n\nجو بساط اپنی میں تھا ہوش و خرد\nجھوکا جھولی میں ترے لالا میاں\n\nعشق کے زیور کو آنسو مت کہو\nموتیوں کی ہے یہ گل مالا میاں\n\nکھول پٹ گھونگھٹ کا دکھلایا جمال\nمیرے طالع کا کھلا تالا میاں\n\nسرو بالا کو ترے تو دیکھ کر\nہو گئی دنیا تہ و بالا میاں\n\nنیکی میری اور بدی اپنی کو جان\nسب بدی کو اپنی تو ڈھالا میاں\n\nٹالا، بالا اظفریؔ کو دے گئے\nکان کا اپنے دکھا بالا میاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%A2%D9%84%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "سیّدکی لوحِ تُربت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اے کہ تیرا مرغِ جاں تارِ نفَس میں ہے اسیر\nاے کہ تیری رُوح کا طائر قفَس میں ہے اسیر\nاس چمن کے نغمہ پیراؤں کی آزادی تو دیکھ\nشہر جو اُجڑا ہوا تھا اُس کی آبادی تو دیکھ\nفکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہی\nصبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے یہی\nسنگِ تربت ہے مرا گرویدۂ تقریر دیکھ\nچشمِ باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھ\n\nمدّعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیمِ دیں\nترکِ دنیا قوم کو اپنی نہ سِکھلانا کہیں\nوا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں\nچھُپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاں\nوصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے\nدیکھ! کوئی دل نہ دُکھ جائے تری تقریر سے\nمحفلِ نَو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ\nرنگ پر جو اَب نہ آئیں اُن فسانوں کو نہ چھیڑ\n\nتُو اگر کوئی مدبّر ہے تو سُن میری صدا\nہے دلیری دستِ اربابِ سیاست کا عصا\nعرضِ مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھے\nنیک ہے نیّت اگر تیری تو کیا پروا تجھے\nبندۂ مومن کا دل بیم و ریا سے پاک ہے\nقوّت فرماں روا کے سامنے بے باک ہے\n\nہو اگر ہاتھوں میں تیرے خامۂ معجز رقم\nشیشۂ دل ہو اگر تیرا مثالِ جامِ جم\nپاک رکھ اپنی زباں، تلمیذِ رحمانی ہے تُو\nہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو!\nسونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے\nخرمنِ باطل جلا دے شُعلۂ آواز سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D9%91%D8%AF%DA%A9%DB%8C_%D9%84%D9%88%D8%AD%D9%90_%D8%AA%D9%8F%D8%B1%D8%A8%D8%AA"} {"title": "سیہ کار تھے باصفا ہو گئے ہم", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "سیہ کار تھے باصفا ہو گئے ہم\nترے عشق میں کیا سے کیا ہو گئے ہم\n\nنہ جانا کہ شوق اور بھڑکے گا میرا\nوہ سمجھے کہ اس سے جدا ہو گئے ہم\n\nدم واپسیں آئے پرسش کو ناحق\nبس اب جاؤ تم سے خفا ہو گئے ہم\n\nہوئے محو کس کی تمنا میں ایسے\nکہ مستغنئ ماسوا ہو گئے ہم\n\nانہیں رنج اب کیوں ہوا ہم تو خوش ہیں\nکہ مر کر شہید وفا ہو گئے ہم\n\nجب ان سے ادب نے نہ کچھ منہ سے مانگا\nتو اک پیکر التجا ہو گئے ہم\n\nتری فکر کا مبتلا ہو گیا دل\nمگر قید غم سے رہا ہو گئے ہم\n\nفنا ہو کے راہ محبت میں حسرتؔ\nسزاوار خلد بقا ہو گئے ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B5%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لے\nجہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہے\nہوا نہ غلبہ میسر کبھی کسی پہ مجھے\nکہ جو شریک ہو میرا شریک غالبؔ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%DB%81_%DA%AF%D9%84%DB%8C%D9%85_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%84%DB%92"} {"title": "شادمانی کا کبھی غم کا کبھی جوش رہا", "poet_page": "مصنف:بیتاب عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شادمانی کا کبھی غم کا کبھی جوش رہا\nایک سودا رہا جب تک کہ مجھے ہوش رہا\n\nجز تری یاد کے سب دل سے فراموش رہا\nمرتے مرتے دیوانے کو یہ ہوش رہا\n\nرخ پر نور سے بس ان کا الٹنا تھا نقاب\nکون کمبخت تھا ایسا کہ جسے ہوش رہا\n\nیہ بھی احساں ہے جو اس نے نہ دیا کوئی جواب\nشوق امید کا حامی لب خاموش رہا\n\nبے دھڑک سامنے محشر کی وہ آنہ تیرا\nدیکھ لینا جو کسی ایک کو بھی ہوش رہا\n\nکس سے فریاد ستم کرتے ملا جب کہ نہ تو\nتو ملا جب تو ستم تیرا فراموش رہا\n\nراز سر بستۂ مے خانہ نہ کھلنے پایا\nآشنائے لب ساغر لب مے نوش رہا\n\nدرد رہ رہ کے مرے دل میں اٹھا کرتا ہے\nتیرا احساں کہ تجھے میں نہ فراموش رہا\n\nبار احساں ہے مرے سر پہ ترا او قاتل\nسر جدا ہونے پہ بھی میں نہ سبک دوش رہا\n\nدرد اٹھتے ہی تڑپنے لگانا محرم راز\nجو ادا سے تری واقف تھا وہ خاموش رہا\n\nکیا کہوں موت نے کس راز کی دی آ کے خبر\nبات ہی کچھ تھی وہ ایسی کہ میں خاموش رہا\n\nجان بیتابؔ کی آخر شب تنہائی نے لی\nتو کہاں شام سے او وعدہ فراموش رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "شادی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سرکنڈوں کے پیچھے", "year": "1955", "text_ur": "جمیل کو اپنا شیفر لائف ٹائم قلم مرمت کے لیے دینا تھا۔ اس نے ٹیلی فون ڈائریکٹری میں شیفر کمپنی کا نمبر تلاش کیا۔ فون کرنے سے معلوم ہوا کہ ان کے ایجنٹ میسرز ڈی، جے، سمتوئر ہیں جن کا دفتر گرین ہوٹل کے پاس واقع ہے۔\n\nجمیل نے ٹیکسی لی اور فورٹ کی طرف چل دیا۔ گرین ہوٹل پہنچ کر اسے میسرز ڈی، جے، سمتوئر کا دفتر تلاش کرنے میں دقت نہ ہوئی۔ بالکل پاس تھا مگر تیسری منزل پر۔لفٹ کے ذریعے جمیل وہاں پہنچا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی چوبی دیوار کی چھوٹی سی کھڑکی کے پیچھے اسے ایک خوش شکل اینگلو انڈین لڑکی نظر آئی، جس کی چھاتیاں غیر معمولی طور پر نمایاں تھیں۔ جمیل نے قلم اس کھڑکی کے اندر داخل کردیا اور منہ سے کچھ نہ بولا۔ لڑکی نے قلم اس کے ہاتھ سے لے لیا، کھول کر ایک نظر دیکھا اور ایک چٹ پر کچھ لکھ کر جمیل کے حوالے کردیا۔ منہ سے وہ بھی کچھ نہ بولی۔\n\nجمیل نے چٹ دیکھی۔ قلم کی رسید تھی۔ چلنے ہی والا تھا کہ پلٹ کر اس نے لڑکی سے پوچھا، ’’دس بارہ روز تک تیار ہو جائے گا، میرا خیال ہے۔‘‘ لڑکی بڑے زور سے ہنسی۔جمیل کچھ کھسیانا سا ہوگیا، ’’میں آپ کی اس ہنسی کا مطلب نہیں سمجھا۔‘‘ لڑکی نے کھڑکی کے ساتھ منہ لگا کر کہا، ’’مسٹر۔۔۔ آج کل وار ہے وار۔۔۔ یہ قلم امریکہ جائے گا۔۔۔ تم نو مہینے کے بعد پتا کرنا۔‘‘ جمیل بوکھلا گیا، ’’نو مہینے!‘‘ لڑکی نے اپنے بریدہ بالوں والا سر ہلایا۔۔۔ جمیل نے لفٹ کا رخ کیا۔\n\nیہ نو مہینے کا سلسلہ خوب تھا۔۔ نو مہینے۔۔۔ اتنی مدت کے بعد تو عورت گل گوتھنا بچہ پیداکرکے ایک طرف رکھ دیتی ہے۔۔۔ نو مہینے۔۔۔ نو مہینے تک اس چھوٹی سی چٹ کو سنبھالے رکھو۔۔۔ اوریہ بھی کون وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ نو مہینے تک آدمی یاد رکھ سکتا ہے کہ اس نے ایک قلم مرمت کے لیے دیا تھا۔۔۔ ہو سکتا ہے اس دوران میں وہ کم بخت مرکھپ ہی جائے۔\n\nجمیل نے سوچا، یہ سب ڈھکوسلا ہے۔۔۔ قلم میں معمولی سی خرابی تھی کہ اس کا فیڈر ضرورت سے زیادہ روشنائی سپلائی کرتا تھا۔ اس کے لیے اسے امریکہ کے ہسپتال میں بھیجنا صریحاً چال بازی تھی۔۔۔ مگر پھر اس نے سوچا، لعنت بھیجو اس قلم پر۔۔۔ امریکہ جائے یا افریقہ۔ اس میں شک نہیں کہ اس نے یہ بلیک مارکیٹ سے ایک سو پچھتر روپے میں خریدا تھا۔۔۔ مگر اس نے ایک برس اسے خوب استعمال بھی تو کیا تھا۔۔۔ ہزاروں صفحے کالے کر ڈالے تھے۔۔۔ چنانچہ وہ قنوطی سے ایک دم رجائی بن گیا۔ اور رجائی بنتے ہی اسے خیال آیا کہ وہ فورٹ میں ہے اور فورٹ میں شراب کی بے شمار دکانیں۔ وسکی تو ظاہر ہے نہیں ملے گی لیکن فرانس کی بہترین کونک برانڈی تو مل جائے گی، چنانچہ اس نے قریب والی شراب کی دکان کا رخ کیا۔\n\nبرانڈی کی ایک بوتل خرید کر وہ لوٹ رہا تھا کہ گرین ہوٹل کے پاس آکے رک گیا۔ہوٹل کے نیچے قد آدم شیشوں کا بنا ہوا قالینوں کا شو روم تھا۔ یہ جمیل کے دوست پیر صاحب کا تھا۔ اس نے سوچا چلو اندر چلیں۔ چنانچہ چند لمحات کے بعد ہی وہ شو روم میں تھا اور اپنے دوست پیر سے، جو عمر میں اس سے کافی بڑا تھا، ہنسی مذاق کی گفتگو کررہا تھا۔\n\nبرانڈی کی بوتل باریک کاغذ میں لپٹی دبیز ایرانی قالین پر لیٹی ہوئی تھی۔ پیر صاحب نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جمیل سے کہا، ’’یار اس دلہن کا گھونگٹ تو کھولو۔۔۔ ذرا اس سے چھیڑ خانی تو کرو۔‘‘ جمیل مطلب سمجھ گیا، ’’سو پیر صاحب گلاس اور سوڈے منگوائیے۔ پھر دیکھیے کیا رنگ جمتا ہے۔‘‘\n\nفوراً گلاس اور یخ بستہ سوڈے آگئے۔ پہلا دور ہوا۔ دوسرا دور شروع ہونے ہی والا تھا کہ پیر صاحب کے ایک گجراتی دوست اندر چلے آئے اور بڑی بے تکلفی سے قالین پر بیٹھ گئے۔ اتفاق سے ہوٹل کا چھوکرا دو کے بجائے تین گلاس اٹھالایا تھا۔ پیر صاحب کے گجراتی دوست نے بڑی صاف اردو میں چند ادھر ادھر کی باتیں کیں اور گلاس میں یہ بڑا پیگ ڈال کر اس کو سوڈے سے لبالب بھر دیا۔ تین چار لمبے لمبے گھونٹ لے کر انھوں نے رومال سے اپنا منہ صاف کیا، ’’سگریٹ نکالو یار!‘‘\n\nپیر صاحب میں ساتوں عیب شرعی تھے۔ مگر وہ سگریٹ نہیں پیتے تھے۔ جمیل نے جیب سے اپنا سگریٹ کیس نکالا اور قالین پر رکھ دیا۔ ساتھ ہی لائٹر۔۔۔ اس پر پیر صاحب نے جمیل سے اس گجراتی کا تعارف کرایا، ’’مسٹر نٹورلال۔۔۔ آپ موتیوں کی دلالی کرتے ہیں۔‘‘ جمیل نے ایک لحظے کے لیے سوچا، کوئلوں کی دلالی میں تو انسان کا منہ کالا ہوتا ہے۔۔۔ موتیوں کی دلالی میں۔۔۔پیر صاحب نے جمیل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’مسٹر جمیل۔ مشہور سونگ رائٹر۔۔۔‘‘ دونوں نے ہاتھ ملایااور برانڈی کا نیا دور شروع ہوا اور ایسا شروع ہوا کہ بوتل خالی ہوگئی۔\n\nجمیل نے دل میں سوچا یہ کم بخت موتیوں کا دلال بلا کا پینے والا ہے۔۔۔ میری پیاس اور سرور کی ساری برانڈی چڑھا گیا۔ خدا کرے اسے موتیا بند ہو۔ مگر جونہی آخری دور کے پیگ نے جمیل کے پیٹ میں اپنے قدم جمائے، اس نے نٹور لال کو معاف کردیا۔ اورآخر میں اس سے کہا، ’’مسٹر نٹور! اٹھیے، ایک بوتل اور ہو جائے۔‘‘ نٹور لال فوراً اٹھا۔ اپنے سفید دگلے کی شکنیں درست کیں۔ دھوتی کی لانگ ٹھیک کی اور کہا،’’چلیے!‘‘\n\nجمیل پیر صاحب سے مخاطب ہوا، ’’ہم ابھی حاضر ہوتے ہیں۔‘‘ جمیل اور نٹور نے باہر نکل کر ٹیکسی لی اور شراب کی دکان پرپہنچے۔ جمیل نے ٹیکسی روکی مگر نٹور نے کہا، ’’مسٹر جمیل۔۔۔ یہ دکان ٹھیک نہیں۔ ساری چیزیں مہنگی بیچتا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ٹیکسی ڈرائیور سے مخاطب ہوا، ’’دیکھو کولابہ چلو!‘‘ کولابہ پہنچ کر نٹور، جمیل کوشراب کی ایک چھوٹی سی دکان میں لے گیا۔ جو برانڈ جمیل نے فورٹ سے لیا، وہ تو نہ مل سکا، ایک دوسرا مل گیا جس کی نٹور نے بہت تعریف کی کہ نمبر ون ہے۔\n\nیہ نمبر ون چیز خرید کر دونوں باہر نکلے۔۔۔ ساتھ ہی بار تھی۔ نٹور رک گیا، ’’مسٹر جمیل! کیا خیال ہے آپ کا، ایک دو پیگ یہیں سے پی کر چلتے ہیں۔‘‘ جمیل کو کوئی اعتراض نہیں تھا، اس لیے کہ اس کا نشہ حالت نزع میں تھا۔ چنانچہ دونوں بار کے اندر داخل ہوئے۔ معاً جمیل کو خیال آیا کہ بار والے تو کبھی باہر کی شراب پینے کی اجازت نہیں دیا کرتے، ’’مسٹر نٹور آپ یہاں کیسے پی سکتے ہیں۔ یہ لوگ اجازت نہیں دیں گے۔‘‘ نٹور نے زور سے آنکھ ماری، ’’سب چلتا ہے۔‘‘\n\nاور یہ کہہ کر ایک کیبن کے اندر گھس گیا۔ جمیل بھی اس کے پیچھے ہولیا۔۔۔ نٹور نے بوتل سنگین تپائی پر رکھی اور بیرے کو آواز دی۔۔۔ جب وہ آیا تو اس کو بھی آنکھ ماری، ’’دیکھو! دو سوڈے روجرز۔۔۔ ٹھنڈے۔۔۔ اور دو گلاس۔ ایک دم صاف‘‘ بیرا یہ حکم سن کر چلا گیا اور فوراً سوڈے اور گلاس حاضر کردیے۔ اس پر نٹور نے اسے دوسرا حکم دیا۔ ’’فسٹ کلاس چپس اور ٹومیٹوسوس۔۔۔ اور فسٹ کلاس کٹلس۔‘‘\n\nبیرا چلا گیا۔ نٹور جمیل کی طرف دیکھ کر ایسے ہی مسکرایا۔ بوتل کا کارک نکالا اور جمیل کے گلاس میں اس سے پوچھے بغیر ایک ڈبل ڈال دیا۔ خود اس سے کچھ زیادہ۔ سوڈا حل ہوگیا تو دونوں نے اپنے گلاس ٹکرائے۔ جمیل پیا سا تھا۔ ایک جرعے میں اس نے آدھا گلاس ختم کردیا۔ سوڈا چونکہ بہت ٹھنڈا اور تیز تھا اس لیے پھوں پھوں کرنے لگا۔ دس پندرہ منٹ کے بعد چپس اور کٹلس آگئے۔۔۔ جمیل صبح گھر سے ناشتہ کرکے نکلا تھا لیکن برانڈی نے اسے بھوک لگادی۔ چپس گرم گرم تھے، کٹلس بھی۔ وہ پل پڑا۔۔۔ نٹور نے اس کا ساتھ دیا۔ چنانچہ دو منٹ میں دونوں پلیٹیں صاف!\n\nدو پلیٹیں اور منگوائی گئیں۔ جمیل نے اپنے لیے چپس بھی منگوائے۔ دو گھنٹے اسی طرح گزر گئے۔ بوتل کی تین چوتھائی غائب ہو چکی تھی۔ جمیل نے سوچا کہ اب پیر صاحب کے پاس جانا بے کار ہے۔نشے خوب جم رہے تھے، سرور خوب گھٹ رہے تھے۔ نٹور اور جمیل دونوں ہوا کے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ایسے سواروں کو عام طور پر ایسی وادیوں میں جانے کی بڑی خواہش ہوتی ہے، جہاں انھیں عریاں بدن حسین عورتیں ملیں۔ وہ ان کی کمر میں ہاتھ ڈال کر گھوڑے پر بٹھالیں اور یہ جا، وہ جا۔\n\nجمیل کا دل و دماغ اس وقت کسی ایسی وادی کے متعلق سوچ رہا تھا جہاں اس کی کسی ایسی خوبصورت عورت سے مڈبھیڑ ہو جائے جس کو وہ اپنے تپتے ہوئے سینے کے ساتھ بھینچ لے، اس زور سے کہ اس کی ہڈیاں تک چٹخ جائیں۔ جمیل کو اتنا تو معلوم تھا کہ وہ ایسی جگہپر ہے۔۔۔ مطلب ایسے علاقے میں ہے جو اپنے بروتھلز (قحبہ خانے) کی وجہ سے ساری بمبئی میں مشہور ہے، جنھیں عیاشی کرنا ہوتی ہے وہ ادھر کا رخ کرتے ہیں۔ شہر سے بھی جس لڑکی کو لُک چھپ کر پیشہ کرنا ہوتا ہے، یہیں آتی ہے۔ ان معلومات کی بنا پر اس نے نٹورسے کہا، ’’میں نے کہا۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ میرا مطلب ہے، ادھر کوئی چھوکری ووکری نہیں ملتی؟‘‘\n\nنٹور نے اپنے گلاس میں ایک بڑا پیگ انڈیلا اور ہنسا، ’’مسٹر جمیل! ایک نہیں ہزاروں۔۔۔ ہزاروں۔۔۔ ہزاروں۔۔۔!‘‘ یہ ہزاروں کی گردان جاری رہتی اگر جمیل نے اس کی بات کاٹی نہ ہوتی، ’’ان ہزاروں میں سے آج ایک ہی مل جائے تو ہم سمجھیں کہ نٹور بھائی نے کمال کردیا۔‘‘ نٹور بھائی مزے میں تھے۔ جھوم کرکہا،’’جمیل بھائی۔۔۔ ایک نہیں ہزاروں۔۔۔ چلو، اس کو ختم کرو۔‘‘\n\nدونوں نے بوتل میں جو کچھ بچا تھا، آدھ گھنٹے کے اندر اندر ختم کردیا۔ بل ادا کرنے اور بیرے کو تگڑی ٹِپ دینے کے بعد دونوں باہر نکلے۔ اندر اندھیرا تھا۔ باہر دھوپ چمک رہی تھی۔ جمیل کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ ایک لحظے کے لیے اسے کچھ نظر نہ آیا۔ آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں تیز روشنی کی عادی ہوئیں تو اس نے نٹور سے کہا، ’’چلو بھئی!‘‘\n\nنٹور نے تلاشی لینے والی نگاہوں سے جمیل کی طرف دیکھا، ’’مال پانی ہے نا؟‘‘ جمیل کے ہونٹوں پر نشیلی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ نٹور کی پسلیوں میں کہنی سے ٹھوکا دے کر اس نے کہا، ’’بہت۔نٹور بھائی، بہت۔‘‘ اور اس نے جیب سے پانچ نوٹ سو سو کے نکالے۔ ’’کیا اتنے کافی نہیں؟‘‘ نٹور کی باچھیں کھل گئیں، ’’کافی۔۔۔؟ بہت زیادہ ہیں۔۔۔ چلو آؤ، پہلے ایک بوتل خرید لیں، وہاں ضرورت پڑے گی۔‘‘جمیل نے سوچا بات بالکل ٹھیک ہے،وہاں ضرورت نہیں پڑے گی تو کیا کسی مسجد میں پڑے گی۔ چنانچہ فوراً ایک بوتل خرید لی گئی۔ ٹیکسی کھڑی تھی۔ دونوں اس میں بیٹھ گئے اور اس وادی کی سیاحی کرنے لگے۔\n\nسیکڑوں بروتھلز تھے۔ ان میں سے بیس پچیس کا جائزہ لیا گیا، مگر جمیل کو کوئی عورت پسند نہ آئی۔ سب میک اپ کی موٹی اور شوخ تہوں کے اندر چھپی ہوئی تھیں۔ جمیل چاہتا تھا کہ ایسی لڑکی ملے جو مرمت شدہ مکان معلوم نہ ہو۔ جس کو دیکھ کر یہ احساس نہ ہو کہ جگہ جگہ اکھڑے ہوئے پلستر کے ٹکڑوں پر بڑے اناڑی پن سے سرخی اور چونا لگایا گیا ہے۔ نٹور تنگ آگیا۔ اس کے سامنے جو بھی عورت آتی تھی، وہ جمیل کا کندھا پکڑ کر کہتا، ’’جمیل بھائی، چلے گی؟‘‘ مگر جمیل بھائی اٹھ کھڑا ہوتا، ’’ہاں چلے گی۔۔۔ اور ہم بھی چلیں گے۔‘‘\n\nدو جگہیں اور دیکھی گئیں مگر جمیل کو مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا۔ وہ سوچتا تھا کہ ان عورتوں کے پاس کون آتا ہے جو سؤر کے سوکھے ہوئے گوشت کے ٹکڑوں کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی ادائیں کتنی مکروہ ہیں۔ اٹھنے بیٹھنے کا انداز کتنا فحش ہے اور کہنے کو یہ پرائیویٹ ہیں یعنی ایسی عورتیں جو در پردہ پیشہ کراتی ہیں۔۔۔ جمیل کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ پردہ کہاں ہے جس کے پیچھے یہ دھندہ کراتی ہیں۔\nجمیل سوچ ہی رہا تھا کہ اب پروگرام کیا ہونا چاہیےکہ نٹور نے ٹیکسی رکوائی اور اتر کرچلا گیا کہ ایک دم اسے ایک ضروری کام یاد آگیا تھا۔اب جمیل اکیلا تھا۔ ٹیکسی تیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی۔ اس وقت ساڑھے چار بج چکے تھے۔ اس نے ڈرائیور سے پوچھا، ’’یہاں کوئی بھڑوا ملے گا؟‘‘ ڈرائیور نے جواب دیا،’’ملے گا جناب!‘‘\n\n’’تو چلو اس کے پاس۔‘‘ ڈرائیور نے دو تین موڑ گھومے اور ایک پہاڑی بنگلہ نما بلڈنگ کے پاس گاڑی کھڑی کردی۔ دو تین مرتبہ ہارن بجایا۔جمیل کا سر نشے کے باعث سخت بوجھل ہورہا تھا۔ آنکھوں کے سامنے دھند سی چھائی ہوئی تھی۔۔۔ اسے معلوم نہیں تھا کیسے اور کس طرح ، مگر جب اس نے ذرا دماغ کو جھٹکا تو اس نے دیکھا کہ وہ ایک پلنگ پر بیٹھا ہے اور اس کے پاس ہی ایک جوان لڑکی، جس کی ناک کی پھننگ پر چھوٹی سی پھنسی تھی، اپنے بریدہ بالوں میں کنگھی کررہی ہے۔\n\nجمیل نے اس کو غور سے دیکھا۔ سوچنے ہی والا تھا کہ وہ یہاں کیسے پہنچا مگر اس کے شعور نے اس کو مشورہ دیا کہ دیکھو یہ سب عبث ہے۔ جمیل نے سوچا، یہ ٹھیک ہے لیکن پھر بھی اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر اندر ہی اندر نوٹ گن کر اور پاس پڑی ہوئی تپائی پر برانڈی کی سالم بوتل دیکھ کر اپنی تشفی کرلی کہ سب خیریت ہے۔ اس کا نشہ کسی قدر نیچے اترگیا۔اٹھ کروہ اس گیسو بریدہ لڑکی کے پاس گیا اور کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ مسکرا کر اس سے کہا، ’’کہیے، مزاج کیسا ہے؟‘‘ اس لڑکی نے کنگھی میز پر رکھی اور کہا، ’’کہیے آپ کا کیسا ہے؟‘‘\n\n’’ٹھیک ہوں!‘‘ یہ کہہ کر اس نے لڑکی کی کمر میں ہاتھ ڈالا، ’’آپ کا نام؟‘‘\n\n’’بتا تو چکی ایک دفعہ۔۔۔ آپ کو میرا خیال ہے یہ بھی یاد نہ رہا ہوگا کہ آپ ٹیکسی میں یہاں آئے۔۔۔ جانے کہاں کہاں گھومتے رہے ہوں گے کہ بل اڑتیس روپے بنا جو آپ نے ادا کیا اور ایک شخص کا نام شاید نٹور تھا، آپ نے اس کو بے شمار گالیاں دیں۔‘‘\n\nجمیل اپنے اندر ڈوب کر سارے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنے ہی والا تھا کہ اس نے سوچا کہ فی الحال اس کی ضرورت نہیں، میں بھول جایا کرتا ہوں۔۔۔ یا یوں سمجھیے کہ مجھے بار بار پوچھنے میں مزا آتا ہے۔۔۔ وہ صرف اتنا یاد کرسکا کہ اس نے ٹیکسی والے کا بل جو کہ اڑتیس روپے بنتا تھا، ادا کیا تھا۔\n\nلڑکی پلنگ پر بیٹھ گئی، ’’میرا نام تارہ ہے۔‘‘ جمیل نے اس کو لٹا دیا اور اس سے مصنوعی پیار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کو پیاس محسوس ہوئی تو اس نے تارہ سے کہا، ’’دو یخ بستہ سوڈے اور گلاس!‘‘ تارہ نے یہ دونوں چیزیں فوراً حاضر کردیں۔ جمیل نے بوتل کھولی۔ اپنے لیے ایک پیگ ڈال کر اس نے دوسرا تارہ کے لیے ڈالا۔۔۔ پھر دونوں پینے لگے۔ تین پیگ پینے کے بعد جمیل نے محسوس کیا کہ اس کی حالت بہتر ہوگئی ہے۔ تارہ کو چومنے چاٹنے کے بعد اس نے سوچا کہ اب قصہ مختصر ہو جانا چاہیے، ’’کپڑے اتار دو!‘‘\n\n’’سارے؟‘‘\n\n’’ہاں سارے!‘‘\n\nتارہ نے کپڑے اتار دیے اور لیٹ گئی۔ جمیل نے اس کے ننگے جسم کو ایک نظر دیکھا اور یہ رائے قائم کی کہ اچھا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خیالات کا ایک تانتا بندھ گیا۔ جمیل کا نکاح ہو چکا تھا۔ اس نے اپنی بیوی کو دو تین مرتبہ دیکھا تھا۔اس کا بدن کیسا ہوگا۔۔۔ کیا وہ تارہ کی طرح اس کے ایک مرتبہ کہنے پر اپنے سارے کپڑے اتار کر اس کے ساتھ لیٹ جائے گی؟کیا وہ اس کے ساتھ برانڈی پیے گی؟کیا اس کے بال کٹے ہوئے ہیں؟\n\nپھرفوراً اس کا ضمیر جاگا جس نے اس کو لعنت ملامت شروع کردی۔ نکاح کا یہ مطلب تھا کہ اس کی شادی ہو چکی تھی۔ صرف ایک مرحلہ باقی تھا کہ وہ اپنی سسرال جائے اور لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر لے آئے۔۔۔ کیا اس کے لیے یہ واجب تھا کہ ایک بازاری عورت کو اپنی آغوش کی زینت بنائے۔۔۔ خم کے خم لنڈھاتا پھرے۔\n\nجمیل بہت خفیف ہوا اور اسی خفت میں اس کی آنکھیں مندنا شروع ہوگئیں اور وہ سو گیا۔ تارہ بھی تھوڑی دیر کے بعد خواب غفلت کے مزے لینے لگی۔جمیل نے کئی بے ربط، اوٹ پٹانگ خواب دیکھے۔۔۔ کوئی دو گھنٹے کے بعد جب کہ ایک بہت ہی ڈراؤنا خواب دیکھ رہا تھا، وہ ہڑبڑا کے اٹھا۔ جب اچھی طرح آنکھیں کھلیں تو اس نے دیکھا کہ وہ ایک اجنبی کمرے میں ہے اور اس کے ساتھ الف ننگی لڑکی لیٹی ہے۔ لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد واقعات آہستہ آہستہ اس کے دماغ کی دھند چیر کر نمودار ہونے لگے۔\n\nوہ خود بھی الف ننگا تھا۔ بوکھلاہٹ میں اس نے الٹا پاجامہ پہن لیا، مگر اس کو احساس نہ ہوا۔کرتا پہن کر اس نے جیبیں ٹٹولیں۔ نوٹ سب کے سب موجود تھے۔ اس نے سوڈا کھولا اور ایک پیگ بنا کر پیا۔ پھر اس نے تارہ کو ہولے سے جھنجھوڑا، ’’اٹھو!‘‘ تارہ آنکھیں ملتی اٹھی۔ جمیل نے اس سے کہا، ’’کپڑے پہن لو!‘‘\n\nتارہ نے کپڑے پہن لیے۔۔۔ باہر گہری شام رات بننے کی تیاریاں کررہی تھی۔ جمیل نے سوچا، اب کوچ کرنا چاہیے۔ لیکن وہ تارہ سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا، کیوں کہ بہت سی باتیں اس کے ذہن سے نکل گئیں تھیں، ’’کیوں تارہ جب ہم لیٹے۔۔۔ میرا مطلب ہے جب میں نے تم سے کپڑے اتارنے کو کہا تو اس کے بعد کیا ہوا؟‘‘ تارہ نے جواب دیا، ’’کچھ نہیں۔۔۔ آپ نے اپنے کپڑے اتارے اور میرے بازو پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے سو گئے۔‘‘\n\n’’بس؟‘‘\n\n’’ہاں۔۔۔ لیکن سونے سے پہلے آپ دو تین مرتبہ بڑبڑائے اور کہا، ’’میں گنہگار ہوں۔۔۔ میں گنہگار ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر تارہ اٹھی اور اپنے بال سنوارنے لگی۔جمیل بھی اٹھا۔ گناہ کا احساس دبانے کے لیے اس نے ڈبل پیگ اپنے حلق میں جلدی جلدی انڈیلا۔ بوتل کو کاغذ میں لپیٹا اور دروازے کی طرف بڑھا۔\n\nتارہ نے پوچھا، ’’چلے؟‘‘\n\n’’ہاں، پھر کبھی آؤں گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ لوہے کی پیچ دار سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔ بڑے بازار کی طرف اس کے قدم اٹھنے ہی والے تھے کہ ہارن بجا ،اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک ٹیکسی کھڑی تھی۔ اس نے کہا چلو، اچھا ہوا، یہیں مل گئی۔ پیدل چلنے کی زحمت سے بچ گئے۔اس نے ڈرائیور سے پوچھا، ’’کیوں بھائی خالی ہے؟‘‘ ڈرائیور نے جواب دیا، ’’خالی ہے کا کیا مطلب۔۔۔ لگی ہوئی ہے۔‘‘\n\n’’تو پھر۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر جمیل مڑا، لیکن ڈرائیور نے اس کو پکارا،’’کدھر جاتا ہے سیٹھ؟‘‘جمیل نے جواب دیا، ’’کوئی اور ٹیکسی دیکھتا ہوں۔‘‘ ڈرائیور باہر نکل آیا، ’’مستک تو نہیں پھرے لا۔۔۔ یہ ٹیکسی تمہیں نے تو لے رکھی ہے!‘‘ جمیل بوکھلا گیا، ’’میں نے؟‘‘ ڈرائیور نے بڑے گنوار لہجے میں اس سے کہا، ’’ہاں تو نے۔۔۔ سالا دارو پی کرسب کچھ بھول گیا۔‘‘ اس پر تو تو میں میں شروع ہوئی۔ ادھر ادھر سے لوگ اکٹھے ہوگئے۔ جمیل نے ٹیکسی کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گیا، ’’چلو!‘‘\n\nڈرائیور نے ٹیکسی چلائی، ’’کدھر؟‘‘ جمیل نے کہا، ’’پولیس اسٹیشن!‘‘ ڈرائیور نے اس پر جانے کیا واہی تباہی بکی۔۔۔ جمیل سوچ میں پڑ گیا۔ جو ٹیکسی اس نے لی تھی، اس کا بل جو اڑتیس روپے تھا، اس نے ادا کردیا تھا۔ اب یہ نئی ٹیکسی کہاں سے آن ٹپکی۔ گو وہ نشے کی حالت میں تھا مگر وہ یقینی طور پر کہہ سکتا تھا کہ یہ وہ ٹیکسی نہیں تھی، اور نہ یہ ڈرائیور وہ ڈرائیور جو اسے یہاں لایا تھا۔\n\nپولیس اسٹیشن پہنچے۔ جمیل کے قدم بہت بری طرح لڑکھڑا رہے تھے۔ سب انسپکٹر جو اس وقت ڈیوٹی پر تھا، فوراً بھانپ گیا کہ معاملہ کیا ہے۔ اس نے جمیل کو کرسی پر بیٹھنے کے لیے کہا۔ڈرائیور نے اپنی داستان شروع کردی جو سرتاپا غلط تھی۔ جمیل یقیناً اس کی تردید کرتا مگر اس میں زیادہ بولنے کی ہمت نہیں تھی۔ سب انسپکٹر سے مخاطب ہو کر اس نے کہا،’’جناب! میری سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ کیا قصہ ہے، جو ٹیکسی میں نے لی تھی، اس کا کرایہ میں نے اڑتیس روپے ادا کردیا تھا۔ اب معلوم نہیں کہ یہ کون ہے اور مجھ سے کیسا کرایہ مانگتا ہے؟‘‘\n\nڈرائیور نے کہا، ’’حضور انسپکٹر بہادر! یہ دارو پئے ہے۔‘‘ اور ثبوت کے طور پر اس نے جمیل کی برانڈی کی بوتل میز پر رکھ دی۔جمیل جھنجھلا گیا، ’’ارے بھئی! کون سؤر کہتا ہے کہ اس نے نہیں پی۔۔۔ سوال تو یہ ہے کہ آپ کہاں سے تشریف لے آئے۔ ‘‘سب انسپکٹر شریف آدمی تھا۔ کرایہ ڈرائیور کے حساب سے بیالیس روپے بنتا تھا۔ اس نے پندرہ روپے میں فیصلہ کردیا۔ ڈرائیور بہت چیخا چلایا مگر سب انسپکٹر نے اس کو ڈانٹ ڈپٹ کر تھانے سے نکلوا دیا۔ پھر اس نے ایک سپاہی سے کہا کہ وہ دوسری ٹیکسی لائے۔ ٹیکسی آئی تو اس نے ایک سپاہی جمیل کے ساتھ کردیا کہ وہ اسے گھر چھوڑ آئے۔ جمیل نے لکنت بھرے لہجے میں اس کا بہت بہت شکریہ ادا کیا اور پوچھا،’’جناب کیا یہ گرانٹ روڈ پولیس اسٹیشن ہے؟‘‘\n\nسب انسپکٹر نے زور کا قہقہہ لگایا اور پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، ’’مسٹر! اب ثابت ہوگیا کہ تم نے خوب پی رکھی ہے۔۔۔ یہ کولابہ پولیس اسٹیشن ہے۔۔۔ جاؤ، اب گھر جا کر سو جاؤ۔‘‘جمیل گھر جا کے کھانا کھائے اور کپڑے اتارے بغیر سو گیا۔۔۔ برانڈی کی بوتل بھی اس کے ساتھ سوتی رہی۔\n\nدوسرے روز وہ دس بجے کے قریب اٹھا۔ جوڑ جوڑ میں درد تھا۔ سر میں جیسے بڑے بڑے و زنی پتھر تھے۔ منہ کا ذائقہ خراب۔ اس نے اٹھ کر دو تین گلاس فروٹ سالٹ کے پیے، چار پانچ پیالے چائے کے۔ تب کہیں شام کو جا کر طبیعت کسی قدر بحال ہوئی اور اس نے خود کو گزشتہ واقعات کے متعلق سوچنے کے قابل محسوس کیا۔\nبہت لمبی زنجیر تھی۔ ان میں سے بعض کڑیاں تو سلامت تھیں مگر بعض غائب۔ واقعات کا تسلسل شروع سے لے کر گرین ہوٹل اور وہاں سے لے کر کولابہ تک بالکل صاف تھا۔ اس کے بعد جب نٹور کے ساتھ خاص وادی کی سیاحی شروح ہوئی تھی، معاملہ گڈمڈ ہو جاتا تھا۔ چند جھلکیاں دکھائی دیتی تھیں بڑی واضح، مگر فوراً مبہم پرچھائیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔وہ کیسے اس لڑکی کے گھر پہنچا۔۔۔ اس کا نام جمیل کے حافظے سے پھسل کر جانے کس کھڈ میں جا گرا تھا۔ اس کی شکل و صورت اسے البتہ بڑی اچھی طرح یاد تھی۔\n\nوہ اس کے گھر کیسے پہنچا تھا۔۔۔ یہ جاننا بہت اہم تھا۔ اگر جمیل کا حافظہ اس کی مدد کرتا تو بہت سی چیزیں صاف ہو جاتیں۔مگر بصد کوشش وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔اور یہ ٹیکسیوں کا کیا سلسلہ تھا۔ اس نے پہلی کوتوچھوڑ دیا تھا، مگر وہ دوسری کہاں سے ٹپک پڑی تھی؟سوچ سوچ کے جمیل کا دماغ پاش پاش ہوگیا۔ اس نے محسوس کیا کہ جتنے وزنی پتھر تھے، سب آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہوگئے ہیں۔رات کو اس نے برانڈی کے تین پیگ پئے، تھوڑا سا ہلکا کھانا کھایا اور گزشتہ واقعات کے متعلق سوچتاسوچتا سو گیا۔\n\nوہ ٹکڑے جو گم ہوگئے تھے، ان کو تلاش کرنا اب جمیل کا شغل ہوگیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ جو کچھ اس روز ہوا، من و عن اس کی آنکھوں کے سامنے آجائے اور یہ روز روز کی مغزپاشی دور ہو۔۔۔ اس کے علاوہ اس کو اس بات کا بھی بڑا قلق تھا کہ اس کا گناہ نامکمل رہ گیا۔ وہ سوچتا یہ ادھورا گناہ جائے گا کس کھاتے میں۔ وہ چاہتا تھا کہ بس ایک دفعہ اس کی بھی تکمیل ہو جائے۔مگر تلاش بسیار کے باوجود وہ پہاڑی بنگلوں جیسا مکان جمیل کی آنکھوں سے اوجھل رہا۔ جب وہ تھک ہار گیا تو اس نے ایک دن سوچا کہ یہ سب خواب ہی تو نہیں تھا!\n\nمگر خواب کیسے ہو سکتا تھا۔ خواب میں آدمی اتنے روپے تو خرچ نہیں کرتا۔۔۔ اس روز اس کے کم از کم ڈھائی سو روپے خرچ ہوئے تھے۔پیر صاحب سے اس نے نٹور کے متعلق پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ اس روز کے بعد دوسرے دن ہی سمندر پار کہیں چلا گیا ہے۔ غالباً موتیوں کے سلسلے میں۔ جمیل نے اس پر ہزار لعنتیں بھیجیں اورا پنی تلاش شروع کردی۔\n\nاس نے جب اپنے حافظے پر بہت زور دیا تو اسے بنگلے کی دیوار کے ساتھ پیتل کی ایک پلیٹ نظر آئی۔۔۔ اس پرکچھ لکھا تھا۔۔۔ غالباً۔۔۔ ڈاکٹر۔۔۔ ڈاکٹر بیرام جی۔۔۔ آگے جانے کیا۔۔۔ایک دن کولابہ کی گلیوں میں چلتے چلتے آخر وہ ایک ایسی گلی میں پہنچا جو اس کو جانی پہچانی معلوم ہوئی۔ دو رویہ اسی قسم کی بنگلہ نما عمارتیں تھیں۔ ہر عمارت کے باہر چھوٹے چھوٹے پیتل کے بورڈ لگے تھے۔ کسی پر چار کسی پر پانچ۔۔۔کسی پر تین۔وہ ادھر ادھر غور سے دیکھتا چلا جارہا تھا، مگر اس کے دماغ میں وہ خط گھوم رہا تھا جو صبح اس کی ساس کی طرف سے موصول ہوا تھا کہ اب انتظار کی حد ہوگئی ہے۔ میں نے تاریخ مقرر کردی ہے، آؤ اور اپنی دلہن کو لے جاؤ۔\n\nاور وہ ادھر ایک نامکمل گناہ کومکمل بنانے کی کوشش میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ جمیل نے کہا،’’ہٹاؤ جی اس وقت۔۔۔ پھرنے دو مارا مارا۔۔۔ ایک دم اس نے اپنے داہنے ہاتھ پیتل کا ایک چھوٹا سا بورڈ دیکھا۔۔۔ اس پر لکھا تھا۔۔۔ ڈاکٹر ایم بیرام جی۔۔۔ ایم ڈی۔جمیل کانپنے لگا۔ یہ وہی بلڈنگ۔۔۔ بالکل وہی۔۔۔ وہی رنگ، وہی بل کھاتی ہوئی آہنی سیڑھیاں۔ جمیل بے دھڑک اوپر چلا گیا۔ اس کے لیے اب ہر چیز جانی پہچانی تھی۔ کوریڈور سے نکل کر اس نے سامنے والے دروازے پر دستک دی۔\n\nایک لڑکے نے دروازہ کھولا۔۔۔ اسی لڑکے نے جو اس روز سوڈا اور برف لایا تھا۔ جمیل نے ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ پیدا کرتے ہوئے اس سے پوچھا، ’’بیٹا، بائی جی ہیں؟‘‘ لڑکے نے اثبات میں سر ہلایا ،’’جی ہاں!‘‘\n\n’’جاؤ، ان سے کہو، صاحب ملنے آئے ہیں۔ ‘‘جمیل کے لہجے میں بے تکلفی تھی۔ لڑکا دروازہ بھیڑ کر اندر چلا گیا۔تھوڑی دیر کے بعد دروازہ کھلا اور تارہ نمودار ہوئی۔ اس کو دیکھتے ہی جمیل نے پہچان لیا کہ وہی لڑکی ہے، مگر اب اس کی ناک پر پھنسی نہیں تھی، ’’نمستے!‘‘\n\n’’نمستے! کہیے مزاج کیسے ہیں؟‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنے کٹے ہوئے بالوں کو ایک خفیف سا جھٹکا دیا۔جمیل نے جواب دیا، ’’اچھے ہیں۔۔۔ میں پچھلے دنوں بہت مصروف رہا، اس لیے آ نہ سکا۔۔۔ کہو، پھر کیا ارادہ ہے؟‘‘ تارہ نے بڑی سنجیدگی سے کہا، ’’معاف کیجیے، میری شادی ہو چکی ہے۔‘‘ جمیل بوکھلا گیا، ’’شادی۔۔۔ کب؟‘‘ تارہ نے اسی سنجیدگی سے جواب دیا، ’’جی، آج صبح۔۔۔ آئیے میں آپ کو اپنے پتی سے ملاؤں۔‘‘\n\nجمیل چکرا گیا اور کچھ کہے سنے بغیر کھٹا کھٹ نیچے اتر گیا۔۔۔ سامنے ٹیکسی کھڑی تھی۔ جمیل کا دل ایک لحظے کے لیے ساکت سا ہوگیا۔ تیز قدم اٹھاتا، وہ بڑے بازار کی طرف نکل گیا۔معاً جمیل کو جاتے دیکھ کرڈرائیور نے زور سے کہا، ’’سیٹھ صاحب ٹیکسی!‘‘\n\nجمیل نے جھنجھلا کر کہا، ’’نہیں کم بخت، شادی!‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C"} {"title": "شادی و الم سب سے حاصل ہے سبکدوشی", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شادی و الم سب سے حاصل ہے سبکدوشی\nسو ہوش مرے صدقے تجھ پر مری بے ہوشی\n\nگم ہونے کو پا جانا کہتے ہیں محبت میں\nاور یاد کا رکھا ہے یاں نام فراموشی\n\nکل غیر کے دھوکے میں وہ عید ملے ہم سے\nکھولی بھی تو دشمن نے تقدیر ہم آغوشی\n\nوہ قلقل مینا میں چرچے مری توبہ کے\nاور شیشہ و ساغر کی مے خانے میں سرگوشی\n\nہم رنج بھی پانے پر ممنون ہی ہوتے ہیں\nہم سے تو نہیں ممکن احسان فراموشی\n\nہوش آتا ہے پھر مجھ کو پھر ہوش مجھے آیا\nدینا نگہ ساقی اک ساغر بے ہوشی\n\nکل عرصۂ محشر میں جب عیب کھلیں میرے\nرحمت تری پھیلا دے دامان خطا پوشی\n\nملتے ہی نظر تجھ سے مستانہ ہوا بیدمؔ\nساقی تری آنکھیں ہیں یا ساغر بے ہوشی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D9%88_%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A8%DA%A9%D8%AF%D9%88%D8%B4%DB%8C"} {"title": "شاردا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "ٹھنڈا گوشت", "year": "1950", "text_ur": "نذیر بلیک مارکیٹ سے وسکی کی بوتل لانے گیا۔ بڑک ڈاک خانے سے کچھ آگے بندر گاہ کے پھاٹک سے کچھ ادھر سگرٹ والے کی دکان سے اس کو اسکاچ مناسب داموں پر مل جاتی تھی۔ جب اس نے پینتیس روپے ادا کرکے کاغذ میں لپٹی ہوئی بوتل لی تو اس وقت گیارہ بجے تھے دن کے۔ یوں تو وہ رات کو پینے کا عادی تھا مگر اس روز موسم خوشگوار ہونے کے باعث وہ چاہتا تھا کہ صبح ہی سے شروع کردے اور رات تک پیتا رہے۔\n\nبوتل ہاتھ میں پکڑے وہ خوش خوش گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اس کا ارادہ تھا کہ بوری بندر کے اسٹینڈ سے ٹیکسی لے گا۔ ایک پیگ اس میں بیٹھ کر پیےگا اور ہلکے ہلکے سرور میں گھر پہنچ جائے گا۔ بیوی منع کرے گی تو وہ اس سے کہے گا، ’’موسم دیکھ کتنا اچھاہے۔‘‘ پھر وہ اسے وہ بھونڈا سا شعر سنائے گا،\n\nکی فرشتوں کی راہ ابر نے بند\nجو گناہ کیجیے ثواب ہے آج\n\nوہ کچھ دیر ضرور چخ کرے گی، لیکن بالآخر خاموش ہو جائے گی اور اس کے کہنے پر قیمے کے پراٹھے بنانا شروع کردے گی۔\n\nدکان سے بیس پچیس گز دور گیا ہو گا کہ ایک آدمی نے اس کو سلام کیا۔ نذیر کا حافظہ کمزور تھا۔ اس نے سلام کرنے والی آدمی کو نہ پہچانا، لیکن اس پر یہ ظاہر نہ کیا کہ وہ اس کو نہیں جانتا، چنانچہ بڑے اخلاق سے کہا، ’’کیوں بھئی کہاں ہوتے ہو۔ کبھی نظر ہی نہیں آئے۔‘‘\n\nاس آدمی نے مسکرا کر کہا، ’’حضور، میں تو یہیں ہوتا ہوں۔ آپ ہی کبھی تشریف نہیں لائے۔‘‘\n\nنذیر نے اس کو پھر بھی نہ پہچانا، ’’میں اب جو تشریف لے آیا ہوں۔‘‘\n\n’’تو چلیے میرے ساتھ۔‘‘\n\nنذیر اس وقت بڑے اچھے موڈ میں تھا، ’’چلو۔‘‘ اس آدمی نے نذیر کے ہاتھ میں بوتل دیکھی اور معنی خیز طریقے پر مسکرایا، ’’باقی سامان تو آپ کے پاس موجود ہے۔‘‘ یہ فقرہ سن کر نذیر نے فوراً ہی سوچا کہ وہ دلال ہے، ’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘\n\n’’کریم۔۔۔ آپ بھول گئے تھے!‘‘\n\nنذیر کو یاد آگیا کہ شادی سے پہلے ایک کریم اس کے لیے اچھی اچھی لڑکیاں لایا کرتا تھا۔ بڑا ایمان دار دلال تھا۔ اس کو غور سے دیکھا تو صورت جانی پہچانی معلوم ہوئی۔ پھر پچھلے تمام واقعات اس کے ذہن میں ابھر آئے۔ کریم سے اس نے معذرت چاہی، ’’یار میں نے تمہیں پہچانا نہیں تھا۔ میرا خیال ہے۔ غالباً چھ برس ہوگئے ہیں تم سے ملے ہوئے۔‘‘\n\n’’جی ہاں۔‘‘\n\n’’تمہار ا اڈہ تو پہلے گرانٹ روڈ کانا کا ہوا کرتا تھا؟‘‘\n\nکریم نے بیڑی سلگائی اور ذرا فخر سے کہا، ’’میں نے وہ چھوڑ دیا ہے۔ آپ کی دعا سے اب یہاں ایک ہوٹل میں دھندا شروع کررکھا ہے۔‘‘ نذیر نے اس کو داد دی،’’یہ بہت اچھا کیا تم نے؟ ‘‘کریم نے اور زیادہ فخریہ لہجے میں کہا،’’دس چھوکریاں ہیں۔۔۔ ایک بالکل نئی ہے۔‘‘ نذیر نے اس کو چھیڑنے کے انداز میں کہا، ’’تم لوگ یہی کہا کرتے ہو۔‘‘\n\nکریم کو برا لگا، ’’قسم قرآن کی، میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ سور کھاؤں اگر وہ چھوکری بالکل نئی نہ ہو۔‘‘ پھر اس نے اپنی آواز دھیمی کی اور نذیر کے کان کے ساتھ منہ لگا کر کہا، ’’آٹھ دن ہوئے ہیں جب پہلا پیسنجر آیا تھا۔ جھوٹ بولوں تو میرا منہ کالا ہو۔‘‘\n\nنذیر نے پوچھا، ’’کنواری تھی؟‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ دو سو روپے لیے تھے اس پیسنجر سے۔‘‘\n\nنذیر نے کریم کی پسلیوں میں ایک ٹھونکا دیا، ’’لو،یہیں بھاؤ پکا کرنے لگے۔‘‘\n\nکریم کو نذیر کی یہ بات پھر بری لگی، ’’قسم قرآن کی، سور ہوجو آپ سے بھاؤ کرے آپ تشریف لے چلیے۔ آپ جو بھی دیں گے مجھے قبول ہوگا۔ کریم نے آپ کا بہت نمک کھایا ہے۔‘‘ نذیر کی جیب میں اس وقت ساڑھے چار سو روپے تھے۔ موسم اچھا تھا۔ موڈ بھی اچھا تھا۔ وہ چھ برس پیچھے کے زمانے میں چلا گیا۔ بن پئے مسرور تھا، ’’چلو یار آج تمام عیاشیاں رہیں۔۔۔۔ ایک بوتل کا اور بندوبست ہو جانا چاہیے۔‘‘\n\nکریم نے پوچھا، ’’آپ کتنے میں لائے ہیں یہ بوتل؟‘‘\n\n’’پینتیس روپے میں۔‘‘\n\n’’کون سا برانڈ ہے؟‘‘\n\n’’جونی واکر!‘‘\n\nکریم نے چھاتی پر ہاتھ مار کرکہا، ’’میں آپ کو تیس میں لادوں گا۔‘‘\n\nنذیر نے دس دس کے تین نوٹ نکالے اور کریم کے ہاتھ میں دے دیے، ’’نیکی اور پوچھ پوچھ۔۔۔ یہ لو۔ مجھے وہاں بٹھا کر تم پہلا کام یہی کرنا۔ تم جانتے ہو، میں ایسے معاملوں میں اکیلا نہیں پیا کرتا۔‘‘ کریم مسکرایا، ’’اور آپ کو یاد ہوگا۔ میں ڈیڑھ پیگ سے زیادہ نہیں پیا کرتا۔‘‘ نذیر کو یاد آگیا کہ کریم واقعی آج سے چھ برس پہلے صرف ڈیڑھ پیگ لیا کرتا تھا۔یہ یاد کرکے نذیر بھی مسکرایا، ’’آج دور ہیں۔‘‘\n\n’’جی نہیں۔ ڈیڑھ سے زیادہ ایک قطرہ بھی نہیں۔‘‘\n\nکریم ایک تھرڈ کلاس بلڈنگ کے پاس ٹھہر گیا,جس کے ایک کونے میں چھوٹے سے میلے بورڈ پر ’’میرینا ہوٹل‘‘ لکھا تھا۔ نام تو خوبصورت تھا مگر عمارت نہایت ہی غلیظ تھی، سیڑھیاں شکستہ۔ نیچے سود خور پٹھان بڑی بڑی شلواریں پہنے کھاٹوں پر لیٹے ہوئے تھے۔ پہلی منزل پر کرسچین آباد تھے۔ دوسری منزل پر جہاز کے بے شمار خلاصی۔ تیسری منزل ہوٹل کے مالک کے پاس تھی۔ چوتھی منزل پر کونے کا ایک کمرہ کریم کے پاس تھا جس میں کئی لڑکیاں مرغیوں کی طرح اپنے ڈربے میں بیٹھی تھیں۔\n\nکریم نے ہوٹل کے مالک سے چابی منگوائی۔ ایک بڑا لیکن بے ہنگم سا کمرہ کھولا جس میں لوہے کی ایک چارپائی، ایک کرسی اور ایک تپائی پڑی تھی۔ تین اطراف سے یہ کمرہ کھلا تھا، یعنی بے شمار کھڑکیاں تھیں، جن کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے اور کچھ نہیں، لیکن ہوا کی بہت افراط تھی۔\n\nکریم نے آرام کرسی جو کہ بے حد میلی تھی، ایک اس سے زیادہ میلے کپڑے سے صاف کی اور نذیر سے کہا، ’’تشریف رکھئے، لیکن میں یہ عرض کردوں، اس کمرے کا کرایہ دس روپے ہوگا۔‘‘ نذیر نے کمرے کو اب ذرا غور سے دیکھا، ’’دس روپے زیادہ ہیں یار؟‘‘ کریم نے کہا، ’’بہت زیادہ ہیں، لیکن کیا کیا جائے۔ سالا ہوٹل کا مالک ہی بنیا ہے۔ ایک پیسہ کم نہیں کرتا۔اور نذیر صاحب موج شوق کرنے والے آدمی بھی زیادہ کی پروانہیں کرتے۔‘‘ نذیرنے کچھ سوچ کر کہا، ’’تم ٹھیک کہتے ہو۔۔۔ کرایہ پیشگی دے دوں؟‘‘\n\n’’جی نہیں۔۔۔ آپ پہلے چھوکری تو دیکھئے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنے ڈربے میں چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک نہایت ہی شرمیلی لڑکی تھی۔ گھریلو قسم کی ہندو لڑکی سفید دھوتی باندھے تھی۔ عمر چودہ برس کے لگ بھگ ہوگی۔ خوش شکل تو نہیں تھی، لیکن بھولی بھالی تھی۔کریم نے اس سے کہا، ’’بیٹھ جاؤ۔ یہ صاحب میرے دوست ہیں۔ بالکل اپنے آدمی ہیں۔‘‘ لڑکی نظریں نیچے کیے لوہے کی چارپائی پر بیٹھ گئی۔ کریم یہ کہہ کر چلا گیا، ’’اپنا اطمینان کرلیجئے نذیر صاحب۔۔۔ میں گلاس اور سوڈا لاتا ہوں۔‘‘ نذیر آرام کرسی پر سے اٹھ کر لڑکی کے پاس بیٹھ گیا۔ وہ سمٹ کر ایک طرف ہٹ گئی۔ نذیر نے اس سے چھ برس پہلے کے انداز میں پوچھا، ’’آپ کا نام؟‘‘ لڑکی نے کوئی جواب نہ دیا۔ نذیر نے آگے سرک کر اس کے ہاتھ پکڑے اور پھر پوچھا، ’’آپ کا نام کیا ہے جناب؟‘‘\n\nلڑکی نے ہاتھ چھڑا کر کہا، ’’شکنتلا۔‘‘ اور نذیر کو شکنتلا یاد آگئی، جس پر راجہ دشنیت عاشق ہوا تھا، ’’میرا نام دشنیت ہے۔‘‘ نذیر مکمل عیاشی پر تلا ہوا تھا۔ لڑکی نے اس کی بات سنی اور مسکرا دی۔ اتنے میں کریم آ گیا۔ اس نے نذیر کو سوڈے کی چار بوتلیں دکھائیں جو ٹھنڈی ہونے کے باعث پسینہ چھوڑ رہی تھیں، ’’مجھے یاد ہے کہ آپ کو روجر کا سوڈا پسند ہے، برف میں لگا ہوا لے کر آیا ہوں۔‘‘\n\nنذیر بہت خوش ہوا، ’’تم کمال کرتے ہو۔‘‘ پھر وہ لڑکی سے مخاطب ہوا، ’’جناب آپ بھی شوق فرمائیں گی؟‘‘ لڑکی نے کچھ نہ کہا۔ کریم نے جواب دیا، ’’نذیر صاحب۔ یہ نہیں پیتی۔ آٹھ دن تو ہوئے ہیں اس کو یہاں آئے ہوئے۔‘‘ یہ سن کر نذیر کو افسوس سا ہوا، ’’یہ تو بہت بری بات ہے۔‘‘ کریم نے وسکی کی بوتل کھول کر نذیر کے لیے ایک بڑا پیگ بنایا اور اس کو آنکھ مار کر کہا، ’’آپ راضی کرلیجئے اسے۔‘‘ نذیر نے ایک ہی جرعے میں گلاس ختم کیا۔ کریم نے آدھا پیگ پیا۔ فوراً ہی اس کی آواز نشہ آلود ہو گئی۔ ذرا جھوم کر اس نے نذیر سے پوچھا، ’’چھوکری پسند ہے نا آپ کو؟‘‘ نذیر نے سوچا کہ لڑکی اسے پسند ہے کہ نہیں۔ لیکن وہ کوئی فیصلہ نہ کرسکا۔\n\nاس نے شکنتلا کی طرف غور سے دیکھا۔ اگر اس کا نام شکنتلا نہ ہوتا توبہت ممکن ہے وہ اسے پسند کرلیتا۔ وہ شکنتلا جس پر راجہ دشنیت شکار کھیلتے کھیلتے عاشق ہوا تھا،بہت ہی خوبصورت تھی۔ کم از کم کتابوں میں یہی درج تھا کہ وہ چندے آفتاب چندے ماہتاب تھی۔ آہو چشم تھی۔ نذیر نے ایک بار پھر اپنی شکنتلا کی طرف دیکھا۔\n\nاس کی آنکھیں بری نہیں تھیں۔ آہو چشم تو نہیں تھی، لیکن اس کی آنکھیں اس کی اپنی آنکھیں تھیں۔ کالی کالی اور بڑی بڑی۔ اس نے اور کچھ سوچا اور کریم سے کہا، ’’ٹھیک ہے یار۔۔۔ بولو معاملہ کہاں طے ہوتا ہے؟‘‘ کریم نے آدھا پیگ اپنے لیے اور انڈیلا اور کہا، ’’سو روپئے!‘‘ نذیر نے سوچنا بند کردیا تھا، ’’ٹھیک ہے!‘‘\n\nکریم اپنا دوسرا آدھا پیگ پی کر چلا گیا۔ نذیر نے اٹھ کر دروازہ بند کردیا۔ شکنتلا کے پاس بیٹھا تو وہ گھبرا سی گئی۔ نذیر نے اس کا پیار لینا چاہا تو وہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ نذیر کو اس کی یہ حرکت ناگوار محسوس ہوئی لیکن اس نے پھر کوشش کی۔ بازو سے پکڑ کر اس کو اپنے پاس بٹھایا۔ زبردستی اس کو چوما۔ بہت ہی بے کیف سلسلہ تھا۔ البتہ وسکی کا نشہ اچھا تھا۔ وہ اب تک چھ پیگ پی چکا تھا اور اس کو افسوس تھا کہ اتنی مہنگی چیز بالکل بے کار گئی ہے ،اس لیے کہ شکنتلا بالکل الھڑ تھی۔ اس کو ایسے معاملوں کے آداب کی کوئی واقفیت ہی نہیں تھی۔ نذیر ایک اناڑی تیراک کے ساتھ ادھر ادھر بے کار ہاتھ پاؤں مارتا رہا۔ آخر اکتا گیا۔دروازہ کھول کر اس نے کریم کو آواز دی جو اپنے ڈربے میں مرغیوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ آواز سن کر دوڑا آیا، ’’کیا بات ہے نذیر صاحب؟‘‘\n\nنذیر نے بڑی ناامیدی سے کہا، ’’کچھ نہیں یار۔ یہ اپنے کام کی نہیں ہے؟‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’کچھ سمجھتی ہی نہیں۔‘‘\n\nکریم نے شکنتلاکو الگ لے جا کر بہت سمجھایا مگر وہ نہ سمجھ سکی۔ شرمائی، لجائی، دھوتی سنبھالتی کمرے سے باہر نکل گئی۔ کریم نے اس پر کہا،’’میں ابھی حاضر کرتا ہوں۔‘‘\n\nنذیر نے اس کو روکا، ’’جانے دو۔۔۔ کوئی اور لے آؤ۔ لیکن اس نے فوراً ہی ارادہ بدل لیا،’’وہ جو تمہیں روپے دیے تھے، اس کی بوتل لے آؤ اور شکنتلا کے سوا جتنی لڑکیاں اس وقت موجود ہیں انھیں یہاں بھیج دو۔۔۔ میرا مطلب ہے جو پیتی ہیں۔ آج اور کوئی سلسلہ نہیں ہوگا۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کروں گا اور بس!‘‘\n\nکریم نذیر کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔ اس نے چار لڑکیاں کمرے میں بھیج دیں۔ نذیر نے ان سب کو سرسری نظر سے دیکھا، کیونکہ وہ اپنے دل میں فیصلہ کر چکا تھا کہ پروگرام صرف پینے کا ہوگا۔ چنانچہ اس نے ان لڑکیوں کے لیے گلاس منگوائے اور ان کے ساتھ پینا شروع کردیا۔ دوپہر کا کھانا ہوٹل سے منگوا کر کھایا اور شام کے چھ بجے تک ان لڑکیوں سے باتیں کرتا رہا۔ بڑی فضول قسم کی باتیں، لیکن نذیر خوش تھا۔ جو کوفت شکنتلا نے پیدا کی تھی، دور ہوگئی تھی۔\n\nآدھی بوتل باقی تھی، وہ ساتھ لے کر گھر چلا گیا۔ پندرہ روز کے بعد پھر موسم کی وجہ سے اس کا جی چاہا کہ سارا دن پی جائے۔ سگرٹ والے کی دکان سے خریدنے کے بجائے اس نے سوچا کیوں نہ کریم سے ملوں، وہ تیس میں دے دےگا۔ چنانچہ وہ اس کے ہوٹل میں پہنچا۔ اتفاق سے کریم مل گیا۔ اس نے ملتے ہی بہت ہولے سے کہا، ’’نذیر صاحب، شکنتلا کی بڑی بہن آئی ہوئی ہے۔ آج صبح ہی گاڑی سے پہنچی ہے۔۔۔ بہت ہٹیلی ہے۔ مگر آپ اس کو ضرور راضی کرلیں گے۔‘‘\n\nنذیر کچھ سوچ نہ سکا۔ اس نے اپنے دل میں اتنا کہا، ’’چلو دیکھ لیتے ہیں۔‘‘ لیکن اس نے کریم سے کہا، ’’تم پہلے یار وسکی لے آؤ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے تیس روپے جیب سے نکال کر کریم کو دیے۔کریم نے نوٹ لےکر نذیر سے کہا، ’’میں لے آتا ہوں۔ آپ اندر کمرے میں بیٹھے۔‘‘ نذیر کے پاس صرف دس روپے تھے، لیکن وہ کمرے کا دروازہ کھلوا کر بیٹھ گیا۔ اس نے سوچا تھا کہ وسکی کی بوتل لے کر ایک نظر شکنتلا کی بہن کو دیکھ کر چل دے گا۔ جاتے وقت دو روپے کریم کو دے دے گا۔\n\nتین طرف سے کھلے ہوئے ہوادار کمرے میں نہایت ہی میلی کرسی پر بیٹھ کر اس نے سگریٹ سلگایا اور اپنی ٹانگیں رکھ دیں۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد آہٹ ہوئی۔ کریم داخل ہوا۔ اس نے نذیر کے کان کے ساتھ منہ لگا کر ہولے سے کہا، ’’نذیر صاحب آرہی ہے۔ لیکن آپ ہی رام کیجیے گا اسے۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ پانچ منٹ کے بعد ایک لڑکی جس کی شکل و صورت قریب قریب شکنتلا سے ملتی تھی۔ تیوری چڑھائے، شکنتلا کے سے انداز میں سفید دھوتی پہنے کمرے میں داخل ہوئی۔ بڑی بے پروائی سے اس نے ماتھے کے قریب ہاتھ لے جا کر ’’آداب‘‘ کہا اور لوہے کے پلنگ پر بیٹھ گئی۔ نذیر نے یوں محسوس کیا کہ وہ اس سے لڑنے آئی ہے۔ چھ برس پیچھے کے زمانے میں ڈبکی لگا کر وہ اس سے مخاطب ہوا، ’’آپ شکنتلا کی بہن ہیں؟‘‘\n\nاس نے بڑے تیکھے اور خفگی آمیز لہجے میں کہا، ’’جی ہاں۔‘‘ نذیر تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوگیا۔ اس کے بعد اس لڑکی کوجس کی عمر شکنتلا سے غالباً تین برس بڑی تھی۔ بڑے غور سے دیکھا۔ نذیر کی یہ حرکت اس کو بہت ناگوار محسوس ہوئی۔ وہ بڑے زور سے ٹانگ ہلا کر اس سے مخاطب ہوئی، ’’آپ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں؟‘‘\n\nنذیر کے ہونٹوں پر چھ برس پیچھے کی مسکراہٹ نمودار ہوئی، ’’جناب آپ اس قدر ناراض کیوں ہیں؟‘‘ وہ برس پڑی،’’میں ناراض کیوں نہ ہوں۔۔۔ یہ آپ کا کریم میری بہن کو جے پور سے اڑا لایا ہے۔ بتائیے آپ، میرا خون نہیں کھولے گا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کو بھی وہ پیش کی گئی تھی؟‘‘\n\nنذیر کی زندگی میں ایسا معاملہ کبھی نہیں آیا تھا۔ کچھ دیر سوچ کر اس نے اس لڑکی سے بڑے خلوص کے ساتھ کہا،’’شکنتلا کو دیکھتے ہی میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ یہ لڑکی میرے کام کی نہیں۔ بہت الھڑ ہے،مجھے ایسی لڑکیاں بالکل پسند نہیں۔ آپ شاید برا مانیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ میں ان عورتوں کو بہت زیادہ پسند کرتا ہوں جو مرد کی ضروریات کو سمجھتی ہوں۔‘‘\n\nاس نے کچھ نہ کہا۔ نذیر نے اس سے دریافت کیا، ’’آپ کا نام؟‘‘\n\nشکنتلا کی بہن نے مختصراً کہا، ’’شاردا۔‘‘\n\nنذیر نے پھر اس سے پوچھا، ’’آپ کا وطن؟‘‘\n\n’’جے پور۔ ‘‘اس کا لہجہ بہت تیکھا اور خفگی آلود تھا۔\n\nنذیر نے مسکرا کر اس سے کہا، ’’دیکھیے آپ کو مجھ سے ناراض ہونے کا کوئی حق نہیں۔۔۔ کریم نے اگر کوئی زیادتی کی ہے تو آپ اس کو سزا دے سکتی ہیں، لیکن میرا کوئی قصور نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھا اور اس کو اچانک اپنے بازوؤں میں سمیٹ کر اس کے ہونٹوں کو چوم لیا۔ وہ کچھ کہنے بھی نہ پائی تھی کہ نذیر اس سے مخاطب ہوا، ’’یہ قصور البتہ میرا ہے۔ اس کی سزا میں بھگتنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘\n\nلڑکی کے ماتھے پر بےشمار تبدیلیاں نمودار ہوئیں۔ اس نے تین چار مرتبہ زمین پر تھوکا۔ غالباً گالیاں دینے والی تھی، لیکن چپ ہوگئی۔ اٹھ کھڑی ہوئی تھی لیکن فوراً ہی بیٹھ گئی۔ نذیر نے چاہا کہ وہ کچھ کہے، ’’بتائیے، آپ مجھے کیا سزا دینا چاہتی ہیں۔‘‘ وہ کچھ کہنے والی تھی کہ ڈربے سے کسی بچے کے رونے کی آواز آئی۔ لڑکی اٹھی، نذیر نے اسے روکا،’’کہاں جارہی ہیں آپ؟‘‘ وہ ایک دم ماں بن گئی، ’’منی رو رہی ہے، دودھ کے لیے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلی گئی۔\n\nنذیر نے اس کے بارے میں سوچنے کی کوشش کی مگر کچھ سوچ نہ سکا۔ اتنے میں کریم وسکی کی بوتل اور سوڈے لےکر آگیا۔ اس نے نذیر کے لیے سوڈا ڈالا۔ اپنا گلاس ختم کیا اور نذیر سے رازدارانہ لہجے میں کہا،’’کچھ باتیں ہوئیں شاردا سے؟‘‘\n\n’’میں نے تو سمجھا تھا کہ آپ نے پٹالیا ہوگا؟‘‘\n\nنذیر نے مسکرا کر جواب دیا، ’’بڑی غصیلی عورت ہے!‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ صبح آئی ہے، میری جان کھا گئی۔ آپ ذرا اس کو رام کریں۔۔۔ شکنتلا خود یہاں آئی تھی۔ اس لیے کہ اس کا باپ اس کی ماں کو چھوڑ چکا ہے اور اس شاردا کا معاملہ بھی ایساہی ہے۔ اس کا پتی شادی کے فوراً بعد ہی اس کو چھوڑ کر خدا معلوم کہاں چلا گیا تھا۔۔۔ اب اکیلی اپنی بچی کے ساتھ ماں کے پاس رہتی ہے۔۔۔ آپ منا لیجئے نا اس کو؟‘‘\n\nنذیر نے اس سے کہا، ’’منانے کی کیا بات ہے؟‘‘\n\nکریم نے اس کو آنکھ ماری، ’’سالی مجھ سے تو مانتی نہیں۔ جب سے آئی ہے ڈانٹ رہی ہے۔‘‘\n\nاتنے میں شاردا اپنی ایک سال کی بچی کو گود میں اٹھائے اندر کمرے میں آئی۔ کریم کو اس نے غصے سے دیکھا۔ اس نے آدھا پیگ پیا اور باہر چلا گیا۔\n\nمنی کو بہت زکام تھا۔ ناک بہت بری طرح بہہ رہی تھی۔ نذیر نے کریم کو بلایا اور اس کو پانچ کا نوٹ دےکر کہا، ’’جاؤ، ایک وکس کی بوتل لے آؤ۔‘‘ کریم نے پوچھا، ’’وہ کیا ہوتی ہے؟‘‘ نذیر نے اس سے کہا، ’’زکام کی دوا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ایک پرزے پر اس دوا کا نام لکھ دیا، ’’کسی بھی اسٹور سے مل جائے گی۔‘‘\n\n’’جی اچھا۔‘‘ کہہ کر کریم چلا گیا۔ نذیر منی کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کو بچے بہت اچھے لگتے تھے۔ منی خوش شکل نہیں تھی لیکن کم سنی کے باعث نذیر کے لیے دلکش تھی۔ اس نے اس کو گود میں لیا۔ ماں سے سو نہیں رہی تھی۔ سر میں ہولے ہولے انگلیاں پھیر کر اس کو سلا دیا اور شاردا سے کہا، ’’اس کی ماں تو میں ہوں۔‘‘\n\nشاردا مسکرائی، ’’لائیے، میں اس کو اندرچھوڑ آؤں۔‘‘\n\nشاردا اس کو اندر لے گئی اور چند منٹ کے بعد واپس آگئی۔ اب اس کے چہرے پر غصے کے آثار نہیں تھے۔ نذیر اس کے پاس بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر وہ خاموش رہا۔ اس کے بعد اس نے شاردا سے پوچھا، ’’کیا آپ مجھے اپنا پتی بننے کی اجازت دے سکتی ہیں؟‘‘ اور اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر اس کو اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا۔شاردا نے غصے کا اظہار نہ کیا، ’’جواب دیجیے جناب۔‘‘\n\nشاردا خاموش رہی۔ نذیر نے اٹھ کر ایک پیگ پیا، تو شاردا نے ناک سکوڑ کر اس سے کہا، ’’مجھے اس چیز سے نفرت ہے۔‘‘ نذیر نے ایک پیگ گلاس میں ڈالا۔ اس میں سوڈا حل کرکے اٹھایا اور شاردا کے پاس بیٹھ گیا، ’’آپ کو اس سے نفرت ہے ۔۔۔کیوں؟‘‘ شاردا نے مختصر سا جواب دیا، ’’بس ہے۔‘‘\n\n’’تو آج سے نہیں رہے گی۔۔۔ یہ لیجیے۔‘‘یہ کہہ کر اس نے گلاس شاردا کی طرف بڑھا دیا۔\n\n’’میں ہرگز نہیں پیوں گی۔‘‘\n\n’’ میں کہتا ہوں، تم ہرگز انکار نہیں کرو گی۔‘‘\n\nشاردا نے گلاس پکڑ لیا۔ تھوڑی دیر تک اس کو عجیب نگاہوں سے دیکھتی رہی، پھر نذیر کی طرف مظلومانہ نگاہوں سے دیکھا۔ اور ناک انگلیوں سے بند کرکے سارا گلاس غٹا غٹ پی گئی۔ قے آنے کو تھی مگر اس نے روک لی۔ دھوتی کے پلو سے اپنے آنسو پونچھ کے اس نے نذیر سے کہا، ’’یہ پہلی اور آخری بار ہے۔‘‘\n\n’’لیکن میں نے کیوں پی؟‘‘ نذیر نے اس کے گیلے ہونٹ چومے اور کہا، ’’یہ مت پوچھو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے دروازہ بند کردیا۔شام کو سات بجے اس نے دروازہ کھولا۔ کریم آیا تو شاردا نظریں جھکائے باہر چلی گئی۔ کریم بہت خوش تھا۔ اس نے نذیر سے کہا، ’’آپ نے کمال کردیا۔۔۔ آپ سے سو تو نہیں مانگتا، پچاس دے دیجیے۔‘‘\n\nنذیر شاردا سے بے حد مطمئن تھا۔ اس قدر مطمئن کہ وہ گزشتہ تمام عورتوں کو بھول چکا تھا۔ وہ اس کے جنسی سوالات کا سو فی صدی صحیح جواب تھی۔ اس نے کریم سے کہا، ’’میں کل ادا کردوں گا۔۔۔ ہوٹل کا کرایہ بھی کل چکاؤں گا۔ آج میرے پاس وسکی منگانے کے بعد صرف دس روپے باقی تھے۔‘‘\n\nکریم نے کہا، ’’کوئی واندہ نہیں ہے۔۔۔ میں تو اس بات سے بہت خوش ہوں کہ آپ نے شاردا سے معاملے طے کرلیا۔۔۔ حضور، میری جان کھا گئی تھی۔ اب شکنتلا سے وہ کچھ نہیں کہہ سکتی۔‘‘کریم چلا گیا۔ شاردا آئی۔ اس کی گود میں منی تھی۔ نذیر نے اس کو پانچ روپے دیے لیکن شاردا نے انکار کردیا۔ اس پر نذیر نے اس سے مسکرا کر کہا، ’’میں اس کاباپ ہوں۔ تم یہ کیا کررہی ہو۔‘‘\n\nشاردا نے روپے لے لیے۔ بڑی خاموشی کے ساتھ۔ شروع شروع میں وہ بہت باتونی معلوم ہوتی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ باتوں کے دریا بہا دے گی۔ مگر اب وہ بات کرنے سے گریز کرتی تھی۔ نذیر نے اس کی بچی کو گود میں لےکر پیار کیا اور جاتے وقت شاردا سے کہا،’’لو بھئی شاردا، میں چلا۔ کل نہیں تو پرسوں ضرور آؤں گا۔‘‘\n\nلیکن نذیر دوسرے روز ہی آگیا۔ شاردا کے جسمانی خلوص نے اس پر جادو سا کردیا تھا۔ اس نے کریم کو پچھلے روپے ادا کیے۔ ایک بوتل منگوائی اور شاردا کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس کو پینے کے لیے کہا تو وہ بولی، ’’میں نے کہہ دیا تھا کہ وہ پہلا اور آخری گلاس تھا۔‘‘\n\nنذیر اکیلا پیتا رہا۔ صبح گیارہ بجے سے وہ شام کے سات بجے تک ہوٹل کے اس کمرے میں شاردا کے ساتھ رہا۔۔۔ جب گھر لوٹا تو وہ بے حد مطمئن تھا، پہلے روزسے بھی زیادہ مطمئن۔ شاردا اپنی واجبی شکل و صورت اور کم گوئی کے باوجود اس کے شہوانی حواس پر چھا گئی تھی۔ نذیر بار بار سوچتا تھا، ’’یہ کیسی عورت ہے۔۔۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسی خاموش، مگر جسمانی طور پر ایسی پُر گو عورت نہیں دیکھی۔‘‘\n\nنذیر نے ہر دوسرے دن شاردا کے پاس جانا شروع کردیا۔ اس کو روپے پیسے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ نذیر ساٹھ روپے کریم کو دیتا تھا۔ دس روپے ہوٹل والا لے جاتا تھا۔ باقی پچاس میں سے قریباً تیرہ روپے کریم اپنی کمیشن کے وضع کرلیتا تھا مگر شاردا نے اس کے متعلق نذیر سے کبھی ذکر نہیں کیا تھا۔\n\nدو مہینے گزر گئے۔ نذیر کے بجٹ نے جواب دے دیا۔ اس کے علاوہ اس نے بڑی شدت سے محسوس کیا کہ شاردا اس کی ازدواجی زندگی میں بہت بری طرح حائل ہورہی ہے۔ وہ بیوی کے ساتھ سوتا ہے تو اس کو ایک کمی محسوس ہوتی ہے۔ وہ چاہتا کہ اس کے بجائے شاردا ہو۔ یہ بہت بری بات تھی۔ نذیر کو چونکہ اس کا احساس تھا اس لیے اس نے کوشش کی کہ شاردا کا سلسلہ کسی نہ کسی طرح ختم ہو جائے۔ چنانچہ اس نے شاردا ہی سے کہا، ’’شاردا میں شادی شدہ آدمی ہوں۔ میری جتنی جمع پونجی تھی، ختم ہوگئی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا، میں کیا کروں۔ تمہیں چھوڑ بھی نہیں سکتا، حالانکہ میں چاہتا ہوں کہ ادھر کا کبھی رخ نہ کروں۔‘‘\n\nشاردا نے یہ سنا تو خاموش ہوگئی۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد کہا، ’’جتنے روپے میرے پاس ہیں آپ لے سکتے ہیں۔ صرف مجھے جے پور کا کرایہ دے دیجیے تاکہ میں شکنتلا کو لے کر واپس چلی جاؤں۔‘‘\n\nنذیر نے اس کا پیار لیا اور کہا، ’’بکواس نہ کرو۔۔۔۔۔۔ تم میرا مطلب نہیں سمجھیں۔ بات یہ ہے کہ میرا روپیہ بہت خرچ ہوگیا ہے۔ بلکہ یوں کہو کہ ختم ہوگیا ہے ۔میں یہ سوچتا ہوں کہ تمہارے پاس کیسے آسکوں گا۔‘‘\n\nشاردا نے کوئی جواب نہ دیا۔ نذیر ایک دوست سے قرض لے کر جب دوسرے روز ہوٹل میں پہنچا تو کریم نے بتایا کہ وہ جے پور جانے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ نذیر نے اس کو بلایا مگر وہ نہ آئی۔ کریم کے ہاتھ اس نے بہت سے نوٹ بھجوائے اور یہ کہا، ’’آپ یہ روپے لے لیجیے۔۔۔ اور مجھے اپنا ایڈریس دے دیجیے۔‘‘\n\nنذیر نے کریم کو اپنا ایڈریس لکھ کر دے دیا اور روپے واپس کردیے۔ شاردا آئی۔ گود میں منی تھی۔ اس نے آداب عرض کیا، اور کہا، ’’میں آج شام کو جے پور جارہی ہوں۔‘‘\n\nنذیر نے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘ شاردا نے یہ مختصر جواب دیا، ’’مجھے معلوم نہیں‘‘ اور یہ کہہ کروہ چلی گئی۔ نذیر نے کریم سے کہا اسے بلا کر لائے۔ مگر وہ نہ آئی۔ نذیر چلا گیا۔ اس کو یوں محسوس ہوا کہ اس کے بدن کی حرارت چلی گئی ہے۔ اس کے سوال کا جواب چلا گیا ہے۔وہ چلی گئی، واقعی چلی گئی۔ کریم کواس کا بہت افسوس تھا۔ اس نے نذیر سے شکایت کے طور پر کہا، ’’نذیر صاحب! آپ نے کیوں اس کو جانے دیا؟‘‘\n\nنذیر نے اس سے کہا، ’’بھائی، میں کوئی سیٹھ تو ہوں نہیں۔۔۔ ہر دوسرے روز پچاس ایک، دس ہوٹل کے، تیس بوتل، اور اوپر کا خرچ علیحدہ۔ میرا تو دیوالہ پٹ گیا۔۔۔ خدا کی قسم مقروض ہوگیا ہوں۔‘‘ یہ سن کر کریم خاموش ہوگیا۔ نذیر نے اس سے کہا، ’’بھئی میں مجبور تھا، کہاں تک یہ قصہ چلاتا۔‘‘ کریم نے کہا، ’’نذیر صاحب اس کو آپ سے محبت تھی۔‘‘\n\nنذیر کو معلوم نہیں تھا کہ محبت کیا ہوتی ہے۔ وہ فقط اتنا جانتا تھا کہ شاردا میں جسمانی خلوص ہے۔ وہ اس کے مردانہ سوالات کا بالکل صحیح جواب ہے۔ اس کے علاوہ وہ شاردا کے متعلق اور کچھ نہیں جانتا تھا، البتہ اس نے مختصر الفاظ میں اس سے یہ ضرور کہا تھا کہ اس کا خاوند عیاش تھا اور اس کو صرف اس لیے چھوڑ گیا تھا کہ دو برس تک اس کے ہاں اولاد نہیں ہوئی تھی۔ لیکن جب وہ اس سے علیحدہ ہوا تو نو مہینے کے بعد منی پیدا ہوئی جو بالکل اپنے باپ پرہے۔\n\nشکنتلا کو وہ اپنے ساتھ لے گئی۔ وہ اس کا بیاہ کرنا چاہتی تھی۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ شریفانہ زندگی بسر کرے۔ کریم نے نذیر کو بتایا کہ وہ اس سے بہت محبت کرتی ہے۔ کریم نے بہت کوشش کی تھی کہ شکنتلا سے پیشہ کرائے۔ کئی پیسنجر آئے تھے۔ ایک رات کے دو دو سو روپے دینے کے لیے تیار تھے۔ مگر شاردا نہیں مانتی تھی، کریم سے لڑنا شروع کردیتی تھی۔ کریم اس سے کہتا تھا، ’’تم کیا کررہی ہو؟‘‘ وہ جواب دیتی، ’’اگر تم بیچ میں نہ ہوتے تو میں ایسا کبھی نہ کرتی۔ نذیر صاحب کا ایک پیسہ خرچ نہ ہونے دیتی۔‘‘\n\nشاردا نے نذیر سے ایک بار اس کا فوٹو مانگا تھا۔ جو اس نے گھر سے لا کر اس کو دے دیا تھا۔ یہ وہ اپنے ساتھ جے پور لے گئی تھی۔ اس نے نذیر سے کبھی محبت کا اظہار نہیں کیا تھا۔۔۔ جب دونوں بستر پر لیٹے ہوتے تو وہ بالکل خاموش رہتی۔ نذیر اس کو بولنے پر اکساتا مگر وہ کچھ نہ کہتی۔ لیکن نذیر اس کے جسمانی خلوص کا قائل تھا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق تھا، وہ اخلاص کا مجسمہ تھی۔\n\nوہ چلی گئی، نذیر کے سینے کا بوجھ ہلکا ہوگیا۔ کیونکہ اس کی گھریلو زندگی میں بہت بری طرح حائل ہوگئی تھی۔ اگر وہ کچھ دیر اور رہتی تو بہت ممکن تھا کہ نذیر اپنی بیوی سے بالکل غافل ہو جاتا۔ کچھ دن گزرے تو وہ اپنی اصلی حالت پر آنے لگا۔ شاردا کا جسمانی لمس اس کے جسم سے آہستہ آہستہ دور ہونے لگا۔\n\nٹھیک پندرہ دن کے بعد جب کہ نذیر گھرمیں بیٹھادفتر کا کام کررہا تھا، اس کی بیوی نے صبح کی ڈاک لا کر اسے دی۔ سارے خط وہی کھولا کرتی تھی۔ایک خط اس نے کھولا اور دیکھ کر نذیر سے کہا، ’’معلوم نہیں گجراتی ہے یا ہندی۔‘‘ نذیر نے خط لےکر دیکھا۔ اس کو معلوم نہ ہو سکا کہ ہندی ہے یا گجراتی۔ الگ ٹرے میں رکھ دیا اور اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔ تھوڑی دیر کے بعد نذیر کی بیوی نے اپنی چھوٹی بہن نعیمہ کو آواز دی۔ وہ آئی تو وہ خط اٹھا کر اسے دیا، ’’ذرا پڑھو تو کیا لکھا ہے۔تم تو ہندی اور گجراتی پڑھ سکتی ہو۔‘‘\n\nنعیمہ نے خط دیکھا اور کہا، ’’ہندی ہے‘‘ اور یہ کہہ کر پڑھنا شروع کیا۔\n’’جے پور۔۔۔ پرئے نذیر صاحب۔‘‘ اتنا پڑھ کر وہ رک گئی۔ نذیر چونکا۔ نعیمہ نے ایک سطر اور پڑھی، ’’آداب۔ آپ تو مجھے بھول چکے ہوں گے۔ مگر جب سے میں یہاں آئی ہوں، آپ کو یاد کرتی رہتی ہوں۔‘‘ نعیمہ کا رنگ سرخ ہوگیا۔ اس نے کاغذ کا دوسرا رخ دیکھا، ’’کوئی شاردا ہے۔‘‘\n\nنذیر اٹھا۔ جلدی سے اس نے نعیمہ کے ہاتھ سے خط لیا اور اپنی بیوی سے کہا، ’’خدا معلوم کون ہے۔۔۔ میں باہر جارہا ہوں۔ اس کو پڑھا کر اردو میں لکھوا لاؤں گا۔‘‘ اس نے بیوی کو کچھ کہنے کا موقعہ ہی نہ دیا اور چلا گیا۔ ایک دوست کے پاس جا کر اس نے شاردا کے خط جیسے کاغذ منگوائے اور ہندی میں ویسی ہی روشنائی سے ایک خط لکھوایا۔ پہلے فقرے وہی رکھے۔ مضمون یہ تھا کہ بمبئی سنٹرل پر شاردا اس سے ملی تھی۔ اس کو اتنے بڑے مصور سے مل کر بہت خوشی ہوئی تھی وغیرہ وغیرہ۔\n\nشام کو گھر آیا۔ اس نے نیا خط بیوی کو دیا اور اردو کی نقل پڑھ کر سنا دی۔ بیوی نے شاردا کے متعلق اس سے دریافت کیا تو اس نے کہا، ’’عرصہ ہوا ہے میں ایک دوست کو چھوڑنے گیا تھا۔ شاردا کو یہ دوست جانتا تھا۔ وہاں پلیٹ فارم پر میرا تعارف ہوا۔ مصوری کا اسے بھی شوق تھا۔‘‘\n\nبات آئی گئی ہوگئی لیکن دوسرے روز شاردا کا ایک اور خط آگیا۔ اس کو بھی نذیر نے اسی طریقے سے گول کیا۔ اور فوراً شاردا کو تار دیا کہ وہ خط لکھنا بند کردے اور اس کے نئے پتے کا انتظار کرے۔ ڈاک خانے جا کر اس نے متعلقہ پوسٹ مین کو تاکید کردی کہ جے پور کا خط وہ اپنے پاس رکھے، صبح آکر وہ اس سے پوچھ لیا کرے گا۔ تین خط اس نے اس طرح وصول کیے ۔اس کے بعد شاردا اس کو اس کے دوست کے پتے سے خط بھیجنے لگی۔\n\nشاردا بہت کم گو تھی، لیکن خط بہت لمبے لکھتی تھی۔ اس نے نذیر کے سامنے کبھی اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا تھا، لیکن اس کے خط اس اظہار سے پر ہوتے تھے۔ گلے شکوے، ہجر وفراق، اس قسم کی عام باتیں جو عشقیہ خطوں میں ہوتی ہیں۔ نذیر کو شاردا سے وہ محبت نہیں تھی جس کا ذکر افسانوں اور ناولوں میں ہوتا ہے، اس لیے اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ جواب میں کیا لکھے، اس لیے یہ کام اس کا دوست ہی کرتا تھا۔ ہندی میں جواب لکھ کر وہ نذیر کو سنا دیتا تھا اور نذیر کہہ دیتا تھا، ’’ٹھیک ہے۔‘‘\n\nشاردا بمبئی آنے کے لیے بے قرار تھی۔ لیکن وہ کریم کے پاس نہیں ٹھہرنا چاہتی تھی۔ نذیر اس کی رہائش کا اور کہیں بندوبست نہیں کرسکتا تھا۔ کیوں کہ مکان ان دنوں ملتے ہی نہیں تھے۔ اس نے ہوٹل کا سوچا۔ مگر خیال آیا، ایسا نہ ہو کہ راز فاش ہو جائے، چنانچہ اس نے شاردا کو لکھوا دیا کہ وہ ابھی کچھ دیر انتظار کرے۔\n\nاتنے میں فرقہ وارانہ فساد شروع ہوگئے۔ بٹوارے سے پہلے عجیب افراتفری مچی تھی۔ اس کی بیوی نے کہا کہ وہ لاہور جانا چاہتی ہے، ’’میں کچھ دیر وہاں رہوں گی اگر حالات ٹھیک ہو گئے تو واپس آجاؤں گی، ورنہ آپ بھی وہیں چلے آئیے گا۔‘‘\n\nنذیر نے کچھ دیر اسے روکا۔ مگر جب اس کا بھائی لاہور جانے کے لیے تیار ہوا تو وہ اور اس کی بہن اس کے ساتھ چلی گئیں اور وہ اکیلا رہ گیا۔ اس نے شاردا کو سرسری طور پر لکھا کہ وہ اب اکیلا ہے۔ جواب میں اس کا تار آیا کہ وہ آرہی ہے۔ اس تار کے مضمون کے مطابق وہ جے پور سے چل پڑی تھی۔ نذیر بہت سٹپٹایا۔ مگر اس کا جسم بہت خوش تھا۔ وہ شاردا کے جسم کا خلوص چاہتا تھا۔ وہ دن پھر سے مانگتا تھا جب وہ شاردا کے ساتھ چمٹا ہوتا تھا۔ صبح گیارہ بجے سے لےکر شام کے سات بجے تک۔ اب روپے کے خرچ کا سوال ہی نہیں تھا۔ کریم بھی نہیں تھا۔ ہوٹل بھی نہیں تھا۔ اس نے سوچا، ’’میں اپنے نوکر کو راز دار بنا لوں گا۔ سب ٹھیک ہو جائےگا۔ دس پندرہ روپے اس کا منہ بند کردیں گے۔ میری بیوی واپس آئی تو وہ اس سے کچھ نہیں کہے گا۔‘‘\n\nدوسرے روز وہ اسٹیشن پہنچا۔ فرنٹیر میل آئی مگر شاردا، تلاش کے باوجود اسے نہ ملی۔ اس نے سوچا، شاید کسی وجہ سے رک گئی ہے۔ دوسرا تار بھیجے گی۔اس سے اگلے روز وہ حسب معمول صبح کی ٹرین سے اپنے دفتر روانہ ہوا۔ وہ مہالکشمی اترتا تھا۔ گاڑی وہاں رکی تو اس نے دیکھا کہ پلیٹ فارم پر شاردا کھڑی ہے۔ اس نے زور سے پکارا، ’’شاردا!‘‘\n\nشاردا نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، ’’نذیر صاحب!‘‘\n\n’’تم یہاں کہاں؟‘‘\n\nشاردا نے شکایتاً کہا، ’’آپ مجھے لینے نہ آئے تو میں یہاں آپ کے دفتر پہنچی۔ پتا چلا کہ آپ ابھی تک نہیں آئے۔ یہاں پلیٹ فارم پر اب آپ کا انتظار کررہی تھی۔‘‘ نذیر نے کچھ دیر سوچ کر اس سے کہا، ’’تم یہاں ٹھہرو۔ میں دفتر سے چھٹی لےکر ابھی آتا ہوں۔‘‘\n\nشاردا کو بنچ پر بٹھا کر جلدی جلدی دفتر گیا۔ ایک عرضی لکھ کر وہاں چپراسی کو دے آیا اور شاردا کو اپنے گھر لے گیا۔ راستے میں دونوں نے کوئی بات نہ کی، لیکن ان کے جسم آپس میں گفتگو کرتے رہے۔ ایک دوسرے کی طرف کھنچتے رہے۔\n\nگھر پہنچ کر نذیر نے شاردا سے کہا،’’تم نہا لو، میں ناشتے کا بندوبست کراتا ہوں۔ ‘‘شاردا نہانے لگی۔ نذیر نے نوکر سے کہا،’’ کہ اس کے ایک دوست کی بیوی آئی ہے۔ جلدی ناشتہ تیار کردے۔ اس سے یہ کہہ کر نذیر نے الماری سے بوتل نکالی۔ ایک پیگ جو دو کے برابر تھا گلاس میں انڈیلا اور پانی میں ملا کر پی گیا۔وہ اسی ہوٹل والے ڈھنگ سے شاردا سے اختلاط چاہتا تھا۔\n\nشاردا نہا دھو کر باہر نکلی اور ناشتہ کرنے لگی۔ اس نے ادھر ادھر کی بے شمار باتیں کیں۔ نذیر نے محسوس کیا جیسے وہ بدل گئی ہے۔ وہ پہلے بہت کم گو تھی۔ اکثر خاموش رہتی تھی، مگر اب وہ بات بات پر اپنی محبت کا اظہار کرتی تھی۔ نذیر نے سوچا، ’’یہ محبت کیا ہے۔۔۔ اگر یہ اس کا اظہار نہ کرے تو کتنا اچھا ہے ،مجھے اس کی خاموشی زیادہ پسند تھی۔ اس کے ذریعے سے مجھ تک بہت سی باتیں پہنچ جاتی تھیں،مگر اب اس کو جانے کیا ہوگیا ہے۔ باتیں کرتی ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے اپنے عشقیہ خط پڑھ کر سنا رہی ہے۔‘‘\n\nناشتہ ختم ہوا تو نذیر نے ایک پیگ تیار کیا اور شاردا کو پیش کیا لیکن اس نے انکار کردیا۔ نذیر نے اصرار کیا تو شاردا نے اس کو خوش کرنے کی خاطر، ناک بند کرکے وہ پیگ پی لیا۔ برا سا منہ بنایا۔ پانی لے کر کلی کی۔ نذیر کو افسوس سا ہوا کہ شاردا نے کیوں پی۔ اس کے اصرار پر بھی انکار کیا ہوتا تو زیادہ اچھا تھا۔ مگر اس نے اس کے بارے میں زیادہ غور نہ کیا۔ نوکر کو بہت دور ایک کام پر بھیجا۔ دروازہ بند کیا اور شاردا کے ساتھ بستر پر لیٹ گیا، ’’تم نے لکھا تھا کہ وہ دن پھر کب آئیں گے۔ لو آگئے ہیں پھر وہی دن، بلکہ راتیں بھی۔ ان دنوں راتیں نہیں ہوتی تھیں صرف دن ہوتے تھے۔ ہوٹل کے میلے کچیلے دن ،یہاں ہر چیز اجلی ہے، ہر چیز صاف ہے،ہوٹل کا کرایہ بھی نہیں، کریم بھی نہیں۔ یہاں ہم اپنے مالک آپ ہیں۔\n\nشاردا نے اپنے فراق کی باتیں شروع کردیں۔ یہ زمانہ اس نے کیسے کاٹا۔ وہی کتابوں اور افسانوں والی فضول باتیں، گلے، شکوے، آہیں ، راتیں تارے گن گن کر کاٹنا۔ نذیر نے ایک اور پیگ پیا اور سوچا، ’’کون تارے گنتا ہے۔گن کیسے سکتا ہے اتنے سارے تاروں کو۔۔۔ بالکل فضول ہے، بے ہودہ بکواس ہے۔‘‘\n\nیہ سوچتے ہوئے اس نے شاردا کو اپنے ساتھ لگا گیا۔ بستر صاف تھا، شاردا صاف تھی، وہ خود صاف تھا، کمرے کی فضا بھی صاف تھی،لیکن کیا وجہ تھی، نذیر کے دل و دماغ پر وہ کیفیت طاری نہیں ہوتی تھی جو اس غلیظ ہوٹل میں لوہے کی چارپائی پر شاردا کی قربت میں ہوتی تھی۔\n\nنذیر نے سوچا۔ شاید اس نے کم پی ہے۔ اٹھ کر اس نے ایک پیگ بنایا اور ایک ہی جرعےمیں ختم کرکے شاردا کے ساتھ لیٹ گیا۔شاردا نے پھر وہی لاکھ مرتبہ کہی ہوئی باتیں شروع کردیں۔ وہی ہجر وفراق کی باتیں، وہی گلے شکوے۔ نذیر اکتا گیا اور اس اکتاہٹ نے اس کے جسم کو کند کردیا۔ اس کو محسوس ہونے لگا کہ شاردا کی سان گھس کر بیکار ہوگئی ہے۔ اس کے جسم کے جذبات اب وہ تیز نہیں کرسکتی لیکن وہ پھر بھی اس کے ساتھ دیر تک لیٹا رہا۔\n\nفارغ ہوا تو اس کا جی چاہا کہ ٹیکسی پکڑے اور اپنے گھر چلا جائے، اپنی بیوی کے پاس، مگر جب اس نے سوچا کہ وہ تو اپنے گھر میں ہے، اور اس کی بیوی لاہور میں تو دل ہی دل میں بہت جھنجھلایا۔ اس کو یہ خواہش ہوئی کہ اس کا گھر ہوٹل بن جائے ۔وہ دس روپے کرائے کے دے۔ کریم کو پچاس روپے ادا کرے اور چلا جائے۔\n\nشاردا کے جسم کا خلوص بدستور برقرار تھا، مگر وہ فضا نہیں تھی، وہ سودے بازی نہیں تھی۔ یہ سب چیزیں مل ملا کر جو ایک ماحول بناتی تھیں ،وہ نہیں تھا۔ نذیر اپنے گھر میں تھا، اس بستر پر تھا جس پر اس کی سادہ لوح بیوی اس کے ساتھ سوتی تھی۔ یہ احساس اس کے تحت الشعور میں تھا، اسی لیے وہ سمجھ نہ سکتا تھا کہ معاملہ کیا ہے۔ کبھی وہ یہ سوچتا تھا کہ وسکی خراب ہے، کبھی یہ سوچتا تھاکہ شاردا نے التفات نہیں برتا،اور کبھی یہ خیال کرتا تھا کہ وہ خاموش رہتی تو سب ٹھیک ہوتا۔ پھر وہ یہ سوچتا، اتنی دیر کے بعد ملی ہے۔ دل کی بھڑاس تو نکالنا تھی بے چاری کو۔ ایک دو دن میں ٹھیک ہو جائے گی، وہی پرانی شاردا بن جائے گی۔\n\nپندرہ دن گزر گئے، مگر نذیرکو شاردا وہ پرانی ہوٹل والی شاردا محسوس نہ ہوئی۔ اس کی بچی جے پور میں تھی۔ ہوٹل میں وہ اس کے ساتھ ہوتی تھی۔ نذیر اس کے زکام کے لیے، اس کی پھنسیوں کے لیے، اس کے گلے کے لیے دوائیں منگوایا کرتا تھا۔ اب یہ چیز نہیں تھی۔ وہ بالکل اکیلی تھی۔ نذیر اس کو اور اس کی منی کو بالکل ایک سمجھتا تھا۔\n\nایک بار شاردا کی دودھ سے بھری ہوئی چھاتیوں پر دباؤ ڈ النے کے باعث نذیر کے بالوں بھرے سینے پر دودھ کے کئی قطرے چمٹ گئے تھے اور اس نے ایک عجیب قسم کی لذت محسوس کی تھی۔ اس نے سوچا تھا، ماں بننا کتنا اچھا ہے۔۔۔ اور یہ دودھ۔ مردوں میں یہ کتنی بڑی کمی ہے کہ وہ کھا پی کر سب ہضم کر جاتے ہیں، عورتیں کھاتی ہیں اور کھلاتی بھی ہیں۔۔۔ کسی کو پالنا۔۔۔ اپنے بچے ہی کو سہی کتنی شاندار چیز ہے۔\n\nاب منی، شاردا کے ساتھ نہیں تھی۔ وہ نامکمل تھی۔ اس کی چھاتیاں بھی نا مکمل تھیں، اب ان میں دودھ نہیں تھا۔ وہ سفید سفید آبِ حیات۔ نذیر اب اس کو اپنے سینے کے ساتھ بھینچتا تھا تو وہ اس کومنع نہیں کرتی تھی۔ شاردا، اب وہ شاردا نہیں تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاردا وہی شاردا تھی،بلکہ اس سے کچھ زیادہ تھی۔ یعنی اتنی دیر جدا رہنے کے بعد اس کا جسمانی خلوص تیز ہوگیا تھا۔ وہ روحانی طور پر بھی نذیر کو چاہتی تھی لیکن نذیر کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاردا میں اب وہ پہلی سی کشش یا جو کچھ بھی تھا نہیں رہا۔\n\nپندرہ دن لگا تار اس کے ساتھ گزارنے پر وہ اسی نتیجے پر پہنچا تھا۔ پندرہ دن دفتر سے غیر حاضری بہت کافی تھی۔اس نے اب دفتر جانا شروع کردیا۔ صبح اٹھ کر دفتر جاتا اور شام کو لوٹتا۔ شاردا نے بالکل بیویوں کی طرح اس کی خدمت شروع کردی۔ بازار سے اون خرید کر اس کے لیے ایک سویٹر بن دیا۔ شام کو دفتر سے آتا تو اس کے لیے سوڈے منگوا کر رکھے ہوتے۔ برف، تھرموس میں ڈالی ہوتی۔ صبح اٹھ کر اس کا شیو کا سامان میز پررکھتی، پانی گرم کرا کے اس کو دیتی، وہ شیو کر چکتا تو سارا سامان صاف کردیتی، گھرکی صفائی کراتی، خود جھاڑو دیتی،نذیر اور بھی زیادہ اکتا گیا۔\n\nرات کو وہ اکٹھے سوتے تھے مگر اب اس نے یہ بہانہ کیا کہ وہ کچھ سوچ رہا ہے، اس لیے اکیلا سونا چاہتا ہے۔ شاردا دوسرے پلنگ پر سونے لگی۔ مگر یہ نذیر کے لیے ایک اور الجھن ہوگئی۔ وہ گہری نیند سوئی ہوتی اور وہ جاگتا رہتا اور سوچتا کہ آخر یہ سب کچھ ہے کیا۔ یہ شاردا یہاں کیوں ہے؟ کریم کے ہوٹل میں اس نے اس کے ساتھ چند دن بڑے اچھے گزارے تھے، مگر یہ اس کے ساتھ کیوں چمٹ گئی ہے۔ آخر اس کا انجام کیا ہوگا۔۔۔ محبت وغیرہ سب بکواس ہے۔ جو ایک چھوٹی سی بات تھی وہ اب نہیں رہی۔ اس کو واپس جے پور جانا چاہیے۔\n\nکچھ دنوں کے بعد اس نے یہ محسوس کرنا شروع کردیا کہ وہ گناہ کررہا ہے۔ وہ کریم کے ہوٹل میں بھی کرتا تھا۔ اس نے شادی سے پہلے بھی ایسے بے شمار کیے تھے، مگر ان کا اس کو احساس ہی نہیں تھا لیکن اب اس نے بڑی شدت سے محسوس کرنا شروع کیا تھا کہ وہ اپنی بیوی سے بے وفائی کررہا ہے ،اپنی سادہ لوح بیوی سے جس کو اس نے کئی بار شاردا کے خطوں کے سلسلے میں چکمہ دیا تھا۔ شاردا اب اور بھی زیادہ بے کشش ہوگئی۔ وہ اس سے روکھا برتاؤ کرنے لگا، مگر اس کے التفات میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ اتنا جانتی تھی کہ آرٹسٹ لوگ موجی ہوتے ہیں، اسی لیے وہ اس سے ا س کی بے التفاتی کا گلہ نہیں کرتی تھی۔\n\nپورا ایک مہینہ ہوگیا۔ جب نذیر نے دن گنے تو اس کو بہت الجھن ہوئی، ’’یہ عورت کیا پورا ایک مہینہ یہاں رہی ہے۔۔۔ میں کس قدر ذلیل آدمی ہوں۔۔۔ اور ادھر ہر روز میں اپنی بیوی کو خط لکھتا ہوں، جیسے بڑا وفادار شوہر ہوں۔۔۔ جیسے مجھے اس کا بہت خیال ہے۔ جیسے اس کے بغیر میری زندگی اجیرن ہے۔ میں کتنا بڑا فراڈ ہوں۔ ادھر اپنی بیوی سے غداری کررہا ہوں، ادھر شاردا سے۔ میں کیوں اس سے صاف صاف نہیں کہہ دیتا کہ بھئی اب مجھے تم سے لگاؤ نہیں رہا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مجھے لگاؤ نہیں رہا،یا شاردا میں وہ پہلی سی بات نہیں رہی؟‘‘\n\nوہ اس کے متعلق سوچتا مگر اسے کوئی جواب نہ ملتا۔ اس کے ذہن میں عجیب افراتفری پھیلی تھی۔ وہ اب اخلاقیات کے متعلق سوچتا تھا۔ بیوی سے جو وہ غداری کررہا تھا، اس کا احساس ہر وقت اس پر غالب رہتا تھا۔ کچھ دن اور گزرے تو یہ احساس اور بھی زیادہ شدید ہوگیا۔ اور نذیر کو خود سے نفرت ہونے لگی، ’’میں بہت ذلیل ہوں۔ یہ عورت میری دوسری بیوی کیوں بن گئی ہے۔ مجھے اس کی کب ضرورت تھی۔ یہ کیوں میرے ساتھ چپک گئی ہے۔ میں نے کیوں اس کو یہاں آنے کی اجازت دی، جب اس نے تار بھیجا تھا۔ لیکن وہ تار ایسے وقت پر ملا تھا کہ میں اس کو روک ہی نہیں سکتا تھا۔‘‘\n\nپھروہ سوچتا کہ شاردا جو کچھ کرتی ہے، بناوٹ ہے۔ وہ اس کو اس بناوٹ سے اپنی بیوی سے جدا کرنا چاہتی ہے۔ اس سے اس کی نظروں میں شاردا اور بھی گر گئی۔ اس سے نذیر کا سلوک اور زیادہ روکھا ہوگیا۔ اس روکھے پن کو دیکھ کر شاردا بہت زیادہ ملائم ہوگئی۔ اس نے نذیر کے آرام و آسائش کا زیادہ خیال رکھنا شروع کردیا۔ لیکن نذیر کو اس کے اس رویے سے بہت الجھن ہوئی۔ وہ اس سے بے حد نفرت کرنے لگا۔\n\nایک دن اس کی جیب خالی تھی۔ بینک سے روپے نکلوانے اس کو یاد نہیں رہے تھے۔ دفتر بہت دیر سے گیا، اس لیے کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ جاتے وقت شاردا نے اس سے کچھ کہا تو وہ اس پر برس پڑا، ’’بکواس نہ کرو۔ میں ٹھیک ہوں۔ بینک سے روپے نکلوانے بھول گیا ہوں اور سگریٹ میرے سارے ختم ہیں۔‘‘\n\nدفتر کے پاس کی دکان سے اس کو گولڈ فلیک کا ڈبہ ملا۔ یہ سگریٹ اس کو ناپسند تھے مگر ادھار مل گئے تھے۔ اس لیے دو تین مجبوراً پینے پڑے۔ شام کو گھر آیا تو دیکھا تپائی پر اس کا من بھاتا سگریٹ کا ڈبہ پڑا ہے۔ خیال کیا کہ خالی ہے۔ پھر سوچا شاید ایک دو اس میں پڑے ہوں۔ کھول کر دیکھا تو بھرا ہوا تھا۔ شاردا سے پوچھا، ’’یہ ڈبہ کہاں سے آیا؟‘‘\n\nشاردا نے مسکرا کر جواب دیا، ’’اندر الماری میں پڑا تھا۔‘‘\n\nنذیر نے کچھ نہ کہا۔ اس نے سوچا، شاید میں نے کھول کر اندر الماری میں رکھ دیا تھا اور بھول گیا۔ لیکن دوسرے دن پھر تپائی پر سالم ڈبہ موجود تھا۔ نذیر نے جب شاردا سے اس کی بابت پوچھا تو اس نے مسکرا کر وہی جواب دیا، اندر الماری میں پڑا تھا۔‘‘\n\nنذیر نے بڑے غصے کے ساتھ کہا، ’’شاردا، تم بکواس کرتی ہو۔ تمہاری یہ حرکت مجھے پسند نہیں۔ میں اپنی چیزیں خود خرید سکتا ہوں۔میں بھکاری نہیں ہوں جو تم میرے لیے ہر روز سگریٹ خریدا کرو۔‘‘ شاردا نے بڑے پیار سے کہا، ’’آپ بھول جاتے ہیں، اسی لیے میں نے دو مرتبہ گستاخی کی۔‘‘ نذیر نے بے وجہ اور زیادہ غصے سے کہا،’’میرا دماغ خراب ہے۔۔۔ لیکن مجھے یہ گستاخی ہرگز پسند نہیں۔‘‘ شاردا کا لہجہ بہت ہی ملائم ہوگیا، ’’میں آپ سے معافی مانگتی ہوں۔‘‘\n\nنذیر نے ایک لحظے کے لیے خیال کیا کہ شاردا کی کوئی غلطی نہیں۔ اسے آگے بڑھ کر اس کا منہ چوم لینا چاہیے اس لیے کہ وہ اس کا اتنا خیال رکھتی تھی۔ مگر فوراً ہی اس کو اپنی بیوی کا خیال آیا کہ وہ غداری کررہا تھا، چنانچہ اس نے شاردا سے بڑے نفرت بھرے لہجے میں کہا، ’’بکواس نہ کرو۔ میرا خیال ہے کہ تمہیں کل یہاں سے روانہ کردوں۔ کل صبح تمہیں جتنے روپئے درکار ہوں گے، دے دوں گا۔‘‘ لیکن یہ کہہ کر نذیر نے محسوس کیا جیسے وہ بڑا کمینہ اور رذیل ہے۔\n\nشاردا نے کچھ نہ کہا، ’’رات کو وہ نذیر کے ساتھ سوئی۔ ساری رات اس سے پیار کرتی رہی۔ نذیر کو اس سے الجھن ہوتی رہی مگر اس نے شاردا پر اس کا اظہار نہ کیا۔ صبح اٹھا تو ناشتے پر بے شمار لذیذ چیزیں تھی۔ پھر بھی اس نے شاردا سے کوئی بات نہ کی۔ فارغ ہو کر وہ سیدھا بنک گیا۔ جانے سے پہلے اس نے شاردا سے صرف اتنا کہا، ’’میں بنک جارہا ہوں۔ ابھی واپس آتا ہوں۔‘‘\n\nبنک کی وہ شاخ جس میں نذیر کا روپیہ جمع تھا بالکل نزدیک تھا۔ وہ دو سو روپے نکلوا کر فوراً ہی واپس آگیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ سب روپیہ شاردا کے حوالے کردے گا اور اس کو ٹکٹ وغیرہ لے کر رخصت کردے گا۔ مگر وہ جب گھر پہنچا تو اس کے نوکر نے بتایا کہ وہ چلی گئی ہے۔ اس نے پوچھا، ’’کہاں؟‘‘\nنوکر نے بتایا، ’’جی مجھ سے انھوں نے کچھ نہیں کہا۔۔۔ اپنا ٹرنک اور بستر ساتھ لے گئی ہیں۔‘‘\n\nنذیر اندر کمرے میں آیا تو اس نے دیکھا کہ تپائی پر اس کے پسندیدہ سگرٹوں کا ڈبہ پڑا ہے۔ بھرا ہوا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D8%A7"} {"title": "شاطر کی بیوی", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "عمدہ قسم کا سیاہ رنگ کا چمک دار جوتا پہن کر گھر سے باہر نکلنے کا اصل لطف تو جناب جب ہے جب منہ میں پان بھی ہو، تمباکو کے مزے لیتے ہوئے جوتے پر نظر ڈالتے ہوئے بید ہلاتے جا رہے ہیں۔ یہی سوچ کر میں جلدی جلدی چلتے گھر سے دوڑا۔ جلدی میں پان بھی خود بنایا۔ اب دیکھتا ہوں تو چھالیہ ندارد۔ میں نے خانم کو آواز دی کہ چھالیہ لانا اور انہوں نے استانی جی کو پکارا۔ استانی جی نے واپس مجھے پکارا کہ وہ سامنے طاق میں رکھی ہے۔\n\nمیں دوڑا ہوا پہنچا۔ ایک رکابی میں کٹی اور بے کٹی یعنی ثابت چھالیہ رکھی ہوئی تھی۔ سروتا بھی رکھا ہوا تھا اور سب سے تعجب کی بات یہ کہ شطرنج کا ایک رخ بھی چھالیہ کے ساتھ کٹا رکھا تھا۔ اس کے تین ٹکڑے تھے۔ ایک تو آدھا اور دو پاؤ پاؤ۔ صاف ظاہر ہے کہ چھالیہ کے دھوکے میں کترا گیا ہے، مگر یہاں کدھر سے آیا۔ غصہ اور رنج تو گمشدگی کا ویسے ہی تھا۔ اب رخ کی حالت زار جو دیکھی تو میرا وہی حال ہوا جو علی بابا کا قاسم کی لاش کو دیکھ کر ہوا تھا۔ خانم کے سامنے جا کر رکابی جوں کی توں رکھ دی۔ خانم نے بھویں چڑھا کر دیکھا اور یک دم ان کے خوبصورت چہرے پر تعجب خیز مسکراہٹ سی آ کر رک گئی اور انہوں نے مصنوعی تعجب سے استانی جی کی طرف رکابی کرتے ہوئے دیکھا۔ استانی جی نےایک دم سے بھویں چڑھا کر دانتوں تلے زبان داب کے آنکھیں پھاڑ دیں، پھر سنجیدہ ہو کر بولیں :\n\nجب ہی تو میں کہوں یا اللہ اتنی مضبوط اور سخت چھالیہ کہاں سے آ گئی۔ کل رات اندھیرے میں کٹ گیا۔ جب سے رکابی جوں کی توں وہیں رکھی ہے۔\n\nاجی یہ یہاں آیا کیسے؟ میں نے تیز ہو کر کہا۔استانی جی نے چوروں کی طرح خانم کی طرف دیکھ کے کہا : خدا جانے کہاں سے آیا۔۔۔ میں۔۔۔\n\nمیں خوب جانتا ہوں۔ یہ کہہ کر غصہ سے میں نے خانم کی طرف دیکھا اور زور سے کہا، ہنستی کیوں ہو؟ میں خوب جانتا ہوں۔۔۔ ان باتوں سے کیا فائدہ؟\n\nادھر وہ ہنس پڑیں اور ادھر دروازے سے استانی جی کا لڑکا گھر میں داخل ہوا۔ میری جان ہی تو جل گئی اور میں نے یہ کہہ کر کہ اسی موذی کی شرارت ہے۔ لڑکے کا کالر پکڑ کر دو تین بید ایسے جمائے کہ مزہ آ گیا۔ یہ بید گویا خانم کے لگے۔ دوڑ کر انہوں نے بید پکڑنے کی کوشش کی اور روکنا چاہا مگر میں نے مارنا بند نہ کیا۔ میں مار رہا تھا اور خانم کہہ رہی تھی، اس کی کوئی خطا نہیں۔ مگر میں غصہ میں دیوانہ ہو رہا تھا اور مارے ہی گیا حتیٰ کہ نوبت بایں جا رسید کہ خانم نے بید پکڑ کر کہا، تم مجھے مار لو مگر اسے نہ مارو۔ مگر مجھے غصہ ہی بے حد تھا۔ میں نے بید چھڑا لیا اور وہ روتی ہوئی کمرے میں چلی گئیں۔ میں غصہ میں کانپتا ہوا باہر چلا آیا۔\n\nمیرا غصہ حق بجانب تھا یا نہیں۔ ناظرین خود انصاف کریں۔ شطرنج کا شوق ہوا تو ہاتھی دانت کے مہرے منگائے۔ یہ مہرے نہایت ہی نازک اور خوبصورت تھے اور خان صاحب نے دو ہی دن میں سب کی چوٹیاں توڑ کر ہفتہ بھر کے اندر ہی اندر تمام مہرے برابر کر دیے تھے۔ خان صاحب نہ میز پر کھیلتے تھے اور نہ فرش پر، وہ کہتے تھے کہ شطرنج تخت پر ہوتی ہے تاکہ زور سے مہرہ پر مہرہ مارنے کی آواز آئے۔ اس کے بعد پھر بنارسی مہرے منگائے۔ چھوٹے چھوٹے خوبصورت، نہایت ہی سادہ اور سبک مہرے تھے کہ بس دیکھا کیجئے۔ ہفتہ بھر مشکل سے ان مہروں سے کھیلنے پائے ہوں گے کہ سفید بازی کا ایک پیدل خان صاحب کے سال بھر کے بچے نے کھا لیا۔ بہت کچھ اس کے حلق میں خان صاحب نے انگلیاں گھنگھولیں۔ چت لٹایا، جھنجھوڑا، پیٹھ پر دھموکے دیے، مگر وہ ظالم اسے پار ہی کر گیا۔\n\nسفید بازی چونکہ خان صاحب لیتے تھےلہذا پیدل کی جگہ اپنی انگوٹھی رکھ دیتے ،پیدل پٹ جاتا تو اس کو رکھ لیتےلیکن اس کے بعد ہی جلد لال بازی کا بادشاہ کھو گیا۔ بہت ڈھونڈا، تلاش کیا مگر بے سود۔ اس کی جگہ دو ایک روز دیا سلائی کا بکس رکھا، پھر ایک روز مناسب عطر کی خالی شیشی مل گئی۔ وہ شاہ شطرنج کا کام دیتی رہی کہ اس کے بعد ہی لال بازی کا فیل اور سفید کا ایک گھوڑا غائب ہو گیا۔ خان صاحب تجربہ کار آدمی تھے اور پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ ہو نہ ہو مہرے آپ کے گھر میں سے چروائے جاتے ہیں مگر میں یہی کہہ دیتا کہ یہ ناممکن ہے۔ انہیں بھلا اس سے کیا مطلب۔ بہتیرا وہ مجھے یقین دلاتے سر مارتے کہ سوائے ان کے کوئی نہیں، مگر مجھے یقین ہی نہ آتا۔\n\nخان صاحب کہتے تھے عورتوں کو شطرنج سے بغض ہوتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ خانم میری شطرنج بازی کے خلاف تو تھیں اور بہت خلاف تھیں، مگر مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس طرح مخل ہو سکتی ہیں، غرض ان مہروں کے بعد ہی رام پور سے خان صاحب نے منڈے مہرے امرود کی لکڑی کے منگوا دیے۔ رام پور کے بہتر، عمدہ، خوبصورت اور ساتھ ہی ساتھ مضبوط مہرے ہونا ناممکن ہیں۔ ابھی چار روز بھی آئے نہ ہوئے تھے کہ یہ واقعہ ہوا۔ یعنی استانی جی نے چھالیا کے ساتھ اس نئی شطرنج کا رخ کتر ڈالا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔\n\nمیں نے اس واقعہ کا ذکر سب سے پہلے خان صاحب سے کیا۔ انہوں نے بائیں طرف کی ڈاڑھی کا چھبو جو ذرا نیچے آ گیا تھا خوب اوپر چڑھاتے ہوئے اور آنکھیں جھپکا کر اپنی عینک کے اوپر سے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا، میں نہ کہتا تھا کہ مرزا صاحب کہ ہو نہ ہو یہ آپ کے گھر میں ہی ہیں۔۔۔ اجی صاحب یہاں اللہ بخشے مرنے والی (پہلی بیوی) سے دن رات جوتی پیزار ہوتی رہتی تھی۔ پھر اس کے بعد اب اس سے بھی دو تین مرتبہ زور کے ساتھ چائیں چائیں ہو چکی ہے اور ہوتی رہتی ہے مگر میں شطرنج کے معاملہ میں ذرا سخت ہوں۔ گھر والی کو سونے کا نوالہ کھلائے، مگر وہ جو کہے کہ شطرنج نہ کھیلو تو بس اسے کھا ہی جائے۔۔۔ جب جا کے کہیں شطرنج کھیلنی ملتی ہے۔ ورنہ یہ سمجھ لیجیے کہ آئے دن کے جھگڑے رہیں گے اور شطرنج کھیلنی دوبھر ہو جائے گی۔ ویسے آپ کا مزاج۔۔۔ میں تو کچھ کہتا نہیں۔\n\nمیں نے سوچا خان صاحب واقعی سچ کہتے ہیں۔۔۔ مگر اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ میں سوچ ہی رہا تھا کہ خان صاحب بولے :ابھی کوئی سترہ برس کا ذکر ہے کہ مرنے والی لڑنے پر آمادہ ہو گئی۔ وہ پان نہیں بھیجتی تھی۔ ذرا غور تو کیجیے کہ ہم تو باہر شطرنج کھیل رہے ہیں۔ یہ صاحب بیٹھے ہیں اور پان ندارد! خدا بخشے کسی معاملہ میں نہیں دبتی تھی۔ ہاں تو۔۔۔ کوئی سترہ برس ہوئے وہ لڑنے پر آمادہ ہو گئی۔ خوب چھنی۔ بڑی مشکل سے رام کیا۔\n\nوہ کیسے؟ میں نے پوچھا۔\n\nخان صاحب نے سر ہلا کر ایسا جواب دیا جیسے شاید ڈیوک آف ویلنگٹن نے نپولین کو شکست دے کر وزیر اعظم سے کہا ہو گا، آپ بتائیے۔۔۔ پہلے آپ بتائیے۔ سنئے۔۔۔ میں نے صاف صاف کہہ دیا۔ بیگم صاحب یہ لو اپنا پانچ روپے کا مہر اور گھر کی راہ لو۔ بندہ تو شطرنج کھیلے گا۔۔۔ پر کھیلے گا۔۔۔ پان بناؤ تو بناؤ، نہیں تو گاڑی بڑھاؤ اور چلتی پھرتی نظر آؤ۔ آخر جھک مار کر بنانا پڑے، اور وہی مثل رہی۔\n\nپانڈے جی پچھتائیں گے\nوہی چنے کی کھائیں گے\n\nتو بات یہ ہے۔۔۔ مرزا صاحب بات یہ ہے کہ عورت ذات ذرا شطرنج کے خلاف ہوتی ہے اور ذرا کمزوری دکھائی اور سر پر سوار۔ خان صاحب نے اپنے بائیں ہاتھ کی کلمے کی انگلی پر داہنے ہاتھ کی دو انگلیوں کو سوار کرتے ہوئے کہا۔ اب میں یہ لیکچر سن کر ترکیب سوچ رہا تھا کہ کیا کروں۔ جو کہوں کہ اپنا راستہ دیکھو تو خانم سیدھی طوفان میل سے گھر پہنچے گی۔ ایک لمحہ نہیں رکے گی۔ گھر پر جی نہیں لگے گا۔ تار الگ دینے پڑیں گے اور ہفتہ بھر کی دوڑ دھوپ کے بعد ہی لانا ہی پڑے گا۔\n\nخان صاحب نے کہا: چلی جانے دیجئے۔ جھک مار کر پھر آخر کو خود ہی آئیں گی۔ مہینہ، دو مہینہ، تین مہینہ آخر کتنے دن نہ آئیں گی۔میں نے دل میں کہا کہ یہ علت ہے اور خان صاحب سے کہا کہ مگر مجھے تکلیف ہو جائے گی۔\n\nآپ بھی عجیب آدمی ہیں۔ خان صاحب نے چیں بہ چیں ہو کر کہا، آپ شطرنج نہیں کھیل سکتے۔۔۔ لکھ لیجیے کہ آپ کے گھر میں آپ کا شطرنج کھیلناسولی کر دیں گی۔ آپ نہیں کھیل سکتے۔۔۔\n\nآخر کیوں؟\n\nخان صاحب بولے، لکھ لیجیے۔۔۔ بندہ خاں کی بات یاد رکھئے گا لکھ لیجئے۔۔۔\n\nآخر کیوں لکھ لوں؟ کوئی وجہ؟\n\nوجہ یہ! خان صاحب نے اپنی داہنے ہاتھ کی مٹھی زور سے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر مار کر کہا: وجہ یہ کہ معاف کیجئے گا آپ زن مرید ہیں۔۔۔ زن مرید۔۔۔! جدھر وہ جائیں گی ادھر آپ۔۔۔ (انگلی گھما کر نقل بناتے ہوئے) ہائے جورو! ہائے جورو! ایسے کہیں شطرنج کھیلی جاتی ہے۔ لاحول ولا قوۃ۔ میں نے طے کر لیا کہ خانم سے اس بارے میں قطعی سخت لڑائی ہو گی۔ میں نہیں دبوں گا۔ یہ میرا شوق ہے، شوق۔ انہیں ماننا پڑے گا۔\n\n(۲)\n\nتین چار روز تک خانم سے سخت ترین جنگ رہی، یعنی خاموش جنگ، ادھر وہ چپ ادھر میں چپ۔ خانم کی مددگار استانی اور میرے مددگار خان صاحب۔ پانچویں دن یہ شطرنج دوبھر معلو م ہونے لگی۔ میری سپاہ کمزوری دکھا رہی تھی۔ جی تھا کہ الٹا آتا تھا۔ خاموش جنگ سے خدا محفوظ رکھے۔ ایسا معلوم ہوتا کہ جیسے گیس کی لڑائی ہو رہی ہے۔ غنیم کا گیس دم گھوٹے دیتا تھا۔ خان صاحب طرح طرح کے حملے تجویز کرتے تھے، مگر جناب اس گیس کی لڑائی میں کوئی تدبیر نہ چلتی تھی۔ خان صاحب ماہر فنون تھے مگر جرمن گیس کا جواب توپ اور بندوق نہیں دے سکتی۔ یہ انہیں معلوم نہ تھا۔ وجہ یہ ہے کہ وہ پرانے زمانے کی لڑائیاں لڑے ہوئے بیچارے کیا جانیں کہ خاموشی کا گیس کیا بلا ہوتی ہے۔ میری کمزوری پر دانت پیستے تھے، کہتے تھے،نہ ہوا میں۔۔۔ دکھا دیتا۔\n\nخان صاحب اول تو خود جنگی آدمی اور پھر جنرل بھی اچھے، مگر جناب سپاہی ہمت ہار جائے تو جنرل کیا کرے۔ چھ دن گزر گیے اور اب میں جنگ مغلوبہ لڑ رہا تھا۔ بہت ہمت کی، بہت کوشش کی، مگر ہار ہی گیا۔ شرائط صلح بھی بہت خراب تھی۔ شاید معاہدہ ورسیلز جس طرح ترکوں کے لئے ناقابل پذیرائی تھا، اسی طرح میرے لیے بھی شرائط ضرورت سے زیادہ سخت تھیں، مگر بقول بزور شمشیر و بنوک سنگین مجھ کو مجبوراً صلح نامہ پر دستخط کرنا پڑے اور صلح نامہ کی سخت شرائط ذرا ملاحظہ ہوں؛\n\n۱ - خان صاحب سے تمام تعلقات دوستی منقطع کر دوں گا، وہ گھر پر آئیں گے تو کہلوا دوں گا کہ نہیں ہوں۔ ویسے حصہ وغیرہ ان کے یہاں جائے گا اور آئے گا۔\n\n۲ – شطرنج کھیلنا بالکل بند۔ اب کبھی شطرنج نہیں کھیلوں گا۔ خصوصاً رات کو تو کھیلوں گا ہی نہیں۔\n\n۳ – شطرنج کے علاوہ تاش بھی نہیں کھیلوں گا۔ سوائے اتوار کے، رات کو وہ بھی نہیں۔\n\n۴ – رات کو دیر کر کے آنا شطرنج کھیلتے رہ جانے کے برابر متصور ہو گا۔ کوئی ثبوت لیے بغیر تصور کر لیا جائے گا کہ شطرنج کھیلی گئی۔ کوئی عذر تسلیم نہ کیا جائے گا۔\n\nپانچویں اور چھٹی شرط میں خود بیان کرنا پسند نہیں کرتا۔\n\nساتویں شرط یہ تھی کہ اس معاہدہ کی پابندی نہ کی گئی تو تم اپنے گھر خوش ہم اپنے گھر خوش۔\n\nخان صاحب سے میں نے اپنی شکست اور شرائط صلح کا ذکر صاف صاف نہیں کیا مگر اتنا ضرور تسلیم کیا کہ مہرے برابر استانی جی کے لڑکے سے چروائے جاتے رہے۔ پھر صلح کا ذکر کیا اور اس کے بعد کچھ روز کے لیے مصلحتاً شطرنج کھیلنا بند کرنے کا ذکر کیا۔ خان صاحب تجربہ کار آدمی تھے۔ دانت نکال کر انہوں نے ران پر ہاتھ مار کر پہلے تو دنیا بھر کی لڑاکا بیویوں کو گالیاں دیں اور پھر کہا، میاں لمڈے ہو۔ مجھ سے باتیں بنانے آئے ہو۔ بیوی کی جوتیاں کھا رہے ہو! شطرنج کھیلیں گے۔۔۔ یہ شطرنج ہے ! ہونہہ۔۔۔ میں نہ کہتا تھا۔۔۔ میری بلا سے۔ تم جانو تمہارا کام، مگر لکھ لو ایک دن سر پکڑ کر روؤ گے۔۔۔ گھر والی کو اتنا سر پر نہیں چڑھاتے۔۔۔ تم جانو تمہارا کام۔۔۔ جب کبھی ملاقات ہوئی علیک سلیک کر لی۔ بس لکھ لو۔۔۔\n\nخان صاحب کی گفتگو سے کچھ پھریری سی آئی۔ گھر میں آیا تو خانم کو پھول کی طرح کھلا ہوا پایا۔ لاحول ولا قوۃ۔\n\nشطرنج جائے چولھے میں۔ اتنی اچھی بیوی سے شطرنج کے پیچھے لڑنا حماقت ہے۔ کون لڑے۔ گول کرو۔\n\nکسی نے سچ کہا ہے چور چوری سے جائے تو کیا ہیرا پھیری بھی چھوڑ دے۔ لگے ہاتھوں ادھر ادھر کبھی کبھار ایک دو بازیاں جم ہی جاتیں۔ کبھی خان صاحب کے یہاں پہنچ گیا تو کبھی میر صاحب کے یہاں۔ پھر بات چھپی نہیں رہتی۔ خانم کو بھی معلوم ہو گیا کہ کبھی کبھار میں کوئی جرم نہیں۔ خود خانم نے ہی کہا۔ میرا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ قسم کھانے کو بھی نہ کھیلو، کھیلو، شوق سے کھیلو، مگر ایسے کھیلو کہ کبھی کبھار ایک دو بازی وقت پر کھیل لیے،نہ یہ کہ یہ کہ جم گیے تو اٹھتے ہی نہیں۔\n\nخانم کو نہیں معلوم کہ کبھی کبھار سے اور شطرنج سے باپ مارے کا بیر ہے۔ کبھی کبھار والا بھلا کھیلنے والے کے آگے کیا جمے؟ جو لوگ مجھ سے آٹھ آٹھ ماتیں کھاتے تھے وہ الٹی مجھے آٹھ آٹھ پلانے لگے۔دو ایک روز پھر ایسا ہوا کہ قدرے قلیل دیر سے آنا پڑا۔ خانم نے کبھی ناک بھویں سکیڑیں، کبھی ذرا چیں بہ جبیں ہوئیں، لیکن کبھی چپقلش کی نوبت نہ آئی، بس بڑبڑا کر رہ گئیں۔ پھر وہی شطرنج بازی۔۔۔ خان صاحب کے ساتھ۔۔۔ پھر کھیلنے لگے۔ وغیرہ وغیرہ۔ غرض اسی قسم کے جملوں تک خیریت گزری۔\n\n(۳)\n\nایک روز کا ذکر ہے کہ خانم نے بزاز سے بمبئی کے کام کی عمدہ عمدہ ساڑیاں منگائی تھیں۔ ایک ساڑی بے حد پسند تھی، مگر جیب میں اتنے دام نہیں۔ بار بار بے چین ہو کر وہی پسند آتی، مگر میرے پاس بھلا اتنے دام کہاں۔ کیسی اچھی ہے۔۔۔ رنگ تو دیکھو۔۔۔ بیل! کیا کام ہو رہا ہے۔۔۔ اور پھر کپڑا۔۔۔ وہ جو میں دلا رہا تھا،اس کو طرح طرح سے گھما پھرا کر اس طرح مہنگا ثابت کیا گیا کہ سستا روئے بار بار اور مہنگا روئے ایک بار۔ ایسے موقع پر غریب شوہر کے کلیجہ پر ایک گھونسا لگتا۔ دل پر سانپ سا لوٹ جاتا ہے۔ دل ہی دل میں کہتا ہے کہ ظالم تجھے کیا خبر میرا بس چلے تو جہان لے دوں مگر کیا کروں۔ بیوی بھی بے بسی کو دیکھتی ہے۔ مجبوری کو تسلیم کرتی ہے۔ ایک سانس لے کر چپ سی ہو جاتی ہے۔ مرد کے لئے شائد اس سے زیادہ کوئی تکلیف دہ چیز نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک دفعہ وہ اس تکلیف کو برداشت نہ کرے اور کہیں نہ کہیں سے روپیہ پیدا کرے۔ اپنی چہیتی کا کہنا کر دے مگر وہاں تو یہ حال ہے کہ آج ساڑی کا قصہ ہے تو کل جمپر کا اور آج یہ چیز ہے تو کل وہ چیز۔ کہاں تک کرے۔ بیوی بیچاری بھی کچھ مجبور نہیں کرتی مگر اس کی آنکھیں مجبور ہیں۔ زبان قابو میں ہے، مگر دل قابو میں نہیں۔ عمر کا تقاضا ہے، کیا اس سے بھی گئی گزری۔\n\nغرض ایسا ہی موقع آیا۔ پسند کردہ ساڑھی نہ لی جا سکتی تھی اور نہ لینے کی طاقت تھی۔ مجبوراً ایک دوسری پسند کی گئی تھی اور دام لے کر میں خود جا رہا تھا کہ کچھ نہیں تو دس پانچ روپیہ اسی میں کم کر دے اور اگر آدھے داموں میں دے دے تو پھر بڑھیا والی ہی لیتا آؤں۔چلتے وقت خانم نے کہا، دیکھئے ادھر سے جائیے گا۔ ادھر سے ہو کر۔ انگلی کے اشارہ سے کہا۔ اس سے یہ مطلب تھا کہ دوسری سڑک سے یعنی خان صاحب کے گھر سے بچتے ہوئے کہ شطرنج نہ کھیلنے لگوں۔ میرا ارادہ شطرنج کا نہ تھا۔ میں نے ہنس کر کہا، اب ایسا دیوانہ بھی نہیں کہ کام سے جا رہا ہوں اور چھوڑ چھاڑ شطرنج پر ڈٹ جاؤں۔ خان صاحب کی بیٹھک کے سامنے سے گزرا تو دیکھوں کہ کچھ بھیڑ بھڑکا ہے۔ جی نہ مانا، رفتار کچھ ہلکی ہی تھی۔ آواز سن کر خان صاحب ننگے پیر چوکھٹ پر کھڑے ہو کر چلائے، اجی مرزا صاحب اونگھتے کو ٹھیلنے کا بہانہ، سائکل کا انجن روک دیا اور اتر پڑا۔\n\nدور ہی دور سے چلے جاؤ گے۔ ایسا بھی کیا ہے۔ یہ کہہ کر خان صاحب نے ہاتھ پکڑ کر مونڈھے پر بٹھایا۔ ایک نئے شاطر آئے ہوئے تھے۔ دو یا تین ماتیں میر صاحب کو دے چکے تھے۔ اب ایک اور صاحب ڈٹے ہوئے تھے۔ بڑے زور کی بازی ہو رہی تھی۔ دونوں بازیاں برابر کی تھیں۔ گزشہ بازیوں کی خان صاحب نے تفصیل سنائی۔ میر صاحب نے بتایا کہ کس طرح پہلی بازی میں خان صاحب نے ایک غلط چال بتا کر ان کا گھوڑا پٹوا دیا اور پھر کس طرح دھوکہ میں خود انہوں نے اپنا رخ پیدل کے منہ میں رکھ دیا۔ ورنہ وہ بازی میر صاحب ضرور جیت جاتے بلکہ جیت ہی گیے تھے۔ کیونکہ قلعہ دشمن کا توڑ ہی دیا تھا اور بادشاہ زچ بیٹھا تھا۔ بس ایک گھوڑے کی شہ کی دیر تھی کہ غلطی سے پیدل کے منہ میں رخ رکھ دیا۔ ورنہ گھوڑا کم ہونے پر بھی انہوں نے مات کر دی ہوتی۔ نئے شاطر نے کچھ اس کی تردید کی، وہ دراصل کافی دیر کرتے مگر مجبوری تھی اور کھیل میں منہمک تھے۔ دوسری بازی کی تفصیل بھی میر صاحب سنانا چاہتے تھے کہ کن غیر معمولی وجوہات سے اتفاقاً یہ بازی بھی بگڑ گئی، مگر اب موجودہ کھیل زیادہ دلچسپ ہوا جا رہا تھا۔\n\nبازی بہت جلد ختم ہو گئی اور نئے شاطر پھر جیتے۔ میں خان صاحب سے یہ کہتا ہوا ا ٹھا کہ ابھی آیا کچھ کپڑا لے آؤں۔ خان صاحب نے بڑے پختہ وعدے لیے جب جا کر چھوڑا۔ کپڑے والے کی دکان پر پہنچا اور ساڑھی خریدی۔ دام نقد ہی دے دیے۔ لالہ صاحب بہت معقول آدمی تھے اور بقول ان کے تمام کپڑے مجھے دام کے دام پہ دے دیتے تھے۔دکان سے ساڑھی لے کر واپس آیا اور خان صاحب کے یہاں شطرنج دیکھنے لگا۔ بڑے کانٹے کی شطرنج کٹ رہی تھی۔ کیونکہ میر صاحب نے ان نو وارد شاطر کو ایک مات دی تھی اور اب دوسری بازی بھی چڑھی ہوئی تھی۔\n\nمیرے بتانے پر نو وارد صاحب نے بھنا کر میری طرف دیکھا اور کہا : بولنے کی نہیں ہےصاحب۔ خان صاحب تیز ہو کر بولے، میر صاحب کیا اندھے ہیں؟ کیا انہیں اتنا نہیں دکھائی دیتا کہ مہرہ پٹ رہا ہے۔ کیا وہ ایسے اناڑی ہیں؟\n\nآپ اور بھی بتائے دیتے ہیں نو وارد نے کہا۔ ادھر صاحب واقعی اندھے ہو رہے تھے اور اگر خان صاحب نہ بولتے تو گھوڑا مفت پٹ گیا ہوتا۔ وہ گھوڑے کو پٹتا چھوڑ کر رخ چل رہے تھے۔ اب رخ کی چال واپس کر کے انہوں نے گھوڑا پکڑا۔\n\nچال ہو گئی۔ نووارد نے بگڑ کر کہا۔ چال کی واپسی نہیں۔\n\nمیر صاحب جل کر بولے : جھوٹی موٹی تھوڑی ہو رہا ہے۔ شطرنج ہو رہی ہے۔ چال کی واپسی کی برابر نہیں، مگر میں نے چال بھی تو نہیں چلی۔ میں نے رخ کو چھوا اور چال ہو گئی؟ یہ کیا؟۔۔۔ روتے ہو۔۔۔\n\nجی نہیں۔ نووارد نے کہا۔ چال ہو گئی آپ کو رخ وہی رکھنا پڑے گا۔ میں چال واپس نہیں دوں گا۔ یہ کہہ کر رخ اٹھا کر اس جگہ رکھ لیا اور میر صاحب نے پھر واپس رکھ لیا۔ تیز ہو کر نووارد نے جھنجھلا کر کہا، جی نہیں چلنا پڑے گا۔ اور پھر اپنی چال بھی چال دی۔ یعنی رخ سے میر صاحب کا گھوڑا مار مٹھی میں مضبوط پکڑ لیا۔میر صاحب نے اور خان صاحب نے ہلڑ سا مچایا۔ میر صاحب کو جو تاؤ آیا تو گھوڑے کو رخ سے مار دیا۔ نووارد نے رخ کو رخ سے مارا تو خان صاحب نے غصہ میں اپنے وزیر سے مخالف کے فیل کو دیدہ و دانستہ مار کر وزیر پٹاکر مہرے بساط پر یہ کہہ کر پٹک دیئے شطرنج کھیلتے ہو کہ روتے ہو؟ یہ لو میں ایسے اناڑیوں سے نہیں کھیلتا۔\n\nاب میں بیٹھا، مگر نہ میر صاحب کی زبان قابو میں تھی اور نہ خان صاحب کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میر صاحب میرے مہرے اٹھا اٹھا کر چلنے لگے۔ دو ملاؤں میں مرغی حرام، وہ مضمون اس بازی کا ہوا۔ شیخ جی (نووارد) ویسے بھی اچھی شطرنج کھیلتے تھے، بازی بگڑنے لگی کہ میر صاحب نے پھر ایک چال واپس کی۔ شیخ جی نے ہاتھ پکڑ لیا حالانکہ میر صاحب چال چل چکے تھے، مگر کہنے لگے کہ ابھی تو مہرہ میرے ہاتھ میں تھا۔ خوب خوب جھائیں جھائیں ہوئی۔ شیخ جی مہرہ پھینک کر بگڑ کھڑے ہوئے، نتیجہ یہ نکلا کہ شیخ جی بھاگ گیے۔ میں بھی اٹھنے کو ہوا تو میر صاحب نے کہا کہ آو ایک بازی ہو جائے۔ میں نے گھڑی دیکھی۔ ابھی تو شام ہی تھی، میں نے جلدی جلدی مہرے جمائے کہ لاؤ ایک بازی کھیل لوں۔\n\nمیر صاحب روز کے کھیلنے والے، جھٹ پٹ انہوں نے مات کر دیا۔ میں نے جلدی سے دوسری بچھائی۔ وقت کی بات میر صاحب نے وہ بھی مات کیا۔ تیسری بچھائی، یہ دیر تک لڑی۔میری بازی چڑھی ہوئی تھی اور میں ضرور جیت جاتا کہ میرا وزیر دھوکہ میں پٹ گیا۔ چال واپس کی ٹھہری نہیں تھی۔ یہ بھی میر صاحب جیتے۔ خوش ہو کر کہنے لگے، اب تم سے کیا کھیلیں، ہماری شطرنج خراب ہوتی ہے۔ کوئی برابر والا ہو تو ایک بات تھی۔\n\nمجھے غصہ آ رہا تھا۔ میں نے کہا۔،میر صاحب وہ دن بھول گیے۔ جب چار چار مات دیتا تھا اور ایک نہیں گنتا تھا۔ میری شطرنج چھوٹی ہوئی ہے۔ میر صاحب نے اور میری جان جلائی کہنے لگے،ہار جاتے ہیں تو سب یوں ہی کہتے ہیں۔ غرض پھر ہونے لگی، اب میں جیتا۔ میں کوشش کر رہا تھا کہ تینوں بازیاں اتار دوں اور میں نے دو اتار دیں اور تیسری زور سے جمی ہوئی تھی کہ خان صاحب نے سر اٹھا کر باہر جھانکا، کون ہے ؟ انہوں نے کہا اور سارس کی سی گردن اونچی کر کے دیکھا اور کہا :لیجیے۔ کچھ طنزاً کہا۔ لیجئے وہ ایلچی آ گیا۔\n\nیہ میرا ملازم احمد تھا۔ وہ جا رہا تھا۔ میں نے آواز دے کر بلایا، کیوں کیسے آئے۔\n\nکچھ نہیں صاحب۔۔۔ دیکھنے بھیجا تھا۔\n\nاور کچھ کہا تھا؟\n\nجی نہیں بس یہی کہا تھا کہ دیکھ کے چلے آنا۔۔۔ جلدی سے۔\n\nتو دیکھو میں نے کہا۔ کہا کہو گے جا کے ؟ یہ کہنا کہ خان صاحب کے یہاں نہیں تھے۔ یوسف صاحب کے یہاں تھے۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔ تم سے تو یہی کہا ہے کہ خان صاحب کے یہاں دیکھ لینا۔۔۔ تو بس یہی کہہ دینا نہیں تھے۔۔۔ دیکھو۔۔۔\n\nلا حول ولا قوۃ۔ خان صاحب نے بگڑ کر کہا۔ ارے میاں تم آدمی ہو کہ پنج شاخہ! بیوی نہ ہوئی نعوذ باللہ وہ ہو گئی۔ نہیں جی۔ خان صاحب نے غصہ سے احمد سے کہا،جاؤ کہنا خان کے یہاں بیٹھے شطرنج کھیل رہے ہیں اور ایسے ہی کھیلیں گے۔\n\nنہیں نہیں دیکھو۔۔۔ میں نے کہا مگر خان صاحب نے جملہ کاٹ دیا۔\n\nجاؤ یہاں سے کہہ دینا شطرنج کھیل رہے ہیں۔\n\nمت کہنا۔ میں نے کہا۔ ابھی آتا ہوں۔\n\nاحمد چلا گیا اور اب خان صاحب نے مجھے آڑے ہاتھوں لیا۔ بہت سی انہوں نے تجویزیں میرے سامنے پیش کیں، مثلاً یہ کہ میں ڈوب مروں۔۔۔ دوسری شادی کر لوں۔۔۔ گھر چھوڑ دوں۔۔۔ یہ سب محض اس وجہ سے کہ ایسی زندگی سے کہ بیوی کی سخت گیری کی وجہ سے شطرنج کھیلنا نہ ملے، موت سے بدرجہا بہتر۔غرض اسی حجت اور بحث میں میرا ایک رخ پٹ گیا اور میری بازی بگڑنے لگی کہ میں نے میر صاحب کا وزیر مار لیا۔میر صاحب غصہ ہو کر پھاند پڑے، ادھر لاؤ وزیر۔۔۔ ہاتھ سے وزیر چھینتے ہو۔ ابھی تو میرے ہاتھ میں ہی تھا۔\n\nاس کی نہیں ہے۔ میں نے کہا۔ وزیر واپس نہیں دوں گا۔ ابھی ابھی تم نے مجھ سے گھوڑے والا پیدل زبردستی چلوا لیا تھا اور اب اپنی دفعہ یوں کہتے ہو! میں نہیں دوں گا۔\n\nخان صاحب بھی میر صاحب کی طرف داری کرنے لگے۔ مگر یہ آخری بازی تھی جس سے میں برابر ہوا جا رہا تھا، لہذا میں نے کہا کہ میں ہرگز ہرگز چال واپس نہ دوں گا۔ خوب خوب حجت ہوئی، گزشتہ پرانی بازیوں کا ذکر کیا گیا۔ مجھے ان سے شکایت تھی کہ پرانی ماتیں جو میں نے ان کو دی تھیں وہ بھول گیےاور یہی شکایت ان کو مجھ سے تھی۔ پرانی ماتوں کا نہ میں نے اقبال کیا اور نہ انہوں نے۔ بالاخر جب یہ طے ہو گیا کہ میں وزیر واپس نہیں دوں گا تو میر صاحب نے مہرے پھینک کر قسم کھائی کہ اب مجھ سے کبھی نہ کھیلیں گے، لعنت ہے اس کے اوپر جو تم سے کبھی کھیلے۔ بے ایمان کہیں کے، تف ہے اس کم بخت پر جو تم سے اب کھیلے۔\n\nمیں نے بھی اسی قسم کے الفاظ دہرائے اور نہایت بدمزگی سے ہم دونوں اٹھنے لگے۔ خان صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا،بھئی یہ تو کچھ نہ ہوا برابر برابر ہو گئی۔ ایک کو ہارنا چاہیے۔ اس پر میر صاحب بولے کہ میں جیتا اور میں بولا کہ یہ غلط کہتے ہیں، برابر ہے، خان صاحب نے کہا کہ اچھا، ایک بازی اور ہو، مگر میر صاحب کہنے لگے : تو یہ ہے، ارے میاں خان صاحب تم مسلمان ہو اور میرا یقین نہیں کرتے میں قسم کھا چکا، لعنت ہو اس پر جو اب ان سے کھیلے۔ میں نے میر صاحب سے طنزاً کہا : میر صاحب قبلہ یہ شطرنج ہے ً اس کو شطرنج کہتے ہیں۔ مذاق نباشد۔ ابھی سیکھئے کچھ دن۔\n\nارے جاؤ۔ میر صاحب بولے۔ بہت کھلاڑی دیکھے ہیں۔ نہ معلوم تم سے کتنوں کو سکھا کر چھوڑ دیا۔ ابھی کچھ دن اور کھیلو۔ اسی قسم کی باتیں کرتے ہوئے میر صاحب اٹھ کر چلے گیے۔ خان صاحب میرے لیے پان لینے گیے، میں اپنی سائکل کے پاس پہنچا اور بتی جلائی۔ اتنے میں خان صاحب پان لے کر آ گیے اور میں چل دیا۔\n\nبمشکل سامنے کے موڑ پر پہنچا ہوں گا کہ سامنے سے ایک آدمی نے ہاتھ سے مجھے روکا۔ میں رک گیا تو اس نے پیچھے اشارہ کیا۔ مڑ کر دیکھتا ہوں کہ میر صاحب چلاتے بھاگتے آتے ہیں، اجی مرزا صاحب، خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ میر صاحب ہانپتے ہوئے بولے۔ واللہ میں نے اچھی طرح حساب کیا کعبہ کے رخ ہاتھ اٹھا کر کہتا ہوں میری دو بازیاں اس آخری بازی کو چھوڑ کر تمہارے اوپر چڑھی رہیں۔ میں نے کہا : بالکل غلط، بلکہ میری ہی آپ پر ہوں گی۔ آپ وہ اس اتوار والی بازی بھی لگاتے ہوں گے، وہ جس میں آپ کا رخ کم تھا۔\n\nکیوں نہیں ضرور لگاؤں گا۔ میر صاحب نے کہا۔\n\nیہ کیسے۔ میں نے کہا۔ خوب! خان صاحب کی بازی اگر میں دیکھنے لگا اور ایک آدھ چال بتا دی تو وہ مات مجھے کیسے ہوئی۔\n\nاچھا وہ بھی جانے دو خیر تو پھر ایک تو رہی۔\n\nوہ کون سی؟\n\nوہ جو شوکت صاحب کے یہاں ہوئی تھی۔\n\nکون سی، کون سی مجھے یاد نہیں۔\n\nہاں ہاں بھلا ایسی باتیں تمہیں کیوں یاد رہنے لگیں، ایسے بچہ ہو نا۔\n\nمجھے تو یاد نہیں میر صاحب۔ میں نے کہا۔ ہمیشہ آپ کو مات دے کر چھوڑ کر اٹھا ہوں یا اتار کر، ورنہ آپ پر چڑھا کر۔\n\nارے میاں ایک روز سب کو مرنا ہے۔ کیوں اپنی عاقبت ایک بازی شطرنج کے پیچھے خراب کرتے ہو۔ ذرا خدا اور رسولﷺ سے نہیں ڈرتے۔ شرم نہیں آتی، مات پہ مات کھاتے ہو اور بھول جاتے ہو۔\n\nمیر صاحب۔ میں نے کہا۔ آپ تو تین جنم لیں تب بھی مجھے مات دینے کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔ وہ اور بات ہے کہ بھول چوک میں ایک آدھ بازی پڑی مل جائے۔\n\nارے تم بیچارے کیا کھا کے کھیلو گے۔ گھر والی تو قابو میں آتی نہیں۔ میاں شطرنج کھیلنے چلے ہیں۔ اب دس برس رخ اٹھا کے کھلاؤں۔ کیا بتاؤں قسم کھا چکا ہوں ورنہ ابھی بتا دیتا۔\n\nمیر صاحب یہ شطرنج ہے۔ میں نے طنزاً کہا۔ کبھی خواب میں بھی جیتے ہو؟\n\nکیا قسم میری تم تڑواؤ گے ؟\n\nابھی شطرنج سیکھئے۔ یہ کہہ کر میں نے پیر مار کے انجن اسٹارٹ کر دیا اور سائیکل کو آگے بڑھایا۔\n\nتو پھر ایک بازی میری رہی۔ میر صاحب ہینڈل پکڑ کر بولے۔\n\nغلط بات۔ میں نے کہا۔\n\nلیکن،میر صاحب نے سائیکل کو روک کر کھڑا کر دیا اور بولے۔ ماننا پڑے گی۔\n\nمیں نے کہا : نہیں مانتا۔\n\nمیر صاحب پھر بولے، تمہیں ماننا پڑے گی۔ نہیں تو پھر آ جاؤ۔۔۔۔ابھی۔۔۔۔قسم تو ٹوٹے ہی گی۔۔۔ خیر لیکن بازی۔\n\nمیں نے کچھ سوچا ۔یہ واقعہ تھا کہ اگر کھیلوں تو میر صاحب بھلا کیا جیت سکتے تھے۔ لہٰذا میں نے میر صاحب سے طے کر لیا کہ بس ایک بازی پر معاملہ طے ہے۔ میں ہار جاؤں یا وہ ہاریں تو ہمیشہ ہارے کہلائیں گے۔ سودا اچھا تھا۔ لہٰذا میں نے سائیکل موڑ لی۔خان صاحب کے اخلاق کو دیکھیے۔ کنڈی کھٹکھٹاتے ہی کھانا کھانے سے اٹھ کر آئے اور بھئی واللہ! کہہ کر پھر اندر گس گیے اور پھر جو آئے تو لالٹین اور کھانے کی سینی ہاتھ میں لیے۔ بہت کچھ معذرت کی مگر بیکار، خان صاحب نے زبردستی کھلایا، اور پھر شاباش ہے خان صاحب کی بیوی کو۔ انڈے جلدی سے تل کر فوراً تیار کیے۔ کھانا وغیرہ کھا کر ہم دونوں نے اپنا معاملہ خان صاحب کے سامنے پیش کیا۔ قصہ مختصر شطرنج جم گئی۔ مجھے جانے کی بڑی فکر تھی کہ خانم کیا کہے گی، مگر ایک بازی کا کھیلنا ہی کیا۔\n\nشروع ہی سے میری بازی چڑھ گئی اور تابڑ توڑ دو چار تیز چالیں نکال کے اپنے رخ سے میر صاحب کا وزیر عروب میں لے لیا۔ میر صاحب نے یہ کہہ کر مہرے پھنک دیے کہ یہ اتفاق کی بات ہے نظر چوک گئی۔ میں اٹھ کر چلنے لگا کہ دیر ہو رہی ہے۔ خان صاحب نے ہاتھ پکڑا کہ ایک بازی اور سہی۔ میر صاحب چپ تھے کہ میں نے کہا، اب ہم دونوں برابر ہو گیے، اب کوئی ضرورت نہیں۔، خان صاحب ہنس کر بولے کہ واہ یہ طے ہو جانا چاہیے کہ کون زبردست کھلاڑی ہے، برابر رہنا ٹھیک نہیں۔ ادھر میر صاحب نے کہا کہ اب اس اتوار والی بازی کو پھر شمار کر لیا جائے، جس سے وہ دستبردار ہو گیے تھے، اور کہنے لگے کہ ایک اب بھی مجھ سے جیتے ہیں۔ ادھر خانم کا ڈر لگا ہوا، ادھر میر صاحب کی ضد اور خان صاحب کی کوشش۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بس ایک بازی اور ہو اور طے ہو جائے۔ قسمت کی خوبی کہ بازی جمائی اور چو مہری اٹھی،اس کے بعد کی بازی میر صاحب نے ایک چال پر قائم کر دی۔شہ،شہ ،شہ،شہ۔بس شہ دیے جائیں تو ان کی بچت ہے،یہ بھی قائم اٹھی۔ پھر دوسری بازی بچھی اس کو میں بڑی کامیابی کے ساتھ کھیلا اور میں نے سوچا پیدل کی مات کروں گا۔ پورا مہرہ زائد تھا، مگر بدقسمتی سے میر صاحب کا بادشاہ زچ ہو گیا اور یہ بھی قائم اٹھی۔ میں گھبرا گیا۔ بڑی دیر ہو گئی تھی۔ جاڑوں کے دن تھے۔ گھڑی پر نظر کی، ساڑھے بارہ بجے تھے۔\n\n(۴)\n\nمیں گھبرا کر اٹھا۔ بڑی دیر ہو گئی۔ اب کیا ہوا؟ خانم کیا کہے گیَ خوب لڑے گی۔ بڑی گڑبڑ کرے گی، غالباً صبح تک لڑتی رہے گی۔ کیا کیا جائے ؟ کچھ دیر کھڑا سوچتا رہا۔ ایک تدبیر سمجھ میں آ گئی، سیدھا بزاز کی دکان پر پہنچا۔ دوکان بند تھی۔ مکان معلوم تھا، رات کو لالہ کو جا کھٹکھٹایا۔ لالہ گھبرائے ہوئے باہر نکلے۔ میں نے مطلب بیان کیا کہوہ عمدہ والی ساڑی دے دو۔ ابھی ابھی چاہئے۔ لالہ صاحب گھبرائے، کہا۔ خیر تو ہے؟ مگر میں نے کہا کہ ابھی دو۔ لالہ نے بہانے کیے، مگر میں کب ماننے والا تھا۔ لالہ نے اپنے دو آدمی ساتھ لئے اور میں نے وہی عمدہ والی ساڑی لے لی اور جو پہلے لے گیا تھا وہ واپس کر دی۔ اب سیدھا گھر کا رخ کیا۔ جیسے ہی پھاٹک میں داخل ہوا انجن روک دیا اور پیدل گاڑی کو گھسیٹتا لے چلا۔ گاڑی کھڑی کر کے بنڈل ہاتھ میں لیااور چپکے سے دروازے کا رخ کیا کہ اپنے ہی کتے نے ٹانگ لی۔ اسے چپکا کیا اور برآمدے میں پہنچ کر راستہ تلاش کیا۔ سب دروازے بند تھے۔ خیال آیا کہ غسل خانے کی چٹخنی ڈھیلی ہے، مگر وہاں بھی ناکامی ہوئی۔ صحن کی دیوار پر چڑھنے کی ٹھانی۔ نیم کے نیچے بھینس بندھتی تھی۔ اس کی ناندپر کھڑے ہو کر ایک پیر دروازہ پر رکھ کر دوسرے ہاتھ کا سہارا لے کر اندر داخل ہوا۔ دھیرے دھیرے سونے کے کمرے کی طرف چلا۔ چاروں طرف سناٹا تھا اور میں چپکے سے کپڑے بدل کر کمرے میں داخل ہو گیا۔ اور بڑی پھرتی سے لحاف کے اندر گھس گیا۔\n\nمیں سمجھا کہ خانم سورہی ہے، مگر وہ جاگ رہی تھی۔ وہ جھوٹ موٹ کھانسی گویا یہ ظاہر کرنے کے لیے کہمیں جاگتی ہوں، ادھر میں کھنکارا کہ ،جاگتی ہو تو کیا کر لو گی۔ میرے پاس بڑھیا والی ساڑی ہے۔ ایک اور کروٹ انہوں نے لی اور پھر بڑبڑائیں، لیکن کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ میں بھلا کب دبنے والا تھا۔ میں نے کہا، کیوں، کیا جاگتی ہو؟\n\nوہ بولیں، تمہاری بلاسے۔ تم شطرنج کھیلنے جاؤ، میں کل جاتی ہوں۔\n\nتم بھی عجیب عورت ہو! میں نے ڈانٹ کر کہا۔ بزاز کے یہاں گیا وہاں پر خان صاحب مل گیےاور زبردستی انہوں نے وہی پیازی رنگ والی ساڑی دلوا دی۔ بہت کچھ میں نے کہا کہ دام نہیں مگر۔۔۔\n\nپھر؟ خانم نے بات کاٹ کر کہا۔ پھر وہ ساڑی کیا ہوئی؟ اٹھ کر وہ لحاف میں بیٹھ گئیں۔\n\nہوئی کیا۔۔۔ وہاں سے ساڑی لے کر خان صاحب کے یہاں گیا، کھانا انہوں نے کھلایا، دو چار آدمی۔۔۔\n\nہو گا۔ خانم نے کہا۔ہوں گے آدمی،پھر وہ ساڑی وہی پیازی رنگ والی۔\n\nیہ لو۔ یہ کہہ کر میں نے بنڈل لا پرواہی سے خانم کے لحاف پر مارا۔ لیمپ کی روشنی فوراً تیز کر کے انہوں نے تیزی سے بنڈل کھولا۔ ساڑی کو کھول کر جلدی سے دیکھا پھر میری طرف بجائے غصہ کے ان کی آنکھوں سے محبت آمیز شکریہ ٹپک رہا تھا۔ شطرنج پر اعتراض تو کجا نام تک نہ لیا۔ وہ مارا اناڑی کو۔ میں نے دل میں کہا۔\n\nبہت دن تک تو جناب اسی ساڑی کی بدولت خوب دیر کر کے آیا۔ خوب شطرنج ہوتی رہی جیسے بیشتر ہوتی تھی۔ فرق تھا تو یہ کہ بجائے میرے گھر کے اب خان صاحب کے گھر پر جمتی۔مگر رفتہ رفتہ غیر حاضری اور شطرنج بازی پر پھر بھویں چڑھنے لگیں۔ بجائے ملائمت کے ترش روئی اور سختی! دراصل استانی جی خانم کو بھڑکاتی رہتی تھیں۔ آہستہ آہستہ خانم نے پیچ کسنا شروع کیا۔ مگر شطرنج کسی نہ کسی طرح ہوتی ہی رہی۔\n\nساری خدائی ایک طرف، خانم کا بھائی ایک طرف۔ وجہ شاید اس کی یہ تھی کہ خانم کے بھائی اصلی معنی میں بھائی تھے۔ یعنی صورت شکل ہو بہو ایک، بالکل ایک ذرہ بھر بھی فرق نہ تھا۔ صرف گھنٹہ بھر بڑے تھے۔ جڑواں بہن بھائیوں میں بےحد محبت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے خانم کی مناسبت سے مجھے بھی خانم کے بھائی بےحد عزیز ہیں۔ پہلی مرتبہ بہن کے یہاں آئے۔ بہن کا نام سنتے ہی یہ حال ہو گیا کہ ننگے پیر دوڑ کر بھائی سے لپٹ گئی، بھائی خود بیتاب تھا، سینہ سے لگا کر بہن کی گردن کو بوسہ دیا۔ بھائی بہن نے گھنٹوں جم کر یکسوئی کے ساتھ اس طرح باتیں کیں کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ دونوں دیوانے ہیں۔ بہن اپنے بھائی کو کتنا چاہتی تھی۔ اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ میں خانم کو بھائی سے محبت دیکھ کر رشک کر رہا تھا۔یہ شائد بھائی کی محبت کا ہی تقاضا تھا کہ خانم نے مجھے کونے میں لے جا کر بڑے پیار سے کہا کہ دیکھو اب دو چار روز شطرنج نہ کھیلنا۔\n\nمیں نے خانم کے خوبصورت چہرے کو دیکھا۔ کس طرح اس نے محبت سے مجھ سے کہا، شاید اسی طرز و انداز نے بت پرستی و شرک کی بنا ڈالی ہے ! مظلوم غریب کیا کرے، ظالم کے کہنے کو کیسے رد کرے ؟ خانم کی آنکھ کے نیچے کسی چیز کا ذرہ لگا ہوا تھا۔ میں نے اس کو ہٹانے کے لیے انگلی بڑھائی۔ آنکھیں جھپکا کر خانم نے خود رومال سے اس کو پاک کیا، پھر ہاتھ پکڑ کر اور بھی زیادہ صفائی سے زور دے کر شطرنج کو منع کیا۔\n\nقبل اس کے کہ میں کچھ کہوں۔ خانم کے بھائی پکارے،بجو۔۔\n\nبیتاب ہو کر خانم نے کہا،بھیا۔۔ اور بے تحاشہ جیسے توڑا کر بھاگی کہ بھیا خود آ گیے، کیا کر رہی ہو؟ خانم کے بھائی نے اپنے خوبصورت چہرہ کو عجیب جنبش دے کر مسکراتے ہوئے کہا۔ایک ٹھنڈی سانس بھر کر خانم نے اس طرح کہا جیسے کوئی دکھ بھری داستان کا حوالہ تھا، شطرنج کو منع کر رہی ہوں۔۔ شطرنج۔۔\n\nکیوں؟\n\nدن دن بھر کھیلتے ہیں۔ رات رات بھر کھیلتے ہیں اور وہ کم بخت خان صاحب ہیں کہ۔۔\n\nبھائی خدا کے واسطے شطرنج چھوڑیے۔ آپ برج نہیں کھیلتے ؟۔۔۔ برج کھیلا کیجئے۔ بھیا نے کہا۔ ہاں برج کھیلیں مگر یہ شطرنج تو۔۔\n\nبڑی خراب چیز ہے بھائی۔ بجو (بہن سے اپنی مخاطب کر کے کہا) تو ان کی شطرنج جلا ڈال۔\n\nرہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو۔ میں نے کہا۔ بھیا میرے پاس۔۔۔ خانم ذرا چیخ کے بولی۔ وہ کم بخت خان صاحب ایسے ہیں کہ ان کے ہاں جاجا کر کھیلتے ہیں۔۔۔\n\nمجھ سے مخاطب ہو کر خانم نے کہا۔ وعدہ کیجئے جب تک بھیا ہیں بالکل نہ کھیلئے گا۔ چنانچہ پختہ وعدہ کر لیا، پختہ!\n\n(۵)\n\nچلتے وقت خانم نے مسکرا کر انگلی گھما کر کہا تھا۔ ادھر سے جائیے گا۔ ادھر سے۔ بھیا کی طرف میں نے مسکرا کے دیکھا۔ دیکھتے ہو تم ان کا پاگل پن۔ بھیا کچھ نہ سمجھے کہ ان باتوں کا یہ مطلب ہے کہ خان صاحب کی طرف ہو کے مت جانا۔ میں تو چل دیا۔ بہن اپنے بھائی کو سمجھاتی رہی ہو گی کہ اس کا کیا مطلب ہے۔\n\nوہ بھئی واہ! غضب کرتے ہو۔ یہ کہتے ہوئے خان صاحب ہاتھ کا سگنل سامنے کئے ہوئے کھڑے تھے۔ ایسا بھی کیا کہ پھٹ پھٹ کرتے بھاگتے جاتے ہو، سنتے ہی نہیں۔ میں نے گاڑی تو روک لی، مگر اترا نہیں اور ویسے ہی کنارے ہو کر کہا،کام سے جا رہا ہوں، کام سے۔\n\nایسا بھی کیا ہے ! خان صاحب نے بازو پکڑے ہوئے کہا، ذرا بیٹھو۔\n\nاماں مرزا صاحب۔۔۔ مرزا جی۔۔۔ میر صاحب بیٹھک میں سے بولے۔ واللہ دیکھو۔۔ تمہیں واللہ۔ اماں سنتے نہیں۔۔۔ ہاتھ سے بلا کر بولے،تمہیں واللہ ذرا آ کر تماشا تو دیکھو، کیسا لالہ جی کا وزیر گھیرا ہے۔۔ ارے میاں ذرا۔۔۔\n\nنہیں تمہیں ہم نہ چھوڑیں گے۔ یہ کہہ کر خان صاحب نے گھسیٹا۔\n\nبخدا مجھے بڑے ضروری کام سے جانا ہے۔ کل صبح تڑکے ہی موٹر چاہیے۔۔۔ اتوار کا دن ہے۔ ویسے ہی موٹر خالی نہیں ہوتا۔۔۔\n\nبیر سٹر صاحب کے یہاں جا رہے ہوں گے۔۔ موٹر لینے۔۔۔ کیوں۔۔۔ کیا کرو گے ؟\n\nمیں نے خان صاحب کو بتایا کہ خانم اور ان کے بھائی دونوں کو کل دن بھر مختلف مقامات کی سیر کرانا ہے۔\n\nلاحول ولاقوۃ خان صاحب نے مجھے گھسیٹتے ہوئے کہا، اماں ہم سمجھے کوئی کام ہو گا۔۔۔ واللہ تم نے تو غضب ہی کر دیا۔ ذرا غور کرو۔۔۔ بھئی اندر چلو ذرا۔۔\n\nمیں رک نہیں سکتا۔\n\nبخدا ذرا دیر کو۔۔۔ بس دو منٹ کو۔۔ بس پان کھاتے جاؤ۔یہ کہہ کر خان صاحب نے آخر گھسیٹ ہی لیا۔ بیٹھک میں پہنچا تو میر صاحب مارے خوشی کے بے حال تھے۔\n\nواللہ۔۔۔۔ بھئی مرزا کیا بتاؤں تم نہ آئے۔ دیکھو ان کا وزیر یہاں تھا۔۔۔ میں نے پیدل جو آگے بڑھایا تو۔۔۔\n\nتو مہرے آپ کیوں جگہ سے ہٹاتے ہیں۔ کھیلنا ہو تو کھیلئے یہ کہہ کر لالہ صاحب نے میر صاحب کو چپ کیا اور ادھر خان صاحب نے اپنا سلسلہ کلام شروع کیا۔\n\nتو۔۔۔ ہاں وہ آپ کیا کہہ رہے تھے۔۔۔ ہاں تو بات یہ ہے میاں تم ابھی نا تجربہ کار ہو۔ بھلا عورتوں کو موٹروں کی سیر سے کیا تعلق؟ خدارا کچھ سیکھو، جب ہی تو ہے نا کہ آپ کی گھر میں آپ شطرنج بھی نہیں۔۔۔\n\nنقشہ دیکھو۔۔۔ ارے رے! میرے صاحب نے زور سے پکڑ کر خان صاحب کو ہلا ڈالا، و اللہ ! بادشاہ کو گھیرا ہے۔۔۔ اپنا وزیر پٹا کر۔۔۔؟ مخالف سے مخاطب ہو کر، مارئیے وزیر، لالہ صاحب۔۔۔ وزیر مارنا پڑے گا۔۔۔ مارو تو مات، نہ مارو تو مات۔۔۔ یہ لو مہرے اور بنو۔۔۔ بوندیں آ گئیں۔۔۔ اور بنو۔۔۔ ہٹاؤ چرخہ۔۔۔ یہ لو۔\n\nمیر صاحب نے واقعی خوب مات کیا تھا، اور میں اٹھنے لگا۔\n\nبھئی ہم نہ جانے دیں گے۔۔ بغیر پان کھائے ہوئے۔۔۔ ارے پان لانا۔ خان صاحب نے زور سے آواز دی اور پھر کہا۔ بھئی کوئی بات بھی ہے۔ عورتوں کو اول تو سیر کرانا ہی منع ہے اور پھر تم دیکھ رہے ہو کہ روز بروز تمہارے گھر کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ آج شطرنج کو منع کرتی ہیں کل کہہ دیں گی کچہری نہ جایا کرو۔۔۔ چھوڑو ان باتوں کو، اور سہی تو ایک بازی میرصاحب کی دیکھ لو، چلے جانا، جلدی کاہے کی ہے۔\n\nمیر صاحب کا کھیل میں نے بہت دیکھا ہے۔ میں نے کہا، مجھے جلدی جانا ہے۔\n\nمیرا کھیل؟ میر صاحب بولے۔ میرا کھیل دیکھا ہے۔۔۔ یہ کہو مذاق دیکھا ہے، تمہارے ساتھ کھیلتا تھوڑی ہوں۔ مذاق کرتا ہوں۔\n\nاس روز زچ ہو گئی۔۔۔ بازی زچ ہو گئی ہو گی۔ ورنہ پیدل ہوتی اور وہ بھی پیدل پسند۔بازی تو آپ کی خوب چڑھی ہوئی تھی۔ خان صاحب نے تائید کی۔\n\nجی ہاں۔ میر صاحب بولے،ڈھیل دے کر کاٹتا ہوں۔۔۔ اناڑی کو بڑھا کر مارتا ہوں اور ایک میری اب بھی چڑھی ہوئی ہے۔\n\nمر گیے چڑھانے والے۔ میں نے ترش روئی سے کہا، میر صاحب یہ شطرنج ہے۔\n\nپھر آ جاؤ نا۔۔۔ تمہیں آ جاؤ۔۔۔\n\nبھائی ہو گی۔۔۔ ہو گی۔۔۔ ہٹو تو۔۔۔ خان صاحب نے شطرنج میری طرف گھسیٹتے ہوئے کہا۔\n\nہو گی۔۔۔ بس ایک بازی ہو گی۔\n\nنہیں صاحب مجھے جانا ہے۔۔۔ ضروری کام سے۔ میں نے کہا۔\n\nہم آدمی بھیج دیں گے۔۔۔ دیکھا جائے گا۔ اماں بیٹھو۔۔ رکو۔۔ بس، ایک۔\n\nمیں نے گھڑی کی طرف دیکھا۔۔۔ جماہی لے کر کہا۔ اچھا لائیے۔ ایک بازی میر صاحب کو مات دے ہی دوں۔ آؤ بس ایک ہو گی۔\n\nایک بازی میر صاحب پر نظر کی چوک سے ہو گئی اور بڑی جلدی ہو گئی تو میں اٹھنے لگا۔ لیکن خاں صاحب نے آستین پکڑلی کہ بھئی یہ اتفاق ہے یہ کچھ نہیں ایک اور کھیل لو۔ میں نے کہا کہ خیر اچھا کھیلے لیتا ہوں۔ اور بیٹھ گیا۔\n\nمگر اتفاق تو دیکھیے کہ یہ اس سے بھی جلدی چٹ پٹ ہو گئی۔ میر صاحب کا چہرہ فق ہو گیا۔ غضب ہے دس منٹ میں دو بازیاں۔ خان صاحب نے پھر پکڑ لیا اور کہا کہ یہ کوئی بات نہیں۔ غرض اسی طرح پانچ بازیاں میر صاحب پہ ہو گئیں۔ اب میں بھلا کیسے جا سکتا تھا۔ کیوں نہ ساتھ بازیاں کر کے میر صاحب کی لنگڑی باندھوں اور پھر دو بازیاں اور یعنی پورے نوکر کا نوشیرواں کر دوں۔ ضروری کروں گا، ابھی تو بہت وقت ہے۔میں نے کہا کہ، میں جاتا ہوں ورنہ لنگڑی کے لیے رسی منگائیے، میر صاحب غصہ میں خود چارپائی کی ادوان کھولنے لگے۔ خان صاحب نے فوراً رسی منگا دی اور اب زور شور سے شطرنج شروع ہو گئی۔\n\nایک بج گیا اور میں اب گویا چونک سا پڑا۔ بلا مبالغہ سیکڑوں بازیاں ہوئیں مگر مجھے لنگڑی نصیب نہ ہوئی۔میں شطرنج چھوڑ چھاڑ کر سیدھا گھر بھاگا۔ پھاٹک پہ جب سائیکل روکی ہے تو آدھی رات گزر کر سوا بجے کا عمل تھا۔\n\nیا اللہ اب کیا کروں؟ میں نے پریشان ہو کر کہا، خانم کیا کہے گی، لاحول ولاقوۃ۔ میں نے بھی کیا حماقت کی۔ بھیا کیا کہے گا؟ بڑی لڑائی ہو گی۔ شش و پنج میں کھڑا سوچتا رہا، مگر اب تو جو ہونا تھا وہ ہوچکا تھا۔\n\nاسی روز کی طرح بھینس کی ناند پر سے دیوار پار کی۔ استانی جی کے کمرے کے سامنے ہوتا ہوا تیزی سے نکل گیا۔ کمرے میں اندھیرا تھا۔ ٹٹول کر کپڑے اتارے ،سلیپر بغل میں دابے برابر والے کمرے میں داخل ہوا جس میں بھیا کا پلنگ تھا۔ بڑی ہوشیاری سے چاروں ہاتھ پاؤں پر چلتا ہوا گویا جانور کی طرح جانے کی ٹھہرائی۔ آدھے کمرے میں جو پہنچا تو ماتھے میں میز کا پایہ لگا اوپر سے کوئی چیز اس زور سے گردن پر گری کہ اس اندھیرے میں آنکھوں تلے اندھیرا آ گیا۔ میں دبک کر بیٹھ گیا۔ میں جانتا ہی تھا کہ بھیا غافل سونے والاہے، خانم سے بھی نمبر لے گیاہے۔ بغیر یہ دیکھے ہوئے کہ یہ کیا گردن زدنی چیز تھی جو میری گردن پر گری، رینگتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔ اور اٹھ کر اب خانم کے کمرے کے دروازہ پر پہنچا۔ خدا کا شکر ہے کہ اندھیرا گھپ تھا۔ اسی طرح پھر چاروں ہاتھ پاؤں کے بل رینگنا شروع کیا، کیونکہ اس روز خانم اٹھ بیٹھی تھی۔ چپکے چپکے پلنگ تک پہنچا اور غڑاپ سے اپنے بچھونے میں لحاف تان کے دم بخود پڑے پڑے سوگیا۔\n\nصبح دیر سے آنکھ کھلی، اٹھا جو سہی تو کیا دیکھتا ہوں کہ خانم مع بسترا غائب۔ ارے ! نکل کر دوڑا تمام معاملہ ہی پلٹ گیا۔ نہ بھیا ہیں نہ خانم، نہ استانی جی! نوکر نے کہا کہ رات کی بارہ بجے کی گاڑی سے سب گیے۔ غضب ہی ہو گیا۔نہ تو ناشتے میں جی لگا اور نہ کسی اور طرف۔ سخت طبیعت پریشان تھی۔ اندھیرا ہو گیا، جن کمروں میں بھیا اور خانم کی مزیدار باتوں اور قہقہوں سے چہل پہل تھی ان میں سناٹا تھا۔ ادھر گھوما، ادھر گوما، گھر ایک اجڑا مقام تھا۔ تھوڑی ہی دیر بعد باؤلوں کی طرح گھومنے لگا۔ ایک دم سے غصہ آیا کہ چلو خان صاحب کے یہاں پھر جمے گی۔ کپڑے آدھے پہنے تھے کہ پھر طبیعت پہ خلجان سوار ہو گیا۔\n\nخدا خدا کر کے تین بجے، اب خانم گھر پہنچنے والی ہو گی، لہٰذا تار دیا۔ جلدی آؤ اور فوراً تار سے جواب دو۔ مگر جواب ندارد۔ وقت گزر گیا۔ دوسرا جوابی تار دیا کہ جلدی آؤ۔ جواب آیا۔ نہیں آتے پھر جواب دیا۔ اب شطرنج کبھی نہیں کھیلیں گے، جواب رات کو آیا۔ خوب کھیلو۔\n\nرات کے بارہ بجے کی گاڑی سے خود روانہ ہو گیا۔\n\nخانم کے گھر پہنچا۔ خانم کی ماں اور باپ دونوں خانم سے بےحد خفا تھے۔ مگر خانم جب چلنے پر راضی ہوئی جب خدا اور رسول اور زمین و آسمان معہ قرآن مجید اور خود خانم کے سر اور بھیا اور خود خانم کی محبت کی قسم کھائی۔ وہ بھی بڑی مشکل سے وہ دن اور آج کا دن، جناب میری شطرنج ایسی چھوٹی ہے کہ بیان سے باہر، مگر سوچ میں رہتا ہوں کہ کون سی تدبیر نکالوں۔ شائد کوئی شاطر بتا سکے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D9%88%DB%8C"} {"title": "شاعر", "poet_page": "مصنف:میکش حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "تو فقط جسم کے زخموں پہ تڑپ جاتا ہے\nمیں ہر اک قلب میں سو زخم نہاں پاتا ہوں\nتو فقط رنگ کا دیوانہ ہے بو کا شیدا\nمیں رگ گل میں بھی بلبل کا لہو پاتا ہوں\nتو فقط دل کی تڑپ رکھتا ہے سینے میں نہاں\nمیں تڑپتا بھی ہوں اور تجھ کو بھی تڑپاتا ہوں\nتو فقط چلتا ہے منزل تجھے معلوم نہیں\nمیں تجھے راہ عمل بیٹھ کے دکھلاتا ہوں\nتجھ کو انسان کی باتیں بھی سمجھنا ہے محال\nمیں ہر اک شے میں تکلم کی ادا پاتا ہوں\nمسجد و منبر و محراب کا پابند ہے تو\nمیں ہر اک ذرہ میں تنویر خدا پاتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1"} {"title": "شاعر (جُوئے سرود آفریں آتی ہے کوہسار سے)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "جُوئے سرود آفریں آتی ہے کوہسار سے\nپی کے شرابِ لالہ گُوں مے کدۂ بہار سے\nمستِ مئے خرام کا سُن تو ذرا پیام تُو\nزندہ وہی ہے کام کچھ جس کو نہیں قرار سے\nپھرتی ہے وادیوں میں کیا دُخترِ خوش خرامِ ابر\nکرتی ہے عشق بازیاں سبزۂ مَرغزار سے\nجامِ شراب کوہ کے خُم کدے سے اُڑاتی ہے\n\nپست و بلند کرکے طے کھیتوں کو جا پلاتی ہے\nشاعرِ دل نواز بھی بات اگر کہے کھری\nہوتی ہے اُس کے فیض سے مزرعِ زندگی ہری\nشانِ خلیل ہوتی ہے اُس کے کلام سے عیاں\nکرتی ہے اُس کی قوم جب اپنا شِعار آزری\nاہلِ زمیں کو نُسخۂ زندگیِ دوام ہے\nخونِ جگر سے تربیت پاتی ہے جو سخنوری\nگُلشنِ دہر میں اگر جُوئے مئے سخن نہ ہو\nپھُول نہ ہو، کلی نہ ہو، سبزہ نہ ہو، چمن نہ ہو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1_%28%D8%AC%D9%8F%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%AF_%D8%A2%D9%81%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%DB%81%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92%29"} {"title": "شاعر (قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضائے قوم)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضائے قوم\nمنزلِ صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوم\n\nمحفلِ نظمِ حکومت، چہرۂ زیبائے قوم\nشاعر رنگیں نوا ہے دیدۂ بینائے قوم\n\nمبتلائے درد کوئی عُضو ہو روتی ہے آنکھ\nکس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1_%28%D9%82%D9%88%D9%85_%DA%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%DB%81%DB%92%D8%8C_%D8%A7%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B9%D8%B6%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%82%D9%88%D9%85%29"} {"title": "شاعر (مشرق کے نیَستاں میں ہے محتاجِ نفَس نَے)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مشرق کے نیَستاں میں ہے محتاجِ نفَس نَے\nشاعر! ترے سینے میں نفَس ہے کہ نہیں ہے\nتاثیرِ غلامی سے خودی جس کی ہوئی نرم\nاچھّی نہیں اُس قوم کے حق میں عجمی لَے\nشیشے کی صُراحی ہو کہ مٹّی کا سبُو ہو\nشمشیر کی مانند ہو تیزی میں تری مَے\nایسی کوئی دُنیا نہیں افلاک کے نیچے\nبے معرکہ ہاتھ آئے جہاں تختِ جم و کے\nہر لحظہ نیا طُور، نئی برقِ تجلّی\nاللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1_%28%D9%85%D8%B4%D8%B1%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%8C%D9%8E%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%AA%D8%A7%D8%AC%D9%90_%D9%86%D9%81%D9%8E%D8%B3_%D9%86%D9%8E%DB%92%29"} {"title": "شاعر رنگیں فسانہ ہو گیا", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شاعر رنگیں فسانہ ہو گیا\nشعر بلبل کا ترانہ ہو گیا\n\nاس قدر نقشے اتارے یار نے\nیہ جہاں تصویر خانہ ہو گیا\n\nوہ چمن کی یاد نے مضطر کیا\nزہر مجھ کو آب و دانہ ہو گیا\n\nآنکھ سے ٹپکی جو آنسو کی لڑی\nقافلہ غم کا روانہ ہو گیا\n\nجان لینے آئے تھے شاعرؔ وہی\nموت کا تو اک بہانہ ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "شاعر فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شاعر فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں\nروح بن کر ذرے ذرے میں سما جاتا ہوں میں\n\nآ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں\nجیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں\n\nجس قدر افسانۂ ہستی کو دہراتا ہوں میں\nاور بھی بیگانۂ ہستی ہوا جاتا ہوں میں\n\nجب مکان و لا مکاں سب سے گزر جاتا ہوں میں\nاللہ اللہ تجھ کو خود اپنی جگہ پاتا ہوں میں\n\nتیری صورت کا جو آئینہ اسے پاتا ہوں میں\nاپنے دل پر آپ کیا کیا ناز فرماتا ہوں میں\n\nیک بہ یک گھبرا کے جتنی دور ہٹ آتا ہوں میں\nاور بھی اس شوخ کو نزدیک تر پاتا ہوں میں\n\nمیری ہستی شوق پیہم میری فطرت اضطراب\nکوئی منزل ہو مگر گزرا چلا جاتا ہوں میں\n\nہائے ری مجبوریاں ترک محبت کے لیے\nمجھ کو سمجھاتے ہیں وہ اور ان کو سمجھاتا ہوں میں\n\nمیری ہمت دیکھنا میری طبیعت دیکھنا\nجو سلجھ جاتی ہے گتھی پھر سے الجھاتا ہوں میں\n\nحسن کو کیا دشمنی ہے عشق کو کیا بیر ہے\nاپنے ہی قدموں کی خود ہی ٹھوکریں کھاتا ہوں میں\n\nتیری محفل تیرے جلوے پھر تقاضا کیا ضرور\nلے اٹھا جاتا ہوں ظالم لے چلا جاتا ہوں میں\n\nتا کجا یہ پردہ داری ہائے عشق و لاف حسن\nہاں سنبھل جائیں دو عالم ہوش میں آتا ہوں میں\n\nمیری خاطر اب وہ تکلیف تجلی کیوں کریں\nاپنی گرد شوق میں خود ہی چھپا جاتا ہوں میں\n\nدل مجسم شعر و نغمہ وہ سراپا رنگ و بو\nکیا فضائیں ہیں کہ جن میں حل ہوا جاتا ہوں میں\n\nتا کجا ضبط محبت تا کجا درد فراق\nرحم کر مجھ پر کہ تیرا راز کہلاتا ہوں میں\n\nواہ رے شوق شہادت کوئے قاتل کی طرف\nگنگناتا رقص کرتا جھومتا جاتا ہوں میں\n\nیا وہ صورت خود جہان رنگ و بو محکوم تھا\nیا یہ عالم اپنے سائے سے دبا جاتا ہوں میں\n\nدیکھنا اس عشق کی یہ طرفہ کاری دیکھنا\nوہ جفا کرتے ہیں مجھ پر اور شرماتا ہوں میں\n\nایک دل ہے اور طوفان حوادث اے جگرؔ\nایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1_%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شاعر ہوں اور امیں ہوں عروس سخن کا میں", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "شاعر ہوں اور امیں ہوں عروس سخن کا میں\nکرنل نہیں ہوں خان بہادر نہیں ہوں میں\nکرنل سہی میں خان بہادر سہی مجازؔ\nاب دوستوں کی ضد ہے تو شاعر نہیں ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B9%D8%B1%D9%88%D8%B3_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شاعرو حد قدامت سے نکل کر دیکھو", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شاعرو حد قدامت سے نکل کر دیکھو\nداستانوں کے اب عنوان بدل کر دیکھو\n\nکیوں ہو تقلید کلیم آج بھی اے دیدہ ورو\nدیدنی ہو کوئی جلوہ تو سنبھل کر دیکھو\n\nشمع و پروانہ کا انداز نیا ہے کہ نہیں\nذکر تھا جس کا اب اس بزم میں چل کر دیکھو\n\nاور بھی رخ نظر آئیں گے تجلی کے ابھی\nرخ نگاہوں کے ذرا اور بدل کر دیکھو\n\nاگلے وقتوں کے فسانے نہ سناؤ یارو\nنئے ماحول کے سانچے میں بھی ڈھل کر دیکھو\n\nکل کے انداز بھی دل کش تھے یہ تسلیم مگر\nآج بھی شہر نگاراں میں نکل کر دیکھو\n\nاپنے احباب کی جانب نہ اٹھاؤ نظریں\nدیکھنا ہے اگر اخترؔ تو سنبھل کر دیکھو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%D9%88_%D8%AD%D8%AF_%D9%82%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "شاعری کی حقیقت اور ماہیت", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(’’شاعری کی حقیقت اور ماہیت‘‘ علامہ شبلی کی کتاب شعرالعجم جلد چہارم کا ابتدائی مضمون ہے۔)\n\nشاعری کی حقیقت شاعری چونکہ وجدانی چیز ہے اس لئے اس کی جامع و مانع تعریف چند الفاظ میں نہیں کی جاسکتی، اس بنا پر مختلف طریقوں سے اس کی حقیقت کا سمجھانا زیادہ مفید ہوگا کہ ان سب کے مجموعہ سے شاعری کا ایک صحیح نقشہ پیش نظر ہو جائے۔خدا نے انسان کو مختلف اعضا اور مختلف قوتیں دی ہیں، اور ان میں سے ہر ایک کے فرائض اور تعلقات الگ ہیں، ان میں دو قوتیں، تمام افعال اور ارادات کا سرچشمہ ہیں، ادراک اور احساس، ادراک کا کام، اشیا کا معلوم کرنا اور استدلال اور استنباط سے کام لینا ہے۔ ہر قسم کی ایجادات، تحقیقات، انکشافات اور تمام علوم و فنون کے نتائج عمل ہیں۔احساس کا کام کسی چیز کا ادراک کرنا، یا کسی مسئلہ کا حل کرنا، یا کسی بات پر غور کرنا اور سوچنا نہیں ہے، اس کا کام صرف یہ ہے کہ جب کوئی مؤثر واقعہ پیش آتا ہے تو وہ متاثر ہو جاتا ہے، غم کی حالت میں صدمہ ہوتا ہے، خوشی میں سرور ہوتا ہے، حیرت انگیز بات پر تعجب ہوتا ہے، یہی قوت جس کو احساس، انفعال، یا فیلنگ سے تعبیر کر سکتے ہیں، شاعری کا دوسرا نام ہے، یعنی یہی احساس جب الفاظ کا جامہ پہن لیتا ہے، تو شعر بن جاتا ہے۔حیوانات پر جب کوئی جذبہ طاری ہوتا ہے تو مختلف قسم کی آوازوں یا حرکتوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ مثلاً شیر گونجتا ہے، مور چنگھاڑتے ہیں، کوئل کوکتی ہے، طاؤس ناچتا ہے، سانپ لہراتے ہیں۔ انسان کے جذبات بھی حرکات کے ذریعہ سے ادا ہوتے ہیں، لیکن اس کو جانوروں سے بڑھ کر ایک اور قوت دی گئی ہے۔ یعنی نطق اور گویائی۔ اس لئے جب اس پر کوئی قوی جذبہ طاری ہوتا ہے تو بے ساختہ اس کی زبان سے موزوں الفاظ نکلتے ہیں۔ اسی کا نام شعر ہے۔(اب منطقی پیرایہ میں شعر کی تعریف کرنا چاہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ جو جذبات، الفاظ کے ذریعہ سے ادا ہوں وہ شعر ہیں۔ ) اور چونکہ یہ الفاظ، سامعین کے جذبات پر بھی اثر کرتے ہیں، یعنی سننے والوں پر بھی وہی اثر طاری ہوتا ہے، جو صاحب جذبہ کے دل پر طاری ہوا ہے۔ اس لئے شعر کی تعریف یوں بھی کر سکتے ہیں کہ جو کلام انسانی جذبات کو برانگیختہ کرے، اور ان کو تحریک میں لائے، وہ شعر ہے۔)ایک یوروپین مصنف لکھتا ہے کہ ’’ہر چیز جو دل پر استعجاب، یا حیرت یا جوش یا اور کسی قسم کا اثر پیدا کرتی ہے شعر ہے، اس بنا پر فلک نیلگون، نجم درفشان، نسیم سحر، گلگونہ شفق، تبسم گل، خرام صبا، نالۂ بلبل، ویرانی دشت، شادابی چمن، غرض تمام عالم شعر ہے، یہ آج کل کا خیال ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ حضرت خواجہ فرید الدین عطار نے آج سے چھ سو برس پہلے کہا تھا۔۔۔پس جہان شاعر بود چوں دیگراںجو چیزیں دل پر اثر کرتی ہیں، بہت سی ہیں۔ مثلاً موسیقی، مصوری، صنعت گری وغیرہ لیکن شاعری کی اثر انگیزی کی حد سب سے زیادہ وسیع ہے۔ موسیقی صرف قوت سامعہ کو محظوظ کر سکتی ہے۔ سامعہ نہ ہو تو وہ کچھ کام نہیں کر سکتی، تصویر سے متاثر ہونے کے لئے بینائی شرط ہے، لیکن شاعری تمام حواس پر اثر ڈال سکتی ہے، باصرہ، ذائقہ، شامہ، لامسہ، سب اس سے لطف اٹھا سکتے ہیں۔ فرض کرو، شراب آنکھوں کے سامنے نہیں ہے اس لئے آنکھ اس وقت اس سے حظ نہیں اٹھا سکتی لیکن جب ایک شاعر اس کو آتش سیال سے تعبیر کرتا ہے تو ان الفاظ سے ایک مؤثر منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے، اسی طرح جب بوسہ کو شاعرانہ انداز میں تنگ شکر کہہ دیتے ہیں تو کام و زبان کو مزہ محسوس ہوتا ہے۔کسی 1 چیز کی حقیقت اور ماہیت کے تعین کرنے کا آسان علمی طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کا کوئی نمایاں وصف لے لیا جائے پھر یہ دیکھا جائے کہ اس وصف میں اور کیا کیا چیزیں اس کے ساتھ شریک ہیں۔ پھر ان صفات کو ایک ایک کر کے متعین کیا جائے جن کی وجہ سے یہ چیز اپنی اور ہم جنس چیزوں سے الگ اور ممتاز ہوتی گئی ہے۔اس قدر سب تسلیم کرتے ہیں کہ شعر کا نمایاں وصف جذبات انسانی کا برانگیختہ کرنا ہے یعنی اس کو سن کر دل میں رنج، یا خوشی، یا جوش کا اثر پیدا ہوتا ہے۔ یہ خصوصیت، شاعری کو سائنس اور علوم و فنون سے ممتاز کردیتی ہے، شاعری کا تخاطب جذبات سے ہے اور سائنس کا یقین سے، سائنس، استدلال سے کام لیتا ہے اور شاعری محرکات کو استعمال کرتی ہے، سائنس عقل کے سامنے کوئی علمی مسئلہ پیش کرتا ہے، لیکن شاعری احساسات کو دلکش مناظر دکھاتی ہے، لیکن یہ خاصیت، موسیقی، تصویر بلکہ مناظر قدرت میں پائی جاتی ہے، اس لئے کلام یا الفاظ کی قید لگانی چاہئے کہ یہ چیزیں بھی اس دائرہ سے نکل جائیں۔تاہم خطبہ (لکچر) تاریخ، افسانہ اور ڈرامہ، شاعری کی حد میں داخل رہیں گی ان میں اور شعر میں حد فاصل قائم کرنا مشکل ہے، زیادہ دقت اس لئے ہوتی ہے کہ اکثر اعلی نظمیں افسانہ کی شکل میں ہوتی ہیں، اور اکثر افسانوں میں شاعری کی روح پائی جاتی ہے، اس لئے دونوں جب باہم مل جاتی ہیں، تو ان میں امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ افسانہ اسی حد تک افسانہ ہے،جہاں تک اس میں خارجی واقعات اور زندگی کی تصویر ہوتی ہے۔ جہاں سے اندرونی جذبات اور احساسات شروع ہوتے ہیں، وہاں شاعری کی حد آ جاتی ہے۔ (افسانہ نگار، بیرونی اشیاء کا استقصا کے ساتھ مطالعہ کرتا ہے، بخلاف ا س کے شاعر، اندرونی جذبات اور احساس کی نیرنگیوں کا ماہر بلکہ تجربہ کار ہوتا ہے۔تاریخ اور شعر کا فرق تاریخ اور شعر کا فرق ایک مثال کے ذریعہ سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ ایک شخص جنگل میں جا رہا ہے۔ کسی گوشہ سے ایک مہیب شیر ڈکارتا ہوا نکلا، اس کی پر رعب گونج، بھیانک چہرہ، خشمگیں آنکھوں نے اس شخص کے دل کو لرزا دیا، یہ شخص کسی کے سامنے شیر کا حلیہ اور شکل و صورت جن مؤثر لفظوں میں بیان کرے گا، وہ شعر ہے۔علم الحیوانات کا ایک عالم کسی عجائب خانہ میں جاتا ہے، وہاں ایک شیر کٹہرہ میں بند ہے، یہ عالم شیر کے ایک ایک عضو کو علمی حیثیت سے دیکھتا ہے، اور علمی طریقہ سے کسی مجمع کے سامنے شیر پر لکچر دیتا ہے، یہ سائنس، تاریخ یا واقعہ نگاری ہے۔(شاعری کی اقسام میں ایک قسم واقعہ نگاری ہے۔ یعنی شاعر، خارجی واقعات کی تصویر کھینچتا ہے۔ لیکن اس حیثیت سے نہیں کہ فی نفسہ وہ کیا ہیں بلکہ اس حیثیت سے کہ وہ ہمارے جذبات پر کیا اثر ڈالتی ہے) شاعر ان اشیاء کی، سادہ خط و خال کی تصویر نہیں کھینچتا بلکہ ان میں قوت تخیل کا رنگ بھرتا ہے تاکہ مؤثر بن جائے۔اس تقریر سے شاعری اور واقعہ نگاری کا فرق واضح ہوجاتا ہے، لیکن خطابت اور شاعری کی حد فاصل، اب بھی نہیں قائم ہوئی۔ (خطابت میں بھی شاعری کی طرح جذبات اور احساسات کا برانگیختہ کرنا مقصود ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں شاعری اور خطابت بالکل جدا جدا چیزیں ہیں، خطابت کا مقصود، حاضرین سے خطاب کرنا ہوتا ہے، اسپیکر، حاضرین کے مذاق، معتقدات، اور میلان طبع کی جستجو کرتا ہے۔ تاکہ اس کے لحاظ سے تقریر کا ایسا پیرایہ اختیار کرے، جس سے ان کے جذبات کو برانگیختہ کر سکے اور اپنے کام میں لائے، بخلاف اس کے شاعر کو دوسروں سے غرض نہیں ہوتی۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ کوئی اس کے سامنے ہے بھی یا نہیں؟ اس کے دل میں جذبات پیدا ہوتے ہیں، وہ بے اختیار ان جذبات کو ظاہر کرتا ہے، جس طرح درد کی حالت میں بے ساختہ آہ نکل جاتی ہے، بے شبہ یہ اشعار اوروں کے سامنے پڑھے جائیں تو ان کے دل پر اثر کریں گے، لیکن شاعر نے اس غرض کو پیش نظر نہیں رکھا تھا۔ جس طرح کوئی شخص اپنے عزیز کے مرنے پر نوحہ کرتا ہے تو اس کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ لوگوں کو سنائے لیکن اگر کوئی شخص سن لے تو ضرور تڑپ جائے گا۔)اصلی شاعر وہی ہے جس کو سامعین سے کچھ غرض نہ ہو۔ لیکن جو لوگ بہ تکلف شاعر بنتے ہیں، ان کا بھی فرض ہے کہ ان کے انداز کلام سے یہ مطلق نہ پایا جائے کہ وہ سامعین کو مخاطب کرنا چاہتے ہیں۔ ( ایک ایکٹر کو خوب معلوم ہے کہ بہت سے حاضرین اس کے سامنے موجود ہیں۔ لیکن اگر ایکٹ کی حالت میں، وہ اس علم کا اظہار کردے تو سارا پارٹ غارت ہوجائے گا۔ شاعر اگر اپنے نفس کی بجائے، دوسروں سے خطاب کرتا ہے، دوسروں کے جذبات کو ابھارنا چاہتا ہے، جو کچھ کہتا ہے، اپنے لئے نہیں، بلکہ دوسروں کے لئے کہتا ہے، تو شاعر نہیں بلکہ خطیب ہے۔ ) اس سے یہ واضح ہوگا کہ شاعری تنہا نشینی اور مطالعہ نفس کا نتیجہ ہے، بخلاف اس کے خطابت، لوگوں سے ملنے جلنے اور راہ و رسم رکھنے کا ثمرہ ہے، اگر ایک شخص کے اندرونی احساسات تیز اور مشتعل ہیں تو وہ شاعر ہو سکتا ہے لیکن خطیب کے لئے ضرور ہے کہ دوسروں کے جذبات اور احساس کا نباض ہو۔شاعری کی اصلی عناصر کیا ہیں؟ ایک عمدہ شعر میں بہت سی باتیں پائی جاتی ہیں۔ اس میں وزن ہوتا ہے، محاکات ہوتی ہے یعنی کسی چیز یا کسی حالت کی تصویر کھینچی جاتی ہے، خیال بندی ہوتی ہے، الفاظ سادہ اور شیریں ہوتے ہیں، بندش صاف ہوتی ہے، طرز ادا میں جدت ہوتی ہے، لیکن کیا یہ سب چیزیں شاعری کے اجزا ہیں؟ کیا ان میں سے ہر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر وہ نہ ہوتی تو شعر شعر نہ ہوتا، اگر ایسا نہیں ہے اور قطعاً نہیں ہے تو ان تمام اوصاف میں خاص ان چیزوں کو متعین کر دینا چاہئے جن کے بغیر شعر، شعر نہیں رہتا، عام لوگوں کے نزدیک یہ چیز وزن ہے۔ اس لئے عام لوگ کلام موزوں کو شعر کہتے ہیں، لیکن محققین کی یہ رائے نہیں، وہ وزن کو شعر کا ایک ضروری جز سمجھتے ہیں تاہم ان کے نزدیک وہ شاعری کا اصل عنصر نہیں ہے۔ارسطو کے نزدیک یہ چیز محاکات یعنی مصوری ہے، لیکن یہ بھی صحیح نہیں، اگر کسی شعر میں تخیل ہو اور محاکات نہ ہو تو کیا وہ شعر نہ ہوگا؟ سینکڑوں اشعار ہیں جن میں محاکات کے بجائے صرف تخیل ہے، اور باوجود اس کے وہ عمدہ اشعار خیال کئے جاتے ہیں۔ شاید یہ کہا جائے کہ محاکات ایسا وسیع مفہوم ہے کہ تخیل اس کے دائرہ سے باہر نہیں جاسکتی۔ اس لئے تخیل بھی محاکات ہے۔ لیکن یہ زبردستی ہے۔ آگے چل کر جب ہم محاکات اور تخیل کی تعریف لکھیں گے تو واضح ہوجائے گا کہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، گویہ ممکن ہے کہ بعض مثالوں میں دونوں کی سرحدیں مل جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شاعری دراصل دو چیزوں کا نام ہے، محاکات اور تخیل۔ ان میں سے ایک بھی پائی جائے تو شعر شعر کہلانے کا مستحق ہوگا، باقی اور اوصاف یعنی سلاست، صفائی حسن بندش وغیرہ وغیرہ شعر کے اجزائے اصلی نہیں بلکہ عوارض اور مستحسنات ہیں۔محاکات کی تعریف محاکات کے معنی کسی چیز، کسی حالت کا اس طرح ادا کرنا ہے کہ اس شے کی تصویر آنکھوں میں پھر جائے، تصویر اور محاکات میں یہ فرق ہے کہ تصویر میں اگرچہ مادی اشیا کے علاوہ، حالات یا جذبات کی بھی تصویر کھینچی جا سکتی ہے، چنانچہ اعلیٰ درجہ کے مصور، انسان کی ایسی تصویر کھینچ سکتے ہیں کہ چہرہ سے جذبات انسانی مثلاً رنج، خوشی، تفکر، حیرت، استعجاب، پریشانی اور بےتابی ظاہر ہو، جہانگیر کے سامنے ایک مصور نے ایک عورت کی تصویر پیش کی تھی، جس کے تلوے سہلائے جا رہے ہیں، تلووں کے سہلاتے وقت چہرہ پر گدگدی کا جو اثر طاری ہوتا ہے وہ تصویر کے چہرہ سے نمایاں تھا، تاہم تصویر ہر جگہ محاکات کا ساتھ نہیں دے سکتی، سینکڑوں گونا گوں واقعات، حالات اور واردات ہیں جو تصویر کی دسترس سے باہر ہیں۔ مثلاً قاآنی ایک موقع پر بہار کا سماں دکھاتا ہے۔نرمک نرمک نسیم، زیر گلاں 2 میخزد غبغب ایں می مکد، عارض آں می مزد سنبل ایں می کشد، گردن آں می گزد گہ بہ چمن مے چمد، گہ بہ سمن می وزد گاہ بشاخ درخت گہ بہ لب جوئباریعنی ہلکی ہلکی ہوا آئی، پھولوں میں گھسی، کسی پھول کا گال چوم لیا، کسی کی ٹھوڑی چوس لی، کسی کے بال کھینچے، کسی کی گردن دانت سے کاٹی، کیاریوں میں کھیلتے کھیلتے چنبیلی کے پاس پہنچی اور درخت کی ٹہنیوں میں سے ہوتی ہوئی نہر کے کنارے پہنچ گئی۔ اس سماں کو مصور تصویر میں کیونکر دکھا سکتا ہے۔یہ تو مادی اشیاء تھیں، خیالات، جذبات اور کیفیات، کا ادا کرنا اور زیادہ مشکل ہے۔ تصویر اس سے کیونکر عہدہ بر آہوسکتی ہے مثلاً اس شعر میں،نسب نامہ دولت کے قباد ورق بر ورق، ہر سوے برد بادیہ خیال ادا کیا گیا ہے کہ دارا کے مرنے سے کیانی خاندان بالکل برباد ہوگیا۔ یہ خیال تصویر کے ذریعہ سے کیونکر ادا ہو سکتا ہے۔(یا مثلاً ہوس پیشہ عاشقوں کو اکثر یہ واردات پیش آتی ہے کہ کسی معشوق سے دل لگاتے ہیں، چند روز کے بعد اس کی بے مہریوں اور کج ادائیوں سے تنگ آکر چاہتے ہیں کہ اس کو چھوڑ دیں، اور کسی اور سے دل لگائیں پھر رک جاتے ہیں کہ ایسا دلفریب معشوق کہاں ہاتھ آئے گا، اس طرح آپ ہی آپ روٹھتے اور منتے رہتے ہیں، معشوق کو ان واقعات کی خبر تک نہیں ہوتی اس حالت کو ایک شاعر یوں ادا کرتا ہے۔)صد بار جنگ کردہ بہ او صلح کردہ ایماور اخبر نبودہ ز صلح و زجنگ ما(اس حالت کو مصور تصویر کے ذریعہ سے کیونکر دکھا سکتا تھا، بخلاف اس کے شاعرانہ مصوری، ہر خیال، ہر واقعہ، ہر کیفیت، کی تصویر کھینچ سکتی ہے)ایک بڑا فرق عام مصوری اور شاعرانہ مصوری میں یہ ہے کہ تصویر کی اصلی خوبی یہ ہے کہ جس چیز کی تصویر کھینچی جائے، اس کا ایک ایک خال و خط دکھایا جائے ورنہ تصویر ناتمام اور غیر مطابق ہوگی، بخلاف اس کے شاعرانہ مصوری میں یہ التزام ضروری نہیں، شاعر اکثر صرف ان چیزوں کو لیتا ہے اور ان کو نمایاں کرتا ہے، جن سے ہمارے جذبات پر اثر پڑتا ہے، باقی چیزوں کو وہ نظر انداز کرتا ہے یا ان کو دھندلا رکھتا ہے کہ اثر اندازی میں ان سے خلل نہ آئے۔ فرض کرو ایک پھول کی تصویر کھینچنی ہو تو مصور کا کمال یہ ہے کہ ایک ایک پنکھڑی اور ایک ایک رگ و ریشہ دکھائے، لیکن شاعر کے لئے یہ ضروری نہیں، ممکن ہے کہ وہ ان چیزوں کو اجمالی اور غیر نمایاں صورت میں دکھائے تاہم مجموعہ سے وہ اثر پیدا کردے جو اصلی پھول کے دیکھنے سے پیدا ہوتا ہے۔ایک اور بڑا فرق، مصوری اور محاکات میں یہ ہے کہ مصور کسی چیز کی تصویر کھینچنے سے زیادہ سے زیادہ اثر پیدا کر سکتا ہے جو خود اس چیز کے دیکھنے سے پیدا ہوتا لیکن شاعر باوجود اس کے کہ تصویر کا ہر جز نمایاں کر کے نہیں دکھاتا تاہم اس سے زیادہ اثر پیدا کر سکتا ہے جو اصل چیز کے دیکھنے سے پیدا ہو سکتا ہے، سبزہ پر شبنم دیکھ کر وہ اثر نہیں پیدا ہوسکتا جو اس شعر سے ہوسکتا ہے۔کھا کھا کے اوس اوربھی سبزہ ہرا ہوا تھا موتیوں سے دامن صحرا بھرا ہواتصویر کا اصلی کمال یہ ہے کہ اصل کے مطابق ہو اور اگر مصور اس امر میں کامیاب ہوگیا تو اس کو کامل فن کا خطاب مل سکتا ہے، لیکن شاعر کو اکثر موقعوں پر دو مشکل مرحلوں کواسامنا ہوتا ہے یعنی نہ اصل کی پوری پوری تصویر کھینچ سکتا ہے۔ کیونکہ بعض جگہ اس قسم کی پوری مطابقت احساسات کو برانگیختہ نہیں کرسکتی، نہ اصل سے زیادہ دور ہوسکتا ہے ورنہ اس پر اعتراض ہوگا کہ صحیح تصویر نہیں کھینچی۔ اس موقع پر اس کو تخئیل سے کام لینا پڑتا ہے۔ وہ ایسی تصویر کھینچتا ہے جو اصل سے آب و تاب اور حسن و جمال میں بڑھ جاتی ہے لیکن وہ قوت تخئیل سے سامعین پر یہ اثر ڈالتا ہے کہ وہی چیز ہے، لوگوں نے اس کو امعان نظر سے نہیں دیکھا تھا۔ اس لئے اس کا حسن پورا نمایاں نہیں ہوتا تھا۔تخئیل تخئیل کی تعریف ہنری لوئیس نے یہ کی ہے، ’’وہ قوت جس کا یہ کام ہے کہ ان اشیاء کو جو مرئی نہیں ہیں یا جو ہمارے حواس کی کمی کی وجہ سے ہم کو نظر نہیں آئیں، ہماری نظر کے سامنے کردے۔‘‘ لیکن یہ تعریف پوری جامع اور مانع نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی چیزوں کی منطقی، جامع اور مانع تعریف ہو بھی نہیں سکتی۔تخئیل دراصل قوت اختراع کا نام ہے۔ عام لوگوں کے نزدیک منطق اور فلسفہ کا موجد صاحب تخئیل نہیں کہا جاسکتا بلکہ اگر خود کسی فلسفہ دان کو اس لقب سے خطاب کیا جائے تو اس کو عار آئے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فلسفہ اور شاعری میں قوت تخئیل کی یکساں ضرورت ہے۔ یہی قوت تخئیل ہے جو ایک طرف فلسفہ میں ایجاد اور اکتشاف مسائل کا کام دیتی ہے اور دوسری طرف شاعری میں شاعرانہ مضامین پیدا کرتی ہے، چونکہ اکثر سائنس دان شاعری کا مذاق نہیں رکھتے اور شعراء فلسفہ اور سائنس سے نامانوس ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ قوت تخئیل کو فلسفہ اور سائنس سے تعلق نہیں، لیکن یہ صحیح نہیں، بے شبہ عام سائنس یا فلسفہ جاننے والے جن میں قوت ایجاد نہیں قوت تخئیل نہیں رکھتے، لیکن جو لوگ کسی مسئلہ یا فن کے موجد ہیں ان کی قوت تخئیل سے کون انکار کرسکتا ہے۔نیوٹن اور ارسطو میں اسی قدر زبردست قوت تخئیل تھی جس قدر ہومر اور فردوسی میں، البتہ دونوں کے اغراض و مقاصد مختلف ہیں اور دونوں کی قوت تخئیل کے استعمال کا طریقہ الگ الگ ہے۔ فلسفہ اور سائنس میں قوت تخئیل کا استعمال اس غرض سے ہوتا ہے کہ ایک علمی مسئلہ حل کردیا جائے۔ لیکن شاعری میں تخئیل سے یہ کام لیا جاتا ہے کہ جذبات انسانی کو تحریک ہو۔فلسفی کو صرف ان موجودات سے غرض ہے جو واقع میں موجود ہیں۔ بخلاف اس کے شاعر ان موجودات سے بھی کام لیتا ہے جو مطلق موجود نہیں، فلسفہ کے دربار میں، ہما، سیمرغ، گاو زمین، تخت سلیمان کی مطلق قدر نہیں، لیکن یہی چیزیں ایوان شاعری کے نقش و نگار ہیں۔ فلسفی کی زبان سے اگر سیمرغ زرّیں پر کا لفظ نکل جائے تو ہر طرف سے ثبوت کا مطالبہ ہوگا، لیکن شاعر اس قسم کی فرضی مخلوقات سے اپنا عالم خیال آباد کرتا ہے اور کوئی اس سے ثبوت کا طالب نہیں ہوتا، کیونکہ فلاسفر کی طرح وہ کسی مسئلہ کی تعلیم کا دعویٰ نہیں کرتا بلکہ وہ ہم کو صرف خوش کرنا چاہتا ہے اوربے شبہ وہ اس میں کامیاب ہوتا ہے،۔ ایک پھول کو دیکھ کر سائنس دان تحقیق کرنا چاہتا ہے کہ وہ نباتات کے کس خاندان سے ہے، اس کے رنگ میں کن رنگوں کی آمیزش ہے، اس کی غذا زمین کے کن اجزاء سے ہے؟ اس میں نر و مادہ دونوں کے اجزا ہیں یا صرف ایک کے؟ لیکن شاعر کو ان چیزوں سے غرض نہیں،پھول دیکھ کر بے اختیار اس کو یہ خیال پیدا ہوتا ہے،اے گل بتو خر سندم تو بوے کسے داریچاند کی نسبت ایک ہیئت دان کو ان مسائل سے غرض ہے کہ وہ کن عناصر سے بنا ہے؟ آباد ہے یا ویران؟ روشن ہےیا تاریک؟ سمندر کے مدو جزر سے اس کو کیا تعلق ہے، وغیرہ وغیرہ لیکن شاعر کو چاند سےصرف یہ غرض ہے کہ وہ معشوق کا روئے روشن ہے۔ شاعر کے سامنے (قوت تخئیل کی بدولت) تمام بے حس اشیا جاندار چیزیں بن جاتی ہیں۔ اس کے کانوں میں ہر طرف سے خوش آیند صدائیں آتی ہیں، زمین آسمان، ستارے، بلکہ ذرہ ذرہ اس سے باتیں کرتا ہے۔قوت تخئیل کے ذریعہ سے اکثر شاعر ایک نیا دعویٰ کرتا ہے، اور خیالی دلائل پیش کرتا ہے ممکن ہے کہ ایک منطقی اس کی دلیل نہ تسلیم کرے۔ لیکن جن لوگوں کو وہ قوت تخئیل کے ذریعہ سے معمول کرلیتا ہے، وہ اس کے تسلیم کرنے میں مطلق تامل نہیں کرسکتے۔ مثلاً ایک شاعر کہتا ہے،دوش از برم چو رفتی آگہ نگشتم آرے عمری و رفتنِ عمر آواز پا نداردیعنی معشوق جو گودی سے نکل کر چلا گیا تو مجھ کو خبر نہیں ہوئی، کیونکہ معشوق عاشق کی زندگی ہے اور زندگی کے جانے کے وقت جانے کی آہٹ نہیں معلوم ہوتی، اس دلیل کے دو مقدمے ہیں۔ ۱۔ ’’معشوق عاشق کی زندگی ہے۔‘‘ ۲۔ ’’زندگی کے جانے کی آہٹ نہیں معلوم ہوتی۔‘‘ ان دونو ں میں سے تم کس کا انکار کر سکتے ہو۔محاکات کی تکمیل کن کن چیزوں سے ہوتی ہے؟۱۔ محاکات جب موزوں کلام کے ذریعہ کی جائے تو سب سے پہلے وزن کا تناسب شرط ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ درد، غم، رنج، جوش، غیظ، غضب، ہر ایک کے اظہار کا لہجہ اور آواز مختلف ہے، اس لئے جس جذبہ کی محاکات مقصود ہو، شعرکا وزن بھی اس کے مناسب ہونا چاہئے تاکہ اس جذبہ کی پوری حالت ادا ہوسکے، مثلاً فارسی میں بحر تقارب جس میں شاہ نامہ ہے، رزمیہ خیالات کے لئے موزوں ہے۔ چنانچہ فارسی میں جس قدر رزمیہ مثنویاں لکھی گئیں، اسی بحر میں لکھی گئیں، اسی طرح غزل اور عشق و عاشقی کے خیالات کے لئے خاص بحریں ہیں، ان خیالات کو قصیدہ کی بحروں میں ادا کیا جائے تو تاثیر گھٹ جاتی ہے۔۲۔ محاکات کا اصلی کمال یہ ہے کہ اصل کے مطابق ہو۔ یعنی جس چیزکا بیان کیا جائے، اس طرح کیا جائےکہ خود وہ شے مجسم ہوکر سامنے آجائے۔ شاعری کا اصلی مقصد طبیعت کا انبساط ہے، کسی چیزکی اصلی تصویر کھینچنا خود طبیعت میں انبساط پیدا کرنا ہے۔ ( وہ شے اچھی یا بری ہے اس سے بحث نہیں) مثلاً چھپکلی ایک بدصورت جانور ہے جس کو دیکھ کر نفرت ہوتی ہے، لیکن اگر ایک استاد مصور چھپکلی کی ایسی تصویر کھینچ دے کہ بال برابر فرق نہ ہو تو اس کے دیکھنے سے خواہ مخواہ لطف آئے گا۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ نقل کا اصل سے مطابق ہونا خود ایک مؤثر چیز ہے، اب اگر وہ چیزیں جن کی محاکات مقصود ہے، خود بھی دلآویز اور لطف انگیز ہوں تومحاکات کااثربہت بڑھ جائے گا۔اصل کی مطابقت مختلف طریقوں سے ہوئی ہے (۱) جس شے کا بیان کرنا ہے اس کی جزئیات کا اس طرح استقصا کیا جائے کہ پوری شے کی تصویر نظر کے سامنے آجائے، مثلاً اگر احباب کی مفارقت کا واقعہ لکھنا ہے، تو ان تمام جزوی حالات اور کیفیات کا استقصا کرنا چاہئے جو اس وقت پیش آتی ہے۔ یعنی اس حالت میں ایک دوسرے کی طرف کس نگاہ سے دیکھتا ہے؟ کس طرح گلے مل کر روتا ہے؟ کس قسم کی درد انگیز باتیں کرتا ہے؟ کن باتوں سے دل کو تسلی دیتا ہے؟ رخصت کے وقت کیا بے اختیار حرکات صادر ہوتے ہیں؟ آغاز میں جو کیفیت تھی کس طرح بتدریج بڑھتی جاتی ہے؟ حاضرین پر اس سے کیا اثر پڑتا ہے؟ ان باتوں میں سے ایک بات بھی رہ گئی تو مطابقت میں کمی رہ گئی۔ فردوسی اور نظامی میں بڑا فرق یہی ہے کہ فردوسی نہایت چھوٹے چھوٹے جزئیات کو لیتا ہے۔ نظامی عالم تخیل کے زور میں جزئیات پر نظر نہیں ڈالتے۔ مثلاً فردوسی ایک موقع پر ایک دعوت کے جلسہ کا حال لکھتا ہے،دگر بارہ بستد زمین داد بوس (دوسری بار پیالہ ہاتھ میں لیا اور زمین چومی اور)چنیں گفت کیں بادہ بر روے طوس (کہا کہ یہ پیالہ طوس کی یادگار پیتا ہوں)سران جہان دار برخاستند (تمام سردار کھڑے ہوگئے)ابر پہلوان خواہش آراستند (اور رسم کی مرضی کی تبعیت کی)اس زمانہ میں قاعدہ تھا کہ کسی کی یاد گار میں شراب پیتے تھے تو زمین کو چومتے تھے، پھر اس شخص کی طرف خطاب کر کے کہتے تھے کہ یہ یاد ’’فلاں۔‘‘ اس کے ساتھ اور حاضرین مجلس کھڑے ہوجاتے تھے، جیسا کہ آج کل بھی دستور ہے۔ فردوسی نے ان تمام واقعات کو ادا کیا۔ اسی موقع کو اگر نظامی لکھتے تو شراب اور جام کی تشبیہ اور استعارہ کا طلسم باندھتے لیکن ان جزوی واقعات کو نظر انداز کر جاتے، قاآنی کا ایک بہاریہ قصیدہ ہے، جس کے چند اشعار یہ ہیں،یکے بر لالہ پا کو بد کہ ہے ہے رنگ می دارد (بہار میں کوئی لالہ پر پاؤں دے دے مارتا ہے)یکے از گل بوجد آید کہ دہ دہ بوئے یار آید (کہ اہاہا اس میں شراب کا رنگ ہے، کوئی پھول دیکھ کر)یکے اینجا گسارد می یکے آنجا نوازد نے (جھومتا ہے کہ سبحان اللہ معشوق کی خوشبو آتی ہے)صدائے ہائے ہوئے دہے، زہر سوئے ہزار آید (کوئی یہاں شراب اڑا رہا ہے، کوئی وہاں بانسری)زہر کوئے صدائے ارغنوں و چنگ و نے خیزد (بجا رہا ہے۔ ہر طرف سے ہوہا کی آوازیں آرہی ہیں)زہر سوئے صدائے بربط و طنبور و تار آید (ہر گلی میں ارگن اور ستار بج رہا ہے)یکے بر لالہ می غلطد یکے در سبزہ می رقصد (کوئی لالہ پر لوٹ رہا ہے، کوئی سبزہ پر ناچ رہا ہے)یکے گاہے روداز ہوش یک گہ ہوشیار آید (کوئی بیہوش ہوا جاتا ہے، کوئی ہوش میں آنے لگا ہے)الایا ساقیا! مے وہ، بہ جان من پیاپے دہ (ہاں! اے ساقی شراب دے اور برابر دئے جا)دمادم مے خورد مے دہ، کہ می ترسم خمار آید (خود پی اور دم بدم پلاتا جا ورنہ مجھ کو ڈر ہے کہ خمار آجائے)ان اشعار میں بہار کی دلچسپی، اور لوگوں کی سرمستی کی تصویر کھینچی ہے، محاکات کا اعلیٰ درجہ ہے، ایک ایک جزئی حالت کا استقصا کر کے اس طرح ادا کیا ہے کہ پورا سماں آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔۳۔ اکثر چیزیں اس قسم کی ہیں کہ ان کے مختلف انواع ہوتے ہیں اور ہر نوع میں الگ خصوصیت ہوتی ہے، مثلاً آواز ایک عام چیز ہے، اس کی مختلف نوعیں ہیں، پست، بلند، شیریں، کرخت، سریلی، وغیرہ وغیرہ، ذوقی چیزوں میں یہ فرق اور نازک ہو جاتا ہے، مثلاً معشوق کی ادا ایک عام چیز ہے لیکن الگ الگ خصوصیتوں کی بنا پر ان کے جدا جدا نام ہیں یعنی، ناز، عشوہ، غمزہ، شوخی و بیباکی۔ جو زبانیں وسیع اور لطیف ہیں، ان میں ان دقیق فرقوں کی بنا پر ہر چیزکے لئے الگ الگ الفاظ پیدا ہوجاتے ہیں۔اب جب کسی چیز کی محاکات مقصود ہو تو ٹھیک وہی الفاظ استعمال کرنے چاہئیں جو ان خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں۔ ساؤدی نے ایک نظم لکھی تھی جس کا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اس کے کم سن بچے نے پوچھا کہ ’’سیلاب کیونکر آتا ہے؟‘‘ ساؤدی نے اس کے جواب میں یہ نظم لکھی اور دکھایا کہ سیلاب کس طرح آہستہ آہستہ شروع ہوتا ہے اور کس طرح بڑھتا جاتا ہے۔ اس نظم میں تمام الفاظ اس قسم کے آئے ہیں کہ پانی کے گرنے، بہنے، پھیلنے، وغیرہ وغیرہ کے وقت جو آوازیں پیدا ہوتی ہیں، الفاظ کے لہجہ سے ان کا اظہار ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص خوش ادائی سے اس نظم کو پڑھے تو سننے والے کو معلوم ہوگا کہ زور و شور سے سیلاب بڑھتا ہوا چلا آتا ہے۔میرا طالب العلمی کا زمانہ تھا کہ ایک دن ایک صحبت میں کسی نے کلیم کا یہ شعر پڑھا،سربہ بستان چو دہد جلوۂ یغمائی را اول از سرو کند جامہ رعنائی راوالد مرحوم بھی تشریف رکھتے تھے، میں نے کہا کپڑا اتارنے کو جامہ کشیدن بھی کہتے ہیں۔ اس لیے شاعر اگر ’’کند‘‘ بجائے ’’کشد‘‘ کہتا تو زیادہ فصیح ہوتا، جامہ کندن گو صحیح ہے لیکن فصیح نہیں، سب چپ ہوگئے۔ والد مرحوم نے ذرا سوچ کر کہا کہ ’’نہیں یہی لفظ (کند) شعر کی جان ہے، شعر کا مطلب یہ ہے کہ معشوق باغ میں جب غارت گری کی شان دکھاتا ہے توپہلے سرو کی رعنائی کا لباس اتار لیتا ہے، لباس اتارنے کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ مثلاً کوئی شخص گرمی وغیرہ کی وجہ سے کپڑا اتار کر رکھ دے یا اس کا نوکر اتارلے، دوسرے یہ کہ سزا کے طور پر کسی کے کپڑے اتروا لئے جائیں یا نچوائیں جائیں۔ فارسی میں ان کے لئے دو مختلف لفظ ہیں، جامہ کشیدن، اورجامہ کندن۔ چونکہ یہاں مقصود یہ ہے کہ معشوق، ذلت کے طور پر سرو کا کپڑا اتار لیتا ہے اس لئے یہاں جامہ کندن کا لفظ جامہ کشیدن سے زیادہ موزوں ہے۔ تمام حاضرین نے اس توجیہ کی بے ساختہ تحسین کی۔علی قلی کا شعر ہے،بگزشت زپیش من و غیرش بہ حکایت پیچید کہ ہرگز نتواند بہ قفا دیدشعر کا مطلب یہ ہے کہ معشوق سامنے سے جارہا تھا، رقیب بھی ساتھ تھا، اس نے اس طرح اس کو باتوں میں لگا لیا کہ معشوق مڑ کر پیچھے نہ دیکھ سکا۔ (ورنہ شاید میری طرف بھی اس کی نگاہ پڑ جاتی۔ ’’پیچید‘‘ کے لفظ سے واقعہ کی صورت جس طرح ذہن میں آجاتی ہے اور کسی لفظ سے نہیں آسکتی۔)سکندر نے جب دارا کو برابری کے دعوے سے خط لکھا ہے، تو دارا کو سخت رنج اور حیرت ہوئی، اس موقع پر نظامی کہتے ہیں،بخندید و گفت اندراں زہر خند کہ افسوس برکار چرخ بلندفلک بین چہ ظلم آشکارا کند کہ اسکندر آہنگ دارا کندجب کوئی کمینہ شخص کسی معزز آدمی سے برابری کا دعوی کرتا ہے، تو بعض وقت اس کو غصہ میں ہنسی آجاتی ہے، یہ ہنسی، رنج، غصہ اور عبرت کا گویا مجموعہ ہوتی ہے، فارسی میں اس ہنسی کو زہر خند کہتے ہیں، دارا پر سکندر کے خط سے جو حالت طاری ہوئی زہر خند کے لفظ کے سوا اور کسی طریقہ سے اس کی تصویر نہیں کھینچ سکتی تھی۔ اسی طرح خاص خاص محاورے اور اصطلاحیں، خاص خاص مضامین کے لئے مخصوص ہیں، ان مضامین کو ان کے سوا اور طریقہ سے ادا کیا جائے تو پوری محاکات نہیں ہوسکتی۔۴۔ جب کسی قوم یا کسی ملک، یا کسی مرد، یا عورت، یا بچہ کی حالت بیان کی جائے تو ضرور ہے کہ ان کی تمام خصوصیات کا لحاظ رکھا جائے، مثلاً اگر کسی بچہ کی کسی بات کی نقل کرنی مقصود ہو تو بچوں کی زبان کا، طرز ادا کا، خیالات کا، لہجہ کا، لحاظ رکھنا چاہئے، یعنی ان تمام باتوں کو بعینہ ادا کرنا چاہئے، مثلاً،چلّاتی ہے سکینہ کہ ’’اچھے مرے چچا‘‘ محمل میں گھٹ گئی ’’مجھے گودی میں لو ذرا‘‘بابا سے کہہ دو اب کہیں خیمہ کریں بپا ٹھنڈی ہوا میں لے کے چلو تم پہ میں فداسایہ کسی جگہ ہے نہ چشمہ نہ آب ہے تم تو ہوا میں ہو مری حالت خراب ہےیہ وہ موقع ہے کہ اہل بیت نہایت سخت گرمیوں میں کربلا کو روانہ ہوئے ہیں اور سکینہ (حضرت امام حسین علیہ السلام کی صاحب زادی) اپنے چچا حضرت عباسؑ سے گرمی کی شکایت کرتی ہیں۔ اس بند میں بچوں کی طرز گفتار اور خیالات کی تمام خصوصیات کو ملحوظ رکھا ہے۔ ’’اچھے چچا‘‘ خاص بچوں کی زبان ہے، گودی میں بچوں کو خاص لطف آتا ہے، اس لئے گودی میں لینے کی فرمائش سے طفلانہ خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔ بچے اپنے مقصد حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ طعنہ دینا سمجھتے ہیں، اس لئے حضرت عباس کو طعنہ دیا ہے کہ آپ تو مزے سے ہوا میں ہیں، آپ کو میری کیا فکر ہے ’’آپ‘‘ کے بجائے ’’تم‘‘ کہنا انتہا درجہ کا پیارا اور طفلانہ تفوق اور حکومت ہے، ان خصوصیات کے اجتماع نے محاکات کو کمال کے درجہ تک پہنچا دیا ہے اور واقعہ کی پوری تصویر اتر آئی ہے۔محاکات کے کمال کے لئے عالم کائنات کی ہر قسم کی چیزوں کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ شاعر کبھی لڑائیوں اور معرکوں کا حال لکھتا ہے، کبھی قوموں کے اخلاق و عادات کی تصویر کھینچتا ہے، کبھی جذبات انسانی کا عالم دکھاتا ہے، کبھی شاہی درباروں کا جاہ و حشم بیان کرتا ہے، کبھی ٹوٹے پھوٹے جھونپڑوں کی سیر کراتا ہے، اس حالت میں اگر اس نے عالم کائنات کا مشاہدہ نہ کیا ہو اور ایک ایک چیز کی خصوصیات اور قاہل انتخاب باتوں کو دقت آفرینی سے نہ دیکھا ہو، تو وہ ان مرحلوں کو کیونکر طے کرسکتا ہے۔ شکسپیر تمام دنیا کا سب سے بڑا شاعر مانا جاتا ہے، اس کی یہی وجہ ہے کہ اس نے ہر درجہ اور طبقہ کے لوگوں کے اخلاق و عادات کی تصویر کھینچی ہے، اور اس طرح کھینچی ہے کہ اس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔ اس شرط کی کمی کی وجہ سے بڑے بڑے شعرا کے کلام میں علانیہ رخنے نظر آتے ہیں، نظامی خداے سخن ہیں تاہم دارا کے خط میں جو سکندر کے نام تھا، لکھتے ہیں،وگر نہ چنانت دہم گوش پیچ (ورنہ میں تیرے ایسے کان ملوں گا)کہ دانی تو ہیچی و کمتر زہیچ (کہ تو جان جائے کہ تو نا چیز سے بھی ناچیز ہے)نظامی گوشہ نشین شخص تھے، شاہی درباروں میں آنے جانے کا کم اتفاق ہوا تھا، شاہانہ آداب اور طریق گفتگو سے واقف نہ تھے، اس لیے وہی عام بازاری لفظ ’’گوش پیچ‘‘ (کان اومیٹھنا) لکھ گئے، اس نقص کی وجہ سے واقعہ کی صحیح تصویر نہ اتر سکی، بخلاف اس کے فردوسی نے سینکڑوں ہزاروں مختلف واقعات لکھے ہیں۔ لیکن کہیں اس فرض کا سررشتہ ہاتھ سے نہیں جانے پاتا، متعدد اور مفصل مثالیں آگے آئیں گی یہاں صرف مطلب کے ذہن نشین کرنے لئے ہم ایک مثال پر اکتفا کرتے ہیں۔ایرانیوں کی روایت ہے کہ فریدوں نے اپنے بیٹوں کی وصلت شاہ یمن کی لڑکیوں سے کرنی چاہی، چنانچہ قاصد کو پیغام دے کر شاہ یمن کے پاس بھیجا۔ شاہ یمن نے اپنے درباریوں سے کہا کہ، تین صورتیں ہیں، اگر قبول کرلوں تو مجھ کو سخت صدمہ ہوگا،اگر جھوٹ وعدہ کرلوں تو یہ شان سلطنت کے خلاف ہے، انکار کروں تو فریدوں کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔فردوسی مجوسی النسل تھا اور قومیت کا اس کو سخت تعصب تھا چنانچہ جہاں جہاں عرب کا نام آتا ہے، ان کو حقیر کرنا چاہتا ہے، تاہم چونکہ شاعری کے فرض کا خیال تھا اور عرب کے کیرکٹر (انداز طبیعت) سے واقف تھا اس لئے درباریوں کی زبان سے کہتا ہے،کہ ما ہمگنان ایں نہ بینم رائے (ہم لوگوں کی یہ رائے نہیں)کہ ہر با درا تو بجنبی از جائے (کہ جو ہوا چلے آپ کو ہلا دے)اگر شد فریدوں چنیں شہر یار (فریدوں بادشاہ ہے تو ہو)نہ مابند گا نیم با گوشوار (ہم بھی کچھ اس کے حلقہ بگوش غلام نہیں ہیں)سخن گفتن و رنجش آئین ما است (گویائی اور جھلاہٹ ہماری فطرت ہے)عنان و سناں باختن دین ماست (گھوڑا دوڑانا اور برچھی چلانا ہمارا دین ہے)بہ خنجر زمیں را میستان کینم (ہم تلواروں سے زمین لال کردیں گے)بہ نیزہ ہوا را نیستان کینم (اور برچھیوں سے ہوا کو نیستان بنادیں گے)یہ باتیں عرب کا خاص کیرکٹر ہیں۔ عرب،کسی دوسری قوم کو، گو کسی درجہ کا ہو، بیٹی دینا عار سمجھتے تھے، اس لئے گو بادشاہ نے مصلحت ملکی سے فریدوں کی درخواست کا رد کرنا مناسب نہ سمجھا لیکن درباریوں نے وہی آزادانہ جواب دیا جو عرب کی طینت اور ان کا جوہر ہے۔دقیق خصوصیات کی محاکات محاکات میں نہایت فرق مراتب ہے اور اسی فرق مراتب کی بنا پر شاعری کے مدارج میں نہایت تفاوت ہے، اس کو پہلے محسوسات کے ذریعہ سے ذہن نشین کرو۔ مثلاً اگر سوتے ہوئے شخص کی تصویر کھینچی جائے تو ایک معمولی مصور تصویر میں صرف اس قدر دکھائے گا کہ آنکھیں بند ہیں، جس سے ظاہر ہو کہ وہ شخص سورہا ہے، لیکن ایک دقیقہ رس مصور ان خصوصیتوں کا بھی لحاظ رکھے گا کہ کس قسم کی نیند ہے؟ گہری ہے یا معمولی یا نیم خوابی؟ اس سے بڑھ کر اس بات کو بھی ملحوظ رکھے گا کہ سونے کی حالت میں اعضا کی جو حالت ہوتی ہے وہ بھی نمایاں کی جائے۔ بے خبری میں لباس اور اعضاء کی ہیئت میں جو بے ڈھنگا پن پیدا ہوجاتا ہے، وہ بھی ظاہر ہو۔ بچوں، جوانوں، عورتوں اور مردوں کی نیند میں جو فرق ہے اس کی خصوصیات بھی نظر آئیں۔ اسی طرح جس قدر زیادہ فن تصویر میں کمال ہوگا، اسی قدر تصویر میں باریکیاں پیدا ہوتی جائیں گی۔یونان میں ایک دفعہ ایک مصور نے ایک آدمی کی جس کے ہاتھ میں انگور کا خوشہ ہے تصویر بناکر موقع پر آویزاں کی، تصویر اس قدر اصل کے مطابق تھی کہ پرند انگور کو اصلی سمجھ کر اس پر گرتے تھے اور چونچ مارتے تھے، تمام نمائش گاہ میں غل پڑ گیا اور لوگ ہر طرف سے آ آکر مصور کو مبارک باد دینے لگے، لیکن مصور روتا تھا کہ تصویر میں نقص رہ گیا، لوگوں نے حیرت سے پوچھا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا کمال ہوسکتا تھا، مصور نے کہا بے شبہ انگور کی تصویر اچھی بنی ہے لیکن جس آدمی کے ہاتھ میں انگور ہے، اس کی تصویر اچھی نہیں ورنہ پرند انگور پر ٹوٹنے کی جرأت نہ کرتے۔اسی قسم کے دقایق اور باریکیاں محاکات میں پائی جاتی ہیں اور یہی نکتے ہیں، جن کی بنا پر شعرا میں فرق مراتب ہوتا ہے۔ محاکات کے یہ دقایق ہر چیز کی محاکات میں پائے جاتے ہیں۔ یعنی خواہ کسی واقعہ کا بیان کیا جائے، یا کسی منظر یا جذبات انسانی کا یا کسی حالت یا کیفیت کا، ہم ہرقسم کی مثالیں ذیل میں لکھتے ہیں۔دو دن سے بے زباں پہ جو تھا آب و دانہ بند دریا کو ہنہنا کے لگا دیکھنے سمندہر بار کانپتا تھا سمٹتا تھا بند بند چمکارتے تھے حضرت عباس ارجمندتڑپاتا تھا جگر کو جو شور آبشار کا گردن پھرا کے دیکھتا تھا منہ سوار کایہ وہ موقع ہے کہ کربلا میں حضرت عباس اہل بیت کے لئے پانی لینے گئے ہیں، اور نہر کے کنارے پہنچے ہیں، لیکن نہ خود پانی پیتے ہیں، نہ گھوڑے کو پلاتے ہیں، صرف مشک بھرلی ہے کہ اہل بیت کو لاکر پلائیں گے، گھوڑا حضرت عباس کے اس ارادہ سے واقف ہے کہ وہ اس کو پانی پلانا نہیں چاہتے، اب خیال کرو کہ ایک جانور کئی دن کا پیاسا پانی کے پاس پہنچ جائے تو اس کی کیا حالت ہوگی۔ ایک طرف پیاس اس کو بے اختیار کرتی ہے دوسری طرف آقا مانع ہے، اس دو طرفہ کشمکش میں بار بار کانپنا اور بندبند کا سمٹنا، اصلی، نیچرل اور فطری حالت ہے۔زلفیں ہوا میں اڑتی تھیں ہاتھوں میں ہاتھ تھے لڑکے بھی بند کھولے ہوئے ساتھ ساتھ تھےیہ وہ موقع ہے کہ اہل بیت کربلا کے میدان میں اترے ہیں اور نوجوان اور بچے ساتھ ساتھ چہل قدمی کر رہے ہیں،کوئی معمولی شاعر اس منظر کو دکھاتا تو بچوں کو کھیلتے کودتے چلنا بیان کردیتا، لیکن نکتہ سنج شاعرکی نگاہ اس پر پڑتی ہے کہ بچے تنہا نہیں ہیں، بلکہ اپنے سے بڑی عمر والوں کے ساتھ ہیں، اس لئےکھل کھیل نہیں سکتے، تاہم بچے ہیں اور بچوں کی خصوصیات نہ دکھائی جائیں تو واقعہ کی اصلی تصویر نہیں کھنچتی، اس لئے کہتا ہے کہ ’’بند کھولے ہوئے ساتھ ساتھ تھے۔‘‘بعض جگہ صرف جزئیات کے ادا کرنے سے محاکات ہوتی ہے لیکن ہر جگہ کسی شے یا واقعہ کے تمام اجزا کی محاکات ضروری نہیں، فن تصویر کے ماہر جانتے ہیں کہ اکثر صاحب کمال مصور تصویر کے بعض حصے خالی چھوڑ دیتا ہے، لیکن اور اعضا یا اجزا کی تصویر اس خوبی کے ساتھ کھینچتا ہے کہ دیکھنے والے کی نظر چھوٹے ہوئے حصہ کو خود پورا کرلیتی ہے۔ اس کو مثال میں یوں سمجھو کہ کاغذ پر جو تصویر ہوتی ہے اس میں عمق نہیں ہوسکتا کیونکہ کاغذ میں خود عمق نہیں باوجود اس کے کاغذ پر نہایت موٹے آدمی کی تصویر بنا سکتے ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ چونکہ تصویر میں عرض و طول موجود ہوتا ہے اس لئے اس کی مناسبت سے قوت متخیلہ خود، دبازت اور موٹاپن پیدا کرلیتی ہے اور ہم کو تصویر میں اسی طرح موٹاپا محسوس ہوتا ہے جس طرح عرض و طول محسوس ہوتے ہیں۔ شاعر اکثر کوئی واقعہ یا کوئی سماں باندھتا ہے اور تمام حالات کا استقصا نہیں کرتا لیکن چند ایسی نمایاں خصوصیات ادا کر دیتا ہے کہ پورا واقعہ یا پورا سماں آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔بنفشہ طرۂ مفتول خود گرہ میزد صبا حکایت زلف تو درمیان انداختشعر کا اصل مطلب صرف اس قدر ہے کہ بنفشہ معشوق کی زلف کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس کو شاعرانہ انداز میں اس طرح ادا کیا ہے، کہ گویا بنفشہ ایک معشوق ہے، وہ اپنی زلفیں آراستہ کر رہی تھی اور اپنی اداؤں پر نازاں تھی کہ اتفاقاً کسی طرف سے صبا (جس کو ایک تماشائی عورت فرض کیا ہے) آنکلی۔ اس نے معشوق کی زلفوں کا ذکر چھیڑ دیا دفعتاً بنفشہ شرما کر رہ گئی۔ بنفشہ کا شرما جانا شعر میں مذکور نہیں، اور اس تمام منظر میں وہی واقعہ کی جان ہے لیکن حالت کا سماں اس طرح کھینچا ہے کہ شرما جانا خود بخود لازمی نتیجہ کے طور پر پیش نظر ہوجاتا ہے۔ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوںاس شعر میں اس حالت کی تصویر کھینچی ہے کہ عاشق عشق میں سرشار ہے، لوگ اس کے پاس جاکر اس کو سمجھاتے ہیں کہ معشوق بے وفا ہے، اس سے دل لگانا بے فائدہ ہے، عاشق جھلاکر کہتا ہے، اچھا ہے تو ہے، جس کو اپنی جان عزیز ہے وہ اس سے دل ہی کیوں لگاتا ہے،یعنی میں نے اپنی جان پرکھیل کر اس سے دل لگایا ہے۔ میرا عشق اس کی وفا پر منحصر نہیں۔ اس شعر میں یہ الفاظ کہ لوگ عاشق کو سمجھاتے ہیں، ’’عشق معشوق کی وفا کا پابند نہیں‘‘ بالکل متروک ہیں لیکن اور واقعات اس طرح اور اس انداز سے ادا کئے ہیں کہ متروک جملے خود بخود سمجھ میں آجاتے ہیں اور تصویر کا یہ چھوٹا ہوا حصہ خود نظر کے سامنے آجاتا ہے۔تنبیہ یہاں یہ نکتہ نہایت توجہ کے ساتھ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ ان موقعوں پر غلطی کا سخت احتمال ہے، اکثر اشعار جو پیچیدہ اور ناقابل فہم ہوجاتے ہیں، اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ شاعر مضمون کا بعض حصہ چھوڑ جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ گردو پیش کا مصالحہ اس خلا کو بھر دے گا، حالانکہ وہ اس کو نہیں بھر سکا۔ اسی قسم کے اشعار بعض جگہ مہمل بن جاتے ہیں۔مخالف پہلو کا دکھانا محاکات کی تکمیل بعض اوقات مخالف پہلو دکھانے سے ہوتی ہے، ایک سفید چیز کے سامنے سیاہ چیز رکھ دی جائے تو سفیدی اور زیادہ نمایاں ہوجائے گی اسی طرح اکثر کسی حالت کے زیادہ نمایاں کرنے میں یہ طریقہ کام آتا ہے کہ اس کا مخالف پہلو دکھایا جائے، مثلاًبرہنہ دوان، دخت افراسیاب (افراسیاب کی بیٹی، ننگی)بر رستم آمد، دودیدہ پُر آب (رستم کے پاس دوڑتی اور روتی آئی)منیژہ افراسیاب کی بیٹی تھی جو بیژن پر عاشق ہوگئی تھی اور اس جرم پر افراسیاب نے اس کو گھر سے نکال دیا تھا۔ جب اس نے رستم کا آنا سنا تو اس کے پاس روتے ہوئی گئی، اس موقع پر فردوسی کو منیژہ کی بے کسی اور غربت کی تصویر دکھانی ہے اس لئے ایک طرف تو اس کو دخت افراسیاب کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے تاکہ اس کی عزت اور حرمت کا تصور سامنے آئے، دوسری طرف کہتا ہے کہ وہ ننگی دوڑتی ہوئی آئی، جس سے اس کی ذلت ثابت ہوتی ہے، ان دونوں پہلوؤں کے دکھانے سے منیژہ کا بے کس اور قابل رحم ہونا مجسم بن کر سامنے آجاتا ہے۔منیژہ منم دخت افراسیاب (میں افراسیاب کی بیٹی منیژہ ہوں)برہنہ ندیدہ تنم آفتاب (میرا جسم آفتاب نے بھی برہنہ نہیں دیکھا)برائے یکے بیژن شور بخت (کم بخت بیژن کے لئے)فتادم ز تاج و فتادم ز تخت (میرا تاج اور تخت سب جاتا رہا)یہ دونوں شعر بھی اسی وجہ سے مؤثر ہیں کہ متقابل حالتیں پیش کی ہیں۔ یعنی جس کو آفتاب نے برہنہ نہیں دیکھا وہ ایک بدبخت کی وجہ سے اس حالت میں گرفتار ہے۔تشبیہ کے ذریعہ سے محاکات محاکات کا ایک بڑا آلہ تشبیہ ہے۔ اکثر اوقات ایک چیز کی اصلی تصویر جس طرح تشبیہ سے دکھائی جاسکتی ہے وہ دوسرے طریقہ سے ادا نہیں ہوسکتی، لیکن چونکہ تشبیہ کی بحث آگے تفصیل سے آئے گی اس لئے اس موقع پر ہم اس کو قلم انداز کرتے ہیں۔مبہم طریقہ سے محاکات اگرچہ جیسا کہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں محاکات کا کمال یہی ہے کہ اس چیز کی پوری تصویر کھینچی جائے جس کا طریقہ یہ ہے کہ تمام جزئیات کا استقصا کیا جائے، یا بعض جزئیات کو نمایاں کر کے دکھایا جائے، لیکن بعض جگہ محاکات کے مؤثر ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ تصویر ایسی دھندلی کھینچی جائے کہ اکثر حصے اچھی طرح نظر نہ آئیں۔عالم ارواح یا ملائکہ کی جو فرضی تصویر کھینچی جاتی ہے، اس میں صورتوں کو اور لباس کو نمایاں نہیں کرتے کیونکہ انسان پر ایک شے کی عظمت کا اثر اس وقت زیادہ پڑتا ہے جب وہ اچھی طرح نظر نہ آئے۔ ذخّار سمندر کی تصویر اس طرح کھینچتے ہیں کہ موجیں، اور آسمان کی فضا دھندلی نظر آئے۔ اندھیری راتوں میں دور سے جنگل میں کوئی دھندلا سا عکس نظر آتا ہے تو انسان ہیبت زدہ ہوجاتا ہے کہ معلوم نہیں کس درجہ کی مہیب چیز ہے۔اسی طرح بعض اوقات جب کسی چیز کی عظمت کی تصویر کھینچنی مقصود ہوتی ہے تو تصویر کے حصے نمایاں نہیں کئے جاتے اور واقعہ کے تمام اجزا ذکر نہیں کرتے، برک نے لکھا ہے کہ ملٹن کی پیریڈائز لاسٹ (گم شدہ فردوس) میں سب سے زیادہ شاعری اس موقع پر صرف کی گئی ہے، جہاں شیطان کی تعریف ہے اور وہاں اسی طریقے سے کام لیا گیا ہے۔فارسی میں اس کی مثال حسب ذیل ہے،مگر شہ نداند کہ در روز جنگ ما (کیا بادشاہ نہیں جانتا کہ لڑائی کے دن)چہ سرہا بریدم در اقصمائے زنگ (جیش میں میں نے کتنے سر کاٹے)بہ یک تاختن تا کجا تاختم (ایک حملہ میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا)چہ گردن کشان را سر انداختم (کتنے گردن کشوں کے سر اڑا دیے)یہ وہ موقع ہے جہاں سکندر نے دارا کو خط لکھا ہے اور اپنے کارنامے بیان کرتا ہے۔ اگر اس موقع پر یہ بتا دیتا کہ وہ کہاں سے کہاں تک گیا تھا تو وہ بات نہ پیدا ہوتی جو اس اجمال سے ہوتی ہے،بہ یک تاختن تا کجا تاختمتخئیل کی تفصیلی بحث اگرچہ محاکات اور تخئیل دونوں شعر کے عنصر ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاعری در اصل تخئیل کا نام ہے۔ محاکات میں جو جان آتی ہے تخئیل ہی سے آتی ہے ورنہ خالی محاکات نقالی سے زیادہ نہیں۔ قوت محاکات کا یہ کام ہے کہ جو کچھ دیکھے یا سنے، ا س کو الفاظ کے ذریعہ سے بعینہ ادا کردے۔ لیکن ان چیزوں میں ایک خاص ترتیب پیدا کرنا، تناسب اور توافق کو کام میں لانا، ان پر آب و رنگ چڑھانا، قوت تخئیل کا کام ہے، قوت تخئیل مختلف صورتوں میں عمل کرتی ہے۔(۱) شاعر کی نظر میں عالم کائنات اور قوت تخئیل سے ایک اور عالم بن جاتا ہے۔ ہم کائنات کی دو قسمیں کرتے ہیں۔ احساس اور غیر احساس۔ لیکن شاعر کے عالم تخئیل کا ذرہ ذرہ جاندار اور ہوش و عقل و جذبات سے لبریز ہے۔ آفتاب، ماہتاب، ستارے، صبح، شام، شفق، باغ، پھول، پتے، سب اس سے ہم زبانی کرتے ہیں۔ سب اس کے راز دار ہیں، سب سے اس کے تعلقات ہیں، وہ شب وصل اور صبح وصل سے یوں خطاب کرتا ہے،اے شب! اگرت ہزار کار است مرد (اے رات تجھ کو آج ہزاروں کام سہی، لیکن نہ جا)اے صبح گرت ہزار شادی است مخند (اے صبح! تجھ کو ہزاروں خوشیاں سہی، لیکن نہ ہنس)شب وصل میں وہ آسمان سے کہتا ہے،نہ گویم اے فلک کز کجرویہایت تو بر گردی (اے آسمان میں تجھ سے یہ تو نہیں کہتا کہ تو اپنی کجروی سے باز آ)شب وصل است، خواہم ایں قدر آہستہ تر گردی (لیکن اتنا کہ آج شب وصل ہے، ذرا آہستہ چل کہ جلدی صبح نہ ہو)عالم فطرت شاعر کے اثر میں ہے، وہ سب پر حکومت کرتا ہے، اور ان سے کام لیتا ہے، اس کواپنے ممدوح کے تاج پر موتی ٹانکنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو کارکنان فطرت کےنام احکام صادر کرتا ہے۔عَلم برکش اے آفتاب بلند (اے آفتاب بلند ہو)خرامان شو، اے ابر مشکین پرند (اے بادل چل)ببار اے ہوا، قطرۂ ناب را (اے ہوا پانی برسا)بگیراے صدف، دُرکنآن آب را (اے سیپ اس پانی کے قطرہ کو موتی بنا)بر آے دُراز قعر دریائے خویش (اے موتی دریا کی تہ سے نکل)بہ تاج سرشاہ کن جائے خویش (اور بادشاہ کے تاج پر جاکر جگہ لے)افراد کائنات اس سے عجیب عجیب راز کہتے ہیں،مثلا،گلے خوشبوے در حمام روزے (مجھ کو ایک دن، ایک دوست)فتاد از دست محبوبے بدستم (نے، خوشبودار مٹی دی،)بدو گفتم کہ مشکی یا عبیری (میں نے اس سے کہا تو مشک ہے یا عبیر)کہ ازبُوے دل آویز تو مستم (کہ میں تیری خوشبو سے مست ہوا جاتا ہوں)بگفتا من گلےناچیز بودم (بولی کہ میں ایک ناچیز مٹی تھی)ولیکن مدتے باگل نشستم (لیکن چند روز پھول کی صحبت میں رہے)جمال ہمنشین در من اثر کرد (ہمنشین کا جمال مجھ میں اثر کر گیا)و گرنہ منہمان خاکم کہ ہستم (ورنہ میں تو اب بھی وہی مٹی ہوں جو پہلے تھی)اسی عالم کا ایک اور واقعہ ہے،یکے قطرہ باران زا برے چکید (پانی کا ایک قطرہ بادل سے ٹپکا)خجل شد جو پہنائے دریا بدید (دریا کا پاٹ دیکھ کر شرمایا)کہ جائے کہ دریاست من کیستم (کہ دریا کے ہوتے میں کیا چیز ہوں)گرا دہست حقا کہ من نیستم (اگر دریا ہے تو میں نہیں ہوں)چو خود را بہ چشم حقارت بدید (چونکہ اس نے اپنے آپ کو حقیر سمجھا)صدف در کنارش بہ جان پرورید (اس لئے سیپ نے اس کو اپنی گود میں پالا)اس عالم میں شاعر کی تاریخ زندگی عجیب دلچسپیوں سے بھری ہوتی ہے، بلبل نے اسی عالم میں اس سے زمزمہ سنجی کی تعلیم پائی ہے، پروانے اس کے ساتھ کے کھیلے ہوئے ہیں، شمع سے رات رات بھر وہ سوز دل کہتا رہا ہے، نسیم سحری کو اکثر اس نے قاصد بناکر محبوب کے یہاں بھیجا ہے، بارہا اس نے غنچہ کی عین اس وقت پردہ دری کی جب وہ معشوق کا تبسم چرا رہا تھا۔شاعر کا احساس، نہایت لطیف، تیز اور مشتعل ہوتا ہے۔ عام لوگوں کے جذبات بھی خاص خاص حالتوں میں مشتعل ہو جاتے ہیں اور اس وقت وہ بھی مظاہر قدرت سے اسی طرح خطاب کرنے لگتے ہیں۔ خیال کرو ایک عورت جس کا جوان بیٹا مرگیا ہے کس کس طرح موت کو، آسمان کو، زمین کو، کوسنے دیتی ہے، کس طرح ان سے خطاب کرتی ہے، اس کو صاف نظر آتا ہے کہ یہ سب اس کے دشمن ہیں۔ انہی نے اس کے پیارے بیٹے کو اس سے چھین لیا ہے، انہوں نے دانستہ اس پر ظلم کیا ہے۔ لیکن شاعر کے تمام احساس اور جذبات، سریع الانفعال، سریع الحس اور زود اشتعال ہوتے ہیں، وہ معشوق کی گلی میں جاتا ہے، تو اس کو اعلانیہ در و دیوار سے ایک لذت محسوس ہوتی ہے، اس کو وہ ایک خاص علامت قرار دیتا ہے کہ معشوق گھر میں موجود ہے، کیونکہ جب کبھی معشوق گھر میں نہیں ہوتا تو اس کو یہ لذت نہیں محسوس ہوتی، اسی بنا پر شاعر کہتا ہے،مگر از خانہ بروں بود کہ شب در کویش (شاید وہ کل گھر میں نہ تھا، کیونکہ کل مجھ کو)ہیچ ذو قم ز نگاہِ در و دیوار نہ بود (درودیوار کے دیکھنے سے کچھ لذت نہیں ملتی تھی)واقعات عالم پر جب وہ عبرت کی نظر ڈالتا ہے تو ایک ایک ذرہ ناصح بن کر، اس کو اخلاق اور عظمت کی تعلیم دیتا ہے، اس عالم میں وہ گور غریباں میں جا نکلتا ہے تو بوسیدہ ہڈیاں علانیہ اس سے خطاب کرتی ہیں۔کہ زنہار، اگرمردے آہستہ تر (بھائی! ذرا دیکھ کر چل)کہ چشم و بنا گوش دروے است و سر (یہاں آنکھیں ہیں، چہرے ہیں سر ہیں)عالم شوق میں وہ پھول ہاتھ میں اٹھا لیتا ہے تو اس کو صاف معشوق کی خوشبو آتی ہے اور پھول سے مخاطب ہوکرکہتا ہے۔۔۔اے گل بہ تو خر سندم تو بوےکسے دارییہ باتیں کسی اور زبان سے ادا ہوں تو ہم اس کو مجنوں سمجھیں گے، لیکن شاعر، اس انداز سےکہتا ہے کہ سننے والوں پر اثر ہوتا ہے، کیونکہ جو کچھ وہ کہتا ہے، اثرمیں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اور ایک حقیقی حالت کی تصویر ہوتا ہے۔ شاعر بعض وقت خود اقرار کرتا ہے کہ جو کچھ وہ دیکھ رہا ہے، ممکن ہے کہ وہ واقعی نہ ہو، صرف اسی کو ایسا نظر آتا ہے، لیکن اس بات کو بھی وہ اس انداز سے کہتا ہے کہ اس کے متاثر ہونے سے، سب متاثر ہوجاتے ہیں، مثلاً،دارو جمال روئے تو، امشب تماشائے دگر (تیرا حسن ہی آج کی رات کچھ بڑھ گیا ہے)یا آن کہ من مے بینمش، بہترز شبہائے دگر (یا کچھ مجھی کو اور راتوں کی بہ نسبت زیادہ خوشنما معلوم ہوتا ہے)(۲) یہ نہیں خیال کرنا چاہئے کہ تخئیل صرف خیالی اور سیمیاوی صورتوں کا نام ہے، جو جذبات کے طاری ہونے کے وقت نظر آتی ہیں۔ تخئیل نے اکثر وہ راز کھولے ہیں جو نہ صرف عوام بلکہ خواص کی نظر سے بھی مخفی تھے۔ دقت آفرینی اور حقیقت سنجی جو فلسفہ کی بنیاد ہے تخئیل ہی کا کام ہے۔ اسی بنا پر شاعری اور فلسفہ دو برابر درجہ کی چیزیں تسلیم کی گئی ہیں کیونکہ دونوں میں تخئیل یکساں کام کرتی ہے۔ ہومر یونان کا مشہور شاعر اس زمانہ میں تھا،جب یونان میں فلسفہ کا وجود بھی نہ تھا اور اس وجہ سے وہ فلسفہ وغیرہ سے ناآشنا تھا، تاہم ارسطو نے اپنی کتاب المنطق میں شاعر کے جو علمی اصول منضبط کئے اسی کے کلام سے کئے ہیں، چنانچہ ہر جگہ اس کے حوالے دیتا ہے۔ گیزو جو فرانس کا مشہور مصنف ہے، لکھتا ہے،’’ہومر کے شعر میں جو یہ باتیں نظر آتی ہیں کہ وہ خیر اور شر، ضعف اور قوت، فکر اور جذبات کو ساتھ ساتھ دکھاتا ہے اور خیالات اور اقوال کا تنوع اور فطرت کے حالات کو اس وسعت اور رنگ برنگ طریقوں سے لکھتا ہے کہ شاعرانہ جذبات کو اشتعال ہوتا ہے جس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے کلام میں ہر اصل کی اصل اور انسان اور عالم کائنات کی حقیقت مندرج 3 ہے۔ارسطو نے علم الاخلاق پر جو کتاب لکھی اور جو محقق طوسی اور جلال الدین دوانی کے ذریعہ سے فارسی زبان میں آگئی ہے، ہمارے سامنے ہے۔ لیکن شاعری نے فلسفہ اخلاق کے جو نکتے ادا کئے ارسطو کی کتاب میں نہیں ملتے۔ نہ صرف اخلاق بلکہ واردات قلبی، فطرت انسانی، عام معاشرت کے متعلق، شعرا نے جو فلسفیانہ نکتے پیدا کئے، فلسفہ کی کتابیں ان سے خالی ہیں۔تخئیل، مسلّم اور طے شدہ باتوں کو سرسری نظر سے نہیں دیکھتی بلکہ دوبارہ ان پر تنقید کی نظر ڈالتی ہے اور بات میں بات پیدا کرتی ہے۔ مثلاً اہل منطق نے تمام چیزوں کی دو قسمیں کی ہیں۔ بدیہی اور نظری۔ بدیہی ان چیزوں کو کہتے ہیں جو غور اور فکر کی محتاج نہیں اس بنا پر وہ بدیہیات کے متعلق غور و فکر کو ضروری نہیں سمجھتے لیکن شاعر کہتا ہے،ہر کس نہ شنا سندۂ راز ست و گرنہ (ہر شخص راز کا شناسا نہیں ورنہ)اینہا ہمہ راز ست کہ مفہوم عوام است (یہ چیزیں جو عوام کی معلومات ہیں سب کے سب راز ہیں)سینکڑوں مسائل کو لوگ یقینی اور بدیہی سمجھتے تھے، لیکن آج جدید تحقیقات نے ثابت کردیا کہ وہ غلط تھے، اس لئے غور و فکر کے محتاج تھے۔ جدید سائنس نے آج ثابت کیا کہ ہر شے متحرک ہے، جن چیزوں کو ہم ساکن سمجھتے ہیں، ان کے بھی ذرات متحرک ہیں، گو ہم کو محسوس نہیں ہوتے، ہمارے شاعر نے آج سے دوسو برس پہلے شاعرانہ انداز میں کہا تھا،موجیم کہ آسودگی ما عدم ما است (ہم موج ہیں، ہمارا ٹھہر جانا ہمارا فنا ہو جانا ہے)زندہ بہ آنیم کہ آرام نہ گیریم (ہماری زندگی یہی ہے کہ ہم چین سے نہ بیٹھیں)فلسفہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام عالم میں متضاد چیزیں ہیں اور ان میں مقابلہ اور مزاحمت ہے۔ مثلاً حرارت و برودت، سکون و حرکت، انحلال و ترکیب، بہار و خزاں، ظلمت و نور، عزت و ذلت، صبر و غضب، عفت و فسق، جود و بخل۔ انہی کی باہمی کشمکش اور موازنہ سے یہ عالم قائم ہے وگر نہ اگر ان میں صلح ہو جائے یعنی صرف ایک نوع کی چیزیں رہ جائیں تو عالم برباد ہوجائے، اس نکتہ کو مولانا روم نے ان مختصر لفظوں میں ادا کردیا،ایں جہاں جنگ است کل چوں بنگریعام طور پر مسلم ہے کہ بحث و تقریر اور مناظرہ و مکالمہ کے لئے بڑی لیاقت درکار ہے لیکن خواجہ عطار فرماتے ہیں،باز باید فہم و عقل بے قیاس تا شود خاموش یک حکمت شناسیعنی بولنے کے لئے جس قدر عقل درکار ہے چپ رہنے کے لئے اس سے بھی زیادہ عقل درکار ہے، کیونکہ جب انسان تحقیق اور تجربہ کے تمام مراحل طے کر چکتا ہے، اس وقت اس کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ اس نے اب تک جانا یہ سب ہیچ تھا۔ چنانچہ سقراط سے جب لوگوں نے پوچھا کہ آپ کو اتنے دنوں کی غور و فکر کے بعد کیا معلوم ہوا؟ تو اس نے کہا ’’یہ معلوم ہوا کہ کچھ نہیں معلوم ہوا۔‘‘ اور جب یہ مرتبہ حاصل ہوگا تو خواہ مخواہ انسان چپ ہوجائے گا، اس لئے چپ ہونے کے لئے بولنے سے زیادہ عقل اور تجربہ درکار ہے۔جبر و قدر کے مسئلہ میں بڑے غور اور فکر کے بعد ارباب اختیار نے یہ استدلال کیا تھا کہ ہمارا ارادہ ہمارا اختیاری فعل ہے، اس لئے ہم مجبور نہیں بلکہ مختار ہیں، لیکن سحابی نے اس استدلال کی غلطی کا پردہ اس طرح فاش کیا،بے حکمش نیست ہر سرزد از ما مامورہ اوست نفس اما رہّ مایعنی یہ ہمارا اختیار بھی مجبوری ہے، ہمارا نفس ہم کو بیشک حکم دیتا ہے، لیکن اس حکم دینے میں وہ خود کسی اور کا محکوم ہے۔ غرض اس قسم کے سینکڑوں ہزاروں نکتے ہیں جو قوت تخئیل نے حل کئے ہیں۔ فلسفیانہ شاعری پر جہاں ریویو آئے گا وہاں اس کی مثالیں کثرت سے ملیں گی۔قوت تخئیل کی استدلال کا طریقہ عام استدلال سے الگ ہوتا ہے، وہ ان باتوں کو جو اور طرح سے ثابت ہوچکی ہیں، نئے طریقے سے ثابت کرتی ہے۔ یہ طریقہ استدلال گو ایک قسم کا منطقی مغالطہ ہوتا ہے،یا خطابیات پر مبنی ہوتا ہے۔ لیکن قوت تخئیل کے عالم سے شاعر اس کو اس انداز میں بیان کرتا ہے کہ سامع اس کی صحت و غلطی کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کی دلفریبی سے مسحور ہوجاتا ہے او ربے ساختہ آمنّا بول اٹھتا ہے۔ مثلاً یہ بات کہ جو لوگ رسیدہ اور صاحب کمال ہوتے ہیں وہ خاکسار ہوتے ہیں۔ اس کو شاعر اس طرح ثابت کرتا ہے،فروتنی است دلیل رسید گان کمال (خاکساری، کامل ہونے کی دلیل ہے)کہ چوں سوار بہ منزل رسد پیادہ شود (کیونکہ سوار جب منزل پر پہنچ جاتا ہے تو پیادہ ہو جاتا ہے)عزت شاہ و گدا زیر زمین یکساں است می کند خاک براے ہمہ کس جا خالیقبر میں جاکر بادشاہ اور فقیر سب برابر ہو جاتے ہیں اور سب عزت یکساں رہ جاتی ہے۔ اس دعویٰ کو شاعر یوں ثابت کرتا ہے کہ دیکھو زمین سب کے لئے جگہ خالی کردیتی ہے، (جگہ خالی کرنا تعظیم کو کہتے ہیں)روشند لان خوشامد شاہاں نہ کردہ اند آئینہ عیب پوش سکندر نمی شودیعنی جو لوگ روشندل اور صاف طینت ہیں وہ بادشاہوں اور امیروں کی خوشامد نہیں کرتے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ آئینہ نے سکندر کی عیب پوشی نہیں کی۔ حالانکہ (بقول شاعر) آئینہ سکندر ہی کی ایجاد ہے۔قطع امید کردہ نخواہد نعیم دہر شاخ بریدہ را نظرے بربہار نیستیعنی جس نے امید قطع کرلی اس کو پھر دنیا کے عیش و آرام کی پروا نہیں رہتی، جو شاخ درخت سے کاٹ لی جاتی ہے اس کو بہار کا انتظار نہیں ہوتا۔روشندلاں، حباب صفت دیدہ بستہ اند روزن چہ احتیاج اگر خانہ تار نیستیعنی جو لوگ روشن دل ہیں وہ ظاہری آنکھیں بند کرلیتے ہیں، اور دل کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ چنانچہ حضرات صوفیہ کے تمام ادراکات قلبی واردات ہوتے ہیں جن کو ظاہر بینائی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کو شاعر اس طرح ثابت کرتا ہے کہ گھر اگر خود روشن ہے تو موکھے اور دریچے کی کیا ضرورت ہے۔ جس طرح حباب کاگھر کہ خود روشن ہے اس لئے اس میں روزن اور موکھا نہیں ہوتا۔علت و معلول اور اسباب و نتائج کا عام طرح پر جو سلسلہ تسلیم کیا جاتا ہے، شاعر کی قوت تخئیل کا سلسلہ اس سے بالکل الگ ہے۔ وہ تمام اشیاء اپنے نقطہ خیال سے دیکھتا ہے اور یہ تمام چیزیں اس کو ایک سلسلہ میں مربوط نظر آتی ہیں، ہر چیز کی غرض، غایت، اسباب، محرکات، نتائج، اس کے نزدیک وہ نہیں جو عام لوگ سمجھتے ہیں۔ مثلاً،در عدم، ہم ز عشق شورے ہست گل گریبان دریدہ می آیدپھول جو کھلتا ہے اس کو گریبان دریدہ کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ عدم میں بھی عشق کا چرچا ہے اور وہاں بھی لوگ عشق اور محبت کے جوش میں کپڑے پھاڑ ڈالتے ہیں، چنانچہ پھول جو عالم عدم سے آیا ہے گریبان دریدہ آیا ہے،برقع بہ رخ افگندہ برد ناز بہ باغش تانگہت گل بیختہ آید بہ دماغشمعشوق جالی کا نقاب پہن کر باغ کی سیر کو نکلا۔ شاعر کو قوت تخئیل سے یہ نظر آتا ہے کہ معشوق چونکہ نہایت نازک اور لطیف الطبع ہے، اس لئے چاہتا ہے کہ پھولوں کی خوشبو دماغ میں آئے تو چھن کرآئے اس لئے اس نے جالی کا نقاب پہن لیا ہے۔زاہد ز خدا ارم بہ دعویٰ طلبد شدّاد ہمانا، پسر داشتہ استشاعر کو معلوم ہے کہ شداد ایک شخص تھا جس نے ایک بہشت بنائی تھی، اور اس کا نام ارم رکھا تھا، فرشتے خدا کے حکم سے اس بہشت کو اڑا لے گئےاور اب وہ اور بہشتوں کے ساتھ شامل ہے۔ شاعر کو یہ بھی معلوم ہے کہ زاہدوں کو دعویٰ ہوتا ہے کہ ان کو جنت ضرور ملے گی۔ اب شاعر کی قوت تخئیل یہ نتیجہ پیدا کرتی ہے کہ غالباً زاہد شداد کے خاندان میں ہے اس لئے اس کو دعویٰ ہے کہ بہشت چونکہ اس کے مورث (شداد) کا ترکہ ہے اس لئے اس کو وراثت میں ضرور ملے گی۔وضع زمانہ قابل دیدن دوبارہ نیست (زمانہ کی وضع، دوبارہ دیکھنے کے قابل نہیں)رو پس نہ کرد ہر کہ ازیں خاکدان گذشت (اسی لئے جو یہاں سے جاتا ہے پھر واپس نہیں آتا)یہ سب جانتے ہیں کہ کوئی شخص مر کر زندہ نہیں ہوتا۔ شاعر کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے مکروہات اس قابل نہیں کہ کوئی شخص اس کو ایک دفع دیکھ کر دوبارہ دیکھنا چاہے، اس لئے جو شخص دنیا سے جاتا ہے پھر واپس نہیں آتا۔سپر مردم دون را کند خریداری بخیل سوئے متاعے رود کہ ارزاں استاکثر نالائق لوگ بڑے مرتبہ پر پہنچ جاتے ہیں۔ شاعر کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ بخیل جب کوئی چیز خریدنے کو بازار میں جاتا ہے تو سستی ہی چیزوں کی طرف جھکتا ہے۔ اس لئے زمانہ بھی کمینے اور نالائق آدمیوں کی طرف توجہ کرتا ہے۔دیدی کہ خون ناحق پروانہ شمع را (تم نے دیکھا! پروانہ کے خون نے شمع کو)چنداں امان نداد کہ شب را سحر کند (اتنی مہلت بھی نہ دی کہ ایک رات بھی زندہ رہنے پاتی)پروانہ شمع پر گرکر جل جاتا ہے، شمع صبح کے وقت بجھا دی جاتی ہے۔ اب شاعر کی قوت تخئیل ان واقعات سے یہ نتیجہ پیدا کرتی ہے کہ یہ وہی پروانہ کا انتقام ہے کہ شمع ایک رات بھی زندہ نہ رہنے پائی۔قوت تخئیل ایک چیز کو سو سو دفعہ دیکھتی ہے اور ہر دفعہ اس کو اس میں ایک نیا کرشمہ نظر آتا ہے۔ پھول کو تم نے سینکڑوں بار دیکھا ہوگا اور ہر دفعہ تم نے صرف اس کی رنگ و بو سے لطف اٹھایا ہوگا۔ لیکن شاعر قوت تخئیل کے ذریعہ سے ہر بار نئے نئے پہلو سے دیکھتا ہے اور ہر دفعہ اس کو نیا عالم نظر آتا ہے۔ وہ اس کی خوشبو سے لطف اٹھاتا ہے تو بے ساختہ معشوق کی بوئے خوش یاد آجاتی ہے اورکہتا ہے،اے گل بتوخر سندم تو بوے کسے داری (اے پھول میں تجھ سے خوش ہوں تجھ سے کسی کی خوشبو آرہی ہے)وہ دیکھتا ہے کہ دو ہی چار روز کے عرصہ میں پھول کا درخت اُگا، کلی پھوٹی، پھول کھلا، اور پھر خشک ہوکر گرپڑا، اس سے اس کو زمانہ کی بے وفائی کا خیال آتا ہے اورکہتا ہے،بے مہریٔ دہربین کہ دریک ہفتہ (زمانہ کی سرد مہری دیکھو کہ ایک ہی ہفتہ میں)گل سرزد و غنچہ کرد و بشگفت و بریخت (پھول نے سر نکالا، غنچہ ہوا، کھلا، اور پھر گرپڑا)پھول پر شبنم دیکھتا ہے تو کہتا ہے،نہ شبنم است چمن را بروئے آتشناک عرق زردئے تو کردہ است گل بد امن پاکیعنی شبنم نہیں ہے بلکہ پھول نے اپنے دامن سے معشوق کے چہرہ کا پسینہ پونچھا ہے۔ ہری بھری ٹہنی میں پھول دیکھے تو خیال پیدا ہوا کہ شراب کے لال لال گلاس ہیں، پھر یہ رشک ہوا کہ کاش میں بھی ایک ہاتھ میں اس قدر گلاس لے سکتا۔ اس خیال کو یوں ادا کرتا ہے،دیدہ ام شاخ گلے بر خویش مے پیچم کہ کاش (میں نے ایک پھول کی شاخ دیکھی، مجھ کو رشک آتا ہے کہ)می توانستم بہ یکدست ایں قدر ساغر گرفت (کاش میں بھی، ایک ہاتھ میں اتنے پیالے لے سکتا)پھول میں جو ریزے ہوتے ہیں، ان کو زر گل کہتے ہیں، کلی جب کھلتی ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ گرہ کھل رہی ہے۔ ان دونوں باتوں کے مجموعہ سے شاعرنے یہ خیال پیدا کیا۔در چمن بادِ سحر، بوئے تو سودا، می کرد (باغ میں، باد صبا، معشوق کی خوشبو فروخت کر رہی تھی)گل بہ کف داشت زر و غنچہ گرہ وا می کرد(اس لئے اس کے خریدنے کو پھول کے ہاتھ میں زر تھا کلی گرہ کھول رہی تھی)اوچھے اور کم ظرف لوگوں کا قاعدہ ہے کہ ہر شخص سے پہلی ہی ملاقات میں بے تکلف ہو جاتے ہیں اور کھل کھیلتے ہیں لیکن با وقار لوگ جب کسی مجلس میں پہلے پہل شریک ہوتے ہیں تو رکے رکے رہتے ہیں۔ شاعر نے دیکھا کہ پھول جب نکلتا ہے تو غنچہ ہوتا ہے، پھر کھل کر پھول بن جاتا ہے۔ اس سے اس کو خیال پیدا ہوا کہ یہ وہی اصول ہے۔ چنانچہ کہتا ہے،در مجلسے کہ تازہ در آئی گرفتہ باش اول بباغ، غنچہ، گرہ بر جبیں زندگرفتہ کے معنی ’’رکے رہنے‘‘ کے ہیں۔ گرہ برجبین زدن، بھی اس کے قریب ہے۔ شعر کا مطلب یہ ہے کہ جس مجلس میں پہلے پہل جاؤ تو خود داری کے ساتھ بیٹھو، غنچہ جب باغ میں آتا ہے تو اس کی پیشانی پر گرہ ہوتی ہے۔پھول کے پتے کو ہوا میں اڑتے دیکھا، تو یہ خیال پیدا ہوا کہ باغ نے خط دے کر معشوق کے پاس قاصد بھیجا ہے۔برگ گل را بکف بادِ صبا مے بینم (باد صبا کے ہاتھ میں پھول کا پتہ نظر آتا ہے)باغ ہم جانب او نامہ برے پیدا کرد (غالباً باغ نے معشوق کے ہاں قاصد بھیجا ہے)سُرخ سُرخ پھول دیکھے، تو خیال ہوا کہ باغ میں چراغاں کیا گیا ہے، اوپر بادل نظر پڑے تو سمجھا کہ یہ اسی کا دھواں ہے،ابر در صحن چمن دود چراغان گل استاگلے زمانہ میں دستور تھا کہ جب کوئی کتاب یا کاغذ بے کار ہوجاتا تھا تو اس کو پانی سے دھو ڈالتے تھے۔ شاعرنے پھول کا پتہ پانی میں تیرتا ہوا دیکھا تو خیال پیدا ہوا کہ،دختر حسن بہار است کے در عہد تو شست برگ گل نیست کہ از باد در آب افتادہ استیعنی یہ پھول کا پتہ نہیں جو پانی میں نظر آرہا ہے، بلکہ بہار نے معشوق کا حسن دیکھ کر اپنے حسن کا دفتر پانی سے دھو ڈالا۔کسی خوشرو، حسین کے ہاتھ میں پھول دیکھا تو اس سے زیادہ خوشنما معلوم ہوا جتنا اس وقت معلوم ہوتا تھا، جب وہ ٹہنی میں تھا، اس بنا پر کہتا ہے،زغارتِ چمنت، بر بہار منت ہا است (تو نے باغ کو لوٹا تو بہار پر احسان کیا کیونکہ تیرے ہاتھ میں پھول)کہ گہ بدست تو از شاخ تازہ تر ماند (اس سے زیادہ خوشنما ہے جتنا پہلے تھا یعنی جب ٹہنی میں تھا)پوپھٹتے جو روشنی پھیل جاتی ہے، اس کو شیر صبح کہتے ہیں، تبسم اور ہنسی کو شیریں باندھتے ہیں، صبح کے وقت پھولوں کا کھلنا نہایت خوشگوار ہوتا ہے، ان باتوں سے شاعر کی قوت تخئیل نے یہ خیال پیدا کیا،شیرینی تبسم ہر غنچہ را مپرس در شیر صبح خندہ گل ہا شکر گذاشتیعنی غنچہ کے تبسم میں جو شیرینی ہے اس کا بیان نہیں ہوسکتا یہ معلوم ہوتا کہ شیر صبح میں خندہ گل نے شکر گھول دی ہے۔اس قسم کے سینکڑوں خیالات ہیں جو قوت تخئیل نے صرف ایک پھول سے پیدا کئے۔ اس سے اندازہ کر سکتے ہو کہ قوت تخئیل کی مو شگافیاں اور دقیقہ آفرینیاں کس حد تک ہیں۔شاعر قوت تخئیل سے تمام اشیاء کو نہایت دقیق نظر سے دیکھتا ہے، وہ ہر چیز کی ایک ایک خاصیت، ایک ایک وصف پر نظر ڈالتا ہے، پھر اور چیزوں سے ان کا مقابلہ کرتا ہے، ان کے باہمی تعلقات پر نظر ڈالتا ہے، ان کے مشترک اوصاف کو ڈھونڈکر ان سب کو ایک سلسلہ میں مربوط کرتا ہے۔ کبھی اس کے برخلاف جو چیزیں یکساں اور متحد خیال کی جاتی ہیں ان کو زیادہ نکتہ سنجی کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان میں فرق اور امتیاز پیدا کرتا ہے۔ ذیل کی مثالوں سے اس کا اندازہ ہوگا،چناں با دوست آمیز بہ دل گرمی و جان سوزی (میں معشوق سے اس طرح جوش شوق میں لپٹا ہوں)کہ در ہنگام جانبازی بہ دشمن، دشمن آمیزد (جس طرح لڑائی میں دشمن سے دشمن لپٹ جاتا ہے)دشمن کا دشمن سے، اور عاشق کا معشوق سے ملنا متضاد حالتیں ہیں۔ لیکن دونوں میں شاعر نے قدر مشترک پیدا کردیا۔ عاشق مدت کے بعد معشوق سے جب ملتا ہے تو جس جوش اور تڑپ سے ملتا ہے، اس کی ظاہر ہیئت اس سے مشابہ ہوتی ہے جب دشمن، دشمن سے غصہ میں لپٹ جاتا ہے۔اے برہمن! چہ زنی طعنہ کہ درمعبدما سبحہ نیست کہ آن غیرت زنّار تو نیستبرہمن طعنہ دیتا تھا کہ مسلمانوں کے پاس زنّار نہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ آج کل مسلمانوں کے افعال اور اقوال وہی ہیں جو کافروں کے ہیں، اس لئے ان میں اور کافروں میں فرق نہیں۔ اس بنا پر ان کی تسبیح زنّار سے کم نہیں۔ زنّار اور تسبیح بالکل مختلف بلکہ متضاد چیزیں ہیں لیکن شاعر نے دونوں کو قدر مشترک کے لحاظ سے دیکھا تو ایک نکلے۔نالۂ مے کشم از درد تو گاہے لیکن تا بہ لب می ر سد از ضعف نفس مے گرددمسلّمات شاعری میں ہے کہ معشوق عاشقوں کی فریاد اور نالہ سے خوش ہوتے ہیں۔ شاعر اس شعر میں معشوق سے خطاب کرتا ہے کہ تو مجھ کو چپ دیکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ میں نالہ نہیں کرتا لیکن یہ صحیح نہیں، میں نالہ کرتا ہوں لیکن ضعف اس قدر ہے کہ لب تک آتے آتے وہی نالہ سانس بن کر رہ جاتا ہے، اس میں ضمناً یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ میں ہر وقت نالہ کرتا ہوں کیونکہ میرا ہر سانس نالہ ہی ہے۔ جو ضعف کی وجہ سے سانس بن گیا ہے۔من آں نیم کہ حرام از حلال نشناسم شراب با تو حلال است و آب بے تو حرامشراب اور پانی مختلف الحکم چیزیں ہیں۔ یعنی شراب حرام ہے اور پانی حلال۔ شاعر کہتا ہے کہ دراصل دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ معشوق کے ساتھ پی جائے تو شراب اور پانی دونوں حلال ہیں اور معشوق کے بغیر پی جائے تو دونوں حرام ہیں۔ اس مضمون کو نہایت لطیف پیرایہ میں ادا کیا ہے۔ پہلے مصرعہ میں کہتا ہے کہ میں ایسا شخص نہیں کہ حرام اور حلال کی مجھ کو تمیز نہ ہو۔ یعنی میں فقہ کے مسائل سے باخبر ہوں اور فقیہ ہوں۔ پھر معشوق سے خطاب کر کے کہتا ہے تیرے ساتھ شراب پی جائے تو حلال ہے اور پانی تیرے بغیر پیا جائے تو حرام ہے۔ دونوں حالتوں میں دعوی کے ایک ایک جز کو چھوڑ دیا ہے کہ کہنے کی حاجت نہیں۔بہ تکلم بہ خموشی بہ تبسم بہ نگاہ می تواں برد بہ ہر شیوہ، دل آسان از منگفتگو اور سکوت بالکل متضاد چیزیں ہیں، لیکن چونکہ معشوق کا سکوت اور گفتگو دونوں دلربا ہیں اس لئے دلربائی کے وصف کے لحاظ سے دونوں یکساں ہیں، اس مضمون کو نہایت خوبی سے ادا کیا ہے۔ اول تو متناقض چیزوں کو اثر کے لحاظ سے یکساں ثابت کیا، حالانکہ مختلف چیزوں کا اثر مختلف ہونا چاہئے، اس کے ساتھ ’’بہ ہر شیوہ‘‘ سے یہ خیال ظاہر ہوتا ہے کہ تکلم اور خموشی کی تخصیص نہیں بلکہ معشوق کی جو ادا ہے دل کے چھیننے کے لئے کافی ہے۔ ’’آسان‘‘ کے لفظ سے یہ ثابت کرنا ہے کہ دل فطرتاً درد آشنا ہے کہ ہر ادا پر فوراً لوٹ جاتا ہے۔تخئیل کے لئے مواد اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ تخئیل کے لئے معلومات و مشاہدات کی ضرورت نہیں، یا ہے تو بہت کم،کیونکہ تخئیل کا عمل واقعی موجودات پر موقوف نہیں، وہ خیالی باتوں سے ہر قسم کا کام لے سکتی ہے۔ اس کی عمارت کے لئے محالات کامصالحہ اسی طرح کام آسکتا ہے جس طرح ممکنات کا۔ وہ ایک چھوٹی سی چیز سے سینکڑوں ہزاروں خیالات پیدا کرسکتی ہے۔ چنانچہ ان شعراء نے جنہو ں نے واقعات یا مشاہدات کو ہاتھ تک نہیں لگایا، خیالات کا گونا گوں عالم پیدا کردیا۔ جلال اسیر، زلالی، شوکت بخاری، بیدل، ناصر علی وغیرہ نے صرف گل و بلبل سے دیوان تیار کردیے اور شاعری کو چمنستان خیال بنا دیا۔لیکن یہ خیال نہایت غلط ہے اور اسی غلطی نے متاخرین کی شاعری کو تباہ کردیا۔ اولاً تو کوئی خیال مشاہدات اور واقعات کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتا، جن چیزوں کوناممکن کہتے ہیں ان کا خیال بھی درحقیقت ممکن ہی کے مشاہدہ سے پیدا ہوا ہے۔ مثلاً ہم کہتے ہیں کہ ’’یہ ناممکن ہے کہ ایک چیز ایک ہی وقت میں موجود بھی ہو اور معدوم بھی۔‘‘ موجود اور معدوم الگ الگ ممکن ہیں، ان دونوں کو ترکیب دے کر موجود معدوم ایک فرضی مفہوم بنایا تو محال ہوگیا لیکن یہ ظاہر ہے کہ اس مرکب کے دونوں اجزاء الگ الگ ممکن ہیں۔ شاعری میں اکثر ناممکنات یا غیر موجود چیزوں سے کام لیتے ہیں۔ مثلاً گھوڑے کی تیز روی کی تعریف کرتے ہیں تو دریائے آتش کہتے ہیں،آتشے می دوید آب چکانشراب کو یاقوت سیّال سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ابو نواس شراب کے بلبلوں کی تعریف میں کہتا ہے،حصباء درٍّ علی ارضٍ مِن الذھب (سونےکی زمین پر موتی کی خزف ریزے ہیں)یہ سب چیزیں فرضی ہیں، لیکن ا ن کا خیال واقعی۔ یہ چیزوں سے پیدا ہوا ہے۔ مثلاً آگ اور دریا الگ الگ واقعی اور خارجی چیزیں ہیں، انہیں دونوں کو ملا کر ’’در یائے آتش‘‘ ایک خیالی مفہوم پیدا کرلیا گیا اور اس سے تیز گھوڑے کو تشبیہ دی گئی۔ اس سے ثابت ہوگا کہ کوئی خیال مشاہدات کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتا۔ اس لئے تخیل کی وسعت کے لئے واقعات کا کثرت سے ملاحظہ کرنا خواہ مخواہ لازمی ہے۔ابن الرومی عرب کا مشہور شاعر تھا۔ ایک دفعہ اس کو کسی نے طعنہ دیا کہ تم ابن المعتز سے بڑھ کر ہو۔ پھر ابن المعتز کی سی تشبیہیں کیوں نہیں پیدا کرسکتے؟ ابن الرومی نے کہا کہ ابن المعتز کی کوئی تشبیہ سناؤ جس کا جواب مجھ سے نہ ہوسکا ہو، اس نے یہ شعر پڑھا،فانظر الیہ کز ورقِ من فضۃ قد اثقلتہ حمولۃٌ من عنبریہ شعر ماہ نو کی تعریف میں ہے۔ شعر کا مطلب یہ ہے کہ پہلی رات کا چاند ایسا ہے جس طرح ایک چاندی کی کشتی جس پر اس قدر عنبر لاد دیا گیا ہے کہ وہ دب گئی ہے۔ کشتی پر جب بار زیادہ ہو جاتا ہے تو اس کا زیادہ حصہ پانی میں اتر جاتا ہے اور صرف کنارے دکھلائی دیتے ہیں، اس لئے ماہ نو کو کشتی کے کنارے سے تشبیہ دی ہے اور چونکہ آسمان کا رنگ نیلگوں ہوتا ہے اس لئے قرار دیا کہ کشتی پر عنبر لدا ہوا ہے۔ ابن الرومی یہ سن کر چیخ اٹھا کہ ’’لا یکلف اللہ نفساً الا و سعھا‘‘ (خدا کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا) ابن المعتز بادشاہ اوربادشاہ زادہ ہےگھر میں جو دیکھتا ہے وہ ہی کہہ دیتا ہے، میں یہ کہاں سے لاؤں۔ 4 چاندی اور عنبر کوئی نایاب چیز نہیں لیکن چونکہ ابن الرومی نے چاندی سونے کے ظروف نہیں دیکھے تھے، اس لئے وہ چاندی کی کشتی کا خیال پیدا نہ کرسکا، سیف الدولہ کا وہ مشہور قطعہ جس میں اس نے قوس قزح کی تشبیہ دی ہے، اس کی نسبت عام اہل ادب لکھتے ہیں کہ یہ بادشاہانہ تشبیہ ہے جو ہرایک کے خیال میں نہیں آ سکتی۔ یعنی جب تک شاہانہ ساز و سامان نظر سے نہ گزرے ہوں اس قسم کا خیال نہیں پیدا ہوسکتا۔ہم کو اس سے انکار نہیں کہ ایک معمولی سے معمولی چیز پر قوت تخئیل مدتوں صرف کی جاسکتی ہے اور سینکڑوں مضامین پیدا کئے جا سکتے ہیں، جس کی مخصوص مثال شعرائے متاخرین کی نکتہ آفرینیاں ہیں، لیکن اس کی مثال سرکس کے گھوڑے کی ہے جو ایک خیمہ کے اندر طرح طرح کے تماشے دکھا سکتا ہے، لیکن طے منازل میں، میدان جنگ میں، گھوڑ دوڑ میں کام نہیں آسکتا ہے، اسی طرح تخئیل کا عمل بھی ایک محدود دائرہ میں جاری رہ سکتا ہے، لیکن اس کی وسعت کیا ہوگی؟ اور ایسی شاعری کس کام آئے گی؟ وہ شاعری جو ہر قسم کے جذبات کا آئینہ بن سکتی ہو جو فطرت انسانی کا راز کھول سکتی ہو، جو تاریخی واقعات کو دلچسپی کے منظر پر لاسکتی ہو، جو فلسفہ اخلاق کے دقایق بتا سکتی ہو، اس کے لئے ایسا محدوو تخئیل کیا کام آسکتا ہے۔تخئیل جس قدر قوی، باریک، متنوع اور کثیر العمل ہوگی اسی قدر اس کے لئے مشاہدات کی زیادہ ضرورت ہوگی، جس قدر بلند پرواز طائر ہوگا اسی قدر اس کے لئے مشاہدات کی زیادہ ضرورت ہوگی، جس قدر بلند پرواز طائر ہوگا اسی قدر اس کے لئے فضا کی وسعت زیادہ درکار ہوگی، فردوسی نے شاہنامہ لکھا تھا تو سینکڑوں ہزاروں مختلف واقعات لکھنے پڑے، اس لئے قوت تخئیل کو پورا موقع ملا۔ یہی سبب ہے کہ شاہنامہ میں شاعری کے تمام انواع موجود ہیں۔ مثلاً شاعری کا ایک بڑا میدان جذبات انسانی کا اظہار ہے، جذبات کے بہت سے انواع ہیں مثلاً محبت و عداوت، غیظ و غضب، حیرت و استعجاب، رنج و غم، پھر ان میں سے ایک ایک کے مختلف انواع ہیں، مثلاً باپ بیٹے کی محبت، بھائی بھائی کی محبت، ماں بیٹے کی محبت، زوجہ اور شوہر کی محبت، اہل وطن کی محبت، فردوسی کو یہ تمام مواقع ہاتھ آئے، اور ہر موقع پر وہ تخئیل سے کام لے سکا۔ چنانچہ اس نے جس جذبہ کا جہاں پر اظہار کیا ہے، تخئیل کے عمل سے مؤثر اور جانگداز کردیا ہے۔ تفصیل ان باتوں کی آگے آئے گی۔تخئیل کی بے اعتدالی شعر کی اس سے زیادہ کوئی بدقسمتی نہیں کہ تخئیل کا بے جا استعمال کیا جائے۔ طبیعیات کے متعلق جس طرح یونانی حکماء کی قوتیں بیکار گئیں اور آج تک ان کے پیرو، ہیولیٰ اور صورت کی فضول بحثوں میں الجھ کر کائنات کا ایک عقدہ بھی حل نہ کرسکے، بعینہ ہمارے متاخرین شعرا کا یہی حال ہوا، ان کی قوت تخئیل، قدماء سے زیادہ ہے لیکن افسوس بالکل رائیگاں صرف کی گئی۔ ایک شاعر کہتا ہے،گو شہارا آشیان مرغ آتشخوارہ کرد برق عالم سوز یعنی شعلۂ غوغائے مناس شعر کے سمجھنے کے لئے امور ذیل کو پہلے ذہن نشین کر لینا چاہئے۔(۱) مرغ آتشخوارہ ایک پرندہ ہے جو آگ کھاتا ہے۔(۲) آہ اور فریاد میں چونکہ گرمی ہوتی ہے اس لئے آہ اور فریاد کو شعلہ سے تشبیہ دیتے ہیں۔(۳) مرغ آتشخوارہ وہاں وہاں رہتا ہے جہاں آگ ہوتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میری فریاد میں اس قدر گرمی ہے کہ کانوں میں پہنچی تو وہاں آگ پیدا ہوگئی، اس بنا پر مرغ آتشخوارہ نے لوگوں کے کانوں میں جاکر گھونسلے بنا لئے ہیں کہ یہاں آگ نصیب ہوگی۔متاخرین کی اکثر نکتہ آفرینیاں اسی قسم کی ہیں جس کی وجہ یہی ہے کہ قوت تخیل کا استعمال بیجا طور سے ہوا ہے۔ قوت تخیل کی بے اعتدالی کی تمیز اگرچہ صرف مذاق صحیح کر سکتا ہے، تاہم صرف مذاق صحیح کا حوالہ کافی نہیں، اس لئے جہاں تک ممکن ہے، ہم کسی قدر اس کی تشریح کرتے ہیں۔(۱) قوت تخئیل کو سب سے زیادہ بے اعتدالی کا موقع مبالغہ میں ملتا ہے۔ یہ تسلیم کرلیا گیا ہے کہ مبالغہ کے لئے اصلیت اور واقعیت کی ضرورت نہیں۔ اس بنا پر قوت تخئیل جی کھول کر بلند پروازی دکھاتی ہے اور کج روی اور بے راہ روی کی اس کو پرواہ نہیں ہوتی۔ مثلاً ایک شاعر گھوڑے کی تعریف میں کہتا ہے،بہ کشوری کہ درو نام تازیانہ برند بر لوح سنگ نگیرد شبیہ او آرامیعنی اگر کسی پتھر پر اس گھوڑے کی تصویر کندہ کرائی جائے، اور اس ملک میں جہاں یہ پتھر ہو، کوڑے کا نام لے لیا جائے، تو تصویر پتھر سے اڑ جائے گی۔ اصل بات اس قدر تھی کہ گھوڑا اِس قدر تیز ہے کہ کوڑے کے اشارے سے قابو میں نہیں رہتا، اب مبالغہ کے مدارج دیکھو۔(۱) گھوڑے کی تیز روی کا اثر، تصویر تک میں آگیا ہے۔ (۲) تازیانہ لگانے کی ضرورت نہیں بلکہ تازیانہ کا نام لینا کافی ہے۔ (۳) تصویر کے سامنے تازیانہ کا نام لینے کی ضرورت نہیں بلکہ اس ملک میں نام لے لینا کافی ہے۔ (۴) پتھر پر کندہ ہونے کی حالت میں بھی تصویر میں یہ اثر ہے۔شاعر کو چونکہ ایک محال پر قناعت نہیں اس لئے وہ محالات کی تہ پر تہ قائم کرتا جاتا ہے۔ لیکن یہ قوت تخئیل کی سخت بے اعتدالی ہے، قوت تخئیل کی خوبی یہ ہے کہ محال بات اس طرح سے ادا کی جائے کہ بظاہر ممکن بن جائے۔ مثلاً میر انیس اس موقع پر جہاں حضرت عباس کا نہر کے پاس پہنچنا لکھا ہے، لکھتے ہیں،ابھریں درود پڑھتی ہوئی مچھلیاں بہم بولے حباب آنکھوں پہ شاہا ترے قدمدریا میں روشنی ہوئی جسم حضور سے لے لیں بلائیں پنجۂ مرجان نے دور سےمچھلیوں کا درود پڑھ کر ابھرنا، حباب کا بولنا، پنجۂ مرجان کا بلائیں لینا، سب ناممکنات میں سے ہیں، لیکن تخئیل کی طلسم سازی نے ایک واقعی تصویر پیش نظر کردی ہے۔ شاعر نے اول تو ان واقعات کو اس شخص کے متعلق لکھا ہے، جس کے معجزہ کی بدولت (اس کے نزدیک) سب کچھ ہوسکتا ہے، دوسرے، واقعہ کے بعض اجزا صحیح یا صحیح کے مشابہ ہیں۔ مچھلیاں پانی میں ابھرتی ہیں، حباب آنکھ کے مشابہ ہوتا ہے، مرجان کی شکل پنجہ کی ہوتی ہے۔ ان باتوں کی مجموعی حالت اور اس پر شاعر کی لطافت بیانی کی وجہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ واقعی حالت کی تصویر ہے۔(۲) وہ تخئیل اکثر بیکار اوربے اثر ہوتی ہے جس میں تمام عمارت کی بنیاد صرف کسی لفظی تناسب یا ایہام پر ہوتی ہے۔ متاخرین کی اکثرنکتہ آفرینیاں اسی قسم کی ہیں۔ مثلاً ایک شاعر کہتا ہے،مستانہ کشتگان تو ہر سو فتادہ اند تیغ ترا مگر کہ بہ مے آب دادہ اندشعر کا مطلب یہ ہے کہ ’’معشوق کی تلوار کے مارے ہوئے ہر طرف مست پڑے ہوئے ہیں۔ مستی کی وجہ یہ ہے کہ معشوق نے جس تلوار سے قتل کیا ہے اس پر شراب کی باڑھ رکھی گئی ہے۔ اس خیال کی تمام تر بنیاد ’’آب‘‘ کے لفظ پر ہے۔ آب تلوار کی چمک دمک اور باڑھ کو کہتے ہیں، آب کے معنی پانی کے بھی ہیں۔ شراب بھی پانی کی طرح سیال ہے۔ تلوار کی باڑھ کو پانی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ پانی سے تلوار کو زنگ لگ جاتا ہے۔ لیکن چونکہ باڑھ کو فارسی میں آب کہتے ہیں، اس لئے یہ قرار دیا کہ تلوار میں پانی ہے، اور جہاں پانی مستعمل ہوسکتا ہے شراب بھی ہوسکتی ہے۔ اس لئے تلوار میں شراب کی باڑھ ہے، اس لئے مقتولین نشہ میں چور ہیں، اس تمام عمارت کی بنیاد آب کے لفظ پر ہے، اس لفظ کے اگر دو معنی نہ ہوتے تو یہ گورکھ دھندا قائم نہیں رہ سکتاتھا۔سینکڑوں ہزاروں اشعار جو نازک خیالی کے نمونے سمجھے جاتے ہیں، ان کی تمام تر بنیاد اسی قسم کی لفظی خصوصیتوں پر ہے۔ چنانچہ ان کا اگر کسی اور زبان میں ترجمہ کردیا جائے تو تخئیل بالکل باطل ہوجاتی ہے۔ مرزا دبیر تلوار کی تعریف میں فرماتے ہیں،تلواروں پر وہ سیف جو شعلہ فشاں ہوئی جل بھن کے آب تیغوں کی رَن میں، دھواں ہوئیتلوار کی آب کو پہلے پانی فرض کیا، پھر اس کا جلنا، بھننا اور دھواں ہوجانا جو کچھ چاہا ثابت کرتے چلے گئے۔(۳) تخئیل کی بے اعتدالی کا بڑا موقع استعارات اور تشبیہات ہیں، استعارے اور تشبیہیں جب تک لطیف، قریب الماخذ، اور اصلیت سے ملتی جلتی ہوتی ہیں شاعری میں حسن پیدا کرتی ہیں لیکن جب تخئیل کو بے اعتدالی کا موقع ملتا ہے، تو وہ دو رازکار اور فرضی استعارات اور تشبیہیں پیدا کرتی ہے اور پھر اس پر اور بنیادیں قائم کرتی جاتی ہے، مثلاً مرزا بیدل کہتے ہیں،تبسمے کہ بہ خون بہار تیغ کشید کہ خندہ برلب گل نیم بسمل افتاد استاصل خیال اس قدر تھا کہ معشوق کا تبسم پھول کے نیم شگفتہ ہونے کی حالت سے زیادہ خوشنما ہے۔ اس مضمون کو یوں ادا کیا ہے کہ تبسم ایک قاتل ہے، اس نے بہار کی خونریزی کے لئے تلوار کھینچی ہے۔ اس کا وار خندۂ گل پر پڑا، خندہ گل نیم بسمل ہو کر رہ گیا۔ اس تخئیل میں جو بے اعتدالی ہے استعارات کی وجہ سے ہے۔ بہار کا خون تبسم کی تلوار، خندۂ گل کا بسمل ہونا، دور از کار استعارات ہیں۔(۴) تخئیل کی بے اعتدالی یہ ہے کہ کسی چیز کو کسی چیز سے تشبیہ دیتے ہیں، پھر اس شے کے جس قدر اوصاف اور لوازم ہیں سب اس میں ثابت کرتے ہیں۔ حالانکہ ان سے کسی قسم کی مناسبت نہیں ہوتی۔ مثلاً کمر کو بال سے تشبیہ دیتے ہیں، اب اس کے بعد بال کے جتنے اوصاف ہیں کمرمیں ثابت کرتے ہیں۔ مثلاً ناسخ کہتے ہیں،ابھی ہر چند وہ بت نوجواں ہے سفید اس کا مگر موئے میاں ہےیعنی بال بڑھاپے میں سفید ہوتے ہیں، لیکن تعجب یہ ہے کہ معشوق کی کمر کا بال، جوانی ہی میں سفید ہوگیا ہے۔ سیم بدن ہونے کے لحاظ سے کمر کو سفید کہا ہے۔ یا مثلاً غنی فرماتے ہیں،دیدم میان یارو ندیدم دہان یار (میں نے معشوق کی کمر دیکھی اور منھ نہ دیکھ سکا)نتواں بہیچ دید چو در دیدہ موفتد (کیونکہ جب آنکھ میں بال پڑجاتا ہے تو کوئی چیز نہیں آتی)قاعدہ ہے کہ آنکھوں میں جب بال پڑجاتا ہے تو چبھتا ہے اور پھر آنکھیں کھولی نہیں جاتیں۔ شاعر کہتا ہے کہ میں نے معشوق کی کمر دیکھی لیکن اس کا منہ نہ دیکھ سکا۔ کیونکہ جب آنکھوں میں بال آگیا تو کوئی چیز نظر نہیں آتی۔یا مثلاً ایک شاعر نے ناف کی نسبت لکھا ہے کہ ’’موئے کمر میں گرہ پڑ گئی‘‘ یا مثلاً ابرو کو تلوار باندھا، تو تلوار کے تمام لوازم آب و تاب، دم خم، جوہر، ناب، ڈاب، قبضہ، میان، سب کچھ اس کے لئے ثابت کرتے جاتے ہیں۔(۶) تخئیل کی ایک بڑی جو لا ن گاہ حسن تعلیل ہے یعنی شاعر قوت تخئیل سے ایک چیزکو ایک چیز کی علت قرار دیتا ہے۔ حالانکہ دراصل وہ اس کی علت نہیں ہوتی، مثلاً شاعر کہتا ہے،کسی کے آگے کوئی ہاتھ پسارے کیا دخل مٹھی باندھے ہوئے پاتا ہے تولّد کودکبچے جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہیں تو ان کی مٹھی بندھی ہوتی ہے، اب شاعر اس کی یہ وجہ قرار دیتا ہے کہ ممدوح نے تمام لوگوں کو اس قدر مالا مال کردیا ہے کہ کسی کو کسی چیز کی حاجت نہیں رہی۔ اس لئے بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی مٹھیاں بندھی ہوتی ہیں۔ اکثر شاعرانہ مضامین اسی حسن تعلیل پر مبنی ہیں لیکن جب قوت تخئیل سے اعتدال کے ساتھ کام نہیں لیا جاتا تو اس میں اکثر بے اعتدالیاں ہوجاتی ہیں۔ مثلاً ایک شاعر، ہکلے معشوق کی تعریف میں کہتا ہے،گفتم سخنت شکست و ش، چوں آید با آں کہ ہمہ چو دُرّ مکنوں آیدگفتا کہ بہ ایں دہاں تنگے کہ مراست گر نشکنمش چگونہ بیروں آیدیعنی میں نے معشوق سے کہا کہ تیری زبان سے جو لفظ ادا ہوتے ہیں ٹوٹ ٹوٹ کر کیوں ادا ہوتے ہیں۔ اس نے کہا کہ میرا دہن اتنا چھوٹا ہے کہ جب تک بات توڑ کر ریزہ ریزہ نہ کرلی جائے، منہ سے کیونکر باہر نکل سکتی ہے، ان چند مثالوں سے تخئیل کی بے اعتدالی کا کسی قدر تم نے اندازہ کیا ہوگا۔تخئیل کے استعمال کی غلطی تخئیل اور محاکات اگرچہ دونوں شاعری کے عنصر ہیں، لیکن بلحاظ اکثر دونوں کے استعمال کے موقع الگ الگ ہیں، یہ سخت غلطی ہے کہ ایک کے بجائے دوسرے کا استعمال کیا جائے۔ مثلاً مناظر قدرت کا بیان، محاکات میں داخل ہے یعنی مثلاً اگر بہار، خزاں، باغ، سبزہ، مرغزار، آب رواں کا بیان کیا جائے تو محاکات سے کام لینا چاہئے، یعنی اس طرح بیان کرنا چاہئے کہ ان چیزوں کا اصلی سماں آنکھوں کے سامنے پھر جائے، متاخرین کی سخت غلطی جس سے ان کی شاعری بالکل برباد ہوگئی، یہ ہے کہ وہ ان موقعوں پر محاکات کے بجائے تخئیل سے کام لیتے ہیں۔ مثلاً بہار کی تعریف میں کلیم کہتا ہے،بہ نوعے آتش گل در گرفت است کہ بلبل رفت و در آب آشیاں کردیعنی پھولوں کی وجہ سے باغ میں اس طرح آگ لگ گئی ہے کہ بلبل نے جاکر پانی میں گھونسلا بنادیا۔بہ صور بید مجنوں آبشار است رطوبت برگ را از بسرواں کردبید مجنوں ایک درخت ہوتا ہے جس کی شاخیں زمین تک لٹکتی رہتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ بہار کی وجہ سے اس قدر رطوبت بڑھ گئی ہے کہ بید مجنوں ایک آبشار، یعنی پانی کا جھرنا معلوم ہوتا ہے۔زمانہ ایست کہ بر قفل اگر نسیم و زید بسان غنچہ اش از انبساط خنداں کردیعنی آب و ہوا کا یہ اثر ہے کہ قفل کو اگر ہوا لگ جاتی ہے تو کلی کی طرح کھل جاتا ہے۔ غور کرو ان اشعار سے بہار کی کسی قسم کی کیفیت دل پر طاری ہوسکتی ہے؟ افسوس یہ ہے کہ متاخرین کا کلام تمام تر اسی قسم کی شاعری سے بھرا پڑا ہے۔ ظہوری کا ساقی نامہ جس کی اس قدر دھوم ہے انہیں قسم کے خیالات دور از کار کا مخزن ہے۔اسی طرح مدحیہ شاعری محاکات میں داخل ہے، یعنی کسی شخص کی مدح کی جائے تو اس کے واقعی اوصاف بیان کرنے چاہئیں، جس سے اس شخص کی عزت اور عظمت دلوں میں پیدا ہو، لیکن اکثر شعرا مدح میں تخئیل سے کام لیتے ہیں اور اس قسم کے خیالی مضامین پیدا کرتے ہیں جن کو محاکات اور اصلیت سے کچھ واسطہ نہیں ہوتا۔تشبیہ و استعارہ یہ چیزیں شاعری بلکہ عام زبان آوری کی خط و خال ہیں۔ جن کے بغیر انشا پردازی کا جمال قائم نہیں رہ سکتا۔ ایک عامی سے عامی بھی جب جوش یا غیظ وغضب سے لبریز ہوجاتا ہے تو جو کچھ اس کی زبان سے نکلتا ہے، استعارات کا قالب بدل کر نکلتا ہے۔ غم اور رنج کی حالت میں انشا پردازی اور تکلف کا کس کو خیال ہوسکتا ہے لیکن اس حالت میں بھی بے اختیار استعارات زبان سے ادا ہوتے ہیں۔ مثلاً کسی کا عزیز مرجاتا ہے تو کہتا ہے، ’’سینہ پھٹ گیا‘‘، ’’ دل میں چھید پڑ گئے‘‘، ’’آسمان ٹوٹ پڑا‘‘، ’’تجھ کو کس کی نظر کھا گئی۔‘‘ یہ سب استعارے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوگا کہ استعارہ دراصل فطری طرز ادا ہے۔ لوگو ں نے بے اعتدالی سے تکلف کی حد تک پہنچا دیا۔ اس بنا پر ہم تشبیہ اور استعارے کی بحث تفصیل سے لکھنا چاہتے ہیں۔ جس سے ظاہر ہو کہ ان کی حقیقت کیا ہے؟ کہاں اور کیونکر کام آتے ہیں؟ ان میں ندرت اور لطافت کیونکر پیدا ہوتی ہے؟ کس طرح ایک بڑے سے بڑا وسیع خیال ان کے ذریعہ سے ایک لفظ میں ادا ہوجاتا ہے۔تشبیہ کی تعریف اگر ہم یہ کہنا چاہیں کہ فلاں شخص نہایت شجاع و بہادر ہے، تو اگر انہیں لفظوں میں اس مضمون کوادا کریں تو یہ معمولی طریقہ ادا ہے، اسی بات کو اگر یوں کہیں کہ وہ ’’شخص شیر کے مثل ہے‘‘ تو زور اور بڑھ جائے گا، لیکن اگر اس شخص کا مطلق ذکر نہ کیا جائے اور یوں کہا جائے کہ میں نے ایک شیر دیکھا۔‘‘ اور اس سے مراد وہی شخص ہو تو استعارہ ہے۔ اسی مطلب کے ادا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ شیر کا نام بھی نہ لیا جائے بلکہ شیر کے جو خصائص ہیں اس شخص کی نسبت استعمال کئے جائیں۔ مثلاً یوں کہا جائے کہ وہ جب میدان جنگ میں ڈکارتا ہوا نکلا تو ہل چل پڑ گئی (ڈکارنا خاص شیر کی آواز کو کہتے ہیں) یہ بھی استعارہ ہے اور پہلے طریقہ کی بہ نسبت زیادہ لطیف ہے۔تشبیہ و استعارہ کی ضرورت اور ان کا اثر ۱۔ اکثر موقعوں پر تشبیہ یا استعارہ سے کلام میں جو وسعت و زور پیدا ہوتا ہے وہ اور کسی طریقہ سے نہیں پیدا ہوسکتا۔ مثلاً اگر اس مضمون کو کہ، ’’فلاں موقع پر نہایت کثرت سے آدمی تھے۔‘‘ یوں ادا کیا جائے کہ وہاں آدمیوں کو جنگل تھا، تو کلام کا زور بڑھ جائے گا۔ یہاں کلام کا اصلی مقصد، آدمیوں کی کثرت کا بیان کرنا ہے، جنگل کی تشبیہ کی وجہ سے کثرت کا خیال متعدد وجہوں سے زیادہ وسیع ہو جاتا ہے۔ جنگل کی زمین میں قوت نامیہ بہت ہوتی ہے، اس لئے اس میں گھاس، پودے اور درخت کثرت سے پاس پاس اگتے ہیں، اس کے ساتھ نمو کا سلسلہ برابر قائم رہتا ہے۔ یہ قاعدہ ہے کہ جو چیز جہاں کثرت سے پیدا ہوتی ہے بے قدر ہوجاتی ہے۔ اسی بنا پر جنگل میں درخت اور گھانس کی کچھ قدر نہیں ہوتی۔ مثال مذکورہ میں تشبیہ نے یہ تمام باتیں پیش نظر کردیں یعنی آدمی اس کثرت سے تھے، جس طرح جنگل میں گھاس ہوتی ہے۔ آدمیوں کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا تھا، بلکہ بھیڑ بڑھتی جاتی تھی، ایک جاتا تھا تو دس آجاتے تھے، کثرت کی وجہ سے آدمیوں کی کچھ قدر نہ تھی، یہ تمام باتیں جن کی وجہ سے کثرت کے مفہوم میں وسعت پیدا ہوگئی، ایک جنگل کے لفظ میں مضمر ہیں اور چونکہ یہ تمام باتیں صرف ایک لفظ نے ادا کردیں، اس لئے خود بخود کلام میں زور آگیا، فارسی میں اس قسم کے خیال ادا کرنے کا یہ طریقہ ہے،بہ برقع مہ کنعان کہ بود حسن آباد (راہ کنعان کی نقاب کی قسم جو کہ حسن آباد تھا)بہ حجلہ گاہ زلیخا کہ بود یوسف زار (زلیخا کے خلوت کدہ کی قسم جو کہ یوسف زار تھا)پہلے مصرع میں حضرت یوسف کے چہرہ کا حسن بیان کرنا تھا، اس کو یوں ادا کیا کہ ان کا نقاب حسن آباد تھا۔ حسن آباد کے معنی وہ بستی جہاں حسن کی آبادی ہو، گویا حضرت یوسف کا نقاب ایک بستی ہے جہاں حسن نے سکونت اختیار کی ہے۔ دوسرے مصرع میں یہ مضمون ادا کرنا تھا کہ حضرت یوسف کی وجہ سے زلیخا کا خلوت کدہ روشن ہوگیا تھا، اس کو یوں ادا کیا کہ وہ یوسف زار ہوگیا تھا، گویا سینکڑوں ہزاروں یوسف بھر گئے تھے۔۲۔ بعض موقعوں پر جب شاعر کوئی غیر معمولی دعویٰ کرتا ہے تو اس کے ممکن الوقوع ثابت کرنے کے لئے تشبیہ کی ضرورت پڑتی ہے،بہ سوز عشق شاہاں را چہ کار ست کہ سنگ لعل، خالی از شرار استشاعر دعویٰ کرتا ہے کہ بادشاہوں میں عشق اور محبت کی جلن نہیں ہوتی۔ یہ بظاہر ایک غلط دعویٰ ہے کیونکہ بادشاہت اور عشق و محبت میں کوئی مخالف نہیں۔ اس لئے شاعر اس کو تشبیہ کے ذریعہ سے ثابت کرتا ہے کہ ہر قسم کے پتھر میں شرر ہوتے ہیں۔ یعنی ان پر چوٹ پڑے تو چنگاریاں جھڑنے لگتی ہیں۔ لیکن الماس اور لعل میں شرر نہیں ہوتے اور ظاہر ہے کہ پتھر کے اقسام میں الماس گویا بادشاہ ہے۔اسی دعویٰ کا دوسرا ثبوت یہ ہے،زور و عشق شہ، بیگانہ باشد کہ جائے گنج در ویرانہ باشدعربی میں اس کی نہایت عمدہ مثال متنبی کا شعر ہے،فان فی الخمر معناً لیس فی العنب (جو بات شراب میں ہے، وہ انگور میں نہیں)دعویٰ یہ ہے کہ بادشاہ تمام انسانوں سے مرتبہ میں بڑھ کر ہے، اس کو تشبیہ کے ذریعہ سے ثابت کرتا ہے کہ شراب انگور سے بنتی ہے، لیکن جو بات شراب میں ہے، انگورمیں نہیں۔ مثالیہ شاعری جس نے متاخرین کے زمانہ میں نہایت وسعت اختیار کی تشبیہ و تمثیل ہی پر مبنی ہے۔۳۔ جب کسی نہایت نازک اور لطیف چیز یا حالت کا بیان کرنا ہوتا ہے تو الفاظ اور عبارت کا م نہیں دیتی اور یہ نظر آتا ہے کہ الفاظ نے اگر ان کو چھوا تو ان کو صدمہ پہنچ جائے گا، جس طرح حباب چھونے سے ٹوٹ جاتا ہے، ایسے موقعوں پر شاعر کو تشبیہ سے کام لینا پڑتا ہے، وہ اسی قسم کی لطیف اورنازک صورت کو ڈھونڈ کر پیدا کرتا ہے اور پیش نظر کرتا ہے مثلاً نظیری کہتا ہے،ہمہ شب بر لب و رخسار و گیسو میزنم بوسہ (میں معشوق کے لب اور رخسار اور گیسو کو تمام رات چومتا رہا)گل و نسرین و سنبل را صبا در خرمن است ا مشب (آج گل و نسرین و سنبل کے خرمن میں ہوا گھس آئی ہے)لب و رخسار کی نزاکت اور ان کا نرم اور لطیف بوسہ، الفاظ کی برداشت کے قابل نہ تھا، اس لئے شاعر نے اس کو اس حالت سے تشبیہ دی کہ گویا ہلکی ہلکی ہوا پھولوں کو چھوڑ کر گزر جاتی ہے اور بار بار آکر چھوتی اور نکل جاتی ہے۔یا مثلاً یہ شعر،نہ گفت و من بشنیدم، ہر آنچہ گفتن داشت (اس نے کچھ نہیں کہا اور میں نے اس کی بات اس وجہ سے)کہ دربیان نگہش کرد بر زباں تقدیم (سن لی کہ اس کی نگاہ نے زبان سے پیش دستی کی)لبش چو نوبت خویش از نگاہ باز گرفت (جب اس کے ہونٹ نے اپنی باری لی تو میرے)فتاد سامعہ در موج کوثر و تسنیم (کان کوثر کی موج میں ڈوب گئے)یہ اس وقت کا بیان ہے جب عرفی ممدوح کے دربار میں گیا ہے اور ممدوح نے پہلے نگاہ لطف سے ا س کو دیکھا ہے پھر باتیں کی ہیں۔ کہتا ہے کہ ممدوح نے کچھ نہیں کہا اور میں نے وہ سب باتیں سن لیں جو کہنا چاہتا تھا کیونکہ اس کی نگاہوں نے ادائے مطلب میں زبان سے پیش دستی کی۔ پھر جب اس کے ہونٹوں کی باری آئی تو سامعہ کوثر کی موج میں ڈوب گیا۔ محبوب کی باتوں سے قوت سامعہ جو لطف اٹھاتی ہے اس کو اس طریقہ سے سوا اور کیونکر ادا کیا جاسکتا تھا کہ سامعہ کوثر کی موج میں ڈوب گیا۔تشبیہ میں حسن کیونکر پیدا ہوتا ہے؟ تشبیہ ایک ایسی عام چیز ہے کہ ہر شخص اس سے کام لیتا ہے، اس لئے جب تک تشبیہ میں کوئی ندرت اور خاص خوبی نہ ہو وہ کوئی اثر پیدا نہیں کر سکتی۔ تشبیہ میں جن جن اسباب سے خوبیاں پیدا ہوتی ہیں اگرچہ ان کا احصاء نہیں ہوسکتا تاہم چند صورتیں مثال کے طور پر ہم لکھتے ہیں، جن سے ایک عام خیال قائم ہوسکے گا۔(۱) ہر تشبیہ ابتداء میں نادر اور پر لطف ہوتی ہے، لیکن باربار کے استعمال سے اس کی تازگی اور ندرت جاتی رہتی اوربے اثر ہوجاتی ہے، اس لئے شاعر کا فرض یہ ہے کہ نادر اورجدید تشبیہیں اور استعارے ڈھونڈھ کر پیدا کرے، بڑے بڑے شعرا کا معیار کمال یہی ہے کہ کلام میں اچھوتی تشبیہیں اورنئے نئے استعارے پائے جاتے ہیں مثلاً بوسہ کو ایشیائی شعراء شیرین شکرین گلوسوز، کہتے آتے ہیں۔ لیکن یورپ کا جادو طراز کہتا ہے کہ ’’وہ ایک پیمان وفا ہے جو مجسم بن جاتا ہے۔‘‘’’ایک راز پنہاں ہے جو سامعہ کے بجائے ذائقہ سے کہا جاتا ہے۔‘‘’’ایک نسیم ہے جو دل کی خوشبو لاتی ہے۔‘‘’’لذت آلود نگاہیں ہیں جو سمٹ کر نقطہ بن گئی ہیں۔‘‘ اسی قسم کے نازک اور لطیف استعارے فارسی زبان میں، عرفی اور طالب آملی کے یہاں مل سکتے ہیں۔ عرفی نے ایک قصیدہ میں بہت سی چیزوں کی قسم کھائی ہے اس میں ایک موقع پر کہتا ہے،بہ بر شگفتن امروز، غنچہ گشتن دیکل کا دن جو گزر گیا اور آج کا دن جو شروع ہورہا ہے اس کو کھلنے والے پھول اور مرجھانے والی کلی سے تشبیہ دی ہے۔جہانگیر ایک دفعہ طالب آملی سے ناراض ہوگیا تھا اور ا س کو دربار سے الگ کردیا۔ کسی امیر نے اس کو اپنے یہاں بلا لیا اور دربار میں جو بڑا شاعر تھا اس سے مقابلہ کرایا۔ طالب غالب رہا، امیر نے یہ دیکھ کر جہانگیر سے طالب کی تقریب کی، اور وہ دوبارہ دربار میں باریاب ہوا، ان واقعات کو طالب نے نہایت لطیف استعارے اور تشبیہ کے پیرایہ میں ادا کیا ہے،بہ نسبت گہرم، دادہ بودی از کف خویش (تونے مجھ کو موتی سمجھ کر، پھینک دیا تھا، تونے)ترازجود،زیانے چنیں ہزار افتاد (سخاوت کی وجہ سے ایسے بہت سے نقصان اٹھائے ہیں)چور دشدم ز کفت، چرخم از ہوا بہ بود (جب تو نے مجھ کو پھینک دیا تو آسمان نے مجھ کو لپک لیا)بہ گرمی کہ زبانم بہ زینہار افتاد (اس تیزی کے ساتھ کہ میں الامان بول اٹھا)یکے مقابل خورشید داشت آئینہ ام (آسمان نے تھوڑی دیر میرے آئینہ کو آفتاب کے سامنے کیا)بدید کز عرقش، موجبرعذار افتاد (آفتاب کے چہرہ پر پسینہ آگیا)ازیں نشاط، مگر دست آسمان لرزید (غالباً اس خوشی سے آسمان کا ہاتھ کانپ اٹھا)کہ بازدرکف خاقان کامگار افتاد (کہ میں پھر شاہنشاہ کے ہاتھ میں آکر گرا)(۲) تشبیہ مرکب عموماً زیادہ لطیف ہوتی ہے۔ مرکب سے یہ مراد ہے کہ کئی چیزوں کے ملنے سے جو مجموعی حالت پیدا ہوتی ہے وہ تشبیہ کے ذریعہ سے ادا کی جائے،مثلاً،کان مثار النقع فوق رؤسا واسیا فنالیلٌ تھاویٰ کواکبہیعنی میدان جنگ میں جو گرد اڑتی ہے اور اس میں تلواریں چمکتی ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ رات کو ستارے ٹوٹ رہے ہیں۔یہاں الگ الگ چیزوں کی تشبیہ مقصود نہیں بلکہ ایک مجموعی حالت کوادا کرنا ہے، جس کے اجزا یہ ہیں۔ ’گرد ‘ جو فضا میں چھا گئی ہے، ’اس‘ میں تلواریں، ’تلواروں‘ کاچلنا اور چمکنا، ’تلواروں‘ کے چلنے میں بے ترتیبی اور اختلاف جہت، ان سب باتوں سے جو مجموعی سماں پیدا ہوتا ہے اس کی تشبیہ ستاروں سے دی ہے جو رات کی تاریکی میں سیدھے، ترچھے، آڑے ہر طرف ٹوٹتے ہیں۔یا مثلاً،دو زلف تابدار او بہ چشم اشکبار من چو چشمہ کہ اندر او شنا کنند مارہایعنی میری پر اشک آنکھوں میں، معشوق کی زلفوں کا عکس اس طرح پڑتا ہے گویا چشمہ میں سانپ لہرا رہے ہیں۔باد در کہسار، جام لالہ رابر سنگ زد (ہوانےلالہ کا پیالہ اٹھاکر زمین پر پٹک دیا)گل بہ خندہ گفت آرے ایں چنیں باید ہمیں (پھول نے ہنس کر کہا خوب، یہی کرنا چاہئے تھا۔)ہوا جب تیز چلتی ہے تو نازک ٹہنیاں اور پھول زمین پر گرپڑتے ہیں اس حالت کو یوں ادا کیا ہے کہ گویا ہوا نے لالہ کا پیالہ اٹھاکر زمین پر پٹک دیا۔نرگس کہ شب نہ خفت ز فریاد بلبلاں (نرگس کو رات بلبلوں کے شور و غل سے نیندنہیں آئی تھی)بنہاد سر بہ بالش گل میل خواب کرد (اس لئے پھول کے تکیہ پر سر رکھ کر سوگئی)جدت و لطف ادا شاعری کے لئے یہ سب سے مقدم چیز ہے بلکہ بعض اہل فن کے نزدیک جدت ادا ہی کا نام شاعری ہے۔ ایک بات سیدھی طرح سے کہی جائے تو ایک معمولی بات ہے، اسی کو اگر جدید انداز اور نئے اسلوب سے ادا کردیا جائے تو یہ شاعری ہے۔ایک دفعہ حجاج نے ایک بدو سے پوچھا کہ تم سے کوئی راز کی بات کہی جائے تو تم اس کو چھپا سکتے ہو یا نہیں، اس نے کہا کہ ’’میری سینہ راز کا مدفن ہے۔‘‘ راز سینہ میں مر کر رہ جاتا ہے، سینہ سے نکل کیوں کر سکتا ہے، اس بات کو وہ اگر یوں ادا کرتا کہ ’’میں راز کو کسی حالت میں کبھی ظاہر نہیں کرتا۔‘‘ تو معمولی بات ہوتی، لیکن طرز ادا کے بدل دینے نے ایک خاص لطف پیدا کردیا اور اب وہی بات شعر 5 بن گئی۔ شاعری، انشا پردازی، بلاغت، ان تمام چیزوں کی جادوگری اسی جدت ادا پر موقوف ہے۔ جدت ادا کی منطقی تعریف اور اس کے اصول اور قواعد کا انضباط سخت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ وہ ایک ذوقی چیز ہے جس کا صحیح ادراک صرف ذوق صحیح سے ہوسکتا ہے، اس کا پیرایہ ہر جگہ الگ ہے اور اس قدر غیر محصور ہے کہ نہ ان سب کا شمار ہوسکتا ہے نہ ان میں کوئی خاص قدر مشترک پیدا کیا جا سکتا ہے۔ ا س لئے جدت ادا کے مفہوم کے ذہن نشین کرنے کے لئے اس کے سوا کوئی تدبیر نہیں کہ متعدد مثالیں پیش کر کے بتایا جائے کہ اصل خیال کیا تھا؟ اس کو کس جدید انداز سے ادا کیا گیا؟ اور جدت نے کیا اثر پیدا کیا، ہم چند مثالیں ذیل میں لکھتے ہیں،زخم ہا بردا شتیم و فتح ہا کردیم لیک (ہم نے بہت زخم کھائے اور فتوحات کیں لیکن)ہرگز از خونِ کسے رنگین نشد و امان ما (کسی کے خون سے ہمارا دامن رنگین نہیں ہوا)اصل خیال یہ تھا کہ ہم کو حریفان فن سے مقابلہ کا اکثر اتفاق ہوا، لوگوں نے ہم کو برا بھلا کہا، بد زبانیاں کیں، لیکن ہم نے صبر و سکوت سے کام لیا، رفتہ رفتہ ہمارے علم و فضل کا سکہ لوگوں کے دلوں میں بیٹھتا گیا یہاں تک کہ حریف بھی قائل ہوگئے اور سب نے ہماری عظمت تسلیم کرلی۔ اس خیال کو یوں ادا کیا ہے کہ میدان جنگ میں ہم نے زخم اٹھاکر فتحیں حاصل کیں، لیکن ہمارا دامن کسی کے خون سے رنگین نہیں ہوا، اس طرز ادا میں علاوہ اس کے تشبیہ میں ندرت ہے۔ یہ تعجب انگیز بات ثابت کی ہے کہ میدان جنگ میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور معرکہ فتح ہوگیا۔ساقی تولّی و سادہ دلی بین کی شیخ شہر باور نمی کند کہ ملک مے گسار شدشعر کا مطلب ہے کہ معشوق جب ساقی بنا تو فرشتوں یعنی فرشتہ خو لوگوں نے بھی شراب پینی شروع کردی۔ اس مطلب کو یوں ادا کیا ہے کہ معشوق کو مخاطب کر کے کہتا ہے، واعظ کی حماقت دیکھتے ہو، تم ساقی ہو اور اس کو یقین نہیں آتا کہ فرشتہ نے شراب خواری اختیار کی، جدت کے علاوہ اس طریقہ ادا میں بلاغت یہ ہے کہ جب کوئی واقعہ واقعہ کی حیثیت سے بیان کیا جاتا ہے، تو اس کے صحیح ہونے میں شبہ ہوسکتا ہے، اس لئے شاعر اس کو واقعہ کی حیثیت سے نہیں بیان کرتا بلکہ ایک مسلمہ واقعہ دے کر، واعظ کی حماقت پر تعجب کرتا ہے گویا اس کو فرشہ کی میخواری بیان کرنی مقصود نہیں نہ اس کے نزدیک یہ کوئی تعجب انگیز واقعہ ہے جو بیان کرنے کے قابل ہو، البتہ واعظ کی حماقت حیرت انگیز ہے کہ اس کو ایسے بدیہی واقعہ کا یقین نہیں آتا۔شاعر نے خود واعظ کو مخاطب نہیں کیا، ورنہ خیال ہوتا کہ شاید یوں ہی واعظ کے چھیڑنے کے لئے کہا ہے۔ معشوق سے خطاب کرنے میں یہ بلاغت بھی ہے کہ اس کی ملک فریبی کی تعریف ا س انداز سے کی ہے کہ تعریف مقصود نہیں، صرف واعظ کی حماقت پر حیرت کا اظہار 6 ہے۔اے کہ ہمراہ موافق بہ جہان مے طلبی (اگر تم سچا دوست دنیا میں ڈھونڈھتے ہو)آن قدر باش کہ عنقاز سفرباز آید (تو اتنا ٹھہر جاؤ کہ عنقا سفر سے واپس آجائے)یہ ایک پامال مضمون ہے کہ جب کسی چیز کو نایاب کہنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ’’عنقا ہے۔‘‘ شعر کا اصلی مطلب اس قدر ہے کہ ہم را ہ موافق یعنی سچا دوست ملنا محال اور عنقا ہے، اس کو یوں کہتا ہے کہ ’’اگر تم کو سچے دوست کی تلاش ہے تو اتنا ٹھہر جاؤ کہ عنقا جو سفر میں گیا ہے، وہ واپس آجائے۔‘‘ یعنی نہ عنقا واپس آسکتا ہے نہ سچا دوست مل سکتا ہے، اس میں بلاغت کا یہ پہلو ہے کہ پہلے امید دلائی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سچا دوست مل سکتا ہے۔ البتہ ذرا انتظار کرنا پڑے گا پھر جس بات پر مخول کیا ہے وہ بھی بظاہر ناممکن نہیں کیونکہ کسی کا سفر سے واپس آجانا کوئی ناممکن بات نہیں۔ اس حالت کے بعد جب ناامیدی طاری ہوتی ہے تو ناامیدی کا اثر زیادہ سخت اور رنج دہ ہوتا ہے، گویا یہ دکھانا ہے کہ سچے دوست کی تلاش میں امید بھی ہوگی تو اسی قسم کی ہوگی کہ خاتمہ ناکامی پر ہو۔نہ باندازۂ بازوست کمندم ہیہات ورنہ با گوشہ با میم سروکارے ہستشعر کامطلب اس قدر ہے کہ میں معشوق تک پہنچنا تو چاہتا ہوں لیکن رسائی کا کوئی سامان نہیں، اس کو یوں ادا کیا ہے کہ مجھ کو ایک گوشہ بام، سے کچھ کام تو ہے، لیکن کیا کہئے جتنی قوت میرے بازو میں ہے اس کے موافق کمند نہیں ہے، بامے اور سروکارےکی تنکیر نے ایک خاص لطف پیدا کیا ہے۔حسن الفاظ یہ ایک نہایت ضرورت بحث ہے۔ ا س لئے ہم اس کو تفصیل سے لکھتے ہیں۔ کتاب العمدہ میں باب اللفظ و المعنی ایک خاص عنوان قائم کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے، ’’لفظ جسم ہے اور مضمون روح ہے۔ دونوں کا ارتباط باہم ایسا ہے جیسا روح اور جسم کا ارتباط کہ وہ کمزور ہوگا تو یہ بھی کمزور ہوگی،پس اگر معنی میں نقص نہ ہو اور لفظ میں ہو تو شعر میں عیب سمجھا جائے گا جس طرح لنگڑے یا لنجے میں روح موجود ہوتی ہے، لیکن بدن میں عیب ہوتا ہے، اسی طرح اگر لفظ اچھے ہوں لیکن مضمون اچھا نہ ہو تب بھی شعر خراب ہوگا اور مضمون کی خرابی، الفاظ پر بھی اثر کرے گی، اگر مضمون بالکل لغو ہو اور الفاظ اچھے ہوں تو الفاظ بھی بیکار ہوں گے جس طرح مردہ کا جسم کہ یوں دیکھنے میں سب کچھ سلامت ہے، لیکن درحقیقت کچھ بھی نہیں۔ اسی طرح مضمون گو اچھا ہو لیکن الفاظ اگر برے ہیں تب بھی شعر بیکار ہوگا، کیونکہ روح، بغیر جسم کے پائی نہیں جا سکتی۔‘‘اہل فن کے دو گروہ بن گئے ہیں ایک لفظ کو ترجیح دیتا ہے اور ا س کی تمام تر کوشش الفاظ کے حسن و خوبی پر مبذول ہوتی ہے، عرب کا اصلی انداز یہی ہے، بعض لوگ مضمون کو ترجیح دیتے ہیں اور الفاظ کی پرواہ نہیں کرتے۔ یہ ابن الرومی اور متنبی کا مسلک ہے۔ لیکن زیادہ تر اہل فن کا یہی مذہب ہے کہ لفظ کو مضمون پر ترجیح ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مضمون تو سب پیدا کرسکتے ہیں لیکن شاعری کا معیار کمال یہی ہے کہ مضمون ادا کن الفاظ میں کہا گیا ہے؟ اور بندش کیسی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ شاعری یا انشا پردازی کا مدار زیادہ تر الفاظ ہی پر ہے۔ گلستان میں جو مضامین اور خیالات ہیں، ایسے اچھوتے اور نادر نہیں لیکن الفاظ کی فصاحت اور ترتیب اور تناسب نے ان میں سحر پیدا کردیا ہے، انہیں مضامین اور خیالات کو معمولی الفاظ میں ادا کیا جائے تو سارا اثر جاتا رہے گا، ظہوری کا ساقی نامہ نازک خیالی، موشگافی مضمون بندی کا طلسم ہے لیکن سکندرنامہ کا ایک شعر پورے ساقی نامہ پر بھاری ہے۔ ا س کی وجہ یہی ہے کہ ساقی نامہ میں الفاظ کی وہ متانت اور شان و شوکت اور بندش کی وہ پختگی نہیں جو سکندر نامہ کا عام جوہر ہے، حافظ کا شعر ہے،گفتم ایں جامِ جہان بین بتو کے داد حکیم گفت آن روز کہ ایں گنبدمینا می کردجو خیال اس شعر میں ادا کیا گیا ہے اس کو الفاظ بدل کر ادا کرو، شعر خاک میں مل جائے گا، ذیل کے دونوں مصرعوں میں،تھا بلبل خوشگو کہ چہکتا ہے چمن میںبلبل چہک رہا ہے ریاض رسول میںمضمون بلکہ بعض الفاظ تک مشترک ہیں پھر بھی زمین آسمان کا فرق ہے، حضرت امام حسین علیہ السلام نے جب یزید کی فوج کے سامنے اتمام حجت کیا ہے تو اپنے اسلحہ اور لباس کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ورثہ میں پائے تھے، دکھا کر پوچھا ہے کہ یہ کس کے تبرکات ہیں۔ اس واقعہ کو میر ضمیر نے یوں ادا کیا ہے،پہچانتے ہو؟ کس کی مرے سر پہ ہے دستاردیکھو تو؟ عبا کس کی ہے کاندھے پہ نموداریہ کس کی زرہ؟ کس کی سپر؟ کس کی ہے تلوارمیں جس پہ سوار آیا ہوں کس کا ہے؟ یہ رہوارباندھا ہے کمر جس سے بھلا کس کی ردا ہے؟کیا فاطمہ زہرا نے نہیں اس کو سیا ہے؟بعینہ اسی واقعہ کو میر انیس ادا کرتے ہیں،یہ قبا کس کی ہے؟ بتلاؤ یہ کس کی دستار یہ زرہ کس کی ہے؟ پہنے ہوں جو میں سینہ فگار بر میں کس کا ہے؟ یہ چار آئینۂ جوہر دارکس کار ہوا رہے؟ یہ آج میں جس پر ہوں سوار کس کا یہ خود ہے یہ تیغ دو سرکس کی ہے؟کس جری کی یہ کمان ہے یہ سپر کس کی ہے؟دونوں بندوں میں مضمون اور معنی بالکل مشترک ہیں الفاظ کے اَدَل بَدَل اور اُلٹ پلٹ نے کلام کو کہاں سے کہاں تک پہنچا دیا ہے۔اس تقریر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شاعر کو صرف الفاظ سے غرض رکھنی چاہئے اور معنی سے بالکل بے پروا ہو جانا چاہئے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ مضمون کتنا ہی بلند اور نازک ہو لیکن اگر الفاظ مناسب نہیں ہیں تو شعر میں کچھ تاثیر نہ پیدا ہوسکے گی، ا س لئے شاعر کو یہ سوچ لینا چاہئے کہ جو مضمون اس کے خیال میں آیا ہے، اسی درجہ کے الفاظ اس کو میسر آسکیں گے یا نہیں؟ اگر نہ آسکیں تو اس کو بلند مضامین چھوڑ کر انہیں سادہ اور معمولی مضامین پر قناعت کرنی چاہئے جو اس کے بس کے ہیں اور جن کو وہ عمدہ پیرایہ اور عمدہ الفاظ میں ادا کر سکتا ہے کسی نے نہایت سچ کہا ہے،برائے پاکی لفظے شبے بروز آرد کہ مرغ و ماہی باشند خفتہ اوبیداریعنی ’’شاعر ایک ایک لفظ کی تلا ش میں رات رات بھر جاگتا رہ جاتا ہے جب کہ مرغ اور مچھلیاں تک سوتی ہوتی ہیں۔‘‘ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک عمدہ سے عمدہ خیال، عمدہ سے عمدہ مضمون، عمدہ سے عمدہ نظم، اس وجہ سے برباد ہو جائے کہ اس میں صرف ایک لفظ اپنے درجہ سے گر گیا۔جن بڑے مشہور شعرا کی نسبت کہا جاتا ہے کہ ان کے کلام میں خامی ہے، اس کی زیادہ تر وجہ یہی ہے کہ ان کے یہاں الفاظ کی متانت، وقار، اور بندش کی درستی میں نقص پایا جاتا ہے متوسطین اور متاخرین نے جو شاہنامے لکھے، مضامین اور خیالات میں فردوسی کے شاہنامے سے کم نہیں ہیں۔ فردوسی کے شاہنامہ کے سامنے ان کا نام لینا بھی سفاہت ہے۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ فردوسی جن الفاظ میں اپنے خیالات کو ادا کرتا ہے اس کے سامنے اوروں کے الفاظ بالکل کم رتبہ اوربے وقعت معلوم ہوتے ہیں۔ شاید یہ اعتراض کیا جائے کہ الفاظ کا اثر بھی معنی ہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یعنی ایک لفظ اسی بنا پر پر عظمت ہوتا ہے کہ اس کے معنی میں عظمت ہوتی ہے۔ مثلاً نظامی کا یہ شعر،دراں دجلۂ خون بلند آفتاب چو نیلوفر افگند زورق بر آباس شعر میں اگرچہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر دجلہ کے بجائے چشمہ، اور زورق کے بجائے کشتی کردیا جائے تو گو معنی وہی رہیں گے لیکن شعر کم رتبہ ہوجائے گا،لیکن زیادہ غور سے دیکھا جائے تو اس کی وجہ لفظ کی خصوصیت نہیں بلکہ معنی کا اثر ہے۔ دجلہ کے معنی میں چشمہ سے زیادہ وسعت ہے کیونکہ چشمہ چھوٹی سی نالی کو بھی کہہ سکتے ہیں بخلاف اس کے دجلہ ایک بڑےدریا کا نام ہے۔ اسی طرح زورق اور کشتی کی حقیقت میں فرق ہے، اس بنا پر دجلہ اور زورق میں جو عظمت ہے وہ معنی کے لحاظ سے ہے نہ لفظ کی حیثیت سے۔یہ اعتراض ایک حد تک صحیح ہے لیکن اولاً تو بہت سے ایسے لفظ ہیں جن کے معنی میں نہیں بلکہ صورت اور آواز میں رفعت اور شان ہوتی ہے۔ ضیغم، اور شیر، معنی بالکل ایک ہیں، لیکن لفظوں کے شکوہ میں صاف فرق ہے، اس کے علاوہ اس قسم کے الفاظ میں لفظی حیثیت اس قدر غالب آگئی ہے کہ گو وہ رفعت معنی ہی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے تاہم سامع یہی سمجھتا ہے کہ یہ لفظ ہی کا اثر ہے، اس لئے ایسے الفاظ کا اثر بھی الفاظ ہی کی طرف منسوب کرنا چاہئے۔الفاظ کے انواع اور ان کے مختلف اثر اس امر کے ثابت کرنے کے بعدکہ شاعری کا مدار زیادہ تر الفاظ پر ہے، ہم کو کسی قدر تفصیل سے بتانا چاہئے کہ الفاظ کے کیا انواع ہیں؟ اور ہر نوع کا کیا خاص اثر ہے؟ اور کون الفاظ کہاں کام آتے ہیں؟الفاظ متعدد قسم کے ہوتے ہیں، بعض نازک، لطیف، شستہ، صاف، رواں اور شیریں اور بعض پُر شوکت، متین، بلند۔ پہلی قسم کے الفاظ عشق و محبت کے مضامین کے ادا کرنے کے لئے موزوں ہیں۔ عشق اور محبت، انسان کے لطیف اور نازک جذبات ہیں۔ اس لئے ان کے ادا کرنے کے لئے لفظ بھی اسی قسم کے ہونے چاہئیں۔ یہی بات ہے کہ قدما کی بہ نسبت متاخرین کی غزل اچھی ہوتی ہے۔ قدماء کے زمانے تک فوجی تمدن باقی تھا۔ اس لئے اس کا اثر تمام چیزوں میں پایا جاتا تھا، یہاں تک کہ الفاظ بھی بلند، متین، پرزور ہوتے تھے۔ فردوسی نے شاہنامہ کے بعد زلیخا لکھی تو اس کا یہ انداز ہے،بدادی جوابے کہ سربستہ بود بگفتی حدیثے کہ بگسستہ بودبہ بیہودہ گویم نسب ساختی سخنہائے ناخوش در انداختیزہر گونہ گفتی سخنہائے سست سرا نجامشایں گفتی اے نیکبختکہ گر آزمائی مرا، آزمائے کہ دارد دلم، پائے دانش بجائےکنوں دلبرا! گفت من کار کن دلت را بدیں مہربان یار کناس موقع سے بڑھ کر رقت اور درد اور سوز و گداز کا کیا موقع ہو سکتا تھا۔ فردوسی نے خیالات وہی ادا کئے جو ایک عاشق معشوق سے کرسکتا ہے لیکن الفاظ اور طرز ادا ایسا ہے کہ میدان جنگ کا رجز معلوم ہوتا ہے۔ نظامی نے جہاں اس قسم کے مضامین ادا کئے ہیں، ایسے لب و لہجہ میں اداکیے ہیں کہ پتھر کا دل پانی ہوجاتا ہے۔ سعدی جو غزل کے بانی خیال کئے جاتے ہیں اس کی وجہ زیادہ تر یہی ہے کہ انہوں نے غزل میں رقیق، نازک، شیریں اور پردرد الفاظ استعمال کئے۔ اس پر بھی کہیں کہیں پرانے روکھے اور سخت الفاظ آجاتے ہیں تو وہ بات جاتی رہتی ہے۔ مثلاً،تو میروی و خبر ن داری و اندر عقبت قلوب و ابصارایں قاعدۂ خلاف بگداز ویں خوے معاندت رہا کنگر برانی نرود، در برودباز آید ناگزیر ست مگس دکہ حلوائی رامتنبی کے کلام پر علامہ ثعلبی نے جو نکتہ چینیاں کی ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ غزل اور تشبیب میں ایسے الفاظ لاتا ہے جو عاشقانہ خیالات کے لئے موزوں نہیں۔بلند اور پر شوکت الفاظ، رزمیہ مضامین اور قصائد وغیرہ کے لئے موزوں ہیں۔ متاخرین یعنی کلیم و صائب وغیرہ کی نسبت یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ قصیدہ اچھا نہیں کہتے، اس کا سبب یہی ہے کہ ان کے زمانہ میں تمدن اور معاشرت میں نہایت نزاکت پرستی آگئی تھی اور عشقیہ جذبات عام ہوگئے تھے، اس کا اثر زبان پر بھی پڑا یعنی زبان زیادہ نازک اور لطیف ہوگئی، جو غزل گوئی کے لئے موزوں تھی لیکن قصائد کی دھوم دھام اور شان و شوکت کے قابل نہ تھی۔ عرفی قصیدہ میں عید کے عیش و عشرت کا بیان کرتا ہے تو اس کا یہ انداز ہے،صباحِ عید کہ در تکیہ گاہ نازو نعیم گدا کلاہِ نمد کج نہاد و سرویہیمکلیم نے ایک قصیدہ کی تمہید میں ہندوستان کی عیش انگیزی کا سماں باندھا ہے، اس کا مطلع ہے،اسیر کشور ہندم کہ از وفور سرور گدا بدست گرفت ست کاسۂ طنبوران دونوں شعروں میں جو فرق ہے، اسی بنا پر ہے کہ عرفی کے وقت تک عیش و عشرت کے خیالات اور اس کا اثر چنداں عام نہیں ہوا تھا، نظیری نیشاپوری اکبر کے عہد کا شاعر ہے، لیکن غزل کا مذاق غالب تھا اور زبان میں نہایت گھلاوٹ اور نزاکت آگئی تھی اس لئے اس کے قصیدوں میں زور نہیں ہے، اور تشبیب تو صاف غزل معلوم ہوتی ہے۔ قصیدہ کے ابتدا میں جو عشقیہ مضامین لکھتے ہیں اس کو تشبیب کہتے ہیں اور وہ گویا غزل ہوتی ہے تاہم نکتہ دانِ فن ہمیشہ لحاظ کرلیتے ہیں کہ وہ چونکہ قصیدہ کا جزو ہے اس لئے اس کی زبان غزل کی زبان سے نہ ملنے پائے، اسی بنا پر عرفی تشبیب لکھتا ہے تو اس انداز سے لکھتا ہے،منم آں سیر زجا نگشتہ کہ با تیغ و کفن (میں ایسا جان سے سیر ہو چکا ہوں کہ تیغ و کفن لے کر)تا در خانہ جلا د غزل خوان رفتم (جلاد کے گھرتک غزل پڑھتا ہوا گیا)کس عنا نگیر نہ شد ورنہ من ازبیت حرم (کسی نے روک ٹوک نہ کی ورنہ میں تو کعبہ سے)تا در بتکدہ درسایۂ ایمان رفتم (بتکدہ تک، ایمان کے سایہ میں گیا)زاں شکستم کہ بدنبال دل خویش مدام (میں نے اس وجہ سے شکست کھائی کہ اپنے دل کے)در نشیب شکن زلف پریشان رفتم (پیچھے پیچھے زلف کی شکنوں میں گرتا گیا)قصیدہ کے علاوہ مثنوی میں اس قسم کی زبان پسندیدہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ متاخرین مثنوی اچھی نہیں لکھ سکتے، ان کی زبان بالکل غزل کی زبان بن گئی ہے۔ ا س لئے جو کہتے ہیں غزل بن جاتی ہے۔ البتہ عشقیہ مثنویاں اس سے مستثنی ہیں۔ یعنی ان میں وہی غزل کی زبان استعمال کرنی چاہئے، نلدمن اورنوعی کے سوز و گداز چونکہ عشقیہ مثنویاں ہیں اس لئے ان میں یہی زبان موزوں تھی۔ لیکن فیضی نے یہاں بھی وہ نکتہ ملحوظ رکھا ہے کہ جہاں اپنا فخریہ لکھا ہے زبان بدل کر قصیدہ کی شان و شوکت آگئی ہے ملاحظہ ہو،امروز شاعرم، حکیمم (میں آج شاعر نہیں بلکہ فلسفی ہوں،)دانندۂ حادث و قدیمم (میں حادث اور قدیم کا عالم ہوں)بانگ قلمم دریں شب تار (میری قلم کی آواز نے، اس اندھیری رات میں)صد معنیٔ خفتہ کرد بیدار (سینکڑوں سوتےہوئے مضامین کو جگا دیا)روبہ منشاں بمنچہ دارند (لومڑیوں کو مجھ سے کیا کام؟ یہ شیر کی)پیشانی شیر را چہ خارند (پیشانی کیو ں کھجلاتی ہیں؟ جن لوگوں)آنا نکہ بہ مننظر فگندندن (نے میری طرف نظر اٹھائی میرے)در معرکہ ام سپر فگندند (مقابلہ میں سپر ڈال دی)یہ تمام تر بحث الفاظ کی انفرادی حیثیت سے تھی۔ لیکن اس سے زیادہ مقدم الفاظ کا باہمی تعلق اور تناسب ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایک شعر میں جس قدر لفظ آئیں الگ الگ دیکھا جائے تو سب موزوں اور فصیح ہوں لیکن ترکیبی حیثیت سے ناہمواری پیدا ہوجائے۔ اس لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ جو الفاظ ایک ساتھ کسی کلام میں آئیں ان میں باہم ایسا توافق، تناسب، موزونی اور ہم آوازی ہو کہ سب مل کر گویا ایک لفظ یا ایک ہی جسم کے اعضاء بن جائیں یہی بات ہے جس کی وجہ سے شعر میں وہ بات پیدا ہوتی ہے جس کو عربی میں انسجام کہتے ہیں اور جس کا نام ہماری زبان میں سلاست، صفائی اور روانی ہے۔ یہی چیز ہے جس پر خواجہ حافظ کو ناز ہے اور جس کی بنا پر اپنے حریف کی شان میں کہتے ہیں،صنعتگر ست اما شعر روان نداردیہی وصف ہے جس کی وجہ سے شعر میں موسیقیت پیدا ہو جاتی ہے اور شاعری اور موسیقی کی سرحدیں مل جاتی ہیں۔ علی حزین کا ایک شعر ہے،چوں سرکنم حدیث لبِ لعل یار را (جب میں معشوق کے لب کی بات شروع کرتا ہوں)گرداز نہاد چشمۂ حیوان بر آورم (تو چشمۂ حیوان سے گرد اڑنے لگتی ہے)خان آرزو نے پہلے مصرع میں یوں اصلاح دی،چوں سر کنم حدیثے ازاں خط پشت لبآرزو کے مصرع میں جس قدر الفاظ ہیں، یعنی حدیث، خط، پشت،لب، سب بجائے خود فصیح ہیں لیکن ان کے ملانے سے یہ حالت پیدا ہوگئی ہے کہ مصرع پڑھنے کے وقت معلوم ہوتا ہے کہ ہر قدم پر ٹھوکر لگتی جاتی ہے، بخلاف اس کے حزین کا مصرع موتی کی طرح ڈھلکتا آتا ہے۔معنی کے لحاظ سے الفاظ کا اثر یہاں تک الفاظ کی نسبت جو بحث تھی وہ زیادہ تر لفظ کی حیثیت یعنی آواز اور صورت اور لہجہ کے لحاظ سے تھی، لیکن شاعری کا اصلی مدار، الفاظ کی معنوی حالت پر ہے یعنی معنی کے لحاظ سے الفاظ کا کیا اثر ہوتا ہے، اور اس لحاظ سے ان میں کیونکر اختلاف مراتب ہوتا ہے۔ہر زبان میں مترادف الفاظ ہوتے ہیں جو ایک ہی معنی پر دلالت کرتے ہیں لیکن جب غور سے دیکھا جائے تو ان الفاظ میں باہم فرق ہوتا ہے یعنی ہر لفظ کے مفہوم اور معنی میں کوئی ایسی خصوصیت ہوتی ہے جو دوسرے میں نہیں پائی جاتی۔ مثلاً خدا کو فارسی میں خدا، پروردگار اور دادار، آفرید گار، سب کہتے ہیں بظاہر ان سب الفاظ کے ایک ہی معنی ہیں لیکن درحقیقت ہر لفظ میں ایک خاص بات اور خاص اثر ہے جو اس کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس لئے شاعر کی نکتہ دانی یہ ہے کہ جس مضمون کے ادا کرنے کے لئے خاص جو لفظ موزوں اور مؤثر ہے، وہی استعمال کیا جائے ورنہ شعر میں وہ اثر نہیں پیدا ہوگا۔ یہ ایک دقیق نکتہ ہے، اور بغیر اس کے کہ ایک خاص مثال میں ایک ایک لفظ پر بحث کر کے نہ سمجھایا جائے سمجھ میں نہیں آ سکتا۔فیضی کا شعر ہے،بانگ قلمم درین شب تار بس معنیٔ خفتہ کرد بیدارشعر کا اصل مضمون یہ ہے کہ ’’شاعری میں میں نے بہت سے نئے مضمون پیدا کئے۔‘‘ اس کو استعارہ کے پیرایہ میں یوں ادا کیا ہے کہ ’’میرے قلم کی آواز نے بہت سے سوتے ہوئے مضمونوں کو جگا دیا۔‘‘ اب اس کے ایک ایک لفظ پر خیال کرو۔بانگ خاص اس آواز کو کہتے ہیں جس میں بلندی اور فخامت ہو جو جگانے کے لئے موزوں ہے۔ بانگ اور آواز اور صریر ہم معنی ہیں اس لئے بانگ قلم کے بجائے آواز قلم اور صریر قلم بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس موقع کے لئے صرف بانگ موزوں ہے۔ قلم کو فارسی میں خامہ اور کلک بھی کہتے ہیں لیکن قلم کے لفظ میں جو فخامت اور رعب ہے اور لفظوں میں نہیں۔ متکلم کے میم نے مل کر اس فخامت کو اور بڑھا دیا ہے۔ بانگ اور قلم کی ترکیب نے لفظ کو اور زیادہ پر وزن کردیا ہے۔ تار کو تیرہ اور تاریک بھی کہتے ہیں لیکن اس مصرع میں حسن صورت کے لحاظ سے تار ہی موزوں ہے۔ بس کے ہم معنی بہت سے الفاظ ہیں، مثلاً بسیار، تختے، خیلے، وغیرہ لیکن بس کے لفظ میں کثرت کی جو توسیع ہے اور لفظوں میں نہیں ہے۔ان تمام باتوں پر غور کرو تب یہ نکتہ حل ہوگا کہ اس شعر میں جو اثر ہے اس کا سبب یہ ہے کہ مضمون کی ایک ایک خصوصیت ظاہر کرنے کے لئے جو الفاظ درکار تھے اور جن کے بغیر وہ خصوصیت ادا نہیں ہوسکتی تھی، سب شاعر نے جمع کر دیے، اور ان باتوں کے ساتھ اصل مضمون میں اصلیت اور طرز ادا میں جدت اور ندرت پیدا کی۔بڑے بڑے خیالات اور جذبات لفظ کے تابع ہوتے ہیں، ایک لفظ ایک بہت بڑے خیال یا بہت بڑے جذبہ کو مجسم کر کے دکھا سکتا ہے۔ ایک بہت بڑا مصور ایک مرقع کے ذریعہ سے غیظ و غضب، جوش اور قہر، عظمت اور شان کا جو منظر دکھا سکتا ہے شاعر صرف ایک لفظ سے وہی اثر پیدا کرسکتا ہے، مثلاً فردوسی نے جہاں رستم و سہراب کی داستان شروع کی ہے، لکھتا ہے،کنوں جنگ سہراب و رستم شنو (اب سہراب و رستم کی لڑائی سنو، بہت سے واقعات)دگرہا شنید ستی ایں ہم شنو (سن چکے ہو اب ذرا اس کو بھی سنو)اس شعر میں یہ ظاہر کرنا تھا کہ سہراب کا واقعہ تمام گزشتہ واقعات سےزیادہ مؤثر، زیادہ عجیب، زیادہ پر درد، اور زیادہ عبرت ناک ہے۔ شاعر نے صرف ایں ہم کے لفظ سے جو خیال ادا کردیا ہے وہ ان سب باتوں میں شامل ہے اور پھر ان پر محدود نہیں بلکہ اور آگےبڑھتا ہے، یعنی معلوم نہیں اس داستان میں اور کیا اثر ہوگا۔سکندر جب دارا کے پاس عالم نزع میں گیا ہے تو دارا اس سے کہتا ہے،زمین را منم تاج راتک نشین (میں زمین کے سر کا تاج ہوں، مجھ کو)مجنبان مراتا بخنبد زمین (نہ ہلا، ورنہ زمین ہل جائے گی)دوسرے مصرع نے وہ اثر پیدا کیا ہے جو ایک لشکر جرار نہیں پیدا کرسکتا ہے۔بہت سے لفظ ایسے ہوتے ہیں جن کے معنی گو مفرد ہوتے ہیں لیکن اس میں مختلف حیثیتیں ہوتی ہیں اور اس لحاظ سے وہ لفظ گویا متعدد خیالات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس قسم کا ایک لفظ ایک وسیع خیال ادا کر سکتا ہے اور اس لئے ان کے بجائے اگر ان کے مرادف الفاظ استعمال کیے جائیں تو مضمون کا اثر اور وسعت کم ہوجاتی۔ مثلاً کعبہ کو حرم بھی کہتے ہیں لیکن کعبہ کے لفظ سے ایک خاص عمارت مفہوم ہوتی ہے، بخلاف اس کے حرم کے لفظ میں متعدد مفہوم شامل ہیں۔ ’عمارت‘ خاص، یہ ’خیال‘ کہ وہ ایک محترم جگہ ہے۔ یہ ’خیال‘ کہ وہاں قتل و قصاص ناجائز ہے۔ یہ خیالات اس بنا پر ہیں کہ حرم کے لغوی معنی یہی تھے۔ اسی مناسبت سے اس عمارت کا یہ نام پڑا اور اب گو یہ لفظ حرم بن گیا ہے تاہم لغوی معنی کی جھلک اب تک موجود ہے، اس بنا پر حرم کا لفظ جن موقعوں پر جو اثر پیدا کرسکتا ہے کعبہ کا لفظ نہیں پیدا کرسکتا ہے، خاندان نبوت کو بھی حرم کہتے ہیں اور وہاں بھی عزت اور حرمت کی خصوصیت ملحوظ ہے۔ان باتوں کو پیش رکھنے سے معلوم ہوگا کہ ذیل کے شعر میں حرم کا لفظ کیا اثر پیدا کرتا ہے اور یہ لفظ بدل جائے تو شعر کا درجہ کیا رہ جائے گا۔از صاحب حرم چہ توقع کنند باز آں ناکساں کہ دست بر اہل حرم زنندیہ شعر اہل بیت کی شان میں ہے اور اس موقع کی طرف اشارہ ہے جب کہ یزید کی فوج نے اہل بیت کے خیموں میں گھس کر ان کے زیور اور کپڑے لوٹنے شروع کئے ہوئے ہیں۔ شعر کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اہل بیت پر ہاتھ ڈالتے ہیں ان کو صاحب حرم یعنی خدا سے مغفرت کی کیا توقع ہو سکتی ہے۔فصیح اور مانوس الفاظ کا انتخاب شاعر کے لئے نہایت ضروری ہے کہ فصیح اور مانوس الفاظ کا تفحص کرے اور کوشش کرے کہ کوئی لفظ فصاحت کے خلاف نہ آنے پائے۔ فصاحت کی تعریف اگرچہ اہل فن نے منطقی طور پر جنس و فصل کے ذریعہ سے کی ہے۔ یعنی حرفوں میں تنافر نہ ہو، لفظ نادر الاستعمال نہ ہو، قیاس لغوی کے مخالف نہ ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ فصاحت کامعیار صرف ذوق اوروجدان صحیح ہے، ممکن ہے کہ ایک لفظ میں تنافر حروف، ندرت استعمال، مخالفت قیاس کچھ نہ ہو، باوجود اس کے وہ فصیح نہ ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ ایک بالکل نادر الاستعمال ہو اور پھر فصیح ہو، زبان کے الفاظ جو کبھی ہم نے استعمال نہیں کئے تھے بلکہ ہمارے کانوں میں نہیں پڑے تھے، اول اول جب ہم سنتے ہیں تو ان میں سے بعض ہم کو فصیح معلوم ہوتے ہیں، اوربعض نامانوس اور مکروہ، حالانکہ ندرت استعمال میں دونوں برابر ہیں۔ایک نکتہ خاص طور پر یہاں لحاظ رکھنے کے قابل ہے۔ اکثرالفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں ثقل ہوتا ہے لیکن ابتدائی زمانہ میں جب لوگوں کا احساس نازک نہیں ہوتا تو ان کا ثقل محسوس نہیں ہوتا۔ کثرت استعمال اس ثقل کو اور کم کردیتی ہے، لیکن بالآخر جب احساس نازک ہوجاتا ہےتو وہ الفاظ صاف کھٹکنے لگتے ہیں اور رفتہ رفتہ متروک ہوجاتے ہیں۔ لیکن نکتہ دان اور لطیف المذاق شاعر فتویٰ عام سے پہلے اس قسم کے الفاظ ترک کردیتا ہے اور اس کا چھوڑنا گویا ان الفاظ کےمتروک کرنے کا اعلان ہوتا ہے۔ یہی شعرا ہیں جن کی شاعری زبان کا آئین اور قانون بن جاتی ہے۔ اس کی مثال اردو میں شیخ امام بخش ناسخ ہیں۔ بہت سے بد مزہ اور ناگوار الفاظ مثلاً ’’آئےہے‘‘، ’’جائےہے‘‘، ’’کھوئےہے‘‘، یا اردو الفاظ کی فارسی جمعیں مثلاً ’’خوبان‘‘ وغیرہ وغیرہ الفاظ ناسخ کے زمانہ میں عموماً مروج تھے اور تمام شعرائے دہلی اور لکھنؤ ان کو برتتے تھے،لیکن ناسخ کے مذاق صحیح نے برسوں کےبعد آنے والی حالت کا پہلے اندازہ کرلیا اور یہ تمام الفاظ ترک کردیے جو بالآخر دلّی والوں کو بھی ترک کرنے پڑے۔ خواجہ حافظ نے معلوم نہیں کہ سو برس کے آئندہ احساسات کا اندازہ کرلیا تھا کہ آج تک ان کی زبان کا ایک لفظ متروک نہیں ہوا۔غرض یہ ہے کہ شاعر جس طرح مضامین کی جستجو میں رہتا ہے اس کو ہر وقت الفاظ کی جانچ پڑتال، اورناپ تول میں بھی مصروف رہنا چاہئے۔ اس کو نہایت دقت نظر سے دیکھنا چاہئے کہ کون سے الفاظ میں وہ مخفی اور دور از نگاہ ناگواری موجود ہے جو آئندہ چل کر سب کو محسوس ہونے لگے گی۔یہ بات بھی بتا دینے کہ قابل ہے کہ بعض الفاظ گو فی نفسہ ثقیل ہوتے ہیں لیکن گرد و پیش کے الفاظ کا تناسب ان کے ثقل کو مٹا دیتا ہے یا کم کردیتا ہے، اس لئے شاعر کو مجموعی حالت پر نظر رکھنی چاہئے، اگر معنی کے لحاظ سے اس قسم کا لفظ اس کو کسی موقع پر مجبوراً استعمال کرنا ہے تو کوشش کرنی چاہئے کہ ایسے موقع پر اس کے لئے جگہ ڈھونڈھے کہ یہ عیب جاتا رہے یا کم ہوجائے۔سادگی ادا سادگی اداکے یہ معنی ہیں جو مضمون شعر میں ادا کیا گیا ہے بے تکلف سمجھ میں آجائے یہ بات اسباب ذیل سے حاصل ہوتی ہے۔۱۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا، جملوں کے اجزا کی وہ ترتیب قائم رکھی جائے جو عموماً اصلی حالت میں ہوتی ہے، وزن اوربحر و قافیہ کی ضرورت سے اجزائے کلام اپنی اپنی مقررہ جگہ سے زیادہ نہ ہٹنے پائیں۔۲۔ مضمون کے جس قدر اجزا ہیں ان کا کوئی جزو رہ نہ جائے جس کی وجہ سے یہ معلوم ہو کہ بیچ میں خلا رہ گیا ہے۔ جس طرح زینہ سے کوئی پایہ الگ کرلیا جاتا ہے مثلاً انوری کا یہ شعر،تا خاک کف پائے ترا نقش نہ بستند اسباب تپ لرزہ ندادند قسم رااس شعر کا مطلب سمجھنا امور ذیل کے ذہن نشین کرنے پر موقوف ہے۔ ’جھوٹی‘ قسم کھانے سے تپ لرزہ آجاتا ہے۔ ’’ممدوح‘‘ کے خاک پاکی لوگ قسم کھاتے ہیں۔ شعر کا مطلب یہ ہے کہ قسم میں جو یہ تاثیر رکھی گئی ہے کہ کوئی جھوٹی قسم کھائے گا تو اس کو تپ چڑھ آئے گی۔ یہ بات اس وقت سے ہوئی ہے جب ممدوح کے کف پا کا نقش زمین پر بنا، اب اگر کوئی شخص ممدوح کے کف پا کی قسم جھوٹ کھاتا ہے تو اس کو لرزہ چڑھ آتا ہے، ورنہ پہلے جھوٹ قسم کھانے سے کچھ نقصان نہیں ہوتاتھا۔اس مضمون میں یہ جز کہ ’’جھوٹی قسم سے تپ آجاتی ہے‘‘ مذکور نہیں، نہ اس قدر یہ بات مشہور ہے کہ تپ کے ذکر سے اس کا خیال آجائے، اکثر اشعار میں جو تعقید اور پیچیدگی رہ جاتی ہے اس کی یہی وجہ ہوتی ہے کہ مضمون کا کوئی ضروری جزو چھوٹ جاتا ہے۔اس کے ساتھ یہ بھی ملحوظ رکھنا چاہئے کہ اکثر موقعوں پر بعض اجزائے مضامین کا چھوڑ دینا خاص لطف پیدا کرتا ہے، یہ وہ مواقع ہوتے ہیں جہاں سننے والوں کا ذہن خود بخود اس جزو کی طرف منتقل ہوسکتا ہے مثلاً یہ شعر،سخت شرماتے ہیں اتنا نہ سمجھتا تھا انھیں چھیڑنا تھا تو کوئی شکوۂ بے جا کرتاشعر کامطلب یہ ہے کہ میں معشوق کو بھولا بھالا سمجھتا تھا اس لئے میں نے اس کو چھیڑنا چاہا تو سچی شکایتیں کیں کہ وہ اس سے ناراض یا شرمندہ نہ ہوگا لیکن وہ سمجھ گیا اوربہت شرمایا، اب مجھ کو افسوس ہے فقط چھیڑنا مقصود تھا، اس لئے جھوٹی شکایت کرنی چاہئے تھی کہ وہ شرمندہ بھی نہ ہوتا اور چھیڑ چھاڑ کالطف بھی قائم رہتا۔ اس مضمون میں سے یہ حصے کہ میں نے ’’ان کو چھیڑا‘‘ اور ’’سچی شکایتیں کیں‘‘ چھوڑ دیے گئے ہیں لیکن مضمون کے بقیہ حصے ان کو پورا کردیتے ہیں، یہ شاعری کا ایک خاص نازک پہلو ہے اور مرزا غالب کا یہ خاص انداز ہے۔۳۔ استعارے اور تشبیہیں دور از فہم نہ ہوں۔ اس کی تفصیل استعارہ اور تشبیہ کی بحث میں آئے گی۔۴۔ اکثر اشعار میں قصہ طلب حوالے ہوتے ہیں اور ان پر اکثر شاعرانہ مضامین کی بنیاد قائم ہوتی ہے ان کو تلمیحات کہتے ہیں۔ یہ تلمیحات ایسی نہیں ہونی چاہئیں جو کسی کو معلوم نہ ہوں۔ خاقانی کی تمام تر شاعری اسی قسم کی غیر متعارف تلمیحات پر مبنی ہے اور اسی وجہ سے اس کے اکثر اشعار لوگوں کے سمجھ میں نہیں آتے۔ مثلاً پرویز و ترنج زر، کسریٰ و ترہ زرین، زرین ترہ کو برخوان، ردکم تر کوا بر خوان۔ پرویز کا ترنج زر تو خیر لوگوں کو معلوم بھی ہوگا لیکن کسری کے ترہ زرین کوکون جانتا ہے اور کم تر کوا کی طرف تو بجز نہایت جید حافظ کے جو عالم بھی ہو کسی کا خیال بھی نہیں منتقل ہوسکتا۔۵۔ سادگی ادا میں اس بات کو بہت دخل ہے کہ روز مرہ اوربول چال کا زیادہ لحاظ رکھا جائے۔ روز مرہ چونکہ عام زبانوں پر چڑھا ہوا ہوتا ہے اس لئے ایک لفظ ادا ہونے کے ساتھ فوراً پورا جملہ ذہن میں آجاتا ہے اور اس کے سہارے سے مشکل سے مشکل مضمون کے سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ بڑے بڑے نامور شعرا کا اصلی کمال یہی ہے کہ اعلیٰ اعلیٰ خیال روز مرہ اور بول چال میں اس طرح ادا کرتے ہیں کہ گویا معمولی بات ہے۔ مثلاًحضرات صوفیہ کے یہاں، منازل سلوک میں بعض مرحلے مثلاً توکل، رضا، ترک خودی، دشوار گزار ہیں۔ داغ نے اس مسئلہ کو کس سادگی سے ادا کیا ہے،رہرو راہِ محبت کا خدا حافظ ہے اس میں دو چار بہت سخت مقام آتے ہیںیہاں شاید کسی کو یہ خیال پیدا ہو کہ سادگی کوئی عام چیز نہیں قرار پاسکتی۔ عوام کے لئے معمولی خیالات بھی عسیر الفہم ہیں اور خواص مشکل مضامین کو بھی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں، لیکن یہ خیال صحیح نہیں۔ سادگی یہی ہے کہ عام و خاص دونوں بے تکلف سمجھ سکیں، فرق جو ہوگا یہ ہوگا کہ عام آدمی شعر کا ظاہری اور سرسری مطلب سمجھ لیں گے لیکن خواص کی نظر ا س کے نکات، لطائف اور دقائق تک پہنچے گی اور ان پر شعر کا اثر عوام سے زیادہ ہوگا۔ مثلاًیہ شعر،مادر پیالہ عکس رُخ یار دیدہ ایم اےبے خبر ز لذت شراب مدام مااس کا مطلب ہر خاص و عام سمجھ سکتا ہے۔ البتہ اس میں تصوف کا جو مسئلہ بیان کیا گیا ہے وہ خاص ارباب حال کے سمجھنے کی چیز ہے۔شاعری کی بڑی خوبی جدت ادا ہے۔ جدت ادا میں بات کو خواہ مخواہ کسی قدر معمولی پیرایہ سے بدل کر اور اصلی راستہ سے ہٹا کر بیان کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے شاعر کو اس موقع پر سخت مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس صورت میں سادگی ادا کو قائم رکھنا گویا اجتماع النقیضین ہوتا ہے لیکن حقیقت میں شاعری کے کمال کا یہی موقع ہے، اس کی یہی صورت ہے کہ جدت کے سوا سادگی کی اور تمام باتیں موجود ہوں یعنی الفاظ سہل ہوں، تشبیہات قریب الفہم ہوں، ترکیب میں پیچیدگی نہ ہو، روز مرہ اور محاورہ موجود ہو، ان سب باتوں کے ساتھ جدت ادا میں اعتدال سے تجاوز نہ کیا جائے۔ اس صورت میں جدت کی وجہ سے سادگی میں کسی قدر فرق پیدا ہوگا تو اور باتیں اس کی تلافی کریں گی۔جملوں کے اجزاء کی ترکیب یہ شعر کی خوبی کا بڑا ضروری جزو ہے، ہر زبان میں الفاظ کے تقدم و تاخر کی ایک خاص ترتیب ہوتی ہے کہ اس سے تجاوز جائز نہیں۔ جب اسی ترتیب سے یہ اجزا کلام میں آتے ہیں تو مضمون بے تکلف سمجھ میں آجاتا ہے۔ جب یہ اجزاء اپنی اصلی جگہ سے ہٹ جاتے ہیں تو مطلب میں پیچیدگی پیدا ہوجاتی ہے اورجس قدر یہ تبدیلی زیادہ ہوتی جاتی ہے اسی قدر کلام پیچیدہ ہوتا جاتا ہے لیکن شعر میں وزن اور بحر اور قافیہ کی ضرورت سے اصلی ترتیب پوری پوری قائم نہیں رہ سکتی۔ تاہم شاعر کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو وہ کل کے پرزوں کو اپنی اپنی جگہ قائم رکھے اور کم سے کم یہ زیادہ نہ ہٹ جانے پائیں، جس قدر یہ وصف شاعر کے کلام میں زیادہ ہوگا اسی قدر شعر میں زیادہ روانی اور سلاست ہوگی۔ یہی وصف ہے جس نے سعدی کے کلام کو تمام شعراء سے ممتاز کردیا ہے۔ ان کے متعدد اشعار ایسے ہیں کہ ان کو نثر کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے، کیونکہ ان میں جملہ کے اجزاء کی وہی ترتیب ہے جو نثر میں ہو سکتی ہے اور ایسے تو بہت ہیں جن کی نظم و نثر میں خفیف سا فرق ہے۔مثلاً، خط سبز و لب لعلت بچہ ماند؟ دانی من بگویم بسر چشمۂ حیوان ماندچکند کشتۂ عشقت کہ نگوید غم دل تو مپندار کہ خون ریزی و پنہان مانداے تماشاگاہ عالم روئے تو تو کجا بہر تماشامے رویبسیار خلاف وعدہ کردی آخر بہ غلط یکے وفا کنبرخیزد در سراے بربند بنشین و قبائے بستہ واکنواقعیت فن ادب کا یہ ایک معرکۃ الآرا اور مغالطہ انگیز مسئلہ ہے۔ ایک فریق کا خیال ہے کہ واقعیت، شعر کی ضروری شرط ہے، دوسرا گروہ کہتا ہے کہ محاسن شعری میں مبالغہ بھی ہے اور ظاہر ہے کہ مبالغہ اور واقعیت، متناقض چیزیں ہیں۔ یہ مسئلہ مدت سے زیر بحث ہے اور فیصلہ اس لئے نہیں ہوتا کہ ہر فریق صرف اپنے دلائل پیش کرتا ہے اور مخالف کا استدلال دھند لاکر کے دکھاتا ہے، اس لئے ضرورت ہے کہ دونوں طرف کے دلائل پورے زور کے ساتھ بیان کر کے انصافاً فیصلہ کیا جائے، ساتھ ہی یہ بھی بتایا جائے کہ فریق بر سر غلط کو جو غلطی پیدا ہوئی ہے اس کے اسباب کیا ہیں؟مبالغہ کا طرفدار کہتا ہے کہ ائمہ شعرا نے تصریح کی ہے کہ کذب اور مبالغہ، شاعری کا زیور ہے۔ نابغہ ذبیانی سے لوگوں نے پوچھا کہ اشعر الناس کون ہے؟ اس نے کہا، من استجید کذبہ یعنی جس کا جھوٹ پسندیدہ 7 ہو۔نظامی فرماتے ہیں،درشعر پیچ و در فن او چوں اکذب اوس احسن اوتمام بڑے بڑے شعرا جن کی شاعری مسلمہ عام ہے ان کے کلام میں عموماً مبالغہ اور غلو موجود ہے۔ اس کے علاوہ اکثر وہی اشعار کا رنامۂ شاعری خیال کئے جاتے ہیں جن میں کذب اور مبالغہ ہے۔ مثلاً فردوسی کے یہ اشعار،فروشد بہ ماہی و برشد بہ ماہ بُن نیزہ و قبّۂ بارگاہزبس گرد میدان کہ بر شد بہ دشت زمین شش شد و آسمان گشت ہشتیکے خیمۂ داشت افرا سیاب زمشرق بہ مغرب تنیدہ طناباس سے انکارنہیں ہوسکتا ہے کہ بعض ائمہ فن نے کذب اورمبالغہ کو حسن شاعری قرار دیا ہے لیکن زیادہ تر ائمہ فن اس کے مخالف ہیں۔حسان بن ثابت کہتے ہیں،وان اشعر بیت انت قائلہ بیت یقال اذا انشدتہ صدقا(اچھا شعر وہ ہے کہ جب پڑھا جائے تو لوگ بول اٹھیں کہ سچ کہا۔)ابن رشیق نے کتاب العمدہ میں اساتذہ کے بہت سے اقوال اس کے موافق نقل کئے ہیں۔یہ شعرا بلاغت کے نکتہ شناس ہیں، وہ زور طبیعت کی وجہ سے مبالغہ کرناچاہتے ہیں تو ساتھ ہی کوئی شرط لگا دیتے ہیں، جس سے مبالغہ نہیں رہتا۔ مثلاً بحتری نے متوکل کی مدح میں ایک نہایت پرزور قصیدہ لکھا ہے، جس میں متوکل کے نماز عید میں جانے کا ذکر کیا ہے اس قصیدہ کا مشہور شعر یہ ہے،فلو ان مشاقاً تکلف فوق ما فی وسعہ لمشی الیک المنبریعنی اگر ’’کوئی شخص اپنے امکان سے زیادہ کام کرسکتا تو اے ممدوح، منبر تیری طرف بڑھ کر چلا آتا۔‘‘ چونکہ منبر کا حرکت کرنا محال بات تھی، اس لئے شاعر نے قید لگادی کہ ’’اگر ایسا ممکن ہوتا تو یہ ہوتا۔‘‘ یہاں ایک خاص نکتہ پیش نظر رکھنا چاہئے، شاعری اور انشا پردازی تمدن کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ یعنی جس قسم کا تمدن ہوتا ہے اسی قسم کی شاعری بھی ہوتی ہے۔ قوم کی ابتدائی ترقی کا جو زمانہ ہوتا ہے اس وقت شاعرانہ خیالات سادہ ہوتے ہیں۔ جب ترقی کرتی ہے اور تمام شریفانہ جذبات، مشتعل ہوجاتے ہیں تو گو شاعری میں جوش اور زور پیدا ہوجاتا ہے لیکن اب بھی سچائی اور راستی کے مرکز سے نہیں ہٹتی، کیونکہ یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جب قوم ہمہ تن عمل ہوتی ہے، اس کے بعد جب عیش اور ناز و نعمت کی نوبت آتی ہے تو ہر ہر بات میں تکلف، ساخت، اور آورد پیدا ہو جاتی ہے، یہی زمانہ ہے جب شاعری میں مبالغہ شروع ہوتا ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ قدمائے اولیں کے کلام میں بالکل مبالغہ نہیں، جب عباسیہ کا دور آیا اور عیش پرستی کی ہوا چلی تو مبالغہ کا زور ہوا۔اس تقریر سے یہ غرض ہے کہ جن شعرا کے کلام سے مبالغہ کی خوبی پر استدلال کیا جاتا ہے ان کی نسبت یہ دیکھو کہ وہ کس زمانے کے ہیں؟ اگر متاخرین میں ہیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ تمدن کی خرابی ہے جس کا اثر مذاق پر بھی پڑا ہے کہ لوگ مبالغہ پسند کر رہے ہیں۔ اس لئے نہ شاعر سند کے قابل ہے نہ پسند کرنے والوں کے مذاق سے استدلال ہوسکتا ہے، بلکہ یہ سمجھ لینا چاہئے کہ تمدن کی خرابی نے شاعر اور سامعین، دونوں کے مذاق کو خراب کردیا ہے۔جن لوگوں نے کذب و مبالغہ کو شعر کا زیور قرار دیا ہے، ان کی غلطی کی وجہ یہ ہوئی کہ کذب و مبالغہ میں تخئیل کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً اگر گھوڑے کی نسبت یہ کہا جائے کہ وہ ایک منٹ میں ایک کروڑ کوس طے کرلیتا ہے تو شعر بالکل بے مزہ اور مہمل ہوگا، اس لئے جب کوئی شاعر اس قسم کا مبالغہ کرنا چاہے گا تو ضرور ہے کہ تخئیل سے کام لے۔ مثلاً ایک شاعر کہتا ہے،رو برو سے اگر آئینہ کے اس گلگوں کو پھینک دے لے کے کبھی شرق سے تو غرب تلکاتنے عرصہ میں پھر آئے تو اسے باور کر عکس بھی آئینہ سے ہونے نہ پائے منفکاس سے ظاہر ہوگا کہ مبالغہ میں اگر کوئی حسن پیدا ہوتا ہے تو تخئیل کی بنا پر ہوتا ہے، نہ اس لئے کہ وہ جھوٹ اور مبالغہ ہے، بعض مبالغوں میں تخئیل کی بجائے اور کوئی شاعرانہ حسن ہوتا ہے۔ مثلاً کمزوری اور لاغری کے مبالغہ میں یہ شعر،تنم از ضعف چناں شد کہ اجل جست و نیافت نالہ ہر چند نشان داد کہ در پیرہن استیعنی میرا جسم ایسا گھل گیا کہ موت نے آکر بہت ڈھونڈھا لیکن نہ پایا باوجودیکہ نالہ نے پتہ بھی دیا کہ پیراہن میں ہے۔ اس شعر میں مبالغہ نے حسن نہیں پیدا کیا ہے بلکہ حسن ادا کی خوبی ہے۔ اس بات کو کہ نالہ سے جسم کا وجود معلوم ہوسکتا تھا، یوں ادا کیا ہے کہ گویا نالہ کوئی جاندار چیز ہے اور اسی نے پتہ بتایا۔غرض جب زیادہ غور اور کاوش کرو گے تو معلوم ہوگا کہ مبالغہ کے جس قدر اشعار مقبول ہیں، ان میں مبالغہ کے سوا اور خوبیاں ہیں اور دراصل یہ انہی کا اثر ہے۔اس بحث میں ایک بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ شاعری کے مختلف انواع اور ان کی خصوصیات کا لحاظ نہیں کیا جاتا، شعر کی دو قسمیں ہیں تخئیلی اور غیر تخئیلی۔ تخئیلی میں واقعہ سے غرض نہیں ہوتی بلکہ زیادہ تر یہ مطمح نظر ہوتا ہے کہ قوت تخئیل کس قدر پرزور اور وسیع ہے، اس بنا پر اس قسم کی شاعری میں مبالغہ سے کام لیا جائے تو بدنما نہیں، لیکن وہاں بھی سامعین کی طبیعت پر استعجاب کا جو اثر پیدا ہوتا ہے، وہ مبالغہ کی وجہ سے نہیں بلکہ قوت تخئیل کی بنا پر ہوتا ہے لیکن اور اقسام شاعری مثلاً فلسفیانہ، اخلاقی، تاریخی، عشقیہ، نیچرل، ان میں مبالغہ بالکل لغو چیز ہے، اس لئے اگر شعر میں مبالغہ جائز بھی ہو، تو صرف شعر کی ایک خاص نوع (تخئیل) میں ہوگا، اس سے عام خوبی نہیں ثابت ہوسکتی۔شاعری سے اگر صرف تفریح مقصود ہو تو مبالغہ کام آسکتا ہے لیکن وہ شاعری جو ایک طاقت ہے، جو قوموں کو زیر و زبر کر سکتی ہے، جو ملک میں ہلچل ڈال سکتی ہے، جس سے عرب قبائل میں آگ لگا دیتے تھے، جس سے نوحہ کے وقت در و دیوار سے آنسو نکل پڑتے تھے، وہ واقعیت اور اصلیت سے خالی ہو تو کچھ کام نہیں کرسکتی۔ تم نے تاریخ میں پڑھا ہوگا کہ جاہلیت میں، ایک شعر ایک معمولی آدمی کو تمام عرب میں روشناس کر دیتا تھا۔ بخلاف اس کے ایران کے شعراء نے جن ممدوحوں کی تعریف میں دفتر کے دفتر سیاہ کردیے، ان کا نام بھی کوئی نہیں جانتا۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ شعرائے جاہلیت کے کلام میں واقعیت ہوتی تھی، اس لئے اس کا واقعی اثر ہوتاتھا، ایرانی شعراء باتو ں کے طوطے مینا بناتے تھے جس سے دم بھر کی تفریح ہوسکتی تھی، باقی ہیچ۔یہ اثر اسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جب شعر میں واقعیت ہو، ورنہ خالی باتوں کی شعبدہ کاری سے کیا ہوسکتا ہے۔ عرب کی شاعری میں جو یہ اثر تھا کہ قبیلہ کے قبیلہ میں ایک شعر، آگ لگا دیتا تھا، اسی وقت تک تھا جب تک شاعری میں واقعیت تھی کہ جو کچھ کہتے تھے سراسر سچ ہوتا تھا۔ جب عباسیہ کے دور میں مبالغہ شروع ہوگیا تو شاعری ایک بانگ بے اثر رہ گئی۔ شعرا دیوان کے دیوان لکھ ڈالتے تھے اور کوئی اثر نہیں ہوتاتھا۔ یہ ضروری نہیں کہ شعر میں جو کچھ کہا جائے وہ سر تا پا واقعیت ہو، بلکہ غرض یہ ہے کہ اصلیت کے اثر سے خالی نہ ہو۔ مثلاً ایک واقعہ واقع میں نہیں ہوا لیکن شاعر کو اس کا پورا یقین ہے۔ یہ واقعہ شعر میں ادا ہوگا تو اثر سے خالی نہ ہوگا۔ میر انیس کہتے ہیں،حملہ غضب ہے بازوئے شاہ حجاز کا لنگر نہ ٹوٹ جائے زمین کے جہاز کااس شعر میں بظاہر مبالغہ ہے، کسی انسان کے حملہ سے زمین، اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتی لیکن جب یہ تصور کیا جائے کہ یہ کلام کس کی زبان سے نکلا ہے تو کلام میں واقعیت کا اثر آجاتا ہے اور پھر مبالغہ نہیں رہتا، دوسری صورت واقعیت کی یہ ہے کہ گو وہ واقعہ جس کی طرف منسوب کیا گیا ہے، اس کی طرف یہ نسبت صحیح نہیں لیکن فی نفسہ واقعہ ممکن ہے، اور پایا جاسکتا ہے، اس صورت میں شعر کا اثر باطل نہیں ہوتا۔ عرفی نے خوب کہا،منکر نتواں گشت اگر دم زنم از عشق ایں نشہ بہ منگر نہ بود بادگرے ہستیعنی میں اگر عشق کا دعویٰ کروں تو انکار نہیں کرنا چاہئے۔ یہ نشہ مجھ میں نہ سہی کسی نہ کسی میں تو ہے۔ عشقیہ اشعار میں مبالغے اس لئے چنداں بد نما معلوم نہیں ہوتے کہ شاعر میں گو وہ باتیں نہ ہوں لیکن عشق و محبت کے جوش میں اس قسم کے واقعات ناممکن نہیں۔شعر میں مبالغہ کے پیدا ہونے کا اصلی سبب یہ ہوا کہ شاعر کا احساس، عام لوگوں کی نسبت زیادہ قوی اور مشتعل ہوتا ہے، اس لئے ہر واقعہ اس پر اوروں کی بہ نسبت زیادہ اثر کرتا ہے۔ شاعر اسی اثر کو ادا کرتا ہے لیکن چونکہ عام لوگ اس درجہ کا احساس نہیں رکھتے، ان کو مبالغہ معلوم ہوتا ہے اوراب جو لوگ دراصل شاعرنہیں اور شاعر بننا چاہتے ہیں، وہ بے تکلف مبالغہ شروع کرتے ہیں اور اصلی حد سے نکل جاتے ہیں۔ قدماء اسی جائز حد تک مبالغہ کرتے تھے لیکن متاخرین نے جو دراصل فطرۃً شاعر نہ تھے، بہ قصد و ارادہ اپنے احساس کو قوی تر بنانا چاہا اور چونکہ اس کا ان کو خود تجربہ نہ تھا اس لئے کہیں سے کہیں نکل گئے یہاں تک کہ جس قدر زیادہ ناممکن بات کا اظہار کیا جائے اسی قدر مبالغہ کا حسن سمجھا جانے لگا۔کلام کے لئے واقعیت ایسی ضروری چیز ہے کہ بلاغت کے بہت سے اسالیب میں صرف اسی وجہ سے حسن اور اثر پیدا ہوتا ہے کہ اس میں واقعیت کا پہلو ہوتا ہے، مثلاً وہ موقع جہاں شاعر کسی بات کو شک اور اشتباہ کے طور پر بیان کرتا ہے، مثلاً،دارو جمال روئے تو امشب تماشائے دگر یا آن کہ من مےبینمش بہتر ز شبہائے دگریعنی ’’معشوق کے چہرہ میں آج زیادہ جلوہ گری ہے، یا یہ کہ مجھی کو ایسا نظر آتا ہے۔‘‘ اس شعر میں تعریف کا اقتضا یہ تھا کہ شاعر قطعی طور سے دعویٰ کرتا کہ معشوق کا حسن بڑھ گیا ہے، لیکن اس نے شک ظاہر کیا اور کہا کہ یا تو حسن میں ترقی ہوئی، یا فی نفسہ ترقی نہیں ہوئی لیکن مجھ پر خاص اثر ہے۔ چونکہ یہ بات زیادہ قرین قیاس ہے، اور اس لئے اس میں واقعیت کا زیادہ پہلو ہے، اس لئے یہ طرز ادا زیادہ پر لطف معلوم ہوتا ہے، یا مثلاً،یا مگر کاوشِ آں نشترِ مژگان کم شد یا کہ خود زخم مرا لذّتِ آزار نماندیا مثلاً جہاں کسی چیز کو کچھ گھٹا کر بیان کیا جاتا ہے وہاں ایک خاص لطف پیدا ہوتا ہے، یہ اسی واقعیت کا اثر ہے۔ مثلاً،پاس ادب سے رہ گئی فریاد کچھ ادھر میں کیا کہوں کہ چرخ بریں کتنا دور تھاغرض شعر اس وقت تک کچھ اثرنہیں پیدا کرسکتا جب تک اس میں واقعیت نہ ہو۔ عرب میں شاعری کا اوج شباب جاہلیت کا زمانہ خیال کیا جاتا ہے، اس زمانہ میں شعرا جو کچھ کہتے تھے سر تا پا واقعہ ہوتا تھا۔ میدان جنگ سے شاعر اگر بھاگ آیا ہے تو اس کو بھی ظاہر کردیتا تھا، ایک جہنی شاعر نے اپنا اور دشمنوں کا معرکہ لکھا ہے، چونکہ لڑائی برابر رہی تھی، اس لئے ایک ایک بات میں مساوات کا پلہ برابر رکھا ہے، یہاں تک کہتا ہے،فابو بالرماح مکسراتٍ (وہ لوگ ٹوٹے ہوئے نیزوں کے ساتھ واپس گئے)و ابنا با یسوف قد انخینا (اور ہم پلٹے تو ہماری تلواریں خم ہوگئی تھیں)کسی رئیس، یابادشاہ کی تعریف کرتے تھے، تو واقعیت سے تجاوز نہیں کرتے تھے۔ سلامتہ بن جندل سے ایک رئیس نے کہا کہ میری مدح لکھو، چونکہ اس میں کوئی وصف، مدح کے قابل نہ تھا، شاعر نے انکار کیا اور کہا افعل حتی اقول تم کچھ کر کے دکھاؤ تو میں کہوں۔تخیل میں بظاہر واقعیت کی ضرورت نہیں معلوم ہوتی لیکن درحقیقت تخیل بھی اسی وقت پر لطف اور پر اثر ہوتی ہے، جب اس کی تہ میں واقعیت ہو۔ مثلاً یہ شعر،کے بہ ہر نامحرمے، چاک جگر خواہم نمود منکرز حمت را نہان از چشم سوزن داشتمشعر کا ترجمہ یہ ہے کہ اے معشوق! میں نامحرم کو اپنے جگر کا چاک بھلا کیونکر دکھا سکتا ہوں میں نے تو تیرے زخموں کو، سوئی کی آنکھوں سے بھی چھپا رکھا ہے۔اس شعر میں سوئی کو ایک جاندار چیز قرار دینا اور اس سے زخم چھپانا تخیل ہے، لیکن مضمون کی اصل بنیاد واقعیت پر مبنی ہے، اصل مضمون یہ ہے کہ میں عام آدمیوں کے سامنے معشوق کے گلے نہیں کرتا، بلکہ اپنے خاص ہمدرد لوگوں سے بھی اپنے راز کو چھپاتا ہوں۔شعر کیوں اثر کرتا ہے یہ امربدیہی ہے کہ شعر ایک مؤثر چیز ہے لیکن یہ بحث طلب ہے کہ اس اثر کا اصلی سبب کیا ہے؟ ارسطو نے کتاب الشعر میں اس کی جو وجہ لکھی ہے اس کا حاصل یہ ہے،’’انسان میں نقال اور محاکات کا فطری مادہ ہے، جانوروں میں یا تو یہ مادہ مطلق نہیں ہوتا، یا ہوتا ہے تو کم ہوتا ہے۔ مثلاً طوطی صرف، آواز کی نقالی کرسکتا ہے، حرکات و سکنات کی نقل نہیں کرسکتا، بندر حرکات و سکنات کی نقل اتارتا ہے لیکن آواز سے کام نہیں لے سکتا، بخلاف اس کے انسان، آواز سے اشارہ سے، حرکات سے، سکنات سے، اور مختلف طریقوں سے ہر چیز کی نقل اتار سکتا ہے۔‘‘ ’’یہ بھی انسان کی فطرت ہے کہ اس کو محاکات سےایک خاص لطف حاصل ہوتا ہے، فرض کرو اگر ایک بدصورت جانور کی ہوبہو تصویر کھینچی جائے تو ہر شخص کو لطف آئے گا، حالانکہ خود اس جانور کے دیکھنے سے طبیعت مکدر ہوتی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کسی شے کی محاکات، خود لطف انگیز ہے، فی نفسہ وہ شے بری ہو یا بھلی اور چونکہ شعر بھی ایک قسم کی نقالی اور مصوری ہے اس لئے خواہ مخواہ اس سے طبیعت پر اثر پڑتا ہے۔ ’’دوسری وجہ یہ ہے کہ موسیقی راگ بالطبع مؤثر چیز ہے اور شعر میں موسیقی کا جزو شامل ہے۔ اس لئے جس شعر میں زیادہ موسیقیت ہوتی ہے زیادہ موثر ہوتا ہے۔‘‘ارسطو نے جو وجوہ بیان کئے، گو بجائے خود صحیح ہیں، لیکن شعر کی تاثیر انہیں باتوں پر موقوف نہیں۔ شعرمیں اور بھی بہت سی باتیں ہیں جن کی وجہ سے وہ دلوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون کے دلنشین ہونے کے لئے پہلے یہ نکتہ سمجھنا چاہئے کہ انسانی معاشرت کی کل فلسفہ اور سائنس سے نہیں بلکہ جذبات سے چل رہی ہے۔ فرض کرو ایک بڈھے شخص کا بیٹا مر گیا اور لاش سامنے پڑی ہے، یہ شخص اگر سائنس سے رائے لے تو یہ جواب ملے گا کہ ایسے اسباب جمع ہوگئے جن کی وجہ سے دوران خون، یا دل کی حرکت بند ہوگئی، اسی کا دوسرا نام مرنا ہے۔ یہ ایک چانک واقعہ ہے جوناگزیر وقوع میں آیا، اور چونکہ دوبارہ زندہ ہونے کی کوئی تدبیر نہیں، اس لئے رونا دھونا بیکار، بلکہ ایک حماقت کا کام ہے۔ لیکن کیا تمام عالم میں ایک شخص کا بھی اس پر عمل ہے؟ کیا خود سائنس دان اس اصول سے کام لے سکتا ہے؟ بچوں کا پیار، ماں کی مامتا، محبت کا جوش، غم کا ہنگامہ، موت کا رنج، ولادت کی خوشی، کیا ان چیزوں کو سائنس سے کوئی تعلق ہے؟ لیکن یہ چیزیں اگر مٹ جائیں تو دفعۃً سناٹا چھا ئے گا اور دنیا قالب بے جان، شراب بے کیف، گل بے رنگ، گوہربے آب ہوکر رہ جائے گی۔ دنیا کی چہل پہل، رنگینی، دلاویزی، دلفریبی، سائنس کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانی جذبات کی وجہ سے ہے جو عقل کی حکومت سے قریباً آزاد ہے۔شاعری کو جذبات ہی سے تعلق ہے اس لئے تاثیر ا سکا عنصر ہے، شاعری ہر قسم کے جذبات کو برانگیختہ کرتی ہے، اسلئے رنج، خوشی، جوش، استعجاب، حیرت میں جو اثر ہے، شعر میں بھی وہی اثر ہوتا ہے۔ مصورانہ شاعری اس لئے دل پر اثر کرتی ہے کہ جو مناظر اثرانگیز ہیں، شاعری ان کو پیش نظر کر دیتی ہے۔باد سحر کےجھونکے، آب رواں کی رفتار، پھولوں کی شگفتگی، غنچوں کا تبسم، سبزہ کی لہلہاہٹ، خوشبوؤں کی لپٹ، بادل کی پُہار، بجلی چمک، یہ منظر آنکھ کے سامنے ہو تو دل پر وجد کی کیفیت طاری ہوجائے گی، شاعری، ان مناظر کو بعینہ پیش کردیتی ہے، اس لئے اس کی تاثیر سے کیونکر انکار ہو سکتا ہے۔شاعری صرف محسوسات کی تصویر نہیں کھینچتی، بلکہ جذبات اور حساسات کو بھی پیش نظر کردیتی ہے۔ اکثر ہم خود اپنے نازک اور پوشیدہ جذبات سے واقف نہیں ہوتے یا ہوتے ہیں تو صرف ایک دھندلا دھندلا سا نقش نظر آتا ہے۔ شاعری، ان پس پردہ چیزوں کو پیش نظر کردیتی ہے، دھندلی چیزیں چمک اٹھتی ہیں، مٹا ہوا نقش اجاگر ہو جاتا ہے، کھوئی ہوئی چیز ہاتھ آجاتی ہے، خود ہماری روحانی تصویر، جو کسی آئینہ کے ذریعہ سے ہم نہیں دیکھ سکتے، شعر ہم کو دکھا دیتا ہے۔دنیا کا کاروبار جس طرح چل رہا ہے اس کااصلی فلسفہ، خود غرضی اور اصول معاوضہ ہے، اور جب اس کو زیادہ وسعت دی جائے تو ہمارے تمام اعمال اور افعال، ایک سلسلہ وار دوست بن جاتے ہیں۔ بچوں کی محبت اور پرداخت اس لئے ہے کہ وہ آئندہ چل کر ہمارے کام آئیں گے، باپ کی اطاعت اس کے پچھلے احسانات کا معاوضہ ہے، مہمان نوازی اس اصول پر ہے کہ ہم کو بھی کبھی مہمان ہونے کی ضرورت پیش آئے گی، قومی کام اس لئے کئے جاتے ہیں کہ واسطہ در واسطہ خود کرنے والے کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے۔اس فلسفہ سے بے شبہ عمل کی قوت بڑھ جاتی ہے، تجارت کو ترقی ہوتی ہے، کاروبار وسیع ہوجاتے ہیں، دولت کی بہتات ہوجاتی ہے، لیکن تمام جذبات مرجاتے ہیں، دل مردہ ہوجاتا ہے، لطیف اور نازک احساسات فنا ہوجاتے ہیں، عشق و محبت برباد ہوجاتے ہیں، اور تمام دُنیا ایک بے حس کل بن جاتی ہے جو خود غرضی کی قوت سے چل رہی ہے، اس حالت میں شعر شریفانہ جذبات کو ترو تازہ کرتا ہے، وہ محسوسات کے دائرہ سے نکال کر ہم کو ایک اور وسیع اور دلفریب عالم میں لے جاتا ہے، وہ ہم کو بے لاگ اور بے غرض دوستی کی تعلیم کرتا ہے، وہ ہم کو سچی خوشی اور سچی مسرت دلاتا ہے، جب کہ کاروبار کے ہجوم، مقابلہ کی کشمکش، معاملات کی اُلجھن، ترددات کی دارو گیر سے دل بالکل ہمت ہار دیتا ہے تو شعر مجسم سکون اور اطمینان بن کر ہمارے سامنے آتا ہے اور کہتا ہے،شراب تلخ وہ ساقی کہ مرد فگن بود زورش کہ تا لختے بیا سایم ز دنیا و ز شرد شورشجب کہ سائنس اور مشاہدات کی ممارست ہم کو سخت دل اور کٹربنا دیتی ہے اور تمام منعقدات اور مسلمات عامہ کے دل میں حقارت پیدا ہوجاتی ہے، کسی بات پر اعتبار نہیں آتا، کسی چیز کا اثر نہیں رہتا۔ مادّہ کے سوا تمام چیزوں کی حکومت دل سے اٹھ جاتی ہے، اس وقت شاعری ہمارے دل کو رقیق اور نرم کرتی ہے، جس سے تسلیم، اثر پذیری اور اعتقاد پیدا ہوتا ہے، مادیت کے بجائے روحانیت قائم ہوتی ہے وہ ہم کو عالم تخیل میں لے جاتی ہے، جہاں تھوڑی دیر کے لئے مشاہدات کی بے رحم حکومت سے ہم کو نجات مل جاتی ہے۔جب کہ دولت اور امارت کی سحر کاریاں ہمارے دل کو رشک اور حسرت سے بھر دیتی ہیں، سلاطین اور امراء کی نظر فروز زندگی ہمارے دل پر رشک کےچرکے لگاتی ہے، اس وقت ہاتف غیب کی یہ آواز،بس کن ز کبر و ناز کہ دید است روزگار چین قبائے قیصر و طرف کلاہ کَےْشاعری کا استعمال شعر ایک قوت ہے جس سے بڑے بڑے کام لیے جاسکتے ہیں، بشرطیکہ اس کا استعمال صحیح طور سے کیا جائے۔ عرب میں شاعری کی ابتداء رجز سےہوئی یعنی میدان جنگ میں دو حریف جب مقابلہ کے لئے بڑھتے تھے، تو جوش میں فخریہ موزون فقرے ان کی زبان سے نکلتے تھے۔ یہ دو چار شعر سے زیادہ نہیں ہوتے تھے، لیکن طبل جنگ کا کام دیتے تھے۔ ا س کے بعد مرثیہ شروع ہوا۔ یعنی جب کوئی عزیز یا دوست مرجاتا تھا تو اس کی لاش پر نوحہ کرتے تھے۔ بعض بعض شعرا نے تمام عمر مرثیہ کے سوا کچھ نہ کہا۔ خنساء ایک عورت تھی، وہ اپنے بھائی سے نہایت محبت رکھتی تھی، وہ مر گیا تو اس کو اس قدر صدمہ ہوا کہ تمام عمر رویا کی، چنانچہ اس کے سیکڑوں ہزاروں اشعار اسی کے مرثیہ میں ہیں۔ ہتمم بن نویرہ کا بھی بھائی کے مرنے پر یہی حال ہوا۔ شہر شہر، مارا مارا پھرتا تھا، جہاں پہنچ جاتا مرد عورت اس کے پاس جمع ہو جاتے۔ بھائی کا مرثیہ پڑھتا، خود روتا اور لوگوں کو رولاتا۔مرثیہ کے بعد قصیدہ شروع ہوا۔شعرائے عرب اکثر تیغ و علم ہوتے تھے، اس لئے قصائد میں اپنے معرکے لکھتے تھے۔ عمر و بن ہند عرب کا مشہور بادشاہ گزرا ہے، جب اس کا تسلط تمام ملک پر ہوگیا تو اس نے ایک دن دربار میں کہا عرب میں آج کوئی ہے؟ جو میرے سامنے گردن نہ جھکائے۔ درباریوں نے کہا، عمر کلثوم شاعر۔ اگر آپ کا مطیع ہوجائے تو پھر کوئی شخص آپ کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتا۔ بادشاہ نے عمرو کلثوم کو مع مستورات کے بلابھیجا۔ عمر و کلثوم کی ماں شاہی حرم میں گئی اور وہ خود دربار میں بیٹھا۔ بادشاہ کی ماں نے عمر و کلثوم کی ماں سے کسی چیز کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اُٹھا دینا، اس نے کہا کہ تم خود اُٹھا لو۔ بادشاہ کی ماں نے دوبارہ حکم دیا اور پھر یہی جواب ملا۔ تیسری دفعہ جب فرمائش کی تو عمرو کلثوم کی ماں چیخ اٹھی کہ وا تغلباہ (قبیلہ تغلب کی دھائی) عمر و کلثوم نے آواز سنی سمجھا کہ اس کی ماں کی تحقیر کی گئی فوراً تلوار میان سے گھسیٹ بادشاہ کا سر اُڑا دیا اور دربار سے نکل آیا۔پھر بڑا رن پڑا جس میں دونوں طرف کے ہزاروں آدمی مارے گئے۔ عکاظ کے میلہ کا دن آیا تو عمر و کلثوم نے مجمع عام میں کھڑے ہوکر قصیدہ پڑھا، جس میں اس واقعہ کی تفصیل تھی۔ اس قصیدہ میں تمام واقعات اور اپنی حمیت و غیرت کو اس جوش سے لکھا ہے کہ دو برس تک، قبیلۂ تغلب کا ہر بچہ اس کے اشعار بچپن ہی سے سیکھتا اور یاد کرتا تھا، اہل تاریخ کا بیان ہے کہ اس قصیدہ کی بدولت کئی سو برس تک اس قبیلہ میں شجاعت اور دلیری کے اوصاف قائم رہے۔ آج بھی یہ اشعار افسردہ دلوں کو گرما دیتے ہیں۔ یہ قصیدہ در کعبہ پر آویزاں کیا گیا تھا اور اس وجہ سے سبعہ معلقہ میں داخل ہے۔یہ شاعری کا صحیح استعمال تھا اور اسی کا اثر تھا کہ عرب میں قوم کی باگ، شعرا کے ہاتھ میں تھی۔ وہ قوم کو جدھر چاہتے تھے جھونک دیتے تھے اور جدھر سے چاہتے تھے روک لیتے تھے۔ افسوس ہے کہ ایران نے کبھی یہ خواب نہیں دیکھا، یہاں کے شعرا ابتدا سے غلامی میں پلے اور ہمیشہ غلام رہے اور اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے لئے پیدا ہوئے تھے۔شریفانہ اخلاق پیدا کرنے کا شاعری سے بہتر کوئی آلہ نہیں ہوسکتا۔ علم اخلاق ایک مستقل فن ہے اور فلسفہ کا ایک جزء اعظم ہے ہر زبان میں اس فن پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، لیکن اخلاقی تعلیم کے لئے ایک ایک شعر ضخیم کتاب سے زیادہ کام دے سکتا ہے۔ شاعری ایک مؤثر چیز ہے، اس لئے جو خیال اس کے ذریعہ سے ادا کیا جاتا ہے، دل میں اُتر جاتا ہے اور جذبات کو برانگیختہ کرتا ہے، اس بنا پر اگر شاعری کے ذریعہ سے اخلاقی مضامین بیان کئے جائیں اور شریفانہ جذبات مثلاً شجاعت، ہمت، غیرت، حمیت، آزادی کو اشعار کے ذریعہ سے ابھارا جائے تو کوئی اور طریقہ اس کی برابری نہیں کرسکتا۔ اسلام سے پہلے عرب، ایک سخت جاہل اور مفلس قوم تھی۔ گائے اور اونٹنی کے دودھ کے سوا اور کچھ ان کو میسر نہیں آسکتا تھا۔ مکان کے بدلے جھونپڑے یا کمبل کے تنبو تھے، رات دن آپس میں لڑتے کٹتے مرتے تھے،با ایں ہمہ انہی وحشیوں میں، سچائی، ایفائے عہد، مہمان نوازی، جودو سخا، ہمت اور غیرت، کے جو اوصاف پائے جاتے تھے، آج شائستہ قوموں کو نصیب نہیں، نہایت سچ کہا ہے،جیسے راہزن اور لٹیرے تھے ہمارے راست باز رہنماؤں میں نہیں پاتے ہم آج ان کی نظیرمیدان جنگ میں جنگی باجے، وہ کام نہیں دے سکتے جو رجز کا ایک ایک مصرع دے سکتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ جب حضرت عثمان کے خون کے دعوے سے جناب امیر علیہ السلام سے معرکہ آرا ہوئیں اور ان کی فوج پر شکست کے آثار پیدا ہوئے تو قبیلہ ضبتہ کے ایک شخص نے بڑھ کر ان کے اونٹ کی مہار پکڑ لی اور یہ اشعار پڑھے،نحن بنو ضبۃ اصحاب الجمل (ہم قبیلہ ضبتہ کے لوگ ہیں، ہم کو موت شہد سے زیادہ)الموت احلی عندنا من العسل (شیریں معلوم ہوتی ہے، ہم عثمانؓ کے مرنے کی خبر برچھی کی)منعی ابن عفان باطراف الاسل (زبان سے سناتے ہیں، ہمارے شیخ (عثمان)ردّوا علینا شیخنا ثم بحبل (کو واپس دے دو، پھر کچھ جھگڑا نہیں)یہ شخص خود لڑکر مارا گیا لیکن یہ حالت ہوئی کہ پے در پے، بڑے بڑے سردار، آگے بڑھتے تھے، حضرت عائشہ کے اونٹ کے مہار تھام کر لڑتے تھے اور مارے جاتے تھے، قریباً ڈیڑھ سو آدمیوں نے اس طرح جانیں دے دیں۔استقلال اور پامردی کی تعلیم، ارسطو کی کتاب الاخلاق سے اس قدر نہیں ہو سکتی جس قدر اس شعر سے ہو سکتی ہے،من آنگہ عنان باز پیچم ز راہ (میں اس وقت، میدان سے ہٹوں گا؟)کہ یا سر دہم یا ستانم کلاہ (کہ یا تو سر دیدوں، یا تاج چھین لوں)اخلاق کی کتابو ں میں ریاکاری کی بُرائی کے دفتر کے دفتر ہیں، لیکن یہ ایک رُباعی ان سب سے زیادہ اثر کرسکتی ہے،زاہد بہ زن فاحشہ گفتا مستی کز خیر گسستی و بہ شر پیوستیزن گفت چناں کہ مے نمایم ہستم تو نیز چناں کہ مے نمائی ہستییعنی زاہد نے ایک فاحشہ عورت سے کہا کہ تو بڑی نالایق ہے، عورت نے کہا میں جیسا اپنے آپ کو ظاہر کرتی ہوں، باطن میں بھی ویسی ہی ہوں (یعنی میرا ظاہر باطن یکساں ہے) کیا حضور بھی باطن میں ایسے ہی ہیں جیسا ظاہر میں نظر آ رہے ہیں۔ اخلاق جلالی اور اخلاق ناصری علم الاخلاق کی نہایت مستند علمی کتابیں ہیں، لیکن یہ بدیہی بات ہے کہ ایران کے اخلاق و عادات پر گلستان اور بوستان نے ان سے کہیں زیادہ اثر کیا ہے۔شاعری کے جس قدر اقسام ہیں، یعنی فلسفیانہ، اخلاقی، عشقیہ، تخئیلی، سب سے مفید کام لئے جا سکتے ہیں۔ فلسفیانہ شاعری، دقیق خیالات کو آسانی کے ساتھ ذہن نشین کرسکتی ہے، اخلاقی شاعری، اخلاق کو سنبھالتی ہے، عشقیہ شاعری سے زندہ دلی اور تازگی روح پیدا ہوتی ہے۔ تخئیل سےطبیعت کو اہتزاز اور انبساط ہوتا ہے، لیکن افسوس ہے کہ اکثر شعرائے ایران نے شاعری کا صحیح استعمال نہیں کیا بہ لحاظ غالب، شاعری، صرف دو کام کے لئے مخصوص ہوگئی۔ سلاطین اور امرا کی مداحی جس میں کذب و افترا کا طومار باندھا جاتا تھا اور عشق و عاشقی جو دور از کار مبالغوں اور فضول گوئیوں سے معمور تھی۔متاخیرین نے تخئیل کو البتہ بہت وسعت دی، لیکن اس میں اس قدر اعتدال سے تجاوز کر گئے کہ تخئیل نہیں رہی بلکہ معما بن گئی۔شعر اور شاعری کی عظمت عرب میں جب کوئی شاعر پیدا ہوتا تھا تو ہر طرف سے مبارکباد کی سفارتیں آتی تھیں، خوشی کے جلسے کئے جاتے تھے، قبیلہ کی عورتیں جمع ہوکر فخریہ گیت گاتی تھیں۔ قبیلہ کی عزت اور شان دفعۃً بلند ہوجاتی تھی، ایک ایک شعر ایک قبیلہ یا ایک شخص کا نام قیامت تک کے لئے زندہ کردیتا تھا شماخ بن ضرار نے عرائبہ اوسی کی شان میں یہ شعر کہا،اذ امار ایہ رفعت لمجد (جب عظمت اور بڑائی کا جھنڈا کہیں بلند کیا جاتا ہے)تلقاً ھا عرابۃ بالیمین (تو عرابہ اس کو داہنے ہاتھ سے تھام لیتا ہے)تو عرابہ کانام تمام عرب میں مشہور ہوگیا اور آج تک یہ مصرع ضرب المثل ہے۔عرب میں محلق ایک گمنام شخص تھا، اس کے تین بیٹیاں تھیں اور ا ن کو برنصیب نہیں ہوتا تھا، اتفاق سے اعشیٰ شاعر کا اس طرف گزر ہوا۔ محلق کی بیوی نے اس کی آمد سنی تو محلق سے کہا کہ یہ وہ شخص ہے کہ جس کی مدح کردیتا ہے تمام ملک میں معزز ہوجاتا ہے۔ محلق نے اعشیٰ کی دعوت کی کھانے کے بعد شراب کا دور چلا تو اعشیٰ نے محلق سے اس کے اہل و عیال کا حال پوچھا، محلق نے بیٹیوں کا ذکر کیا کہ جوان ہوگئی ہیں اور کہیں سے شادی کا پیغام نہیں آتا، اعشیٰ نے کہا اس کا انتظام کردیا گیا، تم مطمئن رہو عکاظ کے میلہ کا زمانہ آیا تو اعشیٰ نے مجمع عام میں قصیدہ پڑھا۔ تمہید کے بعد یہ شعر تھے،لعمری لقد لاحت عیون کثیرۃ اَلیٰ ضوء نارٍ بالبقاع تحرقتشب لمقرورین یصطلیانھا و بات لدی النار الندی و المحلققصیدہ ختم نہیں ہونے پایا تھا کہ محلق کے گرد بھیڑ لگ گئی۔ شرفائے عرب نے آ آکر اس سے قرابت کی خواہش کی اور تینوں لڑکیاں معزز گھرانوں میں پہنچ گئیں۔نمیر ایک نہایت معزز قبیلہ تھا، ان کو اپنے حسب و نسب کا اس قدر غرور تھا کہ جب اس قبیلہ کے کسی آدمی سے کوئی شخص پوچھتا تھا کہ تم کس قبیلہ سے ہو تو غرور کے لہجہ میں بھاری آواز سے نمیر کا نام لیتا تھا، جریر جو مشہور شاعر تھا اس کو اس قبیلہ کے ایک آدمی سے رنج پہنچا۔ جریر گھر میں آیا، بیٹے سے کہا آج چراغ میں تیل زیادہ ڈالنا۔ قبیلہ مذکور کی ہجو میں اشعار لکھنے شروع کئے جب یہ شعر زبان سے نکلا،فغض الطرف اِنک من نمیر فلا کعباً یلغت ولا کلاباتو اچھل پڑا اور کہا ’’واللہ اخریتہ اٰخر الدھر‘‘ یعنی خدا کی قسم میں نے اس کو ابد تک کے لئے رسوا کردیا۔ تمام عرب میں یہ شعر مشہور ہوگیا اور یہ حالت ہوگئی کہ اس قبیلہ کے کسی آدمی سے لوگ قبیلہ کا نام پوچھتے تو نمیر کا نام چھوڑ کر اوپر کی پشتوں کا نام بتاتا تھا، یہاں تک کہ سرے سے قبیلہ کا نام ہی مٹ گیا۔سلطان محمودکی عظمت و شان اورجبروت و اقتدار محتاج اظہار نہیں، لیکن فردوسی نے ہجو کے جو شعر کہہ دیے محمود کسی طرح ان کو مٹا نہ سکا، تمام ملک میں منادی تھی کہ جس کے پاس یہ ہجو نکلے گی گرفتار ہوگا۔ فردوسی خود شہر بہ شہر روپوش بھاگا پھرتا تھا لیکن اس کے اشعار بچہ بچہ کی زبان پر تھے۔ آج شاہنامہ کے جس قدر نسخے دنیا میں موجود ہیں کوئی اس ہجو سے خالی نہیں۔عرب میں شاعر کا یہ رتبہ تھا کہ شاعر کسی کی مدح اور تعریف لکھنا عار سمجھتا تھا۔ ابتدائی شاعری سے ایک مدت تک مدحیہ قصائد نہیں لکھے گئے۔ شاعر پرکوئی کچھ احسان کرتاتھا، تو شکریہ کے طور پر اس کا ذکر کردیتا تھا لیکن احسان کرنے والا بادشاہ بھی ہو تب بھی مدّح کا لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا تھا۔ سب سے پہلا شخص جس نے مدّح لکھی نابغہ ذبیانی ہے اگر چہ اس مدّح کی بدولت نابغہ اس قدر دولت مند ہوگیا کہ سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا کھاتا تھا، لیکن عرب میں اس کی عزت جاتی رہی۔ 8 نابغہ کے بعد اعشیٰ نے شاعری کو پیشہ بنالیا، جا بجا مدح کہتا اور انعام لیتا پھرتا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ عام رواج ہوگیا اور اب ایک مدت سے قصیدہ اور کاسہ گدائی، مرادف الفاظ ہیں۔ تاہم اسلام کے زمانہ میں بھی بعض بعض شعرا مدح سے عار رکھتے تھے۔ عمر بن ابی ربیعۃ القرشی جو غزل گو شاعر تھا، اس نے کبھی کسی کی مدح نہیں کی اور جب خلیفہ عبد الملک نے اس سے مدح کی فرمائش کی تو اس نے کہا کہ ’’میں مردوں کی نہیں بلکہ عورتوں کی مدح کرتا ہوں۔‘‘ جمیل ایک دفعہ ولید بن عبد الملک کا ہم سفر تھا۔ ولید نے جمیل سے کہا کہ شعر سناؤ، اس کو خیال تھا کہ جمیل اس کی مدح کہے گا، جمیل نے اپنی شان میں یہ فخریہ شعر پڑھا،انا جمیل فی السنام من معد فی الذروۃ العلیا والرکن الاشداس موقع پر یہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ ولید وہ شخص ہے جس نے ایک طرف اسپین اور دوسری طرف سندھ فتح کیا تھا اور بنو امیہ میں اس سے بڑھ کر کوئی بادشاہ نہیں گزرا، تاہم جمیل سے کچھ تعرض نہ کرسکا۔مردان بن ابی حفصہ کہتا ہے، ما زلت آنف ان أونف مدحۃ الا لصاحب منبر و سریریعنی مجھ کو مدح سے ہمیشہ عار رہا، اور مدح کرتا ہوں تو صاحب تاج و تخت کی کرتا ہوں۔ ابن میّادۃ نے خلیفہ منصور کی مدح میں یہ قصیدہ لکھا اور بغداد جانے کا ارادہ کیا کہ دربارمیں سنائے۔ تھوڑی دیر کے بعد نوکر دودھ لے کر آیا، ابن میادۃ نے دودھ پی کر پیٹ پر ہاتھ پھیرا اور کہا جب تک یہ میسر ہے، مجھ کو منصور کی کیا غرض ہے۔سیف الدولہ کی جاہ و جلالت مشہور ہے۔ متنبی اس کے دربار کا شاعر تھا۔ سیف الدولہ اس کو اور درباری شاعروں کے ساتھ برابر بٹھاتا تھا۔ متنبی نے جل کر قصیدہ لکھا اور دربار میں سنایا، سیف الدولہ سے مخاطب ہوکر کہتا ہے،وَ مَا انتفاع اخی الدنیا بناظرۃ اذا استوت عندہ الانوار و الظلمیعنی انسان کو آنکھ سے کیا حاصل جب اس کو روشنی اور تاریکی یکساں نظر آتی ہو۔یا اعدل الناس الافی معاملتی فیک الخصام و انت الخصم و الحکمیعنی اے سب سے زیادہ انصاف کرنے والے (بجز میرے معاملہ کے) تیری ہی بابت جھگڑا ہے اور تو ہی فریق مخالف ہے اور تو ہی پنچ ہے۔یہ قصیدہ سناکر دربار سے چلا گیا اور مصر میں آیا۔ مصر سے بغداد ہوتا ہوا، شیراز کا ارادہ کیا۔ شیراز میں عضد الدولہ حکمران تھا جو شاہنشاہ کا لقب رکھتا تھا اور جس کا ہمسراس زمانہ میں کوئی بادشاہ نہ تھا، عضد الدولہ کو خبر ہوئی تو اس کے استقبال کے لئے دربانوں کو بھیجا۔ متنبی دربار میں آیا لیکن ان شرائط پر کہ دربار میں شعرا کے ساتھ نہیں بیٹھے گا اور قصیدہ کھڑے ہوکر نہیں پڑھے گا۔ عضد الدولہ نے یہ شرطیں منظور کیں۔ ایک موقع پر عضد الدولہ نے کسی سے کہا کہ متنبی نے جو قصیدے شام میں لکھے یہ قصیدے اس رتبہ کے نہیں۔ متنبی نے کہا کہ جس درجہ کا شخص ہوتا ہے اسی کے موافق شعر کہا جاتا ہے۔حاشیے (۱) (۲) (۳) مقدمہ ترجمہ الیڈ بزبان عربی، مطبوعہ مصر، صفحہ ۶۲ (۴) عمدہ ابن رشیق، جلد دوم، صفحہ ۱۸۴ (۵) جن لوگوں کے نزدیک شعر میں وزن ضروری نہیں وہ ہر شاعرانہ انداز بیان کو شعر کہتے ہیں۔ (۶) یہاں پر شعر العجم ۴ طبع اول صفحہ ۶۸ سطر ۱۔۲۔۳ میں غیر مفہوم عبارت تھی، اصل دیکھنے سے معلوم ہوا کہ وہ کٹی ہوئی عبارت تھی، کاتب نے غلطی سے اس کو لکھ دیا تھا، لہٰذا وہ سوا دو سطریں حذف کر کے مطابق اصل کردی گئیں وہ مقطوعہ عبارت یہ ہے، ’’اتفاق سے کوئی مد مقابل نہ تھا، اس لئے بہر حال انہیں لوگوں کی نظر پڑی اور زیادہ دام لگے اس لئے افسوس کے طور پر کہتا ہے کہ ’’کیا کہئے اس سال بھی ان کی قیمت زیادہ ہی رہی۔‘‘ (۷) کتاب العمدہ، جلددوم مطبوعہ مصر صفحہ، ۵۰ (۸) کتاب العمدہ، جلد اول، صفحہ ۴۹", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%A7%DB%81%DB%8C%D8%AA"} {"title": "شام", "poet_page": "مصنف:منشی جوالا پرشاد برق", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سورج ڈوبا ہوا اندھیرا\nچڑیاں لینے لگیں بسیرا\n\nدن کا غائب ہوا اجالا\nتاریکی نے پردہ ڈالا\n\nجلنے لگے دیے گھر گھر میں\nگرجا مسجد اور مندر میں\n\nچرخ بریں پر چمکے تارے\nبے روغن ہیں روشن سارے\n\nجنگل سے گھر آئے گوالے\nریوڑ اپنا اپنا سنبھالے\n\nجا پہنچے مزدور گھروں میں\nخوش خوش ہیں بیوی بچوں میں\n\nدن میں کب آرام کیا ہے\nخون پسینہ ایک کیا ہے\n\nنیند میں غافل ہو گئے بچے\nسو گئے لوری سنتے سنتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D9%85"} {"title": "شام بہار", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ضو فشاں ہے فلک پہ ماہ مبیں\nچاندنی سے چمک اٹھی ہے زمیں\nہو گئی ہے ہر ایک شے سیمیں\nتابش نور کا جواب نہیں\n\nخاک پر سربسر ہے بارش نور\nتا بہ حد نظر ہے بارش نور\n\nغرق ہیں نور میں جو دشت و دمن\nپھول مثل چراغ ہیں روشن\nصحن فردوس ہے زمین چمن\nگل فشاں ہے نگاہ کا دامن\n\nلہلہاتے ہیں سبز پوش درخت\nہو گئے ہیں شراب نوش درخت", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1"} {"title": "شام تکلیف کی دنیا میں سحر ہو تو سہی", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شام تکلیف کی دنیا میں سحر ہو تو سہی\nہائے کم بخت کہیں درد جگر ہو تو سہی\n\nبیٹھنے والے نہ بیٹھیں گے کبھی محفل میں\nاو ستم گر ترے دل میں مرا گھر ہو تو سہی\n\nدل بے تاب کا ملنا نہیں مشکل لیکن\nہاتھ بھر کا کسی سینے میں جگر ہو تو سہی\n\nہم یہ سمجھیں گے کہ دل تھا ہی نہیں سینے میں\nان کی دزدیدہ نگاہوں کا اثر ہو تو سہی\n\nچھپ گیا آنکھوں سے اک نور بس اتنا کہہ کر\nکیا بتانے میں حرج تھا کوئی گھر ہو تو سہی\n\nکہہ کے یہ پھر گئی تھیں کاہکشاں سے آنکھیں\nتجھ سے ملتی ہوئی وہ راہ گزر ہو تو سہی\n\nپھر دکھاؤں گا میں انمول جواہر عالمؔ\nمری قسمت سے کوئی اہل نظر ہو تو سہی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D8%AA%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "شام فرقت انتہائے گردش ایام ہے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شام فرقت انتہائے گردش ایام ہے\nجتنی صبحیں ہو چکی ہیں آج سب کی شام ہے\n\nکوئے جاناں دیکھ کر جنت سے یوں مایوس ہوں\nپوچھتا پھرتا ہوں کیا جنت اسی کا نام ہے\n\nاس طرح دنیا ہے اک معمورۂ ناز و نیاز\nذرے ذرے پر مرا سجدہ تمہارا نام ہے\n\nاللہ اللہ یہ تغافل اور اس پر یہ غرور\nکیا مجھے ناکام کر دینا بھی کوئی کام ہے\n\nہاں نہیں سیمابؔ مجھ کو اپنی ہستی پر غرور\nجانتا ہوں میں مری دنیا فنا انجام ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "شام و فلسطین", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "رِندانِ فرانسیس کا میخانہ سلامت\nپُر ہے مئے گُلرنگ سے ہر شیشہ حلَب کا\nہے خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق\nہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عَرب کا\nمقصد ہے مُلوکیّتِ انگلِیس کا کچھ اور\nقصّہ نہیں نارنج کا یا شہد و رُطَب کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D9%81%D9%84%D8%B3%D8%B7%DB%8C%D9%86"} {"title": "شام کو راستے پر", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "رات کے عکس تخیل سے ملاقات ہو جس کا مقصود\nکبھی دروازے سے آتا ہے کبھی کھڑکی سے\nاور ہر بار نئے بھیس میں در آتا ہے\nاس کو اک شخص سمجھنا تو مناسب ہی نہیں\nوہ تصور میں مرے عکس ہے ہر شخص کا ہر انساں کا\nکبھی بھر لیتا ہے اک بھولی سی محبوبۂ نادان کا بہروپ کبھی\nایک چالاک جہاں دیدہ و بے باک ستمگر بن کر\nدھوکا دینے کے لیے آتا ہے بہکاتا ہے\nاور جب وقت گزر جائے تو چھپ جاتا ہے\n\nمری آنکھوں میں مگر چھایا ہے بادل بن کر\nایک دیوار کا روزن اسی روزن سے نکل کر کرنیں\nمری آنکھوں سے لپٹتی ہیں مچل اٹھتی ہیں\nآرزوئیں دل غم دیدہ کے آسودہ نہاں خانے سے\nاور میں سوچتا ہوں نور کے اس پردے میں\nکون بے باک ہے اور بھولی سی محبوبہ کون\nسوچ کو روک ہے دیوار کی وہ کیسے چلے\nکیسے جا پہنچے کسی خلوت محجوب کے مخمور صنم خانے میں\nوہ صنم خانہ جہاں بیٹھے ہیں دو بت خاموش\nاور نگاہوں سے ہر اک بات کہے جاتے ہیں\nذہن کو ان کے دھندلکے نے بنایا ہے اک ایسا عکاس\nجو فقط اپنے ہی من مانے مناظر کو گرفتار کرے\nمیں کھڑا دیکھتا ہوں سوچتا ہوں جب دونوں\nچھوڑ کر دل کے صنم خانے کو گھر جائیں گے\nصحن میں تلخ حقیقت کو کھڑا پائیں گے\nایک سوچے گا مری جیب یہ دنیا یہ سماج\nایک دیکھے گا وہاں اور ہی تیاری ہے\nمجھ کو الجھن ہے یہ کیوں میں تو نہیں ہوں موجود\nرات کی خلوت محجوب کے مخمور صنم خانے میں\nمری آنکھوں کو نظر آتا ہے روزن کا دھواں\nاور دل کہتا ہے یہ دود دل سوختہ ہے\nایک گھنگھور سکوں ایک کڑی تنہائی\nمیرا اندوختہ ہے\nمجھ کو کچھ فکر نہیں آج یہ دنیا مٹ جائے\nمجھ کو کچھ فکر نہیں آج یہ بیکار سماج\nاپنی پابندی سے دم گھٹ کے فسانہ بن جائے\nمری آنکھوں میں تو مرکوز ہے روزن کا سماں\nاپنی ہستی کو تباہی سے بچانے کے لیے\nمیں اسی روزن بے رنگ میں گھس جاؤں گا\nلیکن ایسے تو وہی بت نہ کہیں بن جاؤں\nجو نگاہوں سے ہر اک بات کہے جاتا ہے\nچھوڑ کر جس کو صنم خانے کی محجوب فضا\nگھر کے بیباک المناک سیہ خانے میں\nآرزوؤں پہ ستم دیکھنا ہے گھلنا ہے\nمیں تو روزن میں نہیں جاؤں گا دنیا مٹ جائے\nاور دم گھٹ کے فسانہ بن جائے\nسنگ دل خون سکھاتی ہوئی بیکار سماج\nمیں تو اک دھیان کی کروٹ لے کر\nعشق کے طائر آوارہ کا بہروپ بھروں گا پل میں\nاور چلا جاؤں گا اس جنگل میں\nجس میں تو چھوڑ کے اک قلب فسردہ کو اکیلے چل دی\nراستہ مجھ کو نظر آئے نہ آئے پھر کیا\nان گنت پیڑوں کے میناروں کو\nمیں تو چھوتا ہی چلا جاؤں گا\nاور پھر ختم نہ ہوگی یہ تلاش\nجستجو روزن دیوار کی مرہون نہیں ہو سکتی\nمیں ہوں آزاد مجھے فکر نہیں ہے کوئی\nایک گھنگھور سکوں ایک کڑی تنہائی\nمرا اندوختہ ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%DB%92_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "شام کی دعا", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "شام ہوئی اور سورج ڈوبا\nرات نے اپنا خیمہ ڈالا\nدھوپ کہاں اب ہے اندھیارا\nسماں ہے ٹھنڈا پیارا پیارا\nدن بھر خوب پڑھے اور کھیلے\nدیکھے اس دنیا کے میلے\nیاد کرو سب دن کی باتیں\nکیا کیا کام کیے تھے دن میں\nکس کو مارا کس کو لوٹا\nلڑنے میں کس کا سر پھوٹا\nکام کیا ہے نیک بھی کوئی\nتم نے دعا لی ایک بھی کوئی\nنیک اگر کچھ کام کیا ہے\nتو سمجھو یہ دن اچھا ہے\nمانگو اپنے رب سے دعائیں\nیا رب سر سے ٹال بلائیں\nشام سویرے کا تو مالک\nاور اندھیرے کا تو مالک\nصبح بھی تجھ سے شام بھی تجھ سے\nہے ان کا انجام بھی تجھ سے\nجیسے دن راحت سے گزرا\nگزرے یوں ہی رات بھی مولا\nنام ترا میں لے کر جاگوں\nکھاؤں پیوں اور دوڑوں بھاگوں\nکھیلوں کودوں اور پڑھوں میں\nشاد رہوں آباد رہوں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7"} {"title": "شام کی سرحد سے رُخصت ہے وہ رندِ لم یزل", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "شام کی سرحد سے رُخصت ہے وہ رندِ لم یزل\nرکھ کے میخانے کے سارے قاعدے بالائے طاق\n\nیہ اگر سچ ہے تو ہے کس درجہ عبرت کا مقام\nرنگ اک پَل میں بدل جاتا ہے یہ نیلی رِواق\n\nحضرتِ کرزن کو اب فکرِ مداوا ہے ضرور\nحُکم برداری کے معدے میں ہے دردِ لایُطاق\n\nوفد ہندُستاں سے کرتے ہیں سرآغا خاں طلب\nکیا یہ چُورن ہے پئے ہضمِ فلسطین و عراق؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%B1%D8%AD%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%8F%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B1%D9%86%D8%AF%D9%90_%D9%84%D9%85_%DB%8C%D8%B2%D9%84"} {"title": "شامت الیکشن", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "واہ بی میونسپلٹی جان کیا کہنا ترا\nتو چچی لیلیٰ کی عاشق تیرا مجنوں کا چچا\nاپنی خودداری کو کھو کر تجھ پہ جو شیدا ہوا\nبے خودی میں یہ زبان حال سے کہتے سنا\nبسکہ دیوانہ شدم عقل رسا درکار نیست\nعاشق میونسپلٹی راحیا درکار نیست\nتیرا خواہش مند ہر قید لیاقت سے بری\nجس کا جی چاہے لڑے اور لڑ کے لے لے ممبری\nعہد آزادی نے ایسی ڈال دی ہے ابتری\nاب تو ہر تانیث اور تذکیر میں ہے ہمسری\nتجھ کو کیا رنڈی ہے کوئی یا کہ رنڈی باز ہے\nتیرا دروازہ کس و ناکس کے اوپر باز ہے\nجمع کر دے قرض ہی لے کر ضمانت کے پچاس\nدور ہوتی جائے غیرت جب الیکشن آئے پاس\nووٹروں کے ہاتھ جوڑے خوب ہو کر بد حواس\nگڑگڑا کر ہر کس و ناکس سے ہو یہ التماس\nرہن پرچے کے عوض عزت مری کر لیجیے\nاپنے بچوں کا تصدق ووٹ مجھ کو دیجیے\nسنیے اک صاحب کا قصہ جب ہوئی شامت سوار\nیہ ضمانت کر کے داخل بن گئے امیدوار\nچھوڑ پیشہ ترک فرمایا جو کچھ تھا کاروبار\nکچھ اثاث البیت بیچا کچھ لیا سودی ادھار\nمضطرب رہتے تھے یہ نام آوری کے واسطے\nگھر سے نکلے ووٹ لینے ممبری کے واسطے\nسب سے پہلے ان کو جس ووٹر کے گھر جانا پڑا\nشیخ بدھو نام تھا اور تھا جلاہا قوم کا\nدھوتی باندھے مرزئی پہنے تنا بیٹھا ہوا\nاک سڑی مٹی کا حقہ پی رہا تھا کج ادا\nجاتے ہی تسلیم کی جب اس کو با صد احترام\nمنہ کو ٹیڑھا کر کے بولا کو ہے بالیکم سلام\nبولے یہ پہلے نہ آیا میں ہوا اتنا قصور\nشیخ بدھو آپ مجھ پر رحم فرمائیں حضور\nآپ کو والد کہا کرتے تھے بھائی اب سے دور\nمیں بھتیجا آپ کا ہوں ووٹ لے لونگا ضرور\nبولے بدھو کا کہیو ہم کہکا کہکا بوٹ دےای\nبوٹ پہیے او جو ترتے ہمکا دس کا نوٹ دےای\nجب سرتے دار بولا لائے ہو کونو گواہ\nہم کہا سسرا جمادروا کہس ہم کا تباہ\nہم جلاہا آپ کے اور آپ ٹھہرے بادشاہ\nکون کہہ کے سامنے موتت ہے صاحب واہ واہ\nہنس کے کہہ دینیں مجھڑ سیکھ جی جاؤ بری\nرہ گئی منہ ہائے کے سب لمبرن کی لمبری\nسن لیو ساری کتھا دیہو کہ ناہیں یہ بتاؤ\nبوٹ مانگے آئے ہو ہم سے تو ہم کا کچھ دلاؤ\nکر چکن بکواس اب بھیا نہ ہمرا موڑ کھاؤ\nکہہ دیا بس کہہ دیا اب جاؤ چپے گھر کا جاؤ\nجو رکم تم سے کہا سب پیشگی لے لیب ہم\nبوٹ دے موٹر پہ لے جہیو تو ہاں دے ویب ہم\nجب میاں بدھو کے تیور اس قدر دیکھے کڑے\nدہنے بائیں دیکھ جھٹ قدموں پہ اس کے گر پڑے\nدل میں پچھتائے کہ آخر کیوں ہوئے تھے ہم کھڑے\nکہیے ایسے جاہلوں سے کیا کوئی کشتی لڑے\nآبرو کے ساتھ دے کر پانچ راضی کر لیا\nکامیابی پر ہوئے خوش تاؤ مونچھوں پر دیا\nآگے بڑھ کر ایک حضرت کا ہوا پھر سامنا\nان سے جا کر اس طرح کی عرض با صد التجا\nبندہ پرور ایک مذہب ہے ہمارا آپ کا\nووٹ دیجے گا جو مجھ کو آپ خوش ہوگا خدا\nہیں مرے حلقے میں جو جو میرے مذہب کے خلاف\nدیکھیے ممبر ذرا ہو لوں تو کر دوں سب کو صاف\nمہتران کے در پہ جھاڑو دینے آئے کیا مجال\nاور سقا مشک سے نالی دھلائے کیا مجال\nٹیکس گھر وارے کا ان پر بندھ نا جائے کیا مجال\nلے لیں بمبا گھر میں بے میٹر لگائے کیا مجال\nناچ تگنی کا انہیں اب میں نچاؤں گا حضور\nدیکھے کس کس طرح ان کو ستاؤں گا حضور\nخوش ہوئے سن کر جناب مولوئی مکتبی\nہاتھ پھیرا ریش پر اور اس طرح تقریر کی\nآپ اس کے اہل ہیں میری نظر میں واقعی\nذات سامی کو سمجھتا ہوں میں فخر ممبری\nمحترم میں وعدہ قبل از وقت کر سکتا نہیں\nفرض ہے ایفائے وعدہ پھر مکر سکتا نہیں\nاس میں اک اشکال شرعی اور بھی ہے کیا کہوں\nمیں اعانت آپ کی بالفرض قرطاساً کروں\nرائے تو اپنی ہبہ کر دوں عوض کچھ بھی نہ لوں\nکیوں بدل ضائع کروں کس واسطے مسرف بنوں\nجانتا ہوں یہ کہ میری رائے ہے کتنی وقیع\nمفت ضائع کیوں کروں جب میں نہیں ہو مستطیع\nحسب خواہش گر بدل مجھ کو عطا کر دیں جناب\nکیا عجب پیش خدا ماجور بھی ہوں اور مثاب\nمیں نے دکھلا دی حدود شرع میں راہ ثواب\nمیرے معروضات کو فرمائیے گر مستجاب\nرائے دے دینے میں احقر کو تامل کچھ نہ ہو\nخود کروں تعجیل حتماً پھر تساہل کچھ نہ ہو\nرائے دے دوں گا عوض میں آپ کو خمسین کے\nاتنے ہی ملتے ہیں مجھ کو وعظ کے تلقین کے\nحضرت والا تو خود پابند ہیں آئین کے\nاس سے کم دینا مرادف ہے مری توہین کے\nہاں یہ ممکن ہے کہ کچھ تقلیل فرما دیجئے\nہے یہ کار خیر اب تعجیل فرما دیجئے\nخلص احباب سے کیوں استشارہ کیجئے\nراز پوشیدہ رہے کیوں آشکارہ کیجئے\nسب سے اچھا ہے ذرا زحمت گوارا کیجئے\nلیجئے تسبیح مجھ سے استخارہ کیجئے\nعرض کی ہے میں نے جو اتنی رقم پر دیکھیے\nمنع جب آئے تو پھر کچھ اس سے کم پر دیکھیے\nیہ نہایت کائیں تھے دل میں یہ بولے سوچ کے\nشکل تو اچھی ہے پر زیبا نہیں میرے لیے\nاستخارہ میں کروں کیا آپ کے ہوتے ہوئے\nکرتا ہوں نیت تو میں آپ استخارہ کیجیے\nنیت ان کے دل میں تھی تسبیح ان کے ہاتھ میں\nچوہا اپنی گھات میں تھا بلی اپنی گھات میں\nمنع آیہ استخارہ چھوٹتے ہی پہلی بار\nمولوی صاحب کے چہرے پر ہوا کچھ انتر جار\nپھر جو دیکھا واجب آیہ ہو بے اختیار\nپوچھا نیت کس قدر پر کی تھی بہر خاکسار\nبولے نیت دس پہ کی تھی لیجیے بندہ نواز\nکامیابی کی دعا فرمائیے بعد از نماز\nاس جگہ سے اٹھ کے گھر پر ایک صاحب کے لیے\nدس برس ناکام رہنے پر ہوئے تھے جو بی اے\nریلوے میں تھے ملازم خود بھی تھے چلتے ہوئے\nآپ کی تنخواہ تو کم ٹھاٹھ تھے لیکن بڑے\nانگلش اسٹائل پہ رہنے کا جو ان کو شوق تھا\nبوٹ بیٹری پاؤں کی کالر گلے کا طوق تھا\nپھوس کے چھپر میں رہتے تھے یہ اس سامان سے\nاور فرنیچر تو خارج ان کے تھا امکان سے\nٹوٹی پھوٹی کرسیاں لے کر کسی دوکان سے\nبیٹھتے تھے ان پہ چھپر میں نہایت شان ثے\nنام اک تختی پہ لکھ رکھا تھا یوں بہر وقار\nمسٹر ابراہام بی اے ٹی ٹی سی ای آئی آر\nدیکھ کر صورت کو ان کی اس طرح کہنے لگے\nآئی ایم ویری بزی میک ہیسٹ جلدی بولئے\nپھر ادھر ٹہلے ادھر ٹہلے گھڑی کو دیکھ کر\nاپنے کتے سے کہا کم سون ان سے گو اوے\nپھر کہاں یو آر کنڈیڈیٹ بٹ نو بولڈ مین\nتم کو اپنی ووٹ کیسے دے گا صاحب اولڈ مین\nچونکہ کنڈیڈیٹ انگریزی سمجھتے ہی نہ تھے\nگڑگڑا کر اس طرح صاحب ثے فرمانے لگے\nیہ تو ممکن ہی نہیں ہے آپ پیدل جائیے\nمیں نے موٹر مانگ لی ہے آپ ہی کے واسطے\nاور کیوں کر اس طرح چلیے گا مجھ کو دینے ووٹ\nکیجے پاکٹ بک پہ تاریخ الیکشن جلد نوٹ\nبات انگریزی نما اردو میں یوں صاحب نے کی\nہم کہا انگلش میں ٹم سمجھا نہیں او آئی سی\nدیکھو اپنی ووٹ رکھنی مانگٹا ہے ہم فری\nکس کو دے گا پہلے بٹلانے نہیں سکٹا کوئی\nہم سٹی فادر نہیں تم کو بنانا مانگٹا\nڈی ایم پھر موٹر پہ ہم کاہے کو جانا مانگٹا\nہو کے جب مایوس یہ پلٹے وہاں سے منہ بنائے\nدل میں کہتے تھے کہ ان کا ووٹ تو جانا ہے ہائے\nسال بھر پہلے بڑے دن میں جو ڈالی دے تو پائے\nاب بجز اس کے کوئی صورت نہیں بنتی بنائے\nفیس دے کر نرس اک بہر سفارش لاؤں گا\nچل گیا چکمہ تو ان سے ووٹ پھر لے جاؤں گا\nپھر بڑھے آگے یہاں سے ووٹ کے ارمان میں\nگھس پڑے یہ ایک بز قصاب کی دوکان میں\nنثر میں پڑھ کر قصیدہ پہلے اس کی شان میں\nچاہتے تھے یہ کہیں کچھ شیخ جی کے کان میں\nیوں کنوتی کو بدل کر شیخ صاحب نے کہا\nسنیے حجرت ہم لگی لپٹی نہیں رکھتے جرا\nچودھری نے کل کہا تھا ہم سے اے بھیا سکور\nسیکھ منے جس کو کہہ دیں بوٹ دے دینا جرور\nپر مناہی کر گئے جب مولبی عبدل گفور\nراپھجی کو بوٹ دے سکتے نہیں ہم تو حجور\nسنتے ہیں کران میں فرما گئے تھے کھد رسول\nدین کی جب بات ٹھہری دکھل دینا بے پھجول\nواں کتب الدین بھی کہتے تھے سچی ہے یہ بات\nگیر مجھب والے کو لمبر بنانا باہیات\nسیکھ جی مجھب تمہارا اور ان کی اور جات\nہو کے لمبر وہ کھدا جانے کریں کیا واردات\nہاں کوئی مجھب کا اپنے ہو تو اس کو بوٹ دو\nجب تمہیں موکا ملے ایسوں کو بھیا چوٹ دو\nان کو بز قصاب نے جب دے دیا روکھا جواب\nیہ اٹھے دوکان سے مایوس با چشم پر آب\nاپنے ورکر سے کہا جا کر کہ سنیے تو جناب\nآپ ہی تدبیر اب کچھ کیجیے اس کی شتاب\nصرف کی پروا نہیں جو ہو مناسب کیجیے\nشیخ جی کے ووٹ کو لیکن نہ جانے دیجیے\nدل میں ورکر خوش ہوئے کہنے لگے باصد سرور\nاس طرف سے آپ بالکل مطمئن رہیے حضور\nاور لوگوں سے زیادہ صرف تو ہوگا ضرور\nتو سہی جب آپ ہی کو ووٹ دیں عبدالشکور\nپیر لوٹن شاہ کی خدمت میں جاتا ہوں ابھی\nحکم ان کا شیخ جی کے پاس لاتا ہوں ابھی\nپیر لوٹن شاہ تھے اک خاندانی تکیہ دار\nآنکھ میں سرمہ کئی رتی گلے میں چند ہار\nریش اقدس پان کے دھبوں سے رشک لالہ زار\nگیروا کرتا گلے میں ہاتھ میں اک پشت خار\nزرد تہمد پاؤں میں لکڑی کی اونچی سی کھڑاؤں\nگھومتے پھرتے تھے یونہی شہر شہر اور گاؤں گاؤں\nپہنچے ورکر ان کی خدمت میں بہ تعجیل تمام\nدو روپے نذرانے کے دے کر کیا جھک کر سلام\nعرض کی ہیں آپ تو حاجت روائے خاص و عام\nشیخ جی کا ووٹ دلوا دیجئے بس ہے یہ کام\nچونکہ حضرت کی ہیں بیعت میں میاں عبدالشکور\nآپ فرما دیں اگر تو ووٹ دے دیں گے ضرور\nآپ کی دعوت کا کل گھر پر کروں گا انتظام\nشیخ جی کو بھی بلا لوں گا وہیں پر وقت شام\nتذکرے میں ووٹ کا چھیڑوں گا مابین طعام\nآپ ان کو حکم دے دیں گے تو ہو جائے گا کام\nبولے لوٹن شاہ بابا خوش رہو دعوت قبول\nہم فقیروں کی دعا سے ہوگا سب مطلب حصول\nمختصر سے ابتدائی واقعے جو کچھ لکھے\nکیا عجب کافی ہوں یہ پبلک کی عبرت کے لیے\nاس طرح کے ووٹر اور ممبر ہوں جب اس قسم کے\nکہیے اس میونسپلٹی سے کسے راحت ملے\nساکنان شہر اب ہشیار ہونا چاہیئے\nممبر اور ووٹر کا کچھ معیار ہونا چاہیئے\nختم بھی کر دو ظریفؔ اب تم بیان ممبری\nتا بہ کے آخر رہوگے قصہ خوان ممبری\nخواب سے چونکیں ذرا جب سر گران ممبری\nپھر سنا دینا انہیں تم داستان ممبری\nاب سمند فکر کی باگ اور جانب موڑ دو\nسونے والے سو گئے قصہ ادھورا چھوڑ دو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%A7%D9%84%DB%8C%DA%A9%D8%B4%D9%86"} {"title": "شانتی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "خالی بوتلیں، خالی ڈبے", "year": "1950", "text_ur": "دونوں، پیرے ژین ڈیری کے باہر، بڑے دھاریوں والے چھاتے کے نیچے،کرسیوں پربیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ادھر سمندر تھا جس کی لہروں کی گنگناہٹ سنائی دے رہی تھی۔ چائے بہت گرم تھی۔ اس لیے دونوں آہستہ آہستہ گھونٹ بھر رہے تھے۔ سامنے موٹی بھوووں والی یہودن کی جانی پہچانی صورت تھی:یہ بڑا گول مٹول چہرہ، تیکھی ناک، موٹے موٹے بہت ہی زیادہ سرخی لگے ہونٹ، شام کو ہمیشہ درمیان والے دروازے کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی دکھائی دیتی تھی۔ مقبول نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور بلراج سے کہا، ’’بیٹھی ہے جال پھینکنے۔‘‘\n\nبلراج، موٹی بھوؤں کی طرف دیکھے بغیر بولا، ’’پھنس جائے گی کوئی نہ کوئی مچھلی۔‘‘\n\nمقبول نے ایک پیسٹری منہ میں ڈالی، ’’یہ کاروبار بھی عجیب کاروبارہے، کوئی دکان کھول کر بیٹھتی ہے، کوئی چل پھر کے سودا بیچتی ہے، کوئی اس طرح ریستورانوں میں گاہک کے انتظار میں بیٹھی رہتی ہے۔۔۔ جسم بیچنا بھی ایک آرٹ ہے، اور میرا خیال ہے بہت مشکل آرٹ ہے۔۔۔ یہ موٹی بھوؤں والی کیسے گاہک کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ کیسے کسی مرد کو یہ بتاتی ہوگی کہ وہ بکاؤ ہے۔‘‘\n\nبلراج مسکرایا، ’’کسی روز وقت نکال کر کچھ دیر یہاں بیٹھو۔ تمہیں معلوم ہو جائیگا کہ نگاہوں ہی نگاہوں میں کیونکر سودے ہوتے ہیں، اس جنس کا بھاؤ کیسے چکتا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ایک مقبول کا ہاتھ پکڑا، ’’ادھر دیکھو، ادھر۔‘‘ مقبول نے موٹی یہودن کی طرف دیکھا۔ بلراج نے اس کا ہاتھ دبایا، ’’نہیں یار۔۔۔ ادھر کونے کے چھاتے کے نیچے دیکھو۔‘‘مقبول نے ادھر دیکھا۔ ایک دبلی پتلی، گوری چٹی لڑکی کرسی پر بیٹھ رہی تھی۔ بال کٹے ہوئے تھے۔ ناک نقشہ ٹھیک تھا۔ ہلکے زرد رنگ کی جارجٹ کی ساڑی میں ملبوس تھی۔ مقبول نے بلراج سے پوچھا، ’’کون ہے یہ لڑکی؟‘‘\n\nبلراج نے اس لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا، ’’اماں وہی ہے جس کے بارے میں تم سے کہا تھا کہ بڑی عجیب و غریب ہے۔‘‘ مقبول نے کچھ دیر سوچا پھر کہا، ’’کون سی یار تم، تم تو جس لڑکی سے بھی ملتے ہوعجیب وغریب ہی ہوتی ہے۔‘‘ بلراج مسکرایا، ’’یہ بڑی خاص الخاص ہے۔۔۔ ذرا غور سے دیکھو۔‘‘\n\nمقبول نے غور سے دیکھا۔ بریدہ بالوں کا رنگ بھوسلا تھا، ہلکے بسنتی رنگ کی ساڑی کے نیچے چھوٹی آستینوں والا بلاؤز، پتلی پتلی بہت ہی گوری بانھیں۔ لڑکی نے اپنی گردن موڑی تو مقبول نے دیکھا کہ اس کے باریک ہونٹوں پر سرخی پھیلی ہوئی سی تھی۔\n\n’’میں اور تو کچھ نہیں کہہ سکتا مگر تمہاری اس عجیب و غریب لڑکی کو سرخی استعمال کرنے کا سلیقہ نہیں ہے۔۔۔ اب اور غور سے دیکھا ہے تو ساڑی کی پہناوٹ میں بھی خامیاں نظر آئی ہیں۔ بال سنوارنے کا انداز بھی ستھرا نہیں۔‘‘\n\nبلراج ہنسا، ’’تم صرف خامیاں ہی دیکھتے ہو۔ اچھائیوں پر تمہاری نگاہ کبھی نہیں پڑتی۔‘‘\n\nمقبول نے کہا، ’’جو اچھائیاں ہیں وہ اب بیان فرما دیجیے، لیکن پہلے یہ بتا دیجیے کہ آپ اس لڑکی کو ذاتی طور پر جانتے ہیں یا۔۔‘‘\n\nلڑکی نے جب بلراج کو دیکھا تو مسکرائی۔ مقبول رک گیا، ’’مجھے جواب مل گیا۔ اب آپ محترمہ کی خوبیاں بتا دیجیے۔‘‘\n\n’’سب سے پہلی خوبی اس لڑکی میں یہ ہے کہ بہت صاف گو ہے۔ کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔ جو اصول اس نے اپنے لیے بنا رکھے ہیں ان پر بڑی پابندی سے عمل کرتی ہے۔ پرسنل ہائی جین کا بہت خیال رکھتی ہے۔ محبت و حبت کی بالکل قائل نہیں۔ اس معاملے میں دل اس کا برف ہے۔‘‘\n\nبلراج نے چائے کا آخری گھونٹ پیا، ’’کہیے کیا خیال ہے؟‘‘\n\nمقبول نے لڑکی کو ایک نظر دیکھا، ’’جو خوبیاں تم نے بتائی ہیں ایک ایسی عورت میں نہیں ہونی چاہئیں جس کے پاس مرد صرف اس خیال سے جاتے ہیں کہ وہ ان سے اصلی نہیں تو مصنوعی محبت ضرور کرے گی۔۔۔ خود فریبی میں اگر یہ لڑکی کسی مرد کی مدد نہیں کرتی تو میں سمجھتا ہوں بڑی بے وقوف ہے۔‘‘\n\n’’یہی میں نے سوچا تھا۔۔۔ میں تم سے کیا بیان کروں، روکھے پن کی حد تک صاف گو ہے۔ اس سے باتیں کرو توکئی بار دھکے سے لگتے ہیں۔۔۔ ایک گھنٹہ ہوگیا، تم نے کوئی کام کی بات نہیں کی۔۔۔ میں چلی، اور یہ جا وہ جا۔۔۔ تمہارے منہ سے شراب کی بو آتی ہے۔ جاؤ چلے جاؤ۔۔۔ ساڑھی کو ہاتھ مت لگاؤ میلی ہو جائے گی۔‘‘ یہ کہہ کر بلراج نے سگریٹ سلگایا،’’عجیب و غریب لڑکی ہے۔ پہلی دفعہ جب اس سے ملاقات ہوئی تو میں، بائی گوڈ، چکرا گیا۔ چھوٹتے ہی مجھ سے کہا، ’’ففٹی سے ایک پیسہ کم نہیں ہوگا۔ جیب میں ہیں تو چلو ورنہ مجھے اور کام ہیں۔‘‘\n\nمقبول نے پوچھا، ’’نام کیا ہے اس کا؟‘‘\n\n’’شانتی بتایا اس نے۔۔۔ کشمیرن ہے۔‘‘\n\nمقبول کشمیری تھا۔ چونک پڑا، ’’کشمیرن! ‘‘\n\n’’تمہاری ہم وطن۔‘‘\n\nمقبول نے لڑکی کی طرف دیکھا۔ ناک نقشہ صاف کشمیریوں کا تھا، ’’یہاں کیسے آئی؟‘‘\n\n’’معلوم نہیں!‘‘\n\n’’کوئی رشتے دار ہے اس کا؟‘‘ مقبول لڑکی میں دلچسپی لینے لگا۔\n\n’’وہاں کشمیر میں کوئی ہو تو میں کہہ نہیں سکتا۔ یہاں بمبئی میں اکیلی رہتی ہے۔‘‘ بلراج نے سگریٹ ایش ٹرے میں دبایا، ’’ہاربنی روڈ یر ایک ہوٹل ہے، وہاں اس نے ایک کمرہ کرائے پر لے رکھا ہے۔۔۔ یہ مجھے ایک روز اتفاقاً معلوم ہوگیا ورنہ یہ اپنے ٹھکانے کا پتا کسی کو نہیں دیتی۔ جس کو ملنا ہوتا ہے یہاں پیرے ژین ڈیری میں چلا آتا ہے۔ شام کو پورے پانچ بجے آتی ہے یہاں!‘‘\n\nمقبول کچھ دیرخاموش رہاپھر بیرے کو اشارے سے بلایا اور اس سے بل لانے کے لیے کہا۔ اس دوران میں ایک خوش پوش نوجوان آیا اور اس لڑکی کے پاس والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ دونوں باتیں کرنے لگے۔ مقبول بلراج سے مخاطب ہوا،’’اس سے کبھی ملاقات کرنی چاہیے۔‘‘\n\nبلراج مسکرایا، ’’ضرور ضرور۔۔۔ لیکن اس وقت نہیں۔ مصروف ہے۔ کبھی آجانا یہاں شام کو۔۔۔ اور ساتھ بیٹھ جانا۔‘‘\n\nمقبول نے بل ادا کیا۔ دونوں دوست اٹھ کر چلے گئے۔\n\nدوسرے روز مقبول اکیلا آیا اور چائے کا آرڈر دے کر بیٹھ گیا۔ ٹھیک پانچ بجے وہ لڑکی بس سے اتری اور پرس ہاتھ میں لٹکائے مقبول کے پاس سے گزری۔ چال بھدی تھی۔ جب وہ کچھ دور، کرسی پر بیٹھ گئی تو مقبول نے سوچا،’’اس میں جنسی کشش تو نام کو بھی نہیں۔ حیرت ہے کہ اس کا کاروبار کیونکر چلتا ہے۔۔۔ لپ اسٹک کیسے بے ہودہ طریقے سے استعمال کی ہے اس نے۔۔۔ ساڑی کی پہناوٹ آج بھی خامیوں سے بھری ہے۔‘‘\n\nپھر اس نے سوچا کہ اس سے کیسے ملے۔ اس کی چائے میز پر آچکی تھی ورنہ اٹھ کر وہ اس لڑکی کے پاس جا بیٹھتا۔ اس نے چائے پینا شروع کردی۔ اس دوران میں اس نے ایک ہلکا سا اشارہ کیا۔ لڑکی نے دیکھا کچھ توقف کے بعد اٹھی اور مقبول کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ مقبول پہلے تو کچھ گھبرایا لیکن فوراً ہی سنبھل کر لڑکی سے مخاطب ہوا، ’’چائے شوق فرمائیں گی آپ۔‘‘\n\n’’نہیں۔‘‘\n\nاس کے جواب کے اس اختصار میں روکھا پن تھا۔ مقبول نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا، ’’کشمیریوں کو تو چائے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔‘‘\n\nلڑکی نے بڑے بے ہنگم انداز میں پوچھا، ’’تم چلنا چاہتے ہو میرے ساتھ؟‘‘\n\nمقبول کو جیسے کسی نے اوندھے منہ گرا دیا۔ گھبراہٹ میں وہ صرف اس قدر کہہ سکا، ’’ہا۔۔۔‘‘\n\nلڑکی نے کہا، ’’ففٹی روپیز۔۔۔ یس اور نو؟‘‘\n\nیہ دوسرا ریلا تھا مگر مقبول نے اپنے قدم جما لیے، ’’چلیے!‘‘\n\nمقبول نے چائے کا بل ادا کیا۔ دونوں اٹھ کر ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں اس نے کوئی بات نہ کی۔ لڑکی بھی خاموش رہی۔ ٹیکسی میں بیٹھے تو اس نے مقبول سے پوچھا، ’’کہاں جائے گا تم؟‘‘\n\nمقبول نے جواب دیا، ’’جہاں تم لے جاؤ گی۔‘‘\n\n’’ہم کچھ نہیں جانتا۔۔۔ تم بولو کدھر جائے گا؟‘‘\n\nمقبول کو کوئی اور جواب نہ سوجھا تو کہا، ’’ہم کچھ نہیں جانتا۔‘‘\n\nلڑکی نے ٹیکسی کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، ’’تم کیسا آدمی ہے۔۔۔ خالی پیلی جوک کرتا ہے۔‘‘\n\nمقبول نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، ’’میں مذاق نہیں کرتا۔۔۔ مجھے تم سے صرف باتیں کرنی ہیں۔‘‘\n\nوہ بگڑ کربولی، ’’کیا۔۔۔ تم تو بولا تھا ففٹی روپیز یس!‘‘\n\nمقبول نے جیب میں ہاتھ ڈ الا اور دس دس کے پانچ نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیے، ’’یہ لو گھبراتی کیوں ہو۔‘‘\n\nاس نے نوٹ لے لیے، ’’تم جائے گا کہاں؟‘‘\n\nمقبول نے کہا، ’’تمہارے گھر۔‘‘\n\n’’نہیں۔‘‘\n\n’’کیوں نہیں؟‘‘\n\n’’تم کو بولا ہے نہیں۔۔۔ ادھر ایسی بات نہیں ہوگی۔‘‘\n\nمقبول مسکرایا، ’’ٹھیک ہے۔ ایسی بات ادھر نہیں ہوگی۔‘‘\n\nوہ کچھ متحیر سی ہوئی، ’’تم کیسا آدمی ہے۔‘‘\n\n’’جیسا میں ہوں۔ تم نے بولا ففٹی روپیز یس کہ نو۔۔۔ میں نے کہا یس اور نوٹ تمہارے حوالے کردیے۔ تم نے بولا ادھر ایسی بات نہیں ہوگی۔ میں نے کہا بالکل نہیں ہوگی۔۔۔ اب اور کیا کہتی ہو۔‘‘\n\nلڑکی سوچنے لگی۔ مقبول مسکرایا، ’’دیکھو شانتی، بات یہ ہے۔ کل تم کو دیکھا۔ ایک دوست نے تمہاری کچھ باتیں سنائیں جو مجھے دلچسپ معلوم ہوئیں۔ آج میں نے تمہیں پکڑ لیا۔ اب تمہارے گھر چلتے ہیں۔ وہاں کچھ دیر تم سے باتیں کروں گا اور چلا جاؤں گا۔۔۔ کیا تمہیں یہ منظور نہیں۔‘‘\n\n’’نہیں۔۔۔ یہ لو اپنے ففٹی روپیز۔‘‘ لڑکی کے چہرے پر جھنجلاہٹ تھی۔\n\n’’ تمہیں بس ففٹی روپیز کی پڑی ہے۔۔۔ روپے کے علاوہ بھی دنیا میں اور بہت سی چیزیں ہیں۔۔۔ چلو، ڈرائیور کو اپنا ایڈریس بتاؤ۔۔۔ میں شریف آدمی ہوں۔ تمہارے ساتھ کوئی دھوکا نہیں کروں گا۔‘‘ مقبول کے انداز گفتگو میں صداقت تھی۔ لڑکی متاثر ہوئی۔ اس نے کچھ دیر سوچا پھرکہا،’’چلو۔۔۔ ڈرائیور، ہاربنی روڈ!‘‘\n\nٹیکسی چلی تو اس نے نوٹ مقبول کی جیب میں ڈال دیے،’’یہ میں نہیں لوں گی۔‘‘\nمقبول نے اصرار نہ کیا، ’’تمہاری مرضی!‘‘\n\nٹیکسی ایک پانچ منزلہ بلڈنگ کے پاس رکی۔ پہلی اور دوسری منزل پر مساس خانے تھے۔ تیسری، چوتھی اور پانچویں منزل ہوٹل کے لیے مخصوص تھی۔ بڑی تنگ و تار جگہ تھی۔ چوتھی منزل پر سیڑھیوں کے سامنے والا کمرہ شانتی کا تھا۔ اس نے پرس سے چابی نکال کر دروازہ کھولا۔ بہت مختصر سامان تھا۔ لوہے کا ایک پلنگ جس پر اجلی چادر بچھی تھی۔ کونے میں ڈریسنگ ٹیبل۔ ایک اسٹول، اس پر ٹیبل فین۔ چار ٹرنک تھے وہ پلنگ کے نیچے دھرے تھے۔\n\nمقبول کمرے کی صفائی سے بہت متاثر ہوا۔ ہر چیز صاف ستھری تھی۔ تکیے کے غلاف عام طور پر میلے ہوتے ہیں مگر اس کے دونوں تکیے بے داغ غلافوں میں ملفوف تھے۔ مقبول پلنگ پر بیٹھنے لگا تو شانتی نے اسے روکا، ’’نہیں۔۔۔ ادھر بیٹھنے کا اجازت نہیں۔۔۔ ہم کسی کو اپنے بستر پر نہیں بیٹھنے دیتا۔ کرسی پر بیٹھو۔‘‘یہ کہہ کروہ خود پلنگ پر بیٹھ گئی۔ مقبول مسکرا کر کرسی پر ٹک گیا۔\n\nشانتی نے اپنا پرس تکیے کے نیچے رکھا اور مقبول سے پوچھا، ’’بولو۔۔۔ کیا باتیں کرنا چاہتے ہو؟‘‘\n\nمقبول نے شانتی کی طرف غور سے دیکھا، ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ تمہیں ہونٹوں پر لپ اسٹک لگانی بالکل نہیں آتی۔‘‘\n\nشانتی نے برا نہ مانا۔ صرف اتنا کہا،’’مجھے مالوم ہے۔‘‘\n\n’’اٹھو، مجھے لپ اسٹک دو میں تمہیں سکھاتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر مقبول نے اپنا رومال نکالا۔\n\nشانتی نے اس سے کہا، ’’ڈرییسنگ ٹیبل پر پڑا ہے،اٹھا لو۔‘‘\n\nمقبول نے لپ اسٹک اٹھائی۔ اسے کھول کر دیکھا، ’’ادھر آؤ، میں تمہارے ہونٹ پونچھوں۔‘‘\n\n’’تمہارے رومال سے نہیں۔۔۔ میرا لو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ٹرنک کھولا اور ایک دھلا ہوا رومال مقبول کو دیا۔ مقبول نے اس کے ہونٹ پونچھے۔ بڑی نفاست سے نئی سرخی ان پر لگائی۔ پھر کنگھی سے اس کے بال ٹھیک کیے اور کہا،’لو اب آئینہ دیکھو۔‘‘\nشانتی اٹھ کر ڈرسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ بڑے غور سے اس نے اپنے ہونٹوں اور بالوں کا معائنہ کیا۔ پسندیدہ نظروں سے تبدیلی محسوس کی اور پلٹ کر مقبول سے صرف اتنا کہا، ’’اب ٹھیک ہے‘‘ پھر پلنگ پر بیٹھ کر پوچھا،’’تمہارا کوئی بیوی ہے؟‘‘\n\nمقبول نے جواب دیا، ’’نہیں۔‘‘\n\nکچھ دیر خاموشی رہی۔ مقبول چاہتا تھا باتیں ہوں چنانچہ اس نے سلسلہ کلام شروع کیا، ’’اتنا تو مجھے معلوم ہے کہ تم کشمیر کی رہنے والی ہو۔ تمہارا نام شانتی ہے۔ یہاں رہتی ہو۔۔۔ یہ بتاؤ تم نے ففٹی روپیز کا معاملہ کیوں شروع کیا؟‘‘\n\nشانتی نے یہ بے تکلف جواب دیا، ’’میرا فادر سری نگر میں ڈاکٹر ہے۔۔۔ میں وہاں ہوسپیٹل میں نرس تھا۔ ایک لڑکے نے مجھ کو خراب کردیا۔۔۔ میں بھاگ کر ادھر کو آگئی۔ یہاں ہم کو ایک آدمی ملا۔ وہ ہم کو ففٹی روپیز دیا۔۔۔ بولا ہمارے ساتھ چلو۔ ہم گیا۔ بس کام چالو ہوگیا۔۔۔ ہم یہاں ہوٹل میں آگیا۔۔۔ پرہم ادھر کسی سے بات نہیں کرتی۔۔۔ سب رنڈی لوگ ہے۔۔۔ کسی کو یہاں نہیں آنے دیتی۔‘‘\n\nمقبول نے کرید کرید کر تمام واقعات معلوم کرنا مناسب خیال نہ کیا۔ کچھ اور باتیں ہوئیں جن سے اسے پتا چلا کہ شانتی کو جنسی معاملے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جب اس کا ذکر آیا تو اس نے برا سا منہ بنا کر کہا۔ ’’آئی ڈونٹ لائک۔دیٹ از بیڈ۔‘‘\n\nاس کے نزدیک ففٹی روپیز کا معاملہ ایک کاروباری معاملہ تھا۔ سری نگر کے ہسپتال میں جب کسی لڑکے نے اس کو خراب کیا تو جاتے وقت دس روپے دینا چاہے،شانتی کو بہت غصہ آیا، نوٹ پھاڑ دیا۔ اس واقعے کا اس کے دماغ پر یہ اثر ہوا کہ اس نے باقاعدہ کاروبار شروع کردیا۔ پچاس روپے فیس خود بخود مقرر ہوگئی۔ اب لذت کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا تھا۔۔۔ چونکہ نرس رہ چکی تھی اس لیے بڑی محتاط رہتی تھی۔\n\nایک برس ہوگیا تھا اسے بمبئی میں آئے ہوئے۔ اس دوران میں اس نے دس ہزار روپے بچائے ہوتے مگر اس کو ریس کھیلنے کی لت پڑ گئی۔ پچھلی ریسوں پر اس کے پانچ ہزار اڑ گئے لیکن اس کو یقین تھا کہ وہ نئی ریسوں پر ضرور جیتے گی، ’’ہم اپنا لوس پورا کرلے گا۔‘‘\n\nاس کے پاس کوڑی کوڑی کا حساب موجود تھا۔ سو روپے ر وزانہ کما لیتی تھی جو فوراً بنک میں جمع کرا دیے جاتے تھے۔ سو سے زیادہ وہ نہیں کمانا چاہتی تھی۔ اس کو اپنی صحت کا بہت خیال تھا۔دو گھنٹے گزر گئے تو اس نے اپنی گھڑی دیکھی اور مقبول سے کہا،’’تم اب جاؤ۔۔۔ ہم کھانا کھائے گا اور سو جائے گا۔‘‘ مقبول اٹھ کر جانے لگا تو اس نے کہا، ’’باتیں کرنے آؤ تو صبح کے ٹائم آؤ۔ شام کے ٹائم ہمارا نقصان ہوتی ہے۔‘‘\n\nمقبول نے ’’اچھا‘‘ کہا اور چل دیا۔\n\nدوسرے روز صبح دس بجے کے قریب مقبول شانتی کے پاس پہنچا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس کی آمد پسند نہیں کرے گی مگر اس نے کوئی ناگواری ظاہر نہ کی۔ مقبول دیر تک اس کے پاس بیٹھا رہا۔ اس دوران میں شانتی کو صحیح طریقے پر ساڑی پہننی سکھائی۔ لڑکی ذہین تھی، جلدی سیکھ گئی۔\n\nکپڑے اس کے پاس کافی تعداد میں اور اچھے تھے۔ یہ سب کے سب اس نے مقبول کو دکھائے۔ اس میں بچپنا تھا نہ بڑھاپا۔ شباب بھی نہیں تھا۔ وہ جیسے کچھ بنتے بنتے ایک دم رک گئی تھی، ایک ایسے مقام پر ٹھہر گئی تھی جس کے موسم کا تعین نہیں ہوسکتا۔ وہ خوبصورت تھی نہ بدصورت، عورت تھی نہ لڑکی۔ وہ پھول تھی نہ کلی۔ شاخ تھی نہ تنا۔ اس کو دیکھ کر بعض اوقات مقبول کو بہت الجھن ہوتی تھی۔ وہ اس میں وہ نقطہ دیکھنا چاہتا تھا جہاں اس نے خلط ملط ہونا شروع کیا تھا۔\n\nشانتی کے متعلق اور زیادہ جاننے کے لیے مقبول نے اس سے ہر دوسرے تیسرے روز ملنا شروع کردیا۔ وہ اس کی کوئی خاطر مدارات نہیں کرتی تھی۔ لیکن اب اس نے اس کو اپنے صاف ستھرے بستر پر بیٹھنے کی اجازت دے دی تھی۔ ایک دن مقبول کو بہت تعجب ہوا جب شانتی نے اس سے کہا، ’’تم کوئی لڑکی مانگتا؟‘‘\n\nمقبول لیٹا ہوا تھا چونک کر اٹھا، ’’کیا کہا؟‘‘\n\nشانتی نے کہا، ’’ہم پوچھتی، تم کوئی لڑکی مانگتا تو ہم لا کر دیتا۔‘‘\n\nمقبول نے اس سے دریافت کیا کہ یہ بیٹھے بیٹھے اسے کیا خیال آیا۔ کیوں اس نے یہ سوال کیا تو وہ خاموش ہوگئی۔ مقبول نے اصرار کیا تو شانتی نے بتایا کہ مقبول اسے ایک بیکار عورت سمجھتا ہے۔ اس کو حیرت ہے کہ مرد اس کے پاس کیوں آتے ہیں جبکہ وہ اتنی ٹھنڈی ہے۔ مقبول اس سے صرف باتیں کرتا ہے اور چلا جاتاہے۔ وہ اسے کھلونا سمجھتا ہے۔ آج اس نے سوچا، مجھ جیسی ساری عورتیں تو نہیں مقبول کو عورت کی ضرورت ہے، کیوں نہ وہ اسے ایک منگا دے۔\n\nمقبول نے پہلی بار شانتی کی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔ ایک دم وہ اٹھی اور چلانے لگی، ’’ہم کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ جاؤ چلے جاؤ۔۔۔ ہمارے پاس کیوں آتا ہے تم۔۔۔ جاؤ۔‘‘\nمقبول نے کچھ نہ کہا، خاموشی سے اٹھا اور چلا گیا۔\n\nمتواتر ایک ہفتہ وہ پیرے ژین ڈیری جاتا رہا مگر شانتی دکھائی نہ دی۔ آخر ایک صبح اس نے اس کے ہوٹل کا رخ کیا۔ شانتی نے دروازہ کھول دیا مگر کوئی بات نہ کی۔ مقبول کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔ شانتی کے ہونٹوں پر سرخی پرانے بھدے طریقے پر لگی تھی۔ بالوں کا حال بھی پرانا تھا۔ ساڑی کی پہناوٹ تو اور زیادہ بدزیب تھی۔ مقبول اس سے مخاطب ہوا، ’’مجھ سے ناراض ہو تم؟‘‘\n\nشانتی نے جواب نہ دیا اور پلنگ پر بیٹھ گئی۔ مقبول نے تند لہجے میں پوچھا، ’’بھول گئیں جو میں نے سکھایا تھا؟‘‘ شانتی خاموش رہی۔ مقبول نے غصے میں کہا، ’’جواب دو، ورنہ یاد رکھو ماروں گا۔‘‘\n\nشانتی نے صرف اتنا کہا، ’’مارو۔‘‘\n\nمقبول نے اٹھ کر ایک زور کا چانٹا اس کے منہ پر جڑ دیا۔۔۔ شانتی بلبلا اٹھی۔ اس کی حیرت زدہ آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ مقبول نے جیب سے اپنا رومال نکالا۔ غصے میں اس کے ہونٹوں کی بھدی سرخی پونچھی۔ اس نے مزاحمت کی لیکن مقبول اپنا کام کرتا رہا۔ لپ اسٹک اٹھا کر نئی سرخی لگائی۔ کنگھے سے اس کے بال سنوارے، پھر اس نے تحکمانہ لہجے میں کہا، ’’ساڑی ٹھیک کرو اپنی۔‘‘\n\nشانتی اٹھی اور ساڑی ٹھیک کرنے لگی مگر ایک دم اس نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا اور روتی روتی خود کو بستر پرگرا دیا۔ مقبول تھوڑی دیر خاموش رہا۔ جب شانتی کے رونے کی شدت کچھ کم ہوئی تو اس کے پاس جا کر کہا، ’’شانتی اٹھو۔۔۔ میں جارہا ہوں۔‘‘\n\nشانتی نے تڑپ کر کروٹ بدلی اور چلائی،’’نہیں نہیں۔۔۔ تم نہیں جاسکتے۔‘‘ اور دونوں بازو پھیلا کر دروازے کے درمیان میں کھڑی ہوگئی۔ ’’ تم گیا تو مار ڈالوں گی۔‘‘\n\nوہ ہانپ رہی تھی۔ اس کا سینہ جس کے متعلق مقبول نے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا جیسے گہری نیند سے اٹھنے کی کوشش کررہا تھا۔ مقبول کی حیرت زدہ آنکھوں کے سامنے، شانتی نے تلے اوپر بڑی سرعت سے کئی رنگ بدلے۔ اس کی نمناک آنکھیں چمک رہی تھیں، سرخی لگے باریک ہونٹ ہولے ہولے لرز رہے تھے۔ ایک دم آگے بڑھ کر مقبول نے اس کو اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔\n\nدونوں پلنگ پر بیٹھے تو شانتی نے اپنا سر نیوڑھا کر مقبول کی گود میں ڈال دیا۔ اس کے آنسو بند ہونے ہی میں نہ آتے تھے۔ مقبول نے اس کو پیار کیا۔ رونا بند کرنے کے لیے کہا تو وہ آنسوؤں میں اٹک اٹک کر بولی، ’’ادھر سری نگر میں۔۔۔ ایک آدمی نے۔۔۔ ہم کو مار دیا تھا۔۔۔ ادھر ایک آدمی نے۔۔۔ ہم کو زندہ کردیا۔‘‘\n\nدو گھنٹے کے بعد جب مقبول جانے لگا تو اس نے جیب سے پچاس روپے نکال کر شانتی کے پلنگ پر رکھے اور مسکرا کہا، ’’یہ لو اپنے ففٹی روپیز!‘‘\n\nشانتی نے بڑے غصے اور بڑی نفرت سے نوٹ اٹھائے اور پھینک دیے۔\n\nپھر اس نے تیزی سے اپنی ڈریسنگ ٹیبل کا ایک درازکھولا اور مقبول سے کہا،’’ادھر آؤ۔۔۔۔۔۔ دیکھو یہ کیا ہے؟‘‘\n\nمقبول نے دیکھا۔ دراز میں سو سو کے کئی نوٹوں کے ٹکڑے پڑے تھے۔ مٹی بھر کے شانتی نے اٹھائے اور ہوا میں اچھالے، ’’ہم اب یہ نہیں مانگتا!‘‘\n\nمقبول مسکرایا۔ ہولے سے اس نے شانتی کے گال پر چھوٹی سی چپت لگائی اور پوچھا، ’’اب تم کیا مانگتا ہے؟‘‘\n\nشانتی نے جواب دیا، ’’تم کو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مقبول کے ساتھ چمٹ گئی اور رونا شروع کردیا۔\n\nمقبول نے اس کے بال سنوارتے ہوئے بڑے پیار سے کہا، ’’روؤ نہیں۔۔۔ تم نے جو مانگا ہے وہ تمہیں مل گیا ہے۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%8C"} {"title": "شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف\nچیرے ہے سینہ رات کو یہ موشگاف زلف\n\nجس طرح سے کہ کعبہ پہ ہے پوشش سیاہ\nاس طرح اس صنم کے ہے رخ پر غلاف زلف\n\nبرہم ہے اس قدر جو مرے دل سے زلف یار\nشامت زدہ نے کیا کیا ایسا خلاف زلف\n\nمطلب نہ کفر و دیں سے نہ دیر و حرم سے کام\nکرتا ہے دل طواف عذار و طواف زلف\n\nناف غزال چیں ہے کہ ہے نافۂ تتار\nکیونکر کہوں کہ ہے گرہ زلف ناف زلف\n\nآپس میں آج دست و گریباں ہے روز و شب\nاے مہروش زری کا نہیں موئے باف زلف\n\nکہتا ہے کوئی جیم کوئی لام زلف کو\nکہتا ہوں میں ظفرؔ کہ مسطح ہے کاف زلف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D8%B1_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%84%D8%A7%D9%81_%D8%B2%D9%84%D9%81"} {"title": "شاہد غیب ہویدا نہ ہوا تھا سو ہوا", "poet_page": "مصنف:باقر آگاہ ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شاہد غیب ہویدا نہ ہوا تھا سو ہوا\nحسن پر آپ نے شیدا نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nغمزۂ شوخ سیہ مست ترا مژگاں سے\nقتل عاشق پہ صف آرا نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nہنس کے وہ غنچہ دہن میری جگر خواری پر\nکہہ دیا تیرا دلاسا نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nرشتۂ صاف نگہ میں ہو مسلسل آنسو\nسینۂ یار میں مالا نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nسر سوداؔ پہ ترے شعر رسا سے آگاہؔ\nسلسلہ حشر کا برپا نہ ہوا تھا سو ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D8%BA%DB%8C%D8%A8_%DB%81%D9%88%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "شاہِیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کِیا میں نے اُس خاک داں سے کنارا\nجہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ\nبیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو\nازل سے ہے فطرت مری راہبانہ\nنہ باد بہاری، نہ گُلچیں، نہ بُلبل\nنہ بیماریِ نغمۂ عاشقانہ\nخیابانیوں سے ہے پرہیز لازم\nادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ\nہوائے بیاباں سے ہوتی ہے کاری\nجواں مرد کی ضربتِ غازیانہ\nحمام و کبوتر کا بھُوکا نہیں مَیں\nکہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ\nجھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا\nلہُو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ\nیہ پورب، یہ پچھم چکوروں کی دنیا\nمِرا نیلگوں آسماں بیکرانہ\nپرندوں کی دُنیا کا درویش ہوں مَیں\nکہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%DB%81%D9%90%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شاہی سیر کشمیر/اورنگ زیب عالمگیر اور جنتِ کشمیر", "poet_page": "مصنف:محمد الدین فوق", "kind": "prose", "section": "شاہی سیر کشمیر", "year": null, "text_ur": "سیر کشمیر کا شوق عالمگیر کے لیے جَدّی ورثہ تھا۔ اکبر، جہانگیر، شاہجہاں ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی کئی دفعہ کشمیر کی سیر سے محظوظ ہو چکے۔ عالمگیر بھی برسوں سے کشمیر کو جنت نظیر سن رہا تھا۔ آخر ششم سال جلوس ١٠٧٣؁ھ میں رمضان کے مہینہ میں کہ پچیسویں تاریخ تھی، قلعہ لاہور سے سفر کشمیر کے لیے باہر نکلا۔\n\nاہل حرم کی کئی پالکیاں ساتھ تھیں۔ ہاتھی، گھوڑے، فوج، لشکر کا انبوہ کثیر تھا۔ شان و شوکت اور جاہ جلال کے ساتھ رستے کے نشیب و فراز کی تکالیف اٹھاتا، بعض دلکش مقامات کی سیر کرتا اور کئی کئی دن وہاں ٹھہرتا ذیقعدہ کے مہینہ میں سری نگر پہنچ گیا۔ اس سفر میں کئی جانور اور کئی آدمی پہاڑی دشوار گزار راہوں کی نذر ہو کر غاروں میں گرتے رہے۔ ایک فیل کوہ پیکر بھی پہاڑ کے ڈھلوان سے قلابازیاں کھاتا اپنی لپیٹ میں بہت سے لشکروں اور کئی کنیزوں کو لے کر چاہ عدم میں جا پہنچا۔\n\nکشمیر میں عالگیر کا ایک نہایت معتبر افسر راجا رگناتھ متصدی مہمات دیوانی کے عہدہ پر تھا۔ وہ بادشاہ کی موجودگی ہی میں انتقال کر گیا۔ بادشاہ نے اس کے مرنے کا بڑا غم کیا اور وزارت کا منصب جلیل القدر فاضل خاں میر سامان کو عنایت کیا جو عالمگیر کے آخری عہد حکومت میں کشمیر کا گورنر بھی ہو گیا۔\n\nشاہجہاں کے زمانہ سے اُناسی ہزار روپیہ بوساطت صدر الصدور ارباب استحقاق کو بلا تمیز مذہب و ملت ملتا تھا اور مہینوں کے حساب سے اس کی تقسیم اس طرح ہوتی تھی: محرم اور ربیع الاول میں بارہ بارہ ہزار روپیہ، رجب میں دس ہزار روپیہ، شعبان میں پندرہ ہزار روپیہ، رمضان میں بیس ہزار روپیہ، باقی سات مہینے خالی رہتے تھے۔ عالمگیر نے حکم دیا کہ اس خیرات کے علاوہ باقی سات مہینوں میں دس دس ہزار روپیہ فی ماہ کے حساب سے خیرات دی جایا کرے۔ غرض سالانہ خیرات کی رقم جو اناسی ہزار تھی، اب ایک لاکھ انچاس ہزار تک کر دی گئی۔\n\n“بادشاہ نامہ عالمگیری” نے اس بات کی تصریح نہیں کی کہ یہ خیرات سارے ہندوستان کے لیے تھی یا صرف کشمیر کے لیے، لیکن اس کا ذکر چونکہ کشمیر کے حالات میں ہے اس لیے خیال ہے کہ اس خیرات کا تعلق کشمیر ہی سے ہے۔\n\n١٧؍ ذیقعدہ کو بادشاہ کی عمر کا سینتالیسواں سال شروع ہوا۔ جشن قمری میں کئی مستحقین کو انعام و اکرام ملے۔ اسی جگہ بادشاہ کو اپنے وزیر اعظم فاضل خاں کے متعلق جس کی عمر ستر سال کی تھی، اطلاع ملی کہ وہ یگانہ روزگار جامع العلوم ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا۔ لاہور میں اُس نے اپنا مقبرہ بنوایا تھا، وہیں دفن ہوا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ بادشاہ کو اس کے مرنے کا بہت سخت صدمہ ہوا۔ یہاں تک کہ عید الاضحیٰ کا دربار اور تمام مراسم ملتوی کر دیے گئے۔ فاضل خاں کا بھتیجا بادشاہ کے پاس آیا۔ اس کو تسلی و تشفی دینے کے بعد خلعت و منصب عطا کیا گیا۔\n\nبادشاہ نے ڈل کی سیر کی۔ ڈل کے دونوں طرف چراغاں کیا گیا۔ عجب کیفیت تھی۔ یہاں سے ویری ناگ کے چشمہ پر گیا جہاں اس کے باپ (شاہجہاں) اور دادا (جہانگیر) نے دلنشیں اور خوبصورت عمارتیں تعمیر کرائی تھیں اور افسوس ہے آج جن میں سے بہت سی مٹ چکی ہیں اور بہت سی کھنڈرات کی صورت میں موجود ہیں۔ صرف چشمہ کے گرد جو چاروں طرف عمارت ہے وہ موجود ہے گو اس کی حالت بھی ابتر ہے۔ پان پور میں زعفران زار کو دیکھا لیکن کچھ رستے کی تکلیفات، آدمیوں اور جانوروں کے اتلاف، اور وزیر اور دیوان کی موت کی وجہ سے بادشاہ کا غنچۂ خاظر چمنستانِ کشمیر میں ناشگفتہ ہی رہا۔بلکہ فرمایا کہ ضروری امورات ملکی کے بغیر یہاں صرف سیر و شکار کے لیے بادشاہوں کا آنا رائے صائب کے خلاف ہے۔ آخر بادشاہ تین ماہ کے قیام کے بعد 7 صفر کو لاہور واپس چلا آیا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1/%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%B2%DB%8C%D8%A8_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D9%86%D8%AA%D9%90_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1"} {"title": "شاہی سیر کشمیر/اکبر اور کشمیر", "poet_page": "مصنف:محمد الدین فوق", "kind": "prose", "section": "شاہی سیر کشمیر", "year": null, "text_ur": "جب اکبر پہلی مرتبہ کشمیر آیا ہے، اس وقت مرزا یوسف خاں گورنر کشمیر تھا۔ اکبر نے اسی کے مکان میں قیام کیا۔ سلطان شہاب الدین کے نام پر شہاب الدین پورہ دریا کے کنارے ایک دلکش جگہ تھی۔ بادشاہ یہاں کی سیر سے بہت محظوظ ہوا۔\n\nاہل حرم بھی چند دنوں کے بعد آ پہنچے۔ مریم مکانی اکبر کی والدہ بھی ساتھ تھی۔ اس نے بادشاہ کے پاس آنے کی خواہش کی۔ بادشاہ نے جواب میں لکھا:\n\nحاجی بسوئے کعبہ رود از برائے حج\n\nیارب بود کہ کعبہ بیاید بسوئے ما\n\nکشمیر کا آخری بادشاہ یعقوب شاہ اکبری اقبال کی تاب نہ لا کر جان چھپائے پھرتا تھا۔ آخر گرفتاری کے خوف سے بادشاہ کے پاس عرضداشت بھیجی۔ اس نے جان بخشی کی اور 20 ہزار کی جاگیر مقرر کر کے کشتواڑ میں رہنے کا حکم دیا جہاں وہ اس واقعہ کے پانچویں سال ١٠٠١؁ھ میں اپنے بھائی کے ہاتھ سے مارا گیا۔\n\nبادشاہ نے مراج و کامراج کی سیر کشتی کے ذریعہ کی۔ پٹن کے مقام پر جو بارہ مولا اور سری نگر کے درمیان مشہور پڑاؤ ہے، ہزار ہا روپے کی خیرات کی۔ بادشاہ کا حکم تھا کہ کوئی افسر، کوئی اہلکار، کوئی سپاہی رعایا کے کسی فرد کو خواہ کسی حیثیت اور کسی مذہب کا ہو تکلیف دے گا تو اس سے سخت باز پرس کی جائے گی۔ چنانچہ رعایا نہایت امن اور آرام سے رہی۔ بادشاہ ایک ماہ پانچ دن کی سیر کے بعد واپس لاہور آ گیا۔\n\nبادشاہ ٩٩٧؁ھ کی سیر کشمیر میں نشاط افزا نظارے دیکھ چکا تھا اور چاہتا تھا کہ ہر سال کشمیر آیا کرے مگر امرائے دولت برفباری کے خوف اور رستے کی تکلیفات کی وجہ سے اس کا ارادہ بدل دیا کرتے تھے۔ جب ١٠٠٠؁ھ میں مرزا یادگار نے (جو مرزا یوسف خاں گورنر کشمیر کے بادشاہ کے ہمراہ آ جانے کی وجہ سے حکومت کشمیر کا عارضی ناظم اور مرزا کا بھتیجہ بھی تھا) خوشامدیوں اور مفسدیوں کےکہنے میں علم بغاوت بلند کر لیا، بلکہ خطبہ و سکہ بھی اپنے نام کا جاری کر دیا تو بادشاہ باوجود امرائے دولت کے منع کرنے کے کشمیر کو روانہ ہو گیا۔ شورش کشمیر کس طرح ہوئی اور کس طرح مٹی یہ ایک طویل داستان ہے۔ مختصر یہ ہے کہ یادگار گرفتار ہو کر قتل کیا گیا۔ 51 روز تک اس نے کشمیرمیں سکہ و خطبہ اپنےنام کا جاری رکھا۔ باغیوں اور سرکشوں کی تحقیقات ہوئی۔ جو بانی مبانی تھے ان کو سزائیں ملیں اور باقی سب کے لیے عام معافی و جان بخشی کا اعلان ہوا۔ بادشاہ کے تلا دان کی رسم سری نگر میں ادا ہوئی۔ بادشاہ کے حکم سے ابو الفضل نے چودہ ہزار آدمیوں کو کھانا کھلایا۔ ابو الفضل لکھتا ہے: “اس ملک میں چور اور گدا بہت کم پائے جاتے ہیں”۔ بادشاہ زعفران کی سیر کو پانپور میں کشتی پر سوار ہو کر گیا۔ اس کی شادابی و نشاط بخشی اور خوشبو سے بہت خوش ہوا۔ پانچویں دن دیوالی تھی، حکم دیا کہ دریا کے کناروں پر کشتیوں کے اوپر اور مکانات کی چھتوں اور منڈیروں پر چراغ روشن کیے جائیں۔ حکم کی دیر تھی، شہر بقعۂ نور بن گیا۔ امرائے کشمیر اور کشمیر کے شاہی خاندان سے وہی رشتہ قائم کیا جو اس نے راجپوتانہ کے ہندو راجاؤں سے کیا تھا۔ شمس الدین چک کی بیٹی کو حرم سرا میں داخل کیا۔ درحسین چک کی بیٹی کا نکاح شہزادہ سلیم سےکیا۔ ان جدید تعلقات سے کشمیر کی شورش بہت کچھ کم ہو گئی۔\n\nبادشاہ کو کشمیر کی صنعت میں ایک سیاہی دکھائی گئی جو پانی سے اور ہاتھ کے مٹانے سے محو نہ ہوتی تھی اور لکھنے میں خط کو خراب نہ کرتی تھی۔ بادشاہ کشمیریوں کی اس صنعت سے بہت خوش ہوا اور ان کی ذہانت کی تعریف کی۔ اسی سفر میں بادشاہ نے زینہ لنک کی سیر کی جو جھیل ولر کے درمیان سلطان زین العابدین نے پانی سے ایک جریب کے قریب بلند چبوترہ پر بڑے تکلف سے 11٩ گز لمبا اور 82 گز چوڑا بنایا تھا۔ نظام الدین طبقات اکبری میں لکھتا ہے: “جس خوبی سے اس چبوترہ پر عمارات عالی پانی میں پتھر ڈلوا کر زین العابدین نے بنوائی ہیں اس کی نظیر ملک میں کہیں نظر نہیں آتی۔” بادشاہ براہ بارہ مولا، پگھلی واپس لاہور آ گیا۔ پگھلی میں برف و بارش کی وجہ سے بادشاہ ایک ماہ تک رُکا رہا۔\n\nاکبر تیسری مرتبہ ١٠٠٥؁ھ میں کشمیر گیا۔ آگرہ سےلاہور اور لاہور سے بھمبر میں آیا۔ یہاں فوج کے کئی حصے کیے۔ ایک حصہ اپنے لیے، ایک حرم سرا کے لیے، ایک شہزادہ سلیم کے لیے۔ راجوری میں معمول سے زیادہ دن ٹھہرا اور وہاں عظیم پیمانہ پر ایک جشن کیا۔ پیر پنجال کی برف جس کو دیکھ کر ہندوستانیوں اور پنچابیوں کے دم خشک ہو جاتے تھے کاٹ کر ہیرا پور آیا۔ یہاں سے حال نگری کی سیر کو گیا جس کی ویرانی اس کی آبادی اور جس کے کھنڈرات اس کی عالیشاں عمارتوں کا پتہ بتاتے تھے۔ منزل بمنزل چلتا اور بعض مقامات میں گھوڑے پر سوار ہو کر شکار کھیلتا ہوا سری نگر آ گیا۔ کوہ ماراں کے نیچے پہاڑ کے دامن میں بہت سی زمین خالی پڑی تھی۔ بادشاہ نے اس کے گرد فصیل اور مکانات بنانے کا حکم دیا اور پھر ایک قلعہ سنگین تعمیر کرایا جس نے کسانوں کی پراگندگی کو جو کمی بارش کی وجہ سے بڑھ رہی تھی اور گرانی اجناس کو جو بادشاہی سپاہ کے آنے سے بہت زیادہ ہو گئی تھی ، دور کر دیا۔ شہر میں بادشاہی حکم سے بارہ مقامات پر عام لنگر جاری ہوتا جہاں ہر حاجتمند کو کھانا ملتا۔ اس کے علاوہ ہر یک شنبہ و اتوار کو عید گاہ میں قریباً 80 ہزار بھوکوں کو خوراک ملا کرتی۔\n\nقلعہ کی تعمیرنے غریب آدمیوں کو مزدوری پر لگا کر جانکاہی و جان کندنی سے بچا دیا۔ بادشاہ کے پاس رپورٹ پہنچی کہ کارپردازان سلطنت اور ان کے ماتحت اہلکار زمینداروں پر بہت ظلم کرتے ہیں۔ بادشاہ نے گروہا گروہ زمینداروں کی جمع معاف کر دی، ظالموں کو سزائیں دیں اور کشاورزی کےلیے بہت کچھ مدد دی۔ بادشاہ نے سری نگر میں مرزا یوسف خاں گورنر کشمیر کا وہ محل بھی دیکھا جس کے تین سو زینے تھے۔ شہاب الدین پورہ اور زینہ لنک کی دلفریبیوں اور دلچسپیوں نے پھر اس کا دامن دل کھینچا۔ چنانچہ بادشاہ اس سفر میں بھی ان مقامات کی سیر سے محظوظ ہوا۔ بادشاہ کے حکم سے دریا میں ایک ایسا جہاز بنایا گیا جیسا سمندر میں چلتا ہے۔ بادشاہ نے اس میں بیٹھ کر دریا کی خوب سیر کی۔\n\nکشمیریوں میں خصوصاً ہندو کشمیریوں میں ایک روایت ہے کہ 13 بھادوں کی رات کو دریائے بہت (جہلم) جو شہر کے اندر بہتا ہے پیدا ہوا تھا اس لیے سب لوگ اس رات کو خوشی مناتے ہیں۔ اکبر تو عجیب طبیعت لے کے آیا تھا۔ وہ سمجھتا تھا سب کا مذہب میرا مذہب ہے۔ اس نے حکم دیا بادشاہ بھی اس خوشی میں شریک ہوگا۔ چنانچہ دریا کے کناروں پر، پہاڑوں پر، کشتیوں پر، مکانات پر چراغوں کی روشنی نے شہر کو نورستان بنا دیا۔ بادشاہ کے حکم سے ایک دلکشا مکان لکڑی کا جس کو کشمیر میں لڑی کہتے ہیں، بنا دیا گیا۔ بادشاہ نے اس خوشی میں وہاں جشن کیا اور لوگوں کو باریابی کا موقع دیا اور انعام و اکرام عطا کیے۔\n\nخزاں کے دن تھے لیکن بادشاہ نے اس موسم میں بھی سری نگر کے باغوں میں سیب و شفتالو اور انگور و چنار کی فصل دیکھی۔ بادشاہ نے خزاں کی رنگ آمیزیوں پر بہار کا عالم دیکھ کر فرمایا:\n\nذوقِ فنا نیافتہ ورنہ در نظر\n\nرنگیں تر از بہار بود جلوۂ خزاں\n\nبادشاہ چاہتا تھا کہ کل ایام گرما و سرما اسی عشرت گاہ (کشمیر) میں بسر ہوں، لیکن بادشاہ کے ہمراہی اور اس کی فوجیں اور اہل حرم یہاں کے زمستان کا نام ہی سن کر لرز جاتے تھے۔ اس لیے بادشاہ گلزار زعفران (پانپور) میں سات روز قیام کرنے کے بعد پیر پنجال کی راہ سے لاہور واپس آ گیا۔ یہ سفر ایک ماہ دس روز میں طے کیا گیا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1/%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1"} {"title": "شاہی سیر کشمیر/جہانگیر کشمیر میں", "poet_page": "مصنف:محمد الدین فوق", "kind": "prose", "section": "شاہی سیر کشمیر", "year": null, "text_ur": "توزک جہانگیری کو پڑھیے۔ جہانگیر میں مظاہر فطرت و مناظر قدرت کی ایک عجیب استعداد خداداد نظر آئے گی۔ اس کو باغوں اور پھولوں کا خاص شوق تھا اور کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ جب کسی نے پھولوں کا کوئی گلدستہ پیش کیا ہے تو اس نے اپنی چلتی سواری ٹھہرا لی ہے اور اس گلدستہ کو خود ہاتھ میں لیا ہے۔ اپنی عظیم الشان سلطنت کے بڑے بڑے تالابوں، جھیلوں اور آبشاروں کی حسن و خوبی کو خوب بیان کرتا ہے اور ہمالیہ پہاڑ کے مناظر و مظاہر کی نہایت دلکش تصویر کھینچتا ہے۔ وہ کشمیر بھی گیا اور کئی مرتبہ گیا۔ راستوں کی کیفیت، کشمیر کے سبزہ زاروں، مرغزاروں اور ڈل کے نظاروں سے وہ نہایت محظوظ ہوا۔ یہ تمام حالات اس نے اپنی توزک میں اپنے قلم سے تفصیل کے ساتھ لکھے ہیں۔ یہاں صرف ناظرین کی تفنن طبع کے لیے ان کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے۔ بعض حالات میں اب بہت سا تفاوت ہے جیسے پرگنوں اور کشتیوں کی تعداد، محاصل کشمیر کا ذکر جن کو واقف کار ناظرین بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔\n\nرستے کی کیفیتیں\n\nحسن ابدال سے کشمیر تک جس راہ سے بادشاہ آیا، پچھتر (75)کوس کی مسافت تھی۔ جس کو بادشاہ نے 19 کوچ اور 9 مقام کر کے 25 روز میں طے کیا۔ حسن ابدال کا حال بادشاہ نے تفصیل سے لکھا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ اس منزل سے آگے پہاڑ کے نشیب و فراز کثرت سے ہیں۔ سارے لشکر کا ایک ہی دفعہ گزرنا محال تھا۔ اس لیے یہ طے پایا کہ حضرت مریم مکانی بیگمات کے ساتھ توقف کریں اور سہولت کے ساتھ تشریف لائیں۔ بیوتات کے میر سامان مدار الملک اعتماد الدولہ وغیرہ کو حکم دیا کہ تھوڑے تھوڑے آدمی گزریں۔ رستم مرزا صفوی اور خان اعظم اور ان کی جماعت کو ہدایت ہوئی کہ پونچھ کی راہ سے آؤ۔ بادشاہ خود خدمتگاروں کے ساتھ موضع سلطان پور میں آیا۔ اس ملک کے آدمیوں کی زبانی سنا کہ غیر ایام برسات میں جب کہ بجلی اور بارش کا مطلق اثر نہیں ہوتا، اس پہاڑ سے صدائے ابر کی مانند آواز آتی رہتی ہے جس سے اس کا نام کوہ گرج مشہور ہو گیا ہے۔ 20 سال ہوئے جب سے یہاں قلعہ کوہ پر ایک قلعہ بنایا گیا ہے، آواز کا آنا موقوف ہے۔ اس قلعہ کو گندھ گڑھ کہتے ہیں جو بظاہر گنج گڑھ معلوم ہوتا ہے، کیونکہ یہ پہاڑ درختوں اور سبزہ کے نہ ہونے سے خشک اور برہنہ ہے۔ سلہر اور نوشہرہ کے حالات میں بادشاہ لکھتا ہے :\n\n“جہاں تک نظر کام کرتی تھی، یہ قطعہ سبزہ زاروں سے شگفتہ اور پھولوں سے گلریز نظر آتا تھا۔ سلہر میں ایک پھول دیکھا کہ اندام میں گل خطمی کے برابر اور رنگ میں سرخ آتشیں تھا۔ اسی رنگ کے اور بھی بہت پھول تھےلیکن وہ سب چھوٹے تھے۔ دور سے ان پھولوں کا نظارہ نہایت دلفریب معلوم ہوتا تھا۔ دامن کوہ میں بھی نہایت عجیب منظر تھا۔ یہاں سے گزر کر پگھلی کے علاقہ میں داخل ہوا جہاں معمولی برفباری سے بھی روشناس ہونا پڑا۔ چمبہ اس راہ میں کثرت سے تھا۔ شفتالو اور زرد آلو کے درختوں میں شگوفے لگے ہوئے تھے۔ صنوبر کے درخت مثل سرو کے دیدہ فریب تھے۔ پگھلی کا رئیس سلطان جبین مرزا زمیں بوس ہوا۔ اس نے اپنےمکان پر مجھے مدعو کیا۔ چونکہ والد ماجد (اکبر) بھی دوران سفر کشمیر میں اس کے گھر گئے تھے، اس لیے میں نے اس کی درخواست منظور کر لی اور اس کے ہمسروں میں اس کا درجہ بڑھایا۔ یہاں میوے بغیر پرورش کے خود رو ہوتے ہیں۔ اس علاقہ میں کشمیر کی روش پر خانہ و منازل چوب سے بناتے ہیں۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ چند منزل تک ایسی بستی نہیں ہے کہ وہاں غلہ اس قدر مل جائے کہ لشکر کفایت کرے، اس لیے ہاتھیوں اور ہمراہیوں کی تخفیف ہوئی جو بعد میں ہمارے ساتھ آ شامل ہوئے۔ پانچ کوس کے فاصلہ پر نین سُکھ کی ندی آئی جو بدخشاں اور تبت کے درمیانی پہاڑوں سے نکلتی ہے۔ ندی کی دونوں شاخوں پر دو پُل، ایک 17 گز، دوسرا 14 گز طولانی اور عرض میں صرف پانچ گز بنائے گئے۔ ہاتھیوں کو پایاب اُتارا اور سوار اور پیادے پُل پر سے اُترے۔ یہاں پُل لکڑی کے بنائے جاتے ہیں اور سالہا سال برقرار رہتے ہیں۔ تین کوس کے قریب چل کر دریائے کشن گنگا کے کنارے پر منزل ہوئی۔ راہ میں ایک پہاڑ جس کا ارتفاع ڈیڑھ کوس ہے، واقع ہے۔ پُل سےگزر کر ایک آبشار آتا ہے جو نہایت لطیف و صاف ہے۔ میں نے نہایت شوق سے سایۂ درخت میں اس کا پانی پیا۔ اُس پُل کے محاذ میں دوسرا پُل میں نے بھی تعمیر کرایا۔ پانی عمیق اور تند تھا۔ ہاتھیوں کو ننگا اس دریا سے عبور کرایا گیا۔ دریا کے مشرق میں عین پہاڑ پر میرے باپ کے حکم سے ایک پختہ سرائے پتھر اور چونے کی بنی ہوئی ہے۔”\n\nبادشاہ مقام بھول باس سے کچھ آگے نکل گیا تھا کہ برف و باراں نے اُسے گھیر لیا۔ جہانگیر مع اہل حرم اس بلائے آسمانی سے بچنے کے لیے معتمد خاں مصنف اقبال نا مہ جہانگیری کے خیمہ میں جو بالکل خالی تھا، چلا گیا اور وہاں شبانہ روز رہا۔ جب معتمد خاں کو خبر ہوئی تو وہ پیادہ پا ڈھائی کوس کی مسافت کر کے دوڑا آیا۔ جو کچھ نقد و جنس اس کی بساط میں تھی، بادشاہ کو پیش کی۔ بادشاہ نے نذر معاف کر دی اور فرمایا، متاع دنیا ہماری چشم ہمت میں ہیچ ہے۔ ہم جوہر اخلاص کو گراں بہا سے خریدتے ہیں۔\n\nراجا کشتواڑ کی حاضری\n\nغرض 15؍ربیع الاول ١٠٢٩؁ھ مطابق 10 مارچ 1620ء؁ کو سرحد کشمیر میں بادشاہ جب شہاب الدین پور میں آیا تو دلاور خاں حاکم کشمیر بادشاہ کی پیشوائی کے لیے اس منزل پر حاضر ہوا۔ راجا کشتواڑ کی سرکوبی کےلیے جو اپنے آپ کو سرکش و خود مختار سمجھتا تھا، دلاور خاں کو دس ہزار جنگی سواروں اور پیادہ کی جمعیت دے کر کشتواڑ روانہ کیا۔ راجا دو ایک معمولی لڑائیوں کے بعد تاب مقاومت نہ لایا، گرفتار ہو کر جہانگیر کے حضور میں لایا گیا۔ جہانگیر لکھتا ہے: راجا کی شکل وجاہت سے خالی نہیں تھی۔ اس کی پوشش اہل ہند کی روش پر تھی اور وہ ہندی اور کشمیری خوب بولتا تھا۔ وہ اپنے فرزندوں کو بادشاہ کی ملازمت میں دے کر مرحمت شاہی سے سرفراز ہوا۔\n\nکشمیر کے قدیم فرمانروا\n\nجہانگیر لکھتا ہے کشمیر اقلیم چہارم میں ہے۔ عرض اس کا خط استوا سے 35 درجہ اور طول اس کا جزیرہ سفید سے 105 درجہ ہے۔ اس ملک میں قدیم سے ہندو راجا حکومت کرتے تھے۔ ان کی حکومت کی مدت چار ہزار سال بیان کی جاتی ہے۔ ان کا حال تاریخ راج ترنگنی میں جو والد ماجد کے حکم سے سنسکرت سے فارسی میں ترجمہ ہو چکی ہے، مفصل مرقوم ہے۔ ٧١٢؁ھ میں اس ملک نے نور اسلام سے روشنی پائی۔ 32 مسلمان بادشاہوں نے 282 برس اس ملک پر سلطنت کی ہے۔ ٩٩٤؁ھ میں والد ماجد نے اس کو فتح کیا اور اس تاریخ سے اب تک کہ 35 سال ہوئے ہمارے قبضہ میں ہے۔\n\nشہر سری نگر\n\nشہر کا نام سری نگر ہے۔ اس کی آبادی کے اندر سے دریائے بہت (جہلم) گزرتا ہے۔ اس کے سرچشمہ کا نام ویرناگ ہے، وہ شہر سے چودہ کوس پر جانب جنوب واقع ہے۔ میں نے اس چشمہ کے اوپر ایک عمارت اور باغ ترتیب دیا ہے۔ شہر میں چار پل سنگ و چوب کے نہایت مستحکم بنے ہوئے ہیں۔ اس ملک کی اصطلاح میں پُل کو کدل کہتے ہیں۔ شہر میں ٧٩٥؁ھ میں ایک مسجد نہایت عالی سلطان سکندر نے بنائی تھی۔ ایک مدت کے بعد وہ جل گئی۔ ٩٠٩؁ھ میں ابراہیم ماگرے وزیر سلطان حسین کے زمانہ میں دوبارہ تعمیر ہوئی۔ حکام کشمیر کی سب سے عمدہ یادگار یہی مسجد ہے۔ آدمیوں کی آمد و رفت اور غلہ وغیرہ کا کاروبار اکثر کشتیوں ہی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ شہر اور پرگنوں میں 5070 کشتیاں اور 7400 ملاح ہیں۔\n\nانتظام اور آمدنی وغیرہ\n\nکشمیر میں 38 پرگنے ہیں جن کے دو حصے کیے گئے ہیں۔ بالائے آب کو مراج اور پایان آب کو کامراج کہتے ہیں۔ ہر خر وارتین من 8 سیر وزن حال ہے۔ کشمیری دو سیر کو ایک من اور چار من یعنی 8 سیر کو ایک ترکھ کہتے ہیں۔ ولایت کشمیر کی جمع 30 لاکھ 63 ہزار پچاس خروار اور گیارہ ترکھ ہے جو بحساب نقدی سات کروڑ 46 لاکھ 70 ہزار دام ہوتی ہے۔\n\nکشمیر کی بہار\n\nجہانگیر اکثر کہا کرتا تھا کہ کشمیر میری قلمرو میں بہشت روئے زمیں ہے اور اسی لیے ہر سال کشمیر کی سیر کو جاتا تھا۔ اس نے کشمیر کی بہت تعریف کی ہے۔ وہ لکھتا ہے: کشمیر ایک باغ ہے سدا بہار، قلعہ ہے آہنی حصار۔ بادشاہوں کے لیے ایک گلشن عشرت افزا ہے، درویشوں کے لیے ایک خلو ت کدۂ دلکشا ہے۔ چمن خوش، آبشار دلکش۔ آب ہائے رواں شرح و بیان سے زیادہ اور چشمہ سار حساب و شمار سے باہر ہیں۔ بہار میں کوہ و دشت اقسام شگوفہ سے مالا مال۔ در و دیوار اور صحن و بام گھروں کے مشعل لالہ سے بزم افروز ہیں۔ کشمیر میں لکڑی کے مکانات یک منزلہ سے 4 منزلہ تک بناتے ہیں اور چھتوں کو خاک پوش کر کے پیاز لالہ کو سال بہ سال لگاتے ہیں۔ موسم بہار میں وہ کھل کر نہایت خوشنما معلوم ہوتا ہے۔ “استاد حضور” نے جو تصویریں کھینچی ہیں وہ سو سے زیادہ ہیں۔\n\nباشندوں کے حالات اور دیگر کوائف\n\nچنا اس ملک میں اول سال خوب پیدا ہوتا ہے۔ دوسرے سال کم اور چھوٹا اور تیسرے سال مونگ کی دال کے برابر ہوتا ہے ۔ زمانہ سابق میں یہاں اچھا اور قد آور گھوڑا اور گاؤ اور گاؤ میش بالکل کمیاب تھے۔ تازہ طعام کھانے کا رواج بہت کم ہے۔ عموماً ایک وقت کا پکا ہوا دو وقت کھاتے ہیں۔ طعام میں نمک ڈالنے کا رواج اس قدر کم ہے کہ مردوں کے چہرہ پر نمک کا اثر نہیں ہے۔ عورت و مرد کا ملبوسات پشمینہ متعارف ٹپّو ہے۔ اس ملک کے باشندوں کا قول ہے کہ اگر ہم یہ نہ پہنیں تو ہوا کا اثر جسم پر ایسا ہوتا ہے کہ کھانا ہضم نہیں ہو سکتا۔ اس ٹپو کا ایک کرتہ عورتیں تین چار سال تک پہنتی ہیں اور کبھی اس کو دھلواتی نہیں۔ بحالیکہ پانی کی یہ بہتات ہے کہ ہر محلہ میں نہر جاری ہے۔ اس گل زمین کے باشندے جدت فہم و ذکا اور جوہر رشادت سے آراستہ ہیں۔ کشمیری گول پگڑی پہنتے ہیں۔ ازار پہننا عیب جانتے ہیں۔ کرتہ دراز و فراخ سر سے پا تک پہنتے ہیں اور کمر باندھتے ہیں۔ اس ملک کے آدمی سوداگر اور اہل حرفت ہیں۔ سُنی، شیعہ اور ہنود کے علاوہ ایک فرقہ نور بخشی مذہب کا بھی ہے جو اہل سنت اہل تشیع دونوں کے برخلاف ہے۔ جہانگیر لکھتا ہے کہ عبادات و معاملات میں اس فرقہ نے اس قبیل کے تصرفات کیے ہیں کہ تفرقہ عظیم ہو گیا ہے۔ میں نے ان کی کتاب موطۂ نور بخشیہ علمائے ہندوستان کے پاس فتوے کے لیے بھیجی جنھوں نے بالاتفاق لکھا کہ اس قسم کی کتاب کا مٹا دینا اور معدوم کر دینا واجبات و فرائض سے ہے۔ برہمنوں اور مسلمانوں کا لباس یکساں ہے لیکن برہمنوں کی مذہبی کتابیں سنسکرت زبان میں ہیں، وہ ان کو پڑھتے ہیں اور بت پرستی کی شرائط کو ادا کرتے ہیں۔ بت خانوں کی عمارتیں سنگین ہیں اور بنیاد سے لے کر چھت تک ان میں تیس تیس چالیس چالیس من کے پتھر لگے ہوئے ہیں۔ شہر کے متصل کوہ ماراں یا ہری پربت ہے جہاں والد ماجد نے ایک قلعہ بنوایا ہے۔ میں نے یہاں ایک باغ لگایا جس کا نام نور افزا رکھا ہے۔\n\nکشمیر میں نئی باتوں کا رواج\n\nاقبال نامہ میں لکھا ہے کہ اکبر کے عہد میں کشمیر کا حاکم مرزا حیدر تھا۔ اس کے زمانہ میں کشمیر میں اسپ کلاں کی سواری اور بنائے عمارات دل نشیں اور اکثر وضع معقول کا رواج ہوا۔ اشجار میوہ دار کے پیوند لگانے کا رواج اکبر کے زمانے سے پہلے تمام ہندوستان میں بھی نہ تھا۔ اس کو محمد قلی افشار داروغہ باغات کشمیر نے رواج دیا۔ اول کابل سے شاہ آلو کو منگوا کرپیوند دیا گیا تو یہاں کی آب و ہوا اس کو موافق آئی۔ جب اس میں کامیابی ہوئی تو اور بھی کئی درختوں کو آزمایا گیا۔ جن سے خوب شادابی بڑھی۔\n\nدریائے جہلم کی سیر\n\nجہانگیر لکھتا ہے، جمعہ کو میں ویری ناگ کے سرچشمہ دریائے بہت (جہلم) کی سیر کو روانہ ہوا۔ پانچ کوس کشتی میں گیا۔ موضع پان پور کے باہر اترا لیکن کشتواڑ سے جب یہ خبر آئی کہ نصر اللہ عرب کو (جس کو دلاور خاں حاکم کشتواڑ کشتواڑ کی فتح اور راجا کی گرفتاری کے بعد کشتواڑ کا محافظ بنا آیا تھا) کشتواڑیوں نےاس کے ظلم و تشدد کی وجہ سے ایک لڑائی میں مار ڈالا ہے تو تمام سیر منغض ہو گئی۔\n\nکشت زعفران\n\nجہانگیر جب سیر کشمیر سے فارغ ہو کر ہندوستان کو واپس چلا تو زعفران کے پھول کھل رہے تھے۔ بادشاہ شہر سے کوچ کر کے موضع پان پور میں آیا جو زعفران کی پیدائش کے لیے تمام کشمیر میں مشہور ہے۔ جہانگیر لکھتا ہے: جہاں تک نظر کام کرتی تھی، پھول ہی پھول دکھائی دیتے تھے۔ اس کی نسیم دماغوں کو معطر کرتی تھی۔ زعفران کا مُنہ زمین سے پیوستہ ہوتا ہے۔ اس کے پھول کی پانچ پتیاں بنفشہ کے رنگ کی ہوتی ہیں۔ یہ معمولی سالوں میں 400 من یعنی ٣٢٠ خراسانی من پیدا ہوتا ہے۔ نصف حصہ خالصہ یعنی بادشاہ کا ہوتا ہے اور نصف حصہ رعایا کا۔ ایک سیر دس روپیہ کو فروخت ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ نرخ کم و بیش بھی ہو جاتا ہے۔ گل زعفران کو تول کر کاریگر اپنے گھر لے جاتے ہیں اور زعفران اس میں سے نکالتے ہیں۔ وہ اس کو بادشاہی ملازموں کو دیتے ہیں اور اپنی اجرت میں اُن سے زعفران کے وزن کے برابر نمک لیتے ہیں۔ کشمیر میں نمک نہیں ہوتا۔ ہندوستان میں سے آتا ہے۔\nکشمیر میں عمارات جہانگیری\n\nبادشاہ چونکہ سفر کشمیر کے تجربہ سے برف و باراں کی تکالیف اٹھا چکا تھا، اس لیے اس نے حکم دیا کہ کشمیر سے انتہائے کوہستان تک ہر منزل میں بادشاہ اور اس کے اہل حرم کے لیے ایک عمارت عالیشان تعمیر کی جائے کہ سرما اور برف میں خیموں میں گزارہ نہیں ہو سکتا۔ کشمیر کے معماران چابکدست اور کارداران زیرک نے بہت تھوڑے دنوں میں یہ عمارتیں تعمیر کر دیں۔ بادشاہ نے ایک باغ تعمیر کرایا۔ اس میں ایک تصویرخانہ بنوایا جس میں سب سے اوپر اکبر اور ہمایوں کی تصویر تھی، پھر اپنی اور اپنے ہمعصر شاہ عباس والیٔ ایران کی۔ پھر درجہ بدرجہ شہزادوں اور امرائے خاص کی تصاویر رکھی گئیں۔\n\nتھنہ و راجوری کے راستے واپسی\n\nجہانگیر میں یہ بہت بڑی خوبی تھی کہ وہ جن مشہور اضلاع و مقامات میں سے گزرتا تھا، ان کے تاریخی حالات کی خوب تحقیقات کرتا اور وہاں کے باشندوں کی حالتیں، رسم و رواج، طرز معاشرت، آب و ہوا، غرض ہر چیز کا بیان لکھتا۔ چنانچہ واپسی کے وقت جب وہ تھنہ میں پہنچا، جو پیر پنجال کے نشیب میں واقع ہے اور وہاں سے راجوری کو روانہ ہوا، تو اس منزل کی کیفیت میں لکھتا ہے کہ یہاں کے آدمی فارسی اور ہندی دونوں زبانیں بولتے ہیں۔ اصل زبان ان کی ہندی ہے۔ قرب و جوار کے سبب سے کشمیری بھی عام طور پر بولی جاتی ہے۔ یہاں کی عورتیں پشمینہ کا لباس نہیں پہنتیں۔ ہندوستان کی عورتوں کی طرح ناک میں نتھ کا استعمال کرتی ہیں۔ راجور کے باشندے پہلے زمانے میں ہندو تھے۔ یہاں کے رئیس کو راجا کہتے ہیں۔ ہرچند یہاں مسلمان کثرت سے ہیں لیکن ہندو پنے کی رسمیں اُن میں جاری تھیں۔ یہاں تک ہوتا تھا کہ ہندو عورتوں کی طرح مسلمان عورتیں بھی اپنے خاوند کے ساتھ زندہ دفن ہو جاتی تھیں۔ اکثر بے بضاعت اور جاہل آدمی اپنی لڑکیوں کو ہلاک کر ڈالتے تھے۔ ہندوؤں سے رشتہ داری بھی جاری تھی۔ لڑکی دیتے بھی تھے اور لیتے بھی تھے۔ جہانگیر لکھتا ہے کہ یہ حالات جب میرے گوش گزار ہوئے تو میں نے سختی سے ایک فرمان جاری کیا کہ پھر یہ باتیں نہ ہونے پائیں اور جو کوئی ان کاموں کا مرتکب ہو اس کو خوب سزا دی جائے۔ کسی مسلمان کا کسی ہندو کو لڑکی دے دینا سخت جرم قرار دیا گیا۔ لڑکی لینا چنداں جرم نہیں تھا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1/%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شاہی سیر کشمیر/حواشی", "poet_page": "مصنف:محمد الدین فوق", "kind": "prose", "section": "شاہی سیر کشمیر", "year": null, "text_ur": "[1] ۔ اس سفر میں زین خاں کوکہ، شاہزادہ سلیم، شہزادہ سلطان راؤ، مرزا خان خاناں، حکیم ابو الفتح، جگن ناتھ، رام داس، ابو الفضل فیضی، سلطان خسرو، سلیم یعنی جہانگیر کا بیٹا، مرزا کیقباد خلف مرزا حکیم وغیرہ نامور امرائے دربار بادشاہ کے جلوس میں تھے۔\n\n١۔ منزل کا لفظ یہاں ایک دن کے سفر کے معنی میں استعمال نہیں کیا گیا بلکہ ایک ایک مقام کے لیے خواہ وہ کتنے ہی وقت میں طے ہو۔\n\n١۔ یہ حویلی 24 لاکھ کی لاگت سے بنی تھی۔ آصف خاں کے مرنے کے بعد دارا شکوہ کو ملی۔ سرائے میاں سلطان چاہ میاں سلطان، لنڈا بازار کا بہت سا حصہ اسی حویلی کے کھنڈرات پر آباد ہے۔\n\n١۔ یہ مسجد افسوس ہے سالہا سال سے موجودہ حکومت کشمیر نے ضبط کر رکھی ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1/%D8%AD%D9%88%D8%A7%D8%B4%DB%8C"} {"title": "شاہی سیر کشمیر/شاہجہاں کی سیاحت کشمیر", "poet_page": "مصنف:محمد الدین فوق", "kind": "prose", "section": "شاہی سیر کشمیر", "year": null, "text_ur": "شاہجہاں عالم شہزادگی میں تو باپ کے ساتھ کئی مرتبہ کشمیر کی سیر کر چکا تھا لیکن جب سے بادشاہ ہوا تھا نہ لاہور آیا تھا اور نہ کشمیر ہی گیا تھا۔ جلوس کے ساتویں سال یعنی ١٠٤٣؁ھ مطابق 1634ء؁ میں تیسری شعبان کو وہ اکبر آباد (آگرہ) سے لاہور کشمیر کی سیر کے لیے روانہ ہوا۔\n\nبادشاہ عدل پرور اور رعایا گستر تھا۔ اُس نے حکم دیا کہ لشکر کے گزرنے سے رعایا پامال نہ ہو۔ اگر لوٹنے والے کے ہاتھوں میں زراعت کا ایک پودا بھی دیکھا جائے تو اس کے ہاتھ کاٹ ڈالے جائیں اور صاحب کاشت کو اس کی قیمت دُگنی دلائی جائے۔ اور اگر کہیں بہ امر مجبوری افواج کی کثرت اور انبوہ عظیم اور راہوں کی تنگی خصوصاً کوہستانی رستوں کی مشکلات کی وجہ سے زراعت پامال بھی ہو تو خدا ترس امین اس کی برابر درد بنائیں اور رعیت کا حصہ رعیت کو اور جاگیردار کا حصہ جاگیردار کو بشرطیکہ دو ہزاری منصب سے کم درجہ رکھتا ہو، سرکار سے نقد دلایا جائے۔\n\nدوستو! یہ خالی باتیں ہی نہ تھیں۔ طفل تسلیوں کے لیے کاغذی ناؤ ہی نہیں چلتی تھی۔ حصول انصاف کے لیے روپیہ پانی کی طرح بہا دینے کے باوجود مہینوں اور برسوں تک انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا۔ ان باتوں پر عمل ہوتا تھا اور سختی سے ہوتا تھا اور فوراً ہوتا تھا۔\n\nبادشاہ 6 شوال کو لاہور پہنچا۔ آصف خاں (نور جہاں کے بھائی) نے اپنی عالیشان حویلی(١) میں بادشاہ کی دعوت کی اور چھ لاکھ روپیہ پیشکش میں دیا۔ ٢٤ ذیقعدہ کو بادشاہ کشمیر روانہ ہوا۔ لاہور سے بھمبر تک اپنے رعایا پرور احکام کی تعمیل کراتا آیا۔ یہاں اونٹوں کو چھوڑ دیا گیا اور باربرداری کے لیے گھوڑے اور خچر مہیا کیے گئے۔ بھمبر سے کوہستان کشمیر اُس زمانہ میں بارہ منزل اور 47 کوس تھا۔ جہانگیر نے گیارہ منزلوں میں عمارتیں تعمیر کرائی تھیں۔ ہر ایک عمارت میں دولت خانہ خاص بھی بنایا۔ بادشاہ رستے کے مناظر دیکھتا، لوگوں کی فریادیں اور شکایتیں سنتا، رؤسا امرا کی نذریں قبول کرتا 18 ذی الحجہ یعنی 24 دن کے بعد کشمیر کے دارالخلافہ سری نگر میں پہنچا۔ اس زمانہ میں ظفر خاں احسن گورنر کشمیر تھا۔ شاہجہاں ہر صبح و شام دلکشا باغوں میں بزم نشاط آراستہ کرتا اور لالہ دریا، حسین اشجار سراپا بہار و اثمار رنگیں، انہار و چشمہائے زلال و شیریں سے دل و دماغ کو فرحت بخشتا۔ بادشاہ نے محرم یہیں گزارا۔ 12 ربیع الاول کو محفل میلاد اپنے خاص اہتمام سے منعقد کی اور خاص و عام کو اس میں بلایا۔ اس موقع پر کشمیر کے علما و فضلا، صلحا و حفاظ کو خلعت گراں بہا مرحمت فرمائے۔ مددِ معاش میں کسی کو جاگیر دی، کسی کا نقد روزینہ مقرر کر دیا۔ حکم دیا کہ ہرسال بادشاہ کی طرف سے محفل میلاد بارہ ہزار روپے کے خرچ سے ہوا کرے۔\n\nکشمیر میں بادشاہ قریباً تین مہینے تک رہا۔ 23 ربیع الاول کو کشتی کے رستے پانپور اور بج بہارہ سے ہوتا ہوا اننت ناگ آیا جو اسلام خاں کی جاگیر میں تھا۔ بادشاہ نے اس کا نام اسلام خاں کے نام پر اسلام آباد رکھا اور یہاں دلنشیں عمارتوں کی تعمیر کا حکم دیا۔\n\nبادشاہ یہاں کشتی کی بجائے تخت رواں پر کہ خود ہی اس کا موجد بھی تھا، سوار ہوا۔ 7ربیع الثانی کو رستے ہی میں جشن قمری کیا۔ قرب و جوار کے محتاجوں، غریبوں اور مستحقین کو خیرات و عطیات سے مالا مال کر دیا۔ 27 ربیع الثانی کو بھمبر میں منزل ہوئی جو اس رستے سے سفرِ کشمیر کی آخری کوہستانی منزل ہے۔\n\nاسی مقام پر بادشاہ کی پینتالیسویں سالگرہ کا جشن منعقد ہوا۔ شاہی کلاونت جگن ناتھ بادشاہ کے ساتھ رہتا تھا۔ اس نے ہندی دوہڑے سنا سنا کر بادشاہ کو ایسا محظوظ کیا کہ بادشاہ نے حکم دیا اس کو روپیہ سے تولا جائے۔ اس کو تولا گیا تو اس کا وزن ساڑھے چار ہزار روپئے کے برابر نکلا جو بادشاہ کی طرف سے بطور انعام دے دیے گئے۔\n\nبادشاہ گو اسی رستے کشمیر گیا تھا، لیکن روانگی کے وقت معمولی قیام ہواتھا۔ واپسی پر یہاں اپنی سالگرہ کے جشن کی وجہ سے اُسے کئی دن ٹھہرنا پڑا اور اس لیے کئی باتیں اس کے نوٹس میں لائی گئیں۔\n\nجہانگیر کے سفر کشمیر میں ناظرین نے پڑھا ہو گا کہ علاقہ راجور میں مسلمان ہندوؤں سے لڑکیاں لیتے بھی تھے اور دیتے بھی تھے۔ جہانگیر کو جب قیام راجور کے ایام میں اس کا علم ہوا تو اس نے اس رسم کو مٹانے کے لیے نہایت سخت احکام جاری کیے۔\n\nشاہجہاں بھمبر میں تھا کہ اسی قسم کی شکایتیں اس کے بھی گوش گزار ہوئیں۔ اس کو بتایا گیا کہ بھمبر کے مسلمان کلمہ تو پڑھ لیتے ہیں لیکن اس کے معنی نہیں جانتے۔ اسلام کی تعمیل سے قطعاً بے خبر ہیں۔ ہندوؤں سے رشتہ داریاں کرتے، ان سے بیٹیاں لیتے اور ان کو بیٹیاں دیتے ہیں۔ ہندو کی لڑکی جو مسلمان کی بیوی ہے، مرنے کے بعد دفن کی جاتی ہے اور مسلمان کی لڑکی جو کسی ہندو کی عورت ہے، مرنے کے بعد جلائی جاتی ہے۔ بادشاہ نے حکم دیا میرے باپ کے احکام کی پھر تجدید کی جائے اور جس ہندو کے گھرمیں کوئی مسلمان عورت ہو، اگر وہ ہندو مسلمان ہو جائے تو عورت کا نکاح از سر نو اس سے کیا جائے اور اگر وہ ہندو مسلمان نہ ہو تو مسلمان عورت کو اس سے علاحدہ کر لیا جائے۔ لیکن قبولیت مذہب کے معاملہ میں سختی نہ کی جائے۔ بھمبر کا راجا جو ہندو تھا اور جس کے محل میں کئی مسلمان عورتیں تھیں مسلمان ہو گیا۔ بادشاہ نے راجۂ دولتمند اس کو خطاب دیا۔ راجہ دولت مند کی تقلید جگہ جگہ ہونے لگی۔ یہاں تک کہ گجرات و بھمبر کے علاقہ میں چار سو ہندو جن کے گھروں میں مسلمان بیویاں تھیں ، مسلمان ہو گئے۔ بادشاہ نے مسلموں کو احکام شریعت اور آداب عبادت سکھانے کےلیے قاضی اور معلم مقرر کیے۔\n\nبادشاہ جب بھمبر سے حوالیٔ گجرات میں آیا تو قصبہ کے مشائخ و سادات نے یہ استغاثہ پیش کیا کہ بھمبر کی طرح یہاں بھی کئی ہندو مسلمان عورتوں کو اپنے تصرف میں رکھتے ہیں اور کئی مسجدوں پر انہوں نے قبضہ جما رکھا ہے، بلکہ ان کو مکانات کی شکلوں میں تبدیل کر لیا ہے۔ بادشاہ نے شیخ محمود گجراتی کو اس مقدمہ کی چھان بین اور تحقیقات کے لیے مقرر کیا۔ اس نے تحقیقات کرنے کے بعد بادشاہ کے حکم سے کئی مسلمان عورتوں کو ہندوؤں کے قبضہ سے نکالا اور متدین اور پرہیز گار مسلمانوں کے ساتھ اُن کے نکاح کیے۔ کئی مسجدیں ہندوؤں سے واپس لیں جن کی شکلیں تبدیل کر دی گئی تھیں۔ ان کی تعمیر و مرمت کے لیے روپیہ بھی انہی سے لیا۔ جن لوگوں نے قرآن مجید کی نہ صرف بے ادبی کی تھی، بلکہ مسلمانوں کی دل آزاری کےلیے مسلمانوں کو دکھا دکھا کر جلایا کرتے تھے، بعد از ثبوت ان کو قتل گاہ میں لے جا کر پھانسی دی گئی۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ مہمات شرعی کے متکفل سارے پنجاب میں اس بات کی تحقیق کریں کہ کہاں کہاں مسلمان عورتیں ہندوؤں کے قبضہ میں ہیں اور جہاں کہیں ایسی صورت ہو فوراً احکام شاہی کی تعمیل کرائی جائے۔\n\nبادشاہ 25 شوال ١٠٤٩؁ھ کو پونچھ کے راستے سے پھر کشمیر کو روانہ ہوا۔ اس زمانہ میں بھی ظفر خاں احسن ہی گورنر تھا۔ اس سفر کی تین باتیں قابل ذکر ہیں، ایک تو یہ کہ سلطان مراد (ٹرکی کا سفیر) ارسلان آقا بادشاہ کی خدمت میں آیا۔ چونکہ بادشاہ ان دنوں کشمیر میں تھا۔ اس لیے سفیر روم کو بھی کشمیر ہی میں بُلوا لیا گیا۔ جہاں بادشاہ نے اس کو کشمیر کی خوب سیر کرائی۔\n\nڈل اور ولر کے کناروں پر نواب علی مردان خاں نے اس کثرت اور اس خوبی سے چراغوں کی روشنی کرائی کہ بادشاہ بہت خوش ہوا۔ شاہجہاں نے سُنا کہ ان ایام میں سنگ سفید پر جو سری نگر سے دو تین منزل کے فاصلہ پر ہے، بڑی بہار ہے۔ رستہ ہر چند بڑا دشوار گزار اور ناہموار بتایا گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ وہاں موقع بے موقع عموماً بارش ہوتی رہتی ہے۔ لیکن بادشاہ نے فرمایا وہ جگہ ضرور دیکھنی چاہیے۔ چنانچہ ضروری سامان کے ساتھ تیاریاں شروع ہو گئیں۔ ابھی منزل مقصود پر پہونچے بھی نہیں تھے کہ مینہ اس زور سے برسا اور ہوا میں ایسی خُنکی پیدا ہو گئی کہ سوار اور پیدل اور انسان اور حیوان سب لرزہ براندام ہو گئے۔ جنس پختہ یا خام جیسی ہمراہ تھی ویسی ہی رہی۔ نہ اس کو کھانے پکانے کی فرصت ملی اور نہ اس کی مناسب احتیاط ہو سکی۔ تین چار روز تک بارش اور ہوا کا برابر ساتھ رہا۔ آسمانوں اور پہاڑوں سے پانی کے نالے بہتے تھے اور پتھروں سے پانی اس زور سے ٹکرا رہا تھا کہ دور دور تک آواز جاتی تھی۔ بلکہ کیچڑ اور پانی کی طغیانی سے راہیں بالکل ناپید ہو گئیں۔ بادشاہ ہمراہیوں سمیت واپس آیا۔ رستے میں پانی کی شدت اور دلدل کی کثرت کی وجہ سے آدمی اور گھوڑے بہت ضائع ہوئے۔ چار کوس کی منزل چھ پہر میں طے کی گئی اور مینہ نے پھر بھی فرصت نہ دی۔\n\nاس سال طغیانی و سیلاب سے ڈل کے چار ہزار گھر اور دریا کے کنارے پر جو گاؤں آباد تھے، ان میں سے چار ہزار گھر اور پرگنات بھمبر وغیرہ کے دیہات میں سے چار سو ستاسی گھر خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے۔ اس سے سمجھ لینا چاہیے کہ زراعت کا کیا حال ہوا ہو گا اور قحط کی شدت اور اجناس کی نایابی نے کیا ستم ڈھایا ہو گا۔ سری نگر میں صدہا مکانات منہدم ہو گئے۔ کئی دنوں تک بازار بند رہے اور آمد و رفت بالکل موقوف ہو گئی۔ بادشاہ اس مرتبہ 6 ماہ تک کشمیر رہا۔ لیکن قحط و سیلاب کی خوفناک حالت دیکھ کر 7جمادی الثانی ١٠٥٠؁ھ کو واپس روانہ ہوا اور غرّۂ شعبان کو لاہور پہنچ گیا۔\n\nبادشاہ نے لاہور پہنچ کر ڈیڑھ لاکھ روپیہ کشمیر کے قحط زدہ لوگوں کی امداد کے لیے بھیجا۔ ظفر خاں احسن ناظم کشمیر نے رعایا کی طرف سے بادشاہ کا شکریہ ادا کیا اور عرض کیا کہ اگر تیس ہزار روپیہ تخم ریزی کے لیے زمینداروں کو مزید مرحمت ہو تو ملک آبادی و خوشحالی کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ بادشاہ نے اسے منظور کرلیا۔\n\nتیسری مرتبہ بادشاہ 6صفر ١٠٥٤؁ھ کو لاہور سے کشمیر کی طرف روانہ ہوا۔ اس زمانہ میں بھی ظفر خاں احسن ناظم کشمیر تھا۔ اسی سفر میں بادشاہ نے چشمہ ویر ناگ کی مرمت کا حکم دیا اور چشمہ کے منبع پر ایک آبشار تعمیر کرائی جس کے ایک پتھر پر ؏:\n\nاز چشمہ بہشت برو آمدست جُو\n\nتاریخ تعمیر کندہ ہے۔ (چشمہ بہشت 1073، جوئے 19۔1054؁ھ)\n\nبادشاہ کی پیاری بیٹی جہاں آرا بیگم نے جو بادشاہ بیگم کے خطاب سے ملقب تھی، صفاپور میں جو بادشاہ بیگم کی جاگیر میں اور اپنی خوبیوں اور اپنے دلکش مناظر کی وجہ سے اسم بامسمیٰ تھا، بادشاہ کی ضیافت کی اور مانس بل کے ارد گرد ایسی دیدہ فروز روشنی کی کہ بادشاہ بہت خوش ہوا۔ شہزادی نے بہت سا نقد و جواہر بادشاہ کی پیشکش میں دیا۔\n\nبادشاہ نے چوتھا یعنی آخری سفر کشمیر جلوس، بست و پنجم ١٠٦٠؁ھ و ١٠٦١؁ھ میں کیا۔ اس سفر میں بادشاہ اپنے بیٹے دارا شکوہ کے مرشد ملا شاہ بدخشانی کی ملاقات کےلیے اس مسجد(١) میں گیا جو جہاں آرا بیگم نے اپنے بھائی دارا شکوہ کے پیر کی خوشنودی کے لیے چالیس ہزار روپے کی لاگت سے زیارت حضرت مخدوم صاحب کے قرب میں تعمیر کرائی تھی اور جس کے اطراف میں فقرا و طلبا کے رہنے کے لیے مکانات بھی تعمیر کرائے گئے تھے۔ ملاشاہ نے جو اپنی حق آگاہی و صفا کیشی کی وجہ سے پنجاب و کشمیر میں بہت مشہور تھے، بادشاہ کی آمد پر ایک نظم پڑھی۔ جس کا پہلا شعر یہ ہے:\n\nامروز شاہ شاہاں مہماں شد است ما را\n\nجبرئیل با ملائک درباں شد است ما را\n\nبادشاہ مسجد میں گیا اور حضرت شاہ صاحب کے پاس دیر تک بیٹھ کر ان کی نصیحت آموز باتیں سُنتا رہا۔ اس زمانہ میں کشمیر کا گورنر حسن بیگ خاں تھا جس کا عہد حکومت صرف ڈیڑھ سال ہی رہا ہے۔\n\nجب بادشاہ کشمیر میں تھا تو لوگ خشک سالی کی وجہ سے بہت بے چین تھے۔ آخر مینہ برسا تو ایسا برسا کہ زراعت تو ایک طرف، گلزار اور سبزہ زار اور ثمرہ دار درخت سب تباہ ہو گئے۔ اس وقت بادشاہ کو کشمیر میں آئے ہوئے دو ماہ ہو چکے تھے۔ طبیعت اس قسم کے واقعات دیکھ کر بہت پراگندہ ہو گئی۔ فرمایا “لاہور اور شاہجہاں آباد کے باغات و مرغزار و مصفیٰ و مجلیٰ مکانات چھوڑ کر محض حظ نفس کے لیے اس مسافت بعیدہ کو طے کرنا اور مختلف پیرایوں میں خلق خدا کو مصیبت و تکلیف میں مبتلا کرنا خدا پرستوں کے نزدیک مناسب نہیں ہے”۔ دریا کو عبور کرنے میں پُل جو بہت پرانا تھا، ٹوٹ گیا۔ ڈھائی سو آدمی، کئی جانور اور بہت سا اسباب دریا میں جا پڑا جس میں سے ایک سو آدمی طعمۂ نہنگ اجل ہو گئے۔ اس سے بادشاہ کی طبیعت اور بھی مکدر ہو گئی اور پھر جب تک کہ وہ بادشاہ رہا، یعنی ١٠٦٨؁ھ تک کشمیر میں نہیں آیا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1/%D8%B4%D8%A7%DB%81%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1"} {"title": "شاہی سیر کشمیر/عہد اکبری میں سفر کشمیر", "poet_page": "مصنف:محمد الدین فوق", "kind": "prose", "section": "شاہی سیر کشمیر", "year": null, "text_ur": "آج کل جب وہ کارآمد مگر بدنما گاڑی جسے ٹانگہ کہتے ہیں، سیر کشمیر کے شائقین کو راولپنڈی سے سری نگر دو دن میں پہنچا دیتی ہے اور ملک کے ہر گوشہ سے راولپنڈی تک تیز رفتار ریل موجود ہے، کیونکر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ شاہان مغلیہ سیر کشمیر کے لیے کیسی کیسی مشکلات اٹھاتے تھے۔ بہت سے لوگ جنھیں مناظر قدرت کی خوبیوں کی شناخت فطرتاً نصیب نہیں ہوئی مگر جو عہد اکبری کے شعرا کی نظمیں تعریف کشمیر میں پڑھ چکے ہیں، کشمیر پہنچ کر سوال کرتے ہیں کہ وہاں کون سی چیز ہے جس کی اس قدر تعریف کی جاتی تھی۔ اس سوال کے دو جواب ہیں۔ ایک تو یہ کہ اب بھی دیکھنے والے کے لیے وادی کشمیر وادئ جنت نظیر ہے، بشرطیکہ کوئی ہمت سے کام لے اور کوہ و دریا پھاندتا ہوا ملک کے اندرونی حصوں میں پہنچ جائے اور دوسرے یہ کہ جن شعرا نے تعریفیں لکھی ہیں وہ خود حسن قدرت کے دلدادہ ہونے کے علاوہ ایسے ساز و سامان کے ساتھ سفر کشمیر کرتے تھے کہ اس سفر کی ہر منزل ان کی شاعرانہ طبیعت کو گدگداتی ہوگی اور ہر قدم پر وہ اشعار آبدار انھیں سوجھتے ہوں گے جن کی بدولت کشمیر کو ایسی عالمگیر شہرت حاصل ہوئی ہے۔ میں نے اکبر نامہ ابو الفضل سے بعض اقتباسات کیے ہیں جو نہ صرف شائقین فن تاریخ کے لیے دلچسپ ہوں گے، بلکہ جن سے اس زمانہ کے شاہانہ دورہ کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آ جائے گا۔ اور یہ بھی معلوم ہو گا کہ خاندان مغلیہ کا وہ نامور تاجدار جو اپنی پائدار شہرت صفحہ تاریخ پر چھوڑ گیا ہے کس راستہ سے کشمیر گیا تھا اور کشمیر کا پرانا راستہ کون سا تھا۔ (ایڈیٹر مخزن)\n\nعہد اکبری کو شروع ہوئے چونتیسواں برس تھا جب دربار([1]) اکبری نے اس سیر کشمیر کا ارادہ کیا جس کا بیان آج لکھ رہے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے لاہور سے کشمیر تک اس وقت نہ کوئی سڑک تیار تھی نہ شاہراہ موجود۔ راستے کا پتہ لگانا اور اسے صاف کر کے شاہی جلوس کے گزرنے کے قابل بنانا، یہ کام سفر مینا آگے آگے کرتے جاتے تھے اور جلوس شاہی پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔ جو مقامات راہ میں آتے تھے ان کے انتظام کی دیکھ بھال، وہاں کے عاملوں کا عزل و نصب یہ سب کام ساتھ ساتھ ہوتے جاتے تھے۔ کیا زمانہ تھا، کیسے سفر تھے اور کیسے مسافر۔ ابو الفضل کی روح کے حق میں دل سے دعا نکلتی ہے جس کا قلم معجز رقم اس سفر کی تصویر الفاظ میں کھینچ گیا ہے۔ لاہور سے روانگی ملاحظہ ہو:\n\n“شب شانزدہم اُردی بہشت پس از سپری شدنِ دو ساعت و چہل و ہشت دقیقہ از آب راوی گزشتند و نزدیک سرائے مادھو سنگھ نزول ہمایوں شد۔ سہ ہزار سنگ تراشانِ کوہ کن و خارا شگافانِ فرہاد فن، دو ہزار بیلداران کار گزار بہ سرکردگیٔ قاسم خاں دستوری یافتند تانشیب و فراز ایں راہ شگرف را ہموار سازند۔ دریں منزل سیالکوٹ و برخے جا درتیولِ زین خاں کوکہ دادند۔ راجا بھگونت داس و راجا ٹوڈرمل و قلیج خاں را بدار الملک لاہور گذاشتند تا ہمگی مہمات بہ بہدید ایناں سر انجام یابد۔”\n\nراوی سے پار ہوتے ہی پہلا پڑاؤ شاہدرہ تھا۔ وہاں سے ایمن آباد، ایمن آباد سے سوہدرہ۔ یہاں راجا رورا اس نواح کا ایک جاگیر دار ملاقات کے لیے حاضر ہوا اور علاوہ خلعت اور ایک سو ایک گھوڑے انعام پانے کے چند پرگنے اسے اور مل گئے۔\n\nچوتھی منزل(١) کنار دریائے چناب پر تھی اور پانچویں سیالکوٹ کے مضافات میں جے پور کھیڑی اور بھنبر چھٹی اور ساتویں منزلیں ہوئیں۔ اب پہاڑی علاقہ شروع ہوا۔ بادشاہ گھوڑے پر اور کچھ پیادہ پہاڑ پر چڑھے۔\n\nغازی کوٹ پر آٹھویں منزل ہوئی اور نویں راجوری پر۔ قاسم خاں نے پہلے ہی پہنچ کر خیمے لگا رکھے تھے؛ ان میں اُترے۔ یہاں مشکل کا سامنا تھا۔ آگے کئی راہیں نکلتی تھیں اور ہر ایک برف سے اٹی ہوئی۔ واقف کار آدمیوں کو راستہ ڈھونڈنے اور بہترین راستہ انتخاب کرنے کے لیے روانہ کر دیا۔ انہوں نے پیر پنجال کو پسند کیا اور ادھر کو چلے۔ آگے رتن پنجال کے قریب ایک موضع ہے تہتہ، وہاں آرام کیا۔ یہاں سے کشمیری زبان شروع ہوتی ہے۔ بادشاہ نے جب لوگوں کو یہاں کشمیری زبان بولتے سنا تو بولے: “ولایت ہا از یکدیگر بکوہ و دریا وہا موں و زباں جدا گردد”۔\n\n اکبر کو جو چیز نہ صرف اپنے خاندان کے بادشاہوں سے بلکہ دنیا کے تاریخی لوگوں میں بیشتر سے ممتاز کرتی ہے، وہ اس کی وہ خداداد قوتِ ادراک ہے جس کی بدولت وہ ملک داری کی باریک سے باریک باتوں کو سمجھ جاتا تھا اور باوجود ذی علم نہ ہونے کے نہایت سلیس اور سادہ الفاظ میں ان باریکیوں کو ادا کر دیتا تھا۔ کون نہیں جانتا کہ زبان کی یگانگت بہت بڑا رشتۂ اتحاد اور زبان کی جدائی بہت بڑا ذریعہ علاحدگی ہے ۔ لیکن قدرتی جغرافی حدود کو جو ملکوں کے درمیان حد فاصل ہیں، زبان سے اور زبان کو کوہ و دریا و ہاموں سے بہ حیثیت حد فاصل ہونے کے تشبیہ دینا اسی کا حصہ تھا۔ کاش اہل ملک اس نکتہ پر اِس زمانے میں غور کریں اور خود اپنی تخریب کی کوشش نہ کریں۔ جہاں جہاں زبان کی علاحدگی کی کوشش ہو رہی ہے، ایک بڑی حد فاصل ایک قوم اور دوسری قوم میں اور ایک صوبہ اور دوسرے صوبہ میں کھڑی کی جا رہی ہے جو کوہ و دریا سے بڑھ کر علاحدہ کرنے والی ثابت ہو گی۔ اکبر کا حکیمانہ قول دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیااور میں نے چند الفاظ ایسےلکھ دیے ہیں جو گو مضمون موجودہ سے غیر متعلق ہیں مگر نہایت ضروری ہیں۔ اب احوال سفر کی طرف عود کیجیے۔\n\nپیرم کل پر گیارھویں منزل ہوئی۔ ابو الفضل لکھتا ہے کہ نہایت دلکشا جگہ ہے اور آب و ہوا اور رنگا رنگ کے پھولوں میں بے مثال ہے۔ کیوں نہ ہو، کشمیر کا علاقہ شروع ہو گیا ہے۔ ایک سے ایک جگہ بڑھ کر آئے گی۔ بارھواں پڑاؤ بوشانہ تھا۔ اس کی مختصر تعریف یہ ہے “کوہ ہائے پُردخت و بسیار گل و چشمہائے جاں پرور”۔ یہاں پر لطیفہ ہوا۔ اب برفانی پہاڑ آنے لگے۔ بادشاہ کے ہندوستانی ہمراہی گھبرائے۔ نہ آگے جانے کی ہمت نہ پیچھے جانے کی جرأت۔ بادشاہ نے خود ان کو تسلی دی اور پیر پنجال کا پہاڑ ختم کر کے موضع دونیا میں پہنچے۔ اس تیرھویں منزل کی کیفیت ابو الفضل نے مختصر لفظوں میں یوں بیان کی ہے:\n\n“از سختیٔ سرما سخن سراید۔ یا شگرفیٔ برف و سراسیمگیٔ ہندی نژاداں باز نماید۔ از بلندیٔ کریوہ حرف زند۔ یا داستانِ تنگیٔ راہ برگزارد۔ از نشیب و فراز ایں مرحلہ باز گوید۔ یا از چشمہ و درخت و گُل برنویسد۔”\n\nاب پہاڑ کے ندی نالوں کی بہتات کی یہ حالت تھی کہ ایک منزل میں چوالیس پُل گزرنے پڑے۔ ہیرہ پور پر قیام ہوا۔ مرزا یوسف خاں نے اس مقام کو خیمہ و خرگاہ سے آراستہ کر رکھا تھا۔ یہاں سب نے آرام کیا۔ یوں تو بھنبر سے چل کر جو جگہ رستے میں پڑی، سفر کی سختی کے لحاظ سے ایک سے ایک دشوار اور خوبصورتی کے لحاظ سے ایک سے ایک دلاویز مگر ہیرہ پور پہنچ کر عجیب حالت ہوئی۔ میں ترجمہ کر کے فارسی عبارت کا لطف کیوں گھٹاؤں۔ ابو الفضل سے ہی سن لیجیے:\n\n“از نیرنگئ درخت زار و شگفتگیٔ گلہا و شگرفیٔ ہوا و نغمہ سرائی آبشار ہا زماں زماں حیرت می افزود۔ وآزردگیٔ راہ را از دل می برد۔ لیکن امروز کہ از کوہستان بدشت گزارشد، شگفت نمائشے کرد۔ جہانے دیگر پدید آمد۔ ونو بہشتے نقاب از رو بر گرفت۔ عادتیانِ سبب بیں را محنت راہ یکبارگی فراموش شد و ژرف نگاہانِ خدا پرست بہ خرمئ دیگر شدند۔”\n\nپندرھواں مقام جس کا نام اس مختصر سفر نامہ میں درج ہے سری نگر ہے۔ پچیسویں ماہ خرداد کو سری نگر پہنچے۔ سری نگر کے مقامات گو اب بھی خوشنما ہیں مگر خاص شہر اب سیاح کے دل پر عموماً بہت اچھا نقش نہیں چھوڑتا۔ اس وقت شہر زیادہ خوش رنگ اور باشندے زیادہ خوش حال اور خوش مذاق ہوں گےکہ ابو الفضل لکھتا ہے:\n\n“سری نگر بزرگ شہرے است بہ دراز آباد۔ رودبار بہت (جہلم) ازمیان آں برگزرد۔ و در آں بیشترچو بیں کا خہا تا بہ پنج آشیانہ برسا زند و برفراز بامہا لالہ و رنگا رنگ گل بکا رند۔ و در بہاراں رشک افزائے گلستاں گردد۔”\n\nابو الفضل نے جو سحر نثر میں کیا ہے، وہی جادو بیانی اس کا بھائی فیضی نظم میں کرتا ہے۔ اس کے قصیدے کے یہ شعر کشمیر کی شان میں نہایت مشہور ہیں:\n\nہزار قافلہ عیش میکند شبگیر\nدرد بجائے گیا زعفراں ہمی روید\nزمینِ او چو دل بے غماں طرب خیز است\n\nکہ بار عیش کشاید بہ عرصۂ کشمیر\nکہ آب و خاکِ طرب را چنیں بود تاثیر\nسپہر کردہ مگر خاکِ او بیادہ خمیر\n\nسری نگر میں جاتے ہی جو چیز آج کل بھی سب سے نئی اور دلچسپ معلوم ہوتی ہے وہ وہاں کی متحرک آبادی ہے جو کوٹھی نما کشتیوں میں رہتی ہے، جنھیں انگریزی میں “ہوس بوٹ” کہتے ہیں۔ جب تک جی چاہا ایک جگہ ٹھہرے، ذرا جی اکتایا کشتی کو آگے لے گئے۔ جن کشتیوں میں انگریز سیاح فروکش ہوتے ہیں، وہ نہایت آراستہ نظر آتی ہیں۔ چھت پھولوں کے گملوں سے سجی ہوتی ہے۔ شام کو ان آبی مکانوں کے خوش پوش مکین چھت پر کرسیاں بچھا کر بیٹھے ہوتے ہیں اور کشتیاں آہستہ آہستہ چلتی جاتی ہیں تو عجب بہار دیتی ہیں۔ مگر موجودہ حالت اور اس زمانہ کی حالت کا مقابلہ کرنے کے لیے ذرا تخیل سے مدد لیجیے۔ اب ایک وقت میں چند صد سے زیادہ ایسی کشتیاں سری نگر کے قریب نظر نہیں آتیں۔ اُس وقت کی رونق کا اندازہ اس سے کیجیے کہ ایک ہزار سے اوپر کشتی بادشاہ اور خاصان دربار کی موجود تھی۔ اور لوگوں کی کشتیوں کا تو شمار ہی نہیں۔ ابو الفضل لکھتا ہے:\n\n“دریں ملک از سی ہزار کشتی افزوں است لیکن سزاوار نشیمن کشور خدائے نبود۔ کار آگہانِ خدمت گزار در کمتر فرصتے گزیں کاخہائے دریائی سر انجام نمودند۔ و گلزارے بر سطح دریا اساس نہا دند و نام آوران و نزدیکان نیز بہ بہین روشے آمادہ گردانیدند۔ افزوں از ہزار کشتی آراستہ شد و شہرستانے بر فراز دریا آبادی گرفت۔”\n\nان انتخابات میں مَیں نے فقط وہ حصے لیے ہیں جو غیر معمولی دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگر جزویات کا ذکر بھی کیا جاتا جو بجائے خود کم دلچسپ نہیں تو اس سے بہت زیادہ لکھا جا سکتا تھا۔ ان حالات کو پڑھ کر زبان سے اکبر کی عالی ہمتی کی بیساختہ داد نکلتی ہے اور عہد اکبری کی عظمت و شان کا ایک جلوہ عالمِ خیال میں نظر آجاتا ہے۔ مگر اس عظمت و شان کے ساتھ جو چیز اکبر کی پائدار ہر دلعزیزی کا باعث ہوئی، اس کا ذکر کیے بغیر اس مضمون کو ختم کرنا زیبا نہیں۔ رعیت کے آرام اور غریبوں کی حفاظت پر اس شہنشاہِ عادل اور اس کے فاضل وزرا کو اس قدر توجہ تھی کہ سری نگر میں پہنچتے ہی حکم دیا کہ شاہی لشکر کا کوئی شخص رعیت کے مکانوں میں نہ اُترے اور اپنی آسائش کا بند و بست آپ کرے۔ اور جب سب فرو کش ہوئے اور ہر طرح سے اطمینان ہوا تو خاص آدمی تعینات کیے گئے جو “پاسبانیٔ زیر دستاں و کاشتکاراں” میں کوشش کریں۔\n\n(از رسالہ مخزن اپریل 1910ء؁ جلد 19 نمبر1)", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1/%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1"} {"title": "شاید اس سادہ نے رکھا ہے خط", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شاید اس سادہ نے رکھا ہے خط\nکہ ہمیں متصل لکھا ہے خط\n\nشوق سے بات بڑھ گئی تھی بہت\nدفتر اس کو لکھیں ہیں کیا ہے خط\n\nنامہ کب یار نے پڑھا سارا\nنہ کہا یہ بھی آشنا ہے خط\n\nساتھ ہم بھی گئے ہیں دور تلک\nجب ادھر کے تئیں چلا ہے خط\n\nکچھ خلل راہ میں ہوا اے میرؔ\nنامہ بر کب سے لے گیا ہے خط", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%92_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%B7"} {"title": "شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں\nمیں پھول بن کے آؤں گا اب کی بہار میں\n\nکفنائے باغباں مجھے پھولوں کے ہار میں\nکچھ تو برا ہو دل مرا اب کی بہار میں\n\nگندھوا کے دل کو لائے ہیں پھولوں کے ہار میں\nیہ ہار ان کو نذر کریں گے بہار میں\n\nنچلا رہا نہ سوز دروں انتظار میں\nاس آگ نے سرنگ لگا دی مزار میں\n\nخلوت خیال یار سے ہے انتظار میں\nآئیں فرشتے لے کے اجازت مزار میں\n\nہم کو تو جاگنا ہے ترے انتظار میں\nآئی ہو جس کو نیند وہ سوئے مزار میں\n\nمیں دل کی قدر کیوں نہ کروں ہجر یار میں\nان کی سی شوخیاں ہیں اسی بے قرار میں\n\nسیمابؔ بے تڑپ سی تڑپ ہجر یار میں\nکیا بجلیاں بھری ہیں دل بے قرار میں\n\nتھی تاب حسن شوخیٔ تصویر یار میں\nبجلی چمک گئی نظر بے قرار میں\n\nبادل کی یہ گرج نہیں ابر بہار میں\nبرا رہا ہے کوئی شرابی خمار میں\n\nعمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن\nدو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں\n\nتنہا مرے ستانے کو رہ جائے کیوں زمیں\nاے آسمان تو بھی اتر آ مزار میں\n\nخود حسن نا خدائے محبت خدائے دل\nکیا کیا لئے ہیں میں نے ترے نام پیار میں\n\nمجھ کو مٹا گئی روش شرمگیں تری\nمیں جذب ہو گیا نگۂ شرمسار میں\n\nاللہ رے شام غم مری بے اختیاریاں\nاک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں\n\nاے اشک گرم ماند نہ پڑ جائے روشنی\nپھر تیل ہو چکا ہے دل داغدار میں\n\nیہ معجزہ ہے وحشت عریاں پسند کا\nمیں کوئے یار میں ہوں کفن ہے مزار میں\n\nاے درد دل کو چھیڑ کے پھر بار بار چھیڑ\nہے چھیڑ کا مزا خلش بار بار میں\n\nافراط معصیت سے فضیلت ملی مجھے\nمیں ہوں گناہ گاروں کی پہلی قطار میں\n\nڈرتا ہوں یہ تڑپ کے لحد کو الٹ نہ دے\nہاتھوں سے دل دبائے ہوئے ہوں مزار میں\n\nتم نے تو ہاتھ جور و ستم سے اٹھا لیا\nاب کیا مزا رہا ستم روزگار میں\n\nکیا جانے رحمتوں نے لیا کس طرح حساب\nدو چار بھی گناہ نہ نکلے شمار میں\n\nاو پردہ دار اب تو نکل آ کہ حشر ہے\nدنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظار میں\n\nروئی ہے ساری رات اندھیرے میں بے کسی\nآنسو بھرے ہوئے ہیں چراغ مزار میں\n\nسیمابؔ پھول اگیں لحد عندلیب سے\nاتنی تو زندگی ہو ہوائے بہار میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%AF_%D8%AC%DA%AF%DB%81_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شاید رخ حیات سے سرکے نقاب اور", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شاید رخ حیات سے سرکے نقاب اور\nبھر دو مرے سبو میں شراب گلاب اور\n\nہوگی مرے سبو سے نمود ہزار صبح\nابھریں گے اس افق سے ابھی آفتاب اور\n\nآتی ہے کوئے دار و رسن سے صدا ہنوز\nآئے ادھر جو ہے کوئی خانہ خراب اور\n\nمخمور بوئے زلف نہ آئیں گے ہوش میں\nچھڑکے ابھی نسیم بہاراں گلاب اور\n\nاے وارثان سطوت پرویز ہوشیار\nدامان وقت میں ہیں ابھی انقلاب اور\n\nآئی ظفرؔ جو رات زباں پر حدیث دوست\nناگاہ بڑھ گئی مرے جوہر کی آب اور", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%AF_%D8%B1%D8%AE_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%B1%DA%A9%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "شب ابر کہ پیشرو ہو دریا جس کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "شب ابر کہ پیشرو ہو دریا جس کا\nآیا دل داغ کر گیا جس تس کا\nاس سے ناگاہ ایک بجلی چمکی\nکیا جانیے ان نے گھر جلایا کس کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%B4%D8%B1%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "شب برات", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کیونکر کرے نہ اپنی نموداری شب برات\nچلپک چپاتی حلوے سے ہے بھاری شب برات\nزندوں کی ہے زباں کی مزیداری شب برات\nمردوں کی روح کی ہے مددگاری شب برات\nلگتی ہے سب کہ دل کو غرض پیاری شب برات\n\nشکر کا جن کہ حلوہ ہوا وہ تو پورے ہیں\nگڑ کا ہوا ہے جن کہ وُہ ان سے ادھورے ہیں\nشکر نہ گڑ کا جن کہ وہ پرکٹ لنڈورے ہیں\nاوروں کہ میٹھے حلوے چپاتی کو گھورے ہیں\nان کی نہ آدھی پاؤ نہ کچھ ساری شب برات\n\nدنیا کی دولتوں میں جُو زردار ہیں بڑے\nقندوں کہ حلوے روغنی نانیں لیے کھڑے\nپہنچائے خوان پھرتے ہیں نوکر کئی پڑے\nزندے بھی راہ تکتے ہیں مردے بھی ہیں کھڑے\nان خوبیوں کو رکھتی ہے تیاری شب برات\n\nٹھلیاں چپاتی حلوے کی تُو سب میں چال ہے\nادنیٰ غریب کہ تئیں یہ بھی محال ہے\nکالے سے گڑ کی لپٹی کڑھی کی مثال ہے\nپانی سے ہانڈی گیہوں کی روٹی بھی لال ہے\nکرتی ہے ایسی دکھیا پنساری شب برات\n\nاور مفلسوں کی ہے یہ تمنا کی فاتحہ\nدریا پہ جا کہ دیتے ہیں بابا کی فاتحہ\nبھٹیاری کہ تنور پہ نانا کی فاتحہ\nحلوائی کی دکان پہ دادا کی فاتحہ\nیاں تک تُو ان پہ لاتی ہے ناچاری شب برات\n\nوارث ہیں جن کہ جیتے وُہ مردے بھی آن کر\nحلوے چپاتی خوب ہی چکھتے ہیں پیٹ بھر\nجن کا کوئی نہیں ہے وُہ پھرتے ہیں در بدر\nاوروں کہ لگتے پھرتے ہیں کونوں سے گھر بہ گھر\nان کی ہے کھاری نون سے بھی کھاری شب برات\n\nملا جُو دینے فاتحہ گھر گھر میں جاتے ہیں\nحلوہ کہیں کہیں وُہ چپاتی اڑاتے ہیں\nمفلس کوئی بلاوے تُو منہ کو چھپاتے ہیں\nشکر کا حلوہ سنتے ہی بس دوڑے جاتے ہیں\nکہتے ہوئے یہ دِل میں اہا ہا ری شب برات\n\nچھوڑے ہے لٹو تونبڑی ہر دم بنا کہ جُو\nحاکم کا پیادہ کہتا ہے یُوں اس سے تلخ ہو\nکپڑے بدن بچا کہ جُو چاہو سو چھوڑ دو\nچھپر جلاؤ گے تُو دلاوے گی صبح کو\nتم سے چبوترے میں گنہ گاری شب برات\n\nپھرتے ہیں عشق باز جُو لڑکے کی گھات میں\nٹونٹا ہی لے کہ دیتے ہیں لڑکے کہ ہاتھ میں\nمہتابی آ کہ چھوڑیں ہیں لڑکے جُو رات میں\nکیا زرکیاں سی چھوڑے ہیں ہنس ہنس کے بات میں\nکرتی ہے کام ان کہ بھی یوں جاری شب برات\n\nجُو رنڈی باز ہیں وُہ بہت دِل میں شاد ہو\nکیا کیا انار چھوڑے ہیں بشنی ہو روبرو\nاے بی تم اپنی کلھیا ہمیں چھوڑنے کو دو\nاُور چاہو تم ہمارا یہ ہت پھول چھوڑ لو\nہو جائے جس کہ چھٹتے ہی پھلواری شب برات\n\nاُور جُو بہار حُسن کہ ہیں پاکباز یار\nگلکاری چھوڑے ہیں جہاں محبوب گلعذار\nکہتے ہیں ان کو دیکھ کہ آنکھوں میں کر کہ پیار\nکیا چاہیے میاں تمہیں ہت پھول اور انار\nتم پر تُو آپ ہوتی ہے اب واری شب برات\n\nگھن چکر اپنے دم میں کہیں چرخ کھاتے ہیں\nٹونٹے ہوائی سینک کہیں قہقہہاتے ہیں\nزینپٹ زپٹ پٹاخے کہیں غل مچاتے ہیں\nلڑکوں کہ باندھ غول کہیں لڑنے جاتے ہیں\nکرتی ہے پھر تُو ایسی دھواندھاری شب برات\n\nآ کر کسی کہ سر پہ چھچھوندر لگی کڑی\nاوپر سے اُور ہوائی کی آ کر پڑی چھڑی\nہو گئی گلے کا ہار پٹاخے کی ہر لڑی\nپاؤں سے لپٹی شور مچا کر قلم تڑی\nکرتی ہے پھر تُو ایسی ستم گاری شب برات\n\nچہرہ کسی کا جل گیا آنکھیں جھلس گئیں\nچھائی کسی کی جل گئیں باہیں جھلس گئیں\nٹانگیں بچیں کسی کی تُو رانیں جھلس گئیں\nمونچھیں کسی کی پھک گئیں پلکیں جھلس گئیں\nرکھے کسی کی داڑھی پہ چنگاری شب برات\n\nکوئی دوستوں کو دِل میں سمجھتا ہے اپنے غیر\nکوئی دشمنوں سے دِل کا نکالے ہے اپنا بیر\nکہتا ہے واں نظیرؔ بھی آتش کی دیکھ سیر\nیا رب تُو سب کی کیجیو برسا برس کی خیر\nبے طرح کر رہی ہے نموداری شب برات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "شب تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے\nکھوئے گئے ہم ایسے کہ اغیار پا گئے\n\nپوچھا کسی پہ مرتے ہو اور دم نکل گیا\nہم جان سے عناں بہ عنان صدا گئے\n\nپھیلی وہ بو جو ہم میں نہاں مثل غنچہ تھی\nجھونکے نسیم کے یہ نیا گل کھلا گئے\n\nاے آب اشک آتش عنصر ہی دیکھنا\nجی ہی گیا اگر نفس شعلہ زا گئے\n\nمجلس میں اس نے پان دیا اپنے ہاتھ سے\nاغیار سبز بخت تھے ہم زہر کھا گئے\n\nاٹھا نہ ضعف سے گل داغ جنوں کا بوجھ\nقاروں کی طرح ہم بھی زمیں میں سما گئے\n\nغیروں سے ہو وہ پردہ نشیں کیوں نہ بے حجاب\nدم ہائے بے اثر مرے پردہ اٹھا گئے\n\nتھی بد گمانی اب انہیں کیا عشق حور کی\nجو آ کے مرتے دم مجھے صورت دکھا گئے\n\nتابندہ و جوان تو بخت رقیب تھے\nہم تیرہ روز کیوں غم ہجراں کو بھا گئے\n\nبے زار زندگانی کا جینا محال تھا\nوہ بھی ہماری لاش کو ٹھوکر لگا گئے\n\nواعظ کے ذکر مہر قیامت کو کیا کہوں\nعالم شب وصال کے آنکھوں میں چھا گئے\n\nجس وقت اس دیار سے اغیار بوالہوس\nبد خوئیوں سے یار کے ہو کر خفا گئے\n\nدنیا ہی سے گیا میں جونہی ناز سے کہا\nاب بھی گمان بد نہ گئے تیرے یا گئے\n\nاے مومنؔ آپ کب سے ہوئے بندۂ بتاں\nبارے ہمارے دین میں حضرت بھی آ گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%AA%D9%85_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D8%B1%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "شب تھا نالاں عزیز کوئی تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب تھا نالاں عزیز کوئی تھا\nمرغ خوش خواں عزیز کوئی تھا\n\nتھی تمہارے ستم کی تاب اس تک\nصبر جو یاں عزیز کوئی تھا\n\nشب کو اس کا خیال تھا دل میں\nگھر میں مہماں عزیز کوئی تھا\n\nچاہ بے جا نہ تھی زلیخا کی\nماہ کنعاں عزیز کوئی تھا\n\nاب تو اس کی گلی میں خار ہے لیک\nمیرؔ بے جاں عزیز کوئی تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%84%D8%A7%DA%BA_%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "شب جو دل بیقرار تھا کیا تھا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب جو دل بیقرار تھا کیا تھا\nکسی کا انتظار تھا کیا تھا\n\nچشم در پر تھی صبح تک شاید\nکچھ کسی سے قرار تھا کیا تھا\n\nمدت عمر جس کا نام ہے آہ\nبرق تھی یا شرار تھا کیا تھا\n\nدیکھ مجھ کو جو بزم سے تو اٹھا\nکچھ تجھے مجھ سے عار تھا کیا تھا\n\nپھر گئی وہ نگہ جو یوں محرم\nسیل تھی یا کٹار تھا کیا تھا\n\nرات قائمؔ تو اس مزاج پہ واں\nسخت بے اختیار تھا کیا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%8C%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "شب جو رخ پر خال سے وہ برقعہ کو اتارے سوتے ہیں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب جو رخ پر خال سے وہ برقعہ کو اتارے سوتے ہیں\nچشم قمر لگتی ہی نہیں کیا بلکہ نہ تارے سوتے ہیں\n\nبند کیے آنکھیں وہ اپنی نشے کے مارے سوتے ہیں\nوقت یہی ہے گھات کا اے دل دیکھ چکارے سوتے ہیں\n\nہجر میں تیرے شمس و قمر کی آنکھ لگے کیا لیل و نہار\nچرخ کے کب گہوارے میں یہ عشق کے مارے سوتے ہیں\n\nآیا تھا وہ ماہ جبیں اقرار پہ آدھی رات کو آہ\nیارو کیوں کر جاگتے رہیے بخت ہمارے سوتے ہیں\n\nفرصت پا کر ہاتھ لگایا پاؤں کو ان کے جب میں نے\nکہنے لگے چل دور سرک مت ہاتھ لگا رے سوتے ہیں\n\nبستر گل کی بالش پر کی ان کو نہیں کچھ حاجت ہے\nسر کو ترے زانو پر رکھ جو شب کو پیارے سوتے ہیں\n\nکیا جانے اس خواب عدم میں لذت ہے جو اہل قبور\nاپنے اپنے گھر میں ہاں یوں پاؤں پسارے سوتے ہیں\n\nاک مدت میں پھرتے پھرتے منہ سے سنی درباں کے یہ بات\nشکر خدا کا اپنے وہ گھر میں آج تو پیارے سوتے ہیں\n\nچوری سے ہم شب کو پہنچے پاؤں تلک جوں دزد حنا\nلیکن چوکیدار کئی نزدیک تمہارے سوتے ہیں\n\nاس کے قریب چشم کہاں ہے خال دلا ٹک غور سے دیکھ\nکیفیت سے مست پڑے دریا کے کنارے سوتے ہیں\n\nوہ تو کبھی بیداری میں جز خواب نہیں ملتے یارو\nکوئی ہمیں ہرگز نہ اٹھانا ہجر کے مارے سوتے ہیں\n\nمانگ میں تیری کیوں نہ کریں عشاق کے دل آرام بھلا\nہیں یہ مسافر رستے میں منزل کے مارے سوتے ہیں\n\nچشم ملاقات ان سے رکھیے تو ہی بتا کس وجہ نصیرؔ\nغیر کی جانب ابرو سے وہ کر کے اشارے سوتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D8%AE_%D9%BE%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%B1%D9%82%D8%B9%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شب جوش گریہ تھا مجھے یاد شراب میں", "poet_page": "مصنف:مفتی صدر الدین خان آزردہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب جوش گریہ تھا مجھے یاد شراب میں\nتھا غرق میں تصور آتش سے آب میں\n\nیا رب وہ خواب حق میں مرے خواب مرگ ہو\nآوے وہ مست خواب اگر میرے خواب میں\n\nیا رب یہ کس نے چہرے سے الٹا نقاب جو\nسو رخنے اب نکلنے لگے آفتاب میں\n\nکیا عقل محتسب کی کہ لایا ہے کھینچ کر\nسودا زدوں کو محکمۂ احتساب میں\n\nہم جان و دل کو دے چکے موہوم امید پر\nاب ہو سو ہو ڈبو دے یہ کشتی شراب میں\n\nکچھ بھی لگی نہ رکھی ڈبو دی رہی سہی\nدل کو نہ ڈالنا تھا سوال و جواب میں\n\nالفت میں ان کی اب تو ہے جانوں کی پڑ گئی\nدل کس شمار میں ہے جگر کس حساب میں\n\nتھے جستجو میں روز ازل جائے درد کی\nآیا پسند دل مرا اس انتخاب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا\nتا محیطِ بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا\n\nیک قدم وحشت سے درسِ دفتر امکاں کھلا\nجادہ، اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا\n\nمانعِ وحشت خرامی ہائے لیلےٰ کون ہے؟\nخانۂ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا\n\nپوچھ مت رسوائیِ اندازِ استغنائے حسن\nدست مرہونِ حنا، رخسار رہنِ غازہ تھا\n\nنالۂ دل نے دیئے اوراقِ لختِ دل بہ باد\nیادگارِ نالہ اک دیوانِ بے شیرازہ تھا\n\nہوں چراغانِ ہوس جوں کاغذِ آتش زدہ\nداغ گرمِ کوششِ ایجادِ داغِ تازہ تھا\n\nبے نوائی تر صدائے نغمۂ شہرت اسدؔ\nبوریا یک نیستاں عالم بلند دروازہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%AE%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%AE%DB%8C%D8%B2_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "شب خواب میں دیکھا تھا مجنوں کو کہیں اپنے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "شب خواب میں دیکھا تھا مجنوں کو کہیں اپنے\nدل سے جو کراہ اٹھی لیلیٰ کو لیا تپ نے\n\nدیکھے ترے جلوہ کو بامہن کی جو بیٹی بھی\nمنہ سے وہیں کلمہ کو یکبار لگے جپنے\n\nہے جنس پری سا کچھ آدم تو نہیں اصلاً\nاک آگ لگا دی ہے اس امرد خوش گپ نے\n\nاس طرح کے ملنے میں کیا لطف رہا باقی\nہم اس سے لگے رکنے وہ ہم سے لگا چھپنے\n\nہنگام سخن سنجی آتش کی زبانی کو\nشرمندہ کیا اے دل اس شوخ کے گپ شپ نے\n\nہر امر میں دنیا کے موجود جدھر دیکھو\nآدم کو کیا حیراں شیطان کی لپ جھپ نے\n\nگرمی سے مرے دل کی اس موسم سرما میں\nیہ گنبد گردوں بھی یکبار لگا تپنے\n\nرہ وادیٔ ایمن کی لیتا ہوں کہ گھبرایا\nاس دل کی بدولت یاں مجھ کو طرف چپ نے\n\nہے ہم سے بھی ہو سکتا جو کچھ نہ کیا ہوگا\nمجنوں سے جفا کش نے فرہاد سے سر کھپ نے\n\nچل ہٹ بھی پرے بجلی دل بادلوں کو لے کر\nدہلا ہے دیا تیری تلواروں کی شپ شپ نے\n\nکب تک نہ کراہوں میں نالہ نہ بھروں کیوں کر\nمیں کیا کروں اے انشاؔ اب جی ہی لگا کھپنے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92"} {"title": "شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا\nآیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا\n\nکثرت میں درد و غم کی نہ نکلی کوئی تپش\nکوچہ جگر کے زخم کا شاید کہ تنگ تھا\n\nلایا مرے مزار پہ اس کو یہ جذب عشق\nجس بے وفا کو نام سے بھی میرے ننگ تھا\n\nدیکھا ہے صید گا میں ترے صید کا جگر\nبا آنکہ چھن رہا تھا پہ ذوق خدنگ تھا\n\nدل سے مرے لگا نہ ترا دل ہزار حیف\nیہ شیشہ ایک عمر سے مشتاق سنگ تھا\n\nمت کر عجب جو میرؔ ترے غم میں مر گیا\nجینے کا اس مریض کے کوئی بھی ڈھنگ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D8%B1%D8%B5%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "شب زلف و رخ عرق فشاں کا غم تھا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "شب زُلف و رُخِ عَرَق فِشاں کا غم تھا\nکیا شرح کروں کہ طُرفہ تَر عالَم تھا\nرویا میں ہزار آنکھ سے صُبح تلک\nہر قطرۂ اشک دیدۂ پُرنَم تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%88_%D8%B1%D8%AE_%D8%B9%D8%B1%D9%82_%D9%81%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "شب زندگانی سحر ہو گئی", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب زندگانی سحر ہو گئی\nبہر کیف اچھی بسر ہو گئی\n\nنہ سمجھے کہ شب کیوں سحر ہو گئی\nادھر کی زمیں سب ادھر ہو گئی\n\nزمانے کی بگڑی کچھ ایسی ہوا\nکہ بے غیرتی بھی ہنر ہو گئی\n\nعمائد نے کی وضع جو اختیار\nوہی سب کو مد نظر ہو گئی\n\nگئے جو نکل دام تزویر سے\nہزیمت ہی ان کی ظفر ہو گئی\n\nزمیں منقلب آسماں چرخ‌ زن\nاقامت بھی ہم کو سفر ہو گئی\n\nمٹا ڈالیے لوح دل سے غبار\nکسی سے خطا بھی اگر ہو گئی\n\nبراہ‌ کرم اس کو طے کیجئے\nجو ان بن کسی بات پر ہو گئی\n\nنہ کرنا تھا بالضد مداوائے غم\nبڑی چوک اے چارہ گر ہو گئی\n\nیہ ہنگامہ آرا ہیں سب بے خبر\nوہ چپ ہیں جنہیں کچھ خبر ہو گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "شب سیاہ ہوا روز اے سجن تجھ بن", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب سیاہ ہوا روز اے سجن تجھ بن\nمثال شمع جلے اہل انجمن تجھ بن\n\nہوئی ہے جان مجھے زندگی مرن تجھ بن\nکفن ہوئی ہیں بدن کے اوپر بسن تجھ بن\n\nنہ شہر بیچ مرا دل لگے نہ صحرا میں\nکچھ آوتی نہیں اے ماہ مجھ سیں بن تجھ بن\n\nہوا ہے آگ کا شعلہ شراب پیالے میں\nلگا ہے جان لباں کوں مرے دہن تجھ بن\n\nاداس دل پہ ہمارا کہیں نہ جا پرچا\nکٹھن ہوا ہے مجھے شہر میں بسن تجھ بن\n\nکبھی تو یاد کر اخلاص فاتحہ کہنا\nکہ آبروؔ کا ہوا ہجر سیں مرن تجھ بن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%AC%D9%86_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D9%86"} {"title": "شب شمع پر پتنگ کے آنے کو عشق ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب شمع پر پتنگ کے آنے کو عشق ہے\nاس دل جلے کے تاب کے لانے کو عشق ہے\n\nسر مار مار سنگ سے مردانہ جی دیا\nفرہاد کے جہان سے جانے کو عشق ہے\n\nاٹھیو سمجھ کے جا سے کہ مانند گرد باد\nآوارگی سے تیری زمانے کو عشق ہے\n\nبس اے سپہر سعی سے تیری تو روز و شب\nیاں غم ستانے کو ہے جلانے کو عشق ہے\n\nبیٹھی جو تیغ یار تو سب تجھ کو کھا گئی\nاے سینے تیرے زخم اٹھانے کو عشق ہے\n\nاک دم میں تو نے پھونک دیا دو جہاں کے تیں\nاے عشق تیرے آگ لگانے کو عشق ہے\n\nسودا ہو تب ہو میرؔ کو تو کریے کچھ علاج\nاس تیرے دیکھنے کے دوانے کو عشق ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D9%BE%D8%B1_%D9%BE%D8%AA%D9%86%DA%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92"} {"title": "شب شوق لے گیا تھا ہمیں اس کے گھر تلک", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب شوق لے گیا تھا ہمیں اس کے گھر تلک\nپر غش سا آ گیا ووہیں پہنچے جو در تلک\n\nگر ہم کو لگ گئی ہیں کبھی ہچکیاں تو ہم\nآٹھ آٹھ آنسو روئے ہیں دو دو پہر تلک\n\nڈرتا ہوں میں یہ گم نہ کرے آپ کو کہیں\nپھر جعد کو ہوئی ہے رسائی کمر تلک\n\nپروانہ کیا اڑے ہے چراغاں میں تو نہیں\nپہنچا جو کوئی شعلہ ترے بال و پر تلک\n\nصحرائے کشتگاں میں ترے کل گیا تھا میں\nدیکھوں تو لالہ زار ہے حد نظر تلک\n\nپھیلاؤ بحر اشک کا اپنے میں کیا کہوں\nپہنچی ہے موج گر یہ مری بحر و بر تلک\n\nوے دن کدھر گئے کہ میں لکھ لکھ کے خط شوق\nجاتا تھا آپ گریہ کناں نامہ بر تلک\n\nشب اس کی بزم میں جو گئے ہم تو مصحفیؔ\nایسے جمے کہ واں سے نہ اٹھے سحر تلک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%84%DB%92_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AA%D9%84%DA%A9"} {"title": "شب غم میں چھائی گھٹا کالی کالی", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب غم میں چھائی گھٹا کالی کالی\nجھکی ہے بلا پر بلا کالی کالی\n\nبہت ایسے کالے ہرن ہم نے دیکھے\nدکھاتے ہیں آنکھیں وہ کیا کالی کالی\n\nڈٹے مل کے رند سیہ مست جس دم\nجھکی میکدے پر گھٹا کالی کالی\n\nشب ماہ میں وہ پھرے بال کھولے\nہوئی چاندنی جا بجا کالی کالی\n\nیہ سجدے کو خود جھک پڑے گی چمن پر\nکہ قبلے سے اٹھی گھٹا کالی کالی\n\nکھلی سب پر آخر تری گرم دستی\nہوئی کھولتے ہی حنا کا کالی کالی\n\nلنڈھا دے مے سرخ تو اب تو ساقی\nگھٹا اٹھی ہے دیکھ کیا کالی کالی\n\nمرے کعبۂ دل کے مٹنے کا غم ہے\nجو اوڑھے ہے کعبہ صبا کالی کالی\n\nہوئے ہیں سیہ بخت برباد لاکھوں\nاٹھیں آندھیاں بارہا کالی کالی\n\nبخارات دل آہ پر چھا گئے ہیں\nگھٹا ہے بروئے ہوا کالی کالی\n\nمیں دیکھوں گا منہ ان کا دے کر یہ فقرہ\nتری شکل ہے مہ لقا کالی کالی\n\nسیہ نامۂ قدرؔ محشر میں نکلا\nاٹھی دھوپ میں اک گھٹا کالی کالی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "شب فراق جو دل میں خیال یار رہا", "poet_page": "مصنف:شیر سنگھ ناز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب فراق جو دل میں خیال یار رہا\nپس فنا بھی تصور میں انتظار رہا\n\nاڑا رہے ہیں مری خاک کو وہ ٹھوکر سے\nالٰہی مجھ سے تو اچھا مرا غبار رہا\n\nنظر ملاتے ہی ہاتھوں سے دل چلا میرا\nکسی کو دیکھ کے دل پر نہ اختیار رہا\n\nکسی کی نرگس مستانہ پھر گئی جب سے\nنہ وہ سرور نہ آنکھوں میں وہ خمار رہا\n\nشب فراق کی تنہائی میں تھا کون انیس\nخیال یار ہی اک اپنا غم گسار رہا\n\nوفا نہیں تو نہیں مورد جفا ہی سہی\nہزار شکر کہ میں داخل شمار رہا\n\nیہ ڈورے ڈالے ہیں کس چشم مست نے اے نازؔ\nکہ حشر تک مری آنکھوں میں اک خمار رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "شب فراق میں رویا کیا سحر کے لئے", "poet_page": "مصنف:منشی شیو پرشاد وہبی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وہبی (1870)", "year": "1870", "text_ur": "شب فراق میں رویا کیا سحر کے لئے\nترس ترس گئیں آہیں مری اثر کے لئے\n\nالٰہی خیر سے اس کی خبر ملے مجھ کو\nچھری ہے تیز وہاں مرغ نامہ بر کے لئے\n\nبجا ہے بوسے کا گر نیل بن گیا رخ پر\nیہی تو داغ مناسب تھا اس قمر کے لئے\n\nمریض ہجر نے دی جان تیری غفلت سے\nنہ آیا ایک دن او بے خبر خبر کے لئے\n\nزیادہ فرط نزاکت سے سرگراں وہ ہوئے\nلگا لیا کبھی صندل جو درد سر کے لئے\n\nپیام اس بت شیریں ادا کا جب لایا\nبڑھا کے ہاتھ قدم ہم نے نامہ بر کے لئے\n\nجو مہر حشر مرے داغ دل کا پھاہا ہو\nروا ہے ابر کا رومال چشم تر کے لئے\n\nخیال زلف میں دن رات ہم ہیں سرگرداں\nازل سے تھا یہی سودا ہمارے سر کے لئے\n\nدعائیں مانگنا ہوں جتنی مانگ لے وہبیؔ\nکھلا ہے باب اجابت ابھی اثر کے لئے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92"} {"title": "شب فراق میں میں نالہ و فغاں کرتا", "poet_page": "مصنف:وفا لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نغمۂ ہزار (1911)", "year": "1911", "text_ur": "شب فراق میں میں نالہ و فغاں کرتا\nتو سن کے سارا جہاں شور الاماں کرتا\n\nجہاں میں کس لئے میں الفت بتاں کرتا\nدو روزہ عمر کو کیوں اپنی رائیگاں کرتا\n\nمیں آپ اپنے کو کرتا زمین کا پیوند\nجو یاد صحبت یاران رفتگاں کرتا\n\nکنشت و دیر و حرم میں نہ دیکھا جلوہ ترا\nتجھے تلاش مری جان پھر کہاں کرتا\n\nضرور آنکھ میں ان کے بھی اشک بھر آتے\nجو ان سے صدمۂ فرقت کو میں بیاں کرتا\n\nجو ہوتا دشت جنوں میں کبھی گزر میرا\nضرور دامن صحرا بھی دھجیاں کرتا\n\nجھپکتی خنجر خونخوار سے نہ آنکھ مری\nہزار مرتبہ قاتل جو امتحاں کرتا\n\nوہ سخت جاں تھا کہ آری اسے بنا دیتا\nگلے پہ میری جو خنجر کوئی رواں کرتا\n\nبتوں کے ہجر میں جلتا جو برہمن کا دل\nتو شور صورت ناقوس ہر زباں کرتا\n\nکبھی نہ ناقۂ لیلیٰ کو تیز لے جاتا\nخیال قیس حزیں کچھ جو سارباں کرتا\n\nاجاڑ دیکھ کے گلشن کو خوب روتا میں\nگزر خزاں میں اگر سوئے بوستاں کرتا\n\nجو پھول توڑتا شاخوں سے موسم گل میں\nستم یہ بلبل محزوں پہ باغباں کرتا\n\nبتان دیر سے کرتا اگر محبت میں\nتمام عمر کے اعمال رائیگاں کرتا\n\nہمارے قتل کو قاتل نہ کھینچتا خنجر\nدکھا کے ابروئے خم دار نیم جاں کرتا\n\nپھنسا کے دام میں صیاد مجھ سے بلبل کو\nاجاڑ باغ میں پھر میرا آشیاں کرتا\n\nبہار آتے ہی پیر مغان دریا دل\nضرور دختر رز نذر مے کشاں کرتا\n\nتمام عمر گنوائی گناہ کرنے میں\nخدا سے خاک وفاؔ خواہش جناں کرتا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D9%88_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7"} {"title": "شب فراق کچھ ایسا خیال یار رہا", "poet_page": "مصنف:ہجر ناظم علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب فراق کچھ ایسا خیال یار رہا\nکہ رات بھر دل غم دیدہ بے قرار رہا\n\nکہے گی حشر کے دن اس کی رحمت بے حد\nکہ بے گناہ سے اچھا گناہگار رہا\n\nترا خیال بھی کس درجہ شوخ ہے اے شوخ\nکہ جتنی دیر رہا دل میں بے قرار رہا\n\nشراب عشق فقط اک ذرا سی چکھی تھی\nبڑا سرور گھٹا مدتوں خمار رہا\n\nانہیں غرض انہیں مطلب وہ حال کیوں پوچھیں\nبلا سے ان کی اگر کوئی بے قرار رہا\n\nتمہیں کبھی نہ کبھی مر کے بھی دکھا دوں گا\nجو زندگی نے وفا کی جو برقرار رہا\n\nادائیں دیکھ چکے آئینے میں آپ اپنی\nبتائیے تو سہی دل پر اختیار رہا\n\nشب وصال بڑے لطف سے کٹی اے ہجرؔ\nتمام رات کسی کے گلے کا ہار رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے\nکچھ اس میں ان کی توجہ بھی پائی جاتی ہے\n\nیہ عمر عشق یوں ہی کیا گنوائی جاتی ہے\nحیات زندہ حقیقت بنائی جاتی ہے\n\nبنا بنا کے جو دنیا مٹائی جاتی ہے\nضرور کوئی کمی ہے کہ پائی جاتی ہے\n\nہمیں پہ عشق کی تہمت لگائی جاتی ہے\nمگر یہ شرم جو چہرے پہ چھائی جاتی ہے\n\nخدا کرے کہ حقیقت میں زندگی بن جائے\nوہ زندگی جو زباں تک ہی پائی جاتی ہے\n\nگناہ گار کے دل سے نہ بچ کے چل زاہد\nیہیں کہیں تری جنت بھی پائی جاتی ہے\n\nنہ سوز عشق نہ برق جمال پر الزام\nدلوں میں آگ خوشی سے لگائی جاتی ہے\n\nکچھ ایسے بھی تو ہیں رندان پاک باز جگرؔ\nکہ جن کو بے مئے و ساغر پلائی جاتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%AF_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "شب فرقت قضا نہیں آتی", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب فرقت قضا نہیں آتی\nلاکھ کہتا ہوں آ نہیں آتی\n\nچپ ہیں وہ سن کے شکوۂ اغیار\nبات بھی تو بنا نہیں آتی\n\nوہ تو وعدے پہ آ چکے اے موت\nتو بھی آتی ہے یا نہیں آتی\n\nکس مرض کی دوا ہیں آپ اگر\nدرد دل کی دوا نہیں آتی\n\nشیشۂ دل ہے کس قدر نازک\nٹوٹنے کی صدا نہیں آتی\n\nہم ہیں آزادہ رو جہاں میں نسیمؔ\nیاں ہوس کی ہوا نہیں آتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C"} {"title": "شب فرقت میں یار جانی کی", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب فرقت میں یار جانی کی\nدرد پہلو نے مہربانی کی\n\nمنہ دکھاؤ بہت رہی تکرار\nارنی اور لن ترانی کی\n\nجس کو کہتے ہیں چودھویں کا چاند\nتیری تصویر ہے جوانی کی\n\nکمر یار ہو گئی غائب\nسن کے دھوم اپنی ناتوانی کی\n\nصورت حال پر ہمارے مہر\nداغ نے زخم نے نشانی کی\n\nسیر نعمت سے دو جہان کی کیا\nدے کے شبنم کو بوند پانی کی\n\nہو گیا عشق حسن سے ناگاہ\nپوچھتے کیا ہو ناگہانی کی\n\nدل برشتہ ہوا جو مثل کباب\nمیں نے ترکوں کی مہمانی کی\n\nلب جاں بخش کے قریب وہ خط\nشرح ہے متن زندگانی کی\n\nگوش زد ہوتے ہی ہوئی دشمن\nنیند تیری مری کہانی کی\n\nکھینچتے اس غزال کی صورت\nچوکڑی بھولتی ہے مانیؔ کی\n\nمجھ کو بٹھلا کے یار سوتا ہے\nعاشقی کی کہ پاسبانی کی\n\nرہ گیا شوق منزل مقصود\nپائے خفتہ نے سرگرانی کی\n\nمثل شبنم ہوں صاف دل قانع\nمجھ کو دریا ہے بوند پانی کی\n\nبرق چمکی تو سرفراز کیا\nابر آیا تو مہربانی کی\n\nراحت مرگ کو نہ پوچھ آتشؔ\nنہ رہی قدر زندگانی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "شب ماہ میں جو پلنگ پر مرے ساتھ سوئے تو کیا ہوئے", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب ماہ میں جو پلنگ پر مرے ساتھ سوئے تو کیا ہوئے\nکبھی لپٹے بن کے وہ چاندنی کبھی چاند بن کے جدا ہوئے\n\nہوئے وقت آخری مہرباں دم اولیں جو خفا ہوئے\nوہ ابد میں آ کے گلے ملے جو ازل میں ہم سے جدا ہوئے\n\nیہ الٰہی کیسا غضب ہوا وہ سمائے مجھ میں تو کیا ہوئے\nمرا دل بنے تو تڑپ گئے مرا سر بنے تو جدا ہوئے\n\nچلے ساتھ ساتھ قدم قدم کوئی یہ نہ سمجھا کہ ہیں بہم\nکبھی دھوپ بن کے لپٹ گئے کبھی سایہ بن کے جدا ہوئے\n\nابھی ہیں زمانہ سے بے خبر رکھا ہاتھ رکھے یہ لاش پر\nاٹھو بس اٹھو کہا مان لو مری کیا خطا جو خفا ہوئے\n\nہیں عجیب مرغ شکستہ پر نہ چمن میں گھر نہ قفس میں گھر\nجو گرے تو سایہ ہیں خاک پر جو اٹھے تو موج ہوا ہوئے\n\nوہ عرق عرق ہوئے جس گھڑی مجھے عمر خضر عطا ہوئی\nشب وصل قطرے پسینہ کے مرے حق میں آب بقا ہوئے\n\nکبھی شکل آئنہ روبرو کبھی طوطی اور کبھی گفتگو\nکبھی شخص بن کے گلے ملے کبھی عکس بن کے جدا ہوئے\n\nنہ تجلیاں ہیں نہ گرمیاں نہ شرارتیں ہیں نہ پھرتیاں\nہمہ تن تھے دن کو تو شوخیاں ہمہ تن وہ شب کو حیا ہوئے\n\nمرے نالے ہیں کہ ازل ابد ترے عشوے ہیں کہ لب مسیح\nوہاں کن کا غلغلہ وہ بنے یہاں قم کی یہ جو صدا ہوئے\n\nگرے ذات میں تو ہے جملہ اوست اٹھے جب صفت میں ہمہ از دست\nکہا کون ہو تو ملے رہے کہا نام کیا تو جدا ہوئے\n\nکئے اس نے بزم میں شعبدے ملی مہندی ہاتھ پہ شمع کے\nجو پتنگے رات کو جل گئے وہ تمام مرغ حنا ہوئے\n\nمرے دل کے دیکھو تو ولولے کہ ہر ایک رنگ میں جا ملی\nجو گھٹے تو ان کا دہن بنے جو بڑھے تو ارض و سما ہوئے\n\nوہی فرش و عرش نشیں رہے ہوئے نام الگ جو کہیں رہے\nگئے دیر میں تو صنم بنے گئے لا مکاں تو خدا ہوئے\n\nجو تصور ان کا جدا ہوا دل بے خبر نے یہ دی صدا\nابھی ہم بغل تھے کدھر گئے ابھی گود میں تھے وہ کیا ہوئے\n\nکبھی سوزشیں کبھی آفتیں کبھی رنجشیں کبھی راحتیں\nملیں چار ہم کو یہ نعمتیں ترے عشق میں جو فنا ہوئے\n\nہمیں شوق یہ کہ ہو ایک طور اسے ذوق یہ کہ ہو شکل اور\nبنے آگ تو بجھے آب میں ملے خاک میں تو ہوا ہوئے\n\nگئے سر سے جبکہ وہ تا کمر تو الف ادھر کا ہوا ادھر\nترا جوڑا کھلتے ہی بال سب پس پشت آ کے بلا ہوئے\n\nکوئی دب گیا کوئی مر گیا کوئی پس گیا کوئی مٹ گیا\nترے عشوے سے جب سے فلک بنے ترے غمزے جب سے قضا ہوئے\n\nمجھے گدگدی سے غش آ گیا تو ہلا کے شانہ یہی کہا\nابھی ہنستے تھے ابھی مر گئے ابھی کیا تھے تم ابھی کیا ہوئے\n\nکہو کافروں سے کریں خوشی کہ یہ مسئلہ ہے تناسخی\nمرے نالے خاک میں جب ملے تو سبو کے دست دعا ہوئے\n\nپس وصل ہم جو سرک گئے تو وہ کھلکھلا کے پھڑک گئے\nکہا شوخیوں نے چلو ہٹو کہ حضور تم سے خفا ہوئے\n\nتمہیں لوگ کہتے ہیں نوجواں کہ ہو بیس تیس کے درمیاں\nکہو مجھ سے مائلؔ خوش بیاں وہ تمہارے ولولے کیا ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%D9%84%D9%86%DA%AF_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "شب مہ میں دیکھ اس کا وہ جھمک جھمک کے چلنا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب مہ میں دیکھ اس کا وہ جھمک جھمک کے چلنا\nکیا انتخاب مہ نے یہ چمک چمک کے چلنا\n\nروش ستم میں آنا تو قدم اٹھانا جلدی\nجو رہ کرم میں آنا تو ٹھٹک ٹھٹک کے چلنا\n\nنہ دھڑک ہو جو نکلنا تو سر خطر پہ ٹھوکر\nجو نظر گزر سے ڈرنا تو جھجک جھجک کے چلنا\n\nجو نوازشوں پہ آنا تو رگڑ کے دوش جانا\nجو سر عتاب ہونا تو پھٹک پھٹک کے چلنا\n\nہے کھبا نظیرؔ اب تو مرے جی میں اس صنم کا\nوہ اکڑ کے دھج دکھانا وہ ہمک ہمک کے چلنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%85%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%AC%DA%BE%D9%85%DA%A9_%D8%AC%DA%BE%D9%85%DA%A9_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84%D9%86%D8%A7"} {"title": "شب میں واں جاؤں تو جاؤں کس طرح", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب میں واں جاؤں تو جاؤں کس طرح\nبخت خفتہ کو جگاؤں کس طرح\n\nقصہ خواں بیٹھے ہیں گھیرے اس کے تئیں\nداستاں اپنی سناؤں کس طرح\n\nگو میں عاشق ہوں پہ طاقت ہے مری\nہاتھ پانو کو لگاؤں کس طرح\n\nرکھ دیا ہے سر پہ اک کوہ خیال\nسر کو زانو سے اٹھاؤں کس طرح\n\nنالہ گریہ کی مدد کرتا نہیں\nاشک کے نالے بہاؤں کس طرح\n\nچاہ وہ شے ہے کہ چھپتی ہی نہیں\nاس کو یارب میں چھپاؤں کس طرح\n\nآ بنی ہے مصحفیؔ کی جان پر\nیارب اپنا جی بچاؤں کس طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "شب وصال لگایا جو ان کو سینے سے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب وصال لگایا جو ان کو سینے سے\nتو ہنس کے بولے الگ بیٹھیے قرینے سے\n\nثواب ہو کہ نہ ہو اس سے کیا غرض زاہد\nمزہ ملا مجھے تجھ کو پلا کے پینے سے\n\nشب فراق یہ احسان ہے تصور کا\nکہ سو رہا ہوں لگا کر کسی کو سینے سے\n\nفلک مٹائے گا مجھ کو جو تم مکدر ہو\nعداوت اس کی بڑھے گی تمہارے کینے سے\n\nغم فراق میں کیا لطف زندگی ہے حفیظؔ\nہمیں تو موت ہی بہتر ہے ایسے جینے سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%D9%84%DA%AF%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92"} {"title": "شب وصال مزا دے رہی ہے تو تیری", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب وصال مزا دے رہی ہے تو تیری\nلبوں سے گھولتی ہے قند گفتگو تیری\n\nتری زباں کو بگاڑا رقیب بد خو نے\nکہ بات بات میں گالی تو تھی نہ خو تیری\n\nلگا رہا ہے حنا کون تیرے ہاتھوں میں\nرلا رہی ہے مجھے خون آرزو تیری\n\nترے سکوت میں بھی اک ادا نکلتی ہے\nکہ ہے چھپی ہوئی پردے میں گفتگو تیری\n\nنہ چاک کر دل بے تاب کو مرے ظالم\nنکل کے ہو کہیں رسوا نہ آرزو تیری\n\nکبھی ہے قصد حرم کا کبھی ہے عزم کنشت\nکشاں کشاں لیے پھرتی ہے آرزو تیری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%D9%85%D8%B2%D8%A7_%D8%AF%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "شب وصال ہنسی آتی ہے مقدر پر", "poet_page": "مصنف:جگرؔ بسوانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب وصال ہنسی آتی ہے مقدر پر\nوہ ہم سے روٹھ کے سونے چلے ہیں بستر پر\n\nوہ سخت جاں ہوں کہ قاتل ہے جان سے عاجز\nکبھی گلے پہ ہے خنجر کبھی ہے پتھر پر\n\nچلیں گے کعبہ کو زمزم پہ دھو تو لیں زاہد\nبہت شراب کے دھبے ہیں دامن تر پر\n\nمریض عشق سے تنگ آ کے چارہ گر نے کہا\nاسے بلاؤ یہ مرتا ہے جس ستم گر پر\n\nشب فراق دل بے قرار دور رہے\nتڑپ سکیں گے نہ ہم دونوں ایک بستر پر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%8C_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "شب وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھے\nکسی نے لوٹ لیا اپنے گھر بلا کے مجھے\n\nپکارتا نہیں کوئی لحد پر آ کے مجھے\nمرے نصیب بھی کیا سو رہے سلا کے مجھے\n\nوہ بولے وصل کے شب آپ میں نہ پا کے مجھے\nچلے گئے ہیں کہاں اپنے گھر بلا کے مجھے\n\nگرا دیا ہے کچھ اس طرح اس نے آنکھوں سے\nکہ دیکھتا نہیں کوئی نظر اٹھا کے مجھے\n\nپری تھی کوئی چھلاوا تھی یا جوانی تھی\nکہاں یہ ہو گئی چمپت جھلک دکھا کے مجھے\n\nتمہاری بزم میں آئے تو جام مے مجھ تک\nبلا سے دے دے کوئی زہر ہی ملا کے مجھے\n\nاٹھا جو بزم سے ان کی تو روک کر یہ کہا\nکہ لے چلے ہو کہاں دل میں تم چھپا کے مجھے\n\nیہ تیرے ہجر کا غم تھا وہ تیرے عشق کا داغ\nگیا جو کھا کے مجھے جو مٹا مٹا کے مجھے\n\nجہاں پہ جاتے ہوئے میرے ہوش اڑتے ہیں\nترا خیال وہاں لے چلا لگا کے مجھے\n\nمجھے ہے غش انہیں حیرت عجیب عالم ہے\nمیں کھو گیا ہوں انہیں دیکھ کر وہ پا کے مجھے\n\nمری نگاہ میں پھرتی ہے میری موت کی شکل\nجب آپ دیکھتے ہیں تیوریاں چڑھا کے مجھے\n\nنہ دیکھو آئینہ دیکھو مرا کہا مانو\nدکھاؤ غیر کو صورت نہ منہ دکھا کے مجھے\n\nتڑپ لے دل کی یہ کہہ کہہ کے کوئی آتا ہے\nبٹھا دیا ہے لحد میں اٹھا اٹھا کے مجھے\n\nگلے لگا دے کروں پیار تیری تیغ کو میں\nکہ یاد آئے کرشمے تری ادا کے مجھے\n\nیہ میرے رونے پہ ہنستی ہے کیوں مری تقدیر\nوہ اپنے دل میں تو کڑھتے نہیں رلا کے مجھے\n\nجو مٹی دی ہے تو اب فاتحہ بھی پڑھتے جاؤ\nکچھ اب ثواب بھی لو خاک میں ملا کے مجھے\n\nحفیظؔ حشر میں کر ہی چکا تھا میں فریاد\nکہ اس نے ڈانٹ دیا سامنے سے آ کے مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "شب وصل انہیں ضد اگر ہو گئی", "poet_page": "مصنف:منشی شیو پرشاد وہبی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وہبی (1870)", "year": "1870", "text_ur": "شب وصل انہیں ضد اگر ہو گئی\nنقاب اٹھتے اٹھتے سحر ہو گئی\n\nشب وصل کیا مختصر ہو گئی\nپلک مارتے ہی سحر ہو گئی\n\nاگر ان کی ترچھی نظر ہو گئی\nمری جان سینہ سپر ہو گئی\n\nنہ کچھ مو شگافوں سے عقدہ کھلا\nمعما تمہاری کمر ہو گئی\n\nلگی ہے جو اشکوں کی ہر دم جھڑی\nگھٹا کیا مری چشم تر ہو گئی\n\nحرم چھوڑ کر میں گیا سوئے دیر\nطبیعت کدھر سے کدھر ہو گئی\n\nنہیں رحم اس سنگ دل کو ذرا\nمری آہ کیا بے اثر ہو گئی\n\nچھپایا بہت عشق ہم نے مگر\nانہیں سب سے پہلے خبر ہو گئی\n\nخبر لی نہ اس غیرت‌ ماہ نے\nتڑپتے رہے رات بھر ہو گئی\n\nنہیں کاٹے کٹتی ہے فرقت کی شب\nگھڑی مجھ کو اک اک پہر ہو گئی\n\nچھوئے پاؤں میں نے جو اس شوخ کے\nحنا باعث درد سر ہو گئی\n\nبتو تم کو سجدے کیے اس قدر\nہماری جبیں سنگ در ہو گئی\n\nکیا اس شکر لب نے اعجاز یہ\nبجائی جو نے نیشکر ہو گئی\n\nجمایا جو وہبیؔ نے اپنا قدم\nلڑائی محبت کی سر ہو گئی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B6%D8%AF_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "شب وصل بھی لب پہ آئے گئے ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب وصل بھی لب پہ آئے گئے ہیں\nیہ نالے بہت منہ لگائے گئے ہیں\n\nخدا جانے ہم کس کے پہلو میں ہوں گے\nعدم کو سب اپنے پرائے گئے ہیں\n\nوہی راہ ملتی ہے چل پھر کے ہم کو\nجہاں خاک میں دل ملائے گئے ہیں\n\nمرے دل کی کیونکر نہ ہو پائمالی\nبہت اس میں ارمان آئے گئے ہیں\n\nگلے شکوے جھوٹے بھی تھے کس مزے کے\nہم الزام دانستہ کھائے گئے ہیں\n\nنگہ کو جگر زلف کو دل دیا ہے\nیہ دونوں ٹھکانے لگائے گئے ہیں\n\nرہے چپ نہ ہم بھی دم عرض مطلب\nوہ اک اک کی سو سو سنائے گئے ہیں\n\nفرشتے بھی دیکھیں تو کھل جائیں آنکھیں\nبشر کو وہ جلوے دکھائے گئے ہیں\n\nچلو حضرت داغؔ کی سیر دیکھیں\nوہاں آج بھی وہ بلائے گئے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا\nبغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا\n\nمبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھی\nسحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا\n\nوہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کی\nزمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا\n\nنکالے تھے دو چاند اس نے مقابل\nوہ شب صبح جنت کا جس پر گماں تھا\n\nعروسی کی شب کی حلاوت تھی حاصل\nفرح ناک تھی روح دل شادماں تھا\n\nمشاہد جمال پری کی تھی آنکھیں\nمکان وصال اک طلسمی مکاں تھا\n\nحضوری نگاہوں کو دیدار سے تھی\nکھلا تھا وہ پردہ کہ جو درمیاں تھا\n\nکیا تھا اسے بوسہ بازی نے پیدا\nکمر کی طرح سے جو غائب دہاں تھا\n\nحقیقت دکھاتا تھا عشق مجازی\nنہاں جس کو سمجھے ہوئے تھے عیاں تھا\n\nبیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہے\nیہ قصہ ہے جب کا کہ آتشؔ جواں تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "شب وصل دیکھی جو خواب میں تو سحر کو سینہ فگار تھا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب وصل دیکھی جو خواب میں تو سحر کو سینہ فگار تھا\nیہی بس خیال تھا دم بہ دم کہ ابھی تو پاس وہ یار تھا\n\nجو نہ تھا وہ غیرت گلستاں تو کروں اب اس کا میں کیا بیاں\nکہ الم جدائی کا ہر زماں مرے ایک دل پہ ہزار تھا\n\nشب ہجر کے کہیں کیا الم نظر آئے صبح کو بہتے یم\nکہ بہ جوش بارش ابر غم پہ بندھا سرشک کا تار تھا\n\nتپ غم سے تھا جو جلا بلا مرے سینے میں دل مبتلا\nسو دھواں ہو یوں وہ ہوا ہوا کہ نہ شعلہ تھا نہ شرار تھا\n\nکبھی دست زلف سے تھے بہم کبھی رخ کے لیتے تھے بوسے ہم\nشب و روز اب تو ہے درد و غم کبھی ووں بھی لیل و نہار تھا\n\nجسے یاد اپنی لگائیے اسے صاف دل سے بھلائیے\nٹک ادھر تو آنکھ ملائیے یہی ہم سے قول و قرار تھا\n\nشب ہجر اب یہ ستائے ہے کہ خزان مرگ دکھائے ہے\nوہ رخ اب کہاں نظر آئے ہے کہ جو رشک صبح بہار تھا\n\nمجھے شب جو نشۂ غم چڑھا تو پھرا کیا میں کھڑا کھڑا\nرہا غش میں صبح کو جو پڑا اسی کیف کا یہ اتار تھا\n\nہوئی حیرت اب جو دو چند یاں کروں اور وجہ میں کیا بیاں\nرخ یار صبح کو مہر ساں مگر آئنے سے دو چار تھا\n\nمجھے ایک عاشق خستہ کی کہیں کل جو قبر نظر پڑی\nنہ کسی سے کوئی لگائے جی یہ کھدا بہ لوح مزار تھا\n\nدم قتل کوئی جو بول اٹھا تو خجل ہو کیا وہ خفا ہوا\nاسے تم نے ذبح عبث کیا یہ تمہارا شکر گزار تھا\n\nکوئی ناؤ بحر میں تھی رواں کئی اس میں بیٹھے تھے مہو شاں\nکہیں اس گروہ کے درمیاں در ناز بھی وہ سوار تھا\n\nتو بہ موج پرتو ماہ سا کہو اضطراب میں دل کا کیا\nکبھی پار تھا کبھی وار تھا کبھی وار تھا کبھی پار تھا\n\nغزل اور قافیے کو بدل میں سناؤں یاروں کو بر محل\nہوا مختصر نہ بہ یک غزل کہ بڑا فسانۂ یار تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%D9%81%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "شب وصل روٹھا ہے دلبر کسی کا", "poet_page": "مصنف:راجہ نوشاد علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب وصل روٹھا ہے دلبر کسی کا\nنہ یوں بن کے بگڑے مقدر کسی کا\n\nغش آیا جو مجھ کو تو ظالم یہ بولا\nنہ رکھیں گے زانو پہ ہم سر کسی کا\n\nمسہری پہ پھولوں کی سوتا ہے کوئی\nتڑپتا ہے کانٹوں پہ مضطر کسی کا\n\nگئے وہ تو تقدیر پھوٹی کسی کی\nوہ آئے تو چمکا مقدر کسی کا\n\nدم قتل بھی منہ پھرائے ہوئے ہے\nبڑا بے مروت ہے خنجر کسی کا\n\nوہ دیکھا کئے لے کے سیماب پہروں\nجو یاد آ گیا قلب مضطر کسی کا\n\nصبا جا کے چپکے سے کہنا کسی سے\nدل آیا ہے اے شوخ تجھ پر کسی کا\n\nپس مرگ آیا جو تربت پہ قاصد\nتو رویا بہت نام لے کر کسی کا\n\nشب وصل میرا کچھ اصرار کرنا\nبڑھانا وہ شرما کے زیور کسی کا\n\nنہ پامال کر اس کو غنچہ سمجھ کر\nیہ دل ہے ارے او ستم گر کسی کا\n\nتڑپتا ہے نوشادؔ فرقت میں ہر دم\nجدا ہو کسی سے نہ دلبر کسی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%B1%D9%88%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "شب وصل ضد میں بسر ہو گئی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب وصل ضد میں بسر ہو گئی\nنہیں ہوتے ہوتے سحر ہو گئی\n\nنگہ غیر پر بے اثر ہو گئی\nتمہاری نظر کو نظر ہو گئی\n\nکسک دل میں پھر چارہ گر ہو گئی\nجو تسکیں پہر دوپہر ہو گئی\n\nلگاتے ہیں دل اس سے اب ہار جیت\nادھر ہو گئی یا ادھر ہو گئی\n\nجواب ان کی جانب سے دینے لگا\nیہ جرأت تجھے نامہ بر ہو گئی\n\nبرے حال سے یا بھلے حال سے\nتمہیں کیا ہماری بسر ہو گئی\n\nمیسر ہمیں خواب راحت کہاں\nذرا آنکھ جھپکی سحر ہو گئی\n\nجفا پر وفا تو کروں سوچ لو\nتمہیں مجھ سے الفت اگر ہو گئی\n\nنگاہ ستم میں کچھ ایجاد ہو\nکہ یہ تو پرانی نظر ہو گئی\n\nتسلی مجھے دے کے جاتے تو ہو\nمبادا جو جوع دگر ہو گئی\n\nکہیں حسن سے بھی ہے کاہیدگی\nنہ ہونے کے قابل کمر ہو گئی\n\nشب وصل ایسی کھلی چاندنی\nوہ گھبرا کے بولے سحر ہو گئی\n\nکہی زندگی بھر کی شب واردات\nمری روح پیغام بر ہو گئی\n\nکہو کیا کروگے مرے وصل کی\nجو مشہور جھوٹی خبر ہو گئی\n\nغم ہجر سے داغؔ مجھ کو نجات\nیقیں تھا نہ ہوگی مگر ہو گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%B6%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "شب وصل کی بھی چین سے کیوں کر بسر کریں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب وصل کی بھی چین سے کیوں کر بسر کریں\nجب یوں نگاہبانیِ مرغِ سحر کریں\n\nمحفل میں اک نگاہ اگر وہ ادھر کریں\nسو سو اشارے غیر سے پھر رات بھر کریں\n\nطوفانِ نوح لانے سے اے چشم فائدہ؟\nدو اشک بھی بہت ہیں، اگر کچھ اثر کریں\n\nآز و ہوس سے خلق ہوا ہے یہ نامراد\nدل پر نگاہ کیا ہے، وہ مجھ پر نظر کریں\n\nکچھ اب کے ہم سے بولے تو یہ جی میں ہے کہ پھر\nناصح کو بھی رقیب سے آزردہ تر کریں\n\nواں ہے وہ نغمہ جس سے کہ حوروں کے ہوش جائیں\nیاں ہے وہ نالہ جس سے فرشتے حذر کریں\n\nاہلِ زمانہ دیکھتے ہیں عیب ہی کو بس\nکیا فائدہ جو شیفتہ عرضِ ہنر کریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%86%DB%8C%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شب وصل کیا مختصر ہو گئی", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب وصل کیا مختصر ہو گئی\nذرا آنکھ جھپکی سحر ہو گئی\n\nنگاہوں نے سب راز دل کہہ دیا\nانہیں آج اپنی خبر ہو گئی\n\nبڑی چیز ہے طرز بیگانگی\nیہ ترکیب اگر کارگر ہو گئی\n\nالٰہی برا ہو غم عشق کا\nسنا ہے کہ ان کو خبر ہو گئی\n\nکئے مجھ پہ احساں غم یار نے\nہمیشہ کو نیچی نظر ہو گئی\n\nنمایاں ہوئی صبح پیری جگرؔ\nبس اب داستاں مختصر ہو گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AE%D8%AA%D8%B5%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "شب وصل ہے بحث حجت عبث", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب وصل ہے بحث حجت عبث\nیہ شکوے عبث یہ شکایت عبث\n\nہوا ان کو کب اعتماد وفا\nجتاتے رہے ہم محبت عبث\n\nیہاں اب تو کچھ اور سامان ہے\nوہ آتے ہیں بہر عیادت عبث\n\nنصیبوں سے اپنے ہے شکوہ ہمیں\nکریں کیوں کسی کی شکایت عبث\n\nمرا حال سن کر وہ ہیں بے قرار\nکیا کس نے ذکر محبت عبث\n\nفلک مر مٹوں سے نہ رکھ یہ غبار\nمٹا بے کسوں کی نہ تربت عبث\n\nسنوں گا تری ہوش میں آ تو لوں\nابھی سے ہے ناصح نصیحت عبث\n\nیہ پردہ حسینوں کو لازم نہ تھا\nچھپاتی ہیں یہ اچھی صورت عبث\n\nوہ پہلے سلوک آپ کے یاد ہیں\nمرے حال پر اب عنایت عبث\n\nتکلف میں پھر وہ کہاں سادگی\nیہ آرائش حسن و زینت عبث\n\nحفیظؔ اس زمیں میں کہو شعر کم\nدکھاؤ نہ زور طبیعت عبث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%AD%D8%AB_%D8%AD%D8%AC%D8%AA_%D8%B9%D8%A8%D8%AB"} {"title": "شب وعدہ ادھر مجھ کو ہنسی سی آئی جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:بوم میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب وعدہ ادھر مجھ کو ہنسی سی آئی جاتی ہے\nادھر ان کی نظر ہے خود بخود شرمائی جاتی ہے\n\nابے سالے رہا ہے رات بھر دشمن کے پہلو میں\nترے چہرے سے کچھ شرمندگی سی پائی جاتی ہے\n\nدیا کرتے ہیں مجھ کو آتشیں رخسار کا بوسہ\nسمجھتا ہوں طبیعت اب میری گرمائی جاتی ہے\n\nبڑھاپا ہے کہ مجھ پر رات دن وہ آئے جاتا ہے\nجوانی ہے کہ تجھ پر رات اور دن چھائی جاتی ہے\n\nشب وعدہ انہیں سختی سے میں لپٹا تو فرمایا\nاجی چھوڑو طبیعت اب میری گھبرائی جاتی ہے\n\nیہ ایسا کام ہے جو سات پردوں میں نہیں چھپتا\nکہیں بھی ہوں ہزاروں کوس تک رسوائی جاتی ہے\n\nمیری خلوت میں رکھی ہیں برہنہ تیری تصویریں\nطبیعت بس انہیں سے رات دن بہلائی جاتی ہے\n\nشب وعدہ بھی کوشش کر رہے ہیں مجھ سے بچنے کی\nکچھ ایسی بات میرے کان میں سمجھائی جاتی ہے\n\nابے میں جانتا ہوں اس میں کوئی راز پنہاں ہے\nرقیبوں سے میرے سر کی قسم جو کھائی جاتی ہے\n\nہزاروں رات گزریں اس طرح سے دل کو بہلاتے\nوہ اب آتے ہیں اب تشریف ان کی آئی جاتی ہے\n\nزمانہ ہو گیا اس کام کو اس بات کو گزرے\nمگر چہرہ پہ اب بھی شرم سی کچھ پائی جاتی ہے\n\nجوانی کا زمانہ پھر جوانی کا زمانہ ہے\nبچے انسان کتنا ہی طبیعت آئی جاتی ہے\n\nکلام اچھا سنائے یا سنائے فحش وہ غزلیں\nجناب بومؔ سے محفل میں رونق آئی جاتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "شب وعدہ ہے تو ہے اور میں ہوں", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب وعدہ ہے تو ہے اور میں ہوں\nہجوم آرزو ہے اور میں ہوں\n\nدل بیگانہ خو ہے اور میں ہوں\nبغل میں اک عدو ہے اور میں ہوں\n\nمٹاتا ہی رہا جس کو مقدر\nوہ میری آرزو ہے اور میں ہوں\n\nپریشاں خاطری کہتی ہے اپنی\nکسی کی جستجو ہے اور میں ہوں\n\nشب تنہائی فرقت میں دل سے\nکچھ اس کی گفتگو ہے اور میں ہوں\n\nگلستاں جہاں ہے قابل سیر\nطلسم رنگ و بو ہے اور میں ہوں\n\nنگاہ لطف دلبر کا ہے اظہار\nپھٹے دل کا رفو ہے اور میں ہوں\n\nکہیں چھوڑا اگر قاتل کا دامن\nتو پھر میرا لہو ہے اور میں ہوں\n\nجلالؔ اس کو بنایا اس نے دشمن\nقیامت میں عدو ہے اور میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "شب کس سے یہ ہم جدا رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب کس سے یہ ہم جدا رہے ہیں\nتا صبح نپٹ خفا رہے ہیں\n\nآنا ہے تو آ وگرنہ پیارے\nہم آپ سے آج جا رہے ہیں\n\nبیٹھیں پس کار خویش کیوں کر\nجو ناز ترے اٹھا رہے ہیں\n\nویرانے سے میرے ڈر نہ اے چغد\nاک وقت تو یاں ہما رہے ہیں\n\nاے ہستی تو کھینچ نقش باطل\nہم ہیں تو اسے مٹا رہے ہیں\n\nپھر عازم گریہ ہوں کہ طوفاں\nجوں ابر نظر میں چھا رہے ہیں\n\nرونا ہے اگر یہی تو قائمؔ\nاک خلق کو ہم ڈبا رہے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شب کو تم ہم سے خفا ہو کر سحر کو اٹھ گئے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب کو تم ہم سے خفا ہو کر سحر کو اٹھ گئے\nشمع ساں رو رو کے ہم بھی دل جگر کو اٹھ گئے\n\nتھے ابھی تو پاس ہی اپنے قرار و ہوش و صبر\nتیرے آتے ہی نہ جانے وہ کدھر کو اٹھ گئے\n\nتو نہ نکلا گھر سے باہر صبح سے لے شام تک\nدیکھ دیکھ آخر ترے دیوار و در کو اٹھ گئے\n\nکس سے پوچھوں حال میں باشندگان دل کا ہائے\nاس نگر کے رہنے والے کس نگر کو اٹھ گئے\n\nاے خوشا وے جو کہ وارستہ تعلق سے ہوئے\nجس جگہ چاہا رہے چاہا جدھر کو اٹھ گئے\n\nدیر و کعبہ ہی کو جانا کچھ نہیں لازم غرض\nجس طرف پائی خبر اس کی ادھر کو اٹھ گئے\n\nشہر میں رونے کے ہاتھوں جب نہ رہنے پائے ہم\nکوہ و صحرا کی طرف لے چشم تر کو اٹھ گئے\n\nپوچھتا ہے حال کیا آوارگان ہند کا\nکچھ ادھر کو اٹھ گئے اور کچھ ادھر کو اٹھ گئے\n\nتو اکیلا اس جگہ بیٹھا کرے گا کیا حسنؔ\nتیرے ساتھی تو کبھی کے اپنے گھر کو اٹھ گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "شب کو مری چشم حسرت کا سب درد دل ان سے کہہ جانا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب کو مری چشم حسرت کا سب درد دل ان سے کہہ جانا\nدانتوں میں دبا کر ہونٹ اپنا کچھ سوچ کے اس کا رہ جانا\n\nمے خانہ میں آنا زاہد کا پھر در پہ ٹھٹک کر رہ جانا\nساقی کے اشاروں کا مستوں کچھ کان میں سب کے کہہ جانا\n\nاے یاس نہ مانوں گا تیری بس دل کو زیادہ اب نہ دکھا\nسمجھا چکی اس کی پہیلی نگہ دکھ درد جو ہو وہ سہہ جانا\n\nمانا کہ فقط موہوم سہی ملنے کی ہمیں اک آس تو ہے\nدیدار تو ہو لے دیدۂ تر بہنا ہو اگر تب بہہ جانا\n\nنالے ہوں کہ آہیں اے شب غم جب آ گئیں لب پر صبر کیا\nسہنے کو تو سب کچھ دل نے سہا سہنے کی طرح کب سہہ جانا\n\nبنیاد جمانے میں جن کی کیا کچھ نہ بہا تھا خون جگر\nاے وا اسفا ان محلوں کا اک چشم زدن میں ڈھ جانا\n\nشب کو وہ ہتھیلی سے ان کا شرما کے چھپانا آنکھوں کو\nبرچھی کا ادا کی چل جانا اس تیر نظر کا رہ جانا\n\nاترے نہ کسی کے جب دل میں اس بات کا حاصل کیا واعظ\nکہنے کو کہی یوں اپنی سی افسوس نہ تو نے کہہ جانا\n\nہم باغ میں ناحق آئے تھے بلبل کی حکایت کیا کہئے\nمنقار کو رکھ کر کلیوں پر کچھ اپنی زباں میں کہہ جانا\n\nسن لیں دل ناداں کی باتیں بیکار بگاڑیں کام اپنا\nوہ ظلم کریں ہم پر کہ ستم اے شادؔ ہمیں تو سہہ جانا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A8_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "شب کو نالہ جو مرا تا بہ فلک جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "شب کو نالہ جو مرا تا بہ فلک جاتا ہے\nصبح کو مہر کے پردے میں چمک جاتا ہے\n\nاپنا پیمانۂ دل ہے مئے غم سے لبریز\nبوند سے بادۂ عشرت کی چھلک جاتا ہے\n\nکمر یار کی لکھتا ہوں نزاکت جس دم\nخامہ سو مرتبہ کاغذ پہ لچک جاتا ہے\n\nیاد آتی ہے کبھی صحبت احباب اگر\nایک شعلہ ہے کہ سینے میں بھڑک جاتا ہے\n\nچاندنی چھپتی ہے تکیوں کے تلے آنکھوں میں خواب\nسونے میں ان کا دوپٹہ جو سرک جاتا ہے\n\nوصل کے ذکر پہ کہتے ہیں بگڑ کر دیکھو\nایسی باتوں سے کلیجہ مرا پک جاتا ہے\n\nدل لیا ہے تو خدا کے لئے کہہ دو صاحب\nمسکراتے ہو تمہیں پر مرا شک جاتا ہے\n\nپیار کرنے کو جو بڑھتا ہوں تو کہتے ہیں ہٹو\nنشہ میں آ کے کوئی ایسا بہک جاتا ہے\n\nساقیا جام پلا سیخ سے اترا ہے کباب\nدیر اچھی نہیں اب لطف گزک جاتا ہے\n\nلب خنداں سے نہ دیں کس لئے قاتل کو دعا\nروز زخموں پہ نمک آ کے چھڑک جاتا ہے\n\nشیفتہ شاہد رعنائے سخن کا ہوں حبیبؔ\nنئے انداز پہ دل میرا پھڑک جاتا ہے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D8%A7_%D8%A8%DB%81_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "شب کو پھرے وہ رشک ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب کو پھرے وہ رشک ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو\nدن کو پھروں میں داد خواہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو\n\nقبلہ نہ سرکشی کرو حسن پہ اپنے اس قدر\nتم سے بہت ہیں کج کلاہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو\n\nخانہ خراب عشق نے کھو کے مری حیا و شرم\nمجھ کو کیا ذلیل آہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو\n\nتو نے جو کچھ کہ کی جفا تا دم قتل میں سہی\nمیری وفا کے ہیں گواہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو\n\nتیری کمند زلف کے ملک بہ ملک ہیں اسیر\nبسمل خنجر نگاہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو\n\nکل تو نے کس کا خوں کیا مجھ کو بتا کہ آج ہے\nشور و فغاں و آہ آہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو\n\nمجھ کو بلا کے قتل کر یا تو مرے گناہ بخش\nہوں میں کہاں تلک تباہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو\n\nسینہ فگار و جامہ چاک گریہ کناں و نعرہ زن\nپھرتے ہیں تیرے داد خواہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو\n\nتاباںؔ ترے فراق میں سر کو پٹکتا رات دن\nپھرتا ہے مثل مہر و ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%81_%DA%A9%D9%88"} {"title": "شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا\nشعلۂ جوالہ ہر یک حلقۂ گرداب تھا\n\nواں کرم کو عذر بارش تھا عناں گیر خرام\nگریہ سے یاں پنبۂ بالش کف سیلاب تھا\n\nواں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال\nیاں ہجوم اشک میں تار نگہ نایاب تھا\n\nجلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جو\nیاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا\n\nیاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو\nواں وہ فرق ناز محو بالش کمخواب تھا\n\nیاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی\nجلوۂ گل واں بساط صحبت احباب تھا\n\nفرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موج رنگ کا\nیاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا\n\nناگہاں اس رنگ سے خوں نابہ ٹپکانے لگا\nدل کہ ذوق کاوش ناخن سے لذت یاب تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%B2%DB%81%D8%B1%DB%82_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "شب کہ مطرب تھا شراب ناب تھی پیمانہ تھا", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "شب کہ مطرب تھا شراب ناب تھی پیمانہ تھا\nوہ پری وش کیا نہ تھا گویا کہ جو کچھ تھا نہ تھا\n\nسوز دل سے لب یہ ہر دم نالہ بیتابانہ تھا\nہجر ساقی میں کسی پہلو قرار اصلا نہ تھا\n\nجلوہ گر دل میں خیال عارض جانانہ تھا\nگھر کی زینت تھی کہ زینت بخش صاحب خانہ تھا\n\nکیا کروں اب مبتلا ہوں آپ اپنے حال میں\nدی تھی نعمت اس نے جب لب پر مرے شکرانہ تھا\n\nشہرۂ آفاق ہوتی میری ازخود رفتگی\nخیریت گزری کہ آنکھوں سے تجھے دیکھا نہ تھا\n\nفصل گل میں چھوڑتا مے دیکھ کر ماہ صیام\nکچھ جنوں مجھ کو نہ تھا وحشت نہ تھی سودا نہ تھا\n\nکیا کہوں ڈر یہ ہے وہ لیلیٰ ادا رسوا نہ ہو\nورنہ مجنوں سے بھی کچھ بڑھ کر میرا افسانہ نہ تھا\n\nگر نزاکت میں نہ ہوتا مثل تار عنکبوت\nخوب الفت سے زمانہ میں کوئی رشتہ نہ تھا\n\nیوں ضعیفی آ گئی گویا ازل سے تھے ضعیف\nاور شباب ایسا گیا جیسے کبھی آیا نہ تھا\n\nہے یقیں عاشق تمہارا مر گیا ہو لو خبر\nمیں نے کل دیکھا تھا جا کر حال کچھ اچھا نہ تھا\n\nنیم باز آنکھیں تمہارا نام تھا ورد زباں\nزخم دل پر ہاتھ تھا لب پر مگر شکوہ نہ تھا\n\nبخت کی برگشتگی گزری ہے حد سے اے حبیبؔ\nدیکھتے ہیں ان کے تلوے جن کا منہ دیکھا نہ تھا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B7%D8%B1%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%86%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھا\nرشتۂٴ ہر شمع خارِ کِسوتِ فانوس تھا\n\nبت پرستی ہے بہارِ نقش بندی ہائے دہر\nہر صریرِ خامہ میں اک نالۂ ناقوس تھا\n\nمشہدِ عاشق سے کوسوں تک جو اُگتی ہے حنا\nکس قدر یا رب! ہلاکِ حسرتِ پابوس تھا\n\nحاصلِ الفت نہ دیکھا جز شکستِ آرزو\nدل بہ دل پیوستہ، گویا، یک لبِ افسوس تھا\n\nکیا کروں بیماریِ غم کی فراغت کا بیاں\nجو کہ کھایا خونِ دل، بے منتِ کیموس تھا\n\nکل اسدؔ کو ہم نے دیکھا گوشۂ غم خانہ میں\nدست بر سر، سر بزانوئے دلِ مایوس تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3_%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%AA_%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B3_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "شب کے ہیں ماہ مہر ہیں دن کے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب کے ہیں ماہ مہر ہیں دن کے\nروپ دیکھے بتان کمسن کے\n\nبوسے ہیں بے حساب ہر دن کے\nوعدے کیوں ٹالتے ہو گن گن کے\n\nہیں وہ دیوانے جذب باطن کے\nاتری ہے شیشہ میں پری جن کے\n\nاہل دل دیکھتے ہیں آپ کا منہ\nآئنے میں صفائی باطن کے\n\nدل رواں ہو خیال یار کے ساتھ\nجائے مسکن بھی ساتھ ساکن کے\n\nلاغروں پر ہے ظلم جاں شکنی\nاے اجل توڑتی ہے کیوں تنکے\n\nرہے کلکتہ میں مخیر منیرؔ\nصدقے اپنے امام ضامن کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%81%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%92"} {"title": "شب ہجر آہ کدھر گئی کہوں کس سے نالہ کدھر گیا", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب ہجر آہ کدھر گئی کہوں کس سے نالہ کدھر گیا\nجو گزر گئی وہ گزر گئی جو گزر گیا وہ گزر گیا\n\nجو تمہاری آنکھ سے گر پڑا جو تمہارے دل سے اتر گیا\nوہ غریب جیتے جی مر گیا وہ کہاں گیا وہ کدھر گیا\n\nکوئی اپنے بچنے کا ڈھب نہیں کوئی زندگی کا سبب نہیں\nمرے پاس دل بھی تو اب نہیں وہ ادھر گئے یہ ادھر گیا\n\nکوئی درد ہو تو دوا کروں نہ بنے دوا تو دعا کروں\nاسے کیا کہوں اسے کیا کروں کہ میں ان کے دل سے اتر گیا\n\nاسے دل لگی کا مزا ملا اسے عاشقی کا مزا ملا\nاسے زندگی کا مزا ملا جو تری اداؤں پہ مر گیا\n\nکوئی دوست ہے کہ غلام ہے کوئی یہ بھی طرز کلام ہے\nوہ کہاں گیا وہ کہاں گیا وہ کدھر گیا وہ کدھر گیا\n\nترے ظلم اور ستم سہے ترے جاں نثار بھی ہم رہے\nنہ رقیب جس کو ہر اک کہے کہ تری جفاؤں سے ڈر گیا\n\nرہے کیوں نہ سینے میں دم خفا یہ نیا ستم ہے نئی جفا\nکہوں کیا صفیؔ کوئی بے وفا مرے دل کو لے کر مکر گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D8%A2%DB%81_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "شب ہجر صحرائے ظلمات نکلی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب ہجر صحرائے ظلمات نکلی\nمیں جب آنکھ کھولی بہت رات نکلی\n\nمجھے گالیاں دے گیا وہ صریحاً\nمرے منہ سے ہرگز نہ کچھ بات نکلی\n\nہوا وادیٔ قتل صحرائے محشر\nمری نعش جب روز میقات نکلی\n\nکمی کر گیا ناز پنہاں کا خنجر\nنہ جاں تیرے بسمل کی ہیہات نکلی\n\nتو اے مصحفیؔ اب تو گرم سخن ہو\nشب آئیں دراز اور برسات نکلی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B8%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%AA_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%8C"} {"title": "شب ہجراں تھی میں تھا اور تنہائی کا عالم تھا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب ہجراں تھی میں تھا اور تنہائی کا عالم تھا\nغرض اس شب عجب ہی بے سر و پائی کا عالم تھا\n\nگریباں غنچۂ گل نے کیا گلشن میں سو ٹکڑے\nکہ ہر فندق پر اس کے طرفہ رعنائی کا عالم تھا\n\nنہال خشک ہوں میں اب تو یارو کیا ہوا یعنی\nکبھی اس بید مجنوں پر بھی شیدائی کا عالم تھا\n\nلکھے گر جا و بے جا شعر میں نے ڈر نہیں اس کا\nکہ میں یاں تھا سفر میں مجھ پہ بے جائی کا عالم تھا\n\nحنا بھی تو لگا دیکھی پہ وہ عالم کہاں ہے اب\nہمارے خوں سے جو ہاتھوں پہ زیبائی کا عالم تھا\n\nچلا جب شہر سے مجنوں طرف صحرا کی یوں بولا\nنصیب اپنے تو اس عالم میں رسوائی کا عالم تھا\n\nیہ عالم ہم نے دیکھا مصحفیؔ ہاں اپنی آنکھوں سے\nکہ بندہ جی سے اس معشوق ہرجائی کا عالم تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "شب ہجراں میں دم نکلتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب ہجراں میں دم نکلتا ہے\nکب پیام وصال ٹلتا ہے\n\nدل بیمار سے ہے تنگ مسیح\nداغ سے آفتاب جلتا ہے\n\nبے زری سے ہوں پائمال بتاں\nزور کس کا خدا سے چلتا ہے\n\nدل نہ لے اے صنم برائے خدا\nاس سے کچھ جی مرا بہلتا ہے\n\nآتش عشق زلف پیچاں ہے\nہڈیوں سے دھواں نکلتا ہے\n\nتیرے ہنسنے پہ میں جو روتا ہوں\nابر مانند برق جلتا ہے\n\nتجھ سے اے اشک ماہ فرقت ہو\nرنگ کیا کیا فلک بدلتا ہے\n\nاپنے بیمار کو نہ پوچھ مسیح\nاب کوئی دم میں دم نکلتا ہے\n\nداغ کا جسم زار سے ہے فروغ\nخس سے جیسے چراغ جلتا ہے\n\nسرد یا عرش پائے قاتل پر\nلاش پر وہ بھی ہاتھ ملتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%85_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "شب ہجراں میں مت پوچھو کہ کن باتوں میں رہتا ہوں", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب ہجراں میں مت پوچھو کہ کن باتوں میں رہتا ہوں\nتصور باندھ اس کا صبح تک کچھ کچھ میں کہتا ہوں\n\nجو دیکھو غور کر تو جز و کل بالکل مجھی میں ہے\nکبھی ہوں اک حباب آسا کبھی دریا ہو بہتا ہوں\n\nترے رکنے سے پیارے بس مرا دم رکنے لگتا ہے\nنہیں تو بولتا تو بولیاں کن کن کی سہتا ہوں\n\nنہیں ملتی ہے فرصت غیر اسے گھیرے ہی رہتے ہیں\nکہوں کچھ حال دل بس ڈھونڈھتا اتنا سبہتا ہوں\n\nیہ جوش اشک نے طوفاں اٹھایا ہے کہ اے جرأتؔ\nکہے ہے کشور تن میں تو کوئی دم کو ڈہتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AA_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%D9%86_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانے", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانے\nجو دن پڑتے ہیں راتوں کو مجھے تیری بلا جانے\n\nجدا ہم سے ہوا تھا ایک دن جو اپنے یاروں میں\nخبر پھر کچھ نہ پائی کیا ہوا واقع خدا جانے\n\nنہ رکھ اے ابر تو سر پر ہمارے بار منت کا\nوہ بادل اور ہیں جو آگ کو دل کی بجھا جانے\n\nنہ رکھ اے دل تو امید وفا ان بے وفاؤں سے\nخدا سے ہے وہ بیگانہ جو بت کو آشنا جانے\n\nجنوں نے اس کے گل سے بلبلوں تک شور ڈالا ہے\nیقیںؔ سا ہو کوئی تب اس طرح دھومیں مچا جانے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "شب ہم کو جو اس کی دھن رہی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شب ہم کو جو اس کی دھن رہی ہے\nکیا جی میں ادھیڑ بن رہی ہے\n\nمجنوں سے کہو کہ ماں کے لیلیٰ\nخاطر تری طعنے سن رہی ہے\n\nپروانہ تو جل چکا ولے شمع\nسر اپنا ہنوز دھن رہی ہے\n\nپہلو سے اٹھا مرے نہ غبغب\nیہ پوٹلی درد چن رہی ہے\n\nیہ آہ پہ لخت دل جلے ہیں\nیا سیخ کباب بھن رہی ہے\n\nرکھوں نہ عزیز داغ دل کو\nپاس اپنے یہی تو ہن رہی ہے\n\nاے مینہ نہ برس کہ مصحفیؔ کی\nچھت گھر کی تمام گھن رہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%DA%BE%D9%86_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "شباب آیا کسی بت پر فدا ہونے کا وقت آیا", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شباب آیا کسی بت پر فدا ہونے کا وقت آیا\nمری دنیا میں بندے کے خدا ہونے کا وقت آیا\n\nانہیں دیکھا تو زاہد نے کہا ایمان کی یہ ہے\nکہ اب انسان کو سجدہ روا ہونے کا وقت آیا\n\nخدا جانے یہ ہے اوج یقیں یا پستئ ہمت\nخدا سے کہہ رہا ہوں نا خدا ہونے کا وقت آیا\n\nہمیں بھی آ پڑا ہے دوستوں سے کام کچھ یعنی\nہمارے دوستوں کے بے وفا ہونے کا وقت آیا\n\nنوید سربلندی دی منجم نے تو میں سمجھا\nسگان دہر کے آگے خدا ہونے کا وقت آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D9%81%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "شباب ہو کہ نہ ہو حسن یار باقی ہے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شباب ہو کہ نہ ہو حسن یار باقی ہے\nیہاں کوئی بھی ہو موسم بہار باقی ہے\n\nکچھ ایسی آج پلائی ہے چشم ساقی نے\nنہ ہوش ہے نہ کوئی ہوشیار باقی ہے\n\nپکارتا ہے جنوں ہوش میں جو آتا ہوں\nٹھہر ٹھہر ابھی فصل بہار باقی ہے\n\nکمال عشق تو دیکھو وہ آ گئے لیکن\nوہی ہے شوق وہی انتظار باقی ہے\n\nکسی شراب کی ہو کیا طلب جلیلؔ مجھے\nمئے الست کا اب تک خمار باقی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "شباب ہوش کہ فی الجملہ یادگار ہوئی", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شباب ہوش کہ فی الجملہ یادگار ہوئی\nجو عمر صرف تماشائے حسن یار ہوئی\n\nحساب حسرت جرم نظارہ دل سے پوچھ\nنظر تو ایک جھلک کی گناہگار ہوئی\n\nبساط عجز میں اک آہ تھی متاع حیات\nسو وہ بھی صرف ستم ہائے روزگار ہوئی\n\nبقدر ہستی دل ہے خمار غم بدنام\nخزاں خراب بہ اندازۂ بہار ہوئی\n\nنہیں کہ آہ میں تاثیر ہی نہیں لیکن\nیہ دل فگار کبھی آسماں فگار ہوئی\n\nکرم ہے راز امید کرم کی ہستی کا\nامید تیرے کرم کی امیدوار ہوئی\n\nبلا سے ہجر میں جینے کی انتہا تو ہے\nوہ ایک بار ہوئی یا ہزار بار ہوئی\n\nازل میں خلق ہوئی تھی جو بجلیوں کی روح\nتری نگاہ مری جان بے قرار ہوئی\n\nمرے وجود کی حجت مرے عدم کی دلیل\nوہ اک نظر تھی جو شاید جگر کے پار ہوئی\n\nبہار نذر تغافل ہوئی خزاں ٹھہری\nخزاں شہید تبسم ہوئی بہار ہوئی\n\nامید مرگ پہ فانیؔ نثار کیا کیجے\nوہ زندگی کہ ہوئی بھی تو مستعار ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%B4_%DA%A9%DB%81_%D9%81%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D8%AC%D9%85%D9%84%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "شبلی وحالی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "مسلم سے ایک روز یہ اقبالؔ نے کہا\nدیوانِ جُزو و کُل میں ہے تیرا وجود فرد\n\nتیرے سرودِ رفتہ کے نغمے علومِ نَو\nتہذیب تیرے قافلہ ہائے کُہن کی گرد\n\nپتھّر ہے اس کے واسطے موجِ نسیم بھی\nنازک بہت ہے آئنۂ آبرُوئے مرد\n\nمردانِ کار، ڈھُونڈ کے اسبابِ حادثات\nکرتے ہیں چارۂ ستَمِ چرخِ لاجورد\n\nپُوچھ اُن سے جو چمن کے ہیں دیرینہ رازدار\nکیونکر ہوئی خزاں ترے گُلشن سے ہم نبرد\n\nمسلم مرے کلام سے بے تاب ہوگیا\nغمّاز ہوگئی غمِ پنہاں کی آہِ سرد\n\nکہنے لگا کہ دیکھ تو کیفیّتِ خزاں\nاوراق ہو گئے شجَرِ زندگی کے زرد\n\nخاموش ہو گئے چمَنِستاں کے رازدار\nسرمایۂ گداز تھی جن کی نوائے درد\n\nشبلیؔ کو رو رہے تھے ابھی اہلِ گلستاں\nحالیؔ بھی ہوگیا سوئے فردوس رہ نورد\n\n“اکنوں کرا دماغ کہ پُرسد زباغباں\nبُلبل چہ گفت و گُل چہ شنید و صبا چہ کرد”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8%D9%84%DB%8C_%D9%88%D8%AD%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "شبنم اور ستارے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اک رات یہ کہنے لگے شبنم سے ستارے\nہر صبح نئے تجھ کو میّسر ہیں نظارے\nکیا جانیے، تُو کتنے جہاں دیکھ چُکی ہے\nجو بن کے مِٹے، اُن کے نشاں دیکھ چُکی ہے\nزُہرہ نے سُنی ہے یہ خبر ایک مَلک سے\nانسانوں کی بستی ہے بہت دُور فلَک سے\nکہہ ہم سے بھی اُس کشورِ دلکش کا فسانہ\nگاتا ہے قمر جس کی محبت کا ترانہ\n\nاے تارو نہ پُوچھو چمَنِستانِ جہاں کی\nگُلشن نہیں، اک بستی ہے وہ آہ و فغاں کی\nآتی ہے صبا واں سے پلٹ جانے کی خاطر\nبے چاری کلی کھِلتی ہے مُرجھانے کی خاطر\nکیا تم سے کہوں کیا چمن افروز کلی ہے\nننھّا سا کوئی شُعلۂ بے سوز کلی ہے\nگُل نالۂ بُلبل کی صدا سُن نہیں سکتا\nدامن سے مرے موتیوں کو چُن نہیں سکتا\nہیں مُرغِ نواریز گرفتار، غضب ہے\nاُگتے ہیں تہِ سایۂ گُل خار، غضب ہے\nرہتی ہے سدا نرگسِ بیمار کی تَر آنکھ\nدل طالبِ نظّارہ ہے، محرومِ نظر آنکھ\nدل سوختۂ گرمیِ فریاد ہے شمشاد\nزندانی ہے اور نام کو آزاد ہے شمشاد\nتارے شررِ آہ ہیں انساں کی زباں میں\nمیں گریۂ گردُوں ہوں گُلستاں کی زباں میں\nنادانی ہے یہ گِردِ زمیں طوف قمر کا\nسمجھا ہے کہ درماں ہے وہاں داغ جگر کا\nبنیاد ہے کاشانۂ عالم کی ہوا پر\nفریاد کی تصویر ہے قرطاسِ فضا پر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8%D9%86%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے\nداغِ دلِ بے درد، نظر گاہِ حیا ہے\n\nدل خوں شدۂ کشمکشِ حسرتِ دیدار\nآئینہ بہ دستِ بتِ بدمستِ حنا ہے\n\nشعلے سے نہ ہوتی، ہوسِ شعلہ نے جو کی\nجی کس قدر افسردگیِ دل پہ جلا ہے\n\nتمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بصد ذوق\nآئینہ بہ اندازِ گل آغوش کشا ہے\n\nقمری کفِ خا کستر و بلبل قفسِ رنگ\nاے نالہ! نشانِ جگرِ سو ختہ کیا ہے؟\n\nخو نے تری افسردہ کیا وحشتِ دل کو\nمعشوقی و بے حوصلگی طرفہ بلا ہے\n\nمجبوری و دعوائے گرفتاریِ الفت\nدستِ تہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفا ہے\n\nمعلوم ہوا حالِ شہیدانِ گزشتہ\nتیغِ ستم آئینۂ تصویر نما ہے\n\nاے پرتوِ خورشیدِ جہاں تاب اِدھر بھی\nسائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے\n\nسر رشتۂ بے تابیِ دل در گرہِ عجز\nپرواز بخوں خُفتہ و فریاد رسا ہے\n\nناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد\nیا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے\n\nبیگانگیِ خلق سے بیدل نہ ہو غالبؔ\nکوئی نہیں تیرا، تو مری جان، خدا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8%D9%86%D9%85_%D8%A8%DB%81_%DA%AF%D9%84_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%B2_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "شبنم تو باغ میں ہے نہ یوں چشم تر کہ ہم", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شبنم تو باغ میں ہے نہ یوں چشم تر کہ ہم\nغنچہ بھی اس قدر ہے نہ خونی جگر کہ ہم\n\nجوں آفتاب اس مہ بے مہر کے لیے\nایسے پھرے نہ کوئی پھرا در بدر کہ ہم\n\nکہتا ہے نالہ آہ سے دیکھیں تو کون جلد\nاس شوخ سنگ دل میں کرے تو ہے گھر کہ ہم\n\nہے ہر در سخن پہ سزا وار گوش یار\nموتی صدف رکھے ہے پر ایسے گہر کہ ہم\n\nمنہ پر سے شب نقاب اٹھا یار نے کہا\nروشن جمال دیکھ تو اب ہے قمر کہ ہم\n\nزر کیا ہے مال تجھ پہ کریں نقد جاں نثار\nاتنا تو اور کون ہے اے سیم بر کہ ہم\n\nتا زیست ہم بتوں کے رہے ساتھ مثل زلف\nیوں عمر کس نے کی ہے جہاں میں بسر کہ ہم\n\nغصہ ہو کس پہ آئے ہو جو تیوری چڑھا\nلائق عتاب کے نہیں کوئی مگر کہ ہم\n\nبیدارؔ شرط ہے نہ پلک سے پلک لگے\nدیکھیں تو رات جا کے ہے یا تو سحر کہ ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8%D9%86%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AA%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%85"} {"title": "شبِ معراج", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اخترِ شام کی آتی ہے فلک سے آواز\nسجدہ کرتی ہے سحَر جس کو، وہ ہے آج کی رات\n\nرہِ یک گام ہے ہمّت کے لیے عرشِ بریں\nکہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8%D9%90_%D9%85%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%AC"} {"title": "شبیر کا غم یہ جس کے دل پر ہوگا", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "شبیر کا غم یہ جس کے دل پر ہوگا\nآنسو جو گرے گا شکل گوہر ہوگا\nپوچھے گا خدا جب ایسے در کی قیمت\nتب حشر میں جوہری پیمبر ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "شبیہ خنجر قاتل بنا کر", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "شبیہ خنجر قاتل بنا کر\nرکھی سینے میں ہم نے دل بنا کر\n\nجنوں دل کو نہ میرے بیٹھنے دے\nاٹھا دے مست لا یعقل بنا کر\n\nنگاہ بد کا اندیشہ ہے مجھ کو\nوہ بیٹھے ہیں جبیں پر تل بنا کر\n\nجو قابو تجھ پہ ہوتا میرا اے جان\nتجھے پہلو میں رکھتا دل بنا کر\n\nڈرایا پرسش محشر سے ناحق\nپشیماں ہوں تجھے قاتل بنا کر\n\nاٹھایا حشر میں بھی مجھ کو اس نے\nسوال دید کا سائل بنا کر\n\nاڑا لے چل ہوائے شوق مجھ کو\nغبار رہرو منزل بنا کر\n\nنکالا آرزوئے دل کو انجمؔ\nتمنائے دل بسمل بنا کر", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%A8%DB%8C%DB%81_%D8%AE%D9%86%D8%AC%D8%B1_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "شتاب کھو گئی پیری جوانی دو دن کی", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شتاب کھو گئی پیری جوانی دو دن کی\nچھپی سحر میں شب کامرانی دو دن کی\n\nکسی کی ہات میں دل دے کے پاؤں لگ (سو) رہئے\nخوشی سے کیوں نہ کٹے زندگانی دو دن کی\n\nیہ دل کو لگتے ہی توڑا جو ان نے سو گئے بخت\nمیرے نصیبوں کی رہ گئی کہانی دو دن کی\n\nاسے میں طوف کے حلقہ میں گھیرے رکھا تھا\nعجب تھی اس پہ مری پاسبانی دو دن کی\n\nیہ داغ دل لئے جاؤں گا گور میں عزلتؔ\nمحبت اس کی تھی سو بھی زبانی دو دن کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DA%BE%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AF%D9%88_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "شتابی اپنے دیوانے کو کر بند", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شتابی اپنے دیوانے کو کر بند\nمسلسل زلف سے کر یا نظر بند\n\nترا شیدا نہ ٹھہرا جاں سا اک دم\nگیا لے کوٹ میں لوہے کے کر بند\n\nجو تجھ پر اور کو ترجیح دے دیکھ\nبس اس اندھے کی آنکھیں ہیں مگر بند\n\nتڑپتا بے قراری آہ و زاری\nہوئیں یہ حالتیں کیوں کر سطر بند\n\nہے شعلہ آگ کا ہر آہ کے ساتھ\nیہ دل ہے یا ہے سینے میں شرر بند\n\nپیارے ڈر خدا سے اپنی آنکھیں\nہماری طرف سے اتنی نہ کر بند\n\nتجھے خورشید رو، جی بھر کے دیکھوں\nہوئی جاتی ہے میری آنکھ پر بند\n\nعزیزو مصر دل کی راہ ہے دور\nرہ ظلمات میں ہے گا یہ در بند\n\nجو چاہے دو جہاں کا کام لے گا\nہے باندھا جس نے ہمت کا کمر بند\n\nرہو ٹک اظفریؔ اب چشم کھولے\nرہیں گی آنکھ پھر شام و سحر بند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%D9%86%D8%AF"} {"title": "شجر باغ جہاں کا تھا جہاں تک سب ثمر لایا", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شجر باغ جہاں کا تھا جہاں تک سب ثمر لایا\nمگر اک نخل آہ اس میں نہ ہم نے کچھ اثر پایا\n\nبرا تو مانتے ہیں میرے رو رو عرض کرنے پر\nبھلا تم نے کبھی کچھ ہنس کے میرے حق میں فرمایا\n\nجہاں اک ہستیٔ بے بود ہے جیوں عکس آئینہ\nجو ہم نے غور کر دیکھا تو دھوکا ہی نظر آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%AC%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D8%B3%D8%A8_%D8%AB%D9%85%D8%B1_%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "شدت ذات نے یہ حال بنایا اپنا", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شدت ذات نے یہ حال بنایا اپنا\nجسم مجنوں میں ہوا تنگ شلوکا اپنا\n\nیار بنتا نہیں وہ نور کا پتلا اپنا\nخاک میں مل گیا تسخیر کا دعویٰ اپنا\n\nمیکشوں میں نہ کوئی مجھ سا نمازی ہوگا\nدر مے خانہ پہ بچھتا ہے مصلیٰ اپنا\n\nوصل کی رات بہت طول ہوا آخر کار\nمختصر یہ ہے کہ فیصل ہوا قصہ اپنا\n\nگل کھلا کر ابھی بلبل کو جلاؤں کیا کیا\nوہ عنایت کریں گر پور کا چھلا اپنا\n\nرب ارنی کی صدا ہو بھی تو بت بول اٹھیں\nآپ دکھلائیں اگر دیر میں جلوا اپنا\n\nآئینہ خانہ میں چل بیٹھیے دو چار گھڑی\nدیکھنا ہووے جو منظور تماشا اپنا\n\nجیتے جی خویش و اقارب تھے پس مرگ افسوس\nخاک میں داب دیا کوئی نہ سمجھا اپنا\n\nکسی صیاد کی پڑ جائے نہ چڑیا پہ نظر\nآپ سرکائیں نہ محرم سے دوپٹا اپنا\n\nآپ سو بار اکھڑ جائیں نہیں کچھ پروا\nجم گیا ایک پری زاد سے نقشہ اپنا\n\nدام محرم میں پھنسایا ہے خدا خیر کرے\nآشیانہ نہ بنا بیٹھے یہ چڑیا اپنا\n\nگرم خوابی نے تری ذبح کیا اے قاتل\nایک دم بھی نہ کلیجا ہوا ٹھنڈا اپنا\n\nرند مشرب ہیں کسی سے ہمیں کچھ کام نہیں\nدیر اپنا ہے نہ کعبہ نہ کلیسا اپنا\n\nہے وہی سر وہی سودا وہی جوش وحشت\nوصل تبدیل ہوئی رنگ نہ بدلا اپنا\n\nان کی زلفوں کو یہ دعویٰ ہے کہ ہم کالے ہیں\nہم نے بچتے نہیں دیکھا کبھی مارا اپنا\n\nغیر سے رکھیے نہ امداد کی امید آغاؔ\nکام آتا ہے مری جان بھروسا اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%AF%D8%AA_%D8%B0%D8%A7%D8%AA_%D9%86%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "شراب", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "فضول ہے\nیہ گفتگو ہے\nنگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیں\nچلو چلیں\nچلو چلیں جہاں ہمیں خیال ہی نہ آئے زندگی نظر کی بھول ہے\nچلو چلیں جہاں یہ در یہ دستکوں پہ دستکیں سنائی ہی نہ دے سکیں\nجہاں یہ روزن زبوں نگاہ کی مخاصمت نہ کر سکے\nجہاں کھلی فضا کھلی فضا کہ جیسے کوئی کہہ رہا ہو آئیے\nیہ کہہ رہی ہو آئیے کھلی فضا ہے یہ یہاں تو آئیے\n\nمگر کھلی فضا میں بھی کبھی گڑھے کبھی ستادہ پیڑ کہہ رہے ہیں دیکھیے\nیہ گفتگو فضول ہے\nفضول ہے\nنگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیں\nچلو چلیں\nجو گود ماں کی تھی وہ ماں کی گود تھی\nوہاں ہر ایک بات جو فضول تھی وہ ایک بھول تھی\nنگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیں\nچلو چلیں\nبہن یہ کہہ رہی تھی اب تو آپ گھر بسا ہی لیں\nمیں سوچتا تھا کس کا گھر ہمارا گھر تمہارا گھر\nاور اس پہ بھائی بول اٹھا فضول ہے یہ گفتگو فضول ہے\nنگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیں\n\nچلو چلیں جہاں نہ کوئی طاق ہو نہ چند بوتلیں جہاں نہ کہہ سکیں چلو چلیں\nیہ گفتگو فضول ہے\nمگر وہاں کوئی گڑھا نہ ہو نہ کوئی پیڑ ہو\nوہاں سکون آخری سے جا ملیں\n\nمگر یہاں بھی طاق پر رکھی ہیں چند بوتلیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "شراب آئے تو کیف و اثر کی بات کرو", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شراب آئے تو کیف و اثر کی بات کرو\nپیو تو بزم میں فکر و نظر کی بات کرو\n\nفسانۂ خم گیسو میں کیف کچھ بھی نہیں\nنظام عالم زیر و زبر کی بات کرو\n\nچمن میں دام بچھاتا ہے وقت کا صیاد\nگلوں سے حوصلۂ بال و پر کی بات کرو\n\nقبائے زہد کی پاکیزگی تو دیکھ چکے\nشراب خانے میں دامان تر کی بات کرو\n\nکہانیاں شب ہجراں کی ہو چکی ہیں تمام\nسحر طلوع ہوئی ہے سحر کی بات کرو\n\nچمن چمن میں ادھر ہو رہی ہے حد بندی\nکھلی فضائیں جدھر ہیں ادھر کی بات کرو\n\nگلوں کا ذکر بہاروں میں کر چکے اخترؔ\nاب آؤ ہوش میں برق و شرر کی بات کرو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%81_%D9%88_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "شراب خون جگر ہے ہم کو شراب ہم لے کے کیا کریں گے", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شراب خون جگر ہے ہم کو شراب ہم لے کے کیا کریں گے\nگزک کی جا ہے دل برشتہ کباب ہم لے کے کیا کریں گے\n\nہزار پردہ میں تم چھپاؤ پہ حسن چھپتا نہیں مری جاں\nتمہارے عارض یہ کہہ رہے ہیں نقاب ہم لے کے کیا کریں گے\n\nہمارے نقد دل و جگر کو حساب کے بعد پھیر دیں گے\nحساب لینے کا ان سے حاصل حساب ہم لے کے کیا کریں گے\n\nہمیں جو بھیجا ہے تم نے مصحف تو یار حرف آشنا نہیں ہم\nدکھاؤ اپنا رخ کتابی کتاب ہم لے کے کیا کریں گے\n\nبتوں کی الفت سے بعض آئیں مگر جو دل مان جائے واعظ\nعذاب میں جان پڑ گئی ہے ثواب ہم لے کے کیا کریں گے\n\nجو منع کرتا ہے دل نہ دیں گے بتوں کو ناصح مگر خدارا\nبتا دے تو ہی کہ اس طرح کا عذاب ہم لے کے کیا کریں گے\n\nخدا کی بخشی ہوئی ہے وقعت اثرؔ نہیں کوئی ایسی نعمت\nملی ہے جب عزت سیادت خطاب ہم لے کے کیا کریں گے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AE%D9%88%D9%86_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%85_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "شراب ناب کا قطرہ جو ساغر سے نکل جائے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شراب ناب کا قطرہ جو ساغر سے نکل جائے\nتڑپ کے دل مرا قابوئے دلبر سے نکل جائے\n\nخوشی میں کہہ رہا ہوں آمد آمد ہے جو اس گل کی\nکوئی کہہ دے کہ ویرانی مرے گھر سے نکل جائے\n\nستاتے ہیں رقیب آ آ کے میں گو چھپ کے بیٹھا ہوں\nعجب یہ ظلم ہے کوئی کدھر گھر سے نکل جائے\n\nاگر سن لے کہ تیرے سخت جاں کی باری آ پہنچی\nسمٹ کر آب خنجر چشم جوہر سے نکل جائے\n\nنکالو روز گھر سے ڈر نہیں لیکن یہ ہے دھڑکا\nکہ میرا نام ہی اک دن نہ دفتر سے نکل جائے\n\nگھٹا کے میں نے اپنا شوق دل لکھا ہے جاناں کو\nکہ اڑنے میں نہ خط آگے کبوتر سے نکل جائے\n\nنہ جانے کی کرو جلدی کہ قصہ ختم ہوتا ہے\nٹھہر جاؤ ذرا دم جسم لاغر سے نکل جائے\n\nقفس میں دام میں میرے پھڑکنے کا یہ باعث ہے\nہوا پرواز کرنے کی مرے پر سے نکل جائے\n\nاجازت ابر کو در پر ٹھہرنے کی نہیں دیتے\nبس اتنا حکم ہے آ کے فقط برسے نکل جائے\n\nرشیدؔ سوختہ دل سر پٹکنے پر ہے آمادہ\nکہو ہر اک شرر سے جلد پتھر سے نکل جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%86%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D9%82%D8%B7%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "شراب ناب کو منہ سے ذرا لگا واعظ", "poet_page": "مصنف:جگرؔ بسوانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شراب ناب کو منہ سے ذرا لگا واعظ\nمے طہور کا میں وصف سن چکا واعظ\n\nتری طرح نہیں توڑا کبھی کسی کا دل\nجو ہم نے توڑی بھی توبہ تو کیا ہوا واعظ\n\nمیں جانتا ہوں حقیقت بہشت و دوزخ کی\nخدا کے واسطے باتیں نہ تو بنا واعظ\n\nگناہگار ہیں ہم ذات ہے غفور اس کی\nخدا خدا کر ارے تو نہیں خدا واعظ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%86%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "شراب پی جان تن میں آئی الم سے تھا دل کباب کیسا", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "شراب پی جان تن میں آئی الم سے تھا دل کباب کیسا\nگلے سے لگ جاؤ آؤ صاحب کہاں کا پردہ حجاب کیسا\n\nاب آؤ بھی ہر طرف تکلف نقاب کیسی کہاں کا پردہ\nجھکائے کیوں سر ہو شرم سے تم عیاں ہے رخ سے حجاب کیسا\n\nبڑھا جو میں رکھ کے عذر مستی کہا یہ ہنس کر چڑھا کے تیوری\nہٹو ذرا ہوش میں رہو جی سنبھالو دل اضطراب کیسا\n\nتمہیں مبارک ہو جو لیا ہے بھلا دو جو ہم کو دے دیا ہے\nجو ہو گیا اس کا ذکر کیا ہے یہ دوستوں میں حساب کیسا\n\nبہار کے دن ہیں کیا مزہ ہے شراب کا دور چل رہا ہے\nلگا ہے سبزہ چمن کھلا ہے برس رہا ہے سحاب کیسا\n\nمیں رشک مجنوں ہوں دیکھ ادھر تو نہ لا صبا گلستاں کی خوشبو\nغبار کی ہے دماغ کو خو کہاں کا عطر اور گلاب کیسا\n\nوہ چشم کرتی ہے صید آہو ہیں اتنے تیر مژہ ترازو\nپکار ہوگی یہ کل کو ہر سو کریہہ ہے مشک ناب کیسا\n\nکبھی وہ مستی میں رنگ لائے کبھی کیا شاد مسکرائے\nعجب طرح کے مزے اٹھائے وصال کی شب میں خواب کیسا\n\nنہ میل کر ساقیا یوں ہی دے پسند مجھ کو نہیں کوئی شے\nجگر پہ چرکا لگے پیاپے کہاں کا پانی گلاب کیسا\n\nنہیں ہے دوزخ کا دل کو کچھ غم مری بھی سن ناصحا ذرا تھم\nرحیم وہ پر گناہ ہیں ہم عذاب کیسا ثواب کیسا\n\nجو روز ہے رخ تو زلف ہے شب ذقن ہے مانند چاہ نخشب\nیہ حال ہے بچپنے میں یا رب تو ہوگا عہد شباب کیسا\n\nیہ دور ہے چشم سرمہ گوں کا فلک ہے اک قطرہ بحر خوں کا\nجہان میں رنگ ہے فسوں کا ہے مست ہر شیخ و شباب کیسا\n\nحبیبؔ ہیں بند کام تیرے کہاں ہیں شاہ انام تیرے\nنہیں پہنچتے امام تیرے ہے بندۂ بو تراب کیسا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%BE%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7"} {"title": "شرارے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "خود کو بہلانا تھا آخر خود کو بہلاتا رہا\nمیں بہ ایں سوز دروں ہنستا رہا گاتا رہا\nمجھ کو احساس فریب رنگ و بو ہوتا رہا\nمیں مگر پھر بھی فریب رنگ و بو کھاتا رہا\nمیری دنیائے وفا میں کیا سے کیا ہونے لگا\nاک دریچہ بند مجھ پر ایک وا ہونے لگا\nاک نگار ناز کی پھرنے لگیں آنکھیں مجازؔ\nاک بت کافر کا دل درد آشنا ہونے لگا\nعین ہنگام طرب روح طرب تھرا گئی\nدفعتاً دل کے افق پر اک گھٹا سی چھا گئی\nایک آغوش تمنا کا تقاضا دیکھ کر\nایک دل کی سرد مہری بھی مجھے یاد آ گئی\nمجرم سرتابی حسن جواں ہو جائیے\nگل فشانی تا کجا شعلہ فشاں ہو جائیے\nکھائیے گا اک نگاہ لطف کا کب تک فریب\nکوئی افسانہ بنا کر بد گماں ہو جائیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "شربت وصل پلا جا لب شیریں کی قسم", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شربت وصل پلا جا لب شیریں کی قسم\nجان جاتا ہے مرا سورۂ یٰسیں کی قسم\n\nدیکھ مجھ حال کوں اے تازہ بہار خوبی\nاشک رنگیں ہیں رواں دامن گلچیں کی قسم\n\nمکتب عشق میں آ عقل کی تختی دھوناں\nراست ہے یہ سخن استاد کی تلقیں کی قسم\n\nشیشۂ خاطر نازک کوں مرے مت کر چور\nاے ستم گر تجھے اپنے دل سنگیں کی قسم\n\nاشک ہے تیل شب ہجر میں اے جان سراجؔ\nہر پلک حسرت زیتون ہے والتیں کی قسم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D8%A8%D8%AA_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%BE%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D8%A7_%D9%84%D8%A8_%D8%B4%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85"} {"title": "شرر کے سفرنامے/اٹلی کی مختصر سیر", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر > شرر کے سفرنامے", "year": null, "text_ur": "اٹلی کی مختصر سیر\n\nکریٹ کے سواحل جب ہماری نظر سے غائب ہو گئےاور چند چھوٹے چھوٹے جزائر یونان نےقدیم دیوبانی کی کہانیاں زبان حال سے سنا کے اپنے سر بُعد کے دُھندلکے میں چھپا لیے تو تھوڑی دیر کے لیے ہمارا جہاز ایک ناپیدا کنار حصۂ بحر میں آگیا۔ ہماری نگاہیں خشکی کی جستجو میں ابھی اچھی طرح تھکنے بھی نہیں پائی تھیں کہ سامنے اور داہنے ہاتھ کی طرف پھیلے ہوئے ہمیں سواحل ایطالیہ نظر آئے جن کو شوق کی کشش ساعت بساعت قریب کرتی جاتی تھی۔ تقریباً ایک گھنٹے کے اندر ہم سواحل کے قریب ہی تھے، مگر ابھی وہ مقام دور تھا جہاں جہاز لنگر انداز ہونے کو ہے۔\n\nجس طرح یونان کے بعد دولت روما نے ترقی کا جھنڈا بلند کیا تھا، اسی طرح یونانی سواحل کے بعد اب ہم ایطالیۂ عظمی (روم) کے سواحل کی اجمالی سیر دور ہی دور سے کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس قدیم صفحہ پر جدید ترقی نے رنگ چڑھا دیا ہے اور نئی وضع کے مکانات اور گاؤں نظر کے سامنے آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ آبادی اپنے ایشیا کے سواحل کی بہ نسبت ہمیں یہاں زیادہ نظر آتی ہے۔ یہاں پہاڑیوں کا سلسلہ اس طرح ملا ہوا نہیں ہے جس طرح ہمیں بمبئی اور عرب کے سواحل پر دکھائی دیتا تھا، پہاڑیوں کے درمیان میں اکثر جگہ کھلے مسطح اور سرسبز و شاداب میدان بھی نظر کے سامنے ہو جاتے ہیں۔\n\nچار بجے معلوم ہوا کہ برنڈزی کا خلیج سامنے نظر آتا ہے۔ دور بینیں آنکھوں پر لگ گئیں اور ہر شخص عید کے چاند کی طرح اٹلی کے اس بندرگاہ کی عمارتوں کو دیکھنے لگا۔ سمندر کے اندر ایک خوشنما برج سامنے نظر آیا، جو دراصل لائٹ ہوس (روشنی کا مینار) تھا۔ اس برج کے قریب پہنچے تو ایک دوسرا برج دکھائی دیا، ان دونوں برجوں کے درمیان میں ایک خلیج سی واقع ہے جو خلیج برنڈزی کہلاتی ہے اور اس کے دہانے پر دونوں جانب یہ دو برج یا لائٹ ہوس پھاٹک کا کام دے رہے ہیں۔\n\nجہاز اس دریائی پھاٹک میں داخل ہوا اور چند ہی منٹ گزرے ہوں گے کہ ٹھیک سوا چار بجے ساحل سے لگا کھڑا تھا۔ ہمارے ورود کا تماشہ دیکھنے کے لیے ادھر ادھر سے بہت لوگ آکے جمع ہو گئے تھے، ان میں ہمیں بہت سےبانکے ترچھے نوجوان نظر آئے جو دور بینیں لگائے اپنی نگاہوں سے رسم خیر مقدم ادا کر رہے تھے، جہاز کے ٹھہرتے ہی ایک بڑا اور لمبا تختہ زمین کی طرف سے پھیر کے جہاز کے کنارے پر رکھ دیا گیا اور ایک پل سا بن گیا جس پر سے مزدور اور دیگر قسم کے لوگ جہاز میں آنے لگے۔ تھوڑی دیر میں جہاز پر ہنگامہ بپا ہو گیا، مزدور چلا چلا کے اٹیلین زبان میں باتیں کرتے ہوئے آتے تھے اور ایک ایک کا اسباب اٹھانے کی کوشش کرتے۔ بہت سے لوگوں کے جانے کے بعد ہمارے اترنے کی بھی باری آئی، ہم اپنا اسباب لے کے سیدھے کسٹم ہوس میں گئے، سب صندوق کھولے گئے اور سارا اسباب خوب اچھی طرح الٹ پلٹ کے دیکھ لیا جا چکا تو ایک بڑی سی گاڑی میں بیٹھ کے ہم نے اسٹیشن کی راہ لی۔ اسٹیشن دور پر ہے اور قریب قریب سارے شہر میں گزر کے وہاں تک پہنچتے ہیں۔\n\nبرنڈزی ایک چھوٹا سا شہر ہے اور نہایت میلا کچیلا مقام ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے ایک بہت چھوٹا سا گاؤں تھا، جب سے جہازوں کی آمد و رفت شروع ہوئی یکایک ترقی کر گیا، مگر صرف محنت مزدوری کرنے والے اور عام قسم کے لوگ آکے آباد ہو گئے ہیں۔ راستے ہی میں ہمیں ایک میدان یا احاطہ سا نظر آیا، جہاں صدہا مزدور اور عوام الناس جمع تھے۔ یہ لوگ شرابیں پی رہے تھے، جرٹ کا دھواں ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ یہ سب مزدور اگرچہ میلے اور پھٹے پرانے کپڑے پہنے تھے مگر آزادی ہی نہیں، خوفناک خود سری کا نشہ سب کے دماغ میں نظر آتا تھا۔ ہم اور ہمارے ہم سفر انگریز سب کا شمار یہاں آفاقی سیاحوں میں تھا۔ ان مزدوروں نے ہمیں عجیب عجیب قسم کی مختلف نگاہوں سے دیکھا اور ہمیں دیکھ کے بھیانک چہرے بنا لیے اور بعضوں نے منہ چڑھا دیا۔\n\nہمارے ہم وطن تمام عیسائیوں کو انگریزوں ہی پر قیاس کرتے ہیں۔ بعض مسلمان خیال کرتے ہیں اور کبھی کبھی اہل ہند کو دھوکا دینے کے لیے مشنری پادری بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ جیسی ضعیف الاعتقادیاں مسلمانوں میں ہیں اور جس قسم کی قبر پرستی اور تبرکات پرستی کا رواج جہلائے اہل اسلام میں ہے، عیسائیوں میں نہیں، مگر برنڈزی میں پہنچ کے ہمیں معلوم ہوا کہ عیسائیوں کے مہذب لوگ بھی اس بارۂ خاص میں اتنے بڑھے ہوئے ہیں کہ ہمارے جہلا سے کہیں زیادہ تجاوز کر گئے ہیں۔ اس شہر میں اور تمام اٹلی میں عموما ضعیف الاعتقادی انتہا سے زیادہ بڑھی ہوئی ہے، جگہ جگہ پر ایسے مقامات ملتے ہیں جن کی نسبت کبھی تو یہ کہا جاتا ہے کہ یہاں کسی نے مریم صدیقہ یا کسی اور سینٹ کو خواب میں دیکھا تھا، کہیں بتایا جاتا ہے کہ یہاں کسی ولی کا کوئی معجزہ نظر آگیا تھا۔ قدم قدم پر ایسی زیارت گاہیں اور ضعیف الاعتقادی کی یادگاریں نظر آتی ہیں اور آج تک بتا رہی ہیں کہ جناب سرورکائنات بستر مرگ پر لیٹنے کی حالت میں بھی کیوں باربار یہ ارشاد فرماتے تھے کہ “لعن اللہ الیھود والنصاری، اتخذوا قبور أنبیائھم مساجد”۔ ہمارے ہندوستان کے مسلمانوں نے دراصل اصلی اور حقیقی عیسائیوں کو آج تک دیکھا ہی نہیں اور جن عیسائیوں کو دیکھا ہے وہ سینٹ پال کے اصلی معتقد نہیں بلکہ لوتھر کے مرید اور نیچری عیسائی ہیں۔\n\nاس مقام پر میں بد اخلاقوں کی بدتمیزیوں کا تذکرہ چھوڑے دیتا ہوں جو انسان کو عیسائی دنیا کے ہر نامی شہر میں نظر آیا کرتی ہیں، مگر اتنا بتا دینا چاہیے کہ برنڈزی بمقابلہ دیگر بلاد کے نہایت ہی مفلس شہر معلوم ہوتا ہے، دولت مندوں اور خوش پوشاک لوگوں کی بہت کم صورتیں نظر آتی ہیں، عموماً وہی لوگ ہوتے ہیں جو محنت و مزدوری پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہیں پہنچ کے ہمیں پہلے پہل یہ معلوم ہوا کہ چرٹ اور سگریٹ کس قدر قیمتی چیزیں ہیں اور یہی پہلا شہر تھا جو ہمیں فقیروں اور بھیک مانگنے والوں سے خالی نظر آیا، اس لیے کہ دریوزہ گری اور ہرکس وناکس کے آگے ہاتھ پھیلانے کی یہاں ممانعت ہے۔ اکثر غریبوں اور چھوٹے چھوٹے مفلس لوگوں نے گداگری کا یہ طریقہ اختیار کرلیا ہے کہ دیا سلائی کی ڈبیاں ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور بیچنے کے نام سے مانگتے ہیں، لیکن میں اتنا کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ روپیہ پیسہ مانگنے والے چاہے نہ نظر آئیں مگر سگریٹ اور چُرٹ مانگنے والے قدم قدم پر ملتے ہیں، آپ کو راستہ میں اور اسٹیشنوں پر ہر جگہ ایسے صدہا آدمی ملیں گے جو آپ کو چُرٹ جیب سے نکالتے دیکھ کے پاس آ کھڑے ہوتے ہیں یا ایک دیا سلائی روشن کرکے دوڑتے ہیں کہ لیجیے چُرٹ سلگائیے۔ ان سب لوگوں کو آپ سمجھ لیجیے کہ تمباکو کے فقیرہیں اور اگر آپ ان کی اس ابتدائی حالت کو دیکھ کے نہ سمجھے تو یہ تھوڑی دیرمیں خود ہاتھ پھیلا کے بتادیں گے۔ اسٹیشن پر پہنچتے پہنچتے ہمیں ایسے چار آدمیوں سے سابقہ پڑا اور ہمیں افسوس ہے کہ ہم سب کی خواہش نہیں پوری کر سکے۔\n\nمغرب کے وقت ٹکٹ لے کے ہم سونے کی گاڑیوں میں سوار ہوئے اور ٹرین روانہ ہوئی۔ یہ ٹرین سیدھی پیرس ہوتی ہوئی فرانس کی بندرگاہ کیلے کو جاتی ہے اور دو دن میں لندن پہنچا دیتی ہے، مگر ہم اس پر صرف رات بھر کے لیے سوار ہوئے ہیں؛ اس لیے کہ ہمیں سوئیٹزرلینڈ ہوتے ہوئے اور کوہستان آلپس کی سیر کرنے جانا ہے۔ شام کو ٦ بجے ٹرین روانہ ہوئی اور ہمیں اٹلی کے سواد دیکھنے کا ایسا شوق کہ گوآج دن کو تھک گئے ہیں مگر لیٹنے کو جی نہیں چاہتا۔ کھڑکی کے پاس بیٹھے سیر دیکھ رہے ہیں، خوش قسمتی سے چاندنی رات ہے اور نہایت ہی نکھری اور اجلی چاندنی ہے۔ سفید سفید اٹلی کی عمارات جوزیادہ تر ہمارے مذاق کی ہیں، اس وقت پر فضا میدانوں کی گود میں نہایت ہی خوشنما معلوم ہوتی ہیں۔ سردی زیادہ بڑھ گئی اور بڑھتی جاتی ہے، آخر ہوا میں زیادہ خنکی پیدا ہو گئی اور ہم گاڑی کی کھڑکی بند کرکے بچھونے پر لیٹ رہے۔\n\nصبح کو نہا دھو کے اور ناشتہ کرکے جب ہم پھر کھڑکی کے پاس آکے بیٹھے ہیں، اس وقت ہمیں زیادہ اطمینان سے اٹلی کے سوادکے اندازہ کرنے اور کھیتوں وغیرہ کے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ شہروں کے باہر اور دیہات اور کھیتوں کی خوبصورتی و آراستگی کے اعتبار سے اٹلی کا ملک ساری دنیا سے زیادہ خوش قسمت اور تمام دنیا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ انگلستان اورفرانس کے کھیتوں کو بھی اٹلی کے کھیتوں سے وہی نسبت ہے جو جنگل کو باغ سے ہوتی ہے۔ تمام کھیت مربع قطعات میں تقسیم ہیں اور حدود پر مینڈوں کی جگہ سایہ دار درختوں کی قطاریں چلی گئی ہیں اور درختوں میں انگور کی بیلیں جھالر کی طرح ہر طرف جہاں تک نظر جاتی ہے ہرے ہرے ہلال بناتی چلی گئی ہیں۔ سارے ملک اور تمام کھیتوں کی قریب قریب یہی حالت ہے اور جس طرف نظر اٹھا کے دیکھیے یہی مربع قطعات اور ان کے گرد درختوں کی متوازی صفیں اور ان میں انگور کی جھالریں دکھائی دیتی ہیں۔ کھیتوں اور صحراؤں میں تر و تازگی اور نزہت تو فرانس و انگلینڈ میں بھی اچھی طرح پیدا کرلی گئی ہے، مگر یہ خوشنما ئی اور لطف کہیں نہیں۔\n\nاٹلی کو صرف اسی بات میں ترجیح نہیں، یہاں کا حسن وجمال بھی یورپ کے دیگر مقامات سے بڑھا ہوا ہے۔ مردوں کا لباس تو قریب قریب سارے یورپ میں ایک ہو گیا ہے، مگر عورتوں کی وضع میں کسی قدر فرق ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اٹلی کی عورتوں کا لباس انگلستان سے زیادہ بانکا اور دلفریب ہے، وہاں کی ہر چیز میں ایک مشرقیت کی بوہے، وہ حسن و جمال اور وہ ناز و ادا جسے مشرقی آنکھیں ڈھونڈتی ہیں، ان کا پتہ اٹلی میں ہرجگہ اور ہر چیز سے لگ سکتا ہے۔ عورتیں اپنے گورےچہروں پر بالوں کو لٹکا کے جس خوبصورتی سے موڑتی ہیں، وہ بات انگلستان میں نہیں۔ ان کے چہروں کا گورا پن بھی بے مزہ نہیں اور نقشے بالکل ہندوستانی وضع و مذاق کے ہیں۔\n\nصبح کو آٹھ بجے گاڑی بولونیا میں پہنچی، یہ اٹلی کا ایک مشہور جنکشن اور بڑا شہر ہے۔ ہم نے یہاں گاڑی چھوڑ دی اور دوسری ٹرین کے انتظار میں تین گھنٹہ تک اسٹیشن پر ٹھہرے رہے۔ گاڑی بدلنے کی یہ ضرورت تھی کہ جس ٹرین پر ہم برنڈزی سے روانہ ہوئے،وہ انگلستان جانے والوں کو سیدھے راستہ لے جاتی ہے اور ہمیں سوئیٹزرلینڈ کی سیر کی غرض سے آلپس کی گھاٹیوں میں دن کو گزارنا تھا۔ بولونیا کے اسٹیشن پر ہمارے تین گھنٹہ عجب لطف سے گزرے، برابر لوگ آتے تھے اور ہمارے قریب ہی ویٹنگ روم میں بیٹھ کے ٹرینوں پر سوار ہوتے تھے، مگر افسوس یہ کہ انگریزی بولنے والا کوئی بھی نہ ملا۔ اٹلی والے اپنی زبان کے علاوہ عموماً فرنچ زبان بھی بولتے ہیں، مگر افسوس کہ ہم اور ہمارے ساتھی دونوں زبانوں سے نابلد تھے۔ میرا خیال ہے کہ جب تک انسان خود فرنچ زبان نہ جانتا ہو یا کم سے کم اپنے مذاق کا کوئی فرنچ دا ں ہمراہ نہ ہو، اس وقت تک کسی کو یورپ کی سیر میں کوئی لطف نہیں آسکتا۔\n\nآخر انتظار کا زمانہ گزر گیا، ٹرین آئی اور ہم نے سوار ہوکے شہر ملان کی راہ لی اور اُسی قسم کی سینریاں اور لطف دیکھتے ہوئے ۳ بجے ملان پہنچ گئے۔ ملان میں ہمارا ارادہ ایک شب قیام کرنے کا تھا تاکہ صبح کو سوار ہوکے ایسے وقت سوئٹزرلینڈ کے پہاڑوں میں پہنچیں جبکہ دن ہو اور اچھی طرح سیر ہو سکے۔ ملان کے اسٹیشن کے قریب ہی “ہوٹل ڈی نورڈ” تھا، جس میں جا کے ہم نے اپنا اسباب رکھا اور گاڑی پر سوار ہوکے شہر کی سیر کو روانہ ہوئے۔\n\nملان اٹلی ہی نہیں، سارے یورپ کے اعلی اور خوش سواد شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے اسے شہر وینس سے عجیب طرح نسبت دی ہے، کہتے ہیں کہ جس طرح وینس اندر اور باہر ہر جگہ سمندر اور پانی سے گھرا ہوا ہے، اسی طرح یہ شہر ہر طرف عمدہ سبزہ زاروں اور جاں فزا مرغزاروں کے جھرمٹ میں ہے۔ اٹلی میں قدامت کی یادگاریں اور تنزل کے نمونہ نمایاں نظر آتے ہیں اور ملان میں موجودہ ترقی کے آثار اور خوش حالی و دولت مندی کے اسباب ہویدا ہیں؛ اور بے شک اس کا ثبوت ہمیں اس دو گھڑی کی سیر میں بھی ہر جگہ اور ہر در و دیوار سے ملتا تھا۔ لوگ خوش حال اور خوش پوشاک ہیں، بیکار اور کاہل آدمیوں کا نام و نشان نہیں۔ زن و مرد کے چہروں سے فارغ البالی اور مشقت پسندی کی بشاشت ایک نور کی طرح چمکتی ہے۔ سڑکیں نہایت صاف ہیں بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ یہاں لندن کی سڑکوں سے بھی زیادہ صفائی کا انتظام ہے۔ گیس کی لالٹینوں کے اوپر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر برقی لیمپ چودھویں رات کے چاند کی طرح نور افشانی کر رہے ہیں۔ سڑکوں پر ہر وقت معمولی گھوڑے کی گاڑیوں کے علاوہ ٹریموے کی گاڑیاں دوڑتی نظر آتی ہیں اور ٹریموے بھی دونوں قسم کی، وہ بھی جن کو گھوڑے کھینچتے ہیں اور وہ بھی جو برقی قوت سےچلتی ہیں۔ ان تمام چیزوں کا مجموعی اثر ایک نئے جانے والے کے دل پر یہ پڑتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے جیسے یہ شہر جادو کا بنا ہوا ہے اور کوئی مافوق العادت چیز سارے کاروبار کو چلا رہی ہے۔\n\nاٹلی کا یہ نامی اور مشہور شہر قریب ایک مدور وضع میں آباد ہے جس کو پہلے ایک دس میل کی ناتمام فصیل اپنے غیر مکمل دائرہ میں لیے ہوئےہے۔ اس فصیل کے برابر ہی برابر درختوں کا ایک حلقہ بھی چاروں طرف پھیلا ہوا ہے، پھر اس فصیل کے اندر ایک دوسرا حلقہ ایک نہر سے بن گیا ہے، جو فصیل کے دائرہ اور مرکز کے عین درمیان میں ہے اور جس نے پانچ میل کے دور میں شہر کو گھیر لینا چاہا ہے۔ شہر کی گنجان اور خاص آبادی نہر کے حلقہ کے اندر ہے اور نہر کے باہر اور فصیل کے اندر بھی مکانات اور آبادی ہے، مگر اس حصے میں زیادہ تر نزہت افزا اور فرحت بخش باغ اور چمن ہیں جو یہاں کے عشرت پسند امرا اورجفاکش اہل شہر کے لیے بہت کچھ سامان لطف پیش کرتے ہیں۔\n\nہم گاڑی پر سوار ہو کے شہر کی آبادی، مصفا سڑکوں اور خوبصورت دکانوں کو دیکھتے ہوئے یہاں کے کیتھڈرل یعنی بڑے کنیسہ میں پہنچے جو خاص شہر روما کے بڑے گرجے کے بعد سارے یورپ کے گرجوں سے اول درجہ کا خیال کیا جاتا ہے، مگر افسوس کہ شام ہو جانے کی وجہ سے اندر جا کے اچھی طرح نہ دیکھ سکے۔ یہ گاتھک وضع کی عالیشان اور بے مثل عمارت اپنی قدامت کی شان سے شہر کے عین مرکز پر ایک مربع وضع میں کھڑی ہوئی ہے اور پوری سنگ مرمر سے بنی ہے۔ تقریباً پانچ سو سال پیشتر 1385؁ء میں جان گلیاز و پہلے ڈیوک ملان نے اس کو تعمیر کرانا شروع کیا تھا، مگر بنیاد اتنے بڑے اندازہ پر ڈالی گئی تھی کہ جان گلیازو کی زندگی کا وفا کرنا در کنار آج تک تکمیل نہ ہوسکی، نتیجہ یہ ہوا کہ مختلف عہدوں، مختلف مذاق کے کاریگروں کا ہاتھ لگا، جس کی وجہ سے یہ عمارت آج ہر قسم اور ہر مذاق کی عمارتوں کا مجموعہ نظر آتی ہے اور یہ بات پیدا ہوگئی ہے کہ گاتھک دروازہ اور ردکار میں یونانی وضع کی کھڑکیاں لگی ہوئی ہیں۔ پوری عمارت ایک لاطینی صلیب کی وضع میں نظر آتی ہے جس کا طول 493 فٹ، عرض 177فٹ، اور بلندی ٢83 فٹ ہے۔ اس گرجے میں ٥٢ محراب دار ستون، 98 برج اورکلس ہیں اور اندر باہر سب ملا کے 4400 پتھر کی ترشی ہوئی مورتیں نصب ہیں۔ ابھرے ہوئے کام کھدائی اور خوشنما سنگین مورتوں کے اعتبار سے یہ گرجا دنیا کے تمام گرجوں سے بڑھا ہوا ہے ؛ حتی کہ خود روما کے گرجے سینٹ پیٹرس کی بھی کوئی ہستی نہیں جو بہ لحاظ عمارت کے اس سے عمدہ خیال کیا جاتا ہے۔ اس کے اندر بنا ہوا دو ہرا راستہ، اس کے ستونوں کی مجموعی خوشنمائی، اس کی بلند محرابیں، اس کی سفید دیواروں کی چمک اور آب و تاب اور چاروں طرف کے بے شمار طاق جن پر ہزارہا سنگ مرمر کی ترشی ہوئی مورتیں رکھی ہیں، دیکھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے ایک ایسا سماں پیدا کر دیتے ہیں کہ انسان تمام عمارتوں کو بھول جاتا ہے اور اسی قسم کا سماں دکھانے کی اس کی تعمیر میں بھی کوشش کی گئی ہے۔ اس لیے کہ ستون اگرچہ 90 فٹ اونچی چھت کو اٹھائے ہوئے ہیں مگر 8 فٹ کے دور سے زیادہ موٹے نہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ تمام ستون کسی چیز کے دیکھنے میں بہت کم حاجب ہوتے ہیں اور اندر کی پوری فضا ہر طرف سے صاف اور کھلی نظر آتی ہے۔ چھت پر گنبد کے عین درمیان میں جناب مریم کی مورت نصب ہے اور ان ہی کے نام پر یہ گرجا نذر کر دیا گیا ہے۔ پیچھے تہ خانے میں ایک زیارت گاہ ہے جس میں سینٹ چارلس بورومیو دفن ہے۔چارلس بورومیو سولھویں صدی میں ملان کا آرچ بشپ یعنی بڑا پادری تھا، مرنے کے بعد ولیوں میں شمار کیا گیا اور آج تک اس کی قبر کی پرستش ہوتی ہے،اس سے منت مرادیں مانگی جاتی ہیں اور دور دور سے لوگ زیارت کو آتے ہیں۔\n\nبہت لوگوں کا خیال ہے کہ اس کنیسہ میں مورتیں ضرورت سے زیادہ ہیں اور اتنی ہیں کہ اگر ہزار دو ہزار نکال ڈالی جائیں تو رونق گھٹنے کی جگہ اور بڑھ جائے گی، مگر کیتھولک تصویر پرستی ایسا خوش نصیب دن نہیں آنے دیتی کہ اس گرجا کو یہ سادگی کا زیور نصیب ہو اور وجہ یہ کہ بڑے بڑے بتوں کے علاوہ جن کا شمار ہزار کے اوپر بتایا گیا ہے، در و دیوار اور طاقوں پر ہزارہا بےشمار مورتیں رکھی ہوئی ہیں، جنھوں نے زیبائش میں بہت کچھ بھدا پن پیدا کر دیا ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%81%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%92/%D8%A7%D9%B9%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AE%D8%AA%D8%B5%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D8%B1"} {"title": "شرر کے سفرنامے/سوئٹزرلینڈ", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر > شرر کے سفرنامے", "year": null, "text_ur": "سوئٹزرلینڈ\n\nیورپ میں سوئٹزرلینڈ کو قریب قریب وہی حیثیت حاصل ہے جو ایشیا میں ہمالیہ اور کاکیزس ماؤنٹین (کوہ قاف) کی وادیوں کو، بلکہ بعض انگریزی سیاح تو دعویٰ کرتے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ کی نزہت و شادابی اور وہاں کی سینریوں کی خوش نمائی ونظر فریبی دنیا بھر کے ممالک سے بڑھی ہوئی ہے۔ خیر اس کو تو ہم اسی خود پسندی کے اصول پر مبنی سمجھتے ہیں جس بنا پر کہ بعض وطن دوست انگریز لندن کے گرجے سینٹ پال کو روم کے سینٹ پیٹرس اور ملا ن کے بڑے کنیسہ پر ترجیح دینے لگے ہیں، لیکن اس میں شک نہیں کہ سوئٹزرلینڈ کے سواد میں خدا نے بہت کچھ دلفریبیاں ودیعت کر رکھی ہیں۔ کوہسار آلپس کا سلسلہ ملک کو ایک طرف سے دوسری طرف تک قطع کرتا چلا گیا ہے اور اسی کوہستان کے دامنوں اور اونچے اونچے سر بفلک قلوں کی گھاٹیوں میں یہ چھوٹا سا ملک آباد ہے اور جس طرف نگاہ اٹھا کے دیکھیے ایک ایسا دلفریب اور دلچسپ عالم نظر آتا ہے کہ ہر جگہ ؏\n\nکرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جاست\n\nتاہم کوہ قاف کی گھاٹیوں اور سرکیشیا کی سرزمین کی طرح یہاں یہ بات کہاں کہ نباتی پھولوں اور سبز پوشان چمن کی طرح انسانی چہرے بھی ہر طرف دلفریبیاں کر رہے ہوں، وہ پری جمال اور دلربا چہرے جو صدہا سال سے ایران اور روم کی حرم سراؤں کی رونق رہا کیے ہیں اور وہ نازک اندام اور آفت زمانہ لڑکیاں جو کوہ البرز وغیرہ کی گھاٹیوں کے لطیف آبشاروں میں ہاتھ منہ دھوتی اور مویشیوں کے گلے چراتی نظر آتی ہیں، ان کا سوئٹزر لینڈ کی بھدی مگر توانا و تندرست عورتوں میں کہیں پتہ نہیں۔ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آلپس کی گھاٹیوں میں چاہے وہ دل فریب حسن و جمال نہ ہو مگر ایسے ایسے نظر فریب منظر اور اس طرح کی جاں بخش سینریاں آنکھوں کے سامنے سے گزرتی ہیں کہ ہر مقام پر یہی جی چاہتا ہے کہ دین و دنیا چھوڑ کے یہیں بیٹھ رہئے۔\n\nالغرض یہ اور ایسا روح افزا اور فرحت بخش ملک ہے جہاں ہم ملان سے ریل پر سوار ہوکے اور اٹلی کی سرحد سے نکل کے پہنچے۔ ملان سے ٤ بجے کے قریب تیسرے پہر کو سوار ہوئے تھے۔ رات ہونے تک بلکہ اس وقت تک جب کہ ہم نے لیٹ کے سونے کا تہیہ کیا، وہی اٹلی کے خوشنما، تر و تازہ اور انگور کی بیلوں سے گھرے ہوئے کھیت نظر کے سامنے تھے، جن کے دیکھنے سے آنکھیں سیر ہو گئی تھیں اور جن میں اب کوئی جدت نہیں نظر آتی تھی۔ صبح کو تڑ کے ہی اٹھائے گئے،اس لیے کہ ٹرین چیاسو میں کھڑی ہوئی تھی جو جنوب کی طرف سوئٹزرلینڈ کا سرحدی اسٹیشن ہے اور جہاں مسافروں کے اسباب کی تلاشی لی جاتی ہے۔ ہم سب اپنا اسباب لے لے کے گاڑی سے اترے اور قیدیوں کی طرح ایک بڑے کمرے میں بند کر دیے گئے۔چنگی وصول کرنے والوں نے صندوقوں کو کھول کھول کے دیکھا اور پاس کیا۔ اس سخت امتحان سے نجات حاصل کرتے ہی ہم ایک دوسرے دروازے سے پھر پلیٹ فارم پر آئے اور گاڑی میں اسباب رکھا۔ موسمی صحت بخشی اور یہاں کی زندگی بخش آب و ہوا نے اتنا اثر یہیں ظاہر کر دیا کہ صبح کو ہم خلاف معمول بہت بھوکے اٹھے، کھانا ملنے میں ابھی دیر تھی اور انتظار کی طاقت نہ تھی۔ اسٹیشن پر نہایت عمدہ تر و تازہ اور شاداب انگور بکنے کو آئے جو بہت سستے تھے، ہم نے لے کے خوب سیرہو کے کھائے اور گاڑی آگے کو روانہ ہوئی۔\n\nتھوڑی دیر تک تو وہی اٹلی کی سواد نظر آتی رہی، مگر دو چار گھنٹے کے بعد ہمیں کوہستان آلپس کے سلسلے کی چوٹیاں نظر آنے لگیں اور زیادہ انتظار نہیں کرنے پائے تھے کہ انھیں پہاڑیوں کے اندر ہماری ٹرین گھسنے لگی اور وہ قدرتی مناظر ہماری نظر کے سامنے تھے، جن میں انسانی کاریگری کا ہاتھ بالکل نہیں لگاتھا۔ ریل سرسبز اور تر و تازہ پہاڑیوں کے اندر چلی جاتی ہے، کبھی بلندی پر چڑھتی ہے اور کبھی نشیب میں اترتی ہے اور پھر اسی نشیب و فراز کے درمیان میں ایسے خوش سواد اور دل میں ولولہ پیدا کرنے والے مرغزار اور قدرت کے لگائے ہوئے چمن نظر کے سامنے آتے ہیں اور کچھ ایسی کشش سے اپنی طرف بلاتے ہیں کہ ہمارے ایک ہمسفر انگلش دوست بار بار چلا کے کہہ اٹھتے ہیں: “مجھے نہ پکڑنا، میں یہیں کودا پڑتا ہوں”۔ جا بجا بڑے بڑے آبشار پہاڑوں کی چوٹیوں سے بہتے اوراور لہراتے ہوئے نیچے آتے ہیں اور ان سبزہ زاروں میں پانی پہنچا رہے ہیں۔ اکثر جگہ جہاں کہیں کوئی مسطح تختہ ہے، وہاں ایک چھوٹا شہر آباد ہے جس کی سفید سفید اور برف میں دھوئی ہوئی پختہ عمارتیں کچھ ایسی دل فریبی کرتی ہیں کہ ان پر سرور بخش اور جاں افزا وادیوں اور مرغزاروں سے بھی زیادہ بہار نظر آتی ہے۔ ہر چہار طرف سر بفلک پہاڑ جو قوی ہیکل دیوؤں کی طرح سر اٹھائے کھڑے ہیں، انھوں نے بھی انسان کے مانوس بنانے کے لیے برف کے سفید اور اجلے کپڑے پہن کے بہت کچھ مہذب صورت بنالی ہے۔ سردی اب بہت شدت پر ہے اور ہلکی ہلکی نسیم جو ان برف پوش قلہ ہائے کوہ سے آتی ہے، اس قدر ٹھنڈی ہے کہ کپڑوں کے اندر کیا معنی جسم میں اتری جاتی ہے۔ یہ گرمیوں کا موسم ہے جبکہ ہم دھوپ اور لُوہ سے بچنے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں کرتے ہیں،مگر یہاں ہم ایسی سردی کھا رہے ہیں جس کا سامنا کبھی یہاں جاڑوں کے موسم میں بھی نہیں ہوا تھا۔\n\nاب ٹرین زیادہ گھنے پہاڑوں اور زیادہ دشوار گھاٹیوں میں ہے۔ کبھی ہم اتنی نشیبی گھاٹیوں میں ہوتے ہیں کہ دونوں طرف معلوم ہوتا ہے سنگین دیواریں آسمان تک چلی گئی ہیں اور کبھی اس بلندی پر ہوتے ہیں کہ سارا عالم ہمیں اپنے نیچے نظر آتا ہے:\n\nگہے بر طارُم اعلیٰ نشینم\n\nگہے بر پشتِ پائے خود نہ بینم\n\nوہ نیچی پہاڑیاں گزر گئیں جن کو قدرت نے کم حثییت دیکھ کر برف کا سفید خلعت نہیں مرحمت کیا اور اب ہم ان عالیشان پہاڑوں کی گود میں ہیں جو بارھوں مہینہ برف کی ٹوپیاں پہنے رہتے ہیں۔ ہم اپنے دونوں طرف دیکھ رہے ہیں کہ برف گھل گھل کے آتی ہے اور ان چشموں اور آبشاروں کی صورت پیدا کرتی ہے جو آگے بڑھ کے بڑے بڑے دریا بن گئے ہوں گے۔ میں نے ہندوستان کی وہ ریلوے لائنیں متواتر دیکھی ہیں جن میں پہاڑو ں کو کاٹ کے راستہ نکالنا پڑا ہے۔ کھنڈالہ جہاں مغربی گھاٹ کے سلسلے کو کاٹ کےگریٹ انڈین پنشولا ریلوے کی جنوبی شاخ نکالی گئی ہے اور ہوشنگ آباد بھوپال کے درمیان میں جہاں کو ہ وندھیاچل کو کاٹنا پڑا ہے، دونوں جگہ میں بارہا گزرا ہوں لیکن ان میں سے کسی کو اس اعلیٰ کمال انجینئری سے کوئی نسبت نہیں جو اس لائن یعنی سینٹ گوتھارڈ لائن کے جاری کر نے اور کوہستان آلپس کے کاٹنے میں سوئٹزرلینڈ میں دکھلایا گیا ہے۔\n\nاگلی دنیا کو یہ راستہ ہی نہ معلوم ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ مسیح سے چھ سو برس پہلے گال یعنی فرانس کے وحشیوں نے اسی راستہ سے آکے دولت روم پر حملہ کیا تھا، مگر یہ صرف قیاس ہی قیاس ہے۔ اصل میں یہ راستہ تیرھویں صدی عیسوی سے کھلا اور لوگوں کو معلوم ہوا۔ اس وقت پا پیادہ چلنے والوں کے لیے ایک لیکھ بنی تھی اور اس قدر دشوار گزار کہ لوگ بہت مشکل و مجبوری سے ادھر گزرنا پسند کرتے تھے۔ اسی صدی کے اختتام کے وقت سے یہ راستہ اتنا وسیع ہو گیا کہ باربرداری کےجانور گزر سکیں جس کے ساتھ ہی تاجرانہ کاروانیں گزرنے لگیں۔ باوجود اس کے سڑک نے اس قدر آہستگی سے ترقی کی کہ 1775؁ء سے پہلے کسی گاڑی کا ادھر سے گزر نا نہیں ثابت ہوتا۔ موجودہ صدی عیسوی کی ابتدا میں اس سڑک کی ترقی دلانے کے لیے بہت کچھ کوششیں کی گئیں۔1820؁ء میں ایک ایسی سڑک تعمیر کی گئی جس پر سے ہو کے ایک گھوڑے کی عمدہ ڈاک گزر سکے، جس کے پچاس سال بعد یہ ریلوے تعمیر جاری ہو گئی جو پہاڑو ں کو قطع کرتی، نہروں اور آبشاروں پر سے گزرتی، بلندیوں پر چڑھتی اور گھاٹیوں سے نکلتی ہوئی جنوب سے شمال کو نکل جاتی ہے اور فی الحال دنیا میں علم انجینئری کا سب سے اعلیٰ نمونہ خیال کی جاتی ہے۔ کبھی کسی کے خیال میں بھی نہ گزرا ہوگا کہ ایسے برفستانی بلند پہاڑوں کے اندرسے یوں ریل کا راستہ جاری ہو جائے گا؛ مگر مکنیکل ترقیاں آج ایسے بہت سے معجزے دکھا رہی ہیں جو اگلوں کے نزدیک خلاف فطرت اوراورانسانی قوت سے بہت بالا تصور کیے جاتے تھے۔\n\nاس لائن کی تعمیر 1872؁ء میں شروع ہوئی اور دس سال بعد 1882؁ء میں جاری ہوگئی۔ یہ مختصر حالات شاید ناظرین کے کسی قدر ذہن نشیں کر سکیں کہ یہ ریلوے لائن کس قدر اہم چیز اور اس عہد کی معجز نمائیوں کا کتنا بڑا مکمل نمونہ ہے۔ اس میں کل 56 ٹنل یعنی سرنگیں ہیں، جن میں سےٹرین کو گز رنا پڑتا ہے اور جن کی مجموعی مسافت یکجا کی جائے تو تقریباً25 میل تک گاڑی پہاڑوں کے اندر ہی جاتی ہے۔ سب سے بڑی سرنگ جومقام گوشنن سے اٹرولو تک گئی ہےاور سینٹ گو تھارڈ کی سرنگ کہلاتی ہے، بجائےخود ایک ایسی چیز ہےکہ انسانی کارستانی کو دیکھ کے قدرت خدا یاد آتی ہے۔ یہ پورے نومیل لمبی ہے جس میں تقریباً آدھ گھنٹے تک ریل گزرتی رہتی ہے۔ اس بڑی سرنگ کے کا ٹنے میں ایک سو ستر جانیں تلف ہوئیں اور مشہور انجینئر لوئیس فادر جس نے اس کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا تھا خود اس سرنگ کی نذر ہوا۔ ان 56 سرنگوں کے علاوہ اس راستہ میں 969اور عمارتیں قائم کرنا پڑیں جن میں 223پل ہیں، جو ٹیڑھے سیدھے مختلف آبشاروں اور چشموں پر یا کسی جگہ کی نشیبی گھاٹیوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ اور یہ تمام جھگڑا، اتنی سرنگیں اور اتنے پل اور عمارتیں صرف106میل کی تھوڑی سی مسافت کے اندر محدود ہیں، جس میں 1880؁ء میں10757 آدمی اس لائن کی تیاری و تعمیر میں مصروف تھے اور ساری لائن کی تیاری میں تئیس کروڑ اسی لاکھ فرینک یعنی تقریباً 23کروڑ روپیہ خرچ ہوا اور پھر اس کے بعد بھی آج تک بہت زیادہ مصارف برداشت کیے جاتے ہیں، اس لیے کہ ہر سرنگ کی ہر وقت نگرانی رہتی ہے، ہر پل پر پہرہ مقرر رہتا ہے، ہر نشیب و فراز کی خبر گیری کرنے والے ہر وقت مستعدی سے کھڑے رہتے ہیں، اس لیے کہ یہاں ایک ادنیٰ سی غفلت میں بھی کسی نقصان عظیم کا اندیشہ ہے اور اسی خیال سے بالکل فوجی طریقہ کا انتظام رکھنا پڑتا ہے تاکہ ادنیٰ ادنیٰ واقعات کی خبر دیگر مقامات پر وقت پر پہنچ سکےاور ہر خطرہ نقصان پہنچنے سے پہلے معلوم ہو جائے۔\n\nاس لائن کی دشواریاں صرف اس ایک طولانی اور ساری دنیا سے بڑی سرنگ پر ہی منحصر نہیں ہیں بلکہ اس 106 میل کی مسافت میں کون کون دشواریاں ہیں جو نہیں، دیگر سرنگیں اس بڑی سرنگ سے زیادہ قابل حیرت ہیں؛ اس لیے کہ قُلہ سینٹ گوتھارڈ کی سرنگ بخط مستقیم سیدھی چلی گئی ہے اور دیگر سرنگیں چکر کھاتی ہوئی گئی ہیں۔ اکثر سرنگیں ایسی ہیں جن سے مقصود پہاڑ کو کاٹ کر سیدھا راستہ نکالنا نہیں بلکہ بلندی پر چڑھنامقصود ہے، جس کے لیے کسی بڑے قلہ کے اندر ہی اندر ریل چکر کھاتی ہو ئی جاتی ہے۔ جس مقام سے اندر داخل ہو تی ہے اسی جگہ باہر نکلتی ہے، مگر بہت بلندی پر۔ سرنگ سے باہر نکل کر ہم بخط مستقیم کئی سو فٹ نیچے وہ مقام اور دراز ہ دیکھتے ہیں جس میں سے ہوکے ہم داخل ہوئے تھے اور معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑ کے اندر ہی اندر ہم کتنے بلند ہو گئے۔ اسی طرح کے پانچ چکر پڑتے ہیں جو نہایت ہی گھنے پہاڑوں اور برفستانی وادیوں کے اندر واقع ہیں، چار چکر ہم کو بڑی سرنگ سے پہلے اور ایک بعد ملا۔\n\nانھیں گھاٹیوں کے اندر جہاں جہاں مسطح تختہ نکل آئے ہیں ان پر نہایت ہی خوش سواد اور خوبصورت شہر اور قصبہ آباد ہو گئے ہیں جو ریل کی سڑک سے کہیں نیچے اور کہیں بلندی پر اس خوشنمائی سے اپنی دل فریب تصویر دکھاتے ہیں کہ بے اختیار جی چاہتا ہے کہ یہیں اتر پڑیے اور کارکنانِ قدرت کی صناعیوں کا تماشا دیکھیے۔ مجھے زیادہ جس چیز نے یہاں حیرت میں ڈالا اور جس سے یورپ کی اصلی ترقی کا پتہ لگتا ہے، وہ یہ ہے کہ ایسے گھنے اور تہ در تہ پہاڑ، ایسے ناپیداکنار جنگل اور ایسی پیچیدہ اور بھول بھلیوں کا لطف دکھانے والی گھاٹیاں شاید دنیا کے اور ممالک میں بھی ہوں گی اور یقیناً ہیں، مگر سنسان پڑی ہیں سِوا ان آزاد مشرب طیور یا وحشی درندوں کے جو ہمارے پاک نفس اور صحرا نشین جوگیوں کی طرح خلوت و تنہائی کے مقامات ڈھونڈتے پھرتے ہیں یا قدیم دیوبانی کی دلفریب و دلربا دیویوں کے جو ان مقامات سے بھاگتی پھرتی ہیں جنھیں انسان کے قدم نے ناپاک کردیا ہے، کسی انسان کا شاید کبھی گزر نہ ہوا ہوگا، مگر ان گھاٹیوں اور برفستانی وادیوں میں کوئی قطعہ ایسا نہیں نظر آتا، جہاں انسان نے پورا لطف نہ اٹھایا ہو۔ چپہ چپہ زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ تم ہی پہلے شخص نہیں آئے ہو بلکہ ؏\n\nحریفان بادہ ہا خوردند و رفتند\n\nبلندیوں پر چڑھنے اور گھاٹیوں میں اترنے کے لیے ہر جگہ ایسی خوبصورتی سے راستے نکالے گئے ہیں کہ انسان بآسانی چڑھ اتر سکے اور قدرتی کیفیت اور خود رو ہونے کی سادگی میں فرق نہ آنے پائے۔ انگلستان، فرانس اور دیگر ممالک یورپ اور امریکا و آسٹریلیا سے ہر سال ہزارہا آدمی آتے ہیں اور محض اس غرض کے لیے کہ اس قدرت کے لگائے ہوئے باغ میں پھر کے تر و تازگی اور نئی زندگی حاصل کریں؛ جن کی مہمانداری کے لیے جا بجا ہوٹل اور ریستوران قائم ہو گئے ہیں، جن کی عمارتوں میں داخل ہو کے غریب الوطنی میں امارت کے ٹھاٹھ نظر آتے ہیں اور جنگل میں منگل معلوم ہوتا ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%81%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%92/%D8%B3%D9%88%D8%A6%D9%B9%D8%B2%D8%B1%D9%84%DB%8C%D9%86%DA%88"} {"title": "شرر کے سفرنامے/چند گھنٹہ جبرالٹر میں", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر > شرر کے سفرنامے", "year": null, "text_ur": "چند گھنٹہ جبرالٹر میں\n\nمسلمانوں کی گذشتہ شان و شوکت کی یادگاروں اور خیر القرون کے قابل قدر تبرکات میں سے ایک یہ مقام بھی ہے جو بحیرۂ روم کے پھاٹک پر آج بھی کھڑا پہرے دے رہا ہے، اور چونکہ یہ عربی الفاظ جبل الطارق سے بگڑ کے جبرالٹر بنا ہے، اس لیے ممکن نہیں کہ یہ الفاظ گوش زد ہوں اور مسلمانوں کے خیالات کسی اگلی دنیا اور اگلے زمانہ کی سیر نہ کرنے لگیں۔\n\nمجھے بھی انگلستان سے واپس آتے وقت جب یہ خیال آیا کہ چند ساعت کے لیے ہمارا جہاز جبرالٹر پر ٹھہرے گاتو شوق نے ایک بے چینی کے انتظار کی صورت پیدا کر لی۔ خلیج بسکے کی موجیں جہاز کو زیر و زبر کر رہی تھیں، ہمارا اسٹیمر ایک ایسے بیمار کی طرح جسے انتہا سے زیادہ کرب ہو کروٹوں پر کروٹیں بدل رہا تھا، اکثر ساتھی بلکہ قریب قریب تمام ہم سفر سمندر کی بیماری میں مبتلا اپنے اپنے کیبن (کمرے) میں پڑے ابکائیاں لے رہے تھے۔\n\nمگر میری یہ حالت تھی کہ ہجومِ شوق میں کسی قسم کی بدمزگی بھی نہیں محسوس ہوئی۔ بار بار اٹھ کے ڈِک پر جاتا تھا اور دوربین لگا لگا کے مشرق کی طرف نگاہ دوڑاتا تھاکہ شاید کہیں پہ جزیرہ نمائے اسپین کے سواحل نظر آجائیں تاکہ اسی مرکز پر خیالات کو ٹِکا کے دل ہی دل میں اس سرزمین کی سیر کرلوں، جسے صدہا سال تک مسلمانوں اور عربوں سے تعلق رہا تھا۔ آخر کئی دن کے انتظار کے بعد ایک طرف تو خلیج بسکے کاتلاطم موقوف ہوا، بحر ایٹلینٹک (بحر اعظم مغرب) نے ہمیں اپنی متانت کی آغوش میں لیا اور دوسری طرف سواحل اندلس نظر کے سامنے تھے، اسپین کے طیور ہمارے استقبال کو دوڑے اور جہاز کے گرد منڈلانے لگے اور وہاں کے پہاڑوں نے سر اٹھا کے ہم سے نظر بازیاں شروع کیں، بمصداق:\n\nوعدۂ وصل چوں شود نزدیک\n\nآتش شوق تیز تر گردد\n\nاس وقت میں اپنی بے تابی اور بے صبری میں اور زیادہ اضطراب پاتا تھا کہ ہائے قریب ہیں اور نہیں جاسکتے۔ اگرچہ یہ تمام حصہ جو اس وقت میری نظر کے سامنے تھا، اگلے دنوں دولت ہسپانیہ میں شامل تھا مگر آج کل کی تقسیم جغرافیہ کے لحاظ سے یہ اسپین نہیں پورچگل یعنی پرتگیز وں کا ملک ہے۔ اگرچہ سوا ایک دھندلی سواد اور تیرگی کے دامن سےسر نکالنے والی پہاڑیوں کے کچھ نہیں نظر آتا تھا، مگر میں اپنی یادداشت کی مدد سے پتہ لگا کے خیال کی آنکھوں سے ہر چیز کو دیکھتا چلا جاتا تھا۔ یہ الفاظ ہیں جو اُس محویت کے عالم میں میری زبان پر جاری تھے کہ “اب ہم القُباسہ کے سامنے ہیں” اور “اب ہم راس رقاعہ پر سے گزر رہے ہیں” اور “دیکھو اب وہ سامنے دریائے ٹیگس سمندر میں گر رہا ہے”۔ دریائے ٹیگس کا یاد آنا تھا کہ اسی نہر کے ذریعہ سے میں نے اپنے خیال کی کشتی پر بیٹھ کےایک سیر کی اورطلیطلہ اور اسپین کے بہت سے نامور شہروں کی سیر کر آیا۔ اپنی اس روحانی معراج سے چونکا ہی تھا کہ معلوم ہوا ہم جزیرہ نمائے اسپین کے اس صوبے کے برابر ہیں جو الغرب کہلاتا ہے اور فی الحال پورچگل میں شامل ہے، میں دل میں یہ کہہ ہی رہا تھا کہ “اب پورچگل ختم ہونے کو ہے اور ہم خاص ارض اندلوسیہ میں داخل ہونے کو ہیں” کہ ناگہاں خشکی بہت قریب ہو گئی اور زمین کا ایک سرا اس طرح پاس آگیا کہ گویا جزیرہ نمائے اسپین نے ہم سے مصافحہ کرنے کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔ زمین کے اس کونے پر ایک پرانی عمارت نظر آئی، کیپٹن نے پاس آ کے بتایا کہ یہ ایک قدیم کانونٹ (ننوں کی خانقاہ ہے) جو سینٹ ویسنٹ کے نام سے مشہور ہے اور اسی وجہ سے زمین کا یہ کونا راس سینٹ ویسنٹ کہلاتا ہے۔ فی الحال یہ خانقاہ غیر آباد پڑی ہے، مگر کسی زمانہ میں نہایت ہی مقدس جگہ خیال کی جاتی تھی۔ اتنا سنتے ہی ہم سب نے اپنی دور بینیں اٹھائیں اور اس عمارت کی محرابوں اور دیوار و در؛ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ہرہر اینٹ کا مطالعہ شروع کیا۔ فی الحال اس خانقاہ سے ایک لائٹ ہوس کا کام لیا جاتا ہے، محرابیں اور اوپر کی کھڑکیاں بالکل گاتھک وضع کی ہیں، مگر اس کا اجاڑ پن اوربے کسی و کس مپرسی کی وجہ سے ایک سنسان حالت میں پڑا رہنا یاد دلا رہا ہےکہ یہاں مسلمانوں کی قدیم عمارتوں پر بھی یہی حسرت ناک خموشی طاری ہوگی۔\n\nجب تک نظر نے کام دیا مَیں اس عمارت کو دیکھتا رہا ؛ یہاں تک کہ شام ہو گئی اور رات کی تاریکی نے جس طرح کوئی دو بچھڑ کے ملنے والوں کو جدا کرے، ہمیں اس عمارت سے جدا کردیا؛ تاہم ان سواحل کے دیکھنے کا شوق فرو ہونا کیسا ساعت بہ ساعت بڑھتا جاتا تھا۔ رات کو کئی مرتبہ میں اس وقت اپنے کمرہ سے نکلا جبکہ سمندر نے تمام ہم سفروں کو کیبن کے جھولوں میں ڈال کے اورنرم و خوش گوار جھونکے دے دے کے سلا دیا تھا، ڈِک پر جا کے سواحل اسپین کو شوق کی نگاہوں سے دیکھا۔ چاندنی ایسی نکھری ہوئی تھی جس کے دیکھنے کو ایک سال سے کچھ زیادہ زمانہ تک انگلستان میں ترستے رہے تھے، سمندر کی بے قرار موجیں چاند کے عکس کو سطح آب کے آئینہ پر ایک لمحہ کے لیے بھی کسی پہلو پر قرار نہ لینے دیتی تھیں اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا آسمان ہر طرف پانی پر نور کی افشاں چھڑک رہا ہے۔ اس دلفریب منظر کے کنارہ پر مٹے مٹے سواحل اسپین بھی نظر آ رہے تھے، مگر رات کی تیرگی آتش شوق کو نہ بجھنے دیتی تھی۔ پچھلی رات کو ہم وادی الکبیر کے دہانہ پر سے ہوتے ہوئے شہر قادس کے قریب سے گزرے اور صبح ہوتے ہوتے دیکھا کہ داہنے بائیں دونوں طرف افریقہ و یورپ کے سواحل ساعت بہ ساعت ہم سے قریب ہوتے جاتے ہیں، ہمارے داہنے ہاتھ کی طرف افریقہ ہے اور بائیں ہاتھ کی طرف یورپ اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے دونوں طرف کی پہاڑیاں ایک دوسرے سے بغل گیر ہونے کے لیے بڑھتی چلی آتی ہیں۔ سب کے پہلے جنوب کی طرف ہم نے اس پہاڑ کی چوٹی کو بہت گھور گھور کے دیکھا جس کے نیچے شہر ٹنجیریا اگلے دنوں کا شہر طنجہ آباد ہے۔ آنکھوں پر بہت کچھ زور ڈالنے سے بھی شہر کی کوئی چیز نظر نہ آئی، مگر تاریخ نے بتا دیا کہ اسی جگہ ہمارے قدیم بہادر مشنری اور نامور جنرل عقبہ بن نافع نے سمندر میں گھوڑا ڈال کے آسمان کی طرف دیکھا تھا اور یہ الفاظ زبان سے نکالے تھے کہ “خداوندا ! اگر یہ سمندر میرا راستہ نہ روکتا تو میں برابر یوں ہی مغرب کی طرف رخ کیے جہاں تک زمین ملتی تیرے مقدس نام اور تیری توحید کی منادی کرتا چلا جاتا” اور پھر یہ یاد آیا کہ آٹھویں صدی ہجری کا مشہور سیاح ابن بطوطہ انھیں پہاڑوں سے نکل کے ساری دنیا کی سیر کر آیا تھا، جس کا سفرنامہ آج کل کے متجسسوں کے ہاتھ میں گویا اس زمانے کی حالت دکھانے کا ایک روشن چراغ ہے۔\n\nآگے بڑھے، طنجہ کا کوہسار ہماری نظر سے غائب ہوا تو بائیں طرف یورپین ساحل پر ہمیں شہر طریفہ کی سفید سفید عمارتیں نظر آئیں، اس چھوٹے ساحلی شہر کی صورت دیکھ کے میں نہیں کہہ سکتا کہ میرےدل کی کیا حالت ہوئی۔ اپنا پرانا مکان غیر کے قبضے میں دیکھ کر یا اپنے کسی نامورا و رمشہور عزیز یا بزرگ کی قبر دیکھ کے جو خیالات کسی انسان کے دل میں گزر سکتے ہیں، وہ خیالات اس شہر طریفہ کو دیکھ کے میرے دل میں گزرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سب کے پہلے طریف نام ایک عربی نژاد بہادر صرف دوسو بہادروں کے ساتھ پورے ملک ہسپانیہ کے فتح کرنے کے ارادہ سے اترا تھا اور چونکہ یہ شہر اسی کی یادگار میں آباد کیا گیا تھا لہذا طریفہ نام پڑ گیا اور آج تک اسی نام سے مشہور ہے۔ شہر طریفہ کے عین محاذات میں ساحل افریقہ پر ایک قدیم اسلامی شہر القصر کے کھنڈر پڑے ہوئے ہیں جن کو ایک چھوٹی سی راس جو “راس القصر”کہلاتی ہے، ذرا آگے بڑھ کے اشارے سے بتا رہی ہے۔\n\nاب ہم آبنائے جبرالٹر میں تھے اور دل میں اس سمندر کو ادب اور عبرت کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے، دل گواہی دے رہا تھا کہ ہمارا جہاز ان خطوط کو ضرور قطع کرے گا جن پر سے کبھی قرون اولیٰ کے مجاہدین کے وہ گروہ جن میں دو ایک صحابی اور دربار رسالت کے یادگار بھی ضرور ہوں گے، گزر رہے تھے۔ چلتے چلتے ہمارا اسٹیمر ایک ایسے مقام پر پہنچا جہاں یورپ کی طرف سمندر دو تین میل تک زمین کے اندر بڑھ گیا ہے اور اس حصہ کو خلیج جبرالٹر کہتے ہیں۔ اس خلیج کے مشرقی کونے پر شہر جبرالٹر واقع ہے اور مغربی کونے پر کوہسار کبریتہ، خلیج جبرالٹر کے دہانہ پر دونوں جانب یہ دو یورپین پہاڑ جبرالٹر اور کبریتہ سر اٹھائے کھڑے ہیں، جن میں سے پہلے یعنی جبرالٹر پر انگریزوں کا قبضہ ہے اور دوسرا حکومت اسپین کے تابع ہے۔ اس خلیج کے مغربی سواحل پر کوہ کبریتہ سے تھوڑی دور آگے بڑھ کے قدیم شہر الجزیرہ ہے جس کو مسلمان مورخین جزیرۃ الخضراء کہتے ہیں۔ دولت امویہ کے عہد میں یہ شہر نہایت رونق پر تھا، اگلے امرا اس کی نزہت و شادابی کے نہایت ہی مداح ہیں اور یہاں اکثر امرائے اسپین و مراکو کا مجمع رہا کرتا تھا۔ آج بھی الجزیرہ کی سفید سفید پختہ عمارتیں پہاڑوں اور سمندر کے درمیان میں ایک مسطح اور ڈھالو تختۂ زمین پر نہایت ہی خوبصورتی سے بکھری اور پھیلی نظر آتی ہیں، جن کے قریب ایک معمولی حیثیت کا قلعہ بنا ہوا ہے اور ریل کی سڑک اس قلعہ کے نیچے سے گزر کے اندرونی بلاد اسپین کو گئی ہے۔ قلعہ سے تھوڑی دور شمال کی طرف ہٹ کے شہر المرندہ ہے جو آج ایک نہایت ہی معمولی قصبہ کی حیثیت سے بےرونق پڑا ہے اور سمندر سے کسی قدر ہٹ کے بلندی پر واقع ہے۔ المرندہ سے شمال کی طرف ہٹ کے دریائے وادی الرنگ سمندر میں گرا ہے۔ اس خلیج کے مشرقی سواحل پر اور کوئی آبادی نہیں اور وجہ یہ کہ اس طرف ایک پتلا سا حصۂ زمین خلیج کی حد بندی کرتا ہوا بہت آگے کو بڑھتا چلا آیا ہے، جس کے عین سِرے پر بلند قلۂ کوہ ہے جس پر طارق اپنی فوج لے کے اترا تھا اور جہاں پر کہ آج شہر جبرالٹر آباد ہے۔ جبرالٹر سے شمال کی طرف فاصلہ پر اور وادی الرنگ کے پہاڑوں کے نزدیک ایک قدیم شہر مجورقہ بھی پڑا ہوا ہے، مگر اس کے مکانات نہیں نظر آتے۔\n\nاس خلیج کے مقابل افریقہ کے ساحل پر راس المنع نام ایک حصۂ زمین پانی کے اندر تک برابر بڑھ آیا ہے اور اسی راس کی پشت پر وہ مشہور شہر سبتہ واقع ہے جہاں کے فرماں روا جولین نے اپنی بیٹی کی بےعزتی پر برہم ہو کے مسلمانوں کو فتح اسپین پر آمادہ کیا تھا۔([1]) موجودہ سبتہ نو آباد مقام ہے اور قدیم سبتہ کے کھنڈر وہاں سے دو میل مغرب کی طرف ہٹ کے پڑے ہوئے ہیں۔ وہ کوہسار جو سبتہ سے شروع ہو کے آبنائے، جبرالٹر کے آخری حصے یعنی مغربی کونے تک سواحل افریقہ پر چلا گیا ہے، وہ آج تک موسی بن نصیر کے نام سے نامزد ہے اور جبل موسی کہلاتا ہے۔ الغرض یہ وہ مقام ہے جس میں غور سے دیکھیے تو ہر چیز قدیم اسلامی تاریخ اور گذشتہ ناموران اسلام کے کارنامے یاد دلاتی ہے۔\n\nہمارا اسٹیمر جبرالٹر کے قریب پہنچ کے ٹھہر گیا۔ شہر جبرالٹرکے دو حصے ہیں اور دونوں عظیم الشان اور سر بفلک پہاڑ کے دامن پر واقع ہیں، ایک حصہ میں تو خاص وہیں کے باشندے رہتے ہیں اور ایک حصے میں انگریز بھی آباد ہیں اور وہاں کے لوگ بھی۔ پہاڑ کی بلندی پر سمندر سے کھڑے ہو کے دیکھیے تو سوا برہنہ اور سیاہ چٹانوں کے کچھ نہیں دکھائی دیتا، لیکن اصل میں یہ پورا پہاڑ ایک زبردست انگریزی قلعہ ہے۔ جہاز کے ٹھہرنے کے تھوڑی ہی دیرکے بعد ایک دخانی کشتی پر سوار ہو کے میں شہر میں گیا، ہم جیسے ہی بندرگاہ پر پہنچے تو ہم نے تعجب سے دیکھا کہ ساحل پر رہنے والوں کے لیے ایک چھوٹا سا مارکٹ بنا ہے، اس میں ملک مراکش کے عرب کُرتے اور شرعی پائجامہ پہنے اورسر پر ترکی ٹوپیاں رکھے سودا بیچ رہے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس جا کے میں نے عربی میں کچھ باتیں کرنا چاہیں، مگر سوا دو ایک لفظوں کے نہ وہ میری سمجھ سکے نہ میں ان کی سمجھ سکا اور وجہ یہ ہے کہ مراکو کی عربی، مصر و شام اور خاص عرب کی زبان سے اس قدر جدا ہو گئی ہے کہ بغیر اس ملک میں چند روز رہے شام و مصر والے بھی ان کی زبان نہیں سمجھ سکتے، بھلا میں کیا سمجھ سکتا؛ مگر اتنا ضرور معلوم ہوا کہ دیگر بلاد اسپین میں تو مسلمان نام کو بھی نہیں، مگر خاص جبرالٹر میں انگریزی حکومت کی وجہ سے مرا کو کے تاجروں کو خرید و فروخت کے لیے آنے اور رہنے کی آزادی ہے اور مرا کو کے محنت مزدوری کرنے والے بھی یہاں آکے بسر کرتے ہیں، لہذا کہنا چاہیے کہ بہت دنوں کی جلاوطنی کے بعد مسلمانوں کو جبرالٹر میں پھر قدم ٹکانے کا موقع مل گیا۔\n\nتھوڑی دیر یہاں ٹھہر کے میں ایک پھاٹک میں سے ہو کے شہر کے اندر داخل ہوا۔ دیگر بلاد یورپ کی سی صفائی تو کہاں، مگر پھر بھی نہایت با رونق شہر ہے۔ عمارتیں دامن کوہ پر بلند ہوتی چلی گئی ہیں اور جگہ کی تنگی کی وجہ سے سڑکیں بھی ایسی وسیع نہیں جیسی کہ آج کل ضروری خیال کی جاتی ہیں۔ اسپین کا حسن تمام یورپ میں مشہور ہے، جبرالٹر اگرچہ اس امر کی آزمائش کے لیے ایک نہایت ہی بگڑا نمونہ ہے، مگر تاہم اسپین کے چہروں کی عام بناوٹ اورصنفی خط و خال کا پورا نمونہ نظر آسکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جن آنکھوں میں شمالی یورپ کے حد سے زیادہ گورے چہرے کُھپے ہوئے ہوں، ان کو حسینانِ اسپین کے چہرے پر پہلے پہل ایک تیر گی نظر آئے گی۔ وہاں کا گورا پن ویسا ہی ہے جس کو مصر و ایران والے، یا ہندوستان میں کشمیرو افغانستان کے لوگ گورا کہیں گے، مگر انگلستان کے مذاق میں اس رنگ کو ڈارک یاسانولا کہتے ہیں۔ اسپین کی عورتوں کے چہرے عموماًچوڑے اور نہایت ہی خوبصورت ہوتے ہیں، آنکھیں کالی اور بال سیاہ ہیں۔ غرض وہ تمام باتیں موجود ہیں جن کے اعتبار سے ایک مشرقی ممالک کا رہنے والا ان کے حسن کو یورپ کے حسن پر ترجیح دے گا، مگر یہ بات تعجب کی ہے کہ ہم ہی نہیں یورپ کے تمام لوگ بھی اسپین کے حسن کے قائل ہیں۔ بول چال، عادات و اطوار اور تراش خراش، تمام باتوں میں وہ لوگ انگریزوں سے جدا نظر آتے ہیں اور مجھے یہ دیکھ کے حیرت ہوگئی کہ جبرالٹر کے یورپ میں ہونے سے وہاں والوں کو کوئی معتد بہ فائدہ نہیں ہوا؛ اس لیے کہ جس طرح کے نیٹو ہم ہندوستان میں سمجھے جاتے ہیں، ویسے ہی نیٹو وہ لوگ جبرالٹر میں ہیں۔\n\nمیں نے ایک گاڑی کرایہ پر کی اور شہر کی خوب سیر کرکے قلعہ کی راہ لی۔ یہاں کا قلعہ دولت برطانیہ میں سب سے زبردست اور اول درجہ کا قلعہ تصور کیا جاتا ہے۔ سوا انگریزی رعایا کے اور لوگوں کو قلعہ کے اندر جانے کی ممانعت ہے۔ بیرونی پھاٹک پر میں نے ایک رجسٹر میں اپنا نام لکھ دیا اور دو یورپین سپاہیوں کے ساتھ اندر روانہ ہوا۔ پہاڑ کے اندر کاٹ کے راستہ بنایا گیا ہے جو ایک سرنگ کی طرح پہاڑ کے گرد چکر کھاتا ہوا اوپر چڑھتا چلاگیا ہے۔ اس سرنگ کے منہ پر ایک بڑا پھاٹک لگا ہے اور اس میں ہمیشہ ایک زبردست قفل پڑا رہتا ہے۔ اس مصنوعی راستے میں جوں جوں اوپر چڑھتے جائیے زیادہ جھانکیاں بنی ہوئی ہیں اور ان میں بہت بڑی بڑی توپیں لگی ہوئی ہیں، ہر توپ کے پاس بہت سے گولے رکھے ہیں۔ جھانکیوں کی قطع باہر سے ایسی رکھی گئی ہے کہ صرف کوہستانی غار کی صورت میں نظر آتی ہیں اور یہ خیال بھی نہیں ہو سکتا کہ ان کے اندر توپیں ہیں۔ یہ ایک ہی سرنگ نہیں، ایسی ایسی بہت سی سرنگیں ہیں اور اتنا بڑا قلعہ ہے کہ دوچار دن میں بھی انسان بہ مشکل دیکھ سکتا ہے۔ علاوہ بریں جو خاص راز کے اور پوشیدہ مقامات رکھے گئے ہیں، وہ کسی کو دکھائے بھی نہیں جاتے۔\n\nقلعہ کے باہر پہاڑ کے وسط میں ایک پرانی مسلمانوں کی بنائی ہوئی عمارت کھڑی ہے جو اولڈ مورش کیسل (یعنی موراکو والوں کا قدیم قلعہ) کہلاتی ہے۔ میں نے اس عمارت کو ہر چیز کی بہ نسبت زیادہ توجہ سے دیکھا، اب یہ عمارت ایک نہایت ہی بوسیدہ کھنڈر کی شان سے کھڑی ہے اور اسلامی تاریخ کا ایک کرم خوردہ ورق ہے۔ اسپین کی اسلامی سلطنت نے عمارت میں جو ترمیم کی تھی اور اس میں جس قسم کی خوبصورتی پیدا کی تھی، اس کا پتہ اس عمارت سے نہیں لگتا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سلطنت اسلامی کے بہت ابتدائی زمانہ میں اس کی تعمیر ہوئی تھی۔ ہزارہا سال کی برساتوں، بجلیوں، زلزلوں اور طوفانوں، غرض ہر طرح کی ارضی و سماوی آفتوں کی مار پڑی اور صدہا پولیٹیکل انقلاب ہوئے، مگر یہ محل آج تک کھڑا زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ اتنی آفتوں پر بھی اس نے اپنے بانیوں کے ساتھ بے وفائی نہیں کی اور اِس وقت تک ہر گزرنے والے کو اُن کا نام بتا رہا ہے۔\n\nیہ سب چیزیں دیکھ کے ہم پھر شہر میں واپس آئے۔ یہاں کے لوگوں میں نہ دیگر بلاد یورپ کی سی صفائی ہے اور نہ وہاں کی سی دولت مندی۔ غربا بوجھ کو پیٹھ پر لادے اور پھٹے پرانے، میلے کچیلے کپڑے پہنے سڑکوں پر ٹہلتے نظر آتے ہیں۔ غریب مسافر اُسی طرح کی میلی اور ذلیل گٹھریاں سر پر اٹھائے بندرگاہ میں دکھائے دیتے ہیں، جیسے کہ آپ ہندوستان کے اسٹیشنوں پر دیکھا کرتے ہیں۔ بعض لوگ ایسی خراب اور ذلیل و پست حالت میں نظر آتے ہیں کہ دیکھنے والے کو بے انتہا ترس آتا ہے۔\n\nچونکہ عموماً لوگ رومن کیتھولک مذہب کے پابند ہیں، لہذاننوں اور تارک الدنیا پادریوں کا زور ہے ، مگر یہاں کی ننین بھی خراب حالت میں نظر آتی ہیں، وہ ایسی خوش حال نہیں ہیں جیسے کہ ہندوستان کے پادری جو دین کا نام لےکے لاکھوں روپیہ اپنی تنخواہوں میں صرف کردیا کرتے ہیں۔ مجھے یہاں زیادہ تر اس بات کے دریافت کرنے کی فکر تھی کہ خاص یہاں کے لوگوں میں بھی کوئی مسلمان ہے، اس بارہ میں مجھے گاڑی والے نے مدد دی اور اسی کے بتانے سے معلوم ہوا کہ ہاں ہیں، مگر افسوس یہ نہ پوچھیے کہ کیسے اور کس حال میں ہیں، اس بارۂ خاص میں جو صدمہ مَیں وہاں سے اپنے دل پر لے کے آیا ہوں شاید زندگی بھر نہ مٹے گا۔ جتنے سڑک صاف کرنے والے حلال خور اور اسی قسم کے اور ادنی پیشہ والے ہیں، اکثر مسلمان ہیں۔ تمام گلی کوچوں میں جو شخص سب سے زیادہ ذلیل نظر آئے، جان لیجیے کہ مسلمان ہے اور اس قدر ذلیل کہ راہ چلتے لوگ مار دیتے ہیں، گاڑی ہنکانے والے کوڑے پھٹکارتے ہیں اور وہ دانت نکال کے اور خوشامد کرکے رہ جاتے ہیں۔ خود میں جس گاڑی پر سوار تھا، اس کے ہنکانے والے نے بھی ایک سڑک صاف کرنے والے مسلمان پر زور سے کوڑا مارا اور در اصل اس کی چوٹ مجھے لگی۔ میں نے دل میں کہا کہ افسوس یہی لوگ کبھی یہاں کے حکمران تھے اور یہی لوگ آج اس حال میں ہیں۔ میں نے دریافت کیا کہ ان لوگوں کی یہاں کوئی مسجد بھی ہے۔ معلوم ہوا، نہیں۔ مسجد ہونا کیسا، یہ بھی نہیں جانتے کہ نماز کیونکر پڑھی جاتی ہے اور اصول اسلامیہ کیا ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون! مسلمانو! سچ یہ ہے ان لوگوں کی تصویر صاف بتا رہی ہے کہ غیر قوم کی ماتحتی میں اپنے قومی غرور اور تعصب پر قائم رہنے کا کیا نتیجہ ہے۔ الغرض ان لوگوں کی حالت پر روتا اور دل ہی دل میں افسوس کرتا ہوا چھ گھنٹہ کے بعد میں جہاز پر واپس آیا، چند ساعت میں جہاز روانہ ہوا اور تھوڑی ہی دیر میں ہم بحیرۂ روم کے خوش رنگ نیلے پانی کا سماں دیکھتے دیکھتے دونوں طرف کے سواحل سے جدا ہوگئے۔\n\n[1]۔ جن دنوں موسیٰ بن نصیر، ولید بن عبدالملک کی خلافت کے زمانے میں یہاں پہنچے ہیں، ان دنوں شہر سبتہ پر جولین نام ایک شخص شاہ اسپین رزریق کی طرف سے حکومت کرتا تھا اور چونکہ ان دنوں معمول تھا کہ دربار داری کے آئین و قوانین سکھانے کے لیے اکثر امرا و عہدہ داراپنی بیٹیوں کو خاص بادشاہ کے حرم (گذشتہ سے پیوستہ) میں بھیج دیا کرتے تھے، لہذا جولین کی بیٹی بھی دار السلطنت طلیطلہ (ٹالڈو) میں خاص رزریق کے محل میں رہتی تھی۔ بادشاہ کو چاہیے تھا کہ حسب اصول مروجہ جولین کی بیٹی پر شفقت پدرانہ ظاہر کرتا، مگر اس نے الٹے لڑکی کی آبروریزی کی اور بہ جبر بے عصمت کر ڈالا۔ لڑکی اس ذلت کے بعد بھاگ کے اپنے باپ کے پاس آئی اور جولین نے غضب آلود ہوکے موسی بن نصیر سے اتفاق کیا اور مسلمانوں کے جنرلوں کو ساتھ لے کے چڑھ دوڑا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%81%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%92/%DA%86%D9%86%D8%AF_%DA%AF%DA%BE%D9%86%D9%B9%DB%81_%D8%AC%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D9%84%D9%B9%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شرر کے سفرنامے/ہمارا سفر پالن پور", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر > شرر کے سفرنامے", "year": null, "text_ur": "ہمارا سفر پالن پور\n\nایک مدت سے ہمیں اپنے مکرم دوست سید گلاب حسین میاں صاحب مصنف “تاریخ پالن پور” سے ملنے کا شوق تھا، اکثر قصد کیا مگر نوبت نہ آئی۔ اب کی ماہ ذیحجہ کے اوائل میں انھوں نے کچھ ایسے ذوق و شوق کی تحریر اور تاکیدی الفاظ سے ہمیں بلایا کہ انکار کرتے نہ بنی اور جانا ہی پڑا۔\n\nسب سے زیادہ شوق ہمیں اُس چھوٹے اسلامی دربار کے دیکھنے کا تھا جسے ہمارے مکرم گلاب میاں صاحب نے اپنی تاریخ میں بتایا ہے کہ 586 برس سے مارواڑ اور گجرات کےدرمیانی حدود پر واقع ہے اور اپنی تاریخی قدامت میں تمام موجودہ ریاستوں سے پرانااور ہندوستان میں مغل امپائر سے بھی پہلی فتوحات اسلام کی یادگار ہے۔\n\nغرض اسی ذوق و شوق کا اثر تھا کہ ہم جو لکھنؤ کے ایک محلے سے دوسرے محلے میں بمشکل جاتے ہیں، 4؍ اکتوبر 1916؁ء(۵؍ذیحجہ ۱۳۳۳؁ھ) کو برخوردار محمد صدیق حسن سلمہ کو اپنے ساتھ لے کے چل کھڑے ہوئے اور 7 ذیحجہ کی صبح کو پالن پور کے اسٹیشن پر تھے۔ گلاب میاں صاحب اور ان کے رشتے کے ایک عزیز بھائی شبیر میاں صاحب اسٹیشن پر موجود تھے، وہ محبت بھری صورتیں دیکھیں جن کے لطف سے تو مدت سے بہرہ یاب ہوتے رہے تھے، مگر ان کا دیدار آج نصیب ہوا۔ اپنے کرم فرما کی عنایت سے ہمیں ریاست کی مہمانی کی عزت دی گئی اور باغ دلکشا کے چھوٹے بنگلے میں ٹھہرائے گئے جس کی پشت پر شہر پناہ ہے، تین طرف ایک نزہت بخش باغ ہے اور بائیں جانب چند قدم پر ایک باؤلی پر رہٹ چلتا رہتا ہے، جو ہر وقت اپنی گردش سے انقلاب عالم کا اور باغ کی آبیاری سے والی تک کی دریا دلی و رعایا پروری کا ثبوت دیتا رہتا ہے۔\n\nگلاب میاں صاحب پہلے تو میر منشی ریاست تھے، مگر فی الحال میر عمارت ہیں اور چونکہ رئیس دولت ہزہائینس دیوان شیر محمد خاں بہادر جی۔ سی۔ آئی۔ ای کے سب سےبڑےمعتمد علیہ ہیں، اس لیے انھیں بہت ہی کم فرصت رہتی ہے۔ تاہم دو تین گھنٹے ہمارے پاس ٹھہرے اور پھر معذرت خواہ ہو کے شبیر میاں صاحب کو ہمارے پاس چھوڑ کے چلے گئے، جنھوں نے پورے زمانۂ قیام میں بڑے لطف و محبت کے ساتھ ہماری رفاقت کی۔\n\nاس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس ریاست کے مختصر حالات ہم اپنے ناظرین کی خدمت میں بیان کردیں تاکہ انھیں معلوم ہو سکے کہ یہ ریاست ہندوستان کی تاریخ اسلام کا کتناپرانا، اہم اور قابل قدر ورق ہے۔ اس قدیم اسلامی دربار کی بنیاد سلطان محمد تغلق کی وفات کے سال یعنی 795؁ھ میں پڑی، جبکہ پٹھانوں کے ایک سرغنہ ملک خرم نےاس علاقہ کو ہندو راجپوتوں سے فتح کرکے اپنے قبضے میں کرلیا اور دو سال بعد دولت تغلقیۂ دہلی کے صوبہ دار گجرات سے مسند نشینی کی سند بھی حاصل کر لی۔ تھوڑے ہی دنوں کے بعد مسلمان ملوک گجرات کا دور شروع ہوا اور یہ دربار جس کا دار الریاست اُن دنوں شہر جالور تھا،اسی سے وابستہ ہوگیا۔\n\nاس خاندان کے پانچویں مسند نشین دیوان عثمان خاں کے عہد میں سید محمد صاحب جونپوری نے دعوائے مہدیت کیا،جن کی طرف وسط ہند اور دکن کا فرقۂ مہدویہ منسوب ہے۔ سید صاحب ممدوح اپنی سیر میں اس ریاست کی قلمرو میں بھی تشریف لائے اور دیوان عثمان خاں نے غالباً 888؁ھ میں ان کو مہدی موعود تسلیم کرکے ان کی پیروی اختیار کرلی۔ اس وقت سے آج تک اس ریاست کے مسند نشینوں کا مذہب “مہدوی” ہے جو سِوا دو ایک باتوں کے جملہ امور میں میں فقہ حنفیہ پر عمل کرتے ہیں۔ سید محمد جونپوری کو مہدی موعود ماننا جزوایمان جانتے ہیں اور زیادہ تر ان کا رجحان تصوف اور روحانی ترقیوں اور باطنی تعلیموں کی طرف ہے۔\n\nنویں مسند نشینِ ریاست ملک سکندر خاں کےعہد یعنی 938 ؁ھ میں وزیر ریاست کے فرزند ملک خاں بن ہیتم خاں نے بزور شمشیر مسند ریاست پر قبضہ کرلیا۔ ملک خاں بھی اسی گروہ افاغنہ میں سے تھے اگرچہ ملک خرم خاں کی نسل سے نہ تھے۔ لہذا اس عہد سے حکمرانوں کی قوم تو وہی رہی مگر خاندان امارت بدل گیا۔ ملک خاں کے عہد میں گجرات کا فرماں روا سلطان بہادر شاہ تھا۔ گجرات کی اسلامی سلطنت سے یہ ریاست پونے دو برس تک وابستہ رہی تھی کہ اُس دولت کا خاتمہ ہوگیا۔ 998؁ھ میں شہنشاہ اکبر نے جو پورے گجرات کا مالک ہو گیا تھا ، اس خاندان کے مسند نشین غزنی خاں کو اپنی طرف سے خلعت عطا کرکے رئیس ریاست تسلیم کر لیا، جو اس ریاست کے بارھویں مسلمان رئیس تھے۔\n\nاب اس ریاست اور دربار مغلیہ میں بہت اچھے تعلقات تھے اور یہاں کے رئیس دولت چغتائیہ کے بڑے بڑے اہم خدمات بجا لائے۔ چودھویں مسند نشین فیروز خاں اول عرف کمال خاں نے جالور کو چھوڑ کے موجودہ شہر پالن پور کو اپنا دار الریاست قرار دیا اور اسی وقت سے پالن پور کا زمانہ شروع ہوا، یہ 1045؁ھ کا واقعہ ہے۔\n\nچھبیسویں مسند نشینِ ریاست فتح محمد خاں کے زمانے میں باہمی جھگڑے پیدا ہوئے، جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کوبغرض رفع شر دخل دینا پڑا اور کمپنی کی جانب سے کیپٹن مائلس نے بڑی خوں ریز یوں کے بعد فتح محمد خاں کو مدد دی اور انھیں مستقل فرماں رواں بنایا اور وہی پہلے انگریزی پولٹیکل سپرنٹنڈنٹ پالن پور مقرر ہوئے۔ 1270؁ھ میں فتح محمد خاں نے انتقال کیا تو دیوان زورآور خاں مسند نشین ہوئے۔ 18؍ شعبان 1294؁ھ کو انھوں نے بھی سفرآخرت اختیار کیا اور ان کے جانشین موجودہ رئیس زبدۃ الملک دیوان نواب سر شیر محمد خاں بہادر جی۔ سی۔ آئی۔ ای ہوئے۔\n\nنواب صاحب ممدوح 1269؁ھ میں پیدا ہوئے تھے۔ 26 سال کی عمر میں عنان ریاست ہاتھ میں لی، اِس وقت سِن شریف 66 سال کا ہے اور اس قدیم اسلامی ریاست کے اٹھائیسویں فرماں روا ہیں۔\n\nاس ریاست کی یہ خصائص تاریخی حیثیت سے نہایت ہی قابل قدر ہیں کہ اس نے ہندوستان کے چار مختلف دوروں کو نہایت ہی خوش اسلوبی سے اپنے موافق بنا لیا۔ پہلے دہلی کے خاندان تغلق و لودھی کو، پھر احمد آباد کی اسلامی دولت گجرات کو، اس کے بعد دولت مغلیہ دہلی کو اور سب کے آخر میں دولت برطانیہ انگریزی کو، اور اس سے بھی زیادہ قابل حیرت و قدر یہ ہے کہ مرہٹوں سے اس قدر قریب ہونے پر بھی یہ ریاست ان پہاڑی لٹیروں کی دست برد سے ہمیشہ محفوظ رہی۔\n\nاس خاندان کی فرماں روائی کی تاریخ سے ایک اور بہت ہی نئی بات کا انکشاف ہوتا ہے جو مورخین ہند کے لیے انتہا سے زیادہ قابل غور و لحاظ ہے۔ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ ہندو مسلمانوں کو ملا کے ایک قوم بنا دینے اور یکساں کر دینے کے لیے ان دونوں قوموں میں باہمی شادی بیاہ کے رواج دینے کا سہرا شہنشاہ اکبر کے سر ہے، مگررؤسائے پالن پور کی تاریخ بتا رہی ہے کہ دولت مغلیہ سے پہلے ہی یہاں کے رئیسوں نے ایسے نکاحوں کی بنیاد ڈال دی تھی؛ کیونکہ دولت مغلیہ سے پہلے ہی معزز ہندو خاندانوں کی لڑکیاں اس ریاست کی رانیاں ہوا کرتی تھیں۔ چنانچہ ملک خاں نے جو 961؁ھ میں مسند نشین ہوئے تھے، ارجن سنگھ بھیجاوت کی بیٹی امران بائی سے شادی کی جس کے بطن سے ولی عہد ریاست ملک غزنی پیدا ہوئے، اکبر کی تخت نشینی اس کے تین سال بعد 964؁ھ میں ہوئی،جس کے مدت دراز بعد اس نے ہندو رانیاں اپنے محل کے لیے حاصل کیں اور لطف یہ کہ سلطنت مغلیہ میں یہ طریقہ آخر تک نہ نبھ سکا تھا، مگر رؤسائے پالن پور کے محل میں آج تک جاری ہے اور موجودہ رئیس کی والدۂ محترمہ بھی ایک شریف گھرانے کی ہندو راج کنواری تھیں اور چاہے ہندو لوگ اس طریقے کو چھوڑ دیں، مگر ریاست پالن پور اور اس کے تمام معزز امرا آج تک اس اتفاق و یک جہتی کی رسم کے زندہ رکھنے کو موجود ہیں اور شاید ہندو مسلمانوں میں یہاں اس قدرمیل جول ہونے کا بھی یہ سبب ہے کہ رؤسائے پالن پور کے یہاں بمقابل دیگرمقامات کےمسلمان رئیسوں کے ہندو رسموں اور ہندو معاشرت کا اثر زیادہ نظر آتا ہے۔\n\nجس سرزمین میں یہ ریاست واقع ہوئی ہےبہت پرلطف ہے، مناظر قدرت کا اچھا نظارہ ہوتا ہے۔ مغرب جانب شہر سے دس بارہ میل ہٹ کے کوہسار آراولی کا سلسلہ گزرا ہے، چوٹیاں ابر و باد کے زمانے میں اکثر بدلیوں کا ہار پہنے نظر آتی ہیں۔ اسی سلسلے کی بلندی پر آبو کی آبادی نظر آتی ہے اور آبو کے جس جنوبی و مشرقی پہلو سے پالن پور نظر آتا ہے،وہ پالن پور پوائنٹ کہلاتا ہے۔\n\nاب ہم اپنے قیام پالن پور کا تذکرہ شروع کرتے ہیں۔ ہزہائینس کی منظوری اور گلاب میاں صاحب کی تجویز سے یہ پروگرام مقرر ہوا تھا کہ ہم دوسرے دن ہزہائینس اور ان کے بلند اقبال فرزندوں سے ملیں گے، مگر ہماری بدقسمتی سے اسی شب کو محل میں ایک غمی کا سانحہ ہوگیا، وہ یہ کہ ولی عہد بہادر کے سالے کی انیسۂ زندگی بیوی جو ایک مدت سے دق میں مبتلا تھیں سفرآخرت کر گئیں، خاندان ریاست میں سوگ ایک معتد بہ زمانہ تک مانا جاتا ہے،لیکن اس موقع پر عید الاضحی کی تقریب سر پر آچکی تھی اور سب سے زیادہ دشواری یہ کہ مرشد علی پیر اور قاضی انور میاں کے عرس درپیش تھے، جن بزرگوں سے ہزہائینس اور تمام اہل پالن پور کو بڑی عقیدت ہے اور ان کے عرس کو ہزہائینس کی توجہ سے نوابزادہ طالع محمد خاں صاحب ولی عہد ریاست خاص اہتمام سے انصرام فرماتے ہیں ؛ چنانچہ یہ عرس اب ایک نہایت ہی بارونق نمائش گاہ بنا دیا گیا ہے، جو ہر سال دسہرے کے موقع پر ہوتا ہے اور دسہرا جس قمری مہینے میں پڑے اس کی ٧؍ تاریخ سے شروع ہو کے 17؍ تک یعنی دس روز تک قائم رہتا ہے۔ اس میلے کا اہتمام گلاب میاں کے سپرد ہے ؛ چنانچہ ان کی کوشش سے احمد آباد گجرات اور دیگر بلاد دور دراز کے تاجر اور دو کاندار آئے ہوئے تھے اور شہر پناہ کے باہر درگاہ کے آس پاس نہایت صفائی، خوشنمائی اور قرینے سے ایک ایسا ستھرا اور بارونق بازار قائم ہو گیا تھا جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ بہرحال بقرعید اور اس میلے اور عرس کی وجہ سے سوگ صرف محل کے زنانے حصے تک محدود رکھا گیا اور دربار کی بیرونی شان میں کوئی فرق نہیں آیا، لیکن جنازے کے ساتھ خود حضور اور صاحبزادے اور اراکین دولت قبرستان تک تشریف لے گئے ؛ چنانچہ دن بھر ان عبرتناک مشاغل میں مصروف رہنے کی وجہ سے ہزہائینس کو کسی اور کام کے لیے فرصت نہ ملی اور گلاب میاں صاحب کو جو ہجوم کار سے پہلے ہی خستہ ہو رہے تھے حرارت آگئی۔\n\nیہ خاص دسہرے کا روز تھا،جس دن ہر سال حضور کی سواری پورے اہتمام اور شان و شوکت سے نکلا کرتی ہے۔ ہندو رعایا کی دل دہی کے لیے اور دونوں گروہوں میں اتحاد و ارتباط کے قائم رہنے کے لیے قدیم سے معمول چلا آتا ہے کہ جس طرح عیدین کو ہزہائینس سوار ہو کے عیدگاہ تشریف لے جاتے ہیں، اسی طرح دسہرے کو بھی پورے جلوس سے شہر میں برآمد ہو کے ہندو رعایا کی مسرت دوبالا فرماتے ہیں، مگر افسوس کہ اس سال اس سانحے کی وجہ سے یہ جلوس نہ نکل سکا اور ہندوؤں کی تمنا نہ برآئی۔\n\nعام رعایا کے ساتھ رئیس کا اخلاق اور برتاؤ ایسا اچھا ہے کہ ہر شخص جان نثار کرنے کو تیار رہا کرتا ہے،ہزہائینس ہر ادنی شخص کی طرف بھی بہ نفس نفیس متوجہ ہو کے اس کی فریاد سنتے اور جہاں تک امکان میں ہوتا ہے چارہ جوئی فرماتے ہیں۔ اپنے سفر کے باقی حالات ہم آئندہ نمبر میں عرض کریں گے۔\n\n٩ ذیحجہ 1333؁ھ کی صبح کو ہمیں حضور نواب صاحب کی خدمت میں باریاب ہونے کا موقع ملا، گلاب میاں صاحب باوجود ناسازی طبع کے تشریف لائےاور مجھے اور صدیق سلمہ کو اپنے ہمراہ ایوان ریاست میں لے گئے۔ دربار کا ہال نہایت ہی پرتکلف سامان زینت سے آراستہ تھا، صدر میں مسند یا کرسی کے عوض ایک پر تکلف اطلس کا کوچ تھا جو ہنڈو لے کی وضع سے دو چوبی ستونوں میں لٹکا ہوا تھا اور جھولے کی طرح جھلایا جا سکتا تھا۔ ا س ہنڈولے کے دونوں جانب دو طلاکار کرسیاں رکھی ہوئی تھیں، اس کے سامنے بیش قیمت ترکی قالینوں پر داہنی بائیں جانب چھ چھ کرسیوں کی آڑی آڑی دو صفیں تھیں۔ بائیں صف کی کرسیوں پر گلاب میاں صاحب اور دو تین اور معززین دربار بیٹھ گئے اور داہنی جانب کی کرسیوں پر ہم دونوں امیدواران باریابی بٹھائے گئے۔ تھوڑی ہی دیر بیٹھے تھے کہ نواب صاحب مع دونوں صاحبزادوں کے برآمد ہوئے، ہم سب کا سلام لیا اور خود حضور اس جھولنے والے کوچ پر اور دونوں صاحبزادے اس کے پہلو کی دونوں کرسیوں پر رونق افروز ہو گئے۔ نواب زادہ طالع محمد خاں بہادر ولی عہد ریاست چونکہ اپنے مسند نشین والد بزرگوار کی داہنی جانب تھے، اس لیے ہم سے زیادہ قریب تھے۔\n\nہم نے حصول باریابی کی خوشی میں بڑھ کے نذر دکھائیاور اپنی چند کتابیں جن کو ساتھ لیتے گئے تھے پہلے حضورنواب صاحب کے ملاحظے میں پھر ولی عہد بہادر کی خدمت میں پیش کیں جو شگفتگی و مسرت کے ساتھ قبول کی گئیں۔ نواب صاحب نہایت ہی معمر و سن رسیدہ اور ہر طرح واجب الاحترام ہیں اور ان خوبیوں کے ساتھ اس قدر خلیق و متواضع کہ ان کی شفقت و مرحمت کا اثر ہر ملنے والا اپنے دل میں ایک جذبۂ مسرت و ناز کی شان سے لے جاتا ہے اور کبھی نہیں بھولتا۔ حضور کے اخلاق پیرانہ سالی کے ضعف پر غالب آ کے ہر شخص محتشم الیہ کو گرویدہ بنا لیتے ہیں۔ اور بڑی خوشی کی یہ بات ہے کہ ولی عہد بہادر کو بھی یہ تمام اخلاق اپنے والد محترم کے ورثے میں ملے ہیں۔ انھوں نے حسب مذاق زمانہ انگریزی تعلیم پرائیوٹ اساتذہ سے پائی ہے، حد سے زیادہ خلیق و متواضع اور ملنسار ہونے کے ساتھ ہر شخص کے حال پر نہایت ہی شفیق و مہربان ہیں، انگریزی اور اردو دونوں زبانیں بہت ہی اچھی اور صاف بولتے ہیں اور کاروبار ریاست میں اس قدر دلچسپی لیتے ہیں کہ ان پر بھروسا کرکے کل کاروبار ریاست انھیں کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے اور وہ نہایت ہی محنت و خوش اسلوبی سے کل محکموں کے کاموں کو انجام دے رہے ہیں۔ اس امر پر حضور نواب صاحب کے سامنے میں نے اپنی مسرت ظاہر کی کہ اکثر ریاستوں میں ولی عہدوں اور رئیسوں کے فی مابین صفائی نہیں، جس کا باعث کہیں تو ولی عہدوں کی آزادانہ خود سری و بے پروائی ہوتی ہے اور کہیں ان کے مصاحبوں کی در اندازی و فتنہ انگیزی۔ الحمد للہ کہ حضور کے فرزند جوان صالح اعلی اخلاق سے متصف اور ایسے ہوشیار ہیں کہ حضور کو ان پر پورا بھروسا اور اعتبار ہے اور یہاں ایسے فتنہ جو مصاحب بھی نہیں جو خلل انداز ہو سکیں۔ پھر میں نے عرض کیا کہ ایسے ہونہار اور نیک فرزند حضور کی اعلی ترین خوش اقبالی ہیں، اس پر نواب صاحب نے بہت مسرت ظاہر کی اور فرمایا کہ مجھے اپنے بیٹوں سے کوئی شکایت نہیں، میں انھیں ہر طرح سعادت مند پاتا ہوں اور ان کی خوبیوں پر مجھے اس قدر بھروسا ہے کہ میں نے انھیں پر سب کام چھوڑ دیے ہیں اور کمال اطمینان کے ساتھ اپنی ضعیفی و فارغ البالی کی زندگی بسر کرتا ہوں۔\n\nاس دوران میں صاحبزادے صاحب سے بھی مختلف امور کا تذکرہ رہا اور انھیں حسب ضرورت زمانہ قابلیت اور واقفیت میں نہایت ہی مکمل پایا۔ چھوٹے صاحب زادے ذرا خاموش ہیں مگر جہاں تک مجھے معلوم ہو سکا وہ بھی بہت قابل اور ہونہار ہیں۔\n\nتقریباً ایک گھنٹہ بھر صحبت رہی، جس کے بعد ہم حضور سے رخصت ہو کے اپنی فرودگاہ میں واپس آئے اور حضور کے حکم سے جس کا وعدہ ہم نے اسی ملاقات میں کرلیا تھا شام کو عرس میں میں گئے، جہاں گلاب میاں صاحب نے اپنی جانب سے ٹی پارٹی دی تھی۔ حضور نواب صاحب مع دونوں فرزندوں کے مجھ سے پہلے ہی رونق افروز ہو چکے تھے، مجھے بھی میز پر حضور کے مقابل عزت دی گئی۔ اس موقع پر بھی نواب صاحب نہایت ہی محبت و اخلاص کے ساتھ باتیں کرتے رہے۔ یہاں مسٹر دہلوی بیرسٹر ایٹ لا سے شرف نیاز حاصل ہوا جو ہندوستان کے منتخب سیاسیین اسلام میں سے ہیں۔ ان کا خاندان تو دہلی کا ہے مگر فی الحال اطراف بمبئی میں وطن ہے اور کئی سال سے ریاست پالن پور کے جوڈیشیل سکریٹری ہیں۔ اعلی ترین عدالتی اقتدارات انہیں کے ہاتھ میں ہیں۔\n\nچائے وغیرہ سے فارغ ہو کے حضور نواب صاحب اٹھ کے اس وسیع مسجد میں تشریف لے گئے جو مرشد علی پیر اور قاضی انور میاں قدس اللہ اسرارہما کے مزاروں کے پاس ہے، دونوں صاحبزادے اور تمام ارکان دولت ہمراہ رکاب تھے جن کے زمرے میں میں بھی تھا۔ حضور کے مسجد میں پہنچتے ہی بعض واعظین نے فضائل محمدی کا بیان شروع کیا۔ اس سلسلے میں مولود شریف ہوا جس کے ختم ہوتے ہی سرکار نواب صاحب نے مجھے واپس آنے کی اجازت عطا فرمائی اور میں اپنی فرودگاہ میں چلا گیا۔\n\nدوسرے دن گلاب میاں صاحب کی طبیعت پھر ناساز ہوگئی، انھیں بخار آگیا اور مجھے ان کے بیمار پڑ جانے سے بڑا تردد ہوا، مگر صاحبزادہ ولی عہد بہادر نے سہ پہر کو اپنی موٹر بھیج کے مجھےبلا بھیجا اور اپنے ساتھ لے جا کے شہر اور اس کے بیرونی حصے کی سیر کرائی جو اسٹیشن اور آبادی کے درمیان میں واقع ہے۔ یہاں صاحبزادے صاحب کی اولوالعزمی نے بہت سی جدید عمارتوں کی بنیاد ڈالی ہے، ایک عالیشان کوٹھی معزز یورپین حکام کے ٹھہرانے کے لیے بن کے نصف کے قریب تیار ہوگئی ہے، جو بعد تکمیل نہایت عالی شان عمارت ہوگی اور اس کے کوٹھے پر سے چاروں طرف نہایت ہی اعلی درجے کا منظر نظر آتا ہے۔ کوہ اراولی کا سلسلہ اپنی پوری شان سے دکھائی دیتا ہے اور اس کی بلندی پر کوہ آبو کی بعض عمارتیں اس جگہ سے دیکھی جا سکتی ہیں۔ اسی عمارت کے قریب ایک شاہی محل تیار ہونے والا ہے، اسی سلسلے میں عالی جناب سرشیر محمد خاں صاحب کے عہد کی ایک یادگار بننے والی ہے جو رعایا میں نہایت ہی ہردلعزیز ہیں۔ خاص اسی غرض کے لیے ہندوستان کی مشہور عمارتوں کے نقشے اور پلین جمع کر لیے گئے ہیں جن میں سے لکھنؤ کے میڈیکل کالج کی عمارتوں کو بہت پسند فرمایا ہے اور یہی وضع جو قدیم یونانی و شاہجہانی عمارتوں کا معجون مرکب ہے، پسند آئی ہے۔\n\nان تمام عمارتوں کے مقام اور پلینوں کا معائنہ کرا کے صاحبزادے صاحب ہمیں اپنے کلب میں لے آئے، جس کی عمارت ابھی حال میں گلاب میاں صاحب کے اہتمام سے بن کے تیار ہوئی ہے۔ ایک چھوٹی سی نہایت ہی خوبصورت اور شاندار عمارت ہے، اس کلب کو کھلے تھوڑا ہی زمانہ ہوا ہے مگر ہر قسم کے تفریح و ورزش کے سامان اس میں جمع کر دیے گئے ہیں۔ بلیرڈ اور ٹینس اور دوسری قسم کے انڈور سامان تفریح کے علاوہ ہندوستان و یورپ کے اخبارات اور رسالے بھی آتے ہیں۔ دونوں صاحبزادے صاحبان، مسٹر دہلوی اور صاحب پولٹیکل ایجنٹ اور ان کی میم صاحب پابندی کے ساتھ آتے ہیں، جن کی موجودگی سے کلب میں سہ پہر کو ایک بہت اچھی مہذب و شائستہ صحبت قائم ہوجاتی ہے، جو باہمی تبادلہ خیالات اور ترقی اخلاص و محبت کا ذریعہ بن گئی ہے۔ اس کلب میں اس کے بعد بھی میں کئی بار گیا اور نوابزادے صاحب کی عنایت و مرحمت سے بے حد لطف اٹھایا۔\n\nمغرب کے وقت میں اپنی فرودگاہ میں واپس آیا اور آٹھ بجے پھر محل میں ولی عہد بہادر کے قصر میں گیا، اس لیے کہ ممدوح الشان نے مجھے اپنے ساتھ کھانا کھلانے کی عزت دی تھی۔ یہ ڈِنر بہت ہی شاندار اور اپنی قسم کا بالکل نیا تھا۔ ڈنر پر دونوں صاحبزادے، مسٹر دہلوی، برخوردار صدیق حسن اور دیگر معززین دربار ملا کے کل آٹھ آدمی تھے، گلاب میاں صاحب کے نہ شریک ہو سکنے کا سب کو افسوس تھا۔ کھانا لذیذ تھا، مگر بجائے اس کے کہ ہر ہرغذایکے بعد دیگرے لا کے پیش کردی جائے ہر شخص کے سامنے ایک نہایت ہی براق اور صاف پیتل کی تھالی تھیاور اسی میں چھوٹے برنجی ظروف میں انواع و اقسام کے الوان نعمت تھے، مگر کھانوں کی اس قدر کثرت تھی کہ یہ تھالیاں ان کے لیے کافی نہ ہو سکیں اور کئی غذائیں ان کے باہر لگا دی گئیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہ طریقہ ہندو معاشرت کا نمونہ ہے، مگر میرے خیال میں ہندو معاشرت کے اندر اسلامی اور مغربی خوبیاں جس طرح اس ڈنر میں جمع کردی گئی تھیں شاید اور کسی ہندو دربار میں نہ نظر آ سکتی ہوں گی۔ بہرحال یہ ڈنر اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت دلچسپ تھا، کھانے کے بعد بھی کچھ دیر تک صحبت رہی اور اس کے بعد ہم دلکشا کے بنگلے میں واپس آئے۔\n\nزمانہ قیام پالن پور میں وہاں کے اکثر معززین اور صاحب علم حضرات مجھ سے ملنے کو تشریف لائے اور میں ان سے مل کے بہت ہی خوش ہوا۔ بعض علمائے مہدویہ سے بھی گفتگو ہوئی اور میں نے ان کے عقائد اور نظام دینی کے متعلق بہت سی باتیں دریافت کیں۔ مہدوی حضرات حیدرآباد دکن میں بھی کثرت سے ہیں اور ان کے بعض اہل علم احباب سے وہاں مجھے اکثر ملنے اور لطف اٹھانے کا موقع ملا تھا، مگر حیدرآباد دکن میں مولوی محمد زمان صاحب کے واقعۂ شہادت نے عام اہل سنت اور مہدویوں میں تعصب بڑھا دیا ہے، جس کی بنیاد یہ ہوئی کہ نظام مرحوم میر محبوب علی خاں کے استاد مولوی مسیح الزمان خاں صاحب کے بھائی مولوی محمد زمان خاں صاحب نے مہدویوں کی تردید میں ایک کتاب لکھی تھی جس میں سید محمد جونپوری پر جا بجا سخت حملے تھے، مہدوی لوگ چونکہ علی العموم پٹھان اور سپاہی منش ہیں، انھیں نا گوار گزرا اور ایک مہدوی طالب علم نے طیش میں آکے انھیں مار ڈالا، جس پر سخت برہمی ہوئی اور گورنمنٹ نظام کو وہ ہنگامہ بڑی مشکلوں سے فرو کرنا پڑا اور قاتل پر حکم قصاص بڑی مشکل سے جاری ہو سکا۔ اس وقت سے وہاں سنیوں اور مہدویوں میں سخت اختلاف ہو گیا ہے اور دونوں ایک دوسرے کو وحشت و مغائرت کی پرخطر نظر سے دیکھتے ہیں۔ مہدویوں نے بھی وہاں اپنے مذہبی تعلقات بالکل جدا کر لیے ہیں، مسجدیں جدا ہیں، امام و پیشوا جدا ہیں اور مہدویوں کے معابد وہاں عجیب عجیب نامعلوم اسرار سے مملو خیال کیے جاتے ہیں۔\n\nپالن پور میں اس منافرت کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ مہدوی لوگ حنفیوں سے کسی فقہی مسئلے میں مخالف نہیں ہیں، فقہ حنفیہ پر پورا پورا عمل درآمد ہوتا ہے،سوا دو ایک جزئی مسئلوں کے، جیسے کہ امام کے پیچھےسورۂ فاتحہ پڑھنا، جس میں وہ محدثین سلف اور گروہ اہل حدیث کے موافق ہیں، جو کچھ زیادتی ہے وہ یہ ہے کہ سید محمد جونپوری کے ولی کامل اور سچے مہدی موعود ہونے کے قائل ہیں اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ اسلام میں جن “مہدی مِن آل محمد” کے آنے کی پیشین گوئی کی گئی ہے وہ پوری ہو چکی، حضرت سید محمد صاحب وہی مہدی موعود تھے جو ظاہر ہوکے اپنا کام پورا کر چکے اور اب کسی مہدی کا انتظار کرنا بے سود ہے۔ مہدویوں کا صرف ایک مسئلہ ہمیں اچھا نہیں معلوم ہوا، وہ یہ کہ ان کا اعتقاد ہے کہ جو شخص حضرت سید محمد صاحب کی مہدیت پر ایمان نہ رکھتا ہواس کے پیچھے فرض نمازیں نہیں ہو سکتیں،ہاں وہ نمازیں جو مسنون ہیں ادا ہو جاتی ہیں۔ پالن پور کے مہدوی جمعہ اور عیدین کی نمازوں کو سنت مانتے ہیں اور اسی وجہ سے یہ دونوں نمازیں بلاتکلف حنفی امام کے پیچھے پڑھ لیتے ہیں، مگر پنج وقتہ مفروض نمازیں اس کے پیچھے نہیں پڑھ سکتے۔ ہمارے نزدیک علمائے مہدویہ اگر کوشش فرماکے اس تفریق کو دور کردیں اور پانچوں مفروض نمازیں بھی ایک دوسرے کے پیچھے ادا کرنے لگیں تو وہ چیز جو جماعت اسلام میں تفرقہ ڈالنے والی ہے دور ہو جائے اور حنفیوں اور مہدویوں میں ویسا ہی اتحاد ہوجائے جیسا کہ حنفیوں، شافعیوں یا مقلدوں اور غیر مقلدوں میں ہے۔\n\nاسی سلسلے میں مولوی اشرف علی صاحب کی کتاب بہشتی زیور کا بھی ذکر آیا، جس کی نسبت ان دنوں اخبارات میں چرچا تھا کہ ریاست پالن پور نے اپنی قلمرو میں اس کی تعلیم جبراً رکوا دی ہے۔ بہشتی زیور کو میں خود بھی ناپسند کرتا ہوں اور اس قابل نہیں سمجھتا کہ تعلیم درکنار، وہ عورتوں کے ہاتھ میں بھی دی جائے مگر اس آزادی کے دور میں ایک ریاست کی طرف سے اس قسم کے احکام کو میں بھی قطعاً جائز نہیں رکھ سکتا تھا۔یہاں دریافت کرنے سے صورت واقعہ یہ معلوم ہوئی کہ پالن پور میں مہدویوں سے کچھ زائد تعداد حنفیوں کی ہے، جو کمال بے تعصبی کے ساتھ رہتے اور باہم خلوص و محبت سے ملتے جلتے ہیں۔ فی الحال ایک مولوی صاحب دیوبند سے تعلیم پاکے پالن پور میں تشریف لائے اور انھوں نے پالن پور کے حنفیوں میں اُس سچی اور بے داغ حنفیت کی تعلیم شروع کی جس کا مرکز دیوبند ہے۔ پرانے حنفیوں میں جو قبر پرستی اور شرک و بدعات کے دلدادہ ہیں، مخالفت کا جوش بڑھا اور حنفیوں کےدو گروہ ہوگئے، جن میں اختلاف اور رد و قدح یہاں تک بڑھا کہ فساد اور بلوے کا اندیشہ ہوااور بنائے مخاصمت زیادہ تر یہ جھگڑا قرار پا گیا کہ ان نئے مولوی صاحب کو بہشتی زیور کی تعلیم پر اصرار تھا اور مخالف حنفیوں کو اس سے قطعاً انکار۔ ایک ایسے مقام پر جہاں قانونِ اسلحہ نہیں ہے اور لوگ ہتھیار رکھ سکتے ہیں، اس جھگڑے کے نتیجے میں خوں ریزی کا اندیشہ تھا، یہ حالت دیکھ کے ریاست نے مصلحتاً یہ حکم دے دیا کہ چند روز کے لیے فی الحال بہشتی زیور کی تعلیم موقوف رکھی جائے۔\n\nاگر غور سے دیکھیے تو ریاست ایسا حکم دینے پر مجبور تھی، مگر بہشتی زیور کے طرفداروں نے اپنی ناراضی صفحات اخبار میں شائع کرکے ریاست کو بد نام کرنا شروع کردیا اور اکثر ایڈیٹران اخبار جو اصل واقعات سے بے خبر تھے ان کے مؤید ہوگئے۔ رئیس پالن پور اور ان کے ارکان دولت عموماً مہدوی ہیں اور مہدویوں کو اس جھگڑے سے کوئی ذاتی تعلق نہیں، یہ دراصل حنفیوں کا اندرونی جھگڑا ہے، جس کو واعظین بڑھا کے اکثر جگہ عام مسلمانوں کے امن و امان میں خلل ڈال دیا کرتے ہیں۔ فرنگی محل کے علما نے بھی بہشتی زیور کے خلاف فتوے دیے ہیں، اگرچہ ان کا یہ فعل بھی ہمیں پسند نہ آیا اور ہم اسے نہایت ہی مشتبہ نگاہوں سے دیکھتے ہیں، مگر اس سے پالن پور کی گورنمنٹ کو اپنی قدیم حنفی رعایا کی خواہش کے مطابق اس کے روکنے کے جواز کا فتویٰ بھی مل گیا۔\n\nمہدویوں میں فقہ حنفیہ کے ساتھ تصوف کی تعلیم اور قبر پرستی کا بہت رواج ہے اور وہ دعوی کرتے ہیں کہ ہماری تعلیم خالص روحانی تعلیم ہے، ہم کلامی استدلال سے نہیں بلکہ روحانی اثر سے مسلمانوں کو عقائد اسلامیہ کی حقیت باور کراتے ہیں۔ ان میں مذہبی تبلیغ و تلقین کے لیے جابجا متعدد “دائرے” قائم ہیں اور وہی ان کی مذہبی تعلیم کے مرکز ہیں۔ میں نے موجودہ حالات میں جہاں تک غور کیا ان دائروں کو بہت کمزور حالت میں پایا، اگرچہ بعض دائروں کے معلم و مرشد نہایت ہی نیک نفس اور پاک باطن بزرگ ہیں،مگر دائرے کاسسٹم جن اصول پر قائم کیا گیا تھا ان میں تبلیغ و تلقین کے ساتھ انتظامی کانسٹی ٹیوشن کی بھی ضرورت ہے جو بالکل مفقود ہے۔ اگر ان دائروں کی حالت درست ہو جائے اور جو نظام ان کے ذریعہ سے جاری کرنا مقصود تھا وہ زندہ کر دیا جائے تو مہدویت روحانیت اور تعلیم باطن کا سب سے اعلی آلہ بن جائے۔\n\n مجھےعید الاضحیٰ پالن پور میں ہوئی۔ اگرچہ یہاں کے مسلمانوں میں دینی سرگرمی کم ہے مگر عید بہت ہی اچھی اور شاندار ہوتی ہے اور قومی وقار کا ایک اچھا نمونہ نظر آجاتا ہے۔ میں نےجن اسلامی شہروں کو دیکھا ان سب سے یہاں کی عید مجھے زیادہ با رونق نظر آئی۔ ولی عہد بہادر نے براہ کرم موٹر بھیج دی تھی، جس پر بیٹھ کے میں عید گاہ میں گیا، ایوان ریاست راستے میں تھا جہاں سے گزرتے وقت میں نے حضور نواب صاحب کو محل کے کوٹھے پر نمودار دیکھا، آداب بجا لایا اور جلوس کو جو جمع ہو رہا تھا دیکھتا ہوا عید گاہ پہنچا۔ وہاں شہر کے تمام مہدوی اور حنفی جمع تھےاور اچھا مجمع تھا، تھوڑی دیر کے بعد طبل و قرنا کی آواز آئی اور معلوم ہوا کہ حضور نواب صاحب کی سواری آ گئی۔ عَلَم ریاست لاکے منبر کے دونوں جانب کھڑے کردیے گئے، یہ اُس سنت قدیم کی پیروی تھی جس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں رواج تھا، یعنی شہر کے باہر میدان میں جا کے نیزہ گاڑ دیا جاتا۔ خود نواب صاحب اور محتشم الیہ کے دونوں جوان بخت فرزنداندر آئے اور حضور نے بکمال مرحمت مجھے بھی آگے بڑھا کے اپنے قریب کر لیا۔\n\nجب نواب صاحب کو معلوم ہو گیا کہ جلوس کے تمام مسلمان ہمراہی عیدگاہ میں آ کے بیٹھ گئے تو شہر کی جامع مسجد کے حنفی امام نے نماز پڑھائی اور بعد فراغ نماز امام صاحب منبر پر کھڑے ہوکے اور جریب ہاتھ میں لے کے خطبہ پڑھنے لگے۔ اس وقت ریاست کےدو چوبدار ان کے داہنے بائیں جانب کھڑے ہوگئے اور خطبہ کے درمیان ہی ایک چوبدار نے ان کے سر پر پگڑی باندھی، جو ہر سال ریاست کی جانب سےعطا ہوا کرتی ہے۔ بعد نماز سب لوگ حسب معمول ملنے لگے، میں فوراً اٹھ کے باہر آیا اور موٹر پر سوار ہو کے واپس روانہ ہوا، مگر راستے میں ایک جگہ ٹھہر کے ارادہ کیا کہ حضور کی سواری اور جلوس کی پوری شان دیکھ لوں تو باغ دل کشا کی راہ لوں۔\n\nاب اس وقت سلامی کی تو پیں چل رہی تھیں اور باجا بج رہا تھا، تھوڑی دیر میں جلوس آپہنچا، اونٹوں پر نقارے اور علم وغیرہ تھے، ان کے بعد باجے اور ریاست کی مختصر فوج تھی، اس کے بعد خود حضور مع صاحب زادوں اور دہلوی صاحب کے فٹن پر سوار تھے۔ ہمیشہ حضور گھوڑے پر سوار ہوا کرتے تھے، مگر اب کی ناتوانی و ضعف کی مجبوری سے گاڑی پر سوار ہو کے عیدگاہ تشریف لے گئے۔ جیسے ہی حضور کی گاڑی میرے قریب سے گزری، میں جھک کے آداب بجا لایا اور نواب صاحب نےہنس کے فرمایا: آپ یہاں کہاں؟ عرض کیا حضور کا جلوس دیکھنے کے لیے کھڑا ہو رہا۔ اس جواب پر خوش ہوئے اور سواری آگے بڑھ گئی۔\n\nحضور کے پیچھے منصب داروں اور نظم جمعیت والوں کا ایک بڑا گروہ تھا، وہ سب گھوڑوں پر تھے، ان کے گزر جانے کے بعد میں روانہ ہوکے اپنی فرودگاہ میں آیا اور عید کے منظر کی دلچسپیوں سے دل ہی دل میں لطف اٹھاتا رہا۔ ان پرانی وضعوں کے نباہنے والے رئیسوں سے ہندوستان خالی ہوتا جاتا ہے، عید کے دن پر عظمت جلوس اور شان و شکوہ سے نکلنا مسلمان رعایا کے لیے ایک بہت ہی دلچسپ نظارہ ہے۔ قطع نظر اس کے کہ اس سے قدامت کی پر لطف یاد تازہ ہوجاتی ہے، بڑا فائدہ یہ ہے کہ دلوں میں حاکم کی قدربڑھتی ہے اور قومی بندشیں مضبوط ہوتی رہتی ہیں؛ مگر عہد جدید کے ہندوستانی رئیسوں کو اس کی مطلق پروا نہیں۔ میرے نزدیک رئیس پالن پور کے رعایا میں ہر دل عزیز ہونے کی زیادہ وجہ یہ ہے کہ ان قدیم رسمو ں کا وہ بہت لحاظ کرتے ہیں اور ایسے شاندار جلوس کے ساتھ برآمد ہوتے وقت راستے میں ہر طبقے کے لوگوں سے بخندہ پیشانی ملتے اور مختلف حیثیتوں کے لوگوں سے ان کے رتبے اور درجے کے مطابق صاحب سلامت اور مزاج پرسی فرماتے ہیں، جس سے لوگوں کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔\n\nاس کے بعد اور دو روز کے لیے میں حضور کے اصرار سے ٹھہر گیا اور صاحبزادے صاحبوں خصوصاً ولی عہد بہادر کی عنایت و توجہ سے بہت لطف اٹھایا۔ انھوں نے صاحب پولٹیکل ایجنٹ سے ملایا، جو خلیق اور ملنسار آدمی ہیں۔ کلب میں اتفاق سے اسی زمانہ میں ٹورنامنٹ تھا اور بڑی ہی مستعدی سے ٹینس وغیرہ کے کھیل ہو رہے تھے، جن کو میں نے گھنٹوں بیٹھ کے دیکھا۔ حضور ولی عہد بہادر بڑے روشن خیال رئیس ہیں اور یہ امر غور کے قابل ہے کہ انھوں نے اگرچہ اپنے گھر میں بالکل پرائیوٹ تعلیم پائی ہے، مگر بیدار مغزی اور اخلاقی خوبیوں میں ان تمام رئیسوں اور رئیس زادوں سے بدرجہا زیادہ بڑھے ہوئے ہیں جنھوں نے اجمیر کے چیفس کالج میں تعلیم پائی ہے۔\n\nمیری آخری رخصتی ملاقات حضور نواب صاحب بہادر سے بہت ہی دلچسپ تھی۔ حضور نے نہایت ہی شگفتگی کے ساتھ رخصت کیا، کھڑے ہوگئے، اپنے کوچ سے دو قدم آگے بڑھ آئے، ہاتھ ملایا اور کچھ ایسے محبت بھرے الفاظ ارشاد فرمائےکہ میں دل میں ان کی محبت و مرحمت کا نہایت ہی گہرا اثر لے کے آیا ہوں اور زندگی بھر شکر گزار اور رہین منت رہوں گا اور حضور سے زیادہ امید فلاح و بہبودی مجھے نواب زادہ طالع محمد خاں صاحب سے ہے جواپنی قابلیت اور بیدار مغزی سے پالن پور کے لیے آئندہ ایک بڑی برکت اور نعمت الٰہی ثابت ہونے والے ہیں۔\n\nجہاں تک مجھے پتہ لگا ہے، ان کے عادات و اطوار نہایت اچھے اور پاکیزہ ہیں۔ مے کشی، عیاشی، کاہلی اور بے پروائی جن آفتوں میں اکثر دولت مند ان وطن مبتلا نظر آتے ہیں، ان سے خدا نے انھیں بالکل الگ اور آج تک ان کے دامن کو پاک و صاف رکھا ہے۔ انھیں ریاست کے انتظامی مشاغل سے اتنی فرصت ہی نہیں ملتی کہ ان اخلاق کُش باتوں میں مبتلا ہوں اور عمر اتنی پختگی کو پہنچ گئی ہے کہ آئندہ بھی ان کے چال چلن پر کسی مضر اثر کے پڑنے کا بہت ہی کم اندیشہ ہو سکتا ہے۔\n\nپالن پور کے موجودہ عہدہ داروں میں مسٹر دہلوی بہت ہی خلیق اور غیر معمولی قابلیت کےبزرگ ہیں۔ وہ ایک مدت تک سندھ میں رہے ہیں، جس ملک کے حالات میں وہاں کی تاریخ لکھنے کے باعث مجھے بہت لطف آتا ہے۔ مسٹردہلوی سے مجھے انگریزی میں حالات سندھ کے متعلق چند ایسی سرکاری رپورٹیں مل گئیں جن سے اُس سرزمین کے تمام حالات آئینہ ہو جاتے ہیں، جس کی بابت میں ان کا نہایت ہی شکر گزار ہوں۔\n\nاور اسی طرح بندۂ احسان شبیر میاں صاحب کا ہوں جنھوں نے میرے زمانۂ قیام پالن پور کو ایک نہایت مسرت بخش خواب بنا دیا جو ہمیشہ یاد آئے گا اور مزہ دے گا۔ شبیر میاں صاحب کی یادگار میرے پاس ایک تاریخ گجرات بھی ہے جس سے مجھے علمی ضرورتوں میں وقتاً فوقتاً مدد ملتی رہے گی اور ہمیشہ ان کا شکر گزار رہوں گا، مگر سب سے زیادہ برکت یہ گلاب میاں صاحب کی قدیم محبت و مرحمت کی ہے، جس کی کشش مجھے اراولی کے دامن میں کھینچ لے گئی، ورنہ کہاں میں اور کہاں وہ مینو سواد سرزمین؟", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%81%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%92/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%D9%84%D9%86_%D9%BE%D9%88%D8%B1"} {"title": "شرطیں جو بندگی میں لگانا روا ہوا", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شرطیں جو بندگی میں لگانا روا ہوا\nاے واعظوں نماز نہ ٹھہری جوا ہوا\n\nابھرا جو رو سیاہ تنک ظرف کیا ہوا\nحد سے سوا جو خال ہوا وہ مسا ہوا\n\nپوچھو نہ کوے یار عدم کی مسافرو\nڈھرا ہے سوئے گور غریباں لگا ہوا\n\nسوکھا ہوائے غم سے جو کچھ تازگی ہوئی\nمیں وہ شجر ہوں خشک ہوا جب ہرا ہوا\n\nثانی محال ہے صنم لاجواب کا\nپیدا کوئی خدا کا نہیں دوسرا ہوا\n\nمثل حباب دم میں فنا ہو جو آدمی\nپانی کا بلبلہ نہ ہوا اور کیا ہوا\n\nوہ دل جلا ہوں جس میں مری خاک مل گئی\nجو نخل اس زمیں پہ ہوا آگ کا ہوا\n\nناخن خراشیوں سے جراحت جو بڑھ چلے\nناسور اور زخم کہن میں سوا ہوا\n\nہنستے تو گل رخوں سے ہیں مثل دہان زخم\nلیکن ہے آبلے کی طرح دل دکھا ہوا\n\nساکت زبان ہو گئی اے شادؔ مرتے دم\nکیا بند عندلیب مرا بولتا ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D8%B7%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "شرم آلود کہیں دیدۂ غماز نہ ہو", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شرم آلود کہیں دیدۂ غماز نہ ہو\nدلبری کا کوئی پہلو نظر انداز نہ ہو\n\nدور سے درد بھری ایک صدا آتی ہے\nمیرے ٹوٹے ہوئے دل کی کہیں آواز نہ ہو\n\nلذت درد کا مہجور سہارا کیوں لیں\nلطف تنہائی تو جب ہے کوئی دم ساز نہ ہو\n\nشکر صد شکر کہ اے شوق مرا طائر دل\nبال و پر ہوتے ہوئے مائل پرواز نہ ہو\n\nمنتظر بزم ہے آ جائیں بصد عشوۂ و ناز\nشرط یہ ہے کہ نگاہ غلط انداز نہ ہو\n\nیہ بھی کیا دور ہے نیرنگی عالم تیرا\nمرغ آسودہ چمن زمزمۂ پرواز نہ ہو\n\nکثرت جلوہ میں گم ہے دل ہنگامہ فروز\nبے خودی کہتی ہے میرا کوئی ہم راز نہ ہو\n\nسر مقتل کوئی اس شان سے آئے اے شوقؔ\nلب پہ اعجاز نہ ہو چشم فسوں ساز نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D9%85_%D8%A2%D9%84%D9%88%D8%AF_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%BA%D9%85%D8%A7%D8%B2_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے\nاے عشق مرحبا وہ یہاں تک تو آ گئے\n\nدل پر ہزار طرح کے اوہام چھا گئے\nیہ تم نے کیا کیا مری دنیا میں آ گئے\n\nسب کچھ لٹا کے راہ محبت میں اہل دل\nخوش ہیں کہ جیسے دولت کونین پا گئے\n\nصحن چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا\nوہ آ گئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے\n\nعقل و جنوں میں سب کی تھیں راہیں جدا جدا\nہر پھر کے لیکن ایک ہی منزل پہ آ گئے\n\nاب کیا کروں میں فطرت ناکام عشق کو\nجتنے تھے حادثات مجھے راس آ گئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D9%85%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D9%84%D8%AC%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%DA%86%DA%BE%DA%91%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "شرمندہ کیا جوہر بالغ نظری نے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شرمندہ کیا جوہر بالغ نظری نے\nاس جنس کو بازار میں پوچھا نہ کسی نے\n\nصد شکر کسی کا نہیں محتاج کرم میں\nاحسان کیا ہے تری بیداد گری نے\n\nمحتاج تھی آئینے کی تصویر سی صورت\nتصویر بنایا مجھے محفل میں کسی نے\n\nگل ہنستے ہیں غنچے بھی ہیں لبریز تبسم\nکیا ان سے کہا جا کے نسیم سحری نے\n\nمایوس نہ کر دے کہیں ان کی نگہ گرم\nامید دلائی ہے مجھے سادہ دلی نے\n\nمحنت ہی پہ موقوف ہے آسائش گیتی\nکھوئی مری راحت مری راحت طلبی نے\n\nوحشتؔ میں نگاہوں کے تجسس سے ہوں آزاد\nاحسان کیا مجھ پہ مری بے ہنری نے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D9%85%D9%86%D8%AF%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%BA_%D9%86%D8%B8%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DB%92"} {"title": "شروع اہل محبت کے امتحان ہوئے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شروع اہل محبت کے امتحان ہوئے\nاب ان کو ناز ہوا ہے کہ ہم جوان ہوئے\n\nسبھوں کی آ گئی پیری جو تم جوان ہوئے\nزمیں کا دل ہوا مٹی خم آسمان ہوئے\n\nغضب سے کم نہیں ہوتا وفور رحمت بھی\nمیں ڈر گیا وہ زیادہ جو مہربان ہوئے\n\nارے ذرا مرے دل سے یہ کوئی پوچھ آئے\nاسی طرح وہ خفا ہیں کہ مہربان ہوئے\n\nکھلا نیا کوئی گل دور دور پہنچی بو\nنہ کیوں جہاں میں ہو شہرت کہ وہ جوان ہوئے\n\nدل و جگر کی جگہ داغ تک نہیں باقی\nجو نامدار پڑے تھے وہ بے نشان ہوئے\n\nدل و جگر میں نہیں جان تن کا ذکر ہے کیا\nہمارے مرنے سے خالی کئی مکان ہوئے\n\nگزشتگاں کے جو قصے بیان کرتے تھے\nاب ان کے ذکر بھی کانوں کو داستان ہوئے\n\nعوض نماز جنازہ کے میرے لاشے پر\nتمام قصۂ مہر و وفا بیان ہوئے\n\nگیا دل اس کا وہ آ بیٹھے جس کے پہلو میں\nبس اس کی جان گئی جس پہ مہرباں ہوئے\n\nوہ قتل کرتے مگر رحم آ گیا ہے رشیدؔ\nیہ میرے نالے مرے واسطے امان ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%D9%88%D8%B9_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "شرک کا پردہ اٹھایا یار نے", "poet_page": "مصنف:یاسین علی خاں مرکز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مرکز (1926)", "year": "1926", "text_ur": "شرک کا پردہ اٹھایا یار نے\nہم کو جب اپنا بنایا یار نے\n\nروز روشن کی طرح دیکھا اسے\nگرچہ منہ اپنا چھپایا یار نے\n\nظاہراً موجود ہے ہر شان سے\nہر طرح رخ کو دکھایا یار نے\n\nخویش و بیگانہ فقط کہنے کو ہے\nاپنا دیوانہ بنایا یار نے\n\nبندہ بن جانا فقط چھپنے کو ہے\nگھر کو ویرانہ بنایا یار نے\n\nپھیر گردوں سے ہے صورت ہر طرح\nجسم کا شانہ بنایا یار نے\n\nتو وہ مرکزؔ ہے خدائی کا ظہور\nخط فاصل کو بنایا یار نے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%DA%A9_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92"} {"title": "شرکت محفل", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "تو ہمیشہ رہتا ہے چیں بر جبیں افسردہ دل\nپھر کسی کی بزم عشرت میں نہ جا بہر خدا\nخود ہی اپنی جان سے بے زار تو انصاف کر\nتجھ سے اہل بزم پھر کس طرح خوش ہوں گے بھلا\nچاہیئے اس طرح جانا محفل احباب میں\nباغ میں جس طرح خوش خوش آتی ہے باد صبا\nخیر مقدم کا اشارہ جھوم کر کرتی ہے شاخ\nاور چٹک کر دیتی ہیں کلیاں صدائے مرحبا\nجس شجر کے پاس سے گزرے لگا وہ جھومنے\nپہنچے جس غنچے تک افسردہ تھا وہ ہنسنے لگا\nدل پہ جو گزرے وہ گزرے کیوں کسی کو ہو خبر\nسب سے بڑھ کر ہے خدا تو حال دل کا جانتا\nشادی و غم جب کہ دونوں ہیں جہاں میں بے ثبات\nوقت اپنا کاٹ دے ہنس بول کر بہر خدا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%DA%A9%D8%AA_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84"} {"title": "شری کرشن", "poet_page": "مصنف:چندر بھان کیفی دہلوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہیں جسودھا کے لئے زینت آغوش کہیں\nگوپیوں کے بھی تصور سے ہیں روپوش کہیں\n\nدوارکا جی کا بسانا تو مبارک لیکن\nکر نہ دیں برج کی گلیوں کو فراموش کہیں\n\nکھا کے تندل کہیں اعزاز سداما کو دیا\nساگ خوش ہو کے بدر جیؔ کا کیا نوش کہیں\n\nخود بچن دے کے جراؔ سندھ سے رن میں بھاگے\nرہے بد گوئی ششپال پہ خاموش کہیں\n\nدوارکا دھیش کہیں بن کے مکٹ سر پہ رکھا\nکالی کملی رہی جنگل میں سردوش کہیں\n\nگوپیاں سن کے مرلیا ہوئیں ایسی بیتاب\nگر گئے ہار کہیں رہ گئی پاپوش کہیں\n\nمدھ بھرے نین سے آنکھیں نہ ملاؤ کیفیؔ\nلوگ مشہور نہ کر دیں تمہیں مے نوش کہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%B4%D9%86"} {"title": "شری کرشن (سیماب اکبرآبادی)", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہوا طلوع ستاروں کی دل کشی لے کر\nسرور آنکھ میں نظروں میں زندگی لے کر\nخودی کے ہوش اڑانے بصد نیاز آیا\nنئے پیالوں میں صہبائے بے خودی لے کر\nفضائے دہر میں گاتا پھرا وہ پریت کے گیت\nنشاط خیز و سکوں ریز بانسری لے کر\nجہان قلب سراپا گداز بن ہی گیا\nہر ایک ذرہ محبت کا ساز بن ہی گیا\n\nجمال و حسن کے کافر نکھار سے کھیلا\nریاض عشق کی رنگیں بہار سے کھیلا\nپیمبروں کی کبھی رسم کی ادا اس نے\nگوالا بن کے کبھی سبزہ زار سے کھیلا\nبہا دیے کبھی ٹھوکر سے پریم کے چشمے\nکبھی جمن کبھی گنگا کی دھار سے کھیلا\nہنسی ہنسی میں وہ دکھ درد جھیلتا ہی رہا\nکرشمہ باز زمانے سے کھیلتا ہی رہا\n\nکیا زمانے کو معمور اپنے نغموں سے\nسکھائے عشق کے دستور اپنے نغموں سے\nصداقت اور محبت کی اس نے دی تعلیم\nاندھیریوں میں بھرا نور اپنے نغموں سے\nلطافتوں سے کیا ارض ہند کو لبریز\nکثافتوں کو کیا دور اپنے نغموں سے\nفلک کو یاد ہیں اس عہد پاک کی باتیں\nوہ بانسری وہ محبت کی سانولی راتیں\n\nدلوں میں رنگ محبت کو استوار کیا\nسواد ہند کو گیتا سے نغمہ بار کیا\nجو راز کوشش نطق و زباں سے کھل نہ سکا\nوہ راز اپنی نگاہوں سے آشکار کیا\nاداسیوں کو نئی زندگی عطا کر دی\nہر ایک ذرے کو دل دے کے بیقرار کیا\nجو مشرب اس کا نہ اس طرح عام ہو جاتا\nجہاں سے محو محبت کا نام ہو جاتا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%B4%D9%86_%28%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%29"} {"title": "شریف عورتیں اور فلمی دنیا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے مضامین", "year": "1942", "text_ur": "جب سے ہندوستانی صنعت فلم سازی نے کچھ وسعت اختیار کی ہے، سماج کے بیشتر حلقوں میں یہ سوال بحث کا باعث بنا ہوا ہے کہ شریف عورتوں کو اس ملکی صنعت سے اشتراک کرنا چاہیئے یا نہیں؟ بعض اصحاب اس صنعت کو کسبیوں اور بازاری عورتوں کی ’’نجاست‘‘ سے پاک کرنے کے پیشِ نظر اس بات کے حق میں ہیں کہ شریف عورتیں بیش از بیش سینما کے نقرئی پردے پر آنے کی کوشش کریں، لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ بعض حضرات ایسے بھی ہیں جو سینما لائن سے شریف عورتوں کا اشتراک ایک لمحے کے لئے گوارا نہیں کرتے اور اسے ایک گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔\n\nمزے کی بات یہ ہے کہ اول الذکر ملکی صنعت کو پاک کرنے کے شاندار جذبے کے زیراثر یہ بھول جاتے ہیں کہ جس نجاست کو وہ ایک چہرے سے دور کرنا چاہتے ہیں، دوسرے چہرے پر ویسی کی ویسی جمی رہتی ہے۔ فلمی کارخانوں سے کسبیوں کو باہر نکال دینے سے وہ بازار بند نہیں ہوتے جہاں یہ عورتیں مردوں کے پاس اپنی اجناس فروخت کرتی ہیں۔ مؤخر الذکر جو اسٹوڈیو کی گندی فضا میں شریف عورتوں کو جانے کی اجازت نہیں دیتے، اس مجلا و مطہر جذبے کی شدت کے باعث یہ حقیقت بالکل بھول جاتے ہیں کہ وہ بدچلن عورتیں جو سینما کے پردوں پر آتی ہیں اور جن کے گانوں اور ایکٹنگ سے وہ اپنے تھکے ہوئے دماغوں کو راحت بخشتے ہیں، جن کے آرٹ سے وہ علم حاصل کرتے ہیں، کسی زمانے میں شریف عورتیں ہی تھیں۔\n\nاگر چکلے کی کوئی عورت اپنا کاروبار چھوڑ کر کسی فلم کمپنی میں داخل ہو جاتی ہے اور اس نئی لائن میں اپنا کام بطریق احسن کرتی ہے تو ہمیں یا آپ کو اس کے اس اقدام پر اعتراض کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ بازاری عورتیں سماج کی پیداوار ہیں اور سماج کے وضع کردہ قوانین کی کھاد ان کی پرورش کرتی ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ انہیں بیگانہ تصور کیا جائے اور کیوں ان کی موت کی تدبیریں سوچی جائیں جبکہ وہ سماج کا ایک حصہ ہیں، اس کے جسم کا ایک عضو ہیں، اگر ان کو اچھا بنانا درکار ہے تو سارے جسم کے نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے، جب تک سماج اپنے قوانین پر ازسر نو غور نہ کرے گا، وہ ’’نجاست‘‘ دور نہ ہوگی جو تہذیب و تمدن کے اس زمانے میں ہر شہر اور ہر بستی کے اندر موجود ہے۔\n\nسانس کا زیر و بم قائم رکھنے کے لئے دفتر کا بے ضرر کلرک سارا دن حساب کی جانچ پڑتال کرتا ہے اور سیکڑوں کاغذ سیاہ کرتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح زندہ رہنے کے لئےشہر کامے فروش دن بھر قانون کے سائے تلے شراب بیچتا ہے۔ دونوں کا مقصد ایک ہے۔ راستے جدا جدا ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ اگر ہمارے دفتر کے بے ضرر کلرک کو ایسے ذرائع میسر آتے یا حالات کچھ اس قسم کے ہوتے تو وہ مے فروشی شروع کر دیتا۔ کیا وجہ ہے کہ عورتوں کا جسم بیچنا حیرت اور نفرت سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسی عورتوں کا وجود ہر گز ہر گز حیرت خیز یا نفرت انگیز نہیں ہے۔\n\nہماری شریف عورتوں کی شرافت ا س لئے برقرار ہے کہ انہوں نے بالکل جدا قسم کے ماحول میں پرورش پائی۔ والدین کے سایہ عاطفت سے نکل کر وہ اپنے کماؤ شوہروں کے پاس چلی آئیں اور زندگی کے پرپیچ راستوں سے بالکل الگ تھلک رہیں۔ جن ’’شریف عورتوں‘‘ کو والدین کا سایہ عاطفت نہ ملا، جو تعلیم سے بے بہرہ رہیں، جن کو خود اپنا پیٹ بھرنے کا سامان کرنا پڑا وہ سڑک کے پتھر کی طرح جدا ہو گئیں۔ انہیں لامحالہ ٹھوکریں کھانا پڑیں۔ کچھ مقابلے کی تاب نہ لا کر مر گئیں۔ کچھ سڑکوں پر بھیک مانگنے لگیں، کچھ ہسپتالوں میں داخل ہو گئیں۔ کچھ محنت مزدوری کے ذریعے سے اپنا پیٹ پالنے لگیں اور کچھ زندگی کی ایک آگ سے گزر کر ایک ایسے تنور میں جاگریں جو ہمیشہ گرم رہتا ہے، یعنی وہ بیسوا بن گئیں۔\n\nویشیا پیدا نہیں ہوتی، بنائی جاتی ہیں یا خود بنتی ہے۔ جس چیز کی مانگ ہوگی منڈی میں ضرور آئے گی۔ مرد کی نفسانی خواہشات کی مانگ عورت ہے، خواہ وہ کسی شکل میں ہو، چنانچہ اس مانگ کا اثر یہ ہے کہ ہر شہر میں کوئی نہ کوئی چکلہ موجود ہے، اگر آج یہ مانگ دور ہو جائے تو یہ چکلے خودبخود غائب ہو جائیں گے۔ جو نظریہ ہمارے نام نہاد وقار پسند حضرات نے ویشیاؤں کے متعلق قائم کر رکھا ہے، بنیادی طور پر غلط ہے۔ اس میں اپنے ذاتی وقار، ذاتی تعزز اور ذاتی تشخص برقرار رکھنے کے جذبے کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔\n\nچونکہ مرد کے ہاتھ میں اکثر و بیشتر اختیارات کی باگ ڈور ہے، ا س لئے وہ اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔ سوسائٹی کے اصولوں کے مطابق مرد مرد رہتا ہے خواہ اس کی کتاب زندگی کے ہر ورق پر گناہوں کی سیاہی لپی ہو، مگر وہ عورت جو صرف ایک مرتبہ جوانی کے بے پناہ جذبے کے زیر اثر کسی اور لالچ میں آ کر یا کسی مرد کی زبردستی کا شکار ہو کر ایک لمحے کے لئے اپنے راستے سے ہٹ جائے، عورت نہیں رہتی۔ اسے حقارت و نفرت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ سوسائٹی اس پر وہ تمام دروازے بند کر دیتی ہے جو ایک سیاہ پیشہ مرد کے لئے کھلے رہتے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں اگر عورت کی عصمت ہے تو کیا مرد اس گوہر سے خالی ہے؟ اگر عورت عصمت باختہ ہو سکتی ہے تو کیا مرد نہیں ہوتا؟ اگر ان سوالوں کا جواب اثبات میں ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہمارے تیروں کا رخ صرف عورت کی طرف ہوتا ہے۔\n\nکہا جاتا ہے کہ اسٹوڈیو میں ویشیاؤں کا داخلہ بند کر دیا جائے۔ کیا یہ کہنا دبی زبان میں اس بات کا اقرار نہیں کہ مردوں کو اپنے آپ پر قابو نہیں ہے اور کیا یہ اس حقیقت کا ثبوت نہیں کہ مرد عورت کے مقابلے میں بہت زیادہ کمزور اور آسانی سے بہک جانے والا ہے۔ اسٹوڈیو میں عورتوں اور مردوں کا یکجا رہنا ضروری ہے۔ فریقین کا باہمی اختلاط خوشگوار نتائج کا موجب ہو سکتا ہے، اگر جسمانی خواہشات کی تکمیل کو فلم لائن کا ایک لازمی جزو خیال نہ کیا جائے، اگر مرد اپنے جذبات قابو میں رکھے تو عورت کوشش کے باوجود فضا مکدّر نہیں کر سکتی۔ جو حضرات شریف عورتوں کو فلم لائن میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ میں ان سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ شرافت سے ان کی کیا مراد ہے۔ کیا وہ عورت جو قانون کی اس دنیا میں سر بازار اپنا مال بیچتی ہے اور کوئی دھوکا نہیں دیتی، شریف نہیں ہے؟\n\nاگر شرافت کے معنی باعصمت ہونے کے لئے جاتے ہیں تو میں ان لوگوں سے جو شریف عورتوں کو فلم اسٹوڈیو میں داخل ہونے کی دعوت دیتے ہیں، یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ ایکٹرس کے لئے باعصمت ہونا کیا ضروری خیال کرتے ہیں؟ کیا جذبات نگاری اور تمثیل نگاری کے لئے عورت میں عصمت کی برقراری ضروری ہے؟ اگر ان کا یہی خیال ہے تو یہ بالکل باطل ہے اور ان کے ادراک کی کمزوری کا باعث ہے۔ جذبات نگاری اور ایکٹنگ کے لئے ایکٹر اور ایکٹرس کو دنیا کے بیشتر نشیب و فراز سے آگاہ ہونا از بس ضروری ہے۔ کوئی شریف عورت کیمرے کے سامنے اپنے فرضی عاشق کی جدائی کے اثرات اپنے چہرے پر پیدا نہیں کر سکتی جب تک وہ اسی قسم کے حادثے سے پہلے دو چار نہ ہو چکی ہو، جو عورت غم سے ناآشنا ہے وہ غم کے اثرات خود پر کس طرح طاری کر سکتی ہے۔ ایکٹرس بننے سے پیشتر عورت کو عشق و محبت کی تلخیوں اور مٹھاسوں کے علاوہ اور بہت سی چیزوں سے آشنا ہونا چا ہیئے ا س لئے کہ جب وہ کیمرے کے سامنے آئے تو اپنے کریکٹر کو اچھی طرح ادا کر سکے۔\n\nحقائق ہمارے سامنے ہیں۔ ان پر پردہ پوشی نہیں کی جا سکتی، اگر ہمیں فلمی فن کی ترقی مقصود ہے، اگر ہم اس فن کو چمکانا چاہتے ہیں اور اسے غلط خطوط پر چلانے کے متمنی نہیں ہیں تو ہمیں اپنی نظر بلند رکھنا پڑے گی۔ گناہ یا ثواب انسان کی ذات سے متعلق ہے، اس سے فن کو کوئی واسطہ نہیں، فلم لائن پر شریف عورتوں کا قبضہ ہو یا غیر شریف عورتوں کا۔ مطلب صرف اس سے ہے کہ ہماری فلمیں زندگی کی آئینہ دار ہوں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ حسن فروشی اور جسم فروشی اچھی چیز ہے۔ میں اس بات کی وکالت بھی نہیں کرتا کہ ان ویشیاؤں کو فلم کمپنیوں میں جوق در جوق داخل ہونا چا ہیئے۔ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں یا جو کچھ میں کہہ چکا ہوں نہایت واضح اور صاف ہے۔\n\nکامیاب ایکٹرس بننے کے لئے ہر عورت کو آزمودہ کار ہونا چاہیئے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ وہ تصویر زندگی کے روشن و تاریک دونوں پہلوؤں سے آشنا ہو۔ اس کے آبگینہ دل پر اگر حادثات نے لکیریں نہیں کھینچیں، اگر اس کے حافظے کی تختی پر متنوع حوادث کے نقوش موجود نہیں تو وہ کسی صورت میں اچھی اور کامیاب مماثلہ نہیں بن سکتی۔ جیساکہ میں اس سے پیشتر لکھ چکا ہوں۔ ایکٹرس بننے کے لئے عورت کو زندگی کی سرد اور گرم لہروں سے واقف ہونا بے حد ضروری ہے۔\n\nایکٹرس چکلے کی ویشیا ہو یا کسی باعزت اور شریف گھرانے کی عورت، میری نظروں میں وہ صرف ایکٹرس ہے۔ اس کی شرافت یا رزالت سے مجھے کوئی سروکار نہیں۔ ا س لئے کہ فن ان ذاتی امور سے بہت بالاتر ہے۔ چکلے کی ویشیا نہایت بلند پایہ ادیب ہو سکتی ہے۔ اس کے خیالات و افکار سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور ایک گر ہستی تعلیم یافتہ عورت کی شرافت نہایت ہی مہلک نتائج کا موجب ہو سکتی ہے۔ بغاوت فرانس میں پہلی گولی پیرس کی ایک ویشیا نے اپنے سینے پر کھائی تھی۔ امرت سر میں جلیانوالہ باغ کے خونیں حادثے کی ابتدا اس نوجوان کے خون سے ہوئی تھی جو ایک ویشیا کے بطن سے تھا۔\n\nخاکساران جہاں را بحقارت منگر\nتوچہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81_%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%81%D9%84%D9%85%DB%8C_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7"} {"title": "شریفن", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "نمرود کی خدائی", "year": "1950", "text_ur": "جب قاسم نے اپنے گھر کا دروازہ کھولا تو اسے صرف ایک گولی کی جلن تھی جو اس کی دہنی پنڈلی میں گڑ گئی تھی۔ لیکن اندر داخل ہو کر جب اس نے اپنی بیوی کی لاش دیکھی تو اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ قریب تھا کہ وہ لکڑیاں پھاڑنے والے گنڈاسے کو اٹھا کر دیوانہ وار نکل جائے اور قتل و گری کا بازار گرم کردے کہ دفعتاً اسے اپنی لڑکی شریفن کا خیال آیا۔\n\n’’شریفن، شریفن!‘‘ اس نے بلند آواز میں پکارنا شروع کیا۔\n\nسامنے دالان کے دونوں دروازے بند تھے۔ قاسم نے سوچا،شاید ڈر کے مارے اندر چھپ گئی ہوگی۔ چنانچہ وہ اس طرف بڑھا اور درز کے ساتھ منہ لگا کر کہا، ’’شریفن،شریفن۔۔۔ میں ہوں تمہارا باپ۔‘‘ مگر اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔ قاسم نے دونوں ہاتھوں سے کواڑ کو دھکا دیا۔ پَٹ کھلے اور وہ اوندھے منہ دالان میں گر پڑا۔ سنبھل کر جب اس نے اٹھنا چاہا تو اسے محسوس ہوا کہ وہ کسی۔۔۔ قاسم چیخ کےساتھ بیٹھا۔\n\nایک گز کے فاصلے پر ایک جوان لڑکی کی لاش پڑی تھی۔ ننگی۔۔۔ بالکل ننگی۔ گورا گورا سڈول جسم، چھت کی طرف اٹھے ہوئے چھوٹے چھوٹے پستان۔۔۔ ایک دم قاسم کا سارا وجود ہل گیا۔ اس کی گہرائیوں سے ایک فلک شگاف چیخ اٹھی لیکن اس کے ہونٹ اس قدر زور سے بھنچے ہوئے تھے کہ باہر نہ نکل سکی۔ اس کی آنکھیں خود بخود بند ہوگئی تھیں۔ پھر بھی اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ مردہ سی آواز اس کے منہ سے نکلی، ’’شریفن۔‘‘ اور اس نے آنکھیں بند کیے دالان میں ادھر ادھر ہاتھ مار کر کچھ کپڑے اٹھائے اور انھیں شریفن کی لاش پر گرا کر وہ یہ دیکھے بغیر ہی باہر نکل گیا کہ وہ اس سے کچھ دور گرے تھے۔\n\nباہر نکل کر اس نے اپنی بیوی کی لاش نہ دیکھی۔ بہت ممکن ہے اسے نظر ہی نہ آئی ہو۔ اس لیے کہ اس کی آنکھیں شریفن کی ننگی لاش سے بھری ہوئی تھیں۔ اس نے کونے میں پڑا ہوا لکڑیاں پھاڑنے والا گنڈاسا اٹھایا اور گھرسے باہر نکل گیا۔قاسم کی داہنی پنڈلی میں گولی گڑی ہوئی تھی۔ اس کا احساس گھر کے اندر داخل ہوتے ہی اس کے دل و دماغ سے محو ہوگیا تھا۔ اس کی وفادار پیاری بیوی ہلاک ہو چکی تھی۔ اس کا صدمہ بھی اس کے ذہن کے کسی گوشے میں موجود نہیں تھا۔ بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ہی تصویر آتی تھی۔۔۔ شریفن کی۔۔۔ ننگی شریفن کی۔۔۔ اور وہ نیزے کی انی بن بن کر اس کی آنکھوں کو چھیدتی ہوئی اس کی روح میں بھی شگاف ڈال دیتی۔\n\nگنڈاسا ہاتھ میں لیے قاسم سنسان بازاروں میں ابلتے ہوئے لاوے کی طرح بہتا چلا جارہا تھا۔ چوک کے پاس اس کی مڈبھیڑ ایک سکھ سے ہوئی۔ بڑا کڑیل جوان تھا۔ لیکن قاسم نے کچھ ایسے بے تکے پن سے حملہ کیا اور ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ وہ تیز طوفان میں اکھڑے ہوئے درخت کی طرح زمین پر آرہا۔\n\nقاسم کی رگوں میں اس کا خون اور زیادہ گرم ہوگیا اور بجنے لگا۔ تڑتڑ تڑ تڑ۔۔۔ جیسے جوش کھاتے ہوئے تیل پرپانی کا ہلکا سا چھینا پڑ جائے۔\n\nدور سڑک کے اس پار اسے چند آدمی نظر آئے۔ تیرکی طرح وہ ان کی طرف بڑھا اسے دیکھ کر ان لوگوں نے، ’’ہر ہر مہادیو‘‘ کے نعرے لگائے۔ قاسم نے جواب میں اپنا نعرہ لگانے کے بجائے انھیں ماں باپ کی موٹی موٹی گالیاں دیں اور گنڈاسا تانے ان میں گھس گیا۔\n\nچند منٹوں ہی کے اندر تین لاشیں سڑک پر تڑپ رہی تھیں۔ دوسرے بھاگ گئے لیکن قاسم کا گنڈاسا دیر تک ہوا میں چلتا رہا۔ اصل میں اس کی آنکھیں بند تھیں۔ گنڈاسا گھماتے گھماتے وہ ایک لاش کے ساتھ ٹکرایا اور گر پڑا۔ اس نے سوچا کہ شاید اسے گرالیا گیا ہے۔ چنانچہ اس نے گندی گندی گالیاں دے کر چلانا شروع کیا، ’’مار ڈالو مجھے، مار ڈالو مجھے۔‘‘\n\nلیکن جب کوئی ہاتھ اسے گردن پر محسوس نہ ہوا اور کوئی ضرب اس کے بدن پر نہ پڑی تو اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور دیکھا کہ سڑک پر تین لاشوں اور اس کے سوا اور کوئی بھی نہیں تھا۔ ایک لحظے کے لیے قاسم کو مایوسی ہوئی کیونکہ شاید وہ مرجانا چاہتا تھا لیکن ایک دم شریفن۔۔۔ ننگی شریفن کی تصویر اس کی آنکھوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اتر گئی اور اس کے سارے وجود کو بارود کا جلتا ہوا فلیتہ بنا گئی۔۔۔ وہ فوراً اٹھا۔ ہاتھ میں گنڈاسا لیا اور پھر کھولتے ہولے لاوے کی طرح سڑک پر بہنے لگا۔\n\nجتنے بازار قاسم نے طے کیے، سب خالی تھے۔ ایک گلی میں وہ داخل ہوالیکن اس میں سب مسلمان تھے۔ اس کو بہت کوفت ہوئی۔ چنانچہ اس نے اپنے لاوے کا رخ دوسری طرف پھیر دیا۔ ایک بازارمیں پہنچ کر اس نے اپنا گنڈاسا اونچا ہوا میں لہرایا اور ماں بہن کی گالیاں اگلنا شروع کیں۔\n\nلیکن ایک دن اسے بہت ہی تکلیف دہ احساس ہوا کہ اب تک وہ صرف ماں بہن کی گالیاں ہی دیتا رہا تھا۔ چنانچہ اس نے فوراً بیٹی کی گالی دینا شروع کی اور ایسی جتنی گالیاں اسے یاد تھیں سب کی سب ایک ہی سانس میں باہر الٹ دیں۔۔۔ پھر بھی اس کی تشفی نہ ہوئی۔ جھنجھلا کر وہ ایک مکان کی طرف بڑھا، جس کے دروازے کے اوپر ہندی میں کچھ لکھا تھا۔\n\nدروازہ اندر سے بند تھا۔ قاسم نے دیوانہ وار گنڈاسا چلانا شروع کیا۔ تھوڑی ہی دیر میں دونوں کواڑ ریزہ ریزہ ہوگئے۔ قاسم اندر داخل ہوا۔\n\nچھوٹا سا گھر تھا۔ قاسم نے اپنے سوکھے ہوئے حلق پر زور دے کر پھر گالیاں دینا شروع کیں، ’’باہر نکلو۔۔۔ باہر نکلو۔‘‘\n\nسامنے دالان کے دروازے میں چرچراہٹ پیدا ہوئی۔ قاسم اپنے سوکھے ہوئے حلق پر زور دے کر گالیاں دیتا رہا۔ دروازہ کھلا۔ ایک لڑکی نمودار ہوئی۔قاسم کے ہونٹ بھینچ گئے۔ گرج کر اس نے پوچھا، ’’کون ہو تم؟‘‘ لڑکی نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور جواب دیا، ’’ہندو۔‘‘\n\nقاسم تن کر کھڑا ہوگیا۔ شعلہ بار آنکھوں سے اس نے لڑکی کی طرف دیکھا جس کی عمر چودہ یا پندرہ برس کی تھی اور ہاتھ سے گنڈاسا گرادیا۔ پھر وہ عقاب کی طرح جھپٹا اور اس لڑکی کو دھکیل کر اندر دالان میں لے گیا۔ دونوں ہاتھوں سے اس نے دیوانہ وار کپڑے نوچنے شروع کیے، دھجیاں اور چندیاں یوں اڑنے لگیں جیسے کوئی روئی دھنک رہاہے۔\n\nتقریباً آدھ گھنٹہ قاسم اپناا نتقام لینے میں مصروف رہا۔ لڑکی نے کوئی مزاحمت نہ کی۔ اس لیے کہ وہ فرش پر گرتے ہی بیہوش ہوگئی تھی۔جب قاسم نے آنکھیں کھولیں تو اس کے دونوں ہاتھ لڑکی کی گردن میں دھنسے ہوئے تھے۔ ایک جھٹکے کے ساتھ انھیں علیحدہ کرکے وہ اٹھا۔ پسینے میں غرق اس نے ایک نظر اس لڑکی کی طرف دیکھا تاکہ اس کی اور تشفی ہوسکے۔\n\nایک گز کے فاصلے پر اس جوان لڑکی کی لاش پڑی تھی۔۔۔ ننگی۔۔۔ بالکل ننگی۔ گورا گورا سڈول جسم، چھت کی طرف اٹھے ہوئے چھوٹے پستان۔۔۔ قاسم کی آنکھیں ایک دم بند ہوگئیں۔ دونوں ہاتھوں سے اس نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ بدن پر گرم گرم پسینہ برف ہوگیا اور اس کی رگوں میں کھولتا ہوا لاوا پتھر کی طرح منجمد ہوگیا۔\n\nتھوڑی دیر کے بعد ایک آدمی تلوار سے مسلح مکان کے اندر داخل ہوا۔ اس نے دیکھا کہ دالان میں کوئی شخص آنکھیں بند کیے لرزتے ہاتھوں سے فرش پر پڑی ہوئی چیز پر کمبل ڈال رہا ہے۔ اس نے گرج کر اس سے پوچھا، ’’کون ہو تم؟‘‘ قاسم چونکا۔۔۔ اس کی آنکھیں کھل گئیں مگر اسے کچھ نظر نہ آیا۔\n\nمسلح آدمی چلایا، ’’قاسم!‘‘\n\nقاسم ایک بار پھر چونکا۔ اس نے اپنے سے کچھ دور کھڑے آدمی کو پہچاننے کی کوشش کی مگر اس کی آنکھوں نے اس کی مدد نہ کی۔مسلح آدمی نے گھبراتے ہوئے لہجے میں پوچھا، ’’کیا کررہے ہو تم یہاں؟‘‘\n\nقاسم نے لرزتے ہوئے ہاتھ سے فرش پر پڑے ہوئے کمبل کی طرف اشارہ کیا اور کھوکھلی آواز میں صرف اتنا کہا، ’’شریفن۔۔۔‘‘\n\nجلدی سے آگے بڑھ کر مسلح آدمی نے کمبل ہٹایا۔ ننگی لاش دیکھ کر پہلے وہ کانپا، پھر ایک دم اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر وہ ’’بملا بملا‘‘ کہتا لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے باہر نکل گیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81%D9%86"} {"title": "شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے\nتیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے\n\nایک نبھنے کا نہیں مژگاں تلک بوجھل ہیں سب\nکارواں لخت دل ہر اشک کے ہم راہ ہے\n\nہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئے\nیہ دو سالہ دختر رز کس قدر شتاہ ہے\n\nپا برہنہ خاک سر میں مو پریشاں سینہ چاک\nحال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دل خواہ ہے\n\nاس جنوں پر میرؔ کوئی بھی پھرے ہے شہر میں\nجادۂ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B4_%D8%AC%DB%81%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A8%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "شعر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مَیں شعر کے اَسرار سے محرم نہیں لیکن\nیہ نکتہ ہے، تاریخِ اُمَم جس کی ہے تفصیل\nوہ شعر کہ پیغامِ حیاتِ اَبدی ہے\nیا نغمۂ جبریل ہے یا بانگِ سرافیل!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B9%D8%B1"} {"title": "شعر آشوب", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "تجھ میں اے ہندوستاں کچھ آج کل حد سے سوا\nچار سو پھیلی ہوئی ہے شاعری کی اک وبا\nاس مرض میں اب تو اسی فیصدی ہیں مبتلا\nمستند شاعر ہے جس نے اک تخلص رکھ لیا\nشاعری گو عہد ماضی میں تھی پایان علوم\nاب تخلص میں سمٹ کر آ گئی جان علوم\nاے عجائب خانۂ ہستی کی جنس بے بہا\nعہد موجودہ کے شاعر واہ کیا کہنا ترا\nتیری کثرت ہر جگہ مردم شماری سے سوا\nتو فرشتہ ہے بشر کی شکل میں اس عہد کا\nتجھ کو کھانے سے نہ کچھ مطلب نہ کچھ پینے سے کام\nشعر کہہ کہہ کر سنانے اور فقط جینے سے کام\nہے بہت تکلیف دہ شاعر کی وہ جنس عجیب\nجو سنانے کے لیے بے چین رہتا ہو غریب\nاس کو اچھا کر نہیں سکتا کوئی کامل طبیب\nشاعری کی جس کو بد ہضمی ہو ہیضہ کے قریب\nچاہتا ہے سب سنا دوں جو کہوں اک سال میں\nمبتلا ہے شاعری کے سخت تر اسہال میں\nنظم کر لیتا ہے سب کچھ اتنی آسانی کے ساتھ\nجس طرح بہتے ہیں تنکے تیز رو پانی کے ساتھ\nجب کہ تو لیتا نہیں اپنے دماغ و دل سے کام\nسہل سے ہے تجھ کو مطلب اور کیا مشکل سے کام\nسب کو قلت وقت کی تجھ کو فراوانی ملی\nسنگ کو انسان کی شکل ہیولانی ملی\nکسب زر سب کے لیے تجھ کو غزل خوانی ملی\nمفت کی بے گار کرنے کو سخن دانی ملی\nہر ضرورت تیری اک جھوٹا بہانہ بن گئی\nمعذرت تک آہ عذر شاعرانہ بن گئی\nکچھ صعوبات سفر ہوتے نہیں مانا تجھے\nصحبت شعر و سخن میں فرض ہے جانا تجھے\nکام شب بھر جاگنا مصرع کا دہرانا تجھے\nہر غزل کی داد دینا اور چلانا تجھے\nتیری شرکت لازمی ہر شہر میں ہر گاؤں میں\nسر میں سودائے سخن اور سنیچر پاؤں میں\nدیکھ تیری قدر یوں کرتے ہیں تیرے قدرداں\nکوئی میلا ہو کہیں پر یا نمائش یا نہاں\nجس میں سرکس بھی ہو دنگل میں لڑیں کچھ پہلواں\nیاد کر لیتے ہیں بھولے سے تجھے بھی مہرباں\nدیتے ہیں لالچ میڈل کا تیری عزت کے لیے\nتھرڈ کا تجھ کو ٹکٹ ملتا ہے شرکت کے لیے\nیہ بھی جب کافی ضمانت ہو کہ شاعر آئے گا\nیہ کرایہ تو کہیں لے کر نہ کھا جائے گا\nایک بھرتی کرنے والا خود ٹکٹ دلوائے گا\nاپنی ہمراہی میں تجھ کو ریل پر بٹھلائے گا\nپڑھ نہ لے جب تک غزل ہوتی رہے گی دیکھ بھال\nبعد اس کے ایک ووٹر اور شاعر کا مآل\nیہ بھی ہے شاعر کے ذمے اک ضروری اور کام\nجب غزل پڑھنے شریک بزم ہو یہ نیک نام\nاپنے جوتوں کا کرے اپنی بغل میں انتظام\nورنہ ننگے پیر گھر آنا پڑے گا والسلام\nبزم میں کچھ قدر داں اس قسم کے آ جائیں گے\nچھانٹ کر اکثر نئے جوتے چرا لے جائیں گے\nپیسے والوں کی سمجھ میں آ گئی ہے اب یہ بات\nصرف بے جا ناچ گانے کا ہے بالکل واہیات\nجب کوئی جلسہ خوشی کا ہو کہیں پر ہو برات\nمنعقد بزم سخن ہوتی ہے تا کٹ جائے رات\nپہلے ارباب نشاط آتے تھے گانے کے لیے\nاب تو شاعر جاتے ہیں غزلیں سنانے کے لیے\nیاد ایامے کہ شاعر کو زباں پر ناز تھا\nقوت تخئیل ہی سرمایۂ اعزاز تھا\nلفظ ہی میں سوز تھا اور لفظ ہی میں ساز تھا\nنغمۂ شاعر کا روح القدس ہم آواز تھا\nاب اگر قابو ہو ان پر تو ملے شاعر کو داد\nسررکھب گندھار مدھم پنجم اور دھیوت نکھار\nرفتہ رفتہ بڑھ گیا گر شوق و ذوق نغمہ ساز\nشاعر اب آئیں گے محفل میں پہن کر پیشواز\nختم اس فقرہ پہ ہوگی ہر غزل استاد کی\nسنیے میں ہوں جانکی بائی الہ آباد کی\nتو نمونہ سر بسر اخلاق و خودداری کا تھا\nاک صفا آئینہ تو قدرت باری کا تھا\nتو معالج نفس امارہ کی بیماری کا تھا\nتو ذریعہ ملک اور ملت کی بیداری کا تھا\nکتنی عبرت خیز شے اب عالم ہستی میں ہے\nجس نے قوموں کو ابھارا تھا وہی پستی میں ہے\nپیشہ ور جتنے ہیں ان کی ملک میں عزت تو ہے\nکم سہی لیکن ہر اک صنعت کی کچھ قیمت تو ہے\nہر ضرورت پر کسی صناع کی حاجت تو ہے\nجز ترے ہر اہل فن کی کچھ نہ کچھ اجرت تو ہے\nقسمت برباد تیری بن کے اڑ جاتی ہے بھاپ\nہے صلہ تیرا یہی کیا خوب فرماتے ہیں آپ!", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B9%D8%B1_%D8%A2%D8%B4%D9%88%D8%A8"} {"title": "شعر العجم پر ایک فلسفیانہ نظر", "poet_page": "مصنف:مہدی افادی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "آج کل کے معیار زندگی میں بڑی مصیبت یہ ہے کہ ’’دوم درجہ‘‘ کوئی چیز نہیں یا تو صرف ’’لنگوٹی‘‘ ہو۔ جہاں اس سے بڑھے پھر بیچ میں رکنے کی گنجائش نہیں، ایک دم سے ’’اول درجہ‘‘ اختیار کرنا ہوگا۔ اصول ارتقاء کی تدریجی رفتار سے کام نہیں چلتا، درمیانی کڑیاں ملائیں، یعنی اپنی طرف سے کچھ ’’ایجاد بندہ‘‘ کی اور گئے! ذلیل ہوئے وہ علیحدہ۔بہرحال یہ مغربیت کا ایک راز ہے جس سے کسی طرح مفر نہیں۔ ہزار چیخئے چلائیے، ’خچر‘ سے کام نہیں چلنے کا! ’گدہا‘ شوق سے رکھئے پھر بھی یک رنگی (یعنی اریجنے لیٹی) ہے مگر جہاں ایک قدم آگے بڑھایا، یاد رکھئے، قطعاً ’عرب‘ رکھنا ہوگا۔ یہ فقرۂ معترضہ خود ایک مستقل عنوان چاہتا ہے جسے پھر کبھی دیکھئےگا، یہاں میری غرض ’’دوم درجہ‘‘ کے اظہار خیال یعنی ’شعر العجم‘ پر ایک غیر ستائشی جنبش لب سے ہے۔ایک صاحب نے اپنے دوستوں کے اصرار سے ’شعر العجم‘ پر تنقید نہیں بلکہ ڈنکے کی چوٹ صرف تنقیص کی ٹھہرائی ہے اور بزعم خود ’تصویر کا رخ تاریک‘ دکھایا ہے، لیکن ان کے خودرو خیالات کا بیشتر حصہ اہل تنقید (یعنی کریٹک) کی قلم آزمائی کے لئے بجائے خود ترغیب دہ مواد ہے۔ ملک میں اچھے لکھنے والے دوچار سے زیادہ نہیں ہیں، ان میں بھی تھوڑے ہی ایسے ہیں جو کسی موضوع پر ’تنقید عالیہ‘ (یعنی ہائر کریٹی سزم) کی صلاحیت رکھتے ہوں، شسکپیر کا وقیع ریویو ڈاکٹر جانسن لکھ سکا جو باعتبار وسعت معلومات اور مذاق ’ادب القدما‘ (یعنی کلاسیکل حیثیت سے) دنیا کے سب سے بڑے ’’شاعر‘‘ کا گویا مدّ اعلیٰ تھا۔میرا خیال ہے ملک میں ایسے نفوس قدسی صدیوں میں پیدا ہوں گے جو منصفانہ تنقید اور تنقیص بے جا یعنی عیب گیری کی حد فاصل کا احساس کر سکیں۔ اس لئے بے محل جنبش لب سے خاموشی اچھی۔ آپ خیر سے گونگے ہوں تو اعتراض کی بات نہیں۔ لیکن بولئے اور آدمی کی طرح نہ بولئے تو مجھے ضرور شکایت ہوگی۔ اس خلوص اور سچ کا کیا ٹھکانا ہے کہ ’شعر العجم‘ کے جزئی عیوب بھی ریویو نگار کے خیال میں اتنے ہیں کہ اگر وہ ابھار کر دکھائے جائیں تو ایک دوسری کتاب تیار ہو سکتی ہے۔حضرت کی نیت کی طرف سے اگر شروع ہی میں مجھے شبہ پیدا ہو گیا اور آگے چل کر میں ان کا ساتھ نہ دے سکوں تو یہ میرا قصور نہیں، خود ان کے دل کا کھوٹ ہے، جو بگڑی ہوئی زبان پر آہی گیا اور جس سے ایک کافی حد تک ان کی پاک طینتی کی غمازی ہوتی ہے۔(۱) اسلم کا یہ اعتراض کہ ہر زمانہ کی شاعری کے جداگانہ دور نہیں قائم کئے گئے صرف فصاحت کا ایک دھوکا ہے۔ ’شعر العجم‘ کے تین حصے اس وقت تک شائع ہو چکے ہیں اور جہاں تک میں دیکھ سکا، پہلے حصہ میں متقدمین کے کلام پر تفصیلی نظر ڈالی گئی ہے، دوسرے میں متوسطین اور تیسرے حصہ میں شاعری کے آخری دور یعنی متاخرین سے بحث کی گئی ہے، کتاب کی اجمالی ترتیب جیساکہ خود علامہ شبلی نے تصریح کر دی ہے، یہی ہے اور میں نہیں جانتا، ادبی حیثیت سے جو خاکہ فاضل مؤلف کے پیش نظر تھا اس میں ’’ایجاد بندہ‘‘ کی کہاں تک گنجائش ہے۔مجھ کو معلوم ہے پروفیسر براؤن نے مسلمانوں کی دماغی تاریخ لکھی ہے، اس کے دور سیاسی اور ملکی حیثیت سے قائم کئے ہیں، ہر دور کے ادبی ترقیات وہ ساتھ ساتھ دکھاتا گیا ہے اور عجمی عنصر کو الگ کرتا گیا ہے، لیکن اسی کے ساتھ میں کیمبرج کے ایک دوسرے پروفیسر کی جدید تالیف سے بھی واقف ہوں جو عربی لٹریچر کی ایک جامع تاریخ ہے، لیکن مؤلف نے صرف ادبی دور سے غرض رکھی ہے اور دیباچہ میں صاف لکھا ہے کہ اس کا ’’موضوع بحث‘‘ عربوں کے ’’ارتقاء خیال‘‘ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ شعر العجم کی ترتیب بھی نفس لٹریچر کے لحاظ سے ہے، لیکن اسلمؔ کی یہ ’’شپرانہ‘‘ چشم پوشی ہے کہ وہ چار آنکھیں رکھ کر بھی دیکھ نہیں سکتے۔ شاید دیکھنا نہیں چاہتے اور بڑی متانت سے فرماتے ہیں کہ ’’مولانا شبلی اپنے فرض اولین تک کا احساس نہ کر سکے۔‘‘ رہے ہر دور کی خصوصیات اور ان کے اسباب یعنی شاعری کے ارتقاء تدریجی کی موشگافیاں! اس نکتہ کو شبلی اسلم سے زیادہ سمجھتے ہیں۔شبلی، ملک میں پہلے شخص ہیں جن کو تاریخ و فلسفہ میں ربط باہمی کا خیال پیدا ہوا اور وہ ان جواہر عقلی کی تحلیل و ترکیب کیمیائی اس طرح کرسکے جس سے لٹریچر میں ایک خاص امتزاج پیدا ہو گیا ہے۔ انھوں نے اپنی متعدد قیمتی تصنیفات میں ہمیشہ اپنا درجہ قائم رکھا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آج کل کے ترقی یافتہ مذاق ادبی کے مطابق وسیع سلسلۂ تحقیقات اور زبردست قوت استقرائی سے اسباب ونتائج کے تعریفات فلسفیانہ میں کس طرح کام لیا جاسکتا ہے۔ مجھ کو اصرار ہے کہ شبلی کی تحقیقات سے جو ان کے اولیات میں داخل ہونے کے لائق ہے، ہندوستان کی علمی قلمرو میں ایک نیا تاریخی دور شروع ہوگیا۔ اسلم کا سلیقہ تحریر میرے دعویٰ کے ثبوت میں ہے، گو اس کا افسوس ہے کہ وہ تاریخ کے ’’معلم اول‘‘سے جس پر ملک کو فخر کرنا چاہئے بری طرح پیش آئے، بہرحال شبلی چوتھے حصہ میں نہایت تفصیل سے شاعری پر فلسفیانہ نظر ڈالیں گے اور یہی حصہ ان کی طبع آزمائی کا اصلی جولان گاہ ہوگا۔(۲) شبلی نے بعض نمود کے شاعروں کو چھوڑ دیا ہے اور بعضوں کا خیال ہے کہ یہ اسی قسم کی فروگذاشت ہے جو آزادؔ سے ’’آب حیات‘‘ میں ہوئی، لیکن یہ قاصر النظری نہیں ہے بلکہ ایک مجتہدانہ فعل ہے، جس کی تصریح ایک صاحب نے کر دی ہے اور جس کے اعادے کی ضرورت یہاں نہیں ہے، تاہم اسلمؔ کی خاطر سے میں کم سے کم یہ چاہتا تھا کہ ہر دور کے شعراء کے نام ان کو گنوا دیے جاتے اور جو مفصل تنقید کے لائق نہیں تھے ان پر کم سے کم مختصر نوٹ ہوتے یعنی ارتقاء شاعری کے مستقل ارکان یعنی اصلی صورتوں کے ساتھ ان کا ہیولیٰ بھی نظر انداز نہ ہوتا یا منطق کی اصطلاح میں یوں کہئے کہ جو ہر وں کے ساتھ اعراض متعلقہ بھی لگے لپٹے رہتے۔ بات ذرالگتی ہوئی ہے لیکن مجھ کو معلوم ہے کہ چوتھے حصہ میں یہ سب کچھ ہوگا اور شبلی کی جدت اجتہاد نے جن شعراء کو ترجیح دی ہے یا جن کو چھوڑا ہے ان کے وجوہ تفصیل سے دکھائے جائیں گے۔(۳) یہ تو بالکل ہی غیر صحیح ہے کہ ’’ہرشاعر کا کلام مولانا اس قدر نقل کرتے ہیں کہ جی اکتا جاتا ہے۔‘‘ میرا خیال ہے جس قدر اقتباسات کئے گئے ہیں، ضرورت سے کم ہیں۔ فارسی لٹریچر مہذب دنیا میں ادب العالیہ یعنی کلاسیکس کا ایک ضروری عنصر سمجھا جاتا ہے، لیکن آج کل کی کاروباری زندگی میں جب ہم کو مشرقی لٹریچر کی طرف توجہ کرنے کی بالکل فرصت نہیں ہے، صرف یہی ایک طریقہ ہے کہ عربی فارسی لٹریچر کے بہترین اجزاء فلسفیانہ تنقید و تقریظ کے ساتھ نئی نسل کے سامنے پیش کئے جائیں، اس طرح قدیم لٹریچر کا وہ حصہ جو جاننے کے لائق ہے، ہمیشہ کے لئے محفوظ رہ جائےگا، لیکن اسلم نہیں سمجھتے۔(۴) اسلم کی ’غیر سعادت مندانہ‘ اپچ میں سب سے زیادہ مجھے جس بات پر لطف آیا وہ ’’حکمت بہ لقمان آموختن‘‘ کی جدت بے محل ہے۔ شبلی کی وسیع النظری اور ان کے لائق رشک ذرائع معلومات پر منھ آنا! سچ یہ ہے ’’سورج کو چراغ ہے دکھانا!‘‘ لیکن اگر ’’گھر کی مرغی کو ساگ کے برابر‘‘ نہ سمجھئے تو مجھ کو مجبوراً اعادہ کرنا پڑتا ہے کہ شبلی کا دائرۂ تحقیقات اتنا وسیع ہے کہ وہ یورپ کے مؤرخین کی صف اول میں جگہ پا سکتے ہیں۔ فارسی لٹریچر کے متعلق جن مغربی تصنیفات کی طرف اسلم نے اشارہ کیا ہے، وہ ایک ایک کرکے شبلی کے ناخنوں میں ہیں۔اسلمؔ علی گڈھ کے صدقہ میں ایک آدھ کتاب کا صرف نام سن پایا، یا طاہرؔ ہمدانی کے ہیرن ایلن ایڈیشن کو کہیں دور سے دیکھ لیا، لیکن مجھ کو معلوم ہے کہ خود ہیرن ایلن جس نے رباعیات خیام کے متعدد مطبوعات خاصہ شائع کئے ہیں اور جن میں سے ایک نہایت قیمتی ایڈیشن صرف دوسو ممبروں کے لئے چھاپا گیا تھا اور جو قطعاً اسلم کی نظر سے نہیں گذرا، شبلی کی ایک سرسری تحقیقات سے بے نیاز نہ رہ سکا، جس میں فارسی کے مسلم الثبوت استاد ’’پروفیسر ڈینی سن راس‘‘ نے بھی ٹھوکر کھائی تھی، لیکن یہ اس کی تصریح کا یہ موقع نہیں۔بہرحال مجھ کو اصرار ہے کہ فارسی اور عربی لٹریچر کے متعلق جس قدر مواد آج موجود ہے وہ سب شبلی کے پیش نظر ہی نہیں بلکہ جس طرح ولادت سے پہلے جنین کا پتہ چل جاتاہے، شبلی کے دائرۂ نظر میں یہ بات بھی رہتی ہے کہ اقطاع دماغی میں کہاں کہاں نئی داغ بیل پڑنے والی ہے اور ایشیا میں تو کچھ دم نہیں رہا، مگر یورپ دنیا کے معلومات میں کیا کیا اضافہ کرنے والا ہے؟ اسلم اگر اپنی تنگ نظری کے ساتھ شبلی کے مستشرقانہ کمالات کا اندازہ نہیں کر سکتے تو ہم ان کو معذور سمجھنے کے لئے تیار ہیں، لیکن مجھے جو کچھ شکایت ہے، یہ ہے کہ ’’وہ نہیں جانتے کہ کچھ نہیں جانتے۔‘‘آج کسی غیر ذمہ دار قلم نے شبلی کی یوں حق تلفی کی ہوتی تو خود اسلم کہہ اٹھتے کہ گولر کا بھُنگا فضائے دہر پر معترض ہو یا برساتی کیڑا زمانہ کے حدوث و قدم پر رائے زنی کرے تو اچھا نہیں معلوم ہوتا۔ لیکن میرا خیال ہے میرے معصوم دوست نے جو کچھ خامہ فرسائی کی وہ محض قصور استعداد ہے اس لیے ہم شبلی سے سفارش کرتے ہیں کہ مشرقی لٹریچر کے متعلق مطبوعات یورپ، جن کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے، ان کی ایک فہرست اسلمؔ کو بھیج دیں، ہندستان میں بیٹھ کر یہ کیا کم ہے کہ ان کو اکٹھے بہت سے نام تو معلوم ہو جائیں گے۔(۵) شبلی کی مسلم الثبوت فارسیت کا اعتراف نہ کرنا، مولانا حالی کے ساتھ حسن ظن کے افراط کو صرف ’تحسین ناشناس‘ ثابت کرنا ہے۔ ملک میں پروفیسر آزاد کے بعد صرف شبلی ہیں جو فارسیت کا وجدانی مذاق رکھتے ہیں، فارسیت سے میری غرض اس فارسی سے نہیں ہے جو بابو انگلش کی طرح اسلمؔ نے بچپن میں پڑھی ہوگی، بلکہ میری غرض دنیا کی سب سے شیریں زبان سے ہے جو اس قوم کی زندہ یادگار ہے جو بلحاظ گزشتہ عظمت و ترقیات کے دنیا کی قدیم متمدن اقوام میں بھی خاص تاریخی وقعت رکھتی ہے۔انگلستان مستشرقانہ مشاغل کے لحاظ سے یورپ کے اور ممالک سے بہت پیچھے ہے تاہم وہاں ایک جماعت موجود ہے جو السنہ مشرقی میں اہل زبان کی سی مہارت رکھتی ہے جس میں پروفیسر براؤن آج کل بہت پیش پیش ہیں۔ یورپ کی ایک خاص طرح کی وسیع النظری میں کلام نہیں، یعنی اصول ارتقاء نے تحقیقات کے راستے اس قدر صاف کر دیے ہیں کہ ہر شے کے مدارج اور طبقات ترتیبی کی کڑیاں ملتی جاتی ہیں۔ لٹریچر بھی اس کلیے سے مستثنیٰ نہیں، تاہم مذاق سخن میں جو ایک ذوقی چیز ہے، ان فلسفیانہ اکتشافات سے کیا مدد مل سکتی ہے؟ شبلی جو کچھ لکھتے ہیں، آشنائے فن ہوکر لکھتے ہیں، اس لئے ان کے تالیفات مغربی معاصرانہ تصنیفات سے، جہاں تک ادبی مذاق کا تعلق ہے نسبتاً ہمیشہ فائق رہیں گے، اور یہاں مجھے صرف یہی دکھلانا تھا۔(نمبر ۶۔ ۷۔ ۸) یہ بھی صحیح نہیں کہ شبلی کو موازنہ انیسؔ و دبیرؔ میں کامیابی نہیں ہوئی۔ ’سون خواں‘ طبقہ جو چاہے کہے لیکن ’موازنہ‘ میں جو تعلیم یافتہ فرقہ شبلی کا مخاطب صحیح ہے، وہ اس کتاب کومؤلف کے کمالات میں اختراع فائقہ (یعنی ماسٹر پیس) نہ سہی تاہم اس میں کچھ شک نہیں کہ اردو ادب میں وہ اسے ایک قیمتی اضافہ سمجھتا ہے اور جس طرح شبلی کی پیداوار دماغی عموماً باستحقاق ’صف اول‘ میں جگہ پاتی رہتی ہے، ’موازانہ‘ بھی تنقید ادبی کی حیثیت سے ایک نصابی (اسٹنڈرڈ) چیز ہے اور وہ میرے آپ کے اعتراف کا محتاج نہیں۔ایک بزرگ سے جو ملک میں لکھنے پڑھنے کا نہایت صحیح مذاق رکھتے ہیں، ’موازنہ‘ کا ذکر آیا، وہ کچھ چپ سے ہو گئے۔ مجھے مجبوراً عرض کرنا پڑا کہ موازنہ میں جو کچھ نقص ہے، یہ ہے کہ آپ کے قلم کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس برجستہ گرفت پر وہ پھڑک گئے اور ان کو اقرار کرنا پڑا کہ موازنہ سے اہل قلم کو جو کچھ شکایت ہو سکتی ہے اسی قبیل کی ہے۔ دہلی لکھنؤ والوں سے قطع نظر کئے لیتا ہوں، کیونکہ وہ سمجھتے ہوں گے شبلی کی طرف سے ’’ارض ممنوعہ‘‘ یعنی ان کی قلمرو میں مداخلت بیجا کی گئی۔اگر اشعار کی لطافت اور خوبی ایک وجدانی چیز ہے اور اس کا سمجھنا ذوق صحیح پر منحصر ہے، اور ان خوبیوں کا دکھانا بڑے اہل کمال کا کام ہے، تو میں خوش ہوں کہ شبلی حضرت حالی کے حریف مقابل نہ سہی تاہم وہ شاعری کے ملکۂ راسخہ، اور ادبی نکتہ سنجیوں کے لحاظ سے اتنی اونچی سطح پر ہیں کہ بڑے بڑے مستشرقین یورپ بھی ان کی گرد کو نہیں پہنچ سکتے۔یہ بھی غلط ہے کہ شبلی کو تصوف سے مناسبت نہیں ہے۔ میں کہیں لکھ چکا ہوں کہ تصوف، جیسا کہ اکثروں کا خیال ہے کہ ایک طرح کا خبط متعارف نہیں ہے بلکہ جیسا کہ خود شبلی نے تصریح کی ہے دراصل ’’تصحیح خیال‘‘ کا نام ہے، جو اخلاق کی طرح فلسفہ کی ایک مستقل شاخ ہے لیکن جس طرح توکل کا مصداق ایک طرح کی گداگری ہو رہی ہے، تصوف کی صورت بھی اتنی بگڑ گئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پیٹ کا ایک مشغلہ رہ گیا ہے۔ ہم تصوف کو صرف اس نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس میں ذوقی اور وجدانی کیفیت کے ساتھ ایک ادبی پہلو بھی موجود ہے، اگر وہ کوئی راز ہے جو سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا چلا آیا ہے تو ہم کو بیسویں صدی میں اس کی طرف متوجہ ہونے کی بالکل فرصت نہیں، بہرحال تصوف اگر ایک خاص طرح کی لطافت جذبات کا نام ہے، جو حکیمانہ رنگ میں ڈوبی ہوئی ہو اور خیامؔ و حافظؔ اس میں رنگے ہوئے تھے تو شبلی پر بھی اس کی چھینٹیں پڑی ہیں۔صوفیانہ ریاضت و اعمال جو قطعاً غیر فطری ہیں، بے وقت کی شہنائی سے کم نہیں۔ ہم مردوں میں ’ہیسٹریا‘ یعنی اختناق الرحم کے خواص پیدا کرنا نہیں چاہتے، نہ تشنج اعصابی اور حرکات رقاصی کے لئے بوڑھے شبلی کہیں سے موزوں ہیں۔ اسلم اور ان کے یاران طریقت کو یہ ناچ ناچنا (افعال صوفیانہ) مبارک! دیکھئے یہ نہ کہئےگا،ایکہ آگاہ نہ حالت درویشاں راتو چہ دانی کہ چہ سودا بہ سرست ایشازاایک چیز پر آپ اس لئے سر دھنتے ہیں کہ وہ آپ کے ساتھ آپ کے اچھے اچھوں کی سمجھ میں نہیں آئی۔ بڑے بڑوں کو ارمان ہی رہا، ہم اس لئے اس سے پیچھا چھڑاتے ہیں کہ ہمیں اس خبط میں پڑنا منظور نہیں، نہ ہماری اخلاقی زندگی کی تکمیل کے لئے کہیں سے اس کی ضرورت ہے۔ آپ تزکیۂ باطن کے پیچھے پڑے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ نفس خود پاک ہے، ذرا دعویٰ کی شرافت دیکھئےگا! یہ اگر جہالت ہے تو دنیا کے بڑے بڑے ’مستشرق‘ اپنی ’’بیگانہ دشی‘‘ پر ناز کرسکتے ہیں، جنھوں نے تصوف پر نہایت شرح و بسط سے فلسفیانہ بحث کی ہے۔یہ بھی غلط ہے کہ شبلی ’بزرگان اسلام‘ کا احترام نہیں کرتے۔ وہ ان کو لائق ادب ’’انسان‘‘ سمجھتے ہیں جس سے میرا منشاء ’مستجمع صفات کمالیہ انسانی‘ سے ہے جو سچی تعریف کی آخری حد ہے۔ اسلمؔ یا ان کے اور ہم مشربوں کی طرح ہر کس و ناکس کے ساتھ شبلی اس فیاضی سے پیش نہیں آتے کہ ’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔‘ پڑھے لکھے آدمیوں میں ’عزت نفس‘ کا خیال اس قدر بڑھ رہا ہے کہ جہاں ہم خود صرف ’انسان‘ ہونا چاہتے ہیں، دوسروں کو بھی اس سے زیادہ ’بڑھانا‘ نہیں چاہتے۔ آج کل عوائد رسمیہ (یعنی ایٹی کٹ) کی رو سے غیر ضروری حسن ظن کی افراط صرف ’متروکات‘ میں داخل ہونے کے لائق نہیں، بلکہ ایک طرح کی وہم پرستی اور بیکار درد سری ہے جو تقویم پارینہ کی طرح پیچھا چھڑانے کی چیز ہے۔خیامؔ بیچارہ یورپ پہنچ کر کچھ غیرثقہ سا ہو گیا، لیکن حافظؔ کی بات ایشیا میں اس قدر بنی کہ ’چھوٹے پیمانہ کے پیغمبر‘ سمجھے جاتے ہیں، حالانکہ رندانہ توبہ صوفیانہ! ’خیالات موزوں‘ کے لحاظ سے ان کو صرف شاعر ہونا تھا۔ شبلی تو پھر بھی ان کو ’رئیس الشعراء‘ سمجھتے ہیں۔ خیامؔ کی مصطلح مے نوشی کی ضمن میں شبلی کی یہ شاعرانہ شوخی کہ ’’افسوس ہے کہ وہ فلسفی اور حکیم تھا، صوفی نہ تھا ورنہ حافظ کی طرح یہی شراب، شراب معرفت بن جاتی۔‘‘ ادبی نکتہ سنجی کی آخری حد ہے۔ شعر العجم میں یہی ایک فقرہ تو ہے جو اس قدر ’’باکیف‘‘ اور صوفیانہ رنگ میں ہے کہ دیکھتے ہی بس یہ معلوم ہوتا ہے جسم میں ایک برقی رَو دوڑ گئی، یہ اسلم کے بھونڈے مذاق کا پھوہڑپن ہے کہ وہ اس نزاکت خیال سے لطف نہ اٹھا سکے، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ میری بدنصیبی سے ان کو سوجھی بھی تو اعتراض کی سوجھی۔اسی سلسلہ میں محمود کی غیر ضروری ثقاہت پر جہاں اسلم کو اصرار ہے، آپ نہایت بلند آہنگی سے فرماتے ہیں کہ ’’شبلی محمود اور اس کے زمانہ کی تاریخ ہی سے ناواقف نہیں بلکہ ان کو تاریخ کا صحیح مذاق بھی نہیں ملا ہے۔‘‘ غریب اسلم کو معلوم نہیں کہ شاہانہ معیار اخلاق بالکل ایک جداگانہ چیز ہے۔ یورپ میں جو ہیئت اجتماعی یعنی سوسائٹی کی مساوات کا مدعی ہے، حلقۂ شاہی آج بھی ایک ارضی شے یعنی اپنے خصائص کے لحاظ سے دنیا سے بالکل الگ تھلگ خیال کیا جاتا ہے۔ طبقۂ اوسط تو خیر، اعلیٰ طبقہ بھی بلحاظ خصائل اس سے اس قدر مختلف ہے کہ دونوں ایک قوم کے افراد مشترک نہیں معلوم ہوتے، لیکن ان شاہی حلقوں کا جلوہ پس پردہ دیکھئے تو معلوم ہو کہ موقع موقع سے کیا کچھ ہوتا رہتا ہے۔مسلمان بھی اپنے ’عہد زریں‘ میں نرے زاہد خشک نہیں تھے۔ ’الف لیلہ‘ کیا ہے؟ اس زمانہ کے شاہی گہوارۂ عیش (رائل کورٹ) اور اس وقت کی اونچی سوسائٹی کی خلوت آرائیوں کا اصلی مرقع ہے۔ ہارون رشید تو علانیہ رند مشرب تھا، لیکن محمود کی ایک رخی تصویر جو اسلمؔ دکھانا چاہتے ہیں وہ ان کے لائق رحم دوم درجہ کے معلومات کا نتیجہ ہے۔ ایک مؤرخ کو جو طبائع عالم کا نباض ہو، محمود پر اگر وہ تاریخی وقعت رکھتا ہے، گہری نظر ڈالنی ہوگی اور یہ ناممکن سا ہے کہ خصائل کے مختلف پہلو دائرہ نظر میں نہ آئیں، محمود میں اوصاف کے ساتھ کمزوریاں بھی تھیں، وہ انسان تھا فرشتہ نہیں تھا۔میں اس بے تکی بحث کے سلسلہ میں یہ بھی دکھانا چاہتا ہوں کہ ’’ایاز‘‘ کا وجود خیالی اسلم کے وجود یقینی سے زیادہ غیرمشتبہ ہے، اسلمؔ جن باتوں کو بازاری گپیں فرماتے ہیں، وہ انسانی سلسلۂ روایات اور ’’افسانہائے کہن‘‘ کی ضروری کڑیاں ہیں، جن سے ہم ایک منٹ کے لئے بھی دست بردار نہیں ہو سکتے۔ یورپ کا ایک زبردست مستشرق ’’ایسی سرد اور بے غایت تحقیقات کو نظر حقارت سے دیکھتا ہے جو کسی لطیف انسانی تخیل (آئیڈیل) کو جو وراثتاً زمانہائے دراز میں منتقل ہوتا ہوا ہم تک پہونچا ہے بغیر کسی کافی معاوضہ کے دفعتاً چھین لئے۔‘‘ وہ کہتا ہے کہ ’’مغربی سرد مہریاں یعنی نرے مادے اور سائنٹفک اکتشافات، مشرق کے وسیع عالم خیال اور اس کی لازوال دلچسپیوں اور نزاکتوں کی قائم مقامی نہیں کر سکتے، جن میں ایک خاص طرح کی گرمجوشی اور ایسی قوت اخلاقی موجود ہے جو سخت سے سخت مصائب انسانی میں بھی ہمارے آنسو پوچھتی رہتی ہے، ہم ہرمادی پیش قدمی کے ساتھ کچھ نہ کچھ کھوتے ہیں، جس کی بنا کسی شریف تر اور اعلیٰ تر اصول خیال پر ازل ہی میں پڑ چکی تھی۔‘‘خیر یہ باتیں اسلم کے دل ودماغ سے مناسبت نہیں رکھتیں، یونانیوں کی سی لطافت خیال اور مذاق حسن پرستی کی ضرورت ہے جو ہندوستان کے حکماء ادب (ڈاکٹر آف لٹریچر) میں صرف شبلی کا حصہ ہے۔میرا خیال ہے اب مجھے کچھ زیادہ کہنا نہیں ہے۔ ایک فقرہ رہ گیا تھا، وہ بھی لیجئے۔ شبلی پر یہ بھی الزام ہے کہ ’’وہ جوش میں آکر ایک (شاعر) کو دوسرے پر بے جا فوقیت دیتے ہیں یا جس کے حالات لکھتے ہیں اسی کے ہو رہتے ہیں۔‘‘ اسلمؔ کو معلوم نہیں کہ اس قسم کا جوش خاصۂ انسانی ہے، ایک انشا پرداز جہاں کسی اہل قلم کے وصف غالب کو ابھار کر دکھاتا ہے وہاں تنقید کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ دسرے جزئیات پر بھی نظر ڈالے، اس طرح جب مختلف شعراء پر جو قریب قریب ایک ہی سطح پر ہوں، نظر ڈالی جائےگی تو لازماً صفات مشترکہ میں تصادم ہوجائےگا، ان کا تجزیہ کرنا ان کو بچ بچ کر اس طرح دکھانا کہ ایک کا دوسرے سے امتیاز رہے اور ساتھ ہی صفت غالب آنکھوں کے سامنے سامنے آ جائے، ہر شخص کا کام نہیں ہے۔ اسلمؔ نے ساری عمر میں لے دے کر ’’حیات حافظ‘‘ لکھی اور اس وقت لکھی جب شعر العجم کے اجزاء متعلق علی گڈھ پریس میں ان کے پیش نظر تھی۔ وہ تصنیف کی اہم ذمہ داریوں سے ناآشنا سے ہیں ورنہ یوں شبلی کے منہ نہ آتے۔’شعر العجم‘ میں ’حیات سعدیؒ‘ سے علیحدہ ہوکر سعدیؒ پر اور خاص کر فردوسیؒ پر جس قدر نفاست سے تفصیلی نظر ڈالی گئی ہے، وہ بجائے خود ادبی فتوحات میں داخل ہونے کے لائق ہے، لیکن ’’چہ کنم کہ چشم بد بین نکند برونگا ہے۔‘‘مجھ کو افسوس ہے کہ اسلم کو ذرا سختی سے ٹوکنا پڑا، لیکن یہ سختی ان کے مرتبۂ انشا پردازی کے لحاظ سے ہے جس کی ذمہ داری ان کی غیرضروری اپج ہے۔ شعر العجم کی تنقیص سے، جس میں انھوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے، انھوں نے شبلی سے زیادہ لٹریچر کی حق تلفی کی۔ خاص کر اس لحاظ سے کہ ملک میں پڑھے لکھوں کی تعداد کسرات سے آگے نہیں بڑھتی، ان میں بھی تھوڑے ہی ایسے ہیں جو اردو ادب کا مذاق صحیح رکھتے ہیں یا جن میں اظہار خیال سے پہلے صحیح رائے قائم کرنے کا سلیقہ ہو۔ ایسی حالت میں اسلم کی تنقیص بیجا رہنمائی کی جگہ صریحاً گمراہی کا سبب ہوگی۔ ادبی حیثیت سے عبد السلام ندوی، اسلمؔ کا توڑ کرچکے ہیں، میں نے جو کچھ لکھا ہے صرف ’ترکی بہ ترکی‘ کی حیثیت سے، جس کی غایت ’بھٹیاری کی توتو میں میں‘ سے زیادہ نہیں ہے، لیکن برا ماننے کی بات نہیں، میں نے صرف معاوضہ بالمثل سے کام لیا ہے، جس کی نظیر میرے سامنے موجود تھی۔یہ چند سطریں مجھے امید ہے کہ ایک ’بے ادب‘ کے لئے جو مذہبی مذاق رکھتا ہو محتسب کے درے ہیں جو حدود اخلاقی کے توڑنے کا شرعی علاج ہے۔ اچھا ہوتا اگر اسلم میری خاطر سے آئندہ اس فقرے کو عنوان زندگی بناتے ’’ایاز قدر خود بشناس۔‘‘اسی سلسلہ میں آجکل شبلی کی ’الکلام‘ پر جولے دے ہورہی ہے اور جو میرے موجودہ موضوع بحث سے خارج ہے، کچھ سرسری ریمارک کرنا چاہتا ہوں کسی آئندہ موقع پر مستقلاً نظر ڈالوں گا۔تنقید ’الکلام‘ میں لائق ’متعلم‘ نے نہایت قابلیت سے سائنس اور فلسفۂ حال کے معرکۃ الآراء مسائل سے بحث کی ہے، اس طرح اس سے پہلے ’راز‘ سے کبھی پردہ نہیں اٹھایا گیا لیکن صاحب تنقید کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے حکیمانہ تذبذب فی المذہب (یعنی ایگناسٹک خیالات) کی زد پر صرف شبلی نہیں ہیں بلکہ خود مذہب مسائل مختلف فیہ کا ذمہ دار ہے۔ شبلی سے اگر غلطی ہوئی تو صرف اس قدر کہ انھوں نے مذہب کو آج کل کے عقلیات سے ٹکرایا، یہ غلطی اس سے پہلے بھی جب مسلمانوں کے اچھے دن تھے ہو چکی ہے، اور علم کلام کو عباسی دور کے دماغی ترقیات کے لحاظ سے ’یاد ایام‘ سمجھئے جو عقائد اسلام اور فلسفۂ قدیم کے گزشتہ اختلاط کی ادبی تاریخ ہے۔لیکن اس زمانہ میں اسلام کو صرف فلسفہ یعنی ایک حد تک محض اصول نظری سے سابقہ تھا، اس لئے جس طرح لحاف کی تیاری میں کچھ اَستر سے لیا اور کچھ اَبرہ سے، اور دونوں کا جھول جھال لے کر برابر کردیا، دونوں حریف جوچھری کٹاری ہو رہے تھے گلے ملوا دئے گئے۔ لیکن آج مذہب گو اپنے دشمن ازلی یعنی سائنس کا مقابلہ کرتا ہے جو قوی تر حریف ہے اور جو اپنے سوا دنیا میں کسی کو دیکھنا نہیں چاہتا۔ مذہب کے اولیات کا انحصار کلیۃً امور غیرمادی یعنی ایسی چیزوں پر ہے جو سرے سے مدرکات انسانی سے باہر ہیں، یعنی ہمارے قوائے فطری ان کے سمجھنے بوجھنے سے عاری ہیں اور سائنس صرف مادیت سے غرض نہیں رکھتا بلکہ اس کا دعویٰ ہے کہ عالم غیر کا خیر سے وجود ہی نہیں جس پر ہم آپ اس قدر مٹے ہوئے ہیں۔بہرحال فلسفہ پھر بھی اتنا برا نہیں کہ ’سنی سنائی‘ بھی کبھی مان لیتا ہے لیکن سائنس اتنا کٹّر ہے کہ جب تک ’آنکھوں دیکھی‘ نہ ہو، ہزار کہئے، کتنے ہی بڑے بڑے جبہ اور دستار پیش کیجئے، مذہب کی دہائی دیجئے ایک نہیں سنتا! ظاہر ہے کہ اتنا بڑا کافر برخود غلط کسی ’’شریعت سہلۃ‘‘ کی گرفت میں کہاں تک آ سکتا ہے؟لیکن کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم مذاہب سے عموماً دست بردار ہو جائیں؟ اس کا فیصلہ میں انسان کی اگلی پچھلی اخلاقی تاریخ پر چھوڑتا ہوں جس کی تکمیل کی نسبت خود فلسفہ کا یہ دعویٰ ہے کہ بغیر مذہب کے ہو ہی نہیں سکتی۔ شبلی نے الکلام میں نفس موضوع کے لحاظ سے جو روش اختیار کی، اس کے سوا چارہ کارہی کیا تھا۔ آپ کسی کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہیں تو پہلے ضرورت ہے کہ بڑے میاں سے آپ کو حسن ظن بھی ہو، یہ نہیں کہ ایک دم سے پگڑی اتار لی اور دعویٰ یہ کہ ’’ہم آپ کے خالص بہی خواہ ہیں، لگی لپٹی نہیں رکھتے۔‘‘طبائع انسانی کے لئے اگر مذہب کی ضرورت ہے تو اس کے مسلمات اعتقادات، جسے ایک طرح کی مجبوری کہئے، تسلیم کرنے ہوں گے، رہی معقول و منقول کی تطبیق، جہاں تک مذہب میں استطاعت ہے آپ دونوں کو ٹکرا سکتے ہیں، علم کلام کا اتنا ہی فرض ہے۔شبلی حکیمانہ خیالات کے ساتھ پھر بھی مذاق مذہبی رکھتے ہیں، اور ’مولویت‘ کو اپنی کسر شان نہیں سمجھتے، اور انھوں نے جو کچھ لکھا ہے حمایت مذہب میں لکھا ہے، لیکن اس پر بھی جہاں لائق ’متعلم‘ سائنس کے اکتشافات عالیہ کے مقابلہ میں خالی الذہن ہوکر فلسفیانہ استدلال سے مذہب کی دھجیاں اڑا رہا ہے، لکھنؤ کے ایک مشہور انشاپرداز شبلی کی مذہبی تحریرات سے عام سوء ظن پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ نہ جاننا بھی مزے کی بات ہے۔ حضرت کو ’اعتزال‘ کی فکر ہے جس میں پھر بھی ایک مذہبی رنگ ہے، لیکن یہ معلوم نہیں کہ اس زمانہ میں سرے سے مذہب کی جان ہی کے لالے ہیں اور آج کسی ’مذہب آسمانی‘ میں اتنی قوت نہیں کہ وہ منحرف سائنس کو زیر کر سکے۔میں شعر العجم پر لکھتے لکھتے جانے کہاں سے کہاں بہک گیا، ان بے ربط خیالات کی تلافی اس وقت ہو رہےگی جب شبلی کے ’تذکرۂ شعراء‘ کا چوتھا حصہ شائع ہو لےگا جس کے لئے ابھی سے تیار رہئے۔ شبلی دنیا کی عام شاعری پر مفصل تنقیدی نظر ڈالیں گے اور دکھائیں گے کہ فارسی شاعری ’’ارتقاء ادبی‘‘ کے لحاظ سے کیا درجہ رکھتی ہے۔ یہ بحث جس قدر دلچسپ ہے، اس سے زیادہ مشکل ہے۔ پروفیسر براؤن سا محقق بھی اسے ٹال گیا لیکن شبلی لکھیں گے اور اچھی طرح لکھیں گے۔یہ چند سطریں ناظرین کی ضیافت طبع کے لئے خوش ذائقہ بریانی کی جگہ ابالے ہوئے سادے خشکے یعنی ماحضر کی حیثیت سے ہیں تاہم ادبی چانشی سے خالی نہیں! پرتکلف سامان انشاء اللہ آئندہ، جس کے لئے ابھی سے وعدہ ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B9%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%AC%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1"} {"title": "شعر دولت ہے کہاں کی دولت", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شعر دولت ہے کہاں کی دولت\nمیں غنی ہوں تو زباں کی دولت\n\nسیکڑوں ہو گئے صاحب دیواں\nمیری تقریری و بیاں کی دولت\n\nسیر مہتاب کر آئے ہم بھی\nبارے اس آب رواں کی دولت\n\nزخم کیا کیا مرے تن پر آئے\nتیری شمشیر و سناں کی دولت\n\nہوئی محبوس قفس بلبل نے\nرنج دیکھا یہ خزاں کی دولت\n\nکوئی نواب کے گھر کا ہے غلام\nکوئی پلتائے ہے خاں کی دولت\n\nمصحفیؔ پر ہے ترا کر و فر\nصاحب عالمیاں کی دولت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B9%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA"} {"title": "شعر کیا جس میں نوک جھوک نہ ہو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شعر کیا جس میں نوک جھوک نہ ہو\nمرغ پھر کیا لڑے جو نوک نہ ہو\n\nکہیں دیکھے ہی سادہ رو خونخوار\nچشمۂ آئینہ میں جوک نہ ہو\n\nوہی کوچہ بھلا کہ جس میں کبھو\nدندنالوں کی روک ٹوک نہ ہو\n\nنام گردوں پہ جس کا ہے پرویں\nنیشکر کا یہ اس کے پھوک نہ ہو\n\nرنڈی بازی وہ کیا کرے پھر خاک\nپاس جس کے کتاب کوک نہ ہو\n\nگلہ باید حریص شہوت را\nایک بکری سے شاد بوک نہ ہو\n\nپیٹ کا بھاڑ ہے بلا نہ بھرے\nخوب تا اس میں جھوکا جھوک نہ ہو\n\nحسن مطرب ہے سن کے گانے کا\nپیشہ لے جب گلے میں ڈوک نہ ہو\n\nکیا پھنکیتی کا وہ کرے دعویٰ\nمصحفیؔ یاد جس کو روک نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B9%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%88%DA%A9_%D8%AC%DA%BE%D9%88%DA%A9_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت\nمرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہت\n\nبے سبب آتا نہیں اب دم بہ دم عاشق کو غش\nدرد کھینچا ہے نہایت رنج اٹھایا ہے بہت\n\nوادی و کہسار میں روتا ہوں ڈاڑھیں مار مار\nدلبران شہر نے مجھ کو ستایا ہے بہت\n\nوا نہیں ہوتا کسو سے دل گرفتہ عشق کا\nظاہراً غمگیں اسے رہنا خوش آیا ہے بہت\n\nمیرؔ گم گشتہ کا ملنا اتفاقی امر ہے\nجب کبھو پایا ہے خواہش مند پایا ہے بہت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA"} {"title": "شعرا میں نہ ہو کیوں شعر ہمارا اونچا", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "شعرا میں نہ ہو کیوں شعر ہمارا اونچا\nکہ قد یار کا مضمون ہے باندھا اونچا\n\nناز کی نشو و نما ہے کہ ہے جوبن کا ابھار\nورنہ کیا ہے ترے سینہ پہ یہ اونچا اونچا\n\nدل مسافر ہے سفر شب کا پھر اس پر طرہ\nکوچۂ زلف میں ہے ہر جگہ نیچا اونچا\n\nاے ادب خار کی تعظیم ہے نیچا رہنا\nہاں کہیں ہو نہ سر آبلۂ پا اونچا\n\nزلف ہے پست جو گیسو سے تو یہ کاکل سے\nچو گنے مرتبہ میں اس سے ہے طرہ اونچا\n\nچشم بد دور بلند اشک ہے سر سے اک ہاتھ\nغیر ممکن ہے زمیں سے بہے دریا اونچا\n\nکیوں وقارؔ اپنا گلا پیر و جواں پھاڑتے ہیں\nپیر کہنہ ہے فلک حد سے ہے سنتا اونچا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B9%D8%B1%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B4%D8%B9%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D9%86%DA%86%D8%A7"} {"title": "شعرائے قوم سے خطاب", "poet_page": "مصنف:شاہ دین ہمایوں", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے شاعران قوم زمانہ بدل گیا\nپر مثل زلف یار تمہارا نہ بل گیا\nپیٹو گے کب تلک سر رہ تم لکیر کو\nبجلی کی طرح سانپ تڑپ کر نکل گیا\nاٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی\nدوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا\nاک تم کہ جم گئے ہو جمادات کی طرح\nاک وہ کہ گویا تیر کماں سے نکل گیا\nہاں ہاں سنبھالو قوم کو شاید سنبھل ہی جائے\nگر گر کے ملک ہند کچھ آخر سنبھل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%82%D9%88%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%B7%D8%A7%D8%A8"} {"title": "شعرِ عجَم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہے شعرِ عجَم گرچہ طرب ناک و دل آویز\nاس شعر سے ہوتی نہیں شمشیرِ خودی تیز\nافسُردہ اگر اس کی نَوا سے ہو گُلستاں\nبہتر ہے کہ خاموش رہے مُرغِ سحَر خیز\nوہ ضرب اگر کوہ شکن بھی ہو تو کیا ہے\nجس سے مُتزلزل نہ ہُوئی دولتِ پرویز\nاقبالؔ یہ ہے خارہ تراشی کا زمانہ\n’از ہر چہ بآئینہ نمایند بہ پرہیز‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B9%D8%B1%D9%90_%D8%B9%D8%AC%D9%8E%D9%85"} {"title": "شعلوں سے محبت کی مری جاں میں لگی آگ", "poet_page": "مصنف:ماتم فضل محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شعلوں سے محبت کی مری جاں میں لگی آگ\nپھر جاں سے بھڑک جسم کے میداں میں لگی آگ\n\nیہ آتش غم ہے کہ دم سرد سے اپنے\nسرچشمۂ خورشید درخشاں میں لگی آگ\n\nاس حور کے کوچے میں بھرے ہم جو دم گرم\nمردم نے کہا روضۂ رضواں میں لگی آگ\n\nخنداں جو ہوا یار ہمیں دیکھ کے گریاں\nلوگوں نے کہا برق سے باراں میں لگی آگ\n\nان روزوں میں ہے رنگ جو اشکوں کا گلابی\nشاید کہ مرے دیدۂ گریاں میں لگی آگ\n\nگرمی سے نگر کے ترے گن آب ہوا دیکھ\nبلبل نے پکارا کہ گلستاں میں لگی آگ\n\nناری ہیں جو پریاں یہ سبب ہے کہ تمہارے\nنور رخ روشن سے پرستاں میں لگی آگ\n\nاس آتشیں رو کو بہ لب بام جو دیکھا\nعالم نے کہا گنبد گرداں میں لگی آگ\n\nدریا میں وہ دھویا تھا کبھی دست حنائی\nحسرت سے وہیں پنجۂ مرجاں میں لگی آگ\n\nغیروں کی طرف جو نظر مہر سے دیکھا\nغیرت سے مرے سینۂ سوزاں میں لگی آگ\n\nکیوں کوہ کن و قیس رہیں مجھ سے نہ نالاں\nنالوں سے مرے کوہ و بیاباں میں لگی آگ\n\nوہ سوختہ دل ہوں میں پس از مرگ جو گزرا\nمرقد سے مرے یار کے داماں میں لگی آگ\n\nماتمؔ ہے کسی سوختہ دل کا اثر آہ\nبے وجہ نہیں کوچۂ جاناں میں لگی آگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B9%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D8%A2%DA%AF"} {"title": "شعلۂ آہ نے سیکھا ہے جلانا دل کا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شعلۂ آہ نے سیکھا ہے جلانا دل کا\nنہیں ملتا ہے جو پہلو میں ٹھکانا دل کا\n\nشوخیاں آئیں گی بڑھنے دو ابھی سن ان کا\nزلف پر پیچ سکھا دے گی پھنسانا دل کا\n\nنئے انداز سے لیتے ہیں وہ دل عاشق کا\nروش ناز سے سیکھا ہے چرانا دل کا\n\nصورت برگ حنا کس نے بنایا تم کو\nپیش کر پائے نگاریں میں لگانا دل کا\n\nکیا مجھے دشت نوردی کا مزا دیتا ہے\nجستجو میں تری یوں خاک اڑانا دل کا\n\nکیا خبر تھی وہ پئے سیر ادھر آئے گا\nسیکھتا پردۂ پہلو میں چھپانا دل کا\n\nان کے کوچہ میں بپا فتنۂ محشر نہ کرے\nشب تاریک میں کیا شور مچانا دل کا\n\nطور الفت پہ چلو تا میں دکھاؤں تم کو\nہو کے بے ہوش کبھی ہوش میں آنا دل کا\n\nشکر کر شکر جمیلہؔ کہ زہے تیرا نصیب\nہو گیا کوچۂ جیلاں میں ٹھکانا دل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%82_%D8%A2%DB%81_%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "شعلۂ عشق", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "محبت نے ظلمت سے کاڑھا ہے نور\nنہ ہوتی محبت نہ ہوتا ظہور\nمحبت مسبب محبت سبب\nمحبت سے آتے ہیں کار عجب\nمحبت بن اس جا نہ آیا کوئی\nمحبت سے خالی نہ پایا کوئی\nمحبت ہی اس کارخانے میں ہے\nمحبت سے سب کچھ زمانے میں ہے\nمحبت سے کس کو ہوا ہے فراغ\nمحبت نے کیا کیا دکھائے ہیں داغ\nمحبت اگر کارپرداز ہو\nدلوں کے تئیں سوز سے ساز ہو\nمحبت ہے آب رخ کار دل\nمحبت ہے گرمی آزار دل\nمحبت عجب خواب خوں ریز ہے\nمحبت بلاے دل آویز ہے\nمحبت کی ہیں کارپردازیاں\nکہ عاشق سے ہوتی ہیں جانبازیاں\nمحبت کی آتش سے اخگر ہے دل\nمحبت نہ ہووے تو پتھر ہے دل\nمحبت کو ہے اس گلستاں میں راہ\nکلی کے دل تنگ میں بھی ہے چاہ\nمحبت ہی سے دل کو رو بیٹھیے\nمحبت میں جی مفت کھو بیٹھیے\nمحبت لگاتی ہے پانی میں آگ\nمحبت سے ہے تیغ و گردن میں لاگ\nمحبت سے ہے انتظام جہاں\nمحبت سے گردش میں ہے آسماں\nمحبت سے روتے گئے یار خوں\nمحبت سے ہو ہو گیا ہے جنوں\nمحبت سے آتا ہے جو کچھ کہو\nمحبت سے ہو جو وہ ہرگز نہ ہو\nمحبت سے پروانہ آتش بجاں\nمحبت سے بلبل ہے گرم فغاں\nاسی آگ سے شمع کو ہے گداز\nاسی کے لیے گل ہے سرگرم ناز\nمحبت ہی ہے تحت سے تا بہ فوق\nزمیں آسماں سب ہیں لبریز شوق\nمحبت سے یاروں کے ہیں رنگ زرد\nدلوں میں محبت سے اٹھتے ہیں درد\nگیا قیس ناشاد اس عشق میں\nکھپی جان فرہاد اس عشق میں\nہوئی اس سے شیریں کی حالت تباہ\nکیا اس سے لیلیٰ نے خیمہ سیاہ\nسنا ہوگا وامق پہ جو کچھ ہوا\nنل اس عشق میں کس طرح سے موا\nجو عذرا پہ گذرا سو مشہور ہے\nدمن کا بھی احوال مذکور ہے\nستم اس بلا کے ہی سہتے گئے\nسب اس عشق کو عشق کہتے گئے\nاس آتش سے گرمی ہے خورشید میں\nیہی ذرے کی جان نومید میں\nاسی سے دل ماہ ہے داغ دار\nکتاں کا جگر ہے سراسر فگار\nنئے اس کے چرچے حکایت سنی\nگہے شکر گاہے شکایت سنی\nاسی سے قیامت ہے ہر چار اور\nاسی فتنہ گر کا ہے عالم میں شور\nکوئی شہر ایسا نہ دیکھا کہ واں\nنہ ہو اس سے آشوب محشر عیاں\nکب اس عشق نے تازہ کاری نہ کی\nکہاں خون سے غازہ کاری نہ کی\nزمانے میں ایسا نہیں تازہ کار\nغرض ہے یہ اعجوبۂ روزگار\n\nآغاز قصہ\n\nعجب کام پٹنے میں اس سے ہوا\nعجب اہل عالم کو جس سے ہوا\nکہ واں اک جواں تھا پرس رام نام\nخوش اندام و خوش قامت و خوش خرام\nجوانی کے گلشن کا وہ آب و رنگ\nگلستاں پہ کام اس کی خوبی سے تنگ\nجدھر نکلے رنگیں ادائی کے ساتھ\nچلے جائیں جی خوش نمائی کے ساتھ\nکھلے بال چلتا تھا وہ سرو ناز\nقدم بوس کو آتی عمر دراز\nجدھر کو وہ ٹک گرم رفتار ہو\nقیامت ادھر سے نمودار ہو\nنگہ گرم اس کی جدھر جا لڑی\nکہے تو کہ اودھر کو بجلی پڑی\nوہ کافر بھویں ہوویں مائل جہاں\nکریں سجدہ اس جا پہ اسلامیاں\nنگہ تیغ مجروح جس کے پڑے\nپلک سیل جوں دل میں جاکر گڑے\nسیہ چشم اس کے دو بدمست تھے\nنگاہوں سے شمشیر در دست تھے\nرخ اس کا کہاں اور مہ و خور کہاں\nتفاوت زمیں آسماں کا ہے یاں\nدو لب لعل کو جن سے شرمندگی\nدم حرف سرمایۂ زندگی\nدہن کی جو تنگی نظر کیجیے\nتو آگے سخن مختصر کیجیے\nنہ ہم تم زنخ دیکھ حیراں رہیں\nسبھی دست زیر زنخداں رہیں\nسراپا میں اس کے جہاں دیکھیے\nوہیں روے مقصود جاں دیکھیے\nخراماں نکلتا وہ جس راہ سے\nقیامت تھی واں نالہ و آہ سے\nفدا اس پہ جی جان ہر ایک کا\nکہ مقصود دل تھا بد و نیک کا\nکئی گرد و پیش اس کے وارفتگاں\nکئی ایدھر اودھر جگر تفتگاں\nبہت رفتگان اداے کلام\nبہت مبتلاے بلاے خرام\nکوئی کشتۂ شوق رفتار کا\nکوئی نیم جاں ذوق دیدار کا\nکوئی والۂ خندۂ برق وش\nکسو کے تئیں جنبش لب سے غش\nکسو کی نظر میں کمر کی لچک\nکسو کے جگر میں پلک کی کسک\nکوئی حیرتی طرز گفتار کے\nکوئی آرزوکش بروبار کے\nکوئی زلف سے اس کی مجنوں رہے\nکسو کا تبسم سے دل خوں رہے\nکوئی دل ستم کشتۂ یک نگاہ\nکوئی جان ہونٹھوں پہ موقوف آہ\nکسو پر فسوں گردش چشم کا\nکسو پر غضب غمزہ و خشم کا\nکوئی دست بر دل کوئی بے قرار\nکوئی بے خبر کوئی بے اختیار\nانھوں میں سے اک عاشق زار تھا\nاس آفت کو اس سے سروکار تھا\nمحبت میں تھا جذب کامل اسے\nمراد دل اپنی تھی حاصل اسے\nشب و روز ہم بستر کام دل\nہمیشہ ہم آغوش آرام دل\nدم اس کے میں یاں تک تو تاثیر تھی\nکہ صحبت اس آتش سے درگیر تھی\nبہم ربط چسپاں بہم اختلاط\nنہ کم ہوتی گرمی نہ کم اختلاط\nمرو کوئی غم سے کوئی ہو ہلاک\nوہ شعلہ اسی خس سے رکھتا تپاک\nکہاں حسن میں تھا وفا کا یہ پاس\nیہ سنیے کہ ہے گا خلاف قیاس\nبہت سے بہت اس کا مالوف تھا\nاسی کی تسلی سے مصروف تھا\nکہ ناگہ وہ دلبر ہوا کدخدا\nرہا اپنے عاشق سے چندے جدا\nزن و شو سے اخلاص باہم ہوا\nاس آشفتہ سے رابطہ کم ہوا\nنگاہیں بہم دل میں کاوش کریں\nسخن سے وفائیں تراوش کریں\nہوا ربط چسپاں بہم اس قدر\nکہ دشوار اٹھے ہم دگر سے نظر\nرہیں دونوں دست و بغل روز و شب\nکبھو منھ پہ منھ ہو کبھو لب پہ لب\nوفا نے جو تکلیف کی ایک روز\nگیا اپنے عاشق کے وہ دل فروز\nکئی دن میں جاکر جو اس سے ملا\nکیا اس نے حد سے زیادہ گلہ\nکہ اے نازنیں آہ کن نے کہا\nکہ تو حال سے میرے غافل رہا\nمگر سد رہ تھا کسو کا فریب\nملا کوئی تجھ سے بھی دشمن شکیب\nکوئی زلف زنجیر پا ہوگئی\nکہ مسدود راہ وفا ہوگئی\nطرح کس کی چتون کی دل میں کھبی\nجگر میں پلک شوخ کس کی چبھی\nکسو چشم نے تجھ کو جادو کیا\nمرے جام عشرت کو لوہو کیا\nکہا ان نے تھی کدخدائی مری\nنہ تھی بے سبب یہ جدائی مری\nرکھ اب مجھ کو معذور ناچار ہوں\nمحبت کا میں نوگرفتار ہوں\nنہ فرصت مجھے صبح ہے اب نہ شام\nطرف اس کے ہے دل کو میل تمام\nاسے بھی مرے ساتھ اخلاص ہے\nدلوں کو بہم رابطہ خاص ہے\nاسے مجھ سے ہے نسبت عاشقی\nوہ رہتی ہے بے طاقت عاشقی\nنہیں اس کو یک لحظہ تاب فراق\nجدائی مری اس پہ گذرے ہے شاق\nنکلتا ہوں گھر سے جو میں ایک آن\nتو پاتا ہوں جاکر اسے نیم جان\nنہ دیکھے جو مجھ کو تو مر جائے وہ\nوہیں جی سے اپنے گذر جائے وہ\nجو پہنچے مری جھونٹھ اسے بدخبر\nتو کر بیٹھے سچ اپنے جی کا ضرر\nغرض اس کو تاب و تحمل نہیں\nشکیبائی ہجر بالکل نہیں\nیہ سن کر کہا اس دل افگار نے\nستم کشتۂ دوری یار نے\nکہ مجھ کو نہیں تیری باتیں قبول\nیہ مکر زناں ہیں تو ان پر نہ بھول\nوفا کن نے ان ناقصوں میں سے کی\nموا شوے کس کا کہ وہ پھر نہ جی\nیہ ظاہر میں ہر چند ہوں رشک ماہ\nولیکن ہیں باطن میں مار سیاہ\nخدا مکر سے ان کے دے ہے خبر\nنہیں ان سے کوئی فریبندہ تر\nجہاں میں فریب ان کا مشہور ہے\nزبانوں پہ مکر ان کا مذکور ہے\nپئے امتحاں عاقبت یک نفر\nمقرر ہوا تاکہ جا اس کے گھر\nکہے غرق دریا ہوا پرس رام\nہوئی زندگانی کی صبح اس کی شام\nگیا تھا نہانے کو وقت سحر\nسو ڈوبا وہ خورشید روشن گہر\nکیا موج دریا نے سر سے گذار\nاٹھا طبع نازک سے اس کے غبار\nوہ گیسو جو بکھرے تھے بالاے آب\nسو اب موج دریا کو ہے پیچ و تاب\nپھرے تھیں جو وے انکھڑیاں آب میں\nسو وے گردشیں اب ہیں گرداب میں\nتمنا میں تھے جس کے سب دل فگار\nسو دریا کو اب ہے وہ بوس و کنار\nنہ سمجھا وہ نافہم اسرار عشق\nنہ سوچا وہ ناتجربہ کار عشق\nکہا غرق دریا ہوا پرس رام\nہوا کام اس رشک مہ کا تمام\nکہے تو کہ موجوں کو تھا انتظار\nکہ دست و بغل ہوگئیں ایک بار\nگیا بیٹھ پانی میں ایسا شتاب\nکہ گویا لب آب کا تھا حباب\nکنارے پہ دریا کے اک شور ہے\nبحال خراب ایک جمہور ہے\nگرے ہیں کئی آشنا آب میں\nکئی آتش غم سے ہیں تاب میں\nکوئی سر پہ اس غم سے ڈالے ہے خاک\nکسی نے کیا ہے گریباں کو چاک\nہمیں داغ وہ در تر دے گیا\nبہت آب یہ ماجرا لے گیا\nسنا اس کی ہمسر نے جب یہ سخن\nہوا موج زن بحر رنج و محن\nنگہ اک طرف در کے مایوس کی\nدم سرد کھینچا گیا ڈوب جی\nوہی بے خودی رخصت جان تھی\nوہ اک دم کی گویا کہ مہمان تھی\nگری ہو کے بے جان وہ دردمند\nہوا شور نوحے کا گھر سے بلند\nموئی غم میں اس جملہ تن ناز کے\nگئی جان ہمرہ سخن ساز کے\nوہ آیا جو تھا دل پریشاں گیا\nکہ اس واقعے سے پشیماں گیا\nخبر لے گیا اس کنے زودتر\nجو تھا درپئے امتحاں بے خبر\nکہ وہ رشک مہ امتحاں دے گئی\nمحبت کے ناموس کو لے گئی\nموا سن پرس رام کے تیں موئی\nمرے اک سخن میں قیامت ہوئی\nاگرچہ نہ کچھ ان نے منھ سے کہا\nدیا جی ولے جی اسی میں رہا\nیہ سن کر وہ نافہم حیراں ہوا\nخجالت میں سر در گریباں ہوا\nگیا ہوش سن کر پرس رام کا\nدوانہ ہوا عشق کے کام کا\nاٹھا بے خود و بے خرد بے حواس\nگرا آکے اس پیکر مردہ پاس\nلگا کہنے اے مایۂ زندگی\nمجھے منھ سے تیرے ہے شرمندگی\nکیا جلد رخت سفر تونے بار\nنہ میرا کیا آہ ٹک انتظار\nنہ میری سنی کچھ نہ اپنی کہی\nمرے تیرے دونوں کے جی میں رہی\nزمیں پر سے آخر اٹھایا اسے\nلب آب جاکر جلایا اسے\nجب آگ اس کے پیکر پہ سب چھا گئی\nمحبت عجب داغ دکھلا گئی\nیہ سرگرم فریاد و زاری ہوا\nلہو اس کی آنکھوں سے جاری ہوا\nجگر غم میں یک لخت خوں ہوگیا\nرکا دل کہ آخر جنوں ہوگیا\nگئے ہوش و صبر اس کے یک بارگی\nطبیعت میں آئی اک آوارگی\nسراسیمگی سے بگولا ہوا\nپھرے اس طرح جیسے بھولا ہوا\nنہ جی کو تسلی نہ دل کو قرار\nکف غم میں سررشتۂ اختیار\nکبھو یاد کر اس کو نالاں رہے\nکبھو ٹک جو بھولے تو حیراں رہے\nکبھو یاں کبھو واں بحال خراب\nوہی بے قراری وہی اضطراب\nرہے گھر تو آشوب گہ وہ گلی\nچمن میں جو لے جائیں تو بے کلی\nکبھو متصل ہونٹھ پر آہ سرد\nکبھو دست بر دل کہ دل میں ہے درد\nہوئی رفتہ رفتہ جو وحشت زیاد\nلگا بھاگنے سب سے وہ نامراد\nکچھ اپنے بد و نیک کی سدھ نہیں\nنکل جائے تنہا کہیں کا کہیں\nکبھو جاکے صحرا سے لاویں اسے\nکبھو روتے دریا پہ پاویں اسے\nکبھو خاک ملتا ہے منھ پر کھڑا\nکہیں ہے خرابی میں بے سدھ پڑا\nسر شام اک روز دریا گیا\nہوئی رات واں سے نہ آیا گیا\nکنارے پہ رہتا تھا اک دام دار\nرہا رات اس کے یہ قرب و جوار\nکہا اس کی عورت نے اس رات کو\nنہیں تجھ سے جی چاہتا بات کو\nتجھے فکر کچھ اب ہماری نہیں\nتو جاتا نہیں شام کو اب کہیں\nترا شب کو دریا میں پڑتا تھا دام\nتو چلتا تھا بارے معیشت کا کام\nتو جاتا نہیں شب کو جس روز سے\nمعیشت ہے اندوہ جاں سوز سے\nنہیں طاقت صبر ہم کو تنک\nبہت دیر ملتا ہے نان و نمک\nوہ بولا کہ میں بھی پریشان ہوں\nبہت تنگ دستی سے حیران ہوں\nکہوں کیا کئی روز سے شام کو\nاٹھاتا ہوں میں اس سبب دام کو\nکہ یک شعلۂ تند پرپیچ و تاب\nفلک سے اترتا ہے نزدیک آب\nکوئی دم تو رہتا ہے سرگرم گشت\nکبھی سوے دریا کبھی سوے دشت\nٹھہرتا جو ہے پھر کنارے پہ واں\nکہے ہے پرس رام تو ہے کہاں\nیہ آتش مرے دل کی کیونکر بجھے\nعدم میں بھی میں نے نہ پایا تجھے\nکیا عشق نے مجھ کو آتش کا باب\nنہ چھڑکا مری آگ پر تونے آب\nگیا وہ یہ کہہ کر سوے آسماں\nرہے ہے مجھے رات دن خوف جاں\nسنا حال شعلے کا صیاد سے\nدھواں اک اٹھا جان ناشاد سے\nہوا شعلۂ شوق دل سے بلند\nرہا لوٹتا آگ میں جوں سپند\nگئی رات جوں توں ہوئی صبح جب\nزیادہ ہوئی عشق کی تاب و تب\nمحبت نے کی اشتعالک کہ وہ\nسراسیمہ آیا چلا اس جگہ\nجہاں سے اٹھی تھی یہ آتش سلگ\nپھر اس کے جگر کو لگی گھر کو لگ\nتبسم کناں واں یہ ان نے کہا\nکہ کلفت میں غم کی بہت میں رہا\nچلو سیرگشتی کو ہنگام شب\nلب آب خالی کریں دل کو سب\nہوا سو ہوا یوں ہی تقدیر تھی\nجہاں سوز الفت کی تاثیر تھی\nنہ ہوتے جو دل گیر یاں متصل\nنہ ہوتی یہ آتش کبھو مشتعل\nکیاں عقل کی ان نے باتیں جو واں\nوہ عاشق جو تھا درپئے امتحاں\nلگا کہنے یہ آرزو تھی مجھے\nکہ اک روز ہشیار دیکھوں تجھے\nسو یہ دن خدا نے دکھایا مجھے\nسخن تیرے منھ کا سنایا مجھے\nندامت سے ہوں تنگ شاہد ہیں سب\nگرفتار ہوں میں بحال عجب\nنہ خجلت سے رو ہے جو کچھ میں کہوں\nنہ قدرت اجل پر کہ مر بھی رہوں\nنہ تقدیر کا میں نے سمجھا فریب\nنہ جانا کہ اتنی ہے وہ ناشکیب\nہوا اک سخن میں مرے یہ غضب\nخرابی کا تیری ہوا میں سبب\nکروں گا زمانے میں جب تک معاش\nرہوں گا اسی درد سے دل خراش\nمقرر کیا ہے کئی دن سے یہ\nکہ آئندہ رہیے تری خاک رہ\n\nجو اس میں ہے خوش تو تو ہوں میں بھی ساتھ\nرہیں گے لب آب ہی آج رات\nدل پر کو خالی کریں گے بہم\nپھریں گے ترے ساتھ خوش کوئی دم\nہوئے عاقبت سوے دریا رواں\nنہ پیدا کسو پر یہ راز نہاں\nکہ اک آگ سلگی ہے واں یک کنار\nمحبت کمیں میں ہے سرگرم کار\nکسو اشتعالک کی ہے منتظر\nجہاں سر کو کھینچا قیامت ہے پھر\nہوئے ناؤ پر شام گہ جب سوار\nکہا ان نے یاں ایک ہے دام دار\nجہاں قفل ہو راہ دریا تو وھاں\nکفایت ہے اس کی کلید زباں\nاسے ساتھ لو تو بھلی بات ہے\nکہ دریا میں پھرنا ہے اور رات ہے\nلیا آخرالامر ہمرہ اسے\nبٹھایا قریب اپنے کہہ کہہ اسے\nتنک دور چل کر کیا یہ سوال\nمجھے ہے ترے حرف شب کا خیال\nکہاں شعلۂ سرکش آتا ہے یاں\nکدھر پیچ و تاب آکے کھاتا ہے یاں\nکہاں لے ہے دریا پہ اک دم قرار\nکدھر مضطرب ہو کرے ہے گذار\nٹھہرتا ہے کس جا وہ آتش فگن\nطرف کون سے ہو ہے گرم سخن\nیہ صیاد سے تھا ہی محو سراغ\nجگر آتش شوق رکھتی تھی داغ\nکہ ہوکر فروغ اک سوے آسماں\nتڑپنے لگا جیسے آتش بجاں\nکوئی دم میں دریا پہ آیا فرود\nہوا نیزہ بالا سبھوں کو نمود\nلب آب وہ شعلۂ جاں گداز\nتڑپ کر بہت بازبان دراز\nپکارا کہاں ہے پرس رام تو\nمحبت کا ٹک دیکھ انجام تو\nکہ میں جملہ تن آتش تیز ہوں\nدل گرم سے شعلہ انگیز ہوں\nبھڑکتی ہے جب آگ دل کی مرے\nلب آب اتروں ہوں غم میں ترے\nمگر سوزش دل ہو کم آب سے\nبجھے جی مرا اس تب و تاب سے\nسو یہ آب رکھتا ہے روغن کا کام\nکیا عشق نے آہ دشمن کا کام\nیہ بے تاب سن کر ہوا بے قرار\nسفینے سے اترا بصد اضطرار\nہوا ہمدم اس آتش انگیز سے\nکہا اس بلاے دل آویز سے\nکہ میں ہوں پرس رام خانہ خراب\nمرا دل بھی اس آگ سے ہے کباب\nمرے بھی جگر میں یہی سوز ہے\nیہی مجھ کو جلنا شب و روز ہے\nمحبت تری برق خرمن ہوئی\nتری دوستی جی کی دشمن ہوئی\nسخن مختصر کچھ وہ شعلہ چلا\nکچھ اک اپنی جاگہ سے یہ دل جلا\nبہم گرم جوشی سے یک جا ہوئے\nکہ گذری تھی مدت بھی تنہا ہوئے\nوہ شعلہ رہا ایک جا مشتعل\nکہے تو تسلی ہوئے جان و دل\nیکایک بھڑک کر وہ جلنے لگا\nپھر ایدھر ادھر پھرنے چلنے لگا\nکیا پاس پانی کے آکر صعود\nرہی روشنی سی کوئی دم نمود\nپھر آگے کسو پر نہ پیدا ہوا\nنہ جانا کہ وہ شعلہ پھر کیا ہوا\nخبردار ہو اہل کشتی تمام\nلگے کہنے باہم نہیں پرس رام\nاٹھے ڈھونڈنے ہوکے سب ناصبور\nکنارے پہ دریا کے نزدیک و دور\nنہ پایا کہیں اس کو حیراں ہوئے\nنہایت ہی خاطر پریشاں ہوئے\nوہ صیاد بولا کہ دوں میں نشاں\nگیا تھا سوے شعلہ یہ نوجواں\nیہ اور آگ دونوں ہوئے ہم سخن\nوہ شعلہ ہوا اس پہ آتش فگن\nیہ جوشش تو یاں سے تھی مدنظر\nپھر آگے نہیں اس کی مجھ کو خبر\nنہ ہو آتش غم سے پہلے ہی داغ\nچلو اس طرف کو جو نکلے سراغ\nگئے مضطرب حال سارے رواں\nتڑپتا تھا وہ شعلہ آکر جہاں\nتلاش اس کی کی اور لے لے کے نام\nپکارے بہت پر کہاں پرس رام\nمحبت نے ایسا کھپایا اسے\nکہ ہرگز کنھوں نے نہ پایا اسے\nیقینی ہوا یہ کہ وہ تیز آگ\nاسی نیم کشتہ سے رکھتی تھی لاگ\nلپٹ اس کو شعلہ ہی وہ لے گیا\nعجب طور کا داغ یہ دے گیا\nپھرے خوار ہو ہو کے ناچار سب\nکسی کو تحیر کسی کو عجب\nکوئی منفعل ساتھ آنے سے تھا\nکوئی بر لب آب جانے سے تھا\nخصوصاً وہ عاشق ہوا پرخجل\nندامت ہوئی یہ جسے متصل\nنہ تھا اگلی خجلت ہی سے روے حرف\nہوا دوسرا ماجراے شگرف\nتفکر کے دریا میں ڈوبا ہوا\nکنارے پہ بیٹھا تھا روتا ہوا\nکہ پوچھیں گے جو اس کے واماندگاں\nتو یہ واقعہ کیا کروں گا بیاں\nکہوں کیونکے یک بار وہ جل گیا\nکف خاک ہو خاک میں رل گیا\nکھنچی جرم کو بے گناہی مری\nہوئی شہر میں روسیاہی مری\nوہ شعلہ جلاتا مجھے کاش کے\nلیے ساتھ جاتا مجھے کاش کے\n\nمقولۂ شاعر\n\nاگر ہے یہ قصہ بھی حیرت فزا\nولے میرؔ یہ عشق ہے بدبلا\nبہت جی جلائے ہیں اس عشق نے\nبہت گھر لٹائے ہیں اس عشق نے\nفسانوں سے اس کے لبالب ہے دہر\nجلائے ہیں اس تند آتش نے شہر\nمحبت نہ ہو کاش مخلوق کو\nنہ چھوڑے یہ عاشق نہ معشوق کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%82_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب\nمقامِ شوق میں ہیں سب دل و نظر کے رقیب\n\nمیں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہو گا\nمسائلِ نظَری میں اُلجھ گیا ہے خطیب\n\nاگرچہ میرے نشیمن کا کر رہا ہے طواف\nمری نوا میں نہیں طائرِ چمن کا نصیب\n\nسُنا ہے میں نے سخن رس ہے تُرکِ عثمانی\nسُنائے کون اسے اقبالؔ کا یہ شعرِ غریب\n\nسمجھ رہے ہیں وہ یورپ کو ہم جوار اپنا\nستارے جن کے نشیمن سے ہیں زیادہ قریب!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%B9%D9%88%D8%B1_%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D9%88_%D8%AE%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%85%D9%84%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8"} {"title": "شغل", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "(میکسم گورکی کی یاد میں)\n\nیہ پچھلے دنوں کی بات ہے جب ہم برسات میں سڑکیں صاف کرکے اپنا پیٹ پال رہے تھے۔ہم میں سے کچھ کسان تھے اور کچھ مزدوری پیشہ، چونکہ پہاڑی دیہاتوں میں روپے کا منہ دیکھنا بہت کم نصیب ہوتا ہے۔ اس لیے ہم سب خوشی سے چھ آنے روزانہ پر سارا دن پتھر ہٹاتے رہتے تھے۔ جو بارشوں کے زور سے ساتھ والی پہاڑیوں سے لڑھک کر سڑک پر آ گرتے تھے۔\n\nپتھروں کو سڑک پر سے پرے ہٹانا تو خیر اک معمولی بات تھی۔ ہم تو اس اجرت پر ان پہاڑیوں کو ڈھانے پر بھی تیار تھےجو ہمارے گردوپیش سیاہ اور ڈراؤنے دیوؤں کی طرح اکڑی کھڑی تھیں۔ دراصل ہمارے بازوسخت سے سخت مشقت کے عادی تھے، اس لیے یہ کام ہمارے لیے بالکل معمولی تھا۔ البتہ جب کبھی ہمیں سڑک کو چوڑا کرنے کے لیے پتھر کاٹنا ہوتے، تو رات کو ہمیں بہت تکان محسوس ہوتی تھی۔ پٹھے اکڑ جاتے اور صبح کو بیدار ہوتے وقت ایسا محسوس ہوتا کہ وہ تمام پتھر جنھیں ہم گزشتہ روز کاٹتے اور پھوڑتے رہے ہیں، ہمارے جسموں پر بوجھ ڈالے ہوئے ہیں۔ مگر ایسا کبھی کبھی ہوتا تھا۔\n\nہمارا کام ہر روز صبح سات بجے شروع ہوتا تھا۔ جب طلوع ہوتے ہوئے سورج کی طلائی کرنیں چیڑ کے دراز قد درختوں سے چھن چھن کر ہمارے پاس والے نالے کے خشم آلود پانی سے اٹکھیلیاں کر رہی ہوتیں، اور آس پاس کی جھاڑیوں میں ننھے ننھے پرندے اپنے گلے پھلا پھلا کر چیخ رہے ہوتے۔ یوں کہیے کہ ہم قدرت کو اپنے خواب سے بیدار ہوتا دیکھتے تھے۔ صبح کی ہلکی پھلکی ہوا میں شبنم آلود سبز جھاڑیوں کی دل نواز سرسراہٹ ،نالے میں سنگ ریزوں سے کھیلتے ہوئے کف آلود پانی کا شور، اور برسات کے پانی میں بھیگی ہوئی مٹی کی بھینی بھینی خوشبو، چند ایسی چیزیں تھیں، جو ہمارے سنگین سینوں میں ایک ایسی لطافت پیدا کر دیتی تھیں جو زندگی کے اس دوزخ میں ہمیں بہشت کے خواب دکھانے لگتی۔\n\nہمیں ہر روز بارہ گھنٹے کام کرنا پڑتا تھا۔ یعنی سارا دن ہم سڑک کی موریوں اور پتھروں کو صاف کرتے رہتے تھے۔ یہ کام دلچسپ نہ تھا مگر ہم نے اس کی ناخوشگوار یک آہنگی کو دور کرنے کے لیے ایک طریقہ ایجاد کر لیا تھا۔ جب ہم سب اس پہاڑی کے نیچے جمع شدہ ملبے کو اپنے بیلچوں سے ہٹا رہے ہوتے، جس کے سنگ ریزے ہر وقت سڑک پر گرتے رہتے تھے، تو ہم ایک سر میں کوئی پہاڑی گیت شروع کر دیتے، ملبے کے پتھروں سے ٹکرا کر ہمارے بیلچوں کی جھنکار اس گیت کی تال کا کام دیتی تھی۔ یہ گیت اس افسردگی کو دور کر دیتا، جو یہ غیر دلچسپ کام کرنے سے ہمارے دلوں میں پیدا ہو جاتی ہے۔ جب تک اس کے سر ہماری چوڑی چھاتیوں میں سے نکلتے رہتے، ہم محسوس تک نہ کرتے کہ اس دوران ہم نے ملبے کے ایک بہت بڑے ڈھیر کو صاف کر لیا ہے۔\n\nموٹر لاریوں کی آمدورفت سے بھی ہمارا دل بہلا رہتا تھا۔ جو رنگ برنگ مسافروں کو کشمیر سے واپس یا کشمیر کی طرف لے جاتی رہتی تھیں۔ جب کبھی کوئی لاری ہمارے پاس سے گزرتی تو ہم کچھ عرصہ کے لیے اپنی جھکی ہوئی کمریں سیدھی کرکے سڑک کے ایک طرف کھڑے ہو جاتے اور زمین پر اپنے بیلچے ٹیک کر اس کو سامنے والے موڑ کے عقب میں گُم ہوتے دیکھتے رہتے۔ ان لاریوں کو اتنی دور تک دیکھتے رہنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم تھوڑا سستا لیں۔ مگر بعض اوقات ان لاریوں کی شاندار اسباب سے لدی ہوئی چھتیں اور ان کی کھڑکیوں سے مسافروں کے لہراتے ہوئے ریشمی کپڑوں کی ایک جھلک ہمارے دلوں میں ایک ناقابل بیان تلخی پیدا کر دیتی تھی۔ اور ہم اپنے آپ کو ان پتھروں کی طرح فضول اور ناکارہ تصّور کرنے لگتے تھے، جن کو ہمارے بیلچوں کے دھکے ادھر ادھر پٹکتے رہتے تھے۔ ان مسافروں کے طرح طرح کے لباس دیکھ کر جن پر یقیناًبہت سے روپے صرف آئے ہوں گے،ہم غیر ارادی طور پر اپنے کپڑوں کی طرف دیکھنا شروع کر دیتے تھے۔\n\nہم میں سے اکثر کا لباس پٹّو کے تنگ پائجامے، گاڑھے کی قمیص اور لدھیانے کی صدری پر مشتمل تھا۔ سب کے پائجامے یا تو گھٹنوں پر سے گِھس گِھس کر اتنے باریک ہو گئے تھے کہ ان میں سے جسم کے بالوں کی پوری نمائش ہوتی تھی یا بالکل پھٹے ہوئے تھے۔ قمیصوں اور صدریوں کی بھی یہی حالت تھی۔ ان پر جگہ جگہ مختلف رنگ کے پیوند لگے ہوئے تھے۔ قریب قریب ہم سب کی قمیصوں کے بٹن غائب تھے۔ اس لیے سینے عام طور پر کھلے رہتے تھے،اور کام کرتے وقت ان پر پسینے کی بوندیں صاف نظر آسکتی تھیں۔\n\nبارہ بجے کے قریب ہم کام چھوڑ کر کھانے کے لیے سڑک کے نیچے اتر کر پیڑ کے سائے تلے بیٹھ جاتے تھے۔ یہ کھانا ہم صبح کپڑے میں باندھ کر اپنے ساتھ لاتے تھے۔ ’’تین ڈھوڈے‘‘ (مکئی کی موٹی روٹیاں) اور عام طور پر سرسوں کا ساگ ہوتا تھا جس کو ہم اپنے بھوکے پیٹ میں ڈالتے تھے۔ کھانے کے بعد ہم پانی عموماً نالے سے پیا کرتے تھے، اور جس روز بارش کی زیادتی کے باعث اس کا پانی زیادہ گدلا ہو جائے تو ہم دور سڑک کے اس پار چلے جایا کرتے تھے جہاں صاف پانی کا ایک چشمہ پھوٹتا ہے۔\n\nکھانے سے فارغ ہو کر ہم فوراً کام شروع کر دیتے تھے۔ مگر ہمارا جی چاہتا تھا کہ نرم نرم گھاس پر لیٹ کر تھوڑی دیر سستا لیں اور پھر کام شروع کریں مگر یہ کیونکر ہو سکتا تھا جب کہ ہمیں ہر وقت اس بات کا خیال رہتا تھاکہ پورا کام کیے بغیر اجرت نہ ملے گی۔\n\nہمارا مطمح نظر کام کرنا اور اس حیلے سے اپنا پیٹ پالنا تھااور چونکہ ہمیں معلوم تھا کہ ہم میں سے کسی نے اگر اپنے کام میں ذرا سی سست رفتاری یا بے دلی کا اظہار کیا تو تاش کی گڈی سے ناکارہ جوکر کی طرح باہرنکال کر پھینک دیا جائے گا۔ اس لیے ہم دل لگا کر کام کیا کرتے تھے تاکہ ہمارے افسروں کو شکایت کا موقع نہ ملے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہمارے افسر ہم پر بہت خوش تھے۔ یہ کیونکر ہو سکتا ہے۔ وہ بڑے آدمی ٹھہرے اس لیے ان کا جائز و ناجائز طور پر خفا ہونا بھی درست ہوتا ہے۔\n\nکبھی یہ لوگ ایسے ہی ہمارے کام کا معائنہ کرتے وقت اپنی بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے ہم پر برس پڑتے تھے۔ لیکن ہم جو ان کی بڑائی کو بخوبی سمجھتے تھے، مہاراج، مہاراج کہہ کر ان کا غصّہ سرد کر دیا کرتے۔ہم جانتے تھے، کہ ان کا غصّہ بالکل بے جا ہے لیکن یہ احساس ہمارے دلوں میں نفرت کے جذبات پیدا نہیں کرتا تھا۔ شاید اس لیے کہ کونشوں نے ہم کو بالکل مردہ بنا رکھا ہے، یا پھر اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہم کو یہ خوف دامن گیر رہتا تھا کہ اگر ہم اپنے موجودہ کام سے ہٹا دیے گئے تو ہماری روزی بند ہو جائے گی۔\n\nہم اپنے کام سے مطمئن تھےاور یہی وجہ ہے کہ ہم تھوڑی مزدوری اور زیادہ کام کے مسئلے پر بہت کم غور کرتے تھے۔ اس کی ضرورت بھی کیا ہے۔ اس لیے کہ یہ کام پڑھے لکھے آدمیوں کا ہے، اور ہم بالکل ان پڑھ اور جاہل تھے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ہماری دنیا بالکل الگ تھلگ تھی جس کی سرحدیں پتھر توڑنے یا ان کو ہٹانے، بارہ بجے روٹی کھانے اور پھر کام کرنے اور اس کے بعد اپنے اپنے ڈیروں میں سو جانے تک ختم ہو جاتی تھیں۔ ہمیں ان حدود کے باہر کسی شے سے کوئی سروکار نہ تھا۔ دوسرے الفاظ میں اپنا اور اپنے متعلقین کا پیٹ پالنے کے دھندے میں ہم کچھ ایسی بری طرح پھنس کر رہ گئے تھے کہ اس کے باہر نکل کر ہم کسی اور شے کی خواہش کرنا ہی بھول گئے تھے۔\n\nہمارے کام پر سڑکوں کے محکمے کی طرف سے ایک نگراں مقرر تھا، جو دن کا بیشتر حصہ سٹرک کے ایک طرف چارپائی بچھا کر بیٹھے رہنے میں وقت گزار دیتا۔ یہ ذات کا پنڈت تھا۔ اونچے طبقے کا امتیازی نشان سیندور کے تلک کی صورت میں ہر وقت اس کی سفید پیشانی پر چمکتا رہتا تھا۔ ہم اپنے نگراں کو احترام اور عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اوّل اس لیے کہ وہ برہمن تھا اور دوسرے اس لیے کہ ہم اس کے ماتحت تھے۔ چنانچہ ادھر ادھر کے دوسرے کاموں کے علاوہ ہم باری باری دن میں کئی بار اس کے پینے کے لیے حقہ تازہ کیا کرتے تھے اور آگ بنا کر اس کی چلمیں بھرا کرتے تھے۔\n\nپنڈت کا کام صرف یہ تھا کہ صبح چارپائی پر اپنے گیروے رنگ کی کلف لگی پگڑی اور ریشمی کوٹ اتار کر اپنے گنجے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ہماری حاضری لگائے، اور پھر ایک بڑے رجسٹر میں کچھ درج کرنے کے بعد ادھر ادھر ٹہلتا رہے یا حقہ پیتا رہے۔ وہ اپنے کام میں بہت کم دلچسپی لیتا تھا۔ البتہ جب کبھی معائنے کے لیے کسی افسر کی موٹر ادھر سے گزرتی تھی تو وہ اپنی چارپائی اٹھوا ہمارے پاس کھڑا ہو جایا کرتا تھا۔ اس کی اس چالاکی پر ہم دل ہی دل میں بہت ہنسا کرتے تھے۔\n\nایک روز جبکہ صبح سے ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی،اور ہم بارہ بجے کھانے سے فارغ ہو کر حسبِ معمول اپنے کام میں مشغول تھے، موٹر کے ہارن نے ہمیں چونکا۔ دیا لاریوں کی نسبت ہم موٹروں کے دیکھنے کے بہت شائق تھے۔ اس لیے کہ ان میں ہماری بھوکی نظروں کے دیکھنے کے لیے عجیب و غریب چیزیں نظر آتی تھیں۔ ہم کمریں سیدھی کرکے کھڑے ہو گئے۔ اتنے میں موٹر کے عقب سے سبز رنگ کی ایک چھوٹی موٹر نمودار ہوئی، جب یہ ہمارے قریب پہنچی،تو ہم نے دیکھا کہ اس کی باڈی بارش کے ننھے ننھے قطروں کے نیچے چمک رہی ہے بہت آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔ شاید اس لیے کہ پچھلی سیٹ پر جو دو صاحب بیٹھے ہوئے تھے، ان میں ایک اپنی رانوں پر گراموفون رکھے بجا رہے تھے۔ جب یہ موٹر ہمارے مقابل آئی تو ریکارڈ کی آواز سڑک کے ساتھ والی پہاڑی کے پتھروں سے ٹکرا کر فضا میں گونجی۔ کوئی گا رہا تھا۔\n\nنہ میں کسی کا، نہ کوئی میرا چھایا چاروں اور اندھیرا\n\nاب کچھ سوجھت ناہیں، موہے اب کچھ\n\nآواز میں بے حد درد تھا۔ ایک لمحے کے لیے ایسا معلوم ہوا کہ ہم شاید بحرِ ظلمات میں ڈوب گئےہیں۔ جب موٹر اپنی نیم وا کھڑکیوں سے اس گیت کے درد ناک سر بکھیرتی ہوئی ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی تو ہم سب نے ایک آہ بھر کر اپنا کام شروع کر دیا۔\n\nشام کے قریب جب سورج کی سرخ اور گرم ٹکیا پگھلے ہوئے تانبے کا رنگ اختیار کرکے ایک سیاہ پہاڑی کے پیچے چھپ رہی تھی۔ اور اس کی عنابی کرنیں دراز قد درختوں کی چوٹیوں سے کھیل رہی تھیں۔ سبز رنگ کی وہی موٹر اس طرف سے واپس آتی دکھائی دی جدھر وہ دوپہر کو گئی تھی۔ جب ہم نے اس کے ہارن کی آواز سنی تو کام چھوڑ کر اس کو دیکھنے لگے۔ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی وہ ہمارے آگے سے گزر گئی۔ اور پھر دفعتاً ہم سے آدھی جریب کے فاصلے پر کھڑی ہو گئی۔ وہ باجا جو اس میں بج رہا تھا، خاموش ہو گیا۔\n\nتھوڑی دیر کے بعد پچھلی سیٹ سے ایک نوجوان دروازہ کھول کر باہر نکلا، اور اپنی پتلون کو کمر پر سے درست کرتا ہوا ہمارے پاس سے گزرا، اور آہستہ آہستہ اس پل کی طرف روانہ ہو گیا، جو سامنے نالے پر بندھا ہوا تھا۔ یہ خیال کرکے کہ وہ نالے کے پانی کا نظارہ کرنے کے لیے گیا ہے، جیسا کہ عام طور پر ادھر سے گزرنے والے مسافر کیا کرتے تھے، ہم اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔\n\nابھی ہمیں اپنا کام شروع کیے پانچ منٹ سے زیادہ عرصہ نہ گزرا ہو گا کہ پل کی طرف سے تالی کی آواز بلند ہوئی۔ ہم نے مڑ کر دیکھا، پتلون پوش نوجوان سڑک کے ساتھ پتھروں سے چنی ہوئی دیوار کے پاس کھڑا غالباً موٹر میں اپنے ساتھیوں کو متوجہ کر رہا تھا۔ سنگین منڈیر پر اس نوجوان سے کچھ دور ایک لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔\n\nہم میں سے ایک نے اپنے بیلچے کو بڑے زور سے موری کی گیلی مٹی میں گاڑتے ہوئے کہا، ’’یہ رام دئی ہے۔‘‘ کالو نے جو اس کے پاس کھڑا تھا، دریافت کیا، رام دئی؟‘‘\n\n’’سنتو چمار کی لڑکی اور کون؟‘‘ اس کے لہجے میں بیلچے کے لوہے ایسی سختی تھی۔\n\nہم باقی چار حیران تھے کہ اس گفتگو کا مطلب کیا ہے۔ اگر وہ لڑکی جو منڈیر پر بیٹھی ہے، سنتو چمار کی لڑکی ہے، تو کون سی اہم بات ہےکہ ہمارا ساتھی اس قدر تیز بول رہا ہے۔ ہم غور کر رہے تھے کہ فضل نے ،جو ہم سب سے عمر میں بڑا تھا اور نماز روزے کا بہت پابند تھا، اپنی داڑھی کھجلاتے ہوئے نہایت ہی مفکرانہ لہجے میں کہا، ’’دنیا میں ایک اندھیر مچا ہے۔۔۔خدا معلوم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے۔‘‘ یہ سن کر ہم باقی تین اصل معاملے سے آگاہ ہو کر سب کچھ سمجھ گئے، اور اس احساس نے ہمارے دلوں پر غم اور غصّے کی ایک عجیب کیفیت طاری کر دی۔\n\nتالی کی آواز سن کر موٹر کی پچھلی نشست سے پتلون پوش کے ساتھی نے اپنا سر باہر نکالا،اور یہ دیکھ کر کہ اس کا دوست اسے بلا رہا ہے، دروازہ کھول کر باہر نکلا اور ہمارے قریب سے گزرتا ہوا پل کی جانب روانہ ہو گیا۔۔۔ہم بیوقوف بکریوں کی طرح اسے اپنے دوست کے پاس جاتا دیکھتے رہے۔جب پتلون پوش نوجوان کا دوست اس کے پاس پہنچ گیا تو وہ دونوں لڑکی کی طرف بڑھے۔ اور اس سے باتیں کرنا شروع کر دیں۔ یہ دیکھ کر کالو پیچ و تاب کھا کر رہ گیا اور خشم آلود لہجے میں بولا، ’’بدمعاش!‘‘\n\nفضل نے سرد آہ بھری اور مغموم لہجے میں کہنے لگا، ’’جب سے یہ سڑک بنی ہے ، اور ایسے بابوؤں کی آمدورفت زیادہ ہو گئی ہے۔ یہاں کے تمام علاقوں میں گندگی پھیل گئی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سڑک بننے سے بہت آرام ہو گیا ہے۔ ہو گا مگر اس قسم کی بے شرمی کے نظارے پہلے کبھی دیکھنے میں نہ آتے تھے۔۔۔ خدا بچائے!‘‘\n\nاس دوران میں پتلون پوش کے ساتھی نے لڑکی کو بازو سے پکڑ لیا۔ اور غالباً اس کو اٹھ کر چلنے کے لیے کہا۔ مگر وہ اپنی جگہ پر بیٹھی رہی۔ یہ دیکھ کر کالو سے نہ رہا گیا اور اس نے رام پرشاد سے کہا،’’آؤ یہ لوگ تو اب دست درازی کر رہے ہیں۔‘‘\n\nکالو یہ کہہ کر اکیلا ہی اس جانب بڑھنے کو تھا۔ کہ ہم نے اسے روک دیا، اور یہ مشورہ دیا، کہ تمام معاملہ پنڈت کے گوش گزار کر دیا جائے۔ جو چارپائی پر سو رہا ہے اور پھر جو وہ کہے اس پر عمل کیا جائے۔ اس تجویز کو معقول خیال کرکے ہم سب پنڈت کے پاس گئے اور اسے جگا کر سارا قصّہ سنا دیا۔ اس نے ہماری گفتگو کو بڑی بے پروائی سے سنا۔ جیسے کوئی بات ہی نہیں۔ اور ان دو نوجوانوں کی طرف دیکھ کر جو اب رام دئی کو خدا معلوم کس طریقے سے منا کر اپنے ساتھ لا رہے تھے کہا، ’’جاؤ تم اپنا کام کرو۔ میں ان سے خود دریافت کر لوں گا۔‘‘\n\nیہ جواب سن کر ہم بے چارگی کی حالت میں اپنے کام پرآ گئے۔ لیکن ہم سب کی نگاہیں رام دئی اور ان دو نوجوانوں پر جمی ہوئی تھی جو اب پل طے کرکے پنڈت کی چارپائی کے قریب پہنچ رہے تھے۔ لڑکے آگے تھےاور رام دئی تھکی ہوئی گھوڑی کی طرح ان کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ جب وہ سب پنڈت کے آگے سے گزرنے لگےتو وہ چارپائی پر سے اٹھا۔۔۔ دو تین منٹ تک ان سے کچھ باتیں کرنے کے بعد وہ بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔\n\nجب پنڈت، رام دئی اور وہ نوجوان ہمارے پاس سے گزرے تو ہم نے دیکھا کہ نوجوانوں کے چہروں پر ایک حیوانی جھلک ناچ رہی ہے،اور پنڈت بڑے ادب سے ان کے ساتھ چل رہا ہے۔ رام دئی کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔۔۔ موٹر کے پاس پہنچ کر پنڈت نے آگے بڑھ کر اس کا دروازہ کھولا۔ پہلے پتلون پوش پھر رام دئی اور اس کے بعد دوسرا نوجوان موٹر میں داخل ہو گئے۔ ہمارے دیکھتے دیکھتے موٹر چلی اور نظروں سے اوجھل ہو گئی اور ہم آنکھیں جھپکتے رہ گئے۔\n\n’’شیطان، مردود!!‘‘ کالو نے بڑے اضطراب سے یہ دو لفظ ادا کیے۔\n\nاتنے میں پنڈت آ گیا اور ہم کو مضطرب دیکھ کر ایک مصنوعی آواز میں کہنے لگا، ’’میں نے ان سے دریافت کیا ہے، کوئی بات نہیں۔ وہ لڑکی کو ذرا موٹر کی سیر کرانا چاہتے تھے۔ انسپکٹر صاحب کے مہمان ہیں اور ڈاک بنگلے میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ تھوڑی دور لے جا کر اسے چھوڑ دیں گے۔۔۔امیر آدمی ہیں۔ ان کے شغل اسی قسم کے ہوتے ہیں۔‘‘\n\nیہ کہہ کر پنڈت چلا گیا۔\n\nہم دیر تک خدا معلوم کن گہرائیوں میں غرق رہے کہ دفعتاً فضل کی آواز نے ہمیں چونکا دیا۔ دو مرتبہ زور سے تھوک کر اس نے اپنے ہاتھوں کو گیلا کیا اور بیلچے کو سنگ ریزوں کے ڈھیر میں گاڑتے ہوئے کہا، ’’اگر امیر آدمیوں کے یہی شغل ہیں تو ہم غریبوں کی بہو بیٹیوں کا اللہ بیلی ہے!‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%BA%D9%84"} {"title": "شغل بہتر ہے عشق بازی کا", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شغل بہتر ہے عشق بازی کا\nکیا حقیقی و کیا مجازی کا\n\nہر زباں پر ہے مثل شانہ مدام\nذکر تجھ زلف کی درازی کا\n\nآج تیری بھواں نے مسجد میں\nہوش کھویا ہے ہر نمازی کا\n\nگر نئیں راز عشق سوں آگاہ\nفخر بے جا ہے فخر رازی کا\n\nاے ولیؔ سرو قد کو دیکھوں گا\nوقت آیا ہے سرفرازی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D8%BA%D9%84_%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "شفاخانۂ حجاز", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اک پیشوائے قوم نے اقبالؔ سے کہا\nکھُلنے کو جدّہ میں ہے شفاخانۂ حجاز\nہوتا ہے تیری خاک کا ہر ذرّہ بے قرار\nسُنتا ہے تُو کسی سے جو افسانۂ حجاز\nدستِ جُنوں کو اپنے بڑھا جیب کی طرف\nمشہور تُو جہاں میں ہے دیوانۂ حجاز\nدارالشّفا حوالیِ بطحا میں چاہیے\nنبضِ مریض پنجۂ عیسیٰ میں چاہیے\n\nمَیں نے کہا کہ موت کے پردے میں ہے حیات\nپوشیدہ جس طرح ہو حقیقت مجاز میں\nتلخابۂ اجل میں جو عاشق کو مِل گیا\nپایا نہ خِضر نے مئے عمرِ دراز میں\nاوروں کو دیں حضور! یہ پیغامِ زندگی\nمَیں موت ڈھُونڈتا ہوں زمینِ حجاز میں\nآئے ہیں آپ لے کے شفا کا پیام کیا\nرکھتے ہیں اہلِ درد مسیحا سے کام کیا!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%81%D8%A7%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%B2"} {"title": "شفق", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار\nہوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار\nہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ\nجنہیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ\nنیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے\nہر ایک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے\nطبیعت ہے بادل کی رنگت پہ لوٹ\nسنہری لگائی ہے قدرت نے گوٹ\nذرا دیر میں رنگ بدلے کئی\nبنفشی و نارنجی و چنپئی\nیہ کیا بھید ہے، کیا کرامات ہے\nہر اک رنگ میں اک نئی بات ہے\nیہ مغرب میں جو بادلوں کی ہے باڑ\nبنے سونے چاندی کے گویا پہاڑ\nفلک نیلگوں اس میں سرخی کی لاگ\nہرے بن میں گویا لگا دی ہے آگ\nاب آثار ظاہر ہوئے رات کے\nکہ پردے چھٹے لال بانات کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%81%D9%82"} {"title": "شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگی", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگی\nیہ بستیوں کی فضا کیوں دھواں اگلنے لگی\n\nاسی لئے تو ہوا رو پڑی درختوں میں\nابھی میں کھل نہ سکا تھا کہ رت بدلنے لگی\n\nاتر کے ناؤ سے بھی کب سفر تمام ہوا\nزمیں پہ پاؤں دھرا تو زمین چلنے لگی\n\nکسی کا جسم اگر چھو لیا خیال میں بھی\nتو پور پور مری مثل شمع جلنے لگی\n\nمیں ناپتا چلا قدموں سے اپنے سائے کو\nکبھی جو دشت مسافت میں دھوپ ڈھلنے لگی\n\nمری نگاہ میں خواہش کا شائبہ بھی نہ تھا\nیہ برف سی ترے چہرے پہ کیوں پگھلنے لگی\n\nہوا چلی سر صحرا تو یوں لگا جیسے\nردائے شام مرے دوش سے پھسلنے لگی\n\nکہیں پڑا نہ ہو پرتو بہار رفتہ کا\nیہ سبز بوند سی پلکوں پہ کیا مچلنے لگی\n\nنہ جانے کیا کہا اس نے بہت ہی آہستہ\nفضا کی ٹھہری ہوئی سانس پھر سے چلنے لگی\n\nجو دل کا زہر تھا کاغذ پہ سب بکھیر دیا\nجو اپنے آپ طبیعت مری سنبھلنے لگی\n\nجہاں شجر پہ لگا تھا تبر کا زخم شکیبؔ\nوہیں یہ دیکھ لے کونپل نئی نکلنے لگی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%81%D9%82_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%DA%AF%D9%84%D8%A7%D9%84_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%8C"} {"title": "شلجم", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "رتی، ماشہ، تولہ", "year": "1956", "text_ur": "’’کھانا بھجوا دو میرا۔ بہت بھوک لگ رہی ہے۔‘‘\n\n’’تین بج چکے ہیں، اس وقت آپ کو کھانا کہاں ملے گا؟‘‘\n\n’’تین بج چکے ہیں تو کیا ہوا۔ کھانا تو بہر حال ملنا ہی چاہیے۔ آخر میرا حصہ بھی تو اس گھر میں کسی قدر ہے۔‘‘\n\n’’کس قدر ہے۔‘‘\n\n’’تو اب تم حساب داں بن گئیں، جمع تفریق کے سوال کرنے لگیں مجھ سے۔‘‘\n\n’’جمع تفریق کے سوال نہ کروں تو یہ گھر کب کا اجڑ گیا ہوتا۔‘‘\n\n’’کیا بات ہے آپ کی۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مجھے کھانا ملے گایا نہیں؟‘‘\n\n’’آپ ہر روز تین بجے آئیں تو کھانا خاک ملے گا۔ میں تو یہ سمجھتی ہوں کہ اگر آپ اس وقت کسی ہوٹل میں جائیں تو وہاں سے بھی آپ کو دال روٹی نہیں مل سکے گی ،مجھے آپ کا یہ وطیرہ ہرگز پسند نہیں۔‘‘\n\n’’کون سا وطیرہ؟‘‘\n\n’’یہی کہ آپ تین بجے تشریف لائے ہیں، کھانا پڑا جھک مارتا رہتا ہے، میں الگ انتظار کرتی رہتی ہوں مگر آنجناب خدا معلوم کہاں غائب رہتے ہیں۔‘‘\n\n’’بھئی دنیا میں انسان کو کئی کام ہوتے ہیں۔ میں صرف دو دن ہی تو ذرا دیر سے آیا۔‘‘\n\n’’ذرا دیر سے؟ ہر خاوند کو چاہیئے کہ وہ گھر میں بارہ بجے موجود ہو تاکہ اسے 1 بجے تک کھانا مل جائے،اس کے علاوہ اسے اپنی بیوی کا تابع فرمان ہونا چاہیے۔‘‘\n\n’’اس سے تویہی بہتر ہے کہ وہ کسی ہوٹل میں جا رہے جہاں کے تمام نوکر اور بیرے اس کے تابع فرمان ہوں۔‘‘\n\n’’آپ کا ارادہ تو یہی ہے ،جب ہی تو آپ کئی دن سے پر تول رہے ہیں ،میں آپ سے کہتی ہوں ابھی چلے جائیے۔‘‘\n\n’’کھانا کھائے بغیر۔۔۔‘‘\n\n’’جائیے ہوٹل میں آپ کو مل جائے گا۔‘‘\n\n’’لیکن تم نے تو ابھی کہا تھا کہ اس وقت کسی ہوٹل میں بھی دال روٹی نہیں ملے گی۔ بات کر کے بھول جاتی ہو۔‘‘\n\n’’میرا دماغ خراب ہو چکا ہے بلکہ کر دیا گیا ہے۔‘‘\n\n’’یہ تو صحیح ہے کہ تمہارا دماغ خراب ہے لیکن یہ خرابی کس نے پیدا کی؟‘‘\n\n’’آپ نے اور کس نے، میری جان کا روگ بنے ہوئے ہیں، مجھے نہ رات کا چین نصیب ہے نہ دن کا۔‘‘\n\n’’دن کا تم چھوڑو۔۔۔ رات کا چین آپ کو نصیب کیوں نہیں۔ بڑے اطمینان سے سوئی رہتی ہیں جیسے محاورے۔۔۔ کے مطابق کوئی گھوڑے بیچ کر سو رہا ہو۔‘‘\n\nاپنے گھوڑے بیچ کر آدمی کیسے سو سکتا ہے ۔۔۔کتنا واہیات محاورہ ہے۔‘‘\n\n’’واہیات ہی سہی لیکن ابھی چند روز ہوئے تم نے گھوڑا اور اس کے ساتھ تانگہ بھی بیچ ڈالا تھا اور اس دن تم رات بھر خراٹے لیتی رہی تھیں۔‘‘\n\n’’مجھے تانگہ رکھنے کی کیا ضرورت تھی ، جب کہ آپ نے مجھے موٹر لے دی تھی اور خراٹے بھرنے کا الزام بھی غلط ہے۔‘‘\n\n’’ محترمہ جب آپ خواب خرگوش میں تھیں تو آپ کو کیسے پتہ چلتا کہ آپ خراٹے لیتی ہیں، بخدا اس رات میں بالکل نہ سو سکا۔‘‘\n\n’’اس کا اوّل جھوٹ اور اس کا آخر جھوٹ۔‘‘\n\n’’چلیے تمہاری خاطر اب مان لی۔۔۔اب کھانا دو۔ ‘‘\n\n’’کھانا نہیں ملے گا آج۔۔۔آپ کسی ہوٹل میں جائیے اور میں یہ چاہتی ہوں کہ آپ وہیں بسیرا کر لیجیے۔‘‘\n\n’’تم کیا کروگی؟‘‘\n\n’’میں۔۔۔ میں مرتو نہیں جاؤں گی آپ کے بغیر۔۔۔ ‘‘\n\n’’خدا نہ کرے تم مرد۔۔۔لیکن مجھے یہ تو بتاؤ، میرے بغیر تمہارا گزارہ کیسے ہوگا۔‘‘\n\n’’میں اپنی موٹر بیچ لوں گی۔‘‘\n\n’’اس سے تمھیں کتنا روپیہ مل جائے گا۔‘‘\n\n’’چھ سات ہزار تو مل ہی جائیں گے۔‘‘\n\n’’ان چھ سات ہزار روپوں میں تم کتنے عرصہ تک اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پال سکو گی۔‘‘\n\n’’میں آپ کی طرح لکھ لُٹ اور فضول خرچ نہیں۔ آپ دیکھیے گا میں ان روپوں میں ساری عمر گزار دوں گی۔ میرے بال بچے اسی طرح پلیں گےجس طرح اب پل رہے ہیں یہ۔‘‘\n\n’’یہ ترکیب مجھے بھی بتا دو، مجھے یقین ہے کہ تمھیں کوئی ایسا منتر ہاتھ آگیا ہے جس سے تم نوٹ دگنے بنا سکتی ہو۔ ہر روز بٹوے سے نوٹ نکالے ان پر منتر پھونکا اور وہ دگنے ہوگئے۔‘‘\n\n’’آپ میرا مذاق اڑا تے ہیں۔ شرم آنی چاہیے آپ کو۔‘‘\n\n’’چلو ہٹاؤ اس قصے کو۔ کھانا دو مجھے۔‘‘\n\n’’کھانا آپ کو نہیں ملے گا۔‘‘\n\n’’بھئی آخر کیوں۔۔۔میرا قصور کیا ہے؟‘‘\n\n’’آپ کے قصور اور آپ کی خطائیں اگر میں گنوانا شروع کروں تو میری ساری عمر بیت جائے۔‘‘\n\n’’دیکھو بیگم اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ اگر تم نے کھانا نہ دیا تو میں اس گھر کو آگ لگا دوں گا۔ غضب خدا کا میرے پیٹ کا بھوک کے مارے برا حال ہو گیا ہے اور تم واہی تباہی بک رہی ہو۔ مجھے کل اور آج ایک ضروری کام تھا اس لیے مجھے دیر ہوگئی اور تم نے مجھ پر الزام دھر دیا کہ میں ہر روز دیر سے آتا ہوں کھانا دو مجھے ورنہ۔۔۔‘‘\n\n’’آپ مجھے ایسی دھونس نہ دیں، کھانا نہیں ملے گا آپ کو۔‘‘\n\n’’یہ میرا گھر ہے میں جب چاہوں آؤں جب چاہوں جاؤں۔ تم کون ہو کہ مجھ پر ایسی سختیاں کرو میں تم سے کہے دیتا ہوں کہ تمہارا یہ مزاج تمہارے حق میں اچھا ثابت نہیں ہوگا۔ ‘‘\n\n’’آپ کا مزاج میرے حق میں تو بڑا اچھا ثابت ہوا ہے۔ دن رات کڑھ کڑھ کے میرا یہ حال ہوگیا ہے۔‘‘\n\n’’دس پاؤنڈ وزن اور بڑھ گیا ہے بس یہی حال ہوا ہے تمہارا۔ اور میں تمہاری زود رنج اور چڑ چڑی طبیعت کے باعث بیمارہو گیا ہوں۔‘‘\n\n’’کیا بیماری ہے آپ کو؟ ‘‘\n\n’’تم نے کبھی پوچھا ہے کہ میں اس قدر تھکا تھکاسا کیوں رہتا ہوں، کبھی تم نے غور کیا کہ سیڑھیاں چڑھتے وقت میرا سانس کیوں پھول جاتا ہے،کبھی تم کو اتنی توفیق ہوئی کہ میرا سر ہی دباتیں جو اکثر درد کے باعث پھٹنے کے قریب ہوتا ہے تم عجیب قسم کی رفیقۂ حیات ہو۔‘‘\n\n’’اورمجھےاگر معلوم ہوتا کہ آپ ایسا خاوند میرے پلے باندھ دیا جائے گا تو میں نے وہیں اپنے گھر پر ہی زہر پھانک لیا ہوتا۔ ‘‘\n\n’’زہر تم اب بھی پھانک سکتی ہو۔ کہو تو میں ابھی لا دوں۔ ‘‘\n\n’’لے آئیے۔‘‘\n\n’’لیکن مجھے پہلے کھانا کھلا دو۔‘‘\n\n’’میں کہہ چکی ہوں وہ نہیں ملے گا آپ کو آج۔‘‘\n\n’’کل سے تو خیر مل ہی جائے گا۔اس لیے کہ تم یہاں سے عدم آباد پہنچ چکی ہو گی، بہرحال میں بھوکے پیٹ کے ساتھ تمہارے لیے زہر لینے باہر نہیں جا سکتا۔بہت ممکن ہے۔۔۔موٹر چلاتے چلاتےہی مجھے غش آ جائےاور میں غفر اللہ ہو جاؤں، اس لیے میں خودہی کوشش کرتا ہوں۔‘‘\n\n’’آپ کیا کوشش کیجیے گا۔‘‘\n\n’’خانساماں کو بلاتا ہوں۔‘‘\n\n’’آپ اسے نہیں بلا سکتے۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’بس میں نے کہہ جو دیا کہ آپ کو ان معاملوں میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں۔‘‘\n\n’’حد ہوگئی۔ اپنے گھر میں اپنے خانساماں کو بھی نہیں بلا سکتا۔۔۔‘‘\n\n’’نو کر کہاں ہے؟‘‘\n\n’’جہنم میں۔‘‘\n\n’’اس وقت میں بھی اسی جگہ ہوں لیکن میں اس کو دیکھ نہیں پاتا ،ادھر ہٹو ذرا میں اسے تلاش کروں شاید مل جائے۔‘‘\n\n’’اس سے کیا کہنا ہے آپ کو؟‘‘\n\n’’کچھ نہیں۔۔۔ صرف اتنا کہوں گا کہ تم علیحدہ ہو جاؤ تمہارے بدلے میں اس گھر کی نوکری خود کیا کروں گا۔‘‘\n\n’’آپ کر چکے۔‘‘\n\n’’سلام حضور۔۔۔ بیگم صاحب سالن تیار ہے صاحب لگا دوں ٹیبل پر۔۔۔‘‘\n\n’’تم دور دفعان ہو جاؤ یہاں سے۔‘‘\n\n’’لیکن بیگم صاحب آپ نے صبح جب خود باورچی خانے میں شلجم پکائے تو وہ سب کے سب جل گئے کہ آنچ تیز تھی اس کے بعد آپ نے آرڈر دیا کہ صاحب دیر سے آئیں گے اس لیے تم جلدی جلدی کوئی اور سالن تیار کر لو۔ سو میں نے آپ کے حکم کے مطابق دو گھنٹوں کے اندر اندر دو سالن تیار کرلیے ہیں۔ اب فرمائیں ٹیبل لگا دوں ۔دونوں انگیٹیھوں پر دھرے ہیں۔ ایسا نہ ہو آپ کے شلجموں کی طرح جل کر کوئلہ ہو جائیں۔ میں جاتا ہوں آپ جب بھی آرڈر دیں گی خادم ٹیبل لگا دے گا۔‘‘\n\n’’تو یہ بات تھی۔‘‘\n\n’’کیا بات تھی۔۔۔ میں اتنی دیر تک باورچی خانے کی گرمی میں جھلستی رہی، اس کا آپ کو کچھ خیال ہی نہیں۔۔۔ آپ کو شلجم پسند ہیں تو میں نے سوچا خود اپنے ہاتھ سے پکاؤں ،کتاب ہاتھ میں تھی جس میں ساری ترکیب لکھی ہوئی تھی۔ کتاب پڑھتے پڑھتے میں سو گئی اور وہ کم بخت شلجم جل بھن کر کوئلہ بن گئے۔ اب اس میں میرا کیا قصور ہے۔‘‘\n\n’’کوئی قصور نہیں۔۔۔‘‘\n\n’’چلیے میرے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔‘‘\n\n’’یہاں تو بڑے بڑے مگر مچھ دوڑ رہے ہیں۔‘‘\n\n’’ہر بات میں مذاق۔۔۔‘‘\n\n’’مذاق برطرف۔۔۔ ذرا ادھر آؤ۔۔۔ میں تمہارے شلجم دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ کہیں وہ بھی کوئلہ تو نہیں بن گئے۔۔۔‘‘\n\n’’کھانا کھانے کے بعد دیکھا جائے گا۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%84%D8%AC%D9%85"} {"title": "شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شمار سبحہ، “مرغوبِ بتِ مشکل” پسند آیا\nتماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیا\n\nبہ فیضِ بے دلی، نومیدیِ جاوید آساں ہے\nکشائش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا\n\nہوائے سیرِ گل، آئینۂ بے مہریِ قاتل\nکہ اندازِ بخوں غلطیدنِ بسمل پسند آیا\n\nہوئی جس کو بہارِ فرصتِ ہستی سے آگاہی\nبرنگِ لالہ، جامِ بادہ بر محمل پسند آیا\n\nسوادِ چشمِ بسمل انتخابِ نقطہ آرائی\nخرامِ نازِ بے پروائیِ قاتل پسند آیا\n\nروانی ہائے موجِ خونِ بسمل سے ٹپکتا ہے\nکہ لطفِ بے تحاشا رفتنِ قاتل پسند آیا\n\nاسدؔ ہر جا سخن نے طرحِ باغِ تازہ ڈالی ہے\nمجھے رنگِ بہار ایجادیِ بیدلؔ پسند آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D8%A8%D8%AD%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%BA%D9%88%D8%A8_%D8%A8%D8%AA_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی\nجوڑے کی گندھاوٹ قہر خدا بالوں کی مہک پھر ویسی ہی\n\nآنکھیں ہیں کٹورا سی وہ ستم گردن ہے صراحی دار غضب\nاور اسی میں شراب سرخی پاں رکھتی ہے جھلک پھر ویسی ہی\n\nہر بات میں اس کی گرمی ہے ہر ناز میں اس کے شوخی ہے\nقامت ہے قیامت چال پری چلنے میں پھڑک پھر ویسی ہی\n\nگر رنگ بھبوکا آتش ہے اور بینی شعلۂ سرکش ہے\nتو بجلی سی کوندے ہے پری عارض کی چمک پھر ویسی ہی\n\nنوخیز کچیں دو غنچہ ہیں ہے نرم شکم اک خرمن گل\nباریک کمر جو شاخ گل رکھتی ہے لچک پھر ویسی ہی\n\nہے ناف کوئی گرداب بلا اور گول سریں رانیں ہیں صفا\nہے ساق بلوریں شمع ضیا پاؤں کی کفک پھر ویسی ہی\n\nمحرم ہے حباب آب رواں سورج کی کرن ہے اس پہ لپٹ\nجالی کی کرتی ہے وہ بلا گوٹے کی دھنک پھر ویسی ہی\n\nوہ گائے تو آفت لائے ہے ہر تال میں لیوے جان نکال\nناچ اس کا اٹھائے سو فتنے گھنگرو کی جھنک پھر ویسی ہی\n\nہر بات پہ ہم سے وہ جو ظفرؔ کرتا ہے لگاوٹ مدت سے\nاور اس کی چاہت رکھتے ہیں ہم آج تلک پھر ویسی ہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF_%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%81%DA%A9_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%88%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%8C"} {"title": "شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں\nاک جان ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں\n\nمہمان ادھر ہما ہے ادھر ہے سگ حبیب\nاک مشت استخواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں\n\nدرباں ہزار اس کے یہاں ایک نقد جاں\nمال اس قدر کہاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں\n\nبلبل کو بھی ہے پھولوں کی گلچیں کو بھی طلب\nحیران باغباں ہے کسے دوں کسے نہ دوں\n\nسب چاہتے ہیں اس سے جو وعدہ وصال کا\nکہتا ہے وہ زباں ہے کسے دوں کسے نہ دوں\n\nشہزادی دخت رز کے ہزاروں ہیں خواست گار\nچپ مرشد مغاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں\n\nیاروں کو بھی ہے بوسے کی غیروں کو بھی طلب\nششدر وہ جان جاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں\n\nدل مجھ سے مانگتے ہیں ہزاروں حسیں امیرؔ\nکتنا یہ ارمغاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%88%DA%BA"} {"title": "شمع", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "بزمِ جہاں میں مَیں بھی ہُوں اے شمع! دردمند\nفریاد در گرہ صفَتِ دانۂ سپند\nدی عشق نے حرارتِ سوزِ درُوں تجھے\nاور گُل فروشِ اشکِ شفَق گوں کِیا مجھے\nہو شمعِ بزمِ عیش کہ شمع مزار تُو\nہر حال اشکِ غم سے رہی ہمکنار تُو\n\nیک بِیں تری نظر صفتِ عاشقانِ راز\nمیری نگاہ مایۂ آشوبِ امتیاز\nکعبے میں، بُت کدے میں ہے یکساں تری ضیا\nمَیں امتیازِ دیر و حرم میں پھنسا ہُوا\nہے شان آہ کی ترے دُودِ سیاہ میں\nپوشیدہ کوئی دل ہے تری جلوہ گاہ میں؟\n\nجلتی ہے تُو کہ برقِ تجلّی سے دُور ہے\nبے درد تیرے سوز کو سمجھے کہ نُور ہے\nتُو جل رہی ہے اور تجھے کچھ خبر نہیں\nبِینا ہے اور سوز درُوں پر نظر نہیں\nمَیں جوشِ اضطراب سے سیماب وار بھی\nآگاہِ اضطرابِ دلِ بے قرار بھی\nتھا یہ بھی کوئی ناز کسی بے نیاز کا\nاحساس دے دیا مجھے اپنے گداز کا\n\nیہ آگہی مری مجھے رکھتی ہے بے قرار\nخوابیدہ اس شرر میں ہیں آتش کدے ہزار\nیہ امتیازِ رفعت و پستی اسی سے ہے\nگُل میں مہک، شراب میں مستی اسی سے ہے\nبُستان و بُلبل و گُل و بُو ہے یہ آگہی\nاصلِ کشاکشِ من و تُو ہے یہ آگہی\n\nصبحِ ازل جو حُسن ہُوا دِلستانِ عشق\nآوازِ ’کُن‘ ہوئی تپش آموزِ جانِ عشق\nیہ حکم تھا کہ گُلشنِ ’کُن‘ کی بہار دیکھ\nایک آنکھ لے کے خوابِ پریشاں ہزار دیکھ\nمجھ سے خبر نہ پوچھ حجابِ وجود کی\nشامِ فراق صبح تھی میری نمود کی\nوہ دن گئے کہ قید سے مَیں آشنا نہ تھا\nزیبِ درختِ طُور مرا آشیانہ تھا\nقیدی ہوں اور قفَس کو چمن جانتا ہوں میں\nغربت کے غم کدے کو وطن جانتا ہوں میں\nیادِ وطن فسُردگیِ بے سبب بنی\nشوقِ نظر کبھی، کبھی ذوقِ طلب بنی\n\nاے شمع! انتہائے فریبِ خیال دیکھ\nمسجودِ ساکنانِ فلک کا مآل دیکھ\nمضموں فراق کا ہوں، ثریّا نشاں ہوں میں\nآہنگِ طبعِ ناظمِ کون و مکاں ہوں میں\nباندھا مجھے جو اُس نے تو چاہی مری نمود\nتحریر کر دیا سرِ دیوانِ ہست و بود\nگوہر کو مشتِ خاک میں رہنا پسند ہے\nبندش اگرچہ سُست ہے، مضموں بلند ہے\nچشمِ غلَط نِگر کا یہ سارا قصور ہے\nعالم ظہورِ جلوۂ ذوقِ شعور ہے\nیہ سلسلہ زمان و مکاں کا، کمند ہے\nطوقِ گلُوئے حُسنِ تماشا پسند ہے\nمنزل کا اشتیاق ہے، گم کردہ راہ ہوں\nاے شمع! مَیں اسیرِ فریبِ نگاہ ہوں\nصیّاد آپ، حلقۂ دامِ ستم بھی آپ\nبامِ حرم بھی، طائرِ بامِ حرم بھی آپ!\nمَیں حُسن ہوں کہ عشقِ سراپا گداز ہوں\nکھُلتا نہیں کہ ناز ہوں میں یا نیاز ہوں\nہاں، آشنائے لب ہو نہ رازِ کُہن کہیں\nپھر چھِڑ نہ جائے قصّۂ دار و رَسن کہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B9"} {"title": "شمع اور شاعر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "شاعر\nدوش می گُفتم بہ شمعِ منزلِ ویرانِ خویش\nگیسوے تو از پرِ پروانہ دارد شانہ اے\nدر جہاں مثلِ چراغِ لالۂ صحرا ستم\nنے نصیبِ محفلے نے قسمتِ کاشانہ اے\nمدّتے مانندِ تو من ہم نفَس می سوختم\nدر طوافِ شعلہ ام بالے نہ زد پروانہ اے\nمی تپد صد جلوہ در جانِ اَمل فرسُودِ من\nبر نمی خیزد ازیں محفل دلِ دیوانہ اے\nاز کُجا ایں آتشِ عالم فروز اندوختی\nکرمکِ بے مایہ را سوزِ کلیم آموختی\n\nشمع\nمجھ کو جو موجِ نفَس دیتی ہے پیغامِ اجل\nلب اسی موجِ نفَس سے ہے نوا پیرا ترا\nمیں تو جلتی ہوں کہ ہے مضمر مری فطرت میں سوز\nتُو فروزاں ہے کہ پروانوں کو ہو سودا ترا\nگِریہ ساماں مَیں کہ میرے دل میں ہے طوفانِ اشک\nشبنم افشاں تُو کہ بزمِ گُل میں ہو چرچا ترا\nگُل بہ دامن ہے مری شب کے لہُو سے میری صبح\nہے ترے امروز سے ناآشنا فردا ترا\nیوں تو روشن ہے مگر سوزِ درُوں رکھتا نہیں\nشُعلہ ہے مثلِ چراغِ لالۂ صحرا ترا\nسوچ تو دل میں، لقب ساقی کا ہے زیبا تجھے؟\nانجمن پیاسی ہے اور پیمانہ بے صہبا ترا!\nاور ہے تیرا شعار، آئینِ ملّت اور ہے\nزِشت رُوئی سے تری آئینہ ہے رُسوا ترا\nکعبہ پہلو میں ہے اور سودائیِ بُت خانہ ہے\nکس قدر شوریدہ سر ہے شوقِ بے پروا ترا\nقیس پیدا ہوں تری محفل میں! یہ ممکن نہیں\nتنگ ہے صحرا ترا، محمل ہے بے لیلا ترا\nاے دُرِ تابندہ، اے پروَردۂ آغوشِ موج!\nلذّتِ طوفاں سے ہے ناآشنا دریا ترا\nاب نوا پیرا ہے کیا، گُلشن ہُوا برہم ترا\nبے محل تیرا ترنّم، نغمہ بے موسم ترا\n\nتھا جنھیں ذوقِ تماشا، وہ تو رخصت ہو گئے\nلے کے اب تُو وعدۂ دیدارِ عام آیا تو کیا\nانجمن سے وہ پُرانے شعلہ آشام اُٹھ گئے\nساقیا! محفل میں تُو آتش بجام آیا تو کیا\nآہ، جب گُلشن کی جمعیّت پریشاں ہو چکی\nپھُول کو بادِ بہاری کا پیام آیا تو کیا\nآخرِ شب دید کے قابل تھی بِسمل کی تڑپ\nصبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا\nبُجھ گیا وہ شعلہ جو مقصودِ ہر پروانہ تھا\nاب کوئی سودائیِ سوزِ تمام آیا تو کیا\nپھُول بے پروا ہیں، تُو گرمِ نوا ہو یا نہ ہو\nکارواں بے حِس ہے، آوازِ درا ہو یا نہ ہو\n\nشمعِ محفل ہو کے تُو جب سوز سے خالی رہا\nتیرے پروانے بھی اس لذّت سے بیگانے رہے\nرشتۂ اُلفت میں جب ان کو پرو سکتا تھا تُو\nپھر پریشاں کیوں تری تسبیح کے دانے رہے\nشوقِ بے پروا گیا، فکرِ فلک پیما گیا\nتیری محفل میں نہ دیوانے نہ فرزانے رہے\nوہ جگر سوزی نہیں، وہ شعلہ آشامی نہیں\nفائدہ پھر کیا جو گِردِ شمع پروانے رہے\nخیر، تُو ساقی سہی لیکن پِلائے گا کسے\nاب نہ وہ مے کش رہے باقی نہ مے‌خانے رہے\nرو رہی ہے آج اک ٹوٹی ہُوئی مِینا اُسے\nکل تلک گردش میں جس ساقی کے پیمانے رہے\nآج ہیں خاموش وہ دشتِ جُنوں پروَر جہاں\nرقص میں لیلیٰ رہی، لیلیٰ کے دیوانے رہے\nوائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا\nکارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا\n\nجن کے ہنگاموں سے تھے آباد ویرانے کبھی\nشہر اُن کے مِٹ گئے آبادیاں بَن ہو گئیں\nسطوَتِ توحید قائم جن نمازوں سے ہوئی\nوہ نمازیں ہند میں نذرِ برہمن ہو گئیں\nدہر میں عیشِ دوام آئِیں کی پابندی سے ہے\nموج کو آزادیاں سامانِ شیون ہو گئیں\nخود تجلّی کو تمنّا جن کے نظّاروں کی تھی\nوہ نگاہیں نا اُمیدِ نُورِ ایمن ہوگئیں\nاُڑتی پھرتی تھیں ہزاروں بُلبلیں گُلزار میں\nدل میں کیا آئی کہ پابندِ نشیمن ہو گئیں\nوسعتِ گردُوں میں تھی ان کی تڑپ نظّارہ سوز\nبجلیاں آسودۂ دامانِ خرمن ہو گئیں\nدیدۂ خُونبار ہو منّت کشِ گُلزار کیوں\nاشکِ پیہم سے نگاہیں گُل بہ دامن ہو گئیں\nشامِ غم لیکن خبر دیتی ہے صبحِ عید کی\nظُلمتِ شب میں نظر آئی کرن اُمّید کی\n\nمُژدہ اے پیمانہ بردارِ خُمِستانِ حجاز!\nبعد مُدّت کے ترے رِندوں کو پھر آیا ہے ہوش\nنقدِ خودداری بہائے بادۂ اغیار تھی\nپھر دکاں تیری ہے لبریزِ صدائے ناؤ نوش\nٹُوٹنے کو ہے طلسمِ ماہ سیمایانِ ہند\nپھر سلیمیٰ کی نظر دیتی ہے پیغامِ خروش\nپھر یہ غوغا ہے کہ لاساقی شرابِ خانہ ساز\nدل کے ہنگامے مئے مغرب نے کر ڈالے خموش\nنغمہ پیرا ہو کہ یہ ہنگامِ خاموشی نہیں\nہے سحَر کا آسماں خورشید سے مینا بدوش\nدر غمِ دیگر بسوز و دیگراں را ہم بسوز\nگُفتمت روشن حدیثے گر توانی دار گوش!\nکہہ گئے ہیں شاعری جُزویست از پیغمبری\nہاں سُنا دے محفلِ ملّت کو پیغامِ سروش\nآنکھ کو بیدار کر دے وعدۂ دیدار سے\nزندہ کر دے دل کو سوزِ جوہرِ گفتار سے\n\nرہزنِ ہمّت ہُوا ذوقِ تن آسانی ترا\nبحر تھا صحرا میں تُو، گلشن میں مثلِ جُو ہوا\nاپنی اصلیّت پہ قائم تھا تو جمعیّت بھی تھی\nچھوڑ کر گُل کو پریشاں کاروانِ بُو ہوا\nزندگی قطرے کی سِکھلاتی ہے اسرارِ حیات\nیہ کبھی گوہر، کبھی شبنم، کبھی آنسو ہُوا\nپھر کہیں سے اس کو پیدا کر، بڑی دولت ہے یہ\nزندگی کیسی جو دل بیگانۂ پہلو ہوا\nآبرو باقی تری مِلّت کی جمعیّت سے تھی\nجب یہ جمعیّت گئی، دنیا میں رُسوا تُو ہوا\nفرد قائم ربطِ مِلّت سے ہے، تنہا کچھ نہیں\nموج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں\n\nپردۂ دل میں محبّت کو ابھی مستور رکھ\nیعنی اپنی مے کو رُسوا صُورتِ مِینا نہ کر\nخیمہ زن ہو وادیِ سِینا میں مانندِ کلیم\nشُعلۂ تحقیق کو غارت گرِ کاشانہ کر\nشمع کو بھی ہو ذرا معلوم انجامِ ستم\nصَرفِ تعمیرِ سحَر خاکسترِ پروانہ کر\nتُو اگر خود دار ہے، منّت کشِ ساقی نہ ہو\nعین دریا میں حباب‌آسا نگُوں پیمانہ کر\nکیفیت باقی پُرانے کوہ و صحرا میں نہیں\nہے جُنوں تیرا نیا، پیدا نیا ویرانہ کر\nخاک میں تجھ کو مُقدّر نے مِلایا ہے اگر\nتو عصا اُفتاد سے پیدا مثالِ دانہ کر\nہاں، اسی شاخِ کُہن پر پھر بنا لے آشیاں\nاہلِ گُلشن کو شہیدِ نغمۂ مستانہ کر\nاس چمن میں پیروِ بُلبل ہو یا تلمیذِ گُل\nیا سراپا نالہ بن جا یا نوا پیدا نہ کر\nکیوں چمن میں بے صدا مثلِ رمِ شبنم ہے تُو\nلب کُشا ہو جا، سرودِ بربطِ عالم ہے تُو\n\nآشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا\nدانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تُو\nآہ، کس کی جُستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے\nراہ تُو، رہرو بھی تُو، رہبر بھی تُو، منزل بھی تُو\nکانپتا ہے دل ترا اندیشۂ طوفاں سے کیا\nناخدا تو، بحر تو، کشتی بھی تو، ساحل بھی تُو\nدیکھ آ کر کوچۂ چاکِ گریباں میں کبھی\nقیس تو، لیلیٰ بھی تو، صحرا بھی تو، محمل بھی تُو\nوائے نادانی کہ تُو محتاجِ ساقی ہو گیا\nمے بھی تو، مِینا بھی تو، ساقی بھی تو، محفل بھی تُو\nشُعلہ بن کر پھُونک دے خاشاکِ غیر اللہ کو\nخوفِ باطل کیا کہ ہے غارت گرِ باطل بھی تُو\nبے خبر! تُو جوہرِ آئینۂ ایّام ہے\nتُو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے\n\nاپنی اصلیّت سے ہو آگاہ اے غافل کہ تُو\nقطرہ ہے، لیکن مثالِ بحرِ بے پایاں بھی ہے\nکیوں گرفتارِ طلسمِ ہیچ مقداری ہے تُو\nدیکھ تو پوشیدہ تجھ میں شوکتِ طوفاں بھی ہے\nسینہ ہے تیرا امِیں اُس کے پیامِ ناز کا\nجو نظامِ دہر میں پیدا بھی ہے، پنہاں بھی ہے\nہفت کِشور جس سے ہو تسخیر بے تیغ و تفنگ\nتُو اگر سمجھے تو تیرے پاس وہ ساماں بھی ہے\nاب تلک شاہد ہے جس پر کوہِ فاراں کا سکُوت\nاے تغافل پیشہ! تجھ کو یاد وہ پیماں بھی ہے؟\nتُو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا\nورنہ گُلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی ہے\nدل کی کیفیّت ہے پیدا پردۂ تقریر میں\nکِسوتِ مِینا میں مے مستُور بھی، عُریاں بھی ہے\nپھُونک ڈالا ہے مری آتش نوائی نے مجھے\nاور میری زندگانی کا یہی ساماں بھی ہے\nراز اس آتش نوائی کا مرے سینے میں دیکھ\nجلوۂ تقدیر میرے دل کے آئینے میں دیکھ!\n\nآسماں ہوگا سحَر کے نور سے آئینہ پوش\nاور ظُلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی\nاس قدر ہوگی ترنّم آفریں بادِ بہار\nنکہتِ خوابیدہ غنچے کی نوا ہو جائے گی\nآ ملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک\nبزمِ گُل کی ہم نفَس بادِ صبا ہو جائے گی\nشبنم افشانی مری پیدا کرے گی سوز و ساز\nاس چمن کی ہر کلی درد آشنا ہو جائے گی\nدیکھ لو گے سطوَتِ رفتارِ دریا کا مآل\nموجِ مضطر ہی اسے زنجیرِ پا ہو جائے گی\nپھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغامِ سجود\nپھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائے گی\nنالۂ صیّاد سے ہوں گے نوا ساماں طیور\nخُونِ گُلچیں سے کلی رنگیں قبا ہو جائے گی\nآنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں\nمحوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی\nشب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے\nیہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1"} {"title": "شمع بھی اس صفا سے جلتی ہے", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شمع بھی اس صفا سے جلتی ہے\nتیرے رخ پر نگہ پھسلتی ہے\n\nخاک اڑاتی ہے اے صبا میری\nبے ادب کس طرح سے چلتی ہے\n\nوہ نہ آیا تو جان جائیں گے\nکب طبیعت مری بہلتی ہے\n\nدل نکلتا ہے اس کے گیسو سے\nناگنی دیکھو من اگلتی ہے\n\nنگہ گرم یار دیکھے ہے\nکب کسی سے یہ آنکھ جلتی ہے\n\nاک پری رو پہ برقؔ مرتا ہوں\nجان اس پر مری نکلتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%B5%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئے", "poet_page": "مصنف:غمگین دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئے\nکچھ ہنسانا چاہیئے اور کچھ رلانا چاہیئے\n\nزندگی کیونکر کٹے بے شغل اس پیری میں آہ\nتم کو اب اس نوجواں سے دل لگانا چاہیئے\n\nاس میں سب راز نہاں ہو جائیں گے ہم پر عیاں\nپھر اسے اک بار گھر اپنے بلانا چاہیئے\n\nپھر یہ ممکن ہے کہ میرے پاس تو اک دم رہے\nکچھ نہ کچھ اے یار بس تجھ کو بہانا چاہیئے\n\nگو بہت ہوشیار عاشق اے پری رو ہیں ترے\nلیکن ان میں ایک غمگیںؔ سا دوانہ چاہیئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%B1%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%D8%A6%DB%92"} {"title": "شمع روشن جسم فانوس خیالی میں ہے آج", "poet_page": "مصنف:مسکین شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "شمع روشن جسم فانوس خیالی میں ہے آج\nروح جوں مثل مگس مکڑوں کی جالی میں آج\n\nہم نہیں ہرگز حباب بحر امکاں دہر میں\nصانع کونین شکل بے مثالی میں ہے آج\n\nکعبۂ دل عرش ہے ہر دم جہاں رہتا ہوں میں\nمیری پہچانت یہ جسم لا یزالی میں ہے آج\n\nنام سن کر جو کوئی آیا ہے وہ پایا ہمیں\nاسم اعظم کی صفت اس اسم عالی میں ہے آج\n\nجنت الفردوس میں جا کر بھلا ہم کیا کریں\nکوئی بھی اس خانۂ ویران و خالی میں ہے آج\n\nحور و غلمان بہشتی یاں مرے ہمراہ ہیں\nملک دل آباد اپنے حسب حالی میں ہے آج\n\nنیک و بد یکساں ہے واجب میں یہاں امکان میں\nچاہئے راحت تو مسکیںؔ خوش خصالی میں ہے آج", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D9%81%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B3_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "شمع روشن ہے ہماری آہ سے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شمع روشن ہے ہماری آہ سے\nلو لگائے بیٹھے ہیں اللہ سے\n\nچلتے ہیں کیا کیا وہ رستہ کاٹ کر\nجب گزرتے ہیں ہماری راہ سے\n\nکیوں نہ رکھوں میں تبرک کی طرح\nغم ملا ہے عشق کی درگاہ سے\n\nایک بوسہ پر ہمیں ٹالیں نہ آپ\nکچھ علاوہ دیجئے تنخواہ سے\n\nمانگ کر تجھ کو بہت نادم ہوا\nمانگنا تھا اور کچھ اللہ سے\n\nخوب صورت ہو کے تم لڑنے لگے\nبحث ہے دن رات مہر و ماہ سے\n\nتو نے واعظ زندگی دشوار کی\nکیوں کیا واقف خدا کی راہ سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%DB%81_%D8%B3%DB%92"} {"title": "شمع رہگزر", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "زیست بے اختیار گزری ہے\nجوں نسیم بہار گزری ہے\n\nدل میں برپا قیامتیں کرتی\nنگہ شرمسار گزری ہے\n\nساغر و ساز دور ہی رکھیے\nورنہ یوں بھی بہار گزری ہے\n\nزمزمہ سنج و زرفشاں نکہت\nپھر صبا پر سوار گزری ہے\n\nکیا گزر گاہ ہے محبت کی\nخود بہ خود بار بار گزری ہے\n\nاک در شہوار صد بستاں\nپھر لب جوئبار گزری ہے\n\nہائے شیرینیٔ لب لعلیں\nمسکراتی بہار گزری ہے\n\nوائے طوفان سینۂ سیمیں\nدختر کوہسار گزری ہے\n\nزندگی کی جمیل راہوں سے\nخود اجل شرمسار گزری ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%B1%DB%81%DA%AF%D8%B2%D8%B1"} {"title": "شمع ساں شب کے میہماں ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شمع ساں شب کے میہماں ہیں ہم\nصبح ہوتے تو پھر کہاں ہیں ہم\n\nتم بن اے رفتگان ملک عدم\nہستی اپنی سے سرگراں ہیں ہم\n\nباغباں ٹک تو بیٹھنے دے کہیں\nآہ گم کردہ آشیاں ہیں ہم\n\nدیکھتے ہیں اسی کو اہل نظر\nگو نہاں ہے وہ اور عیاں ہیں ہم\n\nنہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں\nنقش دیوار بوستاں ہیں ہم\n\nجنس آسودگی نہیں ہم پاس\nدرد اور غم کے کارواں ہیں ہم\n\nدل سے نالہ نکل نہیں سکتا\nیاں تلک غم سے ناتواں ہیں ہم\n\nکیا کہیں ہم حسنؔ بقول ضیاؔ\nجس طرح سے کہ اب یہاں ہیں ہم\n\nداغ ہیں کاروان رفتہ کے\nنقش پائے گزشتگاں ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%DB%81%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "شمع مزار تھی نہ کوئی سوگوار تھا", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شمع مزار تھی نہ کوئی سوگوار تھا\nتم جس پہ رو رہے تھے یہ کس کا مزار تھا\n\nتڑپوں گا عمر بھر دل مرحوم کے لئے\nکمبخت نا مراد لڑکپن کا یار تھا\n\nسودائے عشق اور ہے وحشت کچھ اور شے\nمجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا\n\nجادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں\nتم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا\n\nکیا کیا ہمارے سجدہ کی رسوائیاں ہوئیں\nنقش قدم کسی کا سر رہ گزار تھا\n\nاس وقت تک تو وضع میں آیا نہیں ہے فرق\nتیرا کرم شریک جو پروردگار تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D9%88%DA%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "شمع نازاں ہے فقط سر سے بھڑک جانے میں آگ", "poet_page": "مصنف:مرزا علی لطف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شمع نازاں ہے فقط سر سے بھڑک جانے میں آگ\nپھونک دے سارا جہاں ہے گی وہ پروانے میں آگ\n\nشعلۂ شمع حرم حسن بتاں سے ہے خجل\nمجھ کو خطرہ ہے کہ لگ جائے نہ بت خانے میں آگ\n\nدیکھنا گرمی کی خوبی میری باری جب آئے\nجائے مے ساقی نے بھر دی مرے پیمانے میں آگ\n\nشیخ کی سمرن شماری میں کوئی گرمی نہیں\nچشم بینا ہو تو ظاہر ہے ہر اک دانے میں آگ\n\nآتشیں نالے وہ مجنوں کے مجھے آتے ہیں یاد\nدیکھتا ہوں جو کہیں دہکے ہے ویرانے میں آگ\n\nبے دماغی ہے بجا اس کے فسانے سے مری\nخواب کیا لاوے وہ پنہاں ہو جس افسانے میں آگ\n\nکب ہنسا تھا میں بھلا جلنے پہ پروانے کے لطفؔ\nدفعتاً پھونکی مری جائے گی جو کاشانے میں آگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D9%86%D8%A7%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%81%D9%82%D8%B7_%D8%B3%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DA%91%DA%A9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%DA%AF"} {"title": "شمع و پروانہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع! پیار کیوں\nیہ جانِ بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں\n\nسیماب وار رکھتی ہے تیری ادا اسے\nآدابِ عشق تُو نے سِکھائے ہیں کیا اسے؟\n\nکرتا ہے یہ طواف تری جلوہ گاہ کا\nپھُونکا ہُوا ہے کیا تری برقِ نگاہ کا؟\n\nآزارِ موت میں اسے آرامِ جاں ہے کیا؟\nشعلے میں تیرے زندگیِ جاوداں ہے کیا؟\n\nغم خانۂ جہاں میں جو تیری ضیا نہ ہو\nاس تفتہ دل کا نخلِ تمنا ہرا نہ ہو\n\nگِرنا ترے حضور میں اس کی نماز ہے\nننھّے سے دل میں لذّتِ سوز و گداز ہے\n\nکچھ اس میں جوشِ عاشقِ حُسنِ قدیم ہے\nچھوٹا سا طُور تُو، یہ ذرا سا کلیمِ ہے\n\nپروانہ، اور ذوقِ تماشائے روشنی\nکِیڑا ذرا سا، اور تمنّائے روشنی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D9%88_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "شمع کے تیرے کرشمے نے دل افروزی کی", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شمع کے تیرے کرشمے نے دل افروزی کی\nان نے تب دور یہ محفل کی سیہ روزی کی\n\nآئے بو گرمیٔ خورشید سے دل سوزی کی\nسرگزشت اپنی کہیں ہم جو سیہ روزی کی\n\nآہ پروانہ یہ کیوں شمع پہ جلتا ہوگا\nرات کو بزم میں بو آتی تھی جاں سوزی کی\n\nقحط غم خوار سے ازبسکہ یہ دل جلتا تھا\nدل کے جلنے پہ مری شمع نے دل سوزی کی\n\nاشک کا تار لے آنکھوں نے مژہ کی سوزن\nجمع کر لخت جگر زور جگر سوزی کی\n\nمہر و مہ ابر و ہوا تیرے لیے سرگرداں\nبندہ سنتا ہے عبث فکر نہ کر روزی کی\n\nعشق میں جلتے ہیں روشن ہے یہ ان پر.....\nشمع کو طرز سکھایا ہے دل افروزی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B9_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D8%B4%D9%85%DB%92_%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%B2%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "شملہ", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "لوگ گرمی میں شملے جاتے ہیں\nٹھنڈے موسم کا لطف اٹھاتے ہیں\nکتنی شفاف ہے فضا اس کی\nکس قدر صاف ہے ہوا اس کی\nاودی اودی گھٹائیں چھاتی ہیں\nٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں\nابھی بادل ہیں اور ابھی ہے دھوپ\nدیکھو قدرت کے یہ انوکھے روپ\nگر صفائی کے حال کو دیکھیں\nآپ شملے کی مال کو دیکھیں\nکتنی ستھری ہے ہر دکان یہاں\nکتنا اچھا ہے ہر مکان یہاں\nہوٹلوں کی نفاستیں دیکھو\nکوٹھیوں کی عمارتیں دیکھو\nسبزہ وادی میں لہلہاتا ہے\nپھرنے والوں کا جی لبھاتا ہے\nاونچے پیڑوں کی ہے بہار یہاں\nہیں کھڑے چیل دیودار یہاں\nہیں بلندی پہ ہر مکان سے یہ\nبات کرتے ہیں آسمان سے یہ\nبادل اتنے قریب ہوتے ہیں\nپیار سے منہ زمیں کا دھوتے ہیں\nراستہ گر کہیں سے پاتے ہیں\nبند کمروں میں بھی گھس آتے ہیں\nیوں تو ہر منظر اس کا پیارا ہے\nرات کا اور ہی نظارہ ہے\nجب ہوں بجلی کے قمقمے روشن\nدیکھو اس وقت شملے کا جوبن\nقمقمے کیا ہیں کچھ ستارے ہیں\nآسماں نے یہاں اتارے ہیں\nشعلے سے اڑتے ہیں فضاؤں میں\nشمعیں آوارہ ہیں ہواؤں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D9%84%DB%81"} {"title": "شملے کی ریل گاڑی", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سولن کی چوٹیوں سے\nجھنڈی ہلا رہی ہے\nغصے میں بے تحاشا\nسیٹی بجا رہی ہے\nدیکھو وہ آ رہی ہے\nشملے کی ریل گاڑی\nدو انجنوں کے منہ سے\nشعلے نکل رہے ہیں\nدو ناگ مل کے گویا\nدوزخ اگل رہے ہیں\nآنکھیں دکھا رہی ہے\nشملے کی ریل گاڑی\nسنسان گھاٹیوں پر\nاونچی پہاڑیوں میں\nپتھریلی چوٹیوں پر\nٹیلوں میں جھاڑیوں میں\nلہراتی آ رہی ہے\nشملے کی ریل گاڑی\nلوہے کی ایک ناگن\nبل کھا رہی ہو جیسے\nاور اونچی چوٹیوں پر\nلہرا رہی ہو جیسے\nاس طرح آ رہی ہے\nشملے کی ریل گاڑی\nبن باسیوں کو کیا کیا\nدل شاد کر رہی ہے\nسنسان جنگلوں کو\nآباد کر رہی ہے\nبستی بسا رہی ہے\nشملے کی ریل گاڑی\nنکلی سرنگ سے یوں\nجوں بل سے ناگ نکلے\nچمکی سرے پہ جیسے\nبھٹی سے آگ نکلے\nکیا گل کھلا رہی ہے\nشملے کی ریل گاڑی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%DB%8C%D9%84_%DA%AF%D8%A7%DA%91%DB%8C"} {"title": "شمیم زلف معنبر جو روئے یار سے لوں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شمیم زلف معنبر جو روئے یار سے لوں\nتو پھر خطا ہے مری مشک گر تتار سے لوں\n\nقدم رکھے مرے سینے پہ آ کے گر وہ نگار\nحنا کا کام میں خون دل فگار سے لوں\n\nاگر ملے ترے ہاتھوں سے اے جنوں فرصت\nقصاص آبلہ پائی میں نوک خار سے لوں\n\nمرے حضور یہ لوٹے ہے تیری چھاتی پر\nجو پہنچے ہاتھ تو بدلا گلوں کے ہار سے لوں\n\nدلا بجے کہیں گھڑیال تا میں گھڑیوں کا\nحساب اس شب ہجر سیاہ کار سے لوں\n\nعجب ہے سیر کسی دن تو ساتھ باغ میں چل\nکہاں تلک میں قدم عجز و انکسار سے لوں\n\nپٹاپٹی کا مرے پاس گر نہ ہو خیمہ\nتو یار تیرے لیے ابر نو بہار سے لوں\n\nجو مے کشی کا ارادہ ہو کچھ ترے دل میں\nچمن میں ساغر گل دست شاخسار سے لوں\n\nاگر صراحی غنچہ میں ہو نہ بادۂ سرخ\nتو شیشۂ مے خس سرو جوئبار سے لوں\n\nنہ ہووے مطرب نغمہ سرا تو اس کا کام\nقسم ہے مجھ کو تری عندلیب زار سے لوں\n\nلگے نہ ہاتھ کوئی گر رباب و چنگ نواز\nتو اپنے دوش پہ رکھ بین کو میں تار سے لوں\n\nیہ جی میں ہو کہ نہ دیکھے کوئی تو پردے کو\nکنار آب رواں چادر آبشار سے لوں\n\nبلائیں لینے سے میرے اگر خوشی ہو تری\nبلائیں مہر سے اخلاص سے پیار سے لوں\n\nگر اس پہ بھی گل عارض کا تو نہ دے بوسہ\nتو پھر میں جبر کروں اپنے اختیار سے لوں\n\nنصیرؔ مدرسۂ عشق میں مطول کا\nسبق نہ کیونکہ میں زلف دراز یار سے لوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%DB%8C%D9%85_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%85%D8%B9%D9%86%D8%A8%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%84%D9%88%DA%BA"} {"title": "شمیم یار نہ جب تک چمن میں چھو آئے", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شمیم یار نہ جب تک چمن میں چھو آئے\nنہ رنگ آئے کسی پھول میں نہ بو آئے\n\nمزہ تو جب ہے شہادت کا میں ادھر سے بڑھوں\nادھر سے تیغ جفا کھنچ کے تا گلو آئے\n\nدماغ دے جو خدا گلشن محبت میں\nہر ایک گل سے ترے پیرہن کی بو آئے\n\nزباں دراز سناں زخم میں دریدہ دہن\nکہیں نہ دونوں میں رنجش کی گفتگو آئے\n\nدکھائیں حسن بیاں شاعری میں کیا تسلیمؔ\nزبان آئے نہ انداز گفتگو آئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%85%DB%8C%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "شو شو", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "گھر میں بڑی چہل پہل تھی۔ تمام کمرے لڑکے لڑکیوں، بچے بچیوں اور عورتوں سے بھرے تھے۔ اور وہ شور برپا ہو رہا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ اگر اس کمرے میں دو تین بچے اپنی ماؤں سے لپٹے دودھ پینے کے لیے بلبلا رہے ہیں تو دوسرے کمرے میں چھوٹی چھوٹی لڑکیاں ڈھولکی لیے بے سُری تانیں اڑا رہی ہیں۔ نہ تال کی خبر ہے نہ لَے کی۔ بس گائے جا رہی ہیں۔ نیچے ڈیوڑھی سے لے کر بالائی منزل کے شہ نشینوں تک مکان مہمانوں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔کیوں نہ ہو۔ ایک مکان میں دو بیاہ رچے تھے۔ میرے دونوں بھائی اپنی چاند سی دلہنیں بیاہ کر لائے تھے۔\n\nرات کے گیارہ بجے کے لگ بھگ دونوں ڈولیاں آئیں، اور گلی میں اس قدر شور برپا ہوا کہ الامان، مگر وہ نظارہ بڑا روح افزا تھا۔ جب گلی کی سب شوخ و شنگ لڑکیاں باہر نکل آئیں اور تیتریوں کی طرح ادھر ادھر پھڑپھڑانے لگیں۔\n\nساڑیوں کی ریشمی سرسراہٹ، کلف لگی شلواروں کی کھڑکھڑاہٹ اور چوڑیوں کی کھنکھناہٹ ہوا میں تیرنے لگی۔ تمتماتے ہوئے مکھڑوں پر بار بار گرتی ہوئی لٹیں،ننھے ننھے سینوں پر زور دے کر نکالی ہوئی بلند آوازیں، اونچی ایڑی کے بوٹوں پر تھرکتی ہوئی ٹانگیں، لچکتی ہوئی انگلیاں، دھڑکتے ہوئے لہجے، پھڑکتی ہوئیں رگیں اور پھر ان الّہڑ لڑکیوں کی آپس کی سرگوشیاں۔۔۔! یہ سب کچھ دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ گلی کے پتھریلے فرش پر حسن و شباب اپنے قلم سے معانی لکھ رہا ہے!\n\nعباس میرے پاس کھڑا تھا۔ ہم دونوں عورتوں کے ہجوم میں گھرے ہوئے تھے۔ دفعتاً عباس نے گلی کے نکڑ پر نظریں گاڑ کر کہا، ’’شو شو کہاں ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا، ’’مجھے اس وقت تمہارے سوال کا جواب دینے کی فرصت نہیں ہے۔‘‘ میں اس ہجوم میں اس بھونرے کے مانند کھڑا تھاجو پھولوں بھری کیاری دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کس پھول پر بیٹھے۔عباس نے رونی آواز میں کہا، ’’وہ نہیں آئی!‘‘\n\n’’تو کیا ہوا۔۔۔ باقی تو سب موجود ہیں۔۔۔ ارے۔۔۔ دیکھو تو وہ نیلی ساڑی میں کون ہے۔۔۔؟ شو شو۔‘‘ میں نے عباس کا ہاتھ دبایا۔عباس نے غور سے دیکھا۔ نیلی ساڑی میں۔۔۔یہ کہہ کر اس نے اپنے مخصوص انداز میں میری طرف قہر آلود نگاہوں سے دیکھ کر کہا۔ ’’علاج کراؤ اپنی آنکھوں کا۔۔۔ چغد کہیں کے، یہ شوشو ہے؟‘‘\n\n’’کیوں وہ نہیں ہے کیا؟‘‘ میں نے پھر نیلی ساڑی کی طرف غور سے دیکھا اور ایسا کرتے ہوئے میری نگاہیں ایکا ایکی اس لڑکی کی نگاہوں سے ٹکرائیں کچھ اس طور پر کہ اس کو ایک دھکا سا لگا۔ وہ سنبھلی اور فوراً منہ سے لال جِیب نکال کر میرا منہ چڑایا۔ اپنی سہیلی کے کان میں کچھ کہا۔۔۔ اس سہیلی نے کنکھیوں سے میری طرف دیکھا۔۔۔ میرے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔\n\nعباس نے جو اپنا اطمینان کرنے کے لیے ایک بار پھر اس کی طرف دیکھ رہا تھا بلند آواز میں کہا، ’’بخدا تم اس کی توہین کر رہے ہو۔۔۔ گدھے کہیں کے۔۔۔ عورت کے معاملے میں نرے احمق ہو۔۔۔ کاٹھ کی کوئی پتلی نیلے رنگ میں لپیٹ لپاٹ کر تمہارے سامنے رکھ دی جائے۔ تم اسی کی بلائیں لینا شروع کر دو گے۔‘‘\n\nیہ الفاظ اتنی اونچی آواز میں ادا کیے گئے تھے کہ اس نیلی ساڑی والی نے سن لیے، جب وہ ہمارے پاس سے گزرنے لگی تو خود بخود ٹھٹک گئی۔ ایک لحظے کے لیے اس کے قدم رکے، گویا ہم میں سے کسی نے اس کو مخاطب کیا ہے۔ پھر فوراً اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اور اس احساس کی پیدا کی ہوئی خفت دور کرنے کے لیے اس نے یونہی پیچھے مڑ کر دیکھا اور کہا، ’’ارے۔۔۔ امینہ تو کہاں اڑ گئی؟‘‘!\n\nمجھے موقع ملا۔ میں نے جھٹ سے عباس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اور اسے اچھی طرح دبا کر اس سے کہا،’’آپ سے مل کر بہت خوشی حاصل ہوئی۔ مگر میرا نام محمد امین ہے۔۔۔ مجھے نیل کنٹھ بھی کہتے ہیں۔۔۔‘‘\n\nجل ہی تو گئی۔ مگر ہم زیرِ لب مسکراتے آگے بڑھ گئے۔ چند ہی قدم چلے ہوں گے کہ عباس نے اضطراب بھرے لہجے میں کہا، ’’شو شو ابھی تک نہیں آئی۔‘‘\n\n’’تو میں کیا کروں۔۔۔ میرے سر پر نمدہ باندھ دیجیے۔ تو میں ابھی سرکار کے لیے اسے تلاش کرکے لے آتا ہوں۔۔۔ آخر یہ کیا حماقت ہے بھئی۔ تم تماشا بھی دیکھنے دو گے یا کہ نہیں۔۔۔؟ اور پھر جناب یہ تو بتائیے۔ اگر وہ یہاں موجود بھی ہو تو آپ اس سے ملاقات کیونکر کر سکتے ہیں۔۔۔ آپ کوئی امریکی ناول نہیں پڑھ رہے۔ کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہے۔ ‘‘\n\nعباس میری بات فوراً سمجھ گیا۔ وہ اتنا بے وقوف نہیں تھا۔ چنانچہ ہم دونوں آہستہ آہستہ قدم اٹھائے گلی سے نکل کر بازار میں چلے گئے۔ موڑ پر رام بھروسے پنواڑی کی دکان کُھلی تھی جو بجلی کے قمقمے کے نیچے سرجھکائے اونگھ رہا تھا۔ ہم نے اس سے دو پان بنوائے اور وہیں بازار میں کرسیوں پر بیٹھ کر باتیں کرنے میں مشغول ہو گئے۔ دیر تک ہم ہندوستان میں مرد عورت کے درمیان جو اجنبیت چلی آ رہی ہے، اس کے بارے میں گفتگو کرتے رہے۔ جب ایک بج گیا تو عباس جمائی لے کر اٹھا اور کہنے لگا، ’’ بھئی اب نیند آ رہی ہے۔۔۔ اس حسرت کو ساتھ لیے جا رہا ہوں کہ شو شو کو نہ دیکھ سکا۔ سچ کہتا ہوں امین وہ لڑکی۔۔۔ میں اب تمہیں کیا بتاؤں کہ وہ کیا ہے؟‘‘\n\nعباس نے اپنے گھر کا رخ کیا اور میں نے اپنے گھر کا۔ راستے میں سوچتا رہا کہ عباس نے شو شو جیسی معمولی لڑکی میں ایسی کون سی غیر معمولی چیز دیکھی ہے جو ہر وقت اسی کا ذکر کرتا رہتا ہے۔ عباس کے مذاق کے متعلق میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ بڑا اونچا ہے۔ مگر یہاں اسے کیا ہو گیا تھا۔۔۔؟ شو شو۔۔۔شوشو۔۔۔ارے یہ کیا۔۔۔؟ دو تین بار اس کا نام میری زبان پر آیا تو میں نے یوں محسوس کیا کہ پیپر منٹ کی گولیاں چوس رہا ہوں۔۔۔ شو شو۔۔۔ ایک دو مرتبہ آپ بھی اسے دوہرایئے۔ ذرا جلدی جلدی۔۔۔ کیا آپ کو لذّت محسوس ہوئی۔۔۔؟ضرور ہوئی ہو گی مگر کیوں۔۔۔؟سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں عباس کی محبوبہ شو شو کے بارے میں خوامخواہ کیوں غور کرنے لگاہوں؟ اس میں ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں جو غورافروز ہو مگر۔۔۔ مگر۔۔۔ یہ شو شو نام میں دلچسپی ضرور تھی، اور کیا کہا تھا میں نے۔۔۔ لذت بھی۔‘‘\n\nشو شو میں بانجو کے تھرکتے ہوئے تاروں کی جھنکار سی پائی جاتی ہے۔ آپ یہ نام پکارئیے تو ایسا معلوم ہو گا کہ آپ نے کسی ساز کے تنے ہوئے تاروں پر زور سے گز پھیر دیا ہے۔شو شو۔۔۔سو شیلا کا دوسرا نام ہے۔ یعنی اس کی بگڑی ہوئی شکل مگر اس کے باوجود اس میں کتنی موسیقی ہے۔۔۔ سو شیلا۔۔۔ شو شو۔۔۔ شوشو۔۔۔ سو شیلا۔۔۔ غلط۔۔۔ سو شیلا میں شوشو کی سی موسیقیت ہر گز نہیں ہو سکتی!\n\nفرنگی شاعر بائرن شکیل تھامگر اس میں وہ کون سی شے تھی جو عورتوں کے سینے میں ہیجان برپا کر دیتی تھی۔۔۔؟ اس کا لنگڑا کر چلنا۔ گریٹا گاربو قطعاً خوش شکل نہیں ہےمگر اس میں کون سی چیز ہے جو فلمی تماشائیوں پر جادو کا کام کرتی ہے۔۔۔؟ اس کا ذرا بگڑے ہوئے انگریزی لہجے میں باتیں کرنا۔۔۔یہ کیا بات ہے کہ بعض اوقات اچھی بھلی شے کو بگاڑنے سے اس میں حسن پیدا ہو جاتا ہے۔۔۔؟\n\nسوشیلا پندرہ برس کی ایک معمولی لڑکی ہےجو ہمارے پڑوس میں رہتی ہے۔ اس عمر میں ان تمام چیزوں کی مالک ہے جو عام نوجوانوں کے سینے میں ہلچل پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ مگر عباس کی نظروں میں یہ کوئی خوبی نہ تھی۔ عام نوجوانوں کی طرح عباس کا دل گھاس کی پتی کے مانند نہیں تھا جو ہوا کے ہلکے سے جھونکے کے ساتھ ہی کانپنا شروع کر دیتی ہے۔۔۔ خدا جانے وہ اس کی کس ادا پر مرتا تھا۔ جو میرے ذہن سے بالا تر تھی۔\n\nمیں نے سوشیلا کی شکل وصورت اور اس کی صناعانہ قدروقیمت کے متعلق کبھی غور نہیں کیا تھا۔ مگر نہ جانے میں اس روز اس کے متعلق کیوں سوچتا رہا۔ بار بار وہ میرے ذہن میں آ رہی تھی۔ اور ہر بار میں سوشیلا کو چھوڑ کر اس کے مختصر نام شوشو کی موسیقی میں گم ہو جاتا تھا۔ انہی خیالات میں غرق گلی کے موڑ پر پہنچ گیا، اور مجھے اس چیز کا احساس اس وقت ہوا جب میں نے دفعتاً وہاں کی فضا کو غیر معمولی طور پر خاموش پایا۔ مکان میری نظروں کے سامنے تھا۔ اس کے باہر گلی کی دیوار کے ساتھ ایک برقی قمقمہ لٹک رہا تھا جس کی چوندھیا دینے والی روشنی ساری گلی میں بکھری ہوئی تھی۔۔۔ مجھے اس قمقمے کے ’’تجرد‘‘ پر بڑا ترس آیا۔ گلی بالکل سنسان تھی اور وہ قمقمہ متحیر معلوم ہوتا تھا۔\n\nگھر میں داخل ہواتو وہاں بھی خاموشی تھی۔ البتہ کبھی کبھار کسی بچے کے رونے کی لرزاں صدا اور پھر ساتھ ہی اس کی ماں کی خواب آلود آواز سنائی دیتی تھی۔ ڈیوڑھی کے ساتھ والا کمرہ کھول کر میں صوفے پر بیٹھ گیا۔ پاس ہی تپائی پر ’’رومان‘‘ پڑا تھا۔ اس کو اٹھا کرمیں نے ورق گردانی شروع کی۔ ورق الٹتے الٹتے اختر کی غزل پر نظریں جم گئیں۔ مطلع کس قدر حسین تھا۔ ؂\n\nنہ بھولے گا ترا راتوں کو شرماتے ہوئے آنا\n\nرسیلی انکھڑیوں سے نیند برساتے ہوئے آنا\n\nمجھے نیند آ گئی۔ کلاک کی طرف دیکھاتو چھوٹی سوئی دو کے ہندسے کے پاس پہنچ چکی تھی، اور اس کا اعلان کرنے کے لیے الارم میں ارتعاش پیدا ہو رہا تھا۔۔۔ٹن نن نن۔۔۔ ٹن نن نن۔۔۔ ن! دو بج گئے۔۔۔ میں اٹھا اور سونے کے ارادے سے سیڑھیاں طے کرکے اپنی خواب گاہ میں پہنچا۔ بہار کے دن تھے اور موسم خنک۔ میری خواب گاہ کی ایک کھڑکی باہر کی گلی میں کھلتی ہے۔ جس کے پیازی رنگ کے ریشمی پردے میں ہوا کے ہلکے ہلکے جھونکے بڑی پیاری لہریں پیدا کر رہے تھے۔ میں نے شب خوابی کا لباس پہنا اور سبز رنگ کا قمقمہ روشن کرکے بستر پر لیٹ گیا۔\n\nمیری پلکیں آپس میں ملنے لگیں۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں دھنکی ہوئی روئی کے بہت بڑے انبار میں دھنسا جا رہا ہوں۔ نیند اور بیداری کے درمیان ایک لحظہ باقی رہ گیا تھا کہ اچانک میرے کانوں میں کسی کے بولنے کی گنگناہٹ آئی۔ اس پر ملتی ہوئی پلکیں کھل گئیں۔ اور میں نے غنودگی دور کرتے ہوئے غور سے سننا شروع کیا۔ ساتھ والے کمرے میں کوئی بول رہا تھا۔ یکایک کسی کی دلکش ہنسی کی مترنم آواز بلند ہوئی اور پھلجھڑی کے نورانی تاروں کے مانند پرسکوت فضا میں بکھر گئی۔میں بستر پر سے اٹھا اور دروازے کے ساتھ کان لگا کر کھڑا ہو گیا۔\n\n’’دونوں دلہنیں ماشاء اللہ بڑی خوبصورت ہیں۔‘‘\n\n’’چندے آفتاب چندے ماہتاب‘‘\n\nغالباً دو لڑکیاں آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔ ان کے موضوع نے میری دلچسپی کو بڑھا دیا اور میں نے زیادہ غور سے سننا شروع کیا، ’’تلے والی سرخ ساڑی میں نرگس کتنی بھلی معلوم ہوتی تھی۔۔۔ گورے گورے گالوں پر بکھری ہوئی مقیش۔۔۔ جی چاہتا تھا بڑھ کر بلائیں لے لوں۔‘‘\n\n’’بچاری سمٹی جا رہی تھی۔‘‘\n\n’’سر تو اٹھایا ہی نہیں اس نے۔۔۔ پر۔۔۔‘‘\n\n’’پر یہ شرم و حیا کب تک رہے گی۔۔۔ آج رات۔۔۔‘‘\n\n’’آج رات۔۔۔!‘‘\n\n’’اوئی اللہ۔۔۔ تو کیسی باتیں کر رہی ہے شوشو۔ اس کے ساتھ ہی کپڑے کی سرسراہٹ سنائی دی۔ میرے جسم میں بجلی سی دوڑ گئی۔۔۔ شوشو۔۔۔ تو ان میں سے ایک سوشیلا بھی تھی۔ میری دلچسپی اور بھی بڑھ گئی اور میں نے دروازے میں کوئی دراڑ تلاش کرنا شروع کی، کہ ان کی گفتگو کے ساتھ ساتھ ان کو دیکھ بھی سکوں۔\n\nایک کواڑ کے نچلے تختے سے چھوٹی سی گانٹھ نکل گئی تھی، اور اس طرح چونی کے برابر سوراخ پیدا ہو گیا تھا۔ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر میں نے اس پر آنکھ جما دی۔ شو شو قالین پر بیٹھی بسکٹی رنگ کی ساڑی سے اپنی ننگی پنڈلی کو ڈھانک رہی تھی۔ اس کے پاس عفّت شرمائی ہوئی سی گاؤ تکیے پر دونوں کہنیاں ٹیکے لیٹی تھی۔\n\n’’اس وقت ان گوری چٹی دلہنوں پر کیا بیت رہی ہو گی؟‘‘ شوشو یہ کہہ کر رک گئی اور اپنی آواز دبا کر اس نے عفّت کی چوڑیوں کو چھیڑ کر ان میں کھنکھناہٹ پیداکرتے ہوئے کہا، ’’ذرا سوچو تو؟‘‘ عفت کے گال ایک لمحے کے لیے تھرتھرائے، ’’کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو شوشو۔‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ گویا ان باتوں سے دلچسپی نہیں میری بنّو کو۔ بس میں ہو تو ابھی سے ابھی اپنی شادی رچالو۔‘‘ عفّت نے سوشیلا کی بات کاٹ دی، ’’پر یہ دلہنوں کو کہاں لے گئے ہیں شوشو؟‘‘\n\n’’کہاں لے گئے ہیں؟‘‘ شوشو مسکرائی، ’’سمندر کی تہ میں جہاں جل پریوں کا راج ہے۔۔۔ کوہ قاف کے غاروں میں جہاں سینگوں والے جن رہتے ہیں۔۔۔‘‘ چند لمحات کے لیے ایک پر اسرار سکوت طاری رہا۔ اس کے بعد شوشو پھر بولی، ’’کہاں لے گئے ہیں۔۔۔؟ لے گیے ہوں گے اپنے اپنے کمروں میں!‘‘\n\n’’بیچاریوں کو نیند کیسے آئے گی؟‘‘ ایک لڑکی نے جو ابھی تک خاموش بیٹھی تھی اور جس کا نام میں نہیں جانتا تھا، اپنا اندیشہ ظاہر کیا۔شوشو کہنے لگی، ’’بے چاریاں۔۔۔! کوئی ذرا ان کے دل سے جا کر پوچھے کہ ان کی آنکھیں اس رت جگے کے لیے کتنی بے قرار تھیں؟‘‘\n\n’’تو بہت خوش ہوں گی؟‘‘\n\n’’اور کیا؟‘‘\n\n’’پر میں نے یہ سنا ہے کہ یہ لوگ بہت ستایا کرتے ہیں؟‘‘ عفّت سوشیلا کے پاس سرک آئی۔\n\n’’میں پوچھتی ہوں، تمہیں اندیشہ کس بات کا ہو رہا ہے۔۔۔؟ جب تمہارے وہ ستانے لگیں گے تو نہ ستانے دینا انھیں۔۔۔ ہاتھ پیر باندھ دینا ان کے۔۔۔ابھی سے فکر میں کیوں گھلی جا رہی ہو۔‘‘\n\n’’ہائیں ہائیں۔‘‘ عفّت نے تیزی سے کہا، ’’تم کیسی باتیں کر رہی ہو شوشو۔ دیکھو تو میرا دل کتنے زور سے دھڑکنے لگا ہے؟‘‘ عفّت نے سوشیلا کا ہاتھ اٹھا کر دل کے مقام پر رکھ دیا، ’’کیوں؟‘‘ شوشو نے عفّت کے دل کی دھڑکنیں غور سے سنیں اور بڑے پر اسرار لہجے میں کہا، ’’جانتی ہوکیا کہہ رہا ہے؟‘‘ عفت نے جواب دیا، ’’نہیں تو؟‘‘\n\n’’یہ کہتا ہے عفت بانو غزنوی دلہن بننا چاہتی ہے۔۔۔!‘‘\n\n’’ہٹاؤ جی، لاج تو نہیں آتی تمہیں۔‘‘ عفت نے مسکرا کر کروٹ بدلی، ’’دل اپنا چاہتا ہے تمہارا اور خواہ مخواہ یہ سب کچھ میرے سر منڈھ رہی ہو۔‘‘ پھر یکا یک اٹھ کھڑی ہوئی اور سوشیلا سے پوچھنے لگی، ’’ہاں، یہ تو بتاؤ شوشو تم بھلا کیسے آدمی سے شادی کرنا پسند کرو گی۔۔۔؟ میرے سر کی قسم، سچ سچ بتاؤ،مجھی کو ہائے ہائے کرو، اگر جھوٹ بولو!‘‘\n\n’’میں کیوں بتاؤں۔‘‘ یہ کہہ کر سوشیلا نے تیزی سے اپنے سر کو حرکت دی اور اس کا چہرہ (جو میری) نگاہوں سے پوشیدہ تھا، سامنے آگیا، میں نے غور سے دیکھا وہ مجھے بے حد حسین معلوم ہوئی۔ آنکھیں مست تھیں اور ہونٹ تلوار کے تازہ زخم کے مانند کھلے ہوئے تھے۔ سرکے چند پریشان بال برقی روشنی سے منّور فضا میں ناچ رہے تھے۔ چہرے کا گندمی رنگ نکھرا ہوا تھا اور سینہ پر سے ساڑی کا پلّو نیچے ڈھلک گیا تھا، ہولے ہولے دھڑک رہا تھا۔ چوڑے ماتھے پر سرخ بندیا بڑی پیاری معلوم ہوتی تھی۔\n\nعفّت نے اصرار کیا، ’’تمہیں میرے سر کی قسم بتاؤ؟‘‘ شوشو نے کہا، ’’پہلے تم بتاؤ۔‘‘\n\n’’تو سنو، مگر کسی سے کہو گی تو نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر عفّت کچھ شرما سی گئی، ’’میں چاہتی ہوں۔۔۔ میں چاہتی ہوں کہ میری شادی ایک ایسے نوجوان سے ہو۔۔۔ ایسے۔۔۔‘‘ شوشو بولی، ’’توبہ اب کہہ بھی دو۔‘‘ عفّت نے پیشانی پر سے بال ہٹائے اور کہا، ’’ایسے نوجوان سے ہو جس کا قد لمبا ہو جسم بڑے بھائی کی طرح سڈول ہو،انگلینڈ ریٹرنڈ ہو، انگریزی فرفر بولتا ہو۔۔۔ رنگ گورا اور نقش تیکھے ہوں، موٹر چلانا جانتا ہو اور بیڈمنٹن بھی کھیلتا ہو۔‘‘\n\nشوشو نے پوچھا، ’’بس کہہ چکیں؟‘‘\n\n’’ہاں ‘‘ عفّت نے نیم وا لبوں سے سوشیلا کی طرف غور سے دیکھنا شروع کیا۔\n\n’’میری دعا ہے کہ پرماتما تمہیں ایسا ہی پتی عطا فرمائیں۔‘‘ سوشیلا کا چہرہ بڑا سنجیدہ تھا، اور لہجہ ایسا تھا جیسے مندر میں کوئی مقدس منتر پڑھ رہی ہے۔ وہ لڑکی جو گفتگو میں بہت کم حصّہ لیتی تھی،بولی، ’’عفّت! اب شوشو کی باری ہے۔‘‘ عفّت جو شوشو کی ساڑی کا ایک کنارہ پکڑ کر اپنی انگلی کے گرد لپیٹ رہی تھی کہنے لگی،’’ بھئی اب تم بتاؤ ہم نے تو اپنے دل کی بات تم سے کہہ دی۔ ‘‘شوشو نے جواب دیا،’’ سن کے کیا کرو گی۔۔۔؟ میرے خیالات تم سے بالکل مختلف ہیں۔‘‘\n\n’’مختلف ہوں یا ملتے ہوں، پر ہم سنے بغیر تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔‘‘\n\n’’میں۔۔۔‘‘ سوشیلا نے چھت کی طرف دیکھا۔ اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگی، ’’میں۔۔۔ پر تم مذاق اڑاؤ گی عفّت!‘‘\n\n’’ارے۔۔۔تم سناؤ تو؟‘‘\n\nسوشیلا نے ایک آہ بھری، ’’میرے سپنے عجیب و غریب ہیں عفّت۔۔۔‘‘ یہ میرے دماغ میں صابن کے رنگ برنگے بلبلوں کی طرح پیدا ہوتے ہیں اور آنکھوں کے سامنے ناچ کر غائب ہو جاتے ہیں۔۔۔میں سوچتی ہوں۔۔۔ اور پھر سوچتی ہوں کہ میں کیوں سوچا کرتی ہوں۔ انسان جو کچھ چاہتا ہے اگر ہو جایا کرے تو کتنی اچھی بات ہے۔۔۔لیکن پھر زندگی میں کیا رہ جائے گا۔۔۔ خواہشیں اور تمنائیں کہاں سے پیدا ہوں گی۔۔۔ ہم جس طرح جی رہے ہیں ٹھیک ہے۔۔۔ جانتی ہوں کہ جو کچھ مانگ رہی ہوں،نہیں ملے گا۔ مگر دل میں مانگ تو رہے گی۔۔۔ کیا زندہ رہنے کے لیے یہی کافی نہیں؟‘‘\n\nعفّت اور دوسری لڑکی خاموش بیٹھی تھیں۔\n\nشوشو نے پھر کہنا شروع کیا، ’’میں اپنا جیون ساتھی ایک ایسے نوجوان کو بنانا چاہتی ہوں جو صرف عمر کے لحاظ سے ہی جوان نہ ہو، بلکہ اس کا دل، اس کا دماغ۔۔۔ اس کا رواں رواں جوان ہو۔۔۔ وہ شاعر ہو۔۔۔ میں شکل و صورت کی قائل نہیں۔۔۔ مجھے شاعر چاہیے جو میری محبت میں گرفتار ہو کر سرتاپا محبت بن جائے، جس کو میری ہر بات میں حسن نظر آئے۔۔۔ جس کے ہر شعر میں میری اور صرف میری تصویر ہو۔۔۔ جو میری محبت کی گہرائیوں میں گُم ہو جائے۔۔۔ میں اسے ان تمام چیزوں کے بدلے میں اپنی نسوانیت کا وہ تخفہ دوں گی جو آج تک کوئی عورت نہیں دے سکی۔‘‘\n\nوہ خاموش ہو گئی۔ عفّت حیرت کے مارے اس کا منہ تکنے لگی۔ اس کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ سوشیلا کی گفتگو کا کوئی مطلب نہیں سمجھ سکی۔ میں خود متحیر تھا کہ پندرہ سولہ برس کی اس دبلی پتلی لڑکی کے سینے میں کیسے کیسے خیالات کروٹیں لے رہے ہیں۔ اس کا ایک ایک لفظ دماغ میں گونج رہا تھا۔\n\n’’اگر وہ مجھے نظر آ جائے‘‘ یہ کہہ کر سوشیلا آگے بڑھی اور عفت کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر کہنے لگی، ’’تو میں اس کے استقبال کے لیے بڑھوں اور اس کے ہونٹوں پر وہ بوسہ دوں۔ جو ایک زمانے سے میرے ہونٹوں کے نیچے جل رہا ہے۔‘‘ اور شوشو نے عفّت کے حیرت سے کھلے ہوئے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ جما دیے۔۔۔ اور دیر تک ان کو جمائے رکھا۔ تعجب ہے کہ عفّت بالکل ساکت بیٹھی رہی اور معترض نہ ہوئی۔\n\nجب دونوں کے لب ایک مدھم آواز کےساتھ جدا ہوئے اور ان کے چہرے مجھے نظر آئے تو ایک عجیب و غریب نظارہ دیکھنے میں آیا۔ جس کو الفاظ بیان ہی نہیں کر سکتے۔ عفّت اس شہد کی مکھی کی طرح مسرورو متعجب معلوم ہوتی تھی جس نے پہلی مرتبہ پھول کی نازک پتیوں پر بیٹھ کر اس کا رس چوسنے کی لذت محسوس کی ہو۔۔۔ اور سوشیلا۔۔۔ وہ اور زیادہ پر اسرار ہو گئی تھی۔\n\n’’آؤ اب سوئیں۔‘‘\n\nیہ خواب آلود اور دھیمی آواز عفت کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی کپڑوں کی سرسراہٹ بھی سنائی دی اور میں خیالات کے گہرے سمندر میں غوطہ لگا گیا۔ گندمی رنگ کی ننھی سی گڑیا، اپنے چھوٹے سے دماغ میں کیسے کیسے انوکھے خیالات کی پرورش کر رہی تھی۔۔۔ اور وہ کون سا تحفہ اپنے دامنِ نسوانیت میں چھپائے بیٹھی تھی۔ جو آج تک کوئی عورت مرد کو پیش نہیں کر سکی۔۔۔؟\n\nمیں نے سوراخ میں سے دیکھا۔ شوشواور عفت دونوں ایک دوسری کے گلے میں باہیں ڈالے سو رہی تھیں۔ شوشو کے چہرے پر بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کے سانس سے ان میں خفیف سا ارتعاش پیدا ہو رہا تھا۔ وہ کس قدر تروتازہ معلوم ہوتی تھی۔۔۔ واقعی وہ اس قابل تھی کہ اس پر شعر کہے جائیں۔۔۔ لیکن عباس تو شاعر نہیں تھا۔۔۔؟ پھر پھر۔۔۔!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88_%D8%B4%D9%88"} {"title": "شوخ تھے رنگ ہر اک دور میں افسانوں کے", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوخ تھے رنگ ہر اک دور میں افسانوں کے\nدل دھڑکتے ہی رہے آس میں انسانوں کے\n\nعلم نے خیر نہ چاہی کبھی انسانوں کی\nذرے برباد یونہی تو نہیں ویرانوں کے\n\nراہیں شہروں سے گزرتی رہیں ویرانوں کی\nنقش ملتے رہے کعبے میں صنم خانوں کے\n\nزندگی والہ و شیدا رہی فرزانوں کی\nنام روشن ہوئے ہر دور میں دیوانوں کے\n\nمریمی مورد تہمت رہی ارمانوں کی\nٹکڑے اک دفتر الزام ہیں دامانوں کے\n\nفکر سب کو ہے رفو کے لیے سامانوں کی\nپوچھتا کوئی نہیں حال گریبانوں کے\n\nقدر کچھ کم تو نہیں اب بھی تن آسانوں کی\nروز و شب آج بھی بھاری ہیں گراں جانوں کے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92"} {"title": "شوخ کہتا ہے بے حیا جانا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوخ کہتا ہے بے حیا جانا\nدیکھو دشمن نے تم کو کیا جانا\n\nشعلۂ دل کو ناز تابش ہے\nاپنا جلوہ ذرا دکھا جانا\n\nشوق نے دورباش اعدا کو\nاس کی محفل میں مرحبا جانا\n\nاس کے اٹھتے ہی ہم جہاں سے اٹھے\nکیا قیامت ہے دل کا آ جانا\n\nگھر میں خود رفتگی سے دھوم مچی\nکیونکے ہو اس تلک مرا جانا\n\nپوچھنا حال یار ہے منظور\nمیں نے ناصح کا مدعا جانا\n\nمے نہ اتری گلے سے جو اس بن\nمجھ کو یاروں نے پارسا جانا\n\nشکوہ کرتا ہے بے نیازی کا\nتو نے مومنؔ بتوں کو کیا جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "شوخی اف رے تری نظر کی", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوخی اف رے تری نظر کی\nیہ پھانس بنی مرے جگر کی\n\nزلفوں نے وہیں بلائیں لے لیں\nرخ سے جو ذرا نقاب سرکی\n\nکیا پوچھتے ہو شب جدائی\nجس طرح سے بن پڑی بسر کی\n\nدل دے کے انہیں میں دیکھتا ہوں\nیہ میری خطا ہے یا نظر کی\n\nنکلیں بھی تو یہ عزیزؔ دل سے\nنالوں میں کمی نہیں اثر کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D8%AE%DB%8C_%D8%A7%D9%81_%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "شوخی سے کشمکش نہیں اچھی حجاب کی", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوخی سے کشمکش نہیں اچھی حجاب کی\nکھل جائے گی گرہ ترے بند نقاب کی\n\nشیشے کھلے نہیں ابھی ساغر چلے نہیں\nاڑنے لگی پری کی طرح بو شراب کی\n\nدو دن کی زندگی پہ الٰہی یہ غفلتیں\nآنکھیں تو ہیں کھلی ہوئی حالت ہے خواب کی\n\nہوتے ہی صبح وصل کی شب دیکھتا ہوں کیا\nتلوار بن گئی ہے کرن آفتاب کی\n\nآتا نہیں کسی پہ دل بد گماں عزیزؔ\nجمتی نہیں کسی پہ نظر انتخاب کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D8%AE%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DA%A9%D8%B4_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "شوخی نے تیری لطف نہ رکھا حجاب میں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوخی نے تیری لطف نہ رکھا حجاب میں\nجلوے نے تیرے آگ لگائی نقاب میں\n\nوہ قطرہ ہوں کہ موجۂ دریا میں گم ہوا\nوہ سایہ ہوں کہ محو ہوا آفتاب میں\n\nاس صوت جاں نواز کا ثانی بنا نہیں\nکیا ڈھونڈتے ہو بربط و عود و رباب میں\n\nپوچھی تھی ہم نے وجہ ملاقات مدعی\nاک عمر ہو گئی انہیں فکر جواب میں\n\nلڑتی نہ جائے آنکھ جو ساقی سے شیفتہؔ\nہم کو تو خاک لطف نہ آئے شراب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D8%AE%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شور آہوں کا اٹھا نالہ فلک سا نکلا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شور آہوں کا اٹھا نالہ فلک سا نکلا\nآج اس دھوم سے ظالم تیرا شیدا نکلا\n\nیوں تو ہم تھے یوں ہی کچھ مثل انار و مہتاب\nجب ہمیں آگ دکھائی تو تماشا نکلا\n\nغم سے ہم بھانمتی بن کے جہاں بیٹھے تھے\nاتفاقاً کہیں وہ شوخ بھی واں آ نکلا\n\nسینے کی آگ دکھانے کو دہن سے اپنے\nشعلے پر شعلہ بھبھوکے پہ بھبھوکا نکلا\n\nمت شفق کہہ یہ ترا خون فلک پر ہے نظیرؔ\nدیکھ ٹپکا تھا کہاں اور کہاں جا نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D8%A2%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "شور اب عالم میں ہے اس شعبدہ پرداز کا", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شور اب عالم میں ہے اس شعبدہ پرداز کا\nچرخ بھی اک شعبدہ ہے جس سراپا ناز کا\n\nسادہ روی قہر تھی اور اس پہ اب آیا ہے خط\nدیکھیے انجام کیا ہوتا ہے اس آغاز کا\n\nتیر ہووے جس کی مژگاں اور ہو ابرو کماں\nدل نہ ہو قربان کیوں کر ایسے تیر انداز کا\n\nاس کے شاہین نگہ کو طائر دل کے لیے\nپنجۂ مژگاں نہیں گویا ہے چنگل باز کا\n\nعیشؔ مجھ کو بے پر و بالی پر پرواز ہے\nمیں نہیں محتاج کچھ بال و پر پرواز کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%A8_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D8%AF%DB%81_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "شور ہے اس سبزۂ رخسار کا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شور ہے اس سبزۂ رخسار کا\nآج طوطی بولتا ہے یار کا\n\nکس ادا سے ہاتھ رکھا قبضے پر\nپڑ گیا پتلی میں دم تلوار کا\n\nاشک بے تاثیر سے ہوں آب آب\nعقدہ ہوں میں آنسوؤں کے تار کا\n\nبجھ گیا میرا چراغ زندگی\nدیکھ کر وہ قمقمہ رخسار کا\n\nکس مرض کی ہے دوا عناب لب\nخط‌ رخ نسخہ ہے کس بیمار کا\n\nاب کی ایسی ہار ہے فصل بہار\nگل ہے بتخالہ زبان خار کا\n\nابروئے غلماں ہے وہ محراب در\nزلف حورا سایہ ہے دیوار کا\n\nلینے والے لے گئے ہوش و حواس\nبک گیا سودا مرے بازار کا\n\nجب میں نکلا خلق نے گھیرا مجھے\nمیرا سودا قرض ہے بازار کا\n\nجوۓ جنت ہے چہرے صیاد کی\nمیری گردن پر ہے حق گلزار کا\n\nآب کاری کی ہو خدمت بحرؔ کو\nنا خدا ہے کشتیٔ میخوار کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%A8%D8%B2%DB%82_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "شوق اپنا آپ میں اپنی زباں سے کیوں کہوں", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق اپنا آپ میں اپنی زباں سے کیوں کہوں\nدل جو کچھ کہتا ہے وہ اس بد گماں سے کیوں کہوں\n\nتم سمجھ لو سوچ لو تم تاڑ لو پہچان لو\nبات اپنے دل کی میں اپنی زباں سے کیوں کہوں\n\nکان میں سن لو ادھر آ کر مری اک بات تم\nتم سے کچھ کہتا ہوں میں سارے جہاں سے کیوں کہوں\n\nداستاں اول سے سنیے میری سننی ہے اگر\nآپ کہتے ہیں جہاں سے میں وہاں سے کیوں کہوں\n\nکان میں چپکے سے بیخودؔ جو کہا ہے یار نے\nرشک آتا ہے مجھے وہ رازداں سے کیوں کہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%A2%D9%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "شوق بتان انجمن آرا لیے ہوئے", "poet_page": "مصنف:سہا مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق بتان انجمن آرا لیے ہوئے\nپھرتا ہوں حشر میں وہی دنیا لیے ہوئے\n\nآتی ہے کس دماغ سے اک اک نگاہ حسن\nدل میں ہزار فتنۂ برپا لیے ہوئے\n\nیاد آ رہی ہے ان کی وہ تجدید التفات\nپہلوئے صد ندامت ایفا لیے ہوئے\n\nکس کی تلاش ہے کہ سر طور اس طرح\nآئے ہو مشعل رخ زیبا لیے ہوئے\n\nبیباک ہیں کہ جان کے پہچانتے نہیں\nمیری نگاہ رنگ تمنا لیے ہوئے\n\nاب کیا ہو کیف عشق کہ مدت گزر گئی\nان کے لبوں سے جرعۂ صہبا لیے ہوئے\n\nپھر ان کو چھیڑتا ہوں کہ عرصہ بہت ہوا\nدل سے کچھ انتقام تمنا لیے ہوئے\n\nدیکھا خرام ناز سہاؔ جا رہے ہیں وہ\nپستی کو سوئے عالم بالا لیے ہوئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D8%A2%D8%B1%D8%A7_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچ", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچ\nجوش کرتا ہے جنوں مجنوں کا گلزاروں کے بیچ\n\nعاشقاں کے بیچ مت لے جا دل بے شوق کو\nشیشۂ خالی کو کیا عزت ہے مے خواروں کے بیچ\n\nرو بہ رو اور آنکھ اوجھل ایک ساں ہو جس کا پیار\nاس طرح کا کم نظر آتا ہے کوئی یاروں کے بیچ\n\nآبروؔ غم کے بھنور میں دل خدا سیتی لگا\nناخدا کچھ کام آتا نہیں ہے منجدھاروں کے بیچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%81%DA%AF%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%86"} {"title": "شوق خراش خار مرے دل میں رہ گیا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق خراش خار مرے دل میں رہ گیا\nپائے‌ تلاش پہلی ہی منزل میں رہ گیا\n\nمیں زمزمہ سرا تو چمن سے گیا ولے\nافسانہ اک گروہ عنادل میں رہ گیا\n\nزنجیر موج پاؤں میں آ کر لپٹ گئی\nطوفانیوں کا دھیان ہی ساحل میں رہ گیا\n\nتصویر اس کی کیسے کھنچی مانیٔ خیال\nحیران جس کی شکل و شمائل میں رہ گیا\n\nکام اپنا تو تمام کیا یاس نے ہوسؔ\nجی اشتیاق خنجر قاتل میں رہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%B4_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "شوق دربار میں ملتے رہے دربانوں سے", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق دربار میں ملتے رہے دربانوں سے\nہم نے آنکھوں سے نہ دیکھا جو سنا کانوں سے\n\nطلب مہر تھی ظاہر مرے ارمانوں سے\nکہہ گیا ایک ہی قصہ کئی عنوانوں سے\n\nبزم کی شان گھٹی چاک گریبانوں سے\nجانے بھی دیجے خطا ہو گئی نادانوں سے\n\nمحو دیدار ہوئے ہم تو کسی کی نہ سنی\nنور آنکھوں میں جو آیا تو گئے کانوں سے\n\nان کے آنے کی خبر آئی الٰہی آمین\nکاش آنکھوں سے بھی دیکھوں جو سنا کانوں سے\n\nقیس و فرہاد کی تقلید ہے آشفتہ سری\nعاشقی عام ہوئی ایسے ہی نادانوں سے\n\nمیں سمجھتا ہوں مجھے آپ نے مہمان کیا\nکیوں تعارف نہ کرایا گیا مہمانوں سے\n\nصاحب پہچان لئے جاتے ہیں ان کے عاشق\nآرزؤں سے تمناؤں سے ارمانوں سے\n\nکہیں خودداروں کی وحشت کا پتہ چلتا ہے\nآستینوں سے گریبانوں سے دامانوں سے\n\nکبھی چھوٹوں سے بڑے کام نکل جاتے ہیں\nمیل رکھ بار گہہ حسن کے دربانوں سے\n\nدرد مندوں پہ ذرا رحم کرو بے دردو\nضبط فریاد زیادہ تو نہیں جانوں سے\n\nوہ جو انجان ہیں محفل میں تو اپنا بھی سلام\nہم بھی ملتے نہیں اس طور کے انجانوں سے\n\nمنہ پہ بکھرا لئے بال آپ نے سبحان اللہ\nدل لگی دیکھ کے کرتے ہیں پریشانوں سے\n\nاے صفیؔ رنگ جو اپنا ہے اسے کیوں بدلوں\nتہمتوں سے مجھے اب ڈر ہے نہ بہتانوں سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%AF%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "شوق دل فکر دہن میں ہے جو رہبر کی طرح", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق دل فکر دہن میں ہے جو رہبر کی طرح\nڈھونڈھتا ہوں چشمۂ حیواں سکندر کی طرح\n\nمیری آہوں کو عبث ہے نارسائی کا گلہ\nدل میں گھر کرنا تو سیکھیں یاد دلبر کی طرح\n\nسر سے پا تک ہے مثال گردن تسلیم خم\nکس سے ہوتا ہے ادب قاتل کا خنجر کی طرح\n\nتھا جو وقت قتل ارمان ہم آغوشی مجھے\nخوں کی چھینٹیں لپٹی ہیں خنجر سے جوہر کی طرح\n\nدرد دل اٹھ اٹھ کے ڈھاتا ہے قیامت جان پر\nشام ہجر عاشقاں ہے صبح محشر کی طرح\n\nدل کو آنکھوں نے سجھائی ہیں جو راہیں عشق کی\nہر جگہ مجھ کو لیے پھرتا ہے رہبر کی طرح\n\nیاد گیسو اک بلائے جاں ستاں ہے ہجر میں\nکاٹے کھاتا ہے مرا گھر مجھ کو اژدر کی طرح\n\nاس کو لطف درد اس کو لذت مشق جفا\nدل کی عادت بگڑی ہے خوئے ستم گر کی طرح\n\nان کی آمد کی خبر سن کر ہجوم شوق سے\nکشمکش ہے خانۂ دل میں بھرے گھر کی طرح\n\nمثل دیوانہ پھرا کرتا ہے کیوں یہ روز و شب\nآسماں کو بھی ہے کیا سودا مرے سر کی طرح\n\nآپ کی غفلت سے ساری آرزوئیں مر گئیں\nدل مرا ویران ہے اجڑے ہوئے گھر کی طرح\n\nبن کے شبنم لاکھ ٹپکیں چشم اختر سے سرشک\nروئے گا کیا آسماں اس دیدۂ تر کی طرح\n\nٹکڑے ٹکڑے دل جگر ہیں تیز فقروں سے حضور\nآپ کی تیغ زباں چلتی ہے خنجر کی طرح\n\nراہ میں دل نیچی نظروں سے ہوا جاتا ہے ذبح\nجھک کے بھی چلتا ہے وہ قاتل تو خنجر کی طرح\n\nشکر خالق ہے کہ بے منت میں ہوتا ہوں شہید\nدل کو یاد ابروئے قاتل ہے خنجر کی طرح\n\nتوبہ توبہ کیا غضب ساقی کی غفلت نے کیا\nسب کی صورت دیکھتا ہوں رند بے زر کی طرح\n\nہجر ساقی میں نظر آیا کہیں گر شغل مے\nڈبڈبائے دیدۂ تر چشم ساغر کی طرح\n\nآرزوئے وصل قاتل اتنی ہے مجھ زار کو\nہوں ہمہ تن صورت آغوش خنجر کی طرح\n\nاے نظرؔ عشق میان یار کا ہے یہ اثر\nجسم لاغر جو نہاں ہے جاں کے جوہر کی طرح", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%AF%D9%84_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%81%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "شوق دیتا ہے مجھے پیغام عشق", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق دیتا ہے مجھے پیغام عشق\nہاتھ میں لبریز لے کر جام عشق\n\nآپ ہوں ذوق اسیری سے خراب\nکوئی لے جائے مجھے تا دام عشق\n\nاشتیاق سجدہ سے بیتاب ہوں\nاے حریم کعبۂ اسلام عشق\n\nقیس و وامق سے کہاں اب اہل دل\nتھا انہیں لوگوں سے روشن نام عشق\n\nنعش پر فرہاد کے شیریں گئی\nوہ ستم پروردۂ آلام عشق\n\nاور یوں کرنے لگی رو کر خطاب\nاے وفا کی جان اے ناکام عشق\n\nتجھ سے رونق آشنا ہے صبح شوق\nتجھ سے زینت آفریں ہے شام عشق\n\nجان دے کر تو تو چھوٹا رنج سے\nرہ گئی میں ہی بلا آشام عشق\n\nتیرا مرنا عشق کا آغاز تھا\nموت پر ہوگا مرے انجام عشق\n\nوحشتؔ وحشی کہ تھا سب سے الگ\nہو گیا کیا بے تکلف رام عشق", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "شوق راتوں کو ہے درپئے کہ تپاں ہو جاؤں", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق راتوں کو ہے درپئے کہ تپاں ہو جاؤں\nرقص وحشت میں اٹھوں اور دھواں ہو جاؤں\n\nساتھ اگر باد سحر دے تو پس محمل یار\nاک بھٹکتی ہوئی آواز فغاں ہو جاؤں\n\nاب یہ احساس کا عالم ہے کہ شاید کسی رات\nنفس سرد سے بھی شعلہ بجاں ہو جاؤں\n\nلا صراحی کہ کروں وہم و گماں غرق شراب\nاس سے پہلے کہ میں خود وہم و گماں ہو جاؤں\n\nوہ تماشا ہوں ہزاروں مرے آئینے ہیں\nایک آئینے سے مشکل ہے عیاں ہو جاؤں\n\nشوق میں ضبط ہے ملحوظ مگر کیا معلوم\nکس گھڑی بے خبر سود و زیاں ہو جاؤں\n\nایسا انداز غزل ہو کہ زمانے میں ظفرؔ\nدور آئندہ کی قدروں کا نشاں ہو جاؤں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D9%BE%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%BE%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA"} {"title": "شوق سے خود جو مرے راہنما ہوتے ہیں", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق سے خود جو مرے راہنما ہوتے ہیں\nمری قسمت کہ وہی آبلہ پا ہوتے ہیں\n\nلفظ کی بزم پر اسرار میں خوبان خیال\nکبھی مستور کبھی چہرہ کشا ہوتے ہیں\n\nشعر کے روپ میں ڈھلتے نہیں وہ ہنگامے\nجو مری بزم تصور میں بپا ہوتے ہیں\n\nاب یہ عالم ہے کہ مرنے پہ چلے آئیں جو دوست\nوہ بھی من جملۂ ارباب وفا ہوتے ہیں\n\nیہی بت شب کے اندھیرے میں جو ہیں طالب شوق\nیہی بت دن کے اجالے میں خدا ہوتے ہیں\n\nکوئی پروانوں کو سمجھاؤ کہ جینے کے سوا\nاور بھی چند مقامات وفا ہوتے ہیں\n\nبادہ نوشی پہ مصر بادہ فروشی پہ خفا\nمحو حیرت ہوں کہ یہ لوگ بھی کیا ہوتے ہیں\n\nشرع و آئیں کی ہر اک آڑ میں کرتے ہیں سوال\nیہ جو زرتار قباؤں میں گدا ہوتے ہیں\n\nکیا بتائیں تجھے کیوں ہوتے ہیں اس بن بے چین\nناصحا تنگ نہ کر کہہ جو دیا ہوتے ہیں\n\nمجھے بیتی ہوئی راتوں کی مہک آتی ہے\nہجر کے دن بھی تری زلف رسا ہوتے ہیں\n\nلب پہ ہوتی ہوئی آنکھوں میں ہنسی جاتی ہے\nاے بتو پیار کے انداز جدا ہوتے ہیں\n\nمرے گلشن میں جو پابند قفس ہیں وہ طیور\nدیدہ ور شعلہ زباں نغمہ سرا ہوتے ہیں\n\nنظر آتے ہیں جہاں خون کے دریا جاری\nتہ میں دیوانوں کے نقش کف پا ہوتے ہیں\n\nشعر سن کر مرے ہنستے ہیں کہ عاشق ہے کہیں\nیعنی خوبان ستم پیشہ بلا ہوتے ہیں\n\nقرض جتنے غم دوراں کے ہیں مجھ پر عابدؔ\nغم جاناں کے وسیلے سے ادا ہوتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شوق سے دل کو تہ تیغ نظر ہونے دو", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق سے دل کو تہ تیغ نظر ہونے دو\nجس طرف اس کی طبیعت ہے ادھر ہونے دو\n\nدل کی کیا اصل ہے پتھر بھی پگھل جائیں گے\nاے بتو تم مرے نالوں میں اثر ہونے دو\n\nغیر تو رہتے ہیں دن رات تمہارے دل میں\nکبھی اس گھر میں ہمارا بھی گزر ہونے دو\n\nناصحو ہم تو خریدیں گے متاع الفت\nتم کو کیا فائدہ ہوتا ہے ضرر ہونے دو\n\nولولے اگلی محبت کے کہاں سے لائیں\nاور پیدا کوئی دل اور جگر ہونے دو\n\nچھیڑنے کو مرے دربان کہا کرتے ہیں\nٹھہرو جلدی نہ کرو ان کو خبر ہونے دو\n\nکیوں مزا دیکھ لیا دل کی کشش کا تم نے\nہم نہ کہتے تھے محبت میں اثر ہونے دو\n\nاے شب وصل و شب عیش جوانی ٹھہرو\nمیں بھی ہم راہ تمہارے ہوں سحر ہونے دو\n\nرنج و راحت ہے بشر ہی کے لیے اے جوہرؔ\nوہ بھی دن دیکھ لیے یوں بھی بسر ہونے دو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%88"} {"title": "شوق سے ناکامی کی بدولت کوچۂ دل ہی چھوٹ گیا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق سے ناکامی کی بدولت کوچۂ دل ہی چھوٹ گیا\nساری امیدیں ٹوٹ گئیں دل بیٹھ گیا جی چھوٹ گیا\n\nفصل گل آئی یا اجل آئی کیوں در زنداں کھلتا ہے\nکیا کوئی وحشی اور آ پہنچا یا کوئی قیدی چھوٹ گیا\n\nلیجیے کیا دامن کی خبر اور دست جنوں کو کیا کہئے\nاپنے ہی ہاتھ سے دل کا دامن مدت گزری چھوٹ گیا\n\nمنزل عشق پہ تنہا پہنچے کوئی تمنا ساتھ نہ تھی\nتھک تھک کر اس راہ میں آخر اک اک ساتھی چھوٹ گیا\n\nاس نے عدو کا سوگ کیا یاں اس سے وفا کی آس بندھی\nداغ تمنا رنگ حنا کی دیکھا دیکھی چھوٹ گیا\n\nفانیؔ ہم تو جیتے جی وہ میت ہیں بے گور و کفن\nغربت جس کو راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%82_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C_%DA%86%DA%BE%D9%88%D9%B9_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "شوق نے عشرت کا ساماں کر دیا", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق نے عشرت کا ساماں کر دیا\nدل کو محو روئے جاناں کر دیا\n\nتو نے اے جمعیت دل کی ہوس\nاور بھی مجھ کو پریشاں کر دیا\n\nواہ رے زخم محبت کی خلش\nجس کو دل نے راحت جاں کر دیا\n\nخود نمائی خود فروشی ہو گئی\nآپ نے اپنے کو ارزاں کر دیا\n\nان کے دامن تک نہ پہنچا دست شوق\nاس کو مصروف گریباں کر دیا\n\nبزم میں جب غیر پر ڈالی نظر\nآپ نے مجھ پر بھی احساں کر دیا\n\nکچھ بڑھا کر میں نے بہر شرح غم\nچاک کو عنوان داماں کر دیا\n\nجھک گئی آخر حیا سے ان کی آنکھ\nشوق نے مجھ کو پشیماں کر دیا\n\nپائے بت پر میں نے دو سجدے کئے\nکفر کو بھی جزو ایماں کر دیا\n\nاسے خیال لیلیٰ مجنوں نواز\nتو نے صحرا کو گلستاں کر دیا\n\nہو کے زائل قوت احساس نے\nمشکلوں کو میری آساں کر دیا\n\nدل نہیں جاتا تھا سوئے راہ دیر\nکیسے کافر کو مسلماں کر دیا\n\nتو نے وحشتؔ کیوں خلاف رسم عشق\nدرد کو رسوائے درماں کر دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%86%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھے\nمیں کہاں جاتا ہوں کوئی لیے جاتا ہے مجھے\n\nجلوہ کس آئینہ رو کا ہے نگاہوں میں کہ پھر\nدل حیرت زدہ آئینہ بناتا ہے مجھے\n\nعاشقی شیوہ لڑکپن سے ہے اپنا ناصح\nکیا کروں میں کہ یہی کام کچھ آتا ہے مجھے\n\nلطف کر لطف کہ پھر مجھ کو نہ دیکھے گا کبھی\nیاد رکھ یاد کہ تو در سے اٹھاتا ہے مجھے\n\nوحشتؔ اس مصرع جرأت نے مجھے مست کیا\nکچھ تو بھایا ہے کہ اب کچھ نہیں بھاتا ہے مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "شوق کو بے ادب کیا عشق کو حوصلہ دیا", "poet_page": "مصنف:باسط بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق کو بے ادب کیا عشق کو حوصلہ دیا\nعذر نگاہ دوست نے جرم نظر سکھا دیا\n\nآہ وہ بد نصیب آہ نالۂ عندلیب آہ\nمیرا فسانۂ الم جیسے مجھے سنا دیا\n\nٹوٹ سکا نہ پستئ فکر و نظر کا سلسلہ\nدام نہ قفس کو ہم نے خود دام و قفس بنا دیا\n\nمیرے مذاق دید کی شرم اسی کے ہاتھ ہے\nجس نے شعاع حسن کو حسن نظر بنا دیا\n\nناز و نیاز آشنا تغافل اعتبار\nہائے کس اہتمام سے تم نے مجھے مٹا دیا\n\nخوب علاج کر دیا اپنے مریض عشق کا\nدرد مٹانے آئے تھے درد دیا مٹا دیا\n\nہائے وہ حسن و عشق جب باسطؔ بیقرار کو\nبرق نگاه دوست نے پھونک دیا جلا دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AF%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%AD%D9%88%D8%B5%D9%84%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "شوق کے ہاتھوں اے دل مضطر کیا ہونا ہے کیا ہوگا", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق کے ہاتھوں اے دل مضطر کیا ہونا ہے کیا ہوگا\nعشق تو رسوا ہو ہی چکا ہے حسن بھی کیا رسوا ہوگا\n\nحسن کی بزم خاص میں جا کر اس سے زیادہ کیا ہوگا\nکوئی نیا پیماں باندھیں گے کوئی نیا وعدہ ہوگا\n\nچارہ گری سر آنکھوں پر اس چارہ گری سے کیا ہوگا\nدرد کہ اپنی آپ دوا ہے تم سے کیا اچھا ہوگا\n\nواعظ سادہ لوح سے کہہ دو چھوڑے عقبیٰ کی باتیں\nاس دنیا میں کیا رکھا ہے اس دنیا میں کیا ہوگا\n\nتم بھی مجازؔ انسان ہو آخر لاکھ چھپاؤ عشق اپنا\nیہ بھید مگر کھل جائے گا یہ راز مگر افشا ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "شوق گریزاں", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دیر و کعبہ کا میں نہیں قائل\nدیر او کعبہ کو آستاں نہ بنا\n\nمجھ میں تو روح سرمدی مت پھونک\nرونق بزم عارفاں نہ بنا\n\nدشت ظلمات میں بھٹکنے دے\nمیری راہوں کو کہکشاں نہ بنا\n\nعشرت جہل و تیرگی مت چھین\nمحرم راز دو جہاں نہ بنا\n\nبجلیوں سے جہاں نہ ہو چشمک\nاس گلستاں میں آشیاں نہ بنا\n\nخار چشم حریف رہنے دے\nحرز بازوئے دوستاں نہ بنا\n\nمیری خود بینیاں نہ لے مجھ سے\nجلوہ افروز مہوشاں نہ بنا\n\nدل صد پارۂ حوادث کو\nتختۂ مشق گل رخاں نہ بنا\n\nمیری خودداریوں کا خون نہ کر\nمطرب بزم دلبراں نہ بنا\n\nماہ و انجم سے مجھ کو کیا نسبت\nمجھ کو ان کا مزاج داں نہ بنا\n\nجس کو اپنی خبر نہیں رہتی\nاس کو سالار کارواں نہ بنا\n\nمیری جانب نگاہ لطف نہ کر\nغم کو اس درجہ کامراں نہ بنا\n\nاس زمیں کو زمیں ہی رہنے دے\nاس زمیں کو تو آسماں نہ بنا\n\nمیری ہستی نیاز و شوق سہی\nاس کو عنوان داستاں نہ بنا\n\nراز تیرا چھپا نہیں سکتا\nتو مجھے اپنا راز داں نہ بنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2%D8%A7%DA%BA"} {"title": "شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا\nقیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا\n\nزخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یا رب\nتیر بھی سینۂ بسمل سے پرافشاں نکلا\n\nبوئے گل نالۂ دل دود چراغ محفل\nجو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا\n\nدل حسرت زدہ تھا مائدۂ لذت درد\nکام یاروں کا بہ قدر لب و دنداں نکلا\n\nتھی نوآموز فنا ہمت دشوار پسند\nسخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا\n\nدل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔ\nآہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا\n\nکارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا\nمیری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا\n\nساغر جلوۂ سرشار ہے ہر ذرۂ خاک\nشوق دیدار بلا آئنہ ساماں نکلا\n\nکچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر\nجس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا\n\nکس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یا رب\nنقش ہر ذرہ سویداۓ بیاباں نکلا\n\nشور رسوائی دل دیکھ کہ یک نالۂ شوق\nلاکھ پردے میں چھپا پر وہی عریاں نکلا\n\nشوخیٔ رنگ حنا خون وفا سے کب تک\nآخر اے عہد شکن تو بھی پشیماں نکلا\n\nجوہر ایجاد خط سبز ہے خود بینیٔ حسن\nجو نہ دیکھا تھا سو آئینے میں پنہاں نکلا\n\nمیں بھی معذور جنوں ہوں اسدؔ اے خانہ خراب\nپیشوا لینے مجھے گھر سے بیاباں نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%DB%81%D8%B1_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%D8%B1_%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "شوق ہے اس کو خود نمائی کا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق ہے اس کو خود نمائی کا\nاب خدا حافظ اس خدائی کا\n\nہنسی آتی ہے اپنے رونے پر\nاور رونا ہے جگ ہنسائی کا\n\nاور تو ہم کو کچھ نہیں آتا\nکام کرتے ہیں آشنائی کا\n\nدل ترا صاف ہو نہیں سکتا\nہیچ ہے محکمہ صفائی کا\n\nبت کدہ کی جو سیر کی ہم نے\nکارخانہ ہے اک خدائی کا\n\nگرچہ پہنچا ہوں میں کہیں سے کہیں\nمرحلہ دور ہے رسائی کا\n\nنہ رہا لطف اس زمانے میں\nمیرزا داغؔ میرزائی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "شوق ہے تو ہے اس کا گھر نزدیک", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شوق ہے تو ہے اس کا گھر نزدیک\nدوری رہ ہے راہ بر نزدیک\n\nآہ کرنے میں دم کو سادھے رہ\nکہتے ہیں دل سے ہے جگر نزدیک\n\nدور والوں کو بھی نہ پہنچے ہم\nیہی نہ تم سے ہیں مگر نزدیک\n\nڈوبیں دریا و کوہ و شہر و دشت\nتجھ سے سب کچھ ہے چشم تر نزدیک\n\nحرف دوری ہے گرچہ انشا لیک\nدیجو خط جا کے نامہ بر نزدیک\n\nدور اب بیٹھتے ہیں مجلس میں\nہم جو تم سے تھے بیشتر نزدیک\n\nخبر آتی ہے سو بھی دور سے یاں\nآؤ یک بار بے خبر نزدیک\n\nتوشۂ آخرت کا فکر رہے\nجی سے جانے کا ہے سفر نزدیک\n\nدور پھرنے کا ہم سے وقت گیا\nپوچھ کچھ حال بیٹھ کر نزدیک\n\nمر بھی رہ میرؔ شب بہت رویا\nہے مری جان اب سحر نزدیک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%88%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%86%D8%B2%D8%AF%DB%8C%DA%A9"} {"title": "شُعاعِ آفتاب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "صبح جب میری نگہ سودائیِ نظّارہ تھی\nآسماں پر اک شُعاعِ آفتاب آوارہ تھی\nمَیں نے پُوچھا اُس کرن سے “اے سراپا اضطراب!\nتیری جانِ ناشکیبا میں ہے کیسا اضطراب\nتُو کوئی چھوٹی سی بجلی ہے کہ جس کو آسماں\nکر رہا ہے خرمنِ اقوام کی خاطر جواں\nیہ تڑپ ہے یا ازل سے تیری خُو ہے، کیا ہے یہ\nرقص ہے، آوارگی ہے، جُستجو ہے، کیا ہے یہ؟”\n\n“خُفتہ ہنگامے ہیں میری ہستیِ خاموش میں\nپرورش پائی ہے مَیں نے صُبح کی آغوش میں\nمُضطرب ہر دَم مری تقدیر رکھتی ہے مجھے\nجُستجو میں لذّتِ تنویر رکھتی ہے مجھے\nبرقِ آتش خُو نہیں، فطرت میں گو ناری ہوں مَیں\nمہرِ عالم تاب کا پیغامِ بیداری ہوں مَیں\nسُرمہ بن کر چشمِ انساں میں سما جاؤں گی مَیں\nرات نے جو کچھ چھُپا رکھّا تھا، دِکھلاؤں گی مَیں\nتیرے مستوں میں کوئی جویائے ہشیاری بھی ہے\nسونے والوں میں کسی کو ذوقِ بیداری بھی ہے؟”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%8F%D8%B9%D8%A7%D8%B9%D9%90_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8"} {"title": "شُعاعِ اُمِّید", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "سُورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ پیغام\nدُنیا ہے عجب چیز، کبھی صبح کبھی شام\nمُدّت سے تم آوارہ ہو پہنائے فضا میں\nبڑھتی ہی چلی جاتی ہے بے مہریِ ایّام\nنے ریت کے ذرّوں پہ چمکنے میں ہے راحت\nنے مثلِ صبا طوفِ گل و لالہ میں آرام\nپھر میرے تجلّی کدۂ دل میں سما جاؤ\nچھوڑو چمَنِستان و بیابان و در و بام\n\nآفاق کے ہر گوشے سے اُٹھتی ہیں شعاعیں\nبچھڑے ہُوئے خورشید سے ہوتی ہیں ہم آغوش\nاک شور ہے، مغرب میں اُجالا نہیں ممکن\nافرنگ مشینوں کے دھُویں سے ہے سیَہ پوش\nمشرق نہیں گو لذّتِ نظّارہ سے محروم\nلیکن صفَتِ عالمِ لاہُوت ہے خاموش\nپھر ہم کو اُسی سینۂ روشن میں چھُپا لے\nاے مہرِ جہاں تاب! نہ کر ہم کو فراموش\n\nاک شوخ کرن، شوخ مثالِ نگہِ حُور\nآرام سے فارغ، صفَتِ جوہرِ سیماب\nبولی کہ مجھے رُخصتِ تنویر عطا ہو\nجب تک نہ ہو مشرق کا ہر اک ذرّہ جہاں تاب\nچھوڑوں گی نہ مَیں ہِند کی تاریک فضا کو\nجب تک نہ اُٹھیں خواب سے مردانِ گراں خواب\nخاور کی اُمیدوں کا یہی خاک ہے مرکز\nاقبالؔ کے اشکوں سے یہی خاک ہے سیراب\nچشمِ مہ و پرویں ہے اسی خاک سے روشن\nیہ خاک کہ ہے جس کا خزَف ریزہ دُرِناب\nاس خاک سے اُٹھّے ہیں وہ غوّاصِ معانی\nجن کے لیے ہر بحرِ پُر آشوب ہے پایاب\nجس ساز کے نغموں سے حرارت تھی دِلوں میں\nمحفل کا وہی ساز ہے بیگانۂ مضراب\nبُت خانے کے دروازے پہ سوتا ہے برَہمن\nتقدیر کو روتا ہے مسلماں تہِ محراب\nمشرق سے ہو بیزار، نہ مغرب سے حذر کر\nفِطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحَر کر!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%8F%D8%B9%D8%A7%D8%B9%D9%90_%D8%A7%D9%8F%D9%85%D9%90%D9%91%DB%8C%D8%AF"} {"title": "شُکر و شکایت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "میں بندۂ ناداں ہوں، مگر شُکر ہے تیرا\nرکھتا ہوں نہاں خانۂ لاہُوت سے پیوند\nاک ولولۂ تازہ دیا مَیں نے دلوں کو\nلاہور سے تا خاکِ بخارا و سمرقند\nتاثیر ہے یہ میرے نفَس کی کہ خزاں میں\nمُرغانِ سحَر خواں مری صحبت میں ہیں خورسند\nلیکن مجھے پیدا کیا اُس دیس میں تُو نے\nجس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضا مند!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%D9%8F%DA%A9%D8%B1_%D9%88_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA"} {"title": "شکار نامۂ اول", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "چلا آصف الدولہ بہر شکار\nنہاد بیاباں سے اٹھا غبار\nروانہ ہوئی فوج دریا کے رنگ\nلگا کانپنے ڈر سے شیر و پلنگ\nطیور آشیانوں سے جانے لگے\nوحوش اپنی جانیں چھپانے لگے\nسن آواز شیران نر ڈر گئے\nپلنگ و نمر خوف سے مر گئے\nجہاں ببر آیا نظر صید تھا\nبیاباں اسی پہن سے قید تھا\nگئے مست ہاتھی مکانوں کو چھوڑ\nدیے پنجۂ شیر نلیوں سے توڑ\nنہ دیکھا نہ ہم نے سنا یہ شکار\nکہ بکری سا ہاتھی کو لیتے ہیں مار\nپلنگان صحرا کے دل خوں کیے\nنہنگان دریا ہوئے مرجیے\nکہاں سہل مارے گئے نرہ شیر\nلگے بکریوں کو پکڑتے بھی دیر\nہوئے لشکری جب کہ سرگرم گشت\nمقید ہوئے مست فیلان دشت\nگئے جانور دشت خالی رہے\nبیابان جھاڑے گئے توکہے\nعجب تر ہے یہ صید کرنے کا ڈھنگ\nکہ چو رنگ ہاتھی ہوئے بے د رنگ\nنہ چیتل نہ پاڑھا نہ ارنا نہ شیر\nہوئے گولیاں کھا کے یک لخت ڈھیر\nدرندوں کا پیدا نہ نام و نشاں\nنہ شیر ژیان و نہ پیل دماں\nکبھو فیل دشتی نہ جکڑے گئے\nنہ یوں بھیڑ بکری سے پکڑے گئے\nسنا جس طرف فیل دشتی کا میل\nرواں فوج ادھر کو ہوئی سیل سیل\nاگر ٹک بھی اٹکا تو مارا گیا\nپڑے سینکڑوں پھاند چارا گیا\nوگر سرکشی سے کی استادگی\nتو پیش آئی اک طرفہ افتادگی\nپہاڑ ایک ہاتھی مقابل ہوا\nبزور آمد و شد کا حائل ہوا\nجٹے دونوں وے دیو میدان میں\nاٹھا شور محشر بیابان میں\nجہاں دونوں فیلوں کی تھی سرزنی\nشتر مرغ سے واں نہ ہو پر زنی\nجو اس مار کھانے پہ اکڑا رہا\nکئی روز رسوں سے جکڑا رہا\nرہے کس طرح پھٹ گیا تھا جگر\nموا دوپہر میں لہو موت کر\nمگر سرکشی سے نہ اپنی ہٹا\nنہ میدان میں ٹک دبا ٹک گھٹا\nاشارہ ہوا اس کے چورنگ کا\nسبھوں کو ارادہ ہوا جنگ کا\nبرسنے لگا مینھ تیروں کا زور\nہوا فیل باراں کا جنگل میں شور\nلگی پڑنے بجلی سی تیغ سپاہ\nپریشان ہو جیسے ابر سیاہ\nنہایت وہ ہاتھی ہوا لخت لخت\nگرا یوں کہ جیوں پارۂ کوہ سخت\nرکھا لاکے لشکر میں اثناے راہ\nسر اس کا کٹا جیسے برج سیاہ\nرہے کہتے اس دن عجب سب ہے یہ\nسر فیل ہے یا سر شب ہے یہ\nاگر دیو ہیں سرگرانی کے ساتھ\nنہ اس تیرگی و کلانی کے ساتھ\nدماں خشم گیں جیسے آتش یہ تھا\nمگر فیل سر دیو سرکش یہ تھا\nگوزن اور ہرنوں کی کیا دیجے شرح\nگئے شیر مارے سو کتوں کی طرح\nگیا دشت در دشت شور شکار\nہوئے گرگ آہو کے اوپر سوار\nہرن جھانگیوں میں رہے گھومتے\nکھپے فیل بیلوں ہی میں جھومتے\nبرابر رہے گور و شیر ژیاں\nبرابر تھا دونوں کو وسواس جاں\nگئے پیشتر چھوڑ نخچیرگہ\nشغالوں کی روباہ بازی تھی یہ\nاس اوقات سے جوکہ بے ہوش تھے\nبہیروبنہ کے وے خرگوش تھے\nاگر ریچھ نکلا تو تھا سو بہ سو\nبہت مضطرب تھا وہ آشفتہ مو\nقلندر سپاہی پئے جاں ہوئے\nلیے اس کو سر در گریباں ہوئے\nعلف آب گوں تیغ کا پھر ہوا\nکہیں پاؤں اس کے کہیں سر ہوا\nموئے اس طرح حضرت بوحمید\nکہ جوں ہوتے ہیں گے بڑے سے پلید\nگرے پشت سوے فلک خاک پر\nاک انبوہ تھا جسم ناپاک پر\nگئے لادنے فیل پر لشکری\nیہی ذات تھی لائق برتری\nکروں صید ماہی کا کیا میں بیاں\nکہ فیلوں پہ تھے تودہ تودہ رواں\nپڑے سینکڑوں دام تالاب میں\nنہ چھوٹی تنک خاک اس آب میں\nنہ تیتر نہ طاؤس صحرا کے بیچ\nنہ ماہی نہ مرغابی دریا کے بیچ\nرہے گوشت ہی پکتے ہر صبح و شام\nجواں کھاگئے مرغ و ماہی تمام\nہوا حائل راہ بحر عمیق\nکہ ہو وہم ساحل پہ جس کے غریق\nقریب آکے اتری یہ خائف تھی فوج\nکہ بے ڈول اٹھتی تھی ہر ایک موج\nمہیب اور آلودۂ خاک و آب\nبعینہ پھٹی آنکھ تھا ہر حباب\nغضب لجہ خیزی بلاجوش پر\nتلاطم قیامت لیے دوش پر\nچلے بس تو کچھ کوئی چارہ کرے\nمگر دیکھ ہی کر کنارہ کرے\nتردد میں ہر اک کہ ہوں کیونکے پار\nکنارے پہ سرگشتہ گرداب وار\nرواں آب ایسی روانی کے ساتھ\nکہ جوں رفتگی ہو جوانی کے ساتھ\nلگے پاؤں چلنے جہاں شور تھا\nکہ کم آب میں بھی بڑا زور تھا\nتامل سے اقبال نواب دیکھ\nتوقف کیا پہلے تو آب دیکھ\nپھر اس پار جاکر اشارہ کیا\nکہ لشکر نے ووہیں گزارہ کیا\nشباشب اترنے لگے لشکری\nنہ جوش آب کا وہ نہ ویسی تری\nوہ سوتا جگاتا تھا جس کا خطر\nاٹھا شور سے فوج کے چونک کر\nنشہ اس کے سر سے اتر سا گیا\nچڑھائی سے لشکر کی ڈر سا گیا\nکچھ اک ناویں لے کچھ شجر کاٹ کر\nشتابی سے دریا کے تیں پاٹ کر\nاترنے لگا لشکر بیکراں\nکراں تا کراں تھی یہ محشر عیاں\nسلامت ہوا پار سب ازدحام\nرہے دنگ خضر علیہ السلام\nشکار اس کنارے بھی تھا بیشتر\nہوئے صید یاں کے جگر ریش تر\nگئے ارنے مارے سو مانند فیل\nہوا خون جنگل میں ان کا سبیل\nرہے گور راتوں کے تیں جاگتے\nگئے ببر کوسوں تلک بھاگتے\nپکڑ لائے چیتے گوزن اور گور\nعصا سے چلے راہ یاں مار و مور\nبہت ہم نے دیکھے وزیر و شہاں\nشکار ایسے دستور سے تھا کہاں\nنمک خوار مجھ سے تو ہیں گے ہزار\nپہ میرا بھی ہونا ہے یھاں یادگار\nغرض میرؔ تا دور چرخ بلند\nرہے آصف الدولہ اقبال مند\nکرے اس کا اقبال ہر لحظہ کام\nشکار اس کے دشمن رہیں صبح و شام\nغزل میرؔ کوئی کہا چاہیے\nٹک اس بھی زمیں پر رہا چاہیے\n\nغزل\n\nہم وحشیوں پہ کچھ ہو کاہے کو یار ہے تو\nاے ترک صیدپیشہ کس کا شکار ہے تو\n\nپہنچی قریب شاید نخچیرگاہ اس کی\nجوں صید خوں گرفتہ دل بے قرار ہے تو\n\nدل تجھ تلک رسائی مشکل ہے چشم تر سے\nعسرالعبور کیسے دریا کے پار ہے تو\n\nشہری ہیں اس کی آنکھیں کیا تجھ کو ان سے نسبت\nاے آہوے بیاباں اچھا گنوار ہے تو\n\nکیا صبح جلوہ گر ہو خوبی کے آگے تیری\nاے گل دم تبسم باغ و بہار ہے تو\n\nیھاں دو قدم بھی چلنا بن سر دیے نہ ہووے\nاے راہ عشق کتنی مشکل گذار ہے تو\n\nلیتا ہے تجھ سے عبرت جو کوئی دیکھتا ہے\nکیا میرؔ اس گلی میں بے اعتبار ہے تو\n\nباز قدم رنجہ فرمودن آصف الدولہ بہادر روز دیگر براے شکار\n\nچلا پھر بھی نواب گردوں شکار\nاسد باؤ کے گھوڑے پر ہو سوار\nروانہ ہوئی فوج دریا مثال\nنہنگوں کی اب کھینچی جاوے گی کھال\nگیا شور تا آسمان بریں\nہوئی گرد افواج گردوں قریں\nزمیں ہوگئی جاے خوف و خطر\nفلک کو لگے دیکھنے شیرنر\nچڑھا بسکہ دریاے فوج گراں\nاتر ہاتھیوں کی گئیں مستیاں\nدبی چپ لگا چلنے بھیڑوں کی چال\nپریشاں ہے گرگ بغل زن کا حال\nپلنگوں نے کہسار سے راہ لی\nنہنگوں نے دریا کی جا تھاہ لی\nبحیرے جو تھے دام سے چھا گئے\nکشف نیچے ڈھالوں کے گھبرا گئے\nدرندے پرندے چرندے کھپے\nگزندوں کے منھ گرد نیچے ڈھپے\nتلف جانور ہیں جہاں کے تہاں\nگوزن اور گور اور آہو کہاں\nرہے گور یک شاخ و یک سو غزال\nتزلزل میں ہیں کیا شجر کیا نہال\nشغال اور روباہ و خرگوش سے\nنہیں بحث کچھ یہ ہیں بے ہوش سے\nکوئی شور سن سن کے گھبرائے ہے\nکوئی کان ڈالے چلا جائے ہے\nکوئی ڈھونڈتا ہے بیاباں میں جھاڑ\nکوئی چاہے ہے پھاند جاؤں پہاڑ\nکہ شاید یہ اودھر نہ ہو کل مکل\nکوئی دن جیے اس بلا سے نکل\nپھرے مضطرب ہو کے شیر غریں\nکہ بیشوں میں تھی یا کماں یا کمیں\nنکلتا ہے کفتار پر بے حواس\nہزبر جگرخوار سب ہیں اداس\nکیا کام ڈرتے گئے پھٹ جگر\nبن آئی ہی مر مر رہیں ہیں نمر\nاگر خرس تھا مفتر و بدمعاش\nلگا موش خانے کی کرنے تلاش\nوگر ببر ہے پیش و پس ہے نگاہ\nنہیں سوجھتی بے حواسی سے راہ\nمبادا شکاری سگان رکاب\nگریں آکے مجھ تک بھی پہنچیں شتاب\nہوا آب زہرہ وہ شیری گئی\nجگر ڈر سے ہے خوں دلیری گئی\nہوئی صیدبندی کی جنگل میں دھوم\nگرے فیل جیسے گھٹا آوے جھوم\nبیاباں میں چھایا ہے کیا ابر مرگ\nبرستی ہے گولی بسان تگرگ\nلڑائی نہیں ہوں جو مصروف جنگ\nاڑیں رنجکیں اڑتے دشمن کے رنگ\nجو آتا ہے پلٹن کو کچھ ولولہ\nچلے ہے کوئی توپ ہے زلزلہ\nاگر جاے تھی اس کی کوہ گراں\nگیا شیر پھنکے بھی جاگہ سے یھاں\nنہ دل مرد ہے ببر و گرم شتاب\nدل شیر برفی بھی ڈر سے ہے آب\nنہ رنجک کے اڑنے کا اچھا ہے طور\nہوا آن ہی میں زمانہ کچھ اور\nہوئی گرم آتش زنی سے ہوا\nرکھا آب میں جا کے لگ لگ نے پا\nمحیط آب گیروں کے تھے مردکار\nموئے مالک الحزن چندیں ہزار\nبہت دام پانی کی جانب جھکے\nکھڑے رہ گئے رود کیا کیا رکے\nٹھٹک سونس گھڑیال رہ رہ گئے\nمگرمچھ نہ جانے کدھر بہہ گئے\nنہ قشقل نہ سلی نہ سرخاب ہے\nتمام ان کے لوہو سے سرخ آب ہے\nعجب روغن قاز ملتے تھے یار\nکہ قازوں کو لیتے ہوا میں سے مار\nمنگاتے تھے بطخ کی چربی ظریف\nسو وہ چربی اب پھینک دیں ہیں حریف\nہوئے کتنے اقسام ماہی شکار\nنہ آوے قسم کھائے بن اعتبار\nمگر مرگ ماہی تھی جالوں کے بیچ\nکہ یوں مچھلیاں سب نکالیں الیچ\nنہ ارنب ہے جنگل میں نے سوسمار\nکوئی بدوی کیا کھاوے پروردگار\nکلنگوں کی الٹی گئی صف کی صف\nہوئے بیچ میں قرقرے بھی تلف\nنہ سبزے گئے سبزہ کھا کھا کے چیت\nبزے ویسے ہی آئے کھیتوں میں کھیت\nبٹیر اور تیتر کا ہے کیا شمار\nکہ باز آگئے جرے کرتے شکار\nہوا زرد سبزک بہت دل میں ڈر\nنمدمو ہوا گرد سے شانہ سر\nخطرناک تھا دشت کیا کہیے مور\nدبا یوں پھرے جیسے دبتا ہے چور\nنہ پاڑھا نہ نیلا نہ چیتل کوئی\nبنوں میں جو دوں تھی گئی جل کوی\nکوئی میرؔ صاحب غزل یاں کہو\nپر ایسی کہ ویسی کسی سے نہ ہو\n\nغزل\n\nکیا کشت و خوں پہ ان دنوں میلان یار ہے\nہر جاے پوچھتا ہے کہ یاں کچھ شکار ہے\n\nجاتا ہے اس کشندے کی جانب چلا ہوا\nصید ازل رسیدہ ہے دل بے قرار ہے\n\nآنکھیں جو میری باز ہیں جوں صید بسملی\nاس ترک صیدبند کا یہ انتظار ہے\n\nعزت جو اس گلی میں ہے اپنی نہ پوچھیے\nجب جایئے تو خشم ہے گالی ہے مار ہے\n\nجانیں چلی گئیں ہیں بہت قلب گاہ سے\nتو رہ کے جا کہ راہ ابھی پرغبار ہے\n\nہے زلف و روے یار سے ہر لحظہ بحث یھاں\nیہ وجہ ہے کہ شعر مرا پیچدار ہے\n\nکم اختلاطی کا ہے گلہ یار سے عبث\nکس کشتۂ وفا سے بہت اس کو پیار ہے\n\nگل گل شگفتگی ہے ترے چہرے سے عیاں\nکچھ آج میری جان قیامت بہار ہے\n\nکیا میرؔ تم کو گریۂ شب سے ہے گفتگو\nطوفان میری پلکوں کا سردرکنار ہے\n\nنشیب و فراز بیاباں کو سن\nجو ذی ہوش ہیں وے تو ہوتے ہیں سن\nچڑھو آسماں پر جو آوے چڑھاؤ\nپھر اترو تو تحت الثریٰ ہی کو جاؤ\nجو اس میں کہیں ہووے لغزش تو خیر\nکہ درپیش ہے اور عالم کی سیر\nزمیں ضیق ازبس ہوئی یک بہ یک\nنہ پھیلا سکا پاؤں گزپا تنک\nملے پر سے پر تھے ہوا میں کلنگ\nکہ چلنے لگے یاں سے تیر و تفنگ\nقیامت تھی آفت تھی ہر ایک چوٹ\nلگے جس کے پھرتا وہیں لوٹ پوٹ\nہوئے خون اس جمع کے بے درنگ\nہوا کا ہوا اور اک دم میں رنگ\nنہ پر تھا نہ پرزا نہ بازو نہ پا\nکنھوں نے بھی پوچھا نہ یوں تھا یہ کیا\nنہ زردی کو دیکھا نہ پایا کبود\nنکالا ہے لوگوں نے پانی سے دود\nسپہ کی بلا ترک تازی رہی\nنہ سارس کی وہ سرفرازی رہی\nکماں دار مردم سے چارہ گیا\nکسو کھیت پر مفت مارا گیا\nنہ جو فیل دشتی کی مستی گئی\nوہیں مٹ گیا اس کی ہستی گئی\nسنانوں کی نوکوں پہ پھر بٹ گیا\nوہ کوہ گراں سنگ سب پھٹ گیا\nبہت جانور چھوڑ آکھر گئے\nلگی دوں بہت جل گئے مر گئے\nاگر بن ہے گویا بنا ہے اسے\nکرے قصد واں کا تو کیوں کر گھسے\nمگر زور سے کچھ نکلتا ہے کام\nبہت رنج کھینچے سے چلتا ہے کام\nخریدار دستار سرخار بن\nزمیں پر رکھو پاؤں کانٹوں کو چن\nکئی گام یوں راہ چلنا پڑے\nپھر اس دامگہ سے نکلنا پڑے\nتو آگے بیابان پرخار ہے\nکہیں جھاڑ بوٹا کہیں غار ہے\nاگر اس میں پانی نظر پڑ گیا\nکنارے پہ اس کے یہ چڑھ کر گیا\nہوا حال اپنا پریشاں بہت\nپھرے مضطرب اور حیراں بہت\nترائی جو واں سے گذرنا ہوا\nکہاروں کے سر چڑھ اترنا ہوا\nبیابان وحشت اثر پرخطر\nیہی ڈر ہے ڈر کیا ادھر کیا ادھر\nجہاں تک نظر جائے سوکھی ہے کانس\nاگر سبزہ بھی تھا تو تھوہڑ کا بانس\nکہیں دل رکے بند ہوجائے دم\nلکھوں کیا نیستاں ہی تھے یک قلم\nچلے باؤ دن کو تو ہو سائیں سائیں\nپڑے رات تو پھر کرے بھائیں بھائیں\nنہ سبزہ نہ کھیتی نہ آب رواں\nکوئی شیر غراں کہ پیل دماں\nسو وہ شیر مارا گیا مثل سگ\nوہ ہاتھی پکڑ لائے بے تاز و تگ\nکوئی دشت ایسا کہ تھا سبزہ زار\nہوا دلکش و جرگہ جرگہ شکار\nاگر آہوگیری کا ہوتا نہ عیب\nتو وہ ہم بھی رکھ لیتے بے شک و ریب\nمسطح زمیں میل در میل تھی\nنہ دریاچہ تھا کوئی نے جھیل تھی\nاگر آگیا رودخانہ کہیں\nنہ دلخواہ تھا واں سے جانا کہیں\nبڑا لطف تھا سیر میں گشت میں\nنہ تھی دخت رز حیف اس دشت میں\nہوا اک جبل سامنے سے سیاہ\nاسی کی طرف کو پڑی سب کی راہ\nعجب لطف کا تھا وہ کوہ گراں\nکہ صد چشمہ کا اس میں پانی رواں\nشجر سبز و پتھر بہت صاف تھے\nسبھی جیسے الماس شفاف تھے\nہوا ایک ابر اس جبل سے بلند\nہوا پر بچھے اس کے یزدی پرند\nپہر دن سے بارش لگی ہونے زور\nرہا ساری وہ رات طوفاں کا شور\nہوئے خیمے پانی کے اوپر حباب\nسب اسباب لوگوں کا تھا زیر آب\nنہ پوچھ اور اسباب مردم کا حال\nنہ چادر رہی خشک نے کوئی پال\nقنات اور تنبو بسر سب گئے\nکھڑے تھے جو کندے اتر سب گئے\nبھرا پانی لشکر میں پھیلا ہوا\nاگر فرش بستر تھا تھیلا ہوا\nہوا سرد ازبس ہوئی ایک بار\nکلیجوں کے ہوتی تھی برچھی سی پار\nپھرے باد سے لوگ منھ ڈھانپتے\nجگر چھاتیوں میں رہے کانپتے\nرہا ایسی سردی میں کیدھر شکار\nہوئے لوگ خیموں کے اندر شکار\nبہت پیر جب جی کو تجنے لگے\nجوانوں کے بھی دانت بجنے لگے\nتہ میغ خورشید پنہاں ہوا\nنہ دیکھا مگر روے جاناں ہوا\nبہت اسپ و اشتر موئے پاؤں پیٹ\nنکالا انھیں خیمہ گہ سے گھسیٹ\nغزل میرؔ یاں کوئی موزوں کرو\nتامل کرو دل جگر خوں کرو\n\nغزل\n\nوہ دل شکار آن جو نکلا شکار کو\nانداز یک نگاہ سے مارا ہزار کو\n\nچلنا پڑے ہے رکھ کے قدم تیغ تیز پر\nکس ڈھب سے کاٹیں اس رہ مشکل گذار کو\n\nاڑنے لگے ہے باد میں تو جاں گزا ہے پھر\nخجلت ہی اس کی زلف سے ہے تیر مار کو\n\nسو بار منھ چڑھاتے ہو کچھ بولتے نہیں\nیہ بات کیا چڑھو ہو کہے اپنی بار کو\n\nآتا نہیں نظر کہ حصول امید ہو\nکیا تھام تھام رکھیے دل بے قرار کو\n\nجیتے رہے تو اس سے ہم آغوش ہوں گے ہم\nلبریز گل سے دیکھیں گے جیب و کنار کو\n\nکیا سمجھے خوبی میری خراش جبیں کی تو\nاس کام کو دکھا کسی استاد کار کو\n\nایسے ستم کیے کہ گیا جی سے میں ندان\nٹک منصفی سے دیکھو پھر انصاف یار کو\n\nبولا کہ مجھ کو کرتی ہے بدنام گور میرؔ\nہے خوب اگر مٹاوے کوئی اس مزار کو\n\nکسو بن میں ارنوں کا پاکر نشاں\nلگی جانے ہر صبح فوج گراں\nمقابل ہوا آکے جوں فیل مست\nاگر فیل تھا تو ہوا اس کا پست\nغضب ہے خدا کا کوئی اس کے چوٹ\nاگر اسپ اشتر ہے تو لوٹ پوٹ\nنہ خوک اس کی جنگل میں گھیرے ہے راہ\nنہ شیر اس کی جانب کرے ہے نگاہ\nبڑی دیر جنگل میں دوڑا پھرا\nلیا زیر بندوق آخر گرا\nلگی بہنے شمشیر جدول شعار\nلگے قیمہ کرنے جوانان کار\nبہت ایسے مارے بہت کٹ گئے\nنظر کرکے ہیئت جگر پھٹ گئے\nکسو بن میں رونق نہ پائی گئی\nپھر اس پر جو ایسی اوائی گئی\nجگر واں کے شیروں کے پھٹ پھٹ گئے\nبیابان سے کرگدن ہٹ گئے\nنہ فیلوں میں سدھ بدھ نہ شیروں میں زور\nنہ چیتوں کو جاگہ نہ گوروں کو گور\nنہ بوٹی کو چھوڑا نہ باقی ہے جھاڑ\nپہاڑوں کو راہوں سے ڈالا اکھاڑ\nپرندہ جہاں پر نہ سکتا تھا مار\nہوا رہکلے توپ کا واں گذار\nنکل شیر جنگل سے حیراں ہوئے\nاڑاہے جو تھے صاف میداں ہوئے\nجہاں چلتے پھرتے نہ تھے مار و مور\nچلے پہروں واں تیر بندوق زور\nشغال اور خرگوش و ہم روبہاں\nشکاری سگوں نے کیے نوش جاں\nہوا پر جو تھے مرغ پرواز میں\nگرے سینکڑوں ایک آواز میں\nبہت جانور کھا گئے کر کباب\nہوئے آشیانے ہزاروں خراب\nحواصل تھا کیا جو کہوں تھا کہیں\nکہ تعداد کشتوں کی پاتے نہیں\nبہت مضطرب جھانگیوں میں پھرے\nسلامت نہ آخر گئے برسرے\nانھوں ہی میں سیمرغ بھی تھا مگر\nکہ پر مارتا ہی نہیں کوہ پر\nنہیں فیل مرغ اور شتر مرغ اب\nکہ بعضوں کے طعموں کے کام آئے سب\nکسو بن میں تھے نیستاں اور کانس\nچلے راہ واں لے نہ سکتے تھے سانس\nبرس مینھ دو دن میں کھل بھی گیا\nولیکن ہے کہرا لطیفہ نیا\nکہ اندھیر تھا جیسے ظاہر ہو دود\nہوئے ہونٹھ سردی سے سب کے کبود\nبلا دھوم سے کوئی گھبرا پڑے\nجنھیں دیکھو وے کانپتے ہیں کھڑے\nہوا سرد ہوکر گئی جان مار\nاٹھایا بڑا لطف سیر و شکار\nدل اس دود تیرہ سے گھبرا گیا\nکہیں آگ دیکھی تو جی آگیا\nیہی چال تھی ایک دو چار کوس\nہوا ٹھنڈی ٹھنڈی پڑی ایسی اوس\nکسو کوہ کے پاس نکلی جو راہ\nگئی کوہ کی تیغ تک کم نگاہ\nبلندی تھی اس کوہ کی تا فلک\nنگہ جاتے ہی جاتے جاتی تھی تھک\nنہ اس رنگ سے صید ہوں گے کہیں\nہوئی خون کے رنگ رنگیں زمیں\nجہاں دام اور دد کی تھی بود و باش\nلگے چوک لوگوں نے کی واں معاش\nہوا ایک جنگل میں آکر گذر\nکسو کو نہ تھی واں کسو کی خبر\nتراکم قیامت تھا اشجار کا\nستم پھر ہواے ستمگار کا\nکہ اس مرتبہ بارد و سرد تھی\nہوئے سن مگر برف پرورد تھی\nکوئی خاربن حائل رہ ہوا\nپھٹے پیرہن ہوش سب تہ ہوا\nدرختان بے برگ و بر بدنما\nنہ اک شاخ پر مرغ رنگیں نوا\nبہت سر ملائے بہم تھے شجر\nولیکن نہ پایا کنھوں نے ثمر\nنہ قمری ہوئی نالہ پرداز ٹک\nنہ بلبل کی واں آئی آواز ٹک\nیہی کل مکل تھی یہی کشمکش\nپھرے مارتے سر کو دیوانہ وش\nدرختوں کے انبوہ سے رک گئے\nچلے اتنے جھک کے کہ ہم جھک گئے\nاگر شاخ جاگہ سے اپنی ہلی\nتو کانٹے سی ہم رہرواں پر چلی\nجو اس دشت میں تھا کوئی صید بھی\nسو آگے ہی وہ ہوگیا قید بھی\nرہائی ہی مقصود تھی واں سے یار\nپڑی اپنی سب کو کہاں کا شکار\nکہوں کیا کہ یکسر تھے اس میں قلم\nچلے روسیہ اور سو سو بہم\nنہ چھوٹی تھی جاگہ قدم وار بھی\nنہ اٹھتا تھا اک نالۂ زار بھی\nکہ دل کو کسو کے لگے جوں خدنگ\nہوئے ایسے سنسان جنگل میں تنگ\nنکلنا ہوا کھینچ کر یہ عذاب\nملا بیشتر ایک تہ دار آب\nرواں تھا کسو کی طرف تند و تیز\nہوا اس کے چلنے کی تھی پیش خیز\nحباب اس کا چشمک زناں موج پر\nکہ یوں گرم جاتے ہیں اہل نظر\nطلبگار کرتے نہیں سادگی\nنہ ہو جوں گہر ایسی استادگی\nکنارے پہ اس کے اترنا ہوا\nدوبالا ہوئی ٹھنڈ مرنا ہوا\nنہ رکھتے تھے جوں رند مفلس لباس\nنہ ان سے ہوا اپنے جامے کا پاس\nغزل کہنے کی یہ بھی جا خوب ہے\nجو اچھی ہو موزوں تو کیا خوب ہے\n\nغزل\n\nحیف اس شکارپیشہ کو ہم سے خبر نہیں\nہم ہیں شکار خستہ ہمارے جگر نہیں\n\nہم خاک منھ سے مل کے پھرے جیسے آرسی\nافسوس ہے کہ روے دل یار ادھر نہیں\n\nآنکھیں نکال اس کے قدم کے تلے رکھیں\nتو بھی ہمارے حال پہ اس کو نظر نہیں\n\nکیا کیجے جو نہ کیجیے انداز دام کا\nگلزار کے تو قابل پرواز پر نہیں\n\nنکلی پڑے ہے میان سے کاہے کو ہر گھڑی\nلاگ اس کی تیغ تیز کو ہم سے اگر نہیں\n\nسر رکھ کے اس کی تیغ تلے مرچکو شتاب\nیاں پاؤں پیٹ پیٹ کے مرنا ہنر نہیں\n\nآنکھیں ہیں اس کی راہ پہ جوں نقش پا ہزار\nپر میرؔ اس کو کچھ سر سیر و سفر نہیں\n\nلیے کتنے روزوں میں نانک مٹے\nجواں اس سے آگے بھی جاکر ڈٹے\nنہنگ اس طرف کے بحاروں کے سن\nپلنگ ان بنوں سے چلے سر کو دھن\nغریب اشتلم جنگلوں میں رہا\nنہ جھانکا ادھر کوہ سے اژدہا\nگیا سینکڑوں کوس شور شکار\nرہے ٹھور حیوان یکجا ہزار\nچلا باز چھاتی کو کھولے جہاں\nپرندہ رہا وہم کا بے گماں\nزمیں گرد جرہ ہے کیا تیز بال\nرکھا جن نے اٹھتے ہی مرغ خیال\nفلک سیر شاہیں کی پرواز دیکھ\nلگے جوں نگہ جا کے انداز دیکھ\nنہ جھاڑا گیا نسر طائر سے سر\nگھٹا کرگس چرخ چھوٹا نہ پر\nرواں جس گھڑی ہوتی فوج گراں\nبہیروبنہ ہر طرف سے عیاں\nزمیں پر قدم کوئی کیوں کر دھرے\nبیاباں فراخی سے تنگی کرے\nکوئی شعبہ آیا اگر درمیاں\nہوا اور لشکر سے محشر عیاں\nبلندی و پستی تھی اتنی کڈھب\nکہ گاہے زمیں گہ فلک پر تھے سب\nکوئی نالا کھولا اگر آگیا\nتو اپنا کیا پھر کوئی پاگیا\nگرے یاں رہے یاں یہی چال تھی\nجہاں در جہاں خلق پامال تھی\nہوا دن تو یوں کھینچتے رنج شام\nگئی رات چوروں کے ڈر میں تمام\nکہے ہے کوئی کون آتا ہے یہ\nپکارے کوئی کون جاتا ہے یہ\nلگے آنکھ کپڑوں کے تیں زور ہو\nپھر آرام سے رات کو سو رہو\nہوا خیمہ گہ دامن کوہ سب\nرہا آکے نواب واں تین شب\nقریب ایک مٹیاپہاڑی تھی واں\nلگا اس سے کم کم تھا آب رواں\nپہاڑی کہ تودہ کہوں خاک کا\nکہ انبار تھا خار و خاشاک کا\nمحاذی تھا اس کوہ کے ایک دشت\nکہ دشوار تھا اس میں آدم کا گشت\nہوا بد بہت اور پانی لگے\nقدم راہ چلتے ہوئے ڈگمگے\nچلے باؤ تو ایک موحش ہے شور\nرکھے پاؤں دامن کو کھینچے بہ زور\nفقط خاربن کیا کپڑپھاڑ تھا\nکہ بوٹا بھی واں جھاڑجھنکاڑ تھا\nچلو ہی چلو ہے یہ چلتے نہیں\nکہ اشجار آگے سے ٹلتے نہیں\nنہ ٹوٹیں نہ سرکیں نہ کاٹے کٹیں\nمگر پچھلے پاؤں ہی رہ رہ ہٹیں\nکہیں ہاتھی آیا ہے بھڑکا ہے اونٹ\nکھڑے لوگ پیتے ہیں لوہو کے گھونٹ\nکہیں ہیں گے انفار سرگرم جنگ\nکرے ٹٹو پرتل کا عرصہ ہے تنگ\nقیامت نمودار ہر ہر قدم\nچلے کوئی کیا رکھ کے سر بر قدم\nکہیں بچ کے نکلے کہیں جھک چلے\nکہیں مضطرب تھے کہیں رک چلے\nاسی طور منزل کو کر قطع راہ\nپہنچتے رہے ہم بحال تباہ\nشجر جمع تھے کچھ تہ کوہ بھی\nفرود آیا اس جا یہ انبوہ بھی\nزمیں اونچی نیچی خشونت بہت\nاسی سے تھی واں کم سکونت بہت\nولیکن وہی خاک زشت و پلشت\nہوئی بود آدم سے رشک بہشت\nہوئی بیلچوں سے برابر زمیں\nچمن سے بھی شاداب وہ سرزمیں\nوہ پانی جو چلتا نہ تھا ڈھنگ سے\nکہ تھا رہ گرا سرزناں سنگ سے\nصفا اور خوبی میں کچھ بڑھ گیا\nکئی ہاتھ مقدار سے چڑھ گیا\nغزل اس زمیں پر بھی کہنی ہے میرؔ\nدل اپنا ہے لطف سخن کا اسیر\n\nغزل\n\nوہ کماں ابرو اگر در پے ہوا ہے میرؔ کے\nترکش ان پلکوں کا ہے بالاے ترکش تیر کے\n\nیوں تو کہتا ہے گلے کا تو مرے تعویذ ہے\nپر نہیں آثار ظاہر یار کی تسخیر کے\n\nمیں بھی زنجیری رہا ہوں دیر گلشن کے قریب\nپہنچے ہوں گے دور تک نالے مری زنجیر کے\n\nخون ہی دست حنائی سے کیا کرتے ہو تم\nلو کبھو ٹک ہاتھ میں دل کو کسو دل گیر کے\n\nبندہ و صاحب میں نسبت ہے ولے نازک بہت\nمعترف رہتے ہیں عاشق اپنی ہی تقصیر کے\n\nاور بھی وہ رشک خور کچھ اب خنک ملنے لگا\nمعتقد ہم کیا ہوں آہ صبح کی تاثیر کے\n\nروے دلکش وہ خدا جانے کہ کس سے کھنچ گیا\nمیرؔ ہم عاشق رہے ہیں ایسی ہی تصویر کے\n\nپہاڑی سے لشکر چلا سوے کوہ\nچلے بس تو کریے سیہ روے کوہ\nپڑی وادی سوختہ بیچ میں\nکہیں آب میں تھے کہیں کیچ میں\nنیستان سے ہے خرابہ کڈھنگ\nپٹیلے سے عرصہ نہایت ہے تنگ\nشجر جنگل ایسے تھے انبوہ سے\nکہ ان میں سے جانا ہو اندوہ سے\nکہیں بید کے برگ خنجرگزار\nکہیں پا نہ رکھنے دیں سرتیز خار\nتنک دو درختوں کے اودھر ہوئے\nنیستان پھرتے ہی پھرتے موئے\nاگر بید آئے تو بن بیدباف\nنہ آئے نظر دور تک راہ صاف\nاگر بانس تھے واں تو تھے دشت دشت\nکہ دشوار تھا دو قدم کا بھی گشت\nہمیں چار نالے اترنے پڑے\nکنارے پہ دو دو گھڑی تھے کھڑے\nرہا ہر قدم گرنے ہی کا خطر\nچلے دو قدم راہ پائی اگر\nبہت لوگ دشت قلم کو گئے\nبہت اسپ و اشتر عدم کو گئے\nلگی ہاتھ فیلان دشتی کی راہ\nولے ڈر نہ ہو فیل کوئی سیاہ\nنہ ہاتھی ملا کوئی بارے نہ شیر\nہوئی خیر گو طے ہوئی راہ دیر\nشجر سرکشیدہ بہت کیا کہوں\nجو دیکھوں تو پگڑی سنبھالے رہوں\nچنار ان درختوں کے تھے پائمال\nسفیدار رکھتے تھے حکم نہال\nاگر کوئی دریاچہ آتا ہے بیچ\nتو لوگوں کے روندوں سے ہوتا ہے کیچ\nتل کوہ رفعت نمودار ہو\nگیا آمد و شد میں ہموار ہو\nکوئی گل زمیں ایسی آئی نظر\nکہ عالم نے اودھر لگائی نظر\nکہیں سبزۂ تر سے جی جا لگے\nکہیں سرسوں پھولے دلوں کو ٹھگے\nنہ تھا پر گل زرد دامان کوہ\nیہی رنگ تھا تا گریبان کوہ\nفضا دلکشا آب یکسر صفا\nشجر خوش نما نرم نرمک ہوا\nچکارے بہت مارے کہسار میں\nدو رستہ بکا گوشت بازار میں\nیہ انبوہ اشجار تا شش کروہ\nپھر آگے بیاباں وہ ہے اور کوہ\nکناروں میں اس کے کہیں کوئی کھیت\nوگرنہ یہی سنگ بے رتبہ ریت\nنہ سبزہ کہیں تھا نہ آب رواں\nنہ دامن میں اس کے چکارا دواں\nدکھائی نہ دیتا تھا خوش قد نہال\nسیاہی پکڑتے تھے چشم غزال\nوہی جنگلہ دوطرف بدنمود\nمقام اس طرح کے بھی ہیں یادبود\nنہ پھولی تھی سرسوں نہ کچھ تھی بہار\nنہ ظاہر میں اس کے کہیں لالہ زار\nنہ چشمک زناں دور نزدیک پھول\nنہ نرمی سے آتی تھی باد قبول\nچلے باد ایسے کہ جھکڑ رہے\nہوا اور پانی میں پھکڑ رہے\nادھر باد کا شور ادھر آب کا\nشب و روز مذکور کیا خواب کا\nادھر کے تئیں ایک تھا آبشار\nوہ البتہ شایان سیر و شکار\nوہیں ایک دم تھا دلوں کا لگاؤ\nاڑانے نہ دے جو حواسوں کو باؤ\nسو اپنے تئیں تو نہ تھا کچھ دماغ\nکہ حال اپنا جیسا تھا بجھتا چراغ\nبہت شعبۂ کوہ مشہور تھا\nزبانوں پہ لوگوں کے مذکور تھا\nقدم رکھ جو نواب وھاں تک گیا\nسر اس شعبہ کا آسماں تک گیا\nکڈھب وہ جگہ سیرگہ ہوگئی\nحضور اس کے فردوس تہ ہوگئی\nہوا خیمہ استادہ ایسی جگہ\nکہ آنے لگی دیر واں سے نگہ\nرواں دوطرف اس کے ایک آب کم\nکہ دل کا لیے جائے سب زنگ غم\nجہاں تک نظر کیجے مدنظر\nہوا موج زن کوہ کے تا کمر\nنظر والوں کے جی بھی ڈھلنے لگے\nگرفتہ دل اس جاے کھلنے لگے\nوہ پانی چلا واں سے دریا ہوا\nرواں گرم تر سوے صحرا ہوا\nبہا دامن کوہ میں سنگ پر\nکیا سنگ ریزوں کو بھی رنگ پر\nکہ لوگ ان کو ہاتھوں میں رکھنے لگے\nجواہر کے رنگوں پرکھنے لگے\nکراڑوں کا کیا عظم کیجے بیاں\nبرابر کھڑے تھے دو کوہ گراں\nانھیں میں سے تھی راہ اس آب کی\nوہیں بھیڑ رہتی تھی احباب کی\nہوئے دامن کوہ میں کچھ مقام\nسفر کی بھی مدت ہو شاید تمام\nکوئی روز گھاٹی کی بھی سیر ہے\nسبھوں کی ہے معلوم پھر خیر ہے\nجو اس میں کسو شیر کا دیں نشاں\nنظر آئے یا کوئی پیل دماں\nتو اور ایک دو دن کی ہوتی ہے دیر\nوہ ہاتھی بندھے کہیے گا یا وہ شیر\nشکار ایسا دیکھا ہے اس بار کا\nکہ جھاڑا ہوا دشت و کہسار کا\nکوئی دیکھے کب تک پہاڑ اور جھاڑ\nٹلے چھاتی پر سے کہیں یہ پہاڑ\nغرض ہے وزیر جہاں ارجمند\nرئیس کلاں کار عالم پسند\nدر اس کا ہے باب سجود سراں\nرہیں حکم کش اس کے زور آوراں\nسدا وہ رہے یوں ہی دشمن شکار\nجہاں میں سخن ہے مرا یادگار\nبہانے نہ کر میرؔ اب شاخ شاخ\nغزل کہہ زمیں گوکہ ہے سنگلاخ\n\nغزل\n\nنہیں خوں بستگی سے چشم تر بند\nجراحت نے کیے ہیں چشم پر بند\n\nگیا ہے وہ سو دل کھلتا نہیں ہے\nپڑا ہے ایک مدت سے یہ گھر بند\n\nکریں ہیں شوق گل خوں دل میں ناچار\nاسیران شکستہ بال و پربند\n\nگئے دن ٹکٹکی کے باندھنے کے\nاب آنکھیں رہتی ہیں دو دو پہر بند\n\nبہت ہے یار کا کم بولنا بھی\nنہیں چنداں ہم ان باتوں کے در بند\n\nسبھوں سے آرسی کے مثل وا ہو\nکسو کے منھ پہ دروازہ نہ کر بند\n\nہمارے ہاتھ خنجر سے کرو قطع\nنہ کھلوایا کبھو اس کا کمربند\n\nرکے ہے یار آنکھیں ہی دکھا کر\nہم اس کے ان دنوں میں ہیں نظربند\n\nنہ خط آتا ہے اودھر سے نہ قاصد\nلکھوں کیا مدتوں سے ہے خبر بند\n\nغزل کا قافیہ تغئیر کر میرؔ\nہنر کچھ اس زمیں میں میرؔ کر بند\n\nغزل\n\nجگرخوں کن ہیں خوبان حنابند\nدل ان کے دست رنگیں کا ہے پابند\n\nگرہ بند قبا میں دے ہمیں دیکھ\nہوا کیا آہ باغ دلکشا بند\n\nرکھ آہ سرد ہی سے گرم جوشی\nرکے ہے دل جو ہوتی ہے ہوا بند\n\nہمیں سے کیا وہ جادوگر نہ بولے\nکسو دشمن نے اس کا منھ کیا بند\n\nنہیں تھمتا ہے اب پلکوں سے رونا\nبہت خاشاک سے دریا رہا بند\n\nہمیں منظور ہر صورت میں ہے دید\nکھلی ہو چشم جوں آئینہ یا بند\n\nنہیں کام آتی اتنی تیزگامی\nسمند عمر ہوتا کاش جا بند\n\nزبردستوں کی کشتی ہوگئی پاک\nنکالا عشق زورآور نے کیا بند\n\nیہی انداز باندھے ہیں یہی ناز\nقیامت میرؔ صاحب ہیں ادابند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84"} {"title": "شکار نامۂ دوم", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "مکرر ہے نواب کو قصد صید\nبیابان پہناور اب ہوں گے قید\nرواں بحر لشکر ہوا موج موج\nگئی چشم خورشید تک گرد فوج\nبحار و صحاری پہ ہے عرصہ تنگ\nمگر یاں سراسیمہ ہیں واں پلنگ\nپہن بیٹھے ہیں شیر ببری لباس\nکریں لوگ شاید فقیری کا پاس\nچکارے ہرن دونوں اندیشہ مند\nدلوں میں ہراس کمان و کمند\nکہیں گرگ وادی کو فکر گریز\nنظر ایدھر اودھر کرے شیر تیز\nبنوں میں ہے آشوب کوہوں میں ڈر\nبیاباں وطن سارے گرم سفر\nکہیں امن ہو تو کہوں واں گئے\nنکل آکھروں سے پریشاں گئے\nاسد کی نہ شیرانہ ہنکار ہے\nنہ کفتار کو تاب رفتار ہے\nجہاں کے تہاں فکر میں ہیں کھڑے\nکہ دنگل سے جنگل میں کیا بن پڑے\nہوا دود باروت سے تیرہ رنگ\nصداے تفنگ و صداے تفنگ\nوحوش و ستوراں کو وحشت غضب\nہوا ہیں کھڑکتے ہی پتے کے سب\nہزاروں ہی بندوق ہر دم چلے\nہوا ہی میں پنچھی پکھیرو جلے\nگئے بادخور آسماں میں پلٹ\nکلنگوں کی صف باز نے دی الٹ\nاڑے ہاتھ دوچار جرے کہاں\nرہے مرغ آبی جہاں کے تہاں\nپر تیر جس دم کشادہ ہوئے\nبزے صید حد سے زیادہ ہوئے\nبنوں میں مچی دھوم سی آکے دھوم\nجہاں دیکھیے ہے قیامت ہجوم\nکہیں ارنے مارے غضنفر کہیں\nکہیں ہاتھی نکلا ہے اژدر کہیں\nپڑے مست ہاتھی جو تھے من چلے\nسن اس شور کو چھوڑ کر بن چلے\nنہ تیرہ ہے روز گوزنان و گور\nکہ شیروں کو بھی قشعریرہ ہے زور\nلب آب جاکر جو کھیلے شکار\nاسد واں کے تھے کودک نے سوار\nہوئے قرقرے صید ہو ہو کے ڈھیر\nہوا میں سے بھاگا عقاب دلیر\nزغن ان بنوں میں نہ پائی گئی\nنہ تغدار کی لاش اٹھائی گئی\nہوا ہے یہی تو یہ ہونی نہیں\nکہ ہو خاد آکر سیہ یاں کہیں\nجگر کیا کہ پرزن ہو اس بن میں زاغ\nیہ زہرہ نہیں رکھتے کوہی کلاغ\nشترمرغ سیمرغ ازبس ہراس\nنہیں آتے کوہ شمالی کے پاس\nغزل کہہ کہ ہے میرؔ لطف ہوا\nبیاباں خوش آئندہ و خوش فضا\n\nغزل\n\nسبزہ ہے آبجو ہے فصل بہار بھی ہے\nسرگرم جلوہ دیکھو پہلو میں یار بھی ہے\n\nیہ تو نہیں کہ ہم پر ہر دم ہے بے دماغی\nآنکھیں دکھاتے ہیں تو چتون میں پیار بھی ہے\n\nگل ہم کنار ہوگا ہنس کر کبھو چمن میں\nپر کم بغل ہے بلبل اس کو قرار بھی ہے\n\nہوں وعدہ گاہ میں تو پر میں ہی جانتا ہوں\nکچھ اضطراب بھی ہے کچھ انتظار بھی ہے\n\nجوں موج ہم بغل ہوں نایاب اس گہر سے\nدریا کی سیر بھی ہے بوس و کنار بھی ہے\n\nہم جبریوں سے کیا ہو بے دست و پا و عاجز\nکہنے کو کہتے ہیں تو کچھ اختیار بھی ہے\n\nکون اس بھبھوکے سا ہے دیکھو نہ ٹک بھی تو وہ\nشمع و چراغ و شعلہ برق و شرار بھی ہے\n\nجانا مسلم آیا اس خاکداں سے گو پھر\nمشکل گذر ہے رستہ گرد و غبار بھی ہے\n\nدل تنگ میرؔ کیوں ہے ہمرہ وزیر کے تو\nدریا فضا ہوا ہے سیر و شکار بھی ہے\n\nاٹھا فوج میں سے یہ گرد و غبار\nکہ منھ پر تھا خورشید آئینہ وار\nفلک کہرے سے تھا دھواں سا نمود\nسماں شب کا رکھتا تھا ملک شہود\nزمیں تھی سو تھی فرش بالاے آب\nتحلحل سے مطلق نہ رکھتی تھی تاب\nنہ پوچھو کہ لوگوں کا کیا حال تھا\nجو رکھے قدم واں تو بھونچال تھا\nروندے لگے چلنے تیزی سے چال\nہوا مذہب شیعیاں اعتزال\nکسی ڈھب سے جوں توں کے چلنا ہوا\nعجب مہلکے سے نکلنا ہوا\nاتر لوگ دریا سے آگے گئے\nہزبران خونخوار بھاگے گئے\nپلنگان مردم در ایسے ڈرے\nکہ جاتے ہیں کوہوں کے چھوڑے درے\nبیاباں میں مرنا کہاں سر دھریں\nنہ لیں راہ بر عرب کیا کریں\nغزل میرؔ یاں کہہ اگر ہو دماغ\nرکے دل ہمارے بھی ہوں باغ باغ\n\nغزل\n\nتھی باد بھی آنے کی چمن میں نہ روادار\nپر کیجیے کیا گل کی صبا بھی ہے ہوادار\n\nشائستۂ دیدن ہے مرے یار کی صحبت\nوہ صاحب ناخواہ ہے بندہ ہے وفادار\n\nکیا خوب ہو کیا زشت ہو رو دیوے ہے سب کو\nاس عرصہ میں آئینہ کو دیکھا ہے ہوادار\n\nکس طور سے یک رنگ ہوں یے عاشق و معشوق\nہے گل کنے زر بلبل بے برگ ہے نادار\n\nکیا بیکسی سے میرؔ نے رحلت کی جہاں سے\nرویا نہ کوئی اس پہ نہ کوئی ہے عزادار\n\nبنوں میں پھرا کرتے ہیں ہم تو دیر\nنہیں بولتے ڈر سے غرندہ شیر\nرہے تھے جو فیلان مست آن کر\nگئے کجلی بن یاں سے ڈر مان کر\nجو ان میں سے آکر لڑا پھر دیا\nسو کٹھ بندھنوں سے ہوا فیل پا\nگریوے کہیں تھے بلند اور پست\nپھر اڑتے تھے واں جیسے پیلان مست\nبہی تیغ نواب اس طور سے\nبہے جدول تیز جس طور سے\nبہت رہ گئے زیر شمشیر و تیر\nبہت آئے لشکر میں ہو کر اسیر\nلدے ہاتھیوں پر جو ہوکر شکار\nہوئیں بوجھ سے پشت فیلاں فگار\nکیے گم جو گینڈے نے اپنے حواس\nکھڑا ہو رہا آکے بھینسوں کے پاس\nکہ بھینس اس کو بھی جان کر لشکری\nچلے جائیں صرصر نمط سرسری\nنہ چھوڑا ہے طیر ایک عصفور تک\nنہ وحشی کپی اور لنگور تک\nلگے جاکے شاہین دستور یوں\nپڑے بکریوں میں کہن گرگ جیوں\nکلنگ ایسے بازوں سے آئے ستوہ\nکہ کابل سے آگے گئے صد کروہ\nنہیں قوچ سرزن نہ ایل نہ رنگ\nہوئے قید یا صید کیا بے درنگ\nغضب کرگئے جرے نواب کے\nاڑا کھا گئے خیل سرخاب کے\nنہ لگ لگ نہ تیتر رہا دشت میں\nنہ غم خوارک آیا نظر گشت میں\nسبھوں میں جو تھے قاز و سارس سرس\nہوئے صید یوں جن پہ آیا ترس\nحواصل کو ہوتا اگر حوصلہ\nتو گرتا نہ کھیتوں میں ہو دہ دلہ\nکہیں سارے طاؤس مرتے گئے\nادھر لوگ افسوس کرتے گئے\nکہیں جی اٹھی تھی زمیں بعد مرگ\nنہال اس کے خوش قد بسیار برگ\nنہ بستی سے صحرا تلک سبز تھے\nنظر جائے جس جا تلک سبز تھے\nہوا دلکش و ہر طرف سبزہ زار\nکہ سرسوں نے کی تھی قیامت بہار\nکھڑے لوگ محو تماشا تھے واں\nکہ کہنے لگی بلبل خوش زباں\nکہ خاطر جنوں سے نہ رکھتے نچنت\nخبر بھی ہے تم کو کہ آئی بسنت\nیہ عہد جنوں ہے جنوں کیجیے\nجگر کو غزل کہتے خوں کیجیے\n\nغزل\n\nبلبل کے بولنے سے آزار دل نے پایا\nکیا کہہ گئی کہ ہم کو سنتے ہی غش سا آیا\n\nنخچیرگہ میں اس کے جاتا نہیں ہے کوئی\nہم کو تو شوق مفرط واں کا لگا کے لایا\n\nانواع رنج ہم نے کھینچے تھے عاشقی میں\nپر ہجر کے الم نے چنگا بہت بنایا\n\nصوفی صاف مشرب بے ہوش و بے خرد ہیں\nمستی نے اس نگہ کی مجلس کے تیں چھکایا\n\nمہر و وفا و الفت کرتے تھے لوگ باہم\nرحمت خدا کی تم نے اس رسم کو اٹھایا\n\nسر مارے تو پری کو ایسی روش نہ آئے\nکس ناز سے زمیں پر پڑتا ہے اس کا سایا\n\nیہ جانتا تو ہرگز بازار میں نہ جاتا\nیوسفؑ کے طور میں بھی سستا بہت بکایا\n\nغیرت سے عاشقی کے جاتا نہیں ہوں میں تو\nوہ خود بہ خود ہی آوے کاش اس طرف خدایا\n\nمعشوق تو ہے پر وہ اوباش کج روش ہے\nکیا کہیے میرؔ جی سے دل کو کہاں لگایا\n\nکسو ایسے جنگل میں جانا ہوا\nکہ مشکل قدم کا اٹھانا ہوا\nنظر گرد لشکر پہ تھی دم بہ دم\nنہ تھا واں کے ضیغم کو کچھ اور غم\nکوئی ارسلاں بھیجتا گر رسول\nتو شاید کہ الحاح ہوتی قبول\nسو وے خوں گرفتہ تو بھولے ہوئے\nبہت اپنے زوروں پہ پھولے ہوئے\nچلے ہر طرف اب جو آکر تفنگ\nنہ اوقات صلح و نہ ہنگام جنگ\nلگی آگ جنگل میں چارہ گیا\nبن آئی نہ کچھ مفت مارا گیا\nہوا چہرہ کوئی تو جوں شیر سنگ\nنہ شیری دلیری نہ چہرے پہ رنگ\nلگی گولی پڑنے نہ پھر چل سکا\nنہ جاگہ سے اکسا نہ ٹک ہل سکا\nچلے ہم جو بہڑاچ سے پیشتر\nہوئے صید دریا کے واں بیشتر\nبھرے فرط ہی سے تو دیہات شہر\nکہے تو کہ سوتے رہے رود و نہر\nگھٹے گولیوں سے مگر بے شمار\nرہے سونس گھڑیال چندیں ہزار\nجو کچھ زخم پانی میں لے کر گئے\nوہیں ہو کے ناسور مر مر گئے\nلگا کہنے باخہ سر اپنا جھکا\nکہ پانی تو جالوں سے سارا رکا\nاگر جایئے تہ کو دھنس جایئے\nوگر گاڑیے سر تو پھنس جایئے\nعجب مخمصہ ہے بچے کیونکے جان\nیہی موت ہے سوجھتی ہے ندان\nجواب اس کا گھڑیال نے یوں دیا\nگھڑی ایک دو کا ہے قصہ رہا\nپڑی سر پہ بجتی ہے فرصت نہیں\nپہر اس کو کھنچتے ہیں اب کیا کہیں\nتحمل ہو کچھ بھی تو تدبیر ہو\nکریں کیا اگر یوں ہی تقدیر ہو\nکوئی دشت یک دست نے زار تھا\nرکھے واں قدم پاؤں افگار تھا\nیہی سینک یا کانس پانی کی گھاس\nزمین و ہوا آب و آتش اداس\nکہیں دوں لگی ہے تمامی ہے دود\nکہیں دو شجر ہیں سو کیا بدنمود\nنہ پتہ نہ شاخیں نہ کچھ ان کو بار\nسراپا ہے خشک و زبوں زرد و زار\nنہ سائے سے ان کے کوئی بہرہ مند\nنہ دیکھا چرندہ نہ آیا پرند\nسیاہی نہ ہرنوں کی ڈاروں نے کی\nنہ چشمک کہیں سے چکاروں نے کی\nکہیں لپٹے آپس میں دو چار نے\nکہیں ہاتھی آیا کہیں شیر نے\nکہیں سرپتا سر پہ تھا جیسے تیغ\nروندوں کے پاؤں پہ آیا دریغ\nنہ بلبل غزل خواں نہ طیروں کا شور\nسبھی دیکھتے میرؔ کے منھ کی اور\nسو ان نے غزل سست سی یہ کہی\nولے دل کو لوگوں کے لگتی رہی\n\nغزل\n\nذوق شکار اس کو ہے اتنا کہ حد نہیں\nکس اس کے تیغ کش پہ ملک کو حسد نہیں\n\nخالی پڑے ہیں صید سے وادی و کوہسار\nرہنے دو وحش و طیر کو اب دام و دد نہیں\n\nبے جد و کد جو اس سے ملاقات ہو تو ہو\nتم کد سے دیکھو ہو کہ ہمیں اس کی کد نہیں\n\nکچھ اور شے ہے خوب جو دیکھو رخ نگار\nہرچند گل بھی تازہ کھلا اتنا بد نہیں\n\nاس بیکسی سے کون جہاں میں موا کہ میں\nجز داغ سینہ آج چراغ لحد نہیں\n\nکیا سرو و گل سے ہووے تسلی کہ اہل شوق\nگل منھ نہیں ہے یار کا سرو اس کا قد نہیں\n\nبے سوز دل کنھوں نے کہا ریختہ تو کیا\nگفتار خام پیش عزیزاں سند نہیں\n\nسو بار مست کعبے میں پکڑے گئے ہیں ہم\nرسوائی کے طریق کے کچھ نابلد نہیں\n\nلطف سخن بھی پیری میں رہتا نہیں ہے میرؔ\nاب شعر ہم پڑھیں ہیں تو وہ شد و مد نہیں\n\nکسو ایسے بن سے نکلنا ہوا\nکہ کوسوں تلک اس میں چلنا ہوا\nکشیدہ قد اس بن کے سارے درخت\nچمن کے سے نوباوگاں سبز بخت\nبرابر برابر کھڑے سر بہ سر\nپھرے دیر اودھر کو جاکر نظر\nپرے چل کے آیا تراکم بہت\nحواس اس میں جاکر ہوئے گم بہت\nکہیں راہ نکلی تو چلتے پڑے\nرہے پال و پرتل بہت واں کھڑے\nکہ شاخوں نے جھک جھک ملائے تھے سر\nبہت آگے جا جا کے آئے تھے پھر\nوہی راہ درپیش و کثرت ہوئی\nقیامت کے اوپر قیامت ہوئی\nسروں پر ادھر توپ آئی چلی\nپڑی تھی ادھر لوگوں میں کھلبلی\nکہیں اسپ و اشتر کہیں فیل مست\nزمیں ہر سر گام بالا و پست\nگذر جس طرح اس طرح سے کیا\nروندوں نے خون جگر ہی پیا\nوہیں بیچ آیا میانہ مرا\nکوئی دیکھتا رنج اٹھانا مرا\nسواری سے مجھ کو ندامت ہوئی\nکہ چاروں طرف سے ملامت ہوئی\nلگے کہنے آیا فرنگی کہاں\nکہ چوپالے کی رسم چھوڑے ہے یاں\nجسے دیکھو چار ان نے رکھ کر کہار\nلگا ہونے ہر صبح اس پر سوار\nچلو ہی چلو ہے کہ بچ جائیو\nکہ چوپالے کے پاس تم آئیو\nروندے ادھر کے ادھر ہیں خراب\nیہ جاتے ہیں مجرے کو بھاگے شتاب\nچڑھے چار کے کاندھے جیتے ہی جی\nلیا اٹکل اس سودے میں نفع بھی\nکہ گھوڑے دیے چھوڑ یک بارگی\nمیانوں میں کرتے ہیں آوارگی\nنہ اس حال سے اہل دفتر خبر\nتوجہ نہ عمدوں کی کچھ ہے ادھر\nوگرنہ ہو قدغن کہ اب اہل کار\nنہ رہنے دیں لشکر میں ڈولی سوار\nنہ مانیں تو چوپالے دیویں الٹ\nابھی گھوڑے لیں ڈپٹیں ایک ہی ڈپٹ\nکرو میرؔ بحر اور اب اختیار\nمگر اس سے نکلیں در آبدار\n\nغزل\n\nجوجو ظلم کیے ہیں تم نے سو سو ہم نے اٹھائے ہیں\nداغ جگر پہ جلائے ہیں چھاتی پہ جراحت کھائے ہیں\n\nتیغ دریغ نہیں ہے اس کی بسمل گہ میں کسو سے بھی\nہیں تو شکار لاغر ہم پر ایک امید پر آئے ہیں\n\nٹل کر سامنے یوں بھی اب جو تیر ترازو ہو اس کا\nکیا کیا لوہو پی کر دل کو اس پلے پر لائے ہیں\n\nخم سے لگی میخانہ کے دیوار بھی اپنے گھر کی ہے\nلطف پیر مغاں سے عجب کیا ہم آخر ہمسائے ہیں\n\nشوق غم میں بے صبری ہے آہ کسو کو کیا کہیے\nاچھے اپنے جی کو ہم نے آپ ہی روگ لگائے ہیں\n\nمحو سخن ہم فکر سخن میں رفتہ ہی بیٹھے رہتے ہیں\nآپ کو جب کھویا ہے ہم نے تب یہ گوہر پائے ہیں\n\nدیکھیں طرف ہے کون سی جس سے تیغ ناز بلند کرے\nہم نے بھی تو اس ہی جہت سے فرق نیاز جھکائے ہیں\n\nتب تھے سپاہی اب ہیں جوگی آہ جوانی یوں کاٹی\nایسی تھوڑی رات میں ہم نے کیا کیا سوانگ بنائے ہیں\n\nکس کو ایسی بے خبری تھی جس کے بولے تو چونکا\nسو ٹھوکر نے ان پلکوں کی کتنے فتنے جگائے ہیں\n\nکون وہ ایسا ظالم تھا استاد فن عیاری کا\nاتنے سن میں جن نے تجھ کو ایسے فریب سکھائے ہیں\n\nمیرؔ مقدس آدمی ہیں تھے سبحہ بہ کف میخانے میں\nصبح جو ہم بھی جا نکلے تو دیکھ کے کیا شرمائے ہیں\n\nکیا ایک نالے سے ہم نے گذر\nہوئی قائم اس جا پہ حشر دگر\nگرے گاڑی چھکڑے پیادے سوار\nکہ مقصد تھا سب کا عبور ایک بار\nگذارا جو فیلوں کا پہلا ہوا\nملا خاک میں آب چہلا ہوا\nکمر تک لگے پھنسنے دلدل کے بیچ\nکہ نالے کا پانی تھا یک دست کیچ\nپھنسے گاؤ اشتر گرے بارخر\nہوئے اسپ و اشتر بھی زیر و زبر\nاگرچند باندھے تھے وہ جسر خام\nہوئے ایک ریلے میں دونوں تمام\nنہ دیکھے تھے آگے کبھو یہ سمیں\nولیکن خدا نے اتارا ہمیں\nسلامت رہا اپنا اسباب سب\nرہے لوگ لشکر کے کرتے عجب\nچلے واں سے آگے بنڈیلا ملا\nکیا ان نے ایک ایک کو دہ دلہ\nعجب راہ پرخوف مشکل گزار\nنہ ہوتے تھے معلوم ہاتھی سوار\nخطر شیر کا شور بنگاہ کا\nتعب واں کے جانے کا غم راہ کا\nکہ جا و زمیں کچھ ہویدا نہ تھی\nکہیں اس میں پگڈنڈی پیدا نہ تھی\nگڑھے غار پاؤں کی لغزش بلا\nچلی باؤ تو نے کی لرزش بلا\nصدا برگ نے کی نہایت مہیب\nطریق عجیب و مسافر غریب\nجنوں پیشہ وہ دشت وحشت شعار\nکہ فیل اس کے طفلان بازی مدار\nکہیں پانی آیا سو حالت خراب\nکہ تھا زیر کاہ اس میں ہر جاے آب\nنہ ہاتھی نہ اسباب اپنے کنے\nیہی اک میانہ بنے سو بنے\nچنانچہ گئے راوتی کے کنار\nنہ ربط آشنائی کسو سے نہ پیار\nکھڑے ہم رہے ہاتھ پر رکھ کے ہاتھ\nکریں پار جانے کی کس منھ سے بات\nکہار اک میانے میں اپنے دیے\nپھر اس کے جو تھے چاروں ہم نے لیے\nچڑھ ان کے سر آں روے دریا ہوئے\nہوئے پانی پانی کہ رسوا ہوئے\nنہ جانا کہ آتا ہے کس کا قدم\nکہ صید بیاباں گئے کرکے رم\nگوزن ایک دو مار لائے کبھو\nاڑے باز جرے کہیں ایک سو\nنہ صید ایک دیکھا بھرے لاکھ رنگ\nغزل میرؔ نے بھی کہی اور ڈھنگ\n\nغزل\n\nاک درج موتیوں کے عوض ہاتھ آگیا\nیوسفؑ ہزار حیف کہ سستا بکا گیا\n\nجانا نہ تھا سرہانے سے مجھ مختصر کے ہائے\nکیا وقت رہ گیا تھا کہ وہ منھ چھپا گیا\n\nآشفتہ سر ہیں سرو و گریباں دریدہ گل\nبیٹھا کہاں چمن میں کہ فتنہ اٹھا گیا\n\nگل برگ سے بھرے تھے کہے تو کنار و جیب\nکیا کیا سمیں نہ گریۂ خونیں دکھا گیا\n\nخط بھیج کے بھی شوق کی باتیں چلی گئیں\nقاصد کے پیچھے دور تلک میں لگا گیا\n\nروتا ہوں یوں کہ برسے ہے شدت سے جیسے مینھ\nجوں ابر میرے دل پہ غم عشق چھا گیا\n\nجو نقش روزگار کے صفحے سے محو ہو\nصورت پذیر پھر نہیں ہوتا مٹا گیا\n\nہستی مری کہ ہیچ تھی میں منفعل رہا\nاس شرم سے ندان زمیں میں سما گیا\n\nداغ دل خراب شبوں کو جلے ہے میرؔ\nعشق اس خرابے میں بھی چراغ اک جلا گیا\n\nچلے صبح گہ دامن کوہ کو\nتماشاکناں فوج و انبوہ کو\nدرختوں میں چلنا تو دشوار تھا\nولے راستہ بھی قدم وار تھا\nگزارا ہوا یوں ہی اک آدھ کوس\nپٹیلے پہ ہنگامہ آرا تھی اوس\nنیستاں میں چھپتا تھا گھوڑے سوار\nاگر ہو تو واں شیر کا ہو شکار\nنہ رہتے تھے سو شیر شرزہ بھی واں\nنہ ہاتھی کے پاؤں کا پایا نشاں\nعجب کشمکش درمیاں آگئی\nبہیر اک بلا تھی جہاں آگئی\nنہ ہلنے کی جاگہ نہ چلنے کو راہ\nسروں پر کھڑے اسپ و فیل سپاہ\nخطر فیل دشتی کا ہر ہر قدم\nگئے شیر کے ہر قدم پر قدم\nکنار آب کے لوگ اترے تمام\nہوئے دامن کوہ میں کچھ مقام\nسر کوہ کیونکر نہ ہو چرخ ساے\nکہ نواب واں سیر کرنے کو جائے\nرہے آب پر فرش چوکی و تخت\nخہے رود کوہ و زہے ان کے بخت\nہمارا تو جانے کو چاہا نہ جی\nکہ تھے پیر ہم واں ہوا خوب تھی\nرہی منعقد بزم تھا ناچ راگ\nنہ ہو کچھ تو کیونکر ہو یہ دل کی لاگ\nکہی اور ہی بحر میں یہ غزل\nمگر میرؔ کو ہے دماغی خلل\n\nغزل\n\nکر لطف عارض مت چھپا عاشق سے اے یار اس قدر\nیک جان کو یہ عارضے یک دل کو افکار اس قدر\n\nجو کچھ ہے سو دل کے سبب غم غصہ و رنج و تعب\nتھے چاہنے سے پیشتر کاہے کو بیمار اس قدر\n\nہر دم جو اس کے ابرواں جنبش میں ہیں کانپے ہے جاں\nیعنی ہیں آنکھیں جھپتیاں چلتی ہے تلوار اس قدر\n\nشب نالہ و زاری رہے دن خستگی خواری رہے\nوہ دل نہیں باقی رہا کھینچے جو آزار اس قدر\n\nوے دل زدے ہیں خستہ جاں مر جاتے ہیں جو ناگہاں\nورنہ قضا کس شخص کی پہنچی ہے یک بار اس قدر\n\nطرے سے طراری کرے مستی میں ہشیاری کرے\nآیا نظر اب تک نہیں طرار و عیار اس قدر\n\nالفت کہاں کلفت ہے یاں یہ بھی عجب صحبت ہے میاں\nبیزار وہ اس مرتبہ جس سے ہمیں پیار اس قدر\n\nتم آگے کب تھے بدگماں سب حجت و یکسر زباں\nاب اک سخن پر مہرباں کرتے ہو تکرار اس قدر\n\nآنکھیں کھلی ہیں میرؔ کی جب دیکھو تب آئینہ ساں\nآدم نہیں ہوتے کہیں مشتاق دیدار اس قدر\n\nبہا سنگ ریزوں پہ اس رنگ آب\nکہ قدر ان کی جوں قدر یاقوت ناب\nلیے عمدے ہاتھوں میں دیکھیں بہار\nکہ ہر شے کا ہے وقت لیل و نہار\nاسی آب کا رابتی یاں ہے نام\nہمیں ساتھ اس کے ہے ربط تمام\nکنارے کنارے اسی کے ہے راہ\nچلے جاتے ہیں جو نہ ہووے پناہ\nجہاں تک ہے آب و خور اب جائیں گے\nسمیں دیکھیں گے جو نظر آئیں گے\nجبل سے ہوئے ظاہر آثار آب\nبرسنے لگا قطرہ قطرہ سحاب\nہمیں پر نہیں کچھ ہوا کا ستم\nکہیں گرگ وادی کو بھی ہے یہ غم\nکہیں ایسے سکڑے ہیں حیوان دشت\nکہ ٹکڑے کرو تو نہ ہوں گرم گشت\nنہ نکلے ہے ہاتھی نہ بولے ہے شیر\nکوئی یوز پکڑا ہے سو بعد دیر\nاسد یک طرف یوز یک سو رہے\nعجب یہ ہے باندھے گئے اژدہے\nنہ پوچھو کھنچا دور کار شکار\nنہ اب دشت و در میں نمر ہے نہ مار\nشکارافگناں راہ کرتے تھے طے\nملے جاتے تھے خاک میں دشت نے\nنہ ببروں کو جنگل میں طاقت رہی\nنہ مگروں کو پانی میں فرصت رہی\nاسد مارے جاتے تھے سگ کی مثال\nبندھے آتے تھے یوز و گرگ و غزال\nملا ایک چقر اگر یا گڑھا\nتو کثرت سے نو نیزہ پانی چڑھا\nبہت مشکلوں سے کیا ہے عبور\nکہ یک گام راہ اور سو سو فتور\nغزل بحر کامل میں تہ دار کہہ\nکہ اڑ جائے میرؔ اس بحیرے کی تہ\n\nغزل\n\nنہ دماغ ہے کہ کسو سے ہم کریں گفتگو غم یار میں\nنہ فراغ ہے کہ فقیروں سے ملیں جا کے دلی دیار میں\n\nنہ چمن میں جاتے رہا ہے دل نہ بنوں میں پھرنے لگا ہے دل\nوہی بے کلی رہی جان کو رہے سیر میں نہ شکار میں\n\nکہے کون صید رمیدہ سے کہ ادھر بھی پھر کے نظر کرے\nکہ نقاب الٹے سوار ہے ترے پیچھے کوئی غبار میں\n\nترے شام خط کے قریب کی جو صفا میں دیکھی میں خوبیاں\nنہ سمیں پہ گل میں نظر پڑے نہ یہ رنگ صبح بہار میں\n\nکوئی شعلہ ہے کہ شرارہ ہے کہ ہوا ہے یہ کہ ستارہ ہے\nیہی دل جو لے کے گڑیں گے ہم تو لگے گی آگ مزار میں\n\nجھکی کچھ کہ جی میں چبھی سبھی ہلی ٹک کہ دل میں کھبی سبھی\nیہ جو لاگ پلکوں میں اس کے ہے نہ چھری میں ہے نہ کٹار میں\n\nمرے ایک دل میں جو غم یہ ہے سو فزوں ہے میرے شمار سے\nنہ تو دس میں یہ نہ پچاس میں نہ تو سو میں یہ نہ ہزار میں\n\nبڑے جانور خوار کیا کیا ہوئے\nبندھے پاے فیلاں سے رسوا ہوئے\nبہت نالے کھولے پکھالے گئے\nبحیروں سے روہو نکالے گئے\nمگر کی پس از مرگ عزت ہوئی\nکہ ہاتھی پہ چڑھنے کی رخصت ہوئی\nکشف کا ہوا ہے یہ اوصاف اب\nکہ جھینگوں نے کی شرح کشاف اب\nنہ تیتر بٹیر اور کبوتر ملا\nدیے باز جروں کو سارے کھلا\nکہیں بحری پانی میں یوں جا لگے\nکہ پنجوں میں بے صید ادھر آ لگے\nہوا میں سے یوں کر اتارے کلنگ\nکہ بازوں نے چڑیا سے مارے کلنگ\nکسو اور ارنوں کو دیکھا کھڑے\nکہے تو بیاباں میں ہاتھی پڑے\nجگر کرکے جاتے تھے مردان کار\nتو وہ ایک دو کر ہی لاتے شکار\nوگرنہ بشر کا نہ مقدور تھا\nقریب اس کے جانا بہت دور تھا\nنہ ان چارشانوں کا روکش ہے شیر\nنہ سو فیل دوچار رکھتے ہیں گھیر\nمددگار تھے حضرت زندہ پیل\nپکڑ لاتے تھے لوگ تب ژندہ پیل\nبحیرہ نہ دریاے اعظم سے کم\nاٹھا کرتے تھے لجے لطمے بہم\nہر اک موج اس کی سمندر کی لہر\nکنارے پہ گرداب غرقاب قہر\nیہی جنگل اس جھیل کے آس پاس\nدرختوں کا انبوہ نے کا اگاس\nاسی بن میں شیر اور یوز و پلنگ\nاسی بن میں گور و گوزن اور رنگ\nاسی بن میں ہاتھی وہیں کرگدن\nوہیں قوچ سرزن اسی میں ہرن\nاسی بن میں لنگور بندر بھی تھے\nوہیں ایک دو ہم قلندر بھی تھے\nاسی بن میں پاڑھا وہیں نیل گاؤ\nاسی بن میں یہ صیدبندی کا چاؤ\nاسی بن میں تھے حضرت بوحمید\nاسی بن میں نسناس ان کے مرید\nاسی بن میں تھے خوک جاموش رنگ\nکیا اس سوربن نے لوگوں کو تنگ\nاسی بن میں رہنا اسی بن میں راہ\nوہیں شام کا حسن لطف پگاہ\nاسی بن میں وہ جھیل گہری بہت\nہوئے صید بری و بحری بہت\nوہیں مچھلی بکتی تھی دمڑی کی سیر\nولیکن نہ کھاتا تھا ہو کوئی سیر\nکہ اس آب کا ہضم دشوار تھا\nکہ جوں آب شمشیر دم دار تھا\nشغال اور خرگوش جی سے گئے\nشکاری سگ ان کو اچک لے گئے\nغزل سے لگا ہے بہت میرؔ دل\nکہ اس مثنوی میں کہیں متصل\n\nغزل\n\nہے گی طلب شرط یاں کچھ تو کیا چاہیے\nبیٹھے نہیں بنتی میاں کچھ تو کیا چاہیے\n\nعشق میں اے ہمرہاں کچھ تو کیا چاہیے\nگریہ و شور و فغاں کچھ تو کیا چاہیے\n\nہاتھ رکھے ہاتھ پر بیٹھے ہو کیا بے خبر\nچلنے کو ہے کارواں کچھ تو کیا چاہیے\n\nمیں جو کہا تنگ ہوں مار مروں کیا کروں\nوہ بھی لگا کہنے ہاں کچھ تو کیا چاہیے\n\nسون کسے رہنے کی کس نے بدی ہے بھلا\nلطف و غضب مہرباں کچھ تو کیا چاہیے\n\nکام اب اپنا ہے یاں کندن جاں ہر زماں\nکیا کریں ہم ناتواں کچھ تو کیا چاہیے\n\nکیا کروں دل خوں کروں شعر ہی موزوں کروں\nچلتی ہے اب تک زباں کچھ تو کیا چاہیے\n\nہو نہ سکے گر نماز دل کی طرف کر نیاز\nوقت گیا پھر کہاں کچھ تو کیا چاہیے\n\nچاہوں کسو سے دعا دل کی کروں اب دوا\nنفع ہو پھر یا زیاں کچھ تو کیا چاہیے\n\nعمر گئی لغو سب وقت بہت کم ہے اب\nکچھ نہ کیا ہائے میاں کچھ تو کیا چاہیے\n\nیہ تو نہیں دوستی ہم سے جو تم کو رہی\nپاس دل دوستاں کچھ تو کیا چاہیے\n\nتونے کماں کی ہے زہ پر ہوں نہ یوں صید میں\nمیری بھی خاطر نشاں کچھ تو کیا چاہیے\n\nمیرؔ نہیں پیر تم کاہلی اللہ رے\nنام خدا ہو جواں کچھ تو کیا چاہیے\n\nکنارے پہ تھی اس کے اک گل زمیں\nسراسر ہری جوں زمردنگیں\nجہاں تک نظر جائے شاداب تھی\nکہ یک دست واقع لب آب تھی\nوہیں خیمے سب کے ہوئے تھے کھڑے\nوہیں دام رہتے تھے اکثر پڑے\nنواڑوں کی سیر اس میں ہر شام گہ\nوہی سیرگاہ و وہی دام گہ\nوہیں صید ہوں مرغ و ماہی تمام\nمقام ایسے ہوویں تو کریے مقام\nہوا خیمہ آکر جو نواب کا\nفلک ساے تھا فرق اس آب کا\nہوا ہوتا واں کاش دو آب رز\nہوئے جیسے شائستۂ سیر نز\nعجب ڈھب سے کی روشنی صد عجب\nکہ دیں چھوڑ ناویں دیے بھر کے سب\nجدا ہوویں تو غنچہ غنچہ چراغ\nملے جیسے عاشق کی چھاتی کے داغ\nورے روشنی شعلہ انگیز نار\nپرے سطح پانی کا آئینہ وار\nہوئیں کشتیاں کچھ ورے سے پرے\nچراغوں سے موجوں کے کوچے بھرے\nحبابوں میں تھی جو چراغوں کی تاب\nحبابی تھا آئینہ سب سطح آب\nنمودار چرخ پر انجم تھی شب\nدیوں سے وہ پھیلاؤ پانی کا سب\nغرض روشنی کی عجب کچھ تھی لاگ\nلگا دی ہے گویاکہ پانی میں آگ\nغزل میرؔ کوئی کہا چاہیے\nکسو تو زمیں پر رہا چاہیے\n\nغزل\n\nکب آوے گا کیا جانے وہ سروقامت\nہمارے تو سر پر ابھی ہے قیامت\n\nنماز سفر ہے اشارت اسی سے\nکہ تھوڑا بہت یاں ہے وقت اقامت\n\nرہا رابطہ غارت دل تلک بس\nنہیں اب تو بندے سے صاحب سلامت\n\nگریباں کو گل چاک کرنے لگیں گے\nکھلے رکھ گلستاں میں بند قبا مت\n\nاٹھاکر نہ یک زخم شمشیر اس کا\nغزال حرم نے اٹھائی ملامت\n\nبگڑتی ہے صورت علاقے سے دل کے\nکسو بے وفا سے دل اپنا لگا مت\n\nکوئی فصل گل میں بھی توبہ کرے ہے\nرہے گی ہمیں دیر اس کی ندامت\n\nکہیں دل کی لاگیں لگیں چھپتیاں ہیں\nکہ چہرے کی زردی بڑی ہے علامت\n\nگئی سو گئی پیشتر تھی جوانی\nرہ عشق میں میرؔ آئندہ جا مت\n\nزمانے میں ہے رسم کہنے کی کچھ\nامید اس سے ہے نام رہنے کی کچھ\nکسو سے ہوئی شاہنامے کی فکر\nکہ محمود کا لوگ کرتے ہیں ذکر\nگیا شاجہاں نامہ کہہ کر کلیم\nدل شاعراں رشک سے ہے دونیم\nکنھوں نے کہی عشق کی داستاں\nہوا کوئی کہانی سے ہم داستاں\nپئے آصف الدولہ میں نے بھی میرؔ\nکہے صیدنامے بہت بے نظیر\nمگر نام نامی یہ مشہور ہو\nگئے پر بھی لوگوں میں مذکور ہو\nزہے آصف الدولۂ دادگر\nسخنورنواز اور عاشق ہنر\nدہش سے جہاں اس کے رونق پذیر\nوزیر ابن دستور ابن وزیر\nکریمی کرے تو جہاں در جہاں\nکف جود خورشید سا زرفشاں\nسراپاے احساں تمامی ہمم\nہمہ تن مروت سراسر کرم\nہمیشہ رہے گرم سیروشکار\nیہ حرف و حکایت بھی ہے یادگار\nقفاے غزل اک رباعی کہو\nسخن آگے موقوف چپکے رہو\nبہت کچھ کہا ہے کرو میرؔ بس\nکہ اللہ بس اور باقی ہوس\nجواہر تو کیا کیا دکھایا گیا\nخریدار لیکن نہ پایا گیا\nمتاع ہنر پھیر لے کر چلو\nبہت لکھنؤ میں رہے گھر چلو\n\nغزل\n\nکرو تامل کہ حال ہم میں رہا نہیں ہے غموں کے مارے\nجو کچھ بھروسا جنھوں پہ تھا سو شکیب و تاب و تواں سدھارے\n\nہوئے ہیں غائر قیامت اب تو گئے جگر تک گئے ہیں دل تک\nجو ٹک بھی دیکھے وہ غور سے تو جراحت اس کو دکھائیں سارے\n\nہماری آنکھیں بہی ہیں اتنی کہ اب ہے دریا محیط عالم\nکہیں کہیں جو رہیں ہیں مردم سو بیٹھے ہیں وے کیے کنارے\n\nکریں تحمل سو کاہے پر ہم مدام بے خود ہمیشہ غش ہے\nگئی ہے طاقت دلوں سے شاید نہیں ہے آیا جگر ہمارے\n\nکبھو سروں پر ہے تیغ نالہ کبھو سنان فغاں جگر پر\nکسو سے کہنے کا کچھ بھی حاصل گئے ہیں جوں توں کے وقت بارے\n\nبھری تھی آتش کہاں کی یارب دل و جگر میں کہ نصف شب کو\nلگا جو رونے تو جاے آنسو مری مژہ سے گرے شرارے\n\nقبول عشق و محبت اتنا ہوا ہے اے میرؔ سیر قابل\nمدام جاتے دکھائی دوں ہوں کبھو نہ ان نے کہا کہ آرے\n\nرباعی\n\nچلنے کو ہوئے بادیے سے ہم جو کڑے\nمل چلنے کے اتفاق بہتیرے پڑے\nمجنوں نے کہا تھا میں بھی آتا ہوں میرؔ\nآیا نہ رہے راہ میں ہم دیر کھڑے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%82_%D8%AF%D9%88%D9%85"} {"title": "شکاری عورتیں (افسانہ)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "شکاری عورتیں", "year": "1955", "text_ur": "میں آج آپ کو چند شکاری عورتوں کے قصّے سناؤں گا۔ میرا خیال ہے کہ آپ کو بھی کبھی ان سے واسطہ پڑا ہوگا۔میں بمبئی میں تھا۔ فلمستان سے عام طور پربرقی ٹرین سے چھ بجے گھر پہنچ جایا کرتا تھالیکن اس روز مجھے دیر ہوگئی، اس لیے کہ ’’شکاری‘‘ کی کہانی پر بحث مباحثہ ہوتا رہا۔\n\nمیں جب بمبئے سنٹرل کے اسٹیشن پر اترا تو میں نے ایک لڑکی کو دیکھا جو تھرڈ کلاس کمپارٹمنٹ سے باہر نکلی۔ اس کا رنگ گہرا سانولا تھا۔ ناک نقشہ ٹھیک تھا۔جوان تھی۔ اس کی چال بڑی انوکھی سی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ فلم کا منظر نامہ لکھ رہی ہے۔ میں اسٹیشن سے باہر آیا اور پل پر وکٹوریا گاڑی کا انتظارکرنے لگا۔ میں تیز چلنے کا عادی ہوں اس لیے میں دوسرے مسافروں سے بہت پہلے باہر نکل آیا تھا۔\n\nوکٹوریا آئی اور میں اس میں بیٹھ گیا۔ میں نے کوچوان سے کہا کہ آہستہ آہستہ چلے اس لیے کہ فلمستان میں کہانی پر بحث کرتے کرتے میری طبیعت مکدر ہوگئی تھی۔ موسم خوشگوار تھا۔ وکٹوریا والا آہستہ آہستہ پل پر سے اترنے لگا۔جب ہم سیدھی سڑک پر پہنچے تو ایک آدمی سرپر ٹاٹ سے ڈھکا ہوا مٹکا اٹھائے صدا لگا رہا تھا۔ ’’قلفی۔۔۔قلفی‘‘!\n\nجانے کیوں میں نے کوچوان سے وکٹوریہ روک لینے کے لیے کہااور اس قلفی بیچنے والے سے کہا ایک قلفی دو۔۔۔ میں اصل میں اپنی طبیعت کا تکدر کسی نہ کسی طرح دور کرنا چاہتا تھا۔اس نے مجھے ایک دونے (پتوں کا پیالہ) میں قلفی دی۔ میں کھانے ہی والا تھا کہ اچانک کوئی دھم سے وکٹوریا میں آن گھسا۔ کافی اندھیرا تھا۔ میں نے دیکھا تو وہی گہرے رنگ کی سانولی لڑکی تھی۔میں بہت گھبرایا۔۔۔ وہ مسکرا رہی تھی۔ دونے میں میری قلفی پگھلنا شروع ہوگئی۔\n\nاس نے قلفی والے سے بڑے بے تکلّف انداز میں کہا، ’’ایک مجھے بھی دو۔‘‘ اس نے دے دی۔گہرے سانولے رنگ کی لڑکی نے اسے ایک منٹ میں چٹ کردیا اور وکٹوریا والے سے کہا، ’’چلو۔‘‘\n\nمیں نے اس سے پوچھا، ’’کہاں؟‘‘\n\n’’جہاں بھی تم چاہتے ہو۔‘‘\n\n’’مجھے تو اپنے گھر جانا ہے۔‘‘\n\n’’تو گھر ہی چلو۔‘‘\n\n’’تم ہو کون؟‘‘\n\n’’کتنے بھولے بنتے ہو۔‘‘\n\nمیں سمجھ گیا کہ وہ کس قماش کی لڑکی ہے۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا، ’’گھر جانا ٹھیک نہیں۔۔۔ اور یہ وکٹوریا بھی غلط ہے۔۔۔ کوئی ٹیکسی لے لیتے ہیں۔‘‘ وہ میرے اس مشورے سے بہت خوش ہوئی۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس سے نجات کیسے حاصل کروں۔۔۔ اسے دھکا دے کر باہر نکالتاتو اودھم مچ جاتا۔ پھرمیں نے یہ سوچا کہ عورت ذات ہے کہ اس سے فائدہ اٹھا کر کہیں وہ یہ واویلا نہ مچادے کہ میں نے اس سے ناشائستہ مذاق کیا ہے۔\n\nوکٹوریا چلتی رہی اور میں سوچتا رہا کہ یہ مصیبت کیسے ٹل سکتی ہے۔ آخر ہم بے بی ہسپتال کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں ٹیکسیوں کا اڈہ تھا۔ میں نے وکٹوریا والے کو اس کا کرایہ ادا کیا اور ایک ٹیکسی لے لی۔ ہم دونوں اس پر بیٹھ گئے۔\n\nڈرائیور نے پوچھا، ’’کدھر جانا ہے صاحب؟‘‘\n\nمیں اگلی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد میں نے اس سے زیر لب کہا،’’مجھے کہیں بھی نہیں جانا ہے۔۔۔ یہ لو دس روپے۔۔۔ اس لڑکی کو تم جہاں بھی لے جانا چاہو لے جاؤ۔ ‘‘وہ بہت خوش ہوا۔دوسرے موڑ پر اس نے گاڑی ٹھہرائی اور مجھ سے کہا،’’ صاحب آپ کو سگریٹ لینے تھے۔۔۔ اس ایرانی کے ہوٹل سے سستے مل جائیں گے۔‘‘میں فوراً دروازہ کھول کرباہر نکلا۔ گہرے رنگ کی لڑکی نے کہا، ’’دو پیکٹ لانا۔‘‘ ڈرائیور اس سے مخاطب ہوا، ’’تین لے آئیں گے۔‘‘ اور اس نے موٹر اسٹارٹ کی اور یہ جا وہ جا۔\n\n۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\n\nبمبئی ہی کا واقعہ ہے، میں اپنے فلیٹ میں اکیلا بیٹھا تھا۔ میری بیوی شاپنگ کے لیے گئی ہوئی تھی کہ ایک گھاٹن جو بڑے تیکھے نقشوں والی تھی، بے دھڑک اندر چلی آئی۔ میں نے سوچا شاید نوکری کی تلاش میں آئی ہے۔ مگر وہ آتے ہی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔ میرے سگریٹ کیس سے ایک سگریٹ نکالا اور اسے سلگا کر مسکرانے لگی۔\nمیں نے اس سے پوچھا، ’’کون ہو تم؟‘‘\n\n’’تم پہچانتے نہیں۔‘‘\n\n’’میں نے آج پہلی دفعہ تمہیں دیکھا ہے۔‘‘\n\n’’سالا جھوٹ مت بولو۔۔۔ روز روز دیکھتا ہے۔‘‘\n\nمیں بڑی الجھن میں گرفتار ہوگیا۔۔۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد میرا نوکر فضل دین آگیا۔۔۔ اس نے اس تیکھے نقشوں والی گھاٹن کو اپنی تحویل میں لے لیا۔\n\n۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\n\nیہ واقعہ لاہور کا ہے۔\n\nمیں اور میرا ایک دوست ریڈیو اسٹیشن جارہے تھے۔ جب ہمارا تانگہ اسمبلی ہال کے پاس پہنچا تو ایک تانگہ ہمارے عقب سے نکل کر آگے آگیا۔ اس میں ایک برقع پوش عورت تھی جس کی نقاب نیم وا تھی۔\n\nمیں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں عجیب قسم کی شرارت ناچنے لگی۔ میں نے اپنے دوست سے جو پچھلی نشست پر بیٹھا تھا،کہا، ’’یہ عورت بد چلن معلوم ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’تم ایسے فیصلے ایک دم مت دیا کرو۔‘‘\n\n’’بہت اچھا جناب۔۔۔ میں آئندہ احتیاط سے کام لوں گا۔‘‘\n\nبرقع والی عورت کا تانگا ہمارے تانگے کے آگے آگے تھا۔ وہ ٹکٹکی لگائے ہمیں دیکھ رہی تھی۔ میں بڑا بزدل ہوں، لیکن اس وقت مجھے شرارت سوجھی اور میں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے آداب عرض کردیا۔اس کے ادھ ڈھکے چہرے پر مجھے کوئی ردِّ عمل نظر نہ آیا جس سے مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔\n\nمیرا دوست گٹکنے لگا۔ اس کو میری اس ناکامی سے بڑی مسرت ہوئی لیکن جب ہمارا ٹانگہ شملہ پہاڑی کے پاس پہنچ رہا تھا تو برقع پوش عورت نے اپنا ٹانگہ ٹھہرالیا اور(میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا) وہ نیم اٹھی ہوئی نقاب کے اندر مسکراتی ہوئی آئی اور ہمارے ٹانگے میں بیٹھ گئی۔۔۔ میرے دوست کے ساتھ۔میری سمجھ میں نہ آیا کیا کیا جائے۔ میں نے اس برقع پوش عورت سے کوئی بات نہ کی، اور ٹانگے والے سے کہا کہ وہ ریڈیو اسٹیشن کا رخ کرے۔\n\nمیں اسے اندر لے گیا۔۔۔ ڈائریکٹر صاحب سے میرے دوستانہ مراسم تھے۔ میں نے ان سےکہا،’’یہ خاتون ہمیں رستے میں پڑی ہوئی مل گئی۔ آپ کے پاس لے آیا ہوں، اور درخواست کرتا ہوں کہ انہیں یہاں کوئی کام دلوا دیجیے۔‘‘\n\nانہوں نے اس کی آواز کا امتحان کرایا جو کافی اطمینان بخش تھا۔ جب وہ آڈیشن دے کر آئی تو اس نے برقع اتارا ہوا تھا۔ میں نے اسے غور سے دیکھا۔ اس کی عمر پچیس کے قریب ہوگی۔ رنگ گورا،آنکھیں بڑی بڑی۔ لیکن اس کا جسم ایسا معلوم ہوتا تھاجیسے شکر قندی کی طرح بھوبل میں ڈال کر باہر نکالا گیا ہے۔\n\nہم باتیں کررہے تھے کہ اتنے میں چپراسی آیا۔ اس نے کہا کہ باہر ایک ٹانگہ والا کھڑا ہے، وہ کرایہ مانگتا ہے۔ میں نے سوچا شاید زیادہ عرصہ گزرنے پر وہ تنگ آگیا ہے،چنانچہ میں باہر نکلا۔ میں نے اپنے تانگے والے سے پوچھا، ’’بھئی کیا بات ہے۔ ہم کہیں بھاگ تو نہیں گئے۔‘‘\n\nوہ بڑا حیران ہوا’’کیا بات ہے سرکار؟‘‘\n\n’’تم نے کہلا بھیجا ہے کہ میرا کرایہ ادا کرو۔‘‘\n\n’’میں نے جناب کسی سے کچھ بھی نہیں کہا۔‘‘\n\nاس کے تانگے کے ساتھ ہی ایک دوسرا تانگہ کھڑا تھا۔ اس کا کوچوان جو گھوڑے کو گھاس کھلا رہا تھا، میرے پاس آیا اور کہا، ’’وہ عورت جو آپ کے ساتھ گئی تھی، کہاں ہے؟‘‘\n\n’’اندر ہے۔۔۔ کیوں؟‘‘\n\n’’جی اس نے دو گھنٹے مجھے خراب کیا ہے۔۔۔ کبھی ادھر جاتی تھی،کبھی ادھر۔۔۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اس کو معلوم ہی نہیں کہ اسے کہاں جانا ہے۔‘‘\n\n’’اب تم کیا چاہتے ہو؟‘‘\n\n’’جی میں اپنا کرایہ چاہتا ہوں۔‘‘\n\n’’میں اسے لے کر آتا ہوں۔‘‘\n\nمیں اندرگیا۔۔۔ اس برقع پوش عورت سے جو اپنا برقع اتار چکی تھی، کہا، ’’تمہارا تانگے والا کرایہ مانگتا ہے۔‘‘\n\nوہ مسکرائی، ’’میں دے دوں گی۔‘‘\n\nمیں نے اس کا پرس جو صوفے پر پڑا تھا، اٹھایا۔ اس کو کھولا۔۔۔ مگر اس میں ایک پیسہ بھی نہیں تھا۔ بس کے چند ٹکٹ تھے اور دو بالوں کی پنیں۔۔۔ اور ایک واہیات قسم کی لپ اسٹک۔ میں نے وہاں ڈائریکٹر کے دفتر میں کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا۔ ان سے رخصت طلب کی۔ باہر آکر اس کے تانگے والے کو دو گھنٹوں کا کرایہ ادا کیا، اور اس عورت کو اپنے دوست کی موجودگی میں کہا،’’تمہیں اتنا توخیال ہونا چاہیے تھا کہ تم نے تانگہ لے لیا ہے اور تمہارے پاس ایک کوڑی بھی نہیں۔‘‘\n\nوہ کھسیانی ہوگئی، ’’میں۔۔۔ میں۔۔۔ آپ بڑے اچھے آدمی ہیں۔‘‘\n\n’’میں بہت برا ہوں۔۔۔ تم بڑی اچھی ہو۔۔۔ کل سے ریڈیو اسٹیشن آنا شروع کردو۔۔۔ تمہاری آمدنی کی صورت پیدا ہو جائے گی۔ یہ بکواس جو تم نے شروع کر رکھی ہے، اسے ترک کرو۔‘‘\n\nمیں نے اسے مزنگ کے پاس چھوڑ دیا۔۔۔ میرا دوست واپس چلا گیا۔۔۔ اتفاقاً مجھے ایک کام سے وہاں جانا پڑا۔دیکھا کہ میرا دوست اور وہ عورت اکٹھے جارہے تھے۔\n\n۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\n\nیہ بھی لاہور ہی کا واقعہ ہے۔\n\nچند روز ہوئے، میں نے اپنے دوست کو مجبور کیا کہ وہ مجھے دس روپے دے۔ اس دن بنک بند تھے۔ اس نے معذوری کا اظہار کیا۔ لیکن جب میں نے اس پر زور دیا کہ وہ کسی نہ کسی طرح یہ دس روپے پیدا کرے۔ اس لیے کہ مجھے اپنی ایک علت پوری کرنا ہے، جس سے تم بخوبی واقف ہو، تو اس نے کہا، ’’اچھا، میرا ایک دوست ہے وہ غالباً اس وقت کافی ہاؤس میں ہوگا۔ وہاں چلتے ہیں امید ہے کام بن جائے گا۔‘‘\n\nہم دونوں تانگے میں بیٹھ کر کافی ہاؤس پہنچے۔ مال روڈ پربڑے ڈاک خانے کے قریب ایک ٹانگہ جارہا تھا۔ اس میں ایک نسواری رنگ کا برقع پہنے ایک عورت بیٹھی تھی۔ اس کی نقاب پوری کی پوری اٹھی ہوئی تھی۔۔۔ وہ ٹانگے والے سے بڑے بے تکلف انداز میں گفتگو کررہی تھی۔ ہمیں اس کے الفاظ سنائی نہیں دیے۔ لیکن اس کے ہونٹوں کی جنبش سے جو کچھ مجھے معلوم ہونا تھا ہوگیا۔\n\nہم کافی ہاؤس پہنچے تو عورت کا تانگہ بھی وہیں رک گیا۔ میرے دوست نے اندر جا کے دس روپوں کا بندوبست کیا اور باہر نکلا۔۔۔ وہ عورت نسواری برقعے میں جانے کس کی منتظر تھی۔\n\nہم واپس گھر آنے لگے تو رستے میں خربوزوں کے ڈھیر نظر آئے۔ ہم دونوں تانگے سے اتر کر خربوزے پرکھنے لگے۔ ہم نے باہم فیصلہ کیا کہ اچھے نہیں نکلیں گے کیونکہ ان کی شکل و صورت بڑی بے ڈھنگی تھی۔۔۔ جب اٹھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ نسواری برقع تانگے میں بیٹھا خربوزے دیکھ رہا ہے۔\n\nمیں نے اپنے دوست سے کہا، ’’خربوزہ خربوزے کو دیکھ کررنگ پکڑتا ہے۔۔۔ آپ نے ابھی تک یہ نسواری رنگ نہیں پکڑا۔‘‘ اس نے کہا، ’’ہٹاؤ جی۔۔۔ یہ سب بکواس ہے۔‘‘\n\nہم وہاں سے اٹھ کر تانگے میں بیٹھے۔ میرے دوست کو قریب ہی ایک کیمسٹ کے ہاں جانا تھا۔ وہاں دس منٹ لگے۔ باہر نکلے تو دیکھا کہ نسواری برقع اسی تانگے میں بیٹھا جارہا تھا۔\n\nمیرے دوست کو بڑی حیرت ہوئی، ’’یہ کیا بات ہے۔۔۔؟ یہ عورت کیوں بیکار گھوم رہی ہے؟‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’کوئی نہ کوئی بات تو ضرور ہوگی۔‘‘\n\nہمارا تانگہ مال روڈ کو مڑنے ہی والا تھا کہ وہ نسواری برقع پھر نظر آیا۔ میرے دوست گو کنوارے ہیں،لیکن بڑے زاہد۔ ان کو جانے کیوں اکساہٹ پیدا ہوئی کہ اس نسواری برقعے سے بڑی بلند آواز میں کہا، ’’آپ کیوں آوارہ پھر رہی ہیں۔۔۔ آئیے ہمارے ساتھ۔‘‘\n\nاس کے تانگے نے فوراً رخ بدلا اور میرا دوست سخت پریشان ہوگیا۔ جب وہ نسواری برقع ہم کلام ہوا تو اس نے اس سے کہا،’’آپ کو تانگے میں آوارہ گردی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ میں آپ سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘\n\nمیرے دوست نے اس نسواری برقعے سے شادی کرلی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29"} {"title": "شکایت", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "شفق کی دلہن اپنے غرفے سے کب تک مجھے دیکھ کر مسکراتی رہے گی\nسنہری لبادے کی زر کار کرنیں کہاں تک یوں ہی گنگناتی رہیں گی\nکہاں تک زمرد کے پردے پہ یہ سرخ پھولوں کے نغمے مچلتے رہیں گے\nکہ آخر کوئی چاند کوئی اندھیرا کسی شرق تیرہ کے در سے نکل کر\nابھی اس کو پہنائے گا تیرگی کا وہ جامہ کہ اس کی جواں ریت امنگیں\nستارے اڑاتی ہوئی ڈوب جائیں گی مغرب کی خاموش خونیں خلا میں\nشفق کی دلہن جھانک کر دیکھتی ہے\nمجھے دیکھتی ہے\nمرے دل کے بجھتے ہوئے سرخ شعلوں کی پرواز بے کار کو دیکھتی ہے\nکہ یہ زندگی جو ودیعت ہوئی تھی کہ ہر سمت سیلاب نغمہ بہا دے\nحصول مسرت کی خاطر ہر اک سنگ خارا کو اک مرمریں بت بنا دے\nوہ بت جو ہر اک تان پر مسکرا دے ہر اک سمت سیلاب نغمہ بہا دے\nہر اک نغمہ تاریک راتوں کے سینوں کو یوں گدگدا دے\nکہ تاریکیوں سے وہ انوار پھوٹیں جنہیں آفتاب سحر خود صدا دے\nمگر اب یہی زندگی بجھ رہی ہے زمانے کے بیتاب آب رواں میں\nشفق کی دلہن جھانک کر دیکھتی ہے کسے دیکھتی ہے مجھے دیکھتی ہے\nمجھے دیکھتی ہے تو میں اپنے غرفے کی بانہوں کو ملنے کی تاکید کر دوں\nکہ میں تو اسی حال میں رات دن وقت کے نور و ظلمت میں گھلتا رہا ہوں\nمرے پاس کوئی سنہری لبادہ نہیں ہے نہ کوئی زمرد کے پردے\nمجھے بے سبب دیکھنے میں ہے کیا اب کہ میں اس کو حاصل نہیں کر سکوں گا\nمجھے اپنی دن بھر کی تھک ہار کر میرے پاس آنے والی دلہن سے غرض ہے\nمری زرد رو ملتجی اور بے حس دلہن مجھ کو ایسے کہاں دیکھتی ہے\nاسے اس سے کیا بجھ رہا ہوں دما دم دما دم پیاپے پیاپے و دما دم\nاسے ایسی باتوں سے رغبت نہیں ہے\nاسے تو غرض اس سے ہے تھک چکی ہے گھریلو شب و روز کی الجھنوں سے\nیہ اس کا تقاضا ہے لے جاؤں اس کو کہیں دور بادل سے پربت سے بھی دور\nجہاں ہوں سنہری لبادوں کی کرنیں وہ زر کار کرنیں کہ جو گنگنائیں\nجہاں ہوں زمرد کے پردوں پہ خوں رنگ پھولوں کے نغمے کہ جو مسکرائیں\nجہاں نیلمی سرد غرفے ہوں غرفے\nذرا کھول دوں اپنے غرفے کی باہیں\nشفق کی دلہن جا چکی ہے ہر اک سمت ہیں آسماں پرستاروں کے آنسو\nادھر آ ادھر آ مری زرد رو میری بے حس دلہن میری آغوش میں آ\nکہ میں ڈر رہا تھا\nمجھے دیکھتی تھی شفق کی دلہن تیرے ہوتے ہوئے بھی مجھے دیکھتی تھی\nمجھے گھورتی تھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA"} {"title": "شکایت سے غرض کیا مدعا کیا", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکایت سے غرض کیا مدعا کیا\nنہیں تو دوست دشمن کا گلا کیا\n\nنہ آیا نامہ بر گھبرا رہا ہوں\nنہیں معلوم کیا گزری ہوا کیا\n\nبہت اچھی نہایت خوب گزری\nاجی آفت زدوں کا پوچھنا کیا\n\nنہ دو مجھ کو مبارک باد بے سود\nبری تقدیر والوں کا بھلا کیا\n\nیہ کیوں چتون پھری کیوں آنکھ بدلی\nبھلا میں نے قصور ایسا کیا کیا\n\nکب اس کوچے میں ٹھہرے گی مری خاک\nنہ ہوگا کوئی احسان ہوا کیا\n\nامید اس سے غلط سمجھا یہ او دل\nستم گر سے تمنائے وفا کیا\n\nبڑھا کر ہاتھ لیں ان کو یہ مشکل\nنصیب ایسے مبارک پھر دعا کیا\n\nنہ گھبراؤ اجی کروٹ نہ بدلو\nارادے ہیں ابھی خاطر میں کیا کیا\n\nیہ کب تک پارسائی عاشقوں سے\nمحبت ہے تو پھر ہم سے حیا کیا\n\nجگر پانی ہے صدموں سے لہو دل\nمرے سینے میں او ظالم رہا کیا\n\nکیا ہوتا کوئی احساں تو ظالم\nکریں گے شکر تیرا ہم ادا کیا\n\nنہیں ممکن کہ تجھ کو رحم آئے\nوہ میں کیا اور میری التجا کیا\n\nمعاذ اللہ گر ہے نوجوانی\nرہو گے عمر بھر تم پارسا کیا\n\nکہاں ہے درد دل میں جو کہو ہائے\nمزا دے گا ہمارا ماجرا کیا\n\nکسے دیکھا کہ بھولا آپ کو بھی\nتعجب ہے یہ مجھ کو ہو گیا کیا\n\nنسیمؔ آؤ ذرا تم بھی سنو تو\nیہ چرچا ہو رہا ہے جا بہ جا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "شکایت کر کے غصہ اور ان کا تیز کرنا ہے", "poet_page": "مصنف:نادر کاکوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکایت کر کے غصہ اور ان کا تیز کرنا ہے\nابھی تو گفتگوئے مصلحت آمیز کرنا ہے\n\nیہ دنیا جائے آسائش نہیں ہے آزمائش ہے\nیہاں جو سختیاں تجھ پر پڑیں انگیز کرنا ہے\n\nغزل خوانی کو تو اس بزم میں آیا نہیں نادرؔ\nتجھے یاں وعظ کہنا پند سود آمیز کرنا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%BA%D8%B5%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B2_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "شکایت کے عوض ہم شکر کرتے ہیں صنم تیرے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکایت کے عوض ہم شکر کرتے ہیں صنم تیرے\nمزا دینے لگے کچھ سہتے سہتے اب ستم تیرے\n\nنہ پوچھ اب مجھ سے تو میری امیدوں کی یہ صورت ہے\nکہ ہیں بھی اور نہیں بھی جس طرح پر لطف کم تیرے\n\nجدھر تو نے کیا رخ زیر پا میرا تصور تھا\nنہ باور ہو تو دیکھ آنکھوں میں ہیں نقش قدم تیرے\n\nلب جاں بخش جاناں کب اجازت دیں گے مرنے کی\nقیامت تک نہ دیکھیں گے قدم خواب عدم تیرے\n\nنہیں رکھتا کوئی سرمایہ اعمال پاس اپنے\nبھروسے کے لئے عاشق کے کافی ہیں کرم تیرے\n\nتمنا غیر کی کرنا خلاف رسم الفت ہے\nمیں احسان اجل کیوں لوں نہیں ہیں کیا ستم تیرے\n\nذرا دیکھیں تو کیوں کر دم نکل جاتا ہے صدموں سے\nفراق دل ربا آج امتحاں کرتے ہیں ہم تیرے\n\nمجھے بھولے نہیں پاس محبت اس کو کہتے ہیں\nشب وصلت میں بھی ہیں دوری جاناں کرم تیرے\n\nہجوم بے خودی میں اے نسیمؔ اب پاس معنی کیا\nاجازت دے برا اچھا لکھیں جو کچھ قلم تیرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D9%88%D8%B6_%DB%81%D9%85_%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92"} {"title": "شکر اس نے کیا لب پہ مگر نام نہ آیا", "poet_page": "مصنف:مرزا مائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکر اس نے کیا لب پہ مگر نام نہ آیا\nمرنا بھی مرا ہائے مرے کام نہ آیا\n\nاللہ شب ہجر پھر ایسی نہ دکھائے\nگھڑیوں تو مجھے یاد ترا نام نہ آیا\n\nیہ طرز جفا کس سکھائی تھی ستم گر\nسو ظلم ہوئے ایک بھی الزام نہ آیا\n\nبت خانہ تو بت خانہ ہے اللہ ری قسمت\nکعبہ سے بھی مائلؔ کبھی ناکام نہ آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%DB%81_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیا", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیا\nپردے ہی پردے میں اپنا راز افشا کر دیا\n\nمانگ کر ہم لائے تھے اللہ سے اک درد عشق\nوہ بھی اب تقدیر نے اوروں کا حصہ کر دیا\n\nدو ہی انگارے تھے ہاتھوں میں خدائے عشق کے\nایک کو دل ایک کو میرا کلیجا کر دیا\n\nجب تجلی ان کی برق ارزانیوں پر آ گئی\nآبلے سے دل کے پیدا طور سینا کر دیا\n\nاپنی اس وارفتگی شوق کا ممنون ہوں\nبارہا مجھ کو بھری محفل میں تنہا کر دیا\n\nواقعات عشق کا تھا لمحہ لمحہ اک صدی\nہر نفس میں میں نے اک ارمان پورا کر دیا\n\nمرحمت فرما کے اے سیمابؔ غم کی لذتیں\nزیست کی تلخی کو فطرت نے گوارا کر دیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DB%81_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%21_%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "شکست", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مجاہدانہ حرارت رہی نہ صُوفی میں\nبہانہ بے عملی کا بنی شرابِ الَست\nفقیہ شہر بھی رُہبانیت پہ ہے مجبور\nکہ معرکے ہیں شریعت کے جنگ دست بدست\nگریز کشمکشِ زندگی سے، مَردوں کی\nاگر شکست نہیں ہے تو اور کیا ہے شکست!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D8%B3%D8%AA"} {"title": "شکست توبہ", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیا\nلہروں سے کھیلتا ہوا لہرا کے پی گیا\n\nبے کیفیوں کے کیف سے گھبرا کے پی گیا\nتوبہ کو توڑ تاڑ کے تھرا کے پی گیا\n\nزاہد! یہ تیری شوخئ رندانہ دیکھنا\nرحمت کو باتوں باتوں میں بہلا کے پی گیا\n\nسر مستئ ازل مجھے جب یاد آ گئی\nدنیائے اعتبار کو ٹھکرا کے پی گیا\n\nآزردگئ خاطر ساقی کو دیکھ کر\nمجھ کو یہ شرم آئی کہ شرما کے پی گیا\n\nاے رحمت تمام مری ہر خطا معاف\nمیں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیا\n\nپیتا بغیر اذن یہ کب تھی مری مجال\nدر پردہ چشم یار کی شہ پا کے پی گیا\n\nاس جان مے کدہ کی قسم بارہا جگرؔ\nکل عالم بسیط پہ میں چھا کے پی گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D8%B3%D8%AA_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81"} {"title": "شکل جانانہ جا بجا ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "شکل جانانہ جا بجا ہیں ہم\nکہیں ناز اور کہیں ادا ہیں ہم\n\nکہیں عیسیٰ ہیں ہم کہیں مردہ\nکہیں زندہ کہیں فنا ہیں ہم\n\nکہیں اعلیٰ ہیں اور کہیں ادنیٰ\nکہیں سلطاں کہیں گدا ہیں ہم\n\nہیں کہیں عاشق جگر خستہ\nکہیں معشوق دل ربا ہیں ہم\n\nکہیں قطرہ ہیں اور کہیں دریا\nکہیں کشتی کے ناخدا ہیں ہم\n\nہیں کہیں ہم دوائے دافع درد\nاور کہیں درد لا دوا ہیں ہم\n\nکہیں ہیں شاہ صورت خادم\nاور کہیں آثمؔ گدا ہیں ہم", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7_%D8%A8%D8%AC%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "شکل جب بس گئی آنکھوں میں تو چھپنا کیسا", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکل جب بس گئی آنکھوں میں تو چھپنا کیسا\nدل میں گھر کر کے مری جان یہ پردا کیسا\n\nبا ادب ہیں ترے سب کشتۂ ناز اے قاتل\nسانس لیں گے نہ دم ذبح تڑپنا کیسا\n\nآپ موجود ہیں حاضر ہے یہ سامان نشاط\nعذر سب طے ہیں بس اب وعدۂ فردا کیسا\n\nتیری آنکھوں کی جو تعریف سنی ہے مجھ سے\nگھورتی ہے مجھے یہ نرگس شہلا کیسا\n\nہاتھ بڑھتے ہیں گریباں کی طرف پاؤں نکال\nالمدد جوش جنوں سبز ہے صحرا کیسا\n\nاے مسیحا یوں ہی کرتے ہیں مریضوں کا علاج\nکچھ نہ پوچھا کہ ہے بیمار ہمارا کیسا\n\nگرم بازاریٔ خورشید قیامت ہوئی سرد\nحشر میں داغ محبت مرا چمکا کیسا\n\nکیا کہا تم نے کہ ہم جاتے ہیں دل اپنا سنبھال\nیہ تڑپ کر نکل آئے گا سنبھلنا کیسا\n\nمنہ دکھائے نہ خدا ہجر کی شب کا اکبرؔ\nخوف اس کا ہے ہمیں حشر کا دھڑکا کیسا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%AC%D8%A8_%D8%A8%D8%B3_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7"} {"title": "شکل مژگاں نہ خار کی سی ہے", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکل مژگاں نہ خار کی سی ہے\nہم نے تاڑی کٹار کی سی ہے\n\nہنس کے کہتے ہیں بوسہ بازی میں\nجیت بھی اپنی ہار کی سی ہے\n\nعشق مژگاں میں ہم نے کانٹوں سے\nسوزنی جسم زار کی سی ہے\n\nاس پہ عالم فریب ہے دنیا\nپھوس بڑھیا مدار کی سی ہے\n\nگرم رفتار ہے وہ جانے میں\nمجھ کو آمد نجار کی سی ہے\n\nاپنی آنکھوں میں ہر گلی تصویر\nشادؔ پتلی کمہار کی سی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "شکوؤں پہ ستم آہوں پہ جفا سو بار ہوئی سو بار ہوا", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکوؤں پہ ستم آہوں پہ جفا سو بار ہوئی سو بار ہوا\nہر بات مجھے ہر کام مجھے دشوار ہوئی دشوار ہوا\n\nساقی کی نشیلی آنکھوں سے ساری دنیا سارا عالم\nبدمست ہوئی بدمست ہوا سرشار ہوئی سرشار ہوا\n\nہے نام دل مضطر جس کا کہتے ہیں جسے سب جان حزیں\nمرنے کے لئے مٹنے کے لئے تیار ہوئی تیار ہوا\n\nاظہار محبت بھی ہے غضب اظہار محبت کون کرے\nحجت ان سے جھگڑا مجھ سے ہر بار ہوئی ہر بار ہوا\n\nدنیا میں بہار اب آ پہنچی مے خانے کا در بھی کھل جائے\nایک ایک گلی ایک ایک مکاں گل زار ہوئی گل زار ہوا\n\nکیوں رحم وہ ظالم کرنے لگا کیوں موت یہاں تک آنے لگی\nالفت سے مری صورت سے مری بیزار ہوئی بیزار ہوا\n\nحسرت اپنی ارماں اپنا آزار اپنا تکلیف اپنی\nہم درد بنی ہم درد بنا غم خوار ہوئی غم خوار ہوا\n\nملنے سے تنفر تھا جس کو آغوش میں اب وہ سوتا ہے\nتقدیر مری اقبال مرا بیدار ہوئی بیدار ہوا\n\nمقتل میں جفائیں ڈھانے پر مقتل میں جفائیں سہنے پر\nقاتل کی نظر بسمل کا جگر تیار ہوئی تیار ہوا\n\nاے نوحؔ یہ کیا سوجھی تم کو طوفان اٹھایا کیوں تم نے\nساری دنیا سارا عالم بیزار ہوئی بیزار ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%D8%A4%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A2%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "شکوا ہے نہ غصہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکوا ہے نہ غصہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\nکیوں آپ کو دھڑکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nچپ رہنے دو دم بھر مجھے للہ نہ چھیڑو\nاب اس سے تمہیں کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nاس لطف زبانی کو ذرا سوچیے دل میں\nیہ عذر تو بے جا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nاس لطف زبانی کو ذرا سوچیے دل میں\nیہ عذر تو بے جا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nمنہ میرا نہ کھلواؤ کہ ہو جائیں گے لب بند\nدیکھو یہی اچھا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nڈرتا نہیں جو دل میں ہو دشمن کے لگائے\nان پر یہ ہویدا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nکیوں رکتے ہو عادت سے ہوں مجبور وگرنہ\nکچھ آپ سے پردا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nاب وہ بھی یہ سمجھا کہ یہ سمجھا میری گھاتیں\nاس بات سے ڈرتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nہر روز نئے ڈھنگ ہیں خاطر کے نسیمؔ آہ\nکل سے یہی سودا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%BA%D8%B5%DB%81_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7"} {"title": "شکوہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1911", "text_ur": "کیوں زیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوں\nفکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رھوں\nنالے بُلبُل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں\nہم نوا میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں\nجُرأت آموز میری تابِ سخن ہے مجھ کو\nشکوہ اللہ سے، خاکمِ بدہن ہے مجھ کو\n\nہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم\nقصّۂ درد سُناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم\nساز خاموش میں، فریاد سے معمور ہیں ہم\nنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم\nاے خدا! شکوۂ اربابِ وفا بھی سُن لے\nخوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِله بھی سُن لے\n\nتھی توموجود ازل سے ہی تری ذاتِ قدیم\nپُھول تھا زیب چمن پر نہ پریشان تھی شمیم\nشرطِ اِنصاف ہے اَے صاحبِ الطافِ عمیم\nبوئے گُل پھیلتی کِس طرح جو نہ ہوتی نسیم\nہم کو جمعیّتِ خاطر یہ پریشانی تھی\nورنہ اُمّت تیرے محبوبؐ کی دیوانی تھی؟\n\nہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہان کا منظر\nکہیں مسجود تھے پتّھر، کہیں معبود شجر\nخُوگرِ پیکرِ محسوس تھی اِنساں کی نظر\nمانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر\nتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟\nقوّتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا\n\nبس رہے تھے یہیں سلجوق بھی ،تُورانی بھی\nاہلِ چیں چین میں، ایران میں ساسانی بھی\nاِسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھی\nاِسی دُنیا میں یہودی بھی تھے،نصرانی بھی\nپر ترے نام پہ تلوار اُٹھائی کس نے\nبات جو بگڑی ہوئی تھی، وہ بنائی کس نے\n\nتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں\nخشکیوں میں کبھی لڑتے ،کبھی دریاؤں میں\nدِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں\nکبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں\nشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاں داروں کی\nکلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی\n\nہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی میصبت کے لیے\nاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیے\nتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیے\nسر بکف پھرتے تھے کیا،کیا دہر میں دولت کے لیے؟\nقوم اپنی جو زرومالِ جہاں پہ مرتی\nبُت فروشی کے عِوض بُت شکنی کیوں کرتی؟\n\nٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے\nپاؤں شیر کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے\nتجھ سے سر کش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے\nتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے\nنقش توحید کاہر دِل پہ بٹھایا ہم نے\nزیرِ خنجر بھی یہ پیغام سُنایا ہم نے\n\nتُو ہی کہہ دے کہ اُکھاڑا درِ خیبر کس نے\nشہر قیصر کا جوتھا،اُسکو کیا سَر کس نے\nتوڑے مخلوق خداوندوں کے پیکر کس نے\nکاٹ کے رکھ دیے کفّار کے لشکر کس نے\nکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کو؟\nکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کو؟\n\nکون سی قوم فقط تیری طلبگار ہوئی\nاور تیرے لیے زحمت کشِ پیکار ہوئی\nکِس کی شمشیر جہاں گیر،جہاں دار ہوئی\nکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی\nکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے\nمُنہ کے بَل گر کے \"ھُوَ اللہُ اَحَد\"کہتے تھے\n\nآگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز\nقبلہ رُو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز\nایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز\nنہ کوئی بندہ رہا اور نہ هي کوئی بندہ نواز\nبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے\nتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے\n\nمحفلِ کون و مکاں میں سحر و شام پھرے\nمئے توحید کو لے کر صفتِ جام پھرے\nکوہ میں، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے\nاور معلوم ہے تجھ کو،کبھی ناکام پھرے\nدشت تو دشت ہیں ،دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے\nبحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے\n\nصفحۂ دۃر سے باطل سے کومٹایا ہم نے\nنوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے\nتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے\nتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے\nپھر بھی ہم سے یہ گِلا ہے کہ وفادار نہیں\nہم وفادار نہیں،تُو بھی تو دِلدار نہیں!\n\nاُمتیں اور بھی ہیں، اُن میں گناہگار بھی ہیں\nعجز والے بھی ہیں، مست مئے پندار بھی ہیں\nان میں کاہل بھی ہیں،غافل بھی ہیں،ہشیار بھی ہیں\nسینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں\nرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشنوں پر\nبرق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر\n\nبُت صنم خانوں مین کہتے ہیں مسلماں گئے\nہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے\nمنزلِ دہر سے اونٹوں کے حدی خواں گئی\nاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے\nخندہ زن ہے کُفر،احساس تجھے ہے کے نہیں\nاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں\n\nیہ شکایت نہیں، ہیں اُن کے خزانے معمور\nنہیں محفل میں جنھیں بات بھی کرنے کا شعور\nقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حُور و قصور\nاور بیچارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور\nاب وہ الطاف نہیں، ہم پہ عنایات نہیں\nبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں\n\nکیوں مسلماں میں ہے دولتِ دنیا نایاب\nتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حساب\nتُو جو چاہے تو اُٹھے سینۂ صحرا سے حباب\nرہروِ دشت ہو سیلی زدۂ موجِ سراب\nطعنِ اغیار ہے، رسوائی ہے،ناداری ہے\nکیا تیرے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟\n\nبنی اغیار کی چاہنے والی دنیا\nرہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیا\nہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیا\nپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے حالی دنیا\nہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں تیرا نام رہے\nکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے، جام رہے؟\n\nتیری محفل بھی گئی، چاہنے والے بھی گئے\nشب کی آہیں بھی گئیں، صبح کے نالے بھی گئے\nدل تجھے دے بھی گئے، اپنی صِلا لے بھی گئے\nآ کے بیٹھے بھی نہ تھے کہ نکالے بھی گئے\nآئے عشّاق، گئے وعدۂ فردا لے کر\nاب اُنہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر\n\nدردِ لیلیٰ بھی وہی، قیس کا پہلو بھی وہی\nنجد کے دشت و جبل میں رَمِ آہو بھہ وہی\nعشق کا دل بھی وہی، خسن کا جادو بھی وہی\nاُمّتِ احمدِ مرسل بھی وہی، تُو بھی وہی\nپھر یہ آزردگیِ غیر سبب کا معنی\nاپنے شیداؤں یہ چشمِ غضب کیا معنی\n\nتجھ کو چھوڑا کہ رسولِ عربی کو چھوڑا؟\nبُت گری پیشہ کیا، بت شکنی کو چھوڑا؟\nعشق کو، عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا؟\nرسمِ سلمانؓو اویس قرنیؓ کو چھوڑا؟\nآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں\nزندگی مثلِ بلال حبشی رکھتے ہیں\n\nعشق کی خیر وہ پہلے سی ادا بھی نہ سہی\nجادہ پیمائیِ تسلیم و رضا بھی نہ سہی\nمُضطِرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہی\nاور پابندیِ آئینِ وفا بھی نہ سہی\nکبھی ہم سے، کبھی غیروں سے شناسائی ہے\nبات کہنے کی نہیں،تُو بھی تو ہرجائی ہے!\n\nسرِ فاران کیا دین کو کامل تُو نے\nاِک اشارے میں پزروں کے لیے دل تُو نے\nآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نے\nپُھونک دی گرمیِ رُخسار سے محفل تُو نے\nآج کیوں سینے ہمارے شرر بار نہیں\nہم وہی سوختہ ساماں ہیں، تجھے یاد نہیں؟\n\nوادی نجد میں وہ شورِ سلاسل نہ رہا\nقیس دیوانۂ نظّارۂ محمل نہ رہا\nحوصلے وہ نہ رہے، ہم نہ رہے، دل نہ رہا\nگھر یہ اُجڑا ہے کہ تُو رونقِ محفل نہ رہا\nاے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی\nبے حجابانہ سُوئے محفلِ ما باز آئی\n\nبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لبِ جُو بیٹھے\nسُنتے ہیں جام بکف نغمۂ کُو کُو بیٹے\nدور ہنگامۂ گُلزار سے یک سُو بیٹھے\nتیرے دیوانے بھی ہیں مُنتظر \"ھُو\" بیٹھے\nاپنے پروانوں کی پھر ذوقِ خُود افروزی دے\nبرقِ دیرینہ کو فرمانِ جگر سوزی دے\n\nقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سُوئے حجاز\nلے اُرا بلبلِ بے پر کو مذاقِ پرواز\nمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے، بُوئے نیاز\nتُو ذرا چھیڑ تو دے، تشنۂ مضراب ہے ساز\nنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نلکنے کے لیے\nطُور مضطر ہے اُسی آگ میں جلنے کے لیے\n\nمُشکلیں اُمّتِ مرحوم کی آساں کر دے\nمُورِ بے مایہ کو ہمدوشِ سلیماں کر دے\nجنس نایابِ محبّت کو پھر ارزاں کر دے\nہند کے دَیر نشینوں کو مسلماں کر دے\nجُوئے خوں می چکدا از حسرتِ دیرینہ ما\nمی تپد نالۂ بہ نشتر کدۂ سینۂ ما\n\nبُوئے گُل لے گئی بیرون چمن رازِ چمن\nکیا قیامت ہے کہ خود کہ خود پُھول ہیں غمّازِ چمن!\nعہدِ گُل ختم ہوا، ٹوٹ گیا سازِ چمن\nاُڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمن\nایک بُلبل ہے کہ محو ترنّم ہے اب تک\nاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تک\n\nقُمریاں شاخِ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیں\nپتّیاں پُھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں\nوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیں\nڈالیاں پیرہنِ برگ سے عُریاں بھی ہوئیں\nقیدِ موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی\nکاش گُلشن سمجھتا کوئی فریاد اس کی!\n\nلُطف مرنے میں ہے باقی نہ مزا جینے میں\nکچھ مزا ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں\nکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میں\nکس قدر جلواے تڑپ رہے ہیں مرے سینے میں\nاس گُلستان میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں\nداغ جو سینے میں رکھتا ہوں، وہ لالے ہی نہیں\n\nچاک اس بُلبلِ تنہا کی نوا سے دل ہوں\nجاگنے والے اسی بانگِ درا سے دل ہوں\nیعنی پھر زندہ نئے عہدِ وفا سے دل ہوں\nپھر اِسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوں\nعجمی خُم ہے تو کیا،مے تو حجازی ہے مری\nنغمہ ہندی ہے تو کیا،لَے تو حجازی ہے مری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81"} {"title": "شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروں", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروں\nیا گلہ اے شوخ تیری بے وفائی کا کروں\n\nوہ کہ اک مدت تلک جس کو بھلا کہتا رہا\nآہ اب کس منہ سے ذکر اس کی برائی کا کروں\n\nآب زمزم سے میں دھو لوں اپنی پیشانی کے تئیں\nدر پہ تب اس کے ارادہ جبہہ سائی کا کروں\n\nخوب سی تنبیہ کرنا اے جدائی تو مجھے\nگر کسی سے پھر کبھی قصد آشنائی کا کروں\n\nگر مسخر ہووے وہ خورشید رو میرا بیاںؔ\nبادشاہی کیا کہ میں دعویٰ خدائی کا کروں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "شکوہ جفا کا کیجے تو کہتے ہیں کیا کروں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکوہ جفا کا کیجے تو کہتے ہیں کیا کروں\nتم سے وفا کروں کہ عدو سے وفا کروں\n\nگلشن میں چل کے بندِ قبا تیرے وا کروں\nجی چاہتا ہے جامۂ گل کو قبا کروں\n\nآتا ہوں پیرِ دیر کی خدمت سے مست میں\nہاں زاہدو تمہارے لئے کیا دعا کروں\n\nجوشِ فغاں وداع، کہ منظور ہے انہیں\nدل نذرِ کاوشِ نگہِ سرما سا کروں\n\nنفرین بے شمار ہے اس عمد و سہو پر\nگر ایک میں صواب کروں سو خطا کروں\n\nمطرب بدیع نغمہ و ساقی پری جمال\nکیا شرحِ حالتِ دلِ درد آشنا کروں\n\nتم دلربا ہو دل کو اگر لے گئے تو کیا\nجب کاہ ہو کے میں اثرِ کہربا کروں\n\nاے چارہ ساز لطف! کہ تو چارہ گر نہیں\nبس اے طبیب رحم! کہ دل کی دوا کروں\n\nپیتا ہوں میں مدام مئے نابِ معرفت\nاصلِ شرور و امِ خبائث کو کیا کروں\n\nیا اپنے جوشِ عشوۂ پیہم کو تھامئے\nیا کہئے میں بھی نالۂ شورش فزا کروں\n\nمیں جل گیا وہ غیر کے گھر جو چلے گئے\nشعلے سے استعارہء آوازِ پا کروں\n\nڈر ہے کہ ہو نہ شوقِ مزامیر شیفتہ\nورنہ کبھی سماعِ مجرد سنا کروں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "شکوہ جو میرا اشک میں ڈھلتا چلا گیا", "poet_page": "مصنف:نیر سلطانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکوہ جو میرا اشک میں ڈھلتا چلا گیا\nسارا غبار دل کا نکلتا چلا گیا\n\nروشن کیا امید نے یوں جادۂ حیات\nہر گام پہ چراغ سا جلتا چلا گیا\n\nراس آ سکی سکوں کو نا تدبیر ضبط غم\nآنکھوں سے خون دل کا ابلتا چلا گیا\n\nجس پر مرے فریب تمنا کو ناز تھا\nوہ دن بھی انتظار میں ڈھلتا چلا گیا\n\nپچھلے پہر جو شمع نے کھینچی اک آہ سرد\nچہرے کا ان کے رنگ بدلتا چلا گیا\n\nبڑھنے لگی یقین و گماں میں جو کشمکش\nوعدہ بھی صبح و شام پہ ٹلتا چلا گیا\n\nوہ نوحۂ الم ہو کہ نیرؔ نوائے شوق\nہر نغمہ ایک ساز میں ڈھلتا چلا گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%88%DA%BE%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DA%86%D9%84%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "شکوہ سن کر جو مزاج بت بد خو بدلا", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکوہ سن کر جو مزاج بت بد خو بدلا\nہم نے بھی ساتھ ہی تقریر کا پہلو بدلا\n\nکہئے تو کس کے پھنسانے کی یہ تدبیریں ہیں\nآج کیوں چیں بہ جبیں سے خم گیسو بدلا\n\nاک ترا ربط کہ دو دن کبھی یکساں نہ رہا\nاک مرا حال کہ ہرگز نہ سر مو بدلا\n\nان حسینوں ہی کو زیبا ہے تلون اے دل\nہاں خبردار جو بھولے سے کبھی تو بدلا\n\nدل مضطر کی تڑپ سے جو میں تڑپا بیخودؔ\nچارہ گر خوش ہیں کہ بیمار نے پہلو بدلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC_%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%D8%AF_%D8%AE%D9%88_%D8%A8%D8%AF%D9%84%D8%A7"} {"title": "شکوہ مختصر", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مجھے شکوہ نہیں دنیا کی ان زہرہ جبینوں سے\nہوئی جن سے نہ میرے شوق رسوا کی پذیرائی\n\nمجھے شکوہ نہیں ان پاک باطن نکتہ چینوں سے\nلب معجزنما نے جن کے مجھ پر آگ برسائی\n\nمجھے شکوہ نہیں تہذیب کے ان پاسبانوں سے\nنہ لینے دی جنہوں نے فطرت شاعر کو انگڑائی\n\nمجھے شکوہ نہیں دیر و حرم کے آستانوں سے\nوہ جن کے در پہ کی ہے مدتوں میں نے جبیں سائی\n\nمجھے شکوہ نہیں افتادگان عیش و عشرت سے\nوہ جن کو میرے حال زار پر اکثر ہنسی آئی\n\nمجھے شکوہ نہیں ان صاحبان جاہ و ثروت سے\nنہیں آتی مرے حصہ میں جن کی ایک بھی پائی\n\nزمانہ کے نظام زنگ آلودہ سے شکوہ ہے\nقوانین کہن آئین فرسودہ سے شکوہ ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%AE%D8%AA%D8%B5%D8%B1"} {"title": "شکوہ نہ بخت سے ہے نے آسماں سے مجھ کو", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکوہ نہ بخت سے ہے نے آسماں سے مجھ کو\nپہنچی جو کچھ اذیت اپنے گماں سے مجھ کو\n\nقاصد کہے تو ہے تو پوچھے تھا حال تیرا\nتصدیق اس کی لیکن ہووے کہاں سے مجھ کو\n\nعاشق نہ تھا میں بلبل کچھ گل کے رنگ و بو کا\nاک انس ہو گیا تھا اس گلستاں سے مجھ کو\n\nجاتا ہوں جس جگہ اب واں خانماں ہے میرا\nکھویا ہے اے فلک تیں گو خانماں سے مجھ کو\n\nبا وصف بے کمالی عزت طلب ہوں قائمؔ\nدرخور نہ ہو سو کیوں کر اہل جہاں سے مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%92_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "شکوہ نہ رقیبوں سے نہ جاناں سے گلا ہے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکوہ نہ رقیبوں سے نہ جاناں سے گلا ہے\nمجھ کو فقط اپنی دل ناداں سے گلا ہے\n\nیوں خاک بسر مجھ کو نہ کرنا تھا جہاں میں\nاے یار تری زلف پریشاں سے گلا ہے\n\nبیمار محبت کی عیادت کو نہ آئے\nکیا ہجر دوا تھا مجھے درماں سے گلا ہے\n\nآنسو جو نہ بہتے تو میں آنکھوں سے نہ گرتا\nمجھ کو بہت اس دیدۂ گریاں سے گلا ہے\n\nدم بھر نہیں لگتی ہے پلک سے پلک اپنی\nگنواتی ہے تارے شب ہجراں سے گلا ہے\n\nآئے بھی تو کھائے نہ گلوری نہ ملا عطر\nروکی مری دعوت مجھے مہماں سے گلا ہے\n\nبخیے کی ہوس رہ گئی افگار دلوں کو\nہر زخم کو اس سوزن مژگاں سے گلا ہے\n\nگل بو نہ کبھی لائے شکایت ہے صبا ہے\nبھیجا نہ کوئی پھول گلستاں سے گلا ہے\n\nنغمے نہ سنائے کبھی احباب قفس کو\nگلزار کے مرغان خوش الحاں سے گلا ہے\n\nرہنے کو ٹھکانا نہیں ملتا کہیں اس کو\nمجنوں کو ترے گوشۂ زنداں سے گلا ہے\n\nسویا نہ کبھی چاندنی میں ساتھ ہمارے\nہم کو یہی اس ماہ درخشاں سے گلا ہے\n\nروکا مجھے اغیار کو جانے دیا گھر میں\nشکوہ سگ جاناں سے ہے درباں سے گلہ ہے\n\nاس سے ہوئی فرقت نہ ہوئی ان میں جدائی\nاے بحرؔ مجھے اپنے تن و جاں سے گلا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "شکوہ نہ چاہیئے کہ تقاضا نہ چاہیئے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکوہ نہ چاہیئے کہ تقاضا نہ چاہیئے\nجب جان پر بنی ہو تو کیا کیا نہ چاہیئے\n\nساقی تری نگاہ کو پہچانتا ہوں میں\nمجھ سے فریب ساغر و مینا نہ چاہیئے\n\nیہ آستان یار ہے صحن حرم نہیں\nجب رکھ دیا ہے سر تو اٹھانا نہ چاہیئے\n\nخود آپ اپنی آگ میں جلنے کا لطف ہے\nاہل تپش کو آتش سینا نہ چاہیئے\n\nکیا کم ہیں ذوق دید کی جلوہ فرازیاں\nآنکھوں کو انتظار تماشا نہ چاہیئے\n\nوہ بارگاہ حسن ادب کا مقام ہے\nجز درد و اشتیاق تقاضا نہ چاہیئے\n\nتیغ ادا میں اس کے ہے اک روح تازگی\nہم کشتگان شوق کو مر جانا چاہیئے\n\nہستی کے آب و رنگ کی تعبیر کچھ تو ہو\nمجھ کو فقط یہ خواب زلیخا نہ چاہیئے\n\nاس کے سوا تو معنئ مجنوں بھی کچھ نہیں\nایسا بھی ربط صورت لیلیٰ نہ چاہیئے\n\nٹھہرے اگر تو منزل مقصود پھر کہاں\nساغر بکف گرے تو سنبھلنا نہ چاہیئے\n\nاک جلوہ خال و خط سے بھی آراستہ سہی\nداماندگی ذوق تماشہ نہ چاہیئے\n\nسب اہل دید بے خود و حیران و مست ہیں\nکوئی اگر نہیں ہے تو پروا نہ چاہیئے\n\nاصغرؔ صنم پرست سہی پھر کسی کو کیا\nاہل حرم کو کاوش بے جا نہ چاہیئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%82%D8%A7%D8%B6%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%D8%A6%DB%92"} {"title": "شکوہ نہیں کسی کی ملاقات کا مجھے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکوہ نہیں کسی کی ملاقات کا مجھے\nتم جانتے ہو وہم ہے جس بات کا مجھے\n\nجانا کہ بوئے غیر یہ پہچان جائے گا\nباسی نہ اس نے ہار دیا رات کا مجھے\n\nمل کر تمام بھید کہوں گا رقیب سے\nآتا ہے خوب توڑ تری گھات کا مجھے\n\nڈرنا کسی کا اور وہ بجلی کا کوندنا\nموسم بہت پسند ہے برسات کا مجھے\n\nآخر وہاں رقیب نے نقشہ جما لیا\nاے داغؔ خوف تھا اسی بد ذات کا مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "شکوہ کرتے ہیں زباں سے نہ گلا کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکوہ کرتے ہیں زباں سے نہ گلا کرتے ہیں\nتم سلامت رہو ہم تو یہ دعا کرتے ہیں\n\nپھر مرے دل کے پھنسانے کی ہوئی ہے تدبیر\nپھر نئے سر سے وہ پیمان وفا کرتے ہیں\n\nتم مجھے ہاتھ اٹھا کر اس ادا سے کوسو\nدیکھنے والے یہ سمجھیں کہ دعا کرتے ہیں\n\nان حسینوں کا ہے دنیا سے نرالا انداز\nشوخیاں بزم میں خلوت میں حیا کرتے ہیں\n\nحشر کا ذکر نہ کر اس کی گلی میں واعظ\nایسے ہنگامے یہاں روز ہوا کرتے ہیں\n\nلاگ ہے ہم سے عدو کو تو عدو سے ہمیں رشک\nایک ہی آگ میں ہم دونوں جلا کرتے ہیں\n\nان کا شکوہ نہ رقیبوں کی شکایت ہے حفیظؔ\nصرف ہم اپنے مقدر کا گلا کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا\nالقصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا\n\nگریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید\nخوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا\n\nلے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے\nجاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا\n\nدی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو\nیاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا\n\nہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے\nپیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا\n\nان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی\nہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا\n\nتب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا\nاب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا\n\nفتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے\nوہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا\n\nکم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو\nاحوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا\n\nسجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے اس کو\nسید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا\n\nنا حق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر\nطاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا\n\nہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے\nویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا\n\nجس دن کہ اس کے منہ سے برقع اٹھے گا سنیو\nاس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا\n\nنا حق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے\nہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا\n\nسودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا\nسر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا\n\nسو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے\nاوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بد زباں کا\n\nیا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گزری\nکیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا\n\nقید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی\nگلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا\n\nپوچھو تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہے\nچہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "شکوۂ بے جا کی کیا ان سے شکایت ہم کریں", "poet_page": "مصنف:محمد دین تاثیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکوۂ بے جا کی کیا ان سے شکایت ہم کریں\nکچھ تو ہیں پہلے ہی برہم اور کیا برہم کریں\n\nوہ توجہ دیں تو ہو آراستہ بزم حیات\nوہ نگاہیں پھیر لیں تو انجمن برہم کریں\n\nیوں بدل لیں طالع خورشید سے بخت سیاہ\nآسماں کی طرح سر کو تیرے در پر خم کریں\n\nآئنہ دار نمود حسن روز افزوں جو ہو\nہم کہاں سے روز پیدا اک نیا عالم کریں\n\nآگہی سر چشمۂ رنج و الم تاثیرؔ ہے\nہم خوشی سے ہی نہیں واقف تو پھر کیا غم کریں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%82_%D8%A8%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شکوۂ درد جگر اے مہرباں کیوں کر کریں", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکوۂ درد جگر اے مہرباں کیوں کر کریں\nآپ سن کیوں کر سکیں اور ہم بیاں کیوں کر کریں\n\nاپنی بیتی پھر سنائیں گے کبھی اے مہرباں\nشب کی شب میں ختم ساری داستاں کیوں کر کریں\n\nسیکڑوں ہی فتنۂ خوابیدہ جاگ اٹھیں گے پھر\nنیند سے چونکا کے ان کو سرگراں کیوں کر کریں\n\nپھر گیا تلوار کا منہ تھم گئے بازوئے دوست\nکیوں اجل اس کی تلافی سخت جاں کیوں کر کریں\n\nآتی ہے پچھلے پہر بس دل دھڑکنے کی صدا\nراز داران وفا آہ و فغاں کیوں کر کریں\n\nپھاندنا دیوار جنت کا تو آساں ہے مگر\nآپ کے دل میں جگہ اے مہرباں کیوں کر کریں\n\nانقلاب دہر نے آنکھوں کو اندھا کر دیا\nآخر اب نظارۂ فصل خزاں کیوں کر کریں\n\nناتوانی کا برا ہو آہ کر سکتے نہیں\nکیوں فلک اب جذب دل کا امتحاں کیوں کر کریں\n\nاس طلسم دہر میں سر بھی اٹھا سکتے نہیں\nکشمکش میں سیر نیرنگ جہاں کیوں کر کریں\n\nسر پٹکتے ہیں عبث نقش قدم پر دیر سے\nآبلہ پا جستجوئے کارواں کیوں کر کریں\n\nہوش میں پھر کون تھا جب درد کا ساغر چلا\nآخر شب کی وہ کیفیت بیاں کیوں کر کریں\n\nہاتھ پھیلایا نہ جائے گا بھری محفل میں آج\nصبر کی دولت کو ساقی رائیگاں کیوں کر کریں\n\nجھوم کر اٹھتے ہیں لیکن پھر سنبھل جاتے ہیں مست\nسامنا ساقی کا ہے گستاخیاں کیوں کر کریں\n\nپھاڑے کھاتی ہے ہمیں یہ ملگجی پوشاک میں\nجامۂ تن کی بتاؤ دھجیاں کیوں کر کریں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%82_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے\nیہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہے\n\nپُر ہوں میں شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجا\nاک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے\n\nگو سمجھتا نہیں پر حسنِ تلافی دیکھو\nشکوۂ جور سے سر گرمِ جفا ہوتا ہے\n\nعشق کی راہ میں ہے چرخِ مکوکب کی وہ چال\nسست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے\n\nکیوں نہ ٹھہریں ہدفِ ناوکِ بیداد کہ ہم\nآپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے\n\nخوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ\nکہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے\n\nنالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب\nلب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے\n\nخامہ میرا کہ وہ ہے باربُدِ بزمِ سخن\nشاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے\n\nاے شہنشاہِ کواکب سپہ و مہرِ علم\nتیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے\n\nسات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجے\nتو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے\n\nہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال\nآستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے\n\nمیں جو گستاخ ہوں آئینِ غزل خوانی میں\nیہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے\n\nرکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف\nآج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "شگفتہ اپنا دل داغدار رہتا ہے", "poet_page": "مصنف:منشی ٹھاکر پرساد طالب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان طالب مانکپوری (1933)", "year": "1933", "text_ur": "شگفتہ اپنا دل داغدار رہتا ہے\nیہاں خزاں میں بھی لطف بہار رہتا ہے\n\nتصور رخ و گیسوئے یار رہتا ہے\nیہاں خیال یہ لیل و نہار رہتا ہے\n\nتمہاری تیغ نگہ تیز کیوں ہے عاشق پر\nیہ صید آپ ہی ہر دم شکار رہتا ہے\n\nسیاہ پوشیٔ پیر فلک ہے راز عجیب\nغم اس کو کس کا ہے کیوں سوگوار رہتا ہے\n\nکیا ہے آنکھوں میں جس دن سے لخت دل نے مقام\nہمارے پیش نظر لالہ زار رہتا ہے\n\nخدا بچاتا ہے بس ورنہ عاشق مہجور\nاجل سے آٹھ پہر ہمکنار رہتا ہے\n\nجسے کہ گردش گردوں نے پیس ڈالا ہو\nزمیں سے کب اسے خوف فشار رہتا ہے\n\nگناہ گار ہوں طالبؔ اسی سبب ہر دم\nخیال آمد روز شمار رہتا ہے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%81%D8%AA%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "شگفتہ ہوتے ہی مرجھا گئی کلی افسوس", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شگفتہ ہوتے ہی مرجھا گئی کلی افسوس\nبہار باغ ادھر آئی ادھر گئی افسوس\n\nکہ تم اخیر بھی کہنے نہ حال دل پائے\nزبان بند ہوئی بات کرتے ہی افسوس\n\nاسی بہانے سے منہ دیکھتے حسینوں کا\nصفائے دل نہ ہوئی اپنی آرسی افسوس\n\nحضور قیس پہن کر جنوں میں کیا جائیں\nقباے تن ہے سراپا نچی کھچی افسوس\n\nوبال دوش رہا سر بھی ناتوانی سے\nملا نہ کوئی ہمیں تیغ کا دھنی افسوس\n\nنظر سے گر کے یہ دل غم ہوا کہیں نہ ملا\nجنوں میں خاک بھی چھانی گلی گلی افسوس\n\nوہ کشتنی ہیں جو ماہی کا بھیس بھی بدلا\nحلال ہو گئے مچھلی سے بھی چھری افسوس\n\nمزار قیس پہ آئی نہ ایک لیلہ کیا\nکسی نے بات نہ پوچھی غریب کی افسوس\n\nبرہنگی کا تو مرنے پہ غم نہیں لیکن\nکفن کھسوٹ سے شرمندگی ہوئی افسوس\n\nخزاں کے ہاتھ سے رونے کی جا ہے خندۂ گل\nبسورتی ہے یہ ہنستی نہیں کلی افسوس\n\nکسے سنائیں یہ ہم ریختہ زباں اے شادؔ\nجناب میرؔ نہ مرزاؔ نہ مصحفیؔ افسوس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%81%D8%AA%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D9%84%DB%8C_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3"} {"title": "شگوفہ محبت/آوارہ ہونا باغ سے", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > شگوفہ محبت", "year": null, "text_ur": "آوارہ ہونا باغ سے با دِل پُر داغ شاہزادہ کا کبوتر بن کے اور باز کے پنجے سے چاہ کی بدولت کنویں میں گرنا، ساحروں کا آدمی بنانا، کنویں سے نکل کے پھر باغ میں جانا، پری زاد کا ہرن بنانا\n\nمورخانِ تاریخ دان حال اس نوجوان کا یہ لکھتے ہیں کہ شاہزادہ کبوتر جب بنا تو اُس باغ سے اڑا، راہ میں کبھی شکایت بختِ نارسا،گاہ آسمان کا گِلا دل میں آتا تھا۔ الّا خاموش اُس صحرائے قیامت میں اڑا جاتا تھا۔ دو روز خراب خستہ وہ بے بال پر شکستہ بتلاش آب و دانہ، گم کردہ آشیانہ تباہ رہا۔ تیسرے دن جس دم مرغ زریں بال بصد شوکت و جلال قفس مشرق سے نکل کر سبزہ زار فلک پر جلوہ گر ہوا، صحرائے بے خار سراپا بہار میں کبوتر کا گذر ہوا۔ اس نے خیال کیا کہ تیسرا دن ہے حرام تک حلال ہے، بھوک کی شدت سے غیر حال ہے۔ اگر کہیں دانہ پانی میسر ہو تو جان بچ جائے، موت سے مفر ہو۔ دفعۃً پانی کا چشمہ نظر آیا، یہ اس جگہ ٹھہرا، دم لیا۔ پانی ڈگڈکا کے پیا۔ ابھی اس احمق نے دانہ زمین سے نہ اٹھایا تھا، پانی کے سوا کچھ نہ کھایا تھا، فلک کو اس جفا پر قرار نہ آیا، موت کا سامان دکھایا، کسی شہر کا تاجدار بہ ہوائے سیر تمنائے شکار گھوڑا اڑائے فوج لشکر سے جدا یکہ و تنہا باز تیز پرواز ہاتھ پر بٹھائے سامنے سے چلا آتاتھا۔ اس کی روح دیکھتے ہی قالب سے نکل گئی۔ سکتہ سا ہوگیا۔ حس و حرکت کی طاقت نہ رہی۔ جس دم قریب تر اس کے سر پر پہنچا، یہ بے پر مجبور بخوف جان با خاطرِ پریشان اڑا۔ بادشاہ نے شکار جو مد نظر کیا۔ باز کو سر کیا، ہر چند اس نے ڈر کے مارے بہت تیز کندوں کو جوڑا، باز اس کی گرفتاری سے باز نہ رہا، پیچھا نہ چھوڑا۔ یہ لیاوہ لیاایسا تعاقب کیا۔ آخرکار کنویں کی جگت پر کبوتر کو دبوچا۔ باہم کشمکش ہونے لگی، خوب نوچا۔ یہ تو انسان گو بظاہر کبوتر کا عالم تھا، وہ جانور زور اور طاقت میں بہت کم تھا۔ جب تک بادشاہ اس کے قریب آئے، یہ اس کے پنچے سے چُھٹ کر کنویں میں گر پڑا۔ باز نے تو باؤلی پائی تھی، سونے کی چڑیا ہاتھ آئی تھی، جگت پر بیٹھ رہا۔ بادشاہ نے طعمہ دکھا باز کو ہاتھ پر بلایا۔ صید کو جو ڈھونڈھا، کہیں نہ پایا۔ وہ تو پھر جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ کبوتر کا اسی چاہ میں آشیانہ ہوا۔ جان کے خوف سے تا شام وہ ناکام باہر نہ آیا۔ وہ دن میں بھی فاقہ میں گنوایا۔ دمِ سحر جب یوسف چرخ چارم چاہ مشرق سے نکلا، دو ساحر بوضع مسافر اسی کنویں کے اوپر آئے۔ پانی کی چاہ کی، کنویں کے اندر نگاہ کی۔ دونوں نے دیکھا کہ ایک کبوتر لہو میں تر پانی کے قریب پتھر پر بیٹھا ہے۔ ایک بولا: یہ عجب طرح کا کبوتر ہے، کتنا پریشان ہے۔ دوسرا رسی اور ڈول اٹھا جلدی سے بول اٹھا کہ یہ جانور نہیں مبتلائے سحر انسان ہے۔ پھر رسی میں لکڑی باندھ کے کنویں میں لٹکائی، کہا اگر تو بشر ہے اس پر بیٹھ کر باہر آ۔ ہم تیرے درد کا درماں کریں گے۔ پھر تجھ کو انسان کریں گے۔ یہ کلمہ سن کے فی الفور ڈانواں ڈول لکڑی پر بیٹھ گیا۔ انھوں نے کھینچ لیا۔ کبوتر نے باہر نکل کے عجز سے سر کو جھکایا۔ ساحروں کو خوف خدا آیا۔ بڑی مشقت اور جانکاہی سے اس ہیئت واہی سے اصلی صورت پر لائے۔ سرگذشت جو اس کی پوچھی، اس نے کیفیت باغ کے جانے کی، پری زاد پر طبیعت آنے کی ابتدا سے انتہا تک بیان کی۔ ساحر کہنے لگے اب ایسی حرکت بیجا زینہار نہ کرنا، دہن اژدر میں پاؤں نہ دھرنا، ورنہ تازیست خدا جانے کس صورت میں خراب رہے گا، سخت عذاب رہے گا۔ شہزادہ نے بعد شکر رہائی کہا: ہرگز ہرگز ادھر کا دھیان کسی عنوان نہ لاؤں گا، اپنے وطن کو بہر کیف پھر جاؤں گا۔ وہ دونوں تو جدھر کے عازم تھے اس طرف راہی ہوئے، یہ خانہ خرابی کا جویا پھر باغ کی سمت چل نکلا۔ فرقت سے حال اس کا تباہ تھا، بے سامانی کا سامان ہمراہ تھا۔ حسرت و یاس کا ہجوم، بے تابیوں کی دھوم، فوج کے بدلے سپاہ رنج و الم، قشوں کے قشوں اندوہ و غم، دل کے قلق و اضطراب نے ہوا کے گھوڑے پر سوار کیا۔ شوق دیدار نے شتر بے مہار کیا۔ چشم پرنم مہتمم آبپاشی، وحشت دل آمادۂ دور باشی، فغاں کے نقیبوں کی صدا بلند، سینہ مجمر، دل و جگر عود و سپند، جنون دھونس دے کے ڈنکا بجاتا، کوس حرمان کا کوسوں آوازہ جاتا، مجنوں کی روح دشت و بر میں ہمراہ، پہاڑوں میں کوہ کن کی پناہ، علم آہ کا جس طرف رُخ مُڑتا دل کے داغ کا ادھر پھریرا اڑتا۔ ناشتہ کا وقت جب آتا، فاقہ دسترخوان بچھاتا، محکمہ ناکامی سر رشتہ ناداری کے کار پرداز طلب غذا کی صدا جو سنتے، عجیب و غریب نعمتیں ہوا پر چنتے۔ باورچی یاس کے نیم برشتہ لختِ جگر سیخِ آہ ہر چڑھاتے، کوفت کے کوفتے گرما گرم دکھاتے۔ میسر تو دال نہ دلیا ہوتا، عقلیہ یہ ہے کہ دل اور کلیجے کا قلیا ہوتا۔ حضرت عشق سا کاریگر کہاں ملتا ہے کہ جب بے ہانڈی چولہے کی شیخی بگھار ڈیرھ چانول دم دیتا ہے، لاکھ لاکھ طرح کا مزہ فقط درد و غم دیتا ہے۔ سات دن یہ غذا اگر روئیں تن کھائے، موم کی طرح بہ جاوے۔\n\nدن کے کوچ کا یہ حال پوچ تھا اور ات کے مقام کا جو انتظام ہوتا تھا تو منزلوں راحت سے دور، کوسوں آرام سے جدا قیام ہوتا تھا۔ خیمہ بے چوبہ، زنگاری رنگ، سائر کی قنات، صحرائے ہولناک جس سے عافیت تنگ، خانہ بے دیوار و در وحشت کا گھر، فرش سراسر زمردی، خود رو گلکاری، بالش پر کے بدلے خشت زیر سر۔ ا س پر دم شماری سونے کے وقت چونک چونک اٹھنا، تمام شب کی بیداری، حسرت و یاس در بر، پہلو میں کنکر پتھر، کروٹ بدل کے ادھر ادھر جس دم نگاہ کی، سناٹا نظر آیا۔ دم سرد بھر کے آہ کی۔\n\nان خرابیوں سے ہزار بے تابیوں سے کئی مہینے کے بعد بصد آزار باغ کی دیوار نظر آئی۔ وحشت حرارہ لائی۔ بے اختیار ہو کے دوڑا ۔ دروازے کے قریب وہ بلا نصیب جب آیا، انسان نہ حیوان، سنسان پایا۔ اندر قدم بڑھایا۔ چمن کے تختے میں اس گلبدن کو محوِ تماشا دیکھ کر گرد پریوں کا پرا دیکھا۔ ناگاہ ایک خواص کی نگاہ اس پر پڑ گئی، آنکھ لڑ گئی۔ اس نے گھبرا کے شہزادی سے عرض کی کہ وہ ہی مرگ کا آمادہ یعنی شہزادہ پھر آیا۔ پری زاد متحیر اسے دیکھنےلگی۔ یہاں تاب کہاں، نزدیک جا کے بے تابانہ مانند پروانہ اس شمع کاشانہ افروز کے گرد پھرنے لگا۔ صعوبت راہ سے گردش شام و پگاہ سے حال باقی نہ تھا۔ دوران ہوا لڑکھڑا کر گرنے لگا۔ پری زاد نے ہاتھ پکڑ لیا، سنبھالا۔ شہزادہ نے کہا: اس کی شرم آپ کے ہاتھ ہے۔ وہ ہنس کے بولی یہ کیا بات ہے۔ جب گذشتہ خطا کا عذر کیا تو اس نے کہا: تیری ایذا اٹھانے سے تکلیف پانے سے مجھ کو خوف خدا ہوا۔ یہ جو مصیبت تجھ پر گذری، تیرے قصور سے میں در گذری۔ آنے سے طبیعت مسرور ہوئی، خفگی گئی، کدورت دور ہوئی۔ آئندہ احتیاط شرط ہے۔ حوصلے سے زیادہ قدم نہ بڑھانا، پھر منہ کی نہ کھانا۔ اس کے بعد ہمراہ لے کے دم دے کے بارہ دری میں آئی۔ بے حجابی کی دوا منگائی۔ وہ جو خدمت گزاریں شکر لب شیریں بیان تھیں، اکل و شرب کا سامان لے کے موجود ہوئیں۔ شراب ناب کا جام چل نکلا۔ ناچ گانے کا غلغلہ فلک پر پہنچا۔ بھوکے پیاسے نے زندگی سے نراسے نے کچھ پیا، کچھ کھایا۔ دماغ کی کیفیت بدل گئی۔ بادۂ گلگوں کا نشہ رنگ لایا۔ مصیبت کی باتوں کا ہجر کی خوفناک راتوں کا ذکر ہونے لگا۔ اپنی خانہ خرابی پر شاہزادہ رونے لگا۔ پری زاد ہاتھ پکڑ کر پلنگ پر لے گئی۔ دونوں لیٹے، اختلاط شروع ہوا۔ جلیس مزاج دان جتنی بیٹھی تھیں، وہ اپنے اپنے مقاموں پر اٹھ گئیں۔ یہاں عالم تنہائی، نشہ کی کیفیت، ولولۂ طبیعت نے ایذائے گذشتہ شاہزادہ کو بُھلائی، تازہ مصیبت استقبال کو آئی۔ اگلی حرکتیں کرنے لگا۔ بربادی کے وادی میں قدم دھرنے لگا۔ پری زاد نے کہا: تم پھر مزے میں آ گئے، اتنا جلد گھبرا گئے۔ سنبھل جاؤ، بیہودہ ہاتھ نہ بڑھاؤ۔ اب کی بار کہیں ٹھکانا نہ ملے گا۔ یاد رکھو آب و دانہ نہ ملے گا۔ یہاں آنکھوں پر پردے پڑے تھے، شیطان صاحب سر پر کھڑے تھے۔ پری نے ہر چند ٹالا، یہاں کیا پروا تھی۔ ازار بند پر ہاتھ ڈالا۔ نہایت بدمزہ ہو کے وہ کچھ بڑبڑائی، پکار کر یہ کلمہ زبان پرلائی کہ اے حامل رنج و محن بن جا ہرن۔ شہزادہ پلنگ سے گر کر غزال خوش جمال ہوگیا۔ شہوت کا نشہ ہرن ہوا، سکتے کا حال ہوگیا۔ پری زاد نے خواص سے کہا: اس وحشی کو باغ سے باہر نکال دے، بلا کو ٹال دے۔ اس نے بموجب فرمان اُسی آن گلزار ہمیشہ بہار کے دروازے سے دور لے جا کے چھوڑا، رشتۂ امید اس کا توڑا۔ اس نے ہزار آہ آہ کی، اس نے مطلق اس کے حال پر نہ نگاہ کی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%88%D9%81%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA/%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "شگوفہ محبت/ابتدا اُس کہانی کی ہے جس کے ہر فقرے میں انتہا خوش بیانی کی ہے۔ اضطرار میں نکلنا آذر شاہ کا، پہاڑ پر مل جانا ولی اللہ کا", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > شگوفہ محبت", "year": null, "text_ur": "ابتدا اُس کہانی کی ہے جس کے ہر فقرے میں انتہا خوش بیانی کی ہے۔ اضطرار میں نکلنا آذر شاہ کا، پہاڑ پر مل جانا ولی اللہ کا\n\nمحررانِ حال و مآلِ شاہانِ گذشتہ، مورخانِ ذی اعتبار تاریخ دان دانستہ لکھتے ہیں کہ یہ جو چار دانگ عالم ہندوستان مشہور ہے، شہر تو کیا ہر دیہ و قریہ تک اس کا لطافت اور حسن و خوبی سے معمور ہے۔ کسی زمانے میں یہاں کا تاجدار پُر صولت باوقار آذر شاہ معدلت پناہ تھا۔ سزاوار اریکۂ جہاں بانی بزم افروز محفل کیانی؂\n\nبہت بادشاہ اس کو دیتے تھے باج\n\n خطا و ختن تک تھا اس کا خراج\n\nکوئی دیکھتا آ کے گر اُس کی فوج\n\nسمجھتا کہ ہے بحر ہستی کی موج\n\nعدل و داد کہ ملک جس سے آباد ہوتا ہے، رعایا کا دل شاد ہوتا ہے، اس میں بے مثل لاثانی تھا۔ فی الحقیقت زینت بخش سریر سلطانی تھا۔ گردن کشانِ دہر غاشیۂ اطاعت بر دوش رہتے تھے۔ سطوت و صولت سے باختہ سب کے ہوش رہتے تھے۔ فوج ظفر موج عدد اور شمار سے افزوں، ہزراہا گنج رشک خزانۂ قارون، وزیر امیر عقیل امانت دار دیانت شعار، پسینے پر لہو بہانے والے جان نثار ندیم فہیم ادیب غریب فہمیدہ، طبیب عجیب سنجیدہ، زمانے کے چیدہ، امورات جہان نیرنگی گردونِ گردان سے فارغ البال، لاولدی کے غم چھٹ، رنج نہ ملال، اکثر سلطنت کی ضرورت سے فرصت پا کے تخلیہ میں وہ ندیم تجربہ رسیدہ سیاہ روزگار اور وہ حکیم جہاں دیدہ فلاطون شعار جو تھے سب کو بلا کے ان سے گفتگو رہتی تھی کہ دنیا مقام گذران ہے، ہر شخص یہاں رواں دواں ہے۔ بجز ذاتِ پروردگار یہاں کے لیل و نہار کو ایک ڈھنگ پر دم بھر ثبات و قرار نہیں۔ یہاں کی ہر شے سے پیدا ہے کہ پائدار نہیں۔ خدا نے ساز و سامانِ سلطنت، اسبابِ شوکت و حشمت سب کچھ عطا کیا مگر وارث اس کا جو پیدا نہ ہوا تو ہم نے یہ سب جمع کر کے کیا کیا۔ جو کچھ ہے، ہم تو اس کے چھوڑنے کی حسرت قبر میں لے جائیں گے، غیر اس پر قبضہ کر کے زندگی کے مزے اڑائیں گے۔ اس سے تو بہتر یہ ہے کہ زیادہ بوجھ اپنے سر پر نہ لیجیے، چھوٹ جانے سے پہلے سلطنت کو چھوڑ دیجیے۔ اس کے جواب میں متفق اللفظ سب تسکین اور تشفی کے کلام عرض کرتے تھے کہ آپ اتنا نہ گھبرائیے، ایسے خیال مزاج مبارک میں نہ لائیے۔ ہر شے کے واسطے ایک وقت معین مقرر ہے، غیب کی کس کو خبر ہے۔ کسی کو وقت سے پیش اور مقدر سے بیش کچھ ملا نہیں، حاکم کا گِلا نہیں۔ یہ سن کے چپ ہو رہتا۔ گو دل کا نہ ملال جاتا، کج بحثی نہ کرتا، ٹال جاتا۔\n\nایک روز نصف شب گذری، اس کی آنکھ کھل گئی، وہی خیال بہرحال رہتا تھا، صدمے سہتا تھا۔ الجھن میں نیند نہ آئی، دفعۃً زیادہ جو گھبرایا، سلطنت سے منہ کو موڑا، سرد آہ بھر کر گرم رفتار ہوا، شہر کو خالی چھوڑا، بے توشہ و زادِ راہ وہ بادشاہ جنگل کی طرف چل نکلا۔ شب تیرہ و تار، رفیق نہ غمگسار۔ اندھیری رات، میدان کی سائیساں، عقل گم، ہوش حواس پرّاں، نہ سواری کا اہتمام، نہ لوگوں کی دھوم دھام، نہ صدائے نقارہ، نہ ندائے بوق و کوس، پیادہ پا یکہ و تنہا بصد حسرت و افسوس بُری نوبت سے کئی کوس طے کیے کہ فلک جفا پسند پُر گزند نے وہ خراب حال دکھانے کو شمع مومی و کافوری کے فراق میں جلانے کو مشعلِ ماہ آسمان اول پر روشن کی۔ اب جو کوئی ٹھوکر کھائے تو پستی و بلندی نظر آئے۔ پہاڑ دیکھا سر بفلک کشیدہ، چوٹی اُس کی آسمان سے ملی، ہر قسم کا درخت خود رو پھولا پھلا تھا۔ جنگل تک پھولوں کی بو باس سے مہک رہا تھا، جس کو جینے سے یاس ہو، اس کو مرنے کا کب وسواس ہو۔ بادشاہ کو نہ درندے کا ڈر تھا نہ گزندہ سے خوف و خطر تھا۔ مردانہ وار قدم ہمت بڑھاتا تھا، بے تکلف اُس نشیب و فراز میں چڑھا جاتا تھا۔ جب تھکتا تو کسی پتھر پر بیٹھ جاتا، دم لے کے آگے قدم اٹھاتا۔ القصہ بہزار خرابی راہ طے کی، اوپر پہنچا۔ اس عرصے میں صبح کا سپیدا چمکا۔ جانوران خوش الحان بذکر یزدان زمزمہ سنج اور نغمہ پرداز ہوئے، درِ اجابت حاجت مندوں پر باز ہوئے اور سجادہ نشینِ چرخ اول نے جانمازِ انجم لپیٹی۔ و الفجر کی صدا آئی۔ زاہد فلک چارم چونکا، اپنی چمک دمک دکھائی، جہاں تک نگاہ گئی گلہائے رنگا رنگ نظر آئے، چشمہ ہائے سرد و شیریں جا بجا جاری پائے۔ اس نے وضو کر کے نماز صبح پڑھی پھر دستِ دعا بدرگاہ خالقِ ارض و سما بلند کر کےبہت رویا، کہا “اے پروردگار! کل تو وہ شان و شوکت تھی، آج عالم تنہائی اور یہ سامان ہے۔ تو قادر و توانا علیم و دانا ہے، اگر مژدۂ تمنا پاؤں گا تو مُنہ لوگوں کو دکھاؤں گا، وگرنہ اس پہاڑ سے نیچے گر کے جان دوں گا، دربدر بہکتا نہ پھروں گا”۔\n\nیہ تو اس شغل میں تھا، دفعۃً ایک مرد بزرگ سن رسیدہ گرم سردِ زمانہ دیدہ نظر آئے۔ عمامہ سر پر، عبا زیب دوش و بر، داہنے ہاتھ میں کنٹھا بائیں میں عصا، زیتون کا وظیفہ پڑھتا قریب آیا۔ بادشاہ اٹھ کر کھڑا ہوا، سلام کیا۔ اس نے جواب دے کر کہا “اے شہر یار باوقار! اتنے سے امتحان میں اُس کی رحمت کی وسعت کو بھول گئے، ہاتھ پاؤں پھول گئے”۔ آذر شاہ سمجھا کہ گو اس کا مسکن کوہ وجبال ہے مگر یہ برگزیدہ مقرر صاحب کمال ہے۔ لجاجت اور سماجت سے اپنی گذشتہ داستان مشروحاً بیان کی۔ اس مقبول ذو الجلال شیریں مقال نے فرمایا کہ یہ امور تقدیر ہیں، اضطراب اس میں بیجا ہے۔ بابا دنیا کا معاملہ بہت ٹیڑھا ہے۔ حکومت، تدبیر، عقل، مال و زر، فوج لشکر یہاں سب کچھ بیکار ہے۔ حاکم احکم الحاکمین ہے، اس کا اختیار ہے؛ بہر حال اسی سے التجا کرو۔ محتاجوں کی حاجت بر لاؤ، بھوکے کو کھانا، ننگے کو کپڑے پہناؤ۔ سوال کسی کا نہ رد کرو۔ دعا مانگنے میں کد کرو، وہ ارحم الراحمین مشہور ہے۔ اس کی عنایت سے کیا دور ہے کہ نخل تمنا تمھارا گل و بار لائے، فرزند سعادت مند پروردگار مرحمت فرمائے۔\n\nاس کلام سے بادشاہ کی یاس امید سے بدل گئی، طبیعت سنبھل گئی۔ پوچھا کہ آپ کون ہیں، جگہ یہ کیا ہے، بود و باش کیونکر ہے، معاش کیونکر ہے، تنہا ہو یا شریک اور کوئی بندہ خدا ہے۔ دن رات کس شغل میں بسر ہوتی ہے، شامِ تنہا کس طرح سحر ہوتی ہے۔ وہ مرد پیر با دل دلگیر بیٹھ گیا، کہا “اے سلطان ذی شان! یہ بڑی داستان ہے مگر عبرت کرنے کا بیان ہے۔ اور تو مضطر ہے، تجھ سے کہنا بہتر ہے۔ بگوش ہوش سُن اے والا نژاد! بندہ بھی آدم زاد ہے۔ یہ جو موسم جوانی عالم شباب ہوتا ہے بہت خراب ہوتا ہے۔ انسان بے خوف و خطر ہوتا ہے۔ نہ خدا سے شرم نہ حاکم کا ڈر ہوتا ہے۔ اُن دنوں میرا پیشہ قزّاقی کا تھا، انکار خدا کی رزّاقی کا تھا۔ ہاتھ پاؤں میں یہ طاقت تھی کہ ہزار جوان جرّار کا یکہ و تنہا مقابلہ کرتا تھا۔ قتل اور غارت پر اوقات تھی۔ بہ تمنائے زر و مال بہرحال دن رات کشت و خون میں اوقات بسر ہوتی تھی۔ نفع دنیا میں عقبیٰ کا ضرر تھا۔ مجھ کو کچھ خبر نہ ہوتی تھی۔ اتفاقاتِ زمانہ ایک پری پیکر نوجوان با لباس پُر زر، سترہ اٹھارہ برس کا سن، شباب کے دن، برق دم گھوڑا، طلائی مرصع کار ساز ویراق، ہتھیار کی قسم سے فقط قرولی کمر میں، خود غرقِ دریائے جواہر مگر اُس غزال چشم کے شیر سے بُرے تیور۔ میں تو ہزار خونخوار کا تنہا شکار کرتا تھا، وہ جو نمود ہوا تو نظر میں حلوائے بے دود ہوا۔ نرم آواز سے مَیں نے کہا یہ سب ساز و سامان اے نادان یہاں رکھ دے اور گھر کو سیدھا پھر جا۔ تیرے حال پر رحم آتا ہے، اس صورت کے انسان کو کون ستاتا ہے۔ اسے نہ خوف ہوا نہ ہراس ہوا، نہ مجھ سے ایذا پہنچنے کا وسواس ہوا۔ بکشادہ پیشانی میرے پاس آ کے جواب دیا کہ اے شخص تو بھی بشر ہے، بندۂ خدا ہے مگر یہ کام جو تو نے اختیار کیا ہے اس میں شر ہے، بہت بُرا ہے۔ درِ توبہ باز ہے، آقا بندہ نواز ہے۔ اس فعل لغو سے منفعل ہو، توبہ کر۔ میرے خیال سے درگذر کہ میں ستم رسیدہ یکہ و تنہا جریدہ ہوں، مُورِدِ رنج و محن غریب الوطن، یار و دیار سے جدا، اللہ اعلم ہے کس مصیبت میں مبتلا ہوں۔ا ور جو تجھ کو اپنے زور و طاقت کا گھمنڈ ہے تو بیجا ہے کہ ہر فرعون کے واسطے ایک موسیٰ خلق میں خلق ہوا ہے۔\n\nمجھ کو اس کے کلام پر ہنسی آئی۔ ترش رو ہو کے اُس سے کہا: صاحبزادے! ملک الموت سے درشت کلام کرتا ہے، کوئی ایسا کام کرتا ہے۔ مصلحت یہی ہے کہ اسباب اور گھوڑا مجھے دے، پیادہ پا اپنی راہ لے۔ کیوں بے گور و کفن طعمۂ زاغ و زغن ہوتا ہے، جان سی چیز جنگل میں کھوتا ہے۔ یہ بات سن کر اس نے تیور بدلے، کہا: اے مردک! کیا جھک مارتا ہے، شیخی بگھارتا ہے۔ انکار قدرت خدا کرتا ہے، دیکھوں تو میرا کیا کرتا ہے۔ پھر تو بموجب مثل کمزور پر غصہ جلد آتا ہے، نزلہ برضعیف مے ریزد، میں نے کمان کا حلقہ کاندھے سے اتارا اور یہ سوچا دو چار تیر بے تاخیر بچا کے اس کو لگاؤ کہ ڈر جائے، مال اسباب یہاں دھر جائے۔ میں نے کمان کھینچی، اس نے قرولی جو تیر قریب آیا بوضع دلکش کاٹا۔ قصہ مختصر سارا ترکش کاٹا۔ پھر تو میں جھلایا، تلوار کھینچ کے اس کے برابر آیا۔ خبردار کہہ کے وار کیا۔ اس نے چالاکی سے عجب کار کیا کہ وہی قرولی قبضے میں ڈال کر جھٹکا جو دیا، تلوار نے ہاتھ سے نکل کے میدان کا رستہ لیا اور دفعۃً بایاں ہاتھ بڑھا کے میری گردن پکڑی۔ گویا ملک الموت کے پنجے میں آئی۔ دم گھٹنے لگا، گلے کا فشار ہوا۔ یقین ہوگیا کہ انگوٹھا اس کا حلق اور گردن میں دوسار ہوا۔ مجھ کو غش آ گیا۔ دو گھڑی کے بعد جو آنکھ کھلی، دیکھا سرنگوں باگ ڈور سے بندھا درخت میں لٹکتا ہوں۔ اس کو جو پاس پایا، آپ کو بدحواس پایا۔ ڈر کے مارے زار و نالے کرنے لگا۔ اپنا عجز اس فعل قبیح کا انکار، اس پر حالی کرنے لگا۔ جس دم قسمیں زبان پر لایا، اس جرار کو رحم آیا۔ فوراً مجھ کو درخت سے کھول دیا اور میرے ہتھیار اس اشجع روزگار نے مجھ کو دے کے قریب بلایا، فرمایا: خبردار! جس بات کا تو انکار کرتا ہے، اس کام کو زینہار نہ کرنا۔ قزاقی کے قصد پر اس دشت میں قدم نہ دھرنا۔ جو روزی کی فکر ہو تو پروردگار صادق الاقرار ہے۔ اس نے فرمایا ہے، قرآن مجید میں آیا ہے وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَااور رسول الثقلین لو کان تحت الجبلین فرماتے ہیں، بشر اپنی حماقت سے گھبراتے ہیں۔ خالق بہر کیف اپنے بندے کو روزی پہنچاتا ہے۔ بھوکا اٹھاتا ہے، پیٹ بھر کے سُلاتا ہے۔ ؏\n\nمگر نشنیدۂ بیدل خدا داری چہ غم داری\n\n؂\n\nجب دانت نہ تھے تب دودھ دیو\n\nاب دانت بھئے کا اَن نہ دیہے\n\nیہ فرما کے وہ تو چل نکلا۔ مجھ کو تمام دن حیرت رہی۔ وہ ذلت و خواری جو مجھ پر گذری تھی، اس کی غیرت رہی۔ تمام رات نیند نہ آئی۔ صبح کو وہ مال اسباب جو حرام کا جمع کیا تھا، اس کو لٹا کے ایک سمت چلا اور دل میں یہ عزم بالجزم ہوا کہ اگر اکل حلال بہ مشقت کمال میسر ہوا تو کھاؤں گا، ورنہ فاقے کر کے مر جاؤں گا۔ انسان تو سست اساس ہے، بہت بدحواس ہے۔ یہ خیال آیا کہ اب دیکھیے کیوں کر آب و دانہ ملتا ہے، اس دشت پُرخار میں کیا گل کھلتا ہے۔ چلتے چلتے جب تھکا، ایک درخت سایہ دار دیکھ کے بیٹھا۔ بسکہ وہ خوش قطع تھا، بغور اس کو دیکھنے لگا۔ عجب ماجرا نظر آیا۔ ایک کوا بے پر و بال بُرا حال اس کے کول میں گردن باہر نکالے پڑا تھا۔ مجھ کو پھر وہی خیال آیا کہ اس کے دانے اور پانی کی زندگانی کی صورت کیوں کر ہوتی ہوگی۔ یہ تو درخت سے نیچے آتا نہ ہوگا، کچھ پیتا کھاتا نہ ہوگا۔ ابھی یہ وسوسہ دور نہ ہوا تھا کہ ایک باز تیز پرواز جانور پنجے میں دبائے ٹہنی پر آ بیٹھا۔ وہ جو شکار لایا تھا، پنجے میں جسے دبایا تھا، اس کا گوشت نوچ نوچ کے کچھ کھانے لگا کچھ گرانے لگا۔ غور جو کرتا ہوں تو کیا دیکھا جو کچھ باز گراتا ہے وہ کوے کے مُنہ میں آتا ہے، بے تکلف کھاتا ہے۔ جب کوا سیر ہوا، گردن کو اندر کھینچا۔ باز اُڑ گیا، مجھ پر عجب حال طاری ہوا۔ بارے قائل قدرت باری ہوا۔ دل سے کہا جل جلالہ۔ یہ جو سنتے تھے، درست ہے ؂\n\nبے مگس روزی نماند عنکبوت\n\nرزق را روزی رساں پر میدہد\n\nجو تقدیر میں ہے اُڑ کے اس طرح آتا ہے، بے ہاتھ پاؤں ہلائے حلق میں اتر جاتا ہے۔ اسی دن اس پہاڑ پر پھرتا پھرتا آ نکلا۔ یہاں کی بہار، جابجا چشمہ ہائے سرد و شیریں خوشگوار، گل بوٹے کی دید، مجمع خلق سے بعید تنہائی بہت پسند آئی۔ یہ مصرع پڑھ کر بیٹھ رہا ؏\n\nاوقات مکن ضائع و تنہا بنشین\n\nاز روئے حساب بہر حال چالیس سال گذر گئے، دَد و دام سے صحبت رہتی ہے، جانوروں کی طرف رغبت رہتی ہے۔ جس لذیذ طعام پر خواہش ہوتی ہے، سرِ شام رازق مطلق اس مقام پر بھیج دیتا ہے۔ نہ جستجو کرتا ہوں نہ کاہش ہوتی ہے۔ سیر ہو کے کھاتا ہوں، ولی نعمت کا سجدۂ شکر بجا لاتا ہوں۔ بعد نماز عشا صدا کان میں آئی تھی، ہاتف نے تیرے آنے کی خبر سنائی تھی کہ آذر شاہ بحال تباہ فرزند کی حسرت میں اس پہاڑ پر آئے گا اور مایوس ہو کے مر جانے کا خیال دل میں لائے گا، تو اس کو منع کرنا، سمجھانا، لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ پڑھ کر سنانا، کہہ دینا کہ اپنے ملک کو پھر جا اور خاقانِ چین سے اس کی بیٹی کا پیام دے۔ عجب وہ یاسمین پیکر گل اندام ہے، سمن رخ اس مہر جبین کا نام ہے۔ نمونۂ کلک قدرت صانع نادر نگار ہے، یکتائے روزگار ہے۔ جب اس کے ساتھ تیری شادی ہوگی، نخل تمنا بار لائے گا۔ خانہ آبادی ہوگی۔ لیکن تیری پہلی عورت جو زلالہ ہے وہ سخت دلّالہ ہے، اس پر سحر کرے گی۔ چندے اس کو جنون ہو جائے گا، حال زار زبون ہو جائے گا۔ مگر بدعائے درویش وہ دلریش نجات پائے گی، تیری مراد بر آئے گی۔ یہ کلمہ کہہ کے وہ تو ایک سمت رواں ہوا، آنکھوں سے نہاں ہوا۔ آذر شاہ بہت شاد ہوا، بندِ فکر سے آزاد ہوا۔ دل میں سوچا کہ دن زیادہ آیا، واللہ اعلم شہر کتنی دور ہے۔ بندہ پیادہ راہ چلنے سے معذور ہے۔ یہ تو اس خیال میں لب چشمہ حیران تھا، ہر طرف نگران تھا۔\n\nاب دو فقرے ان کے ملازمان خاص کے سینے کہ دم سحر بصد کر و فر وزیر، امیر، ارکان سلطنت، ترقی خواہانِ دولت در دیوان خاص پر حاضر ہوئے۔ یہاں سناٹا نظر آیا، ہر ایک کو بحال یاس سراسیمہ و بدحواس پایا۔ معلوم ہوا کہ شب کو شاہ کیوان جاہ کسی سمت راہی ہوا۔ زمانہ سب کی نظر میں سیاہ ہوگیا، ہر شخص کا حال تباہ ہوگیا۔ وزیر صائب تدبیر نے پہلے تو شہر کا بند و بست کیا، کوتوال کو حکم نگہبانی ہوا، وہ مصروف جانفشانی ہوا۔ سب نے با دلِ درد مند شہر کے دروازے بند کیے۔ فرمایا کہ بجز مسافر کوئی اندر آنے نہ پائے، شہر سے جانے نہ پائے۔ پھر اپنا سر اور منہ آغشتہ بہ خاک کیا، تا دامن گریبان چاک کیا۔ کچھ سوار جرار تھوڑے سے پیادے ہمراہ لے کے بہ تلاش شاہ گم گشتہ وہ جگر برشتہ شہر سے باہر نکلا۔ جا بجا خاک اُڑاتا پتا لگاتا چلا۔ قضائے کار اتفاقات روزگار اسی پہاڑ کے قریب پہنچا۔ دل میں آیا اس کے اوپر چلو، کیا عجب ہے کہ اللہ کی قدرت کا تماشا نظر آئے، بادشاہ یہیں مل جائے۔ القصہ بجد و کد پہاڑ پر چڑھا۔ دور سے بادشاہ اسی چشمہ پر نظر پڑا۔ تشنۂ دیدار نے غریق بحر ذخار نے ساحل کامیابی پایا۔ دوڑ کر لپٹ گیا۔ رونے لگا، داغ مہاجرت دھونے لگا۔ الغرض شوکت و شان، ساز و سامان سے بادشاہ کو لے کے شہر میں داخل ہوا۔ جس مطلب کا جویا تھا حاصل ہوا۔ جان نثاروں نے نذریں دیں، خلعت و انعام پائے۔ خوش و خرم اپنے اپنے گھر آئے۔ شاہ ذی جاہ امور سلطنت میں موافق معمول مشغول تو ہوا مگر ہر دم فراق سمن رخ میں انتظام شہر کا بھولا، یہ تازہ شگوفہ پھولا۔ گل رخسار کی بہار پر خزاں چھائی، زعفران زار کی کیفیت نظر آئی۔ نخلِ محبت نے سینہ میں لگاؤ کیا۔ الفت کے کانٹے نے جگر میں کھٹک کی، کلیجے میں گھاؤ کیا۔ نہ گل و گلزار کی سیر سے رغبت رہی، نہ معاملات سے کچھ کام رہا۔ نہ گانا سُنا، نہ ناچ دیکھا۔ نہ شُربِ بادہ علی الدوام رہا، جو کہیں کھڑا ہوگیا تو بت کی طرح کھڑا رہا۔ جو پلنگ پر گر پڑا تو بہ خدا گھڑیوں پڑا رہا۔ لب خشک، آنکھیں پرنم ہوئیں۔ اندوہ کی کثرت، خوشی کی صحبتیں برہم ہوئیں ؂\n\nکہا گر کسی نے کہ کچھ کھائیے\n\nتو کہنا کہ بہتر ہے منگوائیے\n\nکسی کی تلاش میں خود رفتہ ہو، حیرت زدہ ہر طرف نگاہ کرنے لگا۔ سوزشِ دل کی دم سرد نے تسکین کی۔ جی گھبرایا تو آہ آہ کرنے لگا۔ ہوش و حواس سر سے یکسر سرکے۔ عقل اور عشق میں لڑائی ہونے لگی۔ متاع صبر و خرد لُٹ گئی۔ عنانِ ضبط ہاتھ سے چُھٹ گئی۔ مملکت جسم کی تباہی ہونے لگی۔ دست جنوں تا گریباں پہنچا،جیب کا چاک سرِ داماں پہنچا۔ بھوک پیاس پاس نہ آئی۔ غم کھا کے آنسو پینا اختیار کیا۔ فرقت جاناں میں مر مر کے جینا اختیار کیا۔ جنگل سے رغبت ہوئی۔ بستی اجاڑ معلوم ہونے لگی۔ تنہائی کا دن تڑپ کے کاٹا۔ فرقت کی رات پہاڑ معلوم ہونے لگی۔ دربار میں آیا تو مجمع سے گھبرانے لگا۔ اکیلا ہوا تو سر پٹک کے پچھاڑیں کھانے لگا۔ صبح سے تا شام آہ و زاری کی۔ شام سے صبح تک تارے گنے۔ بے قراری کے دن کو گلزار میں اگر گذر ہوا، گل و بلبل کی صحبت کا خار ہوا۔ رات کا جلسہ مد نظر ٹھہرا تو شمع پروانے کی گرم جوشی دیکھ کے بخار ہوا۔ الغرض جب خلاف مقدموں کو طول ہوا تو سلطنت کی بربادی سے ہر ایک جان نثار نمک خوار ملول ہوا۔ زمانۂ سابق میں اس قدر لوگ بدنام نہ تھے، نرے خود کام نہ تھے۔ باہم سب نے جمع ہو کے بصد پریشانی عقل و دور اندیش سے کام لیا۔ ذہن جو لگایا تو بالاتفاق طبیعت کا میلان کسی جانب ٹھہرایا ؂\n\nمُنہ پر اس کے جو رنگ خون نہیں\n\nعشق ہے صاف یہ جنون نہیں\n\nایک روز سر پاؤں پر دھر بجرأت تمامتر وزیر اعظم عرض پیرا ہوا کہ ہم لوگ خانہ زاد ہیں، جان نثار ہیں، جس جا حضرت کا پسینہ گرے اپنا لہو بہانے کو تیار ہیں۔ لیکن کچھ ایما اشارہ اگر پائیں، جان جوکھوں کر کے خدمت بجا لائیں، ورنہ ہم سب اپنا سر زیر قدم فدا کریں گے، اور تو کیا کریں گے۔ اس وقت چار و ناچار بجز اظہار حال آذر شاہ کو چارہ نہ ہوا، ذکر چھڑ جو گیا ضبط کا یارہ نہ ہوا۔ ابتدا سے انتہا تک پہاڑ پر جانا ملاقات کا ہونا جو حقیقت گذری تھی وہ سب کہہ سنائی۔ پھر فرمایا کہ بے وصل سمن رخ اپنا وصال ہے، فرقت میں جینا محال ہے۔ جب سرگذشت بادشاہ کی سُن لی، متفق اللفظ سب نے عرض کی کہ پیر و مرشد جو بادشاہ ہے، درِ دولت کا گدا ہے اور جس جا جو حاکم ہے وہ حضرت کا محکوم ہے۔ چار دانگ میں اس سلطنت کا شہرہ ہے۔ صولت و سطوت کی دھوم ہے۔ کس کی مجال ہے جو نافرمانی کرے، تلخ چار دن کی زندگانی کرے۔ وزیر اعظم کی صلاح ہوئی کہ غلام پہلے ایلچی کے ہاتھ نامہ روانہ کرتا ہے، دیکھیے تو وہ راضی ہوتا ہے یا کوئی بہانہ کرتا ہے۔ اس کے بعد جو مصلحت وقت ہوگی وہ بات کریں گے۔ جو صلح میں مطلب بر آیا تو خیر نہیں شر ہوگا، لڑیں گے۔ پیر و مرشد خاطر مبارک بہر کیف جمع فرمائیں جس کام میں دل لگے، جی بہلائیں۔ ان شاء اللہ المستعان بفضل یزدان قریب تر حسب دلخواہ یہ امر ظہور میں آتا ہے۔ خدا نے چاہا تو پیک خوش قدم شادی کا پیام ادھر سے لاتا ہے۔ یہ رائے بادشاہ نے بہت پسند کر کے ذہن کی رسائی پر تحسین و آفرین فرمائی اور وہ جو تڑپ دل میں، بے قراری آب و گل میں تھی اس سے نجات پائی۔ پھر منشی بے نظیر جادو تحریر کو یاد فرمایا۔ اس نے نیزۂ واسطی ہاتھ میں اٹھا کے سمندِ طبع کو صفحۂ قرطاس پر مہمیز اور تازیانۂ فکر کے چھپکے سے توسنِ ذہنِ رسا کی دور دمی دکھا کے زبانِ خامہ کو حمد و نعت میں گہر ریز کیا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%88%D9%81%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA/%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D9%8F%D8%B3_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D9%81%D9%82%D8%B1%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92%DB%94_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%D9%86%D8%A7_%D8%A2%D8%B0%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D8%8C_%D9%BE%DB%81%D8%A7%DA%91_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%88%D9%84%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "شگوفہ محبت/انشا پردازی دبیر خاقان چین کی", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > شگوفہ محبت", "year": null, "text_ur": "انشا پردازی دبیر خاقان چین کی،ظاہر انکار باطن میں اقرار،کس خوبصورتی سے نہیں نہیں کی\n\nمستوجب حمد، قابل ثنا وہ صناع عجائب نگار ہے جو مور سے سلیمان کا جن و انسان کا پرودگار ہے، جس نے یہ ہفت گنبد بے ستون و در، ہموار اور مدور بنائے اور مشعل مہر و ماہ سے شام و پگاہ میں فرق کیا۔ ستاروں کے چراغاں سے کیا کیا جھمکڑے نظر آئے۔ جو دن ہے تو کس قدر روشن ہے کہ بال کی کھال نظر آتی ہے۔ اگر رات ہے تو ظلمات ہے، وہ تاریکی ہے کہ اپنا ہاتھ سرِ دست ہیہات سوجھتا نہیں ۔ طبیعت گھبراتی ہے، ہمارے عجز سے اور کا اختیار ثابت ہوتا ہے۔ وہ قدرتِ کردگار ہے، دعوی وہم غلط بیکار ہے۔ جس دم وہ اپنی طاقت دکھاتا ہے مورِ ضعیف سے فیلِ مست کو پست کرتا ہے۔ اینٹ کی خاطر مسجد ڈھاتا ہے۔ پشے نے نمرود سے سرکش کے دماغ پُر باد میں جاپائی، فرعون کی قضا موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں سونپی، پانی میں ڈُبا کے جہنم کی آگ دکھائی۔ بجز عجز و قصور فتور اُس درگاہ میں پسند نہیں، کام اس کا کسی چیز پر بند نہیں۔ جس نے گردن کشی سے سرتابی کی، طرفۃ العین میں خانہ خرابی کی۔ قدرتیں اس کی قابل اظہار لائق بیان نہیں، کالشمس نصف النہار عالم پر روشن ہیں نہاں نہیں۔ اور سزاوار درود و سلام نبی ہمارا علیہ السلام ہے جس نے ایک انگلی کے اشارے سے قمر کو دو کیا۔ فرماں برداروں نے اس کے جو چاہا سو کیا۔ وہ شرع کی شاہراہ نکالی کہ عاصیوں نے مغفرت کی سبیل پائی۔ ہر کلمہ گو کو، اس کے پیرو کو اطاعت و فرمانبرداری اس خجستہ صفات کی سند ہے وسیلہ نجات کی۔ لہذا اس وادیِ ناپیدا کنار سے عنان شبدیز خامہ معطوف کر کے گرم خیز دشت مدعا کیا۔ محبت نامہ عطوفت شمامہ مع تحائف مرسلہ بہ ساعت سعید ذریعہ برید سے ملاحظہ میں آیا۔ ہر فقرے نے اتحاد کا لطف دکھایا۔ مضمون مکتوب سے خیر و شر کے بھی پہلو ظاہر ہوئے، حقیقت حال کیفیت مآل سے ماہر ہوئے۔ مجبور ہیں کہ تم نے کلام خدا کی سپر میں پناہ لی ہے، گواہی مخبر صادق علیہ السلام کی حدیث سے دی ہے۔ مجبور چارا نہ ہوا، انکار گوارا نہ ہوا کہ آدم علیہ السلام کے زمانے سے تا ایں دم بے بیش و کم یہی سلسلہ چلا آیا ہے اور نسلاً بعد نسل، بطناً بعد بطن اس گُتھی کو کسی نے نہیں سلجھایا ہے اور اظہار قدرت پروردگار، آبادیِ شہر و دیار منحصر اس کار پر ہے۔ جو امور شرعیہ، خدا و رسول کے احکام سے اجتناب کرے مثل شیطان واجب اللعن ہو، آبرو کو خراب کرے۔ ورنہ اے مہربان یہی گویہی میدان ہوتا، خدا نہ دکھائے جو سامان ہوتا۔ دوسری یہ بات ہے کہ بدوِ شعور سے آج تک تا مقدور طبیعت جویائے صلح رہی، جنگ سے انکار رہا، مروت اور محبت پر دارمدار رہا۔ آج نہیں کل اس وادی میں قدم دھرنا تھا، بارِ دوش اتارنے کو یہی کام کرنا تھا۔ اب بے جستجو یہ معاملہ رو برو آگیا، آیہ و حدیث پر عمل کیا۔ گردن جھکائی، تمھاری تمنا بر آئی۔ جس وقت جی چاہے، بے تردد رہ نورد منزل مقصد ہو۔ حسب امکان جو کچھ ہو سکے گا ظہور میں آئے گا۔ سفر وسیلہ ظفر ہے، لطف دکھائے گا۔ وہ جو جنگ و جدال کا حال لکھا تھا، شاہان نامدار کا شب و روز یہی کار ہے۔ راحت خلق اپنا آزار ہے، پاسبان بدائع ودائع کردگار ہیں۔ یہی مشغلے ہمارے لیل و نہار ہیں۔ مجبور ہیں کہ اسی کام پر مامور ہیں۔\n\nنامہ تمام ہو کے بند ہوا۔ درِ امید کھلا۔ سربمہر ایلچی کو حوالے کیا۔ دم رخصت اور خلعت گراں بہا نوادرات جا بجا دوستانہ دے کے روانہ کیا۔ نامہ دار فائز المرام شاد کام نسیم صبا سے تیز تر دشت و کوہسار طے کر کے درِ دولت پر حاضر ہوا۔ بشرہ شناسوں نے مژدۂ بشاشت مشتاق لیل و نہار سلطان ذی وقار کو دیا۔ روبرو طلب کیا۔ نامے کا جواب سن کے آذر شاہ فرطِ مسرت سے بت ہوگیا۔ وزیر سے فرمایا کہ یہ ماجرا سچ ہے یا بات کی پچ ہے۔ وہ قسم شدید بے تامل کھانے لگا، اس وقت شہریار کو یقین آنے لگا۔ اسی دم بے اندیشہ و غم تیاریِ سفر گھر گھر ہونے لگی۔ منجمانِ دقیقہ رس، اختر شناسانِ پاکیزہ نفس کو یاد فرمایا۔ متفق اللفظ سب نے دیکھ بھال کے ایام بدی یُمن ٹال کے ایک روز مقرر کیا۔ وزیر صائب تدبیر نے بلا توقف و تاخیر علم و کمال کے مطابق فرد فرد کو مالا مال، دنیا کی احتیاج سے فارغ البال کیا۔ بروز معین ساعت مقرر بڑے کر و فر سے مع فوج و لشکر شاہ خجستہ نہاد روانہ ہوا۔ نِت نیا مدّ نظر آب و دانہ ہوا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%88%D9%81%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA/%D8%A7%D9%86%D8%B4%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D9%82%D8%A7%D9%86_%DA%86%DB%8C%D9%86_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "شگوفہ محبت/بسم اللہ الرحمن الرحیم", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > شگوفہ محبت", "year": null, "text_ur": "﷽\n\nحمدِ پروردگار بحر ذخّار دریائے ناپیدا کنار ہے، بڑے بڑے پیرا کوں نے اس میں غوّاصی کی، اپنے اپنے ظرف کے موافق بھر لیا، سر پر دھر لیا، نہ کسی کو تھاہ ملی نہ کنارا نظر آیا؛ زیادہ بڑھے تو غوطہ کھایا، جَلّ جلالُہ۔ بال سے باریک یہ راہ ہے، خیٖرہ اس میں دور بینوں کی نگاہ ہے۔ مولوی معنوی ؂\n\nدر بہاران زاد و مرگش دردی ست\n\nپشّہ کے داند کہ این باغ از کی ست\n\nلڑکپن میں تمیز نہیں ہوتی، جوانی دیوانی مشہور ہے، موسم شباب میں لہو و لعب کے سوا کوئی شے عزیز نہیں ہوتی۔ صائب ؂\n\nگہ بہ پای خم افتم، گہ سبو زنم بر سنگ\n\nساقیا مرنج از من عالم جوانیھاست\n\nالقصہ ان خرابیوں سے بچ گئے، سواری کی تیاری ہوئی، کوچ کی غل مچ گئی، نشہ اترے، مُسن ہوئے، بڑھاپے کے دن ہوئے، سمجھنے بوجھنے کا جب موقع آیا تو اُدھر ضعف نے جھکایا اِدھر قضا نے گور کے گڑھے کو جھکایا۔ وہ قادر و توانا ہے، علیم و دانا ہے جس نے دو حرف سنا کے ایک عالم کا جلوہ دکھایا، اُس میں بشر ہے جس کی طبیعت کا میلان بہ شر ہے، یہ بہت پسند آیا۔ اسی میں نبی ہوئے، ولی ہوئے، شاہ و گدا ہوئے؛ بغور دیکھیے تو کیا تھے اور کیا ہوئے۔ کبھی رات ہوتی ہے کبھی دن ہے اسی کے امکان میں ناممکن ہے۔ ہر قطرہ اس بحر کا محیط ہے دریا ہے، ہر ذرہ اس صحرا کا بسیط ہے، دیکھنے کا تماشا ہے۔ اس گلشن خزاں مآل میں وہی خار ہے جو اٹکا سب کی آنکھ میں کھٹکا۔ کُمیت فکر بصد جولانی گشت سے رہ گیا، تازیانے کی چوٹ سہ گیا۔ اسکندری کھائی بھٹکا پھر کوئی پاس نہ پھٹکا۔ مگر اس کائنات بے ثبات کے معاملوں سے سر رشتۂ محبت سلسلۂ اتحاد اگرچہ وہ بھی بے بنیاد ہے اس پر سب کو پسند آیا ہے۔ پاکبازوں نے لطف اٹھایا ہے۔ رم خوردہ اس میں رام ہوئے ہیں، اسی دام میں گرفتار دد و دام مدام ہوئے ہیں۔ جب دوئی کو دور کیا یک رنگی نے ظہور کیا۔ سُنا ہوگا لیلیٰ کے ہاتھ پر گذر نشتر ہوا مجنوں کا تمام جسم لہو سے تر ہوا، ایک کا دل خون ہوا تو دوسرے کی خانہ خرابی ہو گئی، جنون ہوا۔ آخر کار لیلیٰ کی حالت جب ہو جاتی ہے وہ کیفیت بہر کیف تحریر تقریر میں نہیں آتی ہے۔ ہم سے کور باطنوں کی نظر میں دید کی طاقت کہاں، حقیقت حال دریافت کرنے کی لیاقت کہاں، ورنہ ہر برگ گل تر ہزار بلبل کے خون کا محضر ہے، نغمہ سنجان گلشن ایجاد کے بولنے کا کچھ اور ہی گھر ہے۔ سرو کی دار پر لاکھ قمری کے قتل کا مدار ہے، فاختہ کی کو کو گواہِ تارا جیِ صبر و قرار ہے۔ تلوّن پر اس کارگاہِ بے بنیاد کی رونق ہے، مستعار سب نقش و نگار ہے، عبرت الناظرین کو کافی تفرقۂ لیل و نہار ہے۔ یہ حیرت نگر جو طلسم خانہ ہے، ہوشیار یہاں دیوانہ ہے۔ بے سقف و جدار ہے، دیوار ہے نہ در ہے، پھنسے ہوئے کہتے ہیں گھر ہے، اُجڑے ہوئے بستے ہیں، رونے کو ہنستے ہیں۔ کون و فسا میں نئی طرح کا یہ مخمصہ پڑا ہے کہ شاہ کے محل سے ملا ہوا چور کا جھوپڑا ہے۔ ہر نفس دونوں کو کھٹکا رہتا ہے، دغدغہ اٹکا رہتا ہے، کوئی بگڑتا ہے کوئی بنتا ہے، کوئی اینٹھ جاتا ہے کوئی تنتاہے۔ اگر منتظم اس کا غفلت پر مدار نہ رکھتا تو اس کارخانے میں سودائی بھی قدم زینہار نہ رکھتا۔ ہوشیار یہاں پھونک پھونک کے قدم رکھتے ہیں، جھلاتے ہیں ٹھوکر کا مزا جب چکھتے ہیں۔ اور وہ جو مست صنم پرست ہیں بخدا جس دم بے دغدغہ باگ اٹھاتے ہیں منزل مقصد پر پہنچ جاتے ہیں۔ جائے دم زدن نہیں خموشی درکار ہے۔ منصور تو لڑائی فتح کر گیا۔ اب تک اس دار ناپائدار میں ہزارہا دار ہے۔ عجز میں نباہ ہوتا ہے، غرور میں تباہ ہوتا ہے۔ سر رشتہ عقل کوتاہ ہے، یہ آیہ گواہ ہے فَبِــأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَــذِّبَانِ۔\n\n==نعت سرورِ کائنات ہے چھوٹا منہ بڑی بات ہے==\nوہ گروہ بہت خوش نصیب ہے جن کا حامی اور شفاعت کنندہ خدا کا حبیب ہے۔ خلقت میں اولین اور خاتم المرسلین، اس کی ذات اور صفات کی کنہ یا حقیقت کون پائے جس کا سایہ تک نظر نہ آئے۔ تقرب میں اُس درجہ پر چڑھ گیا کہ قاب قوسین سے مرتبہ بڑھ گیا۔ جس طرح پروردگار لاشریک ہے، اسی طور پر یہ پیمبر دوربینوں کے نزدیک ہے۔ نبی اور اس کی آل اور اصحاب پر شب و روز درود پڑھے، بکھیڑے میں نہ پڑے، آگے نہ بڑھے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%88%D9%81%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA/%D8%A8%D8%B3%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%86_%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%DB%8C%D9%85"} {"title": "شگوفہ محبت/تقریر دلپذیر اعجاز شاہ کی", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > شگوفہ محبت", "year": null, "text_ur": "تقریر دلپذیر اعجاز شاہ کی، حکایت بیان کرنی جہاں آرا شاہزادہ اور مہر جمال پری زاد کی، سمن رخ کا سنبھل جانا، خود رفتگی سے ہوش میں آنا\n\nاعجاز شاہ نے کہا: اے ملکہ! سرزمین ایران یعنی خراسان میں ایک شاہزادہ تھا، مہر پیکر ماہ آسا، شاہزادۂ جہاں آرا اس کا نام تھا۔ سرو قامت، لالہ رخسار، عنبریں مو، سنبلیں گیسو؛ اس کے حسن کا شہرہ روم سے تا شام تھا۔ جس دم تخت سلطنت پر جلوس فرماتا تھا، نزدیک و دور سے ہزار ہا بندۂ خدا اس صنم کے دیکھنے کو آتا تھا۔ جوان رعنا، چاند کا ٹکڑا، خلق مروت ہمت شجاعت میں لاثانی، اس زمانے میں وہ آفت کا بانی اپنا عدیل و نظیر نہ رکھتا تھا۔ دوسری تصویر مرقع دہر میں فلک پیٖر نہ رکھتا تھا۔ رعایا کا دل عدل و داد سے شاد تھا۔ ملک زر ریز بہت آباد تھا۔ لیکن طبیعت کو میل سیر و شکار، دیکھنا عجائبات روزگار کا ہر دم مدِ نظر رہتا تھا۔ آٹھوں پہر تیار سامان سفر رہتا تھا۔ ایک روز بعزم شکار و صید نخچیر وہ بہرام گورگیر ہمراہیوں سے جدا یکہ و تنہا جنگل میں نکل گیا۔ جس دم خسرو خاور تمنائے جمال میں اس ہزبر خصال کی نصف منزل فلک طے کر چکا، حرارت کی تیزی سے دوپہر کی جلو ریزی سے شہزادے کو بھوک پیاس کا غلبہ ہوا۔ ساتھ والوں کے چُھٹ جانے کا مطلق خیال نہ رہا، شکار کے نہ پانے کا ملال نہ رہا۔ جس طرف سے پانی کا گمان ہوتا، ادھر باگ اٹھاتا۔ جہاں درخت سایہ دار گنجان کا شبہ پڑتا، سیدھا چلا جاتا۔ اسی دوڑ دھوپ میں صحرائے پربہار دشتِ لالہ زار میں اس کا گذار ہوا۔ ہر سو متحیر نگران، بے دانہ و آب خستہ خراب پریشان تو تھا۔ باغ کا قطعہ دور سے جو نظر آیا۔ اسپ صبا خصال رشک غزال کو اس طرف بڑھایا۔ قریب تر جب آیا تو قدرت صانع حقیقی کا جلوہ تقدیر نے دکھایا یعنی دیوار میں ایک اینٹ نقرئی دوسری طلائی ہے۔ جوڑ نہیں معلوم ہوتا اس حُسن سے ملائی ہے۔ آفتاب کے عکس سے برعکس غبار ہوتا ہے، اس قدر صفائی ہے۔ چاروں کونوں پر یاقوت کے بنگلے خورشید سے زیادہ چمکتے ہیں، الماس کے کلس نظر کو خیرہ کرتے ہیں، اس طرح دمکتے ہیں۔ اتنے بڑے آسمان پر ایک آفتاب اس باغ میں چار ہیں۔ عقل باریک بیں گم ہوتی ہے جیسے نقش و نگار ہیں۔ دروازہ رشک باب فردوس، عرض طولِ کئی کوس، یاقوت کی چوکھٹ، بازو زمرد کے پٹ، بلند اس قدر کہ ہاتھی مع عماری نکل جائے۔ شاہ شہریار کی سواری نکل جائے۔ مثل آغوش پر تمنا وا دروازے کا پٹ کُھلا ہوا۔ یہ تو مسافت دراز طے کر کے آیا تھا، حرارت سے گل رخسار مرجھایا تھا۔ وہاں حاجب نہ دربان پایا، سناٹے کا عالم سنسان پایا۔ بے دغدغہ اندر در آیا۔ بمجرد نگاہ حیرت نے نقشۂ تصویر بنایا۔ دیوار کے تلے نہر جاری تھی۔ اس کے متصل انگور کی تاک تھی، ہر شجر کی اسی پر تاک تھی۔ جواہر نگار ستون کھپانچ کے بدلے سنہری روپہلی تیلیاں، خاتم بندی کا کام، خوشوں پر زربفت کی تھیلیاں؛ مستانہ وار ہر ایک جھومتا تھا، ولولے میں آ کر خوشی کو خوشہ چومتا تھا۔ چمن کی روش پٹری خوش قطع، ڈالی ہر درخت کی ہموار کم و بیش چھانٹ ڈالی تھی، نئی روش نکالی تھی۔ نہروں کے گرد پٹریاں بلور کی قریب ہری ہری گھانس زمرد کو شرماتی تھی۔ نہروں میں فوارے چڑھے، بلبل کی روح بلبلا کے درود پڑھے۔ پانی کی شفافی پر جان لہراتی تھی۔ جو گل تھا متصل اس کے بلبلوں کا غنچہ دیکھا۔ نغمہ سنجی زمزمہ سرائی کی صدا تھی۔ خوشبو سے دشت مہکتا تھا۔ مسافر وہم و خیال کا ہر قدم پاؤں بہکتا تھا۔ عنبر فشاں نسیم و صبا تھی۔ مہتمم فضا تھی۔ ہر تختۂ چمن غیرت دہِ صد گلشن، جو پھول پھل تھا اس پر ہزار طرح کا جوبن، سب فصلوں کا میوہ تیار تھا۔ بہار نثار خزان کو سخت خار تھا ؂\n\nصد ہزاراں گُلی شگفتہ درد\nسبزہ بیدار آب خفتہ درد\nہر گُلی گونہ گونہ از رنگی\nبوی ہر گل رسیدہ فرسنگی\n\nرنگتروں کا تختہ جائے غور تھا، کچھ عالم ہی اور تھا۔ سبز سبز پتے سرخ سرخ پھل، پائے ہوس لنگ دستِ تمنا شل، جان بیکل ہوتی تھی۔ بہی بے ضرر، سیب معطر، ناشپاتی کا جوبن جدا، ذائقہ زبان چاٹتا۔ انار دانہ دار کہیں بے دانہ نادر روزگار یادگار زمانہ۔ امرود حلوائے بے دود، شریفے سے شریف تر میوہ نظر نہ آیا۔ میٹھا بہت شیریں چکوترا بصد تزئین، شربتی فالسے نے عجب چاشنی کا مزا پایا تھا۔ چکیّا آڑو کی قطار جدا، ایک سمت شفتالو کا پرا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو کبھی خواب میں نہ دیکھا تھا، وہ فلک نے بیداری میں دکھایا۔ اگر قوت نامیہ اُس زمین کی تحریر کروں، عجب نہیں جو چوب خشک خامہ یعنی نے قلم بے قلم برگ نکالے، ثمر آبدار لائے، صفحہ قرطاس تختہ گلشن ہو۔ خط شکستہ میں نستعلیقوں کے روبرو گلزار کا جوبن ہو۔ بین السطور سے دور سے نہر کی لہر آئے، صریرِ خامہ صفیر بلبل ہو۔ مسطر کا تار دام کا کام کرے۔ عندلیب کی عقل کا چراغ گل ہو۔ نکتہ چین بدبیں کمبخت کو خار ہو۔ تبِ رشک سے تبخالے ہوں، زبان پھل کر بیکار ہو۔ روشنائی سے حاسد اپنا منہ سیب ذقن تک کالا کرے۔ دانت کھٹے ہو جائیں، بار دگر کسی کا عیب نہ نکالا کرے۔ غرض کہ چمن کے تختوں میں نہال پر ثمر، بار دار شاخ سے شاخ مشتاقوں کی طرح پیچاں دست و گریباں، چینی کی ناندیں یا بلور کی نور کی طلائی کار روشوں پر برابر برابر ان میں درخت گلدار بیلا، موتیا، نسرین و نسترن، جوہی، شب بو، چنبیلی، نرگس، یاسمن۔ کسی جا لالے کے پیالے یاقوت رنگ افیون سے لبریز، کسی طرف نیبو نارنگی کھٹے کی میٹھی میٹھی بو باس تیز، کہیں سنبل بازلف پریشان ایک جاسوس سو زبان باغبان قدرت کا مدح خواں، ہر تختے میں باد بہاری مستانہ وار لڑکھڑاتی، پھولوں کے پھولنے پر پتوں کو کھڑ کھڑاتی ؂\n\nنہریں تھیں لطیف مثل کوثر\nلہریں تھیں تمام سلک گوہر\nپانی تھا اثر میں آب حیواں\nنظارہ تھا جس کا مایۂ جاں\n\nفواروں میں ساون بھادوں کی جھڑی کا مزا، بط و قاز قراقری کے خرام میں کبک دری کا مزا۔ کویل کوکتی پپیہے سے پی پی کی صدا، طاؤسان رقاص کا جا بجا جھمکڑا، برسات کی آمد، گرمی کی فصل کا اختتام، جابجا چشمہائے سرد و شیریں لہراتے، زمین پر فرش زمرد فام ؂\n\nہر نخل کی شان جیسے طوبا\n\nسبزے سے تھا دشت چرخ خضرا\n\nسروِ شمشاد پر قمری اور فاختہ کی فریاد تھی، بلبل کی زبان پر گل کی شکایت حد سے زیاد تھی ؂\n\nسنبل میں تھا طرز ذو ذوانب\nشبنم میں تھا جلوۂ کواکب\nمانند شفق وہ پھول رنگین\nتھا رشک نجوم لطف نسرین\n\nکنویں پختہ جن کی چاہ میں باؤلی دیوانی ہو جائے۔ پٹریاں ایسی تحفہ کہ انگور کی تاک جو ان کو جھانک لے تو شرمائے۔ رنڈیاں جوان جوان، باغبانیوں کی سامان، زربفت کے لہنگے، دھوتی کے انداز پر کُھسے، شبنم کے دوپٹے ان پری پیکروں کے جن میں لچکا ٹکا کرن لگی، اس کی گاتی سورج کے کرن سے زیادہ جگمگاتی، بُنت گوکھرو کی، انگیا کھچی، طرح دار کچوں کا اُبھار، جواہر نگار ہاتھوں میں کڑے سونے کی چھڑے، پاؤں میں پڑے چاندی کے بیلچے، کندھوں پر کُھرپیاں، طلائی ہاتھوں میں دلفریبی کی گھاتوں میں نسیم صحن چمن سے تو بے تکلف عطر سُہاگ کی لپٹ آتی تھی۔ لیکن اُس گلزار کی خاک بھی عود و عنبر کی بو باس کو شرماتی تھی۔\n\n شاہزادہ دل میں سوچا کہ یہ کسی سلطان عالیشان کا باغ ہے۔ نشست کا مکان ہے۔ لیکن رنڈیوں کے بند و بست سے ثابت ہوتا ہے کہ زنانہ سامان ہے۔ پہلے تو سُچکا پھر تو جرات ذاتی نے کہا چلو دیکھو تو فلک کیا دکھاتا ہے، ایسا باغ بشر کے دیکھنے میں روز کب آتا ہے۔ یہ سوچ کر بے باکانہ باغ میں باخاطر فراغ سیر کرنے لگا۔ دفعۃً لب نہر ایک بنگلہ دیکھا کہ آنکھیں جھپک گئیں۔ جل جلالہ صانع نادرنگار کی صنعت کا جلوہ ہر بار پیش نظر جَگر جَگر کرتا تھا۔ رعب ایسا تھا، ہر قدم پاؤں اُس کا لڑکھڑاتا تھا بڑھنے کا قصد اگر کرتا تھا۔ آخر کار یہ بھی تو شاہزادہ عالی تبار تھا، گو دشت صعوبت میں غریب دیار تھا؛ قریب پہنچا۔ اس وقت فلک شعبدہ پرداز نے طلسم حیرت افزا کا نقشہ دکھایا۔ جابجا پری زادوں کا غنچہ نظر آیا۔ کچھ تو سکوت کے عالم میں نقش دیوار پائیں، تھوڑی سرگرم کاروبار پائیں۔ ان کو کام خدمت میں مصروف پا کے دل سے کہا: مقام غور ہے یہ سب کے سب خدمت گزار فرمانبردار ہیں، مالک ان کا کوکئی اور ہے۔ اور یقین کامل ہوا کہ یہ عقل کے خلاف ساز و سامان ہے۔ انسان کا حوصلہ یہ کہاں، خطۂ پرستان قوم بنی جان ہے۔ ان کو یہ خیال تھا، وہاں پری زادوں کا عجب حال تھا۔ جو جو وہاں موجود تھیں، کام کاج یک لخت بھول گئیں، شاہزادہ کا جمال بے مثال جو نظر پڑا سکتہ سا ہوگیا۔ ہوش حواس پاس نہ رہا، کھو گیا۔ اچھی صورت کا ہونا عجب چیز ہوتا ہے۔ آقا تو آقا ہے، بندہ کے نزدیک غلام بھی عزیز ہوتا ہے بلکہ غیر جنس کو تمنا ہو جاتی ہے۔ صاحب نصیبوں کے سوا کس کو یہ دولت ہاتھ آتی ہے۔ ان کو تو جلوۂ حسن نے تصویر کا پتلا بنایا۔ کسی نے کچھ نہ پوچھا کہ تم کون ہو کہاں سے آئے ہو۔ شاہزادہ نے ہاتھ بڑھا کر در سے پردہ اٹھایا۔ دفعۃً غفلت کے پردے آنکھوں پر پڑ گئے۔ قدم اٹھانا محال ہوا۔ عجیب حال ہوا۔ زمین میں پاؤں گڑ گئے۔ ایک آفت آسمانی، بلائے ناگہانی کو بصد انداز مسند ناز پر جلوہ گر پایا، وہ جو چند سیم بر اس کے ادھر ادھر جلوہ گر تھیں سب نے کون ہو کہاں چلے آئے، اس کا غل مچایا۔ شہزادہ تو حیرت کا مبتلا وحشی سا تازہ پھنسا ہر طرف دیکھ رہا تھا کہ شاہزادی نے اس کی صورت پر نگاہ کی۔ ایک نے کلیجہ پکڑ لیا، دوسرے نے بے ساختہ آہ کی۔ محبت کے معاملے تقریر اور تحریر سے باہر ہیں۔ دلفگار دو چار اس کیفیت سے ماہر ہیں۔ نہ مشاطہ کی حاجت ہوتی ہے، نہ قاصد کی لجاجت ہوتی ہے۔ نہ دخل نامہ و پیام ہوتا ہے، خالی ایک نظر دونوں کو لگ جاتی ہے۔ گردش چشم میں کام تمام ہوتا ہے۔ کبھی خواب میں دیکھ کے خیال ہوتا ہے۔ بے وصل وصال کا ڈول پڑتا ہے۔ دو دن کا جینا محال ہوتا ہے۔ کبھی تصویر دیکھ کے بت ہو جاتا ہے۔ عجب رنگ ہوتا ہے، نصیحت سے دل تنگ ہوتا ہے۔ سودے کے زور میں نشتر کوئی کھائے، لہو اور کے ہاتھ سے نکل آئے۔ عیاذاً باللہ ایک کو محمود ہوا تو لاکھ کا ضرر بے سود ہوا۔ جب تک داغ دل و جگر آلے رہتے ہیں، جینے کے لالے رہتے ہیں۔ یہاں تک خام ہے یعنی کچاہے بالکل جھوٹا ہے گو سچاہے۔ جس دم زخم ہو کہ ناسور ہوا، وہ بہادر سور ہوا۔ کچھ اور ہی لذت اس کی زبان پر آئی اور یہ کیفیت دکھائی کہ عین جنون میں صاحب حواس و ہوش ہوا۔ سوسن کی صورت ہزار زبان بہم پہنچی الاخموش ہوا، اور جو ولولے میں بیٹھے بیٹھے کچھ بول اٹھا، بند منہ کو کھول اٹھا تو محکمے میں گنہگار ہوا۔ محتاج ہوا یا سردار مگر برسرِدار ہوا۔ بال کی کھال اس میں کھنچتی ہے، جان کسی عنوان نہیں بچتی ہے۔ بڑے بڑے حوصلے والوں کی صریح بائی پچتی ہے۔\n\nالقصہ شاہزادہ نے لڑکھڑا کر قدم سنبھالا، غشی اور بے ہوشی کو بڑی ہشیاری سے ٹالا۔ ادھر وہ بھی سیدھی نہ رہ سکی، گردن خم ہو گئی۔ اجنبی کا بہانہ کر کے برہم ہو گئی۔ پری زاد نے دل و جگر کو تھام زبان سے کام لیا، کہا: بسم اللہ تشریف لائیے۔ خانہ خانۂ شماست، عنایت فرمائیے۔ شاہزادہ بے تکلف مسند پر جا کے تکیہ لگا کے اس گلرو کا ہم پہلو ہوا۔ بیٹھتے ہی ایک ساعت تک دونوں کو سکتے کا عالم رہا۔ نہ پری زاد صحیح نہ شاہزادہ سالم رہا۔ صاحب خانہ نے دیکھا، مہمان بولتا نہیں، لب کھولتا نہیں، مجبور ہو کے سلسلۂ کلام اسی سیم اندام نے شروع کیاکہ اپنے شہر کا نام، بود و باش کا مقام بتائیے، کچھ حسب و نسب سے آگاہ فرمائیے۔ شہزادہ نے جواب دیا: سرزمین ایران بیت السلطنت خراسان، سیر و شکار کی خواہش میں ہمراہیوں سے جدا ہو کے غریب دیار ہوا۔ ایسا شیر افگن غزال رعنا کا شکار ہوا۔ یہ سن کے اس نے جلیسوں سے فرمایا کہ یہ آوارۂ دیار کلبۂ تیرہ میں جلوہ گر ہے، مسافر نوازی مدنظر ہے۔ چند پری پیکر اٹھ کر آداب بجا لائیں، طرفۃ العین میں کشتیاں شراب ناب کی، قابیں کباب کی روبرو آئیں۔ اس کی وزیر زادی تھی سحر ساز نام، بصد ناز و انداز وہ گلفام اٹھی، ساقی بنی، کنٹر ہاتھ میں لیا، گیلاس کو بہت آب و تاب سے شراب ناب سے لبریز کر کے پری زاد سے کہنے لگی کہ یہ سیاح بے نام نشان خانہ بے تکلف میں مہمان ہے۔ فرمانروائی کو تہ کیجیے، یہ ساغر لیجیے، اپنے ہاتھ سے پلائیے۔ اور یہ شعر پڑھا ؂\n\nلبریز ہو چکا ہے یہ ساغر شراب کا\n\nدورہ ہو جلد ڈر ہے مجھے انقلاب کا\n\nپری زاد بولی ہم سمجھ گئے۔ یہ مسافر مد نظر ہوا۔ تمھارا میلان خاطر ادھر ہوا۔ بے فائدہ شرماتی ہو، تمھیں کیوں نہیں پلاتی ہو۔ وزیر زادی نے عرض کی: حضور اس وقت بدحواس ہیں۔ آپ میں کہاں ہیں اور ہم تو لڑکپن سے مزاج دان ہیں۔ تقریر میں طول ہوگا، اس سے کیا حصول ہوگا۔ فلک جفا سرشت تفرقہ پرداز ہے، مشہور شعبدہ باز ہے ؏\n\nکسی کا اسے وصل بھاتا نہیں\n\n؂\n\nدم غنیمت صحبتِ احباب ہے\n\nآج جو ہے کل خیال و خواب ہے\n\nپری زاد نے کہا: خیر تیری خاطر ہے، میاں مسافر! یہ جام حاضر ہے۔ بے کھٹکے نوش فرمائیے، وسوسے کا خیال نہ لائیے۔ باغ کو کفش خانہ سمجھیے، یہ صحبت اتفاق زمانہ سمجھیے۔ شہزادہ نے بصد تمنا اس کے ہاتھ سے جام لیا، پی کے پھر اپنے ہاتھ سے بھرا اور پری زاد کو دیا۔ علی التواتر پے در پے جام مے چلنے لگے۔ ہوش حواس کے پر جلنے لگے۔ جس وقت آنکھوں میں سرور ہوا، چشمکیں شروع ہوئیں، نشہ کافور ہوا۔ ہاتھا پائی کی نوبت آئی۔طرفین سے ولولوں کا جوش ہوا۔ چھڑ چھاڑ کر کے دفعۃً ہم آغوش ہوا ؂\n\nچو خانہ خالی و معشوق مست ناز بود\n\nتوان گریست بر آں کس کہ پاکباز بود\n\nہم صحبتیں شرمائیں، یہ کلمہ زبان پر لائیں کہ تم نے دیکھا یہ مردوا کتنا جلد باز ہے۔ کسی نے کہا شباب کا آغاز ہے، یہ سِن بُرا ہوتا ہے۔ مرد و رنڈی میں اور کیا ہوتا ہے، جوانی دیوانی ہوتی ہے، جہلو تو کیوں کھسیانی ہوتی ہے۔ کوئی بولی یہ تو مزے اڑائے گا، اگر حال کُھلا تو چونڈا کس کا مونڈا جائے گا۔ یہ تو اُوہی اُوہی کہہ کے اٹھ بھاگیں، اپنے اپنے موقع پر جا لاگیں۔ جب کوئی پاس نہ رہا، دغدغہ مٹ گیا، ہراس نہ رہا۔ بوس و کنار درکنار مساس ہونے لگا۔ مزے میں آئے، نشہ نے پینگ بڑھائے۔ گنج مقفل بے پاسبان نظر آیا۔ مار خفتہ نے سر اٹھایا۔ چاہا تھا کہ ازار بند کھولے، دُرج توڑے۔ پری زاد نے سنبھل کر ہاتھ جوڑے، کہا: سراسر ہوا و ہوس کا پابند انسان ہے، جلد بازی کار شیطان ہے۔ اس میں تیرا ضرر ہے، جان کا خوف و خطر ہے۔ تو خلقتِ بشر فردِ انسان، میں پری قوم بنی جان، سن تمیز سے میں نے مرد کا انکار کیا تھا۔ جنگل میں باغ بنا کے رہنا اختیار کیا تھا۔ اس پر فلک ستمگار نے یہ گل کھلایا۔ تجھ کو شکار کے حیلہ میں یہاں پہنچایا۔ مجھ کو ہم صحبتوں کی آنکھ میں ذلیل و خوار کیا، تیرے دام محبت میں گرفتار کیا۔ ننگ و ناموس کا مطلق پاس نہ رہا۔ قوم کیسی، ماں باپ کا خوف و ہراس نہ رہا۔ دو گھڑی میں یہ نوبت بہم پہنچی کہ بے تکلف ہو گئے۔ خواہش بیجا کو کام نہ فرما، اسی پر اکتفا کر جا، ورنہ یہ صحبت خواب و خیال ہو جائے گی۔ درِ باغ تک آنے کی بار نہ آئے گی۔ اگر بات بڑھ گئی تو خانۂ سلطنت لاوارث بے چراغ ہو جائے گا۔ تیرے ماں باپ کے دل پر تازہ داغ ہو جائے گا۔ لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ اس قامت رعنا کا کسی اور ہیئت میں انقلاب ہوگا، دربدر شکل جانور خراب ہوگا۔ میں پنبہ دہان سحر زبان ہوں، موافق کی دوست منافق کی دشمن جاں ہوں۔ اتنی گرم جوشی کو بہت مغتنم جان لے، اپنی جوانی پر رحم کر میری بات مان لے۔ کچھ دن یہاں قیام کر، موقوف خیال خام کر۔ پری زاد کی طرف سے جب یہ روکھا جواب ہوا، شہزادہ سُچک کر بر سر حساب ہو۔ ایک دم چُپ ہو رہا۔ مگر جسم سے جسم ملا تھا۔ پھر وہی ہنگامہ شروع ہوا۔ سچ ہے شباب میں بشر کو کچھ سوجھتا نہیں۔ ہر چند سمجھاؤ، پہیلی بوجھتا نہیں۔ پری زاد نے جو غور کیا کہ اس سمجھانے پر پھر اس نے وہی طور کیا، جھلا کے کچھ بُڑبڑائی، کہا: او خیرہ سر بن جا کبوتر۔ اس بات کا منہ سے باہر آنا، فوراً وہ جوان زمین پر تڑپ کے بے قرار ہوا۔ فلک نے یہ گل کھلایا، کبوتر تو بن گیا مگر نگار ہوا۔ برسر عداوت چرخ شعبدہ باز ہوا۔ مجبور خوف زدہ وہاں سے سر گرم پرواز ہوا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%88%D9%81%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA/%D8%AA%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%D9%84%D9%BE%D8%B0%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "شگوفہ محبت/جواب کلبہ شکن", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > شگوفہ محبت", "year": null, "text_ur": "جواب کلبہ شکن حاکم قاف کا سلطان فیروز کوہ کو، پریشان سمجھنا اس کے انبوہ کو، کلمات نصیحت مشفقانہ اس نادان کو سمجھانا، اپنی شوکت و صولت سے دھمکانا\n\nمستوجب حمد، سزاوار ثنا حاکم جز و کل ہے جس کے روبرو جن و انس کے روشن دلوں کا چراغِ عقل گل ہے۔ ابراہیم علیہ السلام پر کیسی آتش سوزاں جس کا شعلہ زمین سے تا آسمان جاتا تھا، اشارے میں گلزار کی۔ آتش افروز کی سلطنت فی النار کی۔ جب اپنے عبد کو طاقت کی قدرت معبود دکھاتا ہے تو اتنا ضعیف جثہ یعنی پشہ مغز نمرود کھاتا ہے۔ موسیؑ نے فرعون سے سرکش کو کیسا خوار و ذلیل کیا، وہ لشکر جرار بے گور و کفن غرق رود نیل کیا۔ ابابیل نے مع فیل اصحاب فیل کو مارا، کنکری نے ہاتھی سے ڈیل کو مارا۔ انس و جان کے نزدیک اشرف المخلوق فرقۂ انسان ہے، اس پر خیانت کا وہم بدگمانی حماقت کا نشان ہے۔ اگر اس گروہ حق پژوہ پر عصمت کا یقین امانت کا صادق گمان نہ ہوتا تو فرمانروائے جن و انس، وحش و طیر سلیمان نہ ہوتا۔ بشر میں کیسا کیسا نبی رسالت پناہ ہوا۔ اسی قوم سے کیا کیا اولو العزم بادشاہ ہوا۔ صاحب تاج و دیہیم ہوئے، فرمانروائے ہفت اقلیم ہوئے۔ جنوں کی سلطنت کو کس نے بگاڑا ہے، دیوؤں کو سر میدان کس نے پچھاڑا ہے۔ جس نے ان لوگوں سے سرتابی کی، اپنی خانہ خرابی کی۔ تو اپنی جمعیت پریشان پر مغرور ہوا ہے، سر پُر باد میں فتور ہوا ہے۔ یہ جاہ و جلال، ملک اور مال تیرے قبضے سے آج نہیں کل نکل جائے گا۔ سرِ میدان بضرب گرز گراں تکلے کی طرح بل نکل جائے گا۔ نمک خوارانِ جرار سپہ سالار خنجر گزار بزم طرب میں بیٹھے بیٹھے اب گھبرا اٹھے تھے، ہر دم جو یائے جنگ یہ بحر شجاعت کے نہنگ تھے؛ خیر تیری قضا کشاں کشاں لاتی ہے، ان شاء اللہ دلخواہ ان کی مراد بر آتی ہے۔ اور جس کی جانب تمھارا فاسد گمان ہے، معرکۂ نبرد میں دیکھنا وہ مردِ میدان ہے۔ دیکھیے عرصۂ جنگاہ میں عروس فتح و فیروزی کس کے کنار میں آتی ہے اور جنگل کے کنارے کس کی لاش پاش پاش بے گور و کفن ٹھوکریں کھاتی ہے۔ عرصۂ دراز سے وہ پیل تن صف شکن آمادۂ مصاف ہے، جن کا شہرہ قاف سے تا قاف ہے۔ جس دم سرِ میدان بر سرِ مقابلہ ان کی بار آتی ہے، قضا گھبراتی ہے۔ گو یہ نامدار مشتاق کارزار بہت ناز و نعم سے پلے ہیں، مگر رزم کو بزم سمجھتے ہیں۔ ایسے من چلے ہیں جس وقت بعزم گیر و دار اور دشمن کے شکار کو یہ جرات شعار راہوار اٹھاتے ہیں، حواس خمسہ عدو کے درست نہیں رہتے۔ ٹاپوں کی ضرب سے میدان حرب میں زمین کے طبقے چھ، آسمان آٹھ نظر آتے ہیں۔ ان کے روبرو مریخ کے ہاتھ سے خنجر گرتا ہے، بلکہ سوار عرصۂ فلک تھراتا ہے۔ حریف کو بجز راہ گریز اور کچھ نہیں نظر آتا ہے۔ تلوار وہ باندھتے ہیں جس کا نام برق غضب ہے، غازیان نصرت شعار ان کا لقب ہے۔ نیزہ اژدہا پیکر ان کا نیشتر، خنجر دو زبان الامان بے لاف ہے کہ گرزِ گراں کوہ شگاف ہے۔ کمند پیچدار ہے، جانستان ہر تار ہے۔ اب بھی جو عذر گستاخی کرو تو شاہزادۂ رحیم قصور معاف کرے گا؛ نہیں تو بات بگڑ جائے گی، فرار کے سوا اقرار کی تاب نہ آئے گی۔ جب وہ صف انداز عزم مصاف کرے گا، ہم جنس سمجھ کے سمجھاتے ہیں کہ قوم کی ذلت نہ ہو، آخرش تم بھی پری زاد ہو، حمیت مقتضی نہیں کہ تم برباد ہو، ورنہ سلطنت ہاتھ سے کھوؤ گے، سر پر ہاتھ دھر کے روؤ گے۔ بھلا کسی نے سنا ہے کہ بُری بات کا نیک انجام ہوا۔ والسلام\n\nنامہ تمام ہوا۔ جب منشی نے نامہ بند کیا، ایک جرّار آزمودہ کار کو طلب کیا۔ فرمایا کہ نامہ بری کی رسم بجا لانا، زمرد کوہ میں پہنچانا۔ جب وہ رخصت ہوا، دبیر چست تحریر کو یاد فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ حسب لیاقت شایان قدر و منزلت فرمان شقہ پروانے حکم نامے بقید تاریخ لکھے جائیں تا دیکھ کے در دولت پر سب مسلح مکمل آئیں۔ فراش خانے کے داروغہ سے فرمایا: شہر سے پانچ کوس جو وہ مرغزار سراپا بہار ہے، چشمہ پشت پر چھوڑ کے خیام ذی احتشام نصب ہوں۔ میدان جو مد نظر ہو، اس میں رزمگاہ درست کرو۔ اس کام پر مرد جنگ دیدہ تجربہ رسیدہ مامور ہو، چست چالاک ضرور ہو۔ رن گدھ بنے مورچے کھدیں، دمدمے تیار ہوں، سطحۂ صحرا شفاف رہے، نہ خس کا نام ہو نہ خار ہوں۔\n\nاسی دم یک قلم خیمے لد گئے، سامان روانہ ہوا تا شام دشت نبرد میں تھانہ ہوا۔ بیلداروں کو حکم ملا، پھاوڑا کدال سب نے سنبھال بلندی کو پست کر کے نشیب فراز کو ہموار کیا، کنکر پتھر چُن کر خس و خار کا جدا انبار کیا۔ کہیں نقب کا ڈھنگ بنایا، کسی مورچے کا کوچہ کشاد کسی موقع پر تنگ بنایا، جو زمین سُرنگ کوتاکی تھی، متصل اس کے توپ کی جھانکی تھی۔ کہیں بارود بچھا کے دمدمے کا نشان کیا، جنگی سب سامان کیا۔ تمام جنگل میں بلندی پستی نہ رہی، یکساں ہوگیا۔ نہ جُھندی دیکھی نہ جھاڑی نظر آئی۔ جدھر نگاہ گئی، میدان جنگی نظر پڑا۔ زمین صاف جھاڑی نظر آئی۔ اس کے بعد باون گنج ننانوے منڈی کے جھنڈے گڑے، صدر کا چبوترہ بنا ، چوپڑ کا بازار سجا، دکانوں کے نشان پڑے، خیامِ شاہی کے روبرو اردوئے معلی کا طور ہوا، نقشہ ہی کچھ اور ہوا۔ دل بادل خیمہ استاد ہوا، کندلی سرائچے بیچوبے قرینے سے سجے۔ سائر کی قنات تنی، بارگاہ بنی، مسل در مسل پالیں چھولداریاں نمگیرے کھڑے ہوئے۔ سرداروں کے واسطے تنبو بڑے بڑے سواروں کی لین میں اک چوبے چوتر کے کھینچ گئے، لشکر کی آمد شروع ہوئی۔ بازاری بیوپاری کنجڑے قصائی نان بائی حلوائی کو ڈنڈئی لے گئے۔ ہر بازار کے کوتوال اہلکار نے ان کی جگہ معین جو تھی وہاں اتارا۔ سوار پیدل کی مسل نقیبوں نے آراستہ کی۔\n\nپہر نہ بجا تھا کہ فیلی شتری نقاروں کی صدا پیدا ہوئی۔ ظل اللہ مع شاہزادۂ عالیجاہ خیمے میں رونق افزا ہوئے۔ وزیر امیر اراکین سلطنت جابجا اترے۔ سلامی کی توپ اردلی کے توپخانہ سے چلنے لگی۔ آسمان کانپا، زمین دہلنے لگی۔ تین پہر بجتے بجتے بہیر بنگاہ فوج کو تھکے ماندے خیمہ و خر گاہ سب کچھ لشکر میں داخل ہوا، لشکر میں شہر کی کیفیت کا لطف حاصل ہوا۔ دکانیں کُھل گئیں، خرید و فروخت ہونے لگی۔ بازار میں کٹورا کھنکا، خلقت ہاتھ مُنہ دھونے لگی، سرِ شام دو رویہ چوک میں گیلاس روشن ہوئے، دکانوں میں چراغ جلنے لگے، تماش بین پھرنے چلنے لگے۔ ایک طرف چکلہ بہت چوڑا چکلہ ارباب نشاط کا داروغہ جدا دو برجی رتھیں، بے سائبان کی مجھولیاں مختصر عجیب آن بان کی ہر نائکہ نے اپنے چھپرے تانے، رنڈیاں ناچنے گانے لگیں۔ بے فکروں کے ہجوم ہوئے۔ زپٹ لگّاتا خرچیاں چکانے لگیں، کسی نے لگے بندھے کو بلایا، کسی نے تازہ پھنسایا۔ تمام لشکر میں چہچہے مچے تھے، مسل در مسل لوگ خوشی کر رہے تھے۔ چار سپہ سالار جرار ہزار ہزار سوار ہمراہ لشکر کے گرد از شام تا پگاہ طلایہ کو مقرر ہوئے۔ کوتوال گشت کو اٹھا، نرسنگا پھنکا۔ نظر باز پھرنے لگے، بدمعاش گھرنے لگے۔ پاسبان چوکیدار “بیدار باش خبردار باش” پکارتے تھے۔ پلٹن کے جوان حکمِ حیدر للکارتے تھے۔\n\nالقصہ تمام شب لشکر میں توپخانہ کے جوان اور مہتمم سپاہ انجم بروئے آسمان مہتاب روشن رکھتے تھے۔ جب تک شاہ خاور اور شہزادہ پری پیکر برآمد نہ ہوتا تھا، دونوں میں سے ایک بھی نہ سوتا تھا اور در دولت پر اکاسی دیا بھولے بچھڑے کا پتا تھا۔ جو کوئی اپنی مسل یا لین گنج منڈی بازار بھول جاتا، اس کی روشنی میں آ کے پتا لگاتا تھا۔\n\nاب دو کلمے نامہ بر کے سنو۔ وہ نوشتۂ تقدیر بے تاخیر شاہ زمرد کو دیا، منشی کو طلب کیا۔ مضمون دلخراش سن کے کلیجہ پاش پاش ہوا۔ جھنجھلا کے کہا: اس کا جواب کلکِ دبیر سے نہیں، سرِ میدان شمشیر کی زبان سے دوں گا۔ یا لب سوفار یا پیکان آبدار گوش گزار کرے گا۔ بے جواب نامہ دار رخصت ہوا۔ افسران سپاہ یلان رزم خواہ کو فوراً کوچ کا حکم دیا۔ دیوانہ وار غصہ میں مع لشکر یلغار چلا۔ یہاں تو رات عیش و نشاط میں بسر ہوئی۔ مؤذن صبح چونکا، صدائے اللہ اکبر آئی، سحر ہوئی۔ سلطان نامدار شاہزادۂ والا تبار بعد ادائے فریضۂ سحر بعزم دربار تخت رواں پر سوار ہوا۔ اہالیان سرکار، ملازمان جان نثار، وزیر امیر صغیر کبیر درِ دولت پر ہمہ تن چشم درجہ بدرجہ اپنے اپنے قرینے سے کھڑے تھے، دیدے دروازے سے لڑے تھے۔ یکایک لال پردہ چرخی پر کھچا، بسم اللہ الرحمن الرحیم کا غل مچا۔ مراتب بمراتب سب کا مجرا ہوا۔ شاہان باج گزار، وزیر امیر نامدار، سپہ سالار قطار قطار پہلوان تہمتن یلان صف شکن حلقہ باندھے آہستہ آہستہ قدم قدم دار الامارۃ میں آئے۔ سلطان والا شان تخت پر جلوہ افروز ہوا۔ جن جن کا مرتبہ بیٹھنے کا تھا وہ بیٹھے، باقی دست ادب بستہ جابجا کھڑے ہوئے۔ دست راست تخت کے برابر دوسرا تخت مختصر جواہر نگار بچھا تھا، اس پر شہزادہ بلند اختر بسانِ مہر منور جلوہ گر ہوا۔ زرد گاؤ سر طلائی نقرئی برمین خود مطلا خورشید سے زیادہ چمکتا، سر تا سر الماس زمرد جڑا، پرِ ہما کی کلغی سر پر سایہ فگن شباب کا جوبن، خنجر جانستاں شمشیر اجل سے برّاں۔ کمر میں مہر و ماہ کے پھول، سپر میں فولادی داستانے ہاتھوں میں چڑھے نادر دست کے گڑھے، تیغ ہندی حمائل تیوروں پر بل، تیکھی چتون نمونۂ قدرت عز و جل۔ چشم غزال سرمہ گیں لال لال، شیر کا رعب و جلال۔ خندہ پیشانی شجاعت کے آثار سخاوت کی نشانی۔ جدھر آنکھ ملاتا تھا، شجاعوں کا زہرہ آب ہوا جاتا تھا۔ اکیس بادشاہ باون امرا کرسی نشین ستودہ آئین، پانچ سَے تہمتن، بارہ سَے گرد صف شکن مرصع کار دنگلوں پر برابر برابر کل اراکان سلطنت حاضر تھے کہ پہلے لشکر کے کوتوال کا پرچہ گذرا، وزیر اعظم پڑھنےلگا، ہنوز ناتمام تھا۔ دوپیک صبا دم صرصر سے تیز قدم غبار آلودہ، ماتھے سے پسینہ ٹپکتا نمود ہوئے، چوبدار پکارے “سلطان خوش خو نگاہ روبرو”۔ شہر یار خجستہ اطوار نے ادھر آنکھ اٹھائی، ہرکاروں نے پایۂ تخت کا بوسہ لے کر تسلیم کو گردن جھکائی۔ پھر سر اٹھا دستِ دعا بلند کر کے کہا ؂\n\nالٰہی تا جہان باشد تو باشی\n\nجہان را تا نشاں باشد تو باشی\n\nرہیں اس در پہ ہر دم مثل دربان\n\nشہِ روم و عجم اور چین کا خاقان\n\nعمر و دولت شاہنشاہ خضر سے اور خزانہ خسرو سے افزوں ہو، دشمن تیرہ روزگار زار و زبوں ہو۔ قریب میدان کارزار لشکر شکست اثر حریف آ پہنچا، میدان نبرد کی ہیبت سے ہر شخص کا چہرہ زرد ہے، رعب چھایا ہے، پہلوانوں کا دم گھبرایا ہے۔ لب پر آہ سرد ہے۔ آمادۂ فرار با رخ پُر گرد ہیں، بدحواس زن و مرد ہیں، نو لاکھ از روئے شمار ہیں۔ چار لاکھ پیادے پانچ لاکھ سوار ہیں۔ شوکت افواج قاہرہ کثرتِ یلان خنجر گزار سے سب کو اضطرار ہے۔ جان کے خوف سے چھوٹا بڑا مغموم ہے۔ بہیر بنگاہ ملا کے بارہ لاکھ کا ہجوم ہے۔ لشکر ظفر پیکر کی مفصل خبر جو پائی ہے، چہروں پر مردنی چھائی ہے۔ سواروں کی خود فراموشی کا ادنیٰ یہ نکتہ ہے اگاڑی کو پچھاڑی سمجھ کے اُلٹا گھوڑا باندھتے ہیں، پچھاڑی میں کلخور ٹٹولتے ہیں۔ گھوڑے کے بدلے چار جامہ باندھتے ہیں۔ جو کوئی ہنسا تو شرمندہ ہو کے کھولتے ہیں۔ اور پیادوں کے ایسے ہاتھ پاؤں پھولے ہیں مسل کیسی کمیدان کا نام، پلٹن کا نشان بھولے ہیں۔ جس جا خیمۂ سلطانی نصب ہوتا ہے، وہاں تماشا عجب ہوتا ہے۔ ایک فراش اپنے انداز پر آ کر میخ گاڑتا ہے تو دوسرا عمداً اس کا نقشہ بگاڑتا ہے اور بے چوبا جس نے استاد کیا ہے سب نے اس کو اُستاد کیا ہے، اس بل پر وہ کسی کی کب مانتا ہے، داروغہ ہاں ہاں کرتا ہے، وہ شامیانے کے عوض سائر کی قنات تانتا ہے۔ جو مہتمم فراش خانہ ہے، وہ نرا دیوانہ ہے۔ بسنتی خیمہ کی خاطر فراش زرد چوب کا جب نام لیتا ہے، وہ پنساری بن کے بیٹھا ہے۔ ہلدی کی گرہ اپنی گانٹھ سےکھول کے دیتا ہے۔ ملازم سرکاری ہے یا بازاری ہے، شیطان نے سب کی عقل ماری ہے۔ خوف سے حواس غائب، ہوش گم ہے، تمام لشکر میں تلاطم ہے۔ برگشتہ سب سے اقبال ہے، مجنونوں کا حال ہے۔\n\nالقصہ خبرداروں کو حسب ضابطہ انعام ہوا اور وہ دن تمام ہوا۔ سرِ شام بفرحت تمام حکم پہنچا کہ طبل جنگ بے درنگ بجے۔ سب آگاہ ہوں دم سحر ملک الموت کی گرم بازاری ہے، دم نقد جان کی خریداری ہے۔ سر تن سے جدا ہوگا، زخم کے ہار ملیں گے۔ خنجر و سنان کے پھل کھا کے دشمن کا لہو پینا ہے۔ سرخرو ہو کر مرنے کا نام جینا ہے۔ یہ خبر سن کے نقارچیوں نے طبل اسکندری کو سینک کر چوب دی۔ نقارۂ جنگی کوس حربی کی کوسوں صدا پہنچی۔ حریف کا لشکر قریب تر تھا، صدا کا منتظر تھا۔ وہاں بھی حکم آیا، نقارہ بجایا، دشت نبرد کانپنے لگا، خورشید باخ زرد ہانپنے لگا۔ تمام رات سونے کی نوبت جری اور نامرد کو نہ آئی، نیند فرد فرد کو نہ آئی۔ بہادر تو رزم و پیکار کی تدبیر سوچتے تھے، بزدلے گھبرا گھبرا کر منہ نوچتے تھے۔ من چلے مشتاقانہ مورچوں کو غور کرتے تھے، ہنس ہنس کے رزمگاہ دیکھتے تھے۔ ڈھل گنڈے لمبے ہونے کا طور دیکھتے تھے، رو رو کے بھاگنے کی راہ دیکھتے تھے۔ جرّار خَود بکتر زرہ جامہ کھولتے تھے، بدحواس گڑگوڈر ٹٹولتے تھے۔ یہاں چہروں پر سرخی چھائی تھی، وہاں منہ پر ہوائی تھی۔ صبح تک جانبین میں تیاری بیداری رہی۔ آنکھوں میں رات کٹی، ہوشیاری رہی۔ دم سحر بصد کر فر اَریکہ آرائے زنگاری مشرق سے نمودار ہوا، ظلمتِ شب روبفرار ہوئی، صبح کا سفیدہ آشکار ہوا۔ دونوں بادشاہ جنگجو رزمخواہ سوار ہو کے میدان حرب میں آئے اور سوار پیدل نے اپنی اپنی صف اور پرے جمائے۔ طرفین سے نقیب نکلے، ہٹے کو بڑھایا۔ جو انداز سے نکل چلا تھا، گو بانکا ترچھا تھا۔ سیدھا کر کے صف میں ملایا۔ پھر کڑکیت کڑکے، خوش الحانیوں سے تڑکے تڑکے آوازے سنائے۔ شجاعوں کی مونچھوں کے بال بودوں کے رونگٹے فی الحال کھڑے ہو آئے۔ پکارے کہ اے بہادرو! نریمان ہے نہ سام ہے، نہ صفحۂ ہستی پر نشان زال خون آشام ہے۔ برزورہا نہ بیزن ہے، نہ اس بلندی پستی پر اسفند یار روئیں تن ہے، کیسے کیسے بہادر صف شکن تہمتن نوجوان رستم و ستان پیر فلک نے بچشم زدن ہلاک کیے، تہِ خاک کیے۔ پردۂ زمین پر ان کا پتا ہے نہ نشان ہے۔ مگر جرأت سے نام باقی جانفشانی کی داستان باقی ماندوں کی برزبان ہے۔ جانیں لڑا کے ساکھے کر گئے ہیں، وہی زندہ جاوید ہیں، گو مر گئے ہیں۔ ازل سے تیغ اور گردن میں لاگ ہے۔ تلوار کی آنچ مشہور ہے، گیلی سوکھی دونوں جلتی ہے، یہ وہ آگ ہے قدردان سرِ میدان نظارہ کناں ہیں۔ اپنے جوہر دکھاؤ، دونوں کو گلے ملاؤ، جرات کے کام کرو ؏\n\nدورِ مجنوں گذشت نوبت ما ست\n\nدور وزہ زیست میں نام کرو، جس کا قدم معرکہ میں ڈگ جائے گا، وہ کہیں آبرو نہ پائے گا۔\n\nپگ آ گے پت رہے پگ پاچھے پت جائے\n\nتلسی جگ مان جس رہے محنت کرے سو کھائے\n\nیہ صدا دلیروں کو نیستان شجاعت کے شیروں کو شراب پرتگال ہوئی۔ بہادری کا نشہ آ گیا۔ آنکھ ہر ایک کی لال ہوئی۔ دفعۃً پری زاد فرخ نژاد نام ثانی سام ست راست کا سالار بشوق کارزار پرے سے نکلا، گھوڑا چمکا کے نیزۂ دوزبان سنبھالا، پایۂ تخت کو بوسہ دیا اور اجازت میدان اس نوجوان نے چاہی۔ شہزادہ فیروز بخت برابر تخت کے تھا، گوشہ چشم سے ساغر تمنا اس کا لبریز کیا، آداب بجا لایا، صرصر صبا دم کو تیز قدم جنگاہ کی طرف مہمیز کیا۔ گھوڑے کو پوئی کاوے اٹیرن لگا، سرپٹ اڑا نیزے کے طعنے دکھا، مبارز طلب کیا۔ پکارا کہ جس کا جام حیات بادۂ ممات سے لبریز ہو، وہ معرکہ میں گرم خیز ہو۔ فوج مخالف سے ایک پیل تن بسانِ اہرمن کرگدن بڑھا کے مقابلہ میں آیا۔ پہلے تو حسب و نسب بیان کیا، پھر لاف گزاف کے کلمے زبان پر لایا۔ فرخ نژاد والا نہاد نے دست بازو سے عجیب دلیرانہ کار لیا، دو چار طعنوں کی رد و بدل ہوئی، پھر نیزے کی نوک پر اٹھا کے مار لیا۔ دونوں لشکر سے بے ساختہ واہ واہ کی صدا پیدا ہوئی، روح اس کی جسم سے بحال تباہ نکلی۔ اب لڑائی چھڑ گئی۔ مر جانے کی راہ نکلی، تاشام اس خون آشام نے صبح کر دی۔ دس بارہ نامی مخالف کا پہلوان مارا، حقیقت میں میدان مارا۔ اس عرصہ میں شاہِ انجم سپاہ بتماشائے رزمگاہ برآمد ہوا۔ چادر سیاہ سمت حریف پھیلائی، پرسُے کو تیرہ بختوں کے شب دیجور آئی۔ طبل بازگشت بجا، ادھر کے پہلوان بفتح و نصرت اُدھر برگشتہ عنان بصد خفت و ذلت اپنے اپنے ڈیرے خیمہ میں داخل ہوئے۔ حارس و نگہبان پاسبانی کرنے لگے، لشکروں کی نگہبانی کرنے لگے۔ تمام شب کوئی تو اپنے عزیز و اقربا کو روتا رہا، جو فتح نصیب تھا وہ پاؤں پھیلائے سوتا رہا۔ دمِ سحر جس دم سریر آرائے گنبد نیلی فام بشوکت تمام مشرق کے جلو خانہ سے تاباں ہوا، دونوں طرف پھر جنگ کا سامان ہوا۔ عرصۂ جنگاہ میں شاہانِ رزمخواہ رونق افزا ہوئے، فوجوں کے پرے صف آرا ہوئے۔ میمنہ میسرہ قلب و جناح ساقہ کمینگاہ نقیبوں نے ہموار کیا، صفوں کو تیار کیا۔ قلب سپاہ میں بادشاہوں کی سواری آئی۔ من چلوں نے گھوڑے بڑھائے، جان نثاری کی باری آئی۔ غرہ سے تا سلخ وہ لشکر فزوں از مورد بلخ لڑتا رہا۔ روز لاشوں کا انبار گرتا رہا۔ دو ہزار نامور اُدھر کا تین چار سَے پری پیکر اِدھر کا تہ خاک ہوا، ہلاک ہوا مگر قصہ نہ پاک ہوا۔ دوسرے مہینے شہزادۂ نیک نہاد نے بانیِ فساد کو پیام بھیجا کہ اسی طرح ہر روز بے گناہوں کی جان جائے گی، گنجلک نہ مٹے گی، لڑائی فیصلہ نہ پائے گی۔ ہم تم باعث فتنہ بانیِ شور و شر ہیں مدعی ہمدگرہیں، لازم ہے کہ سرِ میدان دل کے ارمان نکالیں۔ یلان رزمخواہ سران سپاہ تماشائی خاموش رہیں، بولیں نہ چالیں، یہ کارزار دار ناپائدار میں یادگار رہے۔ غیر کا خون کیوں بہے، جس کا یاور اقبال ہوگا، دوسرا اس کے ہاتھ سے پامال ہوگا۔ دیکھیے رن کا نوشاہ کون ہوتا ہے۔ عروس فتح کس سے ہمکنار ہوتی ہے۔ والی وارث کس کا روتا ہے۔ سرِ میدان کس کی لاش ذلیل و خوار ہوتی ہے۔ جس دم یہ جملہ شاہزادۂ زمرد کوہ کے گوش زد ہوا، آنسو پچھے فرحناک از حد ہوا۔ بسکہ اس کو اپنی تنومندی کا بھروسا، زور و طاقت کا سہارا تھا، بارہا سرِ میدان ہزراہا زبردست پہلوانوں کو مارا تھا، جواب دیا کہ الحمد للہ شاہد مراد نے چار آئینہ فولاد میں صورت دکھائی، یہی تمنا تھی سو بر آئی۔ تاریخ نہم مع الخیر ہمارا تمھارا مقابلہ ہے، بڑی سیر کا معاملہ ہے۔ جس وقت خبردار پھر آئے اور یہ خبر لائے، لشکروں کو بازگشت ہوئی لیکن چرچا مچا کہ یہ لڑائی نئے ایجاد سے ہے۔ انسان کا مقابلہ پری زاد سے ہے۔ ہر چند بادشاہ نے شہزادۂ عازم نبرد کو با دل پر درد سمجھایا کہ بابا ان نوجوانوں کو گردن کش پہلوانوں کو اسی دن کی خاطر زر و جواہر دے کر پالا ہے، بارہا دیکھا بھالا ہے؛ کچھ کام نہ آیا۔ ادھر غول کے غول جراروں کے غٹ کے غٹ جنگ آزمودہ سپہ سالاروں کے دست بستہ روبرو آ ئے، غرض کہ ہم چشموں میں عزت و توقیر ہماری نہ رہے گی، دونوں طرف کی فوج کیا کہے گی۔ حضور مشغول جنگ ہوئے، ہم دنیا میں بے نام و ننگ ہوئے۔ ایک تو آپ مسافر اور مہمان، وہ قوم بنی جان زبردست فیل مست، خدانخواستہ اگر لڑائی بگڑ جائے گی، گلے کاٹنے کی نوبت ہماری آئے گی۔ شہزادۂ جری نے فرمایا: محبت سے یہ کلمہ تم نے کہا، حافظ حقیقی بہرحال ہمارا یاور و نگہبان ہے، دیکھ لینا جو ہوگا یہی گو یہی میدان ہے۔\n\nالقصہ آٹھویں تاریخ نویں شب آئی۔ ترقی خواہوں کی مع بادشاہ جان بلب آئی۔ شہزادہ نے بعد فرائص صبح دستِ دعا بدرگارہ خدا بلند کر کےکہا: اے مدد گار جن و انسان! خلاق زمین و آسمان! نام کو باقی رات ہے، دمِ سحر مقابلۂ کوہ پیکر ہے۔ اس ضعیف الجثہ کی آبرو تیرے ہاتھ ہے۔ دشمن کو اپنے زور بازو کا سہارا ہے، مجھ کو لا تقنطوا کا سہارا ہے۔ یہ کہہ کے تاج کیانی سے سر، لباس سلطانی سے جسم انور آراستہ کر ہتھیار لگائے۔ نیا رواج کیا، خود زیر تاج کیا۔ زرہ گا ؤ سر پر چار آئینہ لگایا،فتح و فیروزی کا نقشہ نظر آیا۔ آفتابی سپر اس ماہ پیکر نے زیب پشت کر کے بوندی کی کٹاری لکہ ابر رحمت نے کمر میں رکھی۔ تسمے کی لاگ سپر میں رکھی۔ فولادی دستانے زر نشان زیب دست تھے۔ نئے انداز سے ہتھیاروں کے بند و بست تھے۔ تیغ ہندی پٹھ چرا خمیرا دبلا رنگ الماسی آب نایاب باڑھ اجل کی گھاٹ تک لہو کی پیاسی حمائل کی، قبر میں پیٹھ نہ لگے جس کے گھائل کی۔ تپنچے ولایتی جن کے توڑ سے بندوق کا جی چھوٹ جائے، قبور میں لگائے۔ اسپ صبادم فرفر کرنے لگا، آمد دیکھ کے طرارے بھرنے لگا۔ شہزادہ نے یا علی گردن پر انگشت شہادت سے لکھا۔ حلقۂ رکاب ہمہ تن چشم منتظر قدم تھا۔ ایال پر ہاتھ ڈال رکاب میں پاؤں لگا گھوڑے کی پیٹھ پر پہنچا۔ جلوہ دار نے دامن قبا درست کیا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کا شور عظیم ہوا۔ قربوس زین میں ملتانی کمان کھنچ آئی۔ لب سوفار کی دعا قبول ہوئی کہ اب سرخروئی حصول ہوئی۔ ترکش نے کمر کے متصل رونق پائی۔ ہر نے پر کمند کے لچھے ڈالے، ساز یراق گنڈے اچھے سے اچھے ڈالے۔ دست راست میں نیزۂ دو سر اژدہا پیکر، بائیں میں عنان رشک صرصر سر فلک فرسا فروتنی سے خم کیا۔ ناد علی کو دم کیا۔ میدان کو دیکھ کے تیور پر بل آئے، نشۂ جرأت سے دیدے اُبل آئے۔ چہرے کا رنگ جوانی کی ترنگ میں گلنار ہوا۔ گھوڑے کو پٹری سے مسک کے گرم رفتار ہوا، سمند برق دم ہر قدم تڑپ کے جولانی کرتا تھا، زیر ران گرم عنائی کرتا تھا۔ شہسوار بے بدل نے خانۂ زین میں سنبھل کے ٹھکرایا۔ پہلے طرارے میں تخت کے برابر اتارا، مردہا نگاہ روبرو پکارا۔ بادشاہ متوجہ ہوا، یہ آداب بجا لایا۔ رخصت خواہ ہوا۔ والیِ قاف نے آنسو آنکھ میں بھر کے تاج شاہی ہاتھوں پر دھر کے برآرندۂ حاجات مجیب الدعوات سے عرض کی کہ تو قادر توانا علیم و داتا ہے، مہمان کا معرکہ میں جانا ہے۔ اے رحیم یہ فتح پائے، میری آبرو رہ جائے۔ پھر کہا: بحافظ عالم سپر دم اللہ معکم اینما کنتم۔ تمام فوج نے بلبلا کے کہا: پروردگار تو اس کی مدد کرنا، جو بلا آئے اپنے کرم سے رد کرنا۔ شہزادہ گھوڑے کو چمکاتا راکب و مرکب کا جوبن دکھاتا چلا۔ پرے کے برابر آتے ہیں گھوڑا دبا کے سن سے نکل گیا۔ بوئے گل کی طرح چمن سے نکل گیا۔ یا تو سب فوج کی نگاہ میں تھا، دو لنبیاں گھوڑے نے کیں، رزمگاہ میں تھا۔ میدان میں چار طرف نگاہ کی، گھوڑے کی باگ لی، رجز پڑھ کے آگے بڑھ کے اپنا حسب و نسب بآواز بلند سنا، مبارز طلبی کی پھر اس انداز سے نعرہ مارا کہ جانور پرواز سے رہ گئے، دونوں لشکر دہل گئے۔ فلک پیر الامان پکارا، مجبور با دل رنجور حریف کوہ پیکر دیو منظر ہمہ تن غرق دریائے آہن کرگدن پر سوار بچشم خونخوار کف در دہان، بزدلی پن پر شیر کی صورت غرّاں روبرو آیا۔ تنور سے مشابہ تر، خود سر، پرغرور، پر دام، زرہ میں نہنگ سا پھنسا، چار آئینہ میں موت کا منہ دیکھتا، تلوار جو کبھی میان سے باہر نہیں نکلی ران کے نیچے دبی، سپرپس پشت کلنک کا ٹیکا، دستے میں تیر سراسری؛ شہزادہ کے رعب سے لب سوفار خشک، کمان کا رخ اترا، برچھا کرگدن کے کان پر سر نگوں، خنجر کی بے آبی کیا کہوں دستے تک اودا سا کرگدن میں مٹھا پن گویا بھینس زیر ران، خنجر بے جوہر آب نایاب داسی اُ داسی یہ کُھلا کہ باندھنے والے کے خون کی پیاسی، سوار حیران آتے ہی ہم تگادر ہوا۔ عجب دھماکا پیدا ہوا کہ فوج دہل گئی، پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ میدان زیر و زبر ہوا۔ دس بارہ قدم گینڈا بیدم ہو کے ہٹا، تھرانے لگا۔ تین چار قدم اسپ برق دم ہٹ کے اپنی چمک بدستور دکھانے لگا۔ کئی روز پیشتر اس لڑئی کی خبر مشتہر ہو چکی تھی کہ پری پیکر گل عذار کا دیو خونخوار سے اب سامنا ہے، غضب سا منا ہے۔ تمام ساکنان پرستان ایک سمت کو نظارہ کناں تھے اور ہزارہا پری اور پری زاد بروئے ہوا میدان میں گھر آئے تھے۔ زمین پر فوجوں کے دل آسمان پر اُن کے بادل چھائے تھے۔ آفتاب نظر نہ آتا تھا، اندھیر ہوا جاتا تھا۔ دفعۃً اُس تنگدل نے گزر گراں سنگ عرابی سے اٹھایا، شہزادہ کا جلو دار بھی گرز روبرو لایا۔ چار گھڑی کامل وہ دھما دھم ہوئی کہ زیر زمین مچھلی بیدم ہوئی۔ صفحۂ میدان کرۂ آہنگراں سراسر ہوا۔ گوش گردوں گردان کر ہوا۔ اُسی گرمجوشی میں شہزادۂ بلند اختر نے بقوت تمام تر رکاب سے رکاب ملا کے گرز لگایا، حریف نے گرز پر روکا۔ ایسی ضرب کڑی پڑی کہ عمود کا کلہ نابود ہو کے دستے میں اتر آیا، گینڈے کی کمر میں بل پڑا۔ سواری میں خلل پڑا۔ پیادہ ہو کے گھوڑا مانگا، اس پر ناچار سوار ہو کے شرم سے کسی طرف دیکھا نہ بھالا۔ نیزہ سنبھالا اور شہزادہ کا سینہ حُسن کا گنجینہ تاک گھوڑا ڈبٹایا، دونوں جانب کے پیدل سوار نیزہ دار سمجھے کہ پورا وار ہوا، برچھا دو سار ہوا۔ یہاں فضل الٰہی شامل حال تھا، وہ کیا مال تھا۔ اس چستی اور پھرتی سے شاہزادہ نے بدن کو چُرایا، ہوا کا بھی صدمہ بدن تک نہ آیا۔ اسپ صبا خصال کا عجب حال تھا۔ اس سناٹے سے پھرتا تھا کہ پتلی تو پتلی پھر کے دیکھ لیتی تھی۔ مگر گردش میں سُم اور نعل، وہم اور خیال کے حلقۂ تصور میں نہ گھرتا تھا۔ صُمٌ و بکمٌ کا طور تھا، نقشہ ہی کچھ اور تھا۔ مردم دیدہ بغور تمامتر تکتے تھے، نقش پا کو دائرہ نظر میں نہ لا سکتے تھے۔ زمین کو رشک آسمان چال سے بناتا تھا، اس چمک سے آتا جاتا تھا۔ جس جگہ نشان نعل بن جاتا تھا، وہ پھر آنے میں بدر ہوتا تھا۔ جانے میں جو ہلال بن جاتا تھا، جہاں جہاں اس نے پاؤں اتارا تھا، میخ کا نشان تارا تھا۔ چمک جانے میں برق جہندہ کا شرارہ تھا۔ گھوڑا کیا تھا سیماب کا پارہ تھا۔ برچھا لگانے میں حریف نے جو منہ کی کھائی تھی، مع گھوڑے زمین پر گرنے کی نوبت آئی تھی۔ مگر شہزادۂ رزم آزما نے اس بدحواس کا پاس کیا۔ بسرعت تمام تر وار خالی دے کر گھوڑے کو پلٹا ٹوک لیا۔ نیزہ دو زبان کی ڈانڈ سے گرنے نہ دیا، روک لیا۔ مرحبا صلی علیٰ کی صدا ارض و سما سے آنے لگی۔ نیزہ بازوں کی جان جانے لگی۔ وہ ننگ دودمانِ شاہی مزاج کا واہی بل کھا کے جھلا کے پھر ڈانڈا ینڈی پر مستعد ہوا۔ دو اژدر سیاہ بسان دو آہ باہم پیچاں تھے، دیکھنے والے واہ واہ تو کہتے تھے، مگر انگشت حیرت بہ دہان تھے۔ برق غضب کی طرح سنانیں لڑ کے چمک جاتی تھیں۔ شرارے پیدا ہوتے تھے، تماشائیوں کی آنکھیں جھپک جاتی تھیں۔ اس نے بند باندھا تو اس نے بہ کشادہ پیشانی کھول لیا۔ کبھی وہ بڑھ آیا، گاہ اس نے رول لیا۔ ڈانڈ سے ڈانڈ مع سنان و بنان باہم لڑ کے لپٹ جاتے تھے۔ کئی نیزے چرخ سے بلند ہو کے آپس کی کھٹا پٹ جاتی تھی۔ آخر کار شہزادۂ نامدار نے ایک پیچ میں باندھ کے گھوڑا اُڑایا، سب نے دیکھ کہ اڑاڑا کے وہ خشمگین بروئے زمین آیا، لیکن وہ تو گرتے گرتے گھوڑے پر سنبھل گیا، مگر ہوائی کی طرح نیزہ ہوا ہوا ہاتھ سے نکل گیا۔ دونوں جانب سے تحسین و آفرین کے نعرے آنے لگے۔ ہوا خواہوں کی یہ نوبت ہوئی فرط خوشی سے شادیانے بجانے لگے۔ صبح سے دوپہر ڈھل گئی تھی۔ سب بے دانہ و آب بھوک پیاس سے بے تاب تھے۔ فرمانروائے قاف نے فوراً طبل بازگشت بجوا دیا، پنجۂ قضا سے بچوا دیا۔ شہزادۂ یاسمین پیکر بافتح و ظفر وہ شکست نصیب خائف و خاسر میدان سے پھرا۔ سلطان قاف شاہزادہ کو گلے سے لگا برابر تخت پر بٹھا خیمہ میں داخل ہوا۔ وہ بداسلوب محجوب برگشتہ قسمت اپنے فرودگاہ کی طرف پھر ا۔ یہاں بزم طرب میں سب چہچہے کرنے لگے، مصروف جشن وہ شیر بیشہ ہوا۔ وہاں مجمع اندوہ و ملال رہا، چھوٹا بڑا کوفت میں خراب حال رہا۔ سحر مصاف کا سب کو اندیشہ ہوا کہ آج تو سرِ میدان یہ ذلت کا سامان ہوا۔ خدا جانے کل کیا ہوگا۔ شگون زبوں ہوا، انجام کار بُرا ہوگا۔ بات کی بات میں رات تمام ہوئی۔ صبح کا سفیدہ چمکا۔ لشکر میں ملک الموت آ دھمکا۔ نقیبوں نے شکست نصیبوں کو بیدار، سوار پیدل کو آمادۂ کارزار کیا۔ اُدھر شہر یار قاف اور شاہزادہ وارد میدان مصاف ہوا۔ ادھر کے سوار پیادے مرگ کے آمادے پرے جما کے کھڑے ہوئے۔ دہ دمِ صبح نور کا تڑکا سرد سرد ہوا کے جھونکے صرصر و صبا کے جھونکے، خوش آواز کڑکیتوں کا کڑکا، صحرا گلزار پہاڑ کی ڈانک پر آبشار، پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو مہک چار سو، جانورانِ خوش الحان درختوں پر حمد خوان جابجا، جھیلیں تالاب بھرے گرد وہاں کے کھیت ہرے، دونوں سمت پری زادوں کے پرے، بیچ میں رن ہزاروں بے گور و کفن، کوئی گل عذار کوئی غنچہ دہن، لب خشک، زخم ہرے، لڑائی کا کھیت، غیرت گلشن، عبرت کی جا، حیرت کا مقام، لاشوں کے گرد دد و دام، کسی کے چہرے پر چمک دمک، کسی کے منہ پر اداسی، کہیں دلجمعی، کہیں بدحواسی، موت کی گرم بازاری، جان کا لین دین سر کی خریداری، دنیا کی بے ثباتی دولت کی ناپائداری، حکومت کا ساز و سامان خواب پریشان، جیتے جی قصہ بکھیڑا، ملکی مالی مر گئے تو ہاتھ خالی مشہور ہے کہ دو گز کفن ساتھ جاتا ہے جب خاتمہ بالخیر ہوتا ہے، یہ نہیں سمجھتے کہ اپنے اختیار میں نہیں عطیۂ غیر ہوتا ہے۔ کچھ تو ایسی ایسی سوچ میں تھے، بہت محو سیر و تماشا تھے، بچشم غور دیکھنے کے سامان مہیا تھے۔ دو دریائے فوج موج در موج کیا کیا نہنگ بحر دغا ماہی مراتب کے پاس کھڑا، پرزر پھریرے مُغرّق عَلَم اور نشان کھلے، ہر طرح کے باجے بجتے، لڑائی پر تُلے، زیست سے سیر حکم کی دیر، سب کو یہ خیال تھا کہ آج دیکھیے کون سا دلیر کس پر ہت پھیر کرتا ہے۔ کون زبردست کس کو زیر کرتا ہے۔ دفعۃً جو علمدار روبروئے سلطان نامدار کھڑا تھا، اس نے علم کو جلوہ دیا۔ شہزادۂ صف شکن مثل تہمتن پرے سے نکلا، رزم کو بزم سمجھ کے مرکب پری نژاد کو جھجکارا، حد پر پہنچ کے نیزہ گاڑ دیا۔ حریف کو ڈانٹ للکارا، وہی دام مرگ کا اسیر با دِل دلگیر دہن نہنگ میں دلتنگ چلا، مقابل ہوتے ہی وہ تلوار جس پر اعتبار تھا کھینچی، شاہزادہ نے بھی قبضۂ شمشیر صاعقہ خصال پر یا ذو الجلال کہہ کے ہاتھ ڈالا، باہم تلوار چلنے لگی۔ قضا رک کے اس کے حال پر کف افسوس ملنے لگی۔ دیر تک دھاوا شپاشپ چھپا چھپ رہی۔ اسی چالاکی میں تپنچے کی چوٹ پر شہزادہ کی شمشیر اس شریر کے کلے پر جو چمک گئی، آنکھ خیرہ سر کی جھپک گئی۔ دفعۃً شہزادہ عیار نے کمند کے حلقے میں گردن اس سرکش کی بند کر کے چاہا تھا کہ جھٹکا مارے، گھوڑے سے زمین پر اتارے، برق غضب اس کا عیار جلودار تھا۔ ناگاہ نگاہ اس کی پڑ گئی کہ کمند پیچان گردن میں گڑ گئی۔ اس چمک سے خنجر پکڑ کے حلقے کاٹے کہ گردن تو رہا ہوئی، مگر پیچ میں کمند نہ معلوم ہوئی کہ کیا ہوئی، عیار سنبھلنے نہ پایا تھا کہ شہزادۂ قوی بازو نے ڈانٹ کر تلوار ڈالی، مع خنجر کلائی کاٹ دالی۔ حوصلہ اس کا پست ہوگیا۔ پری زاد کا بازو ٹوٹا، وہ بیدست ہوگیا۔ پھر بدستور وہ صور شمشیر زنی کوہ کنی میں مشغول ہوا ۔اس چستی سے وار ہوتے تھے کہ ڈھالوں کے پرزے ہر بار ہوتے تھے۔ القصہ باد خزاں حسام سے ڈھالوں کے پھول جھڑ گئے اور تلوار زخم رسانی سے عاری ہو گئی، دندانے پڑ گئے۔ سپر پاؤں پر گری اور صمصام دانت نکال کر کِری، اس وقت سوچے کہ اس کا یہ حال ہوا، نیزہ بازی گرز زنی کا کچھ نہ مآل ہوا۔ یہ تینوں کام بے سود ہوئے، یہ سمجھ کے دونوں دلاور گھوڑوں سے برابر کود کے کُشتی کو موجود ہوئے۔ کمروں میں ہاتھ پڑ گئے، زمین میں قدم گڑ گئے۔ مگر وہ دیو مازندران یہ گل اندام جوان، اُس کا باپ تو بیٹے کا قد و قامت، زور و طاقت دیکھ کے شاد ہوا۔ سلطان قاف بدرگاہ خدا دعا کرنے لگا، سرگرم نالہ و فریاد ہوا۔ ان دونوں کا یہ حال تھا کہ کسی کا تصور نہ خیال تھا۔ مگر شاہزادہ جب پیچ میں باندھتا تھا تو اس کا بند بند بایں تنو مند ٹوٹتا تھا، کھولنا محال ہوتا تھا، ہر بار جی چھوٹتا تھا۔ تاوقت زوال ایک سا حال رہا۔ اب پری زاد کا دم پھولنے لگا۔ داؤ پیچ بھولنے لگا، جب زور گھٹنے لگا، دب کے پسپا ہوا، پیچھے ہٹنے لگا۔ شاہزادہ نے دم سنبھلنے نہ دیا، خوب ریلا؛ اُس نے اور کھیل کھیلا، جھلا کے لنگر مارا، پاؤں کو زمین میں اتارا کہ دم درست کر لے، جسم کو چست کر لے۔ شہزادہ بھی استاد تھا، ہزارہا پیچ یاد تھا، دفعۃً کمربند میں دونوں ہاتھ ڈال کے باتوں میں ٹال کے الا اللہ کہہ کے ہِکہ جو لگایا، وہ کوہ پیکر پرِکاہ سے بدتر اکھڑ آیا۔ مہلت نہ دی، پھرتی کی، بے گزند سر سے بلند کر کے بقوت تمامتر اس طرح سے پٹکا کہ صاف دم نکل گیا، کہیں نہ اٹکا۔ چاہا تھا کہ پہلو میں قرولی اتار دے یا تلوار کا ہاتھ مار دے۔ مگر خیال جو کیا تو گرتے ہی فنا ہوگیا، راہی ملک بقا ہوگیا۔ ہاتھ روک کے پشتِ مرکب پر آیا، جلو دار نے فتح مبارک کا شور مچایا۔ اس کے باپ نے جو دیکھا جوان بیٹا مارا گیا، پیری کا سہارا گیا، تاج کو پٹک نعرہ کیا، جگر چرخ پارہ کیا۔ تخت کو بڑھایا، فوج کو پکارا کہ تم دیکھتے ہو وارث سلطنت جہاں سے سدھارا۔ یہ سن کے افسروں نے باگ اٹھائی، فوج چار سمت سے گھر آئی۔ ادھر سے سلطان قاف بگٹٹ جا پہنچا۔ ہمراہ رکاب چھوٹا بڑا آ پہنچا۔ دونوں دَل سوار، پیدل غٹ پٹ ہو گئے۔ باران تیر صاعقہ شمشیر پڑنے گرنے لگا۔ ہر طرف لوہا برستا تھا، بجز آبِ شمشیر و خنجر زخمی پانی کو ترستا تھا۔ اولے کی طرح سر سراسر گرنے لگے۔ دریائے خون رن کے کھیت میں موجزن تھا، کشتہ ہر ایک بے گور و کفن تھا۔ دھاوا کا غل، شپاشپ کا شور، جو وار خالی گیا تو سَن سَن کا لطف تھا، زخموں کے ہار تیروں کے گھاؤ، سوراخ دار خون کے سہرے، جوانوں کے چہرے، مرد و نامرد پر دولہا دلہن کا لطف تھا۔ ہر شخص شناور بحر خون تھا، گلنار جیحون تھا۔ بہتی ڈھالوں پر کچھووں کی ڈھالتے تھے، کاسۂ سر حباب بن کر موجۂ خون سے سر نکالتے تھے۔ دھڑا دھڑ میں غوطے کھا کے ٹکراتے تھے۔ زرہیں دام مرگ ہو گئی تھیں۔ جنجال میں مردے زندوں کو پھنساتے تھے۔ جابجا کُشتوں کے انبار رہ گئے۔ تیروں کی کثرت سے روحیں اڑ گئیں، لاشے پر دار رہ گئے۔ ثابت ہوتا تھا کہ ان کا وارث ہے نہ والی ہے۔ مرغ روح مجروح پرواز کر گیا۔ قفس جسم خالی ہے۔ کشتوں کا رنگ نرالا تھا۔ شہزادے کی تلوار کا جو زخم تھا، وہ آلا تھا۔ پیکان تیر مثل زبانِ دہن زخم سے یہ تقریر کرتا تھا کہ کس کا منہ ہے جو اِن بہادروں کے سوا لوہے کے چنے چبائے، مرنے کی بدنامی سے چھٹ کے زندہ جاوید ہو جائے۔ عجیب عجیب معاملے معرکہ میں نظر آتے تھے۔ سوار تو پیدل ایٹرن پڑے تھے، خالی گھوڑے تنگ ہو کے کاوے لگاتے تھے، آقا کے لیے ٹاپتے تھے۔ لاش کی تلاش تھی، مگر وہ پہچانی نہ جاتی تھی، ایسی پاش پاش تھی۔\n\nالقصہ نوجوان بیٹے کے سرِ میدان قتل ہونے سے بوڑھا باپ جنگ کی تاب نہ لایا اور فوج نے بھی جی چھوڑ دیا۔ پیٹھ دکھائی، منہ موڑ دیا۔ پاؤں نہ جما، بھاگ نکلی۔ سلطان قاف کے لشکر میں شادیانوں کی نوبت آئی۔ فراریوں نے داد بیداد کی صدا فلک گراں گوش کو سنائی۔ بادشاہ بے تابانہ شاہزادے کے گرد پھرنے لگا، زر و جواہر نثار ہو کر زمین پر گرنے لگا۔ جتنے جرار نامدار تھے، دست و بازو کی طاقت پر حیران تھے، فن سپہ گری میں طفل دبستان تھے۔ سبحان اللہ یا صلی علی کا غل تھا۔ کشتوں کے لہو سے پوشاک پر افشاں تھی، نوشاہ کی شان اُس نوجوان کے چہرے سے عیاں تھی۔ جس جا لوہا برسا تھا، وہاں زر سرخ اور سفید برساتے بڑی شوکت اور شان سے خیمہ میں داخل ہوئے، دل کے مطلب حاصل ہوئے۔ اس لڑائی کا قصہ شہزادہ کی شجاعت کا مذکور پرستان کیا، دور دور پہنچا۔ سب حیران تھے کہ ایسے پری پیکر انسان نے دیو خصال کو سرِ میدان مار لیا۔ کوہ پیکر کو پرکاہ کی صورت خانۂ زین سے اتار لیا۔ فتح کی نذریں گذریں۔ جشن کی تیاری ہوئی۔ رزم سے فرصت پائی، بزم کی باری ہوئی۔ ایک ہفتہ اور وہاں مقام رہا۔ دن کو مقتولوں کو دفن کرنا، رات کو گانے اور ناچ کا اہتمام رہا۔ نویں روز بادشاہ مع شاہزادہ عالی جاہ شہر میں رونق افزا ہوا، جس قدر پرستان میں حسین اور نامی جوان تھے، شہزادہ کے دیکھنے کو سب کا مجمع ہوا۔ اس فقرے پر بیان کا اختتام ہے، داستان تمام ہے کہ اس بادشاہ کا بیٹے کے مرنے سے جی چھوٹا، ملک و مال سے ناامید ہوا۔ غم کا آسمان ٹوٹا، کہیں پاؤں نہ ٹکا۔ زمرد کوہ کی سیدھی راہ لی۔ شاہزادہ بافتح و ظفر پہرا شہر میں داخل ہو کے مقتول کی منگیتر دھوم دھام سے بیاہ لی۔ پھر اس کو ہمراہ لے کے وطن کی سمت روانہ ہوا، پرستان میں تمام قوم بنی جان میں یہ قصہ فسانہ ہوا، لیکن مشہور ہے کہ ؂\n\nدر پس ہر گریہ آخر خندہ ایست\n\nمعرکۂ رزم کے بعد بزم کی صحبت ضرور ہے۔ مؤلف کا لقب سرور ہے۔ اگر فلک کے ہاتھ سے فرصت پاتا ہوں تو قریب ان شاء اللہ تعالی سناتا ہوں۔ کہانی تمام ہوئی۔ جھوٹ کو سچ کر کے دکھا دے، یہی اس کا مزا ہوتا ہے۔ ورنہ قصے میں بکھیڑا ہے اور کیا ہوتا ہے۔\n\nالقصہ اعجاز شاہ کرامت کی راہ سے یہ کہانی سُنا چکے اور سمن رخ کے ہوش حواس بر جا آ چکے۔ صحت ہوئی، مزاج درست ہوا۔ سب باتوں کا بند و بست ہوا۔ ہوا خواہوں نے مبارک سلامت کا غوغا مچایا، مطلب دل کا بر آیا۔ آذر شاہ گوش برآواز تھا، اس کو اعتقاد کامل حاصل ہوا کہ سب شاہ صاحب کا اعجاز تھا۔ جواہر گراں بہا تحائف جا بجا کشتیوں میں چنا۔ شاہ صاحب کے روبرو دست بستہ لایا۔ تارک دنیا نے دستِ رد سینۂ قبول پر رکھ کے فرمایا: بابا مدتوں خواہش زر میں دربدر خاک چھانی، مرشد کی نصیحت نہ مانی۔ دن رات خرابیاں سامنے آئیں، دوڑ دوڑ کر ٹھوکریں کھائیں۔ کون سا رنج تھا جو اس کی تلاش میں نہ اٹھایا۔ مگر یہ ظالم کسی طرح ہاتھ نہ آیا۔ جس دن سے اس کو ذلیل و خوار جانا، سراسر پبکار جانا، یہ ڈھونڈھ کے پاس آتا ہے، فقیر منہ پھراتا ہے۔ اب معبود کے نام چھٹ سب چیز کا لینا حرام ہے۔ یہ بوجھ اٹھانا اہل دنیا کا کام ہے۔ جب یہ پاس آتا ہے، دونوں جہاں کو بُھلاتا ہے۔ اسی کے نشہ میں آدمی گونگے بہرے ہوتے ہیں، اسی کی نگہبانی کو درکار چور پہرے ہوتے ہیں۔ اس کا دوست خدا کا دشمن ہے، دین ایمان کا یہی رہزن ہے۔ جب شاہ صاحب نے اس درجہ انکار فرمایا، بادشاہ کا دونا اعتقاد بڑھا، بمِنّت یہ کلمہ لب پر لایا کہ وضع حمل تک آپ بہرکیف رونق افزا رہیں۔ دست شفقت اس کے سر پر پھیرنا ضرور ہے کہ حضور کی توجہ سے اس کا ظہور ہے۔ گود میں لے کے عمر طبعی کی خالق سے دعا کیجیے، بندِ تفکر سے ہم کو رہا کیجیے۔ بجبر شاہ جی نے یہ امر منظور کیا، بادشاہ کو مسرور کیا۔\n\nکچھ دن نہ گذرے تھے کہ قابلہ نے عرض کی: قبلۂ عالم مبارک! قریب ثمر زندگانی زیب کنار ہوتا ہے، شاہزادی کو درد بے اختیار ہوتا ہے۔ شاہ صاحب نے فوراً کوری چینی منگا کے لکھی، گڑ پڑھ کر دیا کہ اس کو کھلا کے اُس کو سر پر رکھنا، داتا مشکل آسان کرے گا، سرور کا سامان کرے گا۔ بادشاہ نے وزیر اعظم سے ارشاد کیا: شہر کو آراستہ کرو، منادی فوراً ندا کرے کہ خوشی خلقِ خدا کرے، در دولت پر جشن عام ہوگا۔ چھوٹا بڑا اس شہر کا حسب لیاقت مورد انعام ہوگا۔ درِ خزانہ کھلا، فقیر غریب محتاج لینے لگے، دعائیں دینےلگے۔ پنڈت رمّال منجم جفردان جو جو شہر میں کامل تھے، حاضر ہو کے وقت ساعتِ نحس و سعد دیکھنے لگے۔ غرض کہ شرف آفتاب مشتری کی ساعت میں وہ قمر طلعت برج حمل سے نکلا، مبارک سلامت کی صدا زمین آسمان سے پیدا ہوئی۔ محل کی رنڈیوں کا مجمع ہوا۔ جس نے دیکھا،ہزار جان سے شیدا ہوئی۔ حضور شاہ میں نذریں گذرنے لگیں۔ طبل اسکندری پر چوب پڑی، شلک کی توپ پر بتی دی۔ شہر کی خلقت مطلع ہوئی۔ شور غل بڑے ہلّڑ کا ہوا کہ بادشاہ کے گھر میں لڑکا ہوا۔ ہیجڑے زنانے بھانڈ چونے والیاں درِ دولت پر حاضر ہوئیں۔ گانا ناچ ہونے لگا۔ سب انعام شاہی سے مالا مال ہوئے۔ شاخ امید ہر ایک کی گل و ثمر لائی، نہال ہوئی۔ ہزارہا گناہگار قید سے رہا ہوا، غنی محتاج و گدا ہوا۔ مسجد خانقاہ مہمان سرا کی تعمیریں ہوئیں۔ مشائخوں کے روزینے مقرر ہوئے۔ ملّانوں کی جاگیریں ہوئیں، برہمنوں کے سالیانے ٹھہرے۔ پنڈتوں کی توقیریں ہوئیں۔ حکم اقدس ہوا: لولے لنگڑے ، اندھے، ضعیف جو ہوں زر نقد ان کو ماہ بماہ دو۔ غریب غربا کی لڑکیاں بیاہ دو، شکستہ مسجدیں، ٹوٹے مقبرے جتنے تھے، از سر نو سب کی تیاری ہوئی۔ مسافر خانے اور مہمان سرا میں خیرات جاری ہوئی۔ کئی سال صیاد جانوروں کو تہِ دام نہ لا سکے، چڑیا کو نہ پھنسا سکے۔ دو دو کوس کے فاصلے سے پختہ کنویں سرِ راہ بنے۔ مکانات شاہی جو گر گئے تھے، وہ بھی خاطر خواہ بنے۔ کئی کوس کے عرض اور طول کا باغ بنا۔ اُس میں مکانات مرتفع عالی، شہزادے کی بود باش کو درست ہوئے۔ کاریگر مقرر، چالاک اور چست ہوئے۔ دو رویہ شہر میں ٹھاٹھر گَڑ گئی۔ تیل کی ریل پیل سے بندھن سڑ گئے۔ روشنی کو لاکھوں مزدور آیا۔ شبِ دیجور کو شہر سے بھگایا۔ ہر محلے میں تنور گڑے، کڑہاؤ چڑھے، کھانا اور مٹھائی ہندو مسلمان کے واسطے کہ کوئی اپنے اپنے گھر میں ہنڈیا نہ چڑھائے، پکا پکایا سرکار کی طرف سے پائے۔ چالیس دن یہ کیفیت رہی۔ چھٹی چلے کی رسم ہو گئی۔\n\nوہ گوہر گرانمایہ آغوش دایہ میں پرورش پاتا تھا۔ ہر روز نمو کی بہار دکھاتا تھا۔ موافق معمول دودھ بڑھا، کھیر چٹائی، کھانے پینے کی نوبت آئی۔ جو دن گذرا، وہ مہینا تھا۔ ہر ماہ سال ہوا، نو دس برس میں بدر کامل وہ ہلال ہوا۔ بسم اللہ ہوئی، معلم ادیب خوشنویس پڑھانے لکھانے لگے۔ سِن تمیز میں گھوڑے پر چڑھا، تیر اندازی کی۔ لکڑی پھینکی، برچھا ہلانا سکھانے لگے۔ القصہ علم و فضل، کسب و ہنر میں کمال ہوا۔ خُلق و مروت، جود و سخا میں بے مثال ہوا۔ جرأت میں رستم کا یادگار، طاقت میں اسفند یار۔ جس دم سیر تماشے کو سوار ہوتا تھا، تمام شہر چال ڈھال پر نثار ہوتا تھا۔\n\nشاہزادہ تو ماں باپ کے سایۂ عاطفت میں پرورش پا کے زندگی کا لطف اٹھاتا ہے، محرر خاموش ہو کے دُکان بڑھاتا ہے۔ اگر زیست باقی رہی اور کسی شائق نے خواہش کی تو اس کی جوانی کا زور شور، طبیعت کا لگاؤ، محبت کا بگاڑ بناؤ صفحۂ قرطاس پر قلمبند ہوگا۔ نوجوانوں کو سخن فہم قدر دانوں کو پسند ہوگا۔ ورنہ اللہ بس ہے، باقی ہوس ہے۔ اس واسطے کہ جینے پر مدار ہے، غور کیجیے تو وہ مستعار ہے۔ اس کا کیا اعتبار ہے۔ دیکھو تو ایسی زیست پر کس کس طرح سے لوگ مرتے ہیں، ٹیڑھے تار کی ٹوپی اگر بھولے سے سیدھی ہوئی تو کج کر کے سر پر دھرتے ہیں۔ باہم ہر دم کج مریز ہے، دوسرے کے قتل پر خنجر تیز ہے۔ یہ نہیں سمجھتے مالک اور ہے۔ جس دم وہ اپنی طاقت دکھاتا ہے، بگاڑ کر بناتا ہے۔ آگاہ بادشاہ اور فقیر ہے کہ یہ قول جناب امیر ہے: عرفتُ ربی بفسخِ العزائم، اس پر خباثت نفس سے نہیں چوکتے ہیں۔ ایک ساعت کی سیر کو دوسرے کا گھر پھونکتے ہیں۔ ایسی بے بنیادی پر نبائیں مستحکم بنانا مال کے حرص میں مآل بھول جانا۔ اگر قدرے مقدور ہوا، فوراً دماغ میں فتور ہوا۔ غفلت کا پردہ آنکھوں کے آگے پڑ گیا۔ کسی کو پہچانتے نہیں اور تو اور ہے، مقام غور ہے اپنی حقیقت آپ جانتے نہیں۔ اس زمانے میں اگر کوئی کسی کو خاک سے پاک کرے، عوض یہ ملے کہ جب اس کا قابو چلے اس کو تہِ خاک کرے۔ زندگی سی شے دنیا میں کھو کے کوچہ گرد مشہور ہو کے کیا کیا نہ ملا، کہاں کہاں کی خاک چھانی، کسی کی بات نہ مانی۔ اس پر آشنا نہ ملا۔ ظاہر میں تو قبلہ آئیے، کفش خانے میں قدم رنجہ فرمائیے، مقدمہ سب زبانی پایا، باطن میں دشمن جانی پایا۔ پہلے تو کیا کیا گرمجوشی دیکھی، سرِ دست سرفروشی دیکھی۔ خدانخواستہ نشیب و فراز زمانے سے حیلے میں کسی بہانے سے کچھ کڑی پڑ گئی، کل پرسوں کی نہیں برسوں کی بنی بنائی بات بگڑ گئی۔ بقسم کہتا ہوں جَو فروش گندم نُما بہت ہیں۔ بندہ کے زعم میں دوست کم دشمن خدا بہت ہیں۔ اس عصر میں نمک حرامی نے ایسا رواج پایا ہے یاروں کی زبان پر اس کا ذائقہ آیا ہے کہ گو سلطنت بگڑ جائے، بسا بسایا شہر اجڑ جائے زرد رو نہیں مُنہ کالا ہو، ایک کا نہیں جہاں کا سسرا سالا ہو۔ اس پر بھی جس ادھیڑ بن میں ہو، وہی کام کرے، نطفہ حرامی سے نہ چوکے، کنبے کو بدنام کرے، عالم اللہ کا مبتلا روز سیاہ کا ظلم و جور دیکھ کے نئے نئے طور دیکھ کے بریز بریز کرے، وہ عدوئے خدا قاتل آل مصطفےٰ ﷺ سِلّی نہ پائے تو گھر کی سل اٹھا لائے۔ نسلاً بعد نسل جو خنجر چلا آیا ہے، اس کو تیز کرے۔ اس مثل کو سارا جہان جانتا ہے، بوڑھا لڑکا نوجوان جانتا ہے کہ جو جیسا کرتا ہے ویسا پاتا ہے۔ پانی میں جس نے ہگا، اس کے مُنہ پر آتا ہے لیکن شیطان نے فلاں کے ساتھ عقل بھی ماری ہے، گلی گلی ہر کوچے میں ذلت و خواری ہے ؂\n\nسکتہ نہیں ہوتا اسے حیرت نہیں آتی\n\nچکنا جو گھڑا ہے کبھی غیرت نہیں آتی\n\nجو زشتیِ اعمال سے دنیا میں بدنام ہوا، مردود و موردِ لعن خاص و عام ہوا۔ احیاناً کسی اور نے کچھ بگاڑا، مگر اسی کا نام پکارا جائے۔ کوئی پادے بھٹیارے کا لونڈا مارا جائے۔ انسان کو لازم ہے کہ کون و فساد میں زیست برباد نہ کرے، دوست کو اپنے حال پر نہ رلائے، دشمن کو شاد نہ کرے۔ کاش بین بین میں بسر ہو تو بھی چین میں بسر ہو۔ سوچے تو دارا اور سکندر کیا ہوئے، کاؤس و کیقباد نہیں نام ان کا کسی کو یاد نہیں۔ خسرو کے گنج کدھر گئے۔ جام کیسا جم نہیں، یہ سب راہی ہوئے۔ کچھ دنوں کے بعد ہم نہیں، دنیا سرائے فنا ہے۔ ایک شب رات کا بسیرا ہے، بیکار خیمہ سراسر بار ڈیرا ہے۔ جس نے اس محیط بے کنار میں غوطہ لگایا، تِرا نہیں اور جس نے اس وادیِ پُر خار میں قدم رکھا، پھر انھیں حُب دنیا میں ہزار طرح کا خوف و خطر ہے۔ اس مرحلے میں جان کیسی، دین و ایمان کا ضرر ہے۔\n\nان دنوں کہ بار سَے بہتر سنہ ہجری (1272؁ھ) اور مہینہ شعبان کا ہے، مجمع پریشانیوں کے سامان کا ہے۔ یعنی سریر آرائے اریکۂ سلطنت حامل رنج و سفر غربت بعزم لندن ہے۔ شہر میں چھوٹا بڑا مبتلائے مصیبت تختہ مشق جور و محن ہے۔ اس گلزار ہمیشہ بہار میں بہمن و دے کا سامان ہے، ایسا آباد ملک سنسان سراسر ویران ہے۔ دیکھنے والوں کا دل و جگر خون ہوتا ہے، وحشت برستی ہے، جنون ہوتا ہے۔ جناب مولوی محمد یعقوب صاحب کی توجہ سے یہ قصہ یوسف جمال بحسن و خوبیِ کمال چاہِ غفلت سے بے اعانت دلو و رسن بصد جوبن نکل کے یا تو چِھپا تھا اب چَھپا۔ جب یہ زیر و زبر ہوا تب مدنظر ہوا، سب کو عزیز ہوا، عجب چیز ہوا۔ لہذا برادران ہم فن، گرگ باراں دیدہ رونق انجمن جو جو ہیں، ان سے یہ سوال ہے کہ مصنف کی مشقت اور مولوی صاحب کی محنت غور کر کے بنظر اصلاح ملاحظہ ہو تو عین عنایت احسان کمال ہے۔ جس جگہ سہو یا غلطی مقتضائے بشری سے پائیں، بے تکلف اس کو بگاڑ کے بنائیں اور جہاں سے کچھ مزا ملے، کچھ لطف اٹھے، فقرے چُست خاطر خواہ ہوں تو دعائے خیر سے یاد دونوں پُر گناہ ہوں۔ اس قصے کا کہنے والا لکھنؤ کا رہنے والا ناظم نہیں، نثّار نہیں، گو ٹکسال باہر نہیں مگر اس فن سے ماہر نہیں کامل العیار نہیں؛ لیکن جناب مولوی محمد یعقوب صاحب وحید عصر جوانِ صالح گوشہ نشین مرد قانع عزلت گزیں اکل حلال پر ان کی ہمت مصروف بخدا یہ بندہ بہمہ صفت موصوف ہے۔ اسم ایسا فعل ایسے شگرف کرتے ہیں، اسی نحو سے اوقات صرف کرتے ہیں۔ بسکہ فقیر کے حال پر نظر عنایت بمرتبۂ کمال ہے، رطب و یابس جو کچھ کہا ہے اس کے چھاپنے کا خیال ہے۔ یہ اوراق پریشان جو پسند آئے، باہتمام تمام چھپوائے۔\n\nفقط۔\n\nتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%88%D9%81%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA/%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%84%D8%A8%DB%81_%D8%B4%DA%A9%D9%86"} {"title": "شگوفہ محبت/دوسری بار پھر بلا میں مبتلا ہونا", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > شگوفہ محبت", "year": null, "text_ur": "دوسری بار پھر بلا میں مبتلا ہونا اس شیر بیشۂ محبت کا یعنی اس چکارہ نے ہرن بنایا اور باغ سے مثل بہار باہر نکال کے لاکھ طرح کی ایذا میں پھنسایا\n\nفسانہ پردازانِ آہوگیر اس اجل گرفتہ نخچیر کا حال اس طور پر تحریر کرتے ہیں کہ وہ ہزبر کنام وفا چوکڑی بھول کے آفت رسیدہ از خود رمیدہ اس دشت پُر خطر میں سیدھا چل نکلا، تکلے کی طرح بل نکلا۔ حیران و پریشان، درندوں کی گزند سے چھپتا پھرتا تھا۔ بدحواسی کے باعث ہر قدم الجھ کے گرتا تھا۔ دل میں نصیب برگشتہ کی شکایت تھی، بے مہریِ پری زاد کی حکایت تھی کہ ناگاہ ایک گرک کہن سال ہزبر خصال اس کو دور سے نظر آیا۔ خوف کے باعث، ہاتھ پاؤں کانپنے لگے، بدن تھرایا۔ اس نے جو دام میں شکار موٹا تازہ تیار دیکھا، نعمت غیر مترقب سمجھ کے دوڑا۔ شاہزادہ کا خوف سے یہ حال تھا کہ پاؤں زمین نے پکڑ لیے تھے، قدم اٹھانا محال تھا۔ سمجھا پیمانۂ عمر لبریز ہے، یہ دشت صحرائے رستخیز ہے۔ بحسرت آسمان کی طرف سر اٹھا کے رونے لگا، دہشت میں جان کھونے لگا۔ اللہ کی قدرت دیکھیے، بے قضا کوئی مرتا نہیں، توپ کا گولہ اثر کرتا نہیں؂\n\nاگر تیغ عالم بجنبد زجای\n\nنبرّد رگی تا نخواہد خدای\n\nجس دم بھیڑیا اس کے نزدیک پہنچا، دفعۃً کوئی شاہزادۂ عالی تبار بشوق شکار گھوڑا ہوا کی طرح اڑائے باگ اٹھائے چلا آتا تھا۔ یہ ماجرا اسے جو نظر آیا، بندوق دو نالی غضب کی بھری، بھیڑیے پر خالی کی۔ ماتھے پر گولی پڑی، دُم توڑ کے نکل گئی۔ بھیڑیا تو فی النار ہوا، ہرن سے دو چار ہوا۔ اس نے جو اس بلا سے رہائی پائی، گھوڑے کے گرد پھر کے رکاب پر سر دھرنے لگا۔ منت کے اشارے کرنے لگا۔ شاہزادہ ششدر و حیران اس کی حرکتیں دیکھ رہا تھا کہ ملازمان ہمراہی ڈھونڈھتے ہوئے آ پہنچے۔ انھوں نے چاہا کہ ہرن کو پابند حلقۂ رسن کریں، شاہزادہ نے منع کیا۔ وہ گرفتار دام احسان گھوڑے کے پاس کھڑا ہوگیا۔ سب کو اچنبھا ہوا کہ ایسا وحشی جانور کیونکر رام ہوا، عجب کا مقام ہوا۔ جس دم شاہزادہ نے گھوڑا وہاں سے بڑھایا، پیچھے پیچھے ہرن بھی چلا آیا۔ دن زیادہ آ چکا تھا، شکار کا لطف اٹھا چکا تھا۔ درِ دولت کی طرف باگ موڑی، اس جانور نے رفاقت نہ چھوڑی۔ القصہ محل سرا میں داخل ہوا۔ ہرن بے دغدغہ ساتھ رہا۔ شاہزادی یہ نیا سانحہ دیکھ کے بہت خوش ہوئی۔ گود میں بٹھا کے دیر تک پیار کیا۔ اسی دم جواہر نگار پٹہ اس کے گلے میں ڈالا اور سامان تیار کیا۔ جس نے یہ داستان ندرت بیان سُنی، حیرت ہوئی۔ تمام شہر میں شہرت ہوئی۔ اس مصیبت زدہ کی راحت کا بہت کچھ سامان ہوا۔ شوہر سے زیادہ بی بی کو میلان ہوا۔ جب تک ہرن ہمراہ نہ ہوتا، کہیں قدم نہ دھرتی تھی۔ ایک ساعت جدا نہ کرتی تھی۔ کبھی وہ جو فرصت پاتا، خانۂ باغ میں جاتا۔ کسی درخت کے سایہ تلے گاہ سوتا، جو تنہا ہوتا تو روتا۔ ایک روز شاہزادی نے ہرن کی بے قراری گریہ و زاری دیکھ لی۔ پھر تو اس کو کچھ اور ہی خیال آئے۔ وسوسے خفقان کے معین ہوئے، رنگ لائے۔ وزیر زادی کو بلایا، ہرن دکھا کے حال سنایا، فرمایا: غور کر یہ کیا اسرار ہے۔ ذہن لڑتا نہیں، عقل رسا بیکار ہے۔ جانور کو یوں جان کھوتے نہیں دیکھا، کیسا ہی اس پر ستم ہو روتے نہیں دیکھا۔ وزیر زادی آفتِ روزگار بلائے بے درمان ہمہ دان تھی، بہ نگاہ اول تاڑ گئی کہ یہ انسان ہے مگر اس سحر میں پھنسا ہے کہ عقل حیران ہے۔ یہ بھی سامری کی پوتی تھی، شہیال کی نواسی تھی لیکن اس مقدمے میں یہ دقت ہوتی تھی کہ صورت پر بدحواسی تھی۔ القصہ دیر میں جی کو ٹھہرا کے بولی کہ یہ بشر ہے لیکن سحرمیں گرفتار ہے، بڑے زبردست جادوگر کا گناہگار ہے۔ شہزادی نے فرمایا کہ ہم تجھے اس دم کامل جانیں، تیرا علم مانیں کہ اس کو بہیئت اصل بنا دے، اپنے سحر کی طاقت دکھا دے۔ اس نے عرض کی: حضور بھی اس وادی میں قدم مارتی ہیں، بارہا استادی کا دم مارتی ہیں۔ اس میں امتحان ہوتا ہے، دیکھیں تو کس کے ذریعہ سے انسان ہوتا ہے۔ یہ کہہ کے دونوں سحر کرنے لگیں، سامری جمشید کے دم بھرنے لگیں۔ جس جس چیز کا تجربہ تھا، جس پر بڑا اعتماد تھا، جو کچھ دونوں کو یاد تھا، سب کیا، سرِ مو فرق نہ ہوا۔ شاہزادی تو تھک کے بیٹھ رہی، وزیر زادی نے لوٹ کے پرِ پرواز نکالے۔ ایک سمت کو راہی ہوئی۔ وہ جو گنبد ہفتا دور سامری نے عمر بھر میں بنا کے سجدہ گاہِ ساحرانِ جہاں دارالامان اس کا نام رکھا تھا، سحر پر آغاز و انجام رکھا تھا۔ ادھر کی راہ لی۔ عجیب غریب سخت مہیب جا تھی۔ منزلوں تک زمین سحر میں مبتلا تھی۔ چار دریا گرد بہتے تھے۔ جہاں کے ساحر اسی ٹیکری پر رہتے تھے۔ پہلے دریا کا رنگ طلائی تھا، جسر قدرت اس پر آگ کا تھا، سحر کی لاگ کا تھا۔ چالیس دن کی راہ بہت جانکاہ تھی۔ چار چار منزل تک شعلۂ جوالہ آگ کا پرکالہ اڑ کے جاتا تھا، عفریت دیکھ کے خوف کھاتا تھا۔ کنارے پر برج مطلا تخت جواہر نگار بچھا سامری کی تصویر بصد توقیر اس پر جلوہ گر تھی۔ چالیس ہزار ساحر بے ایمان شب و روز اس کا نگہبان تھا، جس نے تصویر کو سجدہ کیا وہ تو پار اتر گیا اور جو تامل ہوا تو وہ خانماں خراب کباب ہوگیا۔ آگے صحرائے ہولناک تھا۔ درندوں کے سوا کوئی جانور وہاں جا نہ سکتا تھا، پرندہ اُڑ کے آ نہ سکتا تھا۔\n\nدوسرا دریائے مروارید تھا، بیضۂ بط سے بڑا، بے حصر و حساب دُرِّ نایاب بہہ رہا تھا اور یاقوت نگار پُل بالکل تھا اس کے کنارے۔ پیارے پیارے الماس کے شہ نشین بفر و تمکین بنے تھے۔ ویسی ہی تصویریں نظر آتی تھیں، برق سے فزوں چمک جاتی تھیں۔ اس کا گذر بیس دن سے بیشتر نہ تھا۔ صحرا بھی گلزار دشت پُر بہار، میوہ دار اشجار، برگ و بارِ گل سے گل پھولے پھلے، نہ خزاں کا خوف نہ باغبان کا دست رس تھا، نہ گذرِ کس و ناکس تھا۔ گلہائے خود رو بصد رنگ و بو ہر سو مہک رہے تھے۔ جانور مست ہو ہو بہک رہے تھے۔\n\nتیسرا دریائے قہر و آفت لہر تیرہ و تار برنگ دل کفار، جس دم تلاطم ہوتا کوسوں سیاہی پھیل جاتی تھی۔ کسی کی شکل نظر نہ آتی تھی۔ اس پر جسرِ غضب پر تعب تھا۔ کروڑوں اژدرِ خونخوار مہیب طویل قامت مار باہم پیچاں، مُنہ سب کے اوپر وا شعلۂ سوزاں نکلتا۔ اسی صورت کا کنارے پر منارہ، اس میں سامری کی ہیئت دھری گرد آگ بھری۔ بارہ منزل کا طول، مہتمم ساحر نامعقول۔ روبرو دشت دل آزار جہاں کے گل بدتر از خار۔ جو اس میں سب سے چھوٹا کانٹا تھا وہ خنجر سے تیز تر چھانٹا تھا۔\n\nچوتھا دریائے آب تھا۔ اس کا نقشہ اوروں سے زیادہ خراب تھا۔ جس دم اس کے کنارے پر قدم رکھا، شور غل پیدا ہوا، پانی آسمان سے مل گیا۔ یہاں جسر تھا نہ پل تھا، گذاری میں شور و غل تھا۔ جوجو سامری جے پال کے وارث تھے، وہ اس کے حارث تھے۔ اس کے جنگل کا عجیب حال تھا، قدم اٹھانا محال تھا۔ جب پاؤں بڑھا کے آگے رکھا، وہ دو قدم پیچھے ہٹ کے پڑا۔ مہینوں راہ چلے جہاں کھڑا ہو وہیں گڑا ہو۔ ان سب کے بعد وہ گنبد ہفتا دور سامری کا گھر تھا، رفیع الشان ہمسر آسمان۔ بروئے ہوا معلق بنا، ستر در، ہر در کے اوپر برج مکلل بدر و جواہر مختلف رنگ یاقوت اور زمرد کی سلین بجائے خشت و سنگ، برجوں میں ساحر غدار ہیئتیں نرالی شکلیں کالی کالی، کسی کا شیر کا منہ، جسم انسان کا، کسی کے دس بارہ سر دھڑ حیوان کا، کوئی فیل دندان، کسی کا پتلا کر گدنکا، کوئی دیو پیکر، کوئی فولاد بدن کا، کوئی اژدر دہاں شرر افشاں۔ لاکھ ساحر ایک ایک کے تحت فرمان، زمین پر سر بسجود اپنا معبود جانتا، ستر لاکھ کا جمگٹھا۔ برج کے بیچ میں صندوق بے سہارے، اس میں سامری کی نعش، سب کا نام لے کے پکارے۔ دن کو بارہ سورج گنبد کے گرد پھرتے، سرِ شام صندوق کے روبرو سجدے کو گرتے اور رات کو چودہ چاند چار سمت گھومتے۔ دم سحر گرد پھر کر صندوق کو چومتے، ہزارہا ستارہ صندوق سے رات بھر چھوٹتا۔ صبح تک تار نہ ٹوٹتا اور جو کچھ سوال کرو، عرض حال کرو، صندوق سے جواب ملے۔ کھانےکو کباب، پینے کو شراب ملے۔ ہزارہا جادوگرنیوں کے غول، ساحروں سے جدا۔ کیسی کیسی کھپّاٹ پرانی لکّا تا بشر کا گذر ایسے مکان پر خاک ہو جہاں کی زمین ہولناک ہمسر افلاک ہو۔\n\nالقصہ وزیرزادی بے ایمان پران وہاں پہنچی، صندوق کے سامنے سجدہ کیا۔ ایک کروڑ چالیس لاکھ زن و مرد سے سامری کی جے کا غلغلہ مچا، گوشِ فلک کرّ ہوا، چار جانب سے جب ہرہر ہوا، پھر اس نے اپنا مطلب بعجز و نیاز بلند آواز سے کہا۔ دفعۃً ہزارہا گھنٹے جو لٹک رہے تھے، ہوا پر اٹک رہے تھے، بے مدد چوب و دست بجنے لگے۔ کوس و کور گرجنے لگے۔ دو گھڑی کے بعد وہ چپ ہوئے۔ صندوق سے صدا نکلی کہ وہ جو آہوئے حرم درِ بیت الصنم پر مقیم ہے، اس کے پاس جا۔ مطلب سے تیری وہ ماہر ہے۔ سب حقیقت ہماری عنایت سے اس پر ظاہر ہے۔ اگر زبان اس کی ہل جائے گی، تیری تمنا پوری ہوگی، مراد مل جائے گی۔ یہ بتخانے کے در پر حاضر ہوئی۔ دیکھا جواہر نگار کرسی پر ایک ساحر بیٹھا ہے، ہزارہا خادم سر بسجود روبرو موجود ہیں، جسم انسانی چہرہ ہرن کا ہے، سینگ ہر ایک سیکڑوں من کا ہے اور کئی ہزار بے دین اسی شکل و آئین کا چپ و راست کھڑا ہے۔ سینگ سب کے سر پر بڑا بڑا ہے۔ اس نے جھک کے سلام کیا۔ رعب کے باعث اور نہ کلام کیا۔ وہ بولا: نہال قدرت کے تلے اکیس دن گن گن پوجا کر، مطلب حصول ہوگا، عنایت کوئی شاخ یا پھول ہوگا۔ وزیرزادی نے زیر درخت جا، چوکا دے کے سیندور کا ٹیکا لگایا۔ پوجے کو سر جھکایا۔ یا جس دم مدت تمام ہوئی، تڑاکے کی آواز سرِ شام ہوئی۔ باجوں کی صدا آنے لگی۔ پتے پتے درخت کے “یا سامری” کا شور و غل مچانے لگے۔ پھر ایک ٹہنی ڈالی سے ٹوٹ کے درخت سے چھوٹ کے اس کی گود میں گری۔ سات بار اس کے گرد پھری، پھر اس کو لے کے صندوق کے روبرو آئی۔ سجدہ جو کیا، وہی ہنگامہ بپا ہوا اور آواز نکلی: ہمارا لطف تیرا مددگار ہوا، تجھ کو کس قدر افتخار ہوا۔ شجر قدرت کی شاخ عنایت ہوئی، بڑی حمایت ہوئی۔ گو یہ بے برگ و ثمر ہے، مگر ہزار طرح کا اس میں اثر ہے۔ جو بات تیری زبان پر آئے گی، یہ بجا لائے گی۔ یہ رخصت لے کے چلی۔ اس سوکھی ٹہنی کے ملنے سے پھولی نہ سماتی تھی۔ برق و باد سے تیز خیز کر کے گھر کی طرف اڑتی آتی تھی۔ وہ سالہائے دراز کی راہ چند شام و پگاہ میں طے کر کے گھر پہنچی۔ اسی دم شاہزادی کو داخلہ کی خبر پہنچی۔ فوراً سامنے بُلایا، مشتاقانہ گلے لگایا۔ وہاں کا حال جانے کا مآل پوچھا۔ اس نے عرض کی جو شے آج تک بڑے بڑے مقربوں نے نہیں پائی ہے، سامری کی سرکار سے تابعدار لائی ہے۔ دوسرے دن اسی گلستان میں اس کا امتحان ہوا۔ لکڑی کا لگانا بہانہ ہوا، فوراً شاہزادہ انسان ہوا۔ لیکن پناہ بخدا برقِ جمال شاہزادہ خوش خصال یکایک جو چمک گئی، دونوں کی آنکھ جھپک گئی۔ ہوش حواس باختہ یک گز دو فاختہ کا طور ہوا۔ نقشہ ہی کچھ اور ہوا۔ شہزادی دل میں سوچنے لگی اس کو کہاں چھپائیے۔ وزیر زادی نے چاہا اپنے گھر لے جائیے۔ ایک بے قرار دوسری لوٹ پوٹ تھی۔ دونوں کے دل پر چوٹ تھی۔ مصلحت وقت یہ ہوئی کہ وزیر زادی ہی اس کو چندے پوشیدہ رکھے۔ اگر شاہزادہ برسرِ تلاش ہوگا تو یہ راز فاش ہوگا۔\n\nغرض کہ یہ گرفتار مصیبت وزیر زادی کے گھر میں صبح و شام آرام سے رہنے لگا۔ شاہزادی نے اپنے شوہر سے اسی دن کہا، آج سانحہ عجائب ہوگیا۔ وہ ہرن سامنے بیٹھا تھا، دفعۃً غائب ہوگیا۔ رنڈی کے مکر سے خدا کی پناہ، اس کا کلام گواہ ہے ان کیدکُن عظیم۔ وہ شاہزادہ مرد سادہ تھا، کہنے لگا: ہرن کی صورت میں فریب ہوتا ہے، بیشتر اس میں آسیب ہوتا ہے۔ اس کو دم میں ٹال دیا، تجسس کا خدشہ نکال دیا۔ مگر پوشیدہ ملاقاتیں محبت کی باتیں ہونے لگیں۔ لیکن شہزادہ کو باوجود رہائی فرقت کا سخت ملال تھا۔ ہر دم پری زاد کا خیال تھا، رخصت کا سوال تھا۔ وزیر زادی بھی فریفتہ تھی، مرتی تھی، وہ اپنا ہی احسان ہر آن ثابت کرتی تھی۔ یہ بیچارہ گرفتار دام وہاں دو ملّا میں مرغی حرام، ایک کو فکر تھی شراب پلائیے مزے میں لائیے، دوسری چاہتی تھی کچا نگل جائیے۔ شہزادی وزیر زادی کے لگاؤ سے ہر وقت نکھرے رہنے سے ہر دم کے بناؤ سے بگڑ گئی۔ باہم جلی کٹی ہونے لگی۔ صحبت کا ڈھنگ بگڑا، نزاع واقع ہوئی۔ طبیعتوں کا رنگ بگڑا، ایک روز باہم لڑائی سحرآزمانی ہوئی۔ وزیر زادی کی فتح شہزادی کی صفائی ہوئی۔ جب وہ مر چکی، یہ میدان صاف کر چکی۔ روز عالم تنہائی بادہ پیمائی ہونے لگی۔ شہزادہ نے یہ جنگ و جدال قتل و قمع کا حال بغور دیکھا تھا، وزیر زادی کا ظلم و جور دیکھا تھا، خوف جان سے اس بے ایمان سے دب گیا، جو جو اس نے چاہا وہ کام اس نے کیا۔ ایک دن برسبیل مذکور اپنی رہائی کی حکایت پوچھی، وزیر زادی نے چاہا کہ اپنا احسان صاف بیان کیجیے، گھٹا بڑھا وہ قصہ آمد و رفت کا مشروحاً کہہ دیا۔ شہزادے نے کہا: وہ شاخ جس کے یہ شاخسانے ہیں گو فائدہ کیا ہے لیکن دیکھنے کی تمنا ہے۔ جس دم طبیعت کا لگاؤ ہوتا ہے اور جی آ جاتا ہے تو معشوق سے کوئی چیز نہیں چھپاتا ہے ؂\n\nاے دوست اگر جان طلبی جان بتو بخشم\n\nاز جان چہ عزیز ست بگو آن بتو بخشم\n\nیہ روبرو لا کے وہ ٹہنی دکھائی۔ شہزادے نے کہا: کچھ نہ ایسی صورت ہے نہ جمال ہے، یقین نہیں ہوتا کہ اس میں ایسا کمال ہے۔ جب دل کسی پر آتا ہے تو عقل کا شعور اڑ جاتا ہے۔ وزیر زادی انجام کار نہ سوچی، برسرِ امتحان اسی آن ہو گئی، کسی پھل کو جانور کسی درخت کو پتھر بنا دیا۔ شہزادے نے دل میں کہا کہ یہ قحبہ تو بدتمیز ہے لیکن یہ شاخ نایاب چیز ہے۔ ٹہنی ہاتھ میں لے کے بنظر غور دیکھنے لگا اور سوچا کہ جب تک یہ بے ایمان ظاہر کی دوست دشمن جان زندہ ہے رہائی معلوم، اپنے دلبر تک رسائی معلوم۔ یہ ظالم شہزادی کو قتل کر چکی، بے گناہ کے خون سے ہاتھ بھر چکی۔ تمھاری محبت سے منہ نہ موڑے گی، جیتے جی ساتھ نہ چھوڑے گی۔ دو امروں سے ایک کام کرو یا اس کو ذبح کرو یا اپنی جان دو، قتل الموذی قبل الایذا کیا نہیں سُنا۔ اگر ناکامی میں مر گئے لطف کیا۔ غریب الوطن ہوئے، بے گور و کفن ہوئے۔ موقع خوب ہے، دیر نہ کرو۔ بسم اللہ یہ سوچ کے وہ شاخ وزیر زادی کے بدن سے لگا بآواز بلند کہا: فوراً باغ سے باہر نکل جا اور جل جا۔ جل جلالہ کہتے ہی ایک شعلہ تھا کہ چمن سے نکل گیا، راکھ کا تودہ رہ گیا۔ روح کی بکھیڑا بدن سے نکل گیا۔\n\nیہ ماجرا دیکھ کے بہت مسرور ہوا، قید بند کا خدشہ دور ہوا۔ عمدہ جواہر جسم پر سجا، پھر ٹہنی پر عندلیب وار بیٹھ کر کہا: مجھ کو پری زاد کے باغ تک پہنچا۔ بچشم زدن سن سن کے صدا سنی اور باخاطر شگفتہ درِ باغ نظر آیا۔ مثل فصل بہار بے تکلف اندر آیا۔ شاخ کو پوشیدہ کر کے دلبر کو ڈھونڈھا۔ حوض پر مصروف تماشا پایا۔ دور سے آواز دی۔ اس نے پھر کے جو دیکھا، خود بخود محجوب ہو کے گھبرائی، پھر یہ سوچی وہ کون سا کامل اس کے رنج میں شامل ہوا جو اس کو پھر انسان بنایا، ہمارا کھیل بگاڑا، ایسا سامان بنایا۔ پہلے تو جھچک کے لجالو کی طرح سمٹ گئی، پھر کچھ بن نہ آیا، مجبور لپٹ گئی۔ ہاتھ پکڑ کر بنگلے میں لے گئی۔ مسند پر بٹھایا، جو محرم راز تھیں دمساز تھیں، ان کو طلب کیا۔ جلسے کا سامان منگایا، حسب حکم اسی دم گائنیں خوش گلو مع شراب پرتگالی اور جام و سبو موجود ہوئیں۔ طبلے پر تھاپ دی، ساقی نے پیالی لبریز کی، قتل کو چُھری تیز کی۔ دو چار گیلاس میں نشہ جم گیا۔ جوش بادۂ گلرنگ جوانی کی ترنگ نے پینگ بڑھائی، لڑکھڑاتے ہوئے دونوں پلنگ پر آئے۔ وصل کا زمانہ نصیب ہوا۔ بے حجابی کا وقت قریب ہوا، ہاتھا پائی ہونے لگی۔ پری زاد اگلی باتیں یاد دلا کے رونے لگی۔ کہا تم انھیں ہت کھنڈوں پر آئے جن کا انجام بُرا ہے، مزاج کیسا ہے۔ شہزادہ کو کبوتر اور ہرن بنانا، وہ رنج و ستم تنہائی میں اٹھانا یاد جو آیا، دل سے کہا: ان باتوں کا عوض ضرور ہو۔ وہی شاخ اس کے بدن پر لگا کے کہا: او کُتیا دور ہو۔ اس کلمے کا زبان پر آنا تھا، وہ پلنگ پر گر کے کتیا ہو گئی۔ ہر طرف بھونکتی پھرتی تھی۔ اور بار بار بعجز و انکسار شاہزادہ کے پاؤں پر گرتی تھی۔ یہ عمداً ٹال بال کرتا تھا، مطلق نہ خیال کرتا تھا۔ جتنی اس کی مصاحب جلیس تھیں، اس حال سے مطلع ہوئیں۔ شہزادہ کی منت کرنے لگیں، پاؤں پر رو رو کر سر دھرنے لگیں۔ کہا جس کو معشوق بنایا، خود بگڑے، رنج اٹھایا، اس کا ایسا حال کرتے ہیں، یہ فرقہ ناقص عقل مشہور ہے۔ مرد اس کی بُرائی کا بھلا خیال کر تے ہیں۔ شہزادہ نے جواب دیا کہ دو بار اس نے مجھ سے دغا کی۔ میں نے اس کی کیا خطا کی۔ دنیا کا یہی رنگ ڈھنگ ہے۔ کلوخ انداز کی پاداش سنگ ہے۔\n\nالغرض ایک ہفتہ اس ماہ دو ہفتہ پر یوں میں گذرا۔ ہر چند سب نے اس کے سامنے سب طرح کا کھانا چُنا، مگر اس نے رخ نہ کیا، سر دُھنا۔ جب ضعف و نقاہت سے حال درہم و برہم اور سب کی خوشامد سے شہزادے کا غصہ کم ہوا، دل ہر ساعت بے قرار تھا، اس ہیئت کذائی سے اُس کا سامنے آنا ناگوار تھا۔ جی گھبرایا، خوف خدا نے ڈرایا، یہ کج ادائی بیوفائی رنڈی پر ختم ہے، جب بگڑتی ہے، جان کی دشمن بنتی ہے۔ ایسی دل میں ٹھنتی ہے، شرم و حیا، مہر و وفا سے منہ موڑتی ہے۔ بن جان لیے پیچھا نہیں چھوڑتی ہے۔ ایک وزیر زادی اس کی بہت حسین آفت روزگار مہ جبین طرار عیار تھی۔ اس نے یہ کام کیا کہ سلیمان علیہ السلام کو ضامن دے کے یہ عہد و پیمان کیا کہ تمام عمر یہ آپ سے فریب و دغا نہ کرے گی، جو کہو گے بجا لائے گی۔ اطاعت سے سر نہ پھرائے گی، کسی کام میں انکار بخدا نہ کرے گی۔ شاہزادہ دل سے راضی تھا۔ سہو محو قصۂ ماضی تھا۔ فرمایا: گو وہ بدتمیز ہے، مگر مجھ کو تیری خاطر عزیز ہے، لے آ۔ وہ گود میں اٹھا کے روبرو لائی۔ شاہزادہ نے وہ ٹہنی اُس کے بدن پر لگائی، کہا: بقدرت خدا جیسی تھی ویسی ہی ہو جا۔ اسی دم وہ حامل غم اصلی صورت پر آ گئی لیکن آنکھ شرما گئی۔ تمام باغ میں ہر ایک گلرو غنچہ دہاں مبارک سلامت کا غل مچانے لگی۔ کوئی گانے کوئی بجانے لگی۔ ناچنے گانے کا سامان اسی آن موجود ہوا۔ شراب ناب کا جام گردش میں آیا۔ ہر ایک نے پیا کھایا۔ گذری باتوں کا، ہجر کی راتوں کا شہزادہ بیان کرنے لگا۔ اپنی مصیبتوں کا دھیان کرنے لگا۔ ابھی طرفین کے قصے پورے نہ ہونے پائے تھے، نہ کچھ صحبت کا لطف اٹھایا، نہ پلنگ پر آئے تھے، یکایک بروئے ہوا ایک تخت دیکھا، جلسہ برہم ہوا۔ ہر شخص گھبرا کے اسے دیکھنے لگا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%88%D9%81%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA/%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "شگوفہ محبت/روانہ ہونا آذر شاہ کا شوکت و شان سے", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > شگوفہ محبت", "year": null, "text_ur": "روانہ ہونا آذر شاہ کا شوکت و شان سے،\nجلو میں فوج و سپاہ، گِرد ترقی خواہ بڑے تزک اور سامان سے\n\nقصہ کوتاہ سب مرحلے طے کر کے جس دم چین کی سرحد میں لشکر کا گذر ہوا، آمادۂ کار براری سرگرم خدمت گزاری ہر جگہ کا اہلکار ہوا۔ القصہ کوہ و دشت بلند و پست طے کر کے بیت السلطنت کے متصل خیام ذوی الاحترم نصب ہوئے۔ آمد کا غلغلہ ساکنانِ شہر کے گوش زد ہوا، چھوٹا بڑا مسرور از حد ہوا۔ وزیر اعظم بصد جاہ و حشم مقربان بارگاہِ آسمان جاہ کو ہمراہ لے کے حاضر ہوا۔ دست بستہ سب نے نذر دی، ملازمت کی سعادت حاصل کی اور بادشاہ کا تشریف نہ لانا بموجب رسم زمانہ عرض کیا۔ رات اسی جگہ گذری۔ بڑے تکلف سے تمام لشکر کی دعوت کی۔ دمِ سحر وزیر شاہ کو شہر میں لایا۔ مکاناتِ مرتفع عالی سجے سجائے ان کے واسطے خالی ہوئے تھے، رہنے کو وہ مقام ملا، رنج و سفر سے آرام ملا۔ کچھ دنوں میں تعب راہ سے، حرجِ شام و پگاہ سے فرصت پائی۔ ساچق منہدی برات کی رات آئی۔ اگر اس کا بیان قلیل ہو، داستان طول طویل ہو۔ موافق آئین شاہان نامدار بڑے عز وقار سے شادی ہو گئی، مشتاق کی خانہ آبادی ہو گئی۔ کچھ دن بہر کیف راحت اور آرام میں بسر ہوئے، جلسے ہمدگر ہوئے۔ بعذر انتظامی شہر مملکت کی نفع و ضرر میں مصلحت سفر میں دیکھی۔ رخصت کا پیام ہوا، سامان سب مہیا ہوا، چلنے کا اہتمام ہوا۔ دم رخصت فرماں روائے چین نے اس قدر مال و اسباب، نقد و جنس، سیم و زر، الماس و گہر اُس رقم خاص کے سوا اور ایسا کچھ دیا کہ چشم ہمت آذر شاہ نے اس سے پہلے نہ دیکھا تھا۔ صدہا غلام زریں کمر، ہزاروں لونڈیاں گل اندام یاسمین پیکر سمن رخ کی خدمت کو دے کر بادیدہ تر وداع کیا۔ اس سانحہ کی خبر شہروں میں جو دور تر تھے، گھر گھر پہنچی۔ غرض کہ روز و شب قطع راہ بسان خورشید و ماہ آذر شاہ نے کی۔ بعد چندے بوئے وطن دماغ میں آئی، فلک نے اپنے شہر کی صورت دکھائی۔ مطلب دلی حاصل ہوا، مع الخیر شہر میں داخل ہوا، در باری سے بازاری تک مسرور دیکھا۔ دل سب کا شاد ہوا، از سر نو اتنا پرانا شہر آباد ہوا۔ جان نثار اور ترقی خواہوں نے اپنے حوصلے سے افزوں جلسے کیے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%88%D9%81%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA/%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%A2%D8%B0%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%D9%88%DA%A9%D8%AA_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92"} {"title": "شگوفہ محبت/سبب تالیف اس قصے لاثانی کی", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > شگوفہ محبت", "year": null, "text_ur": "سبب تالیف اس قصے لاثانی کی، لکھنے کی وجہ اس کہانی کی\n\nمتوقع عنایت، امیدوار رحمت رب غفور مرزا رجب علی تخلص سرورؔ ناظرین پر تمکین سامعانِ باریک بین کی خدمت میں عرض پیرا ہے کہ نامساعدت بخت اور نیرنگیِ زمانہ سے نہ عربی میں دخل ہوا نہ فارسی میں کامل ہوا، دونوں سے ناآشنا رہا، ایک کا بھی علم نہ حاصل ہوا۔ پست ہمتی سے اردو کے لکھنے میں اوقات بسر کی، تردد کی شام سحر کی۔ کچھ دن نظم کا انتظام رہا، شعر کہنے کا خیال خام رہا۔ جب وہ بھی نہ ہو سکا، نثر کی طرف خیال آیا۔ اس کو اُس سے زیادہ مشکل پایا۔ چنانچہ فسانۂ عجائب کہ قصۂ جان عالم ہے بہت مطبوع ساکنان عالم ہے بموجب مثل ؏\n\nقبولِ خاطر و لطفِ سخن خدا داد ست\n\nاور تحریر ثانی حسب ارشاد ہدایت بنیاد حضرت ظل سبحانی سرور سلطانی ہے۔ یہ بھی ہر شخص کو پسند ہے، جو سنجیدہ فہمیدہ ہے اس کا خواہشمند ہے اور چند حکایات مختصر و طویل سامع قاری ان سے بھی ملول نہیں۔ جب ان تحریروں سے فرصت پا چکا تو قضیہ اتفاقیہ درپیش ہوا۔ ایک شفیق کہ مجمع صفات ان کی ذات ہے، جوان حسین رعنا، جرات میں یکتا، غیور ذی شعور، جوہر شناش قاعدہ دان ہیں، قوم کے رئیس ہیں، نام نامی امجد علی خان ہے، ان کے حسب و نسب سے آگاہ جہان ہے۔ شگفتہ خاطر دل شاد، ساکن سنڈیلہ ملیح آباد۔ جتنا کام اس ملک میں مشکل ہے وہ مالی ہے۔ خدا کی عنایت سے اس میں طبیعت کو رسائی ہے ، نہایت ذہن عالی ہے۔ ہمیشہ عمالان سرکار ابد قرار میں وثوق و اعتبار رہا ہے ، نظامت کے انتظام پر بلا جبر اختیار رہا ہے۔ راقم کے حال پر بہت نظر عنایت ہے، منظور سب طرح کی رعایت ہے۔ ایک قصہ مہر چند کھتری کا لکھا جو ان کی نظر سے گذرا، اکثر مضمون اس کا پسندِ خاطر ہوا۔ لیکن وہ بیان اور زبان گذشتہ یعنی تقویم پارینہ ہے۔ اب جو ہندی کی چندی ہوئی ہے اس سے سراسر خالی تھا، روزمرہ محاورہ لاوبالی تھا۔ فقیر نے باعث رغبت خان والا شان اُس داستان کی جان جو کہ مطبوع طبع اُس نکتہ دان کی تھی نکال لی، خوگیر کی بھرتی اُچھال دی۔ غالب کہ منظور نظر اہل بصر ہو اور اس کا مطالعہ مدنظر ہو۔ حظ اٹھائیں یا کچھ لطف پائیں تو گنہگار کو دعائے خیر سے بھول نہ جائیں، یاد فرمائیں۔ اگرچہ پڑھنے لکھنے والے کم نہ ہوں گے، تاسف اتنا ہے کہ ہم نہ ہوں گے۔ قصہ اگر پسند آئے گا تو مشہور ہوگا، ہمارا ذکر ضرور ہوگا۔ اس وقت سہو اور غلطی معاف کر کے، طبیعت کدورت سے صاف کر کے بنظر انصاف جو صاحب اوصاف کلام سرور سے مسرور ہو تو اتنا کلمہ فرمائیے کہ عاصی غلامان حسینؑ کے ہمراہ محشور ہو۔ نہ فردوسی رہا نہ خاقانی، نہ عرفی نہ سعدی ہے۔ شہرۂ آفاق اس سرا کی سراسر بے بنیادی ہے۔ ہزاروں جنگل ایک دم میں آباد ہو گئے، لاکھوں بسے بسائے شہر اس عالم میں برباد ہو گئے۔ شادی کیسی، بڑا غم تو یہ ہے کہ دوام غم نہیں رہتا، ایک وضع پر طرز عالم نہیں رہتا۔ عجیب و غریب یہاں کا لیکھا ہے، ایک کا جنازہ چار کے کندھے پر دیکھا ہے۔ ہر چند اس کی بھی کس کو امید ہے مگر جس کا نام یہاں بہ نیکی رہ گیا ہے وہ ہی زندۂ جاوید ہے۔ دنیا میں سخت جانی سے کڑی نرم سب سہہ جاتا ہے، عالم اسباب کا اسباب سب چھوٹتا ہے۔ غیر مزے لوٹتا ہے لیکن نام نیک ہو یا بد وہ رہ جاتا ہے۔ نہ کچھ ساتھ لاتا ہے نہ لے جاتا ہے۔ جیسا عمل سرزد ہوتا ہے اس کی جزا پاتا ہے؂\n\nقلم بشکن سیاہی ریز کاغذ سوز دم درکش\n\nحسن ایں قصۂ عشق ست در دفتر نمی گنجد\n\nخدا کی عنایت سے آغاز اس کا خوب ہوا، بخیر انجام ہے۔ “شگوفۂ محبت” اس کا نام ہے۔ امیدوار پروردگار سے ہے کہ جب یہ داستان تمام ہو، مقبول خاص و عام ہو۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%88%D9%81%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA/%D8%B3%D8%A8%D8%A8_%D8%AA%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%81_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%B5%DB%92_%D9%84%D8%A7%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "شگوفہ محبت/سرو ناز کا آنا", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > شگوفہ محبت", "year": null, "text_ur": "سرو ناز کا آنا، پیغامِ طلب شاہزادے کو سنانا، بصد تکرار شاہزادہ کو لے کے پرستان میں جانا، صحبت برات کی کیفیت دن رات کی اور ملاقات سلطان پردۂ قاف کی\n\nسیاحانِ اقلیم معانی کے طے کرنے والے، مرحلۂ خوش بیانی کے افسانہ خواں، فسوں پرداز، حاکیانِ ممتاز بیان کرتے ہیں: تخت ہوا پر جو آیا، سب نے خوف کھایا، عین کُریال میں غلہ لگا۔ جس دم زمین پر اتر آیا، سب کو سرو ناز کا منہ نظر آیا۔ دوسرے وزیر زادی بہت مغرور، سراپا ناز و انداز ہے، نام سرو ناز ہے۔ ہنوز گل رخسار صدمۂ منقارِ بلبل سے بری، ہزار طرح کی شوخی چالاکی طبیعت میں بھری۔ پہلے آداب بجا لائی، نامہ ہاتھ پر رکھ کے قریب آئی۔ پری زاد نے اٹھ کے گلے سے لگایا، مسند کے قریب تر بٹھایا۔ پوچھا بے اطلاع آنا خیر ہے۔ عرض کی شادی کی کیفیت بڑی سیر ہے۔ شاہزادہ ماہ رخ جو حضور کا بھائی ہے، اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی قسم کھائی ہے۔ اگر جلسے کی شریک آپ نہ ہوئیں تو یہ شادی نہ رچے گی۔ سامان برہم ہوگا، شادی میں غم ہوگا، قیامت مچے گی۔ آپ کو سب نے بلایا ہے، میں نے لے آنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ میری سرخروئی حضور کے ہاتھ ہے، لونڈی قدموں کے ساتھ ہے۔ یہ بھی ہمجولیوں سے کہہ آئی ہوں اگر نہ آئیں گی، میں بھی نہ آؤں گی۔ پرستان میں کسی کو صورت نہ دکھاؤں گی۔ مصلحت یہی ہے کہ اپنے بلانے کو لونڈی کے آنے کو بہت غنیمت سمجھو۔ شادی کی صحبت میں اپنے بیگانے جمع ہیں۔ شراکت کرو، کس نیند میں سوتی ہو۔ یہ خبر بھی سرکار کو معلوم ہے کہ آج کل آپ کی بدوضعی کی پرستان میں دھوم ہے۔ شکر کا موقع اب ہے کہ اس پر بخواہش آپ کی طلب ہے۔ پری زاد نے کہا: میں تو جان پر کھیل چکی ہوں، بہت پاپڑ بیل چکی ہوں۔ خدا کی چوری نہیں تو بندوں سے کیا ڈرنا ہے، آخرش ایک دن مرنا ہے۔ ایک جان ہے، بندہ لے یا خدا لے گا۔ حلوا خاتون نہیں ہوں جو کوئی کھا لے گا۔ میں تیرے ہمراہ ہوں، الّا شرط یہ ہے کہ شاہزادہ میرے ساتھ چلے گا۔ اگر اس کو دیکھ کے کوئی جلے گا تو میں نہ خیال بد نہ نیک کروں گی، اپنی اور اس کی جان ایک کروں گی۔ اماں جان کے نالے آسمان پر پہنچیں گے، ہاتھ مل کے رہ جائیں گے۔ خون کی ندیاں پرستان کی سر زمین میں بہہ جائیں گی۔ اس نے عرض کی: بہت خوب! شب کو جو مصلحت ٹھہرے گی، وہ عمل میں آئے گی۔ آپ کی خوشی بہرکیف ہو جائے گی۔ دیر تک ناچ گانا رہا۔ دستر خوان بچھا، جب کھانے سے فرصت پائی، دونوں وزیر زادیاں شہزادی کو جدا لے گئیں۔ یہ بات سمجھائی کہ سر و ناز یہاں سے جا کے جدا محل سرا آپ کے واسطے سجوا کے شہزادہ کا آپ کے ہمراہ آنا جناب بیگم صاحبہ سے کسی قالب میں بیان کر کے ان کی اجازت لے، ورنہ خلاف مرضی ان کی یہ کام کرنا آپ کے دشمنوں کو سب میں بدنام کرنا ہے۔ سوچیے تو شاہزادے کی شادی ہے۔ سارا پرستان مہمان، صحبت بے تکلفانہ ہے۔ جلسے میں شریک اپنا بیگانہ ہے، دبی ہوئی آگ بھڑکانا ہے۔ غرض کہ یہ بھی سمجھ گئی۔\n\nدم سحر سر و ناز رو بپرواز ہوئی، یہاں سفر کی تیاری ہونے لگی۔ جس دم سر و ناز تن تنہا داخل ہوئی، سب کو خلجان ہوا۔ الجھن حاصل ہوئی۔ علی الخصوص اس کی ماں کو سخت ہراس ہوا۔ نہ آنے سے لاکھ طرح کا وسواس ہوا۔ دل سے کہا اب یہ پردہ کُھل جائے گا، دیکھیے فلک کیا رنگ دکھائے گا۔ سر و ناز کو تنہا خلوت کے مکان میں بلایا، اس نے ہو بہو سب قصہ سنایا کہ واقعی ایک شہزادۂ والا نژاد غیرت صد پری زاد وہاں موجود ہے۔ اس کی جاہ و جلال، حسن و جمال کی صفت جب تک نظر سے نہ گذرے بے سود ہے۔ اس صورت کا پری پیکر جوان انسان تو کیا قوم بنی جان میں نظر سے نہیں گذرا۔ شاید وہ یہاں آ گیا تو دیکھیے گا، ناظرین کا جو حال ہوگا، بہتوں کو جینا وبال ہوگا۔ اولاد کی محبت مخصوص بیٹی کی الفت ماں کو بہت ہوتی ہے اور یہی شے عقل کھوتی ہے۔ کہنے لگی: خیر جو ہو سو ہو، باغ میں جو بارہ دری ہے، اس میں لا کے اتارو۔ ہم بھی تو دیکھ لیں، انسان کیا چیز ہوتے ہیں، یہ لوگ بیہودہ ہیں یا باتمیز ہوتے ہیں۔ فوراً بموجب ایمائے ملکہ حسب حکم سر و ناز کار پرداز حاضر ہوئے۔ وہی باغ اور بارہ دری جس میں شہزادی نے پرورش پائی تھی، سنما سے سبک دست کاری گروں نے سالہائے دراز میں بنائی تھی اور گلزار جہاں سے درخت چن کے تحفہ و نادر لگائے تھے، ایک عالم کو اُس کی تیاری پر رشک آئے تھے، فوراً سج سجا کے دُلہن کی صورت بنا کےآمد کی منتظر ہوئی۔\n\nدوسرے روز سر و ناز باسامان و ساز روانہ ہوئی۔ پری زاد کو اور اس بوستان سلطنت کے شمشاد کو اسی باغ سراپا بہار میں اتارا ، گویا معرکہ مارا۔ پری زاد نے شہزادہ کو خلعت شاہانہ اور جواہرات جو نادر زمانہ تھے، ان سے آراستہ کیا۔ قتالِ عالم بنایا، تخت مرصع کار پر بعز و وقار بٹھایا۔ مقربان خاص حاضر ہو کے نذریں دینےلگے، خلعت و انعام لینے لگے۔ بعد مدت وہ ماہ طلعت تشریف لائی تھی۔ ہوا خواہ اوڑ لاگے مصاحبوں کی بن آئی تھی، مگر جو رو برو نذر لایا، اس نے شہزادہ کو بتایا۔ جس نے پھر کر نذر دی، اسی طرف ٹکٹکی لگ گئی۔ جل جلالہ حسن خوب عجب جنس مرغوب ہے۔ دوست کیا دشمن دیوانہ ہوتا ہے۔ دل سے نثار پروانہ وار اپنا بیگانہ ہوتا ہے۔ غرض کہ قوم بنی جان میں شدہ شدہ کل پرستان میں دھوم مچی لیس کمثله۔ یہاں تک کہ پری زاد کے باپ اور بھائی کو اُس کی رعنائی کی خبر پہنچی۔ بسکہ اس کے بھائی کی زیبائی کی اور جرأت و صولت کی شہرت تھی، اسی کی برات تھی اور طاقت میں بھی ثانی رستم تھا۔ دوسرا پرستان میں کم تھا۔ اس کو تو اپنی یکتائی کا خیال تھا۔ باپ سے اجازت خواہ ہوا کہ اگر ارشاد ہو غلام اس کو جا کے دیکھے، امتحان کرے۔ ہمارا رعب و جلال اسے کچھ نہ ہوا، بے تکلف یہاں چلا آیا۔ بادشاہ نے فرمایا: کیا ضرور وہ مجبور ہے، اسے تو وہ بدبخت لائی ہے۔ یہ قضا آئی ہے۔ ایسا نہ ہو کچھ شور و شر ہو، مسافر کشی کی پرستان میں خبر ہو جانے میں نفع کیسا، آبرو کا ضرر ہے۔ یہ فتح شکست سے بدتر ہے۔ اس نے باپ کا کہنا نہ مانا۔ مسلح ہو کے باغ کو روانہ ہوا۔ یہاں یہ خبر پہنچی کہ ماہ رخ تمھارا بھائی باسباب ظاہر ملاقات کرنے آتا ہے مگر گھات کرنے آتا ہے۔ شدت سے بدگمان ہے، مدنظر امتحان ہے۔ شہزادہ نے جواب دیا: اپنی آنکھ دیو سے نہیں جھپکی، وہ تو بنی جان ہے۔ خدا ہمارا ہر دم حافظ و نگہبان ہے۔ ابھی یہ کلمہ ناتمام تھا کہ وہ آ پہنچا۔ شاہزاہ جہاں بیٹھا تھا وہاں سے نہ اٹھا۔ کچھ نہ خیال کیا، نہ استقبال کیا۔ قدرتِ حق دیکھیے، روبرو جو آیا شہزادے کا الٹا رعب چھایا۔ گھبرا کے پہلے تو سلام کیا، پھر ہنس کے یہ کلام کیا: بندہ حضور کا شدت سے مشتاق تھا، زمانہ مہجوری سخت شاق تھا۔ یہ کہہ کے ہاتھ پھیلائے کہ آئیے گلے سے لگ جائیے۔ اب تامل عجب و نخوت سمجھ کے شاہزادہ اٹھا، بغلگیر ہوا، دو باتیں جو کیں دام محبت میں اسیر ہوا۔ بہت تعظیم سے پاس بٹھایا، یہ شعر سنایا سعدی علیہ الرحمہ :\n\nتواضع زگردن فرازاں نکوست\n\nگداگر تواضع کند خوی اوست\n\nماضی مستقبل کا حال شروع ہوا۔ دلچسپ باتیں کرنے لگا کہ خالق لیل و نہار کی سرکار سے اول خلقت جان ہے، ثانی ظہور انسان ہے، مگر دونوں کو فقط اپنی عبادت کے واسطے بنایا ہے۔ کلام مجید میں آیا ہے کہ ما خلقتُ الجن والانس الا لیعبدون، اگر انصاف ہاتھ سے نہ دو تو تمیز خیر و شر اختیار میں ہے۔ فرق بین نور نار میں ہے۔ ہر چند تم لوگوں نے بڑا مرتبہ پایا ہے، مگر اشرف المخلوقات سوچو تو کس کو فرمایا ہے۔ ہمارے تقرب کی نسبت اور دور ہیں، ہمارے روبرو سب مجبور ہیں۔ چار دانگ عالم میں بزور شمشیر لطافت تقریر سے ہمار ڈنکا بجا ہے، فرشتوں نے سجدہ کس کو کیا ہے۔ گو تمھیں بڑی قدرت دی، مہیا سب طرح کا سامان ہوا، مسکن پرستان ہوا لیکن یہ تو کہو تم میں سے کون سلیمان ہوا۔ نبی ہمارا صغیرہ کبیرہ سے پاک ہے، اس کی شان میں لولاک ہے۔ اس کے سوا کیسے کیسے اولو العزم صاحب تخت و تاج ہوئے، سرکشوں کے کیا کیا علاج ہوئے۔ طہمورث دیوبند کی داستان مشہور ہے۔ اسفند یار کی روئیں تنی کا عالم میں مذکور ہے۔ سام و نریمان، رستم و سُہراب سے پہلوان گذر گئے، فلک پیر کی مسل میں یہ بے مثل جوان گذر گئے۔ بادشاہ تو خیر فقیر کیسے کیسے صاحب کمال ہوئے۔ اُن کے ہاتھ سے تمھارے کیا حال ہوئے۔\n\nماہ رخ کو سخت انفعال ہوا، پسینہ آ گیا۔شرم سے عجب حال ہوا، سِوا درست اور خوب وہ محجوب کچھ نہ کہہ سکتا تھا۔ آئینۂ رخسار شاہزادہ وقار دیکھ کے سکتہ تھا، جس دم یہ جملے تمام کیے پھر اختلاط کے کلام کیے۔ اس چرب زبانی اور شیریں بیانی سے تقریر دلپذیر کی کہ ماہ رخ کا نُطق بند ہوگیا، بیٹھے بٹھائے کھو گیا۔ دو چار گھڑی یہ صحبت رہی، رخصت ہو کے گھر کی راہ لی۔ باپ کی خدمت میں حاضرہوا۔ اس نے ملاقات کا حال پوچھا، شاہزادہ کا فضل و کمال پوچھا۔ پھر تو وہ بحر مواج کی صورت جوش زن ہوا، سرگرم سخن ہوا۔ کیفیت عزم و شان کی، خوبصورتیِ بیان کی، ذہن کی جودت، چہرے کی صورت کہہ کے عرض کی کہ پہلے تو وہ باتیں کیں جن کو سن کے حجاب ہوا، دل کو پیچ و تاب ہوا لیکن سخن حق میں کلام نہیں۔ بجز خموشی جواب کا مقام نہیں۔ بہ نگاہ اول اس کا رعب چھایا۔ باتیں ایسی سنائیں کہ فرمانبردار بنایا۔ خلاصہ یہ کہ عالی منزلت والا دودمان ہے، سلطان ابن سلطان سحر کا انسان ہے۔ اس کے بیان سے بادشاہ کو دیکھنے کا ذوق پیدا ہوا، دیدہ شیدا ہوا۔ فرمایا: اس کی دعوت کا سامان کرو، مہمان کرو۔ اس حیلہ میں ملاقات ہو، حرف و حکایات ہو اور سچ ہے جناب باری نے بشر کو بڑا مرتبہ دیا ہے، دیو پری کو اس نے مسخر کیا ہے۔ اس کے قرب کا مرتبہ بہت اعلیٰ ہے، گواہ قاب قوسین او ادنیٰ ہے۔\n\nالقصہ ماہ رخ نے ملکہ مہر جمال یعنی اپنی بہن کو شریک کر کے بمنت دعوت کا اقرار لیا۔ شاہزادہ خوشامد سے مجبور ہوگیا۔ غرض کہ شاہزادہ کے جانے کی دعوت کھانے کی تمام پرستان میں دھوم ہوئی۔ تاریخ اور روز کی خبر معلوم ہوئی۔ بروز معین دو رویہ راہ میں انبوہ تھا، ہر سمت پری زادوں کا ریلہ تھا۔ دھوم دھڑکے کا میلہ تھا۔ پیک نظر کا گذر محال تھا، کثرت کا یہ حال تھا۔ لوگوں کے کپڑے لتے ہوتے تھے۔ شانے سے شانے اپنے بیگانے کے چھلتے تھے۔ جو ساتھ سے چُھٹ جاتے تھے، ان کا پتا نہ پاتے تھے، ڈھوندھے سے نہ ملتے تھے۔ سر راہ سب کی آنکھ لگی تھی۔ تل بھر کی جگہ نہ تھی۔ پُتلی راستہ تکتی تھی، نظر نہ پھر سکتی تھی۔ یکایک سواری نظر آئی، بڑی تیاری نظر آئی۔ آنکھوں میں چلا آتا تھا، مفصل کسی سے دیکھا نہ جاتا تھا۔ جس دم شہزادہ جلوہ گر ہوا، آنکھوں میں گذر ہوا۔ جب آگے بڑھا، نظروں سے نہاں ہوا، تاریک جہاں ہوا۔ گل رُخوں کے مُنہ پر زردی چھائی، نظروں میں سرسوں پھولی، خلقت اپنے اپنے گھر کا رستہ بھولی۔ دیوان عام تک ماہ رخ پیادہ پا آیا۔ وزیر امیروں نے بڑھ کے استقبال کیا۔ نثار بصد انکسار زر و مال کیا۔ ہاتھوں ہاتھ سریر آرائے قاف کے روبرو لائے۔ شہزادہ لحاظِ سن سے دابِ سلطنت بجا لایا،ضابطہ کے موافق سر جھکایا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کے چھاتی سے لگا کے دیر تک پیار کیا۔ بہت سا زر و جواہر اُس لعل بے بہا پر نثار کیا۔ برابر بٹھا کے مسکن و ماوا، نام جد و آبا پوچھا۔ شاہزادۂ والا گہر نے دُرجِ دہن کو وا، زبانِ سحر بیان کو گویا کیا، اس لب و لہجہ سے لب کھولے، حسب و نسب شان شوکت کا بیان کیا کہ اہل محفل نے دامن دامن موتی رولے۔ جودت طبع کا امتحان کیا۔ چار طرف سے تحسین و آفرین کی صدا بلند ہوئی، خاص و عام کو تقریر بے نظیر پسند ہوئی۔ جتنے شاہ و شہریار، امرائے نامدار، زبردستانِ روزگار پردۂ قاف کی شادی کی تقریب میں آئے تھے اس کا حسن و جمال، تقریر مسلسل کا حال دیکھ کے سب کے سب بزانوئے شرم سر خم تھے۔ محفل مرقع تھی، سب کو سکتے کے عالم تھے اور کہتے تھے: حق ہے کہ انسان کو جمیع مخلوق پر عز و شرف ہے۔ ان کمالوں پر یہ انکسار انھیں لوگوں کا ظرف ہے۔ اگر ہماری جنس میں یہ بات ہوتی خدا کی عنایات ہوتی، زمین پر پاؤں نہ رکھتے، بستیاں بسنے نہ پاتیں، بلکہ آباد قریہ گاؤں نہ رکھتے۔ اور ماہ رخ کا باپ سلطان پرستان تو آپ میں نہ تھا۔ شمع جمال شاہزادہ کا شیدا تھا، دیوانہ تھا، محفل میں پروانہ تھا۔ بہت تکلف کی دعوت ہوئی۔ ناچ گانے کی، اپنے بیگانے کی دیر تک صحبت رہی۔ اس کی محبت کا قصہ تو وہاں مشہور ہو چکا تھا، مطلع اناث و ذکور ہو چکا تھا۔ اب زن و مرد فرد فرد نے بچشم دیکھا۔ آمد و رفت دربار میں ہونے لگی، گرم صحبتی حُضّار میں ہونے لگی۔\n\nالغرض جب ماہ رخ کی برات ہو چکی، جو جو شاہ و شہریار، رئیسان نامدار اپنے اپنے شہر دیار سے آئے تھے، رخصت ہو گئے۔ تمام پرستان میں قوم بنی جان میں شہزادہ کی شکل و شمائل کا چرچا جا بجا مچا رہتا تھا۔ جس نے نہ دیکھا تھا، وہ مشتاق سدا رہتا تھا۔ شدہ شدہ یہ خبر زمرد کوہ پر پہنچی۔ وہاں کا شہزادہ ملکۂ مہر جمال سے منسوب تھا، ماہ رخ کی شادی کے بعد اس کا اسلوب تھا۔ جس دم یہ ماجرا جانگداز اس نے سنا، طیش کھایا، سر دُھنا۔ اسی دم باپ سے نامہ لکھوا کے قاصد صبا رفتار کو دے کے تاکید کی کہ برق و باد سے تند و تیز گرم خیز ہو۔ منتظر سمجھ کے جلد جواب لایا تو انعام ہے، دیر قضا کا پیغام ہے۔ برید سریع السیر مع الخیر مثل صبا اڑ کے پہنچا۔ وزیر اعظم کی وساطت سے ملازمت حاصل کی۔ نامۂ سر بستہ مکتوب الیہ کے حضور حسب دستور گذرانا۔ دبیر عطارد تحریر طلب ہوا۔ خط کھولا، مطالعہ کر کے چُپ ہوگیا۔ خوف سے کچھ نہ بولا۔ بادشاہ نے فرمایا: برخاست! ہر شخص آداب بجا لا کے روانہ ہوا۔ دربار میں کوئی نہ رہا، بجز وزیر تنہائی کا زمانہ ہوا، وہ ایلچی بھی رخصت ہوا۔ اب منشی نے پڑھنا شروع کیا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%88%D9%81%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA/%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D9%86%D8%A7"} {"title": "شگوفہ محبت/سمن رخ کا حاملہ ہونا", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > شگوفہ محبت", "year": null, "text_ur": "سمن رخ کا حاملہ ہونا، زلالہ کے باعث جنون کا معاملہ ہونا، حکمائے حاذق کا بلانا، وحشی کو صحت نہ پانا، شاہ صاحب کا بڑی جستجو سے ہاتھ آنا، ان کی دعا سے اچھا ہو جانا\n\nمحرر سحر بیان راقم داستان لکھتا ہے کہ اب آذر شاہ شام و پگاہ امورات سلطنت سے فرصت پا کے نئی محل سرا میں جا کے شام کو بعیش و نشاط سحر کرنے لگا، بڑے لطف سے زیست بسر کرنے لگا۔ ہنوز وہ فصل تمام نہ ہونے پائی کہ شاخِ آرزو پھولی اور ثمر لائی۔ سبک دست قابلہ نے خلوت میں آذر شاہ سے عرض کیا کہ مبارک ہو خوشی کا معاملہ ہے، سمن رخ شاہزادی حاملہ ہے۔ بادشاہ کو انتہا کی مسرت ہوئی، حد سے زیادہ سرور ہوا۔ وہ جو ملک کے انتقال کا بغیر اولاد خیال تھا، دل سے دور ہوا، درِ خزانہ وا ہوا، محتاجوں کا بھلا ہوا۔ فقرا مساکین گوشہ نشین کامیاب ہوئے، ہزارہا کار ثواب ہوئے۔\n\nرفتہ رفتہ یہ خبر وحشت اثر زلالہ جو پہلی بی بی تھی اس کے گوش زد ہوئی۔آتش رشک میں بھن کے منہ کو پیٹ سر کو دھن کے خور و خواب وہ خانہ خراب بھولی، سمن رخ کے مار ڈالنے کی کد ہوئی۔ سوت کو ڈاہ خوانخواہ ہوتی ہے۔ دوسری کو چین سے سونے نہیں دیتی، نہ خود سوتی ہے۔ زندگی اس کو وبال ہوئی، کھانا پانی حرام ہوا۔ سمجھی کہ سلطنت میں اسی کو دخل تام ہوا۔ پہلے تو دائیاں مقرر ہوئیں کہ اسقاط حمل ہو؛ جب ان سے کچھ نہ ہو سکا، ساحروں کی رسائیاں ہوئیں کہ زیست میں خلل ہو۔ فرمائش اول یہ تھی سمن رخ کا خون ہو، بعدہ یہ ٹھہری کہ مر نہ جائے تو جنون ہو۔ آخر کار ایک غدار اس پر آمادہ ہوا۔ عرض کی: خداوند نعمت! غلام یہ کام کرے گا، اس کے خون میں ہاتھ بھرے گا۔\n\nالقصہ وہ پیرو شیطان علیہ اللعن اپنے کام میں مصروف ہوا۔ یہاں وہ دن آیا کہ گود بھرنے کی تیاری ہوئی، از سرِ نو دلہن بنایا۔ دفعۃً سمن رخ کلام وحشت ناک کرنے لگی، کپڑے لتے کر ڈالے، گریبان چاک کرنے لگی۔ کسی کو گالیاں دیں، کسی کو مار بیٹھی، مسند جلا دی، فرش خاک پر دیوانہ وار بیٹھی۔ دن کو پوچھا تو رات کہی، کسی کی سمجھ میں نہ آئی جو بات کہی۔ حال بہت زار و زبون ہوا، گھنگور جنون ہوا۔ سامان عیش و نشاط سب درہم برہم ہوگیا۔ عین شادی میں غم ہوا، محل میں برپا ماتم ہوگیا۔ آذر شاہ کو شدت سے رنج و ملال ہوا، بھلا چاہنے والوں کا بُرا حال ہوا۔ حکیم طبیب ملازم غیر ملازم درِ دولت پر حاضر ہوئے۔ رمّال منجم بے بلائے چلے آئے۔ خلقت کا ہجوم ہوا، تمام شہر کو یہ حال معلوم ہوا۔ بادشاہ نے طبیبوں سے فرمایا کہ تم لوگ اسی دن کی خاطر ہزارہا روپیہ کی تنخواہ پاتے ہو، گھر بیٹھے چَین سے کھاتے ہو۔ آج امتحان کا دن ہے۔ بتاؤ تو مرض ہے یا جن ہے۔ بہرکیف اگر اس ہفتے میں ماہ دو ہفتہ کا مزاج اعتدال پر آیا تو سب کو نقد و جنس خلعت و انعام فراخورِ حال دوں گا۔ حوصلہ سے باہر زر و مال دوں گا۔ وگر خدانخواستہ اس کا یہی طور رہے گا تو تم پر ستم و جور رہے گا، ایک ایک کا پیٹ چاک کروں گا، بُری طرح سے ہلاک کروں گا۔ وہ وہ طبیب حاذق تھا کہ انسان تو کیا سر بے مغز آسمان کا سودا کھوتا تھا، مگر کچھ کسی سے نہ ہوتا تھا۔ غرض کہ دوا موقوف ہوئی۔ جھاڑ پھونک کی دعا ہونے لگی۔ صدقہ رد بلا ہے، اس سے اور شدت سوا ہونے لگی۔\n\nایک شخص سیاح شہر و دیار نیرنگ دیدۂ روزگار ملازمان سرکار میں حاضر تھا۔ بادشاہ کا رنج و ملال دیکھ نہ سکا۔ مقربان بارگاہ سے کہا کہ وہ جو سرزمین اجمیر ہے، وہاں ایک خدا کا شیر ہے۔ اسد علی شاہ، اُس مقبول بارگاہ کا نام ہے۔ ان کا اچھا کرنا اُن کا کام ہے۔ جس عارضے کا مریض وہاں جاتا ہے، اس مسیحا نفس کے ہاتھ سے شفا پاتا ہے۔ پہلے دوا ہے، اس کے بعد تیرِ دعا ہے۔ زہے نصیب جو ایک چلہ اس خدا کے حبیب سے جدا نہ ہو۔ مجھے توپ کے منہ میں توپنا، اگر سمن رخ کو شفا نہ ہو۔ جو کہا وہ ہوگیا۔ دست بستہ حکم و قضا و قدر ہے۔ فرشتہ خصال وہ بشر ہے۔ صدہا کا جنون دور کیا۔ جنون کو پھونکا مارا ہے، ہزارہا پری کوشیشے میں اتارا ہے۔ بھوت پلیت بے پلیتے صورت دیکھ کے بھاگ جاتا ہے۔ شیر اور بکری کو ایک گھاٹ پانی پلاتا ہے۔ جس دم یہ ماجرا آذر شاہ کو معلوم ہوا، فوراً وزیر کو بلایا، فرمایا: اسی دم بسبیل ڈاک اجمیر کو جاؤ۔ جس طرح سے بنے شاہ صاحب کو تلاش کر کے لاؤ۔ یاد رکھنا اگر تم کو دیر لگی، سمن رخ کی جان گئی، ہمارا زندہ رہنا بہت محال ہے،بے اس کے زیست وبال ہے۔\n\nوزیر مطیع فرمان جلوریز منزل مقصد کی طرف گرم خیز ہوا۔ اور ابر و باد سے جلد وہ نیک نہاد اجمیر میں داخل ہوا، مگر شاہ صاحب کا نشان، بود باش کا مکان جنگل سنسان صحرائے بے پایاں میں سُنا، اسی سمت چلا۔ معاذ اللہ! پناہ بخدا! بیابان خوفناک جہاں انسان کا کوسوں پتا نہیں، نام نہیں۔ دشت کا آغاز تو دیکھا، انجام نہیں۔ ہر سمت سے سائیں سائیں کی آواز کان میں آتی تھی۔ کلیجہ ہلتا تھا، ہیبت سے جان نکلی جاتی تھی۔ سخت پریشان، ہر سو نگران۔ گھبراتا تھا، پاس نمک یہاں تک تھا، اس پر تلاش میں چلا جاتا تھا۔ بعد خرابی بسیار معائنہ گل و خار بر سر چشمۂ آب اس مضطر و بے تاب کا گذر ہوا۔ چند درخت گنجان، پھول پھل جدا جدا، شاخیں باہم چسپاں اسی میں نے کا جھوپڑا، نئے ڈھنگ کا مکان، دیوار نہ در، وحشت کا گھر، چھت اد چھت غائب، فقط دالان کا نقشہ، کوٹھریاں ڈہی مگر بڑی شوکت و شان کا نقشہ، ایک دو تین گز کا چوترہ، چار پانچ پُرانے بانس کا چھپر جھکا پڑا ؂\n\nپانچ بتی کا کہنہ سا چھپر\n\nساتھ سایہ کے دھوپ آٹھ پہر\n\nپھٹا پرانا سا بوریا بچھا، اس پر ایک بزرگ سر بزانو اکڑو بیٹھا۔ وزیر دیکھ کر تھرانےلگا، خوف سے دل ہل گیا، کلیجہ منہ کو آنے لگا۔ چہرہ مثل بدر تاباں تھا، مگر ریاضت شاقہ سے جسم کا ہیدہ بمرتبہ کمال، چہرا استخوان بست و نہم کا ہلال، گوشت کا نام نہیں فقط کھال۔ سفید ڈاڑھی ناف تک نظر آئی، کپڑےکی قسم سے لنگی پائی۔ یہ رعب و جلال چند مشت استخوان پر، عنایت ذو الجلال اس نحیف و ناتوان پر۔ دل سے کہا یہ ہیبتِ حق ہے جو میرے پاؤں نہیں جمتے۔ اس کوچے میں لڑکھڑاتے ہیں۔ سب آثار عظمت اور بزرگی کے نظر آتے ہیں۔ بہت جھکا ادب سے، سلام کیا۔ چندے سکوت رہا، پھر کلام کیا کہ یہ محتاج دور سے حاجت لایا ہے۔ بادشاہ ہمارا مضطر ہے، دین و دنیا سے بے خبر ہے۔ اس نے بصد عجز و منت آپ کو بلایا ہے۔ فقیر نے مسکرا کر جواب دیا کہ بادشاہ خود حاجت روا ہے۔ اس کو فقیر کی کیا پروا ہے۔ اور بابا سنو! جس دن سے دنیائے دون کی بے ثباتی نظر آئی، اس ہرجائی قحبہ کو بے وفا سمجھ کے چھوڑا۔ اہل دنیا اس کے مبتلا ہیں، نام پر فدا ہیں۔ ان سے نہ بنی۔ بگڑ کر منہ موڑا۔ اس دن سے شاہ و گدا اپنی نظر میں ایک ہیں، مساوی بد و نیک ہیں۔ خواہش مٹا دی۔ غرض الغرض اٹھا دی، بستی چھوڑی، ویرانہ پسند آیا۔ اینٹ کا گھر مٹی کرکے کا کاشانہ پسند آیا۔نہ کچھ پاس ہونے کی شادی، نہ نہ ہونے کا غم ہے، دونوں حال میں ایک سا عالم ہے ؂\n\nہے یہ تقریر عارفان الست\n\nغمِ نیست ہو نہ شادیِ ہست\n\nوزیر نے عرض کی: پیر و مرشد! بے چراغ خانۂ سلطان ہوتا ہے۔ بنا کھیل بگڑتا ہے، بسا ہواگھر ویران ہوتا ہے۔ خلق خدا کو اس کی ذات سے راحت ملتی ہے، سب کا بھلا ہوتا ہے۔ مقام غور ہے ایسے شخص کا مٹ جانا بُرا ہوتا ہے۔ یہ کہہ کے سب داستان آذر شاہ کی کیفیت بیاہ کی، سمن رخ کا حاملہ ہو کے مجنون ہونا، اس لیلی شمائل کے اندوہ میں بادشاہ کا ناحق خون ہونا مشرح بیان کیا۔ سچی بات اثر رکھتی ہے۔ شاہ صاحب کو یہ ماجرا سن کے تاسف ہوا، فرمایا: اے وزیر! یہ تیرے بادشاہ کی خوبی تقدیر ہے، جو مجھ کو رنج ہوا۔ اب بھی جو کسی کی ایسی حاجت گوش زد ہوتی ہے تو خوف خدا سے اس کی کار برآری کی کد ہوتی ہے۔ مرشد کا شعر یاد آ جاتا ہے، پڑھ کر فقیر گھبراتا ہے ؂\n\nکبھی حوالۂ حرماں کسی کی آس نہ ہو\n\nعدو کا بھی جو عدو ہوا سیر یاس نہ ہو\n\nورنہ بادشاہ کی ملاقات کی خواہش ہے، نہ محتاج کی صحبت سے بیزاری ہے۔ الّا اس کے اضطرار سے خوف عتاب جناب باری ہے۔ بسم اللہ تم برسرِ ڈاک روانہ ہو۔ فقیر منزل و مقام دیکھتا آتا ہے۔ منزل رساں کی قدرت دیکھنا کون جلد پہنچ جاتا ہے۔ وہاں تو ساز و سامان شاہانہ تھا، وزیر بادشاہوں کا جانا آنا تھا اور یہاں فقیر کا کارخانہ تھا۔ خیمہ نہ ڈیرا نہ کہیں ٹھہر جانا، نہ بسیرا تھا۔ ایسے کے ساتھ کب ہوا پہنچے جو ادھر قصد کرے اُدھر جا پہنچے۔\n\nغرض کہ وزیر منزل اول میں تھکے۔ شاہ صاحب ایک جست میں برجستہ شہر میں داخل ہوئے۔ آذر شاہ سے ملاقات ہو گئی، یہ بات پہلے کرامات ہو گئی۔ سمن رخ کو دیکھا، حال سنا، بادشاہ کو تسلی دی۔ کہا: اللہ کو یاد کرو، دلِ غم رسیدہ شاد کرو ۔ وہ شافیِ مطلق ہے، دفعِ بلا کرے گا۔ فقیر بہ دل دعا کرے گا۔ ایک ہفتہ تامل کیجیے۔ عروج ماہ میں پانچویں تاریخ پنجشنبہ ہوگا۔ اس دن سے فقیر بدرگاہ رب قدیر دست دعا بلند کرے گا۔ اگر مالک میری گریہ و زاری، تمھاری بے قراری پسند کرے تو مطلب مل جائے، سمن رخ اس بلا سے نجات پائے ؂\n\nدم عیسےٰ کے برابر ہے دمِ درویشاں\n\nباعثِ رد بلا ہے قدمِ درویشاں\n\nاور آج کے دن سے مقرر یہ بات کیجیے کہ تا شفا اس مریض کے روز خیرات کیجیے۔\n\nفوراً صدہا من کی پخت مقرر ہوئی۔ غریب غربا محتاج مع زر نقد پانے لگے، پیٹ بھر کے کھانے لگے۔ تیرِ دعا سپر چرخ تک پہنچانے لگے۔ اور بروز معہودہ عبد برگزیدۂ معبود ایک مکان پاک صاف آراستہ کر کے چلے میں بیٹھا، وہیں گوشہ میں شاہزادی کو جا دی۔ مرید ان کا اعجاز شاہ ہمراہ تھا۔ اس سے فرمایا: میاں! تا ظہور اثر دعا کچھ باتیں دلچسپ کر کے تم تو شاہ زادی کا دل بہلاؤ، فقیر ہمہ تن صرف دعا ہوتا ہے۔ دیکھو یہ رات حرف و حکایات میں کیسی کٹتی ہے۔ دم سحر یہ سحر کا کارخانہ کیا ہوتا ہے۔ یہ کلمہ زبان پر لا وہ بندۂ خدا حجرے میں جا عجز و انکسار سے مصروف مناجات بدرگاہ بر آرندۂ حاجات خشوع و خصوع رجوع قلب سے بصد گریہ و زاری ہوا۔ مرید زبردست مرشد پرست سحر بیانی تقریر زبانی سے متوجہ دلداری آمادۂ غمخواری ہوا۔ کہا: شاہزادی! فقیر کو عالم سیاحی دشت نوردی جہاں گردی میں عجیب و غریب حادثے پیش آئے۔ فلک شعبدہ باز عربدہ ساز کہن نے نئے نئے سانحے دکھائے۔ اگرچہ طول طویل داستان ہے، لیکن قابل تقریر وہ بیان ہے۔ بگوش دل متوجہ ہو کے اگر سنیے، غالب ہے ملال خاطر دور ہو، طبیعت مسرور ہو۔ وہاں شاہ صاحب اسم باری کئی باری پڑھ چکے تھے۔ اثر کی کیفیت جو حاضر تھے ان کے قیاس میں آ گئی کہ شاہزادی از خود رفتہ وحشت زدہ تھی یا فوراً حواس میں آ گئی۔ جواب دیا: بہت خوب، کچھ فرمائیے۔ حکایت دلچسپ اگر یاد ہو، امداد ہو، سُنائیے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%88%D9%81%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA/%D8%B3%D9%85%D9%86_%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%85%D9%84%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "شگوفہ محبت/صفت بادشاہِ خجستہ خصال، پری پیکر، ماہ رو، والیِ لکھنؤ، رشکِ فریدون، غیرتِ جم سلطانِ عالم خلّد اللہ ملکہ", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > شگوفہ محبت", "year": null, "text_ur": "صفت بادشاہِ خجستہ خصال، پری پیکر، ماہ رو، والیِ لکھنؤ، رشکِ فریدون، غیرتِ جم سلطانِ عالم خلّد اللہ ملکہ\n\nاور تاج سلطانی اریکۂ جہانبانی نے اُس کے سر و پا سے زیب و زینت پائی ہے جس کے خاندان میں نسلاً بعد نسل فرمانروائی چلی آئی ہے۔ ہر چند کہ موسم شباب ہے، نور کی صورت نہایت آب و تاب ہے، زور شور پر عالم جوانی ہے، نقاش قدرت کے ہاتھ کا نقشہ انتخاب ہے۔ اس پر جتنی خصلتیں فرمانروایان خجستہ خصال کی ماضی و حال کی ہیں سب میں لاثانی ہے، ہمت و جرأت میں یکتا ہے، جود و سخا میں حاتم سے بڑھ گیا ہے، عدل و داد میں یادگار نوشیروان ہے۔ اس چمک دمک کی سلطنت زیر آسمان بروئے زمین دوسری کہاں ہے۔ رفقا کو جاہ و حشمت سے نہال کیا، غریب و غربا کو مال اور دولت سے مالا مال کیا۔ شب شبِ برات، ہر دم عیش و نشاط میں بسر ہوتی ہے۔ روز نو روز، ہر صبح عید کی سحر ہوتی ہے۔ مکانات ایسے بنوائے کہ سمّار کی عقل میں نہ آئے۔ ہر قطعہ فردوس بریں کا نمونہ ہے اور قیصر باغ تو حسن و لطافت میں گلزارِ ارم سے دونا ہے۔ جس چیز کا خیال آیا اسے انتہا کو پہنچایا۔ طبع والا میں نہایت جودت ہے، جو شے ہے اللہ کی قدرت ہے۔ ایسا کرم کارساز اور عنایت بے نیاز ہے کہ اولو العزمی کا سب سامان و ساز ہے۔ وزیر بے نظیر خود سلیمان زمان دہ آصفِ دوران باہم قضیہ لازم و ملزوم ہے، یہ نکتہ سب کو معلوم ہے۔ دیوان ہوشیار وابستۂ فرمان، سر دفتر خیر خواہان کائنات میں فرد ہے۔ دہرم مورت نیک سیرت خوبصورت جوانمرد ہے۔ حساب کیجیے تو سابقین کی نشانی باقی ہے، اس فن میں بڑی مشّاقی ہے۔ فیض کی ندی اس کے دم سے بہی ہے۔ رشوت کھاتا نہیں، بڑی بڑی جفا سہی ہے۔ سپاہی وضع ہر چند نہیں لیکن جان نثاری پر بند نہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ ملازموں میں ایک سے ایک بہتر ہے، یادگارِ روزگار ہے۔ اگر سب کی شرح کروں طول ہو؛ منظور اختصار ہے، جب تک گردش لیل و نہار ہے جلسہ برقرار رہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%88%D9%81%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA/%D8%B5%D9%81%D8%AA_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%B4%D8%A7%DB%81%D9%90_%D8%AE%D8%AC%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%AE%D8%B5%D8%A7%D9%84%D8%8C_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%DA%A9%D8%B1%D8%8C_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%B1%D9%88%D8%8C_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%90_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A4%D8%8C_%D8%B1%D8%B4%DA%A9%D9%90_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D9%88%D9%86%D8%8C_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%AA%D9%90_%D8%AC%D9%85_%D8%B3%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AE%D9%84%D9%91%D8%AF_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D9%85%D9%84%DA%A9%DB%81"} {"title": "شگوفہ محبت/صلاح سے دبیر خجستہ تدبیر کی ایلچی روانہ کرنا آذر شاہ کا", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > شگوفہ محبت", "year": null, "text_ur": "صلاح سے دبیر خجستہ تدبیر کی ایلچی روانہ کرنا آذر شاہ کا\nخاقان چین کو اور نامہ مسلل لکھنا منشی ترقی خواہ کا،\nطلب کرنا اُس مہ جبین کو\n\nپس از حمد و سپاس خالق دو جہان، صانع انس و جان جس نے یہ خیمۂ زنگاری بے چوب و ریسمان ایستاد کیا اور ستاروں کی گلکاری بے مدد دست و قلم دکھا کے خاک کا فرش بروئے آبِ رواں ایجاد کیا اور اپنی صنعت نادر نگار سے فیضِ ترشح ابر بہار سے زمین کو پہنچا کے قوت نامیہ عطا کی۔ کیا کیا سرو شمشاد، نسرین و نسترن نے اس بے بنیاد گلشن میں سر اٹھایا اور کون کون سا گل بوٹا اس خاکدان پُر محن میں کھلایا اور اس کی بو باس اور جوبن سے کس کس پُر الم کا آسمان ٹوٹا، کوئی غریب دیار ہوا، کوئی دام میں گرفتار ہوا، کسی سے گلشن چھوٹا، پردہ بہار اور خزاں کا حائل کیا۔ کسی کا حلقۂ اطاعت قمری کی گردن میں ڈالا، کسی پر بلبل کا دل مائل کیا۔ ایک محبت کی شمشیر آبدار، اس کے زخمی ہزار در ہزار۔ اس رمز میں بڑے بڑے دور بینوں کو سرگردانی رہی، آخر کار آئینہ دار حیرانی رہی۔ جتنا چھانا، کرکرا پایا۔ جب آنکھیں بہم پہنچائیں کچھ نظر نہ آیا۔ مجبور ہو کے مبہوت ہوئے، جس قدر تخیلہ تھے منجربہ سکوت ہوئے۔ سر جھکانے اور خاموشی کے سوا چارہ نہ ہوا، دم مارنے کا یارا نہ ہوا۔ اور تحفۂ درود و سلام اس برگزیدۂ خاص و عام کے واسطے ہے جس نے شمع ہدایت روشن کر کے تیٖرۂ باطن جو گم کردہ راہ تھے، صراط مستقیم سے نہ آگاہ تھے، ان کو اسلام سے مشرف کیا۔ کفر و ضلالت سے بچایا، جہالت سے چھڑایا۔ زندگی کا لطف اٹھانے کو سلسلۂ اتحاد میں الجھایا، راحت اور آرام پانے کو سررشتۂ محبت و وِداد میں پھنسایا کہ خیر و شر سے ماہر ہو کے باہم بود و باش کریں۔ ؏\n\nدو دل یک شود بشکند کوہ را\n\nشراکت میں تلاش معاش کریں؛ چنانچہ کافۂ انام میں بلکہ خاص و عام میں بحکم شرع شریف قرابت قریبہ کا ظہور ہوا۔ وہ جو تہلکہ بیگانگی کا معاملہ خانہ بدوشی کا تھا، باہم کی روپوشی کا تھا درمیان سے دور ہوا۔ ہر چند ہر ملت و مذہب میں محبت کا طریقہ، مروت کا سلیقہ، قرابت کا ہونا، بیگانگی کا کھونا سب کو پسند ہے۔ دانا ہو یا نادان، اس کا بہت خواہشمند ہے۔ اس واسطے کہ ؏\n\nبنی آدم اعضائے یک دیگر اند\n\nبدہیں یا نیک ہیں، حقیقت میں دونوں ایک ہیں، نہ کہ دو سریر آرائے اریکۂ جہاں بانی اور دو تاجدار رونق افزائے دیہیم سلطانی۔ یہ رسم مرسلان ذو الجلال اور طریقہ آبا و اجداد ستودہ افعال باہم بجا لائیں تو بندہ ہائے نیکو کردار کہ بدائع و دائع پروردگار ہیں، کس قدر منفعت اور مسرت پائیں۔ محتاجوں کی حاجت روا ہو، اہل حرفہ کو نفع پہنچے بھلا ہو۔ گو صرف فی الحال زیادہ ہو مگر دو مملکت ایک ہوں تو دولت اور مال زیادہ ہو۔ جب دوستوں میں شادی ہوتی ہے تو بیشک دشمن کو غم ہوتا ہے، خانہ بربادی ہوتی ہے۔ درینولا دل صفا منزل کہ مِرأت جہاں نما ہے، بقول مشہور خانۂ خدا ہے، اس میں یہ امر عکس افگن ہوا ہے کہ فیما بین سوائے روابط دیرینہ کوئی سررشتہ جدید کا قرینہ پیدا ہو کہ اکثر جو مخفی امور ہیں ان کا نتیجہ اس کائنات بے ثبات میں ہویدا ہو، جو کام ہو حسب احکام خدا و رسول ہو کہ خاص و عام کو گفتگو کی جگہ نہ ہو، قبول ہو۔ یہ جو حکم مثنے و ثلث و رباع آیا ہے، یہ اشارہ گروہِ سلاطین کی طرف شارع متین نے فرمایا ہے۔ لہذا خالق کا فرمان بجا لانا مخلوق پر ضرور ہے، انکار میں فتور ہے اور یقین ہے کہ وقائع نگاروں سے گوش حق نیوش تک یہ خبر پہنچی ہو کہ مملکتِ دکن میں چند اشرار سرگشتۂ بادیۂ ادبار متفق ہو کے راہزنی کرتے تھے۔ کچھ مال حرام اور بدمعاش قلاش بد انجام بصد پریشانی جمع کر کے سیاحان رہ نورد کو تاجران جہاں گرد کو ایذا دیتے تھے، مال اسباب چھین لیتے تھے۔ جس وقت یہ خبر بیجا متکفلان اخبار ہر شہر و دیار سے گوش زد ہوئی، بیخ کنی اس گروہ دنی کی منظور ہوئی، قلع و قمع کی کد ہوئی۔ مقربان بارگاہ قلیل سپاہ ہمراہ لے کے روانہ ہوئے۔ جلوریز اُن خود سروں کو یلانِ خنجر گزار نے تہِ تیغ آبدار کیا۔ مسافر گل چھرے اڑاتے چلے جاتے ہیں، تمام راہوں کو بے خار کیا۔ دوسرے فتح ملک زنگبار اور تنبیہ اس فرقۂ تیرہ روزگار کی خاطر والا پر روشن ہوئی ہوگی۔ یہ امانت پروردگار جو ہماری ظل عنایت تحت حکومت ہے، دن رات ان کی پاسبانی اور راحت رسانی میں بسر ہوتی ہے تامظلوم کو ظالم سے، محکوم کو حاکم سے گزند و ضرر نہ پہنچے، تافلک ان کا شور و شر نہ پہنچے۔ انھیں مشغلوں کے باعث چندے رسل و رسائل میں توقف ہوا ورنہ بیشتر دل خیریت طلب، جویائے خبر صحت و سلامتِ ذات خجستہ صفات ہر اوقات میں رہتا ہے۔ والسلام\n\nنامہ تمام ہوا۔ کچھ اور تحفہ ہائے شہر و دیار، نوادرِ روزگار مع نامہ جان نثار خان کابلی کو دے کے رخصت کیا اور یہ فرمایا جس قدر سریع السیری جانے آنے میں ہوگی، ناموری زمانے میں ہوگی، باعث تقرب بارگاہِ آسمان جاہ ہوگا، خورسند مزاجِ ظل اللہ ہوگا۔ ایلچی برق و باد سے چست و تیز، رہ نورد گرم خیز ہو کے عرصۂ قلیل میں برسر منزل مقصد پہنچا۔ وہاں اس کی آمد کی خبر ورود سے پیشتر ہو چکی تھی، سرِ راہ ناظموں کو فرمان اہالیان سلطان نے بھیج دیے تھے۔ ہر منزل و مقام میں صبح و شام اسے آسائش ملی، جو شے درکار ہوئی بے فرمائش ملی۔ جس دم بیت السلطنت میں داخل ہوا، وزیر کے روبرو ہاتھوں ہاتھ لوگ لے گئے۔ پہلے سے بود و باش کو مکان، اکل و شرب کا سامان تیار تھا۔ اس میں اس کو اتارا۔ ملازمت کا وعدہ دو دن کے وقفے پر ہوا۔ القصہ بروز معہود و ساعت مسعود وزیر اعظم نامہ بر کو ہمراہ لے کے حضور میں حاضر ہوا۔ طریقہ ملازمت شہر یار و شاہ سے یہ دستور دان آگاہ تھا۔ بعنوان شائستہ نامہ پیشکش کیا، تحائف گذرانے اور تقریر زبانی اپنی خوش بیانی سے بادشاہ کو بہت راضی کیا۔ تا دیر ذکر حال و ماضی کیا۔ منشی بدیع نگار دانائے روزگار طلب ہوا۔ نامہ سربستہ کھول کے زر و جواہر میں تول کے پڑھنے لگا۔ شہریار کا مگارنے حمد و نعت کو بہ کشادہ پیشانی سنا۔ وہ نکتہ جو مطلب خیز تھا، وہاں تجاہل عارفانہ کر کے بگوش نادانی سُنا۔ سطوت و صولت پر فرمایا: بادشاہوں کا یہی کام ہے۔ فتح و شکست کی جا زبان پر آیا: گردش ایام ہے۔ القصہ حرف حرف وہ ماجرائے شگرف سن کے ایلچی کو بقدر لیاقت خلعت و انعام دیا۔ چندے حکم قیام دیا۔ یہ تو رخصت ہو کر اپنے مکان پر آیا۔ وہاں مقربانِ بارگاہ، دانایانِ ترقی خواہ کو خلوت میں یاد فرمایا۔ بعد ردّ و قدح یہ بات نکلی کہ اگر اس کام کا انکار ہو تو ملک الموت کی گرم بازاری کیجیے، مرنے کی تیاری کیجیے۔وہ اولو العزم ہے آمادۂ نبرد، مستعد پیکار ہوگا۔ بندہ ہائے خدا کا ناحق کشت و خون ہو جائے گا۔ ملک ویران، رعیت نالاں، سب کا حال زار و زبون ہو جائے گا۔ مناسب یہی ہے کہ بخوشی و خرّمی اس امر کا اقبال ہو، موقوف جنگ و جدال ہوا۔ اس رائے کو بادشاہ نے بھی پسند کیا۔ نامہ کا جواب القاب آداب محرر نے قلمبند کیا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%88%D9%81%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA/%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%AE%D8%AC%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%D9%84%DA%86%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D8%A2%D8%B0%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "شگوفہ محبت/نامۂ سلطان فیروز کوہ پُرشکوہ کا طعن آمیز شکایت بیز شورش انگیز سمت والیِ قاف بعزم مصاف", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > شگوفہ محبت", "year": null, "text_ur": "نامۂ سلطان فیروز کوہ پُرشکوہ کا طعن آمیز شکایت بیز شورش انگیز سمت والیِ قاف بعزم مصاف\n\nبعد حمد خالق انس و جان و نعت حضرت سلیمانؑ لکھا تھا کہ درینولا ہم نے سنا ہے کہ تم نے کاشانۂ دولت خانۂ مذلت نئی صورت سے آباد کیا ہے یعنی غیر جنس قسم بشر کو داماد کیا ہے۔ بایں شوکت و شان کہ سلطان ابن سلطان ہو، سلطنت کی وقعت شاہی کی شوکت خاک میں ملائی۔ عجب پوچ لچر حرکت تم سے ظہور میں آئی۔ یہ حماقت کثرتِ سِن کی ہے، زندگی چار دن کی ہے۔ اس پر کلنک کا ٹیکا پیشانی پر لگایا، ننگ و ناموس کا پاس ہم سے خوف و ہراس نہ آیا۔ نہ یہ سوچے کہ سلطنت جاتی رہے گی، خلقت ہم کو کیا کہے گی۔ باہم کا رنج و ملال مُنجِز بجنگ و جدال ہوگا۔ ہزاروں کی مفت میں جان جائے گی۔ بے گناہوں کے خون کا گردن پر وبال ہوگا۔ روزِ رستخیز جس دم حرارت آفتاب تند و تیز ہوگی، جوابدہی میں بریز بریز ہوگی۔ سریر آرا مُسن ہو کے ذی اعتبار ہوتا ہے نہ کہ تمھاری طرح سے زیست بیکار کھو کے رعایا کی نظر میں ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ بادشاہ کو لازم ہے وہ بات کرے رعیت جس کو سند جانے، یا مضحکہ ہونے لگے اس فعل کو بد از حد جانے۔ معلوم ہوا کوئی تازہ مشیر پواج ہوا ہے جو اس قبیح امر کا رواج ہوا ہے۔ کچھ دنوں میں پریاں بنی آدم کو شہروں سے اٹھا لائیں گی، مزے اڑائیں گی، پرستان میں غیر جنس کے جوڑے پیدا ہوں گے۔ مخنث بچے تھوڑے پیدا ہوں گے۔ کس منہ سے منع کرو گے، ان کو بُرا کہو گے۔ گریبان میں منہ ڈال کے کیا کہو گے۔ خدا نہ کرے بادشاہ سے خلاف وضع حرکت سرزد ہو بچشم کم خلق اس کو دیکھنے لگے، زبان زد نیک و بد ہو، والی ملک کا فعل دستور العمل ہوتا ہے: الناسُ علیٰ دین مُلوکھم۔ تم نے شیطان کی تحریک سے وہ کام کیا جس سے آبرو میں خلل ہوتا ہے۔ سُنا نہیں بشر کی خلقت یشر عالم میں اسی کے ذات سے تمام شور و شر ہے۔ جو ذی حیات ہے اس کی ذات سے اس کو ضرر ہے۔ کُشت و خون کہ یہ کام سب سے زبون ہے، اس کا رواج انسان سے ہے۔ عداوت قلبی قوم بنی جان سے ہے۔ یہ بکھیڑا تمھارے وقوف پر موقوف رہا۔ لازم ہے کہ بمجرد ورود نامہ خائن متاع عصمت آوردہ علامہ طوق و زنجیر ہوگی، قید شدید میں اسیر ہوگی۔ بے آب و دانہ حضور میں روانہ ہو، ورنہ سرانِ سپاہ یلان ترقی خواہ کہ نشۂ جرأت میں دیوانہ وار سر شار ہیں، خلاف کلمے جو سنے ہیں، آمادۂ حرب مستعد پیکار ہیں، مثل قضائے مبرم اُسی جا سمجھو۔ تمہاری مملکت کا ہر قریہ و دہ دھاوے سے ویران ہوگا، بڑا گھمسان ہوگا۔ پھر عذر بیجا قبول نہ ہوگا، خفت کے سوا دشمنوں کو حصول نہ ہوگا ؂\n\nمجنبان مرا تا نہ جنبد زمین\n\nہمیں گویمت باز گویم ہمیں\n\nوالسلام ۔\n\nنامہ تمام ہوا۔ جس وقت یہ تحریر سراسر خلاف اور عزم مصاف تاجدار قاف کے گوش زد ہوئی، دل صفا منزل مکدر ہوگیا، طبیعت منغص از حد ہوئی۔ فرط غضب سے ابرو میں بل آیا۔ پیشانی پر شکن پڑی، مزاج بگڑا۔ بجز جواب درشت مصلحت نہ بن پڑی۔ وزیر صاحب تدبیر سے فرمایا: یہ بات تازی نہیں، جواب ترکی ترکی ہوتا ہے، ناحق وہ سلطنت کھوتا ہے۔ اسی دم کاتب آئے، اس کا نوشتہ تقدیر لکھا جائے۔ منشی حاضر ہوا۔ نیستان قلمدان سے نیزۂ واسطی اٹھا کے صفحۂ قرطاس کو فقرات دلیرانہ کلمات رستمانہ سے دشت نبرد بنایا، جوہر تیغ زبان چستیِ مضمون بران تیزی دست دکھا کے سہام خامہ کو دم اختتام لب معشوق پہنچایا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DA%AF%D9%88%D9%81%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA/%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%82_%D8%B3%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%86_%D9%81%DB%8C%D8%B1%D9%88%D8%B2_%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%BE%D9%8F%D8%B1%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%B7%D8%B9%D9%86_%D8%A2%D9%85%DB%8C%D8%B2_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%D8%A8%DB%8C%D8%B2_%D8%B4%D9%88%D8%B1%D8%B4_%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%B2_%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%90_%D9%82%D8%A7%D9%81_%D8%A8%D8%B9%D8%B2%D9%85_%D9%85%D8%B5%D8%A7%D9%81"} {"title": "شہ نشین پر", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "وہ سفید سلمہ لگی ساڑی میں شہ نشین پر آئی اور ایسا معلوم ہوا کہ کسی نے نقرئی تاروں والا انار چھوڑ دیا ہے۔ ساڑی کے تھرکتے ہوئے ریشمی کپڑے پر جب جگہ جگہ سلمہ کا کام ٹمٹمانے لگتا تو مجھے جسم پر وہ تمام ٹمٹماہٹیں گدگدی کرتی محسوس ہوتیں۔۔۔ وہ خود ایک عرصہ سے میرے لیے گدگدی بنی ہوئی تھی۔\n\nمیں اس کو تقریباً دو سو مرتبہ دیکھ چکا ہوں، اور ان تمام درشنوں کے نقوش علیحدہ علیحدہ میرے دل و دماغ پر مرتسم ہیں۔ ایک بار میں نے اسے صحن میں تیتری کے پیچھے دوڑتے دیکھا تھا۔ ایک لمحے کے لیے وہ میری نگاہوں کے سامنے آئی اور گزر گئی۔ اور جب کبھی میں اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو مجھے اپنے دل میں ایک ایسے پرندے کی پھڑپھڑاہٹ سنائی دیتی ہے جو ڈر کر ایکا ایکی اڑجائے۔ اسی طرح ایک روز میں نے اسے شہ نشین پر دھوپ میں اپنے گیلے بال جھٹکتے دیکھا تھا، اور اب، میں جس وقت اس تصویر کو اپنے ذہن کے پردے پر کھینچتا ہوں تو مجھے کبھی سیاہی نظر آتی ہے اور کبھی اجالا۔\n\nمیں اس کو اتنا دیکھ چکا ہوں کہ اب میں اس کے سامنے آئے بغیر اسے جب چاہوں دیکھ سکتا ہوں۔ پہلے پہل مجھے اس کام میں دقت محسوس ہوئی تھی مگر اب کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ ابھی کل شام کو جب مجھے ایک دوست کے یہاں بیٹھے بیٹھے اسے دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی تھی تو میں نے آنکھیں بند کیے بغیر اسے اپنے سامنے لا کھڑا کیا۔ وہ ہوبہو ویسی تھی جیسی کہ وہ ہے اور اس بات کا نہ میرے دوست کو پتہ چلا اور نہ اس کی بہن کو جو میرے سامنے کرسی پر بیٹھی تھی۔ میں نے ایک لمحے کے لیے اسے اپنے ذہن کی ڈبیا میں سے نکال کر دیکھا۔ اور فوراً ہی وہیں بند کر دیا۔ کسی کو معلوم تک نہ ہوا کہ میں نے کیا کر دیا ہے۔ اس کو دیکھنے کے بعد میں نے یوں سلسلہ کلام شروع کیا، گویا میرا ذہن ایک لمحے کے لیے بھی غیر حاضر نہ ہوا تھا، ’’جی ہاں سوکھی ہوئی مچھلیوں سے سخت بو آتی ہے۔ نہ جانے یہ لوگ انھیں کھاتے کس طرح ہیں۔ میری تو ناک۔۔۔‘‘ اور اس کے بعد مختلف قسم کی ناکوں پر گفتگو شروع ہو گئی تھی۔\n\nاس کی ناک مجھے بہت پسند ہے۔ میرے پاس ہلکے گلابی رنگ کاٹی سیٹ ہے جو مجھے صرف اس لیے عزیز ہے کہ اس کی پیالیوں کی دستی اس کی ناک سے ملتی جلتی ہے۔ آپ ہنسیں گے۔ مگر۔۔۔ ایک روز صبح کو جب میں نے اسے قریب سے دیکھا تو میرے دل میں عجیب و غریب خواہش پیدا ہوئی کہ اس کی ناک پکڑ کر اس کے ہونٹوں کا رس پی لوں۔\n\nاس کے ہونٹ مجھے پیارے لگتے تھے۔ شاید اس لیے کہ وہ ہر وقت نم آلود رہتے تھے۔ یہ نمی ان میں سنگترے کی لڑیوں کی مانند چمک پیدا کر دیتی تھی۔ ان کے چومنے کی خواہش اگر میرے دل میں پیدا ہوتی تھی تو اس کا باعث یہ نہ تھا کہ میں نے کتابوں میں پڑھا تھا اور لوگوں سے سنا تھا کے عورتوں کے ہونٹ چومے جاتے ہیں۔۔۔اگر مجھے یہ علم نہ ہوتا تو بھی میرے دل میں ان کو چومنے کی خواہش پیدا ہوتی، اس کے ہونٹ ہی کچھ اس قسم کے تھے کہ وہ ایک نامکمل بوسہ معلوم ہوتے تھے۔\n\nوہ میرے ہمسائے ڈاکٹر کی اکلوتی لڑکی تھی۔ سارا دن وہ نیچے اپنے باپ کی ڈسپنسری میں بیٹھی رہتی۔ کبھی کبھی جب میں اسے بازار سے گزرتے ہوئے شیشوں میں سے دوائیوں کی الماری کے پاس کھڑی دیکھتا تو مجھے وہ ایک لمبی گردن والی بوتل دکھائی دیتی جس میں کوئی خوش رنگ سیال مادہ ابل رہا ہو۔ ایک روز میں ڈسپنسری میں ڈاکٹر صاحب سے دوا لینے کے لیے گیا۔ مجھے زکام کی شکایت تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اس سے کہا، ’’بیٹا! ان کے رومال پر یو کلپٹس آئیل کے چند قطرے ٹپکا دو۔‘‘\n\nاس نے میرا رومال لیا اور الماری میں سے ایک چھوٹی سی بوتل نکال کر دوا کے قطرے ٹپکانے لگی۔ اس وقت میرے جی میں آئی کہ اٹھ کر اس کا ہاتھ تھام لوں اور کہوں، ’’اس شیشی کو بند کر دیجیے اگر آپ اپنی آنکھوں کا ایک آنسو مجھے عنایت فرما دیں تو میری بہت سی بیماریاں دور ہو جائیں۔‘‘ لیکن میں خاموش بیٹھا دوا کے ان سفید قطروں کی طرف دیکھتا رہا جو میرے رومال میں جذب ہو رہے تھے۔\n\nجب سے میں نے اسے دیکھنا شروع کیا ہے، میری دلی خواہش رہی ہے کہ وہ روئے اور میں اس کی آنکھوں میں آنسو تیرتے ہوئے دیکھوں۔ میں نے تصّور میں کئی مرتبہ اس کی آنکھوں کو نمناک دیکھا ہے اور غالباً یہی وجہ ہے کہ میں اسے سچ مچ روتا دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس کی گھنی پلکوں میں پھنسے ہوئے آنسو بہت اچھے معلوم ہوں گے۔ چق پر سے جب بارش کے قطرے رک رک کر نیچے پھسل رہے ہوں تو کتنے دل فریب دکھائی دیا کرتے ہیں۔\n\nممکن ہے عورت کی آنکھوں میں آپ آنسو ضروری خیال نہ کریں، پر میں آنسوؤں کو ہٹا کر عورت کی آنکھوں کا تصّور ہی نہیں کر سکتا۔ آنسو آنکھوں کا پسینہ ہے اور مزدور کی پیشانی صرف اسی صورت میں مزدور کی پیشانی ہو سکتی ہے جب اس پر پسینے کے قطرے چمک رہے ہوں، اور عورت کی آنکھیں صرف اسی صورت میں عورت کی آنکھیں ہو سکتی ہیں جب آنسوؤں سے ڈبڈبائی رہتی ہوں۔\n\nوہ سفید سلمہ لگی ساڑی میں شہ نشین پر آئی اور ایسا معلوم ہوا کہ کسی نے نقرئی تاروں والا انار چھوڑ دیا ہے۔ ساڑی کے تھرکتے ہوئے ریشمی کپڑے پر جگہ جگہ سلمے کا کام ٹمٹما رہا تھا،اور مجھے اپنے جسم پر گدگدی محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے ایکا ایکی پلٹ کر میری طرف دیکھا،گویا اس کو فوراً ہی اس بات کا احساس ہوا کہ اس کے علاوہ رات کی خاموشی میں کوٹھے پر کوئی اور متنفس بھی ہے۔۔۔اس کی آنکھیں۔۔۔ اس کی آنکھیں دو موتی رول رہی تھیں۔۔۔ وہ رو رہی تھی۔۔۔ وہ ۔۔۔ وہ رو رہی تھی۔۔۔ میرے دیکھتے دیکھتے اور قبل اس کے کہ میں کچھ کر سکوں، اس کی آنکھوں سے اس کے شباب کے پہلے پسینے کے قطرے چھلکے اور۔۔۔ سنگین فرش پر پھسل گئے۔ وہ میری خلل انداز نگاہوں کی تاب نہ لا سکے۔\n\nوہ دراصل چپ چاپ دوسروں کو خبر کیے بغیر نوزائیدہ بچوں کے مانند تھوڑی دیر ان دو نرم و نازک پنگوڑوں میں لیٹے رہنا چاہتے تھے۔ مگر میری نگاہوں کے شور سے مچل گئے۔ وہ رو رہی تھی پر میں خوش تھا۔ اس کی نم آلود آنکھیں کہرے میں لپٹی ہوئی جھیلیں معلوم ہوتی تھیں۔ بڑی پر اسرار، بڑی فکر خیز، پانی کی پتلی سی تہ کے نیچے اس کی آنکھوں کی سفیدی اور سیاہی ان ننھی ننھی مچھلیوں کی مانند جھلملا رہی تھیں۔ جو پانی کے اوپر آنے سے ڈرتی ہوں۔\n\nمیں نے اس کو دیکھنا چھوڑ کر اس کی آنکھوں کو دیکھنا شروع کر دیا۔ جس طرح دسمبر کی سرد اور گیلی رات میں کھلی فضا کے اندر دودیے جل رہے ہوں۔ اس کی آنکھیں دور سے بہت دور سے مجھے دیکھتی رہیں۔ میں نے ان کی طرف بڑھنا شروع کیا۔۔۔ دو آنسو بنے، گھنی پلکوں میں تھوڑی دیر پھنسے رہے۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے زرد گالوں پر ڈھلک گئے۔ داہنی آنکھ میں ایک اور آنسو بنا، باہر نکلا۔۔۔ گال کی ہڈی پر تھوڑ ی دیر کے لیے اس مسافر کی طرح جس کی منزل قریب ہو، ایک لحظے کے لیے سستایا اور پھسل کر تیزی سے اس کے لبوں کے ایک گوشے کے قریب سے ہو کر آگے دوڑنے والا ہی تھا کہ ہونٹوں کی نمی نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا، اور وہ ایک پتلی سی دھار بن کر پھیل گیا۔\n\nدھلی ہوئی آنکھوں سے اس نے میری طرف غور سے دیکھا۔ اور پوچھا، ’’تم کون ہو؟‘‘ وہ جانتی تھی کہ میں کون ہوں۔ اور یہ پوچھتے ہوئے کہ میں کون ہوں۔ وہ میرے بارے میں کچھ دریافت نہ کر رہی تھی۔ بلکہ وہ یہ پوچھ رہی تھی کہ وہ خود کون ہے۔میں نے جواب دیا، ’’تم شیلا ہو۔‘‘\n\nاس کے بھنچے ہوئے ہونٹ ایک خفیف ارتعاش کے ساتھ کھلے اور وہ سسکیوں میں کہنے لگی، ’’شیلا۔۔۔ شیلا۔۔۔ شی۔‘‘ وہ شہ نشین پر بیٹھ گئی۔ وہ تھکی ہوئی معلوم ہوتی تھی، لیکن ایکا ایکی اسے کچھ خیال آیا اور جو خواب وہ دیکھ رہی تھی، اسے اپنے دماغ سے جھٹک کر اٹھ کھڑی ہوئی اور گھبرائے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ مَیں ۔۔۔ مَیں۔۔۔کیا کہہ رہی تھی۔۔۔؟مجھے کچھ نہیں ہوا۔۔۔میں اچھی ہوں۔۔۔ اور میں یہاں کیسے چلی آئی؟‘‘ میں نے اسے بڑے تسلی آمیز لہجے میں کہا، ’’گھبراؤ نہیں شیلا۔۔۔ تم نے مجھ سے کچھ نہیں کہا۔۔۔ ایسی باتیں نہ کہی جاتی ہیں اور نہ سنی جاتی ہیں۔‘‘\n\nشیلا نے اس انداز سے میری جانب دیکھا گویا میں نے اس کی کوئی چوری پکڑ لی ہے، ’’کیسی باتیں۔۔۔؟ کیسی باتیں۔۔۔؟ کوئی بات بھی تو ہو!‘‘ میں نے اس سے کہا، ’’پرسوں جب تم نیچے ڈسپنسری میں لال لال جِیب نکال کر طوطے سے کھیل رہی تھیں، اور تمہاری بلّوریں انگلیاں بوتلوں سے ٹکرا کر ایک عجیب قسم کی جھنکار پیدا کر رہی تھیں، اس وقت تم ایک نامکمل عورت تھیں۔ پر آج جبکہ تمہاری آنکھیں رور رہی ہیں،تم مکمل عورت بن گئی ہو۔\n\nکیا تمہیں یہ فرق محسوس نہیں ہوتا؟ ہوتا ہے، ضرور ہوتا ہے۔ وہ چیز جو کل تھی، آج تم میں نہیں ہے اور جو آج ہے کل نہ رہے گی۔ پر وہ داغ جو مسرت کا گرم لوہا تمہارے دل پر لگا گیا ہے۔ ہمیشہ ویسے کا ویسا رہے گا۔۔۔ یہ کتنی اچھی بات ہے۔۔۔ تمہاری زندگی میں ایک ایسی چیز تو ہو گی جو ساری کی ساری تمہاری ہو گی۔۔۔ ایک ایسی چیز جس کی ملکیت پر کسی کو رشک نہیں ہو سکتا۔۔۔ کاش میرا دل تمہارا دل ہوتا۔۔۔ کسی عورت کا دل ہوتا۔۔۔ جو ایک ہی داغ کو کافی سمجھتا ہے۔۔۔ عورت کے دل کی آبادی میں کئی ویرانے سما سکتے ہیں۔۔۔ویرانوں کا یہ ہجوم بجائے خود ایک آبادی ہے۔۔۔ تم خوش قسمت ہو۔۔۔وہ دن جس کے لیے تمہیں انتظار کرنا پڑتا۔ تم نے بہت جلد دیکھ لیا۔۔۔ تم خوش قسمت ہو۔‘‘\n\nوہ میری طرف اس مرغی کی طرح حیرت سے دیکھنے لگی جس نے پہلی بار انڈا دیا ہو۔ وہ اپنے کو ٹٹولنے لگی، ’’خوش قسمت۔۔۔! میں خوش قسمت۔۔۔ وہ کیسے۔۔۔؟ آپ کو کیسے معلوم ہوا؟‘‘ میں نے جواب دیا، ’’جب پتنگ کٹ جائے اور کوٹھوں پر چڑھے ہوئے لونڈے ڈور لوٹنے کے لیے شور مچانا شروع کر دیں تو کسی کے بتانے کی حاجت نہیں رہتی کہ پتنگ کٹ گیا ہے۔۔۔ جو پتنگ تم نے ہوا کی بلندیوں میں اڑایا تھا کہاں ہے۔۔۔؟ کل تک اس کی ڈور تمہارے ہاتھ میں تھی، پر آج نظر نہیں آتی!‘‘\n\nاس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔\n\n’’۔۔۔میں خوش قسمت ہوں۔۔۔‘‘ آنسوؤں میں بھیگے ہوئے لفظ اس کے منہ سے نکلے، ’’میں خوش قسمت ہوں۔۔۔ آپ ان لونڈوں سے، جو ڈور لوٹنے کے لیے کوٹھوں پر چڑھے رہتے ہیں، کم شور نہیں مچا رہے۔۔۔‘‘ آنسو زیادہ تیزی سے بہنے لگے۔ اس نے میری طرف اس بارش میں سے دیکھا اور کہا، ’’میری آنکھوں سے آنسو نکال کر آپ کس کا حلق تر کرنا چاہتے ہیں۔۔۔میں سب جانتی ہوں۔ یہ سوئیاں آپ مجھے کیوں چبھو رہے ہیں۔‘‘ اس نے نفرت سے منہ پھیر لیا۔ اس کی عقل اس وقت اس چاقو کے پھل کی مانند تھی، جسے ضرورت سے زیادہ سان پر لگایا گیا ہو۔\n\nمیں نے اس سے بڑے اطمینان سے کہا، ’’جو کچھ ہو چکا ہے۔ اس کا مجھے علم ہے۔ اور اگر اس وقت میں تم سے یہ سب بھول جانے کے لیے کہتا۔ تم سے مصنوعی الفاظ میں ہمدردی کرتا۔ مداریوں کے مانند ایک ہاتھ میں تمہارا درد، تمہارا سارا غم لے کر چھو منتر کے ذریعے سے غائب کر دیتا۔ تو تم یقیناً مجھے اپنا دوست مانتیں، پر میں ایسا نہیں کر سکتا۔۔۔دل تمہارا ہے اور جو بھی اس پر گزرا ہے وہ بھی تمہارا ہے۔ میں کیوں تمہارے دل کو اس نعمت سے محروم کروں، کیوں تمہیں اس درد کو بھول جانے کے لیے کہوں جو تمہارا سرمایۂ حیات ہے۔ اسی درد پر اسی دکھ دینے والے واقعہ پر جو بیت چکا ہے تمہیں اپنی زندگی کے آنے والے دنوں کی بنیادیں استوار کرنا ہوں گی۔۔۔ میں جھوٹ نہیں بولنا چاہتا شیلا، پر اگر تم چاہتی ہو تو تمہاری تسکین کے لیے میں یہ بھی کر سکتا ہوں۔ بولو میں کیا کہوں؟‘‘ یہ سن کر اس نے تیزی سے کہا، ’’مجھے کسی کی ہمدردی کی ضرورت نہیں!‘‘\n\n’’میں جانتا ہوں۔۔۔ ایسے حالات میں کسی کی ہمدردی کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔۔۔ آگ کے اندر کودنے والے کھیل میں ہدایت دینے والے کی کیا ضرورت۔۔۔؟ پریم کی ارتھی کو دوسرے کے کاندھوں سے کیا سروکار، یہ لاش تو زندگی بھر ہمیں اپنے ہی کاندھوں پر اٹھائے پھرنا ہو گی۔۔۔‘‘\n\nوہ بیچ میں بول اٹھی، ’’اٹھاؤں گی۔۔۔ آپ کو اس بات سے کیا۔۔۔ ایسی ایسی بھیانک باتیں سنا کر آپ مجھے کس لیے ڈرانا چاہتے ہیں۔۔۔! میں نے اس سے محبت کی۔۔۔ اور کیا میں اب بھی اس سے محبت نہیں کرتی۔۔۔! اس نے مجھے دھوکا دیا ہے۔ میرے ساتھ فریب کیا ہے، پر یہ فریب اور دھوکا بھی تو اسی نے دیا ہے جس سے میں محبت کرتی ہوں۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ اس نے میری زندگی برباد کر دی ہے۔ مجھے کہیں کا نہیں رکھا۔ لیکن پھر کیا ہوا۔۔۔ میں نے ایک بازی کھیلی اور ہار گئی۔۔۔ آپ مجھے ڈرانا چاہتے ہیں، مجھے طعنے دینا چاہتے ہیں۔۔۔ مجھے۔۔۔ مجھے، جسے اب موت تک کی پروا نہیں رہی۔۔۔ میں نے موت کا نام لیا ہے اور۔۔۔ دیکھیے آپ کے بدن پر کپکپی دوڑ گئی ہے، آپ موت سے ڈرتے ہیں۔ مگر میری طرف دیکھیے، میں موت سے نہیں ڈرتی!‘‘\n\nمیں نے اس کی طرف دیکھا، اس کے لبوں پر ایک زبردستی کی مسکراہٹ ناچ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کی پتلی تہ کے نیچے ایک عجیب قسم کی روشنی جھلملا رہی تھی، اور وہ خود کانپ رہی تھی ہولے ہولے۔ میں نے دوبارہ اس کو غور سے دیکھااور کہا، ’’میں موت سے ڈرتا ہوں۔ اس لیے کہ میں زندہ رہنا چاہتا ہوں۔ تم موت سے نہیں ڈرتی، اس لیے کہ تمہیں زندہ رہنا نہیں آتا۔ جو شخص زندہ رہنے کا سلیقہ نہیں جانتا، اس کے لیے زندہ رہنا بھی موت کے برابر ہے۔۔۔ اگر تم مرنا چاہتی ہو تو بڑے شوق سے مر جاؤ۔‘‘\n\nوہ حیرت سے میرا منہ تکنے لگی۔ میں نے کہنا شروع کیا، ’’تم مرنا چاہتی ہو۔ اس لیے کہ تم سمجھتی ہو کہ دکھ کے اس پہاڑ کا بوجھ جو ایکا ایکی تم پر ٹوٹ پڑا ہے۔ تم سے اٹھایا نہ جائے گا۔۔۔یہ غلط ہے۔۔۔ جب تم محبت کرنے کی طاقت رکھتی ہو تو اس کی شکست کے صدمے برداشت کرنے کی بھی قوت رکھتی ہو۔۔۔ وہ لذّت ،وہ حظ وہ مسرت جو تم نے اس سے محبت کرکے حاصل کی، تمہاری زندگی کا عرق ہے،اسے سنبھال کر رکھو۔ اور باقی تمام عمران چند گھونٹوں پر بسر کرو۔۔۔\n\nوہ مرد جس سے تم نے محبت کی، اتنا ضروری، اتنا اہم نہیں ہے، جتنی کہ تمہاری محبت ہے، جو اس سے تم کو ہے۔۔۔ اس مرد کو بھول جاؤ، لیکن اپنی محبت کو یاد رکھو، اس کی یاد پر جیو۔۔۔ ان لمحات کی یاد پر جن کو حاصل کرنے کے لیے تم نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی شے توڑ ڈالی۔۔۔ کیاتم ان لمحات کو بھول سکتی ہو، جس کی قیمت میں تم نے ایک بیش بہا موتی دیا ہے۔۔۔ ہر گز نہیں۔۔۔ مرد ایسے لمحات کو بھول سکتا ہے، بھول جاتا ہے۔ اس لیے کہ اسے کوئی قیمت ادا نہیں کرنا پڑتی۔۔۔ پر عورتیں نہیں بھول سکتیں۔ جنھیں چند گھڑیوں کی فرصت کے لیے اپنی ساری زندگی چکنا چور کر دینا پڑتی ہے۔۔۔ تم مرنا چاہتی ہو۔۔۔! کیا تم اس سرائے میں اتنے مہنگے داموں پر کمرہ اٹھا کر بھی اس کو چھوڑ دینا چاہتی ہو۔۔۔ زندہ رہو۔۔۔ نہیں نہیں، اس زندگی کو استعمال کرو۔ ہمیں مرنا ضرور ہے،اسی لیےتو زندہ رہنا بھی ضروری ہے۔۔۔‘‘ میری باتوں نے اس پر تھکان سی طاری کر دی۔ وہ نڈھال ہو کر شہ نشین پر بیٹھ گئی اور کہنے لگی، ’’میں تھک گئی ہوں۔۔۔ ‘‘\n\n’’جاؤ، سو جاؤ۔۔۔ آرام کرو اور دوسری مصیبتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خود میں ہمت\nپیدا کرو۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر میں چلنے ہی کو تھا کہ مجھے دفعتاً ایک خیال آیا اور اس خیال کے آتے ہی تھوڑی دیر کے لیے میرا دل بیٹھ سا گیا۔ میں نے سوچا اگر اس نے اپنے آپ کو مار لیا تو۔۔۔ اور یہ سوچتے ہوئے مجھے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ مجھ میں ایک چیز کی کمی ہو جائے گی۔ چنانچہ میں پلٹا اور اس کے قریب جا کر اس سے التجائیہ لہجے میں کہا، ’’شیلا! میں تم سے ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں۔۔۔‘‘\nشیلا نے گردن اٹھا کر میری طرف دیکھا۔\n\n’’دیکھو شیلا، میں تم سے التجا کرتا ہوں کہ خودکشی کے خیال سے باز آؤ۔۔۔تم زندہ رہو، ضرور زندہ رہو۔‘‘\n\nاس نے میری بات سنی اور پوچھا، ’’کیوں؟‘‘\n\n’’کیوں۔۔۔؟ یہ تم مجھ سے کیوں پوچھتی ہو شیلا؟ تمہارا دل اچھی طرح جانتا ہے کہ میں تم سے یہ التجاکیوں کر رہا ہوں۔۔۔ چھوڑو ان باتوں کو۔۔۔ مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہےاور نہ مجھے اپنے آپ سے کوئی شکایت ہے۔۔۔ بات یہ ہے کہ میں نے جو چیز شروع کی تھی، اب اسے اختتام تک پہنچانا چاہتا ہوں۔۔۔ میں خود غرض ہوں۔۔۔ ہر انسان خود غرض ہے۔۔۔ میں تم سے التجا کر رہا ہوں کہ تم نہ مرو، جیو، یہ خود غرضی ہے۔۔۔ تم زندہ ہو گی تو میری محبت جوان رہے گی۔۔۔ تمہاری زندگی کے ہر دور کے ساتھ میں اپنی محبت کو وابستہ دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ پر تمہاری اجازت سے۔۔۔‘‘\n\nوہ دیر تک سوچتی رہی۔ وہ اب زیادہ سنجیدہ ہو گئی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے بڑے دھیمے لہجے میں کہا، ’’مجھے زندہ رہنا ہو گا!‘‘ اس کے اس دھیمے لہجے میں عزم کے آثار تھے۔ اس تھکی ہوئی جوانی کو اونگھتی ہوئی چاندنی میں چھوڑ کر میں نیچے اپنے فلیٹ پر چلا آیا اور سو گیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81_%D9%86%D8%B4%DB%8C%D9%86_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "شہر دل آباد تھا جب تک وہ شہر آرا رہا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شہر دل آباد تھا جب تک وہ شہر آرا رہا\nجب وہ شہر آرا گیا پھر شہر دل میں کیا رہا\n\nکیا رہا پھر شہر دل میں جز ہجوم درد و غم\nتھی جہاں فوج طرب واں لشکر غم آ رہا\n\nآ رہا آنکھوں میں دم تو بھی نہ آیا وہ صنم\nحیف کس سے پوچھیے جا کر کہ وہ کس جا رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D9%88%DB%81_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D8%A2%D8%B1%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج\nدشتی وحش و طیر اس کے سر تیزی ہی میں شکار ہے آج\n\nبر افروختہ رخ ہے اس کا کس خوبی سے مستی میں\nپی کے شراب شگفتہ ہوا ہے اس نو گل پہ بہار ہے آج\n\nاس کا بحر حسن سراسر اوج و موج و تلاطم ہے\nشوق کی اپنے نگاہ جہاں تک جاوے بوس و کنار ہے آج\n\nآنکھیں اس کی لال ہوئیں ہیں اور چلے جاتے ہیں سر\nرات کو دارو پی سویا تھا اس کا صبح خمار ہے آج\n\nگھر آئے ہو فقیروں کے تو آؤ بیٹھو لطف کرو\nکیا ہے جان بن اپنے کنے سو ان قدموں پہ نثار ہے آج\n\nکیا پوچھو ہو سانجھ تلک پہلو میں کیا کیا تڑپا ہے\nکل کی نسبت دل کو ہمارے بارے کچھ تو قرار ہے آج\n\nخوب جو آنکھیں کھول کے دیکھا شاخ گل سا نظر آیا\nان رنگوں پھولوں میں ملا کچھ محو جلوۂ یار ہے آج\n\nجذب عشق جدھر چاہے لے جائے ہے محمل لیلیٰ کا\nیعنی ہاتھ میں مجنوں کے ناقے کی اس کے مہار ہے آج\n\nرات کا پہنا ہار جو اب تک دن کو اتارا ان نے نہیں\nشاید میرؔ جمال گل بھی اس کے گلے کا ہار ہے آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%BA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "شہر لگتا ہے بیابان مجھے", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شہر لگتا ہے بیابان مجھے\nکہیں ملتا نہیں انسان مجھے\n\nمیں ترا نقش قدم ہوں اے دوست\nاپنے انداز سے پہچان مجھے\n\nمیں تجھے جان سمجھ بیٹھا ہوں\nاپنے سائے کی طرح جان مجھے\n\nتو کہاں ہے کہ ترے پردے میں\nلیے پھرتا ہے ترا دھیان مجھے\n\nتیری خوشبو کو صبا لائی تھی\nکر گئی اور پریشان مجھے\n\nسر و سامان دو عالم ہوں میں\nکیوں کہو بے سر و سامان مجھے\n\nمیری ہستی ترا افسانہ تھی\nموت نے دے دیا عنوان مجھے\n\nدل کی دھڑکن پہ گماں ہوتا ہے\nڈھونڈھتا ہے کوئی ہر آن مجھے\n\nمیں بھی آئینہ ہوں تیرا لیکن\nتو نے دیکھا کبھی حیران مجھے\n\nان کی نسبت کا کرشمہ ہے ظفرؔ\nکہتے ہیں یوسف کنعان مجھے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D9%84%DA%AF%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "شہر میں انصاف کیا اچھا ہوا", "poet_page": "مصنف:نازش بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شہر میں انصاف کیا اچھا ہوا\nآپ سچے اور میں جھوٹا ہوا\n\nہو گیا وہ بے نیاز دو جہاں\nاے خیال یار جو تیرا ہوا\n\nرنگ رخ ہے ترجمان وصل غیر\nزلف برہم سے تو پوچھو کیا ہوا\n\nتھم ذرا اے دیدۂ خوں بار آج\nدیکھ تو یہ کون ہے بیٹھا ہوا\n\nآگ بھڑکانے کو نکلی دل سے آہ\nطور پر جو کچھ ہوا تھوڑا ہوا\n\nاک تڑپ میں اور وہ بیتاب ہوں\nتو بھی اے درد جگر اتنا ہوا\n\nسیکھ لے ہم سے کوئی انداز عشق\nسو ترا یہ رنگ ہے برتا ہوا\n\nاٹھ گیا جب ان کے چہرے سے نقاب\nذرہ ذرہ دیدۂ بینا ہوا\n\nایک ہنگامہ تھا ان کو چاہنا\nاقربا میں حشر سا برپا ہوا\n\nسانس اکھڑا نبض چھوٹی میں چلا\nہائے تم اب تک نہ سمجھے کیا ہوا\n\nشاہد و مینا مقدر میں نہیں\nبا خدا نازشؔ عبث پیدا ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%B5%D8%A7%D9%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "شہر میں تھا نہ ترے حسن کا یہ شور کبھو", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شہر میں تھا نہ ترے حسن کا یہ شور کبھو\nمصر اس جنس سے اتنا نہ تھا معمور کبھو\n\nعشق میں داد نہ چاہو کہ سنا ہم نے نہیں\nعدل و انصاف کا اس ملک میں دستور کبھو\n\nفکر مرہم کا مرے واسطے مت کر ناصح\nخوب ہوتا نہیں اس عشق کا ناسور کبھو\n\nگو نہ کر وعدہ وفا دے نہ مجھے اس کا جواب\nمجھ سے ملنا بھی سجن ہے تجھے منظور کبھو\n\nاپنی بے دردی کی سوگند ہے تجھ کو اے مرگ\nتو نے دیکھا ہے یقیںؔ سا کوئی رنجور کبھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88"} {"title": "شہر میں پھرتا ہے وہ مے خوار مست", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شہر میں پھرتا ہے وہ مے خوار مست\nکیوں نہ ہو ہر کوچہ و بازار مست\n\nہو گئی اس کا قد و رخسار دیکھ\nسرو قمری بلبل و گل زار مست\n\nزاہدو اٹھ جاؤ مجلس سے کہ آج\nبے طرح آتا ہے وہ مے خوار مست\n\nجس کے گھر جاتا ہے وہ دارو پیے\nہو ہے اس گھر کے در و دیوار مست\n\nسر کو قدموں پر دھر اس کے لوٹیے\nرات کو آئے اگر وہ یار مست\n\nمے کشو حاتمؔ کو متوالا کہو\nایسا ہم دیکھا نہیں ہشیار مست", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D8%AA"} {"title": "شہر نگار", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "رخصت اے ہم سفرو شہر نگار آ ہی گیا\nخلد بھی جس پہ ہو قرباں وہ دیار آ ہی گیا\n\nیہ جنوں زار مرا میرے غزالوں کا جہاں\nمیرا نجد آ ہی گیا میرا تتار آ ہی گیا\n\nآج پھر تا بہ چمن در پئے گلہائے چمن\nگنگناتا ہوا زنبور بہار آ ہی گیا\n\nگیسوؤں والوں میں ابرو کے کمان داروں میں\nایک صید آ ہی گیا ایک شکار آ ہی گیا\n\nباغبانوں کو بتاؤ گل و نسریں سے کہو\nاک خراب گل و نسرین بہار آ ہی گیا\n\nخیر مقدم کو مرے کوئی بہ ہنگام سحر\nاپنی آنکھوں میں لئے شب کا خمار آ ہی گیا\n\nزلف کا ابر سیہ بازوئے سیمیں پہ لئے\nپھر کوئی نغمہ زن ساز بہار آ ہی گیا\n\nہو گئی تشنہ لبی آج رہین کوثر\nمیرے لب پر لب لعلین نگار آ ہی گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1"} {"title": "شہرت عام اور بقائے دوام کا دربار", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "اے ملک فنا کے رہنے والو! دیکھو اس دربار میں تمہارے مختلف فرقوں کے عالی وقار جلوہ گر ہیں۔ بہت سے حب الوطن کے شہیدہیں، جنہوں نے اپنے ملک کے نام پرمیدان جنگ میں جاکر خونی خلعت پہنے۔ اکثر مصنف اور شاعر ہیں جنہیں اسی ہاتف غیبی کا خطاب زیبا ہے جس کے الہام سے وہ مطالب غیبی ادا کرتے رہے اور بے عیبی سے زندگی بسر کر گئے۔ ایسے بزرگ اور دانا بھی ہیں، جو بزم تحقیق کے صدر اور اپنے عہد کے باعث فخر رہے، بہت سے نیک بخت نیکی کے رستے بتاتے رہے جس سے ملک فنا میں بقا کی عمارت بناتے رہے۔بقائے دوام دو طرح کی ہیں۔ ایک تو وہی جس طرح روح فی الحقیقت بعد مرنے کے رہ جائےگی کہ اس کے لئے فنا نہیں۔ دوسری وہ عالم یادگار کی بقا، جس کی بدولت لوگ نام کی عمر سے جیتے ہیں اور شہرت دوام کی عمرپاتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ اچھے سے اچھے اور بڑے سے بڑے کام جن جن سے ہوئے یا تو ثو اب آخرت کے لئے یا دنیا کی ناموری اور شہرت کے لئے ہوئے، لیکن میں اس دربار میں انہیں لوگوں کو لاؤں گا جنہوں نے اپنی شہرت اور ناموری کو سمجھا۔ اسی واسطے جو لوگ دین کے بانی اور مذہب کے رہنماتھے، ان کے نام شہرت کی فہرست سے نکال ڈالتا ہوں مگر بڑا فکر یہ ہے کہ جن لوگوں کا ذکر کرتا ہوں ان کی حق تلفی نہ ہو جائے کیوں کہ جن بے چاروں نے ساری جانفشانی اور عمر بھی کی محنتوں کا اجر فقط نام کو سمجھا، ان کے حصے میں کسی طرح کا نقصان ڈالنا سخت ستم ہے۔اسی لحاظ سے مجھے تمام مصنفین اور مؤرخین سے مدد مانگی پڑی۔ چنانچہ اکثروں کا نہایت احسان مندہوں کہ انہوں نے ایسے ایسے لوگوں کی ایک فہرست بناکر عنایت کی اور مجھے بھی کل دوپہر سے شام تک اسی کے مقابلے میں گزری۔ نامور ان موصوف کے حالات ایسے دل پر چھائے ہوئے تھے کہ انہوں نے مجھے سوتے سوتے چونکا دیا۔ میں اس عالم میں ایک خواب دیکھ رہا تھا۔ چونکہ بیان اس کا لطف سے خالی نہیں، اس لئے عرض کرتا ہوں۔خوا ب میں دیکھتا ہوں کہ گویا میں ہوا کھانے چلا ہوں اور چلتے چلتے ایک میدان 1 وسیع الفضا میں جا نکلا ہوں، جس کی وسعت اور دل افزائی میدان خیال سے بھی زیادہ ہے۔ دیکھتا ہوں کہ میدان مذکور میں اس قدر کثرت سے لوگ جمع ہیں کہ نہ انہیں محاسب فکر شمار کر سکتا ہے، نہ قلم تحریر فہرست تیار کر سکتا ہے۔ اور جو لوگ اس میں جمع ہیں وہ غرض مند لوگ ہیں کہ اپنی اپنی کامیابی کی تدبیروں میں لگے ہوئے ہیں۔ وہاں ایک پہاڑ ہے۔ جس کی چوٹی گوش سحاب سے سرگوشیاں کر رہی ہے۔ پہلو اس کے جس طرف سے دیکھو، ایسے سر پھوڑ اور سینہ توڑ ہیں کہ کسی مخلوق کے پاؤں نہیں جمتے تھے۔ ہاں حضرت انسان کے ناخن تدبیر کچھ کام کر جائیں تو کر جائیں، میرے دوستو! اس رستہ کی دشواریوں کو سر پھوڑ اور سینہ توڑ پہاڑوں سے تشبیہ دے کر ہم خوش ہوتے ہیں مگرنرمی نا منصفی ہے۔ پتھر کی چھاتی اور لوہے کا کلیجہ لے کر، تو ان بلاؤں کو جھیلے۔ جن پر وہ مصیبتیں گزریں، وہیں جانیں۔یکایک قلہ کوہ سے ایک شہنائی کی سی آواز آنی شروع ہوئی۔ یہ دل کش آواز سب کو بےاختیار اپنی طرف کھینچتی تھی، اس طرح کہ دل میں جان اورجان میں زندہ دلی پیدا ہوتی تھی بلکہ خیال کووسعت کے ساتھ ایسی رفعت دیتی تھی جس سے انسان مرتبہ انسانیت سے بھی بڑھ کر قدم مارنے لگتا تھا۔ لیکن یہ عجیب بات تھی کہ اتنے انبوہ کثیر میں تھوڑے ہی اشخاص تھے جن کے کان اس کے سننے کی قابلیت یاا س کے نغموں کا مذاق رکھتے تھے۔ایک بات کے دیکھنے سے مجھے نہایت تعجب ہوا اور وہ تعجب فورا ًجاتا بھی رہا۔ یعنی دوسری طرف جو نظر پڑی تو دیکھتا ہوں کہ کچھ خوب صورت خوب صورت عورتیں ہیں اور بہت سے لوگ ان کے تماشائے جمال میں محو ہو رہے ہیں۔ یہ عورتیں پریوں کا لباس پہنے ہیں۔ مگر یہ بھی وہیں چرچا سناکہ درحقیقت نہ وہ پریاں ہیں، نہ پری زاد عورتیں ہیں۔ کوئی ان میں غفلت، کوئی عیاشی ہے، کوئی خودپسندی، کوئی بے پروائی ہے۔ جب کوئی ہمت والاترقی کے رستہ میں سفر کرتا ہے تو یہ ضرور ملتی ہیں۔ انہیں میں پھنس کر اہل ترقی اپنے مقاصد سے محروم رہ جاتے ہیں۔ان پر درختوں کے جھنڈ سایہ کئے تھے۔ رنگ برنگ کے پھول کھلے تھے۔ گوناں گوں میوے جھوم رہے تھے۔ طرح طرح کے جانور بول رہے تھے۔ نیچے قدرتی نہریں، اوپر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ وہیں وہ دانش فریب پریاں پتھروں کی سلوں پر، پانی میں پاؤں لٹکائے بیٹھی تھیں اور آپس میں چھینٹے لڑ رہی تھیں۔ مگر ایسے ایسے الجھاوے بلندیِ کوہ کے ادھرہی ادھر تھے۔ یہ بھی صاف معلوم ہوتا تھا کہ جو لوگ ان جعلی پریوں کی طرف مائل ہیں وہ اگرچہ اقوام مختلفہ، عہدہ ہائے متفرقہ، عمرہائے متفاوتہ رکھتے ہیں، مگر وہی ہیں جوحوصلہ کے چھوٹے، ہمت کے ہٹیے اور طبیعت کے پست ہیں۔دوسری طرف دیکھا کہ جو بلند حوصلہ، صاحب ہمت، عالی طبیعت تھے وہ ان سے الگ ہو گئے اورغول کے غول شہنائی کی آواز کی طرف بلندی کوہ پر متوجہ ہوئے۔ جس قدریہ لوگ آگے بڑھتے تھے، اسی قدر وہ آواز کانوں کو خوش آئندمعلوم ہوتی تھی۔ مجھے ایسا معلوم ہواکہ بہت سے چیدہ اور برگزیدہ اشخاص اس ارادہ سے آگے بڑھے کہ بلندی کوہ پر چڑھ جائیں اور جس طرح ہو سکے پاس جاکر اس نغمہ آسمانی سے قوت روحانی حاصل کریں۔ چنانچہ سب لوگ کچھ کچھ چیزیں اپنے اپنے ساتھ لینے لگے۔ معلوم ہوتا تھا کہ گویا آگے کے راستہ کا سامان لے رہے ہیں۔ سامان بھی ہرایک کا الگ الگ تھا۔ کسی کے ایک ہاتھ میں شمشیر برہنہ عَلَم تھی، ایک ہاتھ میں نشان تھا۔ کسی کے ہاتھ میں کاغذوں کے اجزا تھے۔ کسی کی بغل میں ایک کمپاس تھی۔ کوئی پنسلیں لئے تھا۔ کوئی جہازی قطب نما اور دوربین سنبھالے تھا۔ بعضوں کے سرپر تاج شاہی دھرا تھا۔ بعضوں کے تن پر لباس جنگی آراستہ تھا۔غرض کہ علم ریاضی اور جرثقیل کا کوئی آلہ نہ تھا، جو اس وقت کام میں نہ آ رہا ہو۔ اسی عالم میں دیکھتا ہوں کہ ایک فرشتہ رحمت میرے داہنے ہاتھ کی طرف کھڑا ہے اور مجھے بھی اس بلندی کا شائق دیکھ کر کہتا ہے کہ یہ سرگرمی اور گرم جوشی تمہاری ہمیں نہایت پسند ہے۔ اس نے یہ بھی صلاح دی کہ ایک نقاب منہ پر ڈال لو۔ میں نے بے تامل تعمیل کی۔ بعد اس کے گروہ مذکور فرقہ فرقہ میں منقسم ہو گیا۔ کوہ مذکور پر رستوں کا کچھ شمار نہ تھا۔ سب نے ایک ایک راہ پکڑ لی۔ چنانچہ کچھ لوگوں کو دیکھا کہ چھوٹی چھوٹی گھاٹیوں میں ہولئے۔ وہ تھوڑی ہی دور چڑھے تھے کہ ان کا راستہ ختم ہوا اور وہ تھم گئے۔ مجھے معلوم ہواکہ ان پست ہمتوں نے صنعت گری اور دست کاری کی راہ لی تھی کہ روپیہ کے بھوکے تھے اور جلد محنت کا صلہ چاہتے تھے۔میں ان لوگوں کے پیچھے تھا جنہوں نے دلاوروں اورجاں بازوں کے گروہ کو پیچھے چھوڑا تھا اور خیال کیا تھا کہ چڑھائی کے رستے ہم نے پالئے۔ مگروہ رستے ایسے پیچ درپیچ اور درہم برہم معلوم ہوئے کہ تھوڑا ہی آگے بڑھ کراس کے ہیر پھیر میں سرگرداں ہو گئے۔ ہرچند برابر قدم مارے جاتے تھے مگر جب دیکھا تو بہت کم آگے بڑھتے تھے۔ میرے فرشتہ رحمت نے ہدایت کی کہ یہ وہی لوگ ہیں کہ جہاں عقل صادق اور عزم کامل کام دیتا ہے، وہاں چاہتے ہیں کہ فقط چالاکی سے کام کر جائیں بعضے ایسے بھی تھے کہ بہت آگے بڑھ گئے تھے۔ مگر ایک ہی قدم ایسا بے موقع پڑا کہ جتناگھنٹوں میں بڑھے تھے اتنا دم بھر میں نیچے آن پڑے۔ بلکہ بعض ایسے ہو گئے کہ پھر چڑھنے کے قابل ہی نہ رہے۔ اس سے وہ لوگ مرادہیں کہ جو مدد روزگار سے ترقیاں 2 کرتے چلے جاتے ہیں مگر کوئی ایسی حرکت ناشائستہ کرتے ہیں کہ دفعتا گر پڑتے ہیں اورآئندہ کے لئے بالکل اس سے علاقہ ٹوٹ جاتا ہے۔ہم اتنے عرصہ میں بہت اونچے چڑھ گئے اور معلوم ہوا کہ جو چھوٹے بڑے رستے پہاڑ کے نیچے سے چلتے ہیں، اوپر آکردوشاہراہوں سے ملتے ہیں۔ چنانچہ وہاں آکر تمام صاحب ہمت دو گروہوں میں منقسم ہو گئے۔ ان دونوں شاہراہوں میں ذرا ذرا آگے بڑھ کرایک ایک بھوت ڈراؤنی صورت، ہیبت ناک مورت کھڑا تھا کہ آگے جانے سے روکتا تھا۔ ان میں سے ایک کے ہاتھ میں ایک درختِ خاردار کا ٹہنا تھا، بھوت کا نام دیو ہلاک تھا اور کانٹے وہی ترقی کے موانع اور موت کے بہانے تھے جواوالعزموں کو راہ ترقی میں پیش آتے ہیں۔ چنانچہ جو سامنے آتا تھا ٹہنے کی مار منہ پر کھاتا تھا۔ دیو کی شکل ایسی خونخوار تھی گویا موت سامنے کھڑی ہے۔ ان کانٹوں کی مارسے غول کی غول اہل ہمت بھاگ بھاگ کر پیچھے ہٹتے تھے اور ڈر ڈر کر چلاتے تھے کہ ہے ہے موت! ہے ہے موت!دوسرے رستہ پر جو بھوت تھا اس کا نام حسدتھا۔ پہلے بھوت کی طرح کچھ اس کے ہاتھ میں نہیں تھا لیکن ڈراؤنی آواز اور بھونڈی صورت اور مکروہ و معیوب کلمے جو اس کی زبان سے نکلتے تھے، اس لئے اس کا منہ ایسا برا معلوم ہوتا تھا کہ اس کی طرف دیکھا نہ جاتا تھا۔ اس کے سامنے ایک کیچڑ کا حوض بھرا تھا کہ برابر چھینٹیں اڑائے جاتا تھا اور ہر ایک سفیدپوش کے کپڑے خراب کرتا تھا۔ جب یہ حال دیکھا تو اکثر اشخاص ہم میں سے بیدل ہو کر رہ رہ گئے اور بعضے اپنے یہاں تک آنے پر کمال نادم ہوئے۔ میرا یہ حال تھا کہ یہ خطرناک حالتیں دیکھ دیکھ کر دل ہراساں ہوا جاتا تھا اور قدم آگے نہ اٹھتا تھا۔ اتنے میں اس شہنائی کی آواز اس تیزی کے ساتھ کان میں آئی کہ بجھے ہوئے ارادے پھر چمک اٹھے۔ جس قد رکہ دل زندہ ہوئے تھے، اسی قدر خوف و ہراس خاک ہو ہوکر اڑتے گئے۔ چنانچہ بہت سے جانباز جو شمشیریں علم کئے ہوئے تھے اس کڑک دمک سے قدم مارتے آگے بڑھے، گویا حریف سے میدان جنگ مانگتے ہیں۔یہاں تک کہ جہاں دیو کھڑا تھا، یہ اس دہانہ سے نکل گئے اور وہ موت کے دانت نکالے دیکھتا رہ گیا۔ جو لوگ سنجیدہ مزاج اور طبیعت کے دھیمے تھے وہ اس رستے پر پڑے جدھر حسد کا بھوت کھڑا تھا۔ مگر اس آواز کے ذوق شوق نے انہیں بھی ایسا مست کیا کہ گالیاں کھاتے، کیچڑ میں نہاتے، مرپچ کر یہ بھی اس کی حد سے نکل گئے۔ چنانچہ جو کچھ رستے کی صعوبتیں اور خرابیاں تھیں وہ بھی ان بھوتوں ہی تک تھیں۔ آگے دیکھا توان کی دست رس سے باہر ہیں اور رستہ بھی صاف اور ہموار بلکہ ایسا خوشنما ہے کہ مسافر جلد جلد آگے بڑھے اور ایک سپاٹے میں پہاڑ کی چوٹی پر جا پہنچے۔ اس میدان روح افزا میں پہنچتے ہی ایسی جان بخش اور روحانی ہوا چلنے لگی جس سے روح اور زندگانی کو قوت دوامی حاصل ہوتی تھی۔ تمام میدان جو نظر کے گردوپیش دکھائی دیتا تھا اس کا رنگ کبھی نور سحر تھا اور کبھی شام شفق، جس سے قوس قزح کے رنگ میں کبھی شہرت عام اور کبھی بقائے دوام کے حروف عیاں تھے۔ یہ نور سرور کا عالم دل کو اس طرح تسلی اور تشفی دیتا تھا کہ خود بخود پچھلی محنتوں کے غباردل سے دھوئے جاتے تھے اور اس مجمع عام میں امن وامان اور دلی آرام پھیلتا تھا جس کا سرور لوگوں کے چہروں سے پھولوں کی شادابی ہوکرعیاں تھا۔ناگہاں ایک ایوان عالی شان دکھائی دیا کہ اس کی چار طرف پھاٹک تھے۔ اس پہاڑ کی چوٹی پر دیکھا کہ پھولوں کے تختہ میں ایک پری حور شمائل چاندی کی کرسی پر بیٹھی ہے اور وہی شہنائی بجا رہی ہے جس کے میٹھے میٹھے سروں نے ان مشتاقوں کے انبوہ کو یہاں تک کھینچا تھا۔ پری ان کی طرف دیکھ کر مسکراتی تھی اور سروں سے اب ایسی صدا آتی تھی گویا آنے والوں کو آفرین و شاباش دیتی ہے اور کہتی ہے کہ ’’خیر مقدم، خیر مقدم! خوش آمدید، صفا آور دید۔ ‘‘ اس آواز سے یہ خدائی لشکر کئی فرقوں میں منقسم ہو گیا۔ چنانچہ مؤرخوں کا گروہ ایک دروازہ پر استادہ ہوا تاکہ صاحب مراتب اشخاص کو حسب مدارج ایوان جلوس داخل کرے۔ یکایک وہ شہنائی جس سے کبھی شوق انگیز و جوش خیز اور کبھی جنگی باجوں کے سر نکلتے تھے اب اس سے ظفریابی اور مبارک بادی کی صدا آنے لگی۔ تمام مکان گونج اٹھا اور دروازے خود بخود کھل گئے۔جوشخص سب سے پہلے آگے بڑھا، معلوم ہوا کہ کوئی راجوں کا راجہ مہاراجہ ہے۔ چاند کی روشنی چہرہ کے گردہالہ کئے ہے۔ سر پر سورج کی کرن کا تاج ہے۔ اس کے استقلال کو دیکھ کر لنکا کا کوٹ پانی پانی ہوا جاتا ہے۔ اس کی حق داری، جنگل اور پہاڑوں کے حیوانوں کو جاں نثاری میں حاضر کرتی ہے۔ تمام دیوی دیوتا دامنوں کے سایہ میں لئے آتے ہیں۔ فرقہ فرقہ کے علما اور مؤرخ اسے دیکھتے ہی شاہانہ طور سے لینے کو بڑھے اوروہ بھی متانت اور انکسار کے ساتھ سب سے پیش آیا۔ مگر ایک شخص کہن سالہ، رنگت کا کالا، ایک پوتھی بغل میں لئے ہندوؤں کے غول سے نکلا اور بہ آواز بلند چلایا کہ آنکھوں والو، کچھ خیر ہے؟ دیکھو، دیکھو، ترتیب کے سلسلہ کو برہم نہ کرو اور نرنکار کے نور کو اجسام خاک میں نہ ملاؤ۔ یہ کہہ کر آگے بڑھا اور اپنی پوتھی نذر گزرانی۔ اس نے نذر قبول کی اور نہایت خوشی سے اس کے لینے کو ہاتھ بڑھایا تو معلوم ہوا کہ اس کا ہاتھ بھی فقط سورج کی کرن تھا۔ سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے، کوئی کچھ سمجھا کوئی کچھ سمجھا۔ 3 اس وقت ایک بمان یعنی تخت ہوادا رآیا۔ وہ اس پر سوار ہوکر آسمان کو اڑ گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ رام چندرجی ہیں اوریہ والمیک ہے جس نے رامائن نذردی۔سب لوگ ابھی والمیک کی ہدایت کا شکریہ ادا کر رہے تھے کہ اتنے میں ایک اور آمدآمد ہوئی۔ دیکھا کہ ایک تخت طلسمات کو بتیس پریاں اڑائے لئے آتی ہیں۔ اس پر ایک اورراجہ بیٹھا ہے، مگر نہایت دیرینہ سال۔ اسے فرقہ فرقہ کے علما اور مؤرخ لینے کو نکلے مگرپنڈت اور مہاجن لوگ بہت بے قراری سے دوڑے۔ معلوم ہوا کہ راجہ تو مہاراجہ بکرماجیت تھے اور تخت سنگھاسن بتیسی۔ پریاں اتنی بات کہہ کر ہوا ہوگئیں کہ جب تک سورج کا سونا اور چاند کی چاندنی چمکتی ہے نہ آپ کا سنہ ہٹےگا نہ سکہ مٹےگا۔ برہمنوں اور پنڈتوں نے تصدیق کی اور انہیں لے جاکر ایک مسند پر بٹھا دیا۔ایک راجہ کے آنے پر لوگوں میں کچھ قیل و قال ہوئی کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ اپنے دو مصاحبوں کو بھی ساتھ لے جائے اور اراکین دربار کہتے تھے کہ یہاں تمکنت اور غرور کا گزارہ نہیں۔ اتنے میں وہی ۳۲ پریاں پھر آئیں۔ چنانچہ ان کی سفارش سے اسے بھی لے گئے۔ جس وقت راجہ نے مسندپر قدم رکھا ایک پنڈت آیا۔ دونوں ہاتھ اٹھاکر آشیرواد کہی اوربقائے دوام کا تاج سر پر رکھ دیا، جس میں ہیرے اور پنے کے نودانے ستاروں پر آنکھ مار رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ وہ راجہ بھوج تھے اور ۲ ۳ پریوں کا جھرمٹ وہی کتاب سنگھاسن بتیسی تھی جو ان کے عہد میں تصنیف ہوئی اور جس نے تاج سر پر رکھا وہ کالی داس شاعر تھا، جس نے ان کے عہدمیں نو کتابیں لکھ کر فصاحت و بلاغت کو زندگی جاوید بخشی ہے۔اس طرف تو برابر یہی کاروبار جاری تھے، اتنے میں معلوم ہوا کہ دوسرے دروازہ سے بھی داخلہ شروع ہوا۔ میں اس طرف متوجہ ہوا۔ دیکھتا ہوں کہ وہ کمرہ بھی فرش فروش، جھاڑ فانوس سے بقعہ نور بنا ہوا ہے۔ ایک جوان پیل پیکر، ہاتھ میں گرز گاؤ سر، نشہ شجاعت میں مست، جھومتا جھامتا چلاآتا ہے۔ جہاں قدم رکھتا ہے، ٹخنوں تک زمین میں ڈوب جاتا ہے۔ گرد اس کے شاہان کیانی اور پہلوانان ایرانی موجود ہیں کہ درفش کاویانی کے سایہ بے زوال میں لئے آتے ہیں۔ حب قوم اور حب وطن اس کے دائیں بائیں پھول برساتے تھے۔ اس کی نگاہوں سے شجاعت کاخون ٹپکتا تھا اور سر پرکلہ شیر کا خود فولادی دھرا تھا۔ مؤرخ اور شعرا اس کے انتظار میں دروازے پر کھڑے تھے۔ سب نے اسے بچشم تعظیم دیکھا۔ انہی میں ایک پیر مرد دیرینہ سال جس کے چہرہ سے مایوسی اور ناکامی کے آثار آشکارا تھے، وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اندلے گیا اور ایک کرسی پر بٹھایا، جسے بجائے چارپایوں کے چار شیر کندھوں پر اٹھائے کھڑے تھے۔ پھر پیرمرد نے اہل مجلس کی طرف متوجہ ہوکر چنداشعار نہایت زور و شور کے پڑھے نہیں بلکہ اس کے کارناموں کی تصویر صفحہ ہستی پر ایسے رنگ سے کھینچی جو قیامت تک رہے گی۔ بہادر پہلوان نے اٹھ کر اس کا شکریہ ادا کیا اور گل فردوس کا ایک طرہ اس کے سرپر آویزاں کرکے دعا کی کہ الہی یہ بھی قیامت تک شگفتہ و شاداب رہے۔ تمام اہل محفل نے آمین کہی۔معلوم ہوا کہ وہ بہادر، ایران کاحامی، شیرسیستانی، رستم پہلوان ہے۔ اور کہن سال مایوس فردوسی ہے، جو شاہنامہ لکھ کر اس کے انعام سے محروم رہا۔بعداس کے ایک جوان آگے بڑھا جس کاحسن شباب نوخیز اور دل بہادری اورشجاعت سے لبریز تھا۔ سر پر تاج شاہی تھا مگر اس سے ایرانی پہلوانی پہلو چراتی تھی۔ ساتھ اس کے حکمت یونانی چتر لگائے تھی۔ میں نے لوگوں سے پوچھا، مگرسب اسے دیکھ کر ایسے محوہوئے کہ کسی نے جواب نہ دیا۔ بہت سے مؤرخ اور محقق اس کے لینے کو بڑھے مگر سب ناواقف تھے۔ وہ اس تخت کی طرف لے چلے، جو کہانیاں اور افسانوں کے ناموروں کے لئے تیار ہوا تھا۔ چنانچہ ایک شخص جس کی وضع اور لباس سب سے علاحدہ تھا، ایک انبوہ کو چیر کر نکلا۔ وہ کوئی یونانی مؤرخ تھا۔ اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اندر لے جاکر سب سے پہلی کرسی پر بیٹھا دیا۔ فرشتہ رحمت نے میرے کان میں کہا کہ تم اس گوشے کی طرف آجاؤ کہ تمہاری نظر سب پر پڑے اور تمہیں کوئی نہ دیکھے۔ یہ سکندر یونانی ہے جس کے کارنامے لوگوں نے کہانی اور افسانے بنا دیے ہیں۔اس کے پیچھے پیچھے ایک بادشاہ آیا کہ سر پر کلاہ کیانی اور اس پر درفش کا ویانی جھومتا تھا، مگر پھریرا علم کا پارہ پارہ ہو رہا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اس طرح آتا تھا گویا اپنے زخم کو بچائے ہوئے آتا ہے۔ رنگ زرد تھا اور شرم سے سر جھکائے تھا۔ جب وہ آیا تو سکندر بڑی عظمت کے ساتھ استقبال کو اٹھا اوراپنے برابر بٹھایا۔ باوجود اس کے جس قدر سکندر زیادہ تعظیم کرتا تھا، اس کی شرمندگی زیادہ ہوتی تھی۔ وہ دارا بادشاہ ایران تھا۔ دفعتا ًسکندر نے آواز دی، ’’انہیں لاؤ۔ ‘‘ جو شخص داخل ہوا وہ ایک پیر مرد بزرگ صورت تھا کہ مقیشی داڑھی کے ساتھ بڑھاپے کے نور نے اس کے چہرہ کو روشن کیا تھا۔ ہاتھ میں عصائے پیری تھا۔ جس وقت وہ آیا سکندر خود اٹھا اس کا ہاتھ پکڑ کر لایا، اپنے برابر کرسی پر بٹھایا اور پانچ لڑی کا سہرا اس کے سر پر باندھا۔ معلوم ہوا کہ یہ نظامی گنجوی ہیں اور اس سہرے میں خمسہ کے مضامین سے پھول پروئے ہوئے ہیں۔ سکندر پھر اٹھا اور تھوڑا سا پانی اس پر چھڑک کر کہا، ’’اب یہ کبھی نہ کملائیں گے۔ ‘‘بعد اس کے جوشخص آیا، اگرچہ سادہ وضع تھا مگر قیافہ روشن اور چہرہ فرحت روحانی سے شگفتہ نظر آتا تھا۔ جو لوگ اب تک آچکے تھے ان سب سے زیادہ عالی رتبہ کے لوگ اس کے ساتھ تھے۔ اس کے داہنے ہاتھ پر افلاطون تھا اور بائیں پر جالینوس۔ اس کا نام سقراط تھا۔ چنانچہ وہ بھی ایک مسند پر بیٹھ گیا۔ لوگ ایسا خیال کرتے تھے کہ ارسطو اپنے استاد یعنی افلاطون سے دوسرے درجہ پر بیٹھے گا، مگر اس مقدمہ پر کچھ اشخاص تکرار کرتے نظر آئے کہ ان کا سرگروہ خودارسطو تھا۔ اس منطقی زبردست نے کچھ شوخی اور کچھ سینہ زوری سے، مگر دلائل زبردست اور براہین معقول کے ساتھ سب اہل محفل کو قائل کر لیا کہ یہ مسند میراہی حق ہے اور یہ کہہ کراول سکندر کو آئینہ دکھایا، پھر نظامی کو سلام کرکے بیٹھ ہی گیا۔ایک گروہ کثیر بادشاہوں کی ذیل میں آیا۔ سب جبہ اور عمامہ اور طبل ودمامہ رکھتے تھے۔ مگر باہر روکے گئے کیونکہ ہرچند کے جبے دامن قیامت سے دامن باندھے تھے اور عمامے گنبد فلک کا نمونہ تھے، مگر اکثر ان میں طبل تہی کی طرح اندر سے خالی تھے۔ چنانچہ دو شخص اندرآنے کے لئے منتخب ہوئے۔ ان کے ساتھ ایک انبوہ کثیر علماء وفضلا کا ساتھ ہو لیا۔ تعجب یہ کہ روم و یونان کے فلسفی ٹوپیاں اتارے ان کے ساتھ تھے بلکہ چند ہندو بھی تقویم کے پترے لئے آشیرواد کہتے آتے تھے۔ پہلا بادشاہ ان میں ہارون رشید اور دوسرا مامون رشید تھا۔تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک اور تاجدار سامنے سے نمودار ہوا۔ ولایتی استخواں اور ولایتی لباس تھا، اورجامہ خون سے قلم کار تھا۔ ہندوستان کے بہت سے گراں بہازیور اس کے پاس تھے۔ مگر چونکہ نا واقف تھا، اس لئے کچھ زیور ہاتھ میں لئے تھا کچھ کندھے پر پڑے تھے۔ بجائے غبار کے آہوں کے دھوئیں اٹھتے تھے۔ وہ محمود غزنوی تھا۔ بہت سے مصنف اس کے استقبال کو بڑھے مگر وہ کسی اور کا منتظر اور مشتاق معلوم ہوتا تھا۔ چنانچہ ایک نوجوان حورشمائل آیا اور فردوسی کا ہاتھ پکڑ کر محمود کے سامنے لے گیا۔ محمود نے نہایت اشتیاق اور شکر گزاری سے ہاتھ اس کا پکڑا۔ اگرچہ برابر بیٹھ گئے مگر دونوں کی آنکھیں شرم سے جھک گئیں۔ نوجوان ایک عجیب ناز و انداز سے مسکرایا اور چلا گیا۔ وہ ایاز تھا۔اسی عرصہ میں ایک اور شخص آیا کہ لباس اہل اسلام کار کھتا تھا مگر چال ڈھال یونانیوں سے ملاتاتھا۔ اس کے داخل ہونے پر شعرا تو الگ ہو گئے مگر تمام علما اور فضلا میں تکرار اور قیل و قال کا غل ہوا۔ اس سینہ زور نے سب کو پیچھے چھوڑا اور ارسطو کے مقابل میں ایک کرسی بچھی تھی اس پر آکر بیٹھ گیا۔ و ہ بوعلی سینا تھا۔ایک انبوہ کثیر ایرانی تورانی لوگوں کا دیکھا کہ سب معقول اور خوش وضع لوگ تھے مگر انداز ہرایک کے جدا جدا تھے۔ بعض کے ہاتھوں میں اجزا اور بعض کی بغل میں کتاب تھی کہ اوراق ان کے نقش و نگار سے گلزار تھے۔ وہ دعوے کرتے تھے کہ ہم معانی و مضامین کے مصور ہیں۔ ان کے باب میں بڑی تکراریں ہوئیں۔ آخر یہ جواب ملا کہ تم مصور بیشک اچھے ہو، مگر بے اصل اور غیر حقیقی اشیا کے مصور ہو۔ تمہاری تصویروں میں اصلیت اور واقعیت کا رنگ نہیں، البتہ انتخاب ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ فارسی زبان کے شاعر تھے۔ چنانچہ انوری، خاقانی، ظہیر فاریابی وغیرہ چند اشخاص منتخب ہوکر اندر آئے، باقی سب نکالے گئے۔ایک شاعر کے کان پر قلم دھرا تھا، اس میں سے آب حیات کی بوندیں ٹپکتی تھیں۔ مگر کبھی کبھی اس میں سے سانپ کی زبانیں لہراتی نظر آتی تھیں۔ اس لئے اس پر پھر تکرار ہوئی۔ اس نے کہا کہ بادشاہوں کو خدا نے دفع اعدا کے لئے تلوار دی ہے مگر ملک مضامین کے حاکم سوائے قلم کے کوئی حربہ نہیں رکھتے۔ اگر چند بوندیں زہر آب کی بھی نہ رکھیں تو اعدائے بدنہاد ہمارے خون عزت کے بہانے سے کب چوکیں۔ چنانچہ یہ عذر اس کا قبول ہوا، یہ انوری تھا، جو باوجود گل افشانی فصاحت کے بعض موقع پر اس قدر ہجو کرتا تھا کہ کان اس کے سننے کی تاب نہیں رکھتے۔ خاقانی پر اس معاملہ میں اس کے استاد کی طرف سے دعوے پیش ہوئے۔ چونکہ اس کی بنیاد خانگی نزاع پر تھی، اس لئے وہ بھی اس کی کرسی نشینی میں خلل انداز نہ ہوسکا۔اسی عرصہ میں چنگیزخاں آیا۔ اس کے لئے گوعلماء اور شعراء میں سے کوئی آگے نہ بڑھا، بلکہ جب اندر لائے تو خاندانی بادشاہوں نے اسے چشم حقارت سے دیکھ کر تبسم کیا۔ البتہ مؤرخوں کے گروہ نے بڑی دھوم دھام کی۔ جب کسی زبان سے نسب نامہ کالفظ نکلا تواس نے فورا ًشمشیر جوہردار سند کے طور پر پیش کی۔ جس پرخونی حرفوں سے رقم تھا، ’’سلطنت میں میراث نہیں چلتی۔ ‘‘ علمانے غل مچایا کہ جس کے کپڑوں سے لہو کی بوآئے، وہ قصاب ہے، بادشاہوں میں اس کا کام نہیں۔ شعرا نے کہاکہ جس تصویر کے رنگ میں ہمارے قلم یا مصور انِ تصانیف کی تحریر نے رنگ بقا نہ ڈالا ہو، اسے اس دربار میں نہ آنے دیں گے۔ اس بات پر اس نے بھی تامل کیا اور متاسف معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت ہاتف نے آواز دی کہ اے چنگیز! جس طرح ملک و شمشیر کے جوش کو قوم کے خون میں حرکت دی، اگرعلوم و فنون کا بھی خیال کرتا، تو آج قومی ہمدردی کی بدولت ایسی ناکامی نہ اٹھاتا۔ اتنے میں چند مؤرخ آگے بڑھے۔ انہوں نے کچھ ورق دکھائے کہ ان میں طورہ چنگیزخانی یعنی اس کے ملکی انتظام کے قواعد لکھے تھے۔ آخر قرار پایا کہ اسے دربار میں جگہ دو مگران کاغذوں پر لہو کے چھینٹے دو اور ایک سیاہی کا داغ لگا دو۔تھوڑی دیرنہ گزری تھی کہ ایک جوان اسی شکوہ و شان کا اورآیا۔ اس کا نام ہلا کوخاں تھا۔ اس کے لئے چند علمائ نے بھی مؤرخوں کاساتھ دیا۔ 4 جس وقت اندر لائے تو اس کے لئے بھی تکراروں کاغل ہوا چاہتا تھا۔ مگر ایک مرد بزرگ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھایا جس کی وضع متشرع عالموں کی تھی، لیکن کمر میں ایک طرف اصطر لاب، دوسری طرف کچھ اقلیدس کی شکلیں لٹکتی تھیں، بغل میں فلسفہ اور حکمت کے چند اجزا تھے۔ ان کا نام محقق طوسی تھا۔ چنانچہ انہیں دیکھ کر کوئی بول نہ سکا۔ اسے تو بادشاہو ں کی صف میں جگہ مل گئی، محقق کو شیخ بو علی سینا نے یہ کہہ کر پاس بٹھا لیا کہ آپ نے میری کلاہ شہرت میں بقائے دوام کے آبدار موتی ٹانکے، شکریہ ادا کرتا ہوں۔تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ امیر تیمور کی نوبت آئی۔ بہت سے مؤرخوں نے اس کے لانے کی التجا کی۔ مگر وہ سب کو دروازہ پر چھوڑ گیا اور اپنا آپ رہبر ہوا کیوں کہ وہ خود مؤرخ تھا۔ رستہ جانتا تھا اور اپنا مقام پہنچانتا تھا۔ لنگڑاتا ہوا گیا اور ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ تیمور کرسی پر بیٹھتے ہی تلوارٹیک کر اٹھ کھڑا ہوا اور کہا کہ اے اہل تصنیف! میں تم سے سوال کرتا ہوں کہ ہماری شمشیر کے عوض جو خدا نے تمہیں قلم تحریر دیا ہے، اسے اظہار واقعیت اور خلائق کی عبرت اور نصیحت کے لئے کام میں لانا چاہئے یا اغراض نفسانی اور بدزبانی میں؟ تمام مؤرخ ایک دوسرے کامنہ دیکھنے لگے کہ یہ کس پراشارہ ہے۔ اس وقت تیمور نے ابن عرب شاہ کے بلانے کو ایما فرمایا۔ معلوم ہوا کہ وہ کہیں پیچھے رہ گیا۔ چنانچہ اس کا نام مصنفوں کی فہرست سے نکالا گیا۔اسی حال میں دیکھتے ہیں کہ ایک بزرگ آزاد وضع، قطع تعلق کا لباس بر میں، خاکساری کاعمامہ سرپر، آہستہ آہستہ چلے آتے ہیں۔ تمام علما و صلحا مؤرخ اورشاعر سر جھکائے ان کے ساتھ ہیں۔ وہ دروازہ پر آکر ٹھہرے۔ سب نے آگے بڑھنے کو التجا کی تو کہا، معذور رکھو، میرا ایسے مقدموں میں کیا کام ہے! اور فی الحقیقت وہ معذور رکھے جاتے، اگر تمام اہل دربار کا شوق طلب ان کے انکار پرغالب نہ آتا۔ وہ اندر آئے۔ ایک طلسمات کا شیشہ مینائی ان کے ہاتھ میں تھا کہ اس میں کسی کو دودھ، کسی کو شربت، کسی کو شراب شیرازی نظر آتی تھی۔ ہر ایک کرسی نشیں انہیں اپنے پاس بٹھانا چاہتا تھا مگر وہ اپنی وضع کے خلاف سمجھ کر کہیں نہ بیٹھتے۔ فقط اس سرے سے اس سرے تک ایک گردش کی اور چلے گئے۔ وہ حافظ ِشیراز تھے اور شیشہ مینائی ان کا دیوان تھا۔ جو فلک مینائی کے دامن سے دامن باندھے ہے۔لوگ اور کرسی نشیں کے مشتاق تھے کہ دور سے دیکھا بے شمار لڑکوں کاغول غل مچاتا چلا آتا ہے۔ بیچ میں ان کے ایک پیر مرد نورانی صورت، جس کی سفید داڑھی میں شگفتہ مزاجی نے کنگھی کی تھی اور خندہ جبینی نے ایک طرہ سر پر آویزاں کیا تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گلدستہ دوسرے میں ایک میوہ دار ٹہنی، پھلوں اور پھولوں سے ہری بھری تھی۔ اگرچہ مختلف فرقو ں کے لوگ تھے جو باہر استقبال کو کھڑے تھے مگر انہیں دیکھ کرسب نے قدم آگے بڑھائے کیوں کہ ایسا کون تھا، جوشیخ سعدی اور ان کی گلستاں، بوستاں کو نہ جانتا تھا۔ انہوں نے کمرے کے اندر قدم رکھتے ہی سعد زنگی کو پوچھا۔ اس بے چارے کوایسے درباروں میں بار بھی نہ تھی۔ لیکن اور کرسی نشیں کہ اکثر ان سے واقف تھے اور اکثر اشتیاق غائبانہ رکھتے تھے، وہ ان کے مشتاق معلوم ہوئے۔ باوجود اس کے یہ ہنسے اور اتنا کہہ کر اپنے لڑکوں کے لشکر میں چلے گئے۔ ’’دنیا دیکھنے کے لئے ہے، برتنے کے لئے نہیں۔ ‘‘بعد اس کے دیر تک انتظار کرنا پڑا۔ چنانچہ ایک اولوالعزم شخض آیا جس کے چہرہ سے خودسری کا رنگ چمکتا تھا اور سینہ زوری کا جوش بازوؤں میں بل مارتا تھا۔ اس کے آنے پرتکرار ہوئی اور مقدمہ یہ تھا کہ اگر علما کی نہیں تو مؤرخوں کی کوئی خاص سند ضرور چاہئے ہے۔ بلکہ چغتائی خاندان کے مؤرخ صاف اس کی مخالفت پر آمادہ ہوئے۔ اس نے باوجود اس کے ایک کرسی جس پر تیموری تمغہ بھی لگا تھا گھسیٹ لی اور بیٹھ گیا۔ ہمایوں اسے دیکھ کر شرمایا اور سر جھکا لیا۔ مگر پھرتاج شاہی پرانداز کج کلاہی کو بڑھاکر بیٹھا اور کہا کہ بے حق بے استقلال ہے۔ اس نے داڑھی پر ہاتھ پھیر کر کہا کہ مجھے اتنا فخر کافی ہے کہ میرے دشمن کی اولاد میرے رستے پر قدم بقدم چلیں گے اور فخر کریں گے۔تھوڑی دیر کے بعد ایک خورشید کلاہ آیا جس کو انبوہ کثیر ایرانی، تورانی، ہندوستانیوں کے فرقہ ہائے مختلفہ کا بیچ میں لئے آتا تھا۔ وہ جس وقت آیا تو تمام اہل دربار کی نگاہیں اس کی طرف اٹھیں اور رضامندی عام کی ہوا چلی۔ تعجب یہ ہے کہ اکثرمسلمان اس کو مسلمان سمجھتے تھے، ہندو اسے ہندو جانتے تھے۔ آتش پرستوں کو آتش پرست دکھائی دے رہا تھا، نصاریٰ اس کو نصاری سمجھتے تھے۔ مگر اس کے تاج پر تمام سنسکرت حروف لکھے تھے۔ اس نے اپنے بعض ہم قوموں اور ہم مذہبوں کی شکایت کرکے بداؤنی پرخون کا دعویٰ کیا کہ اس نے میری حیات جاودانی کو خاک میں ملانا چاہا تھا اور وہ فتح یاب ہوتا اگر چند منصف مصنفوں کے ساتھ ابوالفضل اور فیضی کی تصنیف میری مسیحائی نہ کرتی۔ سب نے کہا، نیت کا پھل ہے۔اس کے بعد ایک اور بادشاہ آیا جو اپنی وضع سے ہندو راجہ معلوم ہوتا تھا۔ وہ خود مخمور نشہ میں چور تھا۔ ایک عورت صاحب جمال اس کا ہاتھ پکڑے آتی تھی اور جدھر چاہتی تھی پھراتی تھی۔ وہ جو کچھ دیکھتا تھا اور جو کچھ کہتا تھا اسی کی زبان سے کہتا تھا۔ اس پر بھی ہاتھ میں ایک جزو کاغذوں کا تھا اور کان پر قلم دھرا تھا۔ یہ سانگ دیکھ کر سب مسکرائے مگر چونکہ دولت اس کے ساتھ تھی اور اقبال آگے آگے اہتمام کرتا آتا تھا۔ اس لئے بدمست بھی نہ ہوتا تھا۔ جب نشہ سے آنکھ کھلتی تھی تو کچھ لکھ بھی لیتا تھا۔ وہ جہانگیر تھا اور بیگم نور جہاں تھی۔شاجہاں بڑے جاہ وجلال سے آیا۔ بہت سے مؤرخ اس کے ساتھ کتابیں بغل میں لئے تھے اور شاعر اس کے آگے آگے قصیدے پڑھتے آتے تھے۔ میرعمارت ان عمارتوں کے فوٹوگراف ہاتھ میں لئے تھے جو اس کے نام کے کتابے دکھاتی تھیں اور سیکڑوں برس کی راہ تک اس کا نام روشن دکھاتی تھیں۔ اس کے آنے پر رضامندی عام کا غلغلہ بلند ہوا چاہتا تھا مگر ایک نوجوان آنکھوں سے اندھا چند بچوں کو ساتھ لئے آیا کہ اپنی آنکھوں کا اور بچوں کے خون کا دعویٰ کرتا تھا۔ یہ شہریار، شاجہاں کا چھوٹا بھائی تھا اور بچے اس کے بھتیجے تھے۔ اس وقت وزیر اس کا آگے بڑھا اور کہا کہ جو کیا گیا بدنیتی اور خود غرضی سے نہیں کیا بلکہ خلق خدا کے امن اور ملک کا انتظام قائم رکھنے کو کیا۔ بہر حال اسے دربار میں جگہ ملی اور سلاطین چغتائیہ کے سلسلے میں معزز درجہ پر ممتاز ہوا۔ایک تاجدار آیا کہ جبہ اور عمامہ سے وضع زاہدانہ رکھتا تھا۔ ایک ہاتھ سے تسبیح پھیرتا جاتا تھا مگر دوسرے ہاتھ میں جوفرد حساب تھی اس میں غرق تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ اس کی میزان کو پر تالتا ہے۔ سب نے دیکھ کر کہا کہ انہیں خانقاہ میں لے جانا چاہئے، اس دربار میں اس کا کچھ کام نہیں لیکن ایک ولایتی کہ بظاہر مقطع اور معقول نظر آتا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ اٹھاکر آگے بڑھا اور کہا کہ اے اراکین دربار، ہمارے ظل سبحانی نے اس کم بخت سلطنت کے لئے بھائی سے لے کر باپ تک کا لحاظ نہ کیا۔ اس پر بھی تمہارے اعتراض اسے اس دربار میں جگہ نہ دیں گے۔ یہ لطیفہ اس نے اس مسخر اپن سے اداکیا کہ سب مسکرائے اور تجویز ہوئی کہ تیموری خاندان کے سب سے اخیر میں انہیں بھی جگہ دے دو۔ معلوم ہو اکہ وہ عالمگیر بادشاہ اور ساتھ اس کے نعمت خان عالی تھا۔اس کے ساتھ ہی ایک بینڈا جوان، دکھنی وضع، جنگ کے ہتھیار لگائے، راجگی کے سکے تمغے سے سجاہوا آیا۔ اس کی طرف لوگ متوجہ نہ ہوئے بلکہ عالمگیر کچھ کہنا بھی چاہتا تھا مگر وہ کرسی کھینچ کر اس کے سامنے ہی بیٹھ گیا اور بولا کہ صاحب ہمت کو جگہ دو یا نہ دو، وہ آپ جگہ پیدا کر لیتا ہے۔ یہ سیواجی تھا، جس سے مرہٹہ خاندان کی بنیاد قائم ہوئی ہے۔تھوڑی دیر کے بعد دور سے گانے بجانے کی آواز آئی اور بعد اس کے ایک بادشاہ آیا۔ اس کی وضع ہندوستانی تھی۔ مصنفوں اورمؤرخوں میں سے کوئی اس کے ساتھ نہ تھا۔ البتہ چند اشخاص تھے کہ کوئی ان میں گویا اور کوئی بھانڈ، کوئی مسخرا نظر آتا تھا۔ یہ سب گھبرائے ہوئے آتے تھے کیونکہ ایک ولایتی دلاور ان کے پیچھے پیچھے شمشیر برہنہ علم کئے تھا۔ اس کی اصفہانی تلوار سے لہو کی بوندیں ٹپکتی تھیں۔ مخمل رومی کی کلاہ تھی جس پر ہندوستان کا تاج شاہی نصب تھا اور اسپ بخارائی زیرران تھا۔ وہ ہندوستانی وضع بادشاہ محمدشاہ تھا۔ اسے دیکھتے ہی سب نے کہا کہ نکالو، نکالو، ان کایہاں کچھ کام نہیں۔ چنانچہ وہ فورا ًدوسرے دروازے سے نکالے گئے۔ ولایتی مذکور نادرشاہ تھا، جس نے سرحد روم سے بخارا تک فتح کر کے تاج ہندوستان سر پر رکھا تھا۔ اسے چنگیز خاں کے پاس جگہ مل گئی۔تھوڑی دیرہوئی تھی جو ایک غول ہندوستانیوں کا پیدا ہوا۔ ان لوگوں میں بھی کوئی مرقع بغل میں دبائے تھا، کوئی گلدستہ ہاتھ میں لئے تھا۔ انہیں دیکھ کر آپ ہی آپ خوش ہوتے تھے اوروجد کرکے اپنے اشعار پڑھتے تھے۔ یہ ہندوستانی شاعر تھے۔ چنانچہ چند اشخاص منتخب ہوئے۔ ان میں ایک شخص دیکھا کہ جب بات کرتا تھا، اس کے منہ سے رنگارنگ کے پھول جھڑتے تھے۔ لوگ ساتھ ساتھ دامن پھیلائے تھے مگر بعض پھولوں میں کانٹے ایسے ہوتے تھے کہ لوگوں کے کپڑے پھٹے جاتے تھے۔ پھربھی مشتاق زمین پر گرنے نہ دیتے تھے کوئی نہ کوئی اٹھا ہی لیتا تھا۔ وہ مرزا رفیع سودا تھے۔ میر بد دماغی اور بے پروائی سے آنکھ اٹھاکر نہ دیکھتے تھے۔ شعر پڑھتے تھے اور منہ پھیر لیتے تھے۔ درد کی آواز دردناک دنیا کی بے بقائی سے جی بے زار کئے دیتی تھی۔ میر حسن اپنی سحربیانی سے پرستان کی تصویر کھینچتے تھے۔ میرانشاء اللہ خاں قدم قدم پر نیا بہروپ دکھاتے تھے۔ دم میں عالِم ذی وقار، متقی پرہیزگار، دم میں داڑھی چٹ، نگ کا سونٹا کندھے پر۔جرأت کو اگرچہ کوئی خاطرمیں نہ لاتا تھا مگر جب وہ مَٹھی آواز سے ایک تان اڑاتا تھا توسب کے سر ہل ہی جاتے تھے۔ ناسخ کی گل کاری چشم آشنامعلوم ہوتی تھی اور اکثر جگہ قلم کاری اس عینک کی محتاج تھی۔ مگر آتش کی آتش بیانی اسے جلائے بغیر نہ چھوڑتی تھی۔ مومن کم سخن تھے۔ مگرجب کہتے تھے، جرأت کی طرف دیکھتے جاتے تھے۔ایک پیرمرد دیرینہ سال محمد شاہی دربار کا لباس، جامہ پہنے کھڑکی دارپگڑی باندھے، جریب ٹیکتے آتے تھے۔ مگر ایک لکھنؤ کے بانکے پیچھے پیچھے گالیاں دیتے تھے۔ بانکے صاحب ضرور ان سے دست و گریباں ہو جاتے لیکن چار خاکسار اور پانچواں تاجدار ان کے ساتھ تھا، یہ بچالیتے تھے۔ بڈھے میر امن دہلوی چہار درویش کے مصنف تھے اور بانکے صاحب مرزا سرور فسانہ عجائب والے تھے۔ ذوق کے آنے پر پسند عام کے عطر سے دربار مہک گیا۔ انہوں نے اندر آکر شاگردانہ طور پرسب کو سلام کیا۔ سودا نے اٹھ کر ملک الشعرائی کا تاج ان کے سر پر رکھ دیا۔ غالب اگرچہ سب سے پیچھے تھے پر کسی سے نیچے نہ تھے۔ بڑی دھوم دھام سے آئے اور ایک نقارہ اس زور سے بجایا کہ سب کے کان گنگ کر دیے۔ کوئی سمجھا اور کوئی نہ سمجھا، مگرسب واہ واہ اورسبحان اللہ کرتے رہ گئے۔اب میں نے دیکھا کہ فقط ایک کرسی خالی ہے اور بس۔ اتنے میں آواز آئی کہ آزاد کو بلاؤ۔ ساتھ آواز آئی کہ شاید وہ اس جرگہ میں بیٹھنا قبول نہ کرے۔ مگر وہیں سے پھر کوئی بولا کہ اسے جن لوگوں میں بٹھا دوگے، بیٹھ جائےگا۔ اتنے میں چند اشخاص نے غل مچایا کہ اس کے قلم نے ایک جہان سے لڑائی باندھ رکھی ہے، اسے دربار شہرت میں جگہ نہ دینی چاہئے۔ اس مقدمہ پر قیل وقال شروع ہوئی۔ میں چاہتا تھا کہ نقاب چہرہ سے الٹ کر آگے بڑھوں اور کچھ بولوں کہ میرے ہادی ہمدم یعنی فرشتہ رحمت نے ہاتھ پکڑ لیا اور چپکے سے کہا کہ ابھی مصلحت نہیں۔ اتنے میں آنکھ کھل گئی۔ میں اس جھگڑے کو بھی بھول گیا اور خدا کا شکر کیا کہ بلا سے دربار میں کرسی ملی یا نہ ملی، مردوں سے زندوں میں تو آیا۔خاتمہاگرچہ خیالات کے جلسے جمے ہوئے ہیں اور اشخاص تصوری زبان ہائے بے اجسام سے طلسم کاری کر رہے ہیں لیکن سو کے قریب صفحے سیاہ ہو چکے۔ اب جلسہ ختم اور کچھ عرصہ کے لئے کلام کا دروازہ بند۔ اے اہل انجمن، آپ کا آنا مبارک آنا۔ قدم بر چشم، مگر جلسہ آئندہ کی ابھی سے گزارش قبول ہوکہ حصہ دوئم کا سامان بہم پہنچے۔حاشیے (۱) اس میدان کو میدان دنیا سمجھ لو۔(۲) فی الحقیقت جو ناموری اور ترقی کے خواہاں ہیں اگر سلطنت، حکومت، دولت، شجاعت، علمیت وغیرہ کے رستے سے چاہتے ہیں تو خوف جان ہے۔ اگر اور فنون کمال کے رستے لیتے ہیں تو حاسد انواع و اقسام کی بد ذایتوں سے سدراہ ہوتے ہیں۔(۳) کوئی اوتار کہتاہے، کوئی بادشاہ با اقبال۔(۴) اس کے عہد میں علوم وفنون نے بہت ترقی کی تھی خصوصا علم ہیئت کی کتابیں اور رصدخانی کی تعمیر اس کی شاہد حال ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D9%82%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%B1"} {"title": "شہرت ہے میری سخن وری کی", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شہرت ہے میری سخن وری کی\nہندی میں ہے طرز فارسی کی\n\nکیوں ذکر وصال سے خفا ہو\nیہ بات تو ہے ہنسی خوشی کی\n\nاللہ رے نزاکت لب یار\nبت خانے پڑے جو مے کشی کی\n\nشکوہ نہ کروں میں تا لب گور\nدشمن بھی کہے کہ دوستی کی\n\nہو دیدۂ مہر شبنم افشاں\nحالت جو دکھاؤں بے کسی کی\n\nجب موت کسی طرح نہ آئے\nگھبرا کر ہم نے عاشقی کی\n\nخاموش ہو شمع روتے روتے\nتقریر کروں جو خامشی کی\n\nاے موت عذاب سے چھڑایا\nاس قید سے تو نے مخلصی کی\n\nبلبل کو کیا اسیر گل دام\nصیاد نے خوب منصفی کی\n\nدیکھا جو وہ رشک ماہ کنعاں\nرنگت ہوئی زر دستری کی\n\nپہنچے نہ برنگ شانہ تا زلف\nکیا بخت سیہ نے کوتاہی کی\n\nدوزخ کی طرح جلیں نہ زاہد\nجنت میں بھی ہم نے مے کشی کی\n\nنالے کیے چپکے چپکے روئے\nکیا کیا غم یار کی خوشی کی\n\nغولوں نے لحد پہ ہوں وہ وحشی\nآنکھوں سے آ کے روشنی کی\n\nاے عرشؔ خدا و بت احد ہیں\nمشرک کو سمائی ہے دوئی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%D8%B1%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D9%88%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلے", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلے\nفیاض جو ہو وطن کے وہ کیا نکلے\nپیاسے آتے ہیں آپ دریا کی طرف\nپیاسوں کی تلاش کو نہ دریا نکلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "شہرۂ آفاق مجھ سا کون سا دیوانہ ہے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شہرۂ آفاق مجھ سا کون سا دیوانہ ہے\nہند میں میں ہوں پرستاں میں مرا افسانہ ہے\n\nصید گاہ مرغ دل رخسارۂ جانانہ ہے\nدام زلف عنبریں ہے خال مشکیں دانہ ہے\n\nحسن سے رتبہ ہے اپنے عشق کامل کا بلند\nآستانہ پر پری ہے بام پر دیوانہ ہے\n\nاس میں رہتا ہے صفائے روئے جاناں کا خیال\nدل نہیں پہلو میں اپنے آئینہ کا خانہ ہے\n\nبیچتا ہوں دل کو جو محبوب چاہے مول لے\nبوسہ قیمت ہے توجہ کی نظر بیعانہ ہے\n\nپھوٹیں وہ آنکھیں نگاہ بد سے جو دیکھیں تجھے\nآتشیں رخسار مجمر خال کالا دانہ ہے\n\nروز و شب اس شمع رو کو بھیجتا ہوں خط شوق\nنامہ بر دن کو کبوتر رات کو پروانہ ہے\n\nخار خار دل غنیمت جانتا ہوں عشق میں\nزلف دود آہ کی آراستگی کاشانہ ہے\n\nشرح لکھا چاہئے اس کی بیاض صبح پر\nمطلع خورشید بیت ابرو جانانہ ہے\n\nحالت آئینہ رکھتا ہے صفا سے دل مرا\nآشنا سے آشنا بیگانہ سے بیگانہ ہے\n\nقتل سے مجھ سخت جاں کے منکر اے قاتل نہ ہو\nحجت قاطع تری تلوار کا دندانہ ہے\n\nواسطے ہر شے کے دنیا میں مقرر ہیں محل\nشہر میں جب تک ہے مجنوں گنج بے ویرانہ ہے\n\nباغ عالم میں نہیں اس شوخ سا کوئی حسیں\nگل ہے اپنا یار یوسف سبزۂ بیگانہ ہے\n\nاب نہیں اے یار جوبن کو ترے بیم زوال\nخط مشکیں حسن کی جاگیر کا پروانہ ہے\n\nحال ہے جس کا اسی کے واسطے ہے خوش نما\nنقص ہے تلوار کا وصف ارہ کا دندانہ ہے\n\nیار کھینچے تیغ تیرے قتل کرنے کے لیے\nسر جھکا آتشؔ یہ جائے سجدۂ شکرانہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%D8%B1%DB%82_%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "شہزادی کی بپتا", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ہونے کو تو غدر پچاس برس کی کہانی ہے مگر مجھ سے پوچھو تو کل کی سی بات معلوم ہوتی ہے۔ ان دنوں میری عمر سولہ سترہ برس کی تھی۔ میں اپنے بھائی یاور شاہ سے دو برس چھوٹی اور مرنے والی بہن ناز بانو سے چھ سال بڑی ہوں۔ میرا نام سلطان بانو ہے۔ ابا جان مرزا قویش بہادر ظل سبحانی حضرت بہادر شاہ کے چہیتے اور نونہال فرزند تھے۔\n\nبھائی یاور شاہ اور ہم بہنوں میں بڑی محبت تھی۔ ہر ایک دوسرے پر فدا تھا۔ آکا بھائی کے لیے باہر کئی استاد طرح طرح کی باتیں سکھانے والے تھے۔ کوئی حافظ تھا اور کوئی مولوی، کوئی خوش نویس تھا اور کوئی تیر انداز۔ اور ہم محل میں سینا پرونا اور کشیدہ کاڑھنا مغلانیوں سے سیکھتے تھے۔ دستور تھا کہ حضرت ظل سبحانی جن بچوں اور بڑوں پر خاص نظر عنایت رکھتے تھے، ان کو صبح کا کھانا شاہی دستر خوان پر حضور والا کے ہمراہ کھلا یا جاتا تھا۔ چنانچہ ظل سبحانی مجھ کو بھی بہت چاہتے تھے اور میں ہمیشہ صبح کے وقت کھانے کے واسطے بلائی جاتی تھی۔ جب میں نے ہوش سنبھالا، چچا ابوبکر کے لڑکے مرزا سہراب بھی کھانا کھانے آیا کرتے تھے۔ اگر چہ ہمارے کل خاندان میں باہم پردہ نہ تھا او ر نہ اب ہے۔ شرعی نامحرم گھر میں آتے جاتے تھے، مگر میں اپنی طبیعت سے مجبور تھی۔ میں ایک آن کے لیے کسی غیر مرد کے سامنے جانا گوارا نہ کرتی تھی۔ پر کیا کرتی، حضور کے حکم کے خلاف دستر خوان پر کس طرح نہ جاتی۔ لیکن غنیمت یہ تھا کہ آداب سلطانی کے باعث سب نظریں جھکائے رکھتے تھے۔ مجال نہ تھا کہ ایک بچہ بھی ادھر ادھر دیکھے یا آواز سے بولے۔\n\nقاعدہ یہ تھا کہ جب حضور معلیٰ کوئی خاص کھانا کسی کو مرحمت فرماتے تو وہ بچہ ہو یا جوان، عورت ہو یا مرد، اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے ادب پر جاتا اور جھک کر تین سلام بجا لاتا۔ ایک دن میرے ساتھ بھی یہی اتفاق پیش آیا کہ حضور نے ایک نئی قسم کا ایرانی کھانا مجھ کو عطا کیا اور فرمایا، ’’سلطانہ! تو تو کچھ کھاتی ہی نہیں، ادب اور لحاظ ایک حد تک اچھا ہوتا ہے نہ کہ اتنا کہ دسترخوان پر سے بھوکا اٹھا جائے۔‘‘ میں کھڑی ہوئی اور جائے ادب پر جا کر تین آداب بجا لائی مگر کچھ نہ پوچھو، اس مشکل سے آئی گئی کہ دل ہی جانتا ہے۔ ہر قدم پر الجھتی تھی اور اوسان خطا ہوئے جاتے تھے۔\n\nاب میں سوچتی ہوں کہ وہ زمانہ کیا ہوا۔ وہ خوشی کے دن کہاں چلے گئے۔ جب ہم اپنے محلوں میں آزاد و بے فکر پھرا کرتے تھے۔ ظل سبحانی کا سایہ سر پر تھا اورلوگ ہمیں عالم کہہ کر پکارتے تھے۔ دنیا کے اتار چڑھاؤ ایسے ہی ہوتے ہیں۔\n\nمجھے خوب یاد ہے کہ جب حضور معلیٰ مقبرہ ہمایوں میں گرفتار کئے گئے اور ایک گورے نے چچا جان حضرت مرزا ابوبکر بہادر کے تپنچہ مارا تو میرزا سہراب تلوار گھسیٹ کر دوڑے، مگر دو سے گورے نے ان کے گولی مار دی اور وہ ایک آہ کر کے چچا جان کی نعش پر گر پڑے اور تڑپ کر ٹھنڈے ہوگئے اور میں بت بنی تماشا دیکھتی رہی۔ اتنے میں خواجہ آیا اور کہنے لگا، ’’ بیگم! کیوں کھڑی ہو۔ چلو تمہارے ابا جان نے بلایا ہے۔‘‘ میں اسی بیخودی کے عالم میں اس کے ساتھ ہولی۔ دریائی دروازے سے اتر کر دیکھا کہ ابا جان میرزا قویش بہادر گھوڑے پر سوار ننگے سر کھڑے ہیں۔ تمام چہرے اور سر کے بال خاک آلود ہو رہے ہیں۔ مجھے دیکھتے ہی آنسو بھر لائے اور فرمایا، ’’لوسلطانہ! اب ہمارا بھی کوچ ہے۔ جو ان بیٹا جس کے سہرے کی آرزو تھی، آنکھوں کے سامنے ایک سکھ کی سنگین کا نشانہ بن گیا۔‘‘ یہ سنتے ہی میں نے ایک چیخ ماری اور ہائے بھائی یاور کہہ کر رونے لگی۔\n\nوہ گھوڑے سے اتر آئے۔ مجھ کو اور ناز بانو کو گلے لگا کر پیار کیا اور تسلی دینے لگے اور کہا، ’’بیٹی! اب لوگ میری تلاش میں بھی ہیں۔ دو چار گھڑی کا مہمان ہوں۔ تم ماشاء اللہ جوان اور سمجھ دار ہو۔ اپنی چھوٹی بہن کو دلاسا دو اور آنے والی مصیبتوں پر صبر کرو۔ خبر نہیں اس کے بعد کیا پیش آنے والا ہے۔ جی تو نہیں چاتا کہ تم کو تن تنہا چھوڑ کر کہیں جاؤں، پر ایک نہ ایک دن تمہیں بن باپ کا بننا ہی پڑے گا۔ ناز بانو تو ابھی بچی ہے۔ اس کی دل داری کرنا اور نیکی سے زندگی بسر کرنا اور دیکھوناز بانو! اب تم شہزادی نہیں ہو۔ کسی چیز کے لئے ضد نہ کرنا۔ جو میسر آئے، شکر کر کے کھا لینا اور اگر کوئی شخص کچھ کھاتا ہو تو آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا، ورنہ لوگ کہیں گے کہ شہزدیاں بڑی بد نیت ہوتی ہیں۔‘‘ پھر ہم دونوں کو خواجہ سرا کے سپرد کر کے کہا، ’’ان کو جہاں ہمارے خاندان کے اور آدمی ہوں، پہنچا دینا۔‘‘ اس کے بعد ہم کو پیار کیا اور روتے ہوئے گھوڑا دوڑاتے جنگل میں گھس گئے پھر پتہ نہ لگا کہ وہ کیا ہوئے۔\n\nخواجہ سرا ہم کو لے چلا۔ یہ ہمارے گھر کا قدیمی نمک خوار تھا۔ تھوڑی دور تک ناز بانو جو نازوں کی پلی ہوئی تھی، چلی مگر پھر پاؤں کی طاقت نے جواب دے دیا اور قدم چلنا دوبھر ہو گیا۔ مجھ کو بھی کبھی پیدل چلنے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔ جگہ جگہ ٹھوکریں کھاتی تھی مگر بانو کو لیے ہوئے چلی جاتی تھی۔ اتنے میں ناز بانو کے ایک نوکدار کانٹا چبھ گیا اور وہ ہائے کہہ کر گر پڑی۔ میں نے جلدی سے اس کو اٹھایا اور کانٹا نکالنے لگی، مگر موا خواجہ سرا کھڑا دیکھا کیا اور یہ نہ ہوا کہ میرا ہاتھ بٹا لیتا بلکہ چلنے کی جلدی کرنے لگا۔ بہن بولی، ’’آپا جان! مجھ سے پیدل نہیں چلا جاتا۔ ناظر کو بھیج کر گھر سے پالکی منگا لو۔‘‘ گھر اور پالکی کا نام سن کر میرا جی بھر آیا اور اس کو تسلی دینے لگی۔ خواجہ سر انے پھر کہا کہ ’’ چلو بس ہو چکا۔ جلدی چلو۔‘‘ ناز بانو کا مزاج تیز تھا۔ وہ نوکروں کو ہمیشہ سخت سست کہہ لیا کرتی تھی اور یہ لوگ دم بخود ہو کر سن لیتے تھے۔\n\nاسی خیال سے اس نے خواجہ سرا کو پھر ایک دو باتیں سنا دیں۔ کم بخت کو سنتے ہی اتنا غصہ آیا کہ آپے سے باہر ہو گیا اور بڑی بے ترسی سے بن باپ کی دکھیا بچی کے ایک طمانچہ مارا۔ بانو بلبلا گئی۔ وہ کبھی پھول کی چھڑی سے بھی نہ پٹی تھی یا ایسا طمانچہ لگا۔ اس کے رونے سے مجھ کو بھی بے اختیار رونا آگیا۔ ہم تو روتے رہے اور خواجہ سرا کہیں چلا گیا۔ پھر خبر نہ ملی کہ وہ کیا ہوا۔\n\nہم دونوں بمشکل تمام گرتے پڑتے درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء ؒ میں پہنچے۔ یہاں دہلی کے اور خاص ہمارے خاندان کے سینکڑوں آدمی تھے، مگر ہر ایک اپنی اپنی مصیبت میں گرفتار قیامت کا نمونہ تھا۔ کسی نے بات تک نہ پوچھی۔ اسی اثناء میں وبا پھیلی اور پیاری بہن ناز بانو اس میں رخصت ہوگئیں۔ میں اکیلی رہ گئی۔ امن ہوا جب بھی مجھ دکھیا کو سکھ نہ ملا۔ آخر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ انگریزی سرکار نے ہم لوگوں کی پرورش کرنی چاہی اور میرا پانچ روپیہ مہینہ وظیفہ مقرر ہوا، جو اب بھی ملتا ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%BE%D8%AA%D8%A7"} {"title": "شہزادے کا بازار میں گھسٹنا", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "یہ دہلی جس کو ہندوستان کا دل اور حکومت کا تخت گاہ کہتے ہیں، جب آباد تھی اور لال قلعہ میں مغلوں کی آخری شمع ٹمٹما رہی تھی، آفت اور بلا میں مبتلا ہونے کو آئی تو پہلے اس کے باشندوں کے عمل میں فرق آیا۔ الناس علی دین ملوکھم۔ پہلے حاکموں کے اعمال خراب ہوئے۔ اس کی رعیت بھی بداعمالیوں میں پڑ گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ راجا پرجا دونوں برباد ہو گئے۔ مثالیں ہزاروں ہیں مگر ذیل میں ایک نہایت عبرتناک کہانی سنا کر میں باشندگان ہند کو عموماً اور مسلمانوں اور صوفیوں کو خصوصاً خدا کے خوف سے ڈراتا ہوں۔(۱)غدر سے ایک برس پہلے کا ذکر ہے۔ دہلی سے باہر جنگل میں شہزادے شکار کھیلتے پھر تے تھے اور بے پرواہی سے چھوٹی چھوٹی چڑیوں اور فاختاؤں کو، جو دوپہر کی دھوپ سے بچنے کے لیے درختوں کی ہری بھری ٹہنیوں پر خدا کی یاد میں تسبیحاں پڑھ رہی تھیں، غلے مار رہے تھے کہ سامنے سے ایک گدڑی پوش فقیر آ نکلا اور اس نے نہایت ادب سے شہزادوں کو سلام کر کے عرض کیا کہ ’’میاں صاحبزادو! ان بے جان جانوروں کو کیوں ستاتے ہو۔ انہوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔ ان کے بھی جان ہے۔ یہ بھی تمہاری طرح دکھ اور تکلیف کی خبر رکھتے ہیں مگر بے بس ہیں اور منہ سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ تم بادشاہ کی اولاد ہو۔ بادشاہوں کو اپنے ملک کے رہنے والوں سے محبت اور مہربانی برتنی چاہئے۔ یہ جانور بھی ملک میں رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ بھی رحم اور انصاف برتا جائے تو شان بادشاہی سے دور نہیں۔‘‘بڑے شہزادے نے جس کی عمر اٹھارہ برس کی تھی، شرما کر غلیل ہاتھ سے رکھ دی مگر چھوٹے مرزا نصیر الملک بگڑ کر بولے، ’’جا رے جا۔ دو ٹکے کا آدمی ہم کو نصیحت کرنے نکلا ہے۔ تو کون ہوتا ہے ہم کو سمجھانے والا، سیر و شکار سب کرتے ہیں، ہم نے کیا تو کون سا گناہ ہو گیا۔ فقیر بولا، ’’صاحب عالم ناراض نہ ہوں۔ شکار ایسے جانور کا کرنا چاہئے کہ ایک جان جائے تو دس پانچ جانوں کا پیٹ تو بھرے۔ ان ننھی چڑیوں کے مارنے سے کیا نتیجہ۔ بیس ماروگے تب بھی ایک آدمی کا شکم سیر نہ ہوگا۔‘‘ نصیر مرزا فقیر کے دو بارہ بولنے سے آگے بگولا ہو گئے اور ایک غلہ غلیل میں رکھ کر فقیر کے گھٹنے میں اس زور سے مارا کہ بیچارہ منہ کے بل گر پڑا اور بے اختیار اس کی زبان سے نکلا کہ ’’ہائے ٹانگ توڑ ڈالی۔‘‘فقیر کے گرتے ہی شہزادے گھوڑوں پر سوار ہو کر قلعے کی طرف چلے گئے اور فقیر گھسٹتا ہوا سامنے کے قبرستان کی طرف چلنے لگا۔ گھسٹتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا، ’’وہ تخت کیوں کر آباد رہے گا جس کے وارث ایسے سفاک ظالم ہیں۔ لڑکے تو نے میری ٹانگ توڑ دی، خدا تیری بھی ٹانگیں توڑے اور تجھ کو بھی اس طرح گھسٹنا نصیب ہو۔‘‘(۲)توپیں گرج رہی تھیں۔ گولے برس رہے تھے۔ زمین پر چاروں طرف لاشوں کے ڈھیر نظر آتے تھے۔ شہر دہلی ویران اور سنسان ہوتا جاتا تھا کہ لال قلعہ سے پھر وہی چند شہزادے گھوڑوں پر سوار بدحواسی کے عالم میں بھاگتے ہوئے نظر آئے اور پہاڑ گنج کی طرف جانے لگے۔ دوسری طرف بیس پچیس گورے سپای دھاوا کرتے چلے۔ انہوں نے ان نوعمر سواروں پر یک لخت بندوقوں کی باڑ ماری۔ گولیوں نے گھوڑوں اور سواروں کو چھلنی کردیا اور یہ سب شہزادے فرش خاک پر گر کر خون میں تڑپنے لگے۔گورے جب قریب آئے تو دیکھا وہ شہزادے جاں بحق ہو چکے ہیں مگر ایک سانس لے رہا ہے۔ ایک سپاہی نے زندہ شہزادے کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا تو معلوم ہوا کہ اس کے کہیں زخم نہیں آیا۔ گھوڑے کے گرنے سے معمولی کھر ینچیں آگئی ہیں اور دہشت کے مارے غشی طاری ہوگئی ہے۔ صحیح سالم دیکھ کر گھوڑے کی باگ ڈور سے شہزادے کے ہاتھ باندھ دیے گئے اور حراست میں کر کے دو سپاہیوں کے ساتھ کمپ میں بھجوا دیا گیا۔ کمپ پہاڑی پر تھا جہاں گوروں کے علاوہ کالوں کی فوج بھی تھی۔ جب بڑے صاحب کو معلوم ہوا کہ یہ بادشاہ کا پوتا نصیر الملک ہے تو وہ بہت خوش ہوئے اور حکم ہوا کہ اس کو حفاظت سے رکھا جائے۔(۳)باغیوں کی فوجیں شکست کھا کر بھاگنے لگیں اور انگریزی لشکر یلغار کرتا ہوا شہر میں گھس گیا۔ بہادر شاہ ہمایوں کے مقبرے سے گرفتار ہو گئے۔ تیموری بزم کا چراغ جھلملا کر گل ہو گیا اور جنگل شریف زادیوں کے برہنہ سروں اور کھلے چہروں سے آباد ہونے لگا۔ باپ بچوں کے سامنے ذبح ہونے لگے اور مائیں جوان بیٹوں کو خاک و خون میں لوٹتا دیکھ کر چیخیں مارنے لگیں۔اسی داروگیر میں پہاڑی کمپ پر مرزا نصیر الملک رسی سے بندھے بیٹھے تھے کہ ایک پٹھان سپاہی دوڑا ہوا آیا اور کہا، ’’ جائیے، میں نے آپ کی رہائی کے لیے صاحب سے اجازت حاصل کر لی ہے۔ جلدی بھاگ جاؤ، ایسا نہ ہو کہ دوسری بلا میں پھنس جاؤ۔‘‘مرزا بچارے پیدل چلنا کیا جانیں۔ حیران تھے کہ کیا کریں، لیکن مرتا کیا نہ کرتا۔ پٹھان کا شکریہ ادا کرکے نکلے اور جنگل کی طرف ہو لیے۔ چل رہے تھے مگر یہ خبر نہ تھی کہاں جاتے ہیں۔ ایک میل چلے ہوں گے کہ پیروں میں چھالے پڑ گئے۔ زبان خشک ہوگئی۔ حلق میں کانٹے پڑنے لگے۔ تھک کرا یک درخت کے سائے میں گرپڑے اور آنکھوں میں آنسو بھر کر آسمان کی طرف دیکھا کہ الٰہی یہ کیا غضب ہم پر ٹوٹا۔ ہم کہاں جائیں، کدھر ہمارا ٹھکانہ ہے۔ اوپر نگاہ اٹھائی تو درخت پر نظر گئی۔ دیکھا کہ فاختہ کا ایک گھونسلا بنا ہوا ہے اور وہ آرام سے اپنے انڈوں پر بیٹھی ہے۔ اس کی آزادی اور آسائش پر شہزادے کو بڑا رشک آیا اور کہنے لگے کہ فاختہ مجھ سے تو تو لاکھ درجے بہتر ہے کہ آرام سے اپنے گھونسلے میں بے فکر بیٹھی ہے۔ میرے لیے تو آج زمین آسمان میں کہیں جگہ نہیں ہے۔تھوڑی دور ایک بستی نظر آتی تھی۔ ہمت کر کے وہاں جانے کا ارادہ کیا۔ اگر چہ پاؤں کے چھالے چلنے نہ دیتے تھے مگر لشتم پشتم گرتے پڑتے وہاں پہنچے تو عجیب سماں نظر آیا۔ ایک درخت کے نیچے سینکڑوں گنوار جمع تھے اور چبوترہ پر ایک تیرہ سال کی معصوم لڑکی بیٹھی تھی جس کے چہرہ پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، کان لہو لہان ہو رہے تھے اور دہقانی اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ جونہی مرزا کی نگاہ اس بچی پر پڑی اور اس بچاری نے مرزا کو دیکھا، دونوں کی چیخیں نکل گئیں۔بھائی بہن کو اور بہن بھائی کو چمٹ کر رونے لگے۔ مرزا نصیر الملک کی یہ چھوٹی بہن اپنی والدہ کے ساتھ رتھ میں سوار ہو کر قلعہ سے قطب صاحب کو چلی گئی تھیں۔ مرزا کو گمان بھی نہ تھا کہ وہ اس آفت میں مبتلا ہوگئی ہوں گی۔ پوچھا، ’’ملکہ! تم یہاں کہاں؟‘‘ رو کر بولی، ’’آکا جی! گوجروں نے ہم کو لوٹ لیا، نوکروں کو مار ڈالا، اماں جان کو دوسرے گاؤں والے لے گئے اور مجھ کو یہاں لے آئے۔ میری بالیاں انہوں نے نوچ لیں۔ میرے طمانچے ہی طمانچے مارے ہیں۔‘‘ اتنا کہہ کر لڑکی کی ہچکی بند ھ گئی اور پھر کوئی لفظ اس کی زبان سے نہ نکلا۔بے کس شہزادے نے اپنی غریب بہن کو دلاسا دیا اور ان گنواروں سے عاجزی کرنے لگا کہ اس کو چھوڑ دو۔ گو جر بگڑ کر بولے، ’’ارے جا۔ آیا بڑا بچارا۔ ایک گنڈاسا ایسا ماریں گے کہ گردن کٹ جائے گی۔ اس کو ہم دوسرے گاؤں سے لائے ہیں۔ لا دام دے جا اور لے جا۔‘‘ مرزا نے کہا، ’’چودھر یو! دام کہاں سے دوں۔ میں تو خود تم سے روٹی کا ٹکڑا مانگنے کے قابل ہوں۔ دیکھو ذرا رحم کرو۔ کل تم ہماری رعیت تھے اور ہم بادشاہ کہلا تے تھے۔ آج آنکھیں نہ پھیرو۔ خدا کسی کا وقت نہ بگاڑے۔ اگرہمارے دن پھر گئے تو مالا مال کر دیں گے۔‘‘ یہ سن کر گنوار بہت ہنسے اور کہنے لگے، ’’اوہو! آپ بادشاہ سلامت ہیں۔ تب تو ہم تم کو فرنگیوں کے ہاتھ بیچیں گے اور یہ چھوکری تو اب ہمارے گاؤں کی ٹہل کرے گی۔ جھاڑو دے گی۔ ڈھوروں کے آگے چارہ ڈالے گی، گوبر اٹھائے گی۔‘‘یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ سامنے سے انگریزی فوج آگئی اور گاؤں والوں کو گھیر لیا اور چار چودھریوں کو اور ان دونوں شہزادے شہزادی کو پکڑ کر لے گئے۔(۴)چاندنی چوک کے بازار میں پھانسیاں گڑی ہوئی تھیں اور جس کو انگریز کہہ دیتے کہ یہ قابل دار ہے، اسی کو پھانسی مل جاتی تھی۔ ہر روز سینکڑوں آدمی دار پر لٹکائے جاتے۔ گولیوں سے اڑائے جاتے اور تلوار سے ذبح ہوتے تھے۔ ہر طرف اس خون ریزی سے تہلکہ تھا۔ مرزا نصیر الملک اور ان کی بہن بھی بڑے صاحب کے سامنے پیش ہوئے اور صاحب نے ان دونوں کو خورد سال دیکھ کر بے قصور سمجھا اور چھوڑ دیا۔ دونوں نجات پا کر ایک سوداگر کے ہاں نوکر ہوگئے۔ لڑکی سودا گر کے بچے کو کھلاتی تھی اور نصیر الملک بازار کا سودا سلف لایا کرتے تھے۔ چند روز کے بعد لڑکی تو ہیضہ میں مبتلا ہوکر مر گئی اور مرزا کچھ دن ادھر ادھر نوکر یاں چاکر یاں کرتے رہے۔ آخرکار سرکار نے ان کی پانچ روپیہ ماہوار پنشن مقرر کر دی اور نوکری کے وبال سے مرزا نصیر الملک کو سبکدوشی حاصل ہوگئی۔(۵)ایک برس کا ذکر ہے۔ دہلی کے بازار چتلی قبر کمرہ بنگش وغیرہ میں ایک پیر مرد جن کا چہرہ چنگیزی نسل کا پتہ دیتا تھا، کولہوں کے بل گھسٹتے پھرا کرتے تھے۔ ان کے پاؤں شاید فالج سے بیکار ہوگئے تھے، اس لیے ہاتھوں کو ٹیک کر کولہوں کو گھسیٹتے ہوئے راستے میں چلتے تھے۔ ان کے گلے میں ایک جھولی ہوتی تھی۔ دو قدم چلتے اور راہ گیروں کو حسرت سے دیکھتے، گویا آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنی محتاجی ظاہر کرکے بھیک مانگتے تھے۔ جن لوگوں کو حال معلوم تھا، ترس کھا کر جھولی میں کچھ ڈال دیتے تھے۔ دریافت سے معلوم ہوا کہ ان کا نام مرزا نصیر الملک ہے اور یہ بہادر شاہ کے پوتے ہیں۔ سرکاری پنشن قرضے میں برباد کردی اور اب خاموش گدا گری پر گذارہ ہے۔مجھ کو ان کے حال سے عبرت ہوتی تھی اور جب ان کا ابتدائی قصہ جو کچھ خود ان کی زبانی اور کچھ دوسرے شہزادوں کی زبانی سنا تھا، یاد آتا تھا تو دل دہل جاتا تھا کہ اس فقیر کا کہنا پورا ہوا، جس کی ٹانگ میں انہوں نے غلہ مارا تھا۔ شہزادہ صاحب کا بازار میں گھسٹتا ہوا پھرنا سخت سے سخت دل کو موم کر دیتا تھا اور خدا کے خوف سے جی کانپ جاتا تھا۔ اب ان شہزادہ صاحب کا انتقال ہوگیا۔ کیا اس سچے اور تازے قصے سے ہمارے دولت مند بھائی عبرت نہیں پکڑیں گے اور اپنے غرور و تکبر کی عادت کو ترک نہیں کریں گے، جبکہ ان کے سامنے تکبر کرنے والوں کا انجام موجود ہے۔سب سے زیادہ مجھے مشایخ کی اولاد کو متنبہ کرنا ہے، جو مریدوں کے ہاتھ پیر چومنے سے تباہ ہوجاتے ہیں اور ا پنے سامنے کسی کی ہستی نہیں سمجھتے۔ اپنے بزرگوں کی کمائی پر بھروسہ کرنا اور کچھ قابلیت نہ پیدا کرنا، انسان کو ایک دن اسی طرح ذلیل و رسوا کرتا ہے۔ ہر پیر زادہ کو چاہیے کہ وہ، وہ کام سیکھے جس کے سبب اس کے بزرگ پیر کہلاتے تھے۔ محض پیر زادگی کے طفیل نذرو نیاز کا امید وار رہنا اور اپنی ذات میں نذر لینے کی لیاقت پیدا نہ کرنا حد درجہ کی بے غیرتی ہے۔ میں نے بعض مرشد زادوں کو دیکھا ہے کہ وہ بچپن سے شاہانہ زندگی بسر کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں اور مرید کو اپنے باپ کی رعیت سمجھ کر حکمرانی کرتے ہیں، لیکن جس طرح زمانہ نے دنیاوی حکومت کے تاج و تخت کو مٹا دیا اور شہزادوں سے گلی کوچوں میں بھیک منگوا دی، اسی طرح نئے زمانہ کا الحاد دینی بادشاہت یعنی درویشی کے برباد کرنے پر آمادہ ہے۔ایسا نہ ہو کہ یہ تخت جنبش میں آئے اور پیر زادوں کو شہزادوں کی طرح کہیں ٹھکانا نہ ملے۔ اس لئے چاہیے کہ وقت سے پہلے سب ہوشیار ہو جائیں اور اپنے احوال و اعمال کو درست کر کے غنیم کا دلیری سے مقابلہ کریں اور اپنی پر امن اقلیم کو ہر طرح محفوظ و برقرار رکھیں۔ یہی میں اب کہتا ہوں اور یہی اس وقت کہتا رہوں گا جب تک زبان و قلم یاری دیں۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D8%B3%D9%B9%D9%86%D8%A7"} {"title": "شہہ کہتے تھے افسوس نہ کہنا مانے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "شہہ کہتے تھے افسوس نہ کہنا مانے\nعباس کو وہ گھیر لیا اعدا نے\nاے کوفیو یہ دست درازی ہیہات\nباللہ کہ یداللہ کے کاٹے شانے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "شہید ارماں پڑے ہیں بسمل کھڑا وہ تلوار کا دھنی ہے", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شہید ارماں پڑے ہیں بسمل کھڑا وہ تلوار کا دھنی ہے\nادھر تو یہ قتل عام دیکھا ادھر وہ کیسی کٹا چھنی ہے\n\nہوا ہے نیرنگ آج کیسا یہ دل میں قاتل کے کیا ٹھنی ہے\nجدھر سے گزرا زباں سے نکلا یہ کشتنی ہے وہ کشتنی ہے\n\nبگڑ کے ہم کو بگاڑ ڈالا سنوارنا ہی تمہیں نہ آیا\nبنو جو منصف بتائیں دل بر کہ اس بگڑنے سے کیا بنی ہے\n\nکبھی ہنساتی ہے یاد تیری کبھی رلاتا ہے ہجر تیرا\nیہ قابل دید ہے تماشا یہ سیر بے مہر دیدنی ہے\n\nسنا ہے مقتل میں آج کوئی قتیل حسرت شہید ہوگا\nہوئی جو شہرت یہ شہر میں ہے ہر اک طرف ایک سنسنی ہے\n\nکرم ہے دریا دلوں کی زینت کہاں بخیلوں کی ہے یہ طینت\nاسے تونگر نہیں کہیں گے جو کوئی محتاج دل غنی ہے\n\nشکست پیماں کا ہم کو عادی کیا ہے اک مست نوش لب نے\nبہ مصلحت ہم ہوئے ہیں تائب یہ توبہ آخر شکستنی ہے\n\nدکھا کے ہم کو جمال رعنا کیا ہے کیوں رہ نورد وحشت\nبنے تھے خود رہنما ہمارے یہ رہبری میں بھی رہزنی ہے\n\nطریق ان کا ہی صلح کل ہے جو بے ہمہ با ہمہ نظر ہیں\nہمیں یہ برتاؤ نے دکھایا کہ دوستی میں بھی دشمنی ہے\n\nوفا شعاری ہے جاں نثاری ہے عذر شکوہ نہ عرض مطلب\nہمیں ہیں اک بے نظیر طالب حریف جو ہے وہ یک فنی ہے\n\nوہ آیا تربت پہ بے وفا گل ہر اک سے افسردہ ہو کے پوچھا\nیہ کس کی مشہد پہ ہے چراغاں جو عبرت انگیز روشنی ہے\n\nفنائے قلبی ہے فتح عینی ہوا ہے گر محو شرح صدری\nیہی ہے مفتاح دل کشائی یہ کشف باطن کی جانکنی ہے\n\nہوئے جو یہ مبتلائے الفت اسیر دام وصال کے ہیں\nہوائے زلف خیال جاناں بنی ہوئی طوق گردنی ہے\n\nیہ کس قلندر کو مار ڈالا غضب کیا جامہ پوش نخوت\nکھڑا ہوا رو رہا ہے جذبہ گری ہوئی پاک دامنی ہے\n\nکبھی نہ ہوں گے مرید جدت نہیں ہیں مشتاق حسن بدعت\nہمارا مشرب ہے صوفیانہ ہمارا مذہب سناتنی ہے\n\nکیا ہے عبرت مثال کیسا خیال عبرت نظر نے ہم کو\nکریں تعلق کسی سے کیا ہم جو شکل دیکھی گزشتنی ہے\n\nصفات میں ذات ہے نمایاں ہوئی وہ بالغ نظر ہے نسبت\nکیا ہے محو جمال جاناں یہ سیر قلبی کی روشنی ہے\n\nنہ ہوں غرابت اثر یہ اے دل نقوش نیرنگ شان فطرت\nکوئی ہوا بے نیاز عالم کوئی ہے مفلس کوئی غنی ہے\n\nہوئے نہ ایثار و بذل سے اے کریم ہم مستفیض اب تک\nتمہارا شیوہ جو ہے سخا کا پسند اخلاق محسنی ہے\n\nفراق گل سے جو نالہ کش ہے قفس میں بلبل شہید جلوہ\nبہار گلشن خزاں نما ہے جنوں زدہ ابر بہمنی ہے\n\nملا نہ جام شراب ساقیؔ کوئی قدح بنگ کا عطا ہو\nہمارے پیر مغاں خضر ہیں سبو میں سبزی بھی تو چھنی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DA%91%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84_%DA%A9%DA%BE%DA%91%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DA%BE%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "شہید ساز", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "نمرود کی خدائی", "year": "1950", "text_ur": "میں گجرات کاٹھیا واڑ کا رہنے والا ہوں۔ ذات کا بنیا ہوں۔ پچھلے برس جب تقسیم ہندوستان پر ٹنٹا ہوا تو میں بالکل بیکار تھا۔ معاف کیجیے گا میں نے لفظ ٹنٹا استعمال کیا مگر اس کا کوئی ہرج نہیں۔ اس لیے کہ اردو زبان میں باہر کے الفاظ آنے ہی چاہئیں۔ چاہے وہ گجراتی ہی کیوں نہ ہوں۔\n\nجی ہاں، میں بالکل بیکار تھا۔ لیکن کوکین کا تھوڑا سا کاروبار چل رہا تھا جس سے کچھ آمدن کی صورت ہو جاتی تھی۔ جب بٹوارہ ہوا اور ادھر کے آدمی ادھر اور ادھر کے ادھر ہزاروں کی تعداد میں آنے جانے لگے تو میں نے سوچا چلو پاکستان چلیں۔ کوکین کا نہ سہی کوئی اور کاروبار شروع کردوں گا۔ چنانچہ وہاں سے چل پڑا اور راستے میں مختلف قسم کے چھوٹے چھوٹے دھندے کرتا پاکستان پہنچ گیا۔\n\nمیں تو چلا ہی اس نیت سے تھا کہ کوئی موٹا کاروبارکروں گا۔ چنانچہ پاکستان پہنچتے ہی میں نے حالات کو اچھی طرح جانچا اور الاٹ منٹوں کا سلسلہ شروع کردیا۔ سکہ پالش مجھے آتا ہی تھا۔ چکنی چیڑی باتیں کیں۔ ایک دو آدمیوں کے ساتھ یارانہ گانٹھا اور ایک چھوٹا سا مکان الاٹ کرالیا۔ اس سے کافی منافع ہوا تو میں مختلف شہروں میں پھر کر مکان اور دکانیں الاٹ کرانے کا دھندا کرانے لگا۔\n\nکام کوئی بھی ہو ،انسان کو محنت کرنا پڑتی ہے۔ مجھے بھی چنانچہ الاٹ منٹوں کے سلسلے میں کافی تگ و دو کرنا پڑی۔ کسی کے مسکہ لگایا، کسی کی مٹھی گرم کی، کسی کو کھانے کی دعوت دی، کسی کو ناچ رنگ کی، غرضیکہ بے شمار بکھیڑے تھے۔ دن بھر خاک چھانتا، بڑی بڑی کوٹھیوں کے پھیرے کرتا اور شہر کا چپہ چپہ دیکھ کر اچھا سا مکان تلاش کرتا جس کے الاٹ کرانے سے زیادہ منافع ہو۔\n\nانسان کی محنت کبھی خالی نہیں جاتی۔ چنانچہ ایک برس کے اندر اندرمیں نے لاکھوں روپے پیدا کرلیے۔ اب خدا کا دیا سب کچھ تھا۔ رہنے کوبہترین کوٹھی۔ بینک میں بے اندازہ مال پانی۔۔۔ معاف کیجیے گا۔ میں کاٹھیا واڑ گجرات کا روز مرہ استعمال کرگیا۔ مگر کوئی واندہ نہیں۔ اردو زبان میں باہر کے الفاظ بھی شامل ہونے چاہئیں۔۔۔ جی ہاں، اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ رہنے کو بہترین کوٹھی، نوکر چار، پیکارڈ موٹر بینک میں ڈھائی لاکھ روپے۔ کارخانے اور دکانیں الگ۔۔۔ یہ سب کچھ تھا۔ لیکن میرے دل کا چین جانے کہاں اڑ گیا۔ یوں تو کوکین کا دھندا کرتے ہوئے بھی دل پر کبھی کبھی بوجھ محسوس ہوتا تھا۔ لیکن اب تو جیسے دل رہا ہی نہیں تھا۔ یا پھر یوں کہیے کہ بوجھ اتنا آن پڑا کہ دل اس کے نیچے دب گیا۔ پر یہ بوجھ کس بات کا تھا؟\n\nآدمی ذہین ہوں، دماغ میں کوئی سوال پیدا ہو جائے تو میں اس کا جواب ڈھونڈ ہی نکالتا ہوں۔ ٹھنڈے دل سے (حالانکہ دل کا کچھ پتا ہی نہیں تھا) میں نے غور کرنا شروع کیا کہ اس گڑبڑ گھوٹالے کی وجہ کیا ہے؟\n\nعورت۔۔۔؟ ہو سکتی ہے۔ میری اپنی تو کوئی تھی نہیں۔ جو تھی وہ کاٹھیا واڑ گجرات ہی میں اللہ کو پیاری ہوگئی تھی۔ لیکن دوسروں کی عورتیں موجود تھیں۔مثال کے طور پر اپنے مالی ہی کی تھی۔ اپنا اپنا ٹیسٹ ہے۔ سچ پوچھیے تو عورت جوان ہونی چاہیے اور یہ ضروری نہیں کہ پڑھی لکھی ہو، ڈانس کرنا جانتی ہو۔ اپن کو تو ساری جوان عورتیں چلتی ہیں(کاٹھیا واڑ گجرات کا محاورہ ہے جس کا اردو میں نعم البدل موجود نہیں)\n\nعورت کا تو سوال ہی اٹھ گیا اور دولت کا پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ بندہ زیادہ لالچی نہیں، جو کچھ ہے اسی پر قناعت ہے۔ لیکن پھر یہ دل والی بات کیوں پیدا ہو گئی تھی۔آدمی ذہین ہوں۔ کوئی مسئلہ سامنے آجائے تو اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کارخانے چل رہے تھے۔ دکانیں بھی چل رہی تھیں۔ روپیہ اپنے آپ پیدا ہورہا تھا۔ میں نے الگ تھلگ ہو کر سوچنا شروع کیا اور بہت دیر کے بعد اس نتیجے پرپہنچا کہ دل کی گڑ بڑ صرف اس لیے ہے کہ میں نے کوئی نیک کام نہیں کیا۔\n\nکاٹھیا واڑ گجرات میں تو میں نے بیسیوں نیک کام کیے تھے۔مثال کے طورپر جب میرا دوست پانڈورنگ مر گیا تو میں نے اس کی رانڈ کو اپنے گھر ڈال لیا اور دو برس تک اس کو دھندا کرنے سے روکے رکھا۔ ونائک کی لکڑی کی ٹانگ ٹوٹ گئی تو اسے نئی خرید دی۔ تقریباً چالیس روپے اس پر اٹھ گئے تھے۔ جمنا بائی کو گرمی ہوگئی۔ سالی کو (معاف کیجیے گا) کچھ پتا ہی نہیں۔ میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ چھ مہینے برابر اس کا علاج کراتا رہا۔۔۔ لیکن پاکستان آکر میں نے کوئی نیک کام نہیں کیا تھا اور دل کی گڑ بڑ کی یہی وجہ تھی۔ ورنہ اور سب ٹھیک تھا۔\n\nمیں نے سوچا۔ کیا کروں۔۔۔؟ خیرات دینے کا خیال آیا۔ لیکن ایک روز شہر میں گھوما تو دیکھا کہ قریب قریب ہر شخص بھکاری ہے۔ کوئی بھوکا ہےکوئی ننگا۔کس کس کا پیٹ بھروں، کس کس کا انگ ڈھانکوں۔۔۔؟ سوچا ایک لنگر خانہ کھول دوں لیکن ایک لنگر خانے سے کیا ہوتا اور پھر اناج کہاں سے لاتا؟ بلیک مارکیٹ سے خریدنے کا خیال پیدا ہوا تو یہ سوال بھی ساتھ ہی پیدا ہوگیا کہ ایک طرف گناہ کرکے دوسری طرف کارِ ثواب کا مطلب ہی کیا ہے۔؟\n\nگھنٹوں بیٹھ بیٹھ کر میں نے لوگوں کے دکھ درد سنے۔ سچ پوچھیے تو ہر شخص دکھی تھا۔ وہ بھی جو دکانوں کے تھڑوں پر سوتے ہیں اور وہ بھی جو اونچی اونچی حویلیوں میں رہتے ہیں۔ پیدل چلنے والے کو یہ دکھ تھا کہ اس کے پاس کام کا کوئی جوتا نہیں۔ موٹر میں بیٹھنے والے کو یہ دکھ تھا کہ اس کے پاس کار کا نیا ماڈل نہیں۔ ہر شخص کی شکایت اپنی اپنی جگہ درست تھی۔ ہر شخص کی حاجت اپنی اپنی جگہ معقول تھی۔\n\nمیں نے غالب کی ایک غزل، اللہ بخشے شولاپور کی امینہ بائی چتلےکر سے سنی تھی۔ ایک شعر یاد رہ گیا ہے؂ کِس کی حاجت روا کرے کوئی۔۔۔ معاف کیجیے گا یہ اس کا دوسرا مصرعہ ہے اور ہو سکتا ہے پہلا ہی ہو۔\n\nجی ہاں، میں کس کس کی حاجت روا کرتا جب سو میں سے سو ہی حاجت مند تھے۔ میں نے پھر یہ بھی سوچا کہ خیرات دینا کوئی اچھا کام نہیں۔ ممکن ہے آپ مجھ سے اتفاق نہ کریں۔ لیکن میں نے مہاجرین کے کیمپوں میں جا جا کر جب حالات کا اچھی طرح جائزہ لیا تو مجھے معلوم ہواکہ خیرات نے بہت سے مہاجرین کو بالکل ہی نکما بنا دیا ہے۔ دن بھر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، تاش کھیل رہے ہیں۔ جگار ہورہی ہے (معاف کیجیے گا جُگار کا مطلب ہے جوا یعنی قمار بازی) گالیاں بک رہے ہیں اور فوکٹ یعنی مفت کی روٹیاں توڑ رہے ہیں۔۔۔ ایسے لوگ بھلا پاکستان کو مضبوط بنانے میں کیا مدد دے سکتے ہیں۔ چنانچہ میں اسی نتیجہ پر پہنچا کہ بھیک دینا ہرگز ہرگز نیکی کا کام نہیں۔ لیکن پھر نیکی کے کام کے لیے اور کون سا رستہ ہے؟\n\nکیمپوں میں دھڑا دھڑ آدمی مررہے تھے۔ کبھی ہیضہ پھوٹتا تھا کبھی پلیگ۔ ہسپتالوں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ مجھے بہت ترس آیا۔ قریب تھا کہ ایک ہسپتال بنوا دوں مگر سوچنے پر ارادہ ترک کردیا۔ پوری اسکیم تیار کر چکا تھا۔ عمارت کے لیے ٹینڈر طلب کرتا۔ داخلے کی فیسوں کا روپیہ جمع ہو جاتا۔ اپنی ہی ایک کمپنی کھڑی کردیتا اور ٹنڈراس کے نام نکال دیتا۔ خیال تھا ایک لاکھ روپے عمارت پرصرف کروں گا۔ ظاہر ہے کہ ستر ہزارروپے میں بلڈنگ کھڑی کردیتا اور پورے تیس ہزار بچا لیتا مگر یہ ساری اسکیم دھری کی دھری رہ گئی۔ جب میں نے سوچا کہ اگر مرنے والوں کو بچا لیا گیا تو یہ جو زائد آبادی ہے وہ کیسے کم ہوگی۔\n\nغور کیا جائے تویہ سارا لفڑا ہی فالتو آبادی کا ہے۔ لفڑا کا مطلب ہے جھگڑا، وہ جھگڑا جس میں فضیحتا بھی ہو۔ لیکن اس سے بھی اس لفظ کی پوری معنویت میں بیان نہیں کرسکا۔جی ہاں غور کیا جائے تو یہ سارا لفڑا ہی اس فالتو آبادی کا ہے۔ اب لوگ بڑھتے جائیں گے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ زمینیں بھی ساتھ ساتھ بڑھتی جائیں گی۔ آسمان بھی ساتھ ساتھ پھیلتا جائے گا۔ بارشیں زیادہ ہوں گی۔ اناج زیادہ اگے گا۔ اس لیے میں اس نتیجے پرپہنچا۔۔۔ کہ ہسپتال بنانا ہرگز ہرگز نیک کام نہیں۔\n\nپھر سوچا مسجد بنوا دوں۔ لیکن اللہ بخشے شولا پور کی امینہ بائی چتلے کر کا گایا ہوا ایک شعر یاد آگیا؂ نام منجور ہے تو فیج کے اسباب بنا۔۔۔ وہ منظور کو منجور اور فیض کو فیج کہا کرتی تھی۔ نام منظور ہے تو فیض کے اسباب بنا۔ پل بنا چاہ بنا مسجد و تالاب بنا۔ کس کم بخت کو نام و نمود کی خواہش ہے۔ وہ جو نام اچھالنے کے لیے پل بناتے ہیں۔ نیکی کا کیا کام کرتے ہیں۔۔۔؟ خاک! میں نے کہا نہیں یہ مسجد بنوانے کا خیال بالکل غلط ہے۔ بہت سی الگ الگ مسجدوں کا ہونا بھی قوم کے حق میں ہرگز مفید نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ عوام بٹ جاتے ہیں۔\n\nتھک ہار کر میں حج کی تیاریاں کررہا تھا کہ اللہ میاں نے مجھے خود ہی ایک راستہ بتا دیا۔ شہر میں ایک جلسہ ہوا۔ جب ختم ہوا تو لوگوں میں بدنظمی پھیل گئی۔ اتنی بھگدڑ مچی کہ تیس آدمی ہلاک ہوگئے۔ اس حادثے کی خبر دوسرے روز اخباروں میں چھپی تو معلوم ہوا کہ وہ ہلاک نہیں بلکہ شہید ہوئے تھے۔\n\nمیں نے سوچنا شروع کیا۔ سوچنے کے علاوہ میں کئی مولویوں سے ملا۔ معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو اچانک حادثوں کا شکار ہوتے ہیں۔ انھیں شہادت کا رتبہ ملتا ہے یعنی وہ رتبہ جس سے بڑا کوئی اور رتبہ ہی نہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر لوگ مرنے کی بجائے شہید ہوا کریں تو کتنا اچھا ہے۔ وہ جو عام موت مرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کی موت بالکل اکارت جاتی ہے۔ اگر وہ شہید ہو جاتے تو کوئی بات بنتی۔\n\nمیں نے اس باریک بات پر اور غور کرنا شروع کیا۔چاروں طرف جدھر دیکھو خستہ حال انسان تھے۔ چہرے زرد، فکر و تردد اور غم روزگار کے بوجھ تلے پسے ہوئے۔ دھنسی ہوئی آنکھیں ،بے جان چال۔ کپڑے تار تار ،ریل گاڑی کے کنڈم مال کی طرح یا تو کسی ٹوٹے پھوٹے جھونپڑے میں پڑے ہیں یا بازاروں میں بے مالک مویشیوں کی طرح منہ اٹھائے بے مطلب گھوم رہے ہیں۔ کیوں جی رہے ہیں۔ کس کے لیے جی رہے ہیں اور کیسے جی رہے ہیں۔ اس کا کچھ پتہ نہیں۔ کوئی وبا پھیلی۔ہزاروں لوگ مر گئے اور کچھ نہیں تو بھوک اور پیاس ہی سے گھل گھل مرے۔ سردیوں میں اکڑ گئے۔ گرمیوں میں سوکھ گئے۔ کسی کی موت پر کسی نے دوآنسو بہا دیے، اکثریت کی موت خشک ہی رہی۔\n\nزندگی سمجھ میں نہ آئی، ٹھیک ہے۔ اس سے حظ نہ اٹھایا، یہ بھی ٹھیک ہے۔۔۔ وہ کس کا شعر ہے۔ اللہ بخشے شولاپور کی امینہ بائی چتلے کر کیا درد بھری آواز میں گایا کرتی تھی ۔۔۔مر کےبھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے۔ میرا مطلب ہے اگر مرنے کے بعد بھی زندگی نہ سدھری تو لعنت ہے سسری پر۔\n\nمیں نے سوچا کیوں نہ بیچارے، یہ قسمت کے مارے، در در کے ٹھکرائے ہوئے انسان جو اس دنیا میں ہر اچھی چیز کے لیے ترستے ہیں،اس دنیا میں ایسا رتبہ حاصل کریں کہ وہ جویہاں ان کی طرف نگاہ اٹھانا پسند نہیں کرتے، وہاں ان کو دیکھیں اور رشک کریں۔ اس کی ایک ہی صورت تھی کہ وہ عام موت نہ مریں بلکہ شہید ہوں۔\n\nاب سوال یہ تھا کہ یہ لوگ شہید ہونے کے لیے راضی ہوں گے؟ میں نے سوچا، کیوں نہیں۔ وہ کون مسلمان ہے جس میں ذوقِ شہادت نہیں۔ مسلمانوں کی دیکھا دیکھی تو ہندوؤں اور سکھوں میں بھی یہ رتبہ پیدا کردیا گیا ہے۔ لیکن مجھے سخت ناامیدی ہوئی جب میں نے ایک مریل سے آدمی سے پوچھا، ’’کیا تم شہید ہونا چاہتے ہو؟‘‘ تو اس نے جواب دیا، ’’نہیں۔‘‘\n\nسمجھ میں نہ آیا کہ وہ شخص جی کر کیا کرے گا۔ میں نے اسے بہت سمجھایا کہ دیکھو بڑے میاں، زیادہ سے زیادہ تم ڈیڑھ مہینہ اور جیو گے،چلنے کی تم میں سکت نہیں۔ کھانستے کھانستے غوطے میں جاتے ہو تو ایسا لگتا ہے کہ بس دم نکل گیا۔ پھوٹی کوڑی تک تمہارے پاس نہیں۔ زندگی بھر تم نے سکھ نہیں دیکھا۔ مستقبل کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر اور جی کر کیا کرو گے۔ فوج میں تم بھرتی نہیں ہوسکتے۔ اس لیے محاذ پر اپنے وطن کی خاطر لڑتے لڑتے جان دینے کا خیال بھی عبث ہے۔ اس لیے کیا یہ بہتر نہیں کہ تم کوشش کرکے یہیں بازار میں یا ڈیرے میں جہاں تم رات کو سوتے ہو، اپنی شہادت کا بندوبست کرلو۔ اس نے پوچھا، ’’یہ کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘\n\nمیں نے جواب دیا، ’’یہ سامنے کیلے کا چھلکا پڑا ہے۔ فرض کرلیا جائے کہ تم اس پر سے پھسل جاؤ۔۔۔ ظاہر ہے کہ تم مر جاؤ گے اور شہادت کا رتبہ پاؤ گے۔‘‘ یہ بات اس کی سمجھ میں نہ آئی۔ کہنے لگا۔ ’’میں کیوں آنکھوں دیکھے کیلے کے چھلکے پر پاؤں دھرنے لگا۔۔۔ کیا مجھے اپنی جان عزیز نہیں۔۔۔‘‘ اللہ اللہ کیا جان تھی۔ ہڈیوں کا ڈھانچا جھریوں کی گٹھری!\n\nمجھے بہت افسوس ہوا اور اس وقت اور بھی زیادہ ہوا، جب میں نے سنا کہ وہ کم بخت جو بڑی آسانی سے شہادت کا رتبہ اختیار کرسکتا تھا،خیراتی ہسپتال میں لوہے کی چارپائی پر کھانستا کھنکارتا مر گیا۔ ایک بڑھیا تھی منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت۔ آخری سانس لے رہی تھی، مجھے بہت ترس آیا۔ ساری عمر غریب کی مفلسی اوررنج و غم میں گزری تھی۔ میں اسے اٹھا کر ریل کے پاٹے پر لے گیا۔ معاف کیجیے گا، ہمارے یہاں پٹری کو پاٹا کہتے ہیں۔ لیکن جناب جونہی اس نے ٹرین کی آواز سنی۔ ہوش میں آگئی اور کوک بھرے کھلونے کی طرح اٹھ کر بھاگ گئی۔\n\nمیرا دل ٹوٹ گیا۔ لیکن پھر بھی میں نے ہمت نہ ہاری۔ بنیا کا بیٹا اپنی دھن کا پکا ہوتا ہے۔ نیکی کا جو صاف اور سیدھا راستہ مجھے نظر آیا تھا،میں نے اس کو اپنی آنکھ سے اوجھل نہ ہونے دیا۔مغلوں کے وقت کا ایک بہت بڑا احاطہ خالی پڑا تھا۔ اس میں ایک سو اکاون چھوٹے چھوٹے کمرے تھے۔ بہت ہی خستہ حالت میں۔ میری تجربہ کار آنکھوں نے اندازہ لگا لیا کہ پہلی ہی بڑی بارش میں سب کی چھتیں ڈھے جائیں گی۔ چنانچہ میں نے اس احاطے کو ساڑھے دس ہزار روپے میں خرید لیا اور اس میں ایک ہزار مفلوک الحال آدمی بسا دیے۔ دو مہینے کرایہ وصول کیا۔ ایک روپیہ ماہوار کے حساب سے۔ تیسرے مہینے جیسا کہ میرا اندازہ تھا، پہلی ہی بڑی بارش میں سب کمروں کی چھتیں نیچے آرہیں اور سات سو آدمی جن میں بچے بوڑھے سبھی شامل تھے۔ شہید ہوگئے۔\n\nوہ جو میرے دل پر بوجھ سا تھا، کسی قدر ہلکا ہوگیا۔ آبادی میں سے سات سو آدمی کم بھی ہوگئے۔ لیکن انھیں شہادت کا رتبہ بھی مل گیا۔۔۔ ادھر کا پلڑا بھاری ہی رہا۔ جب سے میں یہی کام کررہا ہوں۔ ہرروز حسبِ توفیق دو تین آدمیوں کو جامِ شہادت پلا دیتا ہوں۔ جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں۔ کام کوئی بھی ہو انسان کو محنت کرنا ہی پڑتی ہے۔ اللہ بخشے شولاپور کی امینہ بائی چتلے کر ایک شعر گایا کرتی تھی۔ لیکن معاف کیجیے گا وہ شعر یہاں ٹھیک نہیں بیٹھتا۔ کچھ بھی ہو، کہنا یہ ہے کہ مجھے کافی محنت کرنا پڑتی ہے ۔ مثال کے طور پر ایک آدمی کو جس کا وجود چھکڑے کے پانچویں پہیےکی طرح بے معنی اور بیکار تھا۔ جام شہادت پلانے کے لیے مجھے پورے دس دن جگہ جگہ کیلے کے چھلکے گرانے پڑے لیکن موت کی طرح جہاں تک میں سمجھتا ہوں شہادت کا بھی ایک دن مقرر ہے۔ دسویں روز جا کروہ پتھریلے فرش پر کیلے کے چھلکے پر سے پھسلا اور شہید ہوا۔\n\nآج کل میں ایک بہت بڑی عمارت بنوا رہا ہوں۔ ٹھیکہ میری ہی کمپنی کے پاس ہے، دو لاکھ کا ہے۔ اس میں سے پچھتر ہزار تو میں صاف اپنی جیب میں ڈال لوں گا۔ بیمہ بھی کرالیا ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ جب تیسری منزل کھڑی کی جائے گی تو ساری بلڈنگ اڑاا ڑا دھڑام گر پڑے گی۔ کیونکہ مصالحہ ہی میں نے ایسا لگوایا ہے۔ اس وقت تین سو مزدور کام پر لگے ہوں گے۔ خدا کے گھر سے مجھے پوری پوری امید ہے کہ یہ سب کے سب شہید ہو جائیں گے۔ لیکن اگر کوئی بچ گیا تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پرلے درجے کا گناہگار ہے جس کی شہادت اللہ تبارک تعالیٰ کو منظور نہیں تھی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%DB%8C%D8%AF_%D8%B3%D8%A7%D8%B2"} {"title": "شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح\nجہاں میں عیب بھی ہم نے کیے ہنر کی طرح\n\nکچھ آج شام سے چہرہ ہے فق سحر کی طرح\nڈھلا ہی جاتا ہوں فرقت میں دوپہر کی طرح\n\nسیاہ بختوں کو یوں باغ سے نکال اے چرخ\nکہ چار پھول تو دامن میں ہوں سپر کی طرح\n\nتمام خلق ہے خواہان آبرو اے رب\nچھپا مجھے صدف قبر میں گہر کی طرح\n\nتجھی کو دیکھوں گا جب تک ہیں برقرار آنکھیں\nمری نظر نہ پھرے گی تری نظر کی طرح\n\nہماری قبر پہ کیا احتیاج‌ عنبر و عود\nسلگ رہا ہے ہر اک استخواں اگر کی طرح\n\nنحیف و زار ہیں کیا زور باغباں سے چلے\nجہاں بٹھا دیا بس رہ گئے شجر کی طرح\n\nتمہارے حلقہ بہ گوشوں میں ایک ہم بھی ہیں\nپڑا رہے یہ سخن کان میں گہر کی طرح\n\nانیسؔ یوں ہوا حال جوانی و پیری\nبڑھے تھے نخل کی صورت گرے ثمر کی طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%81%DB%8C%D8%AF_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%82%DB%8C%D8%B3_%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "شیخ تو تو مرید ہستی ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شیخ تو تو مرید ہستی ہے\nمئے غفلت کی تجھ کو مستی ہے\n\nطوف دل چھوڑ جائے کعبہ کو\nبسکہ فطرت میں تیری پستی ہے\n\nکیوں چڑھے ہے گدھے، گدھے اوپر\nتیری داڑھی کو خلق ہنستی ہے\n\nتیری تو جان میرے مذہب میں\nدل پرستی خدا پرستی ہے\n\nبے خود اس دور میں ہیں سب حاتمؔ\nان دنوں کیا شراب سستی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%AA%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AF_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو\nجنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو\n\nفرش مستاں کرو سجادۂ بے تہ کے تئیں\nمے کی تعظیم کرو شیشے کا اکرام کرو\n\nدامن پاک کو آلودہ رکھو بادے سے\nآپ کو مغبچوں کے قابل دشنام کرو\n\nنیک نامی و تقاوت کو دعا جلد کہو\nدین و دل پیش کش سادۂ خود کام کرو\n\nننگ و ناموس سے اب گزرو جوانوں کی طرح\nپر فشانی کرو اور ساقی سے ابرام کرو\n\nخوب اگر جرعہ مے نوش نہیں کر سکتے\nخاطر جمع مے آشام سے یہ کام کرو\n\nاٹھ کھڑے ہو جو جھکے گردن مینائے شراب\nخدمت بادہ گساراں ہی سرانجام کرو\n\nمطرب آ کر جو کرے چنگ نوازی تو تم\nپیرہن مستوں کی تقلید سے انعام کرو\n\nخنکی اتنی بھی تو لازم نہیں اس موسم میں\nپاس جوش گل و دل گرمی ایام کرو\n\nسایۂ گل میں لب جو پہ گلابی رکھو\nہاتھ میں جام کو لو آپ کو بدنام کرو\n\nآہ تا چند رہو خانقہ و مسجد میں\nایک تو صبح گلستاں میں بھی شام کرو\n\nرات تو ساری گئی سنتے پریشاں گوئی\nمیرؔ جی کوئی گھڑی تم بھی تو آرام کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%AC%DB%8C_%D8%A2%D8%A4_%D9%85%D8%B5%D9%84%DB%8C%D9%B0_%DA%AF%D8%B1%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "شیخ حرم اس بت کا پرستار ہوا ہے", "poet_page": "مصنف:راسخ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شیخ حرم اس بت کا پرستار ہوا ہے\nبت خانہ نشیں باندھ کے زنار ہوا ہے\n\nہر حرف پہ دو آنسو ٹپک پڑتے ہیں اے وائے\nخط یار کو لکھنا ہمیں دشوار ہوا ہے\n\nکوتہ نہ سمجھ آہ ضعیفان کو یہ تیر\nسو بار دل عرش سے بھی پار ہوا ہے\n\nاے صید فگن غم سے ترے دوری کہ میرا\nہر زخم دل اک دیدۂ خوں بار ہوا ہے\n\nہستی تری پردہ ہے اٹھا دے اسے غافل\nکیوں ایسا حجاب رخ دل دار ہوا ہے\n\nآگے ترے تھی گرم سخن ہونے کی حسرت\nسو بھرنا دم سرد بھی دشوار ہوا ہے\n\nکر قدر تو راسخؔ کی کہ اس طرح کا آزاد\nیوں دام میں آ تیرے گرفتار ہوا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "شیخ صاحب بھی تو پردے کے کوئی حامی نہیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "شیخ صاحب بھی تو پردے کے کوئی حامی نہیں\nمفت میں کالج کے لڑکے ان سے بدظن ہو گئے\n\nوعظ میں فرما دیا کل آپ نے یہ صاف صاف\n“پروہ آخر کس سے ہو جب مرد ہی زن ہو گئے”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AD%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی\nپھر تو یاروں نے بھجن گانے کی کھل کر ٹھان لی\n\nمدتوں قائم رہیں گی اب دلوں میں گرمیاں\nمیں نے فوٹو لے لیا اس نے نظر پہچان لی\n\nرو رہے ہیں دوست میری لاش پر بے اختیار\nیہ نہیں دریافت کرتے کس نے اس کی جان لی\n\nمیں تو انجن کی گلے بازی کا قائل ہو گیا\nرہ گئے نغمے حدی خوانوں کے ایسی تان لی\n\nحضرت اکبرؔ کے استقلال کا ہوں معترف\nتابہ مرگ اس پر رہے قائم جو دل میں ٹھان لی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D9%86%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%DB%81%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%84%DB%8C"} {"title": "شیخ و پنڈت دھرم اور اسلام کی باتیں کریں", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شیخ و پنڈت دھرم اور اسلام کی باتیں کریں\nکچھ خدا کے قہر کچھ انعام کی باتیں کریں\n\nیاس و حرمان و غم و آلام کی باتیں کریں\nآ دل ایذا طلب کچھ کام کی باتیں کریں\n\nیہ سنائیں پاک نغمے اولیں الہام کے\nوہ خدا کے آخری پیغام کی باتیں کریں\n\nہم کھڑے سنتے رہیں اور دل میں یہ کہتے رہیں\nاب یہ رخصت ہوں تو ہم کچھ کام کی باتیں کریں\n\nدوست سے کہہ دیں دل بے مدعا کی داستاں\nآج ساقی سے شکست جام کی باتیں کریں\n\nعمر بھر کا عہد الفت اک خیال خام تھا\nآؤ لیکن اس خیال خام کی باتیں کریں\n\nزندگی بے شک ترا انعام ہے یارب مگر\nسن سکے تو کچھ ترے انعام کی باتیں کریں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D9%88_%D9%BE%D9%86%DA%88%D8%AA_%D8%AF%DA%BE%D8%B1%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "شیخ کو کعبے سے جو مقصود ہے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شیخ کو کعبے سے جو مقصود ہے\nوہ کنشت دل ہی میں موجود ہے\n\nمیرے جلنے کی کسی کو کیا خبر\nسوزش دل آتش بے دود ہے\n\nنے حرم سے کام ہے نے دیر سے\nخانۂ دل ہی مرا مسجود ہے\n\nفرق مت کر عاشق و معشوق میں\nخود ایاز اور آپ ہی محمود ہے\n\nکیا پری کیا حور کیا جن و بشر\nسب میں وہ شاید مرا مشہود ہے\n\nمشرب عشاق میں اے زاہدو\nاس کا جو مخلوق ہے معبود ہے\n\nسنگ و آہن کو یہ کرتی ہے گداز\nآہ ہے یہ نغمۂ داؤد ہے\n\nکس سے اے ؔجوشش کہوں میں درد دل\nمیرے اس کے بولنا مفقود ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%AF_%DB%81%DB%92"} {"title": "شیخ کے حال پر تأسف ہے", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شیخ کے حال پر تأسف ہے\nشکل روزی کی اک تصوف ہے\n\nجس کی اوقات ہو تصوف پر\nاس کے اس روزگار پر تف ہے\n\nجن کو دعویٰ ہے حق شناسی کا\nان سے بندے کو بھی تعارف ہے\n\nنہ تو عرفاں کے ان میں ہیں انداز\nمعرفت سے نہ کچھ تشرف ہے\n\nکیسی تعمیل حکم خالق کی\nکیسا اسلام صد تأسف ہے\n\nکون سے امر دیں کو کوئی کہے\nدین کا دین ہی تصوف ہے\n\nدین احمد سے ہو جو باہر بات\nوہی اس عہد میں تصوف ہے\n\nمال جو کچھ ہے بے وقوفوں کا\nشیخ کا مال بے تکلف ہے\n\nہے اثرؔ یہ تصرف بے جا\nاور کوئی نہیں تصرف ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%D8%A3%D8%B3%D9%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "شیخِ مکتب سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "شیخِ مکتب ہے اک عمارت گر\nجس کی صنعت ہے رُوحِ انسانی\nنُکتۂ دلپذیر تیرے لیے\nکہہ گیا ہے حکیمِ قاآنیؔ\n“پیشِ خورشید بر مکش دیوار\nخواہی ار صحنِ خانہ نورانی”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%AE%D9%90_%D9%85%DA%A9%D8%AA%D8%A8_%D8%B3%DB%92"} {"title": "شیر آیا شیر آیا دوڑنا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "نمرود کی خدائی", "year": "1950", "text_ur": "اونچے ٹیلے پر گڈریے کا لڑکا کھڑا، دور گھنے جنگلوں کی طرف منہ کیے چلا رہا تھا، ’’شیر آیا شیر آیا دوڑنا۔‘‘ بہت دیر تک وہ اپنا گلا پھاڑتا رہا۔ اس کی جوان بلند آواز بہت دیر تک فضاؤں میں گونجتی رہی۔ جب چلا چلا کر اس کا حلق سوکھ گیا تو بستی سے دو تین بڈھے لاٹھیاں ٹیکتے ہوئے آئے اور گڈریے کے لڑکے کو کان سے پکڑ کر لے گئے۔\n\nپنچایت بلائی گئی۔ بستی کے سارے عقلمند جمع ہوئے اور گڈریے کے لڑکے کا مقدمہ شروع ہوا۔ فرد جرم یہ تھی کہ اس نے غلط خبر دی اور بستی کے امن میں خلل ڈالا۔لڑکے نے کہا، ’’میرے بزرگو، تم غلط سمجھتے ہو۔۔۔ شیر آیا نہیں تھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ آ نہیں سکتا؟‘‘ جواب ملا، ’’وہ نہیں آ سکتا۔‘‘ لڑکے نے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘ جواب ملا، ’’محکمہ جنگلات کے افسر نے ہمیں چٹھی بھیجی تھی کہ شیر بڈھا ہو چکا ہے۔‘‘ لڑکے نے کہا، ’’لیکن آپ کو یہ معلوم نہیں کہ اس نے تھوڑے ہی روز ہوئے کایا کلپ کرایا تھا۔‘‘ جواب ملا، ’’یہ افواہ تھی۔ ہم نے محکمہ جنگلات سے پوچھا تھا اور ہمیں یہ جواب آیا تھا کہ کایا کلپ کرانے کی بجائے شیر نے تو اپنے سارے دانت نکلوا دیے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی زندگی کے بقایا دن اہنسا میں گزارنا چاہتا ہے۔‘‘\n\nلڑکے نے جوش کے ساتھ کہا، ’’میرے بزرگو! کیا یہ جواب جھوٹا نہیں ہو سکتا۔‘‘ سب نے بیک زبان ہو کر کہا،’’قطعاً نہیں۔ ہمیں محکمہ جنگلات کے افسر پر پورا بھروسا ہے۔ اس لیے کہ وہ سچ بولنے کا حلف اٹھا چکا ہے۔ ‘‘لڑکے نے پوچھا،’’ کیا یہ حلف جھوٹا نہیں ہو سکتا؟ ‘‘جواب ملا،’’ ہرگز نہیں۔۔۔ تم سازشی ہو، ففتھ کالمسٹ ہو، کمیونسٹ ہو، غدار ہو، ترقی پسند ہو ۔۔۔سعادت حسن منٹو ہو۔ ‘‘لڑکا مسکرایا،’’ خدا کا شکر ہے کہ میں وہ شیر نہیں جو آنے والا ہے۔۔۔ محکمہ جنگلات کا سچ بولنے والا افسر نہیں۔۔۔ میں۔۔۔‘‘\n\nپنچایت کے ایک بوڑھے آدمی نے لڑکے کی بات کاٹ کر کہا، ’’تم اسی گڈریے کے لڑکے کی اولاد ہو، جس کی کہانی سالہا سال سے اسکولوں کی ابتدائی جماعتوں میں پڑھائی جا رہی ہے۔۔۔ تمہارا حشر بھی وہی ہو گا جو اس کا ہوا تھا۔۔۔ شیر آئے گا تو تمہاری ہی تکا بوٹی اڑا دے گا۔‘‘\n\nگڈریے کا لڑکا مسکرایا، ’’میں تو اس سے لڑوں گا۔ مجھے تو ہر گھڑی اس کے آنے کا کھٹکا لگا رہتا ہے۔۔۔ تم کیوں نہیں سمجھتے ہو کہ شیر آیا شیر آیا والی کہانی جو تم اپنے بچوں کو پڑھاتے ہو آج کی کہانی نہیں۔۔۔ آج کی کہانی میں تو شیر آیا شیر آیا کا مطلب یہ ہے کہ خبردار رہو۔ ہوشیار رہو۔ بہت ممکن ہے شیر کے بجائے کوئی گیدڑ ہی ادھر چلا آئے،مگراس حیوان کو بھی تو روکنا چاہیے۔‘‘ سب لوگ کھلکھلا کر ہنس پڑے، ’’گیدڑ سے ڈرتے ہو؟‘‘ گدڑیے کے لڑکے نے کہا، ’’میں شیر اور گیدڑدونوں سے نہیں ڈرتا، لیکن ان کی حیوانیت سے البتہ ضرور خائف رہتا ہوں اور اس حیوانیت کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو ہمیشہ تیار کھتا ہوں۔۔۔میرے بزرگو، اسکولوں میں سے وہ کتاب اٹھا لو، جس میں شیر آیا شیر آیا والی پرانی کہانی چھپی ہے۔۔۔ اس کی جگہ یہ نئی کہانی پڑھاؤ۔‘‘\n\nایک بوڑھے نے کھانستے کھنکارتے ہوئے کہا، ’’یہ لونڈا ہمیں گمراہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ ہمیں راہ مستقیم سے ہٹانا چاہتا ہے۔‘‘ لڑکے نے مسکرا کر کہا، ’’زندگی خط مستقیم نہیں ہے میرے بزرگو۔‘‘ دوسرے بڈھے نے فرط جذبات سے لرزتے ہوئے کہا، ’’یہ ملحد ہے، یہ بے دین ہے، فتنہ پردازوں کا ایجنٹ ہے۔ اس کو فوراً زندان میں ڈال دو۔‘‘گڈریے کے لڑکے کو زندان میں ڈال دیا گیا۔\n\nاسی رات بستی میں شیر داخل ہوا۔ بھگدڑ مچ گئی۔ کچھ بستی چھوڑ کر بھاگ گئے۔ باقی شیر نے شکار کر لیے۔ مونچھوں کے ساتھ لگا ہوا خون چوستا جب شیر زندان کے پاس سے گزرا تو اس نے مضبوط آہنی سلاخوں کے پیچھے گڈریے کے لڑکے کو دیکھا اور دانت پیس کر رہ گیا۔گڈریے کا لڑکا مسکرایا، ’’دوست یہ میرے بزرگوں کی غلطی ہے ورنہ تم میرے لہو کا ذائقہ بھی چکھ لیتے۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%88%DA%91%D9%86%D8%A7"} {"title": "شیر اور خچّر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "شیر\nساکنانِ دشت و صحرا میں ہے تُو سب سے الگ\nکون ہیں تیرے اَب و جَد، کس قبیلے سے ہے تو؟\n\nخچّر\nمیرے ماموں کو نہیں پہچانتے شاید حضور\nوہ صبا رفتار، شاہی اصطبَل کی آبرو!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AE%DA%86%D9%91%D8%B1"} {"title": "شیر دل خاں", "poet_page": "مصنف:تصدق حسین خالد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "شیر دل خاں\nمیں نے دیکھے تیس سال\nپے بہ پے فاقے مسلسل ذلتیں\nجنگ\nروٹی\nسامراجی بیڑیوں کو وسعتیں دینے کا فرض\nسو رہا ہوں اس گڑھے کی گود میں\nآفتاب مصر کے سائے تلے\nمیں کنوارا ہی رہا\nکاش میرا باپ بھی\nاف کنوارا\nکیا کہوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D8%A7%DA%BA"} {"title": "شیطان سے دل کو ربط ہو جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "شیطان سے دل کو ربط ہو جاتا ہے\nدشوار انساں کو ضبط ہو جاتا ہے\nحد سے جو سوا ہو حرص یا خود بینی\nاکثر ہے یہی کہ خبط ہو جاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%B7%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D8%A8%D8%B7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "شیطان کرتا ہے کب کسی کو گمراہ", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "شیطان کرتا ہے کب کسی کو گمراہ\nاس راز سے ہے خدائے غالب آگاہ\nہے کام کسی کا اور کسی پر الزام\nلاحول ولا قوۃ الا باللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%B7%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A8_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%D9%85%D8%B1%D8%A7%DB%81"} {"title": "شیفتہ آیا ہوں میں کس کا تماشا دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شیفتہ آیا ہوں میں کس کا تماشا دیکھ کر\nرہ گئے حیران مجھ کو سب خود آرا دیکھ کر\n\nشوقِ خوباں اُڑ گیا حوروں کا جلوہ دیکھ کر\nرنجِ دنیا مٹ گیا آرامِ عقبیٰ دیکھ کر\n\nہے وہ آتش جلوہ، اشک افشاں ہمارے شور سے\nشمع رو دیتی ہے پروانے کو جلتا دیکھ کر\n\nخیر جو گزری سو گزری پر یہی اچھا ہوا\nخط دیا تھا نامہ بر نے اس کو تنہا دیکھ کر\n\nسائلِ مبرم کی پھبتی مجھ پہ فرمانے لگے\nآرزوئے شوق کو گرمِ تقاضا دیکھ کر\n\nہے وہاں سستی طلب میں ، جان یاں بھاری نہیں\nکام کرتے ہیں مزاجِ کارفرما دیکھ کر\n\nہیں تو دونوں سخت لیکن کون سا ہے سخت تر\nاپنے دل کو دیکھئے میرا کلیجا دیکھ کر\n\nگاؤں بھی ہم کو غنیمت ہے کہ آبادی تو ہے\nآئے ہیں ہم سخت پُر آشوب صحرا دیکھ کر\n\nاب کسے لاؤں گواہی کے لئے روزِ جزا\nمیرے دشمن ہو گئے، اس کو احبا دیکھ کر\n\nمیں کمینِ توبہ میں ہوں آپ ، لیکن کیا کروں\nمنہ میں بھر آتا ہے پانی جام و مینا دیکھ کر\n\nالتماسِ وصل پر بگڑے تھے بے ڈھب رات کو\nکچھ نہ بن آئی مگر جوشِ تمنا دیکھ کر\n\nدوستی کرتے ہیں اربابِ غرض ہر ایک سے\nمیرے عاشق ہیں عدو اب ربط اس کا دیکھ کر\n\nبے نقط مجھ کو سناؤ گے جو دیکھو گے ستم\nآپ عاشق تو ہوئے ہیں شوق میرا دیکھ کر\n\nپھر کہو گے اس کو دل، فرماؤ اے اربابِ دل\nجو نہ ہو بے تاب و مضطر، روئے زیبا دیکھ کر\n\nیار پہلو میں نہیں، مے جام و مینا میں نہیں\nتم ہوئے حیران مجھ کو نا شکیبا دیکھ کر\n\nناگہاں بادِ موافق شیفتہ چلنے لگی\nجان پر کل بن رہی تھی شورِ دریا دیکھ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D9%81%D8%AA%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "شیفتہ ہجر میں تو نالۂ شب گیر نہ کھینچ", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شیفتہ ہجر میں تو نالۂ شب گیر نہ کھینچ\nصبح ہونے کی نہیں خجلتِ تاثیر نہ کھینچ\n\nاے ستم گر رگِ جاں میں ہے مری پیوستہ\nدم نکل جائے گا سینے سے مرے تیر نہ کھینچ\n\nحور پر بھی کوئی کرتا ہے عمل دنیا میں\nرنجِ بے ہودہ بس اے عاملِ تسخیر نہ کھینچ\n\nعشق سے کیا ہے تجھے شکل تری کہتی ہے\nحسنِ تقریر کو آہیں دمِ تقریر نہ کھینچ\n\nہے یہ سامان صفائی کا عدو سے کیوں کر\nدستِ مشاطہ سے یوں زلفِ گرہ گیر نہ کھینچ\n\nاے ستم پیشہ کچھ امیدِ تلافی تو رہے\nدستِ نازک سے مرے قتل کو شمشیر نہ کھینچ\n\nچارہ گر فکر کر اس میں، کہ مقدر بدلے\nورنہ بے ہودہ اذیت پئے تدبیر نہ کھینچ\n\nکون بے جرم ہے جو شائقِ تعزیر نہیں\nشوقِ تعزیر سے تو حسرتِ تقصیر نہ کھینچ\n\nوجد کو زمزمۂ مرغِ سحر کافی ہے\nشیفتہ نازِ مغنیِ و مزامیر نہ کھینچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D9%81%D8%AA%DB%81_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%B4%D8%A8_%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86"} {"title": "شیوۂ ناز ہوش چھل جانا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "شیوۂ ناز ہوش چھل جانا\nطرز رفتار دل کچل جانا\n\nصف مژگاں کے جھوک سے گر کر\nہم سے کب ہو سکا سنبھل جانا\n\nاس نے آنے کہا ہے صبح اے اشک\nتو پلک پر نہ ایک پل جانا\n\nہم ابھی منتظر ہیں آنے کے\nدن ڈھلے گا تو تو بھی ڈھل جانا\n\nدل نے سیکھا ہے بے طرح سے نظیرؔ\nبن کہے بن سنے نکل جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D9%88%DB%82_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D9%88%D8%B4_%DA%86%DA%BE%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "شیکسپئیر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "شفَقِ صبح کو دریا کا خرام آئینہ\nنغمۂ شام کو خاموشیِ شام آئینہ\nبرگِ گُل آئنۂ عارضِ زیبائے بہار\nشاہدِ مے کے لیے حجلۂ جام آئینہ\nحُسن آئینۂ حق اور دل آئینۂ حُسن\nدلِ انساں کو ترا حُسنِ کلام آئینہ\nہے ترے فکرِ فلک رس سے کمالِ ہستی\nکیا تری فطرتِ روشن تھی مآلِ ہستی\n\nتجھ کو جب دیدۂ دیدار طلب نے ڈھُونڈا\nتابِ خورشید میں خورشید کو پنہاں دیکھا\nچشمِ عالَم سے تو ہستی رہی مستور تری\nاور عالَم کو تری آنکھ نے عُریاں دیکھا\nحِفظِ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا\nرازداں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%DA%A9%D8%B3%D9%BE%D8%A6%DB%8C%D8%B1"} {"title": "صاحب کرامات", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سڑک کے کنارے", "year": "1953", "text_ur": "چودھری موجو بوڑھے برگد کی گھنی چھاؤں کے نیچے کھّری چارپائی پر بڑے اطمینان سے بیٹھا اپنا چموڑا پی رہا تھا۔ دھوئیں کے ہلکے ہلکے بقے اس کے منہ سے نکلتے تھے اور دوپہر کی ٹھہری ہوئی ہوا میں ہولے ہولے گم ہو جاتے تھے۔\n\nوہ صبح سے اپنے چھوٹے سے کھیت میں ہل چلاتا رہا تھا اور اب تھک گیا تھا۔ دھوپ اس قدر تیز تھی کہ چیل بھی اپنا انڈا چھوڑ دے مگر اب وہ اطمینان سے بیٹھا اپنے چموڑے کا مزہ لے رہا تھا جو چٹکیوں میں اس کی تھکن دور کردیتا تھا۔اس کا پسینہ خشک ہوگیا تھا۔ اس لیے ٹھہری ہوا اسے کوئی ٹھنڈک نہیں پہنچا رہی تھی مگر چموڑے کا ٹھنڈا ٹھنڈا لذیذ دھواں اس کے دل و دماغ میں ناقابل بیان سرور کی لہریں پیدا کررہا تھا۔\n\nاب وقت ہو چکا تھا کہ گھر سے اس کی اکلوتی لڑکی جیناں روٹی لسی لے کر آجائے۔ وہ ٹھیک وقت پر پہنچ جاتی تھی۔ حالانکہ گھر میں اس کا ہاتھ بٹانے والا اور کوئی بھی نہیں تھا۔ اس کی ماں تھی جس کو دو سال ہوئے موجو نے ایک طویل جھگڑے کے بعد انتہائی غصے میں طلاق دے دی تھی۔ اس کی جوان اکلوتی بیٹی جیناں بڑی فرماں بردار لڑکی تھی۔ وہ اپنے باپ کا بہت خیال رکھتی تھی۔ گھر کا کاج جو اتنا زیادہ نہیں تھا، بڑی مستعدی سے کرتی تھی کہ جو خالی وقت ملے اس میں چرخہ چلائے اور پونیاں کاتے۔ یا اپنی سہیلیوں کے ساتھ جو گنتی کی تھیں ادھر ادھر کی خوش گپیوں میں گزاردے۔\n\nچوہدری موجو کی زمین واجبی تھی مگر اس کے گزارے کے لیے کافی تھی۔ گاؤں بہت چھوٹا تھا۔ ایک دور افتادہ جگہ پر جہاں سے ریل کا گزر نہیں تھا، ایک کچی سڑک تھی جو اسے دورایک بڑے گاؤں کے ساتھ ملاتی تھی۔ چوہدری موجو ہر مہینے دو مرتبہ اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر اس گاؤں میں جاتا تھا۔ جس میں دو تین دکانیں تھیں اور ضرورت کی چیزیں لے آتا تھا۔\n\nپہلے وہ بہت خوش تھا۔ اس کو کوئی غم نہیں تھا۔ دو تین برس اس کو اس خیال نے البتہ ضرور ستایا تھا کہ اس کے کوئی نرینہ اولاد نہیں ہوتی، مگر پھر وہ یہ سوچ کر شاکر ہوگیا کہ جو اللہ کو منظو ہوتا ہے وہی ہوتا ہے۔۔۔ مگر اب جس دن سے اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے کر میکے رخصت کردیا تھا۔ اس کی زندگی سوکھا ہوا نیچہ سی بن کے رہ گئی تھی۔ ساری طراوت جیسے اس کی بیوی اپنے ساتھ لے گئی تھی۔\n\nچوہدری موجو مذہبی آدمی تھا۔ حالانکہ اسے اپنے مذہب کے متعلق صرف دو تین چیزوں ہی کا پتہ تھا کہ خدا ایک ہے جس کی پرستش لازمی ہے۔ محمدؐ اس کے رسول ہیں، جن کے احکام ماننا فرض ہے اور قرآن پاک خدا کا کلام ہے جو محمدؐ پر نازل ہوا اور بس۔نماز روزے سے وہ بے نیاز تھا۔ گاؤں بہت چھوٹا تھا جس میں کوئی مسجد نہیں تھی۔ دس پندرہ گھر تھے۔ وہ بھی ایک دوسرے سے دور دور۔ لوگ اللہ اللہ کرتے تھے۔ ان کے دل میں اس ذات پاک کا خوف تھا مگر اس سے زیادہ اور کچھ نہیں تھا۔ قریب قریب ہر گھر میں قرآن موجود تھامگر پڑھنا کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ سب نے اسے احتراماً جزدان میں لپیٹ کر کسی اونچے طاق میں رکھ چھوڑا تھا۔ اس کی ضرورت صرف اسی وقت پیش آتی تھی جب کسی سے کوئی سچی بات کہلوانی ہوتی تھی یا کسی کام کے لیے حلف اٹھانا ہوتا تھا۔\n\nگاؤں میں مولوی کی شکل اسی وقت دکھائی دیتی تھی جب کسی لڑکے یا لڑکی شادی ہوتی تھی۔ مرگ پر جنازہ وغیرہ وہ خود ہی پڑھ لیتے تھے،اپنی زبان میں۔چوہدری موجو ایسے موقعوں پر زیادہ کام آتا تھا۔ اس کی زبان میں اثر تھا۔جس انداز سے وہ مرحوم کی خوبیاں بیان کرتا تھا اور اس کی مغفرت کے لیے دعا کرتا تھا،وہ کچھ اسی کا حصہ تھا۔\n\nپچھلے برس جب اس کے دوست دینو کا جوان لڑکا مر گیا تو اس کو قبر میں اتار کر اس نے بڑے موثر انداز میں یہ کہا تھا۔ہائے، کیا حشین جوان لڑکا تھا۔ تھوک پھینکتا تھاتو بیس گز دور جاکے گرتی تھی۔ اس کی پیشاب کی دھار کا تو آس پاس کے کسی گاؤں کھیڑے میں بھی مقابلہ کرنے والا موجود نہیں تھا اور بینی پکڑنے میں تو جواب نہیں تھا اس کا۔۔۔ہے گھسنی کا نعرہ مارتا اور دو انگلیوں سے یوں بینی کھولتا جیسے کرتے کا بٹن کھولتے ہیں۔۔۔ دینو یار، تجھ پر آج قیامت کا دن ہے۔۔۔ تو کبھی یہ صدمہ نہیں برداشت کرے گا۔۔۔ یارو اسے مر جانا چاہیے تھا۔۔۔ ایسا حشین جوان لڑکا۔۔۔ ایسا خوبصورت گبرو جوان۔۔۔نیتی سنیاری جیسی سندر اور ہٹیلی ناری اس کو قابو کرنے کے لیے تعویذ دھاگے کراتی رہی۔۔۔ مگر بھئی مرحبا ہے دینو، تیرا لڑکا لنگوٹ کا پکا رہا۔۔۔ خدا کرے اس کو جنت میں سب سے خوبصورت حور ملے اور وہاں بھی لنگوٹ کا پکا رہے۔ اللہ میاں خوش ہو کر اس پر اپنی اور رحمتیں نازل کرے گا۔۔۔آمین۔‘‘\n\nیہ چھوٹی سی تقریر سن کر دس بیس آدمی جن میں دینو بھی شامل تھا، دھاڑیں مار مار کر رو پڑے تھے۔ خود چوہدری موجو کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ موجو نے جب اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہی تھی تو اس نے مولوی بلانے کی ضرورت نہیں سمجھی تھی۔ اس نے بڑے بوڑھوں سے سن رکھا تھا کہ تین مرتبہ طلاق، طلاق، طلاق کہہ دو تو قصہ ختم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس نے یہ قصہ اس طرخ ختم کیا تھا۔ مگر دوسرے ہی دن اس کو بہت افسوس ہوا تھا۔ بڑی ندامت ہوئی تھی کہ اس نے یہ کیا غلطی کی۔ میاں بیوی میں جھگڑے ہوتے ہی رہتے ہیں مگر طلاق تک نوبت نہیں آتی۔ اس کو درگزر کرنا چاہیے تھا۔\n\nپھاتاں اس کو پسند تھی۔ گو وہ اب جوان نہیں تھی، لیکن پھر بھی اس کو اس کا جسم پسند تھا۔ اس کی باتیں پسند تھیں۔۔۔ اور پھر وہ اس کی جیناں کی ماں تھی۔۔۔مگر اب تیر کمان سے نکل چکا تھا جو واپس نہیں آسکتا تھا۔ چوہدری موجو جب بھی اس کے متعلق سوچتا تو اس کے چہیتے چموڑے کا دھواں اس کے حلق میں تلخ گھونٹ بن بن کے جانے لگتا۔\n\nجیناں خوبصورت تھی۔ اپنی ماں کی طرح ان دو برسوں میں اس نے ایک دم بڑھنا شروع کردیا تھا اور دیکھتے دیکھتے جوان مٹیار بن گئی تھی جس کے انگ انگ سے جوانی پھوٹ پھوٹ کے نکل رہی تھی۔ چوہدری موجو کو اب اس کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر بھی تھی۔ یہاں پھر اس کو پھاتاں یاد آتی۔ یہ کام وہ کتنی آسانی سے کرسکتی تھی۔\n\nکھری کھاٹ پر چوہدری موجو نے اپنی نشست اور اپنا تہمد درست کرتے ہوئے چموڑے سے غیر معمولی لمبا کش لیا اور کھانسنے لگا۔ کھانسنے کے دوران میں کسی کی آواز آئی،’’السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔‘‘ چوہدری موجو نے پلٹ کر دیکھا تو اسے سفید کپڑوں میں ایک دراز ریش بزرگ نظر آئے۔ اس نے سلام کا جواب دیا اور سوچنے لگا کہ یہ شخص کہاں سے آگیا ہے۔دراز ریش بزرگ کی آنکھیں بڑی بڑی اور با رعب تھیں جن میں سرمہ لگا ہوا تھا۔ لمبے لمبے پٹے تھے۔ داڑھی کے بال کھچڑی تھے۔ سفید زیادہ اور سیاہ کم۔سر پر سفید عمامہ تھا۔ کاندھے پر ریشم کا کاڑھا ہوا بسنتی رومال۔ ہاتھ میں چاندی کی موٹھ والا موٹا عصا تھا۔ پاؤں میں لال کھال کا نرم ونازک جوتا۔چوہدری موجو نے جب اس بزرگ کا سراپا غور سے دیکھا تو اس کے دل میں فوراً ہی اس کا احترام پیدا ہوگیا۔ چارپائی پر سے جلدی جلدی اٹھ کر وہ اس سے مخاطب ہوا،’ آپ کہاں سے آئے؟ کب آئے؟‘‘\n\nبزرگ کی کتری ہوئی شرعی لبوں میں مسکراہٹ پیدا ہوئی،’’فقیر کہاں سے آئیں گے، ان کا کوئی گھر نہیں ہوتا، ان کے آنے کا کوئی وقت مقرر نہیں،ان کے جانے کا کوئی وقت مقرر نہیں، اللہ تبارک تعالیٰ نے جدھر حکم دیا چل پڑے۔۔۔جہاں ٹھہرنے کا حکم ہوا وہیں ٹھہر گئے۔‘‘\n\nچوہدری موجو پر ان الفاظ کا بہت اثر ہوا۔ اس نے آگے بڑھ کر بزرگ کا ہاتھ بڑے احترام سے اپنے ہاتھوں میں لیا۔چوما، آنکھوں سے لگایا،’’چوہدری موجو کا گھر آپ کا اپنا گھر ہے۔‘‘ بزرگ مسکراتا ہوا کھاٹ پر بیٹھ گیا اور اپنے چاندی کی موٹھ والے عصا کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس پر اپنا سر جھکا دیا،’’اللہ جل شانہ کو جانے تیری کون سی ادا پسند آگئی کہ اپنے اس حقیر اور عاصی بندے کو تیرے پاس بھیج دیا۔‘‘ چوہدری موجو نے خوش ہو کر پوچھا،’’تو مولوی صاحب آپ اس کے حکم سے آئے ہیں؟‘‘ مولوی صاحب نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا اور کسی قدر خشم آلود لہجے میں کہا،’’تو کیا ہم تیرے حکم سے آئے ہیں۔۔۔ ہم تیرے بندے ہیں یا اس کے، جس کی عبادت میں ہم نے پورے چالیس برس گزار کر یہ تھوڑا بہت رتبہ حاصل کیا ہے۔‘‘\n\nچوہدری موجو کانپ گیا۔ اپنے مخصوص گنوار لیکن پر خلوص انداز میں اس نے مولوی صاحب سے اپنی تقصیر معاف کرائی اور کہا،’’مولوی صاحب، ہم جیسے انسانوں سے جن کو نماز پڑھنی بھی نہیں آتی ایسی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔۔۔ ہم گنہگار ہیں، ہمیں بخشوانا اور بخشنا آپ کا کام ہے۔‘‘\n\nمولوی صاحب نے اپنی بڑی بڑی سرمہ لگی آنکھیں بند کیں اور کہا،’’ہم اسی لیے آئے ہیں۔‘‘ چوہدری موجو زمین پر بیٹھ گیا اور مولوی صاحب کے پاؤں دبانے لگا۔ اتنے میں اس کی لڑکی جیناں آگئی۔ اس نے مولوی صاحب کو دیکھا تو گھونگھٹ چھوڑ لیا۔\n\nمولوی صاحب نے مندی آنکھوں سے پوچھا، ’’کون ہے چوہدری موجو؟‘‘\n\n’’میری بیٹی مولوی صاحب۔۔۔ جیناںٖ!‘‘\n\nمولوی صاحب نے نیم وا آنکھوں سے جیناں کو دیکھا اور موجو سے کہا،’’ہم فقیروں سے کیا پردہ ہے۔۔۔اس سے پوچھو۔‘‘\n\n’’کوئی پردہ نہیں مولوی صاحب۔۔۔ پردہ کیسا ہوگا۔‘‘ پھرموجو جیناں سے مخاطب ہوا۔‘’ یہ مولوی صاحب جیناں۔ اللہ کے خاص بندے۔۔۔ ان سے پردہ کیسا،اٹھا لے اپنا گھونگھٹ۔‘‘ جیناں نے اپنا گھونگھٹ اٹھا لیا۔ مولوی صاحب نے اپنی سرمہ لگی نظریں بھر کے اس کی طرف دیکھا اور موجو سے کہا،’’تیری بیٹی خوبصورت ہے چوہدری موجو!‘‘\n\nجیناں شرما گئی۔موجو نے کہا،’’اپنی ماں پر ہے مولوی صاحب!‘‘\n\n’’کہاں ہے اس کی ماں؟‘‘ مولوی صاحب نے ایک بار پھر جیناں کی جوانی کی طرف دیکھا۔چوہدری موجو سٹپٹاگیا کہ جواب کیا دے۔مولوی صاحب نے پھر پوچھا،’’اس کی ماں کہاں ہے چوہدری موجو؟‘‘ موجو نے جلدی سے کہا،’’مر چکی ہے جی!‘‘ مولوی صاحب کی نظریں جیناں پر گڑی تھیں۔ اس کا ردعمل بھانپ کر انھوں نے موجو سے کڑک کر کہا،’’ تو جھوٹ بولتا ہے۔‘‘موجو نے مولوی صاحب کے پاؤں پکڑ لیے اور ندامت بھری آواز میں کہا،’’جی ہاں۔۔۔جی ہاں۔۔۔ میں نے جھوٹ بولا تھا۔۔۔ مجھے معاف کردیجیے۔۔۔ میں بڑا جھوٹا آدمی ہوں۔۔۔ میں نے اس کو طلاق دے دی تھی مولوی صاحب۔‘‘\n\nمولوی صاحب نے ایک لمبی’ہوں‘ کی اور نظریں جیناں کی چدریا سے ہٹالیں اور موجو سے مخاطب ہوئے،’’تو بہت بڑا گناہگار ہے۔۔۔کیا قصور تھا اس بے زبان کا؟‘‘ موجو ندامت میں غرق تھا،’’کچھ نہیں معلوم مولوی صاحب۔۔۔ معمولی سی بات تھی جو بڑھتے بڑھتے طلا ق تک پہنچ گئی۔۔۔ میں واقعی گنہگار ہوں۔۔۔ طلاق دینے کے دوسرے دن ہی میں نے سوچا تھا کہ موجو تو نے یہ کیا جھک ماری۔۔۔ پر اس وقت کیا ہو سکتا تھا۔۔۔ چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں۔۔۔پچھتاوے سے کیا ہوسکتا تھا مولوی صاحب۔‘‘\n\nمولوی صاحب نے چاندی کی موٹھ والا عصا موجو کے کاندھے پر رکھ دیا،’’اللہ تبارک تعالیٰ کی ذات بہت بڑی ہے۔ وہ بڑا رحیم ہے،بڑا کریم ہے۔۔۔ وہ چاہے تو ہر بگڑی بنا سکتا ہے۔۔۔ اس کا حکم ہوا تویہ حقیر فقیر ہی تیری نجات کے لیے کوئی راستہ ڈھونڈ نکالے گا۔‘‘ ممنون و متشکر چوہدری موجو مولوی صاحب کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹ گیا اور رونے لگا۔ مولوی صاحب نے جیناں کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے بھی اشک رواں تھے،’’ادھر آلڑکی۔‘‘\n\nمولوی صاحب کے لہجے میں ایسا تحکم تھا جس کو رد کرنا جیناں کے لیے ناممکن تھا۔روٹی اور لسی ایک طرف رکھ کر وہ کھاٹ کے پاس چلی گئی۔مولوی صاحب نے اس کو بازو سے پکڑا اور کہا،’’بیٹھ جا۔‘‘ جیناں زمین پر بیٹھنے لگی تو مولوی صاحب نے اس کا بازو اوپر کھینچا،’’ادھر میرے پاس بیٹھ۔‘‘جیناں سمٹ کر مولوی صاحب کے پاس بیٹھ گئی۔ مولوی صاحب نے اس کی کمر میں ہاتھ دے کر اس کو اپنے قریب کرلیا اور ذرا دبا کر پوچھا،’’کیا لائی ہے تو ہمارے کھانے کے لیے؟‘‘جیناں نے ایک طرف ہٹنا چاہا مگر گرفت مضبوط تھی۔ اس کو جواب دینا پڑا،’’جی۔۔۔جی روٹیاں ہیں۔ ساگ ہے اور لسی۔‘‘مولوی صاحب نے جیناں کی پتلی مضبوط کمر اپنے ہاتھ سے ایک بار پھر دبائی،’’چل کھول کھانا اور ہمیں کھلا۔‘‘\n\nجیناں اٹھ کر چلی گئی تو مولوی صاحب نے موجو کے کندھے سے اپنا چاندی کی موٹھ والا عصا ننھی سی ضرب کے بعد اٹھا لیا،’’اٹھ موجو۔۔۔ہمارے ہاتھ دھلا۔‘‘موجو فوراً اٹھا۔ پاس ہی کنواں تھا۔ پانی لایا اور مولوی صاحب کے ہاتھ بڑے مریدانہ طور پر دھلائے، جیناں نے چارپائی پر کھانا رکھ دیا۔مولوی صاحب سب کا سب کھا گئے اور جیناں کو حکم دیا کہ وہ ان کے ہاتھ دھلائے۔ جیناں عدول حکمی نہیں کرسکتی تھی۔ کیونکہ مولوی صاحب کی شکل و صورت اور ان کی گفتگو کا اندازہی کچھ ایسا تحکم بھرا تھا۔مولوی صاحب نے ڈکار لے کر بڑے زور سے الحمدللہ کہا۔ داڑھی پر گیلا گیلا ہاتھ پھیرا۔ ایک اور ڈکار لی اور چارپائی پر لیٹ گئے اور ایک آنکھ بند کرکے دوسری آنکھ سے جیناں کی ڈھلکی ہوئی چدریا کی طرف دیکھتے رہے۔ اس نے جلدی جلدی برتن سمیٹے اور چلی گئی۔ مولوی صاحب نے آنکھ بند کی اور موجو سے کہا،’’چوہدری اب ہم سوئیں گے۔‘‘\n\nچوہدری کچھ دیر ان کے پاؤں دابتا رہا۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ سو گئے ہیں تو ایک طرف جا کر اس نے اپلے سلگائے اور چلم میں تمباکو بھر کے بھوکے پیٹ چموڑا پینا شروع کردیا۔ مگر وہ خوش تھا۔ اس کو ایسا لگتا تھا کہ اس کی زندگی کا کوئی بہت بڑا بوجھ دورہوگیا ہے۔ اس نے دل ہی دل میں اپنے مخصوص گنوار مگر مخلص انداز میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اپنی جانب سے مولوی صاحب کی شکل میں فرشتہ رحمت بھیج دیا۔ پہلے اس نے سوچا کہ مولوی صاحب کے پاس ہی بیٹھا رہے کہ شاید ان کو کسی خدمت کی ضرورت ہو، مگر جب دیر ہوگئی اور وہ سوتے رہے تو وہ اٹھ کر اپنے کھیت میں چلا گیا اور اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔ اس کو اس بات کا قطعاً خیال نہیں تھاکہ وہ بھوکا ہے۔ اس کو بلکہ اس بات کی بے حد مسرت تھی کہ اس کا کھانا مولوی صاحب نے کھایا اور اس کو اتنی بڑی سعادت ہوئی۔\n\nشام سے پہلے پہلے جب وہ کھیت سے واپس آیا تو اس کو یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوا کہ مولوی صاحب موجود نہیں۔ اس نے خود کو بڑی لعنت ملامت کی کہ وہ کیوں چلا گیا۔ ان کے حضور بیٹھا رہتا۔ شاید وہ ناراض ہو کر چلے گئے ہیں اور کوئی بددعا بھی دے گئے ہوں۔ جب چوہدری موجو نے یہ سوچا تو اس کی سادہ روح لرزگئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔\n\nاس نے ادھر ادھر مولوی صاحب کو تلاش کیا مگر وہ نہ ملے۔ گہری شام ہوگئی پھر بھی ان کا کوئی سراغ نہ ملا۔ تھک ہار کر اپنے کو دل ہی دل میں کوستا اور لعنت ملامت کرتا۔ وہ گردن جھکائے گھر کی طرف جارہا تھا کہ اسے دو جوان لڑکے گھبرائے ہوئے ملے۔ چوہدری موجو نے ان سے گھبراہٹ کی وجہ پوچھی تو انھوں نے پہلے تو ٹالنا چاہا، مگر پھر اصل بات بتادی کہ وہ گھرے میں دبا ہوا شراب کا گھڑا نکال کر پینے والے تھے کہ ایک نورانی صورت والے بزرگ ایک دم وہاں نمودار ہوئے اور بڑی غضب ناک نگاہوں سے ان کو دیکھ کر پوچھا کہ وہ یہ کیا حرام کاری کررہے ہیں۔ جس چیز کو اللہ تبارک تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے وہ اسے پی کر اتنا بڑا گناہ کررہے ہیں جس کا کوئی کفارہ ہی نہیں، ان لوگوں کو اتنی جرات نہ ہوئی کہ کچھ بولیں۔ بس سر پر پاؤں رکھ کے بھاگے اور یہاں آکے دم لیا۔\n\nچوہدری موجو نے ان دونوں کو بتایا کہ وہ نورانی صورت والے واقعی اللہ کو پہنچے ہوئے بزرگ تھے۔ پھر اس نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اب جانے اس گاؤں پر کیا قہرنازل ہوگا۔ ایک اس نے ان کو چھوڑ چلے جانے کی بری حرکت کی، ایک انھوں نے کہ حرام شے نکال کر پی رہے تھے۔’’اب اللہ ہی بچائے۔۔۔ اب اللہ ہی بچائے میرے بچو۔‘‘ یہ بڑبڑاتا چوہدری موجو گھر کی جانب روانہ ہوا۔ جیناں موجود تھی، پر اس نے اس سے کوئی بات نہ کی اور خاموش کھاٹ پر بیٹھ کر حقہ پینے لگا۔ اس کے دل و دماغ میں ایک طوفان برپا تھا۔ اس کو یقین تھا کہ اس پر اور گاؤں پر ضرور کوئی خدائی آفت آئے گی۔\n\nشام کا کھانا تیار تھا، جیناں نے مولوی صاحب کے لیے بھی پکا رکھا تھا۔ جب اس نے اپنے باپ سے پوچھا کہ مولوی صاحب کہاں ہیں تو اس نے بڑے دکھ بھرے لہجے میں کہا، ’’گئے۔۔۔ چلے گئے۔ ان کا ہم گنہگاروں کے ہاں کیا کام!‘‘ جیناں کو افسوس ہوا کیونکہ مولوی صاحب نے کہا تھا کہ وہ کوئی ایسا راستہ ڈھونڈنکالیں گے جس سے اس کی ماں واپس آجائے گی۔۔۔ پر وہ جا چکے تھے۔۔۔اب وہ راستہ ڈھونڈے والا کون تھا۔ جیناں خاموشی سے پیڑھی پر بیٹھ گئی۔۔۔ کھانا ٹھنڈا ہوتا رہا۔\n\nتھوڑی دیر کے بعد ڈیوڑھی میں آہٹ ہوئی۔ باپ بیٹی دونوں چونکے۔ موجو اٹھ کے باہر گیا اور چند لمحات میں مولوی صاحب اور وہ دونوں اندر صحن میں تھے۔ دیے کی دھندلی روشنی میں جیناں نے دیکھا کہ مولوی صاحب لڑکھڑا رہے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا مٹکا ہے۔موجو نے ان کو سہارا دے کر چارپائی پر بٹھایا۔ مولوی صاحب نے گھڑا موجو کو دیا اور لکنت بھرے لہجے میں کہا،’’آج خدا نے ہمارا بہت کڑا امتحان لیا۔۔۔ تمہارے گاؤں کے دو لڑکے شراب کا گھڑا نکال کر پینے والے تھے کہ ہم پہنچ گئے۔۔۔ وہ ہمیں دیکھتے ہی بھاگ گئے۔ ہم کو بہت صدمہ ہوا کہ اتنی چھوٹی عمر اور اتنا بڑا گناہ۔۔۔ لیکن ہم نے سوچا کہ اسی عمر میں تو انسان رستے سے بھٹکتا ہے۔ چنانچہ ہم نے ان کے لیے اللہ تبارک تعالیٰ کے حضور میں گڑگڑا کر دعا مانگی کہ ان کا گناہ معاف کیا جائے۔۔۔جواب ملا۔۔۔ جانتے ہو کیا جواب ملا؟‘‘\n\nموجو نے لرزتے ہوئے کہا۔’’جی نہیں!‘‘\n\n’’جواب ملا۔۔۔ کیا تو ان کا گناہ اپنے سر لیتا ہے۔ میں نے عرض کی۔ہاں باری تعالیٰ۔۔۔ آواز آئی، تو جا یہ سارا گھڑا شراب کا تو پی۔۔۔ ہم نے ان لڑکوں کو بخشا۔ ‘‘موجو ایک ایسی دنیا میں چلا گیا جو اس کے اپنے تخیل کی پیداوار تھی۔ اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے،’’تو آپ نے پی؟‘‘ مولوی صاحب کا لہجہ اور زیادہ لکنت بھرا ہوگیا،’’ہاں پی۔۔۔ پی۔۔۔ ان کا گناہ اپنے سرلینے کے لیے پی۔۔۔ رب العزت کی آنکھوں میں سرخرو ہونے کے لیے پی۔۔۔گھڑے میں اور بھی پڑی ہے۔۔۔ یہ بھی ہمیں پینی ہے۔۔۔ رکھ دے اسے سنبھال کے ، اور دیکھ اس کی ایک بوند ادھر ادھر نہ ہو۔‘‘\n\nموجو نے گھڑا اٹھا کر اندرکوٹھری میں رکھ دیا اور اس کے منہ پر کپڑا باندھ دیا۔واپس صحن میں آیا تو مولوی صاحب جیناں سے اپنا سر دبوا رہے تھے اور اس سے کہہ رہے تھے،’’جو آدمی دوسروں کے لیے کچھ کرتا ہے، اللہ جل شانہ اس سے بہت خوش ہوتا ہے۔۔۔ وہ اس وقت تجھ سے بھی خوش ہے۔۔۔ ہم بھی تجھ سے خوش ہیں۔‘‘ اور اسی خوشی میں مولوی صاحب نے جیناں کو اپنے پاس بٹھا کر اس کی پیشانی چوم لی۔ اس نے اٹھنا چاہا مگر ان کی گرفت مضبوط تھی۔ مولوی صاحب نے اس کو اپنے گلے سے لگا لیا اور موجو سے کہا،’’چوہدری تیری بیٹی کا نصیبا جاگ اٹھا ہے۔‘‘ چوہدری سر تا پا ممنون و متشکر تھا،’’یہ سب آپ کی دعا ہے۔۔۔ آپ کی مہربانی ہے۔‘‘ مولوی صاحب نے جیناں کو ایک مرتبہ پھر اپنے سینے کے ساتھ بھینچا،’’اللہ مہربان سو کل مہربان۔۔۔ جیناں ہم تجھے ایک وظیفہ بتائیں گے، وہ پڑھا کرنا۔ اللہ ہمیشہ مہربان رہے گا۔‘‘\n\nدوسرے دن مولوی صاحب بہت دیر سے اٹھے۔ موجو ڈر کے مارے کھیتوں پر نہ گیا۔ صحن میں ان کی چارپائی کے پاس بیٹھا رہا۔ جب وہ اٹھے تو ان کو مسواک کرائی، نہلایا دھلایا۔۔۔ اور ان کے ارشاد کے مطابق شراب کا گھڑا لا کران کے پاس رکھ دیا۔ مولوی صاحب نے کچھ پڑھا۔ گھڑے کا منہ کھول کر اس میں تین بار پھونکا اور دو تین کٹورے چڑھا گئے۔ اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔ کچھ پڑھا اور بلند آواز میں کہا،’’ہم تیرے ہر امتحان میں پورے اتریں گے مولا۔‘‘ پھر وہ چوہدری سے مخاطب ہوئے،’’موجو جا۔۔۔حکم ملا ہے ابھی جا اور اپنی بیوی کو لے آ۔۔۔ راستہ مل گیا ہے ہمیں۔‘‘\n\nموجو بہت خوش ہوا۔ جلدی جلدی اس نے گھوڑی پر زین کسی اور کہا کہ وہ دوسرے روز صبح سویرے پہنچ جائے گا۔ پھر اس نے جیناں سے کہا کہ وہ مولوی صاحب کی ہر آسائش کا خیال رکھے اور خدمت گزاری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے۔\n\nجیناں برتن مانجھنے میں مشغول ہوگئی۔ مولوی صاحب چارپائی پر بیٹھے اسے گھورتے اور شراب کے کٹورے پیتے رہے۔ اس کے بعد انھوں نے جیب سے موٹے موٹے دانوں والی تسبیح اٹھائی اور پھیرنا شروع کردی۔ جب جیناں کام سے فارغ ہوگئی تو انھوں نے اس سے کہا،’’جیناں دیکھو۔۔۔ وضو کرو۔‘‘ جیناں نے بڑے بھولپن سے جواب دیا،’’مجھے نہیں آتا مولوی جی۔‘‘ مولوی صاحب نے بڑے پیار سے اس کو سرزنش کی،’’وضو کرنا نہیں آتا۔۔۔کیا جواب دے گی اللہ کو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھے اور اس کو و ضو کرایا اور ساتھ ساتھ اس انداز سے سمجھاتے رہے کہ وہ اس کے بدن کے ایک ایک کونے کھدرے کو جھانک جھانک کر دیکھ سکیں۔\n\nوضو کرانے کے بعد مولوی صاحب نے جا نماز مانگی۔ وہ نہ ملی تو پھر ڈانٹا، مگر اسی انداز میں۔ کھیس منگوایا، اس کو اندر کی کوٹھری میں بچھایا اور جیناں سے کہا کہ باہر کی کنڈی لگا دے۔ جب کنڈی لگ گئی تو اس سے کہا کہ گھڑا اور کٹورا اٹھا کے اندر لے آئے۔ وہ لے آئی۔ مولوی صاحب نے آدھا کٹورا پیا اور آدھا اپنے سامنے رکھ لیا اور تسبیح پھیرنا شروع کردی ۔جیناں ان کے پاس خاموش بیٹھی رہی۔بہت دیر تک مولوی صاحب آنکھیں بند کیے اسی طرح وظیفہ کرتے رہے، پھر انھوں نے آنکھیں کھولیں۔ کٹورا جو آدھا بھرا تھا، اس میں تین پھونکیں ماریں اور جیناں کی طرف بڑھا دیا،’’پی جاؤ اسے۔‘‘\n\nجیناں نے کٹورا پکڑ لیا مگر اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ مولوی صاحب نے بڑے جلال بھرے انداز میں اس کی طرف دیکھا،’’ہم کہتے ہیں، پی جاؤ۔۔۔ تمہارے سارے دلدر دور ہو جائیں گے۔‘‘ جیناں پی گئی، مولوی صاحب اپنی پتلی لبوں میں مسکرائے اور اس سے کہا،’’ہم پھر اپنا وظیفہ شروع کرتے ہیں۔۔۔ جب شہادت کی انگلی سے اشارہ کریں تو آدھا کٹورہ گھڑے سے نکال کر فوراً پی جانا۔۔۔ سمجھ گئیں۔‘‘\n\nمولوی صاحب نے اس کو جواب کا موقعہ ہی نہ دیا اور آنکھیں بند کرکے مراقبے میں چلے گئے۔۔۔جیناں کے منہ کا ذائقہ بے حد خراب ہوگیا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ سینے میں آگ سی لگ گئی ہے۔ وہ چاہتی تھی کہ اٹھ کر ٹھنڈا ٹھنڈا پانی پیے۔ پر وہ کیسے اٹھ سکتی تھی۔ جلن کو حلق اور سینے میں لیے دیر تک بیٹھی رہی۔ اس کے بعد ایک دم مولوی صاحب کی شہادت کی انگلی زور سے اٹھی۔ جیناں کو جیسے کسی نے ہپناٹزم کردیا تھا۔ فوراً اس نے آدھا کٹورا بھرا اور پی گئی۔ تھوکنا چاہا مگر اٹھ نہ سکی۔مولوی صاحب اسی طرح آنکھیں بند کیے تسبیح کے دانے کھٹا کھٹ پھیرتے رہے۔ جیناں نے محسوس کیا کہ اس کا سر چکرا رہا ہے اور جیسے اس کو نیند آرہی ہے، پھر اس نے نیم بے ہوشی کے عالم میں یوں محسوس کیا کہ وہ کسی بے داڑھی مونچھ والے جوان مرد کی گود میں ہے اور وہ اسے جنت دکھانے لے جارہا ہے۔\n\nجیناں نے جب آنکھیں کھولیں تو وہ کھیس پر لیٹی تھی۔ اس نے نیم وا مخمور آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھا۔ اور یہاں کیوں لیٹی تھی، کب لیٹی تھی کے متعلق سوچنا شروع کیا تو اسے سب کچھ دھند میں لپٹا نظر آیا۔ وہ پھر سونے لگی۔ لیکن ایک دم اٹھ بیٹھی۔ مولوی صاحب کہاں تھے۔۔۔؟ اور وہ جنت؟ کوئی بھی نہیں۔ وہ باہر صحن میں نکلی تو دیکھا کہ دن ڈھل رہا ہے اور مولوی صاحب کھرے کے پاس بیٹھے وضو کررہے ہیں۔ آہٹ سن کر انھوں نے پلٹ کر جیناں کی طرف دیکھا اور مسکرائے۔ جیناں واپس کوٹھری میں چلی گئی اور کھیس پر بیٹھ کر اپنی ماں کے متعلق سوچنے لگی۔ جس کو لانے اس کا باپ گیا ہوا تھا۔۔۔ پوری ایک رات باقی تھی ان کی واپسی میں اور سخت بھوک لگ رہی تھی۔ اس نے کچھ پکایا بھی نہیں تھا۔۔۔ اس کے چھوٹے سے مضطرب دماغ میں بے شمار باتیں آرہی تھیں۔ کچھ دیر کے بعد مولوی صاحب نمودار ہوئے اور یہ کہہ کرچلے گئے،’’مجھے تمہارے باپ کے لیے ایک وظیفہ کرنا ہے۔۔۔ساری رات کسی قبر کے پاس بیٹھنا ہوگا۔۔۔ صبح آجاؤں گا۔۔۔ تمہارے لیے بھی دعا مانگوں گا۔‘‘\n\nمولوی صاحب صبح سویرے نمودار ہوئے۔ ان کی بڑی بڑی آنکھیں جن میں سرمے کی تحریر غائب تھی، بے حد سرخ تھیں۔ ان کے لہجے میں لکنت تھی اور قدموں میں لڑکھڑاہٹ۔ صحن میں آتے ہی انھوں نے مسکرا کر جیناں کی طرف دیکھا، آگے بڑھ کر اس کو گلے سے لگایا۔ اس کو چوما اور چارپائی پر بیٹھ گئے۔ جیناں ایک طرف کونے میں پیڑھی پر بیٹھ گئی اور گزشتہ دھندلے واقعات کے متعلق سوچنے لگی۔ اس کو اپنے باپ کا بھی انتظار تھاجس کو اس وقت تک پہنچ جانا چاہیے تھا۔\n\nماں سے بچھڑے ہوئے اس کو دو برس ہو چکے تھے۔۔۔ اور جنت۔۔۔وہ جنت۔۔۔ کیسی تھی وہ جنت!!۔۔۔ کیا وہ مولوی صاحب تھے۔۔۔؟ مولوی صاحب تھوڑی دیر کے بعد اس سے مخاطب ہوئے۔’’جیناں، ابھی تک موجو نہیں آیا۔‘‘جیناں خاموش رہی۔مولوی صاحب پھر اس سے مخاطب ہوئے،’’اور میں ساری رات ایک ٹوٹی پھوٹی قبر پر سرنیوڑھائے سنسنان رات میں اس کے لیے وظیفہ پڑھتا رہا۔۔۔ کب آئے گا وہ؟۔۔۔ کیا وہ لے آئے گا تمہاری ماں کو؟‘‘ جیناں نے صرف اس قدر کہا،’’جی معلوم نہیں۔۔۔ شاید آتے ہی ہوں۔۔۔آجائیں گے۔۔۔ اماں بھی آجائے گی۔۔۔ پر ٹھیک پتا نہیں۔‘‘\n\nاتنے میں آہٹ ہوئی۔۔۔ جیناں اٹھی۔ اس کی ماں نمودار ہوئی۔ وہ اسے دیکھتے ہی اس سے لپٹ گئی اور رونے لگی۔ موجو آیا تو اس نے مولوی صاحب کو بڑے ادب اور احترام کے ساتھ سلام کیا۔ پھر اس نے اپنی بیوی سے کہا،’’پھاتاں۔۔۔ سلام کرو مولوی صاحب کو۔‘‘ پھاتاں اپنی بیٹی سے الگ ہوئی۔ آنسو پونچھتے ہوئے آگے بڑھی اور مولوی صاحب کو سلام کیا۔ مولوی صاحب نے اپنی لال لال آنکھوں سے اس کو گھور کے دیکھا اورموجو سے کہا،’’ساری رات قبر کے پاس تمہارے لیے وظیفہ کرتا رہا۔۔۔ابھی ابھی اٹھ کے آیا ہوں۔۔۔ اللہ نے میری سن لی ہے۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘\n\nچوہدری موجو نے فرش پر بیٹھ کر مولوی صاحب کے پاؤں د ابنے شروع کردیے وہ اتنا ممنون و متشکر تھا کہ کچھ نہ کہہ سکا۔ البتہ بیوی سے مخاطب ہو کر اس نے آنسوؤں بھری آواز میں کہا،’’ادھر آ پھاتاں۔۔۔ تو ہی مولوی صاحب کا شکریہ ادا کر۔۔۔مجھے تو نہیں آتا۔‘‘ پھاتاں اپنے خاوند کے پاس بیٹھ گئی۔ پر وہ صرف اتنا کہہ سکی،’’ہم غریب کیا ادا کرسکتے ہیں۔‘‘ مولوی صاحب نے غور سے پھاتاں کو دیکھا،’’موجو چوہدری، تم ٹھیک کہتے تھے۔ تمہاری بیوی خوبصورت ہے۔۔۔اس عمر میں بھی جوان معلوم ہوتی ہے۔ بالکل دوسری جیناں۔۔۔ اس سے بھی اچھی۔۔۔ ہم سب ٹھیک کردیں گے پھاتاں۔۔۔اللہ کا فضل و کرم ہوگیا ہے۔‘‘ میاں بیوی دونوں خاموش رہے۔ موجو مولوی صاحب کے پاؤں دباتا رہا۔ جیناں چولھا سلگانے میں مصروف ہوگئی تھی۔\n\nتھوڑی دیر کے بعد مولوی صاحب اٹھے۔ پھاتاں کے سر پر ہاتھ سے پیار کیا اور موجو سے مخاطب ہوئے،’’اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے اور پھر اس کو اپنے گھر بسانا چاہے تو اس کی سزا یہ ہے کہ پہلے وہ عورت کسی اور مرد سے شادی کرے۔ اس سے طلاق لے، پھر جائز ہے۔‘‘موجو نے ہولے سے کہا،’’میں سن چکا ہوں مولوی صاحب۔‘‘ مولوی صاحب نے موجو کو اٹھایا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،’’لیکن ہم نے خدا کے حضور گڑگڑا کر دعا مانگی کہ ایسی کڑی سزا نہ دی جائے غریب کو۔ اس سے بھول ہوگئی ہے۔۔۔ آواز آئی۔۔۔ ہم ہرروز سفارشیں کب تک سنیں گے تو اپنے لیے جو بھی مانگ ہم دینے کے لیے تیار ہیں۔۔۔ میں نے عرض کی، میرے شہنشاہ۔۔۔ بحروبر کے مالک۔۔۔ میں اپنے لیے کچھ نہیں مانگتا۔۔۔ تیرا دیا میرے پاس بہت کچھ ہے۔۔۔ موجو چوہدری کو اپنی بیوی سے محبت ہے۔۔۔ ارشاد ہوا۔۔۔تو ہم اس کی محبت اور تیرے ایمان کا امتحان لینا چاہتے ہیں۔۔۔ ایک دن کے لیے تو اس سے نکاح کرلے۔ دوسرے دن طلاق دے کر موجو کے حوالے کردے۔۔۔ ہم تیرے لیے بس صرف یہی کرسکتے ہیں کہ تو نے چالیس برس دل سے ہماری عبادت کی ہے۔‘‘\n\nموجو بہت خوش ہوا۔’’مجھے منظور ہے مولوی صاحب۔۔۔ مجھے منظور ہے۔‘‘اور پھاتاں کی طرف اس نے تمتمائی انکھوں سے دیکھا،’’کیوں پھاتاں؟‘‘ مگر اس نے پھاتاں کے جواب کا انتظار نہ کیا،’’ہم دونوں کو منظور ہے۔‘‘مولوی صاحب نے آنکھیں بندکیں۔ کچھ پڑھا۔ دونوں کے پھونک ماری اور آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں،’’اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کو اس امتحان میں پورا اتارے۔‘‘ پھر وہ موجو سے مخاطب ہوا،’’اچھا موجو۔۔۔ میں اب چلتا ہوں۔۔۔ تم اور جیناں آج کی رات کہیں چلے جانا،صبح سویرے آجانا۔‘‘یہ کہہ کر مولوی صاحب چلے گئے۔\n\nجیناں اور موجو تیار تھے۔ جب شام کو مولوی صاحب واپس آئے تو انھوں نے ان سے بہت مختصر باتیں کیں۔ وہ کچھ پڑھ رہے تھے۔ آخر میں انھوں نے اشارہ کیا۔ جیناں اور موجو فوراً چلے گئے۔ مولوی صاحب نے کنڈی بند کردی اور پھاتاں سے کہا،’’تم آج کی رات میری بیوی ہو۔۔۔ جاؤ اندر سے بستر لاؤ اور چارپائی پر بچھاؤ۔،ہم سوئیں گے۔‘‘ پھاتاں نے اندر کوٹھری سے بستر لا کر چارپائی پر بڑے سلیقے سے لگا دیا ۔مولوی صاحب نے کہا،’’بی بی تم بیٹھو، ہم ابھی آتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ وہ کوٹھری میں چلے گئے۔ اندر دیا روشن تھا۔ کونے میں برتنوں کے منارے کے پاس ان کا گھڑا رکھا تھا۔ انھوں نے اسے ہلا کر دیکھا۔ تھوڑی سی باقی تھی۔ گھڑے کے ساتھ ہی منہ لگا کر انھوں نے کئی بڑے بڑے گھونٹ پیے۔ کاندھے سے ریشمی پھولوں والا بسنتی رومال اتار کر مونچھیں اور ہونٹ صاف کیے اور دروازہ بھیڑ دیا۔\n\nپھاتاں چارپائی پر بیٹھی تھی۔ کافی دیر کے بعد مولوی صاحب نکلے۔ان کے ہاتھ میں کٹورا تھا۔ اس میں تین دفعہ پھونک کر انھوں نے پھاتاں کو پیش کیا،’’لو اسے پی جاؤ۔‘‘ پھاتاں پی گئی۔ قے آنے لگی تو مولوی صاحب نے اس کی پیٹھ تھپتھپائی اور کہا،’’ٹھیک ہو جاؤ گی فوراً۔‘‘ پھاتاں نے کوشش کی اور کسی قدر ٹھیک ہوگئی۔ مولوی صاحب لیٹ گئے۔\n\nصبح سویرے جیناں اور موجو آئے تو انھوں نے دیکھا کہ صحن میں پھاتاں سورہی ہے مگر مولوی صاحب موجود نہیں۔ موجو نے سوچا۔ باہر گئے ہوں گے کھیتوں میں۔ اس نے پھاتاں کو جگایا۔ پھاتاں نے غوں غوں کرکے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ پھر بڑبڑائی،’’جنت۔۔۔جنت۔‘‘ لیکن جب اس نے موجو کو دیکھا تو پوری آنکھیں کھول کر بستر میں بیٹھ گئی۔موجو نے پوچھا،’’مولوی صاحب کہاں ہیں؟‘‘ پھاتاں ابھی تک پورے ہوش میں نہیں تھی،’’مولوی صاحب۔۔۔ کون مولوی صاحب۔۔۔وہ تو۔۔۔پتا نہیں کہاں گئے۔۔۔یہاں نہیں ہیں؟‘‘\n\n’’نہیں۔‘‘ موجو نے کہا،’’ میں دیکھتا ہوں انھیں باہر۔‘‘ وہ جارہا تھا کہ اسے پھاتاں کی ہلکی سی چیخ سنائی دی۔ پلٹ کر اس نے دیکھا تکیے کے نیچے سے وہ کوئی کالی کالی چیز نکال رہی تھی۔۔۔ جب پوری نکل آئی تو اس نے کہا،’’یہ کیا ہے؟‘‘موجو نے کہا،’’بال۔‘‘ پھاتاں نے بالوں کا وہ گچھا فرش پر پھینک دیا۔ موجو نے اسے اٹھا لیا اور غورسے دیکھا،’’داڑھی اور پٹے۔‘‘ جیناں پاس ہی کھڑی تھی۔ وہ بولی،’’مولوی صاحب کی داڑھی اور پٹے۔‘‘ پھاتاں نے وہیں چارپائی سے کہا،’’ہاں۔۔۔مولوی صاحب کی داڑھی اور پٹے۔‘‘\n\nموجو عجیب چکر میں پڑ گیا،’’اور مولوی صاحب کہاں ہیں؟‘‘ لیکن فوراً ہی اس کے سادہ اور بے لوث دماغ میں ایک خیال آیا،’’جیناں۔۔۔پھاتاں، تم نہیں سمجھیں۔۔۔ وہ کوئی کرامات والے بزرگ تھے۔ ہمارا کام کرگئے اور یہ نشانی چھوڑ گئے۔‘‘اس نے ان بالوں کو چوما۔ آنکھوں سے لگایا اور ان کوجیناں کے حوالے کرکے کہا،’’جاؤ، ان کو کسی صاف کپڑے میں لپیٹ کر بڑے صندوق میں رکھ دو۔۔۔ خدا کے حکم سے گھر میں برکت ہی برکت رہے گی۔‘‘\n\nجیناں اندر کوٹھری میں گئی تو وہ پھاتاں کے پاس بیٹھ گیا اور بڑے پیار سے کہنے لگا،’’میں اب نماز پڑھنا سیکھوں گا اور اس بزرگ کے لیے دعا کیا کروں گا جس نے ہم دونوں کو پھر سے ملا دیا۔‘‘\n\nپھاتاں خاموش رہی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA"} {"title": "صاحب کے ہرزہ پن سے ہر ایک کو گلہ ہے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "صاحب کے ہرزہ پن سے ہر ایک کو گلہ ہے\nمیں جو نباہتا ہوں میرا ہے حوصلہ ہے\n\nچودہ یہ خانوادے ہیں چار پیر تن میں\nچشتیہ سب سے اچھے یہ زور سلسلہ ہے\n\nپھر کچھ گئے ہوؤں کی مطلق خبر نہ پائے\nکیا جانیے کدھر کو جاتا یہ قافلہ ہے\n\nبار گراں اٹھانا کس واسطے عزیزو\nہستی سے کچھ عدم تک تھوڑا ہی فاصلہ ہے\n\nدے گالیاں ہزاروں سن مطلع اس غزل کا\nکہنے لگے کہ انشاؔ اس کا یہ صلہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%B1%D8%B2%DB%81_%D9%BE%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%D9%84%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "صاف باتوں میں تو کدورت ہے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صاف باتوں میں تو کدورت ہے\nاور لگاوٹ سے ظاہر الفت ہے\n\nغیر سے بھی کبھی تو بگڑے گی\nروٹھنا تو تمہاری عادت ہے\n\nآپ کے لطف میں تو شک ہی نہیں\nدل کو کس بات کی شکایت ہے\n\nاس ستم گر سے شکوہ کیسے ہو\nاور الٹی مجھے ندامت ہے\n\nبولے دکھلا کے آئینہ شب وصل\nدیکھیے تو یہی وہ صورت ہے\n\nموت کو بھی نظر نہیں آتا\nناتوانی نہیں قیامت ہے\n\nکچھ کہا ہوگا اس نے بھی قاصد\nکچھ نہ کچھ تیری بھی شرارت ہے\n\nکہو سب کچھ نہ روٹھنے کی کہو\nیہ ہی کہنا تمہارا آفت ہے\n\nواہ کیا تیری شاعری ہے نظامؔ\nکیا فصاحت ہے کیا بلاغت ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A7%D9%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "صاف باطن دیر سے ہیں منتظر", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صاف باطن دیر سے ہیں منتظر\nساقیا خذ ما صفا دع ما کدر\n\nپھر حیات چند روزہ کا مآل\nموت پر جب زندگی ہے منحصر\n\nرت بدلتے ہی فضا میں گونج اٹھا\nنغمۂ یا ایہا الساقی ادر\n\nایسے وادی میں نہیں کیا رہ نما\nخود جہاں گم کردہ منزل ہوں خضر\n\nمشورہ رحمت سے کر اے عدل حق\nکیا سزا جو ہو خطا کا خود مقر\n\nکیوں ہے اسرار دو عالم کی تلاش\nپردۂ دل میں ہیں تیرے مستر\n\nکیوں مری دیوانگی بدنام ہے\nان کی آنکھیں خود ہوئیں جب مشتہر\n\nالحذر پیر فلک کی سرکشی\nدیکھنے میں تو ہے اتنا منکسر\n\nکھو چکا آنکھیں مگر اے برق حسن\nدل رہے گا اور رہے گا منتظر\n\nسن لے فریاد عزیزؔ جاں بہ لب\nرب انی مستغیث فالفقر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A7%D9%81_%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%B1"} {"title": "صاف قاصد کو واں جواب ملا", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صاف قاصد کو واں جواب ملا\nمیرے خط کا یہی جواب ملا\n\nآج ذرے کو آفتاب ملا\nکہ مجھے ساغر شراب ملا\n\nکہتے ہیں صبح دم وہ دیکھ کے منہ\nجائے آئینہ آفتاب ملا\n\nبے ثبات اپنی بزم عیش جو ہے\nشیشۂ مے کی جا حباب ملا\n\nبخت نے پائی جب کہ بیداری\nمیرے پائے طلب کو خواب ملا\n\nہو گیا دل جو آبلہ ساقی\nسمجھے ہم شیشۂ شراب ملا\n\nگور بھی کھد رہی ہے مہر کے ساتھ\nآپ خوش ہو گئے خطاب ملا\n\nکب سے ناسخؔ یہ جستجو ہے مجھے\nآج وہ خانماں خراب ملا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A7%D9%81_%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "صاف لڑکی", "poet_page": "مصنف:کیفی حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "واہ یہ لڑکی ہے کتنی پاک صاف\nصاف کپڑے صاف چہرہ ناک صاف\nمیل دانتوں پر نہ ناخن میں کہیں\nاور کپڑوں پر کہیں دھبہ نہیں\nصاف ستھرے دھویا موتی ہاتھ پاؤں\nچاہتا ہے دل کلیجے سے لگاؤں\nآؤ بے بی آؤ جلدی پاس آؤ\nاک مزے کا پیار ہم کو دے کے جاؤ\nآتے ہی پہلے کیا اس نے سلام\nپھر جو پوچھا تو بتایا اپنا نام\nگود میں لے کر کیا پہلے تو پیار\nپھر کہا بیٹی میں تم پر سے نثار\nآپ کیا پڑھتی ہیں کیا کرتی ہیں کام\nآپ کے والد کا ہے کس جا مقام\nبھولی لڑکی نے دیا ہم کو جواب\nدوسری اردو کی پڑھتی ہوں کتاب\nفرسٹ ریڈر پہلی دینیات کی\nاور کلام اللہ سارا پڑھ چکی\nحفظ ہے کشف الخلاصہ سب مجھے\nیاد ہے ہر شعر کا مطلب مجھے\nصاف ستھری ہے میری ہر ایک چیز\nمجھ کو اماں نے سکھائی یہ تمیز\nصاف بستر صاف کمرہ صاف گھر\nمیں نے پوچھا بات اس کی کاٹ کر\nہاتھ منہ کب دھوتی ہو اس نے کہا\nفجر و ظہر عصر و مغرب اور عشا\nپانچ وقتوں کی میں پڑھتی ہوں نماز\nجوتی کو لگتا نہیں بول و براز\nچوتھے دن نہا کر بدلتی ہوں لباس\nچھاواں صابن کنگھی ہے سب میرے پاس\nدانت میرے صاف بھی ہیں پاک بھی\nمیرے ہاں منجن بھی ہے مسواک بھی\nآئی پڑھنے کو علی گڑھ سال حال\nعمر کے گزرے ہیں میرے آٹھ سال\nاس سے بھی کم تھا بہت جب میرا سن\nصاف رکھی جاتی تھی میں رات دن\nمیرے والد ہیں غلام پنجتن\nمیرا گھر ہے حیدرآباد دکن\nسن کے اس پاکیزہ لڑکی کے جواب\nمیں نے دیں کیفی دعائیں بے حساب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A7%D9%81_%D9%84%DA%91%DA%A9%DB%8C"} {"title": "صاف کب امتحان لیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صاف کب امتحان لیتے ہیں\nوہ تو دم دے کے جان لیتے ہیں\n\nیوں ہے منظور خانہ ویرانی\nمول میرا مکان لیتے ہیں\n\nتم تغافل کرو رقیبوں سے\nجاننے والے جان لیتے ہیں\n\nپھر نہ آنا اگر کوئی بھیجے\nنامہ بر سے زبان لیتے ہیں\n\nاب بھی گر پڑ کے ضعف سے نالے\nساتواں آسمان لیتے ہیں\n\nتیرے خنجر سے بھی تو اے قاتل\nنوک کی نوجوان لیتے ہیں\n\nاپنے بسمل کا سر ہے زانو پر\nکس محبت سے جان لیتے ہیں\n\nیہ سنا ہے مرے لیے تلوار\nاک مرے مہربان لیتے ہیں\n\nیہ نہ کہہ ہم سے تیرے منہ میں خاک\nاس میں تیری زبان لیتے ہیں\n\nکون جاتا ہے اس گلی میں جسے\nدور سے پاسبان لیتے ہیں\n\nمنزل شوق طے نہیں ہوتی\nٹھیکیاں ناتوان لیتے ہیں\n\nکر گزرتے ہیں ہو بری کہ بھلی\nدل میں جو کچھ وہ ٹھان لیتے ہیں\n\nوہ جھگڑتے ہیں جب رقیبوں سے\nبیچ میں مجھ کو سان لیتے ہیں\n\nضد ہر اک بات پر نہیں اچھی\nدوست کی دوست مان لیتے ہیں\n\nمستعد ہو کے یہ کہو تو سہی\nآئیے امتحان لیتے ہیں\n\nداغؔ بھی ہے عجیب سحر بیاں\nبات جس کی وہ مان لیتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A7%D9%81_%DA%A9%D8%A8_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%86_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "صاف کہتے ہو مگر کچھ نہیں کھلتا کہنا", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صاف کہتے ہو مگر کچھ نہیں کھلتا کہنا\nبات کہنا بھی تمہارا ہے معما کہنا\n\nرو کے اس شوخ سے قاصد مرا رونا کہنا\nہنس پڑے اس پہ تو پھر حرف تمنا کہنا\n\nمثل مکتوب نہ کہنے میں ہے کیا کیا کہنا\nنہ مری طرز خموشی نہ کسی کا کہنا\n\nاور تھوڑی سی شب وصل بڑھا دے یارب\nصبح نزدیک ہمیں ان سے ہے کیا کیا کہنا\n\nپھاڑ کھاتا ہے جو غیروں کو جھپٹ کر سگ یار\nمیں یہ کہتا ہوں مرے شیر ترا کیا کہنا\n\nہر بن موئے مژہ میں ہیں یہاں سو طوفاں\nعین غفلت ہے مری آنکھ کو دریا کہنا\n\nوصف رخ میں جو سنے شعر وہ ہنس کر بولے\nشعر ہیں نور کے ہے نور کا تیرا کہنا\n\nلا سکوگے نہ ذرا جلوۂ دیدار کی تاب\nارنی منہ سے نہ اے حضرت موسیٰ کہنا\n\nکر لیا عہد کبھی کچھ نہ کہیں گے منہ سے\nاب اگر سچ بھی کہیں تم ہمیں جھوٹا کہنا\n\nخاک میں ضد سے ملاؤ نہ مرے آنسو کو\nسچے موتی کو مناسب نہیں جھوٹا کہنا\n\nکیسے ناداں ہیں جو اچھوں کو برا کہتے ہیں\nہو برا بھی تو اسے چاہئے اچھا کہنا\n\nدم آخر تو بتو یاد خدا کرنے دو\nزندگی بھر تو کیا میں نے تمہارا کہنا\n\nپڑھتے ہیں دیکھ کے اس بت کو فرشتے بھی درود\nمرحبا صل علیٰ صل علیٰ کیا کہنا\n\nاے بتو تم جو ادا آ کے کرو مسجد میں\nلب محراب کہے نام خدا کیا کہنا\n\nان حسینوں کی جو تعریف کرو چڑھتے ہیں\nسچ تو یہ ہے کہ برا ہے انہیں اچھا کہنا\n\nشوق کعبے لیے جاتا ہے ہوس جانب دیر\nمیرے اللہ بجا لاؤں میں کس کا کہنا\n\nساری محفل کو اشاروں میں لٹا دو اے جان\nسیکھ لو چشم سخن گو سے لطیفہ کہنا\n\nگھٹتے گھٹتے میں رہا عشق کمر میں آدھا\nجامۂ تن کو مرے چاہئے نیما کہنا\n\nمیں تو آنکھوں سے بجا لاتا ہوں ارشاد حضور\nآپ سنتے نہیں کانوں سے بھی میرا کہنا\n\nچستیٔ طبع سے استاد کا ہے قول امیرؔ\nہو زمیں سست مگر چاہئے اچھا کہنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A7%D9%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "صاف ہم تم سے آج کتنے ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "صاف ہم تم سے آج کتنے ہیں\nسب تمہیں بد مزاج کہتے ہیں\n\nتیرے بیمار غم کو ہے وہ مرض\nحکما لا علاج کہتے ہیں\n\nمیری دھڑکن سے وہ بھی نہ بے چین\nہاں اسے اختلاج کہتے ہیں\n\nکیا عناصر میں ہے تری قدرت\nبس اسے امتزاج کہتے ہیں\n\nہے شہادت کی آرزو قاتل\nدل کی ہم احتیاج کہتے ہیں\n\nداغ سودا نے سرفراز کیا\nہم اسے اپنا تاج کہتے ہیں\n\nخوب پیدا کیا ہے نام انجمؔ\nلوگ عاشق مزاج کہتے ہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A7%D9%81_%DB%81%D9%85_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%D8%AA%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "صبح ازل و شام ابد کچھ بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "صبح ازل و شام ابد کچھ بھی نہیں\nاک وسعت موہوم ہے حد کچھ بھی نہیں\nکیا جانئے کیا ہے عالم کون و فساد\nدعوے تو بہت کچھ ہیں سند کچھ بھی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%A7%D8%B2%D9%84_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%A8%D8%AF_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "صبح تک رقص کناں بنت عنب دیکھیں گے", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبح تک رقص کناں بنت عنب دیکھیں گے\nآج وہ طرفہ تماشا ہے کہ سب دیکھیں گے\n\nغم جاناں کے اشاروں کا تقاضا ہے یہی\nغم دوراں نہیں دیکھا تھا تو اب دیکھیں گے\n\nہمدمو باغ میں ہر سال بہار آئے گی\nاب نہیں دیکھنے پائیں گے تو جب دیکھیں گے\n\nسب ہمیں آئنۂ حسن بتاں کہتے ہیں\nدیکھنا یہ ہے کہ اس سمت وہ کب دیکھیں گے\n\nیوں نہ دیکھیں گے وہ ہم نغمہ گروں کی جانب\nساز میں تیغ کی جھنکار ہو جب دیکھیں گے\n\nرات کو جشن چراغاں میں مگر پروانے\nدن گزاریں گے تو ہنگامۂ شب دیکھیں گے\n\nرکھ دیا آج در یار پہ سر عابدؔ نے\nآج وہ طرفہ تماشہ ہے کہ سب دیکھیں گے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%AA%DA%A9_%D8%B1%D9%82%D8%B5_%DA%A9%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%AA_%D8%B9%D9%86%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "صبح دم اٹھ کر ترا پہلو سے جانا یاد ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "صبح دم اٹھ کر ترا پہلو سے جانا یاد ہے\nلوٹنا دل کا جگر کا پھڑپھڑانا یاد ہے\n\nیار تھا پہلو میں شیشے کی پری تھی سامنے\nکیوں دل نالاں تجھے وہ بھی زمانہ یاد ہے\n\nسن کے احوال محبت کو مرا بولا وہ شوخ\nجان دینے کا تجھے اچھا بہانہ یاد ہے\n\nلوٹ تھا دل قامت دل دار پر مدت ہوئی\nنخل طوبیٰ پر تھا اپنا آشیانہ یاد ہے\n\nکون دیکھے خندۂ گل کی طرف اے عندلیب\nایک مدت سے کسی کا مسکرانا یاد ہے\n\nکیا دکھاتا ہے فلک ابر سیہ میں روئے ماہ\nہم کو بالوں میں کسی کا منہ چھپانا یاد ہے\n\nہو مقابل نالۂ درد دل عشاق کے\nباغباں بلبل کو ایسا بھی ترانا یاد ہے\n\nہجر کی شب نیند آئے عاشق بیمار کو\nمنتہیؔ تجھ کو کوئی ایسا فسانہ یاد ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%AF%D9%85_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%92"} {"title": "صبح دم دروازۂ خاور کھلا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "صبح دم دروازۂ خاور کھلا\nمہر عالم تاب کا منظر کھلا\nخسرو انجم کے آیا صرف میں\nشب کو تھا گنجینۂ گوہر کھلا\nوہ بھی تھی اک سیمیا کی سی نمود\nصبح کو راز مہ و اختر کھلا\nہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ\nدیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا\nسطح گردوں پر پڑا تھا رات کو\nموتیوں کا ہر طرف زیور کھلا\nصبح آیا جانب مشرق نظر\nاک نگار آتشیں رخ سر کھلا\nتھی نظر بندی کیا جب رد سحر\nبادۂ گلرنگ کا ساغر کھلا\nلا کے ساقی نے صبوحی کے لیے\nرکھ دیا ایک جام زر کھلا\nبزم سلطانی ہوئی آراستہ\nکعبۂ امن و اماں کا در کھلا\nتاج زریں مہر تاباں سے سوا\nخسرو آفاق کے منہ پر کھلا\nشاہ روشن دل بہادر شہ کو ہے\nراز ہستی اس پر سر تا سر کھلا\nوہ کہ جس کی صورت تکوین میں\nمقصد نہ چرخ و ہفت اختر کھلا\nوہ کہ جس کے ناخن تاویل سے\nعقدہ احکام پیغمبر کھلا\nپہلے دارا کا نکل آیا ہے نام\nاس کے سرہنگوں کا جب دفتر کھلا\nروشناسوں کی جہاں فہرست ہے\nواں لکھا ہے چہرۂ قیصر کھلا\n\nتوسن شہ میں ہے وہ خوبی کہ جب\nتھان سے وہ غیرت صرصر کھلا\nنقش پا کی صورتیں وہ دلفریب\nتو کہے بت خانہ آزر کھلا\nمجھ پہ فیض تربیت سے شاہ کے\nمنصب مہر و مہ و محور کھلا\nلاکھ عقدے دل میں تھے لیکن ہر ایک\nمیری حد وسع سے باہر کھلا\nتھا دل وابستہ قفل بے کلید\nکس نے کھولا کب کھلا کیوں کر کھلا\nباغ معنی کی دکھاؤں گا بہار\nمجھ سے گر شاہ سخن گستر کھلا\nہو جہاں گرم غزالخوانی نفس\nلوگ جانیں طبلۂ عنبر کھلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%AF%D9%85_%D8%AF%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2%DB%82_%D8%AE%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7"} {"title": "صبح دم روتی جو تیری بزم سے جاتی ہے شمع", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبح دم روتی جو تیری بزم سے جاتی ہے شمع\nصاف میرے سوز غم کا رنگ دکھلاتی ہے شمع\n\nجس طرح کالے کے من کے روبرو گل ہو چراغ\nدیکھ کر تعویذ زلف یار بجھ جاتی ہے شمع\n\nصرف پروانہ ادب سے دم بخود رہتا نہیں\nتیرے رعب حسن سے محفل میں تھراتی ہے شمع\n\nگھیر لیتے ہیں تجھے پروانے اس کو چھوڑ کر\nجس میں تو ہو کب فروغ اس بزم میں پاتی ہے شمع\n\nکاربند عدل ہوتے ہیں جو ہیں روشن دماغ\nبزم میں ہر سمت یکساں نور پہنچاتی ہے شمع\n\nپردۂ فانوس سے باہر نہیں رکھتی قدم\nروبرو تیرے رخ روشن کے شرماتی ہے شمع\n\nجائے گریہ صحبت اہل تماشا ہے اثرؔ\nہے بجا روتی ہوئی جو بزم میں آتی ہے شمع", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%AF%D9%85_%D8%B1%D9%88%D8%AA%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D9%85%D8%B9"} {"title": "صبح قیامت آئے گی کوئی نہ کہہ سکا کہ یوں", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبح قیامت آئے گی کوئی نہ کہہ سکا کہ یوں\nآئے وہ در سے ناگہاں کھولے ہوئے قبا کہ یوں\n\nگوہر نابسودہ کو زلف میں مت دکھا کہ یوں\nمیری کمند شوق میں رات کے وقت آ کہ یوں\n\nکیوں کہ جھکے نسیم سے سوچے تھی نرگس چمن\nدیکھ کے چشم ناز کو آنے لگی حیا کہ یوں\n\nچاہتے تھے شہود میں غیب کا رنگ دیکھنا\nمیری ز خویش رفتگی بن گئی رہنما کہ یوں\n\nسہو تھی وضع خاستن بستر عیش وصل سے\nدیکھ کے ان کی شوخیاں فتنہ ہوا بپا کہ یوں\n\nدیدۂ اہل عشق ہے نور نگاہ سے تہی\nآئے وہ فرش ناز پر چھوڑ کے کفش پا کہ یوں\n\nمیں نے کہا کنار ناز چاہئے اس غمیں سے پر\nسن کے رقیب زشت کو پاس بٹھا لیا کہ یوں\n\nشعلۂ رشک غیر سے جل کے اٹھانا جائے تھا\nدور چراغ بزم نے اٹھ کے بتا دیا کہ یوں\n\nخون شہید عشق وہ کہتے تھے فاش کیسے ہو\nرنگ گل عذار سے سرخ ہوئی ہوا کہ یوں\n\nاس کف پا کے بوسہ کی کب مجھے راہ یاد تھی\nبدرقۂ طلب ہوئی جرأت سنگ پا کہ یوں\n\nرزق نہیں ہے بن تلاش کہتی تھی تنگیٔ معاش\nگردش سنگ آسیا دینے لگی صدا کہ یوں\n\nاس کے خرام شوق سے پس گئی خلق کس روش\nمٹ گئی باد تند سے صورت نقش پا کہ یوں\n\nسعیٔ طریق شوق سے فتنے کو آگہی نہیں\nاس کی جلو میں دوڑے سے سایہ برہنہ پا کہ یوں\n\nشب کو نموئے رنگ سے خندۂ گل کا ذکر تھا\nنشو و نمائے حسن سے ٹکڑے ہوئی قبا کہ یوں\n\nنرگس مہوشاں سے پوچھ گردش آسماں سے پوچھ\nسرمہ ہوئے وفا سرشت کیا کہیں اے خدا کہ یوں\n\nصانع گلشن ارم میں نے کہا کہ ہائے ہائے\nدر پہ اس انجمن سے دور قتل مجھے کیا کہ یوں\n\nمیں نے کہا نسیم سے چٹکے ہے غنچہ کس طرح\nکنج دہان تنگ سے بوسہ نے دی صدا کہ یوں\n\nریختہ رشک فارسی اس سے نہ ہو سکا بیاں\nمحفل عرس میرؔ میں شعر مرے سنا کہ یوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%D9%88%DA%BA"} {"title": "صبح محشر بھی گوارا نہیں فرقت میری", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبح محشر بھی گوارا نہیں فرقت میری\nمجھ سے رہ رہ کے لپٹ جاتی ہے تربت میں\n\nرنج دیتا ہے مزا وہ ہے طبیعت میری\nچین لکھتی ہے مرے واسطے قسمت میری\n\nآ کے ٹھکرا گئے کس ناز سے تربت میری\nنہ کھلی آنکھ مری ہائے ری غفلت میری\n\nکوئی آتا ہے کہیں ایسے سیہ خانے میں\nمیرے گھر کا ہے اجالا شب فرقت میری\n\nصدقے اے تمکنت ناز دکھا دے مجھ کو\nہائے وہ آنکھ نہ ہو جس میں مروت میری\n\nکیا نڈر ہو کے شب وصل وہ آ بیٹھے ہیں\nجانتے ہیں کہ بچا لے گی نزاکت میری\n\nجتنے دل خاک ہوئے روز ازل سے اب تک\nآج ان سب کا نشاں دیتی ہے تربت میری\n\nمے و معشوق نہیں آپ میں رہنے دیتے\nبعد توبہ بھی بدل جاتی ہے نیت میری\n\nاس طرح حشر میں آیا ہوں لحد سے اٹھ کر\nکہ فرشتے نہیں پہچانتے صورت میری\n\nحشر میں پیش نظر ہوں گے بتان کافر\nمجھے ڈر ہے نہ بگڑ جائے طبیعت میری\n\nدھوکے دیتی ہے بری طرح یہ لوگوں کو ریاضؔ\nملتی جلتی ہے بہت خضر سے صورت میری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%85%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "صبح وصال زیست کا نقشہ بدل گیا", "poet_page": "مصنف:امانت لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبح وصال زیست کا نقشہ بدل گیا\nمرغ سحر کے بولتے ہی دم نکل گیا\n\nدامن پہ لوٹنے لگے گر گر کے طفل اشک\nروئے فراق میں تو دل اپنا بہل گیا\n\nدشمن بھی گر مرے تو خوشی کا نہیں محل\nکوئی جہاں سے آج گیا کوئی کل گیا\n\nصورت رہی نہ شکل نہ غمزہ نہ وہ ادا\nکیا دیکھیں اب تجھے کہ وہ نقشا بدل گیا\n\nقاصد کو اس نے قتل کیا پرزے کر کے خط\nمنہ سے جو اس کے نام ہمارا نکل گیا\n\nمل جاؤ گر تو پھر وہی باہم ہوں صحبتیں\nکچھ تم بدل گئے ہو نہ کچھ میں بدل گیا\n\nمجھ دل جلے کی نبض جو دیکھی طبیب نے\nکہنے لگا کہ آہ مرا ہاتھ جل گیا\n\nجیتا رہا اٹھانے کو صدمے فراق کے\nدم وصل میں ترا نہ امانتؔ نکل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D9%82%D8%B4%DB%81_%D8%A8%D8%AF%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "صبح چمن", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "یہ وقت صبح یہ سماں\nیہ دیدہ زیب گلستاں\nیہ دل فریب کیاریاں\nطیور کے یہ چہچہے\nیہ دل لگی یہ قہقہے\nیہ مالنیں یہ باغباں\nبہار جنت نظر\nطرب فزا ہے کس قدر\nدرخت ہیں ادھر ادھر\nعجب فضائے نور ہے\nسرور ہی سرور ہے\nنہیں ہے کون شادماں\nزمیں سے تا بہ آسماں\nجمال دوست ضو فشاں\nملے جو چشم عارفاں\nچلے مری زبان دل\nبنوں میں ترجمان دل\nسناؤں راز قدسیاں\nفضا بہار خیز ہے\nہوا سرور بیز ہے\nچمن مجھے عزیز ہے\nنثار دل بہار پر\nنگاہ مرغزار پر\nیہ کیف دل یہ بوستاں\nنظارہ باز ہیں کہاں\nدکھا رہا ہے آسماں\nنظر فروز سرخیاں\nظہور نور سے خجل\nرہیں گے صرف کور دل\nکروں گا میں تو مستیاں\nخیال بادہ ریز ہے\nیہ بادہ کیف خیز ہے\nچمن بھی خاص چیز ہے\nگرہ کشائے شوق دل\nاثر فزائے ذوق دل\nیہ وقت صبح یہ سماں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%86%D9%85%D9%86"} {"title": "صبح کا بھید ملا کیا ہم کو", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبح کا بھید ملا کیا ہم کو\nلگ گیا رات کا دھڑکا ہم کو\n\nشوق نظارا کا پردہ اٹھا\nنظر آنے لگی دنیا ہم کو\n\nکشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری\nاب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو\n\nبھیڑ میں کھو گئے آخر ہم بھی\nنہ ملا جب کوئی رستہ ہم کو\n\nتلخئ غم کا مداوا معلوم\nپڑ گیا زہر کا چسکا ہم کو\n\nتیرے غم سے تو سکون ملتا ہے\nاپنے شعلوں نے جلایا ہم کو\n\nگھر کو یوں دیکھ رہے ہیں جیسے\nآج ہی گھر نظر آیا ہم کو\n\nہم کہ شعلہ بھی ہیں اور شبنم بھی\nتو نے کس رنگ میں دیکھا ہم کو\n\nجلوۂ لالہ و گل ہے دیوار\nکبھی ملتے سر صحرا ہم کو\n\nلے اڑی دل کو نسیم سحری\nبوئے گل کر گئی تنہا ہم کو\n\nسیر گلشن نے کیا آوارہ\nلگ گیا روگ صبا کا ہم کو\n\nیاد آئی ہیں برہنہ شاخیں\nتھام لے اے گل تازہ ہم کو\n\nلے گیا ساتھ اڑا کر باقیؔ\nایک سوکھا ہوا پتا ہم کو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AF_%D9%85%D9%84%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "صبح کا ترانہ", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "خبر دن کے آنے کی میں لا رہی ہوں\nاجالا زمانے میں پھیلا رہی ہوں\nبہار اپنی مشرق سے دکھلا رہی ہوں\nپکارے گلے صاف چلا رہی ہوں\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nاذاں پر اذاں مرغ دینے لگا ہے\nخوشی سے ہر اک جانور بولتا ہے\nدرختوں کے اوپر عجب چہچہا ہے\nسہانا ہے وقت اور ٹھنڈی ہوا ہے\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nیہ چڑیاں جو پیڑوں پہ ہیں گل مچاتیں\nادھر سے ادھر اڑ کے ہیں آتی جاتیں\nدموں کو ہلاتیں پروں کو پھلاتیں\nمری آمد آمد کے ہیں گیت گاتیں\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nہوئی مجھ سے رونق پہاڑ اور بن میں\nہر اک ملک میں دیس میں اور وطن میں\nکھلاتی ہوئی پھول آئی چمن میں\nبجھاتی چلی شمع کو انجمن میں\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nلو ہشیار ہو جاؤ اور آنکھیں کھولو\nنہ لو کروٹیں اور نہ بستر ٹٹولو\nخدا کو کرو یاد اور منہ سے بولو\nبس اب خیر سے اٹھ کے منہ ہاتھ دھو لو\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "صبح کو آئے ہو نکلے شام کے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبح کو آئے ہو نکلے شام کے\nجاؤ بھی اب تم مرے کس کام کے\n\nہاتھا پائی سے یہی مطلب بھی تھا\nکوئی منہ چومے کلائی تھام کے\n\nتم اگر چاہو تو کچھ مشکل نہیں\nڈھنگ سو ہیں نامہ و پیغام کے\n\nچھیڑ واعظ ہر گھڑی اچھی نہیں\nرند بھی ہیں ایک اپنے نام کے\n\nقہر ڈھائے گی اسیروں کی تڑپ\nاور بھی الجھیں گے حلقے دام کے\n\nمحتسب چن لینے دے اک اک مجھے\nدل کے ٹکڑے ہیں یہ ٹکڑے جام کے\n\nلاکھوں دھڑکے ابتدائے عشق میں\nدھیان ہیں آغاز میں انجام کے\n\nمے کا فتویٰ تو سہی قاضی سے لوں\nٹوک کر رستے میں دامن تھام کے\n\nدور دور محتسب ہے آج کل\nاب کہاں وہ دور دورے جام کے\n\nنام جب اس کا زباں پر آ گیا\nرہ گیا ناصح کلیجا تھام کے\n\nدور سے نالے مرے سن کر کہا\nآ گئے دشمن مرے آرام کے\n\nہائے وہ اب پیار کی باتیں کہاں\nاب تو لالے ہیں مجھے دشنام کے\n\nوہ لگائیں قہقہے سن کر حفیظؔ\nآپ نالے کیجئے دل تھام کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92"} {"title": "صبح کو حشر بھی ہے کٹ گئی گر آج کی رات", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبح کو حشر بھی ہے کٹ گئی گر آج کی رات\nدے رہا ہے مرا دل کل کی خبر آج کی رات\n\nمیرے نالوں میں غضب کا ہے اثر آج کی رات\nلوگ تھامے ہوئے بیٹھے ہیں جگر آج کی رات\n\nضبط مانع ہے کہ وہ شوخ شکایت نہ کرے\nبے صدا آہ بھی ہے مثل اثر آج کی رات\n\nٹوٹے پڑتے ہیں فلک سے بھی ستارے پیہم\nچننے بیٹھا ہے جو افشاں وہ قمر آج کی رات\n\nضبط نالہ نے یہ اندھیر کیا سینے میں\nبن گیا گھٹ کے دھواں سوز جگر آج کی رات", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%A9%D9%88_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%B9_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DA%AF%D8%B1_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "صبح کو نکلا تھا گرچہ کر و فر سے آفتاب", "poet_page": "مصنف:مہاراجہ سر کشن پرشاد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبح کو نکلا تھا گرچہ کر و فر سے آفتاب\nمنہ پھرایا ہو خجل اس عشوہ گر سے آفتاب\n\nآسماں پر گر گرے برق نگاہ تند بار\nابر میں رہ جائے چھپ کر اس کے ڈر سے آفتاب\n\nگر نقاب اپنی الٹ دے وہ رخ تابندہ سے\nگر پڑے بیتاب ہو کر چرخ پر سے آفتاب\n\nدل میں جب سے دیکھتا ہے وہ تری تصویر کو\nنور برساتا ہے اپنی چشم تر سے آفتاب\n\nہیبت شاہ دکن سے شادؔ یہ شہرہ ہے آج\nکانپتا نکلا کرے جیب سحر سے آفتاب", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D9%88_%D9%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8"} {"title": "صبح کی آمد", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "خبر دن کے آنے کی میں لا رہی ہوں\nاجالا زمانہ میں پھیلا رہی ہوں\nبہار اپنی مشرق سے دکھلا رہی ہوں\nپکارے گلے صاف چلا رہی ہوں\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nمیں سب کار بہوار کے ساتھ آئی\nمیں رفتار و گفتار کے ساتھ آئی\nمیں باجوں کی جھنکار کے ساتھ آئی\nمیں چڑیوں کی چہکار کے ساتھ آئی\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nاذاں پر اذاں مرغ دینے لگا ہے\nخوشی سے ہر اک جانور بولتا ہے\nدرختوں کے اوپر عجب چہچہا ہے\nسہانا ہے وقت اور ٹھنڈی ہوا ہے\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nیہ چڑیاں جو پیڑوں پہ ہیں غل مچاتی\nادھر سے ادھر اڑ کے ہیں آتی جاتی\nدموں کو ہلاتی پروں کو پھلاتی\nمیری آمد آمد کے ہیں گیت گاتی\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nجو طوطے نے باغوں میں ٹیں ٹیں مچائی\nتو بلبل بھی گلشن میں ہے چہچہائی\nاور اونچی منڈیروں پہ شاما بھی گائی\nمیں سو سو طرح سے دی رہی ہوں دہائی\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nہر ایک باغ کو میں نے مہکا دیا ہے\nنسیم اور صبا کو بھی لہکا دیا ہے\nچمن سرخ پھولوں سے دہکا دیا ہے\nمگر نیند نے تم کو بہکا دیا ہے\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nہوئی مجھ سے رونق پہاڑ اور بن میں\nہر ایک ملک میں دیس میں ہر وطن میں\nکھلاتی ہوئی پھول آئی چمن میں\nبجھاتی چلی شمع کو انجمن میں\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nجو اس وقت جنگل میں بوٹی جڑی ہے\nسو وہ نولکھا ہار پہنے کھڑی ہے\nکہ پچھلے کی ٹھنڈک سے شبنم پڑی ہے\nعجب یہ سماں ہے عجب یہ گھڑی ہے\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nہرن چونک اٹھے چوکڑی بھر رہے ہیں\nکلولیں ہرے کھیت میں کر رہے ہیں\nندی کے کنارے کھڑے چر رہے ہیں\nغرض میرے جلوہ پہ سب مر رہے ہیں\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nمیں تاروں کی چھاں آن پہونچی یہاں تک\nزمیں سے ہے جلوہ مرا آسماں تک\nمجھے پاؤ گے دیکھتے ہو جہاں تک\nکرو گے بھلا کاہلی تم کہاں تک\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nپجاری کو مندر کے میں نے جگایا\nموذن کو مسجد کے میں نے اٹھایا\nبھٹکتے مسافر کو رستہ بتایا\nاندھیرا گھٹایا۔ اجالا بڑھایا\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nلدے قافلوں کے بھی منزل میں ڈیرے\nکسانوں کے ہل چل پڑے منہ سویرے\nچلے جال کندھے پہ لے کر مچھیرے\nدلدر ہوئے دور آنے سے میرے\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nبگل اور طنبور سنکھ اور نوبت\nبجانے لگے اپنی اپنی سبھی گت\nچلی توپ بھی دن سے حضرت سلامت\nنہیں خوب غفلت۔ نہیں خوب غفلت\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nلو ہشیار ہو جاؤ اور آنکھ کھولو\nنہ لو کروٹیں اور نہ بستر ٹٹولو\nخدا کو کرو یاد اور منہ سے بولو\nبس اب خیر سے اٹھ کے منہ ہاتھ دھو لو\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nبڑی دھوم سے آئی میری سواری\nجہاں میں ہوا اب میرا حکم جاری\nستارے چھپے رات اندھیری سدھاری\nدکھائی دئے باغ اور کھیت کیاری\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں\n\nمیں پورب سے پچھم پہ کرتی ہوں دھاوا\nزمیں کے کرہ پر لگاتی ہوں کاوا\nمیں طے کر کے آئی ہوں چین اور جاوہ\nنہیں کہتی کچھ تم سے اس کے علاوہ\nاٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%85%D8%AF"} {"title": "صبح گلشن میں ہو گر وہ گل خنداں پیدا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبح گلشن میں ہو گر وہ گل خنداں پیدا\nبیضۂ غنچہ سے ہو بلبل نالاں پیدا\n\nاشک ہے ہم رہ آہ دل سوزاں پیدا\nکیا تماشا ہے کہ آتش سے ہے باراں پیدا\n\nہے عجب کار نمایاں ترے چشم و لب سے\nپل میں مر جاتے ہیں ہم دم میں ہیں پھر ہاں پیدا\n\nقد ترا اے بت گل پوش ہو گر سایہ فگن\nتو قیامت ہو سر خاک شہیداں پیدا\n\nلے اڑا باد کے مانند پہ پانی ساقی\nکشتئ مے ہوئی جوں تخت سلیماں پیدا\n\nہوں وہ مجنوں کہ کرے ہے مری پا بوسی کو\nسلسلہ حلقۂ چشمان غزالاں پیدا\n\nہنس کے دنداں کو دکھا دو تو نہ شبنم سے سحر\nدہن غنچہ کرے باغ میں دنداں پیدا\n\nزلف و خط دیکھ ترے رخ پہ نہ کیوں حیراں ہوں\nچشمۂ مہر میں ہیں سنبل و ریحاں پیدا\n\nکیا غضب ہے یہ ترے دامن مژگاں کی جھپک\nعشق کے دل سے ہوئی آتش پنہاں پیدا\n\nتجھ کو دوں حور سے نسبت تو یہ میرا ہے قصور\nکہ جہاں میں نہیں تجھ سا کوئی انساں پیدا\n\nتیری خدمت کو پرستاں میں بنی ہیں پریاں\nاور غلامی کے لئے ہیں تری غلماں پیدا\n\nیہ ترے زیر ذقن دست حنائی ہے کہاں\nسیب جنت سے ہے سر پنجۂ مرجاں پیدا\n\nطرفہ تر لکھ غزل اس بحر میں اک اور نصیرؔ\nکرتے ہیں گوہر معنی کو سخنداں پیدا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%B1_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D9%84_%D8%AE%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7"} {"title": "صبح ہو شام جدائی کی یہ ممکن ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبح ہو شام جدائی کی یہ ممکن ہی نہیں\nہجر کی رات وہ ہے جس کے لیے دن ہی نہیں\n\nصبح کرنا شب غم کا کبھی ممکن ہی نہیں\nآ کے دن پھیر دے اپنے وہ کوئی دن ہی نہیں\n\nدل بے تاب محبت کو ہو کس طرح سکوں\nدونوں حرفوں میں جب اس کے کوئی ساکن ہی نہیں\n\nکیا مذمت ہے مجھے صبح شب ہجر ان سے\nجن سے کہتا تھا کہ بچنا مرا ممکن ہی نہیں\n\nشب فرقت اسے موت آ گئی میرے بدلے\nدے اذاں صبح کی کون آج موذن ہی نہیں\n\nبستر غم سے اٹھا کر یہ بٹھاتا ہے ہمیں\nکوئی جز درد جگر اور معاون ہی نہیں\n\nراہ چلتے بھی یہ پوچھیں کہ کدھر آ نکلے\nجیسے ہم کوچۂ محبوب کے ساکن ہی نہیں\n\nیاد گیسو نے دکھایا ہے وہ عالم ہم کو\nرات رہتی ہے جہاں آٹھ پہر دن ہی نہیں\n\nبندۂ عشق ہیں ایمان کی کہتے ہیں جلالؔ\nہم کو کافر جو سمجھتا ہے وہ مومن ہی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DB%81%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D9%85%DA%A9%D9%86_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "صبح ہوتے ہی گیا گھر مہِ تاباں میرا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبح ہوتے ہی گیا گھر مہِ تاباں میرا\nپنجۂ خور نے کیا چاک گریباں میرا\n\nگرم گرم اس رخِ نازک پہ نظر کی کس نے\nرشکِ گل ریز ہے کیوں دیدۂ گریاں میرا\n\nوادیِ نجد کو دلی سے نہ دینا نسبت\nہے وہ مجنوں کا بیاباں، یہ بیاباں میرا\n\nدیکھ کر میری طرف ہنس کے کہا یہ دمِ قتل\nآج تو دیکھ لیا آپ نے پیماں میرا\n\nنہ گھر آیا، نہ جنازے پہ، نہ مرقد پہ کبھی\nحیف صد حیف نہ نکلا کوئی ارماں میرا\n\nچارہ سازو! کوئی رہتا ہے بجز چاک ہوئے\nآپ سو بار سییں، ہے یہ گریباں میرا\n\nآس کی زلفوں کا نہ ہو دھیان تو اے شیفتہ پھر\nاس شبِ ہجر میں ہے کون نگہباں میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%81%D9%90_%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "صبح ہے رات کہاں اب وہ کہاں رات کی بات", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبح ہے رات کہاں اب وہ کہاں رات کی بات\nبات ہی بات تو ہے بیٹھ بھی لو بات کی بات\n\nعرش پر رہتے ہیں کیا کعبے کے رہنے والے\nکوئی سنتا ہی نہیں اہل خرابات کی بات\n\nیہ کوئی بات ہے خم ساتھ لئے واعظ آئے\nاور پھر میں نہ سنوں قبلۂ حاجات کی بات\n\nپھوٹ کر روتے ہوئے دیکھ لیا ہے مجھ کو\nچھیڑنے کو مرے ہر وقت ہے برسات کی بات\n\nوہی ابھری ہے شکن بن کے جبیں پر تیری\nگڑ گئی دل میں ترے کیا کسی بد ذات کی بات\n\nنہ کھلا یہ کہ کہاں شب کو بچھائی تھی بساط\nغیر کی چال کا کچھ ذکر تھا کچھ بات کی بات\n\nجب کہا میں نے کہو غیر کے گھر کا کچھ حال\nبولے جھنجھلا کے نکالی وہی بے بات کی بات\n\nکہیں ایسا نہ ہو آ جائے ترس آپ کو کچھ\nآپ سنئے نہ کسی مورد آفات کی بات\n\nظرف بے مے سے پلائی تو حرم میں پھیلی\nپھیلتی جلد ہے کچھ اہل کرامات کی بات\n\nرات کعبے میں گئی قلقل مینا بن کر\nنہ تو چھپتی ہے نہ دبتی ہے خرابات کی بات\n\nکوستے ہیں وہ بری طرح جو کہتا ہوں ریاضؔ\nرات بھر آج بھی ہوتی رہی کل رات کی بات", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "صبر آتا ہے جدائی میں نہ خواب آتا ہے", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبر آتا ہے جدائی میں نہ خواب آتا ہے\nرات آتی ہے الٰہی کہ عذاب آتا ہے\n\nبے قراری دل بے تاب کی خالی تو نہیں\nیا وہ خود آتے ہیں یا خط کا جواب آتا ہے\n\nمنہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر\nجب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے\n\nکس قیامت کی یہ آمد ہے خدا خیر کرے\nفتنۂ حشر بھی ہمراہ رکاب آتا ہے\n\nرند مشرب کوئی بیخودؔ سا نہ ہوگا واللہ\nپی کے مسجد ہی میں یہ خانہ خراب آتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "صبر وحشت اثر نہ ہو جائے", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبر وحشت اثر نہ ہو جائے\nکہیں صحرا بھی گھر نہ ہو جائے\n\nرشک پیغام ہے عناں کش دل\nنامہ بر راہبر نہ ہو جائے\n\nدیکھو مت دیکھیو کہ آئینہ\nغش تمہیں دیکھ کر نہ ہو جائے\n\nہجر پردہ نشیں میں مرتے ہیں\nزندگی پردۂ در نہ ہو جائے\n\nکثرت سجدہ سے وہ نقش قدم\nکہیں پامال سر نہ ہو جائے\n\nمیرے تغییر رنگ کو مت دیکھ\nتجھ کو اپنی نظر نہ ہو جائے\n\nمیرے آنسو نہ پونچھنا دیکھو\nکہیں دامان تر نہ ہو جائے\n\nبات ناصح سے کرتے ڈرتا ہوں\nکہ فغاں بے اثر نہ ہو جائے\n\nاے قیامت نہ آئیو جب تک\nوہ مری گور پر نہ ہو جائے\n\nمانع ظلم ہے تغافل یار\nبخت بد کو خبر نہ ہو جائے\n\nغیر سے بے حجاب ملتے ہو\nشب عاشق سحر نہ ہو جائے\n\nرشک دشمن کا فائدہ معلوم\nمفت جی کا ضرر نہ ہو جائے\n\nاے دل آہستہ آہ تاب شکن\nدیکھ ٹکڑے جگر نہ ہو جائے\n\nمومنؔ ایماں قبول دل سے مجھے\nوہ بت آزردہ گر نہ ہو جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "صبر وعدے پہ نہ تھا کام تمنائی کا", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبر وعدے پہ نہ تھا کام تمنائی کا\nحشر ہے وصل کا دن یا مری رسوائی کا\n\nحشر میں کیا تجھے دیکھیں گے ازل کے بچھڑے\nحسن وہ اور زمانہ یہ خود آرائی کا\n\nابھی حیراں ابھی مضطر ابھی ہشیار ابھی مست\nحال دیکھا ہی کرے تیرے تماشائی کا\n\nاف ترا شوق میں بڑھنا وہ لپٹ جانے کو\nاف وہ آئینے میں عالم تری انگڑائی کا\n\nمری آنکھوں سے ٹپک پڑتے ہیں آنسو بیخودؔ\nنام لیتا ہے اگر کوئی شکیبائی کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "صبر کر صبر دل زار یہ وحشت کیا ہے", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صبر کر صبر دل زار یہ وحشت کیا ہے\nدشت پر خار میں جانے کی ضرورت کیا ہے\n\nاک تحیر میں پڑا ہوں نہیں ملتا ہے پتہ\nچشم بے خواب میں یہ صورت حسرت کیا ہے\n\nدل میں بیٹھے ہیں تو پھر منہ کا چھپانا کیسا\nاے بت ہوش ربا آپ کی عادت کیا ہے\n\nلوریاں دے گی قضا چین سے سو جائیں گے\nتیرے بیمار کو مرنے کی ضرورت کیا ہے\n\nنیک و بد جب تری مرضی پہ ہوئے ہیں موقوف\nبخت کہتے ہیں کسے اور یہ قسمت کیا ہے\n\nدم آخر ہے مرا تم سر بالیں آؤ\nایک ساعت کے ٹھہرنے میں قباحت کیا ہے\n\nروز عشرت میں سمجھتی ہوں جمیلہؔ اس کو\nلوگ کس واسطے ڈرتے ہیں قیامت کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "صحبت غیر موں جایا نہ کرو", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صحبت غیر موں جایا نہ کرو\nدرد منداں کوں کڑھایا نہ کرو\n\nحق پرستی کا اگر دعویٰ ہے\nبے گناہاں کوں ستایا نہ کرو\n\nاپنی خوبی کے اگر طالب ہو\nاپنے طالب کوں جلایا نہ کرو\n\nہے اگر خاطر عشاق عزیز\nغیر کوں درس دکھایا نہ کرو\n\nمجھ کو ترشی کا ہے پرہیز صنم\nچین ابرو کوں دکھایا نہ کرو\n\nدل کوں ہوتی ہے سجن، بیتابی\nزلف کوں ہاتھ لگایا نہ کرو\n\nنگہ تلخ سوں اپنی ظالم\nزہر کا جام پلایا نہ کرو\n\nہم کوں برداشت نہیں غصے کی\nبے سبب غصے میں آیا نہ کرو\n\nپاک بازاں میں ہے مشہور ولیؔ\nاس سوں چہرے کوں چھپایا نہ کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "صحبت نا جنس", "poet_page": "مصنف:سجاد حیدر یلدرم", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "(دو لڑکیوں میں خط و کتابت)\n\nحیدرآباد دکن، 24 ستمبر 1925ء\n\nمیری پیاری سلما جانی! جو باتیں میں کسی سے کہہ نہیں سکتی وہ تمھیں لکھنا چاہتی ہوں۔ ہائے وہ مدرسے کے دن کہ جب مجھے کوئی تکلیف ہوئی یا مرضی کے خلاف کوئی بات ہوئی اور میں تمھارے کمرے میں پہنچی، اگر تم کسی بات کسی کام میں مشغول بھی ہوتیں تو بے تحاشا تم سے لپٹ کے، گلے میں بائیں ڈال کر، تمہارا منہ چوم کے اپنی طرف متوجہ کرلیا اور اپنا درد دل تمھیں کہہ سنایا اور دل کی بھڑاس نکال لی۔ حیدرآباد! آہ کتنی دور ہوں، پھر اللہ رکھے۔ تم میاں رکھتی ہو، بال بچے رکھتی ہو، گھر کے کام دھندے میں مشغول ہو، دیکھوں تمھیں اس خط کے پڑھنے کا وقت بھی ملتا ہے یا نہیں۔\n\nمجھے یہ خط ’’میں خیریت سے ہوں اور تمہاری خیروعافیت کی خواہاں‘‘ سے شروع کرنا چاہیے تھا۔ مگر طبیعت یکسو ہوتی تو کرتی، تمہاری طرح تھوڑا ہی ہوں، تمھاری زندگی میں نہ کوئی شے زیادہ نہ کوئی شے کم، جو تم چاہتی تھیں وہ سب موجود ہے، مجھے دیکھو؟ مجھ پہ کیا بپتا پڑی! پوچھو تو سناؤں اور دل نہ بھرے، نہ پوچھو پھر بھی سناؤں گی۔\n\nمیں نے تمھیں نہیں لکھا، تین مہینے ہوئے میں دلہن ہوگئی، وہ عذرا جسے تم ہمیشہ ’’دیوانی لڑکی‘‘ کہا کرتی تھیں اب ’’عقل والی عورت‘‘ ہے، مصیبتوں نے سنجیدگی سکھادی۔\n\nابھی آدھ گھنٹہ ہوا، ایک دیو گھر سے باہر گیا ہے اور میں نے ایسا سانس لیا ہے، گویا بڑے ضیق سے نجات پائی، میرے ہول دل کو تھوڑا سا آرام ہوا تو میں نے یہ خط لکھنا شروع کیا، ان تین مہینوں میں ہر روز تمھیں خط لکھنے کا ارادہ کرتی تھی، مگر پریشانیوں سے جو سستی، اور خوف سے جو عطالت بدن میں پیدا ہوجاتی ہے اس نے اس ارادے کو پورا نہ ہونے دیا، صبح نہیں ہوتی کہ شام ہوجاتی ہے، صبح کھانے کے وقت ہم اپنے کمرے سے نکلتے ہیں اور اس وقت میرا پیارا دیو پنجہ، دیو جثہ، اپنی ٹوپی عجب لا ابالی ڈھنگ سے آدھے سر پر رکھ کر کوٹ عجب بے پروائی سے پہن کر باہر جاتا ہے، میری جان میں جان آتی ہے کہ اتنے میں عورتیں ملاقات کے لیے آجاتی ہیں، ان سے سرکھپاتی ہوں، تیسرے پہر کو میں کپڑے بدل کے تازی ہوا کھانے کے لیے اپنے ایک قفس سے نکل کر، دوسرے قفس میں بیٹھ کر (جس کی جھلملیاں بند ہوتی ہیں) باغ عامہ کا نظارہ کرتی ہوں، شام ہوتے ہی گھر پہنچتی ہوں، لیکن وہ مجھ سے پہلے وہاں موجود ہوتا ہے، رات کو گھر میں سناٹا ہوجاتا ہے اور اس خوفناک قوی ہیکل بت سے میری نفرت اور بڑھ جاتی ہے۔\n\nیہ شادی کس طرح ہوئی، اس کی تاریخ میں تمھیں نہ لکھونگی کیا فائدہ۔ صرف ان تین مہینوں کی زندگی کی تصویریں ایک ایک کرکے پیش کرتی ہوں، انھیں دیکھو، اور میری سلما! مجھ پر دل دکھاؤ۔\n\nوہ لڑکپن کی امیدیں ایک لال کی ہلکی پرواز کی طرح غائب ہوگئیں، اڑگئیں، ایک چھوٹی چڑیا کی طرح ان کا خون ہوگیا۔ بیاہ کے بعد تیسرا یا چوتھا دن تھا، میں پیانو کے پاس بیٹھی تھی، وہ مجھ سے ذرا دور آرام کرسی پر ڈھیر ہورہے تھے، میں یونہی بیٹھی بیٹھی پیانو کو بجا نہیں رہی تھی، بلکہ کھیل رہی تھی کہ میرے کانوں میں وہ بھاری اور کرخت آواز آئی۔\n\n’’ہم سنے ہیں آپ بہت اچھے گائن گاتی ہیں، اگر دو ایک ہم کو سنائیں گا، تو بڑی مہربانی ہوگی۔‘‘\n\nمیں رکی اور استعجاب آمیز سوال کی نظر سے ان کی طرف دیکھنے لگی، معلوم نہیں کہ اس نظر کے انھوں نے کیا معنی لیے کہ کہنے لگے۔\n\n’’کوئی راگنی، کوئی ٹپہ، کوئی غزل ہمارے واسطے ہونا، ہم یہ نہیں کہتا کہ کیا سناؤ، آپ کو جو پسند ہو وہ سناؤ۔۔۔‘‘\n\nمیں مبہوت نظر سے دیکھ رہی تھی اور اس تقریر کو سن رہی تھی، وہ پھر فرمانے لگے۔\n\n’’اچھا اور کچھ نہیں تو یہ غزل تو سناؤ۔‘‘\n\n’’دونوں ہاتھوں میں مہندی لگالے پری\n\nلگا لے پری، ہاں لگالے پری‘‘\n\nمیں کیا جواب دیتی، حیران تھی، وہ مسلسل گانے کے لیے چیزیں پیش کرتے جاتے تھے۔\n\n’’اچھا صاحب! غزل نہیں تو کوئی ناٹک کی چیز،\n\nدیتا ہوں تجھ کو تخت سلیمان کی قسم\n\n(اور اپنے سینہ پر ہاتھ رکھ کر پورے جوش اور نہایت محبت اور حرص بھری نظر سے مجھے دیکھ کر)\n\nمل مجھ سے اے پری تجھے انسان کی قسم‘‘\n\nمجھے چپ لگی ہوئی تھی، آخر کار وہ اٹھ کر اور پیانو کے قریب آکر فرمانے لگے۔\n\n’’صاحب! کیا غضب ہے میں اس قدر التماس کیا ہوں آپ قبول نہیں کرتے ہو، مہربانی کرکے مداری لال یا امانت کی کوئی چیز آپ سنا دینگے تو کیا ہوگا۔‘‘\n\nمیں نے بہت چاہا کہ ان کا خیال کسی اور طرف ہٹ جائے، لیکن میں دیکھتی تھی کہ ان کا اصرار بڑھتا ہی جاتا ہے، آخر میں نے مجبور ہوکر کہا۔\n\n’’مداری لال اور امانت کون ہیں؟ میں نے تو کبھی ان کا نام بھی نہیں سنا۔‘‘\n\nمیں نے یہ صفائی سے جواب دے دیا تھا، تم ہی بتاؤ تم نے بھی کبھی ان کا نام سنا ہے؟ ہم نے تو نہ مدرسے میں، نہ گھر میں، نہ کسی کتاب میں یہ نام دیکھے، مگر انھوں نے اسے بناوٹ سمجھا اور فرمانے لگے۔\n\n’’ایں! آپ نہیں جانتے، پر میں تو جانتا ہوں، ہندوستان کیا، دکن کیا ہر جگہ ان کا نام مشہور ہے۔‘‘ اور تھوڑے سے سکوت کے بعد، ایک پر نزاکت مگر معنی دار تبسم کے ساتھ فرمایا۔\n\n’’خفا نہ ہو صاحب! جوگانے آپ کو پسند ہوں وہی ہم کو سناؤ۔ البتہ وہ اچھے ہونگے۔‘‘ پیاری سلما! پیاری بہن! تم ہی خیال کرسکتی ہو کہ میں کس مصیبت میں تھی، میرا چہرہ کچھ شرم، کچھ غصہ سے تمتما اٹھا اور قریب تھا کہ میں بیہوش ہوجاؤں، مگر ضبط کیا اور طبیعت کو تھاما۔\n\nآہ! مس میری، آئیے اور اپنی چہیتی شاگرد کو دیکھیے کہ پیانو کے سامنے عاجز صم بکم بیٹھی ہے۔ وہ انگلیاں جنھیں آپ پیانو بجاتے ہوئے دیکھ کر تعجب کیا کرتی تھیں اور کہا کرتی تھیں کہ خدا نے انھیں محض موسیقی کے لیے پیدا کیا ہے، آئیے اور ان انگلیوں کی ذلت کو دیکھیے، سات برس متواتر اسی دن کا خیال کرکے، اسی دن کے لیے تیاری کی تاہم ان تمام کوششوں کا نتیجہ دیکھیے۔ مداری لال اور امانت آتے ہیں اور آپ کی تعلیمات سب بیکار رہ جاتی ہیں۔ کیا یہ ہونا تھا، کیا اس لیے میں نے اتنی محنت اٹھائی تھی، اگر یہ تمام تعلیم بے سود تھی، یعنی اگر مینڈ لسوں اور ڈیگیز(دونوں یورپ کے مشہور موسیقی داں ہیں) مداری لال کے حضور میں سرجھاکر بھاگ جانے والے تھے، تو یہ تعلیم ہی کیوں دی گئی تھی۔ میری سلما! بتاؤ؟ آخر کیا فائدہ، بتاؤ؟ میں اپنے امانت کے شیدا خاوند سے کیا کہوں، کیا عذر کروں؟\n\nہاں، میرا خاوند مجھ سے ’’دونوں ہاتھوں میں مہندی لگالے پری‘‘ یا ’’مل مجھ سے اے پری تجھے انسان کی قسم‘‘ کا طلب ہے۔ ’’میں کیا جواب دوں؟ میں ان چیزوں سے واقف نہیں، مجھے ہندی گانے نہیں سکھائے گئے۔‘‘\n\nمیں نے سات آٹھ برس انگریزی گانے سیکھے ہیں یہی جواب تھے جو میں دے سکتی تھی اور یہی دئیے۔\n\nاس پر انھوں نے نہایت اخلاق اور نرمی سے کہا۔\n\n’’بہتر! انگریزی گانے ہی سنائے، میرے کو وہ بھی پسند ہوتے ہیں۔‘‘\n\nمیں اتنی دیر تک انکار کرنے سے شرمارہی تھی، میں نے سوچا کہ جو کچھ میں جانتی ہوں انھیں سنانا چاہیے اس لیے میں نے پوچھا، ’’کونسا گانا گاؤں۔‘‘\n\n’’صاحب! جو آپ کی خوشی ہو گاؤ، میں کیا کہوں۔‘‘\n\nاس جواب سے میرا دل بیٹھ گیا، مگر میں نے پھر ہمت کرکے کہا، ’’میں (Bulbul and the Rose) سناتی ہوں۔‘‘\n\nیہ کہہ کے میں نے پیانو کے نوٹ پر نظر گاڑ کر، بجانا شروع کیا۔ پیانو سے ایک درد انگیز فریاد (یاد ہے، یہ مس میری کے الفاظ ہیں، وہ اس راگ کے بجانے کے وقت کہا کرتی تھیں کہ پیانو سے ( Plaintive Cry نکلتی ہے) نکلنا شروع ہوئی اور میں اس میں محو ہوگئی، غیاث الدین (میرے خاوند غیاث الدولہ، غیاث الملک کا یہ نام ہے، معاف کرنا بھول گئی، میں اب انٹروڈیوس کرتی ہوں) کچھ دیر تک پیانو کے قریب آکر کھڑے رہے، پھر آنکھیں اس طرح کھول دیں، گویا پیانو کے شور سے گھبرا رہے ہیں، لیکن سننے کی وضع قائم رکھی، دو ایک منٹ سنا بھی، آخر اس حالت میں نہ رہا گیا، بیٹھے، اٹھے، پھر بیٹھے، پھر اٹھے، ایک سگریٹ جلایا، پھر آہستہ آہستہ کمرے میں ٹہلنا شروع کیا۔ میں نے جب دیکھا تو راگ کے پہلے ٹکڑے کو تو خواہ نخواہ پورا کیا، اور آخری الفاظ کے لیے پردوں پر نہایت زور سے انگلی مار کر ختم کیا، ختم ہوتے ہی فرمایا، ’’ماشاءاللہ، بہت خوب، لیکن اب سونا چاہیے‘‘، کیا دل شکن داد ہے، اے بیداد! وہ یہ داد دے کر کپڑے بدلنے کے لیے چلے گئے اور وہاں سے بلی کی خر خر کی طرح یہ آواز آنے لگی۔\n\nمیں قربان زلفوں کے لٹکانے والے\n\nمرے دل کو گلیوں میں بھٹکانے والے\n\nاور میری نظروں میں یہ تصویر پھر گئی کہ مس میری اور دیگز کو مداری لال نے کیچڑ میں پھینک دیا ہے، اور خود خشکی پر کھڑا ہوا زور زور سے قہقہ لگا رہا ہے۔\n\nسلما جانی! ذرا خیال کرنے کا مقام ہے۔ میں کہ دیوانہ وار ہوس کے ساتھ موسیقی کی عاشق ہوں اور سات آٹھ برس سے اسے سیکھ رہی ہوں، ہندوستانی راگ کتنے جانتی ہوں؟ مولانا حالی کا\n\n’’اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے‘‘\n\nاور غلام احمد خاں احمدی کا۔\n\n’’آہمت مردانہ جگر میں تری جاہے\n\nتو ہو مرے ہمراہ تو پروا مجھے کیا ہے\n\nمت آنکھ چرا مجھ سے اگر شرط وفا ہے\n\nسایہ ترے شہ پر کابہ ازبال ہما ہے‘‘\n\nیا شاد یا مولانا محمد اسماعیل میرٹھی کی اور ایک آدھ نظم، جسے مس میری نے بدقت تمام اجازت دی تھی کہ ہم لوگ یاد کرلیں اور پیانو یاہارمونیم پر بجائیں کیونکہ وہ کہا کرتی تھیں کہ ہندوستانی راگ یاد کرنے سے تمہارا انگریزی مذاق بگڑ جائیگا۔\n\nوہ ہیں کہ رات دن ہندی راگوں میں محو ہیں اب بنے تو کیسے بنے لطف تو جب آتا ہے، جب میں خیال میں مستغرق ہوکر اولڈ لینگ سائین (Old Lang Syne) گانے لگتی ہوں تو وہ فوراً کوئی گیت شروع کردیتے ہیں، جس میں ہجر، وفا، وصل، زخم، تیر یا سانولیا، رسیا، جوبن، سیان، پیان وغیرہ لفظوں کی بھر مار ہوتی ہے۔ نہ وہ میری کہی کو سنتے ہیں، نہ میں ان کی کہی کو سمجھتی ہوں، کمرہ منارہ بابل ہوجاتا ہے، ایسے وقت میں اگر کہیں دردانہ خانم (یہ ایک ایرانی ماما ہے جسے والد ماجد کربلائے عملی کی زیارت سے واپسی کے وقت اپنے ساتھ لائے تھے اور جس نے مجھے پالا ہے) کمرے میں آگئی اور اس نے مجھ سے فارسی میں باتیں کرنی شروع کردیں، تو غیاث کا چہرہ پر غضب ہوجاتا ہے، آنکھیں انگارا ہوجاتی ہیں۔ ایک دن تو برس پڑے۔ میں لکھنے کی میز پر بیٹھی تھی، پیاس معلوم ہوئی تو میں نے درادانہ خانم کو آواز دی، اس نے سنا نہیں، مجھے غصہ آگیا، تو میں پوری آواز سے چلائی،\n\n’’چار یک ساعت است، متصل صد امیکنم، کسے ملتفت نمی شود، پنبہ درگوش کردند مگر۔‘‘\n\nوہ نہ معلوم کب کے بھرے بیٹھے تھے، کہ دوسرے کمرے سے برس پڑے، کہنے لگے۔\n\n’’یا اللہ ہمارے کو سمجھ میں نہیں آتا، اپن طہران میں ہیں کہ لندن میں، اتنا ہم کو سمجھ میں آتا ہے کہ ہندوستان میں نہیں ہوں۔‘‘\n\nمیں چپ ہوگئی اور سخت نادم ہوئی، مگر میرا قصور کیا تھا، خیر مگر آیندہ سے میں ان کے سامنے دردانہ خانم سے کبھی کسی کام کو نہیں کہتی ہوں۔\n\nایک دن خود لہر میں جو آئے تو دردانہ خانم سے فارسی میں گفتگو فرمانے لگے، مگر فارسی کے گلے پر وہ کند چھری پھیری کہ مجھ سے دیکھا نہ گیا اور میں اٹھ کے دوسرےکمرے میں چلی گئی۔\n\nسلما! سلما! آ میرے حال زار کو دیکھ! کھانے کے بعد متواتر زور سے ڈکار لینے والے آدمی کے ساتھ زندگی بسر کررہی ہوں، کل جو خیال آیا تو دن بھر رویا کی، پیٹ پر ہاتھ پھیر کر ’’عا، عا‘‘ اونٹ کی طرح ڈکار لینا! اف، غضب، غضب، یہ میں سوائے تمھارے کسی کو نہیں لکھ سکتی اور اگر تم نے کوئی تدبیر نہ بتائی، تو تمہاری عذرا گھل گھل کر مرجائے گی۔۔۔\n\nایک دن نہ معلوم کس طرح ادبیات کا ذکر آگیا، پوچھنے لگے۔ تمہارے کو اردو کا کونسا شاعر اچھا معلوم ہوتا ہے؟ یہ ایسا بیڈھب سوال تھا کہ میں بہت گھبرائی، صاف یوں ہے کہ میں نے اردو کی ادبیات سے بہت ہی کم فائدہ اٹھایا ہے، میں تو یہی سنا کرتی تھی کہ اردو کی ادبیات بہت خراب ہیں، اخلاق بگاڑتی ہیں، مدرسے میں سوائے مولانا حالی کے (کہ ان کا بھی کلام نہایت مختصراور منتخب پڑھایا جاتا تھا) اور کسی شاعر کا نام سنا نہیں بس میں نے بغیر اس خیال کے کہ دوسرے شاعروں سے مقابلہ کیا نہیں، یہ کہہ دیا۔\n\n’’مولانا حالی کو‘‘\n\n’’حالی کو پسند کرنے کی وجہ؟‘‘\n\nسمجھیں؟ یعنی وہ ہمہ تن سوال تھے، اور میں ہمہ تن استعجاب؟ اور اس طرح ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔\n\nمیرے پاس کیا جواب تھا کہ میں دیتی۔\n\nآخر کہنے لگے، ’’میں حالی کو تو کچھ بھی نہیں پسند کرتا، ہم قافیہ نثر لکھتے ہیں۔ میرے کو ’’پیام یار’’ میں غزلیں لکھنے والے سب پسند ہیں اور داغ کے کلام کا تو کیا کہنا، واہ واہ سب سے اچھا ہے، کیا ہجر، کیا وصل کی تصویریں ہیں، کیا معاملہ ہے، کیا چوچلا، آغا شاعر بھی بہت اچھا ہے۔‘‘\n\nپھر کہنے لگے، ’’یہ کیا بات ہے تم مدرسے میں پڑھی ہو؟ لیکن داغ کو نہیں جانتیں۔‘‘\n\nاس پر مجھے بھی غصہ آگیا، اور میں نے جواب دیا، ’’بیشک! لیکن آپ بھی تو شیکسپیئر اور ملٹن سے واقف نہیں۔‘‘\n\nانھوں نے تڑپ کر جواب دیا ’’میں انگریز ہوتا تو بیشک واقف ہوتا۔‘‘ بس اس پر ہم دونوں چپ ہوگئے، میرے ہونٹوں کو داغ نے سی دیا، ان کے ہونٹوں پر ملٹن نے مہر سکوت لگادی۔\n\nغرض یوں بسر ہوتی ہے، میں تو سمجھتی ہوں کہ کسی غیر ملک باشندے کے ساتھ میری شادی ہوئی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں ہندوستانی بی بی نہیں ملی۔\n\nابا جان کی بے پروائی سے تم واقف نہیں۔ عجب بے پروا آدمی ہیں۔ اماں جانی نمایش پرست، دولت پرست ہیں۔ میں یہاں کیوں بیاہی گئی؟ اس سوال کے جواب کی غالباً اب ضرورت نہ رہی ہوگی۔\n\nاس شادی پر جب کبھی غور کرتی ہوں تو مجھے یقین ہوجاتا ہے کہ میں کنوئیں میں دھکیل دی گئی، اور ماں نے مجھے کنوئیں میں دھکیلا، پہلے یہ ارادہ کرلیا کہ مجھے کنوئیں میں دھکیلیں گی اور پھر پہلا موقعہ جو انھیں ہاتھ آیا اسے نہ جانے دیا اور میری پیٹھ پر ایسے زور سے دھکا مارا کہ میں سر کے بل اندر گرپڑی، زندگی کچھ نہیں؟ ہاں بیشک، مگر زندگی سب کچھ ہے؟ اس کے لیے بھی ہاں بیشک، بات یہ ہے کہ میں اب عقل ہی نہیں رکھتی کہ کسی چیز میں ٹھیک محاکمہ کرسکوں۔\n\nکیا عجب بات ہے، میری سلما! عجیب بات ہے کہ جس شخص کی قابلیت، حالت تربیت ایسی ہو کہ وہ کہا جاسکے کہ یہ دنیا میں ضرور خوش قسمت اور خوش حال رہیگا۔ وہی بدبخت، ناکام، ناشاد رہتا ہے اور آخر عمر میں اس نتیجہ کو پہنچتا ہے کہ دنیا میں خوبی، امید وسعادت نہیں ہے، برخلاف اس کے، وہ جو ہر طرح سے ناقص ہے، ناکارہ ہے۔ بے علم ہے، وہ خوش قسمت رہتا ہے۔ا پنی زندگی میں کامران، شادمان اور ہر طرح کی خوبی اس کے لیے دوڑی ہوئی آتی ہے. مثلاً میں خدا کے فضل سے اچھے گھر میں پیدا ہوئی، اچھی طرح پلی، تعلیم پائی! بیاہی گئی تو سب کہتے تھے کہ کیا قسمت ہے، واہ ایسا بڑا گھرانا، ایسی بڑی ثروت، ایسی بڑی دولت یہ لڑکی بہت خوش رہے گی۔‘‘ لیکن میں اسی حسرت میں مررہی ہوں کہ کاش غیاث نے میری طرح اعلی تعلیم و تربیت حاصل کی ہوتی، لیکن وہ ہیں کہ شام کو نوکروں پر گالیوں کی بوچھاڑ، ناٹک کے گانوں کے عاشق زار، گھوڑ دوڑ کے اور اس میں جوا کھیلنے کے دلدادہ، یہ حالت دیکھ کر تمام امیدوں کا خون ہوجاتا ہے۔\n\nمیں خوش قسمت ہوں یا بدقسمت؟ تمھیں ان تین مہینے کے واقعات میں جو میں نے تمھیں لکھے ہیں پڑھ کر بتاؤ اور یہ بھی بتاؤ کہ میں کیا کروں کس راستے پر چلوں اسے اپنے راستہ پر لاؤں یا اس دیو پر اپنی جان ضائع کردوں۔\n\nبعض لحاظ سے دیکھا جائے تو میر اخاوند برا نہیں، نہایت امیر ہے اور چونکہ اس کے والد کا انتقال ہوچکا ہے اس لیے کل دولت کا خود ہی مالک ہے۔ حیدرآباد کے مدرسے میں کچھ دن گزارے ہیں اس لیے پڑھ لکھ بھی سکتا ہے، اس کی شکل کی کیفت شاید میں اوپر لکھ چکی ہوں، ویسے بھی تم نے اس خط سے اس کی تصویر ذہن میں کھینچ لی ہوگی، سراپا صحت ہے، اس قدر قوی کہ پہلوان معلوم ہوتا ہے، آواز بھاری گویا ہاتھی پانی پی رہا ہے، بال موٹے موٹے بڑی بڑی موچھیں، چوڑی چوڑی بھویں، باہر کو نکلی ہوئی بڑی بڑی آنکھیں سیاہ اور چمکیلی اور خوفناک اس کے جسم و طبیعت کی تمام ہیئت مادی ان آنکھوں میں جمع ہوگئی، دن کو جب وہ باہر چلا جاتا ہے تو بھی میں ڈر ڈر کے نفرت کرکرکے ان آنکھوں کا خیال کیا کرتی ہوں، جو مجھے گھورتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ کیونکہ غیاث مجھے بے انتہا بیتابی کے ساتھ چاہتا ہے اور اس محبت سے مجھے وحشت ہوتی ہے تم جانتی ہو کہ مجھے انسان کے کل اعضا میں آنکھیں بہت پسند ہیں، خدا نے اچھی آنکھیں کچھ عجب شے بنائی ہیں، لیکن اس کو دیکھیے کہ آنکھیں ہی مجھے نفرت اور خوف دلارہی ہیں۔\n\nیہ آنکھیں، یہ ڈکار، یہ آواز، یہ ’’دونوں ہاتھوں میں مہندی لگالے پری‘‘ کا عشق، کچھ نہیں سوجھتا کہ کہاں پناہ لوں۔\n\nاب ان کی طبیعت کا حال سنئے، نچلا خاموش کبھی بیٹھا ہی نہیں جاتا، ہر بات میں دخل درمعقولات کی بے انتہا شوق ہے۔ سیاہ ابر کی طرح گھر پر چھایا ہوا معلوم ہوتا ہے، بے انتہا باتونی، مگر شاید میں دسویں حصے کو بھی کان دھر کر نہیں سنتی، کیا عمر بھر یوں ہی زندگی گذرےگی؟ میں اس بوجھ کو یوں ہی اٹھاؤں گی۔ میں ایسے خاوند کی تو تمنا نہ رکھتی تھی، ایسا خاوند نہ چاہتی تھی، مگر انسان جو نہیں چاہتا وہی اسے ملتا ہے۔\n\nممکن ہے کہ میرا جسم اس کے جسم سے نفرت نہ کرے مگر میں تمھیں یقین دلاتی ہوں کہ میری روح، میری طبیعت، اس کی روح، اس کی طبیعت سے ہمیشہ ہمیشہ اور پوری پوری نفرت کرے گی۔ باقی تم سے ملنے اور تمھیں ہزار بار چومنے اور زبانی درد دل سنانے کی تمنا۔\n\nتمہاری\n\nعذرا\n\nمأخذ :\nخیالستان", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D9%86%D8%B3"} {"title": "صحبت ہے ترے خیال کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صحبت ہے ترے خیال کے ساتھ\nہے ہجر کی شب وصال کے ساتھ\n\nاے سرو رواں ٹک اک ادھر دیکھ\nجی جاتے ہیں تیری چال کے ساتھ\n\nہے تیغ و کمان کی سی نسبت\nابرو کو ترے ہلال کے ساتھ\n\nمت زلف کو شانہ کر مرا جی\nوابستہ ہے بال بال کے ساتھ\n\nدل اپنا ہنوز سادگی سے\nپیچیدہ ہے زلف و خال کے ساتھ\n\nمہمان تھا کس کا تو شب اے ماہ\nآتا ہے جو اس ملال کے ساتھ\n\nرخساروں نے کچھ عرق کیا ہے\nکچھ چشم ہے انفعال کے ساتھ\n\nمیں شیر ہوں بیشۂ سخن کا\nصحبت ہے سگ و شغال کے ساتھ\n\nاکسیر ہے مصحفیؔ کا ملنا\nیعنی کہ وہ ہے کمال کے ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "صحرا پہ گر جنوں مجھے لاوے عتاب میں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صحرا پہ گر جنوں مجھے لاوے عتاب میں\nکھینچوں ہر ایک خار کو پائے حساب میں\n\nاس برق کی طرح سے کہ ہو وہ سحاب میں\nآتش دی بخت بد نے مجھے عین آب میں\n\nدیکھی تھی زلف رات کسی کی میں خواب میں\nاب تک ہے بال بال مرا پیچ و تاب میں\n\nٹک غور کر تو بو قلموں کا فلک کے ڈول\nاک رنگ ہے نیا ہی ہر اک انقلاب میں\n\nاس شعلہ خو سے کسب حرارت کرے ہے داغ\nذرہ ہے جس کا سوز دل آفتاب میں\n\nمے پی جو چاہے آتش دوزخ سے تو نجات\nجلتا نہیں وہ عضو جو تر ہو شراب میں\n\nجوں موج مجھ سے موجب بے طاقتی نہ پوچھ\nاک عمر ہے کہ ہوں میں اسی اضطراب میں\n\nقاضی خبر لے مے کو بھی لکھا ہے واں مباح\nرشوت کا ہے جواز تری جس کتاب میں\n\nروز شمار گو ہو مرے ساتھ باز پرس\nمیں کیا ہوں اور میرے گنہ کس حساب میں\n\nیہ سرکشی ہے اتنی تنک مایگی پہ کیا\nجھمکا نہیں ہے بحر اگر اس سحاب میں\n\nکیا کیجے ہووے چشم میاں تیری ہی جو کور\nظاہر ہے ورنہ حسن وہی ہر نقاب میں\n\nناصح نہ تازہ عشق کی میں وضع کی ہے راہ\nہر کچھ کرے ہے آدمی عہد شباب میں\n\nقائم ہے یہ بھی طور کوئی زندگی کا یاں\nگزری تمام عمر تری خور و خواب میں\n\nقائمؔ ہو کس طرح سے بہم شکل اختلاط\nوہ اس غرور ناز میں ہم اس حجاب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D9%BE%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%84%D8%A7%D9%88%DB%92_%D8%B9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "صحن گلشن میں چلی پھر کے ہوا بسم اللہ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صحن گلشن میں چلی پھر کے ہوا بسم اللہ\nچشم بد دور بہار آئی ہے کیا بسم اللہ\n\nمصحف رخ پہ ترے ابروئے پیوستہ نہیں\nمو قلم سے ید قدرت نے لکھا بسم اللہ\n\nاس قدر تھا وہ نشہ میں کہ یکا یک جو گرا\nمیں نہ بولا پہ مرے دل نے کہا بسم اللہ\n\nزلف اس عارض رنگیں پہ بکھرنے جو لگی\nبول اٹھی منہ سے وہیں باد صبا بسم اللہ\n\nآج گلشن میں ذرا پاؤں جو پھسلا اس کا\nگل ہنسا غنچے نے جلدی سے کہا بسم اللہ\n\nیار قاتل مرے جو جو کہ لگاتا تھا وار\nلب پہ ہر زخم کے نکلے تھی صدا بسم اللہ\n\nشیشہ و ساقی و ساغر بھی حاضر ہیں نظیرؔ\nمے کشی کیجئے اب دیر ہے کیا بسم اللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AD%D9%86_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D9%84%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A8%D8%B3%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "صد برگ گہہ دکھائی ہے گہہ ارغواں بسنت", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "صد برگ گہہ دکھائی ہے گہہ ارغواں بسنت\nلائی ہے ایک تازہ شگوفہ یہاں بسنت\n\nبھر بھر کے گلستاں میں مئے عیش‌ و جشن سے\nدیتی ہے ہر گھڑی مجھے رطل گراں بسنت\n\nتو اٹھ چلا تو زرد ہوئے سب کے رنگ‌ رو\nکل آ گئی بہار میں یہ ناگہاں بسنت\n\nآتے نظر ہیں دشت و جبل زرد ہر طرف\nہے اب کے سال ایسی ہے اے دوستاں بسنت\n\nشادابیٔ نسیم سے بحر سرور کو\nکرتی ہے جوش مار کے اب بے کراں بسنت\n\nگر فی المثل ملائکہ ہوں اہل زہد سب\nلے آوے بہر سیر انہیں موکشاں بسنت\n\nپتے نہیں چمن میں کھڑکتے ترے بغیر\nکرتی ہے اس لباس میں ہر دم فغاں بسنت\n\nگر شاخ زعفراں اسے کہیے تو ہے روا\nہے فرح بخش واقعی اس حد کوہاں بسنت\n\nگروا بنا کے ریش مخضب سے محتسب\nجاتا ہے اس مقام میں جاوے جہاں بسنت\n\nانشاؔ سے شیخ پوچھتا ہے کیا صلاح ہے\nترغیب بادہ دی ہے مجھے اے جواں بسنت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AF_%D8%A8%D8%B1%DA%AF_%DA%AF%DB%81%DB%81_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%AF%DB%81%DB%81_%D8%A7%D8%B1%D8%BA%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%B3%D9%86%D8%AA"} {"title": "صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے\nطاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے\n\nہے سنگ پر براتِ معاشِ جنونِ عشق\nیعنی ہنوز منّتِ طفلاں اٹھائیے\n\nدیوار بارِ منّتِ مزدور سے ہے خم\nاے خانماں خراب نہ احساں اٹھائیے\n\nیا میرے زخمِ رشک کو رسوا نہ کیجیے\nیا پردۂ تبسّمِ پنہاں اٹھائیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AF_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%B1%D9%88_%D8%A8%DB%81_%D8%B1%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "صد حیف کہ مے نوش ہوئے ہم کیسے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "صد حیف کہ مے نوش ہوئے ہم کیسے\nابرار سے روپوش ہوئے ہم کیسے\nکچھ یاں کا خیال ہے نہ واں کا کھٹکا\nہوش آتے ہی بے ہوش ہوئے ہم کیسے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AF_%D8%AD%DB%8C%D9%81_%DA%A9%DB%81_%D9%85%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92"} {"title": "صد شکر بجھ گئی تری تلوار کی ہوس", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صد شکر بجھ گئی تری تلوار کی ہوس\nقاتل یہی تھی تیرے گنہ گار کی ہوس\n\nمردے کو بھی مزار میں لینے نہ دے گی چین\nتا حشر تیرے سایۂ دیوار کی ہوس\n\nسو بار آئے غش ارنی ہی کہوں گا میں\nموسیٰ نہیں کہ پھر ہو نہ دیدار کی ہوس\n\nرضواں کہاں یہ خلد و ارم اور میں کہاں\nآئے تھے لے کے کوچۂ دل دار کی ہوس\n\nصیاد جب قفس سے نکالا تھا بہر ذبح\nپوچھی تو ہوتی مرغ گرفتار کی ہوس\n\nیوسف کو تیری چاہ کے سودے کی آرزو\nعیسیٰ کو تیرے عشق کے آزار کی ہوس\n\nدست ہوائے گل میں گریبان ہے مرا\nدامن جنوں میں کھینچتی ہے خار کی ہوس\n\nجب ہو کسی کا رشتۂ الفت گلے کا طوق\nدیوانہ پن ہے سبحہ و زنار کی ہوس\n\nمانع ہے ضبط چرخ پھنکے کیونکر اے جلالؔ\nکس طرح نکلے آہ شرربار کی ہوس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AF_%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%D8%AC%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%B3"} {"title": "صدا فریاد کی آئے کہیں سے", "poet_page": "مصنف:اقبال سہیل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صدا فریاد کی آئے کہیں سے\nوہ ظالم بد گماں ہوگا ہمیں سے\n\nخدا سمجھے بت سحر آفریں سے\nگریباں کو لڑایا آستیں سے\n\nچمن ہے شعلۂ گل سے چراغاں\nبہار آئی نوائے آتشیں سے\n\nخرد ہے اب بھی جس کے حل سے عاجز\nوہ نکتے حل کیے ہم نے یقیں سے\n\nسلامت وسعت آباد محبت\nبہت آگے ہیں ہم دنیا و دیں سے\n\nمعاذ اللہ جلال اس آستاں کا\nٹپک پڑتے ہیں سجدے خود جبیں سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AF%D8%A7_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "صدائے درد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "جل رہا ہوں کل نہیں پڑتی کسی پہلو مجھے\nہاں ڈبو دے اے محیطِ آبِ گنگا تو مجھے\nسرزمیں اپنی قیامت کی نفاق انگیز ہے\nوصل کیسا، یاں تو اک قُرب فراق آمیز ہے\nبدلے یک رنگی کے یہ ناآشنائی ہے غضب\nایک ہی خرمن کے دانوں میں جُدائی ہے غضب\nجس کے پھُولوں میں اخوّت کی ہوا آئی نہیں\nاُس چمن میں کوئی لُطفِ نغمہ پیرائی نہیں\nلذّتِ قُربِ حقیقی پر مِٹا جاتا ہوں میں\nاختلاطِ موجہ و ساحل سے گھبراتا ہوں میں\n\nدانۂ خرمن نما ہے شاعرِ معجزبیاں\nہو نہ خرمن ہی تو اس دانے کی ہستی پھر کہاں\nحُسن ہو کیا خود نما جب کوئی مائل ہی نہ ہو\nشمع کو جلنے سے کیا مطلب جو محفل ہی نہ ہو\nذوقِ گویائی خموشی سے بدلتا کیوں نہیں\nمیرے آئینے سے یہ جوہر نکلتا کیوں نہیں\nکب زباں کھولی ہماری لذّتِ گفتار نے!\nپھُونک ڈالا جب چمن کو آتشِ پیکار نے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF"} {"title": "صدقے ترے ہوتے ہیں سورج بھی ستارے بھی", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صدقے ترے ہوتے ہیں سورج بھی ستارے بھی\nہم کس سے کہیں دل ہے سینے میں ہمارے بھی\n\nتا صبح گرے آنسو اور آنکھ نہیں جھپکی\nاس بات کے شاہد ہیں ڈوبے ہوئے تارے بھی\n\nدل کھو کے ملا ہم کو جو کچھ وہ بہت کچھ ہے\nاس عشق کی بازی میں ہم جیتے بھی ہارے بھی\n\nجو کچھ تھا مرے دل میں میں نے تو کہا تم سے\nاب تم بھی کہو جو کچھ ہے دل میں تمہارے بھی\n\nکیوں بحر محبت میں ہے خوف اجل ناطقؔ\nمرنے کو تو مرتے ہیں دریا کے کنارے بھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AF%D9%82%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیا\nتس پہ شکوہ نہ کبھی میری زباں پر آیا\n\nراست کیشوں کی تف آہ سے ڈر اے سرکش\nتیر پھرتا نہیں جس وقت نشاں پر آیا\n\nموسم شیب میں بے فائدہ ہے لعب شباب\nکب ثمر دیوے ہے جو نخل خزاں پر آیا\n\nدل پر خوں کو مرے غنچۂ تصویر کی طرح\nلب وا شد نہ کبھی راز نہاں پر آیا\n\nچشم انجم پہ نہیں ابر سے وہ روز سیاہ\nجو مرے دیدۂ خوں ناب چکاں پر آیا\n\nرات کو دیکھ کے اے ماہ تجھے غیر کے ساتھ\nطعنہ زن دل کا مرے گل کے کتاں پر آیا\n\nہو کے استاد دبستان سخن میں سوداؔ\nشعر کے قاعدہ دانان جہاں پر آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AF%D9%85%DB%81_%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "صدمے جو کچھ ہوں دل پہ سہیے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صدمے جو کچھ ہوں دل پہ سہیے\nپوچھے بھی کوئی تو چپ ہی رہیے\n\nبے صبر ہی کہہ کے رک گئے کیوں\nکہیے کہیے کچھ اور کہیے\n\nآخر کب تک یہ بے نیازی\nانصاف سے آپ ہی نہ کہیے\n\nمر ہی جانے کی بات ہے یہ\nمیرے لیے آپ ظلم سہیے\n\nآنکھوں میں غرور ہے کسی کا\nکس طرح کسی سے دب کے رہیے\n\nسننے کی جو بات ہو وہ سنیے\nکہنے کی جو بات ہو وہ کہیے\n\nرونے کو پڑی ہے عمر ساری\nچھالوں کی طرح نہ پھوٹ بہیے\n\nسنیے جو حفیظؔ کی مصیبت\nرو دیجئے آپ میں نہ رہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AF%D9%85%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81_%D8%B3%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "صدمے سے شب ہجر کے کب جان بر آئی", "poet_page": "مصنف:میر مظفر حسین ضمیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صدمے سے شب ہجر کے کب جان بر آئی\nیہ شام نہیں آئی قضا ہی مگر آئی\n\nدیکھا مرا بستر جو کل اس شوخ نے خالی\nہر چند کیا ضبط مگر آنکھ بھر آئی\n\nکرتا ہے کئی دن سے مرے قتل کی تدبیر\nصد شکر کہ اس بت کی طبیعت ادھر آئی\n\nآتے ہی ترے آ گئی اک جان سی تن میں\nاے نگہت گیسوئے معنبر کدھر آئی\n\nتصویر خیالی کی تری کیا کہوں شوخی\nگہہ چھپ گئی نظروں سے تو گاہے نظر آئی\n\nگلشن میں خزاں آئی تو بلبل یہ پکاری\nاب فصل بہاری گل داغ جگر آئی\n\nتربت پہ چڑھانے کو ترے سوختگاں کے\nلے کے پر پروانہ نسیم سحر آئی\n\nہر تار نہانی ہی کو سمجھا میں رگ گل\nیاد اس گل نازک کی جو مجھ کو مگر آئی\n\nپوچھو تو ضمیرؔ جگر افگار کہاں ہے\nجس دن سے گیا وہ نہ پھر اس کی خبر آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AF%D9%85%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "صدمے گزرے ایذا گزری", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صدمے گزرے ایذا گزری\nہجر میں تیرے کیا کیا گزری\n\nہجر میں جان رہی یا گزری\nرندؔ کہو تم پر کیا گزری\n\nکیا کہوں تجھ سے حال فرقت\nگزری جو کچھ جانا گزری\n\nالفت بت نے کر دیا کافر\nیہ کیا بار خدایا گزری\n\nآئے نہیں تم عرصہ گزرا\nمنع کیا کس نے کیا گزری\n\nگزرے جس دم ہم دنیا سے\nہم نے جانا دنیا گزری\n\nبحر جہاں میں زیست ہماری\nشکل حباب دریا گزری\n\nکس سے کہیے کون سنے گا\nکیا کیا گزرا کیا کیا گزری\n\nکہتا تھا میں عشق سے باز آ\nدیکھا جو دل شیدا گزری\n\nمر بھی گئے ہم واہ ری غفلت\nان کو خبر بھی نہ اصلا گزری\n\nاب تو ہے شغل خوں آشامی\nنوبت جام و مینا گزری\n\nکافر پر بھی نہ گزرے ایسی\nہم پر جو بت ترسا گزری\n\nوقت مرگ یہ جی میں گزرا\nزندگی اپنی بے جا گزری\n\nنالہ کیسا آہ نہیں کی\nکیا کیا تجھ بن ایذا گزری\n\nٹوٹ چکا ہے رشتۂ الفت\nیاس ہے اب تو تمنا گزری\n\nدوسرا تجھ سا کوئی نہ دیکھا\nپیش نظر اک دنیا گزری\n\nدیکھ کے حال مریض فرقت\nحالت ہم پہ مسیحا گزری\n\nقابل دید نہ دیکھیں آنکھیں\nمدت نرگس شہلا گزری\n\nغش کیوں آیا ہم سے تو کہیے\nکیا کچھ حضرت موسیٰ گزری\n\nکیوں کر جھیلی آفت فرقت\nرندؔ کہو دل پر کیا گزری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AF%D9%85%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D8%B0%D8%A7_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%8C"} {"title": "صدمے یوں غیر پر نہیں آتے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صدمے یوں غیر پر نہیں آتے\nتمہیں جور اس قدر نہیں آتے\n\nپھر تسلی کی کون سی صورت\nخواب میں بھی نظر نہیں آتے\n\nآتے ہیں جب کہ ناامید ہوں ہم\nکبھی وہ وعدے پر نہیں آتے\n\nروز کے انتظار نے مارا\nصاف کہہ دو اگر نہیں آتے\n\nنہیں معلوم اس کا کیا باعث\nروز کہتے ہیں پر نہیں آتے\n\nاور تم کس کے گھر نہیں جاتے\nایک میرے ہی گھر نہیں آتے\n\nاب تو ہے قہر آپ کا جانا\nنہیں آتے اگر نہیں آتے\n\nسچ ہے حیلے مجھی کو آتے ہیں\nاور تمہیں کس قدر نہیں آتے\n\nان کو میں اس طرح بھلاؤں نظامؔ\nیاد کس بات پر نہیں آتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AF%D9%85%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%92"} {"title": "صدیوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صدیوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہی\nلیکن خدا کی بات جہاں تھی وہیں رہی\n\nزور آزمائیاں ہوئیں سائنس کی بھی خوب\nطاقت بڑھی کسی کی کسی میں نہیں رہی\n\nدنیا کبھی نہ صلح پہ مائل ہوئی مگر\nباہم ہمیشہ برسر پیکار و کیں رہی\n\nپایا اگر فروغ تو صرف ان نفوس نے\nجن کی کہ خضر راہ فقط شمع دیں رہی\n\nاللہ ہی کی یاد بہرحال خلق میں\nوجہ سکون خاطر اندوہ گیں رہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%AF%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%81%D9%84%D8%A7%D8%B3%D9%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%86%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%8C"} {"title": "صراحی کا بھرم کھلتا نہ میری تشنگی ہوتی", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صراحی کا بھرم کھلتا نہ میری تشنگی ہوتی\nذرا تم نے نگاہ ناز کو تکلیف دی ہوتی\n\nمقام عاشقی دنیا نے سمجھا ہی نہیں ورنہ\nجہاں تک تیرا غم ہوتا وہیں تک زندگی ہوتی\n\nتمہاری آرزو کیوں دل کے ویرانے میں آ پہنچی\nبہاروں میں پلی ہوتی ستاروں میں رہی ہوتی\n\nزمانے کی شکایت کیا زمانہ کس کی سنتا ہے\nمگر تم نے تو آواز جنوں پہچان لی ہوتی\n\nیہ سب رنگینیاں خون تمنا سے عبارت ہیں\nشکست دل نہ ہوتی تو شکست زندگی ہوتی\n\nرضائے دوست قابلؔ میرا معیار محبت ہے\nانہیں بھی بھول سکتا تھا اگر ان کی خوشی ہوتی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%B1%D8%A7%D8%AD%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D9%85_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D8%B4%D9%86%DA%AF%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C"} {"title": "صرصر گیسو ہلا رہی ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "صرصر گیسو ہلا رہی ہے\nسر پر کالے کھلا رہی ہے\n\nفرقت میں خوں رلا رہی ہے\nتقدیر یہ رنگ لا رہی ہے\n\nداغوں سے دل جلا رہی ہے\nالفت سکے بٹھا رہی ہے\n\nدامن میں ہے تیرے بوئے کاکل\nکیوں مجھ کو صبا اڑا رہی ہے\n\nحال تپ ہجر کچھ نہ پوچھو\nدل کھا چکی جان کھا رہی ہے\n\nجھیلی ہوئی ہے جفا طبیعت\nبرسوں ہی مبتلا رہی ہے\n\nکسریٰ محل نہ طاق جم ہے\nاے دل کس کی سدا رہی ہے\n\nمرتا ہے دل بتوں کے اوپر\nتقدیر پہاڑ ڈھا رہی ہے\n\nطفلی و جوانی خوب گزری\nدو دن اچھی ہوا رہی ہے\n\nاڑتی ہے خاک اس جگہ پر\nبرسوں جس جا فزا رہی ہے\n\nیہ بنت عنب بہار گل میں\nیاروں کی بھی آشنا رہی ہے\n\nلاتی نہیں بوئے یار نگہت\nاس دل کی لگی بجھا رہی ہے\n\nہم بھی تھے کبھی جوان رعنا\nاپنی بھی کبھی ہوا رہی ہے\n\nکھلتا نہیں حال گل کا بلبل\nشبنم پانی چوا رہی ہے\n\nیہ فصل بہار بے خودی کا\nرستہ ہم کو بتا رہی ہے\n\nگلشن میں عروس گل کے اوپر\nشبنم موتی لٹا رہی ہے\n\nپھولے نہیں گل چمن کے اندر\nوحشت آنکھیں دکھا رہی ہے\n\nفقرے سے لے آئے اس صنم کو\nکیوں منتہیؔ بات کیا رہی ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%B1%D8%B5%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%84%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "صرف اک سوز تو مجھ میں ہے مگر ساز نہیں", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صرف اک سوز تو مجھ میں ہے مگر ساز نہیں\nمیں فقط درد ہوں جس میں کوئی آواز نہیں\n\nمجھ سے جو چاہئے وہ درس بصیرت لیجے\nمیں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں\n\nوہ مزے ربط نہانی کے کہاں سے لاؤں\nہے نظر مجھ پہ مگر اب غلط انداز نہیں\n\nپھر یہ سب شورش‌ و ہنگامۂ عالم کیا ہے\nاسی پردے میں اگر حسن جنوں ساز نہیں\n\nآتش‌ جلوۂ محبوب نے سب پھونک دیا\nاب کوئی پردہ نہیں پردہ بر انداز نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DA%A9_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "صرف غم ہم نے نوجوانی کی", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صرف غم ہم نے نوجوانی کی\nواہ کیا خوب زندگانی کی\n\nاپنی بیتی اگر میں تجھ سے کہوں\nبات نبڑے نہ اس کہانی کی\n\nتیرے داغوں کی اے غم الفت\nخوب ہم نے بھی باغبانی کی\n\nجوں نگہ دل گیا ہے آنکھوں کی راہ\nگرچہ ہم نے نگاہبانی کی\n\nکس کے ہاں تم کرم نہیں کرتے\nکبھو ایدھر نہ مہربانی کی\n\nاپنے نزدیک درد دل میں کہا\nتیرے نزدیک قصہ خوانی کی\n\nہرزہ گوئی سے مجھ کو دی ہے نجات\nہے گی منت یہ بے زبانی کی\n\nنہیں طاقت کہ دم نکال سکوں\nاب یہ نوبت ہے ناتوانی کی\n\nاثرؔ اس حال پہ بھی جیتا ہے\nکیا کہوں اس کی سخت جانی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%BA%D9%85_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "صرف کہہ دوں کہ ناؤ ڈوب گئی", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "صرف کہہ دوں کہ ناؤ ڈوب گئی\nیا بتاؤں کہ کیسے ڈوبی تھی\nتم کہانی تو خیر سن لو گی\nآپ بیتی کہوں کہ جگ بیتی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%B1%D9%81_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%A4_%DA%88%D9%88%D8%A8_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "صغریٰ کا مرض کم نہ ہوا درماں سے", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "صغریٰ کا مرض کم نہ ہوا درماں سے\nآخر ہوئی بیمار تپ ہجراں سے\nتبدیر کی جا نوش کیا زہر اجل\nپاشوئی کے بدلے ہاتھ دھوئے جاں سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D8%BA%D8%B1%DB%8C%D9%B0_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B1%D8%B6_%DA%A9%D9%85_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "صفا الماس و گوہر سے فزوں ہے تیرے دنداں کی", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صفا الماس و گوہر سے فزوں ہے تیرے دنداں کی\nکہاں تجھ لب کے آگے قدر و قیمت لعل و مرجاں کی\n\nعجب کی ساحری اس من ہرن کے چشم فتاں نے\nدیا کاجل سیاہی لے کے آنکھوں سے غزالاں کی\n\nتجھے اے لالہ رو وہ حسن رنگیں ہے کہ گل رویاں\nعبیری پیرہن کرتے ہیں تیری گرد داماں کی\n\nعبث مل مل کے دھوتا ہے تو اپنے دست نازک کو\nنہیں جانے کی سرخی ہاتھ سے خون شہیداں کی\n\nبہار آئی چمن میں گل کھلے اے باغباں شاید\nجنوں نے دھجیاں گر جو اڑائیں پھر گریباں کی\n\nقد موزوں تو شمشاد و صنوبر رکھتے ہیں لیکن\nکہاں پاویں لٹک کی چال اس سرو خراماں کی\n\nنہ دیکھی آنکھ اٹھا بد حالی آشفتگاں ظالم\nبناتا ہی رہا تو خوش خمی زلف پریشاں کی\n\nبرہنہ پا جنوں آوارہ کون اس دشت سے گزرا\nکہ رنگیں خوں سے ہے یاں نوک ہر خار مغیلاں کی\n\nرکھو مت چشم خواب اے دوستو بیدارؔ سے ہرگز\nکوئی دیتی ہے سونے یاد اس روئے درخشاں کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%B3_%D9%88_%DA%AF%D9%88%DB%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D8%B2%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "صفائی اس کی جھلکتی ہے گورے سینے میں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صفائی اس کی جھلکتی ہے گورے سینے میں\nچمک کہاں ہے یہ الماس کے نگینے میں\n\nنہ توئی ہے نہ کناری نہ گوکھرو تس پر\nسجی ہے شوخ نے انگیا بنت کے مینے میں\n\nجو پوچھا میں \"کہاں تھی\" تو ہنس کے یوں بولی\n\"میں لگ رہی تھی اس انگیا موئی کے سینے میں\"\n\nپڑا جو ہاتھ مرا سینے پر تو ہاتھ جھٹک\nپکاری! \"آگ لگے اوئی اس قرینے میں\"\n\nجو ایسا ہی ہے تو اب ہم نہ روز آویں گے\nکبھو جو آئے تو ہفتے میں یا مہینے میں\n\nکبھو مٹک کبھی بس بس کبھو پیالہ پٹک\nدماغ کرتی تھی کیا کیا شراب پینے میں\n\nچڑھی جو دوڑ کے کوٹھے پہ وہ پری اک بار\nتو میں نے جا لیا اس کو ادھر کے زینے میں\n\nوہ پہنا کرتی تھی انگیا جو سرخ لاہی کی\nلپٹ کے تن سے وہ تر ہو گئی پسینے میں\n\nیہ سرخ انگیا جو دیکھی ہے اس پری کی نظیرؔ\nمجھے تو آگ سی کچھ لگ رہی ہے سینے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%DA%BE%D9%84%DA%A9%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%88%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخر", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخر\nتغیر آب بر جا ماندہ کا پاتا ہے رنگ آخر\n\nنہ کی سامان عیش و جاہ نے تدبیر وحشت کی\nہوا جام زمرد بھی مجھے داغ پلنگ آخر\n\nخط نوخیز نیل چشم زخم صافیٔ عارض\nلیا آئینہ نے حرز پر طوطی بچنگ آخر\n\nہلال آسا تہی رہ گر کشادن ہائے دل چاہے\nہوا مہ کثرت سرمایہ اندوزی سے تنگ آخر\n\nتڑپ کر مر گیا وہ صید بال افشاں کہ مضطر تھا\nہوا ناسور چشم تعزیت چشم خدنگ آخر\n\nلکھی یاروں کی بد مستی نے میخانے کی پامالی\nہوئی قطرہ فشانی ہائے مے باران سنگ آخر\n\nاسدؔ پردے میں بھی آہنگ شوق یار قائم ہے\nنہیں ہے نغمے سے خالی خمیدن ہائے چنگ آخر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%A7%DB%93_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%B2%D9%86%DA%AF_%D8%A2%D8%AE%D8%B1"} {"title": "صفحے پہ کب چمن کے ہوا سے غبار ہے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صفحے پہ کب چمن کے ہوا سے غبار ہے\nیہ اپنے سر پہ خاک اڑاتی بہار ہے\n\nشبنم کا کچھ نہیں گل نرگس او پر اثر\nیہ دیکھ لو بہار کی چشم اشک بار ہے\n\nیہ شاخ گل پہ غنچۂ گل سے بہار کا\nیارو دل گرفتہ دیکھو آشکار ہے\n\nہوتا ہے گل کی طرز سے اظہار اس طرح\nیہ پارہ پارہ دامن و جیب بہار ہے\n\nگلشن کے بیچ یہ گل صد برگ نیں ہے زرد\nاے عاشقو بہار کا رنگ عذار ہے\n\nگلشن کے بیچ کہتے ہیں یہ جس کو لالہ زار\nسو نوبہار کا جگر داغدار ہے\n\nپتھر سے مار مار کے سر روتی ہے بہار\nجس کو چمن میں کہتے ہیں یہ آبشار ہے\n\nیہ حال خستہ دیکھ چمن میں بہار کا\nحسرت سے میرے دل کے اپر خار خار ہے\n\nگلشن کی طرح سے مجھ رنگیں دلوں کے بیچ\nہے خوش نما وہ جیب کہ جو تار تار ہے\n\nصد چاک گل کا سن کے ہوا جیب پیرہن\nیاں تک تو پر اثر سے فغان ہزار ہے\n\nاک بلبل اسیر سے پوچھا میں کس لیے\nآنے کا فصل گل کے تجھے انتظار ہے\n\nکہنے لگی وہ عقدۂ خاطر کو کھول کر\nگل گل شگفتہ ہوں میں سنوں جو بہار ہے\n\nآنکھوں سے دل کے دید کو مانع نہیں نفس\nعاشق کو عین ہجر میں بھی وصل یار ہے\n\nاس شمع رو پہ دل سے تصدق ہے بلکہ عشقؔ\nپروانہ وار جان سے ہر دم نثار ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%92_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%D8%A8_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "صمد کو سراپا صنم دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صمد کو سراپا صنم دیکھتے ہیں\nمسمیٰ کو اسما میں ہم دیکھتے ہیں\n\nتجھے کیف مستی میں ہم دیکھتے ہیں\nثلاثہ نظر کا عدم دیکھتے ہیں\n\nترا حسن اوصاف ہم دیکھتے ہیں\nفنا میں بقا دم بدم دیکھتے ہیں\n\nجو ہیں خالی و پر سے سرمست نغمہ\nہم آہنگیٔ کیف و کم دیکھتے ہیں\n\nنظر گاہ تیری ہے آئینہ دل\nتجھے حیرتی ہو کے ہم دیکھتے ہیں\n\nفنا ہے فنا مقتضائے محبت\nتقاضائے الفت کو ہم دیکھتے ہیں\n\nغبار دل و دیدہ جو پاک کر دے\nہم اس اشک شبنم کو یم دیکھتے ہیں\n\nاٹھا جب سے پندار ہستی کا پردہ\nتجھے نور وحدت میں ہم دیکھتے ہیں\n\nمکین مکاں لا مکانی ہے ساحرؔ\nہم انداز دیر و حرم دیکھتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%85%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%BE%D8%A7_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "صنم جب چیرۂ زر تار باندھے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صنم جب چیرۂ زر تار باندھے\nجھلک سیں کوچہ و بازار باندھے\n\nہزاروں تیغ بندوں کوں کرے قتل\nخم ابرو کی جب تلوار باندھے\n\nجو دیکھے ایک دم زاہد تری زلف\nگلے میں زہد کا زنار باندھے\n\nطلب کے عقدۂ مشکل کوں کھولے\nجو کوشش کی کمر یکبار باندھے\n\nجو کوئی غم کا حصار قلب چاہے\nغبار آہ سیں دیوار باندھے\n\nجو دیکھے گل رخوں کو کو لاابالی\nبجا ہے گر لب اظہار باندھے\n\nسراجؔ آنکھیں کیا ہے غیر سیں بند\nکہ تا دل میں خیال یار باندھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%AC%D8%A8_%DA%86%DB%8C%D8%B1%DB%82_%D8%B2%D8%B1_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%92"} {"title": "صنم خوش طبعیاں سیکھے ہو تم کن کن ظریفوں سیں", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صنم خوش طبعیاں سیکھے ہو تم کن کن ظریفوں سیں\nکہ یہ لطف ادا معلوم ہوتا ہے لطیفوں سیں\n\nلکھوں وصف اس کی زلفوں کے قلم کر شاخ سنبل کوں\nدواتوں میں سیاہی بھر گل شبو کی قیفوں سیں\n\nتری سیدھی نگاہیں ان دنوں میں گرم الفت ہیں\nمجھے سیفی لگی ہے ہات کئی ورد اور وظیفوں سیں\n\nخیال اس کا ہم آغوش نظر ہے سات پردوں میں\nعجب شوخی سیں پیش آیا ہے یہ شوخ ان عفیفوں سیں\n\nکہاں پاے مزے کے اس قدر اس نے بڑے کوئی\nتری آنکھوں کوں سو درجے شرافت ہی شریفوں سیں\n\nہجوم بو الہوس کے شمع مجلس ہو سو کیا معنی\nلطیفوں کوں روا نیں اختلاط ایسے کثیفوں سیں\n\nمزاجیں نا موافق ہوں تو کب صحبت برآر ہوئے\nنہیں ملتی ہماری طبع ان دنیا کے جیفوں سیں\n\nعبث مت دیکھ آنکھیں پھاڑ پھاڑ ان چشم خونیں کوں\nپڑا نیں نرگس باغی تجھے کام ان حریفوں سیں\n\nخس و خاشاک رہ ہیں ہم ترے اے شعلہ خو ظالم\nمناسب نیں ہے اتنی سرکشی آخر ضعیفوں سیں\n\nسبک روحان معنی بوئے گل ہیں باغ عرفاں کے\nہر اک خار گراں جاں کوں خبر کیا ان لطیفوں سیں\n\nغلط نیں ہے کہ بلبل حافظ سیپارۂ گل ہے\nسند رکھتا ہوں میں گلبرگ کے رنگیں صحیفوں سیں\n\nرقیب اس سنگ دل سیں منتظر ہیں ہم کلامی کے\nسخن کرتا ہے کب وو کوہ تمکیں ان خفیفوں سیں\n\nسوار توسن معنی ہوں چوگان طبیعت سیں\nلیا ہوں گوئے میدان سخن میں ہم ردیفوں سیں\n\nادیب عشق کے شاگرد ہیں فرہاد اور مجنوں\nکہ کوہ و دشت کا مکتب ہے گرم ان دو خلیفوں سیں\n\nسراجؔ اس شمع کوں ہے شوق پروانے جلانے کا\nدعا کر یا الٰہی موم دل ہوئے ہم نجیفوں سیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%B7%D8%A8%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%86_%DA%A9%D9%86_%D8%B8%D8%B1%DB%8C%D9%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%DA%BA"} {"title": "صنم پاس ہے اور شب ماہ ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صنم پاس ہے اور شب ماہ ہے\nیہ شب ہے کہ اللہ ہی اللہ ہے\n\nترے ناز کیوں کر اٹھاؤں نہ میں\nمری دوستی پر تو گمراہ ہے\n\nتجھے ہوش اتنا نہیں بے خبر\nمرے حال سے کب تو آگاہ ہے\n\nترا نام لیتے نکلتی ہے آہ\nمری آہ کے دل میں کیا آہ ہے\n\nکہاں برق عشق و کہاں کوہ صبر\nبگولے کے آگے پر کاہ ہے\n\nمیں کیوں کر کہوں تجھ کو فرصت نہیں\nپہ یہ بات کب تیرے دل خواہ ہے\n\nنہ آنے کے سو عذر ہیں میری جاں\nاور آنے کو پوچھو تو سو راہ ہے\n\nمیں اک روز پوچھا جو اس شوخ سے\nکہ کیوں کچھ تجھے بھی مری چاہ ہے\n\nتو ہنس کر لگا کہنے کیا خوب کیوں\nتو میرا کہاں کا ہوا خواہ ہے\n\nیہ سن کر جو میں چپ رہا تو کہا\nابے دل کا مالک تو اللہ ہے\n\nحسنؔ وصل اور ہجر میں یار کے\nکبھی آہ ہے اور کبھی واہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%86%D9%85_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B4%D8%A8_%D9%85%D8%A7%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "صنم کوچہ ترا ہے اور میں ہوں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صنم کوچہ ترا ہے اور میں ہوں\nیہ زندان دغا ہے اور میں ہوں\n\nیہی کہتا ہے جلوہ میرے بت کا\nکہ اک ذات خدا ہے اور میں ہوں\n\nادھر آنے میں ہے کس سے تجھے شرم\nفقط اک غم ترا ہے اور میں ہوں\n\nکرے جو ہر قدم پر ایک نالہ\nزمانے میں درا ہے اور میں ہوں\n\nتری دیوار سے آتی ہے آواز\nکہ اک بال ہما ہے اور میں ہوں\n\nنہ ہو کچھ آرزو مجھ کو خدایا\nیہی ہر دم دعا ہے اور میں ہوں\n\nکیا درباں نے سنگ آستانہ\nدر دولت سرا ہے اور میں ہوں\n\nگیا وہ چھوڑ کر رستے میں مجھ کو\nاب اس کا نقش پا ہے اور میں ہوں\n\nزمانے کے ستم سے روز ناسخؔ\nنئی اک کربلا ہے اور میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%81_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "صنم کے دیکھ کر لب اور دہن سرخ", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صنم کے دیکھ کر لب اور دہن سرخ\nہوا ہے خون بلبل سے چمن سرخ\n\nشہید لالہ رویاں کو بجا ہے\nدفن کے وقت گر کیجے کفن سرخ\n\nہوا مجنوں کے حق میں دشت گل زار\nکیا ہے عشق کے ٹیسو نے بن سرخ\n\nگلوں کا رنگ اب زرد ہو گیا ہے\nچمن میں دیکھ کر تیرا بدن سرخ\n\nکر حاتمؔ یاد احوال شہیداں\nشفق سے جب کہ ہوتا ہے گگن سرخ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%D8%A8_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%DB%81%D9%86_%D8%B3%D8%B1%D8%AE"} {"title": "صنم کے کوچے میں چھپ کے جانا اگرچہ یوں ہے خیال دل کا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صنم کے کوچے میں چھپ کے جانا اگرچہ یوں ہے خیال دل کا\nپہ وہ تو جاتے ہی تاڑ لے گا پھر آنا ہوگا محال دل کا\n\nگہر نے اشکوں کے یاں نکل کر جھمک دکھائی جو اپنی ہر دم\nتو ہم نے جانا کہ موتیوں سے بھرا ہے پہلو میں قال دل کا\n\nکبھی اشارت کبھی لگاوٹ کبھی تبسم کبھی تکلم\nیہ طرزیں ٹھہریں تو ہم سے پھر ہو بھلا جی کیوں کر سنبھال دل کا\n\nوہ زلف پر پیچ و خم ہے اس کی پھنسا تو نکلے گا پھر نہ ہرگز\nہمارا کہنا ہے سچ ارے جی تو کام اس سے نہ ڈال دل کا\n\nمیں لحظہ لحظہ ہوں کھینچ لاتا وہ پھر اسی کی طرف ہے جاتا\nکروں نظیرؔ اس کی فکر میں کیا ہے اب تو میرے یہ حال دل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%A7%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "صنم کے ہجر کا بیمار میں ہوں", "poet_page": "مصنف:میراں شاہ جالندھری", "kind": "poetry", "section": "رچناواں/تصانیف > اردو > غزل", "year": null, "text_ur": "صنم کے ہجر کا بیمار میں ہوں\nاسی کے عشق میں سرشار میں ہوں\n\nرخ دلبر ہے روشن ماہ تاباں\nچکوری کی طرح بیدار میں ہوں\n\nلئے پھرتا ہوں ہاتھوں پر سر اپنا\nنظر دلبر سر بازار میں ہوں\n\nغلام خاک پا مخدوم صابر\nفدائے جاں سگ دربار میں ہوں\n\nبلا لو یا علاء الدین مجھ کو\nتیرے روضے کا اک زوار میں ہوں\n\nکوئی مونس نہ ہمدم آشنا ہے\nیہ فرماؤ ترا غم خوار میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "صنم ہزار ہوا تو وہی صنم کا صنم", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صنم ہزار ہوا تو وہی صنم کا صنم\nکہ اصل ہستی نابود ہے عدم کا عدم\n\nاسی جہان میں گویا مجھے بہشت ملی\nاگر رکھو گے مرے پر یہی کرم کا کرم\n\nابھی تو تم نے کئے تھے ہماری جاں بخشی\nپھر ایک دم میں وہی نیمچا علم کا علم\n\nوو گل بدن کا عجب ہے مزاج رنگا رنگ\nفجر کوں لطف تو پھر شام کوں ستم کا ستم\n\nنہ رکھ سراجؔ کسی خوب رو سیں چشم وفا\nصنم ہزار ہوا تو وہی صنم کا صنم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%86%D9%85_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%B5%D9%86%D9%85"} {"title": "صنم ہے یا خدا کیا جانے کیا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "صنم ہے یا خدا کیا جانے کیا ہے\nہمارا دل ربا کیا جانے کیا ہے\n\nنہ سنبل ہے نہ کالا ہے نہ ناگن\nتری زلف رسا کیا جانے کیا ہے\n\nکسی پہلو نہیں آرام تجھ کو\nتجھے اے دل ہوا کیا جانے کیا ہے\n\nنہیں معلوم کعبہ ہے کہ قبلہ\nخم ابرو ترا کیا جانے کیا ہے\n\nمرا دل لو گے تم یا جان لو گے\nتمہارا عندیہ کیا جانے کیا ہے\n\nجفاؤں سے تری بھرنا نہیں دل\nتڑپنے میں مزا کیا جانے کیا ہے\n\nہمیں تو اس سے ہے امید بخشش\nمگر اس کی رضا کیا جانے کیا ہے\n\nنظر پھیری نہیں تو نے تو ہم سے\nیہ پھر عشوہ نما کیا جانے کیا ہے\n\nتصور میں جو کی ہیں بند آنکھیں\nدکھائی دے رہا کیا جانے کیا ہے\n\nبھلا تو آشنا ہوگا کسی کا\nارے نا آشنا کیا جانے کیا ہے\n\nقیامت ہے قد بالا تمہارا\nنگاہ فتنہ را کیا جانے کیا ہے\n\nنکلتا ہے دھواں جو آہ کے ساتھ\nیہ اے دل جل رہا کیا جانے کیا ہے\n\nبھلا میں کیا اسے بتلاؤں انجمؔ\nوہ مجھ سے پوچھتا کیا جانے کیا ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%86%D9%85_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "صوت بلبل دل نالاں نے سنائی مج کو", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صوت بلبل دل نالاں نے سنائی مج کو\nسیر گل دیدۂ گریاں نے دکھائی مج کو\n\nلاؤں خاطر میں نہ میں سلطنت ہفت اقلیم\nاس گلی کی جو میسر ہو گدائی مج کو\n\nوصل میں جس کی نہیں چین یہ اندیشہ ہے\nآہ دکھلائے گی کیا اس کی لڑائی مج کو\n\nوصل میں جس کے نہ تھا چین سو جرأتؔ افسوس\nوہ گیا پاس سے اور موت نہ آئی مج کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%88%D8%AA_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D9%84%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%AC_%DA%A9%D9%88"} {"title": "صورت حال اب تو وہ نقش خیالی ہو گیا", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صورت حال اب تو وہ نقش خیالی ہو گیا\nجو مقام ماسوا تھا دل میں خالی ہو گیا\n\nممتنع جو تھا وہ ہے زیب بداہت قلب کو\nجو یقینی امر تھا وہ احتمالی ہو گیا\n\nچھوڑی خود بینی تو اب ہر شے میں حسن آیا نظر\nدیدۂ حق بیں جلالی سے جمالی ہو گیا\n\nذوق نظارہ یہ ہے آنکھوں پر اب رکھتا ہوں میں\nذرے ذرے کو جو نذر پائمالی ہو گیا\n\nزعم اور پندار کا حق الیقیں سے ہے بدل\nوہ گھروندہ اب تو فانوس خیالی ہو گیا\n\nآنکھ اٹھ کر حسن قدرت سے جو اپنے پر گئی\nسب خودی کا رنگ رنگ انفعالی ہو گیا\n\nپہلے اس میں سر تھا اے صمصام عشق اور جان تھی\nکیونکہ ملتا تجھ سے آ اب ہاتھ خالی ہو گیا\n\nغیرت دل دادہ و دل دار کی جاتی رہی\nاب تو جو ہونا تھا اے آقائے عالی ہو گیا\n\nوجہ علم ذات ہو کیوں کر نہ عرفان صفت\nکیا عرض کی شان جب جوہر سے خالی ہو گیا\n\nجو رہا خوددار ہونے پر خودی سے دور دور\nوہ دیار عشق و دل سوزی کا والی ہو گیا\n\nہے خطا اس کو اگر عاشق کہو تم جس کا عشق\nختم جب اس نے مراد اک اپنی پا لی ہو گیا\n\nجذبۂ ایثار کیا قوت عمل کی پھر کہاں\nجب شعور انساں کا صرف لاابالی ہو گیا\n\nاے قدامت کیش سن یہ عالم ایجاد ہے\nنام جدت کا ازل میں لا یزالی ہو گیا\n\nچھوڑ کر لطف سخن مغز سخن سے کام لو\nکیا ہوا کیفیؔ جو گرم خوش مقالی ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D9%88%DB%81_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی\nدیدار یار سی بھی دولت نہیں ہے کوئی\n\nآنکھوں کو کھول اگر تو دیدار کا ہے بھوکا\nچودہ طبق سے باہر نعمت نہیں ہے کوئی\n\nثابت ترے دہن کو کیا منطقی کریں گے\nایسی دلیل ایسی حجت نہیں ہے کوئی\n\nیہ کیا سمجھ کے کڑوے ہوتے ہیں آپ ہم سے\nپی جائے گا کسی کو شربت نہیں ہے کوئی\n\nمیں نے کہا کبھی تو تشریف لاؤ بولے\nمعذور رکھیے وقت فرصت نہیں ہے کوئی\n\nہم کیا کہیں کسی سے کیا ہے طریق اپنا\nمذہب نہیں ہے کوئی ملت نہیں ہے کوئی\n\nدل لے کے جان کے بھی سائل جو ہو تو حاضر\nحاضر جو کچھ ہے اس میں حجت نہیں ہے کوئی\n\nہم شاعروں کا حلقہ حلقہ ہے عارفوں کا\nنا آشنائے معنی صورت نہیں ہے کوئی\n\nدیوانوں سے ہے اپنے یہ قول اس پری کا\nخاکی و آتشی سے نسبت نہیں ہے کوئی\n\nہژدہ ہزار عالم دم بھر رہا ہے تیرا\nتجھ کو نہ چاہے ایسی خلقت نہیں ہے کوئی\n\nنازاں نہ حسن پر ہو مہماں ہے چار دن کا\nبے اعتبار ایسی دولت نہیں ہے کوئی\n\nجاں سے عزیز دل کو رکھتا ہوں آدمی ہوں\nکیوں کر کہوں میں مجھ کو حسرت نہیں ہے کوئی\n\nیوں بد کہا کرو تم یوں مال کچھ نہ سمجھو\nہم سا بھی خیر خواہ دولت نہیں ہے کوئی\n\nمیں پانچ وقت سجدہ کرتا ہوں اس صنم کو\nمجھ کو بھی ایسی ویسی خدمت نہیں ہے کوئی\n\nما و شما کہہ و مہ کرتا ہے ذکر تیرا\nاس داستاں سے خالی صحبت نہیں ہے کوئی\n\nشہر بتاں ہے آتشؔ اللہ کو کرو یاد\nکس کو پکارتے ہو حضرت نہیں ہے کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "صورت سے وہ بیزار ہے معلوم نہیں کیوں", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صورت سے وہ بیزار ہے معلوم نہیں کیوں\nدل پھر بھی طلب گار ہے معلوم نہیں کیوں\n\nہر شخص کو بخشی گئی تمییز بد و نیک\nہر شخص زیاں کار ہے معلوم نہیں کیوں\n\nاک چیز کہ سرمایۂ راحت ہے اسے لوگ\nکہتے ہیں کہ آزار ہے معلوم نہیں کیوں\n\nپتا بھی اگر ہلتا ہے تو اس کی رضا سے\nاور بندہ گنہ گار ہے معلوم نہیں کیوں\n\nدیں دار ہے زاہد کی زباں بھی مرا دل بھی\nپھر مفت کی تکرار ہے معلوم نہیں کیوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA"} {"title": "صورت وہ پہلی کہ ہو مگر ماہ تمام", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "صورت وہ بھلی کہ ہو مگر ماہ تمام\nسیرت وہ بری کہ ہو مگر والیٔ شام\nاچھا ہونا برا نہیں ہے زنہار\nکیوں خو کی بری نہ ہو کی ہوئے ہو بدنام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D9%88%DB%81_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%88_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85"} {"title": "صورت کا اپنی یار پرستار تھا سو ہے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صورت کا اپنی یار پرستار تھا سو ہے\nآئینہ دل اس کو جو درکار تھا سو ہے\n\nیہ دل ہے تیغ ابروئے خم دار کا شہید\nاس کا گواہ دیدۂ خم دار تھا سو ہے\n\nمالک ہے میرے دل کا خدا تجھ سے اے صنم\nپیوستہ بندگی کا جو اقرار تھا سو ہے\n\nظاہر میں گرچہ کفر سے منکر ہوا ہے شیخ\nپوشیدہ اس کی سبحہ میں زنار تھا سو ہے\n\nتجھ خط کی یاد میں دل حیران عشق کا\nدر نجف کی طرح سے مودار تھا سو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "صوفی ہوں نہ واعظ ہوں نہیں ہوں ملا", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "صوفی ہوں نہ واعظ ہوں نہیں ہوں ملا\nبلبل نہیں اے گل جو کہوں میں گل لا\nوہ رند ہوں مل مے کدۂ دیر میں میں\nملا سے بھی کہتا ہوں کہ ملا مل لا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "صُبح", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "یہ سحَر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز\nنہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا\nوہ سحَر جس سے لَرزتا ہے شبستانِ وجود\nہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%8F%D8%A8%D8%AD"} {"title": "صُبح کا ستارہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "لُطفِ ہمسایگیِ شمس و قمر کو چھوڑوں\nاور اس خدمتِ پیغامِ سحَر کو چھوڑوں\nمیرے حق میں تو نہیں تاروں کی بستی اچھّی\nاس بلندی سے زمیں والوں کی پستی اچھّی\nآسماں کیا، عدم آباد وطن ہے میرا\nصبح کا دامنِ صد چاک کفن ہے میرا\nمیری قسمت میں ہے ہر روز کا مرنا جینا\nساقیِ موت کے ہاتھوں سے صبُوحی پینا\nنہ یہ خدمت، نہ یہ عزّت، نہ یہ رفعت اچھّی\nاس گھڑی بھر کے چمکنے سے تو ظُلمت اچھّی\nمیری قُدرت میں جو ہوتا تو نہ اختر بنتا\nقعرِ دریا میں چمکتا ہُوا گوہر بنتا\n\nواں بھی موجوں کی کشاکش سے جو دل گھبراتا\nچھوڑ کر بحر کہیں زیبِ گلُو ہو جاتا\nہے چمکنے میں مزا حُسن کا زیور بن کر\nزینتِ تاجِ سرِ بانوئے قیصر بن کر\nایک پتھّر کے جو ٹکڑے کا نصیبا جاگا\nخاتمِ دستِ سلیماں کا نگیں بن کے رہا\nایسی چنروں کا مگر دہر میں ہے کام شکست\nہے گُہر ہائے گراں مایہ کا انجام شکست\nزندگی وہ ہے کہ جو ہو نہ شناسائے اجل\nکیا وہ جینا ہے کہ ہو جس میں تقاضائے اجل\nہے یہ انجام اگر زینتِ عالم ہو کر\nکیوں نہ گر جاؤں کسی پھول پہ شبنم ہو کر!\n\nکسی پیشانی کے افشاں کے ستاروں میں رہوں\nکس مظلوم کی آہوں کے شراروں میں رہوں\nاشک بن کر سرِمژگاں سے اٹک جاؤں میں\nکیوں نہ اُس بیوی کی آنکھوں سے ٹپک جاؤں میں\n\nجس کا شوہر ہو رواں ہو کے زرہ میں مستور\nسُوئے میدان وغا، حُبِّ وطن سے مجبور\nیاس و اُمیّد کا نظّارہ جو دِکھلاتی ہو\nجس کی خاموشی سے تقریر بھی شرماتی ہو\nجس کو شوہر کی رضا تابِ شکیبائی دے\nاور نگاہوں کو حیا طاقتِ گویائی دے\nزرد، رُخصت کی گھڑی، عارضِ گُلگوں ہو جائے\nکششِ حُسن غمِ ہجر سے افزوں ہو جائے\nلاکھ وہ ضبط کرے پر میں ٹپک ہی جاؤں\nساغرِ دیدۂ پُرنم سے چھلک ہی جاؤں\nخاک میں مل کے حیاتِ ابدی پا جاؤں\nعشق کا سوز زمانے کو دِکھاتا جاؤں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%8F%D8%A8%D8%AD_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%81"} {"title": "صُبحِ چمن", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "پھُول\nشاید تو سمجھتی تھی وطن دُور ہے میرا\nاے قاصدِ افلاک! نہیں، دُور نہیں ہے\n\nشبنم\nہوتا ہے مگر محنت پرواز سے روشن\nیہ نکتہ کہ گردُوں سے زمیں دُور نہیں ہے\n\nصُبح\nمانندِ سحَر صحنِ گُلستاں میں قدم رکھ\nآئے تہِ پا گوہرِ شبنم تو نہ ٹُوٹے\nہو کوہ و بیاباں سے ہم آغوش، و لیکن\nہاتھوں سے ترے دامنِ افلاک نہ چھُوٹے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%8F%D8%A8%D8%AD%D9%90_%DA%86%D9%85%D9%86"} {"title": "صُوفی سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "تری نگاہ میں ہے معجزات کی دنیا\nمری نگاہ میں ہے حادثات کی دنیا\nتخیّلات کی دنیا غریب ہے، لیکن\nغریب تر ہے حیات و ممات کی دنیا\nعجب نہیں کہ بدل دے اسے نگاہ تری\nبُلا رہی ہے تجھے مُمکنات کی دنیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%8F%D9%88%D9%81%DB%8C_%D8%B3%DB%92"} {"title": "صِدّیق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اک دن رسُولِ پاکؐ نے اصحابؓ سے کہا\nدیں مال راہِ حق میں جو ہوں تم میں مالدار\nارشاد سُن کے فرطِ طرب سے عمَرؓ اُٹھے\nاُس روز اُن کے پاس تھے درہم کئی ہزار\nدل میں یہ کہہ رہے تھے کہ صِدّیقؓ سے ضرور\nبڑھ کر رکھے گا آج قدم میرا راہوار\nلائے غَرضکہ مال رُسولِ امیںؐ کے پاس\nایثار کی ہے دست نِگر ابتدائے کار\nپُوچھا حضور سروَرِ عالمؐ نے، اے عمَرؓ!\nاے وہ کہ جوشِ حق سے ترے دل کو ہے قرار\nرَکھّا ہے کچھ عیال کی خاطر بھی تُو نے کیا؟\nمسلم ہے اپنے خویش و اقارب کا حق گزار\nکی عرض نصف مال ہے فرزند و زن کا حق\nباقی جو ہے وہ ملّتِ بیضا پہ ہے نثار\n\nاتنے میں وہ رفیقِ نبوّت بھی آگیا\nجس سے بِنائے عشق و محبّت ہے اُستوار\nلے آیا اپنے ساتھ وہ مردِ وفا سرِشت\nہر چیز، جس سے چشمِ جہاں میں ہو اعتبار\nمِلکِ یمین و درہم و دینار و رخت و جِنس\nاسپِ قمر سم و شُتر و قاطر و حمار\nبولے حضورؐ، چاہیے فکرِ عیال بھی\nکہنے لگا وہ عشق و محبّت کا راز دار\nاے تجھ سے دیدۂ مہ و انجم فروغ گیر!\nاے تیری ذات باعثِ تکوینِ روزگار!\nپروانے کو چراغ ہے، بُلبل کو پھُول بس\nصِدّیقؓ کے لیے ہے خدا کا رسولؐ بس", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%90%D8%AF%D9%91%DB%8C%D9%82"} {"title": "صِقلیہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "رو لے اب دل کھول کر اے دیدۂ خُوننابہ بار\nوہ نظر آتا ہے تہذیبِ حجازی کا مزار\nتھا یہاں ہنگامہ ان صحرا نشینوں کا کبھی\nبحر بازی گاہ تھا جن کے سفینوں کا کبھی\nزلزلے جن سے شہنشاہوں کے درباروں میں تھے\nبجلیوں کے آشیانے جن کی تلواروں میں تھے\nاک جہانِ تازہ کا پیغام تھا جن کا ظُہور\nکھا گئی عصرِ کُہن کو جن کی تیغِ نا صبور\nمُردہ عالَم زندہ جن کی شورشِ قُم سے ہُوا\nآدمی آزاد زنجیرِ توہّم سے ہُوا\nغلغلوں سے جس کے لذّت گیر اب تک گوش ہے\nکیا وہ تکبیر اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہے؟\n\nآہ اے سِسلی! سمندرکی ہے تجھ سے آبرو\nرہنما کی طرح اس پانی کے صحرا میں ہے تو\nزیب تیرے خال سے رُخسارِ دریا کو رہے\nتیری شمعوں سے تسلّی بحر پیما کو رہے\nہو سُبک چشمِ مسافر پر ترا منظر مدام\nموج رقصاں تیرے ساحل کی چٹانوں پر مدام\nتُو کبھی اُس قوم کی تہذیب کا گہوارہ تھا\nحُسنِ عالم سوز جس کا آتشِ نظّارہ تھا\n\nنالہ کش شیراز کا بُلبل ہُوا بغداد پر\nداغؔ رویا خُون کے آنسو جہان آباد پر\nآسماں نے دولتِ غرناطہ جب برباد کی\nابنِ بدرُوں کے دلِ ناشاد نے فریاد کی\nغم نصیب اقبالؔ کو بخشا گیا ماتم ترا\nچُن لیا تقدیر نے وہ دل کہ تھا محرم ترا\n\nہے ترے آثار میں پوشیدہ کس کی داستاں\nتیرے ساحل کی خموشی میں ہے اندازِ بیاں\nدرد اپنا مجھ سے کہہ، مَیں بھی سراپا درد ہوں\nجس کی تُو منزل تھا، میں اُس کارواں کی گرد ہوں\nرنگ تصویرِ کُہن میں بھر کے دِکھلا دے مجھے\nقصّہ ایّامِ سلَف کا کہہ کے تڑپا دے مجھے\nمَیں ترا تُحفہ سوئے ہندوستاں لے جاؤں گا\nخود یہاں روتا ہوں، اَوروں کو وہاں رُلواؤں گا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%90%D9%82%D9%84%DB%8C%DB%81"} {"title": "صہبا کشوں کی خاک ہے ہر اک مقام پر", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "صہبا کشوں کی خاک ہے ہر اک مقام پر\nساقی لنڈھا شراب کو مستوں کے نام پر\n\nزر ہو تو ہاتھ آئیں حسینان سیم تن\nصیاد کا شکار ہے موقوف دام پر\n\nقاصد کو یار کے ہوں پیمبر میں کہہ رہا\nزاہد سنائیں گے صلوٰۃ اس کلام پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%DB%81%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%D8%B4%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "ضائع نہیں ہوتی کبھی تدبیر کسی کی", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ضائع نہیں ہوتی کبھی تدبیر کسی کی\nمیری سی خدایا نہ ہو تقدیر کسی کی\n\nناحق میں بگڑ جانے کی عادت یہ غضب ہے\nثابت تو کیا کیجیے تقصیر کسی کی\n\nقاصد یہ زبانی تری باتیں تو سنی ہیں\nتب جانوں کہ لا دے مجھے تحریر کسی کی\n\nبے ساختہ پہروں ہی کہا کرتے ہیں کیا کیا\nہم ہوتے ہیں اور ہوتی ہے تصویر کسی کی\n\nایسی تو نظامؔ ان کی نہ عادت تھی وفا کی\nوہ جانے نہ جانے یہ ہے تاثیر کسی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D8%B9_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ضبط", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "طریقِ اہلِ دُنیا ہے گِلہ شکوَہ زمانے کا\nنہیں ہے زخم کھا کر آہ کرنا شانِ درویشی\nیہ نکتہ پِیرِ دانا نے مجھے خلوَت میں سمجھایا\nکہ ہے ضبطِ فغاں شیری، فغاں رُوباہی و میشی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B6%D8%A8%D8%B7"} {"title": "ضبط اپنا شعار تھا نہ رہا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ضبط اپنا شعار تھا نہ رہا\nدل پہ کچھ اختیار تھا نہ رہا\n\nدل مرحوم کو خدا بخشے\nایک ہی غم گسار تھا نہ رہا\n\nآ کہ وقت سکون مرگ آیا\nنالہ ناخوش گوار تھا نہ رہا\n\nان کی بے مہریوں کو کیا معلوم\nکوئی امیدوار تھا نہ رہا\n\nآہ کا اعتبار بھی کب تک\nآہ کا اعتبار تھا نہ رہا\n\nکچھ زمانے کو سازگار سہی\nجو ہمیں سازگار تھا نہ رہا\n\nاب گریباں کہیں سے چاک نہیں\nشغل فصل بہار تھا نہ رہا\n\nموت کا انتظار باقی ہے\nآپ کا انتظار تھا نہ رہا\n\nمہرباں یہ مزار فانیؔ ہے\nآپ کا جاں نثار تھا نہ رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B6%D8%A8%D8%B7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "ضبط سے دل نزار رہتا ہے", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ضبط سے دل نزار رہتا ہے\nاندرونی بخار رہتا ہے\n\nیوں تو دل کو کبھی قرار نہ تھا\nاب بہت بے قرار رہتا ہے\n\nقطع امید ہو تو صبر آئے\nروز اک انتظار رہتا ہے\n\nمایۂ زندگی سخن ہے نظرؔ\nشعر ہی یادگار رہتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B6%D8%A8%D8%B7_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہم", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہم\nکیوں کسی سے مانگتے جائیں چراغ خانہ ہم\n\nخود ہی ساز بے خودی کو چھیڑ دیتے ہیں کبھی\nخود ہی سنتے ہیں حدیث ساغر و پیمانہ ہم\n\nدفعتاً ساز دو عالم بے صدا ہو جائے گا\nکہتے کہتے رک گئے جس دن ترا افسانہ ہم\n\nشمع ایوان حرم ہو یا چراغ طاق دیر\nہم کو دونوں سے تعلق ہے کہ ہیں پروانہ ہم\n\nدل جلا پھر خود جلے پھر ساری دنیا جل اٹھی\nسوز لائے تھے بمقدار پر پروانہ ہم\n\nجب ہمیں دیوانہ بننا ہے تو کیسی مصلحت\nمصلحت کو بھی بنا لیں گے ترا دیوانہ ہم\n\nبسکہ ہے سیمابؔ بے مہری یگانوں کا شعار\nہیں رہین التفات خاطر بیگانہ ہم", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B6%D8%A8%D8%B7_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85"} {"title": "ضبط نالہ سے آج کام لیا", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ضبط نالہ سے آج کام لیا\nگرتی بجلی کو میں نے تھام لیا\n\nپائے ساقی پہ توبہ لوٹ گئی\nہاتھ میں اس ادا سے جام لیا\n\nپھول کا جام جب گرا کوئی\nہم نے پلکوں سے بڑھ کے تھام لیا\n\nآفریں تجھ کو حسرت دیدار\nچشم تر سے زباں کا کام لیا\n\nدل جگر نذر کر دیے مے کے\nدے کے دو شیشے ایک جام لیا\n\nالٹی اک ہاتھ سے نقاب ان کی\nایک سے اپنے دل کو تھام لیا\n\nترک مے کی ہوئی تلافی یوں\nنام ساقی کا صبح و شام لیا\n\nآ گئی کیا کسی کی یاد جلیلؔ\nچلتے چلتے جگر کو تھام لیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B6%D8%A8%D8%B7_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے\nکیوں عیاں ہو آنکھ سے وہ غم جو پنہاں دل میں ہے\n\nجس سے چاہو پوچھ لو تم میرے سوز دل کا حال\nشمع بھی محفل میں ہے پروانہ بھی محفل میں ہے\n\nعشق غارت گر نے شہہ دی حسن آفت خیز کو\nشوق بسمل ہی سے کس بل بازوئے قاتل میں ہے\n\nکچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف\nورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے\n\nخود تجھے آ جائے گا عاشق نوازی کا خیال\nتیرا رہرو کیوں خیال دوریٔ منزل میں ہے\n\nمدعائے عشق میرا کچھ نہیں جز ذوق عشق\nحسن کو حیرت کہ یہ کس سعیٔ بے حاصل میں ہے\n\nاپنی شان بے نیازی پر تمہیں کیا کیا ہیں ناز\nکاش تم اس شوق کو جانو جو میرے دل میں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B6%D8%A8%D8%B7_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%B4%D8%B4_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ضد ہماری دعا سے ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ضد ہماری دعا سے ہوتی ہے\nہم سے کیا اب خدا سے ہوتی ہے\n\nنامہ بر جائے گا ہوا سے تیز\nشرط باد صبا سے ہوتی ہے\n\nنہ جفا سے ہے میرے دل کو قرار\nنہ تسلی وفا سے ہوتی ہے\n\nسینے سے جب اڑاتی ہے آنچل\nکھل کے باد صبا سے ہوتی ہے\n\nنزع میں ان سے پھیر لیں آنکھیں\nچار آنکھ اب قضا سے ہوتی ہے\n\nسچ تو یہ ہے کہ رنج و غم سے نجات\nبادۂ جانفزا سے ہوتی ہے\n\nچارہ گر اب دعا کو ہاتھ اٹھائیں\nکہ اذیت دوا سے ہوتی ہے\n\nدونوں پس پس کے رنگ لاتے ہیں\nچھیڑ دل سے حنا سے ہوتی ہے\n\nاے جنوں نوک جھونک کا ہے مزا\nخار سے نقش پا سے ہوتی ہے\n\nبت الجھتے ہیں روز مجھ سے ریاضؔ\nروز مجھ با خدا سے ہوتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B6%D8%AF_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے\nمنہ سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں نہ کریں گے\n\nکیوں زلف کا بوسہ مجھے لینے نہیں دیتے\nکہتے ہیں کہ واللہ پریشاں نہ کریں گے\n\nہے ذہن میں اک بات تمہارے متعلق\nخلوت میں جو پوچھو گے تو پنہاں نہ کریں گے\n\nواعظ تو بناتے ہیں مسلمان کو کافر\nافسوس یہ کافر کو مسلماں نہ کریں گے\n\nکیوں شکر گزاری کا مجھے شوق ہے اتنا\nسنتا ہوں وہ مجھ پر کوئی احساں نہ کریں گے\n\nدیوانہ نہ سمجھے ہمیں وہ سمجھے شرابی\nاب چاک کبھی جیب و گریباں نہ کریں گے\n\nوہ جانتے ہیں غیر مرے گھر میں ہے مہماں\nآئیں گے تو مجھ پر کوئی احساں نہ کریں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B6%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D9%88%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "ضرور بام پر آئے وہ بے نقاب کہیں", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ضرور بام پر آئے وہ بے نقاب کہیں\nنظر مجھے نہیں آتا ہے آفتاب کہیں\n\nوہاں پہ زخم ہیں مشتاق کب سے باتوں کے\nزبان تیغ سے ہی دیجئے جواب کہیں\n\nہنسی ہنسی میں تو وہ قتل عام کرتے ہیں\nقیامت آئے جو آئے انہیں عتاب کہیں\n\nلگا کے اس کو کلیجے سے رکھتے اے قاتل\nجو تیرے تیر کا ملتا ہمیں جواب کہیں\n\nشب وصال میں صفدرؔ کو تم نہ ترساؤ\nاٹھا بھی دو رخ پر نور سے نقاب کہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ضرور پاؤں میں اپنے حنا وہ مل کے چلے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ضرور پاؤں میں اپنے حنا وہ مل کے چلے\nنہ پہنچے آج بھی گھر تک مرے وہ کل کے چلے\n\nیہ دوستی ہے کہ ہے ساتھ آگ پانی کا\nجو نکلی آہ تو ساتھ اشک بھی نکل کے چلے\n\nلحد سے لائی قیامت ہے پاؤں پڑ پڑ کر\nٹھہر ٹھہر کے چلے ہم مچل مچل کے چلے\n\nہزاروں ٹھوکریں ہر اک قدم پر اس میں ہیں\nیہ راہ عشق ہے کیوں کر کوئی سنبھل کے چلے\n\nیہ مجھ کو وصل کی شب ہائے موت کیوں آئی\nحنا لگا کے جو آئے تھے ہاتھ مل کے چلے\n\nتمہاری راہ میں چلنے کی ہے خوشی ایسی\nکہ ساتھ نقش قدم بھی اچھل اچھل کے چلے\n\nمزا تو آئے جو لیں رند بڑھ کے ہاتھوں ہاتھ\nمزا تو آئے کہیں سے جو مے ابل کے چلے\n\nادا سے ناز سے چلنا قیامت ان کا تھا\nجو مل کے دل کو کلیجے مسل مسل کے چلے\n\nچلے وہ شمع جلانے مزار پر کس کے\nکہ ساتھ ساتھ عدو آگ ہو کے جل کے چلے\n\nتمہارے گیسو پرپیچ نے لیا ہم کو\nکہ منہ میں سانپ کے یا منہ میں ہم اجل کے چلے\n\nاٹھا جنازہ تو بولی یہ خانہ‌ بربادی\nنیا مکان ہے کپڑے نئے بدل کے چلے\n\nہزاروں داغ ہیں دل میں جگر میں لاکھوں زخم\nریاضؔ محفل خوباں سے پھول پھل کے چلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AD%D9%86%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%84_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "ضرورت اتحاد", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یا خدا ہند پر کرم فرما\nاس کی تکلیف کالعدم فرما\nہیں پریشاں بہت حواس اس کے\nنہیں ہمدرد کوئی پاس اس کے\nفقر و فاقہ سے پائمال ہے اب\nقرض میں اس کا بال بال ہے اب\nنہ ہی صنعت نہ اب تجارت ہے\nساری آسودگی وہ غارت ہے\nعلم و فن سے ہے اس کا گھر خالی\nعقل و ادراک سے ہے سر خالی\nاچھے اطوار مٹ گئے اس کے\nنیک کردار مٹ گئے اس کے\nخلق ہے اب نہ مہر و الفت ہے\nآتشی ہے نہ اب اخوت ہے\nرنگ بالکل ہے ملک کا بدلا\nسارا پانی ہے چاہ کا گدلا\nہر طرف جہل ہے لڑائی ہے\nدشمن آپس میں بھائی بھائی ہے\nنہ محبت ہے اب نہ ہمدردی\nنہ دلیری نہ اب جواں مردی\nنہ روا داری و شرافت ہے\nنہ اب امن و امان و راحت ہے\nہر طرف ہے فساد ہنگامہ\nکوئی رستم ہے اور کوئی گاما\nاب کہاں صلح و خیر کی باتیں\nجب ہیں کانوں میں غیر کی باتیں\nجان بل کی ہیں سازشیں جاری\nملک پر ہیں نوازشیں جاری\nایک سے ہے کبھی شناسائی\nدوسرے کے لیے کبھی سائی\nکبھی ان کو لڑا دیا سب سے\nکبھی ان کو بھڑا دیا سب سے\nکبھی ان کو پولس و تھانہ ہے\nاور کبھی ان کو جیل خانہ ہے\nیہی منظر یہاں ہے شام و سحر\nبس یہی ہو رہا ہے آٹھ پہر\nجانتا ہے ہر اک یہ سب باتیں\nپھر بھی خالی نہیں حوالاتیں\nوہی جنگ و جدل وہی جھگڑے\nوہی بغض و عناو کے رگڑے\nیا خدا دے ہمیں وہ عقل سلیم\nکہ سمجھ ہم سکیں ہر اک سکیم\nپڑ سکے پھر نہ کوئی زد ہم پر\nکھل سکیں سارے نیک و بد ہم پر\nختم کر دیں یہ تفرقہ سازی\nآگ میں جھونک دیں تبر یازی\nسب کریں مل کے ملک کی خدمت\nدور ہو اس کی عسرت و نکبت\nحکمت و فن وطن میں پھیلائیں\nشاہراہیں مسل کی کھل جائیں\nعلم و سائنس ملک میں بھر دیں\nاس زمیں کو ہم آسماں کر دیں\nہم پہ کھل جائیں سب وہ عقل کے راز\nہو اس کا یورپ کے طرۂ اعزاز\nصنعتوں کی ہو گرم بازاری\nگاؤں گاؤں میں ہوں ملیں جاری\nریل، موٹر، جہاز ،طیارے\nخود یہ تیار ہم کریں سارے\nکبھی صحرا ہو مستقر اپنا\nہو کبھی ٹاپوؤں میں گھر اپنا\nمانچسٹر پہ خاک ڈالیں گے\nگھر سے جاپان کو نکالیں ہم\nنہ رہیں ہم کسی کے بھی محتاج\nملک اپنا ہو اور اپنا راج\nہم میں گر اتحاد ہو جائے\nملک آباد شاد ہو جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D8%AF"} {"title": "ضعف آتا ہے دل کو تھام تو لو", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "ضعف آتا ہے دل کو تھام تو لو\nبولیو مت بھلا سلام تو لو\n\nکون کہتا ہے بولو مت بولو\nہاتھ سے میرے ایک جام تو لو\n\nہم صفیرو چھٹو گے مت تڑپو\nدم ابھی آ کے زیر دام تو لو\n\nانہیں باتوں پہ لوٹتا ہوں میں\nگالی پھر دے کے میرا نام تو لو\n\nاک نگہ پر بکے ہے انشاؔ آج\nمفت میں مول اک غلام تو لو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B6%D8%B9%D9%81_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D9%84%D9%88"} {"title": "ضمیرِ لالہ مئے لعل سے ہُوا لبریز", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ضمیرِ لالہ مئے لعل سے ہُوا لبریز\nاشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز\n\nبچھائی ہے جو کہیں عشق نے بساط اپنی\nکِیا ہے اس نے فقیروں کو وارثِ پرویز\n\nپُرانے ہیں یہ ستارے، فلک بھی فرسُودہ\nجہاں وہ چاہیے مجھ کو کہ ہو ابھی نَوخیز\n\nکسے خبر ہے کہ ہنگامۂ نشور ہے کیا\nتری نگاہ کی گردش ہے میری رستاخیز\n\nنہ چھین لذّتِ آہِ سحَرگہی مجھ سے\nنہ کر نِگہ سے تغافل کو التفات آمیز\n\nدلِ غمیں کے موافق نہیں ہے موسمِ گُل\nصدائے مُرغِ چمن ہے بہت نشاط انگیز\n\nحدیثِ بے خبراں ہے، تو با زمانہ بساز\nزمانہ با تو نسازد، تو با زمانہ ستیز", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B6%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%90_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%D9%85%D8%A6%DB%92_%D9%84%D8%B9%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%8F%D9%88%D8%A7_%D9%84%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D8%B2"} {"title": "ضمیرِ مغرب ہے تاجرانہ، ضمیرِ مشرق ہے راہبانہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "ضمیرِ مغرب ہے تاجرانہ، ضمیرِ مشرق ہے راہبانہ\nوہاں دِگرگُوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہ\nکنارِ دریا خضَر نے مجھ سے کہا بہ اندازِ محرمانہ\nسکندری ہو، قلندری ہو، یہ سب طریقے ہیں ساحرانہ\nحریف اپنا سمجھ رہے ہیں مجھے خدایانِ خانقاہی\nاُنھیں یہ ڈر ہے کہ میرے نالوں سے شق نہ ہو سنگِ آستانہ\nغلام قوموں کے علم و عرفاں کی ہے یہی رمزِ آشکارا\nزمیں اگر تنگ ہے تو کیا ہے، فضائے گردُوں ہے بے کرانہ\nخبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی\nعمل سے فارغ ہُوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ\nمری اسیری پہ شاخِ گُل نے یہ کہہ کے صیّاد کو رُلایا\nکہ ایسے پُرسوز نغمہ خواں کا گراں نہ تھا مجھ پہ آشیانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B6%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%90_%D9%85%D8%BA%D8%B1%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%AC%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%8C_%D8%B6%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%90_%D9%85%D8%B4%D8%B1%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%A7%DB%81%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "طارق کی دُعا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "یہ غازی، یہ تیرے پُر اسرار بندے\nجنھیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی\nدونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا\nسِمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی\nدو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو\nعجب چیز ہے لذّتِ آشنائی\nشہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن\nنہ مالِ غنیمت نہ کِشور کشائی\nخیاباں میں ہے مُنتظر لالہ کب سے\nقبا چاہیے اس کو خُونِ عرب سے\n\nکیا تُو نے صحرا نشینوں کو یکتا\nخبر میں، نظر میں، اذانِ سحَر میں\nطلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو\nوہ سوز اس نے پایا انھی کے جگر میں\nکُشادِ درِ دل سمجھتے ہیں اس کو\nہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں\nدلِ مردِ مومن میں پھر زندہ کر دے\nوہ بجلی کہ تھی نعرۂ ’لَاتَذَر‘ میں\nعزائم کو سینوں میں بیدار کر دے\nنگاہِ مسلماں کو تلوار کر دے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%A7%D8%B1%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%8F%D8%B9%D8%A7"} {"title": "طاعت میں جواں ہوتے تو کرتے تقصیر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "طاعت میں جواں ہوتے تو کرتے تقصیر\nوہ سر میں نشہ نہیں ہوئے ہیں اب پیر\nاب کی روزوں میں یہ سنا ہے ہم نے\nمیخانے میں بیٹھے معتکف ہوکر میرؔ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%A7%D8%B9%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%D8%AA%D9%82%D8%B5%DB%8C%D8%B1"} {"title": "طاق ابرو ہیں پسند طبع اک دل خواہ کے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طاق ابرو ہیں پسند طبع اک دل خواہ کے\nعمر ہوتی ہے بسر گنبد میں بسم اللہ کے\n\nجاؤں کیوں کر بن بلائے اس بت دل خواہ کے\nبے طلب کوئی نہیں پہونچا حضور اللہ کے\n\nروئے نورانی کا تیرے ہو گیا ہے شک جو یار\nرات بھر دوڑا ہوں کیا کیا پیچھے پیچھے ماہ کے\n\nشام وصل آئی ادھر موجود تھی صبح فراق\nکم گھڑی سے بھی پہر ہیں اس شب کوتاہ کے\n\nداغ عشق حسن کا لقمہ نوالہ ہے کڑا\nسیر دل ہیں کھانے والے اس غم جاں کاہ کے\n\nناتوانی سے ہے حالت غیر ہجر یار میں\nدم نکل جاتا ہے اپنا ساتھ ہر اک آہ کے\n\nعشق بت میں کوہ پر جا جا کے سر پٹکا کئے\nپاؤں کو صدمے رہے پست و بلند راہ کے\n\nسالہا عشق زنخداں نے لہو پانی کیا\nمدتوں روئے ہیں جا جا کر کنارے چاہ کے\n\nحشر تک یوں ہی رہیں گے غمزہ و انداز و ناز\nعشق عالی منزلت سے حسن والا جاہ کے\n\nجا نکلتا ہے جو مجھ سا تشنۂ دیدار حسن\nذکر یوسف کرنے لگتے ہیں کبوتر چاہ کے\n\nمنزل مقصود میں چل کر نکالوں گا انہیں\nآبلوں میں یہ جو ہیں پیوست کانٹے راہ کے\n\nاس بت بے دیں کی زلفوں کا اشارہ ہے یہی\nاس بلا میں وہ پھنسیں عاشق ہوں جو اللہ کے\n\nکب سمائی ہے نظر میں روشنیٔ آفتاب\nچشم بینا رکھتے ہیں ذرے تری درگاہ کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%A7%D9%82_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF_%D8%B7%D8%A8%D8%B9_%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%92"} {"title": "طاقت صبر ترے بے سر و ساماں میں نہیں", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طاقت صبر ترے بے سر و ساماں میں نہیں\nاستقامت اسے اس عالم امکاں میں نہیں\n\nڈھونڈھتا کیا ہے اسے جا کے ادھر اور ادھر\nکیا ترے دل میں نہیں دیدۂ حیراں میں نہیں\n\nکیا کہوں آہ میں تشبیہ نہیں دے سکتا\nکوئی گل زخم جگر سا تو گلستاں میں نہیں\n\nتھام سکتے ہی نہیں خار بیاباں مجھ کو\nتار باقی کوئی اب تو مرے داماں میں نہیں\n\nلے گیا جذب دل زار صنم تک ان کو\nایک لاشہ بھی یہاں گور غریباں میں نہیں\n\nدیکھ تو چیر کے پہلو میں دکھا دیتا ہوں\nجز غم یار کوئی اس دل ویراں میں نہیں\n\nنو گرفتار محبت ہوں یہی باعث ہے\nنغمہ زن مجھ سا کوئی مرغ گلستاں میں نہیں\n\nحلقۂ چشم میں زنجیر کے ان اعضا میں\nایسی کاہیدگی آئی کہ جو مژگاں میں نہیں\n\nدیکھ کر اس لب رنگیں کو جمیلہؔ نے کہا\nجو دمک اس میں ہے وہ لعل بدخشاں میں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%A7%D9%82%D8%AA_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "طاقت نہیں ہے جی میں نے اب جگر رہا ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طاقت نہیں ہے جی میں نے اب جگر رہا ہے\nپھر دل ستم رسیدہ اک ظلم کر رہا ہے\n\nمارا ہے کس کو ظالم اس بے سلیقگی سے\nدامن تمام تیرا لوہو میں بھر رہا ہے\n\nپہنچا تھا تیغ کھینچے مجھ تک جو بولے دشمن\nکیا مارتا ہے اس کو یہ آپھی مر رہا ہے\n\nآنے کہا ہے میرے خوش قد نے رات گزرے\nہنگامۂ قیامت اب صبح پر رہا ہے\n\nچل ہم نشیں کہ دیکھیں آوارہ میرؔ کو ٹک\nخانہ خراب وہ بھی آج اپنے گھر رہا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%A7%D9%82%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے\nکیا ناز کر رہے ہو اب ہم میں کیا رہا ہے\n\nجیب اور آستیں سے رونے کا کام گزرا\nسارا نچوڑ اب تو دامن پر آ رہا ہے\n\nاب چیت گر نہیں کچھ تازہ ہوا ہوں بیکل\nآیا ہوں جب بہ خود میں جی اس میں جا رہا ہے\n\nکاہے کا پاس اب تو رسوائی دور پہنچی\nراز محبت اپنا کس سے چھپا رہا ہے\n\nگرد رہ اس کی یا رب کس اور سے اٹھے گی\nسو سو غزال ہر سو آنکھیں لگا رہا ہے\n\nبندے تو طرحدار وہیں طرح کش تمہارے\nپھر چاہتے ہو کیا تم اب اک خدا رہا ہے\n\nدیکھ اس دہن کو ہر دم اے آرسی کہ یوں ہی\nخوبی کا در کسو کے منہ پر بھی وا رہا ہے\n\nوے لطف کی نگاہیں پہلے فریب ہیں سب\nکس سے وہ بے مروت پھر آشنا رہا ہے\n\nاتنا خزاں کرے ہے کب زرد رنگ پر یاں\nتو بھی کسو نگہ سے اے گل جدا رہا ہے\n\nرہتے ہیں داغ اکثر نان و نمک کی خاطر\nجینے کا اس سمیں میں اب کیا مزہ رہا ہے\n\nاب چاہتا نہیں ہے بوسہ جو تیرے لب سے\nجینے سے میرؔ شاید کچھ دل اٹھا رہا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%A7%D9%82%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D8%A8%D8%AC%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "طاقت وہ ہے با اثر جو سلطانی ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "طاقت وہ ہے با اثر جو سلطانی ہے\nاس جا ہے چمک جہاں زر افشانی ہے\nتعلیم وہ خوب ہے جو سکھلائے ہنر\nاچھی ہے وہ تربیت جو روحانی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%A7%D9%82%D8%AA_%D9%88%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%A7_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "طالب خدا سے عدل کے خواہاں کرم کے ہیں", "poet_page": "مصنف:رادھے شیام رستوگی احقر", "kind": "poetry", "section": "غزل > نقشہاے رنگ رنگ (1929)", "year": "1929", "text_ur": "طالب خدا سے عدل کے خواہاں کرم کے ہیں\nمظلوم ہم بتوں کے جفا و ستم کے ہیں\n\nامید وار جاہ نہ طالب حشم کے ہیں\nہم بادشاہ کشور عشق صنم کے ہیں\n\nدنیا سرا ہے ہم ہیں مسافر ٹھہر گئے\nملک بقا سے آئے ہیں عازم عدم کے ہیں\n\nدل بھی جگر بھی جان بھی سینہ بھی عشق میں\nیہ سب مکان صدمہ و درد و الم کے ہیں\n\nطالب ہیں گنج وصل کے اک سمت میں سے یہ\nاحقرؔ تو آج پھیر میں گہری رقم کے ہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "طالب دید پہ آنچ آئے یہ منظور نہیں", "poet_page": "مصنف:صفی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طالب دید پہ آنچ آئے یہ منظور نہیں\nدل میں ہے ورنہ وہ بجلی جو سر طور نہیں\n\nدل سے نزدیک ہیں آنکھوں سے بھی کچھ دور نہیں\nمگر اس پہ بھی ملاقات انہیں منظور نہیں\n\nہم کو پروانہ و بلبل کی رقابت سے غرض\nگل میں وہ رنگ نہیں شمع میں وہ نور نہیں\n\nخلوت دل نہ سہی کوچۂ شہہ رگ ہی سہی\nپاس رہ کر نہ سہی آپ سے کچھ دور نہیں\n\nذوق پابند وفا کیوں رہے محروم جفا\nعشق مجبور سہی حسن تو مجبور نہیں\n\nتابش حسن نے جب ڈال دیے ہوں پردے\nممکن آنکھوں سے علاج دل رنجور نہیں\n\nلاؤ مے خانے ہی میں کاٹ نہ دیں اتنی رات\nمسجدیں ہو گئیں معمور یہ معمور نہیں\n\nچھیڑ دے ساز انا الحق جو دوبارہ سر دار\nبزم رنداں میں اب ایسا کوئی منصور نہیں\n\nکبھی کیسے ہو صفیؔ پوچھ تو لیتا کوئی\nدل دہی کا مگر اس شہر میں دستور نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%D9%BE%DB%81_%D8%A2%D9%86%DA%86_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "طالب عشق ہے کیا سالک عریاں نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طالب عشق ہے کیا سالک عریاں نہ ہوا\nقرب مہجور ہوا واصل جاناں نہ ہوا\n\nہیں جنوں جوش وہی جذب کا نسیاں نہ ہوا\nقطرہ دریا جو ہوا آئنہ حیراں نہ ہوا\n\nکیا سیہ مست ہوا کیف میں رقصاں نہ ہوا\nجام سر جوش سے بھی سالک وجداں نہ ہوا\n\nوصل موعود سے آشوب تمنا ہے عدم\nبے تمنا ترا آشفتۂ ہجراں نہ ہوا\n\nمیں جو مجذوب ازل تھا نہ گئی محویت\nصبح محشر سے مرا چاک گریباں نہ ہوا\n\nدید بے چون و چگوں سیر لطائف میں جو تھی\nمحو آئینۂ نیرنگئی الواں نہ ہوا\n\nوسعت مشرب رنداں ہے طلسم حیرت\nیے کسی تنگ فضا دل کا بیاباں نہ ہوا\n\nصورت حال نے مشہود کیا کیف بطوں\nراز سر بستہ مرا گریۂ پنہاں نہ ہوا\n\nجمع کیوں فرق ہو نیرنگ مظاہر کے سبب\nتیرا منظور نظر آنکھوں سے پنہاں نہ ہوا\n\nآنکھ سے آنکھ لڑی چین جبیں محو ہوئی\nشوق دیدار مرا جلوا پشیماں نہ ہوا\n\nجام سرشار میں کچھ کیف نہ آیا ہم کو\nساقیؔٔ مست جو سر حلقہ مستاں نہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%84%DA%A9_%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "طالب علم", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "تمہیں معلوم ہے تیمور کی فوجیں جس وقت\nاپنے دشمن پہ بڑھا کرتی تھیں\nعورتیں پیچھے رہا کرتی تھیں\nاور جو عالم تھے فاضل تھے ان انسانوں کا جرگہ سب کے\nپیچھے پیچھے ہی چلا کرتا تھا\nکس لیے سب کو رہ زیست پہ ہر گام بڑھانے والے\nسب سے پیچھے ہی چلا کرتے ہیں\nعلم میں ایک ہی بنیادی کمی ہے ورنہ\nعلم ہر ایک زمانے میں ہر ایک شے سے ترقی پاتا\nآج اقبال یہ کہتا ہے کہ عورت ہی کا شعلہ وہ جس سے یونان\nحشر تک علم فلاطون سے رہے گا زندہ\nآج اسکول میں کالج میں مقام اول\nعورتوں کے لیے مخصوص کیے جاتے ہیں\nآج انگریزی پڑھی جاتی ہے جغرافیہ تاریخ ہر اک علم یہاں\nایسے استاد سکھاتا ہے کہ جیسے ہم کو\nیہی معلوم نہیں ہے کہ جو عالم تھے جو فاضل تھے ان انسانوں کا جرگہ سب سے\nپیچھے پیچھے ہی بڑھا کرتا تھا\nعورتیں ان سے ذرا آگے رہا کرتی تھیں\nعورتیں آج بھی آگے ہی رہا کرتی ہیں\nعورتیں آج بھی کہتی ہیں ہمارے گیسو\nچاہے بکھرے ہوں کہ ایک جوڑے میں پابند کیے بیٹھے ہوں\nدیکھنے والوں کی ناکام تمناؤں کو\nایک ہی ہاتھ کے پابند ہوا کرتے ہیں\nوہی اک ہاتھ جو تلوار کو پہلو میں لیے\nسب سے آگے ہی چلا کرتا ہے\nاس کو کچھ علم کی پرواہ نہیں (عورت کی بھی پرواہ کیا ہے)\nاس کو کچھ علم نہیں کیسے فلاطوں پل میں\nاک شرر بن کے بجھا کرتا ہے\n\nسامنے تو ہے مگر تیرا منور چہرہ\nاسی جاہل کو نظر آتا ہے\nجو یہ کہتا ہے کہ تیمور کی فوجیں جس وقت\nاپنے دشمن پہ بڑھا کرتی تھیں\nعورتیں پیچھے رہا کرتی تھیں\nاور جو عالم تھے جو فاضل تھے وہ یہ سوچتے تھے\nہار کس شخص کی ہے جیت ہے کس کی چھوڑو\nہم بھی کن چھوٹی سی باتوں میں الجھ بیٹھے ہیں\nچلتے چلتے مجھے تیزی سے خیال آیا ہے\nتیرا یہ جوڑا جو کھل جائے بکھر جائے تو پھر کیا ہوگا\nمیری تاریخ کہ تیری تاریخ\nپھیل کر آج پہ (اور کل پہ بھی) چھا جائے گی\nسوچنے والے کو اک پل میں بتا جائے گی\nعورتیں پیچھے اگر ہوں بھی تو آگے ہی رہا کرتی ہیں\nاور فلاطوں کا چچا ہاتھ میں تلوار لیے آگے بڑھا کرتا ہے\nلو وہ جوڑا بھی فلاطوں ہی سے کچھ کہنے لگا\nاور رستے میں اسے کون ملے گا تیمور\nاور وہ اس سے کہے گا کہ یہاں کیوں آئی\nجا مرے پیچھے چلی جا کہ ترے پیچھے ہمیشہ ہر دم\nعلم یوں رینگتے ہی رینگتے بڑھتا جائے\nجیسے ہر بات کے پیچھے ہر بات\nرینگتے رینگتے بڑھتی ہی چلی جاتی ہے\nاور ہر ایک فلاطوں جو شرر بن کے چمکتا ہے وہ مٹ جاتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8_%D8%B9%D9%84%D9%85"} {"title": "طالبِ علم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "خدا تجھے کسی طُوفاں سے آشنا کر دے\nکہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں\nتجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تُو\nکتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D9%90_%D8%B9%D9%84%D9%85"} {"title": "طالعِ خفتۂ دشمن نہ جگانا شبِ وصل", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طالعِ خفتۂ دشمن نہ جگانا شبِ وصل\nدیکھ اے مرغِ سحر غل نہ مچانا شبِ وصل\n\nان کو منظور نہیں نیند کا آنا شبِ وصل\nاس لئے کہتے ہیں غیروں کا فسانہ شبِ وصل\n\nصبر پروانے کا مجھ پر نہ پڑے ڈرتا ہوں\nماہ رو شمع کو ہرگز نہ جلانا شبِ وصل\n\nخواہشِ کامِ دل اتنی نہ کر اے شوق کہ وہ\nڈھونڈتے ہیں چلے جانے کو بہانا شبِ وصل\n\nآپ منت سے بلانے تجھے کیوں کر آؤں\nغیر کے گھر میں ہے تیرا تو ٹھکانا شبِ وصل\n\nشان میں صحبتِ ناکس سے خلل آتا ہے\nصبحِ ہجراں کو بس اب منہ نہ لگانا شبِ وصل\n\nتیرگی بختِ سیہ سے مرے لا جا کہ ضرور\nجلوہ اس مہر لقا کا ہے چھپانا شبِ وصل\n\nروزِ ہجراں میں اٹھے جاتے ہو کیوں دنیا سے\nشیفتہ اور بھی تم لطف اٹھانا شبِ وصل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%90_%D8%AE%D9%81%D8%AA%DB%82_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%D9%86%DB%81_%D8%AC%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%B4%D8%A8%D9%90_%D9%88%D8%B5%D9%84"} {"title": "طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے\nمرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے\n\nسحر ہونے کو ہے بیدار شبنم ہوتی جاتی ہے\nخوشی منجملہ و اسباب ماتم ہوتی جاتی ہے\n\nقیامت کیا یہ اے حسن دو عالم ہوتی جاتی ہے\nکہ محفل تو وہی ہے دل کشی کم ہوتی جاتی ہے\n\nوہی مے خانہ و صہبا وہی ساغر وہی شیشہ\nمگر آواز نوشا نوش مدھم ہوتی جاتی ہے\n\nوہی ہیں شاہد و ساقی مگر دل بجھتا جاتا ہے\nوہی ہے شمع لیکن روشنی کم ہوتی جاتی ہے\n\nوہی شورش ہے لیکن جیسے موج تہ نشیں کوئی\nوہی دل ہے مگر آواز مدھم ہوتی جاتی ہے\n\nوہی ہے زندگی لیکن جگرؔ یہ حال ہے اپنا\nکہ جیسے زندگی سے زندگی کم ہوتی جاتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%BA%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "طبیعت کوئی دن میں بھر جائے گی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طبیعت کوئی دن میں بھر جائے گی\nچڑھی ہے یہ آندھی اتر جائے گی\n\nرہیں گی دم مرگ تک خواہشیں\nیہ نیت کوئی آج بھر جائے گی\n\nرہے پیروی ہجر ہو یا وصال\nکہ اک بات آخر ٹھہر جائے گی\n\nمحبت میں اے دل نہ ڈر سر پہ کھیل\nوہ بازی نہیں یہ کہ ہر جائے گی\n\nنہ گزری شب ہجر سمجھے تھے ہم\nتڑپتے پھڑکتے گزر جائے گی\n\nدیا دل تو اے داغؔ اندیشہ کیا\nگزرنی جو ہوگی گزر جائے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "طرح اولے کی جو خلقت میں ہم آبی ہوتے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طرح اولے کی جو خلقت میں ہم آبی ہوتے\nاپنے ہی واسطے بنیاد خرابی ہوتے\n\nوہ جو سوتے ہیں فراغت سے انہوں کے سینے\nکاش یک شب ہدف تیر شہابی ہوتے\n\nمے نہ پیتے کبھی گل زار میں ہم یار بغیر\nپھول شبو کے جو یک دست گلابی ہوتے\n\nدل سے گرد غم کونین تو دھوئی جاتی\nکاش ہم کشتۂ شمشیر دو نابی ہوتے\n\nگر سمجھتے وہ کبھی معنیٔ متن قرآں\nچہرے شراح کے ہرگز نہ کتابی ہوتے\n\nعمر کے فوت کا ہم مرثیہ پڑھتے جو کبھو\nآن کر خضر و مسیح اپنے جوابی ہوتے\n\nاپنی قسمت میں تو محرومیٔ جاوید تھی آہ\nورنہ ہم شیفتۂ روئے نقابی ہوتے\n\nروکشی کرنے کو ہم بحر سے جاتے مجنوں\nآبلے پائے جنوں کے جو حبابی ہوتے\n\nآتش دل ہی فروزاں نہ ہوئی ورنہ ہمیں\nالف تیغ بتاں سیخ کبابی ہوتے\n\nہم کو دشوار تھا پھر روئے زمیں پر رہنا\nکوکب بخت ہمارے جو شہابی ہوتے\n\nکوئے عشاق سے گزرا نہ وہ کافر ورنہ\nلوگ رستے کے بہ تقلید شرابی ہوتے\n\nماہ ہی بس ہے ہمیں گو کہ نہ ہووے خورشید\nمردہ کیوں ڈھونڈتے فرنی کی رکابی ہوتے\n\nنیم رنگ اس کی حنا دیکھ نہ مرتے گر ہم\nپھول تربت کے ہمارے نہ گلابی ہوتے\n\nمصحفیؔ نالہ خموشی سے کیا میں نے بدل\nتا کجا تار نفس تار ربابی ہوتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D9%84%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%A8%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92"} {"title": "طرز اے رشک چمن اب تری کچھ تازی ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "وسوخت", "year": null, "text_ur": "طرز اے رشک چمن اب تری کچھ تازی ہے\nساتھ غیروں کے مرے حق میں سخن سازی ہے\nداغ رکھنے کو مرے ان ہی سے گل بازی ہے\nہمدمی ان سے انھیں سب سے ہم آوازی ہے\nگوش کر میرے بھی شکوے کی طرف گل کے رنگ\nرکتے رکتے روش غنچہ ہوا ہوں دل تنگ\n\nایک مدت ہوئی بدنامی و رسوائی ہے\nبیکسی بے دلی درویشی و تنہائی ہے\nصبح جب دی ہے دعا گالی تری کھائی ہے\nابتدا سے مری ذلت تجھے خوش آئی ہے\nخلق کیا کیا تری بے طوریوں سے کہتی نہیں\nمیں بھی ناچار ہوں اب منھ میں زباں رہتی نہیں\n\nملتفت حال پہ رہنا ہے مرے اب موقوف\nبات گر دن کو کوئی ہوگئی تو شب موقوف\nاے فریبندہ سخن رابطے کے سب موقوف\nمہر و الطاف و عنایات و کرم جب موقوف\nمہربانی سے کبھو کوئی جو ایدھر کی نگاہ\nسو بھی اس طور کہ کیا جانیے کیدھر کی نگاہ\n\nمیں جو صحبت میں ہوں بیٹھا تو رکے بولو ہو\nآنکھیں ایدھر سے جو موندو ہو سو کم کھولو ہو\nنام لیتے ہو کراہت سے مرا جو لو ہو\nلگ چلے غیر تو تابع اسی کے ہو لو ہو\nروے حرف اس کی طرف چشم حمایت اودھر\nابرو اودھر کو جھکے لطف و عنایت اودھر\n\nپیار تجھ کو نہ کیا کرتے اگر جانتے ہم\nکاشکے تیری روش پہلے ہی پہچانتے ہم\nجھوٹے جھوٹے ترے وعدے نہ کبھو مانتے ہم\nجی میں اب ٹھانی ہے جو کچھ سو تبھی ٹھانتے ہم\nاس قدر تجھ سے نہ لگ چلتے نہ آتے اس راہ\nتو پری ہوتا تو کرتے نہ تری اور نگاہ\n\nیہ فریبندہ سخن گوش نہ کرتے ہرگز\nخواہش کنج دہن دل پہ نہ دھرتے ہرگز\nبے شب وصل دن اس طور نہ بھرتے ہرگز\nلعل جاں بخش پہ یوں تیرے نہ مرتے ہرگز\nاتفاقات سے ہو جاتی ملاقات تو خیر\nدل تجرد پہ رکھا جب نہ کوئی یار نہ غیر\n\nعشوہ و ناز و ادا سے کسو کو پھر کیا کام\nجی نہ بے چین رہا کرتا نہ دل بے آرام\nہوگیا یوں تو کبھو ہوگیا آپس میں کلام\nبے رخ و زلف رکن کاہے کو ہر صبح و شام\nجنس اچھی تری پر گرمی بازار کہاں\nسرگراں تو تو بہت ہے پہ خریدار کہاں\n\nتجھ سے بے مہر و وفا دل کا لگانا تھا غلط\nآپ کو حرف غلط رنگ مٹانا تھا غلط\nخط دے قاصد کو تری اور چلانا تھا غلط\nآتش غم سے مرا جی کا جلانا تھا غلط\nاپنی نادانی نہ سمجھے کہ تو کیا نسخہ ہے\nآدمی بھی کسو دانا کا لکھا نسخہ ہے\n\nغم نہیں تجھ کو مری یاری وفاداری کا\nنہ خیال آوے ہے بندے کی گرفتاری کا\nطور چھوڑا نہ تنک تونے ستمگاری کا\nوہی عشوہ ہے شب و روز دل آزاری کا\nپرسش حال کا بھی مجھ کو نہ ممنوں رکھا\nہے یہ خاطر کہ حزیں دل کے تئیں خوں رکھا\n\nترک اخلاص کیا سب سے تجھے پیار کیا\nرحم دل پر نہ کیا جان کو آزار کیا\nچاہ سے اپنی عبث تجھ کو خبردار کیا\nکیا کیا ہم نے کہ اس معنی کا اظہار کیا\nجوکہ الفاظ نہ شایاں تھے سو تو کہنے لگا\nوجہ بے وجہ تو روپوش ہی اب رہنے لگا\n\nآرسی کی کبھی صورت نہ دکھاتے تجھ کو\nطرز یہ سرمہ کشی کی نہ سجھاتے تجھ کو\nدلربائی کے نہ انداز بتاتے تجھ کو\nکیوں بگڑتا تو جو ایسا نہ بناتے تجھ کو\nمستی چشم سے ہوتی نہ اگر تجھ کو خبر\nایسی ہشیاری سے کرتا نہ تو ایدھر کو نظر\n\nاور مہ پارہ بھی اس شہر میں مشہور ہے اب\nاس کی محبوبی و خوبی ہی کا مذکور ہے اب\nدیکھنا کچھ ہو اسی کا مجھے منظور ہے اب\nصرف اس پر کروں گا اپنا جو مقدور ہے اب\nاس کنے ضد سے تری شام و سحر جاؤں گا\nگھر سے جس دم اٹھوں گا اس کے ہی گھر جاؤں گا\n\nوہ بھی سن شور وفا مجھ سے ملا چاہے ہے\nمختلط لطف و عنایت سے ہوا چاہے ہے\nکوئی دن راتوں کو مجھ پاس رہا چاہے ہے\nکام دل لوں ہوں اسی سے جو خدا چاہے ہے\nباؤ کا رخ تجھے بتلاؤں دم اس مہ کا بھروں\nخط تری بندگی کا کاغذ باد اس کا کروں\n\nمیں بھی ناچار ہوں تاچند جفائیں یہ سہوں\nقصد رکھتا ہوں کہ اس شہر میں ہرگز نہ رہوں\nیا اسی ماہ کنے جا رہوں گو اس میں نہ ہوں\nخوبیاں اور ترے حسن سلوک اس سے کہوں\nکیں ترا مہر مری دونوں ہیں اس پر معلوم\nاس کے معلوم ہوئے روے دل اودھر معلوم\n\nپھر تو جی کو میں کروں گا اسی مہ پر قرباں\nراہ و منزل پہ پھروں گا اسی کے دست افشاں\nبس بگولا سا ہوا تیرے لیے سرگرداں\nاس قدر مجھ کو دماغ اب ہے کہاں دل ہے کہاں\nکہ رہوں بیخود و بے خواب شبوں کو روتا\nکاش مشتاق ترے منھ کا نہ اتنا ہوتا\n\nاب تو جو کچھ ہو دل اس ساتھ لگا بیٹھوں گا\nاس کے دروازے پہ درویش ہو جا بیٹھوں گا\nہاتھ واسوختہ ہو تجھ سے اٹھا بیٹھوں گا\nآؤں گا بھی تو ترے پاس نہ آ بیٹھوں گا\nدور سے ایک نظر کرکے چلا جاؤں گا\nسو بھی کتنے دنوں پھر کاہے کو میں آؤں گا\n\nلاگ ہے جس سے نئی اس سے رکھوں قیل و قال\nدل نشیں اس کے کروں خوب طرح کہنہ مقال\nساری مجلس کے تئیں اس کی کروں واقف حال\nبعد ازاں ترک کروں کھا کے قسم تیرا خیال\nپھر کبھو وہم میں بھی گذرے نہ ملنا تیرا\nجب نہ تب در پہ اسی کے رہے ماتھا میرا\n\nلگ چلوں اس سے صبا کی سی طرح شام و سحر\nاس کے پاؤں تلے کی خاک کروں کحل بصر\nروے گل رنگ سے اس کے نہ اٹھے میری نظر\nچپکے اس کے لب شیریں سے رہیں دیدۂ تر\nدرہمی حال کی اس گیسوے برہم سے رہے\nجی کو بے طاقتی اس قد کے چم و خم سے رہے\n\nناز بیجا ترے دل پھر نہ اٹھاوے ہرگز\nبات یہ تیری فریبندہ نہ بھاوے ہرگز\nطرز رفتار تری جی میں نہ آوے ہرگز\nآنکھ خوبی کی طرف تیری نہ جاوے ہرگز\nوہ جو سادہ ہے تو پرکار بھی ہوجاوے گا\nاب جو بیگانہ سا ہے یار بھی ہوجاوے گا\n\nفن معشوقی میں تیار کروں گا اس کو\nشانہ و آئینہ سے یار کروں گا اس کو\nحسن سے اس کے خبردار کروں گا اس کو\nضد سے میں تیری بہت پیار کروں گا اس کو\nفرش رہ دیدۂ نمناک کروں گا واں کے\nپلکوں سے خار و خسک پاک کروں گا واں کے\n\nہوگیا مجھ سے جو مانوس تو مرزا ہوگا\nپوشش تنگ کا مصروف مہیا ہوگا\nگھیر جامے کا نہ سو گز سے کم اس کا ہوگا\nلپٹے بندوں کا بر و دوش پہ لچھا ہوگا\nچلتے دامن کے تئیں لگتی رہے گی ٹھوکر\nہوگا ہنگامہ ادھر نکلے گا جیدھر ہوکر\n\nکس و ناکس اسی مہ پارے کا مفتوں ہوگا\nایسی سج سے تو اسے دیکھ کے محزوں ہوگا\nرشک سے اس کے ترا حال دگرگوں ہوگا\nدل نازک ترا دھڑکے گا جگر خوں ہوگا\nشرم سے ہوگا نہ اک آنکھ اٹھانا مشکل\nبلکہ ہوجاوے گا اس کوچے میں آنا مشکل\n\nطنز و تعریض و کنائے سے بتنگ آوے گا\nناز کا طور فراموش ہی ہوجاوے گا\nربط و اخلاص میں ویسا نہ مجھے پاوے گا\nیہ سخن یاد رہے دل میں تو پچھتاوے گا\nآشنا جتنے ہیں بیگانہ نکل جاویں گے\nسر جھکائے اسی کی اور چلے آویں گے\n\nاب بھی گر سمجھے تو مجھ کو ہے وہی تجھ سے پیار\nچھیڑ کا ننگ نہیں تیری نہ گالی کا ہے عار\nوہی مخلص ہوں قدیمی وہی میں تیرا یار\nبندگی کیش وفاشیوہ و اخلاص شعار\nچوٹ مجھ کو بھی تو غیروں کی ملاقات کی ہے\nچھوڑے یہ تو تو پھر آزردگی کس بات کی ہے\n\nجی نہ تڑپے گا مرا پھر نہ مری چھاتی جلے\nدل نہ سینے میں مرے شام و سحر کوئی ملے\nشکوہ ناکی سے زباں منھ میں نہ زنہار ہلے\nآئے چلتے کہیں سے تو لیے لگ تیرے گلے\nزور سے بازو پہ اپنے ترے سر کو رکھا\nدست گستاخ پہ لے تیری کمر کو رکھا\n\nبس ہوس کیشوں سے مل مل کے تو بدنام ہوا\nبسکہ راتوں کو رہا شہرۂ ایام ہوا\nکاسہ لیسوں کے گہے مرتکب جام ہوا\nشوخ و شلتاقی و بدوضع و مے آشام ہوا\nطور پر میرے معیشت کوئی دن اچھی ہے\nایسے بدکار سے صحبت کوئی دن اچھی ہے\n\nآ اگر غیر کے ملنے کی قسم کھاتا ہے\nمیرؔ بھی حرف درشتانہ سے شرماتا ہے\nذوق ویسا ہی ہے اس کا تو اسے بھاتا ہے\nدل کے واسوز سے منھ پر یہ سخن لاتا ہے\nورنہ مشتاق ہے سو جی سے جگرخستہ ترا\nکشتہ و مردہ ترا رفتہ و دل بستہ ترا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%B1%D8%B2_%D8%A7%DB%92_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "طرز قدسی میں کبھی شیوۂ انساں میں کبھی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طرز قدسی میں کبھی شیوۂ انساں میں کبھی\nہم بھی اک چیز تھے اس عالم امکاں میں کبھی\n\nرنج میں رنج کا راحت میں ہوں راحت کا شریک\nخاک ساحل میں کبھی موج ہوں طوفاں میں کبھی\n\nدل میں بے لطف رہی خار تمنا کی خلش\nنوک بن کر نہ رہا یہ کسی مژگاں میں کبھی\n\nوار کرتے ہی بھرا زخم میں قاتل نے نمک\nتیغ پر ہاتھ کبھی ہے تو نمکداں میں کبھی\n\nخضر سے میں نے جو کیں جوش جنوں کی باتیں\nایسے نکلے کہ نہ آئے تھے بیاباں میں کبھی\n\nاللہ اللہ رے تری شوخ بیانی اے داغؔ\nسست اک شعر نہ دیکھا ترے دیواں میں کبھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%B1%D8%B2_%D9%82%D8%AF%D8%B3%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B4%DB%8C%D9%88%DB%82_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "طرفہ معجون ہے ہمارا یار", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طرفہ معجون ہے ہمارا یار\nغیر سے ہم کنار ہم سے کنار\n\nہم کہیں باغ چل تو ہاں نہ کہے\nغیر کے ساتھ روز سیر و شکار\n\nہم کو مجلس میں دیکھ چپ ہو جائے\nغیر سے ٹوک کر کرے گفتار\n\nہم کو دیکھے کہیں تو آنکھیں چرائے\nغیر کو دیکھ کر آپ سے ہو دو چار\n\nغیر سے صاف سینہ ہو کے ملے\nہم سے دل میں رکھے ہمیشہ غبار\n\nغیر جور و جفا و بے مہری\nہم سے اس کا نہیں ہے اور شعار\n\nغیر کی بات سن کے خوش ہووے\nہم سے ہر بات میں کرے تکرار\n\nمنت و عجز و انکسار و نیاز\nکرتے کرتے ہوئے بہت لاچار\n\nوہ کسی طرح آشنا ہی نہیں\nامتحاں ہم کیا ہے چندیں یار\n\nذرا بھی کان دھر کبھو نہ سنے\nدرد دل ہم اگر کریں اظہار\n\nجان اور مال دے چکیں اس کو\nدل سے جانے ہمیں اگر غم خوار\n\nجو رہے ہم سے روز بیگانہ\nصحبت ایسے سے کیسے ہو برار\n\nکر الٰہی تو مہرباں اس کو\nجس کے پیچھے ہوئے ہیں زار و نزار\n\nغرض اب شکوہ کب تلک کیجے\nچپ ہی رہنا ہے حاتمؔ اب درکار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%B1%D9%81%DB%81_%D9%85%D8%B9%D8%AC%D9%88%D9%86_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1"} {"title": "طرہ اسے جو حسن دل آزار نے کیا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طرہ اسے جو حسن دل آزار نے کیا\nاندھیر گیسوئے سیہ یار نے کیا\n\nگل سے جو سامنا ترے رخسار نے کیا\nمژگاں نے وہ کیا کہ جو کچھ خار نے کیا\n\nناز و ادا کو ترک مرے یار نے کیا\nغمزہ نیا یہ ترک ستم گار نے کیا\n\nافشاں سے کشتہ ابروئے خم دار نے کیا\nجوہر سے کام یار کی تلوار نے کیا\n\nقامت تری دلیل قیامت کی ہو گئی\nکام آفتاب حشر کا رخسار نے کیا\n\nمیری نگہ کے رشک سے روزن کو چاندی\nرخنہ یہ قصر یار کی دیوار نے کیا\n\nسودائے زلف میں مجھے آیا خیال رخ\nمشتاق روشنی کا شب تار نے کیا\n\nحسرت ہی بوسۂ لب شیریں کی رہ گئی\nمیٹھا نہ منہ کو تیرے نمک خوار نے کیا\n\nفرصت ملی نہ گریہ سے اک لحظہ عشق میں\nپانی مرے لہو کو اس آزار نے کیا\n\nسیماب کی طرح سے شگفتہ ہوا مزاج\nاکسیر مجھ کو میرے خریدار نے کیا\n\nقد میں تو کر چکا تھا وہ احمق برابری\nمجبور سرو کو تری رفتار نے کیا\n\nحیرت سے پا بہ گل ہوے روزن کو دیکھ کر\nدیوار ہم کو یار کی دیوار نے کیا\n\nپتھر کے آگے سجدہ کیا تو نے برہمن\nکافر تجھے ترے بت پندار نے کیا\n\nکاوش مژہ نے کی رخ دلبر کی دید میں\nپائے نگاہ سے بھی خلش خار نے کیا\n\nعاشق کی طرح میں جو لگا کرنے بندگی\nآزاد داغ دے کے خریدار نے کیا\n\nاعجاز کا عجب لب جاں بخش سے نہیں\nپیغمبر اس کو مصحف رخسار نے کیا\n\nطرہ کی طرح سے دل عاشق کو پیچ میں\nکس کس لپیٹ سے تری دستار نے کیا\n\nآنکھوں کو بند کر کے تصور میں باغ کے\nگلشن قفس کو مرغ گرفتار نے کیا\n\nنالاں ہوا میں اس رخ رنگیں کو دیکھ کر\nبلبل مجھے نظارۂ گل زار نے کیا\n\nہکلا کے مجھ سے بات جو اس دل ربا نے کی\nکس حسن سے ادا اسے تکرار نے کیا\n\nالٹا ادھر نقاب تو پردے پڑے ادھر\nآنکھوں کو بند جلوۂ دیدار نے کیا\n\nلذت کو ترک کر تو ہو دنیا کا رنج دور\nپرہیز بھی دوا ہے جو بیمار نے کیا\n\nناصاف آئینہ ہو تو بد تر ہے سنگ سے\nروشن یہ حال ہم کو جلاکار نے کیا\n\nحلقہ کی ناف یار کے تعریف کیا کروں\nگول ایسا دائرہ نہیں پرکار نے کیا\n\nدیوان حسن یار کی آتشؔ جو سیر کی\nدیوانہ بیت ابروئے خم دار نے کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%B1%DB%81_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "طریق عشق میں دیکھا ہے کیا کہیں کیوں کر", "poet_page": "مصنف:کیفی حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طریق عشق میں دیکھا ہے کیا کہیں کیوں کر\nہماری آنکھ کھلی ہے مقام حیرت میں\n\nاگر خلل ہے تو زاہد مرے دماغ میں ہے\nہزار شکر نہیں ہے فتور نیت میں\n\nبلند و پست کی اس کے کچھ انتہا ہی نہیں\nعجیب چیز ہے انسان بھی حقیقت میں\n\nیہ بزم غیر ہے کیفیؔ کدھر گئے ہیں حواس\nکہاں تم آ گئے کیا آ گئی طبیعت میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتا\nگئے فرہاد و مجنوں اب کسی سے دل نہیں ملتا\n\nبھری ہے انجمن لیکن کسی سے دل نہیں ملتا\nہمیں میں آ گیا کچھ نقص یا کامل نہیں ملتا\n\nپرانی روشنی میں اور نئی میں فرق اتنا ہے\nاسے کشتی نہیں ملتی اسے ساحل نہیں ملتا\n\nپہنچنا داد کو مظلوم کا مشکل ہی ہوتا ہے\nکبھی قاضی نہیں ملتے کبھی قاتل نہیں ملتا\n\nحریفوں پر خزانے ہیں کھلے یاں ہجر گیسو ہے\nوہاں پہ بل ہے اور یاں سانپ کا بھی بل نہیں ملتا\n\nیہ حسن و عشق ہی کا کام ہے شبہ کریں کس پر\nمزاج ان کا نہیں ملتا ہمارا دل نہیں ملتا\n\nچھپا ہے سینہ و رخ دل ستاں ہاتھوں سے کروٹ میں\nمجھے سوتے میں بھی وہ حسن سے غافل نہیں ملتا\n\nحواس و ہوش گم ہیں بحر عرفان الٰہی میں\nیہی دریا ہے جس میں موج کو ساحل نہیں ملتا\n\nکتاب دل مجھے کافی ہے اکبرؔ ؔدرس حکمت کو\nمیں اسپنسر سے مستغنی ہوں مجھ سے مل نہیں ملتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "طریقت میں اگر زاہد مجھے گمراہ جانے ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طریقت میں اگر زاہد مجھے گمراہ جانے ہے\nمرے دل کی حقیقت کو مرا اللہ جانے ہے\n\nوہ بے پروا مرا کب امتیاز چاہ جانے ہے\nمری حالت کو دل اور دل کی حالت آہ جانے ہے\n\nاسے جو دیکھتا ہے دن کو سو خورشید جانے ہے\nجو گھر سے رات کو نکلے تو عالم ماہ جانے ہے\n\nہماری بات کو وہ عاقبت نا فہم کیا مانے\nجو بد خواہوں کو اپنے اپنا دولت خواہ جانے ہے\n\nمرا دل بار عشق ایسا اٹھانے میں دلاور ہے\nجو اس کے کوہ دوں سر پر تو اس کو کاہ جانے ہے\n\nہمیں دیر و حرم شیخ و برہمن سے نہیں مطلب\nہمارا دل تو اپنے دل کو بیت اللہ جانے ہے\n\nوہ وحشی اس قدر بھڑکا ہے صورت سے مرے یارو\nکہ اپنے دیکھ سائے کو مجھے ہم راہ جانے ہے\n\nکہیں ہم بحر بے پایان غم کی ماہیت کس سے\nنہ لہروں سے کوئی واقف نہ کوئی تھاہ جانے ہے\n\nخدا کے واسطے انصاف کیجو کیا تماشہ ہے\nمیں اس کا خیر خواہ اور وہ مجھے بد خواہ جانے ہے\n\nاگر وہ فتنہ جو تجھ سے ملے حاتمؔ تو کہہ دیجو\nکہ منصوبے ترے سب بندۂ درگاہ جانے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%AF%D9%85%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "طفلِ شِیر خوار", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "مَیں نے چاقو تجھ سے چھِینا ہے تو چِلّاتا ہے تُو\nمہرباں ہوں مَیں، مجھے نا مہرباں سمجھا ہے تُو\nپھر پڑا روئے گا اے نوواردِ اقلیمِ غم\nچُبھ نہ جائے دیکھنا! باریک ہے نوکِ قلم\nآہ! کیوں دُکھ دینے والی شے سے تجھ کو پیار ہے\nکھیل اس کاغذ کے ٹکڑے سے، یہ بے آزار ہے\n\nگیند ہے تیری کہاں، چینی کی بِلّی ہے کد ھر؟\nوہ ذرا سا جانور ٹُوٹا ہُوا ہے جس کا سر\nتیرا آئینہ تھا آزادِ غبارِ آرزو\nآنکھ کھُلتے ہی چمک اُٹھّا شرارِ آرزو\nہاتھ کی جُنبش میں، طرزِ دید میں پوشیدہ ہے\nتیری صورت آرزو بھی تیری نوزائیدہ ہے\nزندگانی ہے تری آزادِ قیدِ امتیاز\nتیری آنکھوں پر ہوَیدا ہے مگر قُدرت کا راز\n\nجب کسی شے پر بگڑ کر مجھ سے، چِلّاتا ہے تُو\nکیا تماشا ہے رَدی کاغذ سے من جاتا ہے تُو\nآہ! اس عادت میں ہم آہنگ ہوں مَیں بھی ترا\nتُو تلوّن آشنا، مَیں بھی تلوّن آشنا\nعارضی لذّت کا شیدائی ہوں، چِلّاتا ہوں مَیں\nجلد آ جاتا ہے غصّہ، جلد من جاتا ہوں مَیں\nمیری آنکھوں کو لُبھا لیتا ہے حُسنِ ظاہری\nکم نہیں کچھ تیری نادانی سے نادانی مری\nتیری صورت گاہ گریاں گاہ خنداں مَیں بھی ہوں\nدیکھنے کو نوجواں ہوں، طفلِ ناداں مَیں بھی ہوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D9%81%D9%84%D9%90_%D8%B4%D9%90%DB%8C%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1"} {"title": "طفلی نے بے خودی کا آغاز کیا", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "طفلی نے بے خودی کا آغاز کیا\nقوت پہ شباب نے بڑا ناز کیا\nپاؤں کی طرف سر کو جھکایا ہے رشیدؔ\nجس وقت سے پیروی نے سرفراز کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D9%81%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "طفلی کے خواب", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "طفلی میں آرزو تھی کسی دل میں ہم بھی ہوں\nاک روز سوز و ساز کی محفل میں ہم بھی ہوں\n\nدل ہو اسیر گیسوئے عنبر سرشت میں\nالجھے انہیں حسین سلاسل میں ہم بھی ہوں\n\nچھیڑا ہے ساز حضرت سعدیؔ نے جس جگہ\nاس بوستاں کے شوخ عنادل میں ہم بھی ہوں\n\nگائیں ترانے دوش ثریا پہ رکھ کے سر\nتاروں سے چھیڑ ہو مہ کامل میں ہم بھی ہوں\n\nآزاد ہو کے کشمکش علم سے کبھی\nآشفتگان عشق کی منزل میں ہم بھی ہوں\n\nدیوانہ وار ہم بھی پھریں کوہ و دشت میں\nدلدادگان شعلۂ محمل میں ہم بھی ہوں\n\nدل کو ہو شاہزادیٔ مقصد کی دھن لگی\nحیراں سراغ جادۂ منزل میں ہم بھی ہوں\n\nصحرا ہو، خار زار ہو، وادی ہو، آگ ہو\nاک دن انہیں مہیب منازل میں ہم بھی ہوں\n\nدریائے حشر خیز کی موجوں کو چیر کر\nکشتی سمیت دامن ساحل میں ہم بھی ہوں\n\nاک لشکر عظیم ہو مصروف کارزار\nلشکر کے پیش پیش مقابل میں ہم بھی ہوں\n\nچمکے ہمارے ہاتھ میں بھی تیغ آب دار\nہنگام جنگ نرغۂ باطل میں ہم بھی ہوں\n\nقدموں پہ جن کے تاج ہیں اقلیم دہر کے\nان چند کشتگان غم دل میں ہم بھی ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D9%81%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8"} {"title": "طلب میں بوسے کی کیا ہے حجت سوال دیگر جواب دیگر", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طلب میں بوسے کی کیا ہے حجت سوال دیگر جواب دیگر\nسمجھ کے کہہ بات بے مروت سوال دیگر جواب دیگر\n\nکلام تجھ سے ہے اور اپنا سخن کو ہم تیرے کیونکہ جانیں\nذرا یہ کھلتی نہیں حقیقت سوال دیگر جواب دیگر\n\nمیں اپنے مطلب کی کہہ رہا ہوں وہ آئنہ رو اک عیب میں ہے\nبھلا ہو ملنے کی خاک صورت سوال دیگر جواب دیگر\n\nاگر کہوں میں سنوارو زلفیں تو وہ بگڑتے ہیں دے کے گالی\nعجب نصیبوں کی کچھ ہے شامت سوال دیگر جواب دیگر\n\nمرا تو پیغام وصل کا ہے تمہاری تقریر ہجر کی ہے\nبتاں ہے یہ بھی خدا کی قدرت سوال دیگر جواب دیگر\n\nکہا جو میں نے کہ دو مرا دل تو بولے ہنس کر کدھر ہے دلی\nکہوں تو کیا اور ان کو رحمت سوال دیگر جواب دیگر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AD%D8%AC%D8%AA_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84_%D8%AF%DB%8C%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%DA%AF%D8%B1"} {"title": "طلب کی آگ کسی شعلہ رو سے روشن ہے", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طلب کی آگ کسی شعلہ رو سے روشن ہے\nخیال ہو کہ نظر آرزو سے روشن ہے\n\nجنم جنم کے اندھیروں کو دے رہا ہے شکست\nوہ اک چراغ کہ اپنے لہو سے روشن ہے\n\nکہیں ہجوم حوادث میں کھو کے رہ جاتا\nجمال یار مری جستجو سے روشن ہے\n\nیہ تابش لب لعلیں یہ شعلۂ آواز\nتمام بزم تری گفتگو سے روشن ہے\n\nوصال یار تو ممکن نہیں مگر ناصح\nرخ حیات اسی آرزو سے روشن ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%DA%AF_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81_%D8%B1%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "طلب ہیں عشقِ بتاں میں جو آبرو کرتے", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طلب ہیں عشقِ بتاں میں جو آبرو کرتے\nظفر ہیں آگ سے پانی کی آرزو کرتے\n\nاشارا اپنے جو ابرو کا وہ کبھو کرتے\nملک فلک سے پئے سجدہ سر فرو کرتے\n\nنمازِ عشق میں جب ہم ہیں سر فرو کرتے\nتو آبِ اشک سے سو بار ہیں وضو کرتے\n\nنہ رُوئے یار سے ہوتی جو نسبتِ کعبہ\nتمام عمر بھی عاشق ادھر نہ رُو کرتے\n\nوہ سنتے حضرتِ ناصح کہ پھر نہ بات آتی\nجو ترکِ عشق میں کچھ اور گفتگو کرتے\n\nعجب نہیں ہے اگر رفتہ رفتہ گم ہوتے\nجو کوئے یار میں ہم دل کی جستجو کرتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%B4%D9%82%D9%90_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "طلبِ بوسہ پر اس لب سے شکر آب لذیذ", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طلبِ بوسہ پر اس لب سے شکر آب لذیذ\nتند ہے، تلخ ہے، لیکن ہے مئے ناب لذیذ\n\nکچھ مزا تو نہ سمجھ خضرِ اُمورِ عشرت\nسب مزاجوں میں نہیں ایک سے اسباب لذیذ\n\nسَم کی تاثیر کرے ہجر میں آبِ حیواں\nمے گل گوں سے سوا وصل میں ہے آب لذیذ\n\nردِ زحاد سہی پر نہیں مقبولِ مغاں\nتا نہ معلوم ہو تلخیِ مے ناب لذیذ\n\nشیفتہ ذوقِ سحر اس نے کہاں دیکھا ہے\nوہ جو کہتا ہے کہ ہے آخرِ شب، خواب لذیذ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D9%84%D8%A8%D9%90_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D9%84%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%D8%A2%D8%A8_%D9%84%D8%B0%DB%8C%D8%B0"} {"title": "طلبۂ علی گڑھ کالج کے نام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اَوروں کا ہے پیام اور، میرا پیام اور ہے\nعشق کے درد مند کا طرزِ کلام اور ہے\n\nطائرِ زیرِ دام کے نالے تو سُن چُکے ہو تم\nیہ بھی سُنو کہ نالۂ طائرِ بام اور ہے\n\nآتی تھی کوہ سے صدا رازِ حیات ہے سکُوں\nکہتا تھا مورِ ناتواں لُطفِ خرام اور ہے\n\nجذبِ حرم سے ہے فروغ انجمنِ حجاز کا\nاس کا مقام اور ہے، اس کا نظام اور ہے\n\nموت ہے عیشِ جاوداں، ذوقِ طلب اگر نہ ہو\nگردشِ آدمی ہے اور، گردشِ جام اور ہے\n\nشمعِ سحَر یہ کہہ گئی سوز ہے زندگی کا ساز\nغم کدۂ نمود میں شرطِ دوام اور ہے\n\nبادہ ہے نیم رس ابھی، شوق ہے نارسا ابھی\nرہنے دو خُم کے سر پہ تم خشتِ کلیسیا ابھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D9%84%D8%A8%DB%82_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%DA%AF%DA%91%DA%BE_%DA%A9%D8%A7%D9%84%D8%AC_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85"} {"title": "طلوعِ اِسلام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "دلیلِ صُبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی\nاُفُق سے آفتاب اُبھرا، گیا دورِ گراں خوابی\nعُروُقِ مُردۂ مشرق میں خُونِ زندگی دوڑا\nسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی\nمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے\nتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی\nعطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے\nشکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نُطقِ اعرابی\nاثر کچھ خواب کا غُنچوں میں باقی ہے تو اے بُلبل!\n“نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی”\nتڑپ صحنِ چمن میں، آشیاں میں، شاخساروں میں\nجُدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیرِ سیمابی\nوہ چشمِ پاک‌بیں کیوں زینتِ برگستواں دیکھے\nنظر آتی ہے جس کو مردِ غازی کی جگر تابی\nضمیرِ لالہ میں روشن چراغِ آرزو کر دے\nچمن کے ذرّے ذرّے کو شہیدِ جُستجو کر دے\n\nسرشکِ چشمِ مُسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا\nخلیل اللہؑ کے دریا میں ہوں گے پھر گُہر پیدا\nکتابِ مِلّتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے\nیہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا\nربود آں تُرکِ شیرازی دلِ تبریز و کابل را\nصبا کرتی ہے بُوئے گُل سے اپنا ہم‌سفر پیدا\nاگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹُوٹا تو کیا غم ہے\nکہ خُونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحَر پیدا\nجہاں بانی سے ہے دُشوار تر کارِ جہاں بینی\nجگر خُوں ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا\nہزاروں سال نرگس اپنی بے نُوری پہ روتی ہے\nبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ‌وَر پیدا\nنوا پیرا ہو اے بُلبل کہ ہو تیرے ترنّم سے\nکبوتر کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیدا\nترے سینے میں ہے پوشیدہ رازِ زندگی کہہ دے\nمسلماں سے حدیثِ سوز و سازِ زندگی کہہ دے\n\nخدائے لم یزل کا دستِ قُدرت تُو، زباں تُو ہے\nیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گُماں تو ہے\nپرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی\nستارے جس کی گردِ راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے\nمکاں فانی، مکیں آنی، ازل تیرا، ابد تیرا\nخدا کا آخری پیغام ہے تُو، جاوداں تو ہے\nحنا بندِ عروسِ لالہ ہے خُونِ جگر تیرا\nتری نسبت براہیمی ہے، معمارِ جہاں تو ہے\nتری فطرت امیں ہے ممکناتِ زندگانی کی\nجہاں کے جوہرِ مُضمَر کا گویا امتحاں تو ہے\nجہانِ آب و گِل سے عالَمِ جاوید کی خاطر\nنبوّت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہے\nیہ نکتہ سرگزشتِ مِلّتِ بیضا سے ہے پیدا\nکہ اقوامِ زمینِ ایشیا کا پاسباں تو ہے\nسبَق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا\nلیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا\n\nیہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی\nاُخُوّت کی جہاں‌گیری، محبّت کی فراوانی\nبُتانِ رنگ و خُوں کو توڑ کر مِلّت میں گُم ہو جا\nنہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی\nمیانِ شاخساراں صحبتِ مرغِ چمن کب تک!\nترے بازو میں ہے پروازِ شاہینِ قہستانی\nگمان آبادِ ہستی میں یقیں مردِ مسلماں کا\nبیاباں کی شبِ تاریک میں قِندیلِ رہبانی\nمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے\nوہ کیا تھا، زورِ حیدرؓ، فقرِ بُوذرؓ، صِدقِ سلمانیؓ\nہُوئے احرارِ مِلّت جادہ پیما کس تجمّل سے\nتماشائی شگافِ در سے ہیں صدیوں کے زِندانی\nثباتِ زندگی ایمانِ مُحکم سے ہے دنیا میں\nکہ المانی سے بھی پائندہ تر نکلا ہے تُورانی\nجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا\nتو کر لیتا ہے یہ بال و پرِ رُوح الامیں پیدا\n\nغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں\nجو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں\nکوئی اندازہ کر سکتا ہے اُس کے زور بازو کا!\nنگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں\nولایت، پادشاہی، علمِ اشیا کی جہاں‌گیری\nیہ سب کیا ہیں، فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریں\nبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے\nہَوس چھُپ چھُپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں\nتمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیّت ہے\nحذَر اے چِیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں\nحقیقت ایک ہے ہر شے کی، خاکی ہو کہ نُوری ہو\nلہُو خورشید کا ٹپکے اگر ذرّے کا دل چِیریں\nیقیں محکم، عمل پیہم، محبّت فاتحِ عالم\nجہادِ زِندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں\nچہ باید مرد را طبعِ بلندے، مشربِ نابے\nدلِ گرمے، نگاہِ پاک بینے، جانِ بیتابے\n\nعقابی شان سے جھپٹے تھے جو، بے بال و پر نکلے\nستارے شام کے خُونِ شفَق میں ڈُوب کر نکلے\nہُوئے مدفونِ دریا زیرِ دریا تیرنے والے\nطمانچے موج کے کھاتے تھے جو، بن کر گُہر نکلے\nغبارِ رہ گزر ہیں، کیمیا پر ناز تھا جن کو\nجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو، اِکسیر گر نکلے\nہمارا نرم رو قاصد پیامِ زندگی لایا\nخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلے\nحرم رُسوا ہُوا پیرِ حرم کی کم نگاہی سے\nجوانانِ تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے\nزمیں سے نُوریانِ آسماں پرواز کہتے تھے\nیہ خاکی زندہ تر، پائندہ تر، تابندہ تر نکلے\nجہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں\nاِدھر ڈُوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈُوبے اِدھر نکلے\nیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیرِ مِلّت ہے\nیہی قوّت ہے جو صورت گرِ تقدیر مِلّت ہے\n\nتُو رازِ کن فکاں ہے، اپنی انکھوں پر عیاں ہو جا\nخودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا\nہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو\nاُخُوّت کا بیاں ہو جا، محبّت کی زباں ہو جا\nیہ ہندی، وہ خُراسانی، یہ افغانی، وہ تُورانی\nتُو اے شرمندۂ ساحل! اُچھل کر بے کراں ہو جا\nغبار آلودۂ رنگ و نَسب ہیں بال و پر تیرے\nتُو اے مُرغِ حرم! اُڑنے سے پہلے پَرفشاں ہو جا\nخودی میں ڈوب جا غافل! یہ سِرِّ زندگانی ہے\nنکل کر حلقۂ شام و سحَر سے جاوداں ہو جا\nمَصافِ زندگی میں سیرتِ فولاد پیدا کر\nشبستانِ محبّت میں حریر و پرنیاں ہو جا\nگزر جا بن کے سیلِ تُند رَو کوہ و بیاباں سے\nگلستاں راہ میں آئے تو جُوئے نغمہ خواں ہو جا\nترے علم و محبّت کی نہیں ہے انتہا کوئی\nنہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِ فطرت میں نَوا کوئی\n\nابھی تک آدمی صیدِ زبونِ شہریاری ہے\nقیامت ہے کہ انساں نوعِ انساں کا شکاری ہے\nنظر کو خِیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی\nیہ صنّاعی مگر جھُوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے\nوہ حکمت ناز تھا جس پر خردمندانِ مغرب کو\nہوَس کے پنجۂ خُونیں میں تیغِ کارزاری ہے\nتدبّر کی فسُوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا\nجہاں میں جس تمدّن کی بِنا سرمایہ داری ہے\nعمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی، جہنّم بھی\nیہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نُوری ہے نہ ناری ہے\nخروش آموزِ بُلبل ہو، گِرہ غنچے کی وا کر دے\nکہ تُو اس گُلِستاں کے واسطے بادِ بہاری ہے\nپھر اُٹھّی ایشیا کے دل سے چنگاری محبّت کی\nزمیں جولاں گہِ اطلس قبایانِ تتاری ہے\nبیا پیدا خریدارست جانِ ناتوانے را\n“پس از مدّت گذار افتاد بر ما کاروانے را”\n\nبیا ساقی نواے مرغِ زار از شاخسار آمد\nبہار آمد نگار آمد، نگار آمد قرار آمد\nکشید ابرِ بہاری خیمہ اندر وادی و صحرا\nصداے آبشاراں از فرازِ کوہسار آمد\nسرت گردم تو ہم قانونِ پیشیں ساز دہ ساقی\nکہ خیلِ نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمد\nکنار از زاہداں برگیر و بےباکانہ ساغر کش\nپس از مدّت ازیں شاخِ کہن بانگِ ہزار آمد\nبہ مشتاقاں حدیثِ خواجۂؐ بدر و حنین آور\nتصرّف ہاے پنہانش بچشمم آشکار آمد\nدگر شاخِ خلیلؑ از خُونِ ما نم ناک می گردد\nببازارِ محبّت نقدِ ما کامل عیار آمد\nسرِ خاکِ شہیدے برگہاے لالہ می پاشم\nکہ خونش با نہالِ مِلّتِ ما سازگار آمد\n“بیا تا گُل بیفشانیم و مے در ساغر اندازیم\nفلک را سقف بشگافیم و طرحِ دیگر اندازیم”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D9%84%D9%88%D8%B9%D9%90_%D8%A7%D9%90%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "طور بن کر جل گیا یا شوق موسیٰ ہو گیا", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طور بن کر جل گیا یا شوق موسیٰ ہو گیا\nہائے وہ دل جو ترے جلوہ کا شیدا ہو گیا\n\nیک بیک اے التفات یار یہ کیا ہو گیا\nدرد پہلے دل میں اٹھا پھر تمنا ہو گیا\n\nخاک کر دینا ہے ہستی کا کمال زندگی\nقطرہ دریا ہے جو ہم آغوش دریا ہو گیا\n\nناتوانی صبر کی تلقین جب کرنے لگی\nدرد ہی ہمدرد بن کر چارہ فرما ہو گیا\n\nرہ گئی دل میں جو حسرت راز الفت بن گئی\nاشک بس آنکھوں سے ٹپکا تھا کہ دریا ہو گیا\n\nجھولتی تھی کل اسی گہوارے میں معصومیت\nآج یہ دل محشرستان تمنا ہو گیا\n\nہر تمنا بن رہی ہے اک جہان آرزو\nکون یہ دل میں الٰہی جلوہ فرما ہو گیا\n\nکیوں مرے کہنے سے وہ پردے کے باہر آ گئے\nعشق تو مجنوں ہے لیکن حسن کو کیا ہو گیا\n\nطعنۂ احباب دنیا کی قیاس آرائیاں\nاک تری خاطر مجھے سب کچھ گوارا ہو گیا\n\nاب کہاں لے جائیں اپنی اس طبیعت کو منیرؔ\nلو خیال عشق بھی اندوہ افزا ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%85%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%B0_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "طور والے تری تنویر لیے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طور والے تری تنویر لیے بیٹھے ہیں\nہم تجھی کو بت بے پیر لیے بیٹھے ہیں\n\nجگر و دل کی نہ پوچھو جگر و دل میرے\nنگہ ناز کے دو تیر لیے بیٹھے ہیں\n\nان کے گیسو دل عشاق پھنسانے کے لئے\nجا بجا حلقۂ زنجیر لیے بیٹھے ہیں\n\nاے تری شان کہ قطروں میں ہے دریا جاری\nذرے خورشید کی تنویر لیے بیٹھے ہیں\n\nپھر وہ کیا چیز ہے جو دل میں اتر جاتی ہے\nتیغ پاس ان کے نہ وہ تیر لیے بیٹھے ہیں\n\nمئے عشرت سے بھرے جاتے ہیں اغیار کے جام\nہم تہی کاسۂ تقدیر لیے بیٹھے ہیں\n\nکشور و عشق میں محتاج کہاں ہیں بیدمؔ\nقیس و فرہاد کی جاگیر لیے بیٹھے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D9%88%D8%B1_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "طور پر اپنے کسی دن بھی خور و خواب ہے یاں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طور پر اپنے کسی دن بھی خور و خواب ہے یاں\nزندگانی کا بھلا کون سا اسباب ہے یاں\n\nچاہ سیماب سے سیماب جو جوشاں ہے ہنوز\nمیں سمجھتا ہوں کہ مدفوں کوئی بیتاب ہے یاں\n\nخم ابرو کی ترے کیونکے نہ تعریف کروں\nاس سے بہتر بھی کوئی تیغ سیہ تاب ہے یاں\n\nمقتل عشق کی بھی کیا ہی ہے جائے کھٹکی\nکہ نہ سر اور نہ سجدہ ہے نہ محراب ہے یاں\n\nمیری تربت کے تو آنگن میں نہ ٹھہرا اک دم\nیہ ترے جی میں نہ آیا شب مہتاب ہے یاں\n\nکشتگاں کو تری شمشیر یہی کہتی ہے\nکیجیے اس پہ قناعت تو دم آب ہے یاں\n\nاس کو بھی گر نہ فلک دیکھ سکے چر والے\nاور تو کیا ہے پریشانی کا اسباب ہے یاں\n\nاعتبارات ہیں یہ ہستیٔ موہومی کے\nفی الحقیقت تو کوئی خاں ہے نہ نواب ہے یاں\n\nخاک تربت کی مری دیکھ چمکتی احباب\nجی میں کہتے ہیں مگر معدن سیماب ہے یاں\n\nکیا خط عاشق و معشوق کو کوئی سمجھے\nکچھ کنایت سی ہے آداب نہ القاب ہے یاں\n\nمصحفیؔ آپ ہی ہم قتل ہیں اپنے ہاتھوں\nورنہ کیں خواہ تو رستم ہے نہ سہراب ہے یاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D9%88%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "طوفان اے میرؔ شب اٹھائے تو نے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "طوفان اے میرؔ شب اٹھائے تو نے\nآشوب بلا آنکھوں دکھائے تو نے\nرونے سے ترے رو سی چلی آئی ایک\nیہ دو دریا کہاں سے پائے تو نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D9%88%D9%81%D8%A7%D9%86_%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%B4%D8%A8_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92"} {"title": "طوفاں ہے شیخ قہریا ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "طوفاں ہے شیخ قہریا ہے\nجو حرف ہے تس کے تہریا ہے\n\nدل کیوں نہ بھنور ہو آج میرا\nچیرا ترے سر پے لہریا ہے\n\nتجھ حسن کے باغ میں سریجن\nخورشید گل دوپہریا ہے\n\nاب دین ہوا زمانہ سازی\nآفاق تمام دہریا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D9%88%D9%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D9%82%DB%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "طویلے کی بلا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "مملکت میں ہر چہار اکناف سے یہ تشویش ناک خبریں موصول ہو رہی تھیں کہ ’’بوزنیت‘‘ کی لہریں بڑھتی جا رہی ہیں۔ شروع شروع میں تو سرکار نے اس طرف کوئی خاص توجہ نہ دی، مگر جب دیکھا کہ پانی سر سے گزرنے والا ہے تو وہ اپنی مشینری حرکت میں لائی۔ قارئین کو بتا دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ ’’بوزنیت‘‘ کیا تھی۔ اس کی تفصیل میں تو ہم جا نہیں سکتے کہ یہ ایک قصہ طولانی ہے۔ اجمالی طور پر اتنا کہنا کافی ہے کہ یہ تحریک بندروں نے شروع کی تھی، انسانوں کے خلاف۔۔۔!\n\nان کا یہ کہنا تھا کہ جب یہ طے ہو چکا ہے کہ انسان ہماری اولاد ہیں، تو پھر ہم سے یہ بے رخی کیوں برتتے ہیں، صرف بے رخی ہی نہیں، بلکہ ہمارے ساتھ نہایت ہی غیر بوزنانہ سلوک روا رکھتے ہیں۔ ہمارے گلے میں رسی باندھ کر ڈگڈگی بجا کر، گلی گلی، کوچے کوچے پھراتے نچاتے اور خود بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔۔۔ جیسے ہم انسان ہیں۔۔۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم انسانوں کے اب و جد ہیں۔۔۔ ان کی رگوں میں ہمارا خون دوڑ رہا ہے، مگر یہ کون کہتا ہے کہ یہ ارتقائی منازل طے کر کے انسان بن گئے ہیں۔۔۔ اگر کوئی ارتقائی منازل نہیں، تو ہم۔۔۔ ۔ اتنے کروڑ بندر، آپ انہیں اقلیت کہہ لیجئے (حالانکہ اگر بندر شماری کی جائے تو ہماری تعداد انسانوں کے مقابلے میں یقیناً زیادہ نکلے گی) ان ارتقائی منازل سے کیوں نہ گزرے۔\n\nیہ ارتقائی منازل۔۔۔ بندروں کا کہنا تھا۔۔۔ کیوں خاص بندروں تک محدود رہیں۔ اصل میں ارتقاء وغیرہ سب بکواس ہے۔ ان لوگوں نے کوئی ترقی نہیں کی۔ بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ تنزلی کی طرف گئے ہیں، اس لئے کہ یہ اپنے مقام پر نہیں رہ سکے۔ جو مرتبہ ان کے لئے ودیعت تھا، اس سے گر کر، بوزنیت سے منحرف ہو کر، یہ ایسے گرے کہ انسان بن گئے۔ ان کا ارتقاء دراصل ان کی افتاد ہے۔۔۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ افتادہ بندر، از سر نو اپنی اصلیت کی طرف لوٹ آئیں اور یہ تحریک اسی غرض سے شروع کی گئی ہے۔ ہمیں ان سے کوئی بغض نہیں، کوئی دشمنی نہیں، ہم انہیں اپنے گمراہ بھائی (یا بہنیں) سمجھتے ہیں۔ ہماری تحریک کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ بندر جو آج کل انسان بنے پھرتے ہیں اور ہماری غفلت کے باعث صاحب اقتدار ہو بیٹھے ہیں، اپنی اصیلت پہچانیں اور واپس ہمارے مجلسی دائرہ میں چلے آئیں۔\n\nتقریریں عام ہوتی تھیں، سربازار۔۔۔ درون خانہ۔۔۔ خفیہ میٹنگوں میں۔۔۔ جن کا لب لباب یہ تھا کہ بندر نے انسان کا بہروپ بھر کر جو ظلم و تشدد اور جبر و قہر کا دورہ دورہ شروع کیا ہے، اس کا پرامن احتجاج کیا جائے، جگہ جگہ جلسے کئے جائیں، ہر کوچہ و بازار میں جلوس نکالے جائیں اور یہ نعرے بلند کئے جائیں۔\n\nانسانیت مردہ باد!\nبوزنیت زندہ باد!\n\nشروع شروع میں تو انسانوں نے سمجھا کہ یہ سب تماشا ہے، چنانچہ وہ محظوظ ہوتے رہے۔۔۔ لیکن آہستہ آہستہ بندروں کی تقریریں، ان کا استدلال، ان کا نظریہ، ان کے دل میں جگہ پکڑنے لگا، چنانچہ جیسا کہ خفیہ پولیس کی اطلاعات سے سرکار کو پتہ چلا، کئی انسان، ان بندروں کے مرید ہوئے اور بعض مصدقہ اطلاعوں نے یہ بھی بتایا کہ متعدد انسان، اپنی انسانیت کھو کر بندر ہو گئے ہیں۔۔۔ یعنی کہ ان کے دم اگ آئی ہے اور وہ چار پنجوں کے بل چلتے ہیں۔ اعلیٰ حکام نے سمجھا کہ یہ سب بکواس ہے، بندر انسان بن سکتا ہے، یہ تو ایک مانی ہوئی حقیقت ہے، لیکن انسان، بندر کیسے بن سکتا ہے۔ ایسی ترقی معکوس، دید تھی نہ شنید۔ چنانچہ انہوں نے سرکار کے مشورے سے یہ پروپیگنڈا بڑے زوروں پر شروع کر دیا کہ انسان کبھی بندر نہیں بن سکتا۔\n\nادھر بھی۔۔۔ یعنی بندروں میں بڑی بڑی قابل ہستیاں موجود تھیں۔ فوراً انہوں نے اس پروپیگنڈے کا جو جواب دیا کہ جب اس زمانے میں مرد عورت بن سکتا ہے یا عورت مرد بن سکتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ انسان بندر نہیں بن سکتا جو کہ اس کا اصل روپ ہے۔ بندروں پر انسانوں کے پروپیگنڈے کا کچھ اثر ہوا تھا اور وہ انسان جو ابھی مکمل طور پر بندر نہیں ہوئے تھے۔ تذبذب کی حالت میں تھے کہ وہ بندر بن جائیں یا پھر انسان ہو جائیں، لیکن بندروں کے اس جواب نے ان کی متزلزل دماغی اور جسمانی کیفیت سنبھال لی۔ بندروں کے پروپیگنڈا سیکرٹری نے بڑے زور شور سے حملہ شروع کر دیا۔ اس کا سب سے مضبوط نکتہ یہ تھا کہ انسان ہم سے بنے ہیں۔۔۔ اور صرف گمراہی کے باعث۔۔۔ کیا انسانوں کے پاس اس کا کوئی جواب ہے کہ وہ ہماری بگڑی ہوئی شکل نہیں۔\n\nسچ پوچھئے تو انسان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا، لیکن وہ برابر کہتے رہتے تھے صرف انسانوں کو کہ دیکھو، ہم نے بڑی کوششوں، بڑے مرحلوں کے بعد یہ رتبہ حاصل کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اصلاً بندر تھے، لیکن یہ صرف ہماری قوت ارادی تھی۔ ہماری شب و روز کی کشمکش تھی کہ ہم اس ارفع و اعلیٰ مقام پر پہنچ گئے۔۔۔ ایک دوڑ تھی جس میں ہم جیت گئے اور باقی ہار گئے۔۔۔ جو ہارے ہوئے ہیں، وہ ابھی تک بندر کے بندر ہیں۔۔۔ جب یہ ہمیں اونچے مقام پر دیکھتے ہیں تو جلتے ہیں۔۔۔ انہیں جلنے دو، ہم مشعل ارتقاء ہاتھ میں تھامے آگے بڑھتے جائیں گے۔۔۔ اور بہت ممکن ہے خدا بن جائیں۔\n\nبندر کہتے تھے۔۔۔ برادران وہ کون سی منزل ہے جس پر آپ پہنچے ہیں۔ ہم تو کہتے ہیں کہ آپ تنزل کی گہرائیوں میں اتر رہے ہیں۔۔۔ ارتقاء کا مسئلہ اپنی جگہ درست ہے۔ ہم اس سے منحرف نہیں، لیکن یہ تو بتایئے اتنی منازل طے کرنے اور اتنی صدیاں معاشرے پر معاشرے بنانے کے بعد آپ کا کیا حال ہے۔۔۔ آپ کی ساری تاریخ جنگ وجدال، کشت و خون، آبروریزی و عصمت دری، حکمرانیوں اور محکومیوں سے بھری پڑی ہے۔۔۔ آپ ہماری۔۔۔ یعنی اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ پر نظر ڈالئے۔۔۔ کیا آپ کو ایسی کوئی تاریک مثال ڈھونڈے بھی مل سکتی ہے۔۔۔ ہم ایک شاخ سے دوسری شاخ پر کودتے ہیں۔۔۔ مگر اس شاخ پر اپنی ملکیت کے لئے ہم کبھی نہیں لڑے۔۔۔\n\nتم لوگ۔۔۔ یعنی انسان، اپنی کتابوں میں ہماری کہانیاں لکھتے رہے ہو۔ جن میں سے ایک بہت مشہور ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کی دم پکڑ پکڑ کر دریا پر پل باندھ دیا تھا۔ تم پل باندھتے ہو۔۔۔ بڑے بڑے پل باندھتے ہو کہ تم انسانوں کی عقل ششدر رہ جاتی ہے، لیکن یہ پل تم خود ہی اڑا دیتے ہو۔۔۔ ہمارا باندھا ہوا پل کون اڑا سکتا ہے۔۔۔؟ ہم میں سے کسی کی دم آج تک غدار نہیں ہوئی۔۔۔ ہم میں سے کسی کی بیوی آج تک کسی دوسرے بندر سے ہم آغوش نہیں ہوئی۔۔۔ ہماری بیویاں، ہماری جوئیں نکالتی ہیں، ہر روز ہمارے بالوں میں کنگھی کرتی ہیں۔۔۔ لیکن اس کے باوجود ان کے حقوق ویسے ہی ہیں جیسے ہمارے ہیں۔ تمہاری بیویاں جو جھک مارتی ہیں۔ تم ان سے غافل نہیں ہو۔۔۔ اور جو تم جھک مارتے ہو، ان سے تمہاری بیویاں بھی غافل نہیں۔۔۔\n\nجن معنوں میں تم ہمیں بندر کہتے ہو، اصل میں تم بندر ہو۔۔۔ اور جن معنوں میں تم خود کو انسان کہتے ہو، اصل میں وہ ہم ہیں۔۔۔ اور بات اور اصل صرف یہ ہے کہ تم ہماری نسل میں سے ہو۔۔۔ اور جب خون ایک ہو تو کسی نہ کسی جگہ مطابقت آ ہی جاتی ہے اور شاید جو چپقلش ہے۔ وہ بھی اسی وجہ سے ہے۔۔۔ آؤ، ہم تمہیں واپس اپنی آغوش میں بلاتے ہیں۔۔۔ انسانیت کو مردہ باد کہہ کر بوزنیت زندہ باد کہتے ہوئے ہمارے پاس لوٹ آؤ۔ تم یہاں خوش رہو گے۔\n\nادھر سے یہ کہا جاتا، ’’بوزنوں نے بکواس کی ہے۔ وہ ہماری رفعت پرخار کھاتے ہیں۔ ایک کہانی جو ہم نے ان کے متعلق جانے کس تاثر کے ماتحت اور وہ بھی صرف بچوں کے لئے تصنیف کر دی تھی مستند نہیں سمجھی جا سکتی۔۔۔ ورنہ بندر کے انصاف کا قصہ کون نہیں جانتا۔ جس نے دوبلیوں کی شکایت کا تصفیہ یوں کیا تھا کہ اپنی میزان عدل میں پنیر کا متنازع فیہ ٹکڑہ تول تول کر خود کھا گیا تھا۔‘‘\n\nاس کا جواب بندروں نے یہ دیا کہ، ’’ میزان اور بٹے انسانوں کی ایجاد ہیں، ہم تو ان کا استعمال ہی نہیں جانتے۔ اصل میں وہ بندر جس نے بلیوں کو دھوکا دیا تھا خود انسان تھا۔۔۔ اور کیا اس میں کوئی شک ہے کہ وہ بلیوں کو دھوکا نہیں دیتا۔۔۔ ہم ایسی ہزارہا بلیاں پیش کر سکتے ہیں جن کو یہ انسان، جو کبھی ہمارے بھائی تھے چھچھڑوں اور دودھ کے بدلے، دال اور گوبھی پر پال رہے ہیں۔ اپنی فطرت مسخ کر کے، یہ دوسروں کی فطرت و جبلت فنا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہمارے عدل کا مذاق اڑانے والے اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں تو انہیں اپنی بنائی ہوئی عدالتیں نظر آ سکتی ہیں۔ بڑ ی بڑی عدالتیں جہاں ہر روز انصاف کا خون ہوتا ہے۔ جہاں ہر روز سیکڑوں بلکہ ہزاروں بے گناہ، یہ خود پھانسی کے پھندے میں دیتے ہیں لیکن ہم پھر کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بھائی ہیں۔۔۔ جو گمراہ ہو گئے ہیں۔۔۔ ہماری آغوش ان کے واسطے ہر وقت کھلی ہے۔۔۔ ہماری دعائیں ہر وقت ان کے ساتھ ہیں ہم ان سے کوئی بدلہ نہیں لینا چاہتے۔‘‘\n\nلیکن آہستہ آہستہ یہ آواز تبدیل ہوتی گئی اور بندروں کے کیمپ سے یہ صدا آنے لگی کہ ہم انتقام لینا چاہتے ہیں۔۔۔ اس ارتقاء سے۔۔۔ اس نام نہاد ارتقاء سے جو بزعم خود ان بندروں نے خود پر طاری کیا اور انسان بن گئے۔ ادھر انسانوں کی طرف سے بھی سخت اقدام عمل میں آئے۔ ہزاروں بندر گرفتار کئے گئے، سیکڑوں پر مقدمے چلے اور پھانسی پر لٹکائے گئے، لیکن بوزنیت کی تحریک ویسی کی ویسی مضبوط رہی۔ آخر انسانیت کی سرکار نے ’’بوزنیت‘‘ کو خلاف قانون قرار دے دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جتنے بوزنے، تھے ان میں سے کچھ تو گرفتار ہوئے لیکن اکثر بالائے شجر چلے گئے۔ اب ان کو پکڑنا بہت مشکل تھا۔ کون جنگلوں میں ان کے پیچھے دوڑتا پھرے۔ بعض کے متعلق یہ بھی سننے میں آیا کہ وہ بڑے بڑے اعلیٰ انسانی حکام کی کوٹھیوں کے درختوں پر بسیرا کرتے تھے اور انہیں ہر قسم کی سہولتیں وہاں میسر تھیں۔ کیونکہ در پردہ یہ بھی ’’بوزنیت‘‘ کے حامی تھے، مگر خائف تھے کہ ان کے عہدے اور ان کی مسندیں ان سے چھن جائیں گی۔\n\nیہ سلسلہ دیر تک جاری رہا۔ گرفتاریاں ہوتی رہیں۔ چوکوں میں ٹکٹکیاں نصب ہوئیں۔ درے لگائے گئے۔ کھالیں کھینچی گئیں۔ پیٹ کے بل چلایا گیا۔ کئی ایکٹ اور کئی آرڈیننس نافذ ہوئے مگر یہ بندر کے بچے باز نہ آئے، اپنی ہٹ پر قائم رہے۔ ان کی طرف سے کبھی کبھار ایجی ٹیشن ہوتی تھی۔ بعض اوقات وہ اکٹھے ہو کر انسانوں پر یلغار بھی بول دیتے تھے۔ بجلی کے تار اپنے تیز تیز دانتوں سے کاٹ دیتے تھے۔ روٹیاں چھین کر لے جاتے تھے۔ ڈگڈگیاں توڑ پھوڑ دیتے تھے۔ رسیاں تڑا کے نکل بھاگتے تھے۔ اندرونی طور پر کئی انسانوں کو حلقہ بگوش بوزنیت کرتے تھے۔ دیسی بم چلاتے تھے۔ دہشت زدگی پیدا کرتے تھے اور اکثر اپنی جان پر کھیل جاتے تھے۔ ان کی جماعت توڑ دی گئی تھی لیکن وہ منتشر ہونے کے باوجود منظم تھے۔ سرکار کا سر چکرا گیا تھا۔ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔\n\nاور جب ایسی صورت پیدا ہو جائے تو ظاہر ہے کہ انسان قریب قریب مجنوں ہو جاتا ہے۔ یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں بھی انسانوں کی فہرست میں داخل ہوں، لیکن عجیب بات ہے اور خدا لگتی کہ بندر جیسے تھے ویسے ہی رہے یعنی بندر۔ ان کی حرکات ویسی ہی تھیں۔۔۔ کھلنڈرانہ۔ اس کے ہاتھ سے چھینا اور یہ جا وہ جا۔ اس کے ہاتھ سے بندوق لی اور لفٹ رائٹ کرتے چلتے بنے۔ اب آپ ان پر لاٹھی چارج کیجئے۔ آنسو بہانے والی گیس پھینکئے۔ مجال ہے جو ان پر کوئی اثر ہو۔ وہ تو جیسے سیماب پا تھے۔ آپ نشانہ تانتے ہیں، بندوق داغتے ہیں مگر وہ اچک کر آپ کے کاندھے پر بیٹھے ہیں اور قہقہے لگا رہے ہیں۔ اشک آور گیس چھوڑتے ہیں، مگر وہ پھدک کر اس کا رخ آپ کی طرف کر دیتے ہیں۔\n\nسرکار کا ناک میں دم آ گیا تھا۔ خفیہ پولیس کی رپورٹ تھی کہ بندروں کی اس تحریک یا سازش یا اس کا جو کچھ بھی نام ہو، ان کی اپنی چلائی ہوئی ہر گز نہیں ہو سکتی۔ اس کے عقب میں وہ بڑے بڑے انسان کام کر رہے ہیں جو تفریح کے طور پر ’’بوزنیت‘‘ کے حامی ہو گئے ہیں اور مزید تفتیش پر یہ بات پایہ تصدیق کو پہنچ چکی تھی۔ یہ چیز سرکار کے لئے اور بھی زیادہ باعث تشویش تھی۔ بعض حکام کو تو یہ خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ ایسا نہ ہو وہ خود بھی اس بوزنائی جال میں پھنس جائیں اور اپنی تمام ارتقائی منازل طے کر کے واپس اسی حیوانیت میں چلے جائیں جن سے ان کے آباؤ اجداد نے بہت مشکل سےچھٹکارا حاصل کیا تھا۔ سرکار کے لاکھوں حیلوں کے باوجود بندروں کی تحریک دبی نہیں تھی۔ شہروں میں جگہ جگہ دن اور رات میں کئی مرتبہ کسی کوٹھے یا ممٹی پر کوئی بندر نمودار ہو جاتا تھا اور منہ کے ساتھ بھونپو لگا کر نعرے لگانے شروع کر دیتا تھا، ’’انسانیت مردہ باد، ڈگڈگی مردہ باد، بوزنیت زندہ باد!‘‘\n\nایک دن تو حد ہو گئی کہ خود سرکار عالیہ کے ڈرائنگ روم میں ایک من چلا بندر گھس گیا اور سگاروں کا ڈبہ کھول کر اس میں سے ایک سگار نکال پینے لگا۔ اب سرکارِ اعلیٰ بھنا رہے ہیں لیکن بندر ہنس ہنس کے بھبک رہا ہے۔ وہ اسے ڈراتے ہیں، دھمکاتے ہیں، لیکن وہ بچہ بوزنا ایسا ہے کہ ان کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ کبھی اچک کر اس صوفے پر بیٹھتا ہے اور کبھی اس کرسی پر اور حرکات اس کی بعینہ اسی طرح کی تھیں جس طرح سرکار عالیہ کو محسوس ہوتا تھا کہ وہ آئینے میں اپنی شکل دیکھ رہے ہیں، وہ اتنی بھنائیں، اتنی بھنائیں اندر ہی اندر غصے اور بے بسی کے باعث انہوں نے اتنے پیچ و تاب کھائے کہ آخر رو پڑیں۔ یہ تمام باتیں ہمیں خاص ذرائع سے موصول ہوئی تھیں۔ ورنہ دوسرے دن اخباروں میں اعلان کیا گیا تھا کہ ایک گستاخ بندر نے سرکار عالیہ کے محل میں گھسنے کی کوشش کی، مگر پہرہ داروں نے اسے وہیں ڈھیر کر دیا۔\n\nاس واقعہ کے بعد متعلقہ سرکاری محکموں کو کڑی ہدایت ہوئی تھی کہ وہ فوراً بندروں کے فتنے کی سرکوبی کریں اور جو ذرائع بھی استعمال کرنا چاہیں، انہیں اس کی اجازت ہے۔ خفیہ پولیس کے ناظم اعلیٰ کو بندروں کی اتنی فکر نہیں تھی۔ اس نے جب اپنے ماتحت افسروں کو بلایا تو ان سے کہا، ’’میں ان کی بھبکیوں اور گھڑ کیوں سے نہیں ڈرتا۔ میں ڈرتا ہوں ان انسانوں سے جو بوزنیت اختیار کر چکے ہیں میں ایک دقیقہ رس آدمی ہوں۔ میں سوچتا ہوں اگر بندر سے انسان بن کر ہم اتنی قیامتیں ڈھا سکتے ہیں، اس قدر فتنے برپا کر سکتے ہیں تو واپس بندر بن کر ہم خدا معلوم کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ ترقی، خواہ وہ معکوس ہی کیوں نہ ہو، ہر لحاظ سے خطرناک ہوتی ہے۔ اس لئے میں تم سے یہی کہوں گا کہ ان انسانوں کا کھوج لگاؤ جو حلقہ بگوش بوزنیت ہو چکے ہیں۔ ان کو اگر تم نے پکڑ لیا تو سمجھو کہ بوزنیت کا خاتمہ ہے۔‘‘\n\nاب خفیہ اور غیر خفیہ پولیس کی تمام کوششیں نوبوزنوں کو گرفتار کرنے پر مرکوز ہو گئیں، جو حرارت، ذہانت اور شرارت کا سرچشمہ تھے۔ اس ضمن میں کئی بندر پکڑے گئے۔ قلعے کی چار دیواری میں ان پر’’تھرڈ ڈگری‘‘ آزمائی گئی کہ وہ نوبوزنوں کا اتا پتا بتا دیں، مگر انہوں نے ایک لفظ اپنے منہ سے نہ نکالا اور کڑی سے کڑی اذیت خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ ان کی بندریوں کی آبروریزی ان کی آنکھوں کے سامنے کی گئی مگر وہ پھر بھی باز نہ آئے۔ آخر تنگ آ کر ان کو گولی سے اڑا دیا گیا اور ان کی لاشیں مٹی کا تیل چھڑک کر جلا دی گئیں۔ دوسرے روز ہر شہر میں جگہ جگہ سائیکلواسٹائل پر چھپے ہوئے اشتہار چسپاں تھے۔ جس میں انسانوں کو ان کے اس ظلم و تشدد سے آگاہ کیا گیا تھا۔ اور نہایت ہی مؤثر الفاظ میں اپیل کی گئی تھی کہ جس انسان کا دل پسیجے، وہ انسانیت چھوڑ کر ہمارے حلقے میں چلا آئے کہ وہی اس کا اصل مقام ہے۔ یہ اشتہار فوراً ہی اتار لئے گئے مگر ہزاروں انسانوں کی نظر سے گزر چکے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں سے سیکڑوں بوزنیت کے حلقے میں شامل ہو گئے۔\n\nسرکار کی کوئی تدبیر کارگر نہیں جاتی تھی۔ سارے چڑیا گھر (جس کو جیل بنا دیا گیا تھا) بندروں سے پر تھے۔ گرفتاریوں کے اعداد و شمار لئے گئے تو معلوم ہوا کہ تیس ہزار بندر سلاخوں کے پیچھے ہیں اور بڑے خوش ہیں۔ اگر سرکار ان سے غافل ہوتی تھی تو اندیشہ تھا کہ انقلاب برپا ہو جائے گا۔ اگر وہ اپنی گرفت مضبوط کرتی تھی اور ظلم و تشدد پر اترتی تھی تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ خود انسانوں میں اس کے خلاف نفرت و حقارت کے جذبات بیدار ہو جاتے تھے۔۔۔ اس لئے کہ خون تو آخر ایک ہی تھا۔ آخر سرکار نے یہ سوچا کہ سر جوڑ کے کوئی ایسی ترکیب، کوئی ایسا حیلہ سوچنا چاہیئے کہ بوزنوں کی جماعت سے پابندی اٹھا لی جائے اور ایک کانفرنس منعقد کی جائے جن میں ان کے لیڈروں کو دعوت دی جائے کہ وہ اپنا نقطۂ نظر سمجھائیں تاکہ مصالحت کا کوئی قدم اٹھ سکے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B7%D9%88%DB%8C%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%84%D8%A7"} {"title": "ظالم بتوں سے آنکھ لگائی نہ جائے گی", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ظالم بتوں سے آنکھ لگائی نہ جائے گی\nپتھر کی چوٹ دل سے اٹھائی نہ جائے گی\n\nہونے دو ہو رہے ہیں جو الفت کے تذکرے\nبگڑوگے تم تو بات بنائی نہ جائے گی\n\nکہہ دو یہ شمع سے کہ عبث تو ہے اشک بار\nپانی سے دل کی آگ بجھائی نہ جائے گی\n\nچلمن ہو یا نقاب ہو یا پردۂ حیا\nصورت تری کسی سے چھپائی نہ جائے گی\n\nممکن ہے تیر ناز سے دل کو بچا بھی لوں\nلیکن نظر کی چوٹ بچائی نہ جائے گی\n\nآنکھیں خدا نے دی ہیں تو دیکھیں گے حسن یار\nکب تک نقاب رخ سے اٹھائی نہ جائے گی\n\nتوبہ کو منہ لگا کے خجل ہوگے تم جلیلؔ\nجام و سبو سے آنکھ ملائی نہ جائے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "ظالم ترے وعدوں نے دیوانہ بنا رکھا", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ظالم ترے وعدوں نے دیوانہ بنا رکھا\nشمع رخ انور کا پروانہ بنا رکھا\n\nسبزہ کی طرح مجھ کو اس گلشن عالم میں\nاپنوں سے بھی قسمت نے بیگانہ بنا رکھا\n\nتقلید یہ اچھی کی ساقی نے مرے دل کی\nٹوٹے ہوئے شیشہ کا پیمانہ بنا رکھا\n\nدعویٰ تری الفت کا کہنے میں نہیں آتا\nغیروں نے مگر اس کا افسانہ بنا رکھا\n\nافسوس نہ کی دل کی کچھ قدر عزیزؔ افسوس\nکعبہ تھا اسے تو نے بت خانہ بنا رکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%88%D8%B9%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ظالم دم نزع نہ آیا افسوس", "poet_page": "مصنف:آسی الدنی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ظالم دم نزع نہ آیا افسوس\nافسانۂ غم نہ سننے پایا افسوس\nتھی جذبۂ دل سے ہم کو آسیؔ امید\nافسوس عجب فریب کھایا افسوس", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%85_%D9%86%D8%B2%D8%B9_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3"} {"title": "ظالم مرے جگر کوں کرے کیوں نہ پھانک پھانک", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ظالم مرے جگر کوں کرے کیوں نہ پھانک پھانک\nسیکھا ہے وو نگہ کا پٹا اور ادا کا بانک\n\nپوتھی خیال یار کی آئی ہے جب سیں ہات\nدل کے ورق پہ تب سیتی لکھتا ہوں غم کی آنک\n\nانگشتری کوں دل کی بنایا ہوں نذر یار\nلخت جگر کے لعل کوں الفت کا دیکھ ڈانک\n\nآتا ہے یاد پھول کے دیکھے سیں گل بدن\nعاشق کا چھیلتی ہے جگر بلبلوں کی ہانک\n\nجان جہاں کا ذوق اگر ہے تجھے سراجؔ\nپنہاں نگاہ غیر سیں پردے میں دل کے جھانک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DA%BE%D8%A7%D9%86%DA%A9_%D9%BE%DA%BE%D8%A7%D9%86%DA%A9"} {"title": "ظاہر بھی تو ہے اور نہاں بھی تو ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ظاہر بھی تو ہے اور نہاں بھی تو ہے\nمعنی بھی تو ہے اور بیاں بھی تو ہے\nدونوں عالم میں تجھ سے سوا کوئی نہیں\nیاں بھی تو ہے اور وہاں بھی تو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "ظاہر تو ہے تو میں نہاں ہوں", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ظاہر تو ہے تو میں نہاں ہوں\nباطن تو ہے تو میں عیاں ہوں\n\nتو ہی ظاہر ہے تو ہی باطن\nتو ہی تو ہے تو میں کہاں ہوں\n\nتیرے ہوتے کہیں نہیں میں\nاول آخر نہ درمیاں ہوں\n\nتو تو میں میں نے مار ڈالا\nدم بند ہے کیجئے نہ ہاں ہوں\n\nمیں ہی لیلیٰ ہوں میں ہی محمل\nناقہ بھی ہوں میں ہی سارباں ہوں\n\nہوں کنج قفس میں بند لیکن\nبیرون زمین و آسماں ہوں\n\nدریا کی طرح رواں ہوں لیکن\nاب تک بھی وہیں ہوں میں جہاں ہوں\n\nجز نام نہیں نشان میرا\nسچ مچ میں بحر بیکراں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "ظاہر فریب نرگس مستانہ ہو گیا", "poet_page": "مصنف:محمود رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ظاہر فریب نرگس مستانہ ہو گیا\nکچھ ہوشیار اب دل دیوانہ ہو گیا\n\nآنسو بھرے ہیں آنکھ میں اس مست حسن کی\nلبریز کس کی عمر کا پیمانہ ہو گیا\n\nاظہار عرض وصل یہ باتیں نہیں وہاں\nاک حرف مدعا انہیں افسانہ ہو گیا\n\nپہلے کہاں تھا اس دل بیتاب کا یہ حال\nکمبخت اس کو دیکھ کے دیوانہ ہو گیا\n\nہمدم شریک کوئی برے وقت کا نہیں\nجب دل سا دوست عشق میں بیگانہ ہو گیا\n\nعشق بتاں میں خانۂ دل کا رہا یہ حال\nکعبہ بنا کبھی کبھی بت خانہ ہو گیا\n\nہر مے پرست جامۂ کے خسروی میں تھا\nلبریز جب شراب سے پیمانہ ہو گیا\n\nکی میں نے عرض وصل تو بولے رقیب سے\nکیا ہوشیار شخص تھا دیوانہ ہو گیا\n\nمحمودؔ ہے بتوں سے وفا کی تجھے امید\nپتھر سمجھ پہ پڑ گئے دیوانہ ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D9%86%D8%B1%DA%AF%D8%B3_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ظاہر میں اگرچہ یار غم خوار نہیں", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ظاہر میں اگرچہ یار غم خوار نہیں\nپر عشق کی تاثیر بھی بے کار نہیں\nجب جان کہا اسے وہ آزردہ ہوا\nکیوں کر مانوں کہ وہ وفادار نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ظاہر وہی الفت کے اثر ہیں اب تک", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ظاہر وہی الفت کے اثر ہیں اب تک\nقربان شہہ جن و بشر ہیں اب تک\nہوتے ہیں علم آگے جب اٹھتی ہے ضریح\nعباس علی سینہ سپر ہیں اب تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی\nہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی\n\nمنصُور کو ہُوا لبِ گویا پیامِ موت\nاب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی\n\nہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر\nہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی\n\nمیں انتہائے عشق ہوں، تُو انتہائے حُسن\nدیکھے مجھے کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی\n\nعذر آفرینِ جرمِ محبّت ہے حُسنِ دوست\nمحشر میں عذرِ تازہ نہ پیدا کرے کوئی\n\nچھُپتی نہیں ہے یہ نگہِ شوق ہم نشیں!\nپھر اور کس طرح اُنھیں دیکھا کرے کوئی\n\nاَڑ بیٹھے کیا سمجھ کے بھلا طُور پر کلیم\nطاقت ہو دید کی تو تقاضا کرے کوئی\n\nنظّارے کو یہ جُنبشِ مژگاں بھی بار ہے\nنرگس کی آنکھ سے تجھے دیکھا کرے کوئی\n\nکھُل جائیں، کیا مزے ہیں تمنّائے شوق میں\nدو چار دن جو میری تمنا کرے کوئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ظاہراً موت ہے قضا ہے عشق", "poet_page": "مصنف:عبد الغفور نساخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ظاہراً موت ہے قضا ہے عشق\nپر حقیقت میں جاں فزا ہے عشق\n\nدیتا ہے لاکھ طرح سے تسکین\nمرض ہجر میں دوا ہے عشق\n\nتا دم مرگ ساتھ دیتا ہے\nایک محبوب با وفا ہے عشق\n\nدیکھ نساخؔ گر نہ ہوتا کفر\nکہتے بے شبہ ہم خدا ہے عشق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%D8%A7%D9%8B_%D9%85%D9%88%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "ظرف تو دیکھیے میرے دل شیدائی کا", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "ظرف تو دیکھیے میرے دل شیدائی کا\nجام مے بن گیا اک مست خود آرائی کا\n\nجی میں آتا ہے کہ پھولوں کی اڑا دوں خوشبو\nرنگ اڑا لائے ہیں ظالم تری رعنائی کا\n\nمیں ابھی ان کو شناسائے محبت کر دوں\nکاش موقع تو ملے ان سے شناسائی کا\n\nبھول جاؤ گے یہاں آ کے تم اپنا عالم\nتم نے دیکھا نہیں گوشہ مری تنہائی کا\n\nتم نے کعبہ تو بنایا ہے شرفؔ کے دل کو\nحکم اس کعبے میں دو سب کو جبیں سائی کا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D8%B1%D9%81_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ظلامِ بحر میں کھو کر سنبھل جا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ظلامِ بحر میں کھو کر سنبھل جا\nتڑپ جا، پیچ کھا کھا کر بدل جا\nنہیں ساحل تری قسمت میں اے موج\nاُبھر کر جس طرف چاہے نِکل جا!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D9%84%D8%A7%D9%85%D9%90_%D8%A8%D8%AD%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%D9%86%D8%A8%DA%BE%D9%84_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "ظلم سالے نے کیا یہ دل دلگیر کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:بوم میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ظلم سالے نے کیا یہ دل دلگیر کے ساتھ\nرکھ دیا باندھ کے چھپر میں اسے تیر کے ساتھ\n\nغیر کو کرکے رہا یار بھی تدبیر کے ساتھ\nدے دیا سنکھیا تھوڑا سا اسے کھیر کے ساتھ\n\nمرشدی جان کا منہ جس نے کیا تھا کالا\nآج بھاگی ہے مرا دن بھی اسی پیر کے ساتھ\n\nوصل کا نیم مزہ ہو گیا حاصل مجھ کو\nرات بھر سویا لپٹ کر تری تصویر کے ساتھ\n\nکی مقدر کی شکایت تو حرامی نے کہا\nتیری تقدیر کا لکھا تری تقدیر کے ساتھ\n\nاس طرح پھرتا ہوں اس شوخ کے پیچھے پیچھے\nجیسے اتوار لگا رہتا ہے ہر پیر کے ساتھ\n\nلے کے اس شوخ کو آرام سے چھت پر سویا\nغیر کو ڈال دیا باندھ کے شہتیر کے ساتھ\n\nپھر تو حاصل ہو مزہ وصل کا دونا مجھ کو\nعقد ہو جائے اگر یار کی ہمشیر کے ساتھ\n\nکمسنی ہی میں ہوا شوق اسیری پیدا\nبرسوں کھیلا ہوں میں دروازے کی زنجیر کے ساتھ\n\nاس طرح جنبشیں دے دے کے نکالا اس کو\nآ گیا دل بھی مرا کھینچ کے ترے تیر کے ساتھ\n\nبومؔ صاحب کا یہی مشغلہ ہے آہٹ پر\nدل کو بہلاتا ہے ہر دم تری تصویر کے ساتھ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D9%84%D9%85_%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%92_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D9%84%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تک", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تک\nمجھ کو حیرت رہی انجمن میں تری کیوں ہیں خاموش اہل زباں آج تک\n\nعشق محو غم زندگی ہو گیا حسن مدہوش عشوہ طرازی رہا\nاہل دل ہوش میں آ چکے ہیں مگر ہے وہی عالم دلبراں آج تک\n\nایسے گزرے ہیں اہل نظر راہ سے جن کے قدموں سے ذرے منور ہوئے\nاور ایسے منور جنہیں دیکھ کر رشک کرتی رہی کہکشاں آج تک\n\nکاروانوں کے رہبر نے راہزن پھر بھی منزل پہ کچھ راہرو آ گئے\nوہ نئے کاروانوں کے رہبر بنے جن سے ہے عظمت رہبراں آج تک\n\nمشکلیں آفتیں حادثے سانحے آئے اخترؔ مری راہ میں کس قدر\nمجھ کو آگے بڑھاتا رہا ہے مگر میرا دل میرا عزم جواں آج تک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D9%84%D9%85_%D8%B3%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D9%84%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D9%86%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D8%AC_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "ظلمات شب ہجر کی آفات ہے اور تو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ظلمات شب ہجر کی آفات ہے اور تو\nجو دم ہے غنیمت ہے کہ پھر رات ہے اور تو\n\nاک ہم سے ہی ملنے میں تأمل ہے وگرنہ\nغیروں سے وہی تیری ملاقات ہے اور تو\n\nیاں روز سیاہ و شب تاریک ہے اور ہم\nواں آئینۂ باغ طلسمات ہے اور تو\n\nمر جانے کی جا ہے کہ صنم دو دو پہر تک\nہر اک سے سر بام اشارات ہے اور تو\n\nسو باتیں ہوئیں تو نہ ملا اپنے سے اے دل\nکیا بات ہے تیری کہ وہی بات ہے اور تو\n\nنے حور نہ انساں نہ پری اور نہ فرشتہ\nجس حسن و صباحت میں تری گات ہے اور تو\n\nزندان فراق و لب خاموش ہے اور ہم\nسیر چمن و حرف و حکایات ہے اور تو\n\nہووے گا نہ یہ ہستئ فانی کا بکھیڑا\nاک روز یہ ہوگا کہ تری ذات ہے اور تو\n\nنومید نہ ہو ہجر میں اے مصحفیؔ اس سے\nدو دن کو وہی لطف و عنایات ہے اور تو\n\nکڑھ مت کہ فراغت کی بھی آ جائے ہے ساعت\nپھر مان دوانے وہی اوقات ہے اور تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%AA_%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%81%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D9%88"} {"title": "ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گا", "poet_page": "مصنف:اثر صہبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گا\nلے کے ہمراہ مہ داغ جگر جاؤں گا\n\nعارض گل ہوں نہ میں دیدۂ بلبل گلچیں\nایک جھونکا ہوں فقط سن سے گزر جاؤں گا\n\nاے فنا ٹوٹ سکے گی نہ کبھی کشتی عمر\nمیں کسی اور سمندر میں اتر جاؤں گا\n\nدیکھ جی بھر کے مگر توڑ نہ مجھ کو گلچیں\nہاتھ بھی تو نے لگایا تو بکھر جاؤں گا\n\nایک قطرہ ہوں مگر سیل محبت سے ترے\nہو سکے جو نہ سمندر سے بھی کر جاؤں گا\n\nدور گلشن سے کسی دشت میں لے جا صیاد\nہم صفیروں کے ترانوں میں تو مر جاؤں گا\n\nصحن گلشن میں کئی دام بچھے ہیں اے اثرؔ\nاڑ کے جاؤں بھی اگر میں تو کدھر جاؤں گا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D9%84%D9%85%D8%AA_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D8%B9%D8%AF%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے\nاک شمع ہے دلیلِ سحر سو خموش ہے\n\nنے مژدۂ وصال نہ نظّارۂ جمال\nمدّت ہوئی کہ آشتیِ چشم و گوش ہے\n\nمے نے کِیا ہے حسنِ خود آرا کو بے حجاب\nاے شوق یاں اجازتِ تسلیمِ ہوش ہے\n\nگوہر کو عقدِ گردنِ خوباں میں دیکھنا\nکیا اوج پر ستارۂ گوہر فروش ہے\n\nدیدار بادہ، حوصلہ ساقی، نگاہ مست\nبزمِ خیال مے کدۂ بے خروش ہے\n\nاے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل\nزنہار اگر تمہیں ہوسِ نائے و نوش ہے\n\nدیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو\nمیری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے\n\nساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہی\nمطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے\n\nیا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط\nدامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے\n\nلطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صدائے چنگ\nیہ جنّتِ نگاہ وہ فردوسِ گوش ہے\n\nیا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں\nنے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے\n\nداغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی\nاک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے\n\nآتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں\nغالبؔ صریرِ خامہ نوائے سروش ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B8%D9%84%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%DB%81%DB%92"} {"title": "عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میں", "poet_page": "مصنف:آفتاب شاہ عالم ثانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میں\nکر چاک گریباں تجھے بدنام کروں میں\n\nہے دور جہاں میں مجھے سب شکوہ تجھی سے\nکیوں کچھ گلہ گردش ایام کروں میں\n\nآوے جو تصرف میں مرے مے کدہ ساقی\nاک دم میں خموں کے خمیں انعام کروں میں\n\nحیراں ہوں ترے ہجر میں کس طرح سے پیارے\nشب روز کو اور صبح کے تئیں شام کروں میں\n\nمجھ کو شہ عالم کیا اس رب نے نہ کیونکر\nاللہ کا شکرانہ انعام کروں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%AC%D8%B2_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عاجز ہے خیال اور تفکر حیراں", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "عاجز ہے خیال اور تفکر حیراں\nبے سود یقیں ہے اور بے ہودہ گماں\nکھلتا نہیں عقدہ کھولنے سے کوئی\nبنتی نہیں بات کچھ بنائے سے یہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%AC%D8%B2_%DB%81%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA"} {"title": "عارض روشن پہ جب زلفیں پریشاں ہو گئیں", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عارض روشن پہ جب زلفیں پریشاں ہو گئیں\nکفر کی گمراہیاں ہم رنگ ایماں ہو گئیں\n\nزلف دیکھی اس کی جن قوموں نے وہ کافر بنیں\nرخ نظر آیا جنہیں وہ سب مسلماں ہو گئیں\n\nخود فروشی حسن کو جب سے ہوئی مد نظر\nنرخ دل بھی گھٹ گیا جانیں بھی ارزاں ہو گئیں\n\nجو بنائیں تھیں کبھی ایوان کسریٰ کا جواب\nگردش افلاک سے گرد بیاباں ہو گئیں\n\nخوف ناکامی ہے جب تک کامیابی ہے محال\nمشکلیں جب بندھ گئیں ہمت سب آساں ہو گئیں\n\nہائے کس کو روئیے اور کس کی خاطر پیٹئے\nکیسی کیسی صورتیں نظروں سے پنہاں ہو گئیں\n\nکیا انہیں اندوہ ہنگام سحر یاد آ گیا\nشام ہی سے بزم میں شمعیں جو گریاں ہو گئیں\n\nاک فرشتے بھی تو ہیں جن کو نہ محنت ہے نہ رنج\nخواہشیں دل کی بلائے جان انساں ہو گئیں\n\nکیا ہے وہ جان مجسم جس کے شوق دید میں\nجامۂ تن پھینک کر روحیں بھی عریاں ہو گئیں\n\nتھی وہ توفیق الٰہی میں نے سمجھا اپنا فعل\nطاعتیں بھی میرے حق میں عین عصیاں ہو گئیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D8%B6_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D8%B2%D9%84%D9%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عارض سے ترے بہار مقصود", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "عارض سے ترے بہار مقصود\nہے خط سے بنقشہ زار مقصود\n\nاڑ اڑ کے غبار عاشق آیا\nکوچہ میں جو تھا مزار مقصود\n\nکعبہ سے غزال کودتا آئے\nہو ان کا اگر شکار مقصود\n\nگیسو سے غرض ہے خاص کر لیل\nرخسار سے ہے نہار مقصود\n\nنرگس ہے چمن کی دیدۂ شوق\nہے آپ کا انتظار مقصود\n\nدل کی نہ کلی شگفتہ ہوگی\nگل سے نہ رکھے ہزار مقصود\n\nداغوں کا وقارؔ سینہ مشتاق\nہے کوہ کا لالہ زار مقصود", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D8%B6_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%AF"} {"title": "عارف ہے وہ جو حسن کا جویا جہاں میں ہے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عارف ہے وہ جو حسن کا جویا جہاں میں ہے\nباہر نہیں ہے یوسف اسی کارواں میں ہے\n\nپیری میں شغل مے ہے جوانانہ روز و شب\nبوئے بہار آتی ہماری خزاں میں ہے\n\nہوتا ہے گل کے سونگھے سے دونا گرفتہ دل\nمجھ سا بھی بد دماغ کم اس بوستاں میں ہے\n\nپشت خمیدہ دیکھ کے ہوتا ہوں نعرہ زن\nکرتا ہوں صرف تیر جو زور اس کماں میں ہے\n\nدکھلا رہی ہے دل کی صفا دو جہاں کی سیر\nکیا آئینہ لگا ہوا اپنے مکاں میں ہے\n\nدیوانہ جو نہ عشق سے ہو آدمی نہیں\nحسن پری کا جلوہ طلسم جہاں میں ہے\n\nپروانوں کی طرح ہے ہجوم قدح کشاں\nروشن چراغ بادہ جو مغ کی دکاں میں ہے\n\nاس دل ربا کے کوچہ میں آگے ہوا سے جائے\nاتنی تو جان اب بھی تن ناتواں میں ہے\n\nدنیا سے کوچ کرنا ہے اک روز رہروو\nبانگ جرس سے شور یہی کارواں میں ہے\n\nپڑھ سکتا سر نوشت کا مطلب کوئی نہیں\nمعلوم کچھ نہیں کہ یہ خط کس زباں میں ہے\n\nآئندہ و روندہ کی چلتی ہیں ٹھوکریں\nجادہ جو اپنا تھا اسی خواب گراں میں ہے\n\nکشتے ہیں باغ میں بھی تری تیغ ناز کے\nبوئے شہید لالہ میں اور ارغواں میں ہے\n\nعاشق کے رنگ زرد کو دیکھو تو ہنس پڑو\nتاثیر اس میں بھی ہے وہ جو زعفراں میں ہے\n\nمعدوم وہ کمر ہے نہ موہوم وہ دہن\nکہتے ہیں شاعر ان کے جو کچھ کچھ گماں میں ہے\n\nگل ٹوٹتے ہیں ہوتے ہیں بلبل اسیر دام\nصیاد مستعد مدد باغباں میں ہے\n\nسرکش کی منزلت ہے سبک پیش خاکسار\nوہ تمکنت زمیں کی کہاں آسماں میں ہے\n\nسنبل سے حال گل ہوں میں یہ کہہ کے پوچھتا\nکس سلسلہ میں تو ہے یہ کس خانداں میں ہے\n\nدل میں خیال گیسوئے مشکیں ہے بد بلا\nیہ مرغ روح کے لیے سانپ آشیاں میں ہے\n\nحکمت سے ہے یہ خاک کا پتلا بنا ہوا\nنور آنکھ میں ہے اس کے تو مغز استخواں میں ہے\n\nآتشؔ بلند پایہ ہے درگاہ یار کی\nہفتم فلک کی رفعت اسی آستاں میں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "عاشق بپت کے مارے روتے ہوئے جدھر جاں", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق بپت کے مارے روتے ہوئے جدھر جاں\nپانی سیں اس طرف کی راہیں تمام بھر جاں\n\nمر کر ترے لباں کی سرخی کے تئیں نہ پہنچے\nہر چند سعی کر کر یاقوت و لعل و مرجاں\n\nجنگل کے بیچ وحشت گھر میں جفا و کلفت\nاے دل بتا کہ تیرے مارے ہم اب کدھر جاں\n\nاک عرض سب سیں چھپ کر کرنی ہے ہم کوں تم سیں\nراضی ہو گر کہو تو خلوت میں آ کے کر جاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%A8%D9%BE%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%DA%BA"} {"title": "عاشق تو ملیں گے تجھے انساں نہ ملے گا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق تو ملیں گے تجھے انساں نہ ملے گا\nمجھ سا تو کوئی بندۂ فرماں نہ ملے گا\n\nہوں منتظر لطف کھڑا کب سے ادھر دیکھ\nکیا مجھ کو دل اے طرۂ جاناں نہ ملے گا\n\nکہنے کو مسلماں ہیں سبھی کعبے میں لیکن\nڈھونڈوگے اگر ایک مسلماں نہ ملے گا\n\nناصح اسے سینا ہے تو اب سی لے وگرنہ\nپھر فصل گل آئے یہ گریباں نہ ملے گا\n\nرہنے کے لیے ہم سے گنہ گاروں کے یا رب\nکیا شہر عدم میں کوئی زنداں نہ ملے گا\n\nہونے کی نہیں تیری خوشی سرو خراماں\nتا خاک میں یہ بے سر و ساماں نہ ملے گا\n\nدل اس سے تو مانگے ہے عبث مصحفیؔ ہر دم\nکیا فائدہ اصرار کا ناداں نہ ملے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "عاشق جو ہوا ہے تو کسی پر ناگاہ", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "عاشق جو ہوا ہے تو کسے پر ناگاہ\nہے میری طرح سے حال تیرا بھی تباہ\nکیا حسن ہے لاغری میں اللہ اللہ\nجس پر قربان ہو مہ آخر ماہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%D8%A7%DA%AF%D8%A7%DB%81"} {"title": "عاشق دعا کرے تو یہی اک دعا کرے", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق دعا کرے تو یہی اک دعا کرے\nدو دل ملیں تو پھر نہ جدا ہوں خدا کرے\n\nمیری طرح تجھے بھی خدا مبتلا کرے\nمیری نگاہ تیری نظر ہو خدا کرے\n\nدل ہو بتوں کے عشق سے خالی خدا کرے\nوہ بے نیاز اب اسے بے مدعا کرے\n\nدل جس کو چاہتا ہو اسی کا گلہ کرے\nیہ عشق ہے تو ہم کو نہ آئے خدا کرے\n\nوہ دو دلوں کو ایک کرے یا جدا کرے\nسب اس کے ہاتھ میں ہے جو چاہے خدا کرے\n\nان بے وفا بتوں سے طبیعت اچٹ گئی\nاب تو خدا سے اپنی لگے لو خدا کرے\n\nہم بھی وفا کریں گے ہے جب تک کہ دم میں دم\nوہ بھی جفا سے باز نہ آئے خدا کرے\n\nتو میری شکل میں ہو تو میں تیری شکل میں\nیوں میرا تیرا وصل ہو اے بت خدا کرے\n\nآنکھیں ملی ہوں رونے ہی کے واسطے جسے\nوہ اپنے حال پر جو نہ روئے تو کیا کرے\n\nدیتی نہیں جواب یہ پتھر کی مورتیں\nکیا بے زباں بتوں سے کوئی التجا کرے\n\nکہتے ہیں دیکھ کر مجھے اکبرؔ بتان ہند\nگمراہ ہے یہ راہ پر آئے خدا کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "عاشق زار ہوں جز عشق مجھے کام نہیں", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "عاشق زار ہوں جز عشق مجھے کام نہیں\nطالب کفر نہیں تابع اسلام نہیں\n\nغم نہیں کچھ بھی خرابی سے ہے ہم مستوں کو\nگردش جام ہے یہ گردش ایام نہیں\n\nقتل عاشق کے لیے ایک ادا بس ہے تری\nبسمل عشق کو کچھ حاجت صمصام نہیں\n\nکیا ہوا ابر بھی ہے مے بھی ہے ساغر بھی ہے\nہے یہ سب ہیچ اگر ساقیٔ گلفام نہیں\n\nدیکھ کر مجھ کو تجھے کیوں ہے تحیر ناصح\nمشرب عشق ہے یہ مذہب اسلام نہیں\n\nخانۂ ناز ہے وہ بلکہ چراغ مردہ\nدل کے آئینہ میں گر روئے دل آرام نہیں\n\nعشق خادم سے ہوا ہے دل آثمؔ معمور\nاس لیے دین و دنیا سے اسے کام نہیں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%B2_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عاشق زار ہوں دیوانہ ہوں", "poet_page": "مصنف:منتظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق زار ہوں دیوانہ ہوں\nمیں بھی اک شمع کا پروانہ ہوں\n\nخانہ آباد جنوں کی دولت\nباعث رونق ویرانہ ہوں\n\nیاد رکھتا ہے مجھے کم کوئی\nمیں دم خواب کا افسانہ ہوں\n\nاس سے ہر ایک کو اپنایت ہے\nکون کہتا ہے میں بیگانہ ہوں\n\nلوٹنا اشک کا میں سینہ پر\nجانتا بازیٔ طفلانہ ہوں\n\nمنتظرؔ روز ازل سے میں تو\nوالہ جلوۂ جانانہ ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "عاشق زلف و رخ دلدار آنکھیں ہو گئیں", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق زلف و رخ دلدار آنکھیں ہو گئیں\nمبتلائے کافر و دیندار آنکھیں ہو گئیں\n\nسرخ پلکیں ہو گئیں خوں بار آنکھیں ہو گئیں\nدیکھ لو اب زخم دامن دار آنکھیں ہو گئیں\n\nدیکھ کر محو جمال یار آنکھیں ہو گئیں\nجام ہائے شربت دیدار آنکھیں ہو گئیں\n\nآئیو اے اشک اب بہنے لگا ہے خون گرم\nبھیجیو پانی کہ آتش بار آنکھیں ہو گئیں\n\nلڑ گئیں تم سے جو آنکھیں ہو گئی اک بار صلح\nکیجئے دو تین باتیں چار آنکھیں ہو گئیں\n\nکشتیٔ مے لے کے اے ساقی پہنچ بہر خدا\nبے ترے محفل میں دریا بار آنکھیں ہو گئیں\n\nہے تصور بسکہ آنکھوں میں خط رخسار کا\nآئنے کی طرح جوہر دار آنکھیں ہو گئیں\n\nاے بت کافر ہے بس بے عیب ذات اللہ کی\nلب ترے عیسیٰ ہوئے بیمار آنکھیں ہو گئیں\n\nبہہ گئیں پلکیں برنگ خس مری اشکوں کے ساتھ\nاب تو نظروں میں گل بے خار آنکھیں ہو گئیں\n\nچشم بددور ان کو گردش ہے عجب انداز سے\nاے پری آہوئے خوش رفتار آنکھیں ہو گئیں\n\nمیرے پاؤں کی طرح ہیہات اب گردش میں ہیں\nکس کی یہ وارفتۂ رفتار آنکھیں ہو گئیں\n\nعین نادانی ہے اب ان سے جو رکھیے چشم داشت\nشکل مژگاں پھر گئیں بیزار آنکھیں ہو گئیں\n\nلخت دل یاقوت میں آنسو ہیں موتی آب دار\nآؤ دیکھو جوہری بازار آنکھیں ہو گئیں\n\nدو تو ہیں چشم سخن گو گر نہیں ہے اک دہن\nچپ نہ رہیے قابل گفتار آنکھیں ہو گئیں\n\nعشق پنہاں دیدۂ گریاں نے ظاہر کر دیا\nہنسنے کی جا ہے لب اظہار آنکھیں ہو گئیں\n\nابلق چشم صنم کس ناز سے گردش میں ہے\nخوب کاوے ہوتے ہیں رہوار آنکھیں ہو گئیں\n\nہر کسی نے آنکھ جب ڈالی گلوئے صاف پر\nہنس کے فرمایا گلے کا ہار آنکھیں ہو گئیں\n\nتول لیتے ہیں سدا نظروں میں جنس حسن کو\nپلۂ میزاں مری اے یار آنکھیں ہو گئیں\n\nہے تصور روز و شب کس کی طلائی رنگ کا\nچشم نرگس کی طرح زردار آنکھیں ہو گئیں\n\nکہتے ہو سب دیکھتے ہیں تیری آنکھوں سے مجھے\nسچ کہو اغیار کی بے کار آنکھیں ہو گئیں\n\nچلیے اب صحرا سے کوئے یار انہیں دکھلائیے\nآبلوں سے پاؤں میں دو چار آنکھیں ہو گئیں\n\nپھول نرگس کے بنائے کب وہاں معمار نے\nیہ ہماری نقش بر دیوار آنکھیں ہو گئیں\n\nاے خدا شاہد ہمارا ثم وجہ اللہ ہے\nجب نگہ کی بت پہ تجھ سے چار آنکھیں ہو گئیں\n\nآپ سا ان کو بنایا عشق تیر یار نے\nہے سری تار نگہ سوفار آنکھیں ہو گئیں\n\nپیش نرگس ہاتھ پھیلائے ہیں شاخوں سے درخت\nکس کو دیکھیں گے جو اب درکار آنکھیں ہو گئیں\n\nچپ کھڑے ہیں بن گئے ہیں نقش بر دیوار ہم\nآؤ دیکھو روزن دیوار آنکھیں ہو گئیں\n\nساقی و مینا و ساغر ایک آتے ہیں نظر\nبادۂ وحدت سے کیا سرشار آنکھیں ہو گئیں\n\nروتے روتے ہجر میں سوجے ہیں یہ چشمان تر\nجسم لاغر ہو گیا طیار آنکھیں ہو گئیں\n\nعاشق ابرو ہوں کرنا دیدہ و دانستہ قتل\nجوہروں سے تجھ میں اے تلوار آنکھیں ہو گئیں\n\nآنکھ کے ڈوروں نے تیرے کچھ تو ہیں دھاگے دیے\nاے صنم جو مائل زنار آنکھیں ہو گئیں\n\nپھر گیا وہ آ کے اب جاگے تو کیا حاصل وزیرؔ\nسو گئے جب بخت تب بیدار آنکھیں ہو گئیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%88_%D8%B1%D8%AE_%D8%AF%D9%84%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عاشق سمجھ رہے ہیں مجھے دل لگی سے آپ", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق سمجھ رہے ہیں مجھے دل لگی سے آپ\nواقف نہیں ابھی مرے دل کی لگی سے آپ\n\nدل بھی کبھی ملا کے ملے ہیں کسی سے آپ\nملنے کو روز ملتے ہیں یوں تو سبھی سے آپ\n\nسب کو جواب دے گی نظر حسب مدعا\nسن لیجے سب کی بات نہ کیجے کسی سے آپ\n\nمرنا مرا علاج تو بے شک ہے سوچ لوں\nیہ دوستی سے کہتے ہیں یا دشمنی سے آپ\n\nہوگا جدا یہ ہاتھ نہ گردن سے وصل میں\nڈرتا ہوں اڑ نہ جائیں کہیں نازکی سے آپ\n\nزاہد خدا گواہ ہے ہوتے فلک پر آج\nلیتے خدا کا نام اگر عاشقی سے آپ\n\nاب گھورنے سے فائدہ بزم رقیب میں\nدل پر چھری تو پھیر چکے بے رخی سے آپ\n\nدشمن کا ذکر کیا ہے جواب اس کا دیجئے\nرستہ میں کل ملے تھے کسی آدمی سے آپ\n\nشہرت ہے مجھ سے حسن کی اس کا مجھے ہے رشک\nہوتے ہیں مستفیض مری زندگی سے آپ\n\nدل تو نہیں کسی کا تجھے توڑتے ہیں ہم\nپہلے چمن میں پوچھ لیں اتنا کلی سے آپ\n\nمیں بے وفا ہوں غیر نہایت وفا شعار\nمیرا سلام لیجے ملیں اب اسی سے آپ\n\nآدھی تو انتظار ہی میں شب گزر گئی\nاس پر یہ طرہ سو بھی رہیں گے ابھی سے آپ\n\nبدلا یہ روپ آپ نے کیا بزم غیر میں\nاب تک مری نگاہ میں ہیں اجنبی سے آپ\n\nپردے میں دوستی کے ستم کس قدر ہوئے\nمیں کیا بتاؤں پوچھئے یہ اپنے جی سے آپ\n\nاے شیخ آدمی کے بھی درجے ہیں مختلف\nانسان ہیں ضرور مگر واجبی سے آپ\n\nمجھ سے صلاح لی نہ اجازت طلب ہوئی\nبے وجہ روٹھ بیٹھے ہیں اپنی خوشی سے آپ\n\nبیخودؔ یہی تو عمر ہے عیش و نشاط کی\nدل میں نہ اپنے توبہ کی ٹھانیں ابھی سے آپ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "عاشق سوختہ دل خط صنم دونوں ایک", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق سوختہ دل خط صنم دونوں ایک\nجس طرح سنیے جدا شادی و غم دونوں ایک\n\nدونوں باطن میں اگر ایک ہیں لیکن کوئی\nآب و آتش نہیں رکھتا ہے بہم دونوں ایک\n\nہے جدا سجدہ کی جا ہندو مسلماں کی مگر\nفہم والوں کے تئیں دیر و حرم دونوں ایک\n\nکحل کرتے ہیں ہم آنکھوں میں برابر دونو\nسرمۂ کور کو اور خاک قدم دونوں ایک\n\nجب پھنسا زلف میں جا دل نہ رہا ننگ و حیا\nطاق پر رکھئے وہاں ننگ و شرم دونوں ایک\n\nبار غم ہجر پڑا سر پہ کسی کے اس دم\nخاک میں دیجے ملا عقل و فہم دونوں ایک\n\nعوض ہجر نہ لوں عیش تمام عالم کا\nہے ازل سے مجھے فرمان حکم دونوں ایک\n\nدل میں ارماں نہ رہا باقی جو چاہا سو کیا\nسیر دنیا کی بھی اور سیر عدم دونوں ایک\n\nیار آغوش میں اپنے ہے مہیا ہر دم\nبس ہے یہ میرے تئیں جاہ و حشم دونوں ایک\n\nآرزو قاسمؔ علی دل میں نہیں کچھ لیکن\nچاہئے اپنے تئیں فضل و کرم دونوں ایک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%B3%D9%88%D8%AE%D8%AA%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D8%B7_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9"} {"title": "عاشق نہ اگر وفا کرے گا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق نہ اگر وفا کرے گا\nپھر اور کہو تو کیا کرے گا\n\nمت توڑیو دل صنم کسی کا\nاللہ ترا بھلا کرے گا\n\nہے عالم خواب حال دنیا\nدیکھے گا جو چشم وا کرے گا\n\nجیتا نہ بچے گا کوئی ظالم\nایسی ہی جو تو ادا کرے گا\n\nکل کے تو کئی پڑے ہیں زخمی\nکیا جانیے آج کیا کرے گا\n\nآ جائے گا سامنے تو جس کے\nدل کیا ہے کہ جی فدا کرے گا\n\nکیا جانیے کیا کرے گا طوفاں\nگر اشک یوں ہی بہا کرے گا\n\nبیدارؔ یہ بیت درد رو رو\nفرقت میں تری پڑھا کرے گا\n\nاپنی آنکھوں میں تجھ کو دیکھوں\nایسا بھی کبھو خدا کرے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "عاشق کا جہاں میں گھر نہ دیکھا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق کا جہاں میں گھر نہ دیکھا\nایسا کوئی در بدر نہ دیکھا\n\nجیسا کہ اڑے ہے طائر دل\nایسا کوئی تیز پر نہ دیکھا\n\nخوبان جہاں ہوں جس سے تسخیر\nایسا کوئی ہم ہنر نہ دیکھا\n\nٹوٹے دل کو بنا دکھاوے\nایسا کوئی کاری گر نہ دیکھا\n\nاس تیغ نگہ سے ہو مقابل\nایسا کوئی بے جگر نہ دیکھا\n\nجاری ہیں ہمیشہ چشمۂ چشم\nایسا کوئی ابر تر نہ دیکھا\n\nجو آب ہے آبرو میں حاتمؔ\nایسا کوئی ہم گہر نہ دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "عاشق کا خیال ہے بہت نیک معاش", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "عاشق کا خیال ہے بہت نیک معاش\nہونے نہیں دیتا حسن کے راز کو فاش\nکیوں وصل میں جستجو کمر کی وہ کرے\nحاضر میں نہ حجت اور نہ غائب کی تلاش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D9%86%DB%8C%DA%A9_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4"} {"title": "عاشق کو تیرے لاکھ کوئی رہنما ملے", "poet_page": "مصنف:رسا رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق کو تیرے لاکھ کوئی رہنما ملے\nتیرا پتا ملا ہے نہ تیرا پتا ملے\n\nتم مجھ سے آ ملے کبھی دشمن سے جا ملے\nجب یہ مزاج ہے تو کوئی تم سے کیا ملے\n\nبعد فنا بھی خیر سے تنہا نہیں ہیں ہم\nبندوں سے چھٹ گئے تو فرشتوں میں آ ملے\n\nجب دیر میں یہ دیکھا کہ اپنا گزر نہیں\nکعبے کے جانے والوں میں مجبور جا ملے\n\nدیکھو رساؔ چلے تو ہو تم توبہ توڑنے\nدر پر نہ مے کدے کے کوئی پارسا ملے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7_%D9%85%D9%84%DB%92"} {"title": "عاشق کہیں ہیں جن کو وہ بے ننگ لوگ ہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق کہیں ہیں جن کو وہ بے ننگ لوگ ہیں\nمعشوق جن کا نام ہے وہ سنگ لوگ ہیں\n\nکس طرح کسبیوں سے رکھے کوئی جی بچا\nسب جانتے ہیں ان کو یہ سرہنگ لوگ ہیں\n\nمجنوں تو جا کے دشت میں فریاد کر کہ آئے\nنالے سے تیرے شہر کے دل تنگ لوگ ہیں\n\nعالم کے صوفیوں کے کوئی کیا سمجھ سے\nہر رنگ سے جدا ہیں یہ بے رنگ لوگ ہیں\n\nہم تو نہ لعل لب کا ترے بوسہ لے سکے\nرکھتے ہیں یہ خیال جو بے ڈھنگ لوگ ہیں\n\nاترا ہے کون آب میں یہ جس کے حسن سے\nحیراں کھڑے ہوئے بہ لب گنگ لوگ ہیں\n\nمیرے لغات شعر کے عالم کو مصحفیؔ\nسمجھیں ہیں وہ جو صاحب فرہنگ لوگ ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D9%86%DA%AF_%D9%84%D9%88%DA%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں\nدو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں\n\nقرباں ہوں مجھے جس دم یاد آتی ہیں وہ باتیں\nکیا دن وہ مبارک تھے کیا خوب تھیں وہ راتیں\n\nاوروں سے چھٹے دل بر دل دار ہووے میرا\nبرحق ہیں اگر پیرو کچھ تم میں کراماتیں\n\nکل لڑ گئیں کوچے میں آنکھوں سے مری آنکھیاں\nکچھ زور ہی آپس میں دو دو ہوئیں سمگھاتیں\n\nکشمیر سی جاگہ میں نا شکر نہ رہ زاہد\nجنت میں تو اے گیدی مارے ہے یہ کیوں لاتیں\n\nاس عشق کے کوچے میں زاہد تو سنبھل چلنا\nکچھ پیش نہ جاویں گی یاں تیری مناجاتیں\n\nاس روز میاں مل کر نظروں کو چراتے تھے\nتجھ یاد میں ہی ساجن کرتے ہیں مداراتیں\n\nسوداؔ کو اگر پوچھو احوال ہے یہ اس کا\nدو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D9%B9%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B1%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عاشق کے دل میں اور تری آرزو نہ ہو", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق کے دل میں اور تری آرزو نہ ہو\nاس باغ کا تو پھول ہو پھر اس میں بو نہ ہو\n\nاے درد عشق خانہ دل گھر ترا سہی\nآباد یہ مکان تو جب ہو کہ تو نہ ہو\n\nمیں رنگ دیکھ کر نہ کروں گا یقیں کبھی\nجب تک عدو کے خون کی خنجر میں بو نہ ہو\n\nچاک دل رقیب کی جب فکر کیجیے\nپہلے یہ دیکھ لیجیے پہلا رفو نہ ہو\n\nاس فکر میں کچھ ان سے نہ ہم بات کر سکے\nیہ گفتگو نہ ہو کہیں وہ گفتگو نہ ہو\n\nمجھ کو جناب شیخ کی دعوت ضرور ہے\nایسی کہیں شراب ملے جس میں بو نہ ہو\n\nمٹی کی مورت اس سے تو اے داغؔ خوب ہے\nمعشوق کیا جو شوخ نہ ہو خوش گلو نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "عاشق کے لیے ہجر کا آزار کہاں تک", "poet_page": "مصنف:سید ہمایوں میرزا حقیر", "kind": "poetry", "section": "غزل > چمنستان فصاحت (1940)", "year": "1940", "text_ur": "عاشق کے لیے ہجر کا آزار کہاں تک\nدکھ سہتا رہے آپ کا بیمار کہاں تک\n\nآخر یہ ستم چرخ جفاکار کہاں تک\nجھیلے مرض ہجر دل زار کہاں تک\n\nہو جائے لب بام سے اب جلوہ نمائی\nبیٹھا رہوں آخر پس دیوار کہاں تک\n\nدیکھوں جو کبھی آؤ سوئے گور غریباں\nجی اٹھتے ہیں مردے دم رفتار کہاں تک\n\nآتا نہیں اب کوئی عیادت کو بھی اے دل\nبہلاتے بھلا بیٹھ کے غم خوار کہاں تک\n\nسجدہ ہی کی خو ڈالوں کہ مقبول ہو خدمت\nبیٹھا رہوں در پر ترے بے کار کہاں تک\n\nکرنا نہ حقیرؔ آبلہ پائی کی شکایت\nدیکھو تو رہ عشق ہے دشوار کہاں تک", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "عاشق کے مکھ پہ نین کے پانی کو دیکھ توں", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق کے مکھ پہ نین کے پانی کو دیکھ توں\nاس آرسی میں راز نہانی کوں دیکھ توں\n\nسن بے قرار دل کی اول آہ شعلہ خیز\nتب اس حرف میں دل کے معانی کوں دیکھ توں\n\nخوبی سوں تجھ حضور و شمع دم زنی میں ہے\nاس بے حیا کی چرب زبانی کوں دیکھ توں\n\nدریا پہ جا کے موج رواں پر نظر نہ کر\nانجھواں کی میرے آ کے روانی کوں دیکھ توں\n\nتجھ شوق کا جو داغ ولیؔ کے جگر میں ہے\nبے طاقتی میں اس کی نشانی کوں دیکھ توں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DA%A9%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D9%86%DB%8C%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AA%D9%88%DA%BA"} {"title": "عاشق گیسو دوتا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "عاشق گیسو دوتا ہوں میں\nآپ اپنے لیے بلا ہوں میں\n\nکیا شکایت اگر نہ جانے یار\nخود نہیں جانتا کہ کیا ہوں میں\n\nمثل گل ہنس کے میں کبھی نہ کھلا\nغنچہ ساں زیست سے خفا ہوں میں\n\nمیں تو اے جان ہوں برے سے برا\nمیرا یہ منہ کہوں بھلا ہوں میں\n\nدل ہے آئینۂ دو رو اپنا\nدوست دشمن سے ایک سا ہوں میں\n\nتیرا عاشق ہوں اے بت رعنا\nغیر ہوں میں کہ آشنا ہوں میں\n\nمجھ کو تسلیم ہے جفائے یار\nہر طرح تابع رضا ہوں میں\n\nموج نکہت مرا جنازہ ہے\nکشتۂ خنجر ادا ہوں میں\n\nپھر چبھا دل میں خار غم ہے وقارؔ\nپھر کسی گل کا مبتلا ہوں میں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%D8%AF%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عاشق ہوئے ہیں جب سے ہم خود سے جا رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق ہوئے ہیں جب سے ہم خود سے جا رہے ہیں\nبے درد ناصحوں نے ناحق ستا رہے ہیں\n\nفصل بہار میں ہم کیوں کر نہ ہوں دوانے\nگل چاک کر گریباں دھومیں مچا رہے ہیں\n\nپھر آونے کا وعدہ تم کر گئے ہو ہم سے\nپیارے تمہاری رہ پر آنکھیں لگا رہے ہیں\n\nاے ابر تو برستا اور ہی طرف چلا جا\nامڈے ہیں غم کے بادل سو ہم تھما رہے ہیں\n\nدل کھول ٹک جو برسیں ارض و سما ڈباویں\nمژگان تر کے ظالم وہ ابر چھا رہے ہیں\n\nیہ عشق نیں ہے برعکس جا دیکھ لے چمن میں\nآ خوش نین عدم سے آنکھیں دکھا رہے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عاشق ہوں میں نفرت ہے مرے رنگ کو رو سے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق ہوں میں نفرت ہے مرے رنگ کو رو سے\nپیوند نہیں چاک گریباں کو رفو سے\n\nدامن مرے قاتل کا نہ رنگیں ہو لہو سے\nہرچند کہ نزدیک ہو رگ ہائے گلو سے\n\nگلزار جہاں پر نہ پڑی آنکھ ہماری\nکوتاہ تھی عمر اپنی حباب لب جو سے\n\nکرتا ہے وہ سفاک خط شوق کے پرزے\nمہندی ملی جاتی ہے کبوتر کے لہو سے\n\nعاشق ہوں مگر کرتے ہیں معشوق خوشامد\nنازک ہے طبیعت مری بیمار کی خو سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%81%D8%B1%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D9%88_%D8%B3%DB%92"} {"title": "عاشق ہی فقط نہیں ہے جنجالوں میں", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "عاشق ہی فقط نہیں ہے جنجالوں میں\nہر طائر دل پھنسا ہے ان جالوں میں\nباہر اس سلسلہ سے ہے کون منیرؔ\nبوڑھے بھی ہیں اس جوان کے بالوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%8C_%D9%81%D9%82%D8%B7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عاشق ہیں مگر عشق نمایاں نہیں رکھتے", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق ہیں مگر عشق نمایاں نہیں رکھتے\nہم دل کی طرح چاک گریباں نہیں رکھتے\n\nسر رکھتے ہیں سر میں نہیں سودائے محبت\nدل رکھتے ہیں دل میں کوئی ارماں نہیں رکھتے\n\nنفرت ہے کچھ ایسی انہیں آشفتہ سروں سے\nاپنی بھی وہ زلفوں کو پریشاں نہیں رکھتے\n\nرکھنے کو تو رکھتے ہیں خبر سارے جہاں کی\nاک میرے ہی دل کی وہ خبر ہاں نہیں رکھتے\n\nگھر کر گئیں دل میں وہ محبت کی نگاہیں\nان تیروں کا زخمی ہوں جو پیکاں نہیں رکھتے\n\nدل دے کوئی تم کو تو کس امید پر اب دے\nتم دل تو کسی کا بھی مری جاں نہیں رکھتے\n\nرہتا ہے نگہبان مرا ان کا تصور\nوہ مجھ کو اکیلا شب ہجراں نہیں رکھتے\n\nدشمن تو بہت حضرت ناصح ہیں ہمارے\nہاں دوست کوئی آپ سا ناداں نہیں رکھتے\n\nدل ہو جو پریشان تو دم بھر بھی نہ ٹھہرے\nکچھ باندھ کے تو گیسوئے پیچاں نہیں رکھتے\n\nگو اور بھی عاشق ہیں زمانے میں بہت سے\nبیخودؔ کی طرح عشق کو پنہاں نہیں رکھتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%D9%85%D8%A7%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92"} {"title": "عاشق ہے جو تمہارے رخ سرخ رنگ کا", "poet_page": "مصنف:ماتم فضل محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق ہے جو تمہارے رخ سرخ رنگ کا\nرہتا ہے اس کو نشہ شراب فرنگ کا\n\nکہتے ہیں لوگ دیکھ تیرے رخ پہ خال کو\nکیا حکم روم میں ہے سپہدار زنگ کا\n\nاے رشک حور وسعت جنت میں بھی مجھے\nتجھ بن ہے بے گمان یقیں گور تنگ کا\n\nجب سے پتنگ ہوں میں ترے شمع رو کا یار\nمعلوم تھا نہ تجھ کو اڑانا پتنگ کا\n\nخوف خدا نہ ہوتا تو رکھتا میں اے صنم\nعرش عظیم نام تمہارے پلنگ کا\n\nاے سبز رنگ مست مئے عشق و حسن تو\nافیوں کو پوچھتے نہیں کیا ذکر بھنگ کا\n\nخال رخ نگار ہیں چہرے خیال میں\nبینی دکھائی دے ہے دونالی تفنگ کا\n\nماتم مرا ہے یار سوا ہم کو بزم نور\nصوت بکا سے کم نہیں آواز چنگ کا\n\nآتش کا شعر پڑھتا ہوں اکثر بحسب حال\nدل صید ہے وہ بحر سخن کے نہنگ کا\n\nوہ چشم گھات میں دل پر داغ کے نہیں\nآہو کو ہے ارادہ شکار پلنگ کا\n\nناموس کا تو فکر ہے ماتمؔ عبث یہاں\nیہ عشق خصم نام کا دشمن ہے ننگ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D8%AE_%D8%B3%D8%B1%D8%AE_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "عاشقو پاؤں نہ اکھڑے وہیں ٹھہرے رہنا", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشقو پاؤں نہ اکھڑے وہیں ٹھہرے رہنا\nپردہ اٹھتا ہے رخ یار سے سنبھلے رہنا\n\nعرش پر سے بھی تمہیں کھینچ کے لے آئے گی\nکشش عاشق بیتاب سے بچتے رہنا\n\nتڑپ اٹھا دل بے تاب کسی عاشق کا\nیہ مرا فرض ہے کہہ دیتا ہوں بچتے رہنا\n\nڈوب کر بحر محبت میں نکلنا کیسا\nپار ہونے کی تمنا ہے تو ڈوبے رہنا\n\nمعرکے سے نہیں ہٹتا کوئی عاشق پیچھے\nسر ہتھیلی پہ دھرے آگے ہی بڑھتے رہنا\n\nنظر آ جائے جو وہ توبہ شکن اے اکبرؔ\nدل کو ہاتھوں سے دبائے ہوئے بیٹھے رہنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%D9%88_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%92_%D9%88%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1%DB%92_%D8%B1%DB%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "عاشقوں کو اے فلک دیوے گا تو آزار کیا", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشقوں کو اے فلک دیوے گا تو آزار کیا\nدشمن جاں ان کا تھوڑا ہے دل بیمار کیا\n\nرشک آوے کیوں نہ مجھ کو دیکھنا اس کی طرف\nٹکٹکی باندھے ہوئے ہے روزن دیوار کیا\n\nآہ نے تو خیمۂ گردوں کو پھونکا دیکھیں اب\nرنگ لاتے ہیں ہمارے دیدۂ خوں بار کیا\n\nمرغ دل کے واسطے اے ہم صفیرو کم ہے کیوں\nکچھ قضا کے تیر سے تیر نگاہ یار کیا\n\nچل کے مے خانے ہی میں اب دل کو بہلاؤ ذرا\nعیشؔ یاں بیٹھے ہوئے کرتے ہو تم بیگار کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D8%AF%DB%8C%D9%88%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عاشقوں کی بات چیت", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ہجر ہے آفت جان وصل بلائے دل ہےآدمی کے لئے ہر طرح غرض مشکل ہےپھول والوں کی سیر ہو چکی تھی۔ قطب صاحب کی لاٹ سے لے کر جھرنہ تک ساری مہرولی پڑی بھائیں بھائیں کر رہی تھی۔ سنسان، آدم نہ آدم زاد، جھرنہ میں پانی بھرا تھا اور جھرنہ کے کنارے ایک مور کھڑا ناچ رہا تھا۔ آم کے درخت پر ایک کوئل ایک پپیہا بیٹھا تھا۔کوئل اے بھائی مور! تم کیسے نڈر ہو، جھرنہ کے کونہ پر ایک آدمی بیٹھا ہے ایسا نہ ہو تمہارے دشمنوں کو ستائے۔مور تمہارا کہنا سچ ہے۔ آدمی بڑا ستاؤ ہے۔ مگر یہ آدمی ہمارا تمہارا بیری نہیں ہے۔ یہ بیچارہ مرنے سے پہلے مرچکا ہے۔ اور اسے بیماری نے چر لیا ہے۔ دیکھتی نہیں ہو، آنکھیں بند کئے بیٹھا ہے۔ ناک پکڑے دم نکلتا ہے۔ اسے اپنے تن بدن کا ہوش نہیں، تمہیں ہمیں کیا ستائے گا۔کوئل اچھا تو میں زمین پر اتر آؤں۔ مجھے آج تین دن پانی پئے ہو گئے۔ جھرنہ میں سے چار بوندیں پی لوں گی۔مور بوا کوئل تم شوق سے نیچے اتر آؤ۔ پانی پیو، نہاؤ، دھوؤ، چونچال ہوجاؤ۔ میں ذمہ لیتا ہوں۔ یہ کل سرا تمہیں کچھ نہ چھیڑےگا۔ مور کے کہنے سے کویل زمین پر اُتری اور اس کی دیکھا دیکھی پپیہا بھی جھرنہ کے کنارہ آ بیٹھا۔ دونوں جانور گرم مزاج ہیں۔ اس لئے دونوں کے دونوں جھرنہ میں خوب نہائے دھوئے اور مگن ہوئے۔ کویل نے کہا، بھائی مور! ندی ناؤ سنجوگ ہے۔ ہم کہاں تم کہاں، آج اتفاق کی بات کہ ہم تین بندے زمین پر اترے بیٹھے ہیں۔ یہ موقع پھر کبھی نہ ہوگا۔ ایک بات آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں۔ بشرطیکہ آپ ٹھیک ٹھیک بتادیں اور چھپائیں نہیں۔مور جوبات کہنے کے قابل ہوگی تو میں نہیں چھپاؤں گا اور کہہ دوں گا۔کویل نہیں آکا یہ صحیح نہیں ہے کہ کہنے کی ہوگی تو کہہ دوں گی۔ یہ قول دیجئے کہ کہنے کی ہو یا نہ ہو، جو بات تم پوچھوگی، وہ بے دریغ کہہ دوں گا۔مور واہ بوا! یہ تو ہارنی ہرانی ہوئی۔ خیر تمہارا کہنا نیچے نہ ڈالوں گا۔ جو تم پوچھوگی بتا دوں گا۔کویل یہ آپ کے پروں میں جو سنہری پن اورنیلم پکھراج کا رنگ ہے کیونکر پیدا ہوا، اور یہ چمک دمک آپ کے سراپا میں کہاں سے آئی۔مور افسوس بہن کوئل! تم نے غضب کیا۔ مجھ سے قول لے لیا۔ نہیں کہتا ہوں تو جھوٹا بنتا ہوں۔ کہتا ہوں تو فرہاد اور مجنون مجھے پیٹ کا ہلکا کہیں گے، یہ کہہ کر مور نے ایک آہ کی۔ جس نے آس پاس کی پہاڑیوں کو لرزا دیا۔ مور کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔کویل اور پپیہا بھائی طاؤس شکوہ ہم دونوں بھی فرہاد اور مجنون کی مجلس کے بیٹھنے والے ہیں۔ جو ان کا رنگ ڈھنگ ہے، وہی ہمارا دین ایمان ہے۔ اگر آپ کچھ بھید کی بات ہمارے سامنے کہیں گے تو ہم اپنے عزیزوں کے سامنے بھی نہ کہیں گے۔ محفل سے باہر بات نہ جائے گی۔کویل کی باتوں نے مور کے زخمی دل پر مرہم کا اثر دکھایا۔ اور اس نے اپنی بپتا اس طرح شروع کی۔ حسن آباد میں عالم افروز نام ایک نازنین تھی۔ جس کی خوبصورتی اس درجہ کی تھی کہ چاند سورج اس کے ناخنوں میں پڑے چمکا کرتے تھے۔ اس کا بوٹا سا قد، اٹھتی جوانی، سر سے پاؤں تک نور ہی نور تھی۔ ریشمی لباس، پھولوں کا گہنا، ویسے تو طرح طرح کے زیور پہنتی تھی، مگر جھومر کا اور خاص کر جڑاؤ جھومر کا اسے بڑا شوق تھا اور جھومر اسے لگتا بھی ایسا بھلا تھا کہ جو دیکھتا اپنا کلیجہ پکڑ کر رہ جاتا۔ عالم افروز نے مجھے بچہ سا پالا تھا اور میرے ساتھ اسے بڑی محبت تھی۔ مجھے وہ گود میں لے کر بیٹھتی تھی۔ پیار کرتی تھی، میری گردن پر ہاتھ پھیرتی تھی۔ جب میں اس کی گود میں بیٹھا ہوتا تھا، تو اس کے جھومر کے پرکالہ میں ٹھونگیں مارا کرتا تھا۔ اور وہ کہا کرتی تھی غارتی اتنا چربانک نہ بن، یاد رکھنا اگر کسی دن تری ٹھونگ سے میرا جھومر میرے ماتھے سے سرک گیا تو تیری کیا سارے حسن آباد کی خیر نہ ہوگی۔عالم افروز کے اس کہنے سے مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ جھومر سرک جانے سے حسن آباد کی اور میری خیر کیوں نہ ہوگی۔ اس جھومر کے نیچے کیا بھید ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی میرے دل میں یہ چاؤ پیدا ہوا کہ اس کے ماتھے سے کسی طرح جھومر سرکانا چاہئے۔ اور اب میں اس فکر میں پڑ گیا کہ کسی دن داؤ لگے اورمیں اس جھومر کا پرکالہ نازنین کے ماتھے سے سرکاؤں۔ اتفاق یہ ہوا کہ نازنین کہیں مہمان گئی تھی اور ساری رات جاگی تھی۔ گھر آئی تو اپنے کمرے میں دن کے وقت ایسی پڑکر سوئی کہ اسے اپنے آپ کی سدھ نہ رہی۔ میں سارے محل میں اہلا گہلا پھرا کرتا تھا، اور نازنین کا چہیتا تھا۔ مجھے کون روک سکتا تھا۔ میں بے دھڑک کمرہ میں گیا۔ میں نے دیکھا کہ نازنین چھپرکھٹ میں بے خبر پڑی سوتی ہے۔ اور چھپر کھٹ کے چاروں طرف لونڈیاں پڑی خراٹے لے رہی ہیں۔میں چپکے سے چھپرکھٹ میں پہنچ گیا اور میں نے چونچ میں پکڑ کر نازنین کے ماتھے پر سے جھومر کو سرکایا۔ جھومر سرکا تو میں نے دیکھا نازنین کے ماتھے پر لکھا ہے، ’’اللہ نور السموات والارض۔‘‘ اور نور کے نون کے نقطہ سے ایسی تجلی نکلی کہ وہ آنکھوں کے رستہ سے میرے تن بدن میں سما گئی۔ اور تمام تن بدن میرا نورانی ہو گیا۔ مگر مجھے اس تجلی نے بیہوش کر دیا اور جب مجھے افاقہ ہوا تو میں نے اپنے تئیں اس جہان کے جنگل میں دیکھا اور اپنے تمام پروں کو اس تجلی سے پُر نور اور رنگین۔ میرے خیال میں جہاں میں تھا فردوس بریں، اور وہ نازنین حورعین تھی۔اب میں اس مقام اور اس نازنین کی جدائی میں تڑپتا ہوں اورنالہ و فریاد کرتا ہوں۔ بے عقل انسان کہتا ہے مور جھنگارتا ہے، مور خوش آواز ہے۔ ساور میں شور و فغاں کرتا ہوں۔ اور قیامت تک اسی طرح شور و فغاں کرتا رہوں گا اور جدائی کی آگ میں جلتا رہوں گا۔ اب بہن کویل تم بھی اپنی رام کہانی سناؤ۔ کیونکہ تمہارا رات دن کا چیخنا چلانا کہے دیتا ہے کہ تم بھی ہجر کا صدمہ اٹھاتی ہو۔کویل بے شک میں اپنے یار کی جدائی میں بیکل رہتی ہوں۔ اسی کے دھیان میں میرے کلیجہ سے ہوک اٹھتی ہے۔ میرا حال آپ کے حال سے ملتا جلتا ہے۔ آپ جس شہر کو حسن آباد کہتے ہیں، مجھے اس کا نام جمالستان بتایا گیا تھا۔ آپ جس محبوب کو عالم افروز سے تعبیر کرتے ہیں، میں اسے جہاں افروز کہتی ہوں، اور وہی محل اور وہی سونے چاندی کی دیواریں، وہی باغ وہی چمن، وہی بہار وہی آبشار، وہی چہل پہل، وہی خوشی، وہی راؤ چاؤ، مجھے جہاں افروز نے پال پوس کر بڑا کیا۔ پرچھائیں کی طرح میں ہر وقت اس کے ساتھ رہتی تھی۔ میری جان اس پر جاتی تھی۔ مجھے اس کی زلف، اس کی چوٹی بہت پسند تھی۔ اور وہ میرے اس دیکھنے بھالنے کو سمجھ گئی تھی۔ اس نے مجھے جتا دیا تھا کہ میری چوٹی نہیں ہے، زہر اور قہر ہے۔ اگر تونے اسے چھولیا یا تو اس کے چھاؤں تلے آ گئی تو پھر تو جل کر فنا ہوجائےگی، اور تیرا پتہ بھی نہ لگےگا۔اس کے کہنے کا الٹا اثر ہوا۔ میں اس دھن میں الجھ گئی کہ کسی طرح ا س کی چوٹی کو ٹٹولوں۔ اس کا قاعدہ تھا کہ وہ سنگار کے وقت سب پرستاروں کو کمرے کے باہر بھیج دیتی تھی اور صرف مشاطہ اپنا کام کیا کرتی تھی۔ ایک دن وہ چمن میں بیٹھی چوٹی گندھوا رہی تھی اور لونڈیاں پہرہ پر کھڑی تھیں، میں نانصیب اوپر ہی اوپر اڑ کر وہاں پہنچی جہاں وہ سنگار کر رہی تھی۔ میں شمشاد کے پتوں میں چھپ کر بیٹھ گئی۔ میں نے دیکھا کہ جہاں افروز کرسی پر بیٹھی ہے۔ اس کے بال کھلے ہوئے ہیں اور اتنے لمبے ہیں کہ ہزاروں کوس تک چلے گئے ہیں اور سارے آسمان پر چھا گئے ہیں۔ جہاں زمین پر ان بالوں کا سایہ پڑا ہے، منوں مشک، عنبر، اگر، تگر، تیزپات، چھل چھبیلہ، ناگرموتھہ، لونگ ہزاروں قسم کی خوشبو کی چیزیں پیدا ہو رہی ہیں۔یکایک اس کے کھلے بالوں میں سے خوشبو کی لپٹ آئی، جو میرے حلق میں اتر گئی اور اس کی گرمی نے میرے سروپا کو پھونک دیا۔ میں غش کھاکر شمشاد کے درخت سے نہر میں گری اور جس وقت مجھے ہوش ہوا، تو میں نے دیکھا نہ جمالستان ہے نہ قصر فردوس ہے، نہ ہی جہاں افروز ہے، نہ اس کی کاکل تیرہ و تار ہے۔ بسا ندی زمین پر میں پڑی ہوں۔ میری پروں کی سفیدی جو سچے موتی اور برف کو مات کرتی تھی، آہ! سیاہی میں اندھیری رات کو مات کرتی ہے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے۔ ہزاروں برس سے یار کے فراق میں آہ و زاری کرتی ہوں، مگر یار عالم بالا پر اور میں مٹی کی زمین پر، وہاں تک میری آواز نہیں پہنچتی۔ چیخ چلا کر تھک جاتی ہوں، جب دم ٹھکانے ہوتا ہے تو پھر فریاد کرتی ہوں،خیالِ زلف دو تا میں نصیر پیٹا کرگیا ہے سانپ نکل تو لکیر پیٹاکرمور واہ بہن کویل تمہارا کیا کہنا۔ سچے عاشقوں میں سے ہو۔ تمہاری تعریف سارے جہان کے پرندے کرتے ہیں۔ اب بھائی پپیہا آپ رہ گئے ہیں۔ مناسب ہے کہ آپ اپنی بپتا سنادیں کہ آپ دن رات کیوں کراہتے ہیں، کسے چاہتے ہیں۔پپیہا بھلا میری مجال ہے کہ میں آپ جیسے عاشقوں کے پیشوا کے سامنے اپنا حال دل سناؤں۔ میں بھی اسی کا فرشوخ و شنگ کا مارا ہوا ہوں۔ صرف ناموں کا فرق ہے۔ اس شہر کا نام مجھے خوبستان اور نازنین کا نام نور افروز بتایا گیا۔ وہی پائیں باغ اور وہی قصر و ایوان اور وہی سامان تھے، جن کا ذکر آپ صاحبوں نے کیا ہے۔ نازنین کے ہاتھوں پر بیٹھا رہتا تھا۔ جب وہ ہنستی تھی تو اس کے منہ سے پھول جھڑتے تھے اور میں کھایا کرتا تھا۔ اور جب اسے پسینہ آتا تھا تو اس کے پسینہ کی بوندیں سچے موتی ہو جاتے تھے۔ میں کیا کہوں ان موتیوں اور پھولوں میں کیا مزہ تھا۔ صبح اٹھ کر وہ نازنین دو چاند اور دو سورج اور دو درجن تارے کھایا کرتی تھی۔ ایک دن اس کے چمچہ سے تارہ کا ایک بھورہ میز پر گرا۔ اور وہ بھورا میں نے کھا لیا۔ اس کا کھانا غضب ہوگیا۔ میں نے اِنّا للہ بکنا شروع کیا اور اس قدر چیخا چلایا اور غل مچایا کہ سارے محل کو سرپر اٹھا لیا۔وہ میرے دہاڑنے سے تنگ ہو گئی تو اس نے شہباز کوتوال کو بلاکر حکم دیا کہ اس کم ظرف چڑیا کو خاکستان فنا میں پہنچا دو۔ یہ نالائق وہاں پڑا چیخا کرےگا اور ہمارے کان تک اس کی آواز نہ پہنچے گی۔ شہباز نے مجھے انڈے کے قالب میں بند کر کے اس جہان میں پھینک دیا۔ جس وقت سے مجھے ہوش آیا، میری زبان تالو کو نہیں لگی۔ میں برابر نالہ و فغاں کئے جاتا ہوں۔ برسات کے موسم میں نکالا گیا ہوں۔ اس لئے برکھا رت آتی ہے تو مجھے وہ مقام زیادہ یادآتا ہے اور میں بے قرار و بیتاب بن جاتا ہوں۔ اور شور و فریاد سے آسمان سر پر اٹھاتا ہوں۔ایک میری عرض یہ ہے کہ آپ فرماتے ہیں، یہ آدمی بھی ہماری طرح عشق کا مارا ہوا ہے، تو اس کے منہ سے اس کی داستان سنوا دیجئے۔ مور نے کہا ضرور۔ یہ کہہ کر مور انسان کے پاس آیا۔ اور یہ بات زبان پر لایا۔ مولانا آپ کی تحریر و تقریر سے انسان بہت کچھ فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اب ہم پرندوں کے اوپر بھی عنایت فرمائیے اور چند کلمے عشق و حسن کے ہمیں بھی سنائیے، مگر جگ بیتی باتو ں کے ہم مشتاق نہیں۔ جو آپ پر گزری ہو اس میں سے کچھ فرما دیجئے۔فراق میاں مور! انسان وہی ہے جسے عشق ہو، جو محبت کے پھندے میں پھنسا ہو۔ تم تینوں پرندے بشر سے بڑھ کر ہو۔ کیونکہ تم میں روحانی جوہر ہے اور اسی جوہر کو تم میں چمکتا دمکتا دیکھ کراپنی عشق کی داستان تھوڑی سی سناتا ہوں۔ یاد رکھو کہ میرا اور سارے عالم کا محبوب وہی ایک ہے جس پر تم سب دیوانے ہو۔ اور تم نے تین عدد اسے سمجھا۔ میں بھی وہیں تھا۔ جہاں تم تھے۔ میں ہر دم نازنین کے ساتھ تھا۔ میں تمہیں اور تمہارے حرکات و سکنات کو دیکھتا تھا۔ مگر تم مجھے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ کیونکہ اشرف المخلوقات نے مجھے چھپا رکھا تھا۔ وہ مجھے کہا کرتی تھی، میں صرف دیکھنے دکھانے کے لئے ہوں، ہاتھ لگانے کے لئے نہیں ہوں۔ اگر کسی دن تو نے بھول کر بھی میرے پنڈے کو چھو لیا، تو تیری جان کی خیر نہیں۔ اور دیدار قیامت پر جاپڑےگا۔میری کمبختی رات کا وقت تھا۔ وہ اپنے چھپر کھٹ پر پڑی سو رہی تھی۔ شمع کی روشنی میں اس کے جوبن کو گھور گھور کر دیکھ رہا تھا۔ اور صل علیٰ کہہ رہا تھا۔ یکایک سونے کی بدمستی میں اس کی کرتی ذرا اوپر کو ہو گئی۔ کرتی خود اونچی اور تنگ، نیند کے مسکوڑے نے رہا سہا پیٹ کھول دیا۔ مجھ خاکی نژاد کو اس کے دیکھنے کی تاب نہ ہوئی۔ میں نے گھبرا کر کرتی کو نیچے سرکانا چاہا۔ ہاتھ تونہیں لگا مگر ناخن لگ گیا اور آن کی آن میں ہم نے اپنے تئیں اس اندھیرے جہان میں پایا۔ کف افسوس ملتا ہوں اور فراق یار میں روتا ہوں۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%86%DB%8C%D8%AA"} {"title": "عاشقوں کے سیر کرنے کا جہاں ہی اور ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشقوں کے سیر کرنے کا جہاں ہی اور ہے\nان کے عالم کا زمین و آسماں ہی اور ہے\n\nپوچھتا پھرتا ہے کیا ہر ایک سے ان کا سراغ\nلا مکاں ہیں ان کو رہنے کا مکاں ہی اور ہے\n\nآزمائش ان کی وضعوں کا تجھے ہے گا ضرر\nیہ وہ فرقہ ہے کہ ان کا امتحاں ہی اور ہے\n\nکیا خریدے گا خراب آباد کے بازار میں\nدرد کی ہو جنس جس میں وہ دکاں ہی اور ہے\n\nسنگ و گل کا طوف ہو تجھ کو مبارک حاجیو\nحضرت دل کے حرم کا کارواں ہی اور ہے\n\nبیٹھنے کو شاخ طوبیٰ پر نہیں کرتیں نگاہ\nاس چمن کی بلبلوں کا آشیاں ہی اور ہے\n\nاس کو کیا نسبت کسی افسانۂ و قصے کے ساتھ\nعشق کے دفتر کی حاتمؔ داستاں ہی اور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "عاشقِ ہرجائی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ہے عجب مجموعۂ اضداد اے اقبالؔ تو\nرونقِ ہنگامۂ محفل بھی ہے، تنہا بھی ہے\n\nتیرے ہنگاموں سے اے دیوانۂ رنگیں نوا!\nزینتِ گُلشن بھی ہے، آرائشِ صحرا بھی ہے\n\nہم‌نشیں تاروں کا ہے تُو رفعتِ پرواز سے\nاے زمیں فرسا، قدم تیرا فلک پیما بھی ہے\n\nعین شغلِ مے میں پیشانی ہے تیری سجدہ ریز\nکچھ ترے مسلک میں رنگِ مشربِ مینا بھی ہے\n\nمثلِ بُوئے گُل لباسِ رنگ سے عُریاں ہے تو\nہے تو حکمت آفریں، لیکن تجھے سَودا بھی ہے\n\nجانبِ منزل رواں بے نقشِ پا مانندِ موج\nاور پھر اُفتادہ مثلِ ساحلِ دریا بھی ہے\n\nحُسنِ نسوانی ہے بجلی تیری فطرت کے لیے\nپھر عجب یہ ہے کہ تیرا عشق بے پروا بھی ہے\n\nتیری ہستی کا ہے آئینِ تفنّن پر مدار\nتُو کبھی ایک آستانے پر جبیں فرسا بھی ہے؟\n\nہے حسینوں میں وفا ناآشنا تیرا خطاب\nاے تلوّن کیش! تُو مشہور بھی، رُسوا بھی ہے\n\nلے کے آیا ہے جہاں میں عادتِ سیماب تو\nتیری بے تابی کے صدقے، ہے عجب بے تاب تو\n\nعشق کی آشفتگی نے کر دیا صحرا جسے\nمُشتِ خاک ایسی نہاں زیرِ قبا رکھتا ہوں میں\n\nہیں ہزاروں اس کے پہلو، رنگ ہر پہلو کا اور\nسینے میں ہیرا کوئی ترشا ہوا رکھتا ہوں میں\n\nدل نہیں شاعر کا، ہے کیفیّتوں کی رستخیز\nکیا خبر تجھ کو، دُرونِ سینہ کیا رکھتا ہوں میں\n\nآرزو ہر کیفیَت میں اک نئے جلوے کی ہے\nمضطرب ہوں، دل سکُوں ناآشنا رکھتا ہوں میں\n\nگو حسینِ تازہ ہے ہر لحظہ مقصودِ نظر\nحُسن سے مضبوط پیمانِ وفا رکھتا ہوں میں\n\nبے نیازی سے ہے پیدا میری فطرت کا نیاز\nسوز و سازِ جُستجو مثلِ صبا رکھتا ہوں میں\n\nموجبِ تسکیں تماشائے شرارِ جستہ اے\nہو نہیں سکتا کہ دل برق آشنا رکھتا ہوں میں\n\nہر تقاضا عشق کی فطرت کا ہو جس سے خموش\nآہ! وہ کامل تجلّی مُدّعا رکھتا ہوں میں\n\nجُستجو کُل کی لیے پھِرتی ہے اجزا میں مجھے\nحُسن بے پایاں ہے، دردِ لادوا رکھتا ہوں میں\n\nزندگی اُلفت کی درد انجامیوں سے ہے مری\nعشق کو آزادِ دستورِ وفا رکھتا ہوں میں\n\nسچ اگر پُوچھے تو افلاسِ تخیّل ہے وفا\nدل میں ہر دم اک نیا محشر بپا رکھتا ہوں میں\n\nفیضِ ساقی شبنم آسا، ظرفِ دل دریا طلب\nتشنۂ دائم ہوں آتش زیرِ پا رکھتا ہوں میں\n\nمجھ کو پیدا کر کے اپنا نُکتہ چیں پیدا کیا\nنقش ہوں، اپنے مصوّر سے گِلا رکھتا ہوں میں\n\nمحفلِ ہستی میں جب ایسا تنک جلوہ تھا حُسن\nپھر تخیّل کس لیے لا انتہا رکھتا ہوں میں\n\nدر بیابانِ طلب پیوستہ می کوشیم ما\nموجِ بحریم و شکستِ خویش بر دوشیم ما", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%D9%90_%DB%81%D8%B1%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے\nاور صبر آزما بھی ہوتی ہے\n\nروح ہوتی ہے کیف پرور بھی\nاور درد آشنا بھی ہوتی ہے\n\nحسن کو کر نہ دے یہ شرمندہ\nعشق سے یہ خطا بھی ہوتی ہے\n\nبن گئی رسم بادہ خواری بھی\nیہ نماز اب قضا بھی ہوتی ہے\n\nجس کو کہتے ہیں نالۂ برہم\nساز میں وہ صدا بھی ہوتی ہے\n\nکیا بتا دو مجازؔ کی دنیا\nکچھ حقیقت نما بھی ہوتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%81%D8%B2%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "عاشقی میں ہے جان کا کھٹکا", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "عاشقی میں ہے جان کا کھٹکا\nاور بھی کچھ برا بھلا کھٹکا\n\nیار صیاد باغباں کا ہوا\nیہ نیا اور اک بندھا کھٹکا\n\nکان آہٹ کی راہ سے نہ ہٹے\nدل میں تھا کس کے آنے کا کھٹکا\n\nوہی کاوش مژہ نے کی آخر\nجس کا اول سے دل میں تھا کھٹکا\n\nبلبل پاک بیں ہے عاشق گل\nباغباں تو نہ کھٹکھٹا کھٹکا\n\nبے ترے یار سیر گلشن میں\nپھول آنکھوں میں خار سا کھٹکا\n\nتجھ کو دیکھا اٹھا اٹھا کر سر\nسانس کا بھی اگر ہوا کھٹکا\n\nعشق کے ہیں وقارؔ چار عنصر\nخوف اندیشہ و دغا کھٹکا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%D9%B9%DA%A9%D8%A7"} {"title": "عاشقی کیا ہر بشر کا کام ہے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشقی کیا ہر بشر کا کام ہے\nمیرے دل میرے جگر کا کام ہے\n\nہو ہری شاخ تمنا یا نہ ہو\nسینچ دینا چشم تر کا کام ہے\n\nبڑھ چلے پیک تصور کا قدم\nاب یہاں کیا نامہ بر کا کام ہے\n\nدل مرا لے جانے والا کون تھا\nیہ کسی جادو نظر کا کام ہے\n\nہم سے کیا ہو وصف قاتل کا بیاں\nیہ لب زخم جگر کا کام ہے\n\nموت جب آئے تو راہی جان ہو\nاس سفر میں راہ بر کا کام ہے\n\nفیصلہ ہونے میں دشواری ہے کیا\nتیرے خنجر میرے سر کا کام ہے\n\nآج آنسو تم نے پونچھے بھی تو کیا\nیہ تو اپنا عمر بھر کا کام ہے\n\nگل دکھاتے ہیں ہمیں کیا زخم تن\nدل پہ کھانا کوئی چرکا کام ہے\n\nدل سے لائے لب پہ ہم آہ و فغاں\nاب تجھے لانا اثر کا کام ہے\n\nدر بدر پھرتے ہی گزری چرخ کو\nیہ اسی بیداد گر کا کام ہے\n\nآنکھوں آنکھوں میں اڑا لیتے ہیں دل\nدل ربائی بھی نظر کا کام ہے\n\nتیغ کیوں چلنے میں بل کھانے لگی\nیہ تری نازک کمر کا کام ہے\n\nسینے سے کچھ ہٹ کے ہے دل کی جگہ\nاس جگہ ترچھی نظر کا کام ہے\n\nبے چلے ہی پاؤں دیتے ہیں جواب\nمنزل الفت میں سر کا کام ہے\n\nقدسیوں سے کون بازی لے گیا\nیہ بشر ہے یہ بشر کا کام ہے\n\nموتیوں سے منہ ترا بھرنا جلیلؔ\nآصف عالی گہر کا کام ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D8%B4%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "عاشقی کے آشکارے ہو چکے", "poet_page": "مصنف:یاسین علی خاں مرکز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مرکز (1926)", "year": "1926", "text_ur": "عاشقی کے آشکارے ہو چکے\nحسن یکتا کے پکارے ہو چکے\n\nاٹھ گیا پردہ جو فی مابین تھا\nمن و تو کے تھے اشارے ہو چکے\n\nہے بہار گلشن دنیا دو روز\nبلبل و گل کے نظارے ہو چکے\n\nچل دیئے اٹھ کر جہاں چاہے وہاں\nایک رنگی کے سہارے ہو چکے\n\nیاس سے کہہ دیں گے وقت قتل ہم\nہم تو اے پیارے تمہارے ہو چکے\n\nواصل دریا جو قطرہ ہو گیا\nغیریت کے تھے پکارے ہو چکے\n\nگلشن ہستی میں دیکھی تھی بہار\nاوج پر جو تھے ستارے ہو چکے\n\nورطۂ دریا کا غم جاتا رہا\nغوطہ کھاتے تھے کنارے ہو چکے\n\nنیک و بد سے تم کو مرکزؔ کیا غرض\nدور دشمن تھے تمہارے ہو چکے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%DB%92"} {"title": "عاشق‌ حق ہیں ہمیں شکوۂ تقدیر نہیں", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عاشق‌ حق ہیں ہمیں شکوۂ تقدیر نہیں\nپیچ‌ قسمت کا کم از زلف گرہ گیر نہیں\n\nبس کہ آہوں سے اسیروں کے بہے لخت جگر\nبے نگیں آج کوئی خانۂ زنجیر نہیں\n\nکشتنی پاس تو آ جائے مگر تیرے پاس\nنیزہ و تیر ہی ہے دشنہ و شمشیر نہیں\n\nسب کے اس عمر میں ہو جاتے ہیں ایسے ہی حواس\nتجھ سے کچھ شکوہ ہمیں اے فلک پیر نہیں\n\nگھر کی ویرانی کو کیا روؤں کہ یہ پہلے سے\nتنگ اتنا ہے کہ گنجائش تعمیر نہیں\n\nآدمیت نہیں تجھ میں یہ عدو کی ہے غرض\nیوں پری کہنے میں مانا تری تحقیر نہیں\n\nجنبش ابرو کو ہے لیکن نہیں عاشق پہ نگاہ\nتم کماں کیوں لئے پھرتے ہو اگر تیر نہیں\n\nہمت مرغ سحر خوان کا ہوں قائل کہ اسے\nنالے سے زمزمہ مقصود ہے تاثیر نہیں\n\nاپنے استاد کے انداز پہ میرا ہے کلام\nمجھ کو ناظمؔ ہوس پیروئی میرؔ نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%E2%80%8C_%D8%AD%D9%82_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%82_%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا", "poet_page": "مصنف:ماہ لقا بائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا\nمیری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھنا\n\nناداں سے ایک عمر رہا مجھ کو ربط عشق\nدانا سے اب پڑا ہے سروکار دیکھنا\n\nگردش سے تیری چشم کے مدت سے ہوں خراب\nتس پر کرے ہے مجھ سے یہ اقرار دیکھنا\n\nناصح عبث کرے ہے منع مجھ کو عشق سے\nآ جائے وہ نظر تو پھر انکار دیکھنا\n\nچنداؔ کو تم سے چشم یہ ہے یا علی کہ ہو\nخاک نجف کو سرمۂ ابصار دیکھنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DA%AF%DB%81_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D8%B4%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "عالم حیرت کا دیکھو یہ تماشا ایک اور", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عالم حیرت کا دیکھو یہ تماشا ایک اور\nیار نے آئینے میں اپنا سا دیکھا ایک اور\n\nمرنے والوں میں رہا جاتا ہے جیتا ایک اور\nنیم بسمل ہوں میں قاتل ہاتھ پورا ایک اور\n\nرفتہ رفتہ دل کو دل سے راہ ہو جائے کہیں\nان سے ملنے کا رہے پوشیدہ رستہ ایک اور\n\nایک تو مسی کا نقشہ جم رہا ہے شام سے\nپان کی لالی نے رنگ اپنا جمایا ایک اور\n\nمیں نے مانا آپ نے بوسے دیئے میں نے لیے\nوہ کہاں نکلی جو ہے میری تمنا ایک اور\n\nیاد میں اک شوخ پنجابی کے روتے ہیں جو ہم\nآج کل پنجاب میں بہتا ہے دریا ایک اور\n\nان کا جھومر دیکھ کر کہنے لگے اہل زمیں\nدیکھ لے اے آسماں عقد ثریا ایک اور\n\nجیتے جی تو دامن صحرا کا خلعت مل گیا\nبعد مرنے کے ملے ان کا دوپٹہ ایک اور\n\nبزم سے ساقی کے ہم سے رند نکلے پاک صاف\nاپنا اب کعبہ میں پہنچے گا مصلیٰ اک اور\n\nشاعران‌ عصر کی تجھ کو تو ہے پیغمبری\nبو سیلمی بھی ہوئے اے مہرؔ پیدا ایک اور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "عالم سوز تمنا بے کراں کرتے چلو", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عالم سوز تمنا بے کراں کرتے چلو\nذرے ذرے کو شریک کارواں کرتے چلو\n\nکتنے روشن ہیں وہ عارض کتنے شیریں ہیں وہ لب\nراستہ کٹ جائے گا ذکر بتاں کرتے چلو\n\nشام غم کی ظلمتیں ہیں اور صحرائے حیات\nدیدۂ بیدار کو انجم فشاں کرتے چلو\n\nراستے میں بجھ نہ جائیں آرزؤں کے چراغ\nذکر منزل کارواں در کارواں کرتے چلو\n\nجانے کس عالم میں آئیں آنے والے قافلے\nسایۂ دیوار جاناں جاوداں کرتے چلو\n\nمظہر تہذیب ہے اک ایک تار پیرہن\nبس یونہی اندازۂ سود و زیاں کرتے چلو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DA%86%D9%84%D9%88"} {"title": "عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتا", "poet_page": "مصنف:اشرف علی فغاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتا\nکوئی کسی بندہ کا خریدار نہ ہوتا\n\nہستی کی خرابی نظر آتی جو عدم میں\nاس خواب سے ہرگز کوئی بیدار نہ ہوتا\n\nکہتا ہے تجھے خاک نہ دوں غیر اذیت\nیہ دل میں اگر تھی تو مرا یار نہ ہوتا\n\nمعلوم کسے تھی یہ تری خانہ خرابی\nمیں جانتا ایسا تو گرفتار نہ ہوتا\n\nعالم کو جلاتی ہے تری گرمی مجلس\nمرتے ہم اگر سایۂ دیوار نہ ہوتا\n\nاے شیخ اگر کفر سے اسلام جدا ہے\nپس چاہیے تسبیح میں زنار نہ ہوتا\n\nظالم مرے حاسد کی تو شادی تھی اسی میں\nیعنی مجھے در تک بھی ترے بار نہ ہوتا\n\nدیتے تری مجلس میں اگر راہ فغاںؔ کو\nاس شخص سے ہرگز کوئی بے زار نہ ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "عالم میں حسن تیرا مشہور جانتے ہیں", "poet_page": "مصنف:شیر محمد خاں ایمان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عالم میں حسن تیرا مشہور جانتے ہیں\nارض و سما کا اس کو ہم نور جانتے ہیں\n\nہرچند دو جہاں سے اب ہم گزر گئے ہیں\nتس پر بھی دل کے گھر کو ہم دور جانتے ہیں\n\nجس میں تری رضا ہو وہ ہی قبول کرنا\nاپنا تو ہم یہی کچھ مقدور جانتے ہیں\n\nسو رنگ جلوہ گر ہیں گرچہ بتان عالم\nہم ایک تجھی کو اپنا منظور جانتے ہیں\n\nلبریز مے ہیں گرچہ ساغر کی طرح ہر دم\nتس پر بھی آپ کو ہم مخمور جانتے ہیں\n\nکچھ اور آرزو کی ہرگز نہیں سمائی\nاز بس تجھ ہی کو دل میں معمور جانتے ہیں\n\nایمانؔ جس کے دل میں ہے یاد اس کی ہر دم\nہم تو اسی کی خاطر مسرور جانتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایا\nاس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایا\n\nحق ڈھونڈنے کا آپ کو آتا نہیں ورنہ\nعالم ہے سبھی یار کہاں یار نہ پایا\n\nغیروں ہی کے ہاتھوں میں رہے دست نگاریں\nکب ہم نے ترے ہاتھ سے آزار نہ پایا\n\nجاتی ہے نظر خس پہ گہہ چشم پریدن\nیاں ہم نے پر کاہ بھی بے کار نہ پایا\n\nتصویر کے مانند لگے در ہی سے گزری\nمجلس میں تری ہم نے کبھو بار نہ پایا\n\nسوراخ ہے سینے میں ہر اک شخص کے تجھ سے\nکس دل کے طرح تیر نگہ پار نہ پایا\n\nمربوط ہیں تجھ سے بھی یہی ناکس و نااہل\nاس باغ میں ہم نے گل بے خار نہ پایا\n\nدم بعد جنوں مجھ میں نہ محسوس تھا یعنی\nجامے میں مرے یاروں نے اک تار نہ پایا\n\nآئینہ بھی حیرت سے محبت کی ہوئے ہم\nپر سیر ہو اس شخص کا دیدار نہ پایا\n\nوہ کھینچ کے شمشیر ستم رہ گیا جو میرؔ\nخوں ریزی کا یاں کوئی سزاوار نہ پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عالم میں ہرے ہوں گے اشجار جو میں رویا", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عالم میں ہرے ہوں گے اشجار جو میں رویا\nگلچیں نہیں سینچیں گے گل زار جو میں رویا\n\nبرسے گا جو ابر آ کر کھل جائے گا دم بھر میں\nآنسو نہیں تھمنے کے اے یار جو میں رویا\n\nروؤگے جھروکے میں تم ہچکیاں لے لے کر\nاے یار کبھی زیر دیوار جو میں رویا\n\nزخمی ہوں تو ہونے دو کیوں یار بسوروں میں\nکیا بات رہی کھا کر تلوار جو میں رویا\n\nہوں مستعد رقت فرہاد مجھے بہلا\nلے ڈوبیں گے تجھ کو بھی کہسار جو میں رویا\n\nمجنوں نے کہا جاؤ وحشت انہیں دکھلاؤ\nبیٹھا ہوا صحرا میں بیکار جو میں رویا\n\nرحم آ ہی گیا ان کو کٹوا دے مری بیڑی\nزندان میں چلا کر اک بار جو میں رویا\n\nکی غصے کے مارے پھر اس نے نہ نگہ سیدھی\nان انکھڑیوں کا ہو کر بیمار جو میں رویا\n\nبیتابی و زاری پر میری انہیں رحم آیا\nدکھلا ہی دیا مجھ کو دیدار جو میں رویا\n\nآرام وہ کرتے ہیں رلوا نہ مجھے اے دل\nٹھہریں گے نہ وہ ہو کر بیدار جو میں رویا\n\nآئے تھے بمشکل وہ لائے تھے شرفؔ ان کو\nپھر اٹھ گئے وہ ہو کر بیدار جو میں رویا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%A7%D8%B4%D8%AC%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عالم و جاہل میں کیا فرق ہے", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہیں جہل میں سب عالم و جاہل ہمسر\nآتا نہیں فرق اس کے سوا ان میں نظر\nعالم کو ہے علم اپنی نادانی کا\nجاہل کو نہیں جہل کی کچھ اپنے خبر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%DB%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%81%D8%B1%D9%82_%DB%81%DB%92"} {"title": "عالم کا وجود ہے نمود بے بود", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "عالم کا وجود ہے نمود بے بود\nہے آب سراب اس کی ہستی کی نمود\nنیرنگ طلسم اس کو کہنا ہے بجا\nہے وہم میں موجود یقیں میں مفقود", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D9%86%D9%85%D9%88%D8%AF_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D9%88%D8%AF"} {"title": "عالم کو اس نے نقش کف پا بنا دیا", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عالم کو اس نے نقش کف پا بنا دیا\nیعنی بنا دیا کبھی گاہے مٹا دیا\n\nہوتی نہ تاب جلوۂ پنہاں کلیم کو\nکیوں تو نے پردۂ رخ زیبا اٹھا دیا\n\nپوچھا جو اس سے ہستئ عالم کے راز کو\nظالم نے اپنا نقش کف پا دکھا دیا\n\nہم ابتدائے سوز محبت میں جل بجھے\nوہ شمع ہیں کہ شام سے مجھ کو بجھا دیا\n\nگویا کہ ہم بھی نقش تمنائے غیر تھے\nبننے نہ پائے تھے کہ کسی نے مٹا دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%B4_%DA%A9%D9%81_%D9%BE%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عالم کے دوستوں میں مروت نہیں رہی", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عالم کے دوستوں میں مروت نہیں رہی\nشرم و حیا و مہر و شفقت نہیں رہی\n\nظاہر میں کیا رفیق کہاتے ہیں آپ کوں\nلیکن انوں کے دل میں محبت نہیں رہی\n\nملتے ہیں راستی سیں جو کوئی کج نظر ملے\nخوابوں میں پاک باز کی حرمت نہیں رہی\n\nہر خار بو الہوس کے کئے صحبت اختیار\nتو حسن گل رخوں میں لطافت نہیں رہی\n\nنا لایقوں میں عمر کوں کرناں عبث تلف\nہم صحبتی کی ان میں لیاقت نہیں رہی\n\nبھولے ہیں ہر صنم کے کرشمے پہ ہوش کوں\nان زاہدوں میں کشف و کرامت نہیں رہی\n\nسفلے ہوئے عزیز عزیز اب ہوئے خراب\nبے جوہروں میں قدر شرافت نہیں رہی\n\nمت ہو بہار گلشن دنیا کا عندلیب\nاس پھولبن میں بوئے رفاقت نہیں رہی\n\nاب ذات حق بغیر نہ رکھ دوستی سراجؔ\nعالم میں آشنائی و الفت نہیں رہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D9%88%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%8C"} {"title": "عالم یاس میں گھبرائے نہ انسان بہت", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عالم یاس میں گھبرائے نہ انسان بہت\nدل سلامت ہے تو حسرت بہت ارمان بہت\n\nکاش دو چار ہزاروں میں تو ہوں کافر عشق\nہم نے کعبے میں بھی دیکھے نہ مسلمان بہت\n\nسر اٹھاتا نہیں تو شرم جفا سے ظالم\nیا کیے ہیں کسی کم بخت نے احسان بہت\n\nتم کہ بیداد کرو اور نہ شرماؤ ذرا\nہم کہ نا کردہ گنہ اور پشیمان بہت\n\nحسرتیں روز نئی دل میں بھری جاتی ہیں\nتھوڑے تھوڑے بھی ہوئے جاتے ہیں مہمان بہت\n\nسوچیے دل میں تو ہے عشق نہایت دشوار\nنہ سمجھئے تو یہی کام ہے آسان بہت\n\nبزم احباب میں اے داغؔ کبھی تو ہنس بول\nدیکھتے ہیں تجھے ہر وقت پریشان بہت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D8%A8%DB%81%D8%AA"} {"title": "عالمِ بَرزخ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "مُردہ اپنی قبر سے\nکیا شے ہے، کس امروز کا فردا ہے قیامت\nاے میرے شبستاںِ کُہن! کیا ہے قیامت؟\n\nقبر\nاے مُردۂ صد سالہ! تجھے کیا نہیں معلوم؟\nہر موت کا پوشیدہ تقاضا ہے قیامت!\n\nمُردہ\nجس موت کا پوشیدہ تقاضا ہے قیامت\nاُس موت کے پھندے میں گرفتار نہیں مَیں\nہر چند کہ ہوں مُردۂ صد سالہ ولیکن\nظُلمت کدۂ خاک سے بیزار نہیں مَیں\nہو رُوح پھر اک بار سوارِ بدنِ زار\nایسی ہے قیامت تو خریدار نہیں میں\n\nصدائے غیب\nنے نصیبِ مار و کژدُم، نے نصیبِ دام و دَد\nہے فقط محکوم قوموں کے لیے مرگِ ابَد\nبانگِ اسرافیل اُن کو زندہ کر سکتی نہیں\nرُوح سے تھا زندگی میں بھی تہی جن کا جسَد\nمر کے جی اُٹھنا فقط آزاد مردوں کا ہے کام\nگرچہ ہر ذی رُوح کی منزل ہے آغوشِ لَحد\n\nقبر\n( اپنے مُردے سے)\nآہ، ظالم! تُو جہاں میں بندۂ محکوم تھا\nمَیں نہ سمجھی تھی کہ ہے کیوں خاک میری سوز ناک\nتیری مَیّت سے مری تاریکیاں تاریک تر\nتیری مَیّت سے زمیں کا پردۂ نامُوس چاک\nالحذَر، محکوم کی مَیّت سے سو بار الحذَر\nاے سرافیل! اے خدائے کائنات! اے جانِ پاک!\n\nصدائے غیب\nگرچہ برہم ہے قیامت سے نظامِ ہست و بود\nہیں اسی آشوب سے بے پردہ اسرارِ وجود\nزلزلے سے کوہ و دَر اُڑتے ہیں مانندِ سحاب\nزلزلے سے وادیوں میں تازہ چشموں کی نمود\nہر نئی تعمیر کو لازم ہے تخریبِ تمام\nہے اسی میں مشکلاتِ زندگانی کی کشود\n\nزمین\nآہ یہ مرگِ دوام، آہ یہ رزمِ حیات\nختم بھی ہوگی کبھی کشمکشِ کائنات!\nعقل کو ملتی نہیں اپنے بُتوں سے نجات\nعارف و عامی تمام بندۂ لات و منات\nخوار ہُوا کس قدر آدمِ یزداں صفات\nقلب و نظر پر گراں ایسے جہاں کا ثبات\nکیوں نہیں ہوتی سحَر حضرتِ انساں کی رات؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%90_%D8%A8%D9%8E%D8%B1%D8%B2%D8%AE"} {"title": "عالَمِ نو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "زندہ دل سے نہیں پوشیدہ ضمیرِ تقدیر\nخواب میں دیکھتا ہے عالَمِ نَو کی تصویر\nاور جب بانگِ اذاں کرتی ہے بیدار اُسے\nکرتا ہے خواب میں دیکھی ہوئی دنیا تعمیر\nبدن اس تازہ جہاں کا ہے اُسی کی کفِ خاک\nرُوح اس تازہ جہاں کی ہے اُسی کی تکبیر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%8E%D9%85%D9%90_%D9%86%D9%88"} {"title": "عالِم آب و خاک و باد! سِرِّ عیاں ہے تُو کہ مَیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "عالِم آب و خاک و باد! سِرِّ عیاں ہے تُو کہ مَیں\nوہ جو نظر سے ہے نہاں، اُس کا جہاں ہے تُو کہ مَیں\n\nوہ شبِ درد و سوز و غم، کہتے ہیں زندگی جسے\nاُس کی سحَر ہے تو کہ مَیں، اُس کی اذاں ہے تُو کہ مَیں\n\nکس کی نمود کے لیے شام و سحر ہیں گرمِ سَیر\nشانۂ روزگار پر بارِ گراں ہے تُو کہ مَیں\n\nتُو کفِ خاک و بے بصر، مَیں کفِ خاک و خودنِگر\nکِشتِ وجود کے لیے آبِ رواں ہے تُو کہ مَیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%90%D9%85_%D8%A2%D8%A8_%D9%88_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%21_%D8%B3%D9%90%D8%B1%D9%90%D9%91_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%8F%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D9%8E%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عام حکم شراب کرتا ہوں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عام حکم شراب کرتا ہوں\nمحتسب کو کباب کرتا ہوں\n\nٹک تو رہ اے بنائے ہستی تو\nتجھ کو کیسا خراب کرتا ہوں\n\nبحث کرتا ہوں ہو کے ابجد خواں\nکس قدر بے حساب کرتا ہوں\n\nکوئی بجھتی ہے یہ بھڑک میں عبث\nتشنگی پر عتاب کرتا ہوں\n\nسر تلک آب تیغ میں ہوں غرق\nاب تئیں آب آب کرتا ہوں\n\nجی میں پھرتا ہے میرؔ وہ میرے\nجاگتا ہوں کہ خواب کرتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%85_%D8%AD%DA%A9%D9%85_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "عام ہو فیض بہاراں تو مزا آ جائے", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عام ہو فیض بہاراں تو مزا آ جائے\nچاک ہوں سب کے گریباں تو مزا آ جائے\n\nواعظو میں بھی تمہاری ہی طرح مسجد میں\nبیچ دوں دولت ایماں تو مزا آ جائے\n\nکیسی کیسی ہے شب تار یہاں چیں بہ جبیں\nصبح اک روز ہو خنداں تو مزا آ جائے\n\nساقیا ہے تری محفل میں خداؤں کا ہجوم\nمحفل افروز ہو انساں تو مزا آ جائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88_%D9%81%DB%8C%D8%B6_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B2%D8%A7_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "عبث توڑا مرا دل ناز سکھلانے کے کام آتا", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عبث توڑا مرا دل ناز سکھلانے کے کام آتا\nیہ آئینہ تھا اس خودبیں کو اترانے کے کام آتا\n\nجلایا مصحف دل تو نے کیوں برق تغافل سے\nجو سچ بولوں تجھے جھوٹی قسم کھانے کے کام آتا\n\nنہ ملتا خاک میں اس گل کے غم کا اشک اگر میرا\nکسی بلبل کے شاید آب اور دانے کے کام آتا\n\nدل صد چاک کا شانہ مرا ٹوٹا ترے ہاتھوں\nوگرنہ زلف دود آہ سلجھانے کے کام آتا\n\nلئے عزلتؔ کے موئے سر بیاباں کے ببولوں نے\nجو بچتا یہ چنور جاروب ویرانے کے کام آتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A8%D8%AB_%D8%AA%D9%88%DA%91%D8%A7_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "عبث عبث تجھے مجھ سے حجاب آتا ہے", "poet_page": "مصنف:اشرف علی فغاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عبث عبث تجھے مجھ سے حجاب آتا ہے\nترے لیے کوئی خانہ خراب آتا ہے\n\nپلک کے مارتے ہستی تمام ہوتی ہے\nعبث کو بحر عدم سے حباب آتا ہے\n\nخدا ہی جانے جلایا ہے کس ستم گر نے\nجگر تو چشم سے ہو کر کباب آتا ہے\n\nشب فراق میں اکثر میں لے کے آئینہ\nیہ دیکھتا ہوں کہ آنکھوں میں خواب آتا ہے\n\nنظر کروں ہوں تو یاں خواب کا خیال نہیں\nگرے ہے لخت جگر یا کہ آب آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A8%D8%AB_%D8%B9%D8%A8%D8%AB_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "عبث فکر دوا میں ہے پریشاں چارہ گر میرا", "poet_page": "مصنف:نشتر چھپروی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نشتر (1930)", "year": "1930", "text_ur": "عبث فکر دوا میں ہے پریشاں چارہ گر میرا\nمرا سر جائے گا تو جائے گا یہ درد سر میرا\n\nاگر کچھ آرزو دل میں مرے ہے تو بس اتنی ہے\nترے تیر نظر کی نذر ہو جائے جگر میرا\n\nترے پیکان کو دل میں جگہ دی شوق سے میں نے\nکلیجہ تو نے دیکھا اے بت بیداد گر میرا\n\nوہ کہتے ہیں کہ ضد ہے آرزوؤں سے تری ورنہ\nنہ ہو گر مدعا اس میں تو دل تیرا ہے گھر میرا\n\nمیں وہ آفت طلب ہوں رات دن میری دعا یہ ہے\nکہ سر جائے تو جائے پر نہ جائے درد سر میرا\n\nذرا وہ شوخ خنجر باندھ کر مقتل میں آئے تو\nنرالا آج ہوگا سب سے مضمون کمر میرا\n\nادھر پہلو سے اٹھ کر کوئی جانے پر ہے آمادہ\nہوا جاتا ہے غم سے حال ادھر نوع دگر میرا\n\nنکلوایا گیا جس بزم سے سو بار ذلت سے\nوہیں پھر لے چلا مجھ کو دل وحشت اثر میرا\n\nرقیبوں کے چلن کو یوں شکایت سامنے میرے\nنہیں ہے میری جاں اس چال سے دل بے خبر میرا\n\nمٹا جاتا ہے اب مہر و وفا کا نام عالم سے\nہوا جاتا ہے دنیا سے کوئی دم میں سفر میرا\n\nترا تیر نظر دیکھوں تسلی کس کی کرتا ہے\nادھر بیتاب دل میرا ادھر نالاں جگر میرا\n\nوہ ان کا وار خنجر کا لگانا مجھ پہ تن تن کر\nوہ ہونا قتل گہہ میں شوق سے سینہ سپر میرا\n\nچلایا ناز سے تیر نظر جب اس ستم گر نے\nنشانہ بن گیا کس شوق سے نشترؔ جگر میرا", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A8%D8%AB_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "عبث کیوں عمر سونے میں گنوایا", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "عبث کیوں عمر سونے میں گنوایا\nجو کوئی جاگا سو اپنے پیو کو پایا\n\nمسافر راہ پر سونا بھلا نہیں\nجو کوئی سویا وہی حسرت لجایا\n\nجتن ہشیار لے جا مال اور دھن\nجہاں میں آ کے تو جو کچھ کمایا\n\nاگر کوئی سو رہے رہ میں خطر کے\nگنوایا مال اپنے کو کھپایا\n\nعلیمؔ اللہ سوتا تھا خواب میں مست\nکریم اپنا کرم کر کر جگایا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A8%D8%AB_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%86%D9%88%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عبث ہیں ناصحا ہم سے ز خود رفتوں کی تدبیریں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عبث ہیں ناصحا ہم سے ز خود رفتوں کی تدبیریں\nرکے ہے بحر کب گو موج سے ہوں لاکھ زنجیریں\n\nہماری آہ سے آگے تو پتھر آب ہوتے تھے\nپہ کیا جانے وہ اب کیدھر گئیں نالے کی تاثیریں\n\nیہ اک صورت ہے گر کھینچے وہ میرے یار کا نقشہ\nمیں کب معنوں ہوں یوں مانی لکھے گر لاکھ تصویریں\n\nلگائی آگ پانی میں یہ کس کے عکس نے پیارے\nکہ ہم دیگر چلی ہیں موج سے دریا میں شمشیریں\n\nسنا ہی میں نہ گوش لطف سے احوال کو میرے\nچھپی تھیں ورنہ خاموشی میں اپنی لاکھ تقریریں\n\nرکھے ہے ہوش اگر تو قصر کر طول عمارت کا\nکہ اس بنیاد پر کب تک کرے گا تو یہ تعمیریں\n\nگریباں کی تو قائمؔ مدتوں دھجئیں اڑائی ہیں\nپہ خاطر جمع اس دن ہووے جب سینے کو ہم چیریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A8%D8%AB_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B2_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%B1%D9%81%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عبث ہے شوق لڑکپن میں ظلم ڈھانے کا", "poet_page": "مصنف:جگرؔ بسوانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عبث ہے شوق لڑکپن میں ظلم ڈھانے کا\nجوان ہو کے گلا کاٹنا زمانے کا\n\nاسیر میں تو قفس میں ہوں اک زمانے کا\nخیال ہے نہ چمن کا نہ آشیانے کا\n\nفلک کی خیر نہیں ہے مری عداوت میں\nمٹا رہا ہے اسے غم مرے مٹانے کا\n\nہمیں یہ رشک کہ عالم رقیب ہے اپنا\nانہیں یہ ناز کہ آیا ہے دل زمانے کا\n\nجگرؔ شباب مٹا ہم مٹے محبت میں\nابھی تلک نہ مٹا شوق دل لگانے کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A8%D8%AB_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%84%DA%91%DA%A9%D9%BE%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B8%D9%84%D9%85_%DA%88%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو\nخدا معلوم یہ سامان کیا ہو جائے سر کیا ہو\n\nیہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو\nنہ ہو جب درد ہی یارب تو دل کیا ہو جگر کیا ہو\n\nجہاں انسان کھو جاتا ہو خود پھر اس کی محفل میں\nرسائی کس طرح ہو دخل کیوں کر ہو گزر کیا ہو\n\nنہ پوچھوں گا میں یہ بھی جام میں ہے زہر یا امرت\nتمہارے ہاتھ سے اندیشۂ نفع و ضرر کیا ہو\n\nمروت سے ہو بیگانہ وفا سے دور ہو کوسوں\nیہ سچ ہے نازنیں ہو خوب صورت ہو مگر کیا ہو\n\nشگوفے دیکھ کر مٹھی میں زر کو مسکراتے ہیں\nکہ جب عمر اس قدر کوتاہ رکھتے ہیں تو زر کیا ہو\n\nرہا کرتی ہے یہ حیرت مجھے زہد ریائی پر\nخدا سے جو نہیں ڈرتا اسے بندہ کا ڈر کیا ہو\n\nکہا میں نے کہ نظمؔ مبتلا مرتا ہے حسرت میں\nکہا اس نے اگر مر جائے تو میرا ضرر کیا ہو\n\nکہا میں نے کہ ہے سوز جگر اور اف نہیں کرتا\nکہا اس کی اجازت ہی نہیں پھر نوحہ گر کیا ہو\n\nکہا میں نے کہ دے اس کو اجازت آہ کرنے کی\nکہا اس نے بھڑک اٹھے اگر سوز جگر کیا ہو\n\nکہا میں نے کہ آنسو آنکھ کا لیکن نہیں تھمتا\nکہا آنکھیں کوئی تلووں سے مل ڈالے اگر کیا ہو\n\nکہا میں نے قدم بھر پر ہے وہ صورت دکھا آؤ\nکہا منہ پھیر کر اتنا کسی کو درد سر کیا ہو\n\nکہا میں نے اثر مطلق نہیں کیا سنگ دل ہے تو\nکہا جب دل ہو پتھر کا تو پتھر پر اثر کیا ہو\n\nکہا میں نے جو مر جائے تو کیا ہو سوچ تو دل میں\nکہا ناعاقبت اندیش نے کچھ سوچ کر کیا ہو\n\nکہا میں نے خبر بھی ہے کہ دی جاں اس نے گھٹ گھٹ کر\nکہا مر جائے چپکے سے تو پھر مجھ کو خبر کیا ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A8%D8%AB_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%BA%D9%86%D8%A7_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "عبد الرّحمٰن اوّل کا بویا ہُوا کھجور کا پہلا درخت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "میری آنکھوں کا نُور ہے تُو\nمیرے دل کا سُرور ہے تُو\nاپنی وادی سے دُور ہوں مَیں\nمیرے لیے نخلِ طُور ہے تُو\nمغرب کی ہوا نے تجھ کو پالا\nصحرائے عرب کی حُور ہے تُو\nپردیس میں ناصبور ہوں مَیں\nپردیس میں ناصبُور ہے تو\nغُربت کی ہوا میں باروَر ہو\nساقی تیرا نمِ سحَر ہو\n\nعالَم کا عجیب ہے نظارہ\nدامانِ نِگہ ہے پارہ پارہ\nہمّت کو شناوری مبارک!\nپیدا نہیں بحر کا کنارہ\nہے سوزِ دُروں سے زندگانی\nاُٹھتا نہیں خاک سے شرارہ\nصُبحِ غُربت میں اور چمکا\nٹُوٹا ہُوا شام کا ستارہ\nمومن کے جہاں کی حد نہیں ہے\nمومن کا مقام ہر کہیں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A8%D8%AF_%D8%A7%D9%84%D8%B1%D9%91%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%86_%D8%A7%D9%88%D9%91%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D9%88%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%8F%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%D8%AC%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%81%D9%84%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D8%AA"} {"title": "عبد القادر کے نام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا اُفقِ خاور پر\nبزم میں شعلہ نوائی سے اُجالا کر دیں\n\nایک فریاد ہے مانندِ سپند اپنی بساط\nاسی ہنگامے سے محفل تہ و بالا کر دیں\n\nاہلِ محفل کو دِکھا دیں اثرِ صَیقلِ عشق\nسنگِ امروز کو آئینۂ فردا کر دیں\n\nجلوۂ یوسفِ گُم گشتہ دِکھا کر ان کو\nتپش آمادہ تر از خُونِ زلیخا کر دیں\n\nاس چمن کو سبق آئینِ نُمو کا دے کر\nقطرۂ شبنمِ بے مایہ کو دریا کر دیں\n\nرختِ جاں بُت کدۂ چیں سے اُٹھا لیں اپنا\nسب کو محوِ رُخِ سُعدیٰ و سُلیمیٰ کر دیں\n\nدیکھ! یثرِب میں ہُوا ناقۂ لیلیٰ بیکار\nقیس کو آرزوئے نَو سے شناسا کر دیں\n\nبادہ دیرینہ ہو اور گرم ہو ایسا کہ گداز\nجگرِ شیشہ و پیمانہ و مِینا کر دیں\n\nگرم رکھتا تھا ہمیں سردیِ مغرب میں جو داغ\nچِیر کر سینہ اُسے وقفِ تماشا کر دیں\n\nشمع کی طرح جیِیں بزم گہِ عالم میں\nخود جلیں، دیدۂ اغیار کو بینا کر دیں\n\n“ہر چہ در دل گُذرد وقفِ زباں دارد شمع\nسوختن نیست خیالے کہ نہاں دارد شمع”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A8%D8%AF_%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%A7%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85"} {"title": "عبرت دہر ہو گیا جب سے چھپا مزار میں", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عبرت دہر ہو گیا جب سے چھپا مزار میں\nخیر جگہ تو مل گئی دیدۂ اعتبار میں\n\nتوڑ رہا ہے باغباں پنکھڑیاں بہار میں\nکوئی تو ہو فدائے گل ایک نہیں مزار میں\n\nمحو ہوں یاد چہرۂ شاہد گل عذار میں\nاب یہ خزاں نصیب دل جا کے ملا بہار میں\n\nاوج نہاد طبع کی مٹ کے بھی شان رہ گئی\nمر کے میں سوئے آسماں مل کے اڑا غبار میں\n\nمیرے لباس کہنہ سے ہٹتی نہیں ہے ان کی آنکھ\nشاید الجھ گئی نظر جامۂ تار تار میں\n\nتم نے شب فراق میں دیکھیں نہیں جو حالتیں\nآج وہ آ کے دیکھ لو عالم احتضار میں\n\nجذب شمیم زلف ہے دانۂ دام سے سوا\nسیکڑوں دل کھنچ آئے ہیں گیسوئے مشکبار میں\n\nفیصلہ ہو ہی جائے گا چھنٹنے دے بھیڑ حشر کی\nثاقبؔ دل حزیں ہے آج تو بھی کسی شمار میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%A8%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%DB%81%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عجب احوال دیکھا اس زمانے کے امیروں کا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عجب احوال دیکھا اس زمانے کے امیروں کا\nنہ ان کو ڈر خدا کا اور نہ ان کو خوف پیروں کا\n\nمثال مہر و مہ دن رات کھاتے چرخ پھرتے ہیں\nفلک کے ہاتھ سے یہ حال ہے روشن ضمیروں کا\n\nقفس میں پھینک ہم کو پھر وہیں صیاد جاتا ہے\nخدا حافظ ہے گلشن میں ہمارے ہم صفیروں کا\n\nمجھے شکوہ نہیں بے رحم کچھ تیرے تغافل سے\nکھلے بندوں پھرے تو حال کیا جانے اسیروں کا\n\nدل یاقوت ہے تجھ لعل لب کے رشک سے پرخوں\nترے دنداں کے آگے گھٹ گیا ہے مول ہیروں کا\n\nکیا ہے اس نشاں انداز نے ترکش تہی مجھ پر\nمری چھاتی سرا ہو جس اوپر تودہ ہے تیروں کا\n\nہمیں دیوان خانے سے کسی منعم کے کیا حاتمؔ\nہے آزادوں کے گر رہنے کو بس تکیہ فقیروں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا\nکبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا\n\nکوئی فتنہ تا قیامت نہ پھر آشکار ہوتا\nترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا\n\nجو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا\nتمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا\n\nغم عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے\nیہ وہ زہر ہے کہ آخر مے خوش گوار ہوتا\n\nیہ مزہ تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی\nنہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا\n\nنہ مزا ہے دشمنی میں نہ ہے لطف دوستی میں\nکوئی غیر غیر ہوتا کوئی یار یار ہوتا\n\nترے وعدے پر ستم گر ابھی اور صبر کرتے\nاگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا\n\nیہ وہ درد دل نہیں ہے کہ ہو چارہ ساز کوئی\nاگر ایک بار مٹتا تو ہزار بار ہوتا\n\nگئے ہوش تیرے زاہد جو وہ چشم مست دیکھی\nمجھے کیا الٹ نہ دیتے جو نہ بادہ خوار ہوتا\n\nمجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے\nدر یار کعبہ بنتا جو مرا مزار ہوتا\n\nتمہیں ناز ہو نہ کیونکر کہ لیا ہے داغؔ کا دل\nیہ رقم نہ ہاتھ لگتی نہ یہ افتخار ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "عجب بھول و حیرت جو مخلوق کو ہے", "poet_page": "مصنف:یاسین علی خاں مرکز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مرکز (1926)", "year": "1926", "text_ur": "عجب بھول و حیرت جو مخلوق کو ہے\nخدا کی طلب شرک کی جستجو ہے\n\nشراب محبت میں مخمور ہوں میں\nپیالہ بھرا ہے ملبب سبو ہے\n\nپتہ ایک کا دو میں کیوں کر ملے گا\nجو کثرت فنا ہو تو خود تو ہی تو ہے\n\nنہیں غیر کوئی تشخص کا پردہ\nمن و تو فقط غیر کی گفتگو ہے\n\nہے خود آپ موجود ہر یک صفت سے\nجدائی نہیں اس میں کچھ مو بہ مو ہے\n\nصفت بسط و قابض کی تخم و شجر ہے\nجو بو ہے سو گل ہے جو گل ہے سو بو ہے\n\nوہ پیر طریقت ہے کامل اسی کو\nخدا اس کے ہر آن میں روبرو ہے\n\nوجود ایک ہے صورت اس کی مغیر\nہے جلوہ اسی کا نہ میں اور تو ہے\n\nتو مرکزؔ ہے عالم میں پیدا و ظاہر\nبنایا بناتا ہے جو کچھ کہ تو ہے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%D9%88_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AE%D9%84%D9%88%D9%82_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "عجب تو نے جلوہ دکھایا مجھے", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "عجب تو نے جلوہ دکھایا مجھے\nکہ عالم میں پھر کچھ نہ بھایا مجھے\n\nکروں کیا بیاں میں یہ احسان عشق\nکہ قطرہ سے دریا بنایا مجھے\n\nفدا ہوں میں اس ناز جاں بخش پر\nکہ جوں جوں موا میں جلایا مجھے\n\nتری زلف پیچاں نے اے رشک گل\nہزاروں بلا میں پھنسایا مجھے\n\nرلایا کبھوں مجھ کو مانند ابر\nکبھوں برق آسا ہنسایا مجھے\n\nجو اپنے تئیں میں نے دیکھا بغور\nسراپا نظر تو ہی آیا مجھے\n\nمیں ہوں شاہ خادم پر آثمؔ فدا\nکہ جوں جوں میں بگڑا بنایا مجھے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "عجب جوبن ہے گل پر آمد فصل بہاری ہے", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عجب جوبن ہے گل پر آمد فصل بہاری ہے\nشتاب آ ساقیا گل رو کہ تیری یادگاری ہے\n\nرہا کرتا ہے صیاد ستم گر موسم گل میں\nاسیران قفس لو تم سے اب رخصت ہماری ہے\n\nکسی پہلو نہیں آرام آتا تیرے عاشق کو\nدل مضطر تڑپتا ہے نہایت بے قراری ہے\n\nصفائی دیکھتے ہی دل پھڑک جاتا ہے بسمل کا\nارے جلاد تیرے تیغ کی کیا آب داری ہے\n\nدلا اب تو فراق یار میں یہ حال ہے اپنا\nکہ سر زانو پہ ہے اور خون دل آنکھوں سے جاری ہے\n\nالٰہی خیر کیجو کچھ ابھی سے دل دھڑکتا ہے\nسنا ہے منزل اول کی پہلی رات بھاری ہے\n\nرساؔ محو فصاحت دوست کیا دشمن بھی ہیں سارے\nزمانے میں ترے طرز سخن کی یادگاری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%AC%D9%88%D8%A8%D9%86_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D9%85%D8%AF_%D9%81%D8%B5%D9%84_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "عجب رنگ کی مے پرستی رہی", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عجب رنگ کی مے پرستی رہی\nکہ بے مے پیے مے کی مستی رہی\n\nبکھرتے رہے گیسوئے عنبریں\nصبا ان سے مل مل کے بستی رہی\n\nرہا دور میں ساغر نرگسی\nمری مے ان آنکھوں کی مستی رہی\n\nوہ شکل اپنی ہر دم بدلتے رہے\nیہاں مشق صورت پرستی رہی\n\nوہیں رہ پڑے راہ میں حسن دوست\nجہاں حسن والوں کی بستی رہی\n\nملی روز ہم فاقہ مستوں کو مے\nخدا جانے مہنگی کہ سستی رہی\n\nمبارکؔ پرستار مے خانہ تھا\nیہ جب تک رہا مے پرستی رہی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%8C"} {"title": "عجب زمانے کی گردشیں ہیں خدا ہی بس یاد آ رہا ہے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عجب زمانے کی گردشیں ہیں خدا ہی بس یاد آ رہا ہے\nنظر نہ جس سے ملاتے تھے ہم وہی اب آنکھیں دکھا رہا ہے\n\nبڑھی ہے آپس میں بد گمانی مزہ محبت کا آ رہا ہے\nہم اس کے دل کو ٹٹولتے ہیں تو ہم کو وہ آزما رہا ہے\n\nگھر اپنا کرتی ہے نا امیدی ہمارے دل میں غضب ہے دیکھیو\nیہ وہ مکاں ہے کہ جس میں برسوں امیدوں کا جمگھٹا رہا ہے\n\nبدل گیا ہے مزاج ان کا میں اپنے اس جذب دل کے صدقے\nوہی شکایت ہے اب ادھر سے ادھر جو پہلے گلہ رہا ہے\n\nکسی کی جب آس ٹوٹ جائے تو خاک وہ آسرا لگائے\nشکستہ دل کر کے مجھ کو ظالم نگاہ اب کیا ملا رہا ہے\n\nیہاں تو ترک شراب سے خود دل و جگر پھنک رہے ہیں واعظ\nسنا کے دوزخ کا ذکر ناحق جلے کو تو بھی جلا رہا ہے\n\nکروں نہ کیوں حسن کا نظارہ سنوں نہ کیوں عشق کا فسانہ\nاسی کا تو مشغلہ تھا برسوں اسی کا تو ولولہ رہا ہے\n\nامید جب حد سے بڑھ گئی ہو تو حاصل اس کا ہے ناامیدی\nبھلا نہ کیوں یاس دفعتاً ہو کہ مدتوں آسرا رہا ہے\n\nمجھے توقع ہو کیا خبر کی زباں ہے قاصد کی ہاتھ بھر کی\nلگی ہوا تک نہیں ادھر کی ابھی سے باتیں بنا رہا ہے\n\nذرا یہاں جس نے سر اٹھایا کہ اس نے نیچا اسے دکھایا\nکوئی بتائے تو یہ زمانہ کسی کا بھی آشنا رہا ہے\n\nحفیظؔ اپنا کمال تھا یہ کہ جس کے ہاتھوں زوال دیکھا\nفلک نے جتنا ہمیں بڑھایا زیادہ اس سے گھٹا رہا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%A8%D8%B3_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عجب نشاط سے جلاّد کے چلے ہیں ہم آگے\nکہ اپنے سائے سے سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے\n\nقضا نے تھا مجھے چاہا خرابِ بادۂ الفت\nفقط خراب لکھا، بس نہ چل سکا قلم آگے\n\nغمِ زمانہ نے جھاڑی نشاطِ عشق کی مستی\nوگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذّتِ الم آگے\n\nخدا کے واسطے داد اس جنونِ شوق کی دینا\nکہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے\n\nیہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نے\nتمہارے آئیو اے طرّہ‌ ہائے خم بہ خم آگے\n\nدل و جگر میں پَر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہے\nہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے\n\nقسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالبؔ\nہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D8%B7_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A2%DA%AF%DB%92"} {"title": "عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "عجب واعظ کی دیں‌داری ہے یا رب!\nعداوت ہے اسے سارے جہاں سے\n\nکوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں\nکہاں جاتا ہے، آتا ہے کہاں سے\n\nوہیں سے رات کو ظلمت ملی ہے\nچمک تارے نے پائی ہے جہاں سے\n\nہم اپنی دردمندی کا فسانہ\nسُنا کرتے ہیں اپنے رازداں سے\n\nبڑی باریک ہیں واعظ کی چالیں\nلَرز جاتا ہے آوازِ اذاں سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8"} {"title": "عجب چنچل ملا ہے یار ہمنا", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "عجب چنچل ملا ہے یار ہمنا\nکیا اک بارگی سرشار ہمنا\n\nتدھاں سوں دیکھ کر کچھ یوں سمجھتے\nدو عالم صاحب اسرار ہمنا\n\nگل بستان ہے گویا خار صحرا\nوسا جب حسن کا گلزار ہمنا\n\nزمیں سوں تا فلک سارے حجابات\nہوئے ہیں مطلع الانوار ہمنا\n\nہوا دل سرخ رو آیا نظر جب\nشگفتہ چہرۂ گل نار ہمنا\n\nنوازش اور تلطف سوں اپس کے\nدیا خلوت میں اپنے بار ہمنا\n\nعلیمؔ اللہ حضوری میں صنم کے\nنہیں جز بندگی اقرار ہمنا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%DA%86%D9%86%DA%86%D9%84_%D9%85%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85%D9%86%D8%A7"} {"title": "عجب ہے مہرؔ سے اس شوخ کی وصال کا وقت", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عجب ہے مہرؔ سے اس شوخ کی وصال کا وقت\nوہ دوپہر کہ جو مخصوص ہے زوال کا وقت\n\nمری تو خاک بھی تیرے قدم نہ چھوڑے گی\nذرا تو آنے تو دے اپنے پائمال کا وقت\n\nچمن کی سیر ہے بلبل پڑے چہکتی ہیں\nہمارے آپ کے بھی ہے یہ بول چال کا وقت\n\nکرو نہ ذکر رقیبوں کا مجھ سے راگ نہ لاؤ\nخطا معاف نہیں ہے یہ اس خیال کا وقت\n\nاب ان کی چال قیامت ہے کیوں نہ دل پس جائے\nابھی گزر گیا کبک دری کی چال کا وقت\n\nمثل ہے آنکھ بچی مال دوستوں کا ہوا\nزمانہ دولت دنیا کا ہے خیال کا وقت\n\nکہاں یہ نوک پلک پھر کہاں یہ حسن شباب\nادھر کو دیکھو یہی تو ہے دیکھ بھال کا وقت\n\nدعائیں دیں گے انہیں یہ فقیر کمبل پوش\nالٰہی دور دو شالے کا ہووے شال کا وقت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%94_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D9%82%D8%AA"} {"title": "عجیب حسن ہے ان سرخ سرخ گالوں میں", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عجیب حسن ہے ان سرخ سرخ گالوں میں\nمئے دوآتشہ بھر دی ہے دو پیالوں میں\n\nسنیں جو آپ تو سونا حرام ہو جائے\nتمام رات گزرتی ہے جن خیالوں میں\n\nامید و یاس نے جھگڑے میں ڈال رکھا ہے\nنہ جینے والوں میں ہم ہیں نہ مرنے والوں میں\n\nچمن میں گل بھی حنا بھی مگر نصیب کی بات\nکوئی تو سر چڑھے کوئی ہو پائمالوں میں\n\nنسیم شمع لحد کو ذرا بچائے ہوئے\nیہی ہے ایک غریبوں کے رونے والوں میں\n\nیہاں خزاں کا نہ کھٹکا نہ خوف گلچیں کا\nبہار گل میں رہے یا تمہارے گالوں میں\n\nنہیں ہے لطف کہ خلوت میں غیر شامل ہو\nاٹھا دو شمع کو یہ بھی ہے جلنے والوں میں\n\nچبھے گا کیا دل پر خوں کا راز آنکھوں سے\nجو ہوگا شیشے میں آئے گا وہ پیالوں میں\n\nہزار شکر کہ ہم نقص میں ہوئے کامل\nجلیلؔ رہ گئی بات اپنی ذی کمالوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%D8%B1%D8%AE_%D8%B3%D8%B1%D8%AE_%DA%AF%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عجیب ہے یہ زندگی", "poet_page": "مصنف:تنویر نقوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "عجیب ہے یہ زندگی کبھی ہے غم کبھی خوشی\nہر ایک شے ہے بے یقیں ہر ایک چیز عارضی\nیہ کارواں رکے کہاں کہ منزلیں ہیں بے نشاں\nچھپے ہوئے ہیں راستے یہاں وہاں دھواں دھواں\nخطر ہیں کتنے راہ میں سفر ہے کتنا اجنبی\nعجیب ہے یہ زندگی\nیہ گال زرد زرد سے اٹے ہوئے ہیں گرد سے\nستم رسیدہ دل یہاں تڑپ رہے ہیں درد سے\nیہ صورتیں کہ جن پہ ہے ستم کی داستاں لکھی\nعجیب ہے یہ زندگی\nہیں بہتری کے واسطے تو یہ ستم قبول ہیں\nچنیں گے پھول جان کر جو راہ میں ببول ہیں\nخوشی سے غم سہیں گے ہم جو غم کے بعد ہے خوشی\nعجیب ہے یہ زندگی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C"} {"title": "عدل جہانگیری", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "قصر شاہی میں کہ ممکن نہیں غیروں کا گزر\nایک دن نورجہاں بام پہ تھی جلوہ فگن\nکوئی شامت زدہ رہ گیر ادھر آ نکلا\nگرچہ تھی قصر میں ہر چار طرف سے قدغن\nغیرت حسن سے بیگم نے طمنچہ مارا\nخاک پر ڈھیر تھا اک کشتۂ بے گور و کفن\nساتھ ہی شاہ جہانگیر کو پہنچی جو خبر\nغیظ سے آ گئی ابروئے عدالت پہ شکن\nحکم بھیجا کہ کنیزان شبستان شہی\nجا کے پوچھ آئیں کہ سچ یا کہ غلط ہے یہ سخن\nنخوت حسن سے بیگم نے بصد ناز کہا\nمیری جانب سے کرو عرض بہ آئین حسن\nہاں مجھے واقعۂ قتل سے انکار نہیں\nمجھ سے ناموس حیا نے یہ کہا تھا کہ بزن\nاس کی گستاخ نگاہی نے کیا اس کو ہلاک\nکشور حسن میں جاری ہے یہی شرع کہن\nمفتی دیں سے جہانگیر نے فتویٰ پوچھا\nکہ شریعت میں کسی کو نہیں کچھ جائے سخن\nمفتی دین نے بے خوف و خطر صاف کہا\nشرع کہتی ہے کہ قاتل کی اڑا دو گردن\nلوگ دربار میں اس حکم سے تھرا اٹھے\nپر جہانگیر کے ابرو پہ نہ بل تھا نہ شکن\nترکشوں کو یہ دیا حکم کہ اندر جا کر\nپہلے بیگم کو کریں بستۂ زنجیر و رسن\nپھر اسی طرح اسے کھینچ کے باہر لائیں\nاور جلاد کو دیں حکم کہ ہاں تیغ بزن\nیہ وہی نورجہاں ہے کہ حقیقت میں یہی\nتھی جہانگیر کے پردہ میں شہنشاہ زمن\nاس کی پیشانئ نازک پہ جو پڑتی تھی گرہ\nجا کے بن جاتی تھی اوراق حکومت پہ شکن\nاب نہ وہ نورجہاں ہے نہ وہ انداز غرور\nنہ وہ غمزے ہیں نہ وہ عربدۂ صبر شکن\nاب وہی پاؤں ہر اک گام پہ تھراتے ہیں\nجن کی رفتار سے پامال تھے مرغان چمن\nایک مجرم ہے کہ جس کا کوئی حامی نہ شفیع\nایک بیکس ہے کہ جس کا نہ کوئی گھر نہ وطن\nخدمت شاہ میں بیگم نے یہ بھیجا پیغام\nخوں بہا بھی تو شریعت میں اک امر احسن\nمفتئ شرع سے پھر شاہ نے فتویٰ پوچھا\nبولے جائز ہے رضامند ہوں گر بچہ و زن\nوارثوں کو جو دئیے لاکھ درم بیگم نے\nسب نے دربار میں کی عرض کہ اے شاہ زمن\nہم کو مقتول کا لینا نہیں منظور قصاص\nقتل کا حکم جو رک جائے تو ہے مستحسن\nہو چکا جب کہ شہنشاہ کو پورا یہ یقین\nکہ نہیں اس میں کوئی شائبہ حیلہ و فن\nاٹھ کے دربار سے آہستہ چلا سوئے حرم\nتھی جہاں نورجہاں معتکف بیت خزن\nدفعتاً پاؤں پہ بیگم کے گرا اور یہ کہا\nتو اگر کشتہ شدی آہ چہ می کردم من", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AF%D9%84_%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "عدل فاروقی کا ایک نمونہ", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ایک دن حضرت فاروقؓ نے منبر پہ کہا\nکیا تمہیں حکم جو کچھ دوں تو کرو گے منظور\nایک نے اٹھ کے کہا یہ کہ نہ مانیں گے کبھی\nکہ ترے عدل میں ہم کو نظر آتا ہے فتور\nچادریں مال غنیمت میں جو اب کے آئیں\nصحن مسجد میں وہ تقسیم ہوئیں سب کے حضور\nان میں ہر ایک کے حصہ میں فقط اک آئی\nتھا تمہارا بھی وہی حق کہ یہی ہے دستور\nاب جو یہ جسم پہ تیرے نظر آتا ہے لباس\nیہ اسی لوٹ کی چادر سے بنا ہوگا ضرور\nمختصر تھی وہ ردا اور ترا قد ہے دراز\nایک چادر میں ترا جسم نہ ہوگا مستور\nاپنے حصہ سے زیادہ جو لیا تو نے تو اب\nتو خلافت کے نہ قابل ہے نہ ہم ہیں مامور\nگرچہ وہ حد مناسب سے بڑھا جاتا تھا\nسب کے سب مہر بہ لب تھے چہ اناث و چہ ذکور\nروک دے کوئی کسی کو یہ نہ رکھتا تھا مجال\nنشۂ عدل و مساوات سے سب تھے مخمور\nاپنے فرزند سے فاروق معظم نے کہا\nتم کو ہے حالت اصلی کی حقیقت پہ عبور\nتمہیں دے سکتے ہو اس کا مری جانب سے جواب\nکہ نہ پکڑے مجھے محشر میں مرا رب غفور\nبولے یہ ابن عمرؓ سب سے مخاطب ہو کر\nاس میں کچھ والد ماجد کا نہیں جرم و قصور\nایک چادر میں جو پورا نہ ہوا ان کا لباس\nکر سکی اس کو گوارا نہ مری طبع غیور\nاپنے حصہ کی بھی میں نے انہیں چادر دے دی\nواقعہ کی یہ حقیقت ہے کہ جو تھی مستور\nنکتہ چیں نے یہ کہا اٹھ کے کہ ہاں اے فاروق\nحکم دے ہم کو کہ اب ہم اسے مانیں گے ضرور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AF%D9%84_%D9%81%D8%A7%D8%B1%D9%88%D9%82%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%86%D9%85%D9%88%D9%86%DB%81"} {"title": "عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا\nجو ہم نہ ہوتے تو دل نہ ہوتا جو دل نہ ہوتا تو غم نہ ہوتا\n\nہوئی خجالت سے نفرت افزوں گلے کیے خوب آخریں دم\nوہ کاش اک دم ٹھہر کے آتے کہ میرے لب پر بھی دم نہ ہوتا\n\nپڑا ہی مرنا بس اب تو ہم کو جو اس نے خط پڑھ کے نامہ بر سے\nکہا کہ گر سچ یہ حال ہوتا تو دفتر اتنا رقم نہ ہوتا\n\nکسی کے جلنے کا دھیان آیا وگرنہ دود فغاں سے میرے\nاگر ہزاروں سپہر بنتے تمہاری آنکھوں میں نم نہ ہوتا\n\nجو آپ در سے اٹھا نہ دیتے کہیں نہ کرتا میں جبہہ سائی\nاگرچہ یہ سر نوشت میں تھا تمہارے سر کی قسم نہ ہوتا\n\nوصال کو ہم ترس رہے تھے جو اب ہوا تو مزا نہ پایا\nعدو کے مرنے کی جب خوشی تھی کہ اس کو رنج و الم نہ ہوتا\n\nجہان تنگ و ہجوم وحشت غرض کہ دم پر بری بنی تھی\nکہاں میں جاتا نہ جی ٹھہرتا کہیں جو دشت عدم نہ ہوتا\n\nمگر رقیبوں نے سر اٹھایا کہ یہ نہ ہوتا تو بے مروت\nنظر سے ظاہر حیا نہ ہوتی حیا سے گردن میں خم نہ ہوتا\n\nوہاں ترقی جمال کو ہے یہاں محبت ہے روز افزوں\nشریک زیبا تھا بوالہوس بھی جو بے وفائی میں کم نہ ہوتا\n\nغلط کہ صانع کو ہو گوارا خراش انگشت ہائے نازک\nجواب خط کی امید رکھتے جو قول جف القلم نہ ہوتا\n\nیہ بے تکلف پھرا رہی ہے کشش دل عاشقاں کی اس کو\nوگرنہ ایسی نزاکتوں پہ خرام ناز اک قدم نہ ہوتا\n\nوصال تو ہے کہاں میسر مگر خیال وصال ہی میں\nمزے اڑاتے ہوس نکلتی جو ساتھ انداز رم نہ ہوتا\n\nہوا مسلماں میں اور ڈر سے نہ درس واعظ کو سن کے مومنؔ\nبنی تھی دوزخ بلا سے بنتی عذاب ہجر صنم نہ ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AF%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "عدم کا خلا", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا\nیہاں کوئی ایسی شے نہیں جسے وہ لے جائیں ساتھ اپنے\nیہاں کوئی ایسی شے نہیں جسے کوئی دیکھ کر یہ سوچے\nکہ یہ ہمارے بھی پاس ہوتی\n\nیہاں کوئی راہ رو نہیں ہے نہ کوئی منزل\nیہاں اندھیرا نہیں اجالا نہیں کوئی شے نہیں ہے\nگزرتے لمحوں کے آتشیں پاؤں اس جگہ پے بہ پے رواں ہیں\nہر ایک شے کو سجھاتے جاتے ہر ایک شے کو جلاتے جاتے مٹاتے جاتے\nہر ایک شے کو سجھاتے جاتے کہ کچھ نہیں ہست سے بھی حاصل\n\nہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا\nیہ سب معابد یہ شہر گاؤں\nفسانۂ زیست کے نشاں ہیں\nمگر ہر اک در پہ جا کے دیکھا ہر ایک دیوار روند ڈالی ہر ایک روزن کو دل سمجھ کر\nیہ بھید جانا\nگزرتے لمحوں کے آتشیں پاؤں ہر جگہ پے بہ پے رواں ہیں\nکہیں مٹاتے کہیں مٹانے کے واسطے نقش نو بناتے\nحیات رفتہ حیات آئندہ سے ملے گی یہ کون جانے\nہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا\nہر جگہ دام دوریوں کا بچھا ہوا ہے\nہر اک جگہ وقت ایک عفریت کی طرح یوں کھڑا ہوا ہے\nکہ جیسے وہ کائنات کا عکس بے کراں ہو\nکبھی فریب خیال بن کر کبھی کبھی بھول کر شعور جمال بن کر\nشکار کی ناتواں نظر کو سجھا رہا ہے\nہر ایک شے سے مرا نشان عدم عیاں ہے\nعدم بھی دریوزہ گر ہے میرا مرے ہی بل پر رواں دواں ہے\n\nہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا\nفسانۂ زیست کا جھلستا ہوا اجالا بھی مٹ چکا ہے\nمگر ہو مٹ کر کوئی اندھیرا نہیں بنا ہے\nکہ اس جگہ تو کوئی اندھیرا نہیں اجالا نہیں یہاں کوئی شے نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AF%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%84%D8%A7"} {"title": "عدو تو کیا یہ فلک بھی اسے ستا نہ سکا", "poet_page": "مصنف:انجم مانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عدو تو کیا یہ فلک بھی اسے ستا نہ سکا\nخوشی ہنسا نہ سکی غم جسے رلا نہ سکا\n\nنہ پوچھ اس کی دل افسردگی کی کیفیت\nجو غم نصیب خوشی میں بھی مسکرا نہ سکا\n\nوہ پوچھ بیٹھے یکایک جو وجہ بے تابی\nکھجا کے رہ گیا سر بات کچھ بنا نہ سکا\n\nوہ دیکھ لیں نہ کہیں میری چشم پر نم کو\nگیا تو ملنے کو آنکھیں مگر ملا نہ سکا\n\nیہ دو دلی میں رہا گھر نہ گھاٹ کا انجمؔ\nبتوں کو کر نہ سکا خوش خدا کو پا نہ سکا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AF%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D8%A7"} {"title": "عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایا", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایا\nکوئی جوڑ مجھ پر مقرر بنایا\n\nکوئی سرو رکھتا نہ تھا راست یہ ہے\nترے قد کو میں نے صنوبر بنایا\n\nکیا میں نے جلاد اسے اپنے حق میں\nستم سہتے سہتے ستم گر بنایا\n\nنہ گنتا تھا کوئی حسینوں میں او بت\nتجھے دے کے دل میں نے دلبر بنایا\n\nشکر لب کہا میں نے کڑوے ہوئے تم\nعبث منہ کو مجھ سے ستم گر بنایا\n\nعناصر سے خالق نے خلقت بنائی\nتجھے نور سے حور پیکر بنایا\n\nترا عاشق زار روز ازل سے\nبنایا مجھے او ستم گر بنایا\n\nبھلا کیا جواب اس کا دے گا تو قاتل\nاگر خون کا میں نے محضر بنایا\n\nمری عقل حیراں ہے بار الہا\nطلسمات دنیا کو کیوں کر بنایا\n\nپڑی جان اڑنے لگا میرے عیسیٰ\nروئی کا جو تو نے کبوتر بنایا\n\nہمہ وقت ممکن نہیں وصل دلبر\nہنسی کھیل کیا جان مضطر بنایا\n\nوہ ہوں صاحب ظرف ہرگز نہ چھلکا\nاگر خاک کا میری ساغر بنایا\n\nخیال دہن نے کیا تنگ مجھ کو\nکمر کے تصور نے لاغر بنایا\n\nگھلے سوز فرقت میں اس شمع رو کے\nیہ حال اپنا کیوں رندؔ جل کر بنایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AF%D9%88_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عدو پر لطف ہے ہم پر جفا ہے", "poet_page": "مصنف:ہاجر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عدو پر لطف ہے ہم پر جفا ہے\nمری جاں کیا یہی رسم وفا ہے\n\nستم ایجاد تیری کیا خطا ہے\nمری تقدیر ہی مجھ سے خفا ہے\n\nہم اپنے حال کے قربان جائیں\nوہ فرماتے ہیں تم کو کیا ہوا ہے\n\nترے در پر جبیں سائی سے حاصل\nکہیں تقدیر کا لکھا مٹا ہے\n\nتمہاری کاکل پیچاں سے الجھوں\nمرا بیٹھے بٹھائے سر پھرا ہے\n\nتصور کی فسوں کاری تو دیکھو\nوہ گویا سامنے بیٹھا ہوا ہے\n\nعبث کرتے ہو تکلیف مداوا\nمریض غم کہیں جان بر ہوا ہے\n\nوہ سن کر کہتے ہیں فریاد ہاجرؔ\nکسی ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AF%D9%88_%D9%BE%D8%B1_%D9%84%D8%B7%D9%81_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "عدو کمبخت کو سودا ہے کچھ ایسا جدائی کا", "poet_page": "مصنف:ماسٹر باسط بسوانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عدو کمبخت کو سودا ہے کچھ ایسا جدائی کا\nلئے سر پر پھرا کرتا ہے ڈھانچہ چارپائی کا\n\nکبھی تم مجھ کو دھر پٹکو کبھی میں تم کو دے ماروں\nمزا اس وقت ہے اے جان جاں اس ہاتھا پائی کا\n\nیہ کیا پڑھ پڑھ کے دم کرتے ہو چپکے سے حسینوں پر\nاٹھا ہی چاہتا ہے شیخ پردہ پارسائی کا\n\nسر محفل رقیب رو سیہ کا ٹیٹوا پکڑا\nمچایا شور بزدل نے دہائی کا تہائی کا\n\nتمہیں جب میں نے دھر ڈپٹا تو کوئی بھی نہیں بولا\nبہت ہی دم بھرا کرتے تھے اعدا آشنائی کا\n\nمیں دل پر چوٹ کھاؤں ان پری رویوں کے ہاتھوں سے\nمجھے نسخہ اگر کوئی بتا دے مومیائی کا\n\nسر محفل ہر اک سے بے جھجھک آنکھیں لڑاتا ہے\nاٹھایا ہے بت پر فن نے کیا بیڑا ڈھٹائی کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AF%D9%88_%DA%A9%D9%85%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "عدو کو دیکھ کے جب وہ ادھر کو دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عدو کو دیکھ کے جب وہ ادھر کو دیکھتے ہیں\nنظر چرا کے ہم ان کی نظر کو دیکھتے ہیں\n\nوہ رکھ کے ہاتھ سے آئینہ تن کے بیٹھ گئے\nدہن کو دیکھ چکے اب کمر کو دیکھتے ہیں\n\nکسی کے حسن سے یہ ہم کو بد گمانی ہے\nکہ پہلے نامہ سے ہم نامہ بر کو دیکھتے ہیں\n\nیہ امتحان کشش حسن و عشق کا ہے بنا\nنہ ہم ادھر کو نہ اب وہ ادھر کو دیکھتے ہیں\n\nکبھی وہ آئینے میں دیکھتے ہیں اپنی شکل\nکبھی وہ بیخودؔ آشفتہ سر کو دیکھتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AF%D9%88_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عدو کی ان کے کوچہ میں مرمت ہونے والی ہے", "poet_page": "مصنف:بوم میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عدو کی ان کے کوچہ میں مرمت ہونے والی ہے\nکسی کی آج بے پیسہ حجامت ہونے والی ہے\n\nسنا ہے وہ برہنہ ہو کے آتے ہیں سر محشر\nقیامت میں بھی اک برپا قیامت ہونے والی ہے\n\nدعائیں مانگتا ہوں اس لیے باوا کے مرنے کی\nکہ جو دولت ہے ان کی ما بدولت ہونے والی ہے\n\nمزہ تو جب ہے اپنے ساتھ وہ مجھ کو کبھی لے جائے\nعدو کے گھر پر اس سالے کی دعوت ہونے والی ہے\n\nجو ہم پادیں کبھی تو بے حیا ہم کو بتاتے ہیں\nجو خود پادیں تو کہتے ہیں کہ صحت ہونے والی ہے\n\nشب وعدہ ابھی کیا ہے ابھی تو پیٹ پھولے گا\nابھی اک اور بھی برپا قیامت ہونے والی ہے\n\nارے اے بومؔ کیوں گھبرا رہا ہے کچھ خبر بھی ہے\nکہ منا لال صاحب کی عنایت ہونے والی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AF%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D9%85%D8%AA_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "عدو کی بزم میں اے بزمؔ یہ شب تو بسر کر لو", "poet_page": "مصنف:عاشق حسین بزم آفندی", "kind": "poetry", "section": "غزل > ایاغ بزم (1927)", "year": "1927", "text_ur": "عدو کی بزم میں اے بزمؔ یہ شب تو بسر کر لو\nاگر دیکھا نہیں جاتا تو منہ اپنا ادھر کر لو\n\nعوض الفت کے دل ہے فیصلہ باہم دگر کر لو\nرضا کے ساتھ ہے سودا نہ ڈر کر دو نہ ڈر کر لو\n\nبگڑنے کا بھلا ہے وصل کی صحبت میں کیا موقع\nبدی یہ کب تھی ایسے میں تم اپنا منہ ادھر کر لو\n\nفنا ہونا ہے جب غم اور خوشی پھر سب برابر ہے\nجہاں میں چار دن کی زیست کیسی ہی بسر کر لو\n\nخوشا شوخی دوپٹہ جب ہٹا سینہ سے فرمایا\nتمہیں میری قسم ہے منہ نہ اپنا گر ادھر کر لو\n\nجب اپنے غم کا قصہ بیٹھتا ہوں ان سے کہنے کو\nتو کہتے ہیں لب اپنے خشک کر لو چشم تر کر لو\n\nاشارہ پر تمہارے چل رہا ہے عالم امکاں\nاسی جانب ہو سب کا رخ تم اپنا منہ جدھر کر لو\n\nشکایت جب کبھی جور و جفا کی ان سے کرتا ہوں\nتو سختی سے یہ فرماتے ہیں پتھر کا جگر کر لو\n\nبھروسہ اس کی رحمت پر ہے جب زاہد تو پھر کیا ہے\nحسینوں کو تو زندہ رہ کے لو حوروں کو مر کر لو\n\nبہت کار اہم ہے کاٹنا عاشق کی گردن کا\nاٹھاؤ تیغ پھر پہلے نزاکت پر نظر کر لو\n\nپہنچ کر سامنے ان کے نہ پھر آواز نکلے گی\nیہاں اے حضرت دل جتنا چاہو شور و شر کر لو\n\nتمہارا یاں سے جانا بزمؔ سے دیکھا نہ جائے گا\nسحر فرقت کی آ پہنچی ابھی سے منہ ادھر کر لو", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AF%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%B2%D9%85%D8%94_%DB%8C%DB%81_%D8%B4%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%D9%88"} {"title": "عدو کے تاکنے کو تم ادھر دیکھو ادھر دیکھو", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عدو کے تاکنے کو تم ادھر دیکھو ادھر دیکھو\nمگر ہم تم کو دیکھے جائیں تم چاہو جدھر دیکھو\n\nلڑائی سے یوں ہی تو روکتے رہتے ہیں ہم تم کو\nکہ دل کا بھید کہہ دیتی ہے تم چاہو جدھر دیکھو\n\nادائیں دیکھنے بیٹھے ہو کیا آئینہ میں اپنی\nدیا ہے جس نے تم جیسے کو دل اس کا جگر دیکھو\n\nسوال وصل پر کچھ سوچ کر اس نے کہا مجھ سے\nابھی وعدہ تو کر سکتے نہیں ہیں ہم مگر دیکھو\n\nنہ کرنا ترک بیخودؔ محتسب کے ڈر سے مے خواری\nکہیں دھبا لگا لینا نہ اپنے نام پر دیکھو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AF%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%A7%DA%A9%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "عدوئے جاں بت بے باک نکلا", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عدوئے جاں بت بے باک نکلا\nبڑا قاتل بڑا سفاک نکلا\n\nصنوبر قد کشی میں خاک نکلا\nوہ سرو قد چمن کی ناک نکلا\n\nفرشتوں کو کیا مات آدمی نے\nقیامت کا یہ مشت خاک نکلا\n\nاڑا دی قید مذہب دل سے ہم نے\nقفس سے طائر‌ ادراک نکلا\n\nمحبت سے کھلا حال زمانہ\nیہ دل لوح طلسم خاک نکلا\n\nنکل آئی فلک کی دور سے روح\nبھنور سے خوب یہ تیراک نکلا\n\nوہ پژمردہ تھا فصل گل جو آئی\nچمن سے صورت خاشاک نکلا\n\nشکار افگن میں دل کو جانتا تھا\nغزال بستۂ فتراک نکلا\n\nمرے ہم آرزو ان کی بر آئے\nہمارا حوصلہ کیا خاک نکلا\n\nجنوں میں باغ عالم کو جو دیکھا\nعجب صحرائے وحشت ناک نکلا\n\nنکلتی ہے بدن سے جس طرح روح\nترے گھر سے میں یوں غم ناک نکلا\n\nتمہارے قد سے کچھ کم سرو ٹھہرا\nصنوبر تو بہت کاواک نکلا\n\nہماری سادہ لوحی کام آئی\nحساب روز محشر پاک نکلا\n\nترارہ پھرتے ہی پہنچا عدم میں\nسمند عمر کیا چالاک نکلا\n\nبھرے لڑکوں نے دامن پتھروں سے\nجہاں تیرا گریباں چاک نکلا\n\nمٹایا دور ساقی محتسب نے\nعدو جمشید کا ضحاک نکلا\n\nصباؔ ہم حشر کو مجرم جو نکلے\nشفاعت کو شہ‌ لولاک نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DA%A9_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "عدوئے خیرہ سراب ہو گیا بڑا خرانٹ", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عدوئے خیرہ سراب ہو گیا بڑا خرانٹ\nیہی ہے دل میں کہ دیں آج اس کو ہم اک ڈانٹ\n\nصفائے قلب ہی سے زیب جامہ زیبی ہے\nکہاں سے چست قبا آ گئی قبا میں سانٹ\n\nملے ہو صبح دم اے یار کوئی دم دم لو\nتمہارے جانے میں کیا دم مرا لگائے گا آنٹ\n\nسپاہ قلب شکن بن گئیں صف مژگاں\nتم ایسے صفدر غازی ہو کانٹ میں ہے چھانٹ\n\nتمہارا ساقیؔٔ شیدا ہے بے نوا سائل\nزکات حسن کا حصہ فقیر کو دو بانٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%B1%DB%81_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DA%91%D8%A7_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D9%86%D9%B9"} {"title": "عذار یار پہ زلف سیاہ فام نہیں", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عذار یار پہ زلف سیاہ فام نہیں\nمگر یہ حشر کا دن ہے کہ جس کی شام نہیں\n\nفراق یار میں دونو سے ہم کو کام نہیں\nہوس سحر کی نہیں آرزوۓ شام نہیں\n\nولائے کعبۂ ابرو سے منہ کو کیا پھیروں\nنماز ختم نہ ہو جب تلک سلام نہیں\n\nیہ سیف آپ کی مثل پری سہی قد ہے\nمگر یہ عیب ہے چلتی نہیں خرام نہیں\n\nکہو نہ سرو کو اک زر خرید ہی اپنا\nکیا جو بندے کو آزاد پھر غلام نہیں\n\nنہیں اعادۂ طاعت کو پیشوا درکار\nقضا نماز کو کچھ حاجت امام نہیں\n\nکسی طرح شب فرقت بسر نہیں ہوتی\nکچھ اس کو گردش ایام سے بھی کام نہیں\n\nجو اس نے بات نہ کی ہو گیا مجھے اثبات\nدہن وہ تنگ ہے گنجائش کلام نہیں\n\nبجھی ہے آب سے کیا تیری تیغ تیز کی آنچ\nکہ خونفشاں مرے دل کا کباب خام نہیں\n\nپھری ہے فرقت جاناں میں چشم دختر رز\nیہ گردش آنکھ کی ساقی ہے دور جام نہیں\n\nنہ دیکھا نقش قدم کا صدائے پا نہ سنی\nسمند عمر سا کوئی سبک خرام نہیں\n\nبرہنہ رہتی ہے شمشیر ابرو قاتل\nمثال تیغ اجل حاجت نیام نہیں\n\nبندھیں وہ ہاتھ حنا سے کیا ہے جن سے شہید\nکچھ اور یار سے منظور انتقام نہیں\n\nنہ داغ دو شب فرقت کا دن کو نام نہ لو\nابھی چراغ نہ روشن کرو کہ شام نہیں\n\nجگر سے سینے سے دل سے گزر گئی دم میں\nتری طرح تری تلوار کو قیام نہیں\n\nستارۂ فلک حسن کہئے کم سن ہے\nابھی وہ چاند کا ٹکڑا مہ تمام نہیں\n\nپھرے طلب میں جو دنیا کی وہ نہیں دیں دار\nمثال دانہ جو گردش میں ہے امام نہیں\n\nنہ خط مصحف عارض کا معتقد ہو وزیرؔ\nحروف جس میں ہوں اللہ کا کلام نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81_%D9%81%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں\nباعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں\n\nمنتظر ہیں دم رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں\nپھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں\n\nسر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی\nنشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں\n\nکیا کہا پھر تو کہو ہم نہیں سنتے تیری\nنہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں\n\nخوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں\nصاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں\n\nمجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہے\nتجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں\n\nدیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہوا\nکون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں\n\nہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں\nجن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں\n\nزیست سے تنگ ہو اے داغؔ تو جیتے کیوں ہو\nجان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B0%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عذر ان کی زبان سے نکلا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عذر ان کی زبان سے نکلا\nتیر گویا کمان سے نکلا\n\nوہ چھلاوا اس آن سے نکلا\nالاماں ہر زبان سے نکلا\n\nخار حسرت بیان سے نکلا\nدل کا کانٹا زبان سے نکلا\n\nفتنہ گر کیا مکان سے نکلا\nآسماں آسمان سے نکلا\n\nآ گیا غش نگاہ دیکھتے ہی\nمدعا کب زبان سے نکلا\n\nکھا گئے تھے وفا کا دھوکا ہم\nجھوٹ سچ امتحان سے نکلا\n\nدل میں رہنے نہ دوں ترا شکوہ\nدل میں آیا زبان سے نکلا\n\nوہم آتے ہیں دیکھیے کیا ہو\nوہ اکیلا مکان سے نکلا\n\nتم برستے رہے سر محفل\nکچھ بھی میری زبان سے نکلا\n\nسچ تو یہ ہے معاملہ دل کا\nباہر اپنے گمان سے نکلا\n\nاس کو آیت حدیث کیا سمجھیں\nجو تمہاری زبان سے نکلا\n\nپڑ گیا جو زباں سے تیری حرف\nپھر نہ اپنے مکان سے نکلا\n\nدیکھ کر روئے یار صل علیٰ\nبے تحاشا زبان سے نکلا\n\nلو قیامت اب آئی وہ کافر\nبن بنا کر مکان سے نکلا\n\nمر گئے ہم مگر ترا ارمان\nدل سے نکلا نہ جان سے نکلا\n\nرہرو راہ عشق تھے لاکھوں\nآگے میں کاروان سے نکلا\n\nسمجھو پتھر کی تم لکیر اسے\nجو ہماری زبان سے نکلا\n\nبزم سے تم کو لے کے جائیں گے\nکام کب پھول پان سے نکلا\n\nکیا مروت ہے ناوک دل دوز\nپہلے ہرگز نہ جان سے نکلا\n\nتیرے دیوانوں کا بھی لشکر آج\nکس تجمل سے شان سے نکلا\n\nمڑ کے دیکھا تو میں نے کب دیکھا\nدور جب پاسبان سے نکلا\n\nوہ ہلے لب تمہارے وعدے پر\nوہ تمہاری زبان سے نکلا\n\nاس کی بانکی ادا نے جب مارا\nدم مرا آن تان سے نکلا\n\nمیرے آنسو کی اس نے کی تعریف\nخوب موتی یہ کان سے نکلا\n\nہم کھڑے تم سے باتیں کرتے تھے\nغیر کیوں درمیان سے نکلا\n\nذکر اہل وفا کا جب آیا\nداغؔ ان کی زبان سے نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B0%D8%B1_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "عرب کی شاعری", "poet_page": "مصنف:وحید الدین سلیم", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ایک مشہور مقولہ ہے کہ ’’الشعردیوان العرب۔‘‘ یعنی عرب کی شاعری عرب کا دفتر ہے۔ دفتر کے لفظ سے یہ مراد ہے کہ اس میں عرب کا جغرافیہ، عرب کی تاریخ، عرب کا تمدن، عرب کا طریقہ معاشرت، عرب کے خیالات و توہمات، عرب کی ملکی اور قومی خصوصیات سب کچھ ہے۔ اگر کوئی شخص عرب کی شاعری کا مطالعہ کرے تو کوئی بات عرب اور اہل عرب کے متعلق ایسی نہیں ہے جو اس میں نہ مل سکے۔ میں عرب کی شاعری کو اسی نقطہ نظر سے دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ ادائے خیالات کے کیا طریقے عربی شاعری میں تھے۔میں نے اس غرض کے لیے ایام جاہلیت کی شاعری پر نظر ڈالی ہے۔ ظہور اسلام کے بعد اوایل بنی امیہ کی شاعری کو بھی شامل کر لیا ہے۔ ایام جاہلیت کی شاعری کا خالص عربی رنگ ہے اور وہ فی الواقع عرب کے تمام حالات و خیالات کا آئینہ ہے۔ اوائل عہد بنی امیہ تک بھی کچھ اصلی خصائص عربی شاعری کے باقی رہے، مگر دولت عباسیہ کے زمانہ میں اس پر عجمیت غالب آ گئی اور شاعری کا خالص عربی رنگ نہیں رہا۔ اگر چہ اس زمانہ کی شاعری اس زمانے کے عربوں کے انقلاب حالت کی تصویر ہے مگر میں نے اس کو اپنے موضوع سے خارج کر دیا ہے۔ میں یہ سب کچھ اپنی محبوب زبان اردو میں لکھنا چاہتا ہوں، اصل عربی اشعار اس مضمون میں نہیں لکھوں گا۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔ایک تو یہ کہ بیچ بیچ میں غیرزبان کے اقتباسات لانے سے مضمون کی روانی میں فرق آ جاتا ہے اور پڑھنے والے اس کو دلچسپی کے ساتھ نہیں پڑھتے۔ دوسرے یہ کہ اہل یورپ کی طرح میری دلی خواہش یہ ہے کہ غیر زبانوں کے ادبیات کے متعلق جو کچھ لکھا جائے، وہ اپنی ہی مادری زبان میں ہوتا کہ ہمارا ادب وسیع ہو اور ترقی حاصل کرے۔ اگر غیرزبانوں کے حاصل کرنے والے ان کے تمام ادبی ذخیروں کو ہماری زبان کے ادب میں بھر دیں تو گھر بیٹھے ہم دنیا کے اعلیٰ اور لطیف خیالات پر عبور حاصل کر سکیں گے۔ دنیا کے ہر قدیم و جدید زبان کے اعلیٰ شاعروں، ادیبوں کے شہ پارے اردو زبان میں بھردینے چاہئیں، تاکہ زبان حال کے انشاء پر دازوں اور شاعروں کو مدد ملے اور ایک محدود دائرہ سے نکل کر آگے بڑھنے کے رستے ان کو نظر آنے لگیں۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو نہ ہمارا ادب کبھی ترقی کرےگا اور نہ اس میں وسعت اور گہرائی پیدا ہوگی۔ایک اور بات بھی ہے جس کی وجہ سے ایسے مضامین تحریر کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔ اگر ہمارے نوجوان انشاء پرداز اور شاعر جو غیرزبانوں کے ادب سے نابلد ہیں، یہ معلوم کریں گے کہ ہر ملک کا ادب اس ملک کی قومی اور ملکی خصوصیات کا آئینہ ہے، پھر اپنی شاعری اور انشاء پردازی پر نظر ڈالیں گے، تو ا ن کو صاف دکھائی دےگا کہ اس میں اس ملک کی خصوصیات کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ ہماری ساری شاعری اور ساری انشاء پردازی بیرونی ادب کی نقالی ہے اور اس میں ہر چیز باہر سے لائی گئی ہے۔ کیا یہ شرم وغیرت کا مقام نہیں ہے؟ کیا اس نقص کے معلوم ہونے کے بعد ہم کو اپنے ادب کی اس کھلی کمزوری کی تلافی نہیں کرنی چاہیے؟ کیا زمانہ سابق کی طرح آئندہ بھی ہم کو صرف بیرونی ادب کی نقالی پر قناعت کرنا لازم ہے؟ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ہم اپنی زبان کے ادب میں انقلاب پیدا کریں اور اس کو ایک ملکی ادب بنانے کی کوشش میں سرگرم نہ ہوں؟ اگر یہ ضرورت مسلم ہے تو پھر ایسے مضامین ہی اہل فکروبصیرت کے لیے تحریک و ترغیب کا باعث ہوں گے۔شاعری کے موضوع:عرب کی شاعری کے اہم موضوع حسب ذیل ہیں۔ (۱) بہادری کے جذبات(۲) اخلاقی جذبات(۳) عاشقانہ جذبات(۴) مدح وذم(۵) غم کے جذباتان میں سے ہر موضوع پر جو کچھ عرب شعرا نے کہا ہے، وہ ان کے دلی خیالات اور اصلی حالات کا آئینہ ہے۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہی کر دکھاتے ہیں۔ ان کی شاعری اصلی اور حقیقی شاعری ہے۔ اپنے عیب و صواب سب کھول کر رکھ دیے ہیں۔ کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں رکھی۔ ان کی زبان ان کی دلی واردات کی ترجمان ہے۔ ان کی شیخیاں جھوٹی شیخیاں نہیں ہیں۔ ان کے کارنامے ان کی نیتوں کے گواہ ہیں۔ وہ اگر کسی کی مدح کرتے ہیں تو صرف اس کی، جس کے قول و فعل میں مطابقت ہے اور جس کی ذات میں فی الواقع وہ خوبیاں موجود ہیں، جن کا ذکر مدح میں کیا گیا ہے۔ اگر کسی کے مرنے پر آنسو بہاتے اور اس کے اوصاف بیان کرتے ہیں تو وہ درحقیقت ایسا ہی شخص ہوتا ہے جس کا وجود خیر و برکت کا باعث تھا۔ جھوٹی مدح وہ کبھی نہیں کرتے، جھوٹے آنسو وہ کبھی نہیں بہاتے، ان کی زبان اور ان کے دل ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔یہاں مثال کے طور پر چند نمونے عربی شاعری کے پیش کیے جاتے ہیں۔ جن سے ناظرین کو اندازہ ہوگا کہ ان میں کس قدر سچائی اور اصلیت کی جھلک ہے اور اہل عرب کی بیرونی اور اندرونی کیفیات کا صحیح نقشہ ان میں کس طرح کھینچ کر رکھا گیا ہے۔فخریہ اشعاراے ہیضم کے دونو بیٹو! کیا تم نے عزم و ہمت کے وقت میری تدبیر کو سست پایا۔ میں نے دنیا کے بہت سے واقعات کا امتحان کیا ہے اور واقعات نے میرا امتحان کیا ہے، گویا کہ میں گزری ہوئی قوموں کا آدمی ہوں۔ ہم ایسی ماں کے بیٹے نہیں ہیں، جن کی چھاتیاں چھوٹی ہوں اور ان کا دودھ منقطع ہو گیا ہو اور وہ صرف ایک ہی دفعہ جنی ہو۔ ہم ایسی صاحب نصیب عورت کی اولاد ہیں جن نے حوضِ ولادت سے مکرر پانی پیا ہے اور جس نے مکرر اولاد پیدا کی ہے۔ زمین کا انڈا شق ہوا اور ہم اس میں سے نکل پڑے۔ ہم زمین کے سخت حصے اور ریگستانی حصے کے فرزند ہیں، ہمارے قبضے میں اجاء اور سلمی کے پہاڑی قلعے ہیں اور دونوں قلعوں کی مشرقی زمین بھی ہمارے پاس ہے۔ قلعہ تیمار کے مالک بھی ہمیں ہیں، جو قوم عاد کے زمانے سے ہمارے قبضے میں ہے اور ہم نے اپنے برچھوں کے زور سے اس کو بچایا ہے۔ (قبیصہ بن جابر)ہم ہنشل کے پوتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں اور ہمارا داد اہم پر فخر کرتا ہے۔ عزت اور برتری کی کسی حد تک گھوڑے دوڑائے جائیں، سب سے آگے بڑھنے والے جب پاؤگے بنی ہنشل ہی کے گھوڑے پاؤگے۔ ہم میں سے کوئی سردار جب تک کہ کوئی لڑکا اپنا جانشین بننے کے لایق نہیں چھوڑتا، دنیا سے نہیں اٹھتا۔ لڑائی کے دن ہم اپنی جانیں سستی کر دیتے ہیں، مگر امن کے زمانہ میں اگر ان کی قیمت پوچھیے تو وہ انمول ہیں۔ ہماری مانگوں کے بال خوشبوؤں کے استعمال سے سفید ہیں، ہماری دیگیں مہمانوں کے لیے گرم ہیں، ہمارا مال ہمارے مقتولوں کے خون بہاکے لیے وقف ہے۔ میں اس قوم میں سے ہوں جس کے بزرگوں نے دشمنوں کے اتنے کہنے پر کہ کہاں ہیں قوم کے حمایتی؟ اپنے کو نیست و نابود کر دیا تھا۔ اگر ہزار میں ہماراایک موجود ہو تو بھی جب یہ کہا جائےگا کہ، کون ہے شہسوار تو اس کی اپنے ہی پر نگاہ پڑےگی۔ (بشامہ بن حزن)اگر انسان کی عزت پر بخل کا داغ نہ ہو تو پھر وہ جو لباس پہنے اس کے بدن پر کھلتا اور زیب دیتا ہے، اگر انسان اپنے تئیں بخل کے جذبات سے نہ روکے تو پھر مدح و ستایش کا رستہ اسے نہیں ملتا۔ وہ عورت ہم پر الزام لگاتی ہے کہ ہماری تعداد تھوڑی ہے، میں نے جواب دیا کہ شریف انسان دنیا میں تھوڑے ہی ہوتے ہیں اور قوم کم نہیں سمجھی جائےگی جس کی یادگار ہم جیسے بلند مرتبہ نوجوان اور ادھیڑ عمر کے ہوں۔ تعداد کی کمی ہمیں کیا نقصان پہنچا سکتی ہے، جب کہ ہمارے ہمسائے طاقتور ہیں، حالانکہ اوروں کے ہمسائے ذلیل ہوتے ہیں۔ ہم ایک ایسے بلند پہاڑ کے مالک ہیں، جس کی طرف اگر نظر اٹھائی جائے تو وہ تھک کر واپس آ جاتی ہے۔ ہم جس کو چاہیں اس پر پناہ لینے کی اجازت دیتے ہیں، اس پہاڑ کی جڑ تحت الثریٰ میں ہے اور اس کی چوٹی لمبی اور اس قدر بلند ہے کہ وہاں تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ہم وہ قوم ہیں کہ جنگ میں مارے جانے کو عیب نہیں جانتے، حالانکہ بنی عامرہ اور بنی سلول ایسا ہی جانتے ہیں۔ ہم موت کو پسند کرتے ہیں، اس لیے ہماری عمریں کوتاہ ہیں، مگر وہ موت سے بھاگتے ہیں اس لیے ان کی زندگی اکثر دراز ہوتی ہے۔ ہمارا کوئی سردار بچھونے پر پڑکر نہیں مرا، ہماری قوم کا کوئی ایسا مقتول نہیں ہے جس کا انتقام یا خون بہا نہ لیا گیا ہو، ہمارے خون بس تلواروں کی دھاروں پر ہی بہتے ہیں۔ ہم فعل میں خالص اور غیرمکدر ہیں۔ ماؤں اور باپوں نے ہمارے نسب کو خالص اور محفوظ رکھا ہے۔ ہم لطافت اور صفائی میں آب باراں کے مانند ہیں، نہ ہم میں کوئی بخیل ہے، نہ کند ذہن۔ اگر چاہیں تو اوروں کی بات کہیں تو پھر کسی کو انکار کی مجال نہیں ہوتی۔ اگر ہمارا کوئی سردار مرتا ہے تو اس کا جانشین ایک ایسا ہی سردار ہوتا ہے، جس کا دل اور زبان شریفوں کی طرح ایک ہو۔ رات کے آنے والے مہمانوں کے لیے ہماری آگ کبھی نہیں بجھائی گئی اور نہ کسی مہمان نے کبھی ہماری شکایت کی۔دشمنوں کے ساتھ جو معرکے ہمیں پیش آئے، وہ نہایت درخشاں اور نمایاں ہیں۔ ہماری تلواریں مغرب و مشرق میں مشہور ہیں اور زرہ پوشوں پر بار بار پڑنے سے ان میں دندانے پڑ گئے ہیں۔ ہماری تلواروں کی عادت ہے کہ جب تک ایک جماعت کا ستھراؤ نہ ہولے اور وہ اچھی طرح لہونہ چاٹ لیں، میانوں میں نہیں جاتیں۔ اگر تمہیں ہمارا حال معلوم نہ ہو تو دنیا کے لوگوں سے پوچھ لو، اس لیے کہ بنی ویان اپنی قوم کے لیے بمنزلہ قطب کے ہیں اور قوم کے سارے معاملات کی چکیاں اسی قطب کے گرد گھومتی اور چلتی رہتی ہیں۔ (سمول بن عادیا)شجاعت اور بزدلی کی تصویریں: اگر میں بنی ماذن میں سے ہوتا تو مجال نہ تھی کہ میرے اونٹ آل ذھل کے غارت گر لوٹ کر لے جاتے، اگر میں بنی ماذن میں سے ہوتا تو میری حمایت پر ایک ایسی قوم کمربستہ ہوتی جو غیرت اور غصہ کے وقت سخت ہے گو کہ بزدل آدمی اس وقت نرم اور سست پڑ جاتے ہیں۔ بنی ماذن وہ قوم ہے کہ جب لڑائی درندہ کی طرح اپنی داڑھیں یا کچلیاں نکال کر ڈراتی ہے تو یہ اکیلے اور اکٹھے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں، وہ طالب حمایت سے کوئی دلیل نہیں پوچھتے اور فوراً اس کی حمایت کے لیے دوڑ پڑتے ہیں، مگر میری قوم باوجود کثرت کے اس قابل نہیں ہے کہ تھوڑی سی مصیبت میں بھی لڑنے پر کمربستہ ہو۔ اگر کوئی ظالم ان پر ظلم کرے تو وہ بزدلی کے سبب اس کو معاف کر دیتے ہیں اور اگر کوئی ان کے ساتھ بدی سے پیش آئے تو وہ نیکی کرنے پر تلے رہتے ہیں، گویا خدا نے ان کے سوا کوئی ایسی قوم دنیا میں پیدا نہیں کی، جس کے دل میں خوفِ خدا ہو۔ کاش مجھے اس قوم کے بدلے کوئی اور ایسی قوم مل جائے کہ جب وہ گھوڑوں پر یا اونٹوں پر سوار ہو تو خوب غارت گری کرے۔ (قریط بن انیف)ایک سو نو برس کے بوڑھے عرب کے جذبات: اگر میں بہت بوڑھا ہو گیا ہوں تو کیا مضائقہ ہے، میں مدت تک جوان رہ چکا ہوں۔ میری پیدائش کے دن سے ایک سو نو برس گزر چکے ہیں، جن کو میں نے لباس کی طرح اتار پھینکا ہے۔ میں سواروں کے بہت سے رسالے مرتب کر چکا ہوں جو لودوں کی ٹکڑیوں کی طرح ایک جگہ آکر جمع ہوتے تھے۔ وہ ایک ایسی گھٹا تھی جس میں موت بجلی کی طرح چمکتی تھی۔ میں نے ان سواروں کے ساتھ لوٹ مار کی ہے اور بہت مزے اڑائے ہیں، مگر دنیا کے تمام مزے چند روزہ ہیں۔میں نے جنگ بہیما کے دن بہت سی عورتوں کو دیکھا جو مارے خوف کے منھ کے بل گری پڑتی تھیں۔ انہیں میں سے ایک عورت خوف کے سبب پیاسی دکھائی دی۔ اس کا گلا گھٹا جاتا تھا، وہ بول نہیں سکتی تھی، اس کی آنکھوں سے متواتر آنسو بہ رہے تھے۔ جب میں نے اس کے شوہر کو قتل کر دیا تو کہنے لگی کہ اے مجمع تو ہلاک ہو، جیسا کہ تونے مجھے ہلاک کیا ہے۔ میں نے کہا میں نہیں بلکہ اے ام مجاشع! تو اور تیری قوم ہلاک ہوئی ہے۔ میں نے اس عورت کے شوہر کو ایک ایسے لمبے اور چمکدار نیزہ سے قتل کیا تھا کہ جب وہ ہلایا جاتا ہے تو اس سے آگ کے شعلے لپکتے ہیں، اس کے سوا اور بہت سی عزت دار عورتیں تھیں، جن کو میں نے ایسے حال میں چھوڑا کہ ان کے منہ پر خراش تھی۔ وہ غمگین تھیں اور زار زار روتی تھیں۔ (مجمع بن ہلال)فوج کشی کا سماںجب ہم لڑائی پر کمربستہ ہوتے ہیں تو ایسی فوج ساتھ لے کر چلتے ہیں جس کے اطراف میں ابلق گھوڑے غائب ہو جائیں۔ جس کا پچھلا حصہ مدینہ میں اور اگلا حصہ دمشق میں ہوتا ہے۔ جب ہم مشرق اور مغرب کے درمیان چلتے ہیں تو جاگتی اور سوتی زمین لرزنے لگتی ہے۔ یعنی وہ زمین جس پر لوگ چلتے ہیں اور وہ زمین جس پر لوگ نہیں چلتے ہیں، یکساں طور سے زلزلہ میں آ جاتی ہے۔ (ابان بن عبدہ)نشے کی ترنگمیں نے چھوٹے اور بڑے پیالوں میں شراب ڈال کر پی ہے، جب میں نشے میں ہوتا ہوں تو اپنے تئیں بادشاہ نعمان کے شاندار محلات، خورنق اور سدیر کا مالک سمجھتا ہوں مگر جب ہوش میں آتا ہوں تو پھر وہی بکریوں اور اونٹوں والا ہوتا ہوں جو پہلے تھا۔ (منخل بن حارث لشکری)غم کے جذباتقیس کا مرنا ایک شخص کا مرنا نہیں ہے، بلکہ وہ ایک قوم کی بنیاد تھا جو گر گئی۔ اس سبب سے وہ قوم بھی گر گئی۔ (عبدہ بن طیب)میرے ایک دوست نے قبروں کے پاس رونے سے مجھ کو ملامت کی اور کہا کیا تو ہر قبر کو دیکھ کر روئےگا۔ حالانکہ تو جس قبر کے خیال میں ہے، وہ لویٰ اور وکاوک کے درمیان واقع ہے۔ میں نے کہا ایک غم دوسرے کو اکساتا ہے مگر مجھے میرے حال پر چھوڑ دے۔ میرے نزدیک تو یہ سب قبریں میرے بھائی مالک ہی کی ہیں۔ (متمم بن تو بیرہ)وہ لوگ جو اس کو قبر کی طرف لے گئے، نہیں جانتے کہ انہوں نے کس چیز کو بے پروائی سے کفن میں لپیٹ دیا ہے۔ (محمد بن بشیر خارجی)میں نہیں جانتا تھا کہ لوگوں پر اس کی فیاضی کا کس قدر احسان ہے، یہاں تک کہ اس کو پتھروں کی سلوں نے اپنے اندر چھپا لیا۔ وہ مرکز زمین کی ایک تنگ جگہ میں سما گیا، حالانکہ جب وہ زندہ تھا تو (فوج کی کثرت کے سبب) بڑے بڑے میدانوں میں بھی نہیں سماتا تھا۔ اب میں تیرے مر جانے کے بعد کسی بڑی سی بڑی مصیبت سے بھی گھبرانے والا نہیں ہوں۔ (اشجع سملی)اے معن کی قبر! تو نے اس کی فیاضی کو اپنے اندر کیوں چھپا لیا، حالانکہ جب وہ زندہ تھا تو اس کی فیاضی سے زمین کی خشکی اور تری سب بھر گئی تھی۔ ہاں بے شک، فیاضی خود مر گئی ہے اس لیے وہ تیرے اندر سما سکی اور اگر وہ زندہ ہوتی تو اس کے سبب تو پھٹ جاتی۔ وہ ایسا جوان مرد تھا کہ مرنے کے بعد بھی لوگ اس کی فیاضی سے زندہ ہیں۔ جس طرح سیل کے گزرنے کے بعد زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ معن کے مرنے سے سخاوت بھی مر گئی اور اس کا خاتمہ ہو گیا اور انسانی کمالات اور خوبیوں کی ناک کٹ گئی۔ (حسین بن مطہر اسدی)مرحوم کے احسانات نے مرحوم کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ جب وہ احسان زندہ ہیں تو گویا وہ خود دوبارہ زندہ ہو گیا ہے۔ قبر کی زمین کا طول چار گز ہے اور عرض پانچ بالشت۔ پھر تعجب ہے کہ اس میں ایک بلند پہاڑ کیونکر سما گیا۔ (عبداللہ ابن ایوب)اے میری نادان گھروالی! تو اس اونٹ کے جاتے رہنے پر کیوں غم کرتی اور روتی ہے، جس کو بیچ کر میں نے شراب پی لی ہے؟ خدا کرے تیرے آنسو کبھی نہ تھمیں۔ آخر زید الفوارس اور زید اللات پر کیوں نہیں روتی، اور بنی نضر کے دو گزرے ہوئے نامور اشخاص کی موت پر کیوں آنسو نہیں بہاتی، ان نامور اور فیاض لوگوں نے مرکر زمانے کو مجھ پر چھوڑ دیا ہے اور میں اب زمانے کے عملوں کا نشانہ بنا ہوا ہوں۔ (خراز بن عمرو)سچی تعریف کا جذبہہشام بن عبدالملک ایک بار حج کے لیے گیا۔ اس نے سنگ اسود کو بوسہ دینے کے لیے بھیڑ کو چیر کر آگے بڑھنا چاہا مگر ممکن نہ ہوا۔ اس اثناء میں امام زین العابدین تشریف لائے۔ ان کے آتے ہی بھیڑ چھٹ گئی اور وہ آسانی سے سنگ اسود تک پہنچ گئے۔ ہشام نے جان بوجھ کر سرداران شام سے، جو اس کے ساتھ تھے، پوچھا کہ یہ کون شخص ہے۔ اس وقت فرزوق شاعر موجود تھا۔ اس نے چند مدحیہ اشعار امام کی شان میں پڑھے اور ہشام کو بتایا کہ وہ کون ہیں۔ اشعار کا مضمون حسب ذیل تھا۔یہ وہ ہے جس کے قدموں کے نشان کو بطحا کی زمین پہچانتی ہے، کعبہ پہچانتا ہے اور اہل حرم بھی پہچانتے ہیں۔ یہ اس شخص کا فرزند ہے، جو خدا کے بندوں میں سب سے بہتر اور برتر تھا۔ یہ نامور شخص پاک و صاف اور متقی اور پرہیزگار ہے۔ جب قریش اس کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بزرگی اور شرافت کا خاتمہ تو اسی شخص کی ذات پر ہے۔ جب وہ سنگ اسود کو بوسہ دینے کے لیے بڑھا تو قریب تھا کہ اس کے ہاتھ کو پہچاننے کے سبب اس کو روک لے اور اس سے برکت حاصل کرے۔ قبائل عرب میں سے کون قبیلہ ہے، جس کی گردن پر اس شخص کے بزرگوں کے احسانات نہ ہوں۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھڑی ہے جس کی خوشبو ہر طرف پھیل رہی ہے، کیونکہ وہ ایک ایسے شخص کے پاس ہے جو حسین و جمیل بھی ہے اور بلند مرتبہ بھی۔ وہ شرم و حیا کے سبب آنکھیں جھکائے رہتا ہے اور لوگ اس کے رعب سے آنکھیں نیچی رکھتے ہیں۔ کسی کی مجال اس سے بات کرنے کی نہیں ہوتی مگر جب کہ حسن اتفاق سے وہ مسکرائے۔ اس نے کلمۂ شہادت کے سوا کبھی لا نہیں کہا۔ اگر کلمہ شہادت نہ ہوتا تو اس کا لا (نہیں) نعم (ہاں) سے بدل جاتا۔ (فرزوق)مختلف مدحیہ اشعار\nوہ میدان جنگ میں ایسے اطمینان سے چلتے ہیں، جیسے شیر زور کی بارش میں حرارت مزاج کے سبب چلتے ہیں۔جب بنی قیس اور ان کے ساتھی بنی ذہل دریائے ذخار کی طرح جوش میں آ جاتے ہیں تو مثل بڑے دریاؤں کے ہوتے ہیں، جن میں اور بڑے دریا آ ملیں۔لطیف اخلاق روحیں ہیں۔ اور آل مہلب ان روحوں کے لیے اجسام ہیں تو ان کی عزت دوسروں کو نہیں دے سکتا۔ جب تک کہ کوہ یسوم کو معہ اس کی پہاڑیوں کے اس کی جگہ سے اٹھاکر دوسری جگہ نہ رکھ دے (یعنی یہ بات ناممکن ہے)وہ اپنے ارادوں کے پورا کرنے میں اور قد کی درازی اور گردنوں کی لمبائی میں تلواروں سے تشبیہ دیے جاتے ہیں۔زیاد کے دونوں بیٹے دو سیدھے گندم گوں خطی تیر تھے۔ زمین ان کے چلنے سے نیچے کو دبی جاتی تھی۔ اے مخالف! تو ایسے ہی لوگوں کے بھروسے پر کسی قوم سے لڑ سکتا یا صلح کر سکتا ہے۔وہ شخص تلوار کے مانند ہے کہ اگر تو اس کو نرمی سے چھوئے تو نرم معلوم ہوتی ہے اور اگر اس کو سختی سے چھوے، پھر اس کی دونوں دھاریں تیز ہیں۔لوگ اس کے سامنے ایسے خاموش بیٹھتے تھے کہ گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں کہ اگر ذرا سر ہلائیں تو پھر سے اڑ جائیں (رعب کی تصویر ہے)ہجویہ اشعار\n\nتم ایسے ابر ہو جس میں خوفناک گرج ہے۔ جس کے ساتھ تند ہوا ہے، جو سنگ ریزے اڑاتی اور خیموں کی رسیاں کاٹ دیتی ہے مگر وہ برستا کبھی نہیں۔تمہاری اونٹنیاں موٹی ہیں۔ یعنی تم بخیل و نامرد ہو۔ نہ مہمانوں کے لیے ان کو ذبح کرتے ہو اور نہ ان پر سوار ہوکر میدانِ جنگ کو جاتے ہو۔وہ جب کھانا کھاتے ہیں تو آہستہ بولتے ہیں (تاکہ کوئی مسکین آواز نہ سنے) اور اپنے گھر کے بند دروازے سے عہد لیتے ہیں کہ جب تک ہم کھانا کھائیں، کسی کے کھولنے سے مت کھلیو۔اگر میں تمہارے دروازہ پر شراب لے آتا تو تمہارا کتا مجھے صاحب خانہ خیال کرتا اور نہ بھونکتا۔ (یعنی تم شرابی ہو اور تمہارا کتا اس کی بو سے مانوس ہے) مگر میں جب تمہارے پاس آیا تو مشک اور عود کی خوشبو میرے کپڑوں میں بسی ہوئی تھی (اسی لیے تمہارا کتا چوکنا ہوا اور اس نے بوکو اجنبی سمجھا۔)وہ گفتگو کی قدرت نہ ہونے کے سبب اپنے تالو کو زبان سے چاٹنے لگتا ہے اور اس کے دل کا ابر کبھی نہیں کھتا۔ (یعنی ہمیشہ شک وتردد کی حالت میں رہتا ہے۔)عاشقانہ جذباتاے خدا۔ کے بندہ! کیا سچ مچ جب تک کہ بھورے ہرن اپنی دمیں ہلاتے رہیں گے، میں بریدہ سے نہ مل سکوں گا۔جب اس محبوب کی اونٹنی صبح کو روانہ ہو گئی تو میں نے اپنی اونٹنی کو اس کے پیچھے ہنکایا۔ حالانکہ اس کے پاؤں بندھے ہوئے تھے (یہ بیخودی کا عالم ہے۔)نازنینوں کے شوق سے ہمارے دل اس طرح اہتراز حاصل کرتے ہیں جیسے خیری کے پھول شبنم سے۔زمانہ کی گردش نے اگر مجھے ام عمرو پر کبھی قدرت دی تو پھر میں زمانہ کا قصور معاف نہ کروں گا۔جب ہمارے قافلے کے اونٹ ہمیں شام کی طرف لے جا رہے تھے تو یکایک آدھی رات کے وقت تیرا خیال آیا اور میں شام کی طرف ایک قدم نہ چل سکا۔ میں نے تیرے خیال کو لبیک کہا اور حدی خوانوں سے کہا کہ اونٹوں کو حجاز کی طرف واپس چلاؤ۔ اب شام کی طرف کوچ کرنے کی حاجت نہیں۔تاریک رات کی سردی میں جب کوہ جودی کے پہلوؤں پر بادل سے کچھ پانی برسا ہو اور شمال کی ہوا نے اس کو یخ کر دیا ہو تو وہ پانی میری مجبوبہ کے آب دہن سے اچھا نہیں ہو سکتا، اگرچہ میں نے اس کا مزہ نہیں چکھا۔ مگر جس چیز کو میری آنکھ دیکھتی ہے میں اسے خوب پہچانتا ہوں۔اے نجد کی ہوا! تو کب چلی۔ تیرے جھونکوں نے مجھے عشق کی تہیں چڑھا دیں۔ جب چاشت کے وقت درخت اند کی تروتازہ شاخ پر ایک کبوتری بولی تو اس کی آواز سن کر میں بچوں کی طرح رونے لگا اور وہ بھید جو میرے دل میں مدت سے چھپا ہوا تھا، یکایک فاش ہو گیا۔تو نے مجھے اپنے پاس بلایا اور ایسے نرم و شیریں کلام سے جو وحشی بکریوں کو بھی پہاڑوں کی چوٹیوں سے میدانوں میں اتار لائے، یعنی وحشیوں کو رام کرلے، مجھ پر قبضہ کیا۔ پھر تو مجھ سے دور بھاگ گئی اور تونے میری پسلیوں میں آگ لگا دی۔اے محبوبہ! تو بان کے سبزدرخت سے پوچھ جو ریت کے ایک ٹیلے پر کھڑا ہے۔ کیا میں نے تیری قیام گاہ کے کھنڈروں کو سلام نہیں کیا؟ کیا میں ان کھنڈروں کے پاس شام کو دیر تک وہاں کھڑا نہیں رہا؟ کیا میری آنکھوں نے وہاں صبح کے وقت اس طرح آنسو نہیں بہائے کہ گویا موتیوں کی ایک لڑی ٹوٹ گئی ہے اور اس کے موتی لگاتار گر رہے ہیں؟ لوگ موسم بہار کی آرزو کرتے ہیں مگر میرے لیے موسم بہار تیرا وصال ہے۔ میں دنیا کو دیکھتا ہوں کہ وہ قحط کے نام سے کانپتی ہے مگر میرے لیے قحط تیرا کوچ کر جانا اور جدائی اختیار کرنا ہے۔ جس رات میں نے سنا کہ لیلیٰ صبح یا شام روانہ ہوگی تو میرا دل اس لوہے کی طرح، جو صیاد کے پھندے میں پھنس گیا ہو اور پھندے سے گردن چھڑانے کے لیے پھڑکتا ہو، بے اختیار پھڑکنے لگا۔اے محبوبہ تو میرے ہر سونے میں آخر شے ہے اور ہر جاگنے میں اول شے ہے۔ اگر جنگل کے بھیڑیے میری محبوبہ کے ہم نسب ہوتے تو میں قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں ان سے بھی محبت کرتا۔ اے لیلیٰ کے کنبے کے لوگو! خدا تم میں لیلیٰ جیسے بہت سے معشوق پیدا کرے تاکہ تم میری لیلیٰ مجھے دے ڈالو اور اس کے دینے میں بخل نہ کرو۔ میری معشوقہ یا تو پری ہے یا اس کے ساتھ کوئی جن ہے، جوبے چلہ کمان سے دلوں پر تیر چلانا اسے سکھاتا ہے۔ وہ معشوقہ مقام جوا کی جنگلی گایوں کی طرح سنہری رنگ کی ہے۔ اے محبوبہ تو نے مجھے ایسے آرام کے وقت گھر سے نکلنے اور اپنی تلاش میں سفر کرنے پر مجبور کیا ہے جب کہ رنگ برنگ کے لوہے نہر کے دونوں کناروں پر زمین سے چھاتی لگائے آرام کر رہے ہیں۔اے محبوبہ! جب تو مجھ سے خفا ہوتی ہے تو میں ایسے ایسے اضطراب میں رات گزارتا ہوں کہ گویا بچھو نے کاٹ کھایا ہے۔ میں نک چھدے اونٹ کی طرح تیرے عشق کا تابع ہوں کہ جہاں وہ لے جاتا ہے اس کے ساتھ جاتا ہوں۔ میں تیرے وصل کا ایسا آرزومند ہوں جیسے کوئی پیاسا کنواں کھودے اور پانی کی جگہ کوئی سخت پتھر کی سل آ جائے، جس کو نہ وہ توڑ سکے نہ اس میں شگاف دے سکے۔ میں فراق کی رات میں اس طرح بے چین تھا جیسے کوئی سانپ کوڑے سے پیٹا جائے اور اس کی پشت کے مہرے ٹوٹ گئے ہوں اور وہ تڑپتا ہوا مرتا نہ ہو، یعنی میں زندوں میں تھا نہ مردں میں۔امرالقیس کی شاعری کا نمونہجب وہ دونوں نازنینیں کھڑی ہوئی تھیں تو ان سے ایسی خوشبو آتی تھی گویا بادصبا لونگوں کے درختوں سے گزر کر آئی ہے۔ آنسو میرے سینے پر اس قدر جاری ہوئے کہ میری تلوار کا تلاتر ہو گیا۔ اے لمبی رات! کیا تیرے ستارے کتان کی مضبوط رسیوں سے سخت پتھر کی چٹان سے باندھ دیے گئے ہیں؟ (کیا اپنی جگہ سے نہیں ہلتے اور صبح ہونے میں نہیں آتی) میں صبح کو ایسے وقت اٹھتا ہوں کہ پرندے اپنے آشیانوں میں ہوتے ہیں۔ پھر گھوڑے پر سوار ہوکر نکل جاتا ہوں۔ اس گھوڑے کا ڈیل بڑا ہے اور بدن پر بال کم ہیں۔ وحشی جانور اس کے آگے سے بھاگ نہیں سکتے۔ جب تم حملہ کرنا چاہو تو وہ بڑاحملہ آور ہے اور جب اس کو پیچھے ہٹانا چاہو تو بڑی تیزی سے پیچھے ہٹتا ہے۔ آگے بڑھنے اور پیچھے ہٹنے کے اوصاف اس میں ایک ساتھ جمع ہیں۔ تیز رفتاری کا یہ حال ہے کہ گویا پتھر کی ایک چٹان کو سیلاب نے پہاڑ کی بلندی سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ عرق گیر جو زین کے نیچے رہتا ہے اس کی سپاٹ پیٹھ پر سے پھسل جاتا ہے۔ باوجود چھریرے پن کے، جب اس کو ایڑ کا اشارہ کیا جاتا ہے تو وہ بہت گرم ہوجاتا ہے اور چلنے میں ایسی آواز آتی ہے گویا ہنڈیا جوش کھا رہی ہے۔جب اور گھوڑے روندی ہوئی پتھریلی زمین میں تھک کر قدم رگڑنے اور غبار اڑانے لگتے ہیں تو وہ اس حالت میں بھی اس طرح چلتا ہے کہ گویا تازہ دم ہے۔ اگر کوئی نوسوار لڑکا اس کی پشت پر سوار ہو تو اس کی کمر پر سے پھسل جاتا ہے اور اگر کوئی شہسوار ہو تو اس کی تیزی کے سبب سے وہ اپنے کپڑے سنبھال نہیں سکتا۔ کاوے میں اس طرح پھرتا ہے کہ گویا پھرکی ہے جیسے کوئی لڑکا بار بار گھما رہا ہے۔ کمر کی کوکیں ہرن جیسی ہیں۔ ٹانگیں شترمرغ جیسی۔ دوڑ بھیڑیے کی سی ہے اور پویہ چال میں وہ لومڑی کے بچے سے مشابہ ہے۔ اس کے تمام اعضا کامل ہیں۔ سینہ فراخ ہے۔ دم دراز ہے کہ زمین سے کچھ ہی اونچی رہتی ہے اور ایسی گھنی ہے کہ اگر پیچھے کی طرف سے تم اسے دیکھو تو وہ اس کی رانوں کے درمیانی فاصلہ کو چھپائے ہوئے ہے۔ وہ کج دم نہیں۔ جب وہ ہمارے مکان کے قریب کھڑا ہوتا ہے تو اس کی پشت ایسی معلوم ہوتی ہے کہ گویا دلہن کی خوشبو پیسنے کی سل ہے یا اندائن کا پھل توڑنے کا پتھر ہے۔آگے آنے والی نیل گایوں کا خون، جب کہ ان کی سرینوں پر نیزہ لگتا ہے، اس گھوڑے کے سینے پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا کنگھی کے سفید بالوں میں مہندی کا رنگ ہے۔ نیل گایوں کا ایک گلہ یکایک ہمارے سامنے سے گزرا۔ یہ ایسی خوش نما تھیں کہ جیسے کنواری لڑکیاں ہیں جو لمبی چادریں اوڑھے دواربت کا طواف کر رہی ہیں۔ ہمیں دیکھ کر وہ پیچھے پھریں۔ اس وقت ان کی قطار یمن کے سفید و سیاہ مہروں کا ایک ہار معلوم ہوتی تھی۔ اس گھوڑے نے اگلی گایوں کی طرف ہمیں اس تیزی سے پہنچا دیا کہ ابھی پچھلی گائیں بکھرنے نہ پائی تھیں۔ پھر اس نے ایک جھپٹ میں ایک گائے اور اس کے نرکو آگے پیچھے سے دبا لیا اور باوجود اس قدر دوڑ کے اسے پسینا بالکل نہیں آیا۔ ہمارے ساتھ کے شکاری گوشت پکانے میں مشغول ہو گئے۔ بعض دہکتے کوئلوں پر کباب لگا رہے تھے اور بعض نے ہنڈیاں چولہوں پر چڑھا دی تھیں۔ شکار کے بعد جب شام کو ہم گھر واپس آئے تو باوجود اس قدر محنت کے، گھوڑے کے حسن و جمال میں فرق نہیں آیا تھا۔ اب بھی ہماری نظر اس کے جسم پر پڑ کر پھیل جاتی تھی۔دوست ذرا آسمان کی طرف دیکھ، بجلی کس طرح چمک رہی ہے۔ تہہ بہ تہہ ابر میں گویا کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھوں کو حرکت دے رہا ہے۔ بجلی گویا راہب کا چراغ ہے، جس کی بتی پر تیل خوب چھنکا دیا گیا ہے۔ ہم ضارج اور عذیب کے درمیان بجلی اور بادل کا تماشا دیکھنے کے لیے بیٹھ گئے۔ بجلی کی روشنی میں معلوم ہوتا تھا کہ دائیں طرف بارش کا سلسلہ کوہ قطن تک ہے اور بائیں طرف کوہ ستارا اور یذبل تک۔ موضع کنیف میں اس زور کی بارش نے کھنبل جیسے بڑے بڑے درختوں کو گرا دیا ہے۔ تیماء میں کوئی مکان بے گرائے نہیں چھوڑا۔ بجز ان مکانوں کے جو پتھروں سے بنائے گئے تھے۔کوہ بثیر بارش کی دھاروں میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا کوئی بڑا سردار دھاری دار کملی اوڑھے بیٹھا ہے۔ کوہ مجیمر اور اس کے آس پاس کی چوٹیاں پانی کے سیلاب اور کوڑے کرکٹ میں اس طرح معلوم ہوتی ہیں کہ گویا تکلے کا دمکڑا ہے۔ بادل نے پانی کا سارا بوجھ غیظ کے جنگل میں اتار پھینکا۔ گویا ایک یمنی تاجر ہے، جس نے کپڑے کے رنگارنگ تھان کھول کر پھیلادیے ہیں (اس سے مراد نباتات اور پھول ہیں۔ وادی جواء کے پرند ایسی خوشیاں منا رہے ہیں کہ گویا فلفل آمیز شراب ان کو پلا دی گئی۔ وادی میں شام کے وقت وہ درندے جو کیچڑ یا پانی میں غرق تھے دور سے ایسے معلوم ہوتے تھے کہ گویا جنگلی پیاز کی جڑیں ہیں۔\n\nعمرو بن کلثوم کی شاعری کا نمونہ\n\nوہ ایسے چہرہ سے ہنستی ہے کہ گویا آفتاب نے اس پر اپنی روشنی کی چادر ڈال دی ہے۔ جب تلواریں علم کی جاتی ہیں تو ہم ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا سب لوگ ہمارے بچے ہیں۔ ہماری قوم کے لوگ دشمنوں کے سروں کو کاٹ کر اس طرح لڑھکاتے ہیں جیسے لڑکے گیندوں کو لڑھکاتے ہیں۔ ہم ہی ایسے ہیں کہ جس بات کو چاہیں روک دیں اور جہاں چاہیں اتر پڑیں۔ ہم اپنے فرماں برداروں کی حفاظت کرتے ہیں اور فرمانوں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ جب ہم کسی چشمہ پر اترتے ہیں تو بس ہم ہی صاف پانی پیتے ہیں۔ ہمارے سوا اور لوگ گدلا پانی پیتے ہیں۔ ہم نے روئے زمین کی خشکی کو اپنی قوم سے بھر دیا ہے اور سمندر ہماری کشتیوں سے پٹ گیا ہے۔ جب ہمارے کسی بچے کا دودھ چھڑایا جاتا ہے تو دنیا کے زبردست لوگ اس کے سامنے ادب سے زمین پر جھک جاتے ہیں۔ابر کی تعریفابر کے ٹکڑے رات کے ابتدائی حصے میں مستانہ چال چل رہے تھے۔ بادلوں کی قطاریں جنگلوں میں اس طرح گرجتی تھیں جیسے اونٹنیاں ایک دوسرے کو دیکھ کر چلاتی ہوں۔ بادلوں کے بلند کنارے ایسے معلوم ہوتے تھے کہ گویا وہ کوہ لبنان کی چوٹیاں ہیں۔ بارش کا زور ان ہواؤں کا مقابلہ کرتا تھا جو حضرت موت کی طرف سے چلتی تھیں۔ اس بارش نے بلند مقامات کے درخت عرفنج کو اور نمکین گھاسوں کی جڑوں اور مویشیوں کو یکساں طور سے تروتازہ کر دیا۔ ابر کے بوجھل ٹکڑے اس طرح آہستہ چلتے تھے جیسے رسی بندھے ہوے کمزور اونٹ نرم زمین پر چلتے ہوں۔ارقم سانپ کی تصویرتم اس کو سوکھی گھاس اور سوکھی لکڑیوں میں جو ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گئی ہوں، چلتا ہوا دیکھو گے۔ اس کی کینچلی چھل گئی ہے۔ اس کی کمر پر یمن کی ایک پرانی منقش چادر پڑی ہوئی ہے۔ اس کی کھلی کھال اور گردن کی دونوں طرفوں میں خوب صورت نقش اور مختلف رنگ ہیں۔ اس کے گلے میں نیچے کی طرف شکن دار اور لٹکی ہوئی کھال ایسی معلوم ہوتی ہے کہ گویا اس کے گلے میں دہرا گندھا ہوا تسمہ پڑا ہوا ہے۔ (سانپ جس قدر زہریلا ہوگا، اس کے گلے کی نیچے کی کھال اسی قدر شکن دار اور لٹکی ہوئی ہوگی) جب گرمی کے موسم میں سانپوں کی کینچلی ڈالنے کا وقت آتا ہے تو وہ ہمیشہ اپنی قدیم کھال کا استر پہنے رہتا ہے، جس کا پوست اتارا نہیں گیا (یعنی وہ شدت مزاج کے سبب کینچلی نہیں چھوڑتا۔)عورتوں کی مذمتوہ حسن وملاحت سے اس قدر دور ہے جس قدر زمین چاند سورج سے۔ اس کی ناک بجائے طول کے عرض میں بڑی ہے اور اس کی آنکھیں بجائے عرض کے طول میں بڑی ہیں۔ اس کی دونوں باچھوں کے ملنے کی جگہ گدی کا گڑھا ہے۔ اس بدسرشت عورت سے ملاقات کرنا ایسا ہے کہ گویا سانپ کفتار اور مگرمچھ نے ایک ساتھ نکل کر مجھے گھیر لیا ہے۔ اس کی باتیں ایسی تکلیف دہ ہیں جیسے دانت کا اکھاڑنا یا موچھ کا بال نوچنا۔ اس کے غمزے ایسے ہیں جیسے کوئی ناک پر گھونسا مارے۔ وہ زرد میلے دانتوں سے ہنستی ہے اور ایسی لمبی اور موٹی کچلیوں سے گویا وہ قبیلہ طے کی دو پہاڑیاں ہیں یا مصر کے مینار ہیں۔ اگر تو اس کی پست آواز سنے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا کسی پرندے کے بچے کی آواز ہے، جس کو گھونسلے میں چگا دیا جا رہا ہے۔ اگر تو اس کے سر کو بغور دیکھے تو وہ گوپھن کا ایک پتھر ہے۔اس کی ہجو سے میرا مقصد یہ ہے کہ دنیا ایک عجیب الخلقت انسان کو دیکھے۔ اے ریچھ کی ہم شکل عورت! تجھے کیا ہو گیا کہ تو بجائے طول کے عرض میں بڑھتی چلی جاتی ہے؟ کیا خدا نے تیری درازی قد کو عرض میں صرف کر دیا ہے۔ اگر تیرے پیٹ پر سے کوئی انڈا پھیلایا جائے تو وہ ٹوٹ نہیں سکتا (کوتاہ قد ہونے اور جسم کے ہر حصے کے عریض ہونے کی طرف اشارہ ہے) تیرے جسم کا اگلا حصہ موٹا اور پچھلا حصہ پتلا ہے۔ کاش اس کے برخلاف ہوتا۔ وہ عورت مرد صورت ہے۔ اس کا سخت جسم سونٹے جیسا اور اس کا قد کوتاہ ہے۔ وہ چوری میں اس جنگلی کوے کو مات کرتی ہے جس کا رنگ چتکبرا ہو۔ اس کا مونھ سنگار کرنے کے وقت بندر کا سا اور اس کا رنگ لوے کے انڈوں کی طرح چتلا ہے۔ اس کا بدن خون نہ رہنے اور گوشت نہ ہونے کے سبب زرد آلو جیسا ہے۔ اس کی پنڈلیاں سوکھی اور کم گوشت ہیں، جیسے ٹڈی کی پنڈلیاں۔ اس کے چہرے پر مسے کیا ہیں، گویا کسی نے کشمش کے دانے بکھیر دیے ہیں۔ اس کے سر پر ایسے چھوٹے چھوٹے بال ہیں جیسے ہوا میں بازی کرنے والے کبوتر کے پر۔مختلف اشعاراے ضرار کے فرزندو! تم ان ہرن جیسی خوبصورت اور گنگنانے والی نازنینوں کو پسند کرتے ہو جن کے ہاتھوں میں چمکتے کنگن ہیں اور جو ابن محرز گوئیے کے مکان میں نظر آتی ہیں یا ان مکانوں کو پسند کرتے ہو جن کی چھتیں نیزوں اور تلواروں کے ستونوں پر کھڑی ہیں؟ (یعنی عیش پرست بننا چاہتے ہو یا جنگجو بہادر ہونا چاہتے ہو۔) میں ہر قوم کے لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ انہوں نے اپنے اونٹوں کی رسی چھوٹی کر رکھی ہے حالانکہ ہم نے اپنے اونٹوں کے پاؤں سے رسی نکال دی ہے کہ وہ جہاں چاہیں چریں، انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔ اگر سلمی پہاڑ پر ہماری مصیبت نازل ہوتی تو اس کے ٹکڑے اڑ جاتے۔ مگر ہماری قوم بنی عامر اس کو صبر کے ساتھ برداشت کر رہی ہے۔ سفیدی اور سیاہی میں اس کی آنکھیں پنیر اور خرما سے بنی ہوئی ہیں اور اس کا باقی بدن گویا ثرید ہے (یعنی معشوقہ سراپا غذا ہے) بعض نازک اندام عورتیں ہیں جن کی آنکھیں اس حلوے کے مانند ہیں جس میں گوشت پڑا ہو یعنی سرخ و سیاہ ہیں اور ان کے دانت سفیدی میں ستو سے مشابہ ہیں۔میں رات کو ایسے وقت چلتا ہوں کہ ستارے دہکتے ہوئے انگاروں کے مانند نمایاں ہوتے ہیں۔ میرے گھوڑے کی پیشانی اور ایال کے بال اس کی کود پھاند کے سبب کبھی ادھر ہوتے ہیں کبھی ادھر۔ وہ نشاط میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا کوئی شہباز اپنے پروں سے بارش کے قطرے جھاڑ رہا ہے۔رات کو ایسی سردی تھی کہ کتا ایک دفعہ سے زیادہ نہ بھونکتا تھا اور اگر دوسری دفعہ بھونکنا چاہتا تو اسے اپنی ناک پر اپنی دم کو لپیٹنا پڑتا تھا۔زمانہ جو مصیبتوں کے تیر ہم پر چلاتا ہے تو گویا وہ ایک ایسے بلند اور سیاہ پہاڑ پر تیر مارتا ہے جس کی بلندی ابر کو چیر کر نکل گئی ہے (یعنی وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔)ہندہ کا حال سننے کے بعد جو شخص عورتوں سے کسی بات میں دھوکا کھائے تو جان لو کہ وہ بڑا ہی جاہل اور فریب زدہ ہے۔ عورتوں کی آنکھیں اور ان کی باتیں شیریں ہوتی ہیں مگر جو باتیں ان کے دلوں میں چھپی ہیں وہ سخت کڑوی ہیں۔ کوئی کیوں نہ ہو اور ظاہر میں وہ محبت کی علامتیں کیسی ہی کیوں نہ ظاہر کرے، تم یقین کرلینا کہ اس کی محبت پائدار نہیں ہو سکتی۔ جب خبر دینے والوں نے کلیب کے مرنے کی خبر دی تو میں نے کہا کہ زمین ہل گئی ہے اور پہاڑوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی ہے۔ کاش آسمان ان لوگوں پر گر پڑے جو اس کے نیچے آباد ہیں۔ اور کاش یہ زمین پھٹ جائے اور اہل زمین کے ٹکڑے اڑجائیں۔اس بات کے ثابت کرنے کے لیے کہ عرب کی شاعری عرب کا دفتر ہے، مذکورہ بالا نمونے کافی نہیں ہیں، تاہم اس مقولے میں جو بات ظاہر کی گئی ہے، اس کی جھلکیاں جابجا ان نمونوں میں بھی موجود ہیں۔ جو شخص عرب کی تمام شاعری کا مطالعہ کرے، وہ ان نتائج پر ضرور پہنچےگا جو ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں۔جغرافی اشارےعرب کی شاعری میں قدم قدم پر بہت سے مقامات کے نام آتے ہیں۔ مثلاً: یثرب، دمشق، بصرہ، قنسرین، مکہ، بعلبک، اندرین (شام) نجد، یمامہ، صنعا، طائف، حضرموت وغیرہ۔ سینکڑوں دیہات اور چھوٹی بستیاں ہیں جن کے نام شعرائے عرب کے کلام میں نظر ْآتے ہیں۔ مثلاً حزن، لوی، دکاوک، حومل، توضح، جدیس، عسجل، مصامہ، سلسلین، مقراۃ وغیرہ۔ بہت سے پہاڑوں کے نام بھی ان کے اشعاروں میں آتے ہیں۔ مثلاً اجاء، سلمیٰ۔ کویکب، لہیم، ستار، حایل، مجیمر، یذبل، بتیر، قطن، ثرم وغیرہ۔ عرب میں دریا نہیں ہیں مگر برساتی نالے اور چشمے بہت سے ہیں۔ ان کے نام بھی عرب کی شاعری میں جگہ جگہ آتے ہیں۔ مثلاً سجل، صفوان، بہیما، دارجلجل وغیرہ۔ بہت سی وادیوں اور جنگلوں کے نام بھی ہیں جو عربی اشعار میں ملتے ہیں۔ مثلاً غبیط کا جنگل، غمیر کاجنگل، وادی جواء، وادی بطحا وغیرہ۔بہت سے رمنوں اور چراگاہوں کے نام بھی لیے گئے ہیں۔ مثلاً: وقبیٰ، مرج، راہط، حضرا وغیرہ۔ بہت سے مقامات ایسے ہیں جن کی خاص شہرت تھی اور کوئی نہ کوئی بات ان کی طرف منسوب ہوتی تھی۔ مثلاً تمبالہ یمن کا ایک زرخیز شہر ہے۔ اس کی زرخیزی و شادابی مشہور تھی۔ طبی ایک گاؤں کا نام تھا، جہاں خاص قسم کے کیڑے سفید رنگ اور لال سر کے نہایت نرم و نازک ہوتے تھے۔ ان کیڑوں کو اسروع کہتے تھے۔ اندرین ملک شام کا ایک قصبہ تھا، جہاں کی شراب شہرت رکھتی تھی۔ عرب کے خاص خاص جنگل تھے، جہاں شیر رہتے تھے۔ ان کے نام حسب ذیل ہیں۔ خضیہ، شریٰ، خفاف، عفرین۔ خیبر کا قلعہ مشہور تھا۔ عرب کی شاعری میں اس کا ذکر اس سبب سے بھی آیا ہے کہ وہاں ایک قسم کا مہلک بخار پھیلا۔عکاظ ایک مقام کا نام ہے۔ جو نخلا اور طائف کے درمیان تھا۔ یکم ذی قعدہ سے بیس دن تک یہاں ایک بازار لگتا تھا۔ عرب کے شعرا ہر سال یہاں آتے اور فخر کا اظہار کرتے تھے۔ ضریہ بصریہ کے قریب ایک گاؤں تھا، جہاں شکاری پرندے کثرت سے تھے۔ جواء ایک موضع ہے، جہاں کی وادی میں زردرنگ کی جنگلی گائیں چرا کرتی تھیں اور وہاں چکا کی نام ایک پرندہ بھی کثرت سے پایا جاتا تھا۔ خط یمامہ کا ایک مشہور مقام تھا، جہاں عمدہ نیزے فروخت ہوتے تھے اور وہ خطی نیزے کہلاتے تھے۔ بصریٰ ملک شام کا ایک شہر تھا، جہاں تلوار خالص فولاد کی بنتی تھی اورچوڑی ہوتی تھی۔ ہجریمن کا ایک شہر ہے، جہاں کا خرما مشہور تھا۔ وجدہ ایک ایسا مقام تھا جس کا جنگل وحشی نیل گایوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہاں کے سفید ہرن بھی مشہور تھے۔ وادی سیدیا حماریمن کی ایک وادی ہے۔ یہ پہلے نہایت سرسبز تھی مگر ایک بار بجلی نے اس کو جلاکر خاک کر دیا۔ اس وقت سے ہر ویران مقام کو وادی حمار سے تشبیہ دینے لگے۔عدولی بحرین کا ایک قریہ تھا، جہاں کشتیاں بنائی جاتی تھیں۔ تنوح ایک گاؤں تھا۔ یہاں کی نیل گائیں بھی مشہور تھیں۔ دومتہ الجندل کا مکھن مشہور تھا۔ ان کے علاوہ یمن کی ریشمی چادریں اور دودھاری تلواریں اور شام کا کاغذ اور اعلیٰ ریشمی کپڑے شہرت رکھتے تھے۔ مشرقی تلواریں بھی شام سے آتی تھیں۔ ریگستانوں اور سرایوں کا ذکر عرب کی شاعری میں بار بار آتا ہے۔ موسموں کے ذکر میں سخت گرمی اور تمتماتی دھوپ، کبھی کبھی بارش کی راتوں کا سرد ہونا اور موسم سرما میں قحط کے آثار نمایاں ہونا عرب کے اشعار سے بار بار معلوم ہوتا ہے۔ شمال کی ہوا کو شمال، جنوب کی ہوا کو جنوب کہتے تھے۔ مشرق کی ہوا صبا اور مغرب کی ہوا دبور کہلاتی تھی۔ نکیا، ایک ہوا چلتی تھی جس سے قحط کی علامت محسوس ہوتی تھی۔ بیانوں کے سفر میں غریب ستاروں کو دیکھ کر چلتے تھے۔ بنات النعش شام کی طرف کے ستارے اور سہیل یمن کی طرف کا ستارہ کہلاتا تھا۔ فرقدین اور کہکشاں کا ذکر بھی بار بار آیا ہے۔ قمری منزلوں سے بارش کے ہونے نہ ہونے کا حساب لگایا کرتے تھے۔ گرمی کا بیان کرتے تھے تو کہتے تھے کہ جب ثریا صبح کو طلوع کرتا ہے اور جب جو زا آسمان پر نمایاں ہوتا ہے۔ سفری ستارے کا طلوع سخت گرمی کی علامت خیال کیا جاتا تھا۔ شامی ہوا کا چلنا جو ٹھنڈی ہوتی تھی قحط کی نشانی تھی۔ مردوں کو دعا دیتے تھے کہ خدا کرے تیری قبر کو ابر قبلہ تر کرے۔ یہ اس لیے کہ عرب میں بھی قبلہ سے جو بادل اٹھتا ہے، وہ بہت برسنے والا سمجھا جاتا تھا۔ بعد مغرب ثریا کا طلوع کرنا بھی سردی کی علامت تھی اور سردی قحط کی۔حیوانات میں عرب کے اونٹ اور گھوڑے خاص کر مشہور ہیں۔ ان کی سینکڑوں نسلیں تھیں۔ ان دو جانوروں کا ذکر عرب کی شاعری میں کثرت سے آیا ہے۔ ان کے علاوہ جن جانوروں کے نام لیے گئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں: کتا جس سے پہرے اور شکار کا کام لیا جاتا تھا۔ کبوتر، فاختہ، قمری، ان کا ذکر عاشقانہ شاعری میں بہت آتاہے۔ شیر، بھیڑیا، گورخر، لومڑی، نیل گائے، شترمرغ، بکری، چیتا، گرگٹ، کفتار، عقاب، بازاتو، گد، شکرا، لوا، ہد ہد، شہد کی مکھی، ٹڈی، چمگادڑ، مینڈک، مچھلی، چیونٹیاں، چوہا، بلی وغیرہ۔ ایک چھوٹے سے جانور کا ذکر بھی آتا ہے جس کو جد جد کہتے تھے اور جو چمڑا کاٹ کر کھاتا تھا۔ نباتات میں سب سے زیادہ کھجور کا ذکر آتا ہے۔ اس کے علاوہ جن جنگلی درختوں کا نام لیا گیا ہے وہ حسب ذیل ہے،ببول، جھاؤ پیلو، تھور، جانڈ آکھی، ارنڈ، کھمبی، اندراین وغیرہ۔ کنبھل، بشام، طلح، سیال، عرفنج، اصحل خاص عرب کے درخت ہیں۔ شیزی ایک آبنوس جیسے درخت کی لکڑی تھی، جس کے بڑے بڑے پیالے بنائے جاتے تھے۔ مرار ایک نہایت کڑوی گھاس کانام تھا۔ بنعہ ایک درخت تھا، جس کی لکڑی کمانوں کے لیے موزوں تھی۔ حرم بھی ایک ایسے ہی درخت کا نام تھا۔ درخت تنوم پر سانپ لپٹے رہتے تھے، پھولوں میں گلاب، سنبل، اعرار خیری، بابونہ، چمبیلی اور بنفشہ کا ذکر اکثر آیا ہے۔ اند اور بان دو نازک درخت ہیں، جن کا نام عاشقانہ شاعری میں بار بار کیا جاتا ہے۔ ورس ایک گھانس کا نام ہے جو رنگنے کے کام میں آتی تھی۔ مہندی کا بھی نام لیا گیا ہے۔ کالی مرچیں شراب میں ڈالی جاتی تھیں تاکہ نشہ تیز ہو۔ میووں میں انگور اور انار کا بھی ذکر آیا ہے۔تاریخی حوالےایام جاہلیت میں مختلف قبائل جو عرب میں آباد تھے، ان میں ذرا ذرا سی بات پر لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں اور بعض لڑائیاں طول پکڑ جاتی تھیں۔ شاعری نے ان قبائل کے نام کو اب تک زندہ رکھا ہے۔ جابجا ان قبائل کے نام عربی اشعار میں لیے گئے ہیں۔ مثلاً: آل ماذن، آل زیبان، آل رباب، آل ضرار، آل مطرف، آل حیہ بنی مطر، بنی اسد، بنی کلب، بنی نمیر، بنی طریف، بنی زہیر ثعلب، بنی شیبان وغیرہ۔ اہم معرکے جو پیش آئے ہیں ان کے نام عرب نے رکھ لیے ہیں، یہ نام بھی جابجا مذکور ہیں۔ مثلاً: یوم ہریر، یوم کلاب، یوم بردان، یوم خزاز، یوم بہیماوغیرہ۔ گھوڑے ان لڑائیوں میں خوب کام دیتے تھے۔ عربوں کو گھوڑوں سے خاص محبت تھی اور وہ ان کو اپنی اولاد کے برابر عزیز رکھتے تھے، وہ اعلیٰ اور شریف نسل کے گھوڑوں اور گھوڑیوں کے نام رکھتے تھے۔ یہ نام بھی عرب کی شاعری میں مذکور ہیں۔ مثلاً گھوڑوں کے نام، شمر، ورد، صموت، جون، عرقوب۔ عصا، ادہم، سبط، اغبراغر، خطار وغیرہ۔گھوڑیوں کے نام، اسکاب، وہمار، شولہ، ثقراء، خصاف، غبرا۔ نعامہ، حنفا وغیرہ۔ تلواروں اورزرہوں کے نام پر بھی عرب فخر کرتے تھے، اور ان کے بھی خاص خاص نام تھے۔ مثلاً تلواروں کے نام: مغلوب۔ اصرم۔ ذدی الحیات وغیرہ۔ زرہوں کے نام، ذات الحواشی۔ ذاتالسلاسل وغیرہ۔ عربوں کی رزم آرائیاں، غارت گریاں، فتح وشکست صلح و معاہدے عہد شکنیاں، خونبہا اور انتقام وغیرہ سب کچھ ان کے اشعار سے معلوم ہو سکتا ہے۔ ابن ایثر اور طبری وغیرہ مورخوں نے عرب کی شاعری ہی سے مدد لے کر اس زمانہ کی تاریخ مرتب کی ہے۔ یہ شاعری ہی کی برکت ہے کہ آج تک اس زمانہ کے واقعات زند ہیں۔اخلاق و تمدنعرب کے اخلاق و معاشرت و تمدن کا حال معلوم کرنا چاہو تو ان کی شاعری کا مطالعہ کرو۔ وہ اس سارے دفتر کو تمہاری آنکھوں کے سامنے کھول کر رکھ دےگی۔ عرب جس طرح جنگجو اور بہادر ہیں، اسی طرح عاشق مزاج بھی ہیں۔ ان کی عشق کی داستانیں بھی ان کے اشعار میں قلم بند ہیں۔ جن جن حسین عورتوں کے ساتھ عربوں نے عشق کیا ہے، ان کے نام انہوں نے بے تکلف اپنے اشعار میں درج کر دیے ہیں۔ مثلاً ملیں، عبلہ، امامہ، طریفہ، عنیزہ، زینب، ام رباب نواز، سحابہ، لیلیٰ، سلمیٰ، ذلفاء، ریا، خولہ، سعاد، تماضر، ام عامر، سیمہ، رونیہ، ام احسان وغیرہ۔اگر عاشق ایک قبیلے کا اور معشوقہ دوسرے قبیلے کی ہوتی اور دونوں قبیلوں میں رسم و راہ نہ ہوتی تھی تو عاشق و معشوق چھپ کر راتوں کو ملتے تھے اور عاشق اپنی معشوقاؤں کو بھگا لے جانے کی کوشش کرتے تھے اور اگر ضرورت ہوتی تو اس مطلب کے لیے لڑنے اور خون بہانے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے۔ خانہ بدوش قبائل جہاں کہیں پانی کے چشمے دیکھتے، چند روز کے لیے ٹھیر جاتے تھے۔ پھر گھاس اور پانی نہ ہونے کی صورت میں سفر کرتے تھے۔ ایسے ہی موقعوں پر نوجوان مردوں اور نوجوان عورتوں کی آنکھیں لڑ جایا کرتی تھیں۔ نقل مکانی کے بعد جب کوئی عاشق ایسے مقام پر پہنچتا تھا جہاں پہلے اس کی معشوقہ ٹھیری تھی، تو وہ اس کے قیام کے نشانوں کو دیکھ کر خطاب کرتا تھا اور اس کے فراق میں دردناک اشعار کہتا تھا اور شعرائے عرب کے قصائد کی تمہید اسی خطاب اور نوحہ سے ہوئی ہے۔رہزنی اور غارت گری عربوں کی فطرت میں داخل تھی۔ اس کو عیب نہیں سمجھتے تھے بلکہ فخر کرتے تھے۔ اسی پر ان کی معاش کا مدار تھا۔ موقع پاکر ایک قبیلہ کے آدمی دوسرے قبیلے پر چڑھ دوڑتے تھے اور ان کے مویشی لوٹ لاتے تھے۔ لوٹ کے لیے دھاوا اکثر صبح کے وقت ہوتا تھا، جب کہ لوگ غافل سوئے ہوئے ہوں۔ غارت گری کے دھاووں میں تیز رفتار اونٹوں اور اونٹیوں سے کام لیتے تھے۔ اونٹوں کی خاص خاص نسلیں مشہور تھیں۔ ایک نسل کو مہاری کہتے تھے۔ یہ نسل مہرہ بن حیدان کی طرف منسوب تھی جو یمن کا باشندہ تھا۔ شریف نسل کے اونٹوں کے ذرا ذرا سے کان کاٹ دیتے تھے ان کو مزنم کہتے تھے۔ اونٹیاں جن کی آنکھیں سیاہ اور بال سرخ ہوں نہایت قیمتی خیال کی جاتی تھیں۔گھوڑے دوڑانے اور ایک دوسرے سے بازی لے جانے کا شوق بھی عربوں کو تھا۔ گھوڑ دوڑ کے گھوڑے خاص اہتمام سے پالے جاتے تھے۔ شریف اور نسل دار گھوڑوں پر نشان لگائے جاتے تھے تاکہ وہ دور سے پہنچانے جائیں۔ گھوڑ دوڑ کی ہار جیت میں منجملہ دس گھوڑوں کے ساتھ گھوڑوں کو حصہ دیا جاتا تھا۔ تین گھوڑے محروم رہتے تھے، دوڑ میں جو گھوڑا سب سے اول آتا تھا، اس کو بجلی، دوسرے کو مصلی، تیسرے کو سلی، چوتھے کو تالی، پانچویں کو مرتاح، چھٹے کو عاطف اور ساتویں کو مول کہتے تھے۔ باقی تین محروم گھوڑے خصی، یطم اور سکیت کہلاتے تھے۔جو اطرح طرح سے کھیلا جاتا تھا۔ جوے کا مشہور طریقہ تیروں سے کھیلنے کا تھا۔ اونٹ کے دس حصے کیے جاتے تھے اور جو تیر آتے ان کا حصہ معینہ اونٹ کے گوشت میں سے دیا جاتا۔ جوے کے تیروں کے نام حسب ذیل تھے۔ فذ، توام، رقیب، لس، نافس، میل، منعلق۔ ان سات تیروں میں سے پہلے تیر کا ایک ایک حصہ تھا، دوسرے کے دو، تیسرے کے تین۔ اس حساب سے رقیب کے تین اور معلی کے سات حصے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص رقیب اور معلی نام کے تیر جیت لیتا تھا، اونٹ کے دسوں حصے اسی کو ملتے تھے۔ تین تیر اور تھے جن کے نام یہ تھے۔ سفیح، فبیج، وغذ۔ ان تیروں کا کوئی حصہ نہ تھا۔ اگر قحط کا زمانہ ہوتا تو جوا کھیلنے میں زیادہ فخر تھا۔ اس زمانے میں اگر کوئی مہمان آ جاتا تو باہم جوا کھیلتے تھے۔ جو شخص جیت جاتا وہ جیت کی آمدنی سے مہمان نوازی کرتا تھا۔شراب پینے کا رواج بھی عربوں میں تھا۔ مختلف قسم کی شرابوں کے مختلف نام تھے۔ شراب کی اعلیٰ قسمیں اکثر ملک شام سے آتی تھیں۔ اس کو عام طور پر مشکیزوں میں رکھتے تھے۔ اکثر صبح یا شام کے وقت پی جاتی تھی۔ صبح کی شراب کو صبوح اور شام کی شراب کو غبوق کہتے تھے۔ صبح کے وقت اکثر چار جام پیے جاتے تھے۔ شراب نوشی کو عیب نہیں مانتے تھے بلکہ اس پر فخر کرتے تھے۔ مے فروش کی دوکان پر ایک جھنڈی لہرایا کرتی تھی جس کو دیکھ کر شراب پینے والے لوگ وہاں جمع ہو جاتے تھے۔ سردی میں اکثر شراب میں گرم پانی ملا کر پیتے تھے۔ نشہ تیز کرنے کے لیے کالی مرچیں ملا دیتے تھے۔ جو لوگ خودکشی کرنا چاہتے تھے وہ خالص شراب پیتے تھے۔ چنانچہ زہیر، عمروبن کلثوم جو نامور شاعر تھے اور ابو عامر ملا عب الانہ نے اسی طرح خوکشی کی تھی۔ جب دشمن سے انتقام لینے کی قسم کھاتے تھے تو قمار بازی کی طرح شراب نوشی کو بھی اپنے اوپر حرام کر لیتے تھے۔ انتقام لینے کے بعد البتہ جی کھول کر جوا کھیلتے اور شراب پیتے تھے۔مہمان نوازی تو گویا عربوں کے خمیر میں تھی۔ اگر اتفاقاً کوئی شخص مہمان نواز نہ ہوتا تو اس کو نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ رات کے وقت میدانوں میں یا ٹیلوں پر آگ روشن کی جاتی تھی تاکہ بھولا بھٹکا مسافر وہاں آکر پناہ لے۔ مہمانوں کے لیے اونٹ ذبح کیے جاتے تھے۔ شیری کے بڑے بڑے بادیوں میں لوہے کے بڑے بڑے چمچوں سے گوشت نکالا جاتا تھا اور مہمانوں کے آگے رکھا جاتا تھا۔ اعلیٰ درجہ کی مہمان نوازی یہ تھی کہ ایسی اونٹیاں مہمانوں کے لیے ذبح کی جائیں جو ہمیشہ مادہ بچے جنتی ہوں کیونکہ ایسی اونٹیاں قیمتی ہوتی تھیں۔ گوشت کھانے کے وقت علی العموم چھریوں سے کاٹا جاتا تھا۔ مہمان نوازوں کی دیگوں کا سیاہ رہنا تعریف کی بات تھی، کیونکہ ہمیشہ کھانا پکنے کی علامت تھی۔ شاعر جو اپنی مہمان نوازی کی تعریف کرتے ہیں، اپنی قیام گاہ پر آگ جلانے، دیگوں کے سیاہ ہونے، ان میں گوشت کے جوش کھانے، آگ کے شعلے اور دھویں کے بلند ہونے، دیگوں میں پیالے یا چمچے ڈال کر شوربا اور گوشت نکالنے اور اس وقت کنیزوں کی پھرتی اور سرگرمی کی تعریف مزے لے لے کر کرتے ہیں۔ہجو کے موقع پر کہتے تھے کہ فلاں شخص کی اونٹنیاں موٹی تازی ہیں یعنی وہ مہمانوں کی خاطر ان کو ذبح نہیں کرتا۔ عورتیں البتہ اپنے شوہروں کو حد سے زیادہ مہمان نوازی پر ملامت کیا کرتی تھیں مگر اس کی پروا نہیں کی جاتی تھی۔ مہمان نوازی کے علاوہ قیدیوں کو چھڑانا، تاوان و دیت ادا کرنا، سائلوں کو دینا اور یتیموں کی پرورش کرنا بھی عربوں کے نزدیک نیکی اور بھلائی کے کاموں میں داخل تھا۔ عورتوں کا درجہ عربوں کے نزدیک نہایت ادنیٰ تھا۔ وہ گھروں میں باندیوں سے زیادہ قیمت نہ رکھتی تھیں۔ ان کی بات کی مطلق پروا نہیں کی جاتی تھی۔ وہ لوٹ کے مال کی طرح لوگوں کے ہاتھ آ سکتی اور غیروں کے ہاں باندیاں بنائی جا سکتی تھیں۔ عربوں کا قول تھا کہ عورتوں کی موت ان کی زندگی سے بہتر ہے۔ چنانچہ اس خیال کو بار بار عرب شعرا نے بیان کیا ہے۔ لڑکیاں ذرا بالغ ہوتیں تو اکثر زندہ دفن کردی جاتی تھیں۔ اس رسم کو اسلام نے آکر فنا کیا اور عورتوں کے درجہ کو بلند کیا، اس زمانے کی عورتیں، طرح طرح کے توہمات میں مبتلا تھیں، اس کا ذکر آگے آتا ہے۔آسودہ حال عورتیں ریشم کا سفید یا زرتار لباس پہنتی تھیں۔ وہ اکثر آرام طلب ہوتی تھیں اور چاشت کے وقت تک سوتی رہتی تھیں۔ وہ رات کے جامۂ خواب پر ٹپکا نہیں باندھتی تھیں۔ یہ عادت خادمہ عورتوں کی تھی۔ کرتی اور انگیا کا بھی رواج تھا مگر کرتی جوان عورتیں پہنتی تھیں اور انگیا وہ لڑکیاں جو قریب بلوغ ہوں۔ بدن کے حصوں کو سوئی سے گودنے اور ان میں سرمہ یا نیل بھرنے کا بھی رواج تھا۔ دولت مند اور آسودہ حال گھرانوں کی عورتیں جو ریشم کی چادریں استعمال کرتی تھیں، ان پر کجاوہ کی تصویر اور دوسری قسم کی تصویریں اور گل بوٹے بنے ہوتے تھے۔ زیوروں میں خلخال، بازو بند، کنگن اور ہار کا رواج تھا۔ اکثر عورتیں سرمہ سے دانتوں اور مسوڑھوں کو سیاہ کرتی تھیں اور یہ بات ان کے نزدیک زیبائش و آرائش میں داخل تھی۔عرب کوتاہ قد اور دبلی پتلی عورتوں کو پسند نہ کرتے تھے۔ ان کے نزدیک عورتوں کا موٹا تازہ ہونا اور دراز قد ہونا ممدوح تھا۔ مردوں کی پوشاک عام طور سے تہ بند اور کرتہ اور دھاری دار چادر تھی۔ لڑائی کے وقت چرمی کرتہ پہنتے تھے اور اس پر زرہ پہنا کرتے تھے اور اس کو داؤدی زرہ کہتے تھے۔ سند ایک زرہ ساز کا نام تھا۔ اس کی بنائی ہوئی زرہیں مشہور تھیں۔ سر پر خود لگاتے تھے۔ تلواروں اور برچھیوں سے لڑتے تھے۔ یمنی اور ہندی تلواریں اور ر دینی نیزے مشہور تھے۔ روس ایک حیرہ سار کا نام تھا۔ دور کی لڑائی میں تیروں کا استعمال کرتے تھے۔ اگر تیر نہ رہتے تو کمانوں کو لاٹھیاں بنا کر لڑتے تھے۔ لڑائی کے بردے فروخت کردیے جاتے تھے یا ان کے ناک کان کاٹ لیے جاتے تھے۔ عورتیں باندیاں بنائی جاتی تھیں۔ ان باندیوں سے گھر کا تمام کام کاج لیا جاتا تھا۔ وہ جنگل سے لکڑیاں چن کر لاتی تھیں۔ پانی بھرتی تھیں، مہمانوں کی خدمت کرنا بھی ان کے فرائض میں داخل تھا۔ ان کا لباس بمقابلہ گھر کی عورتوں کے ادنیٰ درجہ کا تھا۔ باندیوں کو ناچنا گانا بھی سکھایا جاتا تھا۔ چنانچہ ایک گویا ابن محرز باندیوں کو گانا سکھانے کا کام انجام دیتا تھا۔باجوں میں رباب، دف، عود اور بربط کا رواج تھا۔ لڑائی میں جو باندیاں زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں وہ رواسی کہلاتی تھیں۔ یہ کام عرب بذات خود عیب سمجھ کر نہیں کرتے تھے۔ فوج کے سرداروں کو لڑائی فتح ہونے کے بعد مال غنیمت کا چوتھائی حصہ ملتا تھا۔ اپنے گروہ اور دشمن کے گروہ میں جنگ کے وقت تمیز کرنے کے لیے کوئی علامت مقرر کر لیتے تھے۔ مثلاً سرمنڈا لیتے۔ عربوں کے نزدیک بستر پر گل سڑ کر مرنا سخت عیب تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ چلتے ہاتھ پاؤں لڑ کر مارے جائیں۔ ان کی عورتیں اپنے شوہروں کی جواں مردی پر فخر کرتی تھیں۔ اسی لیے شاعر لڑائی کا ذکر عورتوں سے مخاطب ہوکر کرتے ہیں۔ وہ نسب پر فخر کرتے تھے۔ دوغلوں کو نامرد اور بہادری ان کے نزدیک شریفوں کی علامت تھی۔ لڑائی میں پیٹھ پھیرنا ان کے نزدیک بہت معیوب تھا۔ ان کا قول تھا کہ ہمارے زخموں کا خون ہماری ایڑیوں پر نہیں گرتا بلکہ قدموں پر گرتا ہے۔لڑائی کے تازہ مقتولوں کا ماتم عورتیں ننگے سر ہوکر صبح شام کیا کرتی تھیں۔ مردوں کو کفن دے کر دفن کرنے کا رواج تھا۔ قبر اکثر چار گز لمبی اور پانچ بالشت چوڑی ہوتی تھی۔ کوشش کی جاتی تھی کہ اپنے مقتولوں کا انتقام لیا جائے یا دیت لی جائے مگر دوسری صورت اکثر کمزور اور نامردی کی علامت خیال کی جاتی تھی۔ دستور تھاکہ صلح کی گفتگو کے وقت ہر ایک فریق دوسرے کی طرف نیزہ کی بوڑی رکھ کر بیٹھتا تھا۔ اگر صلح منقطع ہو جاتی تو نیزے کی بھال ایک دوسرے کی طرف کر دی جاتی تھی۔ قوم کے سردار ایسی محفلوں میں کوٹ باندھ کر بیٹھتے تھے اور آگے تلوار رکھتے تھے۔ معاہدوں کی پابندی کی جاتی تھی مگر کبھی کبھی عہد شکنی پر مائل ہوجاتے تھے۔ اس صورت میں عہد شکنی کرنے والا شخص یا فریق تمام عرب میں بدنام ہو جاتا تھا۔ اس کے بدنام کرنے کے لیے اونچے مقامات پر آگ جلائی جاتی تھی۔ اگر کوئی شخص پناہ میں آتا اور قتل سے بچایا جاتا تو جو آدمی پناہ دیتا تھا، وہ پناہ مانگنے والے پر چادر ڈال دیتا تھا۔عرب اکثر خیموں میں زندگی بسر کرتے تھے۔ مکان بناکر بہت کم رہتے تھے۔ شہروں اور قصبوں میں مکان بھی تھے تو وہ معمولی قسم کے تھے۔ اس زندگی کے علاوہ عربوں کے اخلاق و تمدن کے متعلق متفرق باتیں عرب کی شاعری سے معلوم ہوتی ہیں، وہ حسب ذیل ہیں۔ زمانہ امن کا مشغلہ اکثر شکار ہوتا تھا۔ نیل گایوں اور ہرنوں کا شکار نہایت پھرتی اور مستعدی کے ساتھ کیا جاتا۔ شکاری کتوں سے بھی شکار میں کام لیا جاتا تھا۔ اعلیٰ نسل کے شکاری کتوں کی بڑی قدر کی جاتی تھی، ان کے کان لٹکے ہوئے اور کمر پتلی ہوتی تھی۔ ان میں سے بعض کے نام بھی عرب کے اشعار میں مذکور ہیں۔ مثلاً کساب اور سخام دو اعلیٰ نسل کے شکاری کتوں کے نام تھے۔ شکار میں تیر اور نیزہ کا استعمال کرتے تھے اور شکار کے وقت پھرتی کی غرض سے چادر سر سے اتار کر کمر سے باندھ لیتے تھے۔ زبردست لوگ اپنے اونٹوں کو داغ دیا کرتے تھے تاکہ لوگ پہچان جائیں کہ یہ فلاں سردار کے ہیں اور ان کو چشموں پر پہلے پانی پینے دیں۔اس کے علاوہ طاقت ور لوگ اپنی ہیکڑی جتانے کے لیے طرح طرح کی تجویزیں کراتے رہتے تھے۔ مثلاً کلیب نے ایک کتا پالا تھا۔ لوگوں کا فرض تھا کہ اس کتے کے دائیں بائیں سے گزریں۔ اس کے پاس نہ آئیں۔ بنی ابیعہ داڑھیاں منڈواتے اور مونچھیں کترواتے تھے۔ اگر کوئی اور ایسا کرتا تو گویا ان سے لڑائی مول لیتا تھا۔ بنی عبدالقیس کا دستور تھاکہ اگر کوئی گالی دے تو یہ اس کے طمانچہ مارتے تھے۔ اگر وہ بھی طمانچہ مارے تو قتل کیا جاتا تھا۔ بنی بکر ایک پرندہ کو وسط سڑک میں باندھ دیتے تھے۔ ضرور تھا کہ لوگ اس رستے سے نہ جائیں۔ اشد ضرورت کی حالت میں اس کے دائیں بائیں سے گزریں۔ عرب اپنے بچوں کو سونگھتے تھے اور اسی لیے ان کو ریحان کہتے تھے۔ ان کے گلوں میں اکثر کوڑیوں کا ہار ڈالتے تھے۔ بچے کپڑے کو کوڑے بناکر ایک دوسرے کو مارتے اور کھیلتے تھے۔ بچوں میں پھر کیوں سے کھیلنے کا رواج تھا۔بچوں کے ایک خاص کھیل کا نام اشعار میں آیا ہے، جس کو خیال کہتے تھے۔ مٹی یا ریت کو دوحصوں میں تقسیم کرکے کسی حصے میں کوئی چیز دبا دیتے اور پوچھتے کہ وہ چیز کس حصے میں ہے۔ اسی پر ہار جیت کا مدار تھا۔ رات کا سفر اور دوپہر کے وقت کا سفر عرب کے نزدیک پسندیدہ تھا کیونکہ اس میں جفاکشی اور جرأت پائی جاتی۔ سفر کے وقت ان کی عادت تھی کہ تجربہ کار اونٹ کو آگے بڑھاتے تھے اور وہ زمین کو سونگھ کر معلوم کر لیتا تھا کہ پانی یہاں سے کس قدر دور ہے اور منزل مقصود کتنے فاصلہ پر ہے۔ اگر دونوں مقام دور ہوتے تو وہ جلد جلد چلنے لگتا تھا۔ سوف عربی میں سونگھنے کو کہتے ہیں اور اسی سے مسافت کا لفظ بنایا گیا ہے۔سرسبز مقامات مثلاً یمامہ وغیرہ میں پانی سے زمین کو سینچنے کے لیے رہٹ بھی جاری تھے، جن کو عرب منجنوں کہتے تھے۔ اس کے علاوہ عرب کے اشعار سے پن چکی کے رواج کا بھی پتہ چلتا ہے۔ لکھنا پڑھنا عرب کے لوگ بہت کم جانتے تھے۔ عہد رسالت میں بھی اس فن کے جاننے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ قرآن مجید میں اسی سبب سے عرب کی قوم امی بتائی گئی ہے۔ ایام جاہلیت کے شعرا فن کتابت کو روم و فارس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ہرن کی پتلی کھال پر لکھنے کا رواج تھا، جس کو عربی زبان میں رق رکھتے ہیں۔ قرآن مجید میں یہ لفظ آیا ہے۔عقائد و توہماتاسلام سے پہلے حجاز اور وسط عرب میں بت پرستی ہوتی تھی۔ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت بتائے جاتے ہیں۔ ان میں سے مشہور بتوں کے نام حسب ذیل ہیں۔ لات، منات، عزیاساف، نائلہ، دوار۔ دان میں سے دوار کا ذکر اکثر آتا ہے اور کہیں کہیں لات اور عزی کا بھی۔ دوار کے گرد نوجوان عورتیں سروں پر چادریں ڈالے طواف کرتی تھیں۔ عیسائی، یہودی اور مجوس بھی عرب میں جابجا تھے۔ حضرت ابراہیم کا دین توحید ماننے والے تھے۔ ایام جاہلیت میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو حشرونشر کے قائل تھے اور اس بات پر عقیدہ رکھتے تھے کہ مرنے کے بعد ایک دن آئےگا جب کہ نیکیوں اور بدیوں کی جزا اور سزا دی جائےگی۔عوام عرب طرح طرح کے توہمات میں گرفتار تھے۔ عورتیں مختلف رنگ کے ڈورے گلے میں ڈالتی تھیں تاکہ نظر بد سے بچیں۔ ان دوڑوں کو بریم کہتے تھے۔ عرب مراد پوری ہونے کے لیے طرح طرح کی منتیں مانتے تھے۔ ان منتوں کے پورا کرنے میں کبھی کبھی لوگ چالاکی بھی کرتے تھے۔ مثلاً بعض لوگ منت مانتے تھے کہ اگر ان کا بکریوں کا گلہ سو تک پہنچ جائےگا تو بتوں کے نام پر بکری ذبح کی جائےگی مگر منت پوری ہونے پر بکری کی جگہ ہرن کا بچہ ذبح کیا جاتا تھا۔ دستور تھا کہ کسی شخص کے مرنے پر اسی کی اونٹنی اس کی قبر پر باندھ دی جاتی تھی۔ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتے تھے اور بھوکا پیاسا رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ مر جاتی تھی۔ خیال تھاکہ قیامت کے دن مرنے والااس اونٹنی پر سوار ہوگا۔ ایسی اونٹنی کو بلیہ کہتے تھے۔عرب خیال کرتے تھے کہ ہر شاعر کے ساتھ ایک جن رہتا ہے، جو شعر کا القا کرتا ہے۔ اگر کوئی شعر لکھنے میں عاجز ہوتا تو کہتے کہ اس کا جن بھاگ گیا۔ جن لوگوں سے عجیب و غریب یا غیرمعمولی کام سرزد ہوں ان کو دیونی کی اولاد بتاتے تھے۔ وہ بھوتوں کے بھی قائل تھے۔ ان کے سروں کے گرد آلود ہونے اور تیزی کے ساتھ چلنے کا ذکر بھی اشعار میں آتا ہے۔ اگر کسی مقتول کابدلہ نہ لیا جائے تو خیال کرتے تھے کہ اس کی قبر میں ہمیشہ اندھیرا رہےگا۔وہ گھوڑوں کی سعادت ونحوست کے قائل تھے۔ منحوس گھوڑوں کو ایک منحوس گھوڑے کی اولاد بتاتے تھے جس کا نام راحس تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر تیر چلانے والا اپنے تیر پر تھوک دیتا ہے تو پھر اس کے تیر کا نشانہ جو شخص ہو، وہ زندہ نہیں بچتا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر بادشاہ کے بائیں ہاتھ کی بیچ کی انگلی میں پچنے لگاکر خون لیا جائے اور یہ خون چھوارے میں رکھ کر اس شخص کو کھلایا جائے جسے باولے کتے نے کاٹا ہے تو اس کو شفا ہو جاتی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ جب مردہ گل کر مٹی ہو جاتا ہے، تو اس کے سر میں سے ایک پرندہ نکلتا ہے اور اس قبر پر آواز لگاتا ہے۔ اس پرندہ کو صدیٰ یا ہامہ کہتے تھے۔ عرب شگونوں کے بھی قائل تھے اور اکثر پرندوں سے شگون لیا کرتے تھے۔ جب وہ کسی دوست کو رخصت کرتے تو اسے بار بار مڑ کر دیکھتے تھے۔ یہ ایک شگون تھا اور اس غرض سے کیا جاتا تھا کہ جانے والا جلد واپس آئے۔ نامرد کو ابن صبح کہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر عورت صبح کو حاملہ ہو تو بچہ نامرد پیدا ہوتا ہے۔ عربوں کے نزدیک قزح ایک فرشتے کا نام تھا جو بادلوں پر مامور ہے۔ اسی کی کمان کو قوس قزح کہتے تھے۔غرض کہ عرب کی شاعری کے مطالعہ سے عرب کے متعلق جغرافی آثار و تاریخی واقعات، اخلاقی و تمدنی مناظر اور ان کے عقائد و توہمات کے متعلق سب کچھ معلوم ہو سکتا ہے اور یہ جو کچھ لکھا گیا، اسی مطالعہ سے معلوم ہوا ہے۔ اگر مضمون کی طوالت کا اندیشہ نہ ہوتا تو اور بہت کچھ بیان ہو سکتا تھا۔ تاہم اس قدر بیان سے بھی ناظرین اس مقولہ کی صداقت مان جائیں گے کہ فی الحقیقت عرب کی شاعری عرب کے حالات و خیالات کا دفتر ہے۔ اب آخر مضمون میں مجھے یہ بیان کرنا ہے کہ عرب کی شاعری میں اظہار خیالات کے کیا طریقے تھے۔خیالات کے سانچےخیالات کے اظہار کے لیے جو اہم پیرایے عرب کے شعرا نے استعمال کیے ہیں، وہ تین ہیں (۱) کنایہ (۲) استعارہ (۳) تشبیہ ذیل میں تینوں طریقوں کی مثالیں لکھی جاتی ہیں۔عربی شاعری کے کنایے: پاؤں کا جوتی کے تسمے سے نکل جانا موت سے کنایہ ہے۔ اونٹ کا کسی پر اپنی چھاتی ٹیک کر بیٹھنا ہلاک ہونے سے کنایہ ہے۔ مادرکر گس یا گدوں کی ماں موت سے کنایہ ہے کیونکہ موت لوگوں کو ہلاک کرکے گدوں کے لیے خوراک مہیا کرتی ہے۔ تبالہ میں اتر پڑنا مالامال ہونے سے کنایہ ہے۔ تبالہ یمن کا ایک زرخیز شہر تھا۔ بے دانت کی درانتی تلوار سے کنایہ ہے۔ کانوں کا جڑ سے کٹ جانا ذلیل ہونے سے کنایہ ہے۔ نامرد کتے والا سخی سے کنایہ ہے کیونکہ مہمانوں کی کثرت آمدورفت کے سبب کتا بھونکنا چھوڑ دیتا ہے۔ دبلے شتر بچے والا بھی سخی سے کنایہ ہے کیونکہ اونٹنی کا دودھ مہمانوں کو پلایا جاتا ہے، اس لیے اس کا بچہ دبلا ہو جاتا ہے۔ بہت راکھ والا بھی سخی سے کنایہ ہے کیوں کہ مہمانوں کی کثرت کے سبب اس کے ہاں کھانا بھی کثرت سے پکتا ہے اور باورچی خانے میں راکھ کا ڈھیر لگ جاتا ہے۔اندراین توڑنا بے اختیار آنسو جاری ہونے سے کنایہ ہے۔ کیونکہ جب کوئی شخص اندراین کا پھل توڑتا ہے تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ ہونٹوں نے دانتوں کا ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ خوف سے کنایہ ہے۔ کیونکہ خوف کے وقت منھ کھلا کا کھلا رہ جاتا ہے۔ چمڑے کے خیمے والے بڑے اور مالدار آدمیوں سے کنایہ ہے کیوں کہ اس کا مقدور امیروں اور بڑے آدمیوں ہی کو تھا۔ پنڈلی کھلنا مصیبت سے کنایہ ہے، کیونکہ مصیبت کے وقت پردہ نشین عورتیں گھر سے باہر نکل بھاگتی ہیں۔ پریشان ہوا میں چلنا قحط سے کنایہ ہے کیونکہ عرب میں ہمیشہ ایسی ہواؤں کا چلنا قحط کی علامت خیال کیا جاتا تھا۔ سر کی چادر بائیں ہاتھ میں لینا عورتوں سے خوف زدہ ہونے سے کنایہ ہے، کیوں کہ خوف کے وقت وہ اکثر یہی عمل کیا کرتی تھیں۔ لونگوں یا سنبل کا سرمہ لگانا رونے سے کنایہ ہے، کیوں کہ ایسا کرنے سے آنکھوں سے بے اختیار پانی جاری ہو جاتا ہے۔اس زمین میں شترمرغ کے انڈے کثرت سے ہیں یا پھیلے پڑے ہیں۔ یہ زمین کے سرسبز ہونے سے کنایہ ہے، کیونکہ شترمرغ ایسی ہی زمین میں انڈا دیتے ہیں۔ لمبے پر تلے والا، دراز قد انسان کے کنایہ ہے کیونکہ جس کا پرتلا لمبا ہوگا، اس کی تلوار لمبی ہوگی اور جس کی تلوار لمبی ہوگی اس کا قد بھی دراز ہوگا۔ ہمارے گھوڑے بنات النعش کی طرف جا رہے ہیں یعنی ہم شام کی طرف کوچ کر رہے ہیں۔ یہ بھی کنایہ ہے، کیونکہ بنات النعش شامی ستارے سمجھے جاتے ہیں۔ آگ میں لکڑیاں یا ایندھن ڈالنا فتنہ فساد بڑھانے سے کنایہ ہے۔ تہ بند ڈھیلا ہونا خوف سے کنایہ ہے۔ دامن کمر پر باندھنا مستعدی سے کنایہ ہے۔ گرگٹ کا درخت پر دم ہلانا گرمی کے وقت سے کنایہ ہے، کیونکہ گرمی کے وقت گرگٹ یہی حرکت کرتا ہے۔عربی شاعری کے استعارےمیں موت کے تھنوں سے اس وقت دودھ نکالتا ہوں جب کہ بڑے بڑے بہادر آدمی بھاگ نکلتے ہیں۔ یہاں موت کا استعارہ ناقہ سے ہے۔ لڑائی کا استعارے اس درندہ سے جو ڈاڑھیں نکال کر اپنے شکار کو ڈراتا ہو۔ نسب کے صاف و خالص ہونے کا استعارہ بارش کے پانی سے، کمزور اور نامرد کا استعارہ اس گوشت سے جو قصائی کے تختے پر رکھا ہو کہ جو چاہتا ہے اسے خرید کر لے جاتا اور اپنے کام میں لاتا ہے۔ ذلیل و خوار آدمی کا استعارہ چھوٹے کان والے شترمرغ سے۔ گلے کا ہار بدنامی کا استعارہ ہے۔ موت کے قریب ہونے کا استعارہ اس شکاری پرندے سے جو منڈلاتا اور پر تول کر شکار پر گرنا چاہتا ہو۔ ڈولوں میں ڈول ڈالنا اوروں کے ساتھ خود بھی کوشش کرنے کا استعارہ ہے۔شعری ستارہ کا ڈوب کر نکلنا تنزل کے بعد ترقی حاصل ہونے کا استعارہ ہے۔ تنور گرم ہونا لڑائی کی شدت کا استعارہ ہے۔ سمندر کی موجوں کا چاروں طرف سے گھر آنا رات کی تاریکی پھیلنے کا استعارہ ہے۔ دبی ہوئی چنگاریوں کا سلگ اٹھنا کینوں کے ظاہر ہونے کا استعارہ ہے۔ موتی خاک پر بکھرنا نصیحت ضایع کرنے کا استعارہ ہے۔ صبح کی روشنی میں جاگنا بڑھاپے میں ہوشیار ہونے کا استعارہ ہے۔ دل کے کناروں پر ابر چھایا رہنا شک و ترد کی حالت میں مبتلا رہنے کا استعارہ ہے۔ یمن کے ریشمی منقش تھانوں کا وادی میں پھیلایا جانا رنگ برنگ کی نباتات کا نمایاں ہونے کا استعارہ ہے۔ پردے کے انڈے کنواری پردہ نشین لڑکیوں کے لیے استعارہ ہے۔ بچھو کے سوراخ سے کئی بار کاٹا جانا، بار بار ایک ہی مصیبت میں مبتلا ہونے کا استعارہ ہے۔بان یا اند کی شاخوں کا لچکنا معشوق کے ساتھ چلنے کا استعارہ ہے۔ ریت میں تیرنے والے سفینے اونٹوں کا استعارہ ہے۔ اس کے چہرہ پر خالص کندن کی اشرفیاں بکھری ہوئی ہیں یا اس کے رخسار پر شعری ستارہ نے طلوع کیا ہے یا ثریا اس کی پیشانی سے آویزاں ہے، یہ سب حسن وجمال کے استعارے ہیں۔ موت کا ہنستے ہوئے گھات سے نکلنا میان سے تلوار کھینچنے کا استعارہ ہے۔ وادی جواء کی نیل گائیں یا وجیرہ کی سفید ہرنیاں حسین عورتوں کا استعارہ ہے۔ لہراتے سانپ لچکتے نیزوں کا استعارہ ہے۔ لباس کا داغ دار ہونا عزت بگڑنے کا استعارہ ہے۔ تلوار کی دھار کند ہونا جذبہ شجاعت کے فنا ہونے کا استعارہ ہے۔عربی شاعروں کی تشبیہات:حملہ آور کی تشبیہ غضبناک اور بھوکے شیر سے۔ نیزے کے کوچے سے خون تیزی کے ساتھ جاری ہونے کی تشبیہ بھری ہوئی مشک کے دھانے سے، جب کہ مشک کھول دی جائے۔ لڑائی کی تشبیہ چکی سے۔ سینے میں عداوت کے جوش کی تشبیہ ہانڈی کے جوش سے۔ چوکنے آدمی کی تشبیہ شکرے سے۔ پہاڑ کی گھاٹی سے تیزی کے ساتھ اترنے کی تشبیہ شہباز کے جھپٹنے سے جو اپنے شکار پر آ رہا ہو۔ گھوڑوں کے دم اٹھاکر بھاگنے دوڑنے کی تشبیہ دودھ والی اونٹنی سے جو بچا کھچا دودھ دہنے سے گھبراکر دم اٹھاتی ہے۔ تیز نگاہی کی تشبیہ گھوڑے کے بچے کی نگاہ سے جس کی عمر دو سال کی ہو۔ لڑائی کے گھوڑوں کی تشبیہ بھوتوں سے جو تیز چلتے ہیں اور جن کے سرگرد آلودہ ہوتے ہیں۔ جنگجو بہادروں کی تشبیہ شرای کچھار کے شیروں سے۔ زرہ پوش کی تشبیہ چیتے سے۔غصے سے ہلاک کرنے والے کی تشبیہ مقید اونٹ سے جو ہری گھاس کو روند ڈالتا ہے۔ انبوہ لشکر کی تشبیہ ٹڈی دل سے۔ مددگار انسان کی تشبیہ تلوار سے جو وقت پر کام دینے میں کبھی خطا نہیں کرتے۔ بڑی اور موذی اولاد کی تشبیہ وجع القلب (درد دل) سے۔ چھوٹی لڑکیوں کی تشبیہ لوے کے بچوں سے۔ غلام کی تشبیہ ترکش سے کہ جیسے وہ تیروں کا مخزن ہوتا ہے، اسی طرح غلام اسرار کا مخزن ہوتا ہے۔ چغل خوروں کی تشبیہ بچھووں سے۔ دباؤ نہ ماننے کی تشبیہ اونٹنی کی اس حالت سے جب کہ وہ باوجود پاؤں باندھنے کے دودھ نہ دے۔ بہادر آدمی کی تشبیہ شیر کی ناک سے جس نے ذلت کی بو کبھی نہیں سونگھی۔ عورت کی تشبیہ ہرن سے، نیل گائے سے اور پتھر کی مورت سے۔ نیزوں کے باہم ٹکرانے کی تشبیہ بھوکے مینڈکوں کی آواز سے۔ لڑائی کے سخت دن کی تشبیہ ایسے تاریک دن سے جس میں تارے نظر آئیں۔ایسا شخص جو دوسروں کو تکلیف پہنچائے اور اس کا کوئی کچھ نہ بگاڑ سکے، اس کی تشبیہ نیلی مکھی سے، جو اونٹ کو کاٹتی ہے اور اونٹ کا اس پر قابو نہیں چلتا۔ لڑائی ہوتی دیکھ کر لڑائی میں شامل ہونے والے کی تشبیہ خارشی اونٹ سے کہ اس کے سبب سے تندرست اونٹوں کو بھی خارش ہو جاتی ہے۔ رات کی تاریکی کی تشبیہ سمندر کی موج سے۔ گانے میں دردناک آواز کی تشبیہ بچہ دار اونٹوں کے رونے سے، جن کے بچے ایام بہار میں مر چکے ہوں۔ نازک اندام عورتوں کی تشبیہ آکھی یا ارنڈ کے پودوں سے۔ ارادے کے پکے انسانوں کی تشبیہ سانپ کے سر سے کہ جہاں چاہتا ہے بے تکلف گھس جاتا ہے۔ اونٹنی کی چال کی تشبیہ ایسے بادل کی چال سے، جو جنوبی ہوا کے ساتھ دوڑتا ہو اور پانی سے خالی ہو۔ گھوڑی کی رفتار کی تشبیہ پیاسی کبوتری کے اڑنے سے۔سخی آدمی کی تشبیہ موسم بہار سے۔ گوری پنڈلیوں کی تشبیہ ہاتھی کے دانت یاسنگ مرمر کے ستونوں سے۔ لیٹروں اور حملہ آوروں کی تشبیہ عقاب سے۔ شراب کے پینے سے انگلیوں کے پوروں میں جو دوران خون ہوتا ہے، اس کی تشبیہ چیونٹیوں کے رینگنے سے۔ نازنین عورتوں کے نزاکت کے ساتھ چلنے کی تشبیہ سفید پتلے سانپ کے رینگنے سے جس کو صبح کی شبنم نے ٹھنڈا کر دیا ہو اور اپنے پورے نہ کھول سکتا ہو۔ عاشق کے رونے کی تشبیہ کبوتری کے رونے سے۔ آگ کے شعلوں کی تشبیہ اونٹ کے سرخ پھیپھڑوں سے۔ نامرد انسان کی تشبیہ کفتار، خرگوش اور شترمرغ سے۔ آسانی سے مطلب حاصل ہونے کی تشبیہ خرما کھانے سے۔ تکلیفیں برداشت کرنے کی تشبیہ ایلوا چاٹنے سے۔ ذلیل آدمی کی تشبیہ میدان کی کھمبی سے کہ جو چاہے اسے توڑ کر لے جائے۔ جو لوگ کاہل ہوں اور سفر کے عادی نہ ہو، ان کی تشبیہ بنات النعش سے کیوں کہ وہ قائم ہیں اور دیگر ستاروں کے ساتھ حرکت نہیں کرتے۔ وہ شخص جو کسی کا مطیع و محکوم ہو جائے، اس کی تشبیہ خارشی اونٹ سے جو روغن قاز ملنے والے کا مطیع ہو جاتا ہے۔ (خارشی اونٹوں کے بدن پر روغن قاز ملا جاتا تھا اور اس سے ان کی خارش کو سکون حاصل ہوتا تھا۔)(ہمارے ہاں روغن قاز ملنا محاورہ ہے یعنی خوشامد کی باتوں سے کسی کو خوش کرنا۔ عجب نہیں کہ اس محاورہ میں روغن قاز کی جگہ روغن غاز ہو، کیونکہ جس طرح روغن قاز ملنے سے خارشی اونٹ کو سکون حاصل ہوتا ہے، اسی طرح خوشامد پسند انسان خوشامد کی باتوں سے خوش ہوتا ہے۔ اگر کاتبوں نے رکوز بنا دیا ہو تو کیا عجب ہے۔ سلیم)اونٹوں کے کوہانوں کی تشبیہ مٹی کے ان ڈھیروں سے جو چیونٹیوں کے گھروں کے آس پاس جمع ہوتے ہیں۔ دانتوں کی تشبیہ بابونہ کے پھولوں سے۔ اونٹنی کی چربی کی تشبیہ بٹے ہوئے سفید ریشم کی جھالر سے۔ عورتوں کی تشبیہ شترمرغ کے انڈوں سے (یہ تشبیہ رنگ کے لحاظ سے ہے شترمرغ کے انڈے کے رنگ میں سفیدی کے ساتھ ہلکی زردی ہوتی ہے اور یہ رنگ اہل عرب کے نزدیک پسندیدہ تھا۔) معشوقہ کی گردن کی تشبیہ گردن آہو سے۔ حسین عورتوں کی کمر کی تشبیہ اونٹ کی مہار سے۔ ساق کی تشبیہ نوکل کی شاداب پوری سے۔ گھنے بالوں کی تشبیہ درخت خرما کے خوشے سے۔ نرم و نازک انگلیوں کی تشبیہ موضع طبی کے ان کیڑوں سے جو سفید رنگ کے ہوتے ہیں اور جن کے سر لال ہوتے ہیں اور جن کو اسروع کہتے ہیں۔ انگلیوں کی تشبیہ اسحل کی مسواکوں سے (یہ عرب کا ایک درخت ہے جس کی شاخیں پتلی اور نرم اور سیدھی ہوتی ہیں اور ان شاخوں کی مسواکیں بنائی جاتی ہیں۔)ایسا آدمی جو شریر ہو اور جسے کوئی آدمی پاس بٹھانے کا روادار نہ ہو، اس کی تشبیہ جوے کے اس تیر سے جس کا کچھ حصہ نہیں ہوتا اور جسے ہر شخص اپنے پاس سے ہٹاتا ہے۔ ذلیل آدمی کی تشبیہ آب پاشی کے اونٹ سے جو چرس کھینچنے کی حالت میں کبھی آگے جاتا اور کبھی پیچھے ہٹتا ہے۔ یعنی آب پاشی کرنے والے شخص کے اشارے کا تابع ہوتا ہے۔ لشکر کی تشبیہ پھیلے ہوئے برسنے والے ابر سے یا سیلاب سے کہ جو کچھ اس کے سامنے آتا ہے اس کو بہالے جاتا ہے۔ جلاقوم شخص کی تشبیہ خارشی اونٹ سے جو تندرست اونٹوں سے الگ باندھا جاتا ہے۔ زلفوں کی تشبیہ درخت تنوم کے سانپوں سے جو اس کے گرد بیٹھے رہتے ہیں۔ تند خو آدمی کی تشبیہ شیر سے جو اپنے بچوں سے جدا کیا جائے۔ تیز رفتار گھوڑے کی تشبیہ ایسے شاہین سے جس نے میدان میں خرگوش کو دیکھا ہو اور درختوں کے جھنڈ میں اس کے بھاگ کر چھپ جانے سے اس کو آلیا ہو۔ بے صبر آدمی کی تشبیہ چتکبری اونٹنی سے جو دردزہ میں مبتلا ہو۔ (خیال تھا کہ اس رنگ کی اونٹنی صابر نہیں ہوتی۔)فریب زدہ اور احمق آدمی کی تشبیہ اس شخص سے جو سراب کی لہروں کو دیکھ کر اپنی مشک کا پانی بہادے۔ زرہ کی تشبیہ ایسی جھیل کی سطح سے جس کے پانی کو باد وبور آہستہ آہستہ حرکت دے۔ نیزوں کے پے درپے پڑنے کی تشبیہ جلا ہوں کے اس آلہ سے جسے برولہ کہتے ہیں اور جسے تھان کے ناہموار تاروں کے برابر کرنے کے لیے تھان پر پھیرتے ہیں اور وہ تھان کو خوب کھرچتا اور اس میں گھس جاتا ہے۔ جنگجو آدمی کی تشبیہ زرد رنگ کے پتلے سانپ سے جو زہر اگلتا رہتا ہے۔ چالاک اور پھرتیلے آدمی کی تشبیہ کفتار کے بچے سے۔ شراب کی صراحیوں کی تشبیہ بطخوں سے۔ حسین عورت کی تشبیہ شعری ستارے سے جو کہکشاں سے گزر رہا ہو۔شہد کی مکھی برابر ہاتھ پر ہاتھ مارتی ہے، جس طرح انگلی کٹا آدمی آگ نکالنے کے لیے چمقاق کے پتھروں کو ایک دوسرے پر مارتا رہتا ہے۔ وہ اور ہم ایک دوسرے سے اس طرح دور ہیں جیسے فرقدین کے ستارے۔ دنیا اس پر اس طرح تنگ ہو گئی جیسے وہ چھوٹا سا گول گڑھا جس پر صیاد اپنا جال بچھاتا ہے۔ ان کے ہمسایے آفتوں سے اس طرح محفوظ ہیں جیسے پہاڑی بکریاں جنگلی درندوں سے۔ دشمن جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اس طرح زور لگا رہے ہیں جیسے کوئی حاملہ عورت بچہ جننے کے وقت کو نتھتی ہے۔ سردار کے گرد اس کے محافظ اس طرح گھومتے تھے جیسے دواربت کے پرستار اس کا طواف کرتے ہیں۔ محبوبہ میرے پاس اس طرح شوق سے چلی جیسے کوا پیاس میں چشمے کی طرف لپکتا ہے۔ناظرین ان کنایوں، استعاروں اور تشبیہوں پر بھی اگر غور کی نظر ڈالیں گے تو یہ بات ان پر روشن ہو جائےگی کہ عرب کے شاعروں نے ان میں بھی اپنی ملکی خصوصیات کا لحاظ رکھا ہے۔ غرض کہ عرب کی شاعری ان تمام خصوصیات کی ترجمان ہے، جو عرب اور اہل عرب سے تعلق رکھتی ہیں۔ جب تک ہماری زبان کا ادب ہندی شاعری اور عربی کی طرح ہماری ملکی خصوصیات کا ترجمان نہ ہوگا، اس کو ملکی ادب کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہم نے اپنے قومی اور مذہبی خیالات و روایات کو اپنے ادب میں بھر دیا ہے۔ اس کا کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم صدیوں سے جس ملک میں آباد ہیں، ان کی خصوصیات کی جھلک ہماری نظموں اور نثروں میں نہیں ہے۔ ہندوستان میں کون سی ایسی دل ربا اور شاندار چیز نہیں ہے جو ہندوستان سے باہر کے ملکوں ہی میں پائی جاتی ہے۔یہاں بلند اور شاندار پہاڑ ہیں جن کی چوٹیاں برف سے ڈھکی رہتی ہے۔ یہاں گنجان جنگل ہیں، جن میں عجیب اور خوفناک درندے آباد ہیں۔ یہاں ایسے دل کش سبزہ زار ہیں جن کے منظروں کو دیکھ کر انسان اش اش کرتا ہے۔ یہاں ایسے رنگ برنگ کے پھول ہیں جن کی رنگینیاں قوس قزح کو مات کرتی ہیں۔ یہاں ایسے خوش الحان طیور ہیں جن کی راگنیاں روحانی جذبات کو زندہ کرتی ہیں۔ یہاں ایسے دریا ہیں جن کے پانیوں کی روانی اور دوانی تخیل کی سطح میں ہلکورے پیدا کرتی ہے۔یہاں ایسی نسلیں آباد ہیں جن کے اسلاف تمدن کی شان دار عمارتیں کھڑی کر چکے ہیں۔ یہاں قدم قدم پر حسن ہے، عظمت ہے، رنگینی ہے، دل فریبی ہے۔ غرض کہ شاعر مزاج انسانوں کے لیے وہ سامان موجود ہے کہ اگر وہ ذرا کروٹ لیں اور غفلت کی آنکھیں کھول دیں تو ایک شاندار اور جمیل ادب کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ ہندوؤں نے اب سے پہلے فطرت کے ان منظروں پر نگاہ دوڑائی ہے۔ اگر ہم بھی اسی عینک سے کام لیں تو ہمارا ادب اور ان کا ادب ایک ہو جائےگا۔ اور آج نہیں کل ضرور ایک علم کے سایے میں ترقی کے قدم بڑھائیں گے مگر اس وقت کے آنے سے پہلے اپنی غلطیوں اور غفلتوں کی تلافی کرنی ضروری ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B1%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C"} {"title": "عرب کے سوز میں سازِ عجم ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "عرب کے سوز میں سازِ عجم ہے\nحرم کا راز توحیدِ اُمَم ہے\nتہی وحدت سے ہے اندیشۂ غرب\nکہ تہذیبِ فرنگی بے حرم ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B1%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%B2%D9%90_%D8%B9%D8%AC%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "عرش تک جو بے خطا جاتا ہے یہ وہ تیر ہے", "poet_page": "مصنف:محمد علی جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عرش تک جو بے خطا جاتا ہے یہ وہ تیر ہے\nغیر سمجھا ہے کہ میری آہ بے تاثیر ہے\n\nخوگر قید وفا پر کھل چکا زنداں کا راز\nجرم تھی وہ قید یہ اس جرم کی تعزیر ہے\n\nبے گناہی سے بھی بڑھ کر ہے اگر کوئی گناہ\nتو سزائے عشق پا کر خجلت تقصیر ہے\n\nچھوڑ میری فکر غافل رو خود اپنی قید پر\nجس کو تو زیور سمجھتا ہے وہی زنجیر ہے\n\nسجن و جنت دونوں اے کافر ہیں اس دنیا کے نام\nوہ ازل سے بخت مومن یہ تری تقدیر ہے\n\nدار ہی بنتی ہے اے دل زینۂ معراج عشق\nخواب آغاز محبت کی یہی تعبیر ہے\n\nہو نہ الجھن جب جنون جامہ ور کامل نہ ہو\nجب تلک دامن ہے خار دشت دامن گیر ہے\n\nہاتھ تو ہوں گے قلم پر نامہ بر یہ بھی کہا\nدل چرا لیتی ہے پہلو سے یہ وہ تحریر ہے\n\nپائیداری میں ہے قصروں سے سوا کچی سی قبر\nجو قیامت تک رہے قائم یہ وہ تعمیر ہے\n\nخون ناحق کا کسی کے شبہ اور تم پر مگر\nسینۂ جوہرؔ میں دیکھو تو یہ کس کا تیر ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B1%D8%B4_%D8%AA%DA%A9_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D8%B7%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "عرش و کرسی پہ کیا خدا ملتا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عرش و کرسی پہ کیا خدا ملتا\nآگے بڑھتے تو کچھ پتہ ملتا\n\nزر ملا گھر ملا غلام ملا\nمیں نہ ملتا تو تم کو کیا ملتا\n\nغیر سے مل کے کیا لیا تم نے\nہم سے ملتے تو کچھ مزہ ملتا\n\nعاشقی سے ملے گا اے زاہد\nبندگی سے نہیں خدا ملتا\n\nاک نہ اک ہم لگائے رکھتے ہیں\nتم نہ ملتے تو دوسرا ملتا\n\nروز اک دل لگی نئی ہوتی\nروز اک دل مجھے نیا ملتا\n\nتم کو یہ مل گیا ہے قسمت سے\nداغؔ سا ورنہ دوسرا ملتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B1%D8%B4_%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%B3%DB%8C_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "عرش و کرسی کی خبر لائے ہیں لانے والے", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "عرش و کرسی کی خبر لائے ہیں لانے والے\nایک موسیٰ ہی نہ تھے طور کے جانے والے\n\nطور کو تم نے جلایا تو بڑی بات نہ کی\nآگ پانی میں لگاتے ہیں لگانے والے\n\nمیرے مرقد کو بھی آ کر کبھی ٹھکرا جانا\nارے او فتنۂ محشر کے جگانے والے\n\nایک عالم ترے عاشق نے کیا خال سیاہ\nدو ہی نالے کیے تھے طور جلانے والے\n\nکب تلک اپنے کرشمے ہمیں دکھلاؤ گے\nاے میاں روز نئے طرز دکھانے والے\n\nمیری تقدیر جو پلٹے تو تعجب کیا ہے\nسنتے ہیں بگڑی بناتے ہیں بنانے والے\n\nتم جو آنکھوں میں مری آئے تو احسان کیا\nآنکھیں کیا دل میں سماتے ہیں سمانے والے\n\nلاکھ ہو مانع فریاد مگر کیا ہوگا\nعرش کو سر پہ اٹھا لیں گے اٹھانے والے\n\nاپنی قسمت نہیں ایسی کہ ہو دیدار انجمؔ\nمنتظر جن کے ہیں کب آئیں وہ آنے والے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B1%D8%B4_%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "عرصۂ ہر دو جہاں عالم تنہائی ہے", "poet_page": "مصنف:کیفی حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عرصۂ ہر دو جہاں عالم تنہائی ہے\nکہ جدھر دیکھیے تو ہے تری یکتائی ہے\n\nبے نیازی ہے خود آرائی ہے خود رائی ہے\nآپ کی جانے بلا کون تمنائی ہے\n\nپاتے ہیں لطف حیات ابدی تیرے شہید\nذبح کرنا ترا اعجاز مسیحائی ہے\n\nتم کو کیفیؔ سے تعلق تو نہ ہوگا لیکن\nجان پہچان ملاقات شناسائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B1%D8%B5%DB%82_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%88_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "عرض ناز شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عرض ناز شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہے\nدعواۓ جمعیت احباب جاۓ خندہ ہے\n\nہے عدم میں غنچہ محو عبرت انجام گل\nیک جہاں زانو تأمل در قفاۓ خندہ ہے\n\nکلفت افسردگی کو عیش بیتابی حرام\nورنہ دنداں در دل افشردن بناۓ خندہ ہے\n\nشورش باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاں\nدل محیط گریہ و لب آشناۓ خندہ ہے\n\nخود فروشی ہاۓ ہستی بسکہ جاۓ خندہ ہے\nہر شکست قیمت دل میں صداۓ خندہ ہے\n\nنقش عبرت در نظر یا نقد عشرت در بساط\nدو جہاں وسعت بہ قدر یک فضاۓ خندہ ہے\n\nجاۓ استہزا ہے عشرت کوشی ہستی اسدؔ\nصبح و شبنم فرصت نشو و نماۓ خندہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B1%D8%B6_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B4%D9%88%D8%AE%DB%8C%D9%94_%D8%AF%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%86%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا\nجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا\n\nجاتا ہوں داغِ حسرتِ ہستی لیے ہوئے\nہوں شمعِ کشتہ درخورِ محفل نہیں رہا\n\nمرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں\nشایانِ دست و خنجرِ قاتل نہیں رہا\n\nبر روئے شش جہت درِ آئینہ باز ہے\nیاں امتیازِ ناقص و کامل نہیں رہا\n\nوا کر دیے ہیں شوق نے بندِ نقابِ حسن\nغیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا\n\nگو میں رہا رہینِ ستم ہائے روزگار\nلیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا\n\nدل سے ہوائے کشتِ وفا مٹ گئی کہ واں\nحاصل سوائے حسرتِ حاصل نہیں رہا\n\nجاں دادگاں کا حوصلہ فرصت گداز ہے\nیاں عرصۂ تپیدنِ بِسمل نہیں رہا\n\nہوں قطرہ زن بمرحلۂ یاس روز و شب\nجُز تارِ اشک جادۂ منزل نہیں رہا\n\nاے آہ میری خاطرِ وابستہ کے سوا\nدنیا میں کوئی عقدۂ مشکل نہیں رہا\n\nبیدادِ عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ\nجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B1%D8%B6_%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%B2_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "عرق کو دیکھ منہ پر تیرے پیارے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عرق کو دیکھ منہ پر تیرے پیارے\nفلک کو پیٹھ دے بیٹھے ہیں تارے\n\nکبھی وہ دن بھی ہووے گا کہ جس دن\nگلے سے پھر ملیں گے ہم تمہارے\n\nچمن میں کس نے دل خالی کیا ہے\nلہو سے جو بھرے ہیں پھول سارے\n\nنہیں ہوتی میسر وصل کی رات\nچلے جاتے ہیں یوں ہی دن ہمارے\n\nرقیبوں کو ملیں گل اور ہمیں داغ\nحسنؔ کیا بخت الٹے ہیں ہمارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B1%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "عریاں سر خاتون زمن ہے اب تک", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "عریاں سر خاتون زمن ہے اب تک\nناموس پہ ایذا و محن ہے اب تک\nچہلم کے ہیں دن خاک اڑاؤ یارو\nشبیر کی لاش بے کفن ہے اب تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D8%AA%D9%88%D9%86_%D8%B2%D9%85%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "عریاں ہی رہے لاش غریب الوطنی میں", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عریاں ہی رہے لاش غریب الوطنی میں\nدھبے مرے عصیاں کے نہ آئیں کفنی میں\n\nاقرار پہ بھی میری طبیعت نہیں جمتی\nوہ لطف ملا ہے تری پیماں شکنی میں\n\nدل ٹوٹ کے جڑتا نہیں شیشہ ہو تو جڑ جائے\nہے فرق یہی سوختنی ساختنی میں\n\nحسرت ہے مری آپ کی تصویر نہیں ہے\nاک چیز ہے رکھ لی ہے چھپا کر کفنی میں\n\nہم بھی کبھی پریوں میں رہا کرتے تھے شاعرؔ\nکیا دیکھتے ہو ہم کو غریب الوطنی میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D9%84%D8%A7%D8%B4_%D8%BA%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%B7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عزت کے لیے", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "نمرود کی خدائی", "year": "1950", "text_ur": "چونی لال نے اپنی موٹر سائیکل اسٹال کے ساتھ روکی اور گدی پربیٹھے بیٹھے صبح کے تازہ اخباروں کی سرخیوں پر نظر ڈالی۔ سائیکل رکتے ہی اسٹال پر بیٹھے ہوئے دونوں ملازموں نے اسے نمستے کہی تھی جس کا جواب چونی لال نے اپنے سر کی خفیف جنبش سے دے دیا تھا۔ سرخیوں پر سرسری نظر ڈال کرچونی لال نے ایک بندھے ہوئے بنڈل کی طرف ہاتھ بڑھایا جو اسے فوراً دے دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے اپنی بی ایس اے موٹر سائیکل کا انجن اسٹارٹ کیا اور یہ جا وہ جا۔\n\nموڈرن نیوز ایجنسی قائم ہوئے پورے چار برس ہوچلے تھے۔ چونی لال اس کا مالک تھا لیکن ان چار برسوں میں وہ ایک دن بھی اسٹال پر نہیں بیٹھا تھا۔ وہ ہر روز صبح اپنی موٹر سائیکل پر آتا، ملازموں کی نمستے کا جواب سر کی خفیف جنبش سے دیتا۔ تازہ اخباروں کی سرخیاں ایک نظر دیکھتا، ہاتھ بڑھا کر بندھا ہوا بنڈل لیتا اور چلا جاتا۔\n\nچونی لال کا اسٹال معمولی اسٹال نہیں تھا۔ حالانکہ امرتسر میں لوگوں کو انگریزی اور امریکی رسالوں اور پرچوں سے کوئی اتنی دلچسپی نہیں تھی۔ لیکن موڈرن نیوز ایجنسی ہر اچھا انگریزی اور امریکی رسالہ منگواتی تھی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ چونی لال منگواتا تھا۔ حالانکہ اسے پڑھنے وڑھنے کا بالکل شوق نہیں تھا۔\n\nشہر میں بہت کم آدمی جانتے تھے کہ موڈرن نیوز ایجنسی کھولنے سے چونی لال کا اصل مقصد کیا تھا۔ یوں تو اس سے چونی لال کو خاصی آمدن ہو جاتی تھی اس لیے کہ وہ قریب قریب ہر بڑے اخبار کا ایجنٹ تھا لیکن سمندر پار سے جو اخبار اوررسالے آتے بہت ہی کم بکتے، پھر بھی ہرہفتے ولائت کی ڈاک سے موڈرن نیوز ایجنسی کے نام سے کئی خوبصورت بنڈل اور پیکٹ آتے ہی رہتے۔ اصل میں چونی لال یہ پرچے اور رسالے بیچنے کیلیے نہیں بلکہ مفت بانٹنے کے لیے منگواتا تھاچنانچہ ہر روز صبح سویرے وہ ان ہی پرچوں کا بنڈل لینے آتا تھا جو اس کے ملازموں نے باندھ کر الگ چھوڑے ہوتے تھے۔\n\nشہرکے جتنے بڑے افسر تھے سب چونی لال کے واقف تھے۔ بعض کی واقفیت صرف یہیں تک محدود تھی کہ ہر ہفتے ان کے یہاں جو انگریزی اور امریکی پرچے آتے ہیں،شہر میں کوئی ایک موڈرن نیوز ایجنسی ہے،اس کا مالک چونی لال ہے، وہ بھیجتا ہے اور بل کبھی روانہ نہیں کرتا۔ بعض ایسے بھی تھے جو اس کوبہت اچھی طرح جانتے تھے۔ مثال کے طور پر ان کو معلوم تھا کہ چونی لال کا گھر بہت ہی خوبصورت ہے۔ ہے تو چھوٹا سامگر بہت ہی نفیس طریقے پر سجا ہے۔ ایک نوکر ہے راما، بڑا صاف ستھرا اور سو فی صدی نوکر۔ سمجھدار، معمولی سا اشارہ سمجھنے والا جس کو صرف اپنے کام سے غرض ہے۔ دوسرے کیا کرتے ہیں کیا نہیں کرتے اس سے اس کو دلچسپی نہیں۔ چونی لال گھر پر موجود ہو جب بھی ایک بات ہے۔ موجود نہ ہو جب بھی ایک بات ہے۔ مہمان کس غرض سے آیا ہے۔۔۔ یہ اس کو اس کی شکل دیکھتے ہی معلوم ہو جاتا ہے۔ کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوگی کہ اس سے سوڈے برف کے لیے کہا جائے یا پانوں کا آرڈر دیا جائے۔ ہر چیز خودبخود وقت پر مل جائے گی اور پھرتاک جھانک کا کوئی خدشہ نہیں۔ اس بات کا بھی کوئی کھٹکا نہیں کہ بات کہیں باہر نکل جائے گی۔ چونی لال اور اس کا نوکر راما دونوں کے ہونٹ دریا کے دریا پینے پر بھی خشک رہتے تھے۔\n\nمکان بہت ہی چھوٹا تھا۔ بمبئی اسٹائل کا۔ یہ چونی لال نے خود بنوایا تھا۔ باپ کی وفات پر اسے دس ہزار روپیہ ملا تھا۔ جس میں سے پانچ ہزار اس نے اپنی چھوٹی بہن روپا کو دے دیے تھے اور جدی مکان بھی اور خود علیحدہ ہوگیا تھا۔ روپا اپنی ماں کے ساتھ اس میں رہتی تھی اور چونی لال اپنے بمبئے اسٹائل کے مکان میں۔ شروع شروع میں ماں بہن نے بہت کوشش کی کہ وہ ان کے ساتھ رہے۔ ساتھ نہ رہے تو کم از کم ان سے ملتا ہی رہے مگر چونی لال کو ان دونوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے اپنی ماں اور بہن سے نفرت تھی۔ دراصل اسے شروع ہی سے ان دونوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ البتہ باپ سے ضرور تھی کہ وہ تھانیدار تھا۔ لیکن جب وہ ریٹائر ہوا تو چونی لال کو اس سے بھی کوئی دلچسپی نہ رہی۔ جس وقت اسے کالج میں کسی سے کہنا پڑتا کہ اس کے والد ریٹائرڈ پولیس انسپکٹر ہیں تو اسے بہت کوفت ہوتی۔\n\nچونی لال کو اچھی پوشش اور اچھے کھانے کا بہت شوق تھا۔ طبیعت میں نفاست تھی۔ چنانچہ وہ لوگ جو اس کے مکان میں ایک دفعہ بھی گئے، اس کے سلیقے کی تعریف اب تک کرتے ہیں۔ این ڈبلیو آر کے ایک نیلام میں اس نے ریل کے ڈبے کی ایک سیٹ خریدی تھی۔ اس کو اس نے اپنے دماغ سے بہت ہی عمدہ دیوان میں تبدیل کروالیا تھا۔ چونی لال کو یہ اس قدر پسند تھا کہ اسے اپنی خوابگاہ میں رکھوایا ہوا تھا۔\n\nشراب اس نے کبھی چھوئی نہیں تھی لیکن دوسروں کو پلانے کا بہت شوق تھا۔ ایرے غیرے کو نہیں، خاص الخاص آدمیوں کو، جن کی سوسائٹی میں اونچی پوزیشن ہو،جو کوئی مرتبہ رکھتے ہوں،چنانچہ ایسے لوگوں کی وہ اکثر دعوت کرتا۔ کسی ہوٹل یا قہوہ خانے میں نہیں، اپنے گھر میں جواس نے خاص اپنے لیے بنوایا تھا۔\n\nزیادہ پینے پر اگر کسی کی طبیعت خراب ہو جائے تو اسے کسی تردو کی ضرورت نہ ہوتی کیونکہ چونی لال کے پاس ایسی چیزیں ہر وقت موجود رہتی تھیں۔ جن سے نشہ کم ہو جاتا تھا۔ ڈر کے مارے کوئی گھر نہ جانا چاہے تو علیحدہ سجے سجائے دو کمرے موجود تھے۔۔۔ چھوٹا سا ہال تھا۔ اس میں کبھی کبھی مجرے بھی ہوتے تھے۔\n\nاکثر ایسا بھی ہوا کہ چونی لال کے اس مکان میں اس کے دوست کئی کئی دن اور کئی کئی راتیں اپنی سہیلیوں سمیت رہے۔ لیکن اس نے ان کو مطلق خبر نہ ہونے دی کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ البتہ جب اس کا کوئی دوست ان کی ان نوازشوں کا شکریہ ادا کرتا تو چونی لال غیر متوقع طور پر بے تکلف ہو کر کہتا،’’کیا کہتے ہو یار۔۔۔ مکان تمہارا اپنا ہے۔‘‘ عام گفتگو میں وہ اپنے دوستوں کے اونچے مرتبے کے پیشِ نظر ایسا تکلف کبھی نہیں برتتا تھا۔\n\nچونی لال کا باپ لالہ گردھاری لال عین اس وقت ریٹائر ہوا جب چونی لال تھرڈ ڈویژن میں انٹرنس پاس کرکے کالج میں داخل ہوا۔ پہلے تو یہ تھا کہ صبح شام گھر پہ ملنے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ ڈالیوں پر ڈالیاں آرہی ہیں۔ رشوت کا بازار گرم ہے۔ تنخواہ بونس سیدھی بنک میں چلی جاتی تھی۔ لیکن ریٹائر ہونے پر کچھ ایسا پانسہ پلٹا کہ لالہ گردھاری لال کا نام جیسے بڑے آدمیوں کے رجسٹر سے کٹ گیا۔ یوں تو جمع پونجی کافی تھی لیکن لالہ گردھاری لال نے بیکار مباش کچھ کیا کر، مکانوں کا سٹہ کھیلنا شروع کردیا اور دو برسوں ہی میں آدھی سے زیادہ جائیداد گنوا دی، پھر لمبی بیماری نے آگھیرا۔ ان تمام واقعات کا چونی لال پر عجیب و غریب اثر ہوا۔ لالہ گردھاری لال کا حال پتلا ہونے کے ساتھ چونی لال کے دل میں اپنا پرانا ٹھاٹ اور اپنی پرانی ساکھ قائم رکھنے کی خواہش بڑھتی گئی اور آخرمیں اس کے ذہن نے آہستہ آہستہ کچھ ایسی کروٹ بدلی کہ وہ بڑے آدمیوں کا بظاہر ہم جلیس تھا، ہم پیالہ و ہم نوالہ تھا لیکن اصل میں وہ ان سے بہت دور تھا۔ ان کے رتبے سے، ان کی جاہ و منزلت سے البتہ اس کا وہی رشتہ تھاجو ایک بت سے پجاری کا ہو سکتا ہے یا ایک آقا سے ایک غلام کا۔\n\nہوسکتا ہے کہ چونی لال کے وجود کے کسی گوشے میں بہت ہی بڑا آدمی بننے کی خواہش تھی جو وہیں کی وہیں دب گئی اور یہ صورت اختیار کرگئی جو اب اس کے دل و دماغ میں تھی۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ جو کچھ بھی وہ کرتا، اس میں انتہائی درجے کا خلوص تھا۔ کوئی بڑا آدمی اس سے ملے نہ ملے یہی کافی تھا کہ وہ اس کے دیے ہوئے امریکی اور انگریزی پرچے ایک نظر دیکھ لیتا ہے۔\n\nفسادات ابھی شروع نہیں ہوئے تھے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ تقسیم کی بات بھی ابھی نہیں چلی تھی کہ چونی لال کی بہت دنوں کی مراد پوری ہوتی نظر آئی۔ ایک بہت ہی بڑے افسر تھے جس سے چونی لال کی جان پہچان نہ ہوسکی تھی۔ ایک دفعہ اس کے مکان پر شہر کی سب سے خوبصورت طوائف کا مجرا ہوا۔ چند دوستوں کے ہمراہ اس بڑے افسر کا شرمیلا بیٹا ہربنس بھی چلا آیا۔ چنانچہ جب چونی لال کی اس نوجوان سے دوستی ہوگئی تو اس نے سمجھا کہ ایک نہ ایک دن اس کے باپ سے بھی راہ و رسم پیدا ہو ہی جائے گی۔\n\nہربنس جس نے تعیش کی زندگی میں نیا نیا قدم رکھا تھا بہت ہی الھڑ تھا۔ چونی لال خود تو شراب نہیں پیتا تھالیکن ہربنس کا شوق پورا کرنے کے لیے اور اسے شراب نوشی کے ادب آداب سکھانے کے لیے ایک دو دفعہ اسے بھی پینی پڑی۔ لیکن بہت ہی قلیل مقدار میں۔لڑکے کو شراب پینی آگئی۔ تو اس کا دل کسی اور چیز کو چاہا۔ چونی لال نے یہ بھی مہیا کردی اور کچھ اس انداز سے کہ ہربنس کو جھینپنے کا موقع نہ ملنے دیا۔جب کچھ دن گزر گئے تو چونی لال کو محسوس ہوا کہ ہربنس ہی کی دوستی کافی ہے کیونکہ اسی کے ذریعے سے وہ لوگوں کی سفارشیں پوری کرالیتا تھا۔ ویسے تو شہر میں چونی لال کے اثر و رسوخ کا ہر شخص قائل تھا۔ لیکن جب سے ہربنس اس کے حلقہ واقفیت میں آیا تھا اس کی دھاک اور بھی زیادہ بیٹھ گئی تھی۔\n\nاکثر یہی سمجھتے تھے کہ چونی لال اپنے اثر و رسوخ سے ذاتی فائدہ اٹھاتا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ اس نے اپنے لیے کبھی کسی سے سفارش نہیں کی تھی۔ اس کو شوق تھا دوسروں کے کام کرنے کا اور انھیں اپنا ممنونِ احسان بنانے کا بلکہ یوں کہیے کہ ان کے دل و دماغ پر کچھ ایسے خیالات۔۔۔ طاری کرنے کا کہ بھئی کمال ہے۔۔۔ ایک معمولی سی نیوز ایجنسی کا مالک ہے لیکن بڑے بڑے حاکموں تک اس کی رسائی ہے۔ بعض یہ سمجھتے تھے کہ وہ خفیہ پولیس کا آدمی ہے۔۔۔ جتنے منہ اتنی باتیں، لیکن چونی لال حقیقت میں جو کچھ تھا بہت ہی کم آدمی جانتے تھے۔ایک کو خوش کیجیے تو بہت سوں کو ناراض کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ چونی لال کے جہاں احسان مند تھے وہاں دشمن بھی تھے اور اس تاک میں رہتے تھے کہ موقعہ ملے اور اس سے بدلہ لیں۔\n\nفسادات شروع ہوئے تو چونی لال کی مصروفیات زیادہ ہوگئیں۔ مسلمان اور ہندوؤں دونوں کے لیے اس نے کام کیا لیکن صرف ان ہی کے لیے جن کا سوسائٹی میں کوئی درجہ تھا۔ اس کے گھر کی رونق بھی بڑھ گئی۔ قریب قریب ہر روز کوئی نہ کوئی سلسلہ رہتا۔ اسٹورروم جو سیڑھیوں کے نیچے تھا، شراب اور بیئر کی خالی بوتلوں سے بھرگیا تھا۔\n\nہربنس کا الھڑ پن اب بہت حد تک دور ہوچکا تھا۔ اب اسے چونی لال کی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔ بڑے آدمی کا لڑکا تھا۔ فسادات نے دستر خوان بچھا کر نت نئی چیزیں اس کے لیے چن دی تھیں۔ چنانچہ قریب قریب ہر روز وہ چونی لال کے مکان میں موجود ہوتا۔\n\nرات کے بارہ بجے ہوں گے۔ چونی لال اپنے کمرے میں ریل گاڑی کی سیٹ سے بنائے ہوئے دیوان پر بیٹھا اپنے پستول پر انگلی گھما رہا تھا کہ دروازے پر زور کی دستک ہوئی۔ چونی لال چونک پڑا اور سوچنے لگا۔۔۔بلوائی۔۔۔؟ نہیں۔۔۔! راما۔۔۔؟ نہیں! وہ تو کئی دنوں سے کرفیو کے باعث نہیں آرہا تھا۔\n\nدروازے پر پھر دستک ہوئی اور ہربنس کی سہمی ہوئی ڈری ہوئی آواز آئی۔۔۔ چونی لال نے دروازہ کھولا۔ ہربنس کارنگ ہلدی کے گابھے کی طرح زرد تھا۔ ہونٹ تک پیلے تھے چونی لال نے پوچھا،’’کیا ہوا؟‘‘\n\n’’وہ۔۔۔ وہ۔۔۔‘‘ آواز ہربنس کے سوکھے ہوئے گلے میں اٹک گئی۔\n\nچونی لال نے اس کو دلاسا دیا، ’’گھبرائیے نہیں۔۔۔ بتائیے کیا ہوا ہے۔‘‘\n\nہربنس نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری، ’’وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ لہو۔۔۔ بند ہی نہیں ہوتا لہو۔‘‘\n\nچونی لال سمجھا تھا کہ شاید لڑکی مر گئی ہے۔ چنانچہ یہ سن کر اسے ناامیدی سی ہوئی۔ کیونکہ وہ لاش کو ٹھکانے لگانے کی پوری اسکیم اپنے ہوشیار دماغ میں تیار کر چکا تھا۔ ایسے موقعوں پر جب اس کے گھر میں اس کے مہمان کسی مشکل میں گرفتار ہو جائیں چونی لال کا دماغ غیر معمولی طورپر مستعد ہو جاتا تھا۔ مسکرا کر اس نے ہربنس کی طرف دیکھا جو کہ لرز رہا تھا،’’میں سب ٹھیک کیے دیتا ہوں۔ آپ گھبرائیے نہیں۔‘‘\n\nیہ کہہ اس نے اس کمرے کا رخ کیا۔ جس میں ہربنس تقریباً سات بجے سے ایک لڑکی کے ساتھ جانے کیا کرتا رہا تھا۔ چونی لال نے ایک دم بہت سی باتیں سوچیں۔ ڈاکٹر۔۔۔ نہیں۔ بات باہر نکل جائے گی۔ ایک بہت بڑے آدمی کی عزت کا سوال ہے اور یہ سوچتے ہوئے اسے عجیب و غریب قسم کی مسرت محسوس ہوتی کہ وہ ایک بہت بڑے آدمی کے ننگ و ناموس کا محافظ ہے۔\n\nراما۔۔۔؟ کرفیو کے باعث وہ کئی دنوں سے نہیں آرہا تھا۔۔۔ برف۔۔۔؟ ہاں برف ٹھیک ہے۔ ریفریجریٹر موجود تھا۔۔۔ لیکن سب سے بڑی پریشانی چونی لال کو یہ تھی کہ وہ لڑکیوں اور عورتوں کے ایسے معاملوں سے بالکل بے خبر تھا۔ لیکن اس نے سوچا کچھ بھی ہو۔ کوئی نہ کوئی اوپائے نکالنا ہی پڑے گا۔\n\nچونی لال نے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔ ساگوان کے اسپرنگوں والے پلنگ پر ایک لڑکی لیٹی تھی اور سفید چادر خون میں لتھڑی ہوئی تھی۔ چونی لال کو بہت گھن آئی لیکن وہ آگے بڑھا۔ لڑکی نے کروٹ بدلی اور ایک چیخ اس کے منہ سے نکلی، ’’بھیا!‘‘\n\nچونی لال نے بھینچی ہوئی آواز میں کہا، ’’روپا!‘‘ اور اس کے دماغ میں اوپر تلے سینکڑوں باتوں کا انبار سا لگ گیا۔ ان میں سب سے ضروری بات یہ تھی کہ ہربنس کو پتا نہ چلے کہ روپا اس کی بہن ہے، چنانچہ اس نے منہ پر انگلی رکھ کر روپا کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور باہر نکل کر معاملے پر غور کرنے کیلیے دروازہ کی طرف بڑھا۔دہلیز میں ہربنس کھڑا تھا۔ اس کا رنگ اب پہلے سے بھی زرد تھا۔ ہونٹ بالکل بے جان ہوگئے تھے۔ آنکھوں میں وحشت تھی۔ چونی لال کو دو بدو دیکھ کر وہ پیچھے ہٹ گیا۔ چونی لال نے دروازہ بھیڑ دیا۔ ہربنس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔\n\nچونی لال خاموش تھا۔ اس کے چہرے کا کوئی خط بگڑا ہوا نہیں تھا۔ اصل میں وہ سارے معاملے پرغور کررہا تھا۔ اس قدر تعمق سے غور کررہا تھا کہ وہ ہربنس کی موجودگی سے بھی غافل تھامگر ہربنس کو چونی لال کی غیر معمولی خاموشی میں اپنی موت دکھائی دے رہی تھی۔ چونی لال اپنے کمرے کی طرف بڑھا تو ہربنس زور سے چیخا اور دوڑ کر اس میں داخل ہوا۔ بہت ہی زور سے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ریل گاڑی کی سیٹ والے دیوان پر سے پستول اٹھایا اور باہر نکل کر چونی لال کی طرف تان دیا۔چونی لال پھر بھی کچھ نہ بولا وہ ابھی تک معاملہ سلجھانے میں مستغرق تھا۔ سوال ایک بہت بڑے آدمی کی عزت کا تھا۔\n\nپستول ہربنس کے ہاتھ میں کپکپانے لگا۔ وہ چاہتا تھا کہ جلد فیصلہ ہو جائےلیکن وہ اپنی پوزیشن صاف کرنا چاہتا تھا۔ دونوں چونی لال اور ہربنس کچھ دیر خاموش رہے۔۔۔ لیکن ہربنس زیادہ دیر تک چپ نہ رہ سکا۔ اس کے دل و دماغ میں بڑی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ چنانچہ ایک دم اس نے بولنا شروع کیا،’’میں۔۔۔ میں۔۔۔ مجھے کچھ معلوم نہیں۔۔۔ مجھے بالکل معلوم نہیں تھا کہ یہ۔۔۔ کہ یہ تمہاری بہن ہے۔۔۔ یہ ساری شرارت اس مسلمان کی ہے۔۔۔ اس مسلمان سب انسپکٹر کی۔۔۔ کیا نام ہے اس کا۔۔۔ کیا نام ہے اس کا۔۔۔ محمد طفیل۔۔۔ ہاں ہاں محمد طفیل۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ بشیر احمد۔۔۔ نہیں نہیں محمد طفیل۔۔۔ وہ طفیل جس کی ترقی تم نے رکوائی تھی۔۔۔ اس نے مجھے یہ لڑکی لا کر دی اور کہا مسلمان ہے۔۔۔ مجھے معلوم ہوتا تمہاری بہن ہے تو کیا میں اسے یہاں لے کر آتا۔۔۔ تم۔۔۔ تم۔۔۔تم بولتے کیوں نہیں۔۔۔ تم بولتے کیوں نہیں۔‘‘ اور اس نے چلانا شروع کردیا،’’تم بولتے کیوں نہیں۔۔۔ تم مجھ سے بدلہ لینا چاہتے ہو۔۔۔ تم مجھ سے بدلہ لینا چاہتے ہو۔۔۔ لیکن میں کہتا ہوں مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔۔۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔۔۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔‘‘\n\nچونی لال نے ہولے سے کہا، ’’گھبرائیے نہیں۔۔۔ آپ کے پتا جی کی عزت کا سوال ہے۔‘‘ لیکن ہربنس چیخ چلا رہا تھا۔ اس نے کچھ نہ سنا اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پستول داغ دیا۔\n\nتیسرے روز کرفیو ہٹنے پر چونی لال کے دو نوکروں نے موڈرن نیوز ایجنسی کا اسٹال کھولا۔ تازہ اخبار اپنی اپنی جگہ پر رکھے۔ چونی لال کے لیے اخباروں اور رسالوں کا ایک بنڈل باندھ کر الگ رکھ دیا مگر وہ نہ آیا۔کئی راہ چلتے آدمیوں نے تازہ اخباروں کی سرخیوں پر نظر ڈالتے ہوئے معلوم کیا کہ موڈرن نیوز ایجنسی کے مالک چونی لال نے اپنی سگی بہن کے ساتھ منہ کالا کیا اور بعد میں گولی مارکر خود کشی کرلی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B2%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "عزم فریاد! انہیں اے دل ناشاد نہیں", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عزم فریاد! انہیں اے دل ناشاد نہیں\nمسلک اہل وفا ضبط ہے فریاد نہیں\n\nحاصل عشق بجز خاطر ناشاد نہیں\nیہ غنیمت ہے کہ محنت مری برباد نہیں\n\nاے مری قید تمنا کے بڑھانے والے\nغیر محدود ترے حسن کی میعاد نہیں\n\nبزم افسانہ کرو ختم جوانی گزری\nقابل ذکر اب آگے کوئی روداد نہیں\n\nموت ہے روح کی معراج تو پھر اے سیمابؔ\nیہ علو ہے مری دانست میں افتاد نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B2%D9%85_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF%21_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عزیزاں ستم گر نہ آیا مرے گھر", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عزیزاں ستم گر نہ آیا مرے گھر\nنہ آیا مرے گھر عزیزاں ستم گر\n\nمحبت تو مت کر دل اس بے وفا سے\nدل اس بے وفا سے محبت تو مت کر\n\nلگا دل میں خنجر تمہاری نگہ کا\nتمہاری نگہ کا لگا دل میں خنجر\n\nہوا کیوں مکدر تو اے آئنہ رو\nتو اے آئنہ رو ہوا کیوں مکدر\n\nوہ ایذا مکرر تجھے دے گا تاباںؔ\nتجھے دے گا تاباںؔ وہ ایذا مکرر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1"} {"title": "عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو\nیہ عمر رفتہ کی اپنی صدائے پا سمجھو\n\nبجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو\nزبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو\n\nنہ سمجھو دشت شفاخانۂ جنوں ہے یہ\nجو خاک سی بھی پڑے پھانکنی دوا سمجھو\n\nسمجھ تو کورسوادوں کو ہو جو علم نہ ہو\nاگر سمجھ بھی نہ ہو کور بے عصا سمجھو\n\nپڑے کتاب کے قصوں میں کیا کرو دل صاف\nصفا ہو دل تو بہ از روضۃ الصفا سمجھو\n\nہنسے جو وہ مرے رونے پہ تو صف مژگاں\nنہ سمجھو تم اسے دیوار قہقہا سمجھو\n\nنفس کی آمد و شد ہے نماز اہل حیات\nجو یہ قضا ہو تو اے غافلو قضا سمجھو\n\nتمہاری راہ میں ملتے ہیں خاک میں لاکھوں\nاس آرزو میں کہ تم اپنا خاک پا سمجھو\n\nدعائیں دیتے ہیں ہم دل سے تیغ قاتل کو\nلب جراحت دل کو لب دعا سمجھو\n\nبہا دیا مرا خوں اس نے اپنے کوچے میں\nاسی کو یارو دیت سمجھو خوں بہا سمجھو\n\nسمجھ ہے اور تمہاری کہوں میں تم سے کیا\nتم اپنے دل میں خدا جانے سن کے کیا سمجھو\n\nتمہیں ہے نام سے کیا کام مثل آئینہ\nجو روبرو ہو اسے صورت آشنا سمجھو\n\nزہے نصیب کہ ہنگام مشق تیر ستم\nہمارے ڈھیر کو تم تو وہ خاک کا سمجھو\n\nنہیں ہے کم زر خالص سے زردی رخسار\nتم اپنے عشق کو اے ذوقؔ کیمیا سمجھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%88"} {"title": "عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوا", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوا\nنپٹ ہی تند ہے ظالم کی خو ہوا سو ہوا\n\nخطا سے اس کی نہیں نام کو غبار ملال\nمیں رو رو ڈالا ہے سب دل سے دھو ہوا سو ہوا\n\nمری خطا یا جفا تھی تری یہ کیا ہے ذکر\nہوا جو چاہیئے پھر تو نہ ہو ہوا سو ہوا\n\nہنسے ہے دل میں یہ نا دردمند سب سن سن\nتو دکھ کو عشق کے اے دل نہ رو ہوا سو ہوا\n\nستم گرو جو تمہیں رحم کی ہو کچھ توفیق\nستم کی اپنے تلافی کرو ہوا سو ہوا\n\nتو کون ہے کہ ہو ملنے سے غیر کے مانع\nدل اس کو ہاتھ سے اپنے نہ کھو ہوا سو ہوا\n\nنہ سرگزشت مری پوچھ مجھ سے کچھ اے بخت\nتو اپنے خواب فراغت میں سو ہوا سو ہوا\n\nمحبت ایک طرح کی نری سماجت ہے\nمیں چھوڑوں ہوں تری اب جستجو ہوا سو ہوا\n\nبیان حال سے رکتا ہے حسرتؔ اب یارو\nنہ پوچھو اس سے نہ کچھ تم کہو ہوا سو ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "عشاق تیرے سب تھے پر زار تھا سو میں تھا", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشاق تیرے سب تھے پر زار تھا سو میں تھا\nجگ کے خرابہ اندر اک خوار تھا سو میں تھا\n\nداخل شہیدوں میں تو لوہو لگا کے سب تھے\nشمشیر ناز سے پر افگار تھا سو میں تھا\n\nسنبل کے پیچ میں دل تیرے نہ تھا کسی کا\nنرگس کا ایک تیری بیمار تھا سو میں تھا\n\nتجھ گھر میں عرض مطلب کس کی نہ تھا زباں پر\nدر پر جو تیرے نقش دیوار تھا سو میں تھا\n\nداغ محبت اے گل جب تھا ترا نہ جگ میں\nداغوں سے جس کا سینہ گلزار تھا سو میں تھا\n\nگو عشق کے تمہارے عشاق اب مقر ہیں\nاول زباں پہ جس کی اقرار تھا سو میں تھا\n\nتجھ عشق میں نصیحت سب یار مانتے تھے\nناصح کے پر سخن سے بے زار تھا سو میں تھا\n\nاس مے کدے میں گاہے اے سوزؔ ہم نہ بہکے\nسب مست و بے خبر تھے ہشیار تھا سو میں تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D8%A7%D9%82_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "عشاق میں نام ہو چکا ہے", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشاق میں نام ہو چکا ہے\nکیفیؔ بدنام ہو چکا ہے\n\nکیا پوچھتے ہو مریض غم کو\nکام اس کا تمام ہو چکا ہے\n\nعاشق کا نہ امتحاں لو وہ تو\nبندۂ بے دام ہو چکا ہے\n\nکیوں ہم سے نہ منہ چھپا کے جائیں\nہاں آپ کا کام ہو چکا ہے\n\nکیا کام ہمیں رہا کسی سے\nجب اپنا ہی کام ہو چکا ہے\n\nکیفیؔ کب تک یہ خواب غفلت\nمہر لب بام ہو چکا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D8%A7%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشاق کا دل داغ کا اندازہ ہوا محض", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشاق کا دل داغ کا اندازہ ہوا محض\nپیشانی دلبر پہ عجب غازہ ہوا محض\n\nاے نور نظر منتظر وصل ہوں آ جا\nدو پاٹ پلک کے نہیں دروازہ ہوا محض\n\nمخمور ہوں تجھ چشم گلابی کا پلا جام\nنرگس کے پیالے ستی خمیازہ ہوا محض\n\nلکھتا ہے سراجؔ اس گل بے خار کی تعریف\nدیواں کوں رگ گل ستی شیرازہ ہوا محض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D8%A7%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D8%B6"} {"title": "عشرت تنہائی", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میں کہ مے خانۂ الفت کا پرانا مے خوار\nمحفل حسن کا اک مطرب شیریں گفتار\nماہ پاروں کا ہدف زہرہ جبینوں کا شکار\nنغمہ پیرا و نواسنج و غزل خواں ہوں میں\n\nکتنے دلکش مرے بت خانۂ ایماں کے صنم\nوہ کلیساؤں کے آہو وہ غزالان حرم\nمیں ہمہ شوق و محبت وہ ہمہ لطف و کرم\nمرکز مرحمت محفل خوباں ہوں میں\n\nموجزن ہے مئے عشرت مرے پیمانوں میں\nیاس کا درد ہے کم تر مرے افسانوں میں\nکامرانی ہے پرافشاں مرے رومانوں میں\nیاس کی سعئ جنوں خیز پہ خنداں ہوں میں\n\nمیرے افکار میں مہتاب کی طلعت غلطاں\nمیری گفتار میں ہے صبح کی نزہت غلطاں\nمیرے اشعار میں ہے پھولوں کی نکہت غلطاں\nروح گل زار ہوں میں جان گلستاں ہوں میں\n\nلاکھ مجبور ہوں میں ذوق خود آرائی سے\nدل ہے بیزار اب اس عشرت تنہائی سے\nآنکھ مجبور نہیں ہے مری بینائی سے\nمحرم درد و غم عالم انساں ہوں میں\n\nکیوں نہ چاہوں کہ ہر اک ہاتھ میں پیمانہ ہو\nیاس و محرومی و مجبوری اک افسانہ ہو\nعام اب فیض مے و ساقی و مے خانہ ہو\nرند ہوں اور جگر گوشۂ رنداں ہوں میں\n\nاب یہ ارماں کہ بدل جائے جہاں کا دستور\nایک اک آنکھ میں ہو عیش و فراغت کا سرور\nایک اک جسم پہ ہو اطلس و کمخواب و سمور\nاب یہ بات اور ہے خود چاک گریباں ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا\nدرد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا\n\nتجھ سے، قسمت میں مری، صورتِ قفلِ ابجد\nتھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا\n\nدل ہوا کشمکشِ چارۂ زحمت میں تمام\nمِٹ گیا گھِسنے میں اُس عُقدے کا وا ہو جانا\n\nاب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ\nاس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو جانا\n\nضعف سے گریہ مبدّل بہ دمِ سرد ہوا\nباور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا\n\nدِل سے مِٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیال\nہو گیا گوشت سے ناخن کا جُدا ہو جانا\n\nہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کھُلنا\nروتے روتے غمِ فُرقت میں فنا ہو جانا\n\nگر نہیں نکہتِ گل کو ترے کوچے کی ہوس\nکیوں ہے گردِ رہِ جَولانِ صبا ہو جانا\n\nتاکہ تجھ پر کھُلے اعجازِ ہوائے صَیقل\nدیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا\n\nبخشے ہے جلوۂ گُل، ذوقِ تماشا غالبؔ\nچشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%D9%82%D8%B7%D8%B1%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "عشرتِ امروز", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "نہ مجھ سے کہہ کہ اجل ہے پیامِ عیش و سرور\nنہ کھینچ نقشۂ کیفیّتِ شرابِ طہور\n\nفراقِ حُور میں ہو غم سے ہمکنار نہ تو\nپری کو شیشۂ الفاظ میں اُتار نہ تو\n\nمجھے فریفتۂ ساقیِ جمیل نہ کر\nبیانِ حُور نہ کر، ذکرِ سلسبیل نہ کر\n\nمقامِ امن ہے جنّت، مجھے کلام نہیں\nشباب کے لیے موزُوں ترا پیام نہیں\n\nشباب، آہ! کہاں تک اُمیدوار رہے\nوہ عیش، عیش نہیں، جس کا انتظار رہے\n\nوہ حُسن کیا جو محتاجِ چشمِ بینا ہو\nنموُد کے لیے منّت پذیرِ فردا ہو\n\nعجیب چیز ہے احساس زندگانی کا\nعقیدہ ’عشرتِ امروز‘ ہے جوانی کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA%D9%90_%D8%A7%D9%85%D8%B1%D9%88%D8%B2"} {"title": "عشق", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے عشق کیا تو نے گھرانوں کو تباہ\nپیروں کو خرف اور جوانوں کو تباہ\nدیکھا ہے سدا سلامتی میں تیری\nقوموں کو ذلیل خاندانوں کو تباہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "عشق آ ہم سوں کیا جب رام رام", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "عشق آ ہم سوں کیا جب رام رام\nہم کسی حاجی کو نہیں کرتے سلام\n\nمجلس رنداں میں زاہد نہیں سنا\nہے سبق اول وہاں کا جام جام\n\nگر خلاصی حشر کی منگتا ہے تو\nرندگی کے پی مے گلفام فام\n\nپوچھتا ہے کیا ہمارے رمز کو\nبے سمجھ بے عشق زاہد خام خام\n\nگر دکھا دیں یار کے کاکل کا تار\nصبح کو عالم کہے گا شام شام\n\nعاشقی کے محکمے میں ہیں نکات\nجان و تن اور عقل و دل سب دام دام\n\nاے علیمؔ اللہ زاہد کو لتاڑ\nفاضلاں میں خوش مچایا دھوم دھام", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A2_%DB%81%D9%85_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D8%B1%D8%A7%D9%85"} {"title": "عشق اب میری جان ہے گویا", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق اب میری جان ہے گویا\nجان اب میہمان ہے گویا\n\nسوز دل کہہ رہی ہے محفل میں\nشمع میری زبان ہے گویا\n\nجس کو دیکھو وہی ہے گرم تلاش\nکہیں اس کا نشان ہے گویا\n\nہے قیامت اٹھان ظالم کی\nوہ ابھی سے جوان ہے گویا\n\nچھینے لیتی ہے دل تری تصویر\nوہ ادا ہے کہ جان ہے گویا\n\nایک دل اس میں لاکھ زخم فراق\nٹوٹا پھوٹا مکان ہے گویا\n\nمانگے جائیں گے تجھ کو ہم تجھ سے\nمنہ میں جب تک زبان ہے گویا\n\nجی بہلنے کو لوگ سنتے ہیں\nدرد دل داستان ہے گویا\n\nآدمی وقف کار دنیا ہے\nمیہماں میزبان ہے گویا\n\nتیری کس بات کا بھروسہ ہو\nتیری ہر بات جان ہے گویا\n\nدل میں کیسے وہ بے تکلف ہیں\nان کا اپنا مکان ہے گویا\n\nہائے اس عالم آشنا کی نظر\nہر نظر میں جہان ہے گویا\n\nاچھے اچھوں کو پھانس رکھا ہے\nزال دنیا جوان ہے گویا\n\nچپ رہوں میں تو سب کھٹکتے ہیں\nبے زبانی زبان ہے گویا\n\nبے وفائی پہ مرتے ہیں معشوق\nدل ربائی کی شان ہے گویا\n\nکوئی اس پر نگاہ کیا ڈالے\nتمکنت پاسبان ہے گویا\n\nتیری صورت تو کہتی ہے قاتل\nخود ترا امتحان ہے گویا\n\nخوبرویان ماہ پیکر سے\nیہ زمیں آسمان ہے گویا\n\nآج ہے دید کی اجازت عام\nموت کا امتحان ہے گویا\n\nوار پر وار کرتے جاتے ہیں\nکچھ ابھی مجھ میں جان ہے گویا\n\nاس سخن کا جلیلؔ کیا کہنا\nمصحفیؔ کی زبان ہے گویا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عشق ابرو کا ہوا زلف رسا سے پہلے", "poet_page": "مصنف:منشی شیو پرشاد وہبی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وہبی (1870)", "year": "1870", "text_ur": "عشق ابرو کا ہوا زلف رسا سے پہلے\nکیا تماشا ہے کہ مرتے ہیں قضا سے پہلے\n\nدست رنگیں کا لیا بوسہ اگر چوری سے\nہاتھ بندھوائے مرے دزد حنا سے پہلے\n\nاس نے پوشاک پنہانے کا یہ انعام دیا\nڈال لی دل میں گرہ بند قبا سے پہلے\n\nیوں نہ ہاتھ آئے گا ہرگز کسی جانباز کا دل\nکیجئے کچھ تو جفا عشق جفا سے پہلے\n\nکر دیا درد جدائی نے یہاں کام تمام\nہم بلاتے ہی رہے ان کو قضا سے پہلے\n\nسگ جاناں کا یہ احسان نہ بھولوں گا کبھی\nہڈیاں کھائیں مری آ کے ہما سے پہلے\n\nمشکلیں نزع کی ہو جائیں سب آسان ابھی\nلطف فرمائیں اگر آپ قضا سے پہلے\n\nجذب الفت کی ہے تاثیر کہ ہاتھوں میں ترے\nرچ گیا خون مرا رنگ حنا سے پہلے\n\nپیچھے رخسار منور سے الٹیے گا نقاب\nپوچھ تو لیجئے آپ اپنی حیا سے پہلے\n\nغیر کوئی نہیں تکلیف نہ دو حیلے کو\nہاتھ کاندھے پہ رکھو لغزش پا سے پہلے\n\nجب چلا قافلہ یاروں کا سوئے ملک عدم\nہمیں تیار ہوئے بانگ درا سے پہلے\n\nعمر تو اس کی بہت طول ہے مجھ سے لیکن\nجھک گئی میری کمر زلف دوتا سے پہلے\n\nخضر کو وادئ وحشت میں نہ رکھنا تھا قدم\nپوچھ لینا تھا کسی آبلہ پا سے پہلے\n\nاس بھروسے پہ گنہ کرتے ہیں وہبیؔ ہم رند\nرحم کرتی ہے عطا اس کی خطا سے پہلے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92"} {"title": "عشق الزام بھی تو ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق الزام بھی تو ہوتا ہے\nیہ برا کام بھی تو ہوتا ہے\n\nدوستی کچھ مجھی کو تم سے نہیں\nیہ مرض عام بھی تو ہوتا ہے\n\nنہیں تکلیف ہی محبت میں\nاس میں آرام بھی تو ہوتا ہے\n\nوعدہ کرنے میں پھر تأمل کیا\nہاں تمہیں کام بھی تو ہوتا ہے\n\nرات دن درد ہی نہیں رہتا\nدل کو آرام بھی تو ہوتا ہے\n\nنشۂ حسن اور پھر کب تک\nبادۂ خام بھی تو ہوتا ہے\n\nنام پر تیرے کیوں نہ آتا پیار\nپیار کا نام بھی تو ہوتا ہے\n\nکیا تعجب جو ہو وصال میں وصل\nکام میں کام بھی تو ہوتا ہے\n\nاے صفیؔ عاشقی کی یہ تعریف\nاور انجام بھی تو ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشق ان سب سے الگ سب سے جدا ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق ان سب سے الگ سب سے جدا ہوتا ہے\nچیخنے رونے تڑپ لینے سے کیا ہوتا ہے\n\nیاد آتا ہے گلے مل کے ترا پچھتانا\nہر نئی عید میں یہ رنج نیا ہوتا ہے\n\nجو بھلا کرتا ہے اللہ کے بندوں کے لئے\nغیب سے اس کا بھی ہر کام بھلا ہوتا ہے\n\nگفت و گو میں یہ نزاکت ہے کہ اللہ اللہ\nایک اک حرف بھی مشکل سے ادا ہوتا ہے\n\nقہر ہوتا ہے حسینوں میں جو ہوتا ہے متیں\nشوخ ہوتا ہے جو ان میں وہ بلا ہوتا ہے\n\nجینے دیتی ہے کسے پیار کی صورت کافر\nدوست تو دوست ہے دشمن بھی فدا ہوتا ہے\n\nتذکرے حسن کے سن حسن کا دل دادہ نہ بن\nبعض باتوں کے تو سننے میں مزا ہوتا ہے\n\nمہ جبیں عید میں انگشت نما کیوں نہ رہیں\nعید کا چاند ہی انگشت نما ہوتا ہے\n\nپھبتیاں غیر پہ کسنے کو ہے موجود صفیؔ\nاور اس پہ کبھی ہنسئے تو خفا ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%84%DA%AF_%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشق اور عشق شعلہ ور کی آگ", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق اور عشق شعلہ ور کی آگ\nآگ اور الفت بشر کی آگ\n\nجس کو کہتے ہیں برق عالم سوز\nہے وہ کافر تری نظر کی آگ\n\nہائے رے تیری گرمئ رفتار\nخاک تک بھی ہے رہ گزر کی آگ\n\nلو شب وصل بھی تمام ہوئی\nآسماں کو لگی سحر کی آگ\n\nعشق کیا شے ہے حسن ہے کیا چیز\nکچھ ادھر کی ہے کچھ ادھر کی آگ\n\nطور سینا بنا دیا دل کو\nاف رے کافر تری نظر کی آگ\n\nحق تعالی بچائے اس سے ظہیرؔ\nقہر ہے الفت بشر کی آگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81_%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%DA%AF"} {"title": "عشق اور موت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "سُہانی نمودِ جہاں کی گھڑی تھی\nتبسّم فشاں زندگی کی کلی تھی\nکہیں مہر کو تاجِ زر مِل رہا تھا\nعطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھی\nسِیَہ پیرہن شام کو دے رہے تھے\nستاروں کو تعلیمِ تابندگی تھی\nکہیں شاخِ ہستی کو لگتے تھے پتّے\nکہیں زندگی کی کلی پھُوٹتی تھی\nفرشتے سِکھاتے تھے شبنم کو رونا\nہنسی گُل کو پہلے پہل آ رہی تھی\nعطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کو\nخودی تَشنہ کامِ مئے بے خودی تھی\nاُٹھی اوّل اوّل گھٹا کالی کالی\nکوئی حُور چوٹی کو کھولے کھڑی تھی\nزمیں کو تھا دعویٰ کہ مَیں آسماں ہوں\nمکاں کہہ رہا تھا کہ مَیں لا مکاں ہوں\n\nغَرض اس قدر یہ نظارہ تھا پیارا\nکہ نظّارگی ہو سراپا نظارا\nملَک آزماتے تھے پرواز اپنی\nجبینوں سے نورِ ازل آشکارا\nفرشتہ تھا اک، عشق تھا نام جس کا\nکہ تھی رہبری اُس کی سب کا سہارا\nفرشتہ کہ پُتلا تھا بے تابیوں کا\nمَلک کا مَلک اور پارے کا پارا\nپئے سیر فردوس کو جا رہا تھا\nقضا سے مِلا راہ میں وہ قضا را\nیہ پُوچھا ترا نام کیا، کام کیا ہے\nنہیں آنکھ کو دید تیری گوارا\nہُوا سُن کے گویا قضا کا فرشتہ\nاجل ہوں، مرا کام ہے آشکارا\nاُڑاتی ہوں مَیں رختِ ہستی کے پُرزے\nبُجھاتی ہوں مَیں زندگی کا شرارا\nمری آنکھ میں جادوئے نیستی ہے\nپیامِ فنا ہے اسی کا اشارا\nمگر ایک ہستی ہے دنیا میں ایسی\nوہ آتش ہے مَیں سامنے اُس کے پارا\nشرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل میں\nوہ ہے نورِ مطلق کی آنکھوں کا تارا\nٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسُو\nوہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گوارا\nسُنی عشق نے گفتگو جب قضا کی\nہنسی اُس کے لب پر ہوئی آشکارا\nگری اُس تبسّم کی بجلی اجل پر\nاندھیرے کا ہو نور میں کیا گزارا\nبقا کو جو دیکھا فنا ہو گئی وہ\nقضا تھی، شکارِ قضا ہو گئی وہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D9%88%D8%AA"} {"title": "عشق بالواسطہ", "poet_page": "مصنف:چودھری محمد علی ردولوی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "لارڈ کرزن ہندستان کے سابق وائسرائے اور انگلستان کے مشہور سیاست داں کی بابت مشہور تھا کہ وہ ’’میں‘‘ کااستعمال بہت کرتے تھے۔ قیصر ولیم شہنشاہ جرمنی میں بھی لوگ یہی عیب بتاتے تھے۔ نفسیات کے ماہرین کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ اپنی انانیت کی وجہ سے وہ ٹھوکریں کھائیں گے کہ ان کے مرنے کے بعد بھی دوسرے یادرکھیں گے۔ وہ دونوں تو چل بسے۔ اب اس زمانے میں ایک ہم ہی خودی کے قدردان رہ گئے ہیں، رہے نام اللہ کا۔\n\nتو ہم بھی کب تک، ناظرین کو اگر میری بات میں شک ہو تو واحد متکلم کا صیغہ اس تحریر میں گنتے جائیں۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے۔ معلوم ہی ہوجائے گا میرے ان دونوں ہم خیالوں میں صفات یہی تھے جن کو سراہنے میں ان کو لطف آتا تھا۔ ہم میں ذری صفات کی کمی رہ گئی ہے۔ اس لیے ہم اپنے عیوب ہی کا ذکر کرکے سڑا سا منھ سوندھا کرتے ہیں۔ عیوب کا لفظ تو ہم نے مصنف خوار معترضین کا منھ بند کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اگر ہم ان کو واقعی عیب سمجھتے تو بیان ہی کرنے کیوں بیٹھتے۔ زیادہ سے زیادہ یہ تھا کہ کمزوریاں کہہ دیتے وہ بھی آپ کی خاطر سے ورنہ ہم تو ان کو صفات ہی سمجھتے۔\n\nاپنے عیوب اور صفات کی طویل فہرست میں ہم جس عیب کا تذکرہ کرنے جاتے ہیں وہ صنف نازک سے تعلق رکھتا ہے۔ دنیا عجیب جگہ ہے۔ یہاں دل میں کچھ ہو مگر زبان پر وہی ہوگا جس کو سننے والے اور کہنے والا سب ہی جھوٹ جانتے ہیں۔ مگر سچ پکارتے رہتے ہیں۔ آپس میں سمجھوتہ اسی پر ٹھہرا ہے جیسے چوروں میں ہوتا ہے۔ عورت کانام آیا نہیں کہ ان حضرات کا ذہن عیوب کی طرف منتقل ہوا نہیں۔ اب لاحول ولاقوۃ ہے، الحیاہ من الایمان ہے، استغفراللہ کا زور بندھا ہے۔ دل کا حال تو خدا ہی جانتا ہے کہ صرف منھ میں شیخ فرید ہے ورنہ بغل میں اینٹیں ہم سے بھی زیادہ لیے ہیں۔ اور ہم ہیں کہ حافظ شیرازی، شیخ سعدی اور عمر خیام رحمہم اللہ تعالیٰ کے قدموں سے لگے مونچھوں پر تاؤ دیتے چلے جاتے ہیں۔\n\nمن ارچہ عاشقم ور ندمست و نامہ سیاہ\nہزار شکر کہ یاران شہر بے گنہ اند\nگرکند میل بخوباں دل من خوردہ مگیر\nکیں گناہے است کہ درشہر شمانیز کنند\n\nباماہ جبیں نشستہ در ویرانے\nعیشے است کہ ہست حد ہر سلطانے\n\nتو وجہ کیا کہ ہمارے دشمن لوگ عورت کا صرف ایک ہی مصرف جانتے ہیں اور ہم خدا کی اس ’’موہبت عظمی عطیہ کبری‘‘ کی قدر پہچانتے ہیں کہ چاہے ابوالآدم کی پہلی خدائی خلافت ہو، چاہے ابوالقاسم محمدؐ کی آخری رسالت ہو۔ حوا اور خدیجہ سلام اللہ علیہما کی ضرورت ہمیشہ تسلیم ہوئی ہے۔ ذرا غور تو فرمائیے۔ حضرت آسیہ نہ ہوتیں تو حضرت موسی علیہ السلام پر کیسی بنتی۔\n\nپولیٹکل ضرورت سےایک بار ہم الہ آباد گیے۔کئی دن کی مصروفیت اور ہم آدمی ٹھہرے کاہل۔ تھک سے گیے، مگر لطف کے جلسے چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا تھا۔ ہم سے زیادہ ہماری بی بی پریشان ہوگئیں۔ مہاوٹیں جو برسنے لگیں تو ڈنر ٹیبل اور ڈرائنگ روم، پارٹیوں اور چائے کی دعوتوں کا مزا کرکرا ہوگیا اور بی بی کی طرف سے واپسی کا اصرار شروع ہوا۔ اپنی بی بی کے مزاج سے کون نہیں واقف ہوتا۔ اس لیے میں نے کہا بھی کہ ابھی تو دو ایک ساڑیاں اور جوڑے بن پہنے رہ گیے ہیں۔ جلدی کا ہے کی ہے مگر ان کی ضد بڑھتی ہی گئی۔\n\nمیں: اور وہ سبز پائپنگ والی شفن جارجٹ ساری اور نیا سٹ۔\n\nبی بی: ہوگی وہ ساری اور نیاسٹ، کوئی ہم سے چھین لے جائے گا! دیکھ رہے ہو، یہ بن برسات کی برسات لگی ہے۔ بوتات والی کوٹھری ساون میں کتنی ٹپکتی تھی اور اناج یوں ہی ٹوکروں میں بھرا چھوڑ آئے ہیں۔\n\nیہ نسوانی دلیل پائپنگ والی ساڑی اور نئے سٹ پر بھی غالب آگئی اور ناچار ایک عنایت فرما کو معذرت کا خط بھی لکھنا پڑا کہ ہم لوگ سخت مجبوری میں گھر واپس جارہے ہیں اور کل کے ڈنر میں نہ شریک ہونے کا ہم دونوں آدمیوں کو بڑاقلق ہے۔\n\nمیں: صرف جج صاحب کے یہاں جانا رہ گیا ہے۔ صبح ان کے یہاں ہوتے ہوئے مکان نکل چلیں گے۔\n\nبی بی: ان کے یہاں جانا بہت ضروری ہے، نہیں تو بڑی شکایت ہوگی۔ مگر زیادہ دیر نہ لگانا تم تو جہاں بیٹھ جاتے ہو، اٹھنے کا نام ہی نہیں لیتے ہو۔\n\nدوسرے دن صبح کو نو بجے ہم لوگ جج صاحب کے یہاں پہنچے۔ خود جج صاحب تو تھے نہیں۔ مگر ان کے چھوٹے بیٹے اور جج صاحب کی بی بی تھیں۔ ایک مہمان بھی ٹھہری تھیں۔ تعارف ہوا باتیں ہونے لگیں۔ یہ صاحب زادی ابھی ابھی آکسفورڈ سے واپس آئی ہیں۔ جج صاحب کے صاحب زادے اور یہ لوگ کمیونسٹک انداز کے لوگ ہیں۔ خیر پولیٹکل خیالات سے اس وقت نہ ہم کو دلچسپی ہے نہ ان جھگڑوں میں پڑنے کو دل چاہتا ہے، وہ تو کسی ایسے ستارے کی گردش میں پیدا ہوئے ہوں گے جہاں عورت کا راج ہوگا۔\n\nدل ابھی تک جوان ہے پیارے\nایک آفت میں جان ہے پیارے\n\nساٹھ برس کا سن عشرۂ قاتلہ کو پار کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں اور ہم ہیں کہ اس کی بھی ہمت باندھے ہیں، بقول نظیر اکبر آبادی کے\n\nاب بھی ہمارے آگے یارو جوان کیا ہے\n\nان صاحب زادی سےتعارف میرا کرایا گیا کہ فلاں شخص کے والد ہیں۔ ایک وقت تھا کہ ہمارا تعارف لوگوں سے اس طرح کروایا جاتا تھا کہ فلاں کے بیٹے ہیں، فلاں کے داماد ہیں۔ اور اب یہ زمانہ لگا ہے کہ فلاں کے باپ ہیں اور فلاس کے سسر ہیں، مگر ہم چکنے گھڑے، ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ ہم وہ نہیں رہے۔\n\nوہ صاحب زادی: آپ سے مل کر بڑا جی خوش ہوا (اپنے میزبان کی طرف اشارہ کرکے ) ان سے اور اپنے دوسرے دوستوں سے آکسفورڈ میں اور یہاں بھی آپ کے لڑکے کی بڑی تعریفیں سنی ہیں۔ آج کل کہاں ہیں؟\n\nمیں: جی ہاں یقیناً لکھنؤ میں ہوں گے۔\n\nصاحب زادی: ہم لوگ اس وقت دریا کی سیر کو جارہے ہیں، چلیے آپ بھی چلیے۔\n\nمیں: میں تو کل ہوآیا ہوں مگر چلیے ضرور چلوں گا (اپنی بی بی کی طرف مخاطب ہوکر) پھر اس وقت کا جانا ملتوی کردو۔ شام کو چلیں گے۔\n\nاناطول فرانس، میرتقی میر، ولیسیکز، فردوسی، رمبراں، سعدی، گوئٹے، رفیل روحیں میری مدد کو پہنچو۔ تمہارےاس ناچیز مرید پر بڑا سخت وقت پڑا ہے، تم نے بڑے گاڑھے وقت میں میری مدد کی ہے۔ میری کمزور انگلیوں میں جس دو، میرے گھسے پسے قلم کو موقلم کا زور بخشو کہ اس گھڑی کی تصویر اتاردے۔\n\nہماری کمسن بی بی نے کہا تو صرف ’’اچھا‘‘ مگر ان کے چہرے پر اس مایوسی کی جھلک دکھائی دی جو ارادہ فسخ ہونے پر پیدا ہوتی ہے۔ فلسفیانہ تاسف کی مسکراہٹ نے زبان حال سے کہا ہم نے تو ان کی صورت دیکھتے ہی سمجھ لیا تھا کہ تم پھسل پڑوگے۔ ماتھے کی خفیف شکن اور ابرو کی کمان نے کہا، ’’تمہارے سن کی زیادتی سے اور نیز اس وجہ سے کہ ہم سے محبت کرتے ہو، اطمینان ہے کہ افلاطونی محبت سقراطی محبت تک نہ پہنچے گی۔ پھر بھی ہماری مسکراہٹ پر نہ جاؤ۔‘‘ آنکھوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت غیرجگہ نہ بیٹھے ہوتے تو رنگ دوسرا ہوتا۔ مگر تم پریشان نہ ہو، گھر پہنچ کر بھی ہم لڑیں گے نہیں۔ عادت کے گھٹے پڑچکے ہیں۔‘‘ ہونٹوں نے کہا، ’’اور بات خدا لگتی کہنا چاہیے، تمہاری بچوں کی ایسی باتوں پر ہنسی بھی تو آتی ہے کہ جہاں کسی نے چٹکی بجائے۔ تم گیگلے بچے کی طرح ہمک کر اسی کی گود میں پہنچ گئے۔‘‘ گردن کے ڈورے نے ایک طرف پھر کر کہا، ’’ارے تم شام کو بھی نہ چلو گے، ہم تو جانتے ہیں نا! خیر دریا کی سیر ایک بار پھر ہوجائے گی اور وہ پائپنگ والی ساڑی اور نیاسٹ بھی سوارت ہوجائے گا۔ ہمارا بھی تو ہاتھ نگوڑا پتھر کے نیچے دبا ہے۔ چلو یوں ہی سہی۔‘‘گالوں نے ٹھڈی کی مدد لے کر کہا، ’’ہم بھی تو تمہارے پیار سے بے بس ہیں۔‘‘\n\nبنگال کی شاخ کا چشمہ انگلستان کے پودے پر بندھا۔ منورما اپنے ملک کو واپس آئیں۔ آکسفورڈ کے فرسٹ کلاس کے نیچے کبھی بات نہیں کی۔ ہندستان آئیں، جو دیکھتا ہے کہتا ہے، ’’واہ واہ!‘‘ صورت شکل کوئی دنیا سے نرالی نہیں ہے مگر وہ بات جس کو شیراز کے حافظ جی ’’آن‘‘ کہا کرتے تھے۔ ہرچیز سے پیدا ہے۔ کچھ ناگن کی سی چال کچھ برق تمثال، کچھ پھول کچھ کلی، آدھی بند آدھی کھلی، چاندی کی سی بے تکلفی، علم کی خوداعتمادی، کمیونسٹ فلسفے کی بناپر برابری کا دعویٰ، خودنسوانیت کے حقوق نہیں مانگتی تھیں مگر مردوں میں کچھ ایسا رومانی اثر پیدا ہوجاتا ہے کہ ہر شخص خراج تحسین لیے حاضر ہے۔ آنکھوں سے باتیں کریں، ہنسی سے خوشی پیدا ہو، ہونٹوں کی جنبش میں پسندیدگی ناپسندیدگی۔۔۔ گال، ناک، ماتھا مسائل حل کر رہے ہیں۔\n\nنہ گفت و من بشنیدم ہر آنچہ گفتن داشت\nکہ در بیاں نگہش کرد برزبان تقدیم\n\nدہاں چونوبت خویش از نگاہ باز گرفت\nفتاد سامعہ در موج کوثر و نسیم\n\nمیرے پڑھنے والو معلوم نہیں کہ تم میرا مضحکہ اڑاؤگے یا خود اپنے آنے والے بڑھاپے کا خیال کرکے عبرت بمد پیشگی کروگے۔ مگر ہم تو کھیت رہے۔ انا للاناث و انا الیہن راجعون۔کہاں کی واپسی اور کیسا رخت سفر۔ اس وقت چائے ہے تو اس وقت سنیما ہے۔ سیر ہے تفریح ہے۔\n\nرشتہ در گردنم افگندہ دوست\nمی برد ہرجا کہ خاطر خواہ اوست\n\nایک کوئی ہمارے ہی ایسے اگلے زمانے میں بھی گزرے ہیں، خالی وہ جوان تھے ہم تجربہ کار ہیں۔ شحنہ عشق ان پر بھی ہماری ہی طرح سوار تھا۔ وہ بے چارے جنگل جنگل اپنی معشوقہ کانام لیتے پھرتے تھے اور نعرے لگاتے تھے کہ ’’آہ حسینہ میری نیند اڑالے جانے والی، مجھ کو راتوں کو جگانے والی۔‘‘ ان کا خدمت گار بھی ساتھ ساتھ تھا۔ دبی زبان وہ بھی کہتا جاتا تھا، ’’میری بھی نیند اڑالے جانے والی، مجھ کو بھی راتوں کو جگانے والی‘‘ یہی حال ہماری بیگم صاحب کا تھا کہ وہ بھی کچھ ہنسی، کچھ غصہ زبان حال سے وہی خدمت گار والی باتیں فرماتی تھیں۔ گوتجربے کی بناپر ان کواطمینان تھا پھر بھی۔\n\n’’دل نہ اڑ جائے کہیں دام سے تیرے صیاد\nگرچہ پژمردہ ہے یہ صید ولے طیر تو ہے‘‘\n\nعمر بھر کے ساتھ کا وعدہ خدا کے سامنے رسول کے سامنے پنچ برادری کے سامنے کرچکی تھیں۔ بھلا ایسے وقت میں ایک باؤلے کو بغیر رسی کے یوں ہی کیسے چھوڑدیتیں۔ صبح کی گاڑی تو چھوٹ ہی چکی تھی۔ شام کی گاڑی گئی۔ اب دوسرے دن کاپاتر اب رکھا گیا۔ مگر منورما بولیں، ’’کمیونسٹ پارٹی کی ماہوار کمیٹی کل ہوگی۔ ہم تم کو بھی ممبر کرنا چاہتے ہیں اس کے بعد چلو تو ہم بھی لکھنؤ جائیں گے۔ تمہارے گھر رائے بریلی تک ریل پر بھی ساتھ رہے گا۔‘‘ میرا تو ذکر ہی کیا مگر منورما کی وجہ سے صحبتیں کچھ ایسی دلچسپ ہوگئی تھیں کہ خلاف امید میری بی بی بھی ایک دن اور ٹھہرنے پر راضی ہوگئیں۔ عموماً ان جلسوں میں ایک ہم ہی مسن ہوتے تھے ورنہ عورت مرد سب وہی تھے جن میں امنگ، جوانی تہیہ، ارادہ، ہمت، آئندہ کی امیدیں موجود۔ مختصر گزشتہ قریب قریب مفقود۔ ان صحبتوں میں ہر فرد پڑھا لکھا۔ زیادہ تر دو ہی قسم کی باتیں ہوتی تھیں یا قربانی، خدمت، کارل مارکس کے اصول کی بے دھڑک پابندی، ہتھیلی پر جان لے کر کام کرنے یا کھلے ڈلے جنسی طلسمات دونوں قسموں میں جوش قدر مشترک۔\n\nکیا کہنا جوانی کا اصول، اخلاق کی نئی دلآویز تفسیریں، جوانی کے خواب کی نئی تعبیریں، جنس کے دنیا ساز قیود ٹوٹے پڑے تھے۔ البتہ فطرت کی حفاظتیں مجبوراً برقرار تھیں۔ مساوات نےعورت مرد کا فرق کم کردیا تھا۔ اگر کسی نے کسی لڑکی کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا تو وہ جھجکی نہیں، اگر کوچ پر کوئی کسی سے بھڑ کر بیٹھا تو تعجب نہیں۔ تھوڑی بے تکلفی اور بڑھ گئی تو کمرے میں ہاتھ ڈال کر بیٹھ گیے۔ یہ باتیں دیکھ کر ہماری بی بی کی آنکھیں کھل گئیں۔\n\nبیٹھے بیٹھے کچھ مزا ہم کو بھی اب آنے لگا\nاب تو ہم بھی درد دل میں مبتلاہونے لگے\n\nہم یہ تو کہہ ہیں سکتے کہ وہ بے جھجک اس میدان میں آگئیں مگر شعور باطن ان کا بھی کمیونسٹ ہی ایسا معلوم ہوا۔بجائے ان کے اب ہم گھر کی واپسی کے منصوبے باندھنے لگے۔ ہماری بیگم بھی کمیٹی میں شریک ہوئیں۔ ناواقف کاری کی وجہ سے زیادہ حصہ تو نہ لے سکیں۔ مگر بہت ذہانت اور دلچسپی سے جلسے کی کارروائی سناکیں۔ گہرے مسائل تک تو شاید نہ پہنچتی ہوں مگر دبی زبان سے اتنا تو کہا کہ جب مرد ایک سے زیادہ شادی کرتے ہیں تو عورت بھی اپنا یہ حق کیوں نہ لے۔ ناظرین ہم نے واپسی کا ارادہ مصمم کرلیا۔ آج پہلے پہل شام ہم نےاپنی قیام گاہ ہی پر بسر کی اور رات وہی اپنے ستارے کی گردش کے اثر سے بیگم اور منورما کے منصوبوں میں گزاری۔\n\nصبح کو ریل پر منورما کاآخری مرتبہ ساتھ ہوا۔ دریا کی سیر میں منورما نے کچھ تصویریں احباب کی اتاری تھیں وہ دکھائیں، ہم نے اپنے چہرے کی شکنیں دیکھ کر اللہ کا شکر بھیجا کہ آدمی خود اپنی صورت نہیں دیکھ سکتا۔ اسی کے ساتھ ہم نے یہ بھی محسوس کیا کہ باوجود چہرے پر الو کے ہمارے دل کی تصویر سے ایک تشفی سی بھی ہوئی۔ اسٹیچو ہوکہ تصویر ہو، اولاد ہو کہ تصنیف ہو جہاں اس فنا کے چیتھڑے کو کسی نہ کسی صورت سےکچھ دن اور بھی دنیا میں رہنے کی آس ہوئی، دل خوش ہی ہوجاتا ہے۔لیجیے صاحب رائے بریلی کا اسٹیشن آگیا۔ ہم ہاتھ ملاکر ریل گاڑی سے اترے، ہم نے اپنے دل میں کہا، ’’خوش درخشید ولے دولت مستعجل بود۔‘‘ اب یہ موہنی صورت پھر کاہے کو دیکھنے میں آئے گی۔\n\nمنورما: آپ اپنے لڑکے کو کچھ پیغام تو نہ دیجیے گا کیونکہ کل کمیونسٹ جلسے میں ان سے ملاقات ضرور ہوگی۔ وہ تو لکھنؤ کی کمیٹی کے سکریٹری ہیں نا؟\n\nمیں: جی اسے تو کچھ کہنا نہیں ہے۔ مگر آپ سے ایک درخواست ہے اگر ہوسکے تو ہمارے لڑکے ہی پر عاشق ہوجائیے گا۔\n\nمنورما: میں حتمی وعدہ تو نہیں کرسکتی مگر کوشش کروں گی۔ ختم اس مضمون کی تنقید خود مصنف کے قلم سے۔ ڈاکٹر جانس نے بادشاہ جارج سے کہا تھا کہ نئی باتیں آدمی صرف تین سال تک سیکھتا ہے۔ اس کے بعد اسی پرانے علم کی جانچ، رگڑتگڑ ہوا کرتی ہے۔ چمک صفائی زیادہ ہوجاتی ہے لیکن چیز وہی رہتی ہے۔ برنارڈ شانوے سال سے اوپر کے ہیں، ان کے عنفوان شباب کے ناول دیکھیے، جوانی کے ڈرامے دیکھیے، جو چمک، جو شفافی، دو آخری ڈراموں میں ہے اس پر عش عش کیجیے لیکن غور سے دیکھیے تو پتا چلتا ہے کہ وہی اگلے برس کی تیلیاں ہیں، خالی اوپر کی جگمگاہٹ، رونق اور ٹھاٹھ دلآویز ہے۔ نئی بات بڑھاپے میں کہاں جو کچھ ہے وہی غنیمت ہے۔\n\nجب برنارڈ شا کا یہ حال ہو تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں۔ لہٰذا امید ہے کہ تنقید کرنے میں بوڑھے کا دل رکھ لیجیے گا۔۔۔ بقول رسکن کے، ’’تصویر میں یہ نہ ڈھونڈھو کہ کیا نہیں ہے بلکہ جو کچھ ہواس کی تعریف کرو۔‘‘ اس نظریے سے اگر دیکھا جائے تو مصنف کا نڈر انداز اور ریلزم قابل داد ہیں۔\n\nپیری کے ولولے ہیں خزاں کی بہار ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%81"} {"title": "عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا\nجو برہمن نے کہا آخر وہ سب کرنا پڑا\n\nصبر کرنا فرقت محبوب میں سمجھے تھے سہل\nکھل گیا اپنی سمجھ کا حال جب کرنا پڑا\n\nتجربے نے حب دنیا سے سکھایا احتراز\nپہلے کہتے تھے فقط منہ سے اور اب کرنا پڑا\n\nشیخ کی مجلس میں بھی مفلس کی کچھ پرسش نہیں\nدین کی خاطر سے دنیا کو طلب کرنا پڑا\n\nکیا کہوں بے خود ہوا میں کس نگاہ مست سے\nعقل کو بھی میری ہستی کا ادب کرنا پڑا\n\nاقتضا فطرت کا رکتا ہے کہیں اے ہم نشیں\nشیخ صاحب کو بھی آخر کار شب کرنا پڑا\n\nعالم ہستی کو تھا مد نظر کتمان راز\nایک شے کو دوسری شے کا سبب کرنا پڑا\n\nشعر غیروں کے اسے مطلق نہیں آئے پسند\nحضرت اکبرؔ کو بالآخر طلب کرنا پڑا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%81%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%AF%D8%A8_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D9%BE%DA%91%D8%A7"} {"title": "عشق بتاں کا جب سے مجھے ڈھنگ آ گیا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق بتاں کا جب سے مجھے ڈھنگ آ گیا\nہاتھوں سے میرے دست جنوں تنگ آ گیا\n\nکس شوق سے یہ بزم میں کہتا ہے دل مرا\nمطرب کے ساتھ بن کے یہاں چنگ آ گیا\n\nڈرنا عبث ہے خار مغیلاں سے اب مجھے\nمنزل میں عشق کے کئی فرسنگ آ گیا\n\nجی چاہتا ہے پھینک دوں پہلو سے میں اسے\nبیتابیوں سے دل کی تو میں تنگ آ گیا\n\nمنظور شیشۂ دل عاشق ہے توڑنا\nجو ہاتھ میں لیے ہوئے وہ سنگ آ گیا\n\nپامال تم نے گر دل عاشق نہیں کیا\nتلووں میں کیوں نہ خون کا پھر رنگ آ گیا\n\nکس طرح لوگ کوئے بتاں تک چلے گئے\nمیرے تو ہر قدم پہ وہاں سنگ آ گیا\n\nسن کر غزل کو میری جمیلہؔ نے یہ کہا\nاس میں تو صوفیانہ بھی کچھ رنگ آ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%88%DA%BE%D9%86%DA%AF_%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عشق بیتاب جاں گدازی ہے", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق بیتاب جاں گدازی ہے\nحسن مشتاق دل نوازی ہے\n\nاشک خونیں سوں جو کیا ہے وضو\nمذہب عشق میں نمازی ہے\n\nجو ہوا راز عشق سوں آگاہ\nوو زمانے کا فخر رازی ہے\n\nپاک بازاں سوں یوں ہوا مفہوم\nعشق مضمون پاک بازی ہے\n\nجا کے پہنچی ہے حد ظلمت کوں\nبسکہ تجھ زلف میں درازی ہے\n\nتجربے سوں ہوا مجھے ظاہر\nناز مفہوم بے نیازی ہے\n\nاے ولیؔ عیش ظاہری کا سبب\nجلوۂ شاہد مجازی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D8%AF%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشق تاثیر سے نومید نہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق تاثیر سے نومید نہیں\nجاں سپاری شجرِ بید نہیں\n\nسلطنت دست بَدَست آئی ہے\nجامِ مے خاتمِ جمشید نہیں\n\nہے تجلی تری سامانِ وجود\nذرّہ بے پرتوِ خورشید نہیں\n\nرازِ معشوق نہ رسوا ہو جائے\nورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں\n\nگردشِ رنگِ طرب سے ڈر ہے\nغمِ محرومیِ جاوید نہیں\n\nکہتے ہیں جیتے ہیں اُمّید پہ لوگ\nہم کو جینے کی بھی امّید نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AA%D8%A7%D8%AB%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D9%88%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عشق تو مشکل ہے اے دل کون کہتا سہل ہے", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق تو مشکل ہے اے دل کون کہتا سہل ہے\nلیک نادانی سے اپنی تو نے سمجھا سہل ہے\n\nگر کھلے دل کی گرہ تجھ سے تو ہم جانیں تجھے\nاے صبا غنچے کا عقدہ کھول دینا سہل ہے\n\nہمدمو دل کے لگانے میں کہو لگتا ہے کیا\nپر چھڑانا اس کا مشکل ہے لگانا سہل ہے\n\nگرچہ مشکل ہے بہت میرا علاج درد دل\nپر جو تو چاہے تو اے رشک مسیحا سہل ہے\n\nہے بہت دشوار مرنا یہ سنا کرتے تھے ہم\nپر جدائی میں تری ہم نے جو دیکھا سہل ہے\n\nشمع نے جل کر جلایا بزم میں پروانے کو\nبن جلے اپنے جلانا کیا کسی کا سہل ہے\n\nعشق کا رستہ سراسر ہے دم شمشیر پر\nبوالہوس اس راہ میں رکھنا قدم کیا سہل ہے\n\nاے ظفرؔ کچھ ہو سکے تو فکر کر عقبیٰ کا تو\nکر نہ دنیا کا تردد کار دنیا سہل ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%D8%B3%DB%81%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشق تیرے سے لگاوے نہ خدا عار مجھے", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق تیرے سے لگاوے نہ خدا عار مجھے\nنہ کرے دام رہائی میں گرفتار مجھے\n\nحسن اور عشق میں ایک طور سے نسبت ہے ضرور\nچشم بیمار تجھے دی ہے دل زار مجھے\n\nیار آیا پہ مجھے ہوش نہ تھا کیا کہئے\nنہ کیا اس دل دشمن نے خبردار مجھے\n\nسنگ طفلاں کی میں امید پہ ہوں دیوانہ\nتسپہ دیتے ہیں تغافل سے یہ آزار مجھے\n\nجب سے نظارہ کیا ترک ہوا ہوں دل سرد\nگرم رکھتا تھا یقیںؔ شعلۂ دیدار مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%88%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "عشق جان جہاں نصیب ہوا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق جان جہاں نصیب ہوا\nاک زمانہ مرا رقیب ہوا\n\nمر گئے ہم مسیح کے دم میں\nیہ بھی اک واقعہ عجیب ہوا\n\nان سے کہہ دو کہ آپ پر عاشق\nبیکس و بے وطن غریب ہوا\n\nنہ سنے نالے کیا کسی گل نے\nتجھ کو کیا رنج عندلیب ہوا\n\nپاس آداب حسن یار رہا\nعشق میرے لیے ادیب ہوا\n\nجب نکیرین نے سوال کیے\nیا علیؑ کہہ کے میں مجیب ہوا\n\nمیرا سر ہوگا اور ان کے پاؤں\nیاور اپنا اگر نصیب ہوا\n\nجب ہوا قبر میں سوال اے مہرؔ\nیا علیؑ کہہ کے میں مجیب ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "عشق جو معراج کا اک زینہ ہے", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق جو معراج کا اک زینہ ہے\nیہ ہمارا مذہب پارینہ ہے\n\nاب تو خود بینی عبادت ہو گئی\nرات دن پیش نظر آئینہ ہے\n\nواعظ اب بھی جرم ہے کیا مے کشی\nچاندنی ہے اور شب آدینہ ہے\n\nجب سے زلفوں کا پڑا ہے اس میں عکس\nدل مرا ٹوٹا ہوا آئینہ ہے\n\nسر بہ مہر داغ کرتے ہیں عزیزؔ\nدل ہمارا عشق کا گنجینہ ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%AC_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%B2%DB%8C%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشق حقیقی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بادشاہت کا خاتمہ", "year": "1950", "text_ur": "عشق و محبت کے بارے میں اخلاق کا نظریہ وہی تھا جو اکثر عاشقوں اور محبت کرنے والوں کا ہوتا ہے۔ وہ رانجھے پیر کا چیلا تھا۔ عشق میں مر جانا اس کے نزدیک ایک عظیم الشان موت مرنا تھا۔\n\nاخلاق تیس برس کا ہوگیا۔ مگر باوجود کوششوں کے اس کو کسی سے عشق نہ ہوا لیکن ایک دن انگرڈ برگ مین کی پکچر’’فور ہوم دی بل ٹولز‘‘ کا میٹنی شو دیکھنے کے دوران میں اس نے محسوس کیا کہ اس کا دل اس برقع پوش لڑکی سے وابستہ ہوگیا ہےجو اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی تھی اور سارا وقت اپنی ٹانگ ہلاتی رہی تھی۔\n\nپردے پر جب سائے کم اور روشنی زیادہ ہوئی تو اخلاق نے اس لڑکی کو ایک نظر دیکھا۔ اس کے ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے تھے۔ ناک کی پھننگ پر چند بوندیں تھیں ۔جب اخلاق نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی ٹانگ ہلنا بند ہوگئی۔ ایک ادا کے ساتھ اس نے اپنے سیاہ برقعے کی جالی سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ یہ حرکت کچھ ایسی تھی کہ اخلاق کو بے اختیار ہنسی آگئی۔\n\nاس لڑکی نے اپنی سہیلی کے کان میں کچھ کہا۔ دونوں ہولے ہولے ہنسیں۔ اس کے بعد اس لڑکی نے نقاب اپنے چہرے سے ہٹالیا۔ اخلاق کی طرف تیکھی تیکھی نظروں سے دیکھا اور ٹانگ ہلا کر فلم دیکھنے میں مشغول ہوگئی۔\n\nاخلاق سگریٹ پی رہا تھا۔ انگرڈبرگ مین اس کی محبوب ایکٹرس تھی۔’’فور ہوم دی بل ٹولز‘‘ میں اس کے بال کٹے ہوئے تھے۔ فلم کے آغاز میں جب اخلاق نے اسے دیکھا تو وہ بہت ہی پیاری معلوم ہوئی۔ لیکن ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی ہوئی لڑکی دیکھنے کے بعد وہ انگرڈ برگ مین کو بھول گیا۔ یوں تو قریب قریب سارا فلم اس کی نگاہوں کے سامنے چلا مگر اس نے بہت ہی کم دیکھا۔سارا وقت وہ لڑکی اس کے دل و دماغ پر چھائی رہی۔\n\nاخلاق سگریٹ پر سگریٹ پیتا رہا۔ ایک مرتبہ اس نے راکھ جھاڑی تو اس کا سگریٹ انگلیوں سے نکل کر اس لڑکی کی گود میں جا پڑا۔ لڑکی فلم دیکھنے میں مشغول تھی اس لیے اس کو سگریٹ گرنے کا کچھ پتہ نہ تھا۔ اخلاق بہت گھبرایا۔ اسی گھبراہٹ میں اس نے ہاتھ بڑھا کرسگریٹ اس کے برقعے پر سے اٹھایا اور فرش پرپھینک دیا۔ لڑکی ہڑبڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ اخلاق نے فوراً کہا،’’معافی چاہتا ہوں آپ پرسگریٹ گر گیا تھا۔‘‘\n\nلڑکی نے تیکھی تیکھی نظروں سے اخلاق کی طرف دیکھا اور بیٹھ گئی۔ بیٹھ کر اس نے اپنی سہیلی سے سرگوشی میں کچھ کہا۔ دونوں ہولے ہولے ہنسیں اورفلم دیکھنے میں مشغول ہوگئیں۔فلم کے اختتام پر جب قائداعظم کی تصویر نمودار ہوئی تو اخلاق اٹھا۔ خدا معلوم کیا ہوا کہ اس کا پاؤں لڑکی کے پاؤں کے ساتھ ٹکرایا۔ اخلاق ایک بار پھر سرتا پا معذرت بن گیا،’’معافی چاہتا ہوں۔۔۔جانے آج کیا ہوگیا ہے۔‘‘\n\nدونوں سہیلیاں ہولے ہولے ہنسیں۔ جب بھیڑ کے ساتھ باہر نکلیں تو اخلاق ان کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ وہ لڑکی جس سے اس کو پہلی نظر کا عشق ہوا تھا ،مڑ مڑ کر دیکھتی رہی۔اخلاق نے اس کی پرواہ نہ کی اور ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔ اس نے تہیہ کرلیا تھا کہ وہ اس لڑکی کا مکان دیکھ کے رہے گا۔مال روڈکے فٹ پاتھ پر وائی ایم سی اے کے سامنے اس لڑکی نے مڑ کر اخلاق کی طرف دیکھا اور اپنی سہیلی کا ہاتھ پکڑ کررک گئی۔ اخلاق نے آگے نکلنا چاہا تو وہ لڑکی اس سے مخاطب ہوئی،’’ آپ ہمارے پیچھے پیچھے کیوں آرہے ہیں؟‘‘\n\nاخلاق نے ایک لحظہ سوچ کر جواب دیا،’’آپ میرے آگے آگے کیوں جارہی ہیں؟‘‘\n\nلڑکی کھکھلا کر ہنس پڑی۔ اس کے بعد اس نے اپنی سہیلی سے کچھ کہا۔ پھر دونوں چل پڑیں۔ بس اسٹینڈ کے پاس اس لڑکی نے جب مڑ کر دیکھا تو اخلاق نے کہا،’’آپ پیچھے آجائیے۔ میں آگے بڑھ جاتا ہوں۔‘‘ لڑکی نے منہ موڑ لیا۔\n\nانار کلی کا موڑ آیا تو دونوں سہیلیاں ٹھہر گئیں۔ اخلاق پاس سے گزرنے لگا تو اس لڑکی نے اس سے کہا،’’آپ ہمارے پیچھے نہ آئیے۔ یہ بہت بری بات ہے۔‘‘\n\nلہجے میں بہت سنجیدگی تھی۔ اخلاق نے ’’بہت بہتر‘‘ کہا اور واپس چل دیا۔ اس نے مڑ کر بھی ان کو نہ دیکھا۔ لیکن دل میں اس کو افسوس تھا کہ وہ کیوں اس کے پیچھے نہ گیا۔ اتنی دیرکے بعد اس کو اتنی شدت سے محسوس ہوا تھا کہ اس کو کسی سے محبت ہوئی ہے۔ لیکن اس نے موقعہ ہاتھ سے جانے دیا۔ اب خدا معلوم پھر اس لڑکی سے ملاقات ہو یا نہ ہو۔جب وائی ایم سی اے کے پاس پہنچا تو ر ک کراس نے انار کلی کے موڑ کی طرف دیکھامگر اب وہاں کیا تھا۔ وہ تو اسی وقت انارکلی کی طرف چلی گئی تھیں۔\n\nلڑکی کے نقش بڑے پتلے پتلے تھے۔ باریک ناک ،چھوٹی سی ٹھوڑی، پھول کی پتیوں جیسے ہونٹ ،جب پردے پر سائے کم اور روشنی زیادہ ہوتی تھی تو اس نے اس کے بالائی ہونٹ پر ایک تل دیکھا تھا جو بے حد پیارا لگتا تھا۔ اخلاق نے سوچا تھا کہ اگر یہ تل نہ ہوتا تو شاید وہ لڑکی نامکمل رہتی۔ اس کا وہاں پر ہونا اشد ضروری تھا۔\n\nچھوٹے چھوٹے قدم تھے جن میں کنوار پن تھا۔ چونکہ اس کو معلوم تھا کہ ایک مرد میرے پیچھے پیچھے آرہا ہے۔ اس لیے ان کے ان چھوٹے چھوٹے قدموں میں ایک بڑی پیاری لڑکھڑاہٹ سی پیدا ہوگئی تھی۔ اس کا مڑ مڑ کر تو دیکھنا غضب تھا۔ گردن کو ایک خفیف سا جھٹکا دے کر وہ پیچھے اخلاق کی طرف دیکھتی اور تیزی سے منہ موڑ لیتی۔\n\nدوسرے روز وہ انگرڈبرگ مین کا فلم پھر دیکھنے گیا۔ شو شروع ہوچکا تھا۔ والٹ ڈزنی کا کارٹون چل رہا تھا کہ وہ اندر ہال میں داخل ہوا۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔گیٹ کیپرکی بیٹری کی اندھی روشنی کے سہارے اس نے ٹٹول ٹٹول کر ایک خالی سیٹ تلاش کی اور اس پر بیٹھ گیا۔ڈزنی کا کارٹون بہت مزاحیہ تھا۔ ادھر ادھر کئی تماشائی ہنس رہے تھے۔ دفعتاً بہت ہی قریب سے اخلاق کو ایسی ہنسی سنائی دی جس کو وہ پہچانتا تھا۔ مڑ کر اس نے پیچھے دیکھا تو وہی لڑکی بیٹھی تھی۔اخلاق کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ لڑکی کے ساتھ ایک نوجوان لڑکا بیٹھا تھا۔ شکل و صورت کے اعتبار سے وہ اس کا بھائی لگتا تھا۔ اس کی موجودگی میں وہ کس طرح باربار مڑکر دیکھ سکتا تھا۔\n\nانٹرول ہوگیا۔ اخلاق کوشش کے باوجود فلم اچھی طرح نہ دیکھ سکا۔ روشنی ہوئی تو وہ اٹھا۔ لڑکی کے چہرے پر نقاب تھا۔ مگر اس مہین پردے کے پیچھے اس کی آنکھیں اخلاق کو نظر آئیں جن میں مسکراہٹ کی چمک تھی۔لڑکی کے بھائی نے سگریٹ نکال کر سلگایا۔ اخلاق نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور اس سے مخاطب ہوا،’’ذرا ماچس عنایت فرمائیے۔‘‘\n\nلڑکی کے بھائی نے اس کوماچس دے دی۔ اخلاق نے اپنا سگریٹ سلگایا اور ماچس اس کو واپس دے دی،’’ شکریہ!‘‘\n\nلڑکی کی ٹانگ ہل رہی تھی۔ اخلاق اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ فلم کا بقایا حصہ شروع ہوا۔ ایک دو مرتبہ اس نے مڑ کر لڑکی کی طرف دیکھا۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہ کرسکا۔فلم ختم ہوا۔ لوگ باہر نکلنے شروع ہوئے۔ لڑکی اور اس کا بھائی ساتھ تھے۔ اخلاق ان سے ہٹ کر پیچھے پیچھے چلنے لگا۔\n\nاسٹینڈرڈ کے پاس بھائی نے اپنی بہن سے کچھ کہا۔ ایک ٹانگے والے کو بلایا لڑکی اس میں بیٹھ گئی۔ لڑکا اسٹینڈرڈ میں چلا گیا۔ لڑکی نے نقاب میں سے اخلاق کی طرف دیکھا۔ اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ ٹانگہ چل پڑا۔\n\nاسٹینڈرڈ کے باہر اس کے تین چار دوست کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک کی سائیکل اس نے جلدی جلدی پکڑی اور ٹانگے کے تعاقب میں روانہ ہوگیا۔\n\nیہ تعاقب بڑا دلچسپ رہا۔ زور کی ہوا چل رہی تھی،لڑکی کے چہرے پر سے نقاب اٹھ اٹھ جاتی۔ سیاہ جارجٹ کا پردہ پھڑپھڑا کر اس کے سفید چہرے کی جھلکیاں دکھاتا تھا۔ کانوں میں سونے کے بڑے بڑے جھومر تھے۔ پتلے پتلے ہونٹوں پر سیاہی مائل سرخی تھی۔۔۔ اور بالائی ہونٹ پر تل۔۔۔ وہ اشد ضروری تل۔\n\nبڑے زور کا جھونکا آیا تو اخلاق کے سر پر سے ہیٹ اتر گیا اور سڑک پر دوڑنے لگا۔ ایک ٹرک گزر رہا تھا۔ اس کے و زنی پہیے کے نیچے آیا اور وہیں چت ہوگیا۔لڑکی ہنسی، اخلاق مسکرا دیا۔ گردن موڑ کر ہیٹ کی لاش دیکھی جو بہت پیچھے رہ گئی تھی اور لڑکی سے مخاطب ہو کر کہا،’’اس کو تو شہادت کا رتبہ مل گیا۔‘‘لڑکی نے منہ دوسری طرف موڑ لیا۔\n\nاخلاق تھوڑی دیر کے بعد پھر اس سے مخاطب ہوا،’’آپ کو اعتراض ہے تو واپس چلے جاتا ہوں۔‘‘ لڑکی نے اس کی طرف دیکھا مگر کوئی جواب نہ دیا۔\n\nانار کلی کی ایک گلی میں ٹانگہ رکا اور وہ لڑکی اتر کر اخلاق کی طرف بار بار دیکھتی نقاب اٹھا کر ایک مکان میں داخل ہوگئی۔ اخلاق ایک پاؤں سائیکل کے پیڈل پر اور دوسرا پاؤں دکان کے تھڑے پررکھے تھوڑی دیر کھڑا رہا۔ سائیکل چلانے ہی والا تھا کہ اس مکان کی پہلی منزل پر ایک کھڑکی کھلی۔ لڑکی نے جھانک کر اخلاق کو دیکھا۔ مگر فوراً ہی شرما کرپیچھے ہٹ گئی۔ اخلاق تقریباً آدھاگھنٹہ وہاں کھڑا رہا۔ مگر وہ پھر کھڑکی میں نمودار نہ ہوئی۔\n\nدوسرے روز اخلاق صبح سویرے انارکلی کی اس گلی میں پہنچا۔ پندرہ بیس منٹ تک ادھر ادھر گھومتا رہا۔ کھڑکی بند تھی۔ مایوس ہو کر لوٹنے والا تھا کہ ایک فالسے بیچنے والا صدا لگاتا آیا۔ کھڑکی کھلی، لڑکی سر سے ننگی نمودا ہوئی۔ اس نے فالسے والے کو آواز دی۔\n\n’’بھائی فالسے والے ذرا ٹھہرنا!‘‘ پھر اس کی نگاہیں ایک دم اخلاق پر پڑیں۔ چونک کر وہ پیچھے ہٹ گئی۔ فالسے والے نے سر پر سے چھابڑی اتاری اور بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ لڑکی سر پر دوپٹہ لیے نیچے آئی۔ اخلاق کو اس نے کنکھیوں سے دیکھا۔ شرمائی اور فالسے لیے بغیر واپس چلی گئی۔اخلاق کو یہ ادا بہت پسند آئی۔ تھوڑا سا ترس بھی آیا۔ فالسے والے نے جب اس کو گھور کے دیکھا تو وہ وہاں سے چل دیا،’’چلو آج اتنا ہی کافی ہے۔‘‘\n\nچند دن ہی میں اخلاق اور اس لڑکی میں اشارے شروع ہوگئے۔ ہر روز صبح نو بجے وہ انار کلی کی اس گلی میں پہنچتا۔ کھڑکی کھلتی وہ سلام کرتا ،وہ جواب دیتی، مسکراتی۔ ہاتھ کے اشاروں سے کچھ باتیں ہوتیں۔ اس کے بعد وہ چلی جاتی۔\n\nایک روز انگلیاں گھما کر اس نے اخلاق کو بتایا کہ وہ شام کے چھ بجے کے شو سنیما دیکھنے جارہی ہے۔ اخلاق نے اشاروں کے ذریعہ سے پوچھا،’’کون سے سینما ہاؤس میں؟‘‘اس نے جواب میں کچھ اشارے کیےمگر اخلاق نہ سمجھا۔ آخرمیں اس نے اشاروں میں کہا،’’کاغذ پر لکھ کر نیچے پھینک دو۔‘‘\n\nلڑکی کھڑکی سے ہٹ گئی۔ چند لمحات کے بعد اس نے ادھر ادھر دیکھ کرکاغذ کی ایک مڑوری سی نیچے پھینک دی۔ اخلاق نے اسے کھولا۔ لکھا تھا۔\n\n’’پلازا۔۔۔ پروین۔‘‘\n\nشام کو پلازا میں اس کی ملاقات پروین سے ہوئی۔ اس کے ساتھ اس کی سہیلی تھی۔ اخلاق اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ فلم شروع ہوا تو پروین نے نقاب اٹھا لیا۔ اخلاق سارا وقت اس کو دیکھتا رہا۔ اس کا دل دھک دھک کرتا تھا۔ انٹرول سے کچھ پہلے اس نے آہستہ سے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ وہ کانپ اٹھی۔ اخلاق نے فوراً ہاتھ اٹھا لیا۔\n\nدراصل وہ اس کو انگوٹھی دینا چاہتا تھا، بلکہ خود پہنانا چاہتا تھا جو اس نے اسی روز خریدی تھی۔ انٹرول ختم ہوا تو اس نے پھر اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کے ہاتھ پررکھ دیا وہ کانپی لیکن اخلاق نے ہاتھ نہ ہٹایا۔ تھوڑی سی دیر کے بعد اس نے انگوٹھی نکالی اور اس کی ایک انگلی میں چڑھا دی۔۔۔ وہ بالکل خاموش رہی۔ اخلاق نے اس کی طرف دیکھا۔ پیشانی اور ناک پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے تھرتھرا رہے تھے۔\n\nفلم ختم ہوا تو اخلاق اور پروین کی یہ ملاقات بھی ختم ہوگئی۔ باہر نکل کر کوئی بات نہ ہوسکی۔ دونوں سہیلیاں ٹانگے میں بیٹھیں۔ اخلاق کو دوست مل گئے۔ انھوں نے اسے روک لیا لیکن وہ بہت خوش تھا، اس لیے کہ پروین نے اس کا تحفہ قبول کرلیا تھا۔\n\nدوسرے روز مقررہ اوقات پر جب اخلاق پروین کے گھر کے پاس پہنچا تو کھڑکی کھلی تھی۔ اخلاق نے سلام کیا۔ پروین نے جواب دیا۔ اس کے داہنے ہاتھ کی انگلی میں اس کی پہنائی ہوئی انگوٹھی چمک رہی تھی۔تھوڑی دیر اشارے ہوتے رہے اس کے بعد پروین نے ادھر ادھر دیکھ کر ایک لفافہ نیچے پھینک دیا۔ اخلاق نے اٹھایا۔ کھولا تو اس میں ایک خط تھا۔ انگوٹھی کے شکریے کا۔\n\nگھر پہنچ کر اخلاق نے ایک طویل جواب لکھا۔ اپنا دل نکال کرکاغذوں میں رکھ دیا۔ اس خط کو اس نے پھول دار لفافے میں بند کیا۔ اس پر سینٹ لگایا اور دوسرے روز صبح نو بجے پروین کو دکھا کر نیچے لیٹر بکس میں ڈال دیا۔اب ان میں باقاعدہ خط و کتابت شروع ہوگئی۔ ہر خط عشق و محبت کا ایک دفتر تھا۔ ایک خط اخلاق نے اپنے خون سے لکھا جس میں اس نے قسم کھائی کہ وہ ہمیشہ اپنی محبت میں ثابت قدم رہے گا۔ اس کے جواب میں خونی تحریر ہی آئی۔ پروین نے بھی حلف اٹھایا کہ وہ مر جائے گی لیکن اخلاق کے سوا اور کسی کو شریک حیات نہیں بنائے گی۔\n\nمہینوں گزر گئے۔ اس دوران میں کبھی کبھی کسی سنیما میں دونوں کی ملاقات ہو جاتی تھیں۔ مل کربیٹھنے کا موقعہ انھیں نہیں ملتا تھا۔ پروین پر گھر کی طرف سےبہت کڑی پابندیاں عائد تھیں۔ وہ باہر نکلتی تھی یا تو اپنے بھائی کے ساتھ یا اپنی سہیلی زہرہ کے ساتھ۔ ان دو کے علاوہ اس کو اور کسی کے ساتھ باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ اخلاق نے اسے کئی مرتبہ لکھا کہ زہرہ کے ساتھ وہ کبھی اسے بارہ دری میں جہانگیر کے مقبرے میں ملے۔ مگر وہ نہ مانی۔ اس کو ڈر تھا کہ کوئی دیکھ لے گا۔\n\nاس اثنا میں اخلاق کے والدین نے اس کی شادی کی بات چیت شروع کردی۔ اخلاق ٹالتا رہا، جب انھوں نے تنگ آکر ایک جگہ بات کردی تو اخلاق بگڑ گیا ،بہت ہنگامہ ہوا۔یہاں تک کہ اخلاق کو گھر سے نکل کر ایک رات اسلامیہ کالج کی گراؤنڈ میں سونا پڑا۔ ادھر پروین روتی رہی۔ کھانے کو ہاتھ تک نہ لگایا۔\n\nاخلاق دھن کا بہت پکا تھا۔ ضدی بھی پرلے درجے کا تھا۔ گھر سے باہر قدم نکالا تو پھر ادھر رخ تک نہ کیا۔ اس کے والد نے اس کو بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانا۔ ایک دفتر میں سو روپے ماہوار پر نوکری کرلی اور ایک چھوٹا سا مکان کرایہ پر لے کررہنے لگا۔ جس میں نل تھا نہ بجلی۔\n\nادھر پروین اخلاق کی تکلیفوں کے دکھ میں گُھل رہی تھی۔ گھر میں جب اچانک اس کی شادی کی بات چیت شروع ہوئی تو اس پربجلی سی گری۔ اس نے اخلاق کو لکھا۔ وہ بہت پریشان ہوا۔ لیکن پروین کو اس نے تسلی دی کہ وہ گھبرائے نہیں۔ ثابت قدم رہے۔ عشق ان کا امتحان لے رہا ہے۔\n\nبارہ دن گزر گئے۔ اخلاق کئی بار گیا۔ مگر پروین کھڑکی میں نظر نہ آئی۔ وہ صبر و قرار کھو بیٹھا،نیند اس کی غائب ہوگئی۔ اس نے دفتر جانا چھوڑ دیا۔ زیادہ ناغے ہوئے تو اس کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔ اس کو کچھ ہوش نہیں تھا۔ برطرفی کا نوٹس ملا تو وہ سیدھا پروین کے مکان کی طرف چل پڑا۔ پندرہ دنوں کے طویل عرصے کے بعد اسے پروین نظر آئی وہ بھی ایک لحظے کے لیے۔ جلدی سے لفافہ پھینک کر وہ چلی گئی۔\n\nخط بہت طویل تھا۔ پروین کی غیر حاضری کا باعث یہ تھا کہ اس کا باپ اس کو ساتھ گوجرانوالہ لے گیا تھا جہاں اس کی بڑی بہن رہتی تھی۔ پندرہ دن وہ خون کے آنسو روتی رہی۔ اس کا جہیز تیار کیا جارہا تھا لیکن اس کو محسوس ہوتا تھا کہ اس کے لیے رنگ برنگے کفن بن رہے ہیں۔ خط کے آخر میں لکھا۔ تاریخ مقرر ہو چکی ہے۔۔۔ میری موت کی تاریخ مقرر ہو چکی ہے۔ میں مرجاؤں گی۔۔۔ میں ضرور کچھ کھا کے مر جاؤں گی۔ اس کے سوا اور کوئی راستہ مجھے دکھائی نہیں دیتا۔۔۔ نہیں نہیں ایک اور راستہ بھی ہے۔۔۔ لیکن میں کیا اتنی ہمت کرسکوں گی۔ تم بھی اتنی ہمت کرسکو گے۔۔۔ میں تمہارے پاس چلی آؤں گی۔۔۔ مجھے تمہارے پاس آنا ہی پڑے گا۔ تم نے میرے لیے گھر بار چھوڑا۔ میں تمہارے لیے یہ گھر نہیں چھوڑ سکتی جہاں میری موت کے سامان ہورہے ہیں۔۔۔ لیکن میں بیوی بن کر تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔ تم شادی کا بندوبست کرلو۔ میں صرف تین کپڑوں میں آؤں گی۔ زیور وغیرہ سب اتار کر یہاں پھینک دوں گی۔۔۔جواب جلدی دو، ہمیشہ تمہاری۔ پروین۔\n\nاخلاق نے کچھ نہ سوچا، فوراً اس کو لکھا،’’میری باہیں تمہیں ا پنے آغوش میں لینے کے لیے تڑپ رہی ہیں۔ میں تمہاری عزت و عصمت پر کوئی حرف نہیں آنے دوں گا۔ تم میری رفیقہ حیات بن کے رہو گی۔ زندگی بھر میں تمہیں خوش رکھوں گا۔‘‘ایک دو خط اور لکھے گئے اس کے بعد طے کیا کہ پروین بدھ کو صبح سویرے گھر سے سے نکلے گی۔ اخلاق ٹانگہ لے کرگلی کے نکڑ پر اس کا انتظار کرے۔\n\nبدھ کو منہ اندھیرے اخلاق ٹانگے میں وہاں پہنچ کر پروین کا انتظار کرنے لگا۔ پندرہ بیس منٹ گزر گئے۔ اخلاق کا اضطراب بڑھ گیا۔ لیکن وہ آگئی۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ گلی میں نمودار ہوئی۔ چال میں لڑکھڑاہٹ تھی۔ جب وہ ٹانگے میں اخلاق کے ساتھ بیٹھی تو سرتا پا کانپ رہی تھی۔ اخلاق خود بھی کانپنے لگا۔گھر پہنچے تو اخلاق نے بڑے پیارسے اس کے برقعے کی نقاب اٹھائی اور کہا،’’میری دولہن کب تک مجھ سے پردہ کرے گی۔‘‘\n\nپروین نے شرما کر آنکھیں جھکا لیں، اس کا رنگ زرد تھا ،جسم ابھی تک کانپ رہا تھا۔ اخلاق نے بالائی ہونٹ کے تل کی طرف دیکھا تو اس کے ہونٹوں میں ایک بوسہ تڑپنے لگا۔ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھام کر اس نے تل والی جگہ کو چوما۔ پروین نےنہ نہ کی، اس کے ہونٹ کھلے۔ دانتوں میں گوشت خورہ تھا۔ مسوڑھے گہرے نیلے رنگ کے تھے۔ گلے ہوئے۔ سڑاند کا ایک بھبکا اخلاق کی ناک میں گھس گیا۔ ایک دھکا سا اس کو لگا۔ ایک اور بھبکا پروین کے منہ سے نکلا تو وہ ایک دم پیچھے ہٹ گیا۔\n\nپروین نے حیا آلود آواز میں کہا،’’شادی سے پہلے آپ کو ایسی باتوں کا حق نہیں پہنچتا۔‘‘\n\nیہ کہتے ہوئے اس کے گلے ہوئے مسوڑھے نمایاں ہوئے۔ اخلاق کے ہوش و حواس غائب تھے، دماغ سن ہوگیاتھا۔ دیر تک وہ دونوں پاس بیٹھے رہے۔ اخلاق کو کوئی بات نہیں سوجھتی تھی۔ پروین کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں۔ جب اس نے انگلی کا ناخن کاٹنے کے لیے ہونٹ کھولے تو پھر ان گلے ہوئے مسوڑوں کی نمائش ہوئی۔ بو کا ایک بھبکا نکلا۔ اخلاق کو متلی آنے لگی۔ اٹھا اور ’’ابھی آیا‘‘ کہہ کر باہر نکل گیا۔ ایک تھڑے پر بیٹھ کر اس نے بہت دیر سوچا۔ جب کچھ سمجھ میں نہ آیا تو لائل پور روانہ ہوگیا۔ جہاں اس کا ایک دوست رہتا تھا۔ اخلاق نے سارا واقعہ سنایا تو اس نے بہت لعن طعن کی اور اس سے کہا،’’فوراً واپس چاؤ۔ کہیں بے چاری خود کشی نہ کرلے۔‘‘\n\nاخلاق رات کو واپس لاہور آیا۔ گھرمیں داخل ہواتو پروین موجود نہیں تھی۔۔۔ پلنگ پر تکیہ پڑا تھا۔ اس پر دو گول گول نشان تھے۔ گیلے!\n\nاس کے بعد اخلاق کو پروین کہیں نظر نہ آئی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C"} {"title": "عشق خود مائل حجاب ہے آج", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق خود مائل حجاب ہے آج\nحسن مجبور اضطراب ہے آج\n\nمے کدہ غم کدہ ہے تیرے بغیر\nسرنگوں شیشۂ شراب ہے آج\n\nمتغیر ہے عالم جذبات\nکون اس دل میں باریاب ہے آج\n\nزندگی جس میں سانس لیتی تھی\nوہ زمانہ خیال و خواب ہے آج\n\nمٹ گئے دل کے ولولے سیمابؔ\nختم افسانۂ شباب ہے آج", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "عشق دہن میں گزری ہے کیا کچھ نہ پوچھئے", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق دہن میں گزری ہے کیا کچھ نہ پوچھئے\nنا گفتنی ہے حال مرا کچھ نہ پوچھئے\n\nکیا درد عشق کا ہے مزا کچھ نہ پوچھئے\nکہتا ہے دل کسی سے دوا کچھ نہ پوچھئے\n\nمحشر کے دغدغے کا میں احوال کیا کہوں\nہنگامہ جو ہوا سو ہوا کچھ نہ پوچھئے\n\nجب پوچھئے تو پوچھئے کیا گزری عشق میں\nہم سے تو اور اس کے سوا کچھ نہ پوچھئے\n\nکیا کیا یہ سبز باغ دکھاتی ہے نزع میں\nدم دے رہی ہے جو جو قضا کچھ نہ پوچھئے\n\nپوچھا جو ہم نے گور غریباں کا جا کے حال\nآئی یہ تربتوں سے صدا کچھ نہ پوچھئے\n\nقسمت سے پائیے جو کبھی اس کو خوش مزاج\nکیا کچھ نہ کہئے یار سے کیا کچھ نہ پوچھئے\n\nرگڑی ہیں ایڑیاں تو ہوئی ہے یہ مستجاب\nکس عاجزی سے کی ہے دعا کچھ نہ پوچھئے\n\nچھوڑا جو مردہ جان کے صیاد نے مجھے\nکیوں کر اڑا میں ہو کے رہا کچھ نہ پوچھئے\n\nترسا کیا میں دولت دیدار کے لیے\nقسمت نے جو سلوک کیا کچھ نہ پوچھئے\n\nالفت کا نام لے کے نظر بند ہو گئے\nپائی جو پیار کر کے سزا کچھ نہ پوچھئے\n\nکیا سرگزشت گور غریباں کی میں کہوں\nاحوال بندگان خدا کچھ نہ پوچھئے\n\nخوشبو نے آپ کی جو سرافراز اسے کیا\nکس ناز سے چلی ہے صبا کچھ نہ پوچھئے\n\nپوچھا شرفؔ کے مرنے کا ان سے جو واقعہ\nآنکھوں میں اشک بھر کے کہا کچھ نہ پوچھئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AF%DB%81%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A6%DB%92"} {"title": "عشق رخ و زلف میں کیا کوچ", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق رخ و زلف میں کیا کوچ\nشب آ کے رہا سحر کیا کوچ\n\nخیاط نفس کا ہے بجا کوچ\nدرزی کا ہے کیا مقام کیا کوچ\n\nجب موج رواں کہیں نہ ٹھہری\nدم لے کے حباب کر گیا کوچ\n\nہر دم ہے روا نہ عمر انساں\nہر ایک نفس ہے کر رہا کوچ\n\nپروانہ جلا تو شمع بولی\nتیرا ہے ادھر ادھر مرا کوچ\n\nوہ سوزن ساعت رواں ہوں\nکرتی ہے جو ہر منٹ سدا کوچ\n\nگھنگھرو دم نزع بولتا ہے\nآواز جرس نے دی ہوا کوچ\n\nہم ساتھ تھے پا شکستہ جس کے\nلشکر وہ جہاں سے کر گیا کوچ\n\nشب بھر ہے فروغ شعلہ اے شادؔ\nہنگام سحر ہے شمع کا کوچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B1%D8%AE_%D9%88_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D9%88%DA%86"} {"title": "عشق ستم پرست کیا حسن ستم شعار کیا", "poet_page": "مصنف:باسط بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق ستم پرست کیا حسن ستم شعار کیا\nہم بھی انہیں کے ہیں تو پھر اپنا بھی اعتبار کیا\n\nعشرت زیست کی قسم عشرت مستعار کیا\nغم بھی جو مستقل نہ ہو غم کا بھی اعتبار کیا\n\nمٹتی ہوئی حیات کیا لٹتی ہوئی بہار کیا\nیعنی قریب صبح غم شمع کا اعتبار کیا\n\nیاد سے ان کی کام رکھ درد کا اہتمام رکھ\nموت بھی آ ہی جائے گی موت کا انتظار کیا\n\nبڑھتی رہیں گی تا بہ کے اہل جنوں کی وحشتیں\nچھپتے رہیں گے وہ پس آئینۂ بہار کیا\n\nقیمت کائنات کیا ان کی نگاہ ناز میں\nفتنۂ حشر کے لئے فتنۂ روزگار کیا\n\nراہ دراز جبر ہے کہتے ہیں جس کو زندگی\nراہ دراز جبر میں منزل اختیار کیا\n\nاتنا بھی انتظار دوست ہائے یہ اعتبار دوست\nاے دل بیقرار دوست دوست پہ اختیار کیا\n\nعشق سے سر گراں نہ ہو حسن سے بد گماں نہ ہو\nجس کے لئے خزاں نہ ہو اس کے لئے بہار کیا\n\nیاد میں تیری پا لیا میں نے سکون زندگی\nاب تری یاد میں مجھے چین کیا قرار کیا\n\nمیری نظر سے دیکھیے اپنا جمال بے مثال\nچشم بہار ساز میں آئینۂ بہار کیا\n\nمیری وفا وفا نہیں ان کی جفا جفا نہیں\nہائے اسی کا نام ہے عالم اعتبار کیا\n\nباسطؔ فگار کی یاد بھی کیا نہ آئے گی\nاب نہ سنیں گے ہم وطن نالۂ بے قرار کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عشق سے بچ کے کدھر جائیں گے ہم", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق سے بچ کے کدھر جائیں گے ہم\nہے یہ موجود جدھر جائیں گے ہم\n\nتن کے بس رکھئے قبضہ پر ہاتھ\nدیکھیے مفت میں ڈر جائیں گے ہم\n\nتیری دہلیز پر اپنے سر کو\nایک دن کاٹ کے دھر جائیں گے ہم\n\nوہ یہ کہتے ہیں نہ دے دل ہم کو\nدیکھ لیتے ہی مکر جائیں گے ہم\n\nمنع کرتے ہو عبث یارو آج\nاس کے گھر جائیں گے پر جائیں گے ہم\n\nدل کی لینی ہے خبر ہم کو ضرور\nآج تو پھر بھی ادھر جائیں گے ہم\n\nدم کہیں لیں گے نہ پھر تا بہ عدم\nتیرے کوچہ سے اگر جائیں گے ہم\n\nتو نہ گزرے گا جفا سے ظالم\nجان سے اپنی گزر جائیں گے ہم\n\nزیست باقی ہے تو اپنا رنگیںؔ\nنام اس عشق میں کر جائیں گے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%86_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زِیر و بم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زِیر و بم\nعشق سے مٹّی کی تصویروں میں سوزِ وم بہ دم\n\nآدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق\nشاخِ گُل میں جس طرح بادِ سحَرگاہی کا نَم\n\nاپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاجِ ملوک\nاور پہچانے تو ہیں تیرے گدا دارا و جم\n\nدل کی آزادی شہنشاہی، شِکَم سامانِ موت\nفیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم!\n\nاے مسلماں! اپنے دل سے پُوچھ، مُلّا سے نہ پوچھ\nہوگیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%90%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%A8%D9%85"} {"title": "عشق سے کچھ کام نے کچھ کوئے جاناں سے غرض", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق سے کچھ کام نے کچھ کوئے جاناں سے غرض\nگل سے مطلب ہے نہ کچھ خار بیاباں سے غرض\n\nعشق کی سرکار کو بے باک بالکل کر چکے\nاب نہ کچھ زنجیر سے مطلب نہ زنداں سے غرض\n\nکس سے ہم جھگڑیں نہیں اپنا کسی ملت میں میل\nعشق کے بندے کو کیا گبر و مسلماں سے غرض\n\nعالم وحشت میں عریانی کا جامہ چاہئے\nکام ہاتھوں کو گریباں سے نہ داماں سے غرض\n\nتیری نظروں میں نہ ٹھہرے گا یہ روئے آفتاب\nتجھ کو اے اخترؔ نہ ہوگی ماہ تاباں سے غرض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%B1%D8%B6"} {"title": "عشق سے کی یہ دل خالی نے بھر جانے میں دھوم", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق سے کی یہ دل خالی نے بھر جانے میں دھوم\nڈالے جیوں کم ظرف مے کے ایک دو پیمانے میں دھوم\n\nشور تب بستی میں تھا اطفال کے پتھراؤ کا\nاب دوانے دل نے ڈالا جا کے ویرانے میں دھوم\n\nدل سیہ مست جنوں ہے جب سے یوں ڈالا ہے شور\nجیوں ہو فیل مست کی زنجیر کھل جانے میں دھوم\n\nدل میں یوں آتی ہے تیری یاد اے یار عزیز\nمصر میں جیوں حضرت یوسف کی تھی آنے میں دھوم\n\nکم نما رہتا ہے تو ہم سے ہلال عید سا\nجچ گئی دل میں تری ابرو نظر آنے میں دھوم\n\nعشقؔ کے داغوں نے کی ہے دل کے گلشن میں بہار\nہوگی کیا لالہ کی یاں تشریف فرمانے میں دھوم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%85"} {"title": "عشق صادق جو اسیر طمع خام نہ تھا", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "عشق صادق جو اسیر طمع خام نہ تھا\nسعیٔ ناکام کے غم سے مجھے کچھ کام نہ تھا\n\nطور کے لطف خصوصی کی قسم پہلے بھی\nمیرے دل پر اثر جلوہ گہ عام نہ تھا\n\nدوست کے حسن توجہ سے نہیں شاداب تک\nنگہ غم زدہ میں کیا کوئی پیغام نہ تھا\n\nحسرت خوں شدہ ہر آن نئی شان میں تھی\nرنگ جو صبح کو دیکھا وہ سر شام نہ تھا\n\nدل لگی ہم سے کئے جاتے ہیں کیوں عیش پسند\nکیا یہاں سوختہ کاموں کا کوئی کام نہ تھا\n\nجانتا تھا جسے اپنی اسی محفل میں گیا\nجا کے غیروں کی طرح منتظر جام نہ تھا\n\nمے گساری کے لئے مل گئے ہم ذوق بہت\nغم گساری کے لئے کوئی بھی ہم کام نہ تھا\n\nاس زمانے میں بھی الہام ہے منظورؔ کا شعر\nمیں کسی دور میں حسرت کش الہام نہ تھا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B5%D8%A7%D8%AF%D9%82_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%B7%D9%85%D8%B9_%D8%AE%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "عشق صادق نے دکھایا یہ اثر آپ سے آپ", "poet_page": "مصنف:منشی شیو پرشاد وہبی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وہبی (1870)", "year": "1870", "text_ur": "عشق صادق نے دکھایا یہ اثر آپ سے آپ\nہو گئی ان کو مرے دل کی خبر آپ سے آپ\n\nچشم جاناں کی اگر یاد نہیں آئی ہے\nآ گئے جوش پہ کیوں دیدۂ تر آپ سے آپ\n\nکچھ مزہ پڑ گیا ہے ان کو کہ بے وجہ و سبب\nوصل کی شب وہ کیا کرتے ہیں شر آپ سے آپ\n\nخفتہ بختی مری دکھلاتی ہے تاثیر اپنی\nبجنے لگتا ہے شب وصل گجر آپ سے آپ\n\nنہ موذن نے اذاں دی نہ ابھی توپ چلی\nدفعتاً بول اٹھا مرغ سحر آپ سے آپ\n\nبخدا ان کی طرف سے نہیں کچھ خواہش تھی\nجان کا اپنی کیا ہم نے ضرر آپ سے آپ\n\nغیر کو تم نے بٹھایا تو نہیں پہلو میں\nآج اٹھتا ہے یہ کیوں درد جگر آپ سے آپ\n\nجذب الفت تری تاثیر کا تب قائل ہوں\nدیں تو وہ بوسۂ لب مجھ کو مگر آپ سے آپ\n\nللہ الحمد کیا آہ نے اتنا تو اثر\nبے طلب وہ چلے آئے مرے گھر آپ سے آپ\n\nہوگی تاثیر جو نالوں میں تمہارے وہبیؔ\nتو چلا آئے گا وہ رشک قمر آپ سے آپ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B5%D8%A7%D8%AF%D9%82_%D9%86%DB%92_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%A2%D9%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثلِ ہوَس", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثلِ ہوَس\nپرِ شہباز سے ممکن نہیں پروازِ مگَس\nیوں بھی دستورِ گُلستاں کو بدل سکتے ہیں\nکہ نشیمن ہو عنادل پہ گراں مثلِ قفَس\nسفر آمادہ نہیں منتظرِ بانگِ رحیل\nہے کہاں قافلۂ موج کو پروائے جرَس!\nگرچہ مکتب کا جواں زندہ نظر آتا ہے\nمرُدہ ہے، مانگ کے لایا ہے فرنگی سے نفَس\nپرورِش دل کی اگر مدِّ نظر ہے تجھ کو\nمردِ مومن کی نگاہِ غلط انداز ہے بس!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B7%DB%8C%D9%86%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%B1%D9%88%D9%85%D8%A7%DB%8C%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AB%D9%84%D9%90_%DB%81%D9%88%D9%8E%D8%B3"} {"title": "عشق عشق ہو شاید حسن میں فنا ہو کر", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق عشق ہو شاید حسن میں فنا ہو کر\nانتہا ہوئی غم کی دل کی ابتدا ہو کر\n\nدل ہمیں ہوا حاصل درد میں فنا ہو کر\nعشق کا ہوا آغاز غم کی انتہا ہو کر\n\nنامراد رہنے تک نامراد جیتے ہیں\nسانس بن گیا اک ایک نالہ نارسا ہو کر\n\nاب ہوئی زمانہ میں شیوۂ وفا کی قدر\nعالم آشنا ہے وہ دشمن وفا ہو کر\n\nاور بندے ہیں جن کو دعوی خدائی ہے\nتھی ہماری قسمت میں بندگی خدا ہو کر\n\nعمر خضر کے انداز ہر نفس میں پاتا ہوں\nزندگی نئی پائی آپ سے جدا ہو کر\n\nبڑھتا ہے نہ گھٹتا ہے مرتے ہیں نہ جیتے ہیں\nدرد پر خدا کی مار دل میں رہ گیا ہو کر\n\nکارگاہ حسرت کا حشر کیا ہوا یا رب\nداغ دل پہ کیا گزری نقش مدعا ہو کر\n\nعشق سے ہوئے آگاہ صبر کی بھی حد دیکھی\nخاک میں ملا دوگے دیر آشنا ہو کر\n\nکی قضائے مبرم نے زندگی کی غم خواری\nدرد کی دوا پہنچی درد بے دوا ہو کر\n\nزندگی سے ہو بے زار فانیؔ اس سے کیا حاصل\nموت کو منا لوگے جان سے خفا ہو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%88_%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%AF_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیں", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیں\nزندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیں\n\nبیکراں ہوتا نہیں بے انتہا ہوتا نہیں\nقطرہ جب تک بڑھ کے قلزم آشنا ہوتا نہیں\n\nاس سے بڑھ کر دوست کوئی دوسرا ہوتا نہیں\nسب جدا ہو جائیں لیکن غم جدا ہوتا نہیں\n\nزندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہ\nموت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں\n\nکون یہ ناصح کو سمجھائے بہ طرز دل نشیں\nعشق صادق ہو تو غم بھی بے مزا ہوتا نہیں\n\nدرد سے معمور ہوتی جا رہی ہے کائنات\nاک دل انساں مگر درد آشنا ہوتا نہیں\n\nمیرے عرض غم پہ وہ کہنا کسی کا ہائے ہائے\nشکوۂ غم شیوۂ اہل وفا ہوتا نہیں\n\nاس مقام قرب تک اب عشق پہنچا ہی جہاں\nدیدہ و دل کا بھی اکثر واسطا ہوتا نہیں\n\nہر قدم کے ساتھ منزل لیکن اس کا کیا علاج\nعشق ہی کم بخت منزل آشنا ہوتا نہیں\n\nاللہ اللہ یہ کمال اور ارتباط حسن و عشق\nفاصلے ہوں لاکھ دل سے دل جدا ہوتا نہیں\n\nکیا قیامت ہے کہ اس دور ترقی میں جگرؔ\nآدمی سے آدمی کا حق ادا ہوتا نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%84%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D8%AF%D9%88%D8%AF_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی\nمیری وحشت تری شہرت ہی سہی\n\nقطع کیجے نہ تعلق ہم سے\nکچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی\n\nمیرے ہونے میں ہے کیا رسوائی\nاے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی\n\nہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے\nغیر کو تجھ سے محبت ہی سہی\n\nاپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو\nآگہی گر نہیں غفلت ہی سہی\n\nعمر ہرچند کہ ہے برق خرام\nدل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی\n\nہم کوئی ترک وفا کرتے ہیں\nنہ سہی عشق مصیبت ہی سہی\n\nکچھ تو دے اے فلک ناانصاف\nآہ و فریاد کی رخصت ہی سہی\n\nہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے\nبے نیازی تری عادت ہی سہی\n\nیار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ\nگر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "عشق معشوق کا ہے پیدائی", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "عشق معشوق کا ہے پیدائی\nعاشقی نے یہ شکل دکھلائی\nعشق و معشوق دونوں عاشق ہیں\nخود تماشا و خود تماشائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%D8%B9%D8%B4%D9%88%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "عشق میں آ کہ عقل کوں کھوناں", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق میں آ کہ عقل کوں کھوناں\nباخرد ہو کے بے خرد ہوناں\n\nفرش مخمل سیں مجھ کوں بہتر ہے\nغم کے کانٹوں کی سیج پر سوناں\n\nابر رحمت ہے بیج وحدت کا\nکنج مخفی کے کھیت میں بوناں\n\nخندۂ گل ہے گریۂ شبنم\nہے ہنسی یار کی مرا روناں\n\nروپ درسن دکھا اے سیمیں تن\nنہیں تو جاتا ہے ہات سیں سوناں\n\nگرد غم سیں جو دل ہوا میلا\nاپنے آنسو کے آب سیں دھوناں\n\nشوخ جادو ادا نے مجھ پہ سراجؔ\nگردش چشم سوں کیا ٹوناں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2_%DA%A9%DB%81_%D8%B9%D9%82%D9%84_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%86%D8%A7%DA%BA"} {"title": "عشق میں اول فنا درکار ہے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق میں اول فنا درکار ہے\nدل سیں ترک ماسوا درکار ہے\n\nترک مقصد عین مقصد ہے اسے\nجس کوں دل کا مدعا درکار ہے\n\nدل بتنگ آیا ہے اب لازم ہے آہ\nغنچۂ گل کوں صبا درکار ہے\n\nزخمیٔ غم کیوں نہ کھینچے آہ درد\nحلق بسمل کوں صدا درکار ہے\n\nوصف زلف یار کا آساں نہیں\nرشتۂ فکر رسا درکار ہے\n\nہے لب ساقی میں چشمہ خضر کا\nگر تجھے آب بقا درکار ہے\n\nرنگ میرا کان زر ہے اے صنم\nمجھ سیں آ مل گر طلا درکار ہے\n\nگوشۂ ابرو دکھا اے قبلہ رو\nمجھ کوں محراب دعا درکار ہے\n\nدل رقیبوں کا جلانے اے سراجؔ\nآتشیں رو دل ربا درکار ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D9%84_%D9%81%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشق میں تیرے کوہ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو", "poet_page": "مصنف:شاہ نیاز احمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق میں تیرے کوہ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو\nعیش‌ و نشاط زندگی چھوڑ دیا جو ہو سو ہو\n\nعقل کے مدرسے سے ہو عشق کے مے کدہ میں آ\nجام فنا و بے خودی اب تو پیا جو ہو سو ہو\n\nلاگ کی آگ لگ اٹھی پنبہ طرح سا جل گیا\nرخت و جود جان و تن کچھ نہ بچا جو ہو سو ہو\n\nہجر کی سب مصیبتیں عرض کیں اس کے روبرو\nناز و ادا سے مسکرا کہنے لگا جو ہو سو ہو\n\nدنیا کے نیک و بد سے کام ہم کو نیازؔ کچھ نہیں\nآپ سے جو گزر گیا پھر اسے کیا جو ہو سو ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DB%81_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%88"} {"title": "عشق میں دل بن کے دیوانہ چلا", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق میں دل بن کے دیوانہ چلا\nآشنا سے ہو کے بیگانہ چلا\n\nقلقل مینا سے آتی ہے صدا\nبھر چکا جس وقت پیمانہ چلا\n\nبے زبانوں کو بھی آئی ہے زباں\nبیڑی غل کرتی ہے دیوانہ چلا\n\nعشق بازی بازئ شطرنج ہے\nچال ناداں رہ گیا دانہ چلا\n\nشب جو آیا بزم میں وہ شعلہ رو\nشمع گل کرنے کو پروانہ چلا\n\nبوئے گل غنچہ سے کہتی ہے نسیمؔ\nبات نکلی منہ سے افسانہ چلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%86%D9%84%D8%A7"} {"title": "عشق میں دل لگی سی رہتی ہے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق میں دل لگی سی رہتی ہے\nغم بھی ہو تو خوشی سی رہتی ہے\n\nدل میں کچھ گدگدی سی رہتی ہے\nمنہ پر ان کے ہنسی سی رہتی ہے\n\nیہ ہوا ہے خدا خدا کر کے\nرات دن بے خودی سی رہتی ہے\n\nحشر کے دن بھی کچھ گنہ کر لوں\nمعصیت میں کمی سی رہتی ہے\n\nصدقے میں اپنے غنچہ دل کے\nیہ کلی کچھ کھلی سی رہتی ہے\n\nاتنی پی ہے کہ بعد توبہ بھی\nبے پیے بے خودی سی رہتی ہے\n\nعیش بھی ہو تو لطف عیش نہیں\nہر دم افسردگی سی رہتی ہے\n\nشب غم کی سحر میں نور کہاں\nصبح بھی شام ہی سی رہتی ہے\n\nیہ نہیں ہے کہ پردہ پڑ جائے\nنشہ میں آگہی سی رہتی ہے\n\nرہتے ہیں گل لحد کے پژمردہ\nشمع بھی کچھ بجھی سی رہتی ہے\n\nہو گئی کیا بلا مرے گھر کو\nرات دن تیرگی سی رہتی ہے\n\nاب جنوں کی عوض ہے یاد جنوں\nہاتھ میں ہتھکڑی سی رہتی ہے\n\nکف پا سے حنا نہیں چھٹتی\nآگ یہ کچھ دبی سی رہتی ہے\n\nتیری تصویر ہو کہ تیغ تری\nہم سے ہر دم کھنچی سی رہتی ہے\n\nبدلے بوتل کے اب حرم میں ریاضؔ\nہاتھ میں زمزمی سی رہتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشق میں دوستو مزا بھی ہے", "poet_page": "مصنف:رنج حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > مخبر عشق (1895)", "year": "1895", "text_ur": "عشق میں دوستو مزا بھی ہے\nسخت آفت بھی ہے بلا بھی ہے\n\nبوسہ تو مل چکا مجھے سرکار\nمیری اک اور التجا بھی ہے\n\nمجھ سا عاشق کہو خدا کی قسم\nکوئی دنیا میں دوسرا بھی ہے\n\nوعدہ کر کے بتو نہ ہم سے پھرو\nکچھ تو دل میں ڈرو خدا بھی ہے\n\nتیرے اس جور کی ہے کچھ حد بھی\nاس ستم کی کچھ انتہا بھی ہے\n\nآج جاتا ہوں اس کے کوچے کو\nساتھ میرے مری قضا بھی ہے\n\nمجھ سے کہتے ہیں اب ترے دل میں\nاور کوئی مرے سوا بھی ہے\n\nایسے معشوق ہوتے ہیں کم یاب\nبا وفا بھی وہ با حیا بھی ہے\n\nمیں نے چھیڑا جو بزم میں تو کہا\nبے حیا تجھ کو کچھ حیا بھی ہے\n\nسچ کہو رنجؔ سا کوئی شاعر\nحیدرآباد میں ہوا بھی ہے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B2%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی\nآخر آخر جان دی یاروں نے یہ صحبت ہوئی\n\nعکس اس بے دید کا تو متصل پڑتا تھا صبح\nدن چڑھے کیا جانوں آئینے کی کیا صورت ہوئی\n\nلوح سینہ پر مری سو نیزۂ خطی لگے\nخستگی اس دل شکستہ کی اسی بابت ہوئی\n\nکھولتے ہی آنکھیں پھر یاں موندنی ہم کو پڑیں\nدید کیا کوئی کرے وہ کس قدر مہلت ہوئی\n\nپاؤں میرا کلبۂ احزاں میں اب رہتا نہیں\nرفتہ رفتہ اس طرف جانے کی مجھ کو لت ہوئی\n\nمر گیا آوارہ ہو کر میں تو جیسے گرد باد\nپر جسے یہ واقعہ پہنچا اسے وحشت ہوئی\n\nشاد و خوش طالع کوئی ہوگا کسو کو چاہ کر\nمیں تو کلفت میں رہا جب سے مجھے الفت ہوئی\n\nدل کا جانا آج کل تازہ ہوا ہو تو کہوں\nگزرے اس بھی سانحے کو ہم نشیں مدت ہوئی\n\nشوق دل ہم نا توانوں کا لکھا جاتا ہے کب\nاب تلک آپ ہی پہنچنے کی اگر طاقت ہوئی\n\nکیا کف دست ایک میداں تھا بیاباں عشق کا\nجان سے جب اس میں گزرے تب ہمیں راحت ہوئی\n\nیوں تو ہم عاجز ترین خلق عالم ہیں ولے\nدیکھیو قدرت خدا کی گر ہمیں قدرت ہوئی\n\nگوش زد چٹ پٹ ہی مرنا عشق میں اپنے ہوا\nکس کو اس بیماری جانکاہ سے فرصت ہوئی\n\nبے زباں جو کہتے ہیں مجھ کو سو چپ رہ جائیں گے\nمعرکے میں حشر کے گر بات کی رخصت ہوئی\n\nہم نہ کہتے تھے کہ نقش اس کا نہیں نقاش سہل\nچاند سارا لگ گیا تب نیم رخ صورت ہوئی\n\nاس غزل پر شام سے تو صوفیوں کو وجد تھا\nپھر نہیں معلوم کچھ مجلس کی کیا حالت ہوئی\n\nکم کسو کو میرؔ کی میت کی ہاتھ آئی نماز\nنعش پر اس بے سر و پا کی بلا کثرت ہوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B0%D9%84%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AE%D9%81%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%DB%81%D9%85%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "عشق میں زور عمر بھر مارا", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق میں زور عمر بھر مارا\nعاقبت کوہ کن نے سر مارا\n\nنالۂ دل نے خوشنوائی میں\nطعنۂ صوت ہزار پر مارا\n\nزخم پنہاں دل و جگر میں نہیں\nنہ کھلا کیا ادھر ادھر مارا\n\nمجھ کو گھڑیالیوں نے ہجر کی رات\nبے بجاے ہوئے گجر مارا\n\nدہنے بائیں ملک ہیں دیکھ نہ لیں\nاس لیے دیکھ بھال کر مارا\n\nسادگی پر مٹے ہوئے تھے یوں ہی\nاور بھی اس نے بن سنور مارا\n\nمر مٹوں کا پتا کہیں نہ لگا\nبے نشانوں کا ڈھونڈھ گھر مارا\n\nچشم تر نے بہا کے جوے سرشک\nموج دریا کو دھار پر مارا\n\nہم وہ ہیں کشتۂ تمنا شادؔ\nخواہش دل کو عمر بھر مارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%88%D8%B1_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "عشق میں صبر و رضا درکار ہے", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق میں صبر و رضا درکار ہے\nفکر اسباب وفا درکار ہے\n\nچاک کرنے جامۂ صبر و قرار\nدلبر رنگیں قبا درکار ہے\n\nہر صنم تسخیر دل کیونکر سکے\nدل ربائی کوں ادا درکار ہے\n\nزلف کوں وا کر کہ شاہ عشق کوں\nسایۂ بال ہما درکار ہے\n\nرکھ قدم مجھ دیدۂ خوں بار پر\nگر تجھے رنگ حنا درکار ہے\n\nدیکھ اس کی چشم شہلا کوں اگر\nنرگس باغ حیا درکار ہے\n\nعزم اس کے وصل کا ہے اے ولیؔ\nلیکن امداد خدا درکار ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D9%88_%D8%B1%D8%B6%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگ", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگ\nماہتاب آفتاب ہیں ہم لوگ\n\nگرچہ اہل شراب ہیں ہم لوگ\nیہ نہ سمجھو خراب ہیں ہم لوگ\n\nشام سے آ گئے جو پینے پر\nصبح تک آفتاب ہیں ہم لوگ\n\nہم کو دعوائے عشق بازی ہے\nمستحق عذاب ہیں ہم لوگ\n\nناز کرتی ہے خانہ ویرانی\nایسے خانہ خراب ہیں ہم لوگ\n\nہم نہیں جانتے خزاں کیا ہے\nکشتگان شباب ہیں ہم لوگ\n\nتو ہمارا جواب ہے تنہا\nاور تیرا جواب ہیں ہم لوگ\n\nتو ہے دریائے حسن و محبوبی\nشکل موج و حباب ہیں ہم لوگ\n\nگو سراپا حجاب ہیں پھر بھی\nتیرے رخ کی نقاب ہیں ہم لوگ\n\nخوب ہم جانتے ہیں اپنی قدر\nتیرے نا کامیاب ہیں ہم لوگ\n\nہم سے غفلت نہ ہو تو پھر کیا ہو\nرہرو ملک خواب ہیں ہم لوگ\n\nجانتا بھی ہے اس کو تو واعظ\nجس کے مست و خراب ہیں ہم لوگ\n\nہم پہ نازل ہوا صحیفۂ عشق\nصاحبان کتاب ہیں ہم لوگ\n\nہر حقیقت سے جو گزر جائیں\nوہ صداقت مآب ہیں ہم لوگ\n\nجب ملی آنکھ ہوش کھو بیٹھے\nکتنے حاضر جواب ہیں ہم لوگ\n\nہم سے پوچھو جگرؔ کی سر مستی\nمحرم آں جناب ہیں ہم لوگ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%84%D9%88%DA%AF"} {"title": "عشق میں مجھ کو بگڑ کر اب سنورنا آ گیا", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق میں مجھ کو بگڑ کر اب سنورنا آ گیا\nہو گیا ناکام لیکن کام کرنا آ گیا\n\nیہ اگر سچ ہے کہ مجھ کو عشق کرنا آ گیا\nتو سمجھ لو روز جینا روز مرنا آ گیا\n\nدعویٰ عشق و وفا پر مجھ کو مرنا آ گیا\nکہہ گزرنے کی جگہ اب کر گزرنا آ گیا\n\nورطۂ دریائے غم نے ایسے غوطے دے دیے\nڈوبنا پھر ڈوب کر مجھ کو ابھرنا آ گیا\n\nچند خوں آلودہ آنسو جذب دامن ہو گئے\nپیکر سادہ میں غم کو رنگ بھرنا آ گیا\n\nشیوۂ عشق و وفا میں ہم کو ناکامی سہی\nکم سے کم یہ تو ہوا بے موت مرنا آ گیا\n\nشوق سے ظلم و ستم اب روز ڈھاتے جائیے\nاہل غم کو غم اٹھا کر غم نہ کرنا آ گیا\n\nکچھ توہم کچھ توقع کچھ الم کچھ انبساط\nعشق کر کے مجھ کو جینا اور مرنا آ گیا\n\nکثرت آزار نے تعلیم دے دی ضبط کی\nجبر کے باعث سے دل کو صبر کرنا آ گیا\n\nاشک آنکھوں میں پہنچ کر دل میں پھر واپس گئے\nیوں سمجھ لے چڑھتے دریا کا اترنا آ گیا\n\nکم سے کم تھا اک طرح کا آسرا اقرار تک\nلیکن ان کو صاف اب انکار کرنا آ گیا\n\nرہ گزر سے عشق کی میں آج تک گزرا نہیں\nکس طرح کہہ دوں مجھے جی سے گزرنا آ گیا\n\nحسن کی نخوت نے پہنچایا اڑا کر عرش تک\nاب تو پریوں کا بھی تم کو پر کترنا آ گیا\n\nبحر ذوق و شوق میں یہ بھی غنیمت جانیے\nنوحؔ کو طوفان اٹھا کر غرق کرنا آ گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%AF%DA%91_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%D9%86%D9%88%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عشق میں نے خوف و خطر چاہیے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق میں نے خوف و خطر چاہیے\nجان کے دینے کو جگر چاہیے\n\nقابل آغوش ستم دیدگاں\nاشک سا پاکیزہ گہر چاہیے\n\nحال یہ پہنچا ہے کہ اب ضعف سے\nاٹھتے پلک ایک پہر چاہیے\n\nکم ہے شناسائے زر داغ دل\nاس کے پرکھنے کو نظر چاہیے\n\nسینکڑوں مرتے ہیں سدا پھر بھی یاں\nواقعہ اک شام و سحر چاہیے\n\nعشق کے آثار ہیں اے بوالہوس\nداغ بہ دل دست بسر چاہیے\n\nشرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں\nعیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے\n\nجیسے جرس پارہ گلو کیا کروں\nنالہ و افغاں میں اثر چاہیے\n\nخوف قیامت کا یہی ہے کہ میرؔ\nہم کو جیا بار دگر چاہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%AE%D9%88%D9%81_%D9%88_%D8%AE%D8%B7%D8%B1_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "عشق میں پاس جاں نہیں ہے درست", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق میں پاس جاں نہیں ہے درست\nاس سخن میں گماں نہیں ہے درست\n\nکسو مشرب میں اور مذہب میں\nظلم اے مہرباں نہیں ہے درست\n\nڈر نہ دشمن کوں کڑکڑانے میں\nبانگ مرغی کے یاں نہیں ہے درست\n\nکئی دیوان کہہ چکا حاتمؔ\nاب تلک پر زباں نہیں ہے درست", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%B3%D8%AA"} {"title": "عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع\nکڑھیے کب تک نہ ہو بلا سے نفع\n\nکب تلک ان بتوں سے چشم رہے\nہو رہے گا بس اب خدا سے نفع\n\nمیں تو غیر از ضرر نہ دیکھا کچھ\nڈھونڈھو تم یار و آشنا سے نفع\n\nمغتنم جان گر کسو کے تئیں\nپہنچے ہے تیرے دست و پا سے نفع\n\nاب فقیروں سے کہہ حقیقت دل\nمیرؔ شاید کہ ہو دعا سے نفع", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D9%81%D8%B9"} {"title": "عشق میں کیا ہاتھوں سے کسی کے دامن ہستی چھوٹ گیا", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق میں کیا ہاتھوں سے کسی کے دامن ہستی چھوٹ گیا\nشمع کوئی خاموش ہوئی یا کوئی ستارا ٹوٹ گیا\n\nکھیل رہی ہے برق تبسم پھول سے نازک ہونٹوں پر\nجانیے کس کی موت آئی ہے کس کا مقدر پھوٹ گیا\n\nکون تھا یہ بیمار محبت جس کی بالیں پر آ کر\nحسن بھی دریا دریا رویا عشق بھی سینہ کوٹ گیا\n\nتیری بھی تصویر تھی اس میں اس کا مجھ کو رونا ہے\nورنہ دل کی ہستی کیا ہے شیشہ تھا سو ٹوٹ گیا\n\nسیل محبت کے تھا مقابل دل کا حباب نازک بھی\nلیکن یہ اب یاد نہیں ہے کب ابھرا کب پھوٹ گیا\n\nعشق نے کیسی آفت ڈھائی سب میخانے خالی ہیں\nکون و مکاں کی ساری مستی ان آنکھوں میں کوٹ گیا\n\nآہ محبت کا رشتہ تھا نازک سے بھی نازک تر\nاب اس کو کس طرح سے جوڑیں ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا\n\nاول اول ذوق محبت تھا مستیٔ بے پایاں\nآخر آخر وقت وہ آیا سحر محبت ٹوٹ گیا\n\nناز مری سرمستی کو کیا کیا تھا شراب و ساقی پر\nاس کی آنکھوں کو جو دیکھا ہاتھ سے ساغر چھوٹ گیا\n\nرات کسی کی بزم میں گو بیدار تھا میں ہشیار تھا میں\nلیکن کوئی آنکھ بچا کر دل کی بستی لوٹ گیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%86%DA%BE%D9%88%D9%B9_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عشق میں گل کے جو نالاں بلبل غم ناک ہے", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق میں گل کے جو نالاں بلبل غم ناک ہے\nگل بھی اس کے غم میں دیکھو کیا گریباں چاک ہے\n\nداغ بر داغ اشک بر اشک اپنی چشم و دل میں ہیں\nکیا بلا گل خیز اے یارو یہ مشت خاک ہے\n\nاے خضر جاؤں کہاں میں کوچۂ مے خانہ چھوڑ\nخوش دلی کا مولد و منشا یہ خاک پاک ہے\n\nغرق سر تا پا ہوں بحر بیکران خوں میں میں\nآشنا پوچھے ہے تو یہ چشم کیوں نمناک ہے\n\nسرو کی نسبت سے اس قد بلا بالا کو کیا\nخشک چوب پا بگل یہ وہ قد چالاک ہے\n\nہائے کن آنکھوں سے دیکھوں اس رخ روشن پہ خط\nچشمۂ خورشید میں یہ کیا خس و خاشاک ہے\n\nکافر و مومن کو رقت غم میں ہے حسرتؔ کے ہائے\nکچھ خدا کا ڈر بھی تجھ کو اے بت بیباک ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%86%D8%A7%D9%84%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D8%BA%D9%85_%D9%86%D8%A7%DA%A9_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشق نہیں کوئی نہنگ ہے یارو", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق نہیں کوئی نہنگ ہے یارو\nدشمن نام و ننگ ہے یارو\n\nصبر بن اور کچھ نہ لو ہم راہ\nکوچۂ عشق تنگ ہے یارو\n\nشمع رو پر نہ ہوئے کیوں کر ڈور\nدل ہمارا پتنگ ہے یارو\n\nبات اوس طفل خو کی رمزآمیز\nمج دوانے کو سنگ ہے یارو\n\nتل ہے تریاک چشم جام شراب\nسبزۂ خط یو بنگ ہے یارو\n\nزلف کا دل ربا کی آج خیال\nدل کوں قید فرنگ ہے یارو\n\nاوس پری رو سیں اور حاتمؔ سیں\nرات دن صلح و جنگ ہے یارو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%D9%86%DA%AF_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88"} {"title": "عشق نے تجھ خال کے مجھ کوں خیالی کیا", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق نے تجھ خال کے مجھ کوں خیالی کیا\nدل کوں خیالات سوں غیر کے خالی کیا\n\nفکر پہنچتی نہیں مصرعۂ ثانی کہوں\nحق نے تیرے قد کے تئیں مصرعہ عالی کیا\n\nہجر میں جاگیر عیش مجنوں ہوئی تھی تغیر\nوصل کے دیوان نے پھر کے بحالی کیا\n\nگلشن عشرت کا وہ کیوں نہ نظارہ کرے\nتجھ چمن حسن کا دل کوں جو مالی کیا\n\nبوسہ اسے دے جواب یو ہے جو اب صواب\nتجھ انگے داؤدؔ نے لب کوں سوالی کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%AE%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عشق نے خوں کیا ہے دل جس کا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق نے خوں کیا ہے دل جس کا\nپارۂ لعل اشک ہے تس کا\n\nیاد کر کر عمل میں لاتا ہوں\nہر سخن عشق کے مدرس کا\n\nچشم ساقی کا وصف لکھتا ہوں\nلے قلم ہات شاخ نرگس کا\n\nغم نے پیلا کیا ہمارا رنگ\nکیمیا گر نے زر کیا مس کا\n\nزلف دکھلا کے دل لپیٹ لیا\nاب پریشاں ہے حال مجلس کا\n\nتم نے پائے ہو حسن کی دولت\nپوچھتے کب ہو حال مفلس کا\n\nبے کسی مجھ سیں آشنا ہے سراجؔ\nنہیں تو عالم میں کون ہے کس کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%92_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "عشق نے چٹکی سی لی پھر آ کے میری جاں کے بیچ", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق نے چٹکی سی لی پھر آ کے میری جاں کے بیچ\nآگ سی کچھ لگ گئی ہے سینۂ بریاں کے بیچ\n\nاہل معنی جز نہ بوجھے گا کوئی اس رمز کو\nہم نے پایا ہے خدا کو صورت انساں کے بیچ\n\nاس سبب میں جنگ شانے سے کروں ہوں بار بار\nدل ہوا ہے گم مرا اس کاکل پیچاں کے بیچ\n\nزلف و چشم و خال و خط چاروں ہیں دشمن دین کے\nحق رکھے ایماں سلامت ایسے کفرستاں کے بیچ\n\nنقد دل کھویا ہے ہم نے جان کر اس راہ میں\nفی الحقیقت عاشقوں کو سود ہے نقصاں کے بیچ\n\nگر عدو میری بدی کرتا ہے خاص و عام میں\nمیں اسے رسوا کروں گا باندھ کر دیواں کے بیچ\n\nرات دن جاری ہے عالم میں مرا فیض سخن\nگو کہ ہوں محتاج پر حاتمؔ ہوں ہندوستاں کے بیچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%92_%DA%86%D9%B9%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%D9%84%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%86"} {"title": "عشق و دوستی", "poet_page": "مصنف:عظیم الدین احمد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "عشق کو ایک نظر کافی ہے\nآگہی پہلے سے درکار نہیں\nدوستی برسوں کی ہم رازی ہے\nجلدی بازی کا یہ بازار نہیں\n\nہو بھی سکتی ہے کبھی وہ حالت\nگو ہو مدت کا خلوص اور نیاز\nایک لمحہ میں بناتی ہے جو گت\nپیاری صورت کبھی پیاری آواز\n\nغور‌ و فکر اس کے سدا ہیں ہم دست\nملنے جلنے سے ہے پیدا ہوتی\nگرم جوشی کی ہے مے سے سرمست\nدوستی ہے مری دیکھی بھالی\n\nعقل کے اس میں کرشمے دیکھو\nکچھ بگڑتی ہے کچھ اٹھلاتی ہے\nجب پہنچ جاتی ہے اس کی تہ کو\nتب بصد فخر یہ سمجھاتی ہے\n\nنہ سنے اور نہ ہرگز دیکھے\nدوستوں میں ہو اگر عیب بھی آہ\nچاہیے یوں نظر انداز کرے\nکہ ہوا بھی نہیں گویا آگاہ\n\nعشق میں اس کی کہاں ہے مہلت\nکچھ بھی سوچے سنے دیکھے بھالے\nکیا بھلا سمجھیں وہ اس کی حالت\nاس کی مے سے جو نہ ہوں متوالے\n\nاس کے اسرار سے ہو کون آگاہ\nبے قراری کبھی محویت ہے\nخوب راسخؔ نے کہا ہے واللہ\nعشق اک زور ہے کیفیت ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%88_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C"} {"title": "عشق پر دانہ نہیں محتاج تحریک جمال", "poet_page": "مصنف:انوری جہاں بیگم حجاب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق پر دانہ نہیں محتاج تحریک جمال\nجلنے والا جل بجھے گا شمع سوزاں دیکھ کر\n\nاے معاذ اللہ وحشی اور سلامت پیرہن\nشرم دامن گیر ہوتی ہے گریباں دیکھ کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%BE%D8%B1_%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D8%AA%D8%A7%D8%AC_%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84"} {"title": "عشق پھر رنگ وہ لایا ہے کہ جی جانے ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق پھر رنگ وہ لایا ہے کہ جی جانے ہے\nدل کا یہ رنگ بنایا ہے کہ جی جانے ہے\n\nناز اٹھانے میں جفائیں تو اٹھائیں لیکن\nلطف بھی ایسا اٹھایا ہے کہ جی جانے ہے\n\nزخم اس تیغ نگہ کا مرے دل نے ہنس کر\nاس مزے داری سے کھایا ہے کہ جی جانے ہے\n\nاس کی دزدیدہ نگہ نے مرے دل میں چھپ کر\nتیر اس ڈھب سے لگایا ہے کہ جی جانے ہے\n\nبام پر چڑھ کے تماشے کو ہمیں حسن اپنا\nاس تماشے سے دکھایا ہے کہ جی جانے ہے\n\nاس کی فرقت میں ہمیں چرخ ستم گار نے آہ\nیہ رلایا ،یہ رلایا ہے کہ جی جانے ہے\n\nحکم چپی کا ہوا شب تو سحر تک ہم نے\nرتجگا ایسا منایا ہے کہ جی جانے ہے\n\nتلوے سہلانے میں گو اونگھ کے جھک جھک تو پڑے\nپر مزا بھی وہ اڑایا ہے کہ جی جانے ہے\n\nرنج ملنے کے بہت دل نے سہے لیک نظیرؔ\nیار بھی ایسا ملایا ہے کہ جی جانے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%88%DB%81_%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشق کا اختتام کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کا اختتام کرتے ہیں\nدل کا قصہ تمام کرتے ہیں\n\nقہر ہے قتل عام کرتے ہیں\nترک ترکی تمام کرتے ہیں\n\nطاق ابرو سے ان کے در گزرے\nہم یہیں سے سلام کرتے ہیں\n\nشیخ اس سے پناہ مانگتے ہیں\nبرہمن رام رام کرتے ہیں\n\nجوہری پر ترے در دنداں\nآب و دانہ حرام کرتے ہیں\n\nخط قسمت پڑھا نہیں جاتا\nصرف منطق تمام کرتے ہیں\n\nیا الٰہی حلال ہوں واعظ\nدخت رز حرام کرتے ہیں\n\nآپ کی منہ لگی ہے دختر رز\nباتیں ہونٹوں سے جام کرتے ہیں\n\nچلی دنیا سے ہم پئے عقبیٰ\nکوچ بھر مقام کرتے ہیں\n\nاپنے دل پر ہے اختیار ہمیں\nملک کا انتظام کرتے ہیں\n\nقابل گفتگو رقیب نہیں\nآپ کس سے کلام کرتے ہیں\n\nرات بھر میرے نالۂ پر درد\nنیند ان کی حرام کرتے ہیں\n\nظلم ہی احمقوں کی منہ زوری\nتنگ یہ بے لگام کرتے ہیں\n\nدل سے رنگ دوئی مٹاتے ہیں\nزخم کا التیام کرتے ہیں\n\nاے صباؔ کیوں کسی کا دل توڑیں\nکعبے کا احترام کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%AA%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عشق کا راز نہ کیوں دل سے نمایاں ہو جائے", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کا راز نہ کیوں دل سے نمایاں ہو جائے\nکاش یہ بھی کسی ناکام کا ارماں ہو جائے\n\nنہیں امید کہ وہ حشر بداماں ہو جائے\nایسا دیوانہ جو خود داخل زنداں ہو جائے\n\nدرد قابو کا نہیں کاش وہ اٹھ کر شب غم\nسرگزشت دل ناشاد کا عنواں ہو جائے\n\nنہ تسلی نہ دلاسا نہ کہیں نام کو صبر\nحیف اس دل پہ کہ یوں بے سر و ساماں ہو جائے\n\nغنچے چٹکیں کہ کھلیں پھول بڑھے جوش نمو\nحسن پنہاں کسی عنواں سے نمایاں ہو جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D9%85%D8%A7%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "عشق کا مارا نہ صحرا ہی میں کچھ چوپٹ پڑا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کا مارا نہ صحرا ہی میں کچھ چوپٹ پڑا\nہے جہاں اس کا عمل وہ شہر بھی ہے پٹ پڑا\n\nعاشقوں کے قتل کو کیا تیز ہے ابرو کی تیغ\nٹک ادھر جنبش ہوئی اور سر ادھر سے کٹ پڑا\n\nاشک کی نوک مژہ پر شیشہ بازی دیکھیے\nکیا کلائیں کھیلتا ہے بانس پر یہ نٹ پڑا\n\nشاید اس غنچہ دہن کو ہنستے دیکھا باغ میں\nاب تلک غنچہ بلائیں لیتا ہے چٹ چٹ پڑا\n\nدیکھ کر اس کے سراپا کو یہ کہتی ہے پری\nسر سے لے کر پاؤں تک یاں حسن آ کر پھٹ پڑا\n\nکیا تماشا ہے کہ وہ چنچل ہٹیلا چلبلا\nاور سے تو ہٹ گیا پر میرے دل پر ہٹ پڑا\n\nکیا ہوا گو مر گیا فرہاد لیکن دوستو\nبے ستوں پر ہو رہا ہے آج تک کھٹ کھٹ پڑا\n\nہجر کی شب میں جو کھینچی آن کر نالے نے تیغ\nکی پٹے بازی ولے تاثیر سے ہٹ ہٹ پڑا\n\nدل بڑھا کر اس میں کھینچا آہ نے پھر نیمچہ\nاے نظیرؔ آخر وہ اس کا نیمچہ بھی پٹ پڑا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%86%D9%88%D9%BE%D9%B9_%D9%BE%DA%91%D8%A7"} {"title": "عشق کرتے ہیں تو اہل عشق یوں سودا کریں", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کرتے ہیں تو اہل عشق یوں سودا کریں\nہوش کا سرمایہ نذر حسن بے پروا کریں\n\nہم نہ ہوں لیکن زمانے میں ہمارا نام ہو\nایسی ہستی چاہیئے تو مر کے ہم پیدا کریں\n\nہے خود آرائی کسی کی شان خودداری کے ساتھ\nیعنی ان کو ہم نہ دیکھیں وہ ہمیں دیکھا کریں\n\nدرس عرفاں کے لیے ہر ذرہ ہے طور کلیم\nدیکھنے والے مگر پہلے نظر پیدا کریں\n\nشیخ کو جنت مبارک، ہم کو دوزخ ہے قبول\nفکر عقبیٰ وہ کریں، ہم خدمت دنیا کریں\n\nایک دل ہے ایک حسرت ایک ہم ہیں ایک تم\nاتنے غم کم ہیں جو کوئی اور غم پیدا کریں\n\nاحسنؔ رنجور کو دنیا سے کیا ہے واسطہ\nآپ نے بیمار ڈالا آپ ہی اچھا کریں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخ", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخ\nسیکڑوں میں سے اک چنا ہے شوخ\n\nیہ بھی شوخی نئی نکالی ہے\nآج دشمن سے کچھ خفا ہے شوخ\n\nاپنی آنکھوں میں رات دن رکھ کر\nمیں نے خود اس کو کر دیا ہے شوخ\n\nاشک خوں میرے دیکھ کر بولے\nاس سے تو کچھ مری حنا ہے شوخ\n\nآنکھ سے گر کے گود میں مچلا\nطفل اشک ایسا ہو گیا ہے شوخ\n\nبوسہ ہر وقت رخ کا لیتا ہے\nکس قدر گیسوئے دوتا ہے شوخ\n\nچھیڑتی ہے تمہارے زلفوں کو\nکس بلا کی مگر صبا ہے شوخ\n\nبر میں آئینہ کے لیا نہ قرار\nجان من عکس بھی ترا ہے شوخ\n\nپھر گئی دور سے دکھا کے جھلک\nہجر میں اے سخیؔ قضا ہے شوخ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D9%88%D8%AE"} {"title": "عشق کو بے نقاب ہونا تھا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کو بے نقاب ہونا تھا\nآپ اپنا جواب ہونا تھا\n\nمست جام شراب ہونا تھا\nبے خود اضطراب ہونا تھا\n\nتیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں\nہاں مجھی کو خراب ہونا تھا\n\nآؤ مل جاؤ مسکرا کے گلے\nہو چکا جو عتاب ہونا تھا\n\nکوچۂ عشق میں نکل آیا\nجس کو خانہ خراب ہونا تھا\n\nمست جام شراب خاک ہوتے\nغرق جام شراب ہونا تھا\n\nدل کہ جس پر ہیں نقش رنگارنگ\nاس کو سادہ کتاب ہونا تھا\n\nہم نے ناکامیوں کو ڈھونڈ لیا\nآخرش کامیاب ہونا تھا\n\nہائے وہ لمحۂ سکوں کہ جسے\nمحشر اضطراب ہونا تھا\n\nنگۂ یار خود تڑپ اٹھتی\nشرط اول خراب ہونا تھا\n\nکیوں نہ ہوتا ستم بھی بے پایاں\nکرم بے حساب ہونا تھا\n\nکیوں نظر حیرتوں میں ڈوب گئی\nموج صد اضطراب ہونا تھا\n\nہو چکا روز اولیں ہی جگرؔ\nجس کو جتنا خراب ہونا تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "عشق کو ترک جنوں سے کیا غرض", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کو ترک جنوں سے کیا غرض\nچرخ گرداں کو سکوں سے کیا غرض\n\nدل میں ہے اے خضر گر صدق طلب\nراہرو کو رہنموں سے کیا غرض\n\nحاجیو ہے ہم کو گھر والے سے کام\nگھر کے محراب و ستوں سے کیا غرض\n\nگنگنا کر آپ رو پڑتے ہیں جو\nان کو چنگ و ارغنوں سے کیا غرض\n\nنیک کہنا نیک جس کو دیکھنا\nہم کو تفتیش دروں سے کیا غرض\n\nدوست ہیں جب زخم دل سے بے خبر\nان کو اپنے اشک خوں سے کیا غرض\n\nعشق سے ہے مجتنب زاہد عبث\nشیر کو صید زبوں سے کیا غرض\n\nکر چکا جب شیخ تسخیر قلوب\nاب اسے دنیائے دوں سے کیا غرض\n\nآئے ہو حالیؔ پئے تسلیم یاں\nآپ کو چون و چگوں سے کیا غرض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D8%B1%D8%B6"} {"title": "عشق کو دل میں چھپا لیتے ہیں کامل کیوں کر", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کو دل میں چھپا لیتے ہیں کامل کیوں کر\nان پر آسان ہوا کرتی ہے مشکل کیوں کر\n\nہدف ناوک مژگان و کماں ابرو تھا\nنہ تڑپتا شب فرقت دل بسمل کیوں کر\n\nاپنے بیمار محبت کو بھی لیتے جاؤ\nتم چلے جاتے ہو پہلو میں رہے دل کیوں کر\n\nسر کٹا کر ترے کوچہ میں یہی دیکھوں گا\nسرخ رو ہوتا ہے خنجر ترا قاتل کیوں کر\n\nمرأت دل کی صفائی وہ کہاں پائے گا\nآئنہ ہوگا رخ یار کے قابل کیوں کر\n\nیہ تماشا بھی مرے دل کو جلا کر دیکھو\nشمع حسرت سے جلی بر سر محفل کیوں کر\n\nبحر الفت میں بھی وحشت تھی دل غمگیں کو\nرکھتا آغوش میں پھر دامن ساحل کیوں کر\n\nدیکھنا لطف دم قتل ذرا اے قاتل\nخاک و خوں میں ہوا غلطاں ترا بسمل کیوں کر\n\nزیر خنجر مرے خوں نے اسے اڑ کر تھاما\nاس کے پنجے سے چھٹے دامن قاتل کیوں کر\n\nدیکھنا گر ہو تو آؤ میں دکھا دوں تم کو\nبن گیا شیخ حرم بت کدۂ دل کیوں کر\n\nراز سر بستہ جمیلہؔ میں کہوں کیا تجھ سے\nہو گیا میرا یہ دل عارف کامل کیوں کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "عشق کو کائنات کا مقصد و مدعا سمجھ", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کو کائنات کا مقصد و مدعا سمجھ\nپھر ترا ظرف ہے اسے درد سمجھ دوا سمجھ\n\nراہ وفا میں مجھ کو حکم یہ ہے کہ اپنے آپ کو\nاٹھ تو غبار کر خیال بیٹھ تو نقش پا سمجھ\n\nمیں جو حریم ناز میں شمع صفت خموش ہوں\nاس کو بھی اے نگاہ لطف کوشش التجا سمجھ\n\nاے دل بیقرار دوست دور ہے منزل وفا\nجا تجھے شوق دے خدا مجھ کو شکستہ پا سمجھ\n\nتیرا چراغ زندگی آخری سانس لے جہاں\nعشق کے اس مقام کو دائرۂ بقا سمجھ\n\nدنیا سے اہل عشق کو کوئی نہیں ہے واسطہ\nسب سے ہوں میں الگ تھلگ سب سے مجھے جدا سمجھ\n\nمیرے نیاز پر ہے تنگ دیر و حرم کی زندگی\nاب اسے ابتری سمجھ یا اسے ارتقا سمجھ\n\nہستیٔ دوست سے الگ تیرا وجود کچھ نہیں\nاپنی طرف بھی اب نہ دیکھ خود کو بھی ماسوا سمجھ\n\nارض و سما برائے دوست کون و مکاں سرائے دوست\nجو بھی ہے ماسوائے دوست حرص سمجھ ہوا سمجھ\n\nعشق میں اور حسن میں کوئی نہیں ہے امتیاز\nیہ بھی مری ادا سمجھ وہ بھی مری ادا سمجھ\n\nجن میں نہ جوش ہو ظفرؔ وہ مرے زمزمے نہیں\nدل سے جو کھیلتی اٹھے اس کو مری نوا سمجھ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%82%D8%B5%D8%AF_%D9%88_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE"} {"title": "عشق کی آگ میں اب شمع سا جل جاؤں گا", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کی آگ میں اب شمع سا جل جاؤں گا\nتجھ لگن بیچ قدم گاڑ نہ ٹل جاؤں گا\n\nگر دم تیغ سے سو بار کٹے گی گردن\nاپنی ثابت قدمی سیتے سنبھل جاؤں گا\n\nمیں وہ جاں باز و حوالہ ہوں پتنگے کی طرح\nشمع رو تیرے اپر جان سے جل جاؤں گا\n\nشجر موم سا ہوں عالم موہوم کے بیچ\nمہرباں گرم نگاہی سے پگھل جاؤں گا\n\nخاک اڑاتا ہوا ہستی کے تئیں دے برباد\nسر بہ صحرا ہوں بگولے سا نکل جاؤں گا\n\nتیرے کوچے کی طرف عزم کیا ہوں جاناں\nآخرش یک دو قدم سر سے بھی چل جاؤں گا\n\nچشم بد مست کو گردش میں جو لاوے ساقی\nابھی دو جام میں سرشار ہو چل جاؤں گا\n\nعشقؔ ہے بال سے باریک صراط محشر\nیا علیؔ کہہ کے تبھی اس پہ سنبھل جاؤں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%DA%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%B3%D8%A7_%D8%AC%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "عشق کی جو لگن نہیں دیکھا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کی جو لگن نہیں دیکھا\nوو برہ کی اگن نہیں دیکھا\n\nقدر مج اشک کی وو کیا جانے\nجس نے در عدن نہیں دیکھا\n\nتج گلی میں جو کوئی کیا مسکن\nپھر کر اس نے وطن نہیں دیکھا\n\nآرزو ہے کہ زلف کوں کھولے\nمیں نے کالی رین نہیں دیکھا\n\nلب رنگیں دکھا اے معدن حسن\nمیں عقیق یمن نہیں دیکھا\n\nٹک زمیں پر قدم رکھو ساجن\nآج نقش چرن نہیں دیکھا\n\nدل عبث تشنہ لب ہے کوثر کا\nپیو کا چاہ ذقن نہیں دیکھا\n\nغنچۂ گل کوں دیکھ گلشن میں\nگر توں پیو کا دہن نہیں دیکھا\n\nتجھ مثل اے سراجؔ بعد ولیؔ\nکوئی صاحب سخن نہیں دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D9%84%DA%AF%D9%86_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "عشق کی خوبی کہوں کیا آشنا", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کی خوبی کہوں کیا آشنا\nجان کا دشمن ہے دل کا آشنا\n\nبحر الفت سے کنارہ خوب ہے\nکھا گیا غوطہ تو ڈوبا آشنا\n\nروز بد سے ڈر کہ ہو جاتے ہیں پھر\nدوست دشمن آشنا ناآشنا\n\nدہر میں کم یاب کیا نایاب ہیں\nکیمیا درویش سچا آشنا\n\nشاغلان عشق کا یہ درد ہے\nیا محب یا مہربان یا آشنا\n\nپاک الفت ہو تو پھر کیا اے رقیب\nآشنا ہے آشنا کا آشنا\n\nدو سمجھنا صاف ہے بے وحدتی\nایک ہی بیگانہ ہو یا آشنا\n\nہم تو دل سے نیک سمجھے ہیں تمہیں\nتم برا کہتے ہو اچھا آشنا\n\nدل جلے کیا کیا نہیں کہتے تمہیں\nبے مروت بے وفا ناآشنا\n\nآؤ جی دل کھول کر مل لیجئے\nزندگی کا کیا بھروسا آشنا\n\nقلزم عشق ایک طوفاں خیز ہے\nڈوبے اس دریا میں صدہا آشنا\n\nکہئے تو کہہ دوں ہزاروں میں یہ بات\nہے نسیمؔ اک گل بدن کا آشنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%A8%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7"} {"title": "عشق کی داستان ہے پیارے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کی داستان ہے پیارے\nاپنی اپنی زبان ہے پیارے\n\nکل تک اے درد یہ تپاک نہ تھا\nآج کیوں مہربان ہے پیارے\n\nسایۂ عشق سے خدا ہی بچائے\nایک ہی قہر مان ہے پیارے\n\nاس کو کیا کیجئے جو لب نہ کھلیں\nیوں تو منہ میں زبان ہے پیارے\n\nیہ تغافل بھی ہے نگہ آمیز\nاس میں بھی ایک شان ہے پیارے\n\nجس نے اے دل دیا ہے اپنا غم\nاس سے تو بد گمان ہے پیارے\n\nدل کا عالم نگاہ کیا جانے\nیہ تو صرف اک زبان ہے پیارے\n\nمیرے اشکوں میں اہتمام نہ دیکھ\nعاشقی کی زبان ہے پیارے\n\nہم زمانے سے انتقام تو لیں\nاک حسیں درمیان ہے پیارے\n\nعشق کی ایک ایک نادانی\nعلم و حکمت کی جان ہے پیارے\n\nتو نہیں میں ہوں میں نہیں تو ہے\nاب کچھ ایسا گمان ہے پیارے\n\nکہنے سننے میں جو نہیں آتی\nوہ بھی اک داستان ہے پیارے\n\nرکھ قدم پھونک پھونک کر ناداں\nذرے ذرے میں جان ہے پیارے\n\nکس کو دیکھے سے دل کو چوٹ لگی\nکیوں یہ اتری کمان ہے پیارے\n\nتیری برہم خرامیوں کی قسم\nدل بہت سخت جان ہے پیارے\n\nہاں ترے عہد میں جگرؔ کے سوا\nہر کوئی شادمان ہے پیارے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "عشق کی میرے جو شہرت ہو گئی", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کی میرے جو شہرت ہو گئی\nیار سے مجھ کو ندامت ہو گئی\n\nخاک عرض مدعا اس سے کروں\nجس کو باتوں میں کدورت ہو گئی\n\nیاں سے جانے کو ہیں وہ آچک کہیں\nکیا بلا اے ابر رحمت ہو گئی\n\nاب ستم اغیار پر کرنے لگے\nمیرے مر جانے سے عبرت ہو گئی\n\nجلوۂ معنی نظر آنے لگا\nپیتے پیتے مے یہ صورت ہو گئی\n\nان کی باتیں اس نے بھی چھپ کر سنیں\nآج ناصح کو نصیحت ہو گئی\n\nمنع وصل غیر پر ہنس کر کہا\nبارے اب تم کو بھی غیرت ہو گئی\n\nبوئے گل اس گل کی بو کے روبرو\nفی الحقیقت بے حقیقت ہو گئی\n\nبس نہ فرماتے پھرو یہ شیفتہؔ\nگو انہیں تم سے محبت ہو گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B4%DB%81%D8%B1%D8%AA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "عشق کی چوسر کس نے کھیلی یہ تو کھیل ہمارے ہیں", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کی چوسر کس نے کھیلی یہ تو کھیل ہمارے ہیں\nدل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں\n\nکیسے کیسے لخت جگر ہیں کیا کیا دل کے پارے ہیں\nایسے لعل کہاں دنیا میں جیسے لعل ہمارے ہیں\n\nاس کو مارا اس کو مارا یہ بسمل وہ ٹوٹ گیا\nنوک پلک والوں سے ڈریے قاتل ان کے اشارے ہیں\n\nچھلنی چھلنی دل بھی جگر بھی روزن روزن سینہ بھی\nایک نگاہ ناز نے تیری تیر ہزاروں مارے ہیں\n\nپھونک رہا ہے سوز نہانی کون اس آگ پہ ڈالے پانی\nدل کی لگی نے آگ لگا دی داغ نہیں انگارے ہیں\n\nلالہ رخوں میں عمر گزاری دیکھی ان کی فصل بہار\nآج بھی گل سے گالوں والے مجھ کو مبارکؔ پیارے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D9%88%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عشق کی کوئی اگر سیکھ لے گر مجھ سے تمیز", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کی کوئی اگر سیکھ لے گر مجھ سے تمیز\nدین دنیا میں ہوا اپنے پرایوں کو عزیز\n\nیا ہو شاگرد مرا یا مجھے تلمیذ کرے\nورنہ اس کوچۂ عشاق سے کر جاوے گریز\n\nمکتب عشق سے نا خواندہ اٹھا جو محروم\nدونو عالم میں وہ کچھ چیز نہیں ہے ناچیز\n\nمرد کیوں کر کہوں بے عشق جو ہووے کوئی\nفرقہ عشاق میں اس کے تئیں کہتے ہیں کنیز\n\nمیں نے استاد ازل سے یہی سیکھا تھا سبق\nآفریدیؔ نہ کبھی یار کی چھوڑوں دہلیز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%85%DB%8C%D8%B2"} {"title": "عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہا\nآخر اب دوری میں جی جاتا رہا\n\nمہر و مہ گل پھول سب تھے پر ہمیں\nچہرئی چہرہ ہی وہ بھاتا رہا\n\nدل ہوا کب عشق کی رہ کا دلیل\nمیں تو خود گم ہی اسے پاتا رہا\n\nمنہ دکھاتا برسوں وہ خوش رو نہیں\nچاہ کا یوں کب تلک ناتا رہا\n\nکچھ نہ میں سمجھا جنون و عشق میں\nدیر ناصح مجھ کو سمجھاتا رہا\n\nداغ تھا جو سر پہ میرے شمع ساں\nپاؤں تک مجھ کو وہی کھاتا رہا\n\nکیسے کیسے رک گئے ہیں میرؔ ہم\nمدتوں منہ تک جگر آتا رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%D9%81%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "عشق کے آثار ہیں پھر غش مجھے آیا دیکھو", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کے آثار ہیں پھر غش مجھے آیا دیکھو\nپھر کوئی روزن دیوار سے جھانکا دیکھو\n\nان کے ملنے کی تمنا میں مٹا جاتا ہوں\nنئی دنیا ہے مرے شوق کی دنیا دیکھو\n\nطور پر ہی نہیں نظارۂ جاناں موقوف\nدیکھنا ہو تو وہ موجود ہے ہر جا دیکھو\n\nاثر نالۂ عاشق نہیں دیکھا تم نے\nتھام لو دل کو سنبھل بیٹھو اب اچھا دیکھو\n\nطور مجنوں کی نگاہوں کے بتاتے ہیں ہمیں\nاسی لیلیٰ میں ہے اک دوسری لیلیٰ دیکھو\n\nپرتو مہر سے معمور ہے ذرہ ذرہ\nلہریں لیتا ہے ہر اک قطرہ میں دریا دیکھو\n\nدور ہو جائیں جو آنکھوں سے حجابات دوئی\nپھر تو دل ہی میں دو عالم کا تماشا دیکھو\n\nسب میں ڈھونڈا انہیں اور کی تو نہ کی دل میں تلاش\nنظر شوق کہاں کھائی ہے دھوکا دیکھو\n\nنہیں تھمتے نہیں تھمتے مرے آنسو بیدمؔ\nراز دل ان پہ ہوا جاتا ہے افشا دیکھو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%BA%D8%B4_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "عشق کے اقلیم میں چال و چلن کچھ اور ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "عشق کے اقلیم میں چال و چلن کچھ اور ہے\nہے نرالا ڈھنگ واں کا اور عجائب طور ہے\n\nخون دل پیتی ہیں واں اور کھاتی ہیں لخت جگر\nلطف کے بدلے اٹھانے کو جفا و جور ہے\n\nان کی گلیوں میں نہیں ہوتا گزر ہی عقل کا\nہے جنوں کا بند و بست اور عاشقی کا دور ہے\n\nزندگی اور مرگ شادی اور غم اور نیک و بد\nایک ساں ہیں سب وہاں لیکن مقام غور ہے\n\nلا مکاں ہے واسطے ان کی مقام بود و باش\nگو بظاہر کہنے کو کلکتہ اور لاہور ہے\n\nآہ و نالہ کی چلا کرتی ہیں واں تیر و سنان\nجو کہ جاتا ہے وہاں رہتا وہیں وہ ٹھور ہے\n\nابتدا میں جیتے جی مر جانا پڑتا ہے وہاں\nپر جو مر جاتا ہے واں جیتا وہیں فی الفور ہے\n\nہوں میں جان و دل سے آثمؔ شاہ خادم پر فدا\nعشق کے کشور میں جس کی شان و شوکت اور ہے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%82%D9%84%DB%8C%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D8%A7%D9%84_%D9%88_%DA%86%D9%84%D9%86_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشق کے شہر کی کچھ آب و ہوا اور ہی ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کے شہر کی کچھ آب و ہوا اور ہی ہے\nاس کے صحرا کو جو دیکھا تو فضا اور ہی ہے\n\nتجھ سے کچھ کام نہیں دور ہو آگے سے نسیم\nوا کرے غنچۂ دل کو وہ صبا اور ہی ہے\n\nنبض پر میری عبث ہاتھ تو رکھتا ہے طبیب\nیہ مرض اور ہے اور اس کی دوا اور ہی ہے\n\nگل تو گلشن میں ہزاروں نظر آئے لیکن\nاس کے چہرے کو جو دیکھا تو صفا اور ہی ہے\n\nزاہدو ورد وظائف سے نہیں حاصل کار\nجس کو ہو حسن اجابت وہ دعا اور ہی ہے\n\nاے جرس ہرزہ درا ہو نہ تو اتنا چپ رہ\nپہنچے پس ماندہ بہ منزل وہ صدا اور ہی ہے\n\nمحتسب ہم سے عبث کینہ رکھے ہے حاتمؔ\nجو نشہ ہم نے پیا ہے وہ نشا اور ہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A2%D8%A8_%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشق کے غم گسار ہیں ہم لوگ", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق کے غم گسار ہیں ہم لوگ\nحسن کے رازدار ہیں ہم لوگ\n\nدست قدرت کو ناز ہے ہم پر\nوقت کے شاہکار ہیں ہم لوگ\n\nہم سے قائم ہے گلستاں کا بھرم\nآبروئے بہار ہیں ہم لوگ\n\nمنزلیں ہیں ہمارے قدموں میں\nحاصل رہ گزار ہیں ہم لوگ\n\nہم سے تنظیم ہے زمانے کی\nمحور روزگار ہیں ہم لوگ\n\nہم جو چاہیں گے اب وہی ہوگا\nصاحب اختیار ہیں ہم لوگ\n\nہم سے روشن ہے کائنات شکیبؔ\nاصل لیل و نہار ہیں ہم لوگ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%BA%D9%85_%DA%AF%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%84%D9%88%DA%AF"} {"title": "عشق ہرچند مری جان سدا کھاتا ہے", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق ہرچند مری جان سدا کھاتا ہے\nپر یہ لذت تو وہ ہے جی ہی جسے پاتا ہے\n\nآہ کب تک میں بکوں تیری بلا سنتی ہے\nباتیں لوگوں کی جو کچھ دل مجھے سنواتا ہے\n\nہم نشیں پوچھ نہ اس شوخ کی خوبی مجھ سے\nکیا کہوں تجھ سے غرض جی کو مرے بھاتا ہے\n\nبات کچھ دل کی ہمارے تو نہ سلجھی ہم سے\nآپی خوش ہووے ہے پھر آپ ہی گھبراتا ہے\n\nجی کڑا کر کے ترے کوچے سے جب جاتا ہوں\nدل دشمن یہ مجھے گھیر کے پھر لاتا ہے\n\nراہ پینڈے کبھو اس شوخ کے تئیں ہم سے بھی\nدید وا دید تو ہوتی ہے جو مل جاتا ہے\n\nدردؔ کی قدر مرے یار سمجھنا واللہ\nایسا آزاد ترے دام میں یوں آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%D8%B1%DA%86%D9%86%D8%AF_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B3%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا\nجی کا جانا ٹھہر رہا ہے صبح گیا یا شام گیا\n\nعشق کیا سو دین گیا ایمان گیا اسلام گیا\nدل نے ایسا کام کیا کچھ جس سے میں ناکام گیا\n\nکس کس اپنی کل کو رووے ہجراں میں بے کل اس کا\nخواب گئی ہے تاب گئی ہے چین گیا آرام گیا\n\nآیا یاں سے جانا ہی تو جی کا چھپانا کیا حاصل\nآج گیا یا کل جاوے گا صبح گیا یا شام گیا\n\nہائے جوانی کیا کیا کہیے شور سروں میں رکھتے تھے\nاب کیا ہے وہ عہد گیا وہ موسم وہ ہنگام گیا\n\nگالی جھڑکی خشم و خشونت یہ تو سر دست اکثر ہیں\nلطف گیا احسان گیا انعام گیا اکرام گیا\n\nلکھنا کہنا ترک ہوا تھا آپس میں تو مدت سے\nاب جو قرار کیا ہے دل سے خط بھی گیا پیغام گیا\n\nنالۂ میرؔ سواد میں ہم تک دوشیں شب سے نہیں آیا\nشاید شہر سے اس ظالم کے عاشق وہ بدنام گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عشق ہی تنہا نہیں شوریدہ سر میرے لئے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق ہی تنہا نہیں شوریدہ سر میرے لئے\nحسن بھی بیتاب ہے اور کس قدر میرے لئے\n\nہاں مبارک اب ہے معراج نظر میرے لئے\nجس قدر وہ دور تر نزدیک تر میرے لئے\n\nکھیل ہے بازیچۂ شام و سحر میرے لئے\nدو گل بازی ہیں یہ شمس و قمر میرے لئے\n\nوقف ہے صیاد کی اک اک نظر میرے لئے\nہاں مبارک یہ شکست بال و پر میرے لئے\n\nگرم ہے ہنگامۂ شام و سحر میرے لئے\nرات دن گردش میں ہیں شمس و قمر میرے لئے\n\nمیں ہوں وحشی آہ کس صحرائے آفت خیز کا\nہے گل ویرانہ بھی بیگانہ تر میرے لئے\n\nاس مقام عشق میں ہوں مرحبا اے بے خودی\nذرہ ذرہ ہے جہاں گرم سفر میرے لئے\n\nجذب ہو کر رہ گیا ہوں میں جمال دوست میں\nعشق ہے تابندہ تر پائندہ تر میرے لئے\n\nمیں نہیں کہتا کہ میں ہوں تو ہو تیری خلوتیں\nہاں مگر سب سے جدا خاص اک نظر میرے لئے\n\nاللہ اللہ میں بھی کیا نازک دماغ عشق ہوں\nنکہت گل بھی ہے وجہ درد سر میرے لئے\n\nپھر بھی آنکھیں ڈھونڈھتی ہیں اک سراپا ناز کو\nمیں نے مانا کچھ نہیں حد نظر میرے لئے\n\nرہرو راہ طلب کو خضر کی حاجت نہیں\nذرہ ذرہ ہے چراغ رہگزر میرے لئے\n\nاپنے دل میں جز ترے میں بھی سما سکتا نہیں\nمیرا ہر ہر سانس ہے زنجیر در میرے لئے\n\nمجھ کو جنت ہی جو دنیا ہے تو یارب بخش دے\nبس یہی دامان تر چشمان تر میرے لئے\n\nترک مے سے اور بھی میں تو شرابی بن گیا\nروز آ جاتا ہے مینائے سحر میرے لئے\n\nجس نے زاہد سے بھی کافر کے اڑا ڈالے ہیں ہوش\nاس سے بھی کچھ اور ساقی تیز تر میرے لئے\n\nوہ مرا ساغر بکف ہونا پشیمانی کے ساتھ\nابر رحمت کا وہ اٹھنا جھوم کر میرے لئے\n\nکل شب ماہتاب میں اک بلبل آفت نوا\nمرکز غم بن رہا تھا رات بھر میرے لئے\n\nناگہاں لب ہائے برگ گل سے یہ آئی ندا\nنالے کرتا ہے عبث اے بے خبر میرے لئے\n\nمیں بھی ہوں اپنی جگہ خونیں جگر خونیں کفن\nتو نہ اپنی جان کھو اے مشت پر میرے لئے\n\nبس یہ سننا تھا کہ پائے گل پہ گر کر مر مٹا\nبن گیا اک نقش عبرت عمر بھر میرے لئے\n\nزندگی اک تہمت بے جا ہے میری ذات پر\nموت اک الزام ناجائز جگرؔ میرے لئے\n\nمیں تو ہر حالت میں خوش ہوں لیکن اس کا کیا علاج\nڈبڈبا آتی ہیں وہ آنکھیں جگرؔ میرے لئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%8C_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92"} {"title": "عشق ہی عشق ہو عاشق ہو نہ معشوق جہاں", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق ہی عشق ہو عاشق ہو نہ معشوق جہاں\nایسی اک درگہ توحید مآب اور بھی ہے\n\nہوش سے کاٹ یہ دن زندہ دلی سے رکھ کام\nشیب کے بعد مری جان شباب اور بھی ہے\n\nیار مے خانے اگر کر گئے خالی غم کیا\nاب بھی ابر آتا ہے اور خم میں شراب اور بھی ہے\n\nگھر کیا غالبؔ و مومنؔ نے جہاں آنکھوں میں\nاسی بستی میں کوئی خانہ خراب اور بھی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%8C_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B9%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "عشق ہے اختیار کا دشمن", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق ہے اختیار کا دشمن\nصبر و ہوش و قرار کا دشمن\n\nدل تری زلف دیکھ کیوں نہ ڈرے\nجال ہو ہے شکار کا دشمن\n\nساتھ اچرج ہے زلف و شانے کا\nمور ہوتا ہے مار کا دشمن\n\nدل سوزاں کوں ڈر ہے انجہواں سیں\nآب ہو ہے شرار کا دشمن\n\nکیا قیامت ہے عاشقی کے رشک\nیار ہوتا ہے یار کا دشمن\n\nآبروؔ کون جا کے سمجھاوے\nکیوں ہوا دوست دار کا دشمن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86"} {"title": "عشق ہے اس زلف کا سرتاج آج", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "عشق ہے اس زلف کا سرتاج آج\nہے رسول حسن کی معراج آج\n\nنوک مژگاں پر نہیں ہے لخت دل\nدار پر کھینچا گیا حلاج آج\n\nترک چشم یار کے تیور ہیں اور\nخرمن طاقت کا ہے تاراج آج\n\nتیغ ابرو کل پڑی دل پر مرے\nتیر مژگاں کا ہوا آماج آج\n\nچوسے ہیں اس کے مسی آلودہ لب\nمیں نے نیلم کا کیا پکھراج آج\n\nوصل کی مرضی تھی کل اس شوخ کی\nپھر گیا وہ وقت استمزاج آج\n\nلکھا ہے جو وصف ابرو کا وقارؔ\nشعر شعری سے نہ لے کیوں باج آج", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%B1%D8%AA%D8%A7%D8%AC_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "عشق ہے اک کیف پنہانی مگر رنجور ہے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق ہے اک کیف پنہانی مگر رنجور ہے\nحسن بے پردا نہیں ہوتا مگر دستور ہے\n\nخستگی نے کر دیا اس کو رگ جاں سے قریب\nجستجو ظالم کہے جاتی تھی منزل دور ہے\n\nلے اسی ظلمت کدہ میں اس سے محرومی کی داد\nاس سے آگے اے دل مضطر حجاب نور ہے\n\nلب پہ موج حسن جب چمکے تبسم نام ہو\nرب ارنی کہہ کے چیخ اٹھوں تو برق طور ہے\n\nنور آنکھوں میں اسی کا جلوہ خود نور محیط\nدید کیا ہے کچھ تلاطم میں ہجوم نور ہے\n\nآنکھ ہے جب محو حیرت تو نمایاں ہے وہی\nفکر ہو جب کار فرما تو وہی مستور ہے\n\nدیکھتا ہوں میں کہ ہے بحر حقیقت جوش پر\nجو حباب اٹھ اٹھ کے مٹتا ہے سر منصور ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%DB%8C%D9%81_%D9%BE%D9%86%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D8%B1%D9%86%D8%AC%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشق ہے یار کا خدا حافظ", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشق ہے یار کا خدا حافظ\nامر دشوار کا خدا حافظ\n\nپیچ مجھ پر پڑے جو پڑنا ہو\nزلف خم دار کا خدا حافظ\n\nسر جو ٹکراتا ہوں تو کہتے ہیں\nمیری دیوار کا خدا حافظ\n\nسرفروشوں کی چشم بد نہ پڑے\nان کی تلوار کا خدا حافظ\n\nدفن ہم ہو چکے تو کہتے ہیں\nاس گنہ گار کا خدا حافظ\n\nدشت چھوٹا تو آبلوں نے کہا\nیاں کے ہر خار کا خدا حافظ\n\nبات کرنے میں ہونٹ لڑتے ہیں\nایسے تکرار کا خدا حافظ\n\nبلبلیں قید باغباں غافل\nگل زردار کا خدا حافظ\n\nگر سخیؔ کو ہے عشق کا آزار\nایسے بیمار کا خدا حافظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%81%D8%B8"} {"title": "عشقیہ کہانی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "پھندنے", "year": "1955", "text_ur": "میرے متعلق عام لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ میں عشقیہ کہانیاں نہیں لکھتا۔ میرے افسانوں میں چونکہ عشق و محبت کی چاشنی نہیں ہوتی، اس لیے وہ بالکل سپاٹ ہوتے ہیں۔ میں اب یہ عشقیہ کہانی لکھ رہا ہوں تاکہ لوگوں کی یہ شکایت کسی حد تک دور ہو جائے۔\n\nجمیل کا نام اگر آپ نے پہلے نہیں سنا تو اب سن لیجیے۔ اس کا تعارف مختصر طور پر کرائے دیتا ہوں۔ وہ میرا لنگوٹیا تھا۔ ہم اکٹھے اسکول میں پڑھے، پھر کالج میں ایک ساتھ داخل ہوئے۔ میں ایف اے میں فیل ہوگیا اور وہ پاس۔ میں نے پڑھائی چھوڑ دی مگر اس نے جاری رکھی۔ ڈبل ایم۔ اے کیا اور معلوم نہیں کہاں غائب ہوگیا۔ صرف اتنا سننے میں آیا تھا کہ اس نے ایک پانچ بچوں والی ماں سے شادی کرلی تھی اور آبادان چلا گیا تھا۔ وہاں سے واپس آیا یا وہیں رہا، اس کے متعلق مجھے کچھ معلوم نہیں۔\n\nجمیل بڑا عاشق مزاج تھا۔ اسکول کے دنوں میں اس کا جی بے قراررہتا تھا کہ وہ کسی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو جائے۔ مجھے ایسی گرفتاری سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی لیکن اس کی سرگرمیوں میں جو عشق سے متعلق ہوتیں، برابرکا حصہ لیا کرتا تھا۔جمیل دراز قد نہیں تھا مگر اچھے خدوخال کا مالک تھا۔ میرا مطلب ہے کہ اسے خوبصورت نہ کہا جائے تو اس کے قبول صورت ہونے میں شک و شائبہ نہیں تھا۔ رنگ گورا اور سرخی مائل، تیز تیز باتیں کرنے والا، بلا کا ذہین، انسانی نفسیات کا طالب علم، بڑا صحت مند۔اس کے دل و دماغ میں سن بلوغت تک پہنچنے سے کچھ عرصہ پہلے ہی عشق کرنے کی زبردست خواہش پیدا ہوگئی تھی۔ اس کو غالب کے اس شعر کا مفہوم اچھی طرح معلوم تھا،\n\nعشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش غالب\n\nکہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے\n\nمگر اس کے برعکس وہ یہ آگ خود اپنی ماچس سے لگانا چاہتا تھا۔اس نے اس کوشش میں کئی ماچسیں جلائیں۔ میرا مطلب ہے کہ کئی لڑکیوں کے عشق میں گرفتار ہو جانے کے لیے نت نئے سوٹ سلوائے، بڑھیا سے بڑھیا ٹائیاں خریدیں، سینٹ کی سینکڑوں قیمتی شیشیاں استعمال کیں مگر یہ سوٹ، ٹائیاں اور سینٹ اس کی کوئی مدد نہ کرسکے۔میں اور وہ، دونوں شام کو کمپنی باغ کا رخ کرتے۔ وہ خوب سجا بنا ہوتا۔اس کے کپڑوں سے بہترین خوشبو نکل رہی ہوتی۔ باغ کی روشوں پر متعدد لڑکیاں بد صورت، خوبصورت، قبول صورت محو خرام ہوتی تھیں۔ وہ ان میں سے کسی ایک کو اپنے عشق کے لیے منتخب کرنے کی کوشش کرتا مگر ناکام رہتا۔\n\nایک دن اس نے مجھ سے کہا،’’سعادت! میں نے آخر کار ایک لڑکی چن ہی لی ہے۔ خدا کی قسم چندے آفتاب، چندے ماہتاب ہے۔میں کل صبح سیر کے لیے نکلا۔ بہت سی لڑکیاں مائی کے ساتھ اسکول جارہی تھیں۔ ان میں ایک برقع پوش لڑکی نے جو اپنی نقاب ہٹائی تو اس کا چہرہ دیکھ کر میری آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ کیا حسن و جمال تھا! بس میں نے وہیں فیصلہ کرلیا کہ جمیل اب مزید تگ و دو چھوڑو، اس حسینہ ہی کے عشق میں تمہیں گرفتار ہونا چاہیے۔ ہونا کیا’’تم ہو چکے ہو۔‘‘\n\nاس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ ہر روز صبح اٹھ کر اس مقام پر جہاں اس نے اس کافرجمال حسینہ کو دیکھا تھا، پہنچ جایا کرے گا اور اس کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرے گا۔اس کے لیے اس کے ذہین دماغ نے بہت سے پلین سوچے تھے۔ ایک جودوسروں کے مقابلے میں زیادہ قابل عمل اور زود اثر تھا، اس نے مجھے بتا دیا تھا۔اس نے حساب لگا کر سوچا تھا کہ دس دن متواتر اس لڑکی کو ایک ہی مقام پر کھڑے رہ کر دیکھنے اورگھورنے سے اتنا معلوم ہو جائے گا کہ اس کا مطلب کیا ہے یعنی وہ کیا چاہتا ہے۔ اس مدت کے بعد وہ اس کا ردعمل ملاحظہ کرے گا اور اس تجزیےکے بعد کوئی فیصلہ مرتب کرے گا۔یہ اغلب تھا کہ وہ لڑکی اس کا دیکھنا گھورنا پسند نہ کرے۔ مائی سے یا اپنے والدین سے اس کے غیر اخلاقی رویے کی شکایت کردے۔ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ راضی ہو جاتی۔ اس کی ثابت قدمی اس پر اتنا اثر کرتی کہ اس کے ساتھ بھاگ جانے کو تیارہو جاتی۔\n\nجمیل نے تمام پہلوؤں پر اچھی طرح غور کرلیا تھا۔ شاید ضرورت سے زیادہ۔ اس لیے کہ دوسرے روز جب وہ الارم بجنے پر اٹھا تو اس نے اس مقام پر جہاں اس لڑکی سے اس کی پہلی مرتبہ مڈبھیڑ ہوئی تھی، جانے کا خیال ترک کردیا۔اس نے مجھ سے کہا،’’سعادت! میں نے یہ سوچا ہے کہ ہو سکتا ہے اسکول میں چھٹی ہو کیوں کہ جمعہ ہے۔ معلوم نہیں اسلامی اسکول میں پڑھتی ہے یا کسی گورنمنٹ اسکول میں۔ پھر یہ بھی ممکن تھا کہ اگر میں اسے زیادہ شدت سے گھورتا تو وہ بھنا جاتی۔ اس کے علاوہ اس بات کی کیا ضمانت تھی کہ دس دن کے اندر اندر مجھے اس کا رد عمل یقینی طور پر معلوم ہو جائے گا۔ بفرض محال وہ رضا مند ہو جاتی، میرا مطلب ہے مجھے بالمشافہ گفتگو کا موقع دے دیتی، تو میں اس سے کیا کہتا! ‘‘میں نے کہا،’’یہی کہ تم اس سے محبت کرتے ہو۔‘‘\n\nجمیل سنجیدہ ہوگیا۔ ’’یار، مجھ سے کبھی کہا نہ جاتا۔۔۔تم سوچو نا اگر یہ سن کر وہ میرے منہ پر تھپڑ دے مارتی کہ جناب آپ کو اس کا کیا حق حاصل ہے، تو میں کیا جواب دیتا۔ زیادہ سے زیادہ میں کہہ سکتا کہ حضور محبت کرنے کا حق ہر انسان کو حاصل ہے مگر وہ ایک اور تھپڑ میرے مار سکتی تھی کہ تم بکواس کرتے ہو، کون کہتا ہے کہ تم انسان ہو۔\n\nقصہ مختصر یہ کہ جمیل اس حسین و جمیل لڑکی کی محبت میں خود کو اپنے تجزیہ خودی کے باعث گرفتار نہ کراسکا۔ مگر اس کی خواہش بدستور موجود تھی۔ ایک اور خوبرو لڑکی اس کی تلاش کرنے والی نگاہوں کے سامنے آئی اور اس نے فوراً تہیہ کرلیا کہ اس سے عشق لڑانا شروع کردے گا۔\n\nجمیل نے سوچا کہ اس سے خط و کتابت کی جائے، چنانچہ اس نے پہلے خط کے کئی مسودے پھاڑنے کے بعد ایک آخری، عشق و محبت میں شرابور، تحریر مکمل کی، جو میں یہاں من و عن نقل کرتا ہوں۔\n\nجان جمیل!\n\nاپنے دل کی دھڑکنیں سلام کے طور پر پیش کرتا ہوں۔ حیران نہ ہو ئیے گا کہ یہ کون ہے جو آپ سے یوں بے دھڑک ہم کلام ہے۔ میں عرض کیے دیتا ہوں۔ کل شام کو سوا چھ بجے۔۔۔ نہیں، چھ بج کر گیارہ منٹ پر جب آپ امرت سینما کے پاس ٹانگے میں سے اتریں تو میں نے آپ کو دیکھا۔ بس ایک ہی نظر میں آپ نے مجھے مسحورکرلیا۔آپ اپنی سہیلیوں کے ساتھ پکچر دیکھنے چلی گئیں اورمیں باہر کھڑا آپ کو اپنی تصور کی آنکھوں سے مختلف روپوں میں دیکھتا رہا۔ دو گھنٹے کے بعد آپ باہر نکلیں۔ پھر زیارت نصیب ہوئی اور میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ کا غلام ہوگیا۔\n\nمیری سمجھ میں نہیں آتا میں آپ کو اور کیا لکھوں۔ بس اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کیا آپ میری محبت کو اپنے حسن و جمال کے شایان سمجھیں گی یا نہیں۔اگر آپ نے مجھے ٹھکرا دیا تو میں خود کشی نہیں کروں گا، زندہ رہوں گا تاکہ آپ کے دیدار ہوتے رہیں۔\n\nآپ کے حسن و جمال کا پرستار\n\nجمیل\n\nیہ خط اس نے میرے گھر میں ایک خوشبودار کاغذ پر اپنی تحریر سے منتقل کیا تھا۔ لفافہ پھول دار اور خوشبودار تھاجس کو جمالیاتی ذوق نے پسند نہیں کیا تھا۔چند روز کے بعد جمیل مجھ سے ملا تو معلوم ہوا کہ اس نے یہ خط اس لڑکی تک نہیں پہنچایا۔اولاً اس لیے کہ عشق کا آغاز خط سے کرنا نامناسب ہے۔ثانیاً اس لیے کہ اس خط کی تحریر بے ربط اور بے اثر ہے۔ اس نے خود کو لڑکی متصور کرکے یہ خط پڑھا اور اس کو بہت مضحکہ خیز معلوم ہوا۔\n\nثالثاً اس لیے کہ تفتیش کرنے کے بعد اس کو معلوم ہوا کہ لڑکی ہندو ہے۔یہ مرحلہ بھی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔\n\nاس کے گھر میں میرا آنا جانا تھا۔ مجھ سے کوئی پردہ وغیرہ نہیں تھا۔ ہم گھنٹوں بیٹھے پڑھائی یا گپ بازیوں میں مشغول رہتے۔ اس کی دو بہنیں تھیں۔ چھوٹی چھوٹی۔ ان سے بڑی بچکانہ قسم کی پرلطف باتیں ہوتیں۔ اس کی موسی کی ایک انتہا درجے کی سادہ لوح لڑکی عذرا تھی۔ عمر یہی کوئی سترہ اٹھارہ برس ہوگی۔ اس کا ہم دونوں بہت مذاق اڑایا کرتے تھے۔\n\nجمیل کی جب دوسری کوشش بھی بار آور ثابت نہ ہوئی تو وہ دو مہینے تک خاموش رہا۔ اس دوران میں اس نے عشق میں گرفتار ہونے کی کوئی نئی کوشش نہ کی۔ لیکن اس کے بعد اس کو ایک دم دورہ پڑا اور اس نے ایک ہفتے کے اندر اندر پانچ چھ لڑکیاں اپنی عشق کی بندوق کے لیے نشانے کے طور پر منتخب کرلیں۔ پر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ صرف چار لڑکیوں کے متعلق مجھے اس کی عشقیہ مہم کے بارے میں علم ہے۔\n\nپہلی نے جو اس کی دور دراز کی رشتے دار تھی، اپنی ماں کے ذریعے اس کی ماں تک یہ الٹی میٹم بھجوا دیا کہ اگر جمیل نے اس کو پھر بری نظر سے دیکھا تو اس کے حق میں اچھا نہ ہوگا۔دوسری غور سے دیکھنے پر چیچک کے داغوں والی نکلی۔تیسری کی چھٹے، ساتویں روز ایک قصائی سے منگنی ہوگئی۔چوتھی کو اس نے ایک لمبا عشقیہ خط لکھا جو اس کی موسی کی بیٹی عذرا کے ہاتھ آگیا۔ معلوم نہیں کس طرح۔ پہلے جمیل اس کا مذاق اڑایا کرتا تھا، اب اس نے اڑانا شروع کردیا، اتنا کہ جمیل کا ناک میں دم آگیا۔\n\nجمیل نے مجھے بتایا، ’’سعادت! یہ عذرا جسے ہم بے وقوفی کی حد تک سادہ لوح سمجھتے ہیں، سخت ظالم ہے، سب سمجھتی ہے۔ جس لڑکی کو میں نے خط لکھا تھا اور غلطی سے اپنے میز کے دراز میں رکھ کر یہ سوچنے میں مشغول تھا کہ وہ اس کا کیا جواب لکھے گی، یہ کم بخت جانے کیسے لے اڑی۔ اب اس نے میرا ناطقہ بند کردیا۔ بعض اوقات ایسی تلخ باتیں کرتی ہے کہ مجھے رلاتی ہے اور خود بھی روتی ہے۔ میں تو تنگ آگیا ہوں۔‘‘\n\nاس سے بہت زیادہ تنگ آکر اس نے اپنے عشق کی مہم اور تیز کردی۔ اب کی اس نے چودہ لڑکیاں چنیں مگر اچھی طرح غور کرنے کے بعد ان میں سے صرف ایک باقی رہ گئی۔ دس اس کے مکان سے بہت دور رہتی تھیں، جن کو ہر روز حتمی طور پر دیکھنے کے متعلق اس کا دل گواہی نہیں دیتا تھا۔ دو ایسی تھیں، جن کا خاندانی ہونے کے بارے میں اسے شبہ تھا۔ بارہ ہوئیں۔ تیرھویں نے ایک دن ایسی بری طرح گھورا کہ اس کے اوسان خطا ہوگئے۔\n\nچودھویں جو کہ چودھویں کا چاند تھی، ملتفت ہو جاتی مگر وہ کم بخت کمیونسٹ تھی۔ جمیل نے سوچا کہ اس کا التفات حاصل کرنے کے لیے وہ ضرور کمیونسٹ بن جاتا، کھادی کے کپڑے پہن کر مزدوروں کے حق میں دس بارہ تقریریں بھی کردیتا، مگر مصیبت یہ تھی کہ اس کے والد صاحب ریٹائرڈ انجینئر تھے، ان کی پنشن یقیناً بند ہو جاتی۔ یہاں سے ناامیدی ہوئی تو اس نے سوچا کہ عشق بازی فضول ہے، شرافت یہی ہے کہ وہ کسی سے شادی کرلے۔ اس کے بعد اگر طبیعت چاہے تو اپنی بیوی کی محبت میں گرفتار ہو جائے۔ چنانچہ اس نے مجھے اس فیصلے سے آگاہ کردیا۔ طے یہ ہوا کہ وہ اپنی امی جان اور اپنے ابا جان سے بات کرے۔\n\nبہت دنوں کی سوچ بچار کے بعد اس نے اس گفتگو کا مسودہ تیار کیا۔۔۔ سب سے پہلے اس نے اپنی امی سے بات کی۔ وہ خوش ہوئیں۔۔۔ ادھر ادھر اپنے عزیزوں میں انھوں نے جمیل کے لیے موزوں رشتہ ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔۔۔ پڑوس میں خان بہادر صاحب کی لڑکی تھی۔۔۔ ایم۔ اے۔ بڑی ذہین اور طبیعت کی بہت اچھی۔۔۔مگر اس کی ناک چپٹی تھی۔ خالہ کی بیٹی حسن آراء تھی پر بے حد کالی۔ صغریٰ تھی مگر اس کے والدین بڑے خسیس تھے۔جہیز میں جتنے جوڑے جمیل کی ماں چاہتی تھی، اس سے وہ آدھے دینے پر بھی رضا مند نہیں تھے۔ عذرا کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔\n\nجمیل کی ماں نے بڑی کوششوں کے بعد راولپنڈی کے ایک معزز اور متمول خاندان کی لڑکی سے بات چیت طے کرلی۔ جمیل اپنی ناکام عشق بازیوں سے اس قدر تنگ آگیا تھا کہ اس نے اپنی ماں سے یہ بھی نہ پوچھا کہ شکل و صورت کیسی ہے۔ ویسے اس نے اپنے زندہ تصور میں اس کا اندازہ لگالیا تھا اور مفصل طور پر سوچ لیا تھا کہ وہ اس کی محبت میں کس طرح گرفتار ہوگا۔یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ میں خوش تھا کہ جمیل کی شادی ہورہی ہے۔ اس کے مرض متعلقہ بہ عشق کا ایک فقط یہی واحد علاج تھا۔چھ مہینے گزر گئے ،آخرراولپنڈی کے اس معزز اور متمول خاندان کی لڑکی سے،جس کا نام غالباً شریفہ تھا، اس کی منگنی ہوگئی۔\n\nاس تقریب پر اسے سسرال کی طرف سے ہیرے کی انگوٹھی ملی، جو وہ ہر وقت پہنے رہتاتھا۔ اس پر اس نے ایک نظم بھی لکھی جس کا کوئی شعر مجھے یاد نہیں۔ ایک برس تک سوچتا رہا کہ اسے اپنی دلہن کو کب اپنے یہاں لانا چاہیے۔ آدمی چونکہ آزاد اور روشن خیال قسم کا تھا اس لیے اس کی خواہش تھی کہ ماں باپ سے علیحدہ اپنا گھر بنائے۔ یہ کیسا ہونا چاہیے، اس میں کس ڈیزائن کا فرنیچر ہو، نوکر کتنے ہوں، ماہوار خرچ کتنا ہوگا، ساس کے ساتھ اس کا کیا سلوک ہوگا، ان تمام امور کے بارے میں اس نے کافی سوچ بچار کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لڑکی والے تنگ آگئے۔ وہ چاہتے تھے کہ رخصتی کا مرحلہ جلد از جلد طے ہو۔\n\nجمیل اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرسکا۔ لیکن اس کی امی نے ایک تاریخ مقرر کردی۔ کارڈ وارڈ چھپ گئے۔ ولیمے کی دعوت کے لیے ضروری سامان کا بندوبست کرلیا گیا۔ اس کے والد بزرگوار شیخ محمد اسماعیل صاحب ریٹائرڈ انجینئر بہت مسرور تھے مگر جمیل بہت پریشان تھا۔ اس لیے کہ وہ اپنے بننے والے گھر کا آخری نقشہ تیار نہیں کرسکا تھا۔\n\nرخصتی کی تاریخ9 اکتوبر کی صبح کو۔۔۔ منہ ادھیرے جمیل میرے پاس سخت اضطراب اور کرب کے عالم میں آیا اور اس نے مجھے یہ خبر سنائی کہ اس کی موسی کی لڑکی عذرا نے جو بیوقوفی کی حد تک سادہ لوح تھی، خودکشی کرلی ہے، اس لیے کہ اس کو جمیل سے والہانہ عشق تھا۔ وہ برداشت نہ کرسکی کہ اس کے محبوب و معبود کی شادی کسی اور لڑکی سے ہو۔ اس ضمن میں اس نے جمیل کے نام خط لکھاجس کی عبارت بہت درد ناک تھی۔ میرا خیال ہے کہ یہ تحریریادگار کے طور پر اس کے پاس محفوظ ہوگی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%82%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "عشوؤں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشوؤں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہے\nساری خطا مرے دل شورش ادا کی ہے\n\nمستانہ کر رہا ہوں رہ عاشقی کو طے\nکچھ ابتدا کی ہے نہ خبر انتہا کی ہے\n\nکھلتے ہی پھول باغ میں پژمردہ ہو چلے\nجنبش رگ بہار میں موج فنا کی ہے\n\nہم خستگان راہ کو راحت کہاں نصیب\nآواز کان میں ابھی بانگ درا کی ہے\n\nڈوبا ہوا سکوت میں ہے جوش آرزو\nاب تو یہی زبان مرے مدعا کی ہے\n\nلطف نہان یار کا مشکل ہے امتیاز\nرنگت چڑھی ہوئی ستم برملا کی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%88%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DA%AF%DB%81_%D9%81%D8%AA%D9%86%DB%81_%D8%B2%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہے", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہے\nقہر ہے سحر ہے جادو ہے بلا ہے کیا ہے\n\nیار سے میری جو کرتے ہیں سفارش اغیار\nمکر ہے عذر ہے قابو ہے دغا ہے کیا ہے\n\nتجھ کو کس نام سے اے فخر مرے یاد کروں\nباپ ہے پیر ہے مرشد ہے خدا ہے کیا ہے\n\nتم جو بے وجہ سناتے ہو مری جان مجھے\nخوب ہے نیک ہے بہتر ہے بھلا ہے کیا ہے\n\nروبرو اس کے کبھو بات نہ سدھری ہم سے\nحلم ہے چین ہے دہشت ہے حیا ہے کیا ہے\n\nنظم کو سن کے مری ہنس کے یہ بولا وہ شوخ\nمدح ہے شکر ہے شکوہ ہے گلہ ہے کیا ہے\n\nیہ جو اس شوخ پہ کرتا ہے بیاںؔ جان نثار\nخبط ہے عشق ہے سودا ہے وفا ہے کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D9%88%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92_%D8%BA%D9%85%D8%B2%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "عصرِ حاضر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "پُختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی\nاس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام\nمَدرسہ عقل کو آزاد تو کرتا ہے مگر\nچھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و نظام\nمُردہ، ’لا دینیِ افکار سے افرنگ میں عشق\nعقل بے ربطیِ افکار سے مشرق میں غلام!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B5%D8%B1%D9%90_%D8%AD%D8%A7%D8%B6%D8%B1"} {"title": "عصمت کا ہے لحاظ نہ پروا حیا کی ہے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عصمت کا ہے لحاظ نہ پروا حیا کی ہے\nیہ سن غضب کا ہے یہ جوانی بلا کی ہے\n\nسچ پوچھیے تو نالۂ بلبل ہے بے خطا\nپھولوں میں ساری آگ لگائی صبا کی ہے\n\nدل ہے عجیب گل چمن روزگار میں\nرنگت تو پھول کی ہے مگر بو وفا کی ہے\n\nخلوت میں کیوں یہ ساتھ ہیں سب کو الگ کرو\nشوخی کا ہے نہ کام نہ حاجت حیا کی ہے\n\nوہ ہاتھ ان کے چومتی ہے میں ہوں پائمال\nیہ ہیں مرے نصیب وہ قسمت حنا کی ہے\n\nانجام کیا ہو داغ محبت کا دیکھیے\nسینے میں ابتدا سے جلن انتہا کی ہے\n\nموسم یہی تو پینے پلانے کا ہے جلیل\nمے خوار باغ باغ ہیں آمد گھٹا کی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B5%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%84%D8%AD%D8%A7%D8%B8_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7_%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "عصیاں سے ہوں شرمسار توبہ یارب", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "عصیاں سے ہوں شرمسار توبہ یارب\nکرتا ہوں میں بار بار توبہ یارب\nنہ جرم کا پایاں نہ گناہوں کا شمار\nاک توبہ تو کیا ہزار توبہ یارب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B5%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8"} {"title": "عطا اسلاف کا جذبِ دُروں کر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "عطا اسلاف کا جذبِ دُروں کر\nشریکِ زمرۂ ’لَا یحْزَنُوْں‘ کر\nخرد کی گُتھّیاں سُلجھا چُکا مَیں\nمرے مَولا مجھے صاحِب جُنوں کر!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D8%B7%D8%A7_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%B0%D8%A8%D9%90_%D8%AF%D9%8F%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیے\nسینہ یوں چاک کیا داغ جگر کھول دیئے\n\nسب حسینوں نے مرے قتل پہ کمریں باندھیں\nڈورے تلواروں کے اور بند سپر کھول دیئے\n\nآ گیا ہوش تری چال کے مشتاقوں کو\nحشر کی سن کے صدا دیدۂ تر دیئے\n\nپائی تاروں نے ضیا بڑھ گئی تاریکئ شب\nاس نے منہ ڈھانپ کے کانوں کے گہر کھول دیئے\n\nعام باراں کی طرح سے ہے کرم ساقی کا\nآئی برسات کہ میخانے کے در کھول دیئے\n\nجا عجب کی نہیں گر اہل محبت روئے\nمیرے ماتم میں حسینوں نے بھی سر کھول دیئے\n\nآنکھیں کھولے ہوئے سب دیکھ رہے ہیں تجھ کو\nدل کے جانے کو یہ عشاق نے در کھول دیئے\n\nامتحان حسرت پرواز کا منظور ہوا\nذبح کر کے مجھے صیاد نے پر کھول دیئے\n\nشرم آئے گی مجھے لوگ سمجھ جائیں گے\nتم نے گیسو مرے لاشے پر اگر کھول دیئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%82%D8%AF%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%D8%A7%DB%92_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%82%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%AF%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "عقل جزوی چھوڑ کر اے یار فکر گل کرو", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "عقل جزوی چھوڑ کر اے یار فکر گل کرو\nمشعل دل کو چتا فانی چراغاں گل کرو\n\nدل لگاؤ ایک سے دونوں جہاں جس کا ظہور\nبوالہوس ہو کر نہ ہرگز عادت بلبل کرو\n\nمیں محبت سوں ہمیشہ عشق میں سرشار ہوں\nنشۂ فانی سوں مت خاطر کو خوئے مل کرو\n\nزلف و عارض ہے منور دیکھ وجہ اللہ کا\nتم نہ کو سیر چمن اور خواہش سنبل کرو\n\nقول پر لا تقنطو کے رہو ہمیشہ جمع دل\nمت تمہیں خاطر پریشاں صورت کاکل کرو\n\nخوف مت رکھو کسی دشمن سے دل میں یک رتی\nپشت باں اپنا ہمیشہ صاحب دلدل کرو\n\nاے علیمؔ اللہ اول عشق میں مسمار ہو\nعاشقوں میں بعد اپنے عاشقی کا غل کرو", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%82%D9%84_%D8%AC%D8%B2%D9%88%DB%8C_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچے", "poet_page": "مصنف:بیتاب عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچے\nکچھ حقیقت بھی ہے انساں کی کہاں تک پہنچے\n\nعشق کے شعلے بھڑک کر رگ جاں تک پہنچے\nآگ سی آگ ہے یہ آگ جہاں تک پہنچے\n\nلڑ گئی ان سے نظر کھچ گئے ابرو ان کے\nمعرکے عشق کے اب تیر و کماں تک پہنچے\n\nدل سے باہر ہو ترا راز گوارا ہے کسے\nیہ کوئی بات نہیں ہے کہ زباں تک پہنچے\n\nمار لے وہ نگۂ ناز تو رتبہ ہو بلند\nسر ہو اونچا مرا گر نوک سناں تک پہنچے\n\nکوئی دیوانگئ عشق کا قصہ چھیڑے\nسلسلہ اس کا خدا جانے کہاں تک پہنچے\n\nسرخیٔ خار بیاباں یہ پتہ دیتی ہے\nکہ ادھر سے ترے دیوانے یہاں تک پہنچے\n\nرند پر کیف بہ یک گردش چشم ساقی\nغایت دائرۂ کون و مکاں تک پہنچے\n\nرخ سے پردہ کو ہٹا حسن یقیں تک پہنچا\nآخر انسان ہوں یوں عقل کہاں تک پہنچے\n\nراہ میں اور بھی دیوانوں سے ملتے جلتے\nپوچھتے پوچھتے ہم ان کے مکاں تک پہنچے\n\nشربت دید نہ ہو تیغ کا پانی ہی سہی\nکوئی ٹھنڈک تو مرے قلب تپاں تک پہنچے\n\nلے گئے عشق کی بازی پہ صفائی بیتابؔ\nجان پر کھیل گئے جان جہاں تک پہنچے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%82%D9%84_%D8%AF%D9%88%DA%91%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%92"} {"title": "عقل سے حاصل ہوئی کیا کیا پشیمانی مجھے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عقل سے حاصل ہوئی کیا کیا پشیمانی مجھے\nعشق جب دینے لگا تعلیم نادانی مجھے\n\nرنج دے گی باغ رضواں کی تن آسانی مجھے\nیاد آئے گا ترا لطف ستم رانی مجھے\n\nمیری جانب ہے مخاطب خاص کر وہ چشم ناز\nاب تو کرنی ہی پڑے گی دل کی قربانی مجھے\n\nدیکھ لے اب کہیں آ کر جو وہ غفلت شعار\nکس قدر ہو جائے مر جانے میں آسانی مجھے\n\nبے نقاب آنے کو ہیں مقتل میں وہ بے شک مگر\nدیکھنے کاہے کو دے گی میری حیرانی مجھے\n\nسینکڑوں آزادیاں اس قید پر حسرتؔ نثار\nجس کے باعث کہتے ہیں سب ان کا زندانی مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%82%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D8%B4%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "عقل و دِل (عقل نے ایک دن یہ دل سے کہا)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "عقل نے ایک دن یہ دل سے کہا\nبھُولے بھٹکے کی رہنما ہُوں میں\n\nہوں زمیں پر، گزر فلک پہ مرا\nدیکھ تو کس قدر رسا ہوں میں\n\nکام دنیا میں رہبری ہے مرا\nمثل خضرِ خجستہ پا ہوں میں\n\nہوں مفسِّر کتابِ ہستی کی\nمظہرِ شانِ کبریا ہوں میں\n\nبوند اک خون کی ہے تُو لیکن\nغیرتِ لعلِ بے بہا ہوں میں\n\nدل نے سُن کر کہا یہ سب سچ ہے\nپر مجھے بھی تو دیکھ، کیا ہوں میں\n\nرازِ ہستی کو تُو سمجھتی ہے\nاور آنکھوں سے دیکھتا ہوں میں!\n\nہے تجھے واسطہ مظاہر سے\nاور باطن سے آشنا ہوں میں\n\nعِلم تجھ سے تو معرفت مجھ سے\nتُو خدا جُو، خدا نما ہوں میں\n\nعلم کی انتہا ہے بے تابی\nاس مرض کی مگر دوا ہوں میں\n\nشمع تُو محفلِ صداقت کی\nحُسن کی بزم کا دِیا ہوں میں\n\nتُو زمان و مکاں سے رشتہ بپا\nطائرِ سِدرہ آشنا ہوں میں\n\nکس بلندی پہ ہے مقام مرا\nعرش ربِّ جلیل کا ہوں میں!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%82%D9%84_%D9%88_%D8%AF%D9%90%D9%84_%28%D8%B9%D9%82%D9%84_%D9%86%DB%92_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%86_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%29"} {"title": "عقل و دِل (ہر خاکی و نُوری پہ حکومت ہے خرد کی)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہر خاکی و نُوری پہ حکومت ہے خرد کی\nباہر نہیں کچھ عقلِ خدا داد کی زد سے\nعالَم ہے غلام اس کے جلالِ اَزلی کا\nاک دل ہے کہ ہر لحظہ اُلجھتا ہے خرد سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%82%D9%84_%D9%88_%D8%AF%D9%90%D9%84_%28%DB%81%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%DA%A9%DB%8C_%D9%88_%D9%86%D9%8F%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%DB%81_%D8%AD%DA%A9%D9%88%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%29"} {"title": "عقل پر پتھر پڑے الفت میں دیوانہ ہوا", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "عقل پر پتھر پڑے الفت میں دیوانہ ہوا\nدل جو اک مدت سے اپنا تھا وہ بیگانہ ہوا\n\nکہہ گیا جو جی میں آیا ایسا دیوانہ ہوا\nبوند میں کم ظرف کا لبریز پیمانہ ہوا\n\nسچی باتوں میں بھی ہوتا ہے قیامت کا اثر\nتذکرہ میرا عجب دلچسپ افسانہ ہوا\n\nبد نما سمجھا گیا پیوند استغنا و حرص\nننگ دلق فقر کشکول گدایانہ ہوا\n\nرنگ خلت سے دل شیدا مرقع بن گیا\nیہ خدا کا گھر بھی اس صورت سے بت خانہ ہوا\n\nمخرب بنیاد آسائش ہے رفتار جہاں\nبستیاں اجڑیں کبھی آباد ویرانہ ہوا\n\nجان ہے مول اس کا اے عشق جوانی جان لے\nنقد حسن یوسف ثانی کا بیعانہ ہوا\n\nتیرہ بختی کی بلا سے یوں نکلنا چاہئے\nجس طرح سلجھا کے زلفوں کو الگ شانہ ہوا\n\nجذب دل یہ ہے اسے کہتے ہیں باطن کی کشش\nان کے پرتو سے منور میرا کاشانہ ہوا\n\nکیا شکایت اس کی صاحب اپنا اپنا رنگ ہے\nغیر ہیں ہم تم سے جب غیروں سے یارانہ ہوا\n\nمل گئے دونوں میں تھی جلنے کی قوت ایک ساں\nمیل جنسیت سے جزو شمع پروانہ ہوا\n\nاس کی شان عالم آرائی پہ کی جس دم نظر\nگوشۂ عزلت مرا دربار شاہانہ ہوا\n\nقالب خاکی میں ساقی تو نے پھونکی ہے یہ روح\nقلقل مینا سے پیدا شور مستانہ ہوا\n\nخوب ہی رنگ جوانی شیب نے کھویا حبیبؔ\nمحو دل سے بھی خیال روئے جانانہ ہوا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%82%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1_%D9%BE%DA%91%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "عقل کو چھوڑ عشق میں آ جا", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "عقل کو چھوڑ عشق میں آ جا\nخام ہے عشق سوں جو کوئی لا جا\n\nعشق بازی میں دل کو رکھ ثابت\nاپنا معشوق آپ میں پا جا\n\nعشق کی راہ میں ہے یک رنگی\nکیا وہاں بادشاہ کیا راجا\n\nعشق کی راہ میں مسافر کو\nعاشقاں بولتے ہیں جلد جا جا\n\nشہ سوں پایا ہے جب وصال علیمؔ\nفوج عشاق میں طبل باجا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%82%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "عقل کی سطح سے کچھ اور ابھر جانا تھا", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عقل کی سطح سے کچھ اور ابھر جانا تھا\nعشق کو منزل پستی سے گزر جانا تھا\n\nجلوے تھے حلقۂ سر دام نظر سے باہر\nمیں نے ہر جلوے کو پابند نظر جانا تھا\n\nحسن کا غم بھی حسیں فکر حسیں درد حسیں\nان کو ہر رنگ میں ہر طور سنور جانا تھا\n\nحسن نے شوق کے ہنگامے تو دیکھے تھے بہت\nعشق کے دعوئے تقدیس سے ڈر جانا تھا\n\nیہ تو کیا کہئے چلا تھا میں کہاں سے ہم دم\nمجھ کو یہ بھی نہ تھا معلوم کدھر جانا تھا\n\nحسن اور عشق کو دے طعنۂ بیداد مجازؔ\nتم کو تو صرف اسی بات پر مر جانا تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%82%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%B7%D8%AD_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "عقل گئی ہے سب کی کھوئی کیا یہ خلق دوانی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عقل گئی ہے سب کی کھوئی کیا یہ خلق دوانی ہے\nآپ حلال میں ہوتا ہوں ان لوگوں کو قربانی ہے\n\nنطق زباں گر ہوتا مجھ کو پوچھتا میں تقصیر مری\nہاں یہ مگر دو آنکھیں ہیں سو ان سے اشک فشانی ہے\n\nگھاس چری ہے جنگل کی میں جون میں دنبے بکرے کی\nان کا کچھ ڈھالا کہ بگاڑا جس پر خنجر رانی ہے\n\nتین جگہ سے میرے گلے کو مثل شتر یہ کاٹتے ہیں\nدین محمدی ہے جو خلیلی اس کی یہ طغیانی ہے\n\nجنس نے جنس کو قتل کیا کب دیکھیو بد ذاتی تو ذرا\nیعنی جو ہو مرد مسلماں اس کی یہ ہی نشانی ہے\n\nکافر دل جلاد نہیں ہم زخم کو ایک سمجھتے ہیں\nہم کو جو اس کام کا سمجھے اس کی یہ نادانی ہے\n\nراہ رضا پر اپنا گلا کٹوائے جو نیچے خنجر کے\nمصحفیؔ اس کو ہم یہ کہیں گے وہ بھی حسین ثانی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%82%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%AE%D9%84%D9%82_%D8%AF%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "عقل گو آستاں سے دُور نہیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "عقل گو آستاں سے دُور نہیں\nاس کی تقدیر میں حضور نہیں\n\nدلِ بینا بھی کر خدا سے طلب\nآنکھ کا نور دل کا نور نہیں\n\nعِلم میں بھی سُرور ہے لیکن\nیہ وہ جنّت ہے جس میں حور نہیں\n\nکیا غضب ہے کہ اس زمانے میں\nایک بھی صاحبِ سُرور نہیں\n\nاک جُنوں ہے کہ باشعور بھی ہے\nاک جُنوں ہے کہ باشعور نہیں\n\nناصبوری ہے زندگی دل کی\nآہ وہ دل کہ ناصبور نہیں\n\nبے حضوری ہے تیری موت کا راز\nزندہ ہو تُو تو بے حضور نہیں\n\nہر گُہر نے صدَف کو توڑ دیا\nتُو ہی آمادۂ ظہور نہیں\n\n’اَرِنی‘ میں بھی کہہ رہا ہوں، مگر\nیہ حدیثِ کلیمؑ و طُور نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%82%D9%84_%DA%AF%D9%88_%D8%A2%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%8F%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا\nتم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا\n\nعدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہے\nتم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا\n\nابھی مرتے ہیں ہم جینے کا طعنہ پھر نہ دینا تم\nیہ طعنہ ان کو دینا جن سے ایسا ہو نہیں سکتا\n\nتمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں\nمرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا\n\nدم آخر مری بالیں پہ مجمع ہے حسینوں کا\nفرشتہ موت کا پھر آئے پردا ہو نہیں سکتا\n\nنہ برتو ان سے اپنائیت کے تم برتاؤ اے مضطرؔ\nپرایا مال ان باتوں سے اپنا ہو نہیں سکتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B3%DB%8C%D8%AD%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "علامہ شبلی کا ماہوار علمی رسالہ", "poet_page": "مصنف:مہدی افادی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "آج چھ کروڑ مسلمان تو خیر، اسٹریچی ہال کی مقتدر جماعت کے پاس بھی کوئی علمی رسالہ نہیں جو معلومات غائرہ اور انکشافات عصریہ کے لحاظ سے قوم کے دماغی افق کی توسیع کر سکتا ہو، تہذیب الاخلاق سلسلۂ جدید، سرسید کا نفس واپسیں تھا جو ان کی طرح ہمیشہ کے لئے ہم سے رخصت ہو گیا اور ان کا زندہ کرنا اصول طبعی کے لحاظ سے ناممکن ہے۔ ’’ہر لالۂ پژ مردہ نخواہد بشگفت۔‘‘\n\nلیکن افسوس ہے کہ ہم جواں مرگ معارفؔ کو جو تہذیبؔ الاخلاق کا خلف صالح تھا، زندہ نہ رکھ سکے۔ معارف کی چار سالہ جلدوں کو دیکھئے، صرف یہ ہی نہیں کہ وہ یورپ کے اچھے سے اچھے علمی پرچوں سے برا نہیں، ’’اصحاب المعارف‘‘ نے جس طرح داد تحقیق دی ہے اور عربی و ٹرکی لٹریچر کے اجزاء جس شائستگی اور قابلیت کے ساتھ اردو میں لئے گئے ہیں، لکھنے والوں کا خاص حصہ ہے۔ میرا خیال ہے موجودہ رفتار دماغی کے ساتھ ہم مدتوں اس قابل نہیں ہوں گے کہ اس قسم کے مضامین کی وقعت کا کوئی صحیح اندازہ کرسکیں ۔ لائق لکھنے والوں نے علی گڈھ کی نئی پیداوار کی طرح کوئی ’’زبان غیر‘‘ نہیں لکھی ہے بلکہ جس وسیع تمدن کا خاکہ کھینچا گیا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اصلی زبان معارف کی زبان تھی۔\n\nلیکن ان مخصوص اوصاف کے ساتھ بھی نتیجہ کیا ہوا، دو سافل تک یہ پرچہ ایک رئیس کی سرپرستی میں رئیسانہ حیثیت سے نکلا، نفس مضامین، کاغذ، تقطیع، غرض پرچہ کے تمام اجزائے ترکیبی ’’کلاسیکل‘‘ تھے، دو سال کے بعد اس نے صورت بدلی، اقامت بدلی، آخر آخر اس کی ہیئت ظاہری لکھنؤ کے بازاری پرچوں سے کچھ ہی اچھی تھی، محلوں کا رہنے والا جھونپڑے میں کیا پنپتا، پانی پت کی مٹی تھی ٹھکانے لگی، مولوی وحید الدین سلیم کو اپنے طبع زاد نونہال کا سسک سسک کر جان دینا آج تک یاد ہوگا، بہرحال اس لٹریری حادثہ کا ذمہ دار کون ہے؟ یقینی مسلمان! لیکن چھوٹی امت نہیں بلکہ کچھ وہی روادار لوگ جو اپر انڈیا کے طبقہ اعلیٰ میں ہیں اور زیادہ تر ’’ینگ علی گڈھ‘‘ پارٹی، جس کی زندگی میں صحیح مذاق علمی کا اس وقت پتہ نہیں۔\n\n’’البشیر‘‘ مسلمانان ہندوستان کو بحیثیت ایک ’’فارن‘‘ قوم کے دیکھنا چاہتا ہے، لیکن یہ خیال قہقہہ کے لائق ہے۔ قومیت یعنی ’’نیشنلٹی‘‘ کے جتنے لوازم ہیں، میرا خیال ہے یہاں کبھی حاصل نہیں ہوں گے۔ اس لئے مجموعی ترقی کے لئے متعدد صدیاں بھی کافی نہیں، زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ چند منتخب افراد کو کسی ایک مرکز خیال کا محیط بنایا جائے اور یہی لوگ میرے مخاطب صحیح ہیں جن کی غذائے دماغی کے لئے ضرورت تھی کہ کانفرنس ’’معارف‘‘ کو متنبیٰ کرلیتی بولایت ’’وحید الدین سلیمؔ‘‘ اور ’’رشید احمد سالمؔ‘‘ جن کے قلم کے سایہ میں یہ ہونہار معصوم پھولتا پھلتا، لیکن میں بھولا، کانفرنس ایک عملی اور کاروباری جماعت ہے یا کم سے کم ہونا چاہتی ہے اور اس لحاظ سے اس کا وجود جدت سے خالی نہیں کہ یہ علم سے پہلے عمل چاہتی ہے، جس کی طرف بہ زعم خود اسی نے مفید پیش قدمیاں کی ہیں۔\n\n’’لٹریری‘‘ حیثیت سے یہ اتنی گری ہوئی ہے کہ امید نہیں کوئی علمی تحریک اس کی تعمیلات کے ’’فائل‘‘ میں داخل ہوسکے۔ شواہد لیجئے، رپورٹیں وقت پر نہیں شائع ہوتیں، جو نکلتی ہیں، وہ بھی ’’لارڈ کرزن‘ کے ضوابط اختصار کے زیر اثر، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مہینوں کے انتظار کے بعد بھی پڑھنے کو قریب قریب کچھ نہیں ملتا۔\n\n’’اسپیچیں‘‘ عموماً زبانی ہوتی ہیں اور یہ امر بولنے والے کے رحم پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اظہار فصاحت کے بعد وہ پھر کبھی ضبط تحریر میں لائی جائیں، جو بہت زیادہ نمودئے ہیں، ان کا استغنا اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ آزادی خیال سرے سے قید تحریر پسند نہیں کرتی، مختصر یہ کہ رپورٹ اتنی مفصل اور دلچسپ نہیں ہوتی، جس کی امید ایک ایسی ’’ہیئت الاجتماعیہ‘‘ (سوسائٹی) سے ہو سکتی تھی جو کڑوروں مسلمانوں کی پیشوائے علمی ہو، شائقین کانفرنس میں ایسوں کی تعداد کم نہیں ہے، جن کو شرکت کا موقع نہیں ملتا، اور وہ صرف اس خیال سے ممبر ہوتے ہیں کہ سال کے سال مکمل رپورٹ ان کے ہاتھوں میں ہو اور وہ تعلیم یافتہ حضرات کے خیالات یعنی اردو لٹریچر کے بہتر سے بہتر نمونے سے گھر بیٹھے لطف اٹھا سکیں، یہ توقع کہاں تک پوری ہوتی ہے، میں بانیان کانفرنس کے سلیقۂ احساس پر چھوڑتا ہوں۔\n\nبولنے والوں میں صرف ایک شخص ہے جو اپنے دماغی نتائج کی حفاظت کرتا ہے اور تاجرانہ پالیسی کو بھی نظرانداز نہیں ہونے دیتا، یعنی علامہ نذیر احمد۔ یہ کانفرنس کے سامنے پکی پکائی ہنڈیا پیش کرتے ہیں، کچی رسوئی کے شائق نہیں اور اس حیثیت سے ہم ان کے ممنون ہیں، لیکن ان کے پچھلے لکچر اس قدر پھیکے اور بدمزہ ہوئے ہیں کہ آج تک بے نمکی بھولی نہیں ہے۔ ایک پچھلے موقع پر انھوں نے جو کچھ کہا وہ ان کی اچھی خاصی ’’اٹوبیا گرفی‘‘ تھی جس میں ایک سانس میں وہ تمام ذاتی واقعات دہرائے گئے تھے، جن کی تفصیل سے متعدد موقعوں پر جستہ جستہ یہ اور لکچروں میں بھی بالکل نہیں چوکے۔ مشرقی شاعر اسے قند مکرر کہے گا، مگر چچوڑی ہوئی ہڈیاں بار بار منھ میں ناگوار سا ہوتا ہے۔\n\nان کی گھبراہٹ سے معلوم ہوتا ہے جیسے ان کو مایوسی ہو کہ ان کے بعد ان کے واقعات زندگی کا سمیٹنے والا کوئی نہیں ہوگا، لکچر کا زیادہ تر حصہ وہی فوائد قرآنی کے متعلق ہوتا ہے جو ان کے ترجمہ کے ساتھ مخصوص ہیں اور جن کی الہامی تکمیل ان کی ہستی کی علت غائی ہے، مختصر یہ کہ بعض فاضلوں کی قوت کا بہترین استعمال نہیں ہوتا، یعنی ملک کے اچھے لکھنے والوں کو خاص سبجیکٹ نہیں دیے جاتے، نہ علمی مضامین کے لئے کسی قسم کے معاوضہ کی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔\n\nسر سید کے بعد اردو لٹریچر کی جان کے لالے پڑ گئے ہیں اور میں نہیں جانتا کانفرنس نے بالذات یا بالوسائط کہاں تک ان حریفانہ کوششوں کی مقاومت کی ہے جو اس معصوم زبان کو صفحۂ ہستی سے معدوم کرنا چاہتی ہیں ۔ ایک یادگار موقع پر نہایت گرم جوشی سے کہا گیا تھا کہ ’’اردو کا جنازہ ہم دھوم سے اٹھائیں گے۔‘‘ لیکن موجودہ سرد مہری اور بے التفاتی تو یہ کہہ رہی ہے کہ اگر سرپرستوں اور وارثوں کے یہی طور طریقے ہیں تو ایک دن طاعونی لاش کی طرح عالم کس مپرسی میں بیچاری چپ چپاتے پیوند خاک کردی جائےگی، بہتیرے روپیٹ کر بیٹھ رہیں گے، کچھ ایسے ہیں جو مصلحت یعنی اپنی کمزوریوں کے لحاظ سے آنسو پی جائیں گے، بہرحال لٹریچر کی حیثیت سے کانفرنس بہیئت مجموعی اس کی مصداق ہورہی ہے،\n\nبہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا\nجو چیرا تو اک قطرۂ خوں نکلا\n\nاس لئے ہم کو بانیان کانفرنس اورعلی گڈھ کی نئی پیداوار سے سردست قطع نظر کر لینی چاہئے، کیونکہ یہ جس قدر ترقی کریں گے لکھنے پڑھنے کا مشغلہ چھوٹتا جائےگا اور ایک زمانہ آئےگا کہ علی گڈھ کی ’لٹریری ڈائری‘‘ بالکل سادی اور کوری ہوگی، اظہار خیال اور استنباط نتائج کے لئے صرف علم الاعداد کافی ہوگا۔\n\nاب ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ اور جگہ کیا ہو رہا ہے۔ علی گڈھ کے حریف کیمپ یعنی ’’ندوۃ العلماء‘‘ پر میں اس وقت کوئی تفصیلی نظر ڈالنا نہیں چاہتا، نہ مجھ کو اس سے بحث ہے کہ عربی لٹریچر کی تجدید جہاں تک آج کل کی ترقیات کے مؤثرات کا تعلق ہے، مذہب کی طرح اسباب ثنویہ میں محسوب ہونے کے لائق ہے۔ ہاں یہ نہیں مانتا کہ علی گڈھ پارٹی ’’ندوۃ العلماء‘‘ کو رقابت کی نگاہ سے دیکھتی ہے، ممکن ہے بعض اسے بے وقت کی شہنائی سمجھتے ہوں، لیکن نئے خیال والوں کا حصہ غالب عربی کی تعلیم کو صرف’’زبان ثانی‘‘ کی حیثیت سے پسند کرتا ہے، یعنی مغربی علوم کی تکمیل کے ساتھ ضمناً جس سے غالباً مقصود یہ ہوگا کہ ’’جامع ازہر‘‘ کی طرح قوم کا کوئی حصہ غیر ضروری اور متروک مشاغل کے لئے وقف نہ ہو جائے، اور جو کچھ ہو صرف مستشرقانہ حیثیت سے، جس میں قدیم لٹریچر کے باقیات الصالحات کی تجدید مقصود بالذات نہیں ہوتی، بلکہ کوئی اہم غایت ہے جس کے لئے کرم خوردہ اوراق کی الٹ پھیر کی درد سری گوارا کی جاتی ہے۔\n\nمختصر یہ کہ نیا گروہ ایک منٹ کے لئے بھی ان مسلمات سے علیحدہ ہونا نہیں چاہتا، جو ہماری موجودہ اور آئندہ زندگی کا طے شدہ عنوان ہیں، لیکن میں اس اضافی بحث سے علیحدہ ہوکر سردست ’’الندوہ‘‘ پر ایک نظر ڈالنا چاہتا ہوں جو واجب الادب علماء کا ایک ماہوار علمی رسالہ ہے اور جس کے ایڈیٹر یا روح رواں جو کچھ کہئے، ’’علامہ شبلی‘‘ ہیں۔ ’’الندوہ‘‘ سے جو کچھ دلچسپی ہے، اسی حیثیت سے، کیونکہ شبلی گو آج کل ہم سے ٹوٹ کر وقف اغیار ہو رہے ہیں، تاہم روابط سابقہ کی بنا پر یہ قطعاً ہماری چیز ہیں اور ہم برسوں کے گہرے تعلقات کے بعد ان سے دست بردار نہیں ہو سکتے، لیکن سچ یہ ہے کہ ان کی ’’جامعیت‘‘ نئے پرانے خیال والوں کی ملک مشترک ہے، اس لئے اس کی ضرورت نہیں کہ یہ کسی ایک کے ہو رہیں۔\n\nپرچہ سے پہلے فاضل ایڈیٹر پرکچھ ریویو کرنا منظور ہے، مگر یہ اس قدر مشکل کام ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہاں سے شروع کروں ۔ اردو لٹریچر کے پیدا کرنے والے تھوڑے ہیں، ان میں بھی تھوڑے ہی ایسے ہیں جو آج کل کے وسیع معیار قابلیت کے لحاظ سے اہل قلم کی صف اول میں شامل ہونے کے لائق ہوں ۔ سرسید سے قطع نظر کرنے کے بعد جن کو باستحقاق اولیت کا فخر حاصل ہے، میرا خیال ہے، شبلی بلحاظ فن صرف ہندوستان نہیں بلکہ تمام اسلامی دنیا میں کسی سے دوسرے درجہ پر نہیں ہیں، اس کو میری قاصر النظری یا علمی فرومایگی پر نہ محمول کیجئے۔ فلسفۂ تاریخ جو آج کل تمام علوم میں سرفہرست ہے ایک مستقل فن ہو گیا ہے اور اس قدر اہم ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے فاضل مؤرخانہ موشگافیوں کو بہترین مشغلہ ہستی سمجھتے ہیں، مصری اور ٹرکی لٹریچر میں تاریخی مذاق جس حد تک موجود ہے، میں اس سے بیگانہ نہیں ہوں۔\n\nمجھ کو معلوم ہے کہ دونوں زبانیں خاص کر اول الذکر اس قدر مغربیت سے مانوس ہو گئی ہے کہ وہاں کے روشن خیال علماء مغربی طرز تحریر کی خصوصیات کے ساتھ عربی اور ترکی زبانوں میں نہایت شائستگی سے داد سخن دے رہے ہیں، لیکن جن مضامین پر ان کے ہاں منقولانہ اور معقولانہ سرگرمی سے طبع آزمائیاں ہورہی ہیں، وہ شبلی کے ہاں دست فرسودہ اور مسائل ابتدائی ہیں جن کو فاضل مؤرخ کی سرسری جنبش قلم، مدت ہوئی ایک سے زیادہ موقعوں پر طے کر چکی ہے۔\n\nملک کے لئے یہ کچھ کم فخر کی بات نہیں ہے کہ مصر کے مشہور رسالہ ’’الہلال‘‘ کا نامور ایڈیٹر علامہ ’’جرجی زیدان‘‘ اپنی تاریخ ’’تمدن اسلام‘‘ میں جو متعدد جلدوں میں ختم ہوگی، علامہ شبلی کی تحقیقات سے بے نیاز نہ رہ سکا اور اس نے سنداً اقتباسات کئے۔ بہرحال ہم میں صرف شبلی ایسا شخص ہے جو بلحاظ جامعیت اور وسیع النظری مؤرخانہ تدقیق اور مذاق فن کی حیثیت سے آج یورپ کے بڑے سے بڑے مؤرخ سے پہلو بہ پہلو ہو سکتا ہے۔\n\nیورپ کو شکایت ہے کہ مسلمانوں میں متقدمین بلکہ متاخرین میں بھی کوئی شخص ایسا نہیں ہوا جسے صحیح معنوں میں اگر حفظ روایات سے قطع نظر کی جائے تو مؤرخ کہنا درست ہو، یعنی استقصائے روایات کے سلسلہ میں کسی نے اپنے ماخذوں کی چھان بین نہیں کی، نہ غیرمرتب مواد سے کسی دور اور کسی زمانہ میں ایسے نتائج حاصل کئے گئے جن میں طبیعت انسانی کے اقتضاء، زمانہ کی خصوصیتیں منسوب الیہ کے حالات اور دیگر قرائن عقلی سے مدد لی گئی ہو۔\n\nابن خلدون کا نام بار بار لیا جاتا ہے جس نے تاریخ پر فلسفہ کا رنگ چڑھانا چاہا مگر خود اس کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے خیالات قوت سے فعل میں نہ آ سکے، یہ بالکل صحیح ہے، لیکن آج ہم بیسویں صدی کے ایک فاضل مؤرخ کو پیش کرتے ہیں جس کا دائرۂ معلومات اس قدر وسیع ہے کہ وہ اپنے سلسلۂ تحقیقات میں صدیوں کی فروگذاشت کی تلافی کرتا جاتا ہے اور اگر وقت نے مساعدت کی اور اس کا تخیل پورا ہو سکا تو تاریخ اسلامی کے مہمات مسائل ایک ایک کرکے طے کر دئے جائیں گے۔\n\nکہا جاتا ہے کہ دلی اور لکھنؤ کے گوشوں میں اب بھی بہتیرے علماء پڑے ہیں۔ ممکن ہے! لیکن کسی شخص کا دماغ دوسروں کے علوم وفنون سے بھرا ہو مگر اس میں خود تحقیق یا اختراع کا مادہ نہ ہو تو ایک بیکار سی چیز ہے، اس لئے ایک حکیم کے خیال کے مطابق اصلی قابلیت صرف وہ وسائل یعنی طریقۂ استعمال ہے جس سے مواد گذشتہ کارآمد بنایا جا سکے، یہی تصرفات ہیں جن کی بنا پر ایک ادیب یا مؤرخ کو لائق سے لائق شخص پر جو صرف جامع اللغات ہو، ترجیح حاصل ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ نرے الفاظ مؤخر الذکر کے ہاں کچھ زیادہ ہی ہوتے ہیں۔\n\nانسانی احساسات و خیالات اور تحقیقات و اختراعات کی مسلسل تاریخ ہمارے سامنے موجود ہے اور کار لائل کہتا ہے کہ جس شخص کو چھپے ہوئے حروف تہجی کا راز معلوم ہے، وہ اسے قوت آخذہ سے اپنا کر سکتا ہے، صرف صدائے اصلی کی تلاش کا ذوق صحیح ہونا چاہئے، ہاں شبلی، فاضل شبلی نقوش حرفی کا رازدار ہے، اس نے اپنے ماخذوں کی چھان بین میں صرف صدائے اصلی سے غرض رکھی اور اپنے وسیع سلسلۂ تحقیقات میں زبردست قوت استقرائی کے ساتھ اسباب ونتائج کی تفریعات فلسفیانہ سے آج کل کے ترقی یافتہ مذاق کے مطابق اس طرح کام لیا جس سے اس کی آواز باز گشت تمام ملک میں گونج اٹھی اور ہندوستان کے علمی قلمرو میں ایک نیا تاریخی دور شروع ہو گیا۔\n\nمختصر یہ کہ آج کل کے مصنفین میں علامہ شبلی کو ایک خاص امتیاز فوقیت حاصل ہے جو ان کے اور ہم عصروں کے حصہ میں نہیں آیا، ان کے سخت سے سخت حریف مقابل بھی ان کی تحقیقات کی گرد کو نہیں پہونچتے، بعضوں نے موضوع سخن ایسا اختیار کیا ہے کہ اگر زمانہ کی رفتار یہی رہی تو زیادہ جیتے معلوم نہیں ہوتے۔ نذیر احمد اپنی لائق رشک عربیت کے ساتھ بھی کچھ یوں ہی سے رہے، یادش بخیر! حالی نے مسدس کے ساتھ مقدمہ شاعری اور حیات جاوید لکھ کر اپنا ٹھکانہ کر لیا، لیکن شبلی قطعاً غیرفانی ہیں، آج ہزاروں صفحے متعدد جلدوں میں ان کے قلم سے نکل چکے ہیں اور جس موضوع پر جو کچھ لکھا گیا ہے کسی زبان میں اس سے بہتر مجموعۂ خیال موجود نہیں۔\n\nمیں نہیں جانتا اس سے زیادہ ہماری توقعات کیا ہو سکتی ہیں اور چونکہ سلسلۂ تصنیف باوصف موانع باقاعدہ طور پر جاری ہے، امید ہے ان کی تالیفات موعود استادانہ حیثیت سے آئندہ بھی ملک کو دماغی اور ادبی سبق دیتی رہیں گی۔\n\nافسوس ہے کہ سلسلۂ آصفیہ ان کی جامعیت سے پورا فائدہ نہ اٹھا سکا، نہ ان کی مخفی قوتوں کو کافی تحریک دی گئی۔ دائرۃ التالیف کا پراسپکٹس مجھے ہمیشہ یاد رہےگا جس کی تکمیل تاریخ اسلامی کے ان عناصر پر جو آج تک سربمہر رہے ہیں، بہت کچھ روشنی ڈالتی اور ہم متقدمین کی سادہ اور بسیط سلسلۂ روایات کے ساتھ یورپ کی نکتہ سنجیوں سے بھی بے نیاز ہو جاتے، لیکن میں خوش ہوں کہ الندوہؔ نے جو اس تحریر کا موضوع اصلی ہے، گزشتہ نقصان کی تلافی کردی ہے۔ میرا ہمیشہ سے خیال ہے کہ منتشر معلومات کا بہت بڑا حصہ ایسا ہوتا ہے جس کے اجزا کسی مستقل تصنیف کے تحت میں نہیں آسکتے، اور ان کے لئے مؤقت الشیوع پرچوں کی ضرورت ہے۔ جن صاحبوں نے رسائل شبلی کو استفادتاً دیکھا ہے وہ بہت خوش ہوں گے کہ مضامین شبلی کا ایک ضخیم مجموعہ لائق حصول ہے۔\n\nیعنی الندوہؔ کو جاری ہوئے دوسرا سال ہے، ۱۸ پرچے شائع ہو چکے ہیں جن کے تخمیناً چھ سو صفحے ہوتے ہیں اور یہ قریب قریب سب علامہ شبلی کے قلم کے سایہ میں ہیں، جن میں نہایت بلند پایہ ارجنیل مضامین پر طبع آزمائی کی گئی ہے یعنی علوم قدیمہ و جدیدہ کا موازنہ، عربی زبان کی نادر الوجود کتابوں پر تقریظ و تنقید، اکابر سلف کی سوانح عمریاں، ان کے اجتہادات سے بحث وغیرہ وغیرہ۔ غرض ایک علمی رسالہ کا اونچے سے اونچا تخیل جو ہو سکتا ہے، پیش نظر رکھا گیا ہے۔ آج کل کے رائج الوقت طالب العلمانہ رسالوں کی طرح ناقص لٹریچر میں دویم درجہ کی معلومات سے مقررہ صفحے نہیں بھرے گئے ہیں بلکہ جو کچھ ہے تاریخی لٹریچر کا اعلیٰ سے اعلیٰ نمونہ ہے۔\n\nمثلاً میں صرف فلسفۂ یونان و اسلام کو لیتا ہوں جو نہایت معرکۃ الآرا مضمون ہے اور کئی نمبروں میں ختم ہوگا۔ آج ملک میں شبلی کے سوا کون ہے جو اس وسیع اور دقیق مضمون پر قلم آزمائی کی جرأت کر سکے، نہ جاننا بھی مزے کی چیز ہے، اس لئے بعضوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئے گی، لیکن ہندوستان کیا اور ممالک میں بھی دوچار سے زیادہ نہیں ہیں جو مذاق موجودہ کے مطابق مسائل قدیمہ کے طے کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہوں ۔ شبلی ہم میں پہلا شخص ہے جس نے مذہب کے ساتھ تاریخ و فلسفہ میں ربط باہمی پیدا کیا اور ان جواہر عقلی کی تحلیل و ترکیب کیمیائی اس طرح کی کہ لٹریچر میں ایک خاص امتزاج پیدا ہو گیا، جس کے آثار ان کے مستقل تاریخی سرمایہ کے علاوہ ’’الندوہ‘‘ میں کثرت سے ملیں گے۔\n\nعموماً عنوان ایسے ہوتے ہیں جن کو اس سے پہلے اوروں کے قلم نے اس طرح کبھی مَس نہیں کیا، کس کس کو گناؤں، پوری تفصیل کا یہ موقع نہیں، جس طرح رسائل اخوان الصفا ہمارے گذشتہ ارتقاء عقلی کی لٹریری یادگار ہیں، میرا خیال ہے، یہ پرچہ آئندہ نسلوں کے لئے ندوۃ العلماء کے عملی کارناموں کا ایک جامع گوشوارہ ہوگا۔\n\nجن صاحبوں کو میری طرح شبلی کے دل و دماغ کے نتائج سے تعلق رہا ہے، وہ ان مضامین میں ایک خاص بات اور دیکھیں گے یعنی طرز ادا (اسٹائل) اس قدر اچھوتا اور ’’صاف و شفاف‘‘ ہے کہ بڑے سے بڑا فصیح البیان بھی اس قسم کے دقیق مسائل کو ایسی برجستگی اور لطافت کے ساتھ ادا نہیں کر سکتا، اور گو فصاحت ان کی تمام تالیفات کا قدرتی خاصہ ہے، جس میں اہتمام کو دخل نہیں، تاہم بہ حیثیت یعنی قادر الکلامی کے ساتھ حسن بیان مضامین متذکرہ میں بہت ہی زیادہ نمایاں معلوم ہوتی ہے۔\n\nغالبؔ زندہ ہوتے تو شبلی کو اپنی ’’اردوئے خاصہ‘‘کی داد ملتی جس نے ایک نوخیز بازاری یعنی کل کی چھوکری کو جس پر انگلیاں اٹھتی تھیں، آج اس لائق کر دیا کہ وہ اپنی بڑی بوڑھیوں اور ثقہ بہنوں یعنی دنیا کی علمی زبانوں سے آنکھیں ملا سکتی ہے، جوانیوں پر آئی ہوئی نچلی نہیں بیٹھ سکتی تھی، مدتوں شعراء سے گاڑھا اتحاد رہا، بہ اقتضائے سِن بری طرح کھل کھیلی، ہاتھ پاؤں نکالے، اور بہتیرے بنائے بگاڑے، کیونکہ ایک زمانہ شیدائی تھا، لیکن یہ باتوں ہی میں سب کو ٹالتی رہی، بعض جگہ بے آبروئی کے سامان ہو ہوکر رہ گئے اور بال بال بچی، آخر آخر میں ملک کے منچلے یعنی ناول تو یہاں تک ہاتھ دھوکر پیچھے پڑے کہ اس کی پردہ دری میں کچھ اٹھا نہیں رکھا تھا، کبھی کبھی دبی زبان سے اسے یہ کہتے سنا، ’’اری اٹھ جاؤں گی میں صحنک سے۔‘‘\n\nلیکن دفعتاً اس کی حالت نے پلٹا کھایا، کثرت فواحش باعث سنجیدگی ہو گئی، اچھے دن آتے ہیں تو بگڑی بن جاتی ہے، اب وہ مقدس علماء کی کنیزوں میں داخل ہے، لیکن سنا گیا خوش اوصاف شبلی سے زیادہ مانوس ہے اور قریب قریب ان ہی کے تصرف میں رہتی ہے، الندوہ اسی تعلق کا ایک ثمر پیش رس ہے۔\n\nپہلے اس کی قیمت للعہ؍ مقرر کی گئی، اب صرف دو روپیہ سالانہ رکھے گئے ہیں، میرے خیال میں کوئی وقیع علمی پرچہ تمام دنیا میں اس سے زیادہ سستا نہیں ہو سکتا، خاص کر جب چھپائی، کاغذ، اچھے سے اچھا ہو، نفیس پسند ایڈیٹر ان لوگوں میں ہیں جو حسن سیرت کے ساتھ صورت کی بھی اچھی چاہتے ہیں، یہ اصول ممدوح کی تمام تصنیفات میں عموماً ملحوظ رہتا ہے، اور کوئی کتاب کسی بھونڈے پریس کو نہیں دی جاتی، ان اوصاف کے ساتھ یہ پرچہ گویا مفت ہے، لیکن علمائے موجودہ کے دور آخری کی یادگار کی بقا اگر منظور ہے تو اس نونہال کو ہاتھوں ہاتھ لینا ہوگا یعنی کمی قیمت کی تلافی اگر ہو سکتی ہے تو کثرت اشاعت سے اور اس کی چلتی ہوئی تدبیر یہ ہے کہ ہر خریدار کم سے کم ایک ایک نام اور بڑھائے، ورنہ خوف ہے کہ ایک دن اس کو بھی روتے رہ جائیں گے۔ بیشک یہ دنیا کا کوئی غیرمعمولی واقعہ نہیں ہوگا، پرچے آئندہ بھی جاری ہوں گے، لیکن شبلی یعنی ہندوستان میں تاریخ کا معلم اول پھر کہاں!\n\nدنیا کے نہایت گہرے تعلقات بھی راہ چلتے کی صاحب سلامت ہیں، سر سید چلے گئے، دوچار فیق کہیں کہیں رہ گئے ہیں، ایک ایک کرکے ہم سے رخصت ہو جائیں گے، اچھا! تو بڑے سے بڑا فلسفۂ زندگی یہ ہے کہ وقت موجودہ سے جہاں تک ممکن ہے، استفادہ کا کوئی پہلو رہ نہ جائے۔ اس لئے چلتے چلاتے جو کچھ ان کے دماغوں کی تحویل میں بچا کچھا رہ گیا ہے، وہ تو نکلوا لیجئے، ورنہ یاد رہے گوروں کی اردو سنی ہے، چلئے علی گڈھ کالج میں سنواؤں۔ دو راز حال بس یہ قطع ہو جائےگی، غالب کی اردو فارسی بندشوں کی افراط کے ساتھ جیسی ہوتی تھی یہی حالت آج کل مخلوط اردو کی انگریزی الفاظ کے ثقل آمیزش سے ہورہی ہے، لیکن امید ہے، الندوہ ملکی لٹریچر کو ان آلائشوں سے صاف ستھرا کرکے رہےگا۔\n\nکیا اچھا تھا اگر اس کا نام ’’الجامع‘‘ ہوتا، تب بھی ندوہ ہی کا پرچہ رہتا، موجودہ نام آپ ہی آپ کچھ کھٹکتا ہے اور غیر ضروری سنجیدگی کے ساتھ ایک ساکن اور غیر متحرک شئے خیال میں آتی ہے، شگفتگی نام کو بھی نہیں، لیکن ’’الندوہ‘‘ ایک ایسی قائم المزاج جماعت کا پرچہ ہے کہ میری طفلانہ تحریک شاید ہی کسی مفید تغیر کی طرف مائل کر سکے، تاہم یہ کہنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ شبلی کے تعلق سے تو ’’الجامع‘‘ ہی موزوں تھا۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%81_%D8%B4%D8%A8%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D9%84%D9%85%DB%8C_%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81"} {"title": "علم الاقتصاد/حصہ اول", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "نثر > علم الاقتصاد", "year": "1904", "text_ur": "علم الاقتصاد کی ماہیت اور اس کا طریق تحقیق\n\nعلم الاقتصاد علم انسانی کے اس خاص حصّے کا نام جس کا موضوع دولت ہے اور جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ دولت کی پیدائش، تقیسم، تبادلے اور استعمال کے اصول و اسباب و طریق کیا گیا ہیں۔ لہٰذا اس علم کے طالب کا یہ فرض ہے کہ اپنی تحقیق و تدقیق کو دیگر علوم کی تحقیق سے مخلوط نہ کرے۔ کیونکہ کسی علم کی ترقی اس امر پر منحصر ہے کہ اسے دیگر علوم کے سلسلہ سے منفرد سمجھ کر مطالعہ کیا جائے۔ بعض حکماء کی یہ رائے ہے کہ علم الاقتصاد وسیع علم تمدن کا ایک جزو ہے اور چونکہ تمدنی زندگی کی عام صورتیں ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اس واسطے ان میں سے کسی ایک کا منفرد مطالعہ کرنا کچھ نتیجہ خیز نہ ہوگا۔ مگر یہ رائے قرین صواب نہیں معلوم ہوتی۔ کیونکہ انسانی افعال کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ عملی نظر کا مل طور سے اس کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ اس کے علاوہ جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کسی علم کے علم بننے کے لیے اس کی تخصیص ضروری ہے۔\nکیا علم الاقتصاد کا مطالعہ دولت کی محبت پیدا کرتا ہے؟ بعض لوگ اس بات پر مصر ہیں کہ اس علم کا مطالعہ اخلاقی لحاظ سے مفید نہیں ہے کیونکہ اس سے دولت کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ جو انسان کو تمام اخلاقی نیکیوں کے ناقابل کردیتی ہے اور اسے ایک سنگ دل دنیا دار بنا دیتی ہے۔ اس لغو اعتراض کے جواب میں اول تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگرچہ انسان کی غرض صرف دولت ہی نہیں ہے تاہم یہ بڑی ضروری اغراض میں سے تو ہے۔ اور اس وجہ سے لازم ہے ہ اس کا مطالعہ کیا جاوے۔ اور اس کی پیدائش و تقسیم وغیرہ کے اسباب و طریق معلوم کئے جائیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سرے سے یہ اعتراض ہی صحیح نہیں ہے۔ علم الاقتصاد کے مطالعہ سے دولت کی محبت نہیں پیدا ہوتی۔ کیونکہ اس کا مقصد تو صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ حصول دولت کی خواہش جیسا کہ انسانی فطرت میں موجود ہے، انسانی افعال پر کس طرح اثر کرتی ہے۔ ممکن ہے کہ بعض میلان طبائع ایسے توی ہوں کہ حصول دولت کی خواہش کو دبائے رکھیں۔ مگر علم اقتصاد کو ان سے تعلق نہیں ہے۔ اس کا کام یہ نہیں ہے کہ انسانوں کے چال چلن پر رائے زنی کرے یا یہ فیصلہ کرے کہ کون کون سے محرکات افعال اخلاقی لحاظ سے اچھے ہیں اور کون کون سے بُرے۔ یہ علم انسانی افعال کے وسیع دائرہ کے صرف اس حصہ پر غور کرتا ہے جس کا تعلق حصول دولت سے ہے۔ مزید برآں اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ علم اقتصاد حرص کی تعلیم نہیں دیتا۔ بلکہ حصول دولت کے صحیح اور مسلم اصولوں پر روشنی ڈالنے سے انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ اس قوی خواہش کو ان اصولو ںکے تحت میں رکھے اور جنگ و جدل لوٹ مار وغیرہ سے جو اس زبردست خواہش کا ضروری نتیجہ ہوا کرتے ہیں، ۴؎ احتراز کرکے امن و صلح کا ری کے ساتھ زندگی بسر کرے۔\nہم نے لفظ “دولت” کئی جگہ استعمال کیا ہے۔ مگر ابھی تک یہ بیان نہیں کیا کہ اس کی ماہیت اور تعریف کیا ہے۔ دولت میں یہ ممکن الحصول اشیاء شامل ہیں جو بالواسطہ یا بلاواسطہ انسانی ضروریات کو پورا کریں اور جن کی جائز اور مناسب طور پر خواہش کی جاسکے۔ مگر ظاہر ہے کہ ہر ممکن الحصول شے جس کی جائز اور مناسب طور پر خواہش کی جائے دولت نہیں ہے۔ پس اجزائے دولت کو معلوم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے اشیا مطلوب کو معلوم کیا جائے۔ مطلوب اشیاء یا وہ تمام اشیاء جن کی ہر انسان جائز اور مناسب طور پر خواہش کرسکتا ہے ، دوقسم کی ہوتی ہیں۔\n۱۔ وہ ممکن الحصول اشیاء ماّدی جن میں تمام مفید اشیاء اور ان کے حقوق استعمال شامل ہیں۔ مثلا زمین، پانی، آب و ہوا، زرعی پیداوار، معدنی پیداوار، مصنوعات، تعمیرات، کلیں، اوزار، رہن نامجات، پٹے وغیرہ۔\n۲۔ اشیا ممکن الحصول غیر مادّی یا ذاتی۔ اس ضمن میں دو قسم کی اشیاء شامل ہیں۔\nاوّل تو وہ فوائد جو انسان اوروں سے حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے۔ مثلا حق خدمت ملازمین۔ دوئم اس کے ذاتی اوصاف یا قابلیتیں جن کی وجہ سے وہ اپنے کاموں کو سرانجام دیتا ہے۔ مقدم الذکر کو اشیاء غیر ما دّی اندرونی، روشنی ہوا یا وہ حق جو اس کو بحیثیت ایک خاص ملک کا باشندہ ہونے کے حاصل ہیں۔\nاشیاء مطلوب کی تقسیم اور طرح سے بھی ہوسکتی ہے یعنی اشیاء آزاد اور اشیاء قابل تبادلہ۔ اشیاء آزاد سے مراد ان اشیاء کی ہے جو نظام قدرت خود بخود مہیا کرتا ہے اور انسان کو ان کے حاصل کرنے کے واسطے کوشش نہیں کرنی پڑتی۔\nاشیاء قابل تبادلہ میں وہ تمام اشیاء قابل انتقال شامل ہیں جن کی مقدار محدود ہو مگر یہ امتیاز عملی لحاظ سے کچھ بڑی وقعت نہیں رکھتا۔\nاب اصطلاح “دولت” کا مفہوم بالصراحت واضح ہوجائے گا۔ جب ہم کسی شخص کی نسبت لفظ دولت کا اطلاق کرتے ہیں تو اس کے معنوں میں دو قسم کی اشیاء مطلوب شامل سمجھی جاتی ہیں۔\nاوّل وہ ممکن الحصول اشیاء مادّی و خارجی جن پر اس کو قانونا یارواجا حق ملکیت حاصل ہے اور جو اس وجہ سے قابل انتقال اور قابل تبادلہ ہیں۔\nدوم وہ ممکن الحصول اشیاء غیر مادّی و خارجی جو اس کی ملکیت میں ہوں ار جن کی وساطت سے اشیاء مادّی حاصل کی جاسکیں۔ مثلا کسی شخص کے تجارتی تعلقات وغیرہ ظاہر ہے کہ “دولت” کے مندرجہ بالامفہوم میں انسان کے فطری قویٰ شامل نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ یہ اس کی ذات سے خارج نہیں ہیں بلکہ اس کی ذات میں داخل ہیں۔ یا یوں کہو کہ یہ اشیاء غیر مادّی اندرونی ہیں۔ جو محاورہ متعارف کی روسے دولت میں شامل نہیں۔ پس دولت سے مراد ان خارجی اشیاء کی ہے جن کی جائز اور مناسب طور پر خواہش کی جاسکے ار جو انسان کی ذاتی ملک ہوں۔ اور جن کی قدر تبادلے میں زرنقد کے پیمانے سے متعین ہوسکتی ہو۔ یہ پیمانہ ایک طرف تو اس سعی و کوشش کو ظاہر کرتاہے۔ جس کی وساطت سے یہ اشیاء پیدا ہوئی ہوں۔ اور دوسری طرف ان انسانی ضروریات کو جن کو یہ پورا کرتی ہیں۔ مختصر طور پر یوں کہہ دو کہ “دولت” میں انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے وہ تمام جائز و مناسب اور ممکن الحصول وسائل داخل ہیں جو بالفعل یا بالقوۃ قابل انتقال ہوں۔ اس تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف وہی شس دولت کہلاسکتی ہے۔\n۱۔ جو کوئی خاص شے ہو، خواہ مادّی خارجی ہو، خواہ غیر مادّی خارجی۔\n۲۔ جس کی خواہش انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے خیال سے جائز اور مناسب طور پر کی جاسکتی ہو۔ افریقہ کا ایک وحشی اپنے دشمن کے سر کی خواہش کرسکتاہے ، مگر یہ خواہش اخلاقی لحاظ سے جائز اور مناسب نہیں ہے۔\n۳۔ جو ممکن الحصول ہو۔\n۴۔ جس پر انسان کو حق ملکیت حاصل ہو۔\n۵۔جس میں قابلیت انتقال ہو۔ یا یوں کہو کہ جس کی قدر تبادلے میں زرنقد کے پیمانے سے متعین ہوسکتی ہو۔\nدولت کی مندرجہ بالا تعریف میں ہم نے لفظ “قدر”کو استعمال کیا ہے، جو علم اقتصاد کی ایک ضروری اصطلاح ہے۔ دولت کی تعریف کما حصہ سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس اصطلاح کا مفہوم ذہن نشین ہو۔ فرض کرو کہ میرے پاس ایک گھڑی ہے۔ میں اسے بیچ کر اپنی ضروریات پورا کرنے یا اوروں سے خدمت لینے کی قدرت رکھتا ہوں۔ یہ قدرت مجھے کہاں سے حاصل ہوئی؟ پس “قدر” اس قدرت یا قوت کا نام ہے جو کسی شے کی وساطت سے اس شے کے قابض کو حاصل ہوتی ہے اور جس کو تبادلے میں دے کر وہ شخص بلا لحاظ جبرواکراہ یا تاثرات ذاتی اوروں کی پیداوار محنت کو حاصل کرسکتا ہے۔ مختصر طور پر یو ںکہہ دو کہ قدر قوت تبادلہ کا نام ہے۔\nاس تعریف کے الفاظ پر غور کرو۔ ہم نے کہا ہے بلا جبر و اکراہ یا تاثرات ذاتی-کوئی مطلق العنان بادشاہ اپنی رعایا کو جہاں چاہے لڑنے مرنے کے لیے بھیج سکتا ہے۔ مگر یہ خدمات علم اقتصاد کے دائرہ میں نہ آئیں گی۔ کیونکہ ان کی بنا جبرو اکراہ پر ہے۔ برخلاف ان کے انگریزی سپاہی کی خدمات دائرہ علم اقتصاد میں داخل ہیں کیونکہ وہ اپنی مرضی سے ایک خاص تنخواہ کے عوض فوجی خدمت قبول کرتا ہے۔ اسی طرح اس ماں کی خدمات بھی دائرہ علم اقتصاد سے خارج ہیں جو اپنے بیمار بچے کی حفاظت میں بعض دفعہ جان بھی دے دیتی ہے۔ کیونکہ اس کی بنا ذاتی تاثرات یا محبت پر ہے۔\nاس تعریف کو مختصر طور پر بیان کرتے ہوئے ہم نے کہا ہے کہ “قدر” قوت تبادلہ کا نام ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدر کے تعین کے لیے تبادلہ ضروری ہے۔ مگر تبادلے کے لیے یہ ضروری ہے کہ کوئی اور فرد بھی ہو جس کے ساتھ تبادلۂ اشیاء کیا جائے۔ اب اس تعریف کے لحاظ سے دیکھو کہ آیا عقل، ہنر اور فطری قویٰ کو جنہیں انسان کے ذاتی اوصاف کے نام سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ یہ اشیاء ناقابل انتقال ہیں۔ یا بالفاظ دیگر ان کا تبادلہ نہیں ہوسکتا کیونکہ انسان کی ذات سے منفک نہیں ہوسکتے۔ بعض حکماء کاقول ہے کہ چونکہ قدر کے لیے اشیا میں قابلیت انتقال کا ہونا ضروری ہے۔ اس واسطے ذاتی اوصاف قدر سے معر ّا ہیں اور دولت میں شامل نہیں ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ اگرچہ انسان کے ذاتی اوصاف یا فطری قویٰ میں قابلیت انتقال نہیں ہے تاہم ان کے استعمال میں یہ قابلیت موجود ہے۔ ہم اپنے فطری قویٰ کو کسی اور شخص کی خاطر استعمال کرکے اس سے حق الخدمت حاصل کرسکتے ہیں۔ بڑھئی کا ہنر نہ صرف اوروں کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے بلکہ بالواسطہ اس کی اپنی ضرورتوں کے پورا کرنے کے لیے بھی ایسا ہی لازمی ہے جیسا کہ اس کے اوزار وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض محققین نے محاورہ متعارف کی رو سے اگرچہ لفظ “دولت” کا اطلاق اشیاء خارجی پر کیا ہے۔ تاہم انسان کے فطری قویٰ کو اس کی ذاتی دولت کے نام سے موسوم کیا ہے۔ اس رائے کے لحاظ سے کسی ملک کے لوگوں کا ہنر، دیانت داری وغیرہ بھی اس ملک کی دولت میں شامل ہیں۔ مگر بعض اہل الرائے نے بغیر کسی امتیاز کے ذاتی دولت کو بھی متعارف میں داخل سمجھا ہے۔ ان کے نزدیک دولت میں تین قسم کی اشیاء داخل ہیں۔\n۱۔ وہ ممکن الحصول اشیاء مادی خارجی جن کی جائز اور مناسب طور پر خواہش کی جاسکے اور جن پر انسان کو قانونا یا رواجا حق ملکیت حاصل ہو۔\n۲۔ وہ ممکن الحصول اشیاء غیر مادی خارجی جن کی جائز اور مناسب طور پر خواہش کی جاسکے اور جو اس کی ملکیت میں ہوں۔ اور جن کی وساطت سے اشیاء مادی حاصل کی جاسکیں۔ مثلا حقوق خدمت ملازمین اور تجارتی تعلقات وغیرہ۔\n۳۔ وہ ممکن الحصول اشیاء غیر مادّی اندرونی جن کی جائز اور مناسب طور پر خواہش کی جاسکے۔ مثلا انسان کے فطری قویٰ۔ ہمارے نزدیک پہلی رائے زیادہ قرین صواب معلوم ہوتی ہے۔ اگرچہ دونوں میں صرف ایک لفظی فرق ہے، معنوی فرق کوئی نہیں۔ قدر کے بیان سے یہ بات بھی سمجھ میں آگئی ہوگی کہ دولت اور بہبودی مرادف الفاظ نہیں ہیں۔ اکثر اشیاء ہماری بہبودی کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم دولت کے مفہوم میں شامل نہیں ہیں۔ مثلا اگر آزاد دستکاروں کو غلام تصور کیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ دولت کی مقدار میں اضافہ ہوگا مگر انسان کی بہبودی کے لیے یہ امر مضرت رساں ہوگا۔ اسی طرح دولت کی مقدار کا مسئلہ ہے۔ بعض دفعہ کچھ عرصہ کے لیے ایسے اسباب فراہم ہوجاتے ہیں جو ملکی ترقی کے لیے ممد ہوں۔ مثلا گلوں کی ایجاد چھوٹے چھوٹے اوزار استعمال کے دائرہ سے خارج ہوجاتے ہیں۔ اگرچہ ملکی ترقی کا انحصار بہت کچھ اس قسم کی ایجادات پر ہے۔ پس معلوم ہوا کہ تہذیب و تمدّن کی ترقی کے ساتھ ساتھ دولت کی مقدار دن بدن کم ہونے کی طرف میلان رکھتی ہے۔ اگر آبادی بڑھتی نہ جاتی اور انسانی ضروریات اور حاجات کا دائرہ دن بدن کم ہونے کی طرف میلان رکھتی ہے۔ اگر آبادی بڑھتی نہ جاتی اور انسانی ضروریات اور حاجات کا دائرہ دن بدن وسیع نہ ہوجاتا تو علم الاقتصاد کے موضوعات کا احاطہ بھی تنگ ہوتا جاتا۔ یہاں تک کہ اس علم کی ضرورت ہی نہ رہتی۔ اس ضمن میں یہ واضح کر دینا بھی لازم معلوم ہوتا ہے کہ دولت اور جائیداد بھی ہم معنی الفاظ نہیں ہیں۔ کیونکہ اس امتیاز کا علم محصول آمدنی کی بحث میں کام آئے گا۔ فرض کرو کہ ایک قطعہ زمین ایک شخص کے لیے تو دولت ہوگی، جو اس کا لگان وصول کرتا ہے اور جو اپنے قرض کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے بیچ کر اپنی رقم وصول کرسکتا ہے مگر ملک کے لیے یہ زمین دولت نہ ہوگی۔ کیونکہ اگر فک الرہن ہوجائے تو ملک کی دولت میں کوئی تغیر نہ ہوگا۔ اس امتیاز کو زیادہ وضاحت سے یوں بیان کرسکتے ہیں کہ زمین مذکورہ تو دولت ہے کیونکہ ایک خاص متعین قدر رکھتی ہے مگر رہن دولت نہیں۔ بلکہ جائیداد یا دولت کی ایک خاص مقدارکو حاصل کرسکنے یا استعمال میں لاسکنے کا حق ہے۔ جو مرتہن کو حاصل ہے۔ یعنی مالک زمین کی جائیداد کی مقدار اس زمین کی قدر منفی حق مرتہن کے برابر ہے۔ اس مثال میں دولت تو ایک ہی ہے مگر جائیدادیں دوہیں۔ ایک تو اصل مالک کی جائیداد، دوسری مرتہن کی۔ زمین کی ملکیت خواہ ایک ہو خواہ کئی جائیدادوں پر منقسم ہو، ملک کی دولت میں کوئی تغیر واقع نہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ علم الاقتصاد کو لفظ جائیداد سے سروکار نہیں ہے۔ کیونکہ اس لفظ کا مفہوم اقتصادی نہیں، بلکہ قانونی ہے۔\nعلم الاقتصاد کی ماہیت کو واضح کرنے کے لیے اصطلاحات “دولت” و “قدر” کے معنی کا بالصراحت بیان کرنا ضروری تھا۔ اس واسطے مندرجہ بالاسطور ہم کو لکھنی پڑیں۔ اب ہم پھر اصل مضمون کی طرف عود کرتے ہیں اور یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ علم الاقتصاد کے ابتدائی اصول کیا کیا ہیں۔ اس ضمن میں کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاوہ اصول اولیہ اور واقعات کیا ہیں جن کی بنا پر علم الاقتصاد کا ماہر اپنے استدلال کو قائم کرتا ہے؟ کیا اس استدالال میں ان تمام واقعات کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے، جو دولت پر اثر کرتے ہیںیا صرف چند ضروری واقعات پر قناعت کرنی چاہئے؟ کیا نتائج کلیہ پر پہنچنے کے لیے انسان کی حقیقی فطرت کا مطالعہ لازم ہے؟ یا اس غرض کے لیے ہمیں ایک خیالی انسانی فطرت کا تصور کرنا چاہئے جس کا ہر فعل اوروں کے لیے نمونہ ہو؟ کیا مختلف ممالک کے حالات زمین و آب و ہوا اور زرعی قابلیت اور لوگوں کے عادات اور ان کے اوضاع و اطوار کا معلوم کرنا ضروری ہے یا صرف انہی حالات و اوصاف کا علم ضروری ہے جو بالاشتراک ہر قوم میں پائے جاتے ہیں؟ ان سوالوں کے جواب پر علم اقتصاد کی ماہیت اور اس کا طریق تحقیق منحصر ہے۔ مگر اس بارے میں حکما کے درمیان بڑا اختلاف رائے ہے۔ بعض کے نزدیک اس علم کے ابتدائی اصول صرف چند واقعات ہیں جن کا تعلق انسانی فطرت، انسانی تمدن اور کر ّہ ارض کی طبعی بناوٹ کے ساتھ ہے۔ اور بعض کے نزدیک علم الاقتصاد کے ماہر کا یہ فرض منصبی ہے کہ انسانی فطرت کے کسی ایسے واقعہ کو نظر انداز نہ کرے جس کا تعلق دولت یا دولت کی تقسیم اور پیدائش کے ساتھ ہو۔ لہٰذا ان حکماء کی رائے میں جوں جوں انسانی فطرت کا علم وسیع ہوجاتا ہے توں توں علم الاقتصاد بھی وسعت حاصل کرتا جاتا ہے۔ ایک محقق جو ان حکماء کے طبقہ مؤخر الذکر میں داخل ہے کہتا ہے کہ ماہرین علم الاقتصاد کے فرائض مندرجہ ذیل ہیں۔\nِ۱۔ ان بڑے بڑے اصولوں کا معلوم کرنا جو حصول دولت پر اثر کرتے ہیں۔\n۲۔ انسان کی دماغی بناوٹ کے بعض ضروری واقعات کا معلوم کرنا جن کا تعلق انسانی فطرت کے ساتھ ہے۔\n۳۔ پیدائش دولت کے قدرتی اسباب کے بڑے بڑے طبعی خواص معلوم کرنا۔\n۴۔ دیگر اسباب کا تحقیق کرنا جو انسانی افعال پر اثر کرتے ہیں جن کا مقصود حصول دولت ہو۔ مثلا ملکی اور تمدنی رسوم، جدید ضروریات کا پیدا ہونا یا قوانین متعلقہ زمین وغیرہ۔ مگر ہماری رائے میں دونوں فریق راستی پر ہیں۔ علم الاقتصاد کے لیے ضروری ہے کہ اوّل چند خاص اصول بطور بناء کے قائم کئے جائیں اور پھر یہ معلوم کیا جائے کہ انسانی زندگی کے موجودہ حالات و واقعات سے ان ابتدائی اصولوں میں عملا کیا تغیر پیدا ہوتا ہے۔ بہرحال علاوہ اور باتوں کے ماہرین علم الاقتصاد کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ علم کی بنیاد انسانی فطرت کے صحیح اصولوں پر قائم کریں، ورنہ ان کو صحیح اور کلی نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ فرضاً اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ انسان بالطبع خود غرض ہے یا اس کی فطرت قدرتاً وصف ایثار سے کلی طور پر معر ّا ہے۔ اور اس ابتدائی اصول کو اقتصادی استدلال کی بنیاد قرار دیا جائے تو ظاہر ہے کہ وہ تمام استدلالات جو اس اصول پر مبنی ہوں گے، غلط سمجھے جائیں گے۔ کیونکہ حقیقتا انسانی فطرت اس قسم کی نہیں ہے، بلکہ خود غرضی اور ایثار دونوں سے مرکّب ہے۔ اگر کسی قوم میں علم الاقتصاد کے ایسے اصول مر وّج ہو جائیں جو اس قسم کے غلط مشاہدے پر مبنی ہوں تو وہ قوم ایک دو صدیوں کے عرصہ میں ہی ایک حیرت ناک اخلاقی تنزل کرے گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس قوم کے ہر فعل میں بے جا خود غرضی اور زرپرستی کی بو آئے گی، جو اس کو کسی نہ کسی دن حضیض ذلّت میں گرا کر چھوڑے گی۔ لہٰذا بعض مصنّفین نے فطرت انسانی اور دیگر حالات طبعیہ کو ملحوظ رکھ کر علم الاقتصاد کے لیے چند ابتدائی مفروضات یا علوم متعارہ قائم کئے ہیں جن پر تمام استدلالات اقتصادیہ مبنی ہیں۔ ان میں سے بڑے بڑے اصول مندرجہ ہیں:-\n۱۔ بالعموم ہر انسان کم و بیش دولت کی خواہش رکھتاہے۔\n۲۔ سرمایہ دار اور محنتی قدرتاً ان مشاغل کو ترک کر دیتے ہیں، جن میں نفع یا اجرت کم ہو اور ایسے مشاغل کی طرف رجوع کرتے ہیں جن میں منافع یا اجرت زیادہ ہو لیکن یادرکھنا چاہئے کہ یہ ابتدائی اصول اس صورت میں صحیح ہوسکتا ہے جب کہ ملک میں ہر طرح سے امن ہو، غلامی کا دستور نہ ہو اور وہ تمام اسباب معدوم ہوں جو سرمایہ داروں اور محنتیوں کو تجارت کی ایک شاخ سے دوسری شاخ میں منتقل ہونے سے روکتے ہوں۔ ناظرین خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ اب سے ایک صدی پہلے ہندوستان میں یہ بات مشکل تھی کہ کوئی شخص ایک شہر سے دوسرے شہر میں جاکر کاروبار کرے۔\n۳۔ زمین کمیت یا مقدار میں محدود ہے۔ لیکن کیفیت یا خواص میں بالعموم ایک ملک کی زمین دوسرے ملک کی زمین سے مختلف ہوتی ہے۔\n۴۔ دنیا کی زمین بالعموم اس قدر زرخیز ہے کہ معمولی علم و ہنر کے کاشتکار کا حاصل محنت اس مقدار سے زیادہ ہوتا ہے جو صرف اس کے ذاتی گزارے کے لیے کافی ہو۔\nمندرجہ بالا سطور سے واضح ہوگیا ہو گا کہ علم الاقتصاد منفرد واقعات کے مطالعہ سے قوانین کلیّہ بھی قائم کرتا ہے اور اپنے ابتدائی مسلّمہ اصولوں سے نتائج بھی پیدا کرتا ہے جن کی صحت یا عدم صحت واقعات کے ساتھ مقابلہ کرنے سے معلوم کی جاتی ہے یا بالفاظ اصطلاحی یوں کہو کہ یہ علم دیگر علوم کی طرح عمل استقرائ اور عمل استخراج دونوں کے استعمال سے مستفید ہوتا ہے۔ اس مقام پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ تمام کلیہ قوانین واقعات پر مبنی ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے ان کا عمل محدود ہوتا ہے۔ مگر علم الاقتصاد کے قوانین کلیہ خصوصیت کے ساتھ محدود ہیں۔ کیونکہ مختلف ممالک و اقوام کے اقتصادی اور تمدّنی حالات و واقعات بعض صورتوں میں کم وبیش مختلف ہیں۔ مثلا اس علم کے بعض قوانین مغرب کے ممالک کی نسبت توصحیح ہیں، مگر ہندوستان کی صورت میں اختلاف حالات کی وجہ سے صحیح نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حکماء علم الاقتصاد کو ریاضی اور دیگر علوم کا ہم پایہ تصو ّر نہیں کرتے۔ اوراس کو اقوام اور ممالک کے ساتھ مختص سمجھتے ہیں۔ ایک مصنّف نے حال ہی میں ایک کتاب لکھی ہے جس کو اس نے “اقتصاد ہندی” کے نام سے موسوم کیا ہے۔ مگر ہماری رائے میں یہ غلطی علم کو فن سے متمیز نہ کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ علم کا کام صرف واقعات کے علل و اسباب معلوم کرنا ہے۔ یہ کسی طریق عمل پر مستحسن یا مذموم ہونے کا حکم نہیں لگاتا۔ برخلاف فن کے کہ اس کا فرض منصبی خاص واقعات کو ملحوظ رکھ کر کسی مقصد کے حصول کے لیے خاص خاص قواعد اور طریق عمل پیش کرے یا کسی طریق پر حکم لگائے۔ لہٰذا ہم اس کو دیگر نظری علوم کی طرح ایک علم سمجھتے ہیں۔ اگرچہ یہ تسلیم کرنے میں عذر نہیں ہے کہ اس کے کلیہ اصولوں میں جدید واقعات کے لحاظ سے ایسا تغیر ّ آنا ممکن ہے۔ جس سے ان کی وسعت زیادہ ہوجائے۔ اور ان کے نئے نئے واقعات پر حاوی کردے۔\n\nعلم الاقتصاد کا تعلق دیگر علوم سے\n\nعلم اقتصاد اپنی تحقیق میں دیگر علوم سے بہت مدد لیتا ہے۔ مثلا علم الابدان سے اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بقائے زندگی کے لیے ایک معین خوارک کی ضرورت ہے یا انسان کے شہوانی قویٰ آبادی کو زیادہ کرنے کی طرف میلان رکھتے ہیں۔ ان ہر دو مسلّمات سے مسئلہ اجرت و آبادیٔ انسان کی بحث پر بہت کچھ روشنی پڑتی ہے۔ علیٰ ہذاالقیاس علم کیمیا سے اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی قابلیت پیداوار کی ایک خاص حد ہے جس کو لگان کی بحث میں ملحوظ رکھنا چاہئے۔ مگر یادرہے کہ اگرچہ اس علم کے محقق کو دیگر علوم کی تحقیقات سے مدد لینی چاہئے۔ تاہم یہ بھی لازم ہے کہ وہ علم اقتصاد کی ذاتی حدود کو مد نظر رکھے اور ان بحثوں میں نہ پڑ جائے۔ جن کا تعلق دولت کی تقسیم و تبادلہ وغیرہ سے نہیں ہے۔\n\nعلم الاقتصاد اور علم اخلاق\n\nاگرچہ علم الاقتصاد دیگر علوم میں سے بعض کے ساتھ ایک ضروری تعلق رکھتا ہے۔ مگر علم اخلاق کے ساتھ اس کا تعلق بہت گہرا ہے۔ اس علم کی طرح علم اخلاق کا موضوع بھی وہی اشیاء ہیں جو بعض انسانی مقاصد کے حصول سے وابستہ ہیں۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ علم اخلاق کا موضوع وہ افعال ہیں جو زندگی کے افضل ترین مقصد کے حصول کی شرائط ہیں اور علم الاقتصاد کا موضوع وہ اشیاء ہیں جو انسان کے معمولی مقاصد کے حصول کے لیے ضروری ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کے معمولی مقاصد کی پوری قدر سمجھنے کے لیے ان پر اخلاقی مقاصد کے لحاظ سے نگاہ ڈالنی چاہئے۔ مثلاً خوراک، لباس، مکان، ہماری زندگی کے لیے ضروری ہیں اور ان کی قدر ان مقاصد کی قدر پر منحصر ہے جن کو یہ پورا کرتے ہیں۔ مگر زندگی کے ان معمولی مقاصد کی اصل وقعت صرف اس صورت میں معلوم ہوسکتی ہے جب ہم ان پر زندگی کے افضل ترین مقصد کے لحاظ سے غور کریں۔ اس لیے علم الاقتصاد کو وضاحت کے ساتھ سمجھنے کے لیے کسی قدر مطالعہ علم اخلاق کا بھی ضروری ہے۔ اکثر مصنفین نے اس صداقت کو محسوس نہیں کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دولت بلا لحاظ زندگی کے افضل ترین مقصد کے بجائے خود ایک تصو ّر کی گئی جس سے بعض تمدّنی اصلاحوں کے ظہور پذیر ہونے میں بے جا تعویق ہوئی اور دولت کے پیار کرنے والوں کی حرص و آز پہلے سے زیادہ تیز ہوگئی۔\n\nعلم الاقتصاد کا تعلق علم تمدّن سے\n\nعلم تمدّن وہ علم ہے جو انسانی زندگی کا افضل ترین مقصد اور اس کے حصول کے طریق معلوم کرتا ہے۔ اس علم کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ تمام دیگر علوم اس کی تحقیقات سے متاثر ہوتے ہیں کیونکہ بلاواسطہ یا بالواسطہ تمام علوم کا موضوع ذات انسان ہے، جو خصوصیت کے ساتھ علم تمدّن کا موضوع ہے۔ کسی شے کی حقیقی قدرو منزلت اس امر پر منحصر ہے کہ وہ کہاں تک ہماری زندگی کے اعلیٰ ترین مقصد کے حصول میں ہم کو مدد دیتی ہے یا یوں کہو کہ ہر شے کی اصلی وقعت کا فیصلہ تمدّنی لحاظ سے ہوتا ہے۔ دولت ہی کو لے لو۔ اگر یہ شے ہمارے افضل ترین مقاصد کے حصول میں ہم کو مدد نہیں دے سکتی، تو پھر اس کا کیافائدہ؟ لہٰذا علم اقتصاد جس کا موضوع دولت ہے وسیع علم تمدّن پر مبنی ہے۔ جس کا منشاء ہر شے کی اصلی وقعت کا فیصلہ کرنا ہے۔ انسان کی زندگی کا اصلی مقصد کچھ اور ہے۔ اور یہ تمام اشیاء دولت، صحت اور فرائض کی انجام دہی وغیرہ اس مقصد کے حصول کے مختلف ذرائع ہیں۔ چونکہ علم تمدّن کا منشاء ہمارے اعلیٰ ترین مقصد کی حقیقت کا معلوم کرنا ہے۔ اور ہماری روزمرہ کی ضرورت کی چیزوں کی حقیقی قدر اس علم کے لحاظ سے فیصلہ پاتی ہے۔ اس واسطے علم اقتصاد اور دیگر انسانی علوم علم تمدّن سے ایک نہایت گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ بلکہ ایک معنی میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس پر مبنی ہیں۔\n\nعلم اقتصادکے مختلف حصص\n\nعلم اقتصاد کی ماہیت اور اس کا طریق تحقیق بیان کرچکنے کے بعد اب ہم اس علم کے چار بڑے حصص بیان کرتے ہیں، جو تمام اقتصادی مسائل پر حاوی ہیں۔\n۱۔ دولت کی پیدائش\n۲۔ دولت کا تبادلہ\n۳۔ دولت کی تقسیم\n۴۔ دولت کا صرف یا استعمال\nاس کتاب کے آئندہ حصص میں علی الترتیب ان کا ذکر ہوگا مگر یادرکھنا چاہئے کہ علم الاقتصاد کے حصص کی مندرجہ بالا تقسیم ہم نے منطقی وضاحت کی غرض سے کی ہے۔ ورنہ جیسا کہ تمھیں آگے چل کر معلوم ہوگا۔ یہ سب حصص آپس میں ایک گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ مثلا اشیاء کے صرف یا استعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ کون سی اشیاء ملک میں تیار کی جانی چاہئیں۔ اسی طرح پیدائش دولت کی کیفیت اور کمیت اس کی تقسیم سے متاثر ہوتی ہے اور اگر انقسام محنت کا اصول پورے طور پر مروج ہو جائے تو پیدائش دولت سے تبادلہ لازم آتا ہے۔ علیٰ ہذا القیاس دولت کی تقسیم تبادلے سے متاثر ہوتی ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D8%AF/%D8%AD%D8%B5%DB%81_%D8%A7%D9%88%D9%84"} {"title": "علم الاقتصاد/حصہ دوئم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "نثر > علم الاقتصاد", "year": "1904", "text_ur": "پیدائش دولت\n\nباب۔۔ ۱زمین\n\nجب ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان دولت پیدا کرتا ہے تو ہمارا مفہوم یہ نہیں ہوتا کہ انسان کسی شے کا خالق ہے یا اُسے عدم سے وجود میں لاتا ہے۔ دولت پیدا کرنے سے مراد محنت اور سرمائے کی مدد سے اشیاء میں صرف ایک خاص قدر کا پیدا کرنا ہے، جو اپنی اصلیت کے لحاظ سے مندرجہ ذیل اقسام میں منقسم کی گئی ہے۔\n(الف)۔ قدر مختص بالمکان یعنی وہ قدر جو کسی شے کو ایک مقام سے جہاں وہ پیدا ہوتی ہے دوسرے مقامات میں جہاں اس کی ضرورت ہے، منتقل کرنے سے اُس شے میں پیدا ہو جاتی ہے۔ مثلاً کشمیر میں برف کی کوئی قدر نہیں لیکن اگر پنجاب میں منتقل کی جائے تو اس میں قدر پیدا ہو جائے گی۔\n(ب)۔ قدر مختص بالزمان یعنی وہ قدر جو کسی شے کو ایک خاص میعاد تک مخصوص رکھنے اے اُس شے میں پیدا ہو جاتی ہے۔ مثلاً سردی میں برف کا ایک ٹکڑا کچھ قدر نہیں رکھتا۔ لیکن اگر موسم گرما کی آمد تک اس کو کہیں دبا کر محفوظ رکھ دیا جائے تو اس میں ایک خاص قدر کا پیدا ہو جانا ممکن ہے۔\nج۔ قدر مختص بالہیتہ۔ یعنی وہ قدر جو کسی شے میں ایک خاص ہیئت پیدا کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً لوہے کی تلوار جو کسی مشین کی مدد سے تیار کی جائے۔\nاس مختصر تمہید کے بعد اب ہم اصل مطلب شروع کرتے ہیں۔ دولت کی پیدائش کے تین بڑے وسائل ہیں۔ یعنی زمین، محنت اور سرمایہ۔ مگر بعض کی رائے میں تنظیم محنت بھی پیدائش دولت کی بڑی ممد ہے۔ لہٰذا بعض محققین نے اس کو بھی وسائل پیدائش میں شمار کیا ہے۔ اس باب میں ہم صرف زمین کے متعلق کچھ لکھنا چاہتے ہیں۔\nزمین انسان کے لیے ایک قدرتی عطیہ ہے جس کے استعمال پر نہ صرف اس کی موجودہ زندگی اور آسائش کا انحصار ہے بلکہ اس کی وسعت نسل انسانی کی زیادہ سے زیادہ آبادی اور اس کی مدت بقا کو بھی متعین کرتی ہے۔ چونکہ زمین کی مختلف قسموں کی قابلیت پیداوار مختلف ہے۔ اس واسطے مختلف مقامات میں انسانی محنت کا معاوضہ بھی مختلف ہے۔\nمگر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر انسانی ضرورت بلا واسطہ یا بالواسطہ اس قدرتی عطیئے کے مناسب استعمال سے پوری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان دولت کے اس وسیع سرچشمہ کو زیادہ زرخیز کرنے یا اپنی ضرورت کے مطابق اُس کی قابلیتوں میں تبدیلی پیدا کرنے کے لیے نئے نئے وسائل دریافت کرتا ہے۔ پیداوار زمین کی کمی بیشی ، اس کی زرخیزی اور دیگر مقامی خصوصیات مثلاً آب و ہوا، پانی کی افراط وغیرہ پر منحصر ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک اہم اور نہایت ضروری قانون کے ساتھ وابستہ ہے جس کا اچھی طرح زہن نشین کر لینا طالب علم کے لیے ضروری ہے۔\nاس قانون کو علم الاقتصاد کی اصطلاح میں قانون تقلیل حاصل کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہر زمین کی قابلیت پیداوار کی ایک خاص حد مقرر ہے یا یوں کہو کہ پیداوار کی زیادہ سے زیادہ مقدار جو سرمائے اور محنت کے عوض میں کسی خاص زمین سے حاصل ہو سکتی ہے، ایک خاص معین اندازہ رکھتی ہے۔ جب کوئی زمین ہمارے سرمائے اور محنت کے عوض میں زیادہ سے زیادہ پیداوار دے تو ہم کہتے ہیں کہ اس کی پیداوار نقطہ تقلیل پر پہنچ گئی ہے۔ یعنی اس معین مقدار کے حاصل کر چکنے کے بعد سرمائے اور محنت کے دُگنا کر دینے سے یہ ضروری نہیں کہ زمین مذکور کی پیداوار بھی دُگنی ہو جائے۔ بلکہ دُگنی پیداوار حاصل کرنے کے لیے دُگنے سے زیادہ سرمائے اور محنت کی ضرورت ہو گی۔ اگر محنتیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا جائے تو ہر محنتی کا حصہ پیداوار کم ہو جائے گااور اس کی کم تر معاوضے پر قناعت کرنی پڑے گی۔ اسی طرح اگر سرمائے میں اضافہ کر دیا جائے تو پیداوار کی زیادتی اس زیادتی سے کم ہو گی جو کاشت کے نقطۂ تقلیل تک پہنچنے سے پیشتر اس اضافہ سے حاصل ہوتی۔ مثلاً فرض کرو کہ ایک قطعۂ زمین پر جس کی وسعت سو ایکڑ ہے اور جس کی سالانہ پیداوار دو ہزار من غلہ ہے، دس آدمی مشترک طور پر کام کرتے ہیں۔ اس حساب سے ایک ایکڑ کی پیداوار بیس من ہوئی اور فی کس دو سو من آئے۔ لیکن محنتیوں کی مذکورہ جماعت میں دو آدمی اور شامل ہو جائیں اور فن زراعت کی ترقی سے زمین کی زرخیزی کی کوئی نئی راہ نکل آئے تو کیا اس زمین کی پیداوار مندرجہ بالا حساب سے دوہزار چار سو من ہو گی یا اس سے کم و بیش اس سوال کا جواب دینے کے لیے پہلے اس امر کا دیکھنا ضروری ہے کہ ایا پہلے دس آدمیوں کی محنت اور سرمائے سے زمین مذکور کی کاشت نقطۂ تقلیل تک پہنچ گئی تھی۔ اگر کاشت اس نقطہ تک نہیں پہنچی تو آیندہ سال کی پیداوار دو ہزار چار سو من سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ انقسام محنت کی وجہ سے جس کے فوائد کا ذکر باب چہارم میں آئے گا۔ دس آدمیوں کی نسبت بارہ آدمی زیادہ غلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر کاشت نقطہ تقلیل تک پہنچ چکی ہے تو دو آدمیوں کی زیادتی سے پیداوار دو ہزار چار سو من سے کم ہو جائے گی۔ جس کا نتیجہ یہ ہو گا بارہ آدمیوں میں ہر آدمی کو دو سو من سے کم پر قناعت کرنی پڑے گی۔ اس طرح سرمائے اور محنت کی زیادتی سے پیداوار ہر سال زیادہ ہوتی جائے گی اور حصہ فی کس کم ہوتا جائے گا۔ یہاں تک کہ زمین کی کاشت کے نقطہ تقلیل تک پہنچ جانے سے پیداوار پھر کم ہونی شروع ہو جائے گی اور حصہ فی کس پہلے سے بھی کم ہوتا جائے گا۔ یہ کمی اوّل اوّل تو بتدریج ہوگی، مگر بعد میں اس کی سُرعت میں یہاں تک ترقی ہوگی کہ زمین مذکورہ کا قطعہ موجودہ محنتیوں کے گزارے کے لیے بالکل ناکافی ہوگا۔ غالباً اس قانون کے عمل نے آریہ ہندئووں سے وسط ایشیا کے میدان چھڑوائے اور حضرت لوط علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جدا کیا جیسا کہ تورات میں مذکور ہے۔ اگر زمین کی کاشت میں سرمائے اور محنت کے بڑھتے جانے سے بالآخر نقطہ تقلیل تک پہنچ جانے کا میلان نہ ہوتا، تو ہر مزارع تھوڑے سے قطعہ زمین کی کاشت پر قناعت کرتا اور اس پر اپنا سرمایہ اور محنت صرف کرکے بہت سی پیداوار حاصل کر لیا کرتا اور لگان کے ایک بہت بڑے حصے کی ادائیگی سے بچ رہتا جو اب وسیع قطعات کی کاشت سے اس کو ادا کرنا پڑتا ہے۔\nاس قانون کی مزید وضاحت کے لیے ایک محقق سرمائے اور محنت کی زیادتی کو دوا کی خوراک سے تعبیر کرتا ہے اور زمین کو مریض قرار دیتا ہے ہے۔ اگر کسی زمین کے ایک قطعہ پر کچھ سرمایہ اور محنت صرف کی جائے اور اس کی پیداوار صرف خرچ ہی کے برابر ہو تو اس محقق کی اصطلاح میں ایسی زمین کی نسبت یہ کہا جائے گا کہ وہ کنارہ زراعت پر ہے۔ رفتہ رفتہ زیادہ سرمائے اور محنت کے صرف سے پیدا وار زیادہ ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ کاشت نقطۂ تقلیل تک پہنچ جائے گی اور مزید سرمائے اور محنت سے پیداوار میں کوئی متناسب زیادتی نہ ہو گی۔ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ سرمائے اور محنت کا حاصل جو مندرجہ بالا قانون کی تحت میں ہے، پیداوار کی مقدار سے متعین ہوتا ہے۔ جو اس سرمائے اور محنت کے عوض میں دستیاب ہوتی ہے۔ پیداوار مذکور کی قیمت کے گھٹنے بڑھنے کو اس حاصل کی تعیین میں دخل نہیں ہے۔ ہاںجب ہم اس قانون سے نتائج استخراج کریں گے اور بالخصوص اس اثر پر بحث کریں گے جو آبادی کی زیادتی سے وسائل زندگی پر ہوتا ہے۔ اس وقت قیمت کے تغیرات پر بھی بحث کرنا لازم ہوگا۔ ان تغیرات کو نفس قانون سے واسطہ نہیں۔ کیونکہ اس کا تعلق پیداوار کی قدر سے نہیں ہے بلکہ اس کی مقدار سے ہے۔\nاس قانون کا عمل عام ہے اور یہ ہر ملک کے حالات پر صادق آتا ہے۔ اس کا اثر صرف مزر و عہ زمین تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ چراگاہوں ، جنگلوں اور سمندروں کی پیداوار بھی اس قانون کے احاطہ عمل میں ہے۔ اگرچہ بعض حالات میں کلوں اور دیگر ایجادات کی وجہ سے اس کا اثر چنداں ظاہر نہیں ہوتا۔ مصنوعی اشیاء بھی اس کے اثر سے آزاد نہیںہیں۔کیونکہ اُن کاہیولیٰ یا مصالح جس سے وہ تیار ہوتی ہیں زمین یا سمندر ہی سے برآمد ہوتا ہے۔ مگر مصنوعات کی مختلف اقسام پر اس کا اثر اس محنت کی مقدار کے لحاظ سے ہوتا ہے جو ان کی تیاری میں صرف کی جائے۔ قینچی کو ہی دیکھ لو۔ لوہے کو زمین سے نکالنے کا خرچ اس محنت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو اس کی تیاری میں صرف کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کان کی مشکلات بڑھ جانے کی وجہ سے لوہے کی قیمت دُگنی بھی ہو جائے تو قینچیوں کی قیمت پر زیادہ اثر نہ ہوگا۔ کیونکہ ان کی قیمت کے تعین میں اس محنت کو دخل ہے جو ان کی تیاری میں صرف ہوتی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ جو قومیں اس قسم کی دستکاری میں مصروف ہیںجو مصالح پر اپنا عمل کرتی ہیں، اُن کو اس قانون سے متاثر ہونے کا اندیشہ نہیں ہے۔ کیونکہ اُن کی مصنوعات کی قیمت کم و بیش ان کی دستکاری اور محنت سے متعین ہوتی ہے۔ جس میں مصالح کے خرچ پیداوار کو بہت کم دخل ہے۔ مگر جو ملک زیادہ تر مصالح پیدا کرتے ہیں اور مضوعات کی تیاری عاری ہیں، اُن کی اس قانون کے نتائج پر غور کرنا چاہیے۔ بالخصوص ہندوستان کے لوگوں کو۔ کیونکہ ابھی اس ملک کو صنعتی ملک کے نام سے موسوم نہیں کر سکتے۔ اگر اس ملک کے لوگ زیادہ تر صنعت کی طرف توجہ کریں، تو ان کی مالی حالت روز افزوں ترقی کرے گی اور مفلسی کے عذاب اور دیگر مصائب سے نجات ملنے کی صورت نظر آئے گی۔ کیونکہ اور ملکوں کی طرح اس ملک کو مصالح باہر سے منگوانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔\nہم نے اوپر بیان کیا ہے جب کہ زمین کی کاشت نقطہ تقلیل تک پہنچ جاتی ہے تو اس کی قابلیت پیداوار کم ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ صرف یہی نہیں کہ معمولی کاشت ہی اُس کے اندرونی خواص کو زائل کرتی ہے بلکہ بعض چند ایسے قدرتی اسباب بھی پیدا ہو جاتے ہیں جو اس کی زرخیزی کو انتہا درجہ کا نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ علم طبعی کے نتائج کی رو سے کوئی شے عدم محض نہیں ہو سکتی بلکہ صرف اُس کی ماہیت تبدیل ہو جاتی ہے تو اس کاجواب یہ ہے کہ اگرچہ عدم محض محال ہے تاہم کوئی مفید شے بدل کر ایسی ہیئت یا صورت اختیار کر سکتی ہے جو انسان کے لیے بالکل کار آمد نہ ہو۔ مثلاً جب کوئی مکان جل کر خاک ہو جاتا ہے تو بالکل معدوم نہیںہوتا بلکہ ایک مفید ہیئت سے ایک غیر مفید ہیئت اختیار کر لیتا ہے۔ اسی طرح زمین کے مفید اندرونی خواص انسان کے معمولی کاشت یا دیگر مضرت رساں قدرتی اسباب سے حقیقی طور پر فنا نہیں ہو جاتے بلکہ ایسی صورت اختیار کر لیتے ہیںجو ہماری ضروریات کے لحاظ سے غیر مفید ہوتی ہے۔\nزمین کے اس خاصے کی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہندوستان چونکہ صنعتی ملک نہیں ہے، اس واسطے یہ دیگر ممالک کے لیے ایک طرح کا ذخیرہ بن گیا ہے، جہاں سے وہ اپنے صنعتی کارخانوں کے لیے مصالح حاصل کرتے ہیں اور پھر اُس مصالح کو اپنی دستکاری کے عمل سے نئی نئی مصنوعات کی صورت میں تبدیل کر کے دیگر ممالک اور ہندوستان میں بھیج کر بے انتہا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ہمارے ملک میں چونکہ قانون تقابل حاصل کے عمل کو روکنے کے اسباب قلیل ہیں۔ لہٰذا جو اشیاء ہندوستان میں دیگر ممالک سے آتی ہیں ان پر قانوناً بہت سا محصول لگنا چاہیے۔ جس کا فائدہ یہ ہو گا کہ دیگر ممالک کے تاجر اپنی صنعتی اشیاء اس ملک میں نہ بیچ سکیں گے۔ اگر بیچیں گے تو اُن کو کچھ فائدہ کی توقع نہ ہو گی۔ کیونکہ زیادہ محصول کی وجہ سے اُن اشیا کی قیمت گراں ہو جائے گی اور یہاں کے لوگ اُن کو خریدنے سے باز رہیں گے۔ اس طرح ہمیں اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خود اپنا محتاج ہونا پڑے گا اور ہماری صنعت کو ترقی ہوگی۔ اس طریق عمل کو “حفاظت تجارت” یا “تامین تجارت” کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور اس کا مقصد یہ ہے کہ تمام ممالک باہمی ایک دوسرے کے دست نگر نہ ہوں۔ بلکہ اپنی ضرورت کی چیزیں اپنے اپنے ملک کے پیدا کردہ مصالح سے خود تیار کریں۔ اس دلیل سے یہ نہ سمجھ لینا چاہیے کہ مندرجہ بالا طریق عمل کا مقصد قوموں کے باہمی تعلقات کو قطع کرنا ہے۔ یہ نتیجہ صحیح نہیں ہے۔کیونکہ تامین تجارت کے مویدوں کا مقصد ہر ملک کے لوگوں کو صنعت کی طرف مائل کرنا ہے نہ کہ اُن کے باہمی تعلقات کو زائل کرنا۔ جو شے کسی ملک میں سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتی وہ بمجبوری دیگر ممالک سے حاصل کی جائے گی اور اس طرح تجارتی تعلقات بدستور قائم رہیں گے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ مصالح پیدا کرنے والوں کو باہمی خرید و فروخت کرنے میں پوری آزادی حاصل ہے۔ اس واسطے کسی قسم کا محصول لگانا گویا انسان کی آزادی پر حملہ کرنا ہے۔ مگر ان کو یہ معلوم نہیں کہ بسا اوقات کسی خاص فرد کا فائدہ عام افراد قوم کے فوائد سے متناقص ہوتا ہے تاہم مذکورہ بالا دلیل میں دو امور نظر انداز کئے گئے ہیں۔ جن پر غور کرنا نہایت ضروری ہے۔\n۱۔ اوّل تو یہ کہ نظام قدرت خود بخود اس کمی کو پورا کرتا ہے جو زمین کی قابلیت پیداوار کے رفتہ رفتہ کم ہوتے جانے سے لاحق ہوتی ہے۔ مثلاً بڑی بڑی چٹانوں کا تحلیل ہو کر وسیع قطعاتِ زمین کی صورت میں متبدل ہوتے جانا۔\n۲۔ دوئم زمین کے انسانی استعمال میں اس کے کچھ نہ کچھ حصے کا ضائع ہونا ضروری ہے۔ بلکہ بڑے بڑے تجارتی قصبوں کی تعمیر سے بھی یہ بات رُک نہیں سکتی اور کچھ نہیں تو ایسے قصبوں میں کچھ حصہ زمین ان نہروں کی تیاری ہی میں صرف کرنا پڑے گا جن کی وساطت سے کوڑا کرکٹ وغیرہ سمندر میں پھینکا جاتا ہے۔\nقصہ کوتاہ یہ بحث بڑی دلچسپ ہے اور اس کے نتائج مختلف ممالک کے حالات پر منحصر ہیں۔ ہم اس پر زیادہ خامہ فرسائی نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس کا فیصلہ ناظرین کی رائے پر چھوڑتے ہیں۔\n\nباب۔ ۲محنت\n\nدولت کی پیدائش کا دوسرا وسیلہ محنت ہے جس سے مراد وہ جسمانی یا غیر جسمانی (دماغی) سعی ہے جو کسی مقصد کے حصول کے لیے کی جاتی ہے۔ قطع نظر اس خوشی یا لذت کے جو اس سعی کے دوران میں حاصل ہو۔ قدرت مصالح یا ہیولیٰ مہیا کرتی ہے۔ مگر محنت اس کی مختلف اقسام پر اپنا عمل کرنے سے یا ان کو مطلوبہ ہیئت میں تبدیل کرنے سے اس ہیولیٰ کو انسانی ضروریات کے پورا کرنے کے قابل بنا دیتی ہے۔ اس قمیص کو ہی لو جو تم پہنتے ہو۔ اس کو موجودہ مفید ضورت میں لانے کے لیے محنت کے مختلف اعمال کا کس قدر طویل سلسلہ درکار ہے۔ اعلیٰ ہذا لقیاس مصنفین اور علماء کی تصانیف جن کا منشاء قوم کی اصلاح کرنا یا علوم کی اشاعت وغیرہ ہو، خالص دماغی محنت کی مثالیں ہیں۔\nتہذیب و تمدن کے اقل درجہ کی حالت میں انسان کی ضروریات قدرت کی فیاضی سے خود بخود پوری ہو جاتی ہیں۔ محنت کی احتیاج نہیں ہوتی اور جب تک یہ حالت قائم رہتی ہے، اشیاء میں وہ خاصیت بھی پیدا نہیں ہوتی جس کی قدر کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ انسان دیگر حیوانات کی طرح خود رو پھلوں پر یا شکار پر گزران کرتا ہے۔ اس حالت کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آبادی کم ہو، قحطوں کا تواتر ہو اور زندگی کو قائم رکھنے کے لیے قبائل انسانی میں باہمی جنگ وجدل کا سلسلہ قائم رہے۔ مگر جب انسان اس وحشیانہ حالت سے ترقی کر کے حالت شبانی تک پہنچتا ہے ، تو اقتصادی معنوں میں محنت کا ظہور ہوتا ہے۔ اس حالت میں بنی آدم قدرت کی فیاضی کے بھروسے ہی نہیں رہتے، بلکہ مختلف جنگلی حیوانوں کو اپنے قبضے میں لاتے ہیں۔ پانی کے غیر مستقل ذخیرے کے لیے نہریں کھودتے ہیں۔ بلکہ آیندہ خشک سالی کی فکر سے خورد و نوش کا سامان جمع کرنا اور اپنے حیوانوں کی حفاظت کرنا بھی سیکھتے ہیں۔ غرض کہ محنت کی مندرجہ بالا صورتوں کی وساطت سے وہ تمام اشیاء دولت بن جاتی ہیں، جو انسان کی وحشیانہ حالت میں اس خاصیت سے معّرا تھیں۔ تمدن کی اس حالت میں آبادی دن بدن زیادہ ہوتی ہے اور خورد و نوش کا سامان صرف کثیر ہی نہیں ہوتا بلکہ بیرونی خطرات سے محفوظ بھی ہو جاتا ہے۔ کیونکہ انسان کی ذاتی محنت سے قحطوں کا تواتر رُک جاتا ہے اور ان کے گزارے کی سبیل یقینی ہو جاتی ہے۔ آخر کار یہ مرحلہ بھی طے ہو جاتا ہے اور انسان ترقی کر کے اس حالت تک پہنچتا ہے جس کو حالت زراعتی کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ خانہ بدوشی چھوٹ جاتی ہے۔ آبادی زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ اور محنت کا ہاتھ زمین کے مخفی خزانوں کو غلہ اور دیگر اجناس کی صورت میں نکالنا شروع کرتا ہے۔\nاوپر کی سطور سے واضح ہو گیا ہو گا کہ پیدائش دولت کے لیے محنت لازم ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ہر محنت دولت آفریں نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ محنت کی دو بڑی اصناف قرار دی گئی ہیں۔ یعنی\n۱۔ محنت بار آور\n۲۔ محنت غیر بار آور\nمقدم الذکر سے مراد وہ محنت ہے جو بالواسطہ یا بالا واسطہ مسلسل طور پر مزید دولت پیدا کرتی رہے اور آخر الذکر سے مراد اُس محنت کی ہے جو مسلسل طور پر مزید دولت پیدا نہ کر سکے۔ مثلاً مفید اور ضروری اشیاء تیار کرنے والے معماروں ، آہن گروں یا سپاہیوں اور استادوں کی محنت بار آور ہے۔ برخلاف اس کے آتش بازی بنانے والے کی محنت غیر بار آور ہے۔ کیونکہ آتش بازی کا دستکاری بجائے اس کے کہ مسلسل طور پر مزید دولت پیدا کرے قومی دولت کو کم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر فرض کرو کہ کسی جگہ صرف دو آدمی آباد ہیں۔ ایک کے پاس دس روپے ہیں اور دوسرے کے پاس پانچ۔ یعنی اُن کا کل سرمایہ پندرہ روپے ہے۔ فرض کرو کہ جس شخص کے پاس پانچ روپے ہیں وہ اپنا سرمایہ آتش بازی کی تیاری میں صرف کرتا ہے اور شے مذکور کے تیار ہونے پر اُسے اپنے تماشہ پسند ساتھی کے پاس لے جاتا ہے جو آتش بازی کو دس روپیہ پر خرید لیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ دونوں کا سرمایہ جو پہلے پندرہ روپے تھا، اب صرف دس روپے رہ گیا ہے۔ جو آتش باز کے قبضہ میں ہے۔ کیونکہ آتش بازی اپنے مالک کو ایک عارضی خوشی دے کر تھوڑی دیر کے بعد بالکل معدوم ہو جائے گی۔ لہٰذا تمام غیر بار آور محنت جو اسباب تن آسانی پر صرف ہوتی ہے۔ اگرچہ بادی النظر میں سرمایہ داروں کو محنت بار آور کے مانند منافع غیر معلوم ہو تی ہے (جیسا کہ مثال بالا میں ہمارے آتش باز کو اپنی تجارت سے پانچ روپیہ منافع معلوم ہوتا ہے) تاہم انجام کار قومی دولت کی مقدار کو کم کرتی ہے۔ کیونکہ یہ محنت اور سرمایہ جو اس پر صرف ہوتا ہے گویا ایسی اشیاء کی تیاری میں صرف ہوتا ہے جو کچھ عرصہ بعد قدرے معرا ہو کر بالکل معدوم ہو جاتی ہیںاور اس وجہ سے مسلسل طور پر مزید دولت کے پیدا کرنے کا ذریعہ نہیںبن سکتیں۔ اگر غور سے دیکھو گے تو تمھیں معلوم ہوگا کہ نجیلوں اور عشرت پسندوں کا وجود قومی دولت کے لیے یکساں مضرت رساں ہے نہ بخیل بھی عشرت پسندوں کی طرح دولت کو ایک طرح سے فنا ہی کرتا ہے کیونکہ جو دولت صندوق میں بند رہے اور مزید دولت کے پیدا کرنے میں صرف نہ ہو اُس کا عدم اور وجود برابر ہے۔ غرض کہ محنت کا بار آور غیر بار آور ہونا اور سرمایہ کا بار آور یا غیر بار آور طور پر استعمال ہونا مزید دولت پیدا کر سکنے یا نہ کر سکنے کی قابلیت پر منحصر ہے۔ معلم کی محنت بار آور ہے کیونکہ وہ اوروں کو اس قابل بناتا ہے کہ مزید دولت پیدا کریں۔ علیٰ ہذاالقیاس سپاہی کی محنت بھی بالواسطہ بار آور ہے کیونکہ وہ اپنے ملک کی حفاظت کرتا ہے جو مزید دولت پیدا ہونے کی ایک ضروری شرط ہے۔ اسی طرح دیگر دستکاروں یعنی معماروں ، آہنگروں وغیرہ کی محنت بھی بشرطیکہ اسباب تن آسانی پر صرف نہ ہو بار آور ہے۔ کیونکہ اُن کی محنت سے ایسی اشیاء تیار ہوتی ہیں ، جن سے سلسلہ وار مزید دولت پیدا ہوتی رہتی ہے۔ برخلاف گوٹا بنانے والے کی محنت کے کہ اُس کا نتیجہ ایک ایسی شے ہے جو خریدنے والے کو ایک عارضی خوشی یا آسائش تو دیتی ہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد فنا ہو کر دولت کی آیندہ پیدائش کے سلسلہ کو یک قلم منقطع کر دیتی ہے۔ مندرجہ بالا امتیاز کی بناء اس امر پر ہے کہ ہر ملک میں بعض دستکار اور سرمایہ دار تو ایسے ہوتے ہیںجو اپنی محنت اور سرمائے کو ضروریات زندگی کے پیدا کرنے میں صرف کرتے ہیں اور بعض صرف اسباب عشرت و تن آسانی ہی کو پیدا کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تہذیب و تمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ انسان کے حالات زندگی، اس کے خیالات و قویٰ میں ایک قسم کا تغیر آتا رہتا ہے جس سے یہ امکان ہو جاتاہے کہ جو چیز سو سال پہلے اسباب تن آسانی میں سے تصور کی جاتی تھی اب اخلاقی حالات کی وجہ سے ضرورت زندگی میں شمار کی جائے لہٰذا تہذیب و تمدن کے اعلیٰ مدارج میں ضروریات زندگی اور اسباب تن آسانی یا بالفاظ دیگر یوں کہو کہ محنت بار آور اور غیر بار آور میں تمیز کرنا ذرا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس ضمن میں یہ بیان کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا توضیح پر دو اعتراض ہو سکتے ہیں:۔\n۱۔ فرض کرو کہ ایک استاد بیس لڑکوں کو تعلیم دیتا ہے جن میں سے آخر کار دس طلبا معزز عہدوں پر ممتاز ہوئے مگر باقیوں نے مرنوالحال ہونے کی وجہ سے کوئی ملازمت یا تجارت وغیرہ کی۔ ظاہر ہے کہ محنت بار آور کی تعریف کی رو سے استاد کی محنت کا وہ حصہ جو پہلے دس کی تعلیم پر صرف ہوا ہے، بار آور ہے۔ کیونکہ اُس سے مسلسل طور پر مزید دولت پیدا ہو رہی ہے لیکن وہ حصہ جو باقی دس کی تعلیم پر صرف ہوا ہے، غیر بارآور ہے کیونکہ اس سے مسلسل طور پر مزید دولت پیدا نہیں ہوتی۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک ہی قسم کی محنت ایک حالت میں بار آور اور دوسری حالت میں غیر بار آور ہو؟ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ کم علم اقتصاد واقعات کے اسباب و علل معلوم کرتا ہے اور اس بات پر بحث کرتا ہے کہ اگر بعض مانع اسباب نہ پیش آئیں تو فلاں واقعہ اس طرح پر ظہور پذیر ہوگا۔ استاد کی محنت دونوں صورتوں میں بارآور ہونے کا میلان رکھتی ہے لیکن چونکہ دوسری صورت میں طلبا کی بے پروائی یاد مگر موانع پیش آ گئے ہیں ، اس واسطے غیر بار آور ہو گئی ہے۔\n۲۔ تم شاید یہ کہو گے کہ اگر کسی شے کے بار آور اور استعمال سے یہی مراد ہے کہ اس سے مسلسل طور پر مزید دولت پیدا ہوتی جائے تو جو روپیہ ہم لنگڑوں ، اپاہجوں اور معذوروں کو بطور خیرات کے دیتے ہیں ، وہ بھی غیر بار آور طور پر صرف ہوتا ہے کیونکہ اس سے کوئی مزید دولت پیدا نہیں ہوتی۔ بے شک یہ خیال صحیح ہے اور اسی خیال سے ایک مشہور انگریزی مصنف لکھتا ہے کہ علم الاقتصاد کے اصول اورنتائج انسان کے ذاتی تاثرات کے صریح مخالف ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ اگر اس علم کے اصول کی رو سے خیرات کا روپیہ غیر بار آور طور پر صرف ہوتا ہے تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا ہے کہ خیرات دینی ہی نہیں چاہیے علم الاقتصاد واقعات پر بحث کرتا ہے نہ کہ فرائض انسان پر۔ نظری طور پر کسی امر کا صحیح ہونا اس بات کا مستلزم نہیں ہے کہ وہ امر اس وجہ سے ہمارے فرائض سے ہی خارج ہے۔ فرائض انسان کی تعیین علم الاقتصاد کا کام نہیں ہے۔بلکہ ان کا فیصلہ علم اخلاق کے اصول پر ہوتا ہے۔جو بحیثیت ایک علم ہونے کے علم الاقتصاد سے الگ ہے بلکہ اگر تم غور کر کے دیکھو گے تو معلوم ہوگا کہ نظام تمدن کے بقاء اور اس کے استحکام کے لیے یہ ضروری ہے کہ قومی دولت کا کچھ حصہ فنا بھی ہوتا رہے۔\nاس امتیاز کا اصلی مفہوم ذہن نشین کر لینے کے بعد یہ جاننا ضروری ہے کہ کسی ملک میں محنت کی پیداوار کا کم و بیش ہونا مندرجہ ذیل اسباب پر منحصر ہے۔ خواہ وہ ملک حالت شبانی میں، خواہ زراعتی حالت میں، خواہ تہذیب و تمدن کے اس درجہ پر موجب کہ صنعت و تجارت انتہائے عروج پر ہوتی ہیں۔\n۱۔ دستکاروں یا محنتیوں کی کارکردگی۔\n۲۔ انقسام محنت یا محنت کے مختلف اعمال اور حصص کا مختلف افراد پر تقسیم کرنا اور اس طریق سے اُن کی تخصیص و تنظیم کرنا۔\nمحنت کی کارکردگی\nمحنتی کی کارکردگی کئی اسباب پر منحصر ہے۔\nاوّل اس کی موروثی ہمت یا قویٰ جو فطرت نے اُسے عطا کئے ہوں۔ قدرت کا عطیہ مختلف اقوام کی حالت میں مختلف ہے۔ بعض قومیں قدرتاً قوی اور مضبوط ہوتی ہیں بعض قدرتاً دُبلی پتلی اور مقابلتاً ضعیف۔ یہی حال افراد کا ہے مگر اس اختلاف کی علت پر بحث کرنا علم الاقتصاد کا کام نہیں ہے۔\nدوم۔ محنتی کی غذا کی کیفیت اور کمیت۔\nسوم۔ محنتی کا سامان حفظ صحت ، صاف اور ہوا دار مکانوں میں رہنے سے اس کی صحت پر ایک نمایاں اثر ہوگا۔ جس سے اس کی ہنر مندی ترقی کرے گی۔\nچہارم۔ محنتی کی فطرتی ذہانت۔ ذہن محنتی بہ نسبت غبی محنتی کے کئی وجوہ سے زیادہ اچھا کارکن ہوتا ہے۔\n۱۔ تو اسے اس امر کی ضرورت نہیں ہوتی کہ اُس کی شاگردی کی مدت طویل ہو۔\n۲۔ اس پر نگرانی کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔\n۳۔ وہ اشیاء کی تیاری میں کم نقصان کرتا ہے۔\n۴۔ وہ کل کا استعمال جلد سیکھ جاتا ہے۔\n۵۔ زندگی کی دوڑ میں بڑھنے کی آرزو ، جو سچی خود داری اور غیرت سے پیدا ہوتی ہے اور اس امر کا یقین کہ پیداوار محنت کی افزائش کے ساتھ ساتھ اس کا حصہ بھی بڑھتا جائے گا۔\nمندرجہ بالا اسباب میں سے پہلے تین اسباب طبعی ہیں۔چوتھا عقلی اور پانچواں اخلاقی ہے۔ تم کو معلوم ہے غلاموں کی محنت آزاد محنتیوں کی محنت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ غلاموں کی محنت کارکردگی کی وقعت سے کیوں معرا ہے؟\nصاف ظاہر ہے کہ آزاد محنتیوں کی طرح اسے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے اور اپنے ہمراہیوں پر فوقیت لے جانے کی کوئی خواہش ہوتی اور نہ ہو سکتی ہے۔ تازیانہ کا خوف ان قویٰ کو حرکت میں نہیں لا سکتا جن کی تحریک صرف تمنائے دولت اور خود داری کی خلش سے ہوتی ہے۔ آزاد محنتیوں کی صورت میں بھی اُجرت کا قطعی اور یقینی ہونا ان کے لیے انتہا درجہ کا قوی محرک ہوتا ہے اور اگر کسی مالک کا نہیں بلکہ اپنا کام کر رہے ہوں تو اپنی محنت کی کارکردگی کے زیادہ کرنے میں اور بھی کوشش کرتے ہیں۔ وجہ صرف یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی محنت کی پیداوار کاپورا مالک تصور کرتے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:۔\n“حقِ ملکیت ایک اکسیر ہے جو تانبے کو سونا بنا دیتا ہے”۔\nیہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بعض ممالک میں قانون ہی اس ڈھب کے وضع کئے جاتے ہیں کہ قوم کے دستکار اُن کے اثر سے دن بدن سُست ہوتے جاتے ہیں۔ کیونکہ بسا اوقات یہ قانون اُن کی اپنی محنت کا پورا فائدہ اٹھانے سے روکتے ہیں۔ کچھ عرصہ گزرا ہے ملک سکاٹ لینڈ میں قوانین متعلقہ مزارعین اس طرح سے وضع کئے گئے تھے کہ ان بے چاروں کی جانکاہی کوہ کندن و کاہ برآوردن کی مصداق تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اُن لوگوں کے مزاج میں دن بدن کاہلی ترقی کرتی گئی۔ مگر جب اس قسم کے بیہودہ قوانین منسوخ کر دیئے گئے تو انھوں نے اپنی جبلی چستی اور استقلال کو پھر حاصل کر لیا۔ پس یہ تمام اسباب ہیں جو محنت کی کارکردگی میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔\nانقسامِ محنت\nکسی قوم کی قوتِ محنت کا دوسرا جزو انقسامِ محنت ہے۔ تہذیب و تمدن کے ابتدائی مراحل میں ہر انسان اپنی ذاتی ضروریات کے پورا کرنے کے لیے سارا کام خود کرتا ہے۔ اپنی جھونپڑی کا معمار بھی آپ ہی ہوتا ہے اور اپنے شکار کے لیے تیر و کمان اور دیگر اوزار بھی آپ ہی تیار کر لیتا ہے۔ مگر اس حالت میں بھی کسی نہ کسی حد تک انقسامِ محنت کا اصول عمل میں ضرور آتا ہے۔ عورت سوت کاتتی ہے۔ پہننے کے لیے کپڑے تیار کرتی ہے کھانا پکاتی ہے۔ لیکن مرد اور کام کرتا ہے جن میں قوت اور چستی کی زیادہ ضرورت ہے رفتہ رفتہ محنت کا انقسام جنسیت کے امتیاز پر مبنی نہیں رہتا۔ بلکہ ذاتی قابلیت کے اختلاف پر مبنی ہو جاتا ہے۔ افراد میں سے کوئی لوہار ، کوئی زرگر، کوئی بڑھئی بن جاتا ہے اور اس طرح آخر کار ہر پیشہ کے مختلف حصے مختلف محنتیوں کے ساتھ مختص ہوتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اکثر ممالک میں ذات پیشہ کے لحاظ سے قرار دی جاتی ہے۔ ہندوستان کو ہی لو ہمارے ہاں اصول انقسام محنت کا اثر اس درجہ تک ہوا کہ درزی ، لوہار ، بڑھئی وغیرہ ذاتیں قرار پا گئیں اور اس امتیاز پر اس قدر بے جا زور دیا گیا کہ اس کے مضرت رساں نتائج بالکل نظر انداز کر دئیے گئے۔ اس میںکوئی شک نہیں کہ تہذیب و تمدن کے ابتدائی مراحل میں یہ امتیاز قوموں کے لیے مفید ہو سکتا ہے لیکن کسی شے کے ایک خاص صورت میں مفید ہونے سے یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ وہ شے ہر حالت میں مفید ہے۔\nانقسامِ محنت سے دولت کی پیدا وار روز افزوں ترقی کرتی ہے۔\n۱۔ اس کی وجہ سے شاگردی کی مدت کم ہو جاتی ہے کیونکہ جب محنتی کو کسی پیشے کا صرف ایک خاص حصہ ہی سیکھنا ہو گا تو ظاہر ہے کہ اس کے سیکھنے کی مدت اس مدت سے بہت کم ہوگی جو اس پیشہ کی تمام شاخوں کے سیکھنے میں صرف ہوتی۔\n۲۔ ایک خاص شاخ کی مزادلت سے اس کے ہاتھ کی صفائی بڑھ جائے گی۔\n۳۔ جب ایک محنتی کسی پیشے کی ایک خاص شاخ کے لیے مختص ہو جائے گا تو اُس کو اس پیشے کی دیگر شاخوں سے کوئی سروکار نہ ہوگا اور عدم انقسام کی صورت میں جو وقت ایک شاخ سے دوسری شاخ کی طرف جانے اور پیشے کے مختلف اعمال کی ادل بدل میں صرف ہوتا تھا، انقسام محنت کی صورت میں بچ جائے گا۔\n۴۔ چونکہ ہر محنتی کی توجہ پیشے کی کسی خاص شاخ یا عمل پر مبذول رہا کرے گی ، اس واسطے وہ اپنے مقررہ کام کو سہولت ، آسانی اور صفائی کے ساتھ سر انجام دینے کی راہیں ایجاد کر نے کی کوشش کرے گا۔ اگرچہ دنیا کی بڑی بڑی ایجادات علمی ترقی کا نتیجہ ہیں۔ تاہم اس میںکوئی شک نہیں ہے کہ ان کا بہت سا حصہ اصول انقسام محنت کے اثر سے ظہور میں آیا ہے۔\n۵۔ انقسامِ محنت کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوگا کہ کام محنتیوں کی قابلیت کے مطابق تقسیم ہوگا لہٰذا بچے اور عورتیں بھی اپنی اپنی قابلیت کے مطابق ملک کی دستکاری سے بہرہ ور ہوں گی۔\nمندرجہ بالا سطور سے یہ تو تمھیں معلوم ہوگیا ہو گا کہ انقسامِ محنت کسی ملک کی صنعت کے لیے کہاں تک مفید ہے۔ لیکن اگر اسی اصول کو دنیا کی تمام اقوام و ممالک پر وسعت دی جائے تو یا یوں کہو کہ محنت کی مقامی تقسیم کی جائے تو اس کے فوائد اور بھی نمایاں معلوم ہوں گے۔ ہر ملک وہی شے پیدا کرنے کی قابلیت اسے حصوصیت کے ساتھ حاصل ہے اور اس طرح رفتہ رفتہ وہ ملک اس خاص شے کے پیدا کرنے میں کمال حاصل کرتا جائے گا۔\nجو لوگ اصول “تامین تجارت “ کے مخالف ہیں۔ اُن کی بڑی دلیل یہی ہے کہ قوموں کے تجارتی تعلقات پر کسی قسم کی روک پیدا کرنا گوپا لوگوں کو اُن بڑے بڑے فوائد سے محروم کرنا ہے جو محنت کی مقامی تقسیم کا نتیجہ ہیں۔ کیونکہ ہر شخص یہ حق رکھتا ہے کہ اپنی ضرورت کی چیزیں اسی ملک یا بازار سے خرید لے ، جہاں وہ کم سے کم قیمت پر دستیاب ہو سکتی ہیں۔\nتم جانتے ہو کہ ہر قوم کے تمدنی اور ملکی حالات کم و بیش مختلف ہیں۔ لہٰذا اُن کی دستکاری میں بھی کم و بیش اختلاف ہے۔ کسی کو کسی شے کی تیاری میں کمال حاصل ہے۔ یا ملکی اور قومی حالات کی وجہ سے ہو سکتا ہے اور کسی کو کسی اور شے کی تیاری میں۔ اگر اس قدرتی امر کو ملحوظ خاطر رکھ کر دیا کی محنت کو اس طور پر مرتب و منظم کریں کہ ہر ملک انہیں اشیا کے پیدا کرنے میں مصروف رہے جن کے تیار کرنے میں اُسے خاص طور پر قابلیت حاصل ہے یا یوں کہو کہ دستکاری کی مختلف شاخیں ایک نہ ایک قوم یا مقام کے ساتھ مختص سمجھی جائیں ، تو ظاہر ہے کہ اس تنظیم سے بے انتہا فوائد منتج ہوں گے۔ محنت کی کارکردگی پر ایک نمایاں اثر ہوگا۔ بنی نوع انسان ایک بڑے جسم کی طرح ہیںکہ مختلف ممالک یا اقوام اس کے اعضا ہیں، جو اپنے اپنے مقررہ فرائض کی انجام دہی سے “بنی آدم اعضائے یک دیگر اند” کا پورا مفہوم ظاہر کرتے ہیں۔ اور اس طرح جسم کی پرورش اور ترتیب کرے ہیں۔ پس قطع نظر ان فوائد کے جو انقسام محنت سے پیدا ہوتے ہیں اور جن کا اُوپر ذکر کیا گیا ہے۔ تنظیم محنت کا اوّل تو یہ فائدہ ہو گا کہ دستکاری کی مختلف شاخوں کی تقسیم سے مختلف پیشہ وروں کے کام کی خوبی کا مقابلہ ہو سکے گا جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کے درمیان ایک قسم کا رشک پیدا ہو جائے گا اور پیشہ ور اس رشک کے جوش میں سعی کرے گا کہ اس کاکام خوبی میں اوروں کے کام سے بہتر ہو۔ علاوہ اس کے تنظیم محنت کی وجہ سے مالکوں یا کارخانہ داروں کی ایک ایسی جماعت پیدا ہو جائے گی، جو اپنی ذاتی منفعت کی خاطر ہمیشہ یہ سوچتے رہیں گے کہ ملک کی دستکاری مفید ترین راہوں میں صرف ہو۔ اگرچہ مالکوں کی ایک علیحدہ جماعت کے قائم ہو جانے سے اوّل اوّل کسی قدر نقصان ہو گا۔ کیونکہ دستکار کو اپنے کام میں وہ ذاتی دلچسپی نہ رہے گی، تاہم مجموعی طور پر اس جماعت کا اثر مفید ہوگا۔\nمگر یاد رکھنا چاہیے کہ تنظیم محنت کے لیے یہ ضروری ہے کہ دستکاری کے مختلف مرکزوں کے درمیان پیام رسانی اور ارتباط کے دیگر ذرائع کاپورا انتظام ہو، ورنہ بیگانگی اور عدم تعلق سے بعض اوقات خوفناک نتائج پیدا ہونے کا اندیشہ ہو گا۔\n۱۸۶۰ء میں جب کہ ممالک مغربی و شمالی ایک ہیبت ناک قحط کی مصیبت سے پامال ہو رہے تھے، بعض اضلاع میں چاول کا نرخ چار روپیہ فی من تھا مگر بعض اضلاع میں دو روپیہ من سے بھی کم تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف اضلاع کے درمیان تجارتی تعلقات کو قائم رکھنے کے لیے کافی سڑکیں موجود نہ تھیں ، جن کی وجہ سے قحط زدہ اضلاع اُن اضلاع کی پیداوار سے فائدہ اٹھا سکتے جن میں مقابلتاً ارزانی تھی۔ موجودہ حکام ہندوستان کی دور اندیشی سے اب اس ملک کے مختلف حصص میں تجارتی تعلقات پیدا ہونے کا سامان دن بدن زیادہ ہوتا جاتا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ آیندہ اس قسم کے دردناک مصائب کا تواتر نہ ہوگا۔ اس ضرورت کے لحاظ سے ایک محقق اس بات پر زور دیتا ہے کہ بستیاں آباد کرنے والوں کے قطعاتِ زمین قریب قریب ہونے چاہئیں ورنہ ہر جماعت صرف وہی اشیاء پیدا کرے گی، جو اُن کی ذاتی ضروریات کے پورا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اُن کے درمیان تجارتی تعلقات پیدا نہ ہوں گے اور اُن کو ان تمام خطرات کا اندیشہ رہے گا جو عدم سلسلہ آمدو رفت سے پیدا ہوتے ہیں۔\nاب تمام مختصر طور پر گزشتہ دو باتوں کی بحث کا نتیجہ تحریر کرتے ہیں تاکہ مندرجہ بالا امور وضاحت کے ساتھ ذہن نشین ہو جائیں۔ باب دوئم میں تمھیں معلوم ہو چکا ہے کہ پیدائش دولت کے قدرتی اسباب ایک بڑے قانون کے تابع ہیںجس کو قانون تقلیل حاصل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ مگر باب سوم میں ہم نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ یہ واضح کریں کہ تنظیم محنت سے پیدائش دولت انتہا درجہ کی ترقی کرتی ہے۔ اگر قانون تقلیل حاصل کی رو سے پیدا وار دولت میں نقطہ تقلیل تک پہنچ کر دن بدن کم ہوتے جانے کا میلان ہے، تو تنظیم محنت فن زراعت کی ترقی اور اس فن کی دیگر متعلقہ ایجادات اور سرمایہ کا زیادہ دور اندیشی سے استعمال کرنا اس کی افزائش کے اسباب ہیں۔\nانسان کی آبادی دن بدن بڑھتی جاتی ہے اور تہذیب و تمدن کی ترقی کے ساتھ اس کی ضروریات بھی بڑھتی جاتی ہیں۔ لہٰذا اگر وہ صرف قدرتی اسباب کی پیدائش کے بھروسہ پر رہتا اور اپنی روز افزوں ضروریات کے پورا کرنے کی نئی نئی راہیں نہ نکالتا۔ یا بالفاظ دیگر یوں کہو کہ اپنی عقل کے زور سے قانون تقلیل حاصل کے اثر کا مقابلہ نہ کرتا، تو اس امن و آسائش میں انتہا درجہ کا خلل پیدا ہوتا، بلکہ اس کی نسل کا بقا ہی محال ہو جاتا۔ پس ظاہر ہے کہ اصول تنظیم محنت اور اصول تقلیل حاصل ایک دوسرے کے حریف ہیں جن میں ایک قسم کی جنگ چلی جاتی ہے۔ جس سے پیدائش دولت میںاعتدال قائم رہتا ہے اور اعتدال ہی ہر شے کی جان ہے۔\n\nباب۔ ۳سرمایہ\n\nنوع انسان کے ابتدائی مراحل تہذیب میں سرمایہ کا وجود مطلق نہ تھا۔ پیداوار دولت کے صرف دو وسائل تھے۔ یعنی محنت اور زمین۔ مگر موجودہ نظام تمدن میں سرمایہ دولت کی پیدائش کے لیے ایسا ہی ضروری ہو گیا ہے۔ جیسا کہ محنت اور دیگر قدرتی اسباب۔ اس لیے دولت کی پیدائش ناممکن ہے، جب تک کہ موجودہ صرف میں سے کچھ حصہ بچا کر مزید دولت کے پیدا کرنے میں استعمال نہ کیا جائے۔ لہٰذا نظام تمدن کی موجودہ صورت میں کسی ملک کا سرمایہ اس ملک کی دولت کا وہ حصہ ہے جو دولت کی آیندہ پیدائش کے لیے الگ رکھا جائے۔ کسی ملک کی دولت کا وہ حصہ جو اسباب تن آسانی پر صرف کیا جاتا ہے یا اسباب تن آسانی کی تیاری میں لگایا جاتا ہے، بادی النظر میں تو سرمایہ دار کو نفع دیتا ہے لیکن چونکہ انجام کار قومی دولت پر اس کا اثر اچھا نہیں ہوتا، اس واسطے علم اقتصاد کے اصول کی رو سے ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ حصہ بطور سرمایہ صرف ہوا ہے بلکہ اس کے استعمال کو غیر بار آور ہی کہا جائے گا۔ بشرطیکہ یقینی اور قطعی طور پر یہ معلوم ہو جائے کہ وہ اشیا جو اس حصہ دولت کی وساطت سے تیار ہوئی ہیں یا خریدی جاتی ہیں، واقعی اسباب تن آسانی میں داخل ہیں۔ غرض کہ سرمایہ بچت کا نتیجہ ہے اور سرمایہ دار کے کم خرچ اور کفایت شعار ہونے پر دلالت کرتا ہے۔\nبعض مصنفین کہتے ہیں کہ کسی ملک کی آب و ہوا بھی جہاں تک کہ مزید دولت کی پیدا وار میں مدد دیتی ہے، اس ملک کے سرمائے کا حصہ ہے۔ لیکن چونکہ دولت وہ شے ہے، جو تبادلے میں کوئی معین قدر رکھتی ہو۔ اس واسطے کسی ملک کے مفید قدرتی اسباب مثلاً آب و ہوا یا اس کا جغرافی مقام وغیرہ، اس ملک کے سرمائے میں داخل نہیںتصور کئے جا سکتے، اگرچہ یہ پیدائش دولت کے ممد ضرور ہیں۔ سرمائے کی اصلیت مندرجہ ذیل مثال سے واضح ہو سکتی ہے۔\nفرض کرو کہ انسانوں کا ایک قبیلہ سمندر کے کنارے پر آباد ہے اور مچھلی پر گزارا کر تا ہے۔جب مچھلی کثرت سے پیدا ہوتی ہے تو ان کے دن بھی اچھے گزر جاتے ہیں۔ مگر برعکس حالات میں ان لوگوں کو قحط کی مصیبت کا سامنا ہوتا ہے۔ اب فرض کرو کہ ان میں سے ایک آدمی اپنے ہم جنسوں کی نسبت امیرانہ گزارہ کرنے کی خاطر مچھلی کا ایک ذخیرہ جمع کرتا ہے۔ یہ ذخیرہ دولت تو ضرور ہے مگر اس کا سرمایہ ہونا اس کے استعمال پر منحصر ہے۔اگر غیر بارآور طور پر استعمال ہوگا تو بطور سرمایہ صرف نہ ہوگا۔ لیکن اگر مزید دولت کی پیدائش میں صرف ہو گاتو سرمایہ کہلائے گا۔ بالفرض قحط کے موسم میں یہ شخص اپنے ذخیرے کو ساتھ لے کر کسی جنگل کی طرف نکل جاتا ہے اور وہاں جا کر فراغت سے ایک کشتی تیار کرتا ہے جس کی وساطت سے سمندر کے دور و درازحصوں میں اس کی رسائی ہو سکتی ہے، جہاں ساحل کی نسبت زیادہ مچھلی مل سکتی ہے۔ اس صورت میں کشتی مذکور سرمایہ کہلائے گی اور یہ شخص سرمایہ دار ہوگا۔\nاب اس شخص کے لیے تین راہیں کھلی ہیں:۔\nاوّل۔۔ تو یہ کہ اپنی کشتی خود استعمال کرے اور ماہی گیری کی آمدنی سے اپنے ہم جنسوں کی محنت ایک خاص معاوضے کے بدلے خریدے اور اس طرح آرام میں بسر کرے۔\nدوم۔۔ یا اپنی کشتی کسی اور کو اجارے پر دے دے اور خود ہاتھ پر ہاتھ دھرے گھر میں بیٹھا رہے۔\nسوم۔۔ یا اپنی کشتی کسی اور کو اجارے پر دے دے اور خود اور کشتیاں تیار کرنے میں مصروف رہے۔ فرض کرو کہ کشتی بنانے والا تیسری راہ اختیار کرتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی صنعت کے گاہک بہت ہیں۔ جوں جوں وہ زیادہ کشتیاں تیار کرے گا توں توں اُس کا ہاتھ بھی صاف ہوتا جائے گا اور وہ دن بدن اس قابل ہوتا جائے گا کہ اُجرت کے معاہدے پر اپنے دیگر ہم جنسوں کو بھی اپنے ساتھ کام میں لگائے۔ کیونکہ خریداروں کی کثرت کی وجہ سے وہ اکیلا اتنی کشتیاں نہیں تیار کر سکے گا۔ اب اس کی روز افزوں ترقی دیکھ کر اوروں کو بھی کشتیاں بنانے کے تحریک ہوگی اور کشتی گروں میں ایک قسم کی تجارتی رقابت ہوجائے گی اور منافع کی شرح کم ہوتی جائے گی۔ آخر کار یہاں تک نوبت پہنچے گی کہ کشتیوں کی مزید مانگ نہ رہے گی اور اس وجہ سے سرمایہ دار کمی منافع کے خیال سے کشتی گری کو چھوڑ کر معماری کے کام پر اپنا سرمایہ صرف کرنے لگیں گے یا قبیلے کی دیگر ضروریات کا سامان مہیا کریں گے۔ اس طرح جوں جوں قبیلے کی ضروریات بڑھتی جائیں گی یا یوں کہو کہ جوں جوں قبیلہ مذکور تہذیب و تمدن میں ترقی کرتا جائے گا توں توں اس کا سرمایہ بھی مختلف صورتیں اختیار کرتا جائے گا۔\nمثال مندرجہ بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ سرمایہ اول اول ذخیرے کی صورت میں ظاہر ہوا کیونکہ کشتی بنانے والے کے لیے یہ ضروری تھا کہ پہلے ایام کشتی گری کے لیے اپنی خوردو نوش کا سامان مہیا کرے۔ اس کے بعد سرمایہ کشتی گری کے اوزاروں کی صورت اور بالآخر اس مصالح کی صورت میں جس سے کشتیاں تیار ہوتی ہیں ، منتقل ہو گیا۔ غرض کہ ہم مختصر طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی قوم کا سرمایہ اس قوم کی دولت کا وہ حصہ ہے جو دولت کی نئی نئی صورتیں پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور جس کی تقسیم مندرجہ ذیل طریقہ پر ہو سکتی ہے۔\n۱۔ وہ سرمایہ جو مزید دولت کی پیدائش کے ایام میں سرمایہ داروں اور محنتیوں کی خوردو نوش میں صرف ہو۔\n۲۔ اوزار یعنی مختلف پیشوں کے ہتھیار۔ آلات اور کلیں وغیرہ\n۳۔ مصالح۔ جس میں دولت کی وہ تمام صورتیں شامل ہیں جو سامان معاش اور اوزاروں کے علاوہ ہوں۔\nمقدم الذکر صورت میں اسے سرمایہ دائر کہتے ہیں کیونکہ یہ ایک ہیئت سے منتقل ہو کر دوسری ہیئت اختیار کر لیتا ہے۔ مثلاً محنتیوں کی اُجرت ان کی اشیاء خورد ونوش کی چیزیں قویٰ حیات کی صورت میںتبدیل ہو جاتی ہیں۔ موخر الذکر دو صورتوں میں اسے سرمایہ قائم کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ کیونکہ سرمایہ مذکور ایک مستقل اور غیر متبدل ہیئت اختیار کر لیتا ہے جس سے رفتہ رفتہ مزید دولت پیدا ہوتی رہتی ہے۔ اگرچہ تہذیب و تمدن کی عام حالتوں میں سرمایہ انہی تین صورتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔لیکن زمانہ حال کے مہذب ممالک میں اشیاء مادیہ کے علاوہ اعتبار اور حقوق مجردہ مثلاً حق نالش وغیرہ بھی سرمایہ کے طور پر مستعمل ہوتے ہیں۔ زمانہ حال میں ہزار ہا سوداگر اپنے ذاتی اعتبار پر تجارتی اشیا خرید کرتے اور ان کی فروخت سے نفع اٹھاتے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس زمانہ حال کی تجارت کا بہت بڑا حصہ حقوق نالش اور دیگر حقوق مثلاً حق تصنیف وغیرہ کی خریدو فروخت کے متعلق ہے۔\nدنیا میں بہت سے ملک ہیں جن کی قدرت نے صنعت و حرفت اور دستکاری کے دیگر اقسام کے لیے نہایت موزوں پیدا کیا ہے۔ لیکن سرمائے کی کمی یا عدم موجودگی کے باعث ان کی تجارت چمک نہیں سکتی۔ ہمارے ہندوستان کو بھی اس مصیبت کا سامنا ہے۔ یہاں کی تجارت بیشتر مغربی سوداگروں کے ہاتھوں میں ہے جو اپنے سرمایہ کو ہندوستانی تجارت کی مختلف شاخوں میں لگا کر نفع عظیم حاصل کرتے ہیں۔ لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لینا چاہیے کہ غیر ملکی سوداگروں کا ہمارے ملک میں سرمایہ لگانا ہمارے لیے مضر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر سرمایہ ہمارا اپنا ہوتا تو نفع جو اس سے پیدا ہوتا ہے اور جو موجودہ صورت میں غیر ملکی سوداگروں کے ہاتھوں میں جاتا ہے، ہمارے ملک میں ہی رہتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ان مغربی سوداگروں کے سرمائے کی وساطت سے بالخصوص نیل، غلہ، شکر ، کافی اور سونے کی پیدائش کے وسائل پہلے کی نسبت بہت ترقی کر گئے ہیں۔ یا یوں کہو کہ ان لوگوں نے اپنی سرگرمی اور ہمت سے ہماری سرزمین کے مخفی خزائن کے دروازے کھول کر ہمارے لیے آیندہ تجارت کی راہیں کھول دی ہیں۔ بشرطیکہ ہمارے پاس سرمایہ موجود ہو۔ اس بیان سے ظاہر ہے کہ سرمایہ کسی ملک کے وسائل پیدائش کی ترقی ، دستکاری اور تجارت کی مختلف شاخوں کے قیام کے لیے کہاں تک ضروری ہے۔ لہٰذا ہمیں معلوم کرنا چاہیے کہ وہ کون کون سے اسباب ہیں جن سے یہ زیادہ ہو سکتا ہے۔\n۱۔ یہ بیان ہوچکا ہے کہ سرمایہ بچت کو نتیجہ ہے اور سرمایہ دار کی کفایت شعاری پر دلالت کرتا ہے۔ لہٰذا تعلیم یا دیگر حالات جو کسی ملک کے لوگوں کو کفایت شعار بنانے کے ممد ہیں، سرمائے کی زیادتی کاپہلا سبب ہیں۔ دولت بچانے کی خواہش لوگو ں کے حقوق کی حفاظت اور شرح سود کی کمی بیشی پر منحصر ہے۔ البتہ جو قومیں سود لینا خلاف مذہب تصور کرتی ہیں، ان پر یہ محرک اثر نہیں کر سکتا۔\n۲۔ پیداوار دولت کی مقدار کے زیادہ ہونے سے بھی سرمایہ کی مقدار بڑھتی ہے۔ اگر کسی ملک میں چالیس ہزار من غلہ پیدا ہوتا ہے اور اس میں سے دس ہزار من بطور سرمایہ جمع کر لیا جاتا ہے، تو ظاہر ہے کہ ساٹھ ہزار من غلہ پیدا ہونے کی صورت میں زیادہ مقدار بطور سرمایہ جمع ہونی ممکن ہو سکے گی۔\n۳۔ تجارت اور تبادلہ سے بھی سرمائے کی مقدار بڑھتی ہے کیونکہ ان دونوں صورتوں میں پیدا وار دولت کی مقدار بڑھتی ہے جس سے (دیکھو مسئلہ نمبر ۲) سرمائے کی مقدار میں زیادتی ہوتی ہے۔\n\nباب۔۴کسی قوم کی قابلیتپیدائش دولت کے لحاظ سے\n\nکسی قوم کی قابلیت پیدائش دولت کے لحاظ سے اس قوم کی زمین ، محنت اور سرمائے کے حسن استعمال اور ان کے مفید طریقوں میں صرف ہونے پر انحصار رکھتی ہے۔خواہ زمین کی کاشت نقطہ تقلیل تک نہ پہنچی ہو، خواہ پہنچ گئی ہو۔ محنتی کی ہنر مندی ،ذہانت، فن زراعت کی ترقی ، تنظیم محنت ، سرمائے کو زیادہ دور اندیشی سے نئی نئی مفید صورتوں میں صرف کرنے اور اسی قسم کے دیگر اسباب سے دولت کی پیداوار انتہا درجے کی ترقی کرتی ہے یہاں ایک بڑا ضروری اور اہم اقتصادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیداوار دولت زمین، محنت اور سرمائے کی قوت پیداوار سے متعین ہوتی ہے، تو کیا وجہ ہے کہ کوئی قوم اس قدر دولت پیدا نہیں کر سکتی جو اُس کے وسائل پیدائش کے مطابق ہو؟ یا بالفاظ دیگر یوں کہو کہ وسائل پیدائش میں خواہ کسی قدر قوت ہو دولت کی پیداوار اس قوت کے لحاظ سے کم رہتی ہے۔ یعنی اس قدر پیدا نہیں ہوتی جس قدر کہ ہونی چاہیے۔ اس اختلاف کا باعث کیا ہے۔\nاس سوال کا جواب علم الاقتصاد کے تمام حصص کے مطالعہ کے بغیر محال ہے۔ دولت کے صرف یا استعمال کے بیان میں تمھیں معلوم ہوگا۔ بعض دفعہ دولت کا استعمال قوم کی قوت سرمایہ اور محنت کو انتہا درجے کا نقصان پہنچا دیتا ہے۔ اسی طرح تقسیم دولت کے بیان میں تم معلوم کرو گے کہ بعض دفعہ دولت اپنے پیدا کنندوں کے درمیان ایسے بے اصول طور پر تقسیم ہوتی ہے کہ بعض افراد کو ایک مستقل نقصان پہنچ جاتا ہے۔ علیٰ ہذا القیاس تبادلے کے باب میں اس امر کے اسباب واضح ہوں گے کہ بعض دفعہ پیدائش دولت کیوں رُک جاتی ہے یا دستکاری کی چلتی گاڑی میں کیوں روڑا اٹک جاتا ہے جس سے پچھلے سالوں کی پیدا کردہ دولت ان بے کاری کے دنوں میں صرف ہو جاتی ہے۔ لہٰذا مندرجہ بالا سوال کا شافی جواب اس وقت تک نہیں دیا جا سکتا جب تک علم الاقتصاد کے تمام حصص کا غور سے مطالعہ نہ کر لو۔ یہاں ہم صرف اُن اسباب کا ذکر کرنا چاہتے ہیں ، جو پیدائش دولت کے سدراہ ہیں جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ اس امر کا ایک سبب تو یہ ہے کہ قدرتی طور پر زمین کی زرخیزی (بشرطیکہ انسان اپنی عقلمندی کے زور سے قانون تقلیل حاصل کے اثر کا مقابلہ نہ کرتا رہے) دن بدن کمی کی طرف میلان رکھتی ہے۔ لیکن اس کے علاوہ اور بھی اسباب ہیں جو ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:۔\n۱۔ محنت اور سرمایہ کسی حد تک ناقابل انتقال ہیں۔ تمام مہذب قوموں میں محنت اور سرمایہ دونوں کچھ اس طرح خاص خاص صورتیں اختیار کر لیتے ہیں کہ اگر اُن کو ایک صورت سے دوسری صورت میں منتقل کرنا چاہیں تو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ مثلاً جس تاجر نے لاکھوں روپیہ کی رقم کلوں پر صرف کر دی اُس کے واسطے یہ امر کس طرح ممکن ہے کہ اپنا کثیر سرمایہ بغیر خرچ اور دیگر نقصان کے کسی اور صورت میں منتقل کر دے یا جس دستکار نے ایک خاص پیشہ بڑی جانفشانی سے اور روپیہ خرچ کر کے سیکھا ہے۔ اس کے واسطے کس طرح ممکن ہے کہ اُس پیشے کو چھوڑ کر کسی اور پیشے کو اپنا ذریعہ معاش بنائے؟\n۲۔ محنت اور سرمائے کا ناعاقبت اندیشی سے استعمال کیا جانا۔ اگر ان ہر دو وسائل کو دور اندیشی سے استعمال نہ کیا جائے تو ان کی قوت پیدائش میں ایک نمایاں فرق محسوس ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ کسی کارخانے کے مالک کی وفات پر اس کا جانشین اپنی خامی اور ناتجربہ کاری کے باعث دور اندیشی سے کام نہ لے اور اس طرح اس کی بد انتظامی کی وجہ سے وسائل مذکور کی قوت پیدائش میں ایک معتدبہ کمی پیدا ہو جائے۔ تم کو معلوم ہے کہ موجودہ زمانے میں ضروریات کے تقاضے سے تمام مہذب ملکوں میں محنت اور سرمائے کا انتظام افراد کی ایک خاص جماعت کے ہاتھوں میں ہے جس کو جماعت مالکان یا کارخانہ داراں کہتے ہیں۔ اس جماعت کا وجود سرمائے اور محنت کے مفید انتظام کے لیے ایسا ہی ضروری ہے جیسے فوج کے لیے اعلیٰ افسروں کا وجود۔ جس قدر اصول انقسام پر زیادہ عمل ہوتا جاتا ہے اسی قدر مالک یا کارخانہ دار کا وجود نہ صرف تنظیم، محنت اور دستکاری کو مفید راہوں میں لگانے کے لیے بلکہ دستکاروں کے درمیان حسن انتظام قائم رکھنے کے لیے زیادہ ضروری ہوتا جاتا ہے۔ مالک کے سوا اس امر کا فیصلہ کون کر سکتا ہے کہ کون سی شے تیار کی جائے گی۔ اور کس قیمت پر فروخت کی جائے گی؟ غرض کہ دنیا کی موجودہ دستکاری اس بات کی طرف میلان رکھتی ہے کہ اس کا انتظام دن بدن ایک خاص جماعت افراد کے ہاتھوں میں آتا جائے۔\nبعض ماہرین علم الاقتصاد کی رائے ہے کہ پیدائش دولت کے نظام میں مالک یا کارخانہ دار کا وجود ضروری نہیں ہے، بلکہ ان حکما کے خیال میں اس کی موجودگی دستکاروں اور کارخانہ داروں کے درمیان ایک قسم کی بے جا تجارتی رقابت پیدا کر دیتی ہے جس کے نتائج پیدائش دولت کے حق میں مضرت رساں ہوتے ہیں۔ اس وقت کے رفع کرنے کی کئی راہیں بتائی گئی ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ ایک ہی پیشے کے دستکار مشترک سرمائے سے مل کر کام کیا کریں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ اس قسم کی باہمی معاونت کئی حیثیتوں سے مفید ہے۔ مثلاً اگر یہ معرض عمل میں آجائے تو\n۱۔ دولت کی وہ مقدار جو موجودہ اقتصادی حالات میں مالک کی جیب میں جاتی ہے، دستکاروں کے قبضے میں آئے گی۔\n۲۔ دستکار ہر طرح سے خود مختار ہوگا اور دولت کی جو صورت چاہے گا پیدا کرے گا۔\n۳۔موجودہ حالات تمدن میں بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دستکار مالکوں سے زیادہ اجرت لینے پر ضد کرتے ہیں اور اگر ان کو اجرت کی مطلوبہ مقدر نہ ملے تو کام کاج چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن اگر اس طریق کو عمل میں لایا جائے تو ایسا ہر گز نہ ہو گا۔ کیونکہ جس فریق سے ضد پیدا ہو جانے کا امکان ہے وہ فریق ہی نہ رہے گا۔\n۴۔ دستکار کو کفایت شعار کی تحریک ہو گی اور اپنا کام تندہی سے کرے گا۔یہ طریق معاونت عملاً دو صورتیں اختیار کر سکتا ہے:۔\nاول۔ وہ صورت جس میں دستکار متحد ہو کر کسی خاص تجارتی شاخ میں آمدنی پیدا کرنے کی غرض سے کام کریں۔\nدوم۔ وہ صورت جس میں دستکار اپنی حاصل کردہ دولت باحسن وجود صرف کر سکیں۔مثلاً چند دستکار مل کر کھانے پینے کی چیزوں کی ایک دکان کھولیں اور آپس میں یہ عہد کر لیں کہ وہ اپنی ضرورت کی چیزیں معمولی منافع پر اسی دکان سے خرید کیا کریں گے۔ اس طریق سے ایک تو یہ فائدہ ہوگا کہ کہ ضرورت کی چیزیں کسی قدر سستی مل جایا کریں گی اور علاوہ اس کے مصارف دکان وغیرہ نکال کر جو سال بھر کے بعد منافع ہوگا، وہ سب دستکاروں پر ہر ایک کے حصے کے مطابق تقسیم ہو جایا کرے گا۔ مقدم الذکر صورت میں کچھ بہت بڑی کامیابی کی امید نہیں ہو سکتی، کیونکہ دستکار متحد ہو کر وہ تجارتی قابلیت نہیں دکھاتے ، جو کارخانہ داروں میں بالخصوص پائی جاتی ہے۔ اُن میں سے اکثر صرف کل کی طرح کام کرنا جانتے ہیں اور اس تجارتی مذاق سے قطعاً معرا ہوتے ہیں ، جس کے ذریعے سے کارخانہ دار تجارت کے جذر و مد کو ایک نگاہ سے معلوم کر لیتے ہیں، البتہ مؤخر الذکر میں کامیابی کی امید ہو سکتی ہے۔ خصوصاً ہندوستان میں جہاں اس قسم کے اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔\nسوم۔ اس مختصر سی گریز کے بعد جاننا چاہیے کہ پیدائش دولت کا تیسرا مانع بعض قدرتی حوادث سے دولت کا برباد ہو جانا ہے۔ مثلاً آندھی کے طوفان سے جہازوں کی تباہی ، آتش زدگی اور ریلی کے دیگر حادثات وغیرہ\nاس باب کے ضمن میں ایک اور ضروری مسئلے کی تحقیق بھی لازم ہے۔ تم جانتے ہو کہ مختلف ممالک میں پیدا وار دولت کی مقدار مختلف ہوتی ہے بلکہ اگر ایک ہی ملک کی تاریخ پر نظر ڈالو تو معلوم ہوگا کہ مختلف زمانوں میں اس ملک کی پیداوار دولت کی مقدار مختلف رہی ہے۔ بسا اوقات دو ملک تہذیب و تمدن کے ایک ہی درجے پر ہوتے ہیں اور ان کے دیگر حالات بھی قریباً قریباً یکساں ہوتے ہیں۔ تاہم مذکورہ بالا اختلاف اس صورت میں بھی موجود ہوتا ہے۔ اس واقعہ پر غور کرنے سے دو ضروری سوال پیدا ہوتے ہیں۔\n۱۔ وہ کون سے اسباب ہیں جن سے یہ اختلاف پیدا ہوتا ہے؟\n۲۔ یہ اسباب کون سے اقتصادی قوانین کے تابع ہو کر عمل کرتے ہیں؟\nپیدائش دولت ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے بالعموم تین مدارج ہو سکتے ہیں:۔\nالف۔ وہ محنت جو کسی مادی شے پر قبضہ حاصل کرنے میں عارض ہوتی ہے۔ مثلاً جنگل سے درختوں کا کاٹنا۔\nب۔ وہ محنت جو اُس قدرتی شے میں ایسے تغیرات پیدا کرنے پر صرف ہوتی ہے جو اس کو انسانی استعمال کے قابل کر دیتے ہیں۔ مثلاً لکڑی کی چوکیاں تیار کرنا۔\nج۔ وہ محنت جو مصنوعات کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر لے جانے میں صرف ہوتی ہے۔\n\nصاف ظاہر ہے کہ جس ملک میں محنت نسبتاًزیادہ مساعد حالات میں صرف کی جائے گی یا جہاں محنتیوں کی تعداد یا ان کی محنت کی کارکردگی زیادہ ہوگی وہاں پیدائش دولت کا عمل نہایت نتیجہ خیز ہوگا۔ مختلف ممالک کا مقابلہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ\n۱۔ بعض ممالک میں محنت کے واسطے حالات نسبتاً زیادہ مساعد ہوتے ہیں۔ مثلاً کہیں قدرت نے اپنی فیاضی سے کوئلے کی وسیع کانیں رکھ دی ہیں اور کہیں مفید دھاتوں کے بیش بہا خزانے زمین کے اندر پوشیدہ کر دئیے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس بعض ممالک میں کئی اشیا قدرتی طور پر پیدا ہوتی ہیں۔ حالانکہ دیگر ممالک انہی اشیا کو محنت شاقہ سے حاصل کرتے ہیں۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس قسم کے فوائد ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ مغلوں کے زمانے میں دریائوں کا ایک فائدہ اور فائدوں کے علاوہ یہ بھی تھا کہ مختلف شہروں اور قصبوں میں تجارتی اور دیگر تعلقات کا سلسلہ انہی کی وساطت سے جاری تھا۔ ہمارے زمانے میں یہ سب کام ریل گاڑی کی وساطت سے سر انجام پاتے ہیں۔ مزید برآں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قدرت کے مختصر خزائن سے ہم صرف اسی صورت میں مستفید ہو سکتے ہیں، جب کہ ہم کو ان کا علم ہو۔ تہذیب و تمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ اشیا مادیہ کے مخفی خواص اور زمین کے پوشیدہ اسرار روز بروز زیادہ معلوم ہوتے جاتے ہیں اور انسان اُن سے مستفید ہو کر بے انتہا فائدہ اٹھاتا جاتا ہے۔ جن قوموں کو یہ علم نہیں، ضرور ہے کہ وہ پیدائش دولت میں اُن اقوام سے پیچھے ہوں جن کو ان اسرار کا علم ہے۔ معدنیات کو ہی لو۔ جس ملک کے لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ معدنیات کس طرح دریافت ہوا کرتی ہیں ان کو کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا، خواہ ان کے ملک کی زمین قیمتی دھاتوں کے خزانوں سے معمور ہو۔\n۲۔ بعض ممالک میں دستکاروں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جو پیدائش دولت پر ایک نمایاں اثر ڈالتی ہے۔ ہمارے ہندوستان میں دستکاروں کی تعداد کثیر ہے۔ صرف سرمائے کی کسر ہے ورنہ پیدائش دولت میں ہم اور قوموں سے اس قدر پیچھے نہ ہوتے۔ کمیت کے علاوہ مختلف ممالک کے دستکاروں کی عادات جبلی طور پر قوانین صحت کے خلاف ہوتی ہیں۔ کہیں پانی اور صاف ہوا دستیاب نہیں ہو سکتی۔ کہیں اور اس قسم کے طبعی اسباب ہوتے ہیں جن سے دستکاری کی کیفیت پر اثر پڑتا ہے۔ علیٰ ہذا القیاس جسمانی قوت کے اختلاف کے علاوہ مختلف مقامات کے دستکاروں کی ہنر مندی ، سمجھ اور دور اندیشی میں بھی فرق ہوتا ہے۔ بعض اقوام قدرتاً دیگر اقوام کی نسبت زیادہ ذکی اور چُست ہوتی ہیں۔ بعض قدرتاً سُست اور آرام طلب۔ اس قسم کے نقائص کا دور کرنا ملک کے مصلحوں اور معلموں کا فرض ہے۔\n۳۔ محنت کے محرکات میں بھی بالعموم اختلاف ہوتا ہے۔ فطرتاً ہر انسان دولت کا خواہشمند ہے اور یہ فطری خواہش محنت کا سب سے بڑا محرک ہے۔ لیکن بعض اوقات دیگر محرکات زیادہ زبردست ثابت ہوتے ہیں اور دولت کی خواہش کو انسان کی زندگی پر پورا پورا اثر کرنے سے روکتے ہیں۔ بعض مذاہب میں دولت کی تحقیر ایک مسلم اصول ہے، جو ضرور ہے کہ ان مذاہب کے مخلص پیرئوں پر اپنا اثر کرے۔ بالعموم مشرقی اقوام کے لوگ تقدیر کے اس قدر قائل ہیں کہ کل کی فکر کرنا جانتے ہی نہیں اور توکل کے بھروسے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔ یہاں یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ دولت کی خواہش ایک خاص حد تک ہی محرک محنت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ محنت سے اصل مدعا یہی ہوتا ہے کہ تمام ضروریات پوری ہو جائیں۔ جب تمام ضروریات پوری ہو گئیں تو پھر یہ محرک اپنا عمل نہیں کر سکتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب انسان کی ضروری حاجات پوری ہو جاتی ہیں، تو قدرتاً جدید ضروریات پیدا ہو جاتی ہیں۔ مثلاً مکان کو آراستہ کرنے اور دیگر آسائش کے سامان کی خواہش۔ علم و ادب اور دیگر علمی مشاغل سے لذت اٹھانے کی خواہش بھی اسی ضمن میں شامل ہے۔ یہ محرکات ثانی ہیںجو مختلف اقوام کی حالت میں اور تہذیب و تمدن کے مختلف مدارج میں مختلف طور پر اپنا اثر کرتے ہیں۔ اسی طرح ذاتی ضروریات کے پورا ہونے پر قدرتاً ہر انسان کو اولاد کے لیے کچھ نہ کچھ پیچھے چھوڑ جانے کا بھی خیال پیدا ہوتا ہے جو محنت کا ایک مزید محرک ہے۔\n۴۔ مختلف ممالک کے دستکاروں کے اخلاقی حالات مختلف ہوتے ہیں۔ دستکار کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ دیانت دار ہو۔ کام چور نہ ہو اور اپنی طبیعت کے غیر نافع جذبات پر قدرت رکھتا ہو۔ جس قدر عاقبت اندیشی اور دیانت داری اس میں ہوگی۔۔۔۔ جس قدر اپنے مقررہ فرض کی انجام دہی کا خیال اس میں ہوگا۔ اس قدر اس کی محنت قومی دولت کو زیادہ کرے گی۔ سُست اور آرام طلب دستکار اپنے ملک اور قوم کے لیے ایک مضرت رساں وجود ہے۔کیونکہ اس کا وجود قوم کی دولت کو دن بدن گھٹاتا ہے۔ تعلیم و تربیت کا سب سے ضروری فرض یہی ہے کہ عوام میں دیانت داری چستی، عاقبت اندیشی اور دیگر ضروری اوصاف پیدا ہوں اور ان کے دلوں پر یہ بات نقش ہو جائے کہ تمام قوم کا فائدہ بحیثیت مجموعی اور کسی خاص فرد قوم کا فائدہ متغائر چیزیں نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور جو دستکار اپنے حیوانی جذبات کی پیروی کر کے اپنے جسمانی اور روحانی قویٰ کو نقصان پہنچاتا ہے ، وہ نہ صرف اپنی ذات پر بلکہ اپنے ملک اور قوم پر بھی ظلم کرتا ہے۔\n۵۔ مختلف ممالک میں دستکاروں کی محنت کی کارکردگی مختلف ہوتی ہے اور اکثر ممالک میں اس کارکردگی کو زیادہ کرنے اور سرمائے کے زیادہ دور اندیشی سے استعمال کئے جانے کے وسائل اختیار رکئے گئے ہیں۔ کہیں طریق اشتراک مروج ہے کہیں طریق معاونت (جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے) سے کام لیا جاتا ہے اور کہیں دیگر اقسام کے تجارتی اتحاد پر عمل کیا جاتاہے۔ ہمارے ہندوستان میں بھی طریق اشتراک یعنی مشترک سرمائے سے کام کرنا اب مروج ہوتا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ طریق ان ممالک کے لیے نہایت مفید ہے جہاں مجموعی طور پر سرمائے کی مقدار کم ہو۔ اگر کوئی شخص سو روپیہ سرمائے کے ساتھ کوئی تجارت شروع کرے تو اس کو کچھ منافع کی توقع نہ ہو گی۔ لیکن سو سو روپیہ سرمائے والے ہیں آدمی مل کر کام شروع کریں تو بہت زیادہ منافع کی امید ہو گی۔ یہ اسباب اختلاف مختلف ممالک میں حقیقتاً موجود تو ہیں لیکن ان کا اثر دیگر اسباب کی عمل سے زائل ہو رہا ہے۔\nہم نے اپنے پہلے سوال کاجواب دے دیا ہے۔ اب ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ مندرجہ بالا اسباب اختلاف کون سے اقتصادی قوانین کے تابع ہو کر عمل کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان اسباب میں سے بعض مثلاً سبب نمبر ۱ کا عمل کسی قانون کلیہ کے تابع نہیں ہے تاہم بعض کا عمل قوانین کے تابع ہے۔ مثلاً دستکاروں کی تعداد اور اُس کے متعلقہ اسباب کا عمل قانون کلیہ آبادی کی تحت میں ہے اور علیٰ ہذا القیاس محنت کی کارکردگی وغیرہ کا عمل قانون سرمایہ کے احاطہ اثر میں داخل ہے۔ ماہرین علم الاقتصاد نے اس بارے میں تین کلیہ قوانین دریافت کئے ہیں جن کو ہم سلسلہ وار بیان کرتے ہیں۔\nقانون آبادی\nاس میں کوئی شک نہیں کہ کسی قوم کے افراد کے زیادہ ہونے سے اس قوم کے دستکاروں کی تعداد بڑہتی ہے۔ مگر اس وقت یہ امر محل بحث نہیں ہے۔ ہم قانون آبادی پر اس تعلق کے لحاظ سے نگاہ ڈالنا چاہتے ہیں جو افزائش افراد اور پیداوار دولت کے درمیان ہے۔ محققین کہتے ہیں کہ یہ قانون تین قضایا پر منقسم ہو سکتا ہے۔\nاوّل۔ یہ کہ آبادی ہمیشہ بڑھنے کا میلان رکھتی ہے اور اس کی افزائش اس امر کا خیال نہیں کرتی کہ آیا مزید آبادی کے گزارے کے لیے کافی سامان معیشت موجود ہوگا یا نہیں۔ حکماء نے تخمینہ لگایا ہے کہ بڑے بڑے قحط اور وبائیں نہ آئیں تو آبادی تیس سال میں دوگنی ہو جائے گی۔\nدوم۔ اگر زمین کے کسی قطعہ میں آبادی اس طرح دُگنی ، تگنی ہوتی جائے اور دیگر اسباب اس کی افزائش کی سدراہ نہ ہوں(مثلاً وبا، قحط، جنگ اور شادیوں ک کمی وغیرہ) تو ایک خاص میعاد کے بعد قطعہ مذکور کی پیداوار وہاں کے آدمیوں کے لیے مشکل سے کافی ہوگی اور بالآخر مطلق کفایت نہ کرے گی یا بالفاظ دیگر یوں کہو کہ آبادی کی مفروضہ افزائش کا سلسلہ جاری نہیں رہ سکے گا۔\nسوم۔ ہمارا گزشتہ تجربہ جو ہم کو صنعت و حرفت کی ترقی کا مشاہدہ کرنے سے حاصل ہوا ہے، اس امر کی تصدیق نہیں کر سکتا کہ فن زراعت کی آئندہ ترقی سے ہم اپنی آبادی کی مفروضہ افزائش کے مطابق خوراک کی زیادہ مقدار پیدا کر سکیں گے۔\nقضیہ نمبر ۲ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قانون تقلیل حاصل بھی جس کا ذکر ہم پہلے کر آئے ہیں قانون آبادی کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے اور ان دونوں کے اجتماع سے یہ نتیجہ قائم ہوتا ہے کہ آبادی کے ایک خاص حد بڑھ جانے کے بعد زرعی دستکاروں کی مزید آبادی سے محنت کی قابلیت پیداوار کم ہوتے جانے کا میلان رکھتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جس قدر آبادی زیادہ ہو گی اور ایک حد معین سے بڑھتی جائے گی (یہ حد معین مختلف ممالک کی صورت میں مختلف ہو سکتی ہے کیونکہ مختلف اقوام و ممالک میں صنعت و حرفت و فن زراعت اور دیگر ایجادات کی ترقی کے مدارج مختلف ہیں۔ مثلاً ممکن ہے کہ ایک چھوٹا سا ملک اپنے ایجادات زرعی کے بل پر ۲۰ کروڑ آبادی کا متحمل ہو سکے اور ایک ملک جو اس سے وسعت میں بہت زیادہ ہو لیکن ایجادات میں کم ہو اُس سے آدھی آبادی کا بھی متحمل نہ ہو سکے) اسی قدر زمین مزروعہ کی کاشت نقطۂ تقلیل تک جلد پہنچے گی جس کا نتیجہ جو کچھ پیداوار دولت پر ہوگا ظاہر ہے۔\nمحنت کی کارکردگی\nمحنت کی کارکردگی کے اختلافات اور ان کے اثر کے متعلق کوئی کلیہ قانون وضع نہیں ہو سکتا کیونکہ دستکاروں کے طبعی ، عقلی اور اخلاقی اوصاف کے فرق بیان کرنے اور ان کے محرکات محنت کی تشریح کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم کو تہذیب و تمدن کے خفی در خفی اسباب کا پورا پورا علم ہو، جو موجودہ صورت میں نا ممکن ہے۔ لہٰذا ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مختلف ممالک کے درمیان مختلف افراد کے ذاتی سرمائے کی افزائش جس پر پیداوار دولت کا ایک حد تک انحصار ہے کس قانون کے تحت میں ہے۔ یا بالفاظ دیگر یوں کہو کہ قانون افزائش سرمایہ شخصی کیا ہے؟ اس امر کے متعلق محقق مل ایک قانون وضع کرتا ہے کہ سرمایہ جمع کرنے کی خواہش شرح سود کے ساتھ نسبت مستقیم رکھتی ہے۔ جس ملک میں شرح سود زیادہ ہو گی وہاں کے لوگوں کو روپیہ جمع کرنے کی تحریک زیادہ ہو گی اور جہاں شرح سود کم ہو گی وہاں جمع کی تحریک مطلق نہ ہو گی یا نہایت کم ہو گی۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ مل کا یہ قانون کامل طور پر صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ جمع کرنے کی تحریک صرف شرح سود کی مقدار سے ہی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اور بھی کئی ایک اسباب ہیں۔ بلکہ بعض دفعہ تو ایسا ہوتا ہے کہ شرح سود کے کم ہو جانے سے جمع کرنے کی تحریک زیادہ ہو جاتی ہے۔ کیونکہ شرح مذکور کی کمی کی صورت میں ضروری ہے کہ زیادہ رقم بطور سود لینے کی غرض سے زیادہ سرمایہ دیا جائے جس کا پہلے جمع ہونا لازم ہے۔\n۳۔ قانون سرمایہ شخصی تو کسی قدر وضاحت سے بیان ہو سکتا ہے لیکن قانون سرمایہ قومی (سرمایہ قومی سے مراد پیدائش دولت کے وہ وسائل ہیں جو کسی قوم کی گزشتہ محنت سے پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً پرانے تعمیر شدہ مکانات ، سٹرکیں وغیرہ) کا وضاحت کے ساتھ بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ کسی فرد واحد کی نسبت تو ہم کسی قدر رائے لگا سکتے ہیں کہ اس کاسرمایہ کس اصول کے مطابق کم و بیش ہوتا ہے مگر کسی قوم کے سرمائے کی نسبت بحیثیت مجموعی اس قسم کا قانون وضع کرنا نہایت دشوار ہے۔ ظاہر ہے کہ سرمایہ قومی کی زیادتی سے محنت کی مانگ یا یوں کہو کہ اجرت کی مقدار بڑھتی ہے اور اس طرح مختلف ممالک کی پیداوار دولت میں اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ لیکن یہ معلوم کرنا دشوار ہے کہ سرمایہ مذکور کا اصلی اصول کیا ہے۔ اگر کسی طرح سے کوئی اصول معلوم بھی ہو جائے تو اس سے صحیح مستخرج نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ بسا اوقات اور بالخصوص زمانہ حال میں اکثر قومیں اتنا سرمایہ خود نہیں استعمال کرتیں بلکہ دیگر اقوام کو مستعار دے دیتی ہیں۔ اگرچہ سرمائے کو اس طرح پر مستعار دے دینے سے اُن اقوام کو دنیا کی پیداوار محنت میں زیادہ حصہ ملتا ہے۔ لیکن اس سے اُن قوموں کی ذاتی محنت کی قابلیت پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے کہ ان کی خارجی تجارت کے فوائد میں کسی قدر زیادتی ضرور ہو جاتی ہے۔ مزید برآں اکثر اوقات بعض ممالک کے ارکانِ سلطنت جنگ وغیرہ کے اغراض کے لیے قوم سے قرض لیتے ہیں، جس سے قومی سرمائے میں کمی عارض ہوتی ہے۔ علیٰ ہذا القیاس رفاہ عام مثلاً تعلیم و حفظان صحت وغیرہ کے کاموں پر جو محنت صرف ہوتی ہے اُس سے کسی خاص فرد کو کوئی نفع نہیں ہوتا بلکہ اُن کا فائدہ عام بلا خصوصیت ہوتا ہے۔ نیز وہ محنت جو اکثر افراد حب وطن کے خیال سے نظام سلطنت کی حفاظت اور اس کی اندرونی قوت کو برقرار رکھنے کے لیے کرتے ہیں اکثر مالی فائدہ کی آمیزش سے معرا ہوتی ہے۔ غرض کہ ان وجود سے کسی ملک کے سرمایہ قومی کی کمی بیشی کا کوئی وسیع اور کامل اصول قائم کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D8%AF/%D8%AD%D8%B5%DB%81_%D8%AF%D9%88%D8%A6%D9%85"} {"title": "علم الاقتصاد/حصہ سوم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "نثر > علم الاقتصاد", "year": "1904", "text_ur": "تبادلہ دولت\n\nبا ب اوّلمسئلہ قدر\n\nبعض مصنفین کہتے ہیں کہ تبادلہ دولت علم الاقتصاد کا کوئی خاص حصہ نہیں ہے۔ مگر یہ رائے تجارت اور تبادلے میں امتیاز نہ کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ علاوہ اس کے منطقی وضاحت اس امر کی مقتضی ہے کہ اس مضمون کو علم الاقتصاد کا ایک علیحدہ حصہ سمجھا جائے تاکہ مختلف اقتصادی مسائل آپس میں مخلوط نہ ہو جائیں۔ اس حصے کا مقصد تناسب تبادلہ یا ان شرائط پر بحث کرنا ہے جن کی رو سے اشیاء کا باہمی تبادلہ ہوتا ہے جو ایک معین قدر کھتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب وہ چیزوں کا تبادلہ کیا جاتا ہے تو ایک شے کی ایک خاص معین مقدار دوسری شے کی ایک خاص معین مقدار کے عوض میں دی جاتی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مقدار معین کیوں ہوتی ہے۔ کم و بیش کیوں نہیں ہوتی؟ علم الاقتصاد کے اس حصے کا مقصد اسی سوال کا جواب دینا ہے۔\nتبادلہ انقسام محنت سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنی اپنی ضروریات کی چیزیں پیدا کرنے میں مصروف ہوتا تو تبادلے کی ضرورت کبھی لاحق نہ ہوتی۔ لیکن جب ان کے مشاغل میں اختلاف پیدا ہوتا ہے یا یوں کہو کہ مختلف انسان یا اقوام دولت کی مختلف صورتوں کے پیدا کرنے میں مصروف ہوتی ہیں، تو تبادلے کا دستور خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔مختصر طور پر یوں کہو کہ تبادلہ اتحاد کی ایک صورت ہے جو اختلاف مشاغل سے پیدا ہوتی ہے جب ایک شخص غلہ پیدا کرتا ہے ، دوسرا مکی یا آلو اور تیسرا کپڑا تیار کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ ضرورت ان سب کو باہمی تبادلے پرمجبور کرے گی۔ اس وقت یہ سوال پیدا ہوگا کہ غلہ کی کسی قدر مقدار دس گز کپڑے یا دومن آلو کے عوض دی جائے گی؟ جس قدر اصول انقسام محنت کا عمل وسیع ہوتا جائے گا اسی قدر تبادلے کا دائرہ بھی وسیع ہوتا جائے گا۔ لیکن چونکہ ایسی صورت میں افراد کو اپنی اپنی ضرورت کی اشیاء کا باہمی تبادلہ کرنے میں دقت ہوگی یا کم از کم ان کے وقت کا کچھ حصہ اس تبادلے میں ضائع ہوگا، اس واسطے قدرتاً تبادلے کا کام افراد کی ایک خاص جماعت کے زیر اہتمام آتا جائے گا۔ جس کو علم الاقتصاد کی اصطلاح میں افراد تبادلہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیںجن کی وساطت سے تجارت کی گاڑی چلتی ہے اور دور دراز ممالک کے باشندوں کے درمیان رابطہ اتحاد پیدا ہوتا ہے اور تبادلہ اشیاء کے ساتھ تبادلہ خیالات بھی ہوتا رہتا ہے۔\nغرض ہمارا مقصد اس حصے میں یہ معلوم کرنا ہے کہ تبادلے میں اشیاء کی خاص خاص مقدار کن اصولوں کے لحاظ سے متعین ہوتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہندوستانی غلے کی ایک خاص مقدار کے عوض میں چینی چائے کی ایک خاص مقدار یا جاپانی چھاتوں کی ایک خاص تعداد دی جائے؟ یہ مقدار یا یہ تعداد کم و بیش کیوں نہ ہو؟ مختصراً اشیاء میں قوت تبادلہ کن کن شرائط سے پیدا ہوتی ہے؟ اور اس کے اسباب و وجود کیا کیا ہیں؟\nقدر کی تعریف اس کتاب کے پہلے حصہ میں لکھی جا چکی ہے۔ یعنی قدر قوت تبادلہ کا نام ہے یا اس قدر و قوت کا نام ہے جو کسی شے کی وساطت سے اس شے کے قابض کو حاصل ہوتی ہے اور جس کو تبادلے میں دے کر وہ شخص بلا لحاظ جبرو اکراہ یا تاثرات ذاتی اوروں کی پیدا وار محنت کو حاصل کر سکتا ہے مگر سوال یہ ہے کیوں ایک شے اپنے قابض کو یہ قدرت یا قوت دیتی ہے اور دوسری نہیں دیتی ؟ کیوں ایک شے کے قبضے سے اوروں کی پیدا وار محنت پر ہفتوں مہینوں بلکہ سالوں تک یہ قدرت حاصل رہتی ہے اور دوسری شے کے قبضے سے یہ قدرت مطلق حاصل نہیں ہوتی یا اگر ہوتی ہے تو نہایت قلیل عرصے کے لیے؟ یہ سوال علم الاقتصاد کے نہایت ضروری سوالوں میں سے ہے۔ لہٰذا طالب علم کا فرض ہے کہ ا س کے ہر پہلو پر غور کر کے اس کو اچھی طرح سے ذہن نشین کر لے۔\nظاہر ہے کہ تبادلے کے لیے کم از کم دو اشیاء کا ہونا لازم ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ کسی شے کا تبادلہ ہو سکتا ہے تو ہمارا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اس کا تبادلہ کسی اور شے کے ساتھ ہو سکتا ہے اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں شے کی قدر تبادلے میں اتنی ہے تو بالواسطہ یا بلاواسطہ ہم کسی اور شے یا اشیاء کی قدر کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جن کے عوض میں شے مذکور دی جا سکتی ہے۔ عام طور پر یہ دوسری شے جس کے عوض میں کوئی شے دی جا سکے زر نقد ہے، جس کو دنیا کی مہذب اقوام نے اشیاء کی قدر کا پیمانہ قرار دیا ہے۔ پس کسی شے کی قدر سے حقیقت میں مراد اس کی قیمت سے یا زر نقد کی اس مقدار سے ہے جو اس شے کے عوض میں دی جائے۔ اس مقام پر قدر اور قیمت کا ذہن نشین کر لینا نہایت ضروری ہے۔ لہٰذا ہم اسے واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرض کرو کہ ایک شخص کے پاس چار من غلہ ہے جس کے عوض میں اسے ۲۷ من کوئلہ مل سکتا ہے۔ اس صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ ۴ من غلے کی قدر ۲۷ من کوئلے کی قدر کے برابر ہے۔ اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ قدر کے مفہوم میں اشیاء کامقابلہ داخل ہے اور قدر ایک اضافی اصطلاح ہے۔ ایک شے کی قدر دو طرح سے کم و بیش ہو سکتی ہے۔ یا تو اس کی ذاتی قدر میں کمی بیشی ہونے سے یا دیگر اشیاء کی قدر میں تغیر پیدا ہو جانے سے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام اشیاء کی قدر ایک ہی وقت میں نہیں بڑھ سکتی۔کیونکہ ایک شے کی قدر کی زیادتی اور دوسری کی قدر کی کمی لازم و ملزوم ہیں۔ یہ کہنا کہ ایک ہی وقت میں اشیاء کی قدر کم و بیش ہو سکتی ہے ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہہ دے کہ چھ اشخاص میں سے ہر ایک اپنے باقی پانچ ہمراہیوں کی نسبت زیادہ تیز رفتار ہے۔ الغرض کسی شے کی قیمت اس کی قدر کی ایک خاص صورت کانام ہے جب کسی شے کی قدر کا تخمینہ ان قیمتی دھاتوں کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے سے کیا جائے جو شائستہ اقوام میں بطور معیار قدر مستعمل ہوں، تو کہا جاتا ہے کہ اس شے کی قیمت معلوم ہو گئی ہے۔ گو تمام اشیاء کی قدر ایک ہی وقت میں کم و بیش نہیں ہو سکتی تاہم نہ اُن کی قیمت کا گھٹنا بڑھنا ممکن ہے۔\nمندرجہ توضیع سے معلوم ہو گیا ہو گا کہ مسئلہ قدر حقیقت میں ان اسباب کا دریافت کرنا ہے جن پر اشیا کی قدر ایک معین معیار کے لحاظ سے منحصر ہوتی ہے۔ ان معنوں میں کوئی شے قدر نہیں رکھ سکتی جب تک اس میں دو خواص نہ ہوں۔ اوّل افادت دوئم وقت حصول۔ افادت سے مراد یہ ہے کہ اس شے میں کسی انسانی ضرورت یا خواہش کو پورا کر سکنے کی خاصیت موجود ہے۔ یہ گویا ایک قسم کا امتحان ہے کہ جب تک کوئی شے پہلے اس امتحان میں کامیاب نہ ہو لے قدر رکھنے والی اشیاء کی فہرست میں داخل نہیں ہو سکتی۔ لیکن اس فہرست میں کوئی خاص درجہ یا مقام حاصل کرنا اس شے کی وقت حصول پر موقوف ہے۔ پس ظاہر ہے کہ جس قدر کسی شے میں انسانی ضروریات کو پورا کر سکنے کی خاصیت ہو گی اسی قدر اس شے کی قدر بھی زیادہ ہوگی۔ اسی افادت کی کمی بیشی کی وجہ سے اشیاء کی طلب یعنی مانگ میں اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ جس قدر کسی شے میں افادت زیادہ ہوگی اسی قدر اس کی مانگ بھی زیادہ ہوگی اور جس قدر افادت کم ہو گی اُسی قدر اُس کی مانگ بھی کم ہوگی۔ خریداران اشیاء کا معاوضہ زیادہ دیں گے جن کی ان کو ضرورت ہے۔ مگر جن اشیاء کی ان کو ضرورت نہیں ہے ،ان کا معاوضہ اوّل تو دیں گے ہی نہیں یا اگر دیں گے تو بہت کم دینے پر راضی ہوں گے۔ بعض محققین علم اقتصاد نے انسانی فطرت کے اس میلان کو ظاہر کرنے کے لیے اصطلاح افادت انتہائی استعمال کی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اصطلاح مذکور نہایت مفید ہے کیونکہ اس کے استعمال سے تبادلے کی تحریک اور اس کے فوائد کی توضیح ہوتی ہے۔ اس کا مفہوم واضح کرنے کی غرض سے ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ فرض کرو کہ آٹے کا ایک سیر ایک آدمی کی بقائے حیات کے لیے ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ اس ایک سیر میں زیادہ افادت ہوگی۔ لیکن اس شخص کے نزدیک آٹے کے دوسرے اور تیسرے سیر میں وہ افادت نہ ہوگی۔ جو پہلے سیر میں تھی۔ کیونکہ وہ مقدار اس کی بقائے حیات کے لیے لازم تھی۔ اس مثال میں مقدار تو وہی ایک سیر ہے۔ لیکن ہر سیر کی افادت آٹے کو استعمال کرنے والے کے لحاظ سے مختلف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شخص آٹے کے تیسرے سیر کو اس قیمت پر خریدنا پسند نہیں کرے گا، جس قیمت پر کہ اُس نے پہلے سیر کو خریدا تھا۔ پس کسی کی افادت انتہائی سے مراد اس شے کی آخری یا اختتامی حصے کی افادت ہے جس کو مشتری قیمت کی اس کم سے کم مقدار کے عوض میں خرید کرتا ہے، جو اُس شے کا بائع منظور کر سکتا ہے۔ مثال بالا میں آٹے کے تیسرے سیر یعنی اختتامی یا انتہائی حصے کی قیمت اس کی افادت سے متعین ہو گی۔ چونکہ مثال مذکور میں خریدار کو آٹے کے تیسرے سیر کی ضرورت نہیں ہے اس واسطے اوّل تو وہ خریدے گا ہی نہیں اور اگر خریدے گا بھی تو اس بات پر مصر ہوگا کہ قیمت کی کم سے کم مقدار ادا کرے۔ آخر کار قیمت کی اس کمتر مقدار پر سودا ہو گا جس کو بائع شے منظور کر سکتا ہے۔ اس توضیح سے ظاہر ہے کہ خریداروں کے لحاظ سے اشیاء کی معمولی قیمت ان کی افادت انتہائی سے متعین ہوتی ہے۔ بعض محققین کے نزدیک یہی افادت قدر اشیاء کا اصل اصول ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ہر شے کی قدر اس شے کی افادت پر منحصر نہیں ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ جس شے میں قدر ہوگی اس میں افادت بھی ضرور ہو گی لیکن برعکس صحیح نہیں ہے۔ یہ کچھ ضرور نہیں ہے کہ ہر مفید شے کوئی خاص قدر بھی رکھتی ہو۔ ہوا پانی وغیرہ مفید اشیاء ہیں، مگر ان کی قدر کچھ نہیں ہے کیونکہ قدرت خود بخود بغیر انسانی کوشش کے ان کو کثرت سے مہیا کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہی شے بعض اشخاص کے لیے مفید ہوتی ہے اور بعض کے لیے کچھ فائدہ نہیں رکھتی۔ علیٰ ہذا القیاس بعض اشیاء خاص خاص مقامات میں افادت رکھتی ہیں بعض میںنہیں۔ مزید برآں بعض اشیاء میں مطلق افادت نہیں ہوتی ، لیکن ان کی قدر بڑی ہوتی ہے مثلاً ہیرے جو اہرات وغیرہ۔ غرض کہ افادت قدر کا ماخذ نہیں قرار دی جا سکتی اس کے لیے ہمیں کوئی اور کلیہ اصول معلوم کرنا چاہیے۔\nبعض محققین کی رائے ہے کہ افادت کے علاوہ قدر کے لیے وقت حصول بھی ضروری ہے۔ یعنی ان کے نزدیک کسی شے کا مفید ہونا اور نیز مشکل سے ہاتھ آنا اس کی قدر کا باعث ہوتاہے۔ اس رائے کو صحیح تسلیم کرنے والے وقت حصول کی تین صورتیں بیان کرتے ہیں۔\n۱۔ اوّل یہ کہ اشیاء کی رسد محدود ہو۔ مثلاً گزشتہ مصوروں کی بنائی ہوئی تصویر یں یا دیگر کمیاب چیزیں۔ کیا اس صورت میں اشیاء کی قدر اس محنت پر منحصر ہوگی، جو ابتداً ان پر صرف ہوئی تھی؟ نہیں؛ اگر یہ صحیح ہے کہ انسان بالعموم اپنی محنت ایسی اشیاء کے معاوضے میں نہیں دیتا جن پر کچھ محنت نہ صرف ہوئی ہو اور نیز بالآخر مجموعی طور پر اشیاء کی قدر قریباً قریباً اس محنت کے مطابق ہوگی جو ان پر ابتداً ء صرف ہوئی تھی۔ تاہم حق یہ ہے کہ کسی شے کی قدر اس امر پر منحصر نہیں ہے کہ اس شے کی تیاری میں ابتداً کتنی محنت صرف ہوئی تھی بلکہ یہ اس امر پر منحصر ہے کہ وہ شے اب بغیر محنت کے حاصل نہیںہو سکتی۔ اگر کوئی شاہ نامہ فردوسی کے اپنے ہاتھوں کا لکھا ہوا مل جائے تو اس کی قدر اس محنت کانتیجہ نہ تصور کرنی چاہیے جو ابتداً اس کی تحریر میں صرف ہوئی تھی بلکہ اس کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ اکثر لوگوں کو اس نسخہ کی ضرورت ہے اور اب ایسا تیا ر نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا ابتدائی محنت بھی کسی شے کی قدر کا ملخذ نہیں قرار دی جا سکتی۔ مندرجہ بالا دلیل کے علاوہ اس دعویٰ کے ثبوت میں ذیل کے دلائل بھی دیئے جا سکتے ہیں:۔\nالف۔۔۔ اگر محنت کو قدر کا اصل باعث سمجھا جائے، تو قدر کی کمی بیشی محنت کی کمی بیشی پر منحصر سمجھنی چاہیے۔ مگر یہ بات صریحاً تجربے کے خلاف ہے۔ جس وسیع زمین پر لاہور جیسا عظیم الشان شہر آباد ہے۔ اس کی قدر اندازے سے زیادہ ہے لیکن یہ زمین کسی طرح محنت کا نتیجہ نہیں ہے۔\nب۔۔۔ اگر محنت کو قدر کا اصل باعث سمجھا جائے تو جن دو چیزوں پر مساوی محنت صرف ہوئی ہے، اُن کی قدر بھی مساوی ہونی چاہیے۔ مگر تجربہ اس کے خلاف ہے۔ اگر ایک ٹکڑا سونے اور ایک ٹکڑا لوہے کا، دونوں مساوی محنت سے حاصل ہوں، تو کیا ان کی قدر بھی مساوی ہوگی؟ ہرگز نہیں۔\nج۔۔۔ اگر محنت کو قدر کا اصل باعث سمجھا جائے، تو ہر شے کی قدر اس محنت سے متناسب ہوگی، جو اس شے کے حاصل کرنے میں صرف ہوئی ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ فرض کرو کہ ایک شخص کو خوش قسمتی سے زمین کی سطح پر پڑا ہوا سونے کا ایک ٹکڑا مل جاتا ہے۔ ایک اور شخص کو ایسا ہی ٹکڑا ہفتہ بھی زمین کھود کھود کر ملتا ہے۔ علیٰ ہذالقیاس ایک اور شخص ہے جس کو اس قسم کا ٹکڑا مہینے کی محنت کے بعد ملتا ہے۔ اس اصول کی رو سے چاہیے کہ جس شخص کو مہینے کی محنت کے بعد سونے کا ٹکڑا ملا ہے اس شخص کا سونا اس شخص کے سونے سے بہت زیادہ بیش قیمت ہو جس کو بغیر محنت کے زمین پر پڑا ہوا مل گیا تھا۔\nد۔۔۔ اگر محنت کو قدر کا باعث سمجھا جائے تو جس شے پر محنت صرف کی گئی ہے چاہیے کہ اُس کی قدر دوامی اور مساوی ہو۔ مگر یہ صریحاً غلط ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ ایک ہی شے کی قدر مختلف مقامات میں مختلف ہوتی ہے۔ بلکہ بعض جگہ کئی اشیاء کی قدر کچھ بھی نہیں ہوتی، حالانکہ ان پر محنت بھی صرف کی گئی ہو۔ افریقہ کے وحشیوں کے درمیان ایک سنسکرت پڑھانے والے پنڈت یا عربی کی تعلیم دینے والے مولوی کا علم کیا قدر رکھ سکتا ہے؟ اگر ہندوستان کے مسلمان ترکی ٹوپیاں پہننا یک قلم ترک کردیں تو اس اصول کی رو سے ضرور ہے کہ اُن کی قدر بدستور قائم رہے اگرچہ اُن کی مانگ مطلق نہ ہو۔\nر۔۔۔ اگر محنت کو قدر کا ماخذ سمجھا جائے تو محنت کی قدر کا کیا ماخذ ہوگا؟\n۲۔ دوسری صورت وقت حصول کی یہ بیان کی جاتی ہے کہ کسی شے کی تیاری میں محنت اور سرمائے کی ضرورت ہو۔ اس ضمن میں جو اشیاء داخل ہیں ان کی قدر یا قیمت ان اشیاء کے مصارف پیدائش سے متعین ہوگی۔ یہ غلطی بھی اسی غلطی کا ایک نتیجہ ہے کہ اشیاء کی قدر کا ماخذ محنت ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپربیان کیا ہے۔ قدر کا انحصار ابتدائی محنت پر نہیں ہوتا بلکہ یہ اس بات پر موقوف ہے کہ موجودہ حالت میں وہ شے بغیر محنت اور سرمائے کے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بعض کوئلے کی کانوں میں اوپر کی تہوں کاکوئلہ نہایت عمدہ ہوتا ہے اور نیچے کی تہوں کا کوئلہ اچھا نہیں ہوتا، بلکہ اس میں مٹی اور راکھ وغیرہ ملی ہوئی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اوپر کا کوئلہ نکالنے میں مصارف کی مقدار کم ہوگی اور نیچے کا کوئلہ نکالنے میں چونکہ محنت زیادہ صرف ہوئی ہے ،اس واسطے مصارف کی مقدار بھی زیادہ ہوگی۔ لیکن اگرچہ اشیاء کی قدر مصارف پیدائش پر منحصر ہے تو چاہیے کہ کوئلے کی قیمت اوپر کے کوئلے کی قیمت سے زیادہ ہو۔\n۳۔ تیسری صورت وقت حصول کی یہ ہے کہ بعض اشیاء اس قسم کی ہوتی ہیں جن کو ایک معین میعاد کے اندر تیار کیا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ جن لوگوں کو ان کی ضرورت ہے ، وہ اس عرصہ تک انتظار کریں۔ اس صورت میں اشیاء کی قیمت ان مصارف سے متعین ہوتی سمجھی جائے گی جو ان کے از سر نو تیار کرنے میں عائد ہوتے ہوں۔ مگر یہ بات ہمیشہ صحیح نہیں ہوتی کیونکہ ایک نہایت قدیم زمانے کی کل کو ان مصارف سے کوئی نسبت نہیںہے جو اس کے نئے سرے سے تیار کرنے میں عائد ہوتے ہیں۔ کل تو ویسی تیار ہو سکتی ہے مگر چونکہ یہ پرانی کل آثار قدیمہ میں سے تصور کی جائے گی، اس واسطے اس کی قدر یا قیمت بہت زیادہ ہو گی۔\nپس معلوم ہوا کہ اشیا کی قدر یا قیمت (کیونکہ قیمت بھی قدر ہی کی ایک صورت ہے) افادت محنت ابتدائی یا اُن مصارف پر جو اُن کی از سر نو تیار کرنے میں عائد ہوں، منحصر نہیں ہے۔ اگرچہ یہ تینوں قدر کی عوارضات ضرور ہیں تاہم اس کی ماخذ نہیں قرار دی جا سکتی۔ پھر وہ کون سا کلیہ اصول ہے جس پر اشیا کی قدر کا دارومدار ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ قدر اشیا قانون طلب و رسد کے عمل پر انحصار رکھتی ہے جس کی توضیح ذیل میںدرج کی جاتی ہے۔\nسہولت کے لیے ہم پہلے قانون طلب کا مفہوم واضح کریں گے، بعد میں قانون رسد کا اور پھر دونوں توضیحات کو یکجا کرکے ایک وسیع قانون قائم کریں گے۔ طلب سے مراد کسی شے کی اس خاص مقدار ہے جو کسی خاص قیمت پر خرید کی جائے۔ اس تعریف میںہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ اس مقدار کی قیمت کا ادا کرنے والا حقیقی طور پر اس قیمت کو ادا کر سکنے کی قوت رکھتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ طلب اور خواہش حصول مرادف نہیں تصور کئے جا سکتے۔ کیونکہ ہر شخص ہر شے کے حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے؛ اگرچہ اشیاء مذکورہ کے خرید کر سکنے کی قوت اس میں نہ ہو۔ اس کے علاوہ تعریف مندرجہ بالا میں الفاظ “خاص قیمت” بھی ضروری ہیں۔ کیونکہ قیمت کے تغیر سے شے طلوب کی مقدار میں بھی تغیر مطلوب ہو گا۔ قانون طلب کے ذریعہ تغیر قیمت سے وابستہ مقدار مطلوب کے تغیر کی توضیح ہوتی ہے۔ یعنی جب کسی شے کی قیمت کم ہو جاتی ہے تو (بشرطیکہ زر نقد کی قوت خریدار اس کی وہ رقم جو خریداروں کے قبضے میں ہے مساوی رہے)اس کی مقدار مطلوب بڑھ جاتی ہے اور برعکس اس کے جب قیمت زیادہ ہو جاتی ہے تو مقدار مطلوب کم ہو جاتی ہے۔ ہم نے کہا ہے “بشرطیکہ زر نقد کی قیمت خرید اور اس کی وہ رقم جو خریداروں کے قبضے میں ہے مساوی رہے”۔ اس قید کا ہونا ضروری ہے کیونکہ جوں جوں کسی شخص کے وسائل آمدنی ترقی کریں گے یا یوں کہو کہ جس قدر کوئی شخص زیادہ دولت مند ہوتا جائے گا، اسی قدر اس میں اشیاء کو زیادہ قیمت کے عوض میں خرید کر سکنے کی قوت بڑھتی جائے گی اور جس قدر اس کے وسائل آمدنی کم ہوتے جائیں گے یا جوں جوں وہ رقم جو اُس کے پاس ہے کم ہوتی جائے گی ، اسی قدر اس کی قوت خرید بھی کم ہوتی جائے گی۔ اگر پہلی صورت میں وہ ایک شے کو دس روپیہ کے عوض میں خرید کر سکتا تھا تو دوسری صورت میں پانچ روپیہ کو بھی نہ خرید کر سکے گا۔ اگرچہ ضرورت دونوں صورتوں میں ایک سی ہی کیوں نہ ہو۔ پس اس قانون کو مختصراً یوں بیان کر سکتے ہیں کہ اشیاء کی مقدار مطلوب کمی قیمت سے بڑھتی ہے اور زیادتی قیمت سے کم ہوتی ہے۔ مثلا ً اگرچھاتوں کی قیمت بڑھ جائے تو بہت سے خریدار جو پہلے چھاتے استعمال کیا کرتے تھے اب ان کا استعمال ترک کر دیں گے۔ اور صرف وہی لوگ اُن کو خرید کریں گے جو زیادہ قیمت کے متحمل ہو سکتے۔ لہٰذا چھاتوں کی مقدار مطلوب کم ہو جائے گی۔ اگر قیمت کم ہو جائے تو بہت سے لوگ جو پہلے چھاتوں کو استعمال کرتے تھے۔ اب کمی قیمت کی وجہ سے استعمال کرنے لگ جائیں گے۔ لہٰذا ان کی مقدار مطلوب میں زیادتی ہو جائے گی۔\nعلیٰ ہذالقیاس رسد سے مراد کسی شے کی اس خاص مقدار سے ہے جو کسی خاص قیمت کے عوض میں فروخت کئے جانے کے لیے پیش کی جائے اور قانون رسد کو عام الفاظ میں اس طرح بیان کر سکتے ہیں کہ جس قدر قیمت بڑھتی جاتی ہے اسی قدر (بشرطیکہ زر نقد کی قوت خرید اور اس کی وہ رقم جو خریداروں کے قبضہ میں ہو مساوی رہے) مقدار اشیاء فرد ختنی بڑھتے جانے کا میلان رکھتی ہے۔ جب کسی شے کی قیمت زیادہ ملے گی تو ہر تاجر اُسی کی تیاری پر سرمایہ صرف کرے گا اور اگرکم ملے گی تو کوئی شخص اُس شے کی تیاری پر سرمایہ صرف نہ کرے گا۔ لہٰذا مقدار مطلوب پہلی صورت میں بڑھے گی اور دوسری صورت میں کم ہو گی۔\nاب ہر دو قوانین مذکورہ پر غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ چونکہ ان دونوں میں ایک قسم کا اختلاف ہے اس واسطے تبادلہ اشیاء کے لیے ضروری ہے کہ ان کی طلب و رسد میں ایک مساوات پیدا ہو ورنہ تبادلہ محال ہوگا اور جب تبادلہ محال ہوگا تو قدر کی تعیین کس طرح ہو گی۔ لہٰذا مختلف اقتصادی اسباب کے اثر سے اشیاء کی طلب اور رسد میں خود بخود ایک مساوات پیدا ہو جاتی ہے۔ جس کو بطور قانون کے اس طرح قائم کیا جا سکتا ہے کہ ہر منڈی میں اشیاء کی قیمت ان کی مقدار مطلوب اور مقدار فروختنی کی مساوات سے متعین ہوگی۔ اگر مانگ زیادہ ہوگی اور رسد کم ، تو اشیاء کی قیمت معمول سے زیادہ بڑھ جائے گی۔ علیٰ ہذا القیاس اگر مانگ کم ہو گی اور رسد زیادہ تو قیمت مذکور معمول سے کم ہو جائے گی۔ پس اشیاء کی قیمت صحیحہ (اس اصطلاح کا مفہوم ابھی واضح ہو جائے گا) کی تعیین کے لیے یہ ضروری ہے کہ طلب اور رسد میں مساوات پیدا ہو۔۔۔۔ یعنی اشیاء کی طلب ان کی رسد کے مساوی ہو۔\nاس قانون کے معانی کو زیادہ وضاحت سے بیان کرنے کی خاطر ہم مثال کے طور پر ایک جزیرہ فرض کرتے ہیں جہاں ایک ہزار کسان آباد ہیں۔ فرض کرو کہ ان لوگوں کو اپنے کھیتوں کے لیے کھاد کی ضرورت ہے اور ہر کسان کھاد کے پانچ چھکڑوں کے عوض میں غلے کے دس پیمانے دینے کو تیار ہے۔ اس حساب سے گویا کھاد کے پانچ ہزار چھکڑے مطلوب ہیں جن کی قیمت فی چھکڑا دو پیمانے غلہ ہو۔ مگر ممکن ہے کہ قیمت مذکور پر کھاد کی رسد پانچ ہزار چھکڑوں سے زیادہ ہو یا کم۔ بعض آدمی شاید اس قیمت پر کھاد فروخت کرنے کی نسبت ماہی گیری پر گزارا کرنا زیادہ فائدہ مند تصور کریں۔ اس طرح اگر کسان زیادہ قیمت نہ دیں گے تو کھاد کی رسد مطلق نہ ہو گی اور اگر ہو گی تو بہت کم ، جو ان سب کے درمیان تقسیم ہو گی۔ لیکن اگر بعض کسان زیادہ قیمت دینے پر راضی ہو جائیں گے ، تو قیمت کی زیادتی کی وجہ سے وہ لوگ ماہی گیری ترک کر دیں گے جو پہلے کھاد مہیا کرتے تھے اور کھاد کی رسد پھر زیادہ ہو جائے گی۔ برخلاف اس کے اگر کسی قدرتی سبب سے کھاد کی رسد زیادہ ہو جائے تو ، تو جب تک اس کی طلب میں اس قدر زیادتی نہ ہو گی، تمام کھاد بیچنے والے ایک دوسرے کی نسبت مقابلتاً قیمت کو کم کرتے جائیں گے۔ کیونکہ ہر ایک کی خواہش یہی ہو گی کہ میرا ذخیرہ جلد بک جائے۔ قدرتاً ہر شخص کو اپنا فائدہ متصور ہوگا، خواہ دوسرے کا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔\nمثال بالا سے قانون طلب و رسد کا مفہوم تو واضح ہو گیا۔ لیکن ابھی اس سوال کا جواب دینا باقی ہے کہ طلب و رسد میں مساوات کی طرح پیدا ہوتی ہے۔ ہم نے ابھی اصطلاح مقابلہ کا استعمال کیا ہے جس کے مفہوم کا ذہن نشین کر لینا نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ اس مقابلے کے اثر سے ہی طلب و رسد کے درمیان مساوات قائم ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ بیان کرنے سے پیشتر کہ مساوات مذکورہ مقابلہ کے عمل سے کس طرح قائم ہوتی ہے۔ پہلے اس کا مفہوم واضح کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد اس مقابلے یا تجارتی رشک سے ہے جو کسی شے کے خریداروں اور بیچنے والوں کے درمیان ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر شخص کا مدعا یہی ہوتا ہے کہ کم سے کم مقدار دے اور اس کے عوض میں زیادہ سے زیادہ مقدار حاصل کرے۔ مقابلہ کا عمل باہمی اتحاد، رواج اور انسانی اثرات کے منافی ہے۔ کیونکہ ہر شخص قدرتاً اپنی ذات کے لیے کام کاج کرتا ہے۔ جہاں چاہے اپنے مال کو فروخت کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ رواج کی پابندی اس کو کسی خاص مقام میں بیچنے پر مجبور نہیں کر سکتی اور نیز قدرتاً ہر شخص کو اپنی ذاتی منفعت متصور ہوتی ہے۔ کسی دوسرے کے نقصان وغیرہ کی اسے کچھ پروا نہیں ہوتی۔ یہ ہے مقابلے کا اقتصادی مفہوم۔ اب اس کا اثر سمجھنے کے لیے ذرا مثا مندرجہ بالا پر غور کرو۔ ہم نے اُوپر بیان کیا ہے کہ کھاد بیچنے والا مقابلے کی وجہ سے قیمت کم کرتے جائیں گے۔ اگر فی چھکڑا غلے کے دو پیمانے دئیے جائیں، تو صاف ظاہر ہے کہ طلب اور رسد غیر مساوی ہوںگے۔ کیونکہ کھاد فروختنی کی مقدار تو دس ہزار چھکڑا ہے لیکن مانگ صرف پانچ ہزار چھکڑوں کی ہے۔ اگر قیمت اس سے بھی کم ہو جائے تو رسد شاید ۹ ہزار چھکڑے رہ جائے گی۔ کیونکہ بہت سے کھاد بیچنے والے کھاد مہیا کرنے کا کام چھوڑ کر کسی اور کام میں لگ جائیں گے۔ فرضاً اگر کسان یہ سمجھ کر کہ مقررہ مقدار کی نسبت زیادہ کھاد ڈالنے سے زمین کے محاصل یا پیداوار میں سے کھاد کی اس زیادہ مقدار کی قیمت نکل آئے گی اور اس خیال سے اور کھاد خریدنا شروع کر دیں، تو کھاد کی طلب جہاں پہلے پانچ ہزار چھکڑا تھی ، اب شاید چھ ہزار چھکڑا ہو جائے گی۔ علیٰ ہذاالقیاس اگر قیمت اور کم ہو جائے تو رسد اور بھی کم ہو جائے گی۔ پہلے رسد ۱۰ تھی اور طلب ۵۔ پھر رسد ۹ ہو گئی اور طلب ۶۔ اسی طرح طلب شاید ۷ ہو جائے اور رسد ۸۔ غرض کہ دونوں مقداریں مقابلے کے اثر سے ایک دوسرے سے قریب ہوتی جائیں گی۔ فرض کرو کہ اس وقت جب کہ طلب اور رسد کی درمیانی نسبت ۷:۸ کی ہے۔ کھاد کی قیمت فی چھکڑا ۲؍۱ پیمانہ گیہوں پر ٹھہر گئی۔ اب یہ بات کہ طلب اور رسد کے درمیان پوری مساوات کسی ایسی قیمت پر ہو گی جو قیمت مذکورہ سے بہت کم یا کسی قدر کم ہو، دو امور پر منحصر ہے۔\n۱۔ کھاد کی اس مقدار کی افادت انتہائی پر جو سات ہزار چھکڑوں سے زائد ہوگی۔\n۲۔ کھاد بیچنے والوں کی کوئی اور فائدہ مند پیشہ اختیار کر سکنے کی استطاعت پر۔ فرضاً اگر کوئی کسان ۲؍۱ ۲پیمانہ گیہوں فی چھکڑا کے حساب سے ۱۰ چھکڑے خرید کرے تو یہی قیمت مقرر ہو جائے گی، بشرطیکہ کوئی کھاد بیچنے والا قیمت مذکور سے کم قیمت پر کھاد مہیا کرنے پر راضی نہ ہو۔ لیکن اگر اس کسان کو ۴؍۱ ۲پیمانہ گیہوں فی چھکڑا کے حساب سے کھاد مل جائے تو وہ شاید پانچ چھکڑے اور خرید کر لے۔ اگر ایسا ممکن ہو تو۴؍۱ ۲ پیمانہ گیہوں سے ہی کھاد کی افادت انتہائی متعین ہو گی اور یہی اس کی قیمت فی چھکڑا قرار پا جائے گی۔ اسی طرح اگر اس کو ۲ پیمانہ گیہوں فی چھکڑا کے حساب سے اور کھاد مل سکے تو افادت انتہائی اسی نرخ سے متعین ہو گی۔ علیٰ ہذاالقیاس ۲؍۱ ۱ پیمانہ گیہوں فی چھکڑا کے حساب سے اور کھاد مل سکے تو یہی قیمت قرار پائے گی۔ الغرض ممکن ہے کہ کسان اس طرح کھاد کے بیس چھکڑے خریدلیوے۔ لیکن ظاہر ہے کہ کھاد کے مختلف حصص کی افادت مختلف ہے۔ اگر یہ کسان بیس چھکڑے کھاد کے ایک ہی دفعہ لیتا تو ہر چھکڑے کے لیے اسے مساوی قیمت ادا کرنی پڑتی اور یہ قیمت ۲؍۱ ۱ پیمانہ گیہوں فی چھکڑا کے حساب سے ہوتی۔کیونکہ منڈی میں(بشرطیکہ مقابلہ پورے طور پر اپنا عمل کر رہا ہو) ایک ہی قسم کی اشیاء کی قیمت ان کی افادت انتہائی سے متعین ہوتی ہے اور بالعموم مساوی ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اسباب اشیا کی قیمت میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ لیکن ان بواعث پر ہم آگے چل کر غور کریں گے۔ فی الحال ہم یہ معلوم کرناچاہتے ہیں کہ کسی شے کی قیمت صحیحہ اس قیمت سے کیوں مختلف ہوتی ہے جس پر وہی شے تجارت کی منڈی میں فروخت ہوتی ہے؟\nلفظ منڈی کی کئی تشریحات کی گئی ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ ہر تجارتی شے کی ایک نہ ایک منڈی ضرور ہوتی ہے۔ مثلاً لوہے کی منڈی ، چائے کی منڈی وغیرہ۔۔؟ علیٰ ہذاالقیاس ایک ہی قصبے میں اشیا کا تبادلہ کرنے والوں کے مختلف فریق ہوتے ہیں۔ جن کے درمیان ممکن ہے کہ ایک ہی قسم کی اشیاء کی قیمت مختلف ہو۔ پس لفظ منڈی سے مراد وہ تمام افراد ہیں جن کی طلب یا رسد کسی خاص مقام میں کسی خاص شے کی قیمت پر اثر کرے۔ اگر مقابلہ پورے طور پر اپنا عمل کر رہا ہو تو کسی شے کی قیمت ہمیشہ اس کے مصارف پیدائش کے قریب ہو گی۔ یعنی شے مذکور کی رسد اس حصہ کے مصارف پیدائش پر جو نہایت نامساعد حالات میں پیدا کیا گیا ہے اور یہ قیمت گویا اس شے کی افادت انتہائی کا پیمانہ ہو گی یعنی اس حصے کی افادیت انتہائی کا جس کو خریدار اس خاص قیمت پر بغیر اندیشہ نقصان کے خریدنا قبول کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ قیمت ان مساعی اور تکالیف کا معاوضہ ہوگی جو اس کے پیدا کرنے والوں کو نہایت نامساعد حالات میں کام کرنے کی وجہ سے لاحق ہوئی ہیں۔ لیکن چونکہ تمام خریدار اس شے کی مساوی قیمت ادا کریں گے، اس واسطے ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے اسے نامساعد حالات میں پیدا کیا ہے ان کو فائدہ ہو گا۔ یعنی ان کا اجران تکالیف و مساعی سے زیادہ ہوگا جو اس کی تیاری کے ساتھ وابستہ ہیںاور جن لوگوں نے اسے نامساعد حالات میں پیدا کیا ہے ان کا اجر بمشکل ان کی مساعی اور تکالیف کے برابر ہوگا۔ مثلاً فرض کرو کہ چند شخص نہایت مساعد حالات میں کام کرتے ہیں۔یا یوں کہو کہ ایک ایسی کان کھودتے ہیں جس پر معمولی محنت اور سرمایہ صرف کرنے سے عمدہ لوہا بافراط نکل آتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ لوگ ان لوگوں کی نسبت بدر جہا فائدے میں رہیں گے جو اسی کام کو نامساعد حالات میں کرتے ہیں یا بالفاظ دیگر ایسی کان کھودتے ہیں جس سے لوہا نکالنے میں بہت سی محنت اور کثیرسرمایہ درکار ہے۔ مقدم الذکر فریق کے فائدے کی وجہ یہ ہے کہ خریدار دونوں کانوں کے لوہے کو مساوی قیمت پر ہی خریدنا قبول کریں گے جس سے پہلا فریق فائدہ میں رہے گا اور دوسرے فریق کو بمشکل اپنے اصل مصارف ہی پلے پڑیں گے۔\nاگر لوہا بیچنے والوں کے درمیان مقابلہ پورے طور پر اپنا عمل کر رہا ہو تو لوہے کی قیمت رفتہ رفتہ اس کے مصارف پیدائش کے قریب آ جائیں گے۔ یہی قیمت جو مقابلے کی وجہ سے مصارف پیدائش کے قریب ہو جاتی ہے علم الاقتصاد کی اصطلاح میںقیمت صحیحہ کہلاتی ہے۔ لیکن چونکہ مقابلہ کبھی پورے طور پر عمل نہیں کرتا۔ اس واسطے منڈی میں ہر تجارتی شے کی ایک خاص قیمت ہوتی ہے جس کو اصطلاح میں قیمت متعارف کہتے ہیںاور یہ قیمت قیمت صحیحہ سے کم و بیش مختلف ہوتی ہے کیونکہ اس سے بالعموم کسی شے کے مصارف پیدائش کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ خریدار کے لیے اس شے کی افادت انتہائی کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے۔ قیمت متعارف اور قیمت صحیحہ کا یہ اختلاف مندرجہ ذیل وجود پر مبنی ہے۔\n۱۔ کسی شے کے ذخیرے کی مقدار پر جو منڈی میں موجود ہو۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ذخیرہ اور رسد مرادف الفاظ نہیں ہیں۔ ذخیرے سے مراد کسی شے کی اس تمام مقدار سے ہے، جو ایک خاص وقت پر منڈی میں موجود ہواور رسد سے مراد کسی شے کی اس مقدار سے ہے جو فروخت کے لیے پیش کی جا سکتی ہو۔ اگرچہ منڈی میں حقیقتہً موجود نہ ہو۔ لہٰذا ممکن ہے کہ رسد ذخیرے کا ایک تھوڑا سا حصہ ہو۔ مثلاً جب کسی شے کی قیمت کم ہو تو دکاندار قدرتاً اس شے کا سارا ذخیرہ نہیں بلکہ اس کا تھوڑا سا حصہ فروخت کے لیے پیش کریںگے، جو اس صورت میں رسد کہلائے گا۔ جب قیمت برھے گی وہ پہلے کی نسبت ذخیرے کی زیادہ مقدار فروخت کے لیے پیش کریں گے۔ غرض کہ قیمت کی زیادتی کے ساتھ ذخیرہ رسد کی صورت میںمنتقل ہوتا جائے گا۔ برخلاف اس کے یہ بھی ممکن ہے کہ کسی منڈی میں رسد کی مقدار ذخیرے کی مقدار سے زیادہ ہو۔ مثلاً تجارتی دلال عموماً اشیاء کی ایک کثیر مقدار غلہ ، روٹی وغیرہ مہیا کرنے کا خریداروں سے معاہدہ کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں مقدار معہودہ اس وقت اوّل تو ہوتی ہی نہیں یا اگر ہوتی ہے تو بہت کم۔ چونکہ خریداروں کی طلب اشیاء کی روزانہ پیداوار سے نہیں بلکہ ان کے ذخیرے سے پوری ہوتی ہے، اس واسطے ممکن ہے کہ اس ذخیرے کی کمی بیشی اشیاء کی قیمت متعارف اور قیمت صحیحہ کے درمیان اختلاف پیدا کردے۔ مثلاً اگر کسی سال کمی رسد کی وجہ سے غلے کی قیمت زیادہ ہی ہے، تو دوسرے سال اس کی کاشت زیادہ ہوگی اور اس مزید ذخیرے کی وجہ سے جو اس طرح پیدا ہوگا ممکن ہے کہ قیمت معمول سے بھی کم ہو جائے۔ لیکن بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر غلے کی رسد کم ہے تو اس کی جگہ مکی بکنی شروع ہو جائے۔ اس صورت میں غلے کے ذخیرے کی کمی بیشی اس کی قیمت متعارف پر کچھ اثر نہیں کر سکتی۔ علیٰ ہذاالقیاس بعض اشیاء ذخیرہ کھا سکتی ہیں۔ بعض میں ذخیرہ کئے جانے کی قابلیت نہیں ہوتی۔ یہ سبب بھی ذخیرے کی قیمت متعارف پر اثر کرتا ہے۔مثلاً بعض اشیاء مچھلی وغیرہ (جو ذخیرہ نہیں کھا سکتی) کی قیمت منڈی میں صبح کچھ ہوتی ہے شام کچھ۔\n۲۔ محنت کی تنظیم اور کلوںکا استعمال جس کی وجہ سے محنت کے لیے کسی اور پیشے اور سرمائے کے لیے کسی اور صورت میں منتقل ہو جانا مشکل ہو جاتا ہے۔ قیمت صحیحہ اور قیمت متعارف کے اختلاف کا دوسرا سبب ہے۔ محقق مارشل فرماتے ہیں کہ :\nجن پیشوں میں سرمایہ قائم کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے ان میں اشیاء کی قیمتیں بہت تغیر پذیر ہوتی ہیں۔\nتمھیں یاد ہوگا کہ طلب و رسد کی توضیح کرتے ہوئے ہم نے کھاد مہیا کرنے والوں کی مثال لی تھی۔ ایسی مثال لینے سے ہماری غرض یہ تھی کہ پیشہ مذکور میں قیمت صحیحہ اور قیمت متعارف کے اختلاف کا یہ دوسرا سبب کچھ اثر نہیں کر سکتا۔ کیونکہ یہاں نہ بڑی کلوں کی ضرورت ہے نہ بڑے ہنر مند پیشہ وروں کی، جن کی محنت کسی دوسرے پیشے میں منتقل ہو سکتی ہو۔\n۳۔ بسا اوقات رسم و رواج اور قانون سے بھی اشیاء کی قیمت متعارف متعین ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پیشہ وروں کے عادات اور ان کے طبائع بھی بعض دفعہ قیمت کی کمی بیشی پر بہت بڑا اثر رکھتی ہیں۔ جب کسی پیشے کے دستکاروں کی یومیہ اُجرت ایک دفعہ مقرر ہو گئی، پھر سالوں تک بالعموم وہی اُجرت مقرر رہتی ہے۔ خواہ دستکاروں کی تعداد پہلے کی نسبت زیادہ ہی کیوں نہ ہو جائے۔ تم نے سنا ہوگا نکاح پڑھانے والے مولوی اپنی خدمت کے عوض بالعموم ۴؍۱ ۱روپیہ ہی لیا کرتے ہیں۔ ایسی صورتوں میں افادت انتہائی کا اصول معطل ہو جاتا ہے اور قیمت رواج سے متعین ہوتی ہے۔ باپ اپنے مریض بیٹے کی زندگی بچانے کے لیے کئی ہزار روپے دینے کے لیے بھی تیار ہوگا۔ مگر رواج کے اثر سے اسے حکیم کو وہی دو روپے نذرانہ دینے ہوتے ہیں۔\nقیمت متعارف اور قیمت صحیحہ کے درمیان جو اختلاف ہوتا ہے اس کے بعض اخلاقی وجوہ بھی ہیں۔ مثلاًبعض دفعہ دکاندار افزائش قیمت کی توقع میں اپنا ذخیرہ اشیاء فروخت کے لیے منڈی میں لاتے ہی نہیں۔ اگرچہ نفع کی امید میں ان کو بسا اوقات نقصان ہی کیوں نہ ہوجائے۔ خوردہ فروشی کی صورت میں ان اخلاقی وجوہ پر غور کرنا اور بھی ضروری ہے۔ ہم نے اُوپر بیان کیا تھا کہ اگرچہ ایک ہی منڈی میں ایک ہی قسم کی اشیاء کی قیمت مساوی ہوتی ہے، تاہم بعض اسباب اس مساوات کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ بالعموم خریدار ایسے ہوشیار نہیں ہوتے کہ اشیاء خریدنے کی اصل وقعت کو سمجھتے بوجھتے ہوں۔ اس واسطے دکاندار انہیں سادہ لوح سمجھ کر وصو کا بھی دے دیا کرتے ہیں اور اس طرح اپنی اشیاء کو دُگنی چوگنی قیمت پر بیچ لیتے ہیں۔ چونکہ ہر دکاندار اس طرح نہیں کرتا، اس لیے کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی منڈی میں ایک ہی قسم کی قیمت میں مساوات قائم نہیںرہتی اس لحاظ سے بعض مصنفین کی رائے ہے کہ خوردہ فروشی کی صورت میں اشیاء کی قیمت مقابلے سے نہیں بلکہ رواج سے متعین ہوتی ہے اور اس وجہ سے یہ امر معمولاً مسلم ہے کہ خوردہ فروشوں کو اصول عدل و اخلاق کی رو سے اپنی اشیا کی قیمت اس قدر لینی چاہیے کہ تجارتی لحاظ سے کم قیمت نہ کی جا سکتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اہل الرائے کے نزدیک خوردہ فروشی اقتصادی اصول پر نہیں بلکہ اخلاقی اصول پر مبنی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خاص خاص حدود کے اندر یہ بات صحیح ہے۔ لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ تجارت کا یہ حصہ بھی مقابلے کے اثر سے معرا نہیں ہے۔\n\nباب دومتجارت بین الاقوام\n\nگزشتہ باب میں ہم نے تعین قدر پر بحث کی ہے۔ اور اس بات کو ثابت کیا ہے کہ اشیاء تجارتی کی قدر قانون طلب و رسد کے عمل پر منحصر ہے۔ مگر اس باب میں ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آیا یہ قانون تجارت کی ہر صورت میں صادق ہے؟ ممکن ہے کہ جب تبادلہ اشیاء ایک ہی ملک کے مختلف حصوں کے درمیان ہوتا ہو تو تعیین قدر اسی قانون کے تابع ہو۔ مگر جب یہ تبادلہ مختلف ممالک اور اقوام کے درمیان ہوتا ہو تو اختلاف حالات کی وجہ سے تعیین قدر کا کوئی اور قانون ہو۔ اس کتاب کے حصہ اوّل میں ہم نے بیان کیا تھا کہ اختلاف حالات کی وجہ سے علمی اصول میں تغیر آ جانا ممکن ہے۔ لہٰذا اب ہمارا مقصد اس امر کی تحقیق کرنا ہے کہ آیا تجارت کی ہر دو مندرجہ بالا قورتوں میں قدر اشیاء کی تعیین ایک ہی اصول کے تابع ہے یا مختلف اصولوں کے تحت۔ مگر پیشتر اس کے کہ اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی جائے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تجارت بین الاقوام کی عام خصوصیات اور اس کے فوائد سے تمھیں آگاہ کیا جائے۔ بعض محققین کی رائے میں تجارت بین الاقوام اس تجارت سے مختلف نہیں ہے جو ایک ہی ملک کے مختلف حصوں کے درمیان ہوتی ہے۔ لہٰذا اس کے لیے کسی نئے اصول کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہی پہلا قانون طلب و رسد یہاں بھی صادق آئے گا۔ یہ حکماء تجارت بین الاقوام پر مختلف اعتراض پیش کرتے ہیں جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:۔\n۱۔ تجارت کبھی مختلف اقوام کے درمیان ہوتی ہی نہیں بلکہ افراد کے درمیان ہوتی ہے جب یہ کہا جاتا ہے کہ انگلستان اور ہندوستان باہم تجارت کرتے ہیں، تو اس کا مفہوم یہ ہوا کرتا ہے کہ ہر دو اقوام میں سے خاص خاص افراد ہیں جو آپس میں تبادلہ اشیاء کرتے ہیں۔ لہٰذا تعیین قدر کا جو قانون تجارت بین الافراد کی صورت میں صحیح ہے وہی تجارت بین المالک کی صورت میں بھی صحیح ہوگا۔\n۲۔ تجارت کی ہر صورت کے لیے تعیین قدرکا ایک منفرد اصول ہونا چاہیے ، جو تمام حالات پر حاوی ہو۔ یہ بات علمی اصول کے خلاف ہے کہ ایک ہی قسم کے واقعات کی توجیہ کے لیے مختلف قوانین وضع کئے جائیں۔\n۳۔ زمانہ حال میں ایجادات کی وجہ سے فاصلہ اور بُعد موانع تجارت نہیں رہے۔ اس واسطے تجارت بین الاقوام یا بین الممالک کو تجارت کی دیگر صورتوں سے متمیّز کرنا صحیح نہیں ہے۔\nاس میں کچھ شک نہیں کہ مختلف ممالک کی تجارتی اغراض میں ایک قسم کی یگانگت ضرور ہے۔ تاہم اقوام و ممالک کا اختلاف ایک ایسا صریح واقعہ ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کسی ایک ملک کی صورت میں یہ صحیح ہے کہ اس کے مختلف حصص کے درمیان محنت اور سرمایہ یا یوں کہو کہ دستکار اور سرمایہ یایوں کہو کہ دستکار اور سرمایہ دار بلا روک ٹوک ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتے ہیں۔ بلکہ اقتصادی لحاظ سے لفظ قوم کی تعریف ہی یہ کی گئی ہے کہ یہ تجارتی اشیاء کے پیدا کرنے والوں کو ایک ایسا مجموعہ ہے جس کے مختلف اجزا کے درمیان محنت اور سرمایہ بلا روک ٹوک حرکت کر سکتے ہوں۔ اس تعریف کی رو سے لفظ قوم کے مفہوم میں دو شرائط داخل ہیں۔\n۱۔ ہر ایک مجموعہ کے افراد کے درمیان سرمایہ اور محنت ایک مقام سے دوسرے مقام میں بلا قید منتقل ہو سکنا۔\n۲۔ ایک مجموعے کے دستکاروں یا کارکنوں کا دوسرے مجموعے کی طرف منتقل نہ ہو سکنا۔ یعنی ایک ملک کے دستکاروں یا سرمایہ داروں کا دوسرے ملک میں جا سکنا۔\nمندرجہ بالا اعتراضات کا اصل منشاء زیادہ تر یہی ثابت کرنا ہے کہ خصوصاً زمانۂ حال میں ایک ملک کے دستکار اور سرمایہ دار دوسرے ممالک میں آسانی سے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ فاصلے کی دقتیں جو زمانہ قدیم میں حائل تھیں، اب مختلف اقسام کی ایجادات و تسہیل سفر کی وجہ سے مفقود ہو گئی ہیں۔ ہم اس بات کو کسی حد تک تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن باوجود اس بات کے یہ بھی صحیح ہے کہ سرمائے اور محنت کے ایک مجموعہ افراد یا قوم کی طرف جا سکنے میں چند ایسی مشکلات ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔\nاوّل۔ جغرافی اعتبار سے مختلف ممالک کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے جس کی مقدار بعض دفعہ بہت بڑی ہوتی ہے۔\nدوم۔ مختلف ممالک کی طرز حکومت مختلف ہوتی ہے۔ کہیں مطلق العنان حکومت ہے کہیں جمہوری۔\nسوم۔ مختلف ممالک و اقوام کے مذاہب ، اصول معاشرت و رسوم وغیرہ مختلف ہوتے ہیں۔ غرض کہ اگرچہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مختلف اقوام کے درمیان سرمایہ اور محنت حرکت کر ہی نہیں سکتے۔ تاہم یہ صاف ظاہر ہے اس حرکت میں دقت ضرور ہے۔ اور یہی دقت تجارت بین الاقوام کو تجارت کی دیگر صورتوں سے متمیّز کرتی ہے۔ تم جانتے ہو کہ اگر کسی ملک کے مختلف حصص کے درمیان سرمایہ اور محنت بلا روک ٹوک حرکت نہ کر سکتے ہوں تو اس ملک میں تجارتی مقابلہ مفقود ہوگا۔ اوریہ ظاہر ہے کہ مقابلے کی موجودگی یا عدم موجودگی سے تجارتی اشیاء کی قدر میں تغیر آ جاتا ہے۔جس سے اگرچہ قانون طلب و رسد باطل نہیں ہو جاتا ، تاہم متاثر ضرورہوتا ہے۔ ہم نے ابھی بیان کیا ہے کہ مختلف ممالک کے درمیان سرمایہ اور محنت ازادانہ حرکت نہیں کر سکتے۔ پس مندرجہ بالا اصول کے مطابق تجارت بین الاقوام کی صورت میں مقابلے کی عدم موجودگی کی وجہ سے قانون طلب و رسد کو متاثر ہونا چاہیے۔ موجودہ تحقیقات سے ہمارا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ مندرجہ بالا سبب سے یہ قانون کس طرح اور کہاں تک متاثر ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب آگے چل کر دیا جائے گافی الحال ہم تجارت خارجی کے چند فوائد بیان کرنا چاہتے ہیں۔\nتجارت بیرونی یا تجارت بین الاقوام کے ذریعہ سے ہم وہ اشیاء حاصل کر سکتے ہیں، جو ہمارے ملک میں پیدا نہ ہوتی ہوں۔ یا تو اس وجہ سے کہ ہمارے ملک کی آب و ہوا ان اشیاء کی پیدائش کے لیے ناموافق ہے یا لوگوں میں صنعت و حرفت کی قابلیت ہی نہیں ہے کہ ان اشیاء کو تیار کر سکیں۔ غرض کہ تجارت خارجی سے ہر ملک دیگر ممالک کی پیدا کردہ اشیاء سے بہرہ ور ہو سکتا ہے۔ علاوہ اس کے اس طریق عمل سے محنت اور سرمائے کی کارکردگی بہت بڑھ جاتی ہے۔ مثلاً انگلستان میں لوہا اور کوئلہ اس کثرت سے پایا جاتا ہے کہ وہاں اس کی پیدائش کے لیے دیگر ممالک کی نسبت محنت اور سرمایہ کم صرف ہوتا ہے۔لیکن اس ملک میں ایسی زمین بہت کم ہے جو قابل زراعت ہو۔ وہاں کا غلہ وہاں کے باشندوں کے لیے بھی کافی نہیں ہے اور اگر غلے کی پیدا وار کو زیادہ کرنے کی کوشش کی جائے، تو بہت سی ناقص زمینیں کاشت کرنی پڑیں گی، جس سے غلے کی قیمت بہت گراں ہو جائے گی۔ دیگر ممالک مثلاً فرانس و ہندوستان وغیرہ میں غلہ بافراط پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے اگر انگلستان اپنی اشیاء کا مبادلہ اُن ممالک کے غلہ سے کرے تو سب کو فائدہ ہوگا۔ ایک زمانے میں یہ خیال مروج تھا کہ بیرونی تجارت سے جو فوائد ہوتے ہیں ان کا تخمینہ اس زر نقد سے لگایا جاتا ہے جو ایک ملک سے دیگر ممالک کی طرف منتقل کیا جائے۔ اس بنا پر ہر ملک کے لوگ یہی تقاضا کرتے تھے کہ اشیاء برآمد میں زیادتی ہو اور اشیاء درآمد میں کمی کی جائے۔ کیونکہ اوّل الذکر کی زیادتی سے زر نقد ہاتھ آتا ہے اور موخرالذکر کی زیادتی سے ہاتھ سے جاتا ہے۔ اس غرض کے حصول کے لیے بہت سی تجاویز عمل میں لائی جاتی تھیں۔ برآمد کی مقدار بڑھانے کے لیے انعام دئیے جاتے تھے اور درآمد کی مقدار کو کم کرنے کے لیے طرح طرح کے محصول لگائے جاتے تھے۔ اس طرح مختلف ممالک کے درمیان بجائے اتحاد کے اختلاف پیدا ہوتا تھا۔ اس طریق عمل کو نظام تجارت کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ لیکن اب ایک مدت سے اس کا اصل مغالطہ کھل گیا ہے۔ جس کی توضیح ذیل کی مثال سے ہو سکتی ہے۔ فرض کرو کہ انگلستان اور فرانس کی باہمی تجارت سے صرف یہی مراد ہے کہ انگلستانی لوہے کا مبادلہ فرانس کے غلے سے ہوتا رہے۔ نیز فرض کرو کہ فرانس میں ۲۷ من لوہا پیدا کرنے کے لیے اس قدر محنت اور سرمایہ درکار ہے جس قدر بیس من غلے کے لیے۔ مگر ولایت میں اس قدر سرمایہ اور محنت درکا ر ہے جس قدر دس من غلہ کے لیے۔ اس لیے لوہے کی قدر بلحاظ غلے کے فرانس میں انگلستان کی نسبت دگنی ہے۔ اب اگر انگلستان اور فرانس اور دونوں اشیاء کا باہمی مبادلہ کریں تو دونوں کے حق میں مفید ہوگا۔ اگر فرانس ولایت کے ہر ۲۷ من لوہے کے واسطے ۱۵ من غلہ مبادلے میں دے تو انگلستان کو ۵ من غلہ منافع میں رہے گا۔ علیٰ ہذا القیاس فرانس کو بھی فائدہ ہوگا۔ کیونکہ فرانس ۲۷ من لوہا خود پیدا کرے تو اسے اسی قدر محنت اور سرمایہ صرف کرنا پڑے گا جس قدر ۲۰ من غلے کے پیدا کرنے کے لیے درکار ہے۔ مفروضہ صورت میں اس کو صرف ۵ من غلہ دینا پڑے گا۔ اس لیے دونوں فائدے میں رہیں گے اور کسی کا بھی نقصان نہ ہوگا۔\nاس مثال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خارجی تجارت کے فوائد حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری شرط ہے کہ اشیاء متبادلہ کی قدر اضافی ہر دو ممالک میں مختلف ہو، ورنہ تجارت مذکور کا کچھ فائدہ نہ ہوگا، بلکہ اخراجات بار برداری ضائع ہوں گے۔ مذکورہ اختلاف خارجی تجارت کی مقام شرط ہے اور اصطلاحاً اختلاف مصارف متقابلہ کہلاتا ہے۔ لیکن بعض اہل الرائے کہتے ہیںکہ خارجی تجارت کی اس مقدم شرط سے دو مفرت رساں نتیجے پیدا ہوتے ہیں جن سے گریز نہیںکیا جاسکتا۔\n۱۔ اگر خارجی تجارت اختلاف مصارف متقابلہ پرمبنی ہے تو ممکن ہے کہ بعض ممالک کو دیگر ممالک سے ایسی اشیاء حاصل کرنے میں فائدہ ہو جن کو وہ خود نسبتاً کم مصارف پرپیداکرسکتے ہیں۔\n۲۔ ممکن ہے کہ بعض ممالک خاص خاص اشیاء کا پیدا کرنا ترک کر دیں جن کے لیے وہ قدرتاً یا دیگر اسباب کی وجہ سے نسبتاً زیادہ موزوں ہیں اور یہ سمجھیں کہ ان خاص اشیاء کو دیگر ممالک سے تبادلے میں حاصل کرنا زیادہ مفید ہے۔ ان ہر دو نتائج کا مفہوم ایک مثال سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ فرض کرو کہ الف اور ب دو مختلف ممالک ہیں اور ن اور ق دو اشیاء ہیں جن کے پیدا کرنے کے لیے ہر ملک بجائے خود ایک خاص قابلیت رکھتا ہے نیز فرض کرو کہ الف کی قوت پیداوار ۲ ن یا ۳ ق ہے اور ب کی ۱ ن یا ۲ ق ہے ظاہر ہے کہ اگر دونوں کے درمیان کوئی تبادلہ نہ ہو تو کل پیداوار ۳ن+ ۵ ق ہو گی۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ ن ق سے قدر میں زیادہ ہے۔ کیوں کہ ملک الف میں دونوں کے پیدا کرنے کے لیے اس قدر محنت اور سرمایہ درکار ہے جس قدر ۳ ق کی پیدائش کے لیے اور ملک ب میں ایک ن کی پیدائش کے لیے اس قدر سرمایہ درکار ہے جس قدر ۲ ق کے لیے۔ لہٰذا ملک الف کے لیے تجارتی لحاظ سے بھی مناسب ہے کہ وہ صرف ن ہی پیدا کرے اور ب کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ صرف ق ہی پیدا کرے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ظاہر ہے کہ ملک الف کو دونوں اقسام کی اشیاء کی پیدائش میں سہولت ہے اور نیز ق کی پیدائش میں بہ نسبت ن کے اس کو زیادہ سہولت ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ان نتائج کو کسی حد تک تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمام خارجی تجارت اس قسم کی نہیں ہوتی جیسی کہ مثال بالا میں فرض کی گئی ہیں۔ بالعموم ہر ملک ایسی اشیاء ہی تبادلے میں لیتا ہے جن کا پیدا کرنا قدرتی طور پر یاد یگر اسباب کی وجہ سے اس ملک کے لیے مشکل ہو۔ پس خارجی تجارت کا سب سے پہلا فائدہ یہ ہے کہ اس سے ہر ملک مستفید ہوتا ہے۔ علاوہ اس کے کئی دیگر فوائد بھی اس سے پیدا ہوتے ہیں جو مختصراً مندرجہ ذیل ہیں:۔\n۱۔ خارجی تجارت کی وساطت سے ہر ملک کو بغیر کاوش کے ایسی اشیاء دستیاب ہو سکتی ہیں جن کو یہ بغیر دقت کے پیدا نہ کر سکتا۔\n۲۔ خارجی تجارت انقسام محنت کی ایک صورت ہے جس سے ہر ملک ان اشیاء کی تیاری میں اپنا سرمایہ صرف کرتا ہے جن کے پیدا کرنے کے لیے وہ خصوصیت سے موزوں ہے اور جن کی تیاری سے فائدہ کی زیادہ سے زیادہ مقدار حاصل ہو۔\n۳۔ خارجی تجارت کی وساطت سے اشیاء کی فروخت کے لیے منڈیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔\n۴۔ خارجی تجارت کی وساطت سے مختلف اقوام کے دستکار اپنی اپنی ہنر مندی میں بے انتہا ترقی کر سکتے ہیں۔\n۵۔ خارجی تجارت سے مختلف اقوام کا میل جول ہوتا ہے جس سے کئی ایک تمدنی اور اخلاقی فوائد پیدا ہوتے ہیں۔\nخارجی تجارتی کی عام خصوصیات اور فوائد بیان کرنے کے بعد اب ہم اصل سوال کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یعنی وہ کون سے شرائط ہیں جن کے لحاظ سے خارجی تجارت کا منافع تبادلے کے مختلف فریقوں کے درمیان تقسیم ہوتا ہے؟ یا بالفاظ دیگر یوں کہو کہ خارجی تجارت کی خصوصیات ان اشیاء کی قدر پر کس طرح اثر کرتی ہیں جو اس تجارت کا مقصود ہیں؟ یا مختصراً شرح تبادلہ کن اسباب سے متعین ہوتی ہے؟\nتجارت بین الافراد کی صورت میں یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ فریقین تبادلہ کے درمیان شرح تبادلہ کیا ہو گی۔ اس مشکل کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں پورے حالات معلوم نہیںہوتے اور نہ ہو سکتے ہیں۔ بھلا ہمیں کس طرح علم ہو سکتا ہے کہ ایک خاص فرد کو کسی خاص شے کی کس قدر شدید ضرورت ہے۔ لیکن تجارت بین الاقوام کی صورت میں اقوام کی ضروریات کا اندازہ کس قدر ہو سکتا ہے۔ لہٰذا تجارت کی اس خاص صورت میں بھی بشرطیکہ مختلف ممالک کے درمیان سرمایہ ، محنت اور تجارتی اشیاء بلا روک ٹوک آ جا سکتی ہوں۔ تعین قدر کا وہی پہلا اصول صحیح معلوم ہوتا ہے یعنی شرح تبادلہ تجارت بین الاقوام کی صورت میں بھی اس مساوات پر منحصر ہے جو مختلف اقوام کی طلب و رسد اشیاء کے درمیان ہو۔ مثلاً وہ ملک ہیں الف اور ب۔ مقدم الذکر لوہا پیدا کرتا ہے اور موخرالذکر شراب۔ ظاہر ہے کہ اگر الف کو شراب کی زیادہ ضرورت ہے اور ب کولوہے کی اس قدر ضرورت نہیں ہے، تو شراب کی تھوڑی سی مقدار کے عوض میں ب کو بہت سی مقدار لوہے کی دینی ہوگی۔ اس واسطے یہ ممکن ہے کہ کوئی ملک دیگر ممالک سے ایسی اشیاء حاصل کرتا رہے جن کو یہ خود نسبتاً کم مصارف پر پیدا کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ اس کا اپنا سرمایہ اور محنت ایسی اشیاء کے پیدا کرنے میں صرف ہوتے رہیں۔ جن کے پیدا کرنے کے لیے یہ خصوصیت سے موزوں ہے۔ پس ایسی اشیاء کی قدر جن کو ہم دوسرے ملک سے تبادلے میں حاصل کرتے ہیں ان مصارف پرمنحصر نہیں ہے، جو ان اشیاء کو اپنے ملک میں پیدا کرنے سے ہمیں ادا کرنے پڑتے اور نہ یہ ان مصارف پر منحصر ہے جو اس ملک کو ادا کرنے پڑتے ہیں جہاں یہ پیدا کی جاتی ہیں۔ بلکہ یہ قدر ان اشیاء کے مصارف پیدائش پر منحصر ہے جو ہمیں ان کے عوض میں (کرایہ بار برداری کو ملحوظ رکھ کر) دیگر ممالک کو تبادلے میں دینے پڑتے ہیں۔ مثلاً اُوپر کی مثال میں ملک الف میں شراب کی قدر اس لوہے کے مصارف پیدائش پر منحصر ہے جو شراب مذکور حاصل کرنے کی غرض سے تبادلے میں دیا جاتاہے۔\nعام صورتوں میں تو یہ صحیح ہے کہ شرح تبادلہ قانون طلب و رسد کی رو سے ہی متعین ہوتی ہے مگر جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔ تجارت بین الاقوام میں چند ایک ایسی خصوصیات ہیں جن سے یہ قانون متاثر ہوتا ہے۔\nاوّل یہ کہ بعض اوقات فریقین تبادلہ آپس میں اتفاق کر کے ایک خاص شرح تبادلہ مقرر کر لیتے ہیں۔\nدوم۔ اگر اشیاء متبادلہ کی پیداوار قانون تقلیل حاصل کے تابع ہو، تو جب ان کی پیدا وار ایک ملک میں نقطہ تقلیل تک پہنچ جائے گی تو دیگر ممالک ضرورت سے مجبور ہو کر اسی شے کو پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ تجارت بین الاقوام کا دائرہ دن بدن تنگ ہوتا جائے گا۔ جس سے شرح تبادلہ پر ایک نمایاں اثر ہوگا۔\nسوم، بعض حالات یعنی بُعد مسافت اور کثرت مصارف بار برداری وغیرہ کی وجہ سے مختلف اقوام کے درمیان تجارتی مقابلہ مفقود ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کی موجودگی یا عدم موجودگی سے اشیاء تجارتی کی قدر میں تغیر آ جاتا ہے۔ مثال کے لیے فرض کرو کہ فرانس میں نہایت عمدہ کاغذ تیار ہوتا ہے جو ہندوستان اپنی اشیاء کے تبادلے میں اس سے لیتا ہے۔ نیز فرض کرو کہ دیگر ممالک بعض وجوہ سے اس صنعت میں فرانس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس صنعت سے فرانس خاصتہً فائدہ اٹھائے گا۔ مگر جب اور قومیں فرانس کا مقابلہ کرنے کو آمادہ ہو جائیں گی اور کاغذ تیار کریں گی، تو ظاہر ہے کہ کاغذ کی قدر میں فرق آجائے گا اور ہندوستان کو اس مقابلے کی وجہ سے فائدہ ہو گا۔\nچہارم۔ بعض اوقات ایسے موانع پیش آ جاتے ہیں کہ دو مختلف ممالک کے تجار کو تبادلہ اشیاء میں مشکلات ہوتی ہیں مثلاً کثرت مصارف باربرداری ، دلالوں کی دلالی اور محصول درآمد و برآمد۔ ان اسباب سے اشیاء کی قدر میں تغیر آ جاتا ہے اور تجار کے فائدے میں کمی ہو جاتی ہے۔ لہٰذا یہ اسباب بھی شرح تبادلہ پر اپنا اثر کئے بغیر نہ رہیں گے۔ غرض کہ اس قسم کے بعض اسباب اور بھی ہیں جو شرح تبادلہ پر اثر کرتے ہیں۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ قانونِ کلیہ طلب و رسد ان اباب کے اثر سے باطل نہیں ہو جاتا۔ ہاں اس کا عمل ان کے اثر سے متاثر ضرور ہوتا ہے۔ ابھی حال ہی کا ذکر ہے ولایتی شکر ہمارے ملک میں اس کثرت سے آنی شروع ہو گئی کہ ایک روپے کی پانچ سیر بکنے لگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے ملک میں لوگوں نے گنوں کی کاشت ہی چھوڑ دی۔ کیونکہ ولایتی شکر دیسی شکر سے مقابلتاً سستی ملتی تھی۔ یہ حالت دیکھ کر سرکار ہند نے ولایتی شکر پر اب اس قدر محصول درآمد لگا دیا ہے کہ یہ ہماری دیسی شکر سے سستی نہ بک سکے گی۔ اس مثال سے صاف ظاہر ہے کہ ہمارے ملک میں ولایتی شکر کی تعیین قیمت قانون طلب و رسد کا اس قدر دخل نہیں ہے جس قدر کہ سرکار دولت مدار کے حاکمانہ فعل کا۔\nاس ضمن میں یہ بیان کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جب دو ممالک آپس میں تجارت کرتے ہیں تو بسا اوقات ایک ملک دوسرے ملک کا زیر بار ہو جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زیر بار شدہ ملک کی اشیاء برآمد و درآمد کے درمیان مساوات قائم نہیں رہتی۔ کیونکہ اس کو نہ صرف اپنی درآمد کے عوض میں اشیاء بھیجنی پڑتی ہیں۔ بلکہ اپنے قرض کی ادائیگی میں یا تو اپنی اشیاء برآمد میں زیادتی کرنی پڑتی ہے یا مزید روپیہ ادا کرنا پڑتا ہے۔اس وجہ سے ایک ملک میں روپیہ کی مقدار بڑھتی جاتی ہے اور دوسرے میں کم ہوتی جاتی ہے۔ جہاں روپے کی مقدار بڑھتی ہے وہاں اس کی قدر کم ہوتی ہے اور اشیاء کی قیمت بڑھتی ہے۔ لہٰذا وہاں اشیاء کی فروخت سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی برآمد اس کی درآمد سے بہت زیادہ ہے۔ چونکہ ہم اپنی ضروریات کے لیے انگلستان کے محتاج ہیں اس واسطے ہم زیر بار ہیں۔ علاوہ اس کے ہم کو سلطنت ہند کے مصارف، حکام کی تنخواہیں اور فوجی اخراجات وغیرہ ادا کرنے پڑتے ہیں۔ لہٰذا ہمارا ملک دن بدن زیادہ سے زیادہ زیر بار ہوتا جاتا ہے۔ مزید برآں ہمارے ملک میں کئی وجوہ کے باعث (مثلاً خارجی حملہ آوروں کا ہندوستان کی قدیم جمع کردہ دولت کو لوٹ کر لے جانا، اخیر کے مغلیہ بادشاہوں کی عیاشی ، عوام کی ناعاقبت اندیشی اور کمی تعلیم کی وجہ سے روپیہ کی اصل حقیقت سے بے خبری وغیرہ) سرمائے کی مقدار کم ہے۔ انگلستان کے قبضے میں سرمائے کی بے انتہا مقدارہے، اس واسطے ہمارے مالک میں رفاہ عام کے کاموں مثلاً آب باشی وغیرہ میں بھی اس ملک کا سرمایہ صرف ہوتا ہے جس سے انگلستان فائدہ عظیم اٹھاتا ہے۔ اگرچہ ہم کو بھی اس سے فائدہ پہنچتا ہے، جس کی تشریح اس کتاب کے کسی اور باب میں کی گئی ہے۔\nچونکہ انگلستان کے مصارف ہمیں پونڈوں میں ادا کرنے پڑتے ہیں، اس واسطے چاندی کی قدر میں تنزل آ جانے کی وجہ سے ہمیں اور بھی نقصان ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب اجرائے سکہ طلائی کے باعث اس مشکل کا اندیشہ نہیں رہا۔ مگر ہمارے نقصان کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارا ملک صنعت و حرفت کے میدان میں بہت پیچھے ہے اور اہل ملک بسبب کمی تعلیم کے اس ضرورت کو محسوس نہیں کر سکتے۔ ہم صرف وہی اشیاء پیدا کرتے ہیں جو قانون تقلیل حاصل کے زیر اثر ہیں اور صنعتی اشیاء کے لیے دیگر ممالک کے مختاج ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے ہم نے جاپان کی تقلید کر کے صنعت کی طرف کچھ توجہ کی ہے۔ امید ہے کہ یہ تحریک مفید ثابت ہوگی اور اہل ملک کے لیے ہر پہلو سے نتیجہ خیز ہوگی۔ اگرچہ ہم فی الحال اس قابل تو نہیں کہ ہمارے ملک کی تیار کردہ اشیاء یورپ کے بازاروں میں بک سکیں۔ تاہم ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے ہندوستانی بھائی بارہ لاکھ کے قریب مختلف بیرونی جزائر مثلاً ماریشس ، گائینا، فجی ، ٹرینیڈاڈ وغیرہ میں آباد ہیں، جن کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنے سے ہمارے ملک کے تاجر بے انتہا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔\n\nباب ۳زر نقد کی ماہیت اور اس کی قدر\n\nتبادلہ اشیاء انقسام محنت کا لازمی نتیجہ ہے۔ مختلف ممالک بالعموم دہی اشیاء پیدا کرتے ہیں جن کی پیدائش کے لیے ان کی آب و ہوا اور دیگر حالات بالاختصاص موزوں ہوتے ہیں اور اپنی ذاتی ضرورت کی چیزیں ان اشیاء کے تبادلے میں دیگر ممالک سے حاصل کر لیتے ہیں۔ اس قسم کے تبادلے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اشیاء کی قدر کا ایک خاص معیار معین کیا جائے۔ کیونکہ محض مبادلے سے کام نہیں چل سکتا۔ اگر کسی کفش ساز کو ٹوپی کی ضرورت ہو تو ظاہر ہے کہ اسے کسی ایسے کلاہ ساز کی تلاش کرنی چاہیے جس کو جوتی کی ضرورت ہو ورنہ اس کی ضرورت کاپورا ہونا ممکن ہے۔ لہٰذا کسی خاص شے کا تعین بطور معیار قدر ضروری ہے، جس کو ہر فرد تبادلے میں قبول کر سکے۔ مختلف زمانوں اور مختلف قوموں میں اس غرض کے لیے مختلف اشیاء استعمال کی گئی ہیں۔ مثلاً نمک، چاول ، چائے وغیرہ۔ مگر چونکہ ان کے استعمال میں صدہا دقتیں تھیں، اس واسطے ضرورت نے خود بخود ایک ایسی شے دریافت کر لی جو اس غرض کو بوجھ احسن پورا کر سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس غرض کو پورا کر سکنے کے لیے کوئی اس قسم کی شے ہونی چاہیے جو\n۱۔ ذاتی قدر رکھتی ہو۔\n۲۔ آسانی سے منتقل ہو سکتی ہو۔\n۳۔ پرانی ہو جانے سے اس کی قدر میں تغیر نہ آ سکتا ہو۔\n۴۔ چھوٹے چھوٹے حصوں میں منقسم ہو سکتی ہو۔\n۵۔ تھوڑی مقدار میں قدر زیادہ رکھتی ہو۔\n۶۔ اس کی قدر بالعموم یکساں رہتی ہو۔\n۷۔ اس کا کھرا کھوٹا ہونا جلدی پرکھا جا سکتا ہو۔\n۸۔ اس کے سکے آسانی سے بن سکتے ہوں۔\nغور کرنے سے معلوم ہوگا کہ یہ تمام اوصاف بطریق احسن چاندی اور سونے میں پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا دنیا کی مہذب قوموں نے انہی دودھاتوں کو بطور معیار قدر اختیار کر لیا ، جس سے تبادلے کی دقتیں مفقود ہو گئیں۔ ذرا خیال تو کرو اگر حروف نہ ہوتے، تو خیالات انسانی کے اظہار میں کس قدر دقت ہوتی۔ سونے چاندی کو اشیاء سے وہی علاقہ ہے جو حروف کو ہمارے خیالات سے ہے۔ لہٰذا اس معیار کا دریافت ہونا تمدن انسانی کی تاریخ میں ایجاد حروف سے کم وقعت نہیں رکھتا۔\nفرض کرو کسی شراب فروش کو روٹی کی ضرورت ہے اور وہ ایک نان فروش سے کہتا ہے کہ مجھ سے شراب لے لو اور مبادلے میں مجھے روٹی دے دو۔ مگر ممکن ہے کہ نان فروش کو یا تو شراب کی ضرورت ہی نہ ہو یا اگر ہو تو اتنی شراب کی ضرورت نہ ہو جس کی قدر روٹی کی قدر کے مساوی ہو۔ شراب فروش روٹی لے لیتا ہے اور مبادلے میں نان فروش کو اس قدر شراب دے دیتا ہے جس قدر کہ اس کو ضرورت ہے اور بقایا حساب کو بے باق کرنے کے لیے مذکورہ بالا معیار قدر کی کچھ مقدار ادا کر دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر نان فروش کو شراب کی مطلق ضرورت نہ ہوتی تو شراب فروش کو معیار قدر کی زیادہ مقدار ادا کرنی پڑتی۔ اب فرض کرو کہ نان فروش کو شراب کی مطلق ضرورت نہیں ہے بلکہ اسے کپڑے کی ضرورت ہے۔ معیار قدر کی وہ مقدار جو اس نے شراب فروش سے حاصل کی ہے جیب میں ڈال کر بزازکی دکان پر جاتا ہے اور وہاں سے وہ شے حاصل کرتا ہے جس کی قدر اس روٹی کی قدر کے مساوی ہے جو اُس نے شراب فروش کے پاس فروخت کی تھی یا بالفاظ دیگر یوں کہو کہ جو شے اس کو شراب فروش کی طرف سے واجب الادا تھی وہ بزاز نے مہیا کر دی۔ لفظ واجب الادا پر غور کرو کیونکہ اس لفظ میں زر نقد کی پوری حقیقت یا ماہیت مخفی ہے۔ مثال بالا سے واضح ہوتا ہے کہ جب مبادلہ غیر مساوی ہو تو معیار قدر یا زر نقد کی ضرورت پڑتی ہے۔ گویا زر نقد یا معیار قدر اس حق کو علامت ہے جو مبادلہ غیر مساوی کی صورت میں ایک فریق کو دوسرے فریق پر حاصل ہے۔ زمانہ حال میں اس معیا قدر کو زر نقد سے تعبیر کرتے ہیں اور دنیا کی تمام مہذب اقوام نے اس کو اس قسم کے حقوق کی علامت قرار دیا ہے۔ پس زر نقد اس حق کی علامت ہے جو اس شخص کو حاصل ہے جس نے کسی اور شخص کو کوئی شے دی ہے یا اس کی کوئی خدمت کی ہے اور اپنی خدمت یا شے کے مبادلے میں شخص مذکور سے کوئی مساوی القدر شے حاصل نہیں کی یا کوئی مساوی القدر خدمت نہیں لی۔ اس تعریف سے یہ اصول قائم ہوتا ہے کہ زر نقد کی وہ مقدار جو کسی ملک میں متداول ہو حقوق کی اس مقدار کی علامت ہے جو زر نقد کی عدم موجودگی کی صورت میں اس ملک کے درمیان واجب الادا ہوتی یا بطور نتیجہ یوں کہو کہ جس ملک میں یہ حقوق نہیں ہیں وہاں کسی معیار قدر کے تداول کی ضرورت نہیں ہے۔\nزر نقد کی ماہیت کی مزید توضیح کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اعتبار یا ساکھ کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں۔ ساکھ کیا ہے؟ فرض کرو کہ مجھے ایک شے کی ضرورت ہے، لیکن اس کی خرید کے لیے میرے پاس روپیہ موجود نہیں ہے۔ اگر اس شے کے بیچنے والوں کی نگاہوں میں میں ایک معتبر آدمی ہوں تو وہ لوگ میرے اعتبار پر مجھ کو میری ضرورت کی چیز دے دیں گے۔ گویا میں اپنے اعتبار کی وساطت سے وہ شے حاصل کر لوں گاجو زر نقد کی وساطت سے حاصل ہوتی۔ بالفاظ دیگر یوں کہہ کہ وعدہ ادائیگی بھی وہی کام دے سکتا ہے جو زر نقد دتیا ہے جس طرح زر نقد کی ادائیگی ایک قسم کے حق کا تحویل کرنا ہے اس طرح اعتبار کی وساطت سے اشیاء ضرورت کا حاصل کرنا بھی ایک حق کا تحویل کرنا ہے۔ یعنی جس شخص سے میں نے کوئی شے اعتبار پر لی ہے۔ اگر عندالطلب یا کسی مقررہ معیاد کے بعد اس کو کوئی مساوی القدر شے اس شے کے تبادلے یا مبادلے میں نہ دوں گا تو اس شخص کو یہ حق ہو گا کہ وہ قانونی چارہ جوئی کرکے مجھ سے وہ رقم یا شے وصول کرلے۔ مختصراً یوں کہو کہ زر نقد کی طرح اعتبار بھی قوت خرید کا نام ہے اور دونوں ایک قسم کے حقوق ہیں۔ اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ زر نقد اور اعتبار کی ماہیت ایک ہی ہے اور زر نقد اعتبار ہی کی ایک وسیع اور عام تر صورت کا نام ہے۔ لیکن باوجود اس امر کے ان کے درمیان ایک باریک فرق ہے، جس کا سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ علم الاقتصاد میں تمام زر نقد اعتبار ہے۔ لیکن اس قضیے کا عکس سادہ یعنی تمام زرنقد ہے صحیح نہیں ہے۔ کوئی شخص کسی دکاندار کو اس بات پر مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ کسی شے کو زر نقد کے عوض میں یا اعتبار پر فروخت کر ے۔ پس جب کوئی شخص کسی شے کے عوض میں زرنقد یا روپے کی کوئی مقدار لیتا ہے تو حقیقت میں یہ اعتبار ہی کی ایک صورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ اگر اسے یقین نہ ہو کہ میں اس زرنقد کے عوض میں اور اشیاء لے سکوں گا۔ تو وہ اس زرنقد کو کبھی قبول نہ کرے۔ مگر فرض کرو کہ ایک سودا ہوا ہے۔ یعنی ایک شخص نے کسی دوسرے شخص سے کوئی شے قرض خریدی ہے۔ عدل اس امر کا متقاضی ہے کہ مقروض کو اس بات کی اجازت ہو کہ وہ اپنے قرض خواہ کو اپنے قرض کی ادائیگی میں کوئی شے قبول کرنے پر مجبور کر سکے۔ اگر قرض خواہوں کو یہ اختیار ہوتا کہ اپنے قرضوں کی ادائیگی میں جو شے چاہیں قبول کریںتو خیال کرو کسی قدر دقت کا سامنا ہوتا۔ پس ہر ملک کا قانون یہ اصول وضع کرتا ہے کہ اگر کسی نے کچھ قرض لیا ہو تو مقروض اپنے قرض کی ادائیگی میں اپنے قرض خواہ کو کوئی خاص شے قبول کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ یہ خاص شے جس کو ادائیگی قرض کی صورت میں مقروض قرض خواہ کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتا ہے،اصطلاحاً نقد قانونی کہلاتی ہے۔ اس سے یہ نتیجہ ظاہر ہے کہ بعض صورتوں میں بعض اشیاء نقد قانونی ہیں اور بعض میں نہیں۔ انگلستان میں سکہ طلائی ہر صورت میں نقد قانونی ہے۔ لیکن چاندی کا سکہ صرف ۴۰ شلنگ تک ہی نقد قانونی ہے یعنی اگر قرض ۴۰ شلنگ سے زیادہ ہو تو قرض خواہ کو اختیار ہے کہاس سکے کو قبول نہ کرے۔ اگر اس سے کم ہو تو مقروض اسے قانوناً مجبور کر سکتا ہے کہ وہ سکہ سیمیں کو اپنے قرض کی ادائیگی میں قبول کرے۔ مندرجہ بالا تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ زر نقد تجارت اقوام میںتین ضروری مقاصد کو پورا کرتا ہے۔\n۱۔ تبادلہ اشیاء کا ایک وسیلہ ہے۔ جوں جوں تجارت اقوام زیادہ پیچیدہ صورتیں اختیار کرتی جاتی ہے توں توں زر نقد کے استعمال کا یہ مقصد زیادہ واضع اور نمایاں ہوتا جاتا ہے جیسا کہ ہم اُوپر لکھ آئے ہیں تبادلہ اشیاء کے لیے اس کا وجود ایسا ہی ضروری ہے جیسا اظہار خیالات کے لیے زبان کا استعمال۔ تمام ملکوں میں ٹکسالیں قائم ہیں جہاں ارکانِ سلطنت کے اہتمام سے سونے چاندی کے سکے بنائے جاتے ہیں اور ان کی ہر دو طرف وہاں کے شاہی نشانات وغیرہ لگائے جاتے ہیں اور ان سکوں کے بل پر دنیا کی تجارت کا دھندا چلتا ہے۔\n۲۔ زرنقد کا دوسرا مقصد پہلے مقصد سے بطور نتیجے کے پیدا ہوتا ہے۔ یعنی یہ اشیاء کی قدر کا معیار ہے۔ لیکن یہاں ایک اور ضروری سوال پیدا ہوتا ہے۔یعنی زرنقد کی ذاتی قدر کس امر پر منحصر ہے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پیشتر یہ ضروری ہے کہ ہم اصطلاح “زرنقد کی قدر” کا مفہوم ذہن نشین کر لیں۔ کیونکہ مل صاحب نے اس اصطلاح کے سمجھنے میں ایک غلطی کھائی ہے، جو اوروں کو بھی دھوکے میں ڈال سکتی ہے۔ تم کو معلوم ہے کسی شے کی قیمت سے مراد اس شے سے ہے جس کا اندازہ زرنقد یا اعتبار سے کیا جاتاہے پر زرنقد کی قدر سے مراد کسی اور شے سے ہے جو اس زرنقد کے عوض میں دی جائے۔ مثلاً کوئی مادی شے یا خدمت ملازمین یا کوئی اور حق ملکیت کا یا کوئی قرضہ وصول کرنے کا۔ اگر زرنقد کی ایک خاص مقدار کے عوض میں کسی شے کی بہت سی مقدار ملے توظاہر ہے کہ زرنقد کی قدر زیادہ ہے۔کیونکہ اس کے عوض میں دیگر اشیاء کی زیادہ مقدار حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس کے عوض میں دیگر اشیاء کی کم مقدار حاصل ہوتو ظاہر ہے کہ زرنقد کی قدر کم ہے۔ پس معلوم ہوا کہ زرنقد کی قدر اور قیمت اشیاء کے درمیان نسبت معکوس ہے یعنی اگر زرنقد کی قدر زیادہ ہو تو قیمت اشیا کم ہوتی ہے اور اگر قیمت اشیاء زیادہ ہو تو زرنقد کی قدر کم ہوتی ہے۔ لیکن مادی اشیاء کی طرح حقوق (مثلاً کسی شخص سے کوئی خاص رقم وصول کرنے کا حق وغیرہ) قرضے اوراعتبارات بھی تجارت کے دائرہ میں لائے جا سکتے ہیں۔ مثلاً فرض کرو کہ الف نے ب سے پانچ سو روپے قرض لیے ہیں۔ ممکن ہے کہ ج الف کو پانچ سو روپے سے کچھ کم رقم ادا کر کے اس سے حق وصولی قرضہ خرید لیوے اور میعاد مقررہ کے بعد یا عندالطلب ب سے پانچ سو روپے وصول کر لیوے۔ لہٰذا ان حقوق اور اعتبارات کی خرید و فروخت کے لیے بھی ویسا ہی پیمانہ مقرر ہے جیسا مادی اشیاء کی خرید و فروخت کے لیے جیسے غلہ کے لیے من کا پیمانہ ، کپڑے کے لیے گز کا۔ اسی طرح سہولت کے لیے زر نا مسکوک کو بھی مختلف پیمانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن کو سکے کہتے ہیں۔ علیٰ ہذاالقیاس قرضوں اور اعتبارات کی خرید و فروخت کے لیے بھی ایک پیمانہ مقرر ہے۔ یعنی مبلغ سو روپے وصول کرنے کا حق جواب سے ایک سال بعد واجب الادا ہوگا۔ زر نقد کی وہ مقدار جو کسی قرض کا ایک پیمانہ خریدنے کے لیے ادا کی جائے۔ اس پیمانے کی قیمت نقد کہلاتی ہے اور اس کی خرید و فروخت کا بھی وہی حال ہے جو اور اشیاء کا۔ یعنی ایک پیمانہ قرض خرید کرنے کے لیے زر نقد کی مقدار یا قیمت نقد جس قدر کم ادا کرنی پڑے گی اسی قدر زرنقد کی قدر زیادہ ہوگی اور جس قدر زیادہ دینی پڑے گی اسی قدر اس کی قدر کم ہو گی۔ غرض کہ قرضوں اور دیگر حقوق کی خریدو فروخت میں بھی مندرجہ بالا اصول ہی صحیح ہے۔ یعنی زرنقد کی قدر اور قیمت اشیاء کے درمیان نسبت معکوس ہے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ قرضوں کی خرید و فروخت کی صورت میں معمولاً زرنقد کی قدر کا اندازہ قرضے کی اس مقدار سے نہیں کیا جاتا جو اس کے عوض میں خریدی جا سکے۔ چونکہ زرنقد قدرتاً منافع پیدا کرتا ہے۔ اس واسطے ظاہر ہے کہ کسی ایسے قرضے کی قیمت نقد جو اب سے ایک سال بعد واجب الادا ہوگا، اس قرضے کی اصل مقدار سے کم ہونی چاہیے ورنہ خریدنے والے کو فائدہ ہی کیا ہوگا۔ پس زرنقد کی قدر موجودہ یا قیمت نقد منفی اصل زر یا مقدار قرضہ برابر اس منافع کے ہے جو اس قرضے کے خرید نے سے ہوتا ہے۔ اس فرق کو متی کاٹا کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ اب صاف ظاہر ہے کہ جس قدر کسی قرضے کی قیمت نقد بڑھتی یا کم ہوتی ہے اسی قدر متی کاٹا بھی کم ہوتا یا بڑھتا ہے۔ لہٰذا قرضوں کی خرید وفروخت کے متعلق یہ اصول قائم ہوا کہ زرنقد کی قدر اور متی کاٹا کے درمیان نسبت مستقیم ہے، یعنی قیمت نقد کم ہو تو متی کاٹا زیادہ ہوگا اور قیمت نقد زیادہ ہو تو متی کاٹا کم ہوگا۔ مندرجہ ذیل اصول تجارت کی سب شاخوں یعنی قرضوں اور دیگر حقوق کی خرید و فروخت اور اشیاء مادیہ کی خرید و فروخت پر حاوی ہے۔\nزرنقد کی قدر قیمت اشیاء کے ساتھ نسبت معکوس رکھتی ہے اور متی کاٹا کے ساتھ نسبت مستقیم۔\nاب تمہاری سمجھ میں آگیا ہوگا کہ اصطلاح زرنقد کی قدر کے دو مفہوم ہیں۔ اشیاء مادیہ اور حقوق وغیرہ کی خرید و فروخت میں تو اس سے مراد قیمت شے یا حق وغیرہ کی اس مقدار سے ہے جو اس کے عوض میں حاصل کی جا سکے اور قرضوں کی خرید وفروخت میں اس کا مفہوم وہ متی کاٹا یا منافع ہے جو کسی شخص کو کوئی قرضہ خریدنے سے حاصل ہو۔\nاس توضیح کے بعد ہم اپنے اصل سوال کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اسی سوال کی وجہ سے زرنقد کی بحث تبادلے کی ذیل میں آتی ہے، ورنہ دیگر اشیا کی طرح اس کا ذکر بھی باب پیدائش دولت میں کیا جاتا۔ صاف ظاہر ہے کہ زرنقد کی قدر دیگر اشیاء کی قدر کی طرح قانون طلب و رسد کے عمل سے متعین ہوتی ہے۔ تم جانتے ہو دنیا کی تجارت زرنقد کے بل پر ہی چلتی ہے۔ پس جس قدر استعمال زرنقد کے مواقع زیادہ ہوں گے، اسی قدر اس کی مانگ یا طلب بھی زیادہ ہوگی۔ ہاں جب زرنقد کا کام اور وسائل سے لیا جائے مثلاً چکوں وغیرہ سے، تو اس کی طلب کم ہو جاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ زرکاغذی کا استعمال زر نقد کے مواقع استعمال کو کم کرتا ہے۔ کہیں اس غلطی میںنہ پڑ جانا کہ زرنقد کی مانگ یا طلب کا انحصار کسی قوم کی دولت یا اس کی سالانہ پیداوار دولت کی مقدار پر ہے۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر قسم کی دولت تجارت کے دائرے میں آئے۔ علیٰ ہذاالقیاس اشیاء متبادلہ کی مقدار کو بھی اس مانگ سے کچھ واسطہ نہیں۔ کیونکہ بعض اشیاء کا تبادلہ صرف ایک ہی دفعہ ہوتا ہے اور بعض کا کئی کئی دفعہ ہوتا ہے۔ مزید برآں خصوصاً زراعتی ملکوں میں بسا اوقات افراد اپنا کام زرنقد کی وساطت کے بغیر مبادلہ اشیاء سے ہی چلا لیتے ہیں۔ تم شاید یہ کہو گے کہ جب کسی ملک کا سکہ کھوٹا ہو کر یا کسی اور وجہ سے کم حیثیت ہو کر اپنا اعتبار کھو بیٹھتا ہے، تو وہاں کے لوگ اس سکے سے احتراز کرنے کی خاطر مبادلہ اشیاء سے کام چلا لیتے ہیں یا ضرورت کی اشیاء ایک دوسرے سے بدل کر سکوں کے استعمال سے بچ جاتے ہیں۔ یہ خیال صحیح ہے مگر کسی ملک میں یہاں تک نوبت نہیں پہنچ سکتی کہ زرنقد کا استعمال بالکل جاتا رہے۔ ہر ملک میں بشرطیکہ وہاں کے لوگ وحشی ہ ہوں ، کچھ نہ کچھ بطور زرنقد کے ضرور مستعمل ہوتاہے۔ پس زرنقد کی طلب کسی قوم کی دولت یا اس کی پیداوار اور دولت یا اشیاء متبادلہ کی مقدار سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ بلکہ اس کا انحصار زرنقد کے مواقع استعمال پرہے، جو خود مختلف ممالک کی تنظیم ، محنت اور دیگر حالات پر منحصر ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ زرنقد کی مانگ یا طلب محض خیالی امر ہی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک حقیقت ہے۔ تم دیکھتے ہو، لوگ روپے کے عوض میں اپنی اشیاء فروخت کرتے ہیں۔ چیزیں دیتے ہیں اور ان کے عوض زرنقد قبول کرتے ہیں۔ رسد اشیاء کی ایک معین مقدار کی صورت میں جس قدر زیادہ اشیاء زرنقد کے عوض میں ملیں گی، اسی قدر زرنقد کی قدر زیادہ ہو گی یا یوں کہو کہ اشیاء کی قیمتیں کم ہوگی اور جس قدر کم اشیاء زرنقد کے عوض میں ملیں گی،اسی قدر زرنقد کی قدر کم ہوگی۔ یا یوں کہو کہ اشیاء کی قیمتیں زیادہ ہو جائیں گی۔\nزرنقد کی رسد گویا ایک قسم کی قوت ہے جو زرنقد کے تجارتی مقاصد کو پورا کرتی ہے اور جو اس کی مقدار اور سرعت انتقال سے متاثر ہوتی ہے۔ جس قدر زرنقد کی مقدار زیادہ ہوگی اور جس قدر عجلت سے یہ مقدار دست بدست پھر سکے گی، اسی قدر تجارتی مقاصد باحسن وجوہ اتمام پائیں گے۔ اگر زرنقد کی رسد کم ہو جائے تواشیاء کی قیمتیں کم ہو جائیں گی کیونکہ رسد کی کمی سے زرنقد کی قدر بڑھ جائے گی۔ علیٰ ہذاالقیاس اگر رسد زیادہ ہو جائے تو اشیاء کی قیمتیں زیادہ ہو جائیں گی کیونکہ اس صورت میں زرنقد کی قدر کم ہو جائے گی اور اس کے عوض میں اشیاء کی زیادہ مقدار ہاتھ لگے گی۔\nاب زرنقد کے متعلق ایک اور ضروری امر دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی مختلف ممالک اور اقوام کے درمیان زرنقد کی مساوی تقسیم کس طرح ہوتی ہے؟ زرنقد خود بخود ایک ملک سے دیگر ممالک میں منتقل ہوتا ہے اور اس وجہ سے اس کی تقسیم مساوی طور پر ہو جاتی ہے۔ فرض کرو کہ کسی ملک (الف) میں زرنقد کی مقدار وہاں کے لوگوں کی ضرورتوں سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہاں اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ کیونکہ زرنقد کی زیادتی سے اس کی قدر کم ہو جائے گی۔ اس صورت میں ب اپنی اشیاء ملک الف میں بھیجے گا۔ کیونکہ وہاں قیمتوں کی زیادتی کی وجہ سے فائدے کی توقع ہے۔ اس طریق سے زرنقد ملک الف سے ملک ب کی طرف منتقل ہوتا جائے گا۔ یہاں تک کہ دونوں ملکوں میں اس کی مقدار مساوی ہوجائے گی۔ لیکن ملک الف میں زرنقد کی افراط کی وجہ سے ایک اور نتیجہ بھی پیدا ہوگا۔ یعنی چونکہ اس کی قدر افراط کے سبب سے کم ہوگی ، اس واسطے عام لوگوں کو زرنقد کے جمع کرنے کی تحریک ہوگی۔ مختلف اقسام کی صنعتوں میں چاندی یا سونے کا استعمال (جیسی صورت ہو) بڑھتا جائے گا۔ چاندی کے گلاس، حقوں کی منہا لیں وغیرہ عام ہو جائیں گی۔ مزید برآں وہاں کے لوگ سکوں کو پگھلا کر زر نامسکوک کی صورت میں ان ممالک کی طرف بھیجنا شروع کر دیں گے جہاں سونے چاندی کی قدر زیادہ ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر فرضاً ملک الف میںکھرے سکے کے ساتھ ایک کھوٹا یا کم وزن کا سکہ بھی جاری ہو (تم جانتے ہو مختلف ممالک کے سکوں میں کم و بیش اختلاف ہوتا ہے۔ اکثر سکے استعمال سے ہلکے ہو جاتے ہیں) تو ان دونوں میں سے کسی سکے کو جمع کرنے یا پگھلانے یا دیگر ممالک میں بھیجنے کی تحریک ہوگی؟ چونکہ اس ملک میں زرنقد کی افراط ہم نے فرض کر لی ہے ، اس واسطے ظاہر ہے کہ جو سکہ کھرا یا پورے وزن کا ہوگا لوگ اسی کو جمع کریں گے یا پگھلا کر دیگر ممالک میں بھیجیں گے۔ کھوٹے یا کم وزن سکوں کی نسبت خالص اور پورے وزن کے سکوں کا جمع کرنا یا دیگر ممالک کو بھیجنا زیادہ فائدہ مند ہوگا۔ کیونکہ دیگر ممالک میں سکوں کی قدر دھات کی اس مقدار سے متعین ہوتی ہے جو ان میں شامل ہو۔ اسی صداقت کو گریشم صاحب ایک اقتصادی اصول کی صورت میں یوں پیش کرتے ہیں کہ کھوٹا یا ہلکا سکہ کھرے سکے کو دائرہ استعمال سے خارج کر دیتا ہے اور خود اس کی جگہ لے لیتا ہے۔\nمگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اصول اسی صورت میں صادق آئے گا، جب کہ کسی ملک میں زرنقد کی مقدار لوگوں کی ضرورت سے زیادہ ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو ہلکے یا کھوٹے سکوں اور کھرے سکوں کی قوت خرید میں کوئی فرق نہ ہوگا۔ یہ کلیہ مندرجہ ذیل حالات پر صادق آتا ہے۔\nالف۔ اگر کسی ملک میں صرف ایک دھات سونے یا چاندی کا کھرا سکہ متداول ہو اور اُس کے ساتھ کوئی مغشوس کھوٹا یا ہلکا سکہ بھی متداول رہنے دیا جائے تو کچھ عرصے میں کھرے سکے کی تمام مقدار دائرہ استعمال سے خارج ہو جائے گی اور اور صرف کھوٹا سکہ ہی استعمال میں رہے گا۔ کھرے سکے کا یا تو لوگ جمع کرتے جائیں گے یا پگھلا کر رکھتے جائیں گے یا دیگر ممالک سے اشیاء ضرورت کے خرید نے میں صرف کرتے جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ اگر کسی ملک میں گز کے دو پیمانے جاری ہوں ایک تین فٹ اور ایک دو فٹ کا تو کپڑے کے دکاندار قدرتاً دو فٹ والے پیمانے کے حساب سے اپنا کپڑا فروخت کریں گے۔ یعنی دو فٹ والا گز تین فٹ والے گز کو دائرہ استعمال سے خارج کر دے گا۔\nب۔ اگر کسی ایک ملک میں دو مختلف دھاتوں مثلاً سونے اور چاندی کے سکے ایک غیر محدود مقدار میں اکٹھے متداول ہوں اور قانونی طور پر ان کے درمیان ایک ایسی نسبت مقرر کر دی جائے جو ان کی حقیقی قدروں کی درمیانی نسبت سے مختلف ہو(یعنی کم یا زیادہ ہو) تو جس سکے کی قدر اس کی حقیقی قدر سے کم ہو گی وہ دائرہ استعمال سے خارج ہو جائے گا اور جس کی زیادہ ہوگی وہی متداول رہے گا۔ مثال کے طور پر فرض کرو کہ ایک ملک میں دو سکے غیر محدود مقدار میں متداول ہیں۔ ایک سونے کی مہر اور دوسرا چاندی کا روپیہ اور ان کی اضافی قدر اس طرح پر ہے کہ ایک مہر مساوی بیس روپے کے ہے۔ نیز فرض کرو کہ مہر کی قانونی قدر بیس روپیہ ہے یا بالفاظ دیگر بیس روپے کو چلتی ہے لیکن اس میں سونا اٹھارہ روپے کا ہے۔ علیٰ ہذاالقیاس چاندی کے روپے کی قانونی قدر اس کی حقیقی قدر سے کم ہے تو اس صورت میں اصول مندرجہ بالا کی رو سے روپیہ کا سکہ دائرہ استعمال سے خارج ہو جائے گا اور صرف مہر متداول رہے گی۔ لوگ اپنی خرید و فروخت اور قرضوں کی ادائیگی قدرتاً مہر کی وساطت سے کریں گے۔ کیونکہ اس کی اصل قدر تو اٹھارہ روپے ہے اور کام بیس روپے کا دیتی ہے۔ چاندی کے سکوں کو لوگ پگھلا کر زر نامسکوک کی صورت میں جمع کریں گے یا دیگر ممالک میں بھیجیں گے۔ کیونکہ ان کی قدر دھات کی اس مقدار سے متعین ہوگی جو ان میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ۱۷۶۶ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال میں چاندی کے سکے کے ساتھ سونے کا سکہ بھی جاری کیا، تو اس کارروائی میں ناکامیابی ہوئی اور سکہ مذکور چل نہ سکا۔کیونکہ کمپنی کی مہر کی قانونی قدر چودہ روپیہ کے برابر مقرر کی گئی تھی، جو اس کی حقیقی قدر سے بہت کم تھی۔ ۱۷۶۹ء میں کمپنی مذکور نے پھر ایک طلائی مہر جاری کی لیکن پھر ناکامی ہوئی۔ آخر کار یہ فیصلہ ہوا کہ بنگال میں صرف ایک ہی دھات کا سکہ متداول رہنا چاہیے اور اس غرض کے لیے چاندی انتخاب کی گئی۔ اب کچھ عرصہ سے سرکار ہند نے اس ملک میں سونے کا سکہ بھی متداول کر دیا ہے جس کی وجہ ابھی معلوم ہوگی۔\nج۔ مندرجہ بالا دو مقدمات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر ایک ملک میں سونے کا سکہ متداول ہو اور دوسرے میں چاندی کا، تو ان کے درمیان ایک ہی نسبت تبادلہ قائم نہیں رہ سکتی۔ بلکہ چاندی اور سونے کی قیمت کے تغیر کے ساتھ ساتھ متغیر ہوتی رہتی ہے وجہ یہ ہے کہ سکے خواہ سونے کے ہوں خواہ چاندی کے ہوں، خارجی ممالک میں اپنی حقیقی قدر کے لحاظ سے قبول کئے جاتے ہیں۔ ہمارے ملک کے روپے کی حقیقی قدر صرف گیارہ آنے کے برابر ہے۔ اگرچہ قانوناً اس کی قدر سولہ آنے کے برابر مقرر کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہندوستان میں تو ہر شخص اسے سولہ آنے کے عوض میں قبول کرے گا۔لیکن کوئی وجہ نہیں کہ دیگر ممالک کے لوگ بھی اس کے عوض میں سولہ آنے ہی دیں۔ وہ اس کے بدلے اس کی حقیقی قدر یعنی گیارہ آنے ہی ادا کریں گے۔\nیہ کلیہ اصول جو ہم نے بیان کیا ہے علم الاقتصاد کی کتابوں میں قانون گریشم کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس کے نتائج بڑے اہم ہیں اور یہ ایک بڑی ضروری اقتصادی بحث میں کام آتا ہے۔ محققین کے درمیان یہ بحث مدت سے چلی آتی ہے کہ آیا تمام دنیا کے ممالک کو یا کسی ایک ملک کو ایک ہی دھات کا سکہ بطور معیار قدر کے متداول رکھنا چاہیے یا اقتصادی لحاظ سے دو مختلف دھاتوں کے سکے بطور معیار قدرکے اکٹھے متداول رہ سکتے ہیں۔ ایک فریق تو یہ کہتا ہے کہ تمام ملک یا کسی ایک ملک میں اصل معیار قدر تو ایک ہی رہنا چاہیے جس سے سرکار اور تجارت کے بڑے بڑے معاملے طے ہوا کریں لیکن روز کی معمولی چھوٹی چھوٹی خرید و فروخت کے لیے اور دھاتوں کے سکے متداول رہنے چاہئیں۔ دوسرا فریق یہ کہتا ہے کہ دو مختلف دھاتوں کے سکے بطور معیار قدر کے متداول رہ سکتے ہیں اور رہنے چاہئیں۔\nاس طریق عمل میں اقتصادی لحاظ سے کوئی نقصان نہیں ہے۔ بشرطیکہ مختلف ممالک اتفاق کر کے دونوں دھاتوں کی اضافی قدروں کے درمیان ایک خاص نسبت مقرر کر دیں۔ اس طویل مگر ضروری بحث کو ہم یہاں چھیڑنا نہیں چاہتے، لیکن اس قدر ظاہر ہے کہ قانون مذکورہ بالا کی رو سے دونوں دھاتوں کی اضافی قدروں کے درمیان کوئی نسبت مقرر نہیں رہ سکتی بلکہ چاندی اور سونے کی قدروں کے تغیر کے ساتھ ساتھ متغیر ہوتی رہتی ہے۔ تم شاید یہ کہو گے کہ سرکار ہند نے اس صحیح اصول کے خلاف کیوں عمل کیا ہے؟ یعنی ہندوستان میں کیوں دو معیار قدر جاری ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سونے کا سکہ عام استعمال کے لیے نہیں ہے۔ ہم پہلے اشارۃً ذکر کر آئے ہیں کہ ہمیں انگلستان کو جو رقم سالانہ ادا کرنی پڑتی ہے،وہ پونڈوں کے حساب سے دینی ہوتی ہے۔ اس واسطے جب چاندی کی قدر میں کسی باعث سے کمی ہو جاتی تھی (بالعموم سونے کی نسبت چاندی کی قدر میں زیادہ تغیر آتے ہیں) تو ہمارے ملک کی مالگذاری کو نقصان پہنچتا تھا۔ کیونکہ جہاں پہلے ایک پونڈ کے عوض دس روپے دینے پڑتے تھے، چاندی کی قدر کم ہو جانے کی وجہ سے ایک پونڈ کے عوض میں ۱۵ روپے دینے پڑتے تھے۔ اس کے علاوہ بڑے بڑے تاجروں کو بھی نقصان پہنچتا تھا۔ اسی دقت کو محسوس کر کے ہماری سرکار نے یہاں بھی سونے کا سکہ جاری کر دیا۔ چونکہ یہ سکہ عام طور پر مستعمل نہیں ہے اور ہو ہی کس طرح سکتا ہے؟ کیونکہ اس ملک کے لوگ اس قدر غریب ہیں کہ یہاں کوڑیاں بھی بطور سکے کے مستعمل ہوتی ہیں۔ اس واسطے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ایک ہی معیار قدر یعنی چاندی کا روپیہ جاری ہے۔ اس طریق عمل سے ہم ان نقصانات سے جو ایک ہی معیار قدر کے تداول سے پیدا ہوتے ہیں مامون ہیں۔ لیکن وہ بڑے بڑے فوائد جو دو معیار قدرکے تداول سے پیدا ہوتے ہیں ہمیں حاصل ہیں۔\n۳۔ تیسرا مقصد زر نقد کا یہ ہے کہ نقد مذکور ادائیگی غیر موجل کا معیار ہے۔ فرض کرو کہ الف اور ب نے آپس میں ایک معاہدہ کیا ہے۔ الف نے ب کو کسی قسم کا سامان دیا ہے اور ب اس کے عوض میں معاہدہ کرتا ہے کہ بیس سال کے بعد دس ہزار روپیہ اس سامان کے عوض میں ادا کرے گا۔ فرض کرو کہ اس عرصہ میں روپیہ کی قدر میں ایک بہت بڑا تغیر آ گیا ہے، یعنی جو چیز معاہدہ کے وقت آٹھ آنے کی بکتی تھی، اب ایک روپیہ کو ملتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ قرض کی ادائیگی میں الف گھاٹے میں رہے گا اور ب بہت فائدہ میں۔ اس قسم کی اور صورتوں کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ معیار قدر کوئی ایسی شے ہونی چاہیے جس کی قدر میں تغیر نہ آتا ہو یا کمی بیشی نہ ہوتی ہو۔ ایسی شے تو شاید دنیا بھر میں کوئی نہ ملے۔ ہاں بعض اشیاء کی قدر میں دیگر اشیاء کی نسبت کم تغیر آتا ہے انہی میں سے سونا اور چاندی دو دھاتیں ہیں، جو بالعموم اپنی قدر میں یکساں رہتی ہیں۔ اگرچہ بعض دفعہ ان کی قدر میں بھی تغیر ہو جانے سے دقتوں کا سامنا ہوا ہے۔ تاہم نسبتاً ان کی قدر تغیر سے آزاد رہتی ہے۔ لہٰذا یہ ان قرضوں کی ادائیگی کی صورت میں بھی کام دے سکتی ہیں جن میں مدت کو دخل ہے۔ بعض محققین ان مشکلات سے بچنے کے لیے جو زرنقد کی قدر کے تغیر سے پیدا ہوتی ہیں یہ تجویز کرتے ہیں کہ ادائیگی غیر معجل یا ایسی ادائیگی کی صورت میں جس میںمدت کو دخل ہے، معیار قدر غلہ کو قرار دینا چاہیے۔ مگر یہ رائے قرین صواب نہیں معلوم ہوتی۔ کیونکہ عام لوگوں کو سونے چاندی کے ساتھ ایک خاص قسم کا انس اور دل بستگی پیدا ہو گئی ہے، جس کا دور کرنا مشکلات سے ہے۔ بعضوں نے ان مشکلات سے بچنے کی اور تجاویز بھی پیش کی ہیں، جن کا اس کتاب میںبیان کرنا کچھ ضروری معلوم نہیں ہوتا۔\n\nباب ۴حق الضرب\n\nاس باب میں ہم ایک سوال پر بحث کرنا چاہتے ہیں جس کا فیصلہ گزشتہ اقتصادی اصولوں پر انحصار رکھتا ہے لیکن مبتدی کو خبردار رہنا چاہیے کہ یہ سوال نہایت پیچیدہ ہے اور اس کا پورا مفہوم سمجھنے میں بڑے بڑے غلط استدلالات سے کام لیا گیاہے۔ لہٰذا اس خارستان میں قدیم رکھنے سے پیشتر اپنا دامن سنبھال لینا چاہیے اور ان تمام گڑھوں سے واقف ہو جانا چاہیے، جنہوں نے دنیا کے بڑے بڑے تجربہ کار منطقیوں اور مصنفوں کو منہ کے بل گرا دیا ہے۔ ایک محقق تحریر فرماتے ہیں کہ جو مصنف زر نقد کے خطرناک مضمون کو چھوتا ہے، وہ ہر لحظہ معرض خطر میں ہے کیونکہ استدلال اغلاط شیر اور چیتوں کی طرح اس کے گھات میں لگے رہتے ہیں۔ اس اندیشہ کو مد نظر رکھ کر ہم اس بحث کو ایک اقتصادی اصطلاح کی تشریح سے شروع کرتے ہیں۔ کیوں کہ اس دقیق مضمون کی تفہیم کے لیے یہی راہ آسان اور محفوظ معلوم ہوتی ہے۔ مبتدی کو لازم ہے کہ ہر جملے اور اصطلاح کے معانی کا مل طور پر ذہن نشین کرتا جائے، ورنہ وہ اس اہم اقتصادی بحث کی غرض و غایت اور اس کے نتائج سے پوری آگاہی حاصل نہ کر سکے گا۔\nہر ملک میں یہ امر قانونی طور پر فیصلہ پاتا ہے کہ زر نامسکوک یا سونے چاندی کی کسی خاص مقدار کے کس قدر سکّے گھڑے جائیں۔ مثلاً انگلستان کے موجود وہ قانون کی رُو سے ۴۰ پونڈ سونے کے ۱۸۶۹ سکّے بنائے جاتے ہیں، جو ساورن کے نام سے موسوم کئے جاتے ہیں۔ سکّوں کی یہ تعداد جن میں زرنا مسکوک کی کوئی مقدار قانوناً منقسم کی جاتی ہے اس مقدار کی قیمت ضربی کہلاتی ہے۔ اس تعریف سے ظاہر ہے کہ جب تک کوئی سکّہ قانونی لحاظ سے پورے وزن کا ہو اس کی قدر ہمیشہ اپنے وزن زرنامسکوک کی قدر کے مساوی ہوتی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ کچھ عرصہ کے روز مرّہ استعمال سے سکوں کا وزن قانونی سے کم ہو جاتاہے۔ بالعموم خرید و فروخت میں لو گوں کواس کی پروا نہیں ہوتی کہ کوئی سکہ وزن کا پورا ہے یا کم ہے۔ اس واسطے ممکن ہے کہ بہت عرصہ تک متداول رہنے سے بعض سکّوں کا وزن سے کم ہو جائے اور بیع و شریٰ میں ان کی قدر وہی تصور کی جائے جو قانوناً مقرر ہے۔ مثلاً فرض کرو کہ کسی سکّے میں سولہ آنے کی چاندی ہے اور سولہ آنے کو ہی چلتا ہے۔ ممکن ہے کہ کثرت استعمال سے اس کا وزن کم ہو جائے یعنی اس کی چاندی پندرہ آنے کی رہ جائے لیکن بیع و شریٰ میں سولہ آنے کو ہی چلتا رہے۔ عام خرید و فروخت میں سکوں کے وزن کی کمی کچھ اثر نہیں کرتی۔ لیکن جب ان کا تبادلہ زرنامسکوک سے کیا جائے تو یہ اثر ظاہر ہوتا ہے۔ کیونکہ اس صورت میں زر نامسکوک اس قدر ملے گی جس قدر سکوں کا موجودہ وزن ہے۔ اگر کثرت استعمال سے ان کا وزن قانونی وزن سے کم ہو گیا ہے تو ظاہر ہے کہ زر نامسکوک کی کوئی خاص مقدار تبادلے میں لینے کے لیے سکوں کی زیادہ تعداد دینی پڑے گی۔ پس متداول سکوں کی وہ تعداد جو حقیقی طور پر زر نامسکوک کی کسی مقدار کی ہم وزن ہے۔ مقدار مذکور کی قیمت متعارف کہلاتی ہے اور چونکہ کمی وزن کی صورت میں زر نامسکوک کی کسی مقدار کے عوض میں متداول سکوں کی زیادہ تعداد دینی پڑتی ہے۔ اس واسطے ظاہر ہے کہ قیمت متعارف قیمت ضربی سے زیادہ ہوگی۔ مثلاً فرض کرو کہ چاندی کی قیمت ضربی پانچ شلنگ دو پنس اونس ہے اور قیمت متعارف چھ شلنگ ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ سکّہ متداول کے چھ شلنگ زر نامسکوک کی مقدار کے ہم وزن ہیں، جس کاہم وزن پانچ شلنگ دو پنس کو ہونا چاہیے تھا۔ اگر ان کا وزن کثرت استعمال کے باعث قانونی وزن سے کم نہ ہو جاتا۔ لہٰذا ظاہر ہے کہ زر نامسکوک کی قیمت متعارف کا اس کی قیمت ضربی سے بڑھ جانا سکّے کی کم قدر ہو جانے پر دلالت کرتا ہے۔ اس توضیح سے سکّہ زنی کے متعلق دو ضروری اصول پیدا ہوتے ہیں۔\nالف۔ جب زر نامسکوک کی قیمت متعارف اس کی قیمت ضربی سے بڑھ جاتی ہے، تو اس سے صرف یہی ثابت نہیں ہوتا کہ سکّے کی قدر کم ہو گئی ہے، بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سکّہ مذکور کی قدر کہاں تک کم ہوتی ہے۔ بالفاظ دیگر یوں کہو کہ (زر نامسکوک کی قیمت متعارف۔ زر نامسکوک کی قیمت ضربی) = اس وزن کے ہے جو سکّہ متداول کی کثرت استعمال سے زائل ہو گیا ہے۔\nب۔ قیمت ضربی کی تعریف سے مندرجہ ذیل اصول بطور نتیجے کے پیدا ہوتا ہے۔ زر نامسکوک کی قیمت ضربی کا بدلنا حقیقت میں سکوں کے قانونی وزن کا بدلنا ہے۔\nاگر کوئی شخص یہ کہے کہ زر نامسکوک کی قیمت ضربی مختلف حالات میں مختلف ہو سکتی ہے، تو یہ صریحاً غلط ہے۔ کیا اگر ایک من شراب کو جو کسی مٹکی میں رکھی ہو، بہت سے بوتلوں میں ڈال دیا جائے تو شراب کی مقدار بدل جائے گی؟ ہر گز نہیں۔ بہت سے حصوں میں منقسم ہو جانے سے اس کی مقدار میں فرق نہیں آ سکتا۔\nاس تشریح کے بعد اب ہم اصل مطلب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ تم کو شاید معلوم ہے کہ سرکار سکّہ زنی کے متعلق ایک خاص قسم کا حق رکھتی ہے جس کو حق الضرب کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ اس حق سے مراد زر نامسکوک کی اس مقدار سے ہے جو سرکار بطور مصارف سکہ زنی کے لیتی ہے۔ مثلاً فرض کرو کہ ایک روپے کے مصارف سکّہ زنی دو آنے ہیں۔ سرکاری ٹکسال دو آنے وضع کرنے کی خاطر روپے میں چودہ آنے کی چاندی ڈال کر اپنے مصارف سکّہ زنی نکال لے گی۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ حق الضرب دو قسم کا ہوتا ہے۔\n۱۔ جب کہ حق الضرب مصارف سکّہ زنی کے برابر ہو۔ اس صورت میں سرکار کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ جس قدر سرکار کا خرچ ہوتا ہے اسی قدراسے ملتا ہے۔ بعض ممالک میں حق الضرب بالکل نہیں لیا جاتا۔ مثلاً انگلستان کی ٹکسال پونڈ میں پورے بیس شلنگ کی قیمت کا سونا ڈالتی ہے۔ بعض ممالک میں رعایا کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ حق الضرب ادا کرکے یا اس کے بغیر جیسا قانون ہو سرکاری ٹکسال سے اپنے سونے یا چاندی کے ٹکڑے سکوں کی صورت میں منتقل کروا لے۔ چنانچہ انگلستان میں سونے کے سکوں کے متعلق رعایا کو یہ حق حاصل ہے کہ بغیر حق الضرب ادا کرنے کے سونے کے ٹکڑوں کو ٹکسال سے پونڈوں کی صورت میں منتقل کروالیں۔ ۱۸۹۴ء سے پہلے ہندوستان کی رعایا کو بھی یہ حق حاصل تھا۔ اب کسی خاص مصلحت کی وجہ سے جس کا ذکر ابھی آئے گا۔ اس ملک کی ٹکسال رعایا کے لیے بند ہے اور سرکار صرف اسی قدر سکے بناتی ہے جس قدر اس ملک کی ضروریات کے لیے کافی ہو۔\n۲۔ جب کہ حق الضرب مصارف سکہ زنی سے زیادہ ہو۔ اس صورت میں سرکار سکہ زنی سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ مثلاً ہمارے ہندوستان میں روپیہ سولہ آنے پر چلتا ہے۔ حالانکہ اس میں چاندی صرف گیارہ آنے کی ہوتی ہے۔ گویا سرکار کو فی روپیہ پانچ آنے فائدہ ہوتا ہے۔ علیٰ ہذالقیاس ایک پیسے میں تانبا شاید سات کوڑی کا بھی نہ ہوتا ہو۔ ہم ان دونوں طریقوں پر بالترتیب بحث کریں گے۔\nاوّل صور ت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا کسی سکے کی قدر زر نامسکوک کی اس مقدار کی قدر کے مساوی ہونی چاہیے جو اس سکے میں شامل ہے۔ یا مقدار مذکور کی قدر میں مصارف سکہ زنی بھی شامل ہونے چاہئیں۔ بالفاظ دیگر یوں کہوںکہ اگر ایک روپیہ کے مصارف سکہ زنی دو آنے ہوں۔ تو کیا روپے میں ۱۴ آنے کی چاندی ڈال کر اس کی قدر ۱۶ آنے کی برابر ہی مقرر کرنی چاہیے یا ۱۶ آنے کی چاندی ڈال کر اس کی قدر ۱۶ آنے کے برابر ہی مقرر کرنی چاہیے۔ ظاہر ہے کہ پہلی صورت میں سرکار کو اپنے مصارف سکّہ زنی کا بابت ۲ آنے مل جائیں گے۔ مگر دوسری صورت میں یعنی جب کہ روپے میں ۱۶ آنے کی چاندی ہو سرکار کو بطور مصارف سکّہ زنی کچھ ملے گا۔ یہ ایک بحث طلب معاملہ ہے۔ بعض حکماء کہتے ہیں کہ سرکار کو کچھ حق ضرب نہ لینا چاہیے۔ یا یوں کہو کہ ن کی نزدیک مصارف سکّہ زنی کی خاطر اس کی حقیقی قدر سے زیادہ قدر پر چلانا اقتصادی لحاظ سے مضر ہے۔ مگر بعض حکماء کے نزدیک مصارف سکّہ زنی کے برابر حق ضرب لے لینے میں کوئی ہرج نہیں۔ ان کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں۔\n۱۔ ایک قینچی کی قیمت اس کے ہم وزن لوہے کی قیمت سے زیادہ ہوتی ہے، اس واسطے کوئی وجہ نہیں کہ کسی سکّے کی قدر اپنے ہم وزن زر نامسکوک کی قدر سے زیادہ نہ ہو۔ سونا یا چاندی اپنی نامسکوک حالت میں اس قدر مفید نہیں ہوتے، جس قدر کہ سکوں کی صورت میں ہوتے ہیں۔ لہٰذا عقلاس امر کی متقضی ہے کہ جب زر نامسکوک سکوں کی صورت میں منتقل کر دیا جائے، تو اس کی قدر بھی بڑھ جائے گی، جیسا کہ لوہے کے ٹکڑے کی قدر ایک زنجیر یا تلوار کی صورت میں منتقل ہو جانے سے بڑھ جاتی ہے۔\n۲۔ اگر کوئی حق ضرب نہ لیا جائے یا بالفاظ دیگر یوں کہو کہ اگر سکّے کی قدر زر نامسکوک کی قدر کے برابر ہو جو اس میں شامل ہے، تو عوام کو جب زر نامسکوک کی ضرورت لاحق ہو گی سکوں کو پگھلا لیا کریں گے اور جب سکوں کی ضرورت ہو گی اسی زر نامسکوک کو سرکاری ٹکسال سے پھر سکوں کی صورت میں منتقل کرا لیا کریں گے۔ یہ عمل بار بار ہوتا رہے گا۔ جس سے سرکار کو بے جا نقصان ہوگا۔ کیونکہ سرکار کو بغیر مصارف سکّہ زنی لیے سکے بنانے پڑیں گے۔ یہ دلیل واقعی زبر دست ہے مگر باوجود اس بات کے دنیا کے بعض بڑے بڑے تجارتی ملک مثلاً انگلستان وغیرہ حق ضرب نہیں لیتے۔ وجہ یہ ہے کہ اس میں بھی ایک فائدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جب انگلستان میں سکّے کی مقدار تجارتی ضرورتوں سے زیادہ ہو جاتی ہے(تجارتی ملکوں میں اکثر ایسا ہو جاتا ہے) تو اس افراط کے باعث ان کی قدر کم ہونے نہیں پاتی۔ یا یوں کہو کہ انگلستان میں اشیاء کی قیمتیں زیادہ نہیں ہونے پاتیں کیونکہ سکوں کی یہ غیر ضروری مقدار فوراً دیگر ممالک کی طرف خود بخود منتقل ہو جاتی ہے اور دیگر ممالک کے لوگوں کو اس کے قبول کرنے میں کوئی عذر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ عذر تو اس صورت میں ہو سکتا ہے جب کہ اس کی قدر اپنے ہم وزن زر نامسکوک کی قدر سے زیادہ ہو۔ دیگر ممالک کے نزدیک جیسا زر نامسکوک ویسا انگلستان کا زر مسکوک۔ مثلاً اگر کابل کے سکے میں دس آنے کی چاندی ہو اور وہ دس آنے پر ہی چلتا ہو۔ یا یوں کہو کہ کابل حق ضرب نہ لیتا ہو، تو ہندوستان کے لوگوں کو بشرطیکہ ان کی چاندی کی ضرورت ہو، اُسے دس آنے پر خریدنے میں کیا عذر ہو سکتا ہے؟ غرض کہ انگلستان حق ضرب نہ لینے سے زر نقد کی افراط کے برے نتائج سے بچ جاتا ہے۔ دوسری صورت میں حق ضرب چونکہ مصارف سکہ زنی سے زیادہ ہوتا ہے اس واسطے سرکار ٹکسال کے اجرا سے فائدہ اٹھاتی ہے اکثر ممالک کے بادشاہوں نے اس طریق عمل سے بے انتہا فائدہ اٹھایا ہے مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس پر کوئی رائے زنی کریں ایک نہایت ضروری اقتصادی اصول کا ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔ تم کو معلوم ہے کہ اشیا کی قیمت طلب و رسد کی مساوات سے متعین ہوتی ہے۔ لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ سونا اور چاندی جو اشیاء میں داخل ہیں اس کلیہ قانون کے دائرہ عمل سے خارج ہوں۔ جب سونے چاندی کی مقدار ضرورت سے بڑھ جائے گی تو ان کی قدر ضرور کم ہو گی اور جب ان کی مقدار ضرورت سے کم ہو جائے گی، تو ظاہر ہے کہ ان کی قدر زیادہ ہوگی۔ سکے جو سونے اور چاندی سے بنائے جاتے ہیں ان کا بھی یہی حال ہے کہ افراط کی صورت میں ان کی قدر کم ہوتی ہے اور کمی کی صورت میں ان کی قدر بڑھتی ہے۔ فرض کرو کہ کسی ملک میں زر نقد کی مقدار اس ملک کی تجارتی ضروریات سے بہت کم ہے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں زر نقد کی قدر بسبب کمی رسد کے بڑھ جائے گی یا بالفاظ دیگر اشیا کی قیمت کم ہو جائے گی اور تجارتی کاروبار نہ چل سکے گا۔ لیکن اگر کسی تدبیر سے زر نقد کی موجودہ مقدار نہایت تیزی اور سُرعت کے ساتھ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہو سکے، تو تجارتی کاروبار بلا روک ٹوک چلتے جائیں گے اشیاء کی قیمت اصلی حالت پر عود کر آئے گی اور مزید زر نقد کی ضرورت لاحق نہ ہو گی پس ایسے ملک کے تجارتی مقاصد آسانی کے ساتھ پورے نہیں ہو سکتے، جب تک اس ملک میں زر نقد کی مقدار زیادہ نہ ہو۔ یا کوئی صورت اختیار کی نہ استعمال کی جائے یا اگر ایسا نہ ہو سکتا ہو تو کسی طرح مقدار موجودہ میں سرعت انتقال نہ پیدا ہو۔ کیونکہ سرعت انتقال بھی ایک طرح کی ازدیادی زر نقد ہے۔ جو سکہ پہلے ایک دفعہ استعمال ہوتا تھا ممکن ہے کہ سرعت انتقال کی صورت میں دس دفعہ استعمال ہو یا یوں کہو کہ اس طریق سے ایک سکہ وہی کام کر سکتا ہے جو ازدیادی زر نقد کی صورت میں دس سکوں کی وساطت سے پورا ہوتا۔\nگویا زر نقد کی سرعت انتقال کا زیادہ ہونا ایک طرح سے زر نقد کی مقدار کا زیادہ ہونا یا بالفاظ دیگر زر نقد کی قدر کا کم ہونا ہے اور اشیا کی قیمت کا بڑھنا ہے علیٰ ہذالقیاس زر نقد کی قدر کی زیادتی اس کی مقدار اور سرعت انتقال اور قیمت اشیاء کی کمی پر دلالت کرتی ہے۔ لہٰذا جب کسی ملک میں زر نقد کی مقدار تجارتی ضروریات سے کم ہو تو اس کا اعلاج یہی ہو سکتا ہے کہ مقدار کو زیادہ کیا جائے یا کسی تدبیر سے زر نقد کی سرعت انتقال زیادہ ہو جائے۔ لیکن جب کسی ملک میں زر نقد کی مقدار تجارتی ضروریات سے بہت بڑھ جائے یا یوں کہو کہ اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں، تو اس کا کیا علاج؟ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ زر نقد کی رسد کو محدود کر دیا جائے۔ ۱۸۹۴ء میں پہلے ہمارے ملک میں نئی کانوں کے دریافت ہونے اور ٹکسال کے عام طور پر کھلا ہونے سے روپے کی قدر بہت کم ہو کر ۱۳ پنس کے برابر رہ گئی تھی، جس سے ملک میں اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئیں اور سرکار کی مالگذاری کو نقصان ہونے لگا۔ کیوں کہ جو روپیہ ہمیں انگلستان کی پنشنوں ، تنخواہوں اور دیگر مصارف حکومت کی بابت دینا پڑتا ہے وہ مالگزاری میںسے ہی ادا کیا جاتا ہے۔ ایک پونڈ کے لیے جہاں پہلے دس روپے پرتے تھے چاندی کی قدر کم ہو جانے کی وجہ سے سولہ روپے دینے پڑے۔ کیونکہ ہم کو یہ روپیہ سونے کے سکّے میں ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس کا علاج سرکار ہند نے یہ کیا کہ زر نقد کی رسد محدود کر دی یعنی ٹکسالیں بند کرد یں۔ آج کل رعایا کو یہ حق حاصل نہیں کہ چاندی کے ٹکڑے دے کر سرکاری ٹکسال سے روپیہ بنوالے۔ بلکہ سرکار ملک کی تجارتی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر خود روپیہ بناتی ہے۔ اس تجویز کی اگرچہ اس وقت مخالفت کی گئی تھی، لیکن اس کی عمدگی اس کے اثر سے ظاہر ہے۔ یعنی ہمارا روپیہ اب ۱۳ پنس کی جگہ ۱۶ پنس کے برابر ہو گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شے معیار قدر مقرر کی جائے اس کی قدر کا متغیر ہو جانا تمام تجارتی انتظام کو درہم برہم کر دیتا ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D8%AF/%D8%AD%D8%B5%DB%81_%D8%B3%D9%88%D9%85"} {"title": "علم الاقتصاد/دیباچہ مصنف", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "prose", "section": "نثر > علم الاقتصاد", "year": "1904", "text_ur": "علم الاقتصاد انسانی زندگی کے معمولی کاروبار پر بحث کرتا ہے اور اُس کا مقصد اس امر کا تحقیق کرنا ہے کہ لوگ اپنی آمدنی کس طرح حاصل کرتے ہیں اور اس کااستعمال کس طرح کرتے ہیں۔ پس ایک اعتبار سے تواُس کا موضوع دولت ہے اور دوسرے اعتبار سے یہ اس وسیع علم کی ایک شاخ ہے جس کا موضوع خود انسان ہے۔ یہ امر مسلم ہے کہ انسان کا معمولی کام کاج، اس کے اوضاع و اطوار اور اس کے طرز پر زندگی پر بڑا اثر رکھتا ہے۔ بلکہ اُس کے دماغی قویٰ بھی اس اثر سے کامل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ تاریخ انسانی کے سیل رواں میں اصول مذہب بھی انتہا مؤثر ثابت ہوا ہے۔۔ مگر یہ بات بھی روز مرہ کے تجربے اور مشاہدے سے ثابت ہوتی ہے کہ روزی کمانے کا دھندا ہر وقت انسان کے ساتھ ساتھ ہے اور چپکے چپکے اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو اپنے سانچے میں ڈھالتا رہتا ہے ذرا خیال کرو کہ غریبی یا یوں کہو کہ ضروریات زندگی کے کاملی طور پر پورا نہ ہونے سے انسانی طرزِ عمل کہا تک متاثر ہوتا ہے۔ غریبی قویٰ انسانی پر بہت بڑا اثر ڈالتی ہے، بلکہ بسا اوقات انسانی روح کے مجلا آئینہ کو اس قدر زنگ آلود کر دیتی ہے کہ اخلاقی اور تمدنی لحاظ سے اس کا وجود وعدم برابر ہو جاتا ہے۔ معلم اوّل یعنی حکیم ارسطو سمجھتا تھا کہ غلامی تمدن انسانی کے قیام کے لیے ایک ضروری جزو ہے، مگر مذہب اور زمانۂ حال کی تعلیم نے انسان کی جبلی آزادی پر زور دیا اور رفتہ رفتہ مہذب قومیں محسوس کرنے لگیں کہ یہ وحشیانہ تفاوتِ مدارج بجائے اس کے کہ قیام تمدن کی لیے ایک ضروری جزو ہو، اس کی تخریب کرتا ہے اور انسانی زندگی کے ہر پہلو پر نہایت مذموم اثر ڈالتا ہے۔ اس طرح اس زمانے میں یہ سوال پیدا ہوا کہ آیا مفلسی بھی نظم عالم میں ایک ضروری جزو ہے؟ کیا ممکن نہیں کہ ہر فرد مفلسی کے دُکھ سے آزاد ہو؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ گلی کوچوں میں چپکے چپکے کراہنے والوں کی دل خراش صدائیں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں اور ایک درد مند دل کو ہلا دینے والے افلاس کا درد ناک نظارہ ہمیشہ کے لیے صفحہ عالم سے حرف غلط کی طرح مٹ جائے؟ اس سوال کا شافی جواب دنیا علم الاقتصاد کا کام نہیں۔ کیونکہ کسی حد تک اس کے جواب کا انحصار انسانی فطرت کی اخلاقی قابلیتوں پر ہے جن کو معلوم کرنے کے لیے اس علم کے ماہرین کوئی خاص ذریعہ اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتے۔ مگر چونکہ اس جواب کا انحصار زیادہ تر ان واقعات اور نتائج پر بھی ہے جو علم الاقتصاد کے دائرہ تحقیق میں داخل ہیں اس واسطے یہ علم انسان کے لیے انتہا درجہ کی دلچسپی رکھتا ہے اور اس کا مطالعہ قریباً قریباً ضروریات زندگی میں سے ہے۔ بالخصوص اہل ہندوستان کے لیے تو اس علم کا پڑھنا اور اس کے نتائج پر غور کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہاں مفلسی کی عام شکایت ہو رہی ہے۔ہمارا ملک کامل تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے اپنی کمزوریوں اور نیز ان تمدنی اسباب سے بالکل ناواقف ہے جن کا جاننا قومی فلاح اور بہبودی کے لیے اکسیر کا حکم رکھتا ہے۔ انسان کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ جو قومیں اپنے تمدنی اور اقتصادی حالات سے غافل رہی ہیں اُن کا حشر کیا ہوا ہے۔ ابھی حال میں مہاراجہ بڑودہ نے اپنی ایک گراں بہا تقریر میں فرمایا تھا کہ اپنی موجودہ اقتصادی حالت کو سنوارنا ہماری تمام بیماریوں کا آخری نسخہ ہے اور اگر یہ نسخہ استعمال نہ کیا گیا تو ہماری بربادی یقینی ہے۔ پس اگر اہل ہندوستان دفتر اقوام میں اپنا نام قائم رکھنا چاہتے ہوں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس اہم علم کے اصولوں سے آگاہی حاصل کر کے معلوم کریں کہ وہ کون سے اسباب ہیں جو ملکی عروج کے مانع ہو رہے ہیں۔ میری غرض ان اوراق کی تحریر سے یہ ہے کہ عام فہم طور پر اس علم کے نہایت ضروری اصول واضح کروں اور نیز بعض جگہ اس بات پر بھی بحث کروں کہ یہ عام اصول کہاں تک ہندوستان کی موجودہ حالت پر صادق آتے ہیں۔ اگر ان سطور سے کسی فردِ واحد کو بھی ان معاملات پر غور کرنے کی تحریک ہو گئی تو میں سمجھوں گا کہ میری دماغ سوزی اکارت نہیں گئی۔ اس دیباچے میں یہ واضح کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب کسی خاص انگریزی کتاب کا ترجمہ نہیںہے بلکہ اس کے مضامین مختلف مشہور اور مستند کتب سے اخذ کئے گئے ہیں اور بعض جگہ میں نے ذاتی رائے کا بھی اظہار کیا ہے۔ مگر صرف اسی صورت میں جہاں مجھے اپنی رائے کی صحت پر پورا اعتماد تھا۔ زبان اور طرز عبارت کے متعلق صرف اس قدر عرض کر دینا کافی ہو گا کہ میں اہل زبان نہیں ہوں۔ جہاں تک مجھ سے ممکن ہوا ہے میں نے اقتصادی اصولوں کے حقیقی مفہوم کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور اردو زبان میں اس متین طرز عبارت کی تقلید کرنے کی کوشش کی ہے جو انگریزی علمی کتابوں میں عام ہے نئی علمی اصطلاحات کے وضع کرنے کی دقت کو ہر با مذاق آدمی جانتا ہے۔ میں نے بعض اصطلاحات خود وضع کی ہیں اور بعض مصر کے عربی اخباروں سے لی ہیں جو زمانۂ حال کی عربی زبان میں آج کل متداول ہیں۔ جہاں جہاں کسی اردو لفظ کو اپنی طرف سے کوئی نیا مفہوم دیا ہے ساتھ ہی اس کو تصریح بھی کر دی ہے۔ اس کتاب میں ایک آدھ جگہ انگریزی محاورہ کی تقلید میں میں نے اسم ذات کو اسم صفت کے معنوں میں بھی استعمال کیا ہے۔ مثلاً سرمایہ داروں کے معنوں میں یا محنت محنتیوں کے معنوں میں۔ اگرچہ محاورہ اردو پڑھنے والوں کو غیر مانوس معلوم ہوگا تاہم اس کے استعمال میں ایسی سہولت ہے جس کو با مذاق لوگ خوب محسوس کی سکتے ہیں۔ جہاں کئی فارسی محاورات کے لفظی تراجم اردو زبان میں مستعمل ہیں اگر اس لطیف محاورہ انگریزی کا ترجمہ بھی مستعمل کر لیا جائے تو کیا حرج ہے۔ اصطلاحات کی نسبت ایک اور عرض یہ ہے کہ میں نے مانگ اور طلب ، دستکاری اور محنت، دستکار اور محنتی ، نفع اور منافع ، ساہوکار اور سرمایہ دار، مالک و کارخانہ سار مرادف استعمال کئے ہیں۔ پیدائش اور پیدا وار کا استعمال ایک باریک فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی پیدائش سے مراد فعل کی ہے اور پیداوار سے مراد نتیجہ فعل کی۔ علیٰ ہذاالقیاس لفظ تبادلہ اس جگہ استعمال کیا ہے جہاں ایک شئے دوسری شے کے عوض میں دی جائے۔ عربی زبان میں مبادلے کا یہ مفہوم لفظ مقائفہ سے ظاہر کیا جاتا ہے ، مگر چونکہ یہ لفظ عام فہم نہیں ہے ، اس واسطے میں نے اس کے استعمال سے احتراز کیا ہے۔ اس دیباچے کو ختم کرنے سے پیشتر میں استاذی المعظم حضرت قبلہ آرنلڈ صاحب پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے اس کتاب کے لکھنے کی تحریک کی اور جن کے فیضان صحبت کا نتیجہ یہ اوراق ہیں۔ میں استاذی جناب قبلہ لالہ جیا رام صاحب ایم اے پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور اور اپنے عزیز دوست اور ہم جماعت دوست اور ہم جماعت مسٹر فضل حسین بی اے کینٹب بیرسٹر ایٹ لا کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے مجھے نہ صرف اپنے بیش قیمت کتب خانوں کی کتابیں ہی عنایت فرمائیں بلکہ بعض مسائل کے متعلق نہایت قابل قدر مشورات بھی دئیے۔ اس کے علاوہ مخدوم و مکرم جناب قبلہ مولانا شبلی نعمانی مدظلہ بھی میرے شکریہ کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس کتاب کے بعض حصوں میں زبان کے متعلق قابل قدر اصلاح دی۔\nمحمد اقبال", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D8%AF/%D8%AF%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%86%DB%81_%D9%85%D8%B5%D9%86%D9%81"} {"title": "علم الاقتصاد/پیش کش", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "prose", "section": "نثر > علم الاقتصاد", "year": "1904", "text_ur": "اس دلی ارادت کے سبب جو مختصر سے زمانہ تلمذ میں مجھے عالی جناب ڈبلیو بل اسکوئر ڈائریکٹر محکمہ تعلیم پنجاب کی خدمت میں پیدا ہوئی جب وہ گورنمنٹ کالج لاہورکی کرسی صدارت پر رونق افروز تھے اور اس عالم گیر شہرت کے باعث جو صاحب ممدوح کو بحیثیت مربی علوم و فنون حاصل ہے، میں اس ناچیز کتاب کو جو میری علمی کوششوں کا پہلا ثمر ہے صاحب موصوف کے نام نامی سے منسوب کرنا چاہتا ہوں اور اس امید پر کہ یہ ہدیہ محقر شرف قبول پائے گا ، نہایت ادب سے اسے پیش کش کو تا ہوں۔\n(مصنف)", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D8%AF/%D9%BE%DB%8C%D8%B4_%DA%A9%D8%B4"} {"title": "علم اور دین", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "وہ علم اپنے بُتوں کا ہے آپ ابراہیم\nکِیا ہے جس کو خدا نے دل و نظر کا ندیم\nزمانہ ایک، حیات ایک، کائنات بھی ایک\nدلیلِ کم نظَری، قِصّۂ جدید و قدیم\nچمن میں تربَیتِ غُنچہ ہو نہیں سکتی\nنہیں ہے قطرۂ شبنم اگر شریکِ نسیم\nوہ علم، کم بصَری جس میں ہمکنار نہیں\nتجلیاّتِ کلیم و مشاہداتِ حکیم!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D9%86"} {"title": "علم میں جھینگر سے بڑھ کر کامراں کوئی نہیں", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "علم میں جھینگر سے بڑھ کر کامراں کوئی نہیں\nچاٹ جاتا ہے کتابیں امتحاں کوئی نہیں\n\nظلم ہے با وصف مہر اس کو کہیں نا مہرباں\nآسماں سے بڑھ کے سچا مہرباں کوئی نہیں\n\nلکھنؤ دلی انہیں شہروں پہ کیا موقوف ہے\nہر جگہ اہل زباں ہیں بے زباں کوئی نہیں\n\nہے مثل مشہور دست خود دہان خود ظریفؔ\nہوٹلوں میں میہمان و میزباں کوئی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%AF%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "علم و حکمت میں ہو اگر خواہش فیم", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "علم و حکمت میں ہو اگر خواہش فیم\nسرکار کی نوکری کو ہرگز نہ کر ایم\nشادی نہ کر اپنی قبل تحصیل علوم\nبت ہو کہ پری ہو خواہ وہ ہو کوئی میم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D9%85_%D9%88_%D8%AD%DA%A9%D9%85%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B4_%D9%81%DB%8C%D9%85"} {"title": "علم کو پرہیزگاری چاہئے", "poet_page": "مصنف:ابومحمد سید حسین سیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > منتخب دیوان سیفی (1934)", "year": "1934", "text_ur": "علم کو پرہیزگاری چاہئے\nگلشنوں کو آبیاری چاہئے\n\nسب کو خواہش ہے حکومت کی مگر\nہمتوں میں پائیداری چاہئے\n\nایک بو کر کاٹتے ہیں جب ہزار\nبے زروں کی کشتکاری چاہئے\n\nگرد اونچی ہو کے بنتی ہے غبار\nخاکیوں کو خاکساری چاہئے\n\nتخم بوتے ہی نہیں ملتے ثمر\nہر جگہ امیدواری چاہئے\n\nحکمرانوں کے لئے ہے لازمی\nیوں تو سب کو رازداری چاہئے\n\nکہہ رہے ہیں تجربے یورپ کے یہ\nعورتوں کو پردہ داری چاہئے\n\nعیش کی جا خوش دلی درکار ہے\nغم کدے میں سوگواری چاہئے\n\nختم پر ہر رنج کے جب عیش ہے\nعاصیوں کو اشک باری چاہئے\n\nحاکموں کی مہربانی کے لئے\nمحنت و خدمت گزاری چاہئے\n\nدین و دنیا کی مسرت کے لئے\nمرد و زن میں خوش گواری چاہئے\n\nعفو کو حجت سے جب سیفیؔ ہے بغض\nخاطیوں کو شرمساری چاہئے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%D8%B1%DB%81%DB%8C%D8%B2%DA%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "علم کی ضرورت", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جہاں میں ہر طرف ہے علم ہی کی گرم بازاری\nزمیں سے آسماں تک بس اسی کا فیض ہے جاری\nیہی سرچشمۂ اصلی ہے تہذیب و تمدن کا\nبغیر اس کے بشر ہونا بھی ہے اک سخت بیماری\nبناتا ہے یہی انسان کو کامل ترین انساں\nسکھاتا ہے یہی اخلاق و ایثار و روا داری\nیہی قوموں کو پہنچاتا ہے بام اوج و رفعت پر\nیہی ملکوں کے اندر پھونکتا ہے روح بیداری\nاسی کے نام کا چلتا ہے سکہ سارے عالم میں\nاسی کے سر پہ رہتا ہے ہمیشہ تاج سرداری\nاسی کے سب کرشمے یہ نظر آتے ہیں دنیا میں\nاسی کے دم سے رونق عالم امکاں کی ہے ساری\nیہ لا سلکی، یہ ٹیلیفون یہ ریلیں، یہ طیارے\nیہ زیر آب و بالائے فلک انساں کی طراری\nحدود استوا قطبین سے یوں ہو گئے مدغم\nکہ ہے اب ربع مسکوں جیسے گھر کی چار دیواری\nسمندر ہو گئے پایاب صحرا بن گئے گلشن\nکیا سائنس نے بھی اعتراف عجز و ناچاری\nبخار و برق کا جرار لشکر ہے اب آمادہ\nاگلوا لے زمین و آسماں کی دولتیں ساری\nغرض چاروں طرف اب علم ہی کی بادشاہی ہے\nکہ اس کے بازوؤں میں قوت دست الٰہی ہے\nنگاہ غور سے دیکھو اگر حالات انسانی\nتو ہو سکتا ہے حل یہ عقدۂ مشکل بہ آسانی\nوہی قومیں ترقی کے مدارج پر ہیں فائق تر\nکہ ہے جن میں تمدن اور سیاست کی فراوانی\nاسی کے زعم میں ہے جرمنی چرخ تفاخر پر\nاسی کے زور پر مریخ کا ہمسر ہے جاپانی\nاسی کی قوت بازو پہ ہے مغرور امریکہ\nاسی کے بل پر لڑکی ہو رہی ہے رستم ثانی\nاشارے پر اسی کے نقل و حرکت ہے سب اٹلی کی\nاسی کے تابع فرمان ہیں روسی و ایرانی\nاسی کے جنبش ابرو پہ ہے انگلینڈ کا غرہ\nاسی کے ہیں سب آوردے فرانسیسی و البانی\nکوئی ملک اب نہیں جن میں یہ جوہر ہو نہ رخشندہ\nنہ غافل اس سے چینی ہیں نہ شامی ہیں نہ افغانی\nبغیر اس کے جو رہنا چاہتے ہیں اس زمانے میں\nسمجھ رکھیں فنا ان کے لیے ہے حکم ربانی\nزمانہ پھینک دے گا خود انہیں قعر ہلاکت میں\nوہ اپنے ہاتھ سے ہوں گے خود اپنی قبر کے بانی\nزمانے میں جسے ہو صاحب فتح و ظفر ہونا\nضروری ہے اسے علم و ہنر سے بہرہ ور ہونا\nترقی کی کھلی ہیں شاہراہیں دہر میں ہر سو\nنظر آتا ہے تہذیب و تمدن سے جہاں مملو\nچلے جاتے ہیں اڑتے شہسواران فلک پیما\nخراج تہنیت لیتے ہوئے کرتے ہوئے جادو\nگزرتے جا رہے ہیں دوسروں کو چھوڑتے پیچھے\nکبھی ہوتا ہے صحرا مستقر ان کا کبھی ٹاپو\nکمر باندھے ہوئے دن رات چلنے پر ہیں آمادہ\nدماغ افکار سے اور دل وفور شوق سے ملول\nالگ رہ کر خیال زحمت و احساس راحت سے\nلگے ہیں اپنی اپنی فکر میں با خاطر یکسو\nمگر ہم ہیں کہ اصلاً حس نہیں ہم کو کوئی اس کی\nہمارے پائے ہمت ان مراحل میں ہیں بے قابو\nجہاں پہلا قدم رکھا تھا روز اولیں ہم نے\nنہیں سرکے اس اپنے اصلی مرکز سے بقدر مو\nیہ حالت ہے کہ ہم پر بند ہے ہر ایک دروازہ\nنظر آتا نہیں ہرگز کوئی امید کا پہلو\nمگر واحسرتا پھر بھی ہم اپنے زعم باطل میں\nسمجھتے ہیں زمانے بھر سے آگے خود کو منزل میں\nضرورت ہے کہ ہم میں روشنی ہو علم کی پیدا\nنظر آئے ہمیں بھی تاکہ اصل حالت دنیا\nہمیں معلوم ہو حالات اب کیا ہیں زمانے کے\nہمارے ساتھ کا جو قافلہ تھا وہ کہاں پہنچا\nجو پستی میں تھے اب وہ جلوہ گر ہیں بام رفعت پر\nجو بالک بے نشاں تھے آج ہے ان کا علم برپا\nہماری خوبیاں سب دوسروں نے چھین لیں ہم سے\nزمانے نے ہمیں اتنا جھنجھوڑا کر دیا ننگا\nروا داری، اخوت، دوستی، ایثار ،ہمدردی\nخیال ملک و ملت، درد قوم، اندیشۂ فردا\nیہ سب جوہر ہمارے تھے کبھی اے واۓ محرومی\nبنے ہیں خوبیٔ قسمت سے جو اب غیر کا حصا\nاگر ہو جائیں راغب اب بھی ہم تعلیم کی جانب\nتو کر سکتے ہیں اب بھی ملک میں ہم زندگی پیدا\nبہت کچھ وقت ہم نے کھو دیا ہے لیکن اس پر بھی\nاگر چاہیں تو کر دیں پیش رو کو اپنے ہم پسپا\nنکما کر دیا ہے کاہلی نے گو ہمیں لیکن\nرگوں میں ہے ہماری خون ابھی تک دوڑتا پھرتا\nکوئی مخفی حرارت گر ہمارے دل کو گرما دے\nہمارے جسم میں پھر زندگی کی روح دوڑا دے\nوطن والو بہت غافل رہے اب ہوش میں آؤ\nاٹھو بے دار ہو عقل و خرد کو کام میں لاؤ\nتمہارے قوم کے بچوں میں ہے تعلیم کا فقداں\nیہ گتھی سخت پیچیدہ ہے اس کو جلد سلجھاؤ\nیہی بچے بالآخر تم سبھوں کے جانشیں ہوں گے\nتم اپنے سامنے جیسا انہیں چاہو بنا جاؤ\nبہت ہی رنج دہ ہو جائے گی اس وقت کی غفلت\nکہیں ایسا نہ ہو موقع نکل جانے پہ پچھتاؤ\nیہ ہے کار اہم دو چار اس کو کر نہیں سکتے\nخدا را تم بھی اپنے فرض کا احساس فرماؤ\nیہ بوجھ ایسا نہیں جس کو اٹھا لیں چار چھ مل کر\nسہارا دو، سہارا دوسروں سے اس میں دلواؤ\nجو ذی احساس ہیں حاصل کرو تم خدمتیں ان کی\nجو ذی پروا ہیں ان کو جس طرح ہو اس طرف لاؤ\nغرض جیسے بھی ہو جس شکل سے بھی ہو یہ لازم ہے\nتم اپنے قوم کے بچوں کو اب تعلیم دلواؤ\nاگر تم مستعدی کو بنا لو گے شعار اپنا\nیقیں جانو کہ مستقبل ہے بے حد شاندار اپنا\nخداوندا! دعاؤں میں ہماری ہو اثر پیدا\nشب غفلت ہماری پھر کرے نور سحر پیدا\nہمارے سارے خوابیدہ قویٰ بے دار ہو جائیں\nسر نو ہو پھر ان میں زندگی کی کر و فر پیدا\nہمیں احساس ہو ہم کون تھے اور آج ہم کیا ہیں\nکریں ماحول ملکی کے لیے گہری نظر پیدا\nملا رکھا ہے اپنے جوہر کامل کو مٹی میں\nہم اب بھی خاک سے کر سکتے ہیں لعل و گہر پیدا\nاگر چاہیں تو ہم مشکل وطن کی دم میں حل کر دیں\nہزاروں صورتیں کر سکتے ہیں ہم کارگر پیدا\nبظاہر گو ہم اک تودہ ہیں بالکل راکھ کا لیکن\nاگر چاہیں تو خاکستر سے کر دیں سو شرر پیدا\nوطن کا نکبت و افلاس کھو دیں ہم اشارے میں\nجہاں ٹھوکر لگا دیں ہو وہیں سے کان زر پیدا\nہم اس منزل کے آخر پر پہنچ کر بالیقیں دم لیں\nاگر کچھ تازہ دم ہو جائیں اپنے ہم سفر پیدا\nجو کوشش متحد ہو کر کہیں اک بار ہو جائے\nیقیں ہے ملک کی قسمت کا بیڑا پار ہو جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "علم ہیئت", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ناظرین اس پرچے کو یاد ہوگا کہ اس عاصی نے شائقین علم ہیئت سے یہ سوال کیا تھا کہ کیا باعث ہے کہ چاند گرہن بہ نسبت سورج گرہن کے تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں لیکن اب تک کسی نے جواب اس سوال کا نہ دیا۔ پس یہ احقر اس کا جواب خود لکھتا ہے تاکہ ناظرین اس پرچے کے، اس کے ملاحظے سے فائدہ اٹھاویں۔ بہت دن ہوئے کہ ایک پرچے میں ہم نے باعث چاند اور سورج گرہن کا لکھا تھا لیکن چونکہ اسے مدت بعید گذری اس کا حال مختصرہم پھر لکھتے ہیں تاکہ سوال مذکورہ بخوبی سمجھ میں آ جائے۔\n\nواضح ہو کہ چاند ایک جسم نورانی با لذات نہیں ہے بلکہ جو روشنی اس پر نظر آتی ہے وہ اس پر آفتاب سے آتی ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اگر کوئی شیٔ چاند اور سورج کے مابین آجائے تو چاند پر تاریکی ہو جائے گی اور اس تاریکی کو گرہن کہتے ہیں۔ پس اب دیکھنا چاہئے کہ چاند گرہن کی صورت میں کون سی شیٔ حائل چاند اور آفتاب میں ہو جاتی ہے۔ واضح ہو کہ شیٔ مذکور کرہ زمین ہے کہ جب یہ چاند اور سورج کے بیچ میں آتی ہے، اس وقت روشنی آفتاب کی چاند پر گرنے سے موقوف ہو جاتی ہے۔ اس کا خیال شکل ذیل کے ملاحظہ کرنے سے خوب اچھی طرح سے دل میں آجائے گا۔\n\nچاند گرہن کے نقشے سے واضح ہے کہ جس وقت زمین ٹھیک مابین آفتاب اور چاند کے ہوتی ہے اس وقت پرچھائیں یعنی سایہ زمین کا اوپر چاند کے گرتا ہے اور چونکہ زمین نسبت چاند کے بہت بڑی ہے، اس، واسطے اس کا سایہ بھی بڑا ہے۔ یہاں تک کہ جس وقت چاند زمین کے سایہ میں آجاتا ہے تو تھوڑی دیر کے بعد اسے طے کرکے وہ نکلتا ہے اور شکل سے واضح ہے کہ چاند گرہن اس خلقت کو جو اس نصف کرہ زمین پر رہتے ہیں، جو سامنے چاند کے ہیں نظر آئے گا یعنی جن کو کہ چاند اس وقت نظرآنا ہوگا ان کو اس کا گرہن بھی دکھائی دے گا۔\n\nپس یہاں سے یہ معلوم ہوا کہ سارے چاند گرہن نظر آتے ہیں لیکن سورج گرہن کی صورت میں یہ نہیں ہوتا اور اس کا باعث یہ ہے کہ جس وقت کہ چاند ٹھیک ما بین زمین اور آفتاب کے آتا ہے اس وقت چاند کے حائل ہونے سے روشنی آفتاب کی زمین تک نہیں پہنچتی ہے لیکن چاند ایک چھوٹا کرہ ہے اور اس کی پرچھائیں یعنی سایہ اس قدر بڑا نہیں ہوتا کہ ساری زمین کو گھیر لے یعنی ساری زمین پر سایہ کردے فقط ایک تھوڑا حصہ کرہ زمین کی تاریکی میں آتا ہے اور باقی پر روشنی بدستور قائم رہتی ہے۔ جیسا کہ نقشہ سورج گرہن سے واضح ہوتا ہے۔ یہاں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سورج گرہن سب خلقت کو نظر نہ آوے یعنی بعض جائے وہ دکھائی دیتا ہے اور بعض جائے نہیں۔\n\nاکثر ایسا ہوتا ہے کہ سورج گرہن فقط کسی جائے سمندر میں دکھلائی دے سکتا ہے اور چونکہ وہاں کوئی آدمی نہیں ہوتا تو اس گرہن کی کسی کو بھی خبر نہیں ہوتی۔ پس معلوم ہوا کہ باعث سورج گرہن کے کم ہونے کا یہ ہےکہ وہ سب مقاموں پر نظر نہیں آتے۔ سورج گرہن کے کم واقع ہونے کی ایک خوب مثال یہ ہے۔\n\nواضح ہو کہ بادل زمین سے بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور اسی واسطے ان کا سایہ ساری زمین پر نہیں ہو سکتا ہے۔ تھوڑی سی دور تک ان کا سایہ ہوتا ہے اور باقی مقاموں سے آفتاب بخوبی نظر آتا ہے اور وہاں دھوپ کھلی ہوتی ہے۔ یہی حال سورج گرہن کا ہے کہ چاند مانند ایک نہایت بڑے بادل کی ہے لیکن تب بھی زمین سے چھوٹا ہے اور اس باعث سے اس کا سایہ آفتاب کو ساری زمین سے نہیں چھپا سکتا ہے یعنی گرہن سورج کا سارے نصف کرہ زمین پر نظر نہیں آتا ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D9%85_%DB%81%DB%8C%D8%A6%D8%AA"} {"title": "علمائے زندانی", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مساجد کی حفاظت کے لیے پولس کی حاجت ہے\nخدا کو آپ نے مشکور فرمایا عنایت ہے\nعجب کیا ہے کہ اب ہر شاہراہ سے یہ صدا آئے\nمجھے بھی کم سے کم اک غسل خانہ کی ضرورت ہے\nپنہائی جا رہی ہیں عالمان دیں کو زنجیریں\nیہ زیور سید سجاد عالی کی وراثت ہے\nیہی دس بیس اگر ہیں کشتگان خنجر اندازی\nتو مجھ کو سستی بازوئے قاتل کی شکایت ہے\nشہیدان وفا کے قطرۂ خوں کام آئیں گے\nعروس مسجد زیبا کو افشاں کی ضرورت ہے\nعجب کیا ہے جو نوخیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیں\nکہ یہ بچے ہیں ان کو جلد سو جانے کی عادت ہے\nشہیدان وفا کی خاک سے آئی ہیں آوازیں\nکہ شبلی بمبئی میں رہ کے محروم سعادت ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "علمیت اور ذکاوت کے مقابلے", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "تمہید\n\nجو لوگ علم و کمال کی مسندیں بچھاکر بیٹھے ہیں ان کی مختلف قسمیں ہیں۔ اول وہ اشخاص ہیں کہ جس طرح علم کتابی اور درس و تدریس میں طاق ہیں، اسی طرح حسن تقریر اور شوخی طبع میں براق ہیں۔ دوسرے وہ کہ ایک دفعہ کتابوں پرعبور کر گزرے ہیں، مگر پھر خالی ہڈیاں سمجھ کران کے درپے نہ ہوئے۔ ہاں ایجاد و اختراع پر مرتے ہیں۔ کبھی تقریر کرتے ہیں، کبھی تحریر کرتے ہیں، مگر اپنے اپنے موقع پر یہ عالم ہوتا ہے کہ قلم سے موتی برستے ہیں اورمنہ سے پھول جھڑتے ہیں۔ تیسرے ایسے بھی ہیں کہ پیٹ کی الماری میں جہان کی کتابیں بھرے بیٹھے ہیں، لیکن تقریر کے میدان اور ایجاد کے موقع پر دیکھو تو فقط مٹی کا ڈھیر ہیں۔ تعجب یہ ہے کہ آخر کے دونوں کمال ایک دوسرے پرحرف رکھتے ہیں، بلکہ حریف کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ان دونوں کی ہمیشہ چوٹیں چلتی رہتی ہیں، اور مناظرے اور مباحثے جو آئے دن جاری رہتے ہیں ان میں مختلف منزلیں پیش آتی ہیں، جن کے اتار چڑھاؤ سے اور اپنی غلطیوں کے سبب سے بار بار رفتار کے ڈھنگ بدلنے پڑتے ہیں۔ تعجب یہ ہے کہ دیکھنے والوں کی طبیعتیں بھی مختلف ہیں۔ اسی واسطے دونوں کے طرفداروں سے دوجتھے ہوجاتے ہیں اور ان کے مباحثوں اور مقابلوں میں عجیب عجیب لطف دیکھنے میں آتے ہیں، جن کے نشیب و فراز کوغور سے دیکھنا اقلیم علم کے سیاحوں کے لئے ایک عجیب تماشا ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے تمہیں کسی گلزار ملک کی سیاحی کا شوق پیدا ہو اور ادھر کے کسی مسافر کا ایک سفرنامہ مل جائے، یا اس سر زمین کا ایک نقشہ ہاتھ آجائے کہ گھر بیٹھے وہ لطف حاصل ہو جائے۔ داستان مفصلہ ذیل ان معرکوں کا ایک مرقع کھینچ کر دکھاتی ہے۔ صورت معرکہ، کہتے ہیں کہ اقلیم خیال میں ایک وسیع ولایت تھی جس کا نام ملک فصاحت اور وہاں کے بادشاہ کا لقب ملک الکلام تھا۔ بادشاہ مذکور کے محلوں میں دو بیٹیاں تھیں، ایک کا نام فرحت بانو اور دوسری کا نام دانش خاتون تھا۔ دانش خاتون کا ایک بیٹاتھا۔ یہ سیدھا سادا شخص حسن متانت میں باپ کا خلف الرشید اور تمکنت اور سنجیدگی میں ماں کی تصویر تھا۔ اسے علم کہتے تھے۔ فرحت بانو کی بیٹی ذکاوت تھی کہ باپ کے سبب سے خوش بیانی میں اسم بامسمی اور ماں کے اثر سے زندہ دلی اور شگفتہ مزاجی میں گلاب کے تختہ کو شرمندہ کرتی تھی۔ چوں کہ فرحت بانو اور دانش خاتون دونوں سوکنیں تھیں۔ دونوں بچوں نے بگاڑ ک ادودھ پیا تھا اور بگاڑ ہی میں پرورش پائی تھی۔ یعنی ابتدا سے ایسی باتیں دل پر نقش ہوئی تھیں کہ ایک ایک کو خاطر میں نہ لاتا تھا بلکہ ہرایک دوسرے کی صورت سے بیزار تھا۔ باپ نے دیدہ دوراندیش سے ان کی نا اتفاقی کے نتیجے پہلے ہی دیکھ لیے تھے۔ اس لئے بہت کوشش کی کہ کسی طرح ان کے دل اپنائیت کی گرمیِ محبت سے ملائم ہوں۔ آخرصورت یہ نکالی کہ اپنی نظرمحبت کو دونوں میں برابر تقسیم کر دیا، مگر باپ کی شفقت منصفانہ نے کچھ اثر نہ کیا کیوں کہ ماؤں کی طرف کی عداوت دور تک جڑ پکڑے ہوئے تھی اور بچپنے کے خیالات کے ساتھ مل کر آہستہ آہستہ بہت دور تک پہنچ گئی تھی۔ چنانچہ نئے نئے موقع جو پیش آتے تھے ان میں عداوت مذکور اور بھی پختہ ہوتی جاتی تھی، مگر اس میں شک نہیں کہ دونوں کے دونوں خوبی وکمال کی جان اور تعلیم و تہذیب کے پتلے تھے۔ جب ذرا ہوش سنبھالا تو عالم بالا کے پاک نام نہادوں کی نظران پر پڑنے لگی اور وہاں کی مہمانیوں میں آنے جانے لگے۔ چند روز کے بعد ذکاوت نے باپ کے اشارے سے اپنے نشاط محل میں بڑے بڑے اہل کمال کو جمع کرکے رقاص فلک یعنی زہرہ کی ضیافتیں کرنی شروع کیں۔ مگر ان جلسوں میں علم کا سانگ بھرا اوراس میں اس خوبی سے اس کی ہجو کی کہ محفل کو لٹا لٹا دیا۔ علم نے بہت برا مانا۔ چنانچہ اس کے توڑ پر قاضی افلاک یعنی مشتری کی ضیافت کی اور اپنے زور علم سے شہزادی ذکاوت کی بے اصل سخن سازی اور بے علم طرار یوں کی قلعی کھولنی شروع کی۔ اور مشتری نے عطارد کے اتفاق رائے سے عمامہ فضیلت اس کے سر پر بندھوایا۔ اسے تدبیر اور تقدیر کا انقلاب کہتے ہیں کہ ماں باپ جن لوگوں کو مؤید سمجھ کر فہمایش اور اصلاح کے لئے کہاتھا، وہی چمکانے لگے اور نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ عداوت کی آگ اور بھی بھڑک اٹھی۔ اسی عالم میں دونوں بڑے ہوئے اور اب انہیں عالم قدس کے دربار میں جانے کا شوق پیدا ہوا۔ مگر وہ بھی اس 1 لئے نہ تھا کہ خود کچھ عزت و حرمت حاصل کریں بلکہ ہر ایک کی غرض یہ تھی کہ اپنے حریف کی عزت خاک میں ملائے اور جو کچھ اپنے ڈھنگ میں اس نے زور پکڑاہے اسے آگے نہ بڑھنے دے۔ آخر کار دونوں کے جمال و کمال کی بدولت وہ دن آٖ پہنچا کہ رسم رواج کے بموجب دربار آسمانی میں پہنچے۔ اول علم نے تخت کے سامنے کھڑے ہوکر دونوں ہاتھ اٹھائے اور چند فقرے ثنائے الہی اور دعا ئے بادشاہی میں اس حسن تاثیر سے ادا فرمائے کہ سب کی آنکھیں آسمان کو لگ گئیں اور سینہ ہائے گرم کے جوش سے محفل میں ایک گونج پیدا ہوئی۔ بعد اس کے ذکاوت آگے بڑھی۔ زمین خدمت کو بوسہ دیا۔ مگر جب سرا ٹھایا تو چند شعر پڑھ کر ایک تبسم زیرلب کیا کہ گویا ایک چمن پھر زعفران لوگوں پر برسادی۔ انعام یہ ہوا کہ دونوں عالم بالا کے پاک نہادوں میں داخل ہو گئے اور خواجہ خضر نے اپنے مبارک ہاتھ سے آب حیات کا جام بھر کر دیا کہ جب تک آسمان پر چاند سورج کا چاندی سونا ہے تمہارا سکہ روئے زمین پرچلتا رہے۔ دربار آسمانی میں قدیم سے ملنساری اور اخلاق کا انتظام تھا۔ افسوس یہ کہ اس وقت سے اس میں خلل آ گیا کیوں کہ دربار میں داخل ہوکر دونوں نوجوانوں کے دماغ بگڑے اور دل نمود اور افتخار کے جوش سے بھڑک اٹھے۔ پھر اس پر ساتھ والوں کی واہ واہ غضب تھی کہ ادھر اسے بڑھاتے تھے ادھر اسے چڑھاتے تھے، مگر ان حملوں کی بوچھاڑیں دونوں کے جی چھڑوائے دیتی تھیں، جن کا تار نہ ٹوٹتا تھا اور فتح کایہ حال تھا کہ ادل بدل کرتی تھی۔ کبھی ادھر کاپلہ جھکا دیتی تھی، کبھی ادھر کا۔ ایک بالکل مغلوب نہ ہو جاتا تھا کہ دو ٹوک ہوکر فیصلہ ہو جائے۔ جس وقت کہ بحث شروع ہوتی تھی تو ذکاوت اس زرق برق اور طمطراق سے آتی تھی کہ سب کو اسی کی جیت نظرآتی تھی۔ بلبل کی طرح چمک اٹھتی تھی کہ گویا کبھی نہ بجھے گی اور علم روکھی پھیکی صورت بنائے اپنے زور کو ذرا دبائے رکھتا تھا یہاں تک کہ تعریفوں کا جوش وخ روش بگولے کی طرح گزر جاتا۔ مگر اس کے بعد جو ٹھہراؤ شروع ہوتا وہی علم کی طرف سے پکارتا تھا کہ اب ذرا ٹھہروگے تو خاطر جمعی سے سنوگے۔ پھرعلم بھی دفعیے شروع کرتا۔ یہ عالمانہ دفعیے روکھے سوکھے توہوتے تھے مگروہ یا تو حریف کے اعتراضوں کو آپس میں لڑاکر اس کی باتوں سے اسی کو جھوٹا کر دیتے تھے یا یہ ذہن نشیں کر دیتے تھے کہ ذکاوت کے دلائل اصلاً قابل وقار و اعتبار نہیں یعنی اس نے سارے مقدمہ کے مطلب کو لیا ہی نہیں۔ ایک ٹکڑا توڑ کر اس پر باتوں کا طومار باندھ دیا ہے۔ اس تقریر کو سن کرسب آپس میں تصدیق وتسلیم کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ مگر پھر جب کہ ذکاوت کی رسیلی آواز نکلتی تو سب کے کان ادھر ہی لگ جاتے ہیں۔ شور و غل چپ چاپ اور ساری محفل ایسی خاموش ہوتی کہ سناٹے کا عالم ہو جاتا۔ اس میں بھی جہاں جہاں موقع پاتی حریفانہ لطیفوں اور ظریفانہ چٹکلوں سے علم کو ایسا چٹکیوں میں اڑا جاتی کہ سننے والوں کے منہ پر تحسین و آفرین کا ایک حرف نہ چھوڑتی۔ پھر ادھر سے علم اپنے ہدایت نامہ کے طومار لے کر کھڑا ہوتا۔ اول تو ذکاوت کا اور اس کے کلام کا سفلہ پن دکھاتا کہ یہ متانت سے خالی ہے۔ جو جو رنگ اس نے جمائے تھے انہیں حقیقی اور تحقیقی دلیلوں سے بلکہ آیتوں اور روایتوں سے اس طرح مٹاتا کہ اہل نظر کو سوائے سر ہلانے اور بجا و برحق کہنے کے کچھ بن نہ آتی۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اہل محفل نے اپنی غلط فہمی کو چھوڑنا شروع کیا اور جب محفل کا خاتمہ کرکے اٹھے تو علم کے دلائل صادقہ کے لئے عظمت دلوں میں لئے اٹھے۔ مگرجتنے اس کی عظمت لئے اٹھے، اتنی ہی اس کی شوخی وشگفتہ بیانی کے لئے مہر و محبت لئے اٹھے۔ جب دونوں کے کمال اپنی اپنی اعزاز و قدردانی کے لئے اہل نظر سے سفارش کرتے تھے توحسن طلب کے انداز بالکل الگ الگ تھے۔ ذکاوت تیز اور بے باک ہوکر ایسی چمک دمک سے آتی تھی کہ دیکھنے والوں کی آنکھ نہ ٹھہرتی تھی۔ علم بھی آگے بڑھتا تھا مگراپنے وقار ومتانت میں کمال بندوبست اور نہایت روک تھام سے قدم اٹھاتا تھا۔ ذکاوت کندذہنی اور دیر فہمی کے داغ سے بہت بچتی تھی اور علم چوک جانے اور دھوکہ کھانے کے سوا کسی تہمت سے نہیں ڈرتا تھا۔ ذکاوت کی طراری کایہ عالم تھا کہ سمجھنے سے پہلے ہی جواب دے اٹھتی تھی کہ ایسا نہ ہو میری تیز فہمی پرحرف آئے۔ علم کی یہ قباحت تھی کہ سیدھی سی بات میں بھی اس خیال سے اٹک جاتا تھا کہ حریف نے اپنی تقریر میں جو جو توڑ جوڑ مار ے ہیں ان میں سے ایک دقیقہ بھی بے کھولے نہ رہ جائے۔ برخلاف اس کے ذکاوت، علم کی ہر بحث کو جھٹ پٹ بلکہ اس گھبراہٹ سے خاک میں ملا دیتی تھی کہ وہ دیکھتا رہ جاتا تھا۔ مگر پھرعلم اس کی بات میں بال بال کے فرق اس تفصیل سے دکھاتا تھا کہ سننے والے اکتا جاتے تھے بلکہ جن باتوں کا آج تک کسی نے انکار نہ کیا تھا ان کے ثبوتوں میں خواہ مخواہ بات کو طول دے کر وقت ضائع کرتا تھا۔ ذکاوت اپنی نمود کی ہوس میں ایسی ایسی باتیں بھی پیش کر دیتی تھی کہ جنہیں نہ سوچا تھا نہ سمجھا تھا۔ اور اس میں بھی شک نہیں کہ اکثر دلچسپ اور دل پسند خیالوں کو خوش نمائی سے دکھ اکر کامیاب بھی اس قدر ہو جاتی تھی جس کی اسے خود بھی امید نہ تھی۔ برخلاف اس کے علم اکثر قدما کے قدموں پر چلتا تھا۔ وہ نئے خیالوں سے بچتا تھا اور ڈرتا تھا کہ ایسا نہ ہوکہیں ان نتیجوں میں پھنس جائے جنہیں ان کی نظر پیش بین دیکھ نہیں سکتی۔ اکثر ڈھب ایسے آپڑتے تھے کہ اگر ذرا بھی ہمتِ کامیاب کو اور آگے بڑھاتا تودشمن کو مارہی لیتا مگر احتیاط جو اس کا جانی رفیق تھا وہ روک لیتا تھا۔ حق یہ ہے کہ غلط فہمی سے دونوں خالی نہ تھے اور اسی نے دونوں کو تیرہائے اعتراض کے نشانے پر رکھا ہوا تھا۔ ایجاد اور اختراع تو ذکاوت کے مصاحب تھے اور قدامت اور تقلید، علم سے بہت محبت رکھتے تھے۔ چنانچہ اسی واسطے ذکاوت کو تو وہی بات پسند آتی تھی جوکہ آج تک کسی نے دیکھی ہو نہ سنی ہو۔ علم کا قاعدہ تھا کہ بزرگان سلف کے قدم بقدم چلتا تھا اوران کی ایک ایک بات پر جان قربان کرتا تھا بلکہ اس کے نزدیک جس قدر بات پرانی تھی اسی قدر اور آنکھوں پر رکھنے کے قابل تھی۔ برخلاف اس کے ذکاوت پرانے پن سے بہت گھبراتی اور ہر رنگ میں نیاشعبدہ دکھاتی تھی۔ اس ک ایہ قاعدہ تھا کہ دلائل سے قائل نہ کر سکتی تولطائف اور ظرائف ہی سہی۔ غرض واہ واہ لیے بغیر نہ چھوڑتی تھی۔ اوراسے قائل کرنے کی کچھ پروا بھی نہ تھی۔ مگرعلم اپنی رائے کو ہمیشہ اسے سنجیدہ اصول اور نپے تلے قواعد سے سنبھالے رہتا تھا کہ اگر مقدمہ اس کے برخلاف بھی فیصل ہوجائے تو اس کے دلائل برجستہ کو یاد کرکے مدتوں تک تعریفیں ہوتی رہیں۔ مناظرہ کے شوقینو! دیکھو اب دونوں حریف اپنی اپنی چال بھولتے ہیں۔ چندروز کے بعدان کی طبیعتوں میں ایک تبدیلی واقع ہوئی کہ دونوں نے اپنی اپنی خاصیت اصلی کو چھوڑ دیا۔ یعنی ہر ایک یہ سمجھنے لگا کہ جو حربہ حریف نے کیا ہے یہی حربہ میں کروں، دو ٹوک فتح ہو جائے، یعنی اس نے اس کے رنگ لینے شروع کیے اور اس نے اس کے ڈھنگ پر چلنا شروع کیا۔ چنانچہ دونوں طرف یہی چلتا ہتھیار ہو گیا، یعنی کبھی کبھی ذکاوت دلائل منطقی پر بھی طمع آزمائی کرتی تھی۔ علم ان دلیلوں کو لچر سمجھ کر فقط مسکرا دیتا تھا مگر اس طرح کہ ان سب کی صورت بگڑ جاتی تھی۔ ساتھ ہی اس کے طرف دار چلاتے تھے کہ واہ واہ دلیل کا نام بھی نہ تھا، یہ تو باتوں ہی باتوں کا مصالح تھا۔ ان تجربوں میں دونوں نقصان پر نقصان پاتے تھے اور خود اپنی حقیقت کو دشمن کے ہاتھوں میں ڈال کر سبک ہوتے تھے اور ذلتیں اٹھاتے تھے، غرض جس طرح ذکاوت کی طبیعت میں متانت و وقار اور بات میں بوجھ بھار نہ تھا اسی طرح علم کے کلام میں ظرافت کا نمک اور رنگینی کا نقش و نگار نہ تھا، دو قدم چلتا اور گر پڑتا۔ یہ مباحثے ایسے مدت دراز تک جاری رہے کہ لازم و ملزوم ہو گئے اورعالم بالا میں بھی فرقے فرقے ہو کر دونوں طرف جتھے بندھ گئے۔ چنانچہ ذکاوت کو زہرہ نے اپنے دامن حمایت میں لے لیا اور تبسم، تمسخر، مزاح، دل لگی کو اس کے ساتھ کرکے کہا کہ حسن و جمال کی پریوں میں جا کرجلسے کیا کرو۔ ادھرعلم پرمشتری کی نظر عنایت رہی۔ مگر وہ تو خود خشک مغز تھے، اپنے محل سے باہر نہ نکلتے تھے اور جب نکلتے تھے تو عصمت، حرمت، عزت، محنت، اعتدال، تحمل، تقوی روکھے پھیکے کبھی کبھی کے بڈھے اور پراتم بڑھیاں جلو میں لے کر نکلتے تھے اور کسی درگاہ یا خانقاہ تک جاکر چلے آتے تھے۔ خوش بیانو! دیکھنا، طنز و تعریض کی نہ ٹھہرے، نہیں تو خواہ مخواہ لڑائی ہو پڑےگی۔ نئی بات یہ ہوئی کہ ذکاوت کے سنگارخانے میں زیور و لباس پہنانے کے لئے دو کاردانوں کی ضرورت ہوئی اور اس میں طنز اور تعریض آ کر نوکر ہو گئے۔ انہوں نے اپنی رفاقت میں ایک شخص کو رکھا تھا کہ جسے بغض دیوزاد کہتے تھے۔ اس کے ہاتھ میں ایک کمان تھی اور پشت پر ایک ترکش آویزاں تھا، جس میں طعن و تعریض نے تیر بھرے تھے اور عداوت کے زہر میں بجھائے تھے۔ ان تیروں کا اثر یہ تھا کہ جہاں لگتے وہاں ایسے جم کر بیٹھتے کہ نہ کسی جراح کا جتن چلتا نہ کسی حکیم کا ہنرپیش جاتا۔ چنانچہ جب علم کسی امر مفید یا غور کے کام میں مصروف ہوتا یا اپنے معتقدوں کو فیض علم پہنچاتا، یہ اس وقت ذکاوت کی طرف سے تیر مارا کرتا۔ اس کا بندوبست اور کچھ نہ ہو سکا، فقط اتنا ہوا کہ مشتری نے نکتہ چینی اور غلط گیری کو دو ڈھالیں دے کر ساتھ کر دیا کہ اگر جواب ترکی بہ ترکی نہ ہو سکے تو اس سے روکا کرو۔ چنانچہ یہ دونوں اکثر تیروں کی نوکیں توڑ دیتے تھے۔ کبھی بھال نکال کر پھینک دیتے تھے کبھی اسی پر الٹ دیتے تھے۔ جب سلطان آسمانی نے دیکھا کہ ان کے آئے دن کے رگڑوں اور جھگڑوں سے عالم بالا کے امن میں خلل آنے لگا تو بہت خفا ہوا اور ارادہ کیا کہ ان دونوں جھگڑالوؤں کو عالم خاکی میں ڈال دے۔ چنانچہ آخرکار دونوں دنیا میں آپڑے اور اپنے قدیمی جھگڑے یہاں بھی جاری کر دیے۔ یہاں دونوں کے ساتھ بڑے بڑے گرم جوش معتقد جمع ہو گئے۔ ذکاوت نے اپنی خوشنمائی سے نوجوانوں اور رنگین مزاجوں کو لبھا لیا اور علم نے اپنی متانت و وقار سے پرانے پرانے بڈھوں کو پھسلایا۔ ان لوگوں کی بدولت تھوڑے ہی عرصہ میں نئے نئے شگوفے کھلنے لگے اور بڑے بڑے اثر اس کے ظہور میں آئے۔ چنانچہ ذکاوت کے جلوس کے لئے گلزار اور پر بہار سیرگاہیں سجائی گئیں کہ جو اس کے قدرداں ہوں، وہاں استقبال کو حاضر ہوں۔ اسی طرح علم کے لئے مدرسے، مسجدیں، درگاہیں اور خانقاہیں قرار پائیں۔ دونوں جتھے اس پر جان دیتے تھے کہ شان وشکوہ اور ناموری اور دردیادلی میں دوسرے سے بازی لے جائیں، اس طرح کہ اپنے حریف کوگرد کر دیں اور اس عقیدے کے پھیلانے میں عرق ریزی کررہے تھے کہ جو مخلوق دنیا میں پیدا ہو، اسے واجب ہے کہ دونوں میں سے ایک فریق میں ضرور داخل ہو۔ ساتھ اس کے یہ بھی تھا کہ جو شخص طرفین میں سے کسی کی بارگاہ میں ایک دفعہ بھی جا نکلے پھر اسے دوسرے کی نظرعنایت کی امید نہ رکھنی چاہئے۔ اس خاکدان ظلمانی میں ایک خاکی جماعت تھی کہ وہ دونوں میں سے ایک کو بھی نہ مانتی تھی۔ یہ لوگ روتی صورت، سوتی مورت، دولت کے بندے تھے اور اسی کی عبادت کرتے تھے۔ زر و مال کے خزانے ان کے عبادت خانے تھے۔ وہاں کیا علم، کیا ذکاوت کسی کی بھی دعا قبول نہ ہوتی تھی اورسبب اس کا یہ تھا کہ ان کی آنکھوں پر روپے کی چربی چھائی ہوئی تھی اور کانوں میں غفلت کی روئی تھی۔ ذکاوت نے ان پربہت بہت گل افشانیاں کیں، مگر ان کے لبو ں پر کبھی تبسم کا رنگ بھی نہ آیا اور علم نے بھی اپنی فصاحت وبلاغت سے بہت دماغ سوزی کی تھی، مگر ان کی طبع خوابیدہ نے پھریری بھی نہیں لی تھی۔ البتہ کبھی کسی کی آنکھیں روشن بھی ہو جاتی تھیں مگر دولت کا ایک مرید خاص ان پر تعینات تھا۔ وہ اسی وقت آکر ان کی آنکھوں میں ایک سرمہ دے جاتا تھا کہ ہر چیز انہیں چھوٹی اور حقیر ہی نظر آتی تھی۔ غرض ان کی کم نظری اور بے اعتنائی، علم اور ذکاوت دونوں کو بری معلوم ہوئی۔ چنانچہ یہ دونو متفق ہو گئے اوراپنے اپنے معتقدوں کو چڑھا کر بھیجا۔ انہوں نے اسی وقت دولت پرستوں کے عبادت خانوں کا رخ کیا اور جاتے ہی کسی کے پہلو میں اشاروں کنایوں کی چٹکیاں لیں اور کسی کی بغل میں ظرافت کی گدگدیاں شروع کردیں۔ اس وقت سارے دولت پرست چونک پڑے اور جب کچھ نہ بن آیا تو گھبرا کر روپے کو مدد کے لئے بلایا۔ روپے کے پاس بڑے نقش اور منتر تھے۔ وہ آیا اور اپنے سارے ہتھکنڈے چلترکام میں لایا۔ مگر کوئی پیچ اس کا چل نہ سکا۔ پھر بھی اتنا ہوا کہ ذکاوت اور علم نے جواپنے اپنے معتقد بھیجے تھے ان میں پھوٹ ڈال دی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے آقاؤں کے راز کھولنے شروع کر دیے یعنی جو کچھ ذکاوت اور علم تحریر کرتے یہ جھٹ دولت پرستوں کو خبر جا پہنچاتے بلکہ جب کچھ تجویزدولت پرستوں کی ذلت کے لئے عمل میں آتی تو یہ رشوت خور کارگزار دل میں برا مانتے اور اگر کچھ حکم لے کر جاتے بھی تو دولت پرستوں کے سامنے خوشامد کے پیرایہ میں ظاہر کرتے۔ وہ باوجود اس کے کہ دل میں انہیں بھی حقیر ہی سمجھتے تھے، جب یہ خوشامدی رفتہ رفتہ دولت اور دولت پرستوں کے درجہ عنایت تک جا پہنچے تو خوشامد کی بدولت بڑے بڑے انعام اور جاگیریں حاصل کیں۔ چندروز کے بعد ایسے بددماغ ہوئے کہ جواہل عزت خود ان کے آقاؤں کے مصاحب تھے ان سے پہلو مارکر چلنے لگے اور ان کے مقابل میں اپنے تئیں بہ نظر فضیلت دیکھنے لگے۔ القصہ جب ذکاوت اورعلم دونوں نے دیکھا کہ اہل دنیا کا وہ حال ہے اور جو نوکر اپنے تھے وہ سب نمک حرام ہو گئے تودونو نے مل کر دوعرضیاں تیار کیں، جن میں دولت اور دولت پرستوں کی زیادتیاں اور اپنے نمک حراموں کی بدذاتیاں سب لکھیں اورسلطان آسمانی کی خدمت میں بھیج کر التجا کی کہ ہمیں ہماری قدیمی آرام گاہ میں جگہ مل جائے۔ یہ عرضی سن کر سلطان آسمانی داہنے ہاتھ کو بڑے زور شور سے گرجے۔ اس کے یہ معنی کہ ان سب کا رو سیاہ کرو، اور دونوں ہمارے پاس چلے آؤ۔ اس حسن طلب کو نہایت غنیمت سمجھے اور خوشی خوشی شکریے کرتے ہوئے چلنے کو تیار ہوئے۔ ذکاوت نے جھٹ بازو پھیلائے اور غبار سے دامن جھاڑتی ہوئی آسمان کو اڑی۔ لیکن اس فضائے لا انتہا میں کہ جہاں نہ راہ تھی نہ رہنما، نظر دور تک کام نہ کرسکتی تھی۔ اس لئے چندہی قدم پرستہ بھول گئی۔ علم رستے خوب جانتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے بھی پر خوب ہلائے، مگر ان کے بازوؤں میں زور نہ تھا۔ چھوٹی چھوٹی اڑانیں کیا کرتے تھے۔ غرض کہ ہاتھ پاؤں مار کر دونوں زمین پرآ پڑے۔ اس وقت ایک دوسرے کی مصیبت کو خیال کرکے سمجھے کہ اب اتفاق کے سوا گزارہ نہیں۔ ناچار دونوں نے ہاتھ ملائے اور پھر اڑے۔ علم کو تو ذکاوت کی قوت پر واز کا سہارا ملا اور ذکاوت کو علم دوربین نے رستہ بتایا۔ پلک مارتے سلطان آسمانی کے دربارمیں جا داخل ہوئے۔ چونکہ بگاڑ کے مزے دونوں نے خوب چکھ لئے تھے، اس لئے اب کی دفعہ دونو میں بہت محبت اور اخلاص ہوا۔ مگر ذکاوت نے علم کو صلاح دی کہ بھائی تم ذرا حسن ظرافت اور اس کی سہیلیوں سے نشست برخاست رکھا کرو۔ اسی طرح انہوں نے ذکاوت کو سمجھایا کہ تم ذرا صلاح و اعتدال کی خدمت میں بھی حاضر ہوا کرو۔ ان صحبتوں نے دونوں کی طبیعتوں میں بڑا اثر کیا۔ علم کی خشک دماغی کو حسن اور ظرافت کی طراوت پہنچی۔ ذکاوت کی شوخی اور طراری نے صلاح سے اصلاح پائی۔ دونوں آہستہ آہستہ عالم بالا کے پری زادوں میں ایسے ہردل عزیز ہو گئے کہ جس جلسہ میں یہ نہ ہوں، اس میں رونق ہی نہ معلوم ہوتی تھی۔ چند روز کے بعد سلطان آسمانی کے ایما سے دونوں نے شادیاں کر لیں اور ان کی نسلوں سے علوم و فنون کی اولاد کے سلسلے جاری ہو گئے۔ حاشیہ(۱) دیکھو، ہمارے بھائی بند جب آپس میں مباحثہ کرتے ہیں یا لوگوں پر اپنا کمال ظاہر کرتے ہیں تو زیادہ تر حریف پر اعتراض کرتے ہیں اور اس کے خراب کرنے میں کوشش کرتے ہیں، تصنیف و تالیف دکھا کر اپنے کمال کی تقویت نہیں کرتے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D9%85%DB%8C%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B0%DA%A9%D8%A7%D9%88%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%92"} {"title": "علوم کی بدنصیبی", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "تمہیدتمام صاحب جو ہر اور کل اہل کمال ہمیشہ سے ان نالائقوں اور غلط نما باکمالوں کے ہاتھوں سے نالاں ہیں، جو فلک کی سفلہ پروری یا قسمت کی یاوری سے ہوائے مراد کے بلون میں بیٹھے ہیں اور ترقیوں کے آسمان پر سیر کرتے پھرتے ہیں۔ اس معاملہ میں اہل علوم سے زیادہ کوئی واجب الرحم نہیں۔ صدیوں کے بعدتو کوئی صاحب صفت پیدا ہوتا ہے۔ پھر اگرچہ ہر شخص کے کام کی ترقی خاص وعام کی قدردانی پر منحصر ہے لیکن بنیاد اس کی حکام یا اہل دول کی بدولت ہوتی ہے۔ اسی واسطے اس کی رونق بازار کی عمربہت تھوڑی ہوتی ہے اور ان خرابیوں کا بیان کرنا حد قلم سے باہر ہے۔ اول تو اہل کمال ہمیشہ کم اور بے کمال انبوہ درانبوہ ہیں۔ ان کی بھیڑ بھاڑ ایسی خاک اڑاتی ہے کہ ان کے کمال پرخاک پڑ جاتی ہے۔ ناچار دل شکستہ ہوکر بیٹھ رہتے ہیں۔ جو ثابت قدم رہتے ہیں، ان کی بد نصیبی یہ کہ جن قدردانوں پر مدار کار ہے کبھی کثرت کار سے، کبھی بے پروائی سے، غرض تھوڑے ہی دنوں میں وہ اپنے شوق کو ان لوگوں کے حوالے کر دیتے ہیں جواس کام کے لائق نہیں۔اس صورت میں اگرقسمت سے ہوا چلی اور خود بخود کسی کی گود میں ثمرمراد آپڑا تو آپڑا، نہیں تو ذلت، تباہی اور دربدری کے سوا کچھ حاصل نہیں۔ ان ناگوار باتوں کوغلط نما باکمال گوارہ کر لیتے ہیں۔ مگر اصل باکمال مرنے کو اس سے بہتر سمجھتے ہیں۔ پھر بھی ناچار گوارہ کرنی پڑتی ہیں۔ سفارشیں اٹھاتے ہیں۔ در بدر پھرتے ہیں۔ خوشامدیں کرتے ہیں۔ غرض کہ اس رستہ کی منزلوں میں جو جو مصیبتیں پیش آتی ہیں وہ ایک افسانہ کے استعارہ میں بیان ہوتی ہیں۔آغاز مطلبعلوم وفنون نے دیکھا کہ مدت گزر گئی ہمارے مرید اور خدمت گزار فقط اپنی ارادت دلی سے انسان کے فائدوں کے لئے محنت کر رہے ہیں اور جس صدق دل سے، جاں فشانی اورعرق ریزی کرتے ہیں، اس کاصلہ کچھ بھی نہیں ملتا، بلکہ جن بے لیاقتوں کو جوہر کمال سے کچھ واسطہ نہیں اور انسان کی نفع رسانی کی بھی کچھ پروا نہیں رکھتے، وہ کامیابی اور عیش وعشرت کی بہاریں لوٹ رہے ہیں۔ سب کو اس بات کا بہت رنج ہوا اور سلطان آسمانی کے دربار میں عرضی کی۔ خلاصہ جس کا یہ کہ انصاف وعدالت کے بموجب تمام مریدان خدمت گزار کو بمتقضائے انصاف و عزت اور دولت کے انعام مرحمت ہونے واجب ہیں۔ دربار میں مشتری صدر اعلی تھا اور عطارد میر منشی۔جب یہ عرضی پڑھی گئی تو جو جو خدمتیں اور ادائے خدمت میں مشقیں تھیں، سب جتائی اور دکھائی گئیں اور حق تلفیوں کا دعویٰ کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ فی الحقیقت عالم خاک میں علوم وفنون کی کوششوں اور کارگزاریوں کا شکریہ کسی نے ادا نہیں کیا۔ اب وہ آئے دن کے دکھ بھرتے بھرتے ایسے دق ہو گئے ہیں کہ یقین ہے چند روز میں دنیا کو چھوڑ کرعالم بالا کی طرف چلے آئیں اور اگروہ دنیا میں نہ رہے تو حضرت انسان جنہوں نے یہ شوکت و شان بنائی ہے، حیوانوں سے بدتر رہ جائیں گے اور جوان سے زیادہ وحشی ہوں گے، وہ انہیں پھاڑ کھائیں گے۔ اس کے فیصلے کے لئے عالم بالا میں کمیٹی ہوئی۔ قاعدہ ہے کہ جو اراکین دربار کارنگ ہوتا ہے وہی کل دربار کا رنگ ہوتا ہے۔ چنانچہ سب کا اتفاق رائے اس بات پر ہوا کہ ضرور کسی کو بھیجنا چاہئے۔ملکہ کو کب جمال کی ایک بیٹی تھی کہ باپ اس کاعالم خاکی سے تھا مگر اس کے نورجمال اور حسن کمال نے تمام عالم بالا کو روشن کر رکھا تھا، اور صداقت و حقیقت کے مدرسہ میں تعلیم پائی تھی۔ اسے حضور سے ملکہ علم افروز کا خطاب عطا ہوا اور عقل کا تاج سر پر رکھا گیا، جس میں آفتاب کی طرح فہم و ادراک کی شعائیں جگمگاتی تھیں، رفعت کا تخت پھولوں سے سجایا، اس پر ملکہ موصوفہ کو جلوہ گر کرکے اس طرف روانہ کیا۔ آسمان نے تارے اتارے اور زمین نے بجائے غبار کے نور اڑایا۔ اس نے عالم میں آکر باپ کی طرف سے وہ شوکت و شان اور لیاقت دکھائی جس سے تمام بے لیاقت تھرا گئے اور ماں کی طرف سے وہ روشنی پھیلائی گئی کہ خاک کا کرہ نور کی قندیل ہو گیا۔دن رات دربار جاری تھا۔ علوم کے مسائل اور تصنیفات کے مقدمات پیش ہوتے تھے۔ استادیعنی صداقت کی طرف سے متانت اور خاموشی مصاحبت میں آئی تھیں۔ چنانچہ علوم وفنون جن لوگوں کی سفارش کرتے تھے، وہ انہی کے ذریعہ سے آکر پیش ہوتے تھے۔ عالم بالا کے لوگ علم کے عاشق تھے۔ سب اس کی فرماں روائی دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ جلوس دربار کے لئے ہر طرح کے سامان بھیجے، اوربارگاہ شاہی نے عجب شان وشکوہ حاصل کی۔ جب دربار میں آکر بیٹھی توعدل وانصاف کھوٹے کھرے کے پرکھنے کو کھڑے رہتے۔ امید سامنے ناچا کرتی۔ قدردانی دست راست پر کھڑی رہتی اور سخاوت کے اشارہ کے بموجب ہرایک کو انعام دیتی کہ قسمت کے ہاتھوں لوگوں تک پہنچ جاتے تھے۔ایک دن ملکہ علم افروز اپنی رفعت کے تخت ہوادار پر سوار ہوکر ہوا کھانے نکلی۔ اتفاقاً ایک پہاڑ کی طرف گزر ہوا۔ کوہ مذکور پر جہالت ایسی چھائی ہوئی تھی کہ دامن کوہ سے لے کرچوٹی تک تمام دھواں دھار سے گھٹ رہا تھا۔ اس کے قدم سے سیاہی کے دھوئیں اڑ گئے اور تمام تاریکی برطرف ہوگئ۔ یہاں اگر چھاؤں بھی تھی تو نہ بارش کی سیرابی سے بلکہ گھٹاؤ کے پسینے سے سیل رہی تھی۔ 1 اب اس نے اپنی سرسبزی کو ہرا کیا۔ کچھ پھول تھے تو روشنی بغیر ٹھٹھر رہے تھے۔ وہ بھی چمک کر رنگ نکال لائے۔ غرض ہر شئے کی طبیعت اپنی اصلیت پر آکر شگفتگی کے جوش سے کھل گئی اور خوشبوؤں سے عالم مہک گیا۔ روئے زمین پر بہار کا یہ عالم دیکھ کر سلطان آسمانی نے بھی حکم دیا کہ سامنے سے پردے اٹھا دو۔ عالم بالا کے پاک نہادوں نے گلدستے ہاتھوں میں لے لیے اور خوش ہوکر پھول اچھالنے لگے۔جب اس پہاڑ کو گلوں سے گلزار اور شادابی سے نوبہار دیکھا تو علم تعمیر وہاں آیا۔ اپنے کمال سے ایک محل عالی شان تیار کیا۔ بہار نے کوسوں تک گلزار لگایا۔ طرح طرح کے اوزار کام میں آئے۔ سڑکیں نکالیں۔ اتار چڑھاؤ درست کئے۔ ریلیں جاری کیں۔ جابجا فرودگاہیں اوران میں مہمان خانے اور آرام خانے بنائے۔ غرض عجائبات وغرائبات سے سجاکرایسا طلسمات کر دیا کہ جس کے دیکھنے سے آنکھوں کو طراوت اور خیالات کو بلندی، وسعت حاصل ہو اور تصنیفات میں ایجاد اور مضمون آفرینی کے لئے سامان بہم پہنچیں۔ چنانچہ ملکہ نے یہیں سکونت اختیار کی۔ قسمت نے آکر انعاموں کا دروازہ کھول دیا۔ صداقت جانچتی تھی اور عدل بے رو و رعایت دیے جاتا تھا۔یہ دروازہ رات دن کھلا رہتا تھا۔ امید دروازہ پر بیٹھی رہتی تھی اور جن کے لئے علوم و فنون سفارش کرتے تھے انہیں بلا لیتی تھی۔ تمام دربار کثرت خلائق سے بھرا رہتا تھا اور ہر چند اکثر ناکام بھی جاتے تھے۔ مگر شکایت کوئی نہ کر سکتا تھا کیونکہ خود ملکہ کی آنکھ کسی سے غافل نہ تھی۔ جو لوگ وہاں سے ناکام پھرتے تھے، ان کا نام نالائقوں کی فہرست میں درج ہو جاتا تھا۔ پھر وہ عالم شہرت سے خارج ہوکر یاگمنامی کے گوشہ میں بیٹھ جاتے تھے کہ کوئی انہیں پوچھتا نہ تھا، یا ہیچ وپوچ اور واہیات کاموں پرجھک پڑتے تھے۔ بعض ایسے بھی ہوتے تھے کہ محنت سے مدد لیتے تھے اور پھر اپنے نقص کی تکمیل میں کوشش کرتے تھے۔ اب اہل نظرغباری عینکیں لگالیں کہ بے کمالوں کے دلوں کے غبار آندھی ہوکر اٹھتے ہیں، ان کے اقبال کا دور آیاہے۔ناکاموں میں اکثر نااہل ایسے بھی تھے کہ نہ اپنی ناکامی پر شرمندہ ہوتے تھے نہ شرمندگی کے گوشہ میں بیٹھتے تھے۔ چند روز کے بعد ان کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ ایک دن سب نے محل کو گھیر لیا اور باغ میں آکر بستر ڈال دیے۔ ہر چند ملکہ مذکور کا جوہر افلاکی تھا، مگر باپ کی طرف سے پیوند خاکی تھا۔ اس لئے تجویزمیں کچھ نہ کچھ چوک بھی ہوتی تھی اور اگرچہ اس خطاکی اصلاح بھی بہت جلد ہوجاتی تھی مگر پھر بھی حریف جو تاک میں لگے ہوئے تھے، انہیں کہیں نہ کہیں موقع گرفت کا ہاتھ لگ ہی گیا۔ چنانچہ انہوں نے کچھ اپنے، کچھ اپنے رفیقوں کے گھروں میں کمیٹیاں شروع کردیں اور آپس ہی میں نالش اور اپیل کے سے ڈھنگ ڈال دیے۔ تمام عالم میں رفاہ عام اور اصلاح کا نام لے کر فریاد مچادی، جس سے جمعیت بے شمار اکٹھی ہو گئی۔ صبح و شام جمع ہوتے، لمبی لمبی تقریر کرتے، مگر اس میں مطلب کا نام نہیں، جھوٹ موٹ کی بکواسیں کرتے، جن میں دلیل سے کام نہیں۔ کوئی سروقدبن کر رائے دیتا۔ کوئی شمشاد قد ہوکر رائے شامل کرتا۔ کوئی تائید کرتا۔ کوئی تسلیم کرتا۔ آپ ہی اتفاق رائے کرلیتے، آپ ہی واہ واہ واہ کر لیتے۔ اسی تودہ طوفان کو لکھتے اور پروسیڈنگ (رویداد) نام رکھتے، جسے مشتہر کرکے بڑے فخر کیا کرتے۔ان ناکاموں کی امید سے راہ تھی۔ اور بے حیائی ان کی بڑی خیر خواہ تھی۔ چنانچہ وہ ہمیشہ ان کو ملکہ کے دربار کی طرف دھکیلتی رہتی تھی کہ چلو اور دوبارہ دعویٰ پیش کرو۔ اگرچہ وہاں سے دھکے کھاتے تھے اور جب جاتے، نکالے جاتے تھے، پر بھی امید کایہ حال تھا کہ ان کی رفاقت چھوڑتی نہ تھی اور بے حیائی برابر زور لگائے جاتی تھی۔ غرض ان اندرونی راہوں کے ساتھ انہوں نے ایک اور رستہ نکالا۔ یعنی خیال کیاکہ یہ جمعیت ہماری جو امید کی حمایت اور بے حیائی کی عنایت سے روز افزوں ہے، اس کی کثرت ہمیں ضرور فتح یابی بخشے گی۔ پس جس طرح ہو سکے اپنی بھیڑ بھاڑ کو بڑھانا چاہئے۔ جب پروردگار کسی بندہ خاص کوعزت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اپنے بندوں کے کام اس کے سپرد کرتا ہے تو خواہ مخواہ کے خیر خواہ مشورہ دینے کو بہت پیدا ہوجاتے ہیں۔ مگر دیکھو ان کی باتوں میں آکر حقیقت اور واقعیت کو نہ بھول جانا چاہئے۔ خیال کرکے سنو یہ خیر خواہ کیسے کیسے ہوتے ہیں۔ادھر بے لیاقت اہل فساد نے یہ سامان بہم پہنچائے، ادھر یہ قدرتی پیچ پڑا کہ ملکہ کو آسمان سے اترے ہوئے مدت ہوئی تھی۔ عالم خاک میں آکر نیت اس کی پستی کی طرف زیادہ ترمائل ہونے لگی اورعدل و انصاف کی نصیحتیں سب بھول گئی۔ یاتو صحبت اس کی علوم و فنون سے تھی یا غرور سے دوستی ہو گئی۔ آرام اور غفلت کو مصاحبت میں لیا اور رفتہ رفتہ غرور سے ایسی رسم وراہ بڑھی کہ اس سے شادی ہوکر دو لڑکیاں بھی پیدا ہو گئیں۔ ایک ان میں سے خوشامد اور دوسری خام خیالی۔ خوشامد نے فیاضی سے فیض تعلیم پایا تھا اور خام خیالی نے قسمت سے۔غرور کے محل میں بی بی خودپسندی بھی تھیں، جن کا اس نے دودھ پیا تھا۔ دوسری دایہ خودرائی تھی، اس نے پالا تھا۔ ملکہ علم افروز نے یہ غضب کیا کہ ساری خوبو خاوند کی اختیار کرلی۔ رفتہ رفتہ خودرائی کی صلاح سے فیصلے اور خودپسندی کے دستخط سے احکام جاری ہونے لگے۔ صداقت نے جوسبق پڑھائے تھے، سب بھلا دیے اور عدل تو بے کارہی ہو گیا۔ جب ان مصاحبوں کے اختیار اور لڑکیوں کی محبت زیادہ ہوئی تو علوم کا زور بالکل گھٹ گیا۔ اس کے رفیق اور قدردان دربار سے بند ہو گئے۔ وہ بیچارے بجھے چراغوں کی طرح طاقوں میں پڑے رہتے۔ ملکہ کامنہ دیکھنا بھی نصیب نہ ہوتا۔ انجام اس کا یہ ہوا کہ علوم و فنون کے خدمت گزار محنتیں کرکے راتوں کوصبح اور صبحوں کو رات کرتے، برسوں کی دست کار یوں میں اپنے کمال ظاہر کرتے، مگر صلہ کے نام خاک بھی نہ پاتے۔ البتہ ان میں بھی جو چالاک ہوتے اور خام خیالی اور خوشامد کی وساطت سے وہاں تک جا پہنچتے ان کے لئے سب کچھ موجود تھا۔جب ارکان سلطنت کی بے اعتدالیاں حد سے گزر جائیں تو اہل فساد کیوں نہ سر اٹھائیں۔ جب دربار کا رنگ اس طرح بے رنگ ہوا، نہ علوم کے قدرداں وہاں رہے، نہ فنون کے جوہر شناس، تو چرچے اس کے جابجا پھیلے اور ان نالائقوں کو بھی خبریں پہنچیں جن کی علوم سفارش نہ کرتے۔ چنانچہ یہ خبریں سن سن کر ان کے ہاں بڑی خوشیاں ہوتی تھیں۔ وہ ملکہ کے دل سے دشمن بدخواہ تھے۔ ان باتوں کو اس کے زوال ودولت کے آثارسمجھ کر اپنی کامیابی کی تدبیروں میں زیادہ تر سرگرم ہوئے۔ ادھر ملکہ کے دربار کا یہ حال تھا کہ امید خام خیالی کے آنے سے خوش تھی۔ ادھر بے حیائی اپنے یاروں کو خوشامد کے سپرد کرتی جاتی تھی۔ دشمن مخفی جو شیطانوں کی طرح لپٹے ہوئے تھے، ملکہ کو ان کا خیال بھی نہ تھا۔ حضرت انسان کا قاعدہ ہے، جب اپنی اوج پرآتے ہیں، تو اصلیت کو بھول جاتے ہیں۔ اچھوں کو گھٹاتے ہیں، بروں کو بڑھاتے ہیں۔ ویسے ہی اپنے کئے کی سزا پاتے ہیں۔مقام افسوس یہ ہے کہ اب ملکہ کی شان شاہی نہ رہی۔ دکھاوے کی رسموں پر آ گئی، زبانی جمع خرچ بہت، باقی ندارد۔ مبالغے، استعارے، بلندپروازیاں، لفاظیاں حدسے زیادہ، مضمون و مدعاغائب۔ کتابیں جلدیں کی جلدیں، مطلب پڑھو تو ایک حرف نہیں، یا تعریف اور خوشامد یا بے لطف اور بے معنی عبارتیں۔ انجام یہ ہوا کہ فقط اوپر اوپر کے تزک و احتشام تھے، اندر کچھ نہ تھا۔ یا تو ہر عرضی فورا ًسنی جاتی تھی اور ہر بات پر خاطرخواہ توجہ ہوتی تھی، یا باہر ایک ایوان بنوا کر اس کا نام منتظر خانہ رکھا گیا کہ امیدوار وہاں جاکر حاضر ہوا کریں۔ جن لوگوں کو بے حیائی، خوشامد کے سپرد کرتی تھی، وہ بے روک اس گھر میں چلے جاتے تھے، کوئی مزاحم نہ ہوتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ رنگ برنگ کا آدمی دربار میں آکر بھر گیا۔ ملک ملک کے لوگ چلے آتے تھے اور فقط حمایتیوں کے بھروسے پر اس جوش و خروش سے اظہار کمال اور امتحان دینے کو بڑھتے تھے کہ ایک پر ایک گرتا تھا۔ جب دربار کا رنگ بگڑتا ہے تو غرض مندوں کے خیالات اس سے زیادہ بگڑ جاتے ہیں۔ مگر تم یہ خیال کرو کہ اس عالم میں غریب غرض مندوں پر کیا گزرتی ہے۔جولوگ اس دربارعام میں شریک ہوتے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ ہم ملکہ کی خدمت میں پہنچ لئے، کیوں کہ ان کے لئے بڑا قوی وسیلہ تھا یعنی خوشامد۔ خوشامد کے ہاں حقیقت اور واقعیت دونوں کو دخل نہیں۔ مگر اکثر ایسا ہوتا تھا کہ وہاں سے معاملہ قسمت پر جا پڑتا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اندر کا دروازہ خام خیالی کے سپرد تھا۔ اور وہ اپنے دل کی راجہ تھی۔ جب چاہتی تھی کھول لیتی تھی۔ جب چاہتی تھی بند کر دیتی تھی۔ غرض کہ بد نصیب عرضی دار اپنی ساری عمر عزیز اس بد حالی میں برباد کرتے تھے کہ کبھی آس کبھی بے آس۔ ابھی خوش، ابھی اداس۔ اس ایوان کے اندر وسواس داروغہ تھا اور امیدواروں کا یار بنا ہوا تھا۔ وہ دم بدم آتا تھا اور ایسی ایسی باتیں کان میں پھونک جاتا تھا کہ جن کا پورا ہونا قیامت تک ممکن نہ ہو اور امید کہتی تھی کہ ہاں ہاں اب حسن قبول کا خلعت دلواتی ہوں۔ساتھ اس کے رشک ڈیوڑھی کا داروغہ تھا۔ اس کے گھرمیں رات دن آگ پڑی دہکتی تھی۔ یہ سب اسی کی سپردگی میں تھے اور باوجود کہ اس حال تباہ میں گرفتار تھے، مگر بدقسمتی یہ کہ اب بھی اتفاق نہ کرتے تھے۔ ایک ایک کو دیکھتے تھے اور جلے مرتے تھے اور آپس میں لڑتے تھے۔ عمارت مذکور میں اندھیرا چھایا تھا۔ دیواروں پر الوبول رہے تھے۔ گرد بدنامی کی چمگادڑیں اڑتی پھرتی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں علم کی شکاعیں، سوئیاں ہوکر چبھتی تھیں اور پروں 2 سے ایسی خرابی و خواری کی بوندیں جھاڑتی تھیں کہ جس پر گرتی تھیں، داغ پڑ جاتا تھا۔ حق داروں کا حق بھی کچھ نہ کچھ زور رکھتا ہے مگر نہ اس قدر کہ طوفان نوح کا مقابلہ کر سکے۔ہر چند کہ جس شخص کے داغ لگتا تھا، نیک نامی بھی اس کے پیچھے پیچھے ہو لیتی تھی مگر خدا جانے بڑھاپا تھا یا بیماری کا ضعف تھا کہ بہت آہستہ آہستہ چلتی تھی۔ یہ بیچاری ہر چند کوشش کرتی تھی کہ کسی طرح اپنا رنگ پھیر کراس دھبے کو چھپادے لیکن خرابی یہ تھی کہ اس کا رنگ بہت کچا تھا۔ ذرا سا پانی لگنے سے یا دھوپ میں رہنے سے اڑجاتا تھا کہ اس سے دھبے اور بھی روشن ہو جاتے تھے اور بدنامی کے داغ کبھی نہ مٹتے تھے۔ البتہ صداقت کے تخت کے نیچے ایک چشمہ جاری تھا۔ اس کے پانی سے خوب دھوئے جاتے تھے، مگر وہاں سے اس پانی کاآنامشکل تھا۔ ہاں اگر لاتاتھا تو وقت ہی لاتا تھا۔ 3 طوفان بے تمیزی میں قدم رکھنے کوجگہ ملے توبھی گوشہ گیری ہی بہترہے۔چونکہ علوم کادل گوارہ نہ کرتا تھا کہ اپنے معتقدوں کواس طرح تباہی کی حالت میں دیکھیں، اس لئے اکثروں کولے لیتے تھے۔ چنانچہ تاک میں لگے رہتے تھے اور جب موقع پاتے کسی نہ کسی ڈھب سے ملکہ کی خدمت میں جاپہنچاتے تھے۔ ملکہ دیکھ کرفقط ابروکااشارہ کردیتی تھی یعنی منتظر خانہ میں حاضرہوں۔ وہاں کوئی ان کی سنتا نہ تھا۔ ان بیچاروں کونہ فقط رشک بلکہ وسواس بھی ستاتاتھا۔ بے حیائی ایک چیخ مارکہتی تھی کہ کیوں خواہ مخواہ گھس آئے اور بدنامی کواشارہ کرتی تھی کہ جاؤ داغ لگادو۔ اخباروں میں چھاپ دو، اشتہار دے دو، سارے جہان میں رسوا کردو۔ یہ بیچارے گھبراکر گرتے پڑتے بھاگتے تھے۔ کسی کی کتاب چھٹ پڑتی تھی۔ کسی کاعمامہ رہ جاتاتھا۔ مگراکثرداغ بھی کھاتے تھے۔ جوجوداغ لگ جاتے تھے وہ نہایت مشکل سے دھوئے جاتے تھے اورجن کے وہ داغ لگاہوا تھا لوگ دور ہی سے تاڑ جاتے تھے کہ یہ ضرور کبھی نہ کبھی منتظر خانے کی ہواکھاآئے ہیں۔غرض مندبیچارے ہرطرح ادائے خدمت کوحاضر ہیں، کاش کہ وہاں قبول ہو۔ باقی امیدوار اس مبارک گھڑی کے انتظار میں بیٹھے رہتے تھے کہ کب خام خیالی اندرآنے کواشارہ کرے اورکب ہم حضور میں باریاب ہوں۔ یہ غرض مندبیچارے احتیاج کے مارے اسے خوش کرتے تھے مگرنہ فصاحت اصلی، یا اشعار واقعی، یاخیال عالی سے، بلکہ برخلاف اس کے جھوٹی داستانیں، عاشقانہ افسانے، زٹلیات، ڈھکوسلے کہ ان میں ملکہ کی بھی تعریف ہوتی تھی اور اس کے شوہر یعنی غرور کی بھی خوشامد ہوتی تھی۔ غضب یہ تھا کہ وہاں یہ بھی ایک آدھ ہی دفعہ سنی جاتی تھی۔ کچھ توخوش طبعی چٹکیوں میں اڑادیتی تھی، کچھ بددماغی کی چینِ جبیں میں چلے جاتے تھے۔بعض اشخاص خام خیالی کی بدولت دربارتک پہنچ بھی گئے اور ملکہ نے قسمت سے انعام بھی ایسے ایسے دلوائے جن کی انہیں خودبھی امید نہ تھی۔ مگر تخت کے پاانداز میں کچھ سونے کی زنجیریں پڑی تھیں۔ جھٹ گلے میں ڈالیں اور وہیں باندھ دیا کہ ہر دم زیر نظر رہو، مگر اشاروں پر کام کرو اور اسی طرح زندگی بسر کر دو۔ لطف یہ تھا کہ لوگ ان زنجیروں کو پہن کر فخر کرتے تھے اور کیسے ہی نازیبا اور بے عزتی کے کام لے، بلکہ گالیاں بھی دے تو پیشانی پر بل نہ لاتے تھے۔ اس پر بھی خام خیالی جب چاہتی تھی، پکڑ لیتی تھی اور زیور و لباس اتار، پھر منتظر خانے میں دھکیل دیتی تھی۔یہ لوگ وہاں آکر پھر طوفان بے تمیزی کی بھیڑ میں مل جاتے تھے۔ ہاں بعض اشخاص جنہیں تجربہ کی نصیحت نے کچھ اثر کیا تھا وہ توکسی اور رستے سے ہوکر نکل گئے اور کوئی اور خوشحالی کی راہ ڈھونڈ لی۔ باقی وہیں پڑے رہے۔ عمر گزار گئے اور خوشامد کے ذریعہ سے خام خیالی کو خوش کرتے رہے۔ اتنے میں ایک اور بھیڑ ک اریلا آ گیا۔ چنانچہ جب جگہ نے تنگی کی تو گرد مکان مذکور کے بہت سے کمرے تھے، ان میں سے ہر ایک کو حیثیت کے بموجب بیماری، کاہلی، سستی، شرمندگی، مفلسی، مایوسی کے کمروں میں ڈال دیا کہ وہاں وعدے اور وعدہ شکنی، خوشی اور ناخوشی، امید اور ناامیدی میں زندگی کے دن پورے کرتے رہیں اور آخر ملک عدم کو چلے جائیں۔دیکھو صبح کو رستہ بھولے شام کو گھرآتے ہیں۔\n\nعلوم و فنون نے بہت سے دھکے کھا کر معلوم کیاکہ اب اس جہاں میں رہنا عزت نہیں بلکہ بے عزتی ہے۔ ملکہ کے محل سے نکلے، تمام دنیا میں پھرے، تکلیف ومصیبت کے سوا کچھ نہ پایا۔ اتفاقا ًایک سبزہ زار میں گزر ہوا۔ ایک بہتے چشمے کے کنارے پر کچھ چھوٹے چھوٹے مکان اور کئی جھونپڑیاں نظر آئیں۔ معلوم ہوا کہ آزادی کی آرام گاہ یہی ہے۔ وہ تحمل کی بیٹی تھی اور قناعت کی گود میں پلی تھی۔ چنانچہ سب سے الگ اس گوشہ عافیت میں پڑی رہتی تھی اور کنج عافیت اس کا نام رکھا تھا۔ یہ مقام علوم و فنون کو بھی گزران کے قابل معلوم ہوا۔ وہاں جاکر دیکھا تو دانائی، دوراندیشی، کفایت شعاری بھی موجود ہیں۔ علوم نے چند روز تک ان کی صحبت کو غنیمت سمجھا اور آزادی کے دامن کے نیچے اپنی عزت اورآسائش کو چھپا کر زندگی بسر کرنے لگے۔اے اہل علم! اب وہی زمانہ ہے۔ عزت و آسائش چاہو تو اس طرح گزارہ کرو۔ کیوں آزاد! مجھے توان لوگوں پر رشک آتا ہے، جو شہرت کی ہوس یا انعاموں کی طمع پر خاک ڈال کر گوشہ عافیت میں بیٹھے ہیں اور سب بلاؤں سے محفوظ ہیں، نہ انعام سے خوش، نہ محرومی سے ناخوش، نہ تعریف کی تمنا، نہ عیب چینی کی پرو۔ اے خدا، دل آزاد دے اور حالت بے نیاز۔حاشیے(۱) بند اور گھٹی ہوئی جگہ میں یہ نباتات بڑھتے ہیں، نہ ان کے پھول کھلتے ہیں، نہ پھل لگتے ہیں۔ سورج کی روشنی اور چلتی ہوئی ہوا کو اس میں بڑا دخل ہے۔ یہ نہ ہو تو سب ٹھٹھر کر رہ جاتے ہیں۔(۲) یہ بے ہودہ بے کمال اور نکتہ چیں معترض ہیں۔ ہنرمندوں کے ہنران کی آنکھوں میں چبھتے ہیں اور خواہ مخواہ عیب لگا کر ان کی تصنیفات کو خراب کرتے ہیں۔(۳) زمانہ کہ ہنر کا دشمن ہے۔ کیسا ہی اندھیر مچادے، مگر خودبخود ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی الگ ہو جاتا ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%AF%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8%DB%8C"} {"title": "عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاں", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاں\nہاتھ مت پکڑو مرا یارو گریباں پھر کہاں\n\nچشم تر پر گر نہیں کرتا ہوا پر رحم کر\nدے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاں\n\nیار جب پہنے جواہر کر دے اے دل جی نثار\nجل چک اے پروانے یہ رنگیں چراغاں پھر کہاں\n\nاس طرح صیاد کب آزاد چھوڑے گا تمہیں\nبلبلو دھومیں مچا لو یہ گلستاں پھر کہاں\n\nہے بہشتوں میں یقیںؔ سب کچھ ولیکن درد نئیں\nبھر کے دل رو لیجئے یہ چشم گریاں پھر کہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "عمر باقی راہ جاناں میں بسر ہونے کو ہے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عمر باقی راہ جاناں میں بسر ہونے کو ہے\nآج اپنی سخت جانی سنگ در ہونے کو ہے\n\nعالم پیری میں ہے داغ جوانی کا فروغ\nیہ چراغ شام خورشید سحر ہونے کو ہے\n\nآمد پیری میں غفلت ہے جوانی کی وہی\nنیند سے آنکھیں نہیں کھلتیں سحر ہونے کو ہے\n\nہم کو رسوا کر کے رسوائی سے بچنا ہے محال\nتو بھی تشہیر اے نگاہ فتنہ گر ہونے کو ہے\n\nداغ عصیاں اک طرف اشک ندامت اک طرف\nنوح کے طوفان سے جنگ شرر ہونے کو ہے\n\nکون سی دھن ہو گئی دیکھیں دل صد پاش کو\nیہ شکستہ ساز کس نغمہ کا گھر ہونے کو ہے\n\nخلوت و کثرت میں مجھ سے پوچھتی ہے بیکسی\nاس طرف ہو جاؤں میں بھی تو جدھر ہونے کو ہے\n\nیوسف مضموں کو لائے فکر کہنہ اے منیرؔ\nیہ زلیخا نوجواں بار دگر ہونے کو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "عمر بھر اس پہ میں مرا ہی کیا", "poet_page": "مصنف:منتظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عمر بھر اس پہ میں مرا ہی کیا\nوہ مسیحا بھی دم دیا ہی کیا\n\nتھا وہ نا آشنا مزاج ولے\nآخرش ہم نے آشنا ہی کیا\n\nعاشقی کے سوا بھی ہم نے اور\nجو کیا کام سو برا ہی کیا\n\nکر گئے قیس و کوہکن جو جو\nہم نے اس سے بھی کچھ سوا ہی کیا\n\nگو بھلا یا برا تھا شعر اپنا\nسن کے یاروں نے واہ وا ہی کیا\n\nاک نہ اک اس کی زلف برہم سے\nپیچ دل پر مرے پڑا ہی کیا\n\nشب فرقت میں منتظرؔ ہر روز\nشمع سا دل مرا جلا ہی کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں\nہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیں\n\nمیں فدا اس چاند سے چہرے پہ جس کے نور سے\nمیرے خوابوں کی فضائیں یوسفستاں ہو گئیں\n\nعمر بھر کم بخت کو پھر نیند آ سکتی نہیں\nجس کی آنکھوں پر تری زلفیں پریشاں ہو گئیں\n\nدل کے پردوں میں تھیں جو جو حسرتیں پردہ نشیں\nآج وہ آنکھوں میں آنسو بن کے عریاں ہو گئیں\n\nکچھ تجھے بھی ہے خبر او سونے والے ناز سے\nمیری راتیں لٹ گئیں نیندیں پریشاں ہو گئیں\n\nہائے وہ مایوسیوں میں میری امیدوں کا رنگ\nجو ستاروں کی طرح اٹھ اٹھ کے پنہاں ہو گئیں\n\nبس کرو او میری رونے والی آنکھوں بس کرو\nاب تو اپنے ظلم پر وہ بھی پشیماں ہو گئیں\n\nآہ وہ دن جو نہ آئے پھر گزر جانے کے بعد\nہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیں\n\nگلشن دل میں کہاں اخترؔ وہ رنگ نو بہار\nآرزوئیں چند کلیاں تھیں پریشاں ہو گئیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%84%D8%AE_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عمر بھر ہم رہے شرابی سے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عمر بھر ہم رہے شرابی سے\nدل پر خوں کی اک گلابی سے\n\nجی ڈھا جائے ہے سحر سے آہ\nرات گزرے گی کس خرابی سے\n\nکھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے\nاس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے\n\nبرقعہ اٹھتے ہی چاند سا نکلا\nداغ ہوں اس کی بے حجابی سے\n\nکام تھے عشق میں بہت پر میرؔ\nہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%D8%B3%DB%92"} {"title": "عمر پس ماندہ کچھ دلیل سی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عمر پس ماندہ کچھ دلیل سی ہے\nزندگانی بھی اب قلیل سی ہے\n\nگریہ کرتا ہوں کیا میں نذر حسین\nآنسوؤں کی جو اک سبیل سی ہے\n\nچل دلا وہ پتنگ اڑاتا ہے\nابھی آنے میں اس کے ڈھیل سی ہے\n\nلوگ کرتے ہیں وصف نور جہاں\nمیں نے دیکھا وہ زن تو فیل سی ہے\n\nکس کے مژگاں نے یہ کیا جادو\nمیرے دل میں گڑی جو کیل سی ہے\n\nتو گر آوے شکار ماہی کو\nچشم تر آنسوؤں سے جھیل سی ہے\n\nاس کو صحبت کا گر دماغ نہیں\nطبع اپنی بھی کچھ علیل سی ہے\n\nدل مرا مصر حسن ہے تب تو\nندی آنکھوں کی رود نیل سی ہے\n\nہے جو یہ مصحفیؔ کی ہم خوابہ\nہے تو اچھی پہ کچھ اصیل سی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D9%BE%D8%B3_%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%AF%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AF%D9%84%DB%8C%D9%84_%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "عمر کار جہاں سے گزری ہے", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عمر کار جہاں سے گزری ہے\nگردش آسماں سے گزری ہے\n\nدیکھتا ہوں شباب کو مڑ کر\nزندگانی یہاں سے گزری ہے\n\nدل کی روداد کیف کا عالم\nداستاں داستاں سے گزری ہے\n\nرات بے جام و خوشۂ انگور\nاف نظر کہکشاں سے گزری ہے\n\nزندگانئ کاہش امید\nمیری عمر رواں سے گزری ہے\n\nیہ ہوا ہے کہ اب مری امید\nدل میں ہے راہ جاں سے گزری ہے\n\nبے خودی کے کرم سے اے کیفیؔ\nخوب پیر مغاں سے گزری ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "عمر کاٹی بتوں کی آڑوں میں", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عمر کاٹی بتوں کی آڑوں میں\nبن کے پتھر رہا پہاڑوں میں\n\nوہ لڑائی میں بول اٹھے مجھ سے\nبات اچھی بنی بگاڑوں میں\n\nدرد سر کے علاج کو وحشت\nکھینچ کر لے چلی پہاڑوں میں\n\nمستیاں اور بہار کا موسم\nمے کی لذت گلابی جاڑوں میں\n\nدختر رز کی شرم تو دیکھو\nچھپ گئی جا کے خم کی آڑوں میں\n\nتو نے پی ہی نہیں ہے اے زاہد\nمے کی گرمی نہ پوچھ جاڑوں میں\n\nتیرے گیسو بھی ہو گئے شامل\nمیری تقدیر کے بگاڑوں میں\n\nمرگ دشمن پہ موت روتی ہے\nیہ اثر ہے تری پچھاڑوں میں\n\nاٹھتے جوبن پہ کھل پڑے گیسو\nآ کے جوگی بسے پہاڑوں میں\n\nوہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں\nآج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں\n\nعشق میں جان پر بنی مضطرؔ\nزندگی کٹ گئی بگاڑوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D9%B9%DB%8C_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%DA%91%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عمر گئی الفت زر جی سے الٰہی نہ گئی", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عمر گئی الفت زر جی سے الٰہی نہ گئی\nمو سفید ہو گئے پر دل کی سیاسی نہ گئی\n\nجی میں ٹھانا تھا کہ ہم ہجر میں جینے کے نہیں\nمر گئے آہ یہ بات ہم سے نباہی نہ گئی\n\nعمر گئی ہجر میں دل کرتا ہے مذکور وصال\nبات اب تک یہی دیوانے کی واہی نہ گئی\n\nجی گوارا نہیں کرتا کہ کروں منت خلق\nہو گئے گرچہ گدا دل سے وہ شاہی نہ گئی\n\nدختر رز سے فقط میں نہیں محفوظ حضورؔ\nکون مجلس ہے کہ جس میں یہ سراہی نہ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%85%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%B2%D8%B1_%D8%AC%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "عمر گذری ہوچکا آسودگی کا روزگار", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "ترکیب بند", "year": null, "text_ur": "عمر گذری ہوچکا آسودگی کا روزگار\nرنج و محنت کے تئیں آرام سے ہے ننگ و عار\nمعرکہ ہے یک طرف دونوں ہوئے ہیں سامنے\nزخم دل کی یہ ہنسی وہ گریۂ بے اختیار\nمجہلہ ہے گتھ رہے یک طرف ہیں کتنے جو یہ\nصبر سے بے طاقتی دل اور درد بے شمار\nعاشقی جب کی تھی میں نے تب نہ تھیں یہ خواریاں\nکیا کہوں کیا کچھ دکھاتا ہے مجھے اب ہجر یار\nسینہ دیکھو چاک منھ ناخن سے سب نوچا ہوا\nآنکھیں دیکھو ڈوبی خوں میں جی کو دیکھو بے قرار\nاے کہ گفتی عشق را درماں بہ ہجراں کردہ اند\nکاش می گفتی کہ ہجراں را چہ درماں کردہ اند\n\nاک کنارے وے تو جو ہیں گے زمیں کے زیر یاں\nخاک پر بسمل پڑے ہیں کیسے کیسے شیر یاں\nدو قدم پر ہے یہ ہنگامہ ترے کوچے کے بیچ\nآ شتابی کچھ نہیں لگنے کی تجھ کو دیر یاں\nمنھ پہ کھانے والے تلواروں کے بھوکے موت کے\nسینکڑوں یک جا ہیں وے جینے سے تھے جو سیر یاں\nدھڑ نہیں سر ہی پڑا ہے سر نہیں تو دھڑ ہی ہے\nہیں زیارت کردنی صد کشتۂ شمشیر یاں\nغم زدے بے خانماں بے وارثے بیکس غریب\nزخموں کے دامن لے منھ پر ہو رہے ہیں ڈھیر یاں\nگر تو ہم آئی پئے طوف شہیداں دور نیست\nگریہ می آید دریں جا راہ چنداں دور نیست\n\nلے لپیٹ ایک آن میں وحشت سے یہ سارا جہاں\nخاک اڑا ہر ایک دم میں کارواں در کارواں\nتیرہ کر عالم کو رہ سرمایۂ گرد و غبار\nچشم ما روشن تو ہو آوارۂ کون و مکاں\nیمن بخشے طے کیا کرنا زمیں کا تیرے تیں\nکھینچنا سر کا مبارک ہو تجھے تا آسماں\nلیکن اتنا بھی برآشفتہ نہ ہوجانا کہیں\nپیش رو رکھتے ہیں سارے خاطر واماندگاں\nسو خدا ناکردہ ہم کہتے نہیں اس راہ سے\nکوئی دم وقفہ کرے یا دیر ہووے تجھ کو یاں\nیک قدم اے گرد باد دامن صحرا بایست\nدر قفا ماندہ ست مشت خاک ما تنہا بایست\n\nگرچہ ہجراں میں ترے جاتا تھا جی میرا چلا\nپر یہ تھا دل میں کہ شاید دیوے تو داد وفا\nوصل خاطرخواہ تو معلوم تھا میرے تئیں\nآس دل کو لگ رہی تھی جب تلک تھا میں جدا\nگاہ باشد رحم کو بھی کام فرماوے وہ شوخ\nدیکھ مجھ ناکام کو یک دم کرے ترک جفا\nایک ساعت پاس بیٹھے درد دل میرا سنے\nکرکے غم خواری کہے یہ تیرے تیں کیا ہوگیا\nسو تو یہ سب ہوچکا اے کاشکے ملتا نہ تو\nایسے آجانے کا تیرے کون یاں مشتاق تھا\nآمدی و حسرت وصل از دلم برداشتی\nحسرتے بود از وصال آں ہم بہ من نگذاشتی\n\nہیں خرابے آج جتنے کل یہ تھے لوگوں کے گھر\nمت بناے خانہ میں منعم رہا کر اس قدر\nطاق کسریٰ تو سنا ہوگا کہ کیسا تھا محل\nاب کہیں اس طاق کا کسریٰ کے پیدا ہے اثر\nگھر کا صاحب تو اڑایا کرکے یکساں خاک سے\nاینٹ مارے اینٹ سے یہ کچھ ہوا اس گھر اپر\nخط باطل سے لکھا ہے صفحۂ کون و مکاں\nکیوں دماغ اپنا جلاتا ہے رہے ہے تو کدھر\nکیسے کیسے خانوادے خاک میں یاں مل گئے\nجاے عبرت ہے یہ معمورہ جہاں کا بے خبر\nہرکجا افتادہ بینی خشت در ویرانہ اے\nہست فرد دفتر احوال صاحب خانہ اے\n\nکم بہت سننے میں آتا ہے کوئی رنجور ہے\nیا کسی مجروح کا زخم جگر ناسور ہے\nروشنی آنکھوں کی ہے منظور ساری خلق کو\nقوت دل کا جدھر دیکھو تدھر مذکور ہے\nہم کنے بھی تھے یہ دو آتش کے پرکالے کبھو\nان سے ہم ایذا جو کھینچی ہے کسے مقدور ہے\nایک نے مارا چھڑک کر جی سے ہم کو آب داغ\nایک نے جیسا جلایا اب تلک مشہور ہے\nہم کو حیرانی ہے اس میں جس کو سنتے ہیں اسے\nان ہی دونوں آفتوں کی پرورش منظور ہے\nما سرشک گرم و آہ آتشیں دیدیم و بس\nبہرہ اے کز چشم و دل دیدیم ایں دیدیم و بس\n\nدل نہیں مجھ کو ملا یہ کوئی جی کا ہے وبال\nگفتنی ہو تو کہوں اے میرؔ میں کچھ اس کا حال\nخودبخود گھٹتا ہی جاہے آرزو کیا ہے اسے\nچاہتا ہے سیم و زر یا کوئی دلبر خوش جمال\nیاد میں میری ہوا ہو کچھ سبب تو ہے بجا\nعشق بازی مفلسی آزردگی رنج و ملال\nنے کسو کے گیسو و کاکل کا وابستہ ہوں میں\nنے کسی کے چاند سے مکھڑے کا مجھ کو ہے خیال\nکیا کروں ایذاے بے موجب غرض تجھ سے بیاں\nنے غم و درد جدائی ہے نہ اندوہ وصال\nنیستم عاشق بظاہر لیک می کاہد دلم\nعمر بگذشت و نمی دانم چہ می خواہد دلم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%85%D8%B1_%DA%AF%D8%B0%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%86%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%B3%D9%88%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D8%B2%DA%AF%D8%A7%D8%B1"} {"title": "عمر گزری ان بتوں کے وصل کی تدبیر میں", "poet_page": "مصنف:عاشق حسین بزم آفندی", "kind": "poetry", "section": "غزل > ایاغ بزم (1927)", "year": "1927", "text_ur": "عمر گزری ان بتوں کے وصل کی تدبیر میں\nکیا خبر مجھ کو یہ پتھر تھے مری تقدیر میں\n\nپاک کر کے اس کو لا قاتل لہو کھاتا ہے جوش\nغیر کے خوں کے ہیں دھبے دامن شمشیر میں\n\nبلکی لیتا ہے مقدر مجھ سے کیوں ہر مرتبہ\nبل ہے ان کی زلف کا کیا گیسوئے تقدیر میں\n\nہجر زلف یار میں اس درجہ ہوں زار و نحیف\nہے فراغت سے گزر اب خانۂ زنجیر میں\n\nآج تک خارش نہیں زخم جگر کی کم ہوئی\nکس قیامت کا مزا تھا ناخن شمشیر میں\n\nکس طرح بے قتل کے آئے مجھے آرام و چین\nشکل مقصد کی تو ہے آئینہ شمشیر میں\n\nقلب میں پیوست پیکاں بھی اسی صورت سے ہو\nجیسے بیٹھی ہے سری اے ترک تیرے تیر میں\n\nجن کے دل فولاد ہیں غم کا اثر ان پہ ہو کیا\nاشک کب دیکھے کسی نے دیدۂ زنجیر میں\n\nاس ضعیفی میں خطا کرتا نہیں تیر ستم\nہیں ابھی کس بل جوانوں کے سے چرخ پیر میں\n\nواقعی دل کی خطا ہے عاشق مژگاں ہوا\nاس کو کچھ تنبیہ کر دیجے زبان تیر میں\n\nمہر و الفت کا محل اس بت کے رہنے کا مقام\nمنزل دل بھی ہے کیا منزل مری تعمیر میں\n\nاشک خوں ناشادیٔ عشاق پر روئی ہے یہ\nخون کے دھبے نہیں ہیں یار کی شمشیر میں\n\nکشت وحشت پر اگر برسائے وہ آب کرم\nکوپلیں پھوٹیں ابھی ہر دانۂ زنجیر میں\n\nایک دن کے درد فرقت نے یہ نقشہ کر دیا\nہو گئی بیگانگی مجھ میں مری تصویر میں\n\nدیکھیے قسمت کی خوبی کچھ پڑھا جاتا نہیں\nاس نے نامہ بھی جو لکھا تو خط تقدیر میں\n\nآرزو ہے بزمؔ کی خالق وہ دن لائے کہیں\nمرثیہ جا کر پڑھوں میں روضۂ شبیر میں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%85%D8%B1_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عمل سیں مے پرستوں کے تجھے کیا کام اے واعظ", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عمل سیں مے پرستوں کے تجھے کیا کام اے واعظ\nشراب شوق کا تو نے پیا نیں جام اے واعظ\n\nلگے گا سنگ خجلت شیشۂ ناموس پر تیرے\nعبث ہم بے گناہوں کوں نہ کر بد نام اے واعظ\n\nنہیں ہے امتیاز نیک و بد چشم حقیقت میں\nمجھے یکساں ہوا ہے کفر اور اسلام اے واعظ\n\nنیاز بے خودی بہتر نماز خود نمائی سیں\nنہ کر ہم پختہ مغزوں سیں خیال خام اے واعظ\n\nکلام نقطۂ علم مختصر ہے سب معانی کا\nبیان منطق درسی کوں نیں انجام اے واعظ\n\nوو شیریں لب کی کڑوے بول امرت ہیں مرے حق میں\nتجھے معلوم کیا ہے لذت دشنام اے واعظ\n\nسراجؔ اس کعبۂ جاں کے تصور کوں کیا سمرن\nیہی ورد سحر ہے اور دعائے شام اے واعظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%85%D9%84_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A7%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "عمل کچھ ایسا کیا عدو نے کہ عشق باہم لگا چھڑایا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عمل کچھ ایسا کیا عدو نے کہ عشق باہم لگا چھڑایا\nالٰہی چھٹ جائیں اس کی نبضیں ملاپ جس نے مرا چھڑایا\n\nنہ بیٹھے آرام سے وہ گاہے اٹھائے نت دکھ پہ دکھ خدایا\nکہ جس نے ناحق اٹھا کے بہتان اپنا واں بیٹھنا چھڑایا\n\nالٰہی محروم رکھیو اس کو مدام لذات دوجہاں سے\nاسیر دام فراق کر مجھ کو جس نے میرا مزا چھڑایا\n\nنہ دوستی کا اسے ملے پھل نہ کوئی مربوط ہووے اس سے\nکہ جس نے کر دشمنی خدایا جو ربط آپس میں تھا چھڑایا\n\nعروس گیتی سمجھ کے اس کو ذلیل ہرگز نہ منہ لگاوے\nالٰہی عقد محبت اس سے یہ جس نے میرا بندھا چھڑایا\n\nچھٹے گریبان اس کا گاہے نہ پنجۂ رنج سے خدایا\nکہ دامن وصل ہاتھ اپنے سے جس نے اس شوخ کا چھڑایا\n\nالٰہی زندان غم سے پاوے نہ جیتے جی وہ کبھی رہائی\nکہ جس کے بہکائے سے اب اس نے دل اپنا ہم سے پھنسا چھڑایا\n\nلہو جو مشتاق وصل کا تھا چھٹا نہ قدموں سے اس کے ہرگز\nاگرچہ دھو دھو کے اس نے کتنا بہ شکل رنگ حنا چھڑایا\n\nکہے ہے جرأتؔ یہی بہ تکرار درد ہجراں سے ہاتھ مل مل\nالٰہی چھٹ جائیں اس کی نبضیں ملاپ جس نے مرا چھڑایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%85%D9%84_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%DA%86%DA%BE%DA%91%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئے\nکس درد کے ہیں آپ دوا کچھ نہ پوچھئے\n\nناز و نیاز عاشق و معشوق کیا کہوں\nعجز و غرور شاہ و گدا کچھ نہ پوچھئے\n\nخوشبو سے ہو رہا ہے معطر دماغ جان\nچلتی ہے کس طرف کی ہوا کچھ نہ پوچھئے\n\nکیا کیا نگہ پھسلتی ہے رخسار یار پر\nکیسا یہ آئنہ ہے صفا کچھ نہ پوچھئے\n\nجامہ سے باہر اپنے جو ہوں میں عجب نہیں\nکھولے ہیں کس کے بند قبا کچھ نہ پوچھئے\n\nآئینہ لے کے کیجئے اتنا مشاہدہ\nہم سے سلوک شرم و حیا کچھ نہ پوچھئے\n\nاللہ نے کیا ہے کسے بادشاہ حسن\nسر پر ہے کس کے ظل ہما کچھ نہ پوچھئے\n\nرنگیں کیے ہیں یار نے جیسے کہ دست و پا\nکیا رنگ لا رہی ہے حنا کچھ نہ پوچھئے\n\nناگفتنی ہے عشق بتاں کا معاملہ\nہر حال میں ہے شکر خدا کچھ نہ پوچھئے\n\nکیا شے ہے وہ کمر جو گزرتا ہے یہ خیال\nآتی ہے غیب سے یہ صدا کچھ نہ پوچھئے\n\nکوتاہ خال روئے منور ہے کس قدر\nکتنی ہے زلف یار رسا کچھ نہ پوچھئے\n\nآتشؔ گناہ عشق کی تعزیر کیا کہوں\nمشفق جو کچھ ہے اس کی سزا کچھ نہ پوچھئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%86%D8%A7%D8%A8_%D9%84%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%B2%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A6%DB%92"} {"title": "عنایت اس قدر اللہ اکبر اپنے بسمل پر", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عنایت اس قدر اللہ اکبر اپنے بسمل پر\nکلیجے پر کبھی وہ ہاتھ رکھتے ہیں کبھی دل پر\n\nمجھے وہ ذبح کر کے اس لئے منہ کو چھپائے ہیں\nقیامت ہو کہیں گر چاندنی پڑ جائے بسمل پر\n\nدر دولت پہ دوں چل کر فقیرانہ صدا اک دن\nسنا ہے در تک آ جاتے ہیں وہ آواز سائل پر\n\nتسلی اور چٹکی لے گی بے تابی کے پہلو میں\nکہیں تم ہاتھ رکھ دینا نہ اس ٹھہرے ہوئے دل پر\n\nتمہارے مرنے والوں پر زمانہ رشک کرتا ہے\nمزے سے پاؤں پھیلائے ہوئے سوتے ہیں منزل پر\n\nکلام عاشقانہ سن کے ہر شاعر یہ کہتا ہے\nتمہاری نظم صفدرؔ بڑھ گئی ہے نظم بیدلؔ پر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "عندلیب", "poet_page": "مصنف:عظیم الدین احمد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے عندلیب زیب چمن زینت چمن\nہمدم قلق نصیبوں کی الفت کے ماروں کی\nشیریں تری نوا ہے اگرچہ ہے پر خروش\nدل کش تری صدا ہے اگرچہ ہے دل خراش\nسازوں میں ہے وہ بات کہاں جو کہ تجھ میں ہے\nالفت کہاں ہے ان کو کسی سے کہاں ہے لاگ\nہے ہے کسی کے سوز سے ان کو کہاں ہے ساز\n\nبے شبہ ان میں لحن ہے اک خاص طور کا\nبے شبہ ان کی چھیڑ سے تھراتی ہے ہوا\nلیکن تری صدا سے ہیں ظاہر یہ صاف صاف\nآلام یاس جوش دلی صدمۂ فراق\nیعنی تری نوا ہے وہ تھرائے جس سے دل\n\nچلتی ہے جس گھڑی کہ شب ماہ میں صبا\nاور جب کہ مست ہو ہو کے ہلتی ہے شاخ گل\nاس وقت تو جو کرتی ہے فریاد ہم صفیر\nبیتاب اور کرتی ہے ہجراں نصیب کو\nلیکن تو جس کے واسطے رہتی ہے بے قرار\nہوتا ہے اس کا قرب مہینوں تجھے نصیب\nہوتی ہے ہر بہار میں تجھ کو نئی بہار\n\nان کو تو دیکھ دل کو ہے جن کے کسی سے لاگ\nمعشوق کا مگر نہیں نظارہ تک نصیب\nبرسوں نہیں ہے کوچۂ دل دار تک گزار\nفریاد و نالہ کرتے ہیں دن رات وہ مگر\nممکن نہیں کہ کانوں تک اس کے پہنچ سکے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%86%D8%AF%D9%84%DB%8C%D8%A8"} {"title": "عورت (جوہرِ مرد عیاں ہوتا ہے بے منَّتِ غیر)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "جوہرِ مرد عیاں ہوتا ہے بے منَّتِ غیر\nغیر کے ہاتھ میں ہے جوہرِ عورت کی نمود\nراز ہے اس کے تپِ غم کا یہی نکتۂ شوق\nآتشیں، لذّتِ تخلیق سے ہے اس کا وجود\nکھُلتے جاتے ہیں اسی آگ سے اَسرارِ حیات\nگرم اسی آگ سے ہے معرکۂ بود و نبود\nمَیں بھی مظلومیِ نسواں سے ہوں غم ناک بہت\nنہیں ممکن مگر اس عقدۂ مشکل کی کُشود!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA_%28%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%B1%D9%90_%D9%85%D8%B1%D8%AF_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%85%D9%86%D9%8E%D9%91%D8%AA%D9%90_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%29"} {"title": "عورت (وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ\nاسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ درُوں\nشرف میں بڑھ کے ثریّا سے مشت خاک اس کی\nکہ ہر شرَف ہے اسی دُرج کا دُرِ مکنوں\nمکالماتِ فلاطُوں نہ لِکھ سکی، لیکن\nاسی کے شُعلے سے ٹُوٹا شرارِ افلاطُوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA_%28%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%D9%90_%D8%B2%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1%D9%90_%DA%A9%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%86%DA%AF%29"} {"title": "عورت اور تعلیم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "تہذیبِ فرنگی ہے اگر مرگِ اُمومت\nہے حضرتِ انساں کے لیے اس کا ثمر موت\nجس عِلم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن\nکہتے ہیں اُسی علم کو اربابِ نظر موت\nبیگانہ رہے دِیں سے اگر مَدرسۂ زن\nہے عشق و محبّت کے لیے عِلم و ہُنر موت", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85"} {"title": "عورت ذات", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بادشاہت کا خاتمہ", "year": "1950", "text_ur": "مہاراجہ گ سے ریس کورس پر اشوک کی ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد دونوں بے تکلف دوست بن گئے۔مہاراجہ گ کو ریس کے گھوڑے پالنے کا شوق ہی نہیں خبط تھا۔ اس کے اصطبل میں اچھی سے اچھی نسل کا گھوڑا موجود تھا۔ اور محل میں جس کے گنبد ریس کورس سے صاف دکھائی دیتے تھے، طرح طرح کے عجائب موجود تھے۔\n\nاشوک جب پہلی بار محل میں گیا تو مہاراجہ گ نے کئی گھنٹے صرف کرکے اسکو اپنے تمام نوادر دکھائے۔ یہ چیزیں جمع کرنے میں مہاراجہ کو ساری دنیا کا دورہ کرنا پڑا تھا۔ ہر ملک کا کونہ کونہ چھاننا پڑا تھا۔ اشوک بہت متاثر ہوا۔ چنانچہ اس نے نوجوان مہاراجہ گ کے ذوقِ انتخاب کی خوب داد دی۔\n\nایک دن اشوک گھوڑوں کے ٹپ لینے کے لیے مہاراجہ کے پاس گیا تو وہ ڈارک روم میں فلم دیکھ رہا تھا۔ اس نے اشوک کو وہیں بلوالیا۔ سکیٹن ملی میٹر فلم تھے جہا مہاراجہ نے خود اپنے کیمرے سے لیے تھے۔ جب پروجیکٹر چلا تو پچھلی ریس پوری کی پوری پردے سے دوڑ گئی۔ مہاراجہ کا گھوڑا اس ریس میں ون آیا تھا۔\n\nاس فلم کے بعد مہاراجہ نے اشوک کی فرمائش پر اور کئی فلم دکھائے۔ سوئٹزرلینڈ، پیرس، نیویارک،ہونو لولو، ہوائی، وادیِ کشمیر۔۔۔ اشوک بہت محظوظ ہوا ۔یہ فلم قدرتی رنگوں میں تھے۔اشوک کے پاس بھی سکیٹن ملی میٹر کیمرہ اور پروجیکٹر تھا۔ مگر اس کے پاس فلموں کا اتنا ذخیرہ نہیں تھا۔ دراصل اس کو اتنی فرصت ہی نہیں ملتی تھی کہ اپنا یہ شوق جی بھر کے پورا کرسکے۔ مہاراجہ جب کچھ فلم دکھا چکا تو اس نے کیمرے میں روشنی کی اور بڑی بے تکلفی سے اشوک کی ران پر دھپا مار کرکہا،’’اور سناؤ دوست۔‘‘\n\nاشوک نے سگریٹ سلگایا، ’’مزا آگیا فلم دیکھ کر۔‘‘\n\n’’اور دکھاؤں؟‘‘\n\n’’نہیں نہیں‘‘\n\n’’نہیں بھئی ایک ضرور دیکھو۔۔۔ مزا آجائے گاتمہیں۔‘‘ یہ کہہ کر مہاراجہ گ نے ایک صندوقچہ کھول کر ایک ریل نکالی اور پروجیکٹر پرچڑھا دی، ’’ذرا اطمینان سے دیکھنا۔‘‘اشوک نے پوچھا’’ کیا مطلب؟‘‘ مہاراجہ نے کمرے کی لائٹ اوف کردی،’’ مطلب یہ کہ ہر چیز غور سے دیکھنا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے پروجیکٹر کا سوئچ دبا دیا۔پردے پر چند لمحات صرف سفید روشنی تھرتھراتی رہی، پھر ایک دم تصویریں شروع ہوگئیں۔ ایک الف ننگی عورت صوفے پر لیٹی تھی۔ دوسری سنگار میز کے پاس کھڑی اپنے بال سنوار رہی تھی۔اشوک کچھ دیر خاموش بیٹھا دیکھتا رہا۔۔۔ اس کے بعد ایک دم اس کے حلق سے عجیب و غریب آواز نکلی۔ مہاراجہ نے ہنس کر اس سے پوچھا، ’’کیا ہوا؟‘‘\n\nاشوک کے حلق سے آواز پھنس پھنس کر باہر نکلی،’’ بند کرو یار۔۔۔ بند کرو۔‘‘\n\n’’کیا بند کرو؟‘‘\n\nاشوک اٹھنے لگا۔ مہاراجہ گ نے اسے پکڑ کربٹھا دیا،’یہ فلم تمہیں پورے کا پورا دیکھنا پڑے گا۔‘‘ فلم چلتا رہا۔ پردے پر برہنگی منہ کھولے ناچتی رہی۔ مرد اور عورت کا جنسی رشتہ مادر زاد عریانی کے ساتھ تھرکتا رہا۔ اشوک نے ساراوقت بے چینی میں کاٹا۔ جب فلم بند ہوا اور پردے پر صرف سفید روشنی تھی تو اشوک کو ایسا محسوس ہوا کہ جو کچھ اس نے دیکھا تھا، پروجیکٹر کی بجائے اسکی آنکھیں پھینک رہی ہیں۔مہاراجہ گ نے کمرے کی لائٹ اون کی اور اشوک کی طرف دیکھا اور ایک زور کا قہقہہ لگایا،’’کیا ہوگیا ہے تمہیں؟‘‘ اشوک کچھ سکڑ سا گیا تھا۔ ایک دم روشنی کے باعث اسکی آنکھیں بھنچی ہوئی تھیں۔ ماتھے پر پسینے کے موٹے موٹے قطرے تھے۔ مہاراجہ گ نے زور سے اس کی ران پر دھپا مارا۔ اور اس قدر بے تحاشا ہنسا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اشوک صوفے پرسے اٹھا۔ رومال نکال کر اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھا،’’کچھ نہیں یار۔‘‘\n\n’’کچھ نہیں کیا۔۔۔ مزا نہیں آیا؟‘‘اشوک کا حلق سوکھا ہوا تھا۔ تھوک نگل کر اس نے کہا،’’ کہاں سے لائے یہ فلم؟‘‘ مہاراجہ نے صوفے پر لیٹتے ہوئے جواب دیا،’’ پیرس سے ۔۔۔ پے ری۔۔۔ پے ری!‘‘ اشوک نے سر کو جھٹکا سا دیا۔’’ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘\n\n’’کیا؟‘‘\n\n’’یہ لوگ۔۔۔ میرا مطلب ہے کیمرے کے سامنے یہ لوگ کیسے۔۔۔‘‘\n\n’’یہی تو کمال ہے۔۔۔ ہے کہ نہیں؟‘‘\n\n’’ہے تو سہی۔‘‘ یہ کہہ کر اشوک نے رومال سے اپنی آنکھیں صاف کیں،’’ساری تصویریں جیسے میری آنکھوں میں پھنس گئی ہیں۔‘‘ مہاراجہ گ اٹھا،’’میں نے ایک دفعہ چنڈ لیڈیز کو یہ فلم دکھایا۔‘‘\n\nاشوک چلایا،’’لیڈیز کو؟‘‘\n\n’’ہاں ہاں۔۔۔ بڑے مزے لے لے کردیکھا انھوں نے۔‘‘\n\n’’غلط‘‘\n\nمہاراجہ نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ کہا،’’سچ کہتا ہوں۔۔۔ ایک دفعہ دیکھ کر دوسری دفعہ پھر دیکھا۔بھینچتی، چلاتی اور ہنستی رہیں۔‘‘ اشوک نے اپنے سر کو جھٹکا سا دیا،’’حد ہوگئی ہے۔۔۔ میں توسمجھتا تھا وہ۔۔۔ بے ہوش ہوگئی ہوں گی۔‘‘\n\n’’میرا بھی یہی خیال تھا، لیکن انھوں نے خوب لطف اٹھایا۔‘‘\n\nاشوک نے پوچھا،’’کیا یورپین تھیں؟‘‘ مہاراجہ گ نے کہا،’’نہیں بھائی۔۔۔ اپنے دیس کی تھیں۔۔۔ مجھ سے کئی باریہ فلم اور پروجیکٹر مانگ کر لے گئیں۔۔۔ معلوم نہیں کتنی سہیلیوں کو دکھا چکی ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’میں نے کہا۔۔۔‘‘اشوک کچھ کہتے کہتے رک گیا۔\n\n’’کیا؟‘‘\n\n’’ایک دو روز کے لیے یہ فلم دے سکتے ہو مجھے؟‘‘\n\n’’ہاں ہاں لے جاؤ!‘‘ یہ کہہ کر مہاراجہ نے اشوک کی پسلیوں میں ٹھونکادیا،’’سالے کس کو دکھائے گا۔‘‘\n\n’’دوستوں کو‘‘\n\n’’دکھا جس کو بھی تیری مرضی!‘‘ یہ کہہ کر مہاراجہ گ نے پروجیکٹر میں سے فلم کا اسپول نکالا۔ اس کو دوسرے اسپول پر چڑھا دیا اور ڈبہ اشوک کے حوالے کردیا۔’’لے پکڑ۔۔۔عیش کر!‘‘اشوک نے ڈبہ ہاتھ میں لے لیا تو اس کے بدن میں جھرجھری سی دوڑ گئی۔ گھوڑوں کے ٹپ لینا بھول گیا اور چند منٹ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد چلا گیا۔گھر سے پروجیکٹر لے جا کر اس نے کئی دوستوں کویہ فلم دکھایا۔تقریباً سب کے لیے انسانیت کی یہ عریانی بالکل نئی چیز تھی۔ اشوک نے ہر ایک کارد عمل نوٹ کیا۔ بعض نے خفیف سی گھبراہٹ اور فلم کا ایک ایک انچ غور سے دیکھا۔ بعض نے تھوڑا سا دیکھ کر آنکھیں بند کرلیں۔ بعض آنکھیں کھلی رکھنے کے باوجود فلم کو تمام و کمال طور پر نہ دیکھ سکے۔ ایک برداشت نہ کرسکا اور اٹھ کرچلا گیا۔\n\nتین چار روز کے بعد اشوک کو فلم لوٹانے کا خیال آیا تو اس نے سوچا کیوں نہ اپنی بیوی کو دکھاؤں چنانچہ وہ پروجیکٹر اپنے گھر لے گیا۔رات ہوئی تو اس نے اپنی بیوی کو بلایا۔ دروازے بند کیے۔ پروجیکٹر کا کنکشن وغیرہ ٹھیک کیا۔ فلم نکالا۔ اس کو فِٹ کیا۔ کمرے کی بتی بجھائی اور فلم چلادیا۔\n\nپردے پر چند لمحات سفید روشنی تھرتھرائی۔ پھر تصویریں شروع ہوئیں۔ اشوک کی بیوی زور سے چیخی،تڑپی، اچھلی۔ اس کے منہ سے عجیب و غریب آوازیں نکلیں۔ اشوک نے اسے پکڑ کربٹھانا چاہا تو اس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے اور چیخنا شروع کردیا،’’بند کرو۔۔۔ بند کرو۔‘‘\n\nاشوک نے ہنس کر کہا،’’ارے بھئی دیکھ لو۔۔۔ شرماتی کیوں ہو؟‘‘\n\n’’نہیں نہیں‘‘یہ کہہ کر اس نے ہاتھ چھڑا کر بھاگنا چاہا۔اشوک نے اسکو زور سے پکڑ لیا، وہ ہاتھ جو اس کی آنکھوں پر تھا، ایک طرف کھینچا۔ اس کھینچا تانی میں دفعتا اشوک کی بیوی نے رونا شروع کردیا۔ اشوک کے بریک سے لگ گئے۔ اس نے تو محض تفریح کی خاطر اپنی بیوی کو فلم دکھایا تھا۔روتی اور بڑبڑاتی اس کی بیوی دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ اشوک چند لمحات بالکل خالی الذہن بیٹھا ننگی تصویریں دیکھتا رہا۔ جو حیوانی حرکات میں مشغول تھیں، پھر ایک دم اس نے معاملہ کی نزاکت کو محسوس کیا۔ اس احساس نے اسے خجالت کے سمندر میں غرق کردیا۔۔۔ اس نے سوچا مجھ سے بہت ہی نازیبا حرکت سرزد ہوئی۔ لیکن حیرت ہے کہ مجھے اس کا خیال تک نہ آیا۔۔۔ دوستوں کو دکھایا تھا۔ ٹھیک تھا۔ گھر میں اور کسی کو نہیں، اپنی بیوی۔۔۔ اپنی بیوی کو۔۔۔ اس کے ماتھے پرپسینہ آگیا۔\n\nفلم چل رہا تھا۔ مادر زار برہنگی مختلف آسن اختیار کرتی دوڑ رہی تھی۔ اشوک نے اٹھ کر سوئچ اوف کردیا۔۔۔ پردے پرسب کچھ بجھ گیا۔ مگر اس نے اپنی نگاہیں دوسری طرف پھیر لیں۔ اس کا دل و دماغ شرمساری میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ احساس اس کو چبھ رہا تھا کہ اس سے ایک نہایت ہی نازیبا۔۔۔ نہایت ہی واہیات حرکت سرزد ہوئی۔ اس نے یہاں تک سوچا کہ وہ کیسے اپنی بیوی سے آنکھ ملا سکے گا۔کمرے میں گُھپ اندھیرا تھا۔ ایک سگریٹ سلگا کر اس نے احساسِ ندامت کو مختلف خیالوں کے ذریعہ سے دورکرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوا۔ تھوڑی دیر دماغ میں اِدھر اُدھر ہاتھ مارتا رہا۔ جب چاروں طرف سے سرزنش ہوئی تو زچ بچ ہوگیااور ایک عجیب سی خواہش اسکے دل میں پیدا ہوئی کہ جس طرح کمرے میں اندھیرا ہے اسی طرح اسکے دماغ پربھی اندھیرا چھا جائے۔\n\nبار بار اسے یہ چیز ستا رہی تھی،’’ایسی واہیات حرکت اور مجھے خیال تک نہ آیا۔‘‘ پھر وہ سوچتا’’بات اگر ساس تک پہنچ گئی۔۔۔ سالیوں کو پتہ چل گیا۔ ۔۔میرے متعلق کیا رائے قائم کریں گے یہ لوگ کہ ایسے گرے ہوئے اخلاق کا آدمی نکلا۔۔۔ ایسی گندی ذہنیت کہ اپنی بیوی کو۔۔۔‘‘\n\nتنگ آکر اشوک نے سگریٹ سلگایا۔ وہ ننگی تصویریں جو وہ کئی بار دیکھ چکا تھا ،اس کی آنکھوں کے سامنے ناچنے لگیں۔۔۔ ان کے عقب میں اسے اپنی بیوی کا چہرہ نظر آتا۔ حیران و پریشان، جس نے زندگی میں پہلی بار عفونت کا اتنا بڑا ڈھیر دیکھا ہو۔ سر جھٹک کر اشوک اٹھا اور کمرے میں ٹہلنے لگا۔ مگر اس سے بھی اس کا اضطراب دور نہ ہوا۔\n\nتھوڑی دیر کے بعد وہ دبے پاؤں کمرے سے باہر نکلا۔ ساتھ والے کمرے میں جھانک کر دیکھا۔ اس کی بیوی منہ سر لپیٹ کر لیٹی ہوئی تھی۔ کافی دیر کھڑا سوچتا رہا کہ اندرجا کر مناسب و موزوں الفاظ میں اس سے معافی مانگے۔ مگر خود میں اتنی جرأت پیدا نہ کرسکا۔ دبے پاؤں لوٹا اور اندھیرے کمرے میں صوفے پرلیٹ گیا۔ دیر تک جاگتا رہا، آخر سو گیا۔صبح سویرے اٹھا۔ رات کا واقعہ اس کے ذہن میں تازہ ہوگیا۔ اشوک نے بیوی سے ملنا مناسب نہ سمجھا اور ناشتہ کیے بغیر نکل گیا۔\n\nآفس میں اس نے دل لگا کر کوئی کام نہ کیا۔ یہ احساس اس کے دل و دماغ کے ساتھ چپک کر رہ گیا تھا، ’’ایسی واہیات حرکت اورمجھے خیال تک نہ آیا۔‘‘کئی بار اس نے گھربیوی کو ٹیلی فون کرنے کا ارادہ کیا مگر ہر بار نمبر کے آدھے ہندسے گھما کرریسیور رکھ دیا۔ دوپہر کو گھر سے جب اس کا کھانا آیا تو اس نے نوکر سے پوچھا،’’میم صاحب نے کھانا کھالیا؟‘‘ نوکر نے جواب دیا،’’جی نہیں۔۔۔ وہ کہیں باہر گئے ہیں۔‘‘\n\n’’کہاں؟‘‘\n\n’’معلوم نہیں صاحب!‘‘\n\n’’کب گئے تھے؟‘‘\n\n’’گیارہ بجے‘‘\n\nاشوک کا دل دھڑکنے لگا۔ بھوک غائب ہوگئی۔ دو چار نوالے کھائے اور ہاتھ اٹھا لیا۔ اسکے دماغ میں ہلچل مچ گئی تھی۔ طرح طرح کے خیالات پیدا ہورہے تھے۔۔۔ گیارہ بجے۔۔۔ ابھی تک لوٹی نہیں۔۔۔ گئی کہاں ہے۔۔۔ ماں کے پاس؟ کیا وہ اسے سب کچھ بتا دیگی۔۔۔؟ ضرور بتائے گی۔ ماں سے بیٹی سب کچھ کہہ سکتی ہے۔۔۔ ہوسکتا ہے بہنوں کے پاس گئی ہو۔۔۔ سنیں گی تو کیا کہیں گی۔۔۔؟ دونوں میری کتنی عزت کرتی تھیں۔ جانے بات کہاں سے کہاں پہنچے گی۔۔۔ ایسی واہیات حرکت اور مجھے خیال تک نہ آیا۔\n\nاشوک آفس سے با ہر نکل گیا۔ موٹر لی اور اِدھر اُدھر آوارہ چکرلگاتا رہا۔ جب کچھ سمجھ میں نہ آیا تو اس نے موٹر کا رخ گھر کی طرف پھیر دیا،’’دیکھا جائے گا جوکچھ ہوگا۔‘‘ گھر کے پاس پہنچا تو اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ جب لفٹ ایک دھچکے کے ساتھ اوپر اٹھی تو اس کا دل اچھل کر اس کے منہ میں آگیا۔لفٹ تیسری منزل پر رکی۔ کچھ دیر سوچ کر اس نے دروازہ کھولا۔ اپنے فلیٹ کے پاس پہنچا تو اس کے قدم رک گئے۔ اس نے سوچا کہ لوٹ جائے۔ مگر فلیٹ کا دروازہ کھلا اور اس کا نوکر بیڑی پینے کے لیے باہر نکلا۔ اشوک کو دیکھ کر اس نے بیڑی ہاتھ میں چھپائی اور سلام کیا۔ اشوک کو اندر داخل ہونا پڑا۔\n\nنوکر پیچھے پیچھے آرہا تھا۔ اشوک نے پلٹ کر اس سے پوچھا،’’میم صاحب کہاں ہیں؟‘‘\n\nنوکر نے جواب دیا،’’اندر کمرے میں؟‘‘\n\n’’اور کون ہے؟‘‘\n\n’’ان کی بہنیں صاحب۔۔۔ کولابے والے صاحب کی میم صاحب اور دو پارسی بائیاں!‘‘\n\nیہ سن کر اشوک بڑے کمرے کی طرف بڑھا۔ دروازہ بند تھا۔ اس نے دھکا دیا۔ اندر سے اشوک کی بیوی کی پتلی مگر تیز آواز آئی’’ کون ہے؟‘‘\n\nنوکر بولا ’’صاحب‘‘\n\nاندر کمرے میں ایک دم گڑ بڑ شروع ہوگئی۔ چیخیں بلند ہوئیں۔ دروازوں کی چٹخیاں کھلنے کی آوازیں آئیں۔ کھٹ کھٹ پھٹ پھٹ ہوئی۔ اشوک کوری ڈور سے ہوتا پچھلے دروازے سے کمرے میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ پروجیکٹر چل رہا اور پردے پردن کی روشنی میں دھندلی دھندلی انسانی شکلیں ایک نفرت انگیز مکانکی یک آہنگی کے ساتھ حیوانی حرکات میں مشغول ہیں۔\n\nاشوک بے تحاشا ہنسنے لگا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%B0%D8%A7%D8%AA"} {"title": "عورت کی حفاظت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور\nکیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہُو سرد\nنے پردہ، نہ تعلیم، نئی ہو کہ پُرانی\nنِسوانیَتِ زن کا نِگہباں ہے فقط مرد\nجس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا\nاُس قوم کا خورشید بہت جلد ہُوا زرد", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D9%81%D8%A7%D8%B8%D8%AA"} {"title": "عورتوں کا بناؤ سنگھار کیوں ضروری ہے؟", "poet_page": "مصنف:وحید الدین سلیم", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "عورتیں بچپن سے مرتے دم تک اپنی زینت وآرائش اور بناؤ سنگھار میں مشغول رہتی ہیں اور ان کی ساری کوشش اسی کام میں صرف ہوتی ہے کہ اپنے تئیں حسین اور جمیل بنائیں اور ان کا حسن وجمال لوگوں کی نظر میں دلکش اور دل فریب معلوم ہو۔ کوئی مرد عورتوں کے اس مشغلے پر اعتراض نہیں کرتا کیونکہ ان کو ایسے کاموں کے کرنے کی آزادی دی گئی ہے جوان کی خوشی اور رضامندی کا باعث ہوں۔ مگر مردوں کا اعتراض نہ کرنا اور ان کے بناؤ سنگھار کے مشغلے سے بے پروائی کا برتاؤ کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ ہر مرد پر لازم ہے کہ جب وہ کسی عورت کو بناؤ سنگھار اور زینت وآرائش میں مشغول دیکھے تو نہایت خوشی اور مسرت کا اظہار کرے اور اس بات کی کوشش کرے کہ وہ عورت اپنے اس مشغلے کو ہمیشہ جاری رکھے۔\n\nکیوں کہ عورتوں کا بناؤ سنگھار میں مشغول ہونا اور اپنے حسن وجمال کو دل فریب اور دلکش بنانے کی کوشش کرنا ان کی تندرستی اور صحت کا بہت بڑا سبب ہے اور یہ ظاہر ہے کہ عورتوں کی صحت وتندرستی نوع انسان کی بقاکے لیے نہایت ضروری ہے۔ کوئی عورت اپنے تئیں حسین و جمیل نہیں بن سکتی جب تک کہ وہ کامل طور پر تندرست نہ ہو۔ مثلاً اگر کسی عورت کا جسم حد سے زیادہ فربہ ہو تو وہ حسین اور جمیل نہیں ہو سکتی اور جب تک کہ اس کا جسم دبلانہ ہو جائے وہ نہایت بے چین اور پریشان رہتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی عورت حد سے زیادہ دبلی اور ناتواں ہو تو وہ اپنے حسن وجمال کو نمایاں نہیں کر سکتی، جب تک کہ اس کے جسم میں ترقی نہ ہو اور وہ اعتدال پر نہ آ جائے۔\n\nبلاشبہ آج کل کی عورتیں حسن و جمال کا مدار جسم کے دبلے ہونے پر خیال کرتی ہیں مگر یہ وہم دیر پا نہیں رہ سکتا۔ کچھ عرصے کے بعد خود بخود یہ وہم ان کے دلوں سے نکل جائےگا اور وہ یقین کرنے لگیں گی کہ حسن وجمال اس جسم میں نہیں رہ سکتا جو ہڈیوں کی مالا ہو۔ اس کے بعد وہ اپنے جسموں کو معتدل اور تندرست رکھنے کی کوشش کریں گی۔ عورت اپنے چہرے کے رنگ پر ناز کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ جوانی اور تندرستی کا خون اس کے رخساروں میں جھلکے اور وہ گلابی دکھائی دیں اور ان کا رنگ زرد نہ ہو مگر عورت کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ کامل طور پر تندرست نہ ہو۔\n\nعورتوں کا اپنے خوبصورت رنگ پر فریفتہ ہونا اور ان کا اس خیال میں رات دن محو رہنا نہایت مفید ہے۔ جس قوم کی عورتیں صحیح اور تندرست اور طاقتور ہیں اور ان کے جسم معتدل ہیں، اس قوم کے بچے نہایت تندرست اور ذہین اور طاقتور پیدا ہوتے ہیں۔ ہزار یگانے عورت کو نصیحت کریں، ہزار بے گانے اس کو تندرستی کا لحاظ رکھنے کی ہدایت کریں مگر کوئی نصیحت اور کوئی ہدایت اس کے حق میں اس قدر مفید نہیں ہو سکتی جس قدر کہ اس کا بناؤ سنگھار میں رہنا اور اپنے تئیں حسین و جمیل بنانے کا شائق ہونا اس کے حق میں مفید ہے۔\n\nعورتیں جو کھانے کھاتی ہیں، اس کی تاثیروں کو اپنے چہروں کے آئینوں میں دیکھتی رہتی ہیں۔ بعض ثقیل اور دیر ہضم کھانوں کا یہ اثر ہوتا ہے کہ ان کے چہروں کا رنگ ملگجا اور بےرونق ہو جاتا ہے۔ بعض کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ان کے رنگ کی سرخی حد سے زیادہ بڑھ جاتی اور بدنما معلوم ہوتی ہے۔ ان تجربوں سے عورتیں جان جاتی ہیں کہ کون سے کھانے ایسے ہیں جو ان کی تندرستی قائم رکھنے اور رنگ کو خوشنما رکھنے میں مفید ہیں اور کون سی غذائیں ایسی ہیں جن کے کھانے سے ان کے حسن وجمال کو نقصان پہنچتا ہے۔ مجبوراً وہ دوسری قسم کے کھانوں سے پرہیز کرتی ہیں اور حسین و جمیل رہنے کی خواہش ان کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ اپنی تندرستی کو قائم رکھیں۔\n\nبعض عورتیں چاہتی ہیں کہ ان کی کمر پتلی معلوم ہو اور اس غرض کے لیے وہ کمر پر پیٹی باندھ لیتی ہیں۔ مگر جب ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاضمے اور جگر کے فعل میں فتور آ چلا ہے اور ایک سرخ داغ ان کی ناک کے بانسے پر پیدا ہو گیا ہے جو نہایت بدنما معلوم ہوتا ہے اور ان کے حسن و جمال کو داغ لگاتا ہے تو مجبور ہوکر وہ کمر کی پیٹی کو ڈھیلا کر دیتی ہیں اور معدہ اور جگر کوان کے قدرتی فرائض کے انجام دینے سے نہیں روکتیں۔\n\nبعض عورتیں شراب یا کوئی اور نشے کی چیز استعمال کرتی ہیں یا تمباکو پینے لگتی ہیں مگر جب ان کو یہ بات آنکھوں سے نظر آتی ہے کہ نشہ کی چیزوں کا استعمال کرنا اور تمباکو دھواں پینا ان کے چہروں کا رنگ بگاڑ رہا ہے اور ان کے حسن و جمال میں تیرگی اور بے رونقی آتی جاتی ہے تو وہ ان مضر صحت چیزوں کو چھوڑ دیتی ہیں اور ان کے استعمال سے توبہ کرتی ہیں۔ تمباکو پینے سے چہرہ کا رنگ زرد ہو جاتا ہے۔ منہ کی شکل بگڑ جاتی ہے۔ آنکھوں کا نور غائب ہونے لگتا ہے۔ بالائی ہونٹ پر جو بال اگ آتے ہیں، وہ بڑھنے لگتے ہیں۔ یہ ایسے نمایاں اثر ہیں جن کو عورت آئینہ میں آسانی سے دیکھ سکتی ہے۔ جب کوئی نوجوان عورت تمباکو پینے یا کسی نشے کی چیز کے استعمال کرنے میں مبتلا ہو تو وہ کسی ناصح کی نصیحت سے اس عادت سے باز نہیں رہےگی۔ اس کے باز رکھنے کے لیے صرف یہ امر کافی ہے کہ اس کے سامنے آئینہ رکھ دیا جائے اور اس سے کہا جائے کہ تم ذرا اپنے چہرہ کو دیکھو اور اس کی بے رونقی کے سبب پر غور کرو۔\n\nاس سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ عورتوں کا بناؤ سنگھار اور زینت وآرائش کا جو شوق ہے، وہ ان کے لیے ان کی بہت سی بیماریوں کا قدرتی علاج ہے اور کسی عورت کو اس شوق کے پورا کرنے سے باز رکھنا نامناسب اور ان کے حق میں نہایت مضر ہے۔ جب تم دیکھو کہ کوئی نوجوان عورت تمباکو پیتی ہے یا کسی نشے کی چیز استعمال کرتی ہے یا راتوں کو جاگتی ہے یا ثقیل اور دیر ہضم کھانے کھاتی ہے تو اس کو ہرگز لعنت ملامت نہ کرو بلکہ نہایت نرم اور شیریں لہجے میں اس سے کہو، میری عزیزہ! یہ کیا بات ہے کہ تمہاری ناک کا بانسا نہایت سرخ رہتا ہے؟ کیا سبب ہے کہ تمہاری آنکھوں میں وہ آب و تاب نہیں رہی جو پہلے تھی؟ مجھ کو نہایت افسوس ہے کہ تمہارے چہرہ کارنگ روز بروز ملگجا اور بےرونق ہوتا جاتا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتیں کہ تمہارا جسم دن بدن دبلا اور نحیف ہو رہا ہے؟\n\nیہ دردناک سوالات اور یہ افسوسناک ہمدردانہ جملے عورت پر فوراً اپنا اثر کریں گے اور وہ اپنے مضر صحت کاموں سے باز آ جائےگی اور اپنے تئیں تندرست اور حسین و جمیل بنانے کی کوشش کرےگی۔ برخلاف اس کے لعنت ملامت کا اثر اس پر الٹا ہوگا اور اس کی ضد بڑھ جائےگی اور اس طرح وہ رفتہ رفتہ اپنی تندرستی اور حسن و جمال کی دشمن ہو جائےگی اور بالآخر اپنے تئیں ہلاک کر ڈالےگی۔\n\nبناؤسنگھار اور زینت و آرائش کاشوق جو عورتوں میں پایا جاتا ہے، وہ ایک قدرتی شوق ہے اور قدرت نے اس شوق میں ایک بڑی حکمت پوشیدہ رکھی ہے، جس کا ہم نے ابھی بیان کیا۔ پس جو شخص اس شوق کے رستے میں حائل ہوتا ہے وہ گویا قدرت سے ڈرتا ہے اور اول عورتوں کی تندرستی کا، پھر تمام قوم کی زندگی اور بقا کا دشمن ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A4_%D8%B3%D9%86%DA%AF%DA%BE%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92%D8%9F"} {"title": "عُرفی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "محل ایسا کِیا تعمیر عُرفیؔ کے تخیّل نے\nتَصدّق جس پہ حیرت خانۂ سیناؔ و فارابیؔ\nفضائے عشق پر تحریر کی اُس نے نوا ایسی\nمیّسر جس سے ہیں آنکھوں کو اب تک اشکِ عُنّابی\nمرے دل نے یہ اک دن اُس کی تُربت سے شکایت کی\nنہیں ہنگامۂ عالم میں اب سامانِ بیتابی\nمزاجِ اہلِ عالم میں تغیّر آگیا ایسا\nکہ رخصت ہوگئی دنیا سے کیفیّت وہ سیمابی\nفغانِ نیم شب شاعر کی بارِ گوش ہوتی ہے\nنہ ہو جب چشمِ محفل آشنائے لُطفِ بے خوابی\nکسی کا شُعلۂ فریاد ہو ظُلمت رُبا کیونکر\nگراں ہے شب پرستوں پر سحَر کی آسماں تابی\nصدا تُربت سے آئی “شکوۂ اہلِ جہاں کم گو\nنوارا تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی\nحُدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%8F%D8%B1%D9%81%DB%8C"} {"title": "عِلم و عِشق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "علم نے مجھ سے کہا عشق ہے دیوانہ پن\nعشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمین و ظن\nبندۂ تخمین و ظن! کِرمِ کتابی نہ بن\nعشق سراپا حضور، علم سراپا حِجاب!\n\nعشق کی گرمی سے ہے معرکۂ کائنات\nعلم مقامِ صفات، عشق تماشائے ذات\nعشق سکُون و ثبات، عشق حیات و ممات\nعلم ہے پیدا سوال، عشق ہے پِنہاں جواب!\n\nعشق کے ہیں معجزات سلطنت و فقر و دِیں\nعشق کے ادنیٰ غلام صاحبِ تاج و نگیں\nعشق مکان و مکیں، عشق زمان و زمیں\nعشق سراپا یقیں، اور یقیں فتحِ باب!\n\nشرعِ محبّت میں ہے عشرتِ منزل حرام\nشورشِ طُوفاں حلال، لذّتِ ساحل حرام\nعشق پہ بجلی حلال، عشق پہ حاصل حرام\nعلم ہے اِبن الکتاب، عشق ہے اُمّ الکتاب!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%D9%90%D9%84%D9%85_%D9%88_%D8%B9%D9%90%D8%B4%D9%82"} {"title": "عکس بھی کب شب ہجراں کا تماشائی ہے", "poet_page": "مصنف:اشرف علی فغاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عکس بھی کب شب ہجراں کا تماشائی ہے\nایک میں آپ ہوں یا گوشۂ تنہائی ہے\n\nدل تو رکتا ہے اگر بند قبا باز نہ ہو\nچاک کرتا ہوں گریباں کو تو رسوائی ہے\n\nطاقت ضبط کہاں اب تو جگر جلتا ہے\nآہ سینہ سے نکل لب پہ مرے آئی ہے\n\nمیں تو وہ ہوں کہ مرے لاکھ خریدار ہیں اب\nلیک اس دل سے دھڑکتا ہوں کہ سودائی ہے\n\nدل بیتاب فغاںؔ امت ایوب نہیں\nنہ اسے صبر ہے ہرگز نہ شکیبائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%A8_%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "عکس رخ گلگوں سے تماشا نظر آیا", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عکس رخ گلگوں سے تماشا نظر آیا\nآئینہ انہیں پھولوں کا دونا نظر آیا\n\nخوبی میں دوبالا وہ سراپا نظر آیا\nپر نور بدن پیکر جوزا نظر آیا\n\nدل خوش گہروں کا ہمیں صحرا نظر آیا\nکیا گرد یتیمی کا بگولا نظر آیا\n\nنیرنگیٔ حیرت سے رواں رہتے ہیں آنسو\nتصویر کا دریا ہمیں بہتا نظر آیا\n\nنکلا جو ہوا وار میں وہ رشک سلیماں\nاڑتا سوئے افلاک فرشتہ نظر آیا\n\nبالیدہ ہے ہر شیشۂ مے اب کی یہاں تک\nایک ایک فلک پنبۂ بینا نظر آیا\n\nخلعت مجھے وحشت نے دیا وسعت دل کا\nجامہ میں مرے دامن صحرا نظر آیا\n\nنظروں میں یہ چھایا ہے غبار دل وحشی\nہر آنکھ میں آنسو مجھے ڈھیلا نظر آیا\n\nوہ آئنہ سیما ہے دل سخت عدو میں\nبوتل میں اترتے ہوئے شیشہ نظر آیا\n\nعاشق ترے پلکوں کا ہوا زندۂ جاوید\nسولی کا خریدار مسیحا نظر آیا\n\nزاہد نے بھی عقد آج کیا بنت عنب سے\nجفت بط مے مرغ مصلا نظر آیا\n\nبرگشتہ نصیبی صدف دل کی کہوں کیا\nموتی کے عوض اس میں پھپھولا نظر آیا\n\nآئینۂ گیتی میں وہی عکس ہے ہر سو\nہم نے جدھر اس شوخ کو دیکھا نظر آیا\n\nکرتے ہو مرے پیکر وہمی کو نشانہ\nناوک میں تمہارے پر عنقا نظر آیا\n\nاس بت کے نہانے سے ہوا صاف یہ پانی\nموتی بھی صدف میں تہ دریا نظر آیا\n\nاوس حور کی رنگت اڑی رونے سے ہمارے\nرنگ گل فردوس بھی کچا نظر آیا\n\nشیشہ مئے گلگوں کا انہیں مد نظر ہے\nتیغ نگہ مست میں چھالا نظر آیا\n\nہو جائیں گے سب کوہ جہاں سنگ فلاخن\nوحشت میں جو عالم تہ و بالا نظر آیا\n\nشمعیں جو بجھیں بزم طلسمات کو دیکھا\nآنکھیں جو ہوئیں بند تو کیا کیا نظر آیا\n\nکیوں خوش نہ ہو تل بیٹھ کے میزان فلک میں\nموزون قد یار کا پلا نظر آیا\n\nمل مل گئے ہیں خاک میں لاکھوں دل روشن\nہر ذرہ مجھے عرش کا تارا نظر آیا\n\nآنکھوں میں کھٹکتی ہے یہی دولت دنیا\nہر سکے کی مچھلی میں بھی کانٹا نظر آیا\n\nہے بود جہاں نقش سر آب نظر میں\nیہ کھیل ہمیں بن کے بگڑتا نظر آیا\n\nحیرت کدۂ دہر ہوا مجھ سے مکدر\nآئینۂ ایجاد میں دھبا نظر آیا\n\nخوش آتے نہیں دانت کسی حور کے مجھ کو\nچاک گل فردوس میں بخیہ نظر آیا\n\nمدت سے نظر دوختہ رہتے ہیں گرفتار\nگیسو کی بھی زنجیر میں ٹانکا نظر آیا\n\nچمپاکلی اس مست مئے حسن کی دیکھی\nگردن کی صراحی کا یہ مینا نظر آیا\n\nمدفون ہوا زیر زمیں آپ کا لاغر\nچشم لحد تنگ میں جالا نظر آیا\n\nکلکتہ میں ہر دم ہے منیرؔ آپ کو وحشت\nہر کوٹھی میں ہر بنگلے میں جنگلا نظر آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%D8%B1%D8%AE_%DA%AF%D9%84%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عکس پر یوں آنکھ ڈالی جائے گی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عکس پر یوں آنکھ ڈالی جائے گی\nسامنے کی چوٹ خالی جائے گی\n\nیہ قیامت بھی نکالی جائے گی\nاس گلی سے کھا کے گالی جائے گی\n\nکعبے میں بوتل کھلے موقع کہاں\nزمزمی سے آج ڈھالی جائے گی\n\nگل تو کیا ہیں تا قفس اے باد تند\nپتہ پتہ ڈالی ڈالی جائے گی\n\nبزم ساقی میں اگر لغزش ہوئی\nہاتھ سے مے کی پیالی جائے گی\n\nگدگدانے کو کف پا دل کے ساتھ\nآرزوئے پائمالی جائے گی\n\nوا در توبہ ہے تو جلدی ہے کیا\nبات بگڑی کچھ بنا لی جائے گی\n\nمردہ کوئی آرزو اس دل میں ہے\nکہہ گئے وہ جان ڈالی جائے گی\n\nمیکدے ہم گھر سے جائیں گے ریاضؔ\nایک بوتل ساتھ خالی جائے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%D9%BE%D8%B1_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%DA%88%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "عکس کس چیز کا آئینۂ حیرت میں نہیں", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عکس کس چیز کا آئینۂ حیرت میں نہیں\nتیری صورت میں ہے کیا جو میری صورت میں نہیں\n\nدونوں عالم تری نیرنگ ادائی کے نثار\nاب کوئی چیز یہاں جیب محبت میں نہیں\n\nدولت قرب کو خاصان محبت جانیں\nچند اشکوں کے سوا کچھ میری قسمت میں نہیں\n\nلوگ مرتے بھی ہیں، جیتے بھی ہیں، بیتاب بھی ہیں\nکون سا سحر تری چشم عنایت میں نہیں\n\nسب سے اک طرز جدا، سب سے اک آہنگ جدا\nرنگ محفل میں ترا جو ہے وہ خلوت میں نہیں\n\nنشۂ عشق میں ہر چیز اڑی جاتی ہے\nکون ذرہ ہے کہ سرشار محبت میں نہیں\n\nدعوئ دید غلط دعوئ عرفاں بھی غلط\nکچھ تجلی کے سوا چشم بصیرت میں نہیں\n\nہو گئی جمع متاع غم حرماں کیوں کر\nمیں سمجھتا تھا کوئی پردۂ غفلت میں نہیں\n\nذرے ذرے میں کیا جوش ترنم پیدا\nخود مگر کوئی نوا ساز محبت میں نہیں\n\nنجد کی سمت سے یہ شور انا لیلیٰ کیوں\nشوخیٔ حسن اگر پردۂ وحشت میں نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%B3_%DA%86%DB%8C%D8%B2_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%82_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عکس ہے آئینۂ دہر میں صورت میری", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عکس ہے آئینۂ دہر میں صورت میری\nکچھ حقیقت نہیں اتنی ہے حقیقت میری\n\nدیکھتا میں اسے کیوں کر کہ نقاب اٹھتے ہی\nبن کے دیوار کھڑی ہو گئی حیرت میری\n\nروز وہ خواب میں آتے ہیں گلے ملنے کو\nمیں جو سوتا ہوں تو جاگ اٹھتی ہے قسمت میری\n\nسچ ہے احسان کا بھی بوجھ بہت ہوتا ہے\nچار پھولوں سے دبی جاتی ہے تربت میری\n\nآئینے سے انہیں کچھ انس نہیں بات یہ ہے\nچاہتے ہیں کوئی دیکھا کرے صورت میری\n\nمیں یہ سمجھوں کوئی معشوق مرے ہاتھ آیا\nمیرے قابو میں جو آ جائے طبیعت میری\n\nبوئے گیسو نے شگوفہ یہ نیا چھوڑا ہے\nنکہت گل سے الجھتی ہے طبیعت میری\n\nان سے اظہار محبت جو کوئی کرتا ہے\nدور سے اس کو دکھا دیتے ہیں تربت میری\n\nجاتے جاتے وہ یہی کر گئے تاکید جلیلؔ\nدل میں رکھیے گا حفاظت سے محبت میری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%82_%D8%AF%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "عکس ہے بے تابیوں کا دل کی ارمانوں میں کیوں", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عکس ہے بے تابیوں کا دل کی ارمانوں میں کیوں\nبے زباں شامل ہوئے جاتے ہیں مہمانوں میں کیوں\n\nہو گئے دیوانے رخصت بستیوں کی سمت کیا\nچھا گئیں ویرانیاں سی پھر بیابانوں میں کیوں\n\nدل کی اس بے رونقی کا ذکر جانے دیجئے\nہو رہی ہیں بستیاں تبدیل ویرانوں میں کیوں\n\nہے رقابت جزو لازم مہر و الفت کا اگر\nاجتماعی عشق پھر ہوتا ہے پروانوں میں کیوں\n\nکیا کسی کٹیا کے اندر جاگ اٹھی ہے زندگی\nکھلبلی سی پڑ گئی محلوں میں ایوانوں میں کیوں\n\nبیخ کن تھے جو ستم رانوں کے کل تک اے ندیم\nہو رہا ہے اب شمار ان کا ستم رانوں میں کیوں\n\nامن کے خواہاں ہیں جب افسرؔ جہاں والے تمام\nکشمکش رہتی ہے پھر اتنی جہاں بانوں میں کیوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA"} {"title": "عہد حاضر میں عیار صبح تو بدلا مگر", "poet_page": "مصنف:نہال سیوہاروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عہد حاضر میں عیار صبح تو بدلا مگر\nاے اندھیری رات تجھ کو بھی بدلنا چاہیئے\n\nباوجود غم مسلسل قہقہے اے نامراد\nکاروان زندگی کے ساتھ چلنا چاہیئے\n\nشان رندانہ کی ہے توہین ازخود رفتگی\nسہل ہے پینا مگر پی کر سنبھلنا چاہیئے\n\nزندگی وہ کیا جو ہے ناواقف آشوب عشق\nسینۂ آدم میں طوفانوں کو پلنا چاہیئے\n\nاقتضائے عصر نو ہے زندگی تو درکنار\nموت کو بھی حسن کے سانچے میں ڈھلنا چاہیئے\n\nاے جنوں کچھ دیر شغل خاک بازی ہی سہی\nدل تو اس صحرائے ہستی میں بہلنا چاہیئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%AD%D8%A7%D8%B6%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D8%AF%D9%84%D8%A7_%D9%85%DA%AF%D8%B1"} {"title": "عہد میر کی زبان", "poet_page": "مصنف:وحید الدین سلیم", "kind": "poetry", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ترآمدن۔۔۔ ترآنا (شرمندہ ہونا)\nتوگوئی۔۔۔ کہے تو (گویا)\nنمود کردن۔۔۔ نمود کرنا (ظاہر ہونا)\nحیف آنان۔۔۔ حیف وے (افسوس ان پر)\nخوش آمدن۔۔۔ خوش آنا (اچھا معلوم ہونا)\nایکہ۔ اے آنکہ۔۔۔ اے تو کہ۔ اے وہ کہ\nدست درکار داشتن۔۔۔ کسی کام میں دست ہونا (مہارت ہونا)\nتو دہن ایں کارنداری۔۔۔ تو اس کا م کا دہن نہیں رکھتا (یعنی لیاقت یا حوصلہ نہیں رکھتا)\nگوش کردن۔۔۔ گوش کرنا (سننا)\nبوکردن۔۔۔ بوکرنا۔ باس کرنا (سونگھنا)\nخوابم بردیار بود۔۔۔ مجھے خواب لے گیا (مجھے نیند آ گئی)\nزنجیر کردن۔۔۔ زنجیر کرنا (قید کرنا)\nخاک برسرکردن۔۔۔ سر پر خاک کرنا (یعنی ڈالنا)\nاز عہدہ چیزے بدرآمدن۔۔۔ کسی کام کے عہدہ سے برآنا (اس کام کو پورا کرنا)\nیا خاک برابر شدن۔۔۔ خاک سے برابر ہونا (خاک میں مل جانا)\nسربدیوار آمدن۔۔۔ دیوار سر پر آنا (یعنی ٹکرانا)\nنماز کردن۔۔۔ نماز کرنا (یعنی پڑھنا)\nخوشا حال کسانیکہ۔۔۔ احوال خوش انہوں کا (ان کا حال کیا ہی اچھا ہے)\nہمہ روے زمیں گرفت۔۔۔ تمام روئے زمین لیا (ساری زمیں پر چھا گیا)\nدردسردادن۔۔۔ دردسردینا (تکلیف دینا)\nسرفرو آوردن۔۔۔ سرفرولانا (سر جھکانا)\nسرفروآمدن۔۔۔ سرفرو آنا (سر جھکنا)\nرنجہ کردن۔۔۔ رنجہ کردن (تکلیف پہنچانا)\nقدم رنجہ کردن۔۔۔ قدم رنجہ کرنا (آنا)\nتاب دادن۔۔۔ تاب دینا (بل دینا)\nسرکشیدن۔۔۔ سرکھینچنا (غرور کرنا۔ نمودار ہونا)\nداغ کردن۔۔۔ داغ کرنا (رشک سے بلانا)\nداغ شدن۔۔۔ داغ ہونا (رشک سے بلانا)\nبیک نگاہ وہم فانمی کند۔۔۔ ایک نگاہ کو بھی دفا نہیں کرتا (ایک نظر کے لیے بھی کافی نہیں)\nواشدن۔۔۔ واہنا (کھلنا مثلاً آنکھ کا) نیز (بےتکلف ہونا)\nتسلی باش۔۔۔ تسلی رہ (تسلی سے رہ)\nہم رسیدن۔۔۔ ہم پہنچنا (حاصل ہونا)\nجگر کردن۔۔۔ جگر کرنا (دلیری ظاہر کرنا)\nسرکردن۔۔۔ سرکرنا (شروع کرنا)\nطرح کردن۔۔۔ طرح کرنا (بنیاد ڈالنا)\nطرف شدن۔۔۔ طرف ہونا (مقابل ہونا) ہمسری کادعویٰ کرنا\nخوشاوقت آنکہ۔۔۔ وقت خوش ان کا (ان کا کیا ہی اچھا حال ہے)\nسرزدشدن۔۔۔ سرزد ہونا (باہر نکلنا مثلاً سبزہ کا)\nتماشاکردن۔۔۔ تماشا کرنا (دیکھنا)\nسازکردن۔۔۔ ساز کرنا (سامان کرنا)\nتعب کشیدن۔۔۔ تعب کھینچنا (تکلیف اٹھانا)\nراہ غلط کردن۔۔۔ راہ غلط کرنا (رستہ بھول جانا)\nسفیدی کردن۔۔۔ سفیدی کرنا (بوڑھا ہوجانا)\nبوازدہن می آید بوے شیراز دہن می آید۔۔۔ بو آتی ہے وہاں سے (تم ابھی بچے ہو)\nخوکردن۔۔۔ خوکرنا (عادی ہونا)\nزبان کردن۔۔۔ زبان کرنا (زبان درازی کرنا)\nنیازکردن۔۔۔ نیاز کرنا (کسی کی طرف سر جھکانا)\nگردآمدن۔۔۔ گردآنا (جمع ہونا)\nتکلیف کردن۔۔۔ تکلیف کرنا (مجبور کرنا)\nبروئے کار آوردن۔۔۔ بروئےکار لانا (ظاہر کرنا)\nفروشدن۔۔۔ فروہونا (دور ہونا مثلاً غم کا)\nچشم دوختن۔۔۔ چشم سینا (طمع کرنا)\nزبان تہ زبان داشتن۔۔۔ زبان تہ زبان رکھنا (منافقانہ باتیں کرنا)\nگردن ازموباریک داشتن۔۔۔ گردنمو سے باریک تر کرنا (مطیع ہونا)", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86"} {"title": "عہدِ طفلی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "تھے دیارِ نَو زمین و آسماں میرے لیے\nوسعتِ آغوشِ مادَر اک جہاں میرے لیے\nتھی ہر اک جُنبش نشانِ لطفِ جاں میرے لیے\nحرفِ بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے\nدرد، طفلی میں اگر کوئی رُلاتا تھا مجھے\nشورشِ زنجیرِ در میں لُطف آتا تھا مجھے\n\nتکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمر\nوہ پھٹے بادل میں بے آوازِ پا اُس کا سفر\nپُوچھنا رہ رہ کے اُس کے کوہ و صحرا کی خبر\nاور وہ حیرت دروغِ مصلحت آمیز پر\nآنکھ وقفِ دید تھی، لب مائلِ گُفتار تھا\nدل نہ تھا میرا، سراپا ذوقِ استفسار تھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%81%D8%AF%D9%90_%D8%B7%D9%81%D9%84%DB%8C"} {"title": "عہدے سے مدح ناز کے باہر نہ آ سکا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عہدے سے مدحِ ‌ناز کے باہر نہ آ سکا\nگر اک ادا ہو تو اُسے اپنی قضا کہوں\n\nحلقے ہیں چشم ہائے کشادہ بسوئے دل\nہر تارِ زلف کو نگہِ سُرمہ سا کہوں\n\nمیں، اور صد ہزار نوائے جگر خراش\nتو، اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں\n\nظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہ\nہَے ہَے خُدا نہ کردہ، تجھے بے وفا کہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%81%D8%AF%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A2_%D8%B3%DA%A9%D8%A7"} {"title": "عیادت", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہ کون آ گیا رخ خنداں لیے ہوئے\nعارض پہ رنگ و نور کا طوفاں لیے ہوئے\n\nبیمار کے قریب بصد شان احتیاط\nدل داریٔ نسیم بہاراں لیے ہوئے\n\nرخسار پر لطیف سی اک موج سر خوشی\nلب پر ہنسی کا نرم سا طوفاں لیے ہوئے\n\nپیشانیٔ جمیل پہ انوار تمکنت\nتابندگیٔ صبح درخشاں لیے ہوئے\n\nزلفوں کے پیچ و خم میں بہاریں چھپی ہوئی\nاک کاروان نکہت بستاں لیے ہوئے\n\nآ ہی گیا وہ میرا نگار نظر نواز\nظلمت کدے میں شمع فروزاں لیے ہوئے\n\nاک اک ادا میں سیکڑوں پہلوئے دلدہی\nاک اک نظر میں پرسش پنہاں لیے ہوئے\n\nمیرے سواد شوق کا خورشید نیم شب\nعزم شکست ماہ جبیناں لیے ہوئے\n\nدرس سکون و صبر بہ ایں اہتمام ناز\nنشتر زنیٔ جنبش مژگاں لیے ہوئے\n\nآنکھوں سے ایک رو سی نکلتی ہوئی ہر آن\nغرقابئ حیات کا ساماں لیے ہوئے\n\nہلتی ہوئی نگاہ میں بجلی بھری ہوئی\nکھلتے ہوئے لبوں میں گلستاں لیے ہوئے\n\nیہ کون ہے مجازؔ سے سرگرم گفتگو\nدونوں ہتھیلیوں پہ زنخداں لیے ہوئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AF%D8%AA"} {"title": "عیاں ہو آپ بیگانہ بنایا", "poet_page": "مصنف:یاسین علی خاں مرکز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مرکز (1926)", "year": "1926", "text_ur": "عیاں ہو آپ بیگانہ بنایا\nوجود خاک کا شانہ بنایا\n\nتو ہے الفاظ سے ماہر اے واعظ\nمجھے بے کیف و کم معنیٰ بنایا\n\nکیا اظہار جب میں راز حق کو\nتو عالم مجھ کو رندانہ بنایا\n\nہنسی سے میری اس نے ٹال دی بات\nمیں تھا ہوشیار دیوانہ بنایا\n\nمجھے ساقی نے بے منت کے دی مے\nخمار عشق مردانہ بنایا\n\nپکارا عشق نے جا ڈھونڈ لے یار\nتن خاکی کو ہے خانہ بنایا\n\nاڑایا بات میں جو خود پرستی\nمجھے مل دے کے مستانہ بنایا\n\nمیں جانا آپ کو ہر حال مظہر\nبہ ظاہر بندہ فرزانہ بنایا\n\nاے مرکزؔ تجھ سے ہے سب شان ظاہر\nعجب آئینہ شاہانہ بنایا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%A2%D9%BE_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "عیاں ہو رنگ میں اور مثل بو گل میں نہاں بھی ہو", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عیاں ہو رنگ میں اور مثل بو گل میں نہاں بھی ہو\nجہان جاں ہوئے گل پیرہن جان جہاں بھی ہو\n\nمکیں کونین میں ہو فی الحقیقت لا مکاں بھی ہو\nازل سے تا ابد قائم عیاں بھی ہو نہاں بھی ہو\n\nپر پرواز عنقا لائیں گے گر لا مکاں بھی ہو\nتمہیں ہم ڈھونڈ لائیں گے کہیں بھی ہو جہاں بھی ہو\n\nکہاں ہیں حضرت عیسیٰ کہاں ہیں حضرت موسیٰ\nعیاں اعجاز میں ہو اور تجلی میں نہاں بھی ہو\n\nغشی ہو اور غشی میں ہوش بھی کچھ کچھ رہے باقی\nوہ حسن لایزالی کچھ عیاں بھی کچھ نہاں بھی ہو\n\nجلانا مارنا اعجاز ہے اس چشم پر فن کا\nحیات جاوداں ہو اور مرگ ناگہاں بھی ہو\n\nجو آنکھیں ہوں تو حسن و عشق کی صورت نظر آئے\nعیاں ہو رنگ گل میں صوت بلبل میں نہاں بھی ہو\n\nیہاں دیر و حرم میں ہو وہاں مے خانہ میں ساحرؔ\nبرہمن ہو جناب شیخ ہو پیر مغاں بھی ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%AB%D9%84_%D8%A8%D9%88_%DA%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88"} {"title": "عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سے\nپیام خامشی اور وہ بھی دو دو نشر گاہوں سے\n\nوبال جاں ہے ایسی زندگی جس میں تلاطم ہو\nمٹا لوں حوصلے پھر توبہ کر لوں گا گناہوں سے\n\nفضا محدود کب ہے اے دل وحشی فلک کیسا\nنلاہٹ ہے نظر کی دیکھتے ہیں جو نگاہوں سے\n\nحقیقت میں نگاہوں سے کوئی منزل نہیں بچتی\nگزرتے دیکھے ہیں گوشہ نشیں تک شاہراہوں سے\n\nتہی دستان قسمت کو نہ لینا تھا نہ دینا تھا\nحساب زندگی کیا ہے یہ پوچھو بادشاہوں سے\n\nہمیں تو جلتے دل کی روشنی میں آگے بڑھنا ہے\nہٹا دو قمقمے بجلی کے نا ہموار راہوں سے\n\nمرے نالوں کے سب شاکی کوئی ان کو نہیں کہتا\nکھرچتے رہتے ہیں جو زخم دل خونی نگاہوں سے\n\nپلا دو زہر غم دل کو نہ چھوڑے گر ہوس کاری\nگنہ وہ ایک اچھا جو بچا لے سو گناہوں سے\n\nہمیں کچھ آرزوؔ پھیر ان کی باتوں کا سمجھتے ہیں\nجو حق پوشی میں سچ کو جھوٹ کرتے ہیں گواہوں سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%B1%D8%AE%DB%8C_%DA%86%D8%AA%D9%88%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%BA%D8%B5%DB%81_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "عید", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یوں لب سے اپنے نکلے ہے اب بار بار آہ\nکرتا ہے جس طرح کہ دل بے قرار آہ\nہم عید کے بھی دن رہے امیدوار آہ\nہو جی میں اپنے عید کی فرحت سے شاد کام\nخوباں سے اپنے اپنے لیے سب نے دل کے کام\nدل کھول کھول سب ملے آپس میں خاص و عام\nآغوش خلق گل بدنوں سے بھرے تمام\nخالی رہا پر ایک ہمارا کنار آہ\nکیا پوچھتے ہو شوخ سے ملنے کی اب خبر\nکتنا ہی جستجو میں پھرے ہم ادھر ادھر\nلیکن ملا نہ ہم سے وہ عیار فتنہ گر\nملنا تو اک طرف ہے عزیزو کہ بھر نظر\nپوشاک کی بھی ہم نے نہ دیکھی بہار آہ\nرکھتے تھے ہم امید یہ دل میں کہ عید کو\nکیا کیا گلے لگاویں گے دل بر کو شاد ہو\nسو تو وہ آج بھی نہ ملا شوخ حیلہ جو\nتھی آس عید کی سو گئی وہ بھی دوستو\nاب دیکھیں کیا کرے دل امیدوار آہ\nاس سنگ دل کی ہم نے غرض جب سے چاہ کی\nدیکھا نہ اپنے دل کو کبھی ایک دم خوشی\nکچھ اب ہی اس کی جورو و تعدی نہیں نئی\nہر عید میں ہمیں تو سدا یاس ہی رہی\nکافر کبھی نہ ہم سے ہوا ہمکنار آہ\nاقرار ہم سے تھا کئی دن آگے عید سے\nیعنی کہ عید گاہ کو جاویں گے تم کو لے\nآخر کو ہم کو چھوڑ گئے ساتھ اور کے\nہم ہاتھ ملتے رہ گئے اور راہ دیکھتے\nکیا کیا غرض سہا ستم انتظار آہ\nکیوں کر لگیں نہ دل میں مرے حسرتوں کے تیر\nدن عید کے بھی مجھ سے ہوا وہ کنارہ گیر\nاس درد کو وہ سمجھے جو ہو عشق کا اسیر\nجس عید میں کہ یار سے ملنا نہ ہو نظیرؔ\nاس کے اپر تو حیف ہے اور صد ہزار آہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%AF"} {"title": "عید آئی ہے عیش و نوش کا ساماں کر", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "عید آئی ہے عیش و نوش کا ساماں کر\nاک ساقیٔ گلعذار کو مہماں کر\nقربانی ہے واجب آج اخترؔ تو بھی\nتوبہ کو خدا کے نام پر قرباں کر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D9%88_%D9%86%D9%88%D8%B4_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "عید رمضاں ہے آج با عیش و سرور", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "عید رمضاں ہے آج با عیش و سرور\nہم کو بھی ادائے تہنیت ہے منظور\nاس عید سعید کی خوشی میں حضرت\nقومی بچوں کو یاد رکھیے گا ضرور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%D8%B1%D9%85%D8%B6%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D8%A8%D8%A7_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D9%88_%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%B1"} {"title": "عید قرباں ہے آج اے اہل ہمہم", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "عید قرباں ہے آج اے اہل ہمہم\nایسی عیدیں ہزار دیکھو پیہم\nقومی تعلیم کہہ رہی ہے بہ ادب\nصاحب کچھ ادھر بھی گوشۂ چشم کرم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D8%A7%DB%92_%D8%A7%DB%81%D9%84_%DB%81%D9%85%DB%81%D9%85"} {"title": "عید ملنے کا اک بہانہ ہوا", "poet_page": "مصنف:مجید لاہوری", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "عید ملنے کا اک بہانہ ہوا\nکاٹ کر جیب وہ روانہ ہوا\n\nلیڈری میں بھلا ہوا ان کا\nبندگی میں مرا بھلا نہ ہوا\n\nایک مینڈھے پہ ہی نہیں موقوف\nتجھ پہ قربان اک زمانہ ہوا\n\nیہ عوامی بنا رہے ہیں لیگ\nکیا مذاق ان کا عامیانہ ہوا\n\nجہاں رہتی تھی \"زہرہ جان\" کبھی\nپیر صاحب کا آستانہ ہوا\n\nاپنا \"بندو\" بھی بن گیا لیڈر\nجب الاٹ ایک کارخانہ ہوا\n\nہم تو بے دال کے رہے بودم\nپا کے دولت وہ \"دولتانہ\" ہوا\n\nمیں لکھوں گا مجیدؔ یونہی غزل\nتنگ اگر ان میں قافیہ نہ ہوا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "عید پر شعر لِکھنے کی فرمائش کے جواب میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "یہ شالامار میں اک برگِ زرد کہتا تھا\nگیا وہ موسمِ گُل جس کا رازدار ہوں میں\n\nنہ پائمال کریں مجھ کو زائرانِ چمن\nانھی کی شاخِ نشیمن کی یادگار ہوں میں\n\nذرا سے پتّے نے بیتاب کر دیا دل کو\nچمن میں آ کے سراپا غمِ بہار ہوں میں\n\nخزاں میں مجھ کو رُلاتی ہے یادِ فصلِ بہار\nخوشی ہو عید کی کیونکر کہ سوگوار ہوں میں\n\nاُجاڑ ہوگئے عہدِ کُہن کے میخانے\nگزشتہ بادہ پرستوں کی یادگار ہوں میں\n\nپیامِ عیش و مسرّت ہمیں سُناتا ہے\nہلالِ عید ہماری ہنسی اُڑاتا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%D9%BE%D8%B1_%D8%B4%D8%B9%D8%B1_%D9%84%D9%90%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A6%D8%B4_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عید کا دن", "poet_page": "مصنف:مجید لاہوری", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "زہے قسمت ہلال عید کی صورت نظر آئی\nجو تھے رمضان کے بیمار ان سب نے شفا پائی\nپہاڑوں سے وہ اترے قافلے روزہ گزاروں کے\nگیا گرمی کا موسم، اور آئے دن بہاروں کے\nاٹھا ہوٹل کا پردہ، سامنے پردہ نشیں آئے\nجو چھپ کر کر رہے تھے احترام حکم دیں آئے\nہوئی انگور کی بیٹی سے \"مستی خان\" کی شادی\nکھلے در مے کدوں کے اور ملی رندوں کو آزادی\nنوید کامرانی لا رہے ہیں ریس کے گھوڑے\nمسرت کے ترانے گا رہے ہیں ریس کے گھوڑے\nمبارک ہو کہ پھر سے ہو گیا \"ڈانس\" اور \"ڈنر\" چالو\nخلاص اہل نظر ہوں گے ہوا درد جگر چالو\nنماز عید پڑھنے کے لیے سرکار آئے ہیں\nاور ان کے ساتھ سارے طالب دیدار آئے ہیں\nیہی دن اہل دل کے واسطے امید کا دن ہے\nتمہاری دید کا دن ہے ہماری عید کا دن ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%86"} {"title": "عید کا دن (سید احمد خان)", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "السلام علیکم، عید مبارک ہو۔ و علیکم السلام، آپ کو بھی مبارک ہو۔ مصافحہ کیجیے۔ اس سے مجھے معاف رکھو۔ مصافحے کو عید کے دن مخصوص کرنا بدعت ہے۔ اگر بدعت ہے تو جانے دیجیے۔ کیا آپ اسے بدعت نہیں سمجھتے؟ جناب میں تو نہ مصافحے کو بدعت سمجھتا ہوں نہ معانقے کو۔ بدعت دراصل اعتقاد سے تعلق رکھتی ہے۔ عید کے مصافحے یا معانقے کو کوئی سنت یا مستحب یا واجب نہیں سمجھتا۔ عید کا دن مسلمانوں کی خوشی کا دن ہے۔ کوئی آپس میں دوستوں سے ہاتھ ملا کے خوش ہوتا ہے کوئی گلے لگ کے، اس کو سنت اور بدعت سے کیا تعلق ہے؟ اب کی دفعہ تو عید گاہ میں بہت کثرت سے لوگ تھے اور سب قسم کے لوگ بہت خوش معلوم ہوتے تھے۔ آپ نے بھی دیکھا ہوگا۔ میں تو عید گاہ نہیں گیا، مگر سب قسم کے لوگوں سے آپ کی کیا مراد ہے اور وہ سب کیوں خوش تھے؟\n\nحضرت! ہاں پھر، بڈھے تو اس لیے خوش تھے کہ ان کو توقع نہ تھی کہ ان کی زندگی میں پھر رمضان آئےگا اور اگر آئے گا تو روزے بھی رکھ سکیں گے یا نہیں۔ خدا کے فضل سے ان کی زندگی میں رمضان آیا اور انہوں نے روزے بھی رکھے۔ فرض سے بھی ادا ہوئے اور قیامت میں بہشت جانے کا سامان ہوا۔ علماء اور زہاد اس لیے خوش تھے کہ انہوں نے روزے رکھے، تراویح پڑھیں، اعتکاف کیا، ان کے مریدوں شاگردوں میں ان کا تقدس زیادہ بڑھا اور اگر اس میں کچھ خدا نے بھی منظور کر لیا تو پھر کیا کہنا ہے، چپڑی اور دو دو، ادھر بندے خوش ادھر خدا خوش۔ جوان اس لیے خوش تھے کہ خدا خدا کرکے فاقوں کے دن گئے، اب رات دن جو چاہو سو کھاؤ اور جو چاہو سو کرو، چین سے رہو۔ ماہ رمضان گذشت و عید آمد۔ لڑکے اور بچے اس لیے خوش تھے کہ مکتب سے چھٹی ملی تھی، عید گاہ سے کھلونے خرید لائے تھے، دودھ سویاں کھا کر مگن تھے۔\n\nحضرت! آپ نے عورتوں کا حال کچھ نہ فرمایا؟ لو جی ان کے بغیر عید کیسی؟ عشوہ و ناز کرنے والوں کی رتھیں پر رتھیں قطار موجود تھیں۔ سینکڑوں آدمی پروانہ وار ان کے گرد تھے۔ اس زمانے کے برگشتہ خیال پردہ شکن لوگوں کا بھی کچھ اثر تھا؟ نہیں خدا نہ کرے کہ کچھ ہوتا۔ جس دن ان ناعاقبت اندیشوں کے خیال خدا نخواستہ پورے ہوں گے، اس دن مسلمانوں کی دین دنیا دونوں میں پوری تضلیل و تذلیل ہو جائےگی۔\n\nبھلا حضرت! ان لوگوں کا کیا حال تھا جو اپنے آپ کو رفارمر اور مسلمانوں کی دین و دنیا کی بھلائی چاہنے والے سمجھتے ہیں؟ یہ لوگ تو اس مجمع میں کم تھے، مگر جو تھے وہ اداس رونی صورت بنائے ہوئے تھے۔ حضرت یہ کیوں؟ ہندوستان کے ہر گوشے میں انجمن اسلامیہ قائم ہوئی ہیں اور ہوتی جاتی ہیں۔ اسلامیہ مدرسے اور اسکول برابر کھلتے جاتے ہیں، یتیموں کی پرورش و پرداخت کے لیے انجمنیں قائم ہو گئی ہیں اور ہوتی جاتی ہیں۔ مسلمان قیدی جیل خانے میں مرے تو اس کی مسلمانوں کے طریقے پر تجہیز و تکفین کرنے کو جابجا کمیٹیاں قائم ہیں۔ زنانہ اسکول بنتے جاتے ہیں۔ یتیموں کو صنعت و حرفت سکھانے کا انتظام ہوتا جاتا ہے۔ ایک نہایت عجیب چیز جس کے قائم ہونے کی کبھی توقع نہ تھی وہ بھی قائم ہو گئی ہے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ ایک عالیشان جلسہ ندوۃ العلماء کا کانپور میں ہو چکا ہے اور اب دوسرا لکھنؤ میں ہونے والا ہے۔ پس اس سے زیادہ اور کیا سرسبزی و شادابی مسلمانوں کی ہو سکتی ہے، پھر اب فلاح خواہاں قوم کی اداس اور رونی صورت کیوں بنی ہوئی تھی؟\n\nارے صاحب اول تو ان تمام کا رخانوں کو قومی بہبود و فلاح کے کارخانے کہنا ہی بے جا ہے۔ یہ تو سوداگری کی دوکانیں ہیں۔ ایک سوداگر مختلف چیزیں خرید کر دوکان بھر تا ہے، اس امید پر دگنے تگنے نفع پر بیچے گا اور فائدہ اٹھائے گا۔ یہ لوگ یہ کام اس لیے کرتے ہیں کہ اس کے عوض عقبیٰ میں ثواب یا فائدہ ہوگا۔ کسی کو بہشت میں کوئی محل مل جائےگا۔ من بنی للہ مسجدا بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃ۔ کسی کو حور و غلمان ایک کے بدلے دو اور دو کے بدلے چار ملیں گی اور وہاں سب کاموں کا نفع سوایا ملےگا۔ بھلا یہ قوم کی بھلائی ہے یا پوری سوداگری؟\n\nاس کے سوا ان چھوٹے چھوٹے اور غیر ضروری کاموں سے قوم کی کیا بھلائی ہو سکتی ہے؟ مردے کو کفن دے کر گاڑنے یا ننگا گاڑ دینے سے قوم کی کیا بہتری اور بر تری ہو سکتی ہے۔ یہ باتیں اس وقت کام کی ہیں جب قوم اور تمام ضرورتوں سے نچنت ہو تو مردوں کی بھی فکر اچھی معلوم ہوتی ہے، ورنہ خود مردے مردوں کے ساتھ کیا کریں گے۔\n\nہم نے مانا کہ ان چھوٹے چھوٹے مدرسوں سے کچھ حرف شناسی یا شد بد آ گئی، کیا اس قدر تعلیم سے قوم، قوم ہو سکتی ہے یا کچھ عزت پید ا کر سکتی ہے؟\n\nیہ بھی تسلیم کرو کہ مذہبی مدرسوں میں پڑھ کر بہت بڑے عالم اور فقیہ ہو جاویں گے اور جن کو وہ لوگ اہل بدع اور اہواء سمجھتے ہیں ان کو خوب ہرا سکیں گے، مگر اس سے کیا ہوگا؟ بڑا حملہ اس وقت علوم و فلسفہء جدیدہ کا اسلام پر کیا، تمام مذاہب پر ہے۔ ان مدرسوں کے پڑھنے والے اسی پرانی لکیر کو پیٹے جاتے ہیں جس کا نشان بھی اب دنیا میں نہیں رہا۔ ان پڑھے ہوئے دستار فضیلت بندھے ہوؤں کو کچھ بھی مادہ ان حملوں سے مذہب کی حفاظت کا ہے؟ پھر دستار فضیلت سر کا ایک بوجھ ہے، قوم کو تو ان سے کسی فائدے کی توقع نہیں ہو سکتی۔ پس قوم کے ان بھلائی چاہنے والوں یا رفارمروں کی آنکھ میں یہ سب ہیچ ہے۔ ان مدرسوں سے قومی فلاح کی ان کو توقع نہیں ہے۔ پھر وہ اداس اور رونی صورت بنائے ہوئے نہ ہوں تو اور کیا ہوں۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%86_%28%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%AE%D8%A7%D9%86%29"} {"title": "عید کا منظر", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہلال عید بنا ہے کلید عیش و نشاط\nجہاں میں بچھ گئی پھر سے مسرتوں کی بساط\nخوشی سے پھولے سماتے نہیں ہیں مرد و زن\nمہک اٹھے در و دیوار اور صحن چمن\nگلی میں کوچوں میں راہوں میں شاہراہوں میں\nمسرتوں کے نظارے ہیں خانقاہوں میں\nاندھیرے منہ ہی پرندے بھی چہچہانے لگے\nقدم قدم پہ لگے میلے شادیانے بجے\nہے کیف و مستی کے عالم میں آج پیر و جواں\nعبادتوں کا نشہ دے گیا مہ رمضاں\nخدا کے دین کا کس طرح ہو بیان حضور\nخدا ہر اک کو خوشی عید کی نصیب کرے\nہماری نسل کو اس دین سے قریب کرے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%86%D8%B8%D8%B1"} {"title": "عیسیٰ کی قم سے حکم نہیں کم فقیر کا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عیسیٰ کی قم سے حکم نہیں کم فقیر کا\nارنی پکارتا ہے سدا دم فقیر کا\n\nخوبی بھری ہے جس میں دو عالم کی کوٹ کوٹ\nاللہ نے کیا ہے وہ عالم فقیر کا\n\nسب جھوٹ ہے کہ تم کو ہمارا ہو غم میاں\nبابا کسے خدا کے سوا غم فقیر کا\n\nہم کیوں نہ اپنے آپ کو رو لیویں جیتے جی\nاے دوست کون پھر کرے ماتم فقیر کا\n\nمر جاویں ہم تو پر نہ خبر ہو یہ تم کو آہ\nکیا جانے کب جہاں سے گیا دم فقیر کا\n\nاب ہم پہ کیا گزرتی ہے اور کیا گزر گئی\nکس سے کہیں وہ یار ہے محرم فقیر کا\n\nجب جیتے جی کسی نے نہ پوچھا تو مہرباں\nپھر بعد مرگ کس کو رہا غم فقیر کا\n\nہو کیوں نہ اس کو فقر کی باتوں میں دست گاہ\nہے بالکا نظیرؔ پراتم فقیر کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%B3%DB%8C%D9%B0_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%DA%A9%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%85_%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہے", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہے\nمردہ دل وہ ہوتا ہے جو کہ شیح فانی ہے\n\nجب تلک رہے جیتا چاہئے ہنسے بولے\nآدمی کو چپ رہنا موت کی نشانی ہے\n\nجو کہ تیرا عاشق ہے اس کا اے گل رعنا\nرنگ زعفرانی ہے اشک ارغوانی ہے\n\nآہ کی نہیں طاقت تاب نہیں ہے نالے کی\nہجر میں ترے ظالم کیا ہی ناتوانی ہے\n\nچار دن کی عشرت پر دل لگا نہ دنیا سے\nکہتے ہیں کہ جنت میں عیش جاودانی ہے\n\nگل رخاں کا آب و رنگ دیکھنے سے میرے ہے\nحسن کی گلستاں کی مجھ کو باغبانی ہے\n\nدل سے کیوں نہیں چاہوں یار کو کہ اے تاباںؔ\nدل ربا ہے پیارا ہے جیوڑا ہے جانی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D8%B3%D8%A8_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "عیش سے بے نیاز ہیں ہم لوگ", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عیش سے بے نیاز ہیں ہم لوگ\nبے خود سوز و ساز ہیں ہم لوگ\n\nجس طرح چاہے چھیڑ دے ہم کو\nتیرے ہاتھوں میں ساز ہیں ہم لوگ\n\nبے سبب التفات کیا معنی\nکچھ تو اے چشم ناز ہیں ہم لوگ\n\nمحفل سوز و ساز ہے دنیا\nحاصل سوز و ساز ہیں ہم لوگ\n\nکوئی اس راز سے نہیں واقف\nکیوں سراپا نیاز ہیں ہم لوگ\n\nہم کو رسوا نہ کر زمانے میں\nبسکہ تیرا ہی راز ہیں ہم لوگ\n\nسب اسی عشق کے کرشمے ہیں\nورنہ کیا اے مجازؔ ہیں ہم لوگ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%84%D9%88%DA%AF"} {"title": "عیش و عشرت سب سہی یہ دم نہیں تو کچھ نہیں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عیش و عشرت سب سہی یہ دم نہیں تو کچھ نہیں\nایک دنیا ہو تو کیا جب ہم نہیں تو کچھ نہیں\n\nسرمگیں آنکھوں میں اشک غم نہیں تو کچھ نہیں\nدست رنگیں سے مرا ماتم نہیں تو کچھ نہیں\n\nصبح کو شب کے ستانے کا گلہ شکوہ عبث\nجب پریشاں گیسوئے برہم نہیں تو کچھ نہیں\n\nعشق سے تھوڑا بہت تو ہے ہر انساں کو لگاؤ\nدل میں کچھ کچھ درد کچھ کچھ غم نہیں تو کچھ نہیں\n\nاس کمر پر اس نزاکت پر یہ سیدھی چال کیوں\nبل نہیں تو کچھ نہیں کچھ خم نہیں تو کچھ نہیں\n\nاس کی شوخی نے اسے اے دل چھپا رکھا کہاں\nحشر میں وہ فتنۂ عالم نہیں تو کچھ نہیں\n\nملنے والوں کا بہم مل بیٹھنا بھی لطف ہے\nجمگھٹے شب کو سر زمزم نہیں تو کچھ نہیں\n\nاس کی رونق اور ہے اس کا اثر کچھ اور ہے\nان کی محفل میں مرا ماتم نہیں تو کچھ نہیں\n\nپیارے پیارے اچھے اچھے منہ سے ہاں کہہ دے کبھی\nتیرے صدقے یہ تری ہر دم نہیں تو کچھ نہیں\n\nبال کھولے تم نے تو کیا چوڑیاں توڑیں تو کیا\nمیرے مرنے کا جو دل سے غم نہیں تو کچھ نہیں\n\nبات جس کی تھی گئی ساقی وہ اس کے دم کے ساتھ\nجام جم ہو بھی تو کیا جب ہم نہیں تو کچھ نہیں\n\nپھوٹ کر رونا نہیں تو پھوٹ ہی جائیں ریاضؔ\nکام کے جب دیدۂ پر نم نہیں تو کچھ نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%DB%81%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "عیش و عشرت ہی میں کچھ ہے زندگی", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عیش و عشرت ہی میں کچھ ہے زندگی\nمرگ ہے بے یار و بے مے زندگی\n\nجو ترے کشتے ہیں اے مطرب پسر\nہے انہوں کی نالۂ نے زندگی\n\nنے ہوا نے ابر نے ساقی نے مے\nکیجئے اس طرح تا کے زندگی\n\nمر گئے ؔجوشش اسی دریافت میں\nکیا کہیں ہے کون سی شے زندگی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C"} {"title": "عیش کر خوباں میں اے دل شادمانی پھر کہاں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عیش کر خوباں میں اے دل شادمانی پھر کہاں\nشادمانی گر ہوئی تو زندگانی پھر کہاں\n\nجس قدر پینا ہو پی لے پانی ان کے ہاتھ سے\nآب جنت تو بہت ہوگا یہ پانی پھر کہاں\n\nلذتیں جنت کے میوے کی بہت ہوں گی وہاں\nپھر یہ میٹھی گالیاں خوباں کی کھانی پھر کہاں\n\nواں تو ہاں حوروں کے گہنے کے بہت ہوں گے نشاں\nان پری زادوں کے چھلوں کی نشانی پھر کہاں\n\nالفت و مہر و محبت سب ہیں جیتے جی کے ساتھ\nمہرباں ہی اٹھ گئے یہ مہربانی پھر کہاں\n\nواعظ و ناصح بکیں تو ان کے کہنے کو نہ مان\nدم غنیمت ہے میاں یہ نوجوانی پھر کہاں\n\nجا پڑے چپ ہو کے جب شہر خموشاں میں نظیرؔ\nیہ غزل یہ ریختہ یہ شعر خوانی پھر کہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%DA%A9%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "عیش کے جلسے ہجوم آلام کے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عیش کے جلسے ہجوم آلام کے\nشعبدے ہیں گردش ایام کے\n\nہمت مردانہ تجھ کو آفریں\nکر کے چھوڑا سر ہوئے جس کام کے\n\nصبح کے بھولے تو آئے شام کو\nدیکھیے کب آئیں بھولے شام کے\n\nتو ہی کر تکلیف او پیک صبا\nمنتظر ہیں وہ مرے پیغام کے\n\nحاشا للہ مے کدہ کے کاسے لیں\nمعتقد ہوں زاہد علام کے\n\nمٹ گئی ہے دل سے آزادی کی یاد\nکتنے خوگر ہو گئے ہم دام کے\n\nاب تو چرچے جا بجا ہونے لگے\nواعظوں کی بانگ بے ہنگام کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%84%D8%B3%DB%92_%DB%81%D8%AC%D9%88%D9%85_%D8%A2%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92"} {"title": "عیش کے رنگ ملالوں سے دبے جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "عیش کے رنگ ملالوں سے دبے جاتے ہیں\nاب تو ہم اپنے ہی حالوں سے دبے جاتے ہیں\n\nپاؤں رکھنا مجھے صحرا میں بھی دشوار ہے اب\nسارے کانٹے مرے چھالوں سے دبے جاتے ہیں\n\nتوبہ توبہ وہ مرے خواب میں کیا آئیں گے\nجاگتے میں جو خیالوں سے دبے جاتے ہیں\n\nاللہ اللہ ری نزاکت ترے رخساروں کی\nاتنے نازک ہیں کہ کھالوں سے دبے جاتے ہیں\n\nتو ہے کوٹھے پہ تو کترا کے نکلتی ہے گھٹا\nکالے بادل ترے بالوں سے دبے جاتے ہیں\n\nکیا دبائیں گے ابھر کر ترے جوبن ظالم\nیہ تو خود دیکھنے والوں سے دبے جاتے ہیں\n\nان کو اے شوق طلب چھیڑ کے محجوب نہ کر\nجو محبت کے خیالوں سے دبے جاتے ہیں\n\nبے طرح بار محبت تو پڑا ہے ان پر\nآپ کیوں چاہنے والوں سے دبے جاتے ہیں\n\nبار ہوں دیدۂ ارباب سخن پر مضطرؔ\nمدعی میرے کمالوں سے دبے جاتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%A8%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاں\nبے شانۂ صبا نہیں طُرّہ گیاہ کا\n\nبزمِ قدح سے عیشِ تمنا نہ رکھ، کہ رنگ\nصید ز دام جستہ ہے اس دام گاہ کا\n\nرحمت اگر قبول کرے، کیا بعید ہے\nشرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا\n\nمقتل کو کس نشاط سے جا تا ہو ں میں، کہ ہے\nپُرگُل خیالِ زخم سے دامن نگاہ کا\n\nجاں در” ہوائے یک نگہِ گرم” ہے اسدؔ\nپروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%D8%A8%DB%81_%D9%88%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A2%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%D8%B1%D9%86%DB%81_%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "غالب کا روزنامچۂ غدر ۱۸۵۷ء", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "غالبؔ کے روزنامہ میں ایک حرف فرضی نہیں ہے بلکہ چشم دید اصلی حالات کی تصاویر ہیں اور پھر بیان ایسا صاف، ستھرا اور اعلیٰ ہے کہ میری عبارت اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتی۔ غالبؔ کے اس روزنامچہ سے دہلی کی عمارتوں، دہلی کے نامور آدمیوں، دہلی کی قدیمی معاشرت، دہلی کے پرانے احساسات کا اتنا بڑا تاریخی ذخیرہ حاصل ہوتا ہے جو کسی غدر دہلی کی تاریخ میں نہیں ملے گا۔\n\nایک بات نہایت ہی اہم اس روزنامچہ سے ظاہر ہوگی اور وہ یہ ہے کہ غدر کی تاریخ لکھنے والے عموماً یا تو انگریز تھے اور یا انگریزوں کے زیر اثر مؤرخ۔ اس واسطے اس میں واقعات کا ایک ہی رخ دکھایا گیا ہے، مگر غالبؔ کے روزنامچہ سے تصویر کا دوسرا اور بہت ہی پوشیدہ رخ بھی ظاہر ہوجائے گا اور مؤرخوں کو اس سے بہت مدد ملے گی۔ لوگوں کو حیرت ہوگی کہ غالبؔ کا یہ روزنامچہ کہاں سے آگیا۔ پہلے تو کبھی اس کا ذکر بھی نہیں سنا تھا۔ اس واسطے میں اس حقیقت کو بیان کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ غالبؔ نے غدر کا کوئی خاص روزنامچہ نہیں لکھا تھا، نہ غالباً ان کو روزنامچہ لکھنے کی عادت تھی۔ میں نے یہ روزنامچہ خود تصنیف کیا ہے اور لطف یہ ہے کہ اس تصنیف میں ایک حرف بھی میرا نہیں ہے۔ سب غالبؔ کے قلم سے نکلا ہوا ہے۔ اس معمہ اور چیستاں کا حل یہ ہے کہ غالبؔ کے خطوط میں جہاں جہاں غدر کا ذکر ضمناً آیا تھا، میں نے پوری تلاش و محنت سے اس کو الگ کر لیا اور ایسے طریقے سے چھانٹا کہ روزنامچہ کی عبارت معلوم ہونے لگی۔ بس میرا کمال اسی قدر ہے کہ میں نے بغیر بیشی الفاظ کے خطوط کو روزنامچہ بنا دیا اور کوئی شخص اس کو پڑھ کر خطوط کا شبہ نہیں کر سکتا۔ غالبؔ کے مکتوبات مطبوعہ و غیرمطبوعہ میں غدر کی کیفیت ایسی دبی ہوئی پڑی تھی کہ کوئی شخص اس کی خوبی و اہمیت کو محسوس نہ کرسکتا تھا اور خطوں کے ذیل میں ان عبارتوں کو بھی بے توجہی سے پڑھ لیا جاتا تھا۔ میں نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ اردو زبان میں غدر دہلی کی یہ لاثانی تاریخ جو موتیوں سے بھی زیادہ بیش قیمت ہے، اس طرح دبی ہوئی نہ پڑی رہے، اس لئے اس کو علیحدہ کرنا شروع کیا اور کہیں کہیں اپنے حاشیے بھی لکھے تاکہ آج کل کے لوگوں کو دہلی کی بعض مقامی باتوں سے واقفیت ہو جائے اور جس چیز کا مطلب سمجھ میں نہ آئے، حاشیہ کی مدد سے سمجھ لیں۔ کوشش کے باوجود غالبؔ کی تحریروں میں بعض ایسی ہیں جن کا حل میں بھی نہ کرسکا۔ ایک نہایت مشکل کام روزنامچہ کی تیاری میں یہ پیش آیا کہ بعض مکتوبات پرغالبؔ نے تاریخ اور سنہ لکھے ہیں اور بعض پر صرف تاریخ اور دن ہے، مگر سنہ نہیں لکھا اور بعض پر نہ سن ہے نہ تاریخ ہے۔ اس واسطے ترتیب کا فرض ادا کرنا مشکل ہو گیا، کیونکہ کچھ معلوم نہیں ہو سکتا کہ پہلی عبارت کون سی ہے اور دوسری کون سی۔ ناظرین خود اپنی سمجھ سے اس مشکل کو حل کرسکتے ہیں۔ دوسری مشکل اس روزنامچہ میں یہ ہے کہ بعض مضامین اور واقعات مکرر بلکہ کئی کئی بار لکھے گئے ہیں خصوصاً پنشن کے حالات بہت جگہ آئے ہیں۔ ان کو میں نے اس لئے قائم رکھا اور کم نہیں کیا کہ گو واقعہ ایک ہی ہے مگر طرز ادا میں ہر جگہ نئی قسم کی خوبی ہے اور غالبؔ نے اپنے ہر مخاطب کو ایسے لطف سے کیفیت لکھی ہے کہ نیا مضمون بنا دیا ہے اور پھر کمال یہ ہے کہ واقعات میں کمی بیشی نہیں ہونے دی، جس سے غالبؔ کی صدق بیانی پر پوری روشنی پڑتی ہے۔ (۱۹۲۲ء)دوسرے ایڈیشن میں نظر ثانی اور ترمیم کا وعدہ میں نے کیا تھا، سو خدا کے فضل سے تیسرے ایڈیشن کے وقت میں نے پوری توجہ کے ساتھ کتابت کی غلطیاں درست کرائیں اور چند نوٹ بھی نئے لکھے، حالانکہ آج کل آنکھوں سے معذور ہو گیا ہوں اور لکھنے پڑھنے سے مجبوری بھی ہے۔ پھر بھی میں نے اس کو پڑھوا کر سنا اور اصلاح کرائی۔ امید ہے کہ ناظرین بقیہ حصوں کو بھی منگا کر غدر کے متعلق اپنی تاریخی معلومات کو مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ حسن نظامی (۱۹۴۰ء)غالبؔ کا روزنامچۂ غدر ۱۸۵۷ءغالبؔ کا نسب نامہمیں قوم کا ترک سلجوقی ہوں۔ دادا میر ماوراء النہر سے شاہ عالم کے وقت میں ہندوستان آیا۔ سلطنت ضعیف ہو گئی تھی۔ صرف پچاس گھوڑے نقاردار نشان سے شاہ عالم کا نوکر ہوا۔ ایک پرگنہ میر حاصل ذات کی تنخواہ اور رسالے کی تنخواہ میں پایا۔ بعد انتقال اس کے جو طوائف الملوکی کا بازار گرم تھا، وہ علاقہ نہ رہا۔ باپ میرا عبد اللہ بیگ خاں بہادر لکھنؤ جاکر نواب آصف الدولہ کا نوکر رہا۔ بعد چند روز حیدر آباد جاکر نواب نظام علی خاں کا نوکر ہوا۔ تین سو سوار کی جمعیت سے ملازم رہا۔ کئی برس وہاں رہا۔ وہ نوکری ایک خانہ جنگی کے بکھیڑے میں جاتی رہی۔ والد نے گھبرا کر الور کا قصد کیا۔ راؤ راجہ بختاور سنگھ کا نوکر ہوا۔ وہاں کسی لڑائی میں مارا گیا۔ نصیر اللہ بیگ خاں میرا چچا حقیقی مرہٹوں کی طرف سے اکبر آباد کا صوبہ دار تھا۔ اس نے مجھے پالا۔ ۱۸۰۶ء میں جرنیل لیک صاحب کا عمل ہوا۔ صوبہ داری کمشنری ہوگئی اور صاحب کمشنر ایک انگریز مقرر ہوا۔ میرے چچا کو جرنیل لیک صاحب نے سواروں کی بھرتی کا حکم دیا۔ چار سو سواروں کا برگیڈیئر ہوا۔ ایک ہزار روپیہ ذات کا اور لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ سال کی جاگیر حین حیات علاوہ سال بھر مرزبانی کے تھے کہ بمرگ ناگاہ مر گیا۔ رسالہ برطرف ہو گیا۔ ملک کے عوض نقدی مقرر ہو گئی۔ وہ اب تک پاتا ہوں۔ پانچ برس کا تھا جو باپ مرگیا۔ آٹھ برس کا تھا جو چچا مرگیا۔ ۱۸۳۰ء میں کلکتہ گیا، نواب گورنر جنرل سے ملنے کی درخواست کی۔ دفتر دیکھا گیا۔ میری ریاست کا حال معلوم کیا گیا۔ ملازمت ہوئی۔ سات پارچے اور جیفہ۔ سرپیچ۔ مالائے مروارید۔ یہ تین رقم کا خلعت ملا۔ زاں بعد جب دلّی میں دربار ہوا، مجھ کو بھی خلعت ملتا رہا۔ بعد غدر بہ جرم مصاحبت بہادر شاہ دربار وخلعت دونوں بند ہوگئے۔ میری بریت کی درخواست گزری۔ تحقیقات ہوتی رہی۔ تین برس بعد پنڈ چھٹا۔ اب خلعت معمولی ملا۔ (نوٹ، یہ خلاصہ ہے کہ غالبؔ کے نسب نامہ اور زندگی کے بڑے بڑے واقعات کا اتنے اختصار سے اتنی بڑی لائف کا ماحصل لکھ دینا معمولی بات نہیں ہے۔ یہ قدرت خدا نے غالبؔ کے قلم کو دی تھی۔)ترک اہل سیف ہوتے ہیں اہل قلم نہیں ہوتےبرٹش گورنمنٹ کے موجودہ متعصب، عاقبت کے اندیشے سے بے بہرہ وزیر اعظم مسٹر لائڈ جارج نے خلافت ڈپوٹیشن ہندوستان کے اراکین سے کہا تھا کہ ترکوں کوتلوار نچانے کے سوا اور آتا ہی کیا ہے۔ ان میں کوئی قلمی بہادر پیدا نہیں ہوا۔ اس کے جواب میں غالبؔ اور امیر خسروؔ کو پیش کیا جا سکتا ہے جو دونوں دہلی درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ میں دفن ہیں کہ امیر خسروؔ بھی ترک لاچین تھے اور غالبؔ بھی ترک سلجوقی تھے جیسا کہ اس عبارت میں انہوں نے خود لکھا ہے۔ اب غالبؔ و خسروؔ کے کمالات علمی و شعری اور فضائل فلسفہ و ادراک حسن انسانی کو دیکھنا چاہئے۔ ان کی لاجواب تصنیفات کو پڑھنا چاہئے۔ انگلش قوم کے علماء و فلاسفروں میں جو بات انفرادی تھی، وہ ان میں مجموعی تھی یعنی انگریزوں میں ایک خاص فن کا کوئی ماہر ہوتا تھا اور اس فن کے سبب اس کی عزت ہوتی اور غالب و خسرو مجموعہ کمالات تھے کہ متعدد فضائل ان کے اندر تھے۔ (تو کیا ہندوستان کے یہ دو مشہور ترک ہندوستانی وفد خلافت کی طرف سے لائڈ جارج کو یہ جواب نہیں دے سکتے کہ ترک صاحب سیف بھی ہوتے ہیں اور صاحب قلم بھی۔ تم کو واقفیت حاصل کئے بغیر زبان سے اتنی بڑی بات کہہ دینی مناسب نہ تھی کہ تم ساری برطانی قوم کے قائم مقام ہو۔ حسن نظامی)غالبؔ کا حلیہجب میں جیتا تھا تو میرا رنگ چمپئی تھا اور دیدہ ور لوگ اس کی ستائش کیا کرتے تھے۔ اب جو کبھی مجھ کو وہ اپنا رنگ یاد آتا ہے تو چھاتی پر سانپ سا پھر جاتا ہے۔ جب ڈاڑھی مونچھ میں بال سفید آگئے۔ تیسرے دن چیونٹی کے انڈے گالوں پر نظر آنے لگے۔ اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے۔ ناچار مسی بھی چھوڑ دی اور ڈاڑھی بھی تاکہ اس بھونڈے شہر (دہلی) میں ایک وردی ہے عام۔ ملّا، حافظ، بساطی، نیچہ بند، دھوبی، سقہ، بھٹیارہ، جولاہا، کنجڑا، منہ پر ڈاڑھی سر پر بال۔ فقیر نے جس دن ڈاڑھی رکھی اسی دن سر منڈایا۔ (نوٹ، اس سے معلوم ہوا کہ جوانی میں بہت طرح دار جوان تھے۔ ڈاڑھی منڈاتے تھے اور اس وقت کے دستور کے موافق دانتوں پر مسی بھی ملتے تھے۔ حسن نظامی)غالب کی ازلی طبیعتعلم وہنر سے عاری ہوں، لیکن پچپن برس سے محو سخن گزاری ہوں۔ مبدء فیاض کا مجھ پر احسان عظیم ہے۔ ماخذ میرا صحیح اور طبع میری سلیم ہے۔ فارسی کے ساتھ ایک مناسبت ازلی اور سرمدی لایا ہوں۔ مطابق اہل پارس کے منطق کا بھی مزہ ابدی لایا ہوں۔ مناسبت خداداد۔ تربیت استاد حسن وقبح کی ترکیب پہچاننے، فارسی کے غوامض جاننے لگا۔ غالبؔ کا مجموعۂ کلاممیرا کلام کیا نظم کیا نثر، کیا اردو فارسی، کبھی کسی عہد میں میرے پاس فراہم نہیں ہوا۔ دوچار دوستوں کو اس کا التزام تھا کہ وہ مسودات مجھ سے لے کر جمع کرلیا کرتے تھے۔ سوان کے لاکھوں روپے کے گھر لٹ گئے، جس میں ہزاروں روپے کے کتب خانے بھی گئے۔ اسی میں وہ مجموعہ ہائے پریشان بھی غارت ہوئے۔ غدر کی نسبت غالبؔ کی تصنیفمیں نے آغاز یازدہم مئی ۱۸۵۷ء سے یکم جولائی ۱۸۵۸ء تک روداد شہر اور اپنی سرگزشت یعنی پندرہ مہینے کا حال نثر میں لکھا ہے اور اس کا التزام کیا ہے کہ دساتیر کی عبارت یعنی پارسی قدیم لکھی جائے اور کوئی لفظ عربی نہ آئے۔ جو نظم اس نثر میں درج ہے وہ بھی بے آمیزش لفظ عربی ہے۔ ہاں اشخاص کے نام نہیں بدلے۔ (نوٹ، یہ کتاب ’’دستنبو‘‘ کا ذکر ہے۔ آگے بھی جگہ جگہ اس کی کیفیت مذکور ہوئی ہے اور غالباً اسی کتاب کو دیکھنے کے بعد انگریزی حکام اعلیٰ کو غالبؔ کی قدر ہوئی اور شروع کی بیزاری، نفرت اور حقارت کا شبہ جاتا رہا، جس کا ذکر کئی جگہ آیاہے، کیونکہ ’’دستنبو‘‘ دیکھنے سے پہلے گورنر اور دیگر حکام انگریزی غالبؔ کو معمولی شاعر اور بھاٹ خیال کرتے ہوں گے اور بہادر شاہ کا سکہ کہنے کے سبب اور قلعہ میں جانے آنے کی وجہ سے ان پر پورا شبہ باغیان غدر سے میل جول کا ہوگا، مگر جب کتاب ’’دستنبو‘‘ پڑھی گئی ہوگی اور اس سے غالبؔ کی قابلیت اور غدر سے بے تعلقی ظاہر ہوئی ہوگی، تب گورنر اور حکام انگریزی نے پنشن جاری کی ہوگی۔ حسن نظامی)غالبؔ چشتی نظامی تھے، شیعہ نہ تھےمیاں نصیر الدین اولاد میں سے ہیں۔ شاہ محمد اعظم صاحب کے وہ خلیفہ تھے مولوی فخر الدین صاحب کے اور میں مرید ہوں اس خاندان کا۔ (نوٹ، غالبؔ کی نسبت شہرت ہے کہ وہ اثنا عشری شیعہ تھے اور مکتوبات میں انہوں نے خود بھی ایک جگہ لکھا کہ میں اثنا عشری ہوں مگر یہاں وہ لکھتے ہیں کہ میں مولوی فخر الدین صاحبؒ کے خاندان کا مرید ہوں، جو چشتیہ نظامیہ سلسلہ کےمشہور بزرگ تھے۔ درگاہ حضرت خواجہ قطب صاحبؒ میں ان کا مزار ہے اور وہ فرزند تھے حضرت مولانا نظام الدینؒ اورنگ آبادی کے اور غالبؔ کے اکثر احباب اور لہارو خاندان بھی حضرت مولانا فخر صاحبؒ مذکور کے سلسلہ میں مرید تھے۔ میاں کالے صاحب ان ہی مولانا فخر صاحب کے پوتے تھے جو بہادر شاہ کے پیر سمجھے جاتے تھے اور اسی وجہ سے ان کی املاک و جائداد کی ضبطی ہوئی جیسا کہ غالبؔ نے اسی روزنامچہ میں لکھا ہے۔ پس اگر غالبؔ چشتی نظامی سلسلہ میں مرید تھے تو شیعہ کیونکر ہو سکتے تھے، کیونکہ شیعہ مرید نہیں ہوا کرتے، مگر انہوں نے خود لکھا ہے کہ میں اثنا عشری ہوں۔ اس مشکل کا حل یہ ہے کہ چشتی نظامی فقرا اور ان کے مریدین محبت اہل بیت میں بہت غلو رکھتے ہیں اور بارہ اماموں سے بھی تعلق خاص رکھتے ہیں۔ اس بنا پر غالبؔ نے اپنے آپ کو اثنا عشری یعنی بارہ ائمہ کا ماننے والا لکھا، ورنہ وہ شیعہ نہ تھے۔ شیعہ ہوتے تو مرنے کے بعد علی گنج شاہ مردان کے قبرستان میں دفن ہوتے جو صفدر جنگ کے قریب ہے اور جہاں اس وقت کے تمام شیعہ امرا دفن ہوا کرتے تھے اور اب بھی ہوتے ہیں۔ سنیوں خصوصاً چشتیوں نظامیوں کے قبرستان میں دفن ہونا اور درگاہ حضرت سلطان جی صاحب میں جو نظامیہ سلسلہ کے بانی ہیں، ان کی میت کا لایا جانا ظاہر کرتاہے کہ وہ سنی تھے شیعہ نہ تھے۔ ان کی قبر بھی سنی طریقہ کی بنائی گئی ہے یعنی اس پر اونچا اونٹ کے کوہان کی صورت کا خشتی تعویذ بنایا گیا ہے۔ شیعوں کی قبریں زمین کے برابر ہوتی ہیں۔ ابھرا ہوا یا اونٹ کی کوہان کی شکل کا تعویذ ان کے ہاں نہیں بنایا جاتا۔\nغالبؔ کی قبر پر تاریخ میر مجروحؔ کی کہی ہوئی کندہ ہے، جو غالبؔ کے شاگرد اور شیعہ مذہب رکھتے تھے۔ وہ تاریخ یہ ہے، کل میں غم و اندوہ میں باخاطر محزوںتھا تربت استاد پہ بیٹھا ہوا غم ناکدیکھا جو مجھے فکر میں تاریخ کی مجروحؔہاتف نے کہا گنج معانی ہے تہ خاک(۱۲۸۵ھ۔ حسن نظامی)قلعہ کی تباہی کی پیشین گوئیمشاعرہ یہاں شہر میں کہیں نہیں ہوتا۔ قلعہ میں شہزادگان تیموریہ جمع ہوکر کچھ غزل خوانی کرلیتے ہیں۔ میں کبھی اس محفل میں جاتا ہوں اور کبھی نہیں جاتا اور یہ صحبت خود چند روزہ ہے۔ اس کو دوام کہاں؟ کیا معلوم ہے، اب کے نہ ہو اور اب کے ہو تو آئندہ نہ ہو۔ (نوٹ، یہ تحریر غدر سے پہلے کی ہے۔ لال قلعہ اور اس کے باشندوں کی نسبت جس انداز سے لکھتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شہزادوں کے اطوار اور ملک کی سیاست کے رخ کو دیکھ کر غالبؔ نے سمجھ لیا تھا کہ اب یہ رونق چند روز کی مہمان ہے۔ گو غدر کی خبر غالبؔ کو یہ تھی کہ غیب کا علم نہ جانتے تھے۔ پھر بھی آثار و قرائن سے انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ انگریز اب اس بادشاہی کھلونہ کو سامنے سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔ جب ہی تو انہوں نے صاف صاف لکھ دیا کہ ’’یہ صحبت چند روزہ ہے۔ اس کو دوام کہاں؟‘‘ اور یہ لکھ کر تو انہوں نے پیش گوئی کا کمال ظاہر کر دیا کہ ’’کیا معلوم اب کے نہ ہو اور اب کے ہو تو آئندہ نہ ہو۔ ‘‘ گویا غالبؔ کو قلعہ کی تباہی کا اتنا یقین تھا کہ ایک دو سال کی قید بھی انہوں نے لگا دی۔ حسن نظامی)اب دہلی میں کون رہتا ہے؟ کہتے ہیں دلی بڑا شہر ہے۔ ہرقسم کے آدمی وہاں بہت ہوں گے مگر اب یہ وہ دلی نہیں ہے بلکہ ایک کمپ ہے۔ مسلمان اہل حرفہ یا حکام کے شاگرد پیشہ۔ باقی سراسر ہنود و معزول بادشاہ کے ذکور جو بقیۃ السیف ہیں۔ وہ پانچ پانچ روپے مہینہ پاتے ہیں۔ اناث میں سے جو پیرزن ہیں۔ وہ کٹنیاں اور جوانیں کسبیاں۔ امرائے اسلام میں سے اموات گنو، ’’حسن علی خاں بہت بڑے باپ کا بیٹا سو روپے کا پنشن دار۔ ‘‘سو روپے مہینے کا روزینہ دار بن کر نامراد بن گیا۔ میر ناصر الدین باپ کی طرف سے پیر زادہ، نانا اور نانی کی طرف سے امیر زادہ مظلوم مارا گیا۔ آغا سلطان، بخشی محمد علی خاں کا بیٹا جو خود بھی بخشی ہو چکا ہے، بیمار پڑا، نہ دوا نہ غذا۔ انجام کار مرگیا۔ ناظر حسین مرزا جس کا بڑا بھائی مقتولوں میں آگیا ہے۔ اس کے پاس ایک پیسہ نہیں۔ ٹکے کی آمد نہیں۔ مکان اگر چہ رہنے کو مل گیا ہے مگر دیکھئے چھٹا رہے یا ضبط ہو جائے۔ بڈھے صاحب ساری املاک بیچ کر نوش جان کرکے بیک بینی و دو گوش بھرت پور چلے گئے۔ ضیاء الدین کی پانسو روپئے کی املاک وا گزاشت ہو کر پھر قرق ہوگئی۔ تباہ خراب پھر لاہور گیا۔ وہاں پڑا ہوا ہے۔ دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ قصہ کوتاہ قلعہ اور جھجر اور بہادر گڑھ اور بلب گڑھ اور فرخ نگر کم وبیش تیس لاکھ روپیہ کی ریاستیں مٹ گئیں۔ شہر کی عمارتیں خاک میں مل گئیں۔ ہنرمند آدمی کیوں پایا جائے۔ جو حکما کا حال ہے، وہ بیان واقع ہے۔ (نوٹ، جو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اب دہلی میں نہ صاحب اخلاق و مروت ہیں، نہ علم و ہنر والے ہیں، نہ امرا ہیں، نہ شعرا ہیں، نہ پہلے سے علما و فقراء نظر آتے ہیں۔ ان کو غالبؔ کی یہ تحریر پڑھنی چاہئے کہ غدر نے ان سب کا خاتمہ کر دیا اور ایسا تباہ کیا کہ آج تک اس شہر میں وہ پہلی سی بات پیدا نہ ہو سکی۔ اب دہلی میں دہلی والے کہاں ہیں؟ پردیسی لوگ آباد ہیں۔ دہلی والے یا تو پھانسیوں پر لٹک گئے یا جلا وطن ہو گئے۔ پھر اس غریب شہر کو بدنام کرنا اور اس کو قدیمی ناموری اور شہرت کی نظر سے دیکھنا بے عقلی نہیں تو کیا ہے؟ غالبؔ نے یہ تحریر ایسے درد سے لکھی ہے کہ دل پاش پاش ہوا جاتا ہے۔ غم کا نقشہ مجسم ہوکر آنکھوں کے راستہ دل میں گھسا چلا آتا ہے۔ حسن نظامی)ہندوستان کے غدر کے بعدہندوستان کا قلمرو بے چراغ ہوگیا۔ لاکھوں مرگئے۔ جو زندہ ہیں، ان میں سیکڑوں گرفتار بند بلا ہیں۔ جو زندہ ہے ان میں مقدور زندگی نہیں۔ اب دہلی میں ساہوکاروں کے سوا کوئی امیر نہیں ہے۔ مسلمان امیروں میں تین آدمی نواب حسن علی خاں، نواب حامد علی خاں، حکیم احسن اللہ خاں، سو ان کا یہ حال ہے کہ روٹی ہے تو کپڑا نہیں ہے۔ مع ہذا یہاں کی اقامت میں تذبذب۔ خدا جانے کہاں جائیں۔ سوائے ساہوکاروں کے یہاں کوئی امیر نہیں ہے۔ (نوٹ، غدر کے بعد غالبؔ نے دہلی کے مسلمان امراء کی تباہی کا جو جگہ جگہ نقشہ دکھایا ہے، وہ آج تک اصلی خدوخال میں موجود ہے کہ خاندانی مسلمان امیر ایک نہیں۔ ساہوکار امیر ہزار ہیں۔ خواہ ہندو ہوں یا مسلمان۔ تجارت کا تمول نظر آتا ہے۔ حکومت کی موروثی امیری خواب و خیال ہوگئی۔ حسن نظامی)نواب فرخ میرزا کا بچپنپرسوں فرخ میرزا آیا۔ اس کے ساتھ اس کا باپ بھی تھا۔ پوچھا کیوں صاحب میں تمہارا کون اور تم میرے کون ہو۔ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا۔ حضرت آپ میرے دادا اور میں آپ کا پوتا ہوں۔ پھر میں نے پوچھا کہ تمہاری تنخواہ آئی؟ کہا جناب عالی۔ آغا جان کی تنخواہ آگئی ہے۔ میری نہیں آئی۔ میں نے کہا لوہارو جائے تو تنخواہ پائے۔ کہا حضرت میں تو آغا جان سے روز کہتا ہوں کہ لوہارو چلو، اپنی حکومت چھوڑ کر دلی کی رعیت میں کیوں مل گئے۔ سبحان اللہ بالشت بھر کا لڑکا اور یہ فہم درست اور طبع سلیم۔ میں اس کی خوبی خو اور فرخی سیرت پر نظر کرکے اس کو فرخ سیر کہتا ہوں۔ (نوٹ، یہ نواب فرخ میرزا والی لوہارو کا ذکر ہے، جن کو برٹش گورنمنٹ سے سر کا خطاب ہے اور توپوں کی سلامی دی جاتی ہے اور اعلیٰ درجہ کے والیان ریاست کے برابر اعزاز کیا جاتا ہے۔ درمیانہ قد ہے۔ گورا رنگ۔ کٹورا سی آنکھیں۔ بڑی اور چڑھی ہوئی ڈاڑھی۔ بال سفید ہوگئے ہیں۔ نہایت خلیق و ملنسار رئیس ہیں۔ اردو ایسی بولتے ہیں کہ آدمی بیٹھا حیرت سے منہ دیکھا کرے۔ مولانا شبلیؔ حسرت سے کہا کرتے تھے کہ فرصت ہو تو فرخ میرزا کی باتیں سنے کہ اصل اردو ان کی باتوں میں ہے۔ غالبؔ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے فرخ میرزا بچپن سے ہونہار تھے۔ ایک فقرہ تو اس غضب کا غالبؔ سے کہا کہ آج کل لوگ سنیں تو متعجب ہوں کیونکہ جنگ یورپ کے زمانہ میں جب نواب فرخ میرزا بصرہ گئے تو عوام نے مشہور کیا کہ وہ انگریزوں کی مدد کرنے گئے ہیں اور انہوں نے اسلامی حکومت کے درد کی پروا نہ کی۔ غالبؔ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ فرخ میرزا طفلی سے ذاتی اور اسلامی حکومت کی خوبی کو محسوس کرتے تھے۔ جب ہی تو انہوں نے کہا، ’’اپنی حکومت چھوڑ کر دلی کی رعیت میں کیوں مل گئے۔ ‘‘ مگر آفرین ہے فرخ میرزا کی بلاغت پر۔ اس وقت بھی پہلو بچا کر بات منہ سے نکالی۔ دلی کی رعیت کہا انگریزی رعیت نہ کہا۔ حسن نظامی)اینٹ سے اینٹ بجادیکل پنج شنبہ ۲۵ مئی کو اول روز پہلے بڑے زور کی آندھی آئی، پھر خوب مینہ برسا۔ وہ جاڑا پڑا کہ تمام کرۂ شہر زمہریر ہو گیا۔ بڑے دریبہ کا دروازہ ڈھایا گیا، قابل عطاء کے کوچہ کا بقیہ مٹایا گیا۔ کشمیری کرہ کی مسجد زمین کا پیوند ہوگئی۔ سڑک کی وسعت دو چند ہوگئی۔ اللہ اللہ گنبد مسجدوں کے ڈھائے جاتے ہیں اور ہنود کی ڈیوڑھیوں کی جھنڈیوں کے پرچم لہراتے ہیں۔ ایک شیرزور آور اور پیلتن بندر پیدا ہوا ہے۔ مکانات جابجا ڈھاتا پھرتا ہے۔ فیض اللہ خاں بنگش کی حویلی پر جو جو گلدستے ہیں جس کو عوام گمزی کہتے ہیں، ان میں سے ہلا ہلا کر ایک کی بنا ڈھا دی۔ اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ واہ رے بندر، یہ زیادتی اور پھر شہر کے اندر۔ ریگستان کے ملک سے ایک سردار زادہ کثیر العیال عسیر الحال، عربی، فارسی، انگریزی تین زبانوں کا عالم دلّی میں وارد ہوا ہے۔ بلی ماروں کے محلہ میں ٹھہرا ہے۔ بحسب ضرورت حکام شہر سے مل لیتا ہے۔ باقی گھر کا دروازہ بند کئے بیٹھا رہتا ہے۔ گاہ گاہ ہر شام وپگاہ غالب علی شاہ کے تکیہ پر آجاتا ہے۔ تم سے گورنمنٹ کو ملاقات کبھی منظور نہیںغدر کے دفع ہونے اور دلی کے فتح ہونے کے بعد میرا پنشن کھلا۔ چڑھا ہوا روپیہ دام دام ملا۔ آئندہ کو بدستور بے کم وکاست جاری ہوا مگر لارڈ صاحب کا دربار اور خلعت جو معمولی و مقرری تھا، مسدود ہو گیا۔ یہاں تک کہ صاحب سکرٹر بھی مجھ سے نہ ملے اور کہلا بھیجا کہ اب گورنمنٹ کو تم سے ملاقات کبھی منظور نہیں۔ میں فقیر متکبر مایوس دائمی ہوکر اپنے گھر بیٹھ رہا اور حکام شہر سے بھی ملنا موقوف کردیا۔ بڑے لارڈ صاحب کے ورود کے زمانہ میں نواب لفٹنٹ گورنر بہادر پنجاب بھی دلی آئے۔ دربار کیا۔ خیر کرو، مجھ کو کیا۔ ناگاہ دربار کے تیسرے دن بارہ بجے چپراسی آیا اور کہا کہ نواب لفٹنٹ گورنر نے یاد کیا ہے۔ سوار ہوگیا۔ پہلے صاحب سکرٹر بہادر سے ملا۔ پھر نواب صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تصور میں کیا بلکہ تمنا میں بھی جو بات نہ تھی، وہ حاصل ہوئی یعنی عنایت سے عنایت۔ اخلاق سے اخلاق۔ وقت رخصت خلعت دیا اور فرمایا کہ ہم تجھ کو اپنی طرف سے از راہ محبت دیتے ہیں اور مژدہ دیتے ہیں کہ لارڈ صاحب کے دربار میں بھی تیرا نمبر اور خلعت کھل گیا۔ انبالہ دربار میں شریک ہو، خلعت پہن۔ (نوٹ، باوجود اس کے کہ حکام گورنمنٹ نے کہہ دیا تھا کہ ملاقات کبھی منظور نہیں، پھر غالبؔ کے استقلال اور لگاتار جد وجہد نے اس ’’کبھی نہیں کے‘‘ قلعہ کو فتح کرلیا اور ملاقاتیں ہونے لگیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انگریزی آئین میں قطعی فیصلہ طے شدہ امر اور ’’کبھی نہیں‘‘ بھی بدل جاتے ہیں۔ اگر سامنے والا مسلسل جد و جہد کرتا رہے۔ مسٹر مارلے نے کہا تھا تقسیم بنگال طے شدہ امر ہے۔ اس کی منسوخی محال ہے، مگر بنگالیوں کی کوشش نے اس کو منسوخ کرا کے چھوڑا۔ حسن نظامی)غالبؔ کی چند کتب’’پنج آہنگ‘‘ کے دو چھاپے ہیں۔ ایک بادشاہی چھاپہ خانہ کا اور ایک منشی نور الدین کے چھاپے خانہ کا۔ پہلا ناقص ہے، دوسرا سراسر غلط ہے۔ ضیاء الدین خاں جاگیر دار لوہارو میرے نسبتی بھائی اور میرے شاگرد رشید ہیں۔ جو نظم و نثر میں نے کچھ لکھا، وہ انہوں نے لیا اور جمع کیا۔ چنانچہ کلیات نظم فارسی چون پچپن جزو اور ’’پنج آہنگ‘‘ اور ’’مہر نیم روز‘‘ اور ’’دیوان ریختہ‘‘ سب مل کر سو سوا سو جزو مطلے اور مذہب اور انگریزی ابری کی جلدیں الگ الگ کوئی ڈیڑھ سو دو سو روپے کے صرف میں بنوائیں۔ میری خاطر جمع کہ کلام میرا سب ایک جا ہے۔ پھر ایک شاہزادہ نے اس مجموعہ نظم و نثر کی نقل کی۔ اب دو جگہ میرا کلام اکٹھا ہوا۔ کہاں سے یہ فتنہ برپا ہوا اور شہر لٹے، وہ دونوں جگہ کا کتاب خانہ خوان یغما ہو گیا۔ ہرچند میں نے آدمی دوڑائے۔ کہیں سے ان میں سے کوئی کتاب ہاتھ نہ آئی۔ وہ سب قلمی ہیں۔ جناب ہنری اسٹورٹ ریڈ صاحب کو ابھی میں خط نہیں لکھ سکتا۔ ان کی فرمائش ہے۔ اردو کی نثر انجام پائے تو اس کے ساتھ ان کو خط لکھوں مگر اردو میں میں اپنے قلم کا زور کیا صرف کروں گا اور اس عبارت میں معانی نازک کیونکر بھروں گا۔ (نوٹ، باوجود اس کسر نفسی کے غالبؔ کی اردو میں وہ زور ہے اور وہ سلاست ہے کہ آج تک کوئی شخص اس کا ہمسر اردو لکھنے میں پیدا نہیں ہوا)مقتولوں اور مہجوروں کی یادغم مرگ میں قلعہ نامبارک سے قطع نظر کر کے اہل شہر کو گنتا ہوں۔ مظفر الدولہ، میرناصر الدین، مرزا عاشور بیگ، میرا بھانجا، اس کا بیٹا، احمد مرزا، انیس برس کا بچہ مصطفیٰ خاں ابن اعظم الدولہ، اس کے دو بیٹے ارتضیٰ خاں اور مرتضیٰ خاں، قاضی فیض اللہ۔ کیا میں ا ن کو اپنے عزیزوں کی برابر نہیں جانتا تھا۔ اے لو بھول گیا۔ حکیم رضی الدین خاں، میرا حمد حسین، میکش۔ اللہ اللہ۔ ان کو کہاں سے لاؤں۔ غم فراق حسین مرزا، میر مہدی، میر سرفراز حسین میرن صاحب، خدا ان کو جیتا رکھے۔ کاش یہ ہوتا کہ جہاں ہوتے وہاں خوش ہوتے۔ گھر ان کے بے چراغ، وہ خود آوارہ، سجاد اور اکبر کے حال کا جب تصور کرتا ہوں، کلیجہ ٹکڑے ٹکڑے ہوتا ہے۔ کہنے کو ہر کوئی ایسا کرسکتا ہے مگرمیں علی کو گواہ کرکے کہتا ہوں کہ ان اموات کے غم میں اورزندوں کے فراق میں عالم میری نظر میں تیرہ وتار ہے۔ فقیر اور ہتھیار نہ آئےبھائی فضلو عرب سرا میں رہتے ہیں۔ پرسوں سے آئے ہوئے ہیں۔ دوڑتے پھرتے ہیں۔ عرضیاں دیتے پھرتے ہیں۔ کوئی سنتا نہیں۔ آمد و رفت کا ٹکٹ موقوف ہو گیا۔ فقیر اور ہتھیار جس کے پاس ہوں، وہ نہ آئے اور باقی ہندو مسلمان عورت مرد، سوار پیادہ جو چاہے چلا جائے چلا آئے، مگر رات کو شہر میں رہنے نہ پائے۔ وہ شورغل تھا کہ سڑکیں نکلیں گی اور گوروں کی چھاؤنی بنے گی۔ کچھ بھی نہ ہوا۔ مرپٹ کر ایک جان نثار خاں کے چھتے کی سڑک نکلی ہے۔ دلّی والوں نے لکھنؤ کا خاکہ اڑا رکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ لاکھوں مکان ڈھا دیے اور صاف میدان کردیا۔ میں جانتا ہوں ایسا نہ ہوا ہوگا۔ (نوٹ، امن عام کے بعد بھی فقیر اور ہتھیار والے کا شہر کے داخلہ سے ممنوع ہونا ظاہر کرتا ہے کہ حکام انتظامی ضرورت سے ایسا کرنے پر مجبور تھے کیوں کہ بغاوت کے وقت اکثر باغیوں نے فقیروں کے لباس میں دورہ کرکے عذر کی آگ بھڑکائی تھی۔ حسن نظامی)امام باڑہ کا انہدامآغا باقر کا امام باڑہ اس سے علاوہ کہ خداوند کا عزاخانہ ہے، ایک بنائے قدیم، رفیع مشہور۔ اس کے انہدام کا غم کس کو نہ ہوگا۔ یہاں دو سڑکیں دوڑتی ہیں۔ ایک ٹھنڈی سڑک اور ایک آہنی سڑک۔ محل ان کا الگ الگ۔ اس سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ گوروں کا بارگ بھی شہر میں بنے گا اور قلعہ کے آگے جہاں لال ڈگی ہے، ایک میدان نکالا جائے گا، محبوب کی دکانیں، بہیلیوں کے گھر، فیل خانہ، بلاقی بیگم کے کوچہ تک سوائے لال ڈگی اور دوچار کنوؤں کے آثار عمارت باقی نہ رہے گی۔ آج جان نثار خاں کے چھتے کے مکان ڈھنے شروع ہو گئے ہیں۔ کیوں میں دلّی کے ویرانہ سے خوش نہ ہوں۔ جب اہل شہر ہی نہ رہے، شہر کو کیا چولہے میں ڈالوں۔ پشتم نہیں اکھیڑ سکتازبان زد خلق ہے کہ قدیم نوکروں سے باز پرس نہیں۔ مشاہدہ اس کے خلاف ہے۔ اے لوکئی دن ہوئے کہ حمید خاں گرفتار آیا ہے۔ پاؤں میں بیڑیاں، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں، حوالات میں ہے۔ دیکھئے کہ حکم اخیر کیا ہو۔ صرف نوزے رائے کی مختار کاری پر قناعت کی گئی۔ جو کچھ ہونا ہے وہ ہو رہے گا۔ ہر شخص کی سرنوشت کے موافق حکم ہو رہے ہیں۔ نہ کوئی قانون ہے نہ قاعدہ۔ نہ نظیر کام آئے نہ تقریر پیش جائے۔ ارتضیٰ خاں ابن مرتضیٰ خاں کی پوری دوسو روپے کی پنشن کی منظوری کی رپورٹ گئی اور ان کی دوبہنیں سو سو روپے مہینہ پانے والیوں کو حکم ہوا کہ چونکہ تمہارے بھائی مجرم تھے، تمہاری پنشن ضبط۔ بطریق ترحم دس دس روپے مہینہ تم کو ملے گا۔ ترحم یہ ہے تو تغافل کیا قہر ہوگا۔ میں خود موجود ہوں اور حکام صدر کا روشناس پشتم نہیں اکھیڑ سکتا۔ تریپن برس کا پنشن۔ تقرر اس کا بہ تجویز لارڈ لیک و بمنظوری گورنمنٹ۔ اور پھر نہ ملا ہے نہ ملے گا۔ خیر احتمال ہے ملنے کا۔ (نوٹ، پشتم کا لفظ آج کل بے تہذیبی میں داخل سمجھا جاتا ہے، مگر اس زمانہ میں سب لکھتے اور بولتے تھے۔ غالبؔ نے لکھا تو دستور عام کے سبب لکھا ورنہ ان کی عادت فحش نویسی کی نہ تھی۔ حسن نظامی)سب کچھ تماب تو فکر یہ پڑی ہوئی ہے کہ رہیے کہاں اور کھائیے کیا؟ مولانا کا حال معلوم ہوا۔ مرافعہ میں حکم دوام حبس بحال رہا۔ بلکہ تاکید ہوئی کہ جلد دریائے شور کی طرف روانہ کرو۔ ان کا بیٹا ولایت میں اپیل چاہتا ہے۔ کیا ہوتا ہے۔ جو ہونا تھا، ہو لیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ’’دہلی اردو اخبار‘‘ کا پرچہ اگر مل جائے تو بہت مفید مطلب ہے۔ ورنہ خیر کچھ محل خوف و خطر نہیں ہے۔ حکام صدر ایسی باتوں پر نظر نہ کریں گے۔ میں نے سکہ کہا نہیں۔ اگر کہا تو اپنی جان اور حرمت بچانے کو کہا۔ یہ گناہ نہیں اور اگر گناہ بھی ہے تو کیا ایسا سنگین ہے کہ مکہ معظمہ کا اشتہار بھی اس کو نہ مٹا سکے۔ سبحان اللہ! گولہ انداز کا بارود بنانا اور توپیں لگانی اور بنک گھر اور میگزین کا ٹوٹنا معاف ہو جائے اور شاعر کے دو مصرعے معاف نہ ہوں! ہاں صاحب گولہ کا بہنوئی مدد گار ہے اور شاعرکا سالہ بھی جانب دار نہیں۔ ایک لطیفہ پرسوں خوب ہوا۔ حافظ مموبے گناہ ثابت ہو سکے۔ رہائی پا چکے، حاکم کے سامنے حاضر ہوا کرتے ہیں۔ املاک اپنی مانگتے ہیں۔ قبض وتصرف تو ان کا ثابت ہو چکا ہے۔ صرف حکم کی دیر۔ پرسوں وہ حاضر ہیں۔ مثل پیش ہوئی۔ حاکم نے پوچھا کہ حافظ محمد بخش کون ہے؟ عرض کیا کہ میں، پھر پوچھا کہ حافظ مموکون؟ عرض کیا کہ میں۔ اصل نام میر محمد بخش ہے۔ ممو مشہور ہوں۔ فرمایا کچھ بات نہیں۔ حافظ محمد بخش بھی تم اور حافظ ممو بھی تم۔ سارا جہاں بھی تم۔ جو دنیا میں ہے وہ بھی تم۔ ہم مکان کس کو دیں۔ مثل داخل دفتر ہوئی۔ میاں ممو اپنے گھر چلے آئے۔ (نوٹ، بات معمولی تھی۔ حاکم کو اس کا سمجھنا دشوار نہ تھا کہ حافظ محمد بخش نام تھا اور لوگ ممو ممو کہتے تھے۔ پھر جو جائداد نہ دی گئی تو غالباً کوئی اور وجہ ہوگی۔ ورنہ اتنی سی بات پر حقدار کو اس کے حق سے محروم کرنا سمجھ میں نہیں آتا۔ حسن نظامی)احکام قضا وقدرسنا ہے کہ ایک محکمہ لاہور میں معاوضہ نقصان رعایا کے واسطے تجویز ہوا ہے اور حکم یہ ہے کہ کہ جو رعیت کا مال کالوں نے لوٹا ہے۔ البتہ اس کا معاوضہ بحساب وہ یک سرکار سے ہوگا، یعنی ہزار روپے کے مانگنے والے کو سو روپے ملیں گے اور جو گوروں کے وقت کی غارت گری ہے وہ ہدر(اس کے معنی معاف اور ناقابل گرفت کے ہیں) اور محل ہے۔ اس کا معاوضہ نہ ہوگا۔ شاید یہ وہی کمشنر ہوں۔ مکانات حامد علی خاں تومدت سے ضبط ہوکر سرکار کا مال ہوگئے۔ باغ کی صورت بدل گئی۔ محل سرا اور کوٹھی میں گورے رہتے تھے۔ اب پھاٹک اور سر تا سر دکانیں گرا دی گئیں۔ سنگ و خشت کا نیلام کر کے روپیہ داخل خزانہ ہوا۔ جب بادشاہ اودھ کی املاک کا وہ حال ہو تو رعیت کی املاک کون پوچھتا ہے۔ جو احکام کہ دلّی میں صادر ہوئے ہیں، وہ احکام قضا و قدر ہیں۔ ان کا مرافعہ کہیں نہیں۔ گویا ہم نہ کبھی کہیں کے رئیس تھے، نہ جاو وحشم رکھتے تھے، نہ املاک رکھتے تھے۔ دہلی کی چنگی کے پہلے ملازمآج کل یہاں پنجاب احاطہ کے بہت حاکم فراہم ہیں۔ پون ٹوٹی کے باب میں کونسل ہوئی۔ پرسوں ۷؍ نومبر سے جاری ہوگئی۔ سالگ رام خزانچی، چھنامل، مہیش داس ان تینوں شخصوں کو یہ کام بطریق امانی سپرد ہوا ہے۔ غلہ اور اپلے کے سوا کوئی چیز ایسی نہیں کہ جس پر محصول نہ ہو۔ آبادی کا حکم عام ہے۔ خلق کا اژدہام ہے۔ آگے حکم تھا کہ مالکان مکان رہیں کرایہ دار نہ رہیں۔ پرسوں سے حکم ہو گیا کہ کرایہ دار بھی رہیں، مگر کرایہ سرکار کو دیں۔ حکام بے پروا، مختار کار عدیم الفرصت، میں پاشکستہ، محمد قلی خاں کبھی یہاں کبھی وہاں۔ وقت پر موقوف ہے۔ حکیم احسن اللہ خاں کے مکانات شہر ان کومل گئے اور یہ حکم ہے کہ شہر سے باہر نہ جاؤ۔ دروازہ سے باہر نہ نکلو۔ اپنے گھر میں بیٹھے رہو۔ نواب حامد علی خاں کے مکانات سب ضبط ہوگئے۔ وہ قاضی کے حوض پر کرایہ کے مکانات میں مع ممنوعہ کے رہتے ہیں۔ باہر جانے کا حکم ان کو بھی نہیں۔ مرزا الٰہی بخش کو حکم کرانچی بندر جانے کاہے۔ انہوں نے زمین پکڑی ہے۔ سلطان جی میں رہتے ہیں۔ غدر کر رہے ہیں۔ دیکھئے یہ خبر اٹھ جائے یا یہ خود اٹھ جائیں۔ (نوٹ، لالہ سالگ رام وچھنامل صاحب اور مہیش داس صاحب جن کا ذکر پون ٹوٹی کی ابتدائی خدمت میں آیا، بعد میں بہت نامور ہوئے۔ مہیش داس کے نام سے ایک محلہ آباد ہے۔ لالہ سالگ رام وچھنامل کی اولاد نیل کے کٹرہ میں بڑے کروفر سے رہتی ہے اور دہلی کے اعظم رئیسوں میں اس کا شمار ہے۔ اس کے افراد کی گورنمنٹ میں بڑی عزت ہے۔ خطابات میں لاکھوں روپے سال کی آمدنی ہے۔ بہت صاف ستھرے، گورے چٹے اور قدامت کی شان کے یہ لوگ ہیں۔ حسن نظامی)تصوف اور نجومآرائش مضامین شعر کے واسطے کچھ تصوف کچھ نجوم لگا رکھا ہے، ور نہ سوائے موزونی طبع کے یہاں اور کیا رکھا ہے۔ بہرحال علم نجوم کے قاعدے کے موافق جب زمانہ کے مزاج میں فساد کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں، تب سطح فلک پر یہ شکلیں دکھائی دیتی ہیں۔ جس برج میں یہ نظر آئے اس کا درجہ و دقیقہ دیکھتے ہیں۔ ہزار طرح کی چال ڈالتے ہیں۔ تب ایک حکم نکالتے ہیں۔ شاہجہاں آباد میں بعد غروب آفتاب افق غربی شہر پر نظر آتا تھا اور ان دنوں میں آفتاب اول میزان میں تھا تو یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ صورت عقرب میں ہے۔ درجہ و دقیقہ کی حقیقت نامعلوم رہی۔ بہت دن شہر میں اس ستارہ کی دھوم رہی۔ اب وہ دس بارہ دن سے نظر نہیں آتا۔ بس میں اتنا جانتا ہوں کہ یہ صورتیں قہر الہٰی کی ہیں اور دلیلیں ملک کی تباہی کی۔ قران النحسین پھر کسوف، پھر خسوف، پھر یہ صورت پر کدورت۔ عیاذ باللہ و پناہ بخدا۔ یہاں پہلی نومبر کو بدھ کے دن حسب الحکم حکام کوچہ و بازار میں روشنی ہوئی اور شب کو کمپنی کا ٹھیکہ ٹوٹ جانا اور قلمرو ہند کا بادشاہی عمل میں آنا سنایا گیا۔ نواب گورنر جنرل لاڈر کیلنگ بہادر کو ملکہ معظمہ انگلستان نے فرزندارجمند خطاب دیا اور اپنی طرف سے نائب اور ہندوستان کا حاکم کیا۔ میں قصیدہ پہلے ہی اس تہنیت میں لکھ چکا ہوں۔ میں نے گیارہویں مئی ۱۸۵۷ء سے اکتیسویں جولائی ۱۸۵۸ء تک روداد غدر نثر میں بعبارت فارسی آمیختہ بعربی لکھی ہے اور وہ پندرہ سطر کے مسطر سے چار جزو کی کتاب آگرہ کو مفید الخلائق میں چھپنے کو گئی ہے۔ ’’دستنبو‘‘ اس کا نام رکھا ہے اور اس میں صرف اپنی سرگزشت اور اپنے مشاہدہ کے بیان سے کام رکھا ہے۔ دلّی پر پانچ لشکروں کا حملہپانچ لشکر کا حملہ پے درپے اس شہر میں ہوا۔ پہلا باغیوں کا لشکر۔ اس میں اہل شہر کا اعتبار لٹا۔ دوسرا لشکر خاکیوں کا۔ اس میں جان و مال و ناموس و مکان و مکیں، آسمان و زمین و آثار ہستی سراسر لٹ گئے۔ تیسرا لشکر کال کا۔ اس میں ہزارہا آدمی بھوکے مرے۔ چوتھا لشکر ہیضہ کا۔ اس میں بہت سے پیٹ بھرے مرے۔ پانچواں لشکر تپ کا۔ اس میں تاب و طاقت نہ پائی۔ اب تک اس لشکر نے شہر سے کوچ نہیں کیا۔ میرے گھر دو آدمی تپ میں مبتلا ہیں۔ ایک بڑا لڑکا، ایک داروغہ۔ خدا ان دونوں کو جلد صحت دے۔ مغل خاں غدرسے کچھ دن پہلے مستعفی ہو کر مرگئے۔ ہے ہے۔ کیوں کر لکھوں رضی الدین خاں کو قتل عام میں ایک خاکی نے گولی مار دی اور احمد حسین خاں ان کے چھوٹے بھائی اسی دن مارے گئے۔ طالع یار خاں کے دونوں بیٹے ٹونک سے رخصت لے کر آئے تھے۔ غدر کے سبب جانہ سکے۔ یہیں رہے۔ بعد فتح دہلی دونوں بے گناہوں کو پھانسی ملی۔ طالع یار خاں ٹونک میں ہیں۔ زندہ ہیں، پر یقین ہے مردہ سے بدتر ہوں گے۔ میر جھونم نے بھی پھانسی پائی۔ حال صاحبزادہ میاں نظام الدین کا یہ ہے کہ جہاں سب اکابر شہر کے بھاگے تھے، وہاں وہ بھی بھاگ گئے تھے۔ بڑودہ میں رہے۔ اورنگ آباد میں رہے۔ حیدر آباد میں رہے۔ سال گزشتہ یعنی جاڑوں میں یہاں آئے۔ سرکار سے ان کی صفائی ہوگئی، لیکن صرف جاں بخشی۔ روشن الدولہ کا مدرسہ جو عقب کوتوالی چبوترہ پر ہے، وہ اور خواجہ قاسم کی حویلی جس میں مغل علی خاں مرحوم رہتے تھے، وہ اور خواجہ صاحب کی حویلی یہ املاک خاص حضرت صاحب کی اور کالے صاحب کے بعد میاں نظام الدین کی قرار پا کر ضبط ہوئی اور نیلام ہو کر روپیہ سرکار میں داخل ہوگیا۔ ہاں قاسم کی حویلی جس کے کاغذ میاں نظام الدین کی والدہ کے نام کے ہیں، وہ ان کو یعنی میاں نظام الدین کی والدہ کو مل گئی۔ فی الحال میاں نظام الدین پاک پٹن گئے۔ شاید بہاول پور بھی جائیں گے۔ (نوٹ، غدر کے بعدجب انگریز پنجاب سے فوج لے کر دہلی پر چڑھے تو ان کی فوج کی وردی خاکی تھی۔ اس واسطے شہر میں خاکی کا لفظ ایک اصطلاح بن گیا تھا۔ خاکی کا ذکر در حقیقت انگریزی فوج (جن میں سکھ بھی تھے اور مسلمان بھی تھے) کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ میاں نظام الدین صاحب میاں کالے صاحب کے فرزند تھے۔ ان کی جائداد اورنگ آباد دکن میں بھی ہے۔ میاں سیف الدین وغیرہ اس پر قابض ہیں۔ چالیس ہزار سالانہ کی آمدنی ہے۔ میاں عبد الصمد صاحب دہلوی نے جو میاں نظام الدین صاحب کے نواسہ ہیں، اس جاگیر کا دعویٰ کیا ہے اور آج کل حیدرآباد میں اس کا مقدمہ چل رہا ہے۔ حسن نظامی)غدر نہیں خدا کا قہرغلہ کی گرانی، آفت آسمانی، امراض موذی، بلائے جانی، انواع و اقسام کے اور ام و ثبور شائع، چارہ ناسودمند وسطی ضائع۔ میں نہیں جانتا کہ ۱۱؍مئی ۱۸۵۷ء کو پھر دن چڑھے۔ وہ فوج باغی میرٹھ سے دلّی آئی تھی یا خود قہر الٰہی کا پے در پے نزول ہوا تھا۔ بقدر خصوصیت سابق دلّی ممتاز ہے ورنہ سر تا سر قلمرو ہند میں فتنہ و بلا کا دروازہ باز ہے۔ انا للہ۔ لوٹ کی کتابیں کھتریوں میںکتاب کوئی سی ہو، اس کا پتہ کیوں کر لگے۔ لوٹ کا مال کھتریوں میں بک گیا اور اگر سڑک پر بکا تو میں کہاں جو دیکھوں، بر دل نقش اندوہ گیتی بسر آریدگیرید کہ گیتی ہمہ یکسر بسر آمد\n\nیہاں کا قصہ مختصر یہ ہے کہ قصہ تمام ہوا۔ غدر کے بعد ایک چھوٹا سا فساددلّی کا حال تو یہ ہے، گھر میں تھا کیا جو ترا غم اسے غارت کرتاوہ جو کہتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہےیہاں دھرا کیا ہے جو کوئی لوٹے گا۔ چند روز گوروں نے اہل بازار کو ستایا تھا۔ اہل قلم اور اہل فوج نے باتفاق رائے ہمدگر ایسا بندوبست کیا کہ وہ فساد مٹ گیا۔ اب امن و امان ہے۔ میاں کالے صاحب کی خانہ ویرانیاںحضرت شیخ کا کلام اور صاحبزادہ شاہ قطب الدین ابن مولانا فخر الدین کا بھلا حال؟ ایں دفتر را گاؤ خورد و گاؤ را قصاب بر دو قصاب در راہ مرد۔ بادشاہ کے دم تک یہ باتیں تھیں۔ خود میاں کالے صاحب کا گھر اس طرح تباہ ہوا کہ جیسے جھاڑو دی۔ کاغذ کا پرزہ، سونے کا تار، پشیمنہ کا بال باقی نہ رہا۔ شیخ کلیم اللہ جہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ کا مقبرہ اجڑ گیا۔ کیا ایک اچھے گاؤں کی آبادی تھی۔ ان کی اولاد کے لوگ تمام اس موضع میں سکونت پذیر تھے۔ اب ایک جنگل ہے اور میدان میں قبر۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ وہاں کے رہنے والے اگر گولی سے بچے ہوں گے تو خدا ہی جانتا ہوگا کہ کہاں ہیں۔ ان کے پاس شیخ کا کلام بھی تھا۔ کچھ تبرکات بھی تھے۔ اب جب یہ لوگ ہی نہیں تو کس سے پوچھوں کیا کرں۔ کہیں سے یہ مدعا حاصل نہ ہوسکے گا۔ (نوٹ، حضرت شیخ کلیم اللہ جہاں آبادی کا مزار پریڈ کے میدان میں جامع مسجد کے شرق کی طرف دوسو قدم کے فاصلہ پر کھلے چبوترے پر واقع ہے۔ پہلے چونے کا چبوترہ تھا، اب سید عبد الغنی کلیمی سجادہ نشین کی سعی سے سنگ مرمر کی سلیں فرش میں لگائی گئی ہیں۔ یہ علاقہ اب تک فوجی قبضہ میں ہے اور یہاں سایہ کی جگہ بنانے کا حکم نہیں ہے۔ نمازی اور زائر نماز وزیارت کے وقت دھوپ کی تکلیف اٹھاتے ہیں۔ پہلے یہاں بڑی بڑی عمارتیں تھیں۔ حضرت شیخ کلیم اللہ سلسلۂ چشتیہ نظامیہ کے بڑے نامور اور صاحب تصنیف بزرگ گزرے ہیں۔ تفسیر کلیمی، مرقع، کشکول کلیمی، عشرۂ کاملہ، مالا بدفی التصوف، مکتوبات کلیمی وغیرہ ان کی یادگار کتابیں ہیں۔ حضرت شیخ یحییٰ مدنی چشتی کے خلیفہ تھے اور حضرت نظام الدین اورنگ آبادی ان ہی کے خلیفہ اورنگ آباد میں مدفون ہیں۔ میاں کالے صاحب کا نام میاں نصیر الدین تھا جو میاں قطب الدین صاحب کے بیٹے اور حضرت مولانا فخر الدین صاحب کے پوتے تھے۔ بہادر شاہ ان کی بہت عزت کرتے تھے، کیونکہ ان کے والد کے مرید اور دادا کے منظور نظر تھے۔ ملکہ بیگم ایک شہزادی سے انہوں نے نکاح بھی کیا تھا۔ قاسم جان کی گلی میں حکیم اجمل صاحب کے محلہ سے غرب کی طرف کالے صاحب کی حویلی مشہور ہے جس میں آج کل پنجابی تاجر دہلی کے رہتے ہیں۔ یہ ان ہی کی تھی اور غدر میں ضبط ہوئی۔ کوتوالی اور سنہری مسجد کے قریب بھی ان کی جائداد کا ذکر غالبؔ نے کیا ہے۔ اب ان کے نواسہ عبد الصمد صاحب پنڈت کے کوچہ میں رہتے ہیں اور دہلی کے فقرا میں مشہور درویش ہیں۔ حسن نظامی)دہلی کے مفتی اعظم کی بے چارگیجناب مولوی صدر الدین صاحب بہت دن حوالات میں رہے۔ کورٹ میں مقدمہ پیش ہوا۔ روبکاریاں ہوئیں۔ آخر صاحبان کورٹ نے جاں بخشی کا حکم دیا۔ نوکری موقوف، جائداد ضبط، ناچار خستہ وتباہ لاہور گئے۔ فنانشل کمشنر اور لفٹیننٹ گورنر نے از راہ ترحم نصف جائداد واگزاشت کی۔ اب نصف جائداد پر قابض ہیں۔ اپنی حویلی میں رہتے ہیں۔ کرایہ پر معاش کا مدار ہے۔ اگرچہ امداد ان کے گزارے کو کافی ہے، کس واسطے کہ ایک آپ اور ایک بی بی۔ تیس چالیس روپے کی آمد، لیکن چونکہ امام بخش چپراسی کی اولاد ان کی عترت ہے اور وہ دس بارہ آدمی ہیں، لہٰذا فراغ بالی سے نہیں گزرتی۔ ضعف پیری نے بہت گھیر لیا ہے۔ عشرۂ ثامنہ کے آخر میں ہیں۔ خدا سلامت رکھے۔ بہت غنیمت ہیں۔ (نوٹ، مفتی صدرالدین صاحب صدر الصدور دہلی کے اکابر علماء و شرفا میں تھے۔ حویلی صدر الصدور کا تختہ اب بھی میونسپل کمیٹی کی طرف سے لکھا ہوا ایک دیوار پر نظر آتا ہے اور جاننے والے کو رلاتا ہے۔ مٹیا محل کے سامنے ان کا مکان تھا، جس میں خان بہادر غلام محمد حسین خاں رجسٹرار مرحوم کی سکونت تھی اور اب ان کی اولاد رہتی ہے۔ اللہ اللہ مسلمانوں کی غربا پروری کس شان کی تھی کہ مٹنے اور مٹائے جانے کے بعد بھی جب کہ نوے برس کے قریب عمر تھی اور صرف چالیس روپے مہینہ گزر اوقات کے لیے باقی بچا تھا، مگر اپنے چپراسی کے کنبہ کو پالتے تھے۔ حسن نظامی)گردش ایام کا قیدی لفافہ بناتا تھااللہ اللہ! یہ دن بھی یادر رہیں گے۔ مجھ کو اکثر اوقات لفافے بنانے میں گزرتے ہیں۔ اگر خط نہ لکھوں تو لفافے بناؤں گا۔ غنیمت ہے کہ محصول آدھ آنہ ہے ورنہ مزہ معلوم ہوتا۔ بقیۃ السیف کا فکربعد قتل ہونے دس آدمی کے کہ دو اس میں عزیز بھی تھے۔ یہ سب وہاں سے نکالے گئے۔ مگر صورت نہیں معلوم کہ کیونکر نکلے۔ پیادہ یا سوار تھے۔ تنگ دست یا مالدار۔ مستورات کو تو(رتھ گاڑی) دے دی تھیں۔ ذکور کا حال کیا ہوا اور پھر وہاں سے نکلنے کے بعد کیا ہوا اور کہاں رہے۔ سرکار انگریزی کی طرف سے مورد تفقد و ترحم ہیں یا نہیں۔ رنگ کیا نظر آتا ہے۔ جبر کسر کی توقع ہے یا نہیں۔ یہ سب اللہ کو معلوم ہے۔ اب کوئی دوست میرے سامنے نہ مرےیا اللہ اب ان احباب میں سے کوئی میرے سامنے نہ مرے کیا معنی کہ جومیں مروں کوئی میرا یاد کرنے والا اور مجھ پر رونے والا بھی تو دنیا میں ہو۔ مصطفی خاں خدا کرے مرافعہ میں چھوٹ جائے ورنہ حبس ہفت سالہ کی تاب اس ناز پروردہ میں کہاں۔ احمد حسین میکش مخنوق ہوا(پھانسی پائی) گویا اس نام کا آدمی شہر میں تھا ہی نہیں۔ پنشن کی درخواست دے رکھی ہے بشرط اجرا بھی میرا کیا گزارہ ہوگا۔ ہاں دوباتیں ہیں۔ ایک تویہ کہ میری صفائی اور بے گناہی کی دلیل ہے، دوسرے یہ کہ موافق قول عوام چولہے دلدر نہ ہوگا۔ (نوٹ، نواب مصطفیٰ خاں شیفتہؔ بے نظیر شاعر اور خاندانی امیر تھے۔ نواب محمد اسحقٰ خاں مرحوم سابق سکریٹری علی گڑھ کالج ان کے صاحبزادہ تھے جنہوں نے ان کے کلام کا مجموعہ چھاپا ہے اور جو ’’حلقہ مشائخ دہلی‘‘ میں بکتا ہے۔ اس مجموعہ میں غدر کے حالات بھی ہیں اور رہائی کا تذکرہ بھی ہے۔ نواب مصطفیٰ خاں اور ان کے لڑکے نواب محمد اسحٰق خاں اپنے خاندان سمیت درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء میں دفن ہیں۔ درگاہ کی بڑی مسجد کے گوشہ شمال اور سماع خانہ کے غرب میں یہ قبرستان واقع ہے۔ کتبے لگے ہوئے ہیں۔ حسن نظامی)جب شراب پر پہرہ لگایہاں کا حال۔ مصرعہ، زمین سخت ہے اور آسماں دور ہے۔ جاڑا خوب پڑرہا ہے۔ تو نگر غرور سے، مفلس سردی سے اکڑ رہا ہے۔ آبکاری کے بندوبست جدید نے مارا۔ عرق کے نہ کھینچے کی قید شدید نے مارا۔ ادھر انسداد دروازہ آبکاری ہے۔ ادھر ولایتی عرق کی قیمت بھاری ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولوی فضل رسول صاحب حیدرآباد گئے ہیں۔ مولوی غلام امام شہید آگے سے وہاں ہیں۔ محی الدولہ محمد یار خاں سورتی نے ان صورتوں کو وہاں بلایا ہے۔ پر یہ نہ معلوم کہ وہاں ان کو کیا پیش آیا ہے۔ دوستوں سے ملنے میں دشواری تھیحکیم صاحب پر سے وہ سپاہی جوان پرمتعین تھا، اٹھ گیا اور ان کو حکم ہو گیا کہ اپنی وضع پر رہو، مگر شہر میں رہو۔ باہر جانے کا اگر قصد کرو تو پوچھ کر جاؤ اور ہر ہفتہ میں ایک بار کچہری میں حاضر ہواکرو۔ چنانچہ وہ کچے باغ کے پچھواڑے مرزا جاگن کے مکان میں آرہے۔ صفدر میرے پاس آیاتھا۔ یہ اس کی زبانی ہے۔ جی ان کے دیکھنے کو چاہتا ہے مگر ازراہ احتیاط جانہیں سکتا۔ مرزا بہادر بیگ نے بھی رہائی پائی۔ اب اس وقت سنا ہے کہ وہ خان صاحب کے پاس آئے ہیں۔ یقین ہے کہ بعد ملاقات باہر چلے جائیں گے۔ یہاں نہ رہیں گے۔ مٹنے والوں کے گھروں میں کون رہتا تھاقاسم جان کی گلی میر خیراتی کے پھاٹک سے فتح اللہ بیگ خاں کے پھاٹک تک بے چراغ ہے۔ ہاں اگر آباد ہے تو یہ ہے کہ غلام حسن خاں کی حویلی ہسپتال ہے۔ ضیاء الدین خاں کے کمرہ میں ڈاکٹر صاحب رہتے ہیں اور کالے صاحب کے مکانوں میں ایک اور صاحب عالیشان انگلستان تشریف رکھتے ہیں۔ ضیاء الدین خاں اور ان کے بھائی مع قبائل اور عشائر لوہارو ہیں۔ لال کنوئیں کے محلہ میں خاک اڑتی ہے۔ آدمی کا نام نہیں، کہیمی کی دکان میں کتّے لوٹتے ہیں۔ مجھے عوام کے نقشہ میں نہ لکھروز اس شہر میں اک حکم نیا ہوتا ہےکچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہےمیرٹھ سے آکر دیکھا کہ یہاں بڑی شدت ہے او ر یہ حالت ہے کہ گوروںکی پاسبانی پر قناعت نہیں ہے۔ لاہوری دروازہ کا تھانہ دار مونڈھا بچھا کر سڑک پر بیٹھتا ہے۔ جو باہر کے گورے کی آنکھ بچا کر آتا ہے اس کو پکڑ کر حوالات میں بھیج دیتا ہے۔ حاکم کے ہاں پانچ پانچ بید لکھتے ہیں یا دو دو روپے جرمانہ لیا جاتا ہے۔ آٹھ دن قید رہتا ہے۔ اس سے علاوہ سب تھانوں پر حکم ہے کہ دریافت کرو کون بے ٹکٹ مقیم ہے اور کون ٹکٹ رکھتا ہے۔ تھانوں میں نقشے مرتب ہونے لگے۔ یہاں کا جمعدار میرے پاس بھی آیا۔ میں نے کہا بھائی! تو مجھے نقشے میں نہ رکھ۔ میری کیفیت کی عبارت الگ لکھ۔ عبارت یہ کہ اسد اللہ خاں پنشن دار۱۸۵۰ء سے حکیم پٹیالے والے کے بھائی کی حویلی میں رہتا ہے۔ نہ کالوں کے وقت میں کہیں گیا اور نہ گوروں کے زمانے میں نکلا اور نکالا گیا۔ کرنیل بروں صاحب بہادر کے زبانی حکم پر اس کی اقامت کا مدار ہے۔ اب تک کسی حاکم نے وہ حکم نہیں بدلا۔ اب حاکم وقت کو اختیار ہے۔ پرسوں یہ عبارت جمعدار نے نقشہ کے ساتھ کوتوالی میں بھیج دی ہے۔ کل سے یہ حکم نکلا کہ یہ لوگ شہر سے باہر مکان دکان کیوں بناتے ہیں۔ جو مکان بن چکے ہیں، انہیں ڈھا دو اور آئندہ کو ممانعت کا حکم سنا دو اور یہ بھی مشہور ہے کہ پانچ ہزار ٹکٹ چھاپے گئے ہیں۔ جو مسلمان شہر میں اقامت چاہے، بقدر مقدور نذرانہ دے۔ اس کا انداز مقرر کرنا حاکم کی رائے پر ہے۔ روپے دے اور ٹکٹ لے۔ گھر برباد ہو جائے، آپ شہر میں آباد ہو جائیے۔ آج تک یہ صورت ہے۔ دیکھئے شہر کے بسنے کی کون مہورت ہے۔ جو رہتے ہیں وہ بھی اخراج کئے جاتے ہیں یا جو باہر پڑے ہوئے ہیں وہ شہر میں آتے ہیں۔ الملک للہ والحکم للہ۔ (نوٹ، کیسی بے کسی میں وہ لوگ تھے جنہوں نے غدر کے بعد کا یہ دم گھٹنے والا تماشہ دیکھا اور کیسے نادان ہم لوگ ہیں کہ پھربے امنی کی تمنائیں کرتے ہیں۔ انسان متلون مزاج اور جلدی بھول جانے والا واقع ہوا ہے۔ امن کی برابر دنیا میں کوئی چیز اچھی نہیں ہے۔ حسن نظامی)سوسائٹی کی بربادی کا ماتماس چرخ کج رفتار کا برا ہو۔ ہم نے اس کا کیا بگاڑا تھا۔ ملک و مال، جاہ و جلال کچھ نہیں رکھتے تھے۔ ایک گوشہ و توشہ تھا۔ چند مفلس و بے نوا ایک جگہ فراہم ہو کر کچھ ہنس بول لیتے تھے ، سو بھی نہ تو کوئی دم دیکھ سکا اے فلکاور تو یہاں کچھ نہ تھا ایک مگر دیکھنایہ شعر خواجہ میر دردؔ کا ہے۔ کل سے مجھ کو میکشؔ بہت یاد آتا ہے۔ وہ صحبتیں اور تقریریں، آنسوؤں سے پیاس نہیں بجھتی۔ یہ تحریر تلافی اس تقریر کا نہیں کر سکتی۔ (نوٹ، میکشؔ کے پھانسی پانے کے بعد عالم غم میں لکھی گئی ہے۔ ہائے کتنا درد حروف کے کلیجہ میں بھرا ہے۔ پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ حسن نظامی)دہلی سے انتہائی محبت، اس کے اجڑنے کی خاک بھی آنکھوں میںآنکھوں کے غبار کی وجہ یہ ہے کہ جو مکان دلّی میں ڈھائے گئے اور جہاں جہاں سڑکیں نکلیں، جتنی گرداڑی اس سب کو از راہ محبت اپنی آنکھوں میں جگہ دی۔ (نوٹ، دہلی سے محبت کرنے کی یہ انتہائی مثال غالبؔ نے لکھی ہے کہ آنکھیں دکھنے آئیں تو اس کا سبب یہ قرار دیا کہ دہلی کے مکان اجاڑے گئے اور ان کے مٹنے سے خاک اڑی تو اس کو آنکھوں میں بٹھا لیا۔ گویا اس کے اثرسے آنکھیں دکھنے لگیں۔ اپنے وطن سے محبت اس طرح کیا کرتے ہیں۔ کوئی آج کل کے محبان وطن کو غالبؔ کے یہ چند لفظ سنا دے۔ حسن نظامی)غالب کو کنوؤں کا غماب اہل دہلی ہندو ہیں یا اہل حرفہ ہیں یا خاکی ہیں یا پنجابی ہیں یا گورے ہیں۔ لکھنؤ کی آبادی میں کچھ فرق نہیں آیا۔ ریاست تو جاتی رہی۔ باقی ہرفن کے کامل لوگ موجود ہیں۔ خس کی ٹٹی، پروا ہوا۔ اب کہاں؟ لطف تو وہ اسی مکان میں تھا۔ اب میر خیراتی کی حویلی میں وہ چھت اور سمت بدلی ہوئی ہے۔ بہرحال میگزرد۔ مصیبت عظیم یہ ہے کہ قاری کا کنواں بند ہوگیا۔ لال ڈگی کے کنوئیں یک قلم کھاری ہوگئے۔ خیرکھاری ہی پانی پیتے۔ گرم پانی نکلتا ہے۔ پرسوں میں سوار ہوکر کنوؤں کا حال دریافت کرنے گیا تھا۔ مسجد جامع سے راج گھاٹ دروازۃ تک بے مبالغہ ایک صحرا لق و دق ہے۔ اینٹوں کے ڈھیرجو پڑے ہیں، وہ اگر اٹھ جائیں تو ہو کا مقام ہو جائے۔ مرزا گوہر کے باغیچہ کے اس جانب کو کئی بانس نشیب میں تھا۔ اب وہ باغیچہ کے صحن کے برابر ہوگیا۔ یہاں تک کہ راج گھاٹ کا دروازہ بند ہوگیا۔ فصیل کے کنگورے کھلے رہتے ہیں۔ باقی سب اٹ گیا۔ آہنی سڑک کے واسطے کلکتہ دروازہ سے کابلی دروازہ تک میدان ہوگیا۔ پنجابی کٹرہ، دھوبی واڑہ، رام جی گنج، سعادت کا کٹرہ، جرنیل کی بی بی کی حویلی، رام جی داس گودام والے کے مکانات، صاحب رام کا باغ اور حویلی ان میں سے کسی کا پتہ نہیں ملتا۔ قصہ مختصر شہر صحرا ہو گیا تھا، اب جو کنوئیں جاتے رہے اور پانی گوہر نایاب ہو گیا تو یہ صحرا صحرائے کربلا ہو جائے گا۔ اللہ دلّی والے اب تک یہاں کی زبان کو اچھا کہے جاتے ہیں۔ واہ رے حسن اعتقاد۔ اردو بازار نہ رہا اردو کہاں۔ دلّی کہاں۔ واللہ اب شہر نہیں ہے کیمپ ہے۔ چھاؤنی ہے۔ نہ قلعہ، نہ شہر، نہ بازار، نہ نہر۔ (نوٹ، اس عبارت میں غالبؔ نے دہلی کی ان شاندار عمارات کی بربادی کا نقشہ کھینچا ہے جن میں سے اکثر کے نام سے بھی اب دہلی والے واقف نہیں۔ اورمیں بھی نہیں بتا سکتا کہ وہ کہاں تھیں۔)\n\nمعلوم ہوتا ہے غالبؔ کو سب سے زیادہ کنوؤں کے بند کردینے کا صدمہ ہے۔ وہ یہ سن کر کہ کنوئیں بند کئے جارہے ہیں، خود گھر سے نکلے تاکہ اپنی آنکھ سے دیکھیں۔ حالانکہ ان کا گھر سے نکلنا آج کل کی طرح کوئی معمولی بات نہ تھی۔ مشرق والے خصوصاً ہندوستان اور دہلی والے کنوؤں کے پانی کو بہت پسند کرتے ہیں اور ان کو نلوں کے پانی سے کسی قسم کی محبت نہیں ہے۔ حضرت اکبر الہ آبادی (مرحوم) بھی ایک جگہ لکھتے ہیں۔ حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کاپانی پینا پڑا ہے پائپ کاپیٹ چلتا ہے، آنکھ آئی ہےکنگ جاج کی دہائی ہےانگریزوں نے حفظ صحت کے خیال سے کنوئیں بند کئے تھے کہ ان کا پانی جلد خراب ہو جاتا ہے، مگر اہل مشرق اپنی پرانی عادات کے خلاف کسی مصحلت کو قبول کرنا نہیں چاہتے۔ تحریر کے شروع میں غالبؔ نے دہلی کی آبادی کے بارے میں سچ لکھا ہے کہ غدر کے بعد ایسی جماعتیں وہاں آکر آباد ہوگئی تھیں جن کو زبان اور تہذیب وعلم سے کچھ سروکار نہ تھا، اس لیے آج کل دہلی کی بگڑی ہوئی زبان پر اعتراض کرنا بھی فضول ہے کہ یہ زبان اہل دہلی کی نہیں ہے۔ وہ تو پھانسی پاگئے اور جو لوگ یہ زبان بولتے ہیں، وہ دہلی والے نہیں ہیں، پردیسی ہیں۔ حسن نظامی)دہلی کی بہاروں کا فشار اور غالبؔ کی آہِ شررباردہلی کی ہستی منحصر کئی ہنگاموں پر ہے۔ قلعہ، چاندنی چوک، ہر روز مجمع بازار مسجد جامع کا، ہر ہفتہ سیر جمنا کے پل کی، ہر سال میلہ پھول والوں کا۔ یہ پانچوں باتیں اب نہیں۔ پھر کہو دہلی کہاں۔ ہاں کوئی شہر قلمرو ہند میں اس نام کا تھا۔ نواب گورنر جنرل بہادر ۱۵؍ دسمبر کو یہاں داخل ہوں گے۔ دیکھئے کہاں اترتے ہیں اور کیوں کر دربار کرتے ہیں۔ آگے کے درباروں میں سات جاگیر دارتھے کہ ان کا الگ الگ دربار ہوتا تھا۔ جھجر، بہادر گڑھ، بلب گڑھ، فرخ نگر، دوجانہ، پاٹودی، لوہار و، چار معدوم محض ہیں، جو باقی رہے اس میں سے دوجانہ و لوہارو تحت حکومت، ہانسی حصار پاٹودی حاضر۔ اگر ہانسی حصار کے صاحب کمشنر بہادران دونوں کو یہاں لے آئے تو تین رئیس ورنہ ایک رئیس دربار عام والے مہاجن لوگ سب موجود۔ اہل اسلام میں سے صرف تین آدمی باقی ہیں۔ میرٹھ میں ہیں مصطفیٰ خاں، سلطان جی میں مولوی صدرالدین خاں، بلّی ماروں میں سگ دنیا موسوم اسدؔ۔ تینوں مردود مطرود ومحروم ومغموم، توڑ بیٹھے جبکہ ہم جام و سبو پھر ہم کو کیاآسمان سے بادۂ گلفام گر برسا کرےجاں نثار خاں کے چھتے کا ڈہنا۔ خان چند کے کوچہ کا سڑک بننا۔ بلاقی بیگم کے کوچہ کا مسمار ہونا۔ جامع مسجد کے گردستّر بہتّر گز میدان نکلنا اور غالب افسردہ دل۔ (نوٹ، دہلی کی پانچ بہاروں کا کس درد سے ذکر کرتے ہیں۔ چاندنی چوک کی وہ رونق جاتی رہی۔ قلعہ میں گورے آباد ہوگئے۔ جمنا کے پل کی سیر کا اب کسی کو خیال بھی نہیں آتا۔ پہلے وہاں آٹھویں دن میلہ لگتا تھا۔ جامع مسجد کے سامنے شام کو اب بھی بازار لگتا ہے، مگر پہلی سی بہار نہیں ہے۔ پھول والوں کی سیراب بھی سال بسال ہوتی ہے، لیکن اگلی سی آن بان کہاں۔ جھجر والے نواب اور بلب گڑھ کے راجہ نے غدر کے بعد دہلی میں پھانسی پائی۔ جھجر ضلع رہتک میں شامل ہوا اور بہادر گڑھ بھی اور بلب گڑھ ضلع گڑگانوہ کو دے دیا گیا۔ یہ عبارت غالباً ۱۸۵۸ء کے آخر میں لکھی گئی ہے، کیونکہ گورنر نے میرٹھ میں دربار دسمبر ۱۸۵۸ء میں کیا تھا، جس کا ذکر غالبؔ نے کیا ہے۔ آخر کی عبارت اس قدر دردناک ہے کہ پتھر کا کلیجہ رکھنے والا بھی بے اختیار رودے گا۔ خبر نہیں غالبؔ کے دل پر کیا کیا اثر یہ انقلاب پیدا کرتے ہوں گے۔ جب ہی تو ان کے قلم سے یہ مجروح کرنے والے الفاظ نکلے ہیں۔ حسن نظامی)برٹش طرز حکومت پر چوٹسنتے ہیں کہ نومبر میں مہاراجہ کو اختیار ملے گا، مگر وہ اختیار ایسا ہوگا جیسا خدا نے خلق کو دیا ہے۔ سب کچھ اپنے قبضۂ قدرت میں رکھا۔ آدمی کو بدنام کیا ہے۔ (نوٹ، یہاں مہاراجہ الور کے اختیار کا ذکر کرتے ہیں، مگر برطانی آئین سلطنت پر ایک پرلطف ضرب بھی لگاتے ہیں کہ وہ والیان ریاست کو ایسا اختیار دیتا ہے جیسا خدا نے بندوں کو اختیار دیا ہے کہ مجبور بھی ہیں اور مختار بھی۔ غالبؔ نے اس وقت یہ عبارت لکھی کہ مشرقی آئین سلطنت لوگوں کے دل و دماغ پر مسلط تھے اور خلقت انہی کو اچھا سمجھی تھی۔ آج وہ زندہ ہوتے تو مان جاتے کہ پرانا دستور امن کے لیے اتنا مفید نہ تھا جتنا نیا آئین ثابت ہوا۔ والیان راست کو مطلق العنان کردینے کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ وہ ہمیشہ بغاوتیں کرتے رہتے تھے اور سلطنت کو بھی دشواریاں پیش آتی تھیں اور رعایا بھی تباہ ہوتی تھی۔ انگریزوں کے آئین جدید نے اس خرابی کا قطعی سدباب کر دیا اور اب غدر ۱۸۵۷ء کے بعد سے کسی ریاست کو سرکشی و بغاوت کا حوصلہ نہ ہو سکا اور ملک میں امن قائم ہو گیا۔ اس واسطے ہر شحص برٹش آئین کے اس عاقلانہ حصہ کو امن کے خیال سے پسند کرتا ہے اور یہ برائی کی چیز نہیں سمجھی جاتی۔ حسن نظامی)تاج محل کی رہائیچوک میں بیگم کے باغ کے دروازہ کے سامنے حوض کے پاس جو کنواں تھا، اس میں سنگ و خشت و خاک ڈال کر بند کر دیا۔ بلی ماروں کے دروازہ کے پاس کئی دکانیں ڈھاکر راستہ چوڑا کر لیا۔ شہر کی آبادی کا حکم خاص و عام کچھ نہیں ہے۔ پنشن داروں سے حاکموں کا کام کچھ نہیں۔ تاج محل، مرزا قیصر، مرزا جواں بخت کے سالے ولایت علی بیگ وار جے پور کی زوجہ ان سب کی الہ آباد سے رہائی ہو گئی۔ دیکھئے کیمپ میں رہیں یا لندن جائیں۔ خلق نے ازروئے قیاس جیسا کہ دلّی کے خبرتراشوں کا دستور ہے یہ بات اڑادی ہے۔ سو سارے شہر میں مشہور ہے کہ جنوری شروع سال ۱۸۵۹ء میں عموماً شہر میں آباد کئے جاویں گے۔ نوٹ، یہ عبارت ۱۲؍دسمبر ۱۸۵۸ء کی لکھی ہوئی ہے۔ تاج محل بہادر شاہ کی بیگم تھیں۔ زینت محل کا کمرہ لال کنوئیں اور فراش خانہ کے وسط میں سربازار واقع ہے۔ اس کے شاندار دروازہ پر بہادر شاہ کی کہی ہوئی اور خاص ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تاریخ کندہ ہے۔ یہ عالیشان عمارت آج کل مہاراجہ پٹیالہ کے قبضہ میں ہے۔ غدر کے ایام میں جو امداد انہوں نے انگریزی فوج کی کی تھی، اس کے انعام میں یہ مکان ان کو دیا گیا تھا۔ تاج محل کا خوبصورت مکان کٹرہ خوش حال رائے میں تھا کہ جو ہندوؤں کے مشہو ر محلہ مالی واڑہ کے قریب واقع ہے۔ یہ مکان اب بھی موجود ہے اور اس میں دہلی کے مشہور ساہوکار لالہ رام کشن داس رہتے ہیں جن کے ہاں چاندی سونے کا بیوپار ہوتا ہے۔ لالہ صاحب نےاس کی قدامت کی خوبصورتی کو بھی باقی رکھا ہے اور جدید خوشنما اضافے بھی کئے ہیں، مگر زینت محل کے کمرہ میں ریاست پٹیالہ نے کوئی ترقی نہیں کی، بلکہ سابق کے آثار میں بھی بوسیدگی واقع ہو رہی ہے اور یہ تاریخی مکان چند دن کا مہمان ہے۔ (۱۹۳۶ء میں اس کی بہت اچھی مرمت کرا دی گئی ہے۔ حسن نظامی)جامع مسجد کی رہائیجامع مسجد واگزاشت ہوئی۔ چتلی قبر کی طرف سیڑھیوں پر کبابیوں نے دکانیں بنالیں۔ انڈا، مرغی، کبوتر بکنے لگا۔ دس آدمی مہتمم ٹھہرے۔ مرزا الٰہی بخش، مولوی صدرالدین، تفضل حسین خاں، تین یہ سات اور۔ ۷؍ نومبر ۱۴جمادی الاول سال حال جمعہ کے دن ابوظفر سراج الدین بہادر شاہ قید فرنگ وقید جسم کے رہا ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ (نوٹ، جامع مسجد دہلی کے واگزاشت کرانے میں خان بہادر شیخ الٰہی بخش صاحب سی آئی ای مرحوم رئیس میرٹھ نے دو لاکھ روپیہ یا اسی کے قریب سرکار کو دیا تھا، جب اس کو رہا کیا گیا تھا۔ فتح دہلی کے بعد جامع مسجد میں گورے سپاہی رہتے تھے۔ جامع مسجد ایام غدر میں باغیوں کا مرکز سمجھی گئی تھی۔ جب انگریزی فوج نے پہلا دھاوا شہر پر کیا تو وہ جامع مسجد تک آگئی تھی، مگر جمعہ کی نماز کے لیے جو مسلمان اس وقت وہاں جمع ہوئے تھے انہوں نے باہر نکل کر فوج سے مقابلہ کیا اور ایسے لڑے کہ فوج کو کشمیری دروازہ تک واپس جانا پڑا اور دوسرے دن دوبارہ حملہ کر کے دہلی فتح کر لی۔ جمعہ کی لڑائی میں میرے والد موجود تھے۔ ان سے میں نے یہ قصہ سنا اور یہی وجہ جامع مسجد کی فوجی قبضہ کی تھی۔ (میرٹھ والوں کے امداد دینے کی بات بعد کی تحقیق سے غلط ثابت ہوئی۔ حسن نظامی)میکشؔ پھانسی سے پہلےمیکشؔ چین میں ہے۔ باتیں بناتا پھرتاہے۔ سلطان جی میں تھا۔ اب شہر میں آگیا ہے۔ دوتین بار میرے پاس بھی آیا۔ پانچ سات دن سے نہیں آیا۔ کہتا تھا بی بی کو لڑکے کو بہرام پور میر وزیر علی کے پاس بھیج دیا ہے۔ خودیہاں لوٹ کی کتابیں خریدتا پھرتا ہے۔ (نوٹ، یہ تحریر اس وقت کی ہے جبکہ میکشؔ زندہ تھے اور غدر کی شرکت کا ان پر الزام لگایا گیا تھا۔ درگاہ حضرت سلطان جی میں رہتے تھے مگر بعد میں ان کو بغاوت کے شبہ میں گرفتار کیا اور پھانسی دی گئی۔ اسی روز نامچہ میں غالبؔ نے کہیں اس کا ذکر کیا ہے۔ میکشؔ کے باپ گولی سے قتل ہوئے اور ان کو پھانسی دی گئی۔ حسن نظامی)کشمیری کٹرہ کی مسماریکشمیری کٹرہ گر گیا ہے۔ دو اونچے اونچے دراور وہ بڑی بڑی کوٹھریاں دو رویہ نظر نہیں آتیں کہ کیا ہوئیں۔ (نوٹ، پریڈ کے میدان کو دربار ۱۹۱۱ء کے ایام میں جب ہموار کیا جا رہا تھا تو سیکڑوں مکانات کے آثار دبے ہوئے نکلتے تھے۔ یہاں تک کہ چار پائیوں کے پایہ، آٹا گوندھنے کے کونڈے اور گھروں کے برتنے کی چیزیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب یہاں کے بازار اور محلے مسمار کئے گئے تو رہنے والوں کا سامان بھی اس میں دب گیا۔ خیال یہ تھا کہ گنجان محلوں اور بازاروں کا توڑنا ہوا صاف کرنے کے لیے تھا، مگر ۱۹۱۱ء میں یہ نشانیاں دیکھ کر کہا جاتا تھا کہ مسماری جوش انتقام سے بھی تعلق رکھتی تھی۔ جب ہی تو اس بے دردی سے خانہ داری کے اسباب کو بھی ملیا میٹ کردیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ غالبؔ جب بھی اس تباہی کا ذکر لکھتے ہیں تو ان کا قلم آنسو بہاتا جاتا ہے۔ حسن نظامی)جب دہلی پر ٹیکس لگائے گئےشہر میں ’’پون ٹوٹی‘‘ کوئی چیز ہے۔ وہ جاری ہو گئی ہے۔ سوائے اناج اور اپلے کے کوئی چیز ایسی نہیں جس پر محصول نہ لگا ہو۔ جامع مسجد کے گرد پچیس پچیس فٹ گول میدان نکلے گا۔ دکانیں، حویلیاں ڈھائی جاویں گی۔ دارالبقا فنا ہو جائے گی۔ رہے نام اللہ کا۔ خان چند کا کوچہ شا بولا کے بڑتک ڈھئے گا۔ دونوں طرف پھاوڑہ چل رہا ہے۔ (نوٹ ، پون ٹوٹی (چنگی) کوئی چیز ہے کہہ کر غالبؔ نے تڑپا دیا۔ طعن کا نہایت پر لطف انداز ہے۔ سوائے اناج اور اپلے کے ہر چیز پر ٹیکس (محصول) لگ جانا غالبؔ جیسے شخص نے یقیناً نہایت حقارت سے محسوس کیا ہوگا۔ چار پانچ فقروں میں نئی حکومت کے طرز حکمرانی کو بیان کردینا غالبؔ ہی کا کام تھا۔ حسن نظامی)دہلی کے غارت شدہ بازار شہر ڈھ رہا ہے۔ بڑے بڑے نامی بازار، خاص بازار، اردو بازار اور خانم کا بازار کہ ہر ایک بجائے خود ایک قصبہ تھا، اب پتہ بھی نہیں کہ کہاں تھے صاحبان امکنہ ودکا کین نہیں بتا سکتے کہ ہمارا مکان کہاں تھا اور دکان کہاں تھی۔ برسات بھر مینھ نہیں برسا۔ آپ تیشہ اور کلند کی طغیانی سے مکانات گر گئے۔ غلہ گراں ہے۔ موت ارزاں ہے۔ موے کے مول اناج بکتا ہے۔ ماش کی دال آٹھ سیر، باجرہ بارہ سیر، گیہوں۱۳سیر، چنے ۱۶ سیر، گھی ڈیڑھ سیر۔ (نوٹ، یہ تینوں بازار دریا گنج (فیض بازار) کی سڑک کے خاتمہ سے شروع ہوتے تھے۔ جہاں اب پردہ باغ، ایڈورڈ پارک، وکٹوریہ اسپتال اور پریڈ کا میدان واقع ہے۔ اب یہاں اردو بازار بن گیا ہے۔ اس وقت کی گرانی جس کا حال لکھ کر غالبؔ حیران ہیں، آج کل کی گرانی کے مقابلہ میں ارزانی ہے۔ اب ماش کی دال ۳ سیر، گندم ۴ سیر، باجرہ ۴ سیر اور گھی آدھ سیر ہے (یہ نرخ پہلی اشاعت کے وقت کا ہے۔ حسن نظامی)بہادر شاہ پر سکہ کہنے کا الزامسکہ کا وار تو مجھ پر ایسا چلا کہ جیسے کوئی چھرایا کوئی گراب۔ کس سے کہوں۔ کس کو گواہ لاؤں۔ یہ دونوں سکے ایک وقت میں کہے گئے ہیں، یعنی جب بہادر شاہ تخت پر بیٹھے تو ذوقؔ نے یہ دونوں سکے کہہ کر گزرانے۔ بادشاہ نے پسند کئے۔ مولوی محمد باقر جو ذوقؔ کے معتقدین میں تھے، انہوں نے اپنے ’’دلّی اردو اخبار‘‘ میں یہ دونوں سکے چھاپے۔ اس سے علاوہ اب وہ لوگ بھی موجود ہیں کہ جنہوں نے اس زمانہ میں مرشد آباد اور کلکتہ میں یہ سکے سنے ہیں اور ان کو یاد ہیں۔ اب یہ دونوں سکے سرکار کے نزدیک میرے کہے ہوئے اور گزرانے ہوئے ثابت ہوئے۔ میں نے ہر چند قلمرو ہند میں ’’دلّی اردو اخبار‘‘ کا پرچہ ڈھونڈھا۔ کہیں ہاتھ نہ آیا۔ یہ دھبہ مجھ پر رہا۔ پنشن بھی گئی اور وہ ریاست کا نام و نشان، خلعت و دربار بھی مٹا۔ (نوٹ، سکہ کی حقیقت لکھنے میں جو سادہ پر اثر اور شاعرانہ تلازمہ برتا گیا ہے، وہ زبان غالبؔ کا بہترین نمونہ ہے۔ ناظرین غور سے دیکھیں۔\n\nمولوی محمد باقر غالباً شمس العلماء مولانا محمد حسین آزادؔ کے والد یا کوئی عزیز ہوں گے۔ ان کے اردو اخبار کا ذکر غدر کے اکثر حالات میں آتا ہے۔ حسن نظامی۔ (مولوی محمد باقر آزادؔ کے والد تھے۔ مدیر)داغدار دہلیرفع فتنہ و فساد اور بلاد میں مسلّم۔ یہاں کوئی طرح آسائش کی نہیں ہے۔ اہل دہلی عموماً برے ٹھہر گئے۔ یہ داغ ان کی جبین حال سے عموماً مٹ نہیں سکتا۔ دہلی میں مارشل لاءرہنا شہرمیں بے حصول اجازت حاکم احتمال ضرر رکھتا ہے۔ اگر خبر نہ ہو تو نہ ہو۔ اگر خبر ہو جائے تو البتہ قباحت ہے۔ دہلی کی عملداری میرٹھ و آگرہ اور بلاد شرقیہ کے مثل نہیں ہے۔ یہ پنجاب احاطہ میں شامل ہے۔ نہ قانون نہ آئین۔ جس حاکم کی جو رائے میں ہو وہ ویسا ہی کرے۔ (نوٹ، غالبؔ نے مارشل لاء کے چہرہ کو جگہ جگہ جس اختصار اور جس احتیاط مگر جس بے باکی سے لکھا ہے، وہ آج کل کے سیاست نگاروں کے لیے قابل تقلید ہے۔ حسن نظامی)امن کے اشتہار کے بعدحکم عفو تقصیرعام ہو گیا ہے۔ لڑنے والے آتے جاتے ہیں اور آلات حرب و پیکار دے کر توقیع آزادی پاتے ہیں۔ (نوٹ، یہ عبارت ۱۰؍ نومبر ۱۸۵۸ء کو لکھی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب باغیوں کو امن مل گیا تھا، مگر اس کے بعد ۱۸۵۹ء اور ۱۸۶۰ء تک غالبؔ کی بعض تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ دہلی کے اندر مسلمانوں کو بغیر ٹکٹ کے آنے کی اجازت نہ تھی۔ غالباً انتظاماً بعض حکام مقامی نے ایسا کیا ہوگا، ورنہ ملکہ وکٹوریا امن عام کا اشتہار دے چکی تھیں جو ۱۸۵۸ء میں شائع ہو گیا تھا۔ حسن نظامی)امدادی خرچچند اشخاص کو اس بائیس مہینے میں سال بھر کا روپیہ بطریق مدد خرچ مل گیا۔ باقی چڑھے ہوئے روپے کے باب میں اور آئندہ ماہ بہ ماہ ملنے کے واسطے ابھی کچھ حکم نہیں ہوا۔ سوال امیر خسروؒ کی انملی ہے۔ ’’چیل بسولا لے گئی ہے تو کاہے پھٹکوں راب۔‘‘ علی بخش خاں پچیس روپے مہینہ پاتے تھے۔ بائیس مہینے کے گیارہ سو روپے ہوتے ہیں۔ ان کو چھ سو روپے مل گئے۔ باقی روپیہ چڑھا رہا۔ آئندہ ملنے میں کچھ کلام نہیں۔ غلام حسن خاں سو روپے مہینے کا پنشن دار۔ بائیس مہینے کے بائیس سو روپے ہوتے ہیں۔ اس کو بارہ سو ملے۔ دیوان کشن لال کا ڈیڑھ سو روپے مہینہ۔ بائیس مہینے کے تین ہزار تین سو ہوتے ہیں۔ اس کو اٹھارہ سو ملے۔ منا جمعدار دس روپے مہینے کا سکھ لمبر سال بھر کے ایک سو بیس لے آیا۔ اسی طرح پندرہ سولہ آدمیوں کو ملاہے۔ آئندہ کے واسطے کسی کو کچھ حکم نہیں۔ مجھ کو پھر مدد خرچ نہیں ملا۔ جب کئی خط لکھے تو اخیر خط میں صاحب کمشنر بہادر نے حکم دیا کہ سائل کو بطریق مدد خرچ سو روپے مل جاویں۔ میں نے وہ سو روپے نہ لئے اور پھر صاحب کمشنر بہادرکو لکھا کہ میں باسٹھ روپے آٹھ آنے مہینہ پانے والا ہوں۔ سال بھر کے ساڑھے سات سو روپے ہوتے ہیں۔ سب پنشن داروں کو سال بھر کا روپیہ، مجھ کو سو روپے کیسے ملتے ہیں۔ مثل اوروں کے مجھے بھی سال بھر کا روپیہ مل جاوے۔ ابھی اس میں کچھ جواب نہیں ملا۔ آبادی کا یہ رنگ ہے کہ ڈھنڈورا پٹوا کرٹکٹ چھپوا کر اجرٹن صاحب بہادر بطریق ڈاک کلکتہ چلے گئے۔ دہلی کے حمقا جو باہر پڑے ہوئے ہیں منھ کھول کر رہ گئے۔ اب جب وہ معاودت کریں گے تب شاید آبادی ہوگی یا کوئی اور نئی صورت نکل آئے۔ (نوٹ، یہ تحریر فروری ۱۸۵۹ء کی ہے۔ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ۱۸۵۸ء میں اشتہار امن کے بعد بھی حکام انتظامی نے دہلی کے آباد ہونے میں احتیاط کی تھی۔ حسن نظامی)دربار میں غالبؔ تھے اور مہاجنرگ قلم کی خونابہ فشانی دیکھو۔ گورنر اعظم نے میرٹھ میں دربار کا حکم دیا۔ صاحب کمشر بہادر دہلی نے سات جاگیرداروں میں سے جو تین بقیۃ السیف تھے، ان کو حکم دیا اور دربار عام میں سے سوائے میرے کوئی نہ تھا یا چند مہاجن۔ مجھ کو بھی حکم نہ پہنچا۔ جب میں نے استدعا کی تو جواب ملا کہ اب نہیں ہو سکتا۔ میں اپنی عادت قدیم کے موافق خیمہ گاہ میں پہنچا۔ مولوی اظہار حسین خاں صاحب بہادر سے ملا۔ چیف سکریٹری بہادر کو اطلاع کی۔ جو اب آیا کہ فرصت نہیں۔ میں سمجھا کہ اس وقت فرصت نہیں، دوسرے دن پھر گیا۔ میری اطلاع کے بعد حکم ہوا کہ ایام غدر میں تم باغیوں سے اختلاط رکھتے تھے۔ اب گورنمنٹ سے کیوں ملنا چاہتے ہو؟ اس دن چلا آیا۔ دوسرے دن میں نے انگریزی خط ان کے نام لکھ کر ان کو بھیجا۔ مضمون یہ کہ باغیوں سے میرا اختلاط مظنہ محض ہے۔ امید وار ہوں کہ اس کی تحقیقات ہو، تاکہ میری صفائی اور بے گناہی ثابت ہو۔ یہاں کے مقامات پر جواب نہ ہوا۔ اب ماہ گزشتہ یعنی فروری میں پنجاب کے ملک سے جواب آیا کہ لارڈ صاحب بہادر فرماتے ہیں کہ ہم تحقیقات نہ کریں گے۔ پس یہ مقدمہ طے ہوا۔ دربار خلعت مسدود۔ پنشن موقوف۔ وجہ نامعلوم۔ الا موجود الا اللہ و لا موثر فی الوجود الا اللہ۔ ۱۸۵۵ء میں نواب یوسف علی خاں بہادر والئی رامپور کہ میرے آشنائے قدیم ہیں، اس سال ۱۸۵۵ء میں میرے شاگرد ہوئے۔ ناظم ان کو تخلص دیا گیا۔ بیس پچیس غزلیں اردو کی بھیجتے۔ میں اصلاح دے کربھیج دیتا۔ کچھ روپیہ ادھر سے آتا رہتا۔ قلعہ کی تنحواہ جاری، انگریزی پنشن کھلا ہوا۔ ان کے عطایا فتوح گنے جاتے تھے۔ جب یہ دونوں تنخواہیں جاتی رہیں تو زندگی کا مداران کے عطیہ پر رہا۔ بعد فتح دہلی وہ ہمیشہ میرے مقدم کے خواہاں رہتے تھے۔ میں عذر کرتا تھا۔ جب جنوری ۱۹۶۰ء میں گورنمنٹ سے وہ جواب پایا کہ اوپر لکھ آیا ہوں تو میں آخر جنوری میں رام پور گیا۔ چھ سات ہفتے وہاں رہ کر دہلی آیا۔ غالبؔ کے استقلال نے فتح پائی۱۸۶۰ء میں لارڈ صاحب بہادر نے میرٹھ میں دربار کیا۔ صاحب کمشنر بہادر دہلی کو ساتھ لے گئے۔ میں نے پوچھا کہ میں بھی چلوں۔ فرمایا کہ نہیں۔ جب لشکر میرٹھ سے دہلی میں آیا، موافق اپنے دستور کے روز ورود لشکر مخیم میں گیا۔ میر منشی صاحب سے ملا۔ ان کے خیمہ سے اپنے نام کا ٹکٹ صاحب سکرٹر بہادر کے پاس بھیجا۔ جواب آیا کہ تم غدر کے زمانہ میں بادشاہی باغی کی خوشامد کیا کرتے تھے۔ اب گورنمنٹ کو تم سے ملنا منظورنہیں۔ میں گدامبرم اس حکم پر ممنوع نہ ہوا۔ جب لارڈ صاحب بہادر کلکتہ پہنچے۔ میں نے قصیدہ حسب معمول قدیم بھیج دیا۔ مع اس حکم کے واپس آیا کہ آپ یہ چیزیں ہمارے پاس نہ بھیجا کرو۔ میں مایوس مطلق ہوکر بیٹھ رہا اور حکام شہر سے ملنا ترک کیا۔ واقع اواخر ماہ گزشتہ یعنی فروری ۱۸۶۲ء نواب لفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب دہلی آئے۔ اہالیان شہر صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر و صاحب کمشنر کے پاس دوڑے اور اپنے نام لکھوائے۔ میں تو بیگانہ محض اور مطرود حکام تھا۔ جگہ سے نہ ہلا۔ کسی سے نہ ملا۔ دربار ہوا، ہر ایک کا مگار ہوا۔ شنبہ ۸؍ فروری کو آزاد انہ منشی من پھول سنگھ صاحب کے خیمہ میں چلا گیا۔ اپنے نام کا ٹکٹ صاحب سکرٹر بہادر کے پاس بھیجا۔ بلایا گیا۔ مہربان پاکر نواب صاحب کی ملازمت کی استدعا کی۔ وہ بھی حاصل ہوئی۔ دوحکام جلیل القدر کی وہ عنایتیں دیکھیں جو میرے تصور میں بھی نہ تھیں۔ بقیہ روداد یہ ہے کہ دوشنبہ دوم مارچ کو سواد شہر مخیم گورنری ہوا۔ آخر روز میں اپنے شفیق قدیم جناب مولوی اظہار حسین خاں بہادرکے پاس گیا۔ اثنائے گفتگو میں فرمایا کہ تمہارا دربار خلعت بدستور بحال و برقرار ہے۔ متحیرانہ میں نے پوچھا کہ حضرت کیوں کر؟ حضرت نے کہا کہ حاکم حال نے ولایت سے آکر تمہارے علاقہ کے سب کاغذ انگریزی و فارسی دیکھے اور بہ اجلاس کونسل حکم لکھوایا کہ اسد اللہ خاں کا دربار اور نمبر اور خلعت بدستور بحال و برقرار رہے۔ میں نے پوچھا کہ حضرت یہ امر کس اصل پر متفرع ہوا؟ فرمایا کہ ہم کو کچھ معلوم نہیں۔ پس اتنا جانتے ہیں کہ یہ حکم دفتر میں لکھوا کر چودہ دن یا پندرہ دن بعد ادھر کو روانہ ہوئے ہیں۔ میں نے کہا سبحان اللہ، کار ساز ما بفکرِ کارِ مافکر مادر کار ما آزار ماسہ شنبہ ۲۳ مارچ کو ۱۲ بجے نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر نے مجھ کو بلایا۔ خلعت عطا کیا اور فرمایاکہ لارڈ صاحب بہادر کے ہاں کا دربار و خلعت بھی بحال ہے۔ انبالے جاؤ گے تو دربار خلعت پاؤگے۔ عرض کیا گیا حضور کے قدم دیکھے۔ خلعت پایا۔ لارڈ صاحب بہادرکا حکم سن لیا۔ نہال ہوگیا۔ اب انبالے کہاں جاؤں۔ جیتا رہا تو اور دربار میں کامیاب ہو رہوں گا ، کار دنیا کسے تمام نہ کردہرچہ گیرید مختصر گیریدسرولیم میور اور غالبؔپنشن قدیم اکیس مہینہ سے بند اور میں سادہ دل فتوح جدید کا آرزومند۔ پنشن کا احاطہ پنجاب کے حکام پر مدار ہے۔ سو ان کا یہ شیوہ اور یہ شعار ہے کہ روپے دیتے ہیں، نہ جواب، نہ مہربانی، نہ عتاب۔ خیر اس سے قطع نظر کی۔ ۱۸۵۶ء سے بموجب تحریر وزیر اودھ عطیہ شاہی کا امیدوار ہوں۔ تقاضا کرتے ہوئے شرماؤں۔ اگر گنہگار ٹھہرتا تو گولی یا پھانسی سے مرتا۔ اس بات پر کہ میں بے گناہ ہوں، مقید اور مقتول نہ ہونے سے آپ اپنا گواہ ہوں۔ پیش گاہ گورنمنٹ کلکتہ میں جب کوئی کاغذ بھجوایا ہے، بقلم چیف سکرٹر بہادر اس کا جواب پایا ہے۔ اب کی بار دو کتابیں بھیجیں۔ ایک پیشکش گورنمنٹ اور ایک نظر شاہی ہے۔ نہ اس کے قبول کی اطلاع، نہ اس کے ارسال سے آگاہی ہے۔ جناب ولیم میور صاحب بہادر نے بھی عنایت نہ فرمائی، ان کی بھی کوئی تحریر مجھ کو نہ آئی۔ یہ سب ایک طرف۔ اب خبریں ہیں مختلف۔ کہتے ہیں کہ چیف سکرٹر بہادر لیفٹیننٹ گورنر ہوگئے۔ یہ کوئی نہیں کہتا کہ ان کی جگہ کون سے صاحب عالیشان چیف سکرٹر ہوئے۔ مشہور جناب ولیم میور صاحب بہادر صدر بورڈ میں تشریف لے گئے۔ یہ کوئی نہیں کہتا کہ لیفٹیننٹ گورنری کے سکریٹری کا کام کس کو دیے گئے۔ انگریزں کے احسان کی یاد، شریف ہندوستانی کے دل میںجناب آرنلڈ صاحب بہادر آج تشریف لے گئے۔ سنتا ہوں کہ کلکتہ جائیں گے۔ میم اور بچوں کو دلایت بھیج کر پھر آئیں گے۔ مجھ سے وہ سلوک کر گئے ہیں اور مجھ پر وہ احسان کر گئے ہیں کہ قیامت تک ان کا شکر گزار رہوں گا۔ غدر میں تم کہاں تھےخدا جب کا بھلا کرے۔ مجھ کو ڈپٹی کمشنر نے بلا بھیجا تھا۔ صرف اتنا ہی پوچھا کہ غدر میں تم کہاں تھے؟ جو مناسب ہوا وہ کہا گیا۔ دو ایک خط آمدہ ولایت میں نے پڑھائے۔ تفصیل لکھ نہیں سکتا۔ انداز ادا سے پنشن کا بحال و برقرار رہنا معلوم ہوتا ہے، مگر پندرہ مہینے پچھلے ملتے نظر نہیں آتے۔ غالبؔ کی مفلسی کو توالی میںیہ تو آفت دہلی ہی پر ٹوٹ پڑی ہے۔ لکھنؤ کے سوا اور شہروں میں عملداری کی وہ صورت ہے جو غدر سے پہلے تھی۔ اب یہاں ٹکٹ چھاپے گئے ہیں۔ میں نے بھی دیکھے۔ فارسی عبارت یہ ہے، ’’ٹکٹ آبادی درون شہر دہلی بشرط ادخال جرمانہ۔‘‘ مقدار روپے کی حاکم کی رائے پر ہے۔ آج پانچ ہزار ٹکٹ چھپ چکا ہے۔ کل اتوار یوم التعطیل ہے۔ پرسوں دوشنبہ ہے دیکھئے۔ یہ کاغذ کیوں کر تقسیم ہوں۔ یہ تو کیفیت شہر کی ہے۔ میرا حال سنو۔ بائیس مہینے کے بعد پرسوں کوتوال کو حکم آیا ہے کہ اسد اللہ خاں پنشن دار کی کیفیت لکھو کہ وہ بے مقدور اور محتاج ہے کہ نہیں۔ کوتوال نے موافق ضابطہ کے مجھ سے چار گواہ مانگے ہیں۔ سوکل چار گواہ کوتوالی چبوترے جائیں گے اورمیری بے مقدور ظاہر کر آئیں گے۔ کہیں یہ نہ سمجھنا کہ بعد ثبوت مفلسی چڑھا ہو۔ روپیہ مل جائے گا اور آئندہ کو پنشن جاری ہو جائے گا۔ (نوٹ، کوتوالی میں اظہار مفلسی کے واقعہ کو کس رقت خیز انداز سے لکھا ہے کہ مجبوری سب کچھ کراتی ہے۔ اس پر بھی یہ یقین نہیں کہ نتیجہ مفید نکلے گا۔ حسن نظامی)شرفا کی تصویر افلاسپنشن کا حال کچھ معلوم نہیں۔ حاکم خط کا جواب نہیں لکھتا۔ عملہ میں ہر چند تفحص کیجئے کہ ہمارے خط پر کیا حکم ہوا۔ کوئی کچھ نہیں بتاتا۔ بہرحال اتنا سنا ہے اور دلائل اور قرائن سے معلوم ہوا ہے کہ میں بے گناہ قرار پایا ہوں اور ڈپٹی کمشنر بہادر کی رائے میں پنشن پانے کا استحقاق رکھتا ہوں۔ پس اس سے زیادہ مجھے معلوم نہ کسی کو خبر۔ میں کتابیں کہاں سے چھپواتا۔ روٹی کھانے کو نہیں، شراب پینے کو نہیں، جاڑے آتے ہیں، لحاف توشک کی فکر ہے، کتابیں کیا چھپواؤں گا۔ (نوٹ، یہ غالبؔ نے اپنا ہی حال نہیں لکھا، بلکہ غدر کے بعد جو حالت شرفائے دہلی کی ہوگئی تھی، اس کی تصویر بھی دکھا دی ہے۔ جو لوگ بے امنی کے خواستگار ہیں، ان حالات کو ذرا نظر عبرت سے پڑھیں۔ حسن نظامی)گورنر جنرل نے غالبؔ کی قدردانی کیصاحب کمشنر بہادر دہلی یعنی جناب سانڈرس صاحب بہادر نے مجھ کو بلایا۔ پنجشنبہ ۲۴ فروری کو میں گیا۔ صاحب شکار کو سوار ہوگئے تھے۔ میں الٹا پھر آیا۔ جمعہ ۲۵ فروری کو گیا۔ ملاقات ہوئی۔ کرسی دی۔ بعد پرسش مزاج کے ایک خط انگریزی چار ورق کا اٹھا کر پڑھتے رہے۔ جب پڑھ چکے تومجھ سے کہا کہ یہ خط ہے میکلوڈ صاحب حاکم اکبر صدر بورڈ پنجاب کا۔ تمہارے باب میں لکھتے ہیں کہ ان کا حال دریافت کر کے لکھو۔ سو ہم تم سے پوچھتے ہیں کہ تم ملکہ معظمہ سے خلعت کیا مانگتے ہو؟ حقیقت کہی گئی۔ ایک کاغذ آمد ولایت لے گیا تھا۔ وہ پڑھوا دیا۔ پھر پوچھا۔ تم نے کتاب کیسی لکھی ہے؟ اس کی حقیقت بیان کی۔ کہا ایک میکوڈ صاحب دیکھنے کو مانگتے ہیں اور ایک ہم کو دو۔ میں نے عرض کیا۔ کل حاضر کروں گا۔ پھر پنشن کا حال پوچھا۔ وہ گزارش کیا۔ اپنے گھر آیا اور خوش آیا۔ حاکم پنجاب کو مقدمہ ولایت کی کیا خبر۔ کتابوں سے کیا اطلاع۔ پنشن کی پرسش سے کیا مدعا۔ یہ استفسار بحکم نواب گورنر جنرل ہوا ہے اور یہ صورت مقدمہ فتح و فیروزی ہے۔ (نوٹ، کتاب ’’دستنبو‘‘ نے گورنر جنرل کے خیالات غالبؔ کی طرف متوجہ کئے جیسا کہ میں نے ایک جگہ لکھا ہے۔ اس عبارت سے اس خیال کی مزید تائید ہوتی ہے۔ حسن نظامی)۱۸۶۰ء میں املاک واگزاشتدربار لارڈ صاحب کا میرٹھ میں ہوا۔ دلی کے علاقہ کے جاگیردار بموجب حکم کمشنر دہلی میرٹھ گئے۔ موافق دستور قدیم مل آئے۔ غرضیکہ پنجشنبہ ۲۹ دسمبر کوپھر دن چڑھے لارڈ صاحب یہاں پہنچے۔ کابلی دروازہ کی فصیل کے تلے ڈیرے ہوئے۔ اسی وقت توپوں کی آواز سنتے ہی میں سوار ہو گیا۔ میر منشی سے ملا۔ ان کے خیمہ میں بیٹھ کر صاحب سکرٹر کو خبر کروائی۔ جواب آیا کہ فرصت نہیں۔ یہ جواب سن کر نومیدی کی پوٹ باندھ کر لےآیا۔ ہر چند پنشن کے باب میں ہنوز لا و نعم نہیں، مگر کچھ فکر کر رہا ہوں۔ دیکھوں کیا ہوتا ہے۔ لارڈ صاحب کل یا پرسوں جانے والے ہیں۔ یہاں کچھ کلام و پیام نہیں ممکن۔ تحریر ڈاک میں بھیجی جائے گی۔ دیکھئے کیا صورت پیش آئے گی۔ مسلمانوں کی املاک کے واگزاشت کا حکم عام ہو گیا ہے۔ جن کو کرایہ پر ملی ہے۔ ان کو کرایہ معاف ہو گیا ہے۔ آج یکشنبہ یکم جنوری ۱۸۶۰ء ہے، پھر دن چڑھا ہے۔ (نوٹ، ۱۸۵۸ء کے اعلان ملکہ وکٹوریہ سے صرف جاں بخشی ہوئی تھی۔ جائداد کی رہائی خصوصاً مسلمانوں کی املاک کی واگزاشت ۱۸۶۰ء میں ہوئی جیسا کہ غالبؔ نے لکھا ہے۔ حسن نظامی)گورنر غالبؔ کے بسیار مہربان دوستاں نواب لفٹنٹ گورنر بہادر غرب وشمال کو نسخہ ’’دستنبو‘‘ بسبیل ڈاک بھیجا تھا۔ ان کا خط فارسی مشعر تحسین عبارت و قبول صدق ارادت ومودت بسبیل ڈاک آگیا۔ پھر قصیدہ بہاریہ تہنیت و مدحت میں بھیجا گیا۔ اس کی رسید آگئی۔ وہی خان صاحب بسیار مہربان دوستان القاب اور کاغذ افشانی۔ ازاں بعد ایک قصیدہ جناب رابرٹ منٹگمری صاحب لفٹنٹ گورنر بہادر قلمرو پنجاب کی مدح میں بتوسط صاحب کمشنر بہادر دہلی گیا۔ اس کے جواب میں بھی خوشنودی نامہ بتوسط کمشنر بہادر کل مجھ کو آگیا۔ پنشن ابھی تک مجھ کو نہیں ملی۔ (نوٹ، اس عبارت سے کئی باتیں نئی معلوم ہوئیں۔ ایک تو گورنر کا فارسی میں خط لکھنا۔ دوسرے مشرقی القاب سے مخاطب کرنا۔ تیسرے مشرقی یعنی افشانی کاغذ پر خط لکھا جانا جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ غدر کے بعد سے انگریزوں نے یہاں کے رسم و رواج کو کتنا زیادہ ترک کردیا ہے اور یہی وجہ ان کے غیر ہر دل عزیز ہو جانے کی ہے۔ غالبؔ نے ہر جگہ پنشن کو مذکر لکھا ہے، مگر یہاں مؤنث لکھتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ پنشن کا استعمال دونوں طرح جائز ہے۔ حسن نظامی)سرجان لارنس اور غالبؔعرضی میری سرجان لارنس چیف کمشنر بہادر کو گزاری۔ اس پر دستخط ہوئے کہ یہ عرضی مع کواغذ ضمیمہ سائل بھیج دی جائے اور یہ لکھا جائے کہ معرفت صاحب کمشنر دہلی کے پیش کرو۔ اب سررشتہ دار کو لازم تھا کہ میرے نام موافق دستور کے خط لکھتا۔ یہ نہ ہوا۔ وہ عرضی حکم چڑھی ہوئی میرے پاس آگئی۔ میں نے خط صاحب کمشنر چارلس سانڈرس کو لکھا اور وہ عرضی حکم چڑھی اس میں ملفوف کرکے بھیج دی۔ صاحب کمشنر نے صاحب کلکٹر کے پاس یہ حکم چڑھا کر بھیجی کہ سائل کے پنشن کی کیفیت لکھو۔ اب وہ مقدمہ صاحب کلکٹر کے ہاں آیا ہے۔ ابھی صاحب کلکٹر نے تعمیل اس حکم کی نہیں۔ پرسوں تو ان کے ہاں یہ روبکاری آئی ہے۔ دیکھئے کچھ مجھ سے پوچھتے ہیں یا اپنے دفتر سے لکھ بھیجتے ہیں۔ دفتر کہاں رہا جو اس کو دیکھیں گے۔ بہرحال یہ خدا کا شکر ہے کہ بادشاہی دفتر میں میرا نام کچھ شمول فساد میں پایا نہیں گیا اور میں حکام کے نزدیک یہاں تک پاک ہوں کہ پنشن کی کیفیت طلب ہوئی ہے اور میری کیفیت کا ذکر نہیں ہے یعنی سب جانتے ہیں کہ اس کا لگاؤ نہ تھا۔ افلاس شاعری پر بھی غالب ہےہمیشہ نواب گورنر جنرل کی سرکار سے دربار میں مجھ کو سات پارچے اور تین رقم جواہر خلعت ملتا تھا۔ لارڈ کیننگ صاحب میر اور بارو خلعت بند کرگئے ہیں۔ ناامید ہوکر بیٹھ رہا اور مدت العمر کو مایوس ہو رہا۔ اب جو یہاں لفٹنٹ گورنر پنجاب آئے ہیں۔ میں جانتا تھا کہ یہ بھی مجھ سے نہ ملیں گے۔ کل انہوں نے مجھ کو بلا بھیجا۔ بہت ہی عنایت فرمائی اور فرمایا کہ لارڈ صاحب دلّی میں دربار نہ کریں گے۔ میرٹھ ہوتے ہوئے اورمیرٹھ میں ان اضلاع کے علاقہ داروں اورمال گزاروں کا دربار کرتے ہوئے انبالے جائیں گے۔ دلّی کے لوگوں کا دربار وہاں ہوگا۔ تم بھی انبالے جاؤ۔ شریک دربار ہوکر خلعت معمولی لے آؤ۔ کیا کہوں کہ کیا میرے دل پر گزری گویا مردہ جی اٹھا، مگر ساتھ اس مسرت کے یہ بھی سناٹا گزرا کہ سامان سفر انبالہ ومصارف بے انتہا کہاں سے لاؤں اور طرہ یہ کہ نذر معمولی میری قصیدہ ہے اور ہر قصیدہ کی فکر ادھر۔ روپیہ کی تدبیر حواس ٹھکانے نہیں۔ شعر کام دل و دماغ کا ہے۔ وہ روپیہ کی فکرمیں پریشان۔ میرا خدا یہ مشکل بھی آسان کرے گا۔ دن کی روٹی رات کی شراببہ نسبت حکیم احسن اللہ خاں کے جو بات مشہور ہے، وہ محض غلط۔ ہاں مرزا الٰہی بخش جو شاہزادوں میں ہیں۔ ان کو حکم کرانچی بندر جانے کا ہے اور وہ انکار کر رہے ہیں۔ دیکھئے کیا حکم ہوتا ہے۔ حکیم جی کو ان کی حویلیاں مل گئی ہیں۔ اب وہ مع قبائل ان مکانوں میں جا رہے ہیں۔ اتنا حکم ان کو ہے کہ شہر سے باہر نہ جائیں۔ رہا میں\n\nتو بیکسی وغریبی ترا کہ پُرسد\n\nنہ جزا، نہ سزا، نہ نفرین نہ آفرین، نہ عدل نہ ظلم نہ لطف نہ قہر۔ پندرہ دن پہلے تک دن کو روٹی رات کو شراب ملتی تھی۔ اب صرف روٹی ملے جاتی ہے۔ شراب نہیں۔ کپڑا ایام تنعم کا بنا ہوا بھی ہے۔ اس کی کچھ فکر نہیں۔ (نوٹ، حکیم احسن اللہ خاں صاحب کی نسبت دلّی میں مشہور ہوا تھا کہ وہ جلاوطن کئے جائیں گے۔ اس کی طرف اشارہ ہے۔ مرزا الٰہی بخش کی جلاوطنی منسوخ ہوئی اور وہ مرتے دم تک درگاہ حضرت سلطان جیؒ میں رہے۔ غالبؔ کی قبر کے پاس ان کا شاندار مکان بنا، جواب کھنڈر پڑا ہے۔ جلاوطنی ہی منسوخ نہیں ہوئی بلکہ بارہ سو روپے ماہ وار پنشن بھی نسلاً بعد نسلاً دی گئی، جو ان کے بیٹوں مرزا سلیمان شکوہ عرف بڑے مرزا اور مرزا ثریا جاہ اورمرزا اقبال شاہ میں تقسیم ہوئی اوراب مرزا ثریا جاہ کے مرنے کے بعد ان کی بیگمات و ورثا کو ملتی ہے۔ مرزا الٰہی اور ان کے لڑکے درگاہ حضرت سلطان جیؒ کے شرتی رخ سنگ سرخ کی جالیوں کے اندردفن ہیں۔ مرزا الٰہی بخش آخر میں خیر خواہ سرکار ثابت ہوئے۔ بہادر شاہ کے سمدھی تھے۔ حسن نظامی)عذر کے دفترِ شاہی میں غالبؔ کا نام نہ تھادفترِ شاہی میں میرا نام مندرج نہیں نکلا۔ کسی مخبر نے نسبت میرے کوئی خبر بدخواہی کی نہیں دی۔ حکام وقت میرا ہونا شہر میں جانتے ہیں۔ فراری نہیں ہوں۔ روپوش نہیں ہوں۔ بلایا نہیں گیا۔ داروگیر سے محفوظ ہوں۔ کسی طرح کی باز پرس ہوتو بلایا جاؤں مگر ہاں جیسا کہ بلایا نہیں گیا۔ خود بھی بروئے کار نہیں آیا۔ کسی حاکم سے نہیں ملا۔ خط کسی کو نہیں لکھا۔ کسی سے درخواست ملاقات نہیں کی۔ مئی سے پنشن نہیں پایا۔ یہ دس مہینے کیوں کر گزرے ہوں گے۔ انجام کچھ نظر نہیں آتا۔ غالبؔ کی جان پٹیالہ کے سبب بچیمیں حکیم محمد حسن خاں کے مکان میں نودس برس سے کرایہ کو رہتا ہوں اور یہاں قریب کیا بلکہ دیوار بدیوار ہیں۔ گھر حکیموں کے۔ اوروہ نوکر ہیں راجہ نرندسنگھ بہادر والی پٹیالہ کے۔ راجہ نے صاحبان عالیشان سے عہد لے لیاتھا کہ بروقت غارت دلّی یہ لوگ بچ رہیں۔ چنانچہ بعد فتح راجہ کے سپاہی یہاں آبیٹھے اوریہ کوچہ محفوظ رہا۔ ورنہ میں کہاں اور یہ شہر کہاں۔ امیر غریب سب نکل گئے۔ جو رہ گئے تھے وہ نکالے گئے۔ جاگیر دار، پنشن دار، دولت مند اہل حرفہ کوئی بھی نہیں ہے۔ مفصل حال لکھتے ہوئے ڈرتا ہوں۔ ملازمان قلعہ پر شدت ہے اور باز پرس اور داروگیر میں مبتلا ہیں، مگروہ نوکر جو اس ہنگام میں نوکر ہوئے ہیں اور ہنگامے میں شریک ہوئے ہیں۔ میں غریب شاعر دس برس سے تاریخ لکھنے اور شعر کی اصلاح دینے پر متعلق ہوا ہوں، خواہی اس کو نوکری سمجھو خواہی مزدوری جانو۔ اس فتنہ وآشوب میں کسی مصلحت میں میں نے دخل نہیں دیا۔ صرف اشعار کی خدمت بجالاتا رہا اور نظر اپنی بے گناہی پر۔ شہر سے نکل نہیں گیا۔ میرا شہر میں ہونا حکام کو معلوم ہے، مگر چونکہ میری طرف بادشاہی دفتر میں سے یا مخبروں کے بیان سے کوئی بات پائی نہیں گئی، لہٰذا طلبی نہیں ہوئی، ورنہ جہاں بڑے بڑے جاگیر دار بلائے ہوئے یا پکڑے ہوئے آئے ہیں، میری کیا حقیقت تھی۔ غرضیکہ اپنے مکان میں بیٹھا ہوں۔ دروازے سے باہر نکل نہیں سکتا تھا۔ سوار ہونا اور کہیں جانا اور کہیں آنا تو بہت بڑی بات ہے۔ رہا یہ کہ کوئی میرے پاس آوے۔ شہر میں ہے کون جو آوے؟ گھر گھر بے چراغ پڑے ہیں۔ مجرم سیاست پاتے جاتے ہیں۔ جرنیلی بندوبست۔ یازدہم مئی سے آج تک یعنی شنبہ پنجم دسمبر ۱۸۵۷ء تک بدستور ہے۔ کچھ نیک وبدکا حال مجھ کو نہیں معلوم، بلکہ ہنوز ایسے امور کی طرف حکام کو توجہ بھی نہیں۔ دیکھئے انجام کار کیا ہوتا ہے۔ یہاں باہرسے اندر تک کوئی بغیر ٹکٹ کے آنے جانے نہیں پاتا۔ ابھی دیکھا چاہیے۔ مسلمانوں کی آبادی کا حکم ہوتا ہے یا نہیں؟ پنشن کی نسبتمیں اجرائے پنشن سرکار انگریزی سے مایوس تھا۔ بارے وہ نقشہ پنشن داروں کاجو یہاں سے بن کر صدر کو گیا تھا اور یہاں کے حاکم نے نسبت میرے صاف لکھ دیا تھا کہ یہ شخص پانے کا مستحق نہیں ہے، گورنمنٹ نے برخلاف یہاں کے حاکم کی رائے کے میری پنشن کے اجرا کا حکم دیا اور وہ حکم یہاں آیا اور مشہور ہوا۔ میں نے بھی سنا۔ اب کہتے ہیں کہ ماہ آئندہ یعنی مئی کی پہلی تنخواہوں کا بٹنا شروع ہوگا۔ دیکھا چاہیے پچھلے روپے کے باب میں کیا حکم ہوتا ہے۔ دہلی کا دردناک مرثیہبسکہ فعال ما یرید ہےہر صلح شور انگلستاں کاگھر سے بازار میں نکلتے ہوئےزہرہ ہوتا ہے آب انساں کاچوک جس کو کہیں وہ مقتل ہےگھر بنا ہے نمونہ زنداں کاشہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاکتشنہ خوں ہے ہر مسلماں کاکوئی وہاں سے نہ آسکے یہاں تکآدمی وہاں نہ جا سکے یہاں کامیں نے مانا کہ مل گئے پھر کیاوہ ہی رونا تن و دل و جاں کاگاہ جل کر کیا کئے شکوہسوزش داغہائے پنہاں کاگاہ رو کر کہا کئے باہمماجرا دیدہ ہائے گریاں کااس طرح کے وصال سے غالبؔکیا مٹے دل سے داغ ہجراں کا(نوٹ، یہ مرثیہ محض شاعری نہیں بلکہ واقعات غدر کی تاریخی تصویر ہے۔ چاندنی چوک میں پھانسیاں کھڑی ہوئی تھیں جن پر روزانہ سیکڑوں آدمیوں کو لٹکایا جاتا تھا۔ مسلمانوں کے ساتھ خصوصیت سے سختی برتی جاتی تھی۔ انہی امور کو غالبؔ نے غمناک انداز سے لکھا ہے۔ حسن نظامی)انگریز بھی غالبؔ کے شاگرد تھےجب سخت گھبراتا ہوں اور تنگ آتا ہوں تو یہ مصرعہ پڑھ کر چپ ہوجاتا ہوں، اےمرگ سان تجھے کیا انتظار ہےیہ کوئی نہ سمجھے کہ میں اپنی بے رونقی اور تباہی کے غم میں مرتا ہوں۔ جو دکھ مجھ کو ہے، اس کا بیان تو معلوم، مگر اس بیان کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔ انگریزی قوم میں سے جو ان روسیاہ کالوں کے ہاتھ سے قتل ہوئے، اس میں کوئی میرا امیدگاہ تھا اور کوئی میرا شفیق اور کوئی میرا دوست اور کوئی میرا یار اور کوئی میرا شاگرد۔ ہندوستانیوں میں کچھ عزیز، کچھ دوست، کچھ شاگرد، کچھ معشوق۔ سو وہ سب کے سب خاک میں مل گئے۔ ایک عزیز کا ماتم کتنا سخت ہوتا ہے۔ جو اتنے عزیزوں کا ماتم دار ہو، اس کو زیست کیونکر نہ دشوار ہو۔ ہائے اتنے یار مرے کہ جواب میں مروں گا تو میرا کوئی رونے والا بھی نہ ہوگا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ (نوٹ، غالبؔ کی انصاف پسندی دیکھنا۔ غدر کے مصائب کو بلا تعصب بیان کرتے ہیں۔ انگریزوں پر جو مظالم ہوئے، ان کو بھی قلم پر لاتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ غدر سے پہلے انگریز دیسی شعرا کے شاگرد ہوتے تھے اور شرفا سے دوستیاں کرتے تھے۔ اب یہ باتیں کہانیاں ہوگئیں۔ حسن نظامی)غالبؔ انگریزوں کے خیر خواہ تھےحکم ہوا ہے کہ دوشنبہ کے دن پہلی تاریخ نومبر کو رات کے وقت سب خیرخواہان انگریز اپنے اپنے گھروں میں روشنی کریں اور بازاروں میں اور صاحب کمشنر بہادر کو کوٹھی پر بھی روشنی ہوگی۔ فقیر بھی اس تہی دستی میں اٹھارہ مہینے سے پنشن مقرری نہیں پاتا، اپنے مکان پر روشنی کرے گا۔ (نوٹ، اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ غالبؔ نے جو کہیں کہیں انگریزوں کے خلاف الفاظ استعمال کئے ہیں، یہ اس وقت کی عام زبان تھی، ورنہ جشن میں شرکت، گھر پر روشنی کرنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ وہ حکومت سے عناد نہ رکھتے تھے۔ حسن نظامی)", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D8%B2%D9%86%D8%A7%D9%85%DA%86%DB%82_%D8%BA%D8%AF%D8%B1_%DB%B1%DB%B8%DB%B5%DB%B7%D8%A1"} {"title": "غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائے\nیہ رات نہیں وہ جو کہانی میں گزر جائے\n\nہے طرفہ مفتن نگہ اس آئنہ رو کی\nاک پل میں کرے سینکڑوں خوں اور مکر جائے\n\nنے بت کدہ ہے منزل مقصود نہ کعبہ\nجو کوئی تلاشی ہو ترا آہ کدھر جائے\n\nہر صبح تو خورشید ترے منہ پہ چڑھے ہے\nایسا نہ ہو یہ سادہ کہیں جی سے اتر جائے\n\nیاقوت کوئی ان کو کہے ہے کوئی گلبرگ\nٹک ہونٹ ہلا تو بھی کہ اک بات ٹھہر جائے\n\nہم تازہ شہیدوں کو نہ آ دیکھنے نازاں\nدامن کی تری زہ کہیں لوہو میں نہ بھر جائے\n\nگریے کو مرے دیکھ ٹک اک شہر کے باہر\nاک سطح ہے پانی کا جہاں تک کہ نظر جائے\n\nمت بیٹھ بہت عشق کے آزردہ دلوں میں\nنالہ کسو مظلوم کا تاثیر نہ کر جائے\n\nاس ورطے سے تختہ جو کوئی پہنچے کنارے\nتو میرؔ وطن میرے بھی شاید یہ خبر جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "غالب کی محفل", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "prose", "section": "طنز و مزاح", "year": null, "text_ur": "مقام دہلی ۱۸۵۶عیسوی\n\nراوی، ۱۸۵۰ء تک دہلی اور لکھنؤ کی محفلوں پر بہار تھی، ہر طرف شعر و سخن کا چرچا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی طور پر آزاد کے الفاظ میں درخت اقبال کو دیمک لگ چکی تھی۔ لیکن ابھی برگ و بار کی شگفتگی اور تازگی کو دیکھتے ہوئے گمان تک نہ ہوتا تھا کہ یہ درخت گراچاہتا ہے۔ دہلی میں مومن، ذوق، غالب، شیفتہ، سالک، مجروح اور آزردہ اپنی رنگین توانائیوں سے پابند وضع سامعین کو مسحور کر رہے تھے۔ ادھر لکھنؤ میں ۱۸۴۷ء کے بعد رنگیلے پیا جانِ عالم نے دربار سجایا تھا۔ اور ایسا رنگ جمایا تھا کہ لوگ اِندر کے اکھاڑے کو بھول گئے تھے۔\n\n۱۸۵۰ء کے بعد، شاطر فلک نے اس بساطِ ادب کے مہروں کو ایک ایک کرکے چننا شروع کیا۔ ۱۸۵۱ء میں مومن سدھارے، ۱۸۵۴ء میں ذوق نے اس دنیا سے منہ موڑا، ۱۸۵۶ء میں رنگیلے پیاجان عالم معزول ہوئے اور مٹیا برج بھیج دیے گئے۔ کچھ پروانے اس جھکی ہوئی شمع کا طواف کرنے کے لیے وہاں بھی جاپہنچے۔ لیکن سچ پوچھیے تو محفل سونی ہوگئی۔ تو فرض کرلیجیے کہ ۱۸۵۶ عیسوی ہے۔ اگرچہ بجھ چکی ہے لیکن خاکستر میں کچھ چنگاریاں باقی ہیں۔ بساط اٹھائی جارہی ہے۔ لیکن ابھی شعر وسخن کے کچھ متوالے آنکھیں بند کیے حال مست، محفل میں بیٹھے ہیں۔ یہ حالت ہے کہ ہم آپ کو دہلی قاسم جان کی گلی میں لیے چلتے ہیں، جہاں اسد اللہ خاں غالب المعروف بہ مرزانوشہ حکیم محمد حسن خاں کی حویلی میں رہتے ہیں۔\n(قدموں کی چاپ)\n\nشیفتہ، (بلند آواز سے ) کلو\nکلو، (دور سے ) جی سرکار۔\n\nشیفتہ، کیوں بھئی مرزا نوشہ تشریف رکھتے ہیں؟\n\nکلو، جی حضور۔ دیوان خانہ میں لیٹے ہیں۔ میر مہدی مجروح بھی وہیں بیٹھے ہیں۔\n(وقفہ)\n\nتشریف لے آئیے۔ آئیے نواب صاحب تشریف لائیے۔ خواجہ صاحب۔\n(چاپ)\n\nشیفتہ، حضور! تسلیمات عرض کرتا ہوں۔\n\nحالی، آداب بجالاتا ہوں۔\n\nغالب، آہا۔۔۔ نواب مصطفے خاں اور خواجہ الطاف حسین حالی بھی ساتھ تشریف لائے ہیں۔\n\nشیفتہ، حضور۔ خواجہ الطاف حسین تو ضرور تشریف لائے ہیں لیکن نواب مصطفے ٰ خاں کہاں ہیں؟\n\nغالب، (ہنس کر) ایں۔ میر مہدی۔ سنا تم نے۔ ارے بھئی میری بینائی میں اتنا فتور آگیا۔ ذرا دیکھنا یہ نواب مصطفے ٰ خاں نہیں ہیں۔\n\nمہدی مجروح، حضور ہیں تونواب مصطفے ٰ خاں ہی۔\n\nشیفتہ، (ہنسکر) کون، نواب مصطفے ٰ خاں! واہ میر مہدی یہ کیا بات ہوئی۔\n\nغالب، (ہنس کر) ارے بھئی تو آخر تم پھر کون ہو جو اس طرح بے باکانہ مجھ خاک نشیں کے گھر گھسے چلے آتے ہو۔\n\nشیفتہ، (ہنس کر) حضور میں تو آ پ کا شیفتہ ہوں۔\n\nغالب، اخاہ۔ یہ بات ہے۔ سنا میر مہدی۔ اچھا بھئی شیفتہ خدا تمہیں جزائے خیر دے کہ ایک ساٹھ برس کے بوڑھے پر شیفتہ ہو۔\n\nحالی، حضور ہی کا شعر ہے۔\n\nوفاداری بشرطِ استواری اصل ایماں ہے\nمرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو\n\nغالب، (ہنس کر) واہ بھئی حالی واہ (وقفہ) ادھر آؤنا شیفتہ میرے پاس۔\n\nشیفتہ، آج حضور میرے ہاں مشاعرے میں تشریف نہیں لائے۔\n\nغالب، اے میر مہدی بولتے کیوں نہیں۔\n(وقفہ)\n\nارے بھئی شیفتہ اس سید زادے کی فرمائشوں سے ناک میں دم ہے۔\n\nشیفتہ، حضور کیا بات ہوئی؟\n\nغالب، جواب دو نا میر مہدی، اب چپ کیوں سادھ لی۔\n\nمجروح، نواب صاحب قبلہ ہوا یہ کہ میرے ملنے والوں میں سے ایک صاحب کا لڑکا بے چارا ناگہاں مرگیا۔ وہ میرے سر ہوگئے کہ مرزا نوشہ سے تاریخ کہلوادو۔ خوشی کی تقریب کی فرمائش ہوتی تو میں ٹال بھی جاتا۔ بات ایسی تھی کہ کچھ کہہ بھی نہ سکتا تھا۔ آخر انہیں لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان صاحب کو وطن واپس جانے کی جلدی تھی۔ ضد کرنے لگے کہ ابھی تاریخ کہہ دو۔ بس اسی میں الجھے رہے (وقفہ) اور پھر کچھ طبیعت بھی حضور کی ناساز تھی۔\n\nحالی، خیر باشد۔\n\nغالب، بھئی پرسوں سے پنڈلیوں میں اور پاؤں میں درد ہے۔\n\nمجروح، میں تو کہہ رہا ہوں کہ حضور پاؤں داب دوں۔ آپ مانتے ہی نہیں۔\n\nغالب، اے میر مہدی تجھے شرم نہیں آتی، تو سیدزادہ ہوکر میرے پاؤں دابے گا۔ کیوں مجھے گنہگار کرتا ہے۔\n\nمجروح، تو آپ اجرت دے دیجیے گانا۔ آخر اس میں ہرج ہی کیا ہے۔ لیجیے ذرا پاؤں پھیلائیے۔\n\nغالب، اے میر مہدی تو مانے گا تھوڑا ہی، اچھا جو تیرے جی میں آئے کر۔ (وقفہ) ہاں بھئی شیفتہ، مشاعرہ کیسا رہا۔\n\nشیفتہ، آپ کے بغیر مشاعرے میں کیا خاک لطف آتا۔\n\nغالب، شیفتہ، سچ پوچھو تو اب مشاعروں میں غزل پڑھنے کو میرا جی نہیں چاہتا۔ مشاعروں کی رونق تو ذوق مرحوم اور مومن مرحوم کے دم سے تھی۔ ہائے مومن کی جامہ زیبی اور بانکپن یاد آتا ہے تو کلیجے پر سانپ لوٹ جاتا ہے اور ذوق مرحوم کی زبان کا لطف ہی نہیں بھولتا۔\n\nشیفتہ، یہ تو آپ نے درست ارشاد فرمایا۔ حکیم مومن خاں کی موت نے محفلوں کو سونا کردیا۔\n\nمجروح، (ہنس کر) حضور آپ نے سنا۔ نواب صاحب نے کیا ارشاد فرمایا۔\n\nغالب، (ہنس کر) ہاں میر مہدی سنا! تم بھی خوب سمجھے۔ کیوں شیفتہ۔ حکیم مومن خاں کی موت نے تو محفلوں کو سونا کردیا۔ اور ذوق مرحوم کا ذکر ہی نہیں۔\n\nشیفتہ، (ہنس کر) میرا یہ مطلب ہی نہیں تھا۔\n\nغالب، خیر تم کچھ ہی کہو شیفتہ۔ بعض شعر تو ذوق نے ایسے کہے ہیں کہ آدمی پہروں سر دھنا کرے۔ (زانو پر ہاتھ مار کے ) ہائے،\n\nاب تو گھبراکے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے\nمر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے\n\nمجروح، سبحان اللہ! کیا شعر کہا ہے۔ اور حضور نے پڑھا بھی کیا خوب ہے۔\n\nغالب، اور سنو\n\nاس روئے تابناک پہ ہر قطرہ عرق\nگویا کہ اک ستارہ ہے صبح بہار کا\n\nہائے ہائے کیا اچھوتی تشبیہ ہے۔ ستارہ ہے صبح بہار کا۔\n\nشیفتہ، اچھا شعر ہے۔\n\nغالب، شکر ہے تم نے ذوق مرحوم کے کسی شعر کو اچھا تو کہا۔ (وقفہ)\n\nہاں بھئی مشاعرے والی بات تو وہیں کی وہیں رہ گئی۔ مصرع طرح کیا تھا، ہاں یاد آگیا۔ ع رنج اور رنج بھی تنہائی کا۔ ہاں تو پھر کس کی غزل حاصل مشاعرہ رہی۔\nشیفتہ، غزلیں کچھ کمزور تھیں۔ (ہنس کر) ورنہ کچھ شعر مجھے ضرور یاد رہ جاتے۔ (وقفہ) نواب مرزا داغ کا ایک مطلع خوب تھا۔\n\nمجروح، ہاں تو ارشاد فرمائیے نا۔ کیا مطلع تھا۔\n\nشیفتہ، مطلع تھا،\n\nجلوہ دیکھا تری رعنائی کا\nکیا کلیجہ ہے تماشائی کا\n\nمجروح، سبحان اللہ۔ سبحان اللہ۔ کیا کلیجہ ہے تماشائی کا۔\n\nغالب، خوب کہا۔ دیکھنا شیفتہ شاگرد کے ہاں استاد سے بھی زیادہ تیکھاپن اور گھلاوٹ ہے۔ ذوق کا نام روشن کردیا داغ نے۔\n\nشیفتہ، جی اس میں کیا شک ہے۔ لیکن سچ پوچھیے۔ تو ہمارے خواجہ الطاف حسین حالی کی غزل سب سے اچھی تھی۔\n\nغالب، (تعجب سے ) ہاں بہت خوب۔ حالی، تم نے غزل پڑھی تھی۔\n\nحالی، جی نہیں۔\n\nشیفتہ، حضور بات یہ ہے کہ غزل انہوں نے کہی تھی پڑھی نہیں۔ میں سمجھا کے تھک رہا۔ مانے ہی نہیں۔ اور کیا عرض کروں۔ کیا غزل لکھی ہے۔\n\nغالب، بھئی حالی! میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ تم شعر نہ کہو گے تو طبیعت پر بڑا ظلم کروگے۔ اب شیفتہ نے بھی قریب قریب وہی بات دوسرے پیرائے میں بیان کی۔ ان کی بات تو شعر کے معاملے میں باون تولے پاؤ رتی سچ ہوا کرتی ہے۔ (ہنس کر) میری بات سن کر تم نے دل میں کہا ہوگا کہ بوڑھا سٹھیا گیا ہے۔ اب کیا کہتے ہو۔\n\nحالی، حضور یہ کیا ارشادفرماتے ہیں۔\n\nغالب، بھئی آخر پھر تم نے غزل کہی تو پڑھی کیوں نہیں۔\n\nحالی، حضور۔۔۔\n\nشیفتہ، میں عرض کرتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ حضور اصلاح دیں تو غزل پڑھتا ہوں۔\n\nمجروح، اور کہتے بھی ٹھیک ہیں۔\n\nشیفتہ، تو اور کیا۔\n\nغالب، (ہنس کر) تو یوں کہو کہ کھچڑی پکاکر آئے ہو تم اور حالی۔ (وقفہ) بھئی حالی سنو! بات یہ ہے کہ شعر کہنے کا جوہر فطری اور طبیعی ہوتا ہے جسے یہ نعمت مبداء فیاض کی طرف سے عطا ہوتی ہے اس کا سونا مشق سے خودبخود کسوٹی پر چڑھتا چلا جاتا ہے۔ باقی رہا اصلاح کا معاملہ۔ تو بھئی میں نے کسی سے اصلاح نہیں لی۔ میں تمہیں کیا اصلاح دوں گا۔\n\nشیفتہ، خیر، آج تو حضور، خواجہ صاحب اصلاح لیے بغیر نہ مانیں گے۔\n\nمجروح، نواب صاحب قبلہ۔ اب حضور اصلاح دینے سے بہت اجتناب کرنے لگے ہیں۔ آپ اصرار فرمائیں تو بات بنے گی، پچھلے دنوں ایک صاحب کا خط آیا کہ اب آپ میرے اشعار پر اصلاح کیوں نہیں دیتے۔ آپ نے بہ سبب ذوق سخن کے اشعار کی اصلاح منظور فرمائی تھی، اب کیا بات واقع ہوئی کہ آپ توجہ نہیں فرماتے۔ اب حضور ہی سے پوچھیے کہ حضور نے کیا جواب لکھا۔\n\nشیفتہ، کیا لکھا حضور نے جواب میں۔\n\nغالب، (ہنس کر) جل کر لکھا تھا۔ کہ لاحول و لا قوۃ کس ملعون نے بسبب ذوق شعر کے اصلاح اشعار منظور کی تھی۔ اگرمیں شعر سے بیزار نہ ہوں تو میرا خدا مجھ سے بیزار۔ میں نے تو یہ طریق قہر درویش برجان درویش لکھا تھا کہ جیسے اچھی جورو برے خاوند کے ساتھ مرنا بھرنا قبول کرتی ہے۔ میرا تمہارے ساتھ وہ معاملہ ہے۔\n\n(تینوں مل کر ہنستے ہیں)\n\nمجروح، اب آپ ہی فرمائیے نواب صاحب کہ اصلاح کے لیے کوئی غزل کیا پیش کرے۔\n\nغالب، ارے بھئی ہٹاؤ بھی اب یہ قصہ۔ ہاں حالی سناؤ اپنی غزل۔\n\nشیفتہ، (ہنس کر) ہائے کیا غزل کہی ہے حالی نے۔ حضور تقصیر معاف ہو۔ بھئی حالی اگر حضور اصلاح دینے کا وعدہ نہ فرمائیں تو غزل نہ سنانا۔\n\nحالی، بہت خوب پیرومرشد۔\n\nشیفتہ، (ہنس کر) خوب غزل لکھی ہے حالی نے۔\n\n(میر مہدی اور حالی مل کر ہنستے ہیں)\n\nغالب، تم تینوں جیتے اور میں ہارا۔ مجھ بوڑھے میں اب دم کہاں ہے کہ تم تینوں کا مقابلہ کروں۔ ہاں صاحب غزل سنوں گا اور جھک مار کے اصلاح بھی دوں گا۔ (تینوں ہنستے ہیں) لو اب سناؤ غزل حالی۔\n\nحالی، مصرع طرح پر گرہ لگا کے مطلع بنا دیا ہے۔\n\nرنج اور رنج بھی تنہائی کا\nوقت پہنچا مری رسوائی کا\n\nمجروح، واہ وا ماشاء اللہ۔ کیا گرہ لگائی ہے۔\n\nحالی، تسلیمات۔ (وقفہ)\n\nعمرشاید نہ کرے آج وفا\nسامنا ہے شب تنہائی کا\n\nغالب، ہائے کیا شعر کہا ہے حالی۔ ’’عمر شاید نہ کرے آج وفا‘‘ اور دوسرا مصرع یوں پڑھو، ’’کاٹنا ہے شبِ تنہائی کا۔‘‘\n\nشیفتہ، آہا ہا۔ کیا برجستہ اصلاح دی ہے۔ حضور نے کیا موزوں لفظ رکھا ہے ’’کاٹنا۔‘‘\n\nحالی، اپنے شعر کا صحیح مطلب بھی میری سمجھ میں اصلاح کے بعد ہی آیا ہے۔\n\nغالب، ہاں حالی پڑھو۔\n\nحالی،\nکچھ تو ہے قدر تماشائی کی\nہے جو یہ شوق خود آرائی کا\n\nیہی انجام تھا اے فصلِ خزاں\nگل و بلبل کی شناسائی کا\n\nمجروح، بہت خوب، بہت خوب!\n\nحالی، تسلیم۔\n\nغیر کے گھر بھی نہ جی سے اترا\nپوچھنا کیا تری رعنائی کا\n\nغالب، واہ۔ کیا رعنائی کا ثبوت دیا ہے۔ پہلے مصرعہ کو یوں پڑھو،\n\nبزمِ دشمن میں نہ جی سے اترا\nپوچھنا کیا تری رعنائی کا\n\nشیفتہ، خوب اصلاح دی حضور نے، غیر کا لفظ کچھ کمزور تھا۔ دشمن کے لفظ نے شعر میں جان ڈال دی۔ اور پھر بزم دشمن، اب ان کی رعنائی میں کس کافر کو شک ہوگا کہ دشمن کی بھری محفل میں خود محفلِ نظارہ بنے بیٹھے ہیں اور حالی کے جی سے نہیں اترتے۔\n\nحالی، تسلیم۔ مقطع عرض کرتا ہوں،\n\nہوں گے حالی سے بہت آوارہ\nدور ہے گھر ابھی رسوائی کا\n\nمجروح، اہا۔ ہا۔ کیا مقطع ہے۔ کیا تمنا ہے۔ در رسوائی تک پہنچنے کی۔\n\nغالب، خوب غزل کہی تم نے حالی۔\n\nحالی، سب آپ ہی کا فیض ہے۔\n\nغالب، اے میر مہدی مجھے زیادہ گنہگار نہ کر، اب تو میرے پاؤں نہ داب۔\n\nمجروح، بہت اچھا حضور۔ تو لائیے میری اجرت دلوائیے۔\n\nغالب، (ہنس کر) واہ۔ اجرت کیسی؟ تم نے میری پاؤں دابے۔ میں نے تماری اجرت دابی۔ حساب برابر ہوا۔ اجرت کا سوال کہاں ہے۔\n(تینوں ہنستے ہیں)\n\nغالب، کیوں بھئی شیفتہ۔ میرے دیوان کی طباعت کا انتظام ہو رہا ہے نا۔\n\nشیفتہ، جی ہاں ایک مطبع سے بات چیت شروع کی ہے۔ تصحیح میں خود کرلوں گا۔\n\nغالب، تصحیح تو خیر ہوجائے گی۔ تم نے اشعار کا انتخاب بھی کیا ہے یا نہیں۔\n\nشیفتہ، یہ حضور کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ حضور کا کلام تو سراپا انتخاب ہے۔ ہاں آپ کے ارشاد کے مطابق ان اشعار پر نشان لگارہا ہوں جو خاص طو رپر مجھے پسند ہیں۔\n\nغالب، سنا میر مہدی اور سن رہے ہو حالی۔ ہمارا کلام سراپا انتخاب ہے (ہنس کر) بھئی شیفتہ۔ اگر تمہارے خلوص پر اعتماد نہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ تم مجھے بناتے ہو۔\n\nشیفتہ، یہ کیا فرماتے ہیں آپ۔\n\nغالب، سنو حالی۔ اکیس برس کی عمر میں میں نے ایک اچھا خاصا دیوان مرتب کرلیا تھا۔ اور اس کے بعد اس میں کچھ اور رطب دیا بس ملا کے ایک نسخہ بھوپال بھیج دیا تھا۔ اب جو ان پرانی غزلوں کو پڑھتا ہوں تو خود ہنسی آتی ہے۔ سب مضامین خیالی۔ بے ہودہ جگر کاوی۔ بات یہ ہے کہ شروع میں بیدل کے کلام پر مرمٹا تھا۔ بڑی جگر کاوی اور عرق ریزی سے مضمون تلاش کرتا تھا اور ایسی دور کی کوڑی لاتا تھا کہ کبھی شعر کا مطلب آدھا، اور کبھی پورا خبط ہوجاتا تھا۔ اور ہمارے نواب مصطفے ٰ خاں کہتے ہیں کہ آپ کا کلام سراپا انتخاب ہے۔ اب تمہیں بتاؤ کہ ہماری اس بذلہ سنجی کا کیا جواب ہے۔ (حالی اور میر مہدی ہنستے ہیں)\n\nشیفتہ، حضور کے رنگ قدیم کے شعر بھی اچھے ہیں۔\n\nغالب، اچھے تو کیاہیں۔ ہاں یہ پتہ چلتا ہے کہ شاعر پرانے ڈھرے پر نہیں چلتا۔ (وقفہ) بیدل کے تتبع نے جہاں مجھے نقصان پہنچایا ہے وہاں فائدہ بھی خاصہ ہوا ہے۔ پیش پا افتادہ مضامین سے گریز، پامال خیالات سے اجتناب، مضمون کی جستجو میں جگر کاوی، الفاظ کی نشست میں عرق ریزی بیدل ہی کا فیضان ہے۔ اختراع تراکیب فارسی کاگر، اور استعارات و تشبیہات کی طرفگی کا سبق میں نے بیدل ہی سے سیکھا ہے۔\n\nشیفتہ، حضور کی بعض تشبیہات اور استعارات تو لاجواب ہیں۔ سنو حالی۔\n\nخوں در جگر نہفتہ بہ زردی رسیدہ ہوں\nخود آشیانِ طائر رنگ پریدہ ہوں\n\nدورانِ سر سے گردشِ ساغر ہے متصل\nخم خانۂ جنوں میں دماغِ رسیدہ ہوں\n\nمیں چشم واکشادہ و گلشن نظر فریب\nلیکن عبث کہ شبنم خورشید دیدہ ہوں\n\nسر پر مرے وبالِ ہزار آرزو رہا\nیارب میں کس غریب کا بختِ رسیدہ ہوں\n\nہوں گرمیِٔ نشاطِ تصور سے نغمہ سنج\nمیں عندلیب گلشنِ نا آفریدہ ہوں\n\nپانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد\nڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں\n\nحالی، سبحان اللہ۔ ایک سے ایک بڑھ کر تشبیہ ہے۔ ساری غزل مرصع ہے۔\n\nمجروح، ایسی ترکیبیں اور ایسے تشبیہات و استعارات کہ ایک دریائے معانی کو مختصر سے لفظوں کے کوزے میں بند کردیں اور کہاں ملیں گی۔\n\nغالب، (ہنس کر) عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو! تم تو کیوں بیان کروگے۔ مجھ سے خود اپنے ابتدائی دور کی بیہودگیاں سنو۔ دیکھو یہ شعر بھی میرے ہی ہیں۔\n\nجنوں گرم انتظار و نالہ بے تابی کمند آیا\nسویدا تا بہ لب زنجیر سے دود سپند آیا\n\nمہ واختر فشاں کی بہر استقبال آنکھوں سے\nتماشا کشور آئینہ میں آئینہ بند آیا\n\nعدم ہے خیر خواہِ جلوہ کو زندانِ بیتابی\nخرام ناز، برقِ خرمنِ سعی پسند آیا\n\n(ہنس کر) کیوں جی ہمارا کلام سراپا انتخاب ہے نا؟\n(تینوں ہنستے ہیں۔ قدموں کی چاپ)\n\nکلو، حضور بیگم صاحبہ! زنان خانے میں تشریف لے جانا چاہتی ہیں۔ مکان دیکھ کر واپس تشریف لائی ہیں۔\n\nغالب، اچھا لیجیے۔ آپ سب صاحب ذرا اس ساتھ والے کمرے میں ہوجائیں۔\n\n(قدموں کی چاپ۔ وقفہ)\n\n(قدموں کی چاپ۔ غالب قہقہہ لگاتا ہے )\n\nغالب، بھئی لطیفہ ہوگیا۔ اس وقت تو (پھر ہنستا ہے )\n\nشیفتہ، ارشاد۔ ارشاد۔\n\nغالب، بھئی بات یہ ہے کہ برسات میں اس مکان میں بہت تکلیف ہوتی ہے۔ خدا کا قہر ہے۔ مینہ گھڑی بھر بَر سے تو چھت گھنٹہ بھر برستی ہے۔ آخر بیگم نے تقاضا کیا کہ مکان بدلو۔ میں مری۔ میں دلی! آج نیا مکان دیکھنے گئی تھیں۔ اب جو واپس آئیں تو میں نے پوچھا کہ مکان پسند آیا تو فرمایا کہ مکان تو اچھا ہے۔ لیکن لوگ اس میں بلا بتاتے ہیں۔ یہ سن کر میں نے کہا کہ دنیا میں آپ سے بڑھ کر بھی کوئی بلا ہے!\n(چاروں ہنستے ہیں)\n\nغالب، ہاں بھئی حالی اگر بیدل کا رنگ مجھ پر چھایا رہتا تو اردو میں طرزِ بیدل نہ نبھتی۔ بس یوں سمجھ لو کہ بیہودہ گوہوکر رہ جاتا۔ وہ تو یوں کہو کہ مبدائے فیاض نے مجھے گمراہ نہ ہونے دیا۔ میر کی سادگی نے چشم نمائی کی۔ سہل ممتنع کلام نے مجھے متنبہ کیا۔ رفتہ رفتہ میں سیدھے ڈھرے پر آگیا۔ شیفتہ کی صحبت نے میرے جوہر کو اور بھی چمکادیا۔ اب دیکھ لو غزل کا کیا رنگ ہے۔\n\nشیفتہ، یہ تو حضور کی ذرہ نوازی ہے۔ (ہنس کر) پرسوں لطیفہ ہوا۔ میرے مکان پر احباب جمع تھے۔ کہ کوئی صاحب ہیں افسوس تخلص فرماتے ہیں، وہ تشریف لے آئے۔ آپ کا ذکر آگیا۔ تو انہوں نے آپ کی غزل امید بر نہیں آتی، نظر نہیں آتی کے کچھ شعر پڑھے۔ اور پھر جب یہ شعر پڑھا، آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی، اب کسی بات پر نہیں آتی، تو فرمایا کہ اس شعر میں کیا بات ہے۔ پامال مضمون ہے۔ اور طرزادا میں بھی کوئی جدت نہیں۔ تعجب ہے کہ مرزا نوشہ نے ایسا شعر کہا، میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ شعر ان کا ہے ہی نہیں۔\n\nغالب، (ہنس کر) سخن فہمی عالمِ بالا معلوم شد، پھر۔\n\nشیفتہ، میں نے متانت سے کہا کہ قبلہ۔ شعر تو یہ مرزا نوشہ ہی کا ہے لیکن معاف کیجیے گا، آپ شعر کاحلیہ بگاڑ کے اس طرح پڑھتے ہیں کہ مرزا نوشہ کا شعر نہیں رہتا۔\n\nغالب، بہت خوب۔\n\nشیفتہ، پھر میں نے شعر پڑھ کے سنادیا اور مزے کی بات یہ ہے کہ شعر کامطلب پھر بھی نہ سمجھے۔ پھر جو احباب نے کھول کے مطلب سمجھایا تو بہت جھینپے اور فوراً اٹھ کر چل دیے۔\n\nمجروح، ذرا پڑھیے گا تو شعر نواب صاحب قبلہ! کس طرح شعر پڑھنے سے مطلب صاف ہوناچاہیے۔\n\nشیفتہ، سنیے، آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی۔ اب کسی بات پر نہیں آتی (بات پر زور دے کر پڑھا جائے )\n\nحالی، واہ۔ نواب صاحب کیا پہلو بدلا ہے شعر کے مضمون نے۔ مطلب یہ ہوا کہ دیوانگی کا سا عالم تو پہلے بھی تھا کہ اپنے دل کے حال پر خود ہی ہنس لیا کرتے تھے۔ یہاں تک تو خیریت لیکن اب تو یہ عالم ہے کہ ہنسی کسی بات پر نہیں آتی۔ بے وجہ بھی ہنس دیتے ہیں۔\n\nمجروح، واہ۔ خواجہ صاحب آپ نے خوب مطلب سمجھا شعر کا۔\n\n(دور سے ایک مردانہ آواز۔ جس میں رس اور سوز ہے۔ سنائی دیتی ہے، یہ گاتی ہوئی، ’’مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے۔‘‘ آواز قریب آجاتی ہے۔ )\n\nغالب، ذرا سنّا شیفتہ۔\n\nشیفتہ، جی سن رہا ہوں۔\n\nغالب، یہ ایک درویش صفت آدمی ہے۔ جسے میرے بہت سے شعر یاد ہیں۔ پچھلے دنوں اس نے میری غزل گاکر سنائی تھی۔ ع دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے۔\n\nشیفتہ، تو دیوان خانے میں بلالیں۔\n\nغالب، نہیں آئے گا۔ اور لطف یہ ہے کہ کچھ لیتا بھی نہیں۔ پچھلی بار میں نے کچھ دینا چاہا تو خفا ہوگیا۔ بس چپ چاپ بیٹھے سنا کرو۔ غزل گائے گا اور چلا جائے گا۔\n(اب آواز صاف آتی ہے اور یہ غزل گائی جاتی ہے )\n\nمدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے\nجوشِ قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے\n\nپھر چاہتا ہوں نامۂ دلدار کھولنا\nجاں نذر دلفریبی عنواں کیے ہوئے\n\nمانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوس\nزلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے\n\nچاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو\nسرمے سے تیز د شنہ مژگاں کیے ہوئے\n\nاک نوبہارِ ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ\nچہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے\n\nجی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن\nبیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے\n\nغالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے\nبیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفاں کیے ہوئے\n\n(آخری شعر کے ساتھ آواز دور ہوتی چلی جاتی ہے، غزل کے گانے کے دوران میں شیفتہ، مجروح اور حالی موقع بہ موقع داد دیتے ہیں۔ )\n\nشیفتہ، کیا مرصع غزل ہے یہ حضور کی۔ ہر شعر لاجواب ہے۔ (ہنس کر) ’’ہر چہ از دل خیزد بردل ریزد‘‘ والا معاملہ ہے۔\n\nغالب، تم بھی کیا باتیں لے بیٹھے شیفتہ، بڑھاپے میں ہمیں یہ تذکرے ناپسند ہیں۔\n(وقفہ)\n\nلو میں ابھی آیا۔\n(قدموں کی چاپ)\n\nشیفتہ، (سرگوشی میں لیکن اس طرح کہ آواز صاف سنائی دے) میر مہدی یہ غزل سن کر مرزا نوشہ کی نظروں میں اگلے وقتوں کی تصویر پھر گئی۔ اس واقعہ کی کسک اب تک ان کے دل سے گئی نہیں۔\n\nمجروح، (اسی طرح سرگوشی میں کہ آواز صاف سنائی دے) آپ کی مراد ہے کہ یہ اسی کا ذکر ہے، جس نے (آواز صاف سنائی نہیں دیتی صرف کھسر پسر کی آواز آتی ہے۔)\n\nشیفتہ، (سرگوشی میں) ارے ایک قتالۂ عالم تھی وہ! آفت کا ٹکڑا۔ ہئی ہئی وہ حسن وہ راگ داری اور پھر مرزا نوشہ نے۔ (آواز سنائی نہیں دیتی، کھسر پھسر ی آوازآتی ہے۔)\n\nمجروح، اس کے مرنے کا بڑا صدمہ ہوا تھا ان کو۔ میں نے دیکھا تھا۔۔۔ (آواز سنائی نہیں دیتی)\n\nشیفتہ، اور اس کا مرثیہ بھی کیسا دردناک لکھا ہے۔ مرزا نوشہ نے۔\n\nکس طرح کاٹے کوئی شب ہائے تارِ برشگال\nہے نظر خو کردۂ اختر شماری ہائے ہائے\n\nگوش مہجورِ پیام و چشم محروم جمال\nایک دل تس پہ یہ نا امیدواری ہائے ہائے\n\nمجروح، اور مقطع تو ملاحظہ ہو۔\n\nگر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتے اسد\nمیری دہلی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے\n\nشیفتہ، (ہنس کر) جو دیوان چھپنے کے لیے جارہا ہے۔ اس میں مقطع کو یوں بدل دیا ہے،\n\nعشق نے پکڑا نہ تھا غالب ابھی الفت کا رنگ\nرہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوق خواری ہائے ہائے\n(قدموں کی چاپ)\n\nغالب، ہاں بھئی شیفتہ۔\n\nکلو، حضور مطبع ثمر ہند سے، ایک آدمی آیا ہے۔ کہتا ہے دیوانِ سخن دہلوی پر جو کچھ آپ کو لکھنا تھا وہ لکھ لیا ہو، تو عنایت فرمادیجیے۔\n\nغالب، بھئی اس سے کہہ دو کہ شام تک وہ کاغذ پہنچ جائے گا۔\n\nکلو، بہتر حضور۔\n\nشیفتہ، سخن دہلوی اپنا کلام چھپوا رہے ہیں۔ اور آپ تقریظ لکھ رہے ہیں۔\n\nغالب، ہاں بھئی شیفتہ، میں نے تو بہتیرا اسے سمجھایا کہ بھائی مجھ سے تقریظ نہ لکھواؤ۔ ایک تو میں جو کچھ لکھ کے دیتا ہوں، لوگ اس سے خوش نہیں ہوتے، دوسرے میری تقریظ اور تعریف، کسی کو راس نہیں آتی۔ لیکن وہ مانتا ہی نہیں۔\n\nشیفتہ، جی ہاں لوگ یہ شکایت تو کرتے ہیں کہ آپ مصنف کی ستایش میں مضائقہ کرتے ہیں اور تقریظ میں ادھر ادھر کی باتیں لکھ کر ٹال دیتے ہیں۔\n\nغالب، سچ ہے شیفتہ، کہ مجھے ہندوستانی فارسی لکھنے والوں کی روش نہیں آتی، کہ بالکل بھاٹوں کی طرح بکنا شروع کردوں، میرے قصیدے اٹھاکر دیکھ لو، تشبیب کے شعر بیشتر، اور مدح کے کمتر پاؤگے!\n\nمجروح، تو حضور نے اس تقریظ میں کیا لکھا ہے۔\n\nغالب، کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہیں، تعریف میں تو یہ دو فقرے ہیں کہ ’’اس سحر کار جادو نگار نے پریزادانِ معانی کو الفاظ کے شیشوں میں اس طرح اتار اہے، جیسے آبگینۂ مے سے رنگ مے نظر آئے۔ لفظ سے جلوۂ معنی آشکارا ہے! چشم بدور آغاز جوانی اور نو بہار باغ زندگانی ہے، عمر کے لیے دفتر قضا و قدر میں حکمِ دوام لکھا گیا ہے۔‘‘\n\nمجروح، سبحان اللہ۔ کیا موتی پروئے ہیں۔ حضور تو مجمع البحرین ہیں۔ نظم چشمِ بدور۔ نثر نورٌ علی نور۔\n\nحالی، حضرت سخن کے اشعار حضور کو یاد ہوں تو سنائیے۔\n\nغالب، میرے حافظے کا حال تو تم جاتنے ہی ہو۔ شعر کس ملعون کو یاد رہتا ہے۔\n\nشیفتہ، ایک آدھ شعر شاید یاد آجائے۔\n\nغالب، ہوں (وقفہ) خوب یاد آیا۔ ایک تازہ غزل کے کچھ شعر آج ایک پرزے پر لکھ کر دے گیا تھا۔ وہ شاید یہیں کہیں پڑا ہوگا، پرزہ (وقفہ) یہ رہا۔ سنو بھئی شیفتہ۔\n\nملے نہ درد بھی ساقی شراب کے بدلے\nجلے نہ کیونکر مرا دل کباب کے بدلے\n\nمجروح، خوب بہت خوب۔\n\nغالب، نہیں بھئی۔ مطلع معمولی ہے، جبھی شیفتہ چپ رہے، اب دوشعراور سنو،\n\nشبیہ یار کو بدلوں شبیہ یوسف سے\nورق غلام کا لوں آفتاب کے بدلے\n\nسنبھالا ہوش تو مرنے لگے حسینوں پر\nہمیں تو موت ہی آئی شباب کے بدلے\n\nشیفتہ، سبحان اللہ۔ موت کا لفظ کیا ذومعنی رکھا ہے! اچھا شعر کہا ہے۔\n\nغالب، خواجہ الطاف حسین صاحب!\n\nحالی، جی ارشاد۔\n\nغالب، اب آپ کانوں میں انگلیاں دے لیں ذرا۔\n\nمجروح، (ہنس کر) وہ کیوں؟\n\nغالب، اے میر مہدی یہ ٹھیرے مولوی۔ مجھے شعر پڑھنا ہیں شراب کی تعریف میں، جو یہ بگڑگئے تو!\n\nحالی، آپ یوں مجھے شرمسار کرتے ہیں حضور!\n\nغالب، تو سنو بھئی۔\n\nوہ بادہ کش ہوں کہ غفلت ہوئی تو ساقی نے\nدیا شراب کا چھینٹا گلاب کے بدلے\n\nشیفتہ، سبحان اللہ! شاگرد کا شعر سن کر استاد کا ایک شعر یاد آگیا۔\n\nغالب، یعنی میرا۔\n\nشیفتہ، جی ہاں،\n\nآسودہ باد خاطرِ غالب کہ خوئے اوست\nآمیختن بہ بادۂ صافی گلاب را\n\nواہ واہ۔ رندی کے مضامین باندھنا خاص حضور کا حصہ ہے۔ ہائے!\n\nپھر دیکھیے اندازِ گل افشائی گفتار\nرکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے\n\nشیفتہ، اور وہ شعر،\n\nجانفزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آگیا\nسب لکیریں ہاتھ کی گویا رگِ جاں ہوگئیں\n\nغالب، ( ہنس کر) بھئی مجھے تو اپنا یہ شعر پسند ہے،\n\nکل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں\nیہ سوئے ظن ہے ساقیٔ کوثر کے باب میں\n\nحالی، خوب، حضور نے کیا حیلۂ شرعی نکالا ہے۔\n(تینوں ہنستے ہیں)\n\nغالب، سنا بھئی شیفتہ، نہیں چوکے نا مولوی حالی! داد بھی فقہیوں اور مولویوں کی اصلاح میں دی۔\n\nشیفتہ، یہ سب آپ کا فیض ہے (وقفہ) اب اجازت مرحمت ہو۔ آج واپس جانے کا ارادہ ہے۔\n\nحالی، مجھے بھی اجازت مرحمت ہو۔\n\nغالب، بھئی جی تو نہیں چاہتا کہ تم دونوں چلے جاؤ۔ لیکن اب مجبوری ہے، ہاں بھئی اب دیوان کی طباعت کا کام تمہارے ذمے ہے۔\n\nشیفتہ، آپ اطمینان رکھیں، میں خود تصحیح کرلوں گا۔ اچھا تسلیمات۔\n\nحالی، خدا حافظ\n\nغالب، فی امان اللہ۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84"} {"title": "غالبؔ", "poet_page": "مصنف:چندر بھان کیفی دہلوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "غالبؔ تیرا کلام نوائے سروش ہے\nالہام غیب و نغمۂ ساز خموش ہے\n\nایسا بھرا ہوا ہے غزل میں سنگار رس\nاک جنت سماع ہے فردوس گوش ہے\n\nآساں نہیں جمال معانی کا دیکھنا\nہر شاہد خیال ترا پردہ پوش ہے\n\nجو بات ہے وہ شوخئ گلدستۂ چمن\nجو لفظ ہے بہار کف گل فروش ہے\n\nموج رواں ہیں مصرعہ بے ساختہ ترے\nبحر سخن میں بحر محبت کا جوش ہے\n\nان موتیوں کی قدر ہے شاہوں کے تاج میں\nپرکھے نظر سے ان کو جو گوہر فروش ہے\n\nکیف سخن سے مست ہوں تیری غزل سنیں\nاس بزم میں جنہیں ہوس ناؤ نوش ہے\n\nتو نے چمن چمن میں شگوفے کھلا دیے\nفطرت ترے کلام کی گلشن بہ دوش ہے\n\nافسوں طرازیاں تری منہ کی لتی رہیں\nگل کی زبان بند ہے غنچہ خموش ہے\n\nبالا تیرا مقام دنیائے شعر میں\nعرفیؔ بھی ایک بندۂ حلقہ بگوش ہے\n\nدنیا ترے خیال میں ہے چشمۂ سراب\nرنگینئ نشاط و طرب خواب دوش ہے\n\nتیری نظر میں شاہد و مشہود ایک ہیں\nدنیائے بیخودی تجھے دنیائے ہوش ہے\n\nدانہ تری نگاہ میں تھا خرمن مراد\nتجھ کو خبر تھی قطرے میں دریا کا جوش ہے\n\nدیر و حرم پہ بھی نہیں یہ راز منکشف\nحرف ازل ہے کون جو معنیٰ فروش ہے\n\nافسردہ داغ سے ہے ترے محفل ادب\nنے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے\n\nکتنی ترے مزار پہ چھائی ہے بیکسی\nاک شمع اشک ریز تھی وہ بھی خموش ہے\n\nچھلکی جو تھی کبھی ترے رنگیں ایاغ سے\nکیفیؔ اسی شراب کا اک جرعہ نوش ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%94"} {"title": "غبار خاطر ناشاد ہوں میں", "poet_page": "مصنف:فروغ حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غبار خاطر ناشاد ہوں میں\nکہ مٹنے کے لئے آباد ہوں میں\n\nجفا و جور سے بھی شاد ہوں میں\nحریص لذت بیداد ہوں میں\n\nلب معجز نما سے زندگی ہے\nخراج ناز سے برباد ہوں میں\n\nبڑی مشکل میں کی امداد میری\nفدائے بازوئے جلاد ہوں میں\n\nنہ کر پامال گردش ہائے افلاک\nکسی بھولے ہوئے کی یاد ہوں میں\n\nتمنا وصل کی تو اور شے ہے\nتمہارے ہجر سے بھی شاد ہوں میں\n\nتمہارے ناوک مژگاں کے ہوتے\nرہین نشتر فصاد ہوں میں\n\nمجھی پر آنکھ رہتی ہے عدو کی\nفروغؔ اب دیدۂ حساد ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "غبار دل میں بھرا کرکری سلام علیک", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غبار دل میں بھرا کرکری سلام علیک\nہے کس کے کام کی یہ ظاہری سلام علیک\n\nکریں نہ سیدھی نگہ دوسری سلام علیک\nہے اب کے یاروں کی یہ جھرجھری سلام علیک\n\nتلون ایسا ان ابنائے روزگار میں ہے\nکہ صبح ملیے تو ہے چرپری سلام علیک\n\nمبادا بات میں بوئے طمع اگر پاویں\nپھر ان کی آنکھوں سے تیری گری سلام علیک\n\nجو شام دیکھو تو پھر ان تلوں میں تیل نہیں\nچرائی آنکھیں ہیں بھویں پھری سلام علیک\n\nبقول شاعر بنگالہ اظفریؔ یوں رہ\n\"کہ کھانا گانٹھ کا ان سے نری سلام علیک\"", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DA%A9%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DA%A9"} {"title": "غدر کی تصویر", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اللہ اللہ! زمانہ کے نشیب و فراز میں کتنے پر حسرت نظارے ہیں۔ یہی دہلی جو اپنی گود میں ہزاروں ارمان بھرے دلوں کا خون بہتا دیکھ چکی ہے، رہ رہ کے پلٹے کھاتی اور رنگ دکھاتی ہے۔ ایک دن وہ تھا کہ بابر کی تلوار نے ابراہیم لودھی کا خون دہلی کے ریگستان کو پلایا اور اس کے اہل و عیال کو حسرت و یاس کی مجسم تصویر بنا ہوا سامنے دست بستہ کھڑا دیکھا یا ایک دن ایسا آیا کہ اسی کی اولاد اپنے اعمال کی بدولت ان بیکسوں کا نمونہ بنی۔\n\nآہ! دہلی دربار کی نمائش گاہ میں داخل ہوتے ہی ایک تصویر پر نظر پڑی، جس میں بزم تیموری کی گل ہونے والی شمع ابو ظفر بہادر شاہ مقبرہ ہمایوں میں میجر ہارسن کے ہاتھوں گرفتار کیے جا رہے ہیں۔ پشت پر ہمایوں کا مقبرہ نظر آتا ہے، جس پر کچھ عجیب دلگیر افسردگی چھائی ہوئی ہے۔ بہادر شاہ عبا پہنے ہوئے کھڑے ہیں۔ ہاتھ میں عصا ہے۔ چہرہ پر غم و الم میں ڈوبا ہوا بڑھا پے کا رنگ اور متحملا نہ یاس کا عالم ہے۔ میجر ہارسن سرخ و ردی پہنے بادشاہ کا دامن پکڑ کر کھڑے ہیں اور ان کے دو ہمراہی بادشاہ کی پشت پر نظر آتے ہیں۔ میجر ہارسن کی اس بیباکانہ جرأت پر بہادر شاہ کا ایک بوڑھا جاں نثار تلوار سوت کر لپکتا ہے۔ ہاتھ میں ڈھال ہے مگر بشرہ نڈھال۔ قریب پہنچتے پہنچتے برابر والا سولجر پستول سامنے کر کے اس کا بڑھا ہوا حوصلہ پست اور جوش انتقام سرد کر دیتا ہے۔\n\nافسوس ہے کہ دنیا کے اس مصیبت خیز انجام پر بھی لوگوں کو اس کی ہوس باقی ہے۔ چلتے وقت ’’دیوان ِ حافظ‘‘ کا دم بخود کھلا ہوا ایک ورق نظر پڑا، جس کی پہلی سطر تھی،\n\nآخر نظر بسوئے ما کن\nاے دولت و حسرت عام\n\nیہ پڑھتا ہوا باہر آیا اور اس مرقع کو مخاطب کر کے اس شعر کو دہرایا۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1"} {"title": "غربت و وطن", "poet_page": "مصنف:سجاد حیدر یلدرم", "kind": "poetry", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "غزل\n\nبنے ہیں ہونٹ مرے نالہ و فغاں کے لیے\nہے سینہ وقف مرا سوزش نہاں کے لیے\n\nکوئی زمانہ کا شاکی، کوئی فلک کا ہے\nہمارے سارے گلے اپنے مہرباں کے لیے\n\nہلاک کرکے رہے گا، مجھے تغافل دوست\nہے اک نگاہ کا اغماض نیم جاں کے لیے\n\nڈھونڈ، ڈھونڈ کے سب مجھ پہ مشق اے احباب\nرہے نہ طرز ستم کوئی آسماں کے لیے\n\nہوئے جو طعنہ اعدا کبھی ذرا کو بند\nزباں سے کام اعزا نے خود سناں کے لیے\n\nگڑک چمک تو نہ اے برق اس سے کیا حاصل\nشرارہ ایک تھا کافی اس آشیاں کے لیے\n\nمرا جو حصہ ہے، وہ مجھ کو اے مصیبت دے\nہوا کرے ہے اگر عیش کل جہاں کے لیے\n\nچمن میں بلبل مہجور کی نہیں کچھ یاد\nتڑپ رہی ہے قفس میں وہ بوستاں کے لئے\n\nبھلا دے یاد وطن جب میں جانوں اے غربت\nوطن کا عشق ہے اک روگ میری جاں کے لئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B1%D8%A8%D8%AA_%D9%88_%D9%88%D8%B7%D9%86"} {"title": "غربت کے رنج فاقہ کشی کے ملال کھینچ", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غربت کے رنج فاقہ کشی کے ملال کھینچ\nاے داغؔ پر زمانے سے دست سوال کھینچ\n\nنازک بہت ہے رشتہ الفت نہ ٹوٹ جائے\nاتنا نہ اپنے آپ کو اے مہ جمال کھینچ\n\nہو جائے تو نہ طائر دل کی طرح اسیر\nصیاد اپنی سمت کو آہستہ جال کھینچ\n\nکھینچی تھی جب مصور قدرت نے دل کی شکل\nکہتا یہ کون تو نہ اسے بے خیال کھینچ\n\nوہ ٹھنڈے ٹھنڈے چین سے گھر کو چلے گئے\nلے اور آہ سرد دل پر ملال کھینچ\n\nناصح قمار گاہ محبت میں جی نہ ہار\nدل کو لگا کے نفع اٹھا خوب مال کھینچ\n\nاے داغؔ جذب عشق کی دیکھیں گے اب کشش\nکی اس کشیدہ رو نے تو ہم سے کمال کھینچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B1%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%81%D8%A7%D9%82%DB%81_%DA%A9%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86"} {"title": "غرض رہبر سے کیا مجھ کو گلہ ہے جذب کامل سے", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غرض رہبر سے کیا مجھ کو گلہ ہے جذب کامل سے\nکہ جتنا بڑھ رہا ہوں ہٹ رہا ہوں دور منزل سے\n\nسکوت بے محل تقریر بے موقع کی تہمت کیوں\nاٹھانا ہو تو یوں ہم کو اٹھا دو اپنی محفل سے\n\nیہ ارمان ترقی آج ہے دعویٰ خدائی کا\nاسی دل کا جو کل تک تھا لہو کی بوند مشکل سے\n\nگل و لالہ پہ آخر کر رہا ہے غور کیا گلچیں\nیہ وہ خوں ہے جو ٹپکا تھا کبھی چشم عنادل سے\n\nشب مہتاب دریا کا کنارہ اور یہ سناٹا\nتمہیں اس ساز پر ہم خوش کریں گے نغمۂ دل سے\n\nغضب ہے جل کے پروانوں کا ان کی بزم میں کہنا\nرواںؔ یا یوں فدا ہو جاؤ یا اٹھ جاؤ محفل سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%D8%B1%DB%81%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%D9%84%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B0%D8%A8_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%84_%D8%B3%DB%92"} {"title": "غرق نہ کر دکھلا کر دل کو کان کا بالا زلف کا حلقہ", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غرق نہ کر دکھلا کر دل کو کان کا بالا زلف کا حلقہ\nبحر حسن کے ہیں یہ بھنور دو کان کا بالا زلف کا حلقہ\n\nہالۂ مہ پہنچے ہے نہ اس کو نے خط ساغر اس کو لگے ہے\nآئینہ تم لے کر دیکھو کان کا بالا زلف کا حلقہ\n\nآہوئے دل اور طائر جاں کے حق میں یہ دونوں پھندے ہیں\nہم کو دکھا کر تم نہ چھپاؤ کان کا بالا زلف کا حلقہ\n\nآج سوائے شانے کے یاں کس کا منہ ہے کون ہے ایسا\nچھوڑے تمہارے چہرے پر جو کان کا بالا زلف کا حلقہ\n\nدونوں تیرے عارض پر دن رات ملے یہ رہتے ہیں\nعینک مہر و ماہ نہ کیوں ہو کان کا بالا زلف کا حلقہ\n\nطیش زنی میں یہ عقرب ہے کالا ہے وہ کنڈلی مارے\nحضرت دل باز آؤ نہ چھیڑو کان کا بالا زلف کا حلقہ\n\nکس کو حصار حسن کہوں میں کس کو خط پرکار کہے دل\nمنہ سے الٹ برقع کو دکھا دو کان کا بالا زلف کا حلقہ\n\nیہ ترے رخ کے بوسے لیں اور ترسیں مری آنکھیں اے وائے\nدیکھ کے کیوں رشک آئے نہ مجھ کو کان کا بالا زلف کا حلقہ\n\nآج زلیخا گر یہاں ہوتی دام کمند و چاہ میں پھنستی\nدیکھ مرے یوسف کا عزیزو کان کا بالا زلف کا حلقہ\n\nکیونکہ نصیرؔ ارباب سخن تحسیں نہ کریں سن کر یہ غزل\nجبکہ تم اس صورت سے باندھو کان کا بالا زلف کا حلقہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B1%D9%82_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D9%84%D9%82%DB%81"} {"title": "غرور الفت کی طرز نازش عجب کرشمے دکھا رہی ہے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غرور الفت کی طرز نازش عجب کرشمے دکھا رہی ہے\nہماری روٹھی ہوئی نظر کو تری تجلی منا رہی ہے\n\nوہ طور والی تری تجلی غضب کی گرمی دکھا رہی ہے\nوہاں تو پتھر جلا دیے تھے یہاں کلیجہ جلا رہی ہے\n\nمرے نشیمن میں شان قدرت کے سارے اسباب ہیں مہیا\nہوا صفائی پہ ہے مقرر چراغ بجلی جلا رہی ہے\n\nنہ اس کے دامن سے میں ہی الجھا نہ میرے دامن سے یہ ہی اٹکی\nہوا سے میرا بگاڑ کیا ہے جو شمع تربت بجھا رہی ہے\n\nفرشتے آئے اگر لحد میں تو صاف کہہ دوں گا راستہ لو\nجب اس کی چاہت میں جان دے دی تو بات کہنے کو کیا رہی ہے\n\nجمال قدرت مجھی کو دے دے کہ میں کلیجے کی چوٹ سیکوں\nکلیم کے گھر میں رکھے رکھے وہ آگ اب کیا بنا رہی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%B2_%D9%86%D8%A7%D8%B2%D8%B4_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%D8%B1%D8%B4%D9%85%DB%92_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "غرور ضبط سے آہ و فغاں تک بات آ پہنچی", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غرور ضبط سے آہ و فغاں تک بات آ پہنچی\nہوس نے کیا کیا دل سے زباں تک بات آ پہنچی\n\nسکون دل سے ناقوس و اذاں تک بات آ پہنچی\nخدا والوں کی ہمت سے کہاں تک بات آ پہنچی\n\nخلافت سے جبین و آستاں تک بات آ پہنچی\nخدا اور ابن آدم میں یہاں تک بات آ پہنچی\n\nملی تھی آنکھ اور آہ و فغاں تک بات آ پہنچی\nذرا سی بات تھی لیکن یہاں تک بات آ پہنچی\n\nہماری داستاں میں ذکر قیس و کوہ کن آیا\nوہاں سے پھر ہماری داستاں تک بات آ پہنچی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D8%B6%D8%A8%D8%B7_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%DB%81_%D9%88_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%A2_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%8C"} {"title": "غرۂ شوال یا ہلال عید", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "غرّۂ شوّال! اے نُورِ نگاہِ روزہ‌دار\nآ کہ تھے تیرے لیے مسلم سراپا انتظار\nتیری پیشانی پہ تحریرِ پیامِ عید ہے\nشام تیری کیا ہے، صُبحِ عیش کی تمہید ہے\nسرگزشتِ ملّتِ بیضا کا تُو آئینہ ہے\nاے مہِ نو! ہم کو تجھ سے اُلفتِ دیرینہ ہے\nجس علَم کے سائے میں تیغ آزما ہوتے تھے ہم\nدُشمنوں کے خُون سے رنگیں قبا ہوتے تھے ہم\nتیری قسمت میں ہم آغوشی اُسی رایت کی ہے\nحُسنِ روز افزوں سے تیرے آبرو ملّت کی ہے\nآشنا پرور ہے قوم اپنی، وفا آئِیں ترا\nہے محبّت خیز یہ پیراہنِ سیمیں ترا\nاَوجِ گردُوں سے ذرا دنیا کی بستی دیکھ لے\nاپنی رفعت سے ہمارے گھر کی پستی دیکھ لے!\n\nقافلے دیکھ اور اُن کی برق رفتاری بھی دیکھ\nرہروِ درماندہ کی منزل سے بیزاری بھی دیکھ\nدیکھ کر تجھ کو اُفُق پر ہم لُٹاتے تھے گُہر\nاے تہی ساغر! ہماری آج ناداری بھی دیکھ\nفرقہ آرائی کی زنجیروں میں ہیں مسلم اسیر\nاپنی آزادی بھی دیکھ، ان کی گرفتاری بھی دیکھ\nدیکھ مسجد میں شکستِ رشتۂ تسبیحِ شیخ\nبُت کدے میں برہمن کی پختہ زُنّاری بھی دیکھ\nکافروں کی مسلم آئینی کا بھی نظّارہ کر\nاور اپنے مسلموں کی مسلم آزاری بھی دیکھ\nبارشِ سنگِ حوادث کا تماشائی بھی ہو\nاُمّتِ مرحوم کی آئینہ دیواری بھی دیکھ\nہاں، تملُّق پیشگی دیکھ آبُرو والوں کی تُو\nاور جو بے آبُرو تھے، اُن کی خود داری بھی دیکھ\nجس کو ہم نے آشنا لُطفِ تکلّم سے کِیا\nاُس حریفِ بے زباں کی گرم گُفتاری بھی دیکھ\nسازِ عشرت کی صدا مغرب کے ایوانوں میں سُن\nاور ایراں میں ذرا ماتم کی تیّاری بھی دیکھ\nچاک کر دی تُرکِ ناداں نے خلافت کی قبا\nسادگی مسلم کی دیکھ، اَوروں کی عیّاری بھی دیکھ\nصُورتِ آئینہ سب کچھ دیکھ اور خاموش رہ\nشورشِ امروز میں محوِ سرودِ دوش رہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B1%DB%82_%D8%B4%D9%88%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%84%D8%A7%D9%84_%D8%B9%DB%8C%D8%AF"} {"title": "غریب آدمی کو ٹھاٹ پادشاہی کا", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "غریب آدمی کو ٹھاٹ پادشاہی کا\nیہ پیش خیمہ ہے ظالم تری تباہی کا\n\nخدنگ آہ کو روکے رہا ہوں فرقت میں\nخیال ہے مجھے افلاک کی تباہی کا\n\nامید کیسے ہو محشر میں سرخ روئی کی\nہمیشہ کام کیا ہو جو رو سیاہی کا\n\nسلام تک نہیں لیتے کلام تو کیسا\nفقیری میں بھی تبختر ہے بادشاہی کا\n\nشکست و فتح کا ذمہ نہیں دل ناداں\nلڑے ہزار میں یہ کام ہے سپاہی کا\n\nخضاب کرتے ہیں دنیا سے جب گئے گزرے\nشگون کرتے ہیں پیری میں رو سیاہی کا\n\nنہ آسماں کی عنایت نہ مہرباں وہ شوخ\nنہ پوچھو حال غریبوں کی بے پناہی کا\n\nسفید بالوں پہ کس واسطے خضاب لگائیں\nگیا زمانہ جوانی میں رو سیاہی کا\n\nخطائیں ہو گئیں معدوم حج سے اے پرویںؔ\nگواہ خود ہے خدا میری بے گناہی کا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%B9_%D9%BE%D8%A7%D8%AF%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "غریب ہم ہیں غریبوں کی بھی خوشی ہو جائے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غریب ہم ہیں غریبوں کی بھی خوشی ہو جائے\nنظر حضور ادھر بھی کبھی کبھی ہو جائے\n\nغرور بھی جو کروں میں تو عاجزی ہو جائے\nخودی میں لطف وہ آئے کہ بے خودی ہو جائے\n\nغم فراق کی سختی وصال سے بدلے\nجو موت آئے مجھے میری زندگی ہو جائے\n\nمری شراب کی کیا قدر تجھ کو اے واعظ\nجسے میں پی کے دعا دوں وہ جنتی ہو جائے\n\nمیں اس نگاہ کے صدقے یہ ہو اثر جس میں\nکہ دل میں درد بھی اٹھے تو گدگدی ہو جائے\n\nستم بھی ہو تو ستم میں وہ لطف پنہاں ہو\nکہ نالہ آ کے مرے ہونٹھ پر ہنسی ہو جائے\n\nنہ پوچھو بادہ گساران بزم وارثؔ کی\nیہ دیکھ لیں سوئے واعظ تو وہ ولی ہو جائے\n\nہٹا رہا ہوں شب و روز اس لیے خود کو\nفنا کے راز سے مجھ کو بھی آگہی ہو جائے\n\nتری نگاہ کرم سے عجب نہیں وارث\nریاضؔ سا سگ دنیا بھی آدمی ہو جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "غریبوں کا بھگوان", "poet_page": "مصنف:رشید جہاں", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "درگا مصیبت کی ماری چار بچوں کو پالتے پالتے بالکل بے دم ہو رہی تھی۔ محنت مزدوری کسی سے اسے دریغ نہ تھا۔ بیوگی، غربت اور چار بچے! سلائی کڑھائی کے سوا اسے اور کچھ نہ آتا تھا۔ اسی سلائی کی بدولت پانچ چھ روپے مشکل سے جمع ہو جاتے اور گزارہ چل جاتا۔ صبح ہی صبح اٹھ کر پوجا کرتی۔ گڑگڑا کر بھگوان سے کہتی، ’’ان بچوں کو نہ بھولنا۔ اگر میں پاپی ہوں تو یہ تو معصوم ہیں۔\n\nہزار محنت کرتی۔ راتوں کو چراغ سے سیتی رہتی۔ مندر جا کر جو ٹہل بھگوان سےکر سکتی تھی کرتی۔ لیکن اس کی حالت کسی طرح نہ بدلتی تھی۔ بچے آئے دن بیماررہتے تھے۔ دبلے پتلے فاقوں کے مارے معلوم ہوتے تھے۔ وہ خود ہر وقت کھانستی رہتی تھی۔\n\nدن چڑھے سلائی لے بیٹھتی۔ اور دن یونہی کپڑے پر آنکھیں جمائے گزر جاتا۔ بنئے کا ادھار بھی چڑھا ہی رہتا تھا۔ ہزار کوشش کرتی کہ اچھے برے وقت کے لئے کچھ بچا لے۔ پڑا رہےگا تو کام آئے گا لیکن مہینہ کسی طرح بغیر قرض کے کھسکتا ہی نہ تھا۔\n\nاس کا شوہر جب زندہ تھا تو ایک لالہ کے ہاں دس روپیہ ماہوار کا منیم تھا۔ تھوڑا اور اوپر سے پیدا کر لیتا تھا اور سب اس قلیل رقم میں لشتم پشتم گزارہ کر لیتے تھے، اور قرض لینے کی نوبت نہ آتی تھی۔ لیکن وہ دق میں ایسا بیمار پڑا کہ جو کچھ جمع جتھا تھا اس کی بیماری میں صرف ہو گیا۔ آخر میں نہ وہ رہا نہ روپیہ رہا۔ ہاں ایک یاددرگا کے لئے چھوڑ گیا۔ اس کا دم توڑنا۔ لوگوں کا اس کی ارتھی لے جانا۔ پھر براہمنوں کا دھوتی اور جنئو میں بیٹھ کر ان کے آنگن میں کھانا کھانا اور پھر برادری کے طعنے۔\n\nجب کوئی براہمن اس کی نظر پڑ جاتا تو وہ کانپ جاتی۔ اسے وہ گدھوں کی طرح لگتے۔\n\nجس طرح گدھ مردار پر گرتے ہیں۔ اسی طرح یہ برہمن بھی ہمیشہ اسے اپنے شوہر کی موت کی یاد دلاتے تھے۔ وہ تو روپیٹ رہی تھی۔ آئندہ کے خیال سے دیوانی تھی اور ان برہمنوں کی بھوک ضرورت سے زیادہ بڑھی ہوئی تھی۔ اسے ایسا معلوم ہورہا تھا کہ آج وہ اس لئے جان جان کر زیادہ کھا رہے ہیں کہ اس کے اور اس کے بچوں کے لئے کچھ بھی چھوڑ کر نہ جائیں۔ مقدور سے زیادہ اس نے انہیں دیا لیکن پھر بھی وہ اس کے گھر سے ناخوش ہی اٹھے۔\n\nوہ جانتی تھی کہ برہمن اس سے بہت اونچے ہیں۔ ان کی سیوا دھرم ہے اور ان سے نفرت کرنا پاپ ہے لیکن اپنے سے مجبور تھی جب کوئی برہمن جنئو اور دھوتی میں بغیر کرتے کے نظر آتا تو اسے ایسا لگتا کہ وہ اس کے گھر کو کھا کر کسی دوسرے گھر کو خالی کرنے جا رہا ہے۔ وحشت کی ایک لہر اس کے سارے جسم میں دوڑ جاتی۔ وہ اپنے ان پاپی خیالوں کو دل میں دبائے رکھتی۔ اور اسی لئے مندر میں ہمیشہ پیسہ دو پیسہ پنڈتوں کو زیادہ دے دیتی۔ تاکہ اس کے پاپ کا کلیان ہو جائے۔ کن کت پر بہت ہمت کر کے بھی وہ برہمن کو اپنے گھرنہ بلا سکی۔ سیدھا لڑکے کے ہاتھ وہیں بھجوا دیا۔ اس کا بڑا لڑکا اندر دس سال کا تھا۔ پاس کے میونسپل اسکول میں پڑھتا تھا۔ اس کی ساری امیدی اسی سے قائم تھیں۔ ہاتھ میں سلائی ہوتی اور سر میں اندر۔ کبھی وہ دوکاندار ہوتا۔ کبھی اپنے باپ کی طرح منیم اور درگا کی مصیبتوں کے خاتمہ کا دار ومدار اندر کی فارغ البالی پر ہوتا۔ اِندر کی بہو ہوتی، اس کےکئی لڑکے بھی ہوتے۔ سب درگا کے بڑھاپے میں اس کی ٹہل کرتے۔ لڑکیاں تو خیر پرائے گھر کی تھیں۔ چلی جاتیں۔ یہی خیالی پلاؤ تھے۔ جو اس کی خوشی اور اس کی راحت تھے۔\n\nجب کسی براہمن فقیر کی صدا اس کے یہ خوشنما خواب بگاڑ دیتی تو وہ لرز جاتی۔ اندر کو مردہ دیکھتی۔ براہمن، بہت سے براہمن اس کے چھوٹے سے صحن میں کھانا کھاتے ہوئے۔ وہ گھبرا کر باہر چلی جاتی۔ محلہ میں کھڑی ہو جاتی۔ ہزار کوشش کرنے پر بھی ایک وحشت طاری رہتی۔ جو صرف اندر کی صورت دیکھ کر کم ہوتی تھی۔ وہ اس کو چمٹا لیتی اور رونے لگتی۔ اندر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا۔ اسے بچوں کی طرح بہلاتا اور کہتا، ’’اماں تو روتی کا ہے کوہے۔ جب میں بڑا ہوں گا تو پھر میں کام کروں گا۔ تو آرام سے پلنگ پر بیٹھیو۔‘‘\n\nبچہ کیا تھا۔ دیوتا تھا۔ ابھی سے اپنی ذمہ داری محسوس کرنے لگا تھا بچوں کی سی کوئی بات، کوئی شرارت اس میں نہیں تھی۔ بہنوں سے لڑائی جھگڑا بھی بہت ہی کم کرتا۔ ماں کے کولہے سے لگا اپنا سبق پڑھا کرتا تھا۔ بعض وقت وہ ڈر جاتی کہ کہیں اس کا ننہا سا دل ٹوٹ نہ جائے۔ پیسہ دیتی کہ بھیا جا، مٹھائی لے آ، مٹھائی لاتا تو وہ بھی اکیلے نہ کھاتا۔\n\nایک دن مدرسے سے بخار میں کانپتا ہوا آیا۔ درگا نے جلدی سے کھاٹ پر لٹا دیا۔ جو گرم چیزیں پاس تھیں۔ اس کو اڑھا دیں اور کلیجہ سے لگا کر بیٹھ گئی۔ پھر اپنے دل میں سوچا کہ ایسے بیٹھی رہی تو کیسے کام بنےگا۔ لڑکی کو بھائی کے پاس بٹھا کر محلہ کے وید کے پاس چلی۔ گلی کے موڑ پر تین براہمن ملے کہیں جا رہے تھے۔ ان کو دیکھ کر وہ دم بخود ہو گئی اور نہ معلوم کیوں اس کے دل میں آیا کہ وہ اسی کے گھر جا رہے ہیں۔ راستہ روک کر کھڑی ہو گئی، ’’ارے بھیا ابھی تو وہ زندہ ہے۔ تم کیسے ادھر آ رہے ہو۔‘‘ وہ چیختی ہی رہی اور برہمن اس سے بچ کر نکل گئے۔\n\nجب اسے ہوش آیا تو یاد بھی آئی کہ وید کے یہاں جا رہی تھی۔ وید نے چند گولیاں دیں کہ گر م پانی سے بچے کو پلا دو اور کوٹھڑی میں برابرآگ رکھو۔\n\nشام تک اندرکی حالت اور خراب ہو گئی۔ مشکل سے پانی بھی پیتا تھا۔ آنکھیں بند کئے تیز بخار میں پڑا تھا اور درگا گھڑی گھڑی اپنا اطمینان کرنے کو وہ زندہ بھی ہے یا نہیں اس کو جھنجوڑ دیتی اور پکارتی، ’’بھیا، بھیا، بول کیا کچھ کھا ئے گا۔‘‘ وہ آنکھیں کھول کر پھر بند کر لیتا اور وہ سمجھتی کہ کمزوری کی وجہ سے بول نہیں سکتا۔ جا کر وید کو بلا لائی۔ اس نے دوا بدلی اور اس کا اطمینان کر گیا کہ کوئی ڈر کی بات نہیں ہے۔ درگا نے دودھ بوند بوند کر کے اس کے حلق میں ٹپکایا اور اس نے نام کو کچھ پی لیا تو ماں کو ذرا ڈھارس ہوئی۔ اس کی تینوں بچیاں بھوکی تھیں۔ کھانے کے لئے ضد کر رہی تھیں۔ کھانا پکانے کا اسے کہاں ہوش تھا۔ بازار سے کچھ لا دیا اور وہ کھا کر سو گئیں اور یہ رات بھر اندر کے پلنگ سے لگی بیٹھی رہی۔ کبھی وہ کراہتا، کبھی اپنی لال لال آنکھیں پھاڑ کر چھت کی طرف دیکھتا۔ غرضیکہ اس کی حالت بجائے سنبھلنے کے بگڑتی گئی اور درگا کی ساری رات آنکھوں میں کٹ گئی۔\n\nصبح ہی وہ مندر گئی۔ وہاں مورتی کے سامنے ماتھا ٹیکے پڑی رہی۔ اور اپنے بچے کی جان کے لئے دعا مانگتی رہی۔ پنڈت سے صلاح کی اس نے کہا کوئی آسیب ہوگا۔ وید سے کام نہ بنے گا۔ تو کسی سیانے کو دکھا۔ وید کی دوا اور سیانوں کے ڈھولوں میں سارا دن گزر گیا۔ چوبیس گھنٹہ سے زیادہ ہو گئے تھے اور اندر کسی طرح آنکھ ہی نہ کھولتا تھا۔ درگا کے پاس اب پیسہ نہ تھا۔ صبح بنئے سے چار روپے لائی تھی۔ وہ پنڈتوں ، سیانوں کی نظر ہوگئے۔ شام کو وید خود آیا اور اندر کی حالت دیکھ کر گھبرا گیا۔ وہ اب بالکل بے ہوش تھا۔ آنکھیں آدھی کھلی ہوئی تھیں۔ نتھنے پھڑک رہے تھے۔ ہزار بلایا، جھنجھوڑا۔ اس نے آنکھ نہ کھولی۔ وید نے آخر کو کہہ دیا، ’’جا ابھی کسی ڈاکٹر کو بلا لا۔ ورنہ بچہ چند گھنٹوں کا مہمان ہے۔‘‘ اسے گھرکتا رہا کہ دن بھر اس کے پاس کیوں نہیں گئی۔\n\nدرگا کے پاس اس وقت دام کہاں تھے کہ ڈاکٹر کو لاتی۔ فوراً بھاگی ہوئی ان لالہ جی کے ہاں گئی جہاں اندر کا باپ منیم تھا۔ یہ لالہ بہت جائیداد والے تھے۔ کئی ٹھاکر دوارے اور مندر بنوا چکے تھے۔ گنگا کے کنارے ان کا بنوایا ہوا ایک شاندار مندر کھڑا تھا۔ جہاں سینکڑوں لوگ منتیں مانتے اور بھگوان کے درشن کو آتے تھے۔\n\nیہ درگا کو دور سے دیکھتے ہی منہ بنا لیتے اور کہتے کہ ’’مائی تیرا مرد میرا نوکر تھا۔ اپنی تنخواہ لیتا تھا یا میرے پاس کوئی ہنڈی رکھوا گیا تھا کہ تجھے نکال نکال کر دیدیا کروں۔‘‘ اس نے بھی مدت سے ان کے سامنے ہاتھ پھیلانا چھوڑ دیا تھا لیکن آج اندرکی حالت دیکھ کر وہ ساری شرم بھول گئی اور لالہ کے قدموں پر گر پڑی۔ بہت منت خوشامد، حیل و حجت کے بعد لالہ نے مدد سے صاف انکار کر دیا۔ ان کی بیوی بھی پاس ہی کھڑی تھیں۔ درگا ان کی طرف مڑی۔ ان کو اپنے بچوں کا واسطہ دلوایا۔ ان کی مامتا کو جگانے کی کوشش کی لیکن سب بے سود۔ وہ بولیں بھی تو کیا، ’’امیروں کی برابری کیوں کرتی ہے۔ ڈاکٹر کو گھر بلانے کی کیا ضرورت ہے۔ ہسپتال کیوں نہیں لے جاتی۔‘‘\n\nوہ ناکام وہاں سے اٹھی اور اسی سوچ میں چلی کہ کہاں سے روپیہ لائے کہ سمترا کمہاری نے چپکے سے دو روپے اسے قرض دے دیئے۔ تو اس کی جان میں جان آئی۔ ڈاکٹر کے پاس بھاگی اور اسے جگا کر گھر لے گئی۔ ڈاکٹر نے بچہ کو دیکھا۔ الٹا پلٹا اور کھڑے ہو کر کہنے لگا، ’’یہ تو گردن توڑ بخار ہے۔ اسے میونسپل ہسپتال لے جاؤ۔ اب دیر ہوگئی ہے لیکن شاید وہاں جا کر کچھ ہو سکے۔\n\nگردن توڑ بخار کا نام تو درگا نے بھی کئی دفعہ سنا تھا۔ محلہ ہی میں دو چار موتیں ہوئی تھیں۔ اس کا دل ایک دفعہ دھک سے رہ گیا اور وہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔\n\nڈاکٹر جو فیس پہلے لے چکے تھے، نہ معلوم کب چلے گئے۔ بچہ اکڑا پڑا تھا۔ سانس حلق میں پھنستا تھا۔ ہر ہر لمحہ حالت بد تر ہوتی جارہی تھی اور درگا کی یہ کیفیت تھی کہ بغیر کچھ کہے بس اس کی پٹی سے لگ کر بیٹھ گئی۔\n\nاسے پورا یقین تھا کہ وہ مر جائے گا۔ ہر قسم کی ہمت اور امید ڈاکٹر کے گردن توڑ بخار کے ساتھ رخصت ہو چکی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی نے اس کے جسم کا عرق نچوڑ لیا ہے اور ہاتھ پاؤں مردہ ہو چکے ہیں۔ پلنگ سے کمر لگائے سامنے کی دیوار کو تک رہی تھی۔\n\nاندھیرا تھا۔ لڑکیاں کھانا مانگ رہی تھیں۔ مچل رہی تھیں۔ لڑ رہی تھیں لیکن وہ تھی کہ یونہی بے حس و حرکت بیٹھی تھی اور اپنی ساری امیدوں کا خاتمہ اس ننھی سی جان میں دیکھ رہی تھی۔ اس کا سر ہر قسم کے خیالوں سے خالی تھا۔ بس وہ بیٹھی تھی۔\n\nچاند نکلا تو اس اندھیر کوٹھڑی میں کچھ اجالا ہوا۔ لڑکیوں کی چیخ و پکار تھم گئی۔ رونا چلانا آہستہ آہستہ کم ہوا۔ جس کو جہاں جگہ ملی۔ روتی پیٹتی وہیں سو گئی۔\n\nبچہ کا سانس زور زور سے چل رہا تھا۔ غر غر غر کی آواز جاری تھی۔ لڑکیوں میں سے کوئی ڈر کر خواب میں چیخ دیتی تھی۔ کوئی بھوکی اٹھ کر رونے لگتی تھی اور روتے روتے پھر سو جاتی تھی۔ درگا ایک عمر دراز سے وہیں پلنگ سے کمر لگائے دیوار کو تک رہی تھی۔ سانس اب آہستہ ہونا شروع ہوا۔ اس کا شور نیچا ہوا۔ دو سانسوں کے درمیان وقفہ بڑھنے لگا۔ بچہ مر رہا تھا اور اس کی ماں میں یہ ہمت نہ تھی کہ مڑ کر اس کی موت دیکھے۔ سانس اب ہچکیوں کی صورت اختیار کر رہا تھا۔ درگا اب بے حس نہ تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اب جلد ان ہچکیوں کی آواز بھی بند ہو جائے گی۔ اس کا سارا جسم تن گیا تھا۔ وہ اسی طرح آنکھیں پھاڑے چوکس، کان لگائے بیٹھی تھی جس طرح ایک شکاری کسی جھاڑی میں چھپا ہوا ہر لمحہ شیر کی جھپٹ کا انتظار کر رہا ہو۔\n\nہچکی آئی، پھر آئی، ایک اور آئی، پھر آئی، اس دفعہ بہت ہی آہستہ سے۔ وہ کان لگائے بیٹھی تھی کہ اب دوسری آئے گی بھی یا نہیں، نہیں آئی۔\n\nوہ ایک دم کھڑی ہو گئی اور زور سے چیخنے لگی’’مر گیا، میرا بچہ مرگیا۔ یہ کہہ کے باہر کی طرف بھاگی۔ بہت سے لوگ صبح کے اندھیرے میں گنگااشنان کرنے جا رہے تھے۔ وہ ان کے درمیان بھاگتی رہی۔ ’’مر گیا میرا بچہ مرگیا۔‘‘ شاید کسی نے اسے پہچانا ہو، شاید کسی نے اس پر ترس کھایا ہو لیکن صرف ایک بڈھے نے اسے روکا اور پوچھا۔ مائی تو کون ہے؟ تیرا بچہ کب مرا؟‘‘ وہ اور زور سے چیختی ہوئی تیز بھاگی۔\n\nایک اور آدمی نے اسے پکڑ لیا اور اب اس کے چاروں طرف آدمی جمع تھے۔ ہر کوئی اس سے سوال کر رہا تھا۔ اتنے ہجوم کو اپنے ارد گرد دیکھ کر وہ کچھ ہوش میں آئی اور زور سے چلائی، ’’ہائے میرا لال کل بیمار پڑا۔ آج مر گیا۔‘‘\n\nسننے والوں کو قصوں میں بڑا مزا آتا ہے۔ سب کچھ نہ کچھ پوچھنے لگے۔ ان کی باتوں کا اثر تھا یا بھاگنے کا کہ اس کا جما ہوا دماغ پھر جاگ چلا تھا اور اب وہ رفتہ رفتہ پھر اس دنیا میں واپس آ رہی تھی اور اپنے مردہ بچے کے لئے تڑپ رہی تھی۔\n\n’’اپنا اپنا کرم ہے جو اس جنم میں پاپ کرو تو اگلے جنم میں بھوگو اور جو۔۔۔‘‘ کرم! اور پھر دحشی تھی۔ ’’کیا میں نے ایسے پاپ کئے ہیں کہ میرا مرد گیا تو گیا، میرا بچہ بھی چھن گیا؟‘‘\n\n’’ارے دنیا کی بات ہے۔ تیرا ذکر نہیں ہے۔ کرم ہی کا سارا قصورہے۔ ورنہ یہ روز روز کی مصیبت کیوں آئے؟‘‘ کسی نے چلتے چلتے جواب دیا۔\n\nبتاؤ میں نے کیا کیا تھا؟ کرم!کرم! بتاؤ، بتاؤ، بتاؤ! کہہ کر وہ ہر ایک کے پیچھےپڑ گئی۔ لوگ اپنا پیچھا چھٹانے کو جلدی جلدی گنگا کی طرف چلنے لگے۔ وہ بھی پیچھے لپکی۔ وہاں بڑا میلہ تھا۔ سینکڑوں اچھوت رکشا منتر لینے آئے تھے۔ بیچ میں سفید دھوتی باندھے ایک پنڈت آدھے ننگے کھڑے تھے۔ اچھوتوں کو گائے کا پیشاب پلا رہے تھے۔ لوگ اس دیوتا کو چھونے کی ہمت نہ کرتے تھے۔ پاؤں پر گر رہے تھے۔ انہیں اس طرح کھڑے دیکھ کر درگا کی آنکھیں باہر نکل پڑیں۔ یہ کھڑا تھا براہمن۔ اس کے بچہ کا کھانے والا۔ اپنی وحشت میں اسے وہ اندر کو گوشت چباتا ہوا نظر آیا۔ وہ جہاں کھڑی تھی۔ وہیں جم گئی۔ ڈراونی اور بھیانک آنکھوں سے اس کے چہرہ کی طرف دیکھنے لگی کسی نے پاس سے پوچھا، ’’کہ یہ کون ہیں؟‘‘\n\n’’پنڈت ہر چرن موہن، اچھوتوں کو رکھشا منتر دے رہے ہیں۔‘‘\n\n’’کرم، کرم‘‘ درگا نے پاس ہی سے کسی کا ہاتھ دبالیا۔ اور اس خونخوار خوفناک پنڈت کی طرف دیکھتے ہوئے دبی آواز میں بولی، ’’کیا یہ کرم بھی مٹا دیں گے۔‘‘\n\n’’نہیں، وہ کیسے میٹ سکتے ہیں؟‘‘ اس نے جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھٹا لیا۔\n\nاس نے پھر کہا، ’’معلوم ہے یہ کون ہے؟ میرے بچے کو کھا رہا ہے دیکھو وہ کھا رہا ہے۔‘‘\n\nٹھیر تو جا خونی۔ ایک کو کھاکر تیرا پیٹ نہ بھرا۔ کل سے میرے گھر کے چاروں طرف گھوم رہا ہے۔‘‘ وہ لپکی کہ پنڈت کو نوچ لے۔ ’’میرے لال کا قاتل کہہ کر اس نے ایک ہاتھ ان پر مارا۔ لوگ بیچ میں آ گئے۔ برتن جس میں وہ گائے کا پیشاب پلا رہے تھے۔ لڑھک گیا۔ وہ رام رام کہہ کر پیچھے ہٹے اور رکشا منتر کو بھول کر اپنے جسم کو بچانے لگے۔\n\nدس پانچ نے اسے ڈانٹا۔ ایک آدھ گالی بھی اس نے کھائی اور بعض نے اسے بچایا۔ ’’اسے جانے بھی دو۔ یہ تو پاگل ہے۔ ابھی چیختی پھر رہی تھی کہ ہائے میرا بچہ مر گیا۔ اب یہاں آ کر پنڈت جی سے جھگڑ بیٹھی۔‘‘\n\nاب پنڈت جی خود آگے بڑھے اور بناوٹی رحم سے کہنے لگے، ’’ہاں ٹھیک ہے کوئی پاگل ہی معلوم ہوتی ہے۔ اسے بھگوان کے نام پر چھوڑ دو۔‘‘\n\n’’بھگوان بھگوان۔‘‘ درگا نے دماغ پر زور ڈالتے ہوئے کہا، ’’کرم کو بھگوان ہی میٹ سکتے ہیں۔ کہاں ہیں بھگوان؟‘‘\n\nپھر اس کے چاروں طرف جمگھٹا تھا۔ کسی نے کچھ جواب دیا کسی نے کچھ ایک بولا’’مندر میں؟‘‘\n\nوہ ننگے سراور ننگے پاؤں مندر کی طرف بھاگی۔ مندر کے پنڈت نے اسے اس طرح گھستے دیکھ کر ٹوکا اور اٹھ کر اسے اندر آنے سے روکنا چاہا۔ خود بھی بچنا چاہتا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ درگا کہیں اس کو چھو نہ جائے۔ اسے دھکا دے کر وہ اندر گھس گئی۔ وہاں عورتیں بیٹھی تھیں۔ اسے دیکھ کر جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ادھر ادھر بچےھ لگیں۔ وہاں لالہ جی کی بیوی بھی تھیں۔ درگا کو دیکھ کر بولیں، ’’ہٹ یہاں سے۔ تو یہاں کیسے آئی؟‘‘\n\n’’اپنے بھگوان کے پاس آئی ہوں۔ کیوں ہٹوں؟‘‘\n\n’’نکالو اس کو پنڈت جی، ورنہ میں لالہ جی سے تمہاری شکایت کروں گی۔ بڑی بنی ہے بھگوان والی۔ تیرا بھگوان کہاں سے آیا۔ بھک منگنی کہیں کی؟‘‘\n\n’’اچھا تو یہ تمہارا بھگوان ہے۔ تمہیں کو مبارک ہو۔ مجھے تمہارے رئیسوں کے بھگوان نہیں چاہئے۔ کہاں ہے مجھ غریب کا بھگوان۔ درگاطیش میں آ کر پنڈت کی طرف لپکی۔\n\n’’مائی، یہی سب کے بھگوان ہیں۔ یہی امیروں کے۔ یہی غریبوں کے وہ سب کا ہے اور سب اس کے ہیں۔ چل تو باہر جا۔\n\n’’چھوٹا کہیں کا!یہ تو ان رانیوں کے ہیں۔ بتا میرا بھگوان کدھرہے۔ بول۔‘‘\n\nیہ پنڈت بھی آدھا ننگا تھا۔ درگا نے اس کی طرف گھورا اور لپک کر ایک مورتی کو اٹھا لیا۔ اب آئیو میرے گھر۔ اب کے روٹی نہیں دوں گی۔\n\nپنڈت اس کی طرف دوڑے۔ درگا نے چیخ کر جلدی سے مورتی کو چھوڑ دیا اور ناچنے لگی۔ یہ رہا لا لائن کا بھگوان۔ یہ رہا رئیسوں کا۔‘‘\n\nپجاریوں نے اسے پکڑ لیا اور خوب پیٹا۔ پولیس میں لیجا نے لگے۔ درگا پٹ رہی تھی اور ہنس رہی تھی۔ شاید اس کی وحشیانہ آنکھوں نے دیوانی ہنسی نے ان مردوں کو یقین دلادیا کہ وہ اپنے ہوش میں نہیں۔ آخر کو مار پیٹ کر انہوں نے درگا کو مندر سے نکال دیا۔\n\nاس طرح پٹ کر درگا کی طبیعت میں اب قدرے سکون تھا۔ لیکن اب اس کو اپنے بچے کا اتنا دھیان نہ تھا جتنا یہ خیال کہ وہ آج اپنے بھگوان کو ضرور ڈھونڈ نکالے گی۔ وہ مندر مندر پھرتی رہی اور ہر پنڈت سے پوچھتی رہی کہ وہ اس کو بھگوان کا پتہ بتا دے۔ کسی نے اسے جواب نہ دیا۔ کسی نے ڈانٹ کر نکال دیا۔ کسی نے بہلا پھسلا کر چلتا کیا۔\n\nدرگا سارے شہر میں پھرتے پھرتے ایک مسجد میں گھس گئی۔ وہاں بہت سے لوگ جمع تھے۔ وہ کبھی کھڑے ہوئے تھے کبھی جھکتے کبھی بیٹھتے تھے۔ درگا خاموش کھڑی دیکھتی رہی۔ جب وہ لوگ اٹھے اور چلنے کو تیار ہوئے تو ایک اجنبی عورت کو دیکھ کر حیران ہوئے۔ ایک داڑھی والے آگے بڑھے اور بولے۔\n\n’’ارے تو کون ہے۔‘‘\n\n’’میں اپنے بھگوان کو ڈھونڈ رہی ہوں۔ تمہیں پتا ہے کہ وہ کہاں ہے؟‘‘\n\n’’بھگوان وگوان کی تو خبر نہیں۔ ہمارا تو اللہ ہے جو ہر جگہ رہتا ہے۔‘‘\n\nدرگا نے چاروں طرف مڑ کر دیکھا اور پوچھا کہ وہ کون ہے۔\n\n’’اللہ سب کاپروردگار ہے۔ اس نے دنیا بنائی ہے۔ مجھے تجھے سب کو روٹی دیتا ہے۔ امیروں غریبوں سب کا مالک ہے۔ اس کے حضور میں سب برابر ہیں۔‘‘\n\n’’درگا ہنسی جو اس کے لئے سب برابر ہیں۔ تو امیر غریب بناتا کیوں ہے؟‘‘\n\n’’اس کی مرضی۔‘‘\n\n’’واہ بڑے میاں! خوب دور کی لیتے ہو۔ اگر راستہ نہیں بتانا تو مت بتاؤ۔ جھوٹ کیوں بولتے ہو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ جواب کے لئے نہ ٹھہری اور اپنی دھن میں چیختی ہوئی نکل گئی۔\n\nدرگا سارا دن پھر پھر کر بے دم ہو رہی تھی لیکن پھر بھی اس کے پاؤں کو قرار نہ تھا وہ برابر چلے جا رہی تھی۔ ایک جگہ گھنٹہ بج رہا تھا۔ مرد اور عورتیں جلدی جلدی گرجا کے اندر جا رہے تھے۔ درگا بھی ساتھ گھس گئی اور سب سے آگے جا کر بیٹھ گئی۔ ایک آدمی کالے لباس میں اوپر پلیٹ فارم پر کھڑا وعظ کر رہا تھا، ’’امیر لوگ بھگوان کی مہربانی کا ایک حصہ ہیں۔ غریبوں کی مدد کا ایک آلہ ہیں۔ غریبوں کو مسیح اور اپنے بھگوان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ امیروں پر رشک نہ کرنا چاہئے۔‘‘\n\nدرگا پر بھگوان اور غریب کے لفظوں کا بہت اثر ہوا اور اس کی وحشت اور جنون کی حالت اور تیز ہو گئی۔ اپنی دیوانگی میں یہ شخص اس کو ایک پنڈت کالے سوانگ میں نظر آیا۔ وہ ضبط نہ کر سکی۔ اور وعظ کے درمیان میں ہی چیخنے لگی۔ بھیس بدل بدل کر کھڑا ہوتا ہے۔ دھوکہ باز آج تجھے جیتا نہ چھوڑوں گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ آگے لپکی۔\n\nلوگ بیچ میں آ گئے اور آکر درگا کو پکڑ لیا۔ یہ لڑنے لگی اور اس کھینچا تانی میں چھٹ کر گر پڑی اور اس کا سر ایک قریب کے بنچ سے ٹکرایا۔\n\n’’غریبوں کا بھگوان کدھر ہے۔‘‘ درگا ہوش آنے پر چلائی، ’’ہلو نہیں، دیکھو تمہارے سوئی چبھ جائے گی۔‘‘ ایک جوان ڈاکٹر اس کے اوپر جھکا ہوا انجکشن لگا رہا تھا اور ایک سفید پوش نرس اس کا بازو مضبوط پکڑے تھی۔\n\nڈاکٹر درگا کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور درگا نے دبی ہوئی آواز میں پھر پوچھا، ’’غریبوں کا بھگوان کون ہے؟‘‘\n\n’’غریبوں کے ہاتھ۔‘‘\n\nڈاکٹر نے سوئی نکال لی اور ایک دوسرے مریض کے پاس چلا گیا اور پھر درگا نے اپنے ہاتھوں کو اونچا اٹھایا اور دیر تک ان کو دیکھتی رہی۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DA%AF%D9%88%D8%A7%D9%86"} {"title": "غریبوں کی صدا", "poet_page": "مصنف:محمد دین تاثیر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "غریبوں کی فاقہ کشوں کی صدا ہے\nمرے جا رہے ہیں\nامیروں کے عیشوں کا انبار سر پر\nلدے ہیں زمانے کے افکار سر پر\nزمیندار کاندھے پہ سرکار سر پر\nمرے جا رہے ہیں\nشرابوں کے رسیا امیروں کا کیا ہے\nہنسے جا رہے ہیں\nغریبوں کی محنت کی دولت چرا کر\nغریبوں کی راحت کی دنیا مٹا کر\nمحل اپنے غارت گری سے سجا کر\nہنسے جا رہے ہیں\nغریبوں نے سمبندہ مل کر کیا ہے\nخوشی بڑھ گئی ہے کہ غم بڑھ رہے ہیں\nنگاہوں سے آگے قدم بڑھ رہے ہیں\nسنبھلنا امیرو کہ ہم بڑھ رہے ہیں\nبڑھے جا رہے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D8%AF%D8%A7"} {"title": "غریبِ شہر ہوں مَیں، سُن تو لے مری فریاد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "غریبِ شہر ہوں مَیں، سُن تو لے مری فریاد\nکہ تیرے سینے میں بھی ہوں قیامتیں آباد\nمری نوائے غم آلود ہے متاعِ عزیز\nجہاں میں عام نہیں دولتِ دلِ ناشاد\nگلہ ہے مجھ کو زمانے کی کور ذوقی سے\nسمجھتا ہے مری محنت کو محنت فرہاد\n“صدائے تیشہ کہ بر سنگ میخورد دگر است\nخبر بگیر کہ آوازِ تیشہ و جگر است”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D9%90_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D9%8E%DB%8C%DA%BA%D8%8C_%D8%B3%D9%8F%D9%86_%D8%AA%D9%88_%D9%84%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "غریبی میں ہُوں محسودِ امیری", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "غریبی میں ہُوں محسودِ امیری\nکہ غیرت مند ہے میری فقیری\nحذر اُس فقر و درویشی سے، جس نے\nمسلماں کو سِکھا دی سر بزیری!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B1%DB%8C%D8%A8%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%8F%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D8%B3%D9%88%D8%AF%D9%90_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "غزل (تیری متاعِ حیات، علم و ہُنر کا سُرور)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "تیری متاعِ حیات، علم و ہُنر کا سُرور\nمیری متاعِ حیات ایک دلِ ناصبور!\nمعجزۂ اہلِ فکر، فلسفۂ پیچ پیچ\nمعجزۂ اہلِ ذکر، مُوسیٰؑ و فرعون و طُور\nمصلَحۃً کہہ دیا میں نے مسلماں تجھے\nتیرے نفَس میں نہیں، گرمیِ یُوم النّشور\nایک زمانے سے ہے چاک گریباں مرا\nتُو ہے ابھی ہوش میں، میرے جُنوں کا قصور!\nفیضِ نظر کے لیے ضبطِ سخن چاہیے\nحرفِ پریشاں نہ کہہ اہلِ نظر کے حضور\nخوار جہاں میں کبھی ہو نہیں سکتی وہ قوم\nعشق ہو جس کا جسُور، فقر ہو جس کا غیور", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B2%D9%84_%28%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%B9%D9%90_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%D8%8C_%D8%B9%D9%84%D9%85_%D9%88_%DB%81%D9%8F%D9%86%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D9%8F%D8%B1%D9%88%D8%B1%29"} {"title": "غزل (دریا میں موتی، اے موجِ بے باک)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "دریا میں موتی، اے موجِ بے باک\nساحل کی سوغات! خاروخس و خاک\nمیرے شرر میں بجلی کے جوہر\nلیکن نَیستاں تیرا ہے نم ناک\nتیرا زمانہ، تاثیر تیری\nناداں! نہیں یہ تاثیرِ افلاک\nایسا جُنوں بھی دیکھا ہے میں نے\nجس نے سِیے ہیں تقدیر کے چاک\nکامِل وہی ہے رِندی کے فن میں\nمستی ہے جس کی بے منّتِ تاک\nرکھتا ہے اب تک مَیخانۂ شرق\nوہ مے کہ جس سے روشن ہو ادراک\nاہلِ نظر ہیں یورپ سے نومید\nان اُمّتوں کے باطن نہیں پاک", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B2%D9%84_%28%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%88%D8%AA%DB%8C%D8%8C_%D8%A7%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%90_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DA%A9%29"} {"title": "غزل (دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ\nکہ یہی ہے اُمّتوں کے مَرضِ کُہن کا چارہ\nترا بحر پُر سکُوں ہے، یہ سکُوں ہے یا فسُوں ہے؟\nنہ نَہنگ ہے، نہ طُوفاں، نہ خرابیِ کنارہ!\nتُو ضمیرِ آسماں سے ابھی آشنا نہیں ہے\nنہیں بے قرار کرتا تجھے غمزۂ ستارہ\nترے نیستاں میں ڈالا مرے نغمۂ سحَر نے\nمری خاکِ پے سِپَر میں جو نِہاں تھا اک شرارہ\nنظر آئے گا اُسی کو یہ جہانِ دوش و فردا\nجسے آگئی میّسر مری شوخیِ نظارہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B2%D9%84_%28%D8%AF%D9%84%D9%90_%D9%85%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92%D8%8C_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%81%29"} {"title": "غزل (مِلے گا منزلِ مقصود کا اُسی کو سُراغ)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مِلے گا منزلِ مقصود کا اُسی کو سُراغ\nاندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ\nمیسّر آتی ہے فُرصت فقط غلاموں کو\nنہیں ہے بندۂ حُر کے لیے جہاں میں فراغ\nفروغِ مغربیاں خِیرہ کر رہا ہے تجھے\nتری نظر کا نگہباں ہو صاحبِ ’مازاغ‘\nوہ بزمِ عیش ہے مہمانِ یک نفَس دو نفَس\nچمک رہے ہیں مثالِ ستارہ جس کے ایاغ\nکِیا ہے تجھ کو کتابوں نے کور ذوق اتنا\nصبا سے بھی نہ مِلا تجھ کو بُوئے گُل کا سُراغ!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B2%D9%84_%28%D9%85%D9%90%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84%D9%90_%D9%85%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%8F%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%8F%D8%B1%D8%A7%D8%BA%29"} {"title": "غزل (نہ میں اعجمی نہ ہندی، نہ عراقی و حجازی)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "نہ میں اعجمی نہ ہندی، نہ عراقی و حجازی\nکہ خودی سے مَیں نے سِیکھی دوجہاں سے بے نیازی\nتو مری نظر میں کافر، میں تری نظر میں کافر\nترا دِیں نفَس شماری، مرا دِیں نفَس گدازی\nتو بدل گیا تو بہتر کہ بدل گئی شریعت\nکہ موافقِ تدَرواں نہیں دینِ شاہبازی\nترے دشت و در میں مجھ کو وہ جُنوں نظر نہ آیا\nکہ سِکھا سکے خرد کو رہ و رسم کارسازی\nنہ جُدا رہے نَوا گر تب و تابِ زندگی سے\nکہ ہلاکیِ اُمَم ہے یہ طریقِ نَے نوازی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B2%D9%84_%28%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B9%D8%AC%D9%85%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%88_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%B2%DB%8C%29"} {"title": "غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں\nکہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں\n\nزباں سے ہماری ہے صیاد خوش\nہمیں اب امید رہائی نہیں\n\nکتابت گئی کب کہ اس شوخ نے\nبنا اس کی گڈی اڑائی نہیں\n\nنسیم آئی میرے قفس میں عبث\nگلستاں سے دو پھول لائی نہیں\n\nمری دل لگی اس کے رو سے ہی ہے\nگل تر سے کچھ آشنائی نہیں\n\nنوشتے کی خوبی لکھی کب گئی\nکتابت بھی ایک اب تک آئی نہیں\n\nجدا رہتے برسوں ہوئے کیونکہ یہ\nکنایہ نہیں بے ادائی نہیں\n\nگلہ ہجر کا سن کے کہنے لگا\nہمارے تمہارے جدائی نہیں\n\nسیہ طالعی میری ظاہر ہے اب\nنہیں شب کہ اس سے لڑائی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B2%D9%84_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%A8_%D9%BE%DA%91%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "غزل کہنے کا کس کو ڈھب رہا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غزل کہنے کا کس کو ڈھب رہا ہے\nوہ رتبہ عشق کا اب کب رہا ہے\n\nبشاشت برگ گل میں ہے جو اتنی\nکسی کے لب پر اس کا لب رہا ہے\n\nمشوش شکل سے اس گل کی ظاہر\nیہ ہوتا ہے کہیں وہ شب رہا ہے\n\nپرستش ہی میں شب آخر ہوئی ہے\nہمارے پاس وہ بت جب رہا ہے\n\nتمہارے عہد میں اے کافرو ہائے\nکہاں وہ ملت و مذہب رہا ہے\n\nمرا زانو ترے زانو کے نیچے\nاٹھوں کیوں کر کہ کافر دب رہا ہے\n\nاسے کب ناز بستاں کی ہوس ہے\nیہ دل نت کشتۂ غبغب رہا ہے\n\nموئے جز میرؔ جو تھے فن کے استاد\nیہی اک ریختہ گو اب رہا ہے\n\nنت اس کی مصحفیؔ کھاتا ہوں دشنام\nیہی تو میرا اب منصب رہا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B2%D9%84_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DA%88%DA%BE%D8%A8_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "غش بھی آیا مری پرسش کو قضا بھی آئی", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غش بھی آیا مری پرسش کو قضا بھی آئی\nبے مروت تجھے کچھ شرم و حیا بھی آئی\n\nموسم حسن تو تھا فصل جفا بھی آئی\nساتھ ہی ساتھ جوانی کی ادا بھی آئی\n\nدم کا آنکھوں میں اٹکنا بھی مبارک نہ ہوا\nوقت کی بات تم آئے تو قضا بھی آئی\n\nمیں شب وصل یہ سمجھا کہ سحر بھی کچھ ہے\nوہ جو آئے تو موذن کی صدا بھی آئی\n\nان مریضوں کی عیادت کو وہ اب نکلے ہیں\nموت جا کر جنہیں مٹی میں ملا بھی آئی\n\nکر دیا سوز دروں نے مجھے شمع سر بزم\nبن گئی دم پہ اگر پاس ہوا بھی آئی\n\nکان یوں ان کے بھرے ہیں مری فریادوں نے\nنالے سمجھے جو کوئی اور صدا بھی آئی\n\nپھر بھی ثاقبؔ نہ اڑی طالع خفتہ کی نیند\nآہ جا کر مری گردوں کو ہلا بھی آئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B4_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%B4_%DA%A9%D9%88_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "غصہ آتا ہے پیار آتا ہے", "poet_page": "مصنف:محمد علی خاں رشکی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غصہ آتا ہے پیار آتا ہے\nغیر کے گھر سے یار آتا ہے\n\nمے پلانی اگر نہیں منظور\nابر کیوں بار بار آتا ہے\n\nتیرے رونے سے اب مجھے بھی خوف\nدیدۂ اشک بار آتا ہے\n\nدرد دل کیا بیاں کروں رشکیؔ\nاس کو کب اعتبار آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B5%DB%81_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "غصہ بیگانہ وار ہونا تھا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غصہ بیگانہ وار ہونا تھا\nبس یہی تجھ سے یار ہونا تھا\n\nکیا شب انتظار ہونا تھا\nناحق امیدوار ہونا تھا\n\nکیوں نہ ہوتے عزیز غیر تمہیں\nمیری قسمت میں خوار ہونا تھا\n\nمجھ سے جنت میں وہ صنم نہ ملا\nحشر اور ایک بار ہونا تھا\n\nگر نہ تھی اے دل اس کے رنج کی تعب\nکیوں شکایت گزار ہونا تھا\n\nخاک ہوتا نہ میں تو کیا کرتا\nاس کے در کا غبار ہونا تھا\n\nہرزہ گردی سے ہم ذلیل ہوئے\nچرخ کا اعتبار ہونا تھا\n\nمرگ شام وصال حرماں ہے\nصبح دم جاں نثار ہونا تھا\n\nاور سے ہمکنار ہے دشمن\nآج تو ہمکنار ہونا تھا\n\nشکوۂ دہر پر کہا تم کو\nآفت روزگار ہونا تھا\n\nچشم بے اختیار جاناں میں\nکیا مرا اختیار ہونا تھا\n\nصبر کر صبر ہو چکا جو کچھ\nاے دل بے قرار ہونا تھا\n\nکوئے دشمن میں جا پکڑتا کیوں\nکیا مجھے شرمسار ہونا تھا\n\nوہ نمک پاش بھی نہیں ہوتے\nیوں ہی دل کو فگار ہونا تھا\n\nخاک میں حیف یہ شراب ملے\nمحتسب بادہ خوار ہونا تھا\n\nنہ گیا تیر نالہ سوئے رقیب\nمرغ عرشی شکار ہونا تھا\n\nرات دن بادہ و صنم مومنؔ\nکچھ تو پرہیزگار ہونا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B5%DB%81_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر\nجاتے رہیں گے ہم بھی گریبان پھاڑ کر\n\nدل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے\nپچھتاؤ گے سنو ہو یہ بستی اجاڑ کر\n\nیا رب رہ طلب میں کوئی کب تلک پھرے\nتسکین دے کہ بیٹھ رہوں پاؤں گاڑ کر\n\nمنظور ہو نہ پاس ہمارا تو حیف ہے\nآئے ہیں آج دور سے ہم تجھ کو تاڑ کر\n\nغالب کہ دیوے قوت دل اس ضعیف کو\nتنکے کو جو دکھاوے ہے پل میں پہاڑ کر\n\nنکلیں گے کام دل کے کچھ اب اہل ریش سے\nکچھ ڈھیر کر چکے ہیں یہ آگے اکھاڑ کر\n\nاس فن کے پہلوانوں سے کشتی رہی ہے میرؔ\nبہتوں کو ہم نے زیر کیا ہے پچھاڑ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B5%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%86%D9%84%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%DA%BE%D8%A7%DA%91_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "غصے کو جانے دیجے نہ تیوری چڑھائیے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غصے کو جانے دیجے نہ تیوری چڑھائیے\nمیں گالیاں بھی آپ کی کھائیں اب آئیے\n\nرفتار کا جو فتنہ اٹھا تھا سو ہو چکا\nاب بیٹھے بیٹھے اور کوئی فتنہ اٹھائیے\n\nمیرا تو کیا دہن ہے جو بوسے کا لوں میں نام\nگالی بھی مجھ کو دیجے تو گویا جلائیے\n\nبولا کسی سے میں بھی تو کیا کچھ غضب ہوا\nاتنی سی بات کا نہ بتنگڑ بنائیے\n\nایسا نہ ہو کہ جائے شتابی سے دم نکل\nچاک جگر سے پہلے مرا منہ سلائیے\n\nرکھا جو اک شہید کی تربت پہ اس نے پانو\nآئی صدا یہ واں سے کہ دامن اٹھائیے\n\nبکتے ہیں تیرے نام سے ہم اے کمند زلف\nتجھ کو بھی چھوڑ دیجئے تو کس کے کہائیے\n\nاس کی گلی نہ مکتب طفلاں ہے مصحفیؔ\nتا چند جائیے سحر اور شام آئیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B5%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AC%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D9%88%D8%B1%DB%8C_%DA%86%DA%91%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "غضب کی دھوم شبستان روزگار میں ہے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غضب کی دھوم شبستان روزگار میں ہے\nکشش بلا کی تماشائے ناگوار میں ہے\n\nدکھائی آج ہی آنکھوں نے صورت فردا\nخزاں کی سیر بھی ہنگامۂ بہار میں ہے\n\nغبار بن کے لپٹتی ہے دامن دل سے\nمٹے پہ بھی وہی دل بستگی بہار میں ہے\n\nدعائے شوق کجا ایک ہاتھ ہے دل پر\nاور ایک ہاتھ گریبان تار تار میں ہے\n\nہنوز گوش بر آواز غیر ہے کوئی\nامیدوار ازل اب تک انتظار میں ہے\n\nقسم ہے وعدۂ صبر آزمائے جاناں کی\nکہ لذت ابدی ہے تو انتظار میں ہے\n\nدوا میں اور دعا میں تو اب اثر معلوم\nبس اک امید اثر ضبط ناگوار میں ہے\n\nچلے چلو دل دیوانہ کے اشارے پر\nمحال و ممکن تو سب اس کے اختیار میں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%85_%D8%B4%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D8%B1%D9%88%D8%B2%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا\nتمام رات قیامت کا انتظار کیا\n\nکسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا\nمری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا\n\nہنسا ہنسا کے شب وصل اشک بار کیا\nتسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کیا\n\nیہ کس نے جلوہ ہمارے سر مزار کیا\nکہ دل سے شور اٹھا ہائے بے قرار کیا\n\nسنا ہے تیغ کو قاتل نے آب دار کیا\nاگر یہ سچ ہے تو بے شبہ ہم پہ وار کیا\n\nنہ آئے راہ پہ وہ عجز بے شمار کیا\nشب وصال بھی میں نے تو انتظار کیا\n\nتجھے تو وعدۂ دیدار ہم سے کرنا تھا\nیہ کیا کیا کہ جہاں کو امیدوار کیا\n\nیہ دل کو تاب کہاں ہے کہ ہو مآل اندیش\nانہوں نے وعدہ کیا اس نے اعتبار کیا\n\nکہاں کا صبر کہ دم پر ہے بن گئی ظالم\nبہ تنگ آئے تو حال دل آشکار کیا\n\nتڑپ پھر اے دل ناداں کہ غیر کہتے ہیں\nاخیر کچھ نہ بنی صبر اختیار کیا\n\nملے جو یار کی شوخی سے اس کی بے چینی\nتمام رات دل مضطرب کو پیار کیا\n\nبھلا بھلا کے جتایا ہے ان کو راز نہاں\nچھپا چھپا کے محبت کو آشکار کیا\n\nنہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہو جاتا\nصبا نے خاک پریشاں مرا غبار کیا\n\nہم ایسے محو نظارہ نہ تھے جو ہوش آتا\nمگر تمہارے تغافل نے ہوشیار کیا\n\nہمارے سینے میں جو رہ گئی تھی آتش ہجر\nشب وصال بھی اس کو نہ ہمکنار کیا\n\nرقیب و شیوۂ الفت خدا کی قدرت ہے\nوہ اور عشق بھلا تم نے اعتبار کیا\n\nزبان خار سے نکلی صدائے بسم اللہ\nجنوں کو جب سر شوریدہ پر سوار کیا\n\nتری نگہ کے تصور میں ہم نے اے قاتل\nلگا لگا کے گلے سے چھری کو پیار کیا\n\nغضب تھی کثرت محفل کہ میں نے دھوکہ میں\nہزار بار رقیبوں کو ہمکنار کیا\n\nہوا ہے کوئی مگر اس کا چاہنے والا\nکہ آسماں نے ترا شیوہ اختیار کیا\n\nنہ پوچھ دل کی حقیقت مگر یہ کہتے ہیں\nوہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیا\n\nجب ان کو طرز ستم آ گئے تو ہوش آیا\nبرا ہو دل کا برے وقت ہوشیار کیا\n\nفسانۂ شب غم ان کو اک کہانی تھی\nکچھ اعتبار کیا کچھ نہ اعتبار کیا\n\nاسیری دل آشفتہ رنگ لا کے رہی\nتمام طرۂ طرار تار تار کیا\n\nکچھ آ گئی داور محشر سے ہے امید مجھے\nکچھ آپ نے مرے کہنے کا اعتبار کیا\n\nکسی کے عشق نہاں میں یہ بد گمانی تھی\nکہ ڈرتے ڈرتے خدا پر بھی آشکار کیا\n\nفلک سے طور قیامت کے بن نہ پڑتے تھے\nاخیر اب تجھے آشوب روزگار کیا\n\nوہ بات کر جو کبھی آسماں سے ہو نہ سکے\nستم کیا تو بڑا تو نے افتخار کیا\n\nبنے گا مہر قیامت بھی ایک خال سیاہ\nجو چہرہ داغؔ سیہ رو نے آشکار کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "غضب کے طیش میں وہ شوخ دیدہ آیا تھا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غضب کے طیش میں وہ شوخ دیدہ آیا تھا\nبہ شکل قہر تھا خنجر کشیدہ آیا تھا\n\nسلوک حسن تعلق بنے یہ ہنگامہ\nکہ ہر طرف سے بریدہ رمیدہ آیا تھا\n\nکیا تھا شوق نے بیتاب دیدہ نے مضطر\nوہ ذوق لطف کا لذت چشیدہ آیا تھا\n\nوفا مثال سراپا نیاز با تمکیں\nفقیر پائے بہ دامن کشیدہ آیا تھا\n\nہوا نہ قرب تعلق کا اختصاص یہاں\nیہ روشناس ز راہ بعیدہ آیا تھا\n\nدیا نہ ساقیؔ رعنا نے جام کیف مراد\nصلائے عام کا شہرا شنیدہ آیا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%B7%DB%8C%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "غضب ہے دیکھنے میں اچھی صورت آ ہی جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غضب ہے دیکھنے میں اچھی صورت آ ہی جاتی ہے\nنہیں روکے سے دل رکتا طبیعت آ ہی جاتی ہے\n\nبھرا ہے دل ہمارا دوستوں کی بے وفائی سے\nکہاں تک ضبط باتوں میں شکایت آ ہی جاتی ہے\n\nپڑے گا تیرے جی میں شک نہ سن غماز کی باتیں\nہزار آئینہ ہو دل پر کدورت آ ہی جاتی ہے\n\nیہ کیا معلوم تھا یہ عشق سودائی بنائے گا\nکہیں ٹلتی ہے آنے والی آفت آ ہی جاتی ہے\n\nطلائی رنگ پر کیوں کر نہ ان لوگوں کو غرا ہو\nیہ زر وہ چہرہ ہے خاطر میں نخوت آ ہی جاتی ہے\n\nجنون عشق میں ہر چند کچھ غیرت نہیں لیکن\nجو کوئی تان کرتا ہے حمیت آ ہی جاتی ہے\n\nعجب روداد ہے اپنی بیاں کرتے ہیں ہم جس سے\nنکل آتے ہیں آنسو اس کو رقت آ ہی جاتی ہے\n\nنکل جائے نہ کیوں کر شہر سے مجنوں بیاباں کو\nبشر کو اپنی عریانی سے غیرت آ ہی جاتی ہے\n\nہنسی اچھی نہیں دیکھو تمیز اس میں نہیں رہتی\nکہ منہ لگ چلنے میں بوسے کی نوبت آ ہی جاتی ہے\n\nلچکتے ہی کمر زلف رسا کی جھونک لینے سے\nاثر معشوق پن کا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے\n\nبہت اپنے کو شائستہ وہ غیروں میں بناتے ہیں\nطبیعت میں جو گرمی ہے شرارت آ ہی جاتی ہے\n\nکہاں تک نیک صحبت کا اثر ہوگا نہ انساں کو\nملے تانبا جو سونے سے تو رنگت آ ہی جاتی ہے\n\nخدا صورت نہ دکھلائے مجھے آتش عذاروں کی\nہزار ان سے ہے دل ٹھنڈا حرارت آ ہی جاتی ہے\n\nدعائے مغفرت جب مانگتے ہیں اس سے رو رو کر\nبرابر جوش میں خالق کی رحمت آ ہی جاتی ہے\n\nکوئی محبوب اس کی جان کا سائل جو ہوتا ہے\nجھکا لیتا ہے بحرؔ آنکھیں مروت آ ہی جاتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%A2_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیں", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیں\nابھی سے کچھ دل مضطر پر اپنے تیر چلتے ہیں\n\nذرا دیکھو تو اے اہل سخن زور صناعت کو\nنئی بندش ہے مجنوں نور کے سانچے میں ڈھلتے ہیں\n\nبرا ہو عشق کا یہ حال ہے اب تیری فرقت میں\nکہ چشم خونچکاں سے لخت دل پیہم نکلتے ہیں\n\nہلا دیں گے ابھی اے سنگ دل تیرے کلیجے کو\nہماری آہ آتش بار سے پتھر پگھلتے ہیں\n\nترا ابھرا ہوا سینہ جو ہم کو یاد آتا ہے\nتو اے رشک پری پہروں کف افسوس ملتے ہیں\n\nکسی پہلو نہیں چین آتا ہے عشاق کو تیرے\nتڑپتے ہیں فغاں کرتے ہیں اور کروٹ بدلتے ہیں\n\nرساؔ حاجت نہیں کچھ روشنی کی کنج مرقد میں\nبجائے شمع یاں داغ جگر ہر وقت جلتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D9%85%DB%81_%D8%AF%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D8%A2%D8%AC_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "غفلت عجب ہے ہم کو دم جس کا مارتے ہیں", "poet_page": "مصنف:یاسین علی خاں مرکز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مرکز (1926)", "year": "1926", "text_ur": "غفلت عجب ہے ہم کو دم جس کا مارتے ہیں\nموجود ہے نظر میں جس کو پکارتے ہیں\n\nہم آئینہ ہیں حق کے حق آئینہ ہے اپنا\nمستی میں اپنی ہر دم دم حق کا مارتے ہیں\n\nہم اپنے آپ طالب مطلوب آپ ہم ہیں\nاس کھیل میں ہمیشہ ہم خود کو ہارتے ہیں\n\nجنت کی ہم کو خواہش دوزخ کا ڈر نہیں ہے\nبے اصل مفت واعظ ہم کو ابھارتے ہیں\n\nظاہر ہے حق کا جلوہ گر آنکھ ہو تو دیکھے\nمرکزؔ خدا کو عالم بھولے پکارتے ہیں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%85_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "غفلت میں سویا اب تلک پھر ہووے گا ہشیار کب", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "غفلت میں سویا اب تلک پھر ہووے گا ہشیار کب\nیاری لگایا خلق سوں پاوے گا اپنا یار کب\n\nجھوٹی محبت باندھ کر غافل رہا اپنے سوں حیف\nبلبل ہوں سنپڑا دام میں دیکھے گا پھر گل زار کب\n\nیہ خواب و خور فرزند و زن اور مال و زر زنداں ہوا\nتو چھوٹ کر اس قید سوں حاصل کرے دیدار کب\n\nحرص و ہوا بغض و حسد کبر و منی بخل و جہل\nاس رہ زنان سوں باچ کر ہووے گا بر خوردار کب\n\nاس نفس کافر کیش کی خصلت تجھے معلوم نہیں\nگر قتل کیتا نہیں اسے تجھ کو ملے دل دار کب\n\nبن پیر پہونچا نہیں کبھی کوئی ساحل مقصود کو\nملاح بن کشتی کہیں ہوتی ہے دریا پار کب\n\nبرحق علیمؔ اللہ کہا رب قول یہدی من یشاء\nجنت کے طالب کو کہو آوے نظر دیدار کب", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%88%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%DB%81%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A8"} {"title": "غفلت میں فرق اپنی تجھ بن کبھو نہ آیا", "poet_page": "مصنف:میر مستحسن خلیق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غفلت میں فرق اپنی تجھ بن کبھو نہ آیا\nہم آپ کے نہ آئے جب تک کہ تو نہ آیا\n\nساقی نے جام مے تو شب پے بہ پے دیا پر\nنیت بھری نہ اپنی جب تک سبو نہ آیا\n\nکوتاہ ہے نہایت دست دعا ہمارا\nدامن اثر کا جا کر اک بار چھو نہ آیا\n\nعاشق کو تیرے کل سے تھی جاں کنی کی حالت\nسب دیکھنے کو آئے اللہ تو نہ آیا\n\nپھونکا بھی طور و وادی بعض اے خلیقؔ لیکن\nاپنی شرارتوں سے وہ شعلہ خو نہ آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%B1%D9%82_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "غفلت میں نہ کھو عمر کہ پچھتائے گا", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "غفلت میں نہ کھو عمر کہ پچھتائے گا\nرونا ہی غم شاہ میں کام آئے گا\nاسباب تعلق سے نہ بھر دل اپنا\nچلتے ہوئے سب کچھ یہیں رہ جائے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%DA%86%DA%BE%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "غفلت میں کٹی عمر نہ ہشیار ہوئے ہم", "poet_page": "مصنف:راسخ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غفلت میں کٹی عمر نہ ہشیار ہوئے ہم\nسوتے ہی رہے آہ نہ بیدار ہوئے ہم\n\nیہ بے خبری دیکھ کہ جب ہم سفر اپنے\nکوسوں گئے تب آہ خبردار ہوئے ہم\n\nصیاد ہی سے پوچھو کہ ہم کو نہیں معلوم\nکیا جانئے کس طرح گرفتار ہوئے ہم\n\nتھی چشم کہ تو رحم کرے گا کبھو سو ہائے\nغصہ کے بھی تیرے نہ سزا وار ہوئے ہم\n\nآتا ہی نہ اس کوچے سے تابوت ہمارا\nدفن آخر اسی کے پس دیوار ہوئے ہم\n\nزخم کہن اپنا ہوا ناسور پہ راسخؔ\nمرہم کے کسو سے نہ طلب گار ہوئے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%B9%DB%8C_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "غفلت میں ہوئی اوقات بسر اے عمر گریزاں کچھ نہ کیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غفلت میں ہوئی اوقات بسر اے عمر گریزاں کچھ نہ کیا\nسب چلنے کے تھے سامان بہم چلنے ہی کا ساماں کچھ نہ کیا\n\nواعظ نے بھرے خم چور کئے تر کر دی زمیں اے پیر مغاں\nظالم نے ذرا بھی تیرا لحاظ اے رہبر ایماں کچھ نہ کیا\n\nاعمال کی زشتی کا بدلا میں کہہ نہیں سکتا کیا ملتا\nبھیجا بھی اگر دوزخ میں تجھے اے صاحب ایماں کچھ نہ کیا\n\nمے پینے کا دل میں جوش نہ تھا ظاہر کی طلب تھی ہوش میں آ\nساقی نے ملایا زہر اگر اے منکر احساں کچھ نہ کیا\n\nمانا کہ بڑی سفاک ہے تو بالفرض بڑی جلاد ہے تو\nمیں جیتا رہا تا صبح اگر تو اے شب ہجراں کچھ نہ کیا\n\nتکلیف کسی کو گر پہونچی تو اس میں تکلف کیا نکلا\nحیران جو رکھا قاتل کو تو اے شب ہجراں کچھ نہ کیا\n\nالٹا نہ عراق و شام و حلب دنیا نہ ہوئی ویران تو کیا\nجل تھل نہ لہو سے تو نے بھرا تو خون مسلماں کچھ نہ کیا\n\nسنتا ہوں عدو کو خاک کیا مٹی میں ملایا گھر اس کا\nپھونکا نہ جلا کر مجھ کو اگر تو اے شب ہجراں کچھ نہ کیا\n\nکیا جی کے کروں گا میں تنہا یاں تاب کہاں باقی دل کو\nبے موت کے اب مارا نہ مجھے تو داغ عزیزاں کچھ نہ کیا\n\nجنبش سے تری مقتل ہوتا اک آن میں دشت کرب و بلا\nعشاق کی بے باکی کا عوض اے ابروئے براں کچھ نہ کیا\n\nاے ننگ جہاں اے شادؔ بتا کچھ شرم بھی تجھ کو ہے کہ نہیں\nاے جہل مرکب اے حیواں اے بے خبر انساں کچھ نہ کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D9%82%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھا\nافعال مضر سے کچھ نہ کرنا اچھا\nاکبرؔ نے سنا ہے اہل غیرت سے یہی\nجینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%DB%81_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7"} {"title": "غفلت کے تخم بونے والے اٹھے", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "غفلت کے تخم بونے والے اٹھے\nاوقات عزیز کھونے والے اٹھے\nچمکا جو تیرا نور تو آنکھیں کھولیں\nسورج نکلا تو سونے والے اٹھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%AE%D9%85_%D8%A8%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92"} {"title": "غلام", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "خدا بہتر جانتا ہے کہ مجھ کو کس غرض کی تکمیل اور کس خیال کو پیش نظر رکھ کر پیدا کیا گیا ہے؟ مجھے تو بظاہر اپنے یہاں آنے کی کوئی خاص وجہ نہیں معلوم ہوتی۔ ہاں اگر سرکار کے چانٹوں کے لیے کسی گدی کی، بیگم صاحبہ کے طمانچوں کے لیے کسی کلے کی، صاحب زادے صاحب کی ٹھوکروں کے لیے کسی پنڈلی کی اور صاحب زادی صاحبہ کی چٹکیوں کے لیے کسی ہاتھ کی ضرورت تھی تو میرے پیدا کرنے کے بہت کافی وجوہ موجود تھے اور شاید اسی خیال سے میری ہڈیاں مضبوط، میرا گوشت سخت اور میری گدی چوڑی بنائی گئی ہے یا رفتہ رفتہ بن گئی ہے۔\n\nمیں کہاں پیدا ہوا؟ اور کب پیدا ہوا؟ اس کا داخلہ قضا و قدر کے دفتر میں شاید مل سکے تو مل سکے، دنیا میں ان واقعات کا پتا چلنا ناممکن ہے۔ میرے ماں باپ کون تھے؟ اس کا حال بھی کسی کو معلوم نہیں اور کیوں کر معلوم ہو سکتا ہے، جب باوجود ان کا بیٹا ہونے کے مجھے خود معلوم نہیں تو بھلا دوسروں کو کیا معلوم ہوگا؟ ہاں اتنا جانتا ہوں کہ جب میں بہت چھوٹا سا تھا اس وقت ایک عورت مجھے گود لیے پھرتی تھی۔ اس کے بعد وہ غائب ہو گئی اور کسی نے مجھے سڑک کے کنارے ایک مکان میں لا بٹھایا۔ ہمارے سرکار آئے، کچھ لکھا پڑھی ہوئی، مجھے گاڑی میں بٹھا کر گھر لائے۔ اس کے بعد اب تک نہ یہ گھر ہم سے چھوٹا ورنہ ہم اس گھر سے چھوٹے۔\n\nگھر میں آتے ہی ماروں مار میرے لیے نئے کپڑے سلے اور نہلا دھلا، کپڑے پہنا، مجھے خاصا بھلا آدمی بنا دیا۔ تھوڑی دیر میں دستر خوان بچھا، بیگم صاحبہ نے مجھے بھی دستر خوان پر بٹھا لیا۔ یہ پہلا اور آخری دن تھا جو اس گھر میں مجھے دستر خوان پر کھانا کھانا نصیب ہوا۔ کھانے بڑے مزے کے تھے، میں بھوکا بھی تھا۔ ایسا بے تاب ہو کر گرا کہ جب پیٹ تن کر نقارہ ہو گیا اس وقت کہیں جا کر کھانے سے ہاتھ اٹھایا۔ جس پیٹ میں کبھی آدھی روٹی نہیں پہنچی تھی، اس میں اتنا ملغوبا بھر گیا، بد ہضمی ہوئی، علاج ہوئے، خدا خدا کر کے اچھا ہوا۔ اس کے بعد میں کھانے میں احتیاط کرتا یا نہ کرتا، ہاں کھانا دینے میں بیگم صاحبہ بہت احتیاط کرتیں۔ گھٹتے گھٹتے آدھی روٹی پر نوبت آگئی۔\n\nحکم تھا کہ ’’میرے سامنے کھا۔‘‘ بھلا بڑھتے معدے کو آدھی روٹی کیا معلوم ہو لیکن وہاں آدھی روٹی سے پون روٹی نہ ہوئی۔ اس پر یہی مامائیں طعنوں کی بوچھاڑ سے کلیجہ چھلنی کر ڈالتیں کہ ’’اے بوا دیکھنا! اس کی عمر دیکھواور اس کا کھانا دیکھو! ذرا بڑا ہوا تو پانچ سیر آٹا چٹ کر جائے گا۔‘‘\n\nہوتے ہوتے بیگم صاحبہ نے بھی یہی سبق پڑھنا شروع کر دیا۔ خود ایک وقت میں آدھی روٹی دیتی تھیں۔ پھر بھی میرے بڑ پیٹے ہونے کی شکایت تھی۔ ان کی ایک لڑکی بس میرے ہی برابرتھی۔ یقین مانئے گا کہ ہر وقت اس کا منہ چلتا تھا۔ یہ سودے والا آیا، مچل گئی، دو پیسے لے کھا گئی، کوئی خوانچے والا آیا، بپھر گئی، ایک آنہ لے چٹ کر گئی۔ کاچھن آئی، لوٹ گئی، دو چار پیسے کے کچالو ہضم کیے۔ کھانے پر بیٹھی تو سب کے بعد اٹھی۔ جب دیکھو پیٹ تنا ہوا ہے، دست آ رہے ہیں مگر بیگم صاحبہ ہیں کہ یہی کہے جاتی ہیں کہ ’’اے ہے، نہ یہ بچی کچھ کھاتی ہے نہ پیتی ہے۔ آخر کیسے جئے گی؟ ذرا کھانے بیٹھی اور اس موئے (یہ میری طرف اشارہ تھا) نے گھورنا شروع کر دیا۔ جیسے کا ویسا نکل گیا۔ جب سے آیا ہے میری بچی کی تو بھوک ہی مر گئی ہے۔ بھر بھر رکابیاں دیتی ہوں جب بھی تو موئے کاپیٹ نہیں بھرتا۔ مرغی کا معدہ ہے ادھر کھایا اور ادھر ہضم۔‘‘\n\nنظر وظر لگانا تو مجھے آتا نہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ گھورنا اکثر میرے لیے مفید ثابت ہوا ہے۔ شروع شروع میں تو میری یہ حالت تھی کہ کسی کو کچھ کھاتے دیکھا، اور الگ ہٹ گیا، لیکن کوئی اللہ کا بندہ یہ بھی خیال نہیں کرتا تھا کہ اس معصوم اور لاوارث بچے کو کچھ دے دو، آخر کہاں تک دل مارا جاتا۔ میں نے بھی رنگ بدلا۔ جہاں کسی نے ذرا منہ چلایا اور میں نے گھورا۔ ادھر میں نے گھورا اور ادھرمجھ پر صلواتیں پڑنی شروع ہوئیں، مگر تھوڑا بہت یاروں کے حصے میں آ ہی گیا۔ ہوتے ہوتے میری نظر کا شہرہ ہو گیا۔ ایک د فعہ میں نے بہت گھورا تھا مگر کسی نے مجھ کو کچھ نہیں دیا تھا۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ اس کا سارا کھایا پیا جوں کا توں نکل گیا اور میری نظر لگنے کا اثر سمجھا گیا۔ اب کیا تھا، ذرا میں نے کھانے والے کی طرف گھور کر دیکھا اور میں اس کا حصہ دار ہوگیا۔ غرض نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا کی کوئی نعمت نہ تھی جو گھر میں آتی ہو اوراس میں تھوڑا بہت مجھے نہ مل جاتا ہو۔\n\nہمارے سونے کی شان بھی عجیب شان تھی۔ دوسروں کے پاس بچھونے تھے۔ ہمارے پاس بھی تھے مگررضائی تو ایسی تھی کہ اس میں سے آسمان دکھائی دے، اور تکیہ ایسا کالا تھا کہ اس پر میل بڑھنے یا گھٹنے کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ میری رنگت اور بالوں کی سیاہی میں کچھ 19-20 ہی کا فرق ہوگا، مگر میرے بالوں اور تکئے کی سیاہی میں انیس بیس نہیں، 15 اور 20 کا فرق تھا۔ ساتھ ہی چپ چپاہٹ ایسی تھی کہ سر کے ساتھ تکیہ زمین سے اٹھ آتا تھا۔ اب رہی دری تو وہ کسی زمانے میں دری کی تعریف میں آتی ہو تو آتی ہو، میرے زمانہ استعمال میں بچھنے کے بعد زمین میں اس میں تمیز کرنا ذرا مشکل کام تھا۔\n\nیہ سب کچھ تھا مگر بچھونے سے ہم کوواسطہ بھی بہت کم پڑتا تھا۔ ادھر آنکھ لگی اور ہم کروٹ لے، زمین پر آ رہے۔ تکیہ ایک طرف گیا، دری ایک طرف گئی۔ اب رہی رضائی تو اس کا بچھونے سے کبھی کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔ ہم نے خدا کی دی ہوئی زمین پر لوٹ ماری اور گھر کے کتے نے ہمارا بچھونا سنبھالا۔ سردی لگی تو سوتے ہی سوتے میں کتے کی اور ہماری دری پر جنگ ہو گئی۔ کبھی ہم نے کتے کو دری سے ہٹا دیا اور کبھی کتے نے ہم کو دھکیل کر بچھونے پر قبضہ کر لیا۔ ادھر صبح ہوئی اور ادھر بیگم صاحبہ یا کسی ماما نے اٹھ کر ہم کو ٹھوکر کے ذریعے سے ہوشیار کر دیا۔ ہم پہلے تو ذرا کسمسائے مگر دوسری یا تیسری ٹھوکر نے آنکھیں کھول ہی دیں۔ اٹھ کر بچھونے کو لپیٹا ایک کونے میں رکھا۔ نل پر جا کر دو ایک چلو سے آنکھیں دھوئیں اور’’چل بھیا، چڑھ جا سولی پر، رام بھلی کریں گے‘‘ پھر وہی ہم ہیں اوروہی ایک بولی اور تین کام۔\n\nخیر کام سے تو ہم نہیں گھبراتے، مگر ہر وقت کی مار پیٹ ذرا بری معلوم ہوتی ہے، آخر کوئی کہاں تک پٹے جائے۔ یہ آیا مار گیا، وہ آیا مار گیا، بیگم صاحبہ کہہ رہی ہیں، ’’لوٹا لا۔‘‘ صاحبزادے صاحب کہہ رہے ہیں، ’’پانی لا۔‘‘ صاحب زادی فرما رہی ہیں، ’’چل میرے ساتھ کھیل۔‘‘ یہ کہہ رہا ہے، ’’ادھر آ۔‘‘ وہ کہہ رہا ہے، ’’ادھر جا۔‘‘ آخر آدمی نہ ہوا گھن چکر ہو گیا۔ جس کا حکم نہ مانو، وہی مارے، اور حکم مانو تو کیوں کر مانو، بھلا تین کام ایک آدمی کیوں کر کرے؟ آخر میں نے بھی بے حیائی کا جامہ پہن لیا۔ پٹنا قسمت میں لکھا ہے تو یوں ہی سہی۔ یوں بھی پٹنا، ووں بھی پٹنا، پھر کام کر کے اپنے آپ کو مفت میں کیوں تھکائیں۔ نکمے کا خطاب ملا ہے تو ملنے دو۔ برا بھلا کہتے ہیں تو کہنے دو۔ اس کان سنو، اس کان اڑا دو، آپ ہی بک بک کر تھک جائیں گے۔\n\nیہ چال بھی گھورنے کی طرح کار گر ہوئی۔ سب چیختے چلاتے مگر میں ٹس سے مس نہ ہوتا۔ جہاں کسی نے ذرا ہاتھ لگایا اور میں نے اس زور سے چیخ ماری گویا کسی نے گلا گھونٹ دیا ہے۔ کبھی کسی نے میری اس ترکیب کو دیکھ لیا تو راز کھل گیا، نہیں تو مارنے والا خود گھبرا گیا۔ دوسروں نے غل مچایا کہ ’’اے ہے! لونڈے کو مار ڈالا۔‘‘ کبھی تو مارنے والے صاحب مجھ سے زیادہ پٹ گئے اور کبھی ڈانٹ ڈپٹ ہو گئی مگر ہم کام سے بچ گئے۔ تھوڑی دیر چیختے چلاتے رہے، اس کے بعد یا تو پڑ کر سو گئے یا آنکھ بچایا باہر نکل گئے، مگر بابا ’’ہر فرعونے را موسیٰ۔‘‘ چھوٹی صاحبزادی صاحبہ کچھ مجھ سے زیادہ تیز تھیں، خود ہی مجھے مارتیں اور خود ہی رونے بیٹھ جاتیں۔ بھلا ان کے مقابلے میں مجھ بچارے کی کیا ہستی تھی، الٹی مجھ ہی پر لے دے ہوتی۔\n\nغرض اس لڑکی کے ہاتھوں ناک میں دم آ گیا تھا مگر میں بھی بدلہ لیے بغیر تھوڑی مانتا تھا۔ مارنے کی تو ہمت نہ ہوتی تھی، ہاں کبھی بیگم صاحبہ ان پر خفا ہوتیں تو میں بھی الٹی سیدھی بہت کچھ لگاتا۔ مہینا مہینا بھر پہلے کی باتیں یاد دلاتا، اگر قسمت نے یاوری کی تو کام بن گیا اور صاحب زادی صاحبہ کی خوب کندی ہو گئی۔ نہیں تو لتراپے کا الزام لگا، بیگم صاحہ نے بیٹی کا غصہ مجھ غریب پر اتار لیا۔\n\nہمارے کپڑوں کی کچھ نہ پوچھو۔ ادھر پہنے اور ادھر میلے ہوئے۔ بدن میں کانٹے تھے کہ نیا جوڑا بھی پنڈے سے ثابت نہیں اترنا تھا۔ خیر گریباں تو ہمیشہ چاک رہتا ہی تھا۔ ہاں اکثر یہ بھی ہوتا تھا کہ سینے کے نمونے کا گریبان پیٹھ پر بھی بن جاتا تھا۔ اب رہے ہمارے چاک، تو ان کا بڑھتے بڑھتے بغل تک آ جانا معمولی بات تھی۔ موٹے موٹے لٹھے اور گاڑھے کے کپڑے بنائے گئے مگر کوئی کپڑا بدن سے ثابت نہ اترنا تھا، نہ اترا۔ پاجامہ پہلے ٹخنوں سے گزر کر شرعی ہوا، اس کے بعد گھٹنوں تک آیا اور آخر گھٹتے گھٹتے جانگیہ بن گیا۔\n\nاب رہی ٹوپی اور اچکن، تو وہ ہمیشہ ’’فس کلاس‘‘ رہتی تھی اور کیوں نہ رہتی، پہنتا ہی کون مسخرا تھا، کبھی عید، برات کو پہن لی تو پہن لی۔ نہیں تو ٹوپی میں اچکن ٹھسی ہوئی، کمرے کے کسی کونے میں پڑی رہتی تھی۔ ٹوپی کے ساتھ ہی سر کا بھی خیال آ گیا، اس کا حال بھی سن لیجئے۔ جمعے کے جمعہ ہماری ٹانٹ گھونٹ کر باجرے کا پیڑا بنا دی جاتی تھی۔ ذرا بالوں کی کھونٹیاں نکلیں اور استرا پھرا۔ ا سترے کا پھرنا قیامت ہوتا تھا۔ جس کے پاس سے نکلے، اسی نے چانٹا رسید کیا۔ کچھ گھٹی ہوئی ٹانٹ پر چانٹا ایسا پڑتا ہے کہ سبحان اللہ۔ چھینٹیں اڑ جاتی ہیں۔ مارنے والوں کو مزہ آتا ہو تو آتا ہو، میرا تو بعض وقت سر جھنا جاتا تھا۔ اور تو اور بڑے سرکار بھی مذاق میں چلتے چلتے دو ایک چانٹے ضرور رسید کر دیا کرتے تھے۔\n\nکہتے ہیں، ’’باپ پر پوت، پتا پر گھوڑا، بہت نہیں تو تھوڑا ہی تھوڑا۔‘‘ میرا باپ بھی شاید کوئی چور تھا کیونکہ جہاں میں نے کسی اچھی چیز کو دیکھا اور چرانے کو جی چاہا، پہلے تو دل مارتا رہا، آخر فطرت طبیعت پر غالب آ گئی، اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کی چوری میں نے شروع کر دی۔ کھلونا اٹھایا، چھپا دیا، رومال دیکھا، غائب کر دیا، لیکن آخر ان چیزوں کو لے کر کہاں جاتا۔ میری دنیا تو اسی مکان کی چار دیواری تھی۔\n\nسچ ہے خدا بڑا کار ساز ہے، یہ مشکل بھی آسان ہوئی، ایک نئی ماما آئیں، ہاتھ کی بڑی تیز تھیں۔ موقع ملتا تو گھر بھر میں جھاڑو دے دیتیں، مگر مشکل یہ آ پڑی کہ بیگم صاحبہ کچھ ان کی شکل سے تاڑ گئی تھیں، اس لیے ان کے حدود باورچی خانے اور صحن سے آگے نہ بڑھے، اس پر بھی وہ اپنا پوتھ پورا کر لیتی تھیں۔ رات کو گھر جاتیں، صبح ہی صبح آ تیں۔ دوپہر کا کھانا لے کر جاتیں تو کوئی دو بجے واپس آتیں۔ کوئی روز روز پوٹلی کھلوانے سے تورہا۔ خدا معلوم کتنا دال آٹا باندھ کر لے جاتی تھیں۔ ہاں، یہ ضرور تھا کہ جب سے وہ آئی تھیں دستر خوان پر ہر چیز تھڑنے لگی تھی۔ ہماری بیگم صاحبہ کی سمجھ دیکھو کہ بجائے یہ معلوم کرنے کے کہ کھانا کیوں کم پڑتا ہے، الٹا غلہ بڑھا دیا، مگر ماما جی نے اس پر بھی بس نہ کی، ادھر غلہ بڑھا اور ادھر ان کی چوری بڑھی۔\n\nغرض جب تک وہ رہیں، کھانے میں ہمیشہ برکت ہی برکت رہی۔ ماما جی بچہ سمجھ کرمیرے سامنے پوٹلی باندھنے میں ذرا احتیاط کم کرتی تھیں۔ اس لیے مجھے ان کے کرتوتوں کا حال خوب معلوم ہے۔ رکابی اور پیالے سے لگا، چھوٹی پتیلی اور سر پوش تک ان کی پوٹلی میں ہمارے گھر سے رخصت ہوئے ہیں۔ ان چیزوں کے جانے کے متعلق جس زمانے میں کچھ گڑ بڑ ہوتی، تو بی ماما جی ذرا ہاتھ روک لیتیں۔ خود پوٹلی سارے گھر کو دکھا کر جاتیں۔ جہا ں ذرا معاملہ ٹھنڈا پڑا اور چیزیں کھسکنی شروع ہوئیں۔ ان کو معلوم تھا کہ میں ان کی ساری کارروائیوں سے واقف ہوں، اس لیے میری بڑی خاطر داری کرتیں۔ چپکے ہی چپکے باورچی خانے میں خوب کھلاتیں۔ کبھی کبھی مٹھائی بھی لا کر دیتیں۔ رفتہ رفتہ مجھے بھی ان سے کچھ انس ہو گیا اور کیوں نہ ہوتا۔ گھر والے میرے ساتھ کون سی بھلائی کرتے تھے جو میں ان کے مال کا غم کھاتا۔\n\nآخر یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں خود میں نے ماما جی کو چرا چرا کر چیزیں دینی شروع کیں۔ ذرا بیگم صاحبہ نے کوئی چیز رکھی اور غائب، تکئے کے نیچے سے پیسے غائب، جیب میں سے روپے غائب، کھونٹی پر سے تولیہ غائب، آخر یہاں تک ہوا کہ پٹاری میں سے سونے کا چھلا اڑ گیا۔ اس پر بڑا غل مچا۔ چھری پڑھوا کر رکھوائی گئی۔ کچے چاول چبوائے گئے، مگر پتا نہ چلا۔ مجھ پر تو شبہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ جانتے تھے کہ چرائے گا تو کہاں لے جائے گا۔ ماما پر شبہ کی گنجائش ہی نہیں تھی کیونکہ ان سے باورچی خانہ کب چھوٹتا تھا۔ اب رہیں بی مغلانی اورآیا تو وہ جانیں اور بیگم صاحبہ جانیں۔\n\nغرض تھوڑے دن گئی گزری بات ہوئی۔ چھلے کے عوض بی ماما نے مجھے دو لڈو لا کر دیے۔ اب کیا تھا مجھے لڈووں کی چاٹ پڑ گئی۔ میں نے بھی اپنا گھر صاف کر ماما جی کا گھر بھرا اور خوب بھرا۔ ان کی بیٹی کی شادی ہونے والی تھی۔ سارا جہیز ہمارے گھر سے رفتہ رفتہ وہاں پہنچ گیا۔ یہاں تک کہ دری، چاندنی اور مچھر دانی تک اٹھ گیا۔ بیگم صاحبہ پریشان تھیں کہ یا اللہ سامان کے پر لگ گئے ہیں کہ ادھر رکھا اور ادھر غائب۔ آخر حاضرات کی ٹھہری۔ چھوٹی بی بی آئینے کے سامنے بٹھائی گئیں، جنوں کے بادشاہ آئے، ان سے چور کا حال پوچھا گیا۔ چھوٹی بی بی تو میری جان کی دشمن تھیں ہی، انہوں نے میرا نام لے دیا۔ کسی کو یقین نہ آیا، مگر بڑے سرکار کچھ کھٹک گئے۔ شاید میرے اور ماما جی کے زیادہ میل جول سے ان کو کوئی خیال پیدا ہو گیا۔ ماما جی سمجھیں کہ چلو یہ مال بھی ہضم ہوا۔ ایک دن مجھ سے کہا، ’’دیکھو بیٹا! ابھی بیگم صاحبہ پٹاری میں چمپا کلی رکھ کر کوٹھے پر گئی ہیں، اس وقت لان میں کوئی ہے بھی نہیں، ذرا چپکے سے نکال تولا، اتنے لڈو کھلاؤں گی کہ پیٹ بھر جائے گا۔‘‘\n\nہم باورچی خانے سے نکل ٹہلتے ٹہلتے دالان میں آئے۔ ادھر ادھر دیکھا، میدان صاف تھا، پٹاری کھولی، چمپکا کلی نکال، نیفے میں اڑس، باورچی خانے میں آ ماما جی کے حوالے کی۔ انہوں نے اپنے خشکے کی رکابی میں ٹھونس، رکابی پوٹلی میں باندھ دی۔ بیگم صاحبہ نیچے آئیں۔ پٹاری کھول پان کھایا، مگر کچھ نہ بولیں۔ تھوڑی دیر میں بڑے سرکار، بی مغلانی اور آیا بھی دالان میں آ گئے۔ کھانامنگوایا گیا، سب نے کھا پی فراغت کی۔ بی ماما اپنی پوٹلی دکھا دروازے کے باہر نکلی ہی تھیں کہ ایک غل مچ گیا۔ میں دوڑتا ہوا باہرآیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ماما جی کو ایک سپاہی پکڑے کھڑا ہے، اورماما جی وہ شور مچا رہی ہیں کہ خدا کی پناہ۔ گھر والوں کوبھی کوسنے دے رہی ہیں، سپاہی کو بھی صلواتیں سنا رہی ہیں۔ مجھے جو ماما جی نے دیکھا تو کہا، ’’بیٹا! ذرا یہ کھانا تو لے جا کر میرے گھر میں دے آ۔ بچی بھوکی بیٹھی ہوگی، بارہ بج چکے ہیں، دیکھئے ان کالی وردی والوں سے کب پیچھا چھٹتا ہے۔ خدا نہ کرے کوئی ایسے گھر میں نوکر ہو، یہ نہ شریف کو دیکھیں نہ رذیل کو، گھوڑے گدھے کو ایک لاٹھی ہانکتے ہیں۔‘‘\n\nیہ کہہ، انہوں نے پوٹلی میری طرف بڑھائی، میں نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ سپاہی نے اس زور سے ڈانٹا کہ میرا دم ہی نکل گیا، اورو ماما جی کچھ سہم سی گئیں۔ اتنے میں داروغہ (سب انسپکٹر پولیس) بھی آ گئے۔ کچھ لوگ اور جمع ہوئے، پوٹلی کھلوائی گئی، خشکے میں سے چمپا کلی نکلی، یہ دیکھ کر ماما جی بپھر گئیں، کہنے لگیں، ’’ہیں! یہ چمپا کلی میرے خشکے میں کہاں سے آئی؟ بیگم صاحبہ نے خود نکال کر مجھے خشکا دیا تھا، ان ہی نے رکھ دی ہوگی، ہاں بابا بڑے لوگ ہیں، آج خشکے میں مدعا (چوری کا مال) رکھ کرپولیس کے حوالے کردیا، کل خدا جانے کیا کریں، نا، بابا، نا میں اس گھر میں اب نہیں رہوں گی۔‘‘ یہ کہہ کر ماما جی جانا چاہتی تھی کہ سپاہی نے چٹیا پکڑ کر گھسیٹ لیا۔ اس پر تو بڑھیا نے وہ اودھم مچایا کہ معاذ اللہ۔ سارا محلہ چیخ چیخ کر اور رو رو کر سر پر اٹھا لیا۔\n\nاس وقت تو میں نہیں سمجھا تھا مگر ہاں اب سمجھا ہوں کہ غل مچانے سے اس کا کیا مطلب تھا۔ اس کا مکان قریب ہی تھا۔ یہ اپنی بیٹی کو نوٹس تھا کہ ’’مال گھر سے نکال دے۔‘‘ وہ بھی اپنی ماں کی بیٹی تھیں، سمجھ گئی ہوگی کہ اماں پر آفت آئی ہے۔ مال لے کرنکل رہی تھی کہ دوسرے سپاہی نے اس کو پکڑ کر مال کے ساتھ ماں کے برابر لا کھڑا کیا، اس کے بعد ہم سے تفتیش شروع ہوئی۔ مار سے ڈرایا، مٹھائی کا لالچ دیا، بھلا ہم کو ان ماں بیٹیوں سے کیا دلچسپی تھی، مار کے ڈر اور مٹھائی کی لالچ سے سارا قصہ کہہ سنایا۔\n\nاس کے بعد معلوم نہیں کہ وہ دونوں کہاں جہنم رسید ہوئیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم سے جو وعدے ہوئے تھے ان میں کا پہلا حصہ بہت دل بھر کر ہم کو پہنچا دیا گیا۔ گھر میں اب بھی ہم رہتےہیں لیکن ماماؤں اور نوکروں سے ہم کو ذرا کم ملنے دیا جاتا ہے اور بھئی اب ہم خود بھی سمجھ دار ہو گئے ہیں۔ اگر کچھ چراتے بھی ہیں تو خود ہی کھا پی کر برابر کر دیتے ہیں، کسی کو دیتے دلاتے نہیں۔ بھلا سر کار کے مال کے جب ہم حق دار موجود ہیں تو پھر یہ مال دوسروں کو کیوں پہنچے۔ بچپنا تھا، غلطی ہو گئی، اللہ معاف کرے گا۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "غلام قادر رُہیلہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "رُہیلہ کس قدر ظالم، جفاجُو، کینہ‌پرور تھا\nنکالِیں شاہِ تیموری کی آنکھیں نوکِ خنجر سے\n\nدیا اہلِ حرم کو رقص کا فرماں ستم‌گر نے\nیہ اندازِ ستم کچھ کم نہ تھا آثارِ محشر سے\n\nبھلا تعمیل اس فرمانِ غیرت کُش کی ممکن تھی!\nشہنشاہی حرم کی نازنینانِ سمن بر سے\n\nبنایا آہ! سامانِ طرب بیدرد نے اُن کو\nنہاں تھا حُسن جن کا چشمِ مہر و ماہ و اختر سے\n\nلرزتے تھے دلِ نازک، قدم مجبورِ جُنبش تھے\nرواں دریائے خُوں، شہزادیوں کے دیدۂ تر سے\n\nیونہی کچھ دیر تک محوِ نظر آنکھیں رہیں اُس کی\nکِیا گھبرا کے پھر آزاد سر کو بارِ مِغفَر سے\n\nکمر سے، اُٹھ کے تیغِ جاں‌ستاں، آتش‌فشاں کھولی\nسبق آموز تابانی ہوں انجم جس کے جوہر سے\n\nرکھا خنجر کو آگے اور پھر کچھ سوچ کر لیٹا\nتقاضا کر رہی تھی نیند گویا چشمِ احمر سے\n\nبُجھائے خواب کے پانی نے اخگر اُس کی آنکھوں کے\nنظر شرما گئی ظالم کی درد انگیز منظر سے\n\nپھر اُٹھّا اور تیموری حرم سے یوں لگا کہنے\nشکایت چاہیے تم کو نہ کچھ اپنے مقّدر سے\n\nمرا مَسند پہ سو جانا بناوٹ تھی، تکلّف تھا\nکہ غفلت دُور ہے شانِ صف آرایانِ لشکر سے\n\nیہ مقصد تھا مرا اس سے، کوئی تیمور کی بیٹی\nمجھے غافل سمجھ کر مار ڈالے میرے خنجر سے\n\nمگر یہ راز آخر کھُل گیا سارے زمانے پر\nحِمیّت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85_%D9%82%D8%A7%D8%AF%D8%B1_%D8%B1%D9%8F%DB%81%DB%8C%D9%84%DB%81"} {"title": "غلاموں کی نماز", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "کہا مجاہدِ تُرکی نے مجھ سے بعدِ نماز\nطویل سجدہ ہیں کیوں اس قدر تمھارے امام\nوہ سادہ مردِ مجاہد، وہ مومنِ آزاد\nخبر نہ تھی اُسے کیا چیز ہے نمازِ غلام\nہزار کام ہیں مردانِ حُر کو دُنیا میں\nانھی کے ذوقِ عمل سے ہیں اُمتّوں کے نظام\nبدن غلام کا سوزِ عمل سے ہے محروم\nکہ ہے مروُر غلاموں کے روز و شب پہ حرام\nطویل سجدہ اگر ہیں تو کیا تعجبّ ہے\nورائے سجدہ غریبوں کو اَور کیا ہے کام\nخدا نصیب کرے ہِند کے اماموں کو\nوہ سجدہ جس میں ہے مِلّت کی زندگی کا پیام!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2"} {"title": "غلاموں کے لیے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "حِکمتِ مشرق و مغرب نے سِکھایا ہے مجھے\nایک نکتہ کہ غلاموں کے لیے ہے اکسیر\nدین ہو، فلسفہ ہو، فَقر ہو، سُلطانی ہو\nہوتے ہیں پُختہ عقائد کی بِنا پر تعمیر\nحرف اُس قوم کا بے سوز، عمل زار و زُبوں\nہو گیا پُختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "غلط ہے دل پہ قبضہ کیا کرے گی بے خودی میری", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غلط ہے دل پہ قبضہ کیا کرے گی بے خودی میری\nیہ جنس مشترک ہے جو کبھی ان کی کبھی میری\n\nحجاب اٹھتے چلے جاتے ہیں اور میں بڑھتا جاتا ہوں\nکہاں تک مجھ کو لے جاتی ہے دیکھوں بے خودی میری\n\nتوہم تھا مجھے نقش دوئی کس طرح مٹتا ہے\nنقاب رخ الٹ کر اس نے صورت کھینچ دی میری\n\nادھر بھی اڑ کے آ خاکستر دل منتظر میں ہوں\nلگا لوں تجھ کو آنکھوں سے تو ہی ہے زندگی میری\n\nعزیزؔ اک دن مجھے یہ رازداری ختم کر دے گی\nکسی نے بات ادھر کی اور رنگت اڑ گئی میری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%84%D8%B7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81_%D9%82%D8%A8%D8%B6%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "غلط ہے عشق میں اے بوالہوس اندیشہ راحت کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غلط ہے عشق میں اے بوالہوس اندیشہ راحت کا\nرواج اس ملک میں ہے درد و داغ و رنج و کلفت کا\n\nزمیں اک صفحۂ تصویر بیہوشاں سے مانا ہے\nیہ مجلس جب سے ہے اچھا نہیں کچھ رنگ صحبت کا\n\nجہاں جلوے سے اس محبوب کے یکسر لبالب ہے\nنظر پیدا کر اول پھر تماشا دیکھ قدرت کا\n\nہنوز آوارۂ لیلیٰ ہے جان رفتہ مجنوں کی\nموئے پر بھی رہا ہوتا نہیں وابستہ الفت کا\n\nحریف بے جگر ہے صبر ورنہ کل کی صحبت میں\nنیاز و ناز کا جھگڑا گرو تھا ایک جرأت کا\n\nنگاہ یاس بھی اس صید افگن پر غنیمت ہے\nنہایت تنگ ہے اے صید بسمل وقت فرصت کا\n\nخرابی دل کی اس حد ہے کہ یہ سمجھا نہیں جاتا\nکہ آبادی بھی یاں تھی یا کہ ویرانہ تھا مدت کا\n\nنگاہ مست نے اس کی لٹائی خانقہ ساری\nپڑا ہے برہم اب تک کارخانہ زہد و طاعت کا\n\nقدم ٹک دیکھ کر رکھ میرؔ سر دل سے نکالے گا\nپلک سے شوخ تر کانٹا ہے صحرائے محبت کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%84%D8%B7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%81%D9%88%D8%B3_%D8%A7%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "غم آہستہ رو یاں رفتہ رفتہ", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم آہستہ رو یاں رفتہ رفتہ\nکیا ہے مجھ کوں حیراں رفتہ رفتہ\n\nوو ساحر نے ادا کا سحر کر کر\nلیا مجھ سیں دل و جاں رفتہ رفتہ\n\nجگر عشاق کا داغ جفا سوں\nہوا صحن گلستاں رفتہ رفتہ\n\nکمند زلف دکھلا کر کیا ہے\nمرے دل کوں پریشاں رفتہ رفتہ\n\nزبس اس یوسف مصری کے ہیں لب\nہوا دل مثل کنعاں رفتہ رفتہ\n\nسراجؔ اب تو نہ ہو غمگیں کہ رحماں\nکرے گا مشکل آساں رفتہ رفتہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%B1%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D9%81%D8%AA%DB%81_%D8%B1%D9%81%D8%AA%DB%81"} {"title": "غم اس پر آشکار کیا ہم نے کیا کیا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم اس پر آشکار کیا ہم نے کیا کیا\nغافل کو ہوشیار کیا ہم نے کیا کیا\n\nہاں ہاں تڑپ تڑپ کے گزاری تمہیں نے رات\nتم نے ہی انتظار کیا ہم نے کیا کیا\n\nاترا رہا ہے نقد محبت پہ دل بہت\nاچھے کو مال دار کیا ہم نے کیا کیا\n\nکہتے ہیں وہ شکایت بیداد و جور پر\nتجھ کو خدا نے خوار کیا ہم نے کیا کیا\n\nناصح بھی ہے رقیب یہ معلوم ہی نہ تھا\nکس کو صلاح کار کیا ہم نے کیا کیا\n\nرسوا کیا جو دل نے تو اب کہہ رہے ہیں داغؔ\nدشمن کو رازدار کیا ہم نے کیا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا\nیا روز اٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا\n\nان نے تو مجھ کو جھوٹے بھی پوچھا نہ ایک بار\nمیں نے اسے ہزار جتایا تو کیا ہوا\n\nخواہاں نہیں وہ کیوں ہی میں اپنی طرف سے یوں\nدل دے کے اس کے ہاتھ بکا تو کیا ہوا\n\nاب سعی کر سپہر کہ میرے موئے گئے\nاس کا مزاج مہر پہ آیا تو کیا ہوا\n\nمت رنجہ کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد\nدل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا\n\nمیں صید ناتواں بھی تجھے کیا کروں گا یاد\nظالم اک اور تیر لگایا تو کیا ہوا\n\nکیا کیا دعائیں مانگی ہیں خلوت میں شیخ یوں\nظاہر جہاں سے ہاتھ اٹھایا تو کیا ہوا\n\nوہ فکر کر کہ چاک جگر پاوے التیام\nناصح جو تو نے جامہ سلایا تو کیا ہوا\n\nجیتے تو میرؔ ان نے مجھے داغ ہی رکھا\nپھر گور پر چراغ جلایا تو کیا ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%B3%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "غم الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا\nآگ جب دل میں سلگتی تھی دھواں کیوں نہ ہوا\n\nسیل غم رکتا نہیں ضبط کی دیواروں سے\nجوش گریہ تھا تو میں گریہ کناں کیوں نہ ہوا\n\nکہتے ہیں حسن خد و خال کا پابند نہیں\nہر حسیں شے پہ مجھے تیرا گماں کیوں نہ ہوا\n\nدشت بھی اس کے مکیں شہر بھی اس میں آباد\nتو جہاں آن بسے دل وہ مکاں کیوں نہ ہوا\n\nیہ سمجھتے ہوئے مقصود نظر ہے تو ہی\nمیں ترے حسن کی جانب نگراں کیوں نہ ہوا\n\nاس سے پہلے کہ ترے لمس کی خوشبو کھو جائے\nتجھ کو پا لینے کا ارمان جواں کیوں نہ ہوا\n\nتپتے صحرا تو مری منزل مقصود نہ تھے\nمیں کہیں ہمسفر ابر رواں کیوں نہ ہوا\n\nاجنبی پر تو یہاں لطف سوا ہوتا ہے\nمیں بھی اس شہر میں بے نام و نشاں کیوں نہ ہوا\n\nنارسائی تھی مرے شوق کا حاصل تو شکیبؔ\nحائل راہ کوئی سنگ گراں کیوں نہ ہوا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "غم اٹھانے کے واسطے دم ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم اٹھانے کے واسطے دم ہے\nزندگی ہے اگر تو کیا غم ہے\n\nکہتے ہو کچھ کہو کہوں کیا خاک\nجانتا ہوں مزاج برہم ہے\n\nگریہ بے اثر کی کچھ حد بھی\nہم ہیں اور آج چشم پر نم ہے\n\nکیا نئے دوستوں سے بگڑی آج\nدشمنوں کا کچھ اور عالم ہے\n\nمجھ کو دیکھا تو غیر سے یہ کہا\nعمر اس نوجوان کی کم ہے\n\nگر خوشی ہے تو وصل کی ہے خوشی\nغم اگر ہے تو ہجر کا غم ہے\n\nسنتے ہیں داغؔ کل وہ آئے تھے\nبارے اب تو سلوک باہم ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92_%D8%AF%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "غم اٹھانے کے ہیں ہزار طریق", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم اٹھانے کے ہیں ہزار طریق\nکہ زمانے کے ہیں ہزار طریق\n\nغیر کے ذکر پر نہیں موقوف\nجی جلانے کے ہیں ہزار طریق\n\nمہربانی کی ایک راہ تو ہو\nگر ستانے کے ہیں ہزار طریق\n\nدل میں آیا ہزار راہ سے غم\nاس ٹھکانے کے ہیں ہزار طریق\n\nان کو سو سو بہانے آتے ہیں\nہر بہانے کے ہیں ہزار طریق\n\nدی ہے مے اس نے غیر کو جوٹھی\nمنہ لگانے کے ہیں ہزار طریق\n\nداغؔ اب فاقہ مست بن بیٹھے\nمانگ کھانے کے ہیں ہزار طریق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82"} {"title": "غم ترا دل میں مرے پھر آگ سلگانے لگا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم ترا دل میں مرے پھر آگ سلگانے لگا\nپھر دھواں سا اس سے کچھ اٹھتا نظر آنے لگا\n\nعشق کے صدمے اٹھائے تھے بہت پر کیا کریں\nاب تو ان صدموں سے کچھ جی اپنا گھبرانے لگا\n\nمیں ہی کچھ بے صبر و طاقت عشق میں اس کے نہیں\nدل بھی اب بے طاقتی سے کام فرمانے لگا\n\nدیکھتے ہی اس کے کچھ اس کی یہ حالت ہو گئی\nجو مجھے سمجھائے تھا میں اس کو سمجھانے لگا\n\nرقص میں اس کے سنجاف سرخ کے عالم کو دیکھ\nشعلۂ جوالہ دامن سے لپٹ جانے لگا\n\nہو چکی فصل گریباں چاکی اب دست جنوں\nدھجیاں کر کے مجھے دامن کی دکھلانے لگا\n\nمنہ سے نکلا تھا مرے اتنا ہی کیا اچھی ہے زلف\nسنتے ہی اس بات کے کچھ وہ تو بل کھانے لگا\n\nکیوں نہ پھاڑوں میں گریباں میرے ہوتے بزم میں\nغیر سے بند قبا وہ اپنے کھلوانے لگا\n\nمصحفیؔ میں تو نہ لکھتا تھا ولے شوق فضول\nاس زمیں میں پھر غزل اک مجھ سے لکھوانے لگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%DA%AF_%D8%B3%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7"} {"title": "غم جگر شکن و درد جاں ستاں دیکھا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم جگر شکن و درد جاں ستاں دیکھا\nتمہارے عشق میں کیا کیا نہ مہرباں دیکھا\n\nہر ایک مجلس خوباں میں دل ستاں دیکھا\nنہ کوئی تجھ سا پر اے آفت جہاں دیکھا\n\nمیں وہ اسیر ہوں جن نے کہ داغ یاس سوا\nنہ سیر لالہ ستاں کی نہ گلستاں دیکھا\n\nجس آنکھ میں نہ سماتی تھی بوند آنسو کی\nاب اس نے غم میں ترے سیل خوں رواں دیکھا\n\nنہ کوہ کن نے وہ دیکھا کبھی نہ مجنوں نے\nتمہارے عشق میں جو ہم نے اے بتاں دیکھا\n\nہزار گرچہ ہیں بیمار تیری آنکھوں کے\nپر ان میں کوئی بھلا مجھ سا ناتواں دیکھا\n\nمیں وہ مریض ہوں پیارے کہ جن نے مدت سے\nسوائے درد نہ آرام یک زماں دیکھا\n\nکیا سوال میں بیدارؔ سے کہ اے مہجور\nکبھی بھی تو نے بھلا وصل دل ستاں دیکھا\n\nمفارقت ہی میں کیا عمر کھوئی میری طرح\nکہ عشق میں دل غمگیں نہ شادماں دیکھا\n\nیہ سن کے رونے لگا اور بعد رونے کے\nکہا نہ پوچھو جو کچھ میں نے اے میاں دیکھا\n\nفراق یار جفائے شمانت اعدا\nغم دل و ستم پند ناصحاں دیکھا\n\nنہ پائی ذرہ بھی اس اشک گرم کی تاثیر\nنہ ایک دم اثر نالہ و فغاں دیکھا\n\nجہاں میں وصل ہے سنتا ہوں مدتوں سے ولیک\nسوائے نام نہ اس کا کہیں نشاں دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%B4%DA%A9%D9%86_%D9%88_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "غم حیات کی لذت بدلتی رہتی ہے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم حیات کی لذت بدلتی رہتی ہے\nبقدر فکر شکایت بدلتی رہتی ہے\n\nحریم راز امید کرم کہ ذوق نمود\nخلوص دوست کی قیمت بدلتی رہتی ہے\n\nکبھی غرور کبھی بے رخی کبھی نفرت\nشبیہ جوش محبت بدلتی رہتی ہے\n\nنہیں کہ تیرا کرم مجھ کو ناگوار نہیں\nیہ غم ہے وجہ مسرت بدلتی رہتی ہے\n\nاگر فریب حسیں ہو تو پھر فریب نہیں\nخطا معاف حقیقت بدلتی رہتی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%D8%A8%D8%AF%D9%84%D8%AA%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور\nکر لے ہمیں تقدیر پریشاں کوئی دن اور\n\nمر جائیں گے جب ہم تو بہت یاد کرے گی\nجی بھر کے ستا لے شب ہجراں کوئی دن اور\n\nتربت وہ جگہ ہے کہ جہاں غم ہے نہ حیرت\nحیرت کدۂ غم میں ہیں حیراں کوئی دن اور\n\nیاروں سے گلہ ہے نہ عزیزوں سے شکایت\nتقدیر میں ہے حسرت و حرماں کوئی دن اور\n\nپامال خزاں ہونے کو ہیں مست بہاریں\nہے سیر گل و حسن‌ گلستاں کوئی دن اور\n\nہم سا نہ ملے گا کوئی غم دوست جہاں میں\nتڑپا لے غم گردش دوراں کوئی دن اور\n\nقبروں کی جو راتیں ہیں وہ قبروں میں کٹیں گی\nآباد ہیں یہ زندہ شبستاں کوئی دن اور\n\nرنگینی و نزہت پہ نہ مغرور ہو بلبل\nہے رنگ بہار چمنستاں کوئی دن اور\n\nآخر کو وہی ہم وہی ظلمات شب غم\nہے نور رخ ماہ درخشاں کوئی دن اور\n\nآزاد ہوں عالم سے تو آزاد ہوں غم سے\nدنیا ہے ہمارے لیے زنداں کوئی دن اور\n\nہستی کبھی قدرت کا اک احسان تھی ہم پر\nاب ہم پہ ہے قدرت کا یہ احساں کوئی دن اور\n\nلعنت تھی گناہوں کی ندامت مرے حق میں\nہے شکر کہ اس سے ہیں پشیماں کوئی دن اور\n\nشیون کو کوئی خلد بریں میں یہ خبر دے\nدنیا میں اب اخترؔ بھی ہے مہماں کوئی دن اور", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%82_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%81%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "غم دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں\nجو کناروں میں سمٹ جائے وہ دریا ہی نہیں\n\nاوس کی بوندوں میں بکھرا ہوا منظر جیسے\nسب کا اس دور میں یہ حال ہے میرا ہی نہیں\n\nبرق کیوں ان کو جلانے پہ کمر بستہ ہے\nمیں تو چھاؤں میں کسی پیڑ کی بیٹھا ہی نہیں\n\nاک کرن تھام کے میں دھوپ نگر تک پہنچا\nکون سا عرش ہے جس کا کوئی زینہ ہی نہیں\n\nکوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید\nآئنہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں\n\nبوجھ لمحوں کا ہر اک سر پہ اٹھائے گزرا\nکوئی اس شہر میں سستانے کو ٹھہرا ہی نہیں\n\nسایہ کیوں جل کے ہوا خاک تجھے کیا معلوم\nتو کبھی آگ کے دریاؤں میں اترا ہی نہیں\n\nموتی کیا کیا نہ پرے ہیں تہ دریا لیکن\nبرف لہروں کی کوئی توڑنے والا ہی نہیں\n\nاس کے پردوں پہ منقش تری آواز بھی ہے\nخانۂ دل میں فقط تیرا سراپا ہی نہیں\n\nحائل راہ تھے کتنے ہی ہوا کے پربت\nتو وہ بادل کہ مرے شہر سے گزرا ہی نہیں\n\nیاد کے دائرے کیوں پھیلتے جاتے ہیں شکیبؔ\nاس نے تالاب میں کنکر ابھی پھینکا ہی نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%AD%DB%8C%D8%B7%DB%82_%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "غم دل کا بیان چھوڑ گئے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم دل کا بیان چھوڑ گئے\nہم یہ اپنا نشان چھوڑ گئے\n\nتری دہشت سے باغ میں صیاد\nمرغ سب آشیان چھوڑ گئے\n\nراہ میں مجھ کو ہمرہاں میرے\nجان کو ناتوان چھوڑ گئے\n\nنفرت آئی سگ و ہما کو کیا\nجو مرے استخوان چھوڑ گئے\n\nچلتے چلتے بھی یہ جفا کیشاں\nہاتھ مجھ پر ندان چھوڑ گئے\n\nکسی در پر انہوں کو جا نہ ملی\nجو ترا آستان چھوڑ گئے\n\nسفر اس دل سے کر گئے غم و درد\nیار سونا مکان چھوڑ گئے\n\nصفحۂ روزگار پر لکھ لکھ\nعشق کی داستان چھوڑ گئے\n\nلے گئے سب بدن زمیں میں ہم\nمصحفیؔ اک زبان چھوڑ گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی\nفلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی\n\nکھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یا رب\nقسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی\n\nلپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا آساں ہے\nولے مشکل ہے حکمت دل میں سوزِ غم چھپانے کی\n\nانہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھا\nاٹھے تھے سیرِ گل کو، دیکھنا شوخی بہانے کی\n\nہماری سادگی تھی التفاتِ ناز پر مرنا\nترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی\n\nلکد کوبِ حوادث کا تحمّل کر نہیں سکتی\nمری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کے ناز اٹھانے کی\n\nکہوں کیا خوبیِ اوضاعِ ابنائے زماں غالبؔ\nبدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%81%D8%B1%D8%B5%D8%AA_%D8%B3%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "غم دنیا نہیں پھر کون سا غم ہے ہم کو", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم دنیا نہیں پھر کون سا غم ہے ہم کو\nفکر و اندیشۂ عقبیٰ سے بھی رم ہے ہم کو\n\nدہن غنچہ سے پیغام وفا سنتے ہیں\nغازۂ عارض صد ہست عدم ہے ہم کو\n\nقول یہ سچ ہے کہ خود کردہ کا درماں کیا ہے\nداور حشر پہ ناحق کا بھرم ہے ہم کو\n\nاگلے لقموں میں نہیں قند مکرر کا مزا\nسخت بے لطف حیات پیہم ہے ہم کو\n\nزیست کی کشمکش اور مرگ کی قربت کا الم\nآمد و رفت نفس تیغ دو دم ہے ہم کو\n\nبیٹھے بیٹھے جو کٹے پھر تگ و دو سے حاصل\nہر نفس جادۂ ہستی میں قدم ہے ہم کو\n\nذرہ ذرہ میں نظر آتی ہے تصویر صنم\nسر بسر رو کش صد دیر و حرم ہے ہم کو\n\nبار غم بار سے احساں کے بدل جاتا ہے\nطوق گردن کشش کاف کرم ہے ہم کو\n\nحال دل لکھتے نہ لوگوں کی زباں میں پڑتے\nوجہ انگشت نمائی یہ قلم ہے ہم کو\n\nآنکھ کیا ڈالیے اس گل پہ جو کمھلا جائے\nکیفیؔ اپنا ہی یہ دل باغ ارم ہے ہم کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "غم دوراں غم جاناں کا نشاں ہے کہ جو تھا", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم دوراں غم جاناں کا نشاں ہے کہ جو تھا\nوصف خوباں بہ حدیث دگراں ہے کہ جو تھا\n\nلذت عرض وفا راحت جاں ہے کہ جو تھی\nدل تپاں اشک رواں شوق جواں ہے کہ جو تھا\n\nشرع و آئین کی تعزیر کے با وصف شباب\nلب و رخسار کی جانب نگراں ہے کہ جو تھا\n\nمیرے پاؤں سے ہیں الجھے ہوئے ریشم کے سے تار\nہمدمو یہ تو وہی بند گراں ہے کہ جو تھا\n\nعشق کی طرز تکلم وہی چپ ہے کہ جو تھی\nلب خوش گوئے ہوس محو بیاں ہے کہ جو تھا\n\nراہرو دشت میں فریاد کناں ہیں کہ جو تھا\nخندہ زن قافلہ راہ براں ہے کہ جو تھا\n\nمغبچے خوش ہیں کہ بزم ان کی ہے ساقی ان کا\nبر سر کار وہی پیر مغاں ہے کہ جو تھا\n\nجلوۂ یار سے کیا شکوۂ بے جا کیجے\nشوق دیدار کا عالم وہ کہاں ہے کہ جو تھا\n\nحلقۂ وعظ سے اب تک ہے گریزاں دنیا\nحلقۂ زلف مدار دو جہاں ہے کہ جو تھا\n\nمیرے ہنسنے پہ خفا تھے مرے رونے پہ ہنسے\nوہی رنگ ستم عشوہ گراں ہے کہ جو تھا\n\nسنگ طفلاں سے ذرا بچ کے رہے قصر بلند\nیہ وہی کار گہ شیشہ گراں ہے کہ جو تھا\n\nدوستو ہم نفسو سنتے ہو عابدؔ کی غزل\nیہ وہی شعلہ نوا سوختہ جاں ہے کہ جو تھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%BA%D9%85_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "غم دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلن", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلن\nوہی سوچی ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پن\n\nوہی اقرار میں انکار کے لاکھوں پہلو\nوہی ہونٹوں پہ تبسم وہی ابرو پہ شکن\n\nکس کو دیکھا ہے کہ پندار نظر کے با وصف\nایک لمحے کے لیے رک گئی دل کی دھڑکن\n\nکون سی فصل میں اس بار ملے ہیں تجھ سے\nکہ نہ پروائے گریباں ہے نہ فکر دامن\n\nاب تو چبھتی ہے ہوا برف کے میدانوں کی\nان دنوں جسم کے احساس سے جلتا تھا بدن\n\nایسی سونی تو کبھی شام غریباں بھی نہ تھی\nدل بجھے جاتے ہیں اے تیرگیٔ صبح وطن", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84%D9%86"} {"title": "غم رو رو کے کہتا ہوں کچھ اس سے اگر اپنا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم رو رو کے کہتا ہوں کچھ اس سے اگر اپنا\nتو ہنس کے وہ بولے ہے میاں فکر کر اپنا\n\nرونے سے ترے کیا کہیں اے دیدۂ خوں بار\nیہ خاک میں ملتا ہے دل اپنا جگر اپنا\n\nگر بیٹھتے ہیں محفل خوباں میں ہم اس بن\nسر زانو سے اٹھتا نہیں دو دو پہر اپنا\n\nلانا ہے تو ہمدم اسے لا جلد کہ ہم کو\nاحوال نظر آئے ہے نوع دگر اپنا\n\nباتوں سے کٹے کس کی بھلا راہ ہماری\nغربت کے سوا کوئی نہیں ہم سفر اپنا\n\nعالم میں ہے گھر گھر خوشی و عیش پر اس بن\nماتم کدہ ہم کو نظر آتا ہے گھر اپنا\n\nیا آنکھوں سے اک آن نہ ہوتا تھا وہ اوجھل\nیا جلوہ دکھاتا نہیں اب اک نظر اپنا\n\nہر بات کا بہتر ہے چھپانا ہی کہ یہ بھی\nہے عیب کرے کوئی جو ظاہر ہنر اپنا\n\nگر رو بہ رو اس کے کسی غم خوار کو چپکے\nکچھ حال سناتا ہوں میں با چشم تر اپنا\n\nتو کیا کہوں کہتا ہے عجب شکل سے مجھ کو\nکچھ ہونٹوں ہی ہونٹوں میں وہ منہ پھیر کر اپنا\n\nکیا کیا اسے دیکھ آتی ہے جرأتؔ ہمیں حسرت\nمایوس جو پھر آتا ہے پیغام بر اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%B1%D9%88_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا\nدل کے جانے کا نہایت غم رہا\n\nحسن تھا تیرا بہت عالم فریب\nخط کے آنے پر بھی اک عالم رہا\n\nدل نہ پہنچا گوشۂ داماں تلک\nقطرۂ خوں تھا مژہ پر جم رہا\n\nسنتے ہیں لیلیٰ کے خیمے کو سیاہ\nاس میں مجنوں کا مگر ماتم رہا\n\nجامۂ احرام زاہد پر نہ جا\nتھا حرم میں لیک نامحرم رہا\n\nزلفیں کھولیں تو تو ٹک آیا نظر\nعمر بھر یاں کام دل برہم رہا\n\nاس کے لب سے تلخ ہم سنتے رہے\nاپنے حق میں آب حیواں سم رہا\n\nمیرے رونے کی حقیقت جس میں تھی\nایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا\n\nصبح پیری شام ہونے آئی میرؔ\nتو نہ چیتا یاں بہت دن کم رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%85_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی\nشراب لا مری حالت خراب ہے ساقی\n\nشباب کے لیے توبہ عذاب ہے ساقی\nشراب لا مجھے پاس شباب ہے ساقی\n\nاٹھا پیالہ کہ گلشن پہ پھر برسنے لگی\nوہ مے کہ جس کا قدح ماہتاب ہے ساقی\n\nنکال پردۂ مینا سے دختر رز کو\nگھٹا میں کس لئے یہ ماہتاب ہے ساقی\n\nتو واعظوں کی نہ سن میکشوں کی خدمت کر\nگنہ ثواب کی خاطر ثواب ہے ساقی\n\nزمانے بھر کے غموں کو ہے دعوت غرا\nکہ ایک جام میں سب کا جواب ہے ساقی\n\nکلام جس کا ہے معراج حافظؔ و خیامؔ\nیہی وہ اخترؔ خانہ خراب ہے ساقی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%A9_%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "غم سہتے ہیں پر غمزۂ بے جا نہیں اٹھتا", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم سہتے ہیں پر غمزۂ بے جا نہیں اٹھتا\nمرتے ہیں مگر ناز مسیحا نہیں اٹھتا\n\nکب پان رقیبوں کو عنایت نہیں ہوتے\nکس روز مرے قتل کا بیڑا نہیں اٹھتا\n\nبل پڑتے ہیں پہونچے میں لچکتی ہے کلائی\nنازک ہیں بہت پھولوں کا گجرا نہیں اٹھتا\n\nفرمائیے ارشاد پہاڑوں کو اٹھا لوں\nپر رشک کا صدمہ نہیں اٹھتا نہیں اٹھتا\n\nکوچہ میں منیرؔ ان کے میں بیٹھا تو وہ بولے\nہے ہے مرے دروازے سے پہرا نہیں اٹھتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%BA%D9%85%D8%B2%DB%82_%D8%A8%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%AA%D8%A7"} {"title": "غم سے فارغ ترے ہرگز دل ناشاد نہ ہو", "poet_page": "مصنف:منشی ٹھاکر پرساد طالب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان طالب مانکپوری (1933)", "year": "1933", "text_ur": "غم سے فارغ ترے ہرگز دل ناشاد نہ ہو\nجو گرفتار محبت ہے وہ آزاد نہ ہو\n\nآگ اس گھر میں لگے تجھ سے جو آباد نہ ہو\nخاک ہو جائے وہ دل جس میں تری یاد نہ ہو\n\nبھول جانے سے ترے مجھ کو یہ ہوتا ہے یقیں\nکیا عجب موت کو بھی شکل مری یاد نہ ہو\n\nلے اڑی ہے تو اسے اس کی گلی میں پہونچا\nاے صبا خاک ہماری کہیں برباد نہ ہو\n\nدم میں سو رنگ بدلتا ہوں تپ فرقت میں\nکیسے عاجز مری تصویر میں بہزاد نہ ہو\n\nخواب میں بھی رہے اس زلف مسلسل کا خیال\nیا خدا قید محبت سے دل آزاد نہ ہو\n\nعقل سے کام نہ رکھے کبھی عاشق تیرا\nبندۂ پیر مغاں قائل زہاد نہ ہو\n\nبیڑیاں کتنی ہی تنکوں کی طرح توڑی ہیں\nدست وحشت کہیں شاکی ترا حداد نہ ہو\n\nبے طرح باغ میں گلچیں نے ہوا باندھی ہے\nنکہت گل کہیں گلزار میں برباد نہ ہو\n\nشب کا ہنگام ہے راحت سے وہ آرام کریں\nگوش ضو ان کے الٰہی مری فریاد نہ ہو\n\nطالباؔ مرنے پہ راضی ہوں مگر خوف یہ ہے\nقتل کے بعد بھی کوئی ستم ایجاد نہ ہو", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D8%A7%D8%B1%D8%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%B1%DA%AF%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "غم سے نا اہل وفا حشر تک آزاد نہ ہو", "poet_page": "مصنف:بیتاب عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم سے نا اہل وفا حشر تک آزاد نہ ہو\nمر کے سو بار ہو زندہ تو کبھی شاد نہ ہو\n\nاس نشیمن میں دھرا کیا ہے کہ برباد نہ ہو\nچار تنکے ہوں پڑے اور کوئی بنیاد نہ ہو\n\nکیا کہا تھا تری آنکھوں نے نظر ملتے وقت\nپھر نظر مجھ سے ملا لے جو تجھے یاد نہ ہو\n\nکوئی گاہک نہیں مرجھائے ہوئے پھولوں کا\nکسی سینے میں الٰہی دل ناشاد نہ ہو\n\nخوش ہو بلبل کہ سزاوار اسیری ٹھہری\nوائے اس پر ہے کہ جس کا کوئی صیاد نہ ہو\n\nتیری آنکھوں کا جو مارا نہیں زندہ ہی نہیں\nہے وہی عین غلط جس پہ ترا صاد نہ ہو\n\nسامنے آ گئی ہے منزل پا لغز فراق\nمدد اے عشق کوئی راہ میں افتاد نہ ہو\n\nجو غبار اٹھتا ہے کہتا ہے بآواز بلند\nسر نہ اس خاک کا اونچا ہو جو برباد نہ ہو\n\nدل شکستہ نہ ہو ٹوٹے گا قفس خود بیتابؔ\nوقت کی بات ہے ممکن نہیں آزاد نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D8%AA%DA%A9_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "غم سے کہیں نجات ملے چین پائیں ہم", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم سے کہیں نجات ملے چین پائیں ہم\nدل خون میں نہائے تو گنگا نہائیں ہم\n\nجنت میں جائیں ہم کہ جہنم میں جائیں ہم\nمل جائے تو کہیں نہ کہیں تجھ کو پائیں ہم\n\nجوف فلک میں خاک بھی لذت نہیں رہی\nجی چاہتا ہے تیری جفائیں اٹھائیں ہم\n\nڈر ہے نہ بھول جائے وہ سفاک روز حشر\nدنیا میں لکھتے جاتے ہیں اپنی خطائیں ہم\n\nممکن ہے یہ کہ وعدے پر اپنے وہ آ بھی جائے\nمشکل یہ ہے کہ آپ میں اس وقت آئیں ہم\n\nناراض ہو خدا تو کریں بندگی سے خوش\nمعشوق روٹھ جائے تو کیونکر منائیں ہم\n\nسر دوستوں کا کاٹ کے رکھتے ہیں سامنے\nغیروں سے پوچھتے ہیں قسم کس کی کھائیں ہم\n\nکتنا ترا مزاج خوشامد پسند ہے\nکب تک کریں خدا کے لیے التجائیں ہم\n\nلالچ عبث ہے دل کا تمہیں وقت واپسیں\nیہ مال وہ نہیں کہ جسے چھوڑ جائیں ہم\n\nسونپا تمہیں خدا کو چلے ہم تو نامراد\nکچھ پڑھ کے بخشنا جو کبھی یاد آئیں ہم\n\nسوز دروں سے اپنے شرر بن گئے ہیں اشک\nکیوں آہ سرد کو نہ پتنگے لگائیں ہم\n\nیہ جان تم نہ لوگے اگر آپ جائے گی\nاس بے وفا کی خیر کہاں تک منائیں ہم\n\nہمسائے جاگتے رہے نالوں سے رات بھر\nسوئے ہوئے نصیب کو کیونکر جگائیں ہم\n\nجلوہ دکھا رہا ہے وہ آئینۂ جمال\nآتی ہے ہم کو شرم کہ کیا منہ دکھائیں ہم\n\nمانو کہا جفا نہ کرو تم وفا کے بعد\nایسا نہ ہو کہ پھیر لیں الٹی دعائیں ہم\n\nدشمن سے ملتے جلتے ہیں خاطر سے دوستی\nکیا فائدہ جو دوست کو دشمن بنائیں ہم\n\nتو بھولنے کی چیز نہیں خوب یاد رکھ\nاے داغؔ کس طرح تجھے دل سے بھلائیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%AA_%D9%85%D9%84%DB%92_%DA%86%DB%8C%D9%86_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "غم غلط کرنے کو احباب ہمیں جانبِ باغ", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم غلط کرنے کو احباب ہمیں جانبِ باغ\nلے گئے کل تو عجب رنگِ گلستاں دیکھا\n\nوَرد میں خاصیتِ اخگرِ سوزاں پائی\nنسترن میں اثرِ خارِ مغیلاں دیکھا\n\nایک نالے میں ستم ہائے فلک سے چھوٹے\nجس کو دشوار سمجھتے تھے سو آساں دیکھا\n\nکون کہتا ہے کہ ظلمت میں کم آتا ہے نظر\nجو نہ دیکھا تھا سو ہم نے شبِ ہجراں دیکھا\n\nشیفتہ زلفِ پری رو کا پڑا سایہ کہیں\nمیں نے جب آپ کو دیکھا تو پریشاں دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D8%BA%D9%84%D8%B7_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A8%D9%90_%D8%A8%D8%A7%D8%BA"} {"title": "غم فراق مے و جام کا خیال آیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم فراق مے و جام کا خیال آیا\nسفید بال لیے سر پہ اک وبال آیا\n\nملے گا غیر بھی ان کے گلے بہ شوق اے دل\nحلال کرنے مجھے عید کا ہلال آیا\n\nاگر ہے دیدۂ روشن تو آفتاب کو دیکھ\nادھر عروج ہوا اور ادھر زوال آیا\n\nلٹائے دیتے ہیں ان موتیوں کو دیدۂ شوق\nبھر آئے اشک کہ مفلس کے ہاتھ مال آیا\n\nلگی نسیم بہاری جو معرفت گانے\nگلوں پہ کچھ نہیں موقوف سب کو حال آیا\n\nپیام بر کو عبث دے کے خط ادھر بھیجا\nغریب اور وہاں سے شکستہ حال آیا\n\nخدا خدا کرو اے شادؔ اس پہ نخوت کیا\nجو شاعری تمہیں آئی تو کیا کمال آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%D9%85%DB%92_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "غم فراق کا کھٹکا وصال یار میں ہے", "poet_page": "مصنف:منشی شیو پرشاد وہبی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وہبی (1870)", "year": "1870", "text_ur": "غم فراق کا کھٹکا وصال یار میں ہے\nخزاں کا خوف ہمیں موسم بہار میں ہے\n\nنکل کے جسم سے آنکھوں میں آ کے ٹھہری ہے\nہماری روح رواں کس کے انتظار میں ہے\n\nکسی کو نقد شہادت نہ دے سکی اب تک\nبرائے نام یہ کوڑی تری کٹار میں ہے\n\nکدورت ان کو ہے مجھ سے یہ صاف ثابت ہے\nجو خط لکھا ہے تو وہ بھی خط غبار میں ہے\n\nشب فراق کے صدمے اٹھاؤں گا کیوں کر\nسکت ذرا بھی نہیں اب تو جان زار میں ہے\n\nگناہ گار رہوں صدقے ہوتی ہے رحمت\nوہ دوزخی ہوں کہ جنت بھی اختیار میں ہے\n\nنہ جانئے گا کہ میں دور دور رہتا ہوں\nتصور آپ کا ہر دم مری کنار میں ہے\n\nدم آ کے آنکھوں میں دیکھے تو راہ ان کی مگر\nغضب یہ ہے کہ تغافل مزاج یار میں ہے\n\nشب فراق کا پوچھو نہ حال کچھ وہبیؔ\nزیادہ حشر کے دن سے مرے شمار میں ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%D9%B9%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "غم فرقت سہا نہیں جاتا", "poet_page": "مصنف:محمود رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم فرقت سہا نہیں جاتا\nروز مر کر جیا نہیں جاتا\n\nخضر سے بھی رہ محبت میں\nساتھ میرے چلا نہیں جاتا\n\nہو گئی ضعف کی بھی حد دل میں\nدرد سے بھی اٹھا نہیں جاتا\n\nاب یہ صورت ہے میرے رونے پر\nغیر سے بھی ہنسا نہیں جاتا\n\nقبر میں ساتھ ہے تری حسرت\nورنہ تنہا رہا نہیں جاتا\n\nاب تو ہم سے ترے بغیر ملے\nخاک میں بھی ملا نہیں جاتا\n\nدل تو جاتا ہے شوق میں تیرے\nشوق دل سے ترا نہیں جاتا\n\nکتنا کم ظرف ہے ترا پیکاں\nخون دل بھی پیا نہیں جاتا\n\nوہ تو جاتے ہیں دل سے اے غم یار\nتو بھی جاتا ہے یا نہیں جاتا\n\nاب تو یہ حال ہے کہ ان سے بھی\nحال میرا سنا نہیں جاتا\n\nوہ امنگیں نہیں مگر محمودؔ\nتاکنا جھانکنا نہیں جاتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D8%B3%DB%81%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں\nشادی وصل بھی عاشق کو سزاوار نہیں\n\nخوبروئی کے لیے زشتی خو بھی ہے ضرور\nسچ تو یہ ہے کہ کوئی تجھ سا طرح دار نہیں\n\nقول دینے میں تامل نہ قسم سے انکار\nہم کو سچا نظر آتا کوئی اقرار نہیں\n\nکل خرابات میں اک گوشہ سے آتی تھی صدا\nدل میں سب کچھ ہے مگر رخصت گفتار نہیں\n\nحق ہوا کس سے ادا اس کی وفاداری کا\nجس کے نزدیک جفا باعث آزار نہیں\n\nدیکھتے ہیں کہ پہنچتی ہے وہاں کون سی راہ\nکعبہ و دیر سے کچھ ہم کو سروکار نہیں\n\nہوں گے قائل وہ ابھی مطلع ثانی سن کر\nجو تجلی میں یہ کہتے ہیں کہ تکرار نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D8%B4%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے\nایک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے\n\nہے حصول آرزو کا راز ترک آرزو\nمیں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے\n\nیہ نماز عشق ہے کیسا ادب کس کا ادب\nاپنے پائے ناز پر کرنے بھی دے سجدا مجھے\n\nکہہ کے سویا ہوں یہ اپنے اضطراب شوق سے\nجب وہ آئیں قبر پر فوراً جگا دینا مجھے\n\nصبح تک کیا کیا تری امید نے طعنے دیے\nآ گیا تھا شام غم اک نیند کا جھوکا مجھے\n\nدیکھتے ہی دیکھتے دنیا سے میں اٹھ جاؤں گا\nدیکھتی کی دیکھتی رہ جائے گی دنیا مجھے\n\nجلوہ گر ہے اس میں اے سیمابؔ اک دنیائے حسن\nجام جم سے ہے زیادہ دل کا آئینہ مجھے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "غم محبت میں دل کے داغوں سے روکش لالہ زار ہوں میں", "poet_page": "مصنف:تاجور نجیب آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم محبت میں دل کے داغوں سے روکش لالہ زار ہوں میں\nفضا بہاریں ہے جس کے جلووں سے وہ حریف بہار ہوں میں\n\nکھٹک رہا ہوں ہر اک کی نظروں میں بچ کے چلتی ہے مجھ سے دنیا\nزہے گراں باریٔ محبت کہ دوش ہستی پہ بار ہوں میں\n\nکہاں ہے تو وعدۂ وفا کر کے او مرے بھول جانے والے\nمجھے بچا لے کہ پائمال قیامت انتظار ہوں میں\n\nتری محبت میں میرے چہرے سے ہے نمایاں جلال تیرا\nہوں تیرے جلووں میں محو ایسا کہ تیرا آئینہ دار ہوں میں\n\nوہ حسن بے التفات اے تاجورؔ ہوا التفات فرما\nتو زندگی اب سنا رہی ہے کہ عمر بے اعتبار ہوں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%BA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%88%DA%A9%D8%B4_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "غم مرا دشمن جانی ہے کہو یا نہ کہو", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم مرا دشمن جانی ہے کہو یا نہ کہو\nمیرے آنسو کی زبانی ہے کہو یا نہ کہو\n\nرات پروانے کے ماتم میں گداز دل سے\nشمع کی اشک فشانی ہے کہو یا نہ کہو\n\nغنچۂ گل کے تئیں دیکھتے ہی ہم نے کہا\nدل پر خوں کی نشانی ہے کہو یا نہ کہو\n\nماتھا گھسنے سے مرے مہر جبیں کے در پر\nصبح کی اجلی پیشانی ہے کہو یا نہ کہو\n\nمیت عشق کا گر دیکھو رخ نورانی\nمغفرت کی یہ نشانی ہے کہو یا نہ کہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%88_%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%D9%88"} {"title": "غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں\nچاہنے والے کو ہوتا بھی ہے آرام کہیں\n\nوصل ہو وصل الٰہی کہ مجھے تاب نہیں\nدور ہوں دور مرے ہجر کے ایام کہیں\n\nلگ رہی ہیں ترے عاشق کی جو آنکھیں چھت سے\nتج کو دیکھا تھا مگر ان نے لب بام کہیں\n\nعاشقوں کے بھی لڑانے کی تجھے کیا ڈھب ہے\nچشم بازی ہے کہیں بوسہ و پیغام کہیں\n\nیمنی کی سی طرح لخت جگر پر کھودوں\nمج کو معلوم اگر ہووے ترا نام کہیں\n\nہجر میں اس بت کافر کے تڑپتے ہیں پڑے\nاہل زنار کہیں صاحب اسلام کہیں\n\nآرزو ہے مرے تاباںؔ کو بھی اب اے قاتل\nکہ بر آئے ترے ہاتھوں سے مرا کام کہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "غم میں عہد شباب جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم میں عہد شباب جاتا ہے\nآسماں خاک میں ملاتا ہے\n\nکون گل بہر سیر آتا ہے\nباغ پھولا نہیں سماتا ہے\n\nعرش پر بھی غبار جاتا ہے\nدل جو وحشت میں خاک اڑاتا ہے\n\nجان دیتا ہے سبزۂ خط پر\nخضر ہر روز زہر کھاتا ہے\n\nتیغ قاتل جو ہو گئی بے آب\nزخم پانی مگر چراتا ہے\n\nزندے مرتے ہیں مردے جیتے ہیں\nجب وہ رشک مسیح گاتا ہے\n\nسحر شام وصل ہے شب گور\nموت آتی ہے یار جاتا ہے\n\nاچھی پڑتی ہے جب کوئی تلوار\nدہن زخم مسکراتا ہے\n\nخون عشاق کا اٹھا بیڑا\nبے سبب کب وہ پان کھاتا ہے\n\nجگر سنگ ہو جہاں پانی\nوہ وہاں مجھ کو آزماتا ہے\n\nتو جو گل ہے تو میں بھی شبنم ہوں\nمجھے ہنسنا ترا رلاتا ہے\n\nخوش یہ مرنے سے ہوں مرا لاشہ\nگور میں بھی نہیں سماتا ہے\n\nلالۂ کوہ سے ہوا ثابت\nخون فریاد جوش کھاتا ہے\n\nلاکھ تقلید کیجئے اے عرشؔ\nپر کب انداز میرؔ آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "غم نہیں مجھ کو جو وقت امتحاں مارا گیا", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم نہیں مجھ کو جو وقت امتحاں مارا گیا\nخوش ہوں تیرے ہاتھ سے اے جان جاں مارا گیا\n\nتیغ ابرو سے دل عاشق کو ملتی کیا پناہ\nجو چڑھا منہ پر اجل کے بے گماں مارا گیا\n\nمنزل معشوق تک پہنچا سلامت کب کوئی\nرہزنوں سے کارواں کا کارواں مارا گیا\n\nدوستی کی تم نے دشمن سے عجب تم دوست ہو\nمیں تمہاری دوستی میں مہرباں مارا گیا\n\nزہر سے کچھ کم نہ تھی دعوت مری غیروں کے ساتھ\nکیا غضب ہے گھر بلا کر میہماں مارا گیا\n\nدشت غربت رنج تنہائی ہجوم درد و یاس\nان بلاؤں میں ترا عاشق کہاں مارا گیا\n\nکیا ہلاک عشق تیرے گیسوؤں کا تھا اثرؔ\nسنبلستاں ہو گیا ہے دو جہاں مارا گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "غم نہیں گو اے فلک رتبہ ہے مجھ کو خار کا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم نہیں گو اے فلک رتبہ ہے مجھ کو خار کا\nآفتاب اک زرد پتا ہے مرے گل زار کا\n\nزلف کے حلقہ میں الجھا سبزہ گوش یار کا\nہو گیا سنگ زمرد خال چشم مار کا\n\nناخدا ہے موت جو دم ہے سو ہے باد مراد\nعزم ہے کشتیٔ تن کو بحر ہستی یار کا\n\nخانۂ زنجیر سے مثل صدا ڈرتا ہوں اب\nیاد آتا ہے کف پا میں کھٹکنا خار کا\n\nجوش گریہ نے کیا ہے ناتواں اتنا مجھے\nٹوٹنا ممکن نہیں ہے آنسوؤں کے تار کا\n\nکھا گئی آخر مجھے چشم سیاہ سرمگیں\nزرق قسمت نے کیا ہے زنگی آدم خوار کا\n\nسعئ لا حاصل مداوائے مریض عشق ہے\nتھامنا ممکن نہیں گرتی ہوئی دیوار کا\n\nہاتھ قاتل کا گریباں تک پہنچ سکتا نہیں\nاور فرط شوق ہے یاں زخم دامن دار کا\n\nپھول جو ہے اپنے گلشن کا سپر کا پھول ہے\nہر شجر اس باغ میں لاتا ہے پھل تلوار کا\n\nخط روئے یار سے ایذا اٹھائی ہے زبس\nسبزہ سے ہوتا ہے صدمہ میرے دل کو خار کا\n\nگرچہ پیش طاق ابروئے صنم گیسو نہیں\nکعبہ پر نرغہ ہوا ہے لشکر کفار کا\n\nاے صنم تیری کرنجی آنکھ سے ثابت ہوا\nرنگ اڑ جاتا ہے روئے مردم بیمار کا\n\nیاد میں تیری رقیب رو سیہ جاگا تو کیا\nمرتبہ عالی نہ ہو خفاش شب بیدار کا\n\nاس پری رو کے جو کوچہ کا گزرتا ہے خیال\nبن کے جن سایہ لپٹا ہے مجھے دیوار کا\n\nاٹھ کے دیوار لحد سے مردے ٹکراتے سر\nاک قیامت ہے صنم عالم تری رفتار کا\n\nخم ندامت سے کیا محراب میں کعبہ کے سر\nگردن زاہد سے بوجھ اٹھا نہ جب زنار کا\n\nزندگی میں بے ادب ہونے نہ دے تو رعب حسن\nخاک ہے میری پس از مرگ اور دامن یار کا\n\nاے صنم عاشق سے روپوشی نہیں لازم تجھے\nپردہ موسیٰ سے نہیں اللہ کو دیدار کا\n\nبوئے گل آتشؔ کہیں ہوتی ہے محسوس نظر\nافزا ہے روز محشر یار کے دیدار کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس\nبرق سے کرتے ہیں روشن، شمعِ ماتم خانہ ہم\n\nمحفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال\nہیں ورق گردانیِ نیرنگِ یک بت خانہ ہم\n\nباوجودِ یک جہاں ہنگامہ پیرا ہی نہیں\nہیں “چراغانِ شبستانِ دلِ پروانہ” ہم\n\nضعف سے ہے، نے قناعت سے یہ ترکِ جستجو\nہیں “وبالِ تکیہ گاہِ ہِمّتِ مردانہ” ہم\n\nدائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنّائیں اسدؔ\nجانتے ہیں سینۂ پُر خوں کو زنداں خانہ ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%B4_%D8%A7%D8%B2_%DB%8C%DA%A9_%D9%86%D9%81%D8%B3"} {"title": "غم نے باندھا ہے مرے جی پہ کھلا ہائے کھلا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم نے باندھا ہے مرے جی پہ کھلا ہائے کھلا\nپھر نئے سر سیتی آئی ہے بلا ہائے بلا\n\nاے گل گلشن جاں کر مجھے یک بار نہال\nخار حسرت کا کلیجے میں سلا ہائے سلا\n\nدیکھ سکتا نہیں میں گل کوں ہر یک خار کے ساتھ\nاپنے ہمراہ رقیبوں کوں نہ لا ہائے نہ لا\n\nذبح کرنے میں مرے رحم نہ لایا اس نے\nبلکہ اتنا بھی کہا نیں کہ گلا ہائے گلا\n\nجس نے کھایا ہے تیرے ابروئے خوں ریز کا زخم\nمرغ بسمل سا لہو بیچ رلا ہائے رلا\n\nجان جاناں کوں مرے پاس شتابی لاؤ\nنیں تو یک پل میں مرا جان چلا ہائے چلا\n\nبے طرح اب تو برہ آگ دہکتی ہے سراجؔ\nدل مرا کیوں نہ پکارے کہ جلا ہائے جلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7"} {"title": "غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں کبھی کبھی", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں کبھی کبھی\nہوتی ہے کائنات غزل خواں کبھی کبھی\n\nہم نے دیئے ہیں عشق کو تیور نئے نئے\nان سے بھی ہو گئے ہیں گریزاں کبھی کبھی\n\nاے دولت سکوں کے طلبگار دیکھنا\nشبنم سے جل گیا ہے گلستاں کبھی کبھی\n\nہم بے کسوں کی بزم میں آئے گا اور کون\nآ بیٹھتی ہے گردش دوراں کبھی کبھی\n\nکچھ اور بڑھ گئی ہے اندھیروں کی زندگی\nیوں بھی ہوا ہے جشن چراغاں کبھی کبھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D8%B1%DA%AF_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "غم کا گماں یقین طرب سے بدل گیا", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "غم کا گماں یقین طرب سے بدل گیا\nاحساس عشق حسن کے سانچے میں ڈھل گیا\n\nساتھ ان کے لے رہا ہوں میں گل گشت کے مزے\nیہ خواب ہی سہی مرا جی تو بہل گیا\n\nمجبور عشق چشم فسوں ساز سے ہوں میں\nجادو مجھی پہ دوست کا چلنا تھا چل گیا\n\nمیں انتظار عید میں تھا عید آ گئی\nارمان دید دامن عشرت میں پل گیا\n\nہے برق جلوہ یاد مگر یہ نہیں ہے یاد\nخرمن مرے غرور کا کس وقت جل گیا\n\nپیمان عشق و حسن کی تجدید کے سوا\nجو بھی خیال ذہن میں آیا نکل گیا\n\nبڑھتے چلے ہیں آئے دن اسباب اضطراب\nیادش بخیر آج کا وعدہ بھی ٹل گیا\n\nمنظورؔ کس زباں سے بتوں کو برا کہیں\nایماں ہمارا کفر کے دامن میں پل گیا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86_%D8%B7%D8%B1%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%AF%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "غم کو باہم بہم نہ کیجے", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم کو باہم بہم نہ کیجے\nگر غم ہے تو غم کا غم نہ کیجے\n\nیک نیم نگہ ہے سو بھی کاری\nکچھ اس میں سے تو کم نہ کیجے\n\nگو ہم ہیں عاشق وفادار\nپر اتنا بھی ستم نہ کیجے\n\nبے فائدہ روئیے کہاں تک\nاب جی میں ہے چشم نم نہ کیجے\n\nغیروں کے پڑھانے کو میرا وصف\nاس طور سے یہ کرم نہ کیجے\n\nگو تیغ اصیل ہیں یہ ابرو\nہر دم اتنا بھی خم نہ کیجے\n\nگر جام مے اثرؔ لگے ہاتھ\nپھر خواہش جام جم نہ کیجے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85_%D8%A8%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92"} {"title": "غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے\nیہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہے\n\nکہتے ہوئے ساقی سے، حیا آتی ہے ورنہ\nہے یوں کہ مجھے دردِ تہِ جام بہت ہے\n\nنَے تیر کماں میں ہے، نہ صیاد کمیں میں\nگوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے\n\nکیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی\nپاداشِ عمل کی طمَعِ خام بہت ہے\n\nہیں اہلِ خرد کس روشِ خاص پہ نازاں؟\nپابستگیِ رسم و رہِ عام بہت ہے\n\nزمزم ہی پہ چھوڑو، مجھے کیا طوفِ حر م سے؟\nآلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے\n\nہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو\nانکار نہیں اور مجھے اِبرام بہت ہے\n\nخوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ\nرہنے دے مجھے یاں، کہ ابھی کام بہت ہے\n\nہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے؟\nشاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%88%D8%AF%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "غم کی جب سوزش سیں محرم ہووے گا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم کی جب سوزش سیں محرم ہووے گا\nچشمۂ خورشید شبنم ہووے گا\n\nیاد لاوے گا کبھی تو مجھ کوں یار\nشمع بن پروانہ پر کم ہووے گا\n\nعاشق و معشوق میں ثالث ہے عشق\nصلح کا پیغام باہم ہووے گا\n\nکفر و ایماں دو ندی ہیں عشق کیں\nآخرش دونو کا سنگم ہووے گا\n\nسرو قد کے بن عبث ہے سیر باغ\nبار غم سیں سرو بھی خم ہووے گا\n\nگر کرے احوال شبنم پر نظر\nرتبۂ خورشید کیا کم ہووے گا\n\nکعبۂ کوئے صنم میں اے سراجؔ\nاشک میرا آب زمزم ہووے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%D9%88%D8%B2%D8%B4_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا کیا اب تم سے بیان کریں", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا کیا اب تم سے بیان کریں\nغم بھی راس نہ آیا دل کو اور ہی کچھ سامان کریں\n\nکرنے اور کہنے کی باتیں کس نے کہیں اور کس نے کیں\nکرتے کہتے دیکھیں کسی کو ہم بھی کوئی پیمان کریں\n\nبھلی بری جیسی بھی گزری ان کے سہارے گزری ہے\nحضرت دل جب ہاتھ بڑھائیں ہر مشکل آسان کریں\n\nایک ٹھکانا آگے آگے پیچھے ایک مسافر ہے\nچلتے چلتے سانس جو ٹوٹے منزل کا اعلان کریں\n\nمیرؔ ملے تھے میراجیؔ سے باتوں سے ہم جان گئے\nفیض کا چشمہ جاری ہے حفظ ان کا بھی دیوان کریں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D9%88%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہے", "poet_page": "مصنف:عبد المجید سالک", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہے\nحادثہ ایسا زمانے میں کہاں گزرا ہے\n\nزندگی کا ہے خلاصہ وہی اک لمحۂ شوق\nجو تری یاد میں اے جان جہاں گزرا ہے\n\nحال دل غم سے یہ ہے جیسے کسی صحرا میں\nابھی اک قافلۂ نوحہ گراں گزرا ہے\n\nبزم دوشیں کو کرو یاد کہ اس کا ہر رند\nرونق بار گہ پیر مغاں گزرا ہے\n\nپا بہ گل جو تھے وہ آزردہ نظر آتے ہیں\nشاید اس راہ سے وہ سرو رواں گزرا ہے\n\nنگرانیٔ دل و دیدہ ہوئی ہے دشوار\nکوئی جب سے مری جانب نگراں گزرا ہے\n\nحال دل سن کے وہ آزردہ ہیں شاید ان کو\nاس حکایت پہ شکایت کا گماں گزرا ہے\n\nوہ گل افشانیٔ گفتار کا پیکر سالکؔ\nآج کوچے سے ترے اشک فشاں گزرا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "غم ہجر کے گئے دن گزر ہوا آخر اپنا وصال ہی", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "غم ہجر کے گئے دن گزر ہوا آخر اپنا وصال ہی\nپہ یہ کیا غضب ہے پئے خدا تجھے آج تک ہے ملال ہی\n\nہے انوکھا اس کا جمال ہی نہ وہ بدر ہے نہ ہلال ہی\nنہیں بنتی کوئی مثال ہی بلغ العلی بکمالہ\n\nمری آہ نے یہ کیا اثر کہ وہ آن کر ہوئے جلوہ گر\nشب تار ہجر ہوئی سحر کشف الدجی بجمالہ\n\nہے اسی کی شان میں ٰلا فتی ہے اسی کی شان میں ہل اتیٰ\nہے اسی کی شان میں انما حسنت جمیع خصالہ\n\nمیں سوال وصل ہوں کر رہا وہ یہ کہتا ہے کہ نہ مانوں گا\nیہ عجب طرح کا ہے مخمصہ کہ نہ ہجر ہے نہ وصال ہی\n\nمجھے کس طرح نہ خیال ہو کہ نہ انجمؔ ان کو ملال ہو\nکسی بات کا جو سوال ہو نہیں اتنی اپنی مجال ہی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%86_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%8C"} {"title": "غم یاں تو بکا ہوا کھڑا ہے", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غم یاں تو بکا ہوا کھڑا ہے\nفدوی ہے فدا ہوا کھڑا ہے\n\nہلتا نہیں تیرے در سے یہ عشق\nمدت سے ملا ہوا کھڑا ہے\n\nخونیں کفن شہید الفت\nدولہا سا بنا ہوا کھڑا ہے\n\nٹک گوشۂ چشم ادھر بھی کوئی\nکونے سے لگا ہوا کھڑا ہے\n\nدامن کا ہے گھیر گرد جاناں\nکیوں جی وہ گھرا ہوا کھڑا ہے\n\nیوں دل کو بغل میں میں نے پالا\nیہ مجھ پہ پلا ہوا کھڑا ہے\n\nکیا سمجھے نماز عشق ناصح\nقبلہ سے بھرا ہوا کھڑا ہے\n\nمجرے کو تمہارے ابروؤں کے\nمحراب جھکا ہوا کھڑا ہے\n\nمیزان نہیں ملتی میری اس کی\nغصہ میں پلا ہوا کھڑا ہے\n\nگھر سے تو نکل کہ در پہ احسانؔ\nکیا غم میں گھرا ہوا کھڑا ہے\n\nپلکوں سے گری ہے اشک ٹپ ٹپ\nپٹ سے وہ لگا ہوا کھڑا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%DA%91%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا\nآنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا\n\nجلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیا\nبلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا\n\nاللہ بچائے مرض عشق سے دل کو\nسنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا\n\nتشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے\nہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا\n\nمیں نزع میں ہوں آئیں تو احسان ہے ان کا\nلیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا\n\nہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام\nوہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85%D8%B2%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "غمزہ پیکان ہوا جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غمزہ پیکان ہوا جاتا ہے\nدل کا ارمان ہوا جاتا ہے\n\nدیکھ کر الجھی ہوئی زلف ان کی\nدل پریشان ہوا جاتا ہے\n\nتیری وحشت کی بدولت اے دل\nگھر بیابان ہوا جاتا ہے\n\nساز و ساماں کا نہ ہونا ہی مجھے\nساز و سامان ہوا جاتا ہے\n\nمشکل آسان ہوئی جاتی ہے\nکیوں پریشان ہوا جاتا ہے\n\nدل سے جاتے ہیں مرے صبر و قرار\nگھر یہ ویران ہوا جاتا ہے\n\nدل کی رگ رگ میں سما کر بیدمؔ\nدرد تو جان ہوا جاتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85%D8%B2%DB%81_%D9%BE%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "غمزۂ معشوق مشتاقوں کو دکھلاتی ہے تیغ", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غمزۂ معشوق مشتاقوں کو دکھلاتی ہے تیغ\nصورت ابرو ہمارے سر چڑھی جاتی ہے تیغ\n\nہوتے ہیں قرباں شہادت میں گلے مل کر شہید\nدوش قاتل پر ہلال عید بن جاتی ہے تیغ\n\nپست خم کھائے ہوئے لب خشک دم ڈوبا ہوا\nچلتے چلتے اب تو او ظالم تھکی جاتی ہے تیغ\n\nبے گناہی کا برا ہو زخم بے لذت ہوئے\nدست قاتل میں برنگ بید تھراتی ہے تیغ\n\nاس کی گردن پر مرا خوں اس کا احساں میرے سر\nاس سے جھک جاتا ہوں میں اور مجھ سے جھک جاتی ہے تیغ\n\nپار دریائے شہادت سے اتر جاتے ہیں سر\nکشتیٔ عشاق کی ملاح بن جاتی ہے تیغ\n\nخون گرماتا ہے جب پانی میں لہراتا ہوا\nمثل ماہی خوف کے مارے اچھل جاتی ہے تیغ\n\nابروئے خوں خار قاتل کا کوئی پرساں نہیں\nاب نکلتی ہے کہیں تو قرق ہو جاتی ہے تیغ\n\nکب بجھے اس طرح ہے شوق شہادت کی یہ پیاس\nزخم کے منہ میں زباں بن کر نکل آتی ہے تیغ\n\nمرحبا جذب شہادت اس کا مغرب ہے گلو\nآپ منزل پر ہلال آسا پہنچ جاتی ہے تیغ\n\nتشنہ کامو گھاٹ سے اترے تو بیڑا پار ہے\nچشمۂ کوثر چھلکتا ہے کہ لہراتی ہے تیغ\n\nلڑتی ہے چھینٹے لب جو رنگ کیسا لال ہے\nمار کر پانی میں غوطہ خوں میں نہلاتی ہے تیغ\n\nزخم کاری نے کہیں منہ کھول کر کچھ کہہ دیا\nکیا ہوا قبضہ سے باہر کیوں ہوئی جاتی ہے تیغ\n\nجان سے عشاق جاتے ہیں گزر کٹتے ہیں غیر\nپل صراط امتحان عشق کہلاتی ہے تیغ\n\nآفتاب داغ سودا کی حرارت دیکھ کر\nچھاؤں میں دل تفتگان غم کو بٹھلاتی ہے تیغ\n\nمدعی در پردہ کٹ کٹ جاتے ہیں شکل نیام\nاے بیاںؔ میری زبان تیز کہلاتی ہے تیغ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85%D8%B2%DB%82_%D9%85%D8%B9%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D9%82%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%BA"} {"title": "غمزۂ چشم شرمسار کہاں", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غمزۂ چشم شرمسار کہاں\nسر تو حاضر ہے تیغ یار کہاں\n\nگل بھی کرتا ہے چاک اپنا جیب\nپر گریباں سا تار تار کہاں\n\nہو غزالوں کو اس سے ہم چشمی\nتیکھی چتون کہاں خمار کہاں\n\nعندلیبوں نے گل کو گھیر لیا\nایک جیوڑا کہاں ہزار کہاں\n\nایک دن ایک شخص نے پوچھا\nمیر صاحب تمہارا یار کہاں\n\nمیں نے اس سے کہا کہ سن بھائی\nاب مجھے اس تلک ہے بار کہاں\n\nگاہ گاہے سلام کرتا ہے\nپر وہ باتیں کہاں وہ پیار کہاں\n\nزندگی تک ستم تو سہہ لے سوزؔ\nپھر تو یہ ظلم بار بار کہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85%D8%B2%DB%82_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B4%D8%B1%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "غمزے نے اس کے چوری میں دل کی ہنر کیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غمزے نے اس کے چوری میں دل کی ہنر کیا\nاس خانماں خراب نے آنکھوں میں گھر کیا\n\nرنگ اڑ چلا چمن میں گلوں کا تو کیا نسیم\nہم کو تو روزگار نے بے بال و پر کیا\n\nنافع جو تھیں مزاج کو اول سو عشق میں\nآخر انہیں دواؤں نے ہم کو ضرر کیا\n\nمرتا ہوں جان دیں ہیں وطن داریوں پہ لوگ\nاور سنتے جاتے ہیں کہ ہر اک نے سفر کیا\n\nکیا جانوں بزم عیش کہ ساقی کی چشم دیکھ\nمیں صحبت شراب سے آگے سفر کیا\n\nجس دم کہ تیغ عشق کھنچی بوالہوس کہاں\nسن لیجیو کہ ہم ہی نے سینہ سپر کیا\n\nدل زخمی ہو کے تجھ تئیں پہنچا تو کم نہیں\nاس نیم کشتہ نے بھی قیامت جگر کیا\n\nہے کون آپ میں جو ملے تجھ سے مست ناز\nذوق خبر ہی نے تو ہمیں بے خبر کیا\n\nوہ دشت خوف ناک رہا ہے مرا وطن\nسن کر جسے خضر نے سفر سے حذر کیا\n\nکچھ کم نہیں ہیں شعبدہ بازوں سے میگسار\nدارو پلا کے شیخ کو آدم سے خر کیا\n\nہیں چاروں طرف خیمے کھڑے گرد باد کے\nکیا جانیے جنوں نے ارادہ کدھر کیا\n\nلکنت تری زبان کی ہے سحر جس سے شوخ\nیک حرف نیم گفتہ نے دل پر اثر کیا\n\nبے شرم محض ہے وہ گنہ گار جن نے میرؔ\nابر کرم کے سامنے داماں تر کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85%D8%B2%DB%92_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%86%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "غمگیں نہیں ہوں دہر میں تو شاد بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:بہرام جی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غمگیں نہیں ہوں دہر میں تو شاد بھی نہیں\nآباد اگر نہیں ہوں تو برباد بھی نہیں\n\nملتی تری وفا کی مجھے داد بھی نہیں\nمجنوں نہیں ہے دہر میں فرہاد بھی نہیں\n\nکہتا ہے یار جرم کی پاتے ہو تم سزا\nانصاف اگر نہیں ہے تو بیداد بھی نہیں\n\nانساں کی قدر کیا ہے جو ہو تیرے روبرو\nتیرے مقابلے میں پری زاد بھی نہیں\n\nافسوس کس سے یار کی کھنچوائیے شبیہ\nمانیؔ نہیں جہاں میں ہے بہزادؔ بھی نہیں\n\nکرتا ہے عذر جور و جفا یار تو عبث\nہونا جو تھا ہوا وہ ہمیں یاد بھی نہیں\n\nکشتہ ہوا ہوں ابروئے خم دار یار کا\nمیرے لیے ضرورت جلاد بھی نہیں\n\nحسرت بھرے ہوئے گئے دنیا سے سیکڑوں\nتصدیق کس سے کیجئے شداد بھی نہیں\n\nبہرامؔ میرے زور طبیعت سے ہے سخن\nشاگرد میں نہیں ہوں تو استاد بھی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%85%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "غنچہ دہن وہی ہے کہ گونگا کہیں جسے", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غنچہ دہن وہی ہے کہ گونگا کہیں جسے\nہے سرو قد وہ اصل میں لنگڑا کہیں جسے\n\nمعشوق چاہیے کہ ہو ایسا سیاہ فام\nمجنوں میاں بھی دیکھ کے لیلیٰ کہیں جسے\n\nمے کو جو اصطلاح میں کہتے ہیں دخت رز\nوہ مغبچہ ہے رندوں کا سالا کہیں جسے\n\nسب جانور نہ حضرت انساں سے کیوں ڈریں\nپیدا ہیں اس کے پیٹ سے حوا کہیں جسے\n\nسب انگلیاں جھکا کے انگوٹھا اٹھائیے\nبن جائے گی وہ شکل کہ ٹھینگا کہیں جسے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%81_%D8%AF%DB%81%D9%86_%D9%88%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DA%AF%D9%88%D9%86%DA%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%DB%92"} {"title": "غنچۂ دل مرا کھا کر گل خنداں میرا", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غنچۂ دل مرا کھا کر گل خنداں میرا\nبوئے گل سا ہے اڑاتا مجھے جاناں میرا\n\nاپنی گرمی سے برشتہ ہوا حسن رخ یار\nلالہ رنگ آتش گل سے ہے گلستاں میرا\n\nکبھو گزرا تھا کوئی آبلہ پا دیکھ وفا\nرووے اب لگ ہے لہو خار بیاباں میرا\n\nعشق خورشید رخوں سے جو کیا میں نے جنوں\nداغ جوں صبح ہوا چاک گریباں میرا\n\nکیمیا حسن کی ہے منہ تو ذرا اس کو لگا\nجام مے سے بھی گیا کیا دل گریاں میرا\n\nچور کر دل کو عنایت کیا سنگیں دشنام\nشیشے کو توڑ کے پتھر دیا تاواں میرا\n\nقتل عزلتؔ سے نہ منکر ہو کہ گل کے مانند\nلب پہ ہنستا ہے ترے خون نمایاں میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%82_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%D9%84_%D8%AE%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "غنچۂ دل کھلے جو چاہو تم", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غنچۂ دل کھلے جو چاہو تم\nگلشن دہر میں صبا ہو تم\n\nبے مروت ہو بے وفا ہو تم\nاپنے مطلب کے آشنا ہو تم\n\nکون ہو کیا ہو کیا تمہیں لکھیں\nآدمی ہو پری ہو کیا ہو تم\n\nپستۂ لب سے ہم کو قوت دو\nدل بیمار کی دوا ہو تم\n\nہم کو حاصل کسی کی الفت سے\nمطلب دل ہو مدعا ہو تم\n\nیہی عاشق کا پاس کرتے ہیں\nکیوں جی کیوں درپئے جفا ہو تم\n\nاسی اخترؔ کے تم ہوے معشوق\nہنسو بولو اسی کو چاہو تم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%82_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D8%A7%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85"} {"title": "غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں\nبوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سے مجھے بتا کہ یُوں\n\nپُرسشِ طرزِ دلبری کیجیے کیا؟ کہ بن کہے\nاُس کے ہر اک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا کہ یُوں\n\nرات کے وقت مَے پیے ساتھ رقیب کو لیے\nآئے وہ یاں خدا کرے، پر نہ خدا کرے کہ یُوں\n\n“غیر سے رات کیا بنی” یہ جو کہا تو دیکھیے\nسامنے آن بیٹھنا، اور یہ دیکھنا کہ یُوں\n\nبزم میں اُس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیے\nاُس کی تو خامُشی میں بھی ہے یہی مدّعا کہ یُوں\n\nمیں نے کہا کہ “بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی”\nسُن کے ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یُوں؟\n\nمجھ سے کہا جو یار نے “جاتے ہیں ہوش کس طرح”\nدیکھ کے میری بیخودی، چلنے لگی ہوا کہ یُوں\n\nکب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی\nآئینہ دار بن گئی حیرتِ نقشِ پا کہ یُوں\n\nگر ترے دل میں ہو خیال، وصل میں شوق کا زوال\nموجِ محیطِ آب میں مارے ہے دست و پا کہ یُوں\n\nجو یہ کہے کہ ریختہ کیوں کر ہو رشکِ فارسی\nگفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یُوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%82_%D9%86%D8%A7%D8%B4%DA%AF%D9%81%D8%AA%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AA_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%D9%88%DA%BA"} {"title": "غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے\nنرگس کو آنکھ مار کے بیمار کر چلے\n\nپھرتے ہو باغ سے تو پکارے ہے عندلیب\nصبح بہار گل پہ شب تار کر چلے\n\nاٹھتے ہوئے جو دیر سے لی مدرسے کی راہ\nتسبیح شیخ شہر کی زنار کر چلے\n\nآئے جو بزم میں تو اٹھا چہرے سے نقاب\nپروانے ہی کو شمع سے بیزار کر چلے\n\nآزاد کرتے تم ہمیں قید حیات سے\nاس کے عوض جو دل کو گرفتار کر چلے\n\nاٹھ کر ہمارے پاس سے گھر تک رقیب کے\nپہنچے گا وہ کوئی جو ہمیں مار کر چلے\n\nلو خوش رہو گھر اپنے میں جس شکل سے ہو تم\nدو چار نالے ہم پس دیوار کر چلے\n\nاندوہ و درد و غم نے کیا عزم جب ادھر\nہم کو عدم سے قافلہ سالار کر چلے\n\nسوداؔ نے اپنے خوں کی دیت تم سے یک نگاہ\nچاہی تو اتنی بات سے انکار کر چلے\n\nپیارے خدا کے واسطے ٹک اپنے دل کے بیچ\nانصاف تو کرو یہ کسے مار کر چلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B3%DA%A9%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "غنچے نے تاج گل نے کیا پیرہن درست", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غنچے نے تاج گل نے کیا پیرہن درست\nشادی بہار کی ہے ہوا ہے چمن درست\n\nپیغام رستخیز ہے آمد بہار کی\nمر کر ہوئی ہے نرگس بیمار تندرست\n\nرکھا دہان تنگ نے مطلب کو ناتمام\nنکلا تمہارے منہ سے نہ کوئی سخن درست\n\nگل جلوہ گر ہیں آمد فصل بہار ہے\nکر باغباں نشیب و فراز چمن درست\n\nپیوند مہر و ماہ لگاتا ہے روز و شب\nکرتا ہے چرخ پیر ردائے کہن درست\n\nدست جنوں نے قید تعلق سے دی نجات\nپہنچا نہ ایک تابہ گلو پیرہن درست\n\nکرتی ہے جمع باد صبا خاک منتشر\nہوتا ہے پھر نشان مزار کہن درست\n\nہوتی ہیں جوش عشق میں جو جو شکایتیں\nکہتا ہے ناز سے وہ بت سیم تن درست\n\nفرہاد نے فریب محبت میں جان دی\nسمجھا کہ ہے معاملۂ پیر زن درست\n\nساقی بھلا ہو خیر سبو کوئی جام دے\nرکھے خدا ہمیشہ تری انجمن درست\n\nناحق خراش زخم کی دیتا ہے زینتیں\nکرتا ہے شانہ زلف بت سیم تن درست\n\nکس رشک گل کی شہرت نظارگی ہے آج\nکرتے ہیں غنچہ ہائے چمن پیرہن درست\n\nزنگ دوئی سے آئنۂ دل ہے پاک و صاف\nرہتا ہے اپنا گوشۂ بیت الحزن درست\n\nبے فائدہ ہیں چارہ گروں کی مشقتیں\nہوتے نہیں ہیں عشق کے بیمار تن درست\n\nچاٹا ہے ایک عمر لعاب زبان تیغ\nزخموں کے مدتوں میں ہوئے ہیں دہن درست\n\nبدلوں ردیف اور کہ جی بھر گیا نسیمؔ\nہو اور طرح زلف عروس سخن درست", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%92_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%AC_%DA%AF%D9%84_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%81%D9%86_%D8%AF%D8%B1%D8%B3%D8%AA"} {"title": "غنچے چٹک گئے چمن روزگار کے", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غنچے چٹک گئے چمن روزگار کے\nپھوٹے حباب موج نسیم بہار کے\n\nرضواں جو ٹوکے گا در فردوس پر ہمیں\nکہہ دیں گے رہنے والے ہیں ہم کوئے یار کے\n\nآنکھیں ترس رہی ہیں مری تیری زلف کو\nتارے چمک رہے ہیں شب انتظار کے\n\nآغاز میں بھی ہم کو ہے انجام کا خیال\nدھڑکے شباب میں بھی ہیں روز شمار کے\n\nمضمون ہیں ہرن مری بندش کمند ہے\nاے قدرؔ شاعری میں مزے ہیں شکار کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%92_%DA%86%D9%B9%DA%A9_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%B1%D9%88%D8%B2%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92"} {"title": "غنچے کا جواب ہو گیا ہے", "poet_page": "مصنف:عبدالعزیز فطرت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غنچے کا جواب ہو گیا ہے\nدل کھل کے گلاب ہو گیا ہے\n\nپا کر تب و تاب سوز غم سے\nآنسو در ناب ہو گیا ہے\n\nکیا فکر بہار و محفل یار\nاب ختم وہ باب ہو گیا ہے\n\nامید سکوں کا ذکر رعنا\nسب خواب و سراب ہو گیا ہے\n\nمرنا بھی نہیں ہے اپنے بس میں\nجینا بھی عذاب ہو گیا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "غنچے کو ہے ترے دہن کی حرص", "poet_page": "مصنف:پیر شیر محمد عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > کرشمۂ عشق (1922)", "year": "1922", "text_ur": "غنچے کو ہے ترے دہن کی حرص\nسیب کو ہے ترے ذقن کی حرص\n\nیہ نزاکت کہاں یہ لطف کہاں\nہے سمن کو جو اس بدن کی حرص\n\nتیری رفتار وہ کہاں پائے\nدیکھی بس آہوۓ ختن کی حرص\n\nگل سے اے عندلیب کہہ دینا\nنہ کرے میرے گلبدن کی حرص\n\nہے قفس میں بھی چین بلبل کو\nہے طبیعی مگر چمن کی حرص\n\nعاجزؔ ایسی ملی ہے خوش گوئی\nکرتے ہیں سب مرے سخن کی حرص", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%DB%81%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%B1%D8%B5"} {"title": "غوغائے پند گو نہ رہا نوحہ گر رہا", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غوغائے پند گو نہ رہا نوحہ گر رہا\nہنگامہ اک نہ اک مرے بالین پر رہا\n\nاعجاز دل فریبیٔ انداز دیکھنا\nہر ہر ادا پہ مجھ کو گمان نظر رہا\n\nقاصد بھی کوئی صبر دل نا شکیب تھا\nآتے ہی آتے راہ میں کمبخت مر رہا\n\nپرہیز عشق سے مجھے وحشت فزوں ہوئی تو\nمیں کچھ دوا سے اور بھی رنجور تر رہا\n\nہے پائے ہرزہ ناز میں کیا گردش نصیب\nدو دن نہ چین سے سر شوریدہ سر رہا\n\nاٹھ اٹھ کے ساتھ ساتھ مرے تھک کے رہ گیا\nمیں کچھ تپش میں درد سے بیتاب تر رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%D9%88%D8%BA%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%BE%D9%86%D8%AF_%DA%AF%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%86%D9%88%D8%AD%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "غیب سے سحرا نوردوں کا مداوا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیب سے سحرا نوردوں کا مداوا ہو گیا\nدامن دشت جنوں زخموں کا پھاہا ہو گیا\n\nموت آئی جی گئے چھٹ کر غم و اندوہ سے\nیہ نیا مرنا ہے جس کا نام جینا ہو گیا\n\nخود کو بھی دیکھا نہ آنکھیں کھول کر مثل حباب\nبحر ہستی میں فقط دم کا دمامہ ہو گیا\n\nیہ زمانہ وہ نہیں منہ سے نکالے حق کوئی\nیاد کر منصور پر کیا حشر برپا ہو گیا\n\nصورتیں کیا کیا نہ بدلیں میرے سوز عشق نے\nاشک آنکھوں میں بنا ہونٹوں پہ چھالا ہو گیا\n\nناز سے چھاتی پر اس نے پاؤں جس دم رکھ دیا\nدل ہوا ٹھنڈا کلیجہ ہاتھ بھر کا ہو گیا\n\nہم نے پالا مدتوں پہلو میں ہم کوئی نہیں\nتم نے دیکھا اک نظر سے دل تمہارا ہو گیا\n\nکہنے کو مجذوب ہم ہیں دل میں گویا اور ہے\nنیک و بد جو کچھ ہمارے منہ سے نکلا ہو گیا\n\nجب سے اے تسلیمؔ کی ہے بیعت دست سبو\nدین ساغر ہو گیا ایمان مینا ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D9%88%D8%B1%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AF%D8%A7%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "غیر آئے پیچھے پا گئے مجرے کا بار پہلے", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر آئے پیچھے پا گئے مجرے کا بار پہلے\nہم آہ بیٹھے رہ گئے آئے ہزار پہلے\n\nمیں عرض حال اس سے کیوں کر کروں مکرر\nکوئی بول بھی سکے ہے واں ایک بار پہلے\n\nگر جانتے کہ آخر خواہان جاں تو ہوگا\nدل دیتے پیچھے جی کو کرتے نثار پہلے\n\nجانا نہ تھا پریشاں کر دے گی تو وگرنہ\nہم پیچ میں بھی آتے اے زلف یار پہلے\n\nمقتل میں جب وہ قاتل تروار لے کے آیا\nکہنے لگا حضور آ لے تو ہی وار پہلے\n\nمیں سر جھکا کے آگے پہنچا ہے اور کیا عرض\nاس سے بھی کچھ ہے بہتر حاضر ہوں یار پہلے\n\nتب دیکھ دیکھ بولا ترسا کے مارنا ہے\nنیں مارنے کا تجھ کو میں زینہار پہلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D9%BE%DB%8C%DA%86%DA%BE%DB%92_%D9%BE%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%AC%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92"} {"title": "غیر آہ سرد نہیں داغوں کے جانے کا علاج", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر آہ سرد نہیں داغوں کے جانے کا علاج\nجز صبا کیا ہے چراغوں کے بجھانے کا علاج\n\nدل شکستوں کی دوا غیر از گداز عشق نہیں\nہے گلانا ٹوٹے شیشوں کے بنانے کا علاج\n\nجور سے نادم ہو لب کا کاٹنا قاتل کا ہے\nدل کے زخموں کو مرے بخیہ دلانے کا علاج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%A2%DB%81_%D8%B3%D8%B1%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%BA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC"} {"title": "غیر الفت کا راز کیا جانے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر الفت کا راز کیا جانے\nلطف ناز و نیاز کیا جانے\n\nنیم جانوں پہ کیا گزرتی ہے\nنرگس نیم باز کیا جانے\n\nمیرے طول شب جدائی کو\nتیری زلف دراز کیا جانے\n\nپاک بازان مے کدہ کا مقام\nجو نہ ہو پاک باز کیا جانے\n\nدل ہے اس پردہ میں کوئی ورنہ\nشمع سوز و گداز کیا جانے\n\nہم جو مستی میں گرتے پڑتے ہیں\nزاہد ایسی نماز کیا جانے\n\nراہ الفت نہ جس نے طے کی ہو\nوہ نشیب و فراز کیا جانے\n\nجس کے دل میں نہ سوز ہو وہ جلیلؔ\nکیف آواز ساز کیا جانے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "غیر توکل نہیں چارا مجھے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر توکل نہیں چارا مجھے\nاپنے ہی دم کا ہے سہارا مجھے\n\nحرص و طمع نے تو ڈبویا ہی تھا\nصبر و قناعت نے ابھارا مجھے\n\nجو وہ کہے اس کو سزاوار ہے\nچون و چرا کا نہیں یارا مجھے\n\nبے ادبوں کی ادب آموزیاں\nان کے بگڑنے نے سنوارا مجھے\n\nکوشش بے سود مشوش نہ کر\nقعر نہ بن جائے کنارا مجھے\n\nزشتیٔ پندار دلاتا ہے یاد\nقصۂ اسکندر و دارا مجھے\n\nننگ مذلت سے چھڑا لے گیا\nجوش حمیت کا حرارا مجھے\n\nاوج معالی پہ اڑا لے گیا\nتوسن ہمت کا طرارا مجھے\n\nآہ نہیں رخصت افشائے راز\nقصہ تو معلوم ہے سارا مجھے\n\nفرصت اوقات ہے بس مغتنم\nیہ نہیں ملنے کی دوبارا مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%D9%88%DA%A9%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "غیر سے بد گمان ہو جاتے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر سے بد گمان ہو جاتے\nمیری سنتے تو کان ہو جاتے\n\nمہرباں آسمان ہو جاتے\nآپ اگر مہربان ہو جاتے\n\nمیرے گھر میہمان ہو جاتے\nدل میں تم آ کے جان ہو جاتے\n\nجاتے ہم زار اس گلی میں اگر\nذرے بھی آسمان ہو جاتے\n\nپیر فانی کو وقت بادہ کشی\nہم نے دیکھا جوان ہو جاتے\n\nنام میرا جو بزم میں آتا\nمیرے لاکھوں بیان ہو جاتے\n\nدل تو کہتا ہے لطف وصل یہ تھا\nجان من میری جان ہو جاتے\n\nکہتے تیری سی برگ گل بلبل\nیہ بھی تیری زبان ہو جاتے\n\nبوسے کیا لے کوئی تصور میں\nکہ ہیں رخ پر نشان ہو جاتے\n\nظلم ڈھاتے جو آتے تربت پر\nفرش رہ آسمان ہو جاتے\n\nبادلوں میں جو مے بھری ہوتی\nجھک کے اونچی دکان ہو جاتے\n\nشیخ جی مے کدہ وہ جنت ہے\nتم بھی جا کر جوان ہو جاتے\n\nپاسباں تو رقیب بن جاتا\nہم ترے پاسبان ہو جاتے\n\nملتے کم عمر مہ جبیں جو ریاضؔ\nہم ابھی نوجوان ہو جاتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%AF_%DA%AF%D9%85%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92"} {"title": "غیر شایان رسم و راہ نہیں", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر شایان رسم و راہ نہیں\nکب وہ عاشق ہے جو تباہ نہیں\n\nاے فلک دور حسن میں اس کے\nتجھ کو کچھ فکر مہر و ماہ نہیں\n\nربط دشمن سے بھی وہ بد بر ہے\nاب کسی طرح سے نباہ نہیں\n\nکم نگاہی کو ان کی دیکھتے ہیں\nان پہ بھی اب ہمیں نگاہ نہیں\n\nپردہ کب تک رہے گا اے ظالم\nاختر مدعی سیاہ نہیں\n\nظلم کی قدر کے لئے ہے رحم\nداد کچھ بہر داد خواہ نہیں\n\nحیف قزاقیٔ زمانہ حیف\nرسم و رہ بہر رسم و راہ نہیں\n\nہے گدا شاہ بلکہ شاہنشاہ\nسطوت قہر بادشاہ نہیں\n\nالفت اور تم سے ہائے ہائے نہ ہو\nلب دشمن پہ آہ آہ نہیں\n\nپستی طالع بہر خوبی فن\nکیا وہ یوسف جو غرق چاہ نہیں\n\nعرصۂ نیستی و ہستی سے\nبچ کے چلنے کی کوئی راہ نہیں\n\nاے قلقؔ کیا ہوا بڑھاپے میں\nعشق کچھ سیر صبح گاہ نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%B1%D8%B3%D9%85_%D9%88_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "غیر لیں محفل میں بوسے جام کے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر لیں محفل میں بوسے جام کے\nہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے\n\nخستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ\nہتکھنڈے ہیں چرخ نیلی فام کے\n\nخط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو\nہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے\n\nرات پی زمزم پہ مے اور صبح دم\nدھوئے دھبے جامۂ احرام کے\n\nدل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگر\nیہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے\n\nشاہ کے ہے غسل صحت کی خبر\nدیکھیے کب دن پھریں حمام کے\n\nعشق نے غالبؔ نکما کر دیا\nورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92"} {"title": "غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے\nاس کتے نے کر کے دلیری صید حرم کو مارا ہے\n\nباغ کو تجھ بن اپنے بھائیں آتش دی ہے بہاراں نے\nہر غنچہ اخگر ہے ہم کو ہر گل ایک انگارا ہے\n\nجب تجھ بن لگتا ہے تڑپنے جائے ہے نکلا ہاتھوں سے\nہے جو گرہ سینے میں اس کو دل کہیے یا پارہ ہے\n\nراہ حدیث جو ٹک بھی نکلے کون سکھائے ہم کو پھر\nروئے سخن پر کس کو دے وہ شوخ بڑا عیارہ ہے\n\nکام اس کا ہے خوں افشانی ہر دم تیری فرقت میں\nچشم کو میری آ کر دیکھ اب لوہو کا فوارہ ہے\n\nبال کھلے وہ شب کو شاید بستر ناز پہ سوتا تھا\nآئی نسیم صبح جو ادھر پھیلا عنبر سارا ہے\n\nکس دن دامن کھینچ کے ان نے یار سے اپنا کام لیا\nمدت گزری دیکھتے ہم کو میرؔ بھی اک ناکارہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B0%D8%A8%D8%AD_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%92_%D8%B7%D8%A7%D9%82%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "غیر کو تم نہ آنکھ بھر دیکھو", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر کو تم نہ آنکھ بھر دیکھو\nکیا غضب کرتے ہو ادھر دیکھو\n\nخاک میں مت ملاؤ دل کو مرے\nجی میں سمجھو ٹک اپنا گھر دیکھو\n\nدیکھنا زلف و رخ تمہیں ہر وقت\nشام دیکھو نہ تم سحر دیکھو\n\nگل ہوئے جاتے ہیں چراغ کی طرح\nہم کو ٹک جلد آن کر دیکھو\n\nآپ پہ اپنا اختیار نہیں\nجبر ہے ہم پر کس قدر دیکھو\n\nرام باتوں میں تو وہ ہو نہ سکا\nنقش و افسوں بھی کوئی کر دیکھو\n\nلخت دل تم نہ سمجھو مژگاں پر\nعاشقی کا یہ ہے ثمر دیکھو\n\nوصل ہوتا نہیں بھلا کیوں کر\nاپنی ہستی سے تو گزر دیکھو\n\nدیکھتے ہی نہیں تو کیا کہیے\nکہیے تب حال کچھ اگر دیکھو\n\nڈھلتے ہو تم بتاں ادھر دل سے\nآج کل جس کے ہاتھ زر دیکھو\n\nعشق بازی سے باز آؤ حسنؔ\nچھوڑ دو اپنا یہ ہنر دیکھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیا\nجھوٹ سچ آزما کے دیکھ لیا\n\nان کے گھر داغؔ جا کے دیکھ لیا\nدل کے کہنے میں آ کے دیکھ لیا\n\nکتنی فرحت فزا تھی بوئے وفا\nاس نے دل کو جلا کے دیکھ لیا\n\nکبھی غش میں رہا شب وعدہ\nکبھی گردن اٹھا کے دیکھ لیا\n\nجنس دل ہے یہ وہ نہیں سودا\nہر جگہ سے منگا کے دیکھ لیا\n\nلوگ کہتے ہیں چپ لگی ہے تجھے\nحال دل بھی سنا کے دیکھ لیا\n\nجاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفا\nبارہا آزما کے دیکھ لیا\n\nزخم دل میں نہیں ہے قطرۂ خوں\nخوب ہم نے دکھا کے دیکھ لیا\n\nادھر آئینہ ہے ادھر دل ہے\nجس کو چاہا اٹھا کے دیکھ لیا\n\nان کو خلوت سرا میں بے پردہ\nصاف میدان پا کے دیکھ لیا\n\nاس نے صبح شب وصال مجھے\nجاتے جاتے بھی آ کے دیکھ لیا\n\nتم کو ہے وصل غیر سے انکار\nاور جو ہم نے آ کے دیکھ لیا\n\nداغؔ نے خوب عاشقی کا مزا\nجل کے دیکھا جلا کے دیکھ لیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "غیر کی خاطر سے تم یاروں کو دھمکانے لگے", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر کی خاطر سے تم یاروں کو دھمکانے لگے\nآ کے میرے روبرو تلوار چمکانے لگے\n\nجی میں کیا گزرا تھا کل جو آپ رکھ قبضہ پہ ہاتھ\nخوب سا گھورے مجھے اور تن کے بل کھانے لگے\n\nدل طلب مجھ سے کیا میں نے کہا حاضر نہیں\nیہ غضب دیکھو مچل کر پاؤں پھیلانے لگے\n\nقتل کر کر یہ نہیں معلوم کیا گزرا خیال\nدیکھ وہ بسمل مجھے کچھ حیف سا کھانے لگے\n\nیار مجھ کو دیکھ زا رونا تو ان سا ہجر میں\nمشفقانہ کچھ نصیحت جبکہ فرمانے لگے\n\nجل کے رنگیںؔ میں نے یہ مصرع تجلیؔ کا پڑھا\nدل کو سمجھاؤ مجھے کیا آ کے سمجھانے لگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DA%BE%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "غیر کے دل پہ تو اے یار یہ کیا باندھے ہے", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر کے دل پہ تو اے یار یہ کیا باندھے ہے\nہے وہ اک باد فروش اور ہوا باندھے ہے\n\nبوالہوس جامۂ عریانٔی عشاق کو دیکھ\nتو گریبان سے کیوں اپنا گلا باندھے ہے\n\nیوں شرر چھڑتی ہیں جیسے کہ ہوائی ہے چھٹی\nاک سماں آہ مری تا بہ‌‌ سما باندھے ہے\n\nدل‌ سرگشتہ بھی تو ایک بلا میں ہے پھنسا\nکبھی کھولی ہے کبھو زلف دوتا باندھے ہے\n\nیہ تو تجھ سے نہ ہوا آوے شب تار میں یار\nتار شکوؤں ہی کا تو صبح و مسا باندھے ہے\n\nدیکھ کر توڑا گلے کا کوئی دل دیتا ہے\nمنڈچرا پن سے تو کیوں اپنا گلا باندھے ہے\n\nبے وفا ماندہ کی رکھی تو نہ تجھ پاس رہوں\nکیا کروں پاؤں مرا دست وفا باندھے ہے\n\nناف آہو میں نہ کس طرح سے جا کر وہ چھپے\nمشک کی مشکیں تری زلف رسا باندھے ہے\n\nایک جھگڑالو کی دختر پہ ہوا ہے عاشق\nدل مرا جان کے جھگڑے کی بنا باندھے ہے\n\nجب جفا سے تری ہوتا ہوں خفا غصہ سے\nٹکٹکی میری طرف مہر وفا باندھے ہے\n\nجب کہا میں نے کہ جوڑے کو مری جان تو باندھ\nبند محرم کے میں باندھوں گا تو کیا باندھے ہے\n\nکھول کر بالوں کو آشفتہ و برہم ہو کر\nتیرے کہنے سے کہا میری بلا باندھے ہے\n\nسہل یہ طور ہے احساںؔ غزل اک اور بھی لکھ\nہے کھلا سب پہ تو مضمون بندھا باندھے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "غیر کے گھر بن کے ڈالی جائے گی", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر کے گھر بن کے ڈالی جائے گی\nکیوں کر ان کی عید خالی جائے گی\n\nآپ نے باندھی ہے کیوں تلوار آج\nکیا مری حسرت نکالی جائے گی\n\nپھنس چکا دل ہو چکی آشفتگی\nاب طبیعت کیا سنبھالی جائے گی\n\nجان کا دینا مجھے منظور ہے\nان کی فرمائش نہ ٹالی جائے گی\n\nان پہ ظاہر ہو نہ اے دل شوق مرگ\nتیغ گردن سے اٹھا لی جائے گی\n\nدل کو واپس تم سے کیا مانگیں گے ہم\nدے چکے جو شے وہ کیا لی جائے گی\n\nکیوں نہ وہ بے چین ہوئیں گے نسیمؔ\nسیدوں کی آہ خالی جائے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%DB%92_%DA%88%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "غیر کے گھر تو نہ رہ رات کو مہمان کہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر کے گھر تو نہ رہ رات کو مہمان کہیں\nتا نا اس بات کا چرچا ہو مری جان کہیں\n\nاب تلک غنچے کی گردن ہے جھکی خجلت سے\nاس نے دیکھی تھی تری گوئے گریبان کہیں\n\nراز دل اس سے کہا میں تو ولے یہ ڈر ہے\nکہ مرے راز کو کہہ دے نہ وہ نادان کہیں\n\nاے پریشانئ زلف صنم کافر کیش\nکیجیو تو نہ مرے دل کو پریشان کہیں\n\nدل کی بے چینی سے میں سخت بتنگ آیا ہوں\nچین پڑتا ہی نہیں ہے اسے اک آن کہیں\n\nدھانی جوڑے نے ترے کھیت رکھا ہے مجھ کو\nسبز رنگ اتنے تو دیکھے نہیں ہیں دھان کہیں\n\nمنع کس واسطے کرتا ہے میں تیرے صدقے\nعید کے دن تو مجھے ہونے دے قربان کہیں\n\nدرد دل جا کے میں کہہ لوں ابھی در کے نزدیک\nایک ساعت کو ہی اٹھ جاوے جو دربان کہیں\n\nمصحفیؔ ایک غزل اور بھی میں لکھتا ہوں\nیہ تو بیتیں کئی میں نے بہت آسان کہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%81%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "غیر کے گھر ہیں وہ مہمان بڑی مشکل ہے", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر کے گھر ہیں وہ مہمان بڑی مشکل ہے\nجان جانے کے ہیں سامان بڑی مشکل ہے\n\nکہتے ہیں آپ ہیں جس بات کے طالب ہم سے\nہے وہی غیر کو ارمان بڑی مشکل ہے\n\nاور پھر کس سے کہوں حال پریشانیٔ دل\nتم تو ہوتے ہو پریشان بڑی مشکل ہے\n\nبے ملے کام بھی چلتا نہیں ملنا بھی ضرور\nغیر سے جان نہ پہچان بڑی مشکل ہے\n\nاس نے لی جان ہزاروں کی یہ دم دے دے کر\nہم پہ مرنا نہیں آسان بڑی مشکل ہے\n\nوہ اٹھا لیتے ہیں یہ رکھ رکھ کے چھری گردن پر\nکام ہوتا نہیں آسان بڑی مشکل ہے\n\nراز دل اس بت بد خو سے کہوں یا نہ کہوں\nبات نازک ہے وہ نادان بڑی مشکل ہے\n\nروز کہتے ہو کہ تو کس کے لئے ہے بیتاب\nجان کر بنتے ہو انجان بڑی مشکل ہے\n\nدوستی سہل نہیں اس بت بد خو سے نسیمؔ\nضد نہ کر دیکھ مری جان بڑی مشکل ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%81%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%A8%DA%91%DB%8C_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "غیر کے ہاتھ میں اس شوخ کا دامان ہے آج", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر کے ہاتھ میں اس شوخ کا دامان ہے آج\nمیں ہوں اور ہاتھ مرا اور یہ گریبان ہے آج\n\nلٹپٹی چال کھلے بال خماری انکھیاں\nمیں تصدق ہوں مری جان یہ کیا آن ہے آج\n\nکب تلک رہیے ترے ہجر میں پابند لباس\nکیجیے ترک تعلق ہی یہ ارمان ہے آج\n\nآئنے کو تری صورت سے نہ ہو کیوں کر حیرت\nدر و دیوار تجھے دیکھ کے حیران ہے آج\n\nآشیاں باغ میں آباد تھا کل بلبل کا\nہائے تاباںؔ یہ سبب کیا ہے کہ ویران ہے آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "غیر ہنستے ہیں فقط اس لئے ٹل جاتا ہوں", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر ہنستے ہیں فقط اس لئے ٹل جاتا ہوں\nمیں بیابانوں میں رونے کو نکل جاتا ہوں\n\nجوش وحشت کا ہوا موسم گل آ پہنچا\nکچھ دنوں ہوش میں رہتا ہوں سنبھل جاتا ہوں\n\nاپنی رخصت ہے بتوں سے بھی اب انشا اللہ\nدیر سے سوئے حرم آج ہی کل جاتا ہوں\n\nکوچۂ قاتل بے رحم جسے کہتے ہیں\nمیں وہاں دوڑ کے مشتاق اجل جاتا ہوں\n\nجب نکلنے نہیں دیتے ہیں مجھے زنداں سے\nاپنے آپے سے میں ناچار نکل جاتا ہوں\n\nغیر البتہ ترے پاؤں میں ملتے ہیں حنا\nمیں تو آ کر کف افسوس ہی مل جاتا ہوں\n\nمیں جو روتا ہوں تو کہتا ہے نہ کر بد‌ شگنی\nبات کہتا ہے وہ ایسی کہ دہل جاتا ہوں\n\nدوست ہوتا ہے تو ہوتا ہے وہ دشمن اے مہرؔ\nوہ بدل جاتا ہے یا کچھ میں بدل جاتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%86%D8%B3%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D9%82%D8%B7_%D8%A7%D8%B3_%D9%84%D8%A6%DB%92_%D9%B9%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "غیر ہو ناشاد کیوں کیسی کہی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیر ہو ناشاد کیوں کیسی کہی\nچاہتا ہوں داد کیوں کیسی کہی\n\nپہلے گالی دی سوال وصل پر\nپھر ہوا ارشاد کیوں کیسی کہی\n\nتم نے دل کی بات کیوں کیسی سنی\nہم نے یہ روداد کیوں کیسی کہی\n\nمانگتے تھے میرے ملنے کی دعا\nوہ بھی دن ہیں یاد کیوں کیسی کہی\n\nتو بھی اے ناصح کسی پر جان دے\nہاتھ لا استاد کیوں کیسی کہی\n\nداغؔ تجھ کو باغ جنت ہو نصیب\nخانماں برباد کیوں کیسی کہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%81%DB%8C"} {"title": "غیرت مہر رشک ماہ ہو تم", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیرت مہر رشک ماہ ہو تم\nخوب صورت ہو بادشاہ ہو تم\n\nجس نے دیکھا تمہیں وہ مر ہی گیا\nحسن سے تیغ بے پناہ ہو تم\n\nکیوں کر آنکھیں نہ ہم کو دکھلاؤ\nکیسے خوش چشم خوش نگاہ ہو تم\n\nحسن میں آپ کے ہے شان خدا\nعشق بازوں کے سجدہ گاہ ہو تم\n\nہر لباس آپ کو ہے زیبندہ\nجامہ زیبوں کے بادشاہ ہو تم\n\nفوق ہے سارے خوش جمالوں پر\nوہ ستارے جو ہیں تو ماہ ہو تم\n\nہم سے پردہ وہی حجاب کا ہے\nکوچہ گردوں سے رو براہ ہو تم\n\nکیوں محبت بڑھائی تھی تم سے\nہم گناہ گار بے گناہ ہو تم\n\nجو کہ حق وفا بجا لائے\nشاہد اللہ ہے گواہ ہو تم\n\nہے تمہارا خیال پیش نظر\nجس طرف جائیں سد راہ ہو تم\n\nدونوں بندے اسی کے ہیں آتشؔ\nخواہ ہم اس میں ہوویں خواہ ہو تم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%85%D8%A7%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85"} {"title": "غیرت میں سیاست میں شجاعت میں ہو مرد", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "غیرت میں سیاست میں شجاعت میں ہو مرد\nہمت میں مروت میں عبادت میں ہو مرد\nلالچ سے شیخت سے تعلی سے ہو دور\nاتنا ہو کوئی تو قوم کا ہو ہمدرد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%AC%D8%A7%D8%B9%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D9%85%D8%B1%D8%AF"} {"title": "غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہو کر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہو کر\nغیرت سے رہ گئے ہم یکسو کباب ہو کر\n\nاس روئے آتشیں سے برقع سرک گیا تھا\nگل بہہ گیا چمن میں خجلت سے آب ہو کر\n\nکل رات مند گئی تھیں بہتوں کی آنکھیں غش سے\nدیکھا کیا نہ کر تو سرمست خواب ہو کر\n\nپردہ رہے گا کیوں کر خورشید خاوری کا\nنکلے ہے وہ بھی اب بے نقاب ہو کر\n\nیک قطرہ آب میں نے اس دور میں پیا ہے\nنکلا ہے چشم تر سے وہ خون ناب ہو کر\n\nآ بیٹھتا تھا صوفی ہر صبح میکدے میں\nشکر خدا کہ نکلا واں سے خراب ہو کر\n\nشرم و حیا کہاں تک ہیں میرؔ کوئی دن کے\nاب تو ملا کرو تم ٹک بے حجاب ہو کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84_%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%AA%D9%85_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "غیروں میں حنا وہ مل رہا ہے", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیروں میں حنا وہ مل رہا ہے\nنیرنگ جہاں بدل رہا ہے\n\nکھٹکا ہے یہ نشتر مژگاں کا\nرگ رگ سے جو دم نکل رہا ہے\n\nوصف لب سرخ لکھ رہا ہوں\nیاقوت قلم اگل رہا ہے\n\nآبادیٔ دل ہے داغ سوزاں\nاس گھر میں چراغ جل رہا ہے\n\nہے دل کی تڑپ سے چشم پر نم\nپارے کا کنواں ابل رہا ہے\n\nدل غم سے نہ کس طرح ہو ٹھنڈا\nپنکھا دم سرد جھل رہا ہے\n\nبیتاب ہے دل یہ غم کے ہاتھوں\nگیندے کی طرح اچھل رہا ہے\n\nشبنم سے جوش میکشی ہے\nہر ساغر گل کھنگل رہا ہے\n\nدل آتش غم سے تاؤ کھا کر\nرانگے کی طرح پگھل رہا ہے\n\nہے چشم سیہ میں کودک اشک\nبھونرے میں یہ طفل پل رہا ہے\n\nمنکا ہے ڈھلا لویں پھری ہیں\nآ جلد کہ دم نکل رہا ہے\n\nبے برگ و ثمر ہیں اک ہمیں شادؔ\nہر ایک نہال پھل رہا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D9%86%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%84_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا\nمیری طرف بھی غمزۂ غماز دیکھنا\n\nاڑتے ہی رنگ رخ مرا نظروں سے تھا نہاں\nاس مرغ پر شکستہ کی پرواز دیکھنا\n\nدشنام یار طبع حزیں پر گراں نہیں\nاے ہم نفس نزاکت آواز دیکھنا\n\nدیکھ اپنا حال زار منجم ہوا رقیب\nتھا سازگار طالع ناساز دیکھنا\n\nبد کام کا مآل برا ہے جزا کے دن\nحال سپہر تفرقہ انداز دیکھنا\n\nمت رکھیو گرد تارک عشاق پر قدم\nپامال ہو نہ جائے سرافراز دیکھنا\n\nمیری نگاہ خیرہ دکھاتے ہیں غیر کو\nبے طاقتی پہ سرزنش ناز دیکھنا\n\nترک صنم بھی کم نہیں سوز جحیم سے\nمومنؔ غم مآل کا آغاز دیکھنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "غیروں کا تو کہنا کیا محرم سے نہیں کہتا", "poet_page": "مصنف:م حسن لطیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیروں کا تو کہنا کیا محرم سے نہیں کہتا\nمیں عالم غم اپنا عالم سے نہیں کہتا\n\nپڑھ لیتی ہیں کیفیت کچھ تڑپی ہوئی نظریں\nدکھ اپنے میں ہر چشم پر نم سے نہیں کہتا\n\nرہ گیر ہوں میں ایسا ہر غم سے گزرتا ہے\nدعوت پہ جو رندان خرم سے نہیں کہتا\n\nموسم ہمہ گردش ہے پس ماندۂ گردش ہے\nلب تشنہ کوئی یہ شے کیوں جم سے نہیں کہتا\n\nکسب متحرک سے پابستہ نسب طغرے\nیہ کیا ہے کوئی اہل خاتم سے نہیں کہتا\n\nآ داغ محبت کے سانچے میں تجھے ڈھالوں\nخاتم سے میں کہتا ہوں درہم سے نہیں کہتا\n\nکچھ بات تھی کہنے کی کچھ بھول گیا اب میں\nفطرت سے نہیں کہتا آدم سے نہیں کہتا\n\nکہتے تو نہیں باور نا کہئے تو کافر تر\nکہنے کی قسم مجھ کو میں دم سے نہیں کہتا\n\nکہلانے میں خود ان کا کچھ تکملہ نارس ہے\nالٹے انہیں شکوے ہیں کیوں ہم سے نہیں کہتا\n\nہاں میری یہ الجھن تو ہر دل میں کھٹکتی ہے\nکچھ مڑ کے کوئی زلف برہم سے نہیں کہتا\n\nکیوں ہو نہ جنوں کم گو جب ہوتا ہے یہ زیرک\nدہرائی ہوئی باتیں محرم سے نہیں کہتا\n\nکہنے سے ہوا گہرا کچھ اور غم پنہاں\nمیں سائے سے کہتا ہوں ہمدم سے نہیں کہتا\n\nجس لمحے سے دیکھا ہے اک شعر سراپا کو\nدانستہ کوئی مصرع اس دم سے نہیں کہتا\n\nدیتے ہیں وہ محفل میں یوں داد لطیفیؔ کو\nاشعار یہ کیا اکثر مبہم سے نہیں کہتا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7"} {"title": "غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جانا", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جانا\nسمجھے بھی تو کیا سمجھے جانا بھی تو کیا جانا\n\nاک عمر کے دکھ پائے سوتے ہیں فراغت سے\nاے غلغلۂ محشر ہم کو نہ جگا جانا\n\nمانگوں تو سہی بوسہ پر کیا ہے علاج اس کا\nیاں ہونٹ کا ہل جانا واں بات کا پا جانا\n\nگو عمر بسر اس کی تحقیق میں کی تو بھی\nماہیت اصلی کو اپنی نہ ذرا جانا\n\nکیا یار کی بد خوئی کیا غیر کی بد خواہی\nسرمایۂ صد آفت ہے دل ہی کا آ جانا\n\nکچھ عرض تمنا میں شکوہ نہ ستم کا تھا\nمیں نے تو کہا کیا تھا اور آپ نے کیا جانا\n\nاک شب نہ اسے لائے کچھ رنگ نہ دکھلائے\nاک شور قیامت ہی نالوں نے اٹھا جانا\n\nچلمن کا الٹ جانا ظاہر کا بہانہ ہے\nان کو تو بہر صورت اک جلوہ دکھا جانا\n\nہے حق بطرف اس کے چاہے سو ستم کر لے\nاس نے دل عاشق کو مجبور وفا جانا\n\nانجام ہوا اپنا آغاز محبت میں\nاس شغل کو جاں فرسا ایسا تو نہ تھا جانا\n\nمجروحؔ ہوئے مائل کس آفت دوراں پر\nاے حضرت من تم نے دل بھی نہ لگا جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "غیروں کو شب وصل بلانے سے غرض", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "غیروں کو شب وصل بلانے سے غرض\nمشتاق زمانے کو دکھانے سے غرض\nارماں حسرت دریغ باہر باہر\nاک تجھ سے غرض ہے یا زمانے سے غرض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%A8%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%B1%D8%B6"} {"title": "غیروں کے ساتھ گاتے جاتے ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "غیروں کے ساتھ گاتے جاتے ہو\nچٹکیوں میں ہمیں اڑاتے ہو\n\nکون استاد مل گیا کامل\nکس سے ضربیں یہ سیکھ آتے ہو\n\nنقش کس کا اپر اٹھا منہ پر\nاب تو نقشہ نیا بٹھاتے ہو\n\nکبھو سو رہتے ہو دوپٹہ تان\nکبھی اک تان مار جاتے ہو\n\nکبھو کرتے ہو جھانجھ آ ہم سے\nکبھی جھانجھ اور دف بجاتے ہو\n\nکبھو لڑنے کا تار ہے اور گاہ\nتار طبنور پر چڑھاتے ہو\n\nتالی دے تھپڑی مار اور لڑ بھڑ\nتھاپ مردنگ پر لگاتے ہو\n\nہوتی ہے جب کہیں سے دوت دپک\nکیوں ہمیں آ کے کھڑکھڑاتے ہو\n\nوعدہ ٹلتا ہے جب تو راہ میں دیکھ\nبتی دے مجھ کو گڑگڑاتے ہو\n\nاظفریؔ دوست کو رلا پیارے\nدشمنوں کے تئیں ہنساتے ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DA%AF%D8%A7%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "فائدہ آنے سے ایسے آ کے پچھتائیں ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فائدہ آنے سے ایسے آ کے پچھتائیں ہیں ہم\nاٹھ گئے جب یاں کے گزرے آہ تب آئیں ہیں ہم\n\nاور کچھ تحفہ نہ تھا جو لاتے ہم تیرے نیاز\nایک دو آنسو تھے آنکھوں میں سو بھر لائیں ہیں ہم\n\nطرفہ حالت ہے نہ وہ آتا ہے نہ جاتا ہے جی\nاور یہاں بے طاقتی سے دل کی گھبرائیں ہیں ہم\n\nجس طرف جاتے وہاں لگتا نہیں کیا کیجیے\nاس دل وحشی کے ہاتھوں سخت اکتائیں ہیں ہم\n\nدیکھیے اب کیا جواب آوے وہاں سے ہم نشیں\nنامہ تو لکھ کر حسنؔ کا اس کو پہنچایں ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%A7%D8%A6%D8%AF%DB%81_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DA%86%DA%BE%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر\nہے داغ عشق زینت جیب کفن ہنوز\n\nہے ناز مفلساں زر از دست رفتہ پر\nہوں گل فروش شوخی داغ کہن ہنوز\n\nمے خانۂ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں\nخمیازہ کھینچے ہے بت بے داد فن ہنوز\n\nجوں جادہ سر بہ کوئے تمناۓ بے دلی\nزنجیر پا ہے رشتۂ حب الوطن ہنوز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%A7%D8%B1%D8%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%86%D8%AF_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%88_%D9%85%DB%81%D8%B1"} {"title": "فاسق جو اگر عاشق دیوانہ ہوا تو کیا", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فاسق جو اگر عاشق دیوانہ ہوا تو کیا\nدنیا کے مطالب کو فرزانہ ہوا تو کیا\n\nغفلت میں کوئی پڑ کر گر عمر کو کھو ڈالے\nبعد اس کے اگر سمجھا پھر سیانا ہوا تو کیا\n\nیہ عمر غنیمت ہے جو دم کہ گزرتا ہے\nگر خانہ ہوا تو کیا ویرانہ ہوا تو کیا\n\nنظارہ تو کر اے دل ہو شان میں دلبر کا\nگر بھوکا جو ٹل جاوے پھر کھانا ہوا تو کیا\n\nدے جام تلطف سے ساقی بہ لب تشنہ\nدل پیاس سے جب کملا پیمانہ ہوا تو کیا\n\nہے کام ستے مطلب بر آوے کسی ڈھب سے\nکعبہ جو ہوا تو کیا بت خانہ ہوا تو کیا\n\nجو مرد یگانہ ہے نفس اپنے سے لڑتا ہے\nگر اور طرح کوئی مردانہ ہوا تو کیا\n\nالجھا ہے یہ دل پیارے زلف اپنی کو سلجھاوے\nجب مر گئے جانی ہم پھر شانہ ہوا تو کیا\n\nمکھڑے کی جھمک ساجن ٹک ہم کو بھی دکھلاؤ\nگر آگے رقیبوں کے جھمکانہ ہوا تو کیا\n\nگر سیر میسر ہو تجھ حسن کے باغستاں\nبعد اس کے اگر مجھ کو مر جانا ہوا تو کیا\n\nدل اپنے بیگانے سے کچھ ہم نے نہ پھل پایا\nگر اپنا ہوا تو کیا بیگانہ ہوا تو کیا\n\nکہتا تھا میں اس دل کو عاشق تو نہیں ہونا\nاب بس کے اگر سمجھا پچھتانا ہوا تو کیا\n\nمستانہ ہمیشہ رہو اے عاشق افریدیؔ\nبے عشق اگر کوئی مردانہ ہوا تو کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%A7%D8%B3%D9%82_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "فاطمہ بنت عبد اللہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "فاطمہ! تُو آبرُوئے اُمّتِ مرحوم ہے\nذرّہ ذرّہ تیری مُشتِ خاک کا معصوم ہے\nیہ سعادت، حُورِ صحرائی! تری قسمت میں تھی\nغازیانِ دیں کی سقّائی تری قسمت میں تھی\nیہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سِپَر\nہے جسارت آفریں شوقِ شہادت کس قدر\nیہ کلی بھی اس گُلستانِ خزاں منظر میں تھی\nایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی!\nاپنے صحرا میں بہت آہُو ابھی پوشیدہ ہیں\nبجلیاں برسے ہُوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں!\n\nفاطمہ! گو شبنم افشاں آنکھ تیرے غم میں ہے\nنغمۂ عشرت بھی اپنے نالۂ ماتم میں ہے\nرقص تیری خاک کا کتنا نشاط انگیز ہے\nذرّہ ذرّہ زندگی کے سوز سے لبریز ہے\nہے کوئی ہنگامہ تیری تُربتِ خاموش میں\nپل رہی ہے ایک قومِ تازہ اس آغوش میں\nبے خبر ہوں گرچہ اُن کی وسعتِ مقصد سے میں\nآفرینش دیکھتا ہوں اُن کی اس مرقد سے میں\nتازہ انجم کا فضائے آسماں میں ہے ظہور\nدیدۂ انساں سے نامحرم ہے جن کی موجِ نور\nجو ابھی اُبھرے ہیں ظُلمت خانۂ ایّام سے\nجن کی ضَو ناآشنا ہے قیدِ صبح و شام سے\nجن کی تابانی میں اندازِ کُہن بھی، نَو بھی ہے\nاور تیرے کوکبِ تقدیر کا پرتَو بھی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%A7%D8%B7%D9%85%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%AA_%D8%B9%D8%A8%D8%AF_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "فاقہ میں روزہ", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "جب دہلی زندہ تھی اور ہندوستان کا دل کہلانے کا حق رکھتی تھی، لال قلعہ پر تیموریوں کا آخری نشان لہرا رہا تھا۔ انہیں دنوں کا ذکر ہے کہ مرزا سلیم بہادر (جو ابو ظفر بہادر شاہ کے بھائی تھے اور غدر سے پہلے ایک اتفاقی قصور کے سبب قید ہو کر الہ آباد چلے گئے تھے) اپنے مردانہ مکان میں بیٹھے ہوئے دوستوں سے بے تکلفانہ باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں زنان خانہ سے ایک لونڈی باہر آئی اور ادب سے عرض کیا کہ حضور بیگم صاحبہ یاد فرماتی ہیں۔ مرزا سلیم فوراً محل میں چلے گئے اور تھوڑی دیر میں مغموم واپس ٓائے۔ ایک بے تکلف ندیم نے عرض کیا، ’’خیر باشد۔ مزاج عالی مکدر پاتا ہوں۔‘‘\n\nمرزا نے مسکرا کر جواب دیا، ’’نہیں کچھ نہیں۔ بعض اوقات اماں حضرت خواہ مخواہ ناراض ہو جاتی ہیں۔ کل شام کو افطاری کے وقت نتھن خان گویا گا رہا تھا اور میرا دل بہلا رہا تھا۔ اس وقت اماں حضرت قرآن شریف پڑھا کرتی ہیں۔ ان کو یہ شور و غل ناگوار معلوم ہوا۔ آج ارشاد ہوا ہے کہ رمضان بھر گانے بجانے کی محفلیں بند کر دی جائیں۔ بھلا میں اس تفریحی عادت کو کیوں کر چھوڑ سکتا ہوں۔ ادب کے لحاظ سے قبول تو کر لیا مگر اس پابندی سے جی الجھتا ہے۔ حیران ہوں کہ یہ سولہ دن کیوں کر بسر ہوں گے۔‘‘\n\nمصاحب نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا، ’’حضور یہ بھی کوئی پریشان ہونے کی بات ہے۔ شام کو افطاری سے پہلے جامع مسجد تشریف لے چلا کیجئے۔ عجب بہار ہوتی ہے۔ رنگ برنگ کے آدمی طرح طرح کے جمگھٹے دیکھنے میں آئیں گے۔ خدا کے دن ہیں۔ خدا والوں کی بہار بھی دیکھیے۔‘‘ مرزا نے اس صلاح کو پسند کیا اور دوسرے دن مصاحبوں کو لے کر جامع مسجد پہنچے۔ وہاں جاکر عجب عالم دیکھا۔ جگہ جگہ حلقہ بنائے لوگ بیٹھے ہیں۔ کہیں مسائل دین پر گفتگو ہورہی ہے۔ دو عالم کسی فقہی مسئلہ پر بحث کرتے ہیں اور بیسیوں آدمی گرد میں بیٹھے مزے سے سن ر ہے ہیں۔ کسی جگہ توجہ اور مراقبہ کا حلقہ ہے۔ کہیں کوئی صاحب وظائف میں مشغول ہیں۔ الغرض مسجد میں چاروں طرف اللہ والوں کا ہجوم ہے۔\n\nکُلُّ جَدِیْدٍ لَذِیْذ۔ مرزا کو یہ نظارہ نہایت پسند آیا اور وقت بہت لطف سے کٹ گیا۔ اتنے میں افطار کا وقت قریب ٓایا۔ سینکڑوں خوان افطاری کے آنے لگے اور لوگوں میں افطاریاں تقسیم ہونے لگیں۔ خاص محل سلطانی سے متعدد خوان مکلّف چیزوں سے آراستہ روزانہ جامع مسجد میں بھیجے جاتے تھے تاکہ روزہ داروں میں افطاری تقسیم کی جائے۔ اس کے علاوہ قلعہ کی تمام بیگمات اور شہر کے سب امراء علیحدہ افطاری کے سامان بھیجتے تھے، اس لیے ان خوانوں کی گنتی سینکڑوں تک پہنچ جاتی تھی۔ چونکہ ہر امیر کوشش کرتا تھا کہ اس کا سامان افطاری دوسروں سے بڑھ کر رہے، اس لیے ریشمی رنگ برنگ کے خوان پوش اور ان پر مقیشی جھالریں ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر ہوتی تھیں اور مسجد میں ان کی عجب آرائش ہو جاتی تھی۔\n\nمیرزا کے دل پر اس دینی چرچے اور شان و شوکت نے بڑا اثر ڈالا اور اب وہ برابر روزانہ مسجد میں آنے لگے۔ گھر گھر میں وہ دیکھتے کہ سینکڑوں فقراء کو سحری اور اول شب کا کھانا روزانہ شہر کی خانقاہوں اورمسجدوں میں بھجوایا جاتا تھا اور باوجود رات دن کے لہوو لعب کے یہ دن ان کے گھر میں بڑی برکت اور چہل پہل کے معلوم ہوتے تھے۔\n\nمرزا سلیم کے ایک بھانچے مرزا شہ زور نوعمری کے سبب اکثر ماموں کی صحبت میں بے تکلف شریک ہوا کرتے تھے۔ ان کا بیان ہے کہ ایک تو وہ وقت تھا جو آج خواب و خیال کی طرح یاد آتا ہے اور ایک وہ وقت آیا کہ دہلی زیر و زبر ہو گئی۔ قلعہ برباد کر دیا گیا۔ امیروں کو پھانسیاں مل گئیں۔ ان کے گھر اکھڑ گئے۔ ان کی بیگمات ماماگیری کرنے لگیں اور مسلمانوں کی سب شان و شوکت تاراج ہوگئی۔ اس کے بعد ایک دفعہ رمضان شریف کے مہینے میں جامع مسجد جانے کا اتفاق ہوا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ جگہ جگہ چولہے بنے ہوئے ہیں۔ سپاہی روٹیاں پکا رہے ہیں۔ گھوڑوں کے دانے دلے جا رہے ہیں۔ گھانس کے انبار لگے ہوئے ہیں اور شاہجہاں کی خوبصورت اور بے مثل مسجد اصطبل نظر آتی ہے اور پھر جب مسجد و اگزاشت ہوگئی اور سرکار نے اس کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا تو رمضان ہی کے مہینے میں پھر جانا ہوا۔\n\nدیکھا چند مسلمان میلے کچیلے پیوند لگے کپڑے پہنے بیٹھے ہیں۔ وہ چار قرآن شریف کا دور کر رہے ہیں اور کچھ اسی پریشان حالی میں بیٹھے وظیفہ پڑھ رہے ہیں۔ افطاری کے وقت چند آدمیوں نے کھجوریں اور دال سیو بانٹ دیے۔ کسی نے ترکاری کے قتلے تقسیم کر دیے۔ نہ وہ اگلا سا سماں، نہ وہ اگلی سی چہل پہل، نہ وہ پہلی سی شان و شوکت۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ بیچارے فلک کے مارے چند لوگ جمع ہوگئے ہیں۔ اس کے بعد آج کل کا زمانہ بھی دیکھا جب کہ مسلمان چاروں طرف سے دب گئے ہیں۔ انگریزی تعلیم یافتہ مسلمان تو مسجد میں نظر ہی کم آتے ہیں۔ غریب غرباء آئے تو ان سے رونق کیا خاک ہو سکتی ہے۔ پھر بھی غنیمت ہے کہ مسجد آباد ہے۔ اگر مسلمانوں کے افلاس کا یہی عالم رہا تو آئندہ خبر نہیں کیا نوبت آئے۔\n\nمرزا شہ زور کی باتوں میں بڑا درد اور اثر تھا۔ ایک دن میں نے ان سے غدر کا قصہ اور تباہی کا افسانہ سننا چاہا۔ آنکھوں میں ٓانسو بھر لائے اور اس کے بیان کرنے میں عذر مجبوری ظاہر کرنے لگے لیکن جب میں نے زیادہ اصرار کیا تو اپنی درد ناک کہانی اس طرح سنائی۔\n\nجب انگریزی توپوں نے، کرچوں اور سنگینوں نے، حکیمانہ توڑ جوڑ نے ہمارے ہاتھ سے تلوار چھین لی، تاج سر سے اتار لیا، تخت پر قبضہ کر لیا، شہر میں آتش ناک گولیوں کا مینہ برس چکا، سات پردوں میں رہنے والیاں بے چادر ہوکر بازار میں اپنے وارثوں کی تڑپتی ہوئی لاشوں کو دیکھنے نکل آئیں، چھوٹے بن باپ کے بچے ابا ابا پکارتے ہوئے بے یار و مدد گار پھرنے لگے، حضور ظل سبحانی جن پر ہم سب کا سہارا تھا، قلعہ چھوڑ کر باہر نکل گئے، اس وقت میں نے بھی اپنی بوڑھی والدہ، کمسن بہن اور حاملہ بیوی کو ساتھ لے کر اور اجڑے قافلے کا سالار بن کر گھر سے کوچ کیا۔\n\nہم لوگ دور تھوں میں سوار تھے۔ سیدھے غازی آباد کا رخ کیا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ راستہ انگریزی لشکر کی جولان گاہ بنا ہوا ہے، اس لیے شاہدرہ سے واپس ہو کر قطب صاحب چلے اور وہاں پہنچ کر رات کو آرام کیا۔ اس کے بعد صبح آگے روانہ ہوئے۔ چھترپور کے قریب گوجروں نے حملہ کیا اور سب سامان لوٹ لیا مگر اتنی مہربانی کی کہ ہم کو زندہ چھوڑ دیا۔ وہ لق و دق جنگل، تین عورتوں کا ساتھ اور عورتیں بھی کیسی؟ ایک بڑھاپے سے لاچار، دو قدم چلنا دو بھر۔ دوسری بیمار اور حاملہ تیسری دس برس کی نادان لڑکی۔ عورتیں روتی تھیں اور بیان کر کر کے روتی تھیں۔ میرا کلیجہ ان کے بیان سے پھٹا جاتا تھا۔\n\nوالدہ کہتی تھیں، ’’الٰہی ہم کہاں جائیں۔ کس کا سہارا ڈھونڈیں۔ ہمارا تاج و تخت لٹ گیا، تو ٹوٹا بوریا اور امن کی جگہ تو دے۔ اس بیمار پیٹ والی کو کہاں لے کر بیٹھوں۔ اس معصوم بچی کو کس کے حوالے کروں۔ جنگل کے درخت بھی ہمارے دشمن ہیں۔ کہیں سایہ نظر نہیں آتا۔‘‘ بہن کی یہ کیفیت تھی کہ وہ سہمی ہوئی کھڑی تھی اور ہم سب کا منہ تکتی تھی۔ مجھ کو اس کی معصومانہ بے کسی پر بڑا ترس آتا تھا۔ آخر مجبوراً میں نے عورتوں کو دلاسا دیا اور آگے چلنے کی ہمت بندھائی۔ گاؤں سامنے نظر آتا تھا۔ غریب عورتوں نے چلنا شروع کیا۔ والدہ صاحبہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتی تھیں اور سر پکڑ کر بیٹھ جاتی تھیں اور جب وہ یہ کہتیں،\n\n’’تقدیر ان کو ٹھوکریں کھلواتی ہے جو تا جوروں کے ٹھوکریں مارتے تھے۔ قسمت نے ان کو بے بس کر دیا جو بے کسوں کے کام آتے تھے۔ ہم چنگیز کی نسل ہیں جس کی تلوار سے زمین کانپتی تھی۔ ہم تیمور کی اولاد ہیں جو ملکوں کا اور شہر یاروں کا شاہ تھا۔ ہم شاہجہاں کے گھر والے ہیں جس نے ایک قبر پر جواہر نگار بہار دکھا دی اور دنیا میں بے نظیر مسجد دہلی کے اندر بنا دی۔ ہم ہندوستان کے شہنشاہ کے کنبہ میں ہیں۔ ہم عزت والے تھے۔ زمین میں ہمیں کیوں ٹھکانا نہیں ملتا۔ وہ کیوں سرکشی کرتی ہے۔ آج ہم پر مصیبت ہے۔ آج ہم پر آسمان روتا ہے۔‘‘ تو بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ القصہ بہ ہزار دقت و دشواری گرتے پڑتے گاؤں میں پہنچے۔ یہ گاؤں مسلمان میواتیوں کا تھا۔ انہوں نے ہماری خاطر کی اور اپنی چوپاڑ میں ہم کو ٹھہرا دیا۔\n\nکچھ روز تو ان مسلمان گنواروں نے ہمارے کھانے پینے کی خبر رکھی اور چوپاڑ میں ہم کو ٹھہرائے رکھا، لیکن کب تک یہ بار اٹھا سکتے تھے۔ اکتا گئے اور ایک دن مجھ سے کہنے لگے کہ ’’میاں جی! چو پاڑ میں ایک برات آنے والی ہے۔ تو دوسرے چھپر میں چلا جا اور رات دن ٹھالی (بیکار) بیٹھے کیا کرے ہے۔ کچھ کام کیوں نہیں کرتا۔‘‘ میں نے کہا، ’’بھائی! جہاں تم کہو گے وہیں جاپڑیں گے۔ ہمیں چوپاڑ میں رہنے کی ہوس نہیں ہے۔ جب فلک نے عالی شان محل چھین لیے تو اس کچے مکان پر ہم کیا ضد کریں گے۔ اور رہی کام کرنے کی بات، سو میرا جی تو خود گھبراتا ہے۔ خالی بیٹھے بیٹھے طبیعت اکتائی جاتی ہے۔ مجھ کو کوئی کام بتاؤ، ہو سکے گا تو آنکھوں سے کروں گا۔‘‘\n\nان کا چودھری بولا، ’’ہم نے کے بیرا (ہمیں کیا خبر) کہ تم کے کام (کیا کام) کر سکے ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا، ’’میں سپاہی زادہ ہوں، تیغ وتفنگ چلانا میرا ہنر ہے، اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں جانتا۔‘‘ گنوار ہنس کر کہنے لگے، ’’نہ بابا یہاں تو ہل چلانا ہوگا۔ گھاس کھودنی پڑے گی۔ ہم نے تلوار کے ہنر کیا کرنے ہیں۔‘‘ گنوار کے اس جواب سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور جواب دیا کہ ’’بھائیو!مجھ کو تو ہل چلانا اور گھاس کھودنی نہیں آتی۔‘‘ مجھ کو روتا دیکھ کر گنواروں کو رحم آگیا اور بولے، ’’اچھا تو ہمارے کھیت کی رکھوا لی کیا کر اور تیری عورتیں ہمارے گاؤں کے کپڑے سی دیا کریں۔ فصل پر تجھ کو اناج دے دیا کریں گے جو تجھ کو برس دن کو کافی ہوگا۔‘‘\n\nچنانچہ یہی ہوا کہ میں سارا دن کھیت پر جانور اڑایا کرتا تھا اور گھر میں عورتیں کپڑے سیتی تھیں۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ بھادوں کا مہینہ آیا اور گاؤں میں سب کو بخار آنے لگا۔ میری اہلیہ اور بہن کو بھی بخار نے آن دبایا۔ وہ گاؤں، وہاں دوا اور حکیم کا کیا ذکر، خود لوٹ پوٹ کر اچھے ہو جاتے ہیں، مگر ہم کو دواؤں کی عادت تھی۔ سخت تکلیف اٹھانی پڑی۔ اسی حالت میں ایک دن اس زور کی بارش ہوئی کہ جنگل کا نالہ چڑھ آیا اور گاؤں میں کمر کمر پانی ہو گیا۔ گاؤں والے تو اس کے عادی تھے لیکن ہماری حالت اس طوفان کے سبب مرنے سے بدتر ہوگئی۔ چونکہ پانی ایک دفعہ ہی رات کے وقت گھس آیا تھا، اس لیے ہماری عورتوں کی چارپائیاں بالکل غرق آب ہوگئیں اور عورتیں چیخیں مارنے لگیں۔\n\nآخر بڑی مشکل سے چھپر کی بلیوں میں دو چارپائیاں اڑا کر عورتوں کو ان پر بٹھایا۔ پانی گھنٹہ بھر میں اتر گیا مگر غضب یہ ہوا کہ کھانے کا اناج اور اوڑھنے بچھانے کے کپڑے تر کر گیا۔ پچھلی رات میری بیوی کے درد زہ شروع ہوا اور ساتھ ہی جاڑے سے بخار بھی لایا۔ اس وقت کی پریشانی بس بیان کرنے کے قابل نہیں۔ اندھیرا گھپ، مینہ کی جھڑی، کپڑے سب گیلے، آگ کا سامان ناممکن۔ حیران تھے الٰہی کیا انتظام کیا جائے۔ درد بڑھنے شروع ہوئے اورمریضہ کی حالت نہایت ابتر ہوگئی۔ یہاں تک کہ وہ تڑپنے لگی اور تڑپتے ٹرپتے جان دے دی۔ بچہ پیٹ ہی میں رہا۔\n\nچونکہ وہ ساری عمر ناز و نعمت میں پلی تھیں، غدر کی مصیبتیں ہی ان کی ہلاکت کے لیے کافی تھیں۔ خیر اس وقت تو جان بچ گئی، مگر یہ بعد کا جھٹکا ایسا بڑا لگا کہ جان لے کر گیا۔ صبح ہوگئی۔ گاؤں والوں کو خبر ہوئی تو انہوں نے کفن وغیرہ منگوا دیا اور دوپہر تک یہ محتاج شہزادی گور غریباں میں ہمیشہ کے لیے جا سوئی۔\n\nاب ہم کو کھانے کی فکر ہوئی، کیوں کہ اناج سب بھیگ کر سڑ گیا تھا۔ گاؤں والوں سے بھی مانگتے ہوئے لحاظ آتا تھا۔ وہ بھی ہماری طرح اس مصیبت میں گرفتار تھے۔ تا ہم بچارے گاؤں کے چودھری کو خود ہی خیال ہوا اور اس نے قطب صاحب سے ایک روپے کا آٹا منگوا دیا۔ وہ آٹا نصف کے قریب خرچ ہوا ہوگا کہ رمضان شریف کا چاند نظر آیا۔ والدہ صاحبہ کا دل بہت نازک تھا۔ وہ ہر وقت گذشتہ زمانے کو یاد کیا کرتی تھیں۔ رمضان کا چاند دیکھ کر انہوں نے ایک ٹھنڈا سانس بھرا اور چپ ہوگئیں۔ میں سمجھ گیا کہ ان کو پچھلا زمانہ یاد آ رہا ہے۔ تسلی کی باتیں کرنے لگا، جس سے ان کو کچھ ڈھارس ہوگئی۔\n\nاس غوطہ اور ناتوانی کی حالت میں سحری کا وقت آ گیا۔ والدہ صاحبہ اٹھیں اور تہجد کی نماز کے بعد جن درد ناک الفاظ میں انہوں نے دعا مانگی، ان کا نقل کرنا محال ہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ انہوں نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ ، ’’ہم نے ایسا کیا قصور کیا ہے جس کی سزا یہ مل رہی ہے۔ رمضان کے مہینے میں ہمارے گھر سے سینکڑوں محتاجوں کو کھانا ملتا تھا اورآج ہم خود دانے دانے کو محتاج ہیں اور روزہ پر روزہ رکھ رہے ہیں۔ خدا وندا! اگر ہم سے قصور ہوا ہے تو اس معصوم بچی نے کیا خطا کی جس کے منہ میں کل سے ایک کھیل اڑ کر نہیں گئی۔‘‘\n\nدوسرا دن بھی یونہی گذر گیا اور فاقہ میں روزہ درروزہ رکھا۔ شام کے قریب چودھری کا آدمی دودھ اور میٹھے چاول لایا اور بولا، ’’آج ہمارے ہاں نیاز تھی۔ یہ اس کا کھانا ہے اور یہ پانچ روپیہ زکوٰۃ کے ہیں۔ ہر سال بکریوں کی زکوٰۃ میں بکری دیا کرتے ہیں، مگر اب کے نقد دے دیا ہے۔‘‘ یہ کھانا اور روپے مجھ کو ایسی نعمت معلوم ہوئے گویا بادشاہت مل گئی۔ خوشی خوشی والدہ کے آگے سارا قصہ کہا۔ کہتا جاتا تھا اور خدا کا شکرانہ بھیجتا جاتا تھا مگر یہ خبر نہ تھی کہ گردش فلک نے مرد کے خیال پر تو اثر ڈال دیا، لیکن عورت ذات جوں کی توں اپنی قدیمی غیرت داری پر قائم ہے۔\n\nچنانچہ میں نے دیکھا کہ والدہ کا رنگ متغیر ہوگیا۔ باوجود فاقہ کی ناتوانی کے انہوں نے تیور بدل کر کہا، ’’تف ہے تیری غیرت پر۔ خیرات اور زکوٰۃ لے کر آیا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ ارے اس سے مرجانا بہتر تھا۔ اگر چہ ہم مٹ گئے مگر ہماری حرارت نہیں مٹی۔ میدان میں نکل کر مرجانا، مار ڈالنا، تلوار کے زور سے روٹی لینا ہمارا کام ہے۔ صدقہ خوری ہمارا شیوہ نہیں ہے۔‘‘\n\nوالدہ کی ان باتوں سے مجھے پسینہ آگیا اور شرم کے مارے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ چاہا کہ اٹھ کر یہ چیزیں واپس کر آؤں مگر والدہ نے روکا اور کہا، ’’خدا ہی کو یہ منظور ہے تو ہم کیا کریں۔ سب کچھ سہنا ہوگا۔‘‘ یہ کہہ کر کھانا رکھ لیا اور روزہ کھولنے کے بعد ہم سب نے مل کر کھا لیا۔ پانچ روپیہ کا آٹا منگوایا گیا۔ جس سے رمضان خیرو خوبی سے بسر ہوگیا۔ اس کے بعد چھ مہینے گاؤں میں رہے۔ پھر دہلی چلے آئے۔ یہاں آکر والدہ کا انتقال ہو گیا اور بہن کی شادی کر دی۔ انگریزی سرکار نے میری بھی پانچ روپے ماہوار پنشن مقرر کردی ہے جس پر آج کل زندگی کا انحصار ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%A7%D9%82%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88%D8%B2%DB%81"} {"title": "فانوس ہند کا شعلہ", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "زندہ باش اے انقلاب اے شعلۂ فانوس ہند\nگرمیاں جس کی فروغ منتقل جاں ہو گئیں\n\nبستیوں پر چھا رہی تھیں موت کی خاموشیاں\nتو نے صور اپنا جو پھونکا محشرستاں ہو گئیں\n\nجتنی بوندیں تھیں شہیدان وطن کے خون کی\nقصر آزادی کی آرائش کا ساماں ہو گئیں\n\nمرحبا اے نو گرفتاران بیداد فرنگ\nجن کی زنجیریں خروش افزائے زنداں ہو گئیں\n\nزندگی ان کی ہے دین ان کا ہے دنیا ان کی ہے\nجن کی جانیں قوم کی عزت پہ قرباں ہو گئیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B3_%DB%81%D9%86%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81"} {"title": "فانی کے ہے نزدیک بقا کو بھی فنا", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "فانی کے ہے نزدیک بقا کو بھی فنا\nظلمت کو اور نور و صفا کو بھی فنا\nکیا خوف قلقؔ موت کا میت کے لیے\nہستی سے ہماری ہے فنا کو بھی فنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%B2%D8%AF%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%D9%82%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "فتنہ خو لے گئی دل چھین کے جھٹ پٹ ہم سے", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فتنہ خو لے گئی دل چھین کے جھٹ پٹ ہم سے\nاور پھر سامنے آنے میں ہے گھونگھٹ ہم سے\n\nآپ کا قصد محبت ہے اگر غیروں سے\nقرض لے لیجئے تھوڑی سی محبت ہم سے\n\nسو گئے ہم تو ہم آغوش ہوئے خواب میں وہ\nاب تو کرنے لگے کچھ کچھ وہ لگاوٹ ہم سے\n\nایک بوسہ کی طلب میں ہوئی محنت برباد\nوصل کی رات ہوئی یار سے کھٹ پٹ ہم سے\n\nصلح کر لیں ترے خنجر کے گلے مل جائیں\nقتل کے وقت نہ رکھئے وہ رکاوٹ ہم سے\n\nہائے کس ناز سے کہتے ہیں شب وصل میں وہ\nہو چکی بات جو ہونی تھی پرے ہٹ ہم سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%AA%D9%86%DB%81_%D8%AE%D9%88_%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%86%DA%BE%DB%8C%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%DA%BE%D9%B9_%D9%BE%D9%B9_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "فتنہ گر شوخی حیا کب تک", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فتنہ گر شوخی حیا کب تک\nدیکھنا اور نہ دیکھنا کب تک\n\nبت کدہ کچھ در قبول نہیں\nیاس ناکامیٔ دعا کب تک\n\nدرد اور درد بھی جدائی کا\nایسے بیمار کی دعا کب تک\n\nایک میں کیا عدو بھی مرتے ہیں\nنگہ لطف آشنا کب تک\n\nدل میں جوش حدیث کفر ظہیرؔ\nلب پہ شور خدا خدا کب تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%AA%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D8%B4%D9%88%D8%AE%DB%8C_%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "فتنہ گر کیا مکان سے نکلا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فتنہ گر کیا مکان سے نکلا\nآسماں آسمان سے نکلا\n\nدل میں رہنے نہ دوں ترا شکوہ\nدل میں آیا زبان سے نکلا\n\nوہم آتے ہیں دیکھیے کیا ہو\nوہ اکیلا مکان سے نکلا\n\nسچ تو یہ ہے معاملہ دل کا\nباہر اپنے گمان سے نکلا\n\nمیرے آنسو کی اس نے کی تعریف\nخوب موتی یہ کان سے نکلا\n\nہم کھڑے تم سے باتیں کرتے تھے\nغیر کیوں درمیان سے نکلا\n\nذکر اہل وفا کا جب آیا\nداغؔ ان کی زبان سے نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%AA%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "فتنۂ روزگار کی باتیں", "poet_page": "مصنف:چندر بھان کیفی دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فتنۂ روزگار کی باتیں\nایسی ہیں جیسے یار کی باتیں\n\nہجر میں وصل یار کی باتیں\nہیں خزاں میں بہار کی باتیں\n\nلالہ و گل کے ذکر سے بہتر\nایک جان بہار کی باتیں\n\nچھیڑ کے ساتھ نوک جھوک بھی ہے\nگل سے ہوتی ہیں خار کی باتیں\n\nسب سمجھتے ہیں میں کہوں نہ کہوں\nاس دل بے قرار کی باتیں\n\nچھیڑ دیتا ہوں دل لگی کے لئے\nوصل میں انتظار کی باتیں\n\nجو نہ تم روٹھتے تو کر لیتے\nاور دو چار پیار کی باتیں\n\nننگ ہیں عزم مستقل کے لئے\nدہر نا پائیدار کی باتیں\n\nدل نشیں ہیں بسنت میں کیفیؔ\nیہ شراب و خمار کی باتیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%AA%D9%86%DB%82_%D8%B1%D9%88%D8%B2%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "فجر اٹھ خواب سیں گلشن میں جب تم نے ملی انکھیاں", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فجر اٹھ خواب سیں گلشن میں جب تم نے ملی انکھیاں\nگئیں مند شرم سوں نرگس کی پیارے جوں کلی انکھیاں\n\nنظر بھر دیکھ تیرے آتشیں رخسار اے گل رو\nمرے دل کی برنگ قطرۂ شبنم گلی انکھیاں\n\nخراماں آب حیواں جوں چلا جب جان آگے سیں\nانجہو کا بھیس کر پیچھوں سیں پیارے بہہ چلی انکھیاں\n\nتمہیں اوروں سیں دونا دیکھتی ہیں خوش نمائی میں\nہنر جانے ہیں اپنا آج عیب احولی انکھیاں\n\nپکڑ مژگاں کے پنجے سوں مروڑا یوں مرے دل کو\nتری زورآوری میں آج رستم ہیں بلی انکھیاں\n\nترا ہر عضو پیارے خوش نما ہے عضو دیگر سیں\nمژہ سیں خوب تر ابرو و ابرو سیں بھلی انکھیاں\n\nتحیر کے پھندے میں صید ہو کر چوکڑی بھولے\nاگر آہو کوں دکھلاؤں سجن کی اچپلی انکھیاں\n\nہوئی فانوس گردوں کے سیہ کاجل سوں سر تا پا\nشب ہجراں میں تیری شمع ہو یاں لگ جلی انکھیاں\n\nزباں کر اپنے مژگاں کوں لگی ہیں ریختے پڑھنے\nہوئی ہیں آبروؔ کے وصف میں تیری ولی انکھیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%AC%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%85%D9%84%DB%8C_%D8%A7%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "فجر اٹھ یار کا دیدار کرناں", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فجر اٹھ یار کا دیدار کرناں\nشب ہجراں کا دکھ اظہار کرناں\n\nاگر ثابت ہے اے دل کفر میں توں\nقیامت میں یہی اقرار کرناں\n\nکہا یوں کھول کر زلفوں کوں صیاد\nکسی وحشی کوں اپنا یار کرناں\n\nتصور میں ترے اے مظہر رب\nتماشائے در و دیوار کرناں\n\nتجھے سوگند اپنے چاہتے کی\nکہ اپنے چاہتے پر پیار کرناں\n\nنہ کہناں خوب ہے تجھ زلف کی بات\nعبث ہر تار کا بستار کرناں\n\nسراجؔ اب عشق کی پروانگی ہے\nکہ سیر کوچہ و بازار کرناں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%AC%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7%DA%BA"} {"title": "فخر سمجھا در دل دار پہ مر جانے کو", "poet_page": "مصنف:ابومحمد سید حسین سیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > منتخب دیوان سیفی (1934)", "year": "1934", "text_ur": "فخر سمجھا در دل دار پہ مر جانے کو\nکیسے دانائی یہ سوجھی ترے دیوانے کو\n\nناز برداروں پہ سب ناز ہوا کرتے ہیں\nکون تکلیف دیا کرتے ہیں بیگانے کو\n\nکیوں وسیلہ کی ضرورت ہو تری چاہت میں\nکیا سکھاتا ہے محبت کوئی پروانے کو\n\nمیں تو جنت میں بھی جانے کا کبھی نام نہ لوں\nجب تک آئیں گی نہ حوریں مرے لے جانے کو\n\nاس کے وعدوں سے ہو کیا خاک تسلی سیفیؔ\nدیر لگتی ہی نہیں جس کے مکر جانے کو", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%AE%D8%B1_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88"} {"title": "فدا اللہ کی خلقت پہ جس کا جسم و جاں ہوگا", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فدا اللہ کی خلقت پہ جس کا جسم و جاں ہوگا\nوہی افسانۂ ہستی کا میر داستاں ہوگا\n\nیقیں جس کا کلام قدس اجرالمحسنیں پر ہو\nنکو کاری کا اس کی قائل اک دن کل جہاں ہوگا\n\nحیات جاودانی پائے گا وہ عشق صادق میں\nجو عنقا کی طرح معدوم ہوگا بے نشاں ہوگا\n\nسفر راہ محبت کا چہل قدمی سمجھتے ہو\nابھی دیکھو گے تم اک اک قدم پر ہفت خواں ہوگا\n\nہمیں گلزار جنت ہے عزیزو باغ دل اپنا\nسمجھتے ہو کہ جاں پرور ہے صحن گلستاں ہوگا\n\nجو ایثار اور ہمدردی شعار اپنا بنا لوگے\nتو کانٹا بھی تمہیں رشک گل باغ جناں ہوگا\n\nیہ قصہ شمع و پروانے کا بس ماوشا تک ہے\nوہ ہو جائے گا بزم آرا تو پھر کوئی کہاں ہوگا\n\nادائے فرض برحق پر کھپا دو دوستو جاں تک\nیہ وہ سودا ہے آخر کو نہیں جس میں زیاں ہوگا\n\nازل سے واعظو کے قول دنیا سنتی آئی ہے\nعمل کا وقت بھی کوئی کبھی اے مہرباں ہوگا\n\nتغافل اور ستم کے بدلے ہے انداز دل داری\nسنبھل اے شوق بے پایاں ترا اب امتحاں ہوگا\n\nتہی دستان قسمت کو تو دم لینا قیامت ہے\nیہاں کچھ ہو گیا انصاف عاشق جو وہاں ہوگا\n\nنہ سمجھو کھیل اس کو بزم کیفیؔ میں وہ جادو ہے\nیہاں گر زاہد خشک آئے گا پیر مغاں ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%84%D9%82%D8%AA_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "فدا کر جان اگر جانی یہی ہے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فدا کر جان اگر جانی یہی ہے\nارے دل وقت بے جانی یہی ہے\n\nیہی قبر زلیخا سیں ہے آواز\nاگر ہے یوسف ثانی یہی ہے\n\nنہیں بجھتی ہے پیاس آنسو سیں لیکن\nکریں کیا اب تو یاں پانی یہی ہے\n\nکسی عاشق کے مرنے کا نہیں ترس\nمگر یاں کی مسلمانی یہی ہے\n\nبرہ کا جان کندن ہے نپٹ سخت\nشتاب آ مشکل آسانی یہی ہے\n\nپرو تار پلک میں دانۂ اشک\nکہ تسبیح سلیمانی یہی ہے\n\nمجھے ظالم نے گریاں دیکھ بولا\nکہ اس عالم میں طوفانی یہی ہے\n\nزمیں پر یار کا نقش کف پا\nہمارا خط پیشانی یہی ہے\n\nوو زلف پر شکن لگتی نہیں ہات\nمجھے ساری پریشانی یہی ہے\n\nنہ پھرنا جان دینا اس گلی میں\nدل بے جان کی بانی یہی ہے\n\nکیا روشن چراغ دل کوں میرے\nسراجؔ اب فضل رحمانی یہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "فراغت دے اُسے کارِ جہاں سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "فراغت دے اُسے کارِ جہاں سے\nکہ چھُوٹے ہر نفَس کے امتحاں سے\nہُوا پِیری سے شیطاں کُہنہ اندیش\nگُناہِ تازہ تر لائے کہاں سے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%BA%D8%AA_%D8%AF%DB%92_%D8%A7%D9%8F%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%90_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "فراق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "تلاشِ گوشۂ عُزلت میں پھر رہا ہُوں مَیں\nیہاں پہاڑ کے دامن میں آ چھُپا ہوں مَیں\nشکستہ گیت میں چشموں کے دلبری ہے کمال\nدُعائے طفلکِ گفتار آزما کی مثال\nہے تختِ لعلِ شفَق پر جلوسِ اخترِ شام\nبہشتِ دیدۂ بینا ہے حُسنِ منظرِ شام\nسکُوتِ شامِ جُدائی ہُوا بہانہ مجھے\nکسی کی یاد نے سِکھلا دیا ترانہ مجھے\n\nیہ کیفیت ہے مری جانِ ناشکیبا کی\nمری مثال ہے طفلِ صغیرِ تنہا کی\nاندھیری رات میں کرتا ہے وہ سرود آغاز\nصدا کو اپنی سمجھتا ہے غیر کی آواز\nیونہی میں دل کو پیامِ شکیب دیتا ہوں\nشبِ فراق کو گویا فریب دیتا ہوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82"} {"title": "فراق دہلوی کے سفرنامہ کا ایک ورق", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "دوست دشمن کو ترے ناز نے اکثر مارا\nایک ہی وار میں دونوں کو برابر مارا\n\nجب سیاح بمبئی سے جی آئی پی ریلوے میں ناسک ہوکر جبل پور، الہ آباد، بنارس کی طرف بڑھتا ہے، تونند گاؤں اسٹیشن سے اسے ریلوے کی دوسری شاخ پر سوار ہونا پڑتا ہے جو اورنگ آباد دکن کو جاتی ہے اور اسی ریلوے کے ذریعہ سے دولت آباد کا قلعہ اور ایلورا کے غار دیکھ سکتا ہے۔ ایلورا کے غاروں میں جو بت خانہ اور تصویریں اور مورتیں پتھر میں کندہ ہیں، یا جو مورتیں بت خانوں کی دیوارو در پر تراشیدہ ہیں، انہیں دیکھ کر مجھ جیسے ناتراشیدہ اور جاہل ہندوستانی اتنے ہی خوش ہوتے ہیں، جیسے دیوالی کے کھلونوں اور عید بقرعید والے دن کمہار کی بنائی ہوئی مورتوں کو دیکھ کر بچے خوش ہوتے ہیں۔\n\nپس اتنا جان لینا کہ یہ مٹی کا ہاتھی اور یہ مٹی کا مور اور مرغا ہے، ہدف مارنا ہے۔ لِم پر کوئی اللہ کا بندہ غور نہیں کرتا۔ زیادہ سے زیادہ ٹوٹی پھوٹی تاریخ میں یہ دیکھ لینا کافی ہے کہ ایجنٹا اور ایلورا اور گھارا پوری میں بت خانہ ہیں۔ وہ سب بدھ دیوتا کی یادگار ہیں۔ مگر انہیں بسنت کی خبر نہیں۔ وہ انگریزی تاریخ اور جغرافیہ کی کتابیں مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان مقامات میں سب بدھ دیوتا کی یادگار تصویریں اور مورتیں نہیں۔ بلکہ ان میں جین مت، بعض برہمنی مت اور بعض بدھ مت کی یادگار ہیں۔ اور ان کے بنانے اور تراشنے میں سیکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ جب آپ ایجنٹا کے غار میں داخل ہوں گے تو علاوہ اور سنگین مرقعوں کے، غار کی دیوار پر ایک مجلس کا نقشہ دیکھیں گے۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک نوجوان جو کلے ٹھلے کا انسان ہے، مسند پر غنج و دلال کے ساتھ بیٹھا ہے۔ ایرانی لباس پہن رہا ہے۔ ا س کے سر پر ایک پگڑی نما ٹوپی ایسی ہے جیسی کبھی یوروپین لوگ رات کو موٹے اور گول کناروں کی پہنا کرتے تھے۔ اس نوجوان کی داڑھی چھوٹی چھوٹی ہے اور مونچھیں بھی کچھ زیادہ بڑی نہیں ہیں۔ آنکھیں بڑی بڑی اوبھرے پپوٹوں کی ہیں، جو کہتی ہیں کہ آل تیمور کی جو چشم مخمور کہلاتی ہے وہ ہماری یگانگت کی خبر دیتی ہے۔\n\nنوجوان کے ہاتھ میں ایک چوکور پیالہ ہے اور اس کے سیدھے پہلو میں ایک نازنین گل اندام بیٹھی ہے۔ نازنین کابھی زنانہ ایرانی لباس ہے۔ خصوصاً اس کے گلے میں ایک کرتی ہے، جس کے سردست دو تین چوڑیاں چمک رہی ہیں۔ اس نازنین کے کانوں میں بھی چھوٹی چھوٹی بالیاں ہیں۔ اس کی ناک میں بلاق ہے جو نیچے کے ہونٹ پر پڑا ہوا ہے اور لاکھ لاکھ بناؤ کر رہا ہے۔ نازنین کی چوٹی کسی ہوئی ہے۔ مانگ نکلی ہوئی ہے اور اس کے چہرے پر امارت اور حسن و جمال کی ایسی جھلک ہے جسے کچھ دیر دیکھنے سے ایک عاشق مزاج اپنا گریبان چاک کر سکتا ہے،\n\nمکھڑا یہ غضب زلف سیہ فام یہ کافر\nکیا خاک جئے کوئی شب ایسی سحر ایسی\n\nاور ان محب و محبوب کے دونوں طرف دو ایرانی کنیزیں کھڑی ہیں، جو ایک پشواز نما جامہ پہن رہی ہیں۔ جس کے نیچے کا حصہ اس زمانہ کے کھڑے پایچہ سے ملتا جلتا ہے، جو دلی میں عورتیں پہننے لگی ہیں۔ پائچوں میں جھالر لگی ہے، جس کی چنت چنت الگ دکھائی دیتی ہے۔ جس طرح اس آقا اور پہلو نشین بیگم کے چہروں پر شان بادشاہی عیاں ہو رہی ہے، اسی طرح ان کنیزوں کے تمام اعضاء سے لونڈی پن کے آداب ظاہر ہو رہے ہیں۔ ان دونوں کے ہاتھ میں ایک ایک شیشہ ہے، جس کے اندر بادہ مرد افگن ہے۔ مسند کے نیچے دو غلام ایرانی کپڑے پہنے موٹے کناروں کی ٹوپی سر پر رکھے نگاہیں نیچے کئے دو قابیں ہاتھوں میں لئے بیٹھے ہیں، جن کے اندر گزک اور نفل ہیں۔ اس پتھر کے مرقع کے چاروں کونوں پر کچھ پھولوں کے درخت ہیں اور ایک کونے کے پھولوں کو دوہنس نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ اس لئے ان کی لمبی گردن کا مروڑ کھل گیا ہے اور گردن سیدھی ہو رہی ہے۔\n\nاس ہیئت خاص کو دیکھ کر ایک عاقل دنگ ہو جاتا ہے اور اس کادل کہتا ہے کہ مانی و بہزاد کے مو قلم میں ضرور یہ لچک ہے کہ کہ ہاتھی دانت کے بیضہ یا کاغذ کی سطح پر جیسی چاہے تصویر بنا دے۔ اس وقت میں فوٹو کا کیمرہ ایسا نکلا جو پلیٹ پر ہر چیز کا عکس جما دیتا ہے اور مصالحہ پر جوں کی توں صورت اتر آتی ہے، مگر آفرین ہے ہندوستان کے اگلے سنگ تراشوں پر جو سنگ خارا پر لوہے کے معمولی اوزاروں سے ایسی تصویریں بناتے تھے، جو مانی و بہزاد اور فوٹوگرافروں کو پرے بٹھاتے تھے۔ ایلورا، اجنٹا کے بت خانے حضرت مسیح سے دو سو برس پہلے کے ہیں، مگر اس مرقع کی عمر تقریباً تیرہ سو برس سے زیادہ کی نہیں ہے۔ مسٹر فرنگسن لکھتے ہیں کہ دراصل یہ مرقع خسرو پرویز اور اس کی معشوقہ شیریں کا ہے۔\n\nاجنٹا کے غار خسرو کے عہد میں ایک دکن کے راجہ کے قبضہ میں تھے اور اس راجہ کا خسرو پرویز بادشاہ ایران سے بڑا دوستانہ تھا۔ خسرو پرویز نے اپنی اور شیریں کی مجلس آرائی کا یہ مرقع اپنے دوست دکن کے راجہ کو ایک ایلچی کے ہاتھ بھیجا تھا۔ راجہ نے یہ تصویر اپنے ہاں کے سنگ تراشوں کو دی، اور انہیں حکم دیا کہ اسے اجنٹا کے غار میں ایسا بناؤ کہ اصل نقل میں فرق نہ رہے۔ جب کاریگروں نے یہ مرقع پتھر کی دیوار پر اتار کر ٹھیک کیا تو دکن کا راجہ معہ ایرانی سفیر کے ایجنٹا گیا اور دیکھا کہ فی الواقع سارا نقشہ اور تصویریں ہو بہو پتھر پر کھدی ہوئی ہیں۔ مگر اس میں یہ خوبی بڑھی ہوئی ہے کہ دیکھنے والوں کو معلوم ہو رہا ہے کہ خسرو اور شیریں زندہ بیٹھے ہیں اور اب منہ سے بول اٹھیں گے۔ بادشاہ ایرا ن کا سفیر ہندو نقاشوں کا یہ کام دیکھ کر حیران ہو گیا اور سوائے اس کے اس کے منہ سے اور کچھ نہ نکلا کہ ’’بہ یزدان پاک بہ یزدان پاک ایں نیرنگ ست۔‘‘\n\nسفیر ایران جب واپس ہو کر مداین پہنچا تو اس نے خسرو پرویز سے دکن کے راجہ کی یہ قدردانی اور وہاں کے کاریگروں کی یہ انوکھی کاریگری بیان کی تو خسرو بہت خو ش ہوا۔ اور اس نے راجہ کو بڑا شکریہ لکھا۔ یہ وہی خسرو پرویز ہے، جس کے آگے ہمارے حضور پر نور خاتم المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نامہ مبارک ایلچی نے پیش کیا تو اس نے بات پر چڑھ کر چاک کر ڈالا کہ ہمارے نام سے پہلے اس شخص (محمدؐ) نے اپنا نام کیوں لکھا اور جس وقت حضور نے اس گستاخی کو سنا تو آپ نے فرمایا، الہٰی اس گستاخ کو اس کے کردار کا بدلا چکھا دے اور اس کے بیٹے شرویہ نے خسرو کے پیٹ کو چاک کر کے اس کا کام تمام کر دیا۔ اور یہ بی شیریں بھی وہی ہیں، جن کی داستان عشق کو حضرت مولانا گنجوی قدس سرہٗ العزیز نے نظم کردیا ہے۔ یہ وہی شیریں جان ہیں، جن کی الفت نے فرہاد کو دیوانہ بنایا اور تیشہ سے ہلاک کروایا۔ مگر فرہاد کے تیشہ نے شیریں کو بھی مزہ چکھا دیا۔\n\nجب شرویہ باپ کو مار چکا تو اس نے شیریں سے کہا، آپ جانتی ہیں ہم زر تشتی مذہب رکھتے ہیں۔ ہمیں اپنی سگی ماں سے نکاح جائز ہے اور آپ تو میری سوتیلی ماں ہیں۔ اور میرا دل مدت سے آپ کی زلف گرہ گیر میں پھنسا ہوا ہے۔ اس لئے دست بستہ عرض کرتا ہوں کہ جشن شادی کی کوئی تاریخ مقرر کیجئے۔ شیریں نے کہا کیا مضائقہ ہے۔ جشن کی تیاری کی جائے۔ آج شب کومجھے اس دخمہ (تہ خانہ) میں پہنچوا دو۔ میں تمہارے باپ کے تابوت کی زیارت کر کے رخصت ہو لوں۔ جب رات ہوئی تو شیریں نہا دھو، سنگار کر کے عطر اور خوشبو میں بس کر اس تہ خانہ میں پہنچی، جس میں خسرو اور خسرو کے بڑوں کے تابوت رکھے ہوئے تھے۔\n\nبہت سی شمع روشن تھیں۔ بخور جل رہی تھی۔ شمع کے گرم گرم آنسو بہہ بہہ کر کہتے تھے۔ دنیا فانی ہے۔ دنیا کی بادشاہی فانی ہے۔ دنیا کے عیش و نشاط فانی ہیں۔ شیریں نے ساتھ کی کنیزوں سے کہا، تم تہہ خانے کے باہر جاؤ۔ جب تہہ خانہ میں تخلیہ ہو گیا تو شیریں نے اندر سے تہ خانہ کا دروازہ بند کیا۔ خسرو کے تابوت کا ڈھکنا اٹھایا۔ مردہ کے منہ سے کفن سرکایا اور اسے نگاہ شوق سے دیکھ کر پھر دساتیر کی اس نے دعائیں پڑھ کر خسرو کی روح کو بخشیں۔ پھر ا س نے مردہ خسرو سے کہا، اے میرے حسن و جمال کے قدرداں! اے میرے چاہنے والے! اے میرے خاوند اور خداوند!! تیرا بیٹا مجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ زر تشتی مذہب میں یہ ہر طرح جائز ہے، مگر میرا رومی خون ہے، جو میری رگوں میں چکر کھا کر مجھ سے کہتا ہے کہ تو پتی ورتا ہے۔ تو شوہر پرست ہے۔ یہ کب ہو سکتا ہے کہ تجھے خسرو کے سوائے کوئی اور دوسرا مرد ہاتھ لگائے۔ بیشک نہیں ہوسکتا۔ دیکھ میں تیری محبت میں اپنی عصمت بچانے کے لئے اسی طرح اپنی جان دیتی ہوں، جس طرح تیری جان لی گئی ہے۔\n\nیہ کہہ کر اس نے اپنا خنجر آبدار اپنے پیٹ میں گھنگول لیا اور خسرو کے تابوت پر اوندھی گر کر جان شیریں خدا کو سونپ دی۔ اے عشق! تیرے زور شور جیسے تیرہ سو برس پہلے تھے اب بھی بدستور ہیں۔ دن رات تیرا خنجر چلتا ہے۔ نامرادوں کی جانیں جاتی ہیں، نہ تجھ سے کوئی جیتا، نہ آگے کوئی جیتےگا۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%D8%AF%DB%81%D9%84%D9%88%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%81%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%88%D8%B1%D9%82"} {"title": "فراق میں دم الجھ رہا ہے خیال گیسو میں جانکنی ہے", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "فراق میں دم الجھ رہا ہے خیال گیسو میں جانکنی ہے\nطناب جلاد کی طرح سے رگ گلو آج کل تنی ہے\n\nنہیں ہے پروائے مال و دولت صفائے باطن سے دل غنی ہے\nگدا ہیں حاجت روائے سلطاں یہ کیمیائے فروتنی ہے\n\nجگر میں ہیں داغ مہر و الفت شگاف پہلو ہے جیب مشرق\nشب لحد ہے کہ صبح محشر یہ کس قیامت کی روشنی ہے\n\nفضائل اتحاد ملت جہاں میں وجہ مخالفت ہیں\nمعاف ہی رکھئے شیخ صاحب یہ رہبری ہے کہ رہزنی ہے\n\nغرض نہ رکھے مئے جہاں سے تو ہم بھی قائل ہوں تیرے واعظ\nکمال کیا جب امید فردا ہی علت پاک دامنی ہے\n\nہمیں نہ راس آیا دل لگانا غضب ہوا پھر گیا زمانہ\nکوئی تو کہتا ہے قید کر دو کوئی یہ کہتا ہے کشتنی ہے\n\nرقیب کو پاس گر بٹھایا تو مجھ سے ہرگز نہ ضبط ہوگا\nمٹا ہی دوں ایک دن یہ جھگڑا بس اب تو دل میں یہی ٹھنی ہے\n\nکوئی کسی سے نہ دل لگائے نہ سر پہ کوہ الم اٹھائے\nنہیں بھروسہ خدا بچائے کہ عشق میں جان پر بنی ہے\n\nکھپی ہے دل میں ہنسی تمہاری فراق میں کوندتی ہے بجلی\nرہیں نہ کیوں اشک سرخ جاری جگر میں الماس کی کنی ہے\n\nکبھی تو آ میرے رشک عیسیٰ ہوئی ہے مزمن تپ جدائی\nنہیں شفا کی امید باقی نمود چہرے سے مردنی ہے\n\nہوا یہ لاغر اسیر تیرا کہ سب کو ہے نقش پا کا دھوکا\nگلے میں جو طوق تھا پہنایا وہ اب اسے حصن آہنی ہے\n\nنہ تیغ قاتل کا کیوں ہو شہرا کیا ہے جو رنگ جسم ایسا\nدئے جو ٹانکے تو ہے یہ دھوکا بدن کا ملبوس سوزنی ہے\n\nزمین پر گرتے گرتے ہم کو سنا گیا کاسۂ سفالیں\nہوا جہاں دور عمر آخر یہ ساز ہستی شکستنی ہے\n\nجگر میں برسوں کھٹک رہے گی پھنکے گے پہلو چمک رہے گی\nخیال مژگان یار جانی سنان دل دوز کی انی ہے\n\nازل سے رندوں کو مے کی عادت ہے اور واعظ کی سرزنش کی\nتخالف وضع سے ہے جھگڑا نہ دوستی ہے نہ دشمنی ہے\n\nحبیبؔ پیری میں ہیں رنگیلی وہ سبزہ رنگوں ہی پر ہیں مرتے\nہوئے ہیں دو دن پتہ نہیں ہے کسی سے گہری کہیں چھنی ہے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%85_%D8%A7%D9%84%D8%AC%DA%BE_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DA%A9%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا\nکبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا\n\nشکست دل کا باقی ہم نے غربت میں اثر رکھا\nلکھا اہل وطن کو خط تو اک گوشہ کتر رکھا\n\nبرابر آئینے کے بھی نہ سمجھے قدر وہ دل کی\nاسے زیر قدم رکھا اسے پیش نظر رکھا\n\nمٹائے دیدہ و دل دونوں میرے اشک خونیں نے\nعجب یہ طفل ابتر تھا نہ گھر رکھا نہ در رکھا\n\nتمہارے سنگ در کا ایک ٹکڑا بھی جو ہاتھ آیا\nعزیز ایسا کیا مر کر اسے چھاتی پہ دھر رکھا\n\nجناں میں ساتھ اپنے کیوں نہ لے جاؤں گا ناصح کو\nسلوک ایسا ہی میرے ساتھ ہے حضرت نے کر رکھا\n\nنہ کی کس نے سفارش میری وقت قتل قاتل سے\nکماں نے ہاتھ جوڑے تیغ نے قدموں پہ سر رکھا\n\nغضب برسے وہ میرے آتے ہی معلوم ہوتا ہے\nجگہ خالی جو پائی یار کو غیروں نے بھر رکھا\n\nبڑا احساں ہے میرے سر پہ اس کی لغزش پا کا\nکہ اس نے بے تحاشا ہاتھ میرے دوش پر رکھا\n\nزمیں میں دانۂ گندم صدف میں ہم ہوے گوہر\nہمارے عجز نے ہر معرکہ میں ہم کو در رکھا\n\nترے ہر نقش پا کو رہ گزر میں سجدہ گہ سمجھے\nجہاں تو نے قدم رکھا وہاں میں نے بھی سر رکھا\n\nامیر اچھا شگون مے کیا ساقی کی فرقت میں\nجو برسا ابر رحمت جائے مے شیشوں میں بھر رکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%A8%DB%92_%DA%86%DB%8C%D9%86_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "فراق یار کا خطرہ وصال یار میں ہے", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فراق یار کا خطرہ وصال یار میں ہے\nخزاں کی فکر خزاں میں نہ تھی بہار میں ہے\n\nالجھ رہا ہوں کہ دل میرا کس شمار میں ہے\nنہ اختیار سے باہر نہ اختیار میں ہے\n\nچمن کہاں جو خیال خزاں چمن میں رہے\nبہار ہی وہ نہیں ہوش جس بہار میں ہے\n\nیہاں تو ذکر کو کافی نہیں دلی حرکات\nہزار دانہ کی تسبیح کس شمار میں ہے\n\nچمن میں جا کے گریباں کو چاک کر ناطقؔ\nسنا ہے موسم گل تیرے انتظار میں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%B7%D8%B1%DB%81_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "فرد ہیں انتخاب ہیں ہم لوگ", "poet_page": "مصنف:احمد شاہ خاں شبنم", "kind": "poetry", "section": "غزل > گلدستۂ لطافت (1936)", "year": "1936", "text_ur": "فرد ہیں انتخاب ہیں ہم لوگ\nآپ اپنا جواب ہیں ہم لوگ\n\nنیست و نابود ہیں کوئی دم میں\nیار مثل حباب ہیں ہم لوگ\n\nحال کہتا ہے کچھ نہیں اپنا\nکسی گونگے کا خواب ہیں ہم لوگ\n\nپاؤں پڑتے نہ ٹھوکریں کھاتے\nدل کے ہاتھوں خراب ہیں ہم لوگ", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%AE%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%84%D9%88%DA%AF"} {"title": "فردوس بریں/افشائے راز", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر > فردوس بریں", "year": null, "text_ur": "حیرت زدہ و حواس باختہ نوجوان حسین کو زمرد شاہ زادی کی تجویز کے مطابق قصر دری میں‌چھوڑ‌کے واپس گئی تو وہ گھبرا کے ایک ایک چیز کو دیکھتا اور اپنے دل سے پوچھتا تھا کہ کیا حقیقت میں‌یہ وہی مقام ہے جہاں‌میں‌امام قائم قیامت کی مدد سے آیا تھا؟ مگر وہ تو ملاء اعلی پر تھا اور یہ زمین ہی پر ہے ! لیکن کیوں‌کر شک کیا جائے !خود زمرد بھی تو موجود ہے۔ اگر یہ کوئی دنیاوی باغ ہے تو وہ کیوں‌کر چلی آئی؟ خود اسی نے لکھا تھا کہ جنت میں‌ہوں اور فردوس بریں‌کی سیر کر رہی ہوں۔آخر اسے جھوٹ بولنے سے فائدہ؟ اس کے بعد وہ محل کے برآمدے پر آ کے کھڑا ہوا ور ایک ایک عمارت،ایک ایک چمن کو غور سے اور آنکھیں‌ پھاڑ پھاڑ کے دیکھنے لگا۔ ہر چیز وہی اور ویسی ہی تھی جیسی کہ پہلے نظر سے گزری تھی۔ قصروں‌کے روکار پر اسی طرح‌جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ ان کی وضع بھی ویسی ہی تھی جیسی کہ پہلے نظر سے گزری تھی۔چمنوں‌کا بھی وہی رنگ اور نقشہ تھا۔سڑکیں‌اور روشیں‌بھی اسی طرح‌رنگ برنگ اور نظر فریب تھیں۔سونے چاندی کے تخت آج بھی اسی پہلی شان سے بچھے تھے۔ نہریں‌بھی اسی طرح‌مستانہ روی سے بہ رہی تھیں۔ ہاں‌صرف ایک چیز کی کمی تھی کہ وجد میں لانے والا گانا نہ تھا۔ مگر جب طیور کی زبان سے وہی قرآنی ترانہ خیرمقدم سن لیا تو ادھر سے بھی شک جاتا رہا۔ وہ اسی پس و پیش میں‌تھا ایک طائر نے ایک تازہ و شاداب سیب اپنی چونچ میں‌لا کے اس کے سامنے ڈال دیا ور وہ چونک کے بول اُٹھا: \"‌یہ بھی خاص‌فردوس بریں‌کی علامت ہے۔\"\nحسین کے خیالات میں ایک عجیب قسم کا تردد و اضرناب تھا اور یہ معما کسی طرح‌حل ہونے کو نہ آتا تھا کہ سامنے سے زمرد آتی نظر آئی جو شاہزادی سے رخصت ہوکے اس کے پاس آ رہی تھی۔اس کی دل ربا اور ناز آفرین صورت دیکھتے ہی وفور جوش سے حسین کا دل دھڑکنے لگا اور عشق کے جذبات نے یک بہ یک ایسی بے اختیاری کی حالت طاری کی کہ برآمدے سے اتر کے استقبال کو دوڑا اور دونوں ‌ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔\nحسین: پیاری زمرد! للہ بتا کہ میں‌کس عالم میں ہوں؟ اور یہ کیا دیکھ رہا ہوں؟\nزمرد؛ (مسکرا کے )وہی دیکھ رہے ہو جو ایک دفعہ دیکھ چکے ہو۔\nحسین: وہی!‌یعنی ملاء اعلیٰ پر ہوں۔\nزمرد؛ واقعی جو ساز و سامان نظر آ رہا ہے وہ اس کے لحاظ سے اس جگہ کو ملاء اعلیٰ ہی کہنا چاہیے۔\nحسین: کہنا چاہیے ؟ تو کیا اصل میں نہیں‌ہے ؟\nزمرد: تم ہی اپنے دل سے پوچھو۔تم نے اس مقام کو زمین پر پایا یا آسمان پر؟\nحسین: آیا تو زمین کے راستے سے ہی ہوں‌۔\nزمرد: تو زمین پر ہی سمجھو۔\nحسین: مگر کیوں‌کر سمجھوں؟‌تمھاری قبر، تمھارے وہ خطوط، یہاں‌تک آنے کے وہ گزشتہ ذریعے ، ان تمام باتوں‌میں‌سے جس چیز کا خیال کرتا ہوں اسی امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ کوئی اور عالم ہے اور یہاں‌کی مسرتیں‌دنیاوی مسرتوں‌سے بالا ہیں۔\nیہ باتیں‌کرتے ہوئی دونوں‌قصر میں داخل ہوئے اور زمرد نے کہا:‌\"‌یہاں‌کی مسرتیں‌تو بے شک دنیا کی عام مسرتوں‌سے بالا ہیں مگر یہ نہ سمجھو کہ تم دنیا سے نکل کے کسی اور جگہ آ گئے ہو۔\"\nحسین:‌ پھر وہ سب واقعات جو گزر چکے ہیں‌ان کی نسبت کیا خیال کروں؟\nزمرد:‌وہ سب میری مجبوری،میری بے دست و پائی اور تمھاری سادہ لوحی کا نتیجہ تھے۔\nحسین: میں‌اس کا مطلب نہیں سمجھا؟\nزمرد: گھبراؤ نہیں، سب سمجھ جاؤ‌گے۔ مگر افسوس جس قدر زیادہ سمجھو گے اسی قدر زیادہ پریشان ہو گے اور اپنے کیے پر پچھتاؤ‌گے۔\nحسین: زمرد! اب مجھے تیری صورت پر بھی شبہ ہوتا ہے۔ تو وہی زمرد ہے جو میرے ساتھ آمل سے آئی تھی؟\nحسین کی زبان سے یہ سادگی کا یہ سوال سن کے زمرد کو ہنسی آ گئی مگر ضبط کیا،اور ایک عجیب دل فریب ادا کے ساتھ پُر معنی اور شوخ‌چتونوں‌سے دیکھ کے بولی: \"نہیں،دوسری ہوں۔\"\nاس جواب کو حسین نے سنا ہی نہیں۔اس نے زمرد کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں‌لیا اور غور سے دیکھ کے بولا:\" یہ وہی نورانی جسم ہے یا میرے جسم کا سا مادی پتلا؟\"\nزمرد: \" ہوش کی باتیں‌کرو۔ تم بالکل از خود رفتہ ہوئے جاتے ہو۔اور تمھاری آنکھوں کے سامنے سے ایک بڑا طلسم ٹوٹا ہے۔ جس کے اثر سے تمھارے حواس نہں‌ٹھکانے رہے۔ذرا ہوش میں‌آؤ اور حواس کی باتیں‌کرو کہ سارا راز اور تمام سرگزشت بیان کروں۔\nحسین: پیاری زمرد! جلدی بیان کر۔ اس لاعلمی اور ناواقفی نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے۔\nزمرد: سنو! اس وادی میں ہم دونوں‌نے جن پریوں‌کو دیکھا تھا وہ پریاں‌نہ تھیں‌بلکہ اسی مصنوعی جنت کی حوریں۔۔۔۔\nحسین: ‌(حیرت سے بات کاٹ کے ) مصنوعی جنت؟‌تو یہ وہ جنت نہیں ہے جس کا مومنین سے وعدہ کیا گیا ہے ؟\nزمرد:‌ ذرا صبر کرو۔ خیر تم تو وہاں‌بے ہوش ہو گےے اور مجھے وہ یہاں پکڑ لائیں۔ نہ میں‌ماری گئی اور نہ شہید ہوئی، مگر صرف اس لیے کہ تم کو میرے مرنے کا یقین آ جائے ،انھوں‌نے واپسی سے پہلے بھائی کی قبر میں‌ذرا تغیر پیدا کیا اور اسی وقت رات کو مجھ سے پوچھ کے بھائی کے نام کے برابر میں میرا نام بھی کندہ کر دیا۔ اس غرض سے کہ تم مجھ سے مایوس اور میرے خیال سے دست بردار ہوکے چلے جاؤ؛ اس وادی کی خطرناک حالت ہر ملنے والے سے بیان کرو اور یہاں‌کی پریوں کی ہیبت ہر شخص کے دل میں‌بٹھا دو۔\nحسین:‌تو تم زندہ ہو؟ اور یہ کہہ کے زمرد کو سر سے پاؤں‌تک گھور گھور کے دیکھنے لگا۔\nزمرد: (جھنجھلا کے )‌نہیں‌چڑیل ہو گئی ہوں۔ حسین نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا ور زمرد نے ایک لمحہ توقف کے بعد پھر سلسلہ کلام شروع کیا: \" تو تم کو یہ دھوکا دیا گیا اور میں‌یہاں‌لائے جانے کے بعد انھِیں‌عورتوں‌میں‌شامل کر دی گئی جو یہاں‌حوریں‌کہلاتی ہیں۔چند روز بعد دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ تم اسی طرح‌میری قبر کے مجاور بنے بیٹے ہو اور جانے کا نام ہی نہیں‌لیتے۔ آخر یہاں‌غور کیا گیا کہ وہ وادی تم سے کیوں‌ کر خالی کروائی جائے۔اکثروں کی رائے تھی کہ قتل کر ڈالنا چاہیے مگر اتفاق سے میری ایک تدبیر کارگر ہو گئی اور تجویز قرار پائی کہ کسی ایسے طریقے سے تمھیں‌وطن واپس جانے کی ہدایت کی جائے کہ کسی کا لگاؤ‌ثابت نہ ہو، اور تم بغیر اس کے کہ کسی قسم کی بدگمانی کرو وہ وادی چھوڑ دو۔ اسی تجویز کا نتیجہ میرا پہلا خط تھا جس میں‌تم سے میری وصیت پوری کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔وہ خط میرے ہی ہاتھ سے لکھوایا گیا اور مجھ (ہی)سے حالات دریافت کر کے اس کے مضمون کا مسودہ تیار کیا گیا۔مگر حسین!‌وہ خط صاف کرتے وقت میں‌چپکے چپکے بہت روئی تھی،اس لیے کہ جانتی تھی خود اپنے ہاتھوں‌دائمی مفارقت کا سامان کر رہی ہوں۔ خیر وہ خط تمھارے پاس گیا اور یقین تھا کہ تم چلے جاؤ گے مگر تین چار روز بعد جب دریافت کیا گیا معلوم ہوا کہ تم اب بھی وہیں‌اسی طرح ‌بیٹھے ہو۔اور گویا تما رے ارادے میں‌کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔\"\nحسین:‌ بے شک نہیں‌ہوئی تھی۔ زمرد! میں‌مرجاتا ور وہاں‌سے نہ ہٹتا۔\nزمرد: \" جب یہ معلوم ہوا تو لوگوں کو پھر فکر پیدا ہوئی،اب کیا کیا جائے ؟ اب کوئی تدبیر میرے ذہن میں ‌نہ آتی تھی اور دل می‌ڈر رہی تھی کہ کہیں‌یہ غضب نہ ہو کہ لوگ تمھارے مار ڈالنے پر آمادہ ہو جائی۔اتفاقاً انھیں‌دنوں‌میں‌خبر آئی کہ امام نجم‌الدین نیشا پوری باطنین کے خلاف زورو شور سے وعظ‌کر رہے ہیں، اور تدبیریں‌کی جا رہی تھی کہ کسی فدائی کے ہاتھوں‌وہ قتل کرا دیے جائیں۔کمبختی یا شامت اعمال میری زبان سے نکل گیا کہ وہ تمھارے چچا اور تمھارے استاد و مرشد ہیں۔ یہ خبر جیسے ہی یہاں‌کے باد شاہ خور شاہ کے کان میں‌پہنچی اس نے خیال کیا کہ وہ امام عالی مقام تمھارے ہاتھ سے قتل ہوں‌تو زیادہ مناسب ہو گا۔اس طرح زمانے بھر کو معلوم ہو جائے گا کہ مذہب باطنیہ دلوں ‌پر کس قدر گہرا اثر ڈالتا ہے کہ انسان اپنے عزیزو اقارب،استادو مرشد تک کی پروا نہیں کرتا۔تمھارے خنجر سے ان کا قتل ہو ان ایک ساتھ اتنی باتوں کا ثبوت دے سکتا تھا کہ بھتیجے نے چچا کو،شاگرد نے استاد کو،مرید نے مرشد کو بلا تامل ثواب سمجھ کے قتل کر ڈالا۔\nزمرد نے یہیں‌تک کہا تھا کہ حسین نے بے اختیار ایک ٹھنڈی سانس لی اور آب دیدہ ہوکے بولا: \" افسوس! میں‌نے کتنا بڑا ظلم اور گناہ کیا۔ آہ! ایسے معصوم امام،شفیق بزرگ اور خدا شناس مرشد کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے ،زمرد! یہ تیرے ہی شوق میں‌اور تیری ہی ہدایت کی وجہ سے تھا،ورنہ میں‌اتنے بڑے ظلم کی جرات ہرگز نہ کرتا۔\"\nزمرد: حسین! میں‌نے پہلے بھی کہا تھا ور اب بھی کہتی ہوں‌کہ اس گناہ میں‌مجھے نہ شریک کرو۔۔ مجھے جب اس کا خیال آ جاتا ہے کانپ اٹھتی ہوں مگر خیر اب یہ ذکر جانے ہی دو۔ایک ہونے والی بات تھی جس کو کوئی نہ روک سکتا تھا۔ میں‌نے اگر تمھیں‌اس کام کے لیے تیار کیا تو اپنے بس میں نہ تھی،اور تم اگر آمادہ ہو گےھ تو اپنے ہوش میں‌نہ تھے۔\nحسین: ( زور سے سینہ پیٹ کر)‌مگر افسوس، زمرد!‌یہ عذر خدا کے سامنے نہ سنے جائیں‌گے۔ میں‌نہ مجنون تھا، نہ بے ہوش؛ صاف نظر آ رہا تھا کہ ایک گناہ عظیم کر رہا ہوں‌میگر تیرا شوق بار بار دل کو ابھار کے آمادہ۔۔۔۔۔\nزمرد:‌ ( بے تابی سے بات کاٹ‌کے ) ہائے پھر میرا نام۔۔۔۔۔!خدا کے لیے حسین! مجھے اپنے ساتھ نہ گنو (‌روکے اور آنسو بہا کے ) میں‌نے جو کچھ کیا ہے مجبوری اور بے بسی سے۔افسوس! خود اپنے دل سے تو لعنت کی آواز سن رہی تھی، اب تمھاری زبان سے بھی وہی سنتی ہوں۔\"\nیہ کہہ کے زمرد زار و قطار رونے لگی۔حسین نے بے اختیاری کی جلدی سے اس کے آنسو پونچھے اور کہا: \"زمرد! بے شک تو بے خطا ہے۔ اگر میں‌نے تیرا دل دکھایا تو معاف کر اور آگے بتا کہ پھر کیا ہو؟\"\nزمرد: (‌رومال سے آنسو پونچھ کر) پھر تم کو دوسرا خط ملا جس میں‌تمھیں‌کوہ جودی کے غار اور شہر خلیل کے تہ خانے میں‌چلہ کشی کرنے اور پھر حلب میں‌جا کے شیخ‌علی وجودی سے ملنے کی ہدایت کی گئی تھی۔وہ خط بھی اسی طرح‌بھیجا گیا کہ اس کا مسودہ لکھ کے مجھے دیا گیا اور جب میں‌نے اپنے ہاتھ سے صاف کر دیا تو میری قبر پر رکھوا دیا گیا۔\nحسین:‌ لیکن اگر اتنا ہی کام تھا کہ امام‌نجم‌الدین نیشا پوری قتل کر ڈالے جائیں‌تو مجھے اتےد چکر کیوں‌دیے گئے اور میرے راستے میں یہ بے کار کی دشواریاں‌کیوں ‌پیدا کی گئیں؟\nزمرد: اس لیے کہ تمھارے شوق میں‌ہیجان اور بے صبری پیدا ہو۔ اگر بغیر اتنے چلے کھنچوائے اور بغیر علی وجودی کے پاس ایک سال تک انتظار کرائے کہہ دیا جاتا تو تم اتنے بڑے گناہ کے ارتکاب پر ہرگز آمادہ نہ ہوتے۔\nحسین: زمرد! تیرا شوق میرے دل میں‌اس قدر تھا کہ جس کام کو کہا جاتا اسی وقت پورا کرنے کو تیار ہو جاتا۔\nزمرد: (ہنس کے ) خیر تو ان کو نہیں ‌معلوم تھا کہ تم اتنے بوہقوف ہو اور تمھارے اخلاق اس قدر کمزور ہیں۔\nحسین:‌ مگر کیوں‌کر کہوں؟‌زمرد! مجھے تیری باتوں‌کا یقین نہیں‌آتا۔ان آنکھوں‌سے ایسی ایسی کرامتیں‌اور عقل انسانی سے اس قدر بالا باتیں‌دیکھ چکا ہوں‌کہ ان لوگوں‌کی خدا شناسی سے ان کار کرنے کی کسی طرح‌جرات نہیں ہوتی۔ جن گدھوں‌پر ہم دونوں‌سوار ہوکے آئے تھے وہ تو مر چکے تھے ،مگر مجھے ایک نیا تازہ دم گدھا اسی درخت میں‌بندھا ملا۔ اور ایسا خوب صورت،توانا تندرست اور تیز رو کہ اس وقت تک میں‌یہی سمجھتا ہوں‌کہ میری سواری کے لیے خاص‌خدا کے پاس سے آیا تھا۔\nزمرد: وہ گدھا یہیں‌س بھیجا گیا تھا۔ جس وقت تمھارے نام کا خط قبر پر رکھوایا گیا ہے ،اسی وقت وہ گدھا ایک دوسرے راستے سے بھیج کے اس درخت میں‌بندھوا دیا گیا تھا۔\nحسین نے اس جواب کو حیرت سے سنا اور بولا: \"عجب! مگر پھر بھی میرے شبہات دور نہیں ‌ہوتے۔ آخر شیخ‌علی وجودی کو میرے سب حالات کیوں‌کر معلوم ہو گےن ،وہ یہاں‌سے ہزارہا کوس کے فاصلے پر ہیں؟\"\nزمرد: تمھارے روانہ ہونے کے ساتھ ہی ان کو تمام واقعات کی خبر کر دی گئی تھی۔ ان کو لکھ بھیجا گیا تھا کہ تم امام نجم الدین کے بھتیجے ،شاگرد اور مرید ہو۔ انھیں ‌کے قتل کا تم سے کام لینا ہے ،اوروہاں‌پہنچنے سے پہلے تم کوہ جودی کے غار اور خلیل کے تہ خانے میں چلہ کھینچو گے۔ یہ سب باتیں‌ان کو دوسے ذریعوں‌سے معلوم ہو چکی تھیں،مگر انھوں‌نے غیب دانی اور کرامت کی شان سے بیان کر کے تمھیں‌اپنا فریفتہ بنایا۔\nحسین اب نہایت ہی متعجب تھا،وہ حیرت کے دریا میں‌غرق تھا اور کسی طرح‌تھاہ نہ ملتی تھی۔ زمرد اپنی بات پوری کر کے خاموش ہوئی اور وہ سوچ میں پڑا تھا۔ آخر اس نے سخت حیرت زدگی کی شان سے آنکھیں‌اٹھا کے کہا: \"زمرد سچ بتا،یہ سب باتیں‌تو سچ کہہ رہی ہے یا مجھے دھوکا دے رہی ہے ؟ مجھے تو اپنی تمام گزشتہ زندگی ایک خواب کی سی معلوم ہوتی ہے۔متردد ہوں ‌کہ تیری اس ملاقات اور ان سب باتوں‌کو خواب سمجھوں یا ان تمام واقعات کو جو تجھ سے جدا ہونے کے بعد پیش آئے ،کیا حقیقت میں‌ میں‌اتنا بڑا بے وقوف ہوں‌کہ ایسے عظیم الشان فریب اور جعل میں ‌مبتلاہو گیا؟لیکن زمرد! اگر یہ سب سکھائی پڑھائی باتیں‌تھیں‌تو علی وجودی کو اسی قدر معلوم ہوتا جس قدر کہ یہاں‌سے بتایا گیا تھا؛ انھیں‌یہ کیوں‌کر معلوم ہو گیا کہ میں‌شہر خلیل کے مجاوروں‌کے ہاتھ میں‌گرفتارہو گیا تھا اور باطنین کے ناگہاں‌آپڑنے سے چھوٹ کے بھاگا؟\"\nزمرد: حسین! تم حقیقت میں‌بڑے سادہ لوح‌ہو۔اس کا سبب میں ‌بغیر جانے سمجھ گئی اور تم نہیں‌سمجھ سکتے ؟ لیکن حقیقت میں تم مجبور ہو۔تمھارے دل و دماغ پر ہر طرف سے اتنا اثر ڈال گیا کہ اب بمشکل تم ان باتوں کو اپنے دماغ سے نکال سکتے ہو۔کیا تم کو نہیں‌معلوم کہ باطنین دنیا کے ہر کونے میں‌پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی سازشوں‌کا جال ہر گاؤں‌اور چھوٹے سے چھوٹے قریے تک پر پڑا ہوا ہے ؟علی وجودی کے پاس تم پورے ایک سال رہے ،ممکن نہیں‌کہ اس کا حال تمھیں‌نہ معلوم ہو گیا ہو۔\nحسین:‌ ہاں‌! میں‌نے البتہ یہ دیکھا کہ ان کے معتقد تمام اطراف عالم میں‌پھیلے ہوئے ہیں‌اور ہر سال میں‌ایک دفعہ ان کی زیارت کو بھی آتے ہیں۔ اور مجھے یہ بھی نظر آیا کہ وہ لوگ پوشیدہ طور پر اور صرف رات کو مل کے چلے جاتے ہیں۔\nزمرد: اسی سے سمجھ سکتے ہو کہ ان کے ہاتھ میں‌خبریں‌پہنچے کے کتنے بڑے ذریعے موجود ہیں۔ تم نے جس وقت اس وادی کو چھوڑا تھا اس وقت سے آخر ورود حلب تک ہر منزل اور ہر مقام پر تمھاری نگرانی ہوتی ہو گی اور تمھاری روز روز کی خبر علی وجودی کو پہنچتی ہو گی۔ کچھ تم ہی پر منحصر نہیں،ان باطنین کے پنجے میں ‌جو شخص پڑتا ہے اسی طرح‌نظروں‌میں‌رکھا جاتا ہے۔پھر کون تعجب کی بات تھی کہ اگر تمھاری خلیل کی گرفتاری کا حال ان کو معلوم ہو گیا؟\nحسین:‌مجھے اس پر حیرت نہیں؛ حیرت تو یہ بات ہے کہ شیخ‌کہتے تھے کہ انھیں‌کے اشارے سے باطنین نے حملہ کر کے مجھے قید سے آزاد کرایا۔\nزمرد:‌کوئی تعجب کی بات نہیں۔ بے شک علی وجودی نے تمھارے چھڑانے کے لیے اپنے معتقدوں‌کو حملہ کرنے کا حکم دے دیا ہو گا۔\nحسین:‌مگر کیوں‌کر حکم دے دیا ہو گا؟‌میری گرفتاری کی خبر پہنچنے اوروہاں‌سے حملے کا حکم آنے میں بھی تو آخر کچھ زمانہ لگتا؟وہاں‌تو یہ واقعہ پیش آیا کہ جس رات کومیں‌نکلنے والا تھا اور میرے باہر آنے سے پیش تر ہی خلیل کا حاکم باطنین کے ہاتھ سے قتل ہوا،اور پھر میں گرفتار ہوا تو اس کو بھی پورا ایک دل نہیں‌گزرنے پایا تھا کہ ان کا ایک بڑا گروہ شہر پر آ پڑا۔ان تمام باتوں کی تکمیل اتنی جلدی کیوں‌کرہو سکتی تھی؟\nزمرد: (ذرا تامل کر کے ) یہ کون مشکل ہے ؟ باطنین کو معلوم ہو گا کہ تم کس روز تہ خانے میں اترے تھے اور کس روز نکلو گے ،اور یہ بھی سمجھتے ہوں‌گے کہ جس روز نکلو گے یہ مشکلات ضرور پیش آئیں گی۔ بس اس زمانے میں انھوں‌نے شیخ علی وجودی کو خبر کر کے مدد کا اشارہ پایا ہو گا۔اسی کے مطابق دن گنتے رہے اور ٹھیک چالیسویں‌دن،جس دن تم نکلنے والے تھے ،انھوں نے رئیس شہر کو قتل کر ڈالا کہ لوگ دوسری فکر میں‌رہیں‌اورتم چپکے سے نکل کے بھاگ جاؤ۔ مگر جب انھیں‌خبر پہنچی کہ اس رئیس کے قتل سے بھی کچھ فائدہ نہ ہوا اور تم مجاوروں کا ہاتھ سے گرفتار ہو گےہ تو انھوں‌نے یکایک حملہ کر کے شہر میں‌کھلبلی ڈال دی اور تمھیں چھوٹ کے بھاگ جانے کا موقع مل گیا۔\nحسین:‌ ( زور سے آہ سرد بھر کے )‌تو زمرد افسوس! یہ سب جھوٹ تھا؟ شیخ‌علی وجودی کا سا شخص اور اتنا بڑا مکار کیوں‌کر کہوں؟ زمرد! ان کرامتوں‌اور اس غیب دانی کے علاوہ ان کا علم و فصل اس پائے کا ہے اور ان کے ہر ہر لفظ سے ایسی خدا شناسی اور آشنائے رموز وحدت ہونے کی بو آتی ہے کہ چاہتا ہوں، مگر ان پر بدگمانی کرنے کی جرات نہیں‌ہوتی۔اتنا بڑا عالم و فاضل،ایسا نکتہ سنج اور دقیقہ رس اور اتنا بڑا فریبی! میں امام نجم الدین کی صحبت میں‌رہ چکا تھا،مگر پیاری زمرد! سچ کہتا ہوں کہ جو بات مجھے شیخ علی وجودی میں نظر آئی اور جس آسانی سے وہ دل کے شکوک رفع کر دیے، ہیں‌امام نجم الدین میں‌اس کا عشر عشیر بھی نہ تھا۔\nزمرد: بے شک ایسا ہی ہو گا! مگر بات یہ تھی کہ امام نجم الدین کے دل میں جو آتا ہو گا سادگی اور بے تکلفی سے کہہ گزرتے ہونگے۔انھوں‌نے اپنا بنانے اور اپنا اثر ڈالنے کے لیے کبھی کوئی کوشش نہ کی ہو گی۔اور شیخ‌علی وجودی کا ہر لفظ بنا ہوا اور دل پر اثر ڈالنے کے لیے ہوتا ہے۔اس کے ہر فقرے میں پوری ریاکاری ہوتی ہے۔ جھوٹ اور سچ میں‌یہی فرق ہے۔ اور اسی سبب سے ہمیشہ قاعدہ ہے کہ کیا دو فریبی کی باتیں‌ایک راست باز اور سادہ مزاج شخص کی باتوں سے زیادہ دل چسپ اور زیادہ دل نشین ہوا کرتی ہیں۔یقین ہے کہ شیخ‌علی وجودی سے مل کے تم کو خدا شناسی کا بہت عمدہ سبق مل گیا ہو گا۔\nحسین: ( زور سے سینے پر ہاتھ مار کے )‌ہاں! خوب سبق ملا،مگر خبر اس وقت ہوئی ہے جب کہ پورا جادو اثر کر چکا،اور میں ساری دنیا سے زیادہ ظالم،سیہ کار،بے دین اور بے وقوف بن چکا،افسوس! تمام عمر پھچتاؤں‌گا اور نہ پچھتا چکوں‌گا،مگر زمرد! کیا کہوں، اب بھی یہ سب باتیں خواب معلوم ہوتی ہیں۔طور معنی اور اس کے نورانی قصر کی صورت اس وقت تک میری آنکھوں کے سامنے پھر رہی ہے۔\nزمرد: ہاں‌وہ بھی اس مذہب کا ایک بڑا رکن ہے۔اس وقت تک صرف دوہی شخص شاہ التمونت کو ملے ہیں‌جن سے اچھا نقیب و داعی اس مذہب باطنیہ کو نہیں نصیب ہو سکا۔طور معنی اور علی وجودی،جو یہاں‌وادیِ ایمن کے نام سے یاد کیے جاتے ہے۔ان دونوں‌نے اپنی گہری سازشوں‌سے صدہا امرا،وزرا اور علما و فضلا قتل کرا ڈالے۔ اور چوں‌کہ اس جنت اور ملاء اعلیٰ کی اصلیت کو اچھی طرح‌جانتے ہیں لہٰذا ان پر سارا فریب کھلا ہوا ہے ا ور وہ لوگوں‌کو جان بوجھ کر گمراہ کرتے ہیں۔طور معنی بھی لوگوں سے کم ملتا ہے مگر وادیِ‌ایمن نے لوگوں‌ کو بہت خراب کیا۔دین کو جتنا بڑا ضرر اس شخص کے ہاتھوں پہنچا شاید کبھی کسی کے ہاتھ سے نہ پہنچا ہو گا۔\nحسین:‌تو کیا وہ طور معنی کا وہ زمین دوز قصر بھی کوئی قدرتی کرشمہ نہیں؛ اسی جنت کی طرح وہ بھی لوگوں‌کے فریب دینے کے لیے بنا دیا گیا ہے ؟\nزمرد:‌ (‌مسکرا کے )‌کیا تمھیں‌اب بھی شک ہے ؟\nحسین:‌شک نہیں؛ پیاری زمرد! تیری باتوں‌کا یقین ہے مگر کیا بتاؤں‌ان آنکھوں کے سامنے کیسی کیسی کیفیتیں‌گزر چکی ہیں‌اور ان کانوں‌نے کیسے کیسے روشن اور دل فریب الفاظ سنے ہیں! خیر یہ بھی نہ سہی۔مگر طور معنی کا قصر تو اصفہان میں‌ہے ،وہاں‌کے غار سے میں‌یہاں‌کیوں‌کر پہنچ گیا؟\nزمرد: التمونت کا نام چوں‌کہ کسی قدر مشہور ہو گیا ہے اور بعض‌لوگ بھڑک گےھ ہیں لہٰذا جن لوگوں‌کی نسبت ایسا خیال ہوتا ہے ،وہ اصفہان اور طور معنی ہی کے ذریعے سے یہاں‌لائے جاتے ہیں۔اور سارا راز مخفی رکھنے کے لیے یہ تدبیر عمل میں‌آتی ہے کہ طور معنی انھیں‌بے ہوش کر کے اونٹوں‌کی محملوں‌پر سوار کراتا ہے جو راز دار اور معتبر ساربانوں‌کے ذریعے سے التمونت پہنچا دیے جاتے ہیں‌۔ہر منزل پر رات کو کسی جگہ ان لوگوں‌کو ہوش میں‌لا کے کچھ کھلا پلا دیتے ہیں اور پھر بے ہوش کر کے آگے روانہ ہوتے ہیں۔\nحسین: (چونک کر) تو میں‌جو اپنے آپ کو کبھی جنگل میں‌پاتا تھا اور کبھی پہاڑوں‌میں‌وہ یہی تھا کہ اصفہان سے روانہ ہوکے التمونت کے منازل قطع کر رہا تھا؟\nزمرد: اور کیا؟\nحسین: ( حیرت سے ) اور یہ لوگ انسان کو بے ہوش کیونکر کرتے ہیں؟\nزمرد: ایک پتی ہے حشیش (بھنگ) اسے کے ذریعے۔کبھی ا س کا شربت پلا کے اور کبھی اسے غذاؤں اور مٹھائیوں‌میں‌ملا کے۔\nحسین: (بے صبری سے )تو طور معنی نے جو جام شراب پلایا وہ اسی حشیش کا جام تھا؟\nزمرد: بے شک!\nحسین: افسوس! مجھے مسکرات بھی پلائے گئے ؟ آہ! کوئی گناہ نہیں‌جو اٹھ رہا ہو۔ زمرد! تو ناراض‌نہ ہو،کیوں‌کہ صرف تیرے وصال کی آرزو نے اندھا کر دیا تھا،ورنہ میں‌اتنا مجنون و فاترالعقل نہ تھا۔ تیری محبت کی کہ حالت ہے کہ دیکھ تیرے بوسے کا یہ نشان جو میری پیشانی پر موجود ہے ، مجھے جان و دل سے زیادہ عزیز ہے۔چاہتا تھا،کہ اس نشان کے بوسے لے لے کے اپنے دل کی تسلی کروں‌مگر یہ مشتاق ہونٹ کسی طرح‌وہاں‌تک نہ پہنچ سکے۔\nحسین کی ان باتوں ‌پر زمرد کچھ ایسی شرما گئی تھی کہ ا س کے خاموش ہو جانے کے بعد بھی دیر تک آنکھیں‌نیچی کیے رہی اور کئی منٹ کے بعد جذبات شرم کو دبا کے بولی: \" حسین! نہ بوسہ لینے سے کسی شخص کے جسم پر داغ‌بن جاتا ہے اور نہ میں‌اتنی بے حیا ہوں۔\"\nحسیں: (بات کاٹ کے ) اچھا،تمھارے سوا اور کسی نے میرا بوسہ لیا ہو گا؟‌میں‌نے کسی کو منہ تک تو لگایا نہیں!\nزمرد:‌ (اسی طرح‌نظریں‌جھکائے جھکائے )‌اب مجھ سے بے شرمی کی باتیں ‌نہ کہلواؤ۔یہ تم کو فریب دیا گیا ہے۔ نہ یہ بوسے کا نشان ہے اور نہ عشق بازی کی پہچان،بلکہ یہ ایک علامت ہے جو پر شخص‌کی پیشانی پر لوہے سے داغ کے بنا دی جاتی ہے جو اس جنت میں‌لایا جاتا ہے۔\nحسین: داغ ہوتا تو مجھے یاد نہ ہوتا؟\nزمرد: یہ داغ بے ہوش کر کے بنایا جاتا ہے۔ اور تم جب التمونت سے اصفہان کو جا رہے ہو گے اسی وقت بنایا گیا ہو گا۔\nحسین:‌ ( زور سے سینہ کوٹ کے ) افسوس! گل لینے گئے تھے داغ لائے !\nاس کے بعد حسین دیر تک دل ہی دل میں‌اپنی حالت پر افسوس کرتا رہا اور پھر ایک دفعہ چونک کے بولا ’’زمرد!‘‘ افسوس بڑا دھوکا ہوا؛ تو نے مجھے اسی وقت کیوں‌نہ بتا دیا جب میں‌تیرے پاس لایا گیا تھا۔ اس وقت تو تو بھی مجھے یقین دلا رہی تھی کہ یہ سب ملاء‌ اعلیٰ کی چیزیں‌ہیں۔\"\nیہ سن کے زمرد آب دیدہ ہو گئی اور ایک درد کی آواز میں‌بولی: \"میری قسمت ہی میں‌یہ لکھا تھا کہ تمھیں‌دھوکا دوں‌گی۔\" زمرد کو آب دیدہ اور ملول دیکھ کے حسین کے دل پر ایک چوٹ سی لگی اور بے اختیاری کے ساتھ با وفا معشوقہ کے آنسو پونچھ کے کہنے لگا: \"‌زمرد مجھے یہ خیال نہ تھا کہ اس سوال سے سے تیرے دل کو صدمہ پہنچے گا۔اچھا جانے دے ،وعدہ کرتا ہوں‌کہ پھر ایسی باتیں‌نہ پوچھوں‌گا۔\"\nزمرد: ‌تم زخم پر اور نمک چھڑکتے ہو۔ اس وقت تک تم نے سب کچھ پوچھا مگر یہ نہ پوچھا کہ تم سے چھوٹ کے مجھ کم بخت کے سر پر کیا گزری۔ تم تو آزاد تھے ،دنیا میں پھر رہے تھے مگر آہ میں‌قید تھی،اور کیا کہوں‌کہ کس عذاب میں‌مبتلا تھی۔یہ بات میرے اختیار میں‌نہ تھی کہ کسی راز کا ایک ذرا سے اشارہ بھی دے سکوں۔\" اتنا کہہ کے زمرد زار و قطار رونے لگی۔\nحسین: (گلے لگا کر اور آنسو پونچھ کے )‌بے شک مجھ سے غلطی ہوئی کہ ان باتوں‌کا پوچھنا بھول گیا مگر سچ کہتا ہوں ‌کہ میں‌نے اس وقت تک کوئی بات سوچ سمجھ کے نہیں‌پوچھی۔ یہ جو کچھ پوچھا ہے ،میں‌نے نہیں‌پوچھا بلکہ حیرت و بے خودی پچھوا رہی تھی۔ایسی از خود رفتگی کی حالت میں کوئی فرو گزاشت ہوئی ہو تو معاف کر۔\nزمرد: خیر اب تم نے یہ داستان چھیڑی ہے تو لو سنو۔یہ باغ فدائیوں‌ اور باطنیوں‌کے اعتقاد میں تو جنت الفردوس اور ملاء‌اعلیٰ یا سرمدی عشرت کدہ ہے مگر سچ پوچھو تو شاہان التمونت کی عشرت سرا یا حرم سرا کی حیثیت رکھتا ہے۔ڈیڑھ سو برس کی متواتر کوششیں‌روز بروز اس کی رونق بڑھاتی رہیں،اور چوں‌کہ اس سے مذہبی کام لیا جاتا تھا لہٰذا ہر چیز کے بنانے میں‌بھی کوشش کی گئی کہ اس کی خوش نمائی اور دل فریبی انسان کے حوصلے سے زیادہ اور اس کے محو حیرت کر دیےے کے لیے کافی ہو۔یہ محل جو دیکھتے ہو کہ سونے چاندی اور مونگے موتی کے نظر آتے ہیں،صرف نقرئی طلائی اور ان کے جواہرات کے رنگ میں‌رنگ دیے گئے ہیں،ورنہ وہی اینٹ اور چونا ہے جس سے ہر جگہ مکان بنائے جاتے ہیں۔نہروں کو جاری کرنے میں‌البتہ بڑی محنت سے کام لیا گیا۔ مگر یہاں‌قدرتی طور پر پہاڑوں‌سے آبشار اور نہریں‌جاری کرنے کا سامان موجود تھا۔یہ بڑی نہر جواس باغ کے درمیان میں بھی ہے اور جس پر ایک سنہرا پل قائم ہے ،وہی نہر ویرنجان ہے جس کے کنارے تم نے مدتوں‌آہ و زاری کی ہے۔\nحسین: (حیرت سے ) یہ وہی نہر ہے ؟\nزمرد: \" وہی! یہ نہر خاص شاہی قصر سے بہتی ہوئی یہاں‌آئی ہے اور یہاں‌سے چند ایسی گھاٹیوں‌میں‌ہوکے جن میں‌گزرنا غیر ممکن ہے ،اس فرحت بخش وادی میں‌پہنچ گئی ہے۔\"\nحسین: اور زمرد وہ روشنی کیسی تھی جسے تو نے نور یزدانی بتایا تھا؟\nزمرد: وہ روشنی صرف یہ تھی کہ گرد کی پہاٹیوں‌پر رات کو بہت تیز روشنی اور پوری قوت کی مہتابیں‌چھوڑی جاتی تھیں‌جن کا عکس یہاں‌کے آئینوں‌اور شیشوں‌پر لے کے قوی اور تیز کیا جاتا تھا۔ اس روشنی کا سامان صرف اس زمانے میں کیا جاتا ہے جب یہاں‌کوئی شخص معتقد بنانے کے لیے لیا گیا ہو۔ اس وقت سب کو حکم رہتا ہے کہ جب وہ روشنی تیزی سے چمکے تو چلا کے کہیں \"ھٰذا الذی ما وعدنی ربی\"۔اور وہ دودھ اور شراب کے حوض بھی اسی ضرورت کے موقع پر لبریز کیے جاتے ہیں۔ لوگوں‌کا تختوں پر بیٹھنا،غلمانوں‌ کا شراب پلانا اور ان کی بے فکری و خالص مسرت کے تماشے بھی اسی موقع پر دکھائے جاتے ہیں۔\nحسین: ‌اور یہ طیور کا نغمہ اور ان کا پھل توڑ توڑ کے لانا؟\nزمرد: یہ کون بڑی بات ہے۔ چند سدھائے ہوئی طیور چھوڑ دیے گئے ہیں‌جن کو پھلوں کے توڑ لانے اور بغیر بھڑکے ہوئے لوگوں‌ کے سامنے رکھ کے اڑ جانے کی مشق کرا دی گئی ہے۔ اسی طرح‌یہاں‌کے طیور کو قرآن پاک یہ یہ آیت بھی \"سلام علیکم طبتم فادخلوھا خالدین\"‌یاد کرا دی گئی ہے جس کو ہر وقت رٹا کرتے ہیں۔\nحسین: بڑا گہرا فریب ہے ! بھلا کوئی کیوں‌کر سمجھ سکتا ہے۔ اور ہاں! زمرد جنت کے راز بتانے میں‌تو اپنی سرگزشت کہنا تو بھول ہی گئی؟\nزمرد: میری مصیبت کیا پوچھتے ہو! میں ہی تھی جو ان سب آفتوں کو جھیل گئی۔کوئی اور ہوتا تو اب تک خاک میں‌مل چکا ہوتا۔\nحسین: نہیں‌پیاری زمرد! ایسی باتیں‌زبان سے نہ نکال،میرے دل کو صدمہ ہوتا ہے۔ خدا کا ہزار ہزار شکر ہے کہ وہ سب مصیبتیں‌کٹ گئیں‌اور ہم اب پھر سے ایک دوسے کے آغوش میں ہیں۔\nزمرد: اصل میں‌میں‌یہاں‌صرف ایک حور بنائے جانے کے لیے لائی گئی تھی۔ خور شاہ،اس کے ہم راز اہل دربار اور یہاں‌کی تمام حوروں‌کو ہمیشہ کسی خوب صورت عورت کی جستجو رہتی ہے تاکہ اس کے حسن و جمال سے جنت میں‌زیادہ سے زیادہ دل چسپی پیدا کریں۔ جب میں ‌خور شاہ کے سامنے پیش کی گئی تو بد نصیبی سے اس کی نظر میں‌معمول سے زیادہ اور جنت کی تمام حوروں سے بڑھ کے خوبصورت ثابت ہوئی۔ اس نے ارادہ کیا کہ مجھے خالص اپنے لیے مخصوص کر لے۔ میں‌یہ خبر سن کے انتہا سے زیادہ پریشان ہوئی اور آخر دل میں فیصلہ کر لیا کہ چاہے مار ڈالی جاؤں‌مگر اس بے عزتی کو نہ گوارا کروں‌گی۔ابتدا میں‌مجھے طرح طرح‌کے لالچ دیے گئے۔ بتایا گیا کہ اس کی بی بی ہونے کے بعد تاج میرے سر پر رکھا جائے گا اور ایک عالی مرتبہ ملکہ بنوں‌گی،مگر میں‌نے کسی طرح‌نہ منظور کیا،اور جب اسے میری رضامندی سے مایوسی ہو گئی تو وہ ظلم پر آمادہ ہوا اور طرح طرح‌کی تکلیفیں‌دی جانے لگیں۔ دو ڈھائی مہینے اسی حال میں گزر گئے کہ میں ہر وقت موت کا انتظار کرتی تھی۔\nمعشوقۂ باوفا کی یہ مصیبت و وفا کیشی سن کے آنکھوں‌میں‌انسو بھر آئے اور ٹھنڈا سانس لے کے کہنے لگا\" \" زمرد! میرے لیے تو نے بڑی بڑی مصیبتیں اٹھائیں۔\"\nزمرد:‌یہ مصیبت نہ تھی بلکہ اسے میں‌راحت سمجھتی تھی،اس لیے کہ ابے عزتی اور آبروریزی سے بچی ہوئی تھی۔اب خور شاہ ناکامی کے غصے سے میرے قلح پر آمادہ ہو گیا تھا،لیکن اتفاقاً کسی دوست نے رائے دی کہ ایسے کام جو کہ کسی کے دل میں‌محبت پیدا کرنے سے تعلق ہو،ظلم و جور و زبردستوں سے نہیں‌نکلتے ؛ بہتر یہ ہو گا کہ چند روز کے لیے زمرد کو جنت کے ایک محل میں‌چھوڑ دیجیے ؛ وہاں‌جب ایک عرصے تک راحت و عیش میں‌رہے گی تو اپنے رنج و غم کو بھول جائے گیا اور آخر جوانی کے جذبات غالب آ کے اسے خود ہی آپ کی معشوقہ بننے پر آمادہ کر دیں ‌گے۔ یہ رائے اسے پسند آ گئی اور میں‌اس کے محل سے لا کے اس جنت اور اسی قصر دری میں‌رکھ دی گئی۔ یہ ایسا محفوظ مقام ہے کہ خور شاہ کے خیال میں بھی نہ تھا کہ یہاں‌کبھی پرندہ پر مار سکے گا۔ باہر کا کوئی شخص‌یہاں‌آنہ سکتا تھا اور جو معتقد بنانے کے لیے لائے بھی جاتے تھے تو ان کی ہر وقت نگرانی ہوتی تھی اور کوشش کی جاتی تھی کہ سوا ایک آدھ بات کر لیے کے میں ان سے زیادہ مل بھی نہ سکوں۔ اوروں ‌پر کیا منحصر ہے ،جب میں‌تم سے ملی ہوں،اس وقت بھی ان امور کی پوری نگرانی کی جاتی تھی اور مجال نہ تھی کہ سوا تمھارے بہلانے اور بہکانے کے میں‌تم سے ذرا بھی بے تکلف ہو سکوں۔یہاں مجھے ہر بات کا آرام تھا۔رات دن عیش و عشرت میں گزرتی تھی،اور خور شاہ کے اشارے پر یہاں کی تمام حوریں‌میری لونڈیاں‌بنی رہتیں اور ہر وقت میرا دل بہلانے کی کوشش کرتیں۔ حسین یہ سب سامان مسرت موجود تھا مگر میرے دل کو کسی طرح‌چین نہ آتا۔ تمھاری صورت ہر گھڑی آنکھوں‌کے سامنے رہی اور طرح‌طرح‌کی تدبیریں‌سوچا کرتی کہ کسی طرح‌یہاں‌سے نکلا بھاگوں‌۔ انھیں‌دنوں‌تمھارے قتل کے بارے میں‌بھی مشورے ہوتے اور روز میرا لہو خشک ہوا کرتا۔ایک رات کو میں نے خواب میں‌دیکھا کہ جیسے ایک لق و دق میدان میں‌کھڑی ہوں؛ ناگہاں‌سامنے سے تم نظر آئے اور مجھ سے ملنے کو بے تحاشا دوڑے۔یکایک کسی شخص نے ایک درخت کی آڑ سے نکل کے تمھارے سینے میں‌ایک چھری ماری۔ تم وہ زخم کھاتے ہی سینہ پکڑ کے کھڑے ہو گےد اور میں‌بے اختیار روتی اور چیخیں‌مارتی تمھاری طرف دوڑی۔ بس اسی حال میں چیختے چیختے میری آنکھ کھل گئی۔اب کہاں‌چین پڑ سکتا تھا،باقی رات میں‌نے روکے بسر کی،اور صبح کو حیران و پریشان بیٹھی تھی کہ مرجان نام کی یہاں‌کی ایک حور جو مجھ سے کسی قدر مانوس ہو گئی تھی اور جس سے میں کبھی کبھی دو ایک باتیں‌کر لیا کرتی تھی،میرے پاس آئی اور ادھر اُدھر کی باتوں‌کے بعد بولی: \" زمرد! تم نے کچھ اور بھی سنا؟ وہ نوجوان حسین جو تمھارے ساتھ تھا اب تک اسی وادی میں تمھاری قبر سے لپٹا بیٹھ ہے۔\"اس موقع پر مجھے ضبط سے کام لینا چاہیے تھا مگر نہ رہا گیا؛ بے اختیار ایک ٹھنڈی سانس لے کے بول اٹھی: \" حسین ابھی تک وہیں‌ہیں؟\"\nمرجان:‌ہاں۔ مگر اب یقین ہے کہ دو ہی ایک روز میں‌وہ مقام ان سے خالی ہو جائے گا۔\nمیں‌نے گھبرا کے پوچھا : \"کیوں؟\"\nمرجان: وہ مقام ہم لوگوں‌کی سیر گاہ ہے اور اسی سبب سے خور شاہ چاہتے ہیں‌کہ وہاں‌کوئی ایسا شخص‌نہ رہے جو ہمارا راز نہ جانتا ہو۔ تمھارے ساتھی نوجوان کی نسبت پہلے تو یہ خیال تھا کہ جب بالکل مایوسی ہو جائے گی تو چلا جائے گا،اور اسی غرض‌سے تمھاری قبر بنادی گئی ہے ،پتھر پر تمھارا نام کندہ کر دیا گیا کہ تمھارے مرنے کا اسے یقین ہو جائے اور واپس جا کے اور لوگوں‌کو بھی ادھر آنے سے روکے ،مگر یہ تدبیر بے کار گئی۔لہٰذا مجبور ہوکے اب یہ تجویز قرار پائی ہے کہ جس طرح‌بنے اس کا کام تمام کر دیا جائے۔\" حسین! میں‌نہیں‌کہہ سکتی کہ یہ جملہ سنتے ہی میرے دل کی کیا حالت ہوئی۔گھبرا کے اور بالکل بے اختیاری کے ساتھ کہہ اٹھی: \" تو پھر مجھے بھی مار ڈالو\"۔ میری بدحواسی دیکھ کے مرجان بولی: \" اگر اس کو بچانا چاہتی ہو تو ایک کام کرو؛ خور شاہ کے سامنے چل کے خود اپنی زبان سے سفارش کرو۔\" یہ ایسی بات تھی کہ جس کو میں‌ہرگز نہ مانتی مگر فقط اتنے خیال سے کہ تمھاری جان بچتی ہے طوعاً و کرہاً گئی۔ اور جب اس نے مسکرا کے مجھ سے کچھ بات کرنے کا ارادہ کیا تو میں‌نے آہ و زاری سے کہا \"خدا کے لیے اس نوجوان کی جان نہ لیجیے جو میری یاد میں‌ پڑا رو رہا ہے۔\"میری درخواست سنتے ہی اس نے نہایت متین صوت بنائی مجھے بہت گھور کے اور غصے کی نگاہ سے دیکھا،اس لیے کہ میرے تمھارے تعلقات نے اس کے دل کو بڑا صدمہ پہنچایا اور نہایت ہی برہمی کی آواز سے پوچھنے لگا:‌\"‌وہ تمھارا کون ہے ؟\"\nمیں‌:‌ وہ میرا عزیز ہے۔اسی کے ساتھ کھیل کود کے اور اسی کے ساتھ پڑھ لکھ کے میں‌بڑی ہوئی ہوں اور اسی سے میری شادی ہونے والی ہے۔اس سبب سے اکیلا وہی میری جان و مال کا مالک ہے۔\nخور شاہ: تمھاری شادی ابھی اس کے ساتھ نہیں‌ہوئی؟\nمیں‌نے نظر نیچی کر کے جواب دیا: \"نہیں!\"\nیہ جواب سن کے خور شاہ نے مجھے بدگمانی کی متجسس نگاہوں سے دیکھا اور پوچھا: \"مگر شادی سے پہلے ہی تمھارے اس کے ایسے تعلقات ہو گےک کہ گھر بار چھوڑ کے ساتھ نکل کھڑی ہوئی تو یہ سمجھنا چاہیے کہ تمھاری عفت میں داغ‌لگ گیا؟\"\nاس کا جواب دیتے وقت مجھے بے انتہا شرم معلوم ہوئی۔ کسی طرح کوئی لفظ میری زبان سے نہ نکلتا تھا مگر صرف اپنی اور تمھاری جان بچانے کی غرض‌سے میں‌نے دل کڑا کر کے اور بے حیائی گوارا کر کے جواب دیا: \"‌میں‌ایک توا اپنے بھائی کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کو اور دوسرے حج کے لیے گھر سے نکلی تھی،مگر ہاں‌یہ البتہ ارادہ تھا کہ قزوین پہنچ کے عقد کرلوں‌گی۔\"\nخور شاہ: نکاح‌کی رسم تو خیر قزوین میں‌ادا ہوتی مگر غالباً تم میں اس میں‌ میاں‌بی‌بی والے تعلقات پہلے ہی قائم ہو چکے تھے ؟\nاس سوال پر میں‌اس قدر شرمائی کہ سارا جسم پسینے پسینے ہو گیا اور نظر نیچی کر کے بلکہ یوں‌کہنا چاہیے کہ شرم کے مارے آنکھیں‌بند کر کے جواب دیا: \" نہیں‌میری عصمت میں‌ کوئی فرق نہیں آیا۔\"\nاتنا سنتے ہی خور شاہ ایک بے اختیاری کے جوش سے یہ کہتا ہوا میری طرف دوڑا :‌ \"‌شکر ہے میری نازنین کے پاک جسم کو ابھی کسی کا ہاتھ نہیں‌لگا!\" قریب تھا کہ وہ مےھ گلے لگا لے مگر میں‌نے دونوں‌ہاتھوں‌ سے الگ ہی روکا اور اس کے ہاتھ سے بچنے کے لیے پاؤں‌کے پاس زمین پر گر کے کہنے لگی:‌\"‌اس نوجوان کی جان نہ لیجیے ورنہ میں‌بے موت مر جاؤں‌گی۔\" خور شاہ دیر تک سوچتا رہا۔پھر مجھے اٹھا کے بولا:‌\" زمرد! یہ بہت ضروری ہے کہ وہ وادی اس ضدی شخص‌سے خالی کی جائے۔\"\nمیں‌:‌آہ! میں نے اسے وصیت کر دی تھی کہ مرجاؤں‌ تو گھر جا کے عزیزوں‌کو میری عفت و پاک دامنی کا یقین دلاؤ۔مگر افسوس اس نے نہ مانا!\"\nیہ سنتے ہی خور شاہ چونک پڑ ا اور بولا: \" کیا تم نے اسے گھر جانے کی وصیت کی تھی؟\"\nمیں‌:‌جی ہاں‌۔وصیت کیسی،بہت تاکید اور اصرار سے کہا تھا۔\nخور شاہ: تو خیر کوئی مضائقہ نہیں۔ایک نہایت عمدہ تدبیر ہے۔وہ وادی بھی اس سے خالی ہو جائے گی اور اسے کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچے گا۔ مگر زمرد! یہ صرف تمھاری نظر محبت کی امید پر منحصر ہے۔\nاس کے جواب میں‌کچھ کہنا مجھے بالکل بے موقع معلوم ہوا۔خاموش کھڑی رہی۔اور خور شاہ نے قلم دوات منگوا کے ایک خط کا مسودہ لکھا اور اسے میری طرف بڑھا کے کہا: \"اسے تم اپنے ہاتھ سے صاف کر دو۔\" میں نے اسے وہیں‌اس کے سامنے زمین پر بیٹھ کے صاف کر دیا اور واپس نہیں آنے پائی تھی کہ ایک دودھ لانے والے دہقانی کو بلوا کے خور شاہ نے وہ خط اس کے حوالے کیا اور حکم دیا کہ تمھاری غفلت میں‌قبرپر رکھوا دیا جائے۔یہ میرا پہلا خط تھا۔ میں‌ اسی کا حال پہلے بھی بیان کر چکی ہوں۔ مگر پھر کہتی ہوں‌کہ کیسے کیسے مظالم ہوئے ہیں‌اور کیسی کیسی مجبوریاں پیش آئیں ہیں‌جب میں‌نے تم کو وہ خط لکھا ہے۔ اس خط کے روانہ ہو چکےم کے بعد جب میں جنت میں واپس آئی تو انتہا سے زیادہ حیران تھی۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اب مجھ سے مایوس ہوکے تم گھر چلے جاؤ گے۔روز اسی ادھیڑ بن میں‌رہتی تھی کہ تمھاری زبان سے میری موت کا قصہ سن کے اماں‌اور ابا کے دل پر کیا گزری ہو گی۔کئی ہفتے اسی حالت میں‌گزر گئے۔ وہ حور جس کا نام مرجان تھا،روز میرے پاس آتی اور ہمیشہ ہمدردی ظاہر کرتی،مگر مجھے بعد میں‌معلوم ہوا کہ وہ خور شاہ کی سکھائی پڑھائی تھی اور اس سے روز جا جا کے کہہ دیا کرتی تھی کہ میں‌تمھارے لیے کس قدر حیران رہتی ہوں۔ایک دن اس نے باتوں‌باتوں‌میں‌پوچھا: \" زمرد! تمھارا مکان آمل میں‌ہے ؟\" میں‌چونک کے بولی: \"ہاں‌!کیوں؟\"\nمرجان:‌وہیں‌ایک زبردست عالم، جو فی الحال نیشا پور میں‌رہتے ہیں، لوگوں‌کو ہمارے خلاف بہکا رہے ہیں اور اس جنت کو فریب بتاتے ہیں۔\nمیں‌: کون؟امام نجم الدین نیشا پوری تو نہیں؟\nمرجان: ‌ہاں‌ہاں‌وہی۔ ان کے قتل کی تجویز ہو رہی ہے۔\nمیں‌: (چونک کر)ہائے یہ تو بڑا ظلم ہو گا! وہ بڑے با خدا عالم ہیں‌‌۔حسین کے استاد ہیں‌اور انھیں‌کے وہ مرید بھی ہیں۔\nمرجان: ‌(تعجب کر کے ) حسین ان کے شاگرد اور مرید ہیں؟\nمیں: اتنا ہی نہیں،ان کے بھےیجا بھی ہیں‌وہ۔\nاس کے بعد میں دل میں افسوس کرتی رہی کہ یہ ظالم ناحق ایک با خدا شخص کی جان لیتے ہیں۔اور انھیں‌خیالات کی وجہ سے رات کو کئی پریشان اور مہیب خواب دیکھے۔دوسرے دن اٹھ کے بیٹھی ہی تھی،اور آفتاب اچھی طرح بلند نںخی ہونے پایا تھا کہ مرجان آئی اور کہےر لگی: \"چلو زمرد! تمہیں‌ خور شاہ نے بلایا ہے۔\"\nمیں‌: (‌پریشانی کی صورت بنا کے )‌ کیوں؟\nمرجان:‌ یہ میں‌کیا جانوں،مگر اسی وقت چلو۔ مجبوراً میں اس کے ساتھ گئی۔ وہاں‌جا کے دیکھا تو ایک خوب صورت لڑکی کے ہاتھ سے لے لے کے جام شراب پی رہا تھا۔میری صورت دیکھتے ہی بولا:‌\"زمرد! تم کسی طرح‌حسین کے خیال کو نہیں‌چھوڑتیں۔اگر میری آرزو پوری کرے کا اقرار کرو تو تمھیں حسین سے ملانے کا وعدہ بھی کرتا ہوں۔\" یہ الفاظ سنتے ہی میرے دل میں‌ایک خفیف سی مسرت پیدا ہوئی مگر اس کی شرط بالکل ایسے تھی جیسے شربت کے جام میں‌زہر ملا ہو۔تاہم میں‌نے اور کسی خیال کو دل ہی دل میں دبا کے کہا: \" اگر آپ کے رحم نے مجھے ان سے ملا دیا تو زندگی بھر لونڈی رہوں‌گی۔\" میرے اس جواب سے وہ خوش ہوا اور فوراً ایک دوسے خط کا مسودہ دے کر کہا:‌\"اس کو اپنے قلم سے صاف کر دو۔:‌میں‌نے مسودہ ہاتھ میں لے کے قبل اس کے کہ پڑھا ہو خور شاہ کی طرف دیکھ کو پوچھا: \" اب تو حسین اس وادی سے چلے گئے ہوں‌گے ؟\"\nخور شاہ: نہیں،اس نے تمھارے پہلے خط کی ذرا بھی پرواہ نہیں‌کی۔اسی طرح قبر کا مجاور بنا بیٹھا ہے۔تم اسے اپنا باوفا اور سچا عاشق سمجھتی تھیں‌مگر وہ تمھاری پروا بھی نہیں‌کرتا۔اس دل کش وادی میں اس کا ایسا دل لگا کہ اب تھارے حکم کو بھی نہیں‌مانتا۔\nمیں:‌ نہیں۔ وہ ایسے ہی با وفا ہیں‌جیسا کہ میں‌سمجھتی ہوں۔ جس طرح‌میری جدائی نہ گوارا کی تھی،اسی طرح‌اب انھیں میری قبر کی مفارقت بھی گوارا نہ ہو گی۔\nحسین: (‌جوش میں‌آکر) بے شک زمرد! صرف اسی خیال سے میں‌نے تیرا پہلا حکم نہیں‌مانا۔\nزمرد: ‌خیر، میری زبان سے یہ باتیں‌سن کے اس نے ایک حیرت کے ساتھ مجھے گھور کے دیکھا اور کسی قدر پست آواز میں‌بولا: \" یہ مسودہ جلدی صاف کر دو کہ وہ تم سے ملنے کا سامان کرے۔\" مجھے اس مسودے کے پڑھتے ہی حیرت ہو گئی۔ پڑھتی جاتی تھی اور دل میں‌کہتی جاتی کہ کہ یہ لوگ کس قدر مکار اور فریبی ہیں۔بہرحال میں‌نے خط صاف کر کے دیا ور چلی آئی۔ دوسے دن مجھے مرجان کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ خط تمھارے پاس بھیج دیا گیا۔ اور اس سے غرض‌یہ تی کہ تمھیں‌شیخ‌علی وجودی کا معتقد بنا کے انھیں کے ذریعے تمھارے ہاتھ سے امام نجم الدین نیشاپوری تمھارے ہاتھ سے قتل کرائے جائیں اس کے صلے میں تم جنت کی سیر کرو اور مجھے تم سے ملنے کا موقع ملے۔حسین! کیا کہوں‌کہ یہ حال معلوم ہوتے ہی میں‌نے اپنے اوپر کتنی لعنت و ملامت کی ہے۔ میں‌دل میں ڈرتی تھی کہ کہیں‌ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے ان کے خون میں‌اپنے ہاتھ رنگ لو دعا کرتی تھی کہ خد کرے پہلے خط کی طرح‌تم اس خط پر بھی عمل نہ کرو۔ مگر جب معلوم ہوا کہ یہاں‌کے بھیجے ہوئے گدھے پر سوار ہوکے تم روانہ ہو گےت ہو تو دل میں‌اور ڈری اور دعا کرنے لگی کہ خداوندا! حسین کو اس گناہ سے بچا! مگر مدت کے بعد جب معلوم ہوا کہ اب دو ہی تین دن میں‌تم جنت میں‌آیا چاہتے ہو تو مجھے یقین ہو گیا کہ تم ان ظالموں‌کے پھندے میں‌پھنس گئے۔ جب تم اس وادی کو چھوڑ کے چلے گئے تو یہاں کی حوریں پھر‌اکثر اوقات سیر و تفریح‌کے لیے وہاں‌جانے لگیں۔ جن کے ساتھ خور شاہ کی اجازت سے کبھی کبھار میں بھی چلی جاتی تھی،اور اپنی قبر کو دیکھ کے تمھارے خیال سے اکثر دل ہی دل میں ‌روتی۔ جب تم جنت میں‌آئے ہو اس سے پہلے ہی مجھے بتا دیا گیا تھا کہ تم سے کیوں‌کر ملوں‌،کس قسم کی باتیں‌کروں‌اورتمھارے اعتقاد کو کس طرح‌بڑحاؤں۔تاکید تھی کہ اگر ا س کے ذرا بھی خلاف ہوا اور ذرا سا بھی راز تم پر ظاہر ہو گیا تو پہلے تم مار ڈالے جاؤ گے اور پھر میں۔ہر وقت یہاں‌میری اور تمھاری نگرانی ہوتی رہتی تھی اور مجھے تم سے ایک لفظ کہنے کا موقع بھی نہ ملتا تھا۔ اس کے علاوہ مجھے تمھاری یہ حالت نظر آئی کہ جیسے تم پر کوئی سخت جادو چلا ہوا تھا اور اپنے ہر نیک و بد سے بے خبر تھے۔ایسی حالت میں اس کی بھی امید نہ تھی کہ تم سے کچھ کہوں‌گی تو تم اسے ضبط کر کے چھپا سکو گے۔اسی خیال سے میں نے کچھ نہ کہا۔ تاہم موقع پا کر اتنا بتا دیا کہ نا امیدی کی حالت میں‌مری قبر پر آنا،اور آخر اسی تدبیر سے خدا نے کامیاب کیا۔ مگر حسین! میں‌نے تمھارے لیے خور شاہ کے ہاتھ سے بڑ بڑے ظلم اٹھائے۔برائے نام جنت تھی۔ تمھارے جانے کے بعد اور زیادہ سختیاں‌ہوئیں‌اور اب خور شاہ کو خیال ہو چلا تھا کہ میں‌کبھی اس کے موافق نہ ہوں گی،مگر لوگوں‌کے کہنے سننے اور اس کے دلی میلان‌کا نتیجہ تھا کہ اس وقت زندہ ہوں۔\nحسین: (زمرد کو گلے لگا کے )‌غنیمت ہے کہ اتنی مصیبتوں‌کے بعد ہم پھر مل گئے۔مگر اب مجھے ضرور ہے کہ ان ظالموں‌سے ان باتوں‌کا انتقام بھی لوں۔جب تک انتقام نہ لوں گا کبھی آرام سے بیٹھنا نہ نصیب ہو گا۔ میرے گناہوں کا کفارہ یہی ہے کہ دنیا کو خور شاہ،علی وجودی اور طور معنی کی نجاست سے پاک کروں‌۔جس طرح ابھی تک ان لوگوں‌کا فدائی تھا، اب دین کا سچا فدائی بنوں‌گا۔ہر ایک مستقر پر جاؤں‌گا اور اسی طرح‌فریب و مکر سے ان لوگوں‌کو جنت کے بہانے دوزخ میں‌ بھیجوں‌گا۔\nزمرد: تمھیں‌ کہیں‌جانے کی ضرورت نہیں‌، فی الحال عید قائم قیامت ہے ؛ یہ سب لوگ یہیں‌آئے ہوئے ہیں،اسی قلعے میں‌ موجود ہیں،اور ان کی سزا دہی کا بھی پورا انتظام ہو گیا ہے۔آج ہی شام تک تمھیں‌موقع مل جائے گا کہ شاہ‌زادی بلغان خاتون کے ساتھ خور شاہ کے محل اور قلعے میں گھس کے ایک ہی وقت میں‌تینوں‌ شخصوں‌کا کام تمام کر دو۔\nحسین: زمرد! تجھے یہاں کے سب حالات کیوں‌کر معلوم ہو گےل ؟\nزمرد: حوروں‌اور جنت والوں‌سے کوئی راز چھپا تھوڑی ہی ہے۔ مرجان کی طرح یہاں‌کی بعض‌حوریں‌خور شاہ کے محل میں‌جاتی ہیں‌اور ان میں‌سے ایک ہر وقت اس کی صحبت میں‌موجود رہتی ہے۔یہ حوریں‌جب واپس آتی ہیں تو جو دیکھتی سنتی ہیں‌دوسروں‌سے کہہ دیتی ہیں۔ اس طرح‌تھوڑی ہی دیر میں‌ہر بات سب میں‌مشہور ہوا جاتی تھی،اور کسی نہ کسی ذریعے سے میں‌بھی سن لیتی تھی۔اور ہاں‌حسین! یہ تو بتاؤ کہ شاہزادی کے ساتھ کتنی فوج ہے ؟\nحسین: فوج! تھوڑے سے جوان ہونگے۔\nناگہاں‌ایک شور و ہنگامے کی آواز بلند ہوئی۔ دونوں‌گھبرا کے محل سے باہر نکل آئے اور ہزارہا سپاہیوں‌کا عظیم الشان لشکر دیکھ کے اس محل کی طرف دوڑے جس میں‌شہزادی بلغان خاتون آرام کر رہی تھی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A7%D9%81%D8%B4%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%B2"} {"title": "فردوس بریں/انتقام", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر > فردوس بریں", "year": null, "text_ur": "حسین اور زمرد نے اپنے قصر دری سے نکل کے دیکھا تو عجب عالم نظر آیا۔ جنت کے آرام و اطمینان میں‌فرق آ گیا تھا اور معلوم ہوتا تھا گویا فردوس بریں‌میں‌قیامت آ گئی۔خوب رو اور پری چہرہ حور و غلمان جوا پنے حسن و جمال سے ہر ایک کو نورانی پیکر ہونے کا دھوکا دیتے تھے قصروں‌اور کوشکوں‌سے نکل نکل کے بد‌حواس بھاگے اور ایک دوسرے کی آڑ میں‌چھپنے لگے۔ ہر طرف ایک تہلکہ پڑ گیا۔جہاں‌رونا حرام بتایا جاتا تھا وہیں‌ہر طرف رونے پیٹنے اور نوحہ و بکا کی آواز بلند ہوئی۔ ایک عظیم الشان اور بڑا بھاری تاتاری لشکر جنت میں‌داخل ہو گیا تھا جس کے سپاہی ہر چہار طرف پےیلتا جاتے تھے۔قصروں اور کوشکوں‌میں‌لوٹ مار مچ گئی تھی۔ خوبصورت لڑکیاں‌اور پری جمال لڑکے گرفتار ہو رہے تھے۔جن کی سہمی ہوئی صورتوں‌، چیخ‌و پکار کی آوازوں نے عجب نازک گھڑی کا سماں‌پیدا کر رکھا تھا۔\nیہ وحشت انگیز اور بدحواس کرنے والا سماں‌ دیکھتے ہی زمرد اور حسین دوڑتے ہوئے اس قصر میں‌ پہنچے جہاں‌شاہزادی آرام کر رہی تھی۔ زمرد شہزادی کی آرام گاہ کے قریب پہنچ کے دستک دینے ہی کو تھی کہ ایک وحشی و غارت گر تاتاری اس کی صورت دیکھ کے جھپٹ پڑا۔ قریب تھا کہ اور سب حوروں‌کی طرح‌وہ بھی گرفتار ہو جاتی۔ مگر حسین‌سے یہ دیکھ کے رہا نہ گیا؛ اور کوئی ہتھیار تو پاس نہ تھا،وہی اپنا فدائیت کا خنجر لے کے دوڑا۔قریب تھا کہ اس میں اور تاتاری میں‌لڑائی ہو جائے کہ ناگہاں کمرے کا دروازہ کھلا اور خوبصورت شاہ زادی بلغان خاتون اپنے بکھرے ہوئے لٹکتے بالوں‌‌کے ساتھ لباس کے لمبے لمبے دامنوں‌کو زمین پر لٹاتی ہوئی نکلی اور تاتاری زبان میں‌چلا کے بولی: \" ٹھہرو!\"شاہ زادی کی صورت دیکھتے ہی تاتاری دوڑ کے اس کے قدموں‌پر گر پڑا اور عرض‌کیا: \" ہم حضور کی تلاش میں‌تھے۔\"\nشاہزادی: تم میرے ساتھ والوں‌میں‌سے ہو؟\nتاتاری: نہیں!\nشاہزادی: (خوش ہوکے )تو بھائی آ گےم ؟\nتاتاری: جی ہاں۔\nناگہاں‌تاتاریوں‌کا ایک بڑا بھاری غول نظر آیا ،جن کے درمیان میں‌خود ہلاکو خاں بھی موجود تھا۔شمشیر برہنہ اس کے ہاتھ میں‌تھی۔ عمامے میں‌کلغی لگی تھی،جس پر مغلئی نیزے اور تاتاری بیرقیں‌سایہ کیے ہوئے تھی۔ اس شان سے اس کے شاہی خاندان‌میں‌ہونے اور نیز تمام فوج کے سردار ہونے کا پورا پتہ چلتا تھا۔ہلاکو‌خاں‌کو آتے دیکھ کے بلغان خاتون کمرے سے نکل کے استقبال کو دوڑی۔ بہن بھائی جوش و خروش سے ملے ، وحشی اور غارت گر جوانوں‌نے ایک گھڑی کے لیے مہذب بن کے اور مرتب ہوکے اپنی حسین و نازنین شاہ زادی کو سلام کیا اور ہر طرف سے خوشی و مسرت کے نعرے بلند ہونے لگے۔\nبلغان خاتون: (ہلاکو خان سے ) بھائی آپ کب آئے ؟ مجھے تو تردد پیدا ہو چلا تھا۔\nھلاکو خان: تم لکھتیں اور میں نہ آتا؟ اس میں‌شک نہیں‌کہ اس وقت سلطان دیلم کے تعاقب میں عجلت کرنے کی ضرورت تھی،مگر تمھارا خط دیےھتل ہی مجبور ہونا پڑا۔ میں نے تھوڑی سے فوج اس کے تعاقب میں ‌چھوڑ دی اور باقی لوگوں‌کو ساتھ لے کے چلا آیا۔\nبلغان خاتون: میں ‌روانہ ہونے سے کئی دن پہلے آہ کو اطلاع دے چکی تھی،اسی خیال سے زیادہ فوج اپنے ہمراہ نہیں‌لائی، لیکن آج صبح سے جوں‌جوں آُ پ کے پہنچنے میں ‌تاخیر ہوتی تھی،میرا تردد بڑھتا جاتا تھا۔\nہلاکو خاں: میں‌نے بہت کوشش کی کہ صبح تڑکے پہنچ جاؤں‌مگر کسی طرح‌نہ پہنچ سکا۔ خیر اب بھی چنداں‌دیر نہیں‌ہوئی۔\nاس کے بعد بلغان خاتون نے زمرد اور حسین کو ہلاکوخاں‌کے قدموں‌پر گرایا اور کہا: \" یہی لوگ ہیں‌جن کی مدد سے میں‌ یہاں تک آ سکی۔\" ہلاکو خاں نے دونوں کو اٹھا کے گلے لگایا اور کہا: \" اپنی بہن کی طرف سے میں‌بھی تمھارا شکر گزار ہوں۔\" دونوں‌نے پھر جھک کے اس کے قدم چومے اور کہا:\" حضور ہی کی وجہ سے ہم کو اس قید سے نجات ملی،ورنہ زندگی بھر نجات کی امید نہ تھی۔\"\nبلغان خاتون: اور بھائی آپ کے ہمراہ کتنی فوج ہے ؟\nہلاکو خاں: میں‌پچاس ہزار فوج لے کے چلا تھا،راستے میں‌وہ چالیس ہزار جوان اور مل گئے جو تمھارے ساتھ آئے تھے۔ اب کل نوے ہزار جانباز تاتاری میرے ہمراہ ہیں،مگر ان میں سے صرف پانچ ہزار آدمی اندر لایا ہوں،اس لیے کہ راستے کی دشواریوں کے باعث اس سے زیادہ فوج کا یہاں‌لانا غیر ممکن تھا۔\nبلغان خاتون: اور باقی ماندہ فوج وہیں‌نہر کے کنارے ٹھہری ہو گی؟\nہلاکو خاں\" نہیں، میں‌نے کئی منزل پیشتر سے اپنی فوج کے چالیس ہزار آدمی قلعہ التمونت پر بھیج دیے تھے ،جو آج ہی پہنچ گئے ہونگے اور قلعے کے اندر سے ہمارے طبل و قرنا کی آواز سنتے ہی یورش کر دیں‌گے۔ نہر ویرنجان کے کنارے پہنچ کے جب مجھے معلوم ہوا کہ زیادہ آدمی یہاں‌تک نہیں‌پہنچ سکتے تو میں‌نے طولی خاں‌کو تمام باقی ماندہ فوج پر سردار مقرر کر کے حکم دے دیا کہ وہ بھی التمونت ہی پر جا کے حملہ کرے۔ اس کے ساتھ 45 ہزار فوج ہے۔مجھے اندیشہ تھا یہ لوگ وقت پر نہ پہنچ سکیں ‌گے مگر اتفاقاً خوش قسمتی سے ایک یہیں‌کا کوہستانی مل گیا جس نے بتایا کہ التمونت بہت قریب ہے اور زیادہ سے زیادہ پانچ گھنٹے میں‌یہ پورا لشکر وہاں‌ پہنچ سکتا ہے۔طولی خاں‌اس شخص کو ساتھ لے کے گیا ہے اور یقین ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں‌وہ بھی قلعے کے پھاٹک پر پہنچ گیا ہو گا۔ خیر اب یہ بتاؤ کہ قلعے کا راستہ کدھر سے ہے ؟\nبلغان خاتون: تو بھائی! تھوڑی دیر یہاں‌ٹھہر کے سستا لو،پھر چلنا ، تم ابھی منزل مارے اور تھکے ماندے چلے آتے ہو۔\nہلاکو خاں:‌ (ہنس کے ) ہمارا آرام اسی میں‌ہے کہ جوہر شجاعت دکھانے کو کوئی اچھا میدان جنگ ملے۔جب تک فتح نہ حاصل ہولے اس وقت تک کوئی چیز ہماری تھکن کو نہیں‌مٹا سکتی۔ ہاں‌تمھارے تھکنے کا البتہ مجھے لحاظ‌ہوتا،مگر تم مجھ سے پہلے ہی یہاں‌پہنچ چکی تھیں‌اور اچھی طرح سستا چکی ہو،لہٰذا اب کسی بات کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔\nحسین: (جوش و خروش سے قدم آگے بڑھا کے ) حضور! بے شک انتظار نہ کرنا چاہیے۔مجھے ان لوگوں‌نے اتنا بڑا فریب دیا ہے ،اور میرے ہاتھ سے ایسے ایسے گناہ کرائے ہیں کہ جب تک ان میں سے خاص‌تین شخصوں‌کی جان نہ لے لوں‌گا، چین نہ پڑے گا۔ہر وقت میرے دل سے انتقام کی آواز نکلتی ہے اور پریشان ہو جاتا ہوں۔\nہلاکو‌خاں: (مسکرا کے ) ہاں‌ذرا بیان تو کرو کہ تمھیں‌کیوں‌کر فریب دیا گیا تھا؟\nشاہی حکم کی تعمیل میں حسین نے اپنی ساری سرگزشت مختصر الفاظ میں بیان کی اور آخر میں‌آبدیدہ ہوکے کہنے لگا: \"افسوس! زمرد کی محبت کے نام سے مجھے اتنے بڑے اور ایسے ایسے فریب دیے گئے ہیں کہ جب تک زندہ ہوں‌اپنے اوپر لعنت کرتا رہوں‌گا۔\"\nہلاکو خاں: (حیرت سے ) عجب! واقعی ان لوگوں‌نے دنیا پر ریاکاری و مکاری کا عجیب جال ڈال رکھا تھا۔اب اس قلعے کی فتح کے بعد میرا ارادہ ہے کہ ملاحدہ کی نجاست سے ساری دنیا کو پاک کر دوں۔\nحسین: اگر ایسا ہوا تو خدا آپ سے بہت خوش ہو گا،اور دنیا ہمیشہ کے لیے آپ کے مبارک اسلحہ کی ممنونِ احسان رہے گی۔\nہلاکو‌خاں: تو چلو، اب تاخیر میں نقصان ہے۔ہماری فوج جو قلعے کے گرد اتری ہوئی ہے ،متردد و پریشان ہو گی۔\nزمرد: یہ کام میرے ذمے ہے۔ حضور! آپ کی اس لونڈی کے سوا کوئی اس راستے سے واقف نہیں ہے۔مگر اپنے ہمراہیوں‌کو حکم دے دیجیے کہ جب تک محل کے اندر نہ داخل ہولیں، نہایت خموشی سے چلیں۔کہیں‌پہلے سے خبر ہو گئی تو محل سرا کا پھاٹک بند کر لیا جائے گا اور پھر قلعے سے نکل جانے میں بڑی بڑی دشواریاں پیش آئیں‌گی۔\nزمرد کی ہدایت کی مطابق ہلاکو‌خاں‌نے اپنے تمام ساتھیوں‌کو ساکت و صامت رہنے اور آہستہ آہستہ قدم اٹھانے کا حکم دے دیا۔ وہ پانچ سو تاتاری جو قراقرم سے شاہ زادی کے ہمراہ آئے تھے اور اب اس پانچ ہزار فوج کے بعد وہ بھی جنت کے اندر داخل ہو گے تھے ،یہیں جنت میں‌چھوڑ دیے گئے تاکہ اسیر شدہ حور و غلمان کی حفاظت کریں۔اورہلاکوخاں‌التمونت کے قصر شاہی کی طرف اس شان سے روانہ ہوا کہ آگے آگے سے حسین تھا۔ اسے اب کسی تاتاری جوان سے ایک تلوار مل گئی تھی جسے وہ غضب اور انتقام کے ارادے سے علم کیے ہوئے تھا۔ا س کے پیچھے خود ہلاکو خاں‌جس کے داہنی جانت بلغان خاتون تھی اور بائیں‌طرف زمرد اور ان کے پیچھے پانچ ہزار تاتوریوں کا غول تھا جو باوجود اژدحام اور جوش خروش کے نہایت ہی سکوت و متانت کے ساتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھتا چلا جاتا تھا۔\nنہر ویرنجان کے اس طرف کے تمام چمن اور دل کش قطعات باغ طے کر کے یہ پُر سطوت گروہ سنہرے پل پر پہنچا۔زمرد نے بڑھ کے پل کا قفل کھولا اس لیے کہ اس نے آج صبح کو راستہ روکنے کے لیے اس پل میں قفل ڈال دیا تھا۔ پل کا پھاٹک کھلتے ہی سب لوگ نہر سے اتر کے اُدھر کے پر فضا اور دل کش مرغزار میں ‌داخل ہوئے اور زمرد کے بتانے کے موافق ایک خوش نما اور خوش سواد راستے سے گزر کے بڑے بڑے سایہ دار درختوں کی ایک جھنڈ میں‌پہنچے۔انھیں درختوں‌کے گھونگٹ میں‌رکن الدین خور شاہ کی محل سرا کا خوبصورت چہرہ(دروازہ) چھپا ہوا تھا۔دروازے کی صورت دیکھتے ہی یہ لوگ دوڑ کے اندر گھس پڑے اور قبل اس کے کہ کسی کو خبر ہو،ایک طولانی ڈیوڑھی کو قطع کر کے خوش نما اور نزہت بخش خانہ باغ میں جا پہنچے ،جو اپنی شادابی و دل کشی میں التمونت کی جنت سے کم نہ تھا۔\nان غیر خلل اندازوں‌کی صورت دیکھتے ہی چند سپاہی جو پہرے پر متعین تھے ،اپنے اسلحہ لے لے کے دوڑے ،مگر جب دیکھا کہ تاتاریوں‌کا ایک لشکر ہے تو بدحواس بھاگنے لگے دوچار تو مارے گئے اور بقیۃ السیف نے بھاگ کے سارے محل اور قلعے میں ہلچل مچا دی۔قلعے میں مذہبی عید کی رسمیں‌بجا لائی جا رہی تھیں اور بیرونی اور نیز یہاں‌کے لوگوں‌کا ایک بڑا بھاری مجمع تھا۔اگر حواس سے کام لیا جاتا تو ممکن تھا کہ ایک معرکے کی لڑائی ہوتی ،مگر تاتاریوں‌کی ہیبت ان دنوں‌ساری دینا میں‌ببیٹھی ہوئی تھی۔ ان کے قلعے میں داخل ہو جانے کا نام سنتے ہی سب کے ہاتھ پاؤں ‌پھول گئے۔ خود خور شاہ جو کھڑا خطبہ پڑھ رہا تھا،منبر سے اُتر کے بدحواس بھاگا کہ کسی کونے میں‌جا چھپے ،مگر جانے نہ پاتا تھا،اس لیے کہ محل کی نازک اندام و پری جمال عورتیں برہنہ سر اور برہنہ پا بھاگ بھاک کے آتی تھیں اور قدم قدم پر اس کے دامن سے لپٹ کے پناہ مانگتی تھیں۔اس وقت تک یہاں‌اس کی خبر نہ تھی کہ قلعے کے گرد بھی ایک بڑا بھاری اور عظیم الشان تاتاری لشکر محاصرہ کیے ہوئے ہے۔ بادشاہ اور معتقدوں‌کو بدحواس دیکھ کے تمام سپاہی اور اہل قلعہ،داعی اور فدائی قلعلے کے پھاٹک کھول کے بزدلی اور خوف کی آوازیں‌بلند کرتے ہوئے باہر نکلے جن کے نکلتے ہی قلعے کے اندر سے مغلئی طبل و قرنا بجے اور تاتاریوں‌کے باہر والے لشکر نے اپنے قومی باجوں‌کی آواز سنتے ہی خود اپنا طبل بجا دیا اور فوراً حملہ کر دیا۔ بھاگ کے باہر جانے والے ،تاتاری لشکر کے متلاطم سمندر کو ایک طوفان کی طرح اپنی طرف آتے دیکھ کے نہایت ہی از خود رفتگی کے ساتھ الٹے پھرے ،جن کا طولی خاں‌کے لشکر نے بڑی پھرتی سے تعاقب کی اور باہر کے مغلئی جان باز ان کو قتل کرتے ہوئے قلعے کے اندر گھس پڑے۔\nاب قلعے کے اندر سخت طوفان بپا تھا۔ہر طرف قتل عام کا سماں‌نظر آ رہا تھا۔بوڑھے ،بچے ،زن و مرد،اہل حرفہ اور سپاہی سب بلا استثنا و امتیاز قتل ہو رہے تھے۔ایک عجب ہنگامہ تھا جس میں‌تیر اور نیزے ،تلوار اور چھری اور گزر اور تبر کی ہوش ربا آوازوں‌کے ساتھ تاتاری لٹیروں‌کی وحشت ناک چیخیں،عورتوں‌اور بچوں‌کی آہ و زاری اور رونے پیٹنے کی آوازیں‌ایک ساتھ سنی جاتی تھیں۔\nہلاکو خان اور بلغان خاتون کے ہمراہی خور شاہ کے محل کے ایک ایک کمرے اور دالان میں‌گھس گھس کے خوف زدہ عورتوں‌اور مردوں‌،بوڑھوں‌اور بچوں کو نکال نکال کے ہنکاتے ہوئی اس بڑے میدان میں‌لائے جہاں‌ابھی چند منٹ پہلے عید کا جشن ہو رہا تھا اور عیش و مسرت کے پر جوش نعرے بلند تھے۔دوسری طرف سے باہر بھاگنے والوں‌کو طولی خان کے ہمراہیوں‌نے نہایت ہی بدحواسی کے ساتھ بھگا بھگا کے اندر کیا۔اور وہ بھی اسی میدان میں‌ آ کے اپنے مظلوم و پریشان دوستوں‌سے اندھوں‌کی طرح‌ٹکرانے لگے۔ کسی کو اپنے پرائے کا ہوش نہ تھا۔ہر شخص کے حواس غائب تھے اور جو دوست دشمن میں سے کسی کو پاتا مجنونوں یا ڈوبنے والوں‌کی طرح‌اس کے دامن سے لپٹ کے پناہ مانگتا۔یہ دل خراش سین زمرد کے دل پر نہایت ہی اثر کر رہا تھا۔اور ان لوگوں‌کی بے کسی دیکھ دیکھ کے رو اُٹھتی تھی۔کئی مرتبہ قلعے کی بعض‌ستم زدہ عورتوں‌کے ساتھ اس کی زبان سے بھی چیخ‌کی آواز نکل گئی۔ زمرد کی پریشانی دیکھ کے بلغان خاتون اس کے قریب آئی اور کہنے لگی: \"زمرد! میں‌نہ جانتی تھی کہ تمھارا دل اس قدر کمزور ہے ،ورنہ تم کو یہاں نہ لاتی۔\"\nزمرد: (روکے ) شاہزادی! یہ سب میرا کیا ہوا ہے۔ ہر خون کا قطرہ جو اس وقت قلعے میں گر رہا ہے اور گرے گا،اس کے گناہ میں میرا نام بھی لکھا جائے گا۔اور ممکن نہیں‌کہ ا س کے انتقام سے میں بچ سکوں۔\nبلغان خاتون: یہ صرف تمھارے دل کا بودا پن ہے ،ورنہ ان لوگوں کا قتل کرنا ہرگز گناہ نہیں‌۔ ذرا یہ تو خیال کرو کہ اس وقت ہم کیسے کیسے مقدس بزرگوں‌اور نامور لوگوں‌کا بدلہ لے رہے ہیں۔جتنے لوگ یہاں‌مارے جائیں‌گے ،ان سے زیادہ روحیں‌اس وقت خوش ہو رہی ہونگی اور ہمارے لیے خدا سے مغفرت کی خواست گار ہونگی۔\nزمرد: (ہچکیاں‌لے لے کے ) جو کچھ ہو،مگر شاہزادی مجھ سے یہ ظلم و جور نہیں‌دیکھا جاتا۔\nبلغان خاتون:‌ جب یہ ظلم و جور دل پر اثر کرے تو ان مظالم کو یاد کر لو جو ان ظالموں‌ کے ہاتھ سے دنیا پر ہوتے رہے۔\nتھوڑی ہی دیر میں قلعے کی نصف سے زیاد آبادی قتل ہو گئی۔ لاشیں‌ہر طرف تڑپ رہی تھی۔ ہر طرف پھڑکتی ہوئی آ آ کے ایک مقام پر بہت سی جمع ہو جاتیں، اور ایک دوسری کو اپنے خون میں رنگتیں، اور لپٹ لپٹ کے اچھلتی تھیں؛ مگر قاتلوں‌کا خیال بھی اس طرف نہ جاتا تھا۔وہ برابر نئے بے سر دھڑوں‌کو گرا گرا کے انھیں تڑپتی ہوئی لاشوں‌کے تودوں‌کی طرف بھیج رہے تھے۔\nاب ہلاکوں‌خاں‌اسی منبر پر جا کھڑا ہوا تھا جس پر سے خور شاہ خطبے کو ناتمام چھوڑ کے اترا تھا۔ برہنہ و خون آلود تلوار اس کے ہاتھ میں تھی اور اس کی بہن شہزادی بلغان خاتون منبر کے نیچے اس کے قریب ہی کھڑی تھی۔ حسین اگرچہ فوجی آدمی نہ تھا مگر اسے انتقام کا پورا موقعہ ملا تھا اور دل کی آگ ملاحدہ کے قتل کی پیاس کو تیز کر رہی تھی۔ تاتاریوں‌کی بھیڑ میں گھس گھس کے اوہ ان خاص‌لوگوں‌کو ڈھونڈتا پھرتا تھا جنھیں‌اس نے پہلے سے اپنا شکار تجویز کر لیا تھا۔ ناگہاں ایک شخص ‌دوڑ کے اس کے دامن سے لپٹ گیا اور اس کے منہ سے آواز نکلی: \" حسین، مجھے بچا! میں‌جانتا ہوں کہ ‌تو شجر معرفت کی ایک شاخ ‌ہے۔\" حسین سمجھ گیا کہ کاظم جنونی ہے۔دل میں‌ آئی کی ایک ہی وار میں اس کا سر اڑا دے مگر خود ہی سوچا کہ اس سے طور معنی اور علی وجودی کا پتہ لگ جائے گا۔یہ خیال آتے ہی اس نے ذرا دوستی کی شان سے کاظم جنونی کے کان کی طرف جھک کے پوچھا: \"اور طور معنی کہاں‌ہیں؟\"\nکاظم جنونی نے یہ سنتے ہی سر اٹھا کے ادھر ادھر دیکھا اور شکستہ حال بڈھے کی طرف جو کئی آدمیوں کے درمیان زمیں پر ننگے سر بیٹھا تھا،اشارہ کیا،اور پھر زمیں پر گر کے کہنے لگا: \" اے شجر معرفت! مجھے پناہ دے !\" حسین نے غضب آلود تیوروں‌سے اس کی اس ذلیل خوشامد کو دیکھا ور یہ کہہ کے کہ :\"تجھ سے ذلیل فریبی کے لیے پناہ نہیں‌ہے \" ا س کا سر اڑا دیا۔ کاظم جنونی کو تڑپتا چھوڑ کے وہ اس بڈھے کی طرف گیا اور دیر میں پہچان سکا کہ طور معنی وہی ہے۔حسین نے اس مجمع کے اندر ہاتھ ڈال کے اسے باہر کھینچا اور کہا: \" آج تو میں‌نے وہ ستر ہزار حجاب خود ہی چاک کر ڈالے اور نور سینا کو بے حجاب دیکھ رہا ہوں۔\"یہ جملہ سنتے ہی طور معنی نے حیرت و استعجاب سے حسین کی طرف دیکھا اور کہا:\" اے نوجوان! تو کون ہے کہ رمز حقیقت سے آگاہ معلوم ہوتا ہے ؟\"\nحسین: ہاں‌خوب آگاہ ہوں، مگر اپ نے شاید مجھے نہیں‌پہچانا؟\nطور معنی: نہیں،بالکل نہیں۔\nیہ جواب سنتے ہی حسین نے غصے میں آ کے ا س کے منہ پر تھوک دیا اور کہا:‌\" یا تو وہ کشف تھا کہ بغیر اس کے کہ میری صورت دیکھے اور میری آواز سنے تو نے کہا تھا: \" اے نوجوان آملی مرحبا!\" یا آج مجھے دیکھ کے بھی نہیں‌ پہچان سکتا؟ تیری سب سازشیں‌کھل گئیں اور معلوم ہو گیا کہ تو کتنا بڑا مکار و بدمعاش ہے۔\" اس جواب پر طور معنی جھک کے حسین کے قدم چومنے لگا اور رقت و بدحواسی کی آواز میں ‌بولا: \" رحم اے جوان آملی رحم!\"\nحسین: ہرگز نہیں! تو ایک فتنہ ہے جس سے دنیا کو جہاں‌تک جلد ہو سکے خالی کرنا چاہیے۔\"\nیہ کہہ کے حسین طور معنی کے سینے پر چڑھ بیٹھا؛ تلوار زمیں پر ڈال دی اور کمر سے خنجر نکال کے بولا:‌\"یہی وہ فدائیت کا خنجر ہے جو میری کمر میں‌بندھوایا گیا تھا۔ اسی سے میں نے امام نصر بن احمد کے سے نیک بزرگ کی جان لی تھی اور اسی سے آج تیرا سینہ چاک کرتا ہوں۔\"\nطور معنی کچھ کہنے کو تھا کہ حسین کا خنجر ا س کے سینے کے اندر تیر گیا۔ ایک ہی وار میں ایڑیاں ‌رگڑ کے اس نے ایک آہ کے ساتھ جان دی اور حسین اپنی تلوار لے کے کھڑا نہیں‌ہونے پایا تھا کہ دیکھا کسی قدر فاصلے پر ہلاکوخاں‌کے قریب ہی ایک تاتاری شخص کسی ضعیف العمر بڈھے کو اسی کے عمامے سے باندھ کے کھینچ رہا ہے۔حسین نے دور سے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ علی وجودی ہے ؛ بے اختیار دوڑا ہوا گیا اور پگڑی کو درمیان میں پکڑ‌کے چلایا: \"یہ میرا مجرم ہے۔\"\nتاتاری: کیوں؟گرفتار میں‌نے کیا اور مجرم تمھارا ہو گیا؟\nحسین: ہاں،اس لیے کہ میرا قدیمی مجرم ہے۔\"\nاس جملے کے ساتھ ہی ہلاکوخاں‌نے بھی اس تاتاری کو اشارہ کیا کہ اس قیدی کو حسین ہی کے سپرد کر دے۔حسین علی وجودی کو اسی طرح اس کے عمامے سے کھینچتا ہوا ایک طرف لے گیا اور جب دیکھا کہ لوگوں‌کے ہجوم سے باہر نکل آیا ہے تو عمامے کو جھٹکا دے کے پوچھا :\"‌مجھے پہچانا؟\"\nعلی وجودی کچھ ایسی مایوسی و از خود رفتگی کی حالت میں تھا کہ اس وقت تک اس نے دیکھا بھی نہ تھا کہ ا س کے سر پر کیا گزر رہی ہے اور کس کے ہاتھ میں‌گرفتا ہے۔حسین کی آواز سن کے اس نے سر اُٹھایا اور پہچانتے ہی ایک دفعہ چلا اٹھا: \"آہا حسین! مجھے تیری جستجو تھی۔جب قلعہ التمونت سے تیرے نکالے جانے کی خبر معلوم ہوئی تو مجھے بہت صدمہ ہوا۔افسوس! اگر تو میرے پاس چلا آتا تو اس طرح‌ناکام نہ رہتا۔\"\nدراصل علی وجودی یہ نہیں‌سمجھتا تھا کہ حسین اب اس کے عقائد کے خلاف ہے۔اسے خیال گزرا کہ یہ اب تک میرا معتقد ہے اور اسی وجہ سے مجھے تاتاریوں‌کے ہاتھ سے چھڑا کے یہاں لایا ہے۔\nحسین: (عقیدت کی شان سے عمامے کا سرا چھوڑ کے ) مگر آپ تو غیب کی باتیں‌معلوم کر لیا کرتے ہیں۔آپ نے اپنی سیر لاہوتی میں بے شک دریافت کر لیا ہو گا کہ میں‌کن پہاڑوں‌اور گھاٹیوں‌میں‌ سر ٹکراتا پھرتا تھا؟\"\nیہ سن کے علی وجودی نے حسین کو بدگمانی کی نظر سے دیکھا اور کہا:\"وہ سیر لاہوتی اسی وقت ہوتی ہے جب آدمی توجہ قلبی سے کام لے۔ دراصل میں‌نے تیرا حال دریافت کرنے کی طرف کبھی توجہ ہی نہیں‌کی تھی۔\"\nحسین: مگر یہ امید نہ تھی کہ مجھ سے عقیدت کیش کو آپ بالکل چھوڑ دیں‌گے۔\nعلی وجودی: اور حسین یہ فتنہ کیوں‌کر بپا ہوا؟ یقین ہے تجھے معلوم ہو گا،اس لیے کہ تیرے کہنے سے تاتاریوں‌نے میری جان چھوڑ دی؟\nحسین:‌آپ کو پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ؟آپ کو ہر امر ایک ادنیٰ توجہ قلبی سے معلوم ہو جاتا ہے۔\nعلی وجودی: اتنا جاننے پر بھی تو عالم ارواح‌کے رموز سے نا آشنا ہے ؟ جن لوگوں‌کو ان رموزمیں‌کمال حاصل ہوتا ہے انھیں‌کو کبھی اپنی خبر بھی نہیں رہتی۔سنا نہیں‌کہ:\nگہے بر طارم اعلیٰ نشینم\nگہے بر پشت پائے خود‌نہ‌ بینم\nحسین‌: رکن الدین خور شاہ نے مجھے جنت میں‌بھیجنے سے ان کار کیا،اپنے قلعے سے نکلوا دیا،جس کے بعد مجھے مایوسی تھی اور عجب بے کسی کی حالت میں‌تھا۔ا فسوس!اس وقت آپ نے بھی خبر نہ لی۔مگر معاملہ دگرگوں‌ ہونے والا تھا۔تقدیر نے مجھے ایک اور شخص سے ملایا اور اب اس کی برکت و رہبری سے میں جنت میں‌ پہنچا اور زمرد کی ہم کناری نصیب ہوئی۔افسوس! کہ اب میں آپ کے مریدوں سے نکل گیا اور اس کے مریدوں‌اور معتقدوں‌میں‌شامل ہوں۔\nعلی وجودی: وہ کون شخص‌ہے ؟\nحسین: تاتاریوں‌کا سردار ہلاکو‌خاں۔اور اس کے شرائط بہت سخت ہیں۔\nعلی وجودی نے یہ سنتے ہی سر سے پاؤں ‌تک کانپ کے حسین کی صوت دیکھی اور پوچھا: \"وہ شرائط کیا ہیں؟\"\nحسین: وہ یہ کہ آپ اور آپ کے سے جتنے مکار اور سیہ کار ملاحدہ ملیں، ان کا سر تن سے اُڑا دوں۔\nعلی وجودی: (سہم کے ) اور ایسے ظالمانہ احکام بجا لانے میں‌تامل نہیں؟\nحسین: بالکل نہیں! اس کا سبق تو آپ ہی سے مل چکا ہے کہ مرید کو مرشد کے ہاتھ میں ایک بے جان آلے کی طرح‌رہنا چاہیے۔ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے۔ اور اس کا باطن میرے مرشد کے نزدیک بہت ہی اچھا اور خدا کی درگاہ میں‌مقبول ہے۔\nعلی وجودی نے شرما کے اور لاجواب ہوکے سر جھکا لیا اور کہا: \" مگر جو کچھ ہو تمھیں‌رحم سے کام لینا چاہیے۔ ظلم خدا کو نہیں‌ پسند ہو سکتا۔\"\nاس جواب پر حسین کو بہت غصہ آیا مگر اس نے ضبط کر کے اپنے تئیں ‌روکا اور کہا : \" بے شک خدا کو ظلم نہیں‌پسند ہے ،اور اسی وجہ سے امام نجم الدین نیشا پوری کی روح آج تک پکار پکار کے کہہ رہی ہے کہ میرا خون علی وجودی کے گردن پر ہے۔ یہ سنتے ہی علی وجودی سر سے پاؤں‌تک کانپنے لگا،اور تھوڑی دیر کے بعد جب اس کے دل کو ذرا سکون ہولیا تو بولا: \"‌مگر مجھ کو تمھارے ساتھ ایسے تعلقات رہ چکے ہیں‌کہ مجھے تم سے کسی بے رحمی کی امید نہیں۔\"\nحسین:‌امام نجم الدین نیشا پوری سے زیادہ مجھے آپ سے تعلق نہیں‌رہا ہے ؛ وہ میرے چچا تھے ،استاد تھے اور مرشد تھے۔\nاب علی وجودی کو خوف نے اس کے اختیار سے باہر کر دیا تھا؛ وہ ایک دفعہ روتا ہوا حسین کے قدموں‌پر گرا اور چلایا: \"رحم رحم!\"\nحسین: ہرگز نہیں! ہزار ہا پاک اور مقدس روحیں‌فریاد کر رہی ہیں‌جو یقیناً اب تمھاری نظر کے سامنے ہوں‌گی اور تمھیں‌چاروں طرف سے دھمکا رہی ہونگی۔\nاور بے شک علی وجودی کی اس وقت یہی حالت تھی۔ وہ بار بار چاروں‌طرف گھبرا گھبرا کے دیکھتا تھا اور ہر طرف اسے کسی اپنے ہی مظلوم کی تصویر چھریوں‌اور خنجروں‌سے دھمکاتی نظر آتی تھی۔\nعین اسی حالت میں‌جب کہ اُسے چاروں‌ طرف چھریاں‌ہی چھریاں‌ نظر آ رہی تھیں،حسین نے اپنا وہ خنجر کمر سے نکالا اور اس کی آنکھوں‌کے سامنے کر کے کہا: \"یہی وہ خنجر ہے جو مجھے تم سے ملا تھا اور جو امام نجم الدین نیشا پوری اور امام نصر بن احمد کے سینوں‌میں‌خاص‌تمھارے حکم اور میرے ہاتھ سے تیر چکا ہے۔یہ خنجر آج تک باقی ہے اور صرف اسی لیے کہ تمھارے سینے میں ‌خاص‌میرے ہاتھ سے اُتر جائے۔اسے اچھی طرح‌پہچان لو اور تیار ہو جاؤ کہ انتقام کا وقت آ گیا۔\nیہ کلمات سن کے علی وجودی پھر کانپ گیا اور رو رو کے کہنے لگا: \"‌مجھے نہ مارو، اب میں‌کبھی اس مذہب باطنیہ کی طرف داری نہ کروں‌گا۔\"\nحسین: مگر تمھارا یہ عہد میرے دامن سے وہ خون کے دھبے نہیں‌چھڑا سکتا جو تمھاری سیہ کاریوں‌سے لگے ہیں۔یہ کہہ کے حسین نے علی وجودی کو زمیں پر گرا دیا اور اس کے سینے پر چڑھ کے پھر اس کا خنجر اس کی آنکھوں‌کے سامنے پیش کیا اور کہا: \"دیکھ لو اور خوب پہچان لو کہ یہ وہی تمھارا خنجر ہے۔\"\nدرحقیقت علی وجودی کی موت بہت بری موت تھی۔اس وقت تمام گناہ طرح‌طرح کی بھیانک صورتوں‌کا جامہ پہن کے اس کی آنکھوں‌ کے سامنے کھڑے تھے۔ وہ ہزار ہا مظلوم روحوں‌کو دیکھ رہا تھا جو خنجر دکھا دکھا کے اسے ڈرا اور دھمکا رہی تھیں۔اس نے ان تمام چیزوں‌سے گھبرا کے آنکھیں‌ بند کر لیں‌اور حسین کو کہا:‘ خدا کے لےم مجھے چھوڑ دے اور میری بے کسی پر ترس کھا!\"\nحسین: ‌نہیں! جس کے دل میں‌خود ہی خدا کا خوف اور ترس نہیں،اس پر ترس آنا گناہ ہے۔\nعلی وجودی: ‌تو کمبخت کہیں جلدی کام تمام کر؛ ان بلاؤں سے پیچھا چھُوٹے جو مجھے گھیرے ہوئے ہیں۔\nحسین: میں‌فقط اتنے ہی کے لیے تامل کر ہا ہوں‌کہ تجھے موت کی نازک اور پر خطر گھڑی کا اچھی طرح‌مزا مل لے تو تیرا کام تمام کروں۔\nاب علی وجودی بہت بے تاب تھا۔ حسین کے نیچے دبا ہوا تھا اور حسین اس کا دیا ہوا خنجر ا س کی آنکھوں‌کے سامنے پیش کر رہا تھا،جس کی ڈراؤنی صورت سے ڈر ڈر کے وہ اپنا منہ ادھر اُدھر ہٹا لیتا تھا اور کہتا تھا: \" خدا کے لیے اس چیز کو میری نظروں‌کے سامنے سے دور کرو۔\"\nآخر بڑی دیر کے بعد جب حسین نے دیکھا کہ اب بہت دیر ہو گئی اور قریب قریب قلعے کی ساری رعایا قتل ہو گئی تو اس نے بھی خنجر بھونک بھونک کے اور آزار دے دے کر علی وجودی کا کام تمام کیا۔اپنے سب سے بڑے بہکانے والے سے یوں‌انتقام لے کے وہ پھر ہلاکو خاں‌کے قریب گیا۔ اب تاتاریوں‌کے قتل کرنے کے لیے کوئی شخص‌نہ ملتا تھا۔اتنے بڑ قتل عام کے بعد ان کی آنکھوں‌میں‌خون اتر آیا تھا اور وہ مجنونوں، کتوں‌ یا وحشی درندوں‌ کی طرح‌ادھر اُدھر دوڑتے پھرتے تھے کہ کوئی ملے تو اس کو قتل کر کے دل کا بخار نکالیں۔ سوائے چند خاص‌کم سن اور حسین عورتوں‌کے جو لونڈیاں‌بنانے کے لیے بچا لی گئی تھیں قلعہ التمونت میں‌کوئی شخص‌باقی نہیں‌رہا تھا۔\nاب خود فرماں‌روائے التمونت رکن الدین خور شاہ کی جستجو تھی۔ لوگ دیر سے ڈھونڈھ رہے تھے اور کہیں‌پتا نہ لگتا تھا۔ آخر ایک تاتاری کسی تہ خانے میں‌گھس کے اسے پکڑ لایا۔جیسے ہی وہ ہلاکو خاں‌کے سامنے پیش ہوا اور تاتاری سالار فوج کے آگے سر جھکا کے کھڑا ہوا،حسین نے جھپٹ کے ارادہ کیا کہ اپنے خنجر سے اس کا کام بھی تمام کر دے ،مگر ہلاکو خاں نے چلا کے روکا اور کئی مغلوں‌نے بڑھ کے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔\nہلاکو خاں: یہ یہاں کا بادشاہ ہے اور بے کسی کی صورت بنا کے پناہ مانگتا ہوا ایا ہے ،لہٰذا اسے کی جان بخشی کرنی چاہیے۔\nحسین: حضور! اگر یہ بچ رہا تو دنیا میں‌بہت بڑا فتنہ رہ جائے گا۔یہ ساری سازشیں‌ اور تمام خرابیاں‌اسی کی ذات سے تھیں۔\nہلاکو خاں:‌ اب وہ سازش کرنے والے ہی نہیں‌رہے تو یہ کیا کر لے گا۔سب کیاد اور فریبی خاک و خون میں‌لوٹ رہے ہیں۔ یہ ایک نا تجربہ کار نوجوان دنیا کو ضرر نہیں‌پہنچا سکتا۔\nحسین: ایسا نہیں ہے کہ کوئی معتقد نہ رہا ہو؛ مصر و شام سے لے کے سندھ تک اس کے معتقد ہر جگہ پھیلے ہوئی ہیں۔\nہلاکو خاں:‌ میں ان مقامات میں بھی جاؤں‌گا اور اس کے معتقدین سے دنیا کو‌خالی کر دوں‌گا۔ مگر اس کے لیے یہی سزا کافی ہے کہ جلا وطن کر دیا جائے۔ اس کے بعد اس نے خور شاہ کی طرف دیکھ کے کہا: \" بے شک تمھارا فتنہ بہت بڑا تھا،مگر اس بے کسانہ خموشی پر ترس کھا کے تمھاری جان بچائی جاتی ہے ،مگر اس کے ساتھ حکم دیا جاتا ہے کہ ترکستان میں‌، جہاں‌تم کو کوئی مرید و معتقد نہ مل سکے گا،جا کے اپنی زندگی کے باقی ماندہ دن بسر کرو، یہ جتنی عورتیں‌یہاں‌ہیں، ان میں‌سے کوئی تمھیں‌نہ دی جائے گی۔ممکن ہے اس کے ذریعے سے پھر تمھارا فساد دنیا کو فریب دینے لگے۔ ترکستان میں‌جا کے تم کو اختیار ہے کہ چاہنا تو کسی تاتاری لڑکی سے عقد کر لینا۔\nاس حکم کے ساتھ ہی ایک مغلئی دستے نے اسے اپنی حراست میں‌لے لیا۔جس نے التمونت کے آخری تاجدار کو بحر حزر کے اس پار ترکستان کے کسی گم نام گاؤں میں‌پہنچا دیا۔ اور یہاں‌جب قلعہ آدمیوں‌سے خالی ہو گیا تو تاتاری لٹیرے دولت لوٹنے ،محلوں‌کو کھودنے اور آگ لگانے میں‌مشغول ہو گےد۔محل اور جنت میں‌ہر جگہ آگ لگا دی گئی۔ وہ قصر اور کوشکیں‌کھود کھود کے زمین کے برابر کر دی گئیں اور باغ اور محل جو جنت بنے ہوئی تھے اور جنت ہی سمجھے جاتے تھے ،محض مٹی اور اینٹوں‌کے ڈھیر رہ گئے اور تاتاریوں‌نے انھیں آناً فاناً ایسا کر دیا کہ نہ کوئی رہنے والا تھا اور نہ کوئی رونے والا۔\nحسین اپنے دل کی آگ بجھا کے اور انتقام لے کے جب زمرد کے قریب گیا تو وہ نہایت ہی پریشان اور بدحواس تھی۔ وفا کیش معشوقہ کو اس قدر پریشان دیکھ کے اُس نے پوچھا: \"زمرد! اب پریشانی کس بات کی؟‘\nزمرد: (رونی آواز میں) اتنا قتل عام، ایس خون ریزی ہو چکی اور پوچھتے ہو پریشانی کس بات کی؟\nحسین: ان ظالموں‌ کی تباہی اپر خوش ہونا چاہیے یا غمگین؟\nزمرد:‌ تم خوش ہولو،جس کا دل خدا نے پتھر کا بنایا ہے۔ایسا وحشت ناک سماں‌دیکھنا کیا معنی،کبھی میر ے خیال میں‌بھی نہ گزرا تھا۔میں ایسی حالتوں‌ کے دیکھنے کی عادی نہیں۔\nحسین: خیر اب بتاؤ کی ارادہ ہے ؟\nشاہ‌زادی بلغان خاتون قریب کھڑی تھی، یہ جملہ سنتے ہی پاس آئی اور بولی: \" ارادہ کیا! اب تم دونوں‌میرے ساتھ چلو۔زمرد کو اپنی بہن سے زیادہ عزیز رکھوں‌گی اور تم کو بھی کسی بات کی تکلیف نہ ہو گی۔\"\nزمرد:‌ نہیں‌شا‌ہزادی! ہم دونوں‌نے بڑے بڑے گناہ کیے ہیں۔حج کا ارادہ کر کے گھر سے نکلے تھے ،تقدیر نے ان مصیبتوں‌ میں‌ مبتلا کر دیا۔ اب ہمارا فرض‌ہے کہ پہلے حج کر لیں‌تو پھر اور کوئی کام کریں۔ اگر زندگی باقی ہے تو یہ فرض‌دا کر کے ہم دونوں‌وہیں‌قراقرم میں‌آپ کی خدمت میں‌حاضر ہو جائیں‌گے۔ میں‌جب تک وہاں‌خاص خانۂ خدا میں‌ اپنے لیے دعائے مغفرت نہ کروں‌گی ،اس وقت تک یہ ندامت نہ مٹے گی جو ہر وقت دل میں‌موجود رہتی ہے اور کوئی وقت نہیں گزرتا کہ نہ ستاتی ہو۔\nحسین:‌‌ بے شک زمرد کا کہنا ٹھیک ہے۔میرا دل ہمیشہ مجھ پر لعنت کیا کرتا ہے ؛ شاید وہاں جا کے اور اس مقدس مقام میں‌دعا کر کے یہ بات دور ہو جائے۔\nبلغان خاتون: کیوں‌کر کہوں، دل تو نہیں‌چاہتا کہ تم کو جدا کروں۔مگر اب تم کو اصرار ہے اور مکے جانے کو اپنا فرض سمجھتے ہو تو مجھے روکنا بے فائدہ معلوم ہوتا ہے۔لیکن میری ایک بات مان لو۔\nزمرد: جو حکم ہو آپ کا ہر حکم بجا لانا ہمارا فرض‌ہے۔\nبلغان خاتون: ‌تم دونوں‌باہم عقد کرنے کی غرض‌سے گھر سے نکلے تھے ؛ میں‌چاہتی ہوں‌ کہ جدا ہونے سے پہلے تم دونوں‌کا عقد کر دوں ‌تاکہ وطن واپس جانے کے قبل ہی مجھے معلوم ہو جائے کہ تم دونوں‌میں باہمی اتفاق کی صورت پیدا ہو گئی ہے اور یہ بات یاد کر کے میں‌اپنا دل خوش کر لیا کروں‌کہ تمھاری آرزوئیں‌ میرے ہی ہاتھ سے پوری ہوئیں۔\nیہ ایسی درخواست نہ تھی جس سے کسی کو ان کار ہوتا،حسین نے تو صاف الفاظ میں رضامندی ظاہر کر دی،مگر زمرد مسکرائی اور ایک شرم کی آواز میں‌سر جھاا کے بولی: \" اب میں آپ کی لونڈی ہوں‌اور جو حکم ہو اس سے ان کار نہیں‌ کر سکتی۔\"\nدوسرے دن علی الصباح‌ہلاکو خاں‌نے فتح‌کی خوشی میں‌اور مال غنیمت تقسیم کرنے کے لیے بڑا بھاری جشن کیا،جس کے لیے فوج کے معزز افسروں‌کی ایک محفل مرتب کی گئی۔گزشتہ فتح‌پر بڑے جوش و خروش سے اظہار مسرت کیا گیا،اور اسی کامیاب و ظفر کی یادگار میں بلغان خاتون کی درخواست اور ہلاکو خاں کے حکم سے شیخ‌‌نصیر الدین طوسی سے محقق زمانہ اور علامۂ روزگار نے ، جن کی تاتاریوں‌ میں بڑی عزت،قدر و منزلت تھی اور جو اس موقع پر موجود تھے ،حسین اور زمرد کا نکاح پڑھایا۔\nاس کاروائی کے بعد سب آپس میں‌‌رخصت ہوئے۔بلغان خاتون نے اپنے ہمراہیوں کے ساتھ قراقرم کا راستہ لیا۔ ہلاکو خاں‌اپنی فوج ظفر موج کے ساتھ آذر بائیجان کی طرف کوچ کر گیا۔حسین اور زمرد پھر اسی شان سے جس طرح پہلے گھر سے نکلے تھے ،ارض حجاز کی طرف روانہ ہوئے۔اور التمونت کے کھنڈروں ‌اور ان کی تمام لاشوں‌پر صرف گدھوں اور مردار خوار طیور کے بڑے بڑے غول چھوڑ گئے۔\nزمرد اور‌حسین نے مکہ معظمہ پہنچ کر اور غلاف کعبہ پکڑ کے نہایت ہی رقت قلب اور جوش دل سے مغفرت کی دعا مانگی کہ : \" یا بار الٰہا! ہمیں ‌تمام گناہوں‌سے نجات دے ! اگرچہ ہم نے تیری نافرمانیاں‌کیں،تیرے مقبول بے گناہ بندوں‌ کی جانیں‌لیں،مگر ایک بڑے فریب میں مبتلا تھے۔شیطان کا ہم پر اس قدر تصرف تھا کہ گناہوں‌کی برائیاں‌نظر میں‌ نہ آتی تھیں۔ہم نے گناہ کیے مگر ثواب سمجھ کے ،ہمارے قدم کو لغزشیں‌ہوئیں‌مگر ایک بڑے فریب میں‌مبتلا ہوکے۔تو عالم الغیب ہے ،دلوں‌کی باتیں‌جانتا ہے ؛ ہماری بے کسی و بے بسی کو دیکھ اور ان سخت گناہوں‌ سے درگزر!\" اس طرح‌گناہوں‌کا دل سے زنگ مٹا کے واپس روانہ ہوئے۔چند روز اپنے وطن شہر آمل میں‌رہے اور باقی زندگی قراقرم میں‌جا کے شہزادی بلغان خاتون کی صحبت میں‌صرف کر دی۔\nتمت بالخیر۔\n\nحواشی\n\n1- منقو کو چغتائی خان کا بیٹا کہا گیا ہے۔منکو قا ان یا منگو،چنگیز خان کے چھوٹے بیٹے تولی خان کا فرزند ہے۔اور اوکتائی یا اغتائی یا اغدائی خلف چنگیز خان کے بعد خاقان بنا۔روضۃ الصفا جلد پنجم مطبوعہ نول کشور طبع چہارم 1905 ع ‌ میں‌منکو قا ان نام ملتا ہے اور یہ تولی (یا تولوئی) ابن چنگیز کا (جو چنگیز خان کا چھوٹا بیٹا تھا) بیٹا ہے۔کیوک خاں‌خلف اغتائی خان کے بعد جانشین مملکت چنگیز خان ہوا۔شرر کا یہ کہنا کہ منقو (منکو یا منگو )چغتائی کا بیٹا ہے ،درست نہیں۔\n\n2۔تولی خان چنگیز خان کا چھوٹا بیٹا ہے اور منگو خان کا باپ ہے شرر کو تسامح ہوا ہے۔\nمزید تفصیلات کے لیے :: روضۃ الصفا جلد پنجم مطبع نول کشور ص 41 تا 75۔\nتاریخ اسلام جلد اول (عمدۃ الکلام فی تاریخ اساطین الاسلام)ص 105 از ذاکر حسین جعفر،مطبوعہ جے ،اینڈ سنز پرنٹنگ ورکس دہلی 1918ع۔\nچنگیز خان از ہیرلڈ لیم مترجم عزیز احمد ناشر مکتبہ جدید ص 215 تا 219\nتاتاریوں کی یلغار،ناشر غلام علی اینڈ سنز ص 88 تا", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A7%D9%86%D8%AA%D9%82%D8%A7%D9%85"} {"title": "فردوس بریں/بلغان خاتون کا سفر", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر > فردوس بریں", "year": null, "text_ur": "جس روز حسین نے اپنی مینو نشین معشوقہ زمرد کا خط بلغان خاتون کو پہنچایا ہے ، اس کے ایک ہفتے کے بعد صبح‌کے وقت وہ تاتاری شہزادی اپنے بھائی منقو خاں کے پاس گئی۔ منقوخاں‌کے پاس اس وقت خاندانِ تاتاری کے کئی معزز رؤسا موجود تھے ،جن کے سامنے کچھ کہتے ہوئی وہ جھجھکی اور دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔اس کو چپ دیکھ کے منقو خاں‌نے کہا: \" بہن!‌یہ غیر معمولی سکوت کیسا؟\"\nایک درباری: شاہ‌زادی اپنے والد کے غم کو ابھی تک نہیں‌بھولیں۔\nمنقو خاں: ہاں‌بلغان!‌اب تو اس غم کو چھوڑ دو۔ اتنے دنوں‌تک غم و الم میں‌مبتلا رہنا ہماری قومی شجاعت کے خلاف ہے۔\nبلغان خاتون: آہ بھائی یہ غم بھول سکتا ہے ؟ ( تھوڑے سکوت کے بعد) خیر،اب یہ باتیں‌تو ہوتی ہی رہیں‌گی،اس وقت میں‌ایک ضروری کام کو آئی ہوں۔\nمنقو خاں: وہ کیا؟\nبلغان خاتون: بھائی! آپ نے تو بہت سی مہمیں سر کی ہیں،مگر اب ارادہ ہے کہ ایک مہم کو میں‌خاص‌اپنے ہاتھ سے انجام دوں۔\nاس جملے کے سنتے ہی سب لوگ حیرت میں آ گئے اور منقو خاں‌نے اُسے گھور کے دیکھا ور پوچھا :\" بہن خیر!‌تو ہے ؟کیسی مہم؟ کیا میرے اسلحے نے جواب دے دیا؟فقط تمھارے کہہ دینے کی ضرورت ہے ؛ جس ملک یا قوم کو کہو، تم تو تم ہو،میرے جانے کی بھی ضرورت نہیں۔ہمارے بہادر سپاہی جائیں ‌گے اور ایک آن میں‌تہ و بالا کر دیں ‌گے۔\"\nبلغان خاتون: یہ صحیح ہے ،مگر میں‌چاہتی ہوں‌کہ اس کام کو خاص اپنے ہاتھ سے انجام دوں۔\nمنقو خاں:‌آخر کون سا کام ہے ؟ اور کس ملک پر فوج کشی کا ارادہ ہے ؟\nاس کے جواب میں‌بلغان خاتون نے زمرد کا خط اس کے سامنے رکھ دیا اور کہا: \"پہلے اسے پڑھ لیجیے ،پھر پوچھیے گا۔\"\nمنقو خاں نے خط کو اول سے آخر تک پڑھا،لیکن ختم کرنے سے پہلے ہی اس کی آنکھوں‌سے شعلے نکلنے لگے۔اس نے غضب آلود چشم و ابرو اور خم شدہ ہونٹوں‌سے خط کو تمام کر کے غصے سے پھینک دیا اور کہا: \" بہتر بہن! تم مطمئن رہو؛ میں‌کل ہی ہلاکو خاں‌کو لکھتا ہوں۔\"\nبلغان خاتون: نہیں، یہ میرا کام ہے اور میرے ہی ہاتھ سے پورا ہو گا۔\nمنقو خاں: تم جا کے کیا کرو گی؟ جنگ و پیکار تمھارا کام نہیں۔\nبلغان‌خاتون:‌اسی خیال کو دنیا سے مٹا کے میں‌ثابت کرنا چاہتی ہوں ‌کہ عورتیں بھی ویسی ہی بہادر ہیں‌جیسے مرد۔اگر موقع دیا جائے تو وہ بھی کسی معاملے میں‌مردوں‌سے کم نہ رہیں‌گی۔اور ابھی تو یہ بھی معلوم نہیں‌کہ وہاں‌لڑائی کی بھی ضرورت ہو گی یا نہیں۔\nمنقو خاں: بے شک ہو گی؛ بغیر اس کے کامیابی ممکن نہی۔ باقی رہی عورتوں‌کی شجاعت،میں‌تسلیم کرتا ہوں‌کہ عورتوں‌کی حکومت مردوں‌سے بڑھی ہوئی ہے۔بڑے بڑے تاج دار اور بڑے صف شکن جو عالم کے تخت الٹ دیتے ہیں اور ساری دنیا کے بہادروں‌کے دست و بازو کو تھکا دیتے ہیں، ان پر بھی جو حکومت کرتی ہے وہ عورت ہے۔مگر عورت کے اسلحہ دوسرے ہیں۔۔وہ تیر اور خدنگ،شمشیر و خنجر سے نہیں‌لڑتی،بلکہ اپنے حریفوں‌پر تیرِ نظر،خدنگِ ناز،شمشیر ابرو اور خنجر مژگاں‌سے فتح‌یاب ہوتی ہے۔ لیکن عورت کے یہ اسلحے میدانوں میں‌کارگر نہیں ہو سکتے جس میدان میں تم جانا چاہتی ہو۔ ایسے میدانوں‌کی فتح مردوں‌ہی کے اسلحے کے نام پر ہے۔\nبلغان خاتون نے اس جواب پر شرمندہ ہو کے سر جھکا لیا، مگر نیچی نظروں‌ہی میں‌اس نے پھر متانت پیدا کی اور کہا: \" بھائی! ایسا نہ سمجھیے۔ میں اسی طرح‌بہادری اور جاں‌بازی سے مقابلہ کروں‌گی جس طرح کسی بہادر تاتاری لڑکی کو لڑنا چاہیے۔\"\nمنقوخاں: یہ میں‌جانتا ہوں، مگر جس وقت تک ہم لوگ زندہ موجود ہیں‌تم سی نازنین کو میدان جنگ میں قدم رکھنے کی زحمت نیںس دی جا سکتی۔اور آخر تمھارے جانے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟\nبلغان خاتون: صرف یہ میرا کام ہے اور اپنے فرض سے میں آپ ہی سبکدوش ہونا چاہتی ہوں۔\nمنقو خاں:‌خیر ایسا ہی شوق ہے تو چلو، مگر میں‌بھی ساتھ چلوں‌گا، یہ مجھے نہیں‌گوارا ہو سکتا کہ خاندان مغلیہ کی ایک معزز شاہزادی اپنے نامور عزیزوں‌کے ہوتے ہوئی تن تنہا میدان کارزار میں‌قدم رکھے۔\nبلغان خاتون:‌مگر بھائی، وہاں‌کسی بڑی لڑائی کی امید ہی نہیں؛ ہمارے چند سپاہی بھی ہوں‌گے تو کامیاب ہو جائیں‌گے۔\nمنقوخاں: یہ نہ سمجھو۔جو لوگ سردار کے ادنیٰ اشارے پر جان دینے کو تیار ہو جائیں اُن سے ڈرنا چاہیے۔\nبلغان خاتون: مگر تاتاریوں‌کا رعب آج کل دلوں‌پر اس قدر بیٹھا ہوا ہے کہ میں‌تو یہ سمجھتی ہوں‌وہ لوگ بے لڑے بھڑے ہتھیار رکھ دیں‌گے۔\nمنقو خاں:‌ بے شک ہمارا ایسا ہی رعب ہے ،مگر پھر بھی ایک قدیم اور ڈیڑھ سو برس کے شاہی و مذہبی خاندان کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینک دینا آسان نہیں۔\nمنقو خاں‌آخر تک اصرار کرتا رہا مگر شہزادی بلغان خاتون نے اس کی شرکت کسی طرح گوارا نہ کی۔ جب دیکھا کہ تاجدار بھائی کسی طرح منظوری نہیں دیتا تو جھک کے اس کے کان میں کچھ کہا جسے سن کے تھوری دیر تک غور کرتا رہا،اور آخر بڑی دیر کی حجت و تکرار کے بعد قرار پایا کہ اُولو العزم شاہزادی پانچ سو سوار ساتھ لے کو روانہ ہو جائے۔ بلغان خاتون واپسی کے لیے اٹھتے اٹھتے ٹھہر گئی اور خط کو دوبارہ بھائی کے سامنے پیش کر کے بولی: \" مگر ذرا دیکھ کے یہ بھی بتلا دیجیے کہ مجھے کب یہاں سے روانہ ہو جانا چاہیے ؟زمرد نے کس تاریخ‌کو بلایا ہے ؟\"\nمنقو خاں: ( خط پڑھ کے ) رمضان کی 27 تاریخ۔\nبلغان‌خاتون:‌ خدا جانے اس تاریخ‌ کے معین کرے سے کیا غرض‌ہے ،تو پھر مجھے کوچ کر دینا چاہیے ؟\nمنقو‌خاں: اس میں بھی کوئی بات ضرور ہے اور میری سمجھ میں تو یہ بھی نہیں آتا کہ اس گھاٹی میں پہنچنے کے بعد تمھیں‌کیا پیش آئے گا۔ممکن ہے اس عورت نے جو اپنے آپ کو حور بتاتی ہے فریب کیا ہو۔\nبلغان خاتون: اس کی تحریر اور اس کے اس بے تکلفانہ دعوت سے مجھے فریب کی امید نہی۔ باوجود اس کے محض‌اسی خیال سے میں‌نے تھوڑے سے سپاہی ساتھ لے جانے کا ارادہ کر لیا۔اور آپ تو جانتے ہیں‌ کہ اپنی حفاظت کا میں‌نے پورا بندوبست کر لیا ہے۔ہاں تو زمرد نے رمضان کی 27 تاریخ‌کو مجھے بلایا ہے اور آج کون تاریخ‌ہے ؟\nمنقو خاں:‌ جمادی‌الاول کی 20۔ قریب قریب چار مہینے باقی ہیں۔ راستہ بھی تین مہینے سے کم کا نہیں۔اگر جلدی پہنچ گئیں‌تو راستے میں کسی جگہ ٹھہر جانا۔ اگر جانا ہے تو کل ہی کوچ کر دینا چاہیے۔\nاس کے بعد منقو خاں‌نے کچھ آپ ہی سوچ کے کہا: \"ہاں! خوب یاد آیا،بلغان خاتون! ایک دو دن اور ٹھہر جاؤ۔آج کے چوتھے دن ہلاکو خاں ‌کی کمک کو چالیس ہزار سپاہیوں‌کا بڑا بھاری لشکر جانے ولا ہے جس کو طولی‌خاں‌لے جائے گا؛ اسی کے ساتھ تم بھی ہولینا۔یہ لوگ بھی اسی طرف جائیں‌گے جدھر تم جاتی ہو،بلکہ انھیں تم سے آگے جانا ہے۔ہلاکو خاں دیلم میں‌ہے اور سلطان دیلم کی تخت گاہ پر قابض ہو چکا ہے۔ فی‌الحال اُس کا تعاقب کر رہا ہے۔اس فوج کے پہنچنے کے بعد وہ ارض عراق کا عزم کرے گا اور ارادہ ہے کہ خلیفۂ بغداد کو بھی اس کی سرتابیوں اور غرور کی سزا دی جائے۔\nبلغان خاتون:‌ایک دو دن کی بات ہے ،میں‌ٹھہر جاؤں‌گی۔ان تمام امور کا تصفیہ کر کے بلغان خاتون اپنے مکان کو واپس آئی اور حسین کو بلا کے کہہ دیا:\" پرسوں‌کوچ ہے ،تیار ہو رہو۔\"حسین نے سینے پر ہاتھ رکھ کے اور ادب سے سر جھکا کے جواب دیا:‌ \" مجھے تو جس وقت حکم ہو حاضر ہوں۔\"\nدوسری طرف منقو خاں‌کا بیٹا طولی خاں بھی کوچ کا سامان کرنے لگا اور اس کے ساتھ کے لیے چالیس ہزارجوانوں‌کو تیاری کا حکم دے دیا گیا۔ آخری رات سپاہیوں‌نے عجیب ذوق و شوق اور بڑی دھوم دھام میں‌بسر کی۔ قراقرم کے در و دیوار سے جوش و خروش نمایاں‌تھا۔ہر طرف ایک چہل پہل تھی،لوگ اِدھر اُدھر دوڑتے پھرتے تھے۔جو اپنے گھروں‌اورخیموں‌میں‌تھے وہ خوشی خوشی اسلحہ بھی درست کرتے جاتے تھے اور عزیزوں‌یابیوی بچوں‌سے بھی رخصت ہوتے جاتے تھے۔صبح سویرے ہی کوچ کا طبل بجا اور تاتاریوں‌کے غول اپنے اپنے نشانوں‌اور بیرکوں‌کے نیچے جوش و مسرت میں کودتے ،اپنے قومی گیتوں‌کو گاتے اور شور کرتے آگے بڑھے۔\nیہ فوج مختلف حصوں‌میں‌تقسیم ہوکے روانہ ہوئی۔ قرافل کے پانچ ہزار جوان آگے بڑھ گئے۔ پھر جرانغار و برانغار پانچ پانچ ہزار کی ٹکڑیاں‌داہنے باہنے پھر گئیں،پانچ ہی ہزار کا ایک گروہ پیچھے قول میں‌رہا اور درمیان یا قلب میں پورے بیس ہزار ترک جدا جدا فوجوں‌اور پرچموں‌میں‌بٹے ہوئے آگے پیچھے روانہ ہوئے ،جن کے بیچ میں طولی خاں اور بلغان خاتون دو مضبوط اور گھٹے ہوئے ترکی گھوڑوں‌پر سوار تھے۔ تاتاری کمانیں اور نیزے چاروں طرف سے حلقہ کیا ہوئے تھے۔اور ہر چہار طرف سے جوش و ولولے کی صدائیں اور فتح و نصرت کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔\nتاتاریوں‌کا یہ طوفان ایک ٹڈی دل کی طرح‌راستے کی تمام چیزوں کو خراب و تباہ کرتا چلا جاتا تھا۔جو گاؤں‌ نظر آتا آدمیوں‌سے خالی ملتا،اس لےط کہ ان بے رحم و جری لٹیروں‌کی آمد کی خبر پاتے ہی لوگ اپنے گھر چھوڑ چھاڑ کے بھاگ کھڑے ہوتے ،جن کے ویران و غیر آباد گھروں‌ اور مکانوں‌کو آگ لگا دی جاتی۔یہ لوگ جوں‌جوں آگے بڑھتے شہر اور گاؤں‌مسمار و منہدم اور جل جل کے خاک سیاہ ہوتے جاتے۔رعایا میں‌سے مرد،عورت،بوڑھا،بچہ جو شخص‌ملتا ان انسان کا شکار کھیلنے والے وحشیوں‌کے ہاتھ سے قتل ہو جاتا۔ الغرض یہ لوگ تمام علاقہ غزنی و خراسان کو تباہ کرتے بحر خزر کے کنارے کنارے چلے اور مازندران پہنچے۔ پھر وہاں‌کے گاؤ‌ں تخت تاراج کر کے آذربائیجان کی طرف نکل گئے اسلیے کہ ہلاکو کے اسی طرف ہونے کی خبر تھی،کیوں‌کہ وہ سلطان دیلم کے تعاقب میں شمال کی طرف زیادہ بڑھ گیا تھا۔مگر بلغان خاتون اپنے ساتھ کے پانچ سو سواروں کے ساتھ جبال طالقان کے دامن میں نہر ویرنجان کے قریب خیمہ زن ہو گئی۔ عین اس مقام پر جہاں‌اس ناول کی ابتدا میں‌ہم نے حسین و زمرد کو پایا تھا۔جس وقت یہ پانچ سو تاتاری اس سر زمیں پر پہنچے ہیں‌رمضان کی 18 تاریخ‌تھی۔مجبوراً چند روز اسی جگہ فروکش رہنا پڑا جس سے زیادہ کوئی مصیبت تاتاری لشکر کے لیے نہ تھی۔ان لوگوں‌کے لیے یہ معمول تھا کہ جب تک لوٹتے مارتے رہتے اسی وقت تک اچھے اور خوش حال رہتے اور جہاں‌کسی جگہ قیام ہو گیا،محض اس وجہ سے کہ نئے شہر اور قصبے لوٹنے کو نہ ملتے ،فاقے کرنے لگتے۔لیکن یہاں‌کیا کرتے ؟ مجبوری تھی،سب نے انتظار کے دن فقر و فاقے سے بسر کیے ،نویں‌دن ٹھیک 27 تاریخ‌کو بلغان خاتون صبح‌ہی سے کسی کے انتظار میں تھی اور جوں‌جوں‌دیر ہوتی جاتی تھی اس کی پریشانی بڑھتی جاتی تھی۔ آخر جب اس نے دیکھ کہ وقت نکلا چلا جاتا ہے تو بڑے پس و پیش کے بعد تین زبردست فوجی جوانوں‌کو ساتھ لے کے چل کھڑی ہوئی اور حسین اس کا رہبر ہوا۔باقی ماندہ تمام ہمراہی وہیں چھوڑ دیے گئے۔حسین اور تاتاری شہزادی سڑک چھوڑ کے نہر ویرنجان کے کنارے کنارے چلے اور بہ دقت و دشواری گھاٹیوں‌اورجنگلوں‌سے گزر کے اس مرغزار میں جا پہنچے۔حسین نے زمرد کی قبر بتا کے فاتحہ خوانی کی اور کہا:\n\" یہی پتھر ہیں‌ جن کے نیچے میری زمرد کا پیکر عنصری آرام کر رہا ہے۔\"\nبلغان خاتون نے زمرد کا خط نکال کے پھر پڑھا اور زمرد کی ہدایت کے مطابق قبر کے پتھروں‌کو خود اپنے ہاتھوں‌سے ہٹانے لگی۔ چار ہی پانچ پتھر ہٹے ہونگے کہ حسب وعدہ زمرد کا دوسرا خط مل گیا جسے کھول کے اس نے چپکے چپکے پڑھا اور ذرا متردد ہوکے سامنے کی طرف نظر بڑھا بڑھا کے دیکھنے لگی۔\nچند ہی لمحوں‌کے بعد سوچا اور اپنے ایک ہمراہی کے کان میں کچھ کہنے کو جھکی۔ تاتاری سپاہی شاہزادی کا راز سنتے ہیں واپس روانہ ہوا اور وہ خود حسین کی طرف دیکھ کے بولی: \"چلو\"\nحسین: ‌کہاں؟\nبلغان خاتون: جہاں‌میں‌چلوں۔\nاتنا کہتے ہیں‌باقی ماندہ سپاہیوں‌کو ساتھ آنے کا اشارہ کیا اور چل کھڑی ہوئی۔حسین کو بھلا کیا مجال ان کار تھی،بے عذر ساتھ ہولیا۔\nبلغان خاتون اس وادی کے شمالی کونے کی طرف چلی۔اسی طرف جدھر سے حسین نے کبھی پریوں کو آتے دیکھا تھا۔جاتے جاتے تقریباً دو گھنٹے کے بعد وہ ایک سرسبز پہاڑ کے دامن میں‌پہنچی،اور گو اس طرف کوئی راستہ نہیں نظر آتا تھا مگر وہ برابر بڑھتی چلی جاتی تھی۔ حسین ایک عقیدت کیش مرید کی شان سے بے عذر اطاعت کر رہا تھا، مگر ہمراہی سپاہیوں‌کو حیرت تھی کہ شاہزادی انھیں‌کہاں‌لیے جاتی ہے بلکہ ایک نے آگے بڑھ کے ادب سے پوچھا بھی کہ: \"ادھر تو راستہ نہیں ہے ؟\" جس کے جواب میں بلغان خاتون نے کہا: \"کچھ بولو چالو نہیں، خاموش چلے آؤ۔\"\nپہاڑ‌کی جڑ میں‌پہنچ کے وہ ایک تیرۂ تار غار میں‌گھسی اور ساتھیوں‌سے کہا: اس طرح چلو کہ کسی کو آہٹ معلوم نہ ہو۔\"شاہزادی کے حکم کے مطابق سب لوگوں سے جہاں‌تک ممکن تھا آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے چلے۔غار کے اندر بالکل اندھیرا تھا اور سب ہاتھوں‌سے ٹٹولتے اور دونوں‌طرف کی کنگروں سے بچتے چلے جاتے تھے۔پندرہ بیس منٹ کے بعد دور اوپر کچھ روشنی نظر آئی جس کی نسبت معلوم ہوا کہ غار کے اس طرف کا دہانہ ہے۔ آخر بلغان خاتون اس غار سے باہر نکلی مگر جب غار سے باہر نکل کے دیکھا تو یہ مقام بھی کچھ کم وحشت ناک نہیں، اس لیے کہ یہاں‌بہت ہی گھنا جنگل تھا،جس کے درخت اسطرح‌ملے اور جڑے تھے کہ آفتاب کی روشنی بمشکل زمیں تک پہنچتی تھی۔\nشاہزادی اس جنگل میں پہنچتے ہی بائیں ہاتھ کی طرف مڑ گئی۔اب اُس کا رخ‌مغرب کی طرف تھا اور درختوں‌میں پھنستی اور کانٹوں‌میں‌الجھتی برابر آگے چلی جاتی تھی۔ ساتھ والے اس دشوار گزار راستے کو دیکھ کے گھبرا گئے تھے اور دل میں‌حیران تھے۔آخر یہ جنگل یکایک ایک پہاڑ کے پاس ختم ہو گیاجہاں‌پہنچ کے شاہزادی پھر داہنے ہاتھ کی طرف مڑی اور پہاڑ‌ کے دامن ہی دامن میں دور تک چلی گئی۔ ایک مقام پر پہنچ کے اسے نظر آیا کہ جیسے کسی ناگہانی صدمے کے باعث‌پہاڑ پھٹ گیا ہے اور درمیان میں ایک بہت ہی پتلی اور لمبی گلی پیدا ہو گئی ہے ،جس سے ایک سے زیادہ آدمیوں‌کا گزرنہیں‌ہو سکتا۔\nبلغان خاتون نے اس گلی کو غور سے دیکھا،چاروں‌طرف نظر دوڑائی اور جیسے دل ہی دل میں‌کچھ مطمئن ہوکے اس گلی کے اندر گھسی،مگر اندر جانے سے پہلے اس نے ایک اور ہمراہی سپاہی کے کان میں‌جھک کے کچھ کہا جس کے ساتھ ہی وہ بھی واپس چلا گیا۔ اب شاہزادی،حسین اور باقی ماندہ ایک جوان کو ساتھ لے کے گلی میں داخل ہوئی۔گلی کے اندر ایک مقام پر ایک گٹھڑی پڑی ملی جسے شاہزادی نے کھول کے دیکھا اس کے اندر ایک زنانہ کپڑوں‌کا جوڑا تھا ور دو مردانے جوڑے بالکل دہقانیوں اور گائے بھینس پالنے والوں‌کی وضع کے تھے۔شہزادی نے دونوں جوڑے حسین اور اپنے دوسرے ساتھ کو دے کے کہا: \" اپنے کپڑے اتار کے یہاں رکھ دو اور یہ کپڑے پہن لو۔\"یہ کہہ کے وہ خود بھی ہو زنانہ جوڑا پہننے لگی۔ جب سب کپڑے پہن کے تیار ہو گےل تو اگرچہ یہاں ‌اندھیرا تھا،حسین کو شاہزادی کی وضع و لباس پر حیرت ہوئی اور وہ تعجب سے دیکھنے لگا۔\nبلغان خاتون: کیوں‌حسین!‌تعجب کس بات کا؟\nحسین:‌کیاعرض کروں،یہ لباس پہن کے تو آپ دنیاوی شاہزادی نہیں، آسمانی حور معلوم ہوتی ہیں۔\nبلغان خاتون یہ سن کے مسکرائی اور بولی : \" بس چپکے سے چلے آؤ!\" اور آگے کو روانہ ہوئی۔یکایک معلوم ہوا کہ آڑی چٹان نے راستہ بند کر دیا ہے۔ بلغان خاتون نے جب مڑ کے دیکھا تو نیچے ایک چھوٹا سا سوراخ‌نظر آیا جس میں‌سے ایک آدمی بمشکل سمٹ سمٹا کے نکل سکتا تھا۔اسی سوراخ سے وہ نکلی اور ہمراہیوں‌کو بھی نکلنے کا حکم دیا۔اس دشواری کو جھیل کے شاہ‌زادی آگے بڑھی،لیکن ایک سب سے بڑی مشکل نظر آئی۔وہ یہ کہ ایک زبردست فولادی دروازہ تھا جو دوسری طرف سے بند تھا۔مگر بلغان خاتون نے دروازے کے داہنے بازو کے برابر سے ایک پتھر نکالا جس کے ہٹتے ہی ایک روشن دان سا ہو گیا اس روشن دان میں‌ہاتھ ڈال کے اس نے دروازے کی کنڈی کھول لی اور حسین کی روز آوری سے دروازہ اندر کی طرف ہٹ آیا اور جانے کا راستہ ہو گیا۔\nاس دروازے سے نکلتے ہی بلغان خاتون نے حیرت سے دیکھا کہ عجب فرحت بخش اور راحت افزا چمن لگے ہوئے ہیں۔پھولوں ‌کی بہار اور طیور کی نغمہ سنجیاں‌دیکھتے ہی بے ساختہ اس کی زبان نکل گیا \"واہ\"۔مگر حسین جو اس مقام کو آنکھیں پھاڑ‌کے اور حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ شاہزادی کی زمان سے یہ لفظ سن کے بولا:‌‌ \" مجھے تو فردوسِ‌بریں‌یہی معلوم ہوتی ہے مگر کیوں‌کر کہوں؟\"\nبلغان خاتون: اب میں تمھیں‌حور نظر آئی ہوں‌تو ضرور ہے کہ یہ باغ‌جنت نظر آئے۔مگر پھر غور سے دیکھو کیا یہی وہ فردوس بریں ہے جس کی تم سیر کر چکے ہو۔\" یہ کہہ کے شاہ زادہ ذرا مسکرائی۔\nحسین: بعینہ وہی مقام معلوم ہوتا ہے۔خداوندا!‌میں‌ خواب دیکھتا ہوں‌یا بیدار ہوں؟ اور ہاں‌دیکھیے طیور کے نغمے سے بھی وہی آواز نکلتی ہے \" سلام علیکم طبتم فادخلوہا خالدین۔\"\nبلغان خاتون: اس کے کیا معنی؟\nحسین: اللہ جل شانہ نے قر آن پاک میں‌وعدہ کیا ہے کہ جنت میں‌انھں الفاظ سے لوگوں‌کا خیر مقدم کیا جائے گا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ \" تم پر سلام ہو!پاک ہو گےک تم لوگ اور ہمیشہ کے لیے جنت میں‌داخل ہو!\"\nحسین نے زبان سے تو یہ جواب دے دیا مگر اس وقت دل و دماغ اور آنکھوں‌ پر ہر ساعت زیادہ حیرت مستولی ہوتی جاتی تھی۔ وہ ہر چیز کو گھبرا گھبرا کے دیکھتا اور بار بار کہہ اُٹھتا؛ ‌\" یا تو میں‌آسمان پر پہنچ گیا یا فردوس بریں‌نیچے اتر آئی۔یہ تو بعینہ وہی باغ‌ہے جس میں‌مَیں‌ زمرد کے ساتھ سیر کرتا پھرتا تھا۔\"\nبلغان خاتون:‌ فردوس بریں تو تم پہنچ ہی گئے ،اب مطمئن رہو زمرد سے بھی ملا دوں‌گی۔\nحسین کو جنت میں‌ پہنچ جانے کا تو یقین ہو ہی گیا تھا شاہزادی کی زبان سے یہ فقرہ سن کے اس کے قدموں‌پر گر پڑا اور کہنے لگا:‌ \" آپ نے اس راہ میں‌رہبری کی ہے جس میں اب شیخ‌علی وجودی سے بھی دست گیری کی امید نہ تھی۔یہ احسان ہمیشہ لوح‌دل پر نقش رہے گا۔\"\nبلغان خاتون: ( حسین کو زمین سے اٹھا کے ) ذرا صبر و تحمل سے کام لو۔ زمرد سے ملنے کے لیے شرط ہے کہ چپکے ساتھ چلے چلو۔ایسا اضطراب ظاہر کرو گے تو کام بگڑ‌جائے گا۔\nیہ کہہ کے شہزادی نے پھر زمرد کا خط نکال کے پڑھا اور دونوں‌ہمراہیوں‌کو ساتھ لیے ہوئے ایک جانب چل کھڑی ہوئی اور چند منٹ ‌میں‌وہ قصروں اور کوشکوں‌کے قریب تھی۔\nحسین اس نظر فریب سین کو کھڑا نہایت ہی حیرانی و از خود رفتگی سے دیکھ رہا تھا۔ ناگہاں‌ایک حسین و نازنین عورت شاہزادی کے سامنے آئی اور اس کے پاؤں‌چومنے کو جھکی۔\nبلغان خاتون: ‌تم کون ہو؟ مگر اس کے ساتھ ہی حسین کی نظر جا پڑی؛ ایک بے اختیاری و خود فراموشی کے جوش میں‌اس کی زبان سے نکلا : \" زمرد!\" ا اور دوڑ کے لپٹ‌گیا۔\nزمرد: ( حسین کو اپنے سے علیحدہ کر کے ) ذرا صبر کرو،پہلے مجھے شاہزادی کے سامنے اپنی احسان مندی ظاہر کرنے دو۔\nبلغان خاتون: تو تم ہی زمرد ہو؟ یہ کہہ کے اس نے زمرد کو گلے سے لگا لیا اور بولی: \"میں‌نے تو کیا احسان کیا ہے ، ہاں‌تمھاری البتہ انتہا سے زیادہ شکر گزار ہوں۔اگر تم مدد نہ کرتیں‌ تو مجھے غم و الم سے کبھی نجات نہ ملتی۔\"\nزمرد: (ذرا مسکرا کے اور کسی قدر ندامت سے ) مگر شاہ‌زادی! اس میں‌میری بھی خود غرضی شامل تھی۔\nبلغان خاتون: اسے خود غرضی نہ کہنا چاہیے ؛ یہ اس سادہ لوح‌نوجوان پر تمھارا احسان ہے کہ اپنی محبت سے اسے عزت بخشی اور اتنے بڑے اور اس قدر گہرے فریب سے نجات دلائی۔\nاس کے بعد زمرد حسین کی طرف متوجہ ہوئی اور پوچھا: \" اب تو تم پر سارا راز کھل گیا؟\"\nحسین: ‌راز کیسا؟ میں‌نے تو شاہ‌زادی کے حکم کی اطاعت کی، اور صرف اس وجہ سے کہ تمھاری ہدایت یہی تھی۔\nبلغان خاتون: نہیں میں‌ نے بھی ان سے کچھ نہیں کہا اور نہ تمھارا کوئی خط دکھایا ہے۔مگر جب سے یہ اس باغ میں‌داخل ہوئے ہیں‌انتہا سے زیادہ پریشان و بدحواس ہیں۔اب اپنے ساتھ لے جاؤ اور جو کچھ کہنا ہو کہہ دو،تاکہ یہ وحشت ذرا دور ہو اور آدمی بنیں۔\nزمرد: ‌افسوس!اس غلطی میں یہ ایسے ایسے کام کر چکے ہیں‌ کہ اطمینان تو انھیں بڑی مشکلوں‌سے نصیب ہو گا۔\nبلغان خاتون: ‌لیکن اب یہی مصلحت ہے کہ انھیں‌اپنے قصر میں‌لے جاؤ اور کوشش کرو کہ ان کی آنکھوں‌ کے سامنے سے فریب کا پردہ ہٹے۔ مگر ہاں‌پہلے مجھے تو بتا دو کہ یہاں‌کسی کا خوف تو نہیں؟تمھارے لکھنے کے مطابق میں‌آنے کو تو چلی آئی مگر اندیشہ ہے کہ کوئی خرابی نہ اٹھ کھڑی ہو۔\nزمرد: شاہزادی! آپ مطمئن رہیے ،کسی بات کا اندیشہ نہیں۔آج شام تک آپ یہاں‌بے کھٹکے رہ سکتی ہیں۔مگر وہ جو میں‌نے لکھا تھا اس کا بھی بندوبست آپ نے کر لیا ہے ؟\nبلغان خاتون: سب سامان کر چکی ہوں، اگرچہ اس کے متعلق مجھے ذرا تردد ہے۔\nزمرد:‌وہ کیا؟\nشاہ‌زادی: خیر کوئی مضائقہ نہیں،اس کو پھر بیان کروں‌گی۔یہ کہہ کے اس نے باقی ماندہ جوان کو بھی جو ساتھ آیا تھا، کان میں کچھ کہہ کے واپس بھیج دیا اور زمرد سے پوچھنے لگی:‌ \"اور یہ تو بتاؤ کہ قلعے پر کدھر سے حملہ ہو سکتا ہے ؟\"\nزمرد: آپ قلعے میں ہی ہیں،مگر اتنا حصہ قلعے سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔اگرچہ غیر لوگ یہاں‌نہر ویرنجان کے ذریعے سے اور بیرونی دیوار کے نیچے سے لائے جاتے ہیں، مگر اسی نہر کے اُس طرف خور شاہ کا محل ہے۔\nحسین:‌ ( چونک کے ) خور شاہ کا محل! وہ یہاں‌کہاں؟ وہ تو قلعہ التمونت میں ہے ؟\nبلغان خاتون: ( ہنس کے ) اب انھیں ان کے قصر دری ہی میں‌پہنچادو جس کے دیکھنے کا انھیں‌شوق ہو گا۔باقی باتیں‌پھر آ کے کرنا۔یہ اگر یہاں‌موجود رہے تو بات نہ کرنے دیں‌گے۔\nزمرد:‌بے شک شاہ‌زادی! آپ بجا فرماتی ہیں۔ میں انھیں وہاں‌بٹھا کے ابھی آتی ہوں۔\nیہ کہہ کے اس نے حسین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں‌لیا جو ابھی تک بے ہوشی کے عالم میں‌کھڑا تھا اور شاہ زادی کو تنہا چھوڑ کے اسے کھینچتی ہوئی اپنے قصر دری میں‌لے گئی۔حسین راستے بھر اس سے طرح طرح کے سوالات کرتا رہا،مگر زمرد نے ہر سوال کے جواب میں یہی کہا کہ پھر بتا دوں‌گی،اور اسے قصر میں بٹھا کے شاہ‌زادی کے سامنے واپس آئی اور ادب سے کھڑی ہو گئی۔\nبلغان خاتون: ہاں‌تو خور شاہ کے محل کو یہاں‌سے راستہ گیا ہے ؟\nزمرد:‌جی ہاں! وہ روز یہاں‌آکے عیش و عشرت میں‌مشغول ہوا کرتا ہے۔آپ اس راستے سے اپنے تمام ہمراہیوں‌کے ساتھ بآسانی پہنچ جائیں‌گی۔پہلے نہر کا سنہرا پل ہے ، اس کے اترتے ہی آپ کو ایک سیدھا راستہ ملے گا جو خور شاہ کے حرم سرا کو گیا ہے ،جس میں داخل ہوتے ہی آپ سجھ لیجیے کہ التمونت میں‌پہنچ گئیں۔آج عید کا دن ہے اور معمول یہ ہے کہ اس زمانے میں‌کوئی شخص جنت میں‌نہیں لایا جاتا اور نہ خود خور شاہ آ سکتا ہے ،اس لیے کہ اس علاقے کے تمام معززو مقرب لوگ اور نیز دور دور کے سربرآوردہ اور نامی نقیب امام کی زیارت کو آتے ہیں اور قلعے میں عام معتقدین کا بڑا بھاری مجمع رہتا ہے۔اسی خیال سے میں نے آپ کو رمضان کی 27 تاریخ کو بلایا،کیوں‌کہ اس دن لازمی طور پر یہ باغ غیروں‌سے خالی رہتا ہے اور خود خور شاہ کو بھی تین چار دن تک یہاں‌آنے کی فرصت نہیں ملتی۔اگر اور کوئی زمانہ ہوتا تو اب تک آپ کے آنے کا حال قلعے میں‌معلوم ہو گیا ہوتا۔\nبلغان خاتون: تو ابھی کسی کو ہمارے آنے کی خبر نہیں؟\nزمرد: بالکل نہیں۔ اول تو یہاں‌کوئی مرد نہیں جولوگوں‌کو خبر کر کے لڑائی کا سامان کرے ؛ اور شاید کوئی عورت بھاگ کے چلی بھی جاتی،مگر میں‌نے آج صبح سے ہی سنہرے پل کے پھاٹک میں قفل لگا دیا ہے اور کنجی میرے پاس ہے۔ لہٰذا ممکن نہیں کہ کوئی بھی بھاگ کے پھاٹک کے قلعے میں‌جا سکا ہو۔اور لطف یہ کہ ان دنوں‌ادھر سے بھی کوئی آنے والا نہیں۔\nبلغان خاتون: یہ تو بہت اچھی بات ہوئی۔تم کہتی ہو آج عید ہے جب کہ قلعے میں‌خوشی کا جوش و خروش ہو گا۔ بس کوئی فکر نہیں۔آج شام سے پہلے ہی ہمارا حملہ ہو جائے گا۔مگر زمرد مجھے ایک بات کا تردد ہے۔جس فوج کو میں نے اپنی مدد کے لیے بلایا تھا اس کا ابھی تک پتا نہیں۔ میرے ہمراہ صرف پانچ سو سپاہی ہیں جو شاید کافی نہ ہو سکیں۔\nزمرد: میں‌تو سمجھتی ہوں‌کہ پانچ سو جوان بھی قلع پر ادھر سے جا کے قبضہ کر لیں‌گے۔\nبلغان خاتون:‌ مگر مجھے یقین ہے کہ ہماری کمک ضرور آئے گی،صرف شام تک کی مہلت چاہیے۔\nزمرد: ‌شام کیا معنی آپ کل تک یونہی مخفی رہ سکتی ہیں۔کوئی اندیشے کا مقام نہیں۔بس جب تک وقت آئے یہاں‌آرام فرمائے۔ آپ تھک بھی گئی ہونگی سستانے کے لیے اچھی مہلت مل گئی۔\nاس کے بعد شاہ‌زادی نے پوچھا: \" اور زمرد!یہ لباس جو تم نے میرے اور میرے دونوں ساتھیوں‌ کے یے تجویز کیا،اس میں‌کیا مصلحت تھی؟\"\nزمرد: شاہزادی! آپ کا لباس تو وہی حوروں‌ کا لباس ہے جس کو لوگ یہاں‌حلۂ جنت سمجھتے ہیں۔اس لباس کی وجہ سے کسی کو آپ پر بدگمانی نہیں ہو سکتی۔\nبلغان خاتون: شاید اسی لیے مجھے وہ کپڑے پہنے دیکھ کے حسین نے کہا تھا کہ آپ حور معلوم ہوتی ہیں۔\"\nیہ جملہ سن کے زمرد بہت ہنسی اور بولی: ‌ \" مگر اپنے لباس کے متعلق انھوں نے کچھ نہ کہا؟\"\nبلغان خاتون:‌اور ہاں‌، مردوں‌کے بارے میں‌تم نے ایسا بیہودہ لباس کیوں تجویز کیا؟\nزمرد: اس لیے کہ مردوں‌میں‌عموماً یہاں‌وہی دودھ والے آیا کرتے ہیں جو یہاں‌کی نہروں میں دودھ اور شراب بھرتے ہیں۔اگر کوئی مرد اس لباس کو پہنے ہوئے یہاں‌آئے تو کسی کو خیال بھی نہ ہو گا کہ کوئی غیر ہے۔\nشاہ‌زادی:‌مگر ایسا نہ ہو کہ کسی کو خبر ہو جائے اور قبل از وقت راز کھل جائے۔\nزمرد: کسی کو خبر نہ ہو گی،آپ شوق سے یہاں‌فروکش ہوں۔عید کے دن کسی کو یہاں‌آنے کی فرصت ہی نہیں‌ہوتی۔\nبلغان‌خاتون: بہتر! میں‌یہیں‌ٹھہر جاؤں‌گی،مگر مجھے چل کے ذرا جنت کی سیر کرا دو اور وہ پل اور سڑک بھی دکھا دو تاکہ راستہ خوب پہچان لوں۔\nزمرد: چلیے !\nاس تجویز کے بعد دونوں‌حسین و نازنین عورتیں قصروں اور کوشکوں کو قطع کرتی اور باغوں‌اور چمنو‌ں‌کی بہار دیکھتی ہوئیں اس بڑی نہر کے کنارے پہنچیں‌جہاں‌ سے لوگ سونے کی کشتی میں بٹھا کے جنت میں‌لائے جاتے تھے۔اس سنہرے پل کے پھاٹک میں‌قفل لگا ہوا تھا،جسے زمرد نے کھولا اور دنوں لڑکیاں‌دوسری طرف کے میدان میں‌اتریں۔ادھر بھی پھولوں‌کا ایک مسطح تختہ دور تک پھیلا ہوا تھا اور درمیان سے ایک سڑک گزری تھی جو تھوڑی دور جا کر سایہ دار درختوں‌کے ایک جھنڈ میں غائب ہو گئی تھی۔انھیں درختوں کی دوسری طرف حرم سرا کا راستہ تھا۔\nیہ دلچسپ سیر کر کے شاہزادی واپس آئی اور زمرد کے انتخاب کے مطابق ایک عالی شان فیروزی کوشک میں‌جا کے فروکش ہو گئی۔زمرد دیر تک اس کے پاس بیٹھی رہی،اور جب دیکھا کہ شاہزادی بلغان ‌خاتون لیٹ کے آرام کرنا چاہتی ہے تو اس سے رخصت ہوکے دروازہ اندر سے بند کروا لیا اور اپنے قصر کی طرف واپس روانہ ہوئی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A8%D9%84%D8%BA%D8%A7%D9%86_%D8%AE%D8%A7%D8%AA%D9%88%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D9%81%D8%B1"} {"title": "فردوس بریں/بہ مے سجادہ رنگنی کن گرت پرر مغاں گوید", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر > فردوس بریں", "year": null, "text_ur": "صبح کا وقت تھا اور نسیم کے جھونکے چل رہے تھے کہ مرغانَ سحر نے اپنے نشیمنوں سے نکل نکل کے حسین کو خواب بے ہوشی سے جگایا۔ خمار کی سی کروٹیں بدل کے آنکھیں ملتا ہوا اُٹھا اور چاروں طرف مڑ مڑ کے دیکھا مگر زمرد کا کہیں پتا نہ تھا۔ جب معشوقۂ دل ربا کی پیاری اور محبت بھری صورت کسی طرف نظر نہ آئی تو کلیجا دھک سے ہو گیا۔ ناتوانی اور سر پھرنے کی وجہ سے کئی دفعہ گر کے اٹھا اور لڑکھڑاتا ہوا چلا۔ آس پاس ہر جگہ دیکھا،ہر طرف نظر دوڑا دوڑا کے ڈھونڈا لیکن نازنین و ناز آفریں زمرد کا کہیں نام و نشان نہیں۔ آخر ہر طرف سے مایوس ہو کے اور جستجو میں تھک کے موسیٰ کی قبر کے پاس آ کے بیٹھ گیا اور نہایت ہی حسرت و اندوہ کے عالم میں آنسو بہا بہا کے کہنے لگا:\"پیاری زمرد تو کہاں گئ؟ آہ! کیا آسمان و زمین کھا گئے یا رات کی پریاں تجھے بھی ساتھ لے گئیں۔\"\nاتفاقاً موسیٰ کی قبر پر نظر جا پڑی اور یہ دیکھ کے متعجب ہوا کہ کچھ بدلی ہوئی سی ہے اور دو ایک پتھر زیادہ ہیں جو کل شام نہ تےا۔ حیرت کم نہیں ہوئی تھی کہ اس چٹان پر نظر گئی جس پر موسیٰ کا نام کندہ تھا اور اس کتابے میں بھی کچھ تغیر دیکھ کے غور سے پڑھنے لگا۔ کسی قدر بلند آواز میں اس کی زبان سے نکلا:\"موسیٰ و زمرد\" اور اس کے ساتھ ہی چیخ مار کے وہ پھر سے بے ہوش ہو گیا۔ غم و اندوہ کے فوری جھٹکے پر طبیعت پھر غالب آئی، ہوش آیا اور دل میں کہا \"افسوس وہی ہوا جو زمرد کہتی تھی۔ وہ مر گئی اور میں زندہ ہوں۔آہ! پریاں بڑی ظالم تھیں، اسے مار ڈالا اور مجھے نیم جان چھوڑ گئیں۔ آہ! وہ تو میری جان تھی پھر اس کے بغیر میں کیوں زندہ ہوں؟\"\nیہ کہہ کے اس چٹان سے سر ٹکرانے لگا جس پر دونوں بہن بھائیوں کے نام کندہ تھے۔ دل میں آئی کہ قبر کھول کے اپنے آپ کو بھی اس میں دفن کر دے۔ بلکہ اس ارادے سے چلا تھا کہ مذہب کے فرشتے نے کان میں کہا:\"یہ دین کے خلاف اور مرنے والوں کی توہین ہے۔\" فرشتۂ غیب کی یہ آواز سنتے ہی اس نے زور سے چلاّ کے کہا:\"تو آہ پھر میں کیا کروں؟\" اور یہ کہہ کے زمیں پر گرا اور تڑپنے لگا۔دیر تک تڑپنے اور نالہ و زاری کے بعد اُٹھا اور دوڑ کے موسیٰ کی قبر سے لٹر گیا جسے اب وہ زمرد کی تربت سمجھتا ہے ، اور جس طرح کوئی کسی زندہ شخص کی طرف متوجہ ہو کے باتیں کرتا ہے اسی طرح اس قبر کی طرف خطاب کر کے کہنے لگا:\n\"پیاری زمرد مرنا میرے اختیار میں نہیں؛ خودکشی حرام ہے اور جینا بے سود و بے مزہ،لیکن کب تک؟ مرنا برحق ہے اور موت ایک دن آنی ہی ہے ، پھر اس کا انتظار اسی جگہ کیوں نہ کیا جائے زندگی کے ان باقی دنوں میں تیری قبر میری مونس و جلیس ہو گی اور تیرا خیال میرا بے وفا معشوق۔ بس اب یہیں رہوں گا اور یہیں مروں گا۔ ہائے جس طرح تیرے بھائی نے تجھے اپنے پاس بلایا اسی طرح تو مجھے بلا لے۔ تیری وصیت مجھ سے نہیں پوری ہو سکتی۔ اب میں یہیں کا ہوں۔ کیا عجب کہ ان پریوں کا پھر کبھی ادھر گزر ہو؛ وہ بڑی آسانی سے مجھے تیرے پاس پہنچا دیں گی۔\"\nدل میں یہ فیصلہ کر لینے کر بعد حن ط کو کسی قدر تسکین سی ہو گئی۔ قبر پر سے اٹھ کے نہر کے کنارے گیا؛ پر نم آنکھوں پر پاک و صاف پانی کے چھینٹے دیے ، وضو کیا اور قبر کے برابر کھڑے ہوکے چند نوافل ادا کیں۔ پھر بیٹھ کے انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ زمرد کے لیے دعائے مغفرت کرنے لگا اور ہمیشہ کے لیے یہیں کی سکونت اختیار کر لی۔\nحسین نے کچھ ایسے مضبوط دل سے اپنے لیے یہ زندگی اختیار کی تھی اور موت کی دعا مانگنے یا جان ستاں پریوں کے انتظار میں اسے کچھ ایسا مزا ملنے لگا تھا کہ اب اسے نہ وطن یاد ہے اور نہ وہ ارادہ حج۔ زمرد کا خیال اس کا قبلہ ہے اور وہ مشترک قبر اس کی مسجد۔ گھاس پات یا کبھی کبھی چڑیوں کے شکار پر زندگی بسر ہوتی ہے۔اور پیامِ مرگ کا ہر گھڑی انتظار رہتا ہے۔ جب کبھی اندوہ و غم کا زیادہ ہجوم ہوتا ہے تو اپنی نازنین معشوقہ کی قبر سے لپٹ کے اور رو دھو کے اپنے دل کی بھڑاس نکالتا ہے۔\nاس حالت میں رہتے اور موسیٰ اور زمرد کی تربت کا مجاور بنے اسے چھ مہینے گزر گئے۔ جاڑوں کا پورا موسم ان پہاڑوں پر بسر ہوا، جہاں ایک عرصے تک ان مظلوم شہیدان حسرت کی قبر پر برف کی چادر چڑھی رہی۔ موسم کی سخت سردی اور برف باری اس نے صبر شکر کے ساتھ جھیل لی۔ اب بہار کا زمانہ ہے اور ہر طرف پہاڑوں کے پہلو، نشیبی وادیاں اور یہ سارا مرغ زار پھولوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہوا کے جھونکے ہمیشہ معطر اور مشکبار رہتے ہیں اور دل کا ولولہ ساعت بہ ساعت زیادہ بڑھتا جاتا ہے۔ حسین کا غم اب پہلے سے زیادہ جوش و خروش پر ہے۔اب اس بہار کو دیکھ کے اسے پریوں کے آنے کا زیادہ یقین ہے ، اور ان ظالم پری وشوں کے انتظار میں بے صبری اور بے چینی پیدا ہو چلی ہے : \"افسوس! موسیٰ اور زمرد کا کام تو پریوں نے ایک ہی دن میں تمام کر دیا اور میں ایسا بدنصیب ہوں کہ انتظار ہی انتظار میں چھ مہینے گزر گئے اور وہ کیوں ادھر کا راستہ ہی بھول گئیں۔\"\nایک دن صبح کو سو کے اٹھا تو خلاف معمول زمرد کی قبر پر ایک کاغذ پڑا ملا۔ حیرت و شوق سے دوڑ کے اسے اٹھایا اور پڑھاتو چند لمحے تک نقشِ حیرت بنا کھڑا رہا بار بار تحریر کو غور کر کے دیکھتا اور کہتا:\"نگاہ تو نہیں غلطی کر رہی؟\"۔ مگر ساعت بہ ساعت یقین پختہ ہوتا جاتا کہ خاص زمرد کے ہاتھ کی تحریر ہے۔ اس خط کی عبارت یہ تھی:\n\"حسین! میں اس عالم میں نہایت خوش ہوں۔ یہاں کی مسرتیں تیرے وہم و قیاس سے بالا ہیں۔ میں اسی باغ فردوس میں ہوں جس کا قرآن اور تمام کتب سماوی میں ہر مسلمان اور خدا شناس سے وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ سب لذتیں خدا کی مہربانی سے مجھے حاصل ہیں۔ زہرہ و مشتری جن کے حسن کی شعاعیں تجھے دور سے نظر آتی ہیں میرے مونس و جلیس ہیں۔ ان کا قصہ تو سن چکا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ اس عالم نور اور اس مرکز لاہوت کی مسرتیں کتنی دل فریب ہیں کہ انھیں ہاروت و ماروت کی جاں بازی کا خیال بھی نہیں آتا۔مگر میں یہاں بھی تیرے لیے حیران اور تجھ سے ملنے کی مشتاق ہوں۔ فرشتوں اور دیگر آسمانی روحوں کے ذریعے مجھے برابر معلوم ہوتا رہا کہ تو میری قبر کا مجاور بنا بیٹھا ہے۔ وہ مادی کشش جو ایک عرصے تک روح کو عالم عناصر کی طرف متوجہ رکھتی ہے ، مجھے بارہا میری قبر پر لے گئی۔ میں نے تجھے اپنی قبر سے لپٹ کے روتے دیکھا اور خود بھی گھنٹوں تیرے ساتھ کھڑی ہو کے رویا کی۔مگر افسوس نہ تیری دنیاوی آنکھیں میری صورت دیکھ سکتی تھیں اور نہ تیرے مادی کان میرے رونے کی آواز سن سکتے تھے۔ تو ناحق موت کا منتظر ہے ؛ ابھی تجھے بہت دنوں دنیا میں رہنا ہے۔ وہ وقت دور ہے جب کہ مجھے تیرے وصال کی خوشی حاصل ہو گی۔ وہ باغ جہاں تو ہے پریوں کا نشیمن تھا مگر تیرے سبب سے وہ وہاں نہیں آ سکیںا اور چوں کہ ابھی تیرے مرنے کا وقت نہیں آیا،لہٰذا تجھے قتل بھی نہیں کر سکتیں۔۔ یہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے وہ کسی طرح اپنے تفریح گاہ کو تجھ سے خالی نہیں کروا سکتیں۔ مجبوراً خود ان ہی کو اپنا نشیمن چھوڑ دینا پڑا۔ افسوس تو نے میری وصیت پر عمل نہ کیا۔ بدنام کرنے والے اور میرے نام پر تہمت لگانے والے اسی طرح ذلیل کر رہے ہیں۔ جن کے الزاموں کا طومار مجھے بہت ستاتا ہے۔ اسی وجہ سے میں تجھے پھر اپنی وصیت یاد دلاتی ہوں اور نہایت ہی آرزو کے ساتھ کہتی ہوں کہ جا اور میری وصیت پوری کر۔\nتجھ سے دور اور تیری دل دادہ ———— زمرد\"\nحسین نے ہزارہا دفعہ اس خط کو پڑھا۔ اس کے طرز تحریر اور الفاظ کوٍ قریب سے اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھا، کسی طرح سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مضمون کیا ہے۔ایک دفعہ گھبرا کے بولا:\"کیا زمرد زندہ ہے \"پھر آپ ہی کہنے لگا، \"نہیں ، یہ ممکن نہیں اور وہ خود ہی لکھ رہی ہے کہ دوسرے عالم میں ہے اور فردوسَ بریں کی سیر کر رہی ہے۔ پھر یہ خط کیوں کر آیا اور کون لایا۔\" دیر تک غور کرتا رہا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ پہلے دل میں آئی کہ زمرد کی ہدایت کے بموجب واپس چلا جائے مگر پھر آپ ہی بولا؛ \"نہیں، یہ بالکل بے حاصل ہو گا۔ اول تو وہاں تک جایا کس سے جائے گا اور با لفرض اگر جاؤں بھی تو اس قصے کا یقین کس کو آئے گا؛ سب مجھے جھٹلا کے بے وقوف بنائیں گے۔ نہیں میں نہیں جا سکتا۔ اب تو میں عہد کر چکا کہ زندگی کے باقی ماندہ دن اسی قبر اور زمرد کی یادگار کے پاس بسر کروں گا۔ زمرد کہتی ہے کہ ابھی مجھے بہت دنوں ایڑیاں رگڑنا ہیں؛ بہتر؛ رگڑوں گا، اور جہاں تک جھیلا جائے گا جھیلوں گا۔ اس جگہ ایڑیاں رگڑنا بھی زمانے کی خاک چھاننے سے اچھا ہے۔افسوس زمرد دل میں خفا ہو گی کہ اب بھی اس کی وصیت نہ پوری کی، لیکن میں اپے عذرات پیش کیے دیتا ہوں۔ جو فرشتے میری روز روز کی خبر اس تک پہنچاتے ہیں، میرا عذر بھی اس کے گوش گزار کر دیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت وہ کھڑی مجھے دیکھ رہی ہو۔ میری باتیں اپنے کانوں سے سن رہی ہو۔ممکن کیا معنی بالکل قریں قیاس ہے ، اب اپنے خط کا جواب سننے ا س کی روح ضرور یہاں آئی ہو گی؛ ہاں تو جو کچھ کہنا ہے اسی سے کیوں نہ کہہ دوں۔\"\nیہ خیال اس کے دل میں جم گیا اور زمرد کی قبر کی دیکھ دیکھ کے یوں کہنا شروع کیا:\n\"پیاری زمرد! نہ میں اس عالم نور میں ہوں جس میں تو ہے اور نہ میرے پاس وہ نورانی نامہ بر ہیں جو مجھ خاکی پیکر کا خط تجھ تک پہنچا دیں۔ اپنی نورانی اور نوری توجہ سے کام لے اور خود میری زبان سے میرا عذر سن۔ او حور وش اور خود مقبولِ الٰہی نازنیں! او غواص دریائے رموز وحدت و کثرت! کیا عجب کہ اپنے نور اور تجرد کی آنکھوں سے تو اس وقت میری ستم زدگی کا تماشا دیکھ رہی ہویا یہ میری آہ و زاری کی جگر دوز آواز تیرے روحانی کانوں تک پہنچ رہی ہو۔ زمرد! مجھے ان لوگوں کے پاس نہ بھیج جن کے فہم و ادراک سے تیری نورانیت اور تیری مقبولیت اور معصومیت کا قصہ بالا تر ہے۔ وہ میرے کہنے کو سچ نہ مانیں گے ، لہٰذا اپنے عشق میں مجھے اس ذلت و رسوائی سے بچا اور اگر بارگاہ لم یزل میں تیری آواز کچھ بھی اثر رکھتی ہو تو مجھے کوشش کر کے اپنے پاس بلا۔ ان پریوں کو بھیج اور جلدی بھیج کہ اپنے تفریح گاہ کو مجھ سے خالی کر لیں۔ میری روح تیرے شوق میں ایک ذبح کیے ہوئے طائر کی طرح تڑپ رہی ہے اور اس مادی پنجرے سے نکلنے کے لیے پھڑکتی ہے۔ او محبت والی نازنین! مجھے کہیں اور نہ بھیج بلکہ اپنے پاس بلا۔\"\nاس قسم کے خیالات ظاہر کرتے ہوئے حسین کا جوش اس قدر بڑھ گیا کہ بے تاب ہو کے زمین پر گرا اور لوٹنے اور تڑپنے لگا۔ اور جب ناتوانی زیادہ ہوئی تو قبر سے لپٹ کر بے ہوش ہو گیا۔ اس اس خط نے اس کا جوش بڑھا دیا تھا اور اس کے دن پہلے سے زیادہ غم و اندوہ میں گزر رہے تھے۔ زمرد نے عالم سروشستان سے جو مراسلت کی تھی اس نے دل کے جذبات یکایک ابھار دیا تھا۔ روز مینونشین معشوقہ کو خواب میں دیکھتا اور روز ایک نیا خیال پیدا ہوتا۔ شاید عالم آخرت کا اتنا علم الیقین کسی مسلمان کو کم ہو گا جتنا کہ فی الحال حسین کو تھا۔دنیا ا س کی نظر میں ہیچ تھی اور اپنے آپ کو عالم نور و ظلمت کے مابین ایک برزخ میں پاتا اور بے صبری و خود فراموشی کے ساتھ چاہتا تھا کہ کسی طرح اس مادی اور جسمانی جامے کو چاک کر کے عالم نور میں جا پہنچے۔جواب دیے کو بھی ایک مہینہ ہو گیا، جس کی ہر گھڑی زمرد کے نئے خط کے انتظار میں گزری تھی، آخر انتظار کا زمانہ ختم ہوا ور ایک اور خط ملا جس کا مضمون یہ تھا:\n\"اے محبوس ظلمت کدہ ارض! میری جستجو میں تو حد سے گزرتا جا تا ہے۔ اور یہ نہ سمجھ کہ مجھ پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ میرے تعلقات تیرے ساتھ روحانی تھے۔ اور یہی سبب ہے کہ اس عالم میں بھی جہاں ہر طرف مسرتیں ہجوم کیے ہوئے ہیں اور خداوند جل و علا نے ایک خاص بعد از فہم و ادراک لذت میرے دل میں پیدا کر دی ہے میں تیری طرف سے اپنا خیال نہیں ہٹا سکتی۔ تیری یاد میں یہ روحانی لذتیں بھی میرے دل سے غم کا کانٹا نہیں نکال سکتیں۔\nخیر اب تو نے پورا امتحان دیا ہے اور کوئی چیز تیرے دل سے میرا خیال نہیں نکال سکتی۔ تو مایوس نہ ہو اور مجھ سے ملنے کا سامان کر۔ یاد رکھ کہ یہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں تو مجھے پا سکے گا۔ میں تجھ سے قریب بھی ہوں اور دور بھی ہوں لیکن جس دروازے سے تو میرے پاس آ سکے گا وہ بہت فاصلے پر ہے اور وہاں تک تو بڑی محنت و ریاضت سے پہنچ سکے گا۔ ا س کام کے لیے تجھے نفس کشی و ریاضت بھی کرنا ہو گی اور بڑے بڑے سفر بھی کرنا پڑیں گے۔ اس طرح بے مرشد وہ رہبر پہاڑوں سے ٹکرانا بے سود ہے ، اور نہ اس رونے دھونے سے کچھ ہو گا۔ اگر مجھ سے ملنے کا سچا شوق رکھتا ہے تو اس وادی سے نکل اور کوہ جودی کی مغربی گھاٹی میں ایک بڑا غار ہے جس میں بڑے بڑے خدا شناس لوگ چلہ کشی کر چکے ہیں۔ لوگ نہیں جانتے مگر مجھے یہاں آ کے معلوم ہوا کہ جس غار میں جناب ابراہیم علیہ اسلام نے کواکب کے طلوع و غروب سے نسخ کر کے خدا کو پہچانا تھا، وہ یہی غار ہے ، اب لوگ اس غار کو ارض شام میں بتاتے ہیں لیکن یہ صریح جھوٹ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا بچپن شام میں نہیں گزرا بلکہ اس سرزمین میں جہاں ان کا وطن تھا اور جہاں نوح علیہ اسلام کی کشتی ٹھہرنے کے بعد ان کی نسل سکونت پذیر ہو گئی تھی۔ اس غار میں تو چالیس دن تک بیٹھ کے چلہ کھینچ اور کوشش کر کہ اس مدت میں ہر چوتھے دن تھوڑی سی نباتی قوت لا یموت پر زندگی بسر کرے۔ یہ بھی ضروری ہی کہ پورے چلے بھر میں صرف ایک صورت تیرے سامنے ہو اور صرف ایک خیال تیرے دل میں۔وہ صورت تو میری ہو اور وہ خیال یہ ان مرشد سے ملنے کا جن کے مریدوں میں شامل ہونے کو تو غار سے نکل کے روانہ ہو گا۔ اس چلے کی تنہائی میں تو اکثر دیکھے گا کہ میں تجھے اپنی طرف بلا رہی ہو؛ مگر خبردار اس خیالی پیکر کے دھوکے میں نہیں آنا۔ کہیں ذرا بھی تیرے قدم کو لغزش ہوئی تو سمجھ لے کہ مجھ سے ملنے کی کوئی امید نہیں۔ چالیس دن کے بعد پچھلی رات کو اس غار اور کوہ جودی کی گھاٹیوں سے نکل کے سرزمین شام کو روانہ ہو اور بغیر اس کے کہ کسی اور جگہ قیام کرے ، بہ خط مستقیم شہر خلیل میں جا۔ وہاں کے مشہور تہ خانے میں حضرت یعقوب و یوسف علیہم اسلام کے جنازے رکھے ہوئے ہیں۔ لوگوں کی آنکھ بچا کے اتر۔ لوگ تجھے روکیں گے مگر ایسی کوشش کر کہ نگہبانوں اور مجاوروں کو خبر نہ ہو اور تو اندر پہنچ جائے۔ چالیس دن تک ان دونوں جنازوں کے درمیان میں بیٹھ کے چلہ کھینچ۔ پھر وہاں سے نکل کے شہر حلب کو جا۔ وہاں محلہ ارامنہ کے عقب میں تجھے ایک چھوٹی سی مسجد ملے گی جو مسجد الشاسمین کہلاتی ہے۔ اس مسجد میں جا کے ٹھر۔ دوسرے ہی دن نماز فجر کی جماعت میں ایک شخص آئے گا جو صوف کے کپڑے پہنے ہو گا۔ اس کے بال لمبے ہوں گے اور ایک سیاہ کملی میں اپنا سارا جسم چھپائے ہو گا۔اس شخص کی چھوٹی ڈاڑھی میں نصف سے زیادہ بال سفید نظر آئیں گے اور اس کا عمامہ سبز ہو گا اس لیے کہ سادات بنی فاطمہ سے ہے۔اس نورستان میں اگرچہ وہ کسی اور معزز خطاب سے یاد کیا جاتا ہے اس عالم عناصر میں اس کا نام الشریف علی وجودی ہے۔ یہ شخص اگرچہ بالکل منکسرانہ مزاج و وضع کا نظر آئے گا مگر اس کی آنکھوں سے ریاضت و نفس کشی اور جذبات روحانی زیادہ ہونے کی وجہ سے شعلے نکلتے ہوں گے۔ خوب یاد رکھ کہ جب تک تو شریف علی وجودی کے سامنے نہ جا پہنچے گا وہ تیری طرف نہ توجہ کریں گے۔ ان بتائی ہوئی نشانیوں سے تو ان کو پہچان لینا اور ان سے حق کا خواستگار ہونا۔یہی شخص تجھ کو مجھ سے ملا سکتا ہے اور اسی کے ہاتھ میں ہماری کامیابی ہے۔ اگر میرا شیدا اور میرا آرزومند ہے تو جب تک مقصد نہ بر آئے شیخ کی خدمت اور غلامی کرنا۔ اگر تو پورے ایک سال تک شریف علی کی خدمت میں رہے گا تو کوئی ایسا موقع ضرور پائے گا جب کہ وہ ایک جوش اور ولولے میں انسان کو ملاء اعلیٰ کی سیر کر دینے کا دعوی کریں گے۔ یہ دعویٰ سنتے ہی ان کے قدموں پر گر کے اپنی دلی آرزو ظاہر کرنا؛ وہ بے شک منظور کریں گے۔ مگر اس کا خیال رہے کہ شیخ کے ہر حکم کی تعمیل خواہ تیری سمجھ آئے یہ نہ آئے بے عذر اور بلا حجت کرنا۔\n\"بہ مے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید\"\nاگر یہ سب مراحل تو نے طے کر لیے اور شیخ کی اطاعت میں پوری سرگرمی اور گرم جوشی دکھا دی تو جان لے کہ میرا آغوش تیرے لیے کھلا ہوا ہے۔ تجھ سے زیادہ میں تیرے لیے حیران ہوں۔بس اب جلدی اس وادی اور میری قبر کو چھوڑ اور مجھ سے ملنے کی کوشش میں استقلال و مستعدی دکھا۔\nتیری دیدا اور مشتاق\nزمرد\"\nحسین اپنے جوش محبت اور وطن و احباب سے متنفر ہو جانے کی وجہ سے زمرد کی پہلی وصیت اور اس کے بعد گزشتہ خط پر عمل نہیں کر سکتا تھا مگر اب اس خط کے بعد ممکن نہ تھا کہ ایک گھڑی بھر کے لیے بھی وہ اس وادی میں ٹھہر سکے۔ زمرد کی محبت اور وفاشعاری یاد آئی، پلے نہایت ہی جوش و خروش کے ساتھ زمرد کی قبر سے رخصت ہوا پھر خط کو کئی بار چوم کے اور آنکھوں سے لگا کے سینے میں دل سے لگا کے رکھا اور کمر باندھ کے چل کھڑا ہوا۔ تنگ و تاریک گھاٹی سے بہ ہزار دشواری سنبھل سنبھل کے نکلا اور اسی مقام پر پہنچا جہاں اپنے اور زمرد کے گدھوں کو درختوں سے باندھ کر چھوڑ گیا تھا۔دونوں گدھے بندھے ہی بندھے سوکھ سوکھ کے سردی و برف باری کے صدمے اٹھا اٹھا کے مر گر گئے تھے۔ ان کی ہڈیاں درخت نے نیچے پڑی ہوئی تھیً۔ مگر یہ دیکھ کے وہ حیران ہوا کی قدیم گدھے کے بدلے اب ایک نیا اور تازہ دم گدھا اُسی درخت میں بندھا اور کسا کھڑا ہے۔ خلاف امید اس سواری کو پا کر اس نے خداوند کریم کا شکریہ ادا کیا جس نے اس عالم نور کے بہت سے رموز سے اسے اسن دینا میں ہی آشنا کر دیا تھا۔ اور آگے کی راہ لی۔ جہاں تک راستہ خراب اور پیچیدہ تھا وہںک تک تو وہ گدھے کا دہانہ پکڑے ہوئے پاپیادہ گیا اور جب صاف اور کشادہ زمین مل گئی تو اس خدا کی دی ہوئی سواری پر سوار ہو کے سیدھا مغرب کی طرف چل کھڑا ہوا۔ چونکہ اس کوہستان کا سلسلہ بھی مشرق سے مغرب کو گیا ہے لہٰذا اس کے دام ہی دام میں بادیہ پیمائی شروع کی اور دو مہینے کی دشت نوردی کے بعد علاقہ آذر بائیجان کے شہر تبریز میں جا پہنچا۔ جہاں سے کوہ جودی دس بارہ دن کی مسافت پر ہے۔ تبریز ایسا با رونق شہر تھا کہ حسین کے دل میں آئی دو دن ٹھہر کے سیر کر لے مگر زمرد کی تاکید یاد آئی اور بغیر اس کے کہ کارواں سرا میں کمر بھی کھولی ہو، آگے کی راہ لی اور دس روز کر دشت نوردی کے بعد کوہ جودی کی سر بہ فلک چوٹی کے نیچے جا کھڑا ہوا۔\nکوہ جودی بہت بلند پہاڑ ہے اور ایران و ایشیائے کوچک بلکہ سلسلہ کوہ قاف کی اکثر چوٹیوں سے زیادہ بلند ہے۔ حسین پہلے ایک بڑا چکر کھا کے اس زبردست اور برف سے ڈھکے ہوئے قلعے کے مشرق پہلو پر نکل گیا اور اس غار کو ڈھونڈنے لگا جس میں اسے چلہ کشی کرنا تھی۔ کئی روز تک چٹانوں اور گھاٹیوں میں ٹکراتے رہنے کے بعد غار ملا۔ دور دور کے گاؤں والے اکثر اس غار کی زیارت اور اس کے تاریک دہانے پر کچھ نہ کچھ چڑھانے کو آتے رہتے تھے جن میں اس کی قدیم برکتوں کے قصے بہت مشہور تھے اور یہود و نصاریٰ اور مسلمان سب اس کو حرمت و ادب کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ انھیں گاؤں والوں میں سے ایک زائر کی زبانی حسین کو اس کے حالات معلوم ہوئے اور سمجھ گیا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں اسے اپنی ریاضت و نفس کشی کا امتحان دینا ہے ، اور جہاں جناب ابراہیم علیہ سلام نے خدا کو پہچانا تھا۔\nدن کو جب حسین اس غار کے دہانے پر پہنچتا ہے اضلاع و جوانب کے چند خوش عقیدہ زائروں کا مجمع تھا۔ شام کو ان کے واپس جانے کے بعد جیسے ہی آفتاب غروب ہوا وہ خدا کا نام لے کر اندر گھسا۔ غار میں جاتے ہی وہ ریاضت میں مشغول ہو گیا اور کوشش کرنے لگا کہ وہاں کی بھیانک تاریکی میں زمرد کی خیالی تصویر کو چراغ بنا کے ہمیشہ نظر کے سامنے رکھے۔ ہر چوتھے دن پچھلی رات کو نکل کے گھاس اور پتوں سے بھوک کی حدت کم کر لیتا اور پھر اسی خلوت کدے میں جا بیٹھتا۔\nآخر چلہ پورا کر کے ہمارے پر جوش نوجوان نے شام کی راہ لی۔ تین مہینے کے سفر کے بعد مقدس خلیل کی عمارتیں نظر کے سامنے تھیں۔ آبادی میں داخل ہو کے سیدھا اس تہ خانے پر پہنچا۔ مگر یہاں نےچی اترنا بہت دشوار تھا اس لیے کہ ہر وقت لوگوں کا مجمع رہتا اور خرابی یہ تھی کہ جو کوئی اس مقدس غار میں اترنے کا ارادہ کرے عام مجاوروں کے عقیدے میں واجب القتل تھا۔ حسین نے اپنے ارادے کو چھپایا اور مجاورین کو دوست بنا کے اس بات کی اجازت حاصل کر لی کہ اترنے کے راستے کو قریب ہی شب باش ہو۔ کئی راتیں جاگ کے کاٹیں مگر موقع نہ ملا۔ اس لیے کہ اکثر لوگ یہاں پاس ہی شب بیداری کرتے تھے اور ایسا کوئی وقت نہ ملتا جب لوگ مصروف عبادت و دعا نہ ہوں۔ دو تین ہفتے کے بعد ایک مرتبہ پچھلی رات کو اٹھ کے دیکھا تو میدان صاف تھ، اور جو لوگ تھے ، سو رہے تھے۔ چپکے چپکے دبے پاؤں تہ خانے کے دروازے پر گیا اور چاروں طرف دیکھ کے جب اطمینان کر لیا کہ کوئی نہیں دیکھ رہا ہے تو بے تکلف نیچے اتر گیا۔\nاس مقام پر جانا بڑی جرأت کا کام تھا۔ ان انبیائے عضام کا رعب ساعت بہ ساعت دل پر غالب آتا جاتا تھا۔ پاؤں کانپ رہے تھے اور دل دھڑکتا تھا۔ تاہم زمرد کا شوق ان تمام دلی کمزوریوں پر غالب آیا اور وہ برابر بڑھتا چلا جاتا تھا۔ بار بار اسے معلوم ہوتا تھا کہ جیسے فرشتے روک رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مقدس جگہ کو اپنے قدموں سے ناپاک نہ کر۔ مگر اس سب خیالات کو مٹا مٹا کے وہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ہاتھوں اور پاؤں سے ٹٹولتا ہوا تہ تک پہنچ گیا۔ رات کا وقت اور پھر وہ تاریک مقام، حسین نیچے پہنچ کے پریشان ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ تو سوجھائی نہیں دیتا ان برگزیدہ پیغمبروں کے جنازے کیوں کر نظر آئیں گے۔ عرصے تک ایک ہی جگہ پر کھڑا سوچتا رہا۔ اور اب دل مضبوط کر کے آمادہ ہوا تھا کہ ٹٹول ٹٹول کے آگے بڑھے ناگہاں صبح کی ہلکی ہلکی روشنی کی شعاعیں اوپر سے پہنچیں اور وہ ٹھہر گیا کہ روز روشن ہولے تو شاید زیادہ آسانی سے اپنے معبودہ مقام پر پہنچ سکوں گا۔ اور یہی ہوا دن کی روشنی نے اندھیرا کم کر دیا اور اسے کئی لاشیں چبوتروں پر رکھی نظر آئیں جن میں سب کے درمیان میں حضرت یعقوب و حضرت یوسف علیہم سلام کے جسم تھے۔ ان کا انتقال چوں کہ مصر میں ہوا تھا لہٰذا قدیم مصریوں کے مذاق پر ان کی ممیاں بنائی گئی تھیں۔۔ جسم تو گلی تابوتوں میں تھے مگر چہرے کھلے ہوئے تھے جن سے اس تاریکی میں عجیب رعب و جلال برستا نظر آتا تھا۔ حسین یہ مقدس چہرے دیکھ کے سر سے پاؤں تک کانپ گیا اور کسی طرح قدم آگے بڑھانے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ چند لمحے تک مرعوب اور سہما کھڑا رہا، مگر پھر جی کڑا کر کے قدم آگے بڑھایا اور دونوں تابوتوں کے درمیان میں جا کے چپکے سے بیٹھ گیا جہاں دونوں با ہیبت چہرے ہر وقت پیش نظر رہتے۔ اور ان کا رعب اس قدر غالب تھا کہ زمرد کے خیال کو وہ بہت مشکل سے آنکھوں کے سامنے متشکل کر سکتا تھا۔ مگر کوہ جودی کے چلے کی کوششوں نے وہ پیاری صورت زیادہ استقلال سے نظر کے سامنے قائم کر دی تھی۔ اور تھوڑی دیر ہی کوشش سے ان دونوں متبرک چہروں کے درمیان وہ اپنی معشوقہ کا چہرہ دیکھ لیا کرتا تھا۔\nالغرض یہاں بھی وہ چلہ کشی میں مشغول ہو گیا۔ مگر یہاں کوہ جودی کے غار کی طرح یہ ممکن نہ تھا کہ کسی وقت نکل کے قوت لایموت حاصل کر لے۔ اس کا اسے پہلے ہی سے خیال تھا اور اس ضرورت سے تھوڑا سا پنیر چادر میں باندھ کر لیتا آیا تھا۔ دو تین ٹکڑے چوتھے دن کھا کر خدا کا شکر گزار ہوتا۔ خدا خدا کر کے یہ چلہ بھی پورا ہوا اور اکتالیسویں رات کو وہ چپکے چپکے اور دبے پاؤں باہر نکلا کہ کسی کو خبر بھی نہ ہو اور وہ حلب کی راہ لے۔ مگر لوگ جاگ رہے تھے جن میں سے بعض اسے پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔ انھوں نے دیکھتے ہی دیکھتے غل مچا کے حملہ کیا اور حسین غار سے نکلتے ہی مجاورین کے ہاتھ میں گرفتار تھا۔ ایک بڑی سخت بے ادبی اور گستاخی کا الزام اس پر لگایا گیا تھا۔اور قریب تھا کہ قتل کر ڈالا جائے مگر اتفاق یا اس کی خوش قسمتی شہر خلیل کا حکمران اسی روز ایک باطنی فدائی کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ لوگ اگرچہ باطنیہ لوگوں سے ڈرتے تھے مگ یہ اتنا بڑا اہم معاملہ تھا کہ انتقام کے درپے ہو گےگ۔ اور باطنیوں کے ایک گاؤں پر تاخت کرنے کا سامان ہی کر رہے تھے کہ باطینوں کا ایک بڑا بھاری گروہ خود ان پر آ پڑا۔سخت قتل و خون ہوا۔ بہت سے لوگ مارے گئے اور اسی بے امنی کی حالت میں حسین مجاوروں کی قید سے چھوٹ کے حلب کو روانہ ہوا۔\nآٹھویں دن شام کے وقت حلب میں داخل ہوا۔ راہ گیروں سے پوچھتا ہوا محلہ ارامنہ میں اور پھر مسجد الشماسین میں پہنچا۔ یہاں آتے ہی کمر کھول دی؛ سر شام ہی کچھ کھا پی لے عشاء کی نماز پڑھی اور پڑ کے سو گیا۔ اگرچہ تھکا ماندہ تھا مگر زمرد کے وصال کا شوق سب پر غالب تھا۔ آدھی رات سے زیادہ نہ گزری ہو گی کہ آنکھ کھل گئی اور صبح تک نماز فجر کے انتظار میں کروٹیں بدلتا رہا۔ صبح کی اذان سے پہلے ہی وضو کر کے تیار ہو گیا اور دروازے پر بیٹھ کے ہر آنے والے کی صورت کا مطالعہ کرنے لگا۔ آس پاس کے مکانوں والے نیند کے خمار میں لّڑکھڑاتے اور ٹھوکریں کھاتے ہوئے آتے اور وضو میں مشغول ہو جاتے۔ حسین کو اکثر لوگوں پر شیخ شریف علی وجودی کی صورت کا گمان ہوتا تھا۔ہر آنے والے میں اگر کوئی ایک علامت ہوتی تو اور علامتیں نہ پائی جاتیں۔ آخر دل ہی دل میں پریشان ہونے لگا اور خود اپنے سے خطاب کر کے چپکے سے کہا: \"مجھے یقین نہیں کہ شیخ کو پہچان سکوں\"۔ یہ جملہ اس کی زبان سے نکلا ہی تھی کہ اسی حلیے اور وضع کا ایک شخص آیا ا س کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کے کھڑا ہو گیا اور مسکرا کے نہایت ہی تسلی و تشفی کے لہجے میں بولا: \"حسین! میں جانتا ہوں کہ تو میری تلاش میں آیا ہے \"\nاتنا سننا تھا کہ حسین قدموں پر گر پڑا اور شیخ شریف علی وجودی کے قدم چوم چوم کے اور ان کے پاؤں کو اپنے آنسوؤں سے دھو دھو کے کہنے لگا: \"یا حضرت! میری مدد کیجیے۔ صرف آپ ہی کی رہبری سے مجھے حق کا راستہ مل سکتا ہے۔ جس صراط مستقیم پر چل کے انسان خدا اور عالم ارواح کو پہچان سکے وہ صرف آپ ہی جانتے ہیں۔\"\nشیخ: (جلال میں آ کے ) اے بحر وجود اور دریائے وحدت کے ذلیل و ناپاک قطرے ! تیرا کیا حوصلہ کہ اس وجود غیر وجوٗد اور اس لاہوت غیر متنوع کی رموز سمجھ سکے ؟\n(١=باطنین کا یہ عقیدہ تھا کہ خدا کی طرف کسی صفت کا منسوب کرنا کفر ہے۔ اور بظاہر جو صفات قرآن میں اس مذکور ہیں وہ اس اعتبار سے ہیں کہ یہ صفات اس نے مخلوق کو عطا کیے۔یعنی خدا کو نور کہیں تو منور بصیر کہیں تو مبصر بصریت دینے والا اور اسی طرح موجود کہیں تو موجود کرنے ولا مراد ہے۔ اسی سے وہ صفات کو منسوب کر کے پھر نفی بھی کر دیا کرتے تھے۔ یعنی کہتے تھے موجود غیر موجود، نور لا نور وغیرہ۔\nحسین: بے شک میری کوئی ہستی نہیں مگر جب آپ کے سے شناورِ بحر وحدت کا ہاتھ پکڑ لوں گا تو کیا عجب کہ اس طوفان خیز دریا سے پار ہو جاؤں۔\nاور رو رو کے پھر سے شیخ کے قدم چومنے لگا۔\nشیخ کا جلال کسی قدر کم ہوا۔ انھوں نے حسین کو ہاتھ پکڑ کے اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔ اپنا سینہ کئی دفعہ خوب روز سے اس کے سینے سے رگڑا اور کہا: \"اچھا آ میرے ساتھ چل؛ میں تیرے ضبط و ظرف کا اندازہ کروں گا، اور جب معلوم ہولے گا کہ تیری طلب کہاں تک صادق ہے ،اس وقت تجھے اپنے حلقہ ذوق میں شریک کروں گا۔\"\nحسین نے یہ سن کے شکر گزاری کے طریقے سے سر اٹھایا؛ شیخ کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور ان کے ساتھ جا کے نماز میں شریک ہوا۔ نماز کے بعد شیخ علی وجودی اسے اپنی خانقاہ میں لے گئے جو شہر سے فاصلے پر ایک غیر آباد مقام میں تھی۔ حسین کو یہ خیال کر کے تعجب ہوا کہ مسجد شماسین کو کیا خاص تخصیص ہے کہ شیخ وہاں فجر کی نماز ادا کرنے کو گئے تھے۔اس کا راز دریافت کرنے کو پوچھا: \"کیا حضرت ہر روز نماز کے لیے اسی مسجد میں تشریف لے جاتے ہیں؟\"\nشیخ: (لاپروائی سے ) نہیں صرف آج ہی گیا تھا!\nحسین: تو شاید کسی خاص کام کے لیے ادھر تشریف لے جانے کا اتفاق ہوا ہو گا؟\nشیخ: (ذرا ہرہمی سے )\"ولا تجسسو (قرآن کی آیت ہے۔ مراد یہ ہے کہ لوگوں کے افعال کی جستجو نہ کیا کرو)!ان رموز معنی کے پیچھے نہ پڑنا چاہیے۔ اگر سچا شوق ہے تو کبھی خود ہی سارا راز کھل جائے گا۔ اب حرف سوال تیرے منہ سے نکل ہی گیا تو لے بتائے دیتا ہوں۔ سن! جو لوگ خدا کے انوار ازلی و سرمدی کا انعکاس اپنے دل پر کرتے ہیں ان کی آنکھوں سے حجاب کا پردہ گر جاتا ہے۔اور جہاں جہاں وہ نور لا نور اپنی کرنیں ڈالتا ہے وہاں ان کی آنکھوں کی شعاعیں بھی پنچے جاتی ہیں۔ میرا یہ جسم مادی اسی خانقاہ میں تھا۔مگر ان آنکھوں کی تیز شعاعیں کوہ البرز کے پہلو میں تھیں جب تو زمرد کی قبر سے لپٹا ہوا رو رہا تھا۔ پھر جبل جودی کے غار ابراہیم میں تھیں جب زمرد کی تصویر تیرے سامنے اور میری جتجود تیرے دل میں تھی۔ پھر یہ شعاعیں اس تیرہ و تار تہ خانے میں تھیں جہاں یعقوب و یوسف علمہ اسلام کے چہروں کے درمیان میں تو زمرد کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ پھر میں نے تیری اس بے کسی کو بھی دیکھا جب تو شہر خلیل کے مجاوروں کے ہاتھ میں اسیر تھا۔ تیری ہی مدد کے لیے میں نے اپنے دوستوں کو بھیجا۔ انھوں نے شہر والوں پر حملہ کر کے تجھے ادھر آنے کا موقع دیا۔ یہ کہتے وقت شیخ کی آنکھیں اس تیزی سے چمکیں کہ حسین بالکل سہہ نہ سکا اور شیخ کے قدموں پر سر رکھ کے ایک مجذوباتی جوش کے ساتھ کہنے لگا: \"آپ سب جانے ہیں کوئی راز آپ سے پوشیدہ نہیں۔ میری آرزو و تمنا بھی آپ کو معلوم۔۔۔۔۔\"\nشیخ: (جوش و خروش سے ) سب جانتا ہوں، مگر ابھی ا س کے اظہار کا وقت نہیں آیا۔ اس شوق کا تیری زبان سے ظاہر ہونا کسی خاص وقت اور خاص حال و کیفیت ہر موقوف ہے۔ بس اب اس وقت خاموش رہنا چاہیے۔\nیہ حکم سن کے حسین اس قدر مرعوب ہوا کہ زمین پر پڑے ہی پڑے کانپنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد شیخ نے اسے اٹھا کے بٹھایا۔ سینے اور آنکھوں پر اپنا دست برکت پھیر کے ا س کے دل کو تسلی دی اور کہا: \"حسین تو میری خانقاہ میں اور خاص میری صحبت میں رہا کر، اور جس قدر زیادہ خدمت کرے گا اور جس مستعدی سے بلا عذر و حجت میرے احکام کی جو اصل میں احکام الٰہی ہیں کی تعمیل کرے گا اسی قدر جلد کامیاب ہو گا۔ مگر یہ خوب سمجھ لے کہ ابھی تیرا ظرف اور تیرا دل اس قابل نہیں ہوا کا تنوعات ربانی اور انقلابات قدرت کے اسباب و علل سمجھ سکے۔ موسیٰ و خضر کا قصہ ہر وقت پیش نظر رکھنا اور یہ یقین کر لے کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے ، نتائج ہمیشہ باطن پر مترتب ہوتے ہیں۔ ظاہر پرست رموز قدرت کو نہیں سمجھ سکتے۔ سزا و جزا روح کے لیے ہے جو باطن پر منصرف رہتی ہے اور ہمیشہ دل کے اندر اور نیت پر حکمران ہے۔ یہ ظاہری ارکان و جوارح اسی مادے میں مل جائیں گے اور یہیں رہیں گے۔ لہٰذا اس کی حرکات کا کوئی اعتبار نہیں۔وہ قاضی و مفتی جاہل و لا نور یزدانی سے دور ہیں جو ظاہری افعال و حرکات پر حکم دیتے ہیں۔ خضر و موسیٰ کے قصے میں اس لاہوت اکبر نے موسیٰ کے کی تائید نہیں کی جو ظاہر پرستی کر رہے تھے ، بلکہ خضر کے موافق فیصلہ کیا جو رموز باطنی اور ارادہ صمدانی کو سمجھ رہے تھے۔ اسی طرح دیکھو ابراہیم علیہ سلام نے جب بی بی کو بہن بتایا تو ظاہر پرست بہت بہت گھبرائے کہ پیمبر کی عصمت میں فرق آ گیا۔ مگر ان کی جہالت ہے۔ خدا ابراہیم علیہ اسلام کے دل کو دیکھ رہا تھا۔\nالحاصل اے حسین! تو خوب سمجھ لے کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے اور خدا باطن کا طرف دار ہے۔ تجھے شیخ اور مرشد کی اطاعت آنکھیں بند کر کے اسی طرح کرنی چاہیے جیسی اطاعت کی خواہش خضر نے موسیٰ سے کی تھی۔ \"\nحسین : (سینے پر ہاتھ رکھ کے ) بے شک میں ایسی ہی اطاعت کروں گا۔ مگر کیا معاصی اور برے کاموں کا بھی بے سمجھے ارتکاب کر لینا چاہیے ؟\nشیخ : (نہایت ہی جلال کے ساتھ اور آنکھیں سرخ کر کے )کیا تجھے یہ گمان ہے کہ مرشد برے کام کا حکم دے گا؟\nحسین: (ڈر کے اور اخلاقی کمزوری کی شان سے ) نہیں لیکن ممکن ہے کہ مرید اور عقیدت کیش کو وہ فعل گناہ نظر آتا ہو؟\nشیخ :ممکن ہے۔ مگر اس کا باطن گناہ نہیں اور نتائج صرف باطن پر مترتب ہوتے ہیں۔\nحسین : مگر اسی باطن پر جو مرتکب اور کرنے والے کے دل میں ہو۔ میں ایک فعل کا ارتکاب کروں تو اس کے نتائج اسی نیت پر مترتب ہونگے جو میرے دل میں ہے۔ اگر مجھے اس کا باطنی اچھا رخ معلوم نہیں تو خواہ مخوہ میری نیت بھی بری ہی ہو گی۔ اور جب میری نیت بری ہو گی تو نتیجہ بھی اس نیت کے مطابق برا ہونا چاہیے۔\nشیخ : (ذرا جوش میں آ کے اور آنکھیں سرخ کر کے ) تو کیا تیرے نزدیک شیخ کی نیت پر شبہ کیا جا سکتا ہے ؟ اور اسی پہلے رازِ لاہوتی کو تسلیم کرنے سے تجھے ان کار ہے ؟\nحسین : (شیخ کے قدموں پر گر کے ) ہر گز نہیں مگر میری یہ باتیں محض اس لیے ہیں کہ \"لیطمئن قلبی (قرآن کی آیت ہے تاکہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جائے )\" اور خدا وہ روزِ بد نہ لائے کہ میں شیخ کی نیت پر شبہ کروں۔\nیہ جواب سن کے شیخ نے حسین کو اٹھا کے سینے سے لگایا اور اس کی پیٹھ پر شفقت کا ہاتھ پھر کے کہا: \"سن! بے شک تیرے دل میں ابھی شکوک آتے ہوں گے مگر اس راہِ باطن میں جو جو قدم آگے بڑھانے کا تجھے نظر آتا جائے گا کہ مرید کی وقعت ایک بے جان آلے سے زیادہ نہیں۔ مرید بعینہ ایک تلوار ہے جس کے قبضے پر شیخ کا ہاتھ ہو۔ اور تو سمجھ سکتا ہے کہ تلوار برے بھلے جس کا سر چاہے اڑا دے۔ مگر الزام یا تحسین کی نسبت تلوار سے نہیں کی جا سکتی، بلکہ یہ چیزیں اسی کی طرف منسوب ہوتی ہیں جو اس تلوار کو ہاتھ میں لیے ہو۔ یقین ہے کہ اب تیرا شک رفع ہو گیا ہو گا اور تو سمجھنے لگا ہو گا کہ مرید کے افعال کا باطنی پہلو شیخ کی نیت سے متعلق ہے نہ خود مرید کے ارادے سے۔ جب اس طرح اطاعت و مستعدی دکھا کے انسان ارادت کے مدارج طے کر چکتا ہے اس وقت ارشاد کے درجے کو پہنچتا ہے اور اسی وقت اس کی نیت قابلِ اعتبار اور بنائے نتائج ہوتی ہے۔ لیکن جب تک وہ ارادت کے درجے طے کر راہا ہے اس کے ارادوں اور اس کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس وقت تک اس کے ہر قول و فعل کا ذمہ دار شیخ اور مرشد ہے۔\"\nحسین: (جوش و خروش سے شیخ کا ہاتھ چوم کر) بے شک بجا ہے۔ اب میری آنکھوں کے سامنے سے حقیقت کا پردہ اٹھ گیا اور مجھے کسی حکم کی تعمیل میں عذر نہ ہو گا۔\nشیخ: \"حسین! مرید کے سر پہ بڑی نازک ذمہ داری ہے اس سے زیادہ نفس کشی کیا ہو سکیم ہے کہ انسان اپنے دل اور اپنی عقل کو اپنے افعال سے بالکل الگ کر دے ؛ مگر تو غور کرے گا تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ احکام الٰہی اور رفتار زمانہ کے بالکل موافق ہے۔ جن کاموں کی تعمیل خضر نے کی اور جن میں موسیٰ سے مدد لی ان کا باطنی پہلو صرف خضر کے دل میں تھا اور موسیٰ کی نیت میں وہ قطعی معاصی و گناہ تھے۔ مگر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ موسیٰ نے گناہ کیا اور اتنے اتنے بڑے کبائر میں شریک ہوئے۔ ایسا کیوں ہوا؛ محض اس لیے کہ اس عالم باطنی میں خضر مرشد اور موسیٰ مرید تھے۔ اس کی تعمیل خود ظاہر پرستوں میں روز ہوتی رہتی ہے۔ طبیب بظاہر نہایت حار بلکہ سمی دوا دیتا ہے اور مریض اگرچہ اس کے منافع سے بے خبر ہے مگر بلا تامل کھا لیتا ہے اور نتیجہ وہی ہوتا ہے اور وہی سمجھا جاتا ے جو طبیب کی نیت میں ہے۔ ماں باپ لڑکے کو کسی کام پر مارتے ہیں ، لڑکا اس کام کو اپنے دل میں اچھا سمجھ کے کرتا ہے مگر ماں باپ اپنے ہی دل اور اپنے ہی خیال کی مضرت کی بنیاد پر مارتے ہیں۔ اور اس مار کا نتیجہ ہر ایک کے نزدیک اچھا۔۔۔۔۔\"\nیہ تقریر ایسی موثر تھی کہ حسین اس سے زیادہ سننے کی تاب نا لا سکا اور ایک نہایت بے خودی کی وضع سے جوش میں آ کے چلا اٹھا: \"بے شک آپ بجا فرماتے ہیں۔ میرے دل کو اطمینان ہو گیا اور کبھی کسی حکم سے سرتابی نہ کروں گا۔\"\nاس علم غیب اور اس مدلل تقریر نے حسین کو شیخ علی وجودی کا ایسا گرویدہ بنا دیا کہ اس کی نظر میں اب سوا شیخ کے اور کسی چیز کی ہستی نہ تھی۔ اس کے کانوں میں ہر وقت شیخ کی آواز گونجتی، اس کی آنکھوں کے سامنے ہر گھڑی شیخ کی تصویر بھرتی اور اس کے دل میں ہر لحہی شیخ کے احکام کا انتظار رہتا۔ زمرد کی تصویر بھی اب اسی طرح ہمیشہ پیش نظر نہ تھی بلکہ کبھی کبھی خانقاہ کے حجرے میں لیٹ کے وہ زمرد کو خیال کی طرف متوجہ ہو کے کہتا: \"پیاری زمرد! تو نے مجھے کہاں بھیجا ہے کہ خود تجھے بھولا جاتا ہوں؟\"الغرض اب پورے کمال کے ساتھ اسے فنا فی الشیخ کا درجہ حاصل تھا۔\nحسین کو ارادت و عقیدت مندیکے ساتھ شیخ کی خدمت کرنے گیارہ مہینے گزر گئے ؛ اس نمانے میں ایک مرتبہ شیخ تین مہینے کے لیے غائب رہے اور کسی ایسے سفر پر گئے جس کو انھوں نے بالکل راز رکھا۔ حسین ا نکی غیر موجودگی میں خانقاہ ہی میں رہا مگر اتنی مدت می اسے معلوم ہو گیا کہ شیخ علی وجودی کے مرید و معتقد کن کن شہروں اور کتنی کتنی دور پھیلے ہوئے ہیں۔ جن کا معمول تھا کہ سال میں ایک مرتبہ دور دراز کا سفر کر کے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور نئے نئے عجیب و غریب احکام سن کے واپس جاتے اور ان کی فوراً تعمیل ہوتی۔ ایک طرف خراسان، مکران، سیستان،فارس، رودبار،آذر بائجان،عراق عرب اور عراق عجم کے مرید آتے اور دوسری طرف عمان،حضرت موت،حجاز،یمن، زنجبار، مصر ، طرابلس الغرب،الجزیرہ اور تمام علاقہ افریقہ و ایشیائے کوچک کے معتقد۔ یہ سب لوگ مختلف وضع و لباس میں ہوتے اور پوشیدہ ہی پوشیدہ اکثر راتوں کو شیخ سے مل کے صبح ہونے سے پہلے ہی چلے جاتے۔ حسین اس امر کو نہایت ہی وقعت کی نظر سے دیکھتا کہ شیخ کے خوشہ چین اور ارادت مند کن کن اقطاع عالم میں پھیلے ہوئی ہیں اور اتنے بڑے اژر اور حکومت کے ساتھ بظاہر کس سادگی اور بے نفسی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔\nایک رات کو شیخ کے گرد دس بارہ مریدوں کا مجمع تھا، حسین بھی نہایت ہی ادب کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھا تھا اور شیخ کی زبان فیض ترجمان بہت بڑے بڑے رموز حکمی اور روحانی کھول رہی تھی۔ ایک شخص نے جو مصر سے آیٰا ہوا تھا ادب سے مگر شک کرنے کے لہجے میں کہا: \"میری سمجھ میں نہیں آتا کہ انسان جب اس جسم خاکی کو اسی خاک دان میں چھوڑ جاتا ہے تو جنت کی مسرتوں میں اسے کیوں کر لطف آتا ہے ؟\"\nاس کے جواب میں شیخ نے کسی قدر برہمی سے کہا: \"بعینہ ایسے ہی جس طرح کہ تم دنیا میں اس جسم کے ساتھ مزہ اٹھاتے ہو\"\nشخص : کیوں کر؟ جب لذت اور درد تو صرف جسم کے لواحق میں سے ہیں؟\nشیخ : (ذرا اور جوش میں آ کے ) روح تو بے جسم ہوتی ہے مگر اسے معلوم یہی ہوتا ہے کہ گویا جسم میں ہے۔\nشخص : یہ کیوں کر ہو سکتا ہے ؟ جب مادے کی کثافت ہی نہیں تو اسے متشکل اور متحیزکون چیز کرتی ہے ؟\nیہ سن کے شیخ کی برہمی اعتدال سے زیادہ ہو گئی۔ انھوں نے حسین کو پکار کے قریب بلایا اور کہا: \"بتا جب تو کوہ البرز کی گھاٹی،کو جودی کے غار اور شہر خلیل کے تیرہ و تار تہ خانے میں تھا اس وقت تجھے میرے وہاں موجود ہونے تیری حالت دیکھتے رہنے کا یقین ہے ؟\"\nحسین: (سینے پر ہاتھ رکھ کے ) بے شک ہے۔ گو میری ناتواں آنکھیں نہ دیکھتی ہوں مگر حضرت کا جلوہ ضرور موجود تھا ورنہ وہاں کے رموز حضرت کو کیوں کر معلوم ہو سکتے۔\nیہ سن کے شیخ نے ذرا فخر وناز کی شان سے گرد کے لوگوں کو دیکھا اور سب کے بعد اس شخص کے چہرے پر جس نے شک کیا تھا اپنی تیز نظریں جما دیں۔ مگر ا س کے دل کو ابھی اطمینان نہیں ہوا تھا۔ شیخ علی وجودی کی اتنی برہم مزاجی دیکھ چکنے پر بھی معترضانہ طریقے سے بول اٹھا: \"بے شک آپ وہاں موجود ہونگے اور حسین کے ہر حال کو دیکھ رہے ہوں گے مگر صرف آپ کی روح تھی اور متشکل نہیں ہوئی تھی۔ ایسا ہوتا تو حسین آنکھوں سے بھی آپ کے نورانی جلوے کو دیکھ لیتا۔\"\nیہ سنتے ہی شیخ کو تاب نہ رہی؛ زرو میں آ کے اٹھ کھڑے ہوئے ، آنکھوں کی چمک دو چند ہو گئی منہ میں کف بھر آیا ور اس شخص کی طرف دیکھ کے کہا: \"یہ مشت خاک نہایت ہی سرکش ہے یہ اس نور لا نور کے شہود و وجود کو نہ سمجھتی ہے اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ کسی کو یہ راز بھی نہیں معلوم کہ دنیا کیوں ہے اور یہ روح لطیف اس پیکر خاکی میں ایک مدت تک کیوں قید رکھی جاتی ہے ؟ اس کا راز مجھ سے سنو۔ میں وہ شخص ہوں جو سروشستان اور عالم لاہوت کا ایک آن میں دورہ کرتا ہوں۔ اور ان رموز کو جو اس اولی تنوع نور لاہوتی یعنی عرش اعلیٰ کے اطراف میں لکھے ہیں پڑھ آتا ہوں۔ اصل یہ ہے کہ جسم میں آنے سے پیشتر روح مجرد میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ کسی مادی مسرت سے لطف اٹھا سکے۔ اس وقت وہ محض مفر ہوتی ہے اور حظوظ و لذائذ سے فائدہ یاب ہونے کے طریقوں سے بالکل بے خبر۔صرف اسی چیز کا سبق لینے کے لیے وہ اس جسم خاکی میں رکھی جاتی ہے۔ وہ حدود زمانہ جسے تم زندگی کہتے ہو اور ہم روحوں کے کمال حاصل کرنے کا مدرسہ صرف اسی لیے ہے کہ روح لطیف اس مادے کے ساتھ علائق پیدا کر کے ہر قسم کی لذتوں اور ہر قسم کے الموں سے اتنی آشنائی پیدا کر لے کہ اس سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی جب چاہے اپےم آپ کو متحیزو متشکل اور لذت و الم سے متاثر کر سکے۔ جس طرح کوئی شخص مدارج روحانی طے کرنے کے بعد یہ صلاحیت اور قوت حاصل کر لیتا ہے کہ اس جسم میں رہنے کی حالت میں بھی اپنے آپ کو غائب یا روح مجردہ کی طرح غیر متشکل و غیر متحیز بنا لے اسی طرح روح انسانی عموماً اس جسم خاکی کے حجرے میں بند ہو کے اتنا چلہ کھینچ لیتی ہے کہ اس کے چھوڑنے کے بعد بھی جب چاہے اور جیسی شکل میں چاہے نمودار اور آشکارا ہو جائے۔ بہت سے با کمال بزرگوں یا شہیدوں کو سنا ہو گا کہ ان کے جسم تو قبر کے کونے میں پڑے سڑ رہے تھے مگر روح اکثر لوگوں کی نظر کے سامنے اپنی سی یا کسی دوسری شکل میں نمودار ہو گئی۔ صرف ایک روح ہے جس نے بغیر جسم میں آئے اس کمال کو حاصل کر لیا۔ اس سے مراد جبرائیل علیہ سلام ہیں جو کبھی وحیہ کلبی اور کبھی دیگر پیکروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے نمودار ہوئے۔ مگر اس راز کا جاننے ولا اس عالم میں میرے سوا کوئی نہیں کہ جبرائیل نے یہ کمال روح کیوں کر حاصل کیا۔ سنو! مسیح کی ولادت کو اسی رمز سے تعلق ہے۔ جبرائیل ہی تھے جو مریم صدیقہ کے جسم میں حلول کر کے مسیح کو صورت میں متحیزہوئے اور تھوڑے ہی زمانے میں اپنا روحی کمال حاصل کر کے چلے گئے۔ مسیحیوں کو دھوکا ہوا کہ خدا تھا۔ مگر نہیں، وہ صرف ایک روح تھی جو ایک جسم سے جس میں دوسری روح بھی موجود تھی ، کمالات جسمانی حاصل کر کے آسمان پر چلی گئی۔ مسیح کو روح ایک دوسری روح تھی جو اس کے جسم میں تھی۔ مگر اسی کے ساتھ جبرائیل کی روح بھی ان کے پیکر میں اتر کے چند روز رہی اور مسیح کے جسم سے الوہیت کی شان نمودار کر کے غائب ہو گئی۔ مردوں کو زندہ کر دینا یہ مسیح کا کام نہ تھا بلکہ صرف جبرائیل کی ملکوتی وقت کا مشہور و مسلم نتیجہ تھا جس کا تجربہ لوگوں کو موسیٰ کے عہد میں بھی ہو چکا تھا(بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ سلام نے بحر قلزم میں قدم بڑھائے تو فرعون نے تعاقب میں بڑھنا چاہا مگر اس کا گھوڑا نہ بڑھتا تھا۔ پھر جبرائیل ایک گھوڑی پر سوار نمودار ہوئے اور بڑھے جن کے ساتھ فرعون کا گھوڑا بھی آگے بڑھا۔ سامری نے جبرائیل کی گھوڑی کے قدم کے نیچے کی مٹی اٹھا کے رکھ لی تھی اور اس مٹی کے ڈالنے سے وہ گوسالا بولنے لگا جس کی بنی اسرائیل نے پرستش کی تھی۔)۔ مگر جن کو خدا نے چشم بینا نہیں دی آج بھی نہیں سمجھ سکتے اور مسیح کے اس معجزے کو یاد کر کے پریشان ہوتے ہیں۔ الغرض یہ متحیز اور متشکل ہو سکنے کا کمال ہے اور جس کے حاصل کرنے کے لیے ہر روح دنیا میں آئی ہے اور یہاں سے جانے کے بعد اسی کمال کے مطابق جنت و دوزخ میں اپنے کردار کا جزا و ثواب پاتی ہے۔\nتم میرے کمالات سے ناواقف ہو۔ میں وہ شخص ہوں کہ خود ہی نہیں بلکہ ہر شخص کو اس ملاء اعلی پر پہنچا کے وہاں کی ہر چیز دکھا سکتا ہوں۔ اور میرے اختیار میں ہے کہ متبہ کے روحانی پیکروں کو اس جسم خاکی کے سامنے لا کے کھڑا۔۔۔۔۔۔\"\nشیخ نے یہیں تک کہا تھا کہ حسین روتا اور التجا کرتا ہوا ان کے قدموں میں گرا اور کہا: \"یا حضرت! مجھے کسی مسئلے میں شک نہیں مگر اتنی تمنا کے کہ اس سروشستان اور جنت میں ہو آؤں۔ وقت آ گیا کہ اپنی التجا آُ پکے سامنے پیش کروں اور یقین ہے کہ محروم نہ رہوں گا۔\"\nحسین دیر تک شیخ کے قدموں پر لوٹتا رہا، مگر شیخ اس قدر جوش میں بھے ہوئے تھے کہ چند ساعت تک خاموش کھڑے رہے ، پھر اس کو اٹھا کے بٹھایا اور کہا: \"حسین ! میرے اس وقت کے جوش سے تو نے بہت بڑا فائدہ اٹھایا۔ خیر، اب اس وقت تو تامل کر؛ کل تنہائی میں پھر درخواست کرنا۔ بے شک وقت آ گیا ہے کہ تجھے اس محنت و ریاضت کا پھل ملے۔ مگر ابھی تیرا امتحان باقی ہے اور سخت امتحان۔ مجھے ابھی دیکھنا ہے کہ تو نے کہاں تک اپنے آُ پکو مرشد کے ہاتھ میں دیا ہے اور یاد رکھ کہ جس قدر تجھے مرشد کا حکم بجا لانے میں تامل ہو گا اسی قدر اپنا مقصد حاصل کرنے میں دیر ہو گی۔\"\nسب مرید رخصت ہو کے چلے گئے ؛ حسین بھی اپنے بچھونے پر لیٹا۔ مگر یہ رات اسے نہایت ہی انتظار و اضطراب سے بھرپور لگی اس لیے کہ \"آتش شوق تیز تو گر دد\" کا مضمون تھا۔ صبح کو نماز کے بعد جیسے ہی شیخ شریف علی وجودی نے وظیفے سے فراغت پائی،اور اد ختم کر کے بیٹھے ہی تھے کہ حسین جا کے قدموں میں گر پڑا اور چلایا: \"اب زیادہ صبر کی تاب نہیں۔ آپ کو سب حالات خود ہی معلوم ہیں۔ مجھے کہنے کی بھی ضرورت نہیں۔ مگر خدا کے لیے زمرد سے جلدی ملائیے۔\"\nشیخ: بہتر تو زمرد سے ملے گا اس کے وصل سے کامیاب ہو گا۔ مگر اس کے لیے اچھی طرح تیار ہے ؟\nحسین: دل و جان سے تیار۔\nشیخ: دیکھ تجھے تامل نہ ہو؟\nحسین: ذرا نہیں۔\nشیخ: تیرے دل میں شک اور بد عقیدگی پیدا نہ ہو؟\nحسین: ہر گز نہیں۔\nشیخ: جرات کا کام ہے !\nحسین: میں جان لڑا دوں گا۔\nشیخ: اس میں خطرے بھی ہیں؟\nحسین: ہوں۔\nشیخ: تو سن!\nحسین: ارشاد؟\nشیخ: یہی نہیں دل مضبوط کر لے۔\nحسین: خوب", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A8%DB%81_%D9%85%DB%92_%D8%B3%D8%AC%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D8%B1%D9%86%DA%AF%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D9%86_%DA%AF%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%D8%B1_%D9%85%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D9%88%DB%8C%D8%AF"} {"title": "فردوس بریں/فردوس بریں", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر > فردوس بریں", "year": null, "text_ur": "حسین کو نہیں‌خبر کہ یہ غفلت کتنی دی تلک اُس پر طاری رہی،لیکن مدہوشی تھوڑی تھوڑی کم ہوئی تھی اور نشۂ غفلت اُترنا شروع ہوا تھا کہ ایک نہایت ہی دل کش اور وجد پیدا کرنے والے نغمے کی آواز کان میں آئی اور ایسا معلوم ہوا کہ گویا دل فریب و دلربا پری پیکروں‌کا ایک طائفہ عجیب و غریب اور انتہا سے زیادہ پر لطف باجوں‌اور مزامیر کے ساتھ اپنے نور کے گلوں سے ولولہ خیزی اور بہار کی مسرت انگیز دھن میں‌یہ ترانہ مبارکباد گا رہا ہے کہ \"سلام علیکم طبتم فادخلوھا خالدین\"۔ ایک جوش مسرت کی بے اختیاری سے اس نے گھبرا کے آنکھیں کھول دیں۔ ہر طرف ایسا سماں‌نظر آیا کہ جدھر نظر جاتی ہے \" کرشمہ دامن دل میکشد کہ جا ایں جاست\"۔\nحسین نے اس وقت اپنے آُ پکو اس حالت میں‌پایا کہ ایک طلا کار اور مرصع کشتی میں سوار ہے اور نازک بدن پری جمال لڑکوں کی کوشش سے وہ کشتی ایک پتلی مگر بہت ہی دل کش نہر کے کنارے ابھی ابھی آ کے ٹھہری ہے۔ نرم اور نظر فریب سبزے کو شفاف اور پاک و صاف پانی اپنی روانی میں چومتا ہوا نکلا جاتا ہے۔ بعض مقامات پر گنجان اور سایہ دار درخت ہیں‌جو پیچیدہ اور خم دار زلفوں‌کی طرح‌نہر کی گوری مگر خم آلود پیشانی پر دونوں‌طرف سے جھک پڑے ہیں مگر جہاں پر کشتی آ کے کنارے لگی ہے وہاں‌ایک کشادہ مرغزار ہے۔ ان خوبصورت ملاحوں‌کے کہنے کے بموجب وہ کشتی سے اتر کے سبزہ زار کی سیر کرنے لگا۔ وہاں جا کے دیکھا تو اور حیرت ہوئی۔ پانی کے پاس ہی سبزے کا ایک پتلا اور برابر حاشیہ چھوڑ کے شگفتہ اور خوش رنگ پھولوں‌کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو نہر کے دونوں‌جانب حد نظر تک پھیلتے چلے گئے ہیں۔ اگرچہ پھولوں‌میں‌شادابی و خوش رنگی کی وہی شان ہے جو صرف خودرو پھولوں‌میں‌نظر آتی ہے مگر اس قدرتی بہار کے ساتھ یہ لطف بھی ہے کہ نہایت ہی لیاقت بلکہ بظاہر مافوق‌العادت ہوشیاری و دانائی سے چمن بندی کی گئی ہے۔ چمنوں‌کی بعض‌قطاریں تو ایسی ہیں‌ جن میں‌ایک ہی قسم اور ایک ہی رنگ کے پھول ہیں‌اور معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک ہی قوم اور ایک ہی وردی کی فوج مختلف کمپنیوں پر تقسیم ہوتی حد نظر تک چلی گئی ہے۔ مگر اکثر چمن ایسے ہیں‌ جن میں‌مختلف رنگ کے پھولوں‌کو ترتیب دے کے زمین پر ایسی ایسی گلکاریاں‌کی گئی ہیں‌کہ عقل انسانی حیرت میں آ جاتی ہے۔ سارا مرغزار اور ساری وادی جو کوسوں‌تک پھیلی ہوئی ہے اور جسے خوب صورت ،متوازی اور سرسبز و شاداب پہاڑوں‌نے اپنے حلقے میں‌کر لیا ہے ، از سر تا پا ان ہی چمنو‌ں‌اور پھولوں سے بھری ہے۔ اور مختلف نہریں‌جو آبشاروں‌کی شان سے اور پانی کی چادریں‌بن بن کے پہاڑوں‌سے اتری ہیں اور انھی ہی چمنوں‌اور پھولوں‌کے درمیان‌میں‌جابجا بہ رہی ہیں۔ اور ان کے پانی نے خواہ پھولوں‌کو خوش بو سے متاثر ہوکے یا کسی اور وجہ سے گلاب اور کیوڑے کی شان پیدا کر لی ہے۔ یہ نہریں‌زبان حال سے پکار پکار کے کہہ رہی ہیں‌کہ ہم ہی تسنیم و سلسبیل ہیں۔ راستوں‌اور روشوں کی ترتیب میں‌یہ معجز نما کیفیت پیدا ہو گئی ہے کہ ہر چمن کے ایک پہلو کو نہر دھوتی ہے تو اس کے دوسرے پہلو کو ایک چھوٹی سی خوش نما سڑک اپنے آغوش میں‌لیتی ہے۔یہ سڑکیں‌چمن سے بھی زیادہ کمال صناعی دکھا رہی ہیں۔ مختلف قسم اور مختلف رنگ کے سنگریزوں سے ان سڑکوں‌کی تعمیر میں‌کام لیا گیا ہے اور ہر سڑک پر ایک خاص رنگ کے سنگ ریزے بچھا کے کوئی سڑک فیروزے کی،کوئی زمرد کی،کوئی یاقوت کی اور کوئی نیلم کی بنا دی گئی ہے۔ پھر ترتیب میں‌یہ لطف ہے کہ جس رنگ کے پھولوں کا چمن ہے اسی کے مناسب و موزوں رنگ کی پتلی خوش نما سڑک اس کے پہلو سے گزری ہے۔ نغمہ سجن طیور ان چمنوں‌میں‌اڑتے پھرتے ہیں،پھولوں‌کے قریب بیٹھ بیٹھ کے عشق و محبت کی داستان سناتے ہیں اور خدا جانے کس کمال استادی سے تعلیم دی گئی ہے کہ اکثر آنے جانے والے جہاں‌دیگر اطراف سے پری پیکروں کے نوران گلوں‌سے خیر مقدم کا ترانہ سنتے ہیں،وہاں‌اس نغمہ سنج طیور کا بینڈ بھی اپےے قدرتی ارغنون سے یہی کلمۂ خیر مقدم سناتا ہے کہ \" سلام علیکم طبتم فادخلوھا خالدین\"۔\nحسین نے نہایت ہی جوش و حیرت سے دیکھا کہ ان ہی چمنوں‌میں‌جابہ جا نہروں‌کے کنارے کنارے سونے چاندی کے تخت بچھے ہیں جن پر ریشمی پھول دار کپڑوں کا فرش ہے۔ لوگ پر تکلف اور طلائی گاؤ تکیوں‌سے پیٹھ لگائے دل فریب اور ہوش ربا کم سن لڑکیوں‌کو پہلو میں‌لیے بیٹھے ہیں اور جنت کی بے فکریوں سے لطف اٹھا رہے ہیں۔خوب صورت خوب صوت آفتِ روزگار لڑکے کہیں‌تو سامنے دست بستہ کھڑے ہیں‌اور کہیں‌ نہایت ہی نزاکت اور دل فریب حرکتوں‌سے ساقی گری کرتے ہیں۔ شراب کے دور چل رہے ہیں اور گزک کے لیے سدھائے یا قدرت کے سکھائے ہوئے طیور پھل دار درختوں‌سے پھل توڑ توڑ کے لاتے ہیں اور ان کے سامنے رکھ کے اڑ جاتے ہیں۔پھل ہی نہیں ، یہ خوش نما طیور کپڑوں‌میں‌لپٹے کبابوں‌کی پوٹلیاں‌بھی لاتے ہیں اور ان لوگوں‌کے لیے مے کشی و شاہد پرستی کا پورا سامان فرام کر دیےر ہیں۔ سب سے زیادہ جس چیز نے حسین کو متوجہ کیا وہ یہ بات تھی کہ یہ سب لوگ بے غل و غش نہایت بے فکری و اطمینان سے ان لذتوں‌کے مزے لوٹ رہے تھے اور خبر بھی نہ ہوتی تھی کہ پاس سے کون گزرتا ہے اور انھیں‌کس نظر سے دیکھتا ہے۔ نہ کسی کو کسی سے حسد تھا اور نہ کسی کو کسی لطف کے چھپانے کی ضرورت تھی:\nبہشت آنجا کے آزارے نباشد\nکسے را با کسے کارے نباشد\nیہ عالم دیکھ کے حسین کے کے دل میں‌ایک جوش و ولولہ پیدا ہوا۔ اس نے کسی قدر بلند آواز میں‌ کہا: \" بے شک فردوس بریں‌یہی ہے ! یہیں‌آکے نیکوں‌کاروں اور ایمان داروں کو اپنے اعمال نیک کا صلہ ملتا ہے۔ مگر افسوس! اے زمرد تو کہاں۔۔۔۔۔؟\" یہ جملہ ناتمام ہی تھا کہ پاس کے چمن کے پھولوں‌کے نیچے سے ایک شیریں‌ و دلکش آواز میں‌کسی نے کہا: \"‌تو ابھی جنت کے چمنوں‌ہی کو دیکھ رہا ہے ، ذرا محلوں اور قصروں‌کو بھی نظر اُ‌ٹھا کے دیکھ!\" پہلو سے تو اس نے یہ آواز سنی اور سامنے سے ایک نہایت ہی نازک اندام اور قیامت خرام نازنین نے آ کے گلے میں‌بانہیں ڈال دیں اور مسکرا کے کہا:\"میں‌بھی تیرے لیے ہوں۔\" حسین ذرا جھجک کے اس سے علیحدہ ہوا اور غور سے اس کو صورت دیکھ کے کہا:\"مگر میں‌پیاری زمرد کے سوا کسی کو نہیں‌چاہتا؛ بتاؤ وہ کہاں‌ہے ؟\"\nنازنین: وہ بھی مل جائیں‌گی۔ آُ پ کی خوشی کا پیمانہ تنگ ہے۔ ذرا ان سرمدی مسرتوں‌سے نگاہ اور دل آشنا ہولیں‌تو اُن سے ملیے گا۔وہ جو سامنے موتی کا قصر ہے ، آپ ہی کے لیے ہے اور زمرد اسی میں‌ ہے۔\nحسین نے نظر اٹھا کے اس رفیع‌الشان قصر کو دیکھا اور اس کے ساتھ ہی اس کی نظر دیگر عمارتوں‌پر بھی جا پڑی اور اُسے نظر آیٰا کہ یہ عمارتیں باغوں‌سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہیں۔ بعض بالکل سونے کی،بعض‌چاندی کی،بعض‌مونگے کی اور بعض‌موتیوں‌کی نظر آتی ہیں۔ یہ تمام مکانات جو حسب حیثیت محل، قصر اور کوشک کے لفظ سے تعبیر کیے جا سکتے ہیں۔مذکورہ اشیا کے علاوہ ان میں‌کوئی فیروزے کا،کوئی زمرد کا،کوئی یاقوت کا اور کوئی ہیرے کا ہے۔ موتی کے محل جن میں‌سے ایک خاص حسین کے لیے ہے ،کچھ ایسے آب دار رنگ میں‌رنگے ہوئے ہیں کہ نیچے سے اوپر تک ایک ہی موتی میں ترشے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ان میں‌جابجا صدف صادق کے جھلکتے ہوئے ٹکڑے جڑے ہیں۔تمام محلوں‌پر علاوہ اس رنگ کے جس کی طرف وہ محل منسوب ہیں، ہر در و دیوار کے گرد بلور اور شیشے کے ٹکڑوں‌کا حاشیہ بنا ہوا ہے اور ان شیشیوں‌کے نیچے ڈاک دی ہوئی ہے۔ یہ آئینے دن کو آفتاب کی ضو میں‌اور رات کو ہزارہا کافوری شمعوں کی روشنی میں‌اس قدر جگمگا اٹھتے ہیں‌کہ تیز سے تیز نگاہ خیرگی کرنے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ ان ہی دیواروں‌میں‌اندر باہر جواہرات بھی جڑے ہیں‌جو اپنی کرنیں‌چمکا چمکا کے ایک عجیب لطف پیدا کرتے ہیں۔ بہر تقدیر اس مجموعی سامان ، سنہرے ،روپہلے اور رنگ برنگ قصروں، ان کے آئینوں‌اور جواہرات نے ہر چہار طرف ایک ایسی نور کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے کہ نظر پڑتے ہی انسان کے دل میں ایک جوش اور ولولہ پیدا ہو جاتا ہے۔\nحسین ان محلوں‌کو دیکھ کے ذرا تھوڑی دیر تک تو مبہوت کھڑا رہا مگر ہوش آتے ہی اس خاص‌محل کی طرف دوڑا جس کی نسبت اس پری پیکر حور کی زبانی سنا تھا کہ خاص اس کے لیے ہے اور جس میں پیاری زمرد کے ملنے کی امید تھی۔اب اس کے جذبات دلی اور اس جوش و خروش سے زمرد کی طرف متوجہ تھے کہ اس نے کسی چیز کی طرف نظر نہ اٹھائی، نہ کس سامان عشرت کو دیکھا اور سیدھا اس قصر دُری کے دروازے پر جا پہنچا۔ زمرد بھی استقبال کے لیے محل سے باہر نکل آئی تھی اور ایک غیر معمولی مگر نہایت دل ربا وضع سے بال کھولے اور زلفوں‌کو شانوں‌اورپیٹھ پر بکھرائے کھڑی تھی۔ آنکھیں‌دوچار ہونا تھیں کہ بے اختیاری جوش میں‌ایک دوسرے کا نام نکلا اور دوڑ‌کے لپٹ‌گئے۔ حسین تو محو حیرت تھا ہی،زمرد کے چہرے سے بھی ایک غیر معمولی مسرت و جوش اور کسی قدر حیرت کے آثار نمایاں‌تھے۔ دیر تک دونوں‌لپٹے رہے اور حسین دل کی پر جوش حرکت سے بے اختیار ہوکے رونے لگا۔ اس کی سانس سے رونے کا پتا پا کے زمرد نے اپنے آپ کو علیحدہ کیا اور کہا: \" حسین یہاں‌رونا حرام ہے ،بس اب آنسو پونچھ ڈالو۔\"\nحسین: (آنسو پونچھ کے )زمرد! یہی فردوس بریں‌ہے ؟\nزمرد\" یہی!\nحسین: تم یہاں‌چلی آئیں‌اور مجھے اسی درد و الم میں چھوڑ دیا؟\nزمرد: یہ میرے اختیار کی بات تھی؟ مجھے تو ایک اتفاقی شہادت نے یہاں‌پہنچا دیا مگر تمہاری زندگی باقی تھی اور ضرور تھا کہ اتنے مدارج وہ مراحل طے کر کے یہاں‌آؤ۔ مگر سچ کہتی ہوں‌کہ اس جنت میں بھی تمھارے فراق نے کبھی چین نہ لینے دیا۔ کیا کہوں‌کن دشواریوں‌ سے مجھے اتنی اجازت ملی ہے کہ تمھیں‌اپنے پاس آنے کا راستہ اور طریقہ بتاؤں۔\nحسین: میرے تو ایسے اعمال تھے کہ شاید مر کے بھی یہاں‌نہ پہنچ سکتا؛ صرف تمھاری محبت تھی جو خضرِ طریقت بن کے لائی۔\nزمرد: لیکن اگر تمھارے دل میں‌طلب صادق نہ ہوتی تو میں کیا کر سکتی تھی؟\nحسین:‌مگر اس طلب سے یہ تھوڑا ہی ممکن تھا کہ میں اس ملاء اعلیٰ میں آ پہنچتا۔میں‌تو دل میں‌ٹھان چکا تھا کہ اس قبر کے پاس اور اس چٹان کے سامنے جس پر تمھارا پیارا نام کندہ ہے ، پڑے پڑے دم توڑ دوں‌گا۔\nزمرد: خیر یہ باتیں‌تو ہوتی ہی رہیں‌گی،اب اندر چل کے آرام سے بیٹھو، شراب طہور کے دو ایک جام پیو اور دیکھو اس خداوند جل و علا نے تمھارے لیے کیسے کیسے سامان راحت اور کیسی کیسی لذتیں فراہم کر رکھی ہیں۔۔\nیہ کہہ کے زمرد حسین کو اندر لے گئی۔\nجس وقت حسین نہر کے کنارے کشتی سے اُترا ہے۔ سر شام کا وقت تھا، مگر اب رات ہو گئی تھی۔ ہر طرف کافوری شمعیں‌روشن ہوئیں اور ایک خاص قسم کی ٹھنڈی روشنی جس کا پتا نہ چلتا تھا کہ کہا‌ں سے آتی ہے اور کیوں‌کر پیدا ہوتی ہے ،دروازوں،بلند کھڑکیوں‌اور چھت کے روشن دانوں‌سے رہ رہ کے چمک اُٹھتی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ گویا یکایک ہزار ہا مہتابیاں‌چھوڑ دی گئیں۔اس تیز روشنی میں شمعیں‌ماند پڑ جاتی تھیں اور پیارے ہم صحبتوں‌کا چہرہ ایک دوسرے کو زیادہ بھلا اور دل فریب نظر آنے لگتا تھا۔ اس غیبی روشنی کو حسین نے حیرت سے دیکھا اور دریافت کرنے کے لیے کہ یہ کیسی روشنی ہے ،وہ بار بار دروازے سے جھانک کے باہر دیکھتا مگر کچھ حال نہ کھلا؛ صرف اتنا معلوم ہوا کہ اس روشنی کا مرکز و منشا گرد کی پہاڑیوں‌کی چوٹیوں‌پر ہے ، جہاں‌وہ زیادہ چمکتی ہے اور وہیں‌سے اس کی کرنیں آ کے تمام مکانات کو روشن کر دیتی ہیں۔ ایک یہ بات بھی اس نے دیکھی کہ یہ روشنی جب پوری تیزی اور کمال پر آ جاتی تو چاروں‌طرف سے لوگ چلاّ اٹھتے : \" ہٰذا الذی ما وعدی ربی\" بلکہ سب کے ساتھ ایک بے اختیاری کے جوش میں‌ یہی کلمہ خود حسین کی زبان سے بھی کئی بار نکل گیا۔ جب اس روشنی کا راز حسین کے حل کیے حل نہ ہو سکا تو اس نے زمرد سے پوچھا\" یہ کیسی روشنی ہے ؟\"۔\nزمرد: تم نے نہیں‌پہچاناِ یہی تو وہ نور الٰہی ہے جو موسیٰ کو وادیِ ایمن میں‌نظر آیا تھا۔ تم نے قرآن و احادیث میں‌پڑھا ہے کہ جنت میں‌خدا کا دیدار ہو گا،اُس سے یہی نور عبارت ہے۔\nحسین: تو یہی خداوند جل و علا ہے ؟\nزمرد: یہ تو نہیں‌کہہ سکتے مگر ہاں‌اس کے تنوع اولیٰ کی سب سے زیادہ مکمل اور سچی تصویر یہی ہے۔\nیہ جواب سن کے حسین اس نور کے سامنے سجدے مین گر پڑا مگر زمرد نے اُٹھایا اور کہا: \" یہاں‌عبادت کی تکلیف نہیں؛ یہ نور صرف اس غرض‌سے ہے کہ لوگوں‌کے دل میں اطمینان کی مسرت پیدا ہو۔\"\nاب حسین نے مکان کے فرش اور تمام سامان کو دیکھا اور اُسے یقین ہو گیا کہ یہ سب نوری سامان ہے جو دنیا میں‌نہ کبھی انسان کے دل میں گزرا ہے اور نہ کسی کے قیاس و گمان میں آ سکتا ہے۔زمرد اس کے ہاتھ میں ہاتھ دیے یہاں‌کی تمام عجوبہ چیزیں اُسے دکھاتی پھرتی تھی،اور ہر چیز پر وہ خدائے ذوالجلال والاکرام کی قدرت و مرحمت کا جوش و خروش سے اعتراف کرتا۔اور آخر پھرتے پھرتے ایک مقام پر رک کے وہ نہایت گرم جوشی کے ساتھ زمرد سے لپٹ گیا اور کہا: \" یہ سب لطف اور یہ سارے سامان عیش ہیں‌مگر زمرد میرے لیے کوئی تجھ سے بڑی نعمت نہیں ہو سکتی۔\"\nزمرد: یہی محبت تمھیں‌یہاں‌لائی ہے ،ورنہ یہ وہ مقام ہے جہاں‌کسی زندہ انسان کا بہت کم گزر ہوا ہے۔یہ تمھاری بڑی فضیلت ہے کہ اس جسم خاکی کے استھ اس نورستان میں آ پہنچے۔\nحسین کو جنت میں پھرتے اور زمرد کے حسن و جمال سے فائدہ اٹھاتے ایک پورا ہفتہ گزر گیا اور یہ ہفتہ اس حالت میں‌ گزرا کہ دل کش اور نشاط انگیز نغموں‌کی آواز اکثر کانوں‌میں‌گونجتی رہتی،اور بہت سی حوریں‌اس کی خدمت کو حاضر تھیں اور سب پری جمال و زاہد فریب تھیں، مگر اُسے زمرد کے سوا کسی سے کچھ علاقہ نہ تھا۔ ہر وقت زمرد کی بغل میں ہاتھ رہتا اور دونوں‌ہمیشہ فرحت بخش وادیوں اور روح افزا مرغزاروں‌میں‌ٹہلتے رہتے۔ زمرد نے اتنے ہی زمانے میں اسے یہاں‌کی تمام نزہت گاہیں‌اور سب دل چسپ مقامات دکھا دیے۔ ایک مرتبہ حسین نے کہا: \" زمرد!میں‌تو سنتا تھا کہ جنت میں‌ہمیشہ صبح‌کا وقت رہتا ہے مگر آ کے دیکھا تو یہاں‌بھی وہی دنیا کے سے تغیرات زمانہ موجود ہیں۔؟\"\nزمرد:‌اس امر میں‌لوگوں‌سے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہر وقت صبح‌رہتی ہے اس کا یہ مطلب نہیں‌کہ اور کسی وقت کا لطف انسان‌اٹھا سکتا ہی نہیں ایسا ہو تو جنت سے ایک بڑا لطف اٹھ جائے اصل مطلب یہ ہے کہ یہاں‌ہر وقت کوئی ایسا مقام ضرور مل جائے گا جہاں‌انسان جس وقت کا چاہے لطف اٹھا لے۔\nحسین: یہ کیوں‌کر؟\nزمرد: زبان سے کہنے کی نہیں، میں چل کے تمھیں‌آنکھوں‌سے دکھائے دیتی ہوں۔\nیہ کہہ کے زمرد اسے ساتھ لیے ہوئی قصر دُری سے باہر نکلی اور کہا: \" دیکھو‌ یہاں‌دوپر کا سماں، اب آگے چلو۔ تھوڑی دیر بعد دونوں ایک ایسے درختوں‌سے گھرے ہوئے سبزہ زار میں پہنچے جہاں‌ آفتاب کی روشنی کو درخت روکے تھے۔ہر طرف سے اندھیرا جھکا ہوا تھا اور مشرق قلہ ہائے کوہ سے ایک ہلکی ہلکی روشنی نمودار تھی۔ زمرد یہاں ‌پہنچ کے بولی: \" دیکھو یہ صبح کا وقت ہے ؛ ہے نا؟\"\nحسین:‌بے شک ہے۔\nزمرد: آگے چلو۔\nیہاں‌سے روانہ ہوکے تھوڑی دیر میں‌دونوں‌ایک ایسی چھوٹی سے وادی میں‌ پہنچے جو ہر طرف سے پہاڑیوں‌میں‌گھری ہوئی تھی۔ یہاں‌بھی درختوں‌نے حفیف تاریکی پیدا کر دی تھی اور ذرا فاصلے کے مقامات پر ہلکا ہلکا دھواں‌اُٹھتا نظر آ رہا تھا؛ کہیں‌کہیں‌چراغ جلنے لگے تھے ؛ طیور کے چہچہانے کا شور بلند تھا۔ اور مغرب کے قلے پر آفتاب غروب ہونے کی سی شعاع نظر آ رہی تھی۔ زمرد نے یہاں‌رک کے کہا\" اور یہ شام ہوئی۔\"\nحسین: اس میں‌کسے شک ہو سکتا ہے !\nزمرد : دن کا سماں دیکھ چکے ،صبح دیکھ چکے اور شام بھی دیکھ لی؛ صرف رات کالطف باقی ہے ، چلو وہ بھی دکھائے دیتی ہوں۔\nیہاں سے واپس آ کے زمرد حسین کو لیے ہوئے ایک پہاڑ‌کے غار میں‌داخل ہوئی جہاں‌نہایت خوبی سے ایک نشیبی راستہ بنا ہوا تھا۔ زینے نہ تھے بلکہ زمین جو پختہ،مسطح اور رنگ برنگ تھی، ساعت بہ ساعت نیچی ہوتی جاتی تھی۔ اسی زمین دوز راستے میں جاتے جاتے دونوں‌ایک نہایت ہی عالی شان اور پر تکلف قصر میں پہنچے جس میں‌ہر جگہ کافوری شمعیں‌روشن تھیں۔ جھاڑ اور فانوس کثرت سے لٹک رہے تھے اور درودیوار پر بلور اورشیشیے کے رنگ برنگ ٹکڑوں‌کو ان شمعوں‌کی شعاعیں‌کچھ ایسی عجیب و غیرب روشنی سے چمکا رہی تھیں کہ نظر خیرہ ہوئی جاتی تھی۔\nزمرد: دیکھو یہ رات ہے اور کیسی پیاری رات!\nحسین: پیاری زمرد! اگر تو ساتھ ہوتو ہر چیز پیاری ہے۔\nیہ سب سامان دیکھ کے دونوں‌اپنے قصر میں واپس آئے اور باہم عشق و محبت کی باتیں کرنے لگے ، مگر پیشتر کے برخلاف زمرد اکسی قدر افسردہ سی تھی۔ اس کے چہرے سے ظاہر ہواتا تھا کہ گو زبردستی کوشش کرکرے چہرے کو بشاش بناتی ہے مگر اندر سے دل بیٹھا جاتا ہے۔حسین نے اس امر کو حیرت سے دیکھا ور کہا: \" زمرد! اس فردوس بریں‌میں‌بھی آج تم مجھے ملول نظر آتی ہو؟\"\nزمرد: نہیں، مگر ہاں! گزشتہ مفارقت کسی کسی وقت یار آ جاتی ہے تو خواہ مخواہ دل بھر آتا ہے۔\nحسین: مگر خدا نے وہ مصیبت کاٹ دی اور اب امید ہے کہ ہم دونوں‌ہمیشہ یوں‌ہی ایک دوسرے کے وصل سے لطف اٹھاتے رہیں‌گے۔\nزمرد:‌خرا کرے ایسا ہو، مگر حسین ابھی مجھے اس کی امید نہیں۔\nحسین: (حیرت سے ) امید نہیں؟ یہ جنت ہے جس کے لطف سرمدی و ابدی ہیں۔یہاں‌کسی دشمن کا اندیشہ ہو سکتا ہے ،نہ کسی حاسد کا حسد۔ پھر نا امیدی و حسرت نصیبی کا کیا سبب؟\" و لا تقنطوا من رحمۃ اللہ۔\"\nزمرد: بے شک، مگر حسین تم یہاں‌قبل از وقت آئے ہو اور ابدی اور سرمدی لطف اُ ٹھانے کے لیے وہی لوگ آتے ہیں جو مرنے کے بعد دنیا سے قطع تعلق کر کے آئیں۔تم نے ابھی اسی مادی دنیا کے علائق قطع نہیں کیے اور اُ‌س مادی جسم کو ساتھ لائے ہو جس کو وہیں دنیا میں چھوڑنے کے لے تمھیں‌ایک دفعہ اس عالم میں‌ضرور جانا ہے۔ دیکھو حضرت مسیح (ع) یہاں‌زندہ آئے اور اب تک ہیں‌مگر انھیں کبھی کسی لطف میں‌پوا مزہ نہیں‌آتا،اس لیے کہ جانتے ہیں‌یہ قفس عنصری چھوڑنے کے یے ایک مرتبہ دنیا میں پھر جانا ہے۔ اصل یہ ہے کہ کثافت مادہ اس نورستان میں‌رہ ہی نہیں‌سکتی۔\nحسین: افسوس! پھر میں‌کب جاؤں گا؟\nزمرد: جب حکم ہو جائے ، مگر مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جلدی جانا پڑے گا، اس لیے کہ وہاں‌کی کئی شدید ضرورتیں تمھیں‌بلا رہی ہیں۔\nحسین یہ سن کے آبدیدہ ہو گیا اور نہایت ہی جوش دل سے ایک آہ سرد کھینچ کے بولا: \" آہ! روئے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شد! مجھے تو ابھی تیرے وصال کا بھی لطف نہیں‌حاصل ہوا۔ مگر زمرد مجھ سے تو اب نہ جایا جائے گا۔ اب اس وقت سے میں ہر وقت تیرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے رہوں‌گا تاکہ کوئی مجھے تجھ سے جدا نہ کر دے۔\" یہ سن کے زمرد بھی آبدیدہ ہو گئی اور بولی: \" حسین! یہ امر تمھارے اختیار سے باہر ہے۔ جب وقت آئے گا خبر بھی نہ ہو گی، اور ادنیٰ غنودگی تمھیں‌وہاں‌پہنچا دے گی۔\"\nحسین: (روکر) پھر اب تو مجھ سے تمھارے فراق کی مصیبت برداشت نہ کی جائے گی۔ جاتے ہی اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالوں گا اور تم سے چھوٹے ایک گھڑی بھی نہ گزری ہو گی کہ تمھارے پاس آپہنچوں‌گا۔\nزمرد: کہیں ایسا غضب بھی نہ کرنا۔ خود کشی کر لی تو جنت تم پر حرام ہو جائے گی۔ پھر تو قیامت تک بھی ملنے کی امید نہ رہے گی۔\nحسین: ( زور سے سینے پر ہاتھ مار کے )‌ہائے مجھ سے کیوں‌کر زندہ رہا جائے ا۔ زمرد! خدا کے لیے کوئی تدبیر بتا ورنہ یہ سمجھ لے کہ ہمیشہ کے لیے مایوسی ہے ،اس لیے کہ اب میں‌دنیا میں‌جا کے زندہ نہیں‌رہ سکتا۔ ہزار روکوں‌مگر میرا خنجر میرے سینے پر اُٹھ ہی جائے گا۔اچھا! اگر یہ نہیں‌تو تم بھی میرے ساتھ چلو؟\nزمرد: یہ تو کسی طرح‌ممکن ہی نہیں۔ حسین! یہ نہ سمجھو یہ میں‌اپنے بس میں۔۔۔۔۔۔۔\nاتنا ہی لفظ زبان سے نکلا تھا کہ کانپنے لگی اور اٹھ کے ادھر اُدھر دیکھا کہ کوئی سن تو نہیں‌رہا ہے ، مگر جب کوئی نظر نہ آیا تو اطمینان سے آ کے پاس بیٹھ گئی اور بولی: \" حسین! اب ان باتوں سے کوئی فائدہ نہیں،تمھارا واپس جانے کا وقت آ گیا۔\nحسین: (بے صبری سے چلاّ کے ) آ گیا؟ ابھی سے ؟ نہیں‌میں‌ابھی نہیں جاؤں‌گا۔ یہ کہ کے زمرد کودونوں‌‌ہاتھوں‌ سے بھینچ کے پکڑ لیا۔\nزمرد: ان باتوں سے کوئی فائدہ نہیں۔ جتنی زیادہ بے صبری دکھاؤ گے ، اتنے ہی زیادہ خراب ہو گے۔ اس وقت تنہائی میں باتیں‌کرنے کا ذرا موقع مل گیا ہے ، غنیمت سمجھو اور جو کچھ کہتی ہوں‌سنو؛ کوئی آ گیا تو یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔ پھر عمر بھر کف افسوس ملو گے ؛ ساری دنیا میں‌بھٹتے پھرو گے اور مطلب نہ نکلے گا۔\nحسین: ( اپنے آپ کو سنبھال کر) اچھا سنتا ہوں۔ پیاری زمرد تم ہی کوئی تدبیر بتاؤ گی تو کام چلے گا۔ ورنہ۔۔۔۔۔۔۔مگر یہ جملہ نہیں‌پورا ہونے پایا تھا کہ جی بھر آیا اور زار و قطار رونے لگا۔\nزمرد: ( اپنے نازک ہاتھ سے اس کا منہ بند کر کے ) کیا غضب کرتے ہو! خدا کے لیے سنبھلو؛ دنیا میں جا کے جی بھر کے رو لینا، مگر ابھی میری ایک بات ذرا ہوش و حواس درست کر کے سن لو۔\nحسین: ( نہ رکنے والے جوشِ گریہ کو روک کے ) کہو پیاری زمرد! دل و جان سے سن رہا ہوں۔\nزمرد: یہاں‌سے جانے ک ے بعد پہلے تو تم کوشش کرنا کہ وہی لوگ جن کی مدد سے اس دفعہ یہاں‌آئے ، انھیں‌لوگوں‌کی اطاعت کر کے اور انھیں‌خوش کر کے پھر یہاں‌آنے کا موقع پاؤ۔اپنی حاجت روائی کے لیے تم ان کے کسی حکم سے انحراف نہ کرنا۔ لیکن اگر وہ تمھیں‌یہاں‌دوبارہ بھیجنے کا کسی طرح‌وعدہ نہ کریں‌اور سب طرف سے مایوس ہو جاؤ‌تو پھر اسی وادی میں آ کے ٹھہرنا جہاں‌میری قبر ہے اورجہاں‌خط بھیج کے میں‌نے تمھیں‌یہاں آنے کی تدبیر بتائی تھی۔\nحسین: کوہ طالقان میں\nزمرد: ہاں ہاں‌وہیں۔ اگر تم ایک مہینے تک وہاں‌ٹھہرو گے تو میں‌پھر کوئی تدبیر بتاؤں‌گی۔ دیکھو خبردار کسی کو خبر نہ ہو کہ میں‌نے وہاں‌بلایا ہے۔\nحسین: مگر پیاری زمرد! وہ تدبیر اسی وقت نہ بتا دو کہ یہاں‌سے جاتے ہی اُس پر عمل درآمد شروع کر دوں؟\nزمرد: افسوس! تم نہیں‌سمجھ سکتے۔ بس تمھیں وہی کرنا چاہیے جو میں‌بتاتی ہوں۔ وہ تدبیر اس وقت بتانے کی نہیں۔\nحسین:‌دیکھوں‌اب کتنے دنوں‌ٹھوکریں‌کھانی پڑتی ہیں۔\nزمرد: صبر کرو اور ضبط سے کام لو! اور خبردار ایسی کم زوری اور بزدلی نہ دکھانا کہ خود کشی کا ارادہ کر لو۔\nحسین: میں‌اسی کو ڈرتا ہوں۔ پیاری زمرد! تیرے عشق میں‌بعض‌وقت نہ اپنے ہوش میں‌ہوتا ہوں‌اور نہ اپنا نیک و بد سمجھتا ہوں۔ یہ تیرے ہی لیے تھا کہ میں نے اپنے چچا اور شیخ‌وقت امام نجم‌الدین نیشا پوری کو قتل کر ڈالا۔\nزمرد: جانتی ہوں مگر اس میں مجھ کو نہ شریک کرو (کچھ آہٹ‌پا کے )بس اب خاموش ہو رہو۔\nناگہاں چھ سات حوریں‌ناز و انداز سے قدم رکھتی ہوئی سامنے آئیں‌اور محبت کے لہجے میں حسین سے کہنے لگیں: \"‌اب چلے کے باہر کی سیر کیجیے اور ان نورانی تختوں‌پر جلوہ افروز ہو جےو جو چمنوں‌کے درمیان‌میں‌ میں‌ہیں۔ اس وقت کی بہار دیکھنے کے قابل ہے اور شرابِ طہور کے جاموں‌میں‌خاص مزہ ہے۔\"\nحسین:‌میں‌تو یہاں‌تنہا ہی اچھا ہوں۔\nزمرد:‌تو وہاں‌چلے چلنے میں کیا مضائقہ ہے ؟ چلو مین بھی ساتھ چلتی ہوں۔\nحسین: اگر تمھاری بھی یہی مرضی ہے تو مجھے کا عذر ہو سکتا ہے !\nرشتۂ در گردنم افگندہ دوست\nمہ برد ہر جا کہ خاطرخواہ اوست\nچلو!\nاتنی دیر میں‌اورسب حوریں بھی آ گئیں اور زمرد حسین کو ساتھ لیے قصر دُری کے باہر نکلی۔ سب کے سب لالہ زار کے درمیان‌میان طلائی تختوں‌پر جا کے بیٹھے۔ تخت کے دونوں‌جانب دو حوض‌تھے جن میں‌ایک میں‌میٹھا دودھ بھرا تھا ور دوسرے میں‌شراب ارغوانی چھلک رہی تھی اور بغیر کہے صرف واقعات سے یقین دلایا جاتا تھا کہ ایک حوض‌کوثر اور دوسرا شراب طہور کا حوض‌ہے۔ سامنے چند حوریں‌ بیٹھ کے عجب دل ربا ور وجد میں لانے والی دھن میں‌گانے لگیں۔دو چار غلمان یعنی خوب صورت کم عمر لڑکے سونے کے جام و صراحی لا کے کھڑے ہو گےے اور نغمہ و سرود کے ساتھ دور بھی چلنے لگا۔ دو چار جاموں‌نے حسین پر از خود رفتگی کی کیفیت پیدا کر دی اور جب وہ اس عالم نور کو بے خودی کی نیم باز آنکھوں‌سے دیکھ رہا تھا،اُسے نظر آیا کہ زمرد ایک ہاتھ تو اس کے گلے میں ڈالے ہے اور دوسرے ہاتھ سے ایک چھلکتا ہوا جام اس کے منہ سے لگا رہی ہے۔حسین اس لطف صحبت کا دل ہی دل میں‌مزا اُٹھا کے اس جام کو پی گیا مگر پینے کے بعد معلوم ہوا کہ جیسے زمرد کی آنکھوں‌سے موتوں‌کی طرح‌آنسو ٹپک رہے ہیں۔ بے خودی کے جوش میں‌پیاری دل ربا کی دل دہی کے لیے بڑھنے ہی کو تھا کہ مدہوش گر پڑا۔ بس اس کے بعد اسے اپنے پرائے کی خبر نہ تھی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "فردوس بریں/مردودِ ازلی", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر > فردوس بریں", "year": null, "text_ur": "قلعہ التمونت کے پھاٹک پر حسین کو روکا گیا اور چوں کہ اندر داخل ہونے کا اجازت نامہ پیش نہیں‌ کر سکا، لہٰذا وہی خط جو شیخ علی وجودی نے دیا تھا اس سے لے کے پہلے قلعہ دار کے پاس بھیجا گیا، پھر رکن الدین خور شاہ کے ملاحظے میں‌پیش ہوا،جو ان دنوں‌تمام باطنین کا امام اور علی ذکرۃ السلام کا پوتا تھا۔خور شاہ کا ہنوز عنفوان شباب تھا مگر چوں کہ ان لوگوں کے عقیدے میں امام پیدا ہوتے ہی امام ہوتا ہے ، لہٰذا اس کے تقدس و وجاہت میں نو عمری سے کوئی فرق نہیں آنے پاتا۔ ان کے نزدیک اگر رتبۂ اما متحاصل ہو تو ایک چھ برس کا بچہ اور ساٹھ برس کا بوڑھا دونوں‌یکساں معصوم ہیں اور دونوں‌کے احکام یکساں واجب التعمیل ہیں۔یہ سلطنت اور مذہب دونوں حسن بن صباح کی بے نظیر کوششوں سے قائم ہوئے تھے جس کو اب ڈیڑھ سو برس گزر چکے ،اور باوجود یکہ دنیا میں بڑے بڑے انقلابات ہو گےہ مگر اس خاندان کا وہی دور دورہ رہا۔ بعض دلیر اور اولو العزم حملہ آوروں نے دو ایک مرتبہ یہاں‌کی پولیٹیکل قوت کو ضرر پہنچا دیا مگر مذہبی اثر اب پہلے سے بھی زیادہ ترقی پر ہے اور اتمونت کا قلعہ اسی طرح‌محفوظ اور مامون چلا آتا ہے جس پر مخالفت کے ساتھ کوئی پرندہ بھی پر نہیں‌مار سکتا۔\nمذہبی مقتدائی کا تاج تو یہاں‌کے تاج داروں‌کے سر پر ابتدا ہی سے تھا مگر علی ذکرۃالسلام کے عہد سے یہ لوگ اپنے آپ کو امام اور یادگار خاندان بنی فاطمہ بھی کہنے لگے اس لیے کہ ذکرۃ السلام نے دعویٰ کیا کہ میں جب بچہ تھا،نزار بن مستنصر فاطمی کے پوتے سے مخفی طور پر بدل لیا گیا۔اس وقت سے ان لوگوں‌نے علانیہ امامت کا دعویٰ کر دیا اور اب اپنے آپ کو نور محض اور لوہوت و ناسوت کا برزخ ظاہر کرتے ہیں۔جو لوگ بادشاہ یا امام کے احکام کو بے عذر و بے حجت آنکھیں بند کر کے بجا لاتے ہیں اور جن کے خنجر سے سارا زمانہ کانپ رہا ہے ،فدائی کہلاتے ہیں۔اور ان کی یہ حالت ہے کہ مقتدا اور فرمانروا کے حکم پر جان دینا اور‌خودکشی کر لینا بھی ذریعۂ نجات سمجھتے ہیں۔انھیں‌فدائیوں‌کی وجہ سے جو رعب داب رکن الدین خور شاہ کے دربار میں‌ہے ،شاید اس عہد کے کسی بادشاہ کے دربار میں‌نہ نظر آتا ہو گا۔یہاں‌کسی کی اتنی مجال بھی نہیں‌ کہ بادشاہ کے سامنے بے ادبی و مخالفت کا خیال بھی دل میں‌لا سکے۔\nشیخ علی وجودی کا خط دیکھتے ہی حسین کو باریابی کی اجازت دی گئی۔بڑے بڑے قوی ہیکل اور مہیب شکل و شمائل کے فدائی اُسے پکڑ کے خور شاہ کے سامنے لے گئے۔حسین نے سامنے جا کے جےسل ہی فرمانروائے التمونت کی صورت دیکھی دوڑ کے قدموں‌پر گر پڑا اور چلایا: \" ہٰذا امامی! ہٰذا امامی!\"رکن الدین اس کو اٹھانے کے لیے جھکنے ہی کو تھا کہ اہل دربار میں‌سے بعض ممتاز لوگوں‌ے اسے اٹھا کر کھڑا کیا اور کہا: ‌\"‌بے شک یہی امام زمانہ اور نور محض ہیں‌مگر ادب و صبر سے کام لو اور جو التجا ہو پیش کرو۔\"\nخور شاہ: اے نوجوان آملی!تجھ میں‌کیا بات ہی کہ وادیِ‌ایمن تیری انتہا سے زیادہ تعریف کرتے ہیں؟ وہ تیرے علم و فضل کے بھی مداح‌ہیں‌اور تیری بہادری و جان بازی کے بھی؟\nحسین: (ادب سے زمیں چوم کے )صرف اس سبب سے کہ میں‌نے ان کی خدمت گزاری میں موئی دقیقہ نہیں‌اٹھارکھا،اور کبھی اس بحر حقیقت کے حکم سے انحراف کرنے کی جرات نہ کی۔\nخور شاہ: اور اب شیخ‌نے یہاں‌کس غرض‌سے بھیجا ہے ؟\nحسین: یا امام قائم قیامت! میں فردوس بریں‌کو ایک نظر اور دیکھنا چاہتا ہوں۔\nخور شاہ: (غور کر کے ) ابھی تک تو ان اشعات انوار لم یزلی سے یہی آواز آ رہی ہے کہ \"لن ترانی!\"\nحسین: مگر امام قائم قیامت کی توجہ نے شفاعت کی تو ممکن نہیں کہ میری آرزو بر نہ آئے۔\nخور شاہ: اے بوالہوس پیکر خاکی! ابھی اس کے متعلق تجھے کسی قسم کی امید نہیں‌دلائی جا سکتی۔\nیہ کہ کے خور شاہ ایک اور شخص کی طرف متوجہ ہونے کو تھا کہ حسین نے آب دیدہ ہوکے اور نہایت ہی پر درد اور مایوسی کی آواز میں‌کہا: \"تو اس ادنیٰ جانثار کو بار گاہ امامت سے اجازت ملے کہ اسی آستانے پر ٹھہر کے اس وقت کا انتظار کرے جبکہ یہ آرزو بر آئے گی۔آئندہ عید قائم قیامت کے موقع پر وادیِ‌ایمن بھی ہاں‌تشریف لائیں گے۔ کیا عجب کہ اس دن جب کہ میرے مرشد اور امام یکجا ہوں گے اور مخلوق کو خالق یا پرتو کو نور سے زیادہ قوت فربت ہو گی،میری دعا قبول ہو جائے۔\"\nخور شاہ: اچھا ٹھہرو،مگر یہ خیال رہے کہ یہاں ‌کے امتحان زیادہ سخت ہیں۔\nحسین: میں‌ہر قسم کا امتحان دینے کو تیار ہوں۔\nخور شاہ نے اس کے بعد دوسرے شخص کی طرف توجہ کی اور پوچھا \"دیدار! تم کب آئے ؟\"\nدیدار: ( ہاتھ جوڑ کے ) آج ہی صبح‌کو!\nخور شاہ: اور جس کام کے لیے گئے تھے و پورا ہو گیا؟\nدیدار: میرا خنجر کبھی خالی گیا ہے ؟ اگرچہ یہ مہم دشوار تھی مگر میں‌جنت کے شوق میں‌وہاں‌پہنچا اور امام کے حکم کو نہایت ہی کامیابی کے ساتھ پورا کیا۔\nخور شاہ: ہاں‌بیان کرو تم نے چغتائی خان کو کیوں‌کر قتل کیا؟\nدیدار: یا امام قائم قیامت! ترکستان میں اس جاں‌نثارکا نام متقہ تھا۔ وہاں‌کی مختلف صحبتوں‌میں‌شریک ہوکے فدوی نے اسی ہر دل عزیزی پیدا کی کہ منقو خان چغتائی خان بہادر کے بیٹے کے دل میں‌مجھ سے ملنے کا شوق پیدا ہوا۔اس نے مجھے بلوا کے اپنے گھر میں‌رکھا اور کئی مہینے تک یہ حالت رہی کہ جب تک میں‌یہ ہوتا کسی بات میں‌اس کا دل نہ لگتا۔اس نے مجھے اپنے باپ سے ملایا۔اب چغتائی خان بھی میری باتوں ‌کا دیوانہ تھا۔\nچند روز بعد دونوں‌باپ بیٹوں‌کا میرے سوا کوئی انیس و جلیس نہ تھا۔چغتائی اپنی ذات سے ایسا زبردست اور قوی واقع ہوا تھا کہ اس پر حملہ کر کے کامیاب ہون مجھے نہایت دشوار نظر آیا اور اسی وجہ سے مجھے کئی مرتبہ موقع ملنے پر بھی جرات نہ ہوئی۔آخر ایک روز رات کو جب کہ ہلاکو خان کسی بڑی مہم سے واپس آیا تھا اور منقو خان اس کے ملنے کو گیا تھا،چغتائی خان مجھے تنہا سوتا ہوا مل گیا۔ اس سے زیادہ مناسب موقع ملنے کی امید نہیں ‌ہو سکتی تھی۔میں‌نے چپکے ہی چپکے پہلے ا س کے ہاتھ پاؤں باندھے اور پھر سینے پر چڑھ کے اس کا کام تمام کیا۔ چغتائی خاں ‌کے قتل کے بعد میں واپس چلا آتا،مگر مجھے حکم تھا کہ ان لوگوں‌کو یہ بتا بھی دوں کہ چغتائی خاں کے قتل کی وجہ کیا ہے۔اس غرض‌کے لیے ان تمام حالات کو ایک خط میں‌لکھ کر میں نے پہلے ہی اپنے پاس رکھ لیا تھا،اب اسی خط کولے کر ہلاکو خان کی فرودگاہ کی طرف چال، خوش نصیبی سے چغتائی خاں ‌کی بیٹی راستے میں‌مل گئی جو ہلاکو خاں سے مل کے اپنے گھر کو آ رہی تھی۔رات کے اندھیرے میں‌میں‌نے وہ خط اس کے ہاتھ میں‌چپکے رکھ دیا ور بھاگ کے قریب کے جنگل میں‌چھپ رہا۔صبح دوسرے دن مجھے معلوم ہوا کہ قراقرم(تاتاریوں کا قدیم دارالسلطنت جو کاشغر کے قریب ہے ) ماتم کدہ بنا ہوا ہے اور ہر شخص کو میری جستجو ہے۔بعد موقع پا کے میں نے ایک غار میں‌ پناہ لی اور پورے آٹھ دن اسی حالت میں‌چھپا بیٹھا رہا۔نویں‌دن جب میدان خالی نظر آیا تو اس غار سے نکل کر ادھر کو روانہ ہوا،جس کے تین مہینے بعد اب آستاں‌بوسی کی عزت حاصل کر رہا ہوں۔\nخور شاہ: بے شک دیدار تم نے بڑا کام کیا اور مستحق ہو کہ تمھیں‌آج ہی جنت کی سیر کرائی جائے۔\nیہ سنتے ہی دیدار بادشاہ کے قدموں پر گر پڑا،گمر خور شاہ نے خود اسے اپنے ہاتھ سے اٹھایا اور ساتھ لے جانے کو تھا کہ حسین نے از خود رفتگی کے جوش کے ساتھ کہا: \"اے بے رحم بادشاہ!میں سب سے زیادہ جنت میں جانے کا آرزومند ہوں۔اگر یوں‌نہیں‌تو میرا کوئی امتحان ہو۔ بتایا جائے کہ میں‌بھی کسی کو قتل کروں، مگر آہ!زمرد کے فراق میں‌صبر نہیں ہو سکتا۔\nخور شاہ: ابھی نہ تمھارا امتحان لیا جا سکتا ہے اور نہ تم کو باغ فردوس میں‌جانے کا کوئی استحقاق ہے۔\nحسین: ( جوش و خروش سے )‌مجھ سے زیادہ کوئی مستحق نہیں! میں‌نے امام نجم‌الدین نیشاپوری کی زندگی کا چراغ‌گل کیا ہے ،امام نصر بن احمد کے خون میں‌ہاتھ رنگ چکا ہوں،اب اس کے بعد بھی کیا کوئی مجھ سے زیادہ مستحق ہو سکتا ہے ؟میں صرف اپنی بے صبری کی وجہ سے مستحق نہیں‌بلکہ ایک میں و نشین حور بھی میرے لیے حیران و پریشان ہے۔\nیہ گستاخانہ جمہ سنتے ہی سب لوگ چونک پڑے۔بعض‌حسین پر حملہ کرنے کو جھپٹے۔ قریب تھا کہ گرد کے قوی ہیکل غلام اس کی بوٹیاں اڑا دیتے ،مگر خور شاہ نے خود ہاتھ کے اشارے سے سب کو روکا اور نہایت ہی متانت کے ساتھ حسین کی طرف دیکھ کے بولا: \"اس گستاخی اور بدتمیزی کی سزا میں تم سے کہا جاتا ہے کہ فوراً قلعے سے باہر نکل جاؤ،اور تم ہرگز اس کے مجاز نہیں‌کہ اس فردوس بریں کی پاک زمیں تمھارے قدم سے ناپاک کی جائے۔تمھاری سزا قتل تھی،چند ایسے اسباب ہیں‌جن کی وجہ سے میں‌تمھارے قتل تو مناسب خیال نہیں‌کرا۔مگر اب یہ نہیں‌ہو سکتا کہ تم اس قلعے میں اک گھّی کے لیے بھی ٹھہرنے پاؤ۔\"\nحسین کو فوراً اپنی گستاخی کا خیال آیا۔ ایک بے اختیاری کی شان سے وہ زمیں پر گر پڑا ور عاجزی کے لہجے میں‌رو و کے کہنے لگا: \" یا امام قائم قیامت! میری خطا معاف ہو! میں‌جوش عشق میں‌بے اختیار و بے خود ہو گیا تھا۔\" لیکن بالکل شنوائی نہ ہوئی۔ خور شاہ دیدار کو لیے ہوئی اپنے محل میں‌ چلا گیا۔اور اس کے جاتے ہی لوگوں‌نے حسین کو زبردستی قلےش سے دھکے دے کے قلعے سے نکال دی۔ اُس نے ہزار منت و سماجت کی مگر ایک پیش نہ گئی، بلکہ بعض‌لوگوں‌نے کہا کہ : \" تم بڑے خوش نبیئ تھے کہ صرف خارج‌البلد کیے جاتے ہو،ورنہ یہاں‌گستاخی کی سزا قتل ہے۔\"\nحسین:‌پھر اب میں‌کیا کروں‌اور کہاں‌جاؤں؟\nلوگ:‌ہم نہیں‌جانتے ،تمھیں‌اختیار ہے۔\nحسین کی مایوسی کی اس وقت کوئی انتہا نہ تھی۔ صرف یہی نہ تھا کہ وہ زمرد کے وصال سے مایوس ہو گیا بلکہ اپنے آپ کو رحمت باری اور نجات سرمدی سے بھی دور سمجھتا تھا۔ اُس کے عقیدے میں تھا کہ جب میں‌اس درگاہ سے مردود ہو گیا تو پھر کہیں ٹھکانا نہ لگے گا۔التمونت کے باہر پہاڑوں‌میں‌روتا اور چٹانوں‌سے سر ٹکراتا تھا۔دل میں‌آئی کہ اپنے شیخ‌شریف علی وجودی کے پاس جائے ان سے معافی کی درخواست کرے۔ مگر خیال کہ اس بارگاہ امامت سے نکالے جانے کے بعد وہ بھی اپنے وہاں‌پناہ نہ دیں‌گے۔ خیال ہر برف لے جاتا اور ہر طرف مایوسی کے آثار نظر آتے۔آخر اسے زمرد کی نصیحت یاد آئی اور اس کے ساتھ ہی کوہ البرز کی اس گھاٹی اور زمرد کی قبر کی تصویر آنکھوں‌کے سامنے پھر گئی۔ یکایک آپ ہی کہہ اُٹھا: \" تو مجھے وہیں‌چلنا چاہیے ؛ بس اب میرے لیے وہاں‌کے سوا اور کوئی پناہ کی جگہ نہیں۔\" مگر اس کے ساتھ ہی دل میں‌خیال گزرا کہ اب تو وہاں‌بھی مقصد وری کی امید نہیں۔جب اس نورستان اور سروشستان سے میرے تعلقات مطلقاً منقطع کر دیے گئے تو وہ بھی مجھ سے ناخوش ہو گی۔ اور اگر بالفرض‌خوش بھی ہویا قدیک محبت اُس کے دل میں‌باقی بھی ہو تو یہ کیوں‌کر ممکن ہو گا کہ امام اور مرشد کے حکم کے خلاب وہ مجھے کسی قسم مدد دے سکے ؟ اب تو اتنی بھی امید نہیں‌نظر آتی کہ پہلے کی برح‌اور اپنے وعدے کے مطابق وہ مجھے کامیابی کا کوئی راستہ بتا سکے۔\"یہ خیال کر کے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔بار بار دل میں‌آتی تھی کہ انھیں‌پہاڑوں‌سے ٹکرا کے خودکشی کر لے مگر اس میں‌اور زیادہ مایوسی کا یقین تھا۔آخر اس نے دل میں‌یہی فیصلہ کیا کہ چلو زمرد ہی کہ قبر پر چل کے بیٹوٹں۔ اگر مایوسی ہو گی تو بھی یہ کیا کم ہے کہ دل کی الجھن زیادہ بڑھے گی تو اس حور وش کی قبر کو سینے سے لگا لوں گا۔\nیہ فیصلہ کر کے وہ روتا اور سر دھنتا ہوا پہلے قزوین گیا ور پھر قزوین سے نکل کے کوہ زلبرز کی اُسی پرانی گھاٹی میں پہنچا اور وہیں‌مقیم ہو گیا۔اتنے انقلابات اور اتنی سرگردانی کے بعد اب پھر وہ معشوقۂ دل ربا کی تربت کا مجاور ہے۔ اُسی طرح‌شب و روز عبادت و فاتحہ خوانی میں مصروف رہتا ہے۔قبر کے پاس بیٹھ بیٹھ کے گھنٹوں‌زمرد کے خیال سے باتیں‌کرتا ہے اور بار بار روکے کہتا ہے :‌\"اے میں و نشین نازنین!‌خدا کے لیے اپنی قبر کی طرف توجہ کر اور دیکھ کہ میں‌کیسا حیران و پریشان ہون!آہ تیرے عققا اور تیرے فراق کی بے صبری نے دونوں‌جہان سے کھویا۔نہ ادھر ک ہوا نہ اُدھر۔نہ اس دنیا ہی کے کام کا رہا اور نہ اس عالم کے کام کا۔مگر او معشوقۂ با وفا! او بارگاہ لم یزل کی مقبول نازنین! میرے حال زار پر توجہ کر۔ اس درگاہ میں‌میری شفاعت کر اور اپنی محبت کا صدقہ مجھے اپنے وصل سے مایوس نہ رکھ۔\"\nیہی خیالات تھے جن کو وہ قبر کے سامنے ظاہر کرتا اور یہی دعا تھی جو ہر وقت اس کے لب پر رہتی۔آخر ایک دن اُس کی امید بر آئی۔صبح سویری آنکھ کھول کے دیکھا تو قبر پر زمردکا خط رکھا ہوا تھا۔ایک ہی نہیں ‌بلکہ دو خط،جن میں‌سے ایک تو سادے لفافے میں بند تھا اور دوسرا کھلا ہوا۔حسین نے دونوں خطوں‌کو اٹھا کے چوما،آنکھوں‌سے لگایا اور کھلے خط کو پڑھنے لگا،جس کا مضمون حسب ذیل تھا:\n\"حسین! تو نے بڑی غلطی کی امام قائم قیامت کی خدمت میں اور گستاخی!۔ غنیمت ہے تو بچ گیا۔افسوس! میں‌اپنے دل کو تیری طرف سے نہیں‌پھیر سکتی۔ چند روز کے لیے یہاں‌آکے تو اور مجھے بے تاب کر گیا اور اسی بے تابی کا نتیجہ ہے جو میں‌تجھے یہ خط لکھ رہی ہوں۔افسوس! میں‌وہ کام کرنے پر آمادہ ہو گئی جو مجھے نہ کرنا چاہیے تھی۔مگر مجبوری تھی؛ جو بات ہونے والی تھی اکیوں‌کر رکتی۔خیر، اب تو استعدی سے میری تدبیر پر کاربند ہو۔ مگر یہ سمجھ لے کہ یہ بہت ہی نازک کام ہے جسے بہت ضبط اور تحمل سے انجام دینا چاہیے۔اگر تو نے ذرا بھی میرے مشورے کے خلاف کیا تو تجھے بھی ضرر پہنچے گا اور مجھے بھی اور پھر ہم کبھی نہ مل سکیں‌گے۔یہ آخری اور سخت تدبیر ہے اور اس کے عمل میں‌لانے پر میں‌اس وقت مجبور ہوئی ہوں جب یقین ہو گیا کہ اب تیرے لیے امید و آرزو کے سب دروازے بند ہو گے ۔ یہ دوسرا خط جو تجھے اس خط کے ساتھ ملے گا اور بند ہے ،اسے اسی طرح‌بند رکھ،اس کو لے کے مزق کی طرف روانہ ہو اور سیدھا شہر قراقرم میں‌جا جو کہ کاشغر کے قریب ہے اور وہاں‌مغلوں‌کے شاہی خاندان کی ایک ملکہ ہے بلغان خاتون،کوشش کر کے اس سے تنہائی میں‌مل اور مرہا خط اسے دے دے۔ تو اس امر کی کوشش نہ کر کہ اس میں‌کیا اور اور نہ اس امر کو بلغان خاتون کو پوچھنا وہ تجھ سے جو سوال کرے پس اس کا صحیح‌جواب دے دے۔اور ملکہ بلغان خاتون جس امر کا ارادہ کرے اس میں‌اس کی مدد کر۔اگر وہ تیرے ساتھ آنا چاہے تو اُسے اور جو لوگ اس کے ساتھ ہوں‌اُنس سب کو میری قبر پر لا کے کھڑا کر دے۔بلغان خاتون غالباً تجھ سے اخلاق سے پیش آئے گی،اور یقین ہے کہ اپنی قوم کے ایک لشکر کے ساتھ ادھر ہی آنے کا ارادہ کرے۔ تو خموشی سے اُس کی رہبری کرنا۔ اور منتظر رہ کہ پردۂ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔\nبس تیری دل دادہ۔۔۔۔زمرد\"\nحسین نے یہ خط پڑھنے ہی دوسرے خط کو احتیاط سے اپنے سینے میں‌رکھ لیا اور فوراً قراقرم کی طرف چل کھڑا ہوا۔ راسےم مں بار بار اس کے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ مجھے وہاں‌بھیجنے سے زمرد کی کیاغرض‌ہے ؟ مگر اس خیال کو وہ خود ہی مٹایا اور کہتا: \" ان معاملات کے تجسس سے زمرد نے منع کیا ہے۔\"تا ہم ایک چیز کی اسے بڑی فکر تھی۔ وہ یہ کہ زمرد نے ملکہ کے سوالوں‌ کا سچ سچ جواب دیدے کی ہدایت کہ ہے اور میں‌ایسے ایسے کام کر چکا ہوں‌جن کے ظاہر کرنے میں‌ ہر جگہ جان کا اندیشہ ہے۔کیا یہ بتادوں‌کہ میں نے امام نجم ‌الدین نیشا پوری کو بے خطا و بے قصور قتل کیا،یا مام نصر بن احمد کی نماز پڑھنے میں‌جان لی؟ اور سب باتیں‌ درکنار وہاں‌تو شاید اگر یہ بی معلوم ہو گیا کہ مجھے فرقہ باطنیہ سے کوئی تعلق ہے تو واجب‌القتل قرار دے دیا جاؤں۔\nکئی مہینے جو اسے منازل سفر طے کرنے میں‌صرف ہوئے انھیں‌خیالات اور اسی قسم کے ترددات میں گزرے آخر وہ ہرات ہوتا ہوا ترکستان کی حدود میں داخل ہوا اور چند روز بعد خاص شہر قراقرم میں ‌وارد ہوا،جو تاتاریوں‌کا مرکز اور پائے تخت تھا۔قراقرم پہنچ کے بھی اُسے کئی مہینے ہو گےر مگر شاہ زادی بلغان خاتون تک رسائی نہ ہوئی جس کے حسن و جمال کے قصے سارے شہر میں مشہور تھے اور کہا جات تھا کہ وہ اپنے باب کے مارے جانے کے صدمے سے تمام لذائذ‌دنیوی سے علیحدہ ہو گئی ہے۔آبادی سے باہر اس کا ایک باغ تھا جس میں‌ایک وسیع اور دل چسپ شکارگاہ بھی بھی ہوئی تھی،مگر باپ کے غم نے ایسا پژمردہ کر دیا تھا کہ اس نے اب اس باغ میں آنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ ایک دن حسین وسط شہر میں کھڑا تھا کہ ناگہاں‌غل ہوا: \"شاہزادہ بلغان خاتون آتی ہے۔\" وہ سڑک ے کنارے ٹھہر گیا اور زیادہ انتظار نہیں‌کرنا پڑا تھا کہ ملکہ کئی سہیلیوں‌کے ساتھ گھوڑوں‌پر سوار آئی اور نکل گئی۔حسین شاید جرات کر کے اور جان پر کھیل کر خط ا س کے ہاتھ میں دے دیتا مگر زمرد نے تاکید کی تھی کہ تنہائی میں دینا۔ مایوسی کیصورت بنائے خاموش کھڑا رہ گیا۔ اور جب شاہزادی نکل گئی تو دل میں‌کہنے لگا: \"‌یہ تو مشکل نظر آتا ہے کہ اس ناز آفریں‌ملکہ کہ خواب گاہ تک میری رسائی ہو۔\"\nاور چند روز گزر گئے اور اب سنا گیا کہ شاہزادی نے مدت کے بعد باغ اور شکار گاہ میں ‌جانے کا ارادہ کیا ہے۔حسین کو امید پیدا ہوئی کہ غالباً وہاں‌موقع مل جائے۔اسی خیال سے وہ پہلے ہی سے جا کے شکارگاہ میں‌چھپ رہا۔ وہاں‌بھی ملکہ بلغان خاتون آئی اور چلی بھی گئی مگر حسین کو موقع نہ ملنا تھا نہ ملا۔ کئی دفعہ وہ ملکہ سے دوچار ہوا مگر ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی سہیلی ضرور موجود تھی۔\nاب حسین کو زیادہ مایوسی ہوئی۔ آخری تدبیر یہ تھی کہ نوکری کا امیدوار بن کے ملکہ کی ڈیوڑھی تک پہنچا اور ملازمت کی درخواست دی۔ اتنے دنوں‌قراقرم میں‌رہ کے اس نے چند ایسے دوست بھی پیدا کر لیے تھے جنھوں‌نے اس کی سفارش کیا ور اُسے بہ دشواری ملکہ کے داروغۂ اصطبل ہونے کی عزت حاصل ہو گئی۔ اس نوکری کے بعد بھی دو مہینے تک اسے تنہائی میں‌ملنے کا موقع نہ ملا۔آخر ایک مرتبہ صبح سویرے جب کہ ملکہ اپنے بستر ناز سے اُٹھ کے غسل خانے کو جا رہی تھی اور بالکل اکیلی تھی،وہ سامنے گیا اور جھک کے سلام کیا۔بلغان خاتون حسین کو غیر معمولی طور پر ساد راہ دیکھ کے ٹھہر گئی اور پوچھا: \"کیوں؟\"\nحسین: (سامنے زمیں چوم کے ) سب خیریت ہے مگر شاہ زادی کی خدمت میں‌ایک خط پہنچانا ہے جس کو لیے ہوئے چھ مہینے سے قراقرم میں پھر رہا ہوں‌اور صرف اس وجہ سے کہ بغیر تنہائی کے مجھے اس خط کے پیش کرنے کی اجازت نہ تھی،اتنی تاخیر ہوئی۔اسی غرض کے لیے مجبوراً میں‌نے شاہزادی کی ملازمت اختیار کیا۔بڑی بڑی نامرادیوں‌کے بعد خوش نصیبی سے آج اس خط کے پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔\nیہ کہہ ک اس نے زمرد کا خط نکال کے شہزادی کی طرف بڑھایا۔\nشاہد زادی بلغان خاتون تاتاری عورتوں‌میں‌نہیں،تاتاری رؤسا کے خالف بھی ایک نہایت ہی شائستہ اور تعلیم یافتہ ملکہ تھی۔وہ فارسی زبان میں بے تکلف گفتگو کرتی تھی۔ اسی قدر نہیں‌بلکہ شعرائے فارس کے کلام کی اچھی طرح‌داد دے سکتی تھی اور مشکل سے مشکل اور بلیغ سے بلیغ فارسی کو بوجہ احسن سمجھ لیتی تھی۔خط کو ہاتھ میں لیتے ی اس نے غور سے دیکھ اور لفافے کو سادہ پا کے تعجب سے حسین کو صورت دیکھ اور پوچھا:\n\" اور یہ خط بھیجا کس نے ہے ؟\"\nحسین: شاہ زادی کو پڑھنے کے بعد خود ہی معلوم ہو جائے گا۔مجھے صرف اتنا ہی معلوم ہے کہ یہ خط کسی انسان کا نہیں بلکہ ایک حور کی طرف سے ہے جس کا نشیمن اس سروشستان اعلیٰ اور حیز نور میں ہے۔\nبلغان خاتون یہ جواب سن کے اور حیرت زدہ ہو گئی ،حسین کی صورت دیکھی اور پوچھا: \" اگر فردوس بریں‌کی کسی حور کا خط ہے تو تم کو کیوں‌کر ملا اور تم سے اس کو کیا تعلق؟\"\nحسین: بس اتنا ہی تعلق ہے کہ میں اس کی یاد میں‌سر دھنتا ہوں ،اور کبھی کبھی وہ کوئی خط کسی روحانی ذریعے سے میرے پاس پہنچا دیتی ہے۔\nتاتاری شاہ‌زادی یہ جواب سن کے اور متحر ہوئی۔دیر تک حسین کو غور سے دیکھتی رہی اور پھر دل میں‌کچھ سوچ کے بولی: \"اچھا، اب اس وقت تم جاؤ؛ اس خط کو اس میں ان سے پڑھ کر میں تم پھر بلاؤں گی اور جو کچھ پوچھا ہو گا پوچھ لوں گی۔\"\nحسین: (سینے پر ادب سے ہاتھ رکھ کے ) بتر،مگر اتنا خیال رہے کہ اس بارے میں جو کچھ دریافت فرمانا ہو،شاہ‌زادی اسی طرح‌تنہائی میں بلا کے دریافت فرمائیں۔میں اپنے راز کسی اور کے سامنے صحیح‌طور پر نہیں عرض‌کر سکتا۔\nبلغان خاتون: میں اکیلی ہی ملوں‌گی۔\nیہ خط ار حسین کا بیان ایسی غیر معمولی چیزیں‌تھی کہ شاہزادی بلغان خاتون نہانا بھی بھول گئی۔ حسین کے واپس جاتے ہی پھر اپنی خواب گاہ کی طرف پلٹ گئی۔تنہا بیٹھ کے خط کو کھولا اور نہایت توجہ و مستعدی سے پڑھنے لگی۔مضمون حسب ذیل تھا:\n\" او غم زدہ اور نیک دل شاہ ‌زادی! تو اپنے باپ کے غم میں‌مبتلا ہے جو باطنین کے فدائی دیدار کے ہاتھ سے نہایت دغا بازی سے قتل ہوا۔مجھے تیرے رنج و الم سے ہم دردی ہے اور اسی لیے اپنے منصب کے خلاف تجھے خبر دیتی ہوں کہ دیدار یہاں التمونت میں‌بیٹھا جنت کے مزے لوٹ رہا ہے۔اگر اپنے باب کا انقا م لینا چاہتی ہے ،اگر اس جنت کا لطف دیکھنا چاہتی ہے ،اگر دنیا کے پردے سے ایک بہت بڑا فتنہ دور کرنا چاہتی ہے تو اسی حسین کے ساتھ جو میرا خط لایا ہے، اور جو جنت کی زیارت کے شوق میں عقل و ہوش بلکہ دین و ایمان تک کھو چکا ہے ،کوہ البرز کی وادی میں‌میری تربت پر آ؛ قبر کے پتھروں‌کو میں الٹ،اُس کے نیچے تو میرا دوسرا خط پائے گی جو تیری رہبری کرے گا اور تو اپنے باپ کے انتقام کے ساتھ ایک بہت بڑے طلسم کو توڑ کے دنیا کا سب سے بڑا راز کھولے گی۔اس وقت تجھے معلوم ہو جائے گا کہ دنیا اور ملاء اعلیٰ میں کتنا فرق ہے۔حسین سے تو اس کے حالات پوچھ سکتی ہے جس سے تجھے معلوم ہو گا کہ اس کے دل پر اس فردوس بریں‌کا کتنا اثر ہے جہاں‌میں‌ہوں۔یہی جنت میں‌تجھے بے منت دکھاؤں‌گی۔اور تیری مجرم تیرے ہاتھ میں‌ہو گا۔مگر خیال رہے کہ رمضان کی صبح کو تو میری تربت پر موجود ہو۔اس کے ساتھ یہ بھی ضرور ہے کہ کافی تعداد میں‌ایک تاتاری لشکر بھی تیرے قریب ہی موجود رہے۔لیکن میری قبر پر تجھے اپنے ساتھ میں چار آدمیوں‌سے زیادہ گروہ کو نہ لانا چاہیے۔\nمیوی نشین۔۔زمرد\"\nبلغان خاتون کے حق میں یہ خط کسی جادو یا تسخیر کے تعقیذ سے کم اثر نہ رکھتا تھا جس کو پڑھتے پڑھتے کبھی وہ انتہا سے زیادہ غضب ناک ہو جاتی اور کبھی کسی خاص مگر حیرت و خیال سے اس کے دل کو گونہ تسکین ہو جاتی اور تعجب کی کوئی انتہا نہ تھی۔اس نے خط کو اول آخر تک کئی مرتبہ پڑھا اور کچھ سوچنے لگی،پھر پڑھا اور پھر غوطے میں‌آ گئی؛ پھر پڑھا،پھر متفکر چہرہ بنا یا اور نازک گلابی رخساروں‌کو ہاتھ پر رکھ کے سوچنے لگی۔ آخر دیر تک تردد و انتشار کے بعد اُس نے حسین کو اپنے سامنے بلوایا اور پوچھنے لگی: \" تم جانتے ہو اس خط میں کیا لکھا ہے ؟\"\nحسین: نہیں‌، مجھے ایک لفظ کی بھی خبر نہیں۔\nیہ جواب پا کے بلغان خاتون نے متجسس نگاہ سے حسین کو گھور کے دیا ا اور پوچھا:‌ \" تم مذہب باطنیہ کے پابند ہو؟\"\nحسین: (ڈر کے )جی ہاں۔\nبلغان خاتون: تم نے جنت کی بھی سیر کی ہے ؟\nحسین‌: ایک بار دیکھا ہے اور دوبارہ دیکھنے کی ہوس ہے۔\nبلغان خاتون: اچھا تمھاری یہ ہوس پوری ہو جائے گی، مگر کیا تمھارا شمار بھی فدائیوں میں‌ہوتا ہے ؟\nحسین: البتہ!\nیہ جواب سن کے بلغان خاتون نے حسین کو پھر گھور کے دیکھا اور پوچھا: \"‌توتم نے کتنے لوگوں‌کی جان لی ہے ؟\"\nحسین: صرف دو شخصوں‌کی۔ مگر بہت بڑے بڑے شخص،جن کے قتل کرنا مجھے بھی افسوس ہے۔\nبلغان خاتون: ان پر خنجر چلاتے وقت تمھیں ترس نہ آیا؟\nحسین: آیا تھا،مگر مرشد کے حکم سے میں انحراف نہ کر سکتا تھا۔\nبلغان خاتون: (‌تعجب سے ) مرشد کے حکم سے اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کر لیےر میں‌کیاتمھیں اپنے نیک و بد کا بھی خیال نہیں آتا؟\nحسین: نیک وہ بد ہمیں‌نظر ہی کب آ سکتا ہے ؟ ہم ہر چیز کے ظاہر کو دیکھتے ہیں اور شیخ‌ کی نگاہں باطن پر ،یایوں‌کہنا چاہیے کہ اصلی حقیقت پر پڑتی ہیں۔\nبلغان خاتون: اگر مرشد کنویں‌میں‌گرنے کو کہے تو تم گر پڑو گے ؟\nحسین:‌بلا تامل! یہی ہمارا پہلا عقیدہ اور پہلی ریاضت ہے۔مرشد جس خوبی کو دیکھ کے حکم دیتا ہے اس کے سامنے برائی یا مضرت کی کوئی ہستی ہی نہیں جو ہیں نظر آتی ہے۔\nبلغان خاتون: زمرد سے تم سے کیوں‌کر مفارقت ہوئی؟\nحسین: میں‌منع کرتا رہا،اس نے مانا نہیں اور کوہ البرز کی اس گھاٹی میں چلی گئی جہاں‌کبھی کبھی پریوں‌کا گزر ہوتا ہے۔ہمارے جاتے ہی پریاں‌بھی آ پہنچیں۔ انھون‌ے آتے ہی اسے مار ڈالا۔ اس کی وہاں قبر بنا دی جس پر میں مدتوں‌آہ‌و زاری کرتا رہا۔شہادت نے زمرد کو فردوس بریں‌میں پہنچا دیا اور میں‌قبر پر پڑا اپنی موت کا منتظر تھا کہ زمرد نے فردوس بریں‌سے ایک خط بھیج کے مجھے فرقۂ ناجی باطنیہ میں‌داخل ہونے کی ہدایت کی اور اپنے پاس پہنچنے کا طریقہ بتایا۔اس کی ہدایتوں‌کے مطابق عمل کر کے میں ایک بار ا س کے دیدار سے شرف یاب ہو چکا ہوں،مگر افسوس! پھر ملنے کی امید نہیں۔اب دوبارہ یہ کوشش اسی کی زیارت کے لیے آپ کے ذریعے سے شروع ہوئی ہے، مگر چوں کہ مجھے کچھ پوچھنے کی اجازت ہیں لہٰذا میں‌آُ کے سامنے اپنی کوئی آرزو بھی پیش نہیں کر سکتا۔\nبلغان خاتون حسین کو اس سادہ مزاجی پر حیرت سی ہوئی؛ وہ کسی قدر مسکرائی اور کہا: \" بے شک تم اپنی آرزو میں‌بارمراد ہو گے اور تمہاری تمنا بر آئے گی۔لین مجھے بھی اسی مقام تک پہنچا دو جہاں‌زمرد کی قبر ہے اور جہاں‌تم کہتے ہو پریوں‌کا نشیمن ہے۔\"\nحسین: اس امر کا تو مجھے وہیں‌سے حکم ہو چکا ہے ‘شاہ‌زادی جس تشریف لے چلیں، یہ غلام ہم رکاب ہو گا۔\nبلغان خاتون: حسین:‌اگر میں‌کسی شخص کے قتل کرنے کو کہوں‌تو تم اسے قتل کر ڈالو گے ؟\nحسین: بے شک!بشرطیکہ اس کے قتل کرنے میں‌کوئی مضائقہ نہ ہو۔\nبلغان خاتون:‌یہ قید تم مرشد سے بھی لگاتے ہو؟\nحسین: نہیں،مرشد کے تعلقات مرید کے ساتھ اور قسم کے ہیں۔اُن کے ہاتھ میں مرید کو ایک بے جان آلے کی طرح‌رہنا چاہیے۔\nبلغان خاتون: خیر تواب میں‌سفر کا سامان کرتی ہوں،تم بھی تیار ہو جاؤ۔\nحسین: میں ہر وقت تیار ہوں۔\nیہ کہہ کے شاہ‌زادی نے حسین کو رخصت کیا اور خود حمام میں‌گئی۔مگر ا س کی حیرت کسی طرح‌کم ہونے کو نہ آتی تھی۔لوگ اس کے مزاج میں‌ کوئی غیر معمولی تغیر پاتے تھے جس کے متعلق ہر شخص سوال کرتا مگر وہ خاموش تھی اور حیرت زدہ۔دوسرے دل علی‌الصباح اس نے ایک سانڈنی سوار کو اپنا ایک خط دے کے کسی طرف روانہ کیا اور کود بھی روانگی کا سامان کرنے لگی۔مگر اس کے لیے ضرور تھا کہ اپنے ابن عم اور شہنشاہ ترکستان منقو خاں سے اجازت حاصل کرے ،جس کے لیے وہ ایک ترددمیں‌تھی۔\n) منقو خاں کو بلغان خاتون کا ابن عم کہا گیا ہے اور چغتائی خاں کی بیٹی۔اس طرح وہ منکو خاں ‌،قبلائی خاں،ہلاکو خاں (پسران تولی خان) کی چچا زاد بہن ہوئی۔ تاہم تاریخ‌میں‌یہ کردار نہیں‌ ملتا۔ شرر کا یہ کردار فرضی ہے۔)", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%85%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%AF%D9%90_%D8%A7%D8%B2%D9%84%DB%8C"} {"title": "فردوس بریں/ملاءِ اعلیٰ کا سفر", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر > فردوس بریں", "year": null, "text_ur": "امام نجم الدین نیشا پوری اس عہد کے بہت بڑے امام تھے۔تمام زمانے میں ان کی اور ان کے علم و فضل کی شہرت تھی اور شاید کوئی مقام نہ ہو گا جہاں ان کے شاگرد مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کی مقتدائی نہ کر رہے ہوں۔حسین کے وہ استاد و مرشد ہی نہیں بلکہ چچا بھی تھے ، ان کا اصلی وطن شہر آمل میں تھا مگر کم عمری ہی میں طلبِ علم کے شوق میں گھر سے نکل گئے تھے۔ دنیا کی بڑی بڑی درس گاہوں میں شریک ہوکے بغداد پہنچے ! ایک مدت دراز تک مدرسہ نظامیہ میں طالب علمی کی۔ پھر مشرقی بلاد علم کی سیاحت میں مشغول ہوئے بخارا و ہرات کی علمی صحبتوں میں شریک ہوکے اور وہاں کے علماء کی درس گاہوں سے خوشہ چینی کر کے نیشا پور میں آئے اور وہں متوطن ہو گےہ۔ آپ ان دنوں وہ علم و فضل کے بڑے مرکز اور خدا شناسی کے نام ور قطب بنے ہوئے تھے۔ حسین نے ایک ایسے نیک نفس اور با خدا عزیز کے قتل کرنے کا حکم سنا تو یکایک کچھ ایسی حیرت وہ پریشانی غالب ہوئی کہ بے ہوش ہو گیا۔\nشیخ علی وجودی نے اس کے ہوش میں لانے کی کوئی تدبیر نہ کی بلکہ اسی طرح زمین پر پڑا رہنے دیا۔ تھوڑی دیر تک تو وہ انتظار کرتے رہے کہ حسین خود ہی ہوش میں آ کے حکم بجا لانے کا وعدہ کرے مگر جب اسے ہوش آنے میں دیر ہوئی تو اسی طرح چھوڑ کے ایک دوسرے حجرے میں چلے گئے۔ شاید دو گھنٹوں کے بعد حسین کو ہوش آیا اور اس کے ساتھ ہی شیخ کا واجب التعمیل حکم بھی یاد آیا۔ قریب تھا کہ دریائے غفلت میں پھر ایک غوطہ لگائے مگر سنبھلا اور اٹھ کر چاروں طرف دیکھا: شیخ علی وجودی غائب تھے اور تنہا وہی وہ تھا۔ گزشتہ باتوں کو یاد کر کے حیرت کرنے لگا: \"کیا مجھے شیخ کا مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوئی؟ بے شک ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ ایےں نیک نفس اور حقیقت بین شیخ نے تو اس قسم کے سخت ظلم اور گناہ کا حکم نہ دیا ہو گا۔ مجھے قتل عمد کی ہدایت اور قتل بھی کس کا؟ شیخ نجم الدین نیشا پوری کا، جن سے بڑا عالم و فاضل اس وقت صفحۂ ہستی پر نہیں! یقیناً مجھ سے غلطی ہوئی۔ مگر فرض کیا جائے کی شیخ نے یہی حکم دیا ہے تو کیا مجھ سے یہ ہو سکے گا کہ اپنے استاد،مرشد اور با خدا چچا کو قتل کر ڈالوں؟(کانپ کر) بہت مشکل معلوم ہوتا ہے۔ دنیا کیا کہے گی؟ اور پھر دین میں بھی تو ہے کہ\"من قتل مومناً مت عمداً فقد کفر۔\"اس حکم کو بجا لا کے سوا ا س کے کہ روسیاہی دارین حاصل کروں اور کوئی فائدہ نہیں نظر آتا۔ لیکن ہاں شیخ نے کہا تھا کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے ؛ اس میں بھی کوئی فائدہ ضرور پوشیدہ ہو گا۔ حقیقت بینی اور رموز قدرت جاننے میں امام نجم الدین، شیخ علی وجودی ک مقابلہ نہیں کر سکتے اور نہ یہ خیال میں آتا ہے کہ شیخ علی وجودی کی نیت بری ہو گی۔ کوئی تعجب نہیں اگر کسی روحانی مصلحت سے انھوں نے بہ ظاہر ایسے مکورہ کام کا حکم دے دیا ہو۔اس میں بھی کوئی فائدہ ضرور مقصود ہو گا۔ حقیقت بینی اور رموز قدرت جاننے میں‌امام نجم الدین،شیخ علی وجودی کا مقابلہ نہیں‌کر سکتے۔ اور نہ یہ خیال میں‌آتا ہے کہ شیخ‌علی وجودی کی نیت بری ہے۔ کوئی تعجب نہیں‌اگر کسی روحانی مصلحت سے انھوں‌نے بہ ظاہر ایسے مکروہ کام کا حکم دے دیا ہو۔واقعی اگر یہ ہی حکم ہوا ہے تو مجھے تامل نہ کرنا چاہیے ،یہ میرا پہلا امتحان ہے ، اگر ذرا بھی عذر کیا تو گناہ گار بھی ہوں‌گا اور زمرد کے وصال سے بھی محروم رہوں گا۔اس تعمیل حکم میں‌دینی فائدہ تو بدیہی ہے کیوں کہ شیخ کا امر واجب‌الاذعان ہے۔ باقی رہی دنیاوی بدنامی،اول تو اس کی کوئی ہستی نہیں، اور اگر کسی قدر ہے بھی تو اس کے عوض یہ کتنا بڑا فائدہ ہے کہ پیاری زمرد کی ہم کناری اسی زندگی میں‌نصیب ہو جائے گی۔بے شک مجھے کسی قسم کا عذر نہ کرنا چاہیے۔\nدل میں‌ی خیالات جما کے حسین حجرے سے نکلا اور مختلف حجروں‌میں‌ڈھونڈتا ہوا اس حجرے میں‌پہنچا جس میں‌شیخ‌علی وجودی تھے۔ ان کی صورت دیکھتے ہی قدموں پر سر رکھ دیا اور چلایا:\"مجھے وہ حکم نہیں‌یاد رہا۔جلدی بتائیے کہ تعمیل کو روانہ ہوں۔\"\nشیخ: دیکھو تمہیں اب کی تامل نہ ہو۔مجھے اندیشہ ہے کہ تمھارے دل میں بدگمانی پیدا ہو اور تم اپنی ساری محنت ضائع کر دو۔ خوب یاد رکھو کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے۔\nحسین :خوب یاد ہے اور مجھے ذرا تامل نہ ہو گا۔\nشیخ: تو جاؤ امام نجم الدین‌نیشاپوری کو قتل کر دو۔\nحسین: (دل کو مضبوط کر کے )بہتر، اگر میں‌ مار ڈالا گیا؟\nشیخ: کوئی مضائقہ نہیں،بلا زحمت زمرد سے جا ملو گے۔مگر مجھے معلوم ہے ایسا نہ ہو گا۔\nحسین:تو میں‌رخصت ہوتا ہوں۔\nشیخ: ٹھہرو!(ایک تیز خنجر نکال کے ) لو! اس خنجر کو اپنے پاس چھپا کے رکھو اور جس وقت موقع ملے اسی سے کام لینا۔\nوہ مرشد کا عطا کیا ہوا خنجر لے کے حسین نے اپنے استاد کی جان لینے کے لیے مشرق کی راہ لی۔ ڈیڑھ مہینے بعد بغداد پہنچا؛ وہاں‌سے چل کے اصفہان اور اصفہان سے ایک مہینے بعد نیشا پور پہنچ گیا۔حلب سے نکلے چار مہینے ہوئے تھے کہ وہ امام نجم‌الدین کی درسگاہ میں‌داخل ہو گیا۔ امام موصوف پہچانتے ہی بغل گیر ہوئے اور بے انتہا شفقت سے پیش آئے۔\nگھر کے خطوط سے انھیں‌یہ خبر معلوم ہو چکی تھی کہ حسین ایک شریف لڑکی کو ساتھ لے کے بدنامی کے ساتھ نکل گیا۔ جس کا تذکرہ کر کے انھوں‌نے افسوس کیا اور کہا :\" حسین!مجھے ایسی امید نہ تھی کہ علم کو اس ذوق و شوق سے حاصل کر کے تم اس کی بے حرمتی کرو گے۔\"\nحسین: یا عم! میں‌کسی بری نیت سے نہیں‌گیا تھا؛ زمرد کا عقد میرے ہی ساتھ ہونے والا تھا اور وہ حج کی بے انتہا مشتاق تھی۔ اسی علم دین کی وجہ سے مجھے نہ گوارہ ہوا کہ اس کی اس دینی خواہش کا لحاظ نہ کروں، بے تامل ساتھ لے کے چل کھڑا ہوا۔\nامام: اور اب کہاں ہے ؟\nحسین: جبال‌طالقان کی گھاٹیوں میں‌پریوں‌کے ہاتھ سے مار ڈالی گئی۔\nامام: (مسکرا کر) ایسا مہمل و بے سروپا قصہ بنانے سے کیا حاصل جسے کوئی تسلیم ہی نہ کرے گا؟\nحسین: جس بے تکلفی سے میں‌نے یہ قصہ بیان کر دیا ہے ؛ اسی سے آپ اندازہ فرما سکتے ہیں‌کہ میرے بیان میں‌کسی بناوٹ کو دخل نہیں۔\nامام: خیر اب یہاں‌کس غرض سے آئے ہو؟\nحسین: آپ کے حلقہ درس میں‌شریک ہونے کے لیے۔زمرد کے غم میں‌میں‌نے ارادہ کر لیا ہے کہ علائق دنیوی کو چھوڑ دوں‌ اور چاہتا ہوں‌کہ یہ باقی ماندہ زندگی تحصیل علم میں‌ہی صرف ہو جائے۔\nامام: اگر ایسا ہے تو خدا تمہارے ارادے میں‌برکت دے اور تمہیں توفیق ہو کہ میرے بعد اس درسگاہ کے مالک بنو۔\nالغرض حسین امام نجم الدین نیشا پوری کے خوشہ چینوں‌میں‌شامل ہو گیا،اور چوں کہ بھتیجا تھا،ان کے دل میں‌روز بروز اپنا زیادہ اعتبار پیدا کرتا گیا۔مگر اس کے ساتھ ہی وہ اپنا موقع بھی ڈھونڈ‌رہا تھا۔ امام اکثر اوقات طلبا اور معتقدین کے مجمع میں‌رہتے جس کی وجہ سے تین مہینے گزر گئے اور حسین کو خنجر نکالنے کا موقع نہ ملا۔ چوتھے مہینے میں‌چھ دن ہی گزرے تھے کہ اتفاقاً امام کو بخار نے شدت سے آ لیا اور کئی دن تک درس وہ تدریس کا سلسلہ موقوف رہا۔ اس بیکاری کے زمانے میں اکثر طلبا تو ادھر ادھر سیر میں‌رہتے مگر حسین نے شیخ‌کی تیمار داری میں‌انتہا سے زیادہ گرم جوشی اور سعادت مندی کا مظاہرہ کیا۔ شب و روز ان کی دیکھ بھال اور خدمت گزاری میں‌مصروف رہتا۔\nامام کو بخار آئے چھٹا دن تھا کہ ایک رات کو اتفاقاً ان کے حجرے میں اکیلا حسین ہی تھا۔ رات زیادہ آ چکی تھی اور امام بچھونے پر لیٹے ناتوانی کی آواز میں‌باتیں‌کر رہے تھے۔ حسین خلاف معمول آج زیادہ خاموش تھا۔ ان کی باتوں‌پر ہنکاری تو ضرور بھرتا تھا مگر اس کے سوا کوئی لفظ اس کی زبان سے نہ نکلتا تھا۔ کئی مرتبہ امام کو تعجب بھی ہوا،بلکہ ایک مرتبہ پوچھنے لگے : \"حسین آج تم خاموش کیوں ہو؟\" مگر حسین نے \"یوں‌‌ہی\" کہہ کے ٹال دیا۔حسین ساکت تھا اور بار بار باہر نکل کے تاروں سے دریافت کرتا تھا کہ رات کتنی آئی۔ آخر آدھی رات گزر گئی اور حسین کو اطمینان ہو گیا کہ اب صبح تک کوئی نہیں‌آئے گا۔ اس بات کا یقین کر کے اس نے حجرے کا دروازہ خوب مضبوطی سے بند کر لیا اور پاس جا کے دیکھا تو امام کی بھی آنکھ لگ گئی تھی۔ دیر تک کھڑا ان کی صورت دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں‌میں‌خون اترتا آتا تھا ساعت بہ ساعت اپنے بزرگ اور استاد پر کاری وار کرنے کے لیے تیار ہوتا جاتا تھا۔ اس قسم کے خوں‌ریز کاموں‌سے وہ کبھی آشنا نہ تھا؛ دل کو زور دے دے کے ابھارتا تھا مگر خیالات ایسا پلٹا کھاتے کہ بار بار ہمت ہار دیتا۔ حجرے میں ہر طرف اسے ایسی خیالی صورتیں‌دکھائی دیتیں‌اور ان کا رعب پڑتا تھا کہ معلوم ہوتا جیسے فرشتے یا کسی اور قسم کی غیر جسمانی مخلوق امام کی حفاظت پر مامور ہے۔خود امام کا چہرہ اس کے خیال کی آنکھوں‌میں‌کبھی نہایت ہی نورانی بن کے سفارش کرتا اور کبھی بھیانک اور مہیب نظر آ کے ڈرا دیتا۔ مگر ان سب خیالات کو اس نے مٹایا؛ شیخ علی وجودی کا عطا کیا ہوا خنجر نکال کے اس کی باڑھ دیکھی اور یکایک دل مضبوط کر کے امام کے سینے پہ چڑھ بیٹھا۔ امام نے چونک کے آنکھ کھولی ہی تھی اور چلانے ہی کو تھے کہ اس کا بایاں ہاتھ اُن کے منہ پر اور خنجر ان کے دل میں‌تھا۔ چند ہی لمحے میں‌امام کی روح پرواز کر گئی۔ خون تمام حجرے میں پھیلا ہوا تھا۔ بے جان لاش خون آلود کپڑوں میں‌لپٹی بستر پر پڑی تھی۔ اور گو یہ کوئی روز آوری کا کام نہ تھا مگر حسین کے دل کو اتنی بڑی شدید حرکت ہوئی تھی کہ کھڑا ہانپ رہا تھا اور بار بار اپنے ہاتھ کے معصوم شہید کی مظلومانہ صورت کو ڈر ڈر کے دیکھتا۔ آخر حسین نے ان سب چیزوں کو اسی حال میں‌چھوڑا،حجرے میں‌خوفناک سین پر سہمی ہوئی آنکھوں‌سے آخری نظر ڈالی اور دروازہ کھول کے نکلا۔حجرے کا دروازہ باہر سے بند کر دیا اور چپکے چپکے قدم اٹھاتا ہوا چلا۔ شاید زیادہ وقت نہ صرف ہوا ہو گا کہ وہ شیخ کی خانقاہ سے دور نکل گیا۔\nنیشا پور کے گرد نہایت ہی مضبوط فصیل تھی اور پھاٹک رات کو بند ہو جاتے تھے جس کے سبب سے اس وقت اسے شہر سے باہر نکلنے میں‌بہت دشواری نظر آئی۔ مگر وہ جان پر کھیل کے ایک تیرہ و تار بدرو سے باہر نکلا،اور نکلتے ہی نہایت تیزی سے بھاگا، تاکہ صبح ہونے سے پہلے ہی اتنی دور نکل جائے کہ اسے کوئی پا نہ سکے۔\nدوسرے دن جب وہ شوق کے پروں‌سے اڑتا ہوا خراسان کے مغربی میدان اور جنگل قطع کرتا چلا جاتا تھا، اس وقت اس کے حواس ذرا ٹھکانے ہوئے اور اپنا ظلم و گناہ یاد آیا جو ہر پہلو سے برا نظر آتا تھا۔ اس خیال کے مٹانے کی برابر کوشش کرتا تھا مگر بار بار زبان سے ایک آہ کے ساتھ یہ جملہ نکل ہی جاتا تھا کہ \"میں‌بڑا گناہگار ہوں!\" اس کا دل اور اس کا ایمان اس پر لعنت کر رہا تھا۔ لعنت اور پھٹکار کی آواز کان میں‌آتی تھی اور وہ چونک چونک کے کہتا کہ \" اس فعل کے ذمہ دار شیخ‌علی وجود ہیں\" مگر خود ہی دل میں‌قائل ہو جاتا کہ امام کا کام تو میرے ہاتھ اور میری سنگدلی نے تمام کیا ہے ، ذمہ داری کسی اور کے سر کیوں‌کر جا سکتی ہے۔اب اس کے دل نے شیخ‌کے اس اصول میں‌بھی شک پیدا کیا کہ مرید مرشد کے ہاتھ میں‌صرف ایک بے جان اور غیر ذمہ دار آلے کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ آپ ہی آپ کہنے لگا:\" انھیں‌علمائے روحانین کا یہ مسئلہ اگر صحیح‌ہے کہ ثواب اور عذاب اسی لذت و الم کا نام ہے جو اپنے کردار کے نتائج میں‌خود اپنے کانشس اور دل کی تحسین و ملامت سے پیدا ہوتے ہیں تو انسان کے فعل کا کوئی دوسرا ذمہ دار نہیں‌ہو سکتا۔ فرض‌کرو کہ میں‌نے ایک کام کیا اور گو وہ کسی مشیر و صلاح‌کار کے خیال میں اچھا ہو مگر میرے نزدیک برا اور قابل ملامت ہے توا س کے ارتکاب پر میرا دل مجھ پر ضرور لعنت کرے گا۔ اور جب اسی لعنت کے الم کو اصطلاحِ شرع میں‌عذاب سے تعبیر کیا ہے ، تو بے شک میں‌دوزخ‌اور عذاب سے نہ بچ سکوں‌گا۔\"الغرض‌ خود حسین کے دل نے اسے قائل کیا؛ اب وہ پچھتا رہا ہے اور سخت روحانی تکلیف میں‌مبتلا ہے مگر اس کے ساتھ ہی شیخ‌علی وجودی کی وقعت بھی ساتھ ہی دل میں‌ موجود ہے۔شیخ‌کی وہ ایسی ایسی کرامتیں‌دیکھ چکا ہے کہ ان پر بدگمانی نہیں‌کر سکتا،بلکہ بعض‌اوقات ڈر جاتا ہے کہ کہ شیخ‌غیب کے اور دلوں کے حالات سے واقف ہیں،میرے یہ شکوک کہیں‌ان کو معلوم ہو گے تو غضب ہو جائے گا۔ ادھر سے بھی جاؤں‌گا اور ادھر سے بھی۔ اتنے بڑے گناہ کے ارتکاب کے بعد بھی زمرد کے وصال سے محروم رہا تو حسرت ہی رہ جائے گی۔\nحسین اسی قسم کے خیالات دل میں‌لیے ندامت کے دریا میں‌غرق اپنے فعل پر پچھتاتا ہوا شہر حلب میں‌داخل ہوا اور شیخ‌کے سامنے جاتے ہی قدموں پر گرنے کو تھا کہ انھوں نے اُٹھا کے گلے سے لگا لیا اور نہایت ہی جوش سے کہا: \"حسین!تو اپنے امتحان میں‌ پورا اُترا اور اب زمرد تجھ سے زیادہ تیری مشتاق ہے۔ اُس نور لا نور نے انوار ازلی نے تیرے دل پر پورا انعکاس کیا اور تیرے جسم کی اس مشت خاک نے یہ صلاحیت پیدا کر لی کہ اس عالم نور اور سروشستان کی تجلیات کی متحمل ہو سکے۔\"\nحسین: مگر یا حضرت! میرے دل میں اپنے اس ظالمانہ فعل کی نسبت طرح‌طرح‌کے شبہات پیدا ہوتے ہیں؟\nشیخ: (جوش میں آ کر) بے شک پیدا ہوتے ہوں‌گے۔ روح‌اس مادے کی کثافت سے بڑی دشواریوں‌سے علیحدہ ہو سکتی ہے اور صرف یہی چیز ہے جو ان شکوک و شبہات کو پیدا کرتی ہے۔ وہ مرکز اشراقی جو باوجود لاحی ہونے کے حیات سرمدی کا سرچشمہ ہے ، اس جسمانی روح‌پر جو قفس عنصری میں‌مقید ہے ، اپنے تنوعات کو بمشکل آشکارا کر سکتا ہے۔\nحسین: مگر ایسے اطمینان بخش نصائح ارشاد ہوں‌کہ دل سے یہ شبہات نکل جائیں۔\nشیخ: سن اے حسین!استقلال تیرے شکوک کو دور کر دے گا،بشرطیکہ تو ان کو دفع کرنے کی کوشش میں‌مشغول رہے۔ مگر تیرے اطمینان کے لیے میں‌کہہ سکتا ہوں‌کہ دنیا میں‌تکمیل نفس اسی کا نام ہے اور یہی منشاء الہیٰات ہے کہ روح‌کے تعلقات اس جسم سے علیحدہ کیے جائیں۔ جسمانی افعال پر تصرف کرتے کرتے روح عادی ہو جاتی ہے کہ بلا استعانت مادہ کوئی کام نہ کر سکے۔ اور وہ روحییں‌جو جسم کے چھوڑتے وقت تک انھِیں‌مادیات میں پھنسی رہ گئیں وہ بعدمیں‌بھی ہر وقت اپنے گرد مادے کا تیرہ و تار غبار پاتی ہیں۔ اور یہی چیز اصطلاح‌شرع میں اِن کا دوزخ‌ہے۔ نجات کی کوشش یوں‌ہونی چاہیے کہ زندگی ہی میں روح‌کے علائق جسم سے کم کر دیے جائیں۔اس کوشش میں‌ابتدا اس سے ہوتی ہے کہ جسم سے ایسے کام لیے جائیں‌جن سے روح‌کو تعلق نہ ہو۔ روح بیتاب ہو ہوکے اُن کی طرف متوجہ ہونا چاہے اور انسان بہادری اور مضبوطی سے اُسے جبراً روکے۔یہی الہیٰات کی تعلیم اولیٰ ہے دوسری یعنی تعلیم وسطیٰ یہ ہے کہ روح‌ایسے کام کرے جن سے جسم کو کوئی تعلق نہ ہو۔ جو لوگ دور دراز شہروں‌میں اپنی روح سے اثر ڈال دیا کرتے ہیں ان کی نسبت سمجھ لینا چاہیے کہ وہ عالم روحانیات کے اس درمیانی درجے کو طے کر رہے ہیں۔ اس کے بعد تیسرا درجہ یہ ہے کہ روح جسم سے اتنی علیحدگی حاصل کر لے کہ اس نور لا نور کے ان کشافات کی جستجو میں‌مادے سے مبرا و منزہ ہوکے ملکوت اور عالمِ لاہوت کی سیر کرے۔ اور اس تیسرے درجے یا اس اعلیٰ جستجو کے زمانے میں جو کوئی مر جاتا ہے وہ جسم خاکی کو الوداع کہتے ہی اس نقطہ اولیٰ یا ذات واجب الوجود اور علت العلل سے جا ملتا ہے۔ اس وقت اُسے وہ اعلیٰ کمال روحانی حاصل ہوتا ہے جس کی تحصیل کے لیے اس نے عالم مادی کی یہ قید اٹھائی تھی اور اس آخشیجستان کے مصائب میں‌مبتلاہواتھا۔۔ اب اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ایک طرف تو تعلقات جسدی کی مادی تعلیمات سے اس میں‌یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ جب چاہے اہل عالم کے سامنے اپنے آپ کو متہیز اور متشکل کر کے دکھا دے اور دوسری طرف اس میں‌کمال روحانیت و تجرد اس درجے کا ہوتا ہے کہ جب چاہے اس نقطۂ ازل اور اولیٰ مرکز نور لا نور سے جا ملے۔لہٰذا اے حسین! تو اس مدرسۂ روحانیت کی ابتدائی جماعت میں‌ ہے اور ابھی اسی امر کی مشق کر رہا ہے کہ تیرے ارکان و جوارح سے ایسے افعال و حرکات صادرہوں‌ جن کی طرف روح بے صبری سے متوجہ ہو اور تو اسے زبردستیاں‌اور نفس کشیاں کرے دوسری طرف منسوب کرے۔یہ لعنت و ملامت جو تیرا نفس اور تیری روح‌تجھ پر کر رہی ہے ،اسی تعلق روحی کا نام ہے جس کے قطع کرنے کی تجھے کوشش کرنا چاہیے۔اور جس تو یہ کمال حاصل کر لے گا کہ تیری روح‌تیرے اعضاء کے کسی فعل کی طرف توجہ ہی نہ ہوا ُس وقت تُو درجہ توحید میں‌قدم رکھے گا۔\nحسین: تو میں ان الزاموں‌اورملامتوں‌کی پرواہ نہ کروں‌جو خود میرے دل سے مجھ پر پڑ رہی ہیں؟\nشیخ: ہرگز نہیں، اسی امر کی تجھے مشق کرنا ہے اور اس نور ولا نور کی طرف توجہ کرنے کا یہی پہلا زینہ ہے۔\nحسین: حضرت!‌اس خداوند جل و علا کو نور لا نور کیوں‌فرماتے ہیں اس کا رمز میں‌نہیں‌سمجھ سکا۔ وہ حضرت رب العزت بے شک نور ہے مگر لا نور کیوں؟\nشیخ: (برہم ہوکے ) وہ نقطہ وحدت اور وہ سر چشمہ تکوین اس سے بالکل منزہ ہے کہ ہم اپنے مادی خیال کے صفات کو اس کی جانب منسوب کریں۔ وہ ایسا ہے کہ \"لیس کمثلہ شئی\"۔\nحسین: مگر جب خود اللہ جل شانہ ہی نے ان صفات کو اپنی طرف منسوب کر لیا تو ہمیں‌کیا تامل ہو سکتا ہے ؟\nشیخ‌علی وجودی کی برہمی کی اب کوئی انتہا نہ تھی۔ انھوں‌نے اب کے حسین کے غضب آلود اور آتش بار آنکھوں‌سے گھور کے دیکھا اور بولے : \"بے شک انسان ظلوم و جہول ہے !یہ تیرے خیال مین نہیں‌آتا کہ ہم بھی محض اسی کے ارشاد کے موجب ان صفات کو اس کی طرف منسوب کر دیےا ہیں۔ ہم اسے نور کہتے ہیں‌مگر چوں‌کہ ہمارے خیال کے نور سے وہ منزہ ہے ،لہٰذا پھر اسے لا نور بھی کہہ دیتے ہیں۔\"\nحسین: بے شک صحیح‌ ہے ؛ اب میرا اطمینان ہو گیا؛ اور انشاءاللہ کبھی اپنے افعال پر نہ پچھتاؤں‌گا۔لیکن اُمیدوار ہوں‌کہ اب مجھے وہ سروشستان دکھا دیا جائے جہاں‌میری زمرد ان اجرام فلکی کے پہلو میں‌ بیٹھی جلوہ افگنی کر رہی ہے۔\nشیخ: بہتر۔\nیہ کہہ کے شیخ‌نے اٹھ کے اپنا کتابوں کا صندوق کھولا،اس میں‌سے ایک چھوٹی سی کتاب نکالی،پھر اس کے ورق الٹ کے ایک خط نکالا اور اس خط کو حسین کے ہاتھ میں دے کر کہا: \"لے !اس خط کو احتیاط سے رکھ اور اسی وقت روانہ ہوکے شہر اصفہان کی راہ لے۔یاد رکھ کہ اصفہان کے شمالی پھاٹک کے باہر ایک شکستہ اور قریب الانہدام مسجد ہے۔ اس مسجد میں‌ تُو ایک فقیر کو پائے گا جو بظاہر تو بھیک مانگتا ہے مگر باطن میں‌بڑا خدا شناس شخص ہے۔یہ فقیر ہر وقت ایک دنبے کی کھال اوڑھے رہتا ہے اور انساوراً یہ صدا لگا کے راہ گیروں‌سے مانگتا ہے کہ \"دہن سگ بہ لقمہ دوختہ بہ\"۔ کاظم جنونی(نسخہ مطبوعہ قومی پریس دہلی 1321ھ میں ‌کاظم جنونی کو بعض مقامات پر کاظم جنوبی لکھا گیا ہے۔کاظم جنوبی بھی صحیح‌ہو سکتا ہے۔ لیکن چوں‌کہ بیشتر مقامات پر جنونی ہے ،اس لیے زیر نظر نسخے میں‌لفظ جنونی کو ترجیح‌دی گئی ہے اور ہر جگہ کاظم جنونی لکھا گیا ہے۔) اس کا نام ہے۔ یہ خط لے جا کے اُس شخص کے ہاتھ میں‌دے اور میرا سلام کہہ۔ رات کو وہ تجھے ایک غار میں‌لے جائے گا،جہاں‌تو ایک بڑے واقفِ اسرارِ سرمدی سے ملے گا اور اسی وقت تو جنت کے مدارج طے کرنا شروع کرے گا اور چند ہی روز کی زندگی میں‌جو زیادہ تر خواب کی سی ہو گی،فردوس بریں کی اعلیٰ منازل میں‌جاپہنچے گا۔\"\nحسین نے یہ خط لے کے شیخ کے ہاتھ کو بوسہ دیا، پھر رخصت ہونے کے طریقے سے اس کے قدم چومے اور اصفہان کے طرف رخ کر کے چل کھڑا ہوا۔اس کا یہ سفر زیادہ اطمینان بخش تھا۔ گناہ کی ندامت و ملامت کے اثر کو شیخ علی وجودی کی تقریر نے اس کے دل سے بالکل محو کر دیا تھا۔ امید و آرزو کا باغ اس کی آنکھوں‌کے سامنے تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ گویا زمرد آ کے ہم کنار ہوا ہی چاہتی ہے۔الغرض اسی اطمینان اور انھی مسرتوں‌کے ساتھ بغداد ہوتا ہوا اصفہان پہنچا۔شمالی پھاٹک کے باہر مسجد کے دروازے پر متردد کھڑا تھا کہ کان میں آواز آئی\"دہن سگ بہ لقمہ دوختہ بہ\" فوراً دوڑ کے مسجد میں‌گیا ور شیخ‌کا خط نکال کے کاظم جنونی کے ہاتھ میں‌دے دیا جو دنبے کی کھال اوڑھے بیٹھا زورو شور سے صدائیں لگا رہا تھا۔\nکاظم جنونی نے حسین کو حیرت و استعجاب کی نظر سے دیکھا اور ایک جوش وحشت کے لہجے میں‌چلا اُٹھا:\"حذر! حذر! از اہل عالم حذر!!\" مگر جب خط کو پڑھا تو فوراً اٹھ کے بغل گیر ہوا اور کہا\"‌میں‌نہیں‌سمجھا تھا کہ شجر معرفت کی ایک شاخ‌تم بھی ہو۔ آؤ بیٹھو، کھا پی کے آرام لو،رات ہو تو تم کو شیخ الجب(جب غار کو کہتے ہیں۔شیخ الجب سے مراد ہے غار والا شیخ) کے پاس لے چلوں۔ انھوں‌نے غیابتہ الجب(یعنی غار میں‌چھپ جانا) اختیار کر لی ہے۔ دن چوں‌کہ مظہر نور ہے لہٰذا دن بھر وہ اپنے اوپر انوار لاہوت اکبر کا انعکاس کرتے ہیں‌اور رات چوں‌کے تیرہ و تار اور نمونۂ ظلمت ہے لہٰذا اسی ظلمت میں‌وہ مادی پیکروں سے ایک گونہ علاقہ پیدا کر لیےے ہیں۔\"\nحسین: مگر معلوم نہیں‌مجھ سے گناہ گاروں اور سیہ کاروں‌سے وہ ملنا بھی پسند کریں‌گے یا نہیں؟\nکاظم جنونی: ضرور ملیں‌گے ؛ شجر معرفت کی ایک شاخ‌تم بھی تو ہو۔\nحسین دن بھر اسی مسجد میں‌رہا اور شام کے بعد جب ایک ثلث رات گزر گئی تو کاظم جنونی اسے ساتھ لے کے بیرونی کوہستان کی طرف روانہ ہوا۔بہت سے نشیب و فراز طے کرے اور کئی گھاٹیوں‌سے گزر کے کاظم ایک بڑے غار کے دہانے پر ٹھہر گیا اور زور سے چلّایا: \"یا شیخ الجب! ظلمت مادہ میں ایک جگنو چمکا ہے۔\" مگر کچھ جواب نہ ملا۔ پھر کاظم جنونی نے پکار کے کہا: \"ایک آئینے سے پردہ اُٹھا جو تجلیات انوار لاہوتی سے منعکس ہونا چاہتا ہے۔\" اب بھی کوئی آواز نہ آئی۔ کاظم جنونی پھر پکارا: \"ایک آخشیجی پیکر کا مقید اسرارِ سروشستان جاننے کے لیے بے صبر ہے۔\" اس تیسری صدا پر غار کے اندر سے چٹانوں میں‌گونجتی اور اندھیرے میں سنسناتی ہوئی آواز آئی: \"مرحبا! جوان آملی مرحبا! جنت کی ایک حور دو سال تیرے سے تیرے فراق میں بے تاب ہے۔ میں‌نے اپنی سیر لاہوتی میں ایک طرف اس حور کو فردوس بریں‌کے کوشکوں‌میں‌روتے اور دوسری طرف تجھے راہ طلب میں قدم مارتے دیکھا ہے۔ اب یہیں‌سے تجھے لذائذ سروشستانی حاصل ہونے لگیں‌گے ؛ آ اور قدرت کے کرشمے دیکھ۔\"\nاس جملے کے ساتھ ہی غار کی تہ میں‌ایک روشنی نمودار ہوئی اور کاظم جنونی نے حسین سے کہا: \" بس اب آگے میں نہیں‌چل سکتا،مجال نہیں کہ ایک قدم بھی آگے بڑھاؤں۔\"\nحسین: کیوں؟\nکاظم جنونی: اگر یک سر موے برتر پرم\nفروغ تجلی بسوز پرم\nجاؤ اور یقین جانو کہ تم شجر معرفت کی ایک شاخ‌ہو۔\nیہ سنتے ہی حسین نے کاظم جنونی کو اوپر چھوڑا اور خود جوش دل کی بے خودی میں‌امید و آرزو کے خواب دیکھتا ہوا غار میں اترا۔ تھوڑی دور تک تو ادھر اُدھر کی چٹانوں سے ٹکریں‌کھاتا رہا مگر جب انتہا پر پہنچ گیا جہاں‌اُسے روشنی نظر آئی تھی تو داہنی طرف ایک زینہ ملا۔اس زینے کے ذریعے وہ اور زیادہ نیچے گیا تو اپنے وہم و گمان کے خلاف اس خوفناک کوہستان اور درندوں کے مسکن کے نیچے ایک نہایت ہی وسیع،عالی شان اور بہت با رونق مکان نظر آیا جس میں‌ہر طرف کافوری شمعیں‌روشن تھیں۔ عود و لوبان سلگ رہا تھا۔ در و دیوار پر طلائی رنگ پھیر کے نقش و نگار بنائے گئے تھے اور انھیں‌ بیل بوٹوں میں رنگین پتھر اور شیشے کے ٹکڑے جڑے تھے۔ جن پر شمعوں‌کا عکس پڑ کے ہر سمت ایک عجب عالم نور پیدا کر رہا تھا۔ حسین اس تمام سامان عیش کو دیکھ کے مبہوت و از خود رفتہ ہو گیا ور ایک بے صبری کے جوش میں‌چلاّ اٹھا \"کیا فردوسِ بریں ‌یہی ہے ؟\"\nکہیں‌قریب ہی سے تسلی آمیز لہجے میں‌آواز آئی:‌\" نہیں‌،مگر سروشستان کی سیر کرنے والوں‌کے لیے یہ پہلی منزل ہے جس میں‌ٹھہرا کے وہ اس قابل بنائے جاتے ہیں‌کہ جنت کی مسرتو ں‌کو یکایک دیکھ کے از خود رفتہ نہ ہو جائیں۔‘\nحسین: مگر آپ کون‌ہیں اور کہاں‌ہیں کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوکے شکر گزار ہوں؟\nآواز: میں تیرے قریب ہی ہوں۔\nناگہاں‌ایک لاجوردی منقش پردہ جو پہلے دیوار کا دھوکا دے رہا تھا، کھنچ کے نظر سے غائب ہو گاز اور ایک معمر مگر قوی الجثہ اور نہایت ہی نورانی صورت کا آدمی نظر آیا جو زرتار مسند پر گاؤ تکیے سے لگا ہوا عجب بے پروائی اور بے نیازی کی شان سے بیٹھا تھا۔اُس کا نورانی چہرہ آئینے کی طرح‌صاف تھا ور اس وقت چاروں طرف سے شمعوں اور نیز در و دیوار کے شیشوں‌کی ضو پڑنے سے آفتاب کی مثل چمک رہا تھا اور سفید لمبی ڈاڑھی مقیش کی جھالر یا آفتاب کی کرنوں‌کا دھوکا دیتی تھی۔\nحسین یہ نورانی صورت دیکھتے ہی پروانے کی طرح‌دوڑ کے قدموں‌ پر گرا اور کہا: \" آپ کون ہیں؟ شاید رضوان آپ ہی کا نام ہے ؟\"\nپیر مرد: نہیں‌، ابھی تُو اس تیرہ خاک دان عنصری ہی کی حدود میں‌ہے۔ مگر ہاں‌تیری آنکھوں‌پر سے پہلا پردہ اُٹھا ہے۔ اہل دنیا مجھے شیخ الجب کہتے ہیں‌ مگر اہل حقیقت کی اصطلاح‌میں‌طور معنی کہلاتا ہوں۔\nحسین: (حیرت سے )طور معنی! حقیقت میں‌یہ نور ہو گا جو موسیٰ کو طور پر نظر آیا تھا۔\nطور معنی: مگر تُو اسے ستر ہزار حجابوں‌ کے اندر سے دیکھ رہا ہے۔\nحسین: للہ وہ سب پردے بھی اُٹھا دیجیے۔\nطور معنی: ابھی ان مادی کثیف آنکھوں‌میں‌اس کی قابلیت نہیں، مگر صبر کر،اسی کا سامان ہو رہا ہے اور یہ سب پردے اُٹھ جائیں‌گے۔\nیکایک ایک خوبصورت نوعمر لڑکے نے آ کے ایک شربت کا لبریز جام طور معنی کے ہاتھ میں دیا اور طور معنی نے اُسے اپنے ہاتھ سے حسین کی طرف بڑھا کے کہا:\" لے اس جام کو پی اور ملکوت سے ایک درجہ اور قریب ہو جا۔\" حسین نے فوراً وہ جام پی لیا جس کے ساتھ ہی اس کا دماغ چکر کھانے لگا اور وہ طور معنی کے سامنے لیٹ کے غافل سو گیا۔\nاس غفلت اور از خود رفتگی کی نیند میں‌کئی دفعہ اس کی آنکھ کھلی اور ہر مرتبہ وہ اپنے آپ کو ایک نئے مقام میں‌پاتا تھا۔ کبھی سرسبز و شاداب میدانوں‌میں‌ہوتا اور کبھی وحشت ناک اور پُر خطر گھاٹیوں‌میں‌۔ ہر بیداری میں فرشتے یا انسان تھے مگر کسی غیر معمولی قسم کے لوگ اسے سروشستان سے اور زیادہ قریب ہونے کا یقین دلاتے اور وہ یقین کر لیتا۔آخر ایک مرتبہ اس کی آنکھ کھلی تو اوہ ایک نئے جوان شخص کے سامنے تھا۔ یہ شخص حریر سرخ‌کے کپڑے پہنے تھا جس پر سنہرا کام تھا۔ ا س کے سر پر نہایت ہی قیمتی اور بیش قیمت تاج تھا اور اس میں‌اعلیٰ درجے کے جواہرات ٹکے ہوئے تھے۔حسین کی آنکھ جیسے ہی اس خوبصورت نوجوان کے سامنے کھلی جو شاہانہ لباس پہنے اور مرصع تاج سر پر رکھے تھا،نہایت ہی التجا اور عاجزی کے لہجے میں‌کہنے لگا: \" امید و انتظار نے بے صبر کر دیا ہے۔\"\nشخص: ‌اے جسم خاکی! تو مراحل تجرد کو طے کر چکا۔تجھے نہیں‌خبر کہ تو‌آسمان کے قریب اور فردوس بریں‌کے دروازے پر ہے۔ اب نہ گھبرا؛ ملائکہ مقربین تیرے انتظار میں ہیں‌اور حوریں‌تیرے لیے بناؤ سنگار کر رہی ہیں۔\nحسین: اور آپ کون‌ہیں؟\nشخص: میں‌وہ برزخ ہوں جو لاہوت و ناسوت میں واسطہ ہے۔ یہی میرا جسم ہے جو کبھی نور بن کے طور سینا پر چمکا تھا۔ یہی وہ نور ہے جو مسیح کے جسم سے خدائی کی شان دکھاتا رہا تھا اور مُردوں‌میں‌زندگی کی چراغ روشن کر دیتا تھا۔ یہی وہ نور ہے جو ازراق مجرد کی شان سے رسول آخر الزمان(صلی اللہ علیہ و سلم) کے سینے میں چمکا اور یہی وہ نور ہے جو امامت کی مشعل روشن کر کے معصوم جسدوں‌کو بدلتا رہا۔\nحسین: تو آپ ہی جبرئیل ہیں؟\nشخص: جبرئیل بھی‌میرے ہی تنوعات کی ایک چھوٹی سی شمع ہے۔\nحسین: شاید آپ ہی وہ حی لایموت ہیں؟\nشخص: حی لایموت نہیں، حی لا حی۔ مگر اس تشخص‌کے ساتھ میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا ، گو یہ ضرور کہوں‌ گا کہ \"انا خالق الارواح،انافائق الاصباح\"(میں‌ہی پیدا کرنے والا ہوں‌روحوں کا اور میں‌ہی چاک کرنے والا(دامان) سحر کا ہوں۔ لیکن اس وقت تو ایک پیکر متحیز میں‌ہوں‌اور وہ امام بن کے نمودار ہوا ہوں جس پر ایمان لانا ہر مکلف پر فرض ہے۔\nحسین: (ہاتھ سے ہاتھ ملا کے ) تو میں‌بھی آپ کی امامت اور اس مظہر نقطۂ وحدت کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔\nشخص: حسین سن! تو منزل مقصود کو پہنچ گیا۔ مدارج صعود طے ہو گے۔ اور عنقریب اُ س پر شوق آغوش میں‌ہو گا جو دو سال سے تیرے لیے کھلا ہوا ہے۔اگرچہ اب کوئی دنیاوی عبادت تجھ پر فرض‌نہیں۔تاہم ارضی کثافت کا باقی ماندہ اثر دل سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سروشستان کے پھاٹک پر تین دن تک بیٹھ کے تو ایک مختصر سی عبادت کرے۔ لیکن شبانہ روز تیری زبان سے صرف یہ ہی کلمہ نکلنا چاہیے کہ\" یا مرکز النور اغرقی فی بحار انوارک\"(اے مرکز نور! مجھے اپنے نوروں‌کے سمندر میں‌غرق کر!) مگر شرط یہ ہے کہ چاہے کچھ کھا لے مگر ان تین دن میں‌پانی کا کوئی قطرہ تیرے حلق سے نہ اترے۔\nاتنا کہہ کے تاجدار شخص چند روٹیاں‌چھوڑ کے چلا گیا اور اس کے جاتے ہی مکان کے سب دروازے یکایک اور ایک ساتھ بند ہو گےن۔حسین پہلے تو یہ حالت اور اپنی تنہائی دیکھ کے گھبرایا مگر فورّا اس کے آخری مرشد و امام کی نصیحت یاد آئی اور ریاضت و وظیفے میں مشغول ہو گیا۔ علی الاتصال ایک ہی جملہ کہتے رہنے اور پھر پانی نہ پینے کا یہ نتیجہ نکلا کہ تیسرے روز پیاس نے مجنوں بنا دیا تھا۔ہونٹوں سے لے کے سینے تک سارا گلا خشک تھا اور سوا سائیں‌سائیں‌کے کوئی آواز نہ نکلتی تھی،مگر زمرد کے شوق میں‌وظیفے سے زبان نہ رکی اور اسی استقلال اور خود فراموشی سے دعا پڑھے جاتا تھا۔\nتیسرے روز حسین زبان حال سے العطش پکار رہا تھا کہ وہ تاج دار نوجوان شاہانہ لباس پہنے ہوئے آیا اور کہا: \" لے ! اب سفر جنت کے لیے تیار ہو۔ تیری ریاضت پوری ہوئی، تُو نے سب مراحلِ یقین طے کر لیے اور کوئی چیز نہیں‌باقی رہی جو اس راہ میں تیری مزاحم ہو۔مگر ہاں تو پیاسا ہے ،ذرا اپنے آپ کو تازہ دم کر لے۔\"اس شخص کی زبان سے یہ جملہ پوری طرح نکلنے بھی نہ پایا تھا کہ ایک نہایت ہی حسین و نازنین عورت ایک سونے کا مرصع جام ہاتھ میں لیے جو ایک خاص قسم کے لطیف و خوش رنگ شربت سے ملبب تھا، حاضر ہوئی؛ اس شخص نے جام کو اس حسینہ کے ہاتھ سے لے کر حسین کی طرف بڑھایا اور کہا: \" لے یہی وہ شراب طہور ہے جس کے دور فردوس بریں‌میں‌ ہمیشہ چلتے رہتے ہیں۔اس کے پینے سے تیری پیاس،ماندگی،تھکن اور جملہ بدمزگیاں‌جاتی رہیں‌گی اورتو نہایت ہی نورانی و روحانی سرور کے ساتھ جنت میں داخل ہو گا۔\"\nحسین نے فوراً وہ جام لے کے منہ سے لگا لیا اور پیاس کی ایسی شدت تھی کہ دو ہی تین گھونٹ‌میں‌اُتار گیا۔ایک لحظہ نہ گزرا ہو گا کہ اُسے اپنے سر میں ایک گرانی سے معلوم ہونے لگی جس کے ساتھ ہی خمار آلود آنکھیں‌چھپک جھپک کے بند ہو گئیں۔وہ بے ہوش تھا اور بے ہوش بھی ایسا کہ سرو پا کی خبر نہ تھی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%A1%D9%90_%D8%A7%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%B0_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D9%81%D8%B1"} {"title": "فردوس بریں/پریوں کا غول", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر > فردوس بریں", "year": null, "text_ur": "اب تو سنہ ٦٥٠ ہجری ہے ، مگر اس سے ڈیڑھ سو سال پیشتر سے سیاحوں اور خاصۃً حاجیوں کے لیے وہ کچی اور اونچی نیچی سڑک نہایت ہی اندیشہ ناک اور پرخطر ہے جو بحر حزر (کیسپین سی) کے جنوبی ساحل سے شروع ہو ئی ہے اور شہر آمل میں ہو کے شاہنامے کے قدیم دیوستان یعنی ملک ماژندران اور علاقہ رودبار سے گزرتی اور کوہسار طالقان کو شمالاً و جنوباً قطع کرتی ہوئی شہر قزوان کو نکل گئی ہے۔ مدتوں سے اس سڑک کا یہ حال ہے کہ دن دہاڑے بڑے بڑے قافلے لٹ جاتے ہیں اور بے گناہوں کی لاشوں کو برف اور سردی مظلومی و قتل و غارت کی یادگار بنا کے سالہا سال تک باقی رکھتی ہے۔\nان دنوں ابتدائے سرما کا زمانہ ہے۔ سال گزشتہ کی برف پوری نہیں گھلنے پائی تھی کہ نئی تہ جمنا شروع ہو گئی۔ مگر ابھی تک جاڑا اتنے درجے کو نہیں پہنچا کہ موسمِ بہار کے نمونے اور فصلِ گل کی دلچسپیاں بالکل مٹ گئی ہوں؛ آخری موسم کے دو چار پھول باقی ہیں اور کہیں ان کے عاشق و قدردان بلبل بدخشانی بھی اپنی ہزار داستانی و نغمہ سنجی کے راگ سناتے نظر آ جاتے ہیں۔ یہ کوہستان عرب کے خشک و بے گیاہ پہاڑوں کی طرح برہنہ اور دھوپ میں جھلسے ہوئے نہیں بلکہ ہر طرف سایہ دار درختوں اور گھنی جھاڑیوں نے نیچر پرستوں اور قدرت کے صحیح قدردانوں کے لیے عمدہ عزلت کدے اور خلوت گاہیں بنا رکھی ہیں۔ اور جس جگہ درختوں کے جھنڈ نہیں وہاں آسمان کے نیلے شامیانے کے نیچے قدرت نے گھاس کا سبز اور مخملیں فرش بچھا دیا ہے جس پر بیٹھ کر کوئی شراب شیراز کا لطف اٹھانا چاہے تو یہاں نہر رکنی کے بدلے نہر ویرنجان بھی موجود ہے ، جو شاید ابھی پوری ڈیڑھ صدی بھی نہیں گزری کہ رود سفید سے کاٹ کر پہاڑوں کے اندر ہی اندر مختلف گھاٹیوں میں گھمائی اور شہر خرم آباد کے قریب بحر خزر میں گرائی گئی ہے۔\nان ہی دلچسپیوں اور قدرت کے ان ہی دلفریب منظروں نے اس کوہسار کے متعلق طرح طرح کے خیالات پیدا کر رکھے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جنت انھی گھاٹیوں میں ہے اور بعض سمجھتے ہیں کہ قدیم دیوزادوں کو تو کیومرث و رستم نریمان کے زورِ بازو نے فنا کر دیا مگر ان کی یادگار میں بہت سی پریاں آج تک تنہائی کے مقامات میں سکونت پذیر ہیں۔ اور بعض سیاحوں کو تو پریوں کے بڑے بڑے ہوش رُبا غول گھاٹیوں سے ناگہاں نکل پڑتے نظر آئے۔ یہ بھی سنا جاتا ہے کہ جو کوئی ناگہاں ان پریوں کے غول میں پڑ جاتا ہے ، فوراً مر جاتا ہے۔\nمگر پریوں اور قدیم دیووں سے زیادہ ظالم ملاحدہ اور باطنیہ لوگ ہیں جو اس تمام علاقے میں آباد اور پھیلے ہوئے ہیں ، اور جو پرائے اصول و عقائد کا مسلمان ان کے ہاتھ میں پڑ جاتا ہے ، کسی طرح جان بر نہیں ہو سکتا۔ خصوصاً جمادی الاول، جمادی الثانی اور رجب کے مہینوں میں ان کے مظالم کی دھوم مچ جاتی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ علاقہائے ترکستان، کرغیز اور استراخان کے مسلمان جب حج کو جاتے ہیں تو جہازوں پر بحر خزر سے بار کرتے ہوئے ارضِ عراق کو جاتے اور پھر وہاں سے خاک پاک حجاز کا ارادہ کرتے ہیں۔ اگرچہ یہاں کے مظالم کی ہر جگہ شہرت ہو گئی ہے اور بہت سے لوگوں نے یہ راستہ چھوڑ دیا مگر پھر بھی بعض بے پروا مسلمان اپنی خوش اعتقادی کے جوش میں آ ہی نکلتے ہیں؛ علی الخصوص آمل اور اس کے مضافات کے حاجیوں کے لیے تو اور کوئی راستہ ہی نہیں۔\nیہ سڑک جس کا اوپر ذکر آیا، بہت دور تک پھیلی ہوئی ہے مگر ہمارے پیش نظر صرف وہی حصہ ہے جہاں یہ سڑک نہر ویرنجان کے کنارے کنارے گزر رہی ہے۔ اس مقام سے علاقہ رودبار کے میدان ختم ہو گئے ہیں اور کوہستان کے سخت اور پیچیدہ نشیب و فراز کی ابتدا ہے۔ یہاں سے کچھ آگے بڑ ھ کے سڑک اور طرف گئی ہے اور نہر کوہ البرز کے دامنوں میں چکر کھا کے دشوار گزار اور پیچیدہ گھاٹیوں میں غائب ہو گئی ہے۔\nشام کو شاید چند ہی گھڑیاں باقی ہوں گی؛ آفتاب سامنے کی برف آلود چوٹیوں کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اس کی کمزور کرنوں نے جو تھوڑی بہت گرمی پیدا کی تھی، مٹ گئی اور ہوا کے سرد جھونکے جو بلند برفستان پر سے پھسلتے ہوئے آتے ہیں، انسان کے کپکپا دینے کے لیے کافی ہیں۔\nاس جگہ پر ایسی حالت میں شمال کی طرف سے دو مسافر سر سے پاؤں تک کپڑوں میں لپٹے اور دو بڑی بڑی گٹھریوں کی صورت بنائے ہوئے آہستہ آہستہ آ رہے ہیں۔ دونوں دو چھوٹے چھوٹے اور تھکے ماندے گدھوں پر سوار ہیں۔ ان کی سست روی اور مجموعی حالت سے خیال ہوتا ہے کہ کسی گاؤں کے غریب ملا یا فقیر ہیں جو امارت اور سپاہیانہ دونوں وضعوں سے جدا کسی دینی غرض اور تقدس کی شان سے مذہبی سفر کو نکلے ہیں۔ مگر نہیں، وہ اور قریب آ گئے تو معلوم ہوا کہ نہ وہ ملا ہیں اور نہ مشائخ بلکہ دو نو عمر شریف زادے ہیں ، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں میں سے ایک مرد ہے اور ایک عورت۔ ان کے لباس و وضع سے چاہے نہ ظاہر ہو مگر بشرے بتائے دیتے ہیں کہ کسی معزز خاندان کے چشم و چراغ ہیں اور ممکن نہیں کہ کسی نامی اور شریف گھرانے سے نہ تعلق رکھتے ہیں، اس لیے کہ موٹے موٹے اور لمبے چوڑے کمبلوں کے نیچے جنہیں سر سے پاؤں تک لپیٹ لیا ہے ، دونوں شرفائے آمل کا لباس پہنے ہوئے ہیں۔\nمرد جس کی اٹھتی جوانی ہے ایک خوبصورت نوجوان ہے۔یہ ایک اونی کفتان پر بڑا پوستین کا لبادہ پہنے ہے۔ سر پر قدیم لمبی ترکی ٹوپی ہے جو بانس کی تیلیوں سے مخروطی صورت میں بنا کے بکری کی سیاہ کھال سے منڈھ دی گئی ہے۔ ٹوپی پر بڑا عمامہ ہے اور اس کے کئی پیچ سر سے نیچے اتر کے کانوں اور گلے میں بھی لپٹے ہیں۔پاؤں میں موزے اور ایک اونی پائجامہ ہے۔ کمر میں چمڑے کی پیٹی کسی ہے جس میں خنجر لگا ہے اور تلوار لٹک رہی ہے۔ اس نوجوان کے پاس کمان اور تیروں کا ترکش بھی ہے۔ مگر اس عہد قدیم کے یہ ضروری اسلحے گدھے کی زین میں بندھے ہیں۔ اور یہی ایک حربہ ہے جس کے ذریعے سے شکار کر کے یہ دلاور نوجوان اپنے اور اپنی دل ربا ہم سفر کے لیے قوت لایموت حاصل کرتا ہے۔ الغرض ایک گدھے پر تو یہ نوجوان سوار ہے اور دوسرے پر ایک اٹھارہ انیس برس کی پری جمال۔ موٹے موٹے کپڑے اور بھدی پوستین اس کے زاہد فریب حسن کو بہت کچھ چھپا رہے ہیں، مگر ایک دلربا ماہ وش کی شوخ ادائیاں کہیں چھپائے چھپی ہیں ! جس قدر چہرہ کھلا ہے ، حسن کی شعاعیں دے رہا ہے اور دیکھنے والے کی نظر کو پہلا ہی جلوہ یقیں دلا دیتا ہے کہ ایسی حسین و نازنیں پھر نظر نہ آئے گی۔ ہماری آفت روزگار مہ جبیں ایک زرد ریشمی پائجامہ پہنے ہے ، جو اوپر سے نیچے تک ڈھیلا اور پاؤں کے گٹوں پر خوشنما چنت کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ گلے میں دیبائے سرخ کا کرتا ہے اور سر پر نیلے پھول دار اطلس کی خمار۔ لیکن یہ سب کپڑے ایک گرم اور پھولے پھالے پوستین کے اندر چھپے ہوئے ہیں۔ جو چیز کہ اس کے عورت ہونے کو عام طور پر ظاہر کر رہی ہے وہ چھوٹی چھوٹی سینکڑوں چوٹیاں ہیں جو خمار کے نیچے سے نکل کے ایک شانے سے دوسرے شانے تک ساری پیٹھ پر بکھرتی چلی گئی ہیں اور راستے کے نشیب و فراز یا گدھے کی تیز روی سے بار بار کھل جاتی ہیں۔\nاس دل ربا لڑکی کے حسن و جمال کی تصویر دکھانا مشکل ہے ، مگر غالباً یہ چند باتیں مشتاق دلوں میں ، اور آرزو مند نگاہوں کے سامنے اس کے زاہد فریب حسن کا ایک معمولی خاکہ قائم کر سکیں۔ گول آفتابی چہرہ، جیسا کہ عموماً پہاڑی قوموں میں ہوتا ہے ، ستے اور کھنچے ہوئے سرخی کی جھلک دینے والے گال، بڑی بڑی شربتی آنکھیں، لمبی نوکدار پلکیں، بلند مگر کسی قدر پھیلی ہوئی ناک، نازک اور خمدار ہونٹ، باریک اور ذرا پھیلی ہوئی باچھیں، چھوٹی سی سانچے میں ڈھلی ہوئی نوکدار ٹھڈی، شرم آگیں اور معمولاً جھکی ہوئی نظروں کے ساتھ شوخ اور بے چین چشم و ابرو؛ اور اس تمام سامان حسن کے علاوہ تمام اعضاء و جوارح کا غیر معمولی تناسب ہر شخص کو بے تاب و بے قرار کر دینے کے لیے کافی ہے۔\nیہ دونوں نو عمر مسافر چاروں طرف کے منظروں کو دیکھتے اور مقامی دشواریوں کی وجہ سے دل ہی دل میں ڈرتے ہوئے چلے جاتے ہیں اور خاموش ہیں۔ دن کے آخر میں ہو جانے کے خیال سے ان کے نازک چہرے جنہوں نے ابھی تک تجربے کی پختگی حاصل نہیں کی، پریشان ہونے لگے ہیں، مگر اس پر بھی خموشی کا قفل نہیں کھلتا۔ ناگہاں کسی فوری جذبے سے مغلوب ہو کر نازنین لڑکی نے ٹھنڈی سانس لی اور باریک اور دلفریب آواز میں پوچھا \"آج کون دن ہے \"\nنوجوان: (چپکے ہی چپکے کچھ حساب لگا کر) جمعرات!\nلڑکی: (حسرت آمیز لہجے میں) تو ہمیں گھر چھوڑے آج پورے آٹھ دن ہوئے۔ (ذرا تامل کر کے ) خدا جانے لوگ کیا کیا باتیں کہتے ہوں گے اور کیسی کیسی رائیں قائم کی جاتی ہوں گی۔\nنوجوان: یہی کہتے ہوں گے کہ حج کے شوق نے ہم سے وطن چھڑا دیا۔\nلڑکی: (پھر ایک آہ سرد بھر کے )مجھے الزام دیتے ہوں گے کہ نا محرم کے ساتھ چلی آئی۔\nنوجوان: زمرد! (یہ لڑکی کا نام ہے ) اب میں نامحرم نہیں ہوں۔ دو ہی چار روز میں ہم قزوین پہنچ جائیں گے اور وہاں پہنچتے ہی ہمارا نکاح ہو جائے گا۔\nزمرد: (پھر ٹھنڈی سانس لے کے )خدا جانے وہاں تک پہنچنا بھی نصیب ہوتا ہے یا نہیں۔\nنوجوان: کیوں ؟\nزمرد: راستے کی دشواریاں مشہور نہی ہیں؛ کوئی خوش نصیب مسافر ہی ہوتا ہو گا جو پریوں کے ہاتھ سے بچ کر نکل جاتا ہو۔ اور ان سے بچ بھی جائے تو ملاحدہ (ملاحدہ یہ قرامطہ اور خاصۃً باطنیہ کا عام لقب تھا ) کیوں چھوڑنے لگے۔\nزمرد میں اس وقت ایک غیر معمولی تغیر پیدا ہو گیا ہے۔ اس مقام نے اسے کوئی خاص بات یاد دلا دی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ چاروں طرف کے منظر کو ہر طرف مڑ مڑ کر کے دیکھ رہی ہے اور بار بار آہ سرد بھرتی ہے۔ نوجوان نے اس بات کا خیال بھی نہیں کیا اور معمولی لہجے میں کہنے لگا :\"ملاحدہ کی طرف سے تو مجھے اطمینان ہے ، اس لیے کہ ان کے مشہور نقیب آمل ملا ہبتہ اللہ سے مجھے ایک خط مل گیا ہے ، وہ خط ہمیں ایک مجرب تعویذ کا کام دے گا اور اس کے پیش کرتے ہی ہم پر قرمطی کے دست ستم سے نجات پا جائیں گے۔\"\nیہ باتیں کرتے کرتے دونوں نو عمر مسافر اس مقام پر پہنچے جہاں سے سڑک تو کوہسار کی بلندی پر چڑھنا شروع ہوئی ہے اور نہر اس سے جدا ہو کے دشوار گزار گھاٹیوں اور گھنی خاردار جھاڑیوں میں گھسنے کے لیے داہنی جانب مڑ گئی ہے۔نوجوان نے اپنے گدھے کو آگے بڑھایا ہی تھا کہ زمرد باگ روک کے کھڑی ہو گئی اور کہا:\"نہیں حسین!(یہ اس نوجوان کا نام ہے) ’’ادھر نہیں‘‘\nحسین: (حیرت سے زمرد کی طرف دیکھ کر) پھر کدھر؟\nزمرد: جدھر یہ نہر گئی ہے۔\nحسین: ادھر تو راستہ نہیں۔\nزمرد: ہے تم چلو تو سہی۔\nحسین: آخر قزوین چلتی ہویا کہیں اور؟\nزمرد: نہیں میری منزل مقصود قزوین نہیں، مجھے تو یہ دیکھنا ہے کہ یہ نہر کدھر گئی ہے۔\nحسین: اس طرف تو پریوں کا نشیمن ہے۔\nزمرد: ہونے دو۔\nحسین: سنتا ہوں کوئی ادھر سے زندہ نہیں پھرا۔\nزمرد: میں بھی چاہتی ہوں۔\nحسین نے تعجب اور حیرت سے زمرد کی صورت دیکھی اور ایک متانت کی آواز سے کہا: \"اور وہ حج کی نیت کیا ہوئی؟\"\nزمرد: ہے ، مگر پہلے اپنے بھائی موسیٰ کی قبر پر جا کے فاتحہ پڑھ لوں تو مکہ معظمہ جانے کا ارادہ کریں۔\nحسین: تمہارے بھائی کی قبر؟ مگر یہ کسے خبر کہ کہاں ہے ؟\nزمرد: مجھے معلوم ہے ، راستہ بھی جانتی ہوں اور اس مقام کو بھی۔\nحسین: (حیرت سے )تم! تم کیا جانو؟\nزمرد: خوب جانتی ہوں!\nحسین: کیا کبھی آئی تھیں؟\nزمرد: نہیں، مگر یعقوب جو بھائی کے مرنے کے بعد خبر لایا تھا۔ اس سے پورا پتہ دریافت کر چکی ہوں۔ پہلی نشانی تو یہی ہے کہ جہاں سے نہر سڑک سے علیحدہ ہوئی ہے ، سڑک چھوڑ کے نہر کے کنارے کنارے جانا چاہیے ؛ اور بعد کی نشانیاں آگے چل کر بتاؤں گی\"۔\nحسین: یعقوب کو کیا معلوم؟ کون کہہ سکتا ہے کہ ان بلند اور پیچ در پیچ پہاڑوں میں کون شخص کہاں اور کیوں کر مارا گیا؟\nزمرد: تم نہیں جانتے بھائی موسیٰ اور یعقوب دونوں ساتھ ساتھ تھے ؛ اس مقام پر پہنچ کے نہر کر کنارے کنارے کچھ دور گئے تھے کہ کوہ البرز سے پریوں کا غول اترا۔ ان کے ہاتھ سے بھائی تو مارے گئے مگر یعقوب غش کھا کر گر پڑا۔ اگلے دن جب اسے ہوش آیا تو بھئی کی لاش پڑی پائی۔ انھیں دفن کیا پھر قبر بنا کے اور قبر کے پاس ہی ایک چٹان پر ان کا نام کندہ کر کے واپس آیا۔\nحسین: مجھے تو غپ معلوم ہوتی ہے۔ آخر اس کا سبب کہ پریوں نے یعقوب کو تو زندہ چھوڑ دیا اور تمہارے بھائی مارے گئے ؟\nزمرد: اس کا یہ سبب ہوا کہ بھائی نے ایک پری کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور یعقوب بزدل تھا؛ پری زادوں کو دیکھتے ہی غش کھا کر گر پڑا۔\nحسین: پھر ایسے مقام میں تو ہرگز نہ جانا چاہیے۔\nزمرد: نہیں حسین، میں ضرور جاؤں گی۔\nحسین: فرض کرو کہ ہم وہاں پہنچے اور ہمارے سامنے بھی پریاں اتریں تو؟\nزمرد: میں تو اس سے نہیں ڈرتی؛ اگر تمہیں خوف ہے تو نہ چلو۔\nحسین: تم اکیلی جاؤ اور میں نہ چلوں!میں جو تمہاری محبت میں ہر وقت جان دیتے کو تیار ہوں!\nزمرد: حسین، سنو! میں تمہارے ساتھ نہ آتی۔ یہ مانتی ہوں کہ تم شریف ہو، اور اسی زمانے سے جب کہ ہم دونوں مکتب میں ساتھ پڑھتے تھے ،مجھے تم سے محبت ہے ، مگر یہ نہ سمجھو کہ ایک شریف لڑکی کو تم فقرہ دے کے گھر سے نکال لائے ہو؛ میں خود اپنے شوق سے آئی ہوں فقط اتنی امید پر کہ بھائی کی قبر پر کھڑی ہو کر دو آنسو بہاؤں گی؛ جب یہ مقصد پورا ہولے گا تو حج کو چلوں گی۔\nحسین: زمرد! اپنی جوانی اور اس کم سنی پر ترس کھاؤ اور اس ارادے سے باز آ جاؤ۔\nزمرد: نہیں، یہ نہیں ہو سکتا؛ اسی آرزو کے لیے بے عزتی گوارا کی ہے۔\nحسین: (مایوسی کی آواز سے ) خداوندا۔ اگر جان ہی جاتی ہے تو پہلے میں مارا جاؤں تیری مصیبت ان آنکھوں سے دیکھی نہ جائے گی۔\nزمرد: (مسکرا کے )گھبراؤ نہیں، ہم دونوں کی کشش ایک دوسرے کو کھینچ لے گی۔ مارے گئے تو دونوں مارے جائیں گے۔\nیہ کہہ کر زمرد نے اپنے گدھے کو نہر ویرنجان کی طرف موڑا؛ دو ہی قدم چلی ہو گی کہ حسین نے پھر روک کے کہا \"زمرد ذرا صبر کرو، چلنا ہے تو کل چلنا؛ اب شام ہوا چاہتی ہے پہنچتے پہنچتے رات ہو جائے گی۔\"\nزمرد: بس اب چلے ہی چلو؛ کہیں آبادی کے ملنے کی تو امید نہیں؛ اور جب جنگل ہی میں ٹھہرنا ہے تو یہاں وہاں دونوں جگہ برابر ہے۔\nحسین سے کسی طرح اناچر کرتے نہ بنی؛ چل کھڑا ہوا؛ اور دل میں پس و پیش کرتا ہوا زمرد کے ساتھ کوہ البرز کی تیرہ و تاریک گھاٹی میں جا گھسا۔ اب دونوں آہستہ آہستہ چلے جاتے ہیں اور اس سنسان مقام کا رعب دلوں پر اس قدر بیٹھ گیا ہے کہ بالکل خاموش ہیں۔ جوں جوں آگے بڑھتے ہیں جنگل گھنا ہوتا جاتا ہے سردی ساعت بہ ساعت بڑھ رہی ہے۔ سناٹے نے نہر بہنے کی آواز تیز کر دی ہے جس سے اس مقام کے وحشت ناک منظر میں ایک ہیبت بھی پیدا ہو گئی ہے۔ اب راستہ ایسا دشوار ہے کہ گدھوں سے اترنا پڑا۔ دونوں آگے پیچھے چلتے اپنے گدھے کے دہانے ہاتھ میں پکڑے چٹانوں سے بچتے اور جھاڑیوں میں گھستے چلے جاتے ہیں۔ آخر دیر کے سکوت کے بعد حسین نے مرعوب ہو کے کہا:\"بے شک دیو و پری ایسے ہی سناٹے کے مقام میں رہتے ہیں۔ انسان کیا معنی یہاں تو جانور کا بھی پتا نہیں۔\"\nزمرد: ہاں! اور سنتی ہوں اس نہر میں اکثر جگہ پریاں نہاتی اور بال کھولے ہوئے آپس میں کھیلتی اور چھینٹیں اڑاتی بھی نظر آ جایا کرتی ہیں۔\nحسین: (چونک کر)ایں! سنسنانے کی آواز کیسی تھی جیسے کوئی چیز سن سے کانوں کے پاس آ کر نکل گئی ؟\nزمرد: یہ تو مشہور ہے پریوں کے تخت چاہے اڑتے نظر نہ آئیں مگر ان کے سن سے نکل جانے کی آواز ضرور سنائی دیتی ہے۔\nحسین: یہ بھی ممکن ہے ، مگر میں سمجھتا ہوں کہ کوئی جانور تھا۔\nزمرد: جانور ہوتا تو دکھائی نا دیتا!\nحسین: اگرچہ ابھی آفتاب نہیں غروب ہوا، مگر یہاں تم دیکھ رہی ہو کہ شام سے بھی زیادہ اندھیرا ہے۔ ایسے دھندلکے میں بعض اوقات الو یا بڑے بڑے چمگادڑ اس طرح سناٹے کی آواز سے اڑتے ہوئے نکل جاتے ہیں۔\nزمرد: لیکن اصل میں یہ بھی پری زاد ہیں جو مختلف جانوروں کی صورت میں رات کو نکلتے ہیں۔\nحسین: ہو گا!(انتا کہہ کر اس نے گرد کے سین کو دہشت اور بزدلی کی نگاہوں سے دیکھا اور نہایت ہی پریشانی کی آواز میں کہا) شام ہوا ہی چاہتی ہے اور تمہارے بھائی کی قبر کا کہیں پتا نہیں۔\nزمرد: مگر میں تو بھائی کی قبر تک پہنچے بغیر دم نہ لوں گی۔\nیہ کہتے ہی ایک نہایت ہی تاریک گھاٹی نظر آئی جس میں نہر تو گئی ہے مگر دونوں جانب ایسی چکنی اور کھڑی چٹانیں ہیں کہ انسان کا گزرنا بہت ہی دشوار ہے۔ اس گھاٹی کی صورت دیکھتے ہی زمرد ایک شوق اور بے خودی کی آواز میں چلا اٹھی: \"ہاں دیکھو، یہ دوسری علامت ہے۔ اسی میں سے ہوکے راستہ گیا ہے۔\"\nحسین: مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ ادھر سے ہم جائیں گے کیونکر؟\nزمرد: جس طرح بنے ،جاؤں گی ضرور!\nحسین: اور یہ گدھے ؟\nزمرد: ان کو یہیں چھوڑ دو واپس آ کے لے لینا۔\nحسین سے اس مستقل مزاجی اور دھن پر زمرد کو تعجب کی نگاہ سے دیکھا، پھر گدھے درختوں سے باندھے اور دونوں چٹانوں سے چمٹتے اور ہاتھوں سے پتھروں کے سروں اور خمروں کو پکڑتے آگے روانہ ہوئے۔کوئی دو گھڑی یہ محنت کا سفر کیا ہو گا کہ گھاٹی ختم ہو گئی جس سے نکلتے ہی دونوں نے دیکھا کہ نہر ویرنجان اس گھاٹی سے گزر کے یکایک ایک نہایت ہی فرح بخش مرغ زار میں بہنے لگی ہے۔ یہ عجیب لطف کا مقام تھا۔ قدرت نے خود ہی چمن بندی کر دی تھی۔شگفتہ اور خوش رنگ پھولوں کے تختے دور دور تک پھیلتے چلے گئے تھے۔ نغمہ سنج طیور بھی یہاں کثرت سے نظر آئے جو ہر طرف شاہدان چمن کے حسن و جمال پر صدقے ہوتے پھرتے تھے۔شام ہو رہی تھی اور یہ جوش میں بھرے ہوئے عاشقانِ شاہد گل اپنے معشوقوں کو الوداع کہہ رہے تھے۔ یہ سماں دیکھتے ہی زمرد نے خوش ہو کے کہا: \"اب ہم اپنی منزل مقصود کو پہنچ گئے ہیں۔ اسی وادی میں بھائی موسیٰ مارے گئے اور کہیں یہیں ان کی قبر بھی ہو گی۔\"\nیہ کہہ کے زمرد ایک نازک بدن اور چست چالاک ہرنی کی طرح چاروں طرف دوڑی اور ایک بڑے سے پتھر کے پاس ٹھہر کے چلائی: \"آہ!یہی میرے بھائی کی قبر ہے۔\"\nاس آواز کے سنتے ہی حسین بھی ادھر دوڑا گیا اور دیکھا کہ ایک چٹان پر موسیٰ کا نام کھدا ہوا ہے اور اس کے قریب ہی چند پتھروں کو برابر کر کے ایک قبر کی صورت بنا دی گئی ہے۔\nدونوں نے یہاں کھڑے ہو کر فاتحہ خوانی کی مگر زمرد کے دل پر حسرت و اندوہ کا اس قدر غلبہ ہوتا جاتا تھا کہ فاتحے کر ختم ہونے سے پہلے ہی وہ گر پڑی اور قبر سے لپٹ کر زار و قطار رونے لگی۔ حسین نے بہت کچھ تسلی دی، نہر سے پانی لا کے منہ دھلایا اور رات کے اندھیرے میں اپنی حور وش محبوبہ کو گود میں لے کے بیٹھا اور سمجھانے لگا۔\nزمرد: (ہچکیاں لے لے کے ) حسین مجھے اپنی زندگی کی امید نہیں؛ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہںہ مروں گی۔ ہاتھ پاؤں سنسنا رہے ہیں، کلیجے میں میٹھا میٹھا سا درد ہے اور دل بیٹھا جا رہا ہے۔ مگر مرنے سے پہلے تم سے ایک وصیت ہے۔ مر جاؤں تو میری لاش کو بھی انھیں پتھروں کے نیچے دبا دینا جن کے نیچے بھائی موسیٰ کی ہڈیاں ہیں۔\nحسین: (نہایت مستقل مزاجی سے آنکھوں ہی آنکھوں میں آنسو پی کر) یہ وصیت اگر پوری ہونے والی ہو گی تو کسی اور کے ہاتھوں سے پوری ہو گی۔ میں تماچرے بعد زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور جس کسی کے ہاتھ سے یہ وصیت پوری ہو گی وہ تمہارے ساتھ میری ہڈیوں کو بھی ان ہی پتھروں کے نیچے دبائے گا۔\nزمرد: (خوشامد کے لہجے میں) نہیں حسین ایسا نہ کرنا۔ تم کو ابھی نہیں معلوم کہ مجھے کیا چیز یہاں کھینچ لائی ہے۔ نہ یہ کہہ سکتی ہوں کہ بھائی کی محبت ہے نہ یہ کہہ سکتی ہوں کے یعقوب کے بیان میں کوئی جادو تھا، مگر جس روز اس نے بھائی موسیٰ کی حسرت نصیب داستان سنائی اس کے دوسرے ہی دن میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے بھائی اس وادی میں کھڑے ہیں۔ خواب ہی میں انھوں نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے اپنی طرف بلایا اور تاکید کر کے کہا کہ میرے قبر پر آ کے فاتحہ پڑھ۔مرحوم بھائی نے کچھ ایسی مؤثر وضع سے بلایا تھا کہ ان کی اُس وقت کی صورت اِس وقت تک میری آنکھوں کے سامنے پھر رہی ہے۔ اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ میں یہاں بھائی کی بلائی ہوئی آئی ہوں۔\nحسین: (وفورِ گریا سے بے اختیار ہو کر اور ایک بے انتہا جوش کے ساتھ)خیر تمھیں تو انھوں نے خواب میں فقط بلایا تھا اور مجھے تم خود ساتھ لائی ہو۔\nزمرد:ہاں میں تم کو ساتھ لائی اور اسی سبب سے کہ اس دنیا میں مجھے تم سے زیادہ کوئی عزیز نہیں۔ میری تمنا تھی اور ہے کہ تمہارے پہلو میں اور تمہاری آنکھوں کے سامنے جان دوں؛ اور اس کے بعد تم گھر جاؤ اور وہاں عزیزوں اور شہر کے دیگر شرفاء کی نظر میں جو کچھ بے عزتی ہوئی ہے اس کو دور کرو اور میری خبر مرگ کے ساتھ سب کو جا کے بتا دو کہ میں نے کیوں اور کہاں جان دی۔ اور مرتے وقت تک کیسی پاک دامن تھی۔ (گلے میں بانہیں ڈال کے ) حسین! میری آرزو ہے کہ تم زندہ رہو اور میرے دامن سے بدنامی کا داغ دھوؤ۔\nحسین: (ایک نالہ جانکاہ کے ساتھ) خدا نہ کرے کہ میں تمہاری خبر مرگ لے جاؤں!\nزا کہاں ایک پہاڑی کی ڈھالو سطح پر کچھ روشنی نظر آئی، جس پر پہلے زمرد کی نظر پڑی اور اس نے چونک کے کہا:\"یہ روشنی کیسی؟\" حسین نے بھی اس روشنی کو حیرت سے دیکھا ور کہا:\"خدا جانے کیا بات ہے ، اور دیکھو ادھر ہی بڑھتی چلی آتی ہے۔ اس رات کی تاریکی میں یہاں آنے والے کون لوگ ہو سکتے ہیں؟\"\nدونوں عاشق و معشوق روشنی کو گھبرا کے اور ساعت بہ ساعت زیادہ متحیزہو کے دیکھ رہے تھے کہ وہ بالکل قریب آ گئی۔ بڑی بڑی پندرہ بیس مشعلیں تھیں اور ان کے نیچے حسین و پری جمال عورتوں کا ایک بڑا غول، جن کی صورت دیکھتے ہی زمرد اور حسین دونوں نے ایک چیخ ماری؛ دہشت زدگی کی آواز میں دونوں کی زبان سے نکلا \"پریاں\" اور دونوں غش کھا کے بے ہوش ہو گے ۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%BA%D9%88%D9%84"} {"title": "فردوس بریں/پھر وہی عالم عناصر", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر > فردوس بریں", "year": null, "text_ur": "دیر کی آزاد رساں‌غفلت اور بے ہوشی کے بعد حسین ذرا ہوشیار رہنے لگا تھا کہ کان میں‌آواز آئی: \" اے جسم خاکی! اُٹھ اور اس برزخ کبریٰ کا ہاتھ چوم جو تیرا امام ہے اور جس نے صرف تیرے لیے باوجود مجردِ محض ہونے کے صورتِ مادی اختیار کر لی ہے۔\"\nحسین نے بے ساختہ آنکھ کھول دی اور باغ جنت یا زمرد کے پہلو کے بدلے اپنے کو اُ س تاجدار شخص کے سامنے پایا جس کے ہاتھ پر اسن ے بیعت کی تھی اور جو اس سفر جنت کی آخری منزل پر ملا تھا۔ حسین آنکھیں ملتا ہوا ادب سے اُٹھ بیٹھا اور اس کے قدموں‌پر گر کے سر رگڑ کے کہنے لگا\" ممکن بیدار ازیں‌خوابم خدارا۔\"\nشخص: نہیں، تجھے پھر عالم ارضی میں‌جانا ہے۔ ہوشیار ہو جا کہ مشائخ‌باطن سے ہرگز گریز نہ کرنا۔ میرا یہ ہاتھ جس میں‌نور کے سوا مادے کا بہت ہی کم جز ہے ، تیرے ہاتھ سے مل چکا ہے اور ہمیشہ ان لوگوں‌کے ہاتھ پر رہتا ہے جن کے وسیلے سے تیری اس ملاء اعلیٰ تک رسائی ہوئی۔\nحسین: مگر میں ابھی اور چند روز جنت میں رہنے کا آرزو مند ہوں۔\nشخص: اس مادی عالم کی زندگی میں‌یہ بھی تیرے حوصلے اور تیری ہوس سے زیادہ تھا، اب اس زندگی میں‌ممکن نہیں‌کہ تو پھر اس روحانی عشرت کدے میں‌آ سکے۔جا اور اس وقت کا منتظر رہ جب کہ کسی دینی کوشش میں‌یا امام و مرشد کے حکم سے تو جام فنا پیے گا۔\nحسین : تو آپ میرے امام ہیں‌اور آپ ہی جام فنا پلا کے مجھے فردوس بریں‌میں پہنچا دیجیے۔\nشخص: ابھی ملاء اعلیٰ کی سرحد ہے اوریہاں‌فنا نہیں۔\nاتنے میں‌ وہی پہلی پری وش نازنین لبریز جام ہاتھ میں‌لیے ہوئی آئی جس کے دیکھتے ہی اس شخص نے کہا: \"بس اب زیادہ حجت نہ کر اور لے ، یہ شراب طہور کا آخری جام پی۔\"\nیہ کہہ کے اس نے جام اپنے ہاتھ سے حسین کی طرف بڑھایا۔\nحسین اب جانتا تھا کہ یہ شراب طہور داروئے بے ہوشی کا اثر رکھتی ہے اور جس طرح ‌اس کا نشہ پہلے عالم بالا میں‌لے آیٰا، اب حضیضِ ظلمتٌ میں‌لے جائے گا، مگر مایوسی کی تکلیف نے پیاس اس قدر تیز کر دی تھی کہ ان کار کی جرات نہ ہوئی؛ بے تکلف لے کے پی گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ مدہوشی تھی اور وہی خود فراموشی۔ پھر اسی طرح‌تھوڑی تھوڑی دیر بعد آنکھیں کھول کے وہ مختلف سین دیکھنے لگا۔حیرت زدہ آنکھوں‌کے سامنے کبھی دشت و در تھے اور کبھی پہاڑوں‌کی بلندی و پستی۔ آخر ایک شب کو اس کی آنکھ شیخ الجب کے سامنے کھلی۔راہ جنت کے اس پہلے نگہبان نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر کے کہا: \"حسین! تو پھر اس تیرہ خاک دان عنصری کی حدود میں آ گیا، اور ان آنکھوں‌سے جو انوار محہنن و مجردہ کو دیکھ چکی ہیں،پھر نور سینا کو اسی طرح‌ستر ہزار حجابوں‌میں‌دیکھ رہا ہے۔\"\nحسین: (آب دیدہ ہو کر) مگر میں‌تو اس ظلمت کدہ خاکی میں‌نہیں‌آنا چاہتا تھا۔\nطور معنی: بے شک نہ چاہتا ہو گا۔ جذبات نور وحدت ایسی ہی کشش رکھتے ہیں مگر کیوں ‌کر ممکن تھا کہ اس جسم خاکی کا دھبا اس نورستان مین ہمیشہ قائم رہتا۔\nحسین: تو لِلّہ کوشش کیجیے کہ اسی وقت اس جسم خاکی کو چھوڑ کے اس سروشستان اعلیٰ کا راستہ لوں۔\nطور معنی: ان امور میں‌شیخ علی وجودی ہی تمھارا اطمینان کر سکتے ہیں‘ اُن کے پاس جاؤ اور وہ جو کہیں اُس پر عمل کرو۔\nحسین: ( جوش دل سے نوحہ وہ بکا کر کے ) افسوس! میری اتنی ریاضت اور یہ مدتوں ‌کی آرزومندی صرف اتنے مختصر زمانے کے لیے تھی؟ آہ کیاکروں‌کہ پھر زمرد کا وصال نصیب ہو؟\nاس کے بعد حسین پھوٹ‌پھوٹ کے اور زار و قطار رونے لگا اور یہاں ‌تک رویا کہ ہچکیاں‌بندھ گئیں۔\nطور معنی: اے بلند حوصلہ مشت غبار! میرے عزلت کدے کو خالی کر اور صفحہ ارضی پرجا کے اُس میعاد کو پورا کر، جتنے دنوں کے لیے تو ظلمت کدۂ ارض میں گرفتار ہے۔\nحسین: کاش یہی معلوم ہوتا کہ اس مشت غار کوکب تک اس عالم میں سرگرداں ‌پھرنا اور خاک اڑانا ہے۔\nطور معنی: تیرے لیے ان رموز کا حل کرنا شیخ علی وجودی کا کام ہے ، اس لیے وہی تیرے مرشد ہیں۔ مگر ہاں،میں تجھے ایک راز بتا سکتا ہوں؛ وہ یہ کہ پھر اس عالم نور کی زیارت فقط امام کے اختیار میں ہے جس کے ہاتھ پر تو بیعت کر چکا ہے جو لاہوت و ناسوت کا برزخ ہے جو مختلف جسد ہائے امامت و نبوت میں‌ظاہر ہوتی رہی۔\nحسین: مگر ان تک رسائی کیوں‌کر ہو سکتی ہے ؛ وہ ملاء اعلیٰ پر ہیں‌اور میں اس قعر ظلمت میں پھینک دیا گیا؟\nطور معنی: گو ان کا مرکز و مقروبی نورستان اعلیٰ ہے مگر ایک گو نا تعلقات مادہ،جن کی وجہ سے انھوں‌نے بہت سے جسم ہائے امامت بدلے ،انھیں‌اکثر اوقات اس آخشیجستان میں کھینچ لاتے ہیں۔لیکن بغیر مرشد کے اس غرض‌میں کامیابی نہیں حاصل ہو سکتی۔اگر تو اصرار کرے گا تو تیرے مرشد شیخ علی وجودی اس امر میں تیری مدد کریں‌گے۔بس اب تو اس خلوت کدۂ نور کو خالی کر اور مرشد کی قدم بوسی کے لیے روانہ ہو۔\nاس تقریر نے امید کا ایک دھندلا سا چراغ پھر اس کے سینے میں روشن کیا، جس کی روشنی میں وہ غار کے باہر نکلا۔لیکن اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہ تھی، جب دیکھا کہ کاظم جنونی غار کے دھانے پر اُسی وضع و حالت میں کھڑا ہے جس وضع و حالت میں‌ کہ وہ اسے چھوڑ کے گیا تھا۔کاظم جنونی اُس کی صورت دیکھتے ہی بولا: \" اب تو تم کو اطمینان ہو گیا کہ شجرِ‌معرفت کی ایک شاخ تم بھی ہو۔\"\nحسین: اور آپ یہاں‌کب آئے ؟\nکاظم جنونی: ابھی تمھارے ساتھ ہی آیا تھا۔\nحسین: ابھی؟\nکاظم جنونی: ہاں‌ابھی!\nحسین: مجھے تم سے رخصت ہوئے کئی ہفتے گزر گئے۔\nکاظم جنونی: ( ہنس کر) اُس عالم اور اس عالم میں ‌بڑا فرق ہے یہاں کا ایک دن وہاں‌کے ستر برس کے برابر ہے۔\nحسین: وہ ایک گھڑی سہی مگر تم یہاں‌ٹھہرے کیوں‌رہے ؟\nکاظم جنونی: امام قائمِ قیامت کا حکم یوں ہی تھا۔\nحسین: امام قائم قیامت کون؟\nکاظم جنونی: وہی جن کے ہاتھ پر اس عالم نور کے سفر میں‌تم نے بیعت کی ہو گی‌۔\nحسین: مگر ان کے احکام تم تک کیوں ‌کر پہنچ گئی؟\nکاظم جنونی:‌ان ہی مرشد کے ذریعے سے جو راہ حقیقت طے کرنے کے لیے میرے ان کے درمیان میں‌واسطہ ہیں۔\nحسین: تو شاید تمھارے مرشد یہاں‌آئے ہوں گے ؟\nکاظم جنونی: اس کی کچھ ضرورت نہیں؛ وہ ایک توجہ سے اپنے خیالات میرے دل میں‌پیدا کر دیتے ہیں۔\nحسین: افسوس میں‌جنت سے زبردستی کھینچ نکالا گیا!\nکاظم جنونی:‌ان رموز ربانی کی شکایت نہ کرو! اور ان کے مصالح‌دریافت کرنا ہیں تو اپنے مرشد شیخ علی وجودی کے پاس چلے جاؤ۔ مگر یاد رکھنا کہ اب تم عالم نور کی سیر کر آئے ہو لہٰذا ان کو اسی روحانی لقب سے یاد کرنا جو اس سروشستان میں مشہور ہے۔\nحسین: کیا ان کا کوئی اور لقب بھی ہے ؟ میں نے ‌تو نہیں‌سنا۔\nکاظم جنونی: ہاں، اس عالم عناصر میں‌تو ان کا یہی نام ہے جو تم جانتے ہو مگر اس عالم نور میں‌وہ وادیِ ایمن کہے جاتے ہیں۔\nحسین: (تعجب سے ) وادیِ ایمن! (اور پھر ذرا سوچ کے ) بے شک انھیں ‌وادیِ ایمن ہی کہنا چاہیے ان ہی کے پہلو میں‌مجھے نور اور حقیقت کی پہلی شعاع نظر آئی۔\nکاظم جنونی: بس اب چلو اور حلب کا ارادہ کرو۔\nحسین: مگر مجھے اتنا ضرور بتا دیجیے کہ اس عالم نور میں‌کبھی پھر بھی میرا گزر ہو سکے گا؟\nکاظم جنونی: اس امر میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا، مگر ہاں‌یہ یقینی ہے کہ اگر تمھارے مرشد کی توجہ ہو تو سب باتیں‌ممکن ہیں۔\nکاظم جنونی نے اس جملے سے حسین کے سینے میں امید کے چراغ کو ذرا اور اُکسا دیا۔آخر دونوں‌نے اس وحشت ناک مسکن دام ودد کو چھوڑا اور شہر اصفہان میں آئے۔ کاظم جنونی نے اپنی مسجد کے دروازے پر پہنچتے ہی‌آواز لگائی\" دہن سگ بہ لقمہ دوختہ بہ\" جس کے بعد حسین نے اسے رخصت کیا اور شہر حلب کی راہ لی۔\nاس سفر میں‌حسین ہر وقت جنت اور اُس کی حوروں‌کی ادھیڑ بن میں‌رہتا۔ اگرچہ اس کا جسم اس دنیا میں‌تھا لیکن اُس کے خیالات اور اس کے اعتقاد میں اس کی روح‌علی الدوام اس دوسرے عالم نور کے مزے لیتی رہتی۔وہ دل میں‌کہتا:\" اتنے انقلابات کے بعد اب مجھے یہ تو معلوم ہو گیا کہ ‘موتو قبل ان تموتو‘ کے کیا معنی ہیں؛ یا اس دنیا میں‌رہےک سہنے کے ساتھ انسان اس عنصرستان سے قطع تعلق کر کے اپنی زندگی کا زیادہ حصہ عالم ملکوت میں‌کیوں‌ کر صرف کرتا ہے۔ اب اس مرتبہ جب کہ اصفہان سے حلب کو جا رہا تھا،اُسے ایک بہت ہی نئی اور حیرت میں ڈالنے والی چیز نظر آئی۔وہ جس گاؤں‌سے گزرتا یا جس دشت و در میں‌گزرتا، اکثر لوگ خودبخود اسے پچان لیتے کہ جنت کی سیر کر آیا ہے اور پاس آ آ کے مبارکباد دیتے۔وہ دل ہی دل میں‌پریشان تھا کہ یہ کیا بات ہے اور کون سی علامت ہے جس کی وجہ سے لوگوں‌کو میری حالت معلوم ہو جاتی ہے۔ بعض‌لوگوں‌سے اس راز کو دریافت بھی کیا مگر کسی نے کچھ نہ بتایا۔ زمرد اب اس کے دل و دماغ پر پہلے سے زیادہ حاوی تھی۔اُٹھتے بیٹھتے ،سوتے جاگتے ہر حالت میں اس کی دل فریب تصویر پیش نظر رہتی۔ وہ کبھی اپنی طرف بلاتی تھی اور کبھی صبر و تحمل کی تاکید کرتی تھی۔یہی مزیدار اور پریشان کن خواب دیکھتا ہوا وہ شہر حلب میں‌پہنچا اور شیخ علی وجودی کے سامنے جاتے ہی اُ ن کے قدموں‌پر گر پڑا۔ شیخ نے اُٹھا کے اُس کی پیشانی چومی اور پیٹھ ٹھونک کے اپنے برابر بٹھایا اور کہا: \"اے حسین! تو لاہوت اکبر کی سیر کر آیا؟\"\nحسین: یا شیخ! اس عالم نور کی میں نے پوری کیفیت دیکھ لی۔ اور اے وادیِ ایمن! تیرے پہلو میں مجھے وہ جلوہ نظر آ گیا جس کے اشیاق کے سوال پر موسیٰ کو بھی لن ترانی کا جواب ملا تھا۔ مگر کیا کہوں ‌کہ میں‌نے کن حسرتوں‌سے اس حیّز نور کو چھوڑا ہے !۔\nشیخ: اے تیرہ و تار مشت غبار! بتا تو، تو نے وہاں‌کیا دیکھا؟\nحسین: ایسا کچھ دیکھا کہ آنکھوں کو تمنا رہ گئی۔\nشیخ: جذبات نور ایسے ہی ہوتے ہیں۔ زمرد سے ملا تھا؟\nحسین: ( شیخ کے قدم چوم کے )‌ملا تھا، مگر ابھی سیری نہیں‌ہوئی۔ آہ! جی بھر کے دیکھنے بھی نہ پایا تھا کہ وہ نظر کے سامنے سے غائب ہو گئی۔\nشیخ: مگر تیرا یہ جسم خاکی اس نورستان میں‌زیادہ نہیں‌ٹھہر سکتا تھا۔ اگرچہ تو کہتا ہے اور تجھے یقین ہے کہ اس عالم نور کو تو نے آنکھوں‌سے دیکھ لیا مگر اے حسین میں کہتا ہوں‌کہ تو نے نہیں‌دیکھا۔\nحسین: نہیں اے شیخ‌اور اے وادیِ ایمن! میں‌نے دیکھا ور اپنے خیال کی آنکھوں‌سے اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں۔\nحسین کا یہ جواب سنتے ہی شیخ‌کو جلال آ گیا۔ منہ میں کف بھر آیا،آنکھیں‌سرخ‌ہو گئیں‌اور ایک دفعہ جوش میں‌آکے اُٹھ کھڑے ہوئے۔حسین مارے خوف کے سر سے پاؤں تک کانپ گیا اور انھوں‌ نے کہنا شروع کیا: \" اے متکبر و مغرور مشتِ خاک! تیری کیا مجال کہ اس نور لم یزل کو ان ذلیل آنکھوں‌سے دیکھ سکے۔ تو ان مادی آنکھوں‌سے دیکھ رہا تھا جن میں‌انوار ازلیہ کی اشعاع لامعہ آدھی ضو کے ساتھ بھی نہیں چمک سکیں۔تیرے جسم کے سامنے وہ نور غیر متحیز متحیز بن کے نمایاں‌ہواتھا۔ اس کی اصلی کیفیات کو تیری یہ آنکھیں کسی طرح‌معلوم نہیں‌کر سکتی تھیں۔مگر ہاں‌توان انوار کو دیکھے گا اور ان کی اصلی حالت و کیفیت میں دیکھے گا،مگر کب؟ جب اس جسم خاکی کو چھوڑ کے اور مجرد محض‌بن کے اس حیز نور میں‌جائے گا۔ اس وقت تجھے یہ بھی نظر آ جائے گا کہ اسی نور ازل کا ایک چراغ تو بھی ہے۔\"\nحسین: (کانپتی ہوئی آواز سے ) مگر میں‌تو ابھی وہاں‌سے آنا نہیں‌چاہتا تھا۔\nشیخ: ‌بے شک نہ چاہتا ہو گا، مگر یہ ممکن نہ تھا۔ نور محض کثافت مادہ کا متحمل نہیں‌ہو سکتا۔\nحسین: لیکن اے شیخ! آپ وادیِ ایمن ہیں؛ اگر آپ چاہیں‌تو میں ‌پھر اس عالم نور میں جا سکتا ہوں۔آہ! زمرد کے لیے بہت پریشان ہوں۔\nشیخ: (پھر طیش میں آ کے ) اگر ہوس است ہمیں‌قدر بس است۔اُس سروشستان کو مادے کے قبول کرنے کی اس سے زیادہ زحمت نہیں‌دی جا سکتی۔آگ میں کسی مادی چیز کو ڈال دو تو اپنا تصرف کرنے کے بعد باقی ماندہ کثافت کو الگ پھینک دیتی ہے۔ اسی طرح‌اس نورستان نے تیرے جسم کو اپنے حیز سے نکال کے پھینک دیا۔\nحسین: تو پھر آپ اپنے ہی ہاتھ سے مجھے اس جسم خاکی کی قید سے آزاد کیجیے تاکہ تجرد اختیار کر کے جاؤں‌اور پیاری زمرد کو اپنے آغوش میں‌لے لوں۔ کیا عجب کہ اس وقت تک وہ میرے شوق میں‌اپنا آغوش پھیلائے ہوئے ہو۔\nشیخ: اب وہاں‌تک تیری رسائی صرف امام قائم قیامت کی دستگیری سے ہو سکتی ہے۔\nحسین: گو میں‌اس برزخ کبریٰ کے ہاتھ پر بیعت کر چکا ہوں مگر اس درگاہ میں‌میری رسائی اسی وقت ہو گی جب آپ میری مدد کریں‌گے۔ آپ کی دستگیری سب پر مقدم ہے۔\nشیخ: اچھا مایوس نہ ہو۔ مجھے تیرا ایک دفعہ اور امتحان لینا ہے ؛ اگر تو اس امتحان میں پورا اترا تو میں تجھے اس دربار امامت میں‌سفارش کے ساتھ پہنچا دوں گا۔\nحسین: جلدی فرمائیے ، جو حکم ہو اُ‌س کے بجا لانے کو تیار ہوں۔ میں‌موت کا سب سے زیادہ آرزو مند ہوں۔ اگر اس امتحان ہی میں‌مجھے موت نصیب ہو گئی تو اس سے زیادہ میری کیا خوش قسمتی ہو گی۔\nشیخ: اسی وقت شہر دمشق کی راہ لے اور جس طرح بنے امام نصر بن احمد کو جو ہم باطنین کے خلاف وعظ کہا کرتے ہیں،قتل کر کے واپس آ۔\nحسین: ابھی چلا، مگر مجھے اتنا اور بتا دیجیے کہ کیا ہم ہی وہ باطنین ہیں‌ جنھیں‌کبھی لوگ قرامطہ اور کبھی ملاحدہ کے نام سے یاد کرتے ہیں؟\nشیخ: بے شک! ہم اسماعلی بن جعفر صادق علیہ السلام کی امامت کے مدعی ہیں،اور چونکہ امامت ظاہر ہو گئی،لہٰذا ہم پر فرض ہے کہ اس کی تبلیغ و تقابت،خفیہ اور باطنی طریقوں سے کریں۔انوار ازل نے یہ قدیم ہی سے فیصلہ کر دیا ہے کہ جب تک امامت ظاہر رہتی ہے تقابت و تبلیغ خفیہ ہوتی ہے اور جب امامت مخفی و باطن ہو جاتی ہے تو نقابت‌وتبلیغ اعلانیہ ہونے لگتی ہے۔\nحسین: مگر اس کا سبب میری ناقص فہم سے بالا ہے۔\nشیخ: بے شک بالا ہے ( زور سے گھور کے ) اور تیرے جاہلانہ شکوک اور زیادہ بالا کرتے جاتے ہیں۔خود خدا کی طرف اپنا خیال لے جا وہ مخفی ہے اور اسی لے اس کی توحید کی تبلیغ اعلانیہ ہوتی ہے۔\nحسین: مگر یا وادیِ ایمن! نبوت تو ظاہر رہی اور اس کے ظہور کے زمانے میں برابر اعلانیہ تبلیغ ہوتی تھی۔\nشیخ علی وجودی کے منہ میں پھر کف بھر آیا اور سخت برہمی کے لہجے میں‌وہ چلائے : \"ابھی تک شیطان تیرے دل میں بیٹھا ہے ، وہ تجھے بہکا رہا ہے اور تو پھر عالم نور میں جانے کی آرزو کرتا ہے ؟اس نظام کا تعلق صرف امامت سے ہے۔ نبوت ہمیشہ ظاہر رہی اور ظہور کے زمانے میں اعلانیہ تبلیغ بھی ہوتی رہی؛ تاہم نبوت اور رسالت کس چیز کی طرف لوگوں‌کو بلاتی ہے ؟ خدا کی طرف اور فردوس بریں کی طرف اور یہ دونوں‌دنیا کی نظر سے مخفی ہیں۔\"\nحسین: (ڈرتے ڈرتے ) مگر امامت بھی تو انھی دو چیزوں کی طرف بلاتی ہے ؟\nاب تو شیخ کو غصے نے آپے سے باہر کر دیا تھا، ایک دفعہ چمک کے اُٹھے کھڑے ہوئے اور کہا: تو عالم نور کی سیر کر آنے پر بھی شکی اور جاہل ہے۔عہد نبوت میں‌جنت اور وہ نور لا نور اس قدر نمایاں نہ تھے جتنے کہ اب عہد امامت میں ہیں۔ رسالت نے کبھی کسی مادی پیکر کو اس سروشستان میں‌نہیں‌بھیجا اور امامت برابر بھیج رہی ہے ،جس کا قطعی نتیجہ ہے کہ فردوس بریں‌اور وہ نور ازلی پہلے مخفی تھے اور اب نمایاں‌ہیں۔ اور چوں کہ اب نمایاں‌ہیں‌،لہٰذا تبلیغ و نقابت کو خفیہ طریقے سے ہی اپنا عمل کرنا چاہیے۔\"\nحسین: یا وادیِ ایمن! اب مجھے اطمینان ہو گیا، اور ضرور تھا کہ اپنے ا ن شکوک کو دفع کرتا، اس لیے کہ میں‌نے اس مذہب کی نسبت بہت سی بے سر و پا باتیں‌ستی تھیں،اور سنا تھا کہ التمونت کے قلعے میں لوگ طرح‌طرح کے فریبوں‌سے اس مذہب کے پابند بنائے جاتے ہیں۔\nشیخ: یہ دشمنوں‌ اور جہلا کی افترا پردازیاں‌ہیں۔ایسے لوگ جن کو چشم بصیرت نہیں‌اور جو ان انوار ازلیہ کے سامنے خفاش سے زیادہ وقعت نہیں‌رکھتے ،ان کے کہنے کا کیا اعتبار؟اتنے مدارج یقین طے کر کے تجھے یقین آ گیا ہو گا کہ ہم کس ملاءِ اعلیٰ پر ہیں‌اور آسانی سے سروشستان کی سیر کراتے ہیں۔ اور وہ کس قعر جہالت میں پڑے ہیں‌اور کس طرح تحت‌الثریٰ کی طرف روز بروز زیادہ دھنستے چلے جاتے ہیں۔\nحسین:‌مجھے معلوم ہے۔\nیہ کہہ کے حسین شیخ‌سے رخصت ہوا اور امام نصر بن احمد کی جان لینے کے لیے دمشق کی راہ لی۔\nحسین اب ایسے کاموں‌کے لیے زیادہ جری تھا۔پہلے موقع پر جو شبہات اس کے دل میں‌پیدا ہوئے تھے ، اب نام کو بھی نہ تھے۔اس کو یقین تھا کہ جنت یقیناً انھیں‌لوگوں‌کے ہاتھ میں ہے جن کا وہ معتقد ہے اور ان کے اشارے پر ہر برے یا بھلے کام کا کرنا ہی ذریعۂ نجات ہے۔باوجود اس کے کے ایک جلیل القدر عالم کے قتل میں اس کے دل نے کسی قدر پس‌وپیش ضرور کیا،مگر شیخ‌اور زمرد کے خیال نے پھر اس کا دل آگے بڑھایا۔وہ نہایت ہی سنگدلی کے ساتھ مرشد کے وحشیانہ حکم کی تعمیل کے لیے دمشق پہنچا اور امام نصر کے عقیدت کیشوں میں‌شامل ہو گیا۔\nاس سفر میں‌بھی وہ حیرت سے دیکھتا تھا کہ بعض‌لوگ راہ چلتے پہچان لیتے اور اس سے بغل گیر ہوتے اور یک جہتی و اخوت کا ثبوت دیتے ،جس سے اُسے یہ بھی نظر آ جاتا تھا کہ اُس کے ہم عقیدہ و ہم خیال کس کثرت سے دنیا میں‌پھیلے ہوئے ہیں۔خوش نصیبی یا دل کی بے صبری سے مہینے بھر میں‌اسے اپنی غرض‌حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔ ایک پچھلی رات کو جب کہ امام نصر پڑوس کی مسجد میں‌اور سب سے چھپانے کے لیے اندھیرے میں‌تن تنہا کھڑے نماز تہجد ادا کر رہے تھے ،حسین کا خنجر ان کے دل میں‌اُتر گیا۔حسین نے ایک ہاتھ سے ان کا منہ بند کر لیا تھا اور قتل کر کے گراتے ہی سینے پر چڑھ بیٹھا اور انھیں نیچے دبا کے بیٹھ گیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ ان کی آواز نکلنے پائی اور نہ تڑپنے پائے۔ جب لاش بالکل ٹھنڈی ہو گئی تو وہ پچھلی رات کے سناٹے ہی میں‌ مسجد سے نکلا چلا گیا۔ راستے میں ایک نہر کے کنارے کپڑے دھوئے اور حلب کو روانہ ہوا۔\nشیخ علی وجودی نے اس کی کارگزاری کی داد دی اور اس کی پیٹھ ٹھونک کے کہا: \"حسین! تو مراحل یقین کو بہت جلد طے کر رہا ہے ، امید ہے کہ اپنے اغراض میں کامیاب ہو۔\"\nحسین: یا وادیِ ایمن! مجھے ایک امر پر بڑی حیرت ہے ؛ میں‌جہاں‌جاتا ہوں اور جس جگہ ہوتا ہوں میرے ہم خیال و ہم عقیدہ صورت دیکھتے ہی مجھے پہچان لیتے ہیں اور میں‌ان کو نہیں‌پہچان سکتا۔\nیہ سنتے یہ شیخ نے اپنے صندوق سے ایک آئینہ نکالا اور اُسے دکھا کے کہا: \"اپنی صورت دیکھ ،تجھے اپنے چہرے پر کوئی چیز نظر آتی ہے ؟\"\nحسین: ہاں‌پیشانی پر ایک داغ‌ہے ، مگر معلوم نہیں کیا داغ ہے ؛ شاید بچپن میں کبھی گر پڑا ہوں گا۔\nشیخ: (مسکرا کے ) نہیں، یہ حور کے بوسے کا نشان ہے ، یہی ایک مہر ہے جو ہمیشہ اس بات کا ثبوت دیتی ہے کہ انسان اپنے اس قفس عنصری کے ساتھ فردوس بریں کی سیر کر آیا ہے۔\nحسین: تو جن لوگوں‌نے مجھے پہچانا،غالباً ان کی پیشانیوں ‌پر بھی یہ حور کے بوسے کا نشان موجود ہو گا؟\nشیخ: بے شک ہو گا؛ میری پیشانی پر بھی موجود ہے۔\nحسین: ( شیخ‌کی پیشانی پر بھی وہ اپنا سا داغ دیکھ کے ) بے شک یہ مدارج یقین طے کرنے کا تمغہ ہے۔\nشیخ: حسین! یہ بہت بڑی چیز ہے۔ مرنے کے بعد سب مومنین جنت میں‌جائیں‌گے ،مگر جو لوگ دنیاوی زندگی ہی میں اُس مرکز نور کی سیر کر چکے ہیں،ان کا یہ فخروہاں‌‌بھی موجود رہے گا۔یہ داغ وہاں ‌پیشانیوں پر نور کی طرح چمکے گا اور عام ناجیوں میں‌ہم لوگوں کو ممتاز ثابت کرے گا۔\nحسین:‌مگر مجھے یہ داغ اس دنیا ہی میں‌عزیز ہے۔کاش! میرے لب میری پیشانی تک پہنچ سکتے کہ میں‌اس داغ کو بوسے دے دے کے اپنے دل کی تسلی کرتا۔میری پیشانی پر سوا زمرد کے اور کسی کے بوسے کا نشان نہیں ہو سکتا۔اگر میرے بوسے لیے ہیں‌تو صرف اسی کے لبِ‌لعلیں نے۔\nبوسم منِ بے برگ ونوا برگِ حنارا\nتا بوسہ یہ پیغام دبم آن کف پا را\nمگر افسوس ! جس طرح‌زمرد میرے دل میں‌ہے لیکن ہاتھ نہیں‌ آ سکتی اسی طرح‌اس کے بوسے کا نشان ہر وقت میرے پاس ہے اور مجال نہیں ‌کہ اپنے مشتاق ہونٹوں‌وہاں‌تک پہنچا سکوں۔\nشیخ: اب ان شاعرانہ خیالات کو دور کرو اور امام قائم قیامت کی قدم بوسی کے لیے تیار ہو۔\nحسین: لبیک!‌مگر یا وادیِ ایمن!اتنا اور بتا دیجیے کہ ان کو امام قائم قیامت کیوں‌کہتے ہیں؟\nشیخ: یہ بھی رموز ربانی میں‌سے ایک رمز ہے۔ تجھے شاید ابھی تک اُن ائمہ کے نام بھی نہ معلوم ہوں گے جو نور لم یزلی کی شعاعیں‌ہیں اور مختلف اوقات میں‌مختلف جسدوں‌میں‌ میں نمایاں ہوتی رہیں۔یہی ائمہ ہمیشہ ناسوت اکبر ہوتے رہے ہیں۔وہی نور جو آدم‌ع،نوح‌ع،ابراہیمؑ،موسیٰؑ،داوودؑ،سلیمانؑ،عیسیٰؑ اور محمد صلواۃ اللہ علیھم کے اجساد مطہرہ سے لمعہ افگن ہوتا رہا تھا،آخر علی مرتضیٰ کے جسد انور میں نمودار ہوا،اور چوں کہ اب نبوت ختم ہو چکی تھی، لہٰذا اُس ایک نور یا ایک روح‌‌نے مختلف اجساد بدلنے شروع کیے۔ پھر حسین و علی و زین العابدین و محمد باقر علیھم اسلام کے اجساد کی سیر کرتے کرے وہ نور جناب جعفر صادق کے جسد انور میں نمایاں ہوا اور وہ زندہ ہی تھے کہ ان کے پیکر جسدی کو چھوڑ کے پہلے جناب اسماعیل میں‌پھر محمد مکتوم ابن اسماعیل میں جو سابع نام تھے آیا۔ چند روز تک وہ نور سلسلہ وار امام منصور بن محمد مکتوم،جعفر مصدق اور حبیب بن جعفر کے اجساد مطہرہ میں‌خفیہ ہی خفیہ لمعہ فگن رہا۔جناب اسماعیل سے اس وقت تک امامت مخفی رہی تھی۔اب یاکت اس نور نے عبیداللہ مہدی کی ذات سے نمایاں‌ہوکے اپنی پوری تنویر دکھا دی اور امامت ظاہر ہو گئی۔ اس کے بعد وہ نور برابر علانیہ طور پر مختلف اجساد طاہرہ کو بدلتا رہا۔ پہلے قائم بامراللہ کے جسم سے ،پھر منصور کے ،پھر المعزالدین اللہ کے ،پھر عزیز باللہ کے ،پھر حاکم بامر اللہ کے ،پھر الظاہر الاعزاز دین اللہ کے ، پھر المستنصر باللہ کے جسم سے چمکا۔مستنصر باللہ کے بعد نزار،پھر حسن بن محمد یعنی علی زکرۃ السلام،پھر محمد اب علی زکرۃالسلام کے جسموں‌ نے لاہوتیت کبریٰ کا درجہ پایا،اور فی الحال وہی انوار ازلی رکن الدین خور شاہ کے جمال جہاں‌آرا سے نمودار ہیں جو فرمانروائے النمونت ہیں۔ اور وہی امام قائم قیامت البرزخ بین الاہوت و الناسوت اور وہ تجلی ہیں‌جو مختلف جسد ہائے امامت و نبوت سے لمعہ افگن رہی تھی۔\nحسین: ( حیرت سے ) وہی جن کے ہاتھ پر میں‌نے اس عالم لاہوت میں بیعت کی تھی؟\nشیخ: وہی!\nحسین: مگر آپ تو فرماتے ہیں کہ وہ التمونت کے فرمانروا ہیں؟\nشیخ: بے شک ہیں! مگر یہ علائق دنیوی ان کے تجرد اور ان کی اس نورانیت کو جو عالم سروش میں‌لے جاتی ہے ،دھندلا نہیں‌کر سکتے۔ امامِ دینی و عام لوگوں‌مین‌یہی فرق ہے کہ جس چیز کو ہم محنت و ریاضت سے حاصل کرتے ہیں انھیں‌فطرتاً بدرجہ اُتم حاصل رہتی ہے۔اسی لحاظ سے وہ عالمین کے برزخ کہے جاتے ہیں۔\nحسین:‌اور وہ امام قائم قیامت کیوں‌کہلاتے ہیں؟\nشیخ: (کسی قدر برہم ہوتے ہوئے رک کر)‌ہاں‌میں‌ نے اس کا راز ابھی تک نہیں‌بتایا۔ امامین مستنصر و نزار کے عہد میں انھیں‌انواز ازلی کی ایک نئی اور غیر معمولی شمع روشن ہوئی تھی۔ گو یہ شمع دراصل اسی قدم نور امامت کا انعکاس تھی مگر اتنا بڑا انعکاس کامل کہ اس کی ضو سے تمام ممالک ارض‌چمک اُٹھے۔اس سے وہ چراغ نور مراد ہے جو احسن بن صباح کے جسم صافی میں ‌چمکا تھا۔ یہ لقب قائم قیامت اسی آئینہ پرتو ایزدی کا ہے جس نے یکایک صعود مدار اعلیٰ اور نورستان میں پہنچ جانے کے اتنے صحیح‌ذریعے مخلوق میں‌پیدا کر دیے کہ ادنیٰ ادنیٰ لوگوں‌کو وہ کمال حاصل ہو گیا جو گذشتہ کئی عہدوں میں میں‌ سوائے انبیا اور ائمہ کے کسی کو حاصل نہ تھا۔پہلے کوئی فردوس بریں میں‌جانے کا خیال بھی نہ کر سکتا تھا مگر اب اس اعلیٰ پرتو ایزدی کے ظہور کے بعد یہ حالت ہے کہ میں‌آنکھیں‌بند کر کے ایک دم میں اس عالم نور کی سیر کر آتا ہوں اور تم اور تم سے صدہا مومنین اس سروشستان میں‌ جا کے حوروں کی ہمکناری کا مزا اُٹھا آئے ہیں۔قیامت کے معنی ظاہر پرستوں‌میں اس وقت کے ہیں جب دنیا کی زندگی ختم ہو جائے گی مگر حقیقت شناس جانتے ہیں‌کہ قیامت صرف اس حالت یا وقت کا نام ہے جب کہ مخلوق کو خالق سے یا پرتو کے نور سے قربت ہو جائے۔حسن بن صباح‌نے چونکہ اپنے عہد سے مخلوق کو تقرب کے ایسے درجے پر پہنچا دیا،لہٰذا وہ امام قائم قیامت کہلاتے ہں، یعنی وہ امام جس کی بہ دولت مخلوق و خالق میں‌قربت ہو گئی۔اور اسی قربت کا نتیجہ ہے کہ ان کے چند ہی روز بعد امام علی زکرۃ السلام میں‌وہ امامت قدیمہ جو جناب علی المرتضیٰ سے نسلاً بعد نسل چلی آتی تھی اور نیز وہ امامت قائم قیامت جس کا چراغ پہلے پہل حسن بن صباح‌کے حیز میں روشن ہوا تھا،دونوں‌امامتیں(دونوں‌امامتیں‌اس طرح‌جمع ہوئیں‌کہ قائم قیامت کی امامت تو حسن بن صباح کی جانشینی سے ملی اور دوسری امامت قدیمہ اس طریقے سے کہ علی زکرۃالسلام نے بڑی تاویلوں اور رکیک توجیہات سے دعویٰ کیا تھا کہ میں اس کا بیٹا نہیں‌جس کی طرف منسوب ہوں‌بلکہ دراصل میں‌نزار بن مستنصر فاطمی کے ایک بیٹے کا بیٹا ہوں جو قلعہ التمونت میں چھپا ہوا تھا۔اس طرح اپنا سلسلہ نسب بنی فاطمہ سے ملا کے اس نے خود سیاد ہونے اور امامت موروثی پانے کا دعویٰ کیا تھا۔) جمع ہو گئیں اور یکایک انوار لم یزلی ہیجان میں آ گئے۔بس اسی وقت سے تمام تکلیفات شرعیہ بندوں‌پر سے اُٹھا دیے گئے۔رمضان کی 27 کو اس قربت نور پرتو کا یہ جلوہ نظر آیا تھا،یعنی مومنین شرعی قیدوں‌سے آزاد ہوئے تھے۔ اسی سبب سے وہ دن ہمارے لیے عید ہے ،اور اس کی یاد میں یہ وظیفہ ہر وقت اور ہمیشہ ہماری زبان پر رہتا ہے :\nبرداشت غل شرع بہ تائید ایزدی\nمخدوم روزگار علی ذکرۃ اسلام\nحسین: (متحیر ہو کے ) مگر میں تو دیکھتا ہوں‌کہ آپ شب و روز ریاضت ہی میں‌مشغول رہتے ہیں اور آپ ہی کی طرح‌اس فرقۂ ناجیہ کے جتےت پیرو مجھے ملے سب پابند شرع،بڑے محتاط اور بڑے متقی و پرہیز گار نظر آئے۔\nشیخ: جو لوگ عرفان و حقیقت کے مدارج طے کرنا چاہتے ہیں ان کو بے شک عبادت و ریاضت کرنی پڑتی ہے ،مگر مومنین پر فرض اب کوئی عبادت نہیں۔خاصۃً ان برگزیدگان بارگاہ لم یزلی کے لیے جو امام قائم قیامت سے تقرب رکھتے ہیں۔\nحسین: مگر یا وادیِ ایمن! میرا دل پھر آپ کی توجہ کا محتاج ہے۔ تکلیفات شرعیہ کا اٹھا دینا ایک ایس چیز ہے جس سے میرے دل میں‌شکوک پیدا ہوتے ہیں۔\nشیخ: ( برہمی کے ساتھ) اتنے مدارج حقیقت طے کرنے پر بھی شک؟سروشستان اور عالم نور کی سیر کر چکے کے بعد بھی شک؟ اب یہ شک نہیں‌گستاخی ہے۔جانتا ہے کہ ساری عبادتیں خداوند جل و علا کی قربت حاصل کرنے کے لیے ہیں اور جب وہ قربت حاصل ہو جائے تو پھر کسی عبادت کی ضرورت نہیں‌ رہتی،تم نے سنا ہے اور دیکھ بھی لیا ہو گا کہ فردوس بریں میں‌کوئی شخص عبادت کا مکلف نہیں۔ اس لیے کہ جس تقرب انوار لم یزلی کے لیے وہ عبادت کرتے ہیں وہ وہاں ‌پر ہر ایک کو یونہی حاصل ہے۔\nحسین: بے شک! وہ مرکز نور منزل مقصود ہے۔اور عبادت اس کا راستہ ہے۔جنت میں پہنچ جانے کے بعد کسی عبادت کی ضرورت نہیں‌رہتی لیکن مومنین ابھی اس کے باہر ہیں ان کی نسبت نہیں کہ وہ منزل مقصود کو پہنچ گئے۔ وہ چل رہے ہں،راستے میں‌ہیں،لہٰذا ان کو عبادت کرنے کاحکم بھی ہے۔\nشیخ: (انتہا سے زیادہ از خود رفتہ ہوکے اور منہ میں‌کف لا کے )اس پیکر خاکی کو شہبات ہی نے خراب کیا یہ برابر شک کرتا ہے اور اپنے شکوک میں غرق ہو جاتا ہے۔سن اے حسین!امام قائم قیامت نے یہ بتایا ہے کہ وہ اس عالم نور میں ہیں‌عالم عنصری سے باہر،اس سے یہی معنی تھے کہ ظاہراً ان کا جسد اس عالم مادی میں نظر آتا ہے دراصل وہ ان مادیات سے دور اور اس سروشستان اعلیٰ میں ہیں۔ ان سے ملنے اور ان کے جوار میں جانے کے یہی معنی ہیں‌کہ گویا انسان اس تیرہ ظلمت سے نکل کے لاہوت اکبر کے قریب جا پہنچے پھر وہاں پہنچ جانے کے بعد عبادت کیسی؟\nحسین: بجا ہے میرا شبہ دور ہو گیا۔آپ کی تقریر سے ہمیشہ میرے دل کے شکوک دور ہو جاتے ہیں۔اور اسی اطمینان حاصل کرنے کے لیے میں اپنے شبہوں‌کو بلا تامل آپ کی خدمت میں عرض‌کر دیتا ہوں۔\nشیخ: تم اس امتحان میں بھی پورے اترے۔ اب میں تم کو امام علیہ السلام کی خدمت میں بھیجتا ہوں۔جاؤ اور ان کے احکام کی بلا عذر اطاعت کرو۔آج صفر کی 20 ہے رمضان کی 27 کو عید قائم قیامت ہو گی؛ اس تاریخ‌کو میں بھی وہاں آؤں گا اور شیخ طور معنی بھی وہاں موجود ہونگے۔ اگر اتنے دنوں‌میں‌تم نے امام قائم قیامت پر اپنی اطاعت کیشی و عقیدت کا پورا اثر ڈال دیا تو میں بھی تمھاری سفارش کروں‌گا اور طور معنی بھی کریں‌گے اور اسی وقت تم کو زمرد سے ملنے میں کامیابی بھی حاصل ہو گی مگر خیال رکھو کہ اس اعلیٰ دربار امامت میں انسان کے سر سے بہت سے تکلیفات شروعیہ اٹھ جاتے ہیں۔وہاں‌کی عبادت صرف اطاعت و انقیاد ہے۔ اور اس میں کوتاہی ہوئی تو پھر ا س کا علاج نہ میرے پاس ہے اور نہ کسی اور شخص کے پاس۔اس در کا راندہ مردود ازلی اور رحمت الٰہی سے ہیشہ کے لیے محروم ہے۔\nحسین: میں کسی حکم سے سرتابی نہ کروں‌گا۔\nشیخ:‌وہ ایسا مقام بھی نہیں جہاں‌تم اپنے دل کے شکوک اسی بے تکلفی سے ظاہر کر دیا کرو جس طرح‌میرے سامنے کرتے رہے ہو۔\nحسین:‌کبھی کسی امر میں شک نہ کروں گا۔\nشیخ: اگر اتنے مضبوط ہو تو کل صبح کو تم یہاں سے روانہ ہوکے التمونت کی راہ لو۔ میں‌ایک خط دوں‌گا اسے لے امام کی خدمت میں‌حاضر ہونا اور جب تک وہاں‌سے یا مجھ سے کوئی اور حکم نہ ملے اس دربار کو نہ چھوڑنا۔\nحسین: ہرگز نہیں۔اور یہ کہہ کے اس نے پھر شیخ‌کے قدم چوم لیے۔\nدوسرے دن علی الصباح‌وہ شیخ علی وجودی سے خط سفارشی لے کے رخصت ہوا اور مشرق کی راہ لی۔چند روز میں‌ اصفہان ہوتا ہوا علاقہ رودبار میں‌پہنچا۔ اس سفر میں‌وہ اپنے ہم مذہبوں‌کو حوروں‌ کے بوسے کے نشان سے کہے سنے اور بنائے بغیر پہچان لیا کرتا تھا جو ہر شہر اور گاؤں ‌میں‌اسے ملتے اور اس کے ساتھ نہایت ہی خلوص اور عقیدت سے پیش آتے۔\nدیلم کے ایک گاؤں‌میں‌ایک باطنی شخص جو اپنی پیشانی کے نشان سے بتا رہا تھا کہ وہ بھی جنت الفردوس کی ہوا کھا آیا ہے،حسین کو نہایت ہی خلوص و پاک دلی سے اپنے گھر لے آیا اور کئی دن تک مہمان رکھا۔\nاس شخص کے گھر پر ایک صحبت میں کئی ایسے باطنی ہوئے جن کو اسی دو سال کے اندر جنت کی ہوا کھلائی گئی تھی۔لوگوں‌نے صحبت کو اغیار سے خالی اور اپنے ہم خیال لوگوں ہی پر محدود دیکھ کے باہم جنت کا بیان شروع کیا۔ اثنائے کلام میں ایک شخص بولا: \" مگر مجھے جنت میں‌بھی ایک تمنا رہ گئی۔\"\nدوسرا: (حیرت سے ) وہ کیا؟\nپہلا: وہاں‌ایک ایسی دلفریب نازنین نظر آئی کہ دل بے اختیار ہاتھ سے نکل گیا،لیکن خدا جانے کیا بات تھی کہ ہزار کوشش کی مگر اس آفت زمانہ حور نے بات کا جواب تک نہ دیا۔\nدوسرا: واقعی تعجب کا مقام ہے۔جنت میں‌تو ایسا نہ ہونا چاہیے۔کسی حور کی طرف تمھارے دل کو میلان ہو اور وہ التفات نہ کرے تو یقیناً سارا لطف خاک میں‌مل جائے گا۔یہ سن کے ایک تیسرا شخص بول اُٹھا: \"حقیقت میں اس قسم کے بعض‌تقصانات وہاں‌انسان کو نظر آ جاتے ہیں۔اس مسئلے کو میں نے شیخ‌کے سامنے بھی پیش کیا تھا جنھوں‌نے بہت آسانی سے میرا اطمینان کر دیا۔اُنھوں نے بڑے جوش و خروش سے کہا تھا اور گویا اس وقت بھی میرے کانوں‌میں‌کھڑے کہہ رہے ہیں: \" تم اپنے مادی پیکر کے ساتھ ہزارہا کثافتیں اور دنائتیں لے کر تو اس عالم نور میں جاتے ہو اور پھر امید کرتے ہو کہ سروشستان کو اسی پاک و مجرد حثیت۔ سے دیکھو جس طرح‌غیر مادی آنکھیں‌دیکھتی ہیں۔یہ خود تمھارے نقصان اور تمھارے مادی عجز ہیں‌جو اس حیز نور کو معیوب دکھاتے ہیں۔\"\nپہلا: اور ہاں‌میں نے یہ بھی سنا تھا کہ اس حور کو وہ تجرد بھی حاصل نہیں‌ہوا جو اوروں‌کو ہے ،اس لیے کہ اس کے مادی تعلقات منقطع نہیں‌ہونے پائے تھے۔\nدوسرا: بے شک یہی سبب ہو گا،اول تو اس حور میں ذاتاً یہ نقصان موجود تھا، پھر تمھیں اپنی مادی آنکھوں‌ سے اور زیادہ بدنما نظر آیا۔\nحسین: (کسی قدر تعلق خاطر سے ) اور کچھ یہ بھی معلوم ہوا کہ اس حور کا نام کیا تھا؟\nپہلا:‌ ہاں‌ مجھے بتایا گیا کہ اس کا نام زمرد ہے اور میری حور نے جس کے آغوش کا مزہ مجھے زندگی بھر نہ بھولے گا، یہ بھی بتایا کہ اسے کسی خاکی پیکر سے اس قدر تعلق ہے کہ جنت کی سیر کرنے والوں‌ میں‌ کسی کی طرف التفات نہیں کرتی۔\nدوسرے دن حسین یہاں ‌سے رخصت ہو کے آگے روانہ ہوا اور دو ہی چار روز میں‌ قلعہ التمونت کے پھاٹک پر کھڑا تھا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%B9%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%B1"} {"title": "فردوس میں ایک مکالمہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ہاتِف نے کہا مجھ سے کہ فردوس میں اک روز\nحالیؔ سے مخاطب ہوئے یوں سعدیِؔ شیراز\n\nاے آنکہ ز نورِ گُہرِ نظمِ فلک تاب\nدامن بہ چراغِ مہ و اخترزدہ ای باز!\n\nکچھ کیفیتِ مسلمِ ہندی تو بیاں کر\nواماندۂ منزل ہے کہ مصروفِ تگ و تاز\n\nمذہب کی حرارت بھی ہے کچھ اس کی رگوں میں؟\nتھی جس کی فلک سوز کبھی گرمیِ آواز\n\nباتوں سے ہُوا شیخ کی حالیؔ متاَثّر\nرو رو کے لگا کہنے کہ “اے صاحبِ اعجاز\n\nجب پیرِ فلک نے وَرق ایّام کا اُلٹا\nآئی یہ صدا، پاؤگے تعلیم سے اعزاز\n\nآیا ہے مگر اس سے عقیدوں میں تزلزل\nدنیا تو ملی، طائرِ دیں کر گیا پرواز\n\nدِیں ہو تو مقاصد میں بھی پیدا ہو بلندی\nفطرت ہے جوانوں کی زمیں گیر زمیں تاز\n\nمذہب سے ہم آہنگیِ افراد ہے باقی\nدِیں زخمہ ہے، جمعیّتِ مِلّت ہے اگر ساز\n\nبنیاد لرَز جائے جو دیوارِ چمن کی\nظاہر ہے کہ انجامِ گُلستاں کا ہے آغاز\n\nپانی نہ مِلا زمزمِ ملّت سے جو اس کو\nپیدا ہیں نئی پَود میں الحاد کے انداز\n\nیہ ذکر حضورِ شہِ یثرِبؐ میں نہ کرنا\nسمجھیں نہ کہیں ہند کے مسلم مجھے غمّاز\n\n“خُرما نتواں یافت ازاں خار کہ کشتیم\nدیبا نتواں بافت ازاں پشم کہ رشتیم”\n\n(سعدیؔ)", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%81"} {"title": "فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے\nسادات کی بستی کے اجڑنے کی خبر ہے\nدر پیش ہے وہ غم، کہ جہاں زیر و زبر ہے\nگل چاک گریباں ہیں صبا خاک بہ سر ہے\nگل رو صفتِ غنچہ کمر بستہ گھڑے ہیں\nسب ایک جگہ صورتِ گلدستہ کھڑے ہیں\n\nآراستہ ہیں بہر سفر، سروِ قبا پوش\nعمامے سروں پر ہیں عبائیں بسر دوش\nیارانِ وطن ہوتے ہیں آپس میں ہم آغوش\nحیراں کوئی تصویر کی صورت کوئی خاموش\nمنہ ملتا ہے رو کر کوئی سرور کے قدم پر\nگر پڑتا ہے کوئی علیؔ اکبر کے قدم پر\n\nعباسؔ کا منہ دیکھ کے کہتا ہے کوئی آہ\nاب آنکھوں سے چھپ جائے گی تصویر یداللہ\nکہتے ہیں گلے مل کے یہ قاسم کے ہوا خواہ\nواللہ دلوں پر ہے عجب صدمۂ جانکاہ\nہم لوگوں سے شیریں سخنی کون کرے گا\nیہ انس، یہ خُلقِ حسنی کون کرے گا\n\nروتے ہیں وہ، جو عون و محمد کے ہیں، ہم سن\nکہتے ہیں کہ مکتب میں نہ جی بہلے گا تم بن\nاس داغ سے چین آئے ہمیں، یہ نہیں ممکن\nگرمی کا مہینہ ہے سفر کے یہ نہیں دن\nتم حضرتِ شبیرؔ کے سایے میں پلے ہو\nکیوں دھوپ کی تکلیف اٹھانے کو چلے ہو\n\nہم جولیوں سے کہتے تھے وہ دونوں برادر\nہاں بھائیو تم بھی ہمیں یاد آؤ گے اکثر\nپالا ہے ہمیں شاہ نے، ہم جائیں نہ کیوں کر\nماموں رہیں جنگل میں تو اپنا ہے وہی گھر\nوہ دن ہو کہ ہم حقِّ غلامی سے ادا ہوں\nتم بھی یہ دعا مانگو کہ ہم شہ پہ فدا ہوں\n\nرخصت کے لئے لوگ چلے آتے ہیں باہم\nہر قلب حزیں ہے، تو ہر اک چشم ہے پُر نم\nایسا نہیں گھر کوئی کہ جس میں نہیں ماتم\nغل ہے کہ چلا دلبرِ مخدومۂ عالم\nخدام کھڑے پیٹتے ہیں قبر نبی کے\nروضہ پہ اداسی ہے رسولِ عربی کے\n\nہے جب سے کھلا حالِ سفر بند ہے بازار\nیہ جنسِ غم ارزاں ہے کہ روتے ہیں دکاں دار\nخاک ارتی ہے ویرانیِ یثرب کے ہیں آثار\nہر کوچے میں ہے شور، کہ ہے ہے شہِ ابرار\nاب یاں کوئی والی نہ رہا آہ ہمارا\nجاتا ہے مدینے سے شہنشاہ ہمارا\n\nتدبیر سفر میں ہیں ادھر سبطِ پیمبر\nگھر میں کبھی آتے ہیں کبھی جاتے ہیں باہر\nاسباب نکلواتے ہیں عباسؔ دلاور\nتقسیم سواری کے تردد میں ہیں اکبرؔ\nشہ کو جنہیں لے جانا ہے، وہ پاتے ہیں گھوڑے\nخالی ہوا اصطبل، چلے آتے ہیں گھوڑے\n\nحاضر درِ دولت پہ ہیں، سب یاور و انصار\nکوئی تو کمر باندھتا ہے اور کوئی ہتھیار\nہودج بھی کسے جاتے ہیں، محمل بھی ہیں تیار\nچلاتے ہیں درباں، کؤی آئے نہ خبردار\nہر محمل و ہودج پہ گھٹا ٹوپ پڑے ہیں\nپردے کی قناتیں لئے فراش کھڑے ہیں\n\nعوراتِ محلہ چلی آتی ہیں بصد غم\nکہتی ہیں یہ دن رحلتِ زہراؔ سے نہیں کم\nپُرسے کی طرح رونے کا غل ہوتا ہے ہر دم\nفرش اٹھتا ہے کیا بچھتی ہے گویا صفِ ماتم\nغل ہوتا ہے ہر سمت، جدا ہوتی ہے زینبؔ\nہر اک کے گلے ملتی ہے اور روتی ہے زینبؔ\n\nلے لے کے بلائیں یہی سب کرتی ہیں تقریر\nاس گرمی کے موسم میں کہاں جاتے ہیں شبیرؔ\nسمجھاتی نہیں بھائی کو اے شاہ کی ہمشیر\nمسلم کا خط آ لے تو کریں کوچ کی تدبیر\nللّٰلہ ابھی قبر پیمبرؐ کو نہ چھوڑیں\nگھر فاطمہؔ زہرا کا ہے اس گھر کو نہ چھوڑیں\n\nوہ گھر ہے ملک رہتے تھے جس گھر کے نگہباں\nکیوں اپنے بزرگوں کا مکاں کرتے ہیں ویراں\nکوفے کی بھی خلقت تو نہیں صاحب ایماں\nبی بی یہ مدینے کی تباہی کا ہے ساماں\nایک ایک شقی دشمنِ اولادِ علیؔ ہے\nشمشیر ستم واں سرِ حیدر پہ چلی ہے\n\nاجڑے گا مدینہ جو یہ گھر ہوئے گا خالی\nبربادیِ یثرب کی بنا چرخ نے ڈالی\nکیا جانیں پھر آئیں کہ نہ آئیں شہِ عالی\nحضرت کے سوا کون ہے اس شہر کا والی\nزہراؔ ہیں نہ حیدرؔ نہ پیمبر نہ حسنؔ ہیں\nاب ان کی جگہ آپ ہیں یا شاہِ زمن ہیں\n\nگرمی کا یہ دن اور پہاڑوں کا سفر آہ\nان چھوٹے سے بچوں کا نگہبان ہے اللہ\nرستے کی مشقت سے کہاں ہیں ابھی آگاہ\nان کو تو نہ لے جائیں سفر میں شہِ ذی جاہ\nقطرہ بھی دمِ تشنہ دہانی نہیں ملتا\nکوسوں تلک اس راہ میں پانی نہیں ملتا\n\nمنہ دیکھ کے اصغر کا چلا آتا ہے رونا\nآرام سے مادر کی کہاں گود میں سونا\nجھولا یہ کہاں اور کہاں نرم بچھونا\nلکھا تھا اسی سن میں مسافر انہیں ہونا\nکیا ہوگا جو میداں میں ہوا گرم چلے گی\nیہ پھول سے کمھلائیں گے، ماں ہاتھ ملے گی\n\nان بیبیوں سے کہتی تھی یہ شاہ کی ہمشیر\nبہنوں ہمیں یثرب سے لئے جاتی ہے تقدیر\nاس شہر میں رہنا نہیں ملتا کسی تدبیر\nیہ خط پہ خط آئے ہیں کہ مجبور ہیں شبیرؔ\nمجھ کو بھی ہے رنج ایسا کہ کچھ کہہ نہیں سکتی\nبھائی سے جدا ہو کے مگر رہ نہیں سکتی\n\nاماں کی لحد چھوڑ کے میں یاں سے نہ جاتی\nفاقے بھی اگر ہوتے تو غم اس کا نہ کھاتی\nبھائی کی طرف دیکھ کے شق ہوتی ہے چھاتی\nبے جائے، مجھے بات کوئی بن نہیں آتی\nظاہر میں تو مابین لحد سوتی ہیں اماں\nمیں خواب میں جب دیکھتی ہوں روتی ہیں اماں\n\nہے روح پہ اماں کی قلق کرتی ہیں زاری\nسر پیٹتے میں نے انہیں دیکھا کئی باری\nروداد بیاں کر گئی ہیں مجھ سے وہ ساری\nفرماتی تھیں بھائی سے خبر دار میں واری\nغم خوار ہے تو اور خدا حافظِ جاں ہے\nنہ باپ ہے سر پر مرے بچے کے نہ ماں ہے\n\nیاد آتی ہے ہر دم مجھے اماں کی مصیبت\nکچھ جان کی تھی فکر نہ ان کو دمِ رحلت\nآہستہ یہ فرماتی تھیں باصد غم و حسرت\nشبیرؔ سدھارے جو سوئے وادیِٔ غربت\nاس دن مری تربت سے بھی منہ موڑیو زینبؔ\nاس بھائی کو تنہا نہ کبھی چھوڑیو زینبؔ\n\nاماں کی وصیت کو بجا لاؤں نہ کیوں کر\nگھر بھائی سے تھا بھائی نہ ہوگا تو کہاں گھر\nدو بہنیں ہیں ماں جائیاں اور ایک برادر\nرسی سے بندھے ہاتھ کہ بلوے میں کھلے سر\nجو ہووے سو ہو بھائی کے ہمراہ ہے زینبؔ\nاس کوچ کے انجام سے آگاہ ہے زینبؔ\n\nیہ کہتی تھی زینبؔ کہ پکارے شہِ عادل\nتیار ہیں دروزاے پہ سب ہودج و محمل\nطے شام تلک ہوگی کہیں آج کی منزل\nرخصت کرو لوگوں کو بس اب رونے سے حاصل\nچلتی ہے ہوا سرد ابھی وقت سحر ہے\nبچے کئی ہمراہ ہیں گرمی کا سفر ہے\n\nرخصت کرو ان کو جو کہ ہیں ملنے کو آئے\nکہہ دو کوئی گہوارۂ اصغر کو بھی لائے\nنادان سکینہؔ کہیں آنسو نہ بہائے\nجانے کی خبر میری نہ صغراؔ کہیں پائے\nڈر ہے کہیں گھبرا کے نہ دم اس کا نکل جائے\nباتیں کرو ایسی کہ وہ بیمار بہل جائے\n\nرخصت کو ابھی قبر پیمبر پہ ہے جانا\nکیا جانیے پھر ہو کہ نہ ہوئے مرا آنا\nاماں کی لحد پر ہے ابھی اشک بہانا\nاس مرقدِ انور کو ہے آنکھوں سے لگانا\nآخر تو لئے جاتی ہے، تقدیر وطن سے\nچلتے ہوئے ملنا ہے ابھی قبرِ حسن سے\n\nسن کر یہ سخن بانوئے ناشاد پکاری\nمیں لٹتی ہوں کیسا سفر اور کیسی سواری\nغش ہو گئی ہے فاطمہؔ صغرا مری پیاری\nیہ کس کے لئے کرتے ہیں سب گریہ و زاری\nاب کس پہ میں اس صاحبِ آزار کو چھوڑوں\nاس حال میں کس طرح سے بیمار کو چھوڑوں\n\nماں ہوں میں، کلیجہ نہیں، سینہ میں سنبھلتا\nصاحب مرے دل کو ہے کوئی ہاتھوں سے ملتا\nمیں تو اسے لے چلتی، یہ کچھ بس نہیں چلتا\nرہ جاتیں جو بہنیں بھی تو دل اس کا بہلتا\nدروازے پہ تیار سواری پہ کھڑی ہے\nپر اب تو مجھے جان کی صغراؔ کی پڑی ہے\n\nچلاتی تھی کبراؔ کہ بہن آنکھ تو کھولو\nکہتی تھی سکینہؔ کہ ذرا منہ سے تو بولو\nہم جاتے ہیں تم اٹھ کے بغل گیر تو ہو لو\nچھاتی سے لگو باپ کی دل کھول کے رو لو\nتم جس کی ہو شیدا وہ برادر نہ ملے گا\nگھر بھر میں جو ڈھونڈو گی تو اکبر نہ ملے گا\n\nہشیار ہو کیا صبح سے بیہوش ہے خواہر\nاصغرؔ کو کرو پیار کلیجے سے لگا کر\nچھاتی سے لگو اٹھ کے کھڑی روتی ہیں مادر\nہم روتے ہیں دیکھو تو ذرا آنکھ اٹھا کر\nافسوس، اسی طور سے غفلت میں رہو گی\nکیا آخری بابا کی زیارت نہ کرو گی\n\nسن کر یہ سخن شاہ کے آنسو نکل آئے\nبیمار کے نزدیک گئے سر کو جھکائے\nمنہ دیکھ کے بانو کا سخن لب پہ یہ لائے\nکیا ضعف و نقاہت ہے، خدا اس کو بچائے\nجس صاحبِ آزار کا یہ حال ہو گھر میں\nدانستہ میں کیوں کر اسے لے جاؤں سفر میں\n\nکہہ کر یہ سخن بیٹھ گئے سید خوش خو\nاور سورۂ الحمد پڑھا تھام کے بازو\nبیمار نے پائی گلِ زہراؔ کی جو خوش بو\nآنکھوں کو تو کھولا پہ ٹپکنے لگے آنسو\nماں سے کہا مجھ میں جو حواس آئے ہیں اماں\nکیا میرے مسیحا مرے پاس آئے ہیں اماں\n\nماں نے کہا ہاں ہاں وہی آئے ہیں مری جاں\nجو کہنا ہو کہہ لو کہ یہاں اور ہے ساماں\nدیکھو تو ادھر روتے ہیں بی بی شہِ ذی شاں\nصغراؔ نے کہا ان کی محبت کے میں قرباں\nوہ کون سا ساماں ہے جو یوں روتے ہیں بابا\nکھل کر کہو مجھ سے کہ جدا ہوتے ہیں بابا\n\nیہ گھر کا سب اسباب گیا کس لئے باہر\nنہ فرش، نہ ہے مسندِ فرزند پیمبر\nدالان سے کیا ہوگیا گہورۂ اصغرؔ\nاجڑا ہوا لوگو نظر آتا ہے مجھے گھر\nکچھ منہ سے تو بولو مرا دم گھٹتا ہے اماں\nکیا سبطِ پیمبر سے وطن چھٹتا ہے اماں\n\nشبیرؔ کا منہ تکنے لگی بانوئے مغموم\nصغراؔ کے لئے رونے لگیں زینبؔ و کلثومؔ\nبیٹی سے یہ فرمانے لگی سیدِ مظلوم\nپردہ رہا اب کیا تمہیں خود ہوگیا معلوم\nتم چھٹتی ہو اس واسطے سب روتے ہیں صغراؔ\nہم آج سے آوارہ وطن ہوتے ہیں صغراؔ\n\nاب شہر میں اک دم ہے ٹھہرنا مجھے دشوار\nمیں پا بہ رکاب، اور ہو تم صاحبِ آزار\nپھر آتا ہے وہ گھر میں، سفر میں جو ہو بیمار\nتکلیف تمہیں دوں یہ مناسب نہیں زنہار\nغربت میں بشر کے لئے سو طرح کا ڈر ہے\nمیرا تو سفر رنج و مصیبت کا سفر ہے\n\nلُو چلتی ہے خاک اڑتی ہے گرمی کے ہیں ایام\nجنگل مین نہ راحت، نہ کہیں راہ میں آرام\nبستی میں کہیں صبح، تو جنگل میں کہیں شام\nدریا کہیں حائل، کہیں پانی کا نہیں نام\nصحّت میں گوارا ہے جو تکلیف گذر جائے\nاس طرح کا بیمار نہ مرتا ہو تو مرجائے\n\nصغراؔ نے کہا کھانے سے خود ہے مجھے انکار\nپانی جو کہیں راہ میں مانگوں تو گنہگار\nکچھ بھوک کا شکوہ نہیں کرنے کی یہ بیمار\nتبرید فقط آپ کا ہے شربتِ دیدار\nگرمی میں بھی راحت سے گزر جائے گی بابا\nآئے گا پسینہ تپ اتر جائے گی بابا\n\nکیا تاب اگر منہ سے کہوں درد ہے سر میں\nاف تک نہ کروں، بھڑکے اگر آگ جگر میں\nبھولے سے بھی شب کو نہ کراہوں گی سفر میں\nقربان گئی، چھوڑ نہ جاؤ مجھے گھر میں\nہو جانا خفا راہ میں گر روئے گی صغراؔ\nیاں نیند کب آتی ہے جو واں سوئے گی صغراؔ\n\nوہ بات نہ ہوگی، کہ جو بے چین ہوں مادر\nہر صبح میں پی لوں گی دوا آپ بنا کر\nدن بھر، مری گودی میں رہیں گے علی اصغرؔ\nلونڈی ہوں سکینہؔ کی، نہ سمجھو مجھے دختر\nمیں یہ نہیں کہتی کہ عماری میں بٹھا دو\nبابا مجھے فضہ کی سواری میں بٹھا دو\n\nشہہ بولے کہ واقف ہے مرے حال سے اللہ\nمیں کہہ نہیں سکتا مجھے درپیش ہے جو راہ\nکھل جائے گا یہ راز بھی، گو تم نہیں آگاہ\nایسا بھی کوئی ہے جسے بیٹی کی نہ ہو چاہ\nناچار یہ فرقت کا الم سہتا ہوں صغراؔ\nہے مصلحتِ حق یہی جو کہتا ہوں صغراؔ\n\nاے نورِ بصر آنکھوں پہ لے کر تجھے چلنا\nتو مجھ سے بہلتی، مرا دل تجھ سے بہلتا\nتپ ہے تجھے، اور غم سے جگر ہے مرا جلتا\nیہ ضعف کہ دم تک نہیں سینے میں سنبھلتا\nجز ہجر علاج اور کوئی ہو نہیں سکتا\nدانستہ تمہیں ہاتھ سے میں کھو نہیں سکتا\n\nمنہ تکنے لگی ماں کا وہ بیمار بصد غم\nچتون سے عیاں تھا کہ چلیں آپ موئے ہم\nماں کہتی تھی مختار ہیں، بی بی شہ عالم\nمیرے تو کلیجے پہ چھری چلتی ہے اس دم\nوہ درد ہے جس درد سے چارا نہیں صغراؔ\nتقدیر سے کچھ زور ہمارا نہیں صغراؔ\n\nصغراؔ نے کہا کوئی کسی کا نہیں زنہار\nسب کی یہی مرضی ہے کہ مر جائے یہ بیمار\nاللہ نہ وہ آنکھ کسی کی ہے، نہ وہ پیار\nاک ہم ہیں کہ ہیں، سب پہ فدا سب کے ہیں غم خوار\nبیزار ہیں سب ایک بھی شفقت نہیں کرتا\nسچ ہے کوئی مردے سے محبت نہیں کرتا\n\nہمشیر کے عاشق ہیں سلامت رہیں اکبرؔ\nاتنا نہ کہا مر گئی یا جیتی ہے خواہر\nمیں گھر میں تڑپتی ہوں وہ ہیں صبح سے باہر\nوہ کیا کریں برگشتہ ہے اپنا ہی مقدر\nپوچھا نہ کسی نے کہ وہ بیمار کدھر ہے\nنہ بھائیوں کو دھیان نہ بہنوں کو خبر ہے\n\nکیا ان کو پڑی تھی جو وہ غم کھانے کو آتے\nمیں کون جو صورت مجھے دکھلانے کو آتے\nہوتی جو غرض چھاتی سے لپٹانے کو آتے\nزلفیں جو الجھتی تو، سلجھوانے کو آتے\nکل تک تو مرے حالِ پریشاں پہ نظر تھی\nتقدیر کے اس پیچ کی مجھ کو نہ خبر تھی\n\nمانوس سکینہؔ سے ہیں عباسؔ دلاور\nمیں کون ہوں جو میری خبر پوچھتے آ کر\nسرسبز رہے خلق میں نو بادۂ شبّر\nشادی میں بلائیں مجھے یہ بھی نہیں باور\nبے دولہا بنے منہ کو چھپاتے ہیں ابھی سے\nمیں جیتی ہوں اور آنکھ چراتے ہیں ابھی سے\n\nکس سے کہوں اس درد کو میں بیکس و رنجور\nبہنیں بھی الگ مجھ سے ہیں اور بھائی بھی ہیں دور\nاماں کا سخن یہ ہے کہ بیٹی میں ہوں مجبور\nہمراہیٔ بیمار کسی کو نہیں منظور\nدنیا سے سفر، رنج و مصیبت میں لکھا تھا\nتنہائی کا مرنا مری قسمت میں لکھا تھا\n\nسب بیبیاں رونے لگیں سن سن کے یہ تقریر\nچھاتی سے لگا کر اسے کہنے لگے شبیرؔ\nلو صبر کرو، کوچ میں اب ہوتی ہے تاخیر\nمنہ دیکھ کے چپ رہ گئی وہ بیکس و دلگیر\nنزدیک تھا دل چیر کے پہلو نکل آئے\nاچھا تو کہا منہ سے پہ آنسو نکل آئے\n\nبانو کو اشارہ کیا حضرت نے کہ جاؤ\nاکبر کو بلاؤ، علیؔ اصغر کو بھی لاؤ\nآئے علیؔ اکبر تو کہا شاہ نے آؤ\nروٹھی ہے بہن تم سے گلے اس کو لگاؤ\nچلتے ہوئے جی بھر کے ذرا پیار تو کر لو\nلینے انہیں کب آؤ گے اقرار تو کر لو\n\nپاس آن کے اکبرؔ نے یہ کی پیار کی تقریر\nکیا مجھ سے خفا ہوگئیں صغراؔ مری تقصیر\nچلانے لگی، چھاتی پہ منہ رکھ کے، وہ دلگیر\nمحبوب برادر ترے قربان یہ ہمشیر\nصدقے ترے سر پر سے اتارے مجھے کوئی\nبل کھائی ہوئی زلفوں پہ وارے مجھے کوئی\n\nرخساروں پہ سبزے کے نکلنے کے میں صدقے\nتلوار لئے شان سے چلنے کے میں صدقے\nافسوس سے ان ہاتھوں کے ملنے کے میں صدقے\nکیوں روتے ہو اشک آنکھوں سے ڈھلنے کے میں صدقے\nجلد آن کے بھینا کی خبر لیجیو بھائی\nبے میرے کہیں بیاہ نہ کر لیجیو بھائی\n\nلکھنا مجھے نسبت کا اگر ہو کہیں سامان\nحقدار ہوں میں نیگ کی میرا بھی رہے دھیان\nاور مر گئی پیچھے تو رہے دل میں سب ارمان\nلے آنا دولہن کو مری تربت پہ میں قربان\nخوشنود مری روح کو کر دیجیو بھائی\nحق نیگ کا تم قبر پہ دھر دیجیو بھائی\n\nپیارے مرے بھیا مرے مہ رو، علیؔ اکبر\nچھپ جائیں گے آنکھوں سے یہ گیسو، علیؔ اکبر\nیاد آئے گی یہ جسم کی خوشبو، علیؔ اکبر\nڈھونڈھیں گی یہ آنکھیں تمہیں، ہر سو علیؔ اکبر\nدل سینے میں کیوں کر تہہ و بالا نہ رہے گا\nجب چاند چھپے گا تو اجالا نہ رہے گا\n\nکیا گذرے گی جب گھر سے چلے جاؤ گے بھائی\nکیسے مجھے ہر بات میں یاد آؤ گے بھائی\nتشریف خدا جانیے کب لاؤ گے بھائی\nکی دیر تو جیتا نہ ہمیں پاؤ گے بھائی\nکیا دم کا بھروسہ کہ چراغِ سحری ہیں\nتم آج مسافر ہو تو ہم کل سفری ہیں\n\nہا سچ ہے کہ بیمار کا بہتر نہیں جانا\nصحت سے جو ہیں ان میں کہاں میرا ٹھکانا\nبھیا جو اب آنا تو مری قبر پہ آنا\nہم گور کی منزل کی طرف ہوں گے روانا\nکیا لطف کسی کو نہیں گر چاہ ہماری\nوہ راہ تمہاری ہے تو یہ راہ ہماری\n\nمرنا تو مقدم ہے، غم اس کا نہیں زنہار\nڈھڑکا ہے کہ جب ہوں گے عیاں موت کے آثار\nقبلہ کی طرف، کون کرے گا رخِ بیمار\nیٰسین بھی پڑھنے کو نہ ہوگا کوئی غم خوار\nسانس اکھڑے گی جس وقت تو فریاد کروں گی\nمیں ہچکیاں لے لے کے تمہیں یاد کروں گی\n\nماں بولی یہ کیا کہتی ہے صغراؔ ترے قربان\nگھبرا کے نہ اب تن سے نکل جائے مری جان\nبیکس مری بچی، ترا اللہ نگہبان\nصحّت ہو تجھے میری دعا ہے یہی ہر آن\nکیا بھائی جدا بہنوں سے ہوتے نہیں بیٹا\nکنبے کے لئے جان کو کھوتے نہیں بیٹا\n\nمیں صدقے گئی بس نہ کرو گریہ و زاری\nاصغرؔ مرا روتا ہے صدا سن کے تمہاری\nوہ کانپتے ہاتھوں کو اٹھا کر یہ پکاری\nآ آ مرے ننھے سے مسافر ترے واری\nچھٹتی ہے یہ بیمار بہن جان گئے تم\nاصغرؔ مری آواز کو پہچان گئے تم\n\nتم جاتے ہو اور ساتھ بہن جا نہیں سکتی\nتپ ہے تمہیں چھاتی سے میں لپٹا نہیں سکتی\nجو دل میں ہے لب پر وہ سخن لا نہیں سکتی\nرکھ لوں تمہیں اماں کو بھی سمجھا نہیں سکتی\nبیکس ہوں مرا کوئی مددگار نہیں ہے\nتم ہو سو تمہیں طاقتِ گفتار نہیں ہے\n\nمعصوم نے جس دم یہ سنی درد کی گفتار\nصغراؔ کی طرف ہاتھوں کو لٹکا دیا اک بار\nلے لے کے بلائیں یہ لگی کہنے وہ بیمار\nجھک جھک کے دکھاتے ہو مجھے آخری دیدار\nدنیا سے کوئی دن میں گذر جائے گی صغراؔ\nتم بھی یہ سمجھتے ہو کہ مر جائے گی صغراؔ\n\nعباس نے اتنے میں یہ ڈیوڑھی سے پکارا\nچلنے کو ہے اب قافلہ تیار ہمارا\nلپٹا کے گلے فاطمہؔ صغرا کو دوبارا\nاٹھے شہِ دیں، گھر تہہ و بالا ہوا سارا\nجس چشم کو دیکھا سو وہ پر نم نظر آئی\nاک مجلسِ ماتم تھی، کہ برہم نظر آئی\n\nبیت الشرفِ خاص سے نکلے شہِ ابرار\nروتے ہوئے ڈیوڑھی پہ گئے عترتِ اطہار\nفراشوں کو عباس پکارے یہ بہ تکرار\nپردے کی قناتوں سے خبردار! خبردار\nباہر حرم آتے ہیں، رسول دوسرا کے\nشقہ کوئی جھک جائے نہ جھونکے سے ہوا کے\n\nلڑکا بھی جو کوٹھے پہ چڑھا ہو وہ اتر جائے\nآتا ہو ادھر جو وہ، اسی جا پہ ٹھہر جائے\nناقے پہ بھی کوئی نہ برابر سے گذر جائے\nدیتے رہو آواز جہاں تک کہ نظر جائے\nمریمؔ سے سوا حق نے شرف ان کو دیئے ہیں\nافلاک پہ آنکھوں کو ملک بند کیے ہیں\n\nعباسؔ علی سے علیؔ اکبر نے کہا تب\nہیں قافلہ سالارِ حرم حضرت زینبؔ\nپہلے وہ ہوں اسوار تو محمل میں چڑھیں سب\nحضرت نے کہا ہاں یہی میرا بھی ہے مطلب\nگھر میں مرنے زہراؔ کی جگہ بنتِ علیؔ ہے\nمیں جانتا ہوں ماں مرے ہمراہ چلی ہے\n\nپہنچی جو ہیں ناقے کے قریں دخترِ حیدرؔ\nخود ہاتھ پکڑنے کو بڑھے سبطِ پیمبر\nفضہ تو سنبھالے ہوئے تھی گوشۂ چادر\nتھے پردۂ محمل کو اٹھائے علیؔ اکبر\nفرزند کمر بستہ چپ و راس کھڑے تھے\nنعلین اٹھا لینے کو عباسؔ کھڑے تھے\n\nاک دن تو مہیا تھا، یہ سامانِ سواری\nاک روز تھا وہ، گرد تھے نیزے لئے ناری\nمحمل تھا، نہ ہودج، نہ کجاوہ، نہ عماری\nبے پردہ تھی وہ حیدر کرار کی پیاری\nننھے کئی بچوں کے گلے ساتھ بندھے تھے\nتھے بال کھلے چہروں پہ اور ہاتھ بندھے تھے\n\nزینت دہِ محمل جو ہوئی دخترِزہراؓ\nناقوں پہ چڑھے سب حرمِ سیدِ والا\nآنے لگے رہوار، کھلا گرد کا پردا\nعباسؔ سے بولے یہ شہِ یثرب و بطحا\nصدمہ ہے بچھڑنے کا مرے روحِ نبی پر\nرخصت کو چلو قبرِ رسولِ عربی پر\n\nہے قبر پہ نانا کی مقدم مجھے جانا\nکیا جانیے پھر ہو کہ نہ ہو شہر میں آنا\nاماں کی ہے تربت پہ ابھی اشک بہانا\nاس مرقدِ انور کو ہے آنکھوں سے لگانا\nآخر تو لیے جاتی ہے تقدیرِ وطن سے\nچلتے ہوئے ملنا ہے ابھی قبرِ حسنؔ سے\n\nپیدل شہِ دیں روضۂ احمد کو سدھارے\nتربت سے صدا آئی کہ آ آ مرے پیارے\nتعویذ سے شبیرؔ لپٹ کر یہ پکارے\nملتا نہیں آرام نواسے کو تمہارے\nخط کیا ہیں اجل کا یہ پیام آیا ہے نانا\nآج آخری رخصت کو غلام آیا ہے نانا\n\nخادم کو کہیں امن کی اب جا نہیں ملتی\nراحت کوئی ساعت مرے مولا نہیں ملتی\nدکھ کون سا اور کون سی ایذا نہیں ملتی\nہیں آپ جہاں، راہ وہ اصلا نہیں ملتی\nپابندِ مصیبت ہوں گرفتارِ بلا ہوں\nخود پاؤں سے اپنے طرفِ قبر چلا ہوں\n\nمیں اک تنِ تنہا ہوں ستم گار ہزاروں\nاک جان ہے اور درپئے آزار ہزاروں\nاک پھول سے رکھتے ہیں، خلشِ خار ہزاروں\nاک سر ہے فقط اور خریدار ہزاروں\nواں جمع کئی شہر کے خوں ریز ہوئے ہیں\nخنجر مری گردن کے لئے تیز ہوئے ہیں\n\nفرمایے اب جائے کدھر آپ کا شبیرؔ\nیاں قید کی ہے فکر ادھر قتل کی تدبیر\nتیغیں ہیں کہیں میرے لئے اور کہیں زنجیر\nخوں ریزی کو کعبہ تلک آ پہنچے ہیں بے پیر\nبچ جاؤں، جو پاس اپنے بلا لیجئے نانا\nتربت میں نواسے کو چھپا لیجئے نانا\n\nیہ کہہ کے مَلا قبر سے شہہ نے جو رخِ پاک\nہلنے لگا صدمے سے مزارِ شہِ لولاک\nجنبش جو ہوئی قبر کو تھرا گئے افلاک\nکانپی جو زمیں صحنِ مقدس میں اڑی خاک\nاس شور میں آئی یہ صدا روضۂ جد سے\nتم آگے چلو ہم بھی نکلتے ہیں لحد سے\n\nباتوں نے تری دل کو مرے کر دیا مجروح\nتو شہر سے جاتا ہے تڑپتی ہے مری روح\nبے تیغ کیا، خنجرِ غم نے ترے مذبوح\nہے کشتیِٔ امت پہ تباہی، کہ چلا نوح\nافلاکِ امامت کا تجھے بدر نہ سمجھے\nبے قدر ہیں ظالم کہ تری قدر نہ سمجھے\n\nمارا گیا جس روز سے شبرؔ مرا پیارا\nاس روز سے ٹکڑے ہے کلیجہ مرا سارا\nاب قتل میں ہوتا ہوں ترے ساتھ دوبارا\nامت نے کیا پاسِ ادب خوب ہمارا\nزہراؔ کی جو بستی کو اجاڑیں تو عجب کیا\nاعدا مجھے تربت سے اکھاڑیں تو عجب کیا\n\nاس ذکر پہ رویا کیے شہہ سر کو جھکائے\nواں سے جو اٹھے فاطمہؔ کی قبر پہ آئے\nپائینِ لحد گر کے بہت اشک بہائے\nآواز یہ آئی کہ میں صدقے مرے جائے\nہے شور ترے کوچ کا جس دن سے وطن میں\nپیارے میں اسی دن سے تڑپتی ہوں کفن میں\n\nتربت میں جو کی میں نے بہت گریہ و زاری\nگھبرا کے علیؔ آئے نجف سے کئی باری\nکہتے تھے کہ اے احمدِ مختار کی پیاری\nتم پاس ہو تربت ہے بہت دور ہماری\nگھر لٹتا ہے کیوں کر ہمیں چین آئے گا زہراؓ\nکیا ہم سے نہ رخصت کو حسینؔ آئے گا زہراؓ\n\nمیں نے جو کہا قبر سے کیوں نکلے ہو باہر\nنہ سر پہ عمامہ ہے نہ ہے دوش پہ چادر\nفرمایا کہ ماتم میں ہوں اے بنتِ پیمبر\nمرنے کو پسر جاتا ہے برباد ہوا گھر\nترسیں گے وہ پانی کو جو نازوں کے پلے ہیں\nتلواریں ہیں اب اور مرے بچوں کے گلے ہیں\n\nپھرتا ہے مری آنکھوں میں شبیرؔ کا مقتل\nوہ نہرِ فرات اور کئی کوس کا جنگل\nوہ بجلیاں تلواروں کی اور شام کا بادل\nدریا سے وہ پیاسوں کے ہٹا دینے کی ہلچل\nشبیرؔ کے سر پر سے یہ آفت نہ ٹلے گی\nدسویں کو محرم کی چھری مجھ پہ چلے گی\n\nسن کر یہ بیاں باپ کا مادر کی زبانی\nرو رو کے پکارا اسد اللہ کا جانی\nہاں والدہ سچ ہے نہ ملے گا مجھے پانی\nپیاسے ہیں مرے خون کے یہ ظلم کے بانی\nبچپن میں کیا تھا، مرا ماتم شہ دیں نے\nنانا کو خبر دی تھی مری روح امیں نے\n\nپہلو میں جو تھی فاطمہؔ کے تربتِ شبرؔ\nاس قبر سے لپٹے بہ محبت شہِ صفدر\nچلائے کہ شبیرؔ کی رخصت ہے برادر\nحضرت کو تو پہلو ہوا اماں کا میسر\nقبریں بھی جدا ہیں تہِ افلاک ہماری\nدیکھیں ہمیں لے جائے کہاں خاک ہماری\n\nیہ کہہ کے چلے قبر حسن سے شہِ مظلوم\nرہوار جو مانگا تو سواری کی ہوئی دھوم\nیارانِ وطن گرد تھے افسردۂ مغموم\nچلاتے تھے خادم کہ چلا خلق کا مخدوم\nخالی ہوا گھر آج رسول عربی کا\nتابوت اسی دھوم سے نکلا تھا بنی کا\n\nجب اٹھ گئی تھیں خلق سے مخدومۂ عالم\nسر پیٹتے تھے لوگ اسی طرح سے باہم\nبرپا تھا جنازے پہ علیؔ کے یونہیں ماتم\nتھا رحلتِ شبرؔ میں محبوں کا یہی غم\nبس آج سے بے وارث و والی ہے مدینہ\nاب پنجتن پاک سے خالی ہے مدینہ\n\nچلاتی تھیں رانڈیں کہ چلی شہہ کی سواری\nلے گا خبر اب کون مصیبت میں ہماری\nآنکھوں سے یتیموں کی دُرِ اشک تھا جاری\nمضطر تھے اپاہج ضعفا کرتے تھے زاری\nکہتے تھے گدا، ہم کو غنی کون کرے گا\nمحتاجوں کی فاقہ شکنی کون کرے گا\n\nتھا، ناکے تلک شہر کے اک شورِ قیامت\nسمجھاتے ہوئے سب کو چلے جاتے تھے حضرت\nرو رو کے وہ کہتا تھا جسے کرتے تھے رخصت\nپائیں گے کہاں ہم، یہ غنیمت ہے زیارت\nآخر تو بچھڑ کر کفِ افسوس ملیں گے\nدس بیس قدم اور بھی ہمراہ چلیں گے\n\nقسمیں انہیں دے دے کے کہا شہ نے کہ جاؤ\nتکلیف تمہیں ہوتی ہے اب ساتھ نہ آؤ\nاللہ کو سونپا تمہیں آنسو نہ بہاؤ\nپھرنے کے نہیں، ہم سے بس اب ہاتھ اٹھاؤ\nاس بیکس و تنہا کی خبر پوچھتے رہنا\nیارو مری صغراؔ کی خبر پوچھتے رہنا\n\nروتے ہوئے وہ لوگ پھرے شاہ سدھارے\nجو صاحبِ قسمت تھے وہ ہمراہ سدھارے\nکس شوق سے مردانِ حق آگاہ سدھارے\nعابد طرفِ خانۂ اللہ سدھارے\nاترے نہ مسافر کسی مخلوق کے گھر میں\nعاشق کو کشش لے گئی معشوق کے گھر میں\n\nروشن ہوئی کعبہ کی زمیں نورِ خدا سے\nمکہ نے شرف اور بھی پایا شرفا سے\nجھک جھک کے ملے، سبطِ پیمبر غربا سے\nآباد ہوا شہر، نمازوں کی صدا سے\nخوش ہو کے ہوا خواہ یہ کہتے تھے علیؓ کے\nسب باپ کی خو بو ہے نواسے میں نبی کے\n\nکعبے مین بھی اک دن نہ ملا شاہ کو آرام\nکوفے سے چلے آتے تھے نامے سحر و شام\nاعدا نے گذرنے نہ دیے، حج کے بھی ایام\nکھولا پسرِ فاطمہ نے باندھ کے احرام\nعازم طرفِ راہِ الٰہی ہوئے حضرت\nتھی ہشتم ذی الحجہ کہ راہی ہوئے حضرت\n\nجاتے تھے دل افسردہ و غمگیں شہِ ابرار\nہر گام پہ ہوتے تھے عیاں موت کے آثار\nقبریں نظر آتیں کسی صحرا میں جو دو چار\nفرماتے تھے شہ فاعتبرو یا اولی الابصار\nجز خاک نہ ہوئے گا نشان بھی بدنوں کا\nانجام یہ ہے ہم سے غریب الوطنوں کا\n\nاحباب کہیں، گھر ہے کہیں، آپ کہیں ہیں\nآگے تو زمیں پر تھے پر اب زیرِ زمیں ہیں\nخالی ہیں مکاں آپ تہِ خاک مکیں ہیں\nجو دور نہ رہتے تھے وہ اب پاس نہیں ہیں\nحسرت یہ رہی ہوگی کہ پہنچے نہ وطن میں\nکیا منہ کو لپیٹے ہوئے سوتے ہیں کفن میں\n\nباتیں تھیں یہی یاس کی اور درد کی تقریر\nمنزل پہ بھی آرام سے سوتے تھے نہ شبیرؔ\nشب کو کہیں اترے، تو سحر کو ہوئے رہگیر\nجلدی تھی کہ، ہو جائے شہادت میں نہ تاخیر\nمقتل کا یہ تھا شوق شہِ جن و بشر کو\nجس طرح سے ڈھونڈھے کوئی معشوق کے گھر کو\n\nملتا تھا کوئی مرد مسافر جو سر راہ\nیوں پوچھتے تھے اس سے بہ حسرت شہہ ذی جاہ\nایسا کوئی صحرا بھی ہے اے بندۂ اللہ\nاک نہر سوا جس میں ہو چشمہ نہ کوئی چاہ\nکیا ملتا ہے، اس دشت میں اور کیا نہیں ملتا\nہم ڈھونڈھتے پھرتے ہیں، وہ صحرا نہیں ملتا\n\nوہ عرض یہ کرتا تھا کہ سبطِ شہِ لولاک\nہے سخت پُر اندوہ، وہ صحرا تہہ افلاک\nہنستا ہوا واں جائے تو ہو جاتا ہے غمناک\nسنتا ہوں وہاں دن کو اڑاتا ہے کوئی خاک\nواں راتوں کو آتی ہے صدا سینہ زنی کی\nدرویش کی ممکن ہے سکونت نہ غنی کی\n\nچلاتی ہے عورت کوئی ہے ہے مرے فرزند\nاس دشت میں ہو جائے گا تو خاک کا پیوند\nتلواروں سے ٹکرے یہیں ہوں گے ترے دلبند\nپانی یہیں ہو جائے گا بچوں پہ ترے بند\nپیارے تو اسی خاک پہ گھوڑے سے گرے گا\nہے ہے یہیں خنجر تری گردن پہ پھرے گا\n\nاک شیر ترائی میں یہ چلاتا ہے دن رات\nکٹ جائیں گے یاں ہاتھ مرے لال کے ہیہات\nکیا حال کہوں نہر کا، اے شاہِ خوش اوقات\nپانی تو نہیں شور، پہ مشہور ہے یہ بات\nطائر بھی دمِ تشنہ دہانی نہیں پیتے\nوحشی کبھی واں آن کے پانی نہیں پیتے\n\nاس جا نہ اترتا ہے نہ دم لیتا ہے رہ گیر\nہے شور کہ اس آب میں ہے آگ کی تاثیر\nپیاسوں کے لئے اس کی ہر اک موج ہے شمشیر\nاس طرح ہوا چلتی ہے جس طرح چلیں تیر\nبجھتی نہیں واں پیاس کس تشنہ گلو کی\nبو آتی ہے اس نہر کے پانی میں لہو کی\n\nاس شخص سے یہ کہہ کے چلے قبلۂ عالم\nاللہ نے چاہا تو بسائیں گے اسے ہم\nعاشق پہ بلا بعد بلا آتی ہے ہر دم\nغم اور بڑھا، وصل کا عرصہ جو رہا کم\nآفت یہ نئی فوج شہنشاہ میں آئی\nمسلم کی شہادت کی خبر راہ میں آئی\n\nغربت میں نہ ماتم کی سنائے خبر اللہ\nطاری ہوا حضرت پہ عجب صدمۂ جانکاہ\nگوندھے ہوئے سر کھول کے پیٹے حرمِ شاہ\nفرماتے تھے شہ سب کو ہے درپیش یہی راہ\nہو گا وہی اللہ کو جو مدِ نظر ہے\nآج ان کا ہوا کوچ، کل اپنا بھی سفر ہے\n\nوارث کے لئے زوجۂ مسلم کا تھا یہ حال\nمحمل سے گری پڑتی تھی بکھرائے ہوئے بال\nروتے تھے بہن کے لئے عباس خوش اقبال\nوہ کہتی تھی ساتھ آئے تھے چھوٹے مرے دو لال\nپوچھو تو کدھر وہ مرے پیارے گئے دونوں\nفرماتے تھے شبیرؔ کہ مارے گئے دونوں\n\nمحمل تھے سب اس بی بی کے ہودج کے برابر\nتھا شور کہ بیوہ ہوئی شبیرؔ کی خواہر\nگھبرا گئی تھی مسلمِؔ مظلوم کی دختر\nہر بار یہی پوچھتی تھی ماں سے لپٹ کر\nکیوں پیٹتی ہو کون جدا ہو گیا اماں\nغربت میں مرے باپ پہ کیا ہو گیا اماں\n\nاس دن سے تو اک ابر ستم فوج پہ چھایا\nکھانا کئی دن قافلہ والوں نے نہ کھایا\nرستے میں ابھی تھا اسداللہ کا جایا\nجو چاند محرم کا فلک پر نظر آیا\nسب نے مہِ نو لشکرِ شبیرؔ میں دیکھا\nمنہ شاہ نے آئینۂ شمشیر میں دیکھا\n\nخویش و رفقا چاند کی تسلیم کو آئے\nمجرے کو جھکے اور سخن لب پہ یہ لائے\nیہ چاند مبارک ہو یداللہ کے جائے\nکفار پہ تو فتح، اسی چاند میں پائے\nرتبہ مہہ و خورشید سے بالا رہے تیرا\nتا حشر زمانے میں اجالا رہے تیرا\n\nحضرت نے دعا پڑھ کے یہ کی حق سے مناجات\nکر رحم گنہگاروں پہ اے قاضیِٔ حاجات\nسر دینے کا مشتاق ہوں عالِم ہے تری ذات\nخنجر مری آنکھوں میں پھرا کرتا ہے دن رات\nباقی ہیں جو راتیں وہ عبادت میں بسر ہوں\nیہ زیست کے دس دن تری طاعت میں بسر ہوں\n\nپہنچا دے مجھے جلدی بس اے خالقِ افلاک\nاُس خاک پہ جس خاک سے ملتی ہے مری خاک\nطالب ہے ترے قرب کا سبطِ شہہ لولاک\nنہ ملک کی خواہش ہے نہ درکار ہے املاک\nبیتاب ہے دل صبر کا یارا نہیں مجھ کو\nاب فصل بجز وصل گوارا نہیں مجھو کو\n\nاتنے میں یہ فضہؔ علیؔ اکبر کو پکاری\nلو دیکھ چکی چاند ید اللہ کی پیاری\nعادت ہے کہ وہ دیکھتی ہیں شکل تمہاری\nآنکھوں کو کیے بند یہ فرماتی ہیں واری\nآئے تو رخِ اکبرِ ذی قدر کو دیکھوں\nشکل مہِ نو دیکھ چکی بدر کو دیکھوں\n\nشہ داخلِ خیمہ ہوئے فرزند کے ہمراہ\nمنہ دیکھ چکی چاند ید اللہ کی پیاری\nیہ چاند ہے کس طرح کا اے فاطمہؓ کے ماہ\nفرمانے لگے رو کے بہن سے شہہِ ذی جاہ\nسر تن سے مرا اس مہِ پُر غم میں کٹے گا\nزینبؔ یہ مہینہ تمہیں ماتم میں کٹے گا\n\nیہ آل نبی کی ہے مصیبت کا مہینا\nیہ ظلم کا عشرہ ہے یہ آفت کا مہینا\nپہنچا ہے غریبوں کی شہادت کا مہینا\nآخر ہے بس اب عمر کی مدت کا مہینا\nیہ بار امامت مری گردن سے اتر جائے\nہو خاتمہ بالخیر جو سر تن سے اتر جائے\n\nگردوں پہ مہِ نو جو نمایاں ہے یہ ہمشیر\nچڑھتی ہے مرے سر کے لئے چرخ پہ شمشیر\nاس چاند میں کٹ جائے گا سب لشکرِ شبیر\nنیزہ کوئی کھائے گا کلیجہ پہ، کوئی تیر\nبرچھی کسی جانباز کے پہلو میں لگے گی\nشمشیر، کسی شیر کے پہلو میں لگے گی\n\nخیمے کو جلا دیں گے، لٹے گا زر و زیور\nاس ماہ میں ہوں گے نہ پدر اور نہ برادر\nماؤں سے پسر چھوٹیں گے بہنوں سے برادر\nبیوہ کئی سیدانیاں ہوویں گی مقرر\nگھڑکیں گے ستمگار جو رووے گی سکینہؔ\nاس ماہ میں بے باپ کی ہووے گی سکینہؔ\n\nدولہا کوئی ٹاپوں کے تلے ہوئے گا پامال\nپیٹے گی کوئی تازہ دلہن کھولے ہوئے بال\nتیروں سے کسی ماں کا جگر ہووئے گا غربال\nنکلے گی کوئی کہتی ہوئی ہائے مرا لال\nمعصوموں کے سونے کی جگہ پائیں گے خالی\nبچوں سے بھری گودیاں ہو جائیں گی خالی\n\nاس عشرۂ اوّل میں نہ ہوئیں گے بہن ہم\nتاریخِ سفر ہے دہم ماہِ محرم\nعشرہ یہ وہ عشرہ ہے کہ اے زینبِؔ پُر غم\nجس لال کی عاشق ہو وہ ہو جائے گا بے دم\nدیکھو گی نہ پھر منہ علیؔ اکبر سے پسر کا\nاب شام میں ہوئے گا تمہیں چاند صفر کا\n\nرونے کے لئے حق نے بنائے ہیں یہ دس دن\nان روزوں خوشی ہو کہ کسی کو نہیں ممکن\nلیویں گے مرا تعزیہ ہر شہر کے ساکن\nاکبر کو جواں روئیں گے معصوموں کو کم سن\nبھولیں ہمیں ایسے نہیں غم خوار ہمارے\nہوئیں گے سیہ پوش عزادار ہمارے\n\nغش ہو گئی سن کر یہ بیاں زینبؔ پُر غم\nخیمے میں اسی رات سے برپا ہوا ماتم\nبیدار رہیں صبح تلک بیبیاں باہم\nخیموں کو اکھڑوا کے چلے قبلۂ عالم\nآخر وہی صحرا، وہی جنگل نظر آیا\nتھی دوسری تاریخ کہ مقتل نظر آیا\n\nاترے اسی میدانِ بلا خیز میں سرور\nاستادہ ہوئے، خیمۂ ناموسِ پیمبر\nصحرا کی طرف دیکھ کے خوش ہو گئے اکبرؔ\nدریا پہ ٹہلنے لگے عباسِؔ دلاور\nشہہ بولے ہوا نہر کی بھائی تمہیں بھائی\nہاں شیر ہو دریا کی ترائی تمہیں بھائی\n\nخامے کو بس اب روک انیسؔ جگر افگار\nخالق سے دعا مانگ کہ اے ایزدِ غفار\nزندہ رہیں دنیا میں شہہ دیں کے عزادار\nغیر از غمِ شہ، ان کو نہ غم ہو کوئی زنہار\nآنکھوں سے مزارِ شہِ دلگیر کو دیکھیں\nاس سال میں بس روضۂ شبیرؔ کو دیکھیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%B2%D9%86%D8%AF_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "فرشتوں کا گیت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "عقل ہے بے زمام ابھی، عشق ہے بے مقام ابھی\nنقش گرِ اَزل! ترا نقش ہے نا تمام ابھی\nخلقِ خدا کی گھات میں رِند و فقیہ و مِیر و پیر\nتیرے جہاں میں ہے وہی گردشِ صُبح و شام ابھی\nتیرے امیر مال مست، تیرے فقیر حال مست\nبندہ ہے کُوچہ گرد ابھی، خواجہ بلند بام ابھی\nدانش و دِین و علم و فن بندگیِ ہُوس تمام\nعشقِ گرہ کشاے کا فیض نہیں ہے عام ابھی\nجوہرِ زندگی ہے عشق، جوہرِ عشق ہے خودی\nآہ کہ ہے یہ تیغِ تیز پردگیِ نیام ابھی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%B4%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%AA"} {"title": "فرشتے آدم کو جنّت سے رُخصت کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "عطا ہُوئی ہے تجھے روزوشب کی بیتابی\nخبر نہیں کہ تُو خاکی ہے یا کہ سیمابی\nسُنا ہے، خاک سے تیری نمود ہے، لیکن\nتری سرِشت میں ہے کوکبی و مہ تابی\nجمال اپنا اگر خواب میں بھی تُو دیکھے\nہزار ہوش سے خوشتر تری شکر خوابی\nگِراں بہا ہے ترا گِریۂ سحَر گاہی\nاسی سے ہے ترے نخلِ کُہَن کی شادابی\nتری نوا سے ہے بے پردہ زندگی کا ضمیر\nکہ تیرے ساز کی فطرت نے کی ہے مِضرابی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%92_%D8%A2%D8%AF%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%86%D9%91%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%8F%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "فرصت ایک دم کی ہے جوں حباب پانی یاں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فرصت ایک دم کی ہے جوں حباب پانی یاں\nخاک سیر ہو کیجے سیر زندگانی یاں\n\nاب تو منہ دکھا اپنا کاش کے تو اے پیری\nمل گئی تری خاطر خاک میں جوانی یاں\n\nکیا یہ پیرہن تن کا جوں حباب چمکے تھا\nباندھی ہے ہوا میری تو نے ناتوانی یاں\n\nوقت گریہ موزوں ہو کیوں نہ آہ کا مصرع\nرفتہ رفتہ اشک اپنا بن گیا فغانی یاں\n\nجان من مجھے ہر دم تیرا پاس خاطر ہے\nاس لیے میں کرتا ہوں دم کی پاسبانی یاں\n\nاس کے تیر مژگاں سے ہو گیا جو دل چھلنی\nبیشۂ نیستاں کی ہم نے خاک چھانی یاں\n\nگھیر تو نے جامے کا بے طرح بڑھایا ہے\nاب زمین ناپے گا دور آسمانی یاں\n\nآگے اس کی قامت کے ایک دن جو اکڑا تھا\nخوب سا بنا سیدھا سرو بوستانی یاں\n\nیار کی گلی میں تو جا کے بیٹھ مت رہنا\nحال پر مرے رکھنا چشم مہربانی یاں\n\nقاصد سرشک اپنی تجھ سے ہے غرض اتنی\nکھائے گر وہاں کھانا پیجو آ کے پانی یاں\n\nخار سے خلش رکھنا اے نصیرؔ بے جا ہے\nہے یہ آبلہ پائی وجہ سر گرانی یاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%B5%D8%AA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "فرصت کوئی ساعت نہ زمانے سے ملی", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "فرصت کوئی ساعت نہ زمانے سے ملی\nبیگانے سے راحت نہ یگانے سے ملی\nحقا کہ پلک نواز ہے ذات تری\nجنت انہیں اشکوں کے بہانے سے ملی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%B5%D8%AA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D8%B9%D8%AA_%D9%86%DB%81_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%DB%8C"} {"title": "فرض اور قرض", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "جو مسلم ہے تو جاں ناموس ملت پر فدا کر دے\nخدا کا فرض اور اس کے نبی کا قرض ادا کر دے\nبھری محفل میں لا سکتا نہ ہو گر کفر تاب اس کی\nتو زنداں ہی میں جا کر روشن ایماں کا دیا کر دے\nشہادت کی تمنا ہو تو انگریزی حکومت پر\nکسی مجلس کے اندر نکتہ چینی برملا کر دے\nتمہارا قافلہ کچھ لٹ چکا اور کچھ ہے لٹنے کو\nرسول اللہ کو اس کی خبر باد صبا کر دے\nضرورت ہے اب اس ایجاد کی دانائے مغرب کو\nجو اہل ہند کے دامن کو چولی سے جدا کر دے\nنکل آنے کو ہے سورج کہ مشرق میں اجالا ہو\nبرس جانے کو ہے بادل کہ گلشن کو ہرا کر دے\nقفس کی تیلیوں پر آشیاں کا کاٹ کر چکر\nفلک سے گر پڑے بجلی کہ بلبل کو رہا کر دے\nیہ ہے پہچان خاصان خدا کی ہر زمانے میں\nکہ خوش ہو کر خدا ان کو گرفتار بلا کر دے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%B6_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%82%D8%B1%D8%B6"} {"title": "فرضی لطیفہ", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "خدا حافظ مسلمانوں کا اکبرؔ\nمجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس\nیہ عاشق شاہد مقصود کے ہیں\nنہ جائیں گے ولیکن سعی کے پاس\nسناؤں تم کو اک فرضی لطیفہ\nکیا ہے جس کو میں نے زیب قرطاس\nکہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نے\nکہ بیٹا تو اگر کر لے ایم اے پاس\nتو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سے\nبلا دقت میں بن جاؤں تری ساس\nکہا مجنوں نے یہ اچھی سنائی\nکجا عاشق کجا کالج کی بکواس\nکجا یہ فطرتی جوش طبیعت\nکجا ٹھونسی ہوئی چیزوں کا احساس\nبڑی بی آپ کو کیا ہو گیا ہے\nہرن پہ لادی جاتی ہے کہیں گھاس\nیہ اچھی قدر دانی آپ نے کی\nمجھے سمجھا ہے کوئی ہرچرن داس\nدل اپنا خون کرنے کو ہوں موجود\nنہیں منظور مغز سر کا آماس\nیہی ٹھہری جو شرط وصل لیلیٰ\nتو استعفیٰ مرا با حسرت و یاس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%B6%DB%8C_%D9%84%D8%B7%DB%8C%D9%81%DB%81"} {"title": "فرط شوق اس بت کے کوچہ میں لگا لے جائے گا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فرط شوق اس بت کے کوچہ میں لگا لے جائے گا\nکعبۂ مقصود تک مجھ کو خدا لے جائے گا\n\nکاٹ کر پر بھی مجھے صیاد بے قابو نہ چھوڑ\nناتواں ہوں باد کا جھوکا اڑا لے جائے گا\n\nروتے روتے جان جاوے گی فراق یار میں\nاشک کا دریا مرا مردہ بہا لے جائے گا\n\nدل مرا مٹھی میں رکھتے ہو تمہارے ہاتھ سے\nچھین کر اک دن اسے دزد حنا لے جائے گا\n\nمصر تک پہنچے نہ جو کنعاں سے وہ یوسف ہوں میں\nدست اخواں سے چھٹا تو بھیڑیا لے جائے گا\n\nایک گل اس باغ کا بوئے وفا رکھتا نہیں\nسبزۂ بیگانہ شوق آشنا لے جائے گا\n\nوعدۂ صادق تو عزرائیل سے ہے دیکھیے\nاس سرے سے مجھ کو کب تک اس سرا لے جائے گا\n\nباغباں گلشن کے دروازے کو کیا رکھتا ہے بند\nکون غنچہ کی کلہ گل کی قبا لے جائے گا\n\nاستخواں اجرت میں دیں گے ہم فقیر اے شاہ حسن\nعرضی اپنے شوق کی تجھ تک ہما لے جائے گا\n\nکشتیٔ تن بحر ہستی میں رہی برسوں تباہ\nپار اسے اک دم میں اس کا ناخدا لے جائے گا\n\nحسن دکھلا دے گا اے بت تجھ میں شان اللہ کی\nتیرے آگے عالم اپنی التجا جائے گا\n\nبوسے لے گا دست تیغ قاتل بے باک کے\nآتشؔ مقتول اپنا خوں بہا لے جائے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D8%B7_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "فرق جب لذت احساس میں پایا نہ گیا", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "فرق جب لذت احساس میں پایا نہ گیا\nدرد دیکھا نہ گیا تم کو دکھایا نہ گیا\n\nچٹکیاں کون یہ رہ رہ کے لئے جاتا ہے\nمیرے دل میں تو مری جاں کوئی آیا نہ گیا\n\nلطف یوں رنجش بے جا کے لئے پہروں تک\nبے سبب روٹھنے والے کو منایا نہ گیا\n\nخواب پر کیف کا منظر بھی نشاط آور تھا\nدوست کو اس لئے کچھ دیر جگایا نہ گیا\n\nمنع کرتی جو رہی خندہ جبینی اس کی\nدرد دل اپنا کبھی اس کو سنایا نہ گیا\n\nخود ہنسا وہ یہ جوانی کی کرم بخشی ہے\nخسرو حسن کو مجھ سے تو ہنسایا نہ گیا\n\nدے تو دی ضبط محبت کی قسم ظالم نے\nفائدہ ضبط محبت کا بتایا نہ گیا\n\nکب دکھاتا ہے وہ بربادیٔ حسرت کا سماں\nخاک میں جب مری حسرت کو ملایا نہ گیا\n\nروشنی جس کی دکھاتی تھی مجھے بھول ہی بھول\nاس قمروش کا وہ انداز بھلایا نہ گیا\n\nطور کی پوری طرح یاد دلائی نہ گئی\nہوش چھینے تو گئے ہوش میں لایا نہ گیا\n\nان کی مشکوک نظر میں وہ مزا تھا منظور\nکہ یقیں اپنی محبت کا دلایا نہ گیا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D9%82_%D8%AC%D8%A8_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "فرق کچھ تو چاہیئے اغیار سے", "poet_page": "مصنف:میر تسکینؔ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فرق کچھ تو چاہیئے اغیار سے\nسر الفت ہم چھپائیں یار سے\n\nاپنی آنکھوں سے اگر تشبیہ دوں\nاشک ٹپکے روزن دیوار سے\n\nبات ان کی معتبر ہے سچ کہا\nحال میرا پوچھئے اغیار سے\n\nاس کی چوٹی میں نہیں موباف سرخ\nاٹھے ہیں شعلے دہان مار سے\n\nدھوپ میں بیٹھوں کہ خجلت سے عدو\nبھاگ جائیں سایۂ دیوار سے\n\nپاس سے تیرے اٹھاتی غیر کو\nزور ہو سکتا جو چشم زار سے\n\nچھوٹتی ہیں منہ پہ کیا مہتابیاں\nوصل کے دن سایۂ دیوار سے\n\nسو طرح کی فکر میں تسکیںؔ پڑے\nدل لگا کر اس بت عیار سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D9%82_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "فرقت کی آفت برے دن کاٹنا سال ہے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فرقت کی آفت برے دن کاٹنا سال ہے\nیہ ہاتھ ہے سو کرے یہ سینہ گھڑیال ہے\n\nروتا ہوں شام و سحر ٹکڑے ہے غم سے جگر\nبے درد کچھ رحم کر میرا برا حال ہے\n\nبے چین کہاں دل ساماں یعقوب کا ہے مقال\nجنس وفا کا ہے کال کنعان میں ہٹ تال ہے\n\nریشم کے لچھے ہیں بال مخمل کے ٹکڑے ہیں گال\nہے یہ نزاکت کا حال پتلی کمر بال ہے\n\nعاشق بچے تا بہ کی کالی بلا ہے یہ شے\nکاکل کا جو حلقہ ہے موذی کا چنگال ہے\n\nکیوں آئے ہم اے پری ہلچل میں ہے زندگی\nآفت ہے تیرے گلے آندھی ہے بھونچال ہے\n\nپھولوں میں رنگت نہ بو سبزے کو کوڑا کہو\nپائے خزاں قطع ہو گلزار پائمال ہے\n\nدل نظر جس نے کیا ٹھکرا کے اس نے کہا\nلیتی ہے میری بلا درگور کیا مال ہے\n\nہر دم نہ دیکھ اس کے بال سر پر نہ لے یہ وبال\nجی کو بلا میں نہ ڈال اے دل یہ جنجال ہے\n\nرفتار کہیے اسے دل ہر قدم پر پسے\nپوچھے کوئی کبک سے صدقے عجب چال ہے\n\nکیا کہیے کیا غم سہا دن رات روتا رہا\nدل خون ہو کر بہا رنگین رومال ہے\n\nعشاق کا ہے یہ حال دن رات ہے حال قال\nآہ و فغاں ہے خیال سینہ زنی تال ہے\n\nصوت جفا کیش ہے عاشق جگر ریش ہے\nابرو ہے یا نیش ہے بچھو ہے یا خال ہے\n\nہے کچھ نہ کچھ تو بجوگ ناحق نہیں ہے یہ بروگ\nکیسا لگا جی کو روگ اے بحرؔ کیا حال ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D8%A8%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%D8%A7%D9%B9%D9%86%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "فرما رہے تھے شیخ طریقِ عمل پہ وعظ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "فرما رہے تھے شیخ طریقِ عمل پہ وعظ\nکُفّار ہند کے ہیں تجارت میں سخت کوش\n\nمُشرک ہیں وہ جو رکھتے ہیں مُشرک سے لین دین\nلیکن ہماری قوم ہے محرومِ عقل و ہوش\n\nناپاک چیز ہوتی ہے کافر کے ہاتھ کی\nسُن لے، اگر ہے گوش مُسلماں کا حق نیوش\n\nاک بادہ کش بھی وعظ کی محفل میں تھا شریک\nجس کے لیے نصیحتِ واعظ تھی بارِ گوش\n\nکہنے لگا ستم ہے کہ ایسے قیود کی\nپابند ہو تجارتِ سامانِ خورد و نوش\n\nمیں نے کہا کہ آپ کو مشکل نہیں کوئی\nہندوستاں میں ہیں کِلمہ گو بھی مے فروش", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%D9%90_%D8%B9%D9%85%D9%84_%D9%BE%DB%81_%D9%88%D8%B9%D8%B8"} {"title": "فرمان علی لوح و قلم تک پہنچا", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "فرمان علی لوح و قلم تک پہنچا\nفضل ان کا ہر ایک غم میں ہم تک پہنچا\nہاتھ اس کے لگا پارس ایماں سر دست\nسر جس کا یداللہ کے قدم تک پہنچا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D9%84%D9%88%D8%AD_%D9%88_%D9%82%D9%84%D9%85_%D8%AA%DA%A9_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7"} {"title": "فرمانِ خدا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اُٹھّو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو\nکاخِ اُمَرا کے در و دیوار ہِلا دو\nگرماؤ غلاموں کا لہُو سوزِ یقیں سے\nکُنجشکِ فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو\nسُلطانیِ جمہور کا آتا ہے زمانہ\nجو نقشِ کُہَن تم کو نظر آئے، مِٹا دو\nجس کھیت سے دہقاں کو میسرّ نہیں روزی\nاُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو\nکیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے\nپِیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اُٹھا دو\nحق را بسجودے، صنَماں را بطوافے\nبہتر ہے چراغِ حَرم و دَیر بُجھا دو\nمیں ناخوش و بیزار ہُوں مَرمَر کی سِلوں سے\nمیرے لیے مٹّی کا حرم اور بنا دو\nتہذیبِ نوی کارگہِ شیشہ گراں ہے\nآدابِ جُنوں شاعرِ مشرِق کو سِکھا دو!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%AE%D8%AF%D8%A7"} {"title": "فروغ حسن میں کیا بے ثبات دل کا وجود", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فروغ حسن میں کیا بے ثبات دل کا وجود\nوہ آفتاب یہ شبنم وہ آگ یہ بارود\n\nزہے مدارج و عرفان و لطف بزم شہود\nہمیں ہیں عبد ہمیں عبدیت ہمیں معبود\n\nوہ بار بار محبت سے ذکر خیر کریں\nشہید غم کی یہی فاتحہ یہی ہے درود\n\nسواد شام محبت ہے دود بے آتش\nطلوع‌ صبح تمنا ہے آتش بے دود\n\nبلطف‌ و عیش و نشاط جہاں مشو نازاں\nدریں سرائے‌ عدم آشنا چہ ہست و چہ بود\n\nنگاہ ناز کے جوہر یہ پائے کیا ممکن\nفغاں بھی تیغ ہے لیکن ہے تیغ زنگ آلود\n\nاٹھی گھٹا کی طرح چھا گئی فضا کی طرح\nحدود حسن میں تاثیر عشق نامحدود\n\nخدا کے جلوۂ‌ قدرت کا پوچھنا کیا ہے\nجدھر جدھر نظر اٹھی ادھر ادھر موجود\n\nطریق عشق میں کیوں بار غم اٹھائے نہ دل\nاسی پہاڑ کے نیچے ہے منزل مقصود\n\nتلے ہیں پھر مہ و انجم مجھے ستانے پر\nدل حزیں وہی اک نالۂ فلک پیمود\n\nغضب ہوا کہ مقدر مجھے وہاں لایا\nجہاں سکون بھی ناپید لطف بھی مفقود\n\nرہا یہ اپنی حیات و ممات کا عالم\nکبھی وجود عدم تھا کبھی عدم تھا وجود\n\nنگاہ ناز میں دل کا کچھ اقتدار نہیں\nاگر ابھی ہے یہ مقبول تو ابھی مردود\n\nحواس و ہوش فرشتوں کے جس سے رہ نہ سکیں\nفضا میں گونج رہا ہے وہ نغمۂ داؤد\n\nبڑھائے وادیٔ حسرت میں کیا قدم کوئی\nکہ خضر راہ بھی گم اور راہ بھی مسدود\n\nفروغ حسن تغیر پسند کچھ بھی نہیں\nضیائے کرمک شب تاب کی ہے کوئی نمود\n\nیہاں ادائے‌ فرائض کی صورتیں ہیں جدا\nنماز عشق میں واجب نہیں رکوع و سجود\n\nپیام مرگ بھی پہنچا نوید زیست کے ساتھ\nجو اتفاق سے امرت ملا تو زہر آلود\n\nوفا‌ و عشق کی دشواریاں خدا کی پناہ\nعجب عجب ہیں شرائط عجب عجب ہیں قیود\n\nتصرفات محبت کے سب کرشمے ہیں\nنہیں تو کیوں ہو تصدق ایاز پر محمود\n\nعدم سے آئے تھے ہم اور پھر عدم کو گئے\nیہ ہے حقیقت قبل از وجود و بعد وجود\n\nترا قلق بھی ترا درد بھی ترا غم بھی\nہمارے عشق کے اتنے گواہ ہیں موجود\n\nخدا کرے کہ نہ دعویٰ کریں خدائی کا\nسنا تو ہوگا بتوں نے نتیجہ‌ٔ نمرود\n\nبشر کو قوت احساس نے خراب کیا\nجو یہ نہ ہو تو جہاں میں نہ پھر زیاں ہے نہ سود\n\nرہ طلب میں قدم ڈگمگائے جاتے ہیں\nسنبھال یا مرے اللہ یا مرے معبود\n\nنگاہ کرد ز‌ قہر و عتاب فتنہ گرے\nبایں توقف اندک حواس و ہوش ربود\n\nجمال شاہد مطلق سے جس کو مطلب ہے\nوہ دل سعید نظر اسعد آرزو مسعود\n\nجناب نوحؔ کو طوفان غم سے خوف نہیں\nکہ اختیار میں ان کے ہے کشتیٔ مقصود", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%BA_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%92_%D8%AB%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF"} {"title": "فروغ مہر سے رندوں کا آخر کام کیا ہوگا", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فروغ مہر سے رندوں کا آخر کام کیا ہوگا\nزمیں پر دور چلتا ہے فلک پر جام کیا ہوگا\n\nیہ میں جانوں کہ میں نے کیوں کیا آغاز الفت کا\nیہ وہ جانیں کہ اس آغاز کا انجام کیا ہوگا\n\nترا ترک ستم تمہید ہے ترک تعلق کی\nمجھے اس دل شکن آرام سے آرام کیا ہوگا\n\nپریشاں میں نہیں لیکن جفا پر تم پشیماں ہو\nوفا پر میری اس سے بڑھ کے اور الزام کیا ہوگا\n\nشرابی ہے وہی رگ رگ میں جس کی قدرتی مے ہو\nنہ ہو کیف آفریں جو دل وہ مے آشام کیا ہوگا\n\nخوشی ہوگی دوامی غم زدوں کو جب کبھی ہوگی\nجسے ہر وقت ہو آرام اسے آرام کیا ہوگا\n\nگماں تھا نیک مجھ پر نیک لوگوں کا سو اب تک ہے\nمگر اب میں کہاں ناطقؔ مجھے الہام کیا ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%BA_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "فرہاد", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اس سے ملنا تو اس طرح کہنا\n\nتجھ سے پہلے مری نگاہوں میں\nکوئی روپ اس طرح نہ اترا تھا\nتجھ سے آباد ہے خرابۂ دل\nورنہ میں کس قدر اکیلا تھا\n\nتیرے ہونٹوں پہ کوہسار کی اوس\nتیرے چہرے پہ دھوپ کا جادو\nتیری سانسوں کی تھرتھراہٹ میں\nکونپلوں کے کنوار کی خوشبو\nوہ کہے گی کہ ان خطابوں سے\nاور کس کس پہ جال ڈالے ہیں\nتم یہ کہنا کہ پیش ساغر جم\nاور سب مٹیوں کے پیالے ہیں\n\nایسا کرنا کہ احتیاط کے ساتھ\nاس کے ہاتھوں سے ہاتھ ٹکرانا\nاور اگر ہو سکے تو آنکھوں میں\nصرف دو چار اشک بھر لانا\n\nعشق میں اے مبصرین کرام\nیہی تکنیک کام آتی ہے\nاور یہی لے کے ڈوب جاتی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%DB%81%D8%A7%D8%AF"} {"title": "فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیر", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیر\nواں خون کی ہوس ہے نہیں آرزوئے شیر\n\nہے اس جواں کی بات میں اب تو لہو کی باس\nوے دن گئے کہ آتی تھی اس منہ سے بوئے شیر\n\nہوتے ہی صبح آہ گیا ماہ چار دہ\nثابت ہوا مجھے کہ نمک ہے عدوئے شیر\n\nحسرت ہی دل میں کوہ کن آخر یہ لے گیا\nشیریں نے اپنی آنکھوں بھی دیکھا نہ روئے شیر\n\nاس دودھ کا خدا کرے کاسہ ہمیں نصیب\nجنت میں پنج تن کی جو بہتی ہے جوئے شیر\n\nعاشق ہیں اپنے خون جگر خوار زہر نوش\nرغبت طرف شکر کے ہے ان کو نہ سوئے شیر\n\nجن کو بغیر سعی وہ شیریں دہن ملے\nکھو دیں نہ کوہ وہ نہ کریں جستجوئے شیر\n\nملتے ہی اس سے دل کی گرہ میرے کھل گئی\nعقدے شکر کے جیسے کھلیں روبروئے شیر\n\nپھر دودھ کی بڑھاپے میں آوے نہ منہ سے باس\nآخر کہاں تلک یہ بیاںؔ گفتگوئے شیر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%DB%81%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B3_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D9%BE%DB%81_%D9%84%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%B1"} {"title": "فریاد اور تجھ کو ستم گر کہے بغیر", "poet_page": "مصنف:شوق قدوائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فریاد اور تجھ کو ستم گر کہے بغیر\nمانوں نہ حشر میں ترے منہ پر کہے بغیر\n\nدیکھو یہ رنگ رخ کا شگوفہ کہ میرا عشق\nظاہر ہوا ہے کہنے سے بڑھ کر کہے بغیر\n\nمنہ دیکھتا ہی رہ گیا کہنے کو جب گیا\nپلٹا میں حالت دل مضطر کہے بغیر\n\nپکڑو مری زبان تو صورت سے ہوشیار\nکھولے گی راز یہ سر محشر کہے بغیر\n\nہکلا کے آج میں نے کہا اس سے اپنا شوق\nتسکین دل ہوئی نہ مکرر کہے بغیر\n\nسننے کو تم کہو تو مرے دل کی ایک بات\nبرسوں سے پھر رہی ہے زباں پر کہے بغیر\n\nکرتا ہے ہر سوال یہ حجت کی مشق وہ\nکوئی جواب ہی نہیں کیوں کر کہے بغیر\n\nمعشوق ہی تو کتنا ہی بد تر ہوا اس کا جور\nبنتی نہیں ہے بات ہی بہتر کہے بغیر\n\nمانا کہ دل شکن تھیں سر بزم پھبتیاں\nلیکن نہ رہ سکا کوئی مجھ پر کہے بغیر\n\nمیں یہ سمجھ گیا کہ وہ گھر میں نہیں ہے آج\nدرباں نے خود ہی کھول دیا دریا کہے بغیر\n\nکیا کیا کہے ہیں شعر حسینوں کے وصف میں\nکیا شوقؔ ہو گیا ہے سخنور کہے بغیر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%BA%DB%8C%D8%B1"} {"title": "فریاد بھی میں کر نہ سکا بے خبری سے", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "فریاد بھی میں کر نہ سکا بے خبری سے\nدل کھینچ لیا اس نے کمند نظری سے\n\nاس بت کو کیا رام نہ سوز جگری سے\nنالے مرے بدنام ہوئے بے اثری سے\n\nکب دل پہ اثر کرتا ہے ظالم کا تملق\nملتے ہیں کہیں زخم جگر بخیہ گری سے\n\nہے سایہ فگن تازہ نہال چمن حسن\nنسبت مرے دل کو ہے عقیق شجری سے\n\nاڑ جاتے تیرے ہوش مرے نغموں سے بلبل\nکر شکر کہ مجبور ہوں بے بال و پری سے\n\nہر لطف سے خالی ہے فروغ دم پیری\nروشن ہوا یہ نور چراغ سحری سے\n\nدامن کی کلی باد صبا کھول سکے کب\nساتر نہیں ڈرتے ہیں کبھی پردہ دری سے\n\nالفت کا شجر سرو قدوں کی ہے ہری شاخ\nعشاق کو باور ہوا یہ بے ثمری سے\n\nکہتے ہیں وہ سن کر خبر رحلت عشاق\nجلدی گیا کہنا تھا ہمیں کچھ سفری سے\n\nہوں لاکھ خطر کوچۂ دلبر نہ چھٹے گا\nاٹھ سکتی ہے ذلت بھی کہیں مرد جری سے\n\nنفرت نہیں لازم تجھے ظالم عوض رحم\nبیٹھا ہوں میں دل کھو کے تری حیلہ گری سے\n\nعامل کریں اک بار اگر بند تو میکش\nخالی کریں سو مرتبہ شیشہ کو پری سے\n\nکر دیتے ہیں یوں ہرزہ درا کو کملا بند\nلب زخم کے جس طرح ملیں بخیہ گری سے\n\nاغیار ہوے کب مری ناکامی کا باعث\nمحرومیاں پیدا ہوئیں آشفتہ سری سے\n\nکر غیر کو اپنا کہ مرادوں کا نشاں دے\nبے کار وہ پیکاں ہے جدا ہو جو سری سے\n\nاعمال حبیبؔ جگر افگار کی کشتی\nساحل پہ پہنچ جائے گی اشکوں کی تری سے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92"} {"title": "فریاد جنوں اور ہے بلبل کی فغاں اور", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فریاد جنوں اور ہے بلبل کی فغاں اور\nصحرا کی زباں اور ہے گلشن کی زباں اور\n\nکٹ جائے زباں تیری تو ہو گرم زباں اور ہے\nاللہ نے دی ہے تجھے اے شمع زباں اور\n\nجنت بھی ہے دوزخ بھی ہے سینے میں ہمارے\nیہ داغ نہاں اور ہے یہ سوز نہاں اور\n\nہو جائے سچ افلاس میں سنتا ہوں رہے گا\nدو چار مہینے ابھی ماہ رمضاں اور\n\nآغاز محبت میں یہ دل خون ہوا ہے\nروئیں گے ابھی دیدۂ خوں نابہ فشاں اور\n\nدنیا میں اب ایسا قدر انداز نہیں ہے\nہوتے ہی ہدف دل کے چڑھی ان کی کماں اور\n\nجو پیتے ہیں پیتے نہیں وہ بھی رمضان میں\nسنتا ہوں کوئی بند ہوئی مے کی دکاں اور\n\nاچھا ہے رہیں جا کے لگ دونوں جہاں سے\nعشاق کے رہنے کو بنے ایک جہاں اور\n\nپینے کا مزا جب ہے کہ منہ خم سے لگا ہے\nمجھ رند سے ساقی یہ کہے جائے کہ ہاں اور\n\nنکلا ہے مرا نام کہ بے نام و نشاں ہوں\nمجھ سا بھی نہ ہوگا کوئی بے نام و نشاں اور\n\nسنتا ہوں مسلمانوں میں اب مانگ بہت ہے\nڈرتا ہوں مئے ناب نہ ہو جائے گراں اور\n\nپہنچے در و دیوار کو نقصان تو کیا غم\nرونے کے لیے لیں گے کرائے کا مکاں اور\n\nتیز آتش سیال ہے پہلے سے زیادہ\nاب آگ لگائے نہ ذرا پیر مغاں اور\n\nدی ہم نے جگہ دل کو بھی آنکھوں کے برابر\nآنکھوں میں سماتے نہیں وہ ہو کے جواں اور\n\nمرنے کا ریاضؔ اپنے ذرا نام نہ لینا\nجینا ابھی مر مر کے تجھے ہے مری جاں اور", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "فریاد صدائے نفس آواز جرس ہے", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فریاد صدائے نفس آواز جرس ہے\nکیا قافلۂ عمر کوں چلنے کا ہوس ہے\n\nجو صاف دل ہے اس میں کدورت کا اثر نیں\nہر چند اگر دشمن آئینہ نفس ہے\n\nلیتا ہوں اپس مدرسۂ دل میں سبق میں\nاس شوخ مدرس کا وہاں جب سوں درس ہے\n\nیک لمحہ نہ ہو مجھ سوں جدا اے مہ تاباں\nہر آن ترے ہجر کا مجھ حق میں برس ہے\n\nداؤدؔ نہ کر پرسش محشر ستی کچھ خوف\nواں آل محمدؐ کی شفاعت تجھے بس ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%D9%81%D8%B3_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2_%D8%AC%D8%B1%D8%B3_%DB%81%DB%92"} {"title": "فریاد کرے کس سے گنہ گار تمہارا", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فریاد کرے کس سے گنہ گار تمہارا\nاللہ بھی حاکم بھی طرف دار تمہارا\n\nکعبہ کی تو کیا اصل ہے اس کوچے سے آگے\nجنت ہو تو جائے نہ گنہ گار تمہارا\n\nدرد دل عاشق کی دوا کون کرے گا\nسنتے ہیں مسیحا بھی ہے بیمار تمہارا\n\nجوہرؔ تمہیں نفرت ہے بہت بادہ کشی سے\nبرسات میں دیکھیں گے ہم انکار تمہارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "فریاد کی کوئی لے نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے\nنالہ پابندِ نَے نہیں ہے\n\nکیوں بوتے ہیں باغباں تونبے؟\nگر باغ گدائے مَے نہیں ہے\n\nہر چند ہر ایک شے میں تُو ہے\nپَر تُجھ سی کوئی شے نہیں ہے\n\nہاں، کھائیو مت فریبِ ہستی!\nہر چند کہیں کہ “ہے”، نہیں ہے\n\nشادی سے گُذر کہ، غم نہ ہووے\nاُردی جو نہ ہو، تو دَے نہیں ہے\n\nکیوں ردِ قدح کرے ہے زاہد!\nمَے ہے یہ مگس کی قَے نہیں ہے\n\nانجا، شمارِ غم نہ پوچھو\nیہ مصرفِ تا بکَے نہیں ہے\n\nجس دل میں کہ “تا بکَے” سما جائے\nواں عزّتِ تختِ کَے نہیں ہے\n\nہستی ہے، نہ کچھ عَدم ہے، غالبؔ!\nآخر تُو کیا ہے، ”اَے نہیں ہے؟”", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%84%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے", "poet_page": "مصنف:اختر علی اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے\nنقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے\n\nخراب شوق رہے وقف انتظار رہے\nاب اور کیا ترے وعدوں کا اعتبار رہے\n\nمیں راز عشق کو رسوا کروں معاذ اللہ\nیہ بات اور ہے دل پر نہ اختیار رہے\n\nچمن میں رکھ تو رہا ہوں بنا نشیمن کی\nخدا کرے کہ زمانہ بھی سازگار رہے\n\nجنوں کا رخ ہے حریم حیات کی جانب\nالٰہی پردۂ اوہام اعتبار رہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "فریب حسن سے گبر و مسلماں کا چلن بگڑا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فریب حسن سے گبر و مسلماں کا چلن بگڑا\nخدا کی یاد بھولا شیخ بت سے برہمن بگڑا\n\nقبائے گل کو پھاڑا جب مرا گل پیرہن بگڑا\nبن آئی کچھ نہ غنچے سے جو وہ غنچہ دہن بگڑا\n\nنہیں بے وجہ ہنسنا اس قدر زخم شہیداں کا\nتری تلوار کا منہ کچھ نہ کچھ اے تیغ زن بگڑا\n\nتکلف کیا جو کھوئی جان شیریں پھوڑ کر سر کو\nجو تھی غیرت تو پھر خسرو سے ہوتا کوہ کن بگڑا\n\nکسی چشم سیہ کا جب ہوا ثابت میں دیوانہ\nتو مجھ سے سست ہاتھی کی طرح جنگلی ہرن بگڑا\n\nاثر اکسیر کا یمن قدم سے تیری پایا ہے\nجذامی خاک رہ مل کر بناتے ہیں بدن بگڑا\n\nتری تقلید سے کبک دری نے ٹھوکریں کھائیں\nچلا جب جانور انساں کی چال اس کا چلن بگڑا\n\nزوال حسن کھلواتا ہے میوے کی قسم مجھ سے\nلگایا داغ خط نے آن کر سیب ذقن بگڑا\n\nرخ سادہ نہیں اس شوخ کا نقش عداوت سے\nنظر آتے ہی آپس میں ہر اہل انجمن بگڑا\n\nجو بد خو طفل اشک اے چشم تر ہیں دیکھنا اک دن\nگھروندے کی طرح سے گنبد چرخ کہن بگڑا\n\nصف مژگاں کی جنبش کا کیا اقبال نے کشتہ\nشہیدوں کے ہوئے سالار جب ہم سے تمن بگڑا\n\nکسی کی جب کوئی تقلید کرتا ہے میں روتا ہوں\nہنسا گل کی طرح غنچہ جہاں اس کا دہن بگڑا\n\nکمال دوستی اندیشۂ دشمن نہیں رکھتا\nکسی بھونرے سے کس دن کوئی مار یاثمن بگڑا\n\nرہی نفرت ہمیشہ داغ عریانی کو پھائے سے\nہوا جب قطع جامہ پر ہمارے پیرہن بگڑا\n\nرگڑوائیں یہ مجھ سے ایڑیاں غربت میں وحشت نے\nہوا مسدود رستہ جادۂ راہ وطن بگڑا\n\nکہا بلبل نے جب توڑا گل سوسن کو گلچیں نے\nالٰہی خیر کیجو نیل رخسار چمن بگڑا\n\nارادہ میرے کھانے کا نہ اے زاغ و زغن کیجو\nوہ کشتہ ہوں جسے سونگھے سے کتوں کا بدن بگڑا\n\nامانت کی طرح رکھا زمیں نے روز محشر تک\nنہ اک مو کم ہوا اپنا نہ اک تار کفن بگڑا\n\nجہاں خالی نہیں رہتا کبھی ایذا دہندوں سے\nہوا ناسور نو پیدا اگر زخم کہن بگڑا\n\nتونگر تھا بنی تھی جب تک اس محبوب عالم سے\nمیں مفلس ہو گیا جس روز سے وہ سیم تن بگڑا\n\nلگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب\nزباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا\n\nبناوٹ کیف مے سے کھل گئی اس شوخ کی آتشؔ\nلگا کر منہ سے پیمانے کو وہ پیماں شکن بگڑا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%A8%D8%B1_%D9%88_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DA%86%D9%84%D9%86_%D8%A8%DA%AF%DA%91%D8%A7"} {"title": "فساد دنیا مٹا چکے ہیں حصول ہستی مٹا چکے ہیں", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فساد دنیا مٹا چکے ہیں حصول ہستی مٹا چکے ہیں\nخدائی اپنے میں پا چکے ہیں مجھے گلے یہ لگا چکے ہیں\n\nنہیں نزاکت سے ہم میں طاقت اٹھائیں جو ناز حور جنت\nکہ ناز شمشیر پر نزاکت ہم اپنے سر پر اٹھا چکے ہیں\n\nنجات ہو یا سزا ہو میری ملے جہنم کہ پاؤں جنت\nہم اب تو ان کے قدم پہ اپنا گنہ بھرا سر جھکا چکے ہیں\n\nنہیں زباں میں ہے اتنی طاقت جو شکر لائیں بجا ہم ان کا\nکہ دام ہستی سے مجھ کو اپنے اک ہاتھ میں وہ چھڑا چکے ہیں\n\nوجود سے ہم عدم میں آ کر مکیں ہوئے لا مکاں کے جا کر\nہم اپنے کو ان کی تیغ کھا کر مٹا مٹا کر بنا چکے ہیں\n\nیہی ہیں ادنیٰ سی اک ادا سے جنہوں نے برہم ہے کہ خدائی\nیہی ہیں اکثر قضا کے جن سے فرشتے بھی زک اٹھا چکے ہیں\n\nیہ کہہ دو بس موت سے ہو رخصت کیوں ناحق آئی ہے اس کی شامت\nکہ در تلک وہ مسیح خصلت مری عیادت کو آ چکے ہیں\n\nجو بات مانے تو عین شفقت نہ مانے تو عین حسن خوبی\nرساؔ بھلا ہم کو دخل کیا اب ہم اپنی حالت سنا چکے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D8%AF_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D9%B9%D8%A7_%DA%86%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B5%D9%88%D9%84_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%85%D9%B9%D8%A7_%DA%86%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "فساد ذات", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دریدہ پیرہنی کل بھی تھی اور آج بھی ہے\nمگر وہ اور سبب تھا یہ اور قصہ ہے\nیہ رات اور ہے وہ رات اور تھی جس میں\nہر ایک اشک میں سارنگیاں سی بجتی تھیں\nعجیب لذت نظارہ تھی حجاب کے ساتھ\nہر ایک زخم مہکتا تھا ماہتاب کے ساتھ\nیہی حیات گریزاں بڑی سہانی تھی\nنہ تم سے رنج نہ اپنے سے بد گمانی تھی\n\nشکایت آج بھی تم سے نہیں کہ محرومی\nتمہارے در سے نہ ملتی تو گھر سے مل جاتی\n\nتمہارا عہد اگر استوار ہی ہوتا\nتو پھر بھی دامن دل تار تار ہی ہوتا\nخود اپنی ذات ہی ناخن خود اپنی ذات ہی زخم\nخود اپنا دل رگ جاں اور خود اپنا دل نشتر\nفساد خلق بھی خود اور فساد ذات بھی خود\nسفر کا وقت بھی خود جنگلوں کی رات بھی خود\n\nتمہاری سنگ دلی سے خفا نہیں ہوتے\nکہ ہم سے اپنے ہی وعدے وفا نہیں ہوتے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D8%AF_%D8%B0%D8%A7%D8%AA"} {"title": "فسانہء مبتلا/01", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "پہلا باب: مبتلا کی ولادت اور طفولیت\n\nتمول کے اعتبار سے مبتلا ایک خوش حال باپ کا بیٹا تھا اور چونکہ اکٹھی نو بیٹیوں پر جن میں سے پانچ زندہ تھیں، باپ کے بڑھاپے میں بڑی آرزوؤں اور تمناؤں کے بعد پیدا ہوا، اس سے بڑھ کر اللہ آمین کس کی ہو گی۔ بیٹے کا ارمان تو شروع ہی سے تھا۔\n\nہر مرتبہ ملنے جلنے دیکھنے بھالنے والے مولوی، ملّا، نجومی، رماّل۔ حتی کہ دائی جی کے خوش کرنے کو کہہ دیا کرتے تھے کہ اب کے ضرور بیٹا ہو گا۔ مگر ایک عمر اسی میں گزر گئی۔ توقع کی ناامیدی کے واسطے، امید لگائی، ناکامیابی کے لیے، مبتلا کی نوبت میں تو یاس اس درجے کو پہنچ چکی تھی کہ سارے گھر میں کسی کو بیٹے کا سان گمان تک بھی نہ تھا۔\n\nدم کے پانی تعویذ گنڈے ٹونے ٹوٹکے اور دوا درمن برسوں سے موقوف تھے۔\n\nمبتلا پیدا ہوا تو سب سے پہلے دائی کو معلوم ہوا کہ بیٹا ہے۔ اس نے اتنی عقل مندی کی کہ لوگوں پر بیٹے کا ہونا فوراً ظاہر نہیں ہونے دیا۔ ورنہ زچہ جس کو سکون اور قرار درکار تھا۔ مارے خوشی کے پھولی نہ سماتی اور الٹے لینے کے دینے پڑ جاتے۔ بارے بتدریج سب کو خیر ہوئی، سننے کے ساتھ جو کھڑا تھا تو کھڑا اور بیٹھا تھا تو بیٹھا۔ سجدے میں گر پڑا۔\n\nکسی کے منہ سے دعا نکلی۔ کوئی لگا بے ساختہ زچہ گیریاں گانے، کسی نے دوڑ کر چٹا چٹ زچہ اور بچہ کی بلائیں لے لیں۔ غرض گھر کیا اسی وقت سارے محلے میں شور و غل مچ گیا اور صبح ہوتے ہوتے تو گلی میں ڈولیوں سے اور گھر میں بیبیوں سے تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ ہر چند بیٹے کا ارمان اس بلا کا تھا کہ کیسا ہی بدصورت بیٹا ہوتا چوم چاٹ کر ماتھے چڑھاتے۔ مگر اس خاندان میں ہمیشہ سے صورتوں سے پرچول رہا کرتی تھی۔\n\nگھر میں جو آتا بچے کو دیکھنا چاہتا۔ یہ لوگ پرچھاویں اور نظر کے ڈر سے اس کے دکھانے میں مضائقہ کرتے تھے۔ جب بیبیوں کا بہت تقاضا ہوا اور گرمی پڑنے لگیں تو زچہ کے پاس گھر کی کوئی عورت بیٹھی تھی۔ اس نے کہا خدا کے لیے بیبیو ذرا ہوا کا رخ چھوڑو کہ دم گھٹا جاتا ہے۔ مرد بچے کی صورت کیا دیکھنا ہے۔ خدا عمر دے، پروان چڑھائے الٰہی ماں باپ کا کلیجہ ٹھنڈا رہے۔\n\nایک بی بی باوجود یکہ خود بھی ہجوم کرنے والیوں میں تھیں بول اٹھیں، لوگو بھیڑ کیا لگائی ہے۔ اللہ رکھے پانچ بہنوں کا بھائی ہے۔ انیس بیس کے فرق سے اپنی بہنوں میں ملتا ہو گا۔ اتنے میں دائی اندر سے نکلی تو ساری بیبیوں نے اس کو گھیر لیا۔ کیوں بوا بچہ پورے دنوں کا صحیح سلامت تو ہوا۔ دائی بولی: ہاں پورے دن بھی کئے خوب بھرپور ہاتھ پاؤں، بال، ناخن، سب خاصے توانا ماشاء اللہ پڑے کا پڑا اور ان کے جتنے بچے ہوئے سب اسی طرح کے۔\n\nخدا کے فضل سے کوکھ تو بہت صاف ہے۔ بیبیاں: کیوں بوا بہنوں میں ملتا ہوا تو ہے۔ دائی: بہنوں کی اس سے کیا نسبت لڑکیاں بھی اچھی صورت کی ہیں۔\n\nمگر اس سے پہلے کی دو لڑکیاں کہ ایک دو مہینے کی ہو کر اترگئیں اور دوسری دو سوا دو برس کی بس دونوں آفتاب و ماہتاب تھیں اور یہ تو خدا جیتا رکھے نور کا پتلا ہے۔ بڑی بڑی غلافی آنکھیں، اونچی اور ستی ہوئی ناک پتلے ہونٹ چھوٹا دہانہ، چمکتے ہوئے سیاہ گھونگر والے بال کتابی چہرہ، صراحی دار لمبی گردن، سانچے میں ڈھلا ہوا بدن۔\n\nمیری اتنی عمر ہونے آئی۔ تیرہ برس کی بیاہی آئی تھی۔ تب سے اپنی ساس کے ساتھ یہ کام کرنے لگی، خدا جھوٹ نہ بلوائے اتنے بچے میرے ہاتھ سے ہوئے کہ جن کا شمار نہیں، مگر ایسا قبول صورت بچہ میں نے تو بڑے بڑے نامی گرامی امیروں کے ہاں بھی جن کے حسن کی آج بڑی دھاک ہے نہیں دیکھا۔ بات یہ ہے کہ اللہ عمر دے اور بھاگوان ہو، سب نے کہا: آمین۔ مبتلا کے پیدا ہونے کی روداد جو ہم نے اوپر بیان کی اس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ مبتلا کے ساتھ ماں باپ اور عزیز و اقارب نے کیا کچھ چو چلے نہ کئے ہوں گے۔\n\nغرض وہ تمام خاندان اور سارے کنبے میں ایک انوکھی چیز سمجھا جاتا تھا اور حقیقت میں جس جس پہلو سے دیکھئے وہ انوکھی چیز تھا بھی، جب سے پیدا ہوا سارے سارے دن ساری ساری رات گودوں ہی میں رہتا۔ نہالچے پر لٹانے کی نوبت نہ آئی تھی۔\n\nاپنے ہی گھر میں ماں، نانی، خالہ، ممانی ایک کم آدھی درجن سگی بہنیں۔ اتنے آدمی لینے والے تھے کہ ایک سے ایک چھینے لیتا تھا۔\n\nباپ کا یہ حال کہ جتنی دیر ممکن تھا، گھر میں رہتے اور جتنی دیر گھر میں رہتے خود لئے رہتے یا پیش نظر رکھتے۔ مبتلا کے پہلے پانچ بلکہ سات آٹھ برس کی زندگی یعنی جب تک وہ محتاج پرورش رہا، اس قابل ہے کہ مستقلاً ان حالات کی ایک کتاب لکھی جائے مگر ہم کو تو اس کے دوسرے ہی معاملات سے بحث کرنی ہے۔ اس کی پرورش کے متعلق ہم اتنا ہی لکھنا کافی سمجھتے ہیں۔\n\nکہ اگرچہ خاندان کے لوگ سب کے سب دین کے پابند نہ تھے، مگر مبتلا کا باپ بڑا نمازی اور پرہیز گار آدمی تھا۔ مولوی شاہ حجت اللہ صاحب کے وعظ سے اس کو ایسا عشق تھا کہ آندھی جائے، مینہ جائے، طبیعت درست ہو نہ ہو جہاں سنا کہ مولوی صاحب کا وعظ ہے سب سے پہلے موجود۔ گھر کی بڑی بوڑھیاں بھی نماز پڑھتی تھیں باہمی جو احتیاطیں مبتلا کی پرورش میں بڑھتی جاتی تھیں۔\n\nان سے ایسا مستنبط ہوتا تھا کہ ان لوگوں کے پندار میں مبتلا کی تندرستی نہ صرف غذا سے آب و ہوا سے بلکہ مکان سے برسوں سے، مہینوں سے، دنوں سے لیل و نہار کے خاص خاص اوقات سے اپنے بیگانے کی نگاہ سے آئے گئے کی پرچھائیں سے، لوگوں کی باتوں سے، دلی خیالات سے تنہائی سے، تاریکی سے، چاندنی سے، کسوف خسوف سے، کتے سے، بلی سے، چھپکلی سے، دیو سے، بھوت سے، جن سے، پری سے، غرض ہر چیز سے جو واقعی ہے اور ہر چیز سے جو ادعائی ہے، معرض خطر میں ہے ہم تو معاذ اللہ کسی کلمہ گو مسلمان پر کفر اور شرک کا الزام کیوں لگانے لگے۔\n\nمگر بہ مجبوری اتنی بات کہنی پڑتی ہے کہ مبتلا کے ساتھ جو برتاؤ کئے جاتے تھے واہمہ شرک اور مطنئہ کفر سے خالی نہ تھے۔ یہ بات کہ جس خدا نے ہم کو پیدا کیا ہے وہی ایک وقت مقررہ تک جس کا حال اسی کو معلوم ہے، ہماری زندگی اور تندرستی کی حفاظت کرتا ہے اور جس طرح بغیر اس کے فضل و کرم کے ہم دنیا میں رہ بھی نہیں سکتے تھے۔ سوتے جاگتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے کہیں اور کسی حالت میں ہوں۔\n\nہم اس کی پناہ میں ہیں اور اس کا سایہ رحمت ہمارے سر پر ہے۔ وہ ہر مرض میں ہمارا طبیب ہے اور ہر مصیبت میں ہمارا معین و مددگار۔ ہر تکلیف میں ہمارا غمگسار۔ بغیر اس کی مرضی کے نہ غذا میں تقویت ہے نہ دوا میں تاثیر۔ بغیر اس کے حکم کے نہ زہر زہر ہے نہ اکسیر اکسیر۔ غرض یہ بات ان لوگوں کے معتقدات میں تو ضرور ہو گی جو مبتلا کو پال رہے تھے مگر ان کے برتاؤ میں تو کل و انابت کی کوئی بات ہمارے دیکھنے میں نہ آئی بلکہ ان کی تدبیریں سن کر حیرت ہوئی تھی کہ مبتلا کا پلنا اور پرورش پانا کیسا تھا۔\n\nیہ گراں جان ان نادان دوستوں کے ہاتھ سے بچ کیوں کر گیا۔ کوئی دکھ کوئی روگ نہ تھا کہ جس کو یہ لوگ اسباب غلط اور ادعائی نظر آسیب وغیرہ کی طرف منسوب نہ کرتے ہوں اور چونکہ تشخیص میں غلطی ہوتی اسی وجہ سے جو تدبیریں کی جاتی تھیں غلط در غلط مگر مبتلا خلقتاً توانا پیدا ہوا تھا۔ ہمیشہ اس کی طبیعت امراض پر غالب آتی رہی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/01"} {"title": "فسانہء مبتلا/02", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "بہرکیف مبتلا کسی نہ کسی طرح خدا کے فضل سے پل پلا کر بڑا ہوا۔ یہاں تک کہ ان گنا یعنی آٹھواں برس بھی خیریت کے ساتھ گزرا، جسے میٹھا برس بھی کہتے ہیں۔ مبتلا کی تعلیم و تربیت سے مستورات کو ظاہر میں تو کچھ سروکار نہ تھا۔ ہر چند وہ مکتب میں نہیں بیٹھا، کسی استاد سے اس نے سبق نہیں لیا تاہم ہمارے نزدیک (اور ہمارے نزدیک کیا بلکہ واقع میں) ایک اعتبار سے اس کی تعلیم و تربیت بہت ہو چکی تھی۔\n\nدنیا میں سارے لوگ پڑھے لکھے نہیں ہوتے اور نہ پڑھنے لکھنے پر زندگی یا معاش کا انحصار ہے۔ اصل چیز ہے عادت کی درستی، مزاج کی شائستگی طبیعت کی اصلاح سو جس وقت سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی وقت سے وہ ماحول سے سیکھ کر چلتا ہے ان لوگوں کی خوبو جو اس کو پالتے، اس کو اٹھاتے بٹھاتے، اس کو سلاتے اور اس کو کھلاتے پلاتے ہیں۔\n\nظاہر میں معلوم ہوتا ہے کہ ایک مضغئہ گوشت کی طرح پڑے ہیں، نادان اور لایعقل نہیں ہیں۔\n\nوہ اپنے سارے حواس سے ظاہری ہوں یا باطنی بڑی کوشش کے ساتھ کام لے رہے ہیں۔ چیزوں کو دیکھتے ٹٹولتے آوازوں کو سنتے اور جو دیکھتے سنتے اس کو حافظے میں رکھتے جاتے ہیں۔ اس کی ایک آسان شناخت ہے کہ اگر بڑی عمر میں ہم کوئی دوسری زبان سیکھنی چاہئیں تو کس قدر کوشش کرنی ہوتی ہے۔ بعض بعض اوقات سارے سارے دن رٹنا پڑتا ہے اور ہم کو اپنی مادری زبان سے لکھنا آتا ہے تو لکھنے سے اس زبان کو صرف ونحو سے لغت سے بھی بڑی مدد ملتی رہتی ہے۔\n\nتب ہم کو کہیں برسوں میں جا کر وہ زبان آتی ہے۔\n\nتاہم ناقص و نا تمام بچے جن کو ہماری سہولتوں میں کوئی سہولت بھی حاصل نہیں، کیا کچھ زحمت اٹھاتے ہوں گے کہ ذہین ہوئے تو برس کے اندر ہی اندر ورنہ ڈھائی تین برس کی عمر میں تو مٹھے لدھڑ کند ذہن تک طوطے کی طرح چرغنے لگتے ہیں۔ کیا اتنی بات سے کہ کسی نے پپا مما اور اما، دس بیس بار سکھانے کے طور پر ان کے سامنے کہہ دیا۔\n\nکوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ ہم نے ان کو بولنا سکھایا، زبان کی تعلیم کی۔ نہیں یہ سب بچوں کی ذاتی کوشش ہے۔ پھر یہ خیال کرنا بھی غلط ہے کہ بچوں کی ساری ہمت صرف زبان کے سیکھنے میں مصروف رہتی ہے۔ ایک زبان ہی نہیں بھلا بُرا، ادب قاعدہ، نشست برخاست، رغبت اور نفرت، سود و زیاں، دوست دشمن، خویش و بیگانہ، محبت اور عداوت، حیا اور غیرت، غصہ اور لالچ، حسد اور رشک وغیرہ وغیرہ سارے سبق ان کو ایک ساتھ شروع کرا دیئے جاتے ہیں۔\n\nپس مبتلا جس کی عمر آٹھ برس ہو چکی تھی۔ پڑھ چکا تھا۔ جو کچھ اس کو پڑھنا تھا۔ وہ پڑھ چکا تھا۔ جو کچھ اس کو سیکھنا تھا۔ ماں سے، باپ سے، نانی سے، خالہ سے، بہنوں سے، گھر کے نوکروں سے، آئے گئے سے، عمر کے اعتبار سے اس کی تعلیم و تربیت کی ایسی مثال تھی کہ جیسے کپڑا مول لیا گیا، درزی نے قطع کیا، سیا اور کھڑا کرنے کے بعد اس نے پہنا کر بھی دیکھ لیا۔\n\nصرف بخیہ کر دینا باقی ہے۔ اب اگر کپڑا بد رنگ یا گلا ہوا نکلے یا کہیں سے تنگ ہو جائے تو درزی اس میں کیا کمال کرے گا۔ کپڑا لیتے وقت یا قطع کراتے وقت یہ باتیں دیکھنے کی تھیں اور نہیں دیکھیں تو جھک مارو اور وہی پہنو گلا ہوا، کہ پہنا اور کھسکا، کچے رنگ کا جس میں پہلے ہی دن دھبے نمودار ہوں۔ یہاں تک کہ پہلے سے بدن میں بدھیاں پڑیں اور سانس اندر کا اندر اور باہر کا باہر رہ جائے اب دیکھنا چاہیے کہ مبتلا پر زنان خانے کی تعلیم کا کیا اثر مترتب ہوا تھا۔\n\nجوں جوں وہ بڑا ہوتا گیا، ضدی، چڑچڑا، غصیلا، مچلا، ٹنیلا زودرنج، مغرور، خود پسند، طماع، حریص، تنگ چشم، بودا، ڈرپوک، شوخ شریر، بے ادب، گستاخ، کاہل، آرام طلب، جابر، سخت گیر، گھر گھسنا، زنانہ مزاج بنتا گیا۔ اس کو دنیا و مافیہا کی کچھ خبر تو تھی نہیں، کبھی وہ بے رت کے پھلوں اور بے موسم کے میووں کے لیے گھنٹوں لوٹتا اور پٹخنیاں کھاتا، پہروں ایڑیاں رگڑتا اور آخر کو ایڑیوں کے بدلے اپنے چاہنے والوں اور ناز برداروں سے ناک رگڑوا لیتا تب بہ مشکل چپ کرتا، وہ جب جی چاہتا جو چیز چاہتا جتنی چاہتا کھاتا اور اپنی بے اعتدالیوں اور بے احتیاطیوں سے بیمار پڑتا اور الٹا ماں سے لڑتا۔\n\nایک مرتبہ وہ اس بات پر خوب رویا اور بہت بکھرا کہ ہائے بادل کیوں گرج رہا ہے۔ ہر چند سارا گھر اس بات کے اہتمام میں لگا رہتا تھا کہ کوئی امر اس کے خلاف مزاج نہ ہو۔ مگر اس کے رونے اور بگڑنے کے لیے ہر وقت کوئی نہ کوئی بہانہ ایک نہ ایک حیلہ مل ہی جاتا تھا۔ اس کی ناخوشی کا روکنا حقیقت میں انسان کے اختیار سے خارج اور آدمی کی قدرت سے باہر تھا۔\n\nکوئی جان نہیں سکتا تھا کہ وہ کس بات پر روٹھ جائے گا اور روٹھے پیچھے کسی کو خبر نہ تھی کہ وہ کیونکر منے گا۔ لاکھ اللہ آمین کیوں نہ ہو، کہاں تک برداشت، کتنا تحمل، آخر رفتہ رفتہ لوگ اس کے لاڈ پیار میں کمی کرنے لگے۔ سب سے پہلے بڑی اور بیاہی ہوئی صاحب اولاد بہنوں نے بے رخی ظاہر کی۔ آخر تھیں تو اس کی بہنیں، جب اس کی شوخی و شرارت سے عاجز آتیں جھڑک دیتیں اور گھرک بیٹھتیں بلکہ ایک تو ایسی جلے تن تھی کہ یہ اس کے پاس بھانجے کو دق کرنے اور بوٹیاں توڑنے گیا اور اس نے دور ہی سے ڈانٹا کہ خبردار جو میرے بچے کو چھیڑا۔\n\nمیں ایسے چوچلے ایک نہیں سمجھتی۔ دیکھو خدا کی قسم میں مار بیٹھوں گی۔ ماں کا بھی مبتلا کے ہاتھوں دم ناک میں تھا۔ مگر جیسا کہ کہتے ہیں کہ انسان کو ایک چیز کی محبت اندھا کر دیتی ہے لہٰذا وہ کھسانی تو ہوتی تھی مگر ادھر جوش آیا اور فوراً ٹھنڈی پڑ گئی۔ تیوری پر بل پڑ چلا تھا کہ کھلکھلا کر ہنس دی۔ مبتلا کی برائیوں کو برائی سمجھنا تو درکنار وہ اس کی طرف سے ساری دنیا کے ساتھ ہر وقت لڑنے کو تیار تھی ایک مرتبہ مبتلا خدا جانے کس بات پر پیچھے سے ماں کی چوٹی گھسیٹتے جاتا تھا۔\n\nسب سے بڑی بہن نے (جس کی پہلو نٹی بیٹی مبتلا سے بھی دو برس بڑی تھیں) دیکھ کر کہا: سبحان اللہ کیا ماں کا وقار ہے۔ لاڈ پیار بہت دیکھے مگر اتنا ناہموار، اس درجے بے تمیز جب ماں کا یہ بدڑا کر رکھا ہے تو ہمارا تو سر مونڈ کر بھی بس نہیں کرے گا۔ ہائے تو میرا بیٹا نہ ہوا تجھ کو ایسا ٹھیک بناتی کہ یاد ہی تو کرتا۔ باوجود یکہ بیٹی نے نصیحت کی بات کہی تھی مگر ماں پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے لپٹی اور سر ہو گئی۔\n\nماں کی پردہ داری کی وجہ سے باپ کو مبتلا کی شوخیوں کی پوری پوری خبر نہیں ہونے پاتی تھی پھر بھی جس قدر حال چار و ناچار معلوم تھا اس سے انہوں نے اتنا تو سمجھ لیا تھا کہ اس کا اٹھان اچھا نہیں۔ مبتلا کو چھٹا سال لگا تھا۔ باپ نے اس کو مکتب میں بٹھانا چاہا۔ عورتوں نے عذر کیا کہ آئے دن تو یہ بیمار رہتا ہے۔ مکتب کی قید، استاد کی تنبیہہ سے اس کا نگوڑا اتنا سا جی رہا سہا اور بھی اداس ہو جائے گا۔\n\nابھی جینے تو دو اور مبتلا کی ماں نے تو کھلا کھلا کہہ دیا کہ جب تک اصلی خیر سے اَن گنا نہ گزر جائے میں تو اس کو نہ لکھاؤں نہ پڑھاؤں غرض عورتوں کی ہٹ اور ہیکڑی نے مبتلا کے پورے تین برس کھوئے مگر سچی بات یہ ہے کہ مبتلا کا باپ اپنی طرف سے برابر اس کی کوششوں میں لگا رہا۔ اس پر بھی جو مبتلا تین برس تک آوارہ ہوتا رہا تو یہ اس کے باپ کا تساہل اور کمزوری، ماں کی نادانی اور حماقت اور خود مبتلا کی بدقسمتی اور کم بختی تھی۔\n\nاتنا تھا کہ جب باپ کو مبتلا کی کوئی بے جا بات معلوم ہوتی تو اسے ڈراتے دھمکاتے تو نہیں مگر نرمی اور دل جوئی کے ساتھ اس کو سمجھا ضرور دیتے کہ بیٹا یہ حرکت بہت نامناسب ہے اور خود اس کے ساتھ ظاہری پیار اخلاص اتنا نہ رکھتے کہ ماں کی چوٹی کے ساتھ ان کی داڑھی بھی کھسوٹنے لگتا۔\n\nمبتلا کو باپ کا کسی طرح کا خوف تو نہ تھا۔ مگر یوں کہو کہ زیادہ میل جول نہ ہونے کی وجہ سے ایک طور کی جھجک اور رکاوٹ تھی۔\n\nچاہو اس کو لحاظ سے تعبیر کر لو۔ مگر کیا اتنا کرنے سے مبتلا کے باپ نے باپ ہونے کا فرض ادا کیا۔ ہرگز نہیں۔ اس نے عورتوں کو مبتلا کی شرارتوں کی پردہ داری کرنے دی۔ اس نے بیٹے کے حالات سے پوری پوری خبر نہ رکھی۔ اس نے جتنی خبر رکھی اس کا بھی تدارک جیسا چاہیے تھا نہ کیا۔ اس نے مستورات ناقصات العقل کی رائے میں آکر جلد سے جلد بیٹے کو پڑھنے کے لئے نہ بٹھایا اور اس کے اکٹھے تین برس ضائع ہونے دیئے اتنا غنیمت ہوا کہ مبتلا کو اس کی ماں نے اپنے وہم کے پیچھے اکیلا دو کیلا گھر سے باہر نہیں نکلنے دیا ورنہ محلے میں دھوبی کنجڑے، بھٹیارے، قصائی، تیلی اس قسم کے لوگ بھی رہتے تھے۔\n\nاگر کہیں مبتلا ان لوگوں کے لڑکوں میں کھیلنے کودنے پاتا تو ساری خوبیاں جا کر ایک ذاتی شرافت باقی تھی وہ بھی گئی گزری ہوتی۔ جب تک میٹھا برس ختم ہو، مبتلا کے مزاج کی تلخی بڑھ گئی تھی۔ ادھر ابھی سالگرہ کو دو تین مہینے باقی تھے کہ باپ نے بسم اللہ اور مکتب کی چھیڑ چھاڑ شروع کی۔ بارے اس مرتبہ عورتوں نے بھی چنداں مزاحمت نہیں کی اور سالگرہ اور بسم اللہ دونوں تقریبیں ایک ساتھ ہو گئیں۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/02"} {"title": "فسانہء مبتلا/03", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "دوسرا باب: مبتلا کی تعلیم مکتبی اور اس کا اثر\n\nاتنا تو ہوا کہ مبتلا کے لیے دروازے پر مکتب بٹھانا پڑا۔ شروع شروع میں تو میاں جی کے پاس تک جانے اور مکتب میں بیٹھنے کے لیے مبتلا نے خوب خوب فیل مچائے اور غضب بکھرا مگر آخر سودے کی چاٹ اور پیسوں کے لالچ اور ماں کے چمکارنے پچکارنے سے جانے اور بیٹھنے تو لگا۔\n\nبیٹھے پیچھے پڑھنا چنداں مشکل نہ تھا۔ ذہن اور حافظہ دونوں خدا داد اس بلا کے تھے کہ جو دوسرے لڑکے ہفتوں میں کرتے تھے۔ وہ بھی بڑی ریں ریں کے ساتھ مبتلا گھنٹوں میں کھیلتے کودتے، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے کر لیتا۔ کہتے ہیں کہ دو دن میں تو اس نے الف بے کے حروف مفرد ایسی اچھی طرح پہچان لیے تھے کہ کتابوں میں سے آپ ڈھونڈ ڈھونڈ کر بتاتا۔\n\nپڑھنا تھا کہ اس کے ساتھ واہ واہ شاباش شروع ہوئی۔\n\nاس کے دل کی امنگ بڑھتی چلی اور ہر دا کھلتا گیا۔ مبتلا نہ مطالعہ دیکھتا نہ سبق یاد کرتا، نہ آموختہ پڑھتا۔ مگر ایک ہی دفعہ کے دیکھ لینے سے وہ سب ہم سبقوں میں میر ہی رہتا تھا۔ بدشوخی اور شوخی اور شرارت کی نسبت جو چاہو سو کہو۔ پڑھنے لکھنے کے متعلق تو میاں جی کو اس کی شکایت کرنے کا موقع نہ ملا۔ پرلے سرے کی بے توجہی اور حد درجے کی بدشوخی پر چھ برس میں اس کی فارسی کی استعداد ایسی ہو گئی تھی کہ مکتب کے لڑکے تو کیا خود میاں جی باوجود یہ کہ اچھے جید فارسی دان تھے اور درسی کتابیں بھی ان کو خوب مستحضر تھیں۔\n\nاس کو سبق دیتے ہوئے بھناتے تھے۔\n\nمبتلا کو مکتب کی تعلیم نے اتنا فائدہ تو پہنچایا کہ اس کو ایک دوسرے ملک کی زبان جس کے بغیر اُردو کی تکمیل نہیں ہو سکتی اچھی خاصی آگئی مگر اس کی تعلیم سے اس کو ایک بہت بڑا نقصان بھی پہنچا جس کو اندر باہر کسی نے جانا پہچانا نہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ مبتلا کو اپنا حسین ہونا کب سے معلوم ہوا۔ ہم اوپر لکھ چکے ہیں کہ اس خاندان میں شکل صورت کی بڑی پرچول رہتی تھی۔\n\nاس خاندان کی عورتوں کے نزدیک تو دنیا بھر کے ہنر، سلیقے، حسب نسب، دولت، تندرستی، نیک مزاجی، صاحب اولاد ہونا، دینداری ساری نعمتیں اور برکتیں ایک طرف اور گورا رنگ اور نقشہ ایک طرف۔ صورت شکل تو انسان کے اختیار کی بات نہیں۔ خدا جس کو جیسا چاہتا ہے بناتا ہے۔ ایک ہی ماں کے پیٹ سے دس بچے ہوتے ہیں اور کیا خدا کی قدرت ہے کہ دس کی دس شکلیں الگ۔\n\nورنہ ایک دوسرے سے ملتبس ہو کر کوئی پہچان نہ پڑے، انسان کے چہرے کی بساط کیا، اتنی ہی سی، جگہ میں ہزاروں لاکھوں کروڑوں مختلف نقشے یہ سب اس کی قدرت کی دلیلیں ہیں۔ آدمی اتنا سمجھے تو اپنے چہرے مہرے پر نہ ناز کرے نہ دوسرے پر ہنسے، مگر مبتلا کے خاندان کو ایسے خیالات سے کیا واسطہ، یہاں تو چھوٹے بڑے، بڈھے جوان، بیاہے کنوارے سب کو صورت شکل کو پٹنا تھا۔\n\nآپس ہی میں اس صورت شکل کے پیچھے ایک کی ایک سے نہیں بنتی تھی۔ ایک ایک کو چڑاتی۔ ایک ایک کی نقلیں کرتی اور اتفاق سے کنبے میں کوئی تقریب ہوتی اور یہ لوگ مہمان جاتے یا کہیں شامت کی ماری کسی نئی دلہن کو دیکھ آتے تو بس مہینوں ان کی صورتوں کا جھگڑا لگا رہتا۔ یہاں تک کہ ان عورتوں کی ایسی عادتیں دیکھ کر لوگ ان سے ملنے میں مضائقہ کرنے لگے تھے۔\n\nمبتلا کا ایسے خاندان میں پیدا ہونا اورپرورش پانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ جب اس کو بات کے سمجھنے کا شعور ہوا تو شاید سب سے پہلی بات جو اس نے سمجھی، یہی ہو گی کہ حسن صورت اس کو کہتے ہیں اور میں اس کا مصداق ہوں مگر جب تک مبتلا زنان خانے کی نگرانی میں رہا اس کی عمر ہی کیا تھی۔ سات آٹھ برس اس وقت تک وہ اتنا ہی سمجھ سکتا تھا کہ میٹھی چیز سب کو بھاتی ہے اور چونکہ وہ اپنے ذائقے میں بھی اس کی لذت پاتا تھا۔\n\nاس نے سمجھا تھا کہ حقیقت میں بھانے کی چیز ہے۔ آگ کو چھوتے ہوئے لوگ ڈرتے ہیں اور اس نے بھی شاید دوچار بار اس سے چہکا کھایا ہو۔ اس کو معلوم تھا کہ آگ سے جل جاتے ہیں۔ غرض جس چیز کی نسبت لوگوں کو کہتے سنا کہ اچھی یا بُری ہے۔ آپ بھی تجربہ کیا تو ثابت ہوا کہ جس چیز سے آرام پہنچے دل کو خوشی ہو، اچھی ہے اور جس سے ایذا پہنچے تکلیف ہو بُری۔ حسن کی خوبی کی نسبت اس کو ایسا یقین کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔\n\nکیونکہ اس کو حسن سے متلذذ ہونے کی اس وقت تک اہلیت ہی نہ تھی۔ مکتب میں بیٹھنے کے بھی ایک مدت بعد اس میں جوانی کے ولولوں کی تحریک شروع ہوئی اور جوں جوں یہ تحریک قوت اور اشتداد پکڑتی گئی۔ اس پر پسندیدگی حسن کی وجہ منکشف ہوتی گئی۔ اسی کا تذکرہ گھر میں تھا اور اسی کا سبق مکتب میں اور اب لگا اندر سے دل بھی اس کی گواہی دینے۔ مبتلا نے جو زبان فارسی کے سیکھنے میں غیرمعمولی ترقی کی۔\n\nاس کا بھی سبب یہی تھا کہ اکثر کتابیں نظم کی جن کو مبتلا کی شکل صورت کا آدمی بے مزا میر ذرالے پڑھے تو اچھے خاصے ثقہ مجرے کا مزا ملے۔ مضمون دیکھو تو چھڑا عاشقی جس کے نام سے نوعمر آدمی کے منہ میں رال بھر آئے۔ مادہ قابل، طبیعت مناسب، مبتلا کا تو حال یہ تھا کہ جو شعر عاشقانہ ایک بار بھی اس کی نظر سے گزرا۔ دیکھنے کے ساتھ ہی پتھر پر لکیر ہو گیا۔ غرض فیضانِ مکتب سے حضرت میں ایک صفت اور پیدا ہوئی یعنی عاشق مزاجی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/03"} {"title": "فسانہء مبتلا/04", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "تیسرا باب: مدرسے کی تعلیم اور بُری صحبت\n\nمبتلا کے باپ کی تو پہلے ہی سے یہ رائے تھی کہ اس کو شروع سے مدرسے میں بٹھایا جائے مگر عورتوں کو مبتلا کی اتنی مفارقت بھی گوارا نہ ہوئی۔ ناچار پورے چھ برس میاں جی کو نوکر رکھ کر اس کو گھر ہی پر تعلیم کرایا۔ اب میاں جی کا بھی سرمایہ معلومات ہو چکنے پر آیا اور فارسی کی درسی متداول کتابیں سب مبتلا کی نظر سے نکل گئیں۔\n\nاور بات صاف تو یہ ہے کہ مبتلا کے سر میں اب اور ہوا بھری ہوئی تھی۔ اس کی آنکھیں ڈھونڈتی تھیں یاروں کے جلسے، دوستوں کی صحبتیں اور وہ گھر پر میسر نہ تھیں۔ باپ نے کچھ اور سوچا مبتلا نے کچھ اور۔ غرض سب کی صلاح سے مبتلا مدرسے میں داخل ہوا۔ مبتلا نے چھ برس مکتب میں تعلیم پائی مگر مکتب کیا تھا برائے نام اس کا جی بہلنے کے لیے چار پانچ ریزگی لڑکے اور بٹھا لیے گئے تھے، یعنی ایک حساب سے چودہ برس کی عمر تک مبتلا بھونرے میں پلا اور دنیا کی کسی قسم کی ہوا اس کو نہ لگنے پائی۔\n\nاب جو مدرسے کی عربی جماعت میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا لڑکوں کا جنگل کہ سات سات آٹھ آٹھ برس کی عمر سے لے کر بیس پچیس برس تک کے اچھے خاصے جوان ہر ذات کے ہر پیشے کے چار ساڑھے چار سو لڑکے ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ اگرچہ انگریزی، عربی، فارسی، سنسکرت، ریاضی کی جماعتیں علیحدہ علیحدہ ہیں اور ہر جماعت کا کمرہ الگ مگر اوقات درس کے علاوہ سب ایک دوسرے سے بلاامتیاز آزادانہ ملتے بات چیت کرتے اور کھیلتے ہیں۔\n\nمبتلا کو یہ حال دیکھ کر بلامبالغہ ایسی خوشی ہوئی جیسے کسی جانور کو قفس سے آزاد کر کے باغ میں چھوڑ دیا جائے۔ اب تک وہ یہی جانتا تھا کہ میاں جی ہوئے، مولوی ہوئے، بڈھے ہی ہوتے ہوں گے۔ کیونکہ اس نے اپنے میاں جی کو دیکھا تھا پلکیں تک سفید یہاں مدرسے میں آکر دیکھا مدرس اکثر جوان کہ اب سے چار چار پانچ پانچ برس پہلے خود طالب علم تھے۔\n\nامتحان دیا، پاس ہوئے، زمرئہ مدرسین میں داخل کر لیے گئے۔ اس کو یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ بعض مدرس اپنی جماعت کے بعض بعض طالب علموں سے بھی کم سن ہیں۔ جس جماعت میں مبتلا داخل ہوا چونکہ عربی کی سب سے چھوٹی جماعت تھی۔ اس میں طالب علموں کی بڑی کثرت تھی۔ رجسٹر میں سو ستر لڑکوں کا نام تھا مگر پچاس پچپن ہمیشہ حاضر رہتے تھے۔ ان میں سے ایک تہائی کے قریب مبتلا سے بھی بہت بڑی عمر کے تھے۔\n\nاس جماعت کو جو مولوی صاحب پڑھاتے تھے جیسے ان کی جماعت سب جماعتوں میں چھوٹی تھی ویسے ہی تمام مدرسوں میں خود بھی سب سے چھوٹے تھے۔ عمر میں، قدوقامت میں، وقعت وجاہت میں، یعنی قسمت سے مدرس بھی ملے تو یار۔ استاد لونڈا تھا، نکیلا اور طرح دار مدرسے کے احاطے میں پاؤں کا دھرنا تھا کہ یاروں نے مبتلا کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ بعضے تو ٹکٹی باندھ باندھ کر ایسی بُری طرح گھورتے تھے کہ گویا آنکھوں کے رستے کھائے جاتے ہیں۔\n\nپہلے ہی سے لڑکوں میں بہت سی ٹولیاں تھیں۔ اب ایک بڑی بھاری اور نئی ٹولی مبتلا کی قائم ہوئی ایک جماعت بندی تو سرکاری تھی کہ جس قدر لڑکے ہم سبق ہوتے سب کے سب وقت واحد میں ایک استاد سے پڑھتے۔ مگر ایک جماعت بندی لڑکوں نے آپس میں ٹھہرا رکھی تھی جس کو ہم نے ٹولی سے تعبیر کیا۔ جس طرح سرکاری جماعت بندی کے اوقات مقرر تھے کہ مثلاً جب ریاضی کا گھنٹہ آیا، عربی اور فارسی اور سنسکرت کی جماعتوں سے جو جو ریاضی کا پڑھنے والا تھا، ماسٹر صاحب کی خدمت میں آحاضر ہوا۔\n\nاسی طرح ٹولیوں کے اجتماع کے بھی خاص خاص اوقات تھے۔ مدرسے کے وقت سے ذرا پہلے لڑکے سویرے مدرسے میں آپہنچتے یا جب ایک بجے نماز کے لیے ایک گھنٹہ کی چھٹی ہوتی یا مدرسہ برخاست ہونے کے بعد ان تین وقتوں میں جو لڑکا جس ٹولی کا تھا اس میں آملتا اور بعض پھٹیل بھی پڑے پھرتے تھے، جو کسی ٹولی میں نہ تھے۔ یہ ٹولیاں ایک مجمع ناجائز تھیں اور ان کی اغراضِ مشترکہ تمام تر بے ہودہ۔\n\nمدرسے کے سارے انتظام اچھے تھے۔ چیزیں وہ پڑھاتے تھے جو دنیا میں بکار آمد ہوں شوق کے مشتعل کرنے کو امتحان کا قاعدہ نہایت عمدہ تھا۔ فرداً فرداً ایک ایک لڑکے کو الگ الگ سبق پڑھانے سے جماعت جماعت کو پڑھانے کا نہایت مفید طریقہ تھا اس سے لڑکوں میں ایک طرح کی مناقشت پیدا ہوتی تھی کہ ایک پر ایک سبقت لے جانی چاہتا تھا۔ دوسرے ہم سبق ہونے سے ایک ایک کی مدد کر سکتا تھا، تیسرے لڑکوں کی لیاقت کا موازنہ اور مقابلہ بخوبی ہو سکتا تھا۔\n\nلڑکوں کو حاضر باشی کا پابند کرنے کے لیے ترتیب، نشست کا ردوبدل بھی بہت موثر تھا۔ پڑھائی اس قدر تھی کہ لڑکوں کو تمام وقت مشغول رکھنے کے لیے بخوبی کافی تھی۔ نوبت بہ نوبت مختلف مضامین کے پڑھانے سے طبیعت ملول اور کند نہیں ہونے پاتی تھی۔ غرض سبھی انتظام بھلے تھے، مگر افسوس لڑکوں کے چال چلن اور اخلاق کی طرف کسی کو مطلق توجہ نہ تھی۔ ہر مدرس اس فکر میں رہتا کہ جس چیز کا پڑھانا اس سے متعلق ہے۔\n\nاس چیز کے امتحان میں لڑکے بُرے نہ رہیں جب تک کوئی لڑکا اس شرط کو پورا کیے جاتا ہے۔ اگرچہ چوری چھپے ناجائز طور پر دوسرے سے مدد لے کر ہی کیوں نہ ہو کسی کو اس کے کردار سے بحث نہیں، چوری کرو، جھوٹ بولو، سربازار جوتی پیزار لڑلو، گالیاں دو اور گالیاں کھاؤ، شرافت کو بٹالگاؤ، بدمعاشوں میں رہو اور بدمعاش بنو، پتنگ لڑاؤ، اکھاڑے میں جا کر ڈنٹر پیلو، مگدرہلاؤ، گاؤبجاؤ غرض جو تمہارا جی چاہے سو کرو مگر جو چیزیں پڑھائی جاتی ہیں ان میں امتحان اچھا دو تو سکالر شپ بھی ہے، انعام بھی، سرخ روئی بھی ہے، آفرین اور تحسین بھی ہے، واہ واہ بھی ہے۔\n\nاور آخر کار نوکری بھی ہے۔ مدرس خوش، پرنسل صاحب راضی، مبتلا کی افتاد تو روزِ پیدائش سے بگڑی ہوئی تھی۔\n\nزنان خانے میں پرورش پاتا تھا کہ اس کے دل میں بدی کا بیج بویا گیا۔ مکتب میں تھا کہ بیج کا درخت ہوا۔ اب مدرسے میں آکر وہ درخت پھلا پھولا۔ گھر میں بچھڑا تھا۔ مکتب میں بچھڑے کا بیل ہوا اور مدرسے میں بیل کا سانڈ۔ کسی قسم کی آوارگی نہ تھی جو اس سے بچی ہو اور کسی طرح کی بے ھودگی نہ تھی جو اس نے نہ کی ہو۔\n\nجس طرح مبتلا مدرسے کے بُرے لڑکوں کی صحبت میں بانکا بنا، چھیلا بنا، طرح دار بنا، مسخرہ بنا، کوچہ دار بنا، ننگ خاندان بنا اور کیا کیا بنا۔ اسی طرح مبتلا تخلص رکھ کر شاعر بنا، نصیحتیں تو رفتہ رفتہ بھولی بسری ہو گئیں۔ شاعری کی یادگار اس کا منحوس تخلص رہ گیا۔ ہم کو تو اس کے نام سے اس قدر نفرت ہو گئی ہے کہ اس کے حالات کا دریافت کرنا کیسا سننے کو بھی جی نہیں چاہتا مگر خیر منہ پر بات آئی رک نہیں سکتی۔\n\nآٹھ برس یہ کم بخت مدرسے میں رہا۔ آخر کچھ نہ کچھ پڑھتا ہی ہو گا کہ عربی کی دوسری جماعت تک اس نے ترقی کی۔ دس روپے مہینہ وظیفہ پاتا تھا۔ برس کے برس انعام بھی ملتے رہتے تھے ایک سال سنا کہ ایسا اچھا امتحان دیا تمغہ ملا۔ یہ کچھ تعجب کی بات نہیں اور نہ اس سے آوارگی کا الزام رفع ہو سکتا ہے۔ ہم کو اس کی ذکاوت کا حال معلوم ہے وہ اس بلا کا ذہین تھا کہ مدرسے کی پڑھائی اس کے آگے کچھ حقیقت ہی نہ تھی۔\n\nبرس میں ایک بار تو امتحان ہوتا تھا۔ اکثر انگریزوں کے بڑے دن سے پہلے پس امتحان کے مہینے ڈیڑھ مہینے آگے سے وہ تیاری کر لیتا ہو گا لیکن فرض کیا کہ وہ اچھی طرح پڑھتا ہے گر بدوضع کو پڑھنے سے فائدہ علم سے حاصل۔ اس سے جاہل بمدراج بہتر ان پڑھ کہیں بھلا۔ مدرسے سے سوا پہر رات گئے بلکہ کبھی آدھی کبھی پچھلی رات کو تو اس کا گھر میں آنے کا معمول شروع سے تھا اور پھر اچھی طرح سورج نکلا کہ اس کے شریر لڑکے لگے گھر پر آکر کنڈی کھٹکھٹانے، دستک دینے اور پکارنے سیٹی بجانے۔\n\nاب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ تین تین چار چار دن تک برابر غائب ماں کو یہ تمام تفصیلی حالات معلوم تھے۔ مگر اب اس کی محبت کا دوسرا رنگ تھا۔ بیٹے سے اس قدر ڈرتی تھی جیسے قصائی سے گائے۔ اس کے اندر آپ سے آپ یہ خوف سما گیا تھا کہ بیٹا ہے۔ ماشاء اللہ جوان۔ ایسا نہ ہو میری بات کا بُرا مان کر کہیں کو نکل جائے۔ یا اپنے تئیں ہلاک کرے تو پھر میں کدھر کی ہوئی۔\n\nاس ڈر کے مارے بے چاری کبھی چوں نہیں کرتی تھی اور مبتلا نے اپنے تئیں اس کے نزدیک ایسا ہوا بنا رکھا تھا کہ جب اس کی صورت دیکھتی ہکا بکا ہو کر رہ جاتی۔ پہلے سے بھی مبتلا کی شرارتوں کی باپ سے پردہ داری کی جاتی تھی۔ اب انہیں شرارتوں کی بدکرداریاں ہو گئی تھیں۔ ادھر شرارتوں میں ترقی ہوئی ادھر پردہ داری میں زیادہ اہتمام ہونے لگا۔ مگر باپ نے دھوپ میں داڑھی سفید نہیں کی تھی۔\n\nبڈھا اس کی چال ڈھال سے اس کی گفتگو سے اس کی کن انکھیوں سے تاڑ لیتا تھا۔ مگر بی بی کا مغلوب تھا اور خوب جانتا تھا کہ اس کو بیٹے کے ساتھ بلاکا شغف ہے اور یوں بھی ہر کام میں مساہلت کرنا اس کی ہمیشہ کی عادت تھی اور انہیں وجوہ سے اس نے مبتلا کی اصلاح کی طرف کبھی پوری توجہ نہ کی۔ اب جوان بیٹے کے کیا منہ لگتا۔ ایک کہتا تو دس سنتا آخر اس کے سوائے اور کچھ نہ سوجھ پڑی کہ جس قدر جلد ممکن ہو اس کو پابند کر دیا جائے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/04"} {"title": "فسانہء مبتلا/05", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "چوتھا باب: مبتلا کا بیاہ\n\nیہ تب کی بات ہے کہ مبتلا کو مدرسے میں داخل ہوئے چوتھا برس شروع تھا۔ خوشحال باپ کا بیٹا صورت شکل کا اچھا بلکہ حد سے زیادہ اچھا، پڑھا لکھا کماؤ۔ دس روپے کا مدرسے میں وظیفہ دار اس روداد کے لڑکے کو بیٹیوں کی کیا کمی تھی۔ قاعدے کے مطابق مبتلا کی طرف سے بیٹی والوں کے یہاں ابتداءً رقعہ جانا چاہیے تھا۔\n\nمگر مبتلا کی ظاہری حالات دیکھ کر سن کر لوگ اس قدر ریجے ہوئے تھے کہ کئی جگہ سے بیٹی والوں نے منہ پھوڑ کر رقعہ منگوا بھیجا۔ دستور کی بات ہے کہ خریداروں کی کثرت ہوتی ہے تو بیچنے والوں کے مغز چل جاتے ہیں۔ مبتلا کی ماں بہنوں کا یہ حال تھا کہ کہیں کی بات ان کے خاطر تلے آتی ہی نہ تھی ورنہ کیا مبتلا جیسا اللہ آمین کا بیٹا سترہ اٹھارہ برس کی عمر تک کنوارا بیٹھتا۔\n\nاب تک تو اس کے ایک چھوڑ کبھی کے چار چار بیاہ ہو گئے ہوتے۔ اس گھر کی خوشحالی اتنی ہی تھی کہ قلعے کی تنخواہیں، اسامیاں مکانات کا کرایہ ملا کر کل سو سوا سو روپے کی آمدنی تھی اور اس میں اتنا بڑا کنبہ مگر وہ تو مبتلا کا باپ ایسا منظم اور کفایت شعار آدمی تھا کہ اس نے اپنے سلیقے سے گھر کا بھرم بنا رکھا تھا۔ اس حالات پر جہاں کہیں سے پیام آیا چھوٹتے کے ساتھ ایک دم سے چاندی کا بھی نہیں سونے کے پلنگ کی فرمائش ایسے اصرار کے ساتھ ہوتی تھی گویا کہ نکاح کی شرط اعظم ہے اور پھر معاملے کی بات ہے جیسا لینا ویسا دینا، ہیکڑی تو یہ تھی کہ لیں تو سنہرا پلنگ اور دینے کے نام پٹاری کے خرچ کے لیے آدھی نہیں کیونکہ ہمارے خاندان کا دستور نہیں، مہر شرع محمدی، سو روپے کا چڑھاوا، سو روپے کا جھومر، صورت شکل اپنی اپنی جگہ سبھی تلاش کرتے ہیں اور سمجھنے اور غور کرنے والے کو تو یہ بات ہے کہ باوجود یہ کہ ہر شخص خوبصورتی کا خواہاں ہے مگر بُری بھلی کالی گوری یہاں تک کہ کانٹری، کھدری اللہ کی بندیاں سبھی کھپی چلی جاتی ہیں۔\n\nہم نے تو اتنی عمر ہونے آئی کسی کو صورت کی وجہ سے کنواری بیٹھے نہ دیکھا۔ تاہم چونکہ مبتلا ایک خوبصورت خاندان کا آدمی اور خود بھی بڑا خوبصورت تھا۔ اگر اس کے لیے خوبصورت بی بی تلاش کی جاتی تھی تو کچھ بے جا بات نہ تھی۔ مگر تلاش کرنے کے بھی طریقے ہوتے ہیں کہ عورتیں چوری چھپے حیلے بہانے کسی نہ کسی طرح لڑکی کو یا تو خود کسی وقت دیکھ آتی ہیں یا اپنے دیکھنے کا موقع نہیں بنتا تو کسی کو بھیج کر دکھلوا لیا کرتی ہیں۔\n\nیہاں تو یہ ضد کہ ہم تو اپنی آنکھ سے دیکھ بھال کریں گے اور اپنے ہاتھوں سے لڑکی کے منہ میں مصری کی ڈلی دیں گے۔ کیسی کیسی جگہ سے پیام آئے۔ کہاں کہاں رقعہ گیا مگر کہیں لین دین پر تکرار ہوئی۔ کہیں صورت پسند نہ آئی کہیں دیکھنے بھالنے کی شرط نامنظور ہوئی۔ غرض کوئی بات ٹھہری نہیں پچاسوں پیام مسترد اور بیسویں جگہ سے رقعہ واپس۔ رشتہ ناطے کی بات چیت ہو کر چھٹم چھٹا ہو جاتا یا رقعہ واپس آنا کچھ آسان نہیں ہے۔\n\nبیٹی والے اس میں اپنی ہتک سمجھتے ہیں اور ان کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ایک جگہ کا رقعہ واپس جائے گا تو دوسروں کو خدا جانے کیا کیا خیالات پیدا ہوں گے اکثر ایسے موقعوں پر دلوں میں رنجش آجاتی ہے۔ خیر ایک دو جگہ بہ مجبوری ایسا اتفاق ہو تو مضائقہ نہیں نہ کہ مبتلا کا رقعہ آج بھیجا اور بلا کر دس دن بعد الٹا منگوا لیا جب متواتر واپسی رقعے کی نوبت پہنچی تو سارے شہر میں ایک غل سا پڑ گیا اور جہاں جہاں سے رقعہ واپس منگوایا گیا۔\n\nان کے ساتھ بیٹھے بٹھائے ایک طرح کی عداوت قائم ہوئی۔\n\nیہاں تک نوبت پہنچی کہ جس مشاطہ سے کہتے کانوں پر ہاتھ دھرتی جہاں رقعہ بھیجتے وہ لوگ لانے والے کے اندر آنے تک کے روادار نہ ہوتے۔ پس اس خاندان کے ناز بے جانے مبتلا کو ایسا نکو بنا دیا کہ اب کوئی اس کی بات کی ہامی نہیں بھرتا تھا۔ رقعے کا بے رد و کد واپس آنا تو ممکن نہیں۔ ایک گھر کا تو ہم کو حال معلوم ہے کہ وہاں پہلے مشاطہ کی معرفت زبانی بات چیت ہوئی وہ لوگ ان کے کنبے دار بلکہ کچھ دور کے رشتے دار بھی تھے۔\n\nمہینوں سوال جواب ہوتے رہے۔ اکثر باتیں طے ہو کر بعض کی نسبت کچھ تکرار درپیش تھی کہ یکا یک ان کی طرف سے رقعہ جا موجود ہو، بیٹی والے خوش ہوئے کہ گفت و شنید کے بعد جو رقعہ آیا تو بس اس کے یہی معنی ہیں کہ منظور کر لیا۔ چنانچہ یہی سمجھ کر رقعہ تو رکھ لیا اور جواب میں زبانی اتنا ہی کہلا بھیجا کہ ہم کو بسروچشم منظور ہے۔ خدا انجام اچھا کرے۔\n\nانشاء اللہ دو چار دن میں صلاح کر کے کوئی اچھی سی تاریخ ٹھہرا کر کہلا بھیجیں گے۔ سمدھنیں آکر لڑکی کا منہ میٹھا کر جائیں۔ پھر اللہ خیر کرے۔ جب ان کی مرضی ہو گی بیاہ برات ہو رہے گا۔ ہم تو اس وقت چاہیں تو اس وقت تیار ہیں۔ ہمارے یہاں ذرا دیر نہیں جو عورت یہ پیام لے کر گئی تھی مبتلا والوں نے اسی ہاتھ کہلا بھیجا کہ پہلے ہماری شرطوں کے مطابق تحریری اقرار نامہ بھیج دیں۔\n\nتب تاریخ ٹھہرائی جائے۔ تاریخ کا ٹھہرانا ایسا کیا آسان ہے۔ یہ سن کر سب کو سخت تعجب ہوا اور اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ آخر مبتلا والوں کی طرف سے واپسی رقعے کا تقاضا ہوا۔ دن میں دوبار رقعے کے لیے آدمی جاتا اور ایسی سخت سخت باتیں کہتا کہ گویا رقعہ کیا ہے، مہاجن کا قرضہ ہے۔ خیر ہار کر رقعہ واپس تو کیا مگر اس طرح کہ مارے غصے کے نکال کر موہری پر پھینک دیا کہ کم خواب کی تھیلی جس میں رقعہ دستور کے مطابق لپیٹ کر آیا تھا۔\n\nتمام کیچڑ میں لت پت ہو گئی اور کہا کہ جاؤ اس کو شہد لگا کر چاٹو اور دیکھو خبردار لڑکے کی ماں سے ضرور ضرور کہہ دینا کہ تم نے کنبے داری میں دو مہینے بات لگی رکھ کر آپ ہی رقعہ بھیجا اور پھر آپ ہی اَن ہونی باتوں پر اصرار کر کے واپس منگوایا۔ یہ کچھ بھلمنساہت کی بات نہیں ہے۔ ہم نے مانا کہ ان کا بیٹا ان کے لیے چوہے کو ہلدی کی گرہ اللہ آمین کا ہے۔\n\nمگر دوسروں نے بیٹیاں کوڑے پر پڑی نہیں پائیں ایسی شرطوں سے جو نہ سنیں نہ دیکھیں، ان کو شہر میں تو انشاء اللہ بیٹی ملنے کی نہیں۔ سونے کا پلنگ ان کو مانگتے ہوئے شرم نہیں آتی اس سے پہلے تین بیٹیاں بیاہ چکے ہیں اور ابھی اللہ رکھے آگے دو اور موجود ہیں۔ بیٹیوں کو تو ڈھنگ کے نواری پلنگ بھی نہ جڑے۔ بیٹے میں ایسا کیا سرخاب کا پر لگا ہے کہ بغیر سونے کے پلنگ کے اس کو نیند نہیں آتی۔ سارا شہر تھڑی تھڑی کر رہا ہے۔ خدا نہ کرے جو بھلا مانس اس کو بیٹی دے۔ منہ پر ہاتھ پھیر کر دیکھیں ناک رہی یا کٹ گئی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/05"} {"title": "فسانہء مبتلا/06", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "ہمارے نزدیک دنیا جہان کے نزدیک تو جڑ بنیاد سے کٹ گئی۔ جس گھر سے رقعے کی واپسی کا مذکور ہے اس گھر کی عورتیں ایسی ملنسار تھیں کہ سارے شہر میں ان کا رسوخ چلتا تھا۔ کہیں شادی بیاہ ہو۔ کوئی دوسری تقریب ہو، ان کے یہاں ضرور بلاوا آتا اور یہ بھی اپنے یہاں کی چھوٹی بڑی تقریب میں سبھی کو بلاتے۔ سبھی کو یکساں پوچھتے تھے۔ ان عورتوں نے ضد میں آکر مبتلا کا اچھی طرح خاکہ اڑایا اور سارے شہر میں بھی خوب ڈھنڈورا پیٹا اور رسوا کیا۔\n\nغرض اس گھر کے بگاڑنے رہی سہی اور بھی آس توڑ دی۔ اب شہر میں مبتلا کی نسبت ناتے کا ہونا محال تھا۔ بہت قریب کے رشتہ داروں میں جس قدر بیٹیاں تھیں۔ مبتلا تھے تو بڑے لاڈلے دودھ پی پی کر ان سب کو رضاعی بہنیں بنا چکے تھے۔ مبتلا کے نزدیک و دور کے رشتہ داروں میں وہی مثل تھی۔\n\nازیں سوراندہ وزاں سودر ماندہ۔ اب صرف ایک گھر رہ گیا کہ ہو تو وہیں ہو ورنہ مبتلا ساری عمر کنوارہ پھرے۔\n\nمبتلا کی پھوپھی دلی سے دس بارہ کوس سید نگر میں بیاہی ہوئی تھیں۔ وہ لوگ زمیندار تھے مگر زمینداروں میں سربر آوردہ بڑے بڑے سالم چھ گاؤں کے مالک۔ ان کے بزرگ تو مہمان داری اور مسافر نوازی اور داد و دہش میں دور دور مشہور تھے۔ مگر اب کثرت پٹی داری کے سبب نہ ویسی آمدنی تھی نہ وہ دل، قریب شہر کی وجہ سے رعایا شوخ، حصہ داروں میں طرح طرح کی تکراریں، غرض ہمیشہ ان میں دو چار آدمی مقدموں کی پے روی کے لیے شہر میں موجود رہتے تھے۔\n\nجس طرح دائم المرض اپنی دوا کرتے کرتے حکیم ہو جاتا ہے اسی طرح یہ لوگ مقدمے لڑتے لڑتے ایسے قانون دان ہو گئے تھے کہ بیرسٹروں کو مات کرتے، وکیلوں کی کچھ حقیقت نہ سمجھتے، ڈھونڈ ڈھونڈ کر لڑائیاں مول لیتے اور تلاش کر کے جھگڑے خریدتے، قرب و جوار میں یہ لوگ ایسے لڑاکو اور جھگڑا لو مشہور تھے کہ لوگ ان سے رشتہ ناطے کرتے ڈرتے تھے۔ رقعہ کا پہنچنا تو بہت بڑی بات تھی۔\n\nاگر ان کے یہاں جھوٹوں بھی تذکرہ ہوتا اور چاہتے تو سچوں سر ہو جاتے اور کچھ ایسے قانونی اڑنگے لگاتے کہ کسی کی ایک نہ چلتی مگر مبتلا کو کوئی دوسرا گھر نہ تھا۔\n\nخدا نے ایسا ان کے غرور کو ڈھایا کہ کس کا پلنگ اور کہاں کا دیکھنا بھالنا۔ مبتلا کی ماں گئیں اور منگنی ٹھہرا کر کان دبا کر چپکی چلی آئیں اور اگر ذرا بھی چیں چپڑ کرتیں تو فوجداری کے استغاثوں اور دیوانی نالشوں کے مارے ہوش بگڑے جاتے۔\nاب مبتلا کی منگنی کو منگنی نہ سمجھو بلکہ بیچ ڈالنا یا غلام بنا دینا یا عمر قید۔ سمدھیانے تو برابر ہی کے اچھے ہوتے ہیں۔ خیر اٹھارہ بیس تک کے فرق کا بھی مضائقہ نہیں مگر یہاں تو سید نگر والوں کی اس قدر ہیبت چھا رہی تھی کہ جیسے کسی بڑے جابر کوتوال کی۔ ادھر سے حکم ہوتے تھے، ادھر سے تعمیل۔ اُدھر سے فرمائش ادھر سے بجا آوری۔ ادھر سے ناز ادھر سے نیاز۔\n\nبعد چندی انہوں نے کہلا بھیجا کہ اگلا مہینے کی دسویں کو اس طرح سازو سامان کے ساتھ بارات یہاں پہنچے سو ویسا ہی ہوا۔ بیس ہزار روپیہ کا مہر ماننا ہو گا اور مان لیا ہزار روپیہ جوڑے چڑھاوے کا نقد دینا ہو گا اور دیا۔ پچیس روپے مہینہ پٹاری کا خرچ لکھوانا چاہا اور لکھوا لیا۔ مگر بات یہ ہے کہ سید نگر والوں نے بیٹی کو دیا بھی تو اتنا کہ سونے کا پلنگ تو نہ تھا۔\n\nشاید ان کے ہاں کا دستور نہ ہو گا۔ مگر گلے اور کانوں او رسر کا سارے کا سارا زیور دوہرا ملا جڑاؤ الگ، شادی بیاہ اپنے نام کے مطابق کیا۔ دلّی میں اتنا جہیز ملنا مشکل تھا لوگ باہر کی سوبھا اور مال و اسباب کی فہرست دیکھ کر پانچ ساڑھے پانچ ہزار کا جہیز آنکتے تھے، اوپر کا خرچ الگ۔ سو گھر کا دھڑیوں گھی اور منوں غلہ زمینداروں کے یہاں اس کا حساب کیا۔\n\nانیسویں برس مبتلا کا بیاہ ہوا جہیز کے اعتبار سے تو دلہن بہت اچھی پائی۔ ذات جماعت کچھ پوچھنی نہ تھی سگی پھوپھی کی بیٹی۔ رہی صورت کوئی خاص چیز تو چنداں بری نہ تھی بلکہ الگ الگ دیکھو تو رنگ بھی گوارا نہیں تو کھلتا ہوا۔ آنکھ، ناک، دہانہ، ماتھا، مانگ کسی میں کوئی خاص عیب نہ تھا۔ ہاں چہرے کی مجموعی بناوٹ میں خدا جانے کیا بات تھی۔ نزاکت اور جسم میں جامہ زیبی نہ تھی۔\n\nہزار بیبیوں میں بیٹھی ہو تو صاف پہچان پڑتی کہ باہر کی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ مبتلا کے پہلو میں رہی سہی اور بھی بے رونق معلوم ہوتی تھی جن دنوں مبتلا کا بیاہ ہوا وہ اپنے آپے نہ تھا۔ نشہ شباب میں سرشار اور بدمست سیر تماشوں میں منہمک۔\n\nوہ اپنے بیاہ برات کی خبر سن کر خوش ہوتا تھا۔ مگر صرف اس لیے کہ ناچ دیکھنے میں آئیں گے۔ شادی کی تیاری دیکھ کر مسرت ظاہر کرتا تھا۔\n\nمگر اس غرض سے کہ گانا سنیں گے، وہ اگر سمجھ کو کام میں لاتا تو اس کی سمجھ زیبا تھی اور جان سکتا تھا کہ بیاہ کیا چیز ہے اور بیاہ سے کس طرح کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں مگر وہ دنیا کے کام میں مطلق غور کرتا ہی نہ تھا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی بیاہ کے انجام کو نہ سوچا۔ اس نے نکاح کے وقت ”قبول“ کچھ ایسے کہا گویا کہ کھیل ہے۔ اقرار نامہ پر دستخط کیے کہ جیسے یہ ہنسی ہے۔\n\nاس کو بی بی کی طرف ملتفت ہونا چاہیے تھا اور ملتفت ہونے کی اس کی عمر بھی تھی مگر اس کی آنکھیں ڈھونڈتی تھیں نازو کرشمہ غمزہ و ادا مٹک چٹک وہ شریف زادیوں میں کہاں اور خصوصاً دیہات کی شریف زادیوں میں۔ پس اس نے بی بی کو دیکھا، ناپسندیدگی سے استکراہ سے اور ناخوشی سے اور بی بی کے ساتھ اس کی لشٹم پشٹم گزرتی گئی اور آپس میں ویسی محبت و موانست پیدا نہ ہوئی جیسے نئے بیاہے ہوئے دولہا دلہن میں ہونی چاہیے اور عموماً نہیں تو اکثر ہوا بھی کرتی ہے۔\n\nعلاوہ اس کے مبتلا کو ابھی اپنی ہی پرداخت سے فرصت نہ تھی۔ سو دلہنوں کی ایک دلہن تو وہ آپ بنا تھا۔ بناؤ سنگھار میں ہر دم مصروف، زیب و زینت میں ہر لمحہ مشغول وہ خود اپنی حسین صورت پر اس قدر فریفتہ تھا کہ آئینہ دیکھنے سے کبھی اس کو سیری ہی نہیں ہوتی تھی۔ اس کو یہاں تک خبط نے گھیر رکھا تھا کہ راستہ چلتا تو مڑ مڑ کر اپنے سائے کو دیکھتا جاتا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/06"} {"title": "فسانہء مبتلا/07", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "پانچواں باب :مبتلا کی بدکرداریاں اور مصیبتوں کا آغاز\n\nبیاہ تک مبتلا کی زندگی نہایت ہی بے فکری سے گزاری۔ اس نے چودہ برس کی عمر تک گھر میں ایسے عیش و آرام کے ساتھ پرورش پائی کہ کم تر کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ مدرسے میں اس کے یار دوستوں نے ماں باپ سے بڑھ کر اس کی ناز برادریاں کیں۔ مگر اب اس کے عیش کی مدت، آرام کی مہلت پوری ہو چکی تھی اور یہی حال ہے دنیا کی تمام حالتوں کا کہ راحت ہے تو ایک وقت خاص تک اور مصیبت ہے تو وہ بھی ایک میعادِ مقررہ تک، نہ اس کو ثبات اور نہ اس کو قیام، وہ عارضی اور یہ چند روزہ جن کو خدا نے عقلِ سلیم دی ہے وہ ہر حالت کو اسی طور پر انگیز کرتے ہیں کہ اس کے زائل ہونے پر ان کو ملال نہ ہو، تاسف نہ کرنا پڑے، اتنا نہیں کھاتے کہ نخمہ ہو۔\n\nایسے دوڑ کر نہیں چلتے کہ ٹھوکر لگے، عادتوں کو طبیعت نہیں ہونے دیتے اور امور اتفاقی کو ضروری نہیں سمجھ لیتے۔ لیاقت یا ہنر یا صفت یا جوہر یا خوبی یا مابہ الامتیاز یا سرمایہ فخر و ناز یا ذریعہ تعریف یا وسیلہ تقریب جو کچھ سمجھو۔ مبتلا کے پاس ایک حسن صورت تھا اور پس یہی ایک چیز تھی جس کی وجہ سے وہ ہر دلعزیز تھا۔ یہی عمل تھا، یہی تسخیر تھی، یہی کیمیا اور یہی اکسیر تھی۔\n\nمسیں تو اس کی سترہویں برس بھیگنے لگیں تھیں۔ اٹھارہویں میں تو اس کی اچھی خاصی داڑھی نکل آئی۔\n\nگیا حسن خوبانِ دل خواہ کا\n\nہمیشہ رہے نام اللہ کا\n\nاور داڑھی بھی نکلی تو اس کثرت سے کہ ماتھا اور ناک اور آنکھوں کی جگہ چھوڑ کر کہیں تل دھرنے کو جگہ باقی نہ رہی۔ جب داڑھی نکلنے کو ہوئی اگر مبتلا اس کو اس کے طور پر نکلنے دیتا تو برس سوا برس وہ اور بھی حسینوں کے زمرے میں گنا جاتا اور سبزئہ خط اس کی گوری رنگت پر خوب کھلتا مگر اس نے غلطی یہ کی کہ روئیں نمودار ہوتے ہی استرا پھروا دیا۔\n\nاسترے کا پھروانا تھا کہ پھدپھدا کر ایک کی جگہ دس روئیں اور روؤں کی جگہ کالے کرخت بال بھی پڑے اور چہرے کی جلد پر جو جوانی کی چمک یا شباب کا ایک قدرتی روغن تھا وہ بھی گیا گزرا ہوا، اب روکھی کھال رہ گئی اور اس پر ہزار ہا بال۔ یہ پہلی مصیبت تھی جو مبتلا پر نازل ہوئی اور اس نے اس پہلی کیفیت کے اس قدر جلد زائل ہو جانے کا سخت رنج کیا اور جب اس کے ان دنوں کے خیالات پر نظر کی جاتی ہے تو اس کا رنج حق بجانب بھی تھا۔\n\nرفتہ رفتہ زوال حسن کا اثر اس کی حالت پر مترتب ہونے لگا جو لوگ اس کی ملاقات کے مشتاق رہتے تھے، نفرت اور جو درپے تھے گریز کرنے لگے۔\n\nیار اغیار ہو گئے اللہ\n\nکیا زمانے کا انقلاب\n\nگرم صحبتوں کی جگہ صاحب سلامت رہ گئی وہ بھی دور کی۔ اختلاط کے عوض راہ گزر کی مڈ بھیڑ وہ بھی اتفاقی۔ اس کی طرز زیست نے ادعائی ضرورتوں کو اور ادعائی ضرورتوں نے خرچ کو اتنا بڑھا دیا تھا کہ مدرسے کا وظیفہ اور اس کا چہار چند بمشکل وفا کرتا۔\n\nاب ادھر تو اس کے اعوان و انصار دست کش ہوئے ادھر جو گھر سے مدد ملتی تھی۔ اس میں بی بی نے حصہ بٹوانا شروع کیا۔ ضرورتیں اگر جائز اور واجبی ہوتیں گھر سے مدد ملتی۔ مگر حاجتیں ناجائز اغراض بے ہودہ، گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل جی للچاتا اور ناچار ضبط کرتا، طبیعت بھربھراتی مجبوری پتے کو مارتا۔ انگریزی کی کہاوت ہے کہ مصیبتیں ایک ایک ایک کرکے نہیں آتیں یعنی جب آنے کو ہوتی ہیں تو بس ایک تار بندھ جاتا ہے۔\n\nمبتلا کے بیاہ کے بعد سے تو گویا اس کہاوت کے سچے کرنے کو موتیں کچھ ایسی تابڑ توڑ ہوئیں کہ پانچ برس کے اندر ہی اندر جتنے بزرگ تھے۔ مرد کیا عورت ایک کے بعد ایک سبھی رخصت ہوئے۔ بہنیں بیاہی جا کر اپنے اپنے گھروں میں آباد تھیں۔ بس اب تنہا مبتلا رہ گیا اور ایک بی بی۔ وہ بھی اس کی بے التفاتی کی وجہ سے پہلے تو اکثر میکے میں رہتی تھی۔ چوتھے پانچویں مہینے سسرال آگئی تو آگئی۔\n\nاب کوئی برس دن ہوا تھا کہ ماں اور باپ دونوں کے مر جانے سے بھائیوں نے ترکے سے محروم کرنے کے لیے بلانا چاہا۔ مبتلا پر مصیبتوں کا ایسا پہاڑ ٹوٹا تھا کہ اگر وہ بھی ذرا عقل سلیم رکھتا ہوتا تو ساری عمر اس تازیانے کو نہ بھولتا، مگر اس کے دل پر تو مہر لگی ہوئی تھی اور آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ کیسی عبرت اور کس کا ڈرنا مطلق العنان ہوتے ہی لگا دلکی دوڑنے پویہ بھاگنے۔\n\nیہاں تک کہ جن حرکتوں کو پہلے چراتا چھپاتا۔ اب کھلے خزانے ان کے کرنے میں ذرا بھی نہ شرماتا۔باپ کے مرتے ہی میدان خالی پا کر تعزیت کے حیلے اور غم گساری کے بہانے سے دوست آشناؤں نے پھر اس کو آگھیرا۔ اور پھر وہی اپنی قدیم پٹی اس کو پڑھا چلے، چہلم بھی نہیں ہونے پایا تھا کہ جلسے شروع ہو گئے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/07"} {"title": "فسانہء مبتلا/08", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "چھٹا باب: مبتلا کے چچا کی حج سے واپسی\n\nمبتلا کے حقیقی چچا میر متقی ایک مدت سے نواب رام پور کی سرکار میں نوکر تھے اور وہیں ایک شریف خاندان میں انہوں نے اپنا نکاح بھی کر لیا تھا۔ مبتلا ان دنوں مکتب میں پڑھتا تھا کہ میرمتقی دلی ہو کر بھائی سے ملتے ہوئے حج کو گئے۔ ارادہ تو صرف حرمین شریفین کی زیارت کا کر گئے تھے مگر وہاں پہنچ کر یہ خیال ہوا کہ سالہاسال کے ارادے میں تو اب بمشکل گھر سے نکلنا ہوا کیا معلوم اب زندگی میں پھر یہاں آنا نصیب ہو یا نہ ہو۔\n\nلگتے ہاتھوں جہاں تک ہو سکے زیارتیں تو کر لو۔ پورے تین برس تو زیارتوں میں لگے۔ پھر تین برس تک متواتر ایسا اتفاق پیش آگیا کہ جب واپسی کا ارادہ کرتے تھے۔ بیمار ہو جاتے تھے۔\n\nغرض ساتویں برس لوٹے تو بمبئی میں پہنچ کر انہوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ بھوپال میں استاد سے احمد آباد میں پیر سے اور دہلی میں بھائی سے ملتا ہوا رام پور جاؤں گا۔ دہلی میں داخل ہوئے تو تھوڑی رات ہوگئی تھی سیدھے بھائی کے دروازے پر آکھڑے ہوئے۔\n\nکیا دیکھتے ہیں کہ پھاٹک بند اور طبلے کی تھاپ کی آواز چلی آرہی ہے۔ سمجھے کہ ناچ ہو رہا ہے۔ تھوڑی دیر میں بڑے زور کے قہقہے سنائی دیئے معلوم ہوا کہ بھانڈ نقلیں کر رہے ہیں۔ میرمتقی کو پہلے ذرا سا دھوکا ہوا کہ میں نے گھر کی شناخت میں تو غلطی نہیں کی، گلی کے نکڑ تک لوٹ کر گئے۔ ادھر دیکھا ادھر نگاہ کی۔\n\nبے شک سات برس کے عرصے میں تھوڑے بہت تغیرات بھی ہوئے مگر نہ اس قدر کہ جہاں آدمی پیدا ہوا، پرورش پائی بڑا ہوا رہا سہا اس گھر کو نہ پہچانے۔\n\nپھر خیال ہوا کہ شاید بھائی نے اس گھر کو چھوڑ دیا ہو۔ اسی سوچ میں کھڑے تھے کہ ایک شخص گلی کی طرف لپکا ہوا چلا آرہا تھا۔ جب ان کے برابر آیا انہوں نے اس سے پوچھا کیوں صاحب یہ کونسی گلی ہے۔ وہ یہ کہتا ہوا اپنی دھن میں چلا گیا کہ اس کو سادات کا کوچہ کہتے ہیں۔ اب ان کو اس کا تو یقین کامل ہو گیا کہ گھر کے پہچاننے میں مجھ سے غلطی نہیں ہوئی۔ اب اتنی بات اور رہ گئی کہ بھائی اس گھر میں ہیں یا نہیں۔\n\nاس شخص کی جلدی نے ان کو اس کے پوچھنے کی مہلت نہ دی، اتنے میں دیکھا کہ ایک بوڑھے سے آدمی بغل میں بچھونا دبائے لکڑی ٹیکتے ہوئے اندر گلی سے آہستہ آہستہ چلے آرہے ہیں۔ ان سے تھوڑی دور پیچھے ایک جوان سا آدمی ہے اور وہ ذرا تیز چل رہا ہے۔ یہاں تک کہ جب بڑے میاں کے برابر آیا تو کہنے لگا کہ اے حضرت خیر ہے۔ یہ اس وقت آپ بچھونا لئے ہوئے کہاں جا رہے ہو۔\n\nلائیو بچھونا مجھ کو دیجیے میں پہنچا دوں۔ بڑے میاں نے کہا۔ نہیں بھائی تم کیوں تکلیف اٹھاؤ بچھونے میں ایسا کیا بوجھ ہے۔ کیا کریں جب سے بے چارے میر مہذب مرے ان کا لڑکا خدا اس کو نیک ہدایت دے۔ بُری صحبت میں پڑ کر ایسا آوارہ ہو رہا ہے کہ سارے سارے دن اور ساری ساری رات گھر میں دھما چوکڑی مچی رہتی ہے۔ ہم ٹھہرے دیوار بیچ ان کے پڑوسی اتنا نہیں بن پڑتا کہ گھر میں دورکعت نماز اطمینان سے پڑھی جائے۔\n\nناچار میں تو اس مسجد میں چلا جاتا ہوں۔\n\nمتقی بھائی کے مرنے کی خبر سن کر قریب تھا کہ چکر کھا کر وہیں زمین پر گر پڑے مگر آدمی تھا دین دار، اس نے ضبط کیا اور اپنے تئیں سنبھالا اور سوچا کہ اگر گھر چل کر دستک دوں پکاروں تو نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے گا اور فرض کیا چیخنے چلانے سے دروازہ کھلا بھی تو رات گئی ہے زیادہ سب کو تکلیف ہو گی۔\n\nرونا پیٹنا مچے گا۔ ماتم برپا ہو گا۔ بہتر ہے کہ رات کو کہیں پڑا رہوں۔ پھر خیال کیا کہ پاس کے پاس اسی مسجد میں ٹھہر جانا مناسب ہے کہ بڑے میاں سے اور حالات بھی دریافت ہوں گے۔ مسجد میں گیا اور وضو کر کے نماز پڑھی، دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ بھائی سے اس کو محبت تھی بہت، یوں بھی ہمیشہ غائبانہ اس کے حق میں دعائے خیر کیا کرتا تھا۔ اب جی بھر آیا اور بے اختیار اتنا رویا کہ ہچکی بندھ گئی۔\n\nجس کے دل کو یکایک اتنا بڑا صدمہ پہنچا ہو اس کو بھوک کیا لگے اور نیند کیونکر آئے۔ ساری رات گزر گئی کہ صحن مسجد میں ننگے سر بیٹھا ہوا۔ کبھی کچھ پڑھ کر بھائی کے روح کو بخشتا ہے اور کبھی اس کی مغفرت کے لیے خدا کی درگاہ میں زار نالی کرتا تھا۔ سفیدئہ صبح نمودار ہوتے ہی اول وقت فجر کی نماز پڑھی اور پھر اشراق تک معمولی اوراد میں مشغول رہا۔\n\nجب نمازِ اشراق سے فارغ ہوا تو دیکھا کہ بڑے میاں بھی اپنا بچھونا لپیٹ لپاٹ کر گھر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کو ضعیفی کے سبب ذرا دھندلا بھی نظر آتا تھا۔ متقی نے ان کو پہچان کر السلام علیک اور قریب جا کر اپنے تئیں پہچانوایا اور رات کا ماجرا کہہ سنایا۔ ملے تو میر مہذب کی صحبتوں کو یاد کر کے بڑے میاں بھی آب دیدہ ہوئے اور متقی تورات سے رو رہا تھا۔\n\nسفر کی تکان، ساری رات کا فاقہ، جاگنا اور رونا آنکھیں سوج گئی تھیں، منہ سے آواز نہیں نکلتی تھی۔ بارے بڑے میاں نے بہت کچھ سمجھایا دنیا کے دستور کے مطابق صبر کی تعلیم کی اور کہا کہ میاں مرحوم تو اللہ کے نیک بندے تھے۔ یہاں بھی اپنی اچھی گزار گئے اور انشاء اللہ وہاں بھی ان کے لیے اچھا ہی اچھا ہے۔\n\nوہ اگر مرے تو اپنی عمر سے مرے اور ایک نہ ایک دن سبھی کو مرنا ہے۔\n\nبڑا رونا ان کے فرزند ناخلف کا ہے کہ اپنے کردار ناسز اسے مرحوم کی روح کو ایذا دے رہا ہے۔ اب تم باپ کی جگہ ہو۔ اس کو سنبھالو اگر ہو سکے، اس کو روکو اگر بن پڑے۔ گھر کے نصیب اچھے ہیں کہ تم آپہنچے۔ خدا کو کچھ بھلا کرنا منظور ہے کہ تم کو بھیجا۔ ابھی وقت ہے۔ اگرچہ تنگ ہے۔ موقع ہے گو اخیر ہے اور تم یہاں مسجد میں اکیلے بیٹھ کر کیا کرو گے۔ میرے ساتھ چلو تمہارے بھتیجے صاحب تو کہیں دوپہر تک اُٹھیں گے وہ بھی اٹھائے سے تب تک میرے گھر کچھ ناشتہ کرو ہم بھی کچھ غیر نہیں ہیں۔\n\nتمہارے بھائی صاحب خدا ان کو جنت نصیب کرے ہم کو عزیزوں سے بڑھ کر سمجھتے تھے، کیا تم کو یاد نہ ہو گا۔ غرض میر متقی بڑے میاں کے ساتھ ساتھ چلے تو سارے رستے بھائی کا تصور پیش نظر تھا اور قدم قدم پر ایسا خیال ہوتا کہ بھائی سامنے سے چلے آرہے ہیں پیچھے سے پکار رہے ہیں۔ اس دروازے پر کھڑے باتیں کر رہے ہیں اس دوکان والے سے کچھ کہہ رہے ہیں۔ کیونکہ یہ اتفاقات متقی کو بھائی کی زندگی میں صد ہا بار پیش آچکے تھے ان ہی باتوں کی یادداشت اب تازہ ہو گئی متقی رات سے بہتیرا رو بھی چکا تھا اور اس نے ارادہ کر لیا تھا کہ اب رونا آئے گا بھی تو روکوں گا۔\n\nضبط کروں گا مگر جوں جوں گھر کی طرف پاؤں اٹھتا تھا۔ دل کی کیفیت متغیر ہوتی چلی جاتی تھی۔\n\nیہاں تک دروازے پر پہنچ کر تو نہ تھم سکا اور بے اختیار پکار کر رویا۔ رونے کی آواز سن کر پاس پڑوس کے لوگ جمع ہو گئے۔ پھاٹک تو باہر کی طرف سے نہ کھلوا سکے، اندر ہی اندر کھڑکی کی راہ پہلے زنان خانے میں اور پھر مردانے میں خبر پہنچی۔ مبتلا اور اس کے جلسے کے شرکاء ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ کہاروں کی طرح ناچ جو کہروا کہلاتا ہے، دیکھ کر اور صبح کا راگ بھیرویں سن کر سوئے تھے۔\n\nمیرمتقی کا آنا سن کر سب کی نیندیں اچاٹ ہو گئیں اور سب کے ہوش اڑ گئے۔ جو لوگ اب سے ڈیڑھ دو گھنٹے پہلے بھانڈوں اور رنڈیوں کو نچوا رہے تھے۔ اب لگے آپ، ناچے ناچے پڑے پھرنے چاہتے تھے کہ نکل بھاگیں مگر راستہ کہاں تھا۔ پھاٹک پر تو خود میرمتقی صاحب اور ان کے ساتھ محلے کے چالیس پچاس آدمی کھڑے ہوئے تھے۔ زنان خانے میں ہو کر جانا چاہتے تھے تو پہلے مہرے پر گھر والی تھی کہ وہ میاں کے سامنے تو لومڑی یا بھیگی بلی جو کچھ تھی سو تھی مگر ان بدذاتوں کے حق میں خاص کر اس وقت شیرنی سے کم نہ تھی۔ اس کے علاوہ زنان خانے سے اگر باہر جانے کا راستہ تھا تو دوسرے لوگوں کے گھروں میں سے ہو کر تھا۔ وہ بھلے مانس ان بلاؤں کا اپنے یہاں سے ہو کر گزرنا کیوں جائز رکھتے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/08"} {"title": "فسانہء مبتلا/09", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "غرض وہ سب کاسٹ پٹانا اور ایک کا ایک سے پوچھنا اور ایک ایک سامنے ہاتھ جوڑنا۔ ایک ایک کے پاؤں پڑنا ایک تماشا تھا۔ قابل سیر، ایک کیفیت تھی لائق دید کہ رنڈیاں جو اپنے حسن کے غرور میں کسی کے ساتھ سیدھی بات نہ کرتی تھیں۔ اب ایک ایک کے آگے بچھی جاتی تھیں کہ خدا کے لیے کہیں ہم کو پناہ دو۔ ایک ایک کے پیچھے لپٹی تھیں کہ اللہ ہمیں نکال کر کہیں لے چلو ایک پکارتی تھی میں انعام اکرام سے باز آئی مجھے راستہ بتاؤ۔\n\nدوسری چلاتی تھی۔ مجھے مجرے کی کوڑی مت دو مگر کسی ڈھب سے گھر پہنچاؤ۔ رات کے جلسے میں ایک طائفہ چلبلا بھانڈ کا بھی تھا۔ ان کم بختوں کو فی الوقت خوب سوجھتی ہے۔ ادھر تو یہ تمام ہل چل مچی ہوئی تھی اور ادھر چلبلا بے طلب بے فرمائش تیار ہو،اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے لگا نقل کرنے۔\n\nادھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر دوڑا دوڑا، لوگوں کو ہٹاتا ہوا دباتا ہوا پھرنے لگا کہ کیا ہے ابے کیا ہے۔\n\nکاہے کا غُل ہے، کیوں شور مچا رکھا ہے۔ دوسرا بولا،بے احمق تو نے نہیں سنا کہ حضرت کے چچا مکہ معظمہ سے تشریف لائے ہیں۔ پہلا کہنے لگا: کون چچا، ابوجہل یا ابولہب دوسرا پہلے کے منہ پر زور سے ایک طمانچہ مار کر کہتا ہے: چپ مردود کیا کفر بکتا ہے۔\n\nابے حضرت پیغمبر صاحب کے چچا نہیں۔ ہمارے (مبتلا کی طرف اشارہ کر کے) حضرت پیرومرشد کے چچا۔\n\nپہلا: ہاں الحمدللہ پھر ڈرنا کیا ہے۔ آؤ ہم سب مل کر بھی ان کو چچا بنائیں۔ حج نصیب ہونے اور سلامتی سے واپس آنے کی مبارکباد دیں۔ ناچ دکھائیں گانا سنائیں۔ دوسرا: (پہلے کے منہ پر طمانچہ مار کر) ابے توبہ کر توبہ کہیں اوپر سے چھت نہ گر پڑے، سید آلِ رسول مولوی حاجی جو ابھی خدا کے گھر سے پھرے ہوئے چلے آرہے ہیں۔ کہیں ناچ دیکھتے ہیں اور بھانڈ دوزخ کے کنڈے۔\n\nپہلا ہائے میرے اللہ رنڈیوں نے وہاں بھی بھانڈوں کو نہ چھوڑا۔ نرے کنڈے ہوتے تو ذرا دیر میں تو جلتے اور کیوں صاحب یہ سب لوگ (مبتلا اور اس کے ساتھیوں کی طرف اشارہ کر کے) کیا ہوں گے؟ دوسرا: ان کو کہتے ہیں کہ بھاڑ میں بھونے اور کڑھائی میں تلے اور بھٹی میں جلائے جائیں گے۔ پہلا: دونوں ہاتھوں کو گالوں پر ہولے ہولے تھپڑ مار کر اور خوف زدہ آنکھیں بنا کر، الٰہی توبہ الٰہی توبہ۔\n\nدوزخ کی آنچ سے بچائے اور بھانڈؤں کو بھوت بنائے آسیب بنائے جو چاہے۔ سو کرے؟ مگر دوزخ کے کنڈے نہ بنائے۔\n\nپہلا: پھر یہ حاجی صاحب چاہتے کیا ہیں؟ دوسرا: ”چاہتے یہ ہیں کہ نمازیں پڑھو، روزے رکھو، خدا کی بندگی کرو، روپیہ رنڈیوں کو دینا تو محض فضول ہے۔ رہے بھانڈ، ان سے بڑھ کر غریب محتاج اور کون ہو گا۔“ یہ کہہ عمامہ باندھ، پائنچے ٹخنوں سے اونچے کر جہاں کھڑا تھا اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑانے لگا۔\n\nگویا امام بنا اور نماز شروع ہوئی۔ مسخرہ پن تو یہ تھا کہ نیت باندھ چکا ہے اور پھر ایک طرف یہ کہہ رہا ہے کہ بس بے تامل پھاٹک کھول دو اور مولوی یا حافظ یا حاجی یا وعظ جو ہوں ان کو آنے دو، دوسری طرف سب کو اشارہ کر رہا ہے کہ میرے پیچھے مقتدی بن کر کھڑے ہو جاؤ اور بڑبڑانے لگا۔ طائفے کے جتنے بھانڈ تھے سب صف بستہ ہو کر مقتدی بنے اور اس کے پیچھے کھڑے ہوئے۔\n\nذرا دیر گزری تھی کہ ایک نے صف میں سے نکل کر امام کے پیٹھ پر ایک دو ہتڑ مارا ایسے زور سے کہ تھوڑی دور آگے جا کر اوندھے منہ گر پڑا اور کہا: ”ابے بدعتی یہ کیسی بے وقت اور بے زخمی جماعت کی نماز پڑھ رہا ہے۔ اگر مولوی اسمعیل کے مقلدسن پائیں تو مارے کفر کے فتووں کے اُتو کر دیں۔“ امام: ابے تو کیا جانے یہ صلوٰة الخوف ہے، جیسی کہ لڑائی کے میدان میں ادا کی جاتی ہے اور پھر اسی طرح اپنی جگہ جا کھڑا ہوا۔\n\nگویا اتنی حرکت پر بھی نماز باطل نہیں ہوئی تھوڑی سی دیر کے بعد پیچھے کی صف سے پھر ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے امام کا عمامہ اتار تڑاتڑ آٹھ دس بیس لتیڑے رسید کیے۔ امام سہلاتا ہوا یہ کہتا ہوا بھاگا کہ کفر کا فتویٰ آیا، تو یہ لتیڑے مارنے والا کیا کہتا ہے: ابے ڈرو مت فتویٰ نہیں تیری عبادت کا صلہ ہے۔\n\nامام بولا عبادت کا صلہ ہے تو اس میں مقتدیوں کا بھی حق ہے۔\n\nپھر تو اس سرے سے اس سرے تک بلاامتیاز جوتی کاری ہونے لگی اور رنڈیوں اور بھڑوے اور میر محفل اور تماشائی سبھی پر آفت آئی۔ کہتے ہیں کہ چلبلا بھانڈ کے طائفے کا بیس روپے روز معمول تھا اور مبتلا اس طائفے کا ایسا گرویدہ تھا کہ اگر خرچ مساعدت کرتا تو ہر رات ان کا ناچ دیکھتا مگر اس پر بھی کئی سو روپے ان لوگوں کے چڑھ گئے تھے۔ اب مبتلا کے چچا کا آنا سن کر بھانڈوں کو بالکل ناامیدی ہو گئی اور ایسی نقل تو نہایت برجستہ تھی، مگر طبیعت کس کی حاضر تھی۔\n\nاور دل کس کا ٹھکانے تھا کہ مزہ لیتا اور داد دیتا۔ مبتلا کی تو ایسی سٹی بھولی کہ ننگے پاؤں کبھی اندر جاتا اور کبھی باہر آتا۔ مگر کوئی تدبیر بن نہ پڑتی تھی۔ آخر اس نے اپنے باپ کے پرانے نوکر وفادار کو آواز دی۔ یہ بوڑھا آدمی اسم بامسمی مبتلا کو بہت سمجھاتا رہتا تھا مگر نوکر کی بساط کیا۔ جب وفادار نے بار بار کہنا شروع کیا مبتلا نے اس کو جھڑک دیا۔\n\nوفادار نے دل شکستہ ہو کر مبتلا سے کنارہ کشی اختیار کی۔ مردانے میں اس کے رہنے کی ایک کوٹھڑی تھی۔ رات دن اسی کوٹھڑی میں پڑا رہتا۔ اندر سے کچھ فرمائش آئی تو اس کی تعمیل کر دیتا۔ مبتلا کے کسی کام کاج کو ہرگز ہاتھ نہ لگاتا۔ آدمی تھا زمانہ دید سمجھ چکا تھا کہ یہ لیل و نہار اس طرح پر تو سدا چلنے والا نہیں یا تو یہ رسم و راہ نہیں اور رسم و راہ یہ ہے تو بندئہ درگاہ نہیں۔\n\nوفادار اکیلا کوٹھڑی میں بیٹھا ہوا دیکھتا نہیں تھا تو سنتا سب کی تھا۔\n\nاس کو میرمتقی کا آنا اور ارباب جلسہ کا گھبرانا معلوم ہو چکا تھا، خلاف عادت مبتلا کے بلانے کی آواز سن کر مطلب تو سمجھا مگر جان بوجھ کر چادر تان کر لیٹ گیا۔ مبتلا نے ایک بار پکارا دو بار پکارا تین بار پکارا۔ جواب ندارد۔ اگر کبھی پہلے ایسا اتفاق ہوا ہوتا تو وفادار کی مجال تھی کہ مبتلا پکارے اور پہلی آواز پر جواب نہ دے مگر میرمتقی کا آنا تھا کہ باہر سے اندر تک سب کا رنگ بدل گیا، جو ناچیز تھے وہ اب عزیز تھے جو بااقتدار تھے، وہ اب ذلیل و خوار تھے۔\n\nیہاں تک کہ مبتلا نے خود کوٹھڑی کے دروازے پر آکر پکارا۔ میاں وفادار، میاں وفادار جلدی اٹھو چچا آئے۔ وفادار نے گھبرا کر پوچھا کیا چھوٹے میاں حج سے تشریف لائے۔ مبتلا ”ہاں“ وفادار نے میر صاحب مرحوم کو یاد کر کے ایک آہ کی اور آنکھوں میں آنسو بھر لایا اور میرمتقی کے صحیح و سلامت واپس آنے پر خدا کا شکر کیا اور دروازے کھولنے کے ارادے سے دوڑا۔\n\nمبتلا نے لپک کر روکا کہ ذرا ٹھہرو۔ ذرا ٹھہرو۔ مبتلا نے چچا کو دیکھا تو تھا مگر سات برس میں صورت بھول گیا تھا۔ وفادار سے کہا کہ ذرا کواڑوں کی دوڑ میں جھانک کر تو دیکھو وہی ہیں۔ وفادار نے پہلی ہی نظر میں پہچان لیا اور کہا کہ بے شک وہی ہیں اور اب تو عین بین سرکار معلوم ہوتے ہیں۔ مگر داڑھی میں تو ویسی سفیدی نہیں۔ مبتلا یہ سن کر وفادار کے گلے سے لپٹ گیا اور کہا کہ خدا کے لیے کسی طرح مجھ کو اس فضیحت سے بچاؤ۔\n\nمیں ان کم بختوں کو کہاں لے جاؤں اور کس طرح چھپاؤں۔\n\nوفادار کو مبتلا کا اضطرار دیکھ کر بہت ترس آیا اور اس نے کہا تھوڑی دیر کے لیے ان لوگوں کو پاخانے کھڑا کر دیجئے۔ چھوٹے میاں آخر اندر جائیں گے۔ اس وقت ان کو نکال باہر کرنا۔ واقع میں اس کے سوا کوئی تدبیر ہی نہ تھی۔ آخر یہی کیا کہ جھپا جھپ ان سب کو پاخانے میں اوپر تلے ٹھونس آگے پیچھے دھکیل کنڈی لگا باہر کا پھاٹک کھول دیا۔\n\nمیرمتقی نے دوڑ کر بھتیجے کو چھاتی سے لگایا، اس وقت کی کیفیت بھی جس جس نے دیکھی ساری عمر اس کو نہیں بھول سکتا، بوڑھا پھونس نہیں مگر ادھیڑا اور جوان فرشتہ اور شیطان، یارحمت اور قہر یا نیکی اور بدی یا ثقہ اور رند یا حاجی اور پاجی یا چچا اور بھتیجا دونوں ایک دوسرے کے گلے لگے ہوئے کھڑے رو رہے تھے۔ مبتلا تو دھاڑیں مار رہا تھا اور میرمتقی کی آنکھوں سے برابر آنسو جاری تھے اور چونکہ رنج کو بہ تکلیف ضبط کرتے تھے، بوٹی بوٹی کانپ رہی تھی۔\n\nپچاس ساٹھ آدمی حلقہ باندھے ہوئے گردوپیش تھے اور سب پر رقت طاری تھی۔ کامل پاؤ گھنٹے کے بعد متقی نے مبتلا کو سینے سے جدا کیا۔ سب کے ساتھ اس کو لے جا کر دالان میں بیٹھے۔ تھوڑی دیر سبھی سکوت میں تھے۔ آخر کسی نے میر صاحب مرحوم کا ذکر خیر نکالا۔ پہلے ان کی بھلی عادتوں کا مذکور رہا پھر علالت اور وفات کا آخر فاتحہ پڑھ کر لوگ رخصت ہوئے اور میرمتقی زنان خانے میں گئے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/09"} {"title": "فسانہء مبتلا/10", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "ساتواں باب: میر متقی کی مبتلا کی بیوی سے ملاقات\nماموں کا آنا سن کر بھانجی کو ماں باپ اور ساس سسر کا مرنا۔ بھائیوں کا ظلم اور سب سے بڑھ کر مبتلا کا اس سے بے تعلق رہنا۔ اپنی بے کسی گھر کی تباہی آئندہ کی ناامیدی غرض ساری داستان مصیبت اول سے آخر تک یاد آگئی۔ وہ دل ہی دل میں رونے کی تیاریاں کر چکی تھی۔\n\nجوں ماموں نے اندر قدم رکھا اور بھانجی کے ساتھ نظر دوچار ہوئی۔ اس نے کسی طرح لڑکھڑاتے ہوئے کھڑے ہو کر سلام تو کر لیا اور پھر تو ایسی بلکی کہ غش کھا کر گر پڑی۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے۔ دانت پچی ہو گئے۔ لخلخے سنگھائے منہ پر گلاب کے چھینٹے دیئے۔ بارے ہوش آیا تو اس نے ایسے بین شروع کیے کہ سننے والوں کے کلیجے منہ کو آنے لگے۔\n\nدل دہل گئے۔ آخر متقی نے سر پر ہاتھ پھیرا اور سمجھایا کہ مصیبت میں اس قدر رنج کرنا عبودیت کی شان نہیں ہے۔\n\nرنج مصیبت کو نہ ٹال سکتا ہے اور نہ اس کو ہلکا کر سکتا بلکہ الٹا مصیبت کو بڑھاتا ہے۔ جیسے محبت ماں کو اکلوتے بیٹے کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس سے لاکھوں کروڑوں درجے بڑھی ہوئی محبت خدا کو اپنے تمام بندوں کے ساتھ ہے۔ اگر خدا نہ چاہے تو کیا بندے آپ سے آپ پیدا ہو جائیں اور اپنے اختیار سے زندگی کریں۔ ایسا خیال کرنا تو کفر کے علاوہ غلط صریح بھی ہے۔\n\nبندے بھلے اور بُرے امیر اور غریب اور ضعیف، حاکم اور محکوم، بادشاہ اور رعیت یہاں تک کہ ولی اور پیغمبر سب کے سب اس قدر عاجز اور بے اختیار ہیں کہ بغیر خدا کی مرضی کے ایک پتہ ہلانا چاہیں تو نہیں ہلا سکتے۔ ایک ذرے کو جگہ سے سرکانا چاہیں تو نہیں سرکا سکتے۔\n\nکسی انسان کا نفع و ضرر نہ خود اس کے اختیار میں ہے نہ کسی دوسرے انسان کے۔ دنیا میں جس کسی کو جس کسی کے ساتھ کسی طرح محبت ہے۔\n\nاس کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ جس کے ساتھ محبت رکھتا ہے۔ اس کا فائدہ چاہتا ہے۔ نہ یہ کہ اس کو فائدہ پہنچتا ہے۔ یا پہنچا سکتا ہے۔ اس واسطے دنیا کی ساری محبتیں جو ہم کو حاصل ہیں۔ یہاں تک کہ زندگی اس کی دی ہوئی ہے۔ بایں ہمہ انسان کو اس زندگی میں ایذائیں بھی پہنچتی ہیں۔ مگر ان میں ضرور انسان کا کوئی نہ کوئی فائدہ مضمر ہوتا ہے۔ مثلاً طبیب کہ وہ کسی مریض کا علاج کرتا ہے۔\n\nکبھی اس کو کڑوی دوا پلاتا ہے اور کبھی اس کی فصد لیتا اور کبھی بیمار کے زخم کو شگاف دیتا اور کبھی شاید اس کے عضو کو کاٹ بھی ڈالتا ہے مگر ایسا کرنے سے کیا کوئی شبہ کر سکتا ہے کہ طبیب اپنے بیمار کے ساتھ عداوت رکھتا ہے۔ اسی طرح جو تکلیفیں ہم کو دنیا میں پہنچتی ہیں اور بلاشبہ خدا کی مقدس مرضی سے پہنچتی ہیں۔ ظاہر میں تکلیف ہیں اور باطن میں آرام، ابتدا میں ایذا ہیں اور انجام میں راحت۔\n\nاول تو اس کا فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ تکلیف حقیقت میں بھی تکلیف ہے یا نہیں۔ فرض کرو کہ کسی عورت کا شوہر مر جائے۔ ظاہر میں بیوگی ایک بڑی مصیبت ہے۔ مگر کیا یہ ممکن نہیں کہ مرد زندہ رہتا اور بیوی پر سوکن لا کر اس کو زندہ درگور کرتا یا بیوی سے اس کا دل ایسا پھرتا کہ جب تک جیتا اس کو سخت ایذا دیتا یا ایسے امراض میں مبتلا ہوتا کہ سارے گھر کی زندگی دشوار کر دیتا اور اسی طرح کے اور بہت سے احتمالات ہیں جن کی وجہ سے ایک عورت اپنی بیوگی کو ترجیح دے سکتی ہے سہاگ پر۔\n\nبس جب تک انسان کو علم مستقبلات یعنی علم غیب نہ ہو اور وہ اس کو نہ ہوا ہے اور نہ ہو گا۔ وہ کسی حالت کو جو اس پر یا کسی پر طاری ہو بُرا کہہ نہیں سکتا۔\n\nدنیا کے بہت سے واقعات کو ہم پسند کرتے ہیں۔ مگر جس طرح ہماری معلومات نا تمام ہیں۔ اسی طرح جو نتیجے ہم اپنی معلومات سے نکالتے ہیں۔ ناقص، ادھوری روداد اس پر فیصلہ ناکافی تحقیقات اور اس پر تجویز اور مانا کہ جو تکلیف ہم کو پہنچی حقیقت میں تکلیف ہے تو کیا۔\n\nشفیق باپ اپنے پیارے بیٹے کو منصف اور رحم دل بادشاہ اپنی عزیز رعیت کو تادیب یا تنبیہہ یا اصلاح یا کسی دوسری مصلحت سے ایذا نہیں پہنچاتا۔ ہمیشہ ایسی ایذائیں پہنچتی رہتی ہیں، نہ فریاد نہ شکایت، پس اگر خدا کی طرف سے ایک ایذا پہنچ جائے (جانے دو کی اس بے شمار احسانوں کو اور بھول جاؤ اس کی نا محصور نعمتوں کو) تو بندہ کیوں منہ پھلائے، کس لیے بڑبڑائے۔\n\nسب سے بڑا فائدہ جو مصیبت سے انسان کو پہنچتا ہے۔ یہ ہے کہ مصیبت دل میں بالتخصیص عجز و انکسار کی صفت پیدا کرتی اور خدا کو یاد دلاتی ہے اور حقیقت میں مصیبت کے وقت بندہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ مصیبت نہیں رحمت ہے۔ لیکن خدا کو یاد کرنے اور اس کی طرف رجوع کرنے کے یہ معنے نہیں ہیں کہ شکایت کرو اور اس سے ناراض رہو۔ بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اس کی رحمت پر پورا بھروسہ اور اعتماد کر کے صمیم قلب سے یقین کر لو کہ جو کچھ ہوا خوب ہوا۔\n\nمناسب ہوا اور یوں ہی ہونا چاہیے تھا۔ یہ تو درجہ رضا اور تسلیم کا ہے اور اسی کا نام صبر جمیل ہے اور آدمی کو جس کا عقیدہ ضعیف اور دل کمزور اور جس کی ہمت کوتاہ اور جس کا ارادہ متزلزل ہے۔ اس درجے پر پہنچنا دشوار ہے۔ مگر اعلیٰ علیین پر نہیں پہنچ سکتے تو ایک سیڑھی دو سیڑھی جتنا ہو سکے کچھ تو اُچکو کسی قدر تو ابھرو کہ اسفل السافلین کفران سے نکلو۔ یوں کہنے کو تو زبان سے سبھی کہتے ہیں کہ دنیا فانی ہے، چند روزہ ہے، خواب ہے، سراب ہے، سایہ ہے، سحاب ہے، برق بے تاب ہے مگر مصیبت کے وقت بخوبی ظاہر ہو جاتا ہے کہ زبان ہمارے دل کی سچی ترجمان نہیں۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/10"} {"title": "فسانہء مبتلا/11", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "کیا کوئی فانی ایک فانی حالت کے لیے اتنا غل مچاتا اور اس قدر روتا پیٹتا، مصیبت پر جو منفعت ہم نے ہمیشہ مترتب ہوتے دیکھی، حد تو یہ ہے کہ مصیبت آدمی کے مستقبل کو اس کی ماضی سے ضرور بہتر کر دیتی ہے یعنی اگر انسان کاہل تھا تو مصیبت کے بعد ضرور چست و چالاک ہو جاتا ہے۔ آرام طلب تھا تو جفاکش، بھولا تھا تو سیانا، مسرف تھا تو کفایت شعار، بدپرہیز تھا تو محتاط، جلد باز تھا تو دھیما۔\n\nآوارہ تھا تو نیک کردار جس آدمی پر کبھی مصیبت نہیں پڑی نہ اس کی عقل کا ٹھکانہ، نہ اس کی رائے کا بھروسہ، نہ اس کا دین درست، نہ اس کے اخلاق شائستہ۔ اس کے علاوہ اس کا دستور ہے کہ ایک حالت کیسی ہی عمدہ کیوں نہ ہو، اگر ساری عمر یکسانی کے ساتھ چلی جائے تو اس حالت کی عمدگی کا احساس نہیں رہتا بلکہ اکتا کر خود اس حالت سے نفرت کرنے لگتا ہے۔\n\nایک باورچی کو میں جانتا ہوں جو نمکین اور میٹھے چاول یعنی بریانی متنجن وغیرہ پکانے میں کامل استاد تھا۔\n\nشہر میں کہیں نہ کہیں شادی یا غمی کی کوئی نہ کوئی تقریب لگی ہی رہتی تھی جس کے یہاں چاولوں کی پخت ہوتی اسی باورچی سے پکواتا اور اس کو مزدوری کے علاوہ دستور کے مطابق تہ دیگی کی چوٹی دار رکابی بھی ملتی وہ ایک رکابی ایسی ہوتی تھی کہ اس کا سارا گھر اس کو کھا کر اٹل ہو جاتا۔ پس ان لوگوں کو دونوں وقت عمدہ سے عمدہ بریانی اور بہتر سے بہتر متنجن کھانے کو ملتا تھا۔\n\nپس یہ حالت تھی کہ کسی غریب آدمی کے سامنے جو بریانی متنجن کو ترستا ہو۔ بیان کیجیے تو سننے کے ساتھ ہی رال ٹپک پڑے مگر اس باورچی اور اس کے اہل و عیال کا کیا حال تھا کہ منتیں کر کے بریانی متنجن کی رکابیاں ہمسائے کے لوگوں کو دیتے اور ان سے روٹی چٹنی مانگ کر کھاتے۔ پس ہم نے تندرستی کی قدر بیماری سے جانی، وطن کی پردیس سے، تونگری کی مفلسی سے، آرام کی دُکھ سے، راحت کی مصیبت سے، تو جو شخص حقیقی راحت کا خواہاں ہے ضرور ہے کہ مصیبت کا بھی مزہ چکھے۔\n\nمصیبت زدہ کے لیے سب سے بہتر تدبیر یہ ہے کہ وہ دوسرے مصیبت مندوں پر نظر کرے۔ مثلاً اگر اس کو صرف بیوگی کی شکایت ہے تو پائے گی کہ اس جیسی اور اس سے بدتر لاکھوں بیوہ عورتیں اور بھی ہیں۔ شاید یہ ایک مدت خانہ داری کرنے کے بعد بیوہ ہوئی ہے اور ہزار ہا اللہ کی بندیاں ایسی بھی ہیں جنہوں نے شوہر کی صورت تک نہیں دیکھی۔ پس وہ بیوگی کے علاوہ لاولد بھی ہیں اور شاید ان کو روٹی کا بھی کہیں سے آسرا نہ ہو۔\n\nنگھری ندری بھی اور شاید دکھیا، بیمار اور شاید اندھی اور لولی اور اپاہج بھی، کسی کو اگر کھجلی کی ایذا ہے تو وہ دیکھے گا اپنے ہی جیسے آدمی کوڑھی اور کوڑھ میں کیڑے اور کیڑوں کے ساتھ زخم اور زخموں میں سوزش العیاذ باللہ جس کی آنکھ میں ناخنہ ہے۔ کیا اس کو اس سے تسلی نہیں ہو گی کہ دوسروں کی آنکھ میں ٹینٹ یا دوسرے کانے بلکہ اندھے بھی ہیں۔\n\nغرض دنیا کا حال یہی ہے کہ ایک سے ایک بہتر ہے۔ پس کیوں کوئی مغرور ہو اور ایک سے ایک بدتر ہے تو کس لیے کوئی ناصبور ہو۔ بیٹی میں یہ نہیں کہتا کہ تم پر مصیبت نہیں پڑی۔ مگر اس مصیبت پر جو تمہاری حالت ہے شکر کے قابل ہے کہ خدا کے فضل و کرم سے تندرست ہو۔ عزت و آبرو کے ساتھ گھر میں بیٹھی ہو۔ تم نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ تم نے دروازے دروازے بھیک نہیں مانگی تم نے پیٹ کے واسطے کسی کی خدمت نہیں کی ٹہل نہیں کی۔\n\nگو ماں باپ کو خدا نے اٹھا لیا۔ مگر ابھی تمہارے غمگسار، تمہارے خبر گیر تمہارے سرپرست موجود ہیں اور ان میں سے ایک میں بھی ہوں کہ باپ جتنی نہیں کروں گا لیکن اس سے پورا اطمینان رکھو کہ انشاء اللہ اپنے مقدور بھر تمہارے حال کی اصلاح تمہارے معاملات کی درستی میں کس طرح کی کوتاہی بھی مجھ سے نہ ہو گی۔ لاؤ اسی شہر سے بلکہ اسی محلے سے بلکہ اسی کوچے سے بلکہ تمہارے پڑوسی جتنی عورتیں کہو بلا لاتا ہوں جن کو دیکھ کر تم ضرور رحم کرو گی اور سمجھو گی کہ یہ مجھ سے زیادہ دکھیا ہیں۔\n\nایک حکیم کا قول ہے کہ دنیا میں ہر شخص خوش ہے اس واسطے کہ وہ اپنی حالت کو کسی دوسرے کی حالت کے ساتھ بدلنا نہیں چاہتا۔ جس دن پہلے پہل میں نے یہ بات کتاب میں لکھی دیکھی تو میں ذرا اس پر ٹھٹکا۔ پھر میں نے سوچا کہ اس کو میں اپنے ہی اوپر کیوں نہ آزماؤں تو میں نے اپنی جان پہچان کے پانچ چھ آدمی تجویز کیے۔ جن کی حالت تو بنظر ظاہر میں اپنی حالت سے بہتر سمجھتا تھا۔\n\nلیکن اچھی طور پر غور کیا تو ایک لاولد تھے۔ دوسرے بیٹے تو رکھتے تھے۔ مگر ناہموار۔ تیسرے دائم المرض۔ چوتھے شدت سے کنجوس۔ پانچویں بیوی کی بدمزاجی اور بدسلیقگی اور بدزبانی سے عاجز چھٹے لامذہب۔ غرض کسی کو بے داغ نہ پایا۔\nتب اس حکیم کے مقولہ کی تصدیق اور میرے دل کی تشفی ہوئی اور پھر ایک بات اور بھی سوچنے کے قابل ہے کہ غم کیسا ہی سخت اور صدمہ کتنا ہی بھاری کیوں نہ ہو۔\n\nرفتہ رفتہ خود بخود اس کا اثر مضمحل ہوتے ہوتے آخر کار محو ہو جاتا ہے۔ کبھی ہمارے باپ بھی مرے تھے ہم بھی ان کے فراق میں تمہاری طرح بہتیرا روئے دھوئے۔ غمگین اور اداس رہے۔ آخر بھول بسر گئے۔ غرض انسان کو چارو ناچار صبر تو کرنا پڑتا ہے کیا کرے دیوار سے سر ٹکرا کر کنوئیں میں گر کر، افیون کھا کر حرام موت مر رہے۔ مگر اس کو صبر محمود نہیں کہتے۔\n\nصبر محمود وہی ہے کہ نزول مصیبت کے وقت ہو۔ جب کہ رنج دل کو نچوڑتا اور کلیجے کو کھرچتا ہے۔ آنسو ہیں کہ نکلے چلے آتے ہیں اور سانس ہے کہ پیٹ میں نہیں سماتا۔ وہ بندے کے لیے سخت آزمائش کا وقت ہے۔ معاذ اللہ اگر خدا کی شان میں شکایت کا کوئی کلمہ اس کے منہ سے نکل گیا یا اس کے دل میں خدا کی نسبت بے حمی یا بے انصافی کا خیال وسوسے کے طور پر بھی آگیا۔ تو بس دنیا خراب عاقبت برباد۔ متقی نے جو یہ باتیں عقل کی دین کی نصیحت کی بیان کیں تو بھانجی پر ایسا اثر ہوا کہ گویا گرتی ہوئی دیوار کو تھونی لگا دی۔ ڈوبتے ہوئے کو اُٹھا کر کنارے پہنچایا۔ مرجھائے درخت کو پانی دیا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/11"} {"title": "فسانہء مبتلا/12", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "آٹھواں باب :میرمتقی کی مبتلا کے اُمور خانہ داری کی اصلاح میں کوشش\n\nمتقی کا ارادہ تو یہ تھا کہ بھائی سے مل کر ہفتہ عشرہ رہ کر رام پور روانہ ہوں گا مگر سوچا کچھ اور ہوا کچھ۔ یہاں آکر دیکھا تو بھائی کو مرے ہوئے چھ مہینے ہو چکے تھے اور بھتیجے صاحب نے وہ اودھم مچا رکھی تھی کہ خدا کی پناہ۔ دو تین مہینے بھی متقی کے پہنچنے میں دیر ہوتی تو تنخواہوں کا، کرائے کا، رہنے کے موروثی مکان کا، خاندان کی عزت و آبرو کا بزرگوں کے نام و نمود کا سب کا فیصلہ ہو چکا تھا۔\n\nباپ کا بیمار پڑنا اور مبتلا کا مدرسے سے اٹھنا۔ وہ دن اور آج کا دن اس بندئہ خدا نے بھول کر بھی تو مدرسے کو یاد نہ کیا۔ شروع شروع میں دوچار ہم جماعت بلانے کو آئے۔\n\nبعض مدرسوں نے بھی کہلا بھیجا۔ مبتلا کس کی سنتا تھا۔ رخصت کی غیر حاضری ہوئی اور غیر حاضر ہونا تھا کہ نام کٹ گیا۔ بیٹھے بٹھائے اچھا معقول وظیفہ کھویا اور بات کی بات میں آئندہ کی ساری امیدیں ایک دم سے منقطع ہو گئیں۔\n\nجن جن سرکاروں سے تنخواہیں مقرر تھیں ضرور تھا کہ پیروی کر کے وارثوں کے نام ان کا اجرا کرایا جائے مگر یہاں پیروی کرے تو مبتلا اور نہ کرے تو مبتلا اگر باپ کے مرنے پر مبتلا ان سرکاروں میں جاتا تو جن سرکاروں کا جیسا دستور تھا کہیں سے ماتمی خلعت، کہیں سے نقد کچھ نہ کچھ ملتا اور تنخواہ بھی کہیں سے پوری کہیں سے ادھوری جاری ہوتی۔\n\nمگر مبتلا کو اپنے مشاغل لا یعنی سے اتنی فرصت کہاں تھی کہ وہ ان باتوں کو سوچے اور خلعت یا نقد یا تنخواہ کے لیے سرکاروں میں دوڑ دھوپ کرے۔\n\nغرض جتنے معمولات تھے سب بند ہو گئے اب آمدنی کے نام سے تو رہ گیا صرف کرایہ۔ اول تو وہ تھا ہی کتنا مگر خیر جس قدر تھا۔ اس کا بھی یہ حال ہوا کہ کسی کے دو روپے دینے ہیں اس نے مانگنے نہ مہینہ دیکھا نہ حساب نہ کتاب نہ قلم اٹھا کسی کرایہ دار کے نام چٹھی لکھ دی کہ اس کو دو روپے دے کر کرایہ میں مجرا کر لو۔ اب وہ چٹھی والا کرایہ دار کے سر ہوا۔ ہر چند وہ کہتا جاتا کہ بھائی ابھی مہینہ پورا نہیں ہوا۔\n\nمیں نے اپنی گرہ سے مرمت کرائی ہے۔ چٹھی والا ہے کہ ایک نہیں سنتا۔ کرایہ داروں نے دیکھا کہ الٰہی شہر میں ہزار ہا مکان اور لاکھوں دکانیں ہیں۔ یہ چٹھی کا انوکھا اور نرالا دستور نہ دیکھا نہ سنا۔ ایک میر صاحب تھے۔ اللہ بخشے کہ ایک مہینے کا کرایہ دوسرے مہینے میں اور دوسرے کا تیسرے میں وصول ہوتا رہتا تھا۔ بے چارے کبھی ایک سخن بھی تو زبان پر نہیں لائے۔\n\nانہیں کے صاحبزادے ہیں کہ بے حساب بیٹھے بیٹھے چٹھیاں اڑاتے ہیں۔ گویا کہ کوتوالی کے پروانے ہیں یا تھانے کے حکم نامے غرض اکثروں نے بیدل ہو کر مکان خالی کر دیئے اور اٹھ کر کہیں اور جا رہے ہیں اور جائیداد اس قدر بدنام ہو گئی کہ کوئی دوسرا کرایہ دار رُخ نہیں کرتا۔ مبتلا کے ہاتھ لگ گیا تھا ماں کا زیور اسی میں یہ تمام گل چھرے اڑا رہے تھے۔\n\nپونے دو ہزار کا زیور اس مرحومہ کا تھا، چھ مہینے میں سب خالصے لگ چکا۔ اب مہینے سوا مہینے سے ادھار پر گزران تھی، متقی نے جو یہ حالت بھائی کے گھر کا دیکھا تو کیونکر ممکن تھا کہ ان لوگوں کو ایسی حالت میں چھوڑ کر چلا جائے۔\nناچار رام پور کا ارادہ سردست فسخ کیا اور مبتلا کو ساتھ ساتھ سرکاروں میں لیے لیے پڑا پھرا۔ کسی کے کار پرداز سے سازباز کی۔\n\nکسی کے داروغہ کو جاگا نٹھا۔ سفارش پہنچائی اور سعی کے مقام پر سعی کرائی، بعض جگہ اپنی وجاہت سے کام نکالا اور جہاں موقع بن پڑا بھائی کے حسن خدمات پر زور ڈالا۔ غرض کئی مہینے کی دما دوش سے اتنا ہوا کہ مبتلا کے والد میر مذہب کی زندگی میں جتنی تنخواہیں تھیں بلا کم و کاست پوری پوری کھل گئیں بلکہ بعض سیرچشم سرکاروں نے پچھلے چھ مہینے کی چڑھی ہوئی تنخواہیں بھی بلاوضعات دیں، میرمتقی نے ایک پیش بینی یہ کی کہ جس قدر ذاتی تنخواہ تھی یعنی بلا خدمت بطور معاش ملی تھی۔\n\nاپنی بھانجی غیرت بیگم یعنی مبتلا کی بی بی کے نام جاری کرائی اور تنخواہ مشروط الخدمت مبتلا کے نام۔ اس میں مصلحت یہ تھی کہ بی بی کے آگے مبتلا کی ذرا کنی دبی رہے۔ تنخواہوں کا پچھلا چڑھا ہوا روپیہ جس قدر ملا اس سے مکانات اور دکانات کی شکست و ریخت کی درستی کرا کے کرایہ داروں کو بسا کر ان کے سر خط بھی آدھے کرائے کہ مبتلا کے نام اور آدھے غیرت بیگم کے نام لکھوا دیئے۔ میرمہذب کے روز وفات سے آج تک بیوتات کا حساب بننے کے لیے یہاں سے ادھار چلا آتا تھا۔ حساب کر کے اس کا قرضہ چکایا اور آئندہ کے لیے ادھار کو مطلقاً بند کر کے یہ قائدہ باندھ دیا کہ جو چیز درکار ہو وہ نقد بازار سے آ جایا کرے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/12"} {"title": "فسانہء مبتلا/13", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "نواں باب: سید حاضر کے روبرو میرمتقی کا وعظ\n\nغیرت بیگم کو بھائیوں نے ترکہ پدری سے محروم کر رکھا تھا۔ کسی کی مجال تھی کہ ان بھڑوں کے چھتوں کو چھیڑے وہ اس بلا کے لوگ تھے کہ اگر نالش کی بھنک بھی ان کے کان میں جا پڑتی۔ تو کہاں کے ماموں اور کس کی بہن اور کیسا بہنوئی سب کی عزت کے لاگو ہو جاتے۔\n\nیہ ایک شعر جو مشہور ہے:\n\nہر جا جمع نے آیند سادات\n\nفسادات، فسادات، فسادات\n\nکہتے ہیں کسی نے سید نگر والوں ہی کی شان میں کہا تھا اور متقی کو وہاں کے لوگوں کے ہتھکنڈے بخوبی معلوم تھے اور مخاصمانہ طور پر بھانجوں کے ساتھ پیش آنا اور ان کے مقابلے میں مدعی یا مدعاعلیہ ہونا گو بھانجی ہی کا حق طلب کرنے کے لیے کیوں نہ ہو نہ ان کو شایان تھا اور نہ غیرت بیگم کے حق میں مفید۔\n\nسید نگر کے سب لوگ زمیندار اور رعایا یہاں تک کہ خوش باش اور اس قدر مفسد تھے کہ جھوٹ بولنا جھوٹا حلف اٹھا لینا جھوٹے گواہ جھوٹی روداد اور جھوٹی دستاویزیں بنانا حاکم کو دھوکا، پرایا حق مار بیٹھنا لوگوں کو ناحق ستانا ان باتوں کو بڑا ہنر اور داخل ہوشیاری سمجھتے تھے اور جس طرح کوئی بڑا نامی جنرل اپنے دوستوں میں فخراً اپنی فتوحات کے واقعات کا بیان کرتا ہے۔\n\nیہ لوگ ہمیشہ دیوانی فوجداری کے مقدمات کے تذکرے کرتے رہتے تھے۔ کوئی امیر اپنی مدح پر اتنا ناز نہ کرتا ہو گا جتنا ان کو ڈگریوں اور فیصلوں پر تھا، ان لوگوں کی نظروں میں میرمتقی صوفی وفقیہ تھے مگر سادہ لوح اور عالم و فاضل تھے مگر احمق و لایعقل۔ میر متقی کا چھوٹا بھانجہ سید نگر ناظر جو غیرت بیگم سے بھی عمر میں چھوٹا تھا۔ کچہری دربار کا کام دیکھتا تھا اور تمام معاملات مقدمات اسی سے متعلق تھے۔\n\nپس یہ گھر کا کل تھا، سید حاضر جو غیرت سے بڑا اور اکبر اولاد تھا۔ سید نگر میں مکان کی خبرگیری کرتا تھا اور رعایا سے وصول تحصیل کرنا اور کھیتی کا جتوانا بوانا غرض گاؤں کا سب کام کاج اس کے سپرد تھا، ماموں کا آنا سن کر سید نگر سے سید حاضر تو فوراً اگلے ہی دن آ حاضر ہوا اور اس نے اس کا بھی انتظار نہ کیا۔ کہ تعزیت کے لیے ماموں کی طرف سے تقدیم ہونی چاہیے۔\n\nلیکن جب وہ واپس جانے لگا تو میرمتقی اس کے ساتھ ادائے رسم تعزیت کے لیے سیدنگر گئے۔ ناظر وہاں نہ تھا۔ معلوم نہیں کسی ضرورت سے غیر حاضر تھا۔ یا قصداً ماموں کی آمد سن کر ٹل گیا تھا۔ میرمتقی نے بتقریب تعزیت جہاں اور بہت سی باتیں سید حاضر سے کیں۔ ان میں سے یہ بھی تھی کہ تم کو شروع سے خدا نے بڑا کیا کیونکہ تم بھائی صاحب مرحوم کی اولاد میں سب سے بڑا ہو کیونکہ تم کو لوگ مرحوم کا جانشین سمجھتے ہیں اور تم ان کے جانشین ہو بھی۔\n\nانسان کو خدا نے ایسے طور کا مخلوق بنایا ہے کہ تمدن اس کو لازم ہے جس طرح تمدن اس کے وجود کی شرط ہے کہ اگر انسان مدنی الطبع نہ ہوتے اور آدمی آدمی کے ساتھ مل کر نہ رہتا تو آگے کو ان کی نسل نہ چلتی۔ اسی طرح تمدن انسان کی حیات بلکہ اس کی ممات کی بھی شرط ہے تمدن نہ ہو تو انسان کی زندگی عذاب اور مرے پیچھے اس کی مٹی خراب۔ تمدن کی ضرورت سے آدمی دو دو، چار چار، دس دس، پچاس پچاس، ہزار ہزار، لاکھ لاکھ اور اس سے بھی زیادہ زیادہ اکٹھے ہو کر رہتے ہیں اور خاندان اور قبیلے اور کنبے اور برادری اور گاؤں اور قصبے اور شہر اسی تمدن کے مظاہر ہیں۔\n\nتمدن سے لوگوں میں انواع و اقسام کے باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ ماں، باپ، بیٹا، بیٹی، میاں بی بی بھائی بہن اور جتنے طور کے دور و نزدیک کے رشتہ دار ہیں اور ہمسایہ اور ہم وطن اور حاکم و محکوم اور بادشاہ اور رعایا اور شاگرد اور آقا اور نوکر اور افسر اور ماتحت اور زمیندار اور کاشت کار اور دکاندار اور خریدار وغیرہ یہ سب نام ہیں لوگوں کے باہمی تعلقات کے۔\n\nہر تعلق کے ساتھ کچھ حقوق ہوتے ہیں اور کچھ ذمہ داریاں مثلاً باپ اور بیٹے میں ایک طرح کا تعلق ہے باپ کا حق ہے کہ بیٹا اس کا ادب کرے اس کا حکم مانے اور اس کی ذمہ داری یا بعبارت دیگر اس کا فرض یہ ہے کہ بیٹے کو شفقت کے ساتھ پالے، تربیت کرے، پڑھائے لکھائے ہنر سکھائے جو اس کے کام آئے، لوگوں کا یہ حال ہے کہ تمدن کے حقوق اور فرائض میں اکثر بلکہ سب کے سب مُطَفّفِ ہیں۔\n\nمُطَفّفِ عرب میں کہتے ہیں اس شخص کو کہ اپنا لینا ہو تو جھکی ہوئی تول لے اور دوسرے دینا ہو تو اڑتی ہوئی دے۔ ایسے ہی لوگوں کی شان میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:\n\nافسوس ہے ڈنڈی ماروں پر کہ جب لوگوں سے ناپ کر لینا ہو تو پورا پورا لیں اور جب لوگوں کو ناپ کر یا تول کر دینا پڑے تو ان کو گھاٹا پہنچائیں، کیا لوگ اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ ایک بڑا دن آنے والا ہے اور اس دن ان کو مرکر اٹھنا ہو گا۔\n\nاس دن لوگ پروردگار عالم کے روبرو کھڑے ہوں گے۔ اسی طرح دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں الا ماشاء اللہ جو اپنے حق میں سے کسی بھائی کو رتی بھر چھوڑ دے لینے میں تو ایسا سیانا اور سخت گیر کہ دوسرے کے حقوق ضائع ہوں، تلف ہوں کچھ پرواہ نہیں ذرا دل پر میل نہیں، دینے میں ایسا گرہ کا بھولا اور شریر اور کشمکش اور مفسدے کے روکنے کے لیے اللہ صاحب جل شانہ نے دوہرے دوہرے انتظام کیے ہیں کہ ایک سلطنت ظاہر بادشاہ ہے اور اس کے پاس فوج ہے اور توپ ہے اور تلوار ہے اور قوت ہے اور پولیس ہے اور حاکموں کا ایک گروہ ہے اور جلاد ہے اور جیل خانہ ہے اور بند ہے اور تازیانہ ہے۔\n\nاس انتظام کے تفصیلی حالات تم کو مجھ سے بہتر معلوم ہیں۔ دوسری ایک سلطنت الٰہی ہے جس کو دین یا مذہب یا شرع کہتے ہیں۔ اس میں توپ کا نام نہیں۔ تلوار کا کام نہیں۔ اعوان و انصار نہیں فوج اور سپاہ درکار نہیں، مگر دنیا میں جس قدر امن اور جتنی عافیت ہے۔ اسی الٰہی سلطنت کی بدولت ہے۔ ظاہر بین اور کوتاہ بین ایسا سمجھتے ہیں کہ دنیا کا سارا انتظام کام ظاہر کرتے ہیں۔\n\nاستغفر اللہ نہ کرتے ہیں اور نہ کر سکتے ہیں۔ ملک کی ساری پلٹنیں کالوں کی اور گوروں کی اور سارے رسالے اور سارے توپ خانے اور سارے پولیس کے ملازم اور سارے حاکم سب کے مجموعے کو ملک کی مردم شماری پر پھیلا کر دیکھو تو کیا پڑتا ہے۔\n\nاگرچہ دس ہزار باشندوں پر ایک بھی نہیں بیٹھے گا۔ مگر فرض کرو کہ دس ہزار پیچھے ایک تو کیا یہ بات سمجھ میں آنے کی ہے کہ ایک متنفس دس ہزار آدمی کے ضبط پر قادر ہو۔\n\nآدمی تو آدمی اگر دس ہزار گدھے یا دس ہزار بھیڑ بکری بھی ہوں تو ایک چرواہا ان کو ایک جگہ کھڑا نہیں رکھ سکتا۔ نہ یہ کہ ان کو جس کروٹ اٹھائے اٹھیں اور جس کروٹ بٹھائے بیٹھیں، ہاں شاید تمہارے دل میں یہ بات ہو گی کہ حاکم ایک کو سزا دیتا ہے تو دس ہزار کو عبرت ہوتی ہے۔ لیکن خیال کرنے کی بات ہے کہ جن کو سزا ہوئی انہیں کو کیا عبرت ہوئی کہ دوسروں کو ہوتی۔\n\nہم نے تو یوں سنا ہے خدا جانے جھوٹ یا سچ کہ بدمعاش لوگ اول تو گرفت ہی میں نہیں آتے اور اگر کوئی شامت کا مارا قضارا ماخوذ بھی ہوا تو سید نگر والے (وکیل مختار) اس کو سزا نہیں ہونے دیتے اور سزا بھی ہوئی تو ان کو عبرت اس سے ظاہر ہے کہ چھوٹتے ہیں تو دوسرے قیدیوں کو وصیت کر آتے ہیں کہ دیکھنا بھائی میرے چولہے کو ہاتھ نہ لگانا مہینہ پورا نہیں ہونے پائے گا کہ میں پھر آتا ہوں۔\n\nہم کو تو کبھی اتفاق نہیں ہوا اور خدا نہ کرے کہ ہو۔ مگر اخباروں میں اکثر دیکھا کہ فلاں مقام پر فلاں خونی کو فلاں تاریخ فلاں وقت پھانسی دی گئی۔ دو ہزار آدمیوں کی بھیڑ تھی۔ عبرت ہو تو ایسی ہو۔ یہ سب نالائق تماشائی تھے اور سنگ دل قصائی اس کے علاوہ ایک بدیہی دلیل ایسی ہے کہ اس سے تو تم کو میری بات کا پورا یقین ہو جائے گا۔ یہ ہلواہا جو بیلوں کو تھان سے کھول کر لیے جا رہا تھا۔ اس کا کیا نام ہے؟", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/13"} {"title": "فسانہء مبتلا/14", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "حاضر: اس کا نام غریبا۔\n\nمتقی: ذر ااس کو بلا۔ حاضر نے بلایا تو اس نے ہل تو کندھے پر سے اتار کر وہیں رکھ دیا اور اسی ہل سے بیلوں کو اٹکا سامنے آکھڑا ہوا۔\n\nمتقی: کیوں میاں تمہارا کیا نام ہے۔\n\nغریبا: میاں مجھ کو گریبا کہتے ہیں۔\n\nمتقی: کون ذات ہو۔\n\nغریبا: ”گوجرنا“ متقی تم کتنی کھیتی کرتے ہو؟\n\nغریبا: میری کھیتی الگ نہیں (سید حاضر کی طرف اشارہ کر کے) ہاجر (حاضرہ) میاں کاہلواہا ہوں اور کھار میں ایک دو بیگھے کا کھیت بھوما لوینے کا ہے۔\n\nاس میں ادھواڑ کا بانٹیہ دار ہوں۔\n\nمتقی: بال بچے کتنے ہیں؟\n\nغریبا: (مسکرا کر) بھگوان کی بڑی کرپا ہے۔ آٹھ۔\n\nمتقی: کسی کا بیاہ برات بھی کیا ہے۔\n\nغریبا: ہاجر (حاضر) میاں کی یاد سے رکھی سوکھی۔ لسی کسی دو وخت نہیں تو ایک وخت مل ہی جاتی ہے۔ چھوٹے بڑے انہی کی بٹل میں لگے رہتے ہیں۔\n\nیہی سب کو پالتے ہیں۔ بھتیر سے بڑی سہاتیا رہتی ہے۔\n\nمتقی: اشارے سے غریبا کو پاس بلا کر (آہستہ سے) کیوں بے آج کل تو کھلیان تیار ہیں۔ رات بے رات موقع پا کر کھلیان پیچھے دو دو پولی بھی اٹھا لائے تو کسی کو کیا معلوم اور مزے میں تیرا کام ہو جائے۔\n\nغریبا: (دور ہٹ کر) نا میاں بھگوان بُرا کام نہ کرائے۔\n\nمتقی: کیوں کیا جاگا چوکیدار سے ڈرتا یہ۔\n\nاس کو ہم سمجھا دیں گے۔\n\nغریبا: جاگا (گالی) کہاں کا سورما ہے۔ ایک ڈپٹ بتاؤں تو (گالی) دھوتی میں… پر نہیں بُرا کام برا ہی ہے۔\n\nمتقی: ابے مسخرے کسی کو کانوں کان تو خبر ہونے کی نہیں، یہ اچھا ہے کہ تن پر چیتھڑا نہیں، پیٹ کو کو ٹکڑا نہیں۔\n\nغریبا: انسان نہ دیکھے مگر بھگوان سے تو کچھ چھپا نہیں۔ اس کے بعد متقی نے استمالت کی دو چار باتیں کر کے غریبا کو تو رخصت کیا اور سید حاضر سے کہا۔\n\nکیوں صاحب آپ نے دیکھا یہی انتظام الٰہی ہے کہ یہ بے چارہ نہ تو پڑھا اور نہ لکھا اور نہ شاید ساری عمر کسی پنڈت برہمن کی صحبت میں بیٹھا۔ ضرورت اس درجے کی کہ اگر سچ سچ پوچھئے تو ”بھوک سے بے قرار کو مردار بھی حلال ہے“ کا مصداق ہے اندیشہ پاسباں سے مطمئن اور اس پر چوری کو سمجھتا ہے کہ بُرا کام ہے۔ اصل میں بُرا سمجھنا اس کو چوری کے ارتکاب کا مانع ہے۔\n\nاور یہ سمجھ یعنی بُرے بھلے کا امتیاز جو خدا نے مرد عورت لڑکے جوان، بوڑھے خواندہ ناخواندہ ذہین غبی شہری دیہاتی سب بنی آدم کو اعلیٰ قدر مراتب دیا ہے۔ ایک پاسبان الٰہی ہے جو ہر ایک پر مسلط ہے اس کو کراماً کاتبین کہو یا انسان کا دل سمجھو جو برائی پر مائل کرتا ہے یا جن الفاظ سے چاہو تعبیر کرو۔ میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ جرموں کا انسداد لاکھ حصے سلطنت الٰہی کی تاثیر سے ہے تو شاید ایک حصے حکومت ظاہر کی تدابیر سے۔\n\nحکومت ظاہری میں ایک بڑا نقص یہ ہے کہ حاکم کیسا ہی منصف کیوں نہ ہو چونکہ اس کو معاملے کی اصل حقیقت سے تو آگہی ہوتی نہیں۔ ناچار اسے روداد کی پابندی کرنی پڑتی ہے اور روداد کی کیفیت تو کوئی ہمارے سید نگری بھائیوں سے پوچھے کہ کہو تو مکھی کو بھینسا بنا دیں اور فرماؤ تو بھینسے کو مچھر بنا کر اڑا دیں۔ پس حاکم ظاہری کبھی پورا پورا انصاف کر ہی نہیں سکتا۔\n\nاس کا فیصلہ اندھے کی لاٹھی ہے۔ لگی لگی نہ لگی نہ لگی برخلاف سلطنت الٰہی کہ اس کا نشانہ ممکن نہیں کہ خطا کرے۔ اس کا مجرم ہو نہیں سکتا کہ سزا سے بچ جائے کسی کی مجال ہے کہ اس کی ڈگری کو روکے کس کی طاقت ہے کہ اس کے حکم کو ٹالے اگرچہ خدائی فیصلوں کے لیے ایک دن مقرر ہے۔ یعنی روزِ قیامت کہ اس دن اللہ جل و علاشانہ، عدل و انصاف کے تخت پر اجلاس فرمائے گا۔\n\nاور نیک اور بد اور سخی اور شوم اور ظالم اور مظلوم سب کا حساب کر دے گا۔ مگر کبھی مصلحت الٰہی اس کی بھی مقتفی ہوتی ہے کہ اس دنیا میں بدلہ مل جاتا ہے۔ یہی سید نگر ہے کہ اب سے بہت زیادہ دُور بھی نہیں۔\n\nشاید بیس برس پہلے دس بارہ ہاتھی سادات کے دروازوں پر کھڑے جھومتے تھے۔ اور اس کی سخاوت اور دادو دہش اور مہمان نوازی اور مسافر پروری کی کیا شہرت تھی کہ کربلا اور بغداد اور حرمین اور نجف اور کاظمین تک سے لوگ ہر سال نام سن کر آتے تھے۔\n\nمیں ان دنوں اچھا خاصا ہوشیار تھا مجھ کو اب تک یاد ہے کہ اس بڑی مسجد میں دو ڈھائی سو طالب علم رہتے تھے اور یہیں کے سادات ان کے کھانے کپڑے کتاب سب چیزوں کی خبر گیری کرتے تھے طالب علموں کو پڑھانے کے لیے بیش قرار تنخواہوں کے پانچ یا چھ جید حافظ اور مولوی نوکر تھے۔ سارے مہینے رمضان کے اور دس دن محرم کے غربا اور مساکین کے لیے اس قدر کھانے پکتے تھے کہ اس کا ٹھیک اندازہ کرنا مشکل ہے۔\n\nبارہ کوس کے گردے کی تمام خلقت ٹوٹتی تھی اور کیا نیتوں کی برکت تھی کہ ہزار دو ہزار پانچ ہزار جتنے آدمی ہوتے ہر شخص کو دو خمیری روٹیاں ایک پیالہ قلپے کا اور ایک خوانچہ کھیر کا وقت پر پہنچ جاتا میر بابا صاحب کا گھر ان دنوں سب میں بڑھا چڑھا تھا۔ ان کا حال سنا ہے کہ دونوں وقت گئے ہوئے پورے سو آدمی دستر خوان پر میر صاحب کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔\n\nاور کیسی خدا کی مہربانی تھی کہ گلی میں دیکھو تو کوڑیوں لڑکے۔ سید نگر میں کبھی کسی سیدانی کو بانجھ اور چھے سے کم کسی کے بچے سننے میں نہیں آئے۔ غلہ ہمیشہ ارزاں، عام بیماری یا وباء کبھی سید نگر کے سوانے میں داخل نہیں ہوئی۔ پھر یکا یک گوجروں سے سوانے کی تکرار ہوئی لٹھ چلا طرفین سے آدمی مارے گئے۔\nبس اس دن سے سید نگر پر تباہی آئی۔\n\nیوں تو سادات اور گوجروں میں سدا سے ہی چھیڑ چھاڑ ہوتی ہی چلی آتی تھی۔ مگر اس مقدمے میں سادات سراسر برسر ناحق تھے۔ ہمیشہ سے سید نگر کا سوانا اس تیس ہزار باغ کی مشرقی کھائی تھی۔ یہ باغ عین سوانے پر اسی غرض سے لگایا گیا تھا کہ گوجر حد سے متجاوز نہ ہوں۔ تکرار اتنی ذرا سی بات پر ہوئی کہ میر بابا کے بڑے بیٹے میر مقتدر کے سائیسوں نے گوجروں کی رکھانت گھانس باغ کے پورب کاٹنی شروع کی۔\n\nگوجروں نے مزاحمت کی۔ یہاں تک کہ داتا سنگ نے جو گوجروں کا سر گروہ اور میر بابا کا مد مقابل تھا۔ اپنا خاص کارندہ میر بابا کے پاس بھیجا۔ وہ کارندہ میر صاحب تک پہنچنے نہیں پایا کہ بیچ میں میر مقتدر نے اس کو بہت کچھ سخت و سست کہا اور حق و ناحق ہزار ہا گالیاں داتا سنگ کو دیں۔ میر مقتدر بڑے غصیلے اور بڑے ظالم اور بڑے سخت گیر اور بڑے جابر مشہور تھے۔\n\nکہتے ہیں کہ دو تین خون ان کے ہاتھ سے ہوئے، مگر دب دبا گئے انہوں نے ظلماً کئی بھلے آدمیوں کی ناموس بگاڑی اور عزت ریزی کی۔ میر بابا کے خاندان میں جو سید لوگ ناتا نہیں کرتے اصل میں اس کا سبب یہی ہے کہ میر مقتدر نے بلا امتیاز بہت سی عورتوں کو جبراً گھر میں ڈال لیا تھا۔ کوئی ہندنی تھی، کوئی چماری، کوئی گوجرنی غرض میر مقتدر کے بعد سے ان کے خاندان کے نسبت کا اعتبار اٹھ گیا۔\n\nبیٹے کے زور و ظلم نے میر بابا کی تمام نیکیوں کو بے قدر کر رکھا تھا، نہیں معلوم دیدہ و دانستہ بیٹے کی حرکات ناشائستہ سے چشم پوشی کرتے تھے یا واقع مقتدر پر ان کا کچھ اقتدار نہ تھا۔ میر مقتدر کا تمام علاقے میں ایسا زلزلہ تھا کہ کوئی بھلا آدمی سید نگر کی تھانہ داری پر آنے کے لیے رضا مند نہیں ہوتا تھا۔ مجبور کیا جاتا تو نوکری سے استعفیٰ دیتا مگر ادھر کا رخ نہ کرتا۔\n\nمیں ایسا خیال کرتا ہوں کہ سید نگر کو مقدر کے ظلموں نے تباہ کیا اور نزاع سوانے کا ایک بہانہ تھا۔ جب مقتدر نے داتا سنگ کے کارندے کو بُرا بھلا کہا اور اس کے مالک کو مغلظات سنائیں وہ بیچارہ اپنا سا منہ لے کر لوٹ گیا اور داتا سنگ کے آگے جا کر اپنی پگڑی زمین پر دے ماری اور کہا کہ تم نے مجھ کو بے عزت کرایا اور خود بھی بے عزت ہوئے۔\n\nآج میر بابا کے بیٹے نے بھری کچہری میں مجھ کو اور تم کو دونوں کو فضیحت کیا اور ایسی ایسی گالیاں دیں کہ کوئی چمار کو بھی نہیں دیتا۔\n\nداتا سنگ بڑی غیرت اور طنطنے کا آدمی تھا اور کسی بات سے میر بابا سے کم نہ تھا۔ سن کر لال ہو گیا اور کہا کہ اس مسلمان کے چھوکرے کا اتنا مقدور، خیر اب لڑائی ہے تو لڑائی ہی سہی۔ داتا سنگ کے منہ سے اتنی بات کا نکلنا تھا کہ ڈیڑھ دو ہزار گوجر بھاری بھاری لٹھ کنڈھوں پر دھر رکھانت پر جا موجود ہوئے۔ میر صاحب کے گھسیارے ان کو دُور سے دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔\n\nسید نگر میں خبر ہوئی۔ ادھر سے لشکر سادات نکلا، دوپہر کامل لٹھ چلا دو پونے دو سو آدمی زخمی ہوئے، چار گھڑی رات جاتے جاتے سرکاری فوج توپ لے کر آ پہنچی اور پکڑ دھکڑ شروع ہوئی۔ تحقیقات ہونے لگی اور نتیجہ یہ ہوا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/14"} {"title": "فسانہء مبتلا/15", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "ہنگاموں اور خانہ جنگیوں میں اکثر سزا کا پلہ دونوں طرف برابر رہتا ہے۔ مگر سیدوں نے بڑا غضب یہ کیا کہ ادھر تو سوانے پر لڑائی ہو رہی تھی اور ڈھائی تین سو آدمی سید نگر سے نکل کنی کاٹ گوجر پور میں جا گھسے اور وہاں گوجروں کے مندروں کو توڑا پھوڑا عورتوں کو بے عزت کیا۔ یوں سیدوں کی طرف سے زیادتی بہت ہوئی اور سزا بھی بہتوں نے پائی۔ میر بابا نے تو جس وقت سرکاری فوج کا آنا سنا اسی وقت زہر کھا کر مر رہے۔\n\nمیر مقتدر کسی تدبیر سے بھاگ نکلے۔ گھر بار ضبط ہو اسباب نیلام ہوا۔ بیٹوں میں تین یا چار نابالغ تھے وہ تو بچے دونے پھانسی پائی اور دو کالے پانی بھیجے گئے۔ میر مقتدر کے لیے پانچ سو روپے کا اشتہار ہوا مگر پکڑے نہ گئے۔ رفیق ان کا ایک خانہ پروردہ ان کے ساتھ بھاگا۔ دس بارہ برس بعد اکیلا واپس آیا بڑا نمازی بڑا پرہیزگار وہ بیان کرتا تھا۔\n\nان کی مصیبتیں کہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوئے تھے کہتا تھا کہ آخر کار کسی مقام پر بغداد کے علاقے میں میر مقتدر مرض موت میں مبتلا ہوئے۔ مگر ایسی سختی کی موت ہم نے تو دیکھی کیا سنی بھی نہیں پورے پندرہ دن بول و براز بند تھا نہ مسہل اثر کرتا تھا نہ حقنا نہ پچکاری۔ دن اور رات مچھلی کی طرح تڑپتے تھے اور کسی وقت تالو سے زبان نہیں لگتی تھی۔ بول و براز کے بند ہونے سے مادے میں زہرناکی پیدا ہوئی اور سمیت ظاہر جلد تک پھوٹ پڑی۔\n\nباوجود یہ کہ نہایت گورے چٹے آدمی تھے اور ان مصیبتوں میں بھی ایرانی معلوم ہوتے تھے۔ زہرناکی کی وجہ سے سارا جسم ایسا ہو گیا تھا جیسے سیہ تاب اور سوزش اس بلا کی کیچڑ میں لوٹے لوٹے پھرتے تھے، مگر ایک لمحہ قرار نہ تھا۔ مرنے سے سات دن پہلے نہیں معلوم کیا بات تھی۔ بے ہوشی میں وطن کے لوگوں کے نام لے لے کر کہتے تھے فلانا مجھ کو مارے ڈالتا ہے۔\n\nفلانا گرم سیخیں میرے پیٹ میں بھونکتا ہے۔ فلانا مجھ کو تنور میں دھکا دیتا ہے۔ فلانا میری کھال کھینچتا ہے۔ رفیق کا مقولہ یہ تھا کہ جن لوگوں کے وہ نام لیتے تھے وہ تھے جن پر انہوں نے ظلم کیے تھے۔ رفیق یہ دیکھ کر اس قدر مرعوب ہوا کہ گویا اسی دن سے اس نے ترک دنیا کیا۔ غرض وہ کمبخت سوانے کا مقدمہ کیا ہوا تھا کہ سید نگر کے حصے کی قیامت آگئی۔\n\nآبرو اور جان اور مال کا جو نقصان ہوا تھا سو ہوا تھا۔ ایک بڑا نقصان یہ ہوا تھا کہ سادات سے خیر بالکل اٹھ گئی۔ اب اس نواح میں سید کے معنے ہیں مفسد۔ لڑاکا جھگڑا لو، مردم آزار، جھوٹا جعلساز، مفتری، فتنہ پرداز اور واقع میں لوگوں کے افعال اور معاملات پر نظر کرتے ہیں تو جس قدر بدنامی ہو رہی ہے۔ اس سے زیادہ کے مستحق ہیں۔ گوجروں کے ساتھ لڑنے کا مزہ چکھ چکے تھے۔\n\nچاہیے تھا کہ لڑائی کے پاس نہ پھٹکتے مگر الٹا اثر یہ دیکھنے میں آیا کہ بھائی سے بھائی لڑنے لگا۔ باپ بیٹے سے بیٹا ماں سے، میاں بیوی سے، پڑوسی پڑوسی سے حصہ دار حصہ دار سے زمیندار کاشتکار سے گویا لڑائی ان کے خمیر میں داخل ہے۔ یا بے لڑے ان کو نیند نہیں آتی یا کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ شرافت و نجابت کے دعوے اتنے لمبے چوڑے کہ کسی کو اپنا کفو نہیں سمجھتے مگر معاملات ایسے کہ پاجی سے پاجی کو شرم آئے اور کمینے سے کمینے کو عار۔\n\nسید نگر کی کھیوٹ نکال کر دیکھو کتنی عورتوں کے نام ہیں کسی کی جورو کسی کی بیٹی، کسی کی بہن، دیوانی و فوجداری میں مہر اور نان و نفقہ اور طلاق کے جتنے مقدمے ایک سید نگر کے ہوں گے شاید لفٹنٹی کے نہ ہوں۔ مگر ان تمام فسادات کے نتیجے کیا ہیں۔ تم لوگوں کے گھروں میں اسٹامپ کے بڑے بڑے پشتارے بہت نکلیں گے۔ بیبیوں کے جسم پر چاندی کا تار نہیں، باوجود یہ کہ دیہاتی پہناوا ہے۔\n\nگٹھڑی میں سلیقے کا کوئی کپڑا نہیں جوار باجرا سانواں کودوں جو کچھ سیر میں پیدا ہوا اسی پر تمہاری گزران ہے۔ تمہارا علاقہ شہد کی مکھیوں کا چھتا ہے۔ جتنے پیدا ہوتے گئے۔ اسی میں بھرتے گئے۔ میں اگر تمہارے علاقہ کا مہتمم بندوبست ہوتا بیگھ بسوانسی کچوانسی سب موقوف کر کے کسورِ اعشاریہ میں تمہارا کھیوٹ بناتا۔ یہ حال تمہاری حصہ داریوں کا ہو گیا ہے۔\n\nاس پر طرہ یہ ہے کہ جس حصے کو دیکھیے کثرت انتقالات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک کباب ہے اور اس میں ہزار ہا چیونٹیاں۔ سید زادوں کو دیکھا تو اس سرے تک ایک ہوشیار نہیں کسی میں آئندہ کی فلاح کے آثار نہیں۔ یہ وبال یہ نکبت یہ ذلت یہ افلاس سب تمہارے ہی اعمال کی سزا ہے اور اگر یہ پوری سزا ہوتی تو تم سستے چھوٹے گئے تھے۔ یقین جانو سزا نہیں ہے بلکہ تمہید سزا جب سزا کا وقت آئے گا۔\n\nتو یہ تمہارا قانون اور قاعدہ کچھ نہیں پوچھا جائے گا۔\n\nحقوق کے متعلق ایک بات اور ہے، جس کو میں چاہتا ہوں کہ تم اس کی طرف زیادہ توجہ کرو وہ یہ ہے کہ انسان کے ذمے دو طرح کے حقوق ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ لوگ حقوق العباد کی نسبت بڑی غلطی میں پڑے ہیں اور ان کو آسان سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ بڑی ٹیڑھی کھیر ہے۔ اگر کسی آدمی سے اللہ کے حقوق ضائع ہوں اور سبھی سے ہوتے ہیں۔\n\nتو بندے کا خدا سے کیا مقابلہ، حقوق الٰہی کا ضیاع اکثر سہو اور غفلت اور نادانی اور کوتاہ اندیشی کی وجہ سے ہوتا ہے اور امید ہے کہ خداوند غفور و رحیم بندوں کی ضعفت پر نظر فرما کر ان کے قصور معاف کرے اور کرے گا، مگر حقوق العباد کا یہ حال نہیں ہے۔ اس میں ایک بندہ زور سے ظلم سے ہیکڑی سے زبردستی سے دوسرے بندے کو ستاتا، اس کا دل دکھاتا، اس کو ایذا پہنچاتا ہے اور اس قصور کا معاف کرنا نہ کرنا، اسی بندئہ مظلوم کے اختیار میں ہے۔\n\nمگر انصاف کرو۔ دنیا میں کتنے لوگ اس کی پروا کرتے ہیں۔ لاکھوں مظلمے ہیں جن کو بندگان خدا مرتے وقت اپنے سروں پر لاد کر لے جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ دین کو کھیل اور مذہب کو ہنسی سمجھ رکھا ہے۔ منہ سے کہتے ہیں کہ مرنا برحق، نکیرین کے ساتھ سوال و جواب کا ہونا برحق، عذاب قبر برحق، قیامت برحق، مرے بعد پھر زندہ ہونا برحق، رتی رتی کا حساب دینا برحق، جنت برحق، دوزخ برحق اور کردار تھوکنے کے قابل۔\n\nسید حاضر مجھ میں تم میں قرابت کا ایک تعلق ہے اور جیسا میں نے تم سے کہا کہ حقوق و فرائض تعلق سے پیدا ہوتے ہیں۔\n\nحقوق اور فرائض میں اس کو اپنا فرض تعلق سمجھتا تھا کہ تمہارے فرائض کو تم پر بالا جمال ظاہر کر دوں سو میں نے اپنا فرض ادا کیا یہ کہہ کر متقی بھانجے سے رخصت ہوا اور چلتے چلتے کہہ گیا کہ افسوس ہے سید ناظر سے ملاقات نہ ہوئی انشاء اللہ پھر کسی دن آؤں گا میر متقی نے اچھے خاصے پہر سوا پہر سید حاضر کے ساتھ باتیں کیں، اس تمام وقت میں سید حاضر کا یہ حال تھا کہ ماموں کے منہ پر اس کی ٹکٹکی بندھی ہوئی تھی اور ہمہ تن گوش ہو کر ان کی باتوں میں مستغرق تھا جو لفظ ماموں کے منہ سے نکلتا اس کے دل میں بیٹھتا چلا جاتا۔\n\nحاضر کے کان مطلقاً ایسی باتوں سے آشنا نہ تھے اس پر میرمتقی کا بیان کہ گویا ایک دریا ہے کہ موجیں مار رہے یا ریل ہے کہ فی گھنٹہ سو میل کی رفتار سے دوڑ رہی ہے۔ یا بھری برسات میں ساون بھادوں کا بادل ہے کہ امڈا چلا آ رہا ہے اور پھر باتیں کھری سچی ستھری جن میں ذرا اونچ نیچ نہیں دنیا کے فائدوں کی ضامن دین کی درستی کی کفیل بھلائی کی اصلاح بہتری کا مشورہ سید حاضر بت کی طرح چپ بیٹھا سنتا رہا اگرچہ گاؤں کا کام کاج کرتا تھا مگر کونسا گاؤں سید نگر، جہاں کے پرچونٹے ساہوکاروں کے شکمی کاشتکار تعلقہ داروں کے، جاہل محض لیاقت شعاروں کے اہل مقدمہ وکیل مختاروں کے کان کترتے تھے مگر متقی نے اتنا کچھ کہا اور سید حاضر سے چوں کرتے نہ بن پڑی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/15"} {"title": "فسانہء مبتلا/16", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "دسواں باب: حاضر بہن کو حق دینے پر آمادہ اور ناظر کی رنجش\n\nمیر متقی کے چلے جانے کے بعد بھی سید حاضر دیر تک سکتے کے عالم میں تھا، اپنے یہاں کے معاملات میں سے جس معاملے پر نظر کرتا تھا کسی کو دخل فساد سے اور اتلاف حقوق العباد سے خالی نہیں پاتا تھا۔ جن باتوں پر اس کو بڑا ناز تھا۔ اب اس کی نظر میں نہایت ذلیل اور پاجی پن کی دلیل معلوم ہوتی تھیں۔\n\nوہ گھبرایا ہوا دالان میں ٹہل رہا تھا اور اس قدر بیقرار تھا کہ جاڑے کے دن اور شام کا وقت اس کو پسینے پر پسینے چلے آتے تھے اور دیکھتا تھا کہ کھانا اور پینا اور اوڑھنا اور بچھونا اور سازوسامان اور مال و متاع اور نقد و جنس غرض کہ اپنا گوشت پوست کوئی چیز بھی لوث حرمت سے پاک نہیں پاتا تھا کہ بدکرداری اور بد معاملکی ہماری برادری اور ہمارے خاندان میں نسلوں سے چلی آتی ہے۔\n\nاگرچہ حاضر و ناضر دونوں باپ کے مرنے سے معاملات کرنے لگے تھے مگر حاضر نے احتساب کیا تو اتنے ہی دنوں میں کئی صد مظلمے ان کے نامئہ اعمال پر چڑھ چکے تھے اور ان میں اکثر ایسے تھے جن کا تدارک محال تھا اور تلافی ناممکن۔ ہم کو حاضر کی اتنی بات سے تعلق ہے کہ جہاں اس کو اپنے وقت کے اور بہت سے معاملے یاد آئے ان میں سے ایک معاملہ غیرت بیگم کا تھا۔\n\nاگرچہ غیرت بیگم کے معاملے میں ابتداءً تحریک ناظر کی طرف سے ہوئی اور کسی کو اس میں زیادہ اصرار بھی نہیں تھا۔ مگر پھر بھی حاضر کا اتنا قصور تو تھا ہی کہ بڑا بھائی ہو کر اس نے ناظر کو سمجھایا نہیں۔ غیرت بیگم کا خیال آنا تھا کہ فوراً گھوڑا کسا اور سوار ہو کر راتوں رات شہر میں ناظر کے مکان پر جا دستک دی۔\n\nاگلے دن کسی مقدمے کی پیشی تھی اور ناظر آدھی رات تک گواہوں کی تعلیم اور کاغذات کی درستی میں مصروف تھا۔\n\nابھی اچھی طرح نیند بھری ہی نہ تھی کہ بھائی کی آواز سن کر چونک پڑا اور لگا پوچھنے خیر تو ہے آپ ایسے سویرے کیونکر آئے۔\n\nحاضر: خیر ہے تم باطمینان وقتی ضرورتوں سے فارغ ہو تو میں اپنے آنے کی وجہ بیان کروں۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ تھوڑی دیر بعد جب دونوں بھائی ایک جا ہوئے تو حاضر نے پوچھا: چھوٹے ماموں آئے ہیں تم ان سے ملے۔\n\nناظر: ماموں کا آنا تو مجھے معلوم ہوا مگر میں ملا نہیں اور ملنے کا ارادہ بھی نہیں۔\n\nحاضر: کیوں؟\n\nناظر: میں جانتا ہوں کہ وہ آپا کا جھگڑا ضرور نکالیں گے اور مجھ کو کسی طرح آپا کا حصہ دینا منظور نہیں بے فائدہ باتوں ہی باتوں میں تکرار ہو پڑے گا۔\n\nحاضر: کیوں بے چاری غیرت نے ایسا قصور کیا کیا ہے، کیا وہ ہماری حقیقی بہن اور متروکہ پدری میں عند اللہ اور عند الرسول حقدار نہیں ہے۔ حاضر کے منہ سے یہ سوال سن کر ناظر کے کان کھڑے ہو گئے۔\n\nآدمی تھا معاملہ فہم معاملہ شناس فوراً تاڑ گیا کہ بھائی ماموں سے ملے اور ماموں نے پٹی پڑھائی تو کہتا کیا ہے کہ اگر ماموں کوئی فتویٰ مکے سے لکھوا کر لائے ہوں تو اس کو اپنی قدوری میں چپکا رکھیں ان کو شاید یہ معلوم نہ ہو گا کہ یہاں شریف مکہ کا حکم نہیں چلتا انگریز بہادر کی عمل داری ہے۔ میں نے برسوں کی جستجو میں پریوی کونسل اور عدالت ہائے عالیہ ہائی کورٹ اور چیف کورٹ اور جوڈیشنل کمشنر کے فیصلوں اور میکناٹن سرہنری لاکی شرع محمدی سے وہ وہ نظائر اور احکام چھانٹ رکھے ہیں کہ اگر آپا سے جہیز واپس نہ کرا لوں تو سید نہیں چمار۔\n\nحاضر کو بھی بھائی کی اس قدر خشونت دیکھ کر نہایت استعجاب ہوا کیونکہ اس نے آج تک حاضر کے رو در رو ایسی شوخ چشمی کے ساتھ کبھی بات نہیں کی تھی اور بولا کہ تم ماموں سے ناحق بدگمان ہوتے ہو میں ان سے ملا بے شک وہ اور تعزیت کے لیے سید نگر تشریف لے گئے۔\n\nمگر غیرت بیگم کا نام تک ان بے چارے نے نہیں لیا اور افسوس ہے کہ تم نے ان کی شان میں خورد ہو کر اس قدر گستاخی کی اور وہ بھی غائبانہ پس تم نے ایک بزرگ کا حق تلف کیا۔\n\nناظر: انہوں نے آپا کا نام نہ لیا ہو گا۔ فرض کیا میں نے گستاخی کی تو قانون نے صرف ایک ہی گستاخی کو جرم قرار دیا ہے۔ یعنی حکم عدالت کے ساتھ گستاخی کرنا جبکہ وہ عدالت کا اجلاس کر رہا ہو اور ظاہر ہے کہ ماموں اس کے مصداق نہیں ہو سکتے۔ ناظر کے اس جواب سے حاضر کو سید متقی کی اس بات کی تصدیق ہوئی کہ حکام ظاہر کے انتظام سے پورے طور پر حقوق العباد کی حفاظت نہیں ہو سکتی۔\n\nسید متقی کے وعظ سے سید حاضر کے خیالات دفعتہً اس قدر متاثر ہو گئے تھے کہ دونوں بھائیوں میں التیام کا ہونا محال تھا۔ ناظر اپنے اسی پرانے موروثی ڈھرے چلتا تھا کہ قانونی گرفت بچا کر جہاں تک اور جس طرح ممکن ہو اپنا فائدہ کرنا چاہیے، کسی کا حق تلف ہو تو مضائقہ نہیں، کسی کا دل دُکھے تو پرواہ نہیں، عاقبت تباہ ہو تو کچھ حرج نہیں اور سید حاضر کو اب اس بلا کا اہتمام تھا کہ ایک غیبت کو بھی وہ اتلافِ حق سمجھا، عرض یہ جو سنا کرتے تھے:\n\nیاہم خدا خواہی ہم دنیائے دوں\n\nایں خیال ست و محال ست و جنوں\n\nاب وہ معمہ حل ہوا کہ حقیقت میں وہ یہ دنیا ہے کہ جیسی ناظر کی تھی جس میں حلال و حرام کا امتیاز نہیں جائز و ناجائز کا فرق نہیں خدا اور رسول کا خوف نہیں، روز قیامت کا اندیشہ نہیں، ناظر کی اتنی ہی باتوں سے حاضر کو پورا یقین ہو گیا کہ اس کو سمجھانا اس کے ساتھ بحث کرنا محض بے سود اور لاحاصل ہے۔\n\nاس پر قانون کی پھٹکار ہے اور اس کے سر پر چڑھا ہوا جن سوار ہے۔ اس لیے زیادہ رد و کد مناسب نہ سمجھ کر اس نے دو ٹوک بات ناظر کو سنا دی کہ تم اس کو ماموں کا اغوا سمجھو یا میری حماقت میں تو غیرت بیگم کا حق اب ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکھ سکتا۔\n\nناظر: دیکھیے ایسا کیجئے گا تو مجھ سے آپ سے بگاڑ ہو جائے گا۔\n\nحاضر: اگر اتنی ہی بات پر کہ میں ایک حقدار کا حق مارنا نہیں چاہتا تم مجھ سے بگڑو تو تمہاری خوشی اگرچہ تمہارے بگڑنے کا مجھ کو سخت افسوس ہو گا مگر اس سے ہزار درجے زیادہ افسوس ہو گا اگر غیرت بیگم کا حق غصباً میرے پاس رہے۔\n\nناظر: یہ آپا کی خصوصیت کیا ہے۔\n\nحاضر: خصوصیت پوچھو تو ہماری حقیقی بہن ہے۔ مگر ایصال حق کے لیے اس کی مطلق خصوصیت نہیں ہے انشاء اللہ تعالیٰ سب حق داروں کے ساتھ میں ایسا ہی معاملہ کروں گا۔\n\nناظر: تو آپ سیدھی بات یہی کیوں نہیں کہتے کہ آپ ترک دنیا پر آمادہ ہیں۔\n\nحاضر: اگر مغصوبات کا واپس کر دینا تمہارے نزدیک ترک دینا ہے تو مجھے اس سے انکار نہیں۔\n\nناظر: بیٹھے بٹھائے یہ آپ کو ہوا کیا ہے پہلے تو میں ماموں کومولوی حاجی اور جیسا ان کا نام ہے متقی سمجھتا تھا۔ اب معلوم ہوا کہ تسخیر یا سحر کے بھی عامل ہیں۔\n\nحاضر: ماموں کی شان میں تمہاری طرف سے یہ دوسری گستاخی اور دوسری غیبت اور دوسرا اتلافِ حق ہے۔\n\nناظر: میں آپ کو آگاہ کیے دیتا ہوں کہ یہ گھر کی تباہی کے سامان ہیں۔\n\nحاضر: جس گھر کی آبادی دوسروں کے حقوق کے غصب کرنے پر موقوف ہو اس کا تباہ ہونا بہتر ہے۔\n\nناظر: تم نے انجام کار پر بھی نظر کر لی ہے۔\n\nحاضر: انجام کار پر نظر کرنا ہی مجھ کو تو اس ارادے کا باعث ہوا ہے۔\n\nناظر: تو آپ مجھ کو بھی اپنے ساتھ برباد کرتے ہیں۔ کیسی کیسی تدبیروں سے میں نے ملکیت کو درست کیا۔ اب ایک ڈھنگ پر آچلی تھی تو آپ ساری عمارت کو جڑ بنیاد سے ڈھائے دیتے ہیں۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/16"} {"title": "فسانہء مبتلا/17", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "حاضر: کیا تم نے مجھ کو مجنوں قرار دیا ہے یا مخبوط الحواس سمجھا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص بھی ایسا ہے جو دیدہ دانستہ اپنے پاؤں میں آپ کلہاڑی مارے یا سمجھ بوجھ کر اپنے رہنے کے مکان میں آپ آگ لگائے فرق صرف اتنا ہی ہے کہ اس بات کا میں نے قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ دنیا کو دین پر ترجیح نہ دوں اور جس دنیاوی فائدے میں دین کا ضرر ہے اس کا طمع نہ کروں۔ اگر ایسا کرنے سے میری دنیا برباد ہوتی ہو اور اگر مجھ پر دنیاوی تباہی آتی ہو تو آئے۔\n\nجب میں نے دین کے خلاف دنیاوی فائدے کا لالچ نہ کیا تو دنیاوی نقصان کی میں کیا پرواہ کر سکتا ہوں۔ ناظر میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میں تمہارے فائدے بہت ہی عزیز رکھتا ہوں مگر وہیں تک کہ وہ فائدے جائز طور پر حاصل کیے جائیں غضب اور ظلم اور دغا اور فساد اور اتلاف حقوق العباد کو نہ میں اپنے لیے جائز رکھتا ہوں اور نہ تمہارے لئے۔\n\nناظر: یہی تو میں کہتا ہوں کہ آپ پر ماموں نے جادو کیا۔\n\nحاضر: اگر تمہارے نزدیک یہ جادو ہے تو یہی جادو تمام پیغمبر صلوٰة اللہ وسلامہ علیہم اجمعین تمام اولیاء تمام انبیاء تمام اتقیا کرتے آئے ہیں مگر جادو ایک مکروہ لفظ ہے۔ اس کا استعمال بزرگان دین کے حق میں میرے نزدیک تو درست نہیں۔\n\nناظر: اچھا تو ایک کام کیجئے آپ اپنے حصے کا بٹوارہ کرا لیجئے اور علیحدہ ہو جائیے۔\n\nحاضر: میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا تھا مگر اس صورت میں مشکل یہ ہے کہ جب تک ملکیت تمام مظالم سے پاک نہ ہو میں اس میں سے حصہ لے نہیں سکتا۔\n\nناظر: آپ نے ساری ملکیت کا ٹھیکہ نہیں لیا۔ اپنے مذہب کی رو سے حصہ پدری میں سے جتنا حصہ آپ اپنا سمجھتے ہوں الگ کر لیجئے۔\n\nحاضر: والد مرحوم کی جگہ میرا اور تمہارا اور غیرت بیگم تینوں کا نام لکھا جانا چاہیے۔ ہم دونوں نے ناحق اور ناروا بہن کو محروم کر کے اپنے ہی نام حصے پڑھوائے تو نصف نصف ہم دونوں کا ہوا پس سرکاری کاغذات میں میرا نصف حصہ لکھا ہے۔\n\nاس میں بھی تو غیرت بیگم کا ایک عشر شامل ہے جس کو میں اپنے پاس رکھنا نہیں چاہتا۔\n\nناظر: آپ بٹوارے کی درخواست میں لکھ دیجیے کہ اگرچہ میرے نام نصف حصہ لکھا ہے مگر حقیقت میں میرا دو خمس ہوتا ہے۔ اسی قدر کا میں بٹوارہ چاہتا ہوں۔ حاکم آپ کی درخواست تصدیق کر کے آپ کے دو خمس کا بٹوارہ کر دے گا۔\n\nحاضر: تو غیرت بیگم کا یہ ایک عشر بھی تمہاری طرف منتقل ہو جائے گا۔\n\nحاضر: تو اس کے یہ معنی ہیں کہ میں غیرت بیگم کا ایک عشر جو میرے نام ہے تمہارے نام منتقل کر دوں۔\n\nناظر: خیر معنے مطلب تو میں سمجھتا نہیں۔ ایک راہ کی بات تھی جو میں نے آپ کو بتائی اگر آپ کو مجھ سے سے پرخاش نہیں ہے تو جس طرح میں نے بیان کیا درخواست لکھیے اور پیش حاکم اس کو چل کر تصدیق کرائیے باقی مراتب میں دیکھ بھال لوں گا آپ کو وہی دوخمس ملے گا جو آپ چاہتے ہیں۔\n\nحاضر: غیرت بیگم کا ایک عشر میں تمہارے نام تو منتقل نہیں کرا سکتا وہ بھی تو ناجائز ہے حقدار کو تو اس کا حق نہ ملا ہاں اگر کہو تو درخواست میں یہ بات بیشک لکھ دوں کہ میرے نام جو نصف حصہ لکھا ہے اس میں دو خمس میرا ہے اور ایک عشر غیرت بیگم کا۔\n\nناظر: اس سے تو میری تصفی میں فتور پڑے گا۔\n\nحاضر: پڑے گا تو تم جانو میرے اختیار کی بات نہیں۔\n\nناظر: آپ کے اس اصرار سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف تقاضائے دین داری نہیں ہے بلکہ ماموں کے سب فساد ہیں۔\n\nحاضر: تم بار بار ہر پھرکر ماموں کو ان کی پیٹھ پیچھے بُرا کہتے جاتے ہو مجھ کو اس بات سے سخت تکلیف ہوتی ہے۔ میں نے تم سے کہا کہ ماموں نے غیرت بیگم کا نام تک نہیں لیا اور تم نے میرے کہنے کو سچ نہ جانا، فرض کرو ماموں ہی نے مجھ کو غیرت بیگم کا حق مغضوب واپس کر دینے پر آمادہ کیا تو احقاق حق میں کوشش کرنا فساد ہے۔\n\nناظر یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا اور بولا کہ بہت خوب معلوم ہوا، آپ آپا کو ان کا حصہ دیجئے اگر آپ سے دیا جائے اور وہ لیں اگر ان سے لیا جائے اور ماموں جس غرض سے بھانجی کی خوشامد میں لگے ہیں مجھ کو معلوم ہے۔ مبتلا بھائی کو انہوں نے دیکھ پایا بھولا۔ بیوقوف چاہتے ہیں کہ بھانجی کے نام سے بڑے ماموں کی تمام املاک پر خود قابض ہو جائیں لیکن (مونچھوں پر تاؤ دے کر) اگر ناظر کے دم میں دم ہے تو ماموں کو ایسا مزا چکھاؤں کہ سات برس بعد تو حج سے پھر کر آنا نصیب ہوا اب ان کو ہجرت ہی کرنی پڑے تو سہی۔\n\nآپ کا حصہ لینا ایسا کیا ہنسی کھیل ہے۔\n\nحاضر: بے چارہ اپنا سا منہ لے کر سید نگر واپس آگیا غمگین اداس۔ خدا کی شان ہے کہ کل شاموں شام سید متقی کے وعظ سے حاضر متنبہ ہوا توبہ کی تلافی مافات پر آمادہ ہوا راتوں رات بھاگا ہوا بھائی کے پاس آیا۔ ابھی جی کھول کر بھائی سے باتیں نہیں کرنے پایا تھا کہ سخت امتحان میں پکڑا گیا وہ خوب واقف تھا کہ ناظر ایک سانپ ہے۔\n\nاس بلا کا زہریلا کہ اس کا کاٹا پانی نہ مانگے۔ اس کا ڈسا ہوا پھٹکار نہ کھائے، وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ناظر اگر بگڑا اور اب اس کے بگڑنے میں کسر ہی کیا باقی تھی تو کیسی زمینداری اور کس کی حصہ داری گاؤں کا رہنا دشوار کر دے گا اور اس کے ہاتھوں سے زندگی وبال دوش ہو جائے گی۔\n\nیہ خیال کر کے وہ جی ہی جی میں اپنے آپ کو سمجھاتا تھا کہ تجھ کو بھائی کے ساتھ بگاڑنا کیا ضروری ہے۔\n\nاگر وہ غیرت بیگم کا حصہ نہیں دیتا نہ دے، وہ جانے اور اس کا کام جانے اپنا اپنا کرنا اپنا اپنا بھرنا۔ غیرت بیگم کا حصہ لینا ہو گا تو آپ سے آپ نالش کریں گے۔ میری طرف سے اتنا ہی کافی ہے کہ ابھی سے غیرت بیگم کے حصے سے دست بردار ہو جاؤں اور اگر نالش ہو تو دعوے کی تردید نہ کروں۔ پھر سوچتا تھا کہ اب تک جو غیرت بیگم حصے سے بے دخل رہیں۔ اس کا وبال جیسا ناظر پر ویسا مجھ پر، مجھ پر زیادہ اور ناظر پر کم کیونکہ میں پٹی کا نمبردار ہوں اور پٹی کی تحصیل کی وصولی میرے ہاتھوں سے ہوتی ہے۔\n\nعلاوہ اس کے کہ کیا یہ انصاف کی بات ہے کہ ہم دونوں بھائی تو بے زحمت اپنے حقوق پر قابض ہوں اور غیرت بیگم کو نالش کرنے پر مجبور کریں صرف اس وجہ سے کہ وہ عورت ہے پردہ نشین اور کوئی اس کے حق کی حفاظت کرنے والا نہیں، دنیا میں آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لی تو خدا کو کیا جواب دیں گے اور مانا کہ میں غیرت بیگم کے حصے سے دستبردار ہو بیٹھا تو وہی بات پھر آئی کہ میں نے نہ لیا ناظر کو لینے دیا۔\n\nغیرت بیگم کو تو اس کا حق نہ پہنچا۔ علاوہ ازیں آج تک تو ایک غیرت بیگم کا معاملہ ہے اس میں یہ حجت ہے ابھی تو ایسے ایسے صد ہا معاملے نکلیں گے، غرباء کے ضعفاء کے اور ایسے لوگوں کے جن کو سوا خدا کہیں پناہ نہیں اور ناظر کا منشاء تو معلوم ہو چکا کہ وہ تو سوائے قانون کے خدا اور رسول کسی سے ڈرنے دبنے والا نہیں تو بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ بھائی سے تو ایک نہ ایک دن جھگڑے ہوں گے ہی اور آج اگر غیرت بیگم کے معاملے میں میں نے ذرا بھی اپنا ضعف ظاہر کیا پھر تو ناظر کی جیت ہے۔ غرض یہ تزلزل تو ٹھیک نہیں بلکہ وسوسہ شیطانی ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/17"} {"title": "فسانہء مبتلا/18", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "گیارہواں باب: غیرت بیگم سے انصاف\n\nایسے ابتلا کے وقت میں خدا نے حاضر کی مدد کی۔ اس کو معلوم تھا کہ ناظر کے پاس سادہ سٹامپ کا ایک بستہ ہے۔ آخر ڈھونڈ سے ملا۔ کھول کر دیکھتا ہے۔ تو اس میں پرانے پچھلے سنوں کے متعدد قطعات ہیں، سمجھا کہ ناظر نے کسی ارادئہ فاسد سے ان کو بہم پہنچایا ہے۔\n\nاس نے اٹھنی کا ایک قطعہ نیا سا دیکھ کر تو لے لیا اور باقی اس فساد کو پوٹ کر چولھے میں جھونک دیا جو قطعہ اس نے نکال لیا تھا۔ اس پر ایک درخواست لکھی جس کی عبارت یہ تھی کہ میں اور سید ناظر اور غیرت بیگم تینوں حقیقی بھائی بہن ہیں، غیرت بیگم کا نام پٹی داری میں داخل ہونے سے رہ گیا میں پٹی کا نمبر دار ہوں اور میرے ہاتھوں پٹی کی تحصیل وصول ہوتی ہے۔\n\nغیرت بیگم کے حق اور قبضہ کومیں تصدیق کرتا ہوں۔ اسی لیے غیرت بیگم کا نام ایک خمس حصے پر چڑھا دیا جائے اور اسی وقت درخواست کو رجسٹری کرا کر حاکم پر گنہ کے نام روانہ کر دیا وہاں سے معمول کے مطابق اشتہار جاری ہوا۔ اشتہار کا آنا تھا کہ سید ناضر نے عذر داری کا مقدمہ لڑنا شروع کیا۔ کلکٹری میں تو سرسری کارروائی ہوتی ہے اور صرف قبضہ دیکھا جاتا ہے۔\n\nچونکہ نمبر دار پٹی نے جس کے ہاتھ سے پٹی کی تحصیل وصول کی تھی غیرت بیگم کے قبضے کی تصدیق کی۔\n\nاس سبب سے ناضر کی عذر داری نا منظور اور غیرت بیگم کا نام ایک خمس پر داخل ہونے کا حکم ہو گیا مگر سید ناظر محکمہ کلکٹری کو یا مال کو کچھ سمجھتا تھا۔ جس وقت داخل خارج کا حکم پہنچا تو اس کے مختار نے تسلی کے طور پر اس سے کہا کہ نمبردار کے بیان مجرد پر حکم ہو گیا ہے۔\n\nیہ حاکم کی رائے ہے، اپیل کی بڑی گنجائش ہے۔ ناظر نے کہا: ارے میاں کہاں اپیل اور کس کا مراقعہ کل تو نہیں پرسوں تم کو والدہ کا تحریری وصیت نامہ لا کر دیتا ہوں۔ اس کی بنیاد پر اثبات حقیقت کا دعویٰ دیوانی میں دائر کرو تو نمبردار کی ساری شیخی کرکری ہو جائے گی۔ ناظر وصیت نامہ لینے گھر دوڑا ہوا آیا اور اسٹامپ کے بستے کی تلاش میں سیدھا کوٹھڑی میں گھسا بستہ ندارد اس کا ماتھا ٹھنکا معلوم ہوا کہ ایک بستہ تو بڑے میاں کوئی ڈیڑھ مہینہ ہوا جلا چکے ہیں۔\n\nیہ سنتے ہی پیٹ پکڑ کر بیٹھ گیا۔ حاضر ناظرکا جھگڑا ہمارے قصے سے متعلق نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ دونوں بھائیوں میں ایسی چلی ایسی چلی کہ سید نگر والوں میں بھی جو سنتا دانتوں میں انگلی رکھ لیتا تھا۔ قاعدہ ہے کہ آٹے کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ سید حاضر کے ساتھ غیرت بیگم اور غیرت بیگم کی لپیٹ میں سید متقی کی بھی شامت آئی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/18"} {"title": "فسانہء مبتلا/19", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "گیارہواں باب: غیرت بیگم سے انصاف\n\nایسے ابتلا کے وقت میں خدا نے حاضر کی مدد کی۔ اس کو معلوم تھا کہ ناظر کے پاس سادہ سٹامپ کا ایک بستہ ہے۔ آخر ڈھونڈ سے ملا۔ کھول کر دیکھتا ہے۔ تو اس میں پرانے پچھلے سنوں کے متعدد قطعات ہیں، سمجھا کہ ناظر نے کسی ارادئہ فاسد سے ان کو بہم پہنچایا ہے۔\n\nاس نے اٹھنی کا ایک قطعہ نیا سا دیکھ کر تو لے لیا اور باقی اس فساد کو پوٹ کر چولھے میں جھونک دیا جو قطعہ اس نے نکال لیا تھا۔ اس پر ایک درخواست لکھی جس کی عبارت یہ تھی کہ میں اور سید ناظر اور غیرت بیگم تینوں حقیقی بھائی بہن ہیں، غیرت بیگم کا نام پٹی داری میں داخل ہونے سے رہ گیا میں پٹی کا نمبر دار ہوں اور میرے ہاتھوں پٹی کی تحصیل وصول ہوتی ہے۔\n\nغیرت بیگم کے حق اور قبضہ کومیں تصدیق کرتا ہوں۔ اسی لیے غیرت بیگم کا نام ایک خمس حصے پر چڑھا دیا جائے اور اسی وقت درخواست کو رجسٹری کرا کر حاکم پر گنہ کے نام روانہ کر دیا وہاں سے معمول کے مطابق اشتہار جاری ہوا۔ اشتہار کا آنا تھا کہ سید ناضر نے عذر داری کا مقدمہ لڑنا شروع کیا۔ کلکٹری میں تو سرسری کارروائی ہوتی ہے اور صرف قبضہ دیکھا جاتا ہے۔\n\nچونکہ نمبر دار پٹی نے جس کے ہاتھ سے پٹی کی تحصیل وصول کی تھی غیرت بیگم کے قبضے کی تصدیق کی۔\n\nاس سبب سے ناضر کی عذر داری نا منظور اور غیرت بیگم کا نام ایک خمس پر داخل ہونے کا حکم ہو گیا مگر سید ناظر محکمہ کلکٹری کو یا مال کو کچھ سمجھتا تھا۔ جس وقت داخل خارج کا حکم پہنچا تو اس کے مختار نے تسلی کے طور پر اس سے کہا کہ نمبردار کے بیان مجرد پر حکم ہو گیا ہے۔\n\nیہ حاکم کی رائے ہے، اپیل کی بڑی گنجائش ہے۔ ناظر نے کہا: ارے میاں کہاں اپیل اور کس کا مراقعہ کل تو نہیں پرسوں تم کو والدہ کا تحریری وصیت نامہ لا کر دیتا ہوں۔ اس کی بنیاد پر اثبات حقیقت کا دعویٰ دیوانی میں دائر کرو تو نمبردار کی ساری شیخی کرکری ہو جائے گی۔ ناظر وصیت نامہ لینے گھر دوڑا ہوا آیا اور اسٹامپ کے بستے کی تلاش میں سیدھا کوٹھڑی میں گھسا بستہ ندارد اس کا ماتھا ٹھنکا معلوم ہوا کہ ایک بستہ تو بڑے میاں کوئی ڈیڑھ مہینہ ہوا جلا چکے ہیں۔\n\nیہ سنتے ہی پیٹ پکڑ کر بیٹھ گیا۔ حاضر ناظرکا جھگڑا ہمارے قصے سے متعلق نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ دونوں بھائیوں میں ایسی چلی ایسی چلی کہ سید نگر والوں میں بھی جو سنتا دانتوں میں انگلی رکھ لیتا تھا۔ قاعدہ ہے کہ آٹے کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ سید حاضر کے ساتھ غیرت بیگم اور غیرت بیگم کی لپیٹ میں سید متقی کی بھی شامت آئی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/19"} {"title": "فسانہء مبتلا/20", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "بارہواں باب: سید ناظر کے فسادات\n\nناظر کو شروع میں صرف اسی پر اصرار تھا کہ غیرت بیگم کا حصہ نہ دوں، سٹامپ کے بستہ کا جلانا سن کر وہ بھائی پر نہایت برافروختہ ہوا اور اس نے دیوانی میں سالم حقیقت پدری کا دعویٰ دائر کیا۔ اس بیان سے کہ نہ حاضر میر باقر کا بیٹا ہے اور نہ غیرت بیگم میر باقر کی بیٹی۔\n\nاس نے بات یہ بنائی کہ میرباقر کا اکلوتا بیٹا میں ہوں میرے پیدا ہونے میں دیر ہوئی تو میر باقر لے پالک کے طور پر حاضر کی پرورش اور پرداخت کرنے لگے اور اس بیان کی تائید میں سٹامپ کے کاغذ پر ایک وصیت نامہ پیش کیا جس پر میرباقر کی مہر تھی اور اس کا سوادِ خط بھی میر صاحب کے خط سے تھا۔ میرمتقی کی نسبت ایک گم نام عرضی لفٹینٹی میں پہنچی کہ سلطان روم کی طرف سے جاسوس بن کر آئے ہیں اور لوگوں کو چپکے چپکے جہاد کی ترغیب دیتے ہیں اور عنقریب ہندو مسلمانوں میں ان کے اغواء سے فساد عظیم ہونے والا ہے۔\n\nمتقی کو اس وقت تک داخل خارج کے سوا کچھ حال معلوم نہ تھا دور سے حاضر کو دیکھتے ہی خوش ہو کر لگے تحسین و رضا کی باتیں کرنے۔حاضر نے پاس آکر ناظر کی عرضی دعوے کی نقل دکھائی تو وہ ایسے سناٹے میں گئے کہ بہت دیر ہو گئی اور برا یا بھلا کوئی ہی لفظ منہ سے نہ نکالا تو حاضر نے خود ابتدا کی اور کہا کہ میں اس غرض سے حاضر ہوا تھا کہ میں تو اپنے میں ناظر کے مقابلہ کی طاقت نہیں پاتا۔\n\nعزت کو، آبرو کو، سچائی کو، دین کو، ایمان کو، خوف کو، خدا کو، سب کو، ایک دم سے بالائے طاق رکھ دوں تو ناظر کے ساتھ لڑنے کا نام لوں اور یہ مجھ سے اب نہیں ہو سکتا، ہر چند رہ رہ کر غصہ آتا ہے اور بے اختیار جی چاہتا ہے کہ اس مرد کو اسی قانون سے جس پر اس کو بڑا گھمنڈ ہے اس کے کیے کی ایسی سزا دلواؤں کہ ساری عمر اس کو قید سے نجات نہ ہو اور اس کی تدبیریں سمجھ میں آتی ہیں اور میرے اختیار کی بھی ہیں۔\n\nناظر کتنا ہی قاعدہ داں اور ضابطہ شناس کیوں نہ ہو۔ آخر ہے تو مجھ سے چھوٹا لیکن آپ کے ارشاد کے مطابق میں خدا سے عہد کر چکا ہوں کہ دنیا کے لیے دین کو نہیں بگاڑوں گا اب دنیا میں ایک فضیلت نہیں ہزار فضیلت اور ایک نقصان نہیں ہزار نقصان کیوں نہ ہو جائیں اس عہد کو تو میں توڑ نہیں سکتا مگر ناظر کے حملے سے بچنے کے لیے میں نے ایک تدبیر سوچی ہے۔\n\nمیرغالب کو تو آپ جانتے ہوں گے وہ بھی ان دنوں سید نگر کے بڑے چلتے ہوئے پرزوں میں ہیں۔ سیدنگر خاص میں ان کا بھی تھوڑا سا حصہ ہے۔ ان کی وکالت آج کل بڑے زوروں پر ہے۔ چند روز ہوئے مجھ سے کہتے تھے کہ اگر کوئی حصہ بکتا ہو تو مجھ کو خبر کرنا تو میں نے یہ تجویز سوچی ہے کہ اپنا حصہ ان کے ہاتھ فروخت کر دوں جو اب ترکی بترکی۔ وہ ناظر سے سمجھ بوجھ لیں گے۔\n\nاتنا ہی خیال ہے کہ گاؤں میں حصہ ہے تو رعایا پر سو طرح کی حکومت ہے مگر جس طرز پر مجھ کو آئندہ زندگی گزارنی منظور ہے اس کے لیے مجھے حکومت درکار نہیں۔ آپ سے اتنی بات پوچھنی تھی کہ اگر آپ کی صلاح ہو تو غیرت بیگم کے حصے کی بھی بات چیت میرغالب سے کی جائے، میں نہیں سمجھتا کہ غیرت بیگم کو ناظر چین لینے دے گا۔ یہ سن کر میرمتقی نے کہا کہ ان معاملات کو تم مجھ سے بہتر سمجھتے ہو۔\n\nقرابت کے اعتبار سے بھی تم نزدیک تر ہو اور تمہارے معاملے کی سچائی کا یہی بڑا ثبوت ہے کہ تم نے بے نالش غیرت بیگم کو اس کا حق دیا اور دلوایا اور بلکہ حق کے واسطے تم نے بھائی سے بگاڑی اور اس بگاڑ کے نتائج کی پہلی قسط یہ عرضی ہے جو تم نے مجھ کو دکھائی۔ خدا حق ہے اور وہ حق سے راضی ہوتا ہے اور وہی حقداروں کی حمایت کرنے والا ہے اور انشاء اللہ آخر حق کو غلبہ ہے۔\n\nاس بات میں تم اپنی بہن سے مشورہ کرو لیکن اگر میری رائے پوچھتے ہو تو شروع سے تم نے غلطی کی۔ تم نے وہ کیا اور آئندہ بھی وہی کرنا چاہتے ہو جو دنیا میں سبھی راست معاملہ کیا کرتے ہیں۔ بلاشبہ شرع کی رو سے تم پر کوئی الزام نہیں مگر الزام کے عائد نہ ہونے سے تم کسی تحسین کے بھی تو حقدار نہیں۔ تم کو اور غیرت بیگم دونوں کو صلاح دیتا ہوں کہ اگر کر سکو تو اپنے اپنے حق سے دستبردار ہو جاؤ ایسی کونسی بڑی مالیت ہے۔\n\nخدا نے تم کو بہت کچھ دے رکھا ہے، ناظر کو موروسی کچوانسیاں مبارک، لے کر وہی بڑے آدمی نہیں آخر وہ بھی تو کوئی غیر نہیں گھی کہاں گیا کھچڑی میں۔ تین بہن بھائیوں کے پاس نہ رہا، ایک کے پاس رہا بلاشبہ حصہ گو کتنا ہی جزوی کیوں نہ ہو چھوڑنا مشکل ہے۔ خصوصاً جب کہ موروثی ہو اور اسی گاؤں کا ہو، جس میں رہنا سہنا ہے اور چھوڑنابھی اس حالت میں کہ گالی گلوچ تک کی نوبت پہنچ چکی ہولیکن تم خود کہتے ہو کہ اب بدوں فضیلت کے اس کا سنبھالنا ممکن نہیں۔\n\nحصہ منتقل کر دینے کی تجویز جو تم نے سوچی ہے۔ صرف من سمجھوتی ہے، آخر اس کی تحقیقات ہو ہی گئی۔\n\nتمہارے مقابلے میں ہو یا خریدار کے تم دونوں میر باقر کی اولاد ہو جیسا کہ واقعی ہے یا نہیں ہو جیسا کہ ناظر نے دعویٰ عرضی میں لکھا ہے۔ اگرچہ کامل یقین ہے کہ آخر کار تم کو ناظر کے مقابلہ میں ظفر ہو گی لیکن پھر بھی ہمیشہ کے لیے تم سے چھوٹ جائے گا اور تم اس سے مدت العمر تم کو باہمی خرشوں سے نجات ملنے کی امید نہیں مگر جو تدبیر میں بتاتا ہوں اس کا انجام جہاں تک میری سمجھ میں آتا ہے انشاء اللہ یہی ہونا ہے کہ حصے کا حصہ تمہارے پاس رہے گا اور تم بھائی بہن پھر ایک کے ایک ہو جاؤ گے تھوڑی دیر کے لیے فرض کرو کہ ناظر نے کل حصہ لیا مگر اس طرح کہ وہ لینا چاہتا ہے یعنی جھوٹ بول کر جعلی بنا کر بھائی کو بہن کو ماں باپ کو یعنی اپنے آپ کو رسوا اور فضیحت کرنا کیسا صاف صاف گالیاں دے کر تو ناظر یہ حصہ لے کر تم دونوں کو تو خیر چھوڑ ہی دے گا مگر کیا بیوی بچے رشتہ دار کنبہ دار قبیلہ برادری خاندان دوست آشنا جان پہچان ایک دم ساری دنیا کو چھوڑ دے گا۔\n\nایسا تو نہیں ہو سکتا مگر سمجھتے ہو کہ دنیا اس کو کیا کہے گی۔ لعنت کرے گی۔ یگانے اور بے گانے سب اس کے منہ پر تھوکیں گے۔ لڑکے اس کے پیچھے تالیاں پیٹیں گے سب کی نظروں میں وہ خوار اور بے اعتبار اور انگشت نما ہو گا۔ درودیوار اور کوچہ و بازار سے اس پر پھٹکار برسے گی۔\n\nیہ حصہ ڈھاک کے کوئلے کا ایک دہکتا ہوا انگارہ ہو گا کہ وہ ہرگز اس کو مٹھی میں سنبھال نہ سکے گا۔\n\nمشکل سے مشکل مقدمات اور پیچیدہ سے پیچیدہ معاملات میں تم ایک مختار وکیل کے کہنے پر عمل کرتے ہو۔ اس ایک بات میں خدا کی صلاح پر بھی چل کر دیکھو کہ کیا نتیجہ ہوتا۔ خدا کی صلاح کیا ہے کہ اگر تجھ سے کوئی لڑائی کرے تو بھلائی کے ساتھ اس کا توڑ کر اور پھر دیکھ کہ یا تو تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی یا بات کی بات میں وہ تیرے ساتھ گرم جوشی کرنے لگا۔\n\nحقیقت میں جیسی میرمتقی نے پیشین گوئی کی تھی ویسا ہی ہوا۔ حاضر اور غیرت کی طرف سے ناظر کے دعویٰ کی کچھ تردید نہ ہوئی، قاعدے کے مطابق دعوے یک طرفہ ڈگری ہو گیا۔ مگر کیسی ڈگری کہ حاکم اور عملے اور اہل معاملہ اور چپڑاسی اور مدکوری سبھی نے تو ناظر کو ملامت کی جہاں گیا اس نے لتاڑا اور جس سے ملا اس نے پھٹکارا اور آخر کار ہار کر جھک مار کر کلنک کا ٹیکہ ماتھے پر لگا کہ جس قدر گالیاں تقدیر میں تھیں سن کر جتنی بدنامی مقدمہ میں تھی بھگت کر بضد منت و بہزار خوشامد ہاتھ جوڑ کر پاؤں پڑ کر وہی دو خمس حصہ حاضر کو اور وہی ایک خمس غیرت بیگم کو دیا اور ساری عمر کے لیے ناحق بیٹھے بٹھائے بھائی بہن سے شرمندہ ہونا پڑا سو الگ۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/20"} {"title": "فسانہء مبتلا/21", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "تیرہواں باب: میر متقی کا مبتلا کو سمجھانا\n\nپچھلے بیانات سے بخوبی ظاہر ہو گیا ہو گا کہ غیرت بیگم کے جتنے معاملات تھے، سبھی تو خدا نے میرمتقی کے ہاتھ سے درست کرائے اور کیسی عمدگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ کہ نہ لڑائی نہ جھگڑا نہ غصہ نہ فساد نہ غل نہ شور۔ تنخواہیں بھی جاری ہو گئیں مکانات اور دکانات کا بھی انتظام ہو گیا ناظر جیسے موذی کے پنجے سے حصہ زمینداری بھی چھٹا جس کے چھوٹنے کا کسی کو سان گمان بھی نہ تھا مگر ابھی غیرت بیگم کا سب سے بڑا معاملہ باقی تھا یعنی اس کے شوہر مبتلا کی اصلاح اس کی آوارگی کا علاج اس کی بدوضعی کی روک تھام۔\n\nعورت جب بیاہی گئی تو میاں ہی سے اس کا آرام میاں ہی سے اس کا عیش اور میاں ہی سے توقیر ہے اور میاں ہی سے اس کا اعزاز و احترام، آپس میں پیار اخلاص ہو تو دنیا کی ساری مصیبتیں جھیلی جا سکتی ہیں اور جہاں دلوں میں محبت نہیں پہننے میں مزہ اور کھانے میں لذت نہیں دل میں امنگ نہیں سنگھار میں بہار نہیں پھولوں میں باس نہیں، مہندی میں رنگ نہیں۔\n\nمیرمتقی کچھ اس سے غافل نہ تھے مگر مبتلا کے بارے میں ان کو بڑی مشکل یہ پیش آرہی تھی کہ ان میں اور مبتلا میں کئی سبب سے اختلاط اور واشدگی کا ہونا ممکن نہ تھا۔ اول تو رشتہ کو میرمتقی مبتلا کے چچا باپ کی جگہ۔ دوسرے عمروں کی بڑائی چھٹائی کہاں میرمتقی پچاس پچپن برس کے بوڑھے اور کہاں مبتلا بیس برس کا پٹھا۔\n\nتیسرے مبتلا کے ہوش میں میرمتقی کو دہلی آتے ہوئے یہ تیسرا پھیرا تھا ایسی صورت میں اجنبیت تو ہونی ہی چاہیے۔\n\nچوتھے وضع میں عادات میں خیالات میں ایک کو دوسرے سے مطلق مناسبت نہیں، پس حال یہ تھا کہ میری متقی مردانے میں ہیں تو مبتلا زنان خانے میں۔ انہوں نے زنان خانے میں قدم رکھا ادھر مبتلا آہٹ پاتے جھٹ باہر نکل آیا۔ رات دن میں صرف دو بار چچا بھتیجے بضرورت کھانے کے لیے دستر خوان پر جمع ہوتے تھے۔ وہ بھی اسی طرح کہ مبتلا نے چچا کے سامنے جانے کے لیے ٹوپی اور کپڑے اور جوتی سب چیزیں سادہ اور بھلے مانسوں کے استعمال کی الگ کر رکھی تھیں۔\n\nکھانے کے لیے طلبی آئی اور اس نے جلدی جلدی رگڑ رگڑ کر منہ دھویا، مونچھوں کو جن پر سارا سارا دن مالش رہتی تھی بل نکال کر سیدھا کیا پٹیوں کو ابھارا بالوں کی سج دھج کو بگاڑا کھانے کے نہیں چچا کے سامنے جانے کے کپڑے پہنے اور گریہ مسکین بن کر جھکے ہوئے نیچی نظر موٴدب دستر خوان پر جا بیٹھے پھر میرمتقی کا کھانا کوئی انگریزی ڈنر تو ہوتا ہی نہ تھا کہ کھانا میز پر آیا اور جتنے کھانے والے تھے۔\n\nاپنی اپنی کرسیوں پر چرغنے لگے۔ دنیا بھر کی بکواس شروع ہوئی اور یہ بھی نہیں کہ کھانے کے ضمن میں باتیں کرتے جاتے ہوں بلکہ یہ کہو کہ باتوں کے ضمن میں کھانا بھی کھاتے جاتے ہیں۔ میرمتقی مولوی آدمی دور سے کھانا آتا ہوا دیکھ کر کسی شغل میں ہوں چھوڑ چھاڑ پہنچوں تک ہاتھ دھو بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر اکڑوں ہو بیٹھے کھانا کھایا مگر اس کو بھی عبادت سمجھ کر خیال یہ کہ آداب الطعام میں سے کوئی ادب ترک نہ ہو۔\n\nپس ان کے دستر خوان پر بات چیت کا کیا موقع میرمتقی مستعجل کہ کم کھاؤں، مبتلا منتظر کہ اٹھ جاؤں، الغرض ایسا کوئی موقع ہی نہیں بن پڑتا تھا کہ چچا بھتیجے میں جی کھول کر باتیں ہوں مگر میرمتقی بلا کے تاڑنے والے تھے۔ انہوں نے اتنی دیر کی صحبت میں مبتلا کی حرکات و سکنات سے اس کی نشست و برخاست سے اس کی طرز عادت سے اتنا جان لیا اور ایسا پہچان لیا کہ مبتلا کے لنگوٹیے یار اور اس کے بھیدی اور راز دار بھی اتنا ہی جانتے ہوں گے۔\n\nمبتلا اگرچہ ان کے سامنے اپنے آپ کو بہت ضبط کیے رہتا تھا مگر اسی دن کے لیے کہتے ہیں کہ آدمی بُری لت نہ ڈالے اور عادت کو بگڑنے نہ دے، مبتلا کو خبر تک نہ ہوتی تھی اور بے خیالی میں چچا کے سامنے اس سے کوئی حرکت ایسی سرزد ہو جاتی تھی کہ ہر روز ان کی نظروں میں اس کی قلعی کھلتی رہتی تھی مثلاً بیٹھے بٹھائے خود بالوں پر ہاتھ جا پڑا اور عادات کے مطابق لگا ؤہیں پٹیاں جمانے پھر جو ہوش آیا چچا کو کن انکھیوں سے دیکھ کھجانے کے حیلے سے بالوں کو بگاڑ سیدھا ہو بیٹھا یا کھاتے کھاتے ایک مرتبہ انگرکھے کی چولی کے شکن نکالے، لگاتن کر سینے کو دیکھنے اتنے میں چچا پر نظر جا پڑی اور جلدی سے پھر جھک کر ہو بیٹھا ایک مرتبہ تو اس نے کیا غضب کیا کہ خدا جانے کس خیال میں مستغرق تھا کہ آپ ہی آپ لگا گنگنانے مگر میرمتقی نے اس کو ایسے طور پر ٹال دیا کہ گویا سنا ہی نہیں۔\n\nمبتلا اپنے دل کو یوں سمجھا لیا کرتا تھا کہ چچا نے دھیان نہیں کیا اگر کیا توآدمی سے ایسی لغو حرکتیں ہوا ہی کرتی ہیں۔اتنی ہی بات سے ان کا ذہن اس طرف کیوں منتقل ہونے لگا کہ پٹیاں جمانا یا اکڑنا یا گانا میری عادت ہے۔\n\nلیکن یہ اس کی غلطی تھی میرمتقی کی آنکھ کبھی کسی چیز پر اچیٹی ہوئی پڑی ہی نہ تھی وہ جس چیز کو ایک نظر دیکھ لیتے اس کی تہہ تک پہنچ جاتے اور اس کے سبب کو دریافت کرتے، میرمتقی نے مبتلا کی حرکات سے آخر یہ استنباط کیا کہ اس میں دو عیب بہت بڑے ہیں۔\n\nاول یہ مذہب سے اس کو مطلق سروکار نہیں، یہ جانتا ہی نہیں کہ خدا بھی کوئی چیز ہے اور آدمی اس کے بندے ہیں اس کو خبر ہی نہیں کہ آدمی کو کھانے اور سو رہنے کے سوا دنیا میں کچھ اور بھی کرنا ہے۔ دوسرے حسن پرستی اس کے نزدیک واحد قابل قدر چیز ہے۔ دولت، شرافت، حسب، نسب، علم، ہنر، سلیقہ، اخلاق، دین داری غرض دنیا کے سارے کمالات ہیچ ہیں صرف ایک حسن صورت قابل قدر ہے۔\n\nاور بس میرمتقی کا ایک قاعدہ اور بھی تھا کہ بڑے دھیمے آدمی تھے۔ جب کسی خاص شخص کو نصیحت کرنا منظور ہوتا تو مدتوں اس کے حالات کی تفتیش میں لگے رہتے اور جب معلوم کر چکتے جس قدر معلوم کرنے کی ضرورت تھی تو ہفتوں غور کرتے کہ کس پیرائے سے اور کیسے وقت اس کو نصیحت کروں کہ موٴثر ہو اور یہی سبب تھا کہ ان کی نصیحت کبھی خالی گئی ہی نہیں۔ اگر ایک شخص تارک الصلوٰة ہے اور انہوں نے اس کو نماز کے لیے نصیحت کی تو پھر سفر یا مرض دنیا کی کوئی کیسی ہی ضرورت کیوں نہ ہو اس نے مدت العمر نماز کو قضا نہیں ہونے دیا یا اگر کوئی شخص منہیات شرعی میں کسی کا مرتکب ہے اور انہوں نے واعظ کہا تو پھر توبہ ہی کرا کے چھوڑی۔\n\nغرض میرمتقی نے ایک دن موقع پا کر جوں ہی مبتلا کھانا کھا کر جانا چاہتا تھا اس کو روکا اور کہا کہ ذرا ٹھہرو مجھ کو تم سے کچھ کہنا ہے۔ مبتلا سمجھا کہ آج نماز گلے پڑی بیٹھ گیا تو میرمتقی نے فرمایا: اگرچہ مجھ کو تمہارے حالات بالتفصیل معلوم نہیں مگر جس قدر معلوم ہیں ان سے میرا خیال یہ ہے کہ تمہاری تعلیم جیسی درستی کے ساتھ ہونی چاہیے تھی نہیں ہوئی، تمہاری تعلیم کا عمدہ حصہ وہ ہے جو مدرسہ میں ہوا مدرسے کی تعلیم اس اعتبار سے کہ جو چیزیں پڑھائی جاتی ہیں دنیا میں بکارآمد ہیں بلاشبہ مفید ہے مگر افسوس بڑے سخت افسوس کی بات ہے کہ مذہب کی طرف بھول کر بھی کوئی توجہ نہیں کرتا، مذہب کو سلسلہ درس سے اس طرح نکال کر پھینک دیا ہے جیسے دودھ سے مکھی، جس سے لوگوں پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ مذہب ایک فضول اور لایعنی چیز ہے اور دنیا میں اس کی مطلق ضرورت نہیں۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/21"} {"title": "فسانہء مبتلا/22", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "poetry", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "مرغ ازبیضہ بروں آیدور ذری طلبد\nآدمی زادہ نہ دار و خرد و عقل و تمیز\n\nآں نباگاہ کسے گشت و بچیزے نہ رسید\nویں بہ تمکین و فضیلت بگزشت از ہمہ چیز", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/22"} {"title": "فسانہء مبتلا/23", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "اس لیے انسان کی تعلیم و تربیت کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر چیز اس کی عمر کا ایک مناسب وقت دیکھ کر سکھاتے ہیں۔ مثلاً غیر ملک کی بولی ضرور ہے کہ بچپن میں سکھائی جائے ورنہ بڑے ہو کر زبان مشکل سے ٹوٹتی ہے۔ چھوٹے بچے کو اگر منطق کے پیچیدہ مباحث سمجھانا چاہو تو سعی لاحاصل ہے۔ اسی طرح دین کی تعلیم کے لیے بھی ایک وقت مناسب ہونا چاہیے اور وہ نہیں ہو مگر سن طفولیت۔\n\nکیونکہ آدمی کی عمر جس قدر بڑی ہوتی جاتی ہے۔ اسی قدر فطرت سے دور اور اسی قدر اس کا دل لوث دنیا سے آلودہ اور زنگ اغراض سے تیرہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر شاید ایک وقت ایسا آئے کہ اس کے دل میں صبغت اللہ یعنی دین کا رنگ اٹھانے کی قابلیت باقی نہ رہے۔ اسی حالت کی نسبت قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ اور کچھ بات نہیں ان کے دلوں پر ان کی بد کرداریاں جم گئی ہیں۔\n\nدنیا میں اور بھی ہزاروں لاکھوں اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ جن کو دین کی طرف مطلق توجہ نہیں۔ مگر بے توجہی دوطور کی ہے۔ ایک وہ جس کا سبب کاہلی اور غفلت اور مساہلت ہو دوسری وہ جو دین کے استخفاف سے پیدا ہو یہی بے توجہی ہے جو نہایت خطرناک اور نہایت مذموم ہے اور یہی بے توجہی ہے جس کو مدارس کی تعلیم پھیلائی چلی جا رہی ہے لیکن دین و مذہب لوگوں کی قدر دانی اور تسلیم کا محتاج نہیں ہے۔\n\nہمالیہ پہاڑ اپنی جگہ سے سرک جائے۔ گنگاپورپ کو بہتے بہتے پچھم کو بہنے لگے مگر خدا کی باتیں نہ کبھی ٹلتی ہیں اور نہ کبھی کسی کے ٹالے ٹلیں گی۔ دین تم سے چاہتا کیا ہے۔ صرف اتنی بات کہ خدا نے تم کو آدمی بنایا ہے۔ آدمی بن کر رہو تم کو آنکھیں دی ہیں اور دیکھتے ہو کان دیئے ہیں اور سنتے ہو زبان دی ہے اور بولتے ہو غرض ہر قوت سے وہ کام لیتے ہو جو اس کے کرنے کا ہے۔\n\nقوتوں میں سب سے قوی اور سب سے عمدہ عقل ہے۔\n\nاس نے تمہارا ایسا کیا قصور کیا ہے کہ اس کے کرنے کا کام اس سے نہیں لیتے۔ روئے زمین پر خدا کی جتنی مخلوق ہے سب میں اعلیٰ اور افضل اور اشرف انسان ہے اور اس کی برتری اس سے ظاہر ہے کہ دوسری مخلوقات پر حکمرانی اور مالکانہ تصرف کرتا ہے، دیکھو انسان کی بنائی ہوئی عمارتیں اس کے بسائے ہوئے شہر اس کے لگائے ہوئے باغ، نہریں، سڑکیں، پل، ریل، تار، دخانی، بادبانی، جہاز، انواع و اقسام کی کلیں اور زندگی کے سازوسامان مگر یہ برتری جو انسان کو استحقاقاً حاصل ہے، کیوں ہے، اس کی جسمانی قوتیں تو حیوانات کی قوتوں سے بہت ضعیف ہیں۔\n\nمثلاً اس کی نظر سے گدھ کی نظر بہت تیز ہے۔ اس کے شامے سے شکاری کتوں کا شامہ کہیں زیادہ قوتی ہے۔ وہ اگر ذائقے سے چیزوں کا صرف مزا پہچانتا ہے تو بعض جانور مزے کے سوا خاصیت طبی کی شناخت بھی کر لیتے ہیں۔ توانائی کے لحاظ سے تو ہاتھی اور شیر وغیرہ کے سامنے وہ ایک مور ضعیف سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ پھر انسان کی بڑائی کس چیز میں ہے، عقل میں۔ اب دیکھنا چاہیے کہ عقل کا کام کیا ہے۔\n\nیہ سمجھنا کہ عقل ہم کو صرف اسی واسطے دی گئی ہے کہ کھانا پینا کپڑا مکان سازو سامان بہم پہنچانے میں مدد کرے عقل کو ذلیل اور بے قدر کرنا ہے۔ یہ تو عقل کے نہایت متبذل کام ہیں جانور جن کے جثّے ہمارے جثوں سے بہت بہت بڑے ان کی بھوک پیاس ہماری بھوک پیاس سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ ہماری جتنی عقل نہیں رکھتے اور ہم سے زیادہ آسودگی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔\n\nساڑھ ستر برس کی زندگی اور معدودے چند ضرورتوں کے لیے ایسی عقل جو ماضی اور مستقبل کے قلابے ملائے اور زمین سے آسمان تک یوں پھیلائے کسی بڑے اور عمدہ کام کے لیے دی گئی ہے اور وہ یہ نہیں ہے۔ مگر یہ کہ مخلوق سے خالق اور فانی سے باقی اور دنیا سے آخرت کو پہچان کر اس گھر کے لیے تیاری کریں، جہاں روح کو ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے، لیکن فرض کرو کہ ہم ان خیالات کو اپنے ذہن میں نہ آنے دیں اور آنکھیں بند کر لیں۔\n\nدنیا و مافیہا سے جس کا ایک ایک ذرہ ہستی صانع اور ایک ایک واقعہ وجودِ سبب پر دلالت کر رہا ہے۔ تو اس سے واقعات کا بطلان تو نہیں ہو سکتا۔ خدا ہے اور ہمیشہ کو رہے گا۔ ہم اس کے بندے ہیں اور کسی طرح اس کے فرمان سے باہر نہیں ہو سکتے۔ ہم کو مرنا ہے اور جو کچھ دنیا میں کیا ہے اس کی جواب دہی کرنی ہے عمل اچھے ہیں تو تسلی ہے اور امن ہے عافیت ہے اور سکون ہے اور قرار ہے یعنی یہ کہ بیڑا پار ہے۔\n\nبُرے ہیں تو حسرت ہے اور افسوس ہے اور ندامت ہے اور پھٹکار ہے اور دھتکار ہے، یعنی یہ کہ دُکھ کی مار ہے۔ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اصل میں تو ہوتی ہے غفلت اور اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ اختلاف مذہب ہے، جو بے توجہی کا باعث ہو جاتا ہے۔ آدمی دیکھتا ہے کہ دنیا میں سینکڑوں ہزاروں مذہب ہیں ہر ایک صرف اپنے آپ کو برسرحق سمجھتا ہے۔ باقی سب کو گمراہ و کافر اور مردود اور ملعون اور جہنمی تو یہ دیکھ کر خواہ مخواہ اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ پہلے ان ہزاروں مذاہب کے معتقدات سے واقفیت حاصل کروں پھر ان کے سوال و جواب سنوں پھر ان میں محاکمہ کروں۔\n\nاس کے لیے میں کیا میری تو دس نسلوں کی عمریں بھی کفایت نہیں کر سکتیں۔ اس سے بہتر ہے کہ مذہب کی پہیلی کو جس کا اَتا پَتا کچھ نہیں سوچو ہی مت لیکن یہ بھی ایک وسوسہ شیطانی ہے اور انسان کے لامذہب ہونے کے لیے حجت نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں جتنے مذہب ہیں، جہاں تک مذہب کو دنیا سے تعلق ہے۔ سب کا مقصود اصلی ہے آدمی کی اصلاح اور اختلاف اگر ہے تو ملکوں کی آب و ہوا لوگوں کی طبائع اور عادات اور ضرورتوں کے اختلاف کی وجہ سے اورفروغ میں ہے۔\n\nنہ اصول میں جزئیات میں ہے۔ نہ کلیات میں۔ پس تم جیسے نوجوان آدمیوں کے لیے اس سے بہتر اصلاح کی بات نہیں کی جس شان میں ہے اسی شان میں رہ کر پابندی مذہب کو نہ چھوڑے۔ اس شے سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ نیکی کا خیال دل میں راسخ ہو جائے گا۔ خدا سے لگاؤ پیدا ہو گا اور حق کی تلاش میں اس کو سزا ملے گی۔ آدمی اگر اتنا کرے اور اس سے زیادہ کر ہی کیا سکتا ہے تو ضرور خدا کی رحمت اس کی دست گیری کرے گی۔\n\nلوگ مذہب کی طرف سے جو اس قدر غافل اور گرے بن رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خدا نے اپنے بندوں کی آزمائش کیلئے دنیا کا انتظام ایسے طور پر رکھا ہے کہ دنیاوی حالات کے اعتبار سے نیک و بد اور پابند مذہب اور لامذہبی اور مومن و کافر اور ملحد و مشرک کسی کا کچھ امتیاز نہیں خداوند تعالیٰ کی عام رحمتوں سے سب کے سب بلا تخصیص یکساں طور پر متمتع ہوتے ہیں۔\n\nوقت پر پانی سب کے واسطے برستا ہے۔ ہوا کا ذخیرہ سب کے لیے موجود ہے۔ رزق ہر ایک کی خاطر مہیا ہے۔ صحت و مرض تمول و افلاس تو الدو تناسل حیات و ممات غرض زندگانی کی بھلی بری تمام کیفیتیں جیسی مسلمانوں میں، ویسی عیسائیوں میں، ویسی یہود میں، کوئی قوم بلکہ کوئی گروہ بلکہ کوئی فرقہ بلکہ کوئی متنفس اس بات کا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ مذہب کی وجہ سے مجھ کو دنیا میں یہ خصوصیت حاصل ہے اور کہیں ایسی ایک ادنیٰ سی خصوصیت بھی پائی جائے تو آپ جانیے تو تمام روئے زمین سے اختلاف مذاہب کے معدوم کر دینے کو کافی ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/23"} {"title": "فسانہء مبتلا/24", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "یہی خصوصیت ان لوگوں کے حق میں سم قاتل ہے جن کی طبیعتیں لامذہبی کی طرف مائل ہیں۔ غور کرنے کی تو ان لوگوں میں عادت ہوتی ہی نہیں۔ دنیا میں ہیں اور دنیا ہی کو دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں بس جو کچھ ہے یہی دنیا ہے۔ لیکن ذرا عقل کو کام میں لائیں تو معلوم ہو اور اندر سے دل آپ ہی آپ گواہی دینے لگے کہ نہیں ایک جہاں اور بھی ہے۔ یہ دنیا خواب ہے اور وہ جہاں اس کی تعبیر یہ مجاز ہے اور وہ حقیقت یہ نمونہ ہے اور وہ اصل جس طرح عقل دنیا میں سب کی یکساں نہیں۔\n\nاسی طرح عقل دین کے مدارج بھی متفاوت ہیں۔ بعض لوگ وہ ہیں جو صرف موجوداتِ دنیا سے خدا کو اور خدا سے اس کی عظمت کو اور اس کی عظمت سے اس کی معبودیت کو مانتے پہچانتے ہیں اور بعض موجودات سے نہیں بلکہ خیرات سے اور تغیرات سے بھی نہیں بلکہ حادثات عامہ سے بھی متنبہ نہیں ہوتے تاوقتیکہ ان پر کوئی آفت نازل نہ ہو اور بعض حادثات عامہ سے حلول مصیبت پر بھی کہنے کے محتاج گویا بیل ہیں کہ آر بھی چبھوو دو اور ساتھ منہ سے بھی ٹٹکاری دو تب ان کو خبر ہو کہ چلنا چاہیے۔\n\nاے میرے پیارے بھتیجے اے مرحوم کی یادگار اے مغفور کی نشانی مجھ کو بھائی کے مرنے کا اتنا رنج نہیں ہوا جتنا تمہارے دین کی تباہی کا۔ بھائی اگر مرے تو عمر طبعی کو پہنچ کر مرے اور ایک دن مرنا ضرور تھا۔ میں نے اپنی موت کے لیے دعا تو نہیں مانگی۔ اس واسطے کے موت کے لیے دعا مانگنا منع ہے۔ مگر سات برس عرب میں رہا کوئی دن ایسا نہیں گزرا کہ میں نے اس سرزمین میں اپنے دفن ہونے کی تمنا نہ کی ہو۔\n\nمگر خدا کی مبارک مرضی یوں تھی کہ میں یہاں پھر آؤں اور بھائی کا مرنا سنوں جب سے میں نے بھائی کا مرنا سنا ہر روز بلکہ دن میں کئی کئی بار (دعا نہیں) دل میں تمنا کرتا ہوں کہ الٰہی اگر عرب کی مٹی سے میرا خمیر نہیں ہے تو مجھ کو باایمان دنیا سے اٹھا کر اس شخص کے پہلو میں مجھ کو جگہ دے جو مجھ کو دنیا میں سب سے زیادہ عزیز تھا میرے بڑے بھائی اور تمہارے والد مرحوم۔\n\nمیں نہیں جانتا کہ یہ تمنا بھی پوری ہو یا نہ ہو مگر بھائی کے مرنے کے بعد اب زندگی بے مزہ ہے اور اس ملک میں رہنا اس سے زیادہ بے مزہ۔ یہ مت سمجھو کہ آدمیوں کے باہمی تعلقات اس زندگی تک کے تعلقات ہیں۔ نہیں نہیں یہ تعلقات روحی تعلقات ہیں اور چونکہ روحوں کو فنا نہیں۔ ان کے تعلقات کو بھی انقطاع نہیں۔ یقین جانوں کہ تمہاری اس طرز زندگی سے بھائی کی روح کو ایذا ہوتی ہے۔\n\nکیونکہ ان کو اس زندگی میں بھی تمہاری تکلیف کی برداشت نہ تھی اور اس طرز زندگی کے ہاتھوں تم پر جو سخت بلا نازل ہونے والی ہے میں اس کو عقل سے جانتا ہوں اور تمہارے باپ اس کو آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ باپ سے ہو سکتا ہے کہ بیٹے کو کنویں میں گرتا ہوا دیکھے اور پروا نہ کرے۔\n\n باپ سے ممکن ہے کہ بیٹا جلتی ہوئی آگ میں کودے اور وہ کھڑا ہوا تماشا دیکھے مرحوم نے لوگوں کی نظروں میں سلامت روی اور نیک وضعی اور بھلمنساہٹ سے جو ایک وقار پیدا کیا تھا تم ہی اپنے دل میں انصاف کرو کہ تم نے اس کو بڑھایا یا گھٹایا۔\n\nروشن کیا یا مٹایا۔ ایسے چاہنے والے ایسے شفیق ایسے مہربان ایسے دل سوز باپ کے احسانات کا یہی معاوضہ تھا۔ ان کے سلوک اسی پاداش کے قابل تھے۔ جو باتیں میں تم سے کہہ رہا ہوں، تم کو شاید پہلی بار ان کے سننے کا اتفاق ہوا ہو گا۔ مگر میری ساری عمر ان ہی غوروں اور فکروں میں گزری ہے اس میں اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہوں کہ شروع سے مجھ کو اچھے لوگوں کی صحبت رہی ہے ہندوستان سے لے کر عرب تک ہزار ہا علماء اور شیوخ سے ڈھونڈھ کر ملا اور جس سے جتنا فیضانِ قسمت کا تھا حاصل ہوا۔\n\nالحمدللہ تم دیکھتے ہو کہ میں دین کے کاموں میں بھی جہاں تک مجھ سے ہو سکتا ہے اور افسوس ہے کہ قدر واجب کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہو سکتا، لگالپٹا رہتا ہوں، اس پر بھی خدا کی عظمت اور اس کے جلال پر نظر کرتا ہوں تو مجھ کو اپنی نجات کی طرف سے بالکل مایوسی ہوتی ہے اور تنہائی میں خصوصاً رات کے وقت دنیا کی بے ثباتی قیامت کے حساب اور اپنی بے بضاعتی کے افکار ہجوم کرتے ہیں تو مجھ کو اس قدر وحشت ہوتی ہے کہ تم کو اس کا اندازہ سمجھنا مشکل ہے۔\n\nصرف اس کی رحمت کی بے انتہائی توقع اس وقت دست گیری کرتی ہے جس سے دل کو تسلی ہوتی ہے۔ یہ زحمت جو مجھ کو دین کے کاموں میں اٹھاتے ہوئے دیکھتے ہو۔ اگر اس کو زحمت سے تعبیر کرنا درست ہو تو اتنی مدد کرتی ہے کہ امیدواری رحمت کی ڈھارس بندھاتی ہے، اگر خدا عقل میں راستی دے تو دنیا کی سب باتوں سے دین کی تعلیم نکلتی ہے۔\n\nدنیا میں جس کو جس پر کسی طرح کی حکومت ہے جیسے شوہر کو بی بی پر یا باپ کو اولاد پر یا بادشاہ کو رعایا پر اگرچہ دنیا کی ساری حکومتیں عارضی اور ضعیف ہیں۔\n\nاس پر بھی کوئی حاکم کسی محکوم کی کسی نافرمانی سے درگزر نہیں کرتا۔ کیا غفلتیں ہیں کیا بے فکریاں ہیں کیا مغالطے ہیں کیا بے مناسبتی ہے کہ بندئہ بے حقیقت و ناچیز نافرمانی کیسی، اس قادر ذوالجلال کے اوامر کا استخفاف کرے گویا اس کا مدمقابل ہے اور پھر درگزر کی توقع۔ کیا ہیکڑی ہے۔ مغفرت کی امید کیا بے حیائی ہے۔ تم کو اکثر باتوں میں مغالطہ واقع ہوا ہے، دوستوں کے بارے میں بھی تمہاری رائے غلطی سے محفوظ نہیں رہی۔\n\nیہ لوگ جو تمہارے آگے پیچھے پڑے پھرتے ہیں اور ہر وقت تم کو گھیرے رہتے ہیں۔ جہاں تک میں نے خیال کیا ہے ایک کو بھی تمہارا خیرخواہ نہیں پاتا، ان کے کچھ مطلب ہیں، بے ہودہ اغراض ہیں۔ فاسد تم کو دیکھ پایا، عقل کے کوتاہ گانٹھ کے پورے۔ آپ بنے شکاری اور تم کو گروا یاٹٹی اور لگے تمہاری آڑ میں تکے چلانے۔ غرض مندانہ رابطے عموماً اور خاص کر جبکہ اغراض خسیس ہوں، نہایت بے ثبات ہوتے ہیں اور جلد ٹوٹنے والے۔\n\nمجھ کو تو توقع یہ ہے کہ تم نے خود اس کا تجربہ کر لیا ہو گا ورنہ میرا اس وقت کا کہنا چاہو لکھ رکھو کہ تمہارے اتنے دوست ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دو برس تک بھی صحبت یوں ہی چلی جائے تو جاننا کہ بہت چلی۔\n\nدنیا کے تمام جسمانی تعلقات کا یہی حال ہے۔ غیروں کی کیا شکایت دوسروں کا کیا گلا، اپنے ہی اعضا و جوارح اپنی ہی قوتیں کب تک کی ساتھی ہیں۔\n\nدیکھو مجھ جیسے بوڑھوں کو کہ ایک بصارت سے معذور ہے تو دوسرا ثقل سمع سے مجبور کسی کی بھوک تھکی ہوئی ہے اور کسی کے ہاضمہ میں فتور۔ پیری و صد عیب زندہ درگور۔ دنیا کی یہی بے ثباتی دیکھ کر جن کی عقلیں سلیم ہیں، فانی لذتوں کے گرویدہ اور عارضی منفعتوں کے فریفتہ نہیں ہوتے، جس قدر میں نے تم سے کہا۔ اگرچہ ضرورت سے بہت کم کہا مگر مجھ کو تمہاری طینت کی پاکیزگی سے امید ہے کہ انشاء اللہ رائیگاں نہ جائے گا اور خدا نے چاہا تو میں دعا بھی کروں گا کہ تمہارے دل میں سوچنے اور غور کرنے کا شوق پیدا ہو مگر قاعدہ ہے کہ دنیا میں کوئی متبذل سے متبذل فائدہ بھی بے خطاب نہیں ملتا۔\n\nسچ ہے کہ جب تک بچہ روتا نہیں ماں بھی دودھ نہیں دیتی پس دین کے عمدہ اور دائمی فائدے بدرجہٴ اولیٰ طلب پر موقوف اور پیروی پر منحصر ہونے چاہئیں اور وہ تمہارے کرنے کا کام ہے۔ دین کے کام ہیں تو دل سے متعلق اور کوئی شخص دوسرے کے خیالات یعنی دلی حالت پر مطلع نہیں ہو سکتا مگر خیالات کی اصلاح سے ارادے کی اور ارادے سے افعال کی طرز تمدن کی اور وضع کی گفتگو کی نشست برخاست کی حرکات و سکنات کی سبھی چیزوں کی اصلاح ہوتی ہے۔ یعنی انسان کا ظاہر حال اس کے دل کا ترجمان ہوتا ہے۔ پس تم کہو یا نہ کہو خود بخود منکشف ہوتا رہے گا کہ جس راستے پر میں نے تم کو لگا دیا ہے، تم نے اس میں چلنا شروع کیا یا نہیں۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/24"} {"title": "فسانہء مبتلا/25", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "چودہواں باب: مبتلا پر میرمتقی کے وعظ کے اثرات\n\nمبتلا کو جب چچا نے پکڑ کر نصیحت سننے کے لیے بٹھایا تھا تو خواہ مخواہ اس کی طبیعت میں از خود ایک ضد سی آگئی تھی تاہم تھوڑی دیر ادب کی وجہ سے دم نہ مار سکا اور پھر تو میرمتقی کی باتوں پر ایسا ریجھا کہ آنکھیں اور منہ دونوں کے دونوں کھلے رہ گئے اور جب تک میرمتقی نے بات کو ختم نہیں کیا۔\n\nمبتلا کو کوئی دیکھتا تو کیا معلوم ہوتا کہ بس حیرت کا ایک پتلا ہے، چچا کے پاس سے چلے جانے کے بعد بھی کئی دن تک وہ مبہوت سا رہا۔ اس کا دل تو مان گیا تھا کہ چچا نے جو کچھ کہا ٹھیک کہا مگر جس بات کی آن پڑ گئی تھی، اس کے بدلتے ہوئے اس کا جی ہچکچاتا تھا۔ آوارگی اس کی طبیعت میں یہاں تک سما رہی تھی کہ ترک وضع کرتے ہوئے اس کو عار آتی تھی وہ سوچتا تھا کہ چچا کے کہنے پر چلوں تو دوست آشنا کھانا پینا سیرتماشا تفریح تمام مشاغل سب تمامی مشاغل سب کو ایک دم سے چھوڑوں یعنی ترک دنیا کروں تو پھر جیوں کیونکر اور فرض کیا کہ جبراً قہراً میں نے ترک دنیا کیا بھی تو لوگ مجھ کو کیا کہیں گے۔\n\nآخر پرہیزگار بنوں تو پورا پورا بنوں جیسے چچا زربفت کی ٹوپی تو اب میں پہننے سے رہا نا چار شملہ، دوپٹہ، عامہ باندھنا پڑے گا اور اس کی زاد میں بالوں کی جیسی گت بنے گی ظاہر ہے تو ضرور ہوا کہ سب سے پہلے سر منڈاؤں منڈے سر پر یہ خشخاشی داڑھی اور چڑھی ہوئی مونچھیں کیا بھلی لگیں گی تو لازم آیا کہ داڑھی چھوڑوں اور مونچھوں کو سیدھا کروں پھر ایسی مقطع صورت پر گلے میں کرتا نہ ہو تو خیر نیچی چولی کا انگرکھا اور ٹانگوں میں ایک برکا گھٹنا اس وجہ سے کیا منہ لے کر بازار میں نکلوں گا۔\n\nساری عمر کبھی مسجد میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ اب جو ایک دم سے جا کھڑا ہوں تو جتنے نمازی ہیں سب آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مجھے گھور دیں گے غرض جن کو چھوڑتا ہوں اور جن میں جا کر ملتا ہوں سبھی کا انگشت نما ہونا پڑے گا۔\n\nمبتلا اسی پس و پیش میں تھا کہ میرمتقی ایک دن اس کو وضو کرا کپڑے بدلوا اپنے ساتھ جمعہ کی نماز میں لے گئے اور اس کے بعد سے جب تک رہے نماز کو جاتے مبتلا کو گھر سے ساتھ لے کر نکلتے ہیں۔\n\nغرض مبتلا کی وہ جھجک تو جاتی رہی اور اس کی وضع میں بھی رفتہ رفتہ اصلاح آتی چلی۔ اگر میرمتقی کا دو تین مہینے بھی اور رہنا ہوتا تو مبتلا کے درست ہو جانے میں کوئی کسر نہ تھی۔ اگرچہ میرمتقی نے کیا ہی کیا تھا، مبتلا کو صرف ایک وعظ سنایا۔ صرف اتنی سی کہ اس کی غفلت کو تازیانہ ہو۔ دیندار بھلامانس بنتے ہوئے جھینپتا تھا۔ اس کی شرمندگی مٹا دی۔\n\nاگر زیادہ رہنے کا اتفاق ہوتا تو خدا جانے کتنے وعظ اور کہتے اور کیا کیا اس کو سکھاتے سمجھاتے۔ وہ تو اچھی طرح جانتے تھے کہ برسوں کے جمے ہوئے زنگ ہیں۔ یہ کیا ایک رگڑے سے چھوٹنے والے ہیں۔ حسن پرستی کا بڑا سخت عیب بھی گویا مبتلا کی گھٹی میں داخل تھا۔ میرمتقی موقع پاکر اس کا علاج کرتے پر کرتے مگر مبتلا کو تو اپنے اعمال کی شامت بھگتنی تھی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/25"} {"title": "فسانہء مبتلا/26", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "پندرہواں باب: میرمتقی کی اچانک رام پور روانگی\n\nمیرمتقی نے مبتلا کی اصلاح پر توجہ شروع کی تھی کہ اتنے میں چپکے چپے اس گمنام عرضی کی تحقیقات ہونے لگی جو ناظر کی شرارت سے میرمتقی کی شکایت میں گورنر کے پاس پہنچی تھی اور تو کچھ حال نہ کھلا مگر خلافِ عادت پولیس کے لوگ وقت بے وقت کوئی وعظ سننے کے بہانے سے کوئی نماز کے حیلے سے آمدورفت کرنے لگے ان میں جو زیادہ ہوشیار تھے پتے دے دے کر ٹیڑھے ٹیڑھے مسئلے پوچھتے تھے۔\n\nمثلاً یہ کہ کیوں حضرت ہندوستان آپ کے نزدیک دارالحرب ہے یا نہیں۔ انگریزوں سے اور ہنود سے سود لینا روا ہے یا نہیں۔ انگریز اگر کابل پر چڑھائی کریں اور ایک پلٹن کو امیر کے مقابلے میں لڑنے کا حکم دیں اور ایک مسلمان اس پلٹن میں پہلے سے نوکر ہو تو اس کو کیا کرنا چاہیے۔\n\nمہدی جنہوں نے مصر میں خروج کیا ہے، مہدی موعود ہیں یا نہیں اور ان کو مدد دینا ازروئے شرع شریف کیا حکم رکھتا ہے۔\n\nانگریزی دواؤں کا استعمال درست ہے یا نہیں، کچہری سے برابر سود کی ڈگریاں ہوتی ہیں، اس سود کا دینا گناہ ہے یا نہیں۔ انگریزوں کے ساتھ کھانا اور لباس اور طرز تمدن میں ان کے ساتھ تشبیہہ کیا حکم رکھتا ہے۔ میرمتقی جہاندیدہ آدمی تھے۔ ان باتوں کو دیکھ کر ان کے کان کھڑے ہوئے اور سمجھے کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔ کوتوال شہر سے معرفت اور دور کی صاحبِ سلامت تو تھی ہی۔\n\nایک جمعہ کی نماز کو جاتے ہوئے راہ میں کوتوال سے آمنا سامنا ہو گیا۔\n\nمیرصاحب نے کہا مجھ کو آپ سے کچھ کہنا ہے۔ وقت فرصت معلوم ہو تو میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ کوتوال نے کہا آج بعد نماز مغرب میں خود آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا۔ غرض کوتوال کے ساتھ تخلیہ ہوا تو میر صاحب نے فرمایا کیوں کوتوال صاحب یہ ماجرا کیا ہے کہ چند روز سے پولیس کے لوگ میری نگرانی کرنے لگے ہیں۔\n\nمیں دیکھتا ہوں کہ جتنی دیر میں باہر رہتا ہوں پولیس کا ایک نہ ایک آدمی ضرور موجود ہوتا ہے۔ مسئلے پوچھتے ہیں تو پیچدار، باتیں کرتے ہیں تو اکھڑی ہوئی۔ میں نے دھوپ میں داڑھی سفید نہیں کی۔ یہ لوگ مجھ سے چھپاتے ہیں اور میں سب سمجھتا ہوں، مجھ سے پردہ کرتے ہیں اور میں ان کے تیور پہچانتا ہوں۔ آپ کو معلوم ہے میں یہاں کا رہنے والا نہیں۔ سات برس بعد سفر حجاز سے واپس آیا۔\n\nرام پور جانا چاہتا تھا میں نے کہا کہ لاؤ لگے ہاتھ بھائی سے ملتا جاؤں۔ یہاں پہنچ کر معلوم ہوا ہے کہ بھائی کا انتقال ہو چکا ہے۔ ان کے معاملات خانہ داری کو دیکھا، سب کے سب ابتر، ناچار ٹھہرنا پڑا۔ اکثر معاملات خدا کے فضل سے درست ہو گئے ہیں۔ بعض باتیں باقی ہیں۔ اگر میرے حال سے تعرض نہ بھی کیا جائے، تب بھی تین چار مہینے سے زیادہ ٹھہرنا منظور نہیں اور ٹھہر سکتا بھی نہیں۔\n\nلیکن اس نظربندی کی حالت میں تو میں ایک دن بھی نہیں رہ سکتا۔ بے اطمینانی کی وجہ سے وہ مطلب بھی فوت ہوتا ہے جس کی وجہ سے میں ٹھہرا ہوں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں نے سرکار کا ایسا کون سا قصور کیا ہے۔ درس میں نہیں دیتاکہ میرے پاس مجمع رہے خطا یا قصور اگر ہے تو یہی کہ جو اللہ کا بندہ پاس آ بیٹھتا ہے تو نصیحت کی دوچار باتیں اس سے کہہ دیتا ہوں اور یہ کام ایسا ہے کہ دنیا کی حکومت کیسی ہی قاہرہ کیوں نہ ہو مجھ کو اس سے باز نہیں رکھ سکتی۔\n\nنصیحت تو لوگوں کو میں نے کی ہے اور کرتا ہوں اور آئندہ بھی جہاں رہوں گا، ضرور کروں گا۔ اگر یہ بغاوت ہے تو میں پکارے کہتا ہوں کہ میں باغی۔ سرکاو کو اختیار ہے مجھے قید کرے مگر انشاء اللہ وہاں بھی قیدیوں کو نصیحت کرتا رہوں گا۔ سرکار شہنشاہ زبردست اور میں اس کی ایک ادنیٰ رعیت، میرے واسطے ایسی کارروائی کی کیا ضرورت ہے۔\n\nاگر کچھ اشتباہ پیدا ہوا ہے تو مجھ کو طلب کرے میں جوابدہی کو اور اگر قصور ثابت ہو تو سزا کو حاضر ہوں۔\n\nمگر ابنائے جنس کی نظر میں ناحق نکو بنانا مشتبہ ٹھہرنا شیوئہ انصاف سے بہت بعید ہے۔ کوتوال یہ سب باتیں چپ بیٹھا ہوا سنتا رہا اور آخر بولا تو یہ بولا کہ میں ارادت مندانہ اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ جب حضرت کا ارادہ تین چار مہینے بعد خود رام پور روانہ ہونے کا ہے۔ اگر ابھی قصد فرمائیے تو مناسب۔ یہاں کا اگر کوئی کام ہو تو مجھ کو سپرد کر جائیے۔\n\nانشاء اللہ اس کا سرانجام خاطر خواہ میرے ذمے۔ میرمتقی نے سمجھا کہ اب ٹھہرنا مصلحت نہیں اور زیادہ کاوش کرنے سے بھی حاصل نہیں فوراً سفر رام پور کا ارادہ کر دیا۔ غیرت بیگم باپ کے مرنے پر تو کیا روئی تھی جیسا کہ چچا کے جانے کا اس نے ماتم کیا۔ مبتلا کے خیالات میں بھی تھوڑے ہی دنوں میں اتنا فرق پڑ گیا تھا کہ اس کو بھی چچا کے چلے جانے کا رنج ہوا۔\n\nمیرمتقی نے ہر ایک کو اس کی جگہ تسلی دی۔ چلتے چلتے مبتلا سے اتنا کہہ گئے کہ سید حاضر کے خیالات بہت راستے پر آگئے ہیں۔ اگر تم ان سے مشورہ لو گے تو امید ہے کہ نیک صلاح کے دینے میں دریغ نہ کریں گے یا میاں عارف جن کو تم میرے پاس اکثر دیکھتے تھے، تمہارے ہی مدرسے کے طالب علم ہیں۔ بڑے اچھے دل کا لڑکا ہے۔ ہے تو تمہارا ہم عمر مگر استعداد اور معلومات کے اعتبار سے پورا مولوی ہے، بڑی خوبی اس میں یہ کہ اس کے خیالات حکیمانہ اور شگفتہ ہیں۔ میں نے اس سے بھی بتاکید کہہ دیا ہے اور وہ ہفتے میں ایک دو بار تمہارے پاس آیا کریں گے۔ تم بھی رابطہ بڑھا لینا ان سے تم کو سب طرح مدد ملے گی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/26"} {"title": "فسانہء مبتلا/27", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "سولہواں باب: میرمتقی کے بعد مبتلا کی حالت\n\nمبتلا کی تو اس وقت بعینہ ایسی مثال ہو گئی کہ ایک مریض مرض مہلک میں گرفتار ایک طبیب حاذق نے اس کا علاج شروع کیا ارادہ تھا کہ منبضح ہوں۔منبضحوں کے بعد مسہل۔ مسہلوں کے بعد تبرید پھر معجونات کا استعمال کرایا جائے۔ ابھی ابتدائی مرحلے بھی پورے نہ ہونے پائے تھے کہ طبیب صاحب تشریف لے گئے۔\n\nسید اگرچہ اس کا پھوپھی زاد بھائی تھا مگر رشتہ داری کے جھگڑوں کے سبب ایک دوسرے کے ساتھ اُنس نہ تھا۔ رہ گئے میاں عارف مولوی تھے حکیم تھے، شگفتہ خیال تھے سب کچھ تھے مگر مبتلا کے چچا نہ تھے۔ مبتلا کو ان کا کیا لحاظ اور ان کو مبتلا کا کیا درد، پھر بھی بے چارے نے خدا ان کو جزائے خیر دے۔\n\nمیرمتقی کے کہنے پر اتنا تو کیا کہ پیر کے پیر جمعے کے جمعے مبتلا کے پاس آتے اور گھنٹے دو گھنٹے بیٹھ کر چلے جاتے، اسی طرح مبتلا بدھ کے بدھ اور اتوار کے اتوار عارف کے گھر جاتا اور یوں ایک دن بیچ دونوں کی ملاقات کا سلسلہ بندھ گیا اس سے اتنا تو ہوا کہ مبتلا کے پرانے یار دوستوں کو اس پر احاطہ کرنے کا موقع نہ ملا اور جس دُھرّے پر چچا نے اس کو لگا دیا تھا، اس پر تھوڑا چلا، سست چلا، بدیرچلا، دین داری میں اگر سچ پوچھو تو مبتلا نے ترقی نہیں کی مگر اس کا سنبھلا رہنا بھی غنیمت ہوا کہ پھر اس نے آوارگی نہیں کی، وہ نماز بھی پڑھ لیتا تھا مگر گنڈھے دار۔\n\nاب دین کی باتوں کا اگر اہتمام نہیں کرتا تھا تو پہلے کی طرح ان پر ہنستا بھی نہ تھا، اس کی ظاہری وضع میں بھی اگلی سی سخاوت باقی نہ تھی۔\n\nجب سے باپ مرے اس نے گھر میں سونا بالکل چھوڑ دیا۔ چچا کے آنے سے وہ پھر گھر میں سونے لگا تو ان کے چلے جانے کے بعد وہی معمول رکھا۔ غرض مبتلا دین دار نہیں تو ایک خانہ دار بھلا آدمی بن گیا تھا جیسے اکثر لوگ ہوتے ہیں مگر حسن پرستی کی ہڑک ہر روز دو ایک بار اس کو ابھرتی رہتی تھی۔\n\nسترہواں باب: حسنِ صورت پر مبتلا اور عارف کا مباحثہ\n\nایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ عارف کے آنے کا وقت تھا اور مبتلا بیٹھا ہوا، ان ہی کی راہ دیکھ رہا تھا۔ بیٹھے بیٹھے اسی حسن پرستی کے خیال میں ایسا محو ہوا کہ عارف سر پر آ کھڑے ہوئے اور اس نے عادت کے مطابق نہ تو ان کا استقبال کیا اور نہ کھڑے ہو کر ان کو تعظیم دی۔\n\nجب عارف نے جھک کر السلام علیکم کہا تب سٹ پٹا کر کھڑا ہونے لگا۔ مگر عارف بیٹھ چکے تھے۔ انہوں نے ہاتھ پکڑ کر اپنے برابر بٹھا لیا اور پوچھا کہ خیر ہے آج کس خیال میں مستغرق تھے۔ مبتلا نے ٹالنا چاہا، عارف نے اصرار کیا نہیں کوئی بات تو ضرور ہے جس کو تم اس قدر غور کے ساتھ سوچ رہے تھے۔\n\nمبتلا: غور کے بارے میں تو چچا نے مجھ پر بڑی سخت تاکید کی ہے۔\n\nعارف: بلاشبہ ان کا فرمان درست ہے۔ غور کے معنے کیا ہیں۔ عقل سے کام لینا اور انسان نے اگر عقل ہی سے کام نہ لیا تو اس میں اور دوسرے حیوانات میں کوئی مابہ الامتیاز نہیں، مگر پوچھنے سے میری غرض یہ تھی کہ اگر وہ بات مجھ پر ظاہر ہو تو جہاں تک مجھ سے ممکن ہو تمہاری مدد کروں۔ تمہارے چچا نے جن کو میں اپنے والد کی جگہ سمجھتا ہوں تم سے غور کرنے کو کہا اور مجھ سے تمہاری مدد کرنے کو۔\n\nپس تم اگر ان کے کہنے کے پرغور کرتے ہو تو ان ہی کے ارشاد کے موافق مجھ سے مدد بھی لو۔\n\nمبتلا: جس بات کو میں سوچ رہا تھا اکثر سوچا کرتا ہوں مگر ابھی تک کچھ سمجھ میں نہیں آیا تاہم اتنا تو جانتا ہوں کہ آپ سے اس میں کچھ مدد ملنے کی توقع نہیں۔\n\nعارف: جب تک تم اس بات کو مجھ سے بیان نہ کرو اور میں جواب نہ دے دوں کہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔\n\nاس وقت تک تم کو میری مدد سے ناامید ہونے کا کوئی محل نہیں۔\n\nمبتلا: اچھا تو آپ مدد کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔\n\nعارف: اجی تم سے کیا وعدہ کروں گا میں تو وعدہ کر چکا ہوں۔ جناب میرمتقی صاحب سے۔\n\nمبتلا: اس خاص بات کا اس وقت تک کچھ مذکور نہ تھا۔\n\nعارف: جناب میر صاحب نے کسی بات کا مذکور نہیں کیا، عام طور پر تمہاری مدد کرنے فرمایا اور میں نے اس کو تسلیم کیا۔\n\nاس سے بڑھ کر اور وعدہ کیا ہو گا۔\n\nمبتلا: آپ کو میرے خانہ داری کے حالات معلوم ہیں۔\n\nعارف: جس قدر حالات جناب میر صاحب کو معلو م تھے۔ مجھ کو معلوم ہیں۔\n\nمبتلا: چچا باوا نے آپ سے میری خانہ داری کے بارے میں کبھی کچھ کہا تھا۔\n\nعارف: اکثر اس بات کا سخت افسوس کیا کرتے تھے کہ بی بی کے ساتھ تمہارا معاملہ درست نہیں۔\n\nمبتلا: نادرستی معاملہ سے ان کی کیا مراد تھی۔\n\nعارف: مراد یہ تھی کہ تم کو بی بی کے ساتھ انس نہیں محبت نہیں۔\n\nمبتلا: بھلا اس کا کچھ سبب بھی انہوں نے بیان کیا تھا۔\n\nعارف: ہاں یہ فرماتے تھے کہ تمہارے مزاج میں آوارگی ہے۔ حسن پرستی کے مزے پڑے ہوئے ہیں، دل میں یہ خبط سما رہا ہے کہ میں حسین ہوں، بی بی نظروں میں بھرتی نہیں۔\n\nمبتلا: کیا چچا باوا اس بارے میں کچھ بھی کرنے کو تھے۔\n\nعارف: بیشک فرماتے تھے کہ مطالب کو تو میں نے اپنے ذہن میں ترتیب دے لیا ہے۔ اب موقع کی تاک میں ہوں۔\n\nمبتلا: شاید ان کا ارادہ تھا کہ اس پر بھی کوئی وعظ کہیں مگر بھلا ہو اس کی نوبت نہ آئی ورنہ چارو ناچار مجھ کو مخالفت کرنی پڑتی۔\n\nعارف: کچھ تم نے پہلے وعظ کی مخالفت کی ہو گی کہ اس کی کرتے۔\n\nمبتلا: پہلے وعظ میں چچا باوا نے کسی بات میں واقعات کی مخالفت نہیں کی۔ اس سے میں نے ان کی مخالفت نہیں کی مگر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ خوبصورت کے بارے میں وہ کہتے تو کیا کہتے۔\n\nعارف: میں نہیں کہہ سکتا کہ کیا کہتے مگر اتنا انہوں نے ضرور کہا تھا کہ جس قدر اس کی حسن کے ساتھ فریفتگی ہے انشاء اللہ اسی وقت نفرت کرنے لگے تو سہی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/27"} {"title": "فسانہء مبتلا/28", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "مبتلا: (چونک کر) میں اور حسن سے نفرت تو یوں کہیے کہ میرے سر سے دماغ کو اور دماغ سے عقل کو اور عقل سے سلامت کو سب کو سلب کر لینے کی فکر میں تھے۔ بھلا آپ چچا باوا کے اس ارادے کی نسبت کیا خیال کرتے ہیں؟\n\nعارف: میں تو جناب میر صاحب کی شان کو اس سے بہت ارفع سمجھتا ہوں کہ غلط بات ان کے منہ سے نکلے یا ان کے کلام میں مبالغہ ہو۔ ان کو خدا نے علم کی، دینداری کی، خلوص کی، خیرخواہی خالق کی، گویائی کی بہت سی قوتیں دی ہیں۔\n\nمیرا عقیدہ تو یہ ہے کہ انہوں نے چھٹانک بھر کو کہا تو من بھر کر دکھاتے۔ مگر افسوس ہے کہ یکایک ان کا چلنا ٹھہر گیا۔\n\nمبتلا: آپ بھی تو ان کے شاگرد رشید ہیں۔ حسن سے نفرت نہیں تو خیر اتنا کیجیے کہ کسی طرح میری یہ شورش تو فرو ہو کہ مجھے اس تصور میں نہ رات کو نیند ہے نہ دن کو قرار ہے۔\n\nیہ کیا بلا میرے سر پر سوار ہے۔\n\nعارف: کبھی تم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ حسن کیا چیز ہے۔\n\nاور لوگوں کو اس قدر فریفتگی حسن کے ساتھ کیوں ہے۔\n\nمبتلا: یہ تو کوئی غور کرنے کی بات نہیں ہے۔ مرد، عورت، بوڑھا، جوان، شہری خواندہ ناخواندہ ہر شخص جانتا اور سمجھتا ہے کہ خوبصورتی اس کو کہتے ہیں۔ تفصیل پوچھئے تو تمام شاعروں نے معشوقوں کے سراپا لکھے ہیں۔ آپ کی نظر سے بھی تو ضرور گزرے ہوں گے۔ رضا لکھنوی کا سراپا مرقع خوبی میرے نزدیک سب سے بہتر ہے۔\nاس سراپا میں کئی باتیں خاص ہیں۔\n\nاول تو سر سے لے کر ناخن پا تک کسی عضو کو نہیں چھوڑا۔ دوسرے مردوں کا سراپا الگ ہے اور عورتوں کا الگ، تیسرے اعضاء کی ساخت کے علاوہ ان کی حرکات کی خوبیاں بھی بیان کی ہیں۔ چوتھے حسن خلقی اور حسن مصنوعی کا تفرقہ بڑے عمدہ طور پر دکھایا ہے۔ غرض جو کچھ شعراء کے سراپاؤں میں ہے وہی حسن ہے اور یہ جو آپ نے پوچھا کہ لوگوں کو اس قدر فریفتگی حسن کے ساتھ کیوں ہے تو یہ میرے نزدیک انسان کی طبیعت کا خاصا ہے اور اس کے واسطے سوائے اس کے کہ آدمی کی طبیعت ہی خلقتاً حسن کی طرف راغب واقع ہوئی ہے اور کوئی وجہ درکار نہیں۔\n\nآپ کا یہ سوال بجنسہ اسی طور کا ہے جیسے کوئی پوچھے کہ کہربا گھاس کو اور مقناطیس لوہے کو کیوں کھینچتا ہے یا آگ کیوں جلاتی ہے۔\n\nعارف: شعراء نے جو خیالات سراپاؤں میں ظاہر کیے ہیں، آپ کو سمجھ میں آتا ہے کہ ان کا ماخذ کیا ہے۔\n\nمبتلا: میرے نزدیک ان تمام خیالات کا ماخذ وہی طبیعت انسانی ہے جو حکم کرتی ہے کہ اس عضو کو اس وضع اور اس ساخت اور اس انداز کا ہونا چاہیے۔\n\nعارف : ہاں۔ لیکن اگر یہ خیالات طبعی ہوتے تو ضرور تھا کہ سب آدمیوں کے ایک ہی طرح کے ہوں۔ کیوں کہ آدمی آدمی انسانیت میں سب یکساں ہیں تو اس کے یہی معنی ہیں کہ طبیعت انسانی یکساں ہے اور طبیعت یکساں ہوتی تو چاہیے تھا کہ سب کے تقاضے یکساں ہوں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں جو ایک کے نزدیک مطبوع ہے۔ دوسرے کے نزدیک مکروہ۔ مثلاً بڑی خوبصورتی رنگ کی ہے۔\n\nکہتے بھی ہیں ایک رنگ ہزار ڈھنگ، لیکن رنگ کے بارے میں مذاق اس قدر مختلف ہیں کہ گورا، سرخ و سفید، گندم گوں۔ متلح، چمپئی وغیرہ کتنی قسم کے رنگ ہیں۔ جن کے پیچھے ہمارے ملک کے لوگ سر دھنتے ہیں۔\n\nلیکن فرض کرو کہ ان رنگوں میں سے کسی رنگ کا آدمی افریقہ میں جا نکلے تو وہاں اس کی کیسی قدر ہو گی جیسی کہ ہمارے یہاں جذامی کی یامبروص کی۔ افریقہ کے باشندے بھی آدمی ہیں ان کی طبیعتوں میں بھی ایسے ہی جوش اور ایسے ہی ولولے پائے جاتے ہیں۔\n\nعشق و محبت ان میں بھی ہے۔ ان میں بھی حسین ہیں مگر ان کے سراپا تمہارے سراپا سے بالکل مختلف۔ خاص خاص اعضاء کی نسبت بھی مذاقوں کے اختلاف کا یہی حال ہے۔ ہم پسند کرتے ہیں بالوں کی سیاہی جس کو ہمارے شعراء تشبیہہ دیتے ہیں، شب دیجور سے، کالی گھٹا سے، مارسیاہ سے، عاشق کی تیرہ بختی سے، ظلمات سے، اور اہل یورپ چاہتے ہیں بھورے سے بال، سونے سے ہم رنگ۔\n\nہم ڈھونڈتے ہیں آنکھ ہوتی چور جس کی پتلی سیاہ ہو صاحب لوگ نیلی کرمجی چینیوں کی نسبت مشہور ہے کہ کمانیاں چڑھا چڑھا کر ناک کو بیٹھا چھوڑا کیونکہ ان کے نزدیک ناک کی اٹھان سے چہرہ ناہموار ہوتا تھا۔ عورتوں کے پاؤں کو کیسا شکنجے میں کسا کہ کھڑے ہونے سے ان کا مرکز ثقل ہی ٹھکانے پر نہیں رہتا۔ ناچار گر گر پڑتی ہیں۔ ہمارے یہاں دانتوں کا وصف ہے صفائی اور چمک۔\n\nچینیوں میں تیرگی اور سیاہی افریقہ میں عورتیں دانتوں کو سوہن کرا کے آرے کا ہم شکل بناتی ہیں۔ انگریزنیاں ساری دنیا کی عورتوں پر ہنستی ہیں کسی کے گہنے پر کسی کے لباس پر کسی کے پاؤں کی بندش پر کسی کے بناؤ سنگھار پر اور خاص کر چینیوں پر اور ان کا کہنا یہ ہے کہ انسان کی اصلی خوبصورتی اس کی قدرتی بناوٹ میں ہے۔ مگر جس وقت اپنی بہنوں پر جو دوسرے ملکوں کی رہنے والیاں ہیں ہنستی ہیں۔\n\nان کو اپنی کمر یاد نہیں رہتی۔ مختلف ملکوں کی تاریخیں اور جغرافیے پڑھو تو معلوم ہو کہ حسن کی نسبت لوگوں کے خیالات کس قدر مختلف ہیں۔ قومی اختلاف سے اتر کر شخصی اختلاف پر آؤ تو ہر جگہ وہی معاملہ ہے کہ لیلیٰ را بچشم مجنوں بایددید۔\n\nغرض جہاں تک غور کیا جاتا ہے حسن کا کوئی مفہوم معین نہیں ٹھہرتا۔ پس مفہوم حسن کو انسان کا طبعی خیال سمجھنا غلط ہے بلکہ وہ ایک شخصی خیال ہے۔\n\nمبتلا: یہ تو ایک لفظی بحث ہے۔ حسن کی نسبت میرا خیال طبعی یا شخصی ہو تو نتیجہ واحد ہے کہ مجھ سے بدون حسن کے صبر نہیں ہو سکتا۔\n\nعارف: واہ واہ لفظی بحث کی بھی خوب کہی۔ اجی حضرت یہ تو علم الاخلاق کا ایک بڑا ضروری مسئلہ ہے۔ جتنی باتیں طبعی ہیں یعنی تقاضائے طبیعت انسانی سے سرزد ہوتی ہیں۔ کسی کے روکے رک نہیں سکتیں۔ ان کی تبدیلی میں کوشش کرنا محض لاحاصل ہے اور مطلق بے سود، مگر نہیں بلکہ افراد خاص اپنے اوپر لازم کر لیتے ہیں۔\n\nاگرچہ ان ادعائی ضرورتوں کا تقاضا کبھی ضرورتوں سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی چونکہ تقاضائے طبیعت نہیں ہے اس کی شورش کو فرو اس کی تیزی کو مدھم کرنا ممکن ہے۔ مثلاً مطلق کھانا پینا تقاضائے طبیعت انسانی ہے اور کسی تدبیر سے یہ خواہش دفع نہیں ہو سکتی۔ مگر خاص قسم یا خاص ذائقے یا خاص کیفیت کے کھانے کا التزام تقاضائے طبیعت انسانی سے خارج ہے۔\n\nجو لوگ شراب یا افیوں یا مدک یا چنڈو یا گانجے یا چرس یا تاڑی یا حقے یا کسی قسم کے نشے کی عادت ڈال لیتے ہیں۔ اس کی طلب میں ایسے بے قرار ہو جاتے ہیں جیسے بھوبھل میں مچھلی تاہم یہ ایک ضرورت ہے جس کو ان کی طبیعت شخصی تقاضا کرتی ہے نہ طبیعت انسانی۔ اسی طرح خداوند تعالیٰ کی حکمت کاملہ نے نوع انسان کے باقی رہنے کے لیے ایک قاعدہ ٹھہرا دیا ہے کہ دو طرح کے آدمی بنائے۔\n\nمرد اور عورت اور دونوں کے لیے عمر کا ایک وقت مقرر کر دیا کہ جب اس حد پر پہنچیں تو دونوں میں از خود ایک دوسرے کی طرف رغبت پیدا ہو۔ بس یہاں تک اور صرف یہیں تک تقاضائے طبیعت انسانی ہے۔ جیسے مطلق غذا اور اس سے بڑھ کر جس طرف رغبت کرتا ہے، پورا یا ادھورا رند کے سراپا کا مصداق ہو کر از قبیل نشہ ہے۔ جہاں انسان کے اور ہزار ہا لغویات ہیں کہ شاید دس ہزار آدمیوں میں ایک بھی ان سے محفوظ نہیں۔ ایک طرح کی لغویات حسن پرستی بھی ہے۔ بھلا کوئی مجھ کو اتنا تو سمجھا دے کہ طبیعت انسانی جس رغبت کا تقاضا کرتی ہے۔ اس سے اور رند کے یا کسی دوسرے شاعر کے سراپا سے کیا مناسبت۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/28"} {"title": "فسانہء مبتلا/29", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "مبتلا: میں ایسا سمجھتا ہوں کہ اسی رغبت میں جس کا طبیعی ہونا آپ تسلیم کرتے ہیں۔ سراپا کو ایسا مدخل ہے جیسا غذا میں مسالے کو۔\n\nعارف: بالکل غلط۔ مسالہ جزو غذا ہوتا ہے داخل غذا اور خود غذا۔\n\nمبتلا: حسن کی نسبت آپ کی رائے تمام دنیا کی رائے کے خلاف ہے اور اگرچہ بادی النظر میں آپ کی دلیل لا جواب معلوم ہوتی ہے۔ مگر چونکہ فی الواقع ایک عالم فریفتہ حسن ہے اور ازاں جملہ میں بھی ہوں گو آپ کو قائل نہ کر سکوں۔\n\nتاہم دل ہے کہ حسن کے تصور سے پگھلا جاتا ہے۔\n\nعارف: اگر دنیا عبارت ہے ان لوگوں سے جن کو تمہاری طرح حسن پرستی کا خبط ہے تو بلاشبہ تمہارا کہنا درست ہے مگر زیادہ نہیں تو اپنی ہی معرفت کے مثلاً دس گھر معین کرو اور دیکھو کہ ان میں کتنے آدمی ہیں پھر ان میں اپنے جیسے عاشق مزاج منتخب کرو تب تم کو معلوم ہو کہ جنون عشق عالمگیر ہے یا نہیں اور ایک بات میں تم سے اور بھی کہتا ہوں کہ یہ تمام خرمستیاں پیٹ بھرے کی ہیں۔\n\nدوسرے یہ روگ اکثر شہریوں ہی کو ہوتے دیکھا اور تم نے اپنے دل کا جو حال بیان کیا اس کو میں مانتا ہوں لیکن بُرا مت ماننا۔ مدرسے کے تمام طالب علموں میں تم سب سے زیادہ معروف و مشہور تھے مگر کس بات میں مدرسے کے چند آوارہ اور بد وضع نوجوان لڑکے تمہاری محبت کا دم بھرتے تھے اور انہوں نے گفتار سے کردار سے یہ بات تم پر ثابت کر دی تھی کہ تم بھی حسین ہو۔\n\nآدمی قربہ شود ازراہ گوش سنتے سنتے وہ خیال تمہارے ذہن میں راسخ ہو گیا۔ جب خود جوان ہوئے اس خیال کا پیرایہ بدل گیا:\n\nعاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر\n\nبارے ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے\n\nمبتلا: آپ مولوی ہو کر آداب مناظر کا لحاظ نہیں رکھتے۔ آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ حسن کی نسبت لوگوں کے خیالات طبعی نہیں بلکہ شخصی ہیں اور اس دعویٰ کے اثبات میں آپ میری خاص حالت سے استدلال کرتے ہیں۔\n\nدعویٰ عام ہے اور دلیل خاص۔ دنیا میں ہزار ہا آدمی حسن پرست ہیں تو کیا سب کی حسن پرستی کا یہی سبب ہو سکتا ہے کہ میری طرح وہ بھی حسین ہیں۔\n\nعارف: تم نے اچھی طرح خیال نہیں کیا۔ جیسا میرا دعویٰ عام ہے۔ ویسی ہی میری دلیل بھی عام ہے اور تمہارا تذکرہ تمثیلاً تھانہ استدلالاً میری دلیل یہ ہے کہ حسن کی نسبت مختلف ملک کے باشندوں اور مختلف قوموں اور مختلف شخصوں کے مذاق مختلف ہیں اور اگر طبعی ہوتے تو مختلف نہ ہوتے۔\n\nمبتلا: آپ کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اتمتضاتِ طبیعت انسانی تمام دنیا میں یکساں ہیں۔ مگر میرے سمجھنے میں تو یہ بات درست نہیں معلوم ہوتی۔ میں دیکھتا ہوں کہ روئے زمین کے مختلف قطعات میں مختلف طور پر کی آب و ہوا اور مختلف طور کی پیداوار ہے اور آب و ہوا اور پیداوار کے اختلاف سے باشندوں کے طبائع کا مختلف ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ بعض ملکوں کے لوگ آرام طلب ہوتے ہیں او ربعض کے جفاکش۔\n\nبعض کے غصیلے زودرنج بعض کے متحمل اور بردبار، بعض کے بہادر دلیر بعض کے بزدل ڈرپوک بعض کے سیدھے سادھے بعض کے مفسد چالاک اور بایں ہمہ یہ سب خصائص طبعی سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح حسن کی نسبت لوگوں کے مذاق چاہے مختلف ہوں مذاقِ حسن پھر بھی طبعی ہی کہا جائے گا۔\n\nعارف: جن خصائص کے اختلاف پر تم مذاقِ حسن کے اختلاف کو قیاس مع الفازق کرتے ہو وہ خصائص طبعی اور کیمیائی ہیں۔\n\nآب و ہوا اور غذا کی حرارت اور برودت اور رطوبت اور پیوست خون پر اثر کرتی ہے۔ گرم ملکوں کے لوگوں کے مسامات کشادہ، خون گرم اور رقیق اور اس کی گردش تیز اور سرد ملکوں میں اس کے بالکل خلاف اور یہی وجہ ہے کہ گرم ملکوں کے لوگ آرام طلب، غصیلے اور بزدل اور ذہین ہوتے ہیں۔ لیکن آب و ہوا کو اس طرح کا دخل مذاق حسن میں ہو نہیں سکتا اور اگر ہے تو اس کا ثابت کرنا تمہارا کام ہے۔\n\nہاں اگر یہ کہو کہ بعض گرم ملکوں کے لوگوں میں تو الدوتناسل کی رغبت جلد پیدا ہوتی ہے یا وہ لوگ اس رغبت پر زیادہ حریص ہوتے ہیں تو میں اس کو مانتا ہوں۔ کیونکہ مطلقاً اس رغبت کا طبعی ہونا مجھ کو تسلیم ہے، رہی عجلت اور حرص دونوں حرارت کے آثار کیمیائی ہیں۔ مگر ہر پھر کر وہی بات آئی کہ اس رغبت طبعی کو شاعروں کے سراپا سے کہ وہی حسن ہے کیا تعلق؟ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کوئی شخص دوسرے شخص کے کسی عضو کو بسبب بے غرض بے مطلب کیوں اچھا یا برا کہہ سکتا ہے۔\n\nمثلاً تمہاری ناک سے اگر کسی کی کوئی غرض متعلق ہو سکتی ہے تو وہ تم ہی ہو کہ تم اس سے سونگھتے یا سانس لیتے ہو۔ اگر تمہاری ناک تمہارے کام اچھی طرح دیتی ہے تو وہ اچھی ہے مگر تمہارے لیے۔ میرا کون سا مطلب تمہاری ناک سے اٹکا ہے کہ میں اس کو اچھا یا برا سمجھوں اور یہی حال ہے تمام سراپا کا جس کے پیچھے رند نے جز کے جز سیاہ کیے ہیں۔ غرض تم کو دو باتیں ثابت کرنی چاہئیں۔\n\nاول یہ کہ مذاق حسن تقاضائے طبیعت انسانی ہے۔ دوسرے یہ کہ توالدوتناسل کی رغبت طبعی میں اس کو دخل ہے۔\n\nمبتلا: کبھی تو میں اس بات کو سوچ رہا ہوں کہ لوگوں میں مذاقِ حسن مختلف کیوں ہیں؟\n\nعارف: میں نے ان باتوں کو برسوں سوچا ہے۔ آخر اس بات سے دل کو تسلی ہو گئی کہ حسن صورت فی نفسہ کوئی چیز نہیں پھر یہ خیال پیدا ہوا تو کہاں سے پیدا ہوا۔\n\nپہلے ذہن اس طرف منتقل ہوا تھا کہ شاید حسن کا ماخذ علم قیافہ ہو یعنی انسان کی روح اور جسم میں ایک تعلق ہے، ایسا کہ اعضاء کی ساخت اور وضع سے اس کے دلی خیالات اور اخلاق پر استدلال کیا جاتا ہے۔\n\nلوگوں نے تجربے سے اس تعلق کو دریافت کر کے جمع کیا۔ علم قیافہ کے بڑے ماہر ہوتے ہیں۔ آدمی کے اعضاء کی بناوٹ سے اس کے خصائص طبیعت کو پہچان جاتے ہیں۔ عجب نہیں کہ اعضاء کی جو وضع محاسن اخلاق پر دلالت کرتی ہو۔ اس کو اچھا سمجھنے لگے ہوں۔ لیکن جن لوگوں کے حسن کا بڑا چرچا ہے۔ ان کو دیکھا تو من حیث الاخلاق سب سے بدتر پایا۔ معلوم ہوا کہ علم قیافہ تو حسن کا ماخذ نہیں ہو سکتا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/29"} {"title": "فسانہء مبتلا/30", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "آخر غور کرتے کرتے یہ بات سمجھ میں آئی کہ جس طرح اب لوگوں میں اعلیٰ اور ادنیٰ اور شریف اور وضیع اور خواص اور عوام کا تفرقہ ہے۔ ایسا ہی ابتدائے دنیا میں سب لوگ تو یکساں حالت میں نہیں رہے ہوں گے۔ جسمانی قوت یا اعوان و انصار کی کثرت یا کسی دوسری وجہ سے بعض لوگ ضرور اکابر قوم سمجھے جاتے ہوں گے اور قاعدہ یہ ہے کہ جس کو انسان اپنے سے بہتر اور برتر سمجھتا ہے۔\n\nاس کی سبھی باتیں اس کو بھلی معلوم ہوتی ہیں۔ یوں سب سے پہلے حسن کا خیال پیدا ہوا تو عجب نہیں اور پھر تو مثل دوسرے خیالات کے یہ خیال بھی متوارث ہوتا چلا آیا اور یہی سبب ہے ملکوں میں مذاق حسن کے مختلف ہونے کا کہ ہر ملک میں جو شخص سب سے بہتر اور برتر تھا لوگوں نے اس ہی کو نمونہ حسن قرار دے لیا۔ تم نے نپولین شاہ فرانس کی تصویر تو دیکھی ہو گی۔\n\nاس کی داڑھی تھی چگی اور داڑھی کی خوبصورتی ہے بھری ہوئی گول مگر نپولین کے دیکھا دیکھی سارے فرانس نے اپنی داڑھیاں چگی کر لیں اور اسی کو شعار خوبصورتی ٹھہرا لیا اور چگی داڑھی کا نام رکھا امپیریل بیرڈ یعنی شاہانہ داڑھی۔ ہم لوگوں میں جو انگریزی وضع کھانے میں پینے میں لباس میں نشست و برخاست میں طرزِ تمدن میں ہر چیز میں وبا کی طرح پھیلتی جا رہی ہے۔\n\nاس کی بھی یہی وجہ ہے کہ انگریز ہیں وقت کے حاکم اور ان کی تمام ادائیں خوشنما لگتی ہیں اور ہم لوگوں کے مذاق ہیں کہ دن بدن انگریزی طور کے ہوتے چلے جاتے ہیں بغیر خلقت تو اختیاری بات نہیں مگر رفتہ رفتہ مہندی اور وسمے کے عوض ہمارے یہاں کے بڈھے انڈے کی زردی کا خضاب تو ضرور کرنے لگیں گے۔ حسن کی نسبت شخصی مذاقوں کی تاویل چنداں مشکل نہیں۔ ایک شخص میں تمام محاسن صورت کا جمع ہونا تو کمیاب ہے۔\n\nاکثر یوں ہی ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑے حسینوں میں بھی دوچار نقص ضرور ہوتے ہیں۔ اب یہ پسند کرنے والے کی تجویز پر منحصر رہا کہ چاہے جس پہلو کو ترجیح دے۔ بعضے رنگ پر مرتے ہیں اور بعضے نقشے کی نزاکت پر نظر کرتے ہیں۔ بعض حسن داد کے خریدار ہیں اور بعض دام زلف کے گرفتار۔\n\nمبتلا: حسن اگر خصائص انسانی سے ہوتا تو جو ماخذ آپ نے بیان کیا بلاشبہ قابلِ تسلیم تھا۔\n\nجمادات نباتات حیوانات غرض تمام موجودات میں کوئی چیز حسن سے خالی نہیں۔ والد مرحوم زندہ تھے کہ ایک مقدمے کی پیروی کے لیے انہوں نے ناظر بھائی کو گرمیوں کے دنوں میں نینی تال بھیجا اور مجھ کو ان کے ساتھ کیا تو پہاڑ دھندلا دھندلا کئی منزل سے نظر آتا تھا مگر تین چار کوس کے فاصلے سے تو ہم اس کو اچھی خاصی سموچا دیکھنے لگے۔ وہ صبح کا وقت اور پہاڑ کی چوٹیوں پر سفید براق برف گویا سنگھار میز پر بڑا قد آدم آئینہ لگا ہے کہ آفتاب سوتا اٹھ کے پہلے شبنم سے منہ دھوئے اور پھر اپنا چہرہ اس آئینے میں دیکھے اور چوٹیوں کے گردا گرد جب شفق کی سرخی اور دامانِ کوہ کی سبزی پر آنکھ پڑتی تھی تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک نازنین گلابی دوپٹہ اوڑھے اور ہری پشواز پہنے غور سے کھڑی ہوئی آس پاس کی چیزوں کی سیر دیکھ رہی ہے۔\n\nشروع میں تھوڑی دیر تک تو اس کا شعور تھا کہ واقع میں پہاڑ ہے اور ہماری قوت متخیلہ نے اس کو نازنین اور شفق و سبزے کو اس کا لباس بنا لیا ہے۔ مگر آفتاب کی کرن نکلتے ہی اوپر برف کے کنارے اور نیچے ندی نالے سارے جگمگا اٹھے جیسے عباس سچا گوٹا۔ اب تو جو خیال تھا وہ حقیقت الحال ہو گیا، قوتِ نامیہ کا ہر طرف یہ زور و شور کہ ایک چپہ بھر جگہ سبزئہ خودرو سے خالی نہیں۔\n\nشاعر تو سبزے کو خوابیدہ باندھتے ہیں مگر وہاں کا سبزہ بیدار۔ ہوا کے جھونکوں سے ہر وقت متموج۔ بلاتصنع اس وقت تو یہی خیال میں آتا تھا کہ ہوا کے گدگدانے سے پہاڑ کے پیٹ میں ہنسی کے مارے بل پڑ پڑ جاتے ہیں۔ دونوں ہاتھوں سے پگڑی سنبھال کر درختوں کو دیکھو تو ایسا شبہ ہو کہ آسمان کی چھت بہت پرانی ہو چکی تھی۔ شاید اس کی دراڑیں ہیں۔ رنگ رنگ کے جانور پھدک پھدک کر اِدھر سے اُدھر اس طرح اڑتے پھرتے تھے کہ گویا جگہ جگہ چوتھیاں کھیلی جا رہی ہیں غرض ہر چیز پر ایک قدرتی جوبن تھا کہ جی بے اختیار لوٹا چلا جاتا تھا۔\n\nایسے کسی موقع پر آپ کے جانے کا اتفاق ہو تو آپ کو معلوم ہو کہ حسن ایک کیفیت خداداد ہے۔ ہر جگہ ہے اور ہر چیز میں ہے۔ اسی نینی تال کے راستے میں ایک ندی ملی تھی۔ دنیا کی تمام صنعتیں تمام دست کاریاں جس غرض سے ہیں، صرف اتنی ہی بات کے لیے کہ چیزوں میں حسن پیدا ہو۔ کسی انگریزی شاپ (دکان) میں میرے ساتھ چلیے۔ تو میں آپ کو دکھا دوں کہ صرف مکان کی آرائستگی کے لیے کیسا کیسا، اسباب انگریزوں کی ولایت سے بن کر چلا آرہا ہے۔\n\nزندگی کے تمام سازوسامان میں کون سی چیز ہے جس میں خوبی نہیں اور یوں آدمی آنکھوں پر ٹھیکری دھر لے اور ہدایت کا انکار کرے تو اس کا علاج نہیں۔ حسن کو تقاضائے طبیعت ماننا آسان ہے یا ایک عالم کو مجنوں اور مبتلائے خبط۔\n\nعارف: بات کو بہت طول ہوتا جاتا ہے اور حجت اور تقریر سے لکھی کسی بات کا تصفیہ ہوا نہیں اور مدت العمر کے جمے ہوئے خیال کا دفعتاً دل سے نکالنا بھی مشکل۔\n\nمیں تم کو اتنی نصیحت کرتا ہوں کہ جو کچھ میں نے کہا ہے۔ اس کو مختلف اوقات میں تم خود سوچو اور میں نے بھی یہی کیا تھا کہ مدتوں خود غور کرتا رہا۔ یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ آخر کار تم میری رائے کے ساتھ اتفاق کرو گے یا نہ کرو گے مگر اس کا تو مجھ کو پورا یقین ہے کہ انشاء اللہ تمہاری یہ شورش تو ضرور فرو ہو جائے گی جس طرح تم دوسری چیزوں کا استحسان کرتے ہو۔\n\nیعنی مثلاً نینی تال کی سیر سے تمہاری طبیعت کی ایک طرح کی تفریح ہوئی اگر اسی طرح کی تفریح تم کو خوبصورت آدمی کے دیکھنے سے ہو تو اس میں میرے نزدیک کوئی اعتراض کی بات نہیں بلکہ اس استحسان کو تم تقاضائے طبیعت بھی سمجھو تو چنداں مضائقہ نہیں مگر دل میں انصاف کرو کہ اس استحسان کو اس استحسان کے ساتھ کیا مناسبت اور فرض کرو کہ استحسان مردم یعنی حسن پرستی جیسا تم کہتے ہو تقاضائے طبیعت انسانی ہی سہی تو طبیعت انسانی کے اور بہت سے تقاضے ہیں مگر چاروناچار ان کو روکنا اور ضبط کرنا پڑتا ہے۔\n\nسب میں زیادہ شدید تقاضا غذا کا ہے۔ تاہم بعض اوقات طبیب حکم دیتا ہے کہ فاقہ کرو اور فاقہ کرتے ہیں۔ یا غریب آدمی کو ایک وقت کھانا میسر نہیں آتا اور وہ انتڑیوں کو مسوس کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح تقاضائے حسن پرستی مطلق العنان تو رہ نہیں سکتا۔ حسن کمیاب اور اس کے خواہاں بہت۔ معشوقوں کے غمزہ و ادا سے شہید ہونے کا انتظار بھی کریں یا آپس ہی میں رقابت کی وجہ سے لڑ مریں اور مشکل یہ ہے کہ کمیابی ٹھہری شرط حسن۔\n\nکیونکہ اگر حسین کثرت سے ہوں تو بے قدر ہو جائیں۔ کوئی اس کی طرف رغبت بھی نہ کرے، پس حسن پرستی فی نفسہ ایسی خواہش ہے کہ ہزار خواہشوں میں ایک کی کامیابی کی بھی توقع نہیں۔ تو کیوں آدمی ایسی حالت اپنے پیچھے لگائے کہ اس سے سوائے رنج کے اور کچھ ہاتھ نہ آئے۔ موقع پر آئی ہوئی بات کہنی پڑتی ہے تم کو معلوم ہے کہ واقعی اور ادعائی ضرورتوں کی شناخت کیا ہے۔\n\nقاعدہ یہ ہے کہ جو چیز جس قدر زیادہ سہولت سے میسر آسکتی ہے۔ بس جان لو کہ ہم کو اسی قدر زیادہ اس کی حاجت ہے۔ مثلاً ہوا اور پانی اور غلہ سب ضرورت ہی کی چیزیں ہیں۔ غلے سے زیادہ پانی اور پانی سے زیادہ ہوا مگر ہوا سب سے زیادہ سہل الحصول ہے۔ پانی اس سے کم اور غلہ اس سے بھی کم۔ اسی طرح لوہا اور چاندی اور سونا اور موتی اور جواہرات۔ سب سے زیادہ بکار آمد لوہا ہے اور اسی کی زیادہ افراط ہے۔\n\nپس حسن اگر حقیقت میں ہم کو درکار ہوتا تو ضرور تھا کہ اس کی افراط بھی ہوتی اور افراط ہوئی تو پھر حسن کہاں۔ حسن تو اسی وقت تک حسن ہے کہ اس کے دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہوں۔\n\nمبتلا: آپ کا یہ فرمانا بالکل ٹھیک ہے کہ حسن کمیاب ہے اور جو ہے اس پر دسترس کا ہونا مشکل۔ میں اسی سوچ میں بیٹھا تھا کہ آپ تشریف لائے مگر دنیا کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں بھی مشکلیں پیش آتی ہیں اور یہ تو وہ لذتیں ہیں کہ دنیا کے سارے مزے اس کے آگے ہیچ ہیں۔\n\nبلکہ میں تو ایسا سمجھتا ہوں کہ جب تک لذتِ حسن کا شمول نہ ہو دنیا کی کسی چیز میں کوئی مزہ ہی نہیں تو ایسے عمدہ مطلب کے حصول میں اگر جان تک بھی جوکھوں میں ہو تو کیا مضائقہ۔ اتنا خدا کا شکر ہے کہ دوسروں کو محال ہے اور مجھ کو آسان۔\n\nعارف: کیوں تم میں خصوصیت کیا ہے، کیا تم کہیں کے حاکم ہو یا تمہارے یہاں کچھ دولت پھٹ رہی ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/30"} {"title": "فسانہء مبتلا/31", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "مبتلا: بس آپ کے نزدیک تو دنیا میں حکومت اور دولت دو ہی چیزیں ہیں۔ اجی حضرت میں حسن کی دولت رکھتا ہوں۔ اب چند روز ہوئے چچا باوا کے لحاظ سے میں نے آنا جانا چھوڑ دیا۔ ورنہ شہر میں ایسا کون نازنین ہے جو مجھ کو پیار نہیں کرتا۔ ذرا میرا رخ دیکھیں تو گلے کی ہار ہو جائیں۔ مجھ کو حسن کی کیا کمی ہے۔ آج چاہوں تو ایک ریوڑ پال لوں۔\n\nعارف: میں تو سمجھتا تھا کہ تم کچھ عقل رکھتے ہو اب معلوم ہوا کہ عقل اور حیا اور غیرت اور عزت اور آبرو اور مذہب کسی چیز سے تم کو بہرہ نہیں اور تمہاری حالت بڑی خطرناک حالت ہے۔\n\nتم تو جناب میرمتقی صاحب کے پاس برسوں رہو تب کہیں جا کرآدمی بنو تو بنو۔ تمہاری عقل کا تو یہ حال ہے کہ ابھی تک خوبصورتی کا خبط تمہارے سر سے نہیں نکلا۔ تم بات بات میں اس طرح منہ بھربھرا کر اپنے تئیں حسین اور خوبصورت کہتے ہو کہ گویا حسن صورت بڑا جوہر ہے۔\n\nمرد ہو کر تم کو عورتوں کے ہنر پر ناز کرتے ہوئے شرم نہیں آتی۔ خوبصورتی کے خیال سے کچھ تم ہی اپنے دل میں خوش ہوتے ہو گے۔\n\nمگر غیرت مندوں کی نظر میں تو اس گورے چمڑے نے سارے خاندان کی عزت ڈبو دی اور تم کو دنیا اور دین دونوں کے کام سے کھو دیا اور خیر جوان ہوئے پیچھے وہ کم بخت خوبصورتی گئی گزری ہوئی تھی تو بچپن کے اس خیال کو جانے دیا ہوتا۔ نہیں وہ خبط ہے کہ بدستور تازہ ہے۔ منہ پر داڑھی نکل آئی۔چہرہ پکا ہو گیا۔ وہ رنگ و روغن وہ نرمی و نزاکت کوئی چیز باقی نہیں رہی۔\n\nمگر خدا جانے وہ تمہاری خوبصورتی کس چیز سے عبارت ہے کہ اس میں فرق نہ آیا۔ شہر کے نازنینوں کا حال تو معلوم نہیں مگر مدرسے میں جو تمہارے چاہنے والے تھے۔ وہ تمہارے رہتے ہی ایک ایک کر کے تم سے بے رخی کرنے لگے تھے اور کیا تم اس کا امتیاز نہ ہوا ہو گا اور جب تمہاری وہ لڑکپن کی کیفیت بدل گئی کہ خیر وہ ایک طرح خوبصورتی تھی بھی، تب بھی مرد خدا تم کو تنبیہہ نہ ہوئی کہ کیا ایسی بے ثبات اور ناپائیدار چیز کے درپے ہونا جو آج ہے اور کل نہیں۔\n\nیہ کیفیت جو تم میں اب ہے اگرچہ اس کو خوبصورتی سمجھنا تمہارا ہی ادعا ہے مگر بُری یا بھلی جیسی ہے اسے تو قیام ہو جس نے تم کو بچپن میں دیکھا ہے اب سے چار برس بعد پہچاننے کا بھی تو نہیں کہ یہ وہی مبتلا ہے یا دوسرا شخص ہے۔ میرے نزدیک تو خوبصورتی کا دعویٰ اب بھی تم کو زیب نہیں دیتا مگر ایک وقت آنے والا ہے تو اس کو آیا ہوا سمجھو جب کہ تم خود پکار اٹھو گے:\n\nدریغا کہ عہد جوانی برفت\n\nجوانی مگو زندگانی برفت\n\nذرا خیالات کو اونچا کرو۔\n\nنظر کو تھوڑا آگے بڑھاؤ۔ یہ خواہشیں جن کا تم اس قدر اہتمام کر رہے ہو، خدا نے گدھے، کتے، بندر، سوٴر، ذلیل سے ذلیل جانوروں کو بھی دی ہیں۔ بلکہ جانوروں میں یہ قوتیں آدمی سے بہت زیادہ ہیں۔ کیا آدمی کے لیے شرم کی بات نہیں کہ جانوروں کی ریس کرنے پر حریص ہو تم کو اس بات پر بڑا گھمنڈ ہے کہ نازنینان شہر یعنی بازاری عورتیں تم کو پیار کرتی ہیں۔\n\nیہ جھوٹی رکابیاں، یہ چچوڑی ہوئی ہڈیاں یہ کھائی ہوئی قلفیاں کسی بھلے مانس کی غیرت تقاضا کر سکتی ہے کہ ان کو منہ لگائے یا پاس بٹھائے۔ نرمی خوبصورتی کو اگر ہو بھی لے کر کیا آگ لگانی ہے۔ جب کہ ان میں شرم و حیا نہیں، مہر و وفا نہیں۔ عفت و عصمت نہیں۔ غیرت و حمیت نہیں۔\n\nمبتلا: میں نے تو ان لوگوں کا تذکرہ آپ سے صرف اس غرض سے کیا تھا کہ میں حسن کی خواہش کروں۔\n\nتو غالباً میرے لیے اس کا بہم پہنچنا کچھ دشوار نہ ہو گا۔ کیونکہ میں ان لوگوں کو اپنی طرف بھی مائل پاتا ہوں۔ مجھے دوسرا ذریعہ تقریب درکار نہیں۔ جس دن چچا باوا تشریف لائے میں نے ان لوگوں سے ملنا جلنا قطعاً موقوف کر دیا اور آئندہ بھی میرا ارادہ ان لوگوں سے ملنے جلنے کا ہرگز نہیں۔ چچا باوا کے آنے کا تو مجھ کو ایک حیلہ ہاتھ لگ گیا ورنہ میں نے تھوڑے ہی دنوں کے اختلاط میں ان لوگوں کو خوب آزما لیا۔\n\nبِک گیا، برباد ہو گیا چچا باوا نہ ہوتے تو فاقوں پر نوبت پہنچ چکی تھی۔ مگر حقیقت میں عجب بے مروت قوم ہے، چندے کے بندے اور دام کے غلام۔ اس میں شک نہیں کہ مجھ کو پیار بھی کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ لے بھی مرتے ہیں۔\n\nعارف: الحمدللہ۔ میرا جی یہ سن کر بہت خوش ہوا کہ تم کو اس نالائق گروہ سے تو نفرت ہوئی اور میں تو بھائی اس کو جناب میر صاحب کا تصرف سمجھتا ہوں۔\n\nمبتلا: خیر جو کچھ ہو مگر حسن پرستی کی کسک میرے دل میں باقی ہے وہ نہیں نکلتی۔\n\nعارف: اب بہت دیر باتیں ہوئیں۔ آدمی کے دل کا حال ہر وقت یکساں نہیں رہتا۔ انشاء اللہ پھر کسی دن موقع دیکھ کر گفتگو کریں گے۔ اس اثناء میں تم بھی وقتاً فوقتاً سوچنا اور غور کرنا اگرخدا کو منظور ہے تو خود تمہارے ہی دل سے کوئی نہ کوئی بات ایسی پیدا ہو گی کہ اس سے تمہاری تسکین ہو جائے گی۔\n\nاتنی بات تمہارے کان میں اور ڈالے دیتا ہوں کہ دنیا کے تمام معاملات کا مدار خیالات پر ہے۔\n\nبرخیالے صلح شان و جنگ شان\n\nبرخیالے نام شان و ننگِ شان\n\nایک شخص کو دیکھتے ہیں کہ ایک غرض کے پیچھے دیوانہ بن رہا ہے اور اسی جیسے ہزاروں لاکھوں آدمی ہیں کہ اس غرض سے مطلق سروکار نہیں رکھتے۔ زندگی کے دن پورے کرنے کو گنتی کی چند چیزیں درکار ہیں اور ان کے بہم پہنچانے کے لیے کچھ زیادہ زحمت اٹھانے کی ضرورت نہیں۔\n\nصائب نے کیا خوب کہا ہے:\n\nحرص قانع نیست صائب ورنہ اسباب جہاں\n\nآنچہ منہ درکار دارم بیشتر درکار نیست\n\nاور جب دوسرے لوگ ہمارے ہی ابنائے جنس ایک چیز کے بغیر خوش و خرم رہ سکتے ہیں۔ تو اس سے بخوبی ثابت ہے کہ حقیقت میں وہ چیز داخل ضروریاتِ زندگی بلکہ داخل تفریحات بھی نہیں ہے۔ ان لوگوں نے ایک طرح پر خیال کیا اور اس چیز پر غالب آئے اور ہم نے دوسری طرح پر سوچا اور مغلوب ہو گئے۔\n\nیوں تو سوچنے اور غور کرنے کو ہزار باتیں ہیں مگر تمہاری حالت کے واسطے موت کا تصور کرنا بالخاصہ مفید ہے۔ اگر دن رات میں تھوڑی دیر کے لیے بھی آدمی اپنے تئیں مرتا ہوا فرض کر لیا کرے اور یہ تو یقینی ہے کہ ایک نہ ایک دن سچ مچ اس کو مرنا ہو گا۔ تو دنیا کی بہت سے ترغیبات سے محفوظ رہ سکتا ہے اور چونکہ دینداری کے خیالات ابھی تمہاری طبیعت میں راسخ نہیں ہوئے۔ موجبات ترغیب کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ سارا کیا کرایا دم کے دم میں اکارت ہو جائے گا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/31"} {"title": "فسانہء مبتلا/32", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "poetry", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "قطعہ\nرہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو\nہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو\nپڑیئے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار\nاور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/32"} {"title": "فسانہء مبتلا/33", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "قریب تھا کہ بیگم تو اس کو صبر کر کے بیٹھ رہے۔ اتنے میں تو میرمتقی کو سنا کہ تشریف لے گئے۔ بیگم تو اس خبر کو سنتے ہی مارے خوشی کے اچھل پڑی اور اسی وقت سے لگی مبتلا کے انتظار میں بار بار مڑ مڑ کر دروازے کی طرف دیکھنے۔ ایک دن گزرا دو دن گزرے تین دن گزرے مبتلا کا پتہ نہیں۔ سمجھی کہ چچا نے ضرور بھتیجے کو کچھ پٹی پڑھائی۔ آخر جب اپنے اہل برادری کو سنا کہ حساب کتاب کو آنے لگے تو اس نے بھی کسی کے ہاتھ ایک رقعہ بھیجا کہ جامن یا بآں شورا شوری ویا بایں بے نمکی۔\n\nاس قدر بے مروتی ایسی بے وفائی۔ کچھ قصور کوئی خطا۔ دل کے ایسے بودے اور ارادے کے اتنے کچے تھے تو اتنا ربط بڑھانا ایسا گہرا اختلاط کرنا کیا ضروری تھا از برائے خدا چند لمحے کے لیے تشریف لاؤ اور اپنی حقیقت مجھ کو سناؤ۔\n\nمیں خدانخواستہ کوئی بلا نہیں کہ چمٹ جاؤں گی۔ آپ کوئی بچے نہیں کہ پھسلا لوں اور اگر آپ کو آنا منظور نہیں تو مجھ سے وہاں پہنچنا کچھ دور نہیں:\n\nتم جانو غیر سے جو تمہیں رسم و راہ ہو\n\nہم کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو\n\nمبتلا یہ رقعہ پڑھ کر غوطہ میں تھا کہ عارف اس کے سر پر آکھڑے ہوئے تھے۔\n\nعارف کے چلے جانے کے بعد مبتلا نے رقعے کو پھر کئی بار پڑھا۔ وہ اس وقت جانے میں ہچکچاتا تھا مگر پھر اس نے سوچا کہ اگر میں نہ گیا تو بیگم خود چلی آئے گی۔ اس سے تو میرا جانا بہتر ہے۔ غرض دل خوب مضبوط کر کے بیگم کے گھر گیا مگر افسوس ہے کہ کچھ گھڑی کو گیا کہ بس اسی کے گھر کا ہو رہا۔ بیگم نے جو کئی مہینے کے بعد مبتلا کو دیکھا تو نہایت تپاک سے ملی۔\n\nبس اس کا وہ تپاک ایک جادو تھا کہ مبتلا کی تو کیا حقیقت تھی۔ اس کے چچا باوا میرمتقی صاحب بھی ہوتے تو پھسلتے نہیں تو لڑکھڑا تو ضرور جاتے۔ دیر تک آپس میں گلے شکوے ہوتے رہے۔ آخر مبتلا نے شروع سے آخر تک میرمتقی کا آنا اور امور خانہ داری کی اصلاح اور ان کی نصیحت اور ناظر کی فضیلت اور میر صاحب کا تشریف لے جانا اور عارف سے معرفت کرانا اور عارف کا سمجھانا اور ارباب نشاط کا حساب کتاب ذرا ذرا بیان کیا۔\n\nبیگم نے بہت ہی توجہ سے مبتلا کے قصے کو سنا اور کہا کہ اتنے دن برابر جو آپ کا آنا نہ ہوا۔ اس سے مجھے بڑی آزردگی ہوئی تھی اور میں نے مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ آپ سے اخیر دو دو باتیں کر کے ضرور اس محلے سے اٹھ جاؤں گی۔ مگر اب جو آپ سے ساری حقیقت معلوم ہوئی۔ میرا جی بہت خوش ہوا اور اگر میں جانتی ہوتی تو ضرور میر صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرتی۔ سبحان اللہ اچھوں کی اچھی ہی باتیں ہوتی ہیں۔\n\nانہوں نے باپ سے بڑھ کر آپ کے ساتھ سلوک کیا۔ ان کے فرمانے پر چلو تو دنیا اور دین دونوں میں سرخ رو۔ میں تو خود آپ سے کہنے والی تھی کہ ان بیسواؤں سے ملنا اور یوں پیسے کو برباد کرنا اور یہ ہرجائی پن اچھا نہیں۔\n\nمبتلا: مشکل یہ آپڑی ہے کہ بی بی کی طرف تو مجھ کو رغبت نہیں تو پھر آپ کسی طرح زندگی بسر بھی کروں یا نہ کروں۔\n\nبیگم: بیاہتا بی بی سے اگر مرضی نہیں ملتی تو ایک اپنی مرضی کی بی بی کر لو۔\n\nخدانخواستہ تم کچھ غریب نہیں ہو کہ دو بیبیوں کا خرچ نہ چلا سکو گے۔ مردوں پر تو خدا نے پابندی نہیں کی، ایک ایک کو چار چار کا حکم ہے۔\n\nمبتلا: تم مجھ سے نکاح پڑھنے پر راضی ہو۔\n\nبیگم: میں تو خود تم سے کہہ چکی ہوں کہ میں اس حالت میں رہنا پسند نہیں کرتی میں تو کوئی دن جاتا ہے کہ کسی نہ کسی کا دامن پکڑ کر بیٹھ رہوں گی اور اگر تم میری دست گیری کرو تو زہے قسمت مگر تم کو بہتیری مجھ سے بہتر ملیں گی۔\n\nنکاح کرو تو ایسی کے ساتھ کہ پھر بی بی کی تمنا باقی نہ رہے بلکہ مناسب تو یہ ہے کہ نکاح مت پڑھاؤ چندے کسی کو آزماؤ۔\n\nمبتلا: میں تو فکر کرتے کرتے تھک گیا اور سوچتے سوچتے میرا سر دُکھنے لگا۔ چچا باوا اور میاں عارف کی تو مرضی یہ ہے کہ میں ساری عمر رنج و غم میں گھل گھل کر مر جاؤں۔\n\nبیگم: نوجِ دور پار نصیب دشمناں رنج کرے تمہاری بلا اور غم اٹھائے تمہاری پاپوش، دنیا میں بار بار جنم لینا نہیں اور جوانی کی عمر بھر چلتی چھاؤں ہے۔\n\nجب اپنا ہی جی خوش نہ رہا تو دنیا کو لے کر کیا چولہے میں ڈالنا ہے۔\n\nمبتلا: دل پر قابو نہیں چلتا۔ اس بی بی سے ممکن نہیں کہ مجھ کو انس ہو، چاروناچار دوسری بی بی تو کرنی ہی پڑے گی۔ اچھا تو آج کے آٹھویں دن۔\n\nبیگم: بلکہ پندرہویں دن مگر ایک شرط ہے کہ ہست و نیست جو کچھ کہنا ہو تم خود آ کر مجھ سے کہنا ایسا نہ ہو کہ پہلے کی طرح بیٹھ رہو۔\n\nمبتلا: نہیں کچھ ہی کیوں نہ ہو میں خود ضرور آؤں گا۔ بلکہ ہو سکا تو بیچ میں ایک دو پھیرے کروں گا۔\n\nبیگم: قسم کھاؤ۔\n\nمبتلا: تمہاری جان کی قسم۔\n\nبیگم: میری جان تو تم ہو۔\n\nمبتلا: اپنے سر کی قسم۔ یہ عہد و پیمان ہو کر بیگم سے رخصت ہوا مگر سچ پوچھو تو آج ہی کا جلسہ جلسئہ نکاح تھا۔ بیگم ایک بلا کی عورت اور اس کو بشرے سے دلی حالات کے معلوم کر لینے کا بڑا ملکہ تھا۔\n\nآج کی ملاقات میں اس کو پورا یقین ہو گیا کہ مبتلا پر اس کا جادو چل چکا ہے اور اسی بھروسے پر اس نے آپ مہلت دی ورنہ وہ ایسا ڈھونگ ڈالتی کہ بے نکاح پڑھائے مبتلا جانے کا نام نہ لیتا۔ بیگم کے پاس یہ آج کا جانا مبتلا کے حق میں غضب ہو گیا۔ اس کو میرمتقی نے ایک حالت پر پایا اور انہوں نے اور عارف نے اس کو ٹھیل ٹھیل کر کچھ دور سر کا یا، آج وہ پھر اپنی جگہ پر عود کر آیا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/33"} {"title": "فسانہء مبتلا/34", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "انیسواں باب: مبتلا اور عارف کا مباحثہ\n\nعارف نے اس خیال سے کہ اس کو اچھی طرح بطور خود غور کر لینے دو۔ ایک ہفتے تک اس کی خبر نہ لی۔ پھر جو ملاقات ہوئی تو مبتلا کا تیور ہی بدلا ہوا تھا۔ پوچھا کیوں صاحب تم نے کچھ سوچا غور کیا۔\n\nمبتلا: جی ہاں دوسرے نکاح کی ٹھہرائی ہے۔\n\nعارف: (چونک کر) ایں دوسرا نکاح سچ کہو۔\n\nمبتلا: کیا کروں میں بھی آدمی ہوں۔ میرے سینے میں بھی دل اور دل میں خواہش ہے۔ مجھ کو بھی موافق سے ر احت اور ناموافق سے ایذا پہنچتی ہے۔ میری زندگی کا زمانہ بھی محدود ہے اور جوانی کا تو محدود نہیں بلکہ مختصر۔ میں بھی اتنی بات سوچتا ہوں کہ دنیا سے ایک بار جا کر پھر آنا نہیں ان تمام باتوں پر نظر کر کے میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ آخر مجھ کو تو آسائش ملے۔\n\nعارف: بے شک آسائش جائز کو کون منع کر سکتا ہے اور تم پر کیا موقوف ہے۔ تمام آدمی کوشش کرتے ہیں اور سب کی کوششوں کا دینی ہو یا دنیاوی ماحصل ہے آسائش مگر غور طلب بات یہ ہے کہ جس کو تم نے آسائش سمجھا ہے وہ حقیقت میں بھی آسائش ہے یا نہیں۔\n\nمبتلا: یہ تجویز کرنا میرا کام ہے۔\n\nعارف: بس یہ غلط ہے ہم سب ہیں بیمار اور شارع ہے ہمارا طبیب۔\n\nاگر بیمار کو اختیار دیا جائے کہ اپنی آسائش کے لیے آپ تجویز کرے تو بیمار یقینا اپنے تئیں ہلاک کریگا۔ مبتلا: آپ اطمینان رکھیے میں نے شرع ہی کے مطابق اپنی آسائش کی تجویز کی ہے کیا میں نے تمہیں کہا نہیں کہ دوسرے نکاح کی ٹھہرائی ہے۔ اگر بے نکاح کسی عورت کو گھر میں ڈال لینے یا پانچویں نکاح پڑھانے کا نام لیتا تب ہی آپ نے کان کھڑے کیے ہوتے۔\n\nعارف: جو از تعداد نکاح کی نسبت تم نے جس طرح پر اپنا اطمینان کر لیا ہو، ذرا مجھ کو بھی تو سنا۔\n\nمبتلا: میں تو آپ کے ادنیٰ شاگردوں کی برابری بھی نہیں کر سکتا۔ میرا کیا مقدور ہے کہ آپ کو سمجھاؤں مگر تعدد نکاح کی سند تو قرآن ہے۔\n\nعارف: لیکن اسی کے آگے اللہ فرماتے ہیں کہ اگر تم کو یہ خوف ہو کہ متعدد بیبیوں میں برابری نہ کر سکو گے تو ایک ہی بی بی کرو اور سورة اور اسی پارے میں اور آگے چل کر فرمایا کہ تم بہتیرا چاہو مگر تم سے یہ ہو ہی نہ سکے گا کہ عورتوں میں برابری کر سکو۔\n\nپس سارے کے سارے بھی ایک طرف کو مت جھک جاؤ کہ اس بے چاری کو ادھر میں لٹکتا ہوا چھوڑ دو۔ اب ان دونوں باتوں کو ملاؤ کہ برابر نہ کر سکو تو ایک کرو۔ اور تمہارے لیے برابری ہو ہی نہ سکے گی۔ ایک شخص نے حال ہی میں حرمتِ تعدد نکاح پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کے نزدیک ان دونوں آیتوں کو ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بس ایک بی بی کرو۔\n\nمبتلا: ایسی ہی تفسیریں کر کے تو لوگوں نے دین میں رخنے ڈالے ہیں۔\n\nپیغمبرﷺ اور ان کے صحابہ اور تابعین اور تمام بزرگان دین سب متعدد بیبیاں کرتے چلے آئے ہیں۔ ان کو بھی یہ دونوں آیتیں معلوم تھیں اور قرآن کو سب سے بہتر سمجھتے تھے اور ان کاتدین بھی بہت زیادہ تھا۔ مگر کسی نے تعدد نکاح کی ممانعت کا نتیجہ نہ نکالا اور ”تم سے برابری ہو ہی نہ سکے گی“ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس برابری کی نسبت ارشاد ہے کہ تم سے ہو ہی نہیں سکے گی وہ پوری پوری برابری ہے۔\n\nیعنی عدلِ حقیقی۔\n\nکیونکہ مطلقِ عدل سے قاعدے کے مطابق فرد کامل مراد ہو گی اور وہ نہیں ہے۔ اس لیے فرمایا ہے کہ تم سے عدل حقیقی تو ہو نہیں سکے گا تو ایسا بھی تو غضب مت کرو کہ ایک ہی طرف کے ہو رہو اور دوسری کو لٹکا رکھو۔ کہ وہ بے چاری بیچ میں پڑی جھولا کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عدل حقیقی کے علاوہ کہ وہ اعلیٰ درجے کا عدل ہے اور انسان سے اس کا ہونا ممکن نہیں۔\n\nایک ادنیٰ درجے کا عدل مجازی بھی ہے کہ انسان صرف ایک ہی کا نہ ہو رہے بلکہ دوسری کی بھی خبرگری کرتا رہے۔ چچا باوا کے رہتے میرے دل میں اس بات کا کھٹکا تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ ضرور مجھ کو ٹوکیں گے تو میں نے مولوی محمد فقیر سے اس مسئلے کی خوب تحقیق کی تھیں۔ میری سمجھ میں تو یوں آتا ہے کہ اس سے عدل مجازی مراد ہے کہ اگر تم کو اس بات کا ڈر ہے کہ تم ادنیٰ درجے کا عدل بھی نہ کر سکو گے اور بالکل ایک ہی کے ہو رہو گے تو ایسی صورت میں تم کو ایک ہی بی بی کرنی چاہیے اور اگر تعدد نکاح میں عدل حقیقی مشروط ہو تو فی الواقع جیسا آپ کہتے ہیں ممانعت ہوئی۔\n\nتعلیق بالحال اور اگرچہ اس آیتہ میں بھی مطلق عدل ہے اور چاہیے کہ یہاں بھی عدل حقیقی مراد ہو۔ مگر دوسری آیت میں قرینہ صارف موجود ہے اور اگر خدا کو تعدد نکاح کی ممانعت منظور ہوتی تو تعلیق بالمحال کا پیرایہ اختیار کرنا کیا ضروری تھا۔ صاف صاف کہہ دینا تھا کہ بس ایک بی بی کرو نہ یہ کہ اگر عدل حقیقی نہ کر سکو تو ایک کرو کیونکہ یہ تو طے ہی تھا کہ عدل حقیقی مقدور بشر نہیں اگر اس سے ممانعت تعدد نکاح مراد ہو تو معاذ اللہ اس آیت کی ایسی مثال ہو گی کہ پوچھیں ناک کہاں ہے اور جواب میں بائیں کان سے شروع کر کے گدی کی طرف سے داہنی جانب ہاتھ لا کر بتایا جائے کہ یہ ہے۔\n\nعارف: اس میں شک نہیں کہ مولوی محمد فقیر نے اس مسئلے کی اچھی تحقیقات کی اور تم نے جو کچھ سمجھا میرے نزدیک نہایت درست سمجھا۔ مگر پیغمبرﷺ صاحب سے جو تم نے استشہاد کیا اس کو میں نہیں مانتا۔ یہ دونوں آئتیں عام مسلمانوں کے واسطے ہیں۔ پیغمبرﷺ صاحب کے نکاح ان میں داخل نہیں۔ پیغمبرﷺ صاحب کے لیے سورئہ احزاب میں ایک پورا رکوع موجود ہے۔\n\nپیغمبرﷺ صاحب کے لیے چار بیبیوں کی قید نہ تھی اور اگرچہ آنحضرت ازواج مطہرات میں اپنی طرف سے عدل فرماتے تھے۔ مگر خدا نے ان پر اس کو بھی لازم نہیں کیا تھا چنانچہ اسی رکوع میں ارشاد ہے کہ اپنی بیبیوں میں جس کو چاہو اپنے سے جدا رکھو اور جس کو چاہو بٹھا کر پھر بلا تو تم کو کچھ گناہ نہیں۔ اسی طرح پیغمبرﷺ صاحب کو بلا مہر بھی نکاح کر لینا جائز تھا اور یہ باتیں خصائص نبویﷺ میں سے ہیں اور کیا مصلحتیں پیغمبرﷺ صاحب کے ان ذاتی معاملات میں مضمر تھیں اس کے لیے تفصیل درکار ہے جس کے بیان کرنے کو بڑی فراست چاہیے۔\n\nاسی طرح صحابہ وغیرہ سے استشہاد کرنے میں بھی تم کو درست نہیں سمجھتا۔\n\nمبتلا: مذہباً یا عقلاً۔\n\nعارف: یہ تو تم نے عجیب لغو بات پوچھی۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ مذہب اور عقل دو چیزیں ہیں اور ممکن ہے کہ دونوں کی دوراہیں ہوں حالانکہ میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ مذہب مخالف عقل باطل، عقل مخالف مذہب گمراہ۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/34"} {"title": "فسانہء مبتلا/35", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "مبتلا: جس چیز کے جواز کے لیے نص قرآنی موجود ہے۔ اس سے آپ کی مخالفت کا سبب؟\n\nعارف: بات یہ ہے کہ شارع نے مردوں اور عورتوں کی معاشرت کے قاعدے ٹھہرا دیئے ہیں۔ نکاح اور مہر اور نفقہ اور طلاق اور خلع اور لعان اور اظہار اور رجعت اور رضاع وغیرہ جتنے معاملات ہیں سب کے واسطے احکام ہیں۔ اگر ان احکام کی پوری پوری تعمیل ہو تو کسی قوم اور کسی مذہب کے زن و شوہر میں اس سے بہتر معاشرت ہو نہیں سکتی مگر خرابی کیا آکر پڑی ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے رسم اور مذہب دو چیزوں کو ملا کر اپنے طرز معاشرت کو آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بنا لیا ہے۔\n\nمثلاً پردے سے چلو بلاشبہ اسلام کا حکم ہے کہ بیبیاں پردہ کریں اور اس میں شک نہیں کہ ایک پردے سے ہزار ہا مفسدوں کا انسداد ہوتا ہے۔\n\nمگر جس سختی کے ساتھ ہم لوگوں نے پردے کو لازم کر لیا ہے افراط ہے، حد شرع سے متجاوز پردہ نہیں ہے مگر قید ہے اور قید جس قدر سخت اسی قدر ایذا دہ۔ نکاح ایک ایسا معاہدہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں کی زندگی کی کامیابی اور ناکامیابی راحت اور تکلیف خوشی اور ناخوشی اسی پر موقوف ہے۔\n\nمعاہدہ تو ایسا مہتمم بالشان اور معاہدہ کرنے والے جن کو اس کا نباہ کرنا ہے اور جن پر اس معاہدے کا اثر مترتب ہو گا اس سے بے تعلق کیونکہ اکثر تو معاہدہ نکاح ایسی چھوٹی عمروں میں ہو جاتا ہے کہ فریقین میں سے کسی کو بھی اس کے نتائج کے سمجھنے کی اہلیت نہیں ہوتی اور اگر شاذو نادر ہوتی بھی ہے تو اظہار رائے کر کے بے شرم اور بے حیا اور بے غیرت اور منہ بولا کون کہلائے۔\n\nپس معاہدہ نکاح تو کرتے ہیں مثلاً زید اور ہندہ اور ایجاب اور قبول کرتے ہیں ان کے ولی۔ کھلم کھلا پوری آزادی تو نکاح کے معاملہ میں مرد عورت کسی کو بھی نہیں۔ رہ گئے دبے دبائے اشارے کنائے وہ بھی مردوں کے لیے بدنمائی ہے اور عورتوں کے لیے فضیحت اور رسوائی۔ سب سے بڑا ظلم جو ہم نے اپنی عورتوں پر کر رکھا ہے یہ ہے کہ بیوہ کو دوسرا نکاح نہیں کرنے دیتے۔\n\nہزار ہا اللہ کی بندیاں ہیں کہ انہوں نے شوہر کا منہ تک نہیں دیکھا اور نصیبوں پر ایسے پتھر پڑے کہ رانڈ ہو گئیں۔ ہندوؤں کی طرح ستی ہو کر ایک بار کا جل مرنا ساری عمر کے جلاپے سے ہزار درجے بہتر تھا مگر حرام موت ستی کیوں کر ہوں۔ دنیا میں ناک کٹتی ہے۔ لہٰذا دوسرا نکاح کس طرح کریں۔ غرض جیتی ہیں تو لطفِ حیات نہیں اور مرتی ہیں تو اپنے اختیار کی بات نہیں تو اس کا مطلب نکلا کہ شارع تو حقوق میں سے رتی بھر چھوڑنا نہیں چاہتے۔\n\nاب جو نسبت مرد اور عورت میں شارع کو رکھنی منظور تھی کیونکہ باقی رہ سکتی ہے اور وہ نسبت کیا تھی۔ اسی کے لیے میں تمہارے آگے قرآن کی دو آیتیں پڑھتا ہوں سورئہ بقر میں ہے۔ جیسے عورتوں کی ذمہ داریاں ہیں ویسی ہی راست معاملگی کے ساتھ برتاؤ کرو۔ پس اگر وہ تم کو بھلی نہ لگیں تو عجب نہیں تم کو ایک چیز بھلی نہ لگے اور خدا اس میں بہت سی بہتری کر دے۔\n\nاب فرمائیے کہ تعدد نکاح جائز ہے یا ناجائز؟\n\nمبتلا: میں تو مذہب کا کوئی بڑا محقق نہیں مگر اسی طرح جو رویں اگر زبردستی ہمارے گلے مڑھی جائیں گی تو جو حالت آپ نے بیوہ عورتوں کی بیان کی، اس سے بدتر ہماری ہو گی۔ بیوہ عورت کو تو خیر صبر کرنے کے لیے ایک بات بھی ہے کہ شوہر نہیں ہے نہ سہی لیکن یہ کیا مصیبت ہے کہ ایک عورت کو آنکھ بھر کر دیکھنے کو جی نہیں چاہتا، بات کرنے کی طرف طبیعت رغبت نہیں کرتی اور آپ کہتے ہیں کہ زبردستی اس کے ساتھ عاشقی کرو۔\n\nاگر خدا کے یہاں ایسی ہی ہیکڑی ہے تو اس کو اختیار ہے دوزخ میں ڈالے یا جہنم میں جھونکے۔ بندگی و بے چارگی۔ مگر میں تو آپ سے صاف صاف کہتا ہوں کہ ایسی مجبورانہ عاشقی مجھ سے نہ ہوئی ہے نہ ہو گی۔\n\nعارف: بلاشبہ تم مغلوب طبیعت ہو رہے ہو اور جب تک تمہاری یہ حالت رہے گی۔ حقیقت میں تم سے خلاف طبیعت کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی۔\n\nمبتلا: اسی میں تو آپ سے مدد چاہتا تھا کہ طبیعت پر غالب آنے کی کوئی تدبیر بتائیے۔\n\nعارف: جو تدبیر مجھ کو معلوم تھی وہی ایک تدبیر ہے میں نے تو اس کے بتانے میں دریغ نہیں کیا۔ پہر بھر تک تمہارے ساتھ اپنا مغز خالی کیا تو لاجواب ہو گئے اور چلتے چلتے تم سے کہتا گیا کہ تم ان باتوں کو فرصت سے سوچنا اور موجبات ترغیب کے پاس نہ جانا۔ تم یوں سمجھو کہ حسن پرستی مرض ہے۔ سوچنا دوا ہے اور موجبات ترغیب سے دور رہنا پرہیز، بھائی! مرض جسمانی بھی اگر مزمن ہوتا ہے تو اس کو جلد صحت نہیں ہوتی اور بعض صورتوں میں برسوں علاج اور ساری عمر کے لیے پرہیز کرنا پڑتا ہے۔\n\nیہی حال ہے امراض روحانی کا جن کا دوسرا نام ہے بُری لت یا بد عادت۔ تمہارا علاج تمہارے ہی ہاتھ میں ہے کرو تو تم اور نہ کرو تو تم۔\n\nمبتلا: آپ تو تعدد نکاح میں چند در چند طرح کے خدشات پیدا کرتے ہیں اور بزرگانِ دین میں کوئی بھی اس سے خالی نہیں۔\n\nعارف: جب ایک بات کی صراحت ہم کتاب اللہ میں پاتے ہیں تو ہم کو کسی بزرگ کے قول و فعل پر نظر کرنے کی ضرورت نہیں، ایک اور دوسرے یہ معاملات ہیں شخصی۔\n\nجب تک کسی کی طبیعت، کیفیت، حالت اور ضرورت کا کچھ حال معلوم نہ ہو ہم بُری یا بھلی کوئی رائے ظاہر نہیں کر سکتے اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ جو لوگ اپنے لیے اس کی آزادی کو عمل میں لاتے تھے وہ عورتوں کی آزادی میں بھی مضائقہ نہیں کرتے تھے۔ ہماری طرح ان کا معاہدئہ نکاح مرنے بھرنے کا معاہدہ نہ تھا۔ ذرا سی عدم موافقت ہوئی۔ مرد نے طلاق دے دی یا عورت نے خلع کر لیا۔\n\nتھوڑے تھوڑے مہر ہوتے ہیں ان کو معاہدہ نکاح کا فسخ کر دینا ایک بات تھی۔ نہ طلاق کا عیب نہ دوسرے نکاح کی عار۔ تو ان کی آزادی حق بجانب لیکن ہم کیا ان کی ریس کر سکتے ہیں کہ ہماری بیبیاں لونڈیوں سے بڑھ کر بے اختیار۔ دائم الحسبس ناک تا چوٹی گرفتار اور پھر تعداد نکاح سے جو بے لطفیاں اور بدمزگیاں خانہ داری میں پیدا ہوتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں تو بزرگانِ دین کو بھی اس سے نجات نہ تھی۔\n\nکوئی دوسرا کس گنتی میں ہے۔\n\nمبتلا: اب بھی مجھ کو کون سا لطف حاصل ہے۔\n\nعارف: تم آگ کے جلے ہوئے کو سینکتے ہو۔ یعنی ایک بے لطفی کو دوسری بے لطفی سے دبانا چاہتے ہو۔ مگر ممکن ہے کہ یہ دوسری بے لطفی آخر میں اس پہلی بے لطفی سے زیادہ شاق ہو۔\n\nمبتلا: اس وقت جیسا موقع ہو گا دیکھا جائے گا۔ میں ابھی سے فکر مستقبل کر کے اپنی زندگی کو کیوں تلخ کر لوں۔\n\nعارف: تو اب حقیقت میں میری تمہاری ملاقات لاحاصل ہے۔ مگر میں اتنا کہے دیتا ہوں کہ تم اپنے حق میں اچھا نہیں کرتے۔ افسوس ہے کہ تم نے مجھ کو جناب میرمتقی صاحب سے شرمندہ کیا۔ یہ کہہ کر عارف بہ کمال نا رضا مندی اٹھ کر چلا گیا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/35"} {"title": "فسانہء مبتلا/36", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "بیسواں باب: مبتلا کا دوسرا نکاح\n\nمبتلا کے سر پر ان دنوں ایسا جن سوار تھا کہ اس کی عقل ہی ٹھکانے نہ تھی عارف سے پیچھا چھڑا وہ پھر بیگم کے گھٹنے سے جا لگا۔ وہ تو پہلے ہی سے اس کے لیے جال پھیلائے بیٹھی تھی۔ جانا تھا کہ اس پر چھا گئی۔ بیگم بالطبع زیادہ تر اس بات کی طرف راغب تھی کہ مبتلا آشنائی کے طور پر اس کو گھر میں ڈال لے۔\n\nمگر میرمتقی اور عارف کی تعلیم کا مبتلا پر اتنا تو اثر ہوا کہ اس نے بے نکاح بیگم کے ساتھ تعلق رکھنے کو پسند نہ کیا۔ پاس تھی مسجد دو طالب علموں کو بلا بھیجا۔ نکاح پڑھا جانے لگا۔ مہر میں ہوا اختلاف۔ مبتلا نے چاہا مہر شرع محمد، بیگم نے کہا جو غیرت بیگم کا مہر وہ میرا مہر۔ جیسی نکاحی بی بی وہ ویسی نکاحی بی بی میں۔\n\nدیر تک اس میں تکرار ہوتی رہی۔\n\nآخر مولوی صاحب جو نکاح پڑھاتے تھے بولے کہ جانے دو مہر مثل رکھو۔ مبتلا تو نیم راضی ہو چلا تھا۔ مگر بیگم مہر مثل کے نام سے شرماتی تھی کیونکہ سارے خاندان میں کبھی کسی کا نکاح ہوا ہوتو مہر مثل ہو۔ دادی اور پھوپھیاں ساری عمر خرچیاں کماتی رہیں۔ مہر مثل آئے تو کہاں سے آئے۔ ناچار مہر شرع محمدی ماننا پڑا اور بات یہ بنائی کہ وہ بھی کیا بی بی ہے جو میاں پر مہر کا دباؤ ڈال کر گھر کرے۔\n\nہم تو بڑا مہر مرد کے دل کو سمجھتے ہیں۔ دل مٹھی میں آیا تو جانو سب کچھ پایا۔ وہ کیا غضب کے دوانچھر تھے کہ ادھر پڑھے گئے اور ادھر فکروں نے آگھیرا۔ بیگم نے نکاح کے بعد پہلی جو بات کی وہ یہ تھی کہ یہ مکان جس میں رہتی ہوں تم کو معلوم ہے کرائے کا ہے اور جتنا سازوسامان جو تم یہاں دیکھتے ہو۔ یہاں تک کہ میرے ہاتھ کا گہنا اور گلے کے کپڑے کوئی چیز میری نہیں۔\n\nمیری سگی خالہ میرے ساتھ ہیں۔ یہ سب ان کا مال ہے۔ ان کی ہرگز مرضی نہ تھی کہ میں نکاح کروں۔ اب جو میں نے ان کو ناراض کر کے کیا ہے تو اِدھر کی دنیا اُدھر ہو جائے۔ خالہ بندی میرے پاس ٹھہرنے والی نہیں اور مجھ کو اس وقت کہیں لے چلتے ہو تو میں تیار ہوں۔ اپنی آبرو کا پاس کر کے گہنا کپڑا تو بہتیرا پہناؤ گے اور میں پہنوں گی مگر لے چلنا ہے تو مجھ کو اپنے یہاں کے کپڑے پہنا کر لے چلو اور دو چار دن کے لیے یہاں ٹھہرانے کی صلاح ہے تو جا کر خالہ سے اجازت لے لو۔\n\nمیں ان کے سامنے نہیں جا سکتی۔\n\nمبتلا نکاح کے لیے تو بڑا مستعجل تھا مگر احمق نے پہلے سے اتنا بھی نہ سوچا کہ کہاں دوسری بی بی کو لے جا کر رکھوں گا اور کیونکر اس نئے گھر کا انتظام ہو گا۔ اب جو دفعتاً اس کو معلوم ہوا کہ بیگم بے سروسامان محض بیک بینی و دو گوش اس کے سر پڑی تو بہت سٹ پٹایا اور جتنا اختلاط وہ معمولی ملاقاتوں میں کر لیا کرتا تھا، طبیعت کو اس کے لیے بھی حاضر نہ پایا۔\n\nیہ حقیقت تھی اس خواہش کی جس کے پیچھے مبتلا اس قدر دیوانہ بن رہا تھا کہ دنیا اور دین اس کو کچھ نہیں سوجھتا تھا، اب ایک ذرا سا تردد پیش آگیا تو کہیں اس خواہش کا پتہ نہ تھا۔ میرمتقی اور عارف اس کو یہی سمجھاتے تھے کہ کس فکر خسیس میں پڑے ہو، فکر کرنے کی باتیں دوسری ہیں، عمدہ اونچی اور ضروری۔ اگر ان میں دل لگاؤ تو اس فکر بے ہودہ سے نجات پاؤ۔\n\nبیگم پر اپنی درماندگی ظاہر کرتے ہوئے تو اس کو شرم آئی۔ آخر وہ یہ کہہ کر اٹھ آیا کہ ابھی تھوڑی دیر میں بندوبست کر کے تم کو لے چلتا ہوں تیار ہو۔ ایک بات یہ بھی اکثر دیکھنے میں آئی کہ آوارہ اور عیاش مزاج لوگ دھوکا دینے میں بڑے چالاک ہوتے ہیں اور اس کا سبب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ خود ہمیشہ تختہ مشق مغالطات رہتے ہیں۔ مبتلا کو بھی عین وقت پر غضب کی سوجھتی تھی جس وقت تک وہ بیگم کے پاس بیٹھا رہا۔\n\nکوئی بات اس کے ذہن میں نہ تھی۔ اٹھ کر باہر آنا تھا کہ اس نے اپنے دل میں کہا کہ بیگم کو اپنے ہی مکان میں بلکہ زنان خانے میں بلکہ غیرت بیگم کے ساتھ رکھنا ٹھیک معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ بات چھپنے والی تو ہے نہیں۔ آخر کبھی نہ کبھی کھلے گی ضرور۔ پس جو کچھ ہونا ہے وہ پرسوں کا ہوتا کل اور کل کا آج ہو چکے۔ یہ دل میں ٹھان وہ گھر کی طرف چلا آرہا تھا کہ راہ میں اس کو اپنے گھر کی دو عورتیں ملیں۔\n\nمامَا کے ساتھ انّا اور انّا کی گود میں مبتلا کی دودھ پیتی ہوئی دس گیارہ مہینے کی تھی بچی۔ چور کی داڑھی میں تنکا، مبتلا تو سمجھا کہ غیرت بیگم کو نکاح کی خبر ہو گئی اور سننے کے ساتھ ہی شاید ناظر کے گھر چلی گئیں اور یہ عورتیں پیچھے سے جا رہی ہیں۔ گھبرا کر پوچھا۔ ماما بولی ننھی بچی کا جی دس بارہ دن سے ایسا ماندھا ہو رہا ہے کہ بخار کسی وقت نہیں اترتا۔\n\nکل شام سے مطلق آنکھ نہیں کھولی۔ اب کے ایسی بھاری نظر ہوئی ہے کہ دوپہر سے دودھ بھی منہ میں نہیں لیتیں۔\n\nمتوکل شاہ صاحب کے پاس دم کرانے کے لیے جاتے ہیں۔ مبتلا سے اور ایک ڈاکٹر سے بہت ملاقات تھی۔ مبتلا لڑکی کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ اس نے دیکھ کر کہا کہ بخار بڑے زور کا ہے مگر کچھ گھبرانے کی جگہ نہیں۔ کچلیاں پھول رہی ہیں۔ میں مسوڑھا کھولے دیتا ہوں اور شیشی ایک بھیج دینا، عرق دوں گا۔\n\nگھنٹے گھنٹے بعد ایک ایک چمچہ پلانا پسینا آکر تپ اتر جائے گا اور دودھ تو خدا نے چاہا لڑکی ابھی پینے لگے گی۔ مسوڑھے کی تکلیف کے مارے منہ نہیں چلا سکتی۔ یہ کہہ کر نشتر نکال مسوڑھا کھول دیا۔ اَنّا نے پیٹھ موڑ کر دودھ لگایا تو غٹ غٹ پینے کی آواز آنے لگی۔ سب لوگ خوشی خوشی گھر واپس آئے۔ جب مردانے میں پہنچا تو مبتلا نے لڑکی کو آپ لے لیا۔ یہ تو خیر لڑکی تھی۔\n\nاس سے بڑا لڑکا معصوم ساڑھے تین برس کا ہوا، اس بلا کی باتیں جیسے بنگالے کی مینا اور ایسی پیاری صورت کہ کوئی راہ چلتا اس کو دیکھتا تو گود میں اٹھا لیتا۔ مبتلا نے کبھی بھول کر بھی آنکھ اٹھا کر اس کی طرف کو نہ دیکھا بلکہ وہ بچہ جب اس کو دیکھتا ابا ابا کہہ کر دوڑتا اور یہ ظالم دور سے اس کو جھڑک دیتا۔ خلافِ عادت بیٹی گود میں لیے ہوئے جو گھر میں گھسا غیرت بیگم تو دیکھتے ہی ریجھ گئی اور بیٹی کو لینے کے لیے دوڑی اور لگی پوچھنے کہ میں نے تو اس کو دم کروانے کے لیے بھیجا تھا۔\n\nکیا تم اس کو الٹا پھروا لائے؟\n\nمبتلا: تم کو خبر بھی ہے اس کی کچلیاں نکل رہی ہیں اور کچلیوں کا تو معمول ہے کہ بچے کو کچلا کر کے بڑی مشکل سے نکلتی ہیں۔ میں اس کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا تھا۔ اس نے نشتر سے اس کا مسوڑھا کھول دیا ہے اور بخار کے لیے عرق دینے کو کہا ہے۔ شیشی بھیج دو۔ ماما جا کر عرق لے آئے۔ خدا نے چاہا آج ہی رات کو بخار بھی اتر جائے گا اور کچلی کو تو سمجھو نکل آئی۔\n\nغیرت بیگم: اے ہے کیا مسوڑھے کو چیرا لگایا ہے۔\n\nمبتلا: کچھ خوف کی بات نہیں۔ انا سے پوچھو کہ لڑکی کو خبر تک نہیں ہوئی۔ اسی وقت تو اس نے خاصی طرح دودھ پیا۔ ڈاکٹر کہتا تھا کہ جب دانت نکلنے کو ہوتا ہے تو مسوڑھا پہلے سے مردار پڑ جاتا ہے۔ اس وجہ سے تکلیف نہیں ہوتی۔ کچھ خدا کو بہتری کرنی تھی کہ عین وقت پر تدبیر ہو گئی۔ ورنہ آج رات بھر میں معلوم نہیں کیا ہو جاتا۔\n\nغیرت بیگم نے لڑکی کا منہ کھول کر دیکھا تو اتنی ہی دیر میں بخار بھی کسی قدر ہلکا ہو گیا تھا اور صورت بھی ہوشیار تھی۔ پکارا کہ بتول بتول! تو ماں کی آواز پہچان کر آنکھیں کھول دیں اور دیکھ کر مسکرائی بھی۔ ماں نے پیار کر کے انّا کی گود میں دیا تو پھر دودھ پیا۔ یہ دیکھ کر غیرت بیگم بولی کہ ننھے بچوں کی یہی تو بڑی مصیبت ہے کہ آپ تو منہ سے کچھ نہیں کہہ سکتے اوپر والوں کو کیونکر معلوم ہو کہ ان کو کس بات کی ایذا ہے۔\n\nآنکھوں کا نہ کھولنا اور ڈر ڈر کر اچھل پڑنا اور ہتھیلیوں میں بساندی بساندی بو کا آنا ان باتوں کو دیکھ یہاں تو سب یہی کہتے تھے کہ نظر ہو گئی ہے۔\nمبتلا: ڈاکٹر نے دیکھنے سے پہلے زبانی حال سن کر کہہ دیا تھا کہ کوئی دانت نکل رہا ہو گا۔ پھر جو منہ کھول کر دیکھا تو حقیقت میں دور سے کچلی صاف جھلک رہی تھی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/36"} {"title": "فسانہء مبتلا/37", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "غیرت بیگم: گھر میں کوئی بڑا بوڑھا ہو تو ان باتوں کا دھیان رکھے۔ بچے ذرا ماندے پڑتے ہیں تو میرے ہوش و ہواس ٹھکانے نہیں رہتے۔ لو اب مغرب کی اذان تو ہو چکی ہو گی۔ یا ہو رہی ہو گی۔ لڑکی کے جھگڑے میں کھانے کا بھی تو کچھ بندوبست نہیں ہوا۔ گوشت کا تو اب وقت نہیں رہا۔ کہو تو خاگینہ پکوا لوں۔\n\nمبتلا: جو تمہارے جی میں آئے پکواؤ۔ مگر خدا کے لیے کوئی سلیقہ مند عورت ضرور رکھو۔\n\nغیرت بیگم: ماماؤں کا تو ہمارے شہر میں ایسا توڑا ہے کہ دوا کے لیے بھی میسر نہیں۔ جو عورتیں اس کام کی ہیں مزے میں گھر بیٹھے ہی گوٹے کناریاں بنتی ہیں یا سلائی کا سیتی ہیں۔ نوکری پرائی تابعداری کرے ان کی بلا، اور جن سے یہ کام ہو نہیں سکتا انہوں نے سر پر ڈالا برقع اور جدھر کو منہ اٹھا چل کھڑی ہوئیں۔\n\nپہر چھے گھڑی بھیک مانگی لدی پھندی گھر لوٹ آئیں!\n\nمبتلا: لیکن میرے نزدیک تمہیں ماما کی نہیں بلکہ ایسی عورت کی ضرورت ہے جو بال بچوں کی خبرگیری کرے۔\n\nوقت پر ان کا ہاتھ منہ دھلائے۔ کھانا کھلائے۔ کپڑے پہنائے۔ گھر کی چیز بست دھرے اٹھائے۔ غرض داروغہ کی طرح گھر کے سارے انتظام کی نگرانی کر کے تم کو آسائش پہنچائے۔\n\nغیرت بیگم: تم ہی کوئی اس طرح کی عورت ڈھونڈھ کر نہیں لا دیتے۔\n\nمبتلا: لا دوں تو رکھو گی اور کیا تنخواہ دو گی!\n\nغیرت بیگم: ضرور رکھوں گی اور تنخواہ پانچ روپے اور کھانا کپڑا۔\n\nمبتلا: خیراتنی ہی تنخواہ دینا مگر خاطر داری رکھنا۔ لکھنئو کی ایک عورت ہے خدا جانے کس تباہی میں آکر یہاں چلی آئی ہے۔ اگر پھٹا پرانا ایک جوڑا کپڑا دو تو میں پہنا کر ابھی اس کو لے آؤں۔ غیرت بیگم نے جلدی سے گٹھڑی کھول کر ایک جوڑا کپڑا نکال میاں کے حوالے کیا۔\n\nمبتلا کپڑے لئے بیگم کے پاس پہنچا اور اس کو سمجھا دیا کہ اس طور پر میں نے تمہارے گھر لے چلنے کی راہ نکالی ہے۔\n\nمجھے اپنی بی بی کا حال معلوم ہے۔ وہ یہی نہیں کہ صورت کی اچھی نہیں بلکہ اس میں عقل کی بھی کوتاہی ہے صورت تو خیر تم چل کر دیکھ لو گی۔ مگر عقل کی کوتاہی اس سے ظاہر ہے کہ اس نے عورت کے لانے کی فرمائش کی بھی تو مجھ سے۔ پس تم کو چند روز البتہ بے عزتی کا تحمل کرنا پڑے گا۔ اس کا مجھے کامل یقین ہے کہ تم گھر والی ہو گی اور وہ رہے گی تو تمہاری خدمت کرے گی یا اپنے میکے چلی جائے گی۔\n\nغرض غیرت بیگم کا اتارن پہن کر بیگم مبتلا کے گھر جا داخل ہوئی۔ بھلے مانسوں کی بہو بیٹیوں کی طرح دبی جھکی، سکڑی، سمٹی، مبتلا کو تو اتنی جرأت نہ ہو سکی کہ خود لے جا کر غیرت بیگم سے ملا دیتا۔ دروازے کے اندر کر کے اتنا پکار دیا کہ لو صاحب! یہ داروغہ آتی ہے۔ اور آپ مردانے میں جا بیٹھا۔ بیگم نے اپنے تئیں سنبھالا بہت مگر وہ جس قدر اپنے چھپاتی تھی، اسی قدر اس کا پردہ فاش ہوتا جاتا تھا۔\n\nآئی تو نوکر کے نام سے اور عورتوں میں بیٹھی دلہنوں کی طرح۔ گھونگھٹ نکال کر۔ رات کا تھا وقت: غیرت بیگم نے کہا:\n\nذرا روشنی قریب لاؤ تو ان کی صورت اچھی طرح نظرآئے۔ جوں غیرت بیگم نے زبردستی اس کا منہ کھولا۔ دیکھتی کیا ہے کہ ایک عورت ہے جو ان، ماتھے پر افشاں چنی ہوئی۔ پٹیاں جمی ہوئی۔ الٹے بل کی چوٹی اور اس میں چنپا کا موباف۔ کانوں میں چنبیلی کی کلیاں۔\n\nآنکھوں میں دھواں دھار سرمہ۔ مسی کی دھڑی اور دھڑی پر لاکھا۔ ہاتھ پاؤں میں مہندی دور سے خوشبو بڑی مہک رہی ہے۔ غیرت بیگم دیکھنے کے ساتھ اس طرح ڈر کر پیچھے کو ہٹی کہ جیسے کوئی بچہ بیچا سے بھاگتا ہے اور لگی کہنے: اوئی بیوی۔ یہ ماما کس قسم کی۔ یہ تو کوئی نامراد کنچنی ہے۔ پھر تو ہمسائے تک کی عورتیں گھر میں آبھریں اور سب نے مل کر بیگم کا ایسا بُرا حال کیا کہ کوئی دوپٹہ اتارے لیے جاتا ہے کوئی پیچھے سے چوٹی گھسیٹ رہا ہے۔\n\nمگر کسی رحم دل بی بی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر ڈیوڑھی میں لے جا کر چھوڑا دیا اور کہا کہ بیوی نبوجدھر سے آئی ہے ادھر ہی کو چلی جا۔ وہ تو گھر والی دل کی بڑی نیک ہے۔ کوئی اور دوسری ہوتی تو بے ناک چوٹی کاٹے نہ رہتی۔ مبتلا ڈیورھی کے بازو سے لگا یہ سب تماشا دیکھ رہا تھا۔ کچھ ہنسی کچھ غصہ۔ بیگم کو دیکھتے ہی بولا:\n\nواہ اچھی اپنی گت کرائی۔\n\nباوجود یکہ میں نے تم سے کہہ دیا تھا کہ میں تم کو نوکری کے حیلے سے لیے چلتا ہوں۔ پھر تم کو ایسا بن سنور کر آنا اور اتنا لمبا چوڑا سنگار کرنا کیا ضرور تھا۔ سیدھے سبھا چلی آئی ہوتیں، نہ کسی کو شبہ ہوتا اور نہ چراغ لے لے کر کوئی تمہارا منہ دیکھتا۔ خیر اب ذرا کی ذرا، یہاں ٹھہرو پھر میں تمہاری بات جماتا ہوں، مگر دیکھو خبردار کوئی ایسی بات نہ کرنا جس سے لوگوں کو میرے تمہارے لگاؤ کا شبہ ہو۔\n\nمبتلا نے گھر کے اندر پاؤں رکھتے ہی پوچھا کہ لڑکی کا کیا حال ہے۔\n\nانا بولی: اب تو اللہ کا فضل ہے۔ دوبار عرق پلایا اس قدر پسینہ آیا کہ شام سے تین کرتے بدل چکی ہوں۔\n\nمبتلا: بس انشاء للہ اب بخار گیا۔ بارے اب الحمدللہ بچ گئیں (پھر بیوی کی طرف مخاطب ہو کر) لاؤ صاحب کھانا تیار ہو تو منگواؤ۔ دستر خوان بچھا عادت کے مطابق میاں بی بی کھانا کھانے بیٹھے تو مبتلا نے پوچھا: کیوں صاحب وہ عورت آئی تھی۔\n\nغیرت بیگم: واہ چوری اور سرزوری۔ آج کو بڑے ماموں جان زندہ ہوتے تو الٹے استرے سے مردار کا سر منڈوا کر بھی بس نہ کرتے اور تم کو تو اپنی لاج کا لحاظ پاس آج کیا برسوں سے نہیں۔ بڑے ماموں جان کی زندگی تک چوری چھپے کرتے تھے۔ وہ مرے تو تم کھل کھیلے۔ مردانہ مکان تو مدتوں سے کنچنیوں کا چکلہ ہو رہا ہے۔ ایک زنانہ مکان بچا تھا۔ سو میں خوب جانتی ہوں کہ تم اس کی تاک میں لگے ہو۔\n\nمگر جب تک میں جیتی بیٹھی ہوں دیکھوں تو کون رستم کی جنی میری ڈیوڑھی کے اندر پاؤں رکھتی ہے۔ اپنا اس کا خون ایک کر دوں تو سہی۔\n\nمبتلا: بے وجہ بے سبب تم اس قدر گرم کیوں ہوتی ہو۔ بھلا اتنا سمجھو اگر وہ کنچنی ہوتی اور فرض کرو کہ اس کو بلانا منظور ہوتا تو مردانہ ہوتے ساتے مجھ کو اسے گھر میں لانے کی کیا ضرورت تھی۔ خدا عقل دے تو سمجھنے کے لیے ایک موٹی بات یہ ہے کہ کنچنی ہوتی تو تمہارے مانگے کے کپڑے پہن کر کیوں آتی۔\n\nغیرت بیگم: کپڑا اور گہنا تو بے شک اس کے پاس نہ تھا مگر سر سے پاؤں تک چوتھی کی دلہن معلوم ہوتی تھی۔\n\nمبتلا: تم کو چاہیے تھا کہ مجھ کو بلا کر پوچھتیں۔ اگر میں تمہاری تشفی نہ کر سکتا۔ تب بھی اس بے چاری کا کیا قصور تھا۔ مجھ پر جتنا چاہتیں خفا ہو لیتیں۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/37"} {"title": "فسانہء مبتلا/38", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "بات یہ ہے کہ حقیقت میں وہ آج شاموں شام تک کنچنی تھی۔ مگر میں اس کو ایک مدت سے جانتا ہوں۔ ہمیشہ یہ مجھ سے کہا کرتی کہ مجھ کو اس پیشہ سے سخت نفرت ہے۔ اگر کہیں میری روٹی کا ٹھکانہ لگ جائے تو میں تائب ہو جاؤں۔ جب تم نے نوکر رکھنے کا وعدہ کیا تو میں نے اس کو زبان دی اور وہ ارادے کی ایسی پکی اور سچی تھی کہ فوراً میرے ساتھ ہو لی اور پھر کس طرح یہ کہ گہنا اور پاتا اور کپڑا اور لتا اور سازوسامان یعنی بھرا بھرا یا گھر سب کو لات مار کر جس طرح بیٹھی تھی اٹھ کھڑی ہوئی۔\n\nمیں نے بے شک جھک مارا اور میرا بال بال خدا کا اور تمہارا گناہگار ہے۔ مگر جس دن سے چچا باوا تشریف لائے، تم میری کوئی ایک بات بتاؤ اور یوں اگر تمہارے مذہب میں توبہ کوئی چیز نہیں اور ناحق بدگمان رہو تو تمہاری خوشی۔\n\nبھلا تم نے چند روز تو اس بے چاری غریب کو رکھ کر دیکھا ہوتا۔ جو شخص آٹھوں پہر آنکھوں کے سامنے رہے۔ اس کا حال آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں ضرور کھلے گا۔\n\nنوکر سریش نہیں ہے کہ چمٹ جائے مرضی ہوئی رکھا۔ مرضی نہ ہوئی نہ رکھا۔ مگر چونکہ میرا قدم درمیان ہے۔ میں تم سے بات کہوں صاف۔ یوں بے خطا بے قصور تو میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔ تم ہی بتاؤ کہ اب وہ جائے تو کہاں جائے۔ غیرت بیگم ابھی کچھ ہاں نا کرتے نہیں پائی تھی کہ مبتلا نے کہا کہ ماما جا باہر ہریالی ایک عورت کھڑی ہے اس کو بلا لا اور کام کاج میں اس سے مدد لیا کر۔\n\nغرض وہ نکالی جا کر پھر آموجود ہوئی۔ رات گئی تھی زیادہ لوگ کھا پی کر اپنی اپنی جگہ سوسلا رہے۔ ہریالی یعنی بیگم بھی تخت پر بے تکیے بے بچھو نے ماماؤں میں سوئی، صبح کو جو اٹھے تو پھر لوگوں نے ہریالی کو گھورنا شروع کیا۔ مگر اب اس کا سنگار ہو گیا تھا باسی اور تمام شب کی بد خوابی اور زحمت کی تکان سے اس کا جوبن بھی نڈھال ہو رہا تھا۔ لوگوں نے کچھ بہت اس کا پیچھا نہیں کیا۔\n\nاس میں شک نہیں کہ گھر میں ایک منتظم عورت کی سخت ضرورت تھی اور یہی ضرورت ہریالی کے پاؤں جم جانے کا سبب ہوئی۔ ہریالی نے جو صبح سویرے اٹھ کر دیکھا تو تمام اسباب مولی گاجر کی طرح سارے گھر میں پھیلا پڑا ہے۔ اس نے خود کھڑے ہو کر جہاں جہاں فرش تھا اٹھوا کر دالانوں میں صحنوں میں، دروں میں، باورچی خانے میں۔ یہاں تک کہ ڈیوڑھی میں جھاڑو دلوائی۔\n\nٹوکروں نہیں چھکڑوں کوڑا نکالا اور بہت سی گری پڑی چیزیں ملیں، جن کو ڈھونڈ ڈھونڈ صبر کر کے بیٹھ رہے تھے اور سمجھ لیا تھا کہ کھوئی گئیں۔ مٹی کی تہیں جمتے جمتے دریوں کا یہ حال ہو گیا تھا کہ اصل رنگت پہچان نہ پڑتی تھی۔ جھڑوایا تو منوں گرد دروازوں میں جو چلمنیں اور پردے بندھے تھے، الٹے سیدھے کا تو کس کو امتیاز تھا، کوئی دھر تک بندھا ہے تو کوئی آدھے در میں پڑا لٹک رہا ہے اور کسی کا لپیٹ ایک طرف کو جھک کر نکل پڑا ہے تو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ اس کو برابر کر دیں۔\n\nبلکہ کئی پردوں میں سے تو فاختاؤں اور جنگلی کبوتروں اور گلہریوں کے گھونسلے نکلے۔ گھر میں تخت تو بہتیرے ہیں مگر بیٹھنے کے دالانوں میں زمین پر بوریے بچھے ہیں۔ بوریوں پر دریاں، دریوں پر چاندیوں پر لیے پھرتی ہیں اور چاندنیوں کا مارے دھبوں اور چکتوں کے یہ حال ہو رہا ہے کہ آنکھ اٹھا کر دیکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ صبح سے کھڑے کھڑے ہریالی کو دوپہر ہو گئی۔\n\nتب کہیں جا کر اتنا کام ہوا کہ گھر میں جھاڑو دی گئی۔ دالانوں میں اس حساب سے تخت بچھوائے کہ بیچ میں فرش اور اِدھر اُدھر ماماؤں اور لونڈیوں کے چلنے پھرنے کی جگہ اب چاندنیوں اور تکیوں کے غلاف اور پلنگوں کی بھی چادروں کی ڈھنڈیا پڑی۔ قاعدہ ہے کہ جب چیزوں کا انتظام نہیں ہوتا تو یہی شناخت ہے کہ چیزوں کی حفاظت بھی نہیں۔ اتنا بڑا گھر اور اس وقت دھوئی ہوئی تین چاندنیاں درکار تھیں۔\n\nوہ بھی نہیں ملتی تھیں۔ غیرت بیگم نے بہتیرے پتے بتائے، ارے کم بختو ابھی عشرے ہفتے کا ذکر ہے۔ دھوبن چاندھنیوں کا گٹھڑ لائی۔ وہ سب ڈھیر کا ڈھیر کیا ہو گیا۔ لٹھے کی وہ کوری چاندنی جو بیچ کے دالان میں بچھی تھی اور پرسوں ترسوں اس پر سالن کی دیگچی مبارک قدم کے ہاتھ سے الٹ پڑی تھی اور میں نے صاف کرنے کے لیے اٹھوا دی تھی، کہاں ہے۔ جتنی کھڑی تھیں۔\n\nایک ایک کا منہ دیکھتی تھیں اور ایک ایک پر ٹالتی تھیں۔\n\nآخر بڑی مشکل سے دو چاندنیاں اناج کی کوٹھڑی کی مچان پر پڑی ملیں، جن میں چوہوں نے کاٹ کاٹ کر بغار ڈال دیئے تھے اور ایک میں کسی ماما نے سوکھے ٹکڑے باندھ کر کھونٹی پر لٹکا رکھے تھے۔ اس جستجو میں معلوم ہوا کہ کئی چاندنیاں باہر سائیس کے پاس ہیں وہ اوڑھ کر سوتا ہے۔ دو یا تین چاندنیاں کسی کو مانگے دی تھیں وہ واپس نہیں آئیں۔\n\nمیلی چاندنیوں کا ایک ڈھیر غسل خانے میں پڑا ملا۔ غرض اس وقت تو ہریالی نے کسی طرح گونتھ گونتھ کر فرش کو پورا کیا۔ پلنگ سب کے سب جھولا ہو رہے تھے۔ ان کو کسوا کر اجلی چادریں بچھوا دیں۔ تکیوں کے غلاف بدلے۔ اجلا دستر خوان نکلوا دیا۔ اتنے میں معلوم ہوا کہ میاں مبتلا کھانے کے لیے آرہے ہیں۔ ہریالی یہ سن کر سامنے سے ٹل گئی۔ باورچی خانے کے آڑ میں ہو گئی۔\n\nمبتلا نے آکر دیکھا تو اتنی ہی دیر میں گھر کی صورت بدلی ہوئی تھی، سمجھا کہ یہ سب ہریالی کے تصرفات ہیں۔ دالان میں بیٹھ کر کھانا مانگا تو باورچی خانے سے دو لونڈیاں سالن کی دو دو رکابیاں لے کر چلیں۔ پیچھے سے ایک ماما ہاتھ میں روٹیوں کی تھئی اٹھا کر دوڑی۔ ہریالی سے نہ رہا گیا۔ عین وقت پر کیا ہو سکتا تھا مگر خیر ان کو روک کر جلدی جلدی تھالی جوڑ پانی پینے کی صراحی، سینی، سلفچی، خاصدان، اگالدان سب چیزیں منجوائیں۔\n\nسینی کے بیچ میں روٹی گردا گرد سالن کی رکابیاں جما اوپر سے خوان پوش ڈھک ایک لونڈی کے سر پر رکھوا سمجھا دیا کہ دیکھو خبردار آگے دیکھ کر آہستہ آہستہ چلو کہیں ٹھوکر نہ لگے اور دوسری لونڈی کو سلفچی، آفتابہ، اُجلا دستر خوان دے کر اس کے ساتھ کیا کہ پہلے تخت کے نیچے کھڑی رہ کر میاں بی بی دونوں کے ہاتھ دھلائیو۔ جب ہاتھ دھو چکیں سلفچی آفتابہ الگ رکھ کر دونوں کے بیچ میں اجلا دسترخوان بچھائیو اور سینی احتیاط کے ساتھ اتروا کر روٹیاں بیچ میں رکھیو دو قسم کا سالن ہے، دونوں کے سامنے دونوں قسم کا رکھ دیجیوں۔\n\nتھالی جوڑ اور پانی پینے کی صراحی پیچھے سے بھجواتی ہوں۔ جب مانگیں تو خبردار آدھے کٹورے سے زیادہ بھر کر نہ دینا اور پانی جو پلانا تو جھک کر کٹورا آگے کر دینا کہ خود اپنی آنکھ سے دیکھ لیں اور تھالی منہ کے نیچے رکھنا کہ پانی کپڑوں پر گرنے نہ پائے۔ گھر میں چٹنی، اچار، مربہ بھی کچھ تھا مگر دستر خوان پر رکھنے کا دستور نہ تھا۔ جس کسی کو بھی کسی چیز کا خیال آگیا اور منہ پھوڑ کر مانگی تو مرتبان یا اچار اس کے پاس لے جا کر روٹی پر ایک پھانک رکھ دی۔\n\nہریالی نے چار قسم کی چار پیالیاں ایک رکابی میں لگا ابھی کھانا شروع نہیں کرنے پائے تھے کہ پہنچا دیں۔ کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کا گرم پانی کا آفتابہ اور ایک طشتری میں بلیس، کھانے کو خاصدان میں بھیگی ہوئی صافی سے لپٹی ہوئی گلوریاں پہلے سے تخت پر رکھوا دیں۔ یہ تو ہریالی کے پہلے دن کے بلکہ پورا دن بھی نہیں دوپہر کے اور جلدی کے کام تھے۔\n\nمہینے بھر کی محنت میں اس نے کپڑے کا، کھانے کا سامان، خانہ داری کا اندر باہر دونوں جگہ کے نوکروں کا بازار کے سودا سلف کا سب انتظام کر دیا۔ سلیقہ بھی عجیب چیز ہے۔ اندر باہر عورت مرد جتنے نوکر تھے۔ آپ سے آپ سب ہریالی کا ادب کرنے لگے۔ معصوم ایسا ہلا کہ دن رات میں ایک دم کے لیے گود سے نہیں اترتا تھا۔ بتول کی کیا بساط تھی، کیسی ہی بھڑکتی ہوئی آواز سنی اور چپکی ہوئی۔\n\nغیرت بیگم کے دل میں اس کی طرف سے شک تو تھا مگر ہر چندہ ٹوہ لگائی کہ کوئی بات نہ پکڑ پائی۔ مبتلا کے گھر میں آنے کے وقت مقرر تھے، ہریالی ان وقتوں میں کسی نہ کسی بہانے سے ٹل جاتی تھی اور اگر احیاناً بضرورت سامنے چلی پھری بھی تو ایک دوسرے سے ایسے بے رخ بن جاتے تھے کہ تعلق کیسا۔ گویا جان پہچان تک بھی نہیں۔ مگر خدا جانے دونوں کو کیا ڈھب یاد تھا کہ اتفاقی اچٹتی ہوئی ایک نگاہ ان کے حق میں خلوت کا حکم رکھتی تھی۔\n\nنہیں معلوم مبتلا آنکھوں ہی آنکھوں میں کیا کہہ دیا کرتا تھا کہ ہریالی برابر سرگرمی اور دل سوزی کے ساتھ گھر کے انتظام میں مصروف رہتی تھی۔ سچ ہے غیرت بیگم کے ساتھ مبتلا کے دل کے نہ ملنے کا بڑا سبب تھا۔ مبتلا کی حسن پرستی اور آوارگی۔ مگر اتنا قصور تو غیرت بیگم کا بھی تھا کہ اس نے مبتلا کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ذرا بھی کوشش نہیں کی۔\n\nوہ سمجھی جیسا کہ گھر کی بیبیاں اکثر سمجھا کرتی ہیں کہ جب ماں باپ نے میاں کے ہاتھ میں ہاتھ پکڑا دیا تو بس مجھے اپنی طرف سے کچھ کرنا نہیں۔ اب میاں کا کام ہے کہ کما کر لائے اور مجھے کھلائے پہنائے۔ میری خاطر داری و مدارت کرے۔\n\nلیکن اس کو اتنی بات اور سمجھنی چاہیے تھی کہ کھلانا پہنانا خاطر داری و مدارت کرنا، سب چیزیں منحصر ہیں رغبت پر۔\n\nرغبت کرنا میاں کا کام اور دلانا بی بی کا۔ رہی یہ بات کہ بی بی کیوں کر میاں کو رغبت دلائے، اس کے لیے کوئی ایسا قاعدہ نہیں کہ ہر جگہ چل سکے، کیونکہ ہر ایک کا مزاج مختلف اور ہر شخص کی رغبت جدا، لیکن بی بی اگر چاہے تو اس کو اپنے میاں کی رغبت کا معلوم کر لینا کیا مشکل ہے مثلاً غیرت بیگم اتنا تو دیکھتی تھی کہ مبتلا کیسی صفائی اور کس شان کے ساتھ رہتا ہے۔\n\nوہ ہر چیز میں حسن چاہتا تھا۔ خیر حسن صورت مبتلا کی پسند کے لائق ہو یہ تو اختیاری بات نہ تھی۔ مگر جس قدر اختیاری تھی غیرت بیگم نے اتنی ہی کر کے دکھائی ہوتی، گھر کی صفائی ستھرائی، سازوسامان کی درستی، انتظام کی خوبی یہ چیزیں بھی داخل حسن ہیں اور طبیعت میں سلیقہ ہو تو ہاتھ پاؤں کے اور غیرت بیگم تو زبان کے بلانے سے سب کچھ ہو سکتا تھا۔\n\nمگر اس نے ان چیزوں کی طرف کبھی بھول کر بھی توجہ نہ کی۔ مردانے مکان میں میاں کی بیٹھک تھی اسی کو دیکھ کر متنبہ ہوئی ہوتی۔ اس کا اپنا کیا حال تھا کہ میاں کو جو شروع شروع میں اپنی طرف سے بے رخ پایا تو تین تین چار دن سر میں کنگھی ندارد، لونڈیوں کے تقاضے سے دسویں پندرہویں سر دھویا ہے تو بالوں میں تیل کی خبر نہیں۔ پھولے پھولے، روکھے بال دور سے ایسا معلوم ہوتا کہ کڑک ناتھ کڑک مرغی بیٹھی ہے۔\n\nآنکھوں میں سرمہ نہیں ہاتھ پاؤں میں مہندی نہیں۔ پھول نہیں، عطر نہیں گوٹا نہیں کناری نہیں، غرض عورتوں کے سنگھار کی کوئی چیز نہیں، مبتلا پہلے استکراہ تھا، غیرت بیگم کی بے تدبیریوں نے استکراہ کو نفرت اور نفرت کو ضد اور ضد کو چڑ بنا دیا۔ صورت شکل میں ہریالی کچھ غیرت بیگم سے زیادہ اچھی نہ تھی مگر چھٹانک بھر حسن ہوتا ہے تو غور و پرداخت سے دیکھنے والوں کی نظر میں سیر بھر جچنے لگتا ہے۔\n\nسو غورو پرداخت کے عوض غیرت بیگم تو یہ چاہتی تھی کہ ابٹنے کی جگہ تھوڑی سی کیچڑ ملے تو اٹھا کر منہ کو مل لوں۔ میاں بی بی میں جب اختلاف مزاج اس درجے کا ہو تو ان میں صحبت بر آر ہونے کی کیا امید۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چھاتی پر مونگ دلنے کے لیے آخر ایک سوکن تو آ موجود ہوئی، ہریالی کا انتظام دیکھ دیکھ کر غیرت بیگم کا پھوہڑ پن مبتلا کے دل میں اور بھی بیٹھتا چلا جاتا تھا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/38"} {"title": "فسانہء مبتلا/39", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "اکیسواں باب: سوکن کا راز فاش\n\nمعلوم نہیں مبتلا کو کب تک ہریالی کا اس نمط پر رکھنا منظور تھا کہ ایک دن گھر میں باہر سے اطلاع پہنچی کہ ایک بوڑھی عورت نوکری کی تلاش میں آئی ہے۔ اگر حکم ہوا اندر بھیج دیں۔ انتظام خانہ داری تو سب ہریالی کے ہاتھ میں تھا غیرت بیگم نے ہریالی سے پچھوایا۔\n\nہریالی کسی کوٹھڑی میں خدا جانے کس کام میں مصروف تھی۔ اس نے وہیں سے کہا کہ کیا مضائقہ۔ غرض وہ عورت اندر آکر سیدھی غیرت بیگم کے پاس جا بیٹھی اور لگی کہنے کہ میں تو ہریالی بیگم کے پاس آئی ہوں جن کو تمہارے میاں نکاح پڑھوا کر نکال لائے ہیں۔ مدت سے میں ان کے یہاں اوپر کے کام پر نوکر تھی۔ بیگم کو تو نکلے ہوئے تین مہینے ہونے کو آئے ہیں۔\n\nمیں ان کی خالہ کے پاس رہی۔\n\nآج آٹھواں دن ہے کہ وہ بھی لکھنو سدھاریں۔ میں نے کہا چلو اگر بیگم پھر رکھ لیں تو میں ان کے مزاج سے واقف ہوں وہ مجھ کو جانتی پہچانتی ہیں۔ انجان جگہ تابعداری کرنی کیا ضرورت، کیا وہ اس گھر نہیں رہتیں۔ غیرت بیگم نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ تم جن کے پاس آئی ہو وہ سامنے والی کوٹھڑی میں ہیں۔ وہ عورت اٹھ کر کوٹھڑی کی طرف چلی۔ دروازے تک پہنچی تھی کہ اتنے میں غیرت بیگم بے خود ہو کر بگولے کی طرح اٹھی اور وہ عورت ابھی ہریالی سے بات بھی نہیں کرنے پائی تھی کہ اس نے پہنچ کر بے چاری بڑھیا کو اوندھے منہ ہریالی پر دھکیل دیا اور کہا کہ تم نے دیکھا یہ ہریالی نہیں گھر والی ہے۔\n\nیہ بی بی ہے۔ یہ میری سوکن ہے۔ میں رانڈ ہوں یا سوہاگن ہے۔ میں لونڈی ہوں یہ بیگم ہے۔ میں چڑیل ہوں یہ حور ہے۔ یہ میاں کی لاڈو ہے یہ میاں کی چہیتی ہے۔ یہ میاں کے کلیجے کی ٹھنڈک ہے۔ یہ کہتی جاتی تھی اور اس کے ساتھ ہزار ہا گالیاں اور سینکڑوں کوسنے اور دو ہتڑ تھا کہ باری باری سے اس شامت کی ماری بڑھیا اور ہریالی پر اور اپنے آپ پر بھی اس زور سے پڑ رہا تھا کہ گویا مزدور سڑک کوٹ رہے ہیں۔\n\nگھر میں بہتیری لونڈیاں اور مامائیں تھیں، مگر سیدانی کا جلال دیکھ کر کسی کی ہمت نہ پڑ سکی کہ کوٹھڑی کی طرف رخ کرے۔ سب کی سب بدحواس ہو کر بھاگ کھڑی ہوئیں۔ ہمسائے کی عورتیں کوئی کھڑکیوں میں سے کوئی دیوار پر سے کھڑی جھانکتی تھیں۔ پر کسی سے اتنا نہیں ہو سکتا تھا کہ گھر کے اندر قدم رکھے۔ مبتلا کو ڈھنڈوایا تو وہ بھی اس وقت کہیں باہر گئے ہوئے تھے، مردانے میں اکیلا وفا دار اس کو اور تو کچھ نہ سوجھی، گھوڑا تو دروازے پر بندھا ہوا تھا ہی۔\n\nمنہ میں لگام دے ننگی پیٹھ سوار ہو بگ ٹٹ سیدھا پہنچا کچہری میں سید ناظر کے پاس۔ ناظر اسی گھوڑے پر چڑھ دھم سے آموجود ہوئے اور اتفاق سے سید حاضر بھی کسی ضرورت سے دو تین دن کے آئے تھے۔ کچہری سے ان کے پاس بھی آدمی دوڑا دیا کہ آپ بھی جلد آئیے۔ غرض سید حاضر اور مبتلا بھی آگے پیچھے پہنچ گئے غیرت بیگم سید حاضر کے آنے سے پہلے کھڑی اور پڑی اتنا پیٹی اتنا پیٹی کہ آخر اس کو غش آگیا، ناظر جس وقت پہنچا ہے تو وہ بالکل بے ہوش پڑی تھی۔\n\nناظر کے آنے کے ساتھ اس کو ہوش میں لانے کی تدبیریں شروع کیں سید حاضر اور مبتلا دونوں آئے تو اس کے بعد دیر بعد غیرت بیگم کو ہوش آیا۔ سب سے زیادہ چوٹ غیرت بیگم ہی کو لگی کہ اس نے پیٹ پیٹ کر اپنا سارا بدن چوڑی کی طرح نیلا کر لیا تھا۔ ہریالی کی بھی کندی خوب ہوئی۔ مگر اس کو گجی مار لگتی تھی۔ بڑھیا ہریالی اور کوٹھڑی کی دیوار کے بیچ میں آکر بچ گئی مگر وہی مثل ہے کہ مرغی کو تکلے ہی کا گھاؤ بہت ہوتا ہے۔\n\nدو تین دو ہتڑ جو اس پر جمتے ہوئے بیٹھ گئے۔ وہ اتنے ہی میں سبکیاں لینے لگی۔ اگر ناظر نہ ہو تو کوتوالی والے کیا اس مقدمے کو بے چالان کیے رہیں۔ توبہ اور اگر حاضر نہ ہوتا تو ناظر اور مبتلا آپس میں کٹ مریں۔ پانچ چھ دن کو بیماروں کی دوا دارو ہوتی رہی۔ چوٹ کے موقع پر ہلدی کا حلوا پکا پکا کر باندھا۔ سیکنے کی جگہ پرانے روڑ سے سیکا پھٹکری کو دودھ میں جوش کر کے پلایا۔\n\nاب کیا باقی رہ گیا تھا۔ جس کے لیے مبتلا کو ہریالی سے ملنے میں تامل ہوتا۔ حاضرناظر بہن کی خدمت گزاری میں لگے تھے اور مبتلا کھلم کھلا ہریالی اور اس کی بڑھیا بارے۔ جب سب کے ہوش و حواس درست ہوئے تو لگے اپنی اپنی جگہ صلاحیں کرنے۔ مبتلا اور ہریالی نے یہ مصلحت گٹھی کہ اب اسی گھر میں برابری کے داعیے سے رہنا اور جلتوں کو خوب جلانا۔ ادھر حاضر ناظر اور غیرت بیگم کی آپس ہی میں پھوٹ تھی۔\n\nناظر کہتا تھا کہ ابھی لگے ہاتھ پہلے تھانے میں اطلاع لکھوا کر ایک دم سے تین نالشیں تو فوجداری میں داغو۔ مداخلت بے جا کی ہریالی پر اور ضرر رسانی اور اپنے اور دونوں بچوں کے نفقے کی مبتلا پر اور ایک دعویٰ مہر کا کاغذ کامل القیمت پر دیوانی میں دائر کرو۔ غیرت بیگم معاملے مقدمے کو تو کچھ سمجھتی بوجھتی نہ تھی وہ اپنی اسی ایک بات پر اڑی ہوئی تھی کہ مجھ کو سید نگر پہنچاؤ، نہیں تو افیون کھاتی ہوں۔\n\nسید حاضر تھا میرمتقی صاحب کے خوشہ چینوں میں اور بات کے انجام کو سوچتا تھا۔ اس کی رائے یہ تھی کہ نہ تھانے میں اطلاع لکھواؤ نہ سرکار دربار میں کسی طرح کی نالش فریاد کرو نہ سید نگر جاؤ نہ افیون کھاؤ، صبر کر کے چپ چاپ گھر میں بیٹھی رہو۔ سوکن کا آنا تمہاری تقدیر میں تھا سو ہوا۔\n\nاب تمہارے شور و فساد سے بہت ہو گا تو شاید اس گھر سے نکل جائے، مگر تم اپنے میاں کو اس کے چھوڑ دینے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔\n\nتم جو سید نگر جانے یا افیون کھانے کو کہتی ہو، یہ تمہاری نامراد سوکن کی عین مراد ہے۔ ناظر بھائی نے جو تدبیر بتائی اس کا خلاصہ یہ ہے۔ لڑائی اور لڑائی کا ضروری نتیجہ نقصان اور تردد اور فضیحت اور رسوائی، اب تو سوکن کے آنے سے تم کو صرف ایک فوری تکلیف پہنچی ہے اور تم افیون کھانے کو موجود ہو۔ لڑائی کی صورت میں بہت سی واقعی تکلیفیں ایسی پیش آئیں گی کہ شاید تمہارے ساتھ مجھ کو اور ناظر بھائی کو بھی افیون کھانی پڑے، میری سمجھ میں نہیں آتا کہ سوکن کے آنے پر تم اس قدر آپے سے باہر کیوں ہو۔\n\nکیا سوکن تم پر آج آئی ہے۔ تمہارا تو بیاہ ہوا ہے پیچھے اور سوکنیں تمہارے بیاہ سے بہت پہلے کی آئی ہوئی موجود تھیں، کیا تم کو معلوم نہیں، تم ہی بتاؤ کہ مبتلا بھائی کس دن بے سوکن کے رہے۔ سارا سید نگر جانتا ہے کہ میں نے تمہاری منگنی کے وقت بہتیرا غل مچایا مگر میری سنتا کون تھا۔ میں تو تمہارے نصیبوں کو اسی دن رو چکا۔ تمہاری سمجھ کا پھیر ہے، ورنہ میں تو حقیقت میں اس بات کو سن کر بہت خوش ہوا تھا کہ مبتلا بھائی نے نکاح پڑھا لیا۔\n\nاس سے تو یہ پایا جاتا تھا کہ انہوں نے آوارگی سے توبہ کی، کوٹھوں کوٹھوں سرِ بازار خدائی خوار پڑا پھرنا بہتر یا ایک کا ہو رہنا اور اس کو اپنا کر لینا بہتر، تم کیسی مسلمان ہو کہ ایک شخص جب تک خلاف شرع چلتا رہا تم نے ہوں تک نہ کی، اس کا طریقہ شریعت پر آنا تھا کہ تمہارے تن بدن میں آگ ہی تو لگ گئی۔ ہم تو بھائی ایسے دین و ایمان کے قائل نہیں۔\n\nبلکہ انصاف کی بات تو یہ ہے کہ مبتلا بھائی نے تمہارا بڑا لحاظ کیا کہ نکاح کو تم سے چھپایا اور تمہاری خاطر سے بی بی کو ماما بنایا اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر تم پردہ فاش نہ کرتیں تو مبتلا بھائی اس عورت کے ساتھ اپنے معاملات کو اسی طرح دبا دبایا رہنے دیتے مگر تم نے بیٹھے بٹھائے سوئی ہوئی بھڑوں کو جگایا۔ ان کو حیلہ ہاتھ آیا۔\n\nاب اگر وہ اس عورت کی اور بڑھیا کی دلجوئی اور خبرگیری نہ کرتے تو سارا گھر کھچا کھچ پھرتا۔\n\nمیں نے تو جس وقت آکر بڑھیا کو دیکھا۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرے تو ہوش اڑ گئے تھے۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے برف، چہرے کی رنگت متغیر، میں تو سمجھا خدا جانے کہاں بے موقع صدمہ پہنچا کہ اس کا سانس پیٹ میں نہیں سماتا، پوچھو میاں ناظر سے اخباروں میں کئی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی گورے نے ایک قلی کو تھپڑ کھینچ مارا یا ٹھکرا دیا اور قلی فوراً مر گیا۔\n\nغیرت بیگم تم نے یہ بڑی سخت بے جا حرکت کی اور اگر تم اس طرح دست درازی کرو گی تو یقین جانو تم اپنی تو اپنی ایک نہ ایک دن سارے خاندان کی ناک کٹوا دو گی، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے چند بدنصیب بندے یعنی لونڈیاں جو تمہارے اختیار میں ہیں تم حق ناحق اپنا غصہ ان پر نکالتی رہتی ہو۔ یہ بے چاریاں تمہارا کچھ کر نہیں سکتیں۔ ہاتھ چھوٹا ہوا، طبیعت بڑھی ہوئی تم سمجھیں کہ سب جانور ایک ہی لاٹھی سے ہانکے جاتے ہیں۔\n\nسوکن اور بڑھیا دونوں کو اٹھا کر پیٹ ڈالا۔ گویا وہ تمہاری لونڈی ہے اور یہ تمہاری باندی۔ وہ تو خدا نے اتنی خیر کی کہ بڑھیا مری نہیں اور ادھر عین وقت پر آ پہنچے میاں ناظر، کہ ان کے ملاحظے سے کوتوالی والوں نے تھوپ تھاپ کر دی۔ ورنہ ساری شیخی کرکری ہو جاتی کہ سادات سید نگر کی بیٹی میر مہذب کی بہو کی ڈولی کوتوالی کے چبوترے پر دھری ہوتی۔\n\nصدآفرین ہے تمہاری سوکن پر، ہے تو ذات کی کنچنی مگر بڑی ضبط کی آدمی ہے، کہ تم سے کہیں زبردست معلوم ہوتی ہے۔ مگر چپکی مار کھایا کی اور الٹ کراف تک نہ کی، کیوں غیرت! جیسا تم نے اس کو مارا تھا، اگر وہ بھی برابر سے مارتی، تو تمہاری عزت تو دو کوڑی کی ہو جاتی۔ مگر اتنا فائدہ تو ضرور تھا کہ پھر تمہارا ہاتھ کسی پر نہ اٹھتا، سید حاضر نے ناظر اور غیرت بیگم کو ایسا آڑے ہاتھوں لیا کہ دونوں کو کچھ جواب نہ بن پڑا اور دونوں اپنا اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔\n\nآخر ناظر بولا کہ آپ ہم دونوں سے بڑے ہیں، جو کچھ آپ کے نزدیک مناسب ہو۔ اس کی تعمیل میں نہ مجھ کو عذر ے اور نہ آپا کو، یہ معاملہ ناموس کا ہے اور بھائی بہنوں کی ناموس کچھ جدا جدا نہیں ہوتی۔ اس میں رتی برابر فرق نہیں کہ آپ جو کچھ کریں گے آپا کے حق میں بہتری کریں گے۔ سید حاضر نے کہا:", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/39"} {"title": "فسانہء مبتلا/40", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "بس تو مجھ کو مبتلا بھائی سے دو باتیں کر لینے دو۔ انشاء اللہ میں کوئی ایسی راہ نکالوں گا کہ دونوں میاں بیوی میں صفائی ہو جائے۔ ایسا موقع تاک کر کہ مبتلا مردانے میں اکیلا تھا، سید حاضر خود اس کے پاس گئے جس وقت سے گھر میں یہ واردات ہوئی تھی۔ حاضر اور ناظر دونوں کی طرف سے بُرے ہی بُرے خیالات مبتلا کے دل میں گزرتے تھے۔ اس کو ساری عمر کبھی کچہری جانے کا اتفاق نہیں ہوا بس کچہری کے نام سے اس کا دم فنا ہوتا تھا اور حاضر ناظر دونوں کو خصوصاً ناظر کو کچہری\n\nایسی تھی جیسے مچھلی کو تالاب، مویشی کو تھان، پرند کو گھونسلا، عورت کو میکا۔\n\nباوجود یکہ سر تا سر قصور غیرت بیگم کا تھا، مگر مبتلا الٹا چور کی طرح سہا جاتا تھا کہ دیکھئے یہ بھائی بہن کئی کئی دن سے کمیٹیاں کر رہے ہیں۔\n\nکیا فساد کھڑا کرتے ہیں۔ اس کے دوست آشناؤں میں بھی کسی نے اس کو کوتوالی اور فوجداری میں استغاثہ کرنے کی صلاح دی تھی، مگر یہ اس کو مرددا بناتے تھے، کچہری کا نام آیا اور اس کا رنگ فق ہوا۔ وہ بگڑ بگڑ کر ایک ایک کی منت کرتا تھا کہ یارو مجھ سے مدعی بننے کی توقع مت کرو۔\n\nکوئی ایسی تدبیر بتاؤ کہ اگر یہ لوگ مجھ پر نالش کریں اور کریں ہی گے تو مجھ کو حاکم کے روبرو نہ جانا پڑے۔ بہتیرا لوگ سمجھاتے تھے کہ ان کی طرف سے نالش کے ہونے کی کوئی روداد نہیں اور فرض کیا نالش ہو بھی تو تم اپنی طرف سے جواب دہی کے لیے مختار یا وکیل کھڑا کر دینا، بلکہ بعضے تو شرط بندھتے تھے کہ اگر نالش ہو اور خدانخواستہ تم پر کسی طرح کی آنچ آجائے تو حاکم جو سزا تمہاری تجویز کرے اس کی چوگنی ہم بھگتنے کو موجود ہیں چاہو ہم سے لکھوا لو۔\n\nمبتلا کہتا تھا تم ناظر بھائی کے ہتھکنڈوں سے واقف نہیں ہو، ارے میاں، وہ اس بلا کا آدمی ہے کہ چچا باوا بے چارے کسی لینے میں نہیں دینے میں نہیں۔ اس نے دل پر رکھا تو شہر سے نکلوا کر چھوڑا۔ مبتلا کا حال یہ ہو گیا تھا کہ ہریالی اور اس کی بڑھیاکی مرہم پٹی کی ضرورت سے کھڑے کھڑے گھر میں جاتا تو الٹے پاؤں باہر بھاگا ہوا آتا کہ دیکھوں، کہیں سرکار سے طلبی تو نہیں آئی، اتنے دن نہ تو اس نے پیٹ بھر کے کھانا کھایا اور نہ پوری نیند سویا۔\n\nاگر تھوڑے دن اور سید حاضر کی طرف سے سبقت نہ ہوتی تو مبتلا اس قدر پریشان تھا کہ وہ ابتدا کرتا اور اتنے دن بھی وہ اپنے آپ کو لیے رہا۔ تو ان لوگوں کی نارضامندی کے خیال سے اس کو جرأت نہیں ہوئی۔\n\nسید حاضر کو دور آتا ہوا دیکھ کھڑا تو ہو گیا۔ مگر اس وقت تک اس کے دل میں کھٹکا تھا کہ ان کا آنا خالی ازعلت نہیں۔ جب سید حاضر نے قریب پہنچ کر معانقے کے لیے ہاتھ پھیلائے تو اس کو اطمینان ہوا اور بھائی کے گلے لگ کر غیرت بیگم کی زیادتی اور اپنی مجبوری اور اتنے دن کی پریشانی کو یاد کر کے خوب رویا۔\n\nسید حاضر کا بھی جی بھر آیا۔ دیکھو گھر میں خدا کے فضل سے سب طرح کی فراغت ہے ایک چھوڑ دو دو بیبیاں ہیں۔ بچے ہیں کسی بات کی کمی نہیں، مگر ایک بری لت جو اپنے پیچھے لگا لی ہے تو زندگی کیا تلخی سے گزرتی ہے، معانقے کے بعد دونوں بھائی ایک جگہ بیٹھے تو سید حاضر نے کہا:\n\nمبتلا بھائی یہ نیا رشتہ تمہارے ساتھ کیا ہوا کہ وہ پرانا رشتہ بھی اس کے پیچھے گیا گزرا ہوا۔\n\nدیہات کا کم بخت کیا برا دستور ہے کہ ہم تو بہن کے گھر پر بلا ضرورت آنہیں سکتے۔ اب تمہاری ہی طرف سے ملاقات ہو تو ہو۔ سید نگر تو بھلا تم کیوں آنے لگے۔ شہر میں بھی تم کہیں نظر نہیں، آج آٹھواں دن ہے کہ میں بلاناغہ دونوں وقت یہاں آتا ہوں۔ تم کو دو چار بار دیکھا بھی۔ مگر تمہارا رخ نہ پایا۔ آخر آج مجھ سے نہ رہا گیا۔ تو میں نے کہا لاؤ میں ہی پیش قدمی کر کے تم سے ملوں۔\n\nمبتلا: کیا کہوں میں ندامت کی وجہ سے نہیں مل سکا۔\n\nحاضر: ندامت کی کیا بات ہے! عورتیں ناقصات العقل آپس میں لڑا جھگڑا ہی کرتی ہیں۔ اگر مرد ایسی ایسی باتوں کا خیال کیا کریں تو دنیا میں کیسے گزر ہو۔\n\nمبتلا: آپ پر ثابت تو ہو گیا ہو گا کہ زیادتی کس کی تھی۔\n\nحاضر: اس معاملے میں میرا منہ نہ کھلواؤ۔ میں تم سے کیسی ہی سچی بات کیوں نہ کہوں پر تم یہی سمجھو گے کہ بہن کی طرف داری کرتا ہے۔\n\nحاضر: دوسرا نکاح تو تم کر ہی چکے۔ اب اس کی نسبت یہ کہنا کہ تم نے جلدی کی یا بے جا کیا فضول ہے۔ مناسب کیا، خوب کیا اور ضرور کرنا چاہیے تھا، تمہارا طرز زندگی دین کے، شرافت کے بھلمنساہٹ کے عقل کے سب کے خلاف تھا۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ تم نے اس سے توبہ کی، خدا کرے کہ تمہاری یہ توبہ پہاڑ کی طرح مستحکم ہو۔ بھاری بھرکم ہو، مضبوط ہو، اٹل ہو مگر مجھ کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ ایک مکدر کو تم اٹھا نہ سکے جوڑی تم سے کیسے ملائی جائے گی۔\n\nتمہاری وہی مثل ہے کہ تنور سے بچنے کے لیے بھاڑی میں گرے۔ دو بیبیوں کا رکھنا، کچھ آسان کام نہیں، تم نے ایسی ہنڈیا پکائی ہے کہ یہ واقعہ جو پیش آیا، اس کا پہلا ابال ہے۔ جب کھرچن کی نوبت آئے گی تو اصل مزہ معلوم ہو گا۔ یقین جانو کہ میں کچھ بہن کی پاسداری سے نہیں کہتا۔ بلکہ حقیقت نفس الامری بیان کرتا ہوں کہ تم نے غیرت کی قدر وقعت کو مطلق نہیں پہچانا۔\n\nغیرت بیگم خدانخواستہ (برامت ماننا) تمہاری اس بی بی کی طرح گری پڑی، بازاری عورت نہیں۔ وہ ایسے جتھے اور ایسے گروہ اور ایسی برادری اور ایسے خاندان کی بیٹی ہے کہ جہاں اس کا پسینہ گرے۔ آج سیدنگر میں کم سے کم دوسو آدمی نکلیں گے۔ جو اپنا خون بہانے کو موجود ہو جائیں گے۔ عورتوں کے معاملے عزت اور آبرو اور ناموس کے معاملے میں مال کی تو کیا حقیقت ہے۔\n\nعزت کے آگے شرف خاص کر دیہات کے، خاص کر سادات، خاص کر سادات سید نگر جان کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے۔ یاد کرو تو کتنی منت کس قدر خوشامد کیسی آرزو سے ماموں اور ممانی (خدا ان دونوں کو جنت نصیب کرے)۔ غیرت بیگم کو بیاہ کر لائے۔ آج کو وہ دونوں یا ان میں سے ایک بھی زندہ ہوتے تو کیا تمہاری مجال تھی کہ تم غیرت بیگم پر سوکن لاؤ اور اسی کی گود میں بٹھاؤ، پھر بندئہ خدا تم کو اتنا بھی خیال نہ آیا کہ ماں باپ اس کے نہیں۔\n\nساس سسرے اس کے نہیں۔ دنیا میں وارث کہو، سرپرست کہو، ایک تم۔ سو تم نے جلا جلا کر اس کا یہ حال تو کر دیا کہ سید نگر کی نسبت ایک تہائی بھی باقی نہیں رہی اور اس پر بھی تم کو صبر نہ آیا۔ سوکن کو لابٹھایا۔ عورت ہو تو جانو، عقل ہو تو پہچانو کہ سوکن کا کیسا داغ ہوتا ہے۔ بیوگی سے بڑھ کر۔ میاں نکٹھو اپاہج ہو یا بدمزاج ہو۔ روٹی کھانے کو، اولاد جی بہلانے کو نہ ہو، سب مصیبتیں جھیلی جا سکتی ہیں اور نہیں جھیلی جا سکتی تو سوکن کی۔\n\nدنیا کے اور جلاپے جلاپے ہیں اور سوکن کا جلاپا سلگایا۔ جس شخص پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو۔ وہ اگر افیون کھا لیتی یا کنویں میں گر پڑتی یا پیٹ میں چھری بھونک لیتی، اس سے کسی بات کا تعجب نہ تھا بلکہ تعجب یہ ہے کہ رونے پیٹنے پر قناعت کی۔ اگر خدانخواستہ اس نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا ہوتا تو تمہارا کیا جاتا، تم تو نئی بی بی کے ساتھ چین کرتے۔ گل چھرے اڑاتے ہم کو بہن کہاں پیدا تھی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/40"} {"title": "فسانہء مبتلا/41", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "مبتلا: اگر آپ کہیں تو میں اس عورت کو چھوڑ دوں۔\n\nحاضر: میں تو چھوڑنے کو نہیں کہہ سکتا اور تم ایسے چھوڑنے والے ہوتے تو کرتے ہی کیوں۔ فرض کیا کہ تم نے میرے کہنے پر اس کو چھوڑ دیا اور پھر وہی سابق کا وطیرہ اختیار کیا تو اپنے ساتھ دنیا اور دین دنوں جگہ میرا منہ بھی کالا کراؤ گے۔\n\nمبتلا: پھر آپ ہی کوئی راہ نکالیے۔ مجھ سے ایک نادانی تو ہوئی اور اپنی طبیعت کو بار ہا آزما چکا ہوں میرے قابو کی نہیں آج آپ سے ایک وعدہ کروں اور کل کو جھوٹا ٹھہروں۔\n\nتو پھر آپ کے نزدیک میرا کیا اعتبار رہا۔ اس سے بات کا صاف صاف کہہ دینا اچھا اور اگرچہ آپ سے اس معاملے میں صلاح پوچھنا داخل بے حیائی ہے مگر چچا باوا چلتے چلتے کہہ گئے تھے کہ اگر کوئی مشکل آ پڑے تو آپ کی رائے پر عمل کرنا اور یوں بھی آپ بڑے بھائی ہیں۔\n\nباپ کی جگہ آپ ہی اگر اڑی پر آڑے نہ آئیں گے، تو میں کس کے پاس التجا لے جاؤں۔ بندے کے سو قصور خدا معاف کرتا ہے، آپ ازبرائے خدا میرا ایک قصور معاف کیجیے۔\n\nحاضر: بات یہ ہے کہ میں تمہاری اس نئی بی بی کے حالات سے بخوبی واقف نہیں، میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ کس طرح اس کے ساتھ مدارت کرنی مناسب ہے۔\n\nمبتلا: اس کم بخت کے اور حالات ہی کیا ہیں۔ بازاری عورت ہے تن تنہا مدت سے توبہ توبہ پکار رہی تھی، میری جو شامت آئی۔ اس کے ساتھ عقد شرعی کر لیا کیونکہ چچا باوا کے سامنے آوارگی سے میں توبہ کر چکا تھا۔\n\nحماقت پر حماقت یہ ہوئی کہ اب میں اس گھڑی کو بہت پچھتاتا ہوں کہ گھر میں لا کر اوپر کا کام کاج سپرد کیا۔ دوسری ماماؤں کی طرح رہنے سہنے لگی، اگر میں نے اس کے ساتھ کسی طرح کا سروکار رکھا ہو تو مجھ پر خدا کی مار پڑے، یہ تو اس کی پچھلی کیفیت ہے۔ آئندہ کے لیے بھی اگر آپ کی مرضی ہو تو وہی ماماؤں کی طرح رہے گا اور بدستور گھر کی خدمت کرے گی۔\n\nحاضر: اس کا غیرت بیگم کے پیش نظر رہنا تو میں پسند نہیں کرتا۔\n\nکیونکہ اس صورت میں فساد عاجل کا بڑا اندیشہ ہے۔ دو سو کنوں کی مثال میں تمہیں کس طرح بتاؤں یوں سمجھو کہ دوگلاس ہیں ایک میں سوڈا ہے پانی میں حل کیا ہوا اور دوسرے میں ایسڈ، ممکن نہیں ہے کہ سوڈا اور ایسڈ ملیں اور ان میں جوش و خروش پیدا نہ ہو پس دونوں کو ایک جگہ رکھنے کا تو تم کبھی بھول کر ارادہ نہ کرنا۔ ورنہ آج دو ہتڑ تھے تو کل جوتیاں ہوں گی او رپرسوں چھریاں۔\n\nاس کو تو کسی دوسرے شہر میں یا خیر دوسرے محلے میں یا خیر دوسرے گھر میں تو رکھنا ضرور ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ تم کہتے ہو کہ وہ اکیلی ہے۔ تن تنہا، آدمی زیادہ رکھے جائیں تو تمہاری چادر میں اپنے پاؤں پھیلانے کی گنجائش نہیں۔ پس صرف یہی ایک تدبیر ہے کہ زنانے مکان میں پورب کی طرف جو ایک کھانچا سا نکل گیا ہے پردے کی طرف دیوار کھچوا لو اور ڈیوڑھی میں سے دروازہ پھوڑ کر اتنا گھر الگ کراؤ اور حقیقت میں یہ تھا بھی دوسرا گھر، ماموں باوا نے مول لے کر باہر گلی کا دروازہ تیغہ کرا کے زنانے مکان میں ملا لیا تھا۔\n\nتیغے کا نشان اب تک موجود ہے اتنا مکان ایک مختصر خانہ داری کے لیے بخوبی کافی ہے۔ ضرورت کی سب چیزیں موجود ہیں۔ دالان در دالان آگے سائبان۔ دونوں طرف بڑی بڑی دو کوٹھڑیاں۔ باورچی خانہ اس کے بغل میں چیز بست رکھنے کو لمبی کولکی۔ سامنے کے ضلع میں سہ درہ بس اور چاہیے کیا۔ بڑے گھر کی طرف خدا کے فضل سے آدمی زیادہ ہیں اور خرچ بھی بہت ہے۔ برابری اگر چاہو تو دونوں گھروں میں ممکن نہیں۔\n\nاور ضروری بھی نہیں اور مناسب بھی نہیں۔ چھوٹے ماموں باوا پینسٹھ روپے کی تنخواہیں اور کرایہ تمہارے نام کرا گئے ہیں اور ساٹھ کی غیرت بیگم کے نام سو اپنے پینسٹھ میں تیس روپے چھوٹی بی بی کو دیا کرو۔ اکیلا دم ہے۔ فراغت سے بسر کر سکتی ہیں۔ پینتیس تم کو بچیں گے۔ اس میں تمہارا کپڑا ہے اور باہر مردانے کا خرچ، غیرت بیگم کے ساٹھ کو ہاتھ مت لگاؤ۔\n\nایک دن بڑے گھر میں رہو ایک دن چھوٹے گھر میں نہ ہڑ ہڑ نہ کھڑ کھڑ۔ اللہ اللہ خیر صلا، مبتلا تو اپنی جگہ پر ڈر رہا تھا کہ نہیں معلوم شہر سے نکلوائیں گے یا قید ڈلوائیں گے یا گھر بار ضبط کرائیں گے۔ سید حاضر کا فیصلہ سننے کے ساتھ اس کے پیروں پر گر پڑا کہ بس اس میں اگر میری طرف سے کبھی سرموفرق ہو تو جانیے گا کہ میری اصالت میں فرق ہے۔ ہریالی بھی اپنی جگہ بہت خوش ہوئی اور سمجھی کہ اب میرا بی بی ہونا سب پنچوں نے مانا اور گھر الگ پایا، میاں کے پینتیس بھی میرے اپنے ہی ہیں۔\n\nوہ ملا کر تنخواہوں میں کرائے میں بڑا آدھا میری طرف رہا۔ کہاں غیرت بیگم سیدانی اشراف میاں کی پھوپھی زاد بہن صاحب اولاد آٹھ نو برس کی بیاہی ہوئی اور کہاں میں، انصاف کی رو سے تو میں ان کی جوتی کی برابری نہیں کر سکتی۔ قربان جاؤں خدا کے کہ اس نے مجھ گنہگار ناچیز کی توبہ کو ایسا نوازا کہ ان ہی کے سگے بھائی کے ہاتھ سے مجھ کو جتوایا۔ غیرت بیگم کو تو سوکن کے نام کی جلن تھی اس کو مکان سے تنخواہ سے کچھ بحث نہ ہی تھی۔\n\nہریالی کو کیسے ہی برے احوال سے رکھتے مگر جب تک غیرت بیگم یہ جانتی تھی کہ یہ میری سوکن ہے۔ کسی طرح وہ راضی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ لیکن بڑے بھائی نے جب ایک فیصلہ کر دیا۔ تو کیا کرتی دل میں پیچ و تاب کھا کر چپکی ہو رہی۔ مبتلا کے ساتھ بولنا۔ بات کرنا پہلے ہی سے کم تھا۔ اب بالکل چھوڑ دیا۔ غرض صحن میں پردے کی دیوار اٹھائی گئی ڈیوڑھی میں دروازہ لگا۔ ہریالی نے الگ گھر کر کے رہنا شروع کیا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/41"} {"title": "فسانہء مبتلا/42", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "بائیسواں باب: دو سوکنوں کی لڑائی کے گھر اور اہلخانہ پہ اثرات\n\nآدمی الگ گھر کرتا ہے تو پلنگ پیڑھی، تخت چوکی، چولہا چکی، برتن بھانڈا، سبھی چیزیں اس کو درکار ہوتی ہیں۔ غیرت بیگم کے یہاں اسباب کے اٹم لگے ہوتے تھے مگر کسی کی مجال تھی کہ تنکا تو اٹھا کر ادھر سے اُدھر لے جائے۔ ہریالی کو ابتدا میں تو سخت تکلیف ہوئی۔\n\nمگر سلیقہ بھی عجیب چیز ہے۔ دو ہی برس میں ہریالی نے رفتہ رفتہ اپنا گھر ایسا درست کر لیا کہ غیرت بیگم کے کئی پشتوں کے جمے ہوئے گھر میں ایک چیز وقت پر نہیں بھی ملتی تھی، مگر ہریالی کے یہاں آتا تو کون تھا لیکن اگر دس مہمان بھی آجاتے تو آسائش کا تمام سامان موجود پاتے۔ ایک مرتبہ پرانا سرکہ درکار تھا۔\n\nتعجب کی بات ہے کہ سارے محلے میں کسی کے یہاں سے نہ ملا۔\n\nہریالی نے، جس کی طرف کسی کا ذہن بھی منتقل نہیں ہوتا تھا، سنتے کے ساتھ ہی پیالہ بھر کر بھجوا دیا۔ جس طرح سید حاضر نے ٹھہرا دیا تھا۔ مبتلا ایک ایک دن باری باری سے دونوں گھروں میں رہتا تھا۔ بڑے میں تو کوئی اس سے بولتا چالتا نہیں تھا۔ کسی دن اگر معصوم کو پکڑ پایا تو گھڑی دو گھڑی اس کے ساتھ جی بہلایا ورنہ منہ لپیٹا سو رہا۔ خاطرداری سمجھو مدارات سمجھو آؤ بھگت سمجھو۔\n\nجو کچھ تھی سو چھوٹے گھر میں تھی۔ مگر غیرت بیگم اس کو وہاں بھی چین سے نہیں رہنے دیتی تھی وہ اپنے گھر میں تو مبتلا سے ایسی بے رخی کرتی کہ گویا اس کو میاں کی ذرا بھی پرواہ نہیں اور چھوٹے گھر کی باری آئی اور صبح سے اس نے مبتلا کی نگرانی شروع کی۔ مردانے میں کئی دیر بیٹھے گھر میں کس وقت آئے کہاں سوئے۔ کیا کھایا اور کتنا کھایا۔ ہریالی کے ساتھ کیا باتیں کیں۔\n\nگھر کے نوکروں پر ایک نیا کام یہ اور پڑا کہ سارے سارے دن اور پہر پہر رات گئے تک ایک ڈیوڑھی میں کھڑی جھانک رہی ہے تو ایک دروازے میں کان لگائے سن رہی ہے اور ایک ہے کہ جس طرح جولاہا تانا بانا تنتا پھرتا ہے۔ اوپر تلے بیسیوں پھیرے زنانے سے مردانے میں اور مردانے سے زنانے میں۔ باوجودیکہ غیرت بیگم نے ایک مبتلا کے پیچھے اتنے جاسوس لگا رکھے تھے اس پر بھی اس کا جی نہیں مانتا تھا۔\n\nایک موکھا تو اس نے پاخانے کی دیوار میں کیا کہ چھوٹے گھر کے سہ درے کی ذرا ذرا بات وہاں سے سنائی دیتی تھی۔ رہ گیا ایک ضلع صحن سایہ بان اور سایہ بان کے اندر کا دالان سوغیرت بیگم کی طرف ایک بالاخانہ تھا اور اس میں تھی ایک کھڑکی کھول دو تو صحن سے لے کر اندر والے دالان تک سب کچھ دکھائی دیتا تھا۔\n\nیا تو غیرت بیگم نے جس دن کی بیاہی آئی کبھی بالاخانے پر پاؤں نہیں رکھا تھا یا اب سوکن کی ضد پر جس دن چھوٹے گھر کی باری ہوتی صبح سویرے سے کوٹھے پر چڑھی اگلی صبح کو اترتی۔\n\nغرض ساری گرمی غیرت بیگم نے میاں کو ہریالی سے بات نہیں کرنے دی جاڑا آیا اور پردے چھوڑ کر دالان میں سونے لگے تب تھک کر بیٹھی شروع میں تو نوکروں کو آنے جانے کو ایسی سخت ممانعت تھی کہ ایک مرتبہ ایک لونڈی نے باہر ڈیوڑھی میں سے آگ پکڑا دی تھی۔ غیرت بیگم کو خبر ہو گئی تو اس کے ہاتھ پر جلتا ہوا انگارا رکھ دیا لیکن پھر سوچی کہ نوکروں سے خبریں خوب ملتی ہیں۔\n\nان کا روکنا ٹھیک نہیں۔ بندی کھول دی مگر اس سے خرابی کیا پیدا ہوئی کہ ماما لونڈی جو کوئی چھوٹے گھر سے ہو کر آتی۔ غیرت بیگم اس سے حال پوچھتی، اگر وہ اس کی خواہش کے مطابق کچھ بیان نہ کرتی تو اس پر خفا ہوتی کہ تو جھوٹی ہے یا چھپاتی ہے یا تو ادھر ملی ہوئی ہے۔ ناچار اس کی بدگمانیوں سے بچنے کے لیے نوکروں نے اپنے جی سے باتیں بنانا شروع کیں۔\n\nحقیقت میں تو وہ باتیں ہوتی تھیں بے اصل مگر ایسی ہر ایک بات کا ہفتوں جھگڑا لگا رہتا تھا، آپ رنجیدہ اور مبتلا پر اپنی بدنفسی اور حماقت ثابت کرتی۔ ایک آتی اور دل سے جوڑ کر کہتی بیوی آج تو تمہاری سوکن کے عجب ٹھاٹھ ہیں۔ ایسی بن سنور کر بیٹھی ہے جیسے کوئی نئی دلہن۔ سر میں چنبیلی کا تیل پڑا ہو۔ مگر کوئی چار روپے سیر کا۔ سارا گھر پڑا مہک رہا ہے۔\n\nچوٹی گندھی ہے۔ یہ بڑے بڑے موتیا کے پھولوں کا سارا گہنا البتہ ڈیڑھ دو روپے سے کیا کم کا ہو گا۔ ملاگیری چنا ہوا مہین رینگ کا دوپٹہ۔ اچھا خاصہ چارا نگل کا چوڑا سنہری ٹھیکا ٹنکا ہوا سفید ترین تیل بیل کا پاجامہ پائنچوں میں بیل دار کنارہ کنارے پر کیکڑی کیکڑی پر بانکڑی پھر بانکڑی کی چیک، غیرت بیگم یہ سن کر ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہتی، ہاں صاحب جن کے بھاگ ان کے سہاگ دوسری یہ بات بنائی کہ وہ آپ تو صحن میں کرسی بچھائے بیٹھی ہیں، میاں سامنے کھڑے گنا چھیل رہے ہیں۔\n\nگنڈیریاں بنا بنا کر آپ بھی کھاتے جاتے اور اپنے ہاتھ سے ان کے منہ میں بھی دیتے جاتے ہیں، میں تو یہ دیکھ کر الٹے پاؤں پلٹ آئی، ماما باہر بیٹھی کھانا پکا رہی ہے۔ غیرت بیگم لعنت خدا کی پھٹے منہ حیا اور شرم تو مطلق چھو نہیں گئی۔ اشارے سے بیوی کو بلاتی کہ ذرا آپ بھی تو موکھے میں دیکھئے آج میاں کا جی کیسا ہے۔ دولائی اوڑھے پڑے ہیں اور کنچنی پاس بیٹھی پاؤں دبا رہی ہے۔\n\nغیرت بیگم اری کم بخت تجھ کو دھوکہ ہوا ہو گا۔ کنچنی لیٹی ہو گی اور میاں پاؤں دبا رہے ہوں گے۔\n\nاس طرح کی سینکڑوں باتیں صبح سے شام تک اپنے ہی گھر کے نوکر غیرت بیگم سے آکر کہتے اور سب میں زیادہ منہ لگی وہ تھی جو اس طرح کی باتیں خوب تصنیف کرسکتی تھی۔ اتنی تو کسی کی مجال نہ تھی کہ غیرت بیگم کے منہ پر ہریالی کو ہریالی کہہ دے اور اگر کسی کی زبان سے بھولے سے بھی چھوٹی بی بی نکل جاتا تو بیشک غیرت بیگم تڑ سے اس کے منہ پر جوتی کھینچ مارتی۔\n\nنام سے تو اتنی نفرت اور پھر رات دن اس کی تسبیح۔ آخر سوچ کر غیرت بیگم نے سوکن کو بے غیرت کا خطاب دیا اور جتنے لوگ غیرت بیگم کے طرف دار تھے یہاں تک کہ ادنیٰ ادنیٰ نوکر اس کی حمایت پا کر سب بے تامل ہریالی کو پکار پکار کر بے غیرت کہتے تھے اور دیوار کے پیچھے ہریالی اپنے کانوں سے سنتی تھی بلکہ اس نے سینکڑوں بار مبتلا کو سنوا دیا تھا۔ مبتلا کو نوکروں کے منہ سے یہ لفظ سن کر سخت رنج ہوتا تھا۔\n\nکیونکہ ہریالی جو کچھ تھی سو تھی۔ مگر راجہ کے گھر آتی اور رانی کہلاتی، اب تو اس کی منکوحہ تھی نوکروں کو اور گھر کی لونڈیوں کو کیا زیبا تھا کہ اس کی منکوحہ کو یوں منہ بھر بھر گالیاں دیں۔ مگر وہ کیا کر سکتا تھا۔ ہریالی کو سمجھا دیتا کہ کچھ تم سے پُرخاش نہیں، مجھ کو نوکروں کے ہاتھ سے ذلیل کرانا مقصود ہے، خدا کی شان میرے نوکر میرے لونڈی غلام اور ایسے گستاخ ایسے بے ادب، کیا کروں کچھ کرتے بن نہیں پڑتا۔\n\nمیں صبر کرتا ہوں تم بھی صبر کرو۔ غیرت بیگم کو سوکن کی طرف سے ہر طرح کی بدگمانی تو تھی۔ بتول کو تو اس طرف کوئی لے جانے نہیں پاتا تھا۔ مگر معصوم اپنے پاؤں دوڑا دوڑا پھرتا تھا۔ اس کو کون روکے، غیرت بیگم بہتیرا ڈراتی دھمکاتی گھر کتی مگر یہ کس کی سنتا تھا۔ آنکھ بچی اور گھر میں۔ غیرت بیگم سے اور مبتلا سے تو روز بروز کی عداوت بڑھتی چلی جاتی تھی، مبتلا کے جلانے اور چھیڑنے اور ایذا دینے کو جہاں غیرت بیگم اور بہتیری باتیں کرتی تھی ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ بچوں کے ساتھ اس کی اگلی سی مدارات باقی نہیں رہی تھی۔\n\nاب تو وہ بات بات پر معصوم کو مار بیٹھتی اور کوسنا تو تکیہ کلام ہو گیا تھا۔ بچوں کا تو قاعدہ ہے کہ وحشی جانوروں کی طرح ہلانے اور پرچانے سے رام ہوتا ہے معصوم کا یہ حال ہو گیا تھا کہ غیرت بیگم کی شکل سے دور بھاگتا اور اس کی پرچھائیں سے ڈرتا چھوٹے گھر میں اس کی ایسی خاطرداری ہوتی تھی کہ اس نے اندر پاؤں رکھا اور ہریالی نے دوڑ کر اس کو گود میں لیا۔\n\nہاتھ منہ دھلایا۔ بالوں میں تیل ڈالا۔ کنگھی کی آنکھوں میں سرمہ لگایا۔ میوہ مٹھائی اس کے لیے لگا رکھتی تھی جو کچھ موجود ہوا کھلایا۔ کھنڈی تکمہ اگر ٹوٹ گیا ہے۔ ٹانک دیا۔ کبھی کبھار کوئی کھلونا منگوا دیا۔ آپ پان کھاتی ہوتی تو اس کو بھی ٹکڑا بنا دیا۔ یا آئینہ ہاتھ میں دے دیا کہ دیکھوں تو کیا منہ لال لال ہوا ہے۔ پس معصوم سارے سارے دن چھوٹے گھر کھیلتا اور اگر بڑے گھر میں بلالے تو روتا اور مچلتا۔\n\nایک دن غیرت بیگم معصوم کا انگرکھا قطع کر رہی تھی کہ لونڈی سے کہا کہ جا ذرا معصوم کو جلدی بلالائیں انگرکھا اس کے قد سے ناپ لوں ایسا نہ ہو اونچا ہو جائے۔ لونڈی نے چھوٹے گھر میں جاکر کہا چلو میاں بی بی بلاتی ہیں۔ لونڈی کی صورت دیکھ کر اور طلبی سن کر معصوم زمین میں لیٹ گیا۔ بہتیرا لونڈی اٹھاتی ہے مگر نکل نکل پڑتا ہے۔ اس کشم کشتا میں تھوڑی دیر لگ گئی اور وہاں غیرت بیگم ہاتھ میں کپڑا لیے انتظار کر رہی ہیں۔\n\nآخر دوسری کو دوڑایا کہ نسبتی معصوم کو بلانے گئی تھی وہیں مر کر رہ گئی۔ پس آپ بھی اس کے ساتھ کھیل میں لگ گئی۔ جا دونوں کو پکڑ کے تو لا۔ غیرت بیگم جو بگڑ اور خفا ہو کر زور سے بولی تو اپنے گھر میں ہریالی نے بھی سنا اور اس نے جلدی سے اٹھ کر معصوم سے کہا۔ آہا بڑی اماں کے یہاں کیسے کیسے بہار کے کپڑے ہیں، جلدی بھاگ کر جاؤ تمہاری بھی اچکن بیونتی جائے۔ وہ بڑی اماں بیٹھی کہہ رہی ہیں آنکھیں میچے کہ آج ذرا آتو لے، لیتی ہوں خبر۔ معصوم سامنے گیا تو غیرت بیگم بولی کہ موئے جان ہار یوں ہی سارے دن خدائی خوار خاک چھانتا ہے۔ پھر دیکھ اب تجھ کو کیسے ظالم استاد کے پاس پڑھنے بٹھاتی ہوں کہ تو بھی یاد کرے۔\n\nمعصوم: میں اپنی چھوٹی اماں کے پاس بھاگ جاؤں گا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/42"} {"title": "فسانہء مبتلا/43", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "بیگم: لانا، ایک انگار کہ اس کم بخت ناشدنی کا منہ جلاؤں۔ نگوڑا، بدوں کا بد، گندی بوٹی کا بساندا شوربا۔ آخر اپنی اصالت پر آگیا۔ کنچنی کو اماں بنایا میرے سامنے۔ اگر پھر اس مردار کو اماں کہا ہو گا تو پکڑ کر زبان کاٹ ڈالوں گی۔ معصوم یہ سن کر آدھی دور سے پھر الٹا بھاگ گیا۔ نسبتی پیچھے دوڑی بھی مگر اب وہ کس کے ہاتھ آتا تھا ڈیوڑھی میں کھڑا ہوا، غیرت بیگم کے چڑانے کو پکار پکار کر چھوٹی اماں کہتا تھا اور جہاں غیرت بیگم نے دیکھا تو آڑ میں ہو گیا اور پھر ذرا سی دیر میں سامنے آکر چھوٹی اماں کہنے لگا۔\n\nغیرت بیگم نے دالان میں سے بیٹھے بیٹھے جوتی کھینچ کر ماری مگر وہ ڈیوڑھی تک کیا پہنچتی۔ غرض معصوم کو جو دھن لگی تو غیرت بیگم کو اسی طرح گھڑی بھر تک دِق کرتا رہا اور پھر چھوٹے گھر میں جا گھسا۔\n\nغیرت بیگم ہریالی کی ساری باتوں کو برائی پر ڈھال لے جاتی تھی۔ معصوم کے ساتھ جو ہریالی عام ماؤں سے اور خصوصاً غیرت بیگم سے بڑھ کر محبت کرتی تھی تو میاں کی خوشامد پر محمول کرنا شاید چنداں بے جا نہ تھا مگر ہریالی کی مخالفت میں غیرت بیگم کے خیالات ایسے بڑھے ہوئے تھے کہ اس کا بھی وہ دوسرا ہی مطلب لگاتی تھی اس کا مقولہ یہ تھا دیکھا نامراد کٹنی کو۔\n\nکیسے معصوم کی للونپو میں لگی رہتی ہے اور مجھ کو یقین ہے کہ وہ ضرور اس کو مجھ سے تڑا کر رہے گی ابھی سے اس کو میری صورت سے بیزار کر دیا ہے۔ نہیں تو اتنے بچے ماؤں سے ایک لمحے کے لیے پرے نہیں ہٹتے اور معصوم کو تو اگر میں نہ بلاؤں کبھی بھول کر بھی ادھر کا رخ نہ کرے۔ بیگم کو تو الٹے سیدھے ہر طرح ہریالی کو الاہنا دینا منظور تھا۔ معصوم اگر کبھی بیمار ہوتا اور چھوٹے بچے اکثر بیمار ہوتے ہی رہتے ہیں۔\n\nتو مصیبت یہ تھی کہ میاں کی ضد کے مارے دوا علاج کچھ نہ کرتی اور کہتی کہ جو کوئی دکھ ہو تو علاج کروں اس کو تو دشمنوں نے کچھ کر دیا ہے۔\n\nاور دشمن کون یہی بغلی گھونسا۔ یہ کیا ہم میں سے کسی کو جیتا چھوڑے گی لیکن اگر میرے بچے کا بال بیکا ہوا تو کوٹھڑی میں کیا مار ماری تھی اگر جان سے نہ مار ڈالوں تو سید کی جنی نہیں۔ اور پھر اس کے حمایتیوں کو دیکھ لوں گی۔\n\nہریالی عجیب پس و پیش میں تھی۔ اگر معصوم کو نہیں آنے دیتی تو کہیں خود جو بے اولادی ہے جلتی ہے دیکھ نہیں سکتی اور آنے دیتی ہوں تو اس کی ذمہ داری کون کرے کہ بچہ بیمار نہ پڑے تو ضرور اچھا ہی ہو جایا کرے۔ پس ذرا بھی معصوم کا جی ماندہ ہوتا تو ہریالی کا کئی چلو لہو خشک ہو جاتا۔ انتظام خانہ داری کی یہ صورت ہوتی کہ آخر اس کو بھی تو صاحب خانہ کی توجہ درکار ہے۔\n\nیہاں آپس کی کہا سنی تاک جھانک۔ لڑائی جھگڑ ے سے اتنی فرصت ہی کس کو تھی کہ انتظام کی طرف متوجہ ہوتا اور فرصت تھی بھی تو دلوں میں شوق نہیں۔ رغبت نہیں اطمینان نہیں امنگ نہیں۔ کسی کی بلا سے۔ کیا غرض پڑی تھی کہ یہ درد سرمول لے۔ خانہ داری میں سب سے بڑا انتظام کھانے کا کہ صبح بھی ہو اور شام بھی ہو سو کھانے کا یہ حال کہ بڑے گھر میں تو مبتلا نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہی نہیں۔\n\nمیاں بی بی میں ناخوشی تو سدا کی تھی، تاہم کھانا دونوں ایک ہی دستر خوان پر کھایا کرتے تھے جس دن سے ہریالی نے الگ گھر کیا، غیرت بیگم نے میاں کے ساتھ بات چیت کرنی کیا چھوڑی بات چیت کے ساتھ کھانا اور کھانے کے ساتھ دیکھنا بھالنا نکالنا سب کچھ چھوڑ دیا۔ دوچار بار مبتلا نے منہ پھوڑ کر ہا بھی جواب ندارد۔ پس کھانا تیار ہوتا تو گھر کے نوکروں میں سے کسی نے میاں کا حصہ نکال کر لا آگے رکھ دیا۔\n\nاس بے قراری کے ساتھ جو کھانا دیا جاتا تھا تو مبتلا کو اس قدر طیش آتا تھا کہ اگر کا بس چلے تو غیرت بیگم کو کچی اٹھا کر کھا جائے مگر وہ اپنا خون جگر پی کر چپ ہو رہتا تھا۔ ڈر کے مارے ذرا کی ذرا منہ جھٹلایا اور کھڑا ہو گیا۔ غیرت بیگم خود تو کبھی خبر نہیں لیتی تھی۔ اگر کبھی کوئی نوکر خدا کے واسطے کو کہہ بیٹھا کہ میاں تو پوری چپاتی بھی نہیں کھاتے تو بولتی اس مال زادی کے بغیر میاں کے حلق سے نوالہ کیوں اترنے لگا اور ان کو گھر کا کھانا کیوں بھانے لگا۔\n\nغیرت بیگم جلتی تن کا مبتلا سے بدتر حال تھا وہ آپ ہی اپنے دل سے باتیں پیدا کرتی اور آپ ہی ان کی ادھیڑ بن میں دو دو وقت کھانا نہ کھاتی۔ نوکروں نے جو دیکھا گھر والے دو، میاں اور بیوی اور دونوں کو کھانے کی طرف مطلق رغبت نہیں۔ یہ لوگ بھی سستی اور بے پرواہی اور چوری اور طرح طرح کی خرابیاں کرنے لگے۔\n\nنتیجہ یہ ہوا کہ خرچ تو ڈیوڑھا اور دونا بڑھ گیا اور برکت آدھی اور پاؤ بھی باقی نہ رہی غیرت بیگم کی طرف تو سویرے خاک اڑنے لگی چھوٹا گھر خیر یوں ہی لشٹم پشٹم چلا جاتا تھا۔\n\nگھر کی عزت ہوتی ہے مردانے سے۔ اور مردانے کی رونق مردوں سے اور مردوں کے شوق کے اہتمام سے۔ مبتلا کبھی جس کا یہ حال تھا کہ بالوں میں تیل نہ پڑتا تو سر درد کرنے لگا۔ دن میں اگر چار مرتبہ گھر سے باہر نکلتا تو چار طرح کی پوشاک پہن کر۔ ایک چیز ایک جگہ سے بے جگہ رکھی ہوئی تو بے چین ہو جاتا فرش پر سلوٹ پڑی دیکھی اور تیوری پر بل پڑا۔ آندھی ہو مینہ ہو سردی ہو گرمی ہو چار گھڑی دن رہے گھوڑے کی سواری کبھی ناغہ ہونے نہیں دی۔\n\nہر چیز صاف ستھری قیمت انوکھی یا اب خانہ داری کے جھگڑوں نے اس کو اس قدر عاجز اور ناچار کر دیا تھا کہ اس کو اپنے تن بدن کا بھی ہوش نہ تھا۔ بال الجھ کر نمدہ ہو گئے ہیں۔ کسی کو دماغ ہے کہ کنگھی کرے۔ معلوم ہے کہ کپڑے میلے چکٹ ہو رہے ہیں۔ مگر بدلتے ہوئے آلکسی آتی ہے۔ چیز بے ٹھکانے پڑی ہے مگر کون زبان کو ہلائے کہ اس کو موقع سے رکھو۔ سفید چاندنی دھبے پڑ پڑ جا جم بن گئی ہے نوکروں کو توفیق نہیں کہ بدلیں، میاں کو خیال نہیں کہ بدلوائیں گھوڑا نسل ولائتی جس پر مکھی پھسلتی تھی۔\n\nپٹھوں پر نالی پڑی ہوتی۔ سواری موقوف تھی لہٰذا تھان پر بندھے بندھے پانچواں عیب نکال لایا۔ بادی آدبایا۔ مالش میں ہوئی کمی اور دانے میں ہوئی چوری۔ تھوڑے دن میں پر تل کا ٹٹو معلوم ہونے لگا۔ سینکڑوں روپے کا اسباب صرف غور اور پرداخت کے نہ ہونے سے کوڑے کی طرح بے قیمت ہو گیا۔\n\nغرض وہ لوگ کہاوت کہتے ہیں کہ دو ملا میں مرغی حرام دو بیبیوں کی کشمکش میں گھر کی مٹی ایسی پلید ہوئی کہ باہر سے لے کر اندر تک نکبت اور مفلسی اور بے رونقی چھا گئی ایک مدت تک غیرت بیگم کی طرف سے انواع و اقسام کے ظلم ہریالی پر ہوتے رہے اور بدلہ لینا کیسا اس کی اتنی بھی مجال نہ تھی کہ اف کرے۔\n\nنام لے لے کر پکار پکار کر سنا سنا کر گالیوں کی بوچھاڑ برسا رکھی ہے اور کوسنوں کا تار باندھ دیا ہے۔ ہریالی دم بخود مگر کتنا صبر، کہاں تک برداشت، آخر اس کا منہ کھلا کہ لوگوں نے اپنے اپنے کان بند کر لیے۔ برکت، رونق، فراغت، عافیت، محبت، مروت سب کچھ غارت ہو کر ایک آبرو تھی لیکن اب وہ بھی محلے والوں کی نظر میں نہ رہی تھی۔ ہر وقت کی تھکا فضیحت میں وہ بھی گئی گزری ہوئی۔\n\nکم بختیں اس بے ہودگی کے ساتھ آپس میں لڑتی تھیں کہ کنجڑنوں قصائنوں کو مات کر دیا تھا اور دھوبنوں بھٹیاریوں کو شرمندہ۔ غیرت بیگم تو کسی کے قابو کی تھی نہیں مگر ہاں ہریالی کو اگر مبتلا منع کر دیتا تو وہ بے شک باز آجاتی۔ پر غیرت بیگم کی طرف سے مبتلا کو ایسے ایسے رنج پہنچے تھے کہ روکنا کیسا وہ تو کبھی کبھی ہریالی کو اور اشتعالک دے دے کر اس کی آڑ میں اپنے دل کے جلے پھپھوے پھاڑ لیتا تھا۔ ان لوگوں میں جو باہمی رنجش اور عداوتیں تھیں، پہلے چند روز تک دل میں رہیں۔ بڑھتے بڑھتے دلوں سے منہ تک آئیں، اب وہ زیادہ ہوئیں تو پھوٹ کر ایسی بہیں جیسے کوہ آتش فشاں کا ملغوبہ۔ آگے آگے آپ اور پیچھے پیچھے تباہی اور بربادی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/43"} {"title": "فسانہء مبتلا/44", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "تئیسواں باب: حاملہ ہریالی سے غیرت بیگم کا انتقام\n\nاتفاق سے ہریالی پڑی بیمار شاموں شام سر دھویا، سردی کھائی، زکام ہوا، بخار آنے لگا۔ چند روز کچھ دھیان نہ کیا۔ بخار تھا کہ لمبا ہو گیا۔ بلکہ ذرا ذرا کھانسی کی بھی دھسک شروع ہو گئی۔ معمولی طو رپر حکیموں کے علاج کیے، لیکن بخار ہے کہ جنبش نہیں کھاتا، کھانسی کو اتنا آرام ہوا سمجھو سوکھی سے تر ہو گئی ایک دن بلغم میں کچھ سرخی کی جھلک دکھائی دی تو تردد ہوا اور تردد کی بات ہی تھی خیال کیا کہ پان کی سرخی ہو گی مگر پھر ثابت ہوا کہ نہیں خون کی ہے۔\n\nتب تو مبتلا گھبرایا، غیرت بیگم کے ہاتھوں سے تو ایسی ایسی ایذائیں پہنچی تھیں کہ اس کے نام سے اس کا دل بے زار تھا۔\n\nاس کو تھوڑی یا بہت جو کچھ دل بستگی تھی ہریالی کے ساتھ تھی۔ اب جو اس کو خون تھوکتے دیکھا۔ قریب تھا کہ سودائی ہو جائے شبہ تو تھی کئی دنوں سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہیں غیرت بیگم نے کچھ کر کرا دیا ہو۔ کھانسی کے ساتھ خون کا آنا تھا کہ یقین کیسا حق الیقین ہو گیا کہ غیرت بیگم نے پون بٹھائی۔\n\nخدانخواستہ ایسا تو پرانا بخار بھی نہیں کہ سل ہونے کا اندیشہ ہو، ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر سیانے اور بھگت بلائے! آئے سب نے اپنے اپنے جادو چلائے مگر کم بخت پون کی کچھ اصل جادو کی کچھ حقیقت ہو تو روگ میں کمی، مرض میں خفت ہو۔ خبط کے جادو، وہم کی پون اس کو اتارے کون، ہریالی کا حال بہت پتلا چلا، آخر کسی نے صلاح دی کہ سب کچھ تو کر چکے۔ ذرا ڈاکٹر چنبیلی کو بھی تو ایک نظر دکھاؤ۔\n\nچنبیلی کا نام اصل میں مس بیلی تھا۔ ولایت سے نئی آئی تھی کہ اس نے نواب اقتدار الدولہ بہادر کے محل میں ایک بڑے معرکے کا علاج کیا۔ تب ہی سے شہر میں بڑی شہرت ہوئی ۔ نواب صاحب کی محل سرا میں اس کو چنبیلی پکارتے تھے۔ وہاں کی سنی سنائی اور لوگ بھی چنبیلی کہنے لگے۔ دایہ گری کے فن میں نہایت تجربہ کار اور مشتاق تھی اور خود مبتلا کے گھر میں معصوم اور بتول دونوں کے ہونے میں بلائی گئی تھی۔\n\nہریالی اور ہریالی کے تیمار دار کسی کے ذہن میں بھی نہیں بات آئی تھی کہ ہریالی کی حالت ڈاکٹر چنبیلی کے علاج کی متقاضی ہے۔\n\nڈاکٹر چنبیلی کو جب بلایا گیا، تو غیرت بیگم سمجھ کر معرفت سابقہ کے لحاظ سے بلاعذر بڑی خوشی کے ساتھ فوراً چلی آئی۔ اس کو یہاں آکر معلوم ہوا کہ مبتلا نے دوسری بی بی کی ہے۔ اس نے بیمار کو دیکھا تو سہی مگر مبتلا سے کہا کہ مجھ سے اور غیرت بیگم سے دوستی یا بہنا پاتو نہیں ہے۔\n\nپرتم کو پتہ ہے کہ ان کے دو بچے ہونے میں، میں نے ان کی خبرگیری کی ہے تو تمہاری اس بی بی کا علاج کرنے کو میرا جی نہیں چاہتا۔ اس کو میں خلافِ مروت سمجھتی ہوں اور میرے علاج کی چنداں ضرورت بھی نہیں۔ جس حکیم کا علاج کرتے ہو ان کو صرف اتنا اشارہ کر دینا کہ دو جانوں کی رعایت سے علاج کریں اتنا کہہ کر ڈاکٹر غیرت بیگم کی طرف گئی۔ معصوم اور بتول دونوں کو گود میں لے کر پیار کیا۔\n\nپھر غیرت بیگم سے بولی کہ اگر میں دوسرے گھر میں نہ بلائی گئی ہوتی تو میں تم سے پوچھتی کہ اس قدر دبلی کیوں ہو۔ ہم لوگوں میں مرد دوسری بی بی نہیں کر سکتے اور مرد اور عورت دونوں کے حقوق کو تولا جائے تو شاید عورت ہی کا پلہ جھکتا ہوا رہے گا۔ پھر بھی مرد اور عورت کا تعلق اس قسم کا ہے کہ بیاہ ہو جانے سے عورت مرد کے بس میں آجاتی ہے۔ یہی سمجھ کر میں نے اپنا بیاہ نہیں کیا اور کرنے کا ارادہ بھی نہیں میں تمہاری حالت پر افسوس کرتی ہوں اور اس سے زیادہ افسوس اس مجبوری کا ہے کہ مدد کرنے کی جگہ نہیں۔\n\nلیکن کبھی اگر میرا کام آ پڑے تو ضرور مجھ کو یاد کرنا۔ غیرت بیگم نے اگرچہ دیہات میں پرورش پائی تھی۔ پر وہ اتنی بھی تو بے تمیز نہیں تھی کہ چنبیلی کے آنے کا اس کی محبت کا، مروت کا، ہمدردی کا شکریہ ادا نہ کرتی، مگر سوکن کے جھگڑے میں اس کو کسی چیز کی سدھ نہ تھی۔ چنبیلی اس سے بات کر رہی تھی اور یہ اس فکر میں تھی کہ کب چپ کرے اور میں سوکن کا حال پوچھوں، غرض غیرت بیگم نے چھوٹتے ہی پوچھا کہ کہو کیا دیکھا۔\n\nچنبیلی بولی حکیم کو دھوکا ہوا۔ اس نے پہچانا نہیں کہ یہ عورت چار مہینے ہوئے دوجی سے بیٹھی ہے، میں نے تمہارے میاں کو جتا تو دیا ہے۔ اب بھی اگر سمجھ بوجھ کر علاج ہو گا۔ تو بچے کو تو میں نہیں کہہ سکتی کیونکہ ادھر تو ہوئے جلاب اور ادھر بخار کی وجہ سے ملیں اوپر تلے ٹھنڈی ٹھنڈی دوائیں۔ بچے کو سردی نے پکڑ لیا۔ مگر احتیاط کی وجہ تو میرے نزدیک یہ ہے کہ بچے والی کو ابھی تک کچھ بڑی الجھن نہیں ہے۔\n\nاس لیے کہتے ہیں کہ آدمی فربہ شود ازراہ گوش۔ یہ بات دوسری طرف ہریالی نے جو سنی تو اس کے دل کو اس قدر تقویت پہنچی کہ کیسی دوا اور کس کا علاج گھڑیوں اس کا مزاج خود بخود ٹھیک ہوتا گیا۔\n\nیہاں تک کہ یا تو آپ سے کروٹ نہیں بدل سکتی تھی یا ایک ہی ہفتے میں چلنے پھرنے لگی۔ یہ تو اٹھ کھڑی ہوئی لیکن اس کی جگہ غیرت بیگم پڑی، غیرت بیگم کا سارا غرور، سارا گھمنڈ، سارا ناز اولاد کے برتے پر تھا۔\n\nاب جو اس نے دیکھا کہ سوکن نے اس میں ساجھا لڑایا تو حقیقت میں اس کی کمر ٹوٹ گئی اور سمجھی کہ بس اب ہریالی کے مقابلہ میں نہیں پنپتی۔ اس کو اس بات کی بڑی تسلی تھی کہ ہریالی لاکھ میاں کی پیاری کیوں نہ ہو۔ آخر ہے تو بے اولاد نہ کوئی نام کا لینے والا نہ پانی کا دینے والا۔ جتنا اس کی تقدیر میں ہے اور پہن لے، جس قدر اس کے نصیب کا ہے اور کھا ہے۔\n\nپھر میں ہوں تو میں اور نہیں تو اللہ رکھے اور پروان چڑھائے میری اولاد۔ اس خیال سے کبھی اس نے سوکن کو سوکن مانا ہی نہیں اب البتہ اس کو سوکن کی حقیقت کھلی اور آدھی اور ساری کا سوچ پیدا ہوا۔ چنبیلی کوئی دو تین گھڑی دن چڑھتے چڑھتے آئی تھی۔ اس کے گئے پیچھے سے جو غیرت بیگم گھنٹوں میں سر دے کر بیٹھی تو دوپہر ڈھلتے ڈھل گئی۔ مگر اللہ کی بندی نے گردن اونچی نہ کی۔\n\nدو تین بار کھانے کی اطلاع ہوئی مگر اس نے یہی کہہ دیا کہ مجھے بھوک نہیں۔ اس کے گھر میں ایک بہت پرانی نوکر تھی، خاتون وہ گھر کی داروغہ تو نہ تھی مگر کبرسنی اور قدیم الخدمتی اور ہوشیاری اور سلیقے کی وجہ سے گھر کے نوکروں میں سب سے سربر آوردہ تھی۔ غیرت بیگم کو اس سے مانوس ہونے کا ایک سبب خاص یہ بھی تھا کہ جس طرح مبتلا نے غیرت بیگم پر سوکن کی۔\n\nاسی طرح خاتون پر بھی اس کے میاں نے سوکن کی تھی۔ غیرت بیگم کا تو ایسی باتوں میں بہت جی لگتا تھا۔ خاتون گھڑیوں اپنی سوکن کی باتیں کرتی اور غیرت بیگم کرید کرید کر پوچھتی اور ایک ایک بات کو بار بار کہلواتی۔ پس خاتون نوکر کی نوکر تھی۔ قصہ خواں کی قصہ خواں اور بیوی کی ہمدرد۔ جب خاتون نے دیکھا کہ جس گھڑی سے چنبیلی آئی بیوی کچھ ایسی سوچ میں گئی ہیں کہ پان تک نہیں کھایا۔\n\nکھانے کا وقت بھی ٹل گیا۔ تو اس نے قریب جا کر پوچھا کہ بیوی جو تم اس قدر اداس بیٹھی ہو اس کا کیا سبب ہے، غیرت بیگم۔ تم نے نہیں سنا کہ بے غیرت کے یہاں بال بچہ ہونے والا ہے۔\n\nخاتون: ابھی اس نے کیا اٹھا رکھا ہے۔ بال بچہ ہونے والا ہوتا تو حکیم کیا ایسے اندھے ہیں۔ جلابوں پر جلاب کیوں دیتے۔\n\nغیرت بیگم: حکیموں کو دھوکا ہوا۔ انہوں نے جانا ٹھنڈی ٹھنڈی دوائیاں دی جا رہی ہیں تو بھلی ہو جائے گی کہ پیٹ میں بادی بھر گئی ہے۔\n\nاب چنبیلی نے دیکھا تو بتایا۔ کیوں خاتون بی میں تو سنتی رہی تھی، کنچنیوں کے اولاد نہیں ہوتی؟ کیا میری ہی تقدیر پر ایسے پتھر پڑے تھے کہ مجھ پر کنچنی بھی آتی تو آتے دیر نہ ہو اور ماں بن جائے۔\n\nخاتون: نہیں بی بی کون کہتا ہے کہ کنچنیوں کے اولاد نہیں ہوتی؟ ہوتی ہے اور نہیں بھی ہوتی۔ کیا تم بھول گئیں میری سوکن کون تھی اصل نسل کی کنچنی جب میرا میاں اس کو لایا تو خدا جانے نامرادیں مردوں کی آنکھوں میں کیا ٹپکی ڈال دیتی ہیں۔\n\nوہ جانتا تھا کہ سترہ اٹھارہ برس کی لڑکی ہے۔ پیچھے معلوم ہوا کہ چار کی ماں تو وہ اس وقت تھی اور ہمارے یہاں تو بیوی پانچ برس وہ زندہ رہی۔ میری اتنی روک ٹوک پر بھی سات یا آٹھ دفعہ اس نے تیاری کی مگر واہ ری چنیا۔ دائی ہو تو ایسی ہو کبھی چوتھا نہ لگنے دیا۔\n\nغیرت بیگم: وہ چنیا اب ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/44"} {"title": "فسانہء مبتلا/45", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "خاتون: مدتیں ہوئیں مرکھپ گئی۔ ستر پچھتر برس کی تو وہ میری سوکن کے وقت میں تھی۔\n\nغیرت بیگم: پھر خاتون کوئی ویسی ہی تدبیر یہاں نہیں کرتیں۔\n\nخاتون: بیوی تمہاری یہاں افتاد دوسرے طور کی ہے ہم تو غریب آدمی ہیں۔ اب بھی ہیں اور تب بھی تھے۔ میاں سات روپے مہینے پر ایک عطار کی دکان پر بیٹھتا تھا سامنے تھا اس بیسوا کا کوٹھا۔ آدمی تھا وہ بھی طرح دار، یہ نامراد اس کے سر ہوئی میں تو بارہ آنے مہینے کرائے پر دینا بیگ خاں کے کٹڑے میں رہتی تھی۔\n\nذرا سا مکان میرے اکیلے دم کا اس میں گزر ہوتا تھا۔ سوکن صاحب جو آئیں بس میری گود میں بیٹھیں، مرد واکم بخت اس طرح کا ظالم کہ گالی دے بیٹھا۔ اس کے آگے ایک ایک بات اور بات بات میں مکا اور لات اگر وہ کبھی مجھ کو اور سوکن کو آپس میں لڑتے دیکھ پائے تو دونوں کے ڈنڈے لگائے سو بیوی اپنی عزت اپنے ہاتھ۔\n\nمیں نے تو چوں نہیں کی اور ظاہر میں سوکن سے ایسی گھلی ملی رہی جیسے سگی بہن پر دل سے تو میری جان کی دشمن تھی اور میں اس کی۔\n\nایک جگہ کے رہنے سہنے اور ظاہر کے میل ملاپ سے ایک یہ فائدہ تو تھا کہ میں جو چاہتی سو کر گزرتی تھی اس کو یا مردوے کو شبہ نہیں ہونے پاتا تھا۔ تمہارے یہاں بیوی اول دن سے کھلم کھلا بگاڑ پڑے ہوئے ہیں۔ ایسی جگہ کوئی تدبیر چلنی ذرا مشکل ہے۔ نہیں تو کیا بڑی بات ہے چنیا نہیں، چنیا کی بہنیں اور بہتیری اور دائی کا بھی اس میں کیا کام۔ ایک سے ایک دوا مجھ کو ایسی معلوم ہے کہ چٹکی بچاتے میں کھڑا کھٹکا نہ کھائے۔\n\nغیرت بیگم: اے ہے اچھی میری خاتون ایسی کوئی دوا ہے تو ضرور مجھ کو بتاؤ۔\n\nخاتون: دوائیں تو بہت پرکاڑھے ہیں پینے کے، کچھ لیپ ہیں لگانے کے۔ آج کو یہاں دوا بنتی چھنتی ہوئی تو کچھ بھی مشکل نہ تھا۔ دوا تو بناتے ہیں اپنے ہاتھوں سے۔ میاں کوئی کرے تو کیا کرے۔\n\nغیرت بیگم: پھر تم ہی کچھ تدبیر نکالو گی تو نکلے گی ورنہ میں تو اپنی جان پر کھیلے بیٹھی ہوں اور یہی بات اس وقت میں سوچ بھی رہی تھی خدا مجھے تو اس دن کے واسطے نہ رکھے ہائے کن آنکھوں سے دیکھوں گی کہ اس کے بچے کھیلتے پھریں اور کن کانوں سے سنوں گی کہ اماں پکاری جائے۔\n\nتم سے کچھ ہو سکتا ہے تو کرو نہیں تو تم اکیلی کیا، دنیا دیکھ لے گی کہ جلا ہوا دل بہت برا ہوتا ہے اور کسی پر زور نہیں چلتا مگر اپنی جان تو بس کی ہے، جان جائے بھی تو مجھ جیسی کی بلا سے، غیرت میرا نام ہے، نام کے پیچھے جان دوں تو سہی۔\n\nخاتون: بیوی خدا کے واسطے تم ایسی ایسی باتیں میرے سامنے تو کرو مت سن سن کر میرے تو ہوش اڑے جاتے ہیں۔ جان سی چیز کہاں پائیے تم اپنے ننھے منے بچوں کا منہ کرو، خدا تمہاری سلامتی میں ان کو پروان چڑھائے۔\n\nالٰہی تم کو ان کی بہاریں دیکھنی نصیب اور قربان کی وہ نامراد سوکن۔ خدا چاہے گا تو وہی نہ رہے گی۔ ہراساں ہو تمہاری بلا اور غم کرے تمہاری پاپوش۔ جب خدا نہ کرے کہ تمہاری ہی جان پر آبنے گی تو ہم پندرہ بیس بندے جو تمہاری جوتیوں سے لگے ہیں تو کیا منہ دیکھنے کے واسطے ہیں۔ پہلے ہم سب تم پر سے تصدیق ہو لیں گے تب جو بات سو بات۔ پر بیوی جو بات تم چاہتی ہو جان جوکھوں کا کام ہے۔\n\nپہلے اپنی جان سے ہاتھ دھو لو تو اس کا بیڑا اٹھائے۔ پھر اس کو چاہیے دل کا پکا پیٹ کا گہرا بھروسہ کا پورا کہ خدانخواستہ کل کلاں کو کچھ ایسی ویسی ہو تو اپنے اوپر جھیل لی جائے اور مالک کو بال بال بچائے۔ سو تمہارے گھر میں تو میں اس ڈھب کا کسی کو نہیں پاتی۔ چھوکریاں ہیں چھچھوری کہ آدھی بات سن پائیں تو ایک ایک کی چار چار دل سے بنائیں اور سارے محلے میں دھوم مچائیں۔\n\nرہ گئیں مامائیں، نوکریں تو ہر کسی سے کہتے جی لرزتا ہے اور مجھ اکیلی سے سارا سرانجام ہو نہیں سکتا۔ ایک میرا بھانجا ہے جو میرے میاں کی جگہ عطار کی دکان پر نوکر ہے۔ اگر وہ گنٹھ جائے تو سارے کام آسان ہیں۔ میں اس سے ذکر کروں گی پر بیوی تم اپنی جگہ پر سمجھ لو۔ میری تو اگر جان بھی تمہارے کام آجائے تو دریغ نہیں۔ میں نے تمہارا نمک کھایا ہے اور میں اب دنیا میں جی کر بھی کیا کروں گی بہتیرا جی چکی پر میرا بھانجا بال بچے دار آدمی ہے۔\n\nعمر بھی اس کی کچھ ایسی بہت نہیں۔ اس کو تو کچھ ایسا ہی بھاری لالچ دیا جائے گا تو شاید وہ اس کام میں ہاتھ ڈالے۔\n\nغیرت بیگم: مجھ کو تو اگر کوئی کھڑا کر کے بیچ لے تو بھی عذر نہیں کسی طرح اس عذاب سے چھٹکارا ہو۔ خاتون بیوی دیکھو خبردار میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو نہیں تو سارے گھر پر آفت آجائے گی۔\n\nغیرت بیگم: خیرخیر مناؤ تم نے کیا مجھ کو ایسا نادان سمجھ رکھا ہے۔\n\nمیں خوب سمجھتی ہوں کہ بڑے اندیشے کی بات ہے مجھ کو اپنے دونوں بچوں کی جان کی قسم کیا مجال کہ منہ تک بات آجائے۔\n\nخاتون تو بس بات کو اپنے ہی تک رہنے دو۔ جب سب ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا تو میں تم کو خبر کر دوں گی اور میں تم کو یہی صلاح دیتی ہوں کہ مل جاؤ کیونکہ ملاپ میں خوب کام نکلتا ہے۔ مگر ملو نہیں تو یہ ہر وقت کا جھگڑا بکھیڑا تو موقوف کر دو۔\n\nورنہ کرے گا کالا چور اور پکڑے جائیں گے تمہارے دشمن برا چاہنے والے۔ خاتون کے سمجھانے بجھانے سے غیرت بیگم نے باوجود یہ کہ ناوقت ہو گیا تھا منگوا کر کھانا کھایا اور جو سارے سارے دن ہریالی کا جھگڑا لگا رہتا تھا۔ وہ بھی بند ہوا۔ آدمی لاکھ چھپائے پر دل کی کپٹ بے ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہتی لوگ جو چوری یا دوسرے جرموں کے مرتکب ہوتے ہیں اپنے پندار میں بڑی بڑی پیش بندیاں کرتے ہیں اور آخری کو وہی پیش بندیاں ان کو رسوا اور فضیحت کراتی ہیں یا تو تمام دن دونوں سوکنوں کی لڑائی کا ایک غل پڑا رہتا تھا۔\n\nایک دم سے ہوا سناٹا تو غیرت بیگم اور خاتون کے سوائے سبھی کو حیرت تھی کہ دلوں میں ایسی کیا نیکی خدا نے ڈالی کہ آپ سے آپ لڑتے لڑتے رک گئیں، باوجود یکہ خاتون نے سمجھا دیا تھا کہ جب سب ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا تو میں تم کو خبر کر دوں گی مگر غیرت بیگم کو اتنا صبر کہاں تھا اس نے تو اگلے ہی دن سے خاتون کی جان کھانی شروع کر دی۔ کیوں بی اب ہو گیا۔\n\nکیا دیر ہے۔ کاہے کا انتظار ہے۔ اے ہے کبھی ہو بھی چکے گا یا نہیں۔ بس اب خاک ہو گا۔ تم کو نہیں کرنا منظور تھا تو مجھ کو آس کیوں دی تھی۔ سخی سے سوم بھلا جو ترت دے جواب۔ آخر جب تقاضا حد سے گزر گیا تو ایک دن خاتون نے کہا کہ لو بی بی خدا نے مجھ کو تم سے سرخرو کیا۔ اب کہیں اتنے دنوں میں جاکر بڑی مشکل سے معاملہ طے ہوا میں تو سمجھتی تھی خدا جانے سرے سے حامی بھی بھرے یا نہ بھرے۔\n\nمانگے تو دس ہزار مانگے پندرہ ہزار مانگے پر ماشاء اللہ قسمت تمہاری بڑی زبردست ہے۔ سستا چک گیا ایک ہزار فی الفور اور جو خدا نہ کرے کہیں وہ لڑکا زیادہ کھل کھلا پڑے تو دو ہزار۔ غیرت بیگم تو کہہ ہی چکی تھی کہ اگر مجھ کو کوئی کھڑا کر کے بیچ ڈالے تو بھی عذر نہیں۔ سننے کے ساتھ لگی ہاتھوں سے سونے کے ٹھوس کڑوں کی جوڑی اتارنے کہ اتنے میں خاتون بولی کہ بیوی کڑے مت دو۔\n\nمیرا جی بھی کڑھتا ہے ننگے ہاتھ بُرے لگیں گے اور لوگوں میں بھی پرچول پڑے گی بلکہ جتنا گہنا تم پہنے رہتی ہو اس میں سے کچھ بھی مت دو۔ غرض جس طرح خاتون کہتی گئی کچھ نقد وجنس ملا کر ہزار پورے کر اس کے لیے باندھے۔ ہزار نقد اور ہزار ادھار کے لے کر خاتون نے یہ کار نمایاں کیا کہ چوہوں کے بہانے سے تھوڑی سی سنکھیا بھانجے سے مانگ لائی۔ دونوں گھروں میں دودھ کا راتب بندھا ہوا تھا۔\n\nگھوسن بڑے سویرے آتی اور سب سے پہلے یہیں کا راتب لاتی۔ خاتون اندھیرے منہ اٹھ مردانے میں جا بیٹھی، جوں ہی گھوسن نے پاؤں اندر رکھا کہ خاتون نے اس سے لڑنا شروع کیا کہ ساری دنیا میں حلوائی ہوئے گھوسی ہوئے دودھ میں پانی ملاتے ہیں۔ یہ کہیں سے بے چاری انوکھی گھوسن نکلی کہ پانی میں دودھ ملا کر لاتی ہے۔ پرسوں کھیر پکی کسی نے منہ پر نہیں رکھی کل جوں چاہا کہ سویوں میں ڈالیں نیلا نیلا سوت پانی۔ ہر روز بیوی کو ہم لوگوں پر خفا کرواتی ہے لاتیری ہنڈیا بیوی کو لے جا کر دکھاؤں تب تو انہیں یقین آئے گا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/45"} {"title": "فسانہء مبتلا/46", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "غرض زبردستی گھوسن کے ہاتھ سے ہنڈیا چھین ڈیوڑھی میں لے گھسی اور سنکھیا کی پڑھیا دودھ میں گھول ہنڈیا گھوسن کو پھیر دی کہ بیوی کہتی ہیں میرے پاس حرام کا پیسہ نہیں ہے جا دور ہو اب میرے گھر دودھ نہ لانا۔ برسوں کی لگی ہوئی گھوسن اور روزگار کا راتب اس طرح ملاوٹ کرتی تو اتنی مدت کیوں کر نبھتی۔ بے چاری کھسیانی ہو کر خاتون کا منہ دیکھنے لگی اور چھوٹے گھر کی ماما کو آواز دے بھری ہنڈیا اس کے حوالے کی کہ بڑی بی نے تو آج کئی برس کے بعد جواب دیا چھوٹی بی بی بھی اگر دوسری گھوسن لگالیں تو میری ہر روز صبح سویرے کی اتنی دور کی مشقت بچے۔\n\nہریالی نے دیکھا تو دودھ ہر روز جیسا گاڑھا اور چکنا اس کے جی میں آگیا کہ میاں کئی بار فرینی کی فرمائش بھی کر چکے ہیں۔ لاؤ آج قلفیاں جما دیں لہٰذا سارے کا سارا دودھ لے لیا۔\n\nجب دودھ لے چکی۔ تب اس کو خیال آیا کہ آج تو بڑے گھر کی باری ہے۔ ماما سے کہا: دیکھنا تو کیا مجھ سے بھول ہوئی بڑے گھر کی باری کا خیال نہ رہا اور فرینی کے لیے اتنا سارا دودھ لے بیٹھی۔\n\nاب کیا کروں۔ ماما نے کہا: مضائقہ کیا ہے۔ جاڑے کے دن ہیں اس وقت کی جمی ہوئی باسی قلفیاں تو کل تک ٹھنڈی اور بھی مزے کی ہوں گی۔ غرض فرینی پکا قلفیاں بھر الماری میں رکھ اوپر سے قفل لگا دیا۔ جن لوگوں کے بال بچے نہیں ہوتے جی بہلانے کو اکثر جانور پال لیا کرتے ہیں۔ ہریالی نے بھی طوطا اور مینا اور بلی اور کبوتر اور مرغیاں بہت سے جانور پال لیا کرتے ہیں۔\n\nاچھا ایک پیالہ بھر کر فرینی ان جانوروں کے لیے الگ نکال کر تھوڑی ماما کے لیے دیگچی میں لگی چھوڑ دی تھی۔ دو سیر دودھ اور بمشکل پاؤ بھر چاول جبکہ برابر کی کھانڈ۔ فرینی کا ہے کوتھی اچھا خاصا کھویا کہنا چاہیے۔ جس نے پائی خوب مزے سے کھائی۔ دو گھنٹے نہیں گزرنے پائے تھے کہ سب سے پہلے میاں مٹھو شکار ہوئے، پھر تو باری باری سے اوپر سویر کوئی جلدی کوئی دیر، مینا سکڑی، بلی بانولی ہوئی، کبوتر چکرائے۔\n\nمرغیاں اونگھنے لگیں۔ ماما مارے قے اور دوستوں کے بدحواس ہو گئی۔ ڈولی میں لاد اس کے گھر پہنچوایا اس کا بیٹا تھانے میں نوکر تھا۔ سننے کے ساتھ بھاگا ہوا آیا۔ ماں کو دیکھا تو آدمی کو نہیں پہچانتی تھی۔ نیم جان کو اٹھا کر ہسپتال لے گیا۔ ڈاکٹر نے پچکاری سے پیٹ صاف کیا۔ پانی جو پیٹ میں سے نکلا تھوڑے سے میں کوئی دوا ڈال کر دیکھا تو سنکھیا تھی۔\n\nآخر ڈاکٹر نے سوچ سوچ کر یہ کہا کہ ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ اس نے کتنی سنکھیا کھائی اور ٹھیک کس وقت کھائی لیکن جس قدر اس کے پیٹ میں سے نکلی ہے۔ اگر اتنی بھی ہضم ہو کر خون میں مل گئی ہو گی تو قاعدے کی رو سے اس کو مرنا نہیں چاہیے غرض سنکھیا کا جو تریاق انگریزوں کے یہاں ہوتا ہو گا اوپر تلے دینا شروع کیا۔ اگلے دن صبح ہوتے ہوتے بیمار کی طبیعت کچھ سنبھلی۔\n\nآخر لوٹ پیٹ کر کچھ اچھی تو ہوئی مگر کچھ ایسا روگ لگ گیا کہ جب تک زندہ رہی مارے دھڑکن کے بے چارہ کو ساری ساری رات بیٹھے گزر جاتی تھی۔ ادھر ہریالی کے یہاں جس جس جانور نے ذرا سی فیرنی کھائی سبھی کو تو موت آئی۔ ہریالی اپنے اس کنبے کے سوگ میں تھی کہ کوئی چار گھڑی دن رہتے رہتے تو کوتوالی کے لوگ مردانے میں آبھرے پکڑ دھکڑ ہونے لگی فیرینی کی قلفیاں اور مرے ہوئے جانوروں کی لاشیں تو کوتوالی والوں نے فوراً ہسپتال کو ڈاکٹر کے پاس چلتی کیں اور لگے اپنے دستور کے مطابق ایک ایک کو الگ الگ لے جا کر پوچھ گچھ کرنے، غرض چھ گھڑی رات کو توپ نہیں چلی تھی کہ کوتوالی والوں نے سارا مقدمہ مرتب کر لیا۔\n\nمحلے والوں نے اظہار دیئے کہ دونوں گھروں میں ہر وقت کو سم کاٹا رہا کرتی تھی۔ اب ہفتے عشرے سے امن ہے۔ گھوسن نے بیان دیا کہ میں مدت سے دونوں گھروں میں دودھ کا راتب لاتی ہوں کبھی کسی نے دودھ کو برا نہیں بتایا۔ کل خاتون نے پہلے پہل مجھ سے کہا کہ تیرے دودھ میں ملاوٹ ہوتی ہے اور ہنڈیا میرے ہاتھ سے لے ڈیوڑھی میں گھس گئی اور پھر الٹے پاؤں ہنڈیا لے کر باہر آئی کہ بیوی نہیں ہیں۔\n\nمیں نے وہی ہنڈیا جوں کی توں چھوٹے گھر میں بھیج دی۔ دونوں گھروں کی ماماؤں نے ایک زبان گواہی دی کہ گھوسن نے دودھ کبھی برا نہیں دیا۔ حکیم عطار نے تصدیق کی کہ میری دکان پر خاتون کا بھانجا بیٹھتا ہے اور جب میں دکان پر نہیں ہوتا وہی بیچتا کھوچتا ہے۔ اور میری دکان میں سنکھیا بھی رہتی ہے مگر میری سخت تاکید ہے کہ دیکھو سنکھیا، کچلا، جمال گوٹا، شخرف، ہڑتال، بچناگ، دھتورہ اس قسم کی چیزیں انجان آدمی کے ہاتھ مت بیچنا۔\n\nان چیزوں کی فروخت کا حساب کتاب میں کیا شہر میں کوئی عطار بھی نہیں رکھتا۔ خاتون کے بھانجے کو بلوایا۔ بہتیرا ڈھونڈا اتفاق سے اس وقت نہیں ملا بلکہ کوتوالی والوں کو شبہ ہوا کہ کہیں خبرپا کر روپوش تو نہیں ہو گیا۔\n\nبس اس کے آنے کی کسر رہ گئی ورنہ مقدمہ اسی وقت لکھا پڑھی ہو کر چالان ہو جاتا۔ گھر کے نوکروں میں خاتون ذرا سب سے زیادہ معزز تھی اور ڈیوڑھی تک بھی بہت ہی کم آتی جاتی تھی۔\n\nکوتوالی والوں کو ہوا تامل کہ اس کو دوسرے نوکروں کی طرح باہر بلوائیں یا آپ ڈیوڑھی کے پاس جا کر اس سے پوچھ پاچھ کر لیں کہ اتنے میں تو سید ناظر خبر پاکر آموجود ہوئے۔ اگر ناظر ذرا سی دیر اور نہ آتے تو خاتون کی کیا اصل تھی۔ کوتوالی والے تو اس کے اچھے سے قبول کروا لیتے بلکہ وہ اس فکر میں تھے کہ اپنی طرف سے کسی عورت کو اندر بھیج کر خود بیگم صاحبہ کی مزاج پرسی کریں۔\n\nناظر کا آنا تھا کہ مقدمے کا رنگ بدل گیا۔ کوتوالی نے مناسب سمجھا کہ رات گئی ہے زیادہ، اس وقت تحقیقات کو ملتوی کیا جائے۔ فیرینی کی قلفیاں اور مرے ہوئے جانوروں کی لاشیں یہی دو بڑے ثبوت تھے سو دونوں ہمارے ہاتھ میں ہیں۔ اب ناظر نہیں ناظر کے باپ بھی قبر سے اٹھ کر آئیں تو کیا کر لیں گے۔ ماما کے پیٹ میں سے سنکھیا نکل چکی ہے اور اس میں شک نہیں کہ یہ اتنے سارے جانور سب سنکھیا سے مرے اور فیرینی میں سنکھیا موجود۔\n\nاب رہ گئی یہ بات کہ سنکھیا دی تو کس نے دی تو دونوں سوکنوں سے انکار ہو سکتا ہے اور نہ دونوں کی عداوت سے۔ زہرخوردنی کا مقدمہ اس سے زیادہ اور کیا ہو گا۔ صاحب مجسٹریٹ کوتوالی کے چالان کیے ہوئے مجرم اکثر چھوڑ دیا کرتے ہیں اور ان کو کوتوالی کے ساتھ خدا واسطے ایک ضد سی آپڑی ہے۔ لیکن اگر اس مقدمے کو بگاڑا تو علم کی قسم صاحب سپرنٹنڈنٹ کو سمجھا کر صدر کو ایسی رپورٹ کراؤں کہ جواب دیتے بن نہ پڑے اور میاں ناظر کو بھی وکالت کا بڑا گھمنڈ ہے۔\n\nبڑی مدت میں اونٹ پہاڑ کے تلے آیا ہے دیکھیں تو اب ہائی کورٹ کی کون سی نظیر پیش کر کے بہن کو بچاتے ہیں۔ غرض کوتوال خاتون کو ناظر کے سپرد کر حوالہ نامہ لکھوا گھوسن کے ساتھ چلتا ہوا اور سیدھا پہنچا صاحب سپرنٹنڈنٹ کے پاس اور ان کو مقدمے کی روداد سمجھا کر کہا کہ مقدمہ ہے سنگین اور مجرم عورتیں پردہ نشین۔ سید ناظر وکیل کا نام حضور نے سنا ہو گا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/46"} {"title": "فسانہء مبتلا/47", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "ناظر کی بہن نے سوکن کو زہر دلوایا مگر وہ اتفاق سے بچ گئی کل حضور بھی واقع واردات تک چلیں ورنہ وکیل صاحب بڑے شورہ پشت اور ثقہ بدمعاش ہیں۔ ہم لوگوں کے قابو آنے والی آسامی نہیں۔ ادھر ناظر بہن کے پاس گیا تو دیکھا کہ مارے ہول کے دست پردست چلے آرہے ہیں۔ دیکھنے کے ساتھ ہوش ہی تو خطا ہو گئے اور سمجھا سب سے بڑا ثبوت تو خود ان کی حالت ہے۔ آخر بہن سے اتنا کہا کہ بڑے بھائی نے تم کو اس قدر ڈرا دھمکا دیا تھا۔\n\nمگر تم نے نہ مانا اور جب عقل کی بودی طبیعت کی کچی ہمت کی ہیٹی تھیں تو ایسے کام پر تم کو جرأت کیونکر ہوئی بس اب تین پہر رات اور ہے صبح ہوئی اور تمہاری ڈولی کوتوالی چلی۔ بھائی کے منہ سے اتنی بات سن غیرت بیگم کو اور تو کچھ نہ سوجھا۔ بہت دن ہوئے تولہ بھر افیون منگوا کر صندوقچے میں رکھ چھوڑی تھی۔\n\nدوڑی کوٹھڑی میں جا صندوقچہ کھول افیون کا گولا نگل، اوپر سے بھرا کٹورا پانی کا پی لیا۔\n\nبتول کی انّا کو یہ حال معلوم تھا کہ انہوں نے صندوقچے میں افیون رکھ چھوڑی ہے۔ دالان کے ایک کونے میں بیٹھی ہوئی بھائی بہن کی باتیں سن رہی تھی۔ بیوی کو جو اس طرح گھبرا کر اندھیری کوٹھڑی میں جاتے ہوئے دیکھا جلدی سے بتول کو چارپائی پر لٹا پٹتی ہوئی بھاگی کہ اے ہے۔ خاک پڑے ایسے جھگڑے پر۔ لو اب تو دشمنوں کو ٹھنڈک پڑی۔ وہ بیوی نے افیون کھالی۔\n\nاتنے میں تو غیرت بیگم بھی کوٹھڑی سے کہتی ہوئی نکلی کہ بھائی تم کچھ تردد مت کرو۔ مجھ بُری سے خدا نے تم سب کا پیچھا چھڑایا۔ صبح تک میں ہی نہیں رہوں گی۔ کوتوال کو اختیار ہے میرا مردہ لے جا کر کوتوالی میں دفن کرے۔ زہرخورانی کا ایک مقدمہ تو قائم تھا ہی اقدام خودکشی کا دوسرا اور ہوا۔ معصوم اور بتول دونوں کو گلے لگا کر ایسی بلک بلک کر روئی کہ گھر میں قیامت برپا ہو گئی۔\n\nناظر نے جو بہن کا بلبلانا دیکھا اور ساتھ ہی خیال آیا کہ بس یہ بھی دنیا میں تھوڑی دیر کی مہمان اور ہے پھر کہاں ہم اور کہاں بہن۔ اس کے سر پر ایسا جنون سوار ہوا کہ نہ پکارا نہ کنڈی کھڑکھڑائی نہ دستک دی نہ اجازت لی۔ منہ اٹھا سیدھا چھوٹے گھر میں جا گھسا۔ دونوں میاں بیوی سرجوڑ بیٹھے ہوئے خدا جانے کیا صلاحیں کر رہے تھے۔ مبتلا نے آہٹ پاکر دور سے ڈانٹا ایں ایں کیا بدتمیزی ہے۔\n\nاندھے ہو تم کو معلوم نہیں کہ پردہ ہے۔ تب کی مرتبہ بہن کو مداخلت بے جا کی نالش پر آمادہ کرتے تھے۔ اب یہ مداخلت بے جا نہیں ہے۔ ناظر بولا کہ اللہ دے تیرا پردہ، نوسوچوہے کھا کے بلی حج کو چلی۔ یہی نالائق پردے والی بنی۔ پردے والی نے افیون کھائی اور دنیا جہان سے روپوش ہونے کی تیاری کی۔\n\nمبتلا: الحمدللہ خس کم جہاں پاک مگر تم خیریت سے چلتے پھرتے تو نظر آؤ سامنے سے۔\n\nپرے ہٹتے ہو یا میں اٹھ کر تم کو رستہ دکھاؤں۔ مبتلا کا اتنا کہناتھا کہ ناظر یا تو صحن میں تھا یا مبتلا کی چھاتی پر، پھر تو دونوں میں خوب کشتی ہوئی۔ ناظر دیہات میں پیدا ہوا۔ دیہات میں پلا ہاتھ پاؤں کا ڈھلا، گٹھیلا برسوں اکھاڑے کا لڑا ہوا بیسیوں داؤ یاد، پچاسوں گھاتیں معلوم، سینکڑوں پیچ رواں اور اب تک بھی دو وقت ڈنڈمگدر کبھی اس نے ناغہ ہونے نہیں دیئے۔\n\nمبتلا بے چارے نازنین، میرپھوپھا مرزا مہین۔ ناظر نے وہ پٹخنیاں دیں اور ایسا ایسا رگڑا کہ آنکھیں نکل نکل پڑیں اور سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے۔ مبتلا کے پاس کل جمع تین حربے تھے، چٹکیاں لینا نوچنا کاٹنا سو ناظر کی پھرتی کے مقابلہ میں ایک بھی کارگر نہ ہوا۔ مبتلا کو اگر معلوم ہوتا کہ یہ کم بخت چھوٹا کھوٹا چھپا رستم ایسے غضب کا بچھا ہوا ہے تو کبھی بھول کر بھی اس سے دو بدو نہ ہوتا مگر اس کی تقدیر میں تو دو بیبیاں کر کے ہرطرح کی مصیبت اٹھانی لکھی تھی۔\n\nچھوٹا سمجھ کر اس کو ایک ڈانٹ بتائی بیٹھے بٹھائے۔ ہریالی نے دیکھا کہ میاں کو ناظر گیند کی طرح اچھالے اچھالے پڑا پھرتا ہے یہاں سے اٹھایا اور وہاں دے مارا۔ ادھر سے اچھالا ادھر لاپٹکا، ایسی دہشت دل میں سمائی کہ اس کا حمل جس کے سبب سے اتنا سارا فساد پڑا ساقط ہو گیا۔ ناظر کیا مبتلا کو جیتا چھوڑتا وہ تو خدا کا کرنا عین وقت پر سید حاضر آپہنچے تو گھر میں مجموعہ تعزیرات ہند پھیلا پڑا ہے مگر کیا قائم مزاج آدمی تھا آتے کے ساتھ سب سے پہلے تو ناظر اور مبتلا کو چھڑایا پھر نمک ڈال بھر بھر لوٹے گرم پانی غیرت بیگم کو پلانا شروع کیا۔\n\nغیرت بیگم اس طرح کی ضدی عورت تھی کہ اگر ساری دنیا ایک طرف ہوتی تو گرم پانی کا کٹورا منہ کو نہ لگانے دیتی مگر کچھ تو بڑے بھائی کا لحاظ اور ادھر چپکے سے کسی نے کان میں جھک کر کہہ دیا کہ مبارک ہو ہریالی کا حمل تو گرگیا بے عذر خوب ڈگڈگا کر پانی پی لیا۔ پانی کا حلق سے اترنا تھا کہ استفراغ ہوا اور استفراغ کے ساتھ کھٹ سے افیون کا گولا سموچے کا سموچا نکل کر الگ جا پڑا۔\n\nادھر ہریالی کی خدمت کے لیے دوہری دوہری دائیاں بلوائیں اور پھر مبتلا اور ناظر دونوں کو ساتھ لے جا کر بیٹھا کر ہر چند تم دونوں کی طبیعتیں اس وقت حاضر نہیں اور سچ تو یہ ہے کہ مزاج میرا بھی ٹھکانے نہیں مگر میں دیکھتا ہوں تو آدھی رات ڈھل چکی ہے۔\n\n صرف سوا پہر کی مہلت ہے سامان تو بدقسمتی سے ایسا جمع ہوا ہے کہ اب آبروبچتی ہوئی نظر نہیں آتی اور جب آبرو پر بنی تو سب سے پہلے شخص جو جان دینے میں دریغ نہ کرے میں ہوں۔\n\nدیکھو تو کتنے آدمی ہم لوگوں کے ملاقاتی ہیں مگر ہمدردی اور مدد تو درکنار۔ مرد عورت کوئی آکر بھی جھانکا، سچ کہا ہے گاڑی بھرآشنائی کام کی نہیں اور رتی بھرنا تاکام آتا ہے۔ بڑے سخت افسوس کی بات ہے کہ جب ناتے سے کام لینے کا وقت آیا تو تم لوگ آپس ہی میں لڑنے لگے۔ جس طرح پر تم دونوں میں لڑائی شروع ہوئی۔ میں سب سن چکا ہوں تم میں سے کسی کو مجھ سے توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ میں ایک کو ملزم ٹھہراؤں اور دوسرے کو بری۔\n\nجس طرح تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ اسی طرح لڑائی کبھی ایک کے لڑنے سے نہیں لڑی جاتی۔ میں تم دونوں کو برابر الزام دیتا ہوں لیکن رشتہ داروں میں اگر کسی بات پر چخ بھی ہو جاتی ہے تاہم ان کے خون ملے ہوئے ہیں وہ ظاہر میں جدا ہیں اور باطن میں ایک۔ غیرت بیگم کا افیون کھا لینا سن کر مبتلا بھائی کو منہ سے الحمدللہ کہہ دینا بہت آسان تھا لیکن جب غیرت بیگم کی مدت حیات پوری ہو اور خدا کرے کہ مبتلا بھائی اس کو اپنے ہاتھوں سے مٹی دیں تو دنیا میں سب سے بڑھ کر رنج کرنے والے بھی یہی ہوں گے۔\n\nگھر کس کا برباد ہو گا ان کا۔ اولاد کس کی بے ماں کی ماری ماری پھرے گی، ان کی۔ کنبے والوں کا میل ملاپ کس سے چھوٹ جائے گا، ان سے بھلے مانسوں میں جو خانہ داری کے ساتھ ہوتی ہے یعنی تمدنی عزت وہ کن کی جاتی رہے گی ان کی۔\nاس میں شک نہیں چھوٹی بھاوج کی وجہ سے دلوں میں بڑے فرق پڑ گئے ہیں اور پڑنے ضرور تھے مگر پھر بھی غیرت بیگم کی ناموس کا پاس ہمیں چھٹانک بھر تو مبتلا بھائی کو سیر بھی ہو گا۔\n\nمیں جانتا ہوں کہ مبتلا بڑے ضبط کے آدمی ہیں منہ سے نہیں کہتے مگر ان کے تلوؤں سے لگی ہے۔ ناظر کیا تم سے کوئی خیر کی توقع کرے گا جب تم ایسی مصیبت میں مبتلا بھائی کی مدد نہ کروں۔ ہزاروں مقدموں میں تم بہ طمع صلہ پیروی کرتے ہو اس ایک مقدمے میں صلہ رحم کو صلہ سمجھو اور میری خاطر سے اپنی بہن کی خاطر سے بھانجی کی خاطر سے غصے کو تھوک کر بچاؤ کی کوئی صورت نکالو اور تم، مبتلا بھائی! ازبرائے خدا رحم کرو۔\n\nاپنے چھوٹے چھوٹے بچوں پر، بزرگوں کے نام پر، خاندان کی عزت پر، تم کو معاملات مقدمات کا کبھی اتفاق نہیں پڑا۔ کوتوالی والے مدت سے تم پر دانت لگائے ہیں۔ خدا جانے کس بلا میں تم کو پھنسا دیں گے۔ ناظر تمہارا خورد ہے۔ اگر اس نے بے تمیزی کی تو بہت بُرا کیا۔ جھک مارا۔ میں اس کی طرف سے معذرت کرتا اور تمہاری تھوڑی میں ہاتھ ڈالتا ہوں۔ جانے دو۔ معاف کرو۔ اس کے بعد ناظر کو پکڑ کر مبتلا کے پیروں میں گرایا اور ناظر اور مبتلا دونوں کو گلے لگوایا وہ دونوں بھی ایک دوسرے سے مل کر روئے۔ حاضر بہن کی تباہی کا تصور کر کے مغموم تو پہلے سے تھا۔ اب ان کو روتا ہوا دیکھ کر آپ بھی رونے لگا۔ جب سب کے دلوں کی بھڑاس نکل چکی تو حاضر نے ناظر سے پوچھا کہ کیوں بھائی اب کرنا کیا چاہیے؟", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/47"} {"title": "فسانہء مبتلا/48", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "ناظر: خیر اب آپ فرماتے ہیں اور آپ کا قدم درمیان میں ہے تو میں اس مقدمہ میں ہاتھ ڈالتا ہوں مگر مبتلا بھائی نے آج اس رنڈی کے سامنے (آپ برا مانیں یا بھلا مانیں میں تو اس کو ساری عمر بھاوج کہنے والا نہیں) جیسا ذلیل کیا ہے، میں اس رنج کو کبھی بھول نہیں سکتا۔ جب آپا نے میرے بیٹھے پر افیون کھائی تو میں گھبراکر اس غرض سے ان کے پاس دوڑا ہوا گیا تھا کہ ہم دونوں ہم صلاح ہو کر تدبیر کریں۔\n\nانہوں نے مجھ کو دروازے میں سے دیکھ کر اس طرح دھتکارا کہ کوئی کتے کو بھی نہیں دھتکارتا، مجھ کو رہ رہ کر غصہ آتا ہے کہ انہوں نے تو شرم اور حیا سب کو بالائے طاق رکھ دیا یا آپ کے سامنے میرا منہ کھلواتے ہیں۔ کل کی بات ہے کہ یہی نالائق جو آج لمبا چوڑا پردہ لگا کر بیٹھی ہے۔ بے اختیار جی چاہتا ہے کہ مارے جوتیوں کے بدذات کے سر پر ایک بال باقی نہ رکھوں، ٹکے ٹکے پر ماری ماری پڑی پھرتی تھی اور کوئی اس پر تھوکتا بھی نہ تھا۔\n\nان ہی سے پوچھئے کہ کئی بار میرے یہاں اس کا مجرا ہوا۔ جب آتی تھی ڈیوڑھی میں فراشی سلام۔ یا اب اس کے یہ بھاگ لگے ہیں کہ ہمارے سامنے ہونے سے اس کی بے پردگی ہوتی ہے۔\n\nعزت بنانے سے نہیں بنتی بلکہ خدا داد چیز ہے۔ آج یہ پردہ نشین بنی۔ کل کو سیدانی بن کر چاہے گی کہ ہماری ماؤں بہنوں کے ساتھ بیوی کی صحنک کھائے۔ پرسوں اس کے بال بچے ہوں گے اور کہے گی کہ سیدوں میں رشتہ ناتہ کرتی ہوں تو کوئی بھلا مانس اس کو جائز رکھے گا۔\n\nیہ جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں سب ہماری آپا کا صبر پڑ رہا ہے۔ اور بھی کیا ہے۔ یہ مظلمہ تو مبتلا بھائی کو ایسے ناچ نچائے گا کہ ہریالی کو ساری عمر ایسا ناچ ناچنے کا اتفاق نہ ہوا ہو گا۔ ناظر تو باتوں باتوں میں گرم ہوتا جاتا تھا اور مبتلا کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں کہ اگر اب کے پھر کہیں یہ جن لپٹ پڑا تو ہڈی پسلی ایک کر کے رکھ دے گا۔ حاضر کے بیٹھنے کی اگر ڈھارس نہ ہو تو قریب تھا کہ مبتلا کی گھگھی بندھ جائے۔\n\nبارے حاضر نے کہا بھائی ناظر! یہ تو تم پھر بگاڑ کی سی باتیں کرتے ہو۔ یہ سوچ ہے کہ مبتلا بھائی کی نادانی نے سارے گھر کو تہ و بالا کر دیا مگر یہ بھی تو نہیں ہو سکتا کہ ہم غیروں کی طرح دور کھڑے ہوئے تماشا دیکھیں۔\n\nناظر: یہ تو میں نے وہ حقیقت بیان کی جو میرے دل میں تھی، رہ گیا مقدمہ اس سے آپ اطمینان رکھیے، مبتلا بھائی کو روپیہ تو بہت خرچ کرنا پڑے گا۔\n\nکوئی پانچ چھ ہزار۔ مگر خدا نے چاہا تو ان پر اور ان کے طفیل میں ہریالی پر کوئی گزند نہیں آنے پائے گا۔ اس وقت تک مبتلا کو مقدمہ کی واقعی روداد اور کوتوالی کی تحقیقات سے اپنی اور ہریالی دونوں کی طرف سے پورا اطمینان تھا اور دونوں اپنی جگہ خوش تھی چاہ کن راچاہ درپیش۔ سنکھیا دی اسی غرض سے کہ ہم دونوں کھائیں اور مر کر رہ جائیں۔ خدا کی قدرت ہم دونوں کے منہ پر رکھنے کی نوبت بھی نہیں آئی اور اوپر ہی اوپر ماما کے بیٹے نے جا کر سرکار میں خبر پہنچائی۔\n\nاب لینے کے دینے پڑے۔ غیرت بیگم کو پھانسی ہو تو پھانسی، عمر قید میں تو شک ہی نہیں چلو سستے چھوٹے اور روز کاٹنٹا مٹا۔ ناظر کے منہ سے یہ کلام سن کر کہ پانچ چھ ہزار روپیہ خرچ کرو تو تم پر گزند نہیں آنے پائے گا۔ مبتلا توحیران ہو کر اس کا منہ دیکھنے لگا اور بے اختیار بول اٹھا: کیوں صاحب۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے مجھی کو زہر دیا جائے اور میں ہی گزند سے بچنے کے لیے پانچ چھ ہزار روپیہ بھی خرچ کروں۔\n\nانگریزی کی عمل داری میں یہی انصاف ہے۔\n\nناظر: ہوش کی بنواؤ۔ تماش بینی اور شے ہے اور مقدمہ کی باریکی کو پہنچنا کچھ اور چیز ہے۔ تم کو اتنا تو معلوم ہی نہیں کہ معاملہ کس کو کہتے اور مقدمہ کس جانور کا نام ہے۔ میں تو زبان دے چکا ہوں اور بدعہدی کسی شریف آدمی کام نہیں۔ اس لیے چند تہہ کی باتیں تم کو سمجھاتا ہوں کوتوالی کی تحقیقات کو تو عدالت میں کوئی پوچھتا تک نہیں روداد وہی معتبر ہے جو عدالت کی مثل میں ہو کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کوتوالی کے لوگ زبانی پوچھ گچھ کے سوا کسی کا اظہار تک قلم بند کر نہیں سکتے۔\n\nاصل بات یہ ہے کہ پہلے کوتوالی اور فوجداری ایک تھی جب یہ لوگ لگے اظہار کارگزاری کے لیے ہر وارادت بے سراغ کے مجرم بنانے اور اصل مجرموں سے سازش کر کے بیگناہوں کو ناحق پھنسانے تو سرکار نے کوتوالی اور فوجداری کو الگ کر دیا۔ اب تو کوتوالی والوں کا اتنا ہی اختیار ہے کہ جس کو اپنے نزدیک مجرم سمجھیں حاکم عدالت کے پاس چالان کر دیں۔ حاکم عدالت مدعی اور مدعاعلیہ گواہوں کے اظہار قلم بند کرتا ہے اور اپنے یہاں کی روداد پر سزا یا رہا کرتا ہے۔\n\nکوتوالی والے اناپ شناپ جس کو پکڑ کر پاتے ہیں چالان کر دیتے ہیں۔ عدالت میں گئے اور رہا ہوئے اور ہمارے صاحب مجسٹریٹ کوتوالی سے اس قدر بدظن ہیں کہ مجسٹریٹی کا اجلاس کرتے ہوئے پورا برس نہیں گزرا کہ اتنے ہی دنوں میں کوتوالی والوں سے جیل خانہ بھر دیا۔ غرض کوتوال اور ان کی تحقیقات کی تو کچھ بھی حقیقت نہیں۔ اب رہ گئی مقدمے کی روداد سو اس کا یہ حال ہے کہ سنکھیا حقیقت میں پکڑی گئی۔\n\nہریالی کے یہاں پس مدعاعلیہ اول ہوئی ہریالی اور پہلے اسی پر اشتباہ کیا جائے گا کہ اسی نے فیرینی میں ڈالی یا ڈلوائی۔\n\nمبتلا: بھلا وہ کم بخت بدنصیب کس کو سنکھیا دینے اٹھی تھی اپنے تئیں یا مجھ کو یا اپنی ماما کو جو سال ہا سال سے نوکر ہے اور کبھی اس کو پھٹے منہ تک نہیں کہا یا اپنے پالے ہوئے جانوروں کو۔ ناظر یہ سن کر بولا کہ تمہاری ناپختہ رائے تو بات الگ ہے لیکن دوسرے احتمالات میں تو کوئی ناممکن بات نہیں ہے۔\n\nہو سکتا ہے کہ اس نے زہر دینا چاہا ہو۔ یہ عجب نہیں بازاری خلقت کا بھروسہ کیا۔ خدا جانے اس نے کیا سمجھ کر تم سے نکاح پڑھایا اور اب جو اس کی مراد بر نہ آئی تو اس نے اپنا پنڈ چھڑانے کے لیے یہ تدبیر کی۔ اگر وہ اپنی حالت سابقہ پر عود کرنے کی آرزو مند ہو تو اس سے کچھ دور نہیں۔\n\nماما جو ہے وہ تم خود کہتے ہو کہ اس کے پاس مدت سے ہے تو ضرور اس کے پچھلے حالات سے بخوبی واقف ہو گی اور عداوت کے لیے اتنی بات کافی ہے اور سنکھیا کے لیے تمہاری اور ہریالی ماما کی کیا تخصیص ہے۔\n\nمعصوم سارے سارے دن ہریالی کے یہاں رہتا ہے وہ یقینا اس کی جان کی دشمن ہے۔ ان کے علاوہ احتمال اور ہے اور وہ سب میں زیادہ قرین قیاس ہے کہ آپا کے پھنسانے کے لیے یہ سارا منصوبہ سوچا گیا ہے۔ ورنہ سبب کیا کہ جانوروں تک فیرینی کھلائے اور آپ منہ تک نہ لے جائے اور بدذات نے کیا چالاکی اور بے رحمی کی ہے کہ بے زبان جانوروں کو تو اتنی فیرینی ٹھسائی کہ ایک نہ بچا۔ لہو لگا شہیدوں میں داخل کیا۔\n\nمبتلا: گھوسن کی گواہی پر کچھ لحاظ نہ ہوگا؟", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/48"} {"title": "فسانہء مبتلا/49", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "ناظر: کیا معلوم کہ عدالت تک پہنچتے پہنچتے گھوسن اپنے بیان پر قائم بھی رہتی ہے یا نہیں اور فرض کرو قائم رہے تو اس نے سنکھیا کا نام تک بھی نہیں لیا بلکہ میری نظر سے دیکھو تو گھوسن کا بیان ہریالی کے حق میں سم قاتل ہے۔ وہ کہتی ہے کہ خاتون نے مجھ کو دودھ کی ہنڈیا واپس کر دی۔ بہت خوب، ہریالی نے جب یہ سن لیا تھا کہ بڑے گھر سے دودھ برا سمجھ کر واپس کیا گیا تو اس نے چپ چپاتے ضرورت سے زیادہ بھری ہنڈیا رکھ کیوں لی۔\n\nپس یہیں تو پانی مرتا ہے۔ اس سے صاف شبہ ہوتا ہے کہ ہریالی نے گھوسن سے مل کر اسی کے گھر دودھ میں سنکھیا گھلوائی اور جب خاتون دھوکے میں آئی تو دوسری چال چلی اور پھر یہ بھی سمجھ لو کہ ہریالی اور تم دو نہیں ہو، ہریالی کا کرنا عین تمہارا کرنا ہے اور ابھی خاتون کے بیان کو تو نوبت آنے دو۔\n\nدیکھو تو وہ کیا زہراگلتی ہے۔ کوتوالی والوں کی کارروائی میں فی الواقع ہمیشہ ایک بڑا نقص یہ ہوتا ہے کہ تحقیقات سے پہلے مقدمہ کو کسی ایک پہلو پر ڈھال لے جاتے ہیں اور پھر بااصرار کے ساتھ اخیر تک اسی پہلو کی تائید میں لگے رہتے ہیں جو باتیں میں نے تم سے سرسری طور پر بیان کی ہیں۔\n\nان میں سے ایک کی طرف بھی کوتوال صاحب کا ذہن منتقل نہ ہوا ہو گا اور ہم لوگوں کو تو باتیں حاکم کی میز پر سوجھتی ہیں، عین وقت پر کچھ اس طرح کا بہرہ کھل جاتا ہے کہ خودبخود بات میں سے بات نکلی چلی آتی ہے۔\n\nمبتلا کی ساری ہمت تمام ہو گئی عمر بھر مصروف رہا حسن و عشق میں۔ مدعی اور مدعا علیہ بننا درکنار اس کو کبھی گواہی دینے کا بھی اتفاق نہیں پڑا۔\n\nبچپن کا لاڈلا، جوانی کا چھیلا وہ وکیلوں کے چھل فریب کیا سمجھے۔ ناظر نے جو الٹی سیدھی باتیں سمجھائیں چھکے ہی تو چھوٹ گئے اور سمجھا کہ بس اب نہیں بچتا۔ سنکھیا کا غصہ ہریالی کا رنج اپنی چوٹ اگلے پچھلے گلے شکوے سب کچھ بھلا بسرا ناظر کے گلے سے لپٹ گیا کہ بس اب اوپر خدا ہے اور نیچے تم۔ چاہو مارو چاہو جلاؤ چاہو اجاڑو چاہو بساؤ۔\n\nناظر: مقدمہ تو میری طرف آگیا اور سمجھو کہ مقدمہ کا میں بیمہ لے چکا۔\n\nخرچ کا بندوبست تم کرو۔\n\nمبتلا: خرچ کا بندوبست بھی تم ہی کو کرنا پڑے گا تم کو تو ہر گھر کا ذرا ذرا حال معلوم ہے۔\n\nناظر: کیا مضائقہ خرچ کا بھی انتظام ہو جائے گا۔ خیر آپ دو رقعے میرے نام لکھیے ایک تو کل کی تاریخ میں کہ چوہوں کی جیسی کثرت ہے تم کو معلوم ہے اب تو یہ نوبت پہنچتی ہے کہ کھونٹیوں پر لٹکے ہوئے کپڑے کاٹ کاٹ کر ٹکڑے کیے ڈالتے ہیں، ناچار تھوڑی سنکھیا منگوائی، پڑیا چھوٹے گھر کے بیچ والے دالان میں اس خیال سے کہ کسی کا ہاتھ نہ پڑے۔\n\nاونچے پر رکھوائی تھی، یہ ذکر کوئی سات یا آٹھ دن پہلے کا ہے کل کیا اتفاق ہوا کہ شام کے وقت ایک روپے کی کھانڈ کا پڑا آیا اور جیسا دستور ہے پڑے کے ساتھ نمونے کی پڑیا۔ سنکھیا کی پڑیا تھی۔آج خود گھر والی نے اپنے ہاتھ سے فیرینی میں کھانڈ ڈالی تو انہوں نے کہا کہ پڑیا کی کھانڈ بھی کیوں ضائع ہو، پڑا اور پڑیا دونوں اتارتی لائیں مگر پڑیا سنکھیا کی باورچی خانے میں بھی دھوئیں کی وجہ سے کچھ دکھائی نہ دی اور چونکہ دل میں کسی طرح کا کھٹکا نہ تھا۔\n\nانہوں نے دیکھا بھی نہیں۔ فیرینی پک کر تیار ہو گئی تو تھوڑی جانوروں کو دی جو گھر والی نے اپنے شوق کے لیے پال رکھے تھے اور جو دیگچی میں رہ گئی تھی ماما نے پونچھ کھائی جانور تو مر گئے ماما کو کچھ دست آئے مگر بچ گئی۔ کوتوالی کے لوگ مقدمہ کو طول دینا چاہتے ہیں تم مختار کارانہ اس کی خبرگیری کرو اور دوسرا رقعہ اب سے مہینے سوا مہینے جتنے دن پہلے کا چاہو لکھ دو کہ مجھ کو اتنے روپے کی ضرورت ہے جہاں سے بن پڑے بندوبست کر دو۔\n\nبس اللہ اللہ خیر صلا اور چین سے پیر پھیلا کر سو رہو۔ سنکھیا کے رقعے کا مضمون سن کر تو مبتلا کی عقل دنگ رہ گئی اور سمجھا کہ ناظر بھی بڑا زہر کا بجھا ہوا ہے۔ دیکھو تو مغز سے کیا بات اتاری ہے۔ ایسے شخص سے مقابلہ کو عدالت کیسے جا سکتا ہوں۔ میرا بچاؤ تو اسی میں ہے کہ جو یہ کہے اس میں ذرا کان نہ ہلاؤں غرض اسی وقت دونوں رقعے لکھ ناظر کے ہاتھ دیئے اور پوچھا کہ بھلا صاحب اب صبح کوتوال صاحب آئیں تو کیا کرنا ہو گا؟ناظر نے کہا کہ اب بندہ درگاہ کے رہتے کوتوال صاحب کیا آتے ہیں، اب آمد ان کی برخاست اور اگر آئے بھی تو کوتوال بن کر نہیں نڈھال بدحال سراپا اضمحلال بن کر۔\n\nمبتلا:کیوں صاحب جیسا اس کی باتوں سے معلوم ہوتا تھا اگر اس نے انگریز کو جو کوتوالی کا افسر ہے لاکھڑا کیا؟\n\nناظر: وہ سب بھی دیکھ لیں گے۔ باوجود یکہ ابھی جھٹ پٹا تھا ناظر فوراً سوار ہو سیدھا کوتوال کے پاس پہنچا۔ کوتوال سمجھا کہ ایسے وقت آئے ہیں تو معلوم ہوتا ہے ضرور کچھ نہ کچھ بوہنی کرائیں گے۔ دور سے ہنس کر بولا آئیے آج تو سویرے ہی سویرے اچھے سخی کے درشن ہوئے ہیں میں تو آپ کے یہاں آنے کو وردی پہن کر تیار لیس بیٹھا ہوں۔\n\nصاحب سپرنٹنڈنٹ سے سات بجے کا وعدہ ہے۔\n\nناظر: کیا تیار بیٹھے ہو وہاں تو رات بڑا غضب ہو گیا۔\n\nکوتوال: کیا کوئی اور صاحب سنکھیا کھا کر شہید ہوئے۔\n\nناظر: نہیں سنکھیا نہیں مگر آپ تو جانتے ہیں مبتلا بھائی کے گھر میں جو وہ دوسری عورت ہے پورے دنوں سے تھی کل نہیں معلوم آپ کے سپاہیوں نے اس کو کیا کیا ڈرایا دھمکایا طبیعت تو اس کی آپ کے رہتے ہی بگڑ چلی تھی، آپ ادھر آئے شاید کوتوالی بھی نہ پہنچ سکے ہوں گے کہ اس کا حمل ساقط ہو گیا۔\n\nساری رات اسی کے تردد میں پلک نہ جھپکی خیرحمل تو حمل اب اسی کی جان کے لالے پڑے ہیں۔ دیکھئے وہ بھی بچتی ہے یا نہیں۔ مبتلا بھائی کو اس عورت کے ساتھ اس درجہ کا تعشق ہے کہ جس وقت سے یہ واردات ہوئی ہے۔ سارے گھر میں بولائے بولائے پڑے پھر رہے ہیں۔ وہ تو ڈاکٹر چنبیلی کو بلاتے تھے۔ میں نے بہ ہزار مشکل روکا کہ دوسرے کے کان پڑی ہوئی بات پھر اپنے قابو کی نہیں رہتی۔\n\nایک چھوڑ دو دو دائیاں بلوا دی ہیں بارے اب کہیں جا کر کسی قدر طبیعت سنبھلی تو میں آپ کے پاس بھاگا ہوا آیا میں تو رقعہ لکھنے کو تھا پھر خیال آیا کہ خدا جانے کس کے ہاتھ پڑے۔ آپ چل کر کہنا چاہیے یہ سننا تھا کہ کوتوال کو کاٹو تو بدن میں لہو کی بوند نہیں۔ گڑگڑا کر بولا: آپ کے یہاں ہم تابعداروں کی مجال ہے کہ ڈرائیں دھمکائیں یا کوئی خلاف قاعدہ کارروائی کریں۔ آپ جس وقت تشریف لائے ہیں۔ آپ نے بھی دیکھا ہو گا کہ مردانے میں صرف دو ہی کانسٹیبل میرے ساتھ تھے اور وہ دونوں بے چارے الگ اصطبل کے پاس کھڑے تھے۔ میں نے آپ کے آدمی وفادار کے ہاتھ ماماؤں اور لونڈیوں کو بلا بلا کر ہولے سے دو دو باتیں پوچھ لیں۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/49"} {"title": "فسانہء مبتلا/50", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اور ہم نے تو جس دن پولیس میں نام لکھوایا۔ اسی دن سمجھ لیا تھا کہ ایک نہ ایک دن ضرور قید ہوں گے۔ یہ ایسی تیسی نوکری ہی اس قسم کی ہے کہ کوئلوں کی دکانداری کی بے کالا منہ ہوئے نہیں رہتا۔ بڑوں کا کہا اور آنولے کا کھایا پیچھے مزہ دیتا ہے۔ لالہ جی بہتیرا سر پٹکتے رہے کہ ہم کو سپاہیوں کا بھیس سزا وار نہیں۔ اس وقت ان کی بات کچھ دھیان میں نہ آئی سو اپنے کیے کی سزا پائی۔\n\nناظر: یہ میں خوب جانتا ہوں کہ آپ نے بے جا کارروائی نہیں کی ہو گی۔ آدمی کا حال پوچھا نہیں رہتا۔ سارا شہر آپ کا مداح ہے اور اگر آپ احتیاط نہ کرتے تو کوتوالی کا چلنا بھی محال تھا خصوصاً صاحب مجسٹریٹ حال کے وقت میں مگر عورتیں تو جیسی ڈرپوک اور کچے دل کی ہوتی ہیں آپ خوب جانتے ہیں آپ کا ہی آنا سن کر ان کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے ہوں گے اور پھر کسی سپاہی نے کوئی ایک آدھ بات بھی کہہ دی ہو گی۔\n\nحالت تو نازک تھی ہی اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ ہو گیا۔ چھوٹے گھر میں تو خیر ایک واردات بھی ہوئی تھی کہ جانور مرے، ماما کو دست آئے۔ فرینی میں سنکھیا نکلی۔ بڑا گھر جس کو واردات سے کچھ بھی تعلق نہیں، وہاں کیا حال تھا۔ جاکر دیکھتا ہوں تو چولہا تک نہیں سلگا۔ وہ تو جب میں نے سمجھایا کہ یہ کیا اس سے بڑی بڑی اتفاقی اور ناگہانی وارداتیں ہو جاتی ہیں اور آخر کار مقدمہ داخل دفتر، تب سب کو تسلی ہوئی:\n\nکوتوال: اتفاقی کیسی؟ تب ناظر نے مبتلا کا رقعہ دیا کہ وہ خونی دروازے میں جو ایک شخص نے اپنی آشنا کو دھتورا کھلا کر مار ڈالا تھا اور شاید آپ ہی نے اس مقدمہ کی بھی تحقیقات کی تھی کل اس کی پیشی تھی اور میں مدعاعلیہ کا وکیل تھا۔\n\nآپ کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ بھی سرکار کی طرف سے پیروی کے لیے موجو د تھے۔ بڑے بڑے مباحثے رہے۔ آخر ساڑھے چار بجتے بجتے مدعاعلیہ کی رہائی ہوئی تو یہ رقعہ مجھ کو عین اجلاس پر ملا تھا اور اسی کو دیکھ کر میں کچہری سے سیدھا وہیں چلا گیا۔ کوتوال نے رقعہ پڑھا تو مقدمہ کی طرف سے بھی اس کی آس ٹوٹ گئی۔ کمر سے کرچ کھول ناظر کے پیروں میں رکھ دی کہ نوکری تو یہ حاضر ہے۔\n\nخدا واسطے کو ایک اتنا سلوک کیجیے کہ عزت پر ہاتھ نہ ڈالیے۔ ناظر نے بہت تسلی کی کہ بھلا اتنا تو سمجھے کہ اگر میرے دل میں کچھ فساد ہوتا تو میں اس سویرے اندھیرے منہ آپ کے پاس دوڑا ہوا کیوں آتا۔ خیر جو کچھ ہونا تھا سو ہوا۔ میں جس طرح بن پڑے گا۔ مبتلا بھائی کو سمجھا لوں گا۔ جب سے انہوں نے دوسری عورت کر لی ہے ذرا تنگ دست رہتے ہیں۔ یہیں کہ دوا درمن کا خرچ اور اوپر سے سو دو سو روپیہ اور ان کو دے دیا جائے گا اور ہاں سنکھیا کے مقدمے میں آپ کو کچھ زیادہ چھیڑ چھاڑ نہ کیجیے گا اس میں کچھ ہونا ہوا نا بھی نہیں۔\n\nناظر چلنے لگا تو کوتوال نے کہا پھر اس کرچ کو تو آپ اپنے ہاتھ سے باندھ دیں گے تو میں کمر سے لگا لوں گا ورنہ جہاں پڑی ہے پڑی رہے گی۔\n\nناظر نے جلدی سے کرچ اٹھا بسم اللہ کر کے کوتوال کی کمر سے باندھی گویا اپنی طرف سے کوتوالی دی۔ کوتوال نے کہا: بس اب ہاتھ پکڑنے کی لاج آپ کو کرنی ہو گی۔ صاحب سپرنٹنڈنٹ کو وہاں ایک اور ضرورت پیش آگئی کہ کسی انگریز کے یہاں سوڈا واٹر کی ایک دو بھی نہیں، اکٹھی آدھی درجن بوتلیں چوری ہو گئیں۔\n\nصاحب نے چٹھی لکھی اور سپرنٹنڈنٹ صاحب اس کی تحقیقات کو بھاگ گئے۔ کوتوال سے کہلا بھیجا کہ ہمارا آنا نہیں ہو سکتا پھر کوئی پندرہ بیس دن بعد خود سپرنٹنڈنٹ صاحب ہی کو خیال آیا تو پوچھا کیوں کوتوال صاحب وہ کسی وکیل صاحب کے یہاں کی زہرخورانی کا آپ نے تذکرہ کیا تھا اس کا کیا ہوا۔ کوتوال نے کہا حضور فدوی نے تو اگلے ہی دن 3022 نمبر کا روزنامچہ خاص بھیج دیا تھا کہ واردات اتفاقی ہے۔\n\nبات رفت و گزشت ہوئی۔ دوچار دن تو مبتلا کو کھٹکا رہا پھر اس نے دیکھا کہ کوتوالی والوں میں سے کسی نے آکر بھی نہ جھانکا تو اس کو یقین ہوا کہ ناظر کو حکام کے مزاج میں کچھ اس طرح کا دخل ہے کہ آج جو چاہے سو کر گزرے، ناظر نے اس مقدمے میں اچھا ہاتھ مارا۔ ہزار روپے تو چپکے سے اس نے وہ اگلوائے جو خاتون کٹنی غیرت بیگم بہکا پھسلا کر لے اڑی تھی اور رقعے کے بدلے مبتلا سے اس کے حصے کی دکانوں کا قطعی بیع نامہ اپنے نام لکھوا لیا اور پھر سب میں سرخرو۔\n\nاب بے چارے مبتلا کے پاس پینسٹھ روپے ماہوار کی جگہ صرف ستائیس روپے مہینے کی نری تنخواہیں رہ گئیں۔ وہ کس طرح کی کہ کوئی چھٹے مہینے آدھی پاؤ وصول ہوئی تو کوئی برس بعد اور کوئی مار میں بھی آگئی اور غیرت بیگم کی یہ تاکید کہ بھلا کوئی ایک لوٹا پانی تو اس کے گھر میں سے مبتلا کو دے کر دیکھے۔ غیرت بیگم کے یہاں پہلے ہی مبتلا کی کون سی قدر کی جاتی تھی، اب جس دن سے یہ معاملے مقدمے کھڑے ہوئے۔\n\nرہا سہا اور بھی نظروں سے گر گیا۔ پہلے بے رخی تھی، رفتہ رفتہ بدمزاجی ہوئی۔ بدمزاجی سے بددماغی کی نوبت پہنچ گئی بلکہ طرز مدارات سے ایسا معلوم ہونے لگا کہ سید حاضر نے جو ایک دن بیچ کے آنے کا معمول باندھ دیا تھا۔ اب مبتلا کا اتنا آنا بھی گوارا نہیں، غیرت بیگم کو مبتلا سے بات چیت کیے ہوئے برسوں گزر گئے تھے لونڈیاں مامائیں میاں کا اتنا لحاظ کرتی تھیں کہ باری کے دن بچھونا صاف کر دیا۔\n\nجب تک گھر میں بیٹھے حقے کی خبر رکھی۔ کھانے کو پوچھ لیا اور اب مقدموں کے بعد سے تو ان باتوں میں بھی مضائقہ ہونے لگا۔ مبتلا لاکھ گیا گزرا تھا مگر آخر تھا تو صاحب خانہ، یہ بے توقیری دیکھ کر وہ بڑے گھر کی باری کو تپ ولرزہ کی باری سے کم نہیں سمجھتا تھا مگر حاضر ناظر سے اس قدر ڈرتا تھا جیسا مردہ نکیرین سے۔ ناخواستہ دل آتا اور برخاستہ خاطر رہتا۔\n\nایسی ایسی سنگین وارداتیں گھر میں ہو جائیں اور کسی کی نکسیر تک نہ پھوٹے، غیرت بیگم اور بھی بے محابا ہو کر لگی بادل کی طرح گرجنے اور بجلی کی طرح کڑکنے۔ سقہ اور دھوبی اور حلال خور وغیرہ جتنے اہل خدمت تھے۔ ان تک کی بندی ہو گئی کہ چھوٹے گھر کا کام نہ کرنے پائیں۔ ناچار گلی کی طرف کا قدیم دروازہ جو مدتوں سے بند تھا تیغا توڑ کر کھولا تب کام چلا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/50"} {"title": "فسانہء مبتلا/51", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "چوبیسواں باب: مبتلا اور ہریالی کا بگاڑ\n\nجب تک باتوں کا زبانی جمع و خرچ رہا کہ غیرت بیگم نے اپنے گھر میں کوس کاٹ لیا اور ہریالی نے اپنی جگہ پکار پکار کر نہیں تو چپکے سے جو کچھ منہ میں آیا کہہ دیا، تب تک اگر سچ پوچھو تو ہریالی کی جیت تھی کیونکہ مبتلا اس کے پلے پر تھا اور آمدنی کے حساب سے دونوں گھر برابربرابر ،اب جو پینسٹھ کے رہ گئے ستائیس تو اس کا ایمان ڈگمگا چلا اور مبتلا سے کہا۔\n\nادھر اکیلے گھر میں ساٹھ دوا ادھر مردانہ زنانہ دو گھروں میں پینسٹھ نگوڑا پانچ روپے کا بل خدا جانے میں کیا کتربیونت کرتی تھی کہ خیرگزر ہوتی چلی۔ تم اپنے ہاتھ میں خرچ رکھتے ہوتے تو حقیقت کھلتی اور میں تمہارے بڑے گھر میں جاتی نہیں تو آخر سنتی تو ہوں کہ آدمیوں کو ابالی دال ملتی ہے اور وہ بھی ایک وقت بچوں کا سودا سلف تو درکنار، کبھی آدھی کے چنے لے کر دینے نصیب نہیں ہوئے۔\n\nاب تم نے پینسٹھ کے ستائیس کرائے ہیں تو تم ہی خرچ کا انتظام بھی کرو میں کوئی اپنی بوٹیاں کاٹ کاٹ تو کھلانے سے رہی۔\n\nمبتلا: پینسٹھ کے ستائیس میں نے کرائے ہیں۔\n\nہریالی: جانے بلا تم نے کرائے ہیں یا انہوں نے جو تمہارے کچھ لگتے ہیں۔\n\nمبتلا: تم ہی نے فیرینی پکا کر بیٹھے بٹھائے سارا فساد برپا کیا اور الٹا مجھ کو الزام دیتی۔\n\nہریالی: مجھے کیا خبر تھی کہ دشمنوں نے دودھ میں سنکھیا گھول کر میری جان کے لینے کا سامان کیا ہے۔\n\nمبتلا: اسی کا تو پتہ نہ چل سکا کہ کس نے دودھ میں سنکھیا گھولی۔\n\nہریالی: تم نے یہ کالک تھپوائی تو تھپی۔\n\nمبتلا: ایک نہ شود دو شود۔ مہینہ میں نے کم کرایا۔ سنکھیا کا الزام میں نے تم پر لگایا۔ میں ہی براہوں تو خدا برے کو موت دے۔\n\nہریالی: خدا نہ کرے تم کیوں بُرے ہونے لگے۔ بُری میں کہ تمہارے کارن گھر چھوڑا آرام چھوڑا اس کا یہ انعام ملا کہ تمہارے یہاں آکر کوسنے سنے گالیاں کھائیں اور بے عزتی کا کوئی درجہ باقی نہ رہا۔\n\nدو دفعہ جان کا زیاں اٹھایا۔\n\nمبتلا: تم کو معلوم تھا کہ میرے بیوی بچے ہیں تو پھر نہ آئی ہوتیں۔ کیا کسی نے زبردستی کی۔ اب تمہارا جی چاہے تو اب چلی جاؤ۔ تم سے کسی نے کچھ چھین تو نہیں لیا۔\n\nہریالی: ہاں ہاں میں کیا کرتی ہوں میں تمہاری بی بی کو جانتی تھی اور بچوں کا ہونا بھی معلوم تھا مگر مجھے خبر نہیں تھی کہ تم اس طرح کے حیز ہو کہ ناظر کی صورت دیکھنے سے تمہارے ہوش باختہ ہوتے ہیں اور میں اگر جاؤں گی اور جاؤں گی نہیں تو کیا مفت میں اپنی جان گنواؤں گی تو ناظر کو جو وکالت کے گھمنڈ میں بہت اکڑا ہوا پڑا پھرتا ہے اور اس مکار حاضر کو جو ہر مرتبہ بڑا مولوی بن کر وعظ کہنے کو آبیٹھتا ہے اور تیری بھینا کوتوال کی جو روکو اور اس موئے کوتوال کو جس نے رشوتیں لے لے کر خون کے مقدموں کو ملیامیٹ کیا اور سب کے ساتھ تجھ کو دنیا جہان میں بے نقاب کر کے جاؤں گی۔\n\nمیرا جانا کیا ایسا ہنسی ٹھٹھا ہے۔ میں نے تیرے پیچھے اپنے تئیں خاک میں ملا دیا اور آج تو نے اس کا یہ پھل دیا۔ لے اب دیکھ میرا تماشا۔ تیرا تو کیا منہ ہے مگر بلا اپنے حمایتیوں کو کہ مجھے جاتی کو روکیں یہ کہہ کر ہریالی کھڑی ہو سیدھی دروازے کی طرف چلی۔ بارے مبتلا نے ساری عمر میں ایک یہ بہادری تو کی کہ اس کو کوٹھڑی میں دھکیل جھٹ اوپر سے کنڈی لگا دی۔\n\nمبتلا تو ہریالی کو کوٹھڑی میں بند کر کے باہر چلا گیا۔ ہریالی کے پاس جو پرانی ماما تھی۔ ایک طرح کی اس کی کٹنی۔ اس نے ہریالی کو سمجھایا کہ بی بی مرد کا مزاج دیکھ کر بات کی جاتی ہے۔ اس کم بخت پر تو آپ ہی مصیبتیں پڑی ٹوٹ رہی ہیں تم اور چلیں گھاؤ میں اوپر سے مرچیں لگانے۔ تھوڑے دن صبر کیا ہوتا وہ اپنے تئیں بیچتا، چوری کرتا کہیں نہ کہیں سے تمہارا بھرنا بھرتا اور اگر تمہاری مرضی جانے کو ہو گی تو اس کی سو راہیں ہیں۔\n\nڈھنڈورا پیٹنا اور ڈھول بجانا کیا ضرور ہے۔ ادھر پان کے بہانے مبتلا کے پاس گئی اور اس سے کہا: میاں بُرا کہو فضیحتی کرو سب تم کو پہنچتا ہے۔ پر منہ بھر کر یہ کہہ بیٹھنا کہ چلی جا۔ تم ہی انصاف کرو، بڑی سخت بات ہے، خیر غصہ حرام ہوتا ہے۔ میاں بی بی کی لڑائی کیا اور میاں بی بی بھی تم جیسے کہ وہ تمہاری عاشق زار اور تم اس پر دل و جان سے نثار۔ اٹھو گھر میں چلو۔ بیوی کی بھی روتے روتے ہچکی بندھ گئی تھی اب میں نے اٹھا کر زبردستی پانی پلایا ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/51"} {"title": "فسانہء مبتلا/52", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "دو بیویوں کے ساتھ خانہ داری اور مبتلا\n\nمبتلا اور ہریالی کی یہ لڑائی تو خیر ایک اتفاقی بات تھی مگر دیکھنا چاہیے ان میں باہمی ارتباط کس درجے کا تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کے سمجھنے میں غلطی کی۔ ہریالی نے سمجھا تھا کہ یہ آدمی ہے حسن پرست بیوی اس کو بھاتی نہیں اور مجھ پر ہو رہا ہے لٹو۔ میں گئی نہیں اور اس کی بیوی سے تڑا چھڑا اپنے کھونٹے سے باندھا نہیں۔\n\nیہاں آکر دیکھا تو بیوی کو میاں کا خصم پایا کہ وہ اس کو اس طرح لپٹی ہے جیسے مکھی کو شہد۔ یہ بہتیری کوشش کرتا ہے کہ اس سے چھوٹ جاؤں مگر اور لتھڑتا چلا جاتا ہے۔ چاہیے تھا کہ مجبور سمجھ کر معذور رکھے۔ خودغرضی جبر و اختیار میں فرق کرنے نہیں دیتی تھی وہ کچھ کر نہیں سکتا تھا اور یہ جانتی تھی کہ اپنے ہیٹے پن سے خود نہیں کرتا۔\n\nوہ واری اور قربان تھی جب تک توقع میں جان تھی۔\n\nناامید ی کا پیدا ہونا تھا کہ صاف ہتھے سے اکھڑ گئی۔ مبتلا تو اول دن سے حسن صورت کے پیچھے ایسا فریفتہ تھا کہ خوبصورتی کے آگے حسب نسب سلیقہ ہنر عقل نیکی دینداری کسی چیز کو دیکھتا ہی نہ تھا۔ بیوی سے تھی اس کو نفرت چوٹوں کی طرح۔ دوچار بار رات کو ہریالی کے یہاں گیا آنکھوں میں سما گئی۔ نہ انجام سوچا نہ عاقبت کار پر نظر کی، گھر میں لابٹھایا، مبتلا کے دل کو جو اچھی طرح سے ٹٹول کر دیکھا تو گھر میں آگے پیچھے ہریالی کی طرف اس کا اگلا سا رخ نہ تھا۔\n\nاول تو اس نے ہریالی کے جانچنے اور آنکنے ہی میں غلطی کی تھی۔\n\nاس میں شک نہیں کہ ہریالی خوبصورت تھی مگر نہ اس درجہ کی کہ مبتلا جیسا حسین آدمی اس پر مفتون ہو۔ یونیورسٹی کی ڈگریاں اگر خوبصورتوں کو ملتی ہوتیں تو ہریالی ہماری نظر میں اس معیار سے بس ایف اے کے قابل تھی مگر مبتلا تو اس کو نکاح سے پہلے ایم۔ اے کے درجے میں سمجھتا تھا۔ دوسری ایک وجہ یہ ہوئی کہ ہریالی کو ویسا بناؤ سنگار نہ تو اب میسر تھا اور نہ اس کا موقع تھا اور سب سے بڑا سبب تو ہمارے سمجھنے میں یہ تھا کہ کیسی ہی کوئی نعمت کیوں نہ ہو۔\n\nاس کی قدر طلب تک رہتی ہے۔ حاصل ہوئی اور اس کی منزلت گھٹی۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ انسان کو اس کا احساس بھی باقی نہیں رہتا کہ یہ نعمت کچھ نعمت بھی ہے یا نہیں۔ اگر غیرت بیگم کو ذرا بھی عقل ہو کہ خدمت اور اطاعت سے میاں کو اپنا کرنا چاہیے تو ہریالی کی اتنی بھی قدر نہ ہو۔ یہ اپنی صورت کو آئینہ لیے بیٹھی چاٹا ہی کرے اور اندر باہر غیرت بیگم ہی غیرت بیگم رہے، مگر وہ چال بری چلی۔\n\nاس نے چاہا نکتوڑوں سے دباؤ سے بھائیوں کی حمایت سے مبتلا کے دل میں جگہ کر لے، نہ خوبصورتی کے برتے پر بلکہ سلیقے اور رضاجوئی کے بل پر۔ غیرت بیگم کے جھگڑے مبتلا کو چین تو لینے دیتے ہی نہ تھے، وہ ہریالی کی خوشی کیا مناتا۔ دونوں میں میل جول رہا مگر عاشقی معشوقی کا سا نہیں بلکہ جیسا کہ عام طور پر میاں بیویوں میں ہوا کرتا ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/52"} {"title": "فسانہء مبتلا/53", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "چھبیسواں باب: مبتلا کی حالت زار اور موت\n\nجس شخص کی پینسٹھ کی آمدنی جا کر ستائیس کی رہ جائے اور وہ بھی غیرمقرر۔ اسی کے دل سے پوچھنا چاہیے کہ اس پر کیا گزرتی ہو گی۔ مسلسل مصائب اور ہجوم افکار نے مبتلا کو اس قدر تنگ مزاج کر دیا تھا کہ دنیا کی کوئی چیز اس کو بھلی نہیں لگتی تھی۔\n\nاس کو ہریالی کی لڑائی کا ایک بہانہ مل گیا اور اس نے دونوں گھروں کا جانا موقوف کر دیا سارے دن رات اٹوانٹی کھٹو انٹی لیے اکیال مردانے میں پڑا رہتا تھا نہ خود کسی کے پاس جاتا اور اپنے پاس کسی کے آنے کا روادار ہوتا۔ اگر اتفاق سے کوئی آنکلتا تو اس کی طرف مطلق ملطفت نہ ہوتا۔ اس رنج نے اس کو رہا سہا اور بھی رنجور کر دیا کہ دو دشمن اس کے اور تیار ہوئے۔\n\nناظر سے بڑھ کر معصوم اور غیرت بیگم سے زیادہ بتول۔ مبتلا اپنی طرف سے بہتیرا دونوں کو لپٹتا تھا مگر یہ دونوں اتنا بھی نہیں جانتے تھے کہ ہمارا باپ ہے جب سے ہوش سنبھالا کو سنا ہی سنا تھا، پس دونوں کے ذہن میں اس کی برائی ایسی راسخ ہو گئی تھی کہ ابا یا باپ کہنا کیسا۔ دونوں خاص طرح نام لیتے تھے۔ معصوم گالی کے اور بتول کوسنے کے ساتھ۔ مبتلا نے جب دونوں گھروں سے ملول ہو کر مردانے میں رہنا اختیار کیا تو اس نے یہ خاصی تدبیر سوچی تھی کہ اگر ہو سکے تو معصوم اور بتول دونوں کو ورنہ اکیلے معصوم کو خالی بیٹھا ہوا پڑھاؤ اور اسی طرح اپنا جی بہلاؤں مگر معصوم پٹھے پر ہاتھ تو دھرنے ہی نہیں دیتا تھا۔\n\nمردانے مکان میں بے رونقی تو ہریالی کے ساتھ آچکی تھی۔ اب تھوڑے ہی دن میں خاک اڑنے لگی جس مکان میں عمدہ اسباب کے اٹم کے اٹم لگے پڑے تھے اب اس میں کیا رہ گیا ۔ چند جھلنگے، ایک کی چول ٹوٹی ہوئی ہے تو دوسرے میں ادوان نہیں، کسی کی پٹی لچکی ہوئی ہے تو کسی کے سیروے میں جان نہیں، شاید چھوٹی بڑی ملا کر چار یا پانچ چوکیاں وہ بھی بے جوڑا بوسیدہ بے مصرف۔\n\nنوکروں میں صرف ایک وفادار سو وہ بھی کس طرح کہ یہاں سے تو اس کو کھانا تک نہیں ملتا تھا اور ملے کہاں سے۔\n\nسو یہاں بے چارے کے پلے ٹکا نہیں، دن کو مزدوری کرتا اور رات کو یہاں کی پانیتی آکر پڑا رہتا۔ دنیا کا کوئی کام یا دین کا روزہ نماز ہو تو صبح و شام کا تفرقہ اور دن رات کا امتیاز ہو۔ مبتلا کو سب وقت یکساں تھے۔ اس کے سونے جاگنے کھانے پینے کسی بات کا کوئی وقت ہی مقرر نہ تھا۔\n\nجب دیکھو منہ اوندھا کیے چارپائی پر پڑا ہے۔ معلوم نہیں سوتا ہے یا جاگتا ہے۔ اپنی تباہی کا خیال ہے کہ کسی وقت دل سے نہیں جاتا۔ جاگتا ہے تو اس کی سوچ ہے اور سوتا ہے تو اس کا خواب دیکھ رہا ہے۔ وہ کبھی اپنے پچھلے وقتوں کو یاد کرتا اور اس کے چہرے پر ایک طرح کی بشاشت آجاتی تھوڑی دیر بعد خودبخود یکایک چونک کر ادھر اُدھر دیکھنے لگتا اور پھر اس کے منہ پر مردنی سی چھا جاتی۔\n\nغیرت بیگم اور اس کے علاقہ داروں سے یہاں تک کہ اپنے بچوں سے تو اس کو مطلق ناامیدی تھی۔ وہ خوب سمجھ چکا تھا کہ اب کسی حالت میں جیتے جی ان لوگوں سے صفائی کا ہونا ممکن نہیں۔ رہ گیا قطع تعلق اس کے لیے چاہیے ہمت جرأت اور یہی باتیں اگر مبتلا میں ہوتیں تو یہاں تک نوبت ہی کیوں پہنچتی۔ قاعدہ ہے کہ جس پر پڑتی ہے۔ اسی کی طبیعت خوب لڑتی ہے۔ رنجوں سے بچنے کا کون سا پہلو تھا جو مبتلا نے نہیں سوچا مگر جدھر جاتا تھا راہ نجات کو مسدود پاتا تھا۔\n\nمارے غم کے وہ اس قدر نحیف و ناتواں ہو گیا تھا جیسے کوئی برسوں کا بیمار۔ شاید چھینکنے سے اس کو غش آتا اور کھانسی کے ساتھ اس کا سانس اکھڑ جاتا۔ اللہ رے غیرت بیگم عورت ذات ہو کر اس قدر سخت دلی اور اس بلا کا غصہ کہ مبتلا گھلتے گھلتے چارپائی سے لگ گیا اور اس نے بھول کر بھی خبر نہیں کی۔ ہریالی تھی تو رزالی پر خیر دکھاوا ظاہر داری جو چاہو سمجھو، بیسیوں بار تو اپنی ماما کو بھیجا اور آخر خود گئی ہر چند منت خوشامد کی مگر مبتلا تو اپنی زندگی سے ہاتھ دھوئے بیٹھا تھا ذرا نہ تپتایا۔\n\nمبتلا خوب سمجھتا تھا کہ میں اس رنج سے جان بر نہیں ہو سکتا۔ اختلاج قلب تو اس کو مہینوں سے تھا۔ اب کسی وقت میں ایک طرح کا ہلکا ہلکا درد بھی اٹھنے لگا۔ تدبیر کچھ ہوئی نہیں لہٰذا دورے متواتر اور شدید ہونے لگے۔ آخر ایک دن ادھر آفتاب ڈوبتا تھا ادھر یہ بے کس و بے نصیب دل کے درد سے کھردری چارپائی پر نہ تکیہ نہ بچھونا، تڑپ کر سرد ہو گیا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/53"} {"title": "فسانہء مبتلا/54", "poet_page": "مصنف:ڈپٹی نذیر احمد", "kind": "prose", "section": "فسانہء مبتلا", "year": "1885", "text_ur": "ستائیسواں باب: خاتمہ\n\nایک حسن پرستی کے پیچھے دنیا میں کیا کیا سختیاں اٹھائیں کہ خدا دشمن کو بھی نصیب نہ کرے۔ اپنا یا بیگانہ مرنا تو سبھی کا قابل افسوس ہے مگر نہیں تو مبتلا کا کیونکہ اس کا جینا قابلِ افسوس تھا اور مرنا قابلِ خوشی۔ کیونکہ مر کر وہ دنیا کی مصیبتوں سے تو چھوٹ گیا مصیبتیں تو اس کے دم کے ساتھ تھیں۔\n\nنہ مرتا تو اور مصیبت بھرتا۔ پھر بھی ہم اس کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ دنیاوی ایذائیں اس کے گناہوں کا کفارہ ہوں اور بیچارہ مصیبت کا مارا حسن صورت کا بہت فریفتہ تھا لہٰذا خدا اس کو جنت میں بہت سی حوریں دے بشرطیکہ غیرت بیگم اور ہریالی کی طرح آپس میں نہ لڑیں۔ عبرت کا مقام ہے۔\n\nایک چھوڑ دو دوبیبیاں موجود، بیٹا موجود بیٹی موجود۔ بیبیوں کے نوکر چاکر موجود اور مرتے وقت منہ میں پانی ٹپکانے کو مبتلا کے پاس کوئی نہیں۔\n\nکہیں پہر رات گئے وفادار محنت مزدوری سے فارغ ہو کر آیا اور اس نے پکارا تو میاں کو مرا ہوا پایا۔ چیخ اٹھا، سارے محلے کو خبر ہوئی اور محلے والوں کے ساتھ محل کے لوگوں نے ہریالی کو دیکھا تو وہ اور اس کی ماما اور اسباب سب ندارد۔ گھر میں جھاڑو دی ہوئی پڑی ہے۔\n\nنہیں معلوم ایسا کون کالا چور اس کو بھگا کر لے گیا کہ پھر اس کا پتہ نہ لگا۔ غیرت بیگم یا تو اس قدر میاں سے اکڑی رہتی تھی یا میاں کا مرنا سنتے ہی ایسا روئی، اتنا پیٹی کہ بس خود میاں کی عاشق زار ہو گی وہ بھی اس سے زیادہ کیا روئے پیٹے گی۔\n\nاب اس کو معلوم ہوا کہ میاں اس کا ظلم سہنے کے لیے سدا کو بیٹھے رہنے والا نہ تھا۔ وہ میاں کے مرنے پر اتنا نہیں روتی تھی جتنا اپنے ظلموں پر جن کی تلافی اب کچھ اس کے اختیار میں نہ تھی۔ روتے روتے دونوں آنکھوں میں ناسور پڑ گئے تھے۔ اور ہتھنی جیسا ڈیل ایسا سوکھا تھا کہ جیسے کانٹا۔ مبتلا کی چھ ماہی بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ غیرت بیگم اسی رنج میں تمام ہوئی۔ مرتے مرتے وصیت کی کہ مجھ کو بتول کے باپ کی پائینتی دفن کرنا تاکہ اگر جیتے جی میں ان کے پاؤں نہ پڑ سکی تو خیر قبر میں ان کے پاؤں ہوں اور میرا سر۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%D8%A1_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7/54"} {"title": "فسانۂ عبرت", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "تعجب میں ہوں دیکھ کر رنگ عالم\nالٰہی یہ کیا آ گیا ہے زمانا\nنہ پہلی سی وہ مہر و الفت کی باتیں\nنہ اگلا سا چاہت کا وہ کارخانہ\nجدھر دیکھیے بس تعصب، جہالت\nجہاں جائیے صرف لڑنا لڑانا\nجو تعلیم دیتا ہے جنگ و جدل کی\nوہ ہے انتہائی خرد مند و دانا\nجو تلقین کرتا ہے صلح و صفا کی\nوہ ہے تیر زجر و جفا کا نشانا\nنہ معلوم کب یہ جہالت مٹے گی\nکب آئے گا عیش و خوشی کا زمانا\nملیں گے گلے کب بہم ملنے والے\nبجائے گا اقبال کب شادیانہ\nبس اب چھوڑ دو یہ ضدیں ورنہ یارو\nجہاں میں ہے مشکل تمہارا ٹھکانا\nرہوگے یوں ہی پایمال جفا تم\nرہے گا یہی روز رونا رلانا\nنتیجہ یہ ہوگا کہ بن جاؤ گے تم\nفنا ہو کے اک عبرتوں کا فسانہ\nیہ سب برکتیں اہل انگلینڈ کی ہیں\nکرو جلد انہیں اب یہاں سے روانا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%A8%D8%B1%D8%AA"} {"title": "فسانۂ عجائب/آغاز داستان", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "آغاز داستانِ اعجاز بیاں سلطنت فیروز بخت کی اور تلاش اُس کو وارثِ تاج و تخت کی۔ خوش قسمتی سے حاجت کا بر آنا، گوہرِ دُرجِ شہر یاری صَدَفِ تمنّا سے پانا\n\nاُستاد:\n\nمَثل ہی سے، نہ الفاظِ تَلازُم سے یہ خالی ہے\n\nہر اک فِقرہ کہانی کا گواہِ بے مِثالی ہے\n\nلا اعلم:\n\nیادگارِ زمانہ ہیں ہم لوگ\n\nسن رکھو تم، فسانہ ہیں ہم لوگ\n\nگِرہ کُشایانِ سلسلہ سخن، تازہ کُنِندَگانِ فسانہ کہن، یعنی مُحرّرانِ رنگیں تحریر و مُورِّخانِ جادو تقریر نے، اَشہبِ جَہِندَہ قلم کو میدانِ وسیع بیاں میں، با کرشمۂ سحر ساز و لطیفہ ہائے حیرت پَرداز گرم عِنان و جَولاں یوں کیا ہے کہ سرزمینِ خُتَن میں ایک شہر تھا مِینو سواد، بہشت نژاد، پسندِ خاطِر محبوبانِ جہاں، قابلِ بود و باشِ خوبانِ زماں۔ شمیمِ صفت اُس کی مُعَطَّر کُنِ دماغِ جاں، مُسکّنِ التہابِ قلب، دافِعِ خَفَقاں۔ زمین اُس کی رشکِ چرخِ بریں۔ رفعت و شان چَشمک زَنِ بَلندیِ فلکِ ہفتُمیں۔ گلی کوچے خجلت دِہِ گُلشن۔ آبادی گُلزار، بَسانِ تختۂ چمن۔ بازار ہر ایک بے آزار، مُصفّیٰ، ہموار۔ دکانیں نفیس۔ مکان نازک، پائیدار۔ خلقِ خدا با خاطرِ شاد اُسے فُسحَت آباد کہتی تھی۔ سب طرح کی خلقت، ہر طور کی رعیّت رغبت سے اُس میں رہتی تھی۔\n\nوالیِ ملک وہاں کا شاہِ گَردوں وَقار، پُر تمکین، با افتخار، سکندر سے ہزار خادم، دارا سے لاکھ فرماں بردار، قُباد شوکت و کاؤس حَشم، مالکِ تاج و تخت، والا مَرتَبَت، عالی مَقام، شاہنشاہ فیروز بخت نام۔ موجِ بخشش سے اُس بحرِ جود و عطا کی، سائلانِ لب تشنہ سیراب اور نائرہ غَضَب کے شعلے سے، دشمنِ بد باطن جگر سوختہ، بے تاب۔ دبدبۂ داد دہی، غُلغُلۂ عدالت سے، دشمن دوستِ جانی۔ چور مسافر کے مال کا نگہبان، ڈکیتوں کو عہدۂ پاسبانی۔ ملک وافِر۔ سِپاہ افزوں از قیاس۔ خزانہ لا انتہا، بے کراں۔ وزیر، امیر جاں فشاں۔ تاج بخش و باج سِتاں۔ محتاج اور فقیر کا شہر میں نام نہیں۔ داد فریاد، آہ و نالے سے کسی کو کام نہیں۔ رعیّت راضی۔ سپاہ سَر فروش، جاں نثار، شاداں۔ دشمن خائف۔ شمع کا چور سرِ محفل لرزاں۔ اِس نام سے یہ ننگ تھا کہ امیروں کا چور محل نہ ہونے پاتا تھا۔ دُزدِ حنا کا رنگ نہ جمتا تھا، سرِ دست ہاتھ باندھا جاتا تھا۔ آنکھ چُرانے سے ہم چشم چشمک کرتے تھے۔ کارِ خیر سے اگر کوئی جی چُراتا تو نامردی کی تہمت اس پر دھرتے تھے۔\n\nلیکن بہ ایں حکومت و ثَروَت، کاشانۂ امید کا چراغ گُل، اولاد بالکل نہ تھی، خواہشِ فرزند دَر دل، نہ ہونے کی کاہِش مُتصِل، حسرتِ پِسر میں رَبِّ لَا تَذَرْنِى فَرْدًا وَ أَنْتَ خَیرُ الوَارِثِیْنَ ہر ساعت بَر زباں و رَبِّ ھَبْ لِی مِنْ لَدُنْک وَلِیّاً وظیفۂ ہر زماں۔ لڑکے کی تمنا میں بادشاہ مثلِ گدا دست دراز، ایسا لاپروا، بے نیاز کی قدرت سے، بانِیاز۔\n\nآخِرش جناب باری میں تضَرُّع وَ زاری اس کی منظور ہوئی، لا ولدی کی بدنامی دور ہوئی۔ ساٹھ برس کے سِن میں، بڑھاپے کے دن میں گَوہرِ آب دار دُرِ شاہوار، صَدَفِ بطنِ بانوئے خُجستہ اَطوَار سے پیدا ہوا۔ چھوٹا بڑا اس کی صورت کا شیدا ہوا۔ اس روح افزا کا، فیروز بخت نے جان عالم نام رکھا۔ شب و روز پَرورش سے کام رکھا۔ حُسن اللہ نے یہ عطا کیا کہ نَیّرِ اَعظَم چَرخ چارم پر رُعبِ جمال سے تھرایا، اور ماہ باوجود داغِ غلامی، تابِ مشاہدہ نہ لایا۔ اُس نقشِ قدرت پر تصور مانی و بہزاد حیران اور صنّاعی آزر کی ایسے لُعبَت حقیقت کے رو برو پشیمان۔ کاسۂ سَر سراسر شُورِ جوانی، زورِ شباب سے مَعمُور۔ آنکھیں جھپکانے والی دیدۂ غَزالانِ خُتَن کی، شرابِ عشق کے نشے سے چَکنا چور۔ چہرے پر جلالِ شاہی، شَوکتِ جہاں پناہی نُمایاں، حسنِ دَرَخْشِندَہ کی تڑپ بہ از انجم و اختر تاباں۔ مصحفی:\n\nاُسے دیکھ طِفلی میں کہتی تھی دَایہ\n\nیہ لڑکا طرح دار پیدا ہوا ہے\n\nمرزا قتیل ؏:\n\nپارہ خواہد شدازیں دست گریبانے چند\n\nلکھا ہے کہ جب وہ مہر سپہر سلطنت برج حمل سے جلوہ افروز ہو، زینت بخش کنار مادر و زیب دہ آغوش دایہ ہوا، در خزانہ و محبس کھلا۔ ہزارہا قیدی رہا ہو اپنے گھر آیا اور سینکڑوں لو نڈی غلام نے فرمان آزادی پایا۔ شہر میں محتاج ناپید تھا، مگر اشرفی، روپیہ حاجیوں کے واسطے مکہ معظم اور زائروں کی خاطر کربلائے مکرم میں پیہم بھیجا۔ ایک سال کا خراج رعیت محتاج کو معاف ہوا۔ شہ زادے کے نام کے گنج آباد ہوئے۔ مسجدیں، مدرسے، مہمان سرا، مسافر خانے تعمیر ہوئے۔ اہل شہر دل شاد ہوئے۔\n\nنجومی، پنڈت، جفر داں حاضر ہوئے۔ بہت سوچ بچار کر برہمنوں نے عرض کی: مہاراج کا بول بالا، جاہ و حشم ہر دم بڑھے، مرتبہ دو بالا، اعلیٰ رہے۔ ہماری پوتھی کہتی ہے: بھگوان کی دیا سے شہ زادے کا چندرماں بلی ہے۔ چھٹا سورج ہے۔ جو گرہ ہے وہ بھلی ہے۔ دیگ تیگ کا مالک رہے۔ دھرم مورت یہ بالک رہے۔ جلد راج پر براجے۔ پرتھمی میں دھوم مچے، ایسی شادی رچے۔ استری تین ہو۔ دو کا پر، مان، ایک کی بین ہو۔ مگر پندرھویں برس مشتری بارھویں آئے گی، سنیچر پاؤں پڑے گا۔ ایک پنکھیرو سُوے کے برن میں ہاتھ آئے گا۔ تِریا کی کھٹ پٹ سے وہ بچن سنائے گا کہ راج پاٹ چھڑا، دیس سے بدیس لے جائے گا۔ ڈگر میں شاہ زادہ بھٹکے گا، کوئی مانس پاس نہ پھٹکے گا۔ ساتھی چھٹیں۔ اپنے ڈیل سے ڈانوا ڈُول رہے۔ پھر ایک مَنُکھ، ٹھاکر کا سیوک کرپا کرے، راہ لگائے۔ کوئی کلنکن، لُوبھی ہو، کشٹ دکھائے۔ وہاں سے جب چھٹے، رانی ملے مہا سندر، وہ چرن پر پِران وارے، پِتا اس کا گیانی، گُن کی تکھتی دے، اُس سے کئی ملچھ مارے، دکھ میں آڑے آئے، بگڑے کاج بنائے۔\n\nجب اُس نگر پہنچے، جس کی چِت میں گھر چھوڑے، تو لاب بہت ہو، دَرَب، گہنے ہاتھ آئیں۔ دور سب کَلیس ہو جائیں۔ پر ایک ہِتی، من کا کپٹی، اِستری پر دُچِت، کھٹائی کرے۔ جُنجھ پڑیں، نر ناری لڑیں۔ اور کچھ جل میں بھی ہل چل پڑے۔ پریتی لوگ چھٹ جائیں۔ نگر نگر کھوج میں پھر آئیں۔ سب بچھڑے مل جائیں۔ ماتا پِتا کے ڈھِگ آئیں۔ بڑا راج کرے۔ دَیا دھرم کے کاج کرے۔ گُسَیّاں کی کرپا سے جان کی کھیر ہے۔ بڑی بڑی دھرتی کی سیر ہے۔\n\nیہ سن کے بادشاہ گونہ ملول ہوا۔ پھر مستقل مزاجی سے یہ کلمہ فرمایا: فِعل الحکِیم لَا یَخلُو عَنِ الحِکمة، ان سب کو بقدرِ حال، فراخور کمال مالا مال کیا۔ خلعت و انعام دیا۔ بہ بشاشت تمام سرگرم پرورش صبح و شام رہا۔ کوئی تو برسوں میں بڑھتا ہے، وہ نہال نَو دمیدہ بُستانِ سلطنت گھڑیوں میں بلند بالا ہوتا تھا۔ چند عرصے میں، بہ حَول و قوتِ الٰہی، وہ ہاتھ پاؤں نکالے، دس برس کے سِن میں اس غزال چشم نے ہِرن کے سینگ چیر ڈالے۔ دست و بازو میں یہ طاقت ہوئی کہ درندۂ فیل مست ہوا۔ جوان رعنا، چہرہ زیبا، رُستم شوکت، اِسفند یار سے زبردست ہوا۔ جو اُس کا روئے منوّر دیکھتا، یہ کہتا، لا اَعلم:\n\nمُنہ دیکھو آئنہ کا، تری تاب لا سکے\n\nخورشید پہلے آنکھ تو تجھ سے ملا سکے\n\nتصویر تیری کھینچے مُصوِّر تو کیا مجال\n\nدستِ قضا تو پھر کوئی تجھ سا بنا سکے\n\nتحصیلِ علم و فَضل میں شہرۂ آفاق ہوا۔ جتنے فنِ سپہ گری ہیں، اُن کا مَشّاق۔ جَمیع عُلوم، ہر فن میں طاق ہوا۔ جَلَّ جَلالُہ! باپ ویسا، بیٹا ایسا محبوب، مَحبّت میں بَسانِ یوسف و یعقوب علیہما السلام۔ جب وہ ہِلالِ سپہرِ شَہر یاری بہ فضلِ باری بدرِ کامل ہوا اور چَودھواں بَرس بھر گیا، جوانوں میں شامل ہوا۔ بہ صَلاح و صَواب دیدِ اَرکانِ سلطنت و ترقّی خواہانِ دولت شادی کی تجویز ہوئی۔ بہ تلاشِ بے شمار و تجسس بِسیار ایک شہ زادی پری پیکر، خوب صورت، نیک سیرت، حور نِژاد، گُل اَندام، سیمیں بَر، رشکِ سَرو، غیرتِ شمشاد، ماہ طلعت نام، دود مانِ والا سے مُقرّر ہوئی۔ وہ جو آئینِ بادشاہی، طریق فرماں روائی ہے، اُسی طرح اُس کے ساتھ اُس اَخترِ تَابِندۂ فلکِ شاہی کو ہَمقِراں کیا، نکاح پڑھوا دیا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"} {"title": "فسانۂ عجائب/اب تماشا ہے نہ سیر ہے، خاتمہ بِالخیر ہے", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "اب تماشا ہے نہ سیر ہے، خاتمہ بِالخیر ہے وطن پہنچنا اُس سَیّاحِ جہاں گرد کا آرام و چَین سے، بعد حُصولِ سعادتِ قدم بوس ملنا والدین سے۔ پھر فیروز شاہ کا جان عالم کو تخت و تاج دینا، آپ گوشۂ عُزلت لینا۔ اور قتل وزیر زادے کا، سزائے اعمال کو پہنچنا اُس حرام زادے کا\n\nاَبیات:\n\nچل اے توسَنِ خامہ منزل رَساں\n\nکہ اب گھر پہنچتا ہے یہ کارواں\n\nپھرا گھر کو شہ زادۂ خوش سِیر\n\nجھمکڑے کا عالم، بہت کرّ و فَر\n\nوہ اس طرح پہنچا وطن کی طرف\n\nبہار آئے جیسے چمن کی طرف\n\nبڑی فکر رہتی تھی ہر صبح و شام\n\nرہی شَرحِ جَورِ فلک نا تمام\n\nوہ بچھڑے تو سب ہو گئے ایک جا\n\nہوئے اپنے مطلوب سے ہم جدا\n\nہوئی فضلِ حق سے کہانی تمام\n\nسُرورِؔ حَزیں! توسَنِ خامہ تمام\n\nغرض کہ شاہ زادۂ جان عالم منزل بہ منزل مسافت طے کر، مَعَ الخیر وطن پہنچا۔ دو کوس شہر سے باہر خِیامِ ذَوِی الاِحتِرام اِستادہ ہوئے، لشکرِ ظفر پَیکر نے مُقام کیا۔ یہ خبر فُسحت آباد میں گھر گھر مشہور ہوئی کہ کوئی غنیم بے خوف و بیم فوجِ عظیم لے کر وارِد ہوا ہے، دیکھیے ہوتا کیا ہے۔ شہر کا یہ نقشہ تھا: جس روز سے جان عالم مَفقودُ الخَبر، در بدر ہوا تھا؛ سُنسان، ویران، بے چراغ پڑا تھا اور بادشاہ گریباں چاک، سر پہ خاک، نہ تخت کی خبر، نہ سلطنت سے سَروکار، نہ ملک سے مطلب، نہ دربار سے غرض، دیوانہ وار، با دِلِ بے قرار محل میں پڑا رہتا تھا۔ نہ کسی کی سنتا تھا، نہ اپنی کہتا تھا۔ اور شہ زادے کی ماں بھی غمگین، اندوہ ناک، بے چین؛ دن رات غم کی حکایت، اندوہ کے بین، نصیب کی شکایت، لب پر شُور و شَین۔ خَلِشِ نَشترِ غم سے کوئی ساعت قرار نہ پاتی تھی، ہر وقت بلبلاتی تھی۔ یہاں تک دوریِ دِلبَند، مہجورِیِ فرزند میں دونوں روئے تھے کہ آنکھیں ان عزیزوں کی یوسفِ گم گشتہ کے فِراق میں، دید کے اِشتِیاق میں ہَم چَشمِ دیدۂ یعقوب علیہ السَّلام ہو گئی تھیں، بہ حکمِ آیۂ وا فی ہِدایہ: وَابیَضَّت عَینٰہُ مِنَ الحُزنِ فھَوَ کَظِیمٌ۔ اور سچ ہے: فراقِ نورِ چشم میں نورِ چشم کب رہتا ہے۔ رات دن آنکھوں میں یکساں، ہر وقت سَراسیمہ و پریشاں؛ مگر اَرکانِ سلطنت، نمک خوارِ قدیم کوشش عظیم سے درپردہ ریاست کا نام سنبھالے تھے۔\n\nجب وُرودِ لشکر بہ ایں کّر و فَر سُنا، وزیرِ اعظم کو جان عالم کے پاس حال دریافت کرنے بھیجا۔ بس کہ شہ زادۂ با اِمتیاز کی مُفارَقَت کو عرصۂ دراز ہوا تھا؛ اس کے سوا وہ سامان، جاہ و حَشَم، لشکر کا چَم و خَم، فوج ہزار در ہزار، اَنبوہ بے شمار، خزانۂ لا اِنتہا دیکھ کر وزیر گھبرایا، اپنے شہ زادے کا وہم و گماں نہ آیا۔ دست بستہ عرض کی: قبلۂ عالم! گردِشِ طالعِ و اژوٗں، نیرنگیِ گَردونِ دوٗں سے وارِثِ تختِ سلطنت یہاں کا دفعتاً گُم ہو گیا۔ بادشاہِ آسماں جاہ ہمارا، مصیبت کا مارا جگر گوشے کی مُفارقت میں دامانِ صبر، گریبانِ شکیب پارہ پارہ کر کے؛ نورِ نظر بھی اس اپنے قُرّۃُ العین، طاقتِ بَصَر کے ہجر میں گریے کی نذر کر چکا ہے۔ زیست بہ نام ہے، مر چکا ہے۔ ہَنُوز اُس عَینُ الکمال کے قدم کی خاک سُرمۂٔ چشمِ مُشتاقاں و کحلُ الجَواہرِ دیدہِ مُنتظِراں نہیں ہوئی۔ بعد رسمِ سلام حضور کو یہ پیام دیا ہے کہ اگر خواہشِ تخت یا تمنائے تاج منظورِ خاطر ہے؛ بِسمِ اللہ، کل نہیں آج حاضر ہے؛ مگر سامانِ جنگ و جِدال، گرم بازارِیِ عرصۂ قتال، خوں رِیزیِ بندہ ہائے خدا ناحق، نارَوا ہے۔ مجھے تختِ سلطنت تختۂ تابوت سے بد تر ہے، اِلّا معاملۂ قضا و قَدَر سے مجبور فردِ بَشَر ہے۔ ہر چند جینے سے سخت جی بیزار ہے، لیکن مر جانے کا کسے اختیار ہے۔ شعر:\n\nمرنے کو میں تو راضی ہوں، موت کو موت آ گئی\n\nزندگی اب گلے پڑی، اس کی میں کیا دوا کروں\n\nشرحِ سخت جانی موٗجِبِ پریشانیِ گوشِ حق نِیُوش جان کر طوٗل کو مختصر کیا۔ جان عالم نے یہ سن کر رو دیا۔ وزیر کو گلے سے لگایا، خِلعتِ فاخِرہ عِنایت کیا، پھر کہا: افسوس! تم نے گود کے پالے عرصۂ قلیل میں بھُلا ڈالے۔ بعد آداب و کورنِش عرض کرنا کہ بدَولَتِ کشش اُلفتِ پِدَری و تاثیرِ دعائے سحری سے خانہ زادِ بامراد زندہ و سالم شَرفِ آستاں بُوس سے مشرف ہوا۔ اس وقت وزیر نے پہچانا، قدموں پر گرا۔ پھر سر اٹھا کر بے اجازت بھاگا اور بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا، پکارا: مبارک ہو۔ اُستاد:\n\nبوئے یوسف سوئے پیغمبرِ کَنعاں آئی\n\nاے شاہِ با اقبال و اے صاحبِ جاہ و جلال! بہ عنایتِ جامعُ المُتفَرِقین اور باعِثِ برکتِ دعائے مُہاجِرین وہ نَیرِ اَوجِ بختیاری، کَوکَبِ دَرَخشندۂ سپہرِ شَہر یاری با فوج و لشکر اور مجمع حورانِ پری پیکر یہاں آیا اور اس اجڑے نگر کو آباد کیا، بسایا۔ مُشتاقوں کا دلِ اَلَم رَسیدہ شاد کیا۔ شُکر صَد شُکر نالۂ شب گیر با تاثیر تھا۔ بادشاہ کو تو مرتبۂ یاس حاصل تھا، وزیر سے یہ کلمہ فرمایا، میر تقی:\n\nکوئی اور ہو گی، وقتِ سحر ہو جو مُستَجاب\n\nشرمندۂ اثر تو ہماری دعا نہیں\n\nوزیر نے مکرّر عرض کی: بہ سَرِ اَقدسِ حضور، شبِ دیَجور ہماری یُمنِ قدم سے اس شمع انجمن افروزِ سُلطانی کے روشن ہوئی۔ ہر گلی اس شہرِ ویراں کی رشکِ گلشن ہوئی۔ اس گفتگو میں وزیر تھا کہ جان عالم تنہا داخل ہوا۔ محل میں محشر کا قیام ہوا، رونا پیٹنا مچا، رنڈیوں کا اِزدِحام ہوا۔ ماں باپ نے گلے سے لگایا۔ شہ زادہ بِالرّاسِ و العَین آداب بجا لایا۔ عیَن عنایتِ الٰہی دیکھیے، اسی دم دونوں کی آنکھوں میں بینائی آئی، جسم میں تاب و توانائی آئی۔ بادشاہ جلد سوار ہوا، بہوؤں سے لشکر میں جا کر دو چار ہوا۔ شہر والوں نے یہ ماجرا سنا؛ صغیر و کبیر، بَرنا و پیر دوڑے۔ دونوں لشکر جلو میں ہمراہ، آگے آگے جہاں پناہ، روپیہ اشرفی دو رویہ تَصدُّق ہوتا، محل سرا میں لا کر داخل کیا۔ جان عالم کی ماں نے انجمن آرا اور ملکہ مہر نگار کو دیکھا، جان و دل دونوں پر نثار کیا، بہت سا پیار کیا۔ مبارک سلامت کی صدا در و دیوار سے پیدا ہوئی۔ جس نے دیکھا، وہ شیدا ہوئی۔\n\nدوسرے دن ملکہ اور انجمن آرا نے شاہ فیروز بخت سے عرض کی کہ اگر حضرت کی اجازت ہو تو شہزادے کی محل سرائے قدیم میں ہم جائیں، ماہ طلعت سے ملاقات کر آئیں۔ بادشاہ نے فرمایا: وہ عورت بد بخت سخت منہ پھٹ، بڑھ بولی، فضول ہے؛ اسے شرمندہ کرنے سے کیا حصول ہے۔ میاں مٹھو بھی حاضر تھے، بول اٹھے: قبلۂ عالم! یگانگت مقتضیِ ملاقات خواہ نخواہ ہے، باہم رہ و رسم بڑھے گی، مدارات ہو گی، خفت و ذلت کی کیا بات ہو گی۔ بادشاہ چپ ہو رہا۔ شہزادیوں نے سواری طلب کی۔ طائرِ پرّاں نے پیش قدمی کر کے ماہ طلعت کو سلام کیا۔ اس نے سر جھکا لیا۔ یکایک سواریاں پہنچیں۔ اس وقت وہ بیچاری خفت کی ماری اٹھی، استقبال کیا۔ دونوں نے گلے سے لگایا، مسند پر جا بیٹھیں۔\n\nملکہ بڑی مقرر، خوش بیاں تھی؛ انجمن آرا نِموہی بے زباں تھی؛ سلسلۂ کلام بہ دل داریِ تمام کھولا کہ ہماری جانب اور گمان نہ لانا، ہم بہر حال شریکِ بشاشت، مونسِ رنج و ملال ہیں۔ توتا انجمن آرا کے سامنے آیا، پھر ماہ طلعت سے کہا: غریب نواز! اتنا زبان مبارک سے فرماؤ کہ آج سچا کون ہے، جھوٹے کے منہ میں کیا ہے؟ اور تو کیا کہوں، آپ کی کج بحثی کے باعث جان عالم کے ہاتھ یہ لوگ مہر جبیں، ماہ سیما آئے، گو اتنا چکر ہوا؛ میرے سبب آپ کو ندامت ہوئی، جھوٹے کے منہ میں گھی شکر ہوا۔\n\nانجمن آرا تو سیدھی، بھولی تھی؛ توتے سے بد مزہ ہوئی، فرمایا: دیوانے! کیا بیہودہ بکتا ہے! بے حکم خدا کسی سے کیا ہو سکتا ہے! پھر ماہ طلعت سے کہا: سنو میری جان! یہ جانور بے شعور، عقل سے دور، حیوانیت سے مجبور ہے۔ دنیا کا کارخانہ فسانہ ہے۔ رہا یہ حسن و خوبیِ عارض، عارضی شے ہے، اس پر کیا اِترانا ہے! یہ کیفیت، یہ جوبن، یہ سِن؛ چار دن کاہے ناپائیدار، اس کا کیا اعتبار! رنگِ چمنِ دنیا جاوداں نہیں۔ کون سی بہار ہے جسے دغدغۂ خزاں نہیں۔ حسن پر غرور بے جا ہے، سرورؔ یہ کہتا ہے، شعر:\n\nبہتا دریا ہے یہ حسن، اس میں ارے دھولے ہاتھ\n\nبے خبر اتنا ہے کیوں بر سر ساحل بیٹھا\n\nکُلُّ مَن عَلَیہا فانٍ وَیَبقی وَجہُ ربِّکَ ذُو الجَلالِ والاکرام۔\n\nنظر پڑا چمن دہر میں جو ہم کو مکاں\n\nہزار خوار ہوئی دیکھی بلبلِ نالاں\n\nہمارے زعم میں اس سا کوئی نہیں ناداں\n\nجو اپنے حسنِ دو روزہ پہ کچھ ہوا نازاں\n\nشکستہ رنگیِ گل شاہدِ چمن ہے یہاں\n\nکہ اس بہار کا انجام آخرش ہے خزاں\n\nگھمنڈ اس پہ، حماقت کی بس نشانی ہے\n\nمقام عبرت و حیرت سرائے فانی ہے\n\nآخرکار دونوں نے ماہ طلعت کو شیریں بیانی اور اپنی خوش زبانی سے شگفتہ خاطر، خنداں رو کیا، معاملہ یک سو کیا۔ دو چار گھڑی ہنسی خوشی، اختلاط رہا؛ مگر توتا نوک چوک، چھیڑ چھاڑ کیے گیا۔ پھر رخصت ہوئیں۔ اس نے حاضر ہونے کا وعدہ کیا۔ واقعی جنھیں اللہ حسنِ بے مثال، مرتبۂ جاہ و جلال دیتا ہے؛ ان لوگوں کا دلِ صفا منزل غبارِ کلفت اورعجب و نَخوت سے صاف اور مِرآتِ سینہ زنگِ حسد و کینہ سے شفاف ہوتا ہے۔ القصّہ، باہم بے رنج و الم رہنے لگے۔ شب شاد، ہر روز خنداں، خرم و فرحاں بسر کرنے لگے۔ نئے سر سے وہ اُجڑا ہوا شہر بسا۔ بِنائے ظلم و ستم منہدم ہوئی۔ مُروّج عدل و دَاد ہوا۔ دونا سابق سے حال میں آباد ہوا۔ خزاں چمن سے دور ہوئی۔ بلبلِ نالاں چہچہے کرنے لگی، مسرور ہوئی۔\n\nایک روز جان عالم نے تمام خلقت کو دَرِ شہر پناہ پر طلب کر کے، وہ بکری کا بچہ دکھا، نمک حرامیاں اُس کی سنا، جلاد سے حکم کیا: اس کے اعضا اعضا سے جدا، بے دست و پا کر کے، زاغ و زغن کو، گوشت کی بوٹیاں اُڑا کر، کھلا دو۔ شکاری کتوں کو، لہو اس کا بہا کر، چٹا دو۔ بہ مجرّد فرمان اسی آن بند بند تیغِ تیز سے جدا ہو گیا۔ ایک عالم یہ سانحہ سن کے حیرت کا مبتلا ہو گیا۔ سب نے اس بے دین پر لعنت و نفریں کی۔ جان عالم نے دولت سرا کی راہ لی۔ اسی روز فیروز شاہ نے تاج و تخت بیٹے کو حوالے کیا، خود گوشۂ تنہائی لیا۔ بادشاہ شب اپنی عبادت اور بیداری میں سحر کرتا تھا؛ وہ تو قائمُ الّیل، صائمُ النہار مشہور ہوا۔ جان عالم ہر روز تخت پر جلوہ افروز ہو، عدل کی داد دے کے، شب کو پری پیکروں میں بسر کرتا تھا؛ یہ عادل و سخی، رحیم و شجاع یکتائے روزگار مشہور ہوا۔ ذکر دونوں کا تا قیامِ قیامت صفحۂ روزگار، ورقِ لیل و نہار پر اور بَرزَبانِ یگانہ و بیگانہ رہا۔ بات باقی رہ گئی، نہیں تو دورِ دوراں میں کس کا دَور رہا، کس کا زمانہ رہا!\n\nجس طرح جان عالم کے مطلب ملے، اسی طرح کل عالم کی مراد اور تمنائے دلی اللہ دے۔ علی الخصوص سامعین، ناظرین، راقم و مولف کی خواہش و آرزو بہ تصدّقِ رسولِ عَربی بَر آئے۔ بِحُرمَةِ النِبیّ وَآلِہِ الأمجاد بالنُونِ وَالصَاد۔ بہ اسباب ظاہر یہ فسانہ ہے، نادرِ زمانہ ہے، مضمونِ چکیدۂ دل و تحریرِ خامہ ہے؛ اگر دیدۂ غور و نظرِ تامل سے مُلاحظہ کرو تو حقیقت میں کارنامہ ہے۔ مولف:\n\nگلزار کو جہاں کے ہم نے بہ غور دیکھا\n\nکیابے ثبات، ہے ہے! دلچسپ یہ مکاں ہے\n\nاک رنگ پر نہیں ہے رنگین اس کا نقشہ\n\nہے فصلِ گل کبھی تو گہ موسمِ خزاں ہے\n\nروتی چمن میں شبنم، ہنسنے پہ ہے گلوں کے\n\nنالے سے بلبلوں کے جو گل ہے، شادماں ہے\n\nدیکھا بہ چشمِ عبرت ہم نے طلسمِ دنیا\n\nرشکِ حباب شبنم واللّہ بے گماں ہے\n\nپابند یاں نہ ہوئے، جس کو کہ عقل کچھ ہو\n\nدُنیا ہے نام جس کا، وہ قحبۂ جہاں ہے\n\nآتی صدا جرس سے کانوں میں ہے یہ پیہم\n\nغافل عبث ہو، رَو میں یاروں کا کارواں ہے\n\nازبہرِ پنجتن تو سن لے دعا یہ خالق!\n\nجو ہے نہاں جہاں میں، تجھ پر وہ سب عیاں ہے\n\nاہلِ دَوَل کا مجھ کو محتاج تو نہ کرنا\n\nاحسان کا بار اُن کے مجھ کو بہت گراں ہے\n\nکعبہ بھی اور مدینہ دکھلا سرورؔ کو تو\n\nوہ مدعائے دل ہے، یہ آرزوئے جاں ہے\n\nتاریخ مولف:\n\nجس نے کہ سنا اس کو، یہ کہنے لگا دل میں\n\nیارب یہ فسانہ ہے یا سحر ہے بابِل کا\n\nتاریخ سرورؔ اِس کی منظور ہوئی جس دم\n\nبے ساختہ جی بولا ’’نشتر ہے رگِ دل کا‘‘\n\nجس دم یہ کہانی تمام ہوئی، بہ طریقِ اصلاح جناب قبلہ و کعبہ آغا نوازش حسین خاں صاحب، عرف مرزا خانی، متخلص بہ نوازش کی نظرِ فیض اثر سے گزری؛ اس تاریخ سے زینت بخشی: قطعۂ استاد:\n\nبرای خاطرِ یاران و احباب\n\nبجستم سالِ تاریخش نوازشؔ\n\nسُرورؔ ایں قصہ را چوں کرد ایجاد\n\nفلک ایں ’’گلستانِ بے خزاں داد‘‘\n\nیہ فسانہ رائج جو ہوا؛ بندے کے دوست تھے نیک سیرت، ستودہ صفات، خجستہ افعال، اکملِ ہر کمال، تعلّقِ دہر سے مِثلِ سرو آزاد لالہ دُرگا پرشاد۔ ہنر بیں، عیب پوش، تخلّص مد ہوش۔ خمِ محبت سے مے الفت جوش میں آئی، یہ تاریخِ مستانہ زیبِ فسانہ فرمائی، مدہوشؔ:\n\nکہا فسانہ جو یہ عجائب سرورِؔ دل خستہ و حزیں نے\n\nکہ جس کی تاثیر سے بیاں کی، ہر ایک دل بے قرار دیکھا\n\nجہاں پہ کچھ گُل کی گفتگو ہے، وہاں پہ کچھ اور رنگ و بو ہے\n\nجہاں خزاں کی خلش ہے اس میں، وہاں پہ کیا کیا نہ خار دیکھا\n\nجہاں کیا غم نے ہے جگر خوں، نظر پڑا واں شفق کا عالم\n\nکہیں جو ہے داغ دل کا پھولا، تو اس جگہ لالہ زار دیکھا\n\nکہیں جو چشمے کا ماجرا ہے، دکھائی وہ آب و تاب اس نے\n\nکہ چشمۂ چشم سے ہر اک کے رواں ہوا چشمہ سار دیکھا\n\nکہیں جو دریا کا ذکر آیا، تو کشتیِ دل ہے نذرِ طوفاں\n\nجو کوہ نے سر کہیں اٹھایا، تو جان کو سنگسار دیکھا\n\nہوا ہے جس جس جگہ پر اس میں بیانِ سحر و طِلسم و جادو\n\nتو قدرتِ حق سے اس مکاں پر نئی طرح کا حصار دیکھا\n\nجو قید میں دیو کی پھنسا ہے کسی جگہ پر کوئی پری رو\n\nتو کیا نہ سامان چھوٹنے کا وہاں پہ بر روئے کار دیکھا\n\nجہاں لکھا اس فسانہ پیرا نے حال کچھ رنج و بے کسی کا\n\nوہاں پہ ہمدم نہ کوئی پایا، نہ کوئی مونس، نہ یار دیکھا\n\nکسی جگہ پر جو جوگ آسن کا جوگیوں کے بیاں ہے اس میں\n\nجو خوب چھانا، تو اس جگہ کچھ نہ غیر مُشتِ غُبار دیکھا\n\nشکستگیِ بیاں کے آگے تو زرد ہے رنگ زعفراں کو\n\nجہاں ہے کچھ روپ بستگی کا، وہاں پہ دل کو فشار دیکھا\n\n کہیں جو آمد کی یار کی کچھ خبر کا چرچا کیا ہے اُس نے\n\nتو دیدہ ہر اہل دید کا واں پہ وقفِ صد انتظار دیکھا\n\nجو وصل کی شب کا کچھ بیاں ہے، تو جمع ہے خاطرِ پریشاں\n\nجو روزِ ہجراں کا غم لکھا ہے، تو دل کو کیا انتشار دیکھا\n\nجو بزم کا کچھ بیاں کیا ہے، تو کوئی مجلس نہ دیکھی ایسی\n\nجہاں پہ کچھ رزم کا بیاں ہے، ہر اک کو اسفندیار دیکھا\n\nجہاں سخاوت کا کچھ بیاں ہے، نہ پوچھ احوال واں کا مجھ سے\n\nکہ حاصلِ بحر و کانِ عالم کو ایک دم میں نثار دیکھا\n\nکہیں کھنچی ہے جو تیغِ ابرو، تو ہو گئے دل کے ٹکڑے ٹکڑے\n\nکہیں جو تیرِ نگاہ چھوٹا، تو صاف سینے کے پار دیکھا\n\nخرابیِ حالِ عاشق ایسی، کہ جس پہ رونا فلک کو آوے\n\nکہیں یہ معشوق کی ہے خوبی کہ ملک تک زرنگار دیکھا\n\nنہ پوچھو حال اس فسانے کا تم کہ ڈھنگ کیا کیا بھرے ہیں اس میں\n\nجو حسن دیکھا تو زور دیکھا، جو عشق دیکھا تو زار دیکھا\n\nہوئی جو مد ہوشؔ کو یہ خواہش کہ سالِ تاریخ اِس کا لکھیے\n\nتو کھینچ کر ’’آہ‘‘ دل سے نکلا ’’خزاں سے رنگِ بہار دیکھا‘‘\n\n٭٭٭\n\nباز کتاب سازی: اعجاز عبید\n\n۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\n\nحاشیہ\n\n1 محققین سرور سلطانی کو شمشیر خانی کا ترجمہ تسلیم نہیں کرتے۔ (Yethrosh)", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%92%D8%8C_%D8%AE%D8%A7%D8%AA%D9%85%DB%81_%D8%A8%D9%90%D8%A7%D9%84%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "فسانۂ عجائب/بیانِ جلسۂ شادی اُس وطن آوارہ کا", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "بیانِ جلسۂ شادی اُس وطن آوارہ کا انکار کرنا اُس مہر سیما، ماہ پارہ کا۔ ماں کا سمجھانا، اس کا شرما کے سر جھکانا۔ پھر سامان برات کا، مزہ لوٹنا پہلی رات کا\n\nکدھر ہے تو اے ساقیِ گُل عِذار\n\nمرا، غم سے، دل ہو گیا خار خار\n\nپلا دے کوئی ساغرِ لالہ رنگ\n\nجوانی کی لائے جو دل میں ترنگ\n\nکہے کتنے صحرا نَوَردی کے رنج\n\nبھلا کچھ تو شادی کا ہوں نغمہ سنج\n\nسُرود سرایانِ بزمِ شادی و نغمہ پَردازانِ محفلِ عَروسی و دامادی، انجمنِ بیاں میں یہ زَمزَمَہ سَنْج ہوئے ہیں کہ جب جلسۂ عیش و طَرب سے فرصت سب کو ہوئی؛ ایک روز بادشاہِ جَم جاہ محل سرائے خاص میں جلوہ بخش تھا؛ بی بی سے خَلوت میں فرمایا کہ حُقوق اور اِحسان جیسے جان عالم کے ہمارے ذِمۂ ہمت پر ہیں، تمام عالَم جانتا ہے اور یہ بھی نزدیک و دور مشہور ہے کہ عشقِ انجمن آرا میں نا دیدَہ مبتلا ہو، سلطنت کھُو، یہاں آیا ہے اور کس مردانگی سے جادوگر کو مار، اُس کے پھندے سے چھُڑایا ہے۔ اِس کے قطعِ نظر، صورت، سیرت، خُلْق، مُروّت، ہمّت، جُرأت؛ یہ جتنی صفتیں ہیں، سب خالق نے عطا کی ہیں۔ حسب: عالی، نَسَب: والا۔ حُسن میں مہر و ماہ سے نِرالا۔ مُناسب کیا، ضَرورت ہے کہ جلد سامانِ شادی درست کر، مُنْعَقِد کرو۔ خدا جانے آج کیا ہے، کل کیا ہو! کارِ اِمروز را بہ فردا مَگُذار۔ اُس نے عرض کی: جو رائے اَقْدَس میں گُزرا، یہی میراعین مطلب تھا۔ بادشاہ نے فرمایا: آج انجمن آرا سے یہ مُقَدَّمہ اِظہار کر کے، جوابِ باصَواب حاصل کر لو؛ کل سے سَرگَرمِ سامانِ شادی ہو۔\n\nیہ کہہ کے بادشاہ دیوانِ عام میں رَونق اَفزا ہوا۔ انجمن آرا کو ماں نے طلب کیا اور دو چار مُغلانِیاں، آتو سِن رَسیدَہ، محلداریں جہاں دیدہ، قدیم جو تھیں، انھیں بُلایا۔ شہزادی کی جلیسیں بھی یہ خبرسُن کر بے بُلائے آئیں۔ اُس نے پہلے بیٹی کو گلے سے لگایا، پِیار کیا، پھر کہا: سُنو پِیاری! دُنیا کے کارخانے میں یہ رَسم ہے کہ بادشاہ کے گھر سے فقیر تک، بیٹی کسی کی، ماں باپ پاس ہمیشہ نہیں رہتی۔ اور غَیرت دار کے گھر میں لڑکی جوان، ہر وقت رنج کا نشان، خِفَّت کا سامان ہے۔ اور خُدا ورسول کا بھی حکم یہی ہے کہ جوان کو بِٹھا نہ رکّھو، شادی کر دو۔ وَرائے اِن باتوں کے ایک شخص نے تمھارے واسطے گھربار چھوڑا۔ سلطنت سے ہاتھ اُٹھا، کسی آفت سے منہ نہ موڑا۔ جی پر کھیل گیا، کیا کیا بلائیں جھیل گیا۔ سر کھپی اور جان جوکھوں کی؛ جب تم نے ہم کو دیکھا، ہم نے تمھاری صورت دیکھی۔ شکل میں پری شَمائِل، فَرخُندَہ خٗو، فرشتہ خَصائِل۔ تمام شہر عاشق زار ہے۔ چھوٹا بڑا اُس پر فریفتہ و نثار ہے۔ ہر چند، تم پارۂِ جگر، نورِ نَظَر ہو؛ مگر واری، جو انصاف ہاتھ سے نہ دو تو تم میں اُس میں بڑا فرق ہے! تمھیں اللّہ نے عورت بنایا ہے، وہ مردِ میدانِ نَبَرد ہے۔ رنڈی، مرد کا بہت تَفاوُت مشہور ہے۔ آگاہ نادان و ذی شَعور ہے۔ اِلّا، جانی! ہمارا کہنا، آرسی مُصحف میں نظر پڑے گا۔ دیکھیے گا، جو دکھائی دے گا۔\n\nانجمن آرا نے یہ سُن کر سر جھکا لیا، رونے لگی۔ کہا: حضرت! صورت شکل کا مذکور یہاں کیا ضرور تھا۔ یہ اللّہ کی قدرت ہے: کسی کو بنایا، کسی کو بگاڑا۔ بہت سے لٗولے لنگڑے، کانے کھُدرے، گٗونگے بہرے ہیں؛ وہ، چاہیے نہ جِییں۔ کہیں نور ہے، کہیں نار ہے؛گُل کے پہلو میں خار ہے؛ یہ سب صَنعتِ پروردگار ہے، دنیا میں کون سی شے بے کار ہے۔ بلکہ بُروں سے اچھوں کی تمیز ہے؛ یوں تو بادشاہِ مصر، غلامِ عزیز ہے۔ اور جو بارِ احساں سے دب کر فرماتی ہو کہ ایسا کرو تو دُنیا عالمِ اسباب ہے؛ ایک کا کام دوسرے سے ہوتا آیا ہے۔ یہ شخص نہ آتا اور میرے مُقدَّر میں رہائی ہوتی؛ کچھ ایسا سامان نکل آتا اور کوئی اللہ کا ولی پیدا ہو جاتا، میری بند چھڑاتا۔\n\nلِمُوَلِّفہ:\n\nنیک و بدِ زمانہ نہیں اِختیار میں\n\nہوتا وہی سُرورؔ ہے، جو سَر نَوشت ہو\n\nمیری قسمت کم بخت بُری ہے؛ ایک مصیبت سے چھڑا، دوسری آفت میں پھنسایا۔ ہر دم کے طعنے اپنے بیگانے کے سُننے پڑے کہ یہ آیا، مجھے قید سے چھُڑایا۔ خُدا جانے وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے! اپنے مُنہ سے میاں مٹھو، شہ زادہ ہونے کا سب میں غُل مچایا ہے۔ مَیں آپ کی لونڈی ہوں، بہرصورت فرمانبردار؛ اگر کنویں میں جھونک دو، چاہ سے گر پڑوں، اُف نہ کروں؛ مگر جو آپ اس کی صورت شکل پر رِیجھ، محنت اور مشقت کو سمجھ بوجھ یہ مُقَدَّمہ کیا چاہتی ہیں تو میں راضی نہیں۔ اگر مزدوری کی اُجرت، خدمت کا انعام منظور ہے؛ کہ بادشاہوں کے نزدیک احسان کسی کا اٹھانا، بہت دور ہے؛ تو روپیہ، اشرَفی، جاگیر عنایت کرو کہ اُس کا بھلا ہو، کام ہو، آپ کا نام ہو۔\n\nیہ فقرہ سن کے وہ بہت ہنسی، کہا: شاباش بچّی! اُس کی جاں فِشانی کی خوب قدر دانی کی! واقعی وہ بے چارہ تمھارے ملک کا یا روپے پیسے کا محتاج ہے! اری نادان! وہ تو خود صاحبِ تخت و تاج ہے۔ اِس بات پر ہم سِنوں نے قہقہہ مارا، کہا: حُضور! بس اِن کا یہ شعور ہے۔ اِن کے نزدیک وہ شاہ زادہ نہیں، مزدور ہے۔ انجمن آرا نے جھنجھلا کے کہا: روپیہ وہ شے ہے اور مُلک وہ چیز ہے کہ اِس کے واسطے اِسفَندِیار سا روئیں تن مارا گیا، فریدون و افراسیاب کا سر اتارا گیا۔\n\nوہ جو دائی، ددا، آتو، مُغلانیاں پُرانی پُرانیاں حاضر تھیں، بولیں: قُربان جائیں، واری، ماں باپ کی عُدول حکمی میں خدا و رسول کی نافرمانی ہوتی ہے؛ تمھیں انکار مناسب نہیں۔ اور خُدا نخواستہ یہ کیا تمھاری دشمن ہیں، جو راہ چلتے کے حوالے، کسی کے کہے سُنے سے بے دیکھے بھالے کر دیں گی۔ آدمی روز بہ روز عقل و شعور سیکھتا ہے۔ نشیب و فراز، بات کا محل موقع سوچتا سمجھتا ہے۔ تم، سلامتی سے، ابھی تک وہی بچپنے کی باتیں کرتی ہو۔ کھیلنے کودنے کے سِوا قدم نہیں دھرتی ہو۔\n\nانجمن آرا نے جواب نہ دیا، سر زانو پر رکھ لیا؛ لیکن وہ جو امیر زادیاں اُس کی ہم نشیں، جلیس تھیں؛ جن سے راتوں کو اِسی دن کے روز مشورے رہتے تھے، بولیں: ہے ہے، لوگو تمھیں کیا ہوا ہے! آتو جی صاحب! بے ادَبی معاف، آپ نے دھوپ میں چونڈا سفید کیا ہے۔ خیر ہے صاحبو! دلھن سے صاف صاف کہوایا چاہتی ہو! دُنیا کی شرم و حیا نِگوڑی کیا اُڑ گئی! اتنا تو سمجھو، بھلا ماں باپ کا فرمان کسی نے ٹالا ہے، جو یہ نہ مانیں گی۔ الخاموشی نیم رضا۔ بوڑھے بڑے کے روٗ بہ روٗ اور کہنا کیا۔ یہ سن کے آتو قدیم جس نے انجمن آرا کو ہاتھوں پر کھلایا تھا، پڑھایا لکھایا تھا، بِسمِ اللّہ کہہ کے اٹھی، انجمن آرا کی ماں کو نَذر دی، مبارک باد کہہ کے ہنسنے لگی۔ محل میں قہاقے مچے، شہ زادی بناوٹ سے رونے لگی۔ نواب ناظِر، بیگم کی نذر لے کر بادشاہ کے حضور میں حاضر ہوا۔ نذر دی، خِلعَت مَرحَمَت ہوا۔ یہاں تو ارکانِ سلطنت اسی دن کے روز منتظر رہتے تھے؛ یہ مژدۂ فرحت افزا دریافت کر کے اٹھے، بہ مَراتب نذریں گزریں۔ توپ خانوں میں شَلَّک کا حکم پہنچا۔ نوبت خانوں میں شادیانے بجنے لگے۔ تمام شہر آگاہ ہوا کہ اب بیاہ ہوا۔ مبارک سلامت کی صدا زمین و آسماں سے پیدا ہوئی۔ شعر:\n\nفلک پر یہ مبارک باد ہے اب کس کے ملنے کی\n\nیہ ایسا کون بختاور ہے، جس کا بخت جاگا ہے\n\nبادشاہ نے وزیرِ اعظم سے ارشاد کیا: جان عالم یہاں مسافِرانہ وارِد ہے؛ تم اُموراتِ محل میں مُستَعِد رہو، ہم اس کا سامان سر انجام کریں۔ وزیر آداب بجا لایا؛ خلعتِ فاخرہ ملا، ہاتھی، پالکی سے سرفراز ہوا۔ جان عالم کا یہ نقشہ تھا: چہرے پر بَشاشَت سے سُرخی، باچھیں تا بُنا گوش کھلیں، فرحت کے باعث بندِ قبا ٹوٹے جاتے تھے، پھولے نہ سماتے تھے؛ مگر شرم کے باعِث آپ سر نہ اٹھاتے تھے۔\n\nبادشاہ نے رَمّال، نجومی، پنڈت، جفرداں؛ جو جو علمِ ہیئت اور ہندسہ اور نجوم میں طاق، شُہرہ آفاق تھے؛ طلب کیے اور ساعتِ سعید کا سوال کیا۔ کسی نے قُرعہ پھینکا، زائچہ کھینچا، شکلیں لکھیں۔ کسی نے پوتھی کھولی۔ کوئی حرفِ مُفرد لکھ کر حساب کرنے لگا۔ کوئی تُلا، بِرچھک، دھَن، مَکَر، کُمبھ، مین، میکھ، بِرَکھ، مِتھُن، کَرک، سِنگھ، کَنِّیاں گن کر بچار کرنے لگا۔ کوئی مُشتری، مریخ، شمس، زُہرہ، عطارد، قمر، زحل کا حال مع گردشِ بُرج کہہ کے؛ حمل، ثور، جوزا، سرطان، اسد، سنبلہ، قوس، عقرب، جدی، دلو، حوت، میزان کی میزان دے کر شمار کرنے لگا۔ کہا: بعد مدت قمر اور مشتری کا، بہ طرزِ خلاف، حمل میں قِران ہے؛ اس ہفتے کا دن رات سَعدِ اکبر ہے اور بِالاِتفاق ایک روز مقرر کیا۔ حضور سے بہ قدرِ علم و کمال، خلعت اور انعام عنایت ہوا اور بعد جلسۂ شادی، بہ امید دیگر و امدادِ وافِر امیدوار کیا۔\n\nالقصہ بہ مَوجِبِ اَحکامِ اختر شَناسانِ بلند بیں، فلک سیر، ماضی مستقبل کے حال داں، باریک خیال و مُنجِّمان صدر نشینِ مسندِ کُنِشت و دَیر، حکم روایانِ خوش فال؛ مانجھے کا جوڑا دلھن کے گھر سے چلا۔ مزدور سے تا فِیل نشیں، زن و مرد فرد فرد با لباسِ رنگیں۔ پُکھراج کی کشتیوں میں زعفرانی جوڑے۔ سنہرے خوانوں میں پینڈیاں: مقوّی، مفرّح، ذائقہ ٹپکتا، خوان تک بسا۔ اور دودھ کے واسطے اشرفیوں کے گیارہ توڑے، طلائی چوکی، جواہر جڑا زمرد نگار کٹورا بٹنا ملنے کا۔ کنگنا بہ از عقد ثریا، دُرّ یکتا بڑا بڑا۔ لنگی ملتان کی تھی، بیل بوٹے میں گلستاں کی تھی۔ بٹنا اور تیل بے میل، جو عطر کشمیر پر خندہ زن ہو، معطر دماغِ انجمن ہو۔ کنٹروں میں عطر سہاگ، مہک پری ایجاد نصیر الدین حیدری، ارگجۂ محمد شاہی۔ فتنے کی بو چار سو۔ زعفران کا سا تختہ کھلا، کوسوں تک خوان سے خوان ملا۔ نوبت نشان۔ گھوڑوں پر شہنا نواز، نقّارچی جوان جوان۔ سکھپال اور چنڈولوں میں زنانی سواریاں، ان کے بناؤ کی تیاریاں۔ کہاریاں پری چھم، برقِ درخشاں کا عالم، باہم قدم قدم۔\n\nاس سامان سے وہ سب مانجھا لے کے، در دولت نوشاہ پر جو بس گئے؛ شہر کے کوچہ و بازار بس گئے۔ وہاں دولھا، یہاں دلھن نے مانجھے کے جوڑے پہنے، مبارک سلامت سب لگے کہنے۔ منادی نے ندا کی: جو سفید پوش نظر آئے گا، اپنے خون سے سرخ ہو گا، یعنی گردن مارا جائے گا۔ بادشاہ نے خود ملبوس خاص رنگین زیب جسم کیا، رنگ کھیلنے لگا۔ تمام خلقت ہولی کی کیفیت بھولی۔ شہر میں شہاب اور زعفران کے سرخ و زرد نالے بہے۔ گلیوں میں عبیر، گلال کے ٹیلے ٹیکرے رہے۔ کوچہ ہر بازار کا زعفراں زارِ کشمیر تھا۔ ایک رنگ میں ڈوبا امیر و فقیر تھا۔\n\nپھر بہ تاکید تمام خاص و عام کو حکم ہوا کہ آج سے چوتھی تک سوائے اہل حِرفہ اپنے اُمورِ ضروری موقوف کر، گھروں میں ناچ دیکھو، جشن کرو۔ جو کچھ احتیاج ہو، سرکار سے لو۔ اور ہر رئیسِ محلہ، سردارِ قوم سے فرمایا: جو جو تم سے مُتعلق ہوں اُن کی فرد درست کر، حُضور میں گزرا نو، سب کو ہمارا مہمان جانو۔ اُن کے کھانے پینے کا سامان، خواہ ہندو ہو یا مسلمان، حُضور سے ملے گا۔ اور اربابِ نشاط کے داروغہ کو احکام مِلا: جس کی جیسی لِیاقت ہو، یا جس کا جو شائق ہو، بہ شرطے کہ اُس کے لائق ہو؛ بہ رضا مندیِ طرفین، وہ ویسا طائِفہ وہاں بھیج دو۔\n\nدکانداروں کو ارشاد ہوا: دن رات دکانیں کھلی رہیں؛ قریب قریب ناچ ہو۔ ان کے کھانے کا صَرف، تصرّفی باورچی خانے میں ٹھہرا۔ ہندو کو: پوری، کچوری، مٹھائی، اچار۔ مسلمان کو: پُلاؤ، قلیہ، زردہ، قُورمہ؛ ایک آبی، دوسری شیر مال؛ فِرنی کا خوانچہ؛ تشتری کباب کی، بہت آب و تاب کی۔ شہر میں گلی گلی عیش و طرب، خوشی میں چھوٹے بڑے سب، نہ کسی کو کسی سے غرض نہ مطلب۔ پکا پکایا کھانا کھانا، دُکانوں میں بیٹھے ہر وقت ناچ دیکھنا، سرکار کا کام بنانا، بغلیں بجانا۔ بیت:\n\nبہشت آنجا کہ آزارے نباشد\n\nکسے را با کسے کارے نباشد\n\nاور اِس سے پہلے بہ تعیُّنِ روزِ شادی؛ نامے بادشاہوں کو، فرمان راجا بابو کو، صوبے دار وں کو شُقّے، عاملوں کو پروانے جا چکے تھے۔ دو چار منزل گرد پیش، سرِراہ دو دو کُوس کے فاصلے سے باورچی اور حلوائی کھانا، مٹھائی گرماگرم تیار کیے بیٹھے رہتے تھے کہ اس عرصے میں جو مسافر گزرے یا طلبیدۂ بادشاہ آئے؛ بھوکا نہ جائے۔ اور مُژدۂ شادی راہ چلتوں کو سُنا، شہر میں بھیج دیتے تھے کہ یہ جلسہ قابلِ دید ہے۔\n\nغرض کہ دو منزل، چار منزل بلکہ دس بیس دن کی راہ سے، تماش بین بے فِکرے لکھنؤ والوں سے، سیر دیکھنے کو آئے اور ساچق کا دن آیا۔ اگر سب سامان بیان کروں، کہانی ناتمام رہ جائے؛ مگر وہی مشتے نمونہ از خروارے۔ پچاس ہزار چوگھڑے: رُپہلے، سنہرے، جواہر نگار، نُقل اور میوے سے لبالب۔ لاکھ خوان: بہ حُسن و خوبیِ بِسیار، پُر تکلف سب؛ پچاس ہزار میں مِصری کے کوزے، باقی میں میوہ۔ اور قند کی چھبڑیاں مُرصع کاری کی، بڑی تیاری کی۔ نُقرئی دہی کی مٹکی، گلے میں مچھلیاں ناڑے سے بندھیں۔ آرائش کے تخت بے حساب، اس روش کے جن کے دیکھنے سے صناعی صانِعِ حقیقی کی یاد آئے۔ گُل بوٹا اس سج دھج کا جو نقل کو اصل کر دکھائے۔ آتش بازی کے ٹوکرے قطار در قطار، بے پایاں۔ سرو، جھاڑ، درختِ میوہ دار ہزار در ہزار، لا بیان۔ بہت تُزک، بڑا سامان۔ آرائش کے گلدستوں سے چمنِ رواں ساتھ تھا۔ سرِدست یہ باغ ہاتھوں ہاتھ تھا۔\n\nاس انداز سے ساچق گئی۔ منہدی کی شب ہوئی۔ وزیرِ درست تدبیر نے خوب تیاری کی۔ نارنول کی منہدی ہزارہا من، بو باس میں دُلھن پن۔ وہ رنگین جس کی دید سے دستِ نظارہ مِثل پنجۂ مرجاں رشکِ عقیقِ یمن ہو جائے، سُرخ رو ہمہ تن ہو جائے۔ ایک بار لگائے، لال ہو؛ تمام عمر کف افسوس ملتا رہے۔ نہ ہاتھ لگنے کا ایسا ملال ہو۔ بہ ظاہر سرسبز، ہری؛ جگر میں سُرخی کوٹ کوٹ کے بھری۔ جڑاؤ سینیوں میں حِنا، شمع مُومی و کا فوری اُس پر روشن۔ ملیدے کے خوانوں پر جوبن۔ آرائش اور آتش بازی ہمراہ۔ سب کے لب پر واہ واہ۔ بہت چمک دمک سے منہدی لایا اور یہ رنگ ڈھنگ حُسنِ تدبیر سے دکھایا کہ تمام ہم چشموں میں سُرخ رو ہوا۔\n\nبَرات کی رات کا حال سُنو: دیوانِ خاص سے دلھن کا مکان چار پانچ کوس تھا۔ یہاں سے وہاں تک دونوں طرف بلور کے جھاڑ آدمی کے قد سے دوچند، سو سو بتی کے سر بلند، پانچ چھے گز کے فاصلے سے روشن۔ اور دس گز جُدا نُقرئی، طلائی پنج شاخہ جلتا۔ اُن سے کچھ دور ہزاروں مزدور، ٹھاٹھروں پر روشنی کرتے۔ جھاڑ رشکِ سروِ چراغاں، چمکتے۔ جابہ جا تِر پولِیے اور نوبت خانے بنے؛ کتھک اتھک اُن پر ناچتے، نوبت بجتی، مُغرق شامیانے تنے۔ اس کے قریب دورویہ آتش بازی گڑی، خلقتِ خدا تماشا دیکھنے کو کھڑی۔ روشنی یہ روشن تھی کہ چیونٹی سوار کو بہ ہیئتِ مجموعی مفصل معلوم ہوتی تھی۔\n\nغرض نوشہ سوار ہوا۔ شور و غُل یک بار ہوا۔ کسی نے کہا: سواری جلد لانا! کوئی پٹکا، شملہ سنبھال خدمت گار کو پُکارا کہ ہاتھی بٹھِانا! پلٹنیں آگے بڑھیں، عربی باجے بجنے لگے۔ کُوس و کور گرجنے لگے۔ نوبت و نشان، ماہی مراتِب، جلوس کا سامان۔ سواروں کے رِسالے دو رویہ باگیں سنبھالے۔ خود اسپے، اِکے، بیش قرار درما ہے دار۔ پھر ہزار بارہ سے تختِ رواں، تمام تمامی سے منڈھا۔ اُن پر رنڈیاں جوان جوان، شادی مبارک گاتیں؛ سج دھج دِکھا، طبلے بھڑبھڑاتیں۔ بہت سے سانڈنی سوار تیز رفتار۔ خاص بردار: خاصِیاں کندھوں پر، دولھا کے برابر۔ اُن کے قریب، برچھے والے، بان دار، چُوبدار۔ روشن چوکی والے: شہنائیں پُر تکُلف، سُر نرالے۔ ہزاروں غلام زریں کمر، سنہری رُپہلی انگیٹھیاں ہاتھوں میں؛ جھُولی میں عنبرِ سارا، عود غرقی بھرا، سارا شہر مہکتا۔ گرد ہزارہا پنج شاخہ پھُنکتا، سونے چاندی کی دستیاں روشن، مُہتمموں پر جوبن۔ قُورمیں چالیس بادشاہ پُرشوکت و جاہ۔ پیچھے بارہ ہزار ہاتھیوں پر امیر وزیر، ارکانِ سلطنت، ترقی خواہ۔ خواصی میں انجمن آرا کا بھائی، جان عالم کا سالا بجائے شہ بالا۔ آہستہ آہستہ، قدم قدم خوش و خُرم چلے۔ کوچہ و بازار بو باس سے معطر تھا۔ چرخِ گرداں دیدۂ دیدبانِ چارُم سے تماشائی تھا، یہ سامان تھا۔ دشت کا وحش و طیر حیران تھا۔\n\nپہر رات رہے دُلھن کے دروازے پر پہنچے۔ ماما، اصیلیں دوڑیں؛ پانی کا تشت ہاتھی کے پاؤں تلے پھینکا۔ کسی نے کچھ اور ٹُوٹکا کیا۔ دولھا اتر کر مجلس میں داخل ہوا۔ بارہ سے طائفہ رنڈیوں کا؛ سوائے بھانڈ، بھگتیے، ہیجڑے، زنانے، کشمیری قوال، بین کار، ربابیے، سرودِیے کے؛ حاضر تھا۔ ناچ ہونے لگا۔ قریبِ صُبح قاضی طلب ہوا۔ بہ ساعتِ معین کئی سلطنت کے خِراج پر مہر بندھا۔ طالب و مطلوب کو سِلکِ ازدِواج میں مُنسلک کیا۔ مُبارک سلامت کا غُل مچا۔ میر سوزؔ:\n\nفلک، شب کتخدائی دیکھ اُس کی، سوزؔ! یوں بولا\n\nتجھے یہ رات، اے رشکِ مہِ انور مبارک ہو\n\nسب طائفے ساتھ کھڑے ہو، ایک سُر میں مبارک باد گانے لگے۔ حوصلے سے زیادہ انعام پانے لگے۔ دولھا زنانے میں طلب ہوا: وہاں رسمیں ہونے لگیں۔ وہ بھی عجب وقت تھا: آرسی مصحف رو بہ رو، محبوبِ دل خواہ دو بہ دو؛ سورۂ اِخلاص کھُلا، آئینہ رو نُمائی مزے لوٹتا، سلسلۂ محبت مُستحکم ہو رہا۔ ڈُومنیوں کا سِٹھنِیاں گانا، دولھا دُلھن کا شرمانا۔ کبھی ٹُونے، گاہ اچھے بنے سلُونے۔ ہمجولیوں کا پوچھنا: ٹُونا لگا؟ دولھا کا ہنس کے کہنا: عرصہ ہوا۔ کوئی دُلھن کی جُوتی، دولھا کے شانے میں چھُوا گئی۔ کوئی اُسی کا کاجل پارا ہوا لگا گئی۔ ہم سِنُوں کی چھیڑ چھاڑ، اُن کے جوبن کی بہار، فقط ململ اور شبنم کے دوپٹوں کی آڑ۔ جس دم یہ رسمیں ہو چکیں، نو بات کی نوبت آئی؛ اِس طرح چُنی کہ دیکھی نہ سُنی۔ میر حسن:\n\nوہ جب پاؤں پر کی اُٹھاتے اَڑا\n\nنہیں اور ہاں کا عجب غُل پڑا\n\nجس دم یہ رسمیں ہو چکیں؛ پھر ڈُومینوں نے پاہنی گائی، سب کی چھاتی بھر آئی۔ دُلھن سے رُخصت ہونے لگے، رو رو جی کھونے لگے۔ سواری تیار ہو کے دروازے پر آئی۔ دولھا نے سہرا سر سے لپیٹ دُلھن کو گود میں اُٹھایا؛ سب کا دل اُمنڈ آیا، شُور و غُل مچایا۔ دُنیا کے کارخانے قابلِ دید ہیں، بلکہ دید ہیں نہ شنید ہیں۔ شادی میں غم سلف سے توام ہے؛ مگر ثبات بجز ذاتِ باری کسی کو نہیں۔ مُقدماتِ جہانِ گُذراں خوابِ پریشاں ہیں، اس میں سب حیراں ہیں۔ مُؤلف:\n\nاک وضع پر نہیں ہے زمانے کا طَور، آہ\n\nمعلوم ہو گیا مجھے لیل و نہار سے\n\nغرض کہ دلھن کو سُکھپال میں سوار کیا۔ بادشاہ نے اسبابِ ضروری، سامانِ ظاہری کے سِوا، مُلک و سلطنت و خزانہ جہیز میں لکھ دیا۔ برات رُخصت ہوئی۔ وہ اِہتِمام، تجمّل، سواری کا سامان۔ ہر شخص خُرم و خنداں۔ جہیز کا آگے بڑھنا، لوگوں کا دولھا پر دُعائیں پڑھنا۔ نسیمِ سحر کا چلنا، شمع کا جھلمِلا جھِلمِلا کے جلنا۔ شہنا میں بھیرُوں، بِبھاس، اَلَیّا، للت، رام کلی کا پھونکنا۔ نقیب اور چوبداروں کا کوئل کی طرح کوکنا۔ نوبت کی ٹکور، جھانجھ کا جھانجھ سے شُور۔ جھُٹ پُٹا وقت، نور کا تڑکا۔ کڑکیتوں کا سو میل کڑکا۔ کچھ کچھ تاروں کی چمک۔ نقاروں کی صدا، دھونسے کی گُمک۔ چاند کے مُنہ پر سفیدی، دُلھن والوں کی یاس و نا اُمیدی۔ عطر کی ہر سو لپٹ، پھولوں کی مہک۔ سب کو نیند کا خُمار، کوئی پیادہ کوئی سوار۔ فرش باسی ہار پھولوں سے رشکِ صحنِ چمن؛ کہیں جھُول، کہیں شِکن۔ کسی جا پکھروٹے اور بیڑوں کے پتے کھُلے پڑے، کہیں لوگ حیران و ششدر کھڑے۔ مجلس کے فِراق میں، اہل محفل کے اِشتِیاق میں، شمع کی زاری، اشک باری۔ لگن میں پروانوں کی بے قراری، خاکساری۔ دولھا کے لوگوں کی خوش بشاش تیاری، دُلھن کے گھر میں نالہ و زاری۔ کوئی کہیں نیند کی جھونک میں پڑا، کوئی یہ سامان بہ چشمِ عبرت دیکھ، تاسُف میں کھڑا۔ شمع فانوس میں گُل۔ گُل، گُل گیر میں۔ زِیر انداز پر پروانوں کے پر، فرّاش فرش اُٹھانے کی تدبیر میں۔ بیٹھی ہوئی ہر ایک کی آواز؛ کہیں سوز، کہیں ساز۔ یہ وقت دیکھنے کے قابل ہوتا ہے، راہ چلتا بھی دیکھ کر روتا ہے۔ اِس کی لذت وہ جانے، جس کی نظر سے یہ ہنگامہ گزرا ہو۔ کسی کی برات دیکھی ہو، گو بیاہ نہ کیا ہو۔\n\nقصہ مختصر، دولھا شِگُفتہ خاطِر، خنداں۔ چہرے پر شباب کی چمک، عارِضِ تاباں سے حُسن کی بہار عیاں۔ ہاتھی پر سوار، گرد شاہ و شہریار۔ زرِ سُرخ و سفید نِثار ہوتا۔ سرِ چوک پہر بجے دیوانِ خاص میں داخل ہوا۔ اب گھر پہنچنے کی ریت رسم ہونے لگی۔ دولھا دلھن جب اُترے؛ بکرا ذبح کیا انگوٹھے میں لہو لگا دیا، پھر کھیر کھلائی۔ رسموں سے فرصت پائی۔ اب یہ منتظر ہوئے کہ شام ہو، وصل کا سر انجام ہو۔ اُس دن جان عالم کا گھبرانا، گھڑی گھڑی گھڑیالی سے دِن کی خبر منگوانا دیکھنے کی گوں تھا۔ بدحواس پھرتا تھا کہ کہیں جلد رات ہو، بے تکلفی کی ملاقات ہو۔ کبھی کہتا تھا: واہ، قسمت کی خوبی! پہر بھر کا عرصہ ہوا، گھڑی نہیں ڈوبی! ہُوش کہاں بجا تھا، مکرر پوچھتا: ابھی کیا بجا تھا؟ اُدھر انجمن آرا بھی جمائِیاں لیتی تھی، تکیے پر سر دھر دیتی تھی۔ جب یہ بھی تدبیر بن نہ آتی تھی؛ لوگوں کے چونکانے کو اونگھ جاتی تھی۔\n\nغرض کہ خدا خدا کر وہ دن تمام ہوا، نمود وقتِ شام ہوا۔ عروسِ شب نے مَقنَعۂ مہتاب سے روپوشی کی، مشتاقوں کو فرصت ملی گرم جُوشی کی۔ لوگ آنکھ بچا کر جا بہ جا کنارے ہوئے، دولھا دُلھن چھپر کھٹ میں ہم کِنار بے تابی کے مارے ہوئے۔ شادی کا روز، شباب کا عالم؛ مُشتاقوں کا بیٹھنا باہم۔ آنکھوں میں خُمار نیند کا، دل میں اِشتِیاق دید کا۔ عِطرِ سُہاگ اور فِتنے کی خوش بو۔ بُٹنے اور تِیل کی عجب میل کی مہک ہر سو۔ پھولوں سے پلنگ بسا، ادقچہ کسا۔ خود نشۂ عشق سے باختہ حواس، تمنائے دل پاس، نہ کچھ دغدغہ نہ وسواس۔ ہنگامۂ صحبت طرفین سے گرم؛ اُدھر شوق، اِدھر شرم۔ ایک طرف ولولۂ گرم جوشی، ایک سمت کثرتِ حیا سے مُنہ پر مُہرِ خموشی۔ بیان کرنا گُذشتہ حال کا، خیال لوگوں کی دیکھ بھال کا۔ یہ معمول ہے: اُس رُوز ہم سِنیں تاکتی جھانکتی ہیں؛ لیکن اِن ڈروں پر چُپ نہ رہے، آہستہ آہستہ دونوں نے دُکھڑے کہے۔\n\nجان عالم نے توتے سے ذِکر سُن کر در بہ در خراب خستہ ہو کر آنا، توتے کا بیٹھ رہنا، وزیر زادے کا صدمۂ فِراق سہنا؛ پھر طلسم کا پھنس جانا، جادوگرنی کا ستانا؛ بعد اِس کے نقشِ سلیمانی لینا، وہاں سے چل دینا؛ بہ کُشادہ پیشانی و خوش بیانی بیان کیا۔ مگر ملکہ مِہر نگار کی ملاقات، جگت رنگی کے حرف و حِکایات؛ اُس کی طبیعت کا آ جانا، اپنا بے اِعتنائی سے چلے آنا؛ کچھ شرما کے، بات کو مطلب کی جا سے چبا چبا کے بیان کیا۔ یہ اکثر ہوا ہے کہ معشوق کے رو بہ رو، جو اِس پر کبھی کوئی عاشق ہوا ہے، اُس کا ذکر کرتا ہے شیخی بگھارتا ہے، کچھ جھوٹ اپنی طرف سے جوڑتا ہے، دل کے پھپھولے توڑتا ہے۔ اِس کی شرح، گو طول طلب ہے؛ پر عاشق مزاجوں پر منکشف سب ہے۔\n\nانجمن آرا نے جادوگرنی کے قصے پر تاسُف کیا۔ ملکہ کے مذکور پر بناوٹ سے ہنس دیا۔ پھر روکھی صورت بنائی، ناک بھوں سمیٹی، تیوری چڑھائی؛ مگر چلے آنے کے سہارے پر مسکرائی۔ اپنا بھی اِشتِیاق، لیے دیے، از روزِ ملاقات، محنت و مشقت کی قدر دانی سے، جادوگر کی لڑائی میں جاں فِشانی سے بیان کر کے کہا: اَلاِنسانُ عَبِیدُ الاِحسانِ۔ جب اِس طرح کے دو دو انچھر ہو چکے، دل کے ارمان کھو چکے؛ پھر دونوں بے ساختہ ہو، شرم و حیا کھو ہم آغوش ہوئے۔ رنج درکنار، غم و دردِ مُہاجرت فراموش ہوئے۔ مُؤلف:\n\nیہ ہم کناریِ جاناں سے تازہ لطف اُٹھا\n\nگلے سے ملتے ہی، سب رنج درکنار ہوا\n\nسینے سے سینہ، لب سے لب، ہاتھ پاؤں؛ بلکہ جتنے اعضائے جسم ہیں، سب وصل تھے۔ مثل ہے: ایک جان دو قالِب؛ وہ ایک جان ایک ہی قالِب، غالب ہے کہ ہو گئے۔ اُستاد:\n\nایامِ وصل میں ہم لپٹے ہیں جیسے اُس سے\n\nیوں وصلی کے بھی کاغذ چسپاں بہم نہ ہوں گے\n\nخواہش کو اِضطرار، حیا مانِعِ کار، شرم بر سرِ تکرار۔ دونوں کے دم چڑھ گئے تھے، انداز سے بڑھ گئے تھے۔ دست بُردی، ہاتھا پائی تھی، چوریاں تھیں۔ جنگ زرگری، گاؤ زوریاں تھیں۔ شہ زادی موقع پر ہاتھ نہ لگانے دیتی تھی۔ جب بے بس ہو جاتی تو چٹکیاں لیتی تھی۔ گاہ کہتی تھی: اے صاحب! اِتنا کوئی گھبراتا ہے! دیکھو تو کون آتا ہے! کبھی خود اُٹھ کے دیکھتی بھالتی تھی، کوئی دم یوں ٹالتی تھی۔ آخر کار جب غمزہ و ناز کی نوبت بڑھ گئی، تھک کے ڈھب پر چڑھ گئی۔ غنچۂ سر بستۂ تمنائے دراز، بہ حرکتِ نسیم وصل شِگُفتہ و خنداں ہوا۔ دُرِ ناسُفتۂ دُرجِ شہر یاری؛ رشکِ عقیقِ یمنی، غیرت دِہِ لعلِ بدخشاں ہوا؛ جیسا پیر دِہقاں، فردوسیِ سخن داں نے کہا ہے، شعر:\n\nچناں بُرد و آورد و آورد و بُرد\n\nکہ دایہ زحسرت پسِ پردہ مُرد\n\nرشک و حسرت سے جگرِ صدف چاک ہوا، قطرۂ نیساں صدف میں گرا، دشمن کم بخت در پردہ ہلاک ہوا۔ تقاضائے سِن، الھڑ پنے کے دن؛ سیر تو یہ ہوئی اُس وقت دونوں ناتجربہ کار، بادۂ اُلفت کے سرشار کیا کیا گھبرائے، ہزاروں طرح کے نئے نئے خیال آئے، کیفیت سب بھولی؛ جب دامنِ شب میں چادرِ پلنگ پر شفقِ صُبح پھولی۔ غرض کہ شرما کے اِستِراحت فرمائی، دلِ بے تاب نے تسکین پائی۔\n\nہنُوز پلک نہ جھپکی تھی، صُبح کا غُلغُلہ ہوا، نمودِ سحر ہوئی، خاص و عام میں شب کی خبر ہوئی۔ دمِ صُبح ایک سُرخ رو، دوسرا ژُولیدہ مو حمام میں داخل ہوئے۔ جو جو محرمِ راز، شریکِ ناز و نیاز تھیں؛ رات کی باتوں کے پتے رمز و کِنایے میں دینے لگیں۔ کوئی شرمایا، کوئی جھنجھلایا۔ غمزہ و ناز ہر انداز میں رہا۔ اُس وقت قہقہے کا شور آسمان پر پہنچایا، جب خوانوں میں پنجیری اور شیشوں میں تنبول آیا۔ الغرض نہا دھو خاصہ نوش فرمایا۔ جان عالم بادشاہ کے حُضور میں آیا، خِلعتِ فتح پایا۔ اب اُموراتِ سلطنت بہ مشورۂ شاہ زادہ ہونے لگے۔\n\nبعد رسم چوتھی چالے کے؛ لبِ دریا ایک باغ بہت تکلف کا، نشاط افزا نام، بادشاہ نے رہنے کو عِنایت کیا۔ اگر اُس باغ کی تعریف رقم کروں، شاخِ زنبق و نرگس کی ٹہنی کو لاکھ بار قلم کروں۔ اِلّا، خِضر کی حیات، رِضواں کا ثبات درکار ہے؛ نہیں تو ناتمام رہے، لکھنا بے کار ہے۔ سو بار خِزاں جائے، بہار آئے؛ ایک پٹری کی روِشِ صفا تحریر نہ ہو سکے، خامۂ مانی پھسل جائے۔ رشکِ گُلزارِ جِناں، ایک تختۂ فِردوس سا کئی کوس کا باغِ بے پایاں۔ برگ و بار، گُل اُس کے جورِ خزاں سے آزاد بِالکل۔ نہ بلبل پر ستمِ باغباں، نہ خوفِ صیاد؛ عجائِب غرائِب چہچہے، نئے رنگ ڈھنگ کے ترانے یاد۔ جتنے دُنیا کے مِیوے ہیں، تر و تازہ ہمیشہ تیار۔ سرسبز پتے، خوش رنگ پھول، پھل مزے دار۔ گُل تکلیفِ خار سے بری۔ جہان کی نعمت ہر تختے میں بھری۔ روِش کی پٹریوں پر منہدی کی ٹٹیاں کتری ہوئی برابر۔ چمن میں وہ وہ درخت پھلے پھولے، جسے دیکھ کر انسان کی عقل بھولے۔ پھولوں کی بوئے خوش سے دل و دِماغ طاقت پائے۔ جو پھل نظر سے گزرے، بارِ خاطِر نہ ہو؛ ذائِقہ زبان پر، مُنہ میں پانی بھر آئے۔\n\nنہریں ہزار در ہزار، پُر از آبشار۔ گرد چرِند و پرنِد خوب صورت، قطع دار۔ باغبانِیاں پری زاد، حور وش، کم سِن، مہر لِقا۔ بیلچے جواہر نِگار ہاتھوں میں۔ ہر ایک آفت کا پرکالہ، دل رُبا، مہ سیما۔ کنویں پختہ، جڑاؤ چرخی، رسے کلابتون کے۔ ڈول وہ کہ عقل دیکھ کر ڈانواں ڈول ہو۔ چرسے پر نزاکت برسے۔ بیل کے بدلے نیل گائے کی جوڑیاں۔ آہو جن کے رو بہ رو چِہ کارہ، باغبانِیاں مہ پارہ۔ زربفت کے لنہگے قیمت کے منہگے۔ شبنم کے نفیس دوپٹے مُغرق۔ مسالے کی کُرتی، انگیا۔ چھڑے پاؤں میں: طِلائی، واچھڑے۔ کان کی لو میں ہیرے کی بِجلی: برق دم، سب کی آنکھ جس پر پڑے۔ کوئی ڈول کو سنبھال ٹپا، خیال گاتی۔ کوئی شعرِ برجستہ یا ہندی کا دوہا اُس میں مِلاتی، چھیڑ چھاڑ میں چُٹکی لے کے اُچھل جاتی۔\n\nایسے باغِ پُر بہار میں جان عالم اور انجمن آرا ہاتھ میں ہاتھ، پریوں کا اکھاڑا ساتھ، دین و دُنیا فرامُوش، ہر دم نُوشا نُوش، با عیش و نشاط اوقات بسر کرنے لگا۔ جہان کا ساز و ساماں ہر دم مُہیا۔ شراب و کباب، چنگ و رباب کا جلسہ۔ خدمت گُزاریں پری طلعت، ماہ پیکر سب کام کو حاضر۔ جیسے کنھیا شامِ عشرت سحر کرنے لگا۔ نہ خیال اپنے شہر و دیار کا، نہ خوفِ نیرنگیِ فلک، نہ بیم و ہِراس گردشِ روزگار کا، نہ ماں باپ سے مطلب۔ یار آشنا بھولے سب۔ نہ کچھ دھیان اُس جگر فِگار، کُشتۂ انتظار ملکہ مہر نگار کا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%AC%D9%84%D8%B3%DB%82_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D8%A7%D9%8F%D8%B3_%D9%88%D8%B7%D9%86_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "فسانۂ عجائب/بیانِ حال اُس غَریق بحر ملال کا", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "بیانِ حال اُس غَریق بحر ملال کا یعنی ملکہ مہر نگارِ جگر فِگارِ خوش خِصال کا۔ اور آنا اُس سبز پوشِ ذی ہوش کا مکتوبِ محبت اُسلوب لے کے؛ پھر توتے کی رُخصت، ملکہ کی رِقّت اور مِل جانا انجمن آرا اور شہزادۂ با اقبال کا\n\nنظم:\n\nاے جنوں تو دلِ شوریدہ کی امداد کو آ\n\nتا لکھوں حال مَیں اک اور ستم دیدہ کا\n\nچین دُنیا میں نہیں عشق کے بیماروں کو\n\nنِت نیا رنج فلک دیتا ہے بے چاروں کو\n\nبارِ فُرقت کبھی معشوق جو دھر جاتے ہیں\n\nجیتے جی دب کے یہ اُس بوجھ سے مر جاتے ہیں\n\nزیست بے لطف گزر جاتی ہے بے چاروں کی\n\nکیا کہانی مَیں کہوں تم سے دل اَفگاروں کی\n\nنِگارِندۂ حالِ غریقِ شَطِّ فُرقَت و کشتی شکستۂ لُجّۂ محبت، بادباں گُسِستۂ صرصرِ دوری و لنگر بُریدۂ کاردِ مہجوری، طوفاں رسیدہ، کنارِ کام یابی نہ دیدہ، یعنی ملکہ مہرنگار، خامۂ جگر اَفگار یوں رقم کرتا ہے کہ جب جہاز تباہ ہوا تھا؛ یہ بھی ایک تختے کے ٹکڑے پر، دل ٹکڑے ٹکڑے، ڈوبتی تِرتی چلی جاتی تھی۔ اُدھر سے کوئی بادشاہِ عالی جاہ جہاز پر سوار سَیر دیکھتا آتا تھا۔ دور سے تختہ بہتا دیکھا۔ جب قریب آیا، آدمی اُس پر پایا۔ خَوفِ خدا سے جلد پَنسو ہی دوڑا جہاز پر منگوایا۔ ملکہ کو تلاطُمِ آب نے بے تاب کیا تھا اور جان عالم ، انجمن آرا کے صدمۂ جُدائی سے جی ڈوب گیا تھا، یعنی غش تھا؛ لیکن صورتِ رعنا، چہرۂ زیبا میں فرق نہ ہوا تھا۔ بادشاہ بہ یک نگاہ والہ و شیدا ہو گیا۔ جلد جلد عِطر سنگھا، بازو باندھا اور تدبیریں کیں۔ دو تین گھڑی میں ملکہ کی غش سے آنکھ کھلی، دیکھا کہ نہنگِ اجل کے منہ سے تو بچی، آفتِ لَطمَہ و لُجّہ سے بَرکِنار جہاز پر سوار ہوں؛ مگر شخصِ غیر سے دوچار ہوں۔ شرم سے سر جھکایا، تمام جسم میں پسینا آیا۔ بادشاہ نے پوچھا: اسمِ شریف؟ گو باعثِ حجاب بولنا گوارا نہ تھا، لیکن بے جواب دیے چارہ نہ تھا، آہستہ سے کہا: محروم، ناکام، آفت کی مبتلا، ذلیل و خوار، فلک دَر پئے آزار، پُر آلام، جِگر خوں، دل خستہ و محزوں، کشتی تباہ، گُم کردہ راہ، ناخُدا گُم، فُتادۂ تلاطُم۔\n\nاِس کی فصاحت و بلاغت، چہرے کی شان و شوکت سے ثابت ہوا کہ یہ شہزادی ہے، اور کلامِ دردناک نے گریبانِ صبر و شکیب چاک کیا، بادشاہ نے رو دیا۔ پھر خاصہ طلب فرمایا۔ ملکہ نے انکار کیا، نہ کھایا۔ اُس نے بہت اِصرار کیا، لَجاجَت سے کہا: آپ کھانا نوش فرمائیں، وطن کا پتا بتائیں؛ جب تاب و توانائی تم میں آئے گی، وہاں بھجوا دیں گے۔ ملکہ نے کہا: ہم جن کے دامنِ دولت سے اُلجھے تھے؛ وہ تو گَردِ راہ کی صورت، خارِ صحرا کی طرح جھاڑ، اِس دریائے ناپیدا کنار میں ڈوبے، خدا جانے کیا ہوئے، کدھر گئے، جیتے ہیں یا مر گئے۔ اگر سوئے عدم ہمیں روانہ کرو؛ بکھیڑا چھٹے، غم و اَلَم سے نَجات ملے، بڑا احسان ہو۔ اُس نے کہا، مولّف:\n\nتم سلامت رہو زمانے میں\n\nایسی باتیں زبان سے نہ کہو\n\nغرض کہ مجبور کچھ کھایا۔ دو چار دن میں تاب و طاقت بھی گونہ آئی اور جہاز دارُ السلطنت میں پہنچا۔ ملکہ کے واسطے مکانِ عالی شان خالی ہوا۔ لونڈیاں، پیش خدمت، آتو، محل دار؛ جو کہ قرینہ شاہ اور شہریاروں کا ہوتا ہے اور جس طرح شہزادیاں رہتی ہیں، سب سامان مہیا کر دیا۔ ایک روز وہ بادشاہ آیا، کہنے لگا: تم اپنا حَسَب و نَسَب چھپاتی ہو، مگر ہمیں معلوم ہوا تم شاہ زادی ہو، ہماری تمھاری ملاقات اِس حیلے سے ہونی تھی؛ لازم ہے کہ مجھے فرماں روا نہ جانو، فرماں برداروں میں قبول فرماؤ، میری بات مانو۔ ملکہ نے جواب دیا: میں نے تمام عُمر سلطنت کا نام نہیں سنا؛ اِلّا، آپ کو خالق نے بادشاہ کیا ہے۔ اِنصاف شرطِ فرماں روائی ہے، اُس کو ہاتھ سے نہ دے۔ میں ظُلم رَسیدہ، آفت کشیدہ، فلک کی ستائی ہوں۔ خدا جانے کون ہوں اور کس طرح یہاں تک آئی ہوں۔ بہ قول استاد:\n\nدیکھتے آنکھوں کے کیا کیا لوگ اٹھے پیشِ چشم\n\nہوں لبِ حیرت بہ دَنداں رنگِ دنیا دیکھ کر\n\nاگر بے گناہ کا خون گردن پر لینا گوارا ہے؛ مختار ہے، مجھے کیا چارہ ہے۔ اور جو خوشی سے یہ اَمر منظور ہے تو بَرَس روز کی مہلت مجھ کو دے۔ اِس عرصے میں کوئی ڈوبار تِرا، میرے وارِثوں کا پتا مِلا، کوئی مُوا جیتا پھرا تو خیر؛ نہیں، میں تیرے قبضۂ اختیار میں ہوں۔ جبر کرنا کیا ضرور ہے، عدالت سے دور ہے۔ بادشاہ دل میں سوچا: آج تک ایسے غرق ہوئے، اُبھرتے نہیں۔ وہاں کے گئے، پھر اِدھر قدم دھرتے نہیں۔ اِتنے دنوں کی فرصت دو، حکومت نہ کرو۔ آنکھ بند کرنے میں سال تمام ہو جائے گا، پھر کون سا حیلہ پیش آئے گا۔ کہا: بہت خوب، لیکن جو تمھیں ناگوار نہ ہو تو جی چاہتا ہے گاہ گاہ آنے کو، تمھارے دیکھ جانے کو۔ ملکہ نے یہ اَمر مُغتَنَم جانا، کہ حاکم محکوم کا فرق سب کو معلوم ہے۔ اب یہ انداز ٹھہرا: پانچویں چھٹے روز پہلے خواجہ سَرا آکے اطلاع کرتا، پھر بادشاہ قدم دھرتا۔ دو چار گھڑی کی نشست ہوتی۔ قصہ ہر شہر و دیار کا، تازہ اخبار دربار کا بیان کر کے اٹھ جاتا۔\n\nیہاں سے دو کلمے یہ سنیے، مُسبِّب الاسباب کی کار سازی کے سامان دیکھیے: وہ محل جو ملکہ کے رہنے کو ملا تھا، اُس میں مختصر سا پائیں باغ بہت کیفیت کا تھا۔ طرح طرح کا میوہ دار درخت، باغ بہار کا۔ یک لخت نئے نئے رنگ ڈھنگ کے وہ گُل بوٹے، جو بادِ خِزاں سے جھڑے نہ ٹوٹے۔ پھل قصد سے منہ میں آ جائے، ہاتھ بڑھانے کی بار نہ آئے۔ رَوِشیں مورت کی صورت کی سالم۔ آبِ رواں میں پری کا عالَم۔ بھدّے نہ بد قُوارے؛ سُڈول، سانچے کے ڈھلے، نازک، سبُک فوّارے۔ کیاریاں پیچ دار، اُن میں آبشار۔ پختہ ہر ایک رَوِش۔ جو کیاری تھی پیاری تھی، سراسر گُل کاری تھی۔ چمن بندی قطع دار، جا بہ جا چبوترے معقول؛ گُلِ پیادہ و سوار پُر بہار، مُساوی عرض و طول۔ باغبانیاں خوب صورت، نوجوان، تکلف کے سامان۔ طِلائی نُقرئی کھُرپیاں، مُرصّع کار بیلچے ہاتھوں میں۔ غمزہ چال میں، ادا دیکھ بھال میں، لگاوٹ باتوں میں۔ کسی طرف کنویں کی جَگَت پر کیلی والی لال بے رنج و ملال ہو رہی۔ کوئی کچھ اُکھاڑتی، کوئی بو رہی۔ کوئی پھول چُنتی، پھل اُٹھاتی، گھانس کھُرپی سے چھیل ڈالتی۔ کوئی ٹوٹا جھَڑا پتّا، گرا پڑا کانٹا کیاری سے نکالتی۔ سَرِ شاخِ ہر گلِ رعنا بُلبُلوں کا غُنچہ۔ سَرو و شمشاد پر جوبن، صدائے قمری طوق در گردن۔ ایک طرف طاؤسوں کا رَقصِ پُر ناز، ہر ایک خوش آواز۔ باغ کے گرد مُلَبّب جھیل۔ غُنچوں کا چٹکنا کوسِ رحیل۔ کہیں لالہ پیالہ دَر دَست۔ کسی جا نرگسِ شہلا با چشمِ مست۔ تاکِ انگور پر مَے خواروں کی تاک۔ عنبر بیز صحنِ گُلشن کی خاک۔\n\nملکہ گہ و گاہ، شام و پَگاہ؛ رفعِ پریشانی، دَفعِ سرگرانی کو وہاں آ کے، نظّارۂ صحبتِ گرم جوشیِ گل و بلبل سے رشک کھا کے، بہ صد حسرت و افسوس سوئے گردونِ دوں سر اٹھا کے یہ پڑھتی، میر سوزؔ:\n\nوہ دن خدا کرے کہ خدا بھی جہاں نہ ہو\n\nمیں ہوں، صنم ہو اور کوئی درمیاں نہ ہو\n\nگُل ہو شِگفتہ خاطر و گلزار خندہ رو\n\nبادِ صبا بھی ہووے، ولے باغباں نہ ہو\n\nگلشن ہو اور یارِ دل آرام اور مَیں\n\nاپنا ہو قصہ، غیر کی واں داستاں نہ ہو\n\nکبھی پیچ و تابِ زُلف اور گیسوئے مُعَنبَر کی پریشاں حالی جَعدِ سُنبُل کو دکھاتی۔ گاہ سِیاہیِ داغِ جگر لالے کی لالی سے لڑاتی۔ غنچۂ فَسُردہ سے جو کچھ دل گرِفتگی کی تسکین ہوتی؛ تو گُل کی ہنسی پر پھوٹ پھوٹ کے خوب روتی اور اِس غزل سے دل کو سمجھاتی، مولّف:\n\nلازم ہے سوزِ عشق کا شعلہ عیاں نہ ہو\n\nجل بجھیے اِس طرح سے کہ مطلق دھواں نہ ہو\n\nزخمِ جگر کا وا، کسی صورت، دہاں نہ ہو\n\nپَیکانِ یار اُس میں جو شکلِ زباں نہ ہو\n\nاللہ ری بے حسی کہ جو دریا میں غرق ہوں\n\nتالاب کی طرح کبھی پانی رواں نہ ہو\n\nگُل خندہ زن ہے، چہچہے کرتی ہے عندلیب\n\nپھولی ہوئی چمن میں کہیں زعفراں نہ ہو\n\nبھاگو یہاں سے، یہ دلِ نالاں کی ہے صدا\n\nبہکے ہو یارو، یہ جَرسِ کارواں نہ ہو\n\nہستی، عدم سے ہے مری وحشت کی اک شَلَنگ\n\nاے زُلفِ یار! پاؤں کی تو بیڑیاں نہ ہو\n\nلینا بجائے فاتحہ، تُربت پہ نامِ یار\n\nمرنے پہ یہ خیال ہے، وہ بد گماں نہ ہو\n\nناقہ چلا ہے نجد میں لیلیٰ کا بے مُہار\n\nمجنوں کی بن پڑے گی، اگر سارباں نہ ہو\n\nچالوں سے چرخ کی، یہ مرا عزم ہے سُرورؔ\n\nاُس سرزمیں پہ جاؤں جہاں آسماں نہ ہو\n\nگاہ لبِ جو کسی سرو کے پاس یادِ قامتِ جان عالم میں مثلِ فاختہ کو کو کرتی، دلِ بے تاب کو تڑپا کر لہو کرتی۔ غور کرو تو دنیا میں کسی چیز کو قرار نہیں۔ اِس کا سب کارخانہ، پیدا ہے کہ پائیدار نہیں۔ کبھی تو روزِ روشن ہے، گاہ اندھیری رات ہے۔ یہ کائنات کی کائنات بے ثَبات ہے۔ گُلشن میں اگر بہار ہے، تو خِزاں دَرپئے آزارہے۔ بُلبل کو ہزار چہچہے یاد ہیں؛ پر، باغباں آشیاں اجاڑنے کی فکر میں ہے، دام بَردوش صیّاد ہیں۔ نوش کے ساتھ گَزندِ نیش ہے۔ کوئی دل شاد، کسی کا سینہ ریش ہے۔ عاشق اَزَل سے غم کا مبتلا ہے۔ مَثل مشہور ہے کہ معشوق کی ذات بے وفا ہے۔ اور جو کبھی کسی قسمت کے زبردست کو اتفاقاً غم خوارِ وفا دار ہاتھ آتا ہے؛ تو سرِ دست کسی نہ کسی پیچ سے فلکِ تفرقہ پسند رشک کھا کے چھُڑاتا ہے۔ اِسی سہارے پر لوگ جان دیتے ہیں، جی بیچ کر یہ روگ مول لیتے ہیں؛ اتنا نہیں معلوم کہ القلیل کالمعدوم۔\n\nیہ جملہ تو مُعترضہ تھا، پھر وہی قصہ شروع ہوا۔ ایک روزِ فَرَح اندوز ملکہ بہ دستورِ قدیم، بے یار و ندیم باغ میں گئی۔ شہ زادے کی صحبت کا خیال اور انجمن آرا کی گرم جوشی کا ملال، تنہائی میں اپنا خراب حال دیکھ کر یہ شعر مولّف کا پڑھا، مولّف:\n\nایک انقلابِ چرخ سے، افسوس! دیکھنا\n\nوہ صحبتیں رہیں، نہ تو وہ ہم نشیں رہے\n\nپھر ایسا روئی کہ ہچکی لگی۔ شام کا وقت تھا، جانور درختوں پر بسیرا لیتے تھے۔ جس درخت کے تلے ملکہ کھڑی تھی، ایک توتا اُس پر آ بیٹھا۔ گریہ و زاری اِس غم کی ماری کی دیکھ کر بے چَین ہوا، پوچھنے لگا: شاہ زادی! کیا حال ہے، کونسا ملال ہے؟ اور کون سا صدمہ ایسا جاں کاہ ہے جو اِس طرح لب پر نالہ و آہ ہے؟ ملکہ نے کہا: سبحان اللہ! قسمت کی گردش سے یہ حال بَہَم پہنچا کہ جانور ہم پر رحم کھاتے ہیں، احوال پوچھنے کو اُڑ کر آتے ہیں۔ زیادہ بے قرار اور اَشک بار وہ سوگوار ہوئی۔ یہ قاعدۂ کلیہ ہے: جب کسی دل شکستہ کی کوئی دل داری کرتا ہے تو بے شک اُسی کا دل امنڈ آتا ہے۔ ملکہ نے بے اختیار ہو کر کہا، آصف الدولہ:\n\nجو دو شخص خَنداں بَہم دیکھتے ہیں\n\nفلک کی طرف رو کے ہم دیکھتے ہیں\n\nاے جانورِ خوش بیاں، سخن سَنج مہرباں! کیا بتاؤں! گھر بار سے جُدا، بے کسی میں مبتلا، عزیز و اقربا سے الگ، جینے سے خفا ہوں۔ بَسانِ آئینہ حیراں، مِثلِ زلف سِیہ بخت، پریشاں، نے کی طرح نالاں، مَورِدِ صد اندوہ و بلا ہوں۔\n\nشعر:\n\nبے کسی سوخت، کسے می خواہم\n\nنَفَسے ہم نَفَسے می خواہم\n\nشامِ تیرہ بختی کی سیاہی میں بے قرار، صُبحِ قیامت کی صورت دامن چاک، گریباں تار تار۔ شعر:\n\nکس اب زیرِ فلک طاقتِ رُسوائی ہے\n\nکاش شَق ہووے زمیں اور سما جاؤں میں\n\nدل میں الم سے خار خار، غیر جِنسوں کے دام میں گرفتار، سخت و مجبور و ناچار ہوں۔ طائرِ رنگ پَریدہ، ہزاروں جَور و ستم میں جریدہ، روئے راحت، کوئے آشیاں نہ دیدہ؛ شبِ غم کے اندھیرے میں سوجھتا نہیں، خوں بار ہوں۔ ناسخ:\n\nصبح سے کرتے ہیں معمار مرے گھر کو سفید\n\nشام سے کرتی ہے فرقت کی شبِ تار، سیاہ\n\nتوتے نے کہا: مجھے تم سے بوئے محبت آتی ہے، تمھاری باتوں سے چھاتی پھٹی جاتی ہے؛ برائے خدا جلد اپنے رازِ سربستہ سے مجھے آگاہ کرو، للہ مفصل حال کہو۔ ملکہ نے قصۂ عشقِ جان عالم، انجمن آرا کا آنا، وزیر زادے کی برائی، جادوگرنی کی کج ادائی، جہاز کی تباہی، اپنا یہاں آنا، اوروں کا پتا نہ پانا، جان عالم کا چھُٹ جانا؛ سب بیان کر کے کہا: وہ شاہِ گردوں بارگاہ ہمیں منجدھار میں ڈوبتا چھوڑ، اپنا بیڑا پار لگا، منہ موڑ خدا جانے کیا ہوا! ہم ہیں اور رنجِ تنہائی میں بے تابی انیس ہے؛ پریشانی ہمدم، خانہ ویرانی جَلیس ہے۔ جو دم ہے، دمِ شمشیر ہے۔ سانس، ناوَک کا تیر ہے۔ جیتے جی صبر و قرار نہیں، بڑی مجبوری یہ ہے کہ مر جانے کا اختیار نہیں۔ شعر:\n\nگئے دونوں جہاں کے کام سے ہم، نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے\n\nنہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم، نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے\n\nتوتے کو اِن باتوں سے سکتہ سا ہو گیا، سوچنے لگا۔ سنبھلا تو زمین پر گر پڑا، پر نوچنے لگا۔ ملکہ مہرنگار گھبرائی کہ یہ کیا ماجرا ہوا۔ افسوس:\n\nدیکھ کر مجھ کو وہ حاضر ہوا مر جانے کو\n\nوہی غم خوار جو یاں بیٹھا تھا سمجھانے کو\n\nگھڑی بھر میں جب حواس و ہوش اُس سبز پوش کے درست ہوئے، بولا کہ اے ملکہ مہرنگارِ باوقار! میں وہی توتا کم بخت، سحر گرفتار، جفا شِعار ہوں جس نے اُس رشکِ قمر کو دربدر کیا۔ مجھ سے انجمن آرا کا ذکر سن کر آوارہ ہوا تھا۔ باقی حال تو آپ نے سب سنا ہو گا۔ پھر تو ملکہ اُسے گود میں اٹھا یہاں تک روئی کہ بے ہوش ہو گئی۔ شہ زادے کے بَین بہ صد شور و شَین کرنے لگی۔ باغبانیاں دوڑیں، خدمت گُزار جھپٹیں کہ آج ملکہ پر کیا حادثہ پڑا۔\n\nجب دونوں کے ہوش و حواس پاس آئے، طبیعت ٹھہری؛ توتے نے سمجھایا کہ آپ دل کو تسکین دیں، خاطِر مُبارک جمع رکھیں، جان عالم اور انجمن آرا دونوں خیریت سے زندہ ہیں۔ میں نے یہ مُقدمہ مُنجّموں اور کاہِنوں سے دریافت کیا تھا۔ بالاتفاق سب کا قول ہے کہ سوائے رنجِ مُفارقت، سفرِ غربت؛ جان کی خیر ہے، سب آ ملیں گے۔ بس اب مجھے رخصت کرو۔ صبح کو خدا جانے کس وقت بیدار ہو۔ ملکہ نے کہا: واہ! بعد مدت ایک غم خوار، مَحرمِ اَسرار ہاتھ آیا تھا، وہ بھی اتنا جلد چلا۔ طالع بَرسَرِ کجی ہے، بے لطف زندگی ہے۔ دیکھیں یہ برے دن کب جاتے ہیں اور اچھے کیوں کر آتے ہیں! استاد:\n\nایک عالم کو آزما دیکھا\n\nجس کو دیکھا، سو بے وفا دیکھا\n\nحالِ بد کا شریک، دنیا میں\n\nنہ برادر، نہ آشنا دیکھا\n\nکیوں دِلا! ہم نہ تجھ سے کہتے تھے\n\nجی لگانے کا کچھ مزا دیکھا\n\nمِٹ گیا ایک دم میں مثلِ حباب\n\nیاں ذرا جس نے سر اٹھا دیکھا\n\nسچ ہے، دنیا مریض خانہ ہے\n\nرنج میں سب کو مبتلا دیکھا\n\nکیف میں، کم بہت نوازشؔ ہے\n\nعشقِ خوباں میں جو نشا دیکھا\n\nآخر کار وہ رات باتوں میں کٹی، صبح ہوئی، پَو پھٹی۔ توتا رخصت ہوا۔ چلتے وقت ملکہ نے تھوڑا حال اپنا پرچے پر تحریر کر دیا، کہا: جہاں شاہ زادے سے ملاقات ہو، یہ خط نشانی دے کر، جو کچھ دیکھا ہے، زبانی بیان کرنا۔ توتا وہ رَقیمۂ شوق لے کر راہی ہوا۔ شہر بہ شہر خستہ جگر ڈھونڈھتا پھرتا تھا۔ ایک روز قریبِ شام وہ سَرگشتہ، ناکام تھک کر؛ لبِ چشمہ کچھ درخت تھے، اُن پر بیٹھ کر سَیلِ سَرشک چشمِ پُر نم سے بہاتا تھا۔ اُسی دن حَسبِ اتفاق جان عالم اور انجمن آرا توتے کی صورت بنائے اُسی درخت پر آئے۔ یہ توتا، ہم جنس سمجھ دیکھنے لگا۔ وہ دونوں مُضطربُ الحال، پُر ملال ایک ٹہنی پر بیٹھ گئے۔ توتا سمجھا کہ یہ مِنقار بَستہ میری طرح سے دل خَستہ ہیں، پھر رونے لگا۔ انجمن آرا نے کہا: جان عالم دیکھنا! یہ توتا روتا ہے؛ شاید ہماری صورت مصیبت دیدہ، مصائب کشیدہ ہے۔ توتا باتیں تو سمجھتا تھا، پھر بیٹھا اور بولا: خدائے رحیم تمھیں وہ رنج نہ دے، عدو بھی تمھارا یہ ستم نہ دیکھے؛ مجھے وہ غم ہے اور دل پر ایسا الم ہے کہ ہر دم یہ دُعا ہے دشمن کا دشمن یہ صدمۂ جاں کاہ اور ایسے روزِ سیاہ نہ دیکھے۔ میر سوزؔ:\n\nجو دم لیتا ہوں تو شعلہ جگر کا، جی جلاتا ہے\n\nجو چپ رہتا ہوں تو اندر ہی اندر جان کھاتا ہے\n\nجو کچھ احوال کہتا ہوں تو سننے والے، روتے ہیں\n\nنہیں کہتا ہوں تو کوہ الم سینہ دباتا ہے\n\nجو جنگل میں نکل جاتا ہوں تو سب دشت پھنکتا ہے\n\nکبھی جو شہر میں آتا ہوں تو گھر بھول جاتا ہے\n\nپہاڑوں میں اگر پھرتا ہوں، ٹکڑے ہو کے اُڑتے ہیں\n\nجو دریا پر کبھی جاتا ہوں، سر پر خاک اُڑاتا ہے\n\nمجمع رنج و مِحَن، غریق شَطِّ خِفّت ہمہ تن ہوں۔ مُحسن میرا خانماں آوارہ ہوا، یہ نَدامت ہے۔ مُفارَقت اُس کی ظلم ہے، قیامت ہے۔ اِس کے وَرائے، تازہ حال یہ دیکھا ہے کہ ایک عاشقِ صادق اپنے معشوق سے جُدا ہے، غیر جِنسوں میں اسیر بلا ہے۔ اُس کے ناوکِ آہ سے چھاتی سوراخ دار ہے۔ سِنانِ نالہ سینے کے پار ہے۔ اگر گریہ و زاری یا تڑپ اور بے قراری اُس کی بیان کروں؛ پتھر، پانی ہو کر بہہ جائے۔ سیماب کی چھاتی خَجلت سے پارہ پارہ ہو؛ راہ چلتے، ان جان کو رحم آئے۔\n\nجان عالم یہ سن کر پھر بیٹھا، پوچھنے لگا: وہ کون تھا جو سرگشتہ و آوارۂ دشتِ اِدبار ہوا؟ اور وہ کون ہے جو ناجِنسوں میں گرِفتار ہوا؟ توتے نے اِن کی داستانِ گُذشتہ اور ملکہ کا حال بیان کیا۔ انجمن آرا ملکہ کا نام سن کر شِگفتہ خاطر ہوئی۔ دونوں نے درخت سے اتر کے صورت بدلی۔ توتا، پہچان کر پاؤں پر گرا۔ شہ زادہ گلے سے لگا کر خوب رویا، کہا: اے ہمدم! تم سے جو ہم جدا ہوئے، کس کس رنج و مصیبت میں مبتلا ہوئے۔ دَشت بہ دشت، کوہ بہ کوہ خراب و خستہ، در بہ در محتاج پھرے؛ تم اُس دن کے گئے آج پھرے۔ پھر ملکہ کا حال پوچھا۔ اُس نے خط حوالے کیا۔ پہلے انجمن آرا نے آنکھوں سے لگایا، دل نے قرار پایا۔ مضمونِ اضطراب، بد حواسی کا مطلب سَرنامے سے کھلا کہ جان عالم کی جگہ ’’ملکہ‘‘ اور ملکہ مہرنگار کی جا ’’رقیمہ شوقِ جان عالم ‘‘ لکھ دیا تھا۔ اس انتشارِ طبیعت کو سوچ کے شہ زادے کے ہوش گُم ہوئے۔ بس کہ نامۂ شوقیہ پیچ و تابِ دل اور اشتیاقِ ملاقات میں تحریر تھا؛ جان عالم جب اُس کو کھولتا تھا، کاغذ بولتا تھا۔ اور اثرِ شوقِ ہم آغوشی سے ہر بار خط ہاتھ میں لپٹا جاتا تھا۔ مضمونِ مکرر سو سو حسن طلب دکھاتا تھا۔ مولّف:\n\nنامۂ شوقیہ جب میں نے رقم اُس کو کیا\n\nسو جگہ مضمون تب اُس میں مُکرر ہو گیا\n\nآنسو دمِ تحریر، یعنی لکھنے کے وقت جو خط پر ٹپکے تھے؛ دھبے اور نشان اُس کے دیدۂ منتظِر، چشمِ حیرت زدہ کی طرح ہر سطر پر کھلے تھے، اور سرخ ہالہ ہر حرف نے نکالا تھا۔ ایک جَدوَلِ خونی ہُوَیدا تھی، لہو رونے کی کیفیت پیدا تھی۔ لکھا تھا، حافظ:\n\nاز خونِ دل نوشتم نزدیکِ دوست نامہ\n\nإنّی رأیتُ دھَراً مِن ھجرِک القِیامَة\n\nشعر:\n\nسوادِ دیدہ حل کردم، نوشتم نامہ سوی تو\n\nکہ تا ہنگامِ خواندن چشمِ من افتد بروی تو\n\nاے یارِ وفا دار، صادِقُ الاقرار! اللہ تجھے سلامت رکھے۔ شرحِ اشتیاق، داستانِ فراق قصۂ طول و طویل ہے؛ زندگی کا بکھیڑا، عرصہ قلیل ہے۔ اگر ہماری زیست منظور ہے، جلد آؤ، صورت دکھاؤ۔ نہیں تو تاسُّف کرو گے، پچھتاؤ گے۔ تم نے آنے میں اگر دیر کی، تو ہم نے صدمۂ ہجر سے تڑپ کر جان دی؛ مٹی کے ڈھیر پر رو رو کے خاک اُڑاؤ گے۔ مولّف:\n\nشکل اپنی ہم کو دکھلاؤ خدا کے واسطے\n\nجان جاتی ہے، اجی آؤ خدا کے واسطے\n\nکوئی دم کا سینے میں دَم مہمان ہے، نام کو جسم میں جان ہے۔ فلک نے ہماری صحبت کا رشک کھایا، بے تفرقہ پَردازی ظالم کو چین نہ آیا۔ روز و شب رنجِ جُدائی سے جان کو کھوتے ہیں۔ اِتنا کبھی کاہے کو کسی دن ہنسے تھے، جیسا بِلک بِلک کر فرقت کی راتوں میں روتے ہیں۔\n\nمیر:\n\nبے تابیِ دل کسے سنائیں\n\nیہ دیدۂ تر کسے دکھائیں\n\nتمھاری تقریرِ دل پذیر ہر دم بر نوکِ زباں ہے، بے تصوّر سے باتیں کیے چین آرام کہاں ہے۔ استاد:\n\nیہ جانتے، تو نہ باتوں کی تجھ سے خو کرتے\n\nترے خیال سے پہروں ہی گفتگو کرتے\n\nہمارے تڑپنے سے ہمسایہ سخت تنگ ہے۔ دولت سَرا زِنداں سے تیرہ و تنگ ہے۔ میر:\n\nگر یوں ہی رہے گی بے قراری\n\nتو ہو چکی زندگی ہماری\n\nوحشت پیرامونِ حال ہے۔ ہر گھڑی فرقت کی، ماہ ہے۔ جو پَہَر ہے وہ سال ہے۔ میر:\n\nدل کوئی دم میں خون ہووے گا\n\nآج کل میں جنون ہووے گا\n\nتمھاری صورت ہر پَل رو بہ رو ہے۔ جس طرف دیکھا، تو ہی تو ہے۔ چشمِ فُرقت، دیدۂ دریابار ہے۔ آنکھ نہیں، چشمۂ آبشار ہے۔ افسوس تو یہ ہے جن آنکھوں کو تم پُرنم نہ دیکھ سکتے تھے، اُن سے خون کے دریا بہہ گئے۔ مولّف:\n\nتم نے نہ ہماری، پر، خبر لی\n\nچھاتی پتھر کی، کیوں جی، کر لی\n\nدن رات کی وہ صحبت تمھارے ساتھ کی جب یاد آتی ہے؛ نیند اُچٹتی ہے، بے چینی کی رات پہاڑ ہو جاتی ہے، کاٹے نہیں کٹتی ہے۔ چارپائی تنہائی میں پلنگ بن کر کاٹے کھاتی ہے، بالِش پر نیند اڑاتی ہے۔ خواب میں سونے کا خیال نہیں۔ کھانا پانی ہجر میں حرام ہے، حلال نہیں۔ وہ سر، جو اکثر آپ کے زانو پر رہا ہے، اُس کو سو سو بار بالِش و بالیں پر دے پٹکا ہے۔ مولّف:\n\nجس میں بانھیں تری حَمائل تھیں\n\nطوقِ حسرت میں اب وہ گردن ہے\n\nمیرے جاگنے کے، اے پیارے! ستارے شاہد ہیں۔ گواہِ شرعی زاہد ہیں۔ مُرغِ سحر کو بے قراری سے چونکاتی ہوں۔ موذن کی نیند آہ و زاری سے اُڑاتی ہوں۔ شبِ وصل یہ ہمیں جگاتے تھے، ستاتے تھے؛ اب ہجر کی رات ہم انھیں سونے نہیں دیتے ہیں، مَن مانتے بدلے لیتے ہیں۔ دل ہر ساعت گھڑی سے زیادہ نالاں ہے، ہر پَہر گَجَر سے فزوں شور و فُغاں ہے۔ چشمِ ثوابتِ و سیّار معائنۂ حالِ زار، پُر ملال سے بہ صد حیرت وا ہے۔ چرخِ گرداں میری گردش دیکھ کر چکّر کر رہا ہے۔ استاد:\n\nکھا لیجے تھوڑا زہر منگا، ہم اور کہیں تم اور کہیں\n\nکیا لطف ہے ایسے جینے کا، ہم اور کہیں تم اور کہیں\n\nاِفشائے حال باعثِ ندامت، موجِب دشمنوں کی خوشی کا، سبب دوستوں کے ملال کاہے۔ لا اعلم:\n\nدلِ من داند و من دانم و داند دلِ من\n\nاگر جیتے جی کبھی مل جائیں گے، رنجِ فُرقت کے دکھڑے مفصل زبانی کہہ سنائیں گے۔ اور جو فلک کو یہ نہیں منظور ہے تو انسان بہ ہر عُنوان مجبور ہے؛ یہ حسرت بھی در گور، گور میں لے جائیں گے۔ سعدی:\n\nاے بسا آرزو کہ خاک شدہ\n\nبہ خدا نمازِ پنجگانہ میں یہ دعا ہے، جامعُ المُتَفَرّقین سے یہی التجا ہے کہ تم سے جلد ملاقات ہو، باہم شکوہ و شکایت ہو۔ دلِ بے قرار تسکین پائے، جانِ زار کو چین آئے۔ زیادہ دیکھنے کا اشتیاق ہے، اشتیاق ہے۔ شام و پَگاہ جدائی کا صدمۂ جاں کاہ سخت شاق ہے، شاق ہے۔ خوگرِ وصل، ہجر کے الم کا مُبتدی ہے یا مَشّاق ہے۔\n\nیہ خط کا مضمون جو پڑھا، دونوں نے رو دیا۔ از سرِ نو مع سرنامہ سراسر وہ نامہ بھگو دیا۔ اُس رات کو تو چار و ناچار وہاں مقام کیا؛ صبح ہوتے ہی صورت بدلی، کوچ کا سر انجام کیا۔ آگے آگے توتا رہ بَر، پیچھے پیچھے وہ دونوں تیز پَر۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D9%8F%D8%B3_%D8%BA%D9%8E%D8%B1%DB%8C%D9%82_%D8%A8%D8%AD%D8%B1_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "فسانۂ عجائب/جَولانی سَمَندِ تیز رفتار ِقلم کی", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "جَولانی سَمَندِ تیز رفتار قلم کی میدانِ بیانِ سواریِ شہ زادۂ جان عالم میں، اور خریدنا توتے کا، اور کج بحثی ماہ طلعت کی توتے سے۔ پھر کیفیتِ حُسنِ انجمن آرا توتے سے سننا، شہ زادے کا نادیدہ عاشق ہونا، وحشت سے سر دھُننا\n\nبُلبلِ نَوا سَنجِ ہزار دَستاں، طوطیِ خامۂ زَمزَمہ ریزِ خوش بیاں گلشنِ تقریر میں اِس طرح چہکا ہے، صفحۂ فسانہ مہکا ہے کہ بعد رسمِ شادی، سیر و شکار کی اجازت، سواری کا حکم شاہِ ذَوِی الاقتدار سے حاصل ہوا۔ گاہ گاہ شام و پگاہ جان عالم سوار ہونے لگا۔ سیر و شکار کی طرف مائل ہوا۔ ایک روز گزر اُس کا گُذری میں ہوا۔ اَنبُوہ کثیر، جَمِّ غَفیر نظر آیا اور غُلغُلۂ تحسین و آفریں از زمیں تا چرخِ بَریں بلند پایا۔ شہ زادہ اُدھر متوجہ ہوا، دیکھا ایک مردِ پیر، نحیف، ستَّر اَسِّی برَس کا سِن، نہایت ضعیف، پنجرہ ہاتھ میں لیے کھڑا ہے۔ اُس میں ایک جانور، مانندِ ساکنانِ جِناں سبز پُوش، طائرِ بے مُروّت، خانہ بدوش، با مِنقارِ گلنار لطیفے لطیف، رنگین اور نقطے قابلِ تعریف، نمکین، مثالِ طوطیِ پسِ آئینہ بیان کر رہا ہے۔ تماشائیوں کی کثرت سے بازار بھر رہا ہے۔ لا اَعلم:\n\nدر پس آئینہ طوطی صِفَتَم داشتہ اند\n\nاُنچہ اُستادِ ازل گفت، ہَماں می گویم\n\nشہ زادے کے دیکھتے ہی توتا مالک سے بولا: اے شخص! کَوکَبِ بَخت تیرا افلاس کے بُرجِ تِیرَہ سے نکلا، نصیب چمکا۔ طالع بر سرِ یاری و زمانہ آمادۂ مددگاری ہوا۔ دیکھ! ایسا شہ زادۂ حاتِم شِعار، ابرِ گُہر بار متوجّہ اِس مُشتِ پَر، ذرَّۂ بے مقدار پر ہوا ہے۔ وہ بے کار شے کارگاہِ بے ثبات میں ہوں، جس کا طالب نہیں کہیں۔ بہ حدّے کہ جانور ہوں، اور بِلّی کا کھاجا نہیں، مگر جو یہ نظرِ عنایت کرے: ابھی تیرا ہاتھ پُر زَر ہو، دامن گُہر سے بھرے۔\n\nجان عالم نے یہ سخنِ ہوش رُبا، کلمۂ حیرت افزا کو سُن، توتے عقل کے اُڑا، پِنجرہ اُس طائِرِ ہَمَہ داں، جانورِ سحر بَیاں کا ہاتھ میں لے کے مالک سے قیمت پوچھی۔ توتے نے کہا، مُؤَلِّف:\n\n کب لگاتا ہے کوئی اِس دلِ بے حال کا مول\n\nسب گھٹا دیتے ہیں مُفلس کے غرض مال کا مول\n\nمگر جو حُضور کی مرضی! جان عالم نے لاکھ روپے، خلعت کے سِوا، عِنایِت کیے اور پِنجرہ ہاتھ میں لیے دَولت سَرا کو روانہ ہوا۔ گھر میں جا، ماہ طلعت کو توتا دِکھا یہ مصرع اِنشؔا کا پڑھا، اِنشؔا:\n\nبازار ہم گئے تھے، اک چوٹ مول لائے\n\nتوتے نے شہ زادے کو سخنانِ دل چسپ، قِصَصِ عجیب، حِکایاتِ غریب، شعرِ خوب، خمسہ ہائے مَرغوب سُنا اپنے دامِ مَحبّت میں اَسیر کیا۔ یہ نَوبت پہنچی کہ سوتے جاگتے، دربار کے سِوا، ایک دم جُدا نہ ہوتا۔ جب دربار جاتا، پِنجرہ بہ تاکیدِ حِفاظت ماہ طلعت کو سونپ جاتا اور دربار سے دیوانہ وار، بہ شوقِ گفتار بے قرار جلد پھر آتا۔\n\n ایک دن شاہ زادہ دربار گیا، توتا محل میں رہا۔ اُس روز ماہ طلعت نے غُسل کیا اور لِباسِ مکلف سے جِسم آراستہ، زیورِ پُر تکلف سے پَیراستہ ہو، جَواہِر نِگار کرسی پر بیٹھی۔ ہَوا جو لگی، آئینے میں صورت دیکھ خود مَحوِ تماشا ہوئی۔ بحرِ عُجب و نَخوَت میں آشنا ہوئی۔ خَواصُوں سے، جلیسوں سے، جو جو دَم ساز، مَحرمِ راز تھیں، اپنے حُسن و صورت کی داد چاہی۔ ہر ایک نے مُوافقِ عقل و شعور تعریف کی۔ کسی نے کہا: ہِلالِ عید ہو۔ کوئی بولی: خُدا جانتا ہے، دید ہو نہ شنید ہو۔ اللّٰہ تعالیٰ نے، بہ ایِں کثرتِ مخلوقات، تمھارا ہمسر اَز قِسمِ جِن و بَشَر بنایا نہیں۔ پری نے یہ قَد و بالا، حور نے یہ حُسن کا جھمکڑا پایا نہیں۔\n\nجب وہ کہہ چکیں، ماہ طلعت نے کہا: توتا بہت عقل مند، ذی شعور، سَیاحِ نزدیک و دور ہے، اُس سے بھی پوچھنا ضَرور ہے۔ مُخاطب ہوئی کہ اے مُرغِ خوش خو و طائِرِ زَمرد لباسِ سُرخ رو، بَذلَہ سَنجِ بے رنج! سچ کہنا، اِس سَج دھج کی صورت کبھی تیرے طائِرِ وہم و خیال کی نظر سے گزری ہے؟\n\nنَیرَنگیِ چَرخِ کج رفتار، فِتنہ پَردازِیِ گَردونِ واژوں عَیاں ہے۔ آگاہ سب جہاں ہے۔ اُس وقت توتا رنجیدہ دل، کَبیدَہ خاطِر، مضمحل بیٹھا تھا، چُپ ہو رہا۔ شہ زادی نے پھر پوچھا۔ توتے نے بے اِعتنائی سے کہا: ایسا ہی ہو! یہ رنڈی معشوق مزاج، طُرہ یہ کہ شہ زادے کی جُورو، وہ شر مالکِ تخت و تاج، بَرہَم ہو کے بولی: میاں مٹھو! جینے سے خفا ہو جو ہمارے رو بہ رو چَبا چَبا کر گفتگو کرتے ہو؟ توتے نے کہا: سوال و جواب اور، دھمکانا اور حکومت سے ڈرانا، غُصے کی آنکھ دِکھانا اَور ہے۔ کیوں اُلجھتی ہو، شاید تمہی سچّی ہو! پھر تو شُعلۂ غَضَب کا نونِ سینۂ شہ زادی میں مُشتَعِل ہوا، کباب دل ہوا، کہا: کیوں جانورِ بد تمیز، ناچیز، تیری مَوت آئی ہے؟ کیا بیہودہ ٹیں ٹیں مچائی ہے! واہی بک رہا ہے! ہمارا مرتبہ نہیں سمجھتا ہے! توتے کے مُنہ سے نکلا: کیوں اِتنی خفا ہوتی ہو، اپنا منہ ملاحظہ کرو، صاحب تم بڑی خوب صورت ہو!\n\n یہاں تو یہ حیص بیص تھی، جان عالم تشریف فرما ہوا۔ عجب صحبت دیکھی کہ شہ زادی بہ چشمِ پُر آب و با دلِ کباب، غیظ میں آ، تھرّا تھرّا توتے سے بحث رہی ہے۔ شہ زادے نے فرمایا: خیر باشد! توتا بولا: آج نِرا شَر ہے، خیر بہ خیر۔ مگر چندے حیاتِ مستعار اِس وحشی کی اور آب و دانہ قَفس میں پینا کھانا باقی تھا۔ اگر آپ اور گھڑی بھر دیر لگاتے، تشریف نہ لاتے، تو میرا طائرِ روح، گُربۂ غضبِ شہ زادی سے مجروح، پرواز کر جاتا، ہرگز جیتا نہ پاتے، مگر پنجرہ خالی دیکھ مزاجِ عالی پریشان ہوتا، بہ حسرت و افسوس یہ فرماتے، انشؔا:\n\nتوتا ہمارا مر گیا کیا بولتا ہوا\n\nماہ طلعت ان باتوں سے زیادہ مکدر ہوئی، شہ زادے سے کہا: اگر میری بات کا توتا جواب صاف نہ دے گا، تو اِس نِگوڑے کی گردن مڑوڑ، اپنے تلووں سے اِس کی آنکھیں مَلوں گی، جب دانہ پانی کھاؤں پیوں گی۔ جان عالم نے کہا: کچھ حال تو کہو۔ توتے نے گزارش کی: حضور! یہ مقدمہ غلام سے سنیے۔ آج شہ زادی صاحب اپنی دانست میں بہت نکھر، بقؔا:\n\nدیکھ آئینے کو، کہتی تھی کہ اللہ ری مَیں!\n\nپھر مجھ سے فرمایا: تو نے ایسی صورت کبھی دیکھی تھی؟ مجھ اجل رسیدہ کے منہ سے رَو میں نکلا: خدا نہ کرے! اِس جرم قبیح پر شہ زادی کے نزدیک کشتنی، سُوختَنی و گردن زَدنی ہوں۔ بہ قول میر تقی، شعر:\n\nبے جرم تہ تیغ ہی رکھا تھا گلے کو\n\nکچھ بات بری منہ سے نہ نکلی تھی بھلے کو\n\nجان عالم نے کہا: تم بھی کتنی عقل سے خالی، حُمق سے بھری ہو! تم تو پری ہو۔ اور جانور کی بات پر اتنا آزردہ ہونا! گو گویا ہے، پھر طائِر ہے، نادانی اس کی ظاہر ہے۔ میاں مٹھو کو ان باتوں کی تاب نہ آئی۔ آنکھ بدل کے روکھی صورت بنائی اور ٹیں سے بولا: خداوندِ نعمت! جھوٹ جھوٹ ہے، سچ سچ ہے۔ ہمسر جس کا کوئی نہیں، وہ ذات وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ کی ہے۔ اُس کے سوا ایک سے ایک بہتر و برتر ہے۔ سب کو یہ خبر ہے: فَضَّلْنَا بَعْضَکُم عَلیٰ بَعْضٍ۔ میں نے جھوٹ اور سچ دونوں سے بچ کر ایک کلمہ کہاتھا۔ اگر راستی پر ہوتا، گردن کج کیے سیدھا گور میں سوتا۔ یہ سن کے وہ اور مُجوِّز ہوئی۔ مثل مشہور ہے: راج ہٹ، تِریا ہٹ، بالک ہٹ۔ جان عالم نے مجبور ہو کے کہا: جو ہو سو ہو، مٹھو پیارے! سچ کہہ دو۔ توتے نے بہ منت عرض کی: دروغ مصلحت آمیز، بہ از راستیِ فتنہ انگیز۔ مجھے سچ نہ بلوائیے، میرا منہ نہ کھلوائیے۔ نہیں، انجامِ راستی حضور کے دشمنوں کو دشت نَوردی، بادِیہ پیمائی، غریب الوطنی، کوچہ گردی نصیب ہو گی۔\n\nشہ زادے نے کہا: یہ جملہ تم نے اور نیا سنایا۔ اب جو کچھ کہنا ہے، کہا چاہیے، باتیں بہت نہ بنائیے۔ اس نے کہا: میں نے ہر چند چاہا کہ آپ رنجِ سفر، مصائبِ شہر بہ شہر، ایذائے غربت سے باز رہیں کہ سفر اور سقر کی صورت ایک ہے، اِس سے بچنا نیک ہے مگر معلوم ہوا حضور کے مقدر میں یہ امر لکھا ہے، میرا قصور اس میں کیا ہے۔ رفیع سوداؔ:\n\nچاک کو تقدیر کے ممکن نہیں کرنا رفو\n\nسُوزنِ تدبیر ساری عمر گو سیتی رہے\n\nسنیے قبلۂ عالم! یہاں سے برس دن کی راہ، شمال میں ایک ملک ہے عجائب زرنگار۔ ایسا خطہ ہے کہ مرقعِ خیالِ مانی و بہزاد میں نہ کھنچا ہو گا اور پیر دِہقانِ فلک نے مزرعۂ عالم میں نہ دیکھا ہو گا۔ شہر خوب، آبادی مرغوب۔ رنڈی، مرد حسین، طرح دار۔ مکان بِلّور کے بلکہ نور کے، جواہر نگار۔ عقلِ باریک بیں مشاہدے سے دنگ ہو۔ خلقت اِس کثرت سے بستی ہے کہ اُس بستی میں وہم و فکر کو عرصہ تنگ ہو۔ خورشید ہر سحر اُس کے دروازے سے ضِیا پاتا ہے۔ بدرِ کامل وہاں دو دن نہیں رہتا، غَیرت سے کاہیدہ ہو، ہلال نظر آتا ہے۔\n\nوہاں کی شہ زادی ہے انجمن آرا۔ اُس کا تو کیا کہنا! کہاں میری زباں میں طاقت اور دَہاں میں طلاقت جو شِمّہ مذکورِ شکل و شمائل اُس زہرہ جبیں، فخرِ لُعبتانِ لندن و چیں کا سناؤں۔ اُستاد:\n\nایک میں کیا، خوب گر دیکھے اسے حسن آفریں\n\nاپنی صناعی پہ حیراں خود وہ صورت گر رہے\n\nلیکن سات سو خواصِ زرّیں کمر، تاجِ دل بر سر، ماہ رو، عنبریں مو، سرگروہ خوبانِ جہاں، جانِ جاں، آرامِ دلِ مشتاقاں، اُس کی خدمت میں شب و روز سرگرمِ خدمت گزاری، بڑی تیاری سے رہتی ہیں۔ اگر ان کی لونڈیوں کو شہ زادی صاحب بہ چشمِ انصاف دیکھیں اور کچھ غیرت کو بھی کام فرمائیں، یقین تو ہے چلو بھر پانی میں محجوب ہو کے ڈوب جائیں۔ ماہ طلعت یہ سن کے سن ہوئی، سر جھکا لیا۔ جان عالم کو کچھ اور ہی دھن ہوئی، پنجرہ اٹھا لیا، دیوان خانے میں لے جا مفصل حال دریافت کرنے لگا۔ جی کا حال کچھ اور ہی ہو گیا، ہر دم آہِ سرد دلِ نیم بسمل سے بھرنے لگا۔ مولوی جامیؔ:\n\nنہ تنہا عشق از دیدار خیزد\n\nبسا، کیں دولت از گفتار خیزد\n\nدر آید جلوۂ حسن از درِ گوش\n\nزجاں آرام بر باید،ز دل ہوش\n\nزدیدن ہیچ اثر نے درمیانہ\n\nکند عاشق کساں را غائبانہ\n\nتوتے کو شہ زادے کے طرزِ گفتگو، رنگِ رو، آنکھ کی تری، ہونٹ کی خشکی، دل کی دھڑک، کلیجے کی پھڑک سے کہ یہ نشانِ عشق، گمانِ خبط سب ہیں؛ ثابت ہوا کہ شہ زادے کا دل پُرزے پُرزے اور دِماغ کا ایاغ بادۂ عقل سے خالی ہوا، خیالِ محالِ وصالِ انجمن آرا بھرا، خوب حالی ہوا۔ سخت نادمِ و خجل ہو کے دل سے کہا: کم بخت زبان نے، حسن کے بیان نے غضب کیا، منتر کارگر ہوا، پڑھا جن سر چڑھا، حضرتِ عشق کا گزر ہوا۔ چاہا کہ بہ لَطائفُ الحِیَل اِس عزم بیجا سے باز رکھے، عقل اور عشق میں امتیاز رکھے، کہا: اے ناداں، دشمنِ جاں! یہ قصد لا حاصل ہے۔ عمداً اس کوچے میں پاؤں نہ دھر، اپنے خون سے ہاتھ نہ بھر، بہ قولِ مؤلف:\n\nخدا کو مان، نہ لے نام عاشقی کا سرورؔ\n\nکہ منفعت میں بھی اس کی، ہیں سو ضرر پیدا\n\nبیان اِس کا مُحال ہے، مگر مختصر سا یہ حال ہے: عقل اِس کام میں دور ہو جاتی ہے، وحشت نزدیک آتی ہے۔ لب خشک، چہرہ زرد، دل خون ہوتا ہے۔ بھوک پیاس مر جاتی ہے، خواب میں نیند نہیں آتی ہے۔ جانِ شیریں تلخ ہو، کلیجے میں درد، آخر کو جنون ہوتا ہے۔ لختِ جگر کھاتا ہے، خونِ دل پیتا ہے، مر مر کے جیتا ہے۔ رقیبوں کے طعنوں سے سینہ فگار ہوتا ہے۔ لڑکوں کے پتھروں سے سر کا رنگ گلنار ہوتا ہے۔ دن کو ذلت و خواری، شب کو انتظار میں اختر شُماری۔ بے قراری سے قرار رہتا ہے۔ اپنے بیگانے کی نظر میں ذلیل و خوار رہتا ہے۔ جنگل میں جی لگتا ہے، بستی اُجاڑ معلوم ہوتی ہے۔ در بہ در پھرنے میں دن تو کٹ جاتا ہے، تنہائی کی رات پہاڑ معلوم ہوتی ہے۔ سینہ آتشِ غم سے جل کے تنور ہوتا ہے۔ آنکھوں سے دریا ابلتے ہیں، طوفان کا ظہور ہوتا ہے۔ عقل کا چراغ گُل، تَپِ فراق سے دل جلتا ہے۔ شجرِ تمنا بے برگ و بار رہتا ہے، پھولتا ہے نہ پھلتا ہے۔ جوانی کا گھن، پیری تک اُڈھیڑ بُن رہتی ہے۔ گوں گا بہرا بن جاتا ہے، ہر دم طبیعت سن رہتی ہے۔ ابھی پہلی بسم اللہ ہے، ٹھنڈی سانسیں بھرتے ہو، لب پر آہ ہے۔ دیکھا نہ بھالا ہے، سینے کے پار عشق کا بھالا ہے۔ آئینہ ہاتھ میں لے منہ تو دیکھو، نقشہ کیا ہے۔ معشوقِ با وفا گو گردِ سرخ، لعلِ سپید سے نایاب سِوا ہے، کہاں ملتا ہے۔ خاک میں، ڈھونڈتے ڈھونڈھتے خواہاں ملتا ہے۔ یہ جو زمانے میں مشہور با مِہر و وفا ہیں، بے وفا، بانی صَد جَور و جفا ہیں۔ عشق کم بخت بے پیر ہے، او نوجواں! یہی ٹیڑھی کھیر ہے۔ سنا نہیں کوہ کن نے جانِ شیریں کس تلخی سے کھوئی، یوسف کی چاہ میں زلیخا نے کیسے کنویں جھانکے، کیا کیا روئی! مجنوں کو اِس دشت میں جنون ہوا، لیلیٰ کا کیا بگڑا؟ پرویز کا اِس کوچے میں خون ہوا، شیریں نے کیا کیا؟ افسوس تو یہ ہے کہ اِتنا بھی کوئی نہ سمجھا، جامیؔ:\n\nغمِ چیزے رگِ جاں را خراشد\n\nکہ گاہے باشد و گاہے نباشد\n\nذِلت اِس کام میں عین عزت ہے۔ درد کا نام یہاں راحت ہے۔ دل اِس کشمکش میں ٹوٹ جاتا ہے۔ رُستم کا اِس معرکے میں جی چھوٹ جاتا ہے۔ اِسفَندِ یار سا روئیں تن ہو تو موم کی طرح پگھل کر بہہ جائے، حسرت ہی حسرت رہ جائے۔ لوگوں نے ہزاروں رنج، صدمے اِس کام میں اٹھائے، بعد خرابیِ بِسیار نا تجرِبہ کار کہلائے۔ یہ وہ برا کام ہے، ناکامی جس کا آغاز، بدنامی انجام ہے۔ مُبتدی ہو یا مَشّاق ہے، دونوں کی رائے ایک سی ہوتی ہے۔ صدمۂ دوری، المِ حُضوری شاق ہے۔ مرضِ عشق میں کوئی دوست گرفتار نہ ہو۔ مولّف:\n\nدوست تو دوست ہے، دشمن کو یہ آزار نہ ہو\n\nمُسدّس:\n\nکیا میں اِس کافرِ بد کیش کا احوال کہوں\n\nیہی خوں خوار، پِیا کرتا ہے عاشق کا خوں\n\nزار کر دیتا ہے انسان کو یہ اور زَبوں\n\nرفتہ رفتہ یہی پہنچاتا ہے نوبت بہ جنوں\n\nیہی خوں ریز تو خوں خوار ہے انسانوں کا\n\nدین کھوتا یہی کافر ہے، مسلمانوں کا\n\nیہی کرتا ہے ہر اک شخص کو رسوا، ظالم\n\nیہی کرتا ہے ہر اک چشم کو دریا، ظالم\n\nکوہ دکھلاتا ہے گاہے، گہے صحرا، ظالم\n\nکیا بتاؤں تمھیں، کرتا ہے یہ کیا کیا ظالم\n\nدر بہ در، خاک بہ سر، چاک گریباں کر کے\n\nجان لیتا ہے، ولے بے سر و ساماں کر کے\n\nیہی بانی تو زلیخا کی بھی تھا خواری کا\n\nیہی باعث دَمَن و نَل کی ہُوا یاری کا\n\nیہی فرہاد کی، حامی تھا، تَبَر داری کا\n\nعشق کہیے نہ اِسے، قہر ہے یہ باری کا\n\nتلخ کامی ہوئی شیریں کو اسی سے حاصل\n\nکیے بے پردہ و برباد ہزاروں مَحمِل\n\nاِس نے مجنوں سے بنائے ہیں بہت دیوانے\n\nاِس نے خود رفتگی میں، اپنے کیے بیگانے\n\nگو کہ مشہور جہاں اِس کے ہیں سب افسانے\n\nپر، جو اِس کام کا مشّاق ہو، وہ ہی جانے\n\nکبھی معشوق کے پردے میں نِہاں ہوتا ہے\n\nکبھی سر چڑھ کے یہ عاشق کے، عیاں ہوتا ہے\n\nناقۂ لیلیِ مُضطر کا شُترباں یہ تھا\n\nنجد میں قیس سے پہلے ہی حُدی خواں یہ تھا\n\nچاہ میں ڈال کے، یوسف کا نگہباں یہ تھا\n\nجان ہر شیر کی لینے کو، نیستاں یہ تھا\n\nحُسن بن جاتا ہے، انداز کہیں، ناز کہیں\n\nدردِ دل ہے یہ کہیں، سوز کہیں، ساز کہیں\n\nمثلِ فرہاد بہت مر گئے سر پھوڑ، حزیں\n\nدی ہے شیریں کی طرح کتنوں نے جانِ شیریں\n\nپاس عذرا کے گیا اور کوئی وامق کے قریں\n\nاِس سے آوارہ بچا اور نہ بچا گوشہ نشیں\n\nاِس سے ملتا ہے جسے، رنج و مِحَن ملتا ہے\n\nگور ملتی ہے کسی کو نہ کفن ملتا ہے\n\nطور کو نور کے جلوے میں جلایا اِس نے\n\nکبھی آتش کو ہے گُلزار بنایا اِس نے\n\nجان چھوڑی نہیں، جیتا جسے پایا اِس نے\n\nاور نیرنگ جہاں اپنا دکھایا اِس نے\n\nکام مُردوں سے لیا، زندوں کو ناکام رکھا\n\nدرد کا نام بھی بے درد نے آرام رکھا\n\nاِس کے افسانے ہیں دنیا میں بہت طول و طویل\n\nجس کا ہمدم یہ ہوا، ہو گیا وہ خوار و ذلیل\n\nاِس کا بیمار، پڑا رہتا ہے بستر پہ علیل\n\nدھونس دے دے کے بجا دیتا ہے یہ کوسِ رحیل\n\nرنج و ماتم کے سوا، اور یہ کیا دیتا ہے\n\nوصل کی شب سحرِ ہجر دکھا دیتا ہے\n\nیہی اِخفا ہے بہ صد زیب رگِ ہر گُل میں\n\nسوز و نالہ یہ اِسی کاہے دلِ بلبل میں\n\nیہی ہے جُز میں، اگر دیکھو، یہی ہے کُل میں\n\nگر فرشتہ ہو، تو آ جاتا ہے اِس کے جُل میں\n\nخون بے جرم زمانے کا بہاتے دیکھا\n\nمَیل چِتون پہ کبھی اِس کی نہ آتے دیکھا\n\nایک شِمّہ ہے، لکھا حال جو میں نے اِس کا\n\nجس پہ اِس دیو نے اَلطاف کا سایہ ڈالا\n\nدشتِ غربت میں وہ آوارہ و سرگشتہ ہوا\n\nدوست بھی چھوٹتے ہیں، شہر بھی چھوڑے اپنا\n\nپاس جس کے یہ گیا، خلق سے وہ دور ہوا\n\nکون سا شیشۂ دل تھا کہ نہ وہ چور ہوا\n\nہجر کے رنج میں کتنوں کا ہوا اس میں وصال\n\nلے گئے سینے میں فرقت کا سبھی درد و ملال\n\nاِس کی گردش سے ہر اک ماہ ہوا بدرِ ہلال\n\nکس کی طاقت ہے کہ تحریر کرے اس کا حال\n\nزیست کرتا غمِ ہجراں سے یہ ہے سب کی شاق\n\nجان دے دیتے ہیں کہہ کہہ کے یہی ہائے فراق!\n\nوصل میں گو مزہ ہے، ہجر کا رنج وَلے جاں گُزا ہے۔ چاہ، کُنویں جھکواتی ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جو جان کے ساتھ جاتی ہے۔ ہمیشہ سے اس کام والے آہ و نالہ بَر لَب، خاک بہ سَر، چاک گریباں سب رہے ہیں۔ اگر عاشق کی عزت و توقیر ہوتی تو دنیا میں اس سے بہتر کوئی شَے نہ تھی۔ جستہ جستہ اِن لوگوں کے مرتبہ شَناس، قدر داں ہیں، مگر ہر جگہ کہاں ہیں! اور یہ قصہ جو میں نے کہا، فقط بات کی پَچ کا جھگڑا تھا، ورنہ کہاں ملکِ زر نِگار، کجا شہ زادیِ عالی تَبار! جان عالم نے کہا: استغفر اللہ! اگر وہ جھوٹ تھا، تو یہ فقرہ کب سچ ہے۔ یہ تو نِری کھڑ پچ ہے۔ سوز:\n\nخدا ہی کی قسم ناصح! نہ مانوں گا کہا اب تو\n\nنہ چھوٹے گا ترے کہنے سے، میرا دل لگا اب تو\n\nاِسی تقریر میں یہ حال ہوا کہ دل میں درد، چہرہ زرد ہونے لگا۔ لب پر آہِ سرد، گرفتار رنج و تعب، عشق کے آثار سب ظاہر ہوئے۔ شاہ زادے صاحب جامے سے باہر ہوئے۔ ضبط کا پردہ درمیان سے اٹھا۔ شور فُغاں سے اٹھا۔ جنون پیرامونِ عقل۔ بے چارہ نَو گرفتار سلسلۂ محبت میں اسیر بہ قول میرؔ ہو گیا۔ طالعِ بیدار دفعتاً سویا، فتنہ چونک کر جاگا۔ دل، بَر سے نکل کر بھاگا۔ میر:\n\nطبع نے ایک جنوں کیا پیدا\n\nاشک نے رنگِ خون کیا پیدا\n\nہاتھ جانے لگا گریباں تک\n\nبے قراری نے کج ادائی کی\n\nچاک کے پاؤں پھیلے داماں تک\n\nتاب و طاقت نے بے وفائی کی\n\nتوتا یہ حال دیکھ کر محجوب ہوا کہ ناحق، رنڈی کی کج بحثی سے شہ زادے کو مرگ کا مستعد کیا۔ بیٹھے بٹھائے خونِ بے گناہ اپنی گردن پر لیا۔ اب اس طرح کا سمجھانا، مانع ہونا ابھارنا، بھڑکانا، بلکہ نرا جلانا ہے۔ گھبرا کر تسکین و تشفی کرنے لگا اور زخم شمشیر عشق کو مرہم مژدۂ وصال سے بھرنے لگا۔ کہا: آپ ہوش و حواس بجا رکھیے۔ اگر مجھے ایسا سچا جانا کہ میرا جھوٹ سچ مانا، اس شرط سے آپ کو لے چلوں گا جو میرا کہا نہ مانو گے، زک اٹھاؤ گے، دھوکا کھاؤ گے، پھر مجھ کو نہ پاؤ گے، پچھتاؤ گے۔\n\nجان عالم نے فرمایا: اے رہ بر کامل، رنج کے غم گسار، راحت کے شامل! تیرے جادۂ اطاعت سے ہر گز قدم باہر نہ دھروں گا۔ جو تو کہے گا، وہی کروں گا مگر جلد حال مُفَصّل اور بعُدِ منَازِلِ و سمت شہرِ دوست سے نشان کامل دے، وگرنہ یہ دلِ بے تاب خجلت دِہِ بے قراریِ سیماب کہ قطرۂ خوں سے فزوں نہیں، تڑپ کر از راہ چشمِ نادیدہ روئے دوست نکل جائے گا۔ پھر بجز حسرت و افسوس تیرے کیا ہاتھ آئے گا۔ میرؔ:\n\nدل تڑپتا ہے متصل میرا\n\nمرغ بسمل ہے یا کہ دل میرا\n\nتوتے نے کہا اضطراب کا کام خراب ہوتا ہے۔ ناحق حجاب ہوتا ہے۔ اتنی جلدی موقوف کیجیے۔ آج کی رات اس شہر میں کاٹ، صبح ادھر کی راہ لیجیے۔ اگر کشش صادق اور طالع بھی موافق ہے، منزل مقصد کا سفر درپیش ہو گا، ہمراہ رکاب یہ خیر اندیش ہو گا۔ عزم بالجزم درکار ہے۔ درِ شہر پناہ پر خانۂ دل دار ہے۔\n\nجان عالم یہ خوشخبری سن کر بشاش ہوا۔ پھر کہا، استاد:\n\nمژدۂ وصل ہے کل، رات کی نیت ہو حرام\n\nدیں اگر طالع برگشتہ نہ تدبیر الٹ\n\nاُس رات کی بے قراری، گریہ و زاری، اختر شماری شہ زادے کی کیا کہوں! ہر گھڑی بہ حالِ پریشاں۔ سوئے آسماں مضطر نگراں تھا کہ رات جلد بسر ہو، نمایاں رخ سحر ہو، تا عزم سفر ہو۔ اور یہ کہتا تھا،\n\nسعدیؔ:\n\nسعدیا! نوبتی امشب دُہل صبح نکوفت\n\nیا مگر صبح نباشد شب تنہائی را!\n\nآخرش تاثیر دعائے سحری، اثر نالۂ نیم شبی سے ظلمت شب، بہ نور روز منور ہوئی۔ وزیر زادے کو، باوجود خود فراموشی، یاد فرمایا۔ لڑکپن سے تا زمانۂ عشقِ انجمن آرا اس سے بھی الفت رکھتا تھا۔ جب وہ حاضر ہوا، حکم کیا: دو گھوڑے صبا رفتار، برق کردار، جن کی جھپٹ نسیم تند رَو کو کھُندل ڈالے، ان کے قدم سے کمیتِ صرصر کی ڈپٹ پاؤں نہ آگے نکالے۔ جلد لا۔ وہ بہ مجرد ارشاد اصطبل خاص میں جا، گھوڑے لایا۔ کچھ اسباب ضروری، وہ بھی بہ مجبوری لے کے دونوں خستہ تن، بقول میر حسنؔ چل نکلے۔ میر حسنؔ:\n\nنہ سدھ بدھ کی لی اور نہ منگل کی لی\n\nنکل شہر سے، راہ جنگل کی لی", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%AC%D9%8E%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B3%D9%8E%D9%85%D9%8E%D9%86%D8%AF%D9%90_%D8%AA%DB%8C%D8%B2_%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%90%D9%82%D9%84%D9%85_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "فسانۂ عجائب/حالِ خُسراں مآل مجسٹن کے بیٹے کا", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "حالِ خُسراں مآل مجسٹن کے بیٹے کا، سفر کو جانا، راہ میں جہازوں کا غرق ہو جانا۔ پھر تختے کے سہارے سے پہنچنا کنارے پر، فریفتہ ہونا ایک ماہ پارے پر۔ لڑکوں کا پیدا ہونا پھر تفرقہ، اور خفت کا مبتلا ہونا\n\nوہ بولا: اسی شہر میں ایک شخص تھا مِجِسٹن نام۔ نہایت اہلِ دَوَل، مُرفّہ حال۔ صاحب علم و فضل، جامع ہر کمال۔ طبیب و ادیبِ بے بدل۔ سخن سنج، لطیفہ گو بر محل۔ کمالات میں یگانہ رُوزگار۔ تجارت میں نامورِ ہر دیار۔ سو سو جہاز ایک ایک بار تجارت کو جاتا تھا۔ نصیب ایسا جاگتا تھا مٹی کو چھوتا، سُونا ہاتھ آتا تھا۔ کسی طرح کا خواہش مند، بجُز فرزندِ ارجُمندنہ تھا۔ دُعا، دوا، خیرات تک بند نہ تھا۔ شب و رُوز اس کا خیال تھا۔ مُدام فرحت میں یہ ملال تھا۔ ہزاروں رنج لا ولدی کے سہتا تھا؛ مگر صابر ایسا تھا کہ خدا کے سوا کسی بندے سے کچھ نہ کہتا تھا۔\n\nخوش قسمتوں کی دُعا جلد قبول ہوتی ہے، تمنائے دل حُصول ہوتی ہے۔ پچھتر برس کے سِن میں اللہ نے بیٹا عنایت کیا حسبِ دِل خواہ، صورت میں غیرتِ ماہ۔ بہت شاداں ہو کے سرگرم پرورش ہوا۔ ایک عالم اُس کی صورت دیکھ کے غش ہوا۔ جب بارہ برس کا سِن ہوا، نشیب و فراز دیکھنے کا دن ہوا؛ بہ سببِ طبعِ رسا و تعلیمِ اُستادانِ با ذَکا جمیع عُلوم، سب فُنون میں یکتائے زمانہ مشہور ہوا۔ ماں کو خوشی، باپ کو سُرور ہوا۔ درس دینے لگا، مطب کرنے لگا؛ اوروں کو تعلیم سب کرنے لگا۔ چودھویں برس باپ سے سفر کی اجازت چاہی کہ تجارت میں کوئی دقیقہ باقی نہ رہ جائے، والدین کو حاصلِ مشقت دکھائے۔ مِجِسٹن نے کہا: اپنا بھی یہی قصد تھا؛ مگر چندے توَقُف کرو، ابھی ناتجربہ کار ہو۔ اُس نے عرض کی: حُضور عُمرِ طبعی کو پہنچے، مُسِن ہیں؛ فدوی کے سیاحت اور سفر کے یہی دن ہیں۔ چاہتا ہوں کہ آپ کے بہ قیدِ حیات سفر کو جاؤں؛ گرم و سردِ زمانہ دیکھوں، جودتِ طبع سب کو دکھاؤں۔\n\nآخر مِجِسٹن نے دس بارہ جہاز پر متاع و مال اور کچھ رفیقِ قدیم کار گُزار، دیانت دار، امانت شعار ہمراہ کر رُخصت کیا۔ نشیب و فرازِ دوراں، نیرنگیِ جہاں سے آگاہ کر دیا۔ جہاز ایک سمت روانہ ہوئے۔ دو مہینے کے بعد ہوائے جورِ گردوں سے سرنِگوں ہو کے تباہ ہو گئے۔ مِجِسٹن کے بیٹے کا بھی جہاز ڈوب گیا۔ یارانِ ہمراہی عالمِ بقا کو راہی ہوئے، کچھ طعمۂ نِہنگ و ماہی ہوئے۔ یہ ایک تختے پر ڈوبتا تِرتا بہہ چلا۔ حیاتِ مُستعار باقی تھی؛ ساتویں دن ہِرتا پھرتا تختہ کنارے پر لگا۔ غش سے جو افاقہ ہوا؛ آنکھیں کھولیں، سر اُٹھایا، تختے کوگھاٹ پر پایا۔ بہرکیف اُترا۔ کچھ گھانس لا، رسی بنا، وہ تختۂ کشتیِ شکستہ پتھر سے اٹکا دیا۔ پھر آپ بہ تلاشِ آب و دانہ روانہ ہوا۔ تھوڑی مسافت بہ صد آفت طے کی۔ شہر عظیمُ الشان، بہت آبادان نمود ہوا۔ آہستہ آہستہ، بیٹھتا اُٹھتا شہر میں داخل ہوا۔ وہاں عجیب سانحہ، طُرفہ ماجرا نظر آیا؛ دُکان ہر ایک وا، اشرفی روپے کا ڈھیر جا بہ جا، اسباب سب طرح کا نایاب موجود، مگر آدمی کا پتا مُفقود۔ اس قرینے سے ثابت ہو اکہ عرصے سے یہ بازار جِنسِ بشر سے خالی ہے۔ ویرانِ مطلق ہے، شہر کا وارِث ہے نہ والی ہے۔ پھرتا پھرتا قلعے میں آیا۔ باغ سر سبز، پُر میوہ؛ بیچ میں بنگلا، زربفت کے نفیس پردے پڑے ہوئے، در و دیوار میں جواہر بیش بہا قرینے سے جڑے ہوئے۔ پردہ اُٹھا بنگلے میں گیا۔ پلنگ جواہر نگار گُستردہ، اس پر بہ شکلِ مُردہ ایک شخص دوپٹا تانے، نہ کوئی پائنتی نہ سرھانے، پڑا ہے۔ اس نے دوپٹا جو سرکایا، وہ عورت تھی۔ نیند سے چونک پڑی، سَر اُٹھایا، مُتعجب ہو کے اس کی صورت دیکھی، مُتاسف ہو کے یہ سُنایا کہ اے عزیز! اپنی جوانی پر رحم کر۔ یہ مکان نہیں، سیلِ فنا ہے؛ تو نا آشنا ہے۔ اس سے درگُزر، وگرنہ آفت کا مبتلا ہو گا، خدا جانے ایک دم میں کیا ہو گا! اس نے کہا: ایسا ماجرا کیا ہے، بیان تو کر۔ عورت نے کہا: پہلے تو اپنے یہاں آنے کا حال سُنا کہ کیوں کر آ پھنسا۔ اس نے کہا: ہفتہ گزرا بے دانہ و آب، خستہ و خراب ہوں؛ جو کچھ کھاؤں تو داستان پریشانی کی سُناؤں۔ عورت بولی: مدت کے بعد کھانے کا نام تیرے مُنہ سے سُنا ہے؛ سُو کھانا یہاں کہاں، بجُز غم کھانے کے اور پانی، سوا اشک بہانے کے۔ آنسو پینے کا نام ہے، اس سے نہیں پیتی ہوں اور کھانے کی قِسم سے قسم تک نہیں کھاتی۔ مُتحیر ہوں کیوں کر جیتی ہوں! مگر تنہائی میں ہاں، خوف کھا کے، رُوز دن بھرتی ہوں۔ ہر شب کہ شبِ اولینِ گور ہے، جاں کنی رہتی ہے؛ سخت جانی کی بدولت نہیں مرتی ہوں۔ جُرأتؔ:\n\nیہ غلط کہتے ہیں، بے آب و خُوِرِش جیتے ہیں\n\nلختِ دل کھاتے ہیں اور خونِ جگر پیتے ہیں\n\nتو اس باغ میں جا، جس میوے پر رغبتِ خاطر ہو، کھا۔ مِجِسٹن کے بیٹے نے جا کے میوہ کھایا، نہر سے پانی پیا۔ گونہ رنجِ فاقہ کشی سے اِفاقہ ہوا۔ پھر عورت کے پاس بنگلے میں آ کے حسب و نسب اپنا اور باعِثِ سفر، جہاز کی تباہی کی مُفصل سرگذشت سُنائی۔ پھر اُس کا ماجرا پوچھا۔ وہ بولی: اے شخص! اس شہر بے چراغ کی میں شہ زادی ہوں۔ باپ میرا اس ملک کا حاکم تھا۔ چھوٹا بڑا یہاں کا شاد و خرم تھا۔ باپ جو تاج دار تھا، مجھ کو مشغلۂ سیر و شکار تھا۔ ایک روز لبِ دریا مصروفِ تماشا بیٹھی تھی، دفعتاً ایک سانپ پانی سے نکل کے میری طرف بڑھا۔ میں نے اُس کو تیر مارا۔ معلوم نہیں لگا یا خطا کر گیا۔ پھر جو دیکھا تو اژدہائے مُہیب بہ شکلِ عجیب جھپٹا آتا ہے۔ میں تو ڈر، گھوڑے پر چڑھ کر بھاگی۔ جو جو ہمراہِ رکاب تھے، طُعمۂ دہنِ مارِ خوں خوار ہوئے۔ کہاں تک بیان کروں؛ ساکنانِ شہر مع بادشاہ، انسان تا حیوان، کوئی نہ بچا، سب ہلاک ہوئے، تہِ خاک ہوئے؛ فقط میں سخت جان باقی ہوں۔ اور یہ صحبت ہے کہ قریبِ شام وہ مارِ خوں آشام آ کر اس بنگلے کے نیچے بیٹھتا ہے؛ دو گھڑی کے بعد غائب ہو جاتا ہے۔ مجھ پر جب بھوک پیاس کا غلبہ ہوتا ہے؛ اسی باغ سے میوہ کھا، پانی پیتی ہوں، اس خرابی سے جیتی ہوں۔ کوئی غم خوار بجُز ذاتِ پروردگار نہ تھا، جس کو حالِ زار سُناتی۔ اِتنے دنوں میں آج تجھے دیکھا؛ خوفِ خُدا آیا، مُطلع کر دیا۔\n\nپِسر مِجِسٹن نے کہا: خاطِرِ پریشاں جمع رکھ؛ اگر فضلِ الٰہی مددگار ہے تو جلد اُس کو فی النار کر، تجھ کو اس آفت سے نجات دیتا ہوں۔ یہ کہہ کے، جس جگہ سانپ کے بیٹھنے کی جگہ عورت نے بتائی تھی، وہاں گڑھا کھُود اور قلعے سے باروت لا کر دور تک نقب سی بنا، باروت اُس میں چھڑک دی۔ پھر گھانس ہری اُس پر جمائی۔ شہ زادی نے کہا: اب وہ آتا ہی ہو گا۔ یہ جا کے سرِ نقب پوشیدہ ہو کر بیٹھ رہا؛ کہ دفعتاً وہ افعیِ پُر زہر، خدا کا قہر آیا اور اپنی جگہ پر اُس سبز قدم نے فرشِ زمُردیں پایا؛ بہت خوش ہو کر بیٹھا۔ یہ تو تاک میں تھا؛ پتھر سے آگ نکال، اُس نقب میں ڈال دی۔ فوراً ایک دھماکا پیدا ہوا، وہ ٹکڑا زمین کا مع سانپ آسمان پر پہنچا۔ دونوں نے شُکر کا سجدہ بہ درگاہِ دافِعُ البلیات کیا۔ باہم بے اندیشہ و غم رہنے لگے۔ سات برس دونوں ساتھ رہے۔ اس عرصے میں دو لڑکے بھی پیدا ہوئے۔ ایک دن رنجِ تنہائی کی شہ زادی نے شکایت کی کہ اکیلے طبیعت نہیں لگتی۔ سعدیؔ:\n\nبہارِ عُمر، ملاقاتِ دوستدارانست\n\nچہ حظ بَرَد خِضر از عُمرِ جاوِداں تنہا\n\nکب تک تنہائی میں بسر کریں، شامِ غم انجام رو رو سحر کریں۔ کوئی ترکیب ایسی نکالو کہ پھر یہ ویران شہر آباد ہو، خاطِرِ غمگین شاد ہو۔ وہ بولا: اگر وطن جاؤں اور مِجِسٹن کو یہاں لاؤں، تو یہ بستی بسے۔ عورت نے کہا: اکیلی میں کیوں کر بسر کروں گی، میں بھی ساتھ چلوں گی۔ آخرشِ، ایک ایک لڑکا دونوں گود میں لے کے چل نکلے۔\n\nقضارا، وہاں پہنچے جہاں تختہ بندھا تھا؛ ذِہن میں آیا: پیادہ پا لڑکوں کا لے چلنا مُحال ہے، یہ بے جا خیال ہے، توکلتُ علی اللہ کہہ کے اسی تختے پر سوار ہو، رسی کھول دو؛ کہیں تو جا نکلو گے۔ یہ سوچ کر دونوں سوار ہوئے۔ وہ تختہ کھولنے لگا، شہ زادی نے کہا: مال و اسباب تو اس قدر ہے کہ بیان میں زبان قاصر ہے؛ مگر ایک ناریل اکسیر سے بھرا ہے، دولتِ لا انتہا ہے، رتی باون تولے کا تجربہ ہو چکا ہے۔ بہت تردُد سے ظِلِّ سبحانی نے پایا تھا، سب سے چھپایا تھا؛ جو تو اجازت دے تو اُسے لے آؤں۔ مصر؏:\n\nبد وزد طمع دیدۂ ہوشمند\n\nمِجِسٹن کے بیٹے نے کہا: اچھا۔ وہ تختہ کچھ کھُلا کچھ بندھا، یوں ہی رہا۔ شہ زادی لڑکا لیے اُتری۔ اس کے اُترتے ہی ایسی تُند ہوا چلی کہ رسی، تکان سے ٹوٹ گئی؛ تختہ بہہ چلا۔ ہر چند اس نے ہاتھ پاؤں مارے، وہ ساحلِ مطلب سے کنارے ہوا۔ کنارے پر شہ زادی بہ حالِ خراب، دریا میں وہ با دلِ کباب بہہ نکلا۔ دل سے کہتا تھا: دیکھیے، مرضیِ ناخُدائے کشتیِ بادباں شکستہ کیا ہے! یہ جھونکا ہوائے قومِ ثمود، عاد کاہے۔ اس سوچ میں چلا جاتا تھا کہ ایک جہاز نمود ہوا۔ اہل جہاز نے جو دیکھا: تختے پر کوئی جوان گود میں لڑکا نادان لیے بہا جاتا ہے؛ رحم کھا، پنسوہی کو دوڑا جہاز پر لیا۔ اتفاقِ زمانہ، مالکِ جہاز مِجِسٹن کا دوست و دم ساز تھا؛ اُس کو پہچانا، بہت تعظیم تکریم سے پیش آیا۔\n\nبرس رُوز میں جہاز کلکتے میں داخل ہوا۔ جہاز کا حاکم مجسٹن کی ملاقات کو آیا، بچھڑے بیٹے کو باپ سے ملایا۔ یہاں جس دن سے جہاز کی تباہی مِجِسٹن نے سُن پائی تھی، محیطِ رنج و الم، غریق لُجّۂ غم تھا۔ بارے، بیٹے کو دیکھ کر سجدہ بہ درگاہِ باری کیا، پوتا گھاتے میں مِلا، اور کلمات شکریہ اُس سے کرنے لگا۔ اُس نے کہا: بندہ پرور! خیر ہے، دُنیا اسی کا نام ہے۔ جس کا کام جس سے نکلے، وہ فخر و سعادت سمجھے۔\n\nبعد چند روز مِجِسٹن نے بیٹے سے رودادِ سفر پوچھی۔ اُس نے ابتدا سے انتہا تک حکایت، فلک کج رفتار کی شکایت بیان کی۔ وہ یہ سُن کر سمجھا: مشکل پیچ پڑا؛ مگر سہل انگاری سے یہ جواب دیا کہ الخیر فی مَا وَقَعَ خیریت اسی میں تھی جو ہوا۔ مصر؏\n\nبر سرِ فرزندِ آدم ہرچہ آید، بگذرد\n\nمگر یہ مقدمہ اور بیان ’’سرود بمستاں‘‘ ہُوا، بیٹے نے کہا: مناسب یہ ہے کہ اب جلد چلیے۔ ایسا مُلکِ مالا مال، یہ دولتِ لازوال ہاتھ سے نہ دیجیے، نصیبِ دُشمناں نہ کیجیے۔ مِجِسٹن نے کہا: خیر ہے بابا جان! کیسا آنا، کیسا جانا! یہ بھی ایک فسانہ تھا جو تم نے کہا، ہم نے سُنا؛ اور وہ بھی خوابِ پریشاں تھا جو تو نے دیکھا۔ اس کو یاد رکھ، لا اعلم:\n\nایامِ وِصال و صحبت سیم تناں\n\nدر عالمِ خواب اِحتلامے شد و رفت\n\nبیٹے نے جواب دیا: آپ سا عقل مند ایسا کلمہ فرمائے تو نہایت بعید ہے۔ دُنیا میں تین معرکے ہیں: زر، زمین، زن؛ یہ سامان جمع ہیں؛ اگر آپ نہ جائیں گے، فِدوی تنہا جائے گا، پھر نہ آئے گا۔ مِجِسٹن نے کہا: افسوس! ہم تجھے دانا جانتے تھے؛ اِلّا، ہماری نادانی تھی۔ حُمُق کی مُقتضی تمہاری نوجوانی تھی۔ اے بھائی! کوئی نادان سے نادان عورت کی بات کا دھیان نہیں کرتا۔ یہ باتیں جب تک تھیں، جو تم اور وہ باہم تھے۔ وہ مونس تھی، تم ہم دم تھے۔ اب خیریت ہے۔ سعدیؔ:\n\nزن دوست بود، ولے زمانے\n\nچوں در برِ دیگرے نشیند\n\nتا جُز تو نیافت مہربانے\n\nخواہد کہ ترا دگر نہ بیند\n\nمصر؏:\n\nاسپ و زن و شمشیرِ وفا دار کہ دید\n\nہر چند اُس نے سر پھرایا، مغز خالی کیا، یہ مُقدمہ اُس پر حالی کیا؛ وہ بے مغز نہ سمجھا۔ مصحفی:\n\nمصحفی! سود نصیحت کا نہیں عاشق کو\n\nمیں نہ سمجھوں تو بھلا کیا کوئی سمجھائے مجھے\n\nناچار مِجِسٹن نے کہا: تم جب تک ذلت نہ اُٹھاؤ گے اور ہمیں خراب نہ کرو گے؛ اس حرکتِ بے جا سے باز نہ آؤ گے، نہ چین لو گے۔ اُسی دن مِجِسٹن سامانِ سفر درست کر، ساٹھ جہاز مع اسباب اور چند مُشیر خوش تدبیر ہمراہ لے کر روانہ ہوا۔ عقل کے دشمن بیٹے کو ساتھ لیا۔ چند روز میں ہوا جو مُوافق تھی، وہ جزیرہ ملا۔ جہازوں کو لنگر ہوا۔ مِجِسٹن کا بیٹا اُترا۔ مگر جہاں ویرانہ، بوم و غول کا آشیانہ تھا، وہاں بستی دیکھی۔ اور جس جگہ بیہڑ تھا، اُسے ہموار پایا، بلندی نظر آئی، نہ پستی دیکھی۔ دشت مُصفیٰ، آدمی ہر سمت سرگرمِ کاروبار، شہر پناہ تیار۔ اسے تعجب ہوا، سمجھا کہ میں بھول گیا۔ کسی سے پوچھا: اس شہر کا نام کیا ہے؟ والی مُلک کون سا ہے؟ وہ بُولا: مدت سے یہ مُلک بہ سببِ آفتِ آسمانی اُجاڑ ہو گیا تھا۔ رِعایا برایا، بلکہ بادشاہ بھی نہ بچا تھا، فقط بادشاہ کی بیٹی باقی تھی۔ اب برس دن سے اُس نے وہشر کیا ہے۔ شہر از سرِ نو آباد ہوا، نیا طرز ایجاد ہوا۔ زمین یہاں کی زر رِیز، چشمے سرد و شیریں، ہوا فرحت انگیز، ٹھنڈی ہے۔ عورت نے بسایا ہے۔ اس باعث سے نام اس کا شہزادی منڈی ہے۔\n\nمِجِسٹن نے یہ ماجرا سُن کر بیٹے سے کہا: خوش تو بہت ہوئے ہو گے! لو سیدھے پھِر چلو، یہاں نہ ٹھہرو۔ اُس نے کہا: اتنی سفر کی صُعوبت اُٹھائی، اُس کی صورت بھی نظر نہ آئی۔ دو باتیں کر لوں تو پھر چلوں۔ مِجِسٹن نے کہا: یہ مصیبت کچھ نہ تھی، جو بات کرنے میں ایذا اُٹھے گی۔ وہ کسی کی کب مانتا تھا، عورت کو اپنے اوپر فریفتہ جانتا تھا؛ انھیں لوگوں سے پھر پوچھا: شہ زادی کبھی سوار بھی ہوتی ہے؟ کسی سے دوچار بھی ہوتی ہے؟ وہ بولے: روز ہر گلی کوچے میں آتی ہے، دیکھ بھال کے چلی جاتی ہے۔ غرض کہ سواری کا وقت دریافت کر، لڑکے کا ہاتھ پکڑ کے سرِ راہ جا کھڑا ہوا؛ کہ شہ زادی شبدِیز کو مہمیز کرتی آ پہنچی۔ یہ پُکارا: ہم نے ایفائے وعدہ کیا، حاضر ہوئے، آئے اور لڑکا بھی فضلِ الٰہی سے سلامت موجود ہے، ساتھ لائے؛ کیا ارشاد ہوتا ہے؟ اُس نے بے گانہ وار، جیسے کسی اجنبی کو کوئی دیکھتا ہے، گھورا؛ مگر جواب کچھ نہ دیا، چلی گئی۔ یہ خفیف گھر پھرا۔\n\nمِجِسٹن نے حال پوچھا، کیا گزری؟ یہ بولو: ملاقات نہ ہوئی، کل پھر جاؤں گا۔ اُس نے کہا: صُبح کا جانا؛ رُوزِ سیاہ، شامِ غم دکھائے گا؛ بھُور ہو جائے گی، بہت پچھتائے گا۔ اُس نے نہ مانا۔ دوسرے رُوز بیٹے کو سکھایا کہ جب سواری قریب آئے، گھوڑے سے لِپٹ جانا اور یہ زبان پرلانا کہ دُنیا کا لہو سفید ہو گیا۔ مہرِ مادری سے محبتِ پدری میں لطف زیادہ پایا کہ ہمیں ساتھ بہ آرامِ تمام لیے پھرتا ہے؛ تم بات بھی نہیں پوچھتی ہو، بلکہ پہچانتی نہیں۔ جس دم سواری قریب آئی؛ یہ تو بہت جلا تھا اور سمجھ چکا تھا کہ کھیل بگڑ گیا، کہا: شہ زادی! بات کو روکو، شیروں کا نعرہ سُن لو۔ وہ خود تو رُکی تھی، باگ بھی خود بہ خود رک گئی۔ پسرِ مِجِسٹن نے اور تو کچھ نہ کیا، یہ مُسدس شروع کیا، مُؤلف:\n\nیاد ایام، کہ نفرت تھی زمانے سے تجھے\n\nخوف آتا تھا کہیں آنے سے جانے سے تجھے\n\nہوتی وحشت تھی بہت غیر کے آنے سے تجھے\n\nمکر تھا یاد، خبر تھی نہ بہانے سے تجھے\n\nبے دھڑک غیر سے باتوں کا کبھی طور نہ تھا\n\nہمیں ہم تھے، تری صحبت میں کوئی اور نہ تھا\n\nکبھی چوٹی کی خبر تھی نہ تھا کنگھی کا خیال\n\nپان کے لاکھے سے اور مسّی سے ہوتا تھا ملال\n\nبارہا اُلجھے ہی رہتے تھے ترے سلجھے بال\n\nمجھ کو افسوس یہ آتا ہے کہ گُزرا نہیں سال\n\nایسی کیا بات تیرے دل میں سمائی ظالم!\n\nدفعتاً سب وہ رہ و رسم بھلائی ظالم!\n\nتھی لگاوٹ ہی تجھے یاد نہ خُلطا سب سے\n\nبیٹھنا کونے میں ہر دم تجھے تنہا سب سے\n\nگرم جوشی کا بھلا کب تھا یہ لپکا سب سے\n\nتجھ کو لگ چلتے کبھی ہم نے نہ دیکھا سب سے\n\nاب تو ٹٹی میں کیا چھید، غضب تو نے کیا\n\nکھُل گیا سب پہ ترا بھید، غضب تو نے کیا\n\nشکر صد شکر، ہوئی جلد رہائی تجھ سے\n\nوضع اپنی نہیں، کیا کیجے بُرائی تجھ سے\n\nاب تو تا حشر مکدر ہے صفائی تجھ سے\n\nنہ ملیں پر، جو کہے ساری خُدائی تجھ سے\n\nبہ خُدا، ملنے سے ہم ہاتھ ترے دھو بیٹھے\n\nاُٹھو بس جاؤ، تمھیں کھُول کے دل رو بیٹھے\n\nسوچ اکثر ہے مگر دل یہ ہمارا کرتا\n\nایسا بدنام تو وہ بھی نہ بچارا کرتا\n\nگرچہ حیوان سے تو ربط گوارا کرتا\n\nبحرِ اُلفت سے نہ اس طرح کنارا کرتا\n\nمُفت لی پیارے! زمانے کی بُرائی ہم نے\n\nسخت اوقات یہ بیہودہ گنوائی ہم نے\n\nاب قسم کھاتا ہوں لو، دل نہ لگاؤں گا کبھی\n\nگر طرح دار بھی اس دہر میں پاؤں گا کبھی\n\nذلت و رنج نہ اس طرح اُٹھاؤں گا کبھی\n\nاُٹھ کھڑا ہوں گا، نہ میں پاس بٹھاؤں گا کبھی\n\nموسم اب دل کے لگانے ہی کا، جانا، نہ رہا\n\nربط کیا خاک کریں ہم، وہ زمانا نہ رہا\n\nبر زباں یاروں کے یہ ذکر رہے گا ہر بار\n\nدیکھ بد وضع، کیا دیکھیے ایسا انکار\n\nگو کہ عاشق تھا، مگر تھا یہ بڑا غیرت دار\n\nسر پٹک مر گئے سب، پر نہ ملا وہ زنہار\n\nکرے معشوق کسی سے تو دغا ایسی کرے\n\nپچ کرے بات کی عاشق، تو بھلا ایسی کرے\n\nیہ سُن کر وہ شرمندہ ہوئی۔ پھر لڑکا گھوڑے سے لپٹا۔ یہ بے چارہ نادان، اُن باتوں کا سود و زیاں کچھ نہ سمجھا؛ جو کچھ باپ نے سکھایا تھا، کہنے لگا۔ جب کہہ چُکا؛ شہ زادی نے تپنچہ قُبور سے کھینچ لڑکے پر جھونک دیا۔ دھم سے گر پڑا؛ دایۂ اجل نے کنارِ عاطفت میں اُٹھا، اہل قُبور سے ملا دیا۔ پھر باگ اُٹھا چل نکلی۔ مِجِسٹن کے بیٹے نے بہت خاک اُڑائی، بیٹے کی لاش باپ کو دکھائی۔ اُس نے کہا: ہماری بات جو سُنتا تو کیوں سر دھُنتا! وہ بدنصیب دشمنِ عقل بولا: صبح اختتام ہے؛ جو ہونا ہے، ہو جائے گا۔ مِجِسٹن نے کہا: تو اپنا بھی حال ایسا ہی بنائے گا۔ دمِ سحر جب وہ چلا؛ مِجِسٹن کا جی نہ رہ سکا، ساتھ ہوا۔ جس دم شہ زادی کی سواری پاس آئی، باگ پکڑ لی۔ ہنُوز زبان نہ ہلائی تھی، شہ زادی نے کہا: اے مِجِسٹن! ہم نے سُنا تھا کہ تو مردِ جہاں دیدہ، سرد و گرمِ روزگار چشیدہ، تجربہ رسیدہ ہے؛ مگر افسوس! بہ ایں ریش و فش پیرِ نابالغ ہے۔ تو نے سُنا نہیں، لا اعلم:\n\nزحادثاتِ جہاں بس ہمیں پسند آمد\n\nکہ خوب و زِشت، بد و نیک در گُذر دیدم\n\nاس پیرانہ سالی میں تجھ پر ہزار سانحے گزرے ہوں گے؛ کچھ الم و رنج کا مزہ، یا فرحت و خوشی کا نشہ باقی ہے؟ اے ناداں! دُنیائے دوں کے مُعاملے بو قلموں ہیں۔ کس کس بات کو یاد کیجیے۔ کس کا غم، کس بات سے خاطر شاد کیجیے۔ اگر عقلِ رسایا یا کچھ فہم و ذکا ہو، تو دُنیا میں کافی ہے یہ بات: گُذشتہ را صلوات۔ مصحفی:\n\nاے مصحفی! میں روؤں کیا پچھلی صُحبتوں کو\n\nبن بن کے کھیل ایسے لاکھوں بگڑ گئے ہیں\n\nیہ کہہ کر گھوڑا چھُچکارا کہ پھر سلسلہ جُنبانی اس امرِ بے معنی کی موجب مضرتِ جاں جاننا۔ مِجِسٹن نے بیٹے کو سلام کیا اور نہ کچھ کلام کیا۔ وہ بھی نُطفہ ضعیف کا پیدا، بوڑھے باپ کا بیٹا؛ محجوب وطن پھرا، جیتے جی باپ سے آنکھ چار نہ کی۔\n\nیہ جُملہ اُس انگریز نے تمام کر کے کہا: مطلب اس سمع خراشی سے یہ ہے کہ آدمی وہ بات نہ کرے جس کا حُصول ذلت و خفت ہو۔ کہو اب کیا کہتے ہو؟ یہ قصہ سُن کر وہ فرہادِ بیسُتونِ عشق شیریں زبانی سے یہ کہنے لگا: یہ سب میں سُنا مگر بہ قولِ اُستاد:\n\nکب تلک جیوں گا میں، موت اک دن آنی ہے\n\nہجر میں جو آ جاوے، عین مہربانی ہے\n\nسب جلسہ سر پٹک کر اُٹھ کھڑا ہوا، کہا: جب یہ جان گنوائے گا، تب جھگڑا جائے گا۔ آخِر کار جب اُس کا حال رَدی ہوا؛ دوستوں کو چٹھیاں لکھ کر جمع کیا، کہا: دُنیا مقامِ گُذراں ہے۔ جو ہے، روَاں دوَاں ہے۔ کل اِس مَقام سے ہمارا کوچ ہے۔ یہ سَرا، سَراسَر پُوچ ہے۔ اگر ہماری وَصیت بجا لاؤ گے؛ دُنیا میں نام، حَشْر کو بہ خیر انجام ہو گا۔ سب نے اِقرار کیا کہ سَرِ مو اِس میں کمی بیشی نہ ہو گی، مطلق عاقبت اندیشی نہ ہو گی، جو جی میں ہو شوق سے کہو۔ اُس نے کہا: بعد اِنتِقال ہمارا جنازہ تکلُّف کا بنا کر بَجرے کی چھت پر صندوقِ نَعْش دھر، باجے بجاتے؛ ہمارے معشوق کی کوٹھی جو لبِ دریا ہے، دارِ فنا ہے، اُس کے نیچے سے لے جانا۔ اور دل میں یہ کہتا تھا، استاد:\n\nساتھ وہ میرے جنازے کے لَحَد تک آئے\n\nاے اَجَل! تیرا قدم مجھ کو مبارک ہووے\n\nقصہ مختصر، اُسی شب کو تڑپ کر اُس مریضِ فرقت کا ہجر میں وصال ہوا، سرائے فانی سے انتقال ہوا۔ گویاؔ:\n\nمرنے کو بھی لوگ کہتے ہیں وصال\n\nیہ اگر سچ ہے تو مر جاتے ہیں ہم\n\nمُؤلف:\n\nمر کے حاصل کیا فرقت ہی میں لو نامِ وصال\n\nجان دی ہم نے، مٹایا ہے خلش ہجراں کا\n\nصبح کو یہ خبر عام ہوئی کہ سوداگر بچی کے عاشقِ محروم، ناکام کا کام تمام ہوا، مر گیا۔ شُدہ شُدہ سوداگر کو اور اُس ماہ پیکر کو یہ حال معلوم ہوا۔ جذبِ محبت سے حال تغییر ہوا، مگر ضبط سے کام لیا، دلِ بے قرار کو تھام لیا۔ انگریز جمع ہو، بہ صد پریشانی وصیت بجا لائے۔ جنازہ درست کر، بجرے کی چھت پر دھر؛ لباس سب نے سیاہ کیا، نالہ و فریاد کر کے حال تباہ کیا۔ سر ننگے، غُل مچاتے، باجے بجاتے چلے۔ عجب سانحہ تھا کہ ہزارہا زن و مرد کنارے کنارے گریاں چلا آتا تھا۔ صندوقِ نعش کی طرف دیکھا نہ جاتا تھا۔ اُسی دن سے آج تک اندوہ میں دریا دریا اشک بحرِ عُماں کی چشم سے رواں ہے۔ مثلِ سیماب بے قرارانہ دواں ہے۔ اور جسے احباب حباب کہتے ہیں؛ یہ فرطِ قلق سے ہر مُحیط کی چھاتی میں پھپولا پڑتا ہے اور پھوٹتا ہے،، موجوں سے تلاطُم نہیں چھوٹتا ہے۔ ماہیانِ بحر کا خنجرِ الم سے حنجر یعنی گلا زخم دار ہے، سِنانِ غم سینے کے پار ہے۔ ساکنانِ دریا کو بس کہ شمشیرِ عشق کا خوف و خطر ہے، اس ڈر سے ہر سنگ پُشت کی پُشت پر سپر ہے۔\n\nجس وقت اس حالِ خراب سے جنازہ اُس کی کوٹھی تلے آیا اور فرنگیوں نے شُور و غُل زیادہ مچایا؛ اُس زندۂ جاوید نے بہ آوازِ بلند سُنایا، اُستاد:\n\nاے فلک! آخری پھیرا ہے، نہ ہو تجھ سے گر اور\n\nاُس کے کوچے میں جنازہ مرا سنگین تو ہو\n\nاُس وقت وہ ماہ سیما کشش دل اور تپشِ مُتصِل سے مُطلع ہو؛ دیوانہ وار بے قرار کُوٹھے پر چڑھی اور بے تابانہ پوچھا کہ یہ لاشِ دل خراش کس جگر پاش پاش کی ہے کہ حاجِبانِ بارگاہِ عشق سے صدا ’’دور باش دور باش‘‘ کی ہے۔ وہ سب بولے: عجب ماجرا ہے! یہ کشتہ تمھارا ہے۔ رنجِ مُفارقت نے آپ کے اسے بے اجل مارا ہے۔ افسوس کہ اس بے کس نے جان دی اور تم کو مُطلق خبر نہ ہوئی! اور کسی شخص نے عمداً اُسے سُنا کر یہ شعر پڑھا، جُرأتؔ:\n\nمُکر جانے کا قاتل نے نرالا ڈھب نکالا ہے\n\nسبھوں سے پوچھتا ہے: کس نے اس کو مار ڈالا ہے؟\n\nیہ باتیں سُن کر، سر دھُن کر؛ دفعتاً نعرۂ جاں سُوز، آہِ دل دُوز سینۂ بریاں سے کھینچ، آتشِ غیرت میں بھن کر کود پڑی۔ عشق کا نشانہ دیکھیے: صندوقِ نعش پر گِر، ٹکڑے ٹکڑے مثلِ جگرِ عاشقِ زار ہو، خوابِ مرگ میں سو، بختِ خُفتۂ عاشق جگایا؛ کشش محبت نے اس طرح بچھڑوں کو ملایا۔ دیکھنے والے تھرا گئے، دل گُدازُوں کو غش آ گئے۔ شہر میں یہ چرچا گھر گھر ہوا، منزلوں یہ اخبار مشتہر ہوا۔ اُس کے ماں باپ نے بہت سی خاک سر پر اُڑا، دونوں کو پیوندِ زمیں کیا۔ اس عشقِ فتنہ انگیز نے کیا کیا نہیں کیا! تہِ خاک ہجر کے ماروں کو، بے قراروں کو قرار آیا۔ ہزارہا شخص دیکھنے کو سرِ مزار آیا، مطابق قولِ میر تقی:\n\nحیرتِ کارِ عشق سے، مردُم\n\nشکلِ تصویر، آپ میں تھے گُم\n\nکام میں اپنے عشق پکا ہے\n\nہاں، یہ نیرنگ ساز یکا ہے\n\nجس کے ہو التفات اُس کی، نصیب\n\nہے وہ مہمانِ چند روز، غریب\n\nایسی تقریب ڈھونڈھ لاتا ہے\n\nکہ وہ ناچار جی سے جاتا ہے\n\nکون محروم وصل یاں سے گیا\n\nکہ نہ یار اُس کا اِس جہاں سے گیا\n\nاپنی قدرت جہاں دکھاتا ہے\n\nاس سے جو کچھ کہو سو آتا ہے\n\nپھر یہاں سے خامۂ مصیبت نگار حالِ ملکۂ زار لکھتا ہے کہ آخر جی بتنگ ہُوا، تپِ دوری سے یہ ڈھنگ ہوا، اُستاد:\n\nلگے زمین پر اب سب اُتارنے ہم کو\n\nیہ دن دکھائے ترے انتظار نے ہم کو\n\nفراق میں ترے، بن موت اب تو مارا ہے\n\nتڑپ تڑپ کے، دلِ بے قرار نے ہم کو\n\nجب اپنا، آہ، دمِ نزع کنٹھ بیٹھ گیا\n\nتم آئے بالیں پر اُس دم پکارنے ہم کو\n\nصبح سے تا شام ٹکٹکی جانب در و دستِ تاسُف بر سر اور دیوانوں کی طرح یہ کلمہ زبان پر، اُستاد:\n\nزبس کہ رہتا ہے آنے کا اُس کے دھیان لگا\n\nصدائے در پہ ہے در پردہ اپنا کان لگا\n\nبہ یادِ زُلف، نہ تا دودِ آہ سب پہ کھُلے\n\nمیں مُنہ پر اس لیے رہتا ہوں پیچوان لگا\n\nہزار خار ہوئے تجھ سے، عندلیب! یہاں\n\nیہ بے ثبات چمن ہے، نہ آشیان لگا\n\nآخر کثرتِ انتظار سے نظر کمی کرنے لگی اور جانِ زار، تڑپنے سے دلِ بے قرار کے، برہمی کرنے لگی۔ یہ نوبت ہوئی، شعر:\n\nگئے دن ٹکٹکی کے باندھنے کے\n\nاب آنکھیں رہتی ہیں دو دو پہر بند\n\nاُس وقت کشش محبتِ ملکۂ مہر نگار نے جان عالم کے دل کو بے چین کیا، خیال آیا کہ خُدا جانے صدمۂ فُرقت سے اُس کا کیا حال ہو گا! دل نے کہا: جینا وبال ہو گا۔ گھبرا کر دست پاچہ ہوا، عیش و نشاط بھولا؛ یہ تازہ گُل پھولا۔ انجمن آرا سے کہا: زیادہ طاقتِ مُفارقتِ احباب دلِ بے تاب کو، اور گوارا دوریِ وطن مجھ خستہ تن کو نہیں؛ آج بادشاہ سے رُخصت خواہ ہوں گا۔ وہ بہ ہر حال اطاعت اور رضا اس کی جمیع اُمور پر مُقدم جانتی تھی، کہا: مجھے بھی تمنائے سیرِ کُوہ و بیاباں، بے بیاں ہے۔\n\nشہ زادہ مُوافقِ معمول دربار میں آیا اور سلسلۂ سُخن بہ طلبِ رُخصتِ وطن کھول کے، عزمِ بالجزم سُنایا۔ بادشاہ محزون و غم ناک ہو فرمانے لگا: یہ کیا کہا، جو کلیجا مُنہ کو آنے لگا! جانِ من! تابِ جُدائی نہیں، رُخصتِ بادیہ پیمائی نہیں۔ اگر خواہش سیر ہے، تو فِضا اس نواح کی جا بہ جا مشہور ہے۔ خزانہ موجود، فوج فرماں بردار، مُلک حاضر، میری جان نثار؛ اگر منظور ہے۔ حکمِ سفر، اجازتِ دوری بہت دور ہے۔\n\nجان عالم نے دست بستہ عرض کی: اے شہر یارِ باوقار، پُر تمکین! برس دِن میں حُضور کو مجھ غمگیں سے یہ محبت ہوئی کہ مال، مُلک، سلطنت، بلکہ جان تک دریغ نہیں؛ وائے بر حالِ مادر و پدرِ سُوختہ جگر! جنھوں نے لاکھ منتوں، کرو رمُرادوں سے، دن کو دن نہ رات کو رات جان کر، سُولہ سترہ برس دُنیا کی خاک چھان کر مجھ کو پالا۔ شومیِ طالع، ولولۂ طبیعت نے گھر سے نکالا۔ اب مُدتِ مَدید، عرصہ بعید گُزرا؛ انھیں میرے جینے مرنے کا حال معلوم نہیں۔ اُن کے صدمے کو غور کیجیے، رُخصت بہ ہر طور کیجیے۔ آدمیت سے بعید ہے: آپ عیش و نشاط کرے، ماں باپ کو رنج و تعب میں چھُوڑ دے، سر رشتۂ اطاعتِ والدین توڑ دے۔ اُمید وار ہوں اِس امر میں حُضور کد نہ کریں، بہ کُشادہ پیشانی اجازتِ وطن دیں۔ اگر حیاتِ مُستعار، زیستِ نا پائیدار باقی ہے؛ پھر شرفِ آستاں بُوس حاصل کروں گا؛ نہیں تو اس فکر میں گھُٹ گھُٹ کر مروں گا۔ دین برباد ہو گا، دُنیا میں عزت و آبرو نہ رہے گی۔ خدا ناخوش ہو گا؛ خلقت تن پرور، راحت طلب کہے گی۔\n\nبادشاہ سمجھا یہ اب نہ رُکے گا، آنسو آنکھوں میں بھر کر کہا: خیر بابا! مرضیِ خُدا، جو تیری رضا؛ مگر تیاریِ سامانِ سفر کو، چالیس دن کی مہلت چاہیے۔ جان عالم نے یہ بات قبول کی۔ یہ تو رُخصت ہو کر گھر آیا، خبر داروں نے اس حال کا خاص و عام میں چرچا مچایا۔ خُلاصہ یہ کہ شُدہ شُدہ غُلغُلہ گھر گھر ہوا۔ خُرد و کلاں، بوڑھا اور جوان شہر کا اس خبر سے باخبر ہوا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%AD%D8%A7%D9%84%D9%90_%D8%AE%D9%8F%D8%B3%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%A2%D9%84_%D9%85%D8%AC%D8%B3%D9%B9%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "فسانۂ عجائب/حمد", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "حمد\n\n﷽\n\nالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَــــآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّصِہْرًاؕ وَکَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا۝\n\nسزا وارِ حمد و ثنا خالقِ اَرض و سَما، جَلَّ وَ عَلا، صانِعِ بے چون و چِرا ہے، جس نے رنگِ بے ثَباتی سے، بہ ایں رنگارنگی، تختۂ چمنِ دنیا پُر از لالہ و گل جُزو کُل بنایا۔ اور باوجودِ تَرسِ باغبان و بیم صیاد، وَلوَلہ رُخِ گُل بلبل کو دے کر دامِ محبت میں پھنسایا۔ اور عاشقِ با وفا و معشوقِ پُر دغا کو ایک آبِ گِل سے خمیر کر کے، پردہ غیب سے بہ عرصۂ شہود لایا۔ ایک خلقت سے دو طرح کا جلوہ دکھایا اور انسانِ ضعیف بُنیان کو اشرف المخلوقات فرمایا۔\n\nجلوۂ حُسنِ بُتاں بخدا شیفتگی کا بہانہ ہے۔ نالۂ بلبلِ شیدا گوشِ گلِ رعنا کا ترانہ ہے۔ اُس کی نیرنگیوں کے مشہور فسانے ہیں، ہم اس کی قدرتِ کامِلہ کے دیوانے ہیں۔ صفت اس کی محال ہے، زبان اس تقریر سے لال ہے۔ جس کی شان میں مخبر صادقؑ یہ فرمائے، دوسرا اِس عُہدے سے کب بَر آئے: مَا عَرَفنَاك حَقَّ مَعرِفَتِك۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%AD%D9%85%D8%AF"} {"title": "فسانۂ عجائب/حکایتِ پُر شکایت چھوٹے بھائی کی", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "حکایتِ پُر شکایت چھوٹے بھائی کی\n\nنَقل سپہر بے مَہر کی کج اَدائی کی۔ اُٹھا لے جانا جانورِ مُہیب کا،\n\nبدولتِ سوداگر کُنویں سے نکلنا اُس بَلا نصیب کا۔ میرِ قافلہ کی بُرائی،\n\n شہ زادی تک رَسائی، پھر تقدیر کی بھلائی\n\nصَیّادانِ طائِرِ مَعانی، ذی ہوش و دام دارانِ بلبلِ خوش بیانی، خانہ بدوش نے حال اُس مُنتَظرِ زِیرِ درخت کا یہ لکھا ہے کہ ہمہ تَن چشم مَحوِ اِنتِظارِ برادرِ فراموش کار بیٹھا تھا؛ ناگَہاں ایک جانورِ مُہیب، بہ شکلِ عجیب آیا اور پنجے میں داب کر اُڑا۔ گھوڑوں نے ڈر سے باگ ڈور تُڑا کے جنگل کا رستہ لیا، کود بھاگے۔ اللہ کی قدرت دیکھیے بڑا بھائی سلطنت کا مالک ہوا، چھوٹا بِچارا موذی کے چنگل میں پھنسا۔ وَاللہُ اَعلَم بِالصَواب وہ جانور وہاں سے کتنی دور اُڑا۔ آخر کار تھک کر، ایک درخت کُنویں کی جَگَت پر تھا، اُس پر جو بیٹھنے لگا، یہ پنجے سے چھٹ کر چاہ میں ڈوبا۔ جامیؔ:\n\nفُغاں زیں چرخِ دَولابی کہ ہر روز\n\nبچا ہے افگند ماہِ دل افروز\n\nاِلّا، رَسَنِ حیات مضبوط تھی؛ نہ گَزند پَنچے کی پہنچی، نہ چوٹ چَپِیٹ گرنے کی لگی۔ میر حسنؔ:\n\nکُنواں وہ جو اندھا تھا، روشن ہوا\n\nجواں اُس میں وہ، سانپ کا مَن ہوا\n\nوہ جانور تو دم لے کر اُڑ گیا، یہ بے پَر کُنویں میں پڑا رہا۔ اِتِفاقاً اُسی روز ایک قافلۂ گُم گشتہ راہ خستہ و تباہ سرِ چاہ پہنچا۔ کنواں دیکھ کر پانی کے لالچ سے وہاں قیام کیا۔ آدمی پانی بھرنے کنویں پر آئے۔ اِس بے چارے نے رسّی کا سہارا جو پایا، اِس پھندے میں کنویں سے باہر آیا۔ جس نے اِس کا چہرۂ رعنا مشاہدہ کیا، یَا بُشرَی ھٰذَا غُلَام کا غُل برپا کیا۔ دُنیا کے عَجَب معاملے ہیں۔ شعر:\n\nروزی نگر کہ طوطیِ جانم سوی لبش\n\nبربوی پستہ آمد و بر شکّر او فتاد\n\nجب لوگ حال پوچھنے لگے؛ اِس نے جیسا موقع دیکھا، ویسا بیان کیا۔ غرض کہ میرِ قافلہ کی خدمت میں توقیر سے رہنے لگا۔ چند روز میں قافلہ منزلِ مقصود کو پہنچا اور مہینا بھی تمام ہوا؛ جوانِ غم دیدہ، بلا رسیدہ نے دوسرا لعل اُگلا۔ رئیسِ قافلہ دیکھ کے تمام ملال بھولا۔ پست ہمتی سے سوچا کہ ایسی گراں بہا شَے کا سہل لے لینا مشکل ہے، مَبادا کچھ فساد اُٹھے۔ وہ بد افعال اِس کا خون حلال سمجھا، بُرے کام کا مطلق نہ مآل سمجھا۔ جوان کو قید کر کے کوتوال پاس بھیجا، کہا: یہ میرا غُلام ہے، آج اِس نے لعل چُرایا، کچھ ایسا وَسوَسۂ شیطانی دل میں آیا؛ میں نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے کہ اِسے سزا ملے؛ تا، لوگ ڈریں، عبرت سے آئندہ ایسی حرکت نہ کریں۔ کوتوال نے قاضی سے مسئلہ پوچھا۔ اُس نے بے تحقیق ہاتھ کاٹنے کا فَتویٰ دیا؛ مگر اُس شہر کا چندے سے یہ دستور تھا: جب کسی شخص پر گُناہ ثابِت ہوتا، تو مُدَّعی اور مُدَّعا علیہ بادشاہ کی بیٹی کے رو بہ رو حاضر ہوتے۔ اَظہارِ حال کے بعد، مُرافَعَۂ ثانی میں جو اُس کی رائے مَعدِلَت پیرائے میں آتا، وہ ہوتا؛ اِس واسطے کہ بادشاہ مُسِن تھا، بیٹی کے سوا اور کوئی تخت و سلطنت کا وارِث نہ تھا۔ اللہ رے اُس کے جمال کا جلوہ اور حُسن کا غَوغا! پری کو ہزار جان سے اُس کی پروا، حور اُس کی شیدا، خلقِ خُدا اُس مَہ سیما پر نثار، آفتِ عَصر، بلائے روزگار تھی۔ حُسنِ عالَم فَریب کے علاوہ طَبعِ حلیم، رائے سلیم؛ نکتہ فَہم، دَقیقَہ رَس، اپنے عَصر کی حکیم۔ حقیقتاً قابلِ ریاست وہ صاحِبِ فِراست تھی۔ غُنچۂ خاطر اُس گُل اَندام، یاسمیں پَیکر کا رو نادیدَۂ صبا تھا۔ دَہَنِ صَدَفِ مُراد تمنّائے قطرۂ نَیساں میں بند۔ کوچۂ عِصمت و عِفّت میں اُس دُرِ ناسُفتَۂ دُرجِ شہر یاری کے وہم و فکرِ تاج دارانِ دَہر کا گُزر نہ ہوا تھا، اُس دم تک ناکَتخُدا تھی۔\n\nجس وقت وہ دونوں رو بہ رو ہوئے، پہلے شاہ زادی نے میرِ قافلہ سے پوچھا۔ اُس نے جو کچھ کُوتوال سے قیل و قال کیا تھا، وہی بے کَم و کاست مکرّر عرض کیا۔ شہ زادی نے یہ مصرع بَرجَستہ پڑھا، سعدیؔ:\n\nباطِلست اُنچہ مدّعی گوید\n\nپھر جوان کی طرف مُخاطِب ہوئی۔ بس کہ یہ زیست سے تنگ، آمادۂ مَرگ تھا، بے تَاَمُّل بولا: شہ زادی! آپ روشن ضمیر ہیں، ہم مصیبت زَدوں کی طرح سِلسلۂ بے جُرمی میں اَسیر ہیں، یہ شخص سچا ہے۔ وہ تو عَقیلہ تھی، زیادہ شک ہوا، دل سے کہا: آج تک کسی چُور نے حاکم کے رو بہ رو بجز انکارِ دَست بُردی، دفعتاً اِقرارِ دُزدی کیا نہیں۔ یہ بے گناہ ہے۔ تقریر اِس شاہِد کی، شاہِد ہے، خُدا گواہ ہے؛ کچھ اِس میں بھید ہے۔ قافلہ باشی سے فرمایا: کل تو محکمے میں حاضر ہونا۔ جوان کو ڈیوڑھی پر قید کیا۔ یہ تو حسین، بلکہ مِہر طَلعت، ماہ جبیں تھا؛ طالِع کا ستارہ جو چمکا، شہ زادی کا میلانِ خاطِر جوان کی جانب ہوا۔ شب کو تنہا بُلا کے بہ دِل داری و تَاَسُّف اِستِفسارِ حال فرمایا۔ اُس وقت جوانِ نا کردہ گُناہ نے دل سے آہِ سرد بھر مَشروحاً اَز آغاز تا انجام عَرض کیا۔ شہ زادی کا دل، یہ نیا قصّہ سُن کے، بہ مرتبۂ اَتَم مسرور ہوا۔ چوری کا شک اُس دُزدِ دل کی جانب سے دور ہوا۔\n\nصُبح کو بادشاہ کے حُضور میں لا، خود دَستِ ادب باندھ کر عَرض کی: قبلۂ عالَم و عالَمِیاں کی عُمر دراز ہو، قَیصر و فَغفور کی اِس دَر پر جبیں بہ نِیاز ہو! شہر کا قاضی اور کوتوال بے دریافتِ حقیقتِ حال حُکمِ سزا بندہ ہائے خُدا کو دیتے ہیں، رُوزِ جَزا کی جواب دِہی اپنی گردن پر لیتے ہیں۔ غَضَب کی جا ہے، عجیب ماجرا ہے واجَبُ التَّعذیر، صاحِبِ تقصیر کو لعل ملے، بے گُناہ کا ہاتھ کٹے۔ بادشاہ نے پھر دونوں کی زبان سے حال سُنا۔ بہ سببِ کبرِ سِن کہ عقل کو زَوال ہوتا ہے، یہ وہ دن ہیں کہ نِسیان بہ مرتبۂ کمال ہوتا ہے؛ ذہن نہ لڑا، تَاَمُّل کیا۔ شہ زادی نے التماس کیا: حُضور! یہ اِمتِحان بہت آسان ہے، ایک مہینے اور اِس جوان کو قَید رکھیے؛ اگر دوسرا اُگلا، تو سچا ہے؛ پھر ایسے دُرِّ یتیم صَدَفِ راستی کو کیوں بے آب و تاب کیجیے، آبرو لیجیے؛ وگرنہ بہ ماہِ آئندہ یہ بد کِردار دار کا سزا وار ہے، ہاتھ کاٹنے سے کیا ہاتھ آئے گا؟\n\nبادشاہ کو سرِ دست جوابِ باصَواب بیٹی کا بہت پسند آیا، حاضرین نے تحسین و آفریں کی۔ بادشاہ نے جوان کو اپنی آنکھوں کے سامنے نَظَر بَند کیا۔ میرِ قافلہ کو شہ زادی نے مَحبَس بھیجا۔ قصّہ کُوتاہ، وہ مہینا بھی تمام ہوا اور اِتنے دنوں میں شُعلۂ مَحبّت مِجمرِ سینۂ شہ زادی سے بھڑکنے لگا، دَم پھڑکنے لگا، حال طَشت از بام اُفتادَہ ہُوا۔ جوان نے عرض کی: کل لعل اُگلوں گا۔ پھر صُبح کو سَرِ دربار رو بہ روئے حُضّار لعلِ بے بَہا دُرجِ دَہاں سے نکالا۔ سب کو حیرت، شہ زادی کو فرحت و مَسرّت حاصل ہوئی۔ اُسی دم مال و اسباب قافلہ باشی کا جوان کو مِلا۔\n\nاُسے تشہیر کر کے شہر سے بَدَر کیا۔ جوان کی صورتِ دل پَذیر، فصاحتِ تقریر پسندِ خاطِرِ صغیر و کبیر تھی؛ بہ ایمائے شہ زادی سب نے مُتَّفِقُ اللَّفظ بادشاہ سے عرض کی کہ یہ شخص حضور کی عنایت کے لائق ہے؛ تمنّائے مُلازمت رکھتا ہے، کفش بَرداری کا شائِق ہے۔ بادشاہ بھی اِس کی راست بازی سے خوش تھا، راضی ہوا۔ سعدیؔ:\n\nراستی موجبِ رضای خدا ست\n\nکس ندیدم کہ گم شد از رہِ راست\n\nچند عرصے میں مُقرّبِ بارگاہِ سُلطانی، مَورِدِ عِنایاتِ جَہانبانی ہوا۔ ہر مہینے لعل اُگل کے حُضور میں لانے لگا۔ روز بہ روز ہَم چَشموں میں سُرخ روئی حاصل کر کے آبرو پانے لگا۔ آخِر کار، بہ مَشوَرۂ مُلازِمانِ قدیم و بہ تحریکِ حکَما و نَدیم بادشاہ نے اُس گَوہرِ مُسَلَّمِ سِلکِ تاج داری کو بہ رِشتۂ عَقد اُس لعلِ بے بہا کے مُنعَقِد کیا۔ یہ دونوں مشتاق بہ صَد اِشتیاقِ باہَم، لطف کے ساتھ بے اندیشہ و غم، اَیّام گُزاری بڑی دھوم اور تیّاری سے کرنے لگے؛ مگر ہر رُوز بِلا ناغہ جوان بادشاہ کے دربار میں حاضر رہتا تھا۔\n\nایک دن اِیلچی اِس کے بھائی کا کسی تقریب میں وارِد ہوا اور جواہِر کا ذِکر نکلا۔ اِیلچی نے عرض کی: ہمارے بادشاہ کے پاس ایک لعل اِس رنگ، ڈھَنگ، سَنگ کاہے کہ آج تک جَوہریِ چرخ نے باوُجودِ عَینکِ مِہر و ماہ و گردِشِ شام و پَگاہ، سال و ماہ میں، اُس کے سَنگ کا کیا، پاسَنگ کے برابر نہیں دیکھا ہے۔ یہ کلمہ سُن کر، بادشاہ نے وہی لعل، جو سینۂ بے کینۂ جواں سے نکلے تھے، دس بارہ ایلچی کو دکھائے۔ وہ بھی جواہِر شَناس تھا؛ سخت حیراں، تا دِیر سر بہ گرِیباں رہا، پھر عرض کی: قِبلۂ عالَم! عَجَب کی جا ہے کہ رنگ، روپ، وَزن، نَقشہ انِ کا اُس کا ایک سا ہے۔ اِتنا فرق مُقرَّر ہے کہ وہاں ایک ہے، یہاں ایک سے ایک بہتر و برتر ہے۔ بادشاہ نے جوان کی طرف اِشارہ کیا کہ یہ میرا فرزند ہر مہینے ایک لعل بے رنج و ملال تھوکتا ہے۔ ایلچی نے غور سے دیکھا، اپنے بادشاہ سے مُشابِہ کیا، بَعِینِہ پایا۔ خیر، رُخصت ہوا۔\n\nجب اپنے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا؛ اُس کا تو معمول تھا، جب تخت پر آ کر جلوہ گر ہوتا، وہ لعل پیشِ نظر ہوتا؛ ایلچی کو وہ سانِحہ یاد آیا، دست بستہ عرض کی: قبلۂ عالَم اِس لعل کہ جُدا کرتے نہیں، بے اِس کے قدمِ مبارَک تخت پر دھَرتے نہیں؛ اِن روزوں خانہ زاد جس بادشاہ کے پاس گیا تھا، نیا ماجرا دیکھا: مَعدِنِ لعل کہ وہ اِمکان نہیں، لیکن وہ جواہرِ بے قِیاس رکھتا ہے۔ تعجّب کی بات ہے کہ وہ لعل کا پُتلا زندہ اپنے پاس رکھتا ہے۔ بادشاہ نے اُس کا حال مُفَصَّل پوچھا۔ اُس نے سب بیان کیا کہ داماد اُس شاہِ خُجستَہ نِہاد کا ہر مہینے لعل اُگلتا ہے۔ اور کیا گُزارِش کروں، جیسے حُضور کی صورت ملتی ہے، حقیقی بھائی ایسے دکھائی نہیں دیے۔ یہ سُنتے ہی اُس کو یقین ہوا کہ اب پتا مِلا، مُقَرَّر وہ میرا بھائی ہے۔ اُسی وقت نامۂ شوقیہ اُس کانِ گُہر کے اِشتیاقِ دیدمیں بادشاہ کو لکھا کہ برائے چَندِے اگر اُس فرزندِ اَرجُمَند کو اِدھر روانہ کرو، مَحبّتِ دِیرینَہ سے بعید نہ ہو۔ ہمیں شوقِ دیدار اَز حدِ تحریر و اِظہار اَفزوں ہے۔ اور پوشیدہ خطِ تمنّا بھائی کو رَقَم کیا کہ آج تک تیری مُفارَقَت سے تختِ شاہی، بد تر از بُورِیائے گدائی تھا؛ اب ایلچی سے یہ خبرِ فرحت اثر سُن کر دل کو سرور، آنکھوں میں نور آیا؛ لازِم کہ بہ مُجرَّد وُرودِ رقیمۂ وِداد اِدھر کو روانہ ہو۔ اور کچھ پتے حَسَب و نَسَب کے، سانِحۂ شکار تفصیل وار قلمبند کر دیے۔ ایلچی سے فرمایا یہ نامہ عَلیٰ رُؤُسِ الاَشھاد بادشاہ کو اور یہ خط خُفیہ اُس غیرتِ ماہ کو دینا۔\n\nقاصدِ صبا دَم، صَرصَر قدم جلد تر اُس شہر میں وارِد ہوا۔ بادشاہ کو نامہ دیا اور خط پُوشیدہ جوان کو حوالے کیا۔ وہ مکتوبِ مَحبّت دیکھ کر ایسا گھبرایا، یہ لہو نے جوش کھایا کہ اُسی دن رخصت کا ذِکر بادشاہ سے لایا۔ آخر وہ عاشقِ برادر، معشوقۂ روح پرور کو لے کر، جہاز پر سوار ہوا، تب اُس بے چین کو قرار ہوا۔ راہ میں ایلچی سے شہر کا نقشہ، راہ کا پتا، سب پوچھ لیا۔ فَرطِ شوق سے دن رات سَر گرمِ رفتار تھا۔ ساعَت بھر مُقام کسی منزل کا ناگوار تھا کہ جلد پہنچیں، کہیں نہ ٹھہریں۔ نَیرَنگِ زمانۂ کج سَرِشتِ بو قَلَموں کہ ہر دم و ہر ساعَت دِگرگوں ہے، کیا کہوں! جب دس بارہ کُوس وہ شہر رہا، جہاز تباہ ہو کے بہا۔ جس کی قضا تھی تَہِ آب و گرداب رہا۔ جس کی بَقا تھی بَہہ نکلا۔\n\nیہ قصۂ جاں گُداز دور دراز پہنچا، اِن کے بھائی نے سُنا؛ فوراً ہزار سوار تیز رفتار دوڑائے کہ جس ڈوبتے اُچھلتے کا پتا پاؤ، جلد حُضور میں لے آؤ۔ آخر کار بہ ہزار جستجو و تگاپو، شہ زادیِ خوش خو ہاتھ آئی، جوان کی خبر نہ پائی۔ اُسے بادشاہ پاس حاضر کیا، جوان کے ڈوبنے کا حال کہہ دیا۔ بادشاہ بہ حالِ تباہ گردابِ فراق میں پھنسا۔ شہ زادی صَف نَشینِ ماتم، لُجَّہ و لَطمَۂ اَندُوہ و غم میں اُلجھی۔\n\nجوان کا حال یہ ہوا کہ تختے کے سہارے سے بہتا بہتا، پیاس کے صدمے، بھوک کی موجیں سہتا سہتا کئی دن میں کنارے پر پہنچا۔ فِی الجملہ، جب کچھ تاب و طاقت آئی، پوچھتا پوچھتا اُس شہر میں داخل ہوا۔ بادشاہ کو خبر پہنچی، رو بہ رو بلایا۔ بہ سَبَبِ طولِ اَیّامِ مُہاجَرَت اور درازِیِ زمانۂ صُعوبَت مُطلق نہ پہچانا۔ اُستاد:\n\nاِتنی مدّت میں ملا مجھ سے وہ دھوکا دے کر\n\nیاد بھی جب مجھے اُس شوخ کی صورت نہ رہی\n\nہیئت تبدیل، خوار و ذلیل تھا۔ اِس اِختِلاف کو دیکھیے: یہاں صحرا نَوَردی، بھوک پیاس، مصیبت؛ وہاں حکم رانی، عیش و آرام و تخِت سلطنت۔ ناچار شہ زادی کو طَلَب کیا، اُسے بھی تَاَمُّل ہوا۔ وہ شخص بولا: پَہَر بھر کا عرصہ باقی ہے، آج لعل اُگلنے کا دن ہے، پھر تم سب پہچانو گے۔ بادشاہ کو یقین ہوا، کہا: اگر یہ جھوٹا ہوتا تو ایک پَہَر کا وعدہ نہ کرتا۔ شہ زادی نے کہا: اُس شخص کی طبیعت کی جَودَت مشہور ہے، ایک مُعَمّا پوچھتی ہوں؛ اگر بدیہہ جواب دیا، تو بے شک شک رفع ہوا: بھلا وہ کیا شَے ہے جسے گَبرو مسلماں، یَہود و نَصاریٰ، سب انسان کا فرقہ آشکارا کھاتا ہے؛ مگر جب اُس کا سر کاٹ ڈالو تو زَہر ہو جائے، کوئی نہ کھائے اور جو غصّے میں زیست سے خفا ہو کر کھائے تو فوراً مر جائے۔ جوان نے ہنس کر کہا: شہ زادی! ’’قَسَم‘‘ ہے۔ یہ کیا مُعَمّا پوچھا ہے! وہ پھڑک گئی، وحشت مِٹی، دل کی بھڑک گئی۔ بے باکانہ چلمن اُٹھا، پروانے کی طرح اُس شمعِ بزمِ فرقت کے گرد پھری۔\n\nبادشاہ متعجب ہوا کہ ہم تو کچھ نہ سمجھے، شہ زادی کیا سمجھ کر سامنے ہوئی۔ جوان نے عرض کی: قبلہ! وہ چیز ’’قَسَم‘‘ ہے، تمام عالَم کھاتا ہے، سر اُس کا \"قاف\" ہے، اُسے کاٹو تو ’’سَم‘‘ صاف ہے؛ ’’سَم‘‘ زَہر کو کہتے ہیں، کون کھاتا ہے؟ کھانے والا مر جاتا ہے۔ بادشاہ یہ سُن کر بَغل گیر ہوا۔ اُس نے لعل اُگلا۔ شادِیانے بجے، بچھڑے ملے۔ اِس طرح جامِعُ المُتَفَرِّقین سب بچھڑوں کی دوری کا بَکھیڑا مِٹائے۔ جو جس کا مشتاق ہو، جس کی جُدائی جسے شاق ہو، وہ اُس سے مل جائے۔\n\nجوگی نے یہ رام کہانی تمام کر کے جان عالم سے کہا: بابا! شعر:\n\nمشکلے نیست کہ آساں نشود\n\nمرد باید کہ ہِراساں نشود\n\nجوئِندہ، یا بِندَہ ہے۔ یہاں سے منزلِ دوست قریب ہے۔ سب کچھ معلوم ہے؛ اِلّا، کہنا منع ہے، بُرا ہے۔ دُنیا مَقام چُپ رہنے کاہے۔ اِتنا اِس جگہ وَقفَہ کر کہ میری زیست کا ساغَر بادۂ اَجَل سے لب رِیز ہے، سمندِ جاں کو نَفَسِ سرد مہمیز ہے؛ مجھے زِیرِ زمیں سونپ تشریف لے جانا۔ اور چند وَصیّت کیں۔ جان عالم نے کہا: یہ قَلَق و رنج کس سے اُٹھے گا! بیٹھے بِٹھائے یہ صدمہ کیوں کر دیکھا جائے گا! پتھر کا کلیجا کہاں سے ہاتھ آئے گا کہ ایسے دوستِ غم خوار کو اپنے جیتے جی زِیرِ خاک کیجیے، اُس کے ماتَم میں گرِیبانِ صبر چاک کیجیے! یہ کہہ کر رونے لگا، گریباں تا دامن بارِشِ اشک سے بھگونے لگا۔ جوگی اِس کی مَحبّت کا بِرو گی ہوا، کہا: افسوس! دمِ واپَسیں کا عرصہ بہت کم، دم نہیں مار سکتے ہم؛ وگرنہ تیرے ہمراہ شریکِ درد و غم ہوتا۔ بھلا آخری، فقیر کا، اگر تجھ کو یاد یہ لَٹکا رہے گا، سائیں چاہے تو کہیں نہ اَٹکا رہے گا، قبر میں لے جا کر کیا کروں گا۔ پھر چند کلمے وہ بتائے کہ جس صورت کا دھیان لائے، فوراً ہو جائے۔\n\nیہ مُقَدَّمَہ بتا، ہَر ہَر کر، گُرو کا نام لیا۔ پھر کلمہ جو پڑھا، دُنیا سے چل بسا، دم نکل گیا۔ جوگی مسافرِ عَدَم، بیکنٹھ باشی رَم گیا۔ جان عالم کا روتے روتے دَم گیا، بے تابانہ نعرۂ اَلفِراق مارے۔ مُرید، چیلے جمع ہو کر ’’گُرو گُرو‘‘ ’’یا ہادی‘‘ کہہ کر بہت پکارے۔ بولتا، نکل گیا، جوگی نے صدا نہ دی، منزلِ مقصد کی راہ لی۔ شہ زادے نے بہ موجِبِ وَصِیّت غُسل دیا، کفنایا؛ قبر تک لاتے لاتے کچھ نہ پایا۔ آخِر کار برابر کفن پھاڑ دیا؛ آدھا چیلوں نے جَلایا، نِصف مُریدوں نے مَنڈھی میں گاڑ دیا۔ ہندوؤں نے راکھ پر چھتری بنائی۔ مسلمانوں نے قَبر بنا کے سبز چادر اُڑھائی۔ وہ تَنت مُندرا، سُبحَہ و مُصَلّیٰ، خِرقَہ و جُبَّہ اُس کے منظورِ نظر کو دے کر جانَشیں کیا۔ مُرید، چیلوں کا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں سَونپا۔ اُسے ایک ولولہ آیا، اَز سَرِ نَو اُن سب کو یہ تَلقین کیا، رازِ سَر بستہ کھول کے ذہن نَشین کیا کہ سُنو بچہ! گو جوگی ظاہر میں آنکھوں سے نہاں ہے؛ مگر مُرشِد کا جلوہ، سائیں کا ظہورا ہر برگ و بار، بوٹے پتّے، گُل و خار، بلکہ دَرِ مسجد و دیوارِ کُنِشت سے دیدۂ دور بیں میں عَیاں ہے۔ عارِف کا یہ کلام ہے، سعدیؔ:\n\nبرگِ درختانِ سبز در نظرِ ہوشیار\n\nہر ورقے، دفتریست معرفتِ کردگار\n\nدیدۂ بینا، گوشِ شنوا اِس رَمز کو درکار ہے۔ ہر ذرّے میں اُسی کا جھمَکڑا ہے۔ نمونۂ قدرت، نشانِ وحدت دُنیائے بے ثَبات کا نقش و نگار ہے۔ بلبل کے پردے میں تَرانہ سنجی ہوتی ہے۔ قمری کی کو کو مُتَلاشی کی جان کھوتی ہے۔ اُسی کے ذِکر میں سَر گرم ہے، جس کی زبان و مِنقار ہے۔ کسی کو حَرَمِ مُحترم میں نامَحرم رکھا، بھٹکایا؛ کسی کو بَیتُ الصَّنَم میں بُلا کر جلوہ دکھایا۔ کعبے کا دھوکا، دَیر کا بہانہ ہے؛ دَوڑا کر تھکانا ہے۔ اور جس نے مَن یَشآءُ کو رَہ بَر کر کے ڈھونڈھا، اُس نے گھر بیٹھے پایا۔ امیر خسروؔ:\n\nجِن ڈھونڈھا، تِن پائیاں گہرے پانی پیٹھ\n\nہَوں بَوری ڈوبن ڈری، رہی کنارے بیٹھ\n\nدُنیا کا مُعاملہ، مذہب و مِلّت کا جھگڑا، یہ اچھا وہ بُرا؛ پُر زِیاں، سَراسَر بے سود ہے۔ حق بے شک داتا ہر آن موجود ہے۔ رنج میں دل کو خوش، اَلَم میں طبیعت کو شاد رکھو۔ وَحدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہ نِرَنکار ہے۔ شِرکت کرنے والا مُشرِک، حماقت شِعار ہے۔ مُرسَل رہ بَر ہیں، پوشیدہ راز سے ماہر ہیں؛ اُن کو رَستگار جانو، بَریدِ یار سمجھ کر مانو۔ مُرشِد کی ذات، گُرو کی صِفات ہر جلسے میں یاد رکھو۔ بود و نابود کا غم نہ ہو۔ اور اَحباب کا دل کہ حَباب سے نازک تَر ہے، خدا کا گھر ہے، آشُفتَہ و بَرہَم نہ ہو۔ اللہ بس باقی بے فائدہ ہوس۔ یہ کہہ کر قصّہ مختصر کیا، بے خبروں کو باخبر کیا۔\n\nجب اِس صحبت سے جان عالم کو فرصت ملی، چلنے کا عَزم کیا۔ اُس جانَشیں مَہَنت نے روکا اَور دو چار دن خاطِر سے مُقام کیا؛ پھر جس طرف جوگی نے بتایا تھا، چل نکلا۔ پہاڑ سے جس دم آگے بڑھا، دریا ملا، ہر چند ڈھونڈھا؛ ناؤ، بیڑے کا تھل بیڑا نہ لگا؛ مگر ایک لعلِ دَرَخشاں بہ روئے آبِ رَواں سامنے آیا۔ قریب اُس کے دوسرا نظر پڑا۔ اِسی طرح تھوڑے تھوڑے فاصلے سے بہت لعل بہتے دیکھے۔ تازہ فکر ہوئی کہ اِس حال کو کیوں کر دریافت کیجیے۔ کَنارے کَنارے سَیر دیکھتا چلا۔ دو کوس راہ جب طَے کی، عمارت عالی شان دیکھی اور اُس چشمے کو اُس کے اندر سے رَواں پایا۔ دروازے اور دَر کی بہت تلاش کی، تا اندر جانے کا باب مَفتوح ہو، نہ ہُوا۔ سوائے دیوار، دَر نہ تھا۔ اُس وقت بلبل بن کر دیوار پر جا بیٹھا۔ مکان رَفیعُ الشّان، باغ بھی بہار کا؛ مگر سُنسان، اِنسان نہ حیوان، فقط ایک بنگلا نہایت نقش و نِگار کا۔ وہ نہر اُسی بنگلے کے اندر سے جاری تھی۔ چمن خالی اور بادِ بہاری تھی۔ آدمی یا جانور ناطِق و مُطلَق، مُطلق نہ تھا۔ باغ میں اُتر صورتِ قدیم بدل کر بنگلے میں آیا۔ مُنقَّش، مُطَلّا، سجا سجایا پایا؛ لیکن طُرفَہ حال یہ دیکھا: ایک پلنگ زَمُرّد کے پایوں کا بچھا ہے، اُس پر کوئی دو شالہ تانے سوتا ہے۔ برابر، یاقوت کی تِپائی پر پھولوں کا دستہ: آدھے سرخ، نِصف سپید۔ جان عالم نے قدم بڑھا دو شالہ سرکایا۔ وہ تنِ پری پَیکر بے سَر نظر آیا۔ حسرت سے کہا: کس ظالم، ستم شِعار، بے رَحم، جفا کار نے اِس سَر دفترِ خوبی، سراسر دل بری و محبوبی کا سر کاٹا ہے۔ نخلِ شَمشاد کو تَبَرِ ظلم سے چھانٹا ہے!\n\nبہ حیرت ہر طرف دیکھتا تھا۔ چھت پر آنکھ پڑی: چھینکا بندھا، سر کٹا دھرا ہے۔ سر کے نیچے نَہر جاری ہے۔ جو خون کا قطرہ اُس حَلقِ بُریدَہ سے پانی میں گرتا ہے، اللہ کی قدرتِ کامِلہ سے وہ لعل ہو کر تِرتا ہے۔ اِس نے کہا: سبحانَ اللہ! مُقَرَّر یہ سحر کا کارخانہ ہے۔ قریب جا کر غور سے جو دیکھا، تو انجمن آرا کا چہرہ تھا۔ پہچانتے ہی سَر و تَن کا ہوش نہ رہا۔ چاہا کہ سر سے سر ٹکرا کر ہَم سَر ہو، کسی کو نہ خبر ہو؛ بس کہ تَجربے کار ہو چکا تھا، سوچا: مرنا ہر وقت ممکن ہے، پہلے حال مُفَصَّل معلوم کر لو، کہیں حَوض کا سا دھُوکا نہ ہو۔ ہر چند غَوّاصِ عقلِ رَسا مُحیطِ فکر میں غُوطہ زَن و آشنا ہوا؛ گَوہرِ مقصد صَدَفِ مراد سے ہاتھ نہ لگا، مُعاملے سے نا آشنا رہا۔\n\nاِس عرصے میں شام نزدیک ہوئی، تُند ہَوا چلی، شُور و غُل مچا۔ یہ سمجھا: اب کسی دِیو یا ساحِر کی آمد ہے، چھپا چاہیے۔ سَرِ گُلدستہ، گلبُنِ مَحبّت کے رو بہ رو بھونرا بن کے بیٹھ رہا۔ دفعتاً دیو آ پہنچا قَوی ہَیکَل، زَبوں شَمائِل؛ مگر وحشی سا، ہر سمت بو سونگھنے لگا۔ پھر اُسی گُلدستے سے سفید پھول توڑا، اُس یاسمیں پَیکر کو سنگھایا؛ سر اُچھل کر بدن سے مِلا، انجمن آرا اُٹھ بیٹھی۔ دِیو نے میوۂ تَر و خُشک رو بہ رو رکھا؛ مگر پریشان، ہر سو متحیر نگراں۔ شہ زادی نے کہا: خیر ہے؟ اُس نے کہا: آج غیر انسان کی بو آتی ہے اور تعجب یہ ہے خوف سے جان جاتی ہے۔ وہ کہنے لگی: ہمیں آج تک جانور کی پرچھائیں نہ نظر آئی، تو نے آدمی کی بو پائی۔ طُرفَہ خبط ہے، یہ جُملہ بے رَبط ہے۔ غرض کہ صبح تک مَذکورِ ہر شہر و دِیار، عجائِباتِ روزگار کا بیان رہا۔ دمِ سحر اُسی دستے سے سُرخ پھول اُس خوں آشام نے توڑ کر اُس لالہ فام کو سنگھایا۔ سر تو چھینکے پر سَر بلند ہو، تن نے پلنگ پر آرام فرمایا۔ دیو دوشالہ اُڑھا راہی ہُوا۔\n\nجان عالم نے چار گھڑی بہ جبر صَبر کیا۔ پھر اپنی صورتِ اصلی بن کر، وہی سفید پھول توڑ کر سنگھایا۔ انجمن آرا بہ دستورِ اوّل اُٹھی، شہ زادہ چیخ مار کر لپٹ گیا۔ دونوں مَہجور اِس زور شور سے روئے کہ تمام باغ ہِل گیا، زمین و آسماں دَہَل گیا۔ جان عالم ہنُوز اپنے مَصائِب، وہاں تک آنے کا حال، فرقت کا درد و ملال کہنے نہ پایا تھا کہ انجمن آرا نے یہ کہا، لا اَعلَم:\n\nتجھ بِن مری اَوقات جو اکثر گزری\n\nوہ حالتِ نزع سے بھی بد تر گزری\n\nتو تو کہے سَر گُذشت اپنی ظالم!\n\nمیں کس سے کہوں جو کچھ کہ مجھ پر گزری\n\nیہ کہہ کر، پھر دونوں چِلّا چِلّا، آہ و بُکا سے رُونے لگے۔ دُنیا کے مُعاملے میں ہمیشہ سے کسی کی عقل نہیں لڑی، شکست ہوئی ہے۔ شعر:\n\nبیک لحظہ، بیک ساعت، بیک دم\n\nدگرگوں می شود احوالِ عالم\n\nمُؤلِّف:\n\nاک وَضع پر نہیں ہے زمانے کا طَور، آہ!\n\nمعلوم ہو گیا ہمیں لَیل و نہار سے\n\nہر عُقدۂ مالا یَنحَلِ ناگُزیر کے واسطے ناخُنِ تدبیر خَلق میں خَلق کیا ہے۔ اور جہان میں، جہاں تدبیر کا دَخل نہ ہو سکا، اُسے تقدیر کے حوالے کر دیا ہے۔ اکثر جس بات میں عقل عاجِز آتی ہے، وہی طرفۃُ العَین میں خود بہ خود ہو جاتی ہے۔\n\nناگہاں ایک سفید دیو زبردست، زور کے نشے سے سَرشار، مست، بڑا طاقت دار، رُستم کا یادگار اُدھر سے گزرا۔ نالۂ حَزیں، صدائے غمگیں کان میں آئی۔ بس کہ بہ ایں زور و طاقَتِ خُدا داد، وہ دیو نیک نِہاد رحم دل، غم رَسیدوں کے رنج کا شامل تھا، گریہ و زاری سُن کر دل کو بے قراری ہوئی، سمجھا: کوئی انسان نالاں ہے؛ مگر اِس صحرائے پُر خار، وادِیِ ہمہ تَن آزار میں آدمی کا ہونا مُحال ہے۔ اگر ہے، تو حقیقت میں مبتلائے اَلَم، اسیرِ پنجۂ ستم، خراب حال ہے۔ یہ سوچ کر باغ میں آیا۔ یہاں روتے روتے دونوں کو غش آ گیا تھا۔ دیو ڈھونڈھتا ہوا بنگلے میں آیا۔ دیکھا: مِہر و ماہ گردِشِ سپہر بے مِہر سے بُرجِ زَمُرَّدیں میں بے ہوش ہیں۔ چہرے کے رنگ اُڑے ہوئے، سَکتے کی حالت میں ہم آغُوش ہیں۔ روئے یار آئینہ دار درمیاں ہے، فلک بَرسَرِ اِمتحاں ہے۔ سمجھا: مدّت کے بعد دونوں کا مقابلہ ہوا ہے، اِس سے کُسوف و خُسوف کا رنگ ڈھنگ پیدا ہے۔ سَرِ بالینِ بیمارانِ مَحبّت بیٹھ کر، نہر سے پانی لیا، دونوں کے مُنہ پر چھڑکا۔ آنکھیں کھولیں، ہوش و حواس درست ہوئے۔ دیکھا کہ ایک دِیو سِرہانے بیٹھا ہے۔ سفید دِیو نے اُٹھ کر بہ آئینِ شائستہ سلام کیا، تسلّی کا کلام کیا، کہا: تَشویش نہ فرمائیے، بندہ دوست دار، جاں نثار ہے۔\n\nپہلے جان عالم اُٹھا، بَغَل گیر ہوا۔ وہ حال پوچھنے لگا۔ بس کہ شہ زادہ عالم لَسّان، خوش بیاں تھا؛ اپنی رام کہانی چَرب زَبانی سے کہہ سُنائی۔ دیو ماجرائے گُذشتہ سُن کر بے قرار، اَشک بار ہوا، عَرض کی: آپ بہ دِل جمعیِ تمام آرام کیجیے؛ اب وہ قُرَّمساق آئے، تو عَمَلِ بد کی سزا پائے۔ جان عالم بہ شِدَّت لگاوٹ باز تھے؛ اُس سے بھائی چارا کیا، صیغہ اُخُوَّت پڑھا۔ وہ بیچارہ بندۂ بے دام، حلقہ بہ گوش غلام ہوا۔ وہاں سے اُٹھ کر باغ کی سَیر کرتے تھے کہ وہ جَفا کار بھی آ پہنچا۔ یہاں اَور رنگ دیکھا کہ شہ زادی، آدمی زاد کے ہمراہ پھرتی ہے؛ سفید دیو کا ہاتھ میں ہاتھ ہے، مُصاحَبَت کرتا ساتھ ہے۔ جَل کر جان عالم پر جھپٹا۔ دیو سفید نے بہ جلدیِ تمام اُس نُطفۂ حرام کا ہاتھ پکڑا۔ وہ کافِر اُس رَحم دِل سے لپٹا۔ باہَم کُشتی ہونے لگی۔ یہ کشمکش ہوئی کہ زمین جا بہ جا شق ہوئی۔ الغرض، بہ مَدَدِ مددگار و قوتِ پَروَردگار سفید دیو نے زمین سے لنگر اُکھاڑ، سر اُونچا کیا، زمین پر پٹک کے چھاتی پر چڑھ بیٹھا۔ جان عالم قریب آیا، زور و طاقت کی تعریف کرنے لگا، کہا: جنابِ باری نے تجھ مسافروں کے مددگار کی یاری کی، جو ایسے مَردود پر ایک دَم میں تجھے فتح و ظَفَر حاصل ہوئی؛ اگر ناگوارِ طبع نہ ہو، میں بھی ایک زور کروں۔ وہ بولا: بِسمِ اللہ۔ شہ زادے نے ایک ہاتھ شانے پر دھَر، دوسرے سے گردن اُس سرکش کی مضبوط پکڑ، دھَڑ سے کھینچ کر زمین پر دھَڑ سے پھینک دی۔ دیو سفید یہ طاقت دیکھ کر، سفید ہو گیا، شہ زادے کا چہرہ سُرخ ہوا۔ وہ زَرد رو، بے دین اَسفَلُ السّافِلین پہنچا۔\n\nاِس عرصے میں سفید دیو کے ملازم بھی حاضر ہوئے۔ دعوت کی تیّاری، ضِیافت کی اِضافَت کی۔ ایک ہفتہ اَکل و شُرب، گانا ناچ خوب رہا۔ آٹھویں روز اُس ماہِ دو ہفتہ یعنی انجمن آرا نے رنجِ جدائیِ ملکہ مہر نگار، مردمان لشکر کا لب دریا انتظار بیان کر کے کہا: بہ خدا مفارقتِ ملکہ میں خواب و خور حرام ہے۔ چین دل کو نہ جی کو آرام ہے۔ تمھارے بارِ احساں سے دب کر کبھی ہنسی لب پر آ گئی؛ وگرنہ دورِ شراب و کباب خونِ دل، لختِ جگر تھا۔ ہر گلاس بُرادۂ الماس تھا، فقط تمھارا پاس تھا۔ اس نے عرض کی: میرے آدمی جائیں، پتا لگا آئیں۔ انجمن آرا نے کہا: اپنے تجسس میں زیادہ مزہ ہے، اپنا کام آپ خوب ہوتا ہے۔ ناچار رخصت ہو کر چلے اور آنے جانے کے باہم وعدہ ہائے مستحکم ہو گئے۔ مگر ہر دم ملکہ کا خیال، ہر گام دل پر فرقت کا ملال تھا کہ خدا جانے، ڈوب گئی یا ہماری طرح کسی آفت میں پھنسی۔ کبھی دو کوس کبھی چار کوس بہ صد حسرت و افسوس چلتے۔ دو تین دن میں پاؤں سوج گئے، چھالے پڑے، قدم اٹھانے کے لالے پڑے۔ وہ سفر سخت، یہ نازک مسافر، وہ کالے کوس مالوے کی طرح کے کافر۔ انجمن آرا جھلّا کر کہنے لگی، میرؔ:\n\nکب تھا یہ شور و نوحہ، ترا عشق جب نہ تھا\n\nدل تھا ہمارا آگے تو ماتم سرا نہ تھی\n\nآپ کی بدولت یہ ذلت و رسوائی، پیادہ پائی، صحرا نوردی، عزیزوں کی جدائی، غرض کہ کون سی مصیبت ہے جو نہ اٹھائی۔ میر سوزؔ:\n\nچھڑا کر مجھ سے میرے خانماں کو\n\nخدا جانے چلا ہے اب کہاں کو\n\nشہزادہ ہنس کر چُپ ہو رہا۔ پھر وہ عمل جو جوگی سے سیکھا تھا، انجمن آرا کو بتایا۔ دونوں نے توتے کی ہیئت بنائی اور توکلت علی اللہ کہہ کر، نظر بہ خدا، ایک سمت سَرگرمِ پرواز ہوئے۔ پہر دو پہر اُڑنا، پھر کسی درخت پر بسیرا، خیمہ پاس نہ کوئی ہمراہ ڈیرا۔ اِس روپ میں قاصدِ سیر ہوئے۔ سابِق مُصاحِبِ انساں تھے، اب ہم نشینِ وَحش و طیر ہوئے۔ روز نیا پانی، نِت نیا دانہ۔ جس ٹہنی پر بیٹھ رہے وہی آشیانہ۔ کبھی جنگل طے کر کے کسی بستی میں ہو نکلے۔ گاہ کوئی سُنسان ویرانہ نظر پڑا، اُس میں سے رو نکلے۔ کبھی اپنی حکومت اور زمانہ جو یاد کیا؛ تو گھبرا کر فریاد کی، نالہ ایجاد کیا۔ اِسی طرح روز چلے جانا، دل سمجھانے کو یہ شعر لب پر لانا۔ لا اَعلم:\n\nشبِ عشرت غنیمت دان و دادِ خوشدلی بستاں\n\nکہ در عالَم کسے احوالِ فردا را نمی داند", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%AD%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA%D9%90_%D9%BE%D9%8F%D8%B1_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%DA%86%DA%BE%D9%88%D9%B9%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "فسانۂ عجائب/حکایتِ پُر عبرت، جاں سوز، حیرت اَفزا، غم اندوز؛ یعنی سانِحۂ برادرانِ تَواَم", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "حکایتِ پُر عبرت، جاں سوز، حیرت اَفزا، غم اندوز؛ یعنی سانِحۂ برادرانِ تَواَم جانا شکار کا، دامِ قضا میں پھنسنا طائرانِ پُر اعجاز، عجائبِ روزگار کا۔ پھر ایک نے سلطنت پائی، دوسرے کے ہاتھ بہ صد خرابی شہ زادی آئی\n\nجوگی نے کہا: ایک شہر میں دو بھائی تھے تَواَم، پرورش یافتۂ ناز و نِعَم، رُوزگار پیشہ، نیک اندیشہ۔ سوائے رشتۂ برادری، سَر رِشتۂ دوستی و اِتّحاد وہ نیک نِہاد باہم مُستَحکَم رکھتے تھے؛ مگر دونوں کی طبیعت متوجہِ سیر و شکار، ہمّت مصروفِ سیّاحِیِ دِیار دِیار تھی۔ ایک روز شکار کھیلتے جنگل میں جاتے تھے، ہِرَن سامنے آیا۔ چھوٹے بھائی نے تیر لگایا، کاری نہ لگا۔ ہِرَن کَنَوتِیاں اُٹھا کے بھاگا۔ دونوں نے تَعاقُب کیا۔ تمام دن رَوان و دَواں، اُفتان و خیزاں چلے گئے۔ قریبِ شام موقع پا کے بڑے بھائی نے جو تیر مارا، ہِرَن ڈگمگا کر گرا۔ یہ گھوڑوں سے اُترے، ذَبح کیا۔ دن بھر کی دَوڑ سے گھوڑے شَل، خود بھی مضمحل ہو گئے تھے۔ تمام روز کے بے دانہ و آب، بھوک پیاس سے بے تاب تھے۔ لَکڑیاں چُن کر، پانی بہم پہنچا کر کباب لگائے، بہ خوبیِ تمام دونوں نے کھائے؛ مگر اُس روز جو کیفیت اور لذّت خُشک کباب میں پائی، مُرغ کی زِیر بِریانی تَرتَراتی کبھی ایسی نہ کھائی۔ پانی جو ڈگڈَگا کے پِیا، سُستی معلوم ہوئی اور رات بھی ہو گئی تھی؛ لیکن شبِ ماہ، پورن ماسی کا چاند، اللہ اللہ! جنگل کی فِضا، سبزۂ نَو رُستَہ جا بہ جا۔ انھوں نے کہا: آج کی شب اِس صحرا میں سحر کیجیے، چاندی کی بہار، صنعتِ پَروَردگار دیکھ لیجیے۔ پھر دل میں سوچے کہ تنہائی کی چاندنی گور کے اندھیرے سے بد تر ہے۔ سچ ہے: جب ماہ روبَر میں نہ ہو تو نور نظر میں نہ ہو، اندھیر اُجالا آنکھ میں برابر ہے۔ ناسخ:\n\nدھوپ بہتر، پر شبِ فرقت کی بد تر چاندنی\n\nصاعِقے کے طَور سے پڑتی ہے مجھ پر چاندنی\n\nخیر، یہ دونوں ایک درختِ سایہ دار چشمے کے قریب دیکھ؛ شَطرَنجی، چاندنی تو ہمراہ نہ تھی؛ زین پُوش چاندنی کے عِوَض بچھا، چاندنی کی سَیر کرنے لگے۔ باگ ڈُور سے گھوڑے اَٹکا دیے۔ چھوٹا بھائی بڑا متین، ذی شعور، نکتہ سَنج، دوربیں تھا، بڑے بھائی نے کہا: آج ہم تمھاری عقل کا اِمتِحان کرتے ہیں؛ بتاؤ تو اِس وقت ہمارے شہر کا ہم سے کتنا فاصلہ ہے؟ اور یہ سمت کون سی ہے؟ تیسرے، کباب کی لذّت، پانی کا زیادہ مزہ آج مِلا، اِس کا سبب کیا تھا؟ اُس نے جواب دیا: یہ باتیں سہل ہیں۔ شہر ہمارا یہاں سے سَو کوس ہے اور دلیلِ کامل یہ ہے کہ بار ہا تَجرِبہ کیا ہے، میرا گھوڑا تمام دن میں سو کوس اِسی چال سے پہنچتا ہے۔ اور سِمت، ستاروں سے ثابِت کہ شمال ہے۔ رہا کھانے پانی کا لطف، خِلافِ وقت سے تھا؛ اِلّا، نیا مُقَدَّمَہ یہ سُنیے: یقینِ کامل ہے کہ صبح کو عِنایَتِ خالق اور مَدَدِ طالع سے وہ سامان مُہیّا ہو جو کُدورَتِ سابِق دور ہو، آئندہ آسائش رہے، طبیعت مسرور ہو۔ بڑے بھائی نے اِس کی وجہ پوچھی۔ اُس نے کہا: آج سو کوس کی مسافَت بہ صد آفت طَے کی، بھوکے پیاسے رہے، لیکن دل بَشّاش ہے۔ وہ سُن کے چُپ ہو رہا۔ یہ قصّہ رَفت و گُذشت۔\n\nپھر مشورہ ہوا کہ یہ جنگل سُنسان، ہو کا مکان ہے؛ یہاں دَرِندہ و گَزِندہ، سانپ بچھو، شیر بھیڑیے کے سوا پَرِندَہ، دَوِندَہ نظر نہیں آتا؛ جو ہم تم دونوں سو رہے، تو اَلنَّومُ اَخُو المَوتِ، خُدا جانے کیا معاملہ رو بہ کار ہو۔ تین پَہَر رات باقی ہے؛ ڈیڑھ پَہَر ہم جاگیں، پھر تم ہُشیار رہو۔ یہ صَلاح پسندِ خاطِرِ طَرَفَین ہوئی۔ پہلے بڑے بھائی نے آرام کیا، چھوٹے نے جاگنے کا سَر انجام کیا۔ تیر و کماں ہاتھ میں اُٹھا ٹَہلنے لگا۔ جب زُلفِ لَیلائے شب کمر تک آئی؛ اُسی درخت پر دو جانور آپَس میں اپنی اپنی تَوصیف و تعریف زبانِ بے زَبانی میں کرنے لگے اور یہ شخص بہت جانوروں کی بولی سمجھتا تھا، آواز پر کان لگائے۔ ایک بولا: میرے گوشت میں یہ تاثیر ہے: جو کھائے؛ ایک لعل تو پہلے دو پَہَر کے بعد اُگلے، پھر ہر مہینے مُنہ سے نکلے۔ دوسرا بولا؛ جو شخص میرا گوشت کھائے، اُسی روز بادشاہ ہو جائے۔\n\nیہ باتیں سمجھ دل میں نہایت خوش ہوا۔ تیر و کماں تو موجود تھا؛ اِلَّا اللہ کہہ کر، بیر بے تَاَمُّل چِلّے سے جوڑ کر کھینچا۔ لَبِ سوفار کان کے پاس آ، بہ وعدۂ نشانہ سرگوشی کر کے روانہ ہوا۔ قضا نے ہر چند اُن کے سر پر ’’خبردار‘‘ پکارا، کمان کَڑکَڑا کر چِلّائی کہ وہ مارا۔ رات کا تیر سرا سری اُٹَکَّر لَیس؛ مگر مَرگ جو درپئے ہو گئی، کسی گوشے میں جان نہ بچی۔ پَیکان سے تاسوفار دوسار ہوا۔ زمین پر چھد کر دونوں ایک تیر میں گر پڑے۔ اِس نے تکبیر بِلا تاخیر کہہ کے ذَبح کیا، طائِرِ روح اُن کا اُڑ گیا۔ دن کی لَکڑِیاں بچی پھر سُلگا کباب لگائے۔ جس کے گوشت میں سلطنت کا ذائِقہ سمجھا تھا، اُسے کھایا۔ دوسرا، بھائی کے واسطے اُٹھا رکھا اور ایسا خوش ہوا کہ تمام شب آپ پاسبانی کی، بڑے بھائی کو تکلیف نہ دی۔ جَلَّ جَلالُہٗ! مُعاملاتِ قضا و قَدَر سے مجبور بَشَر ہے، انسان کے قبضۂ قُدرت میں نَفع ہے نہ ضَرَر ہے۔ مصر؏:\n\nتدبیر کند بندہ، تقدیر زند خندہ\n\nشعر:\n\nاُنچہ نصیب است، بہم می رسد\n\nوَر نستانی، بہ ستم می رسد\n\nجس وقت زاغِ شب نے بَیضہ ہائے انجم آشیانۂ مغرب میں چھپائے اور صَیّادانِ سحر خیز دام بَر دُوش آئے اور سیمرغِ زَرّیں جَناح، طِلا بال، غیرتِ لعلِ بدخشاں بہ صد عُظم و شاں قفسِ مشرق سے نکل کے گلشنِ زَنگاری میں جلوہ افروز ہوا، یعنی شب گُزری، روز ہوا؛ بڑا بھائی نیند سے جو چَونکا، چھوٹے نے وہ کبابِ پَس ماندۂ شب، رات کے بچے رو بہ رو رکھے؛ وہ نُوش کر گیا، اور حال کچھ نہ کہا۔ دو گھڑی دن چڑھے جب لعل اُگلا، تب سمجھا: ہم نے بہت تدبیر کی، مگرسلطنت بڑے بھائی کی قسمت میں تھی۔ پھر وہ لعل بہ طریقِ نَذر رو بہ رو لایا اور رات کا فَسانہ مُفَصّل سب کہہ سُنایا، کہا: اللہ کی عِنایَت سے جلد آپ کو سلطنت کا حُصول ہو، یہ نَذر غُلام کی قبول ہو۔ اُس کو اِس کی سعادت مندی سے خُرسَندی حاصل ہوئی؛ پھر کہا: سامنے آبادی معلوم ہوتی ہے؛ ہم جا کر اِس لعل کو کسی دَلّال کے ہاتھ بیچ آئیں، تم گھوڑوں کے پاس رہو۔ اگر اپنے شہر چل کر یہ اَمر کریں گے؛ حاکم کا خوف مانِعِ کار ہو گا، مفلسی کے باعِث کس کو ہمار اعتبار ہو گا۔ یہ کہہ کر سمت شہر چلا۔\n\nجس دم شہر کے دروازے پر پہنچا، خَلقَت کا اَنبُوہ نظر پڑا۔ اُس ملک کا یہ مَعمول تھا: جب وہاں کا بادشاہ دارُ السَلطَنَتِ عَدَم کا تخت نَشیں ہوتا؛ وَضیع و شریف شہر کے، سُوُم کی رَسم کے بعد، وزیر اعظم کے ہمراہ صُبح دَم تخت لے کے دروازے پر آتے تھے؛ جو اُس روز پہلے مسافر باہَر سے آتا، اُسے بادشاہ بناتے تھے۔ قَضارا، وہاں کا بادشاہ قَضا کر گیا تھا، لوگ تخت لیے مُنتَظِر تھے، یہ داخل ہوا۔ سب نے تخت پر بِٹھا نَذریں دیں۔ نَوبت و نشان، جُلوس کا سب سامان موجود تھا، دھوم دھَڑَکّے سے دیوانِ خاص میں داخل کیا۔ مُنادی ہوئی، بہ قَولِ مشہور: اِن کی رائی دُہائی نزدیک و دور ہو گئی۔ اِس کو سُرورِ سلطنت اور اَحکامِ مملکت کے باعِث اُس دن بھائی کا خیال نہ آیا۔ دوسرے روز جب تخت پر رونق اَفروز ہوا اور سامنے لعل آیا، تب بھائی کا خیال آیا۔ فوراً جاسوس، ہَرکارے درخت کا پتا بتا روانہ کیے، کہا: اِس صورت کا جوان اور دو گھوڑے وہاں ہیں، جلد حُضور میں حاضر کرو۔\n\nوہ سب دوپَہَر تک تمام جنگل کی خاک چھان، حیران و پریشاں پھر آئے، عرض کی: تمام دَشت میں پھِر کر پاؤں تُوڑے، نہ آدمی ملا نہ گھوڑے۔ وہ کچھ رنجیدہ ہو سلطنت کے شُغل میں مَشغول ہوا، بھائی بے چارے کو بھولے سے بھی کبھی یاد نہ کیا؛ مگر وہ لعل جسے بیچنے کو لایا تھا، جس کے بَیعانے میں تخت و تاج مُیسَّر آیا تھا؛ فالِ مُبارک اور بے نشان بھائی کی نشانی سمجھ، ہر روز سرِ دربار لاتا، ملازِموں کو دِکھاتا۔ وہ سب بہ خاطرِ شاہ واہ واہ کہتے، یہ سن کر خوش رہتے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%AD%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA%D9%90_%D9%BE%D9%8F%D8%B1_%D8%B9%D8%A8%D8%B1%D8%AA%D8%8C_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%B2%D8%8C_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D9%8E%D9%81%D8%B2%D8%A7%D8%8C_%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B2%D8%9B_%DB%8C%D8%B9%D9%86%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D9%86%D9%90%D8%AD%DB%82_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%AF%D8%B1%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%AA%D9%8E%D9%88%D8%A7%D9%8E%D9%85"} {"title": "فسانۂ عجائب/حکایَتِ ہوش رُبا، نقلِ عبرت خیز، حیرت افزا قاضیٔ متشرِّع اور مُفتی صاحبِ وَرع کی", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "وُروٗدِ عَساکِرِ فیروزی اثر صحرائے ہمیشہ بہار میں وفورِ سَرما، شِدّتِ بَرْد دَشت و کُہسار میں۔ کیفیت باہم کے جلسے کی، ترقّی شراب کے نشے کی۔ خیالاتِ فاسد آنا، توتے کا سمجھانا، پھر شہ زادے کا پچھتانا\n\nنا گاہ ایک روز گُذرِ مَوکِبِ با حشمت و جلال، فَرّ و شوکت سے، ایک صحرائے باغ و بہار، دَشتِ لالہ زارِ بے ملال میں ہوا۔ فِضائے صحرا قابلِ تحریر۔ کیفیت دشتِ گُلشن آسا لائقِ تقریر۔ بوٗ باس ہر برگ و گُل کی رشکِ مشکِ اَذْفَر۔ صفحۂ بیاباں مُعَنْبَر و مُعطَّر۔ چشموں کا پانی صفا میں آبِ گُہر سے آب دار تر، ذائقے میں بِہ اَز شیر و شکر۔ چِلّے کے جاڑے، کڑاکے کی سردی تھی، گویا کہ زمین سے آسمان تک یَخ بھر دی تھی۔ پَرِند چَرِند اپنے اپنے آشیانوں اور کاشانوں میں جمے ہوئے بیٹھے، بھوک اور پیاس کے صدمے اُٹھاتے تھے، دھوپ کھانے کو باہَر نہ آتے تھے، قصد سے تھرتھراتے تھے۔ سردی سے سب کا جی جلتا تھا، دَمِ تقریر ہر شخص کے مُنہ سے دھُواں دھار دھُواں نکلتا تھا۔ آواز کسی کی کان تک کسی کے کم جاتی تھی، مُنْہ سے بات باہَر آئی اور جم جاتی تھی۔ مارِ سیاہ اُوس چاٹنے باہَر نہ آتا تھا، سردی کے باعث دُم دَبا کے بانبی میں دبکا جاتا تھا۔ زمانے کے کاروبار میں خلل تھا، ہر ایک دست دَر بَغَل تھا۔ عاشق و معشوق بھی اگر ساتھ سوتے تھے؛ گھٹتے تھے، مگر گھٹنے پیٹ سے جُدا نہ ہوتے تھے۔ اَشکِ شمعِ انجمن لگن تک گرتے گرتے اُولا تھا، پروانوں نے گرد پھرتے پھرتے ٹٹولا تھا۔ شعلہ کانپتا تھا، فانوس کے لحاف میں مُنہ ڈھانپتا تھا۔ شمع کا جسم برف تھا، پگھلنے کا کیا حرف تھا۔ ہر سنگ کے سینے میں آگ تھی، گواہِ شرعی شَرَر تھا، لیکن سردی کو بھی یہ لاگ تھی اور جاڑے کا ایسا اثر تھا کہ سِلیں کی سِلیں جَمی پڑھی تھیں، فَولاد سے زیادہ کڑی تھیں۔ تَنورِ فلکِ چارُم کی چھاتی سرد تھی۔ گلخَن میں یہ بُرودَت تھی کہ کشمیر گَرد تھی۔ لُنجوں نے بٹیر پکڑے، لَوِے لولُوں کے ہاتھ آئے، لنگڑے ہِرَن باندھ لائے۔ سَر زمینِ ہند میں مُردے نہ جلتے تھے، زِندوں کے ہاتھ پاؤں گلتے تھے۔ آتش رُخسارِ گُل شبنم نے بُجھائی تھی، باغ میں بھی جاڑے کی دُہائی تھی۔ اُوس برگ و بار کی، صنعت پروردگار کی دِکھاتی تھی، مُرصَّع کاری یک لَخْت نظر آتی تھی۔ دانہ ہائے اشکِ شبنم، خواہ بڑے یا رِیزِے تھے، ہر شجر کے برگ و بار میں اَلماس اور موتیوں کے سَبُک آوِیزِے تھے۔ عِذارِ لالۂ حمرا رشکِ زعفراں تھا۔ طلائی درختوں کی ٹہنیاں، کہرُ بائی پتّے، بہار میں رنگِ خِزاں تھا۔ اِس سردی کا کہیں ٹھور ٹھکانا ہے، حَمَّام پر یہ پھبتی تھی کہ بَرف خانہ ہے۔ آگ پر لوگ جی نثار کرتے تھے، زَر دُشْت کا طَریق اِختیار کرتے تھے۔ اُسی سردی کا یہ وُفور ہے کہ آج تک بُتوں کی سرد مہری مشہور ہے۔ آفتاب عازِمِ بُرجِ حَمَل تھا، آتَش پَرَستوں کا عَمَل تھا۔ زیست سَمَنْدَر کے عُنوان تھی، آگ میں خلقت کی جان تھی۔ عاشق تو کیا، معشوق ٹھنڈی سانْس بھرتے تھے، گرمی نہ کرتے تھے۔ دانْت سے دانْت بجتا تھا۔ ہونْٹ نیلم کو شرماتے تھے، پان کے لاکھے میں سُوسَن کی پنکھڑی سے نظر آتے تھے۔ عاشق تن، پریوں کو ساتھ لے کے سوتے تھے، اِس پر بچھونے گرم نہ ہوتے تھے۔ عالَم اللّٰہ کا جاڑے میں اَلْمَسْت تھا۔ جس کو دیکھا، آتَش پرست تھا۔ جاڑے سے اُس دشت میں ایسا پالا پڑا، تمام اہلِ لشکر کو تَپ لرزے کا عالم تھا۔ بانکے تِرچھے خود بہ خود اینٹھے جاتے تھے، ڈھال تلوار کھڑکھڑانے کے عِوَض دانْت کَڑکَڑاتے تھے۔ تپنچے، چقماق، پتھر کَلے؛ لاٹھی سے بد تر تھے۔ بندوق میں لاگ نہ تھی، چانْپ کے پتھروں میں آگ نہ تھی۔ اور تُوڑے دار کا یہ حال تھا: بُوجھ کندھا توڑتا تھا، قدم اُٹھانا مُحال تھا۔ تُوڑاہر ایک، گُل تھا؛ توتے کی جگہ شُورِ بلبل تھا۔ ملائم لوگوں کے حواس جم گئے تھے، جُگنو کو چنگاری کے دھوکے میں اُٹھانے کو تھم گئے تھے۔ اور ہوش ایسے کانْپتے تھے؛ کیچوے کی مِٹّی کو الاؤ سمجھ، پھونکتے پھونکتے ہانپْتے تھے۔ سردی بس کہ کارفَرما تھی، ایک کو دوسرے کی تمنّا تھی۔ یہاں تک جاڑے کا زور شور عالم گیر ہوا تھا کہ کُرَۂ نار، زَمْہَریر ہوا تھا۔\n\nجان عالم نے فرمایا: آج خیمہ ہمارا یہیں ہو۔ جس دم تمام لشکر نے مِثْل دَر مِثْل قیام کیا، خود مُتَوجہ سامانِ عیش و نَشاط ہوا۔ ملکہ اور انجمن آرا سے پری پیکر محبوب۔ توتا مُصاحِبِ بے بدل، بہ دِل مرغوب۔ گردش میں دَورِ شرابِ ناب آیا، ساغر میں آفتاب آیا؛ اِلّا، کشتی شراب کی، نہ بَطِ مَے چلتی تھی؛ نہ کباب بھنتے تھے، نہ آگ جلتی تھی۔ گلاس شراب کا برف کی قفلی کو شرماتا تھا، قطرۂ مَے اُس میں گرتے ہی جَم جاتا تھا۔ مینائے بے زَباں کے مُنْہ پر روٗئی تھی، ایسی سردی ہوئی تھی۔ گلا بیٹھا تھا؛ جب بہت غُل کرتی، تب قُلقُل کرتی۔ لَبِ ساغر خُشک، جِسم پر پسینا تھا؛ پانی کا پیالہ فخرِ آبگینہ تھا۔ جاڑے کا لشکر میں ہر طرف شُور و غُل تھا۔ بازار میں روٗئی کا لین دین بِالکل تھا۔\n\nجب دَورِ آفتاب ماہ جبینوں میں چمکا؛ عالَمِ سُرور میں، نشے کے وُفور میں جان عالم کو خیالِ نزدیک و دور آیا۔ دل میں سوچا کہ اِتنے عرصۂ دراز، زمانۂ دِیریاز تک ملکہ اور انجمن آرا کو ہم سے فُرقت، غیروں سے قُربت رہی؛ رنڈی کا اِعتِبار کیا ہے، یہ قوم قدیم سے بے وفا ہے۔ فِردَوسی:\n\nاگر نیک بودے سَر انجامِ زن\n\nزناں را ’’مَزَن‘‘ نام بودے نہ ’’زَن‘‘\n\nیہ نشیب و فَراز جو ذہن میں آیا؛ جَلی کَٹی باہم ہونے لگی، کج بحثی صحبت کا لطف کھونے لگی۔ وہ سبز پُوش، خانہ بدوش، موقع شَناس، مزاج داں، دِل سُوز، ادب آمُوز، بے زَباں بلبلِ ہزار داستاں دل کا حال جانتا تھا، اُڑتی چِڑیا پہچانتا تھا؛ سمجھا: جان عالم کی طبیعت کبیدہ ہوئی۔ قریب وہ وقت آیا چاہتا ہے کہ ایسی گفتگو آغاز ہو، جس کا انجام یہ صحبت دَرہَم و بَرہَم کرے۔ زندَگی سب کی تلخ ہو، ہر کلمہ نبات کا، کارِسَم کرے۔ بات کو کاٹ، طبیعت کو اُچاٹ، کہنے لگا: شہ زادۂ عالَم! نشہ اِس کیفیت سے حرام ہے کہ اِس کی ترقی میں عقل کو تنزل ہوتا ہے۔ خیالِ بیہودہ، لاطائل آتے ہیں، احسان بھول جاتے ہیں۔ فقط گُمانِ بے جا اور خیال، وہ بھی نشے کے حال کا؛ اُس پر حق خدمت ناحق بھول جانا، روکھے ہو کے بگڑنا، مُنْہ بنانا، گویا اِن تِلوں میں تیل نہ تھا، کبھی میل نہ تھا؛ آدمیّت سے بعید ہے۔ اِن میں کوئی آپ کی زر خرید ہے؟ ایک ساعَت اِدھر مُخاطَب ہو جیے۔ اِس مدّتِ مُفارَقَت میں بہت سانِحے دیکھے، افسانے اپنے بیگانے کے سُنے؛ اگر بہ گوشِ ہوش انھیں سُنیے تو یہ تخیلات فاسِددور ہوں۔ جان عالم نے کہا: ایسی بات اس وقت واجبات سے ہے، جلد کہہ۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%AD%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D9%8E%D8%AA%D9%90_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D8%B1%D9%8F%D8%A8%D8%A7%D8%8C_%D9%86%D9%82%D9%84%D9%90_%D8%B9%D8%A8%D8%B1%D8%AA_%D8%AE%DB%8C%D8%B2%D8%8C_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D9%81%D8%B2%D8%A7_%D9%82%D8%A7%D8%B6%DB%8C%D9%94_%D9%85%D8%AA%D8%B4%D8%B1%D9%90%D9%91%D8%B9_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D9%8F%D9%81%D8%AA%DB%8C_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D9%90_%D9%88%D9%8E%D8%B1%D8%B9_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "فسانۂ عجائب/داستانِ حیرت بیاں", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "داستانِ حیرت بیاں رخصت شہ زادۂ باوقار کی، پیر مرد کا عمل بتانا، وزیر زادۂ گُم گشتہ کا اُسی روز آنا، جان عالم کی عنایت، اُس کا انجمن آرا پر فریفتہ ہو جانا، دغا سے شہ زادے کو بندر بنانا۔ بعدِ خرابی ملکہ کے باعِث رہائی پانا۔\n\nنظم:\n\nمصیبت نگار و مصائِب رقم\n\nجگر چاک و مغموم میرا قلم\n\nزمانے کی کچھ طرز لکھتا ہے یاں\n\nعجائب غرائب ہے، یہ داستاں\n\nمری بات یہ دل سے کرنا یقیں\n\nکسی کا کوئی دوست مطلق نہیں\n\nجو یہ دوست ہیں، ان سا دشمن کہیں\n\nنہیں ہے، نہیں ہے، نہیں ہے، نہیں\n\nکیا امتحاں میں نے اکثر سُرورؔ\n\nضرورت کی کچھ دوستی ہے ضرور\n\nقِصہ کوتاہ، چندے شہ زادۂ والا جاہ وہاں رہا۔ ایک رُوزیہ سب عاشق و معشوق باہم خوش و خُرم بیٹھے تھے؛ جان عالم نے کہا: ہمیں وطن چھوڑے، عزیزوں سے مُنہ مُوڑے عرصہ ہوا؛ ہنُوز دِلی دور ہے، اب چلنا ضرور ہے۔ وہ دونوں نیک خو، رضا جو بولیں: بہت خوب۔ اُسی روز حرفِ رُخصت ملکہ کے باپ سے درمیان آیا۔ مردِ انجام بیں نے روکنا مناسب نہ جانا۔ سفر کی تیاری ہوئی۔ دمِ رُخصت اس قدر مال و اسباب، نقد و جنس وغیرہ کی قسم سے شہ زادی کو ملا کہ انجمن آرا کی جہیز بھولا۔ اور وقت وداع پیر مرد نے با دلِ پُر درد جان عالم سے کہا: فقیر کے پاس آپ کے لائق کچھ نہ تھا جو پیش کش کرتا، مگر ایک نکتہ بتاتا ہوں؛ جب کہ امتحان ہو گا، خزانہ قاروں سے زیادہ کام آوے گا۔ راست، دروغ خاطر نشاں ہو گا، لطف مل جائے گا۔ پھر چند فقرے تنہا لے جا کے بتا کے، تاکید سے کہا: اگر یہ مُقدمہ حقیقی بھائی سے اظہار کرو گے؛ یاد رکھو، حضرت یوسف علیہ السلام سے زیادہ صدمے سہو گے۔ زمانے کے اِخوانُ الشیاطیں بہ ہزار کید آمادۂ کیں رہتے ہیں۔ اسی سبب سے دانش مند زبان بند رکھتے ہیں، راز اپنا نہیں کہتے ہیں۔ یہ نکتہ حضرت آدم ؑ کے وقت سے سب کو یاد ہے: دُنیا میں برادرِ حقیقی دشمنِ مادر زاد ہے۔ فرد:\n\nبھاگ ان بردہ فروشوں سے، کہاں کے بھائی\n\nبیچ ہی ڈالیں جو یوسف سا برادر ہووے\n\nپھر انجمن آرا پاس آ فرمایا: شہ زادی! فقیر زادی کنیز کو عزیز جان کر، نظرِ الطاف و کرم ہر دم رکھنا۔ یہ بھی خدمت گُزاری میں قُصور نہ کرے گی۔ اسے تم کو سونپا، تمھیں حافِظِ حقیقی کے سپُرد کیا؛ لُو خُدا حافظ۔ سواری دیر سے تیار تھی۔ لوگوں پر ثابت تھا کہ کوئی امرِ پُوشیدہ، درویشِ باوقار شہ زادے پر بہ تکرار اظہار کرتا ہے۔\n\nاِتفاقاتِ زمانہ، اُسی روز وہ وزیر زادہ جو وطن سے ساتھ نکل، ہرن کے پیچھے گھوڑا پھینک، دشتِ اِدبار میں شہ زادے سے جُدا ہوا تھا؛ سرگشتہ و پریشاں، پھِرتا پھِرتا، پیادہ پا اِدھر آ نکلا۔ اُس نے جو یہ لشکرِ جرار اور قافلہ تیار دیکھا، پوچھا: کس کی سواری، کہاں کی تیاری ہے؟ لوگوں نے تمام جان عالم کا قصہ سُنایا۔ یہ خوش ہوا، جی میں جی آیا۔ پوچھا: شہ زادہ کہاں ہے؟ وہ بولے: پیر مرد جو یہاں کا مالک ہے، کامِل ہے، عامِل ہے، فقیرِ سالِک ہے؛ کچھ کہنے کو تنہا جُدا لے گیا ہے۔ اس عرصے میں جان عالم رُخصت ہو سوار ہوا۔ سلامی کی تُوپ چلی، نقارہ نواز نے ڈنکے پر چُوب دی۔ وزیر زادے نے ہُلڑ میں دوڑ کر مُجرا کیا۔ شہ زادے نے گھوڑے سے کود کے گلے لگایا، دیر تک نہ چھُوڑا۔ اُسی دم لباسِ فاخرہ پنھا، ہمراہ سوار کیا۔ راہ میں سرگُذشتِ تفرقہ پوچھتا کہتا چلا۔ جب خیمے میں داخل ہوا، وزیر کو محل سرا میں طلب کیا۔ انجمن آرا اور ملکہ کو نذر دلوا کے، کہا: یہ وہی شخص ہے جس کا المِ مُفارقت مُدام دل میں کانٹا سا کھٹکتا تھا، جی سینے میں تنگ تھا، آمد و شُد میں دم اٹکتا تھا۔ دیکھو، جب اچھے دن آتے ہیں، بے تلاش بچھڑے مل جاتے ہیں۔ جس دن گردوں نے ہمیں آوارۂ دشتِ اِدبار کیا تھا، جُدا ہر ایک دوست دارِ غم خوار کیا تھا۔ اب مساعدتِ بخت سے ایامِ سخت دور ہوئے، بہم مہجور ہوئے۔\n\nوزیر زادے کا حال سُنو: انجمن آرا کا حُسن و جمالِ بے مِثال دیکھ، دیوانہ ہو، ہوش و حواس، عقل کھُو؛ نمک حرام بنا، وصل کی تدبیر میں پھنسا۔ اُستاد:\n\nیار، اغیار ہو گئے، اللہ!\n\nکیا زمانے کا انقلاب ہوا\n\nاُستاد:\n\nخدا ملے تو ملے، آشنا نہیں ملتا\n\nکوئی کسی کا نہیں دوست، سب کہانی ہے\n\nدُو چار گھڑی یہ صحبت رہی، پھر اپنے اپنے خیموں میں گئے۔ وزیر زادے کے واسطے خیمۂ عالی اِستاد ہوا۔ پھر جتنی جلیسیں، انیسیں حسیں، مہ جبیں دونوں شہ زادیوں کے ہمراہ تھیں؛ اُسے دِکھا، فرمایا: جس طرف تیری رغبت ہو؛ سعی کروں، دِلوا دوں۔ وہ نُطفۂ حرام اور خیال میں تھا، یہ مُقدمہ مطلب کے خلاف صاف صاف سمجھا، عرض کرنے لگا: میری کیا مجال ہے اور کیا تاب و طاقت ہے جو اِنھیں بُری نگاہ سے دیکھوں۔ جان عالم اس وضعی حرکت سے بہت رضامند ہوا کہ یہ بڑا نیک طینت، صاف باطن ہے۔ بہ اسبابِ ظاہر اِس نظر سے زیادہ مدِ نظر ہوا، دل میں گھر ہوا۔ تمام صُعوبتیں، حالاتِ سفر، رنجِ راہ، قریہ و شہر کا گزر شہ زادے نے بیان کیا؛ مگر جب پیر مرد کے مشورے کا ذکر آتا، ٹال جاتا۔ وہ سمجھا، کچھ اس میں بھید ہے۔\n\nایک رُوز ملکہ مہر نگار اور انجمن آرا نے متفِق ہو کر جان عالم سے کہا: یہ نیا ماجرا ہے، ہر دم ایک شخصِ غیر اور جوان کو شریکِ صحبتِ خلا ملا رکھنا کیا مناسب ہے؟ اور دابِ سلطنت سے بھی یہ امر بعید ہے۔ شیطان کو انسان دور نہ جانے۔ غیر تو کیا، اپنے کا اعتبار نہ مانے۔ جان عالم نے کہا: پھر ایسا کلمہ زبان پر نہ لانا۔ تم نے اتنا نہ قیاس کیا کہ اُس نے تمھاری لونڈیوں کا پاس کیا، نہ کہ تمھارا حفظ مراتب۔ اور میں بھی تو ایسا بیہودہ، نادان نہ تھا جو خلافِ وضع حرکت کرتا۔ ملکہ یہ سُن کر ہنسی، انجمن آرا سے مُخاطب ہو کر کہا: برائے خُدا انصاف کیجیے، خاطر کی نہ لیجیے؛ اِن کے حُمُق میں کس بے وقوف کو تامُل ہو گا! آپ اگر عقل کے دُشمن نہ ہوتے، تو کیوں حوض میں کود کر، ساحِرہ کی قید میں پھنستے، نام ڈُبُوتے۔ لو بھلا سچ کہو، شرمندہ نہ ہو؛ جی میں کیا سمجھے تھے جو کود پڑے؟ ذرا یہ خیال نہ آیا، غواصِ فِکر کو مُحیط تامُل میں غوطہ زن نہ فرمایا کہ کہاں انجمن آرا، کُجا جنگل کا حوض! وہ اس میں کیوں کر آئی! وہ از خاندانِ شاہی تھی، یا شریکِ سلسلۂ ماہی، واہی تباہی تھی!\n\nجان عالم کھسیانا ہو گیا، کہا: بات اور، مسخرا پن اور۔ کہاں کا ذکر کس جگہ لا کے ملایا۔ میری حماقت کا موقع خوب تمھارے ہاتھ آیا، جس کو سند بنایا۔ یہ تو سمجھو، شعر:\n\nعشق ازیں بسیار کرد است و کُند\n\nسبحہ را زُنار کرد است و کُند\n\nاُستاد:\n\nکہتے ہیں جسے عشق، وہ از قسمِ جُنوں ہے\n\nکیوں کر کہ حواس اپنے میں پاتے ہیں خلل ہم\n\nھلا کچھ اپنی باتیں تو یاد کرو، دل میں مُنصف ہو۔ ملکہ نے کہا: دیکھا! آپ شرمائے تو یہ کہانی لائے۔ میں تو رنڈی ہوں، ناقِص عقل میرا نام ہے، مردوں کا یہ کلام ہے۔ بھلا صاحب! اگر مجھ سے کوئی بے وقوفی کی حرکت ہووے؛ تعجب کی جا نہیں، ایسی بڑی خطا نہیں؛ لیکن شُکر کرنے کی یہ جا ہے کہ آپ کا مزاج بھی میرا ہی سا ہے۔ آخر یہ بات ہنسی میں اُڑ گئی؛ مگر وہ مکار ہر کوچ و مُقام میں وقت کا مُنتظر تھا۔ ایک رُوزِ غم اندُوز شہ زادے کا خیمہ صحرائے باغ و بہار، دشتِ لالہ زار مگر ہمہ تن خار خار، پُر آزار میں ہُوا۔ فضائے صحرا نے کیفیت دکھائی، پھولوں کی خوش بو دِماغ میں سمائی۔ جا بہ جا چشمے رواں دیکھ کے، یہ لہر آئی کہ تنہاوزیر زادے کا ہاتھ پکڑ لبِ چشمہ جا بیٹھا۔ کشی شراب کی طلب ہوئی۔ جس دم جان عالم کی آنکھوں میں سُرور آیا، اِختِلاط کا زبان پر مذکور آیا؛ اُس دغا شعار، پُر فن مکار نے وقتِ تنہائی، صحبت بادہ پیمائی، نشے کی حالت غنیمت جانی، رُونے لگا۔ شہ زادے نے ہنس کر کہا: خیر ہے! وہ بولا: جو جو شرطِ رفاقت، حقِ خدمت دُنیا میں ہوتا ہے، غُلام سب بجا لایا؛ مگر محنت و مشقت، غریبُ الوطنی، دشت نوردی کا عِوض خوب بھر پایا۔ جب آپ سا قدر داں بات کو چھپاوے، تو پھر اور کسی سے کس بات کی اُمید رہے۔\n\nجان عالم نشے میں انجام کار نہ سُوچا، اُس فیلسوف کے رونے سے بے چین ہو گیا، کہا: اگر تجھے یہی امر ناگوار ہے تو سُن لے جو اسرار ہے: مجھے ملکہ کے باپ نے یہ بات بتائی ہے جس کے قالب میں چاہوں، اپنی روح لے جاؤں۔ اُس نے پوچھا: کس طرح؟ شہ زادے نے ترکیب بتا دی۔ جب وہ سب سیکھ چُکا، بولا: غُلام کو بے امتحان غلطی کا گُمان ہے۔ شہ زادے نے کہا: اِثبات اس بات کا بہت آسان ہے۔ اُٹھ کر جنگل کی طرف چلا۔ چند قدم بڑھ کر بندر مُردہ دیکھا، فرمایا: دیکھ میں اس کے قالب میں جاتا ہوں۔ یہ کہہ کر شہ زادہ زمین پر لیٹا، بندر اُٹھ کھڑا ہوا۔ وزیر زادے کو سب ڈھنگ یاد ہو گیا تھا؛ فوراً وہ کُور نمک زمین پر گرا، اپنی روح جان عالم کے قالبِ خالی میں لا، کھڑا ہوا اور کمر سے تلوار نکال، اپنا جسم ٹکڑے ٹکڑے کر کے دریا میں پھینک دیا۔ یہ غضب بڑا ہوا، شہ زادے کا نشہ کِر کِرا ہوا۔ سمجھا: بڑی خطا ہوئی، ازماست کہ برماست، خود کردہ را علاجے نیست۔ وہ کافِر بندر کے پیچھے دوڑا۔ شہ زادہ بچارا بھاگ کر درختوں کے پتوں میں چھپا۔\n\nپھر تو بہ دِل جمعیِ تمام وہ نُطفۂ حرام لہو کپڑوں پر چھڑک، بے دھڑک ملکہ کے خیمے میں گیا، رُویا پیٹا، کہا: اس وقت ظلم کا حادِثہ ہوا، میں وزیر زادے کے ساتھ سیر کرتا تھا؛ یکایک جنگل سے شیر نکلا، اُسے اُٹھا لے چلا۔ ہر چند میں نے جاں بازی سے شیر کو تہِ شمشیر کیا، زخمی ہوا؛ مگر اُسے نہ چھوڑا، لے ہی گیا۔ ملکہ نے تاسُف کیا، سمجھایا: قضا سے کیا چارہ! یہی حیلۂ مرگ اُس کے مُقدر میں تھا۔ پھر انجمن آرا پاس گیا، وہاں بھی یہی اِظہار کیا؛ اِلا، گھبرایا ہوا باہر چلا گیا۔ ملکہ، انجمن آرا کے خیمے میں آئی، وزیر زادے کا مذکور آپس میں رہا؛ لیکن ملکہ کو قیافہ شناسی کا بڑا ملکہ تھا، پریشان ہو کر یہ کلمہ کہا: خُدا خیر کرے! آج بہت شگونِ بد ہوئے تھے: صُبح سے دہنی آنکھ پھڑکتی تھی؛ راہ میں ہِرنی اکیلی رستہ کاٹ میرا مُنہ تکتی تھی، اپنے سایے سے بھڑکتی تھی؛ خیمے میں اُترتے وقت کسی نے چھینکا تھا؛ خوابِ مُوحِش نماز کے وقت دیکھا تھا۔ تم بھی فضلِ اِلٰہی سے عقل و شعور رکھتی ہو، آج کی حرکتیں شہ زادے کی غور کرو؛خلافِ عادت ہیں، یا مجھی کو وہم بے جا ہے؟ انجمن آرا نے کہا: تم جانتی ہو وزیر زادے سے محبت کیسی تھی! رنج و الم بُرا ہوتا ہے، بدحواسی میں اور کیا ہوتا ہے۔\n\nالقِصہ، وہ شب ملکہ کے پاس رہنے کی تھی، اسے اندر کا حال کیا معلوم تھا؛ طبیعت کے لگاؤ سے انجمن آرا کے خیمے میں گیا۔ جس وقت پہر بجا، ملکہ اِنتظار کر کے وہاں گئی۔ دیکھا شاہ زادہ مُضطرب بیٹھا ہے۔ اس نے پوچھا: آج کہاں آرام کرو گے؟ وہ سُچک کر بولا: جہاں تم کہو۔ ملکہ نے کہا: یہیں سو رہو۔ شہ زادے نے کہا: بہت خوب۔ یہ کلمہ بھی خلافِ دستور ظُہور میں آیا۔ اس کا ’’خوب کہنا‘‘ ملکہ نے بُرا مانا۔ انجمن آرا کا ہاتھ پکڑ اپنے خیمے میں لائی، رُوئی پیٹی، چلائی۔ انجمن آرا بولی: ملکہ! خُدا کے واسطے کچھ مُفصل بتا۔ وہ بُولی: غضب ہوا، قسمت اُلٹ گئی، شہ زادے سے چھُٹ گئی؛ خُدا کی قسم یہ جان عالم نہیں۔ وہ بھی شہ زادی تھی، گو سیدھی سادی تھی، کہا: دُرُست کہتی ہو، بہت سی باتیں اس نے آج نئی کی ہیں۔ ملکہ نے کہا: خیر، اب جو ہو سو ہو، تم یہیں سو رہو۔ پھر حبشنوں، تُرکنوں سے فرمایا: ہم سوتے ہیں، تم درِ خیمہ پر مُسلح جاگو؛ اس وقت شہ زادہ کیا، اگر فرشتہ آئے، بار نہ پائے۔ یہ خبر سُن کر وہ نامرد ڈرا، اکیلے اور خیمے میں جا پڑا۔ ایک ڈر دو طرف ہوتا ہے۔ ملکہ نے کہا: دیکھا! اگر جان عالم ہوتا، کبھی اکیلا نہ سوتا، بے تامُل چلا آتا۔ بدمزگی کا باعث، خفگی کا سبب پوچھتا۔ اُسے کس کا ڈر تھا، اُس کا تو گھر تھا۔ انجمن آرا کہنے لگی: صورت تو وہی ہے۔ اُس وقت ملکہ نے ماجرا غیر کے قالب میں روح لے جانے کا دمِ رُخصت اپنے باپ کے بتانے کا مُفصل بتایا؛ پھر کہا کہ شہ زادے نے وزیر زادے کو یہ حال بتایا ہے۔ آپ تو خُدا جانے کس مصیبت میں مبتلا ہوا، ہم کو موذی کے چنگل میں پھنسایا ہے۔ ہمیں رُوزِ اول اُس کی چتون پر بدگمانی کا شک آیا تھا، سامنے لانے کو منع کیا تھا، سمجھایا تھا۔ وہ نادان ہمارا کہنا خاطر میں نہ لایا، اُس کا مزہ پایا۔\n\nالقِصہ، وہ شب کہ شبِ اولینِ گور تھی، رُونے پیٹنے میں کٹی۔ انجام کار کا اُس نابکار کے خوف سے تردُد و تفکر رہا کہ دیکھیے شیشۂ ناموس و ننگ سنگِ ظُلم سے کیوں کر بچتا ہے! اور یہ کہتی تھیں، اُستاد:\n\nکسے تیغِ جفائے چرخ سے اُمید ہنسنے کی\n\nجو ہووے بھی تو ہاں شاید دہانِ زخم خنداں ہو\n\nاِسی فکر و اندیشے میں صُبحِ قیامت نمود ہوئی، سواری ڈیوڑھی پر موجود ہوئی، کوچ ہوا۔ خبرداروں نے اُس بنے شہ زادے سے عرض کی: یہ سر زمینِ غضنفریہ ہے، یہاں سے پانچ کوس شہر ہے۔ حاکم وہاں کا غضنفر شاہ زِرہ پُوش ہے۔ سوار و پیادے کے سوا، لاکھ غلام جنگ آزمودہ، جرار حلقہ بہ گوش ہے۔ حکم کیا: خیمہ ہمارا شہر کے قریب ہو۔ کار پرداز حسبُ الارشاد عمل میں لائے۔ جب شہ زادیاں خیمے میں داخل ہوئیں، خود آیا۔ ادھر یہ بے چاریاں ڈر سے بادِل صد چاک، اُدھر ملکہ کے رعب سے وہ بچہ بھی خوف ناک۔ ساعت بھر بیٹھ کے اٹھ گیا۔\n\nجب غُلغُلَۂ فوج اور آمد لشکر وہاں کے بادشاہ نے سنا کہ لشکر بے شمار، سپاہ جرار شہر کے متصل آ پہنچی؛ اسے بہت تشویش ہوئی۔ وزیر خوش تدبیر کو چند تحفے دے کر، استفسار حال، بہ ظاہر استقبال کو بھیجا؛ تا ملازمت حاصل کر کے مِن و عن حضور میں عرض کرے۔ وزیر حاضر ہوا۔ عرض بیگیوں نے خبر پہنچائی۔ وہ تو دابِ سلطنت، ریاست کا رنگ، ملاقات کا ڈھنگ جانتا تھا؛ وزیر اعظم کا بیٹا تھا، طرز رزم و بزم، آئین صلح و جنگ جانتا تھا؛ رو برو طلب کیا۔ بعد ذکر و اذکار ہر شہر و دیار، اپنا سبب آمد بہ جہت سیر و شکار اور اچھا ہونا آب و ہوا اس جوار کا اور دیکھنا یہاں کے شہر و شہر یار کا بیان کیا۔ دم رخصت خلعت فاخرہ وزیر کو عنایت ہوا اور بہ طرز دوستانہ کچھ ہدایا بادشاہ کو روانہ کیا۔\n\nجب وزیر اپنے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا؛ حسن اخلاق، دبدبۂ شوکت و صولت، آئین سلطنت، رعب و جرات کا اُس کے اِس رنگ ڈھنگ سے ذکر کیا کہ وہ بادشاہ بے ساختہ مشتاق ہو کر سوار ہوا۔ خبرداروں نے اس حال سے مطلع کیا۔ ارکانِ سلطنت، وزرا، امرا، بخشی، سپہ سالار پیشوائی کو گئے۔ جب قریب پہنچا، خود درِ خیمہ تک آیا۔ معانقہ کر دونوں تخت پر جا بیٹھے۔ سلسلۂ کلامِ بلاغت نظام طرفین سے کھلا۔ وہ بھی اس کی صورت پر غش ہو گیا، فصاحت پر اَش اَش کرتا رہا، بصد تکرار شہر کا مکلِّف ہوا، جلد جلد عماراتِ شاہی سجی سجائی خالی ہوئی، اس کو اُتارا، لشکر وہیں رہا۔ پھر حسبِ طلب ملکہ و انجمن آرا سرِ چوک دو محلسرا برابر خالی ہوئے۔ اس میں وہ ناموسِ سلطاں، مبتلائے بلائے بے درماں، مضطر و حیراں داخل بصد خستہ حالی ہوئے۔\n\nچند روز دعوت، جلسے رہے۔ جب فرصت ملی، دل میں سوچا: اگرچہ جان عالم بندر ہے، اِلّا اس کے جینے میں اپنی مرگ کا خوف و خطر ہے۔ ایسی تدبیر نکالیے کہ اسے جان سے مار ڈالیے، پھر بے کھٹکے آرام صبح و شام کیجیے۔ ملکہ سے ڈرتا تھا، پیر مرد کے نام لینے سے مرتا تھا، جیسے چور کی ڈاڑھی میں تنکا۔ یہ سوچ کر حکم کیا: ہمیں بندر درکار ہیں، جو لائے گا، دس روپے پائے گا۔ اہلِ شہر ہزاروں بندر پکڑ لائے۔ جو سامنے آتا، بغور دیکھ سر تڑواتا۔ تھوڑے عرصے میں بہت بندر ہلاک اس سفاک نے کیے۔ جب بندر کم ہوئے، دام بڑھے۔ بہ حدّے کہ فی بندر سو روپے مقرر ہوئے۔ دو کوس، چار کوس گرد و پیش نام و نشاں نہ رہا، بندر عنقا ہو گیا۔ چنانچہ وہیں کے بھاگے ہوئے آج تک متھرا اور بندرا بن اور اودھ بنگلے میں خستہ تن ہیں۔ بلکہ اس زمانے میں بَندرا بَن بالفتح تھا، اب عرصۂ دراز گزرا، وہ بندروں کی کثرت جو نہ رہی؛ اس کسر سے، یہ لفظ بالکسر خلقت کہنے لگی۔ غرض کہ شہر میں ہر طرف غُلغُلہ، سب کی یہی معاش ہوئی۔ ہر شخص کو بندر کی تلاش ہوئی۔ ایک چڑی مار زیر دیوارِ سرا، اُسی بستی میں بستا تھا، مگر محتاج، مفلوک۔ بہ ہزار جستجو و تگاپو تمام دن کی گردش میں دس پانچ جانور جو ہاتھ آ جاتے، دو چار پیسے کو بیچ کر، جور و خصم روٹی کھاتے۔ اگر خالی پھرا، فاقے سے پیٹ بھرا۔ ایک روز اس کی جورو کہنے لگی: تو سخت احمق ہے، دن بھر جانوروں کی فکر میں دَر دَر، خاک بہ سر، الُو سا دیوانہ ہر ایک ویرانہ جھانکتا پھرتا ہے، اس پر جو روٹی ملی تو بدن پر لتہ ثابت نہیں۔ کسی طرح اگر ہنومان کی دیا سے ایک بندر بھی ہاتھ آئے تو برسوں کی فرصت ہو۔ دلدّر جائے۔\n\nلالچ تو بُرا ہوتا ہے، وہ راضی ہوا۔ کہا: کہیں سے آٹا لا، روٹی پکا اور جس طرح بنے، تھوڑے چنے بہم پہنچا۔ صبح بندر کی تلاش میں جاؤں گا، نصیب آزماؤں گا۔ اُس نے مانگ جانچ وہ سامان کر دیا۔ دو گھڑی رات رہے چڑی مار جال، پھٹکی پھینک؛ لاسا، کمپا چھوڑ؛ ٹٹی جو دھوکے کی تھی، وہ توڑ؛ روٹی، چنے اور رسی لے کے چل نکلا۔ شہر سے چھ سات کوس باہر نکل، درختوں میں ڈھونڈنے لگا۔\n\nوہاں کا حال سنیے: شہ زادہ جو بندر بنا تھا، اس نے جس دن سے بندر پکڑتے لوگوں کو دیکھا تھا اور سر تڑوانے کا حال سنا تھا؛ بد حواس، پریشان، سراسیمہ، زیست سے یاس، حیران، ہر طرف چھپتا پھرتا تھا کہ مبادا کوئی پکڑ لے جائے، زندگی میں خلل آئے، اسُ روز کئی دن کا بے دانہ و آب، خستہ و خراب، ضعف و نقاہت زنجیر پا تھا، ہر قدم الجھ کے گرتا تھا، ایک درخت کے کُول میں غش ہو کر پڑا تھا۔ چڑی مار نے دیکھا، دبے پاؤں آ کر گردن پکڑی۔ اس نے آنکھ کھولی، گلا دستِ قضا میں پایا، جینے سے ہاتھ اُٹھایا۔ یقین ہوا زیست اتنی تھی، آج پیمانۂ بقا بادۂ اجل سے لب ریز ہو کر چھلکا؛ پکارا اے گردونِ دوں! اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ چڑی مار نے کمر سے رسی کھول مضبوط باندھا، پھر شہر کا رستہ لیا۔ تھوڑی دور چل، بندر نے کف افسوس مل اس سے کہا: اے شخص! کیوں خون بے گناہ، بندۂ اللہ، راندۂ درگاہ اپنی گردن پر لیتا ہے، مصیبت زدے کو اور دکھ دیتا ہے۔ وہ بولا: کیا خوب، تو باتوں سے مجھے ڈراتا ہے! اگر دیو، بھوت، جن، آسیب جو بلا ہے، بلا سے؛ مگر تیرا چھوڑنا ناروا ہے۔ آج ہی تو قسمت آزمائی ہے، نعمت غیر مترقب رام جی نے دلوائی ہے۔ تجھے بادشاہ کو دوں گا، سو روپے لوں گا، چین کروں گا۔ یہ سنتے ہی سن ہو گیا، رہی سہی جان قالب سے نکل گئی۔ ہر چند منت سماجت سے کہا: لالچ کا کام برا ہوتا ہے؛ کچھ کام نہ آیا، چڑی مار نے جلد جلد قدم بڑھایا، قریب شام شاد کام گھر آیا، جورو سے کہا: اچھی ساعت گھر سے گیا تھا، طائر مطلب بے دام و دانہ خواہش کے جال میں پھنسا۔ یہ کہہ کر خوب ہنسا۔\n\nدو کلمے یہ سنیے: جس دن شہ زادہ گرفتارِ بلائے تازہ ہوا، یعنی چِڑی مار کے دامِ حرص میں گرفتار ہوا؛ ملکہ دل گرفتہ خود بہ خود گھبرائی، رُو رُو کر یہ بَیت زبان پر لائی، اُستاد:\n\nہوئی کیا وہ تاثیر اے آہ تیری\n\nتھی آگے تو کچھ بِیش تر آزمائی\n\nانجمن آرا سے کہا: تم نے سُنا، یہ کم بخت بندر پکڑوا کے سر کچلواتا ہے؛ یقین جانو جان عالم اس ہیئت میں ہے۔ اور آج، خدا خیر کرے، صُبح سے بے طرح دلِ ناکام کو اِضطِراب ہے، جانِ زار کو پیچ و تاب ہے۔ گھر کاٹتا ہے، غم کلیجا چاٹتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے شہ زادہ پکڑا گیا۔ یا کوئی اور آفتِ تازہ، ستمِ نَو بے اندازہ چَرخِ کہن دِکھائے گا۔ ہنسی کے بدلے رُلائے گا۔ میرؔ:\n\nجس سے جی کو کمال ہو اُلفت\n\nجس کی جانِب درست ہو نسبت\n\nجُنبش اُس کی پلک کو گر واں ہو\n\nدل میں یاں کاوِش اک نُمایاں ہو\n\nیار کو دردِ چشم گر ہووے\n\nچشمِ عاشق لہو سے تَر ہووے\n\nواں دَہَن تنگ، یاں ہے دل تنگی\n\nحُسن اور عشق میں ہے یک رنگی\n\nانجمن آرا نے جھلّا کر کہا: اس سے اور اَفزوں کیا دنیا میں تباہی و خرابی ہو گی: شہر چھُٹا، سلطنت گئی، ماں باپ، عزیز و اَقربا کی جُدائی نصیب ہوئی، گھر لُٹا۔ زخمِ دل و جگر آلے پڑے ہیں، جان کے لالے پڑے ہیں۔ مصحفی:\n\nمَرَضُ الموت سے کچھ کم نہیں آزار اپنا\n\nدل میں دشمن کے بھی یا رب نہ چبھے خار اپنا\n\nاور جس کے واسطے آوارہ و سرگشتہ ہوئے، یہ صدمے سہے، نحوستِ بختِ نافَرجام، گردِشِ اَیّام سے اُسے کھو بیٹھے، وطن سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب رَضینا بہ قَضا۔ مرضیِ مَولیٰ اَز ہمہ اَولیٰ۔ ناسخ:\n\nمجھے فرقت کی اسیری سے رہائی ہوتی\n\nکاش عیسیٰ کے عِوَض موت ہی آئی ہوتی\n\nابرِ رحمت سے تو محروم رہی کِشت مری\n\nکوئی بجلی ہی فلک تو نے گرائی ہوتی\n\nہوں وہ غم دوست کہ سب اپنے ہی دل میں بھرتا\n\nغمِ عالَم کی اگر اِس سے میں سمائی ہوتی\n\nیہاں تو یہ باتیں تھیں؛ اُدھر چڑی مار کی جورو چراغ لے کر بندر کو دیکھنے لگی۔ بندر سوچا: وہ کم بَخت بر سَرِ رَحم نہ ہوا؛ کیا عَجَب یہ رنڈی ہے؛ اگر نَرم زبانی سے مذکورِ آفتِ آسمانی سُنے اور مہربانی کرے۔ اِس خیال سے پہلے سلام کیا۔ وہ ڈری، تو یہ کلام کیا: اے نیک بَخت! خوف نہ کر، دو باتیں میری گوشِ دل سے سُن لے۔ گنواریاں جی کی کڑی بھی ہوتی ہیں؛ بندر کو بولنا اَچنبھا سمجھ کر کہا: کہہ۔ وہ بو لا: ہم غریبُ الوَطَن، گرِفتارِ رنج، مبتلائے محن، گھر سے دور، قید میں مجبور ہیں۔ ماں باپ نے کس کس ناز و نِعَم سے پالا۔ فلکِ تَفِرقَہ پَرداز نے کون کون سی مصیبت دِکھانے کو گھر سے نکالا۔ یہاں تک دَر بہ دَر حیران پریشان کر کے پردیس میں بُرے دن دکھائے کہ تیرے پاس گرِفتار ہو کر آئے۔ اُستاد:\n\nپیدا کیا خدا نے کسی کو نہیں عَبَث\n\nلایا مجھی کو یاں یہ جہاں آفریں عَبَث\n\nاب صُبح کو جب ہم گردن مارے جائیں گے، تب سَو روپے تمھارے ہاتھ آئیں گے۔ خونِ بے گناہ کی جَزا حَشر کو پاؤ گی۔ بَیکُنٹھ چھوڑ نَرَک میں جاؤ گی۔ پَیسہ روپیہ ہاتھ کا مَیل ہے؛ اِس پر جو مَیل کرتی ہو، کتنے دن کھاؤ گی؟ کلنک کا ٹیکا ہے، دھبا اس کا جیتے جی نہ چھوٹے گا، دھوتے دھوتے گھر بہاؤ گی۔ اگر ہمارے حال پر رحم کرو، خُدا اور کوئی صورت کرے گا۔ سو روپے کے بدلے تمھارا گھر اَشَرفیوں سے بھرے گا۔ ہمارے قَتل میں گُناہِ بے لذّت یا ایک موذی کی حسرت نکلنے کے سِوا اور کیا فائدہ ہے؟ اگرچہ ایسا جینا، مرنے سے بُرا ہے؛ لیکن خُدا جانے اِرادۂ اَزَلی، مَشِیّتِ ایزَدی کیا ہے! ہماری تقدیر میں کیا کیا لکھا ہے! جو خدا کے نام پر نِثار ہے، اللہ اُس کا ہر حال میں مُمِدّ و مددگار ہے۔ تو نے بادشاہِ یَمَن کا قصّہ سُنا نہیں: ایک سلطنت للہ دی، دو پائیں، لالچیوں کی قضا آئی، جانیں گنوائیں۔\n\nرنڈی موم کی ناک ہوتی ہے؛ جب گھر گئی، جدھر پھیرا پھر گئی۔ بندر کی باتوں پر کچھ تعجب، کچھ تَاَسُّف کر کے کہنے لگی: ہنو مان جی! وہ کہانی کیسی ہے، سناؤ مہاراج۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "فسانۂ عجائب/رخصت ہونا جان عالم کا ملکہ نگار سے", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "رخصت ہونا جان عالم کا ملکہ نگار سے اور پہنچنا ملک زرنگار، مملکتِ دلدار کا۔ ملاقات خواجہ سرا کی، دریافت ہونا حال پر ملال جادوگر کا، پھر اس کو قتل کر کے لانا اس ماہ پیکر کا\n\nبیت:\n\nیہاں کا تو قصہ یہ چھوڑا یہاں\n\nسنو پھر اسی غم زدے کا بیاں\n\nطلسم کشایانِ گنجینۂ سخن، فخر سامری و رہ نوردان اقلیم حکایت کہن، مشّاق جادو و شعبدہ گری؛ رسّامانِ جفاکش و محنت کشیدہ؛ سحر سازانِ سخن سنج، دریں سرائے سہ پنج روئے راحت نہ دیدہ؛ گوسالۂ سخن کو دَیرِ خراب آباد میں یوں گویا کرتے ہیں کہ ملکہ مہر نگار کے باغ سے چالیس منزل ملک زرنگار، کشور آفت روزگار تھا۔ شہ زادہ دل از کف دادہ، یکہ و تنہا، صعوبت سفر کا مبتلا، پاؤں میں چھالے، لب پر آہ و نالے، گرتا پڑتا، کئی مہینے کے بعد اس زمین خجستہ آئیں میں پہنچا اور جو جو پتے توتے نے بتائے تھے، وہ سب اس جوار میں پائے۔ واقعی عجب نواح شگفتہ و شاداب، ہر سمت چشمہ ہائے آب۔ جنگل سب سبزہ زار، گل بوٹے خود رو کی انوکھی بہار۔ ہوا فرحت انگیز، بو باس مشک بیز، جنوں خیز۔ جان عالم خوش و خرم جلد جلد قدم اٹھاتا چلا جاتا تھا۔\n\nایک روز دو چار گھڑی دن رہے، کیا دیکھتا ہے کہ ایک شے مثل آفتاب، بہ صد آب و تاب شمال کی سمت یہ درخشاں ہے کہ نگاہ نہیں ٹھہرتی، عقل حیراں ہے۔ دل سے کہا، آثار حشر نمود ہوئے۔ یہ کیا قیامت ہے، ہم مشاہدہ جمال جاناں سے محروم رہے۔ مشرق و مغرب کو چھوڑ، سورج شمال کی طرف جا نکلا۔\n\nافسوس، صَد افسوس! اب تک نہ دل کا مُدّعا نکلا، جب قریب پہنچا، دیکھا تو دروازہ ہے عالی شان، سَر بہ اوج فلک کشیدہ، دیدۂ روزگار نہ دیدہ۔ بس کہ مطلّا ہے اور لعل و یاقوت اس کثرت سے جڑے ہیں کہ جوہریِ وہم و گماں حیراں کھڑے ہیں۔ شعاعِ آفتاب سے یک رنگیِ خورشید حاصل ہے۔ شرمندہ اس کے رو برو بدرِ کامل ہے۔ یقین ہوا، اب برسر مطلب پہنچا۔ یہ وہی دروازہ ہے باب امید، جس کا ذکروہ سرخ رو، زمرد لباس کرتا تھا۔ سجدۂ شکر بہ درگاہِ منزل رسانِ راہ گم کردگاں کیا اور خوش ہو کر دوڑا۔ فرد:\n\nوعدہِ وصل چوں شود نزدیک\n\nآتشِ شوق تیز تر گردد\n\nغرض اُفتاں و خیزاں درِشہر پناہ پر آیا۔ دروازۂ جواہرنگار رفعتِ فلک دکھاتا، دیوار و در جگمگاتا، بلّور کی اینٹیں، یاقوت کی تحریر، ہر خشت مصفی و مطلا، بہشت کی طرح وا۔ حصن حصیں بہ صد فرّ و تمکیں بنا۔ جا بجا برج۔ برنجی و آہنیں ڈھلی ہوئی توپیں چڑھیں۔ گولنداز جوان جوان، بنفشئی بادلے کے دَگلے پہنے، گلنار اک پیچے سجے، چست و چالاک توپوں کے بائیں دہنے ٹہل رہے۔ زمین و آسمان ان کی ہیبت سے دہل رہے۔ گلی کوچے صاف، خس نہ خاشاک، کثافت سے پاک۔ دروازے پر پانچ ہزار سوار، لاکھ پیادے، کچھ جا بہ جا چوکی پہرے پر، کچھ جنگ کے آمادے۔ چھاؤنی کے طور لینیں بنیں۔ پیدل بگڑے دل جو تھے، ان کی چھولداریاں تنیں۔\n\nجان عالم نے ان سے پوچھا: اس شہر کا نام کیا ہے اور حاکم یہاں کا کون ذی احترام ہے؟ انھوں نے دیکھا: اک جوان سرو قامت، قمر طلعت، خُسوف سفر، خاک رہ گذر میں نہاں ہے؛ مگر دبدبۂ شوکت و صولت، نشانِ جُرات چہرۂ انور سے عیاں ہے۔ وہ خود کہنے لگے: آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟ شہزادے نے کہا: بھائی! سوال دیگر، جواب دیگر۔ آخر ایک شخص نے کہا: اس ملک کو زرنگار کہتے ہیں، بڑی چمک دمک کے لوگ اس میں رہتے ہیں۔ سنتے ہی چہرہ بشاشت سے کندن کی طرح دمکنے لگا۔ جو ریت کا ذرہ تھا، افشاں کی صورت منہ پر چمکنے لگا۔ دل سے کہا: یہ خواب ہے یا بیداری! طالعِ گردش دہ سے امیدِ یاری و مددگاری نہ تھی۔ ایسی قسمت رہ بر ہماری نہ تھی۔ پھر کچھ نہ پوچھا، یہ کہتا چلا، مولف:\n\nللہ الحمد ٹھکانے لگی محنت میری\n\nطے ہوئی آج کی منزل میں مسافت میری\n\nدروازے سے آگے بڑھا، شہر دیکھا قطع دار، ہموار، قرینے سے بازار۔ کُرسی ہر دکان کی کمر برابر۔ مکان ایک سے ایک بہتر و برتر۔ بیچ میں نہر، جا بجا فوارے۔ سب عمارات شہر پناہ کے میل کی، جواہر نگار، سانچے کی ڈھلی۔ ہاتھ کا کام معلوم نہ ہوتا تھا، کام اس کا معمارِ عقل کے ہوش کھوتا تھا۔ نہ کہیں بلندی نہ پستی، ہموار بَسی ہوئی بستی۔ ایک کا جواب دوسری طرف۔ اِدھر بَزاز، تو اُدھر بھی۔ صَرّاف کے مُقابِل صَرّاف۔ بازار کا صحن نفیس، شفّاف۔ جوہری کے روبہ رو جوہری۔ زَر و جواہِر کا ہر سمت ڈھیر۔ نَقد و جِنس سے ہر شخص سیر۔ کوئی شَے، کسی طرح کا اسباب ایسا نہ تھا کہ اس بازار میں نہ تھا۔ مغرب و مشرق کی اَشیائے نادِرہ کا ہر جا انبار تھا۔ جنوب و شمال کا خریدار تھا۔ حلوائی، نان بائی، کنجڑے، قَصائی۔ سَقُّوں کے کٹوروں کی جھنکار۔ میوہ فروشوں کی پُکار۔ دَلّالوں کی بول چال۔ جہان کا اسباب و مال۔ نہر کی کیفیت جُدا، قَدِّ آدم آبِ مُصفّیٰ۔ فواروں سے کیوڑا، گلاب اُچھلتا؛ بازار مہک رہا، مسافر ہر ایک بہک رہا۔ ہر طَرَف دھوم دھام، خَلقَت کا اِزدِحام۔ چلنے پھرنے والوں کے کپڑے، لتّے ہوئے جاتے تھے۔ وہم و گُماں کشمکش سے بار پاتے تھے۔\n\nجان عالم قُدرتِ حق دیکھتا جاتا تھا، ہوش بَر جا نہ آتا تھا۔ دل سے کہتا تھا: اِنَّ اللہَ عَلیٰ کُلِّ شَیءٍ قَدِیر۔ کیا ملک، کیا سلطنت، کیا شہر و بازار ہے! کیا بیوپاری ہیں، کیسا کیسا خریدار ہے! ہر شخص کو آرام و راحت ہے، کیا بَندوبست با انتظام ہے، کیا حکومت ہے! جب چوک میں آیا، پوچھا: اَیوانِ جہاں پناہ، دَولت سراے شاہ کی کدھر راہ ہے؟ لوگوں نے کہا: دَستِ راست سیدھے چلے جائیے۔ پیاس لگی ہو تو شربت حاضر ہے۔ بھوک ہو تو جس شَے پر رغبت ہو، کھائیے۔ مَدِّ نظر مسافر نوازی ہے، جو چیز ہے گرما گرم، تازی ہے۔ اَلغَرض بازار طے کر قریبِ عِماراتِ بادشاہی جب آیا، اُن مکانوں کو نِرا طلسم پایا۔ عقل کام نہ کرتی تھی۔ ہر کُنگرہ ایوانِ فلک سے اونچا۔ برج ہر ایک جہاں نما، خورشید سا چمکتا۔ لیکن جو لوگ درباری یا ملازم سرکاری آتے جاتے دیکھے، سب سیاہ پوش، خُم خانۂ الم کے جُرعہ نوش۔ اس کا ما تھا ٹھنکا، پاؤں ہر ایک کئی من کا ہو گیا۔ ہر شخص کا منہ تکتا تھا، قدم اٹھ نہ سکتا تھا، گویا سکتہ تھا۔ کہتا: خدا خیر کرے! شگون بد ہے، دل کو بے قراری ازحد ہے۔ چند قدم اور بڑھا۔ سواری کا سامان سامنے آیا ’’بچو، بڑھائیو‘‘ کا شور بلند پایا۔ دیکھا: ایک خواجہ سرا پُرانا، زیرک و دانا، محبوب علی خان نام، نواب ناظرِ سَرا پردۂ شاہی با احترام؛ وہ بھی باخاطر حزیں، غمگیں، سیہ پوش، حواس باختہ، ہوش فراموش، اندوہ یاد، رنج سے ہم آغوش۔\n\nجان عالم نے سلام کیا۔ وہ جواب دے کر شہزادے کو دیکھنے لگا، حیران و ششدر متحیر سا؛ اور سواری روکی، کہا: سبحان اللہ و بحمدہ! کیا تیری قدرت کی شان ہے! جنس بشر میں کس کس طرح کا پری پیکر خلق کیا ہے کہ چشم کوتاب جمال، زبان کو صفت کی مجال نہیں۔ نہایت متوجہ ہو کر پوچھا کہ اے شمشادِ نو رُستہ چمنِ جہاں بانی و سروِ نوخیزِ بوستانِ سلطنت و حکم رانی! حضور کہاں سے رونق بخش اس شہر نحوست اثر کے ہوئے؟\n\nشہ زادے نے کہا: میاں صاحب، خیر ہے! ہم فقط اس شہر اور یہاں کے شہریار کے شوق دید میں وطن سے بعید ہو، خستہ و خراب، با دِل مضطر و جان بے تاب یہاں پہنچے ہیں۔ برائے خدا، یہاں کی نحوست، اپنی سیہ پوشی کی علت بیان کیجیے۔ خواجہ سرا نے یہ سُن کر نعرہ مارا، بے چَین ہو کر پکارا کہ اے جوانِ رَعنا! تو نے یہ قِصّہ سنا ہو گا: زینت تختِ سلطنت، رونقِ شہر، موجِدِ آبادی، صاحبِ جاہ و حشمت، مالکِ عِفّت و عصمت انجمن آرا یہاں کی شہزادی تھی۔ شہرۂ جمال بے مِثال اس حور طَلعَت، پری خِصال کا اَز شَرق تا غرب اور جنوب سے شِمال تک زبان زَد خلقِ خُدا تھا۔ اور ایک جہان حُسن کا بیان سُن کر، نادیدَہ اُس کا مبتلا تھا۔ آج تک چشم و گوشِ چَرخِ کج رفتار نے، بہ ایں گردشِ لیل و نَہار، ایسی صورت دیکھی نہ سُنی تھی۔ مُرقّعِ دَہر سے وہ تصویر چُنی تھی۔ بہت سے شاہ اور شَہْریار، اُس کے وادیِ طَلَب میں قدم رکھ کر تھوڑے عرصے میں آوارۂ دَشْتِ اِدْبار، پتھروں سر مار مار، مصر؏:\n\nرہ رَوِ اِقلیمِ عَدَم ہو گئے\n\nاب پانچ چار روز سے ہمارے طالعِ بیدار جاگتے جاگتے دفعتاً سو گئے۔ ایک ساحِرِ مکّار، جفا کار، بہ زُورِ سحر اُسے محل سے اُٹھا لے گیا۔ داغِ غمِ فرقت دے گیا۔ ہنوز یہ جُملۂ غم نا تمام تھا کہ جان عالم کا کام تمام ہوا۔ آہِ سرد کھینچ کر بہ حالِ خستہ و پریشاں، مثالِ قالبِ بے جاں زمین پر گر کے بہ حسرت و یاس پُکارا، شعر:\n\nجی کی جی ہی میں رہی، بات نہ ہونے پائی\n\nحیف ہے، اُس سے ملاقات نہ ہونے پائی\n\nاے گردونِ جفا پَرداز و اے فلکِ عَربَدہ جو! یہ کیا تیری خُو ہے! اِتنی دور لا کر ناکام رکّھا۔ مُؤلِّف:\n\nعشرت کدے جہاں میں ہوئے سیکڑوں، وَلے\n\nاک دِل ہمارا تھا کہ وہ ماتم سرا رہا\n\nتاثیرِ آہ دیکھی، نہ گریے میں کچھ اثر\n\nناحق مَیں اِس اُمّید پہ کرتا بُکا رہا\n\nکیا دیکھتا ہے سینے کو میرے تو اے سُرورؔ\n\nجُز یادِ یار، اِس میں نہیں دوسرا رہا\n\nشعر:\n\nیہ کہ کر وہ اس طرح غش کر گیا\n\nکہے تو کہ جیتے ہی جی مر گیا\n\nخواجہ سَرا سخت گھبرایا، سمجھا: یہ شخص بھی گرفتارِ مُحبّت، اَسیرِ دامِ اُلفت اُسی کاہے۔ مجھ سے بڑی غلطی ہوئی، دفعتاً خبر بَد سُنانی نہ تھی، آفت اِس کی جان پر جان کر لانی نہ تھی۔ ہر چند گلاب، کیوڑا چھڑکا، ہوش نہ آیا۔ بد حواس، بادشاہ کے حُضور میں حاضر ہوا، رو کر عرض کی: آج ماتَمِ انجمن آرا تازہ ہوا۔ بادشاہ نے فرمایا: کیا ماجرا ہے؟ اُس نے عرض کی: کسی مُلک کا شہزادہ اُس کی محبّت میں سلطنت سے ہاتھ اُٹھا، فقیرانہ سج بنا یہاں تک پہنچا ہے۔ مجھ سے جادوگر کے اُٹھالے جانے کی خبر سُن کر، آہ کھینچ زمین پر گرا ہے۔ اب تک ہوش نہیں آیا تھا۔ عجب صدمہ دِل پر دھَر گیا ہے! خدا جانے جیتا ہے یا مر گیا ہے! خلق کا اَنبُوہ اُس کے سر پر ہے، بازار لوگوں کی کثرت سے بھر گیا ہے۔ کیا عرض کروں! غلام کی نظر سے اِس سج دھَج کا پری پَیکر آج تک اَز قسم بَشَر نہیں گُزرا۔ اگر اِن دونوں کی صورت آئینۂ چشم میں بَہَم نظر آتی، قِرانُ السَّعدَین کی کیفیت کھل جاتی۔ جو حُضور ملاحظہ فرمائیں گے، شہ زادی کو بھول جائیں گے۔\n\nبس کہ بادشاہ غمِ مُفارَقَت انجمن آرا سے بے قرار تھا، اَرکانِ سلطنت سے کہا: جلد جاؤ، جس طرح ہو اُسے لاؤ۔ لوگ دَوڑے، مُردے کی صورت اُٹھا لے گئے۔ اِس عرصے میں شام ہوئی۔ بادشاہ نے ہاتھ مُنْہ دھُلوا، بِید مُشک چھڑکا، کیوڑا مُنْہ میں چُوایا، لخلخہ سنگھایا۔ جان عالم کو ہوش آیا، گھبرا کر اُٹھ بیٹھا۔ دیکھا: ایک شخص تاجِ خُسروانہ بَر سَر، چار قُبِ ملوکانہ دَر بَر، سِن رَسیدہ، لیل و نَہار دیدَہ، بڑے کَرّ و فر سے تخت پر جلوہ گر ہے اور چار ہزار غلامِ زَرّیں کمر با شمشیر و خنجر، اُوپچی بنا، دَست بستہ رو بہ رو کھڑا ہے۔ گرد امیر، وزیر، سپہ سالار، پہلوان، گُردانِ گَردن کَش، ایک سے ایک بہتر جوان اپنے اپنے قَرینے سے زِیب دہِ کُرسی و دَنگل ہے۔ تہمتنوں کا جنگل ہے۔ جان عالم اُٹھا، بہ طَورِ شاہ و شَہْریار و شہ زادہ ہائے عالی تَبار رسمِ سلام بجا لایا۔ سب تعظیم کو اُٹھے۔ بادشاہ نے گلے لگا پاس بِٹھایا۔ جب سے بادشاہ کی نظر پڑی تھی، مَحْوِ حُسن دل فَریب، مَفتُونِ چہرۂ مِہر وَش و صورتِ پُر زِیب ہو گیا تھا۔ اور حُضّارِ مجلس بھی سب دنگ تھے، سَکتے کے ڈھنگ تھے۔ سب کو صدمۂ تازہ یہ ہوا کہ ایسا وارثِ تاج و تخت ہاتھ آئے اور محروم پھر جائے۔ اُس وقت کا رنج و قَلَق شہ زادے کا کوئی فراق کَشیدَہ سمجھے، بقول مرزا حسین بیگ صاحب، شعر:\n\nحسرت پر اُس مسافرِ بے کس کی روئیے\n\nجو تھک گیا ہو بیٹھ کے منزل کے سامنے\n\nمگر باعثِ شرم و حیا کہ لازِمۂ شُرفا و نُجَبا ہے، خاموش، سینے میں غم کا جوش و خَروش۔ بادشاہ نے اِستفسارِ وطن اور نامِ جَدّ و آبا کیا۔ یہاں فرطِ اَلَم، کثرتِ غم سے گلا گھٹ رہا تھا، مگر ضبط کو کام کر کے حسب و نَسَب اور مُلک کا پتا بتایا۔ پھر سر جھکا شہ زادی کا حال پوچھا۔\n\nبادشاہ نے فرمایا: اے گرامی اخترِ سپہرِ شَہریاری! مُدّت سے ایک جادوگر اِس فکر میں تھا۔ یہاں بہ مرتبہ نگہبانی ہوتی تھی، لیکن وہ دھُوکا دے کر لے گیا۔ آج تک محل میں نہیں گیا ہوں۔ وہ محل، جو عِشرت کَدَۂ خاص تھا، ماتَم سرائے عام ہے۔ ہر سو شُورِ رِقّت، ہر سمت نالۂ پُر آفت بلند ہے۔ کھانا پانی حرام، چھوٹا بڑا مبتلائے آلام ہے۔ جان عالم نے کہا: کچھ یہ بھی ثابِت ہوا کہ کدھر لے گیا۔ بادشاہ نے فرمایا: پانچ کُوس تک پتا ملتا ہے۔ آگے قلعہ ہے سر بہ فلک کشیدہ، آگ سب بھری ہے، شُعلہ سرگرم تا چَرخِ چَنبری ہے اور انگاروں کا اَنبار تا کُرۂ نار ہے۔ وہاں کا حال نہیں کھلتا ہے، عقل بے کار ہے؛ مگر قَرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سحر کا کارخانہ ہے۔ آگ کا بہانہ ہے، ہمیں سُلگا کے جلانا ہے۔ شہ زادے نے کہا: خیر۔ اگر حَیاتِ مُستَعار باقی ہے، بہ مددِ ایزَد کہاں جانے پاتا ہے؛ اُس ملعون کو جہنّم واصل کر کے، شہ زادی کو فدوی زندہ لاتا ہے۔\n\nیہ کہہ کر اُٹھا کہ قبلہ، خُدا حافظ! بادشاہ لپٹ گیا، کہا: بابا! خُدا کے واسطے اِس خیالِ مُحال سے در گُزر۔ طائرِ خیال کے اُس دَشت میں پَر جَلتے ہیں۔ پیکِ صبا کے پاؤں میں چھالے نکلتے ہیں۔ دوسرے، مجھے مُفارَقَت تیری کب گوارا ہے۔ ایک کو دھوکے میں کھویا، تجھے دیدہ و دانستہ جانے دینے کا کہاں یارا ہے۔ ایسی آفت میں تجھ سے جوان کو جانے دوں! بُڑھاپے میں بدنامی لوں! سلطنت حاضر ہے، بِسْمِ اللہ حکم رانی کر۔ میں ضعیف ہوں، گوشے میں بیٹھ اللہ اللہ کروں۔ شہزادے نے عرض کی: یہ تخت و سلطنت حُضور کو مُبارَک رہے۔ بندہ آوارہ خانُماں، ننگِ خانداں، گھر کی حکومت و ثَروَت چھوڑ، عزیزوں سے مُنہ موڑ، خراب و خستہ، سر گَرداں در در حیران و پریشان ہو یہاں تک پہنچا، اب یہ کلمہ ہَتک اور ذِلّت کا سُننے کو جیتا رہوں، مُلک بیگانے میں بادشاہت کروں۔ لوگ کہیں: جادوگر تو شہ زادی کو لے گیا؛ یہ شخص بے غَیرت تھا، جیتا رہا، سلطنت کرنے لگا۔ جواں مردی سے بعید ہے۔ عاشق کو معشوق کی راہ میں جان دینا عید ہے۔ لا اَعْلَم:\n\nتا سَر ندہم، پا نکشم از سَرِ کویش\n\nنامردی و مردی قدمے فاصلہ دارد\n\nپَگ آگے، پَت رہے اور پَگ پاچھے، پَت جائے۔ قَدَمِ عشق پیشتر بہتر۔ جس مددگار نے ہزار بلا سے بچا کے یہاں تک زندہ و سالِم پہنچایا ہے وہی وہاں سے بھی مُظفّر و منصور آپ سے ملائے گا۔ نہیں تو یہ صورتِ نحس لوگوں کو دکھانی کیا ضرور ہے۔ گو بَشَر مجبور ہے؛ لیکن اِس زیست سے آدمی مرنا گوارا کرے، بے مَوت مرے۔ پہلے جب عقل و عشق سے معرکہ اَٹکا تھا، میرا دل کھٹکا تھا۔ عَقْل کہتی تھی: ماں باپ کی مُفارَقَت اختیار نہ کرو، سلطنت سی شَے نہ چھوڑو۔ عشق کہتا تھا: ماں باپ کس کے! آزاد ہو، بادشاہت کیسی! سَر رشتۂ اُلفتِ غیر توڑو۔ کوچۂ دل دار کی گدائی، سلطنتِ ہَفت اِقلیم ہے، اگر مُیسّر آئے۔ بے یار خدا کسی کی صورت نہ دِکھائے۔ عقل کہتی تھی: آبرو کا پاس کرو، ننگِ خانداں نہ ہو۔ غریبُ الوَطَنی سے عار کرو، صحرا نَوَردی نہ اِختیار کرو۔ عشق کہتا تھا: یار کے ملنے میں عزّت ہے، بادِیَہ پَیمائی میں بہار ہے۔ تَشنۂ خونِ آبلہ پا مُدّت سے صحرا کا خار ہے۔ عقل کہتی تھی: یہ لباسِ شاہی، قبائے فرماں رَوائی چاک نہیں کرتے۔ دانِش مند جادَۂ راستی سے خلاف قدم نہیں دھَرتے۔ عشق کہتا تھا: لباس عُریانی ہے۔ عقل دیوانی ہے۔ یہ وہ جامہ ہے جسے اِحتیاجِ شست و شو نہیں۔ کیسی ہاتھا پائی ہو، چاک نہ ہو، کسی آلائش سے نا پاک نہ ہو؛ اَصْلا کارِ سُوزَن و رَفو نہیں۔ نہ بار برداری اِس کو چاہیے، نہ چور کا ڈر، نہ راہ زَن سے خَطَر ہے۔ پانی سے بھیگے نہ آگ سے جلے، سڑے نہ گلے، گلے سے کبھی جدا نہ ہو۔ نہ بند بندھے، نہ واہو۔ نہ کوئی اِس کو لے سکے، نہ خود کسی کو دے سکے۔ نہ دستِ وحشت میں اِس کا تار آئے، نہ اِس کے دامن تک سرِ خار آئے۔ نہ اِس کا جسم لاغَر پر بوجھ ہو، نہ کسی کے بدن پر بار ہے۔ مسافرِ صحرائے مُحبّت کو یہی درکار ہے۔ آتشؔ:\n\nتن کی عُریانی سے بہتر نہیں دُنیا میں لباس\n\nیہ وہ جامہ ہے کہ جس کا نہیں سیدھا اُلٹا\n\nآخرِ کار بہ صَد تکرار عقل کو شِکستِ فاش ہوئی، کوچۂ دِلبر کی تلاش ہوئی۔ نام سے نفرت، ننگ سے تنگ ہو، نشانِ ہوش و حواس مِٹایا۔ سلسلۂ دیوانگی ہاتھ آیا۔ طبیعت عشق کی محکوم ہوئی۔ وحشت کی ترقی میں سر اور پتھر کا مقابلہ ہوا، لڑکوں کی دھوم ہوئی۔ دامانِ غیرت، گریبانِ حیا چاک ہوا۔ ننگ و ناموس کا قصّہ بکھیڑا پاک ہوا۔ ایک پرندہ، کہ توتا تھا، رَہ بَر و مددگار ہوا۔ دوسرا دَوِنْدہ، وہ وزیر زادہ تھا، تنہائی میں غم گُسار ہوا۔ پھر تو سلطنت اور وطن چھوڑ، عزیز اور یگانوں سے رشتہ محبّت تُوڑ، رہ نَوَردِ بادیۂ حرماں اور گام فرسائے دشت اِدبار ہوا؛ لیکن اُن کا ساتھ بھی نہ سزا وار ہوا، فلک دَر پئے آزار ہوا۔ پہلی بسم اللہ یہ غلط ہوئی کہ منزلِ اوّل میں توتا اُڑ گیا۔ وزیر زادہ ہِرَن کے ملنے سے چھٹ گیا۔ وہ جو اَثاث ظاہِر کی دل لگی کا تھا، لُٹ گیا۔ تنہائی ہمراہ ہوئی۔ مُمِدّ دَمِ گرم سرد آہ ہوئی۔ کچھ دنوں کے بعد طلسم میں پھنسایا۔ ہمیں رُلا کے دشمنوں کو ہنسایا۔ تھوڑی سی آفت اُٹھا کے رِہائی پائی۔ سمت مطلوب کی راہ ہاتھ آئی؛ مگر نہ سنگِ نِشاں دیکھا، نہ میل نظر آیا۔ نہ گَردِ کارواں دیکھی، نہ صدائے زَنگ و جَرس سُنی۔ نہ راہ بَر ملا، نہ کفیل نظر آیا۔ سواری چھٹی، پِیادہ پائی ملی، فکرِ غیر سے رِہائی ملی۔\n\nجب اِس منزل میں حضرتِ عشق نے آزمایا، باوُجودِ آبلہ پائی اور خَلِشِ خارِ صحرا ثابِت قدم پایا؛ دوسرے مَرحَلے میں امتحان مَدِّ نظر ہوا، پریوں کے اَکھاڑے میں گُزر ہوا۔ ایک مَہ سیما کو اِس جانِب مَیلان ہوا، پھر وہی عیش و نشاط کا سامان ہوا۔ بہت سے نیرنگ دِکھائے، ہر شب عجب دن آگے آئے۔ لِہِٰس الحمد کہ شیشۂ عِصمت سنگِ ہَوا و ہَوَس سے سالِم رہا۔ وحشتِ دل کا بہ دستور عالَم رہا۔ رخصت میں مصلحت جانی، جوان و پیر کی بات نہ مانی۔ اب گھر پہنچ کر دھوکا کھانا، جان بوجھ کر بھول جانا کِس مِلّت میں روا ہے؟ یہ نرا وَسْوَسَہ ہے۔ مجھ سے وحشیِ بے خود سے ایسی ہوشیاری دور ہے۔ جیتے جی مرگ منظور ہے۔\n\nاِس گفتگو کی خبر محل میں پہنچی کہ آج اِس طرح کا مَہ جَبیں، حَسیں، انجمن آرا کا عاشق وارِد ہوا تھا، وہ بھی حَرارَتِ مُحبّت سے اُسی آگ میں جلنے جاتا ہے۔ جو دیکھتا ہے آنسو بہاتا ہے۔ انجمن آرا کی ماں دَرِ دَولت سَرا پر چلی آئی۔ خواجہ سَرا دوڑے، بادشاہ سے عرض کی: جلد شہ زادے کو لے کر محل میں رونق فرما ہو جیے۔ بادشاہ جان عالم کو ہمراہ لے آرام گاہ میں تشریف لایا۔ وہ بھی ہزار جان سے نِثار ہو، دیر تک پروانہ وار اُس شمع انجمنِ سلطنت کے گرد پھری۔ رنڈیوں نے گھیر لیا، سب کو قَلَق ہوا۔\n\nغرض کہ بہ ہزار سَعی بادشاہ نے بہ منّت صُبح کی رُخصت پر اُس شب روکا۔ پَہَر بجے خاصَہ طلب ہوا۔ شہ زادے نے اِنکار کیا۔ وہی نوّاب ناظِر حاضر تھا؛ پاؤں پر گرا، گرد پھرا، سمجھایا: پیر و مُرشد! کئی دن سے محل میں کھانا پانی سب کو حرام ہے، جو آپ کچھ بھی نوش فرمائیں گے تو یہ سب کھائیں گے۔ ناچار با خاطِرِ فِگار دو چار نِوالے پانی کے گھونٹ سے حَلَق میں اُتارے۔ پھر ہاتھ مُنْہ دھُو، نینْد کا بہانہ کر پلنگ پر جا لیٹا؛ مگر نینْد کِس کی اور سُونا کیسا! مُؤلِّف:\n\nوا دَرِ دیدہ سدا رہتا ہے تیری یاد میں\n\nآنکھ جب سے لگ گئی، روتے ہیں سُو جانے کو ہم\n\nپھر لیٹے لیٹے انجمن آرا کا تصّور کر، دمِ گرم و آہِ سرد سینے سے بھر کر، یہ پڑھنے لگا، اَبْیات:\n\nتجھ بِن ہے خراب زندگانی\n\nہے مجھ کو عذاب زندگانی\n\nاِتنا تو نہ چھپ، کہ لے کفن کا\n\nگھبرا کے نقاب، زندگانی\n\nجب کروٹیں بدلتے بدلتے پَسْلیاں دُکھ جاتیں اور بے قراریاں ستاتیں تو دلِ بے تاب کو مُستعدِ ضبط، آمادۂ جبر و صَبر کر یہ کہتا، نظم:\n\nکمالِ ضبط کو عاشق کرے اگر پیدا\n\nکہاں کی آہ، کرے بات بھی اثر پیدا\n\nہزار رنگ زمانے نے بدلے، پر افسوس\n\nکہیں ہوئی نہ شبِ ہجر کی سحر پیدا\n\nکرے گی ہمسری نالے کی میرے تو بُلبُل!\n\nشعور اِتنا تو کر جا کے جانور پیدا\n\nہمیشہ ہاتھوں سے اِن کے رہا ہوں میں جلتا\n\nیہ زُور گرم ہوئے تھے دل و جگر پیدا\n\nیہ دل میں ذوقِ اسیری ہے جو قَفَس میں مُدام\n\nمیں نوچتا ہوں، جو ہوتے ہیں بال و پر پیدا\n\nآخرَش بہ صد نالہ و آہ، کراہ کراہ صُبْح کی۔ بعد فَراغِ نمازِ پُر سُوز و گُداز مرنے پر کمر باندھی۔ شب کو یہ خبر عام ہوئی تھی کہ کل جادوگر کی لڑائی کو، شہ زادہ آمادہ ہو جائے گا۔ دیکھیے فلک کیا تماشا دکھائے گا! پہر رات رہے سے مجمع عام دَرِ دیوانِ خاص پر تھا۔ یکایک روشنی آئی، بادشاہ تخت پر سوار برابر شاہ زادۂ والا تَبار، برآمد ہوا۔ چشمِ مشتاقاں میں نورِ طور نزدیک و دور تَجلّی کر گیا۔ ہر شخص رو بہ قِبلہ ہو، دُعائے فتح و ظَفَر اُس ماہ پَیکر کی مانگنے لگا۔ اَلقِصّہ جہاں تک لوگ آتے جاتے تھے، بادشاہ ساتھ آیا، آگے بڑھنے کی تاب نہ لایا۔ جان عالم نے قسمیں دے کر رُخصت کیا۔ ناچار، با دِلِ داغ دار و خاطِرِ فِگار قَلعے میں داخل ہوا؛ مگر وہاں سے ڈیوڑھی تک صَدہا ہرکارۂ صبا دَم متعین کیا کہ ہر دم کی خبر حُضور میں پہنچے۔ جان عالم پھر اکیلا با حسرت و یاس رہا۔ غمِ دلبر رفیقِ قدیم پاس رہا۔ یہ شعر پڑھتا آگے چلا، مصحفی:\n\nاے غمِ یار! میں بندہ ہوں رفاقت کا تری\n\nنہ کیا تو نے گوارا مری تنہائی کو\n\nآگ کا قلعہ سامنے تھا۔ آسمان سے تا زمیں بجز شعلۂ جَوّالہ یا بُرجِ آتشیں اور کچھ نظر نہ آتا تھا۔ شہ زادہ غور سے دیکھنے لگا۔ ایک ہِرن اُس آگ سے نکلا، اُچھل کود کر پھر اُس میں غائب ہوا۔ جب مکرّر آمَد و رَفْت کی، جان عالم نے لَوح پیر مرد کی دیکھی۔ اُس میں معلوم ہوا: اگر یہ اِسم پڑھ کے کچھ بڑھ کے ہِرن کو تیر مارا اور خطا نہ کی، طلسم ٹوٹ جائے گا۔ وَگر نشانہ چوکا، خود آماج گاہِ خَدَنگِ قضا ہوا؛ کوئی راکھ کے سِوا پتا نہ پائے گا۔ شہ زادے نے کہا: جو ہِرن مارا، تو میدان مارا، لطفِ زندگی ہے۔ نہیں، حیلۂ مرگ خوب ہے۔ بے یار جینا معیوب ہے۔\n\nیہ سوچ، لَبِ سوفار چِلّے سے جُوڑ، شست و مُشت برابر کر اِسم شُروع کیا۔ اُدھر ہِرن نکلا، اِدھر تیر کمان سے سرگوشی کر کے چلا۔ بس کہ یہ قَدَر انداز تھا، اُس کی قضا دامن گیر؛ تیر دوسار ہوا۔ فِردوسیؔ:\n\nفلک گفت احسن، مَلَک گفت زِہ\n\nہرن زمین پر گرا، آسمان سے دار و گیر کا غل اٹھا: ہاں ہاں، لیجیو گھیریو؛ جانے نہ پائے! قریب تھا خوف سے جی نکل جائے۔ زمانہ تیرہ و تار، صحرا پرغبار ہوا۔ گھڑی بھر میں وہ تاریکی دور ہوئی، آفتاب نمودار ہوا، نہ آگ رہی نہ قلعہ۔ برابر سطح میدان، انسان نہ حیوان، مگر چبوترے پر لاش جھلسی ہوئی پاش پاش دیکھی۔ یعنی وہ جادوگر کریہہ منظر، سیندور کا ٹیکا ماتھے پر، زرد زرد دانت ہونٹوں کے باہر، منہ مُہری سے گندہ، نطفۂ حرام، شیطان کا بندہ، بالوں کی لٹیں لٹکتیں، ہڈیاں، کھوپڑیاں گلے میں پڑیں، کالا بھجنگا، گانڑ سے ننگا، تیر سے چھد کر جہنم واصل وہ الو کا پٹھا، حواصل ہو گیا ہے۔ شکر کا سجدہ بجا لایا، قدم ہمت آگے بڑھایا۔\n\nہرکارے یہ ماجرا دیکھ، فوراً حضور میں حاضر ہوئے۔ بعد دعا و ثنا عرض کی: اے شہر یارِ ذوی الاقتدار! فتح مبارک۔ شہ زادہ بلا کا پتلا ہے، ایک تیر میں وہ آگ کا قلعہ ٹھنڈا کر، سر گرم راہ ہوا، جادوگر کا گھر تباہ ہوا۔ بادشاہ یہ مژدۂ فرحت افزا سن کے خوش ہوا، فرمایا: یقین کامل ہے کہ جان عالم حسب دل خواہ مراجعت کرے گا، فتح و فیروزی شامل ہے، ہونہار بِروے کے چکنے چکنے پات۔ خبرداروں کو خلعت و انعام موافق قدر و منزلت مرحمت کر، پھر روانہ کیا۔\n\nاس عرصے میں شہ زادہ وہ وادیِ پر خطر، میدان سراسر ضرر کو طے کر، متصل قلعہ ساحر، جہاں انجمن آرا قید تھی، پہنچا۔ وہ عجیب مُعلّق قلعہ تھا، زمین سے چار پانچ گز بلند بہ روئے ہَوا ایک تختہ کُمھار کے چاک کی طرح بہ ایں سُرعت گردش میں تھا کہ نگاہ کام نہیں کرتی تھی، آنکھ کی پُتلی اتنا جلد نہ پھرتی تھی۔ بلند ایسا کہ دیکھنے میں پگڑی گرتی تھی۔ جان عالم وہاں ٹھہرا، وہ قلعہ بھی حرکت سے ساکت ہوا، اس وقت مفصل نقشہ معلوم ہوا کہ قلعہ جواہر نگار ہے، زیب و زینت بے شمار ہے۔ دروازے چار ہیں، بُرج گنے نہیں جاتے، ہزار در ہزار ہیں۔ کمندِ فکر اس کی بلندی کے روبرو کوتاہ ہے۔ ہر طرف سے سحر بند، مسدود راہ ہے۔ جہاں جان عالم کھڑا تھا، زمُرّد کا بنگلا نظر آیا، اُس میں سے آواز آئی کہ اے اَجَل رَسیدہ! کیوں مَلَکُ المَوت کو چھیڑتا ہے، زندگی سے منہ پھیرتا ہے؟ مجھے تیرے حُسن و صورت پر رحم آتا ہے، جلد یہاں سے جا۔ خطائِے اول، عِوَضِ خوبیِ شکل و شمائل معاف کی، و گرنہ بہ ایں شَدائد و خواری قتل کروں گا کہ آسمان تیرے حالِ پریشاں پر خون روئے گا، ساکنانِ زمیں کو گوشت پوست، ہڈیوں کا پتا نہ ملے گا، بادشاہ تیرے غم میں جان کھوئے گا۔ اِس دشت کی خاک تیرے لہو سے رنگین ہوئے گی۔ روح بھی تا حشر خوابِ مرگ میں آرام سے نہ سوئے گی۔ شہزادے نے ہنس کر کہا: اے مادَر بہ خطا! تو کیا ہماری خطا معاف کرے گا، کہاں تک لاف و گزاف کا دَم بھرے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ اور تو کیا کہوں، تجھے بھی اسی کی پائنتی بھیجتا ہوں۔ یہ سن کر وہ جھلّایا۔ بنگلے سے سر نکال، تھوڑے ماش اس بد معاش نے اور کالا دانہ نکالا۔ اس وقت چرخ چکر میں آیا اور زمین تھرّائی، جب سرسوں میں بِنَولے اور رائی مِلائی؛ پھر تیتا میتا اور لُونا چَماری کو نمک حرام نے پکارا، اُن دانوں کو اس احمق نے آسمان کی طرف پھینک مارا۔ دفعتاً ابرِ تیرَہ و تار گھر آیا، شہ زادے پر پتھر اور آگ کا مینہ برسایا۔ یہ بھی اسمائے رَدّ سحر پڑھتا تھا، آگے بڑھتا تھا۔ جب آگ قریب آتی، پانی ہو کر بہہ جاتی اور پتھر بھی ہر ایک خاک تھا، ایسا وہ اسمِ پاک تھا۔\n\nجادوگر خفیف ہو کر سحر تازہ کی فِکر میں تھا۔ جان عالم نے لوح کو دیکھا، اُس میں نکلا: کسی طرح لَوح کو قلعے کی دیوار سے لگا دے، پھر قُدرتِ خالق کا تماشا دیکھ لے۔ شہ زادے نے بہ جرأتِ تمام تر اُچک کر لَوح دیوار سے لگائی۔ اُس پر آفت آئی، مرتبۂ اول سے زیادہ چکر میں آیا؛ پھرتے پھرتے اِس طرح کی صدا ہیبت ناک آئی کہ ہزار توپیں ایک بار چھٹیں تو ایسی نہ ہو۔ سامری کی روح زِیر زمیں گھبرائی۔ بہ درجہ مہیب تھی کہ گاوِ زمیں کا کلیجا ہل گیا۔ خورشید بُرجِ اَسَد میں چھپ کر دَہَل گیا۔ زمانے کا رنگ دِگرگوں ہوا۔ جنگل گَرد بَرد ہو گیا، وہ ناری سرد ہو گیا، لرزاں کُوہ وہاموں ہوا۔ میدان سیاہ، بلند صدائے نالہ و آہ ہوئی۔ چار گھڑی میں وہ تاریکی دور ہوئی، شہزادے کی طبیعت مسرور ہوئی۔ نہ قلعہ نظر آیا، نہ مکانات کا نشان پایا، لیکن ریت کا ٹیلا، سَر کَنڈے گڑے اور کچا سوت نیلا پیلا ان پر لِپٹا، کچھ پھَندے پڑے؛ اُس میں وہ ماہِ شبِ چاردہ، حور کی صورت، نُور کا عالَم، پریشان، بدحواس، سَراسیمہ، متحیّر، کوئی آس نہ پاس، ہر سمت حیران ہو ہو دیکھ رہی تھی۔\n\nجان عالم نے پہچانا۔ تاب نہ رہی، جی سینے میں رُعبِ مَحبّت سے سنسنایا۔ اکیلا دیکھ کے کلیجا منہ کو آیا۔ ہر چند ضبط کیا، نہ ہو سکا۔ تھرّاتا، دم چڑھا جاتا، دوڑ کر گرد پھرنے لگا، لڑکھڑاہٹ سے گرنے لگا، انجمن آرا نے شرما کر، سر کو جھُکا کر کہا: سنبھلو صاحب! کچھ پاس لحاظ بھی کسی کا نہیں! یوں بے باکانہ پاس چلے آنا حرکتِ مجنونانہ ہے۔ لوگ کہیں گے، دیوانہ ہے۔ مگر اِس گفتگو میں آنکھ بھی چار ہو گئی۔ سِنانِ اُلفت اِدھر تو گڑی تھی، اب دوسار ہو گئی۔ شہ زادہ خنجرِ عشق کا زخمیِ قدیم تھا، وہ تازہ شمشیر محبت کی گھائل ہوئی، طبیعت اُدھر مائل ہوئی، بدن تھرایا۔ جان عالم نے یہ سنایا، میر سوزؔ:\n\nجس کو نہ ہو شکیب، نہ تابِ فُغاں رہے\n\nتیری گلی میں وہ نہ رہے تو کہاں رہے\n\nآہستہ رَو تو منزلِ مقصود کو گئے\n\nرفتار گرم تھے، سو ہمیں درمیاں رہے\n\nبندہ نَواز! حال پہ میرے کرو نگاہ\n\nہے جائے گریہ یہ کہ پسِ کارواں رہے\n\nیہ کہہ کر گر پڑا، غش آ گیا۔ عشق کی نیرنگیاں نِہاں نہیں، حاجتِ اِظہار وبیاں نہیں۔ کشش اِس کی چھوٹے بڑے پر آشکارا ہے، ہزاروں کو اِس نے فریب سے مارا ہے، انجمن آرا کو دلِ مُضطَرِب نے تڑپ کر سمجھایا، بے قراری میں اِس پر قرار آیا کہ یہ مُقَرَّر عاشقِ صادق ہمارا ہے، جو ایسی بلا سے نہ ڈرا۔ سر کو بیچ کر اِس وادی میں پاؤں دھَرا۔ وگرنہ اِتنے دن گُزرے؛ بے کسی کے سوا کوئی ہَمدَم، شریکِ زِندانِ غم نہ تھا۔ دل قبضۂ اِختیار سے جاتا رہا۔ حِجاب ہر چند مانِع آتا رہا، مگر جان عالم کا سر سَرکا، زانو پر رکھا، چہرے کی گرد جھاڑی۔ غشی تو کبھی آنکھ سے دیکھی نہ تھی، گھبرا کر رونے لگی، اِس طرح روئے یار دھونے لگی۔ اور یہاں جو بوند آنسو کی منہ پر پڑی اور دماغ میں خوش بوئے کِنار دِل دار چڑھی، لَخلَخے کا کام کر گئی؛ گلاب، کیوڑا چھِڑکنے کی حاجت نہ رہی، آنکھ کھول دی۔ سبحان اللّٰہ! سَرِ خاک اُفتادَہ کِنارِ یار و زانوئے دِل دار پر پایا۔ ناز و نِیاز نے دِماغ عرشِ اعلیٰ پر پہنچایا۔ اور پاؤں پھیلایا، یہ اِترایا۔ انجمن آرا نے جھجھک کر گھُٹنا سَرکایا۔ جان عالم نے چشمِ نیم وا سے شہ زادی کا منہ دیکھا اور کہا: ہماری بے ہوشی ہشیاری سے اچھی تھی! مُولِّف:\n\nمیں جو چونکا، تو وہ بھی چونک پڑا\n\nہوئی غفلت، جو ہوشیار ہوا\n\nیہ کہہ کے آنکھیں بند کر لیں کہ پھر ہمیں غش آیا، کیوں تم نے زانو سَرکایا۔ انجمن آرا نے کہا: کیا خوب! اِتنا اِختِلاط میری چڑ ہے۔ میں نے تیری محنت و مشقت پر نظر کر کے یہ اِنسانیت کی حرکت کی تھی؛ تم چل نکلے۔ خدا جانے دل میں کیا سمجھے۔ اپنی راہ لیجیے، چلتا دھَندا کیجیے۔ واہ وا! نیکی برباد، گُنَہ لازِم۔ جان عالم نے یہ جواب دیا، اُستاد:\n\nخاک ہی اپنی اُٹھے تو اِس مکاں سے اُٹھ سکے\n\nہم جہاں جوں نقشِ پا بیٹھے، نہ واں سے اُٹھ سکے\n\nاِلّا، چُور کی ڈاڑھی میں تِنکا۔ میں تمھیں اپنا عاشق کبھی نہ سمجھوں گا، نہ معشوقوں کے دفتر میں آپ کا چہرہ لکھوں گا۔ انجمن آرا نے کہا: چہ خوش! بھلا دل تو بہلا لو۔ کچھ ہو یا نہ ہو، زبان کا مزہ نکالو۔ یہ تو وہی مثل ہوئی: مان نہ مان مَیں تیرا مہمان۔ تمھارا بعینہٖ یہ حال ہے، فَرد:\n\nچہ خوش گفتست سعدی در زلیخا\n\nألَا یَا أیُہا السّاقی أدِر کأساً وَ ناوِلہَا\n\nعشق و عاشقی کی باتیں میری بَلا جانے۔ رَمز و کِنایہ کسی اَور سے جاکے کرو، اپنا چُوچلا تَہ کر رکّھو۔ اپنی صورت تو غَور سے دیکھو، تم نے سُنا نہیں شاید، مثل: حلوا خوردن را روی بایَد۔ جان عالم نے کہا: مَیں بے چارہ خستہ تَن، غُربت زَدہ، دور اَز وطن، مہنت پَن کہاں سے لاؤں! کیوں کر ویسی صورت بناؤں! کوئی خَندَہ پیشانی ہے، کوئی نصیبوں کو روتا ہے، کفر اور اسلام میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ تمھیں ابھی تک مُوہن بھُوگ کا ذائِقہ نہیں بھولا ہے، دَمِ تقریر زبان پر حلوا ہے۔ ہم نے آپ کے واسطے جُوگ لیا، سلطنت کو تَج دیا؛ اب مُرادپوری ہوئی، دور دوری ہوئی۔\n\nانجمن آرا پتے کی سُن کر کھسیانی ہو گئی، کہا: چلو صاحب! وہ مُوا قُربان کیا تھا؛ اپنی چُونچ بند کرو، کٹی جلی کی ہنسی اپنے گھر جا کر کرو۔ سحر جادو، زُور ظُلم، مَکْر و فَریب سے انسان ناچار ہے، اِس میں کِس کا اِختیار ہے۔ مگر خیر، اور جو چاہے کہہ لیجیے۔ دَر پردہ کیا، صاف صاف گالیاں دیجیے۔ یہ باتیں قسمت کی گردِش سُنواتی ہے۔ دیکھوں ابھی تقدیر آگے کیا کیا دِکھاتی ہے۔ اگر خُدا ہمارا گھر بار چھُڑا موذی کے بس میں نہ پھنساتا تو ہر ایک راہ چلتا ہمیں کاہے کو ایسی باتیں سنانا۔\n\nجان عالم یہ سُن کر ڈر گیا۔ رنگ زرد ہو گیا، خَجالت سے مرگیا۔ سَہم کر، آبدیدَہ ہو کہنے لگا: میری کیا مَجال جو آپ کو کچھ کہوں! میں تو خانُماں آوارہ، مسافر ہوں۔ انصاف تو کرو، تم کتنی ہَٹ دھَرم احسان فَرامُوش ہو! ہنسی میں رو دیا، ہمیں دونوں جہان سے کھودیا۔ انجمن آرا نے دیکھا، اِس کے آنسو جاری، ہچکی طاری ہے؛ مُسکرا کر کہا: ایک بات مطلب کی کہی، مگر، مصر؏:\n\nسچ ہے، اُوچھے کا بھی احسان برا ہوتا ہے\n\nخاطر جمع رکھ، اپنے گھر چل کر تجھے مال و زر سے لاد دوں گی کہ تو چل نہ سکے گا، بوجھ سے ہِل نہ سکے گا۔ شہ زادے نے کہا: آخِر سلطنت کا گھمنڈ آیا! ہمیں محتاج جان کے یہ فقرہ سنایا! ہم بھی کبھی حاجت روائے عالم مشہور تھے، مگر الفت سے مجبور تھے۔ اگر تم پر عاشق نہ ہوتے؛ کیوں سلطنت کھوتے، سر پر ہاتھ رکھ کر روتے۔ یہاں یہ نوک چوک، چھیڑ چھاڑ ہو رہی تھی؛ وہاں خبر فتح و ظفر ہر کاروں نے بادشاہ کو پہنچائی۔ وہ تو ہمہ تن گوش تھا، اسی وقت مع ارکان سلطنت روانہ ہوا۔ ہمراہ رکاب یگانہ و بے گانہ ہوا۔ ایک سکھپال ہمراہ لیا، صبا وار سناٹے میں آ پہنچا۔ جو جو نزدیک تھے، دور کھڑے رہے۔ کہاریاں بادشاہ کا تخت قریب لائیں۔ انجمن آرا منہ چھپا کر بیٹھ گئی، جان عالم پاس سے سرکا، بادشاہ تخت سے اترا، جان عالم کو گلے لگایا، جُرات کی تعریف کی، ہمت پر تحسین و آفریں کہی۔ پھر بیٹی کو چھاتی سے لگا، سکھپال میں سوار کیا، شہ زادے کو برابر تخت پر بٹھا لیا۔ ترقی خواہانِ دولت، ملازمانِ قدیم نزدیک آئے؛ زرِ سرخ و سفید تخت اور سکھپال پر نثار کیا۔ اس قدر اشرفی، روپیہ تصدق ہوا کہ آج تک جو محتاج، مسافر ادھر جاتے ہیں؛ چاندی سونا پاتے ہیں، نصیب جاگتے ہیں؛ ڈھیر کے ڈھیر لے بھاگتے ہیں۔\n\nبادشاہ کے پھرتے پھرتے، جلوسِ سواری، نوبت نشان، فوج اور سب سامان پہنچا۔ اہل شہر یہ خبر سن کر ہزاروں دوڑے۔ شادیانے بجاتے، مبارک سلامت کا غُل مچاتے شہر میں داخل ہوئے۔ ملک کی رونق گئی ہوئی پھر آئی۔ خلقت نے جانِ تازہ پائی۔ محل میں انجمن آرا رونق افروز ہوئی، سب کو شادیِ نو روز ہوئی محل والیوں نے کُہرام مچایا۔ بادشاہ نے فرمایا: یہ خوشی کا وقت ہے، نہ ہَنگَامِ غم؛ اِسی طرح سب بِچھڑے خدا کی عِنایت سے باہَم ہوں۔ انجمن آرا کے، ماں، گرد پھِرتی تھی، دَم بہ دَم سجدہ کرنے کو زمین پر گرتی تھی۔ کہتی تھی: اللّٰہ نے میرے، بدولتِ جان عالم دن پھیرے۔ انجن آرا جب یہ نام سُنتی؛ خوش کیا، کھِل جاتی؛ اِلّا لوگوں کے سُنانے کو، تَجاہُلِ عارِفانہ کر کے یہ سناتی: صاحِبو، خیر ہے! یہ کیا بار بار کہتی ہو! جو میرا مقدَّر سیدھا نہ ہوتا تو وہ کون تھا جو دِن پھیرتا!\n\nہَم صُحبَتیں، مزاج داں اِس رُکھائی سے تاڑ گئیں کہ آپ کی بھی آنکھ پڑی، طبیعت لڑی۔ جب اُس کی ماں سَرکی، وہ سب پاس آ آ کہنے لگیں: ہَے ہَے! ہم تو تیری مُفارَقَت میں مرتے تھے۔ زندگی کے دن، گھڑیاں گِن گِن بھَرتے تھے۔ یہ صورت اللّٰہ نے دکھائی، یا جان عالم کی جوتیوں کے صدقے سے نظر آئی۔ جس طرح ہمارے مطلبِ دِلی ملے، خالق اُس کے بھی جی کی مُراد دے۔ انجمن آرا غُصّے کی شکل بنا، تیوری، بھوں چڑھا کہنے لگی: تم سبھوں کی شامت آئی ہے! کیا بیہودہ بَک بَک مچائی ہے! چُوچلے کی خوبی، بُزرگی خُردی سب ڈوبی! واہ وا! تم نے میری چِڑ نکالی، اپنی دانِست میں دیوانی بنا لی! خدا جانے یہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے! سبھوں نے میرا مَغز کھایا ہے۔ اُسے تو کیا کُوسوں، وہ تو مسافر بے چارہ ہے؛ جی میں آتا ہے اُس کا مُنہ نُوچوں جس جس نے یہ نَخرا بگھارا ہے۔ اور بھئی مجھے چھیڑو گی تو رو دوں گی، اپنا سر پیٹ لوں گی، یہ کہہ کر مسکرانے لگی، ہونٹ چبانے لگی، آپس میں رمز و کنایے رہے۔\n\nتمام ملازمانِ بادشاہ مع روسائے ترقی خواہ نذریں لے کر حاضر ہوئے، شہر میں منادی ہوئی کہ جتنے ساکنانِ قلمرو بادشاہ ہیں، فقیر سے ہفت ہزاری، بڑے آدمی سے بازاری تک، آج کاروبار مَوقوف کر کے ناچ دیکھیں، خوشی کریں اور جسے مَقدور نہ ہو، سرکار سے لو۔\n\nتمام شہر میں عیش و نَشاط، راگ رنگ کی مجلس با فرحت و انبساط ہوئی، بادشاہ نے جَشن جَمشیدی کیا، تمام شب بادۂ گُل گوں کا دَور رہا، ناچ گانا، صحبتِ بے تکلفانہ بہ طور رہا۔ دَمِ صبح شاہِ کَیواں جاہ دیوانِ عام میں رونق افزا ہوا، دَرِ خزانہ و قید خانہ وَا ہوا، اس قدر زَر و جواہر محتاج، فقیروں کو عنایت و امداد ہوا کہ کاسۂ گدائی ان کا جام و صراحی سے مبَدَّل ہو گیا۔ محل میں بَر مَحل رت جگے، صحنک، جا بجا کونڈے، حاضری، دَونے، پُڑیاں مَنّتوں کی، جس جس نے مانی تھیں، کرنے، بھرنے، دینے لگیں۔ اور ڈومنیاں تَڑاق پَڑاق، پری وش، خوش گلو، با انداز مَع سامان و ساز حاضر ہوئیں، مُبارک سلامت کہہ کر ’’شادی مبارک‘‘ گانے، چہچہے مچانے، نئی مُبارک باد سنانے لگیں، مُولف:\n\nشادی و جَشن سزاوار مبارک ہووے\n\nآج شہزادی کا کا دیدار مبارک ہووے\n\nصَد و سی سلامت رہے با اَمن و اَماں\n\nحُسن کی گرمیِ بازار مبارک ہووے\n\nوہ بھی دن آئے جو سَہرا بندھے سر پر اس کے\n\nسب خوشی سے کہیں ہر بار: مبارک ہووے\n\nبعد شادی کے، خدا دے کوئی فرزندِ رشید\n\nہم کہیں آکے: یہ دِل دار مبارک ہووے\n\nخار کھاتے رہیں کم بَخت جو دشمن ہوں سُرورؔ\n\nدوستوں کو گُل و گُلزار مبارک ہووے", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%84%DA%A9%DB%81_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "فسانۂ عجائب/روانہ ہونا شہ زادۂ جانِ عالم کا اُس دشت سے", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "روانہ ہونا شہ زادۂ جان عالم کا اُس دشت سے با فتح و ظفر اور اُترنا دریائے شُور کے کَنارے پر۔ آنا جہاز کا، سوار ہونا یارانِ دَم ساز کا۔ پھر جہاز کی تباہی، باہم کا تَفرِقَہ، معشوقوں کی جُدائی۔ پھر جوگی کا سمجھانا، توتے کا مل جانا، ڈوبتوں کا تِرنا\n\nآشنایانِ بحرِ تقریر و غَوّاصانِ مُحیطِ تحریر، شناوَرانِ شَطِّ اُلفت و غریق لُجَّۂ مَحبّت نے گوہرِ آب دارِ سخن کو سِلکِ گُفتار میں مُنسَلِک کر کے زِیبِ گوشِ سامعِان ذی ہوش اِس طرح کیا ہے کہ بعد فتحِ جنگِ جادو شہپال اور ہاتھ آنے خزانۂ مالا مال کے، دو مہینے تک تفریحاً لشکر نُصرت اثر شب و روز اُس دَشت میں جلوہ اَفروز رہا۔ جب پیر مرد باغ کو تشریف فرما ہوا، جان عالم نے کوچ کیا۔ چند مُدّت کے بعد ایک روز خیمہ لبِ دریائے شُور ہوا۔ شہ زادہ معشوقوں سے باہَم، تماشا بحرِ زَخّار و نظّارہ اَمواجِ پیچ دار کا اور سیر دریائے ناپیدا کَنار کی، پانی کا زور، ہَوا سے دریائے شور کا شور، کیفیتِ لَطمَہ و گِرداب دیکھتا تھا، دید دریائی جانوروں کی کرتا تھا۔ نظم:\n\nآب کیسا کہ بحر تھا زَخّار\n\nتُند و مَوّاج و تیرہ و تَہ دار\n\nموج کا ہر کِنایہ طوفاں پر\n\nمارے چشمک حَباب، عُمّاں پر\n\nگُذرِ موج جب نہ تب دیکھا\n\nساحل اُس کا نہ خشک لب دیکھا\n\nناگاہ ایک جہاز پُر تکلُّف، با نقش و نگارِ بِسیار صبا وار نَمودار ہوا۔ شہ زادہ سمجھا: کوئی سوداگر کہیں جاتا ہے۔ جب قریب آیا، جہاز کو لنگر کیا اور ناخُدا دَرِ دَولت پر شَرف اَندوز ہو کر عرض کرنے لگا: ہم لوگ ملّاح ہیں؛ یہاں جو شاہ و شہر یار رونق اَفزا ہوتا ہے، ہم اُسے دریا کی سیر و شکارِ بحری، جانورِ آبی دکھاتے ہیں۔ مُوافقِ قَدر، جو قسمت میں ہوتا ہے، انعام پاتے ہیں۔ یہ سُن کر خواہشِ سیرِ دریا شہ زادے کے سفینۂ دل میں موج زَن، لَطمَہ پیرا ہوئی، ملکہ سے کہا: چلتی ہو؟ اُس نے عرض کی: ہَنُوز گِردابِ غم، تَلاطُمِ اَندُوہ و اَلَم سے ساحلِ فرحت و طَرَب کی ہَم کِناری مُیسر نہیں ہوئی؛ آپ کو اور لہر آئی، نیا ڈھَکُوسلا سوجھا۔ جان عالم نے کہا: دریا کی سیر جی مسرور کرتی ہے، خَفقان دور کرتی ہے۔ طبیعت بَہَل جاتی ہے، لاکھ طرح کی کیفیت نظر آتی ہے۔ تم نے سُنا نہیں قولِ سعدی، مصر؏:\n\nبدریا در مَنافع بے شمار است\n\nدو چار گھڑی دل بہلا چلے آئیں گے، ملّاح محروم نہ رہ جائیں گے۔ ملکہ مہر نگار نے مُتَرَدِّد ہو کر کہا: یہ سب سچ ہے جو آپ نے فرمایا، خَفقان کیسا، تمھارے دشمنوں کو نِرا مالیخولیا ہے، میں نے بار ہا انجمن آرا سے کہا ہے؛ سُو یہ مرض لا دَوا ہے، پانی سے دونا ہوتا ہے۔ اِس کے سِوا، میرے دماغ میں بھی کیا خَلَل ہے؟ میرا دوسرے مصرع پر عَمَل ہے، سعدیؔ:\n\nاگر خواہی سلامت، برکنار است\n\nشہ زادہ بد مزہ ہوا، فرمایا: خیر ہم تو سِڑی ہیں، تنہا جائیں گے؛ تم نہ چلو، بیٹھی رہو، آرام کرو۔ جُدائی کی تاب مَحبّت کے مبتلا کو کہاں ہے، اُلفت کا یہی بڑا امتحاں ہے؛ ناچار اُسی دم ملکہ مہر نگار اُٹھی اور انجمن آرا مع چند خَواص ہمراہ ہوئیں، جہاز پر پہنچیں۔ بادبان کھنچے، پالیں چڑھیں۔ مہر نگار مُضطرِب وار یہ شعر پڑھنے لگی، حزیںؔ :\n\nدریں دریائے بے پایاں، دریں طوفانِ موج افزا\n\nدل افگندیم بِسمِ اللہِ مَجْریْھا و مُرْسٰھا\n\nلوگ مصروفِ تماشا، ملکہ غریق بحرِ تفکر، غوطہ زَنِ گردابِ تحیّر، لَطمَۂ اَندُوہ و اَلَم کی آشنا۔ بار بار انجمن آرا سے کہتی تھی: خدا خیر کرے! دشمن نہ ایسی سَیر کرے! بے طَور موجِ اَلَم سر سے گزرتی ہے، خود بہ خود پانی دیکھ کر جان ڈرتی ہے، اللہ حافظ و نگہباں ہے۔ سَراسَر سامانِ بد نظر آتے ہیں، کلیجا خوف سے لَرزاں ہے۔\n\nالقصہ، چار گھڑی جہاز نے بادِ مُراد پائی، سَیر دِکھائی، پھر آفت آئی۔ ناخُدا چلّایا، ملّاح ہِراساں ہوئے۔ شہ زادے نے پوچھا: کیا ہے؟ عرض کی: طوفانِ عظیمُ الشّان اُٹھا ہے۔ ابھی یہ ذِکر تھا، ہَوا عالم گیر ہوئی، جہاز تباہی میں آیا، بادبان ٹوٹ گئے، مَستول گِرا؛ ملّاحوں کے چھکّے چھوٹ گئے، سنبھالنے کا مقدور نہیں رہا، آخِرشِ تَلاطُمِ آب، صدمۂ پیچ و تابِ موج سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ کسی کو کسی کی خبر نہ ملی، کون ڈوب گیا، کون جیتا رہا۔ ایک سے دوسرا جُدا ہو گیا۔ جان عالم تختے کے سہارے سے ڈوبتا تِرتا، چار پانچ دن میں کنارے لگا۔ جب تکان پانی کی موقوف ہوئی، غش سے آنکھ کھلی، دیکھا: کنارے گیا ہوں، بلکہ گور کے کنارے لگ رہا ہوں۔ بڑی جدّ و کَد سے اُترا، آہستہ آہستہ بیٹھتا اُٹھتا ایک طرف چلا، بستی میں پہنچا۔ وہاں کے باشندے اِس کا چہرہ اور جمال، یہ خراب حال دیکھ کر بہت گھبرائے، قریب آئے، کوئی بولا: یہ پری زاد ہے، مِثلِ سَرو آزاد ہے، چمنِ حُسن و خوبی کا شَمشاد ہے۔ کسی نے کہا: ابھی تو دِن ہے، یہ از قِسمِ جِن ہے۔ غَرض کہ جن جن نے اِسے جِن کہاتھا، پاس آ، کچھ خوف سا کھا اِس طرح بولے، اُستاد، مصر؏:\n\nکون ہو، کیا ہو، سچ کہو حور ہو یا پری ہو تم\n\nشاہ زادۂ مَصائب دیدہ نے دمِ سرد دلِ سوختہ سے بھر کے، چشمِ خوں بار تَر کر کے اُن لوگوں سے کہا، لا اَعلَم:\n\nحالے دارم چناں کہ دشمن خواہد\n\nجانے دارم کہ فرقتِ تن خواہد\n\nناکامیِ خویش را اگر شرح دہم\n\nدشمن بخدا زندگیِ من خواہد\n\nاَیّھُا النّاس! مَیں گُم کردہ کارواں، جَرس کی طرح نالاں ہوں۔ دل گِرِفتہ، نقشِ پائے یارانِ رفتہ، حُمُق میں گرفتار ہوں، بچھڑوں کا طالِبِ دیدار ہوں۔ غریبِ دیار، بے تاب، دانہ نصیب ہوا نہ آب، مُفارَقَتِ یارانِ چند سے خستہ و خراب۔ ہوش و حواس یک لخت زائِل۔ ضُعف سَدِّ راہ، ناطاقَتی حائل۔ یاروں کی صورت نظر آئی نہیں، دیدۂ دیدار طَلَب میں بینائی نہیں۔ نہ تابِ رفتار، نہ طاقتِ گُفتار۔ مُؤلِّف:\n\nبَسانِ نقشِ پا بیٹھے جہاں، واں سے نہ پھر سَرکے\n\nٹھکانا پوچھتے ہو کیا بھلا ہم بے ٹھکانوں کا\n\nبہ یادِ دوستاں پہروں مجھے ہچکی لگ آتی ہے\n\nکہیں مذکور جب ہوتا ہے کچھ گزرے فسانوں کا\n\nعَلَم سے آہ کے ثابِت ہوئی غم کی ظَفَر ہم کو\n\nکہ باعِث فتح کا ہوتا ہے، کھل جانا نشانوں کا\n\nچھُڑائے جبر سے پیرِ فلک نے دوست سب میرے\n\nمٹے گا داغ کب دل سے مرے اُن نوجوانوں کا\n\nشرر مُنہ سے نکلتے ہیں سُرورِؔ دلِ حَزیں ہر دم\n\nبھلا دیواں ہو کیوں کر جَمع ہم آتش بیانوں کا\n\nاِس حِکایتِ جاں سُوز، شِکایَتِ چرخِ بے مِہر، غم اَندوز سے سب رُونے لگے، کہا: یہ شاہ زادۂ عالی تَبار ہے؛ اِلّا، دل اَز دست دادہ، محبو بوں سے دور فتادہ، اِس سبب سے دل اَفگار ہے۔ مِنّت و سَماجت سے مکان پر لے گئے۔ ہاتھ مُنہ دھُلوا کھانا پانی حاضر کیا۔ شہ زادۂ جان عالم نے آب و طَعام دیکھ رو دیا، یہ کہا، اُستاد:\n\nہو خاک بھوک کی اُس فاقہ مست کو پھر جھانجھ\n\nجو اپنا خونِ جگر، روز ناشتا سمجھے\n\nخدا جانے میرے بچھڑوں کا کیا حال ہوا! کسی کو دانہ پانی مُیسّر آیا، یا کچھ نہیں پایا! میں بھی نہ کھاؤں گا، بھوکا پیاسا اِسی کُوفت میں مر جاؤں گا۔ وہ بولے: حضرت سلامت! کھانے پینے سے انکار نادانی ہے، اِسی سے بَشَر کی زِندگانی ہے۔ جو جیتے ہو تو کسی روز بچھڑوں سے مل جاؤ گے، وگرنہ غُربت کے مر جانے میں گور و کفن بھی نہ پاؤ گے۔ ناچار سب کے سمجھانے سے، دو ایک نوالے بہ جبر حلق سے اُتارے، پانی جو پِیا، ہاتھ پاؤں سَنسَنائے، پیہم غش آئے۔ جب طبیعت ٹھہری؛ سب حالِ پُر ملال، جہاز کی تباہی، اَنیسانِ ہم راز کی جُدائی، اپنا ڈوبتے اُچھلتے وہاں تک آنا، اَوروں کا پتا نہ پانا بیان کر کے، بہ قولِ میرزا حُسین بیگ صاحِب یہ کہا، بَیت:\n\nہمر ہاں رفتند و ما ماندیم و دُزداں در کمیں\n\nخانۂ ملّاح در چین است و کشتی در فرنگ\n\nسب تَاَسُّف کرنے لگے۔ ایک شخص نے کہا: یہاں سے دو منزل ایک پہاڑ ہے، کوہ مطلب بَرآر نام ہے، اُس پر جوگی کا مَقَام ہے؛ مردِ با کمال، شیریں مَقال۔ ہزاروں کوس سے حاجت مند اُس کے پاس جاتے ہیں، سب کے مطلب بَر آتے ہیں۔ بس کہ اُس پر عنایتِ باری ہے، چشمۂ فیض اُس سے جاری ہے۔ مشہور ہے کہ آج تک کوئی شخص محروم، ناکام اُس مَقام سے نہیں پھرا۔ یہ مُژدہ سُن کر چہرے پر بَشاشَت چھا گئی، گئی ہوئی جان اُسی آن بدن میں آ گئی، گھبرا کر یہ شعر پڑھا، حافظؔ:\n\nآنانکہ خاک را بہ نظر کیمیا کنند\n\nآیا بَوَد کہ گوشۂ چشمے بما کنند\n\nاُسی دم چلنے کا عَزم کیا۔ وہ لوگ مانع ہوئے، کہا: ابھی جانے کی طاقت آپ میں آئی نہیں، پاؤں میں راہ چلنے کی تاب و تَوانائی نہیں۔ دو چار روز یہاں آرام کرو۔ قوت آ جائے تو مختار ہو۔ غرض کہ جان عالم نے اُن لوگوں کے سمجھانے سے وہاں مُقام کیا۔ عجب پریشانی میں صُبح کو شام کیا کہ گرد وہ سب حلقہ زَن، یہ بہ اَندُوہ معشوقاں گرفتار رنج و مِحن۔ کبھی تو مَحزوں چُپ رہتا، گاہ مثلِ مجنوں خود بہ خود بکنے لگتا۔ اور جب حَواسِ خَمسَہ دُرُست ہوتے، یہ خَمسَہ پڑھتا، اُستادؔ:\n\nہر سو خبرِ اُلفت کیا آپ سے پہنچائی\n\nآگے بھی مرے لب پر فریاد کبھی آئی\n\nکیوں مجھ سے بگڑتا ہے او کافرِ تَرسائی\n\nتا داشت دلم طاقت، بودم بہ شکیبائی\n\nچوں کار بجاں آمد، زیں پس من و رُسوائی\n\nگاہے مرے لب پر ہے فریاد، گہے اَفغاں\n\nپیارے! غمِ دوری سے میں سخت ہوں اب نالاں\n\nیہ جائے تَرَحُّم ہے، کر رحم ذرا جاناں\n\nدر زاویۂ الفت دور از تو چو مہجوراں\n\nتنہا منم و آہے، آہ از غمِ تنہائی\n\nہے دن کو تو یہ عالَم ظالم، ترے مجنوں پر\n\nہیں گرد کھڑے لڑکے، جھولی میں بھرے پتھر\n\nسونے کی کسے فُرصت، اے یار اِسے باوَر کر\n\nشبہا منم و اشکے، وَ ز خوں ہمہ بالیں تر\n\nعشق ایں ہُنرم فرمود، اَرعیب نفرمائی\n\nاَعضا شِکَنی گاہے، گہ دردِ جگر، دیکھو\n\nرو مال بھگوتا ہوں لاکھوں ہی کبھی رُو رُو\n\nگردن زَدَنی ہوں میں، شکوہ کروں تیرا، گو\n\nصد رنج ہمی بینم اے راحتِ جاں از تو\n\nاز دیدہ تواں دیدن چیزیکہ تو بنمائی\n\nتھا تاب و تحمل میں یکتا جگرِ خسروؔ\n\nآگے تو نہ بہتی تھی سِلکِ گُہر خسروؔ\n\nتم اب تو نوازشؔ لو چل کر خبرِ خسروؔ\n\nبس دُر کہ ہمی ریزد از چشمِ ترِ خسروؔ\n\nکز دست بروں رفت است سر رشتۂ دانائی\n\nآخِرَش، وہ رات کی رات بہ ہزار عُقوبات تڑپ تڑپ کر سحر کی، نمازِ صُبح کے بعد پہاڑ کی راہ لی۔ چار دن میں ناچار وہ راہ طے کی، پہاڑ پر پہنچا۔ سنگِ سفید کا پہاڑ بہت آب دار، مانِندِ ہمّتِ جواں مردانِ صاف باطن سَر بلند اور مثالِ طبعِ سخنوَراں فَرَح اَفزا و دل پسند۔ دَرَہ ہائے فَراخ کُشادہ، روشن۔ جوشِ نباتات، رُوئیدگیِ رَیاحین و لالہ زار سے اور خَرُوشِ مُرغانِ خوش اِلحاں سے رشکِ صَد گلشن۔ چشمہ ہائے سرد و شیریں جا بہ جا، فرہاد کی روح کا ٹھیکا۔ ہر قسم کا میوہ دار درخت قدرتِ حق سے اُگا، پھولا پھلا۔ پتھر ہر ایک مَعدنِ لعل۔ پَرِند چَرِند صاحبِ حُسن و جمال۔ یہ سَیر دیکھتا چلا۔ ایک طرف درخت گُنجان، گھنے؛ پختہ مزار بیدار دِلوں کے بنے۔ اور مَنڈھی کا گُنبد بَسانِ گُنبدِ گَرداں، بیسُتوں کا جواب بَنا۔ تِرسول کھڑا، کھارُوِے کے جھنڈے پھُر پھُر اُڑتے، کلمۂ شہادت بہ خَطِ جَلی اُس پر لکھا صاف معلوم ہوا۔\n\nجب اُس کے نزدیک آیا؛ دور دور تک مکان صاف، صحن شَفّاف پایا۔ مَٹھ کے رو بہ رو درخت کے تلے چبوترے کے اوپر ایک جو گی، سَو سَوا سَے برس کا سِن و سال، مگر ٹانٹھا کمال۔ ڈاڑھی ناف سے بڑی، گرہ لگی۔ جَٹا ہر ایک راکھ سے بھری، قدم بُوس ہو رہی، پاؤں پر پڑی۔ پلکیں دیدۂ حق بیں کا اَسرار چھپانے کو، چشمِ حاسد کی گزند بچانے کو موچھوں سے مِلیں۔ جسم میں موجِ دریا کی طرح جھُرّیاں پڑیں۔ کمر میں کَردھَنی مُوٹی سی مَہین بان کی، عجب آن بان کی۔ کھارُوِے کا لنگوٹ سَترِ عَورَتَین کی اُوٹ۔ گلے میں محمودی کی کفنی، سامنے گریبان پھٹا، کارِ سُوزنی، سر پوشیدہ نہیں، کھلا، حُقّہ چَوگانی مُنہ سے لگا۔ اَفیونِیوں کی شکل بنائے، شیر کی کھال بچھائے، بھبوت رَمائے، دید وا دید سے بہ ظاہر آنکھیں بند، مگر دیدۂ دل کھلا۔ خموشی پسند قَلبِ گویا بولتا۔ سوتا نہ جاگتا، آسَن مارے، دُنیا سے کَنارے خُدا جانے کس پینَک میں بیٹھا۔ پیٹ پیٹھ سے لگا۔ تیر سا قَدِ راست مثلِ کماں خَمیدَہ، گویا چِلَّہ کھینچ چکا ہے۔ زُنّار آسا رَگیں عَیاں۔ کھال سے ہڈّیوں کے جُوڑ شمع فانوس نَمَط نُمایاں۔ تسبیح سلیمانی، ایمان کی نشانی ہاتھ میں۔ ’’ہَر بھجُو، ہَر بھجُو‘‘ تکیہ کلام بات میں۔ قَشقَہ، ٹیکا ماتھے پر ہندوؤں کا، اور سجدے کا گھٹّا بَدرِ کامل کی صورت چمکتا۔ زرد مِٹی بدن میں، ذِکرِ حق دل و دَہَن میں۔ کہیں مُصلّے پر سُبحَہ و سجدہ گاہ رکھی، کپڑے کی جا نماز بچھی۔ کسی جا پوتھی کھلی، دھونی رَمی؛ دونوں سے راہ رکھی۔ عجب رنگ کا انسان، خُلاصہ یہ کہ ہندو نہ مسلمان، بہ قولِ مرزا سوداؔ:\n\nکس کی مِلّت میں گِنوں آپ کو، بتلا اے شیخ!\n\nتو کہے گَبر مجھے؛ گبر، مسلماں مجھ کو\n\nایک طرف تکیے میں دو چار کیاریاں، بیلے چنبیلی کی بہار، گُل کاریاں۔ کہیں مُرشِدوں کے ڈھیر، گُرو کی چھتری، بزرگوں کے مزار؛ اُن پر مَولسِری کے درخت سایہ دار قَطار قَطار۔ درختوں کی ٹہنیوں میں پنجرے لٹکتے، جانور باہم بحث کرتے، اَٹکتے۔ فاختہ کی کو کو، قُمری کی حَق سِرَّہ، کوکلا کے دَم، سَنّاٹے کا عالم۔ کہیں مِرگ چھالا بِچھا، شیر چَوکی دیتا، دھونی لگی، لکّڑ سُلگتا۔ کسی جا بَبَر کی کھال کا بِسترا، آہوئے صحرائی اُس پر بیٹھا؛ اُداسا، تُونبا، بے مِنَّتا دھَرا۔ ایک سمت بھوانی کا مٹھ، تُلسی کا پیڑ ہرا بھرا، گرد چشمہ پانی کا بھرا۔ جائے دل چسپ، مکانِ رُعب دار، گُلِ خود رو کی جُدا بہار۔ ایک طرف بھنڈارا جاری، کڑھاو چڑھا، موہن بھُوگ ملتا۔ کہیں پُلاؤ، قَلیے کی تیاری، چھاندا بَٹ رہا تھا۔ کچھ مہنت بالکے، کچھ مُرید حال قال کے، کوئی چِلّے میں بیٹھا، کوئی دُنیا سے ہاتھ اُٹھائے کھڑا۔ کسی کے خِرقَہ و تاج سَر و تَن میں، کوئی چَواَگَن میں۔ کہیں کَتھا ہوتی، کوئی وعظ کہہ رہا۔ ایک طرف خنجری بجتی، تَنبورا چھِڑتا، بھجن ہوتے۔ ایک سمت حلقہ مراقبے کا بندھا، توجُّہ پڑ رہی، لوگ روتے۔ عجیب وہ گُرو مُرشِد، غریب یہ مُرید چیلے۔ روز ایک دو کو مونڈتا۔ تیسرے چوتھے دن عُرس، ہر ہفتے میں میلے۔ حاصِلِ کلام یہ کہ وہ عجب جلسہ تھا کہ دیکھا نہ سُنا۔ یہ اِجتماعِ نقیضیَن آرام و چَین سے۔\n\nشہ زادے کے پاؤں کی آہَٹ جو پائی؛ مردِ آگاہ دل، روشن ضمیر نے پلک ہاتھ سے اُٹھائی، آنکھ مِلائی۔ دیدے لال لال چَڑھے پُر رُعب و جلال۔ جان عالم کو بہ غَور دیکھا۔ اِس نے جھک کر مُؤدَّب سلام کیا۔ اُس خوش تقریر، شیریں مَقال نے کہا: بھلا ہو بچہ! بڑی مصیبت فلک نے دکھائی جو یہ صورت یہاں تک آئی۔ آؤ بیٹھو، گُرو بھلا کرے۔ مُرشِد کی دُعا سے حق، حاجت روا کرے۔ ہم تمھارے امانت دار ہیں؛ سواری کھڑی ہے، چلنے کو تیار ہیں۔\n\nجان عالم متحیر تو ہو رہا تھا، زیادہ حیران ہوا کہ یہ کیا اَسرار ہے۔ پاس جا بیٹھا۔ جوگی اُٹھا، چشمے میں جا کر نہایا۔ گیروا چادرا پھینک، سفید اُوڑھ، عِطر لگا، جان عالم کے نزدیک آ، یہ نکتہ زبان پر لایا: بابا! ایک دن ذوق شوق کے عالَم میں ہمارے مُرشِد گُرو نے تیرے حال سے خبر دی تھی کہ ایک شہ زادے کا جہاز تباہ ہو جائے گا، وہ بہ سراغِ مطلب یہاں آئے گا؛ اُس کا کام تجھ سے، تیرا کام اُس کے سامنے پورا ہو جائے گا۔\n\nاِس بات کے سُننے سے شہ زادے کو نہایت مَسرّت ہوئی، کہا: جوگی جی! تمھارے نام سے میری زندگی ہوئی؛ وگرنہ دو چار دن میں گرِیبانِ صبر چاک ہو جاتا، میں سر پٹک کر ہلاک ہو جاتا۔ خوب صورتی کا بھی عجب مزہ ہے، جہان اِس کا شیدا ہے۔ عالَم کو مَرغوب ہے، طرح دار سب کا محبوب ہے۔ پیر فقیر، غریب امیر سب کو عزیز ہے۔ اِس کا خواہش مند ہر با تمیز ہے۔ جوگی سمجھانے لگا کہ یہ اِضطراب عالمِ اسباب میں بیجا ہے۔ دیر آید، دُرست آید۔ بابا! دُنیاکا یہ نقشہ ہے: کسی شَے کو ایک وَضع پر دو گھڑی ثَبات و قرار نہیں۔ اس کی نَیرنگی کا اِعتبار نہیں۔ گاہ خوشی، کبھی غم؛ یہ دونوں اَمر باہم ہیں۔ کبھی وصل کی شام کو دل کیسا بَشّاش ہوتا ہے، کبھی ہجر کی صبح کو کلیجا پاش پاش ہوتا ہے۔ ایک شب بستر پر لذّتِ ہَم کناری ہے۔ ایک روز پہلو تہی، گریہ و زاری ہے۔ کبھی شبِ وصل کیا کیا اِختلاط ہوتے ہیں۔ گاہ فَصل کے دن سر پیٹتے ہیں، روتے ہیں۔ آدمی جب رنج سے گھبرائے اور غمِ مُفارقتِ دوست جان ہونٹوں پر لائے؛ دل کو یہ تسکین دے کر بہلائے، مصر؏:\n\nچناں نماند و چنیں نیز ہم نخواہد ماند\n\nمصر؏:\n\nدر پسِ ہر گریہ، آخر خندہ ایست\n\nمصحفیؔ:\n\nزِندگی ہے تو خِزاں کے بھی گزر جائیں گے دن\n\nفصلِ گُل جیتوں کو پھر اگلے برس آئے گی\n\nجو وصل میں راحت و آرام پاتا ہے؛ وہی ہجر کے دُکھ، قَلَق اُٹھاتا ہے۔ تو نے اُن دونوں بھائی، جو تَواَم پیدا ہوئے تھے، اُن کا قصّہ سُنا نہیں، کہ پہلے اُنھوں نے کیا کیا صعوبَت اُٹھائی، پھر ایک نے سلطنت پائی، دوسرے کے ہاتھ شہ زادی آئی۔ جان عالم نے کہا: اِرشاد ہو، کیوں کر ہے؟", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%B4%DB%81_%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%8F%D8%B3_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "فسانۂ عجائب/رِہا ہونا اس گرِفتار دامِ سحر کا", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "رِہا ہونا اس گرِفتار دامِ سحر کا جادو گرنی کے جال سے اور ملاقات ہونی ملکہ مہر نگار صاحبِ حسن و جمال سے، ملکہ کی طبیعت کا لگاؤ، تازہ شمشیر الفت کا گھاؤ، باہم کی چھیڑ چھاڑ، بناؤ کا بگاڑ، پھر ملکہ کے باپ سے ملنا، لَوح لے کے چل نکلنا\n\nعشق ہے تازہ کار، تازہ خیال\n\nہر جگہ اِس کی ایک نئی ہے چال\n\nکہیں آنسو کی یہ سرایَت ہے\n\nکہیں یہ خوں چکاں حِکایت ہے\n\nگَہ نمک، اِس کو داغ کا پایا\n\nگہ پتنگا، چراغ کا پایا\n\nکہیں طالب ہوا کہیں مطلوب\n\nاِس کی باتیں غرض ہیں دونوں خوب\n\nیہاں سے دَشْت نَوَرْدان وادِیِ سخن، جگر اَفگار و غُربَت زَدَگانِ پُر محن و سینہ ریش با پائے زخم دار و دلِ خار خار بیان کرتے ہیں کہ وہ مسافرِ صحرائے اَندوہ و حِرماں، عازِمِ سمت جاناں، بے توشَہ و زاد راہ، ہر روز با دِل پرسوز کراہ کراہ؛ بادیہ گردی کرتا، جیتا نہ مرتا؛ ایک روز نواح دل کشا و صحرائے فرح افزا میں گزرا۔ دیکھا کہ باغبان قدرت نے صفحہ دشت گل ہائے گونا گوں، مختلف رنگ، بوقلموں سے بہشت ہشتم، رشک صحن چمن بنایا ہے اور بوٹا پتا گھانس کا بہ ازگل باغ ارم، خجلت دہ نسرین و نسترن کر دکھایا ہے۔ گرد جدول آب رواں۔ چشمہ ہر ایک چشمہ حیواں۔ اور لکّہ ہائے ابر نے چھڑکاؤ سے عجب رنگ جمایا ہے۔ نسیم بہار اور درخت گل دار سے میدان رشک ختن و تاتار ہے۔ نہ کہیں گرد ہے نہ غبار ہے۔ درختوں پر فیض ہوا اور ترشح سے سرسبزی اور چمک کا جوبن ہے۔ گل ہائے خود رو سے جنگل نمونہ گلشن ہے۔\n\nیہ تو مدتوں کا مسافت دیدہ، مسافرت کشیدہ تھا؛ وہ زمین خجستہ آئیں بہت پسند آئی۔ دل میں آیا: آج کی شب اسی جا سحر کیجیے، قدرت حق مد نظر کیجیے۔ ایک سمت زمین ہموار، درخت گنجان، چشمہ ہائے آب رواں دیکھ کے جا بیٹھا۔ جنگل کی کیفیت جی بے کل کرنے والی۔ جانوروں کی چھل بل، اچھل کود کی دیکھا بھالی۔ خوش فعلی کی سیر۔ کلیل میں وحش وطیر۔ بو باس ہر برگ و گل کی۔ دھوم دھام طائروں کے غل کی۔ بوٹے پتے کی نشو و نما۔ سرد سرد ہوا۔ کوسوں تک پہاڑ کی ڈانگ، اس پر عجائب غرائب نقاش ازل کے سانگ۔ ایک سمت ابر سیاہ گھرا۔ سرخ و سفید، اودی ساون بھادوں کی گھٹا۔ چرخ کہن نئے نئے رنگ بدلتا۔ کبھی بجلی چمک جاتی، آنکھ جھپک جاتی۔ رعد زور شور سے مے خواروں کو یہ سنا رہا، میر سوزؔ:\n\nکی فرشتوں کی راہ، ابر نے بند\n\nجو گنہ کیجیے، ثواب ہے آج\n\nندیاں نالے چڑھے، دریا بڑھے۔ جھیلیں، تالاب لب ریز۔ ڈیرے موج خیز۔ پپیہے کا مستوں سے مخاطِب ہونا، پی پی کہہ کہ آپی جان کھونا۔ کوئل کی کو کو اور توتو سے کلیجا منہ کو آتا تھا۔ مور کا شور، برق کی چمک، رعد کی کڑک، ہوا کا زور زور رنگ دکھاتا تھا۔ شام کا وقت، غروبِ آفتاب کا عالم، جانوروں کا درختوں پر بیٹھنا باہم۔ زمین پر فرش زمردیں یکسر بچھا، جہاں تک نظر جاتی، دھان لہریں لے رہا۔ آسمان میں رنگا رنگ کی شفق پھولی، شام اودھ کی سیر بھولی۔ ایک سمت قوس قزح، جسے دھنک کہتے ہیں، بہ صد جلوہ و شان فلک پر نمایاں؛ سُرخ، سبز، زرد، دھانی لکیریں عیاں۔ بلبل کے چہچہے، درخت سر سبز، لہلہے۔ کوسوں تک سبزہ زار، پھولوں کی بہار۔ کہیں ہرن چرتے، کہیں پرند سیر کرتے۔ کسی جا طاؤسانِ طنَّاز سرگرم رقص ناز۔ لب ہر چشمہ آب مرغ آبی و سرخاب۔ کبھی نمود ہونا ماہ کا، چکور کا دوڑنا، بھرنا آہ کا۔ دونوں وقت ملتے، اس دید کی خراش سے دل پاش پاش، زخم جگر چھلتے۔ یہ سیر جو ہجر جاناں میں نظر سے گزر جائے، کیوں کر دل ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو، چھاتی نہ بھر آئے، استاد:\n\nکارِ اَخگر کرتی ہے ہر بوند تن پر یار بِن\n\nکیا عجب، گرہوں ہرے داغِ جگر برسات میں\n\nقاعدہ ہے جب آدمی کو سامانِ عیش و نَشاط، اِس طرح کی سَیرِ فرحت و اِنبساط مُیَسّر ہوتی ہے؛ جسے پیار کرتا ہے، وہ یاد آتا ہے۔ شہزادے نے مُدّت کے بعد یہ فرحت و فِضا جو دشت میں پائی، یار کی یاد آئی، آنکھیں بند کر کے کہا، شعر:\n\nمیں وہ نہیں جو کروں سَیرِ بوستاں تنہا\n\nبہشت ہو تو نہ مُنہ کیجے باغباں، تنہا\n\nاِس سوچ میں بیٹھا تھا، ایک طرف سے سواری کا سامان نظر آیا۔ ’’ادب‘‘ اور ’’ملاحظہ‘‘ کا غُل، ’’تفاوُت‘‘ اور ’’قرینے‘‘، ’’نگاہ رو بہ رو‘‘ کا شُور بلند پایا۔ غور جو کیا، رنڈیوں کا غول سامنے آیا۔ یہ گھبرایا؛ دھوکاپا چکا تھا، جنگل میں غُوطہ کھا چکا تھا۔ سنبھل بیٹھا اور اَسمائے رَدّ سحر پڑھنے لگا، بہ موجِبِ مثل: دودھ کا جَلا چھاچھ پھونک پھونک پیتا ہے۔ جب وہ آگے بڑھیں، غَور سے دیکھا: چار پانچ سَے عورت پری زاد، حور وَش، غیرتِ سَرو، خجلت دِہِ شَمشاد، زَرّیٖں کمر، نازک تَن، سیٖم بَر، چُست و چالاک، کم سِن، اَلَّڑھ پنے کے دن، اچھلتی کودتی، مردانہ وار پیادہ؛ اور جَواہِر نِگار ہَوا دار پر ایک آفتابِ محشر سوار، گِرد پریوں کی قطار، تاجِ مُرَصَّع کج سر پر، لباسِ شاہانہ پُر تکلف دَر بَر، نیمچۂ سلیمانی اُس بلقیس وَش کے ہاتھ میں، سیماب وَشی بات بات میں، صید کرنے کی گھات میں۔ اور بندوقِ چَقماقی خاص لندن کی، طائِرِ خیال گِرانے والی برابر رکّھے؛ شکار کھیلتی، سَیر کرتی چلی آتی ہے۔ حُسنِ خداداد بے مِثال، کاہِشِ بَدر، غَیرتِ ہِلال، عجب سِن و سال۔ مِیر حَسَن:\n\nبرس پندرہ یا کہ سولہ کا سن\n\nجوانی کی راتیں، مُرادوں کے دن\n\nطالِعِ بِیدار یاوَر، اِقبال دَم ساز۔ غَمزہ و عِوہش جلو میں۔ انداز و ادا رَو میں۔ آفتِ جانِ عاشِق، سرمایۂ ناز۔ جان عالم نے بہ آوازِ بلند کہا، میرتقی:\n\nکیا تنِ نازک ہے، جاں کو بھی حسد جس تَن پہ ہے\n\nکیا بدن کا‌ رنگ ہے، تہہ جس کی پیراہن پہ ہے\n\nیہ صدا، جو اہتمام سواری آگے آگے کرتی تھیں، ان کے کان میں پڑی اور نگاہ جمالِ جان عالم سے لڑی، دفعتاً سب کی سب لڑکھڑا کر ٹھٹھک گئیں۔ کچھ، سکتے کے عالم میں سہم کر جھجھک گئیں۔ کچھ بولیں: ان درختوں سے چاند نے کھیت کیا ہے۔ کوئی بولی: نہیں ری! سورج چھپتا ہے۔ کسی نے کہا: غور سے دیکھ، ماہ ہے۔ ایک جھانک کے بولی: باللّٰہ ہے مگر چودہویں کا چاند ہے۔ دوسری نے کہا: اس کے روٗبہ روٗ وہ بھی ماند ہے۔ ایک نے غمزے سے کہا: چاند نہیں تو تارا ہے۔ دوسری چٹکی لے کے بولی: اُچھال چھَکّا! تو بڑی خام پارا ہے۔ ایک بولی: سرو ہے یا چَمنِ حُسن کا شمشاد ہے۔ دوسری نے کہا: تیری جان کی قسم پَرِستان کا پری زاد ہے۔ کوئی بولی: غضب کا دِل دار ہے۔ کسی نے کہا: دیوانیو! چپ رہو! خدا جانے کیا اسرار ہے۔ ایک نے کہا: چلو نزدیک سے دیکھ، آنکھ سینک کر دل ٹھنڈا کریں۔ کوئی کھلاڑن کہہ اٹھی: دور رہو، ایسا نہ ہو اسی حسرت میں تمام عُمْر جل جل مریں۔ ایک نے خوب جھانک تاک کے کہا: خدا جانے تم سب کے دیٖدوں میں چربی کہاں کی چھا گئی ہے، کیا ہوا ہے! یہ تو بھلا چنگا، ہٹّا کٹّا مردُوا ہے۔\n\n سواری جو رُکی، ملکہ نے پوچھا خیر ہے؟ سب نے ڈرتے ڈرتے دست بستہ عرض کی: قربان جائیں، جان کی امان پائیں تو زبان پر لائیں، ہمیشہ سواری حضور کی اِس راہ سے جاتی ہے، مگر آج خلافِ معمول اِن درختوں سے ایک شکل دل چسپ ایسی نظر آتی ہے کہ، فرد:\n\nسنا یوسف کو، حسینانِ جہاں بھی دیکھے\n\nایسا بے مثل طرح دار نہ دیکھا نہ سنا\n\nملکہ متعجب ہو کے پوچھنے لگی: کہاں؟ ایک نے عرض کی: وہ حضور کے سامنے۔ جیسے ملکہ کی نگاہ چہرۂ بے نظیر، صورتِ دل پذیر جان عالم پر پڑی، دیکھا: ایک جوان، رشک مہِ پیرِ کنعاں، رعنا، سرو قامت، سہی بالا، بحرِ حسن و خوبی کا دُر یکتا، کاسۂ سر سے فَرِّ شاہی نمایاں، بادۂ حسنِ دل فریب سے معمور ہے۔ دماغِ کشوَرستانی ہے، اٹھتی جوانی ہے، نشۂ شباب سے چَکناچُور ہے۔ خمِ ابرو محراب حسیناں، سجدہ گاہِ پردہ نشیناں۔ چشمِ غزالی سرمہ آگیں ہے۔ آہوئے رَم خوردۂ کِشورِ چیں ہے۔ چِتون سے رمیدگی پیدا ہے۔ مستِ مے محبت ہے، اِس پر چوکنّا ہے۔ دیدے کی سفیدی اور سیاہی لیل و نہار کو آنکھ دکھاتی ہے۔ سوادِ چشم پر حور سُوَیدائے دل صدقے کیا چاہتی ہے۔ حلقۂ چشم میں کتنے ہموار مَردُمِ دیدہ دھرے ہیں۔ صانعِ قدرت نے موتی کُوٹ کُوٹ کے بھرے ہیں۔ مِژَہ نکیلی اس کماں ابرو کی دل میں دوسار ہونے کو لَیس ہے۔ رشکِ لیلیٰ یہ غیرتِ قیس ہے۔ ناوَکِ نگاہ سے سِپَرِ چرخ تک پناہ نہیں۔ دل دُوزی بے گناہوں کی اِس کی ملت میں صواب ہے، گناہ نہیں۔ لَوحِ پیشانی، تختۂ سیمیں یا مَطلعِ نُور ہے، یا طباشیرِ صُبح یا شمع طُور ہے۔ کاکُل مشکیں سے زلفِ سنبل کو پریشانی ہے، بوباس سے خُتَن والوں کے ہوش خطا ہوتے ہیں، حیرانی ہے . عنبریں مویوں کی زندگی وبال ہے۔ بال بال پر پیچ و خم دار ہے۔ روئے تاباں بسانِ چشمہ حیواں ظلمت سے نمودار ہے۔ ہما اپنے پَر و بال سے اس صاحب اقبال کا مگس راں ہے۔ رخ تابندہ کی چمک سے نیر اعظم لرزاں ہے۔ لب گل برگِ تَرپر سبزے کی نمود ہے، یا دھواں دھار مشتاقوں کے دل کا دود ہے۔ نظر جھپکتی ہے، تجلی قدرتِ ربِ وَدود ہے۔ ہر حلقہ گیسوئے مُعَنبر کا کمندِ گرَہ گیر ہے؛ مگر بالوں کے الجھنے سے کھلتا ہے کہ کسی کی زلفِ پیچاں کا خود بھی اسیر ہے۔ خندہ دنداں نما سے ہونٹ، لعل بدخشاں کا رنگ مٹاتا ہے۔ دانتوں کی چمک سے گوہرِ غلطاں بے آب ہو کر لوٹا جاتا ہے۔ معشوقوں کا ان پر دانت ہے، دل و جاں وارتے ہیں۔ جو نظر سے پنہاں ہوں، ڈاڑھیں مارتے ہیں۔ دم تقریر دُرجِ دہاں جو کھولتا ہے، سامع موتی رولتا ہے۔ ہر کلمہ اعجاز نما ہے، بیمارِ محبت کا مسیحا ہے۔ دونوں ہاتھ نہالِ الفت کی شاخِ باردار ہیں، دل کی دست بردی کو اور خزانہ قاروں بانٹ دینے کو سر دست تیار ہیں۔ کفِ دَست کی لکیر میں دست آویز محبت یدِ قدرت سے تحریر ہے، سر نَوِشت سے یہ کھلتا ہے کہ سلسلہ الفت میں کسی کے، رگ و پے بستۂ زنجیر ہے۔ مِر آتِ سینہ میں عکس افگن کوئی صاحب جمال ہے، مد نظر کسی کا خیال ہے۔ کمرِ نازک جستجو پر چست باندھی ہے، گو بیٹھا سست ہے؛ چلنے کو مثلِ صبا آندھی ہے۔ پاؤں وادیِ تلاش میں سرگرمِ رفتارہیں۔ زِیرِ قدم دَشت و کُہسار ہیں۔ مگر قسمت اپنی بَرسَرِ یاری ہے کہ ہمارے دام میں یہ ہُمائے اَوجِ شَہر یاری ہے۔\n\nیہ تصور دل میں تھا کہ کار پَردازانِ محکمۂ ناکامی حاضر ہوئے اور مشّاطۂ حُسن و عشق نے پیش قدمی کر مَتاعِ صبر و خِرَد، نَقدِ دل و جاں، اَثاثِ ہُوش و حَواس، تاب و تَوانِ ملکۂ جگر فِگار اَرمَغانِ رونُمائی میں نَذرِ شہ زادۂ والا تَبار کیا۔ عقل و دانش گم، صُّمٌّ بُکمٌ کا نقشہ ہوا۔ حضرتِ عشق کی مدد ہوئی، سب بلا رَد ہوئی۔ شوقِ وصل دل میں پیدا ہوا، جی شیدا ہوا۔ دفعتاً کیا تھا، کیا ہوا۔ میر تقی:\n\nتھی نظر، یا کہ جی کی آفت تھی\n\nوہ نظر ہی وَداعِ طاقت تھی\n\nہُوش جاتا رہا نگاہ کے ساتھ\n\nصبر رخصت ہوا اک آہ کے ساتھ\n\nدل پہ کرنے لگا تَپیٖدن ناز\n\nرنگ چہرے سے کر گیا پرواز\n\nملکہ تھرتھرا کر ہَوا دار پر غش ہوئی۔ خَواصوں نے جلد جلد گُلاب اور کیوڑا، بید مشک چھڑکا۔ کوئی نادِ علی پڑھنے لگی۔ کوئی سورۂ یوسف دَم کرنے کو آگے بڑھنے لگی۔ کسی نے بازو پر رو مال کھینچ کر باندھا، تَلوے سَہلانے لگی۔ کوئی مِٹّی پر عِطر چھڑک کر سنگھانے لگی۔ کوئی بید مُشک سے ہاتھ منہ دھوتی تھی۔ کوئی صدقے ہوہو روتی تھی۔ کوئی بولی: چہل کنجی کا کَٹورا لانا۔ کسی نے کہا: یَشب کی تختی دھو کے پِلانا۔ کسی نے کہا: بِلا رَیب آسیب ہے۔ کوئی بولی: اُسی کے دیکھنے سے دل نا شکیب ہے۔ کوئی بولی: یہ تو عجب چمک کا ماہ پارہ ہے؛ اِس کا دیکھنا یہ رنگ لایا، گویا چاندنی نے مارا ہے۔ کوئی سمجھی: یہ شخص ہم جِنس نہیں، قسمِ جِن سے ہے۔ کوئی بولی: دیوانیو! یہ غَشی تقاضائے سِن سے ہے۔\n\nغَرض کہ دیر میں ملکہ کو اِفاقہ ہوا، مگر دل مُضطرِب، تَپاں۔ خواہش اُسی طرف کَشاں۔ جَذبِ عشق سے مقناطیٖس و آہَن کا عالَم۔ کشش مَحبت سے کاہ و کَہرُبا اُسی دَم ہو گئی۔ رنگِ رو طائرِ پَریٖدہ۔ صبر و ضبط دامن کَشیدہ۔ مَشوَرہ ہوا سواری اِدھر سے پھیرو، ملکہ کو بیچ میں گھیرو، لیکن تابِ تحمل، یارائے جبر ملکہ کو بالکل نہ رہا، اُس بدحواسی میں کہا تو یہ کہا: دیوانیاں ہو، یہ کوئی مسافر بے چارہ، خانماں آوارہ، غُربت کا مارا تھک کر بیٹھ رہا ہے، اِس سے ڈرنا کیا ہے! قریب چلو، حال پوچھو۔ ناچار، وہ سب فرماں بردار چلیں؛ مگر جھجکتی، ایک دوسرے کو تکتی۔ جوں جوں سواری قریب جاتی تھی، ملکہ کی چھاتی دھڑکتی تھی، دل میں تڑپ زیادہ پاتی تھی۔ اگرچہ جمالِ پری تمثالِ ملکہ مہر نگار بھی سحر سامری کا نمونہ، مَہ و مِہر سے چمک دمک میں دونا، عابد کُش، زاہد فریب تھا؛ جان عالم بھی بے چین ہوا، مگر دامنِ ضبط دَستِ اِستقلال سے نہ چھوڑا۔ جس طرح بیٹھا تھا، جنبش نہ کی، تیور پر میل نہ آیا۔\n\nایک خَواصِ خاص بہ اِشارۂ ملکہ آگے بڑھی، پوچھا: کیوں جی میاں مُسافر! تمھارا کدھر سے آنا ہوا؟ اور کیا مصیبت پڑی ہے جو اکیلے، سوائے اللہ کی ذات، ہیہات، کوئی سنگ نہ ساتھ، اِس جنگل میں وارد ہو؟ شہ زادے نے مسکرا کر کہا: مصیبت، خَیلا، تجھ پر پڑی ہو گی۔ معلوم ہوا یہاں آفت زدے آتے ہیں، ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ کہو تم سب کی کیا کم بختی، اَیّاموں کی گَردِش، نصیبوں کی سختی ہے، جو خاک پھانکتی، مسافروں کو تاکتی جھانکتی، چُڑیلوں کی طرح ناکام سرِشام پھرتی ہو! سوکھے میں مسافروں پر پھسل پھسل کے گرتی ہو۔\n\nملکہ یہ کلمہ سُن کے پھڑک گئی اور ہوا دار آگے بڑھا خود فرمانے لگی: واہ وا صاحب! تم بہت گرما گرم، تُند مزاج، حاضر جواب، پا بہ رکاب ہو۔ حال پوچھنے سے اِتنا درہم برہم ہوئے، کڑا فقرہ زبان پر آیا۔ اِس مُردار کے ساتھ، تھوتھو، مجھ چھٹ سب کو پِچھل پائیاں بنایا۔ جان عالم نے کہا: اپنا دستور نہیں کہ ہر کس و ناکس سے ہم کلام ہوں۔ دوسرے، مُردار سے بات کرنا مکروہ ہے؛ مگر خیر، دھوکے میں جیسا اُس نے سوال کیا، ویسا ہم نے جواب دیا۔ اب تمھارے منہ سے مُردار نکلا، ہم سمجھ گئے، چُپ ہو رہے۔ ملکہ نے ہنس کر کہا: خوب! یک نہ شُد دو شُد۔ صاحِب! چونچ سنبھالو، ایسا کلمہ زبان سے نہ نکالو۔ کیا میرے دشمن دَرگور مُردار خور ہیں؟ آپ بھی کچھ زور ہیں! بھلا وہ تو کہہ کے سن چکی، میں آپ سے پوچھتی ہوں: حضور والا کس سمت سے رونق افروز ہوئے، دولت سَرا چھوڑے کَے روز ہوئے؟ اور قُدومِ میمنت لُزوم سے اِس دشتِ پُرخار کو کیوں رشکِ لالہ زار کیا، بارِگرانِ سفرِ غربت کب سے سر پر لیا؟\n\nجان عالم نے کہا: چہ خوش! آپ در پردہ بناتی ہیں، بگڑ کر طنز سے یہ سناتی ہیں۔ ہم حضور کاہے کو، مزدور ہیں۔ آپ اپنے نزدیک بہت دور ہیں۔ جیتے جی چار کے کاندھے چڑھی کھڑی ہو، بے شک حضور ہو۔ عارضی جاہ و حَشَم پر مغرور ہو۔ جو جو جلیسیں تھیں، بولیں: ملکۂ عالم! آپ کس سے گفتگو دو بدو کرتی ہیں! یہ مردُوا تو لٹھ ہے، سخت منہ پھٹ ہے۔ ملکہ بولی: چپ رہو، اِن باتوں میں دَخل نہ دو۔ اگر یہ بد مزہ ہو جائے گا تو صَلواتیں سنائے گا۔ وہ سب ہٹیں، آپس میں کہا: خدا خیر کرے! آج جنگل میں گُل پھولا چاہتا ہے، یہ پردیسی پنچھی راہ بھولا چاہتا ہے۔ پھر ملکہ بولی: اے صاحب! خدا کے واسطے کچھ منہ سے بولو، سر سے کھیلو۔ نذر، بھینٹ جو درکار ہو، لے لو۔ جان عالم نے کہا: اُمرائیت کو کام نہ فرماؤ، نیچے آؤ۔ یہ ہمیں معلوم ہوا تم بڑی آدمی ہو۔ سواری مانگے کی نہیں۔ خواصیں بھی تمھاری ہیں، جو ہمراہِ سواری ہیں۔ خاک نشینوں کی ہَم بِستری اختیار کرو، تکلف تَہ کر رکھو۔ طبیعت حاضر ہو گی تو تمھارے بیٹھنے سے، کچھ کہہ اٹھیں گے۔ آپ ہوادار کیا، ہوا کے گھوڑے پر سوار؛ فقیر بسترِ خاک پر سایہ دار۔ حافظ:\n\nبَبیں تفاوُتِ رہ از کجا ست تا بکُجا\n\nملکہ نے کہا: مدت العمر میں ایسا مسافر جَریدہ، دَہن دَریدہ تمھارے سوا، بہ خدا، نہ دیکھا نہ سنا۔ اُستاد:\n\nزباں سنبھالو، یہ منہ زوریاں غریبوں پر\n\nخدا کی سوں کوئی تم سا بھی بد لگام نہیں\n\nزور چیز ہو، کتنے بے تمیز ہو۔ یکّہ و تنہا، ٹٹّو نہ گھوڑا؛ پیادہ پائی میں لحاظ پاس نہیں، سب کو چھوڑا۔ گٹھری نہ بُقچَہ، ننگا لُچّا۔ وہی مَثَل ہے: رہے جھونپڑے میں، خواب دیکھے محلوں کا۔ ہر بات میں ٹھنڈی گرمیاں کرتے ہو۔ جو یہی خوشی ہے تو لو؛ یہ کہہ کے ہوادار سے اتر، زمین میں شہ زادے کے برابر بیٹھ گئی۔\n\nخواصوں نے بہت بھیانک ہو کے کہا: لو بی بی، یہ مُوا کیا سحربیاں، جادو کا انسان ہے! ملکہ سی پری کو، گالیاں دے دے کے، کیسا شیشے میں اُتار لیا! بیٹھے بٹھائے میدان مار لیا۔ ایک بولی: تجھے اپنے دیدوں کی قسم، سچ بولیو، ایسا جوان رنگیلا، سَجدار، نکیلا، ٹھٹھول، طرّار، آفت کا پَرکالہ، دنیا سے نرالا؛ تو نے یا کبھی تیری ملکہ نے دیکھا بھالا تھا؟ اری دیوانی، نادان! خوب صورتی عجب چیز ہے۔ اِس کا دوست طالِب، دشمن کا مطلوب ہے۔ حُسنِ خوب سب کو مرغوب ہے، جہان کو عزیز ہے۔ غرض کہ جب ملکہ بیٹھی، جان عالم دمِ سرد بھر کے بول اُٹھا، لا اَعلم:\n\nچہ گویم از سر و سامانِ خود ، عمریست چوں کاکُل\n\nسیہ بختم، پریشاں روزگارم، خانہ بردوشم\n\nمولف:\n\nسراسر دل دُکھاتا ہے، کوئی ذکر اور ہی چھیڑو\n\nپتا خانہ بدوشوں سے نہ پوچھو آشیانے کا\n\nگرِفتارِ رنج و اَلَم، خوشی سے دور، مبتلائے غم، بے یار و مددگار، دوست نہ غم خوار، آفت کا مارا، خانماں آوارہ، ہمہ تن یاس، باختہ حواس۔ توشۂ راہ بجُز غمِ جاں کاہ نہیں اور رہبر سِوائے دلِ مُضطر ہمراہ نہیں۔ گو پاؤں میں طاقتِ رفتار نہیں، لیکن ایڑیاں رَگڑنا بھی اِس راہ میں ننگ و عار نہیں۔ یہ حال ہے، وہ سب نام ہیں؛ کوہ و دَشت اپنے مَسکَن، مقام ہیں۔ آدمی مجھ سے رَم کرتے ہیں، جانور رام ہیں۔ اور حال یہ ہے، میر سوزؔ:\n\nظاہر میں گرچہ بیٹھا لوگوں کے درمیاں ہوں\n\nپر، یہ خبر نہیں ہے میں کون ہوں، کہاں ہوں\n\nاے ساکنانِ دُنیا! آرام دو گے اک شب\n\nبچھڑا ہوں دوستوں سے، گُم کردہ کارواں ہوں\n\nہاں اہلِ بزم! آؤں میں بھی، پر ایک سُن لو\n\nتنہا نہیں ہوں بھائی، با نالہ و فغاں ہوں\n\nسوراخ، چاک لاکھوں، داغوں کی کون گنتی\n\nگلشن دل و جگر ہے، گو صورتِ خزاں ہوں\n\nنام و نشاں نے یا رب، رسوا کیا ہے مجھ کو\n\nجی چاہتا ہے، حق ہو، بے نام و بے نشاں ہوں\n\nسر مانگتا ہے قاتل، قاصد! شتاب لے جا\n\nاتنی سبک سری پر کاہے کو سرگراں ہوں\n\nقاتل پکارتا ہے، ہاں کون کُشتَنی ہے!\n\n کیوں سوز چُپ ہے بیٹھا، کچھ بول اٹھ نا ہاں ہوں\n\nیہ پڑھ کر چُپ ہو رہا، ملکہ سمجھی: یہ مُقَرر شاہ زادۂ عالی تَبار ہے، مگر کسی کا عاشقِ زار ہے۔ بات میں یہ تاثیر ہے کہ ہر کلمہ، ناوَک کا تیر ہے۔ دل میں آیا کسی طرح گھر لے چلیے، پھر مفصل حال معلوم ہو جائے گا، کہاں تک چھپائے گا۔ بہ مِنت و سَماجت کہا: اے عزیز! یہ سَر زمیں ہمارے علاقہ میں ہے۔ تم مسافرانہ، اتفاقاتِ زمانہ سے وارد ہو؛ مہمانی ہم پر واجب ہوئی۔ چند گام اور قَدَم رَنجَہ کیجیے، غریب خانہ قریب ہے۔ آج کی شب استراحت فرمائیے، نانِ خشک کھائیے۔ صبح اختیار باقی ہے، اتنی مشتاقی ہے۔\n\nجان عالم نے تبسم کر کے کہا: پھر در پردہ امارت کی لی۔ یعنی، ہم تو یہاں کے مالک ہیں، آپ بھوکے پیاسے سالک ہیں۔ چلو، یہ فقرہ کسی فقیر کو سناؤ۔ محتاج کو کرّ و فَر، جاہ و حَشَم سے دَبکاؤ۔ جادۂ اعتدال سے زبان کو باہر گام فرسا نہ فرماؤ۔ یہاں طبیعت اپنی اپنے اختیار میں نہیں اور رَوارَوی سے فُرصت قلیل ہے۔ مکان پر جانا، دعوت کھانا جبر ہے؛ آنے جانے کی کون سی سبیل ہے۔ ملکہ نے افسردہ خاطِری سے کہا: دعوت کا رد کرنا منع ہے؛ آئندہ آپ مُختار ہیں، ہم مجبور و ناچار ہیں۔ جان عالم نے دل میں خیال کیا: برسوں کے بعد ہم جِنسوں کی صحبت مُیَسَّر آئی ہے اور یہ بھی شاہ زادی ہے؛ اِس کا آزُردہ کرنا، نِری بے حیائی ہے۔ آدمیّت کا لحاظ، انسانیت کا پاس، اپنی بے اِعتنائی کا حِجاب کر کے کہا: کھانے پینے، سونے بیٹھنے کی ہَوَس دل سے اٹھ گئی ہے، مگر دل شِکنی کسی کی، اپنے مذہب میں گناہِ عظیم ہے، خدا اِس بات کا علیم ہے۔ شعر:\n\nعِوض ہے دل شکنی کا بہت مُحال، اے یار\n\nجو شیشہ ٹوٹے، تو کیجے جواب شیشے کا\n\nلیکن اتنی رُکھائی اور یہ کج ادائی جو ظہور میں آئی؛ معاف کیجیے، اِس کا یہ سبب تھا، شعر:\n\nدر محفلِ خود راہ مدہ ہمچو مَنے را\n\nافسردہ دل، افسردہ کند انجمنے را\n\nدل فِگاروں کی صحبت سے انسان کو ملال حصول ہوتا ہے۔ غمگیں کا ہم نشیں ہمیشہ مَلول ہوتا ہے۔ میر دردؔ:\n\nنہ کہیں عیش تمھارا بھی مُنَغَّض ہووے\n\nدوستو! دردؔ کو محفل میں نہ تم یاد کرو\n\nاور جو یوں ہی مرضی ہے، تو بسم اللہ۔ یہ کہہ کے اٹھا۔ ساتھ ساتھ، ہاتھ میں ہاتھ، پیادہ پا باتیں کرتا چلا۔ بس کہ شاہزادہ لطیف و ظریف تھا؛ کوئی فقرہ نُوک چُوک، رَمز و کِنایہ، ذوٗ معنی سے خالی زبان پر نہ لاتا تھا۔ ملکہ کا ہربات پر دل پگھلا جاتا تھا، مگر دل سے کہتی تھی کہ اے ناکام و بخت نافرجام! ایسا نہ کرنا کہ ہاتھ ننگ و ناموٗس سے دھونا پڑے۔ بیٹھے بٹھائے اَلمِ مُفارَقت میں رونا، جان کھونا پڑے۔ ظاہر ہے یہ کسی کا عاشِقِ زار ہے۔ نَشَۂ محبت میں سرشار ہے۔ دوسرے، غریب الوطن۔ بقول میر حسن:\n\n مسافر سے کوئی بھی کرتا ہے پیت\n\nمثل ہے کہ جوگی ہوئے کس کے میت\n\nمگر تَپِشِ دل مستقل ترقی میں تھی۔ خواہش، جی کی کاہش میں۔ بے قراری کو اس پر قرار تھا کہ خدا‌کے کارخانے میں کسی کو دَخْل نہیں ہوا۔ اے نادان! جو دمِ وَصل ہے، اسے غنیمت جان۔ آغاز عشق میں ‌انجامِ کار سوچنا سراسر خلاف ہے۔ اس میں شرع کی تکلیف معاف ہے۔ مؤلف:\n\nغنیمت جان لے یہ صُحبتیں آپَس کی ناداں\n\nدِگرگوٗں حال ہو جاتا ہے اک دم میں زمانے کا\n\nالقصہ تا درِ باغ با خاطرِ فراغ پہنچے۔ دروازہ کھلا، اندر قدم رکھا۔ جہاں فِضائے صحرا وہ تھی، وہاں کے باغ کا کیا کہنا! اگر ایک تختے کی صفت تحریر کروں، ہزار تختۂ کاغذ پر بہ خَطِّ رَیحاں اس گلزار کی تعریف نہ لکھ سکوں۔ دمِ تسطیرقلم میں برگ نکلتے، لکھنا بار ہوتا ہے۔ ہاتھ پاؤں بالکل پھولتے ہیں، صفحۂ قِرطاس پر گُل پھولتے ہیں؛ حاسِد شاخسانے نکالتا ہے، خار ہوتا ہے۔ صریرِ خامہ میں بلبل کے چہچہے پیدا ہوتے ہیں، باغبان کو حالت حال کی ہوتی ہے اور سطرِ پیچاں میں طائرِ مضموں پھنستے ہیں، بِعَینِہ کیفیت صیّاد کے جال کی ہوتی ہے۔ بہت آراستہ و پَیراستہ۔ عرض مربّع میں۔ چاروں کونوں پر چار بنگلے، گرد سبزۂ نو خاستہ۔ دروازہ عالی شان، نفیس مکان، زیرِ دیوار خندق پر کیلے؛ اکیلے نہیں، قطار در قطار۔ تختہ بندی کی بہار۔ رَوِش کی پَٹرِیاں قَرینے کی۔ منہدی کی ٹٹیوں میں رنگت مینے کی۔ گُل منہدی سرخ، زرد پر افشاں۔ عبّاسی کے پھولوں سے قدرتِ حق نمایاں۔ نرگس دیدۂ منتظر کی شکل آنکھیں دکھاتی تھی۔ گُلِ شَبّو سے بھینی بھینی بو باس آتی تھی۔ میوہ دار درخت یک لخت جُدا۔ بار کے بار سے ٹہنیاں جھکیں، درخت سرکشیدہ۔ پھل لطیف و خوش گوار۔ پھول نازک و قَطع دار۔ رَوِشیں بِلّور کی۔ نہریں نور کی۔ حوض و نہر میں فوارے جاری۔ چمنوں میں بادِ بہاری۔ موسَم کی تاک میں، تاک کا مستوں کی روش جھومنا۔ غُنچۂ سربستہ کا منہ تاک تاک کے، نسیم کا چومنا۔ انگور کے خوشوں میں دلِ آبلہ دار کا پتا۔ زَربَفت کی تھیلیاں چڑھیں، نگہبانی کو گوشوں میں باغبانِیاں اَلمَست کھڑیں۔\n\nہر تختہ ہرا بھرا۔ رَوِش کے برابر چینی کی ناندوں میں درختِ گُل دار مُعنبر و مُعطّر۔ بیلا، چنبیلی، موتیا، موگرا، مَدَن بان؛ جوہی، کیتکی، کیوڑا، نسرین و نَستَرَن کی نِرالی آن بان۔ ایک سمت تختوں میں لالہ خوفِ خزاں سے با دِلِ داغ دار؛ گرد اُس کے نافرمان کی بہار۔ سَرو، شمشاد لبِ ہر جو؛فاختہ اور قُمری کی اُس پر کو کو، حق سِرّہ۔ شاخِ گل پر بلبلِ شوریدہ کا شور۔ چمن میں رقصاں مور۔ کہیں خندۂ کبکِ دَری، کہیں تَدَر و بر سرِ جلوہ گری۔ نہروں میں قاز بلند آواز، تیز پرواز۔ کسی جا بَط اپنے ولولے میں خود غَلَط۔ ایک طرف قَرقَرے۔ دو رویہ درخت گل و بار سے بھرے۔ سیب سے زَنخِ گُلِ عِذاروں کی کیفیت نظر آتی۔ ناشپاتی اور بِہی آسیبِ دستِ باغباں سے بَری۔ ہر شاخ ہری۔ سُنبُلِ مُسلسل میں پیچ و تابِ زُلفِ مَہ وَشاں کا ڈھنگ۔ سوسَن کی اُداہٹ مِسی لَب خوب رویوں کا جوبن دکھاتی۔ داؤدی میں صنعتِ پروردگار عیاں۔ صد برگ میں ہزار جلوے نہاں۔ آم کے درختوں میں کیریاں زمرد نگار۔ مولسری کے درخت سایہ دار۔ باغبانیاں خوب صورت سرگرمِ کار۔ خواجہ سرا اَمرَد اُن کے مددگار۔ حور و غِلماں کا عالَم۔ بیلچے، کھرپیاں جواہر نگار، مرصع ہاتھوں میں باہم۔ درخت اور روشوں کو دیکھتی بھالتی، گل و بار چمن سے چُنتی؛ گلا برگ، سڑا بار، جھڑا پڑا خار صحنِ چمن سے نکالتی پھرتی تھیں۔\n\nبیچ میں بارہ دری پُر شوکت و با رِفعت و شان، پرستان کا سا مکان۔ ہر کمرا سجا سجایا، صَنّاعِ نادِر دست کا بنایا۔ غُلام گردش کے آگے چبوترا سنگِ مرمر کا۔ حوض مُصفّیٰ پانی سے چھلکتا۔ فرش یک لخت افشاں پتھر کا۔ شامیانہ تمامی کا تنا۔ سفید بادلے کی جھالر، کلابتون کی ڈوریاں، سراسر مُغَرّق بنا۔ چودھویں رات، ابر کھلا، آسمان صاف، شبِ ماہ؛ سامان اِس کا تکلف کا، برسات کی چاندنی، سبحان اللہ! فواروں کے خزانے میں بادلا کَٹا پڑا، ہزارے کا فوارہ چڑھا۔ پانی کے ساتھ بادلے کی چمک، ہوا میں پھولوں کی مہک۔ فوارے نے زمین کو ہمسرِ آسماں بنایا تھا؛ ستاروں کے بدلے، بادلے کے تاروں کو بِچھایا تھا۔ بڑی چمک دمک سے ملکہ کے مکان پر چاندنی دیکھنے کا سامان تھا۔ شہ زادے کے آنے کا کسے گُمان تھا۔ غرض کہ جان عالم کو لے جا، شامیانے کے تلے مسندِ جواہر نگار پر بٹھایا۔ شرابِ ارغوانی و زعفرانی کی گُلابیاں کشتیوں میں لے کر، وہ وہ زَنِ پری پیکر زیب دِہِ انجمن ہوئی کہ بطِ مے رشک و خَجالت سے بحرِ ندامت میں غوطہ زن ہوئی۔ ایک طرف جام و سَبو، ایک سمت نغمہ سرایانِ خوب رو و خوش گُلو۔ سفید سفید صوفیانی پوشاک، سر سے پاؤں تک الماس کا زیور، دو رویہ صف باندھ کر کھڑی ہوئیں۔ اِن کے بیٹھتے ہی گانا ناچ شروع ہوا۔ سارنگی کے سُر کی زوں ٹوں کی صدا چرخ پر زہرہ کے گوش زَد ہوتی تھی۔ طبلے کی تھاپ، بائیں کی گُمگ خُفتگانِ خاک کا صبر و قرار کھوتی تھی۔ ہر تان اُپَج تان سین پر طعن کرتی۔ باربَد اور نِکیسا کے ہوش پَرّاں تھے۔ چھجّو خاں کو غش تھا، غلام رسول حیراں تھے۔ زَمزَمے اور تحریرِ گِٹکِری پر شوری زور شور سے ہاتھ ملتا تھا۔ ہر پسے فقرے اور سُر کے پلٹے پر الٰہی بخش پوربی کا جی نکلتا تھا۔\n\nناچنے کو ایسے ایسے برق وَش آئے اور اِس تال و سَم سے گھنگرو بجائے کہ للّوجی شرمائے۔ کَتھک جو بڑے استاد اَتھَک تھے، انھوں نے سَم کھائے۔ ٹھوکر، مردہ دلوں کی مسیحائی کرتی تھی۔ گَت کے ہاتھ پر یہ گَت تھی کہ مجلس کفِ افسوس ملتی تھی اور دمِ سَرد بھرتی تھی۔\n\nجب ہنگامۂ صحبت بہ ایٖں نوبت پہنچا کہ راجا اِندَر کی محفل کا جلسہ نظر سے گر گیا، بہشت کا سامان پیش چشم پھر گیا؛ اُس وقت ملکہ مہر نگار نے گلاس شراب سے بھر کر شہزادے کو دیا، کہا: اِسے اُلُش کر دیجیے، تا رنجِ سفر خاطرِ انور سے دور ہو، مجھے استفسارِ حال ضرور ہے۔ جان عالم نے بہ اسبابِ ظاہر انکار کیا۔ مہرنگار نے کہا: آپ دل شِکنی بُری جانتے ہیں، اِس پہلوتہی کرنے میں ملالِ خاطر کے سوا کیا مُتَصوّر ہے؟ شہ زادے نے مسکرا کر ساغَر ہاتھ میں لیا، یہ شعر پڑھ کر باطبع شِگُفتہ پِیا، انشاؔ:\n\nگر یار مے پلائے تو پھر کیوں نہ پیجیے\n\nزاہد نہیں میں شیخ نہیں، کچھ ولی نہیں\n\nپھر جان عالم نے جام لَبالَب اپنے ہاتھ سے بھر کر ملکہ کو دیا۔ دَورِ جام بے دَغدَغَۂ نیرنگیِ اَیام چل نکلا۔ دو چار ساغَر آبِ آتَش رنگ جوانی کی ترنگ میں پیہم و متواتر جو پیے، دونوں کو گونہ سرور ہوا۔ رنج سفر اِدھر سے، تمیز و خیالِ خیر و شر اُدھر سے دور ہوا۔ اُس وقت جان عالم نے کہا، میر دردؔ:\n\nساقیا! یہاں لگ رہا ہے چَل چَلاؤ\n\nجب تلک بس چل سکے، ساغَر چلے\n\nیہ سن کر، وہی خَواصِ گرما گرم، جس نے شہ زادے سے پہلے گفتگو کی تھی، ملکہ کی بہت مُنہ لگی تھی، آنکھ ملا کر بولی، بقاؔ:\n\nلطفِ شبِ مہ اے ‌دل! اُس دم تجھے حاصل ہو\n\nایک چاند‌ بغل میں ہو، ایک چاند مُقابل ہو\n\nملکہ نے بہ حسرت فرمایا کہ مُردار! ہم تیری چھیڑ چھاڑ سب سمجھتے ہیں، کیا کریں افسوس کی جا ہے! حال اپنا مُوافقِ قولِ سوداؔ ہے، رفیع سوداؔ:\n\nجو طبیب اپنا تھا، دل اُس کا ‌کسی پر زار ہے\n\nمُژدہ باد اے مرگ! عیسی آپ ہی بیمار ہے\n\nجان عالم نے یہ سُن کر، اسی خَواص کو سُنا کے مُتنَبِّہ کیا، استاد:\n\nمیں مسافر ہوں، مجھ‌سے دل نہ لگا\n\nکیا بھروسا مرا، رہا نہ رہا\n\nملکہ ٹال کر حال پوچھنے لگی، کہا: تم کو قسم ہے پروردگارِ عالم کی، سچ کہو، تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کس کی تلاش میں خود رَفتہ، گھبرائے ہو؟ اس وقت جان عالم کو بجُز راستی، مفر نظر نہ آیا، کہا: ملکہ! میں شاہ فیروز بخت کا بیٹا ہوں، جان عالم نام ہے۔ سرزمین خُتَن وطن ہے۔ فُسْحَت آباد بیت السلطنت کا‌ مقام ہے۔ میں نے ایک توتا مُول لیا تھا، بہت طَرّار، سحر گُفتار۔ اس کی زبان سے شہرۂ حسنِ انجمن آرا سن کے؛ نادیدہ دیوانہ وار بے قرار، بیاباں مرگ، آوارہ وطن، موردِ رنج و مِحَن ہوا ہوں۔ پھر توتے کا راہ میں اڑ جانا، وزیر زادے کا پتا نہ پانا، شِمّہ بیانِ گرفتاریِ طلسم اور اپنی خواری، جادوگرنی کا نقشِ سلیمانی دینا اور اپنا رستہ لینا کہہ کر کہا: بے مُلکِ زرنگار پہنچے نہ جان کو چین ہے نہ دل کو قرار ہے، زیست بے کار ہے۔ اور یہ غزل پڑھی، مؤلف:\n\nبہ سوزِ شمع رویاں، اِس طرح کا سینہ سوزاں ہوں\n\nکہ رفتہ رفتہ آخر جلوۂ سروِ چراغاں ہوں\n\nنسیمِ صبح ہوں، یا بوئے گل، یا شمع سوزاں ہوں\n\nمیں ہوں جس رنگ میں پیارے، غرض دم بھر کا مہماں ہوں\n\nنہ پھل پایا لگانے کا، بجز افسوس و حسرت کے\n\nمیں نخلِ بے ثمر کس مرتبہ مردودِ دہقاں ہوں\n\nعبث تدبیر ہے گور و کفن کی اس کے کوچے میں\n\nمیں ننگِ دو جہاں، ننگے ہی رکھ دینے کا شایاں ہوں\n\nنہ مرتے مرتے منہ پھیرا محبت سے کبھی میں نے\n\nجفائیں جس قدر جھیلیں، وفا پر اپنی نازاں ہوں\n\nتنی رہتی ہے اکثر چادرِ مہتاب تربت پر\n\nکہ تا معلوم ہو سب کو، قتیل مہ جبیناں ہوں\n\nسرورِؔ غم رسیدہ ہوں، مجھے طوفان محشر میں\n\nتِرانا تو ہی خاوندا! غریق بحر عصیاں ہوں\n\nملکہ نے جب سنا کہ یہ فریفتۂ جمالِ پری تمثالِ انجمن آرا ہے؛ آہِ دل دوز، نعرۂ جاں سوز کھینچ کر رونے لگی، امید قطع ہوئی۔ جان عالم نے بے قرار ہو کے کہا کہ اَیں ملکہ مہرنگار، خیر باشد! ملکہ نے اسی بے تابی میں جواب دیا، استاد:\n\nمائل اس فتنہ عالم پہ کیا جو مجھ کو\n\nسوئے بیداد مگر مرضیِ دَوراں آئی\n\nچاک دل تک تو کچھ اے دست جنوں، پردہ تھا\n\nیہ کھلا اب تو کہ نوبت بہ گرِیباں آئی\n\nاے شہزادہ والا تَبار، غارت گرِ کشور دل، عاشق زار! میرا حال سن، مصر؏:\n\nعجیب واقعہ و طُرفہ ماجرایے ہست\n\nباپ میرا بھی شہنشاہ تھا، بہت سے تاج دار باج گزار تھے، مگر ابتدا سے طبیعت مُتَوجِّہِ فقر اور عبادت کی عادت تھی۔ آخِرکار، کارخانہ دنیائے دوں ہیچ و پُوچ جان کے، عزمِ وارَستگی ٹھان کے بَرزَباں ہر آن تھا، سوزؔ:\n\nجب ہیچ ہی ہم بوجھ چکے وضعِ جہاں کو\n\nغم ہیچ، الم ہیچ، طرب ہیچ، عطا ہیچ\n\nاور حکومت کا بکھیڑا چھوڑا۔ معاملہ سلطنت بے کار جان اور بے ثَباتیِ جہانِ گذَراں مد نظر کر؛ دنیا سے ہاتھ اٹھایا، بادشاہت کو مٹایا، آبادی سے منہ موڑا، اس صحرائے پُرخار میں مکان بنا کے بیٹھ رہا۔ ہر چند مجھے شادی کو ارشاد کیا؛ میں نے بہ سببِ مفارقت، انکار کیا۔ اب دفعتاً آفتِ آسمانی، بلائے ناگہانی مجھ پر ٹوٹ پڑی کہ بہ یک نگاہ عاشق کیا، دیوانی ہو گئی، ہوش و حواس سے بے گانی ہو گئی۔ میرؔ:\n\nرسوا ہوا، خراب ہوا، مبتلا ہوا\n\nکیا جانیے کہ دیکھتے ہی مجھ کو کیا ہوا\n\nاور تو اس کا عاشق و طلب گار ہے جس کا نظیر اِس زمانے میں ہاتھ آنا بہت دشوار ہے۔ میرؔ:\n\nمحمِل نشیں ہیں کتنے خدامِ یار میں یہاں\n\nلیلیٰ کا ایک ناقہ، سوکس قطار میں یہاں\n\nاب بَجُز مَرگ کیا چارہ! میں ننگ خانماں، خراب کُنِندَۂ خانداں، فقط ذلت و خواری ماں باپ کی اور گریہ و زاری اپنی چاہتی تھی۔ صبح تو کہاں، میں کہاں! یہ صحبتِ شب خواب ہو جائے گی۔ نَمودِ سحرِ مفارقت شامِ غُربت کا رنگ دکھائے گی۔ دامنِ سحر کی طرح گریبانِ صَبر چاک ہو گا، ہمارے سر پر آفت و خرابی آئے گی۔ انصاف کیجیے، کس سے کہوں گی: بے قراری ستاتی ہے؛ جان عالم کی جدائی سے روح بدن سے جدا ہوتی ہے، جان جاتی ہے۔ ہم صحبتیں طعنے دیں گی۔ انیسیں چھیڑ چھیڑ کر جان لیں گی۔ جب لونڈیوں پر خفا ہوں گی؛ بَڑبڑائیں گی، زبان پر یہ کلمہ لائیں گی: ملکہ عاشقی کا رنج و ملال یوں درپردہ ٹالتی ہیں۔ شہ زادہ چلا گیا، نہ رک سکا، اُس سے تو بس نہ چلا؛ ہم جو بے بس ہیں، بس غصے کی جھانجھ ہم پر نکالتی ہیں۔ باپ پر حال کھلا تو خَجالت ہو گی! ماں نے گر سنا، تو ندامت سے کیاحالت ہو گی! رسوائی کے خَوف سے دل کھول کر نہ رو سکوں گی۔ بدنامی کے ڈر سے جی نہ کھو سکوں گی۔ جب دلِ بے تاب ہجر سے گھبرائے گا، فرمایئے کون تسکین فرمائے گا؟ کیا کہہ کے سمجھائے گا؟ آپ اُدھر تشریف لے جائیں گے، ہم اِدھر غمِ فرقت سے گھٹ گھٹ کر مر جائیں گے۔ ہماری سَرنَوِشْت پر رونا روا ہے۔ ماجرا ہمارا عبرت اور حیرت افزا ہے۔ ہر چند ظِل سبحانی عاملِ بے بدل، ساحرِبے مثل ہیں؛ عُلوی، سِفلی سب کچھ پڑھالکھا؛ ہماری پیشانی اور لوحِ جبیٖں کی تحریر نہ دیکھی کہ کیا پیش آنی ہے! اور خط شکستہ سے ایسے نستعلیق نے کیا بُرا لکھا ہے! افسوس، صَد افسوس! مؤلف:\n\nوہ بھی ہو گا کوئی، امید بر آئی جس کی\n\nاپنے مطلب تو نہ اس چَرخِ کہن سے نکلے\n\nیہ باتیں کر، دل پر ہاتھ دھر رُونے لگی۔ دامن و گریباں آنسوؤں سے بھگونے لگی۔ شہزادے کو ثابت کیا، یقین ہوا: ملکہ بہ شِدّت فرِیفتہ و شیدا ہے، بات سے حزن و ملال پیدا ہے۔ دل دُکھنے کے مزے سے زبان لذت پاچکی تھی، جان ہجر کے صدمے اٹھا چکی تھی۔ بے چین ہو کر بولا، زبان کو تسکین کی باتوں میں کھولا، کہا: آپ کا کدھر خیال ہے، بندہ فرماں بردار بہر حال ہے۔ جو کہو گی، بجا لاؤں گا۔ بارِ اطاعت سے سر نہ اٹھاؤں گا؛ مگر برائے چندے صبر، دل پر جبر ضرور ہے۔ اگر اس کی جستجو میں نہ جاؤں گا؛ تمھیں میری کیا امید ہو گی، ہم چشموں سے آنکھ کیوں کر ملاؤں گا؟\n\nسبحان اللہ! وہ وقت دیکھا چاہیے کہ معشوق، عاشق کی تسکین کرے۔ اپنی اطاعت اس کے ذہن نشین کرے۔ خوش قسمتوں کو ایسے بھی مل جاتے ہیں کہ عاشق کے رنج کا غم کھاتے ہیں، دل داری کر کے سمجھاتے ہیں۔ اس کا لوگ رشک کرتے ہیں، آتش حسد سے جل مرتے ہیں۔\n\nملکہ یہ سن کر دل میں شاد، بندِ فکرِغم سے آزاد ہوئی۔ یہ بات امتحان کی ہے: جیسے جی پیار کرتا ہے وہ اگر جھوٹ بھی بولے، عاشق کو سچ کیا، بہ منزلہ حدیث و آیت ہو جاتا ہے؛ مگر یہ کہا، مصحفی:\n\nعاشق سے بھی ہوتا ہے کہیں صبر و تحمل\n\nوہ کام تو کہتا ہے جو آتا نہیں مجھ کو\n\nلیکن خیر، ہم تو اسے بھی جھیل لیں، یہ کھیل بھی کھیل لیں؛ اگر ہماری یاد تمھیں فراموش نہ ہو، وحشت کا جوش نہ ہو۔ جان عالم نے قسمیں شدید کھائیں، اختلاط کی باتیں درمیان میں آئیں کہ اس میں سر مو فرق نہ ہو گا اور مژدۂ وصل سے مسرور کیا، خیالِ مفارقت ملکہ کے دل سے دور کیا، کہا: اب ہنسی خوشی کی باتیں کرو، یہ بکھیڑاجانے دو، جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے، رات تھوڑی، کہانی بڑی ہے۔ فلکِ سِفلَہ پرور جفا کیش ہے، عاشق و معشوق کا بد اندِیش ہے۔ استاد:\n\nبہ شبِ وصل شکوہ ہا مَکنید\n\nشب کوتاہ و قصہ بسیار است\n\nمگر شبِ وصْل ازل سے کوتاہ ہے، خدا گواہ ہے۔ دو کلمے ہنسی کے خوشی سے نہ ہونے پائے، فلک نے رونے کے سامان دکھائے۔ یکایک مرغ سحر ’’بیدار باش‘‘ پکارا، زاہد ندائے ’’اللہ اکبر‘‘ سنا کے للکارا۔ گَجَر کی آواز بھی دونوں کے کان میں آئی۔ یَساوُلانِ سلطانِ خاور نے صبح کی دھوم مچائی۔ ملکہ پریشان ہو کر بولی، مؤلف:\n\nوصل کی شب چونک اٹھے ہم، سن کے زاہد کی صدا\n\nیاں دمِ تکبیر ہی، اللہ اکبر ہو گیا\n\nوَلَہ:\n\nزاہد بھی تیسرا ہے شب وصل میں حریف\n\nمشہور گو جہان میں صبح و خروس ہے\n\nجان عالم نے نماز صبح پڑھ کر، کمر بہ عزمِ سفر چست کی۔ ملکہ سہم کر، آبدیدہ ہو، یہ شعر پڑھنے لگی، جرأتؔ:\n\nنہ آیا اور کچھ اس چرخ کو، آیا تو یہ آیا\n\nگھٹانا وصل کی شب کا، بڑھانا روزِ ہجراں کا\n\nجب شہ زادے نے چلنے کا قَصد کیا، ملکہ نے کہا: اگر حَرج مُتَصَور نہ ہو، میرے والد سے ملاقات کر لو۔ یہ اَمر فائدے سے خالی، لا اُبالی نہ ہو گا۔ جان عالم نے کہا: بہتر ہے۔ پھر وہی خَواص ہمراہ ہوئی۔ جب قریب پہنچا، دیکھا: مکان پاکیزہ، بُوریائے بے رِیا بچھا ہے، مُصلّے پر ایک مرد مہذب، بہ ذِکرِ حق مشغول، با دلِ ملول بیٹھا ہے۔ یہ رسمِ سلام بجا لایا۔ اُس نے دعائے خیر دے کر ہاتھ بڑھایا، چھاتی سے لگایا۔ قریب بِٹھا کے فرمایا: ماجرائے شبِ تیٖرۂ ملکہ، فقیر پر روشن ہے۔ ایسی بد قسمت دوسری، خَلق میں خَلق نہیں ہوئی۔ ہمارے کہنے سے انکار کیا؛ بڑے بول کا سر نیچا ہوا، تو تم سے کیا کیا دار و مَدار کیا۔ جو تم اِتنی تسکین نہ کرتے، اُس کا زندہ رہنا مُحال تھا، اِسی طرح کا دل پر صدمہ اور ملال تھا۔ اگر ایٖفائے وعدہ کرو گے، اللہ بھلا کرے گا؛ وگرنہ یہ رنج بُرا ہے، دیکھیے اُس کا حال کیا کرے گا۔ دِل داری جگر فِگاروں کی، عَیادت مَرضِ مَحبّت کے بیماروں کی جواں مردوں پر فرض ہے۔ یہ سمجھنا: ساحل را از خَس و خاشاک گُذار و گُل را از صحبتِ خار ننگ و عار نمی باشد۔\n\nشہ زادے نے سر جھکا عرض کی: آپ کیوں محجوب فرماتے ہیں، مجبور ہوں۔ اِس عزم میں گھر چھوڑا۔ عزیزوں، یگانوں سے ترک کر شہر سے مُنہ موڑا۔ نہ جانے میں وہ جانیں گے: سخت کم ہمّت و بے جُرأت تھا، راہ میں آسائش ملی، بیٹھ رہا۔ خوف سے جا نہ سکا، جھوٹا تھا، ناحق عشق کا دم بھرا۔ پیر مرد نے فرمایا: مرحبا! جزاک اللہ! یہی شرط جواں مردی و ثابِت قدمی کی ہے۔ ہمیں بھی تمھارے اس عزم سے ایفائے وعدہ کی امید ہوئی۔ پھر ایک لوح عنایت کی اور کہا: جب کوئی مُہِم سخت رو بہ کار ہو؛ بہ طرزِ فال، اُس حال میں اِسے دیکھنا۔ جو نکلے، اُس پر عمل کرنا۔ اللہ تعالیٰ وہ مشکل سخت ایک آن میں آسان کرے گا۔ لو، بہ حِفظِ حافِظِ حقیقی سِپُردم۔ فَرْد:\n\nبسفر رَفتَنَت مبارک باد\n\nبسلامت روی و باز آئی\n\nشہزادہ رخصت ہوا۔ لَوح لے کے ملکہ کے پاس آیا، اُس روشن ضمیر کا ارشاد سُنایا اور یہ زبان پر لایا، مُؤَلِّف:\n\nکوچ کی اپنے اب تیاری ہے\n\nتیرا حافظ جنابِ باری ہے\n\nملکۂ ناکام گردِشِ اَیّام دیکھ اور یہ کلمہ جاں کاہ سن کر، کلیجا تھام، سرِ شُوریدہ کو دھُن کر یہ شعر پڑھنے لگی، استاد:\n\nمیں مر گئی، سُن اُس کے سَر انجام سفر کا\n\nآغاز ہی دیکھا نہ کچھ انجام سفر کا\n\nکہتے ہیں وہ اب جاتا ہے، ایسی ہی دُعا کر\n\nمسدود ہو رستہ دل ناکام، سفر کا\n\nمت جان نکمّا مجھے اے جان، لیے چل\n\nکرتی چلوں گی ساتھ ترے کام سفر کا\n\nمیں کشورِ ہستی ہی سے اب کوچ کروں گی\n\nآگے نہ مرے لیجیو تو نام سفر کا\n\nچلنے کی صلاح اس کے ٹھہرتی نہیں اب ساتھ\n\nموقوف نوازشؔ ہوا آرام سفر کا\n\nآخر جبراً قہراً رخصت کیا۔ کہا: خدا حافظ، امام ضامنِ ثامن کے حفظ میں سونپا۔ مصر؏:\n\nترا موسیٰ رضا ضامن، ترا اللہ والی ہے\n\nجس طرح پیٹھ دکھاتے ہو، اسی صورت اللہ تمھارا منہ دکھائے، غمِ دوری ہمارا دور ہو جائے۔ جان عالم یہ سن کر روانہ ہوا۔ یہاں تپش دل کو بہانہ ہوا۔ دریائے سَرِشک چشم خوں پالا سے موج زن ہوا، غریق لُجّۂ مفارقت جان و تن ہوا۔ جلیسیں بولیں: ملکہ! کیوں جی کھوتی ہو! کس واسطے بلک بلک کر روتی ہو! مسافر کے پیچھے رونا زبوں از حد ہے۔ بی بی خیر ہے! یہ شگونِ بد ہے۔ وہ دن بھی اللہ دکھائے گا، جو وہ پردیسی صحیح سلامت خیر سے پھر آئے گا؛ تو ان کو وہ غم کی ماری یہ سمجھاتی، سوزؔ:\n\nچشم کا کام، اشک باری ہے\n\nچشمۂ فیض ہے کہ جاری ہے\n\nمُولِف:\n\nبے درد کوئی اتنا سمجھتا نہیں ہے ہے!\n\nدل دکھے تو کس طرح سے فریاد نہ ہووے\n\nولہٗ:\n\nمجھ کو رونے کو نہ تم منع کرو ہم نفسو!\n\nغم دل کرتی ہوں میں دیدۂ تر سے خالی\n\nاور جب آنسو کمی کرتے تو دل اور جگر سینے میں برہمی کرتے؛ اُس وقت گھبرا کے یہ کہتی، مولف:\n\nمدد اے سوز جگر! تاکہ نہ ہووے خفت\n\nنوک مژگاں ہوئی پھر لخت جگر سے خالی\n\nپھر نہ منہ اس نے کیا میری طرف، ہے ظالم!\n\nسخت تم بھی مرے نالو، ہو اثر سے خالی\n\nنہ لگا اس کو، مری بات کو تو مان سرورؔ!\n\nدل کا لگنا، نہیں اے یار، ضرر سے خالی\n\nغرض کہ جوں جوں شہ زادے کی مفارقت بڑھتی تھی ملکہ صدمۂ ہجر سے ووں ووں گھٹتی تھی۔ بدر سا چہرہ کاہیدہ ہو کے ہلال ہوا۔ تپِ جدائی سے عجب حال ہوا۔ کبھی کہتی تھی: وائے ناکامی! اگر دل کا حال کہوں، شرم آتی ہے؛ جو چپ رہوں جان جاتی ہے۔ یہ سب کہتے ہوں گے: ملکہ کو غیرت نہیں آتی، راہ چلتوں سے بیٹھی ہوئی دل لگاتی ہے؛ آپ روتی ہے، ہمیں مفت رلاتی ہے۔ اس سمجھانے والے کو کہاں سے لاؤں، جسے دل کا حال سناؤں۔ زیست اسی میں ہے جو مر جاؤں۔ اب کون آنسو پونچھ رونے کو منع کرے گا! کون میرے دمِ گرم پر آہِ سرد بھرے گا! پیار سے سر چھاتی پر دھرے گا!\n\nجب ملکہ کا یہ حالِ بتر، چپکے چپکے جی سے باتیں کرنا دیکھ کر، لوگ گھیرتے، دستِ شفقت سر وحشت انگیز پر پھیرتے اور پوچھتے کہ اے جی کی دشمن! ہمیں تو بتا، کہ دل کا حال کیا ہے؟ تو وہ کہتی: اور تو کچھ جانتی نہیں، پر یہ نقشہ ہے: ہاتھ پاؤں سنسناتے ہیں، خود بہ خود غش چلے آتے ہیں۔ دم سینے میں بند ہے، گھبراتا ہے، مکان کاٹے کھاتا ہے۔ باغ ویران، گل و بوٹا خار معلوم ہوتا ہے۔ گھر زنداں، بات کرنا بے کار معلوم ہوتا ہے۔ جان بے قرار ہے، بند بند ٹوٹتا ہے۔ دامن صبر دست استقلال سے چھوٹتا ہے۔ جنگل پسند ہے۔ ویرانے کا جی خواہشمند ہے۔ دشت کا سناٹا بھاتا ہے، بلبل کا نالہ دل دکھاتا ہے۔ خدا جانے کس کی جستجو ہے، دل کو مرغوب قمری کی کو کو ہے۔ تنہائی خوش آتی ہے، آدمیوں کی صورت سے طبیعت نفرت کھاتی ہے۔ سینہ جلتا ہے، دل کو کوئی مَسوس کر مَلتا ہے۔ آنکھ ظاہر میں بند ہوئی جاتی ہے، مگر نیند مطلق نہیں آتی ہے۔ ہاتھ چاہتے ہیں سر دست چاک گریباں دیکھیں۔ پاؤں چل نکلے ہیں کہ بیاباں دیکھیں۔ نل دَمَن کی مثنوی سے ربط ہے۔ لیلی و مجنوں کا قصہ پڑھتی ہوں، یہ کیا خبط ہے۔ دل کی تمنا ہے کہ بے قراری کر۔ آنکھیں امڈی ہیں کہ اشک باری کر۔ جہان کی بات سے کان پریشان ہوتے ہیں، مگر جان عالم کا ذکر دل لگا کر سنتی ہوں۔ جو کوئی سمجھاتا ہے؛ رونا چلا آتا ہے، سر دھنتی ہوں۔ ناکامی، مجھ خستہ و پریشاں کا کام ہے۔ آہ، مجھ بے سروساماں کا تکیہ کلام ہے۔ منہ کی رونق جاتی رہی، زردی چھا گئی، بہار حسن پر خزاں آ گئی۔ ہر دم لب پر آہ سرد ہے، ایک دل ہے اور ہزار طرح کا درد ہے۔ جان جانے کاوسواس نہیں، بزرگوں کا لحاظ و پاس نہیں۔ زیور طوق و سلاسل ہے، زیب و زینت سے بدمزگی حاصل ہے۔ دل و جگر میں گھاؤ ہے۔ بگاڑنا، بناؤ ہے۔ بستر نرم خارخار ہے؛ ارے لوگو، یہ کیا آزار ہے! سب سے آنکھ چراتی ہوں، ہم صحبتوں سے شرماتی ہوں۔ اب صدمے اٹھانے کا یارا نہیں۔ بے موت اس بکھیڑے سے چھٹکارا نہیں۔ عجیب حال ہے، اکثر یہ خیال ہے، مولف:\n\nافسوس! یہ حال ایک عالم دیکھے\n\nایسا نہ ہوا کہ جان عالم دیکھے\n\nاگر اسی کا عشق و عاشقی نام ہے تو میں درگزری، میرا سلام ہے۔ جو لوگ عشق کرتے تھے، کیوں کر جیتے تھے؟ بتاؤ تو کیا کھاتے تھے، کیا پیتے تھے؟ دو دن سے کچھ نہیں کھایا، مگر پیٹ بھرا ہے۔ کھڑی ہوں، جی بیٹھا جاتا ہے۔ پہلے مجھے نہ منع کیا، ہے ہے! میری جان کے دشمنو، یہ کیا کیا! اللہ کی مرضی، جیسا کیا ویسا بھگتیں گے، کسی کا کیا بگڑا۔ میری قسمت کا لکھا، جو کیا، وہ اچھا کیا۔\n\nیہ سن کے ایک کھیلی کھائی، عشق کے نیرنگ دیکھی، وصل کے ہجر میں صدمے اٹھائی، قریب آئی، کہا: قربان جاؤں، واری، ابھی سلامتی سے نو گرفتاری ہے جو اتنی آہ و زاری اور بے قراری ہے۔ سہتے سہتے عادت ہو جائے گئی تو تسکین آئے گی۔ ان باتوں کے سننے سے چوٹ سی لگی۔ ملکہ کا دل جو بھر آیا، بے اختیار خو نابہ دل، لخت جگر چشم تر سے متصل بہانے لگی۔ دیدۂ دیدار طلب سے سمندر کی لہر لہرانے لگی۔ نظم میں دل کا حال سنانے لگی، مولف:\n\nحالت ہے اس کی پارے کی، برق و شرار کی\n\nکیا کیا تڑپ سناؤں دل بے قرار کی\n\nپھوٹے تپش سے دل کی یہ سب آبلے میرے\n\nمنّت کشی نہ کرنی پڑی نوک خار کی\n\nدل اپنا قبر میں بھی جلے گا اسی طرح\n\nحاجت رہے گی ہم کو نہ شمع مزار کی\n\nوعدے کی شب کو، دیدۂ اختر جھپک گئے\n\nدیتے مثل ہیں لوگ مرے انتظار کی\n\nلے جائیو ادھر سے جنازہ مرا سرورؔ\n\nحسرت بھری ہے دل میں مرے کوئے یار کی", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%B1%D9%90%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D8%B1%D9%90%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%90_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "فسانۂ عجائب/زمزمہ پردازی عندلیب نغمہ سرا کی", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "زمزمہ پردازی عندلیب نغمہ سرا کی گلشنِ حال سلطان ابو المظفر، شاہِ زمن، قُباد شوکت، وارثِ دود مانِ سعادت میں\n\nپس از حمدِ خدا و نعت سرور انبیا، لازم و ضرور ہے کہ مدحِ والیِ ملک بیان کرے۔ قَولُہُ تَعالی: أَطِیعُواْ اللہَ وَأَطِیعُواْ الرّسُولَ وَأُوْلِی الأَمْرِ مِنکُمْ۝ اگرچہ صفتِ شاہ گدا کی زبان بہ مَعرِضِ بیاں لائے تو ’’چھوٹا منہ بڑی بات‘‘ تمام کائنات کہنے لگے، مگر نامِ نامی، توصیفِ ذاتِ گرامی اس کی، وسیلہ تَوقیر اس تحریر کا اور مِفتاح باب اس پریشاں تقریر کا جان کر، شِمہ از شمائل و ذرہ از خورشیدِ خَصائل رقم کرتا ہوں۔\n\nشاہِ کَیواں بارگاہ، بلند مرتبہ، عالی جاہ، سرحلقہ شاہانِ والا تَبار، جَم شوکت، فَریدوں فَر، سلیمانِ اقتدار، کشور گیر، مُلک سِتاں، خَدیو گیہاں، ابو المظفر، مُعِز الدین، شاہِ زَمَن غازی الدین حیدر بادشاہ خلد اللہ ملکہ و سلطنتہ وأیدہُ اللہ بالنصر والظفر جلَّ جلالہٗ۔\n\nاگر معرکہ رزم یا صحبتِ بزم اس کی افشا کروں، صفحہ دنیا پر نہ لکھ سکوں۔ دمِ رزم رستم و سام و نریمان مثلِ پیر زال لرزاں اور وقت سخا اور عطائے زر و مال حاتم کے ہاتھ میں کاسہ سوال۔ بزم طرب میں زہرہ اور مشتری سرگرمِ نغمہ پردازی و عَربدہ سازی۔ ہنگامِ عتاب و خشم مریخ مستعد جلادی و بیدادی۔ یہ ادنیٰ عنایت ہے۔ بیت:\n\nچناں بموسم سرما دوشالہ ہا بخشید\n\nکہ گرم شد ہمہ بنگالہ، سرد شد کشمیر\n\nبس کہ سحاب بخشش اس بحر عطا کا روز و شب مزرعۂ کہ و مِہ پر بارش رکھتا ہے، شہر میں سالہا کان مشتاق سائل کی صدا کا اور دیدہ ندیدہ صورتِ گدا کا رہتا ہے۔ بحر موّاجِ فیض دن رات بہتا ہے۔ عدل یہ کہ ہاتھی، چیونٹی سے ڈرتا ہے۔ شیر، بکری کی اطاعت کا دم بھرتا ہے۔ بچشم اس کے عہد دولت میں ہزاروں نے دیکھا ہے: بکری شیر کے بچے کو شِیر پلاتی تھی، کنار میں شفقت سے سلاتی تھی۔ باز تیز پرواز بچۂ کُنجشک کا دَم ساز اور نگہباں۔ بلی کی عادت جبلّی یہ کہ کبوتر سے ہراساں۔ دودِ دلِ اندوہ ناک روزنِ ہر خانہ سے مسدود۔ شحنہ داد رخنہ بندیِ فساد کو موجود۔ اللہ تعالیٰ اس امیدگاہ عالم اور عالمیاں کو اپنے حفظ و امان میں سلامت رکھے۔ دولت خواہ اس والا جاہ کے بہ عیش و شادی مدام اور دشمنِ رو سیاہ بہ رنج نامرادی گرفتارِ آلام رہیں، بہ حقِ ربِ ذُو المنَن، بہ تصدّق پنجتن۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%B2%D9%85%D8%B2%D9%85%DB%81_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%D8%B9%D9%86%D8%AF%D9%84%DB%8C%D8%A8_%D9%86%D8%BA%D9%85%DB%81_%D8%B3%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "فسانۂ عجائب/شرح جگر خراشیٔ مصائب دیدۂ روزگار", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "شرح جگر خراشیِ مصائب دیدۂ روزگار\n\n یعنی ملکہ مہر نگار کی۔ تڑپ، بے قراری، نالۂ نیم شبی اور اشکباری\n\nاُس مصیبت شِعار کی۔ دو ایک جملۂ مُعترضۂ پُر شکایت، کشش محبت کی حکایت\n\nنظم:\n\nکدھر ہے تو اے ساقیِ بے خبر\n\nنہ کی لطف سے غم زدوں پر نظر\n\nہوا حال شادی کا سب اختتام\n\nمگر غم کا قصہ ہے وہ ناتمام\n\nتپش سے، تڑپ سے تو کر دے بہم\n\nکہ لکھتا ہوں پھر داستانِ الم\n\nخوشی سے، مجھے رنج مرغوب ہے\n\nیہ مونس ہے، ہم دم بہت خوب ہے\n\nیہی ساتھ دیتا شب و روز ہے\n\nیہ غم، عاشقوں کا غم اندوز ہے\n\nنالہ نوازانِ بزمِ ماتم و تَفتَہ جگرانِ کُلبۂ غم، حا کیانِ حکایتِ حُزن و ملال و نثّارانِ دل خوں، آشُفتہ حال لکھتے ہیں کہ اُس بے سر و ساماں، کُشتۂ ہجراں، دور از دِل دار و ہم قرین غم، رونا دیدۂ شادی، بوریا نشینِ ماتم، دِل رِیش، سینہ فِگار یعنی ملکہ مہر نگار کا فُرقت میں یہ حال ہوا، اُستاد:\n\nیاں تک کہ اُٹھانے کا وقت اپنے، قریب آیا\n\nاِس پر، مرے بالیں پر تم اُٹھ کے نہ آ بیٹھے\n\nمیں نام ترا لے لے دن رات جو چِلّاؤں\n\nاو سُنتے ہوئے بہرے! کیوں کر نہ گلا بیٹھے\n\nجو کوئی کہتا: خیر ہے ملکہ! گھلی جاتی ہو، کیوں اتنا رنج و غم کھاتی ہو! تو یہ کہتی، مصحفی:\n\nغم کھاتی ہوں لیکن مری نیت نہیں بھرتی\n\nکیا غم ہے مزے کا کہ طبیعت نہیں بھرتی\n\nمُؤلف:\n\nنہ پوچھو کچھ مری حالت کہ اس دل کے لگانے سے\n\nپریشاں، سینہ سُوزاں، مُنفعل، سر در گریباں ہوں\n\nایسی باتیں درد آمیز، وحشت انگیز کرتی کہ سُننے والوں کی چھاتی پھٹتی۔ وہ کہتیں: نظر بہ خدا رکھو۔ حسنؔ:\n\nاُسے فضل کرتے، نہیں لگتی بار\n\nنہ ہو اُس سے مایوس، اُمید وار\n\nسوزؔ:\n\nپھر بہار آتی ہے تجھ میں، اے گلستاں! غم نہ کھا\n\nوہ چلی آتی ہے فوجِ عندلیباں، غم نہ کھا\n\nگو کہ شب آخر ہوئی، اے شمع! تو زاری نہ کر\n\nپھر وہی محفل، وہی تیرا شبستاں، غم نہ کھا\n\nوہ سُن کر یہ کہتی کہ میں چراغِ سحری ہوں؛ یقین ہے کہ تا صُبح بزمِ جہاں سے، جل کے، سفری ہوں۔ خسروؔ:\n\nپس ازانکہ من نمانم، بچہ کار خواہی آمد\n\nمُؤلف:\n\nہمارے جان کے جانے میں جب عرصہ رہا تھوڑا\n\nتب اُس کے دل میں آیا دھیان میرے پاس آنے کا\n\nآج تک اُس غفلت شعار، فراموش کار کی کچھ خبر نہ آئی؛ ہم نے غمِ جدائی میں مفت جان گنوائی۔ مُؤلف:\n\nتپِ جُدائی سے اس طرح اب نزار ہوں میں\n\nاجل کے مُنہ سے بھی، غالب ہے، شرمسار ہوں میں\n\nکیا ہے رنجِ جُدائی نے ایسا کاہیدہ\n\nنظر میں خلق کی، رشکِ خطِ غُبار ہوں میں\n\nجو تو وہ گُل ہے کہ عالم کے دل میں ہے تری جا\n\nتو سب کی آنکھ میں کھٹکا کیا، وہ خار ہوں میں\n\nقرار می برد از خلق آہ و زاریِ ما\n\nسُرورؔ! رنج میں کس کے یہ بے قرار ہوں میں\n\nیہ معمول تھا: جب چار گھڑی دن رہتا، سوار ہو کر؛ اُن درختوں میں، جہاں جان عالم سے ملاقات ہوئی تھی، جاتی اور جو جو شریکِ راحت و رنج تھیں، اُن سے مخاطب ہو یہ کہتی، اہلیؔ شیرازی:\n\nخوش آنکہ تو باز آیی و من پای تو بوسم\n\nدر سجدہ فتم، خاکِ قدمہای تو بوسم\n\nہر جا کہ تو روزے نفَسے جای گرفتی\n\nآنجا روم و گریہ کُناں جای تو بوسم\n\nروی تو تصور کنم و لالہ و گل را\n\nدر حسرتِ رخسارِ دل آرای تو بوسم\n\nہر جا کہ غزا لیست، چو مجنوں سر و چشمش\n\nدر آرزوی نرگسِ شہلای تو بوسم\n\nمن اہلیؔ درویش، تو آں شاہِ بُتانی\n\nدستیکہ ببوسم، بہ تمنای تو بوسم\n\nاور کبھی صُبح سے پھرتے پھرتے، قریبِ شام با دلِ ناکام اُسی جنگل میں پھر آتی، یہ غزل زبان پر لاتی، جُرأتؔ:\n\nبہ شکلِ مہر ہے گردش ہی ہم کو سارے دن\n\nجو تم پھر آؤ تو پیارے، پھریں ہمارے دن\n\nنہیں ہے تیرے مریضانِ ہجر کا چارہ\n\nاب اپنی زیست کے بھرتے ہیں یہ بچارے، دن\n\nبہ وصل کیونکے مُبدل ہوں ہجر کے ایام\n\nمگر خدا ہی یہ بگڑے ہوئے سنوارے دن\n\nرہے تھا جب کہ ہم آغوش مجھ سے وہ پیارا\n\nعجب مزے کی تھیں راتیں، عجب تھے پیارے دن\n\nکب اُس سے ہو گی ملاقات، میں یہ پوچھوں ہوں\n\nذرا تو دیکھ نجومی! مرے ستارے، دن\n\nلگایا رُوگ جوانی میں کیوں میاں جُرأتؔ\n\nابھی تو کھیل تماشے کے تھے تمھارے دن\n\nرات کو بہ حالِ بے قرار وہ سوگوار ناچار گھر آتی۔ تمام شب کراہ کراہ، سب کو جگاتی اور یہ سُناتی، اُستاد:\n\nحرام نیند کی، اقرارِ وصلِ جاناں نے\n\nالٰہی! کوئی کسی کا اُمیدوار نہ ہو\n\nوہ رات جسے شبِ فُرقت کہتے ہیں، بے چینی سے پہاڑ ہو جاتی؛ تو وہ غم کی ماری سخت گھبراتی، یہ لب پر لاتی، اُستادؔ:\n\nجیسا شبِ عشرت کو فلک! تو نے گھٹایا\n\nکی جلد نہ فرقت کی، ستم گر، سحر ایسی!\n\nہے ہے! آج نہ صدائے مُرغِ سحر آئی، نہ مُوذِن نے ندائے اللہُ اکبر سُنائی۔ نہ خواب غفلت سے پاسبان کم بخت چونکا اور نیند کی جھونک میں، گھڑیالی بھی گجر کا بجانا بھول گیا۔ جُرأتؔ:\n\nتھے شبِ وصل یہ سب جان کے کھانے والے\n\nآج کیا مر گئے گھڑیال بجانے والے!\n\nشب کو نالہ تھا، دن کو زاری تھی؛ دن رات اُس پر سخت بھاری تھے۔ لوگ کہتے تھے: ملکہ! اللہ کو یاد کرو، کبھی تو دل کو شاد کرو۔ شافی مُطلق تمھارے مرض مُفارقت کو بہ صحتِ وصل بدل کرے؛ اب روزِ وِصال، عنایتِ ذُو الجلال سے قریب ہے؛ تو اُس وقت بہ حسرت یہ کہتی، اُستاد:\n\nشبِ وِصال جو قسمت میں ہے، تو ہووے گی\n\nدُعا کرو، شبِ فرقت تو یہ سحر ہووے\n\nنظم:\n\nمریضِ ہجر کو صحت سے اب تو کام نہیں\n\nاگرچہ صبح کو یہ بچ گیا تو شام نہیں\n\nرکھو و یا نہ رکھو مرہم اس پہ، ہم سمجھے\n\nہمارے زخمِ جُدائی کو اِلتیام نہیں\n\nکیا جو وعدۂ شب اُس نے، دن پہاڑ ہوا\n\nیہ دیکھیو مری شامت کہ ہوتی شام نہیں\n\nوہی اُٹھائے مجھے، جس نے مجھ کو قتل کیا\n\nکہ بہتر اس سے مرے خوں کا انتقام نہیں\n\nاُٹھایا داغِ گُل، افسوس، تم نے دل پہ سُرورؔ\n\nمیں تم سے کہتا تھا، گلشن کو کچھ قیام نہیں\n\nاُستاد:\n\nآخر شبِ وصال کی جا، پیش کی وہی\n\nہر دن تھا اے فلک مجھے جس رات کا خیال\n\nمُعاملاتِ عشق دیکھیے: وہاں شہ زادے کو غم سے فراغ، کیفیتِ باغ، گُل عذار بغل میں، راحت و آرام؛ یہاں ملکہ آتشِ فراق سے با دلِ پُر داغ، آشُفتہ دماغ، خارِ غم جگر میں گرفتارِ رنج و آلام۔ لیکن دردِ دلِ بے قرار، نالۂ جگر افگار رائگاں نہیں جاتا۔ جب تڑپ بلبل کے دل میں زیادہ ہوتی ہے، موسمِ گُل آتا ہے۔ اسی طرح سُوزِ دلِ عاشق جو حد سے فزوں ہو، معشوق رحم کھاتا ہے۔ بھولا ہو، یاد آئے۔ وگر ہجر میں پھڑک کر مر جائے، مطلوب کو نعش پر لائے، اُس کی بھی جان گنواتا ہے۔ حضرتِ عشق دشمنِ جانِ عاشق و معشوق ہیں، ان کا حال کیا کہیں؛چنانچہ یہ نقل ضربُ المثل ہے اور حقیقت میں اصل ہے۔ چشمِ عبرت بیں اور گوشِ شنوا اس کے دیکھنے اور سُننے کو درکار ہے، نیرنگیِ عشق کا اظہار ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%B4%D8%B1%D8%AD_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D9%94_%D9%85%D8%B5%D8%A7%D8%A6%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%B1%D9%88%D8%B2%DA%AF%D8%A7%D8%B1"} {"title": "فسانۂ عجائب/عزمِ وطن شاہ زادۂ جانِ عالم کا", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "عزمِ وطن شاہ زادۂ جان عالم کا، حال بادشاہ کے رنج و غم کا۔ تیاریِ سامانِ سفر بہ صد کرّ و فر۔ بادشاہ کا دور سے نظارہ، ترقیِ اندوہ سے گریبانِ صبر پارہ پارہ۔ اہلِ شہر کی گریہ و زاری، آمدِ سواری\n\nنظم:\n\nچل اے توسنِ خامہ چالاک و چُست\n\nکہ اب بیٹھے بیٹھے، بہت جی ہے سست\n\nجگہ بیٹھ رہنے کی دُنیا نہیں\n\nیہاں خاک بیٹھے کوئی دل حزیں\n\nسفر ہر نفس سب کو رہتا ہے یاں\n\nسرائے فنا بھی عجب ہے مکاں\n\nنہ بیٹھا کبھی جم کے اک جا سُرورؔ\n\nقریبوں سے اپنے رہا دور دور\n\nطے کُنندگانِ مُلکِ معانی و سیاحانِ اقلیمِ خوش بیانی؛ بادیہ پیمایانِ بے تُوشہ، بارِ محبت بر سر؛ راہ نوردانِ ہُوش باختہ، بے راہ بر؛ یادِ دل دار در دل، دین و دُنیا فرامُوش؛ الم ہمراہ، ہر گام نالہ و آہ، تصوُرِ یار ہم آغُوش لکھتے ہیں کہ اُس عازمِ سمتِ معشوقِ عاشق خصال کو چلہ وہیں گزرا، سامانِ سفر تیار ہوا، اب صُبح کو اُس چلہ نشینِ حُجرۂ محبت کی رُخصت ٹھہری۔ سرِ شام با دلِ ناکام، بادشاہ دامنِ سحر کی صورت گرِیبان چاک کر، مع ارکانِ سلطنت دو کوس شہر سے باہر سرِ راہ دامنِ کُوہ پر جا بیٹھا۔ وزیرِ خوش تدبیر سے فرمایا: تم شہ زادے کو رُخصت کرو؛ ہم یہاں سے جُلوسِ سواری، سامان سفر دیکھ لیں گے۔\n\nیہ خبر اہلِ شہر کو معلوم ہوئی۔ تمام خلقت، پانچ برس کا لڑکا، پچانوے برس کا بوڑھا، رنڈی، مرد؛ دوسرے ٹیکرے پر جمع ہوا۔ جھُٹپُٹے وقت جان عالم نے سواری طلب کی۔ ہر کاروں نے حُضور میں عرض کی۔ بادشاہ راہ کی طرف مُتوجہ ہوا۔ روشنی نمود ہوئی۔ پلٹنیں آئیں سجی سجائیں۔ تُوپ خانہ گزرا۔ پھر بارہ ہزار ہاتھی سواری کا، ہودج و عماری کا، ہزار بارہ سَے جنگی، گاڑھا، مست؛ ایک سے ایک زبردست، چاروں بھٹیاں ٹپکتیں، بان، پٹے سونڈوں میں چڑھے، بھسونڈے رنگے، جواہر نگار چوڑی دانتوں پر، طلائی نقرئی زنجیریں کھنکتیں، جھولیں زربفت کی نئی نئی، رسّے کلابتون کے، ہیکلیں جَڑاؤ، مُغرق گجگاہیں پڑیں؛ سری سلمے ستارے کی، پنکھے کا جوبن، ہوا پر دیکھنے والوں کی نگاہیں لڑیں؛ دو رویہ اس انداز کے کہ اگر اصحابِ فیل انھیں دیکھتا؛ خوف کھاتا، کبھی کعبہ ڈھانے نہ آتا۔\n\nفیل بان زربفت کی قبا یا کمخواب کی پہنے، جوڑے دار پگڑیاں باندھے۔ کمر میں پیش قبض یا کٹار، ہاتھوں میں گجباگ جواہر نگار۔ مستوں کے ساتھ دو بوڑی بردار۔ ایک چرکٹا سنڈا، ہاتھ میں ڈنڈا۔ دو برچھے والے، دیکھے بھالے، آگے۔ پیچھے تریَل، قریب سانٹھ مار، برابر دو سوار۔\n\nپھر کئی لاکھ سواروں کے پرے، ہاتھیوں سے پرے پرے۔ سر سے تا پا لوہے کے دریا میں ڈوبے۔ بیس اکیس برس کا ہر شخص کا سِن۔ شباب کی راتیں، جوانی کے دن۔ خود ، بکتر، زِرہ پہنے، بائیں دہنے۔ چار آئینۂ فولادی میں ہر دم روئے مرگ مُعائنہ کرتے، بل سے قدم دھرتے۔ ہاتھوں میں داستانے، خانہ جنگوں کے بانے۔ دو تلواریں: ایک قاشِ زین میں، دوسری ڈاب میں، سیلِ فنا آب میں۔ تپنچے کی جُوڑیاں قُبور میں۔ نشۂ بہادری سے سُرور میں۔ کمر میں قرولی یا کٹار آب دار، سِپر پُشت پر، برچھا ہاتھ میں، تیکھا پن ہر بات میں۔ مثلِ نہنگانِ بحرِ ہیجا و شیرانِ کُنامِ وغا، موچھوں کو تاؤ دیتے، ہر بار نُوک کی لیتے۔ گھوڑے وہ خوش خرام کہ سمندِ سبز فام جن کا قدم دیکھ کے آج تک چال بھولا ہے۔ دیکھنے والے کہتے تھے: چمنِ رواں کیا پھلا پھولا ہے۔ دو صفیں باندھے ہوئے، بیچ میں پنج شاخے روشن: گھوڑے کُداتے، جوبن دکھاتے چلے گئے۔\n\nپھر ہزار بارہ سے سانڈنی سوار خوش رفتار۔ زرد زرد قبائیں در بر، سُرخ پگڑیاں سر پر، آبی بانات کے پاجامے پاؤں میں۔ ہتھیار لگائے، مُہاریں اُٹھائے ستاروں کی چھاؤں میں۔ سانڈنیوں میں دو دو سے کُوس کا دم، ہر قدم گھنگرو کی چھم چھم۔ بُختیِ فلک اب تلک بلبلاتا ہے، جب اُن کا دھیان آتا ہے۔ قدم قدم یہ جب بڑھے تو سواری کے خاص خاصے نظر آئے: عربی، تُرکی، تازی، عراقی، یمنی اور کاٹھیا وار کا دکھنی۔ وہ وہ گھوڑا جو ابلقِ لیل و نہار کی نظر سے نہیں گزرا۔ سبُک رو ایسے کہ جو دریا میں در آئیں: سوار بجرے کا مزہ لوٹیں، سُم کے تلے حباب نہ ٹوٹیں۔ ہڈا نہ مُوترا، نہ رس کا خلل، ڈنک اُجاڑ نہ کھونٹا اُکھاڑ، سانپن نہ ناگن، عقرب نہ ارجل، شب کور نہیں، منہ زور نہیں، کم خُور، نہ مٹھا نہ کھُوٹا، بال بھونری سے صاف۔ حشری نہ کمری، کہنہ لنگ نہیں، سینے کا تنگ نہیں، ہمہ تن اوصاف۔ کسی پر جڑاؤ زین بندھا، الماس، زمُرد کے ہرنے؛ کسی پر چار جامہ دو الگو کسا۔ بنا بنا کر زمین پر پاؤں دھرتے، کودتے پھاندتے، لمبیاں بھرتے۔ کسی کی فقط گردنی اُلٹی، موتیوں کی جھالر لٹکتی۔ گنڈا، پٹا، ساز، یراق جواہر نگار۔ دُمچی طرح دار۔ پرِ ہُما کی کلغی لگی۔ پاکھر پُر تکلف پُٹھوں پر پڑی۔ دوگاما، گام، شہ گام، یرغا، ایبِیا، رہوار، دُلکی کا منجا، اُلیل کرتا۔ جِلو دار چنور لیے مشغول مگس رانی میں۔ ہم رکاب تپائی بردار معقول سر گرم جاں فشانی میں۔ باگ ڈُوریں پُر زر سائیس لے کر نکلے۔\n\nاُن کے بعد نوبت نشان، ماہی مراتب، میگھ ڈَمبَر۔ آگے عَلمِ اژدہا پیکر، جلو میں نُصرت و ظفر۔ بڑا جلوس، نہایت کرّ و فر۔ نوبت کی ندا، جھانجھ کی جھانجھ سے صدا۔ قرنا کا شُور و غُل، شہنا میں بھیرُوں، بِبھاس کے سُر بالکل۔ نقیب اور چوبداروں کی آواز پُر سوز و گُداز۔ عجب کیفیت کا عالم تھا۔ اُدھر نقارہ ہائے شُتری اور فیلی سے گوشِ کرّ و بیاں کَر ہوا جاتا تھا۔ ایک طرف شہر کے لڑکوں کا غول ’’بجا دے بجا دے‘‘ کا غُل مچاتا چلا آتا تھا۔ میر سوزؔ:\n\nکہے تو، مہر و مہ لے کر عصائے نور ہاتھوں میں\n\nیہی کہتے تھے گردوں پر: ادب سے اور تفاوُت سے\n\nپھر شکار کا سامان میر شکار لائے۔ بازِ آہنی چَنگال، باز بچے تیز بال۔ بحری، باشے کے تماشے۔ شاہینِ فولاد مِخلَب، عُقابِ فلک سیر، جہان کے طیر سب۔ ان کے قریب ولایتی کُتے بودار، گُلڈانک، تازی، جاں بازی کرنے والے۔ چیتے، جو دشمنوں کا بُرا چیتے، بلکہ لہو پیتے۔ سیاہ گوش در آغوش۔ ہرن لڑنے والے، خانہ زاد، گھر کے پالے۔ ان کے بعد ہزار ہا سَقّا، خواجہ خضر کا دم بھرتا، چھڑکاؤ کرتا۔ کمر میں کھارُوے کی لنگیاں، شانوں پر بادے کی جھنڈیاں۔ مشکوں میں بیدِ مُشک بھرا، دہانے میں ہزارے کا فوارہ چڑھا، آب پاشی کرتا۔\n\nمُتعدد غُلام بادلہ پوش، حلقہ بہ گوش، ہاتھوں میں ہیرے کے کڑے پڑے؛ مَنقَل، انگیٹھیاں سونے چاندی کی لیے، عنبر و عود جھونکتے نکلے۔ پھر تو کُوسُوں تک جنگل رشکِ خُتن و تاتار مثلِ طبلۂ عطار ہو گیا۔ اُن کے مُتصل دو ہزار لالٹین والے کم سِن، بلور کی صاف صاف شفاف لالٹینیں لیے، شمع مُومی و کافوری روشن، وہ سب غُنچہ دہن، زیبِ انجمن، بڑھے۔ پھر صدائے اہتمامِ نقیبانِ خوش گُلو چار سو بلند ہوئی اور صبح صادق نے جلوہ دکھایا، ہاتھ کو ہاتھ اور اپنے بیگانے کا مُنہ صاف نظر آیا۔ سُلطانِ اریکۂ زنگاری بھی دریچۂ مشرق سے سر نکال مشغولِ نظارہ ہوا، حسرت میں وطن آوارہ ہوا۔\n\nوہ دمِ سحر نسیم و صبا کی فر فر۔ شمع کا جھلملا جھلملا اُداس جلنا، سواری کا آہستہ آہستہ چلنا۔ پہاڑی جانوروں کی سیر، ذِکر حق میں کہیں وحش، کسی جا طَیر۔ سرسبز درخت لہلہے، پھول رنگ برنگ کے ڈہڈہے۔ سقُوں کی آب پاشی۔ صدائے نالۂ مُرغِ خوش الحاں سے دل خراشی۔ خُسروِ انجم کا مع ثابت و سیارہ چھپتے جانا، سورج کی کرن کا جگمگانا۔ پھولوں کی بو باس، چشمۂ سرد و شیریں آس پاس۔ خلق کا مجمع دامنِ کوہ پر؛ سب کی نگاہ کبھی اُس کیفیت پر، گاہ اس انبُوہ پر۔ ادھر مسافروں کی کثرت، اُدھر بادشاہ پُر ارمان۔ خلقِ خدا با حسرت بہ چشمِ انتظار، اُمید وارِ آمدِ پیادہ و سوار، محوِ تماشائے عجیبِ روزگار تھی۔\n\nیکایک غول خاص برداروں کا آیا: کمخواب کے مرزائی، انگرکھے، گُجراتی مشروع کے گھُٹَنّے، دلی کے ناگوری پاؤں میں، سر پر گُلنار اینٹھے طرح دار۔ خاصیوں کے غلاف باناتی، سَقِرلاتی، باغ و بہار۔ گرد پُوش ململ کے۔ سینکڑے اور ساز مُطلا، جھلا جھل کے۔ رفل: چقماق، تُوڑے دار۔ قرابین، شیر بچے؛ جس سے شیر زندہ نہ بچے: جواہر نگار۔ اور برچھے بردار، بان دار، کُتے والے، یکے، بیش قرار دَرما ہے دار، راکب و مرکب جھمکڑے کا عالم؛ گردا گرد۔ بیچ میں شہ زادہ جان عالم اسپِ باد رفتار پر سوار۔ برابر انجمن آرا کا سُکھپال پری تمثال۔ ہزار پان سے کہاریاں حوروش، پیاری پیاریاں، کم سن، جسم گدرایا، شباب چھایا؛ زربفت و اطلس کے لنہگے، مسالا ٹکا؛ ململ کے دوپٹے باریک، بَنَت گوکھرو کی کُرتی انگیا، کاشانی مخمل کی کُرتیاں کندھوں پر؛ کچھ سُکھپال اُٹھائے، باقی پرا جمائے اِدھر اُدھر۔ جڑاؤ کڑے مُلائم ہاتھوں میں پڑے، پاؤں سُونے کے تین تین چھڑے، کانوں میں سادی سادی بالیاں، نشۂ حُسن میں متوالیاں۔ رُخساروں کا عکس جو پڑ جاتا تھا، شرم سے کُندن کا رنگ زرد نظر آتا تھا۔ کسی کا کان جوالا تھا تو حُسن کی دُکان میں ناز و انداز کا نرخ دوبالا تھا، اندازِ ناز نرالا تھا۔ وہ آہستہ تیوری چڑھا کے پاؤں رکھنا۔ کبھی سسکی، جھجکی۔ بڑی سَیر تھی۔\n\nکئی سَے سواری کا دوڑنے والا خواجہ سرا، عجیب عجیب طرح کا نس کٹا۔ حبشنیں، قِلماقنیں، تُرکنیں سر گرمِ اہتمام، کبک خرام۔ خواجہ سرایان ذی لیاقت، معقول؛ نواب ناظر، داروغہ سب حاضر؛ عُمدہ پُوشاک پہنے گھوڑوں پر سوار بند و بست میں مشغول۔ جریب زمین پر پڑتی، کُوس کا پہیا ساتھ؛ ہاتھوں ہاتھ زمین کی پیمائش، سواری کی آرائش۔ خلاصہ یہ کہ بہ مرتبہ کر و فر، نہایت دھوم دھام۔ اشرفی، روپیہ تصدُق ہوتا، شہدوں کا ازدِحام۔ اس صورت سے بادشاہ کے پاس آ پہنچے۔ جان عالم نے دیکھا: ظِلِ سبحانی کے چشمۂ چشم سے جوئے خوں جاری، ہچکی لگی، بے قراری طاری ہے؛ گھوڑے سے کود کر آداب تسلیمات بجا لایا۔ بادشاہ نے بہ قسم فرمایا: اس وقت ہمارے پاس نہ آؤ۔ خُدا کو سونپا، چلے جاؤ۔ مجبور، شہ زادہ مُجرا کر کے سوار ہوا۔ جس دم جان عالم نے گھوڑا بڑھایا، تمام خلقت کا جی بھر آیا۔ علی الخصُوص بادشاہ کی بے قراری، امیر اُمرا کی نالہ و زاری اور انجمن آرا کے بین سے، تمام تماشائی شُور و شین سے واویلا مچا کہنے لگے: آج رونقِ شہر کی رُخصت ہے، زینتِ سلطنت کی فرقت ہے۔ ایسے مہر و ماہ کے جانے سے شہر میں غدر پڑے گا، اندھیر ہو جائے گا۔ ان کا الم جُدائی و رنجِ دشت پیمائی ہزار رُوزِ سِیہ، شامِ غم دکھائے گا۔ کہتے ہیں: سیکڑوں مرد و رنڈی بے کہے سُنے ہمراہ ہوئے۔ غریبُ الوطنی اختیار کی، وہاں کی بود و باش گوارا نہ ہوئی۔\n\nان کے بعد چھ ساتھ سے پالکی، نالکی، چنڈُول، مُحافہ امیر زادیوں کا۔ اور انیسوں، جلیسوں کی تین چار سَے کھڑ کھڑیا اور فنس قیمت کا بڑھیا۔ آتو اور محل داروں کے چو پہلے سے پہلے مُغلانیوں کی منجھُولیاں۔ خاص خواصوں کے پیچھے پیش خدمتوں کا دو تین سو میانہ۔ ہزار نو سے رتھ اکبر آبادی: دو بُرجے، سائبان دار، نئے مُغرق پردے چمکتے؛ ناگوری بیل، جو ثورِ فلک نے نہ دیکھے تھے، جُتے؛ مخمل کی جھولیں پڑیں؛ لونڈیاں، باندیاں، انا، چھُو چھُو، چھٹی نویس، باری دارنیاں اُن پر چڑھیں۔\n\nجب یہ آگے بڑھیں، پھر چھکڑے اور اونٹ، ہاتھی خزانے اور اسباب کے؛ ڈِیرے، پیش خیمے لدے لدائے، کسے کسائے، جکڑے نظر آئے۔ غرض کہ تا شام بہیر بُنگاہ، بازاری سرکاری سب لوگ چلے گئے۔ لکھا ہے کہ روپے اور اشرفیاں امام ضامن کی دمِ رُخصت اتنی آئیں کہ بازوؤں پر بندھ نہ سکیں، تمام راہ سید مسافروں نے پائیں۔ اور کُلچُوں کا یہ حال ہوا کہ اُن کا لے چلنا مُحال ہوا۔ راتب کے سوا، ہاتھیوں کو ملے اور اہلِ لشکر کو بانٹ دیے۔ کھجوریں جو بٹ نہ سکیں، راہ میں پھینک دیں۔ وہ اُگیں؛ اُس کے درخت آگے کم تھے، اُس دن سے جنگل ہو گئے۔\n\nاُس وقت بادشاہ سراسیمہ و بدحواس با حالِ یاس دولت سرا میں پھر آیا۔ وہ بسا بسایا شہر لُٹا، اُجڑا، ویران نظر آیا۔ بازار میں جا بہ جا چراغ گُل، سرِ شام پگڑی غائب، اندھیرا بالکل۔ جس طرف دیکھا، لوگ تھکے ماندے پھر کر پڑے تھے۔ بازار میں تختے لگے، ٹٹر جڑے تھے۔ لوگ سُوزِ مُفارقت سے درد مند، دُکانیں بند۔ جو جہاں پڑا تھا، شہ زادے کی رُخصت کا ذِکر کر رہا تھا۔ دو شخص اگر باہم تھے، با دلِ پُر غم تھے۔ کوئی سُوتا تھا، کوئی چُپکا پڑا روتا تھا۔ بستی سُنسان، بازار میں سناٹا، خلقِ خدا اندُوہ کی مبتلا۔ بادشاہ کو دونا قلق ہوا، رنگ فق ہوا، دل سینے میں شق ہوا۔ محل سرا میں آیا، وہاں بھی چھوٹے بڑے کو غمگین پایا۔ لوگوں کے عزیز جدا ہو گئے، سب اُس یوسفِ رفتہ کے زندانِ فراق میں اسیرِ بلا ہو گئے۔ علی الخُصوص انجمن آرا کی ماں، جس کی نظر سے وہ چاند سورج چھپ گئے؛ زمانہ آنکھ میں تیرہ و تار، دل غم سے خار خار، حیرت میں نقشِ دیوار ہو رہی تھی۔ آنکھوں پر زور تھا، زار زار رو رہی تھی۔ بادشاہ نے سمجھایا، ہاتھ مُنہ دھُلوایا، کچھ کھلایا۔\n\nیہ تو سب نالہ بہ لب، آہ در دل؛ جان عالم اور انجمن آرا رو بہ منزل۔ پانچ پانچ کوس کا کوچ، دو چار دن کے بعد ایک دو مُقام بہ راحت و آرام کرتے چلے۔ فوجِ ظفر موج ساتھ۔ اُردوئے مُعلیٰ کا عجب عالم تھا۔ ایک شہر رُوز ہمراہ، جہان کی نعمت تیار شام و پگاہ۔ صراف، بزاز، جوہری: روپیہ پیسہ، اشرفی کھری سے کھری؛ ڈھاکے کا ریزہ، بنارس کا گُلبدن، گجرات کا کمخواب؛ الماس و زمُرد، یاقوتِ احمر؛ جو چاہو سو لُو، موجود۔ ایک طرف قصاب اورنانبائی؛ وہ کچا گوشت لیے، یہ پکی پکائی، میوہ فروش خانہ بدُوش۔ حلوائی طرح طرح کی مٹھائی درست کیے۔ مینا بازار باغ و بہار۔ جُدا جُدا ہر گنج کا جھنڈ گڑا، ہر ایک منڈی کا پتا ملتا، چوپڑ کا بازار پڑا۔ جلو خانے کے رو بہ رو نصف شب گُزرے تک دُکانیں کھلیں، اَکاسی دِیا جلتا، بھولا بچھڑا اُس کی روشنی میں آ ملتا۔ کُوتوال سر گرمِ پاسبانی، بازاریوں کی نگہبانی، نرسنگا روند میں پھونکتا۔ غرض کہ سب خُرم و شاداں رواں تھے؛ مگر جان عالم گاہ گاہ جذبِ محبتِ ملکہ سے یہ کہتا، شعر:\n\nبسامانِ سفر باخود دلِ رنجیدۂ دارم\n\nبکف چیزیکہ دارم، دامنِ برچیدۂ دارم", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D8%B9%D8%B2%D9%85%D9%90_%D9%88%D8%B7%D9%86_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "فسانۂ عجائب/فسانۂ سلطانِ یمن", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "فسانۂ سلطانِ یمن سائل کو سلطنت دے کے غریب دِیار ہونا، سوداگرکے فریب سے شہ زادی کا کھونا۔ پھر بیٹوں کی جدائی، اپنی دشت پیمائی۔ آخر سلطنت کا مل جانا، بیٹوں کا آنا، بی بی کا پانا، پھر سوداگر کا قتل کرنا\n\nبندر نے کہا: سَر زمین یَمَن میں ایک بادشاہ تھا۔ مُلک اُس کا مالا مال، دولت لازَوال۔ بخشندۂ تاج و تَخت، نیک سیرت، فَرخُندہ بَخت۔ جس دم سائل کی صدا گوشِ حق نِیوش میں دَر آئی، وہیں اِحتیاج پکاری: میں بَر آئی۔ یہاں تک کہ لَقَب اُس کا نزدیک و دور ’’خُدا دوست‘‘ مشہور ہوا۔ ایک روز کوئی شخص آیا اور سوال کیا کہ اگر تو خدا دوست ہے، تو للہ تین دن کو مجھے سلطنت کرنے دے۔ بادشاہ نے فرمایا: بِسمِ اللہ۔ جو اَراکینِ سلطنت، مسند نَشینِ حکومت حاضِر تھے؛ بہ تاکید انھیں حکم ہوا کہ جو اس کی نافرمانی کرے گا، مَورِدِ عِتاب سُلطانی ہو گا۔ یہ فرما، وہ فرماں رَوا تَخت سے اُٹھا، سائِل جا بیٹھا، حکم رانی کرنے لگا۔\n\nچوتھے روز بادشاہ آیا، کہا: اب قصد کیا ہے؟ وعدہ پورا ہو چکا ہے۔ سائل بولا: پہلے تو فقط اِمتِحان تھا، اب بادشاہت کا مزہ مِلا، برائے خُدا یہ تاج و تَخت یک لخت مجھے بخش دے۔ بادشاہ نے فرمایا: بہ رضائے خدا یہ حکومت آپ کو مُبارَک ہو، مَیں بہ خوشی دے چکا۔ بادشاہت دے کر کچھ نہ ہیہات لیا؛ فقط لڑکوں کا ہاتھ میں ہاتھ، بی بی کو ساتھ لیا۔ دل کو سمجھایا: اِتنے دنوں سلطنت، حکومت کی؛ چَندے فقیری کی کیفیت، فاقے کی لذّت دیکھیے۔ گو جاہ و حَشَم مَفقُود ہے، مگر شاہی بہر کیف موجود ہے؛ اِلّا اِس شہر میں سے کہیں اور چلنا فَرض ہے۔ حکمِ خُدا قُل سِیرُوْا فِیْ الاَرْضِ ہے۔ دُنیا جائے دید ہے۔ عِنایتِ خالق سے کیا بَعید ہے جو کوئی اور صورت نکلے۔ ایک لڑکا سات برس کا، دوسرا نو برس کا تھا۔ غَرض کہ وہ حق پرست شہر سے تہی دَست نکلا؛ بلکہ تکلُّف کا لباس بھی وہ خدا شَناس بار سمجھا، نہ لیا؛ جامۂ عُریانی جسم پر چست کیا اور چل نکلا۔ نیرنگیِ سپہرِ بوٗقَلَموٗں، دُنیائے دوٗں کا یہ نقشہ ہے، مصر؏:\n\nکہ ایں عَجوزہ عَروسِ ہزار داماد است\n\nکل وہ سلطنت، ثَروَت، کَرّ و فَر، اَفسر و تاج؛ آج یہ مصیبت، اَذِیَّت، در بہ در، پیادہ پا سفر، محتاج۔ کبھی دو کوس، گاہ چار کوس، بے نَقّارہ و کُوس، بہ ہزار رنج و تَعَب چلتا۔ جو کچھ مُیَسَّر آیا، تو روزی ہوئی؛ نہیں تو رُوزہ۔ یوں ہی ہر رُوز راہ طَے کرتا۔ جب یہ نوبت پہنچی، چند روز میں ایک شہر ملا، مسافر خانے میں بادشاہ اترا۔ اتّفاقاً ایک سوداگر بھی کسی سمت سے وارِد ہوا۔ قافلہ باہَر اُتار، تنہا گھوڑے پر سوار، سَیر کرتا مہمان سرا میں وارِد ہوا۔ شہ زادی گو کہ گردِ راہ، صعوبتِ سفر کی مبتلا تھی؛ لیکن اچّھی صورت کبھی چھپی نہیں رہتی۔ سعدیؔ:\n\nحاجتِ مَشّاطہ نیست روی دلآرام را\n\nسوداگر کی آنکھ جو پڑی؛ بہ یک نگاہ اَز خود رَفتَہ ہوا، سانس سینے میں اَڑی۔ بادشاہ کے قریب آ سلام کیا۔ یہ بیچارے اللہ کے ولی، وہ وَلَدُ الِزنا شقی۔ بادشاہ نے سلام کا جواب دیا۔ اِس عرصے میں وہ غدّار حیلہ سوچا، بہت فَسُردہ خاطر ہو کر کہا: اے عزیز! میں تاجِر ہوں، قافلہ باہَر اُترا ہے۔ میری عورت کو دردِ زِہ ہو رہا ہے۔ دائی کی تلاش میں دیر سے گدائی کر رہا ہوں، ملتی نہیں۔ تو مردِ بزرگ ہے، کج ادائی نہ کر، اس نیک بخت کو للہ میرے ساتھ کر دے؛ تا اِس کی شِراکَت سے اُس کو رنج سے نَجات ملے؛ وگرنہ بندۂ خدا کا مُفت خون ہوتا ہے، آدمی کا مر جانا زَبوٗں ہوتا ہے۔ یہ اللّٰہ کا نام سُن کر گھبرائے، بی بی سے کہا: زِہِے نصیب! جو محتاجی میں کسی کی حاجت بر آئے، کام نکلے۔ بسمِ اللّٰہ، دیر نہ کرو۔ اُس نے دَم نہ مارا، کھڑی ہو گئی، سوداگر کے ساتھ روانہ ہوئی۔ دروازے سے باہَر نکل اُس غریب سے کہا: قافلہ دور ہے، مجھے آئے ہوئے عرصہ گزرا ہے؛ آپ گھوڑے پر چڑھ لیں تو جلد پہنچیں۔ وہ فَلک سَتائی فریب نہ جانتی تھی، سوار ہوئی۔ سوداگر نے گھوڑے پر بِٹھا، باگ اُٹھائی۔ قافلے کے پاس پہنچ کے کوچ کا حکم دیا، آپ ایک سمت گھوڑا پھینکا۔ اُس وقت اُس نیک بخت نے داد بے داد، فریاد مچائی۔ تڑپی، روئی پیٹی، چِلّائی۔ آہ و زاری اِس کی، اُس بے رَحم، سنگ دل کی خاطر میں نہ آئی۔\n\nبادشاہ پَہَر بھر مُنتَظِر رہا، پھر خیال میں آیا: خود چلیے، دیکھیے وہاں کیا ماجرا ہوا۔ بیٹوں کا ہاتھ پکڑے سرا سے نکلا۔ ہر چند ڈھونڈھا؛ نشان کے سوا قافلے کا سُراغ نہ ملا۔ دور گردِ سیاہ اُڑتی دیکھی، جَرَس اور زَنگ کی صدا سُنی۔ نہ پاؤں میں دوڑنے کی طاقت، نہ بی بی کے چھوڑنے کی دل کو تاب؛ سب طرح کا عذاب۔ نہ کوئی یار نہ غم گُسار۔ نہ خدا تَرس، نہ فریاد رَس۔ بہ حسرت و یاس قافلے کی سمت دیکھ یہ کہا، مصحفی:\n\nتو ہمرہانِ قافلہ سے کہیو اے صبا\n\nایسے ہی گر قدم ہیں تمھارے، تو ہم رہے\n\nلاچار، لڑکوں کو لے کر اُسی طرف چلا۔ چند گام چل کر اضطراب میں راہ بھول گیا۔ ایک ندی حائل پائی، مگر کشتی نہ ڈُونگی نہ مَلّاح۔ نہ راہ سے یہ آشنا، نہ وہاں سَیّاح کا گُزارا۔ کَنارے پر دریا کے خاک اُڑا کے ایک نعرہ مارا اور ہر طرف ماہیِ بے آب سا واہی تباہی پھرا، رَہ برِ کامل کو پُکارا؛ ساحِلِ مطلب سے ہَم کِنارنہ ہوا، بیڑا پار نہ ہوا۔ مگر کچھ ڈھَب ڈھَبانے کا ڈھَب تھا، گو گھاٹ کُڈھب تھا؛ ایک لڑکے کو کنارے پر بِٹھا، چھُوٹے کو کندھے پر اُٹھا، دریا میں در آیا۔ نِصف پانی بہ صَد گرانی طَے کیا تھا؛ کَنارے کا لڑکا بھیڑیا اُٹھا لے چلا۔ وہ چِلّایا، بادشاہ آواز سُن کر گھبرایا۔ پھِر کر دیکھنے لگا جو لگا، کندھے کا لڑکا پانی میں گر پڑا۔ زیادہ مُضطَرِب جو ہُوا، خود غُوطے کھانے لگا، لیکن زندگی باقی تھی، بہرکیف کَنارے پر پہنچا۔ دل میں سمجھا: بڑے بیٹے کو بھیڑیا لے گیا، چھُوٹا ڈوب کے مُوا۔ نَیرنگیِ فلک سے عالَمِ حیرت، بی بی کے چھُٹنے کی غیرت۔ بیٹوں کے اَلَم سے دل کباب، سلطنت دینے سے خستہ و خراب۔\n\nاِسی پریشانی میں شُکر کرتا پھر چلا۔ سہ پَہَر کو ایک شہر کے قریب پہنچا۔ دَرِ شہر پناہ پر خلقت کی کثرت دیکھی، اُدھر آیا۔ اُس مُلک کا یہ دستور تھا: جب بادشاہ عازِمِ اِقلیمِ عَدَم ہوتا؛ اَرکانِ سلطنت، روسائے شہر وہاں آ کر باز اُڑاتے تھے۔ جس کے سر پر بیٹھ جاتا، اُسے بادشاہ بناتے تھے۔ چُنانچہ یہ روز وہی تھا۔ باز چھوڑ چکے تھے، ابھی کسی کے سر پر نہ بیٹھا تھا۔ اس بادشاہِ گدا صورت کا پہنچنا، باز اِس کے سر پر آ بیٹھا۔ لوگ معمول کے مُوافِق حاضر ہوئے، تخت رو بہ رو آیا۔ ہر چند یہ تخت پر بیٹھنے سے باز رہا، کہا: مَیں گُم کردہ آشِیاں سلطنت کے شایاں نہیں ہوں۔ میں نے اِسی عِلَّت سے اپنے مَرز بومِ شوم کو چھوڑا ہے، حکومت سے منہ موڑا ہے۔ مگر وہ لوگ اِس کے سر پر باز کا بیٹھنا، عَنقا سمجھ، نہ باز رہے۔ جو جو شاہیں تھے تاڑ گئے، پَر بیں پہچان گئے کہ یہ مُقَرَّر ہُمائے اَوجِ سلطنت ہے۔ قصّہ مختصر، رَگَڑ جھگڑ تختِ طاؤس پر بِٹھا نَذریں دیں، تُوپ خانے میں شلّک ہوئی۔ بڑے تُزک، حَشمت سے آشِیانۂ سلطنت، کاشانۂ دولت میں داخل کیا۔ تمام قلمرو، نقد و جِنس، اَشیائے بَحری و بَرّی اِن کے تَحتِ حکومت، قبضۂ تَصرُّف میں آیا۔ گَز، سکّے پر نام جاری ہوا۔ مُنادی نے نِدا دی، دُہائی پھِر گئی کہ جو ظُلم و جَور کا بانی ہو گا؛ وہ لَٹُورا، گردن مارا جائے گا، سزا پائے گا۔ سوز:\n\nپَل میں چاہے تو گدا کو وہ کرے تخت نشین\n\nکچھ اچنبھا نہیں اِس کا کہ خدا قادِر ہے\n\nکارخانۂ قدرت عجیب و غریب ہیں؛ نہ اِعِتمادِ سلطنت، نہ قِیامِ غُربت و عُسرت۔ مرزا رفیع:\n\nعَجَب نادان ہیں، جن کو ہے عُجبِ تاجِ سُلطانی\n\nفلک بالِ ہُما کو پَل میں سَونپے ہے مگس رانی\n\nیہ سلطنت تو کرنے لگا مگر فُسُردَہ خاطِر، پَژمُردَہ دِل۔ بہ سَبَبِ شرم و حیا مُفَصَّل حال کسی سے نہ کہتا تھا، شب و روز غمگین و اَندُوہ ناک پڑا رہتا تھا۔ جب وہ بُلبُلِ ہزار داستان یعنی فرزند، شمع دوٗدماں یاد آتے تھے؛ دن کو پیشِ چشم اندھیرا ہو جاتا، ظِلِّ سبحانی کوٗ کوٗ کر کے نالہ و فریاد مچاتے تھے۔\n\nاب اُن لڑکوں کا حال سُنیے۔ جس کو بھیڑیا لیے جاتا تھا، اُدھر سے کوئی تیر اَندازِ سبک دَسْت آتا تھا؛ اُس نے چھُڑایا۔ دوسرا جو غُوطے کھاتا تھا، بِلبِلاتا تھا؛ اُس کو ماہی گیر نے دامِ مَحبّت میں اُلجھایا، کَنارہ دکھایا۔ وہ دونوں لا وَلَد تھے، اُسی شہر کے رہنے والے جہاں اِن لڑکوں کا باپ بادشاہ ہوا تھا۔ وہ اپنے اپنے گھر میں لا، بہ قَدَرِ مَقدوٗر لڑکوں کو پرورش کرنے لگے۔ جَلَّ جَلالُہٗ! کیا سنگِ تَفرِقَہ فلک نے پھینکا کہ ایک دوسرے کے سنگ نہ رہا، جُدا ہو گیا۔ چند عرصے تک بادشاہ نے ضبط کیا، آخر بیٹوں کی مُفَارَقَت نے بے چین کیا؛ وزیر سے فرمایا: دو لڑکے قومِ شریف سے ہماری صحبت کے قابل ڈھونڈھ لاؤ، ہمارا دل بہلاؤ۔ وزیر نے تمام شہر کے لڑکے طلب کیے۔ حکم حاکم مرگِ مُفاجات! وہ دونوں بھی آئے۔ سبحانَ اللہ! جامِعُ الْمُتَفَرِّقین بھی اُسی کا نام ہے، بچھڑے مِلانا اُس کے روبہ رو کتنا کام ہے! بس کہ صورت و سیرت دونوں کو خالق نے عطا کی تھی، شاہ زادے تھے؛ وہی وزیر کو پسند آئے، رو بہ رو لایا۔ بہ سَبَب طوٗلِ زَمانِ مفارَقَت اور تکلیف و عُسرت نقشے بدل گئے تھے، قَطع اَور ہو گئی تھی؛ نہ بادشاہ نے پہچانا، نہ تقاضائے سِن سے لڑکوں نے باپ جانا اور نہ یہ سمجھ آئی کہ ہم دونوں بھائی ہیں۔ یہ بھی قدرت نُمائی ہے، بہم ہوئے مگرجُدا رہے؛ لیکن جوشِ خوں سے بادشاہ کا حال دِگرگوٗں ہوا؛ دونوں پر بہ مَحبّتِ تمام مصروفِ عنایت عَلَی الدوام رہا۔ سب نے سُنا ہے، کامل کا یہ نکتہ ہے: کُلُّ اَمْرٍ مَرْھوْنٌ بِاَوْقَاتِہٖ۔ تھوڑے دن میں معتمد و مقرب ہوئے۔\n\nاور وہ سوداگر جَو فَروشِ گَندُم نُما، دغا کا پُتلا یہاں کے پہلے بادشاہ سے رَسائی، عَمْلے سے شَناسائی رکھتا تھا؛ اِس نظر سے وہ بھی اُس عورتِ ناراض کو لے کر وہاں واِرد ہوا۔ خبر مَرگِ بادشاہ سُن کر مَلوٗل ہوا کہ مطلب نہ حُصوٗل ہوا۔ لوگوں نے کہا: بادشاہِ تازہ اُس سے زیادہ خلیق و غریب پَروَر ہے۔ بہ وَساطَتِ وزیر اعظم تحفہ تحفہ تَحائِف لے کے حُضور میں حاضر ہوا، نذر گُزرانی، شَرَفِ عَتْبہ بوس حاصل ہوا۔ ایک نظر تو دیکھا تھا، بادشاہ نے نہ پہچانا، نہ سوداگر نے حریف جانا؛ مگر بادشاہ اُس کو ذی اِعِتبار، سَیّاحِ دِیار دِیار سمجھ بیش تر اَطراف و جَوانِب کا مذکور سُنتا تھا۔\n\nایک دن قریبِ شام حُضور میں حاضر تھا، بادشاہ نے فرمایا: آج کی شب گھر نہ جا، کچھ دیٖدہ و شَنیدہ حکایت ہم کو سُنانا۔ وہ بیٹھا تو مگر مُکَدر، پریشان۔ بادشاہ نے تَرَدُّد کا سبب پوچھا۔ یہ بَاعِثِ عنایت فِی الجملہ گستاخ ہو چلا تھا، دست بَسْتہ عرض کی: خانہ زاد کے پاس ایک عورتِ ناراض ہے، اُس کو فِدوی سے اِغماض ہے؛ اُس کی نگہ بانی، حفاظت بہ ذاتِ خود کرتا ہوں۔ بہ مرتبہ ڈرتا ہوں ایسا نہ ہو، نکل کے رازِ پِنہاں فاش کرے، حِمایتی تلاش کرے۔ حکم ہوا یہ مقدمہ آج ہمارے ذمے ہے۔ وہی لڑکے بس کے معتمد تھے؛ خاص دستہ ان کے ہمراہ کر، پاسبانی کی تاکید اَکید کی۔ لڑکے آداب بجا کے، سوداگر کے مکان پر گئے۔ باغ میں خیمہ برپا تھا، درِ خیمہ پر کرسی بچھا دونوں بیٹھے تھے۔ پاسبان آس پاس پھرنے لگے۔ جب آدھی رات ہوئی، ایک کو نیند آنے لگی، دوسرے نے کہا: سونا مناسب نہیں؛ ایسا نہ ہو کوئی فتنۂ خوابیدہ جاگے، خیمے سے کوئی چونک بھاگے۔ وہ بولا: تو ایسا فسانہ کہو جو نیند اچٹنے کا بہانہ ہو۔ اس نے کہا خیر، آج ہم اپنی سر گذشت کہتے ہیں؛ اگر غور سے سنو گے؛ نیند کیا، کئی روز بھوک پیاس پاس نہ آئے گی، عبرت ہو جائے گی۔ اے عزیز با تمیز! میں بادشاہ یمن کا لعل ہوں۔ میرا باپ للہ سلطنت سائل کو دے؛ مجھے اور میرا چھوٹا بھائی کہ وہ تم سے بہت مشابہ تھا، اس کو اور اپنی بی بی کو ہمراہ لے کر، غریب الوطن ہوا تھا۔ راہ میں ایک سوداگر فریب سے شہ زادی کو لے گیا، ہم دونوں بھائی ساتھ رہے۔ آگے چل کر دریا ملا۔ ناؤ بیڑا کچھ نہ تھا۔ بادشاہ مجھ کو کنارے پر بٹھا چھوٹے کو کنارِ شفقت میں اٹھا، کندھے پر چڑھا پار چلا۔ مجھے بھیڑیے نے پکڑا، میرے چلانے سے بادشاہ جو بد حواس ہوا، بھائی دوش پر سے آغوش دریا میں کھسک پڑا۔ خود غوطے کھانے لگا۔ پھر نہیں معلوم کیا گزرا۔ مجھے تیر انداز نے دہنِ گرگ سے چھڑایا، اب فلک اس بادشاہ پاس لایا۔\n\nوہ رو کر لپٹ گیا، کہا: بھائی دریا میں ہم گرے تھے، مچھلی والوں کے باعث ترے تھے۔ پھر تو بغل گیر ہو ایسے چلائے کہ وہ عورت نیند سے چونک پڑی۔ پردے کے پاس آ کے حال پوچھنے لگی۔ انھوں نے ابتدا سے انتہا تک وہ داستانِ مصیبت بیان کی۔ وہ پردہ الٹ جھٹ پٹ لڑکوں سے لپٹ گئی، کہا: ہم اب تک سوداگر کی قید میں مجبور ہیں، سب سے دور ہیں۔ اسی دم یہ خبر بادشاہ کو پہنچی۔ سواری جلد بھیجی، رو بہ رو طلب کیا۔ اس وقت باہم دگر سب نے پہچانا۔ فوراً سوداگر کو قید کیا۔ باقی رات مفارقت کی حکایت میں گزر گئی۔ صبح دم جلادِ سپہر یعنی بے مہر مہر جب شمشیر شعاع کھینچ کر ہنگامہ پرداز عالم ہوا، سوداگر کو کاروان عدم کا ہم سفر کر کے بار ہستی سے سبک دوش کیا۔\n\nیمن میں اخبار نویسوں نے یہ حال لکھا۔ وہاں عجب ہڑبونگ مچا تھا۔ وہ سائل ستم شعار بہ درجہ ظلم پیشہ و جفا کار نکلا۔ رعیت نالاں، ارکانِ سلطنت ہراساں رہتے تھے، ہزاروں رنج رات دن سہتے تھے۔ جب یہ خبر وہاں پہنچی، وزیر نے بہ صلاح رئیسانِ شہر زہر دے کر اسے مارا۔ تلخ کامی سے سب کو نجات ملی اور عرض داشت اپنے بادشاہ کو لکھی، تمنائے قدم بوس تمام شہر کی تحریر کی۔ بادشاہ کے بھی محبتِ وطن دل میں جوش زن ہوئی۔ سفر کی تیاری ہونے لگی۔ قطعہ:\n\nحب وطن از ملک سلیماں خوشتر\n\nیوسف کہ بہ مصر بادشاہی میکرد\n\nخار وطن از سنبل و ریحاں خوشتر\n\nمیگفت گدا بودنِ کنعاں خوشتر\n\nالقصہ یمن میں آیا۔ دونوں سلطنتیں قبضے میں رہیں۔\n\nجب بندر نے فسانہ تمام کیا، پھر کہا کہ اے نیک بخت! مطلب اس کہانی سے یہ تھا کہ جو بادشاہ عاشقِ اللہ، خدا پر شاکر تھا، ایک سلطنت دی، دو پائیں۔ یہ دونوں بد بَخْت جو لالچی تھے، انھوں نے جانیں گنوائیں۔ قِیامت تک مَطْعونِ خَلائِق رہیں گے۔ جتنے نیک ہیں؛ یہ قِصّہ سُن کر، بد کہیں گے۔ رنڈی اِن باتوں سے بَر سَر رحم ہوئی، بندر کی تسکین کی، کہا: تو خاطر جمع رکھ، جب تک کہ جیتی ہوں، تجھے بادشاہ کو نہ دوں گی، فاقہ قبول کروں گی۔ پھر اُسے رُوٹی کھلا، پانی پِلا، کھنڈری میں لِٹا، سو رہی۔\n\nصبح کو چِڑی مار اُٹھا، بندر کے لے جانے کا قَصْد کیا۔ عورت نے کہا: آج اَور قسمت آزما، پھر جانور پکڑنے جا۔ جو رُوٹی مُیسّر آئے تو کیوں اِس کی جان جائے؛ ہم پر ہَتیا لگے، بد نامی آئے۔ نہیں تو کل لے جانا۔ وہ بولا: تو اِس کے دَم میں آ گئی۔ بندر نے کہا: ماشاء اللہ! رنڈی تو خدا پر شاکِر ہے، تو مرد ہو کر مُضْطَر ہے؟ پاجی تو زَن مُرید ہوتے ہی ہیں، پھر وہ پٹک جھٹک؛ جال، پھٹکی اُٹھا؛ لاسا، کَمپالے؛ ٹَٹّی کندھے سے لگا گھر سے نِکلا۔ یا تو دن بھر خراب ہو کر دو تین جانور لاتا تھا؛ اُس رُوز دو پَہَر میں پچاس ساٹھ ہاتھ آئے، پھٹکی بھر گئی۔ خوش خوش گھر پھرا۔ کئی روپے کو جانور بیچے۔ آٹا، دال، نُون، تیل، لکڑی خرید، تھوڑی مٹھائی لے، بھٹی پر جا کے ٹکے کا ٹھرّا پیا۔ ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ جھومتے، گیت گاتے گھر کا رستہ لیا، مُفلسی کا غم بچہ بھول گئے۔ جُورو سے آتے ہی کہا: اَری! ہَنومان جی کے کدم بڑے بھاگوان ہیں۔ بھگوان نے دَیا کی، آج رُپیّا دلوائے، اِتنے جانور ہاتھ آئے۔ وہ گھر بَسی بھی بہت ہنسی۔ پہلے مٹھائی بندر کو کھلائی؛ پھر روٹی پکا، آپ کھا، کچھ اُسے کھلا، پڑ رہی۔ بندر بچارا سمجھا: چَندے پھر جان بچی، جو فلک نہ جل مرے اور اِس کا بھی رشک نہ کرے۔ مُؤلِّف:\n\nکیا شاخِ گُل پہ پھول کے بیٹھی ہے عَنْدلیب\n\nڈرتا ہوں مَیں، نہ چشمِ فلک کو بُرا لگے\n\nجب لایا، بارِ یاس ہی لایا یہ، اے سُرورؔ\n\nگاہے نہ نَخلِ غم میں ثَمَر اِس سِوا لگے\n\nاب روز بہ روز چِڑی مار کی ترقّی ہونے لگی۔ تھوڑے دنوں میں گھر بار، کپڑا لَتَّہ، گہنا پاتا درست ہو گیا۔ قَضارا، کوئی بڑا تاجِر سَرا میں اُس بھٹیاری کے گھر میں اُترا، جس کی دیوار تلے چِڑی مار رہتا تھا۔ ایک روز بعد نمازِ عِشا سوداگر وظیفہ پڑھتا تھا؛ نا گاہ آوازِ خوب، صدائے مرغوب، جیسے لڑکا پیاری پیاری باتیں کرتا ہے، اُس کے کان میں آئی۔ بھٹیاری سے پوچھا: یہاں کون رہتا ہے؟ وہ بولی: چِڑی مار۔ سوداگر نے کہا: اُس کا لڑکا خوب باتیں کرتا ہے۔ بھٹیاری بولی: لڑکا بالا تو کوئی بھی نہیں، فقط جُورو خَصَم رہتے ہیں۔ سوداگر نے کہا: اِدھر آ، یہ کس کی آواز آتی ہے؟ بھٹیاری جو آئی، لڑکے کی آواز پائی۔ وہ بولا: اِس صدا سے بوئے درد پیدا ہے؛ اِس کو میرے پاس لا، باتیں کروں گا۔ کچھ لڑکے کو دوں گا اور تیرا بھی مُنہ میٹھا کروں گا۔\n\nبھٹیاری چِڑی مار کے گھر گئی۔ دیکھا: بندر باتیں کرتا ہے۔ اِسے دیکھ چُپ ہو رہا۔ وہ دونوں بھٹیاری کے پاؤں پر گر پڑے، مِنّت کرنے لگے، کہا: ہم نے اِسے بچّوں کی طرح پالا ہے، اپنا دُکھ ٹالا ہے۔ شہر پُر آشُوب ہو رہا ہے، بندر کُش بادشاہ اُترا ہے، ایسا نہ ہو، یہ خبر اُڑتے اُڑتے اُسے پہنچے؛ بندر چھن جائے، ہم پر خرابی آئے۔ وہ بولی: مجھے کیا کام جو ایسا کلام کروں۔ سَرا میں آ کے سوداگر سے کہا: وہاں کوئی نہ تھا۔ اُس نے کہا: دیوانی! ابھی وہ آواز کس کی تھی؟ بہ غَور سُنیے کہ کیا معقول جواب وہ نامعقول دیتی ہے: بَلَیّاں لوں، بھلا مجھے کیا غَرض جو کہوں: بندر بولتا ہے۔ سوداگر خوب ہنسا، پھر کہا: تو سِڑن ہے، اری بندر کہیں بولا ہے! پھر بولی: جی گریب پَروَر! صد کے گئی؛ اِسی سے تو مَیں بھی نہیں کہتی ہوں کہ بندر بولتا ہے، اور چِڑی مار کی جورو نے بتانے کو منع کیا ہے۔ سوداگر کو سخت خَلْجان، بہ مرتبہ خَفْقان ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہے! مکان قریب تھا، خود چلا گیا۔ دیکھا تو فِی الحقیقت ایک عورت، دوسرا مردِ مُچھنْدَر، تیسرا بندر ہے۔ یقینِ کامل ہوا یہی بندر بولتا تھا۔ بھٹیاری سچّی ہے، گو عقْل کی کچّی ہے۔ وہ سوداگر کو دیکھ کے بندر کو چھپانے لگے، خوف سے تھرّانے لگے۔ اِس نے کہا: بھید کھل گیا، اب پوشیدہ کرنا اِس کا لا حاصل ہے۔ مَصلَحت یہی ہے، بندر ہمیں دو۔ جو اِحتِیاج ہو، اِس کے جِلدو میں لو۔ نہیں تو بادشاہ سے اِطّلاع کروں گا، یہ بے چارہ مارا جائے گا، چھپانے کی علّت میں تمھارا سر اُتارا جائے گا، میرا کیا جائے گا۔ وہ دونوں رُونے پیٹنے لگے۔ بندر سمجھا: اب جان نہیں بچتی، اِتنی ہی زیست تھی؛ چِڑیمار سے کہا: اے شخص! فلکِ کج رفتار، گَردونِ دَوّار نے اِتنی جفا پر صبر نہ کیا، یہاں بھی چَین نہ دیا؛ مناسب یہی ہے رَضائے اِلٰہی پر راضی ہو، مجھے حوالے کر دو۔ قضا آئی، ٹلتی نہیں۔ تقدیر کے آگے کسی کی تدبیر چلتی نہیں۔ فَردِ بَشَر کو حکم قضا و قَدَر سے چارہ نہیں، اِس کے ٹال دینے کا یارا نہیں۔ إِذَا جَآءَ أَجَلُہُمْ فَلَا یَسْتَأخِرُونَ سَاعَةً وَلَا یَسْتَقْدِمُونَ۔\n\nچِڑیمار نے کہا: دیکھو بندر کی ذات کیا بے وفا ہوتی ہے! ہماری محنت و مشقت پر نظر نہ کی، توتے کی طرح آنکھ پھیر لی، سوداگر کے ساتھ جانے کو راضی ہو گیا۔ بڑا آدمی جو دیکھا، ہمارے پاس رہنے کا مطلق پاس نہ کیا۔ بندر نے کہا: اگر نہ جاؤں، اپنی جان کھوؤں، تم پر خرابی لاؤں۔ آخر کار بہ ہزار گریہ و زاری سوداگر سے دونوں نے قسم لی کہ بادشاہ کو نہ دینا، اچھی طرح پَروَرِش کرنا۔ یہ کہہ کر بندر حوالے کیا۔ سوداگر نے اِس کے عوض بہت کچھ دیا۔ بندر کو سَرا میں لا پیار کیا، بہ دل داری و نرمی حال پوچھا۔ بندر نے یہ چند شعر حَسْبِ حال، سودا کے، سوداگر کے رو بہ رو پڑھے، مرزا رفیع:\n\nنے بلبلِ چمن، نہ گُل نَو دَمیدہ ہوں\n\nمیں مَوسَمِ بہار میں شاخِ بُریدہ ہوں\n\nگریاں بہ شکل شیشہ و خَنداں بہ شکلِ جام\n\nاِس مَے کدے کے بیچ عَبَث آفریدہ ہوں\n\nمیں کیا کہوں کہ کون ہوں سودا! بہ قولِ دردؔ\n\nجو کچھ کہ ہوں سو ہوں، غرض آفت رسیدہ ہوں\n\nاے عزیز! آتَشِ کارواں، نقشِ پاے یارانِ رَفتَگاں ظاہر ہوں؛ مگر پنہاں ہوں بلبلِ دور اَز گُلزار، گُم کردہ آشِیاں؛ صیّاد آمادۂ بیداد، گھات میں باغباں؛ کیوں کر نہ سرگرمِ فغاں ہوں۔ حضرتِ عشق کی عِنایت ہے، احبابِ زمانہ کی شکایت ہے، طُرفَہ حکایت ہے کہ حاجت رَوائے عالَم، محتاج ہے۔ تخت ہے نہ اَفسر ہے، نہ وہ سر ہے نہ تاج ہے۔ غریب دِیار، چرخ موجِدِ آزار۔ شفیق و مہرباں نہیں، حالِ زار کا کوئی پُرساں نہیں۔ حیرت کا کیوں نہ مبتَلا ہوں، اپنے ہاتھ سے اَسیرِ دامِ بَلا ہوں۔ خود گرفتارِ پنجۂ ستم ہوا؛ کبھی مجھے جِن کا اَلَم تھا، اب انھیں میرا غم ہوا۔ مرنے سے اِس لیے ہم جی چھپاتے ہیں کہ ہمدم میرے فراق میں موئے جاتے ہیں۔ مجھے دامِ مکر میں اُلجھایا، دوستوں کو میرے دشمن کے پھندے میں پھنْسایا، گردشِ چرخِ ستم گار سے عجیب سانِحۂ ہُوش رُبا سامنے آیا۔ میر تقی:\n\nسخت مشکل ہے، سخت ہے بیداد\n\nایک مَیں خوں گرِفتہ، سَو جلّاد\n\nکوئی مشفق نہیں جو ہووے شفیق\n\nبے کَسی چھٹ، نہیں ہے کوئی رفیق\n\nآہ، جو ہمدمی سی کرتی ہے\n\nاب تو وہ بھی کمی سی کرتی ہے\n\nاب ٹھہرتا نہیں ہے پائے ثَبات\n\nایک مَیں اور ہزار تَصْدیعات\n\nمصر؏:\n\nگویم، مشکل و گر نگویم، مشکل\n\nمگر آج خوش قسمتی سے آپ سا قَدْر داں ہاتھ آیا ہے، اِنتِشارِ طبیعت بَر طَرف ہو تو بہ دِل جَمْعِیِ تمام، آغاز سے تا انجام اپنی داستانِ غم، سانحۂ ستم گُزارِش کروں گا۔ سوداگر کے، اِس مضمونِ درد ناک سے، آنْسو نکل پڑے، سمجھا: یہ بندر نہیں، کوئی فَصیح و بَلیغ، عالی خاندان، والا دودمان سحر میں پھنس گیا ہے، کہا: اطمینانِ خاطر رکھ، تیری جان کے ساتھ میری جان ہے، اب زیست کا یہی سامان ہے۔ بندر کو تسکینِ کامل حاصل ہوئی۔ غزلیں پڑھیں، نَقْل و حِکایات میں سَرگرم رہا، اپنا حال پھر کچھ نہ کہا۔ تمام شب سوداگر نہ سویا، اِس کے بیانِ جاں کاہ پر خوب رُویا۔\n\nاب بہت تعظیم و تکریم سے بندر رہنے لگا۔ مگر اَمرِ شُدنی بہر کیف ہُوا چاہے۔ راز فاش ہو، اگر خُدا چاہے۔ سوداگر کا یہ انداز ہوا: جو شخص نیا اِس کی ملاقات کو آتا، اُسے بندر کی باتیں سُنواتا۔ اُس کو اِستِعجاب سے فِکر ہوتا، اِس کا ہر جگہ ذِکر ہوتا۔ آخِرَش، اِس کی گویائی کا چرچا کوچہ و بازار میں مچا اور یہ خبر اُس کُور نمک، مُحسن کُش کے گوش زَد ہوئی۔ سُنتے ہی سمجھا یہ وہی ہے، بعد مُدّت فلک نے پتا لگایا، اب ہاتھ آیا۔ فوراً چوبدار بندر کے لینے کو، سوداگر کے پاس بھیجا۔ یہ بہت گھبرایا۔ اَور تو کچھ بَن نہ آیا، بہ صَد عجز و نِیاز عرضْداشت کی کہ غلام صاحبِ اَولاد نہیں، اِس اَندوہ میں دل مُضطر شاد نہیں۔ طبیعت بہلانے کو اِسے بچّہ سا لے کر فرزندوں کی طرح بڑی مَشقّت سے پالا ہے، رات دن دیکھا بھالا ہے۔ بندر ہے، مگر عَنْقا ہے۔ مُفارَقت اِس کی خانہ زاد کی جان لے گی، آئندہ جو حضور کی مرضی۔\n\nچوبدار یہاں سے خالی پھرا، وہ ظالِم اَظْلَم غَضَب میں بھرا، وہاں کے بادشاہ کو لکھا کہ اگر سلطنت اور آبادیِ مَمْلکَت اپنی منظور ہو، سوداگر سے جلد بندر لے کر یہاں بھیج دو۔ نہیں تو اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا، نام و نشاں مِٹا دوں گا۔ یہ خبرِ وحشت اَثَر سُن کے غَضَنْفر شاہ مُتردِّد ہوا۔ مُشیرانِ خوش تدبیر، امیر وزیر سمجھانے لگے کہ خُداوندِ نعمت! ایک جانور کی خاطر آدمیوں کا کُشْت و خوں زَبوں ہے۔ حکم ہوا: کچھ لوگ سرکاری وہاں جائیں؛ جس طرح بَنے، سوداگر سے بِگڑ کر، بندر اُس کی ڈیوڑھی پر پہنچائیں۔ جب بادشاہی خاص دستہ سَرا میں آیا؛ بندر دست بَسْتَہ یہ زبان پر لایا کہ اے مونسِ غم گُسار، وفا شِعار! اِس اَجَل رَسیدَہ کے باب میں کَد و کوشش بے کار ہے، سَراسَر بیجا ہے۔ قضا کا زمانہ قریب پہنچا، دَرِ ناکامی وا ہے۔ مَبادا، کسی طرح کا رنج میری دوستی میں تمھارے دشمنوں کو پہنچے؛ تو مجھے حَشْر تک حِجاب و نَدامت رہے، خلقِ خُدا یہ ماجرا سُن کے بُرا بھلا کہے۔ سوداگر نے کہا: اسْتَغْفِرُ اللّٰہ یہ کیا بات ہے! جو کہا، وہ سر کے ساتھ ہے۔\n\nجب بادشاہ کے لوگوں کا تقاضائے شَدید ہوا اور دن بہت کم رہا؛ بعد رَدّ و قدح، بہ مَعذِرَتِ بِسیار و مِنَّت بے شُمار، ہزار دینار دے کے اُس شب مُہلت لی اور صُبْح کے چلنے کی ٹھہری، بہ موجِبِ مثل، مصر؏:\n\nزر بر سَرِ فولاد نہی، نرم شود\n\nاِس عرصے میں یہ حال تباہ، ماجرائے جان کاہ گلی کوچے میں زبان زَدِ خاص و عام ہوا کہ ایک بندر کسی سوداگر کے پاس باتیں کرتا تھا، وہ بھی کل مارا جائے گا۔ بہ حَدِّے کہ اُس کشتہ اِنتِظار، مایوسِ دل فِگار یعنی ملکہ مہر نگار کو بھی معلوم ہوا۔ وہ شیدائے جان عالم سمجھی کہ یہ بندر نہیں، شہ زادہ ہے۔ افسوس! صد ہزار افسوس! اب کون سی تدبیر کیجیے جو اِس بے کس کی جان بچے! دل کو مَسُوس، وزیر زادے کو کوس، لوگوں سے پوچھا: دَمِ سحر کدھر سے وہ سوداگر جائے گا؟ یہ تماشا ہمارے دیکھنے میں کیوں کر آئے گا؟ لوگوں نے عرض کی: حضور کے جھروکے تلے شاہراہ ہے، یہی ہر سمت کی گزرگاہ ہے۔ یہ سُن کے تمام شب تڑپا کی، نیند نہ آئی۔ دو گھڑی رات سے برآمدے میں برآمد ہوئی اور ایک توتا پنْجرے میں پاس رکھ لیا۔ گَجَر سے پیشتر بازار میں ہُلّڑ، تماشائیوں کا میلا سا ہو گیا۔ جس وقت تاجِرِ ماہ نے مَتاعِ انجم کو نِہاں خانۂ مغرب میں چھپایا اور خُسروِ رنگیں کُلاہ نے بندرِ مشرق سے نکل کر تختِ زَنگاری پر جُلوس فرمایا؛ سوداگر نمازِ صُبْح پڑھ کر ہاتھی پر سوار ہوا۔ کمر میں پِیش قَبض رکھ، گود میں بندر کو بِٹھا، مرنے پر کمر مضبوط باندھ کر مجبور چلا۔ بندر سے کہا: پریشان نہ ہو، جب تقریر سے اور اِصرافِ کثیر سے کام نہ نکلے گا؛ جو کچھ بَن پڑے گا، وہ کروں گا۔ اپنے جیتے جی تجھے مرنے نہ دوں گا۔ قولِ مَرداں جان دارد۔ اور، مصر؏:\n\nبعد از سَرِ من کُن فَیَکوْں شُد، شُدہ باشد\n\nسوداگر کا سَر اسے سَراسیمَہ آگے بڑھنا کہ خلقت نے چار طرف سے گھیر لیا۔ بندر لوگوں سے مُخاطِب ہو کے یہ کہنے لگا، میر سوز:\n\nبرقِ تَپیدہ، یا شَرَرِ بَر جہیدہ ہوں\n\nجس رنگ میں ہوں مَیں، غرض از خود ر میدہ ہوں\n\nاے اہلِ بزم! مَیں بھی مُرَقّع میں دَہْر کے\n\nتصویر ہوں، وَلے لَبِ حسرت گزیدہ ہوں\n\nصیاد! اپنا دام اُٹھا لے کہ جوں صبا\n\nہوں تو چمن میں، پر گُلِ عشرت نچیدہ ہوں\n\nاے آہ و نالہ! مجھ سے نہ آگے چلو کہ مَیں\n\nبچھڑا ہوں کارواں سے، مسافر جَریدہ ہوں\n\nغم ہوں، الم ہوں، درد ہوں، سوز و گداز ہوں\n\nسب اہلِ دل کے واسطے مَیں آفریدہ ہوں\n\nصاحِبو! دُنیائے دوں، نیرنگیِ زمانۂ سِفْلَہ پَروَر، بو قَلموں عبرت و دید کی جا ہے۔ گرما گرم آئندہ رَوِندہ کا بازار ہے۔ کَس و ناکَس جِنْسِ نا پائیدار، لَہْو و لَعب کا خریدار ہے۔ اپنے کام میں مصروف قضا ہے۔ جو شَے ہے، ایک روز فنا ہے۔ مُعاملاتِ قضا و قَدَر سے ہر ایک ناچار ہے، یہی مسئلہ جبر و اِختیار ہے۔ کوئی کسی کی عداوت میں ہے، کوئی کسی کا شیدا ہے۔ جسے دیکھا، آزاد نہ پایا؛ کسی نہ کسی بکھیڑے میں مبتَلا ہے۔ ایک کو اتنا سوجھتا نہیں کیا لین دین ہو رہا ہے۔ سُود کی اُمّید میں سَراسَر زِیاں ہے؛ سِڑی ہونے کا سودا ہے۔ اُس کی قُدرتِ ناطِقَہ دیکھو: مجھ سے نا چیز، بے زَباں کو یہ تکلُّفِ گویائی عنایت کیا؛ تم سب کا سامِعُوں میں چہرہ لکھ دیا، باتیں سُننے کو ساتھ چلے آتے ہو۔ جُدائی میری شاق ہے، جو ہے وہ مشتاق ہے، حالِ زار پر رحم کھا آنسو بہاتے ہو۔ یہ رَحیمی کی صفت ہے؛ شانِ قہاری دیکھو: اُسی تقریر کی دھوم سے، ایک ظالِم شوم سے مجھ مظلوم کا مُقابلہ ہوتا ہے۔ یقینِ کامل ہے کہ وہ قتل کرے گا، بے گُناہ کے خون سے ہاتھ بھرے گا۔ سَوَادُ الْوَجْہِ فَی الدَّارَین ہو گا، تب اُسے آرام اور چَین ہو گا۔ یہ گویائی، گویا پیامِ مرگ تھا۔\n\nدُنیا جائے آزمائش ہے۔ سَفیہ جانتے ہیں یہ مُقام قابلِ آرام و آسائش ہے۔ دو رُوزہ زیست کی خاطر کیا کیا ساز و ساماں پیدا کرتے ہیں۔ فرعونِ با ساماں ہو کے زمین پر پاؤں نہیں دھرتے ہیں۔ جب سر کو اُٹھا آنکھ بند کر کے چلتے ہیں، خاکساروں کے سر کُچلتے ہیں۔ آخِر کار حسرت و ارماں فقط لے کر مرتے ہیں۔ جان اُس کی جُستُجو میں کھوتے ہیں جو شَے ہاتھ آئے ذِلّت سے، جمع ہو پریشانی و مَشقّت سے، پاس رہے خِسَّت سے، چھوٹ جائے یاس و حسرت سے۔ پھر سر پر ہاتھ دھر کر رُوتے ہیں۔ صُبح کو کوئی نام نہیں لیتا ہے، جو کسی اور نے لیا تو گالیاں دیتا ہے۔ ناسخ:\n\nدُنیا اک زالِ بِیسوا ہے\n\nبے مہر و وفا و بے حیا ہے\n\nمَردوں کے لیے یہ زن ہے رہِ زن\n\nدنیا کی عدو ہے، دیں کی دشمن\n\nرہتی نہیں ایک جا پہ جم کر\n\nپھرتی ہے بہ رنگِ نَرْد گھر گھر\n\nانجامِ شاہ و گدا دو گز کفن اور تختۂ تابوت سے سوا نہیں۔ کسی نے اَدھَر سا، یا محمودی کا دیا، یا تحریرِ کربلا؛ کسی کو گَزی گاڑھا مُیسّر ہوا بہ صد کرب و بَلا۔ اُس نے صندل کا تختہ لگایا، اِس نے بیر کے چَیلوں میں چھپایا۔ کسی نے بعد سنگِ مَرمَر کا مقبرہ بنایا، کسی نے مَرمَر کے گور گڑھا پایا۔ کسی کا مزار مُطَلّا، مُنَقّش، رنگا رنگ ہے۔ کسی کی، مانِندِ سینۂ جاہِل، گور تنگ ہے۔ حسرتِ دنیا سے کفن چاک ہوا، بستر دونوں کا فرشِ خاک ہوا۔ نہ امیر سَمْور و قاقُم کا فرش بچھا سکا، نہ فقیر پھٹی شَطْرنْجی اور ٹوٹا بُوریا لا سکا۔ بعد چَنْدے، جب گردشِ چرخ نے گُنبد گرایا، اینٹ سے اینٹ کو بجایا تو ایک نے نہ بتایا کہ دونوں میں یہ گورِ شاہ ہے، یہ لحدِ فقیر ہے۔ اِس کو مَرگِ جوانی نصیب ہوئی، یہ استخوانِ بوسیدۂ پیر ہے۔ سو یہ بھی خوش نصیب، نیک کمائی والے گور گڑھا، کفن پاتے ہیں؛ نہیں تو سیکڑوں ہاتھ رکھ کر مر جاتے ہیں، لوگ ’’دَر گور‘‘ کہہ کر چلے آتے ہیں۔ کُتّے بِلّی، چیل کوّے بُوٹیاں نوچ نوچ کر کھاتے ہیں۔ دامنِ دَشتِ عُریاں کفن، گور بے چراغ، صحرا کا صحن ہوتا ہے۔ یاس و حسرت کے سوا کوئی نہ سِرہانے روتا ہے۔ تمنّا چھٹ کوئی پائِنْتی نہ ہوتا ہے۔\n\nسالہا مَقْبروں کی عِماراتِ عالی اور ساز و ساماں کی دیکھا بھالی میں سریع السَّیر رہے، ہزاروں رنج گورِ بے چراغِ غَریباں کی دید میں بیٹھے بِٹھائے سہے؛ طُرفہ نَقْل ہے کہ والی وارث اُن کے سَریرِ سلطنت، مسندِ حکومت پر شب و رُوز جلوہ اَفروز رہے، مگر تنبیہ غافِلوں کو، قُدرتِ حق سے، گُنبدوں میں آشِیانۂ زاغ و زغن، میناروں پر مَسکَنِ بومِ شُوم، قبروں پر کُتّے لُوٹتے دیکھے۔ میر:\n\nمزارِ غریباں تَاَسّف کی جا ہے\n\nوہ سوتے ہیں، پھرتے جو کل جا بہ جا تھے\n\nرنگِ چمن صَرفِ خِزاں دیکھا۔ ڈھَلا ہوا حُسنِ گُل رُخاں دیکھا۔ اگر گُلِ خنداں پر جوبن ہے، بہار ہے؛ غور کیا تو پہلوئے نازنیں میں نشتر سے زیادہ خَلشِ خار ہے، گریاں اُس کے حال پر بُلبلِ زار ہے۔ دُنیا میں دن رات زَق زَق بَق بَق ہے۔ کوئی چہچہے کرتا ہے، کسی کو قَلَق ہے۔ نُوش کے ساتھ گزندِ نیش ہے۔ ہر رہ رَو کو کڑی منزل در پیش ہے۔ ایک فقیر کے اِس نکتے نے بہت جی کُڑھایا، مگر سب کو پسند آیا کہ بابا! دن تھوڑا، سَر پر بوجھ بھاری، منزل دور ہے؛ مسافر کے پاؤں میں حرص کے چھالے، ہوس کی بیڑیاں، غفلت کا نشہ، راہ بے دیکھی، راہ بر ناپیدا؛ لیکن چلنا ضرور ہے۔ مؤلف:\n\nبلبل کو خزاں میں جان کھوتے پایا\n\nصیاد کو سر پٹک کے روتے پایا\n\nگل چیں کی بھی نیند اڑ گئی، لیک سُرورؔ\n\nجو اہل دَوَل تھے، ان کو سوتے پایا\n\nمدتوں صدائے مُرغِ سحر کے رنج اٹھائے؛ کبھی دم نہ مارا، شکوہ لب پر نہ لائے۔ برسوں ندائے اللہ اکبر کے صدمے سہے؛ شُکر کیا، چُپ رہے۔ مہینوں گجر کی آواز نے دم بند کیا: قلق جی پر لیا، نالہ نہ بلند کیا۔ سوچے تو وصلِ مہ رویاں خواب شب تھا۔ لطف ان کا عین غضب تھا۔ تمام عالم کی خوب سیر کی؛ کبھی حرم محترم میں مسکن رہا، گاہ دھونی رمائی کنشت و دیر کی۔ عالم سے آیہ، فاضل سے حدیث، ناصح سے پند سُنا۔ ناقوسِ برہمن سُن سُن بُت ہو گئے، سر دھُنا۔ وہ بد کیش: مانع ملتِ صنم، لُطفِ زیست، حظِ نفس کا دشمن تھا۔ یہ کوتہ اندیش: رخنہ پردازِ اہل ایماں، دین کا رہ زن تھا۔ تامُل کیا تو ان دونوں سے دور حسد، بُغض، بیر ہونا معلوم۔ اپنے نزدیک ان کا انجام بہ خیر ہونا معلوم۔ واللہ اعلم یہ لوگ کیا سمجھے! خود اچھے ٹھہرے، اور کو بُرا سمجھے۔ مطلب کی بات ہیہات دونوں کی سمجھ میں نہ آئی۔ افراط تفریط نے گوں گا بہرا کیا۔ لوگوں کو بے بہرہ کیا، ذلت دلوائی۔ سب سے بہتر نظر آیا کنج تنہائی۔ مؤلف:\n\nاچھے کو بُرا، بُرے کو اچھا سمجھے\n\nکتنی یہ بُری سمجھ ہے، اچھا سمجھے\n\nدُنیا فقط راہ گُذر ہے۔ ہردم مثالِ تارِ نَفَس درپیش سفر ہے تا زیست ہزاروں مفسدے ہیں، ڈر ہے۔ مرنے کے بعد باز پُرس مدِ نظر ہے۔ کسی طرح انسان کو مفر نہیں۔ کون سا نفع ہے، جس کی تلاش میں بے سود ضرر نہیں۔ حاصل کار یہ ہے: دُنیا کی محبت دل سے کم کرے، کسی کے جینے کی خوشی نہ مرنے کا غم کرے، تا مقدور خاطرِ فردِ بشر نہ برہم کرے؛ وگرنہ، شعر:\n\nنیم شبے آہ زند پیر زال\n\nدولتِ صد سالہ کند پایمال\n\nدل شکستہ کی دل داری، پافُتادہ کی مدد گاری کرے۔ ہوا و ہوس جو دل سے دور ہو جائے، تو مال سے یا کمال سے عُجب و نخوت نزدیک نہ آئے۔ عنایت ایزدی پر قانع ہو۔ شکرِ ہر نعمت، سپاس خدمت کر کے، منہیات کا مانع ہو۔ رنج کا حامل رہے، سب رنگ میں شامل رہے۔ زمانے کے مکروہات سے گھبرائے نہیں، صحبت غیر جنس سے نفرت کرے، تو بدنامی پاس آئے نہیں۔ دولت کا اعتبار کیا، مُفلسی سے ننگ و عار کیا۔ ایک دن مرنا ہے، جینا مُستعار ہے، اس پر کس کا اختیار ہے۔ نیک عمل کا خیال رکھے کہ قید ہستی زیست کا نام ہے۔ رہائی ایک دن یہاں سے انجام ہے۔ باہمہ بے ہمہ رہنے میں مزہ ہے، باقی بکھیڑا ہے۔ شعر:\n\nکسی کی مرگ پر اے دل نہ کیجے چشم تر ہر گز\n\nبہت سا روئیے اُن پر جو اس جینے پہ مرتے ہیں\n\nعُمر خضر کی تمنا اور حشمتِ خسرو، خزانہ قاروں کی فکر میں ہر ایک صباح و مسا ذلیل و خوار ہے۔ تحصیل لا حاصل ہے، کوشش اسامر میں سراسر بے کار ہے۔ بہ قول ناسخ:\n\nہاتھ آتی ہے کب علم و ہنر سے دولت\n\nملتی ہے قضا اور قدر سے دولت\n\nجو علم و ہنر رکھتے ہیں، وہ ہیں محروم\n\nمانوس ہے بل احمق و خر سے دولت\n\nروپے کا جمع ہونا، جواہر کی تلاش میں ہیرا کھانا، دن کا جاگنا، چاندی سونے کی امید میں رات کا نہ سونا، سیمیں تن۔ لعل لبوں سے بہم ہونا جنھیں میسرہر بار ہے، انھیں مفارقتِ دنیا ناگوار ہے اور یہ کلام ہے، مولّف:\n\nیاں کے جانے سے جی الجھتا ہے\n\nکیا ہی دلکش سرائے فانی ہے\n\nلیکن کبھی صبحِ عشرت، گاہ الم کی شام ہے، دنیا عجب مقام ہے۔ نہ امیر ہوتے عرصہ لگتا ہے، نہ فقیر بنتے کچھ دیر ہے، اس کارگاہِ بے ثبات میں یہ اندھیر ہے۔ سلف سے اہل کمال دنیا کے مال سے محروم رہے۔ جو سزاوارِ حکومت تھے، وہ محکوم رہے۔ شعر:\n\nاسپ تازی شدہ مجروح بزیر پالاں\n\nطوق زرّیں ہمہ در گردنِ خر می بینم\n\nیہاں کی نیرنگیوں سے فارغ البالوں پر عرصہ تنگ رہا۔ مگر گردش چرخ کا وہی ڈھنگ رہا۔ سوداؔ:\n\nہے چرخ جب سے ابلق ایام پر سوار\n\nرکھتا نہیں یہ ہاتھ عناں کا بہ یک قرار\n\nجن کے طویلے بیچ، کئی دن کا ذکر ہے\n\nہر گز عراقی و عربی کا نہ تھا شمار\n\nاب دیکھتا ہوں میں کہ زمانے کے ہاتھ سے\n\nموچی سے کفش پا کو گٹھاتے ہیں وہ ادھار\n\nاور جب وعدہ آ پہنچا تو نہ روپیہ کام آتا ہے، نہ فوج ظفر موج سے کچھ ہو، نہ تہمتنِ جرّار بچاتا ہے۔ نہ کوئی آشنا دوست آڑے آئے، نہ کوئی عزیز و اقربا پنجۂ ملک الموت سے چھڑائے۔ اگر یہی امر مانع قضا و قدر ہوتے؛ جمشید و کاؤس، دارا و سکندر بہ صد حسرت و افسوس جان نہ کھوتے۔ نیک عمل کرے تو وہ ساتھ جاتا ہے۔ برے وقت میں احتیاج کسی کی بر لائے، یا للہ کسی کو کچھ دے؛ یہ البتہ کام بناتا ہے۔ اگر اپنے حال کو سوچے، تو منہ نوچے۔ بین العَدَمَین آدمی ہے، دنیا یہ بیچ کی سرا ہے؛ وگرنہ دنیا سراب، نقش برآب، زندگی بد تر از حباب ہے۔ پابند اس کا خراب، ترک کرنے والا نایاب ہے۔ ناسخ:\n\nترک دنیا کا سوچ کیا ناسخ\n\nکچھ بڑی ایسی کائنات نہیں\n\nشعر:\n\nاس گلشن ہستی میں عجب سیر ہے لیکن\n\nجب آنکھ کھلی گل کی تو موسم ہے خزاں کا\n\nقطعہ:\n\nدنیا خوابیست، کش عدم تعبیر است\n\nصید اجل است گر جواں ور پیر است\n\nہم روی زمیں پُر است و ہم زیر زمیں\n\nایں صفحۂ خاک ہر دو رو تصویر است\n\nاِلّا، مُقتضائے عقل یہ ہے کہ عالم اسباب میں کسی اسباب کا پابند نہ ہو، تعلقِ خاطر نہ رکھے۔ ہمیشہ اس نے بھلے سے بُرائی کی ہے۔ جو گیا یہاں سے، یعنی جہانِ گذراں سے، اس کا شاکی تھا بادشاہ سے فقیر تک، جوان سے پیر تک۔ حقیقت میں یہ نفسِ امارہ سخت ناکارہ ہے، اس کو بہر کیف زِیر کرے، زبردستی پچھاڑے۔ گردِ ہوا و ہوس سے دامنِ ہمت جھاڑے۔ شعر:\n\nدیوانہ باش تا غمِ تو دیگراں خورند\n\nآنرا کہ عقل بیش، غمِ روزگار بیش\n\nیہاں کوئی ایسی بات خدا کی عنایات سے پیدا کرے تا صفحۂ روزگار پر چندے بہ نیکی نام یاد رہے۔ شعر:\n\nاس طرح جی کہ بعد مرنے کے\n\nیاد کوئی تو گاہ گاہ کرے\n\nدُنیا میں کسی سے دل نہ لگائے کہ یہ کارخانہ بہت بے ثبات ہے۔ وصل سے فرحت، ہجر کی مصیبت اپنے سر پر نہ لائے کہ مر جانے کی بات ہے۔ معشوقِ باوفا عنقا کی طرح ناپیدا ہے اور پُر دغا ہرجائی ہر جا مہیا ہے۔ خواہش کا انجام کاہش ہے۔ تمنا دل سے دور کرنے میں جان کی آسائش ہے۔ مُؤلف:\n\nکبھی نہ چین سے رہنے دیا تمنا نے\n\nخراب و خستہ مَیں اس دل کی آرزو سے ہوا\n\nمگر وائے غفلت، ہائے نادانی! کہ جب نشۂ جوانی کا موسم پیری میں خمار اُتار ہوتا ہے، اُس وقت آدمی سر پر ہاتھ دھر کر روتا ہے۔ وقتِ از دست رفتہ و تیر از شست جستہ کب ہاتھ آتا ہے۔ ناچار ہو، کفِ افسوس مل کے پچھتاتا ہے۔ گُذشتہ را صلوات کہہ کے دل کو سمجھاتا ہے۔\n\nآدمیوں کو بندر کی تقریرِ دل خراش، پُر اثر سے عبرت و حیرت حاصل تھی۔ کبھی نصیحت و پند، گاہ کلامِ رنگین و دل چسپ با دلِ درد مند، کبھی سخنان وحشت افزا سُناتا چلا جاتا تھا۔ اہل دل، طبیعت کے گُداز روتے ساتھ آتے تھے۔ ہر فقرۂ پُر درد پر ضبط نہ ہو سکتا تھا، چلاتے تھے۔ خلقِ خدا، جنازے کی طرح ہاتھی کے ہمراہ تھی۔ ایک عالم کے لب پر نالے تھے، فُغان و آہ تھی۔ اسی سامان سے ملکہ کے جھروکے تلے پہنچے۔ وہ منتظر تمام شب، نالہ بہ لب، سوداگر سے فرمانے لگی ایک دم ٹھہر جا، میں بھی اس اسیر پنجہ تقدیر کی تقریر کی مشتاق ہوں۔ سوداگر نے ہاتھی روکا۔ ملکہ نے کہا: اے مُقرر بے زباں، وطن آوارہ، گُم کردہ خانُماں! اگرچہ اب ہم کس لائق ہیں، مگر تیرے داستانِ ظُلم و جور کے شائق ہیں۔ بندر نے آواز پہچانی۔ پہلے تو خوب رویا، پھر جی کو ٹھہرا کر کہنے لگا، شعر:\n\nہرکس از دستِ غیر نالہ کند\n\nسعدیؔ از دستِ خویشتن فریاد\n\nمیر:\n\nکیوں کے کہیے، کوئی نہیں آگاہ\n\nکچھ چھپا اب نہیں رہا، یہ راز\n\nبس تغافُل نہ کر، تَرَحُّم کر\n\nاک قیامت بپا ہے یاں سر راہ\n\nہے جہاں اِس سے سب سخن پَرداز\n\nگوشِ دل جانِبِ تکلم کر\n\nشعر:\n\nقسمت تو دیکھنا کہ کہاں ٹوٹی ہے کمند\n\nدو تین ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا\n\nافسوس! یار نے عیّاری کی، دغا سے یہ نوبت ہماری کی۔ جس کا رُونا ہمیں ناگوار تھا؛ وہ ہمارے لہو کا پیاسا، قتْل کا رَوا دار تھا۔ یہ مثل سچ ہے: تیرھویں صَدی ہے، نیکی کا بدلا بدی ہے۔ محبو بوں کی تمنا دل میں رہی۔ وطن جانے کی حسرت آب و گِل میں رہی۔ دوستوں کا کہا نہ مانا؛ وہ آگے آیا، پچھتانا پڑا۔ بے اَجَل جلّاد کے فَریب سے ذَبح ہوئے۔ طالِب و مطلوب جان جوکھوں میں پھنسے، زندہ دَر گور ہوئے۔ اَلْحَقّ، دنیا دم مارنے کی جا نہیں۔ راز کسی سے کہنا اچھا نہیں۔ منصور حَلّاج نے کلمۂ حق کہاتھا، نا حق لوگوں نے دار پر کھینچا۔ غَرض جو بولا، وہ مارا گیا، جان سے بے چارہ گیا۔\n\nکہتے تو کہا، پَر کچھ سوچ کر بات بنائی۔ جی میں دہشت آئی کہ مَبادا یہ خبر اُس اَکفر کو پہنچے تو یقینِ کامل ہو، جان دَشنَۂ ظلم سے نہ بچے۔ کہا: اے ملکہ! کوئی کسی کمال سے دُنیا میں نِہال ہوتا ہے؛ یہ بے گناہ، گویائی کے سبب، ناحق حرام زادے کی بدولت حلال ہوتا ہے۔ مُؤلِّف:\n\nکمالِ شَے، زَوالِ شَے ہے، اِس پر لاکھ حاسد ہوں\n\nبھلا نازاں نہ ہوں کیوں کر میں اپنی بے کمالی کا\n\nخدا جانے کہ دیکھا، دیکھ کر یہ چاند، مُنْہ کس کا\n\nہوئی ہے عید غیروں کو، ہمیں ہے چاند خالی کا\n\nمیں نے دانستہ اپنے ہاتھ سے پاؤں میں کُلھاڑی ماری، فلک نے بنا کر بات بگاڑی۔ مصر؏:\n\nاے روشنیِ طبع! تو برمن بلا شدی\n\nشعر:\n\nگُل و گل چیں کا گلہ بلبلِ خوش لہجہ نہ کر\n\nتو گرفتار ہوئی اپنی صدا کے باعث\n\nاب سَرِ دست کچھ تدبیر بن نہیں آتی ہے۔ صورتِ مَرْگِ آئینۂ چشم میں مَدِّ نظر ہے، ہماری ہمیں کو خبر ہے، کوئی گھڑی میں مُفت جان جاتی ہے۔ جو جانتا ہے، وہ دیکھتا ہے، جسے خبر نہیں، اُس سے کہہ دو: تمھارے واسطے غَریبِ دِیار ہوئے اور تمھارے سبب سے قتل کے سزا وار ہوئے۔ شعر:\n\nبجرمِ عشقِ توام می کُشند و غَوغائیست\n\nتو نیز برسَرِ بام آ کہ خوش تماشائیست\n\nاِن باتوں سے رہے سہے شک ملکہ کے بَرطَرَف ہوئے، سمجھی جان عالم یہی ہے۔ جواب دیا کہ جو جانتے تھے، اُن سے کیا ہو سکا، اَن جان کو تکلیف دینے سے کیا فائدہ! اور توتے کی گردن مڑوڑ، پنْجرہ باہر نِکالا۔ بندر کی نگاہ پنْجرے پر پڑی، سمجھا: ملکہ پہچان گئی، یہی فرصت کا وقت ہے۔ ہنگامہ و تَلاطُم تو مچا تھا، کسی نے دیکھا نہ بھالا؛ بندر سوداگر کی گود میں لیٹ کر توتے کے قالب میں پرواز کر آیا۔ توتا پھڑکا، ملکہ کا خوشی سے دِل دھَڑکا، پنْجرہ اندر کھینچ لیا۔\n\nسوداگر نے دیکھا: بندر مر گیا۔ چاہا: ہلاک ہو جائے، بد نامی کا قصّہ پاک ہو جائے۔ جو شخص خَواصی میں بیٹھا تھا، سمجھانے لگا: بندہ پرور شکر کرنے کی جا ہے، شکایت کا موقع کیا ہے۔ حُرمت رہی، جان بچی۔ مرگِ فرزند سے ماں باپ کو چارہ نہیں۔ مر جانا، بجُز حُمَقا عقْل مند کو گوارا نہیں۔ اگر بادشاہ جبر سے بندر کو چھین کر مار ڈالتا، جان کھونے کی جگہ تھی۔ صبر کیجیے، جو خدا کی مرضی۔ اُس کی رَضا میں مجبوری ہے، جائے صَبوری ہے۔ صابِروں کا مرتبہ بڑا ہے، اُن کے حق میں اللہ فرماتا ہے، تم نے سُنا ہے کہ نہیں: اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ۔\n\nتماشائیوں پر یہ حال کھلا، رُونے پیٹنے کا دونا شُور و غُل مچا۔ سب نے متفق یہی کہا: بس کہ بندر عَقیل تھا، یہ پیامِ طَلَب، کُوسِ رَحیل تھا۔ سامنے جانے کی نوبت نہ آئی، سوداگر کی گود خالی کر کے جان گنوائی۔ اپنا قتل جو ثابت ہوا، خوف سے مر گیا، داغِ تقریر ہمارے صَفْحۂ دل پر دھَر گیا۔ یہ خبر اُس کافِرِ اکفر کو پہنچی۔ اِس پر بھی چَین نہ آیا؛ لاش منْگا، جلا کے دل ٹھنڈا کیا۔ خاک تک برباد کی، جب تسکین ہوئی۔\n\nوہاں ملکہ مہر نگار پنجرہ لے بیٹھی، لوگوں کو پاس سے سَرکا دیا۔ میاں مٹھو نے ھوَ ھوَ ابتدا سے انتہا تک مفصل سب حال سنا دیا کہ اِس طرح نشے کی حالت میں اُس کے رونے پر عمل بتایا، وہ ہمیں پر عمل میں لایا، بندر بنایا۔ پھر چڑیمار کے جال میں پھنسے، دوست روئے، دشمن ہنسے۔ وہاں سے سوداگر مَتاعِ خوبی سمجھ کر، اپنے پاس لایا۔ فلک نے بعد خرابیِ بِسیار آج تم سے مِلایا۔ ملکہ نے کہا: خاطِر پریشاں جمع رکھیے، اِنْشاءَ اللّٰہ تعالیٰ جلد کوئی صورت ہوئی جاتی ہے۔ یہاں یہ گفتگو تھی کہ اُس نُطفَۂ شیطاں کی آمد ہوئی۔ ملکہ باہر نِکل آئی، تعظیم و تَواضُع کرنے لگی۔ ہمیشہ یہ معمول تھا: جب وہ آتا، ملکہ بات نہ کرتی مدارات نہ کرتی؛ طیش میں آتا، خفیف ہو کر اُٹھ جاتا۔ اُس روز جو گفتگو ہوئی، وہ مَردَک سمجھا: بندر کا مرنا بہ چشم ملکہ نے دیکھا، اِس سے دب گئی، بے اِعتنائی کی بات اب گئی۔ جلدی نہ کرو، اِمْروز فَردا مُقَدَّمہ درست ہو جائے گا؛ لیکن پہلے اِسی سے فیصلہ شرط ہے۔ ملکہ کے باپ کا بہت ڈر تھا، اِس باعِث ملکہ کا پاس کرتا تھا کہ اُن کے باپ سے ہِراس کرتا تھا۔ جب رخصت ہونے لگا، ملکہ نے کہا: ایک بکری کا بچّہ خوب صورت سا ہمیں بھیج دو، پالیں گے، رنج کو ٹالیں گے۔ یا تو چُپ رہتی تھی، آج بچّہ مانگا؛ یہ بچہ بہت خوش ہوئے۔ اُسی وقت ایک بَربَری کا بچّہ تُحفہ بھجوا دیا۔ دوسرے روز جو آیا، ملکہ کو زیادہ مُتوجِّہ پایا۔ اُس کے رو بہ رو بچّے سے کھیلا کی۔ دو تین روز یہی صحبت رہی۔\n\nایک روز ملکہ نے بچّے کو دبا کر اَدھ مُوا کر دیا اور چُوبدار دوڑایا کہ شہ زادے کو جلد بُلا لا، عرض کرنا: اگر دیر لگاؤ گے، جیتا نہ پاؤ گے۔ یہ خبر سُن کر وہ محل سَرا کا عازِم ہوا۔ ملکہ نے پنجرہ اُس ہُمائے اَوجِ سلطنت کا پلنگ کے پاس رکھ لیا۔ جب وہ نابکار رو بہ رو آیا، ملکہ نے بچّہ گود میں اُٹھا کے اِس زُور سے دبایا کہ وہ مر گیا۔ اُس کا مرنا، اِس کا نالہ و فریاد کرنا۔ گریباں چاک کرنے کی، بکھیڑا پاک کرنے کی تدبیر کی۔ وہ بے قرار ہو کر بہ مِنّت بولا: ملکہ! ہزار بچّہ اِس سے اچھا ابھی موجود ہوتا ہے، تم کیوں روتی ہو، جی کھوتی ہو۔ ملکہ نے اُسی حالت میں کہا: میں کچھ نہیں جانتی، تم اِسے ابھی جِلا دو، جو میری خوشی چاہتے ہو۔ وہ بولا: مُردہ کہیں جِیا ہے؟ کبھی کسی نے، سِوائے مسیح، ایسا کیا ہے؟ ملکہ نے رُو کر کہا: واہ! تم نے میری مَینا جو جِلائی تھی، جب میں بِلبِلائی تھی۔ یہ دل میں سمجھا: شاید شہ زادے نے یہ حرکت کی ہو گی! کارخانے مُسَبّب الاسباب کے مشہور و معروف ہیں۔ دُنیا میں، مثل ہے: کہ کرد کہ نیافت۔ جس نے جیسا کیا، ویسا پایا۔ ہر فرعونے را موسیٰ۔ رُباعی:\n\nاے یار! جو کوئی کسی کو کلپاوے گا\n\nیہ یاد رہے، وہ بھی نہ کل پاوے گا\n\nاِس دارِ مُکافات میں، سُن اے غافل!\n\nبیداد کرے گا آج، کل پاوے گا\n\nوہ بد حواس پوچھنے لگا: ہم نے مَینا کیوں کر جِلائی تھی؟ ملکہ بولی: تم پلنگ پر لیٹ رہے تھے، وہ جِی اُٹھی تھی۔ یہ پتا بھی درست پایا اور قضا کا زمانہ قریب آیا، کہا: بچّہ گود سے رکھ دو۔ ملکہ نے پھینک دیا۔ وہ پلنگ پر لیٹا، اپنی روح بچّے کے قالِب میں لایا، وہ اُٹھ کر کودنے لگا۔ ملکہ مہر نگار نے گود میں لیا، پیار کیا۔ وہ سُوچا، دو گھڑی ملکہ کی طبیعت بہل جائے، پھر روح قالِب میں لے جاؤں گا، مطلب تو نکل آئے۔ یہ نہ سمجھا فلک کی گھات ہے، فریب کی بات ہے؛ چرخ کو کچھ اور چکّر منظور ہے، اب اُس جسم کے نزدیک جانا بہت دور ہے۔ شہ زادہ جان عالم یہ سب معاملے پنجرے سے دیکھ، سُن رہا تھا؛ قالب کو خالی پایا، فوراً اپنی روح اپنے جسم میں لایا، مُنْہ سے اِلّا اللّٰہ کہا، اُٹھ کھڑا ہوا۔ وہ بزدلا جان عالم کو دیکھ کہ تھرَّا گیا، خوف چھا گیا۔ سمجھا قسمت اب بُری ہے، کوئی دم کو گلا ہے اور چھری ہے۔ ملکہ نے جلد دو اَنچھر وہ پڑھ کر پھونک دیے کہ وہ اَور کے قالِب میں روح لے جانا بھول گیا۔\n\nپھر انجمن آرا کو بلایا، کہا: لُو صاحِب مبارک ہو! اللّٰہ تعالیٰ نے تمھاری ہماری حُرمت و آبرو کو بچایا، بچھڑے سے مِلایا۔ یہ آپ کا اَحْمَقُ الَّذی شہ زادہ ہے۔ وہ بکری کا بچّہ؛ بے دین، حرام زادہ وزیر زادہ ہے۔ یہ کہہ کر تینوں عاشق و معشوق گلے مِل مِل خوب روئے۔ جو جو مَحرمِ راز تھیں، دوڑیں، مبارک سلامت کی دھوم ہوئی، بَشَّاش ہر ایک مغموم ہوئی۔ جان عالم نے اُسی وقت سوداگر کو طلب کیا، اپنی سَرگزشت سے آگاہ سب کیا۔ بعد ادائے شکرِ نعمت، خِلعتِ مُکلَّف اور انعام ہر اقسام کا مع ہاتھی، پالکی عنایت کیا۔ وطن آنے کا وعدۂ حَتْمی لیا۔ پھر چڑیمار اور اُس کی جورو کو بلایا۔ روپیہ اشرفی، زر و جواہِر دے کر فِکرِ دُنیا سے بری کر دیا اور بہ مَشورَہْ غضنفر شاہ اُس مملکت کے چڑیماروں کا چودھری کر دیا۔ پھر لشکرِ ظَفَر پَیکر کو حکم تیّاریِ سامانِ سفر فرمایا، آپ رخصت ہونے کو غضنفر شاہ پاس آیا۔ آخِر کار بہ دِقّتِ تمام و طولِ کلام، درازِیِ ایامِ مُفارَقَتِ والِدَین کہہ کر اُسے راضی کیا۔ پیش خیمہ اُسی دن لَد گیا۔ دو چار دن رخصت کی دعوتوں میں گُزرے۔ اخیر جلسے خوب دھوم دھڑکّے کے ہوئے۔ اپنے عمل تک غضنفر شاہ ساتھ آیا۔ تمام لشکر نے اس کی سرحد تک پکّا پکایا پایا۔ پھر رُخصت ہوئے۔ وہی دو چار کوچ، ایک دو مُقام کرتے بہ راحت و آرام چلے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B3%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%86%D9%90_%DB%8C%D9%85%D9%86"} {"title": "فسانۂ عجائب/مقدمہ", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "مقدمہ\n\nاز مخمور اکبرآبادی\n\nفسانۂ عجائب جس کے مصنف مرزا رجب علی بیگ سرورؔ تھے، اردو زبان کی ایک نہایت مشہور و معروف کتاب ہے۔ ہر چند یہ کتاب اُس طرز تحریر کا ایک مکمل نمونہ ہے جس کی بنیاد محض آوُرد اور تصنّع پر قائم ہے اور جس کے موضوع میں بھی کوئی خاص دلکشی نہیں مگر آج تک یہ کتاب نہایت مقبول ہے اور باوجود اُن تمام باتوں کے جو بظاہر معائب معلوم ہوتی ہیں، اس کتاب کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ باتیں جو عام نظروں کو معائب معلوم ہوتی ہیں ایک نقّادِ سخن کے نزدیک معائب نہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک اپنے اندر ایک تاریخی خصوصیت پنہاں رکھتی ہے۔\n\nفسانۂ عجائب کی اصلی اہمیت اردو زبان کی تاریخ کے سلسلہ میں معلوم ہوتی ہے۔ اس زبان نے موجودہ حالت تک پہنچنے کے لیے مختلف مدارج طے کیے ہیں اور ان میں ہر درجہ اپنے مقام پر ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے اور ارتقائے زبان کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے بیش از بیش دلچسپیوں کا حامل ہے۔ ہر ایسے عہد کو جس کی زبان گذشتہ عہد کی زبان سے مُمَیَّز کی جا سکے ارتقا کی ایک کڑی کہا جاتا ہے اور ان تمام کڑیوں کے مجموعہ کا نام تاریخ ہے؛ اگر ایک بھی کڑی کھو جائے یا اس کی بابت پورے حالات مہیا نہ ہو سکیں تو تاریخ نا مکمل رہ جائے گی۔ چنانچہ اردو کی تدریجی ترقیوں کے زمانہ میں ایک وقت ایسا بھی گذرا ہے جب فارسی کا بہت چرچا تھا اور اہل علم اردو میں تصنیف و تالیف حتی کہ مراسلت کرنا بھی اپنے لیے باعث لذت سمجھتے تھے۔ آخر جب اردو کی جانب میلان ہوا تو نثر مقفیٰ اور دوسری قسم کی نثروں کو جس میں نثر معریٰ شامل نہ تھی اظہار خیال کا وسیلہ قرار دیا۔ رفتہ رفتہ یہ طرز تحریر باوجود نہایت محدود و مصنوعی ہونے کے نہ صرف رائج بلکہ مقبول ہو گیا۔ سرور نثر مُقفّیٰ کے بہترین لکھنے والے تھے اور فسانۂ عجائب ان کا شہ پارہ خیال کیا جاتا ہے۔ تاریخی حیثیت سے اس کتاب کی نہایت عزت کی جاتی ہے مگر اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ صرف یہی ایک سبب اس کے اعزاز کاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کتاب ادبی محاسن کا ایک مجموعہ ہے، جن کی ساری خوبیوں کو تفصیل کے ساتھ ظاہر کرنے کے لیے ایک مستقل تصنیف کی ضرورت ہے۔\n\nسرور کے والد کا نام مرزا اصغر علی بیگ تھا اور وہ ایک نہایت معزز خاندان کے ایک فرد تھے۔ سرور کا سنہ پیدائش ۱۲۰۱ھ یا ۱۲۰۲ھ خیال کیا جاتا ہے سرور کے وطن کے متعلق بڑا اختلاف ہے۔ زیادہ لوگوں کا فیصلہ تو یہی ہے کہ سرور لکھنؤ کے باشندے تھے مگر واقعہ اس کے خلاف ہے۔ سرور کی تصانیف میں اس قسم کی شہادت موجود ہے کہ وہ لکھنؤ کے باشندے نہیں تھے اس لیے ظاہر ہے کہ ان کا آبائی وطن اکبر آباد تھا۔ چونکہ یہ مقام اس بحث کے لیے مناسب نہیں ہے اس لیے صرف یہ بتا کر کہ سرور کا وطن آگرہ تھا، یہ بات ختم کی جاتی ہے۔ سرور فارسی اور عربی میں دستگاہ کامل رکھتے تھے اور ان کی تربیتِ ذوق لکھنؤ کی رنگین و ادبی فضا میں ہوئی تھی۔ شاعری کی طرح سرور کو خطاطی میں بھی کمال حاصل تھا اور اس فن میں وہ محمد ابراہیم کے شاگرد تھے جن کا ذکر فسانۂ عجائب میں نہایت عزت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرور کو موسیقی کے علم و فن دونوں شعبوں میں پورا کمال حاصل تھا مگر اس علم پر انھوں نے کوئی تصنیف نہیں چھوڑی۔ فن شعر میں سرور، آغا نوازش حسین عرف مرزا خانی متخلص بہ نوازش کے شاگرد تھے جن کا ذکر فسانۂ عجائب میں نہایت احترام کے ساتھ موجود ہے۔\n\nسرور لکھنؤ کے قدیم نثر نگاروں میں ایک نہایت بلند پایہ استاد سمجھے جاتے ہیں اور نثر مقفّیٰ کے بڑے زبردست ماہر تھے۔ غالباً یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ اس طرز کے لکھنے والوں میں کوئی دوسرا نثّار، ایسا پیش نہیں کیا جا سکتا جو سرور سے دعوائے ہمسری رکھتا ہو۔ ایک انسان کی حیثیت سے سرور نہایت خوش مزاج، زندہ دل اور صحبت پسند آدمی تھے۔ اس کے علاوہ خوش گفتار اور حسین بھی تھے۔ ان خصوصیات کی بنا پر لوگوں کا ان کی جانب میلان تھا۔ شرف الدین میرٹھی اور غالب کے ساتھ ان کے خاص تعلقات تھے۔ غالب نے گلزار سرور پر ایک تبصرہ بھی لکھا ہے اور فسانۂ عجائب کے ذکر میں سرور کو اپنے عہد کا بہترین نثر نگار تسلیم کیا ہے۔\n\n۱۲۴۰ھ میں سرور کانپور میں وارد ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ نواب غازی حیدر کے حکم سے جلا وطن کر کے سرور کو کانپور بھیجا گیا تھا۔ فسانۂ عجائب میں، صاف الفاظ میں، کانپور کی ہجو کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرور کو اس مقام سے کس قدر نفرت تھی۔\n\nفسانۂ عجائب سرور نے یہیں تصنیف کیا اور ایک قصیدہ نواب غازی الدین حیدر کی شان میں اس امید پر لکھا کہ وطن عزیز کو واپس جانے کی اجازت مل جائے۔ آخر غازی الدین کے مر جانے کے بعد ایک قصیدہ نواب نصیر الدین حیدر کی شان میں اضافہ کیا اور مسودہ لے کر لکھنؤ آئے۔ ۱۸۲۴ء میں سرور نے اپنی نہایت مشہور و معروف کتاب فسانۂ عجائب تصنیف کی۔ ۱۸۴۶ء میں ان کی زوجہ نے انتقال کیا مگر اسی سال واجد علی شاہ والیِ اودھ نے سرور کو اپنے شعرائے دربار میں داخل کر کے پچاس روپے ماہوار تنخواہ مقرر کر دی۔ اس تقرر کا باعث بادشاہ کے ایک دوست قطب الدین مفتاح الملک قطب علی شاہ تھے جن کے ذریعہ سے پہلی مرتبہ سرور نے تاج پوشی کا قطعہ تاریخ پیش کر کے بادشاہ کے مزاج میں درخور حاصل کیا۔ ۱۸۴۷ء سے ۱۸۵۱ء تک سرور نے مختلف تصانیف کیں جن میں ’’شررِ عشق‘‘ سب سے زیادہ مشہور فسانہ ہے۔ یہ فسانہ نواب سکندر بیگم والیِ بھوپال کے حکم سے لکھا گیا۔ ۱۸۵۶ء میں امجد علی خاں رئیس سندیلہ کی فرمائش سے ’’شگوفۂ محبت‘‘ تصنیف کی گئی۔ اسی سال اودھ کا الحاق اور واجد علی شاہ کی جلا وطنی عمل میں آئی اور واجد علی شاہ کو کلکتہ جانا پڑا۔\n\nاب سرور پھر بے یار و مدد گار ہو گئے اور ان کی پہلی سی عسرت و تنگ دستی عود کر آئی۔ چنانچہ سید قربان علی سرشتہ دار مسٹر کارینگی اور منشی شیو نرائن ملازم کمشنریٹ سے انھوں نے مدد چاہی۔ مگر ۵۷ء کے عذر نے سرور کو اس مدد سے بھی محروم کر دیا۔ لیکن سرور کی قسمت میں ابھی اچھا زمانہ باقی تھا۔ مہاراجا ایشری پرشاد نرائن سنگھ والیِ بنارس نے ۱۸۵۹ء میں انھیں بنارس بلا لیا اور بہت عزّت و اقتدار کے ساتھ اپنے یہاں رکھا۔ ’’گلزار سرور‘‘، ’’شبستان سرور‘‘ اور دیگر کتب شعر و نثر یہاں کے قیام کے زمانے کی تصانیف ہیں۔ مہاراجا شیودان سنگھ والیِ سلور نے بھی سرور کو اپنے یہاں دعوت دی۔ مہاراجا پٹیالہ نے ان کی لیاقت کا اعتراف جواہر نگار چوڑیوں کا ایک جوڑا بھیج کر کیا۔ سرور نے دہلی، لکھنؤ، میرٹھ اور راجپوتانہ کا بھی سفر کیا تھا۔ اپنے سفر کی تکالیف کا حال ایک خط میں درج کیا ہے جو انشائے سرور میں موجود ہے۔ یہ کتاب دلچسپ واقعات کا ایک نہایت دلکش مجموعہ ہے جس سے سرور کی زندگی کے بہت سے تفصیلات اور معاصرانہ واقعات پر روشنی پڑتی ہے۔ ۱۸۶۳ء میں سرور آنکھوں کا علاج کرانے کی غرض سے کلکتہ گئے اور وہاں مٹیا برج پر واجد علی شاہ سے ملاقات کی۔ مگر وہاں ان کی آنکھوں کو کوئی فائدہ نہ ہوا اور نا امید ہو کر واپس آنا پڑا۔ آخر لکھنؤ کے کسی مقامی ڈاکٹر سے آپریشن کرایا۔ اس کے بعد سرور بنارس گئے اور ۱۲۸۴ھ میں غالب کی موت سے ایک سال قبل انتقال کیا۔\n\nسرور کو لکھنؤ سے نہایت محبت تھی۔ اِس محبت کا اظہار اُس ذکر سے بخوبی ہوتا ہے جو ’’فسانۂ عجائب‘‘ میں لکھنؤ کا کیا گیا ہے۔ بنارس کے قیام کے زمانے میں بھی سرور لکھنؤ کو اسی بے تابی سے یاد کرتے تھے جس طرح قفس میں کوئی بلبل اپنے آشیانۂ چمن کو یاد کرتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس عہد میں لکھنؤ کی محبت شعرا کا تمغائے امتیاز سمجھی جاتی تھی۔ ناسخ اور ناسخ کے شاگرد نواب مہر کے کلام میں بھی اس قسم کے اشعار پائے جاتے ہیں۔\n\nسرور کا بہترین کارنامہ جس نے ان کے نام کو صفحات اردو پر غیر فانی کر دیا ہے ’’فسانۂ عجائب‘‘ ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع و اسلوب کے اعتبار سے فرسودہ انداز پر لکھی گئی ہے اور فارسی کی عامۃ الورود کہانیوں کے رنگ میں ہے۔ اس کا قصہ محض خیالی ہے اور سحر بستہ صحراؤں، جادوگروں کی لڑائیوں اور اسی قسم کی بہت سی غیر فطری اور دور از قیاس مہمات کا ذکر کثرت سے موجود ہے۔ جہاں تک قصہ کا تعلق ہے اس کتاب میں سوائے بچوں کے، بڑوں کے لیے کوئی دلچسپی نہیں۔ بڑوں کی دلچسپی صرف اس کی زبان، مقفیٰ عبارت اور دیگر خصوصیات تک، جو بے شمار ہیں، محدود ہے۔ لکھنؤ کے رسم و رواج اور معاشرت کی جو تصویریں فسانۂ عجائب میں ملتی ہیں، دوسری جگہ دستیاب نہیں ہوتیں۔ سرور کا طرز تحریر اپنے رنگ میں نہایت مکمل ہے۔ گو یہ طرز نہایت مصنوعی ہے اور اس میں علمی تصانیف برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں، مگر اس طرز کے محدود دائرے کے اندر رہ کر بھی سرور نے فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیے ہیں۔ بعض مقامات پر ایسی ایسی خوبیاں پیدا ہو گئی ہیں جن کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اور سرور کی استادی کا قائل ہو جانا پڑتا ہے۔ مگر یہ رنگ اس زمانے کی ضروریات کے منافی ہے۔ پہلے زمانہ میں اس قسم کی نثر جو فارسی الفاظ اور تراکیب سے مزین نہ ہو نفرت کی نظر سے دیکھی جاتی تھی۔ مگر غالب نے اس جال سے نکلنے کی کوشش کی اور اس کی جرات نہایت قابل تحسین ہے۔\n\nفسانۂ عجائب کا ابتدائی حصہ نہایت دلچسپ ہے اس لیے کہ اس میں اس زمانہ کی لکھنؤ کی زندگی کا حال درج ہے اور وہاں کے میلوں اور ادبی و دیگر تفریحات کا ذکر موجود ہے۔ سرور کی ایک یہ بات قابل توجہ ہے کہ ان کے یہاں انسانوں کا ذکر نہیں بلکہ اشیا کا ذکر ہے۔ ان کی تصویریں اصلی نہیں بلکہ خیالی ہیں، یہ خصوصیت ذکر لکھنؤ میں بدرجہ اتم موجود ہے۔\n\nسرور اپنے ہی اسلوب تحریر کے جال میں گرفتار ہو کر رہ گئے۔ نثر مقفیٰ کی دشواریاں حد سے زیادہ ہیں۔ اس لیے زبان کی خاطر، قصہ کو قربان کرنا پڑتا تھا۔ ایک طرف تو ان دشواریوں کا سامنا تھا جن کا مقابلہ کرنا دشوار تھا۔ دوسری طرف ان کا ترک کر دینا مقابلہ سے دشوار تر تھا۔ اس لیے چار و نا چار ان کا مقابلہ کرنا ہی پڑا اور جس قدر ممکن ہوا، دلچسپ بنا کر پیش کیا گیا۔ سرور کی تحریر میں عام طور پر روزمرہ کا لطف نہیں۔ قافیہ کی قید عبارت کی سلاست کو غارت کر دیتی ہے اور توجہ محض عبارت کی پیچیدگیوں میں گم ہو کر رہ جاتی ہے۔ لکھنؤ کی محبت میں سرور نے میر اَمّن پر حملہ کر دیا ہے جو ایک نامناسب بات ہے۔ اس قسم کی کہانیوں میں کیریکٹر کا وجود عنقا ہوتا ہے مگر فسانۂ عجائب میں ملکہ مہر نگار کا کیریکٹر محبت، وفا داری، جرات، ذہانت اور عزم و استقلال کے اعتبار سے نہایت ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ انگریزی کے بہت سے الفاظ جا بجا استعمال کیے گئے ہیں جو غالباً سب سے پہلے اردو میں داخل ہوئے۔ دنیا کی ناپائیداری کے متعلق جو خطبہ بندر کی زبان سے بیان کرایا ہے وہ نہایت معنی خیز، پر اثر اور بلند مرتبہ چیز ہے۔ سرور کی تقلید میں دو کتابیں اور بھی لکھی گئیں۔ ایک جس کا نام ’’سروش سخن‘‘ ہے سید فخر الدین حسین خان سخنؔ دہلوی نے ۱۸۶۰ء میں لکھی اور اس میں سر سید پر تمسخر کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ دوسری ’’طلسم حیرت‘‘ ہے جسے محمد جعفر علی شیون لکھنوی نے ۱۸۷۲ء میں لکھا ہے، اس میں سرور اور لکھنؤ کی عزت و اقتدار کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔\n\n۱۸۴۷ء میں سرور نے ’’سرور سلطانی‘‘ لکھی جو شمشیر خانی کا ترجمہ ہے1۔ اس کتاب میں فردوسی کے شاہنامہ کو مختصر طور پر فسانۂ عجائب کے طرز میں لکھنے کی کوشش کی گئی ہے، حالانکہ یہ طرز تاریخی واقعات لکھنے کے لیے نہایت ناموزوں ہے۔ اس کتاب میں ایک مقام نہایت دلچسپ ہے جو ہندوستان کی تعریف میں لکھا گیا ہے اور اس سے حب وطن کی بو آتی ہے۔ ۱۸۵۱ء میں سرور نے ایک دوسری کتاب جس کا نام ’’شرر عشق‘‘ ہے، تصنیف کی۔ اس میں ایک واقعہ جو بھوپال کے کسی صحرا میں پیش آیا، درج ہے۔ سارس کا ایک جوڑا جو باہمی محبت کے لیے مشہور ہے ایک جنگل میں پھر رہا تھا۔ نر کو کسی نے مار ڈالا۔ مادہ نے یہ دیکھ کر لکڑیاں جمع کر کے ان میں آگ لگا دی اور خود بھی ستی ہو گئی۔\n\n۱۸۵۱ء میں ایک دوسری کہانی ’’شگوفہ محبت‘‘ ناظم اودھ کی فرمائش سے لکھی گئی۔ اس میں مہر چند کھتری کی پرانی کہانی نئے لباس میں پیش کی گئی ہے۔ اس میں واجد علی شاہ کی جلا وطنی اور کلکتہ کے سفر کا حال بھی درج ہے۔ بنارس میں سرور نے ’’گلزار سرور‘‘ مرتب کی جو فارسی کی حدائق العشاق کا ترجمہ ہے۔ اس میں عشق و روح کے مناقشے اور روح کی فوقیت کا ذکر ہے۔ اس کتاب کا موضوع مذہبی ہے مگر سرور کے اصلی رنگ میں لکھی گئی ہے۔\n\nایک صحیفہ میں غالب پر تبصرہ ہے اور یہ بھی مقفیٰ زبان اور قدیم مشرقی تبصرہ نگاروں کے انداز پر ہے۔ دوسری مشہور کتاب ’’شبستان‘‘ ہے جو الف لیلیٰ سے ملخص کی گئی ہے۔ یہ بہت رنگیں و مرصع کتاب ہے اور اس میں جا بجا اشعار کا استعمال ہے جو اسے اور بھی دلکش بناتا ہے۔ سرور کا ایک صحیفہ شہزادہ ایڈورڈ (بعدہٗ شہنشاہ ایڈورڈ ہفتم) کی شادی کی مبارکباد پر ہے۔ اس میں برطانوی حکومت کی برکات نہایت پسندیدہ الفاظ میں درج کی گئی ہیں۔ سرور کے خطوط بھی جو انشائے سرور کے نام سے طبع ہوئے ہیں مقفیٰ عبارت میں ہیں۔\n\nقدیم رنگ کے ایک مشہور انشا پرداز کی حیثیت سے سرور کی عظمت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے مخصوص دائرہ عمل میں سرور ایک ممتاز شخصیت کا مالک ہے اور اس کا مرتبہ کسی دوسرے سے کم نظر نہیں آتا۔ مقفیٰ طرز عبارت جو پیچیدہ فقروں، مصنوعی ترکیبوں اور فارسی کے متعلق و غیر مانوس الفاظ سے لبریز ہوتا ہے کاروباری زمانے میں پسند نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے اس کا متروک ہونا لازمی ہے مگر اس کے متروک ہونے پر سرور کی شہرت اور کمال انشا پردازی پر جو مستقل اور غیر فانی چیزیں ہیں کوئی اثر نہیں پڑتا۔ سرور نے پرانے ہتھیار کا استعمال نہایت خوبی کے ساتھ کیا اور ایسے قوی اثرات چھوڑے ہیں جن کا محو کرنا نا ممکنات سے ہے۔ لکھنؤ، ارباب لکھنؤ اور معاشرت لکھنؤ کے جو مرقعے سرور نے چھوڑے ہیں وہ مستقل یادگار ہیں جو اصلی مٹ جانے کے بعد بحمد اللہ آج تک قائم ہیں اور انشاء اللہ ہمیشہ قائم رہیں گی۔ سرور کی شہرت انشا پردازی نے ان کی شاعری اور خوش نویسی کی شہرت کو گھن لگا دیا اور یہی حال موسیقی کا ہوا۔ ان کا دیوان تو اب دستیاب نہیں ہوتا مگر جستہ جستہ اشعار اور غزلیں خود ان ہی کی تصانیف نثر اور مختلف گلدستوں میں نظر آ جاتی ہیں جن سے ان کی شاعرانہ حیثیت معلوم ہو جاتی ہے۔ فی الجملہ سرور ایک بلند شخصیت کا مالک تھا اور اردو علم ادب کی تاریخ میں اس کا نام زریں حروف سے ثبت ہے۔\n\n سید محمد محمود رضوی مخمور اکبر آبادی\n\n بی۔ اے۔ ایل۔ ایل۔ بی۷ مارچ ۱۹۲۸ء\n\n١۔ محققین سرور سلطانی کو شمشیر خانی کا ترجمہ تسلیم نہیں کرتے۔ (Yethrosh)", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81"} {"title": "فسانۂ عجائب/ناقہ بِٹھانا تقدیر کا پھر اُسی دشتِ پُر خوف و خطر میں", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "ناقہ بِٹھانا تقدیر کا پھر اُسی دشتِ پُر خوف و خطر میں لبِ حوض خیامِ شاہی ہونا، ساحرہ کا آنا، تمام لشکر کونصف پتھر بنانا۔ پھر ملکہ کے باپ کا آنا، آفت سے چھڑانا۔ صفوف آرائیِ افواجِ شاہی۔ جادوگر اور جادو گرنیوں کی لڑائی۔ شَہپال کا قتل، لشکر کی رہائی\n\nنظم:\n\nنگارِندۂ داستانِ عجیب\n\nیہ لکھتا ہے پھر ماجرائے غَریب\n\nطِلِسمِ جہاں دید کاہے مکاں\n\nپھنسے اِس میں رہتے ہیں پیر و جواں\n\nو لیکن ہنسا جو کوئی غنچہ ساں\n\nہُوا مثلِ گُل دست بُردِ خزاں\n\nجسے ہم نے دیکھا، وہ تھا دِل حَزیں\n\nخوشی کی جگہ، سچ ہے، دُنیا نہیں\n\nمُحَرّرانِ جادو نِگار و سحر ساز، راقِمانِ فَسانۂ ہوش رُبا و حیرت پَرداز نے لکھا ہے کہ جان عالم ہر صُبْح مثل مہرِ دَرَخشاں قطعِ مَنازِل و مَراحل یعنی کوچ، و ہر شام مانندِ ماہِ تاباں مقام کرتا؛ چند عرصے میں پھر اُسی دَشتِ اِدْبار و صحرائے خار خار، جہاں حَوض میں کود پڑا تھا، وارِد ہوا۔ حَوض کے متصل سَرا پردۂ خاص نَصْب ہوئے۔ گرد لشکرِ نُصرت اثر اُترا۔ انجمن آرا اور ملکہ مہر نگار کو وہ چشمہ دکھایا، ماجرائے گذشتہ زبان پر لایا۔ جب دن تمام ہوا، نمازِ شام کے واسطے جُدا خیمے میں تشریف لایا۔ بعد ادائے فریضۂ باری، راہ کے کَسَل سے لیٹنے کی تیّاری کی۔ پَلنگڑی جواہِر نِگار بچھی تھی، اُس پر اِستراحت فرمائی۔ سُستی کے باعث غُنودگی سی تھی کہ دفعتاً ایک خَواصِ خاص انجمن آرا کی بد حواس دوڑی آئی، کہا: شہ زادۂ عالم کی عُمر دراز ہو، قضا مُطیع، قَدَر دم ساز ہو، نصیبِ دُشمناں شہ زادی کی طبیعت نا ساز ہے، سب کی عقْل کو پرواز ہے۔ شدّت سے کلیجے میں درد ہوتا ہے، چھوٹا بڑا محل کا روتا ہے۔ وہ نقشِ سلیمانی اور لَوح دیجیے، دھُو کر پلا دیں۔ یا اور کوئی تَجْرِبے کی چیز عنایت ہو کہ کھلا دیں۔\n\nعارِضۂ مِزاج مطلوب، بَد مزگیِ طبیعتِ محبوب سُن کے بے قرار ہوا۔ عقْل اُڑ گئی، حواس فرار ہوا۔ کچھ نینْد کا خُمار، کُچھ طبیعت کا اِنتشار، دیکھا نہ بھالا، نہ وقفہ کیا نہ ٹالا، لَوح و نقش حوالے کیا۔ نقش دیتے ہی نقشہ بگڑ گیا، مُقَدَّمہ سب خراب ہوا، ثواب کے بدلے عذاب ہوا۔ ایک آوازِ مُہیب پیدا ہوئی کہ اے جان عالم! بہت دِنوں اُڑا پھرا، مدّت کے بعد پھنسا، خبردار ہو جا! ایسی آواز ہولناک تھی کہ سب لشکر ڈر گیا، شُجاعوں کے دل تھرّا گئے، محل میں رنڈیوں کو غش آ گئے۔ گھبرا کر شہ زادے نے اُٹھنے کا قَصْد کیا، جگہ سے ہِلا نہ گیا۔ غور جو کیا تو آدھا جِسم پتھر کا تھا۔ پھر تو جہاں بیٹا تھا بیٹھا رہ گیا۔ جو کھڑا تھا، وہ زمین میں گڑا تھا، اَینْٹھا رہ گیا۔ ہر طرف غُل اور شُور تھا۔ جو پڑا تھا، زندہ دَر گور تھا۔ کچھ دُکھ، کُچھ ہنسی تھی۔ تمام فوج آفَتِ ناگَہانی میں پھنسی تھی۔ عجب کھل بَلی مچی، نا مَردوں کی بائی پچی۔ کل لشکر انسان سے حیوان تک نیچے کا دھَڑ پتھر کا، اوپر کا جِسم بہ دستور۔ آہ و نالہ، فریاد و بُکا سب لشکر میں بَپا تھا۔ اور محل سَرا میں بھی یہی ہنگامہ مچا تھا، ہر ایک گرفتار بلا تھا۔ وہ رنڈیوں کی زاری، انجمن آرا کی بے قراری! عَلَی الْخُصوص ملکہ کے بیان سے زمین و آسماں کانپتا تھا، جب وہ یہ کہتی تھی، شعر:\n\nہر دم زمانہ داغِ دگرگونہ در دہد\n\nیک داغ نیک ناشدہ داغِ دگر دہد\n\nتمام لشکر میں، از شام تاپگاہ، ہر ایک کے لب سے نالۂ جاں کاہ بلند رہا۔ جس وقت ماہ دمِ سرد بھرتا نقابِ سِیاہ روئے تاباں پر ڈال کر غم کدۂ مغرب کی طرف روانہ ہوا اور آفتابِ جِگر سُوختہ مشرق سے نکل کر خدنگِ آہِ بے کساں کا نشانہ ہوا، ایک ابرِ تیرہ و تار نمود ہوا۔ آدمی سب خوف زدہ دیکھنے لگے۔ اُس ابر سے اژدہا خوں خوار، شُعلہ فشاں، آتش دہاں نکلا۔ ایک رنڈی اُس پر سوار، وہ بھی آتش بار، شہ زادے کے خیمے میں اُتری۔ جان عالم نے پہچانا کہ وہی جادوگرنی ہے، دل سے کہا: شہر اپنا دور رہا، موت قریب آئی، قسمت نے کس جگہ لا کر نیرنگی دِکھائی! وہ بولی: جان عالم! کہو اب کیا قصد ہے؟ شہ زادے نے کہا: وہی جو تھا۔ اُس نے کہا: اب وہ نقشِ سلیمانی اور لوح پیر مرد کی نشانی کہاں ہے، جس کے بھروسے پر کودتے تھے! اگر زِندگی مع لشکر درکار ہو، اور دوش پر سر نہ بار ہو تو ملکہ اور انجمن آرا سے انکار کرو۔ ہماری اطاعت اور محبت مقدم جانو، جو کہیں مانو، ہم سے دار و مدار کرو۔ نہیں تو ایک دم میں سب کو بے گور و کفن، طُعمۂ زاغ و زغن کر دوں گی۔ دشت لاشوں سے بھر دوں گی۔\n\nشہ زادے نے کہا: ہماری لوحِ دل پر نقشِ اِرادتِ باری، جو حافظِ حقیقی ہے، کِلکِ قُدرت سے مُنقش ہے۔ عادت سے مجبور ہوں، بے وفائی کے کوچے سے دور ہوں۔ جو کہا سو کہا، کیا جُو کیا۔ اگر قضا آئی ہے، مرنے سے کیا چارہ ہے؛ مگر جیتے جی بات جانی کب گوارا ہے۔ یہ سُن کر جل گئی، غُصے سے رنگت بدل گئی۔ کچھ بُڑبُڑا کر جان عالم پر پھونکا۔ یا نصف پتھر تھا، اب حلق تک ہو گیا۔ حسرت و یاس سینے میں بھری تھی، تصویرِ آزری سی پلنگڑی پر بے حس، خالی دھری تھی۔ وہ تو اژدہے پر چڑھ کر اُڑی اور پکاری: اے اجل رسیدہ! آج کے دن اور رات کی مُہلت ہے؛ اگر صُبح کو بھی انکار کیا، تو یاد رکھنا، لشکر کا خون اپنی گردن پر لیا۔ یہ سُنا وہ تو ہوا ہوئی۔\n\nاب یہاں کا حال سُنو۔ جب تک شہ زادہ آدھا پتھر تھا، تو ملکہ اور انجمن آرا اپنے اپنے خیموں سے گھبرا کر پکارتی تھیں، جان عالم جواب دیتا تھا۔ یہی آواز کا سہارا اُن کی زیست کا سبب تھا۔ اب تا حلق پتھر ہونے سے، وہ جرسِ قافلۂ گُم کردہ راہِ دشتِ غُربت، بے صدا ہو گیا۔ وہاں صبر کا راہ بر جُدا ہو گیا۔ ہر چند دونوں چلائیں، شہ زادہ جان عالم نے مطلق جواب نہ دیا، بولا ہی نہ گیا۔ پھر تو ملکہ مہر نگار با دلِ فِگار سر پیٹ کر کہنے لگی، میر حسن:\n\nفلک نے تو اِتنا ہنسایا نہ تھا\n\nکہ جس کے عوض یوں رُلانے لگا\n\nمُژدہ اے مرگِ غریبُ الوطنی! خوب حیلہ ہاتھ آیا؛ تو بدنامی سے بچی، ہم نے ناکامی میں جان دی۔ چرخِ ستم شِعار زُور رنگ لایا۔ انجمن آرا بے چاری مصیبت کی ماری سب کا مُنہ حیرت سے تکتی تھی اور رُوتی تھی۔ نہ بین کر آتے تھے، نہ غُل مچایا جاتا تھا، گھُٹ گھُٹ کر جان کھوتی تھی۔ خواصیں سر کھول کر کہتی تھیں: ہے ہے! ہم اس جنگل ویران میں لُٹ گئے، وارِث سے چھُٹ گئے۔ شعر:\n\nتو وہ کریم ہے، ناشاد کو جو شاد کرے\n\nمراد مند کو ہر طرح بامُراد کرے\n\nلوگو! ہم کدھر جائیں، کیوں کر اِس بلا سے نجات پائیں! کوئی کہتی تھی: شیطان کے کان بہرے، خدا نخواستہ اگر جان عالم کے دشمنوں کا رونگٹا میلا ہُوا؛ شہ زادیاں خاک میں مل جائیں گی، غمِ جُدائی سے جانیں گنوائیں گی۔ ہم ان کے ماں باپ کو مُنہ کیا دِکھائیں گے، اِس دشتِ اِدبار میں سر ٹکرا کر مر جائیں گے۔ یہ جادوگرنی ’’قربان کی تھی‘‘ لاشوں کو گور و کفن نہ دے گی۔ اور آتو، محل دار جگر افگار سر سے چادریں پٹک، مدینے کی طرف پکار پکار یہ کہتی تھیں، شعر:\n\nتصدُق اپنے نواسوں کا یا رسول اللہ\n\nکہو کہ حل کریں مشکل ہماری حضرتِ شاہ\n\nایک طرف مُغلانیاں غم کی ماریاں دمِ گرم، آہِ سرد بھرتی تھیں۔ ایک سمت انیسیں، جلیسیں نجف کی طرف بال کھول کر اِلتِجا سے، گریہ و بُکا سے یہ عرض کرتی تھیں، شعر:\n\nتم نے مدد کر نوح کی طوفاں سے کشتی پار کی\n\nیا مُرتضیٰ مشکل کُشا! کیوں بار میری بار کی\n\nکوئی کہتی تھی: ہمارا لشکر اِس بلا سے جو نکلے گا، تو مُشکل کُشا کا کھڑا دونا دوں گی۔ کوئی بولی: میں سہ ماہی کے روزے رکھوں گی، کونڈے بھروں گی، صحنک کھِلاؤں گی، دودھ کے کوزے بچوں کو پلاؤں گی۔ کسی نے کہا: میں اگر جیتی چھٹی، جنابِ عباس کی درگاہ جاؤں گی۔ سقائے سکینہ کا علم چڑھاؤں گی۔ چہل مِنبری کر کے نذرِ حسین سبیل پِلاؤں گی۔\n\nغرض کہ لشکر سے زیادہ خیموں میں تلاطُم پڑا تھا۔ صدائے حزیں، نالۂ ہر غمگیں سے ہنگامۂ محشر بپا تھا۔ اتفاقاً ایک شاگرد ملکہ کے باپ کا رشید، فنِ سحر میں دید نہ شنید اُس مردِ بزرگ کی ملاقات کو بہ روئے ہوا اُڑا جاتا تھا۔ یہ نالۂ بلند، صدائے ہر درد مند اُس کے کان میں جو پہنچی، زمین کا مُتوجِہ ہوا۔ دیکھا تو ایک لشکرِ عظیم بہ حالِ سقیم سحر کا مبتلا ہے، شُور و غُل ہو رہا ہے۔ جب قریب تر آیا، طُرفہ ماجرا نظر آیا کہ انسان سے تا جانور سب آدھے پتھر ہیں۔ سمجھا سحر شہپال میں خراب حال ہیں۔ لوگوں سے پوچھا: یہ ستم رسیدہ لشکر کس کا ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ کس نے یہ حال بنایا ہے؟ وہ ملکہ مہر نگار کے ملازم تھے، اپنا حال سب نے بیان کیا۔ جب اُسے یہ امر معلوم ہوا کہ اُستاد زادی کی خانہ بربادی ہے اور شہپال کی بیٹی کو مسرت ہے، شادی ہے؛ درِ خیمۂ ملکہ پر آیا، سر پیٹا، چِلایا۔ ملکہ نے آواز پہچانی، کہا: بھائی! اِس وقت پردہ کہاں کا! یہاں آ کے بِالمُشافہہ ہمارا عذاب اور حالِ خراب دیکھو۔ وہ اندر آیا، ملکہ کو بھی اُسی عالم میں پایا۔ اُس نے فرمایا: عداوتِ ساحرہ سے ہمارا قافلہ تباہ ہے۔ وہ عرض کرنے لگا: فِدوی کو اُس کی ہمسری کی طاقت نہیں اور وقفہ کم، صبح سب کارخانہ درہم و برہم ہو جائے گا۔ بجُز آپ کے والدِ بزرگوار کے تشریف لائے یہ بلا ٹلتی نہیں، خادم کی یہاں دال گلتی نہیں۔ لو خُدا حافِظ و ناصِر ہے! یہ کہہ کر بہ حالِ خستہ و تباہ، لب پر نالہ و آہ، اِس تیز قدم سے چلا کہ ادہمِ صبا کی ڈپٹ ہر قدم نثار تھی، ٹھوکروں میں صر صر بے قرار تھی۔ پہر بھر میں واردِ باغ ہوا: گُل سا چاک گریباں، شبنم نمط اشک رواں، غنچے کی صفت گاہ خموش، بلبل کے ڈھنگ سے گاہ نالے کو جوش و خروش۔ پیر مرد نے فرمایا: خیر ہے! اُس نے شِمّہ گرفتاریِ جان عالم ، ملکہ کی بے قراری، انجمن آرا کا الم، لشکر کا حالِ بَتَر کہہ کر عرض کی: جلد چلیے؛ اگر شام تک نہ پہنچے، وہاں صُبح ہے۔ دمِ سحر ملکُ الموت کا بازار گرم ہو گا، ارمان سب دل میں رہے گا، کُشتُوں کو عالم بے والی و وارِث کہے گا۔ کوئی گور و کفن نہ پائے گا، خاتمہ بالخیر ہو جائے گا۔ پیر مرد نے آہِ سرد بھر کر فرمایا: افسوس! شہ زادے کو سب کچھ سمجھایا تھا مگر عمل میں نہ لایا۔ میر سوزؔ:\n\nایک آفت سے تو مر مر کے ہوا تھا جینا\n\nپڑ گئی اور یہ کیسی مرے اللہ، نئی\n\nاُسی دم شاہینِ تیز پرواز پر سوار ہوا، مغرب کی نماز لشکر میں داخل ہو کر پڑھی۔ پہلے جان عالم کے خیمے میں آیا، حال دیکھ کر سخت گھبرایا۔ پھر انجمن آرا کی جا کر تسکین کی، وہ رونے لگی۔ وہاں سے ملکہ کے پاس آ کے فرمایا: تمھاری بدبختی نے ہماری وضع میں فرق ڈالا، برسوں کے بعد باغ سے نکالا۔ ملکہ نے رو کر عرض کی: یہ وقتِ تدبیر ہے نہ ہنگامِ تعذیر؛ بعد رِہائی اِس آفتِ سماوی کے جو چاہنا فرمانا۔\n\nالقِصہ مجبور و ناچار وہ عارِفِ باوقار شہ زادے کے خیمے کے نزدیک دور تک حِصار کھینچ کر بیٹھا۔ یہ مردِ بزرگ، نیک صِفات، فنِ سحر کے سِوا، عامِل اِسمِ ذات کا تھا؛ کچھ پڑھنے لگا۔ کبھی مُناجات بہ درگاہِ مُجیبُ الدعوات کرتا کہ اے یاورِ زِیر دشان و سرفِرُو کُنندۂ گردن کشاں! اِس بوڑھے کی شرم تیرے ہاتھ ہے۔ قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہوں، اخیر وقت کا تو حافظ و نگہباں ہے۔ مجھ پر جو مشکل ہے، تیرے رو بہ رو آساں ہے۔ سفید ڈاڑھی کو بد نامی کے وسمے سے نہ رنگانا۔ تیرہ بختی کا دھبا بہ ایں ریشِ سفید نہ لگانا۔\n\nشعر:\n\nمشکل،ز توجہِ تو آساں\n\nآساں، زتغافلِ تو مشکل\n\nجب کہ سجادہ نشینِ چرخِ اول با مجمع مُریدانِ کواکِب حُجرۂ مغرب میں روپُوش ہوا، اور ساحرِ فلکِ چہارُم پُر شوکت و با حشم طلسمِ مشرق سے نمودار با جُوش و خرُوش ہوا، اور وہ عبادت گُزار پیرِ جواں مرد شب زِندہ دار وظائِفِ صُبح سے فرصت پا چکا؛ یکایک وہ نابکار شیطان صفت، ناپاک عورت اژدہے پر سوار، بہ چشمِ خوں خوار عزمِ قتلِ جان عالم ، اور لشکر میں تنہا آئی۔ پہلے ملکہ کے باپ پاس گئی، آنکھیں لال لال، طیش کمال اور بہ آوازِ کرخت وہ نگوں بخت پکاری اے مردِ پیر، سُست تدبیر! تیری اجل بھی دامن گیر ہو کر، کشاں کشاں اِس دشتِ جاں فشاں میں لائی! مجھے شرم آتی ہے کہ تو پیرِ نود سالہ ہو چکا ہے، بے مارے مر رہا ہے، تیرے قتل میں بد نامی چھُٹ فائدہ کیا ہے۔ جدھر سے آیا ہے، سیدھا چلا جا۔ میں بہ یک نگاہِ کج نشانِ لشکر اِس صفحۂ زمیں سے مِثلِ حرفِ غلط کا ردِ سحر سے مٹائے دیتی ہوں۔\n\nمردِ بزرگ نے آشُفتہ ہو کر فرمایا: اے ننگِ فِرقۂ بنی آدم، مردودِ عالم! تجھے جُوشِ شہوت، ولولۂ مُباشرت نے آمادۂ قتلِ ہزار ہا بندۂ اللہ، بے جُرم و گناہ، کیا۔ میں مرگِ عزیزاں دیکھوں، مرنے سے ڈروں! بہ قول تیرے: آج نہ مُوا، کل مر جاؤں گا؛ یہاں سے جو چلا گیا، خلق کو مُنہ کیا دکھاؤں گا! ہم چشموں سے ناحق آنکھ چھپانی پڑے گی! تو بد بخت مجھ سے کیا لڑے گی! یہ سُن کر وہ فاحِشہ جھلا، آستین چڑھا سحر کی نیرنگیاں دکھانے لگی۔ ان کی بھی دُعا کی تاثیر سِپر بن کے، اُس کا سحر اُس پر ڈھال، رنگ مٹانے لگی۔ صبح سے پہر دن باقی رہا، کوئی دقیقہ طرفین سے نہ باقی رہا۔ طول اِس مقام کا بے جا تھا، اِسی کلمے پر تمام کیا کہ جب وہ عاجز ہوئی، تب سحر کی طاقت سے شِیر کی صورت بنائی۔ پیر مرد بھی اسدُ اللہِ الغالِب کو یاد کر، وہ مُہیب ببر بنا اوراِس طرح للکار کر گونجا کہ جنگل کے چار پائے نعرے کے خوف سے دریا میں گرے اور پانی کے جانور خشکی میں چھپتے پھرے۔\n\nکچھ دیر اِس ہیئت میں لڑائی، زُور آزمائی رہی۔ آخر کار وہ رُو باہ خِصال، اُس ہِزَبرِ نیستانِ شجاعت کی تاب نہ لائی، گیڈر بھبکی دِکھائی اور عُقاب بن کر اُڑ چلی۔ وہ شاہینِ اوجِ دِلیری سُوچا: بے گرفتاریِ طائرِ مطلب، یعنی اِس ڈھڈو کے، لشکر جنجال سے نہ نکلے گا؛ اِسی طرح یہ پھٹکی پھٹکی ٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلے گی۔ بلا سے کچھ ہو، اِسے پھنساؤ۔ زُور میں کم پایا تھا؛ فوراً بازِ تیز پرواز ہو کے، اس سناٹے سے چنگلِ آہنی میں اُسے دبوچا، ایسا نوچا کہ اُس کی جان سنسنا گئی۔ بھاگتے وقت رِجالُ الغیب سامنے تھا، موت پنجے جھاڑ کے پیچھے پڑی۔ بہت تڑپی، پنجۂ قضا سے نہ چھُٹ سکی۔ اُسی کشمکش، اینچا کھینچی میں مُرغِ روح اُس کا مجروح، قفسِ تن سے اُڑ کر آشیانۂ جہنم میں پہنچا۔ غُلغُلۂ حشر، شورِ نُشور اُس صحرا میں نزدیک و دور مچا، ہر طرف سے دارو گیر کی صدا آئی۔ آسمان چکر میں آیا، زمین تھرائی، دشت تیرہ و مُکدر ہوا، آندھی چلی، سحر کا کارخانہ اُڑ گیا، ابتر ہوا۔ قریبِ شام وہ سیاہی موقوف ہوئی، خورشید نے رُخِ انور دکھایا، اپنا بے گانہ نظر آیا۔ جان عالم گھبرا کر اُٹھ بیٹھا۔ اہلِ لشکر نے رِہائی، از سرِ نو زِندگی پائی۔\n\nجان عالم خیمے سے نکل، نادِم و خجِل، پیر مرد کی خدمت میں حاضرہوا۔ سب نے دیکھا: دور حِصار میں ایک رنڈی، اسی نوے برس کا سِن، ضُعف کا زُور شُور، بُڑھاپے کے دن۔ قد خمیدہ جیسے چڑھی کمان۔ مرنے پر لیس، مُنہ اُترا، آنکھیں تودۂ طوفان۔ جسم کساہر پٹھا در پئے ژولیدگی گھُنی ہوئی رگیں صاف نظر آتی تھیں۔ ہڈیاں پسلیاں بوسیدہ جِلد کے باہر سے گِنی جاتی تھیں۔ دُرجِ دہاں بے دُرِ دنداں، حُقۂ خالی کی طرح وا۔ ڈاڑھ، دانت کے نام سے مُنہ میں خاک نہیں، بھاڑ سا کھُلا۔ نیلے نیلے مسوڑھے سڑے۔ تالو توے کا پتا؛ جیب جھُلسی، چھالے پڑے۔ ہاتھ دہنا برگد کا ٹہنا۔ بایاں جو زمین پر ڈالا تھا، وہ ساکھو کا ڈالا تھا۔ سینۂ پُر کینہ تنگ۔ چھاتیوں کے تِکّے تُکّے کی صورت لٹکتے، دمِ رفتار ٹانگوں میں اٹکتے۔ پیٹ کے لپیٹ کی انتہا نہیں، بے خاکِ گور کبھی بھرا نہیں۔ دل پہاڑ کی سِل۔ گُردہ توپ کا مُقابل۔ بغلوں سے کیچڑ بہتی۔ ناف جیسے گھنٹا بیگ کی گڑھیّا۔ ٹانگ ہر ایک تاڑ سے بڑی۔ کھڑی ہو تو سقفِ بے سُتوں کی اڑواڑ ہو، گُنبدِ چرخ کی پاڑ ہو۔ پھیلائے پڑی تھی، گویا پتھورا کے محل کی کڑی تھی۔ ہڈی سے گوشت، گوشت سے کھال جُدا۔ پیر زال، فرہاد کُش بُڑھیا۔ چہرے کا یہ رنگ کہ سِلہٹ کی سِپر کا اُس کے رو بہ رو مُنہ سفید ہو جائے، شبِ فرقت کی سیاہی میں کالی بلا سی نظر آئے۔ کھُونبڑ کا وہ ڈھنگ کہ سب کہتے تھے: بیچا ہے، لڑکوں کو نہ ڈرائے۔ ماتھے پر سیندور کا ٹیکا دور سے نظر پڑتا اور سفید چُونڈا چنور کی طرح لٹکتا۔ سیاہی کا دھبا بجُز تیرہ بختی کہیں نہ دیکھا۔ ایسے سر کی مانگ میں بھی مانگ جانچ سِیندور بھرا۔ بالوں میں ناریل کا تیل۔ پھٹے پھٹے دیدوں میں ندیدوں کی طرح کاجل ریل پیل۔ گہنے کے عوض سانپ بچھو لپیٹے، کھوپڑی اور ہڈیوں کے ہار گلے میں پڑے، سحر کا سنگار وہ نابکار کیے، پُشت بہ بہشت روئے نحس سوئے جہنم، چت پڑی تھی۔ قد کا ڈول سب سے نرالا، عوج بن عُنُق کی سگی خالہ۔ یہ دیکھ کے، شہ زادہ پیر مرد کو ساتھ لے کے محل سرا کے خیمے میں آیا۔ شہ زادیوں نے جان پائی، جلیسوں کے مُنہ پر رونق آئی۔ خواصوں نے شُکرِ جنابِ باری کیا۔ ماما، اصیلوں نے پیر مرد کے قدم پر گر کر عرض کیا، مصر؏:\n\nاے آمدنت باعثِ آبادیِ ما\n\nاُس بزرگ نے فرمایا: ابھی اِس معرکے سے نجات نہیں ہوئی، آفتِ عظیم کا سامنا باقی ہے۔ جان عالم نے پوچھا: قبلہ! وہ کیا ہے؟ اُس نے فرمایا: اِس کا باپ شہنشاہِ جادُواں ہے؛ کوئی دم میں ضرور آئے گا، بکھیڑا مچائے گا۔ ملکہ مہر نگار مُضطرب ہوئی۔ پیر مرد نے فرمایا: اللہ یار ہے، وہ کیا نابکار ہے۔ مصر؏:\n\nدشمن اگر قویست، نگہباں قوی تراست\n\nیہ کہہ کر دو ماش چپ و راست پھینکے۔ دو جانور نئی صورت کے پیدا ہوئے: ہرن کے چہرے، طاؤس کا دھڑ، یاقوت کے سینگ، الماس کی آنکھیں، زمرد کے پر۔ اور دو ٹھیکریوں پر کچھ لکھ کر اُن کے سامنے رکھا۔ وہ ہر ایک پنجے میں دبا اُڑ گیا۔\n\nوہ رات بھی بیم و ہراس میں گُزری۔ جس وقت ساحِرِ شب گشت عاملِ صُبح کی آمد کے دبدبے سے بھاگا؛ ہوا تُند چلی، برق چمکی، رعد کی آواز ہوئی۔ اہل لشکر ڈر گئے۔ مثلِ مشہور: مارگزیدہ از ریسمانِ پیچیدہ می ترسد۔ پیر مرد کے گرد سب جمع ہوئے، کہ ایک سمت سے غول کے غول، غٹ کے غٹ جادوگروں کے جھٹ پٹ؛ باز، جُرّے، باشے، بھُجنگے پر ننگے دھڑنگے سوار، قطار قطار آئے۔ میدان میں مُرشِدِ کامل نے ان کا پرا جمایا۔ دوسری جانب سے جادوگرنیاں طاؤس اور ناگنوں پر سوار، آتش بازی کے حُقے اُڑاتی، ناریل اُچھالتی؛ اِکتارے چھِڑتے، بادلے کی جھنڈیا کھُلی، ہوا سے اُڑتی ہوئیں؛ آپس میں چھیڑ چھاڑ، سحر آزمائیاں، ہاتھوں کی صفائیاں ہوتی، لڑائی کے عزم پر ہر ہر کرتی موجود ہوئیں؛ اُسی پرے کے مُقابل ٹھہریں۔\n\nانھیں دیکھ کے جان عالم کا جی کُلبُلایا، فوج کے سرداروں کو بلایا، فرمایا: گو آج دغدغۂ کامل ہے؛ اگر فضلِ الٰہی شامل ہے تو یہ جلسہ اور معرکہ دیکھنے کے قابل ہے۔ زندگی ہے تو ایسا روز کبھی کاہے کو نظر سے گزرے گا، وگرنہ مرگِ انبوہ جشنے دارد۔ ہماری فوج بھی چمک دمک سے صف آرا ہو، اسباب نیا سب نکالو۔ یہ خبر سُن کر پہلے بیلدار نکلے۔ پست و بلند زمین ہموار کر، کنکر پتھر چُن کر، جھاڑی جھُنڈی کاٹ دالی، جھاڑی ہوئی زمین صاف برابر نکالی۔ پلٹنوں کی خاطر مورچے درست کیے، توپوں کے لیے دمدمے باندھے، جھانکی لگائی۔ کہیں سُرنگ کا پوشیدہ رنگ جمایا، باروت کو بچھایا، میدانِ جنگی بنایا۔ پھر سقے آب پاشی کر گئے۔ توپ خانے والے بالچُوں میں پانی بھر گئے۔\n\nفوج کی آمد ہوئی۔ صفِ کارزار، موت کا بازار آراستہ ہوا۔ راس و چپ پانچ پانچ سے ہاتھی مست؛ پٹے سونڈوں میں، گُل کاری بھسونڈوں میں۔ دانت سفید، آب دار، اُن پر چوڑی جواہر نگار چڑھی۔ ایک ایک پہلوان ثانیِ رستمِ دستاں؛ قوی ہیکل، زِرہ پُوش؛ گُرزِگراں، کُوہ شکن بردُوش اُن پر سوار۔ پھر پلٹنیں اور توپ خانہ آیا، انھیں قرینے سے جمایا۔ کیا کیا توپ فلک شکُوہ، شعلہ دہاں، آتش فشاں؛ سورج جھنکار اور نانک متے کے پتے کی، گردونِ گرداں پر چوٹ کرنے والی، غضب سے بھری، ترحُم سے خالی۔ مدد کو ہُوٹ، کُوسوں کی چوٹ کی۔ اور وہ غُباری، جس کا گولہ قصرِ زنگاری میں اُتارے۔ پھر سواروں کے پرے میں میمنہ، میسرہ، قلب و جناح، ساقہ و کمیں گاہ درست کر دیا۔ آگے ہراول۔ پیچھے سواروں کے پیدل فوجوں کے دل۔\n\nنقیب چار سو سے نکلے؛ کلے سے کلہ، کنوتی سے کنوتی، پُٹھے سے پُٹھا، دُم سے دُم، سُم سے سُم مِلا دیا۔ نشان برداروں نے علمِ سبز و سُرخِ زر افشاں کو جلوہ دیا۔ سرِ ہر علم ماہیِ پرچم کی چمک چشمِ دِلاوراں میں بادۂ جرات کا کام کر گئی۔ نامردوں کو ہول ہوئی، بھاگنے کی فکر پڑی، پیٹ میں کھلبل مچی۔ کتنوں کی، چلتے چلتے گانڑ چلی۔ دریائے فوجِ ظفر موج موج زن ہوا۔ حشر کا میدان رن ہوا۔ غُرِّشِ کُوسِ حربی، صدائے نقار خانۂ جنگی چرخ پر بُرجِ ثور تک، زِیر زمیں گاوِ ثریٰ کو پہنچی۔ اور صدمۂ دمامۂ تُندَر نِہیب، آوازِ دُہُلِ گوش فریب سے کُرۂ ارض و سما دہل گیا۔ اور کرنائے چینی نے غِرِیو سے صور کی ہمدمی کا دم بھرا۔ اِذا زُلزِلتِ الارضُ زِلزَالھَا کا وقت قریب آیا۔\n\nجان عالم بھی بہ صد جاہ و حشم اسپِ پری پیکر پر جلوہ گر ہوا۔ چترِ زرنگار بالائے سر، تاجِ شہر یاری کج کر کر، شمشیرِ برق دم زِیبِ کمر، فولادی سِپر پُشت پر۔ دہنے ہاتھ میں نیزۂ اژدہا پیکر، دو زباں۔ بائیں ہاتھ میں مرکبِ رشکِ صرصر کی عِناں۔ فتح و نُصرت جِلو میں، اقبال یاور تگ و دو میں۔ ہمت و غیرت دست بستہ بہم، جرات زِیرِ قدم۔ قربوسِ زیں میں کمانِ کیانی، چہرے پر رُعب و جلالِ کشور ستانی۔ سمندِ صبا دم کو گرم عناں، رخشِ تیز قدم کو جولاں کر کے پرے کے برابر باگ لی۔ چاؤشِ طرار ’’خبردار باش‘‘ للکارا۔ مِریخ سا خنجر گُذار، بالائے چرخ ’’الاماں‘‘ پکارا۔ فوج کو ملاحظہ فرمایا۔ کڑکیتُوں نے کڑکا شُروع کیا۔ نقیبوں نے نہیب دی کہ دِلاورو! آج عرصۂ جنگ جگہ نام و ننگ کی ہے۔ دُنیا میں زِندگی چار دِن ہے۔ لڑنے بھِڑنے کا، نوجوانو یہی سِن ہے۔ کسی کو بقا بجُز ذاتِ خدا نہیں۔ ہمیشہ دُنیا میں کوئی جیتا رہا نہیں۔ شعر:\n\nرستم رہا زمین پہ نہ سام رہ گیا\n\nمردوں کا آسماں کے تلے نام رہ گیا\n\nاِس صدا سے، جو سدا کے بہادُر، صاحِبِ جرات تھے؛ اُن کا دریائے شجاعت سینے میں موج زن ہوا۔ موچھیں کھڑی، آنکھیں سُرخ، چہرے بشاش ہو گئے۔ بسانِ شِیر وہ دلیر قبضہ ہائے شمشیر دیکھنے لگے اور چُست و چالاک ہو کر مُستعِدِ کارزار ہوئے، جاں فِشانی کو تیار ہوئے۔ ہر دم باہم یہ اِختِلاط تھا: دیکھیں، آج تلوار کس کی خوب کاٹتی ہے! کس کس کا لہو چاٹتی ہے! پہلے نیزہ کس کا سینۂ عدو پر چلتا ہے! اور نیزے کی طعن پر کون کون چھاتی تانتا ہے، لوہا کون مانتا ہے! کس کے تیر کے نشانے سے خون کا فُوارہ اُچھلتا ہے! آبِ پیکاں سرِ میداں دُشمن کے حلق میں کون اُتارتا ہے! سرِ پیکاں کس کا تالبِ سوفار سُرخ رو ہوتا ہے! کس کو کون للکار کر، ڈانٹ کر مارتا ہے، ددا کو کون پکارتا ہے! عرصۂ کارزار میں حقِ نمک آقا کا ادا کیجیے، دشمنوں کا لہو پیجیے۔ جب بِگڑے تو وہ کام بنے جس سے رُستم کی گور تھرائے، سام و نریمان کا رنگ فق ہو جائے۔ کُوہ کو پرِکاہ کی طرح اُکھاڑے۔ دیو سامنے آ جائے تو پچھاڑے۔ رئیسِ قدر داں سرِ میداں سر گرمِ نظارہ ہے؛ دیکھیے کون کام کاہے، کون ناکارہ ہے! کس کے ہاتھ کھیت رہتا ہے، کون کون کھیت رہتا ہے! من چلا پن کر لو، زرِ سُرخ و سفید سے سِپریں بھر لو۔ آج ہی تو آن بان ہے۔ یہ گو، یہ میدان ہے۔\n\nڈھِل گنڈُوں کا ’’لا حول ولا‘‘ عجب ڈول ہوا کہ ہول سے چہرے زرد، لب پر آہ، سرد۔ مُنہ پر ہوائیاں اُڑتی تھیں، ہر بار بھاگنے کو باگیں مُڑتی تھیں۔ کھڑے ہوئے اپنے مُنہ نُوچتے تھے، بھاگنے کی راہ سُوچتے تھے۔ پیٹ پکڑے پھرتے تھے، دست سرِ دست چلے آتے تھے۔ ڈر کے مارے بے مارے مُوئے جاتے تھے۔ کوئی کہتا تھا: میاں! جی ہے تو جہان ہے۔ نوکری نہ ملے گی، بھیک مانگ کھائیں گے، جانیں کہاں پائیں گے! حُرمت گئی تو گئی، جوتی پیزار سے، جان تو رہے گی، لہو کی ندی بدن سے نہ بہے گی۔ یہی نا کوئی نامرد کہے گا، آبرو جائے گی؛ جی تو رہے گا۔ یہاں بگڑی، اور کہیں بنا لیں گے۔ تیر تلوار کی گولی بچا کر، گالیاں کھا لیں گے۔ لڑنے کو سپاہیوں نے کمریں باندھی ہیں؛ کوسنے کو ہم موجود ہیں، کوسوں بھاگنے کو آندھی ہیں۔ جوکیں لگانے میں، ہمارے ماں باپ بھنگ پلاتے تھے، معجون کھِلاتے تھے۔ کسی کی فصد کھُلی دیکھ کر ہمیں غش آتے تھے۔ ہم تو دوست ہو یا دشمن، دونوں کی خیر مانگنے والے ہیں۔ سب سے پہلے معرکے سے بھاگنے والے ہیں۔ ہمیشہ گالی گلوچ کو خانہ جنگی، دھول دھپے کو میدان داری سمجھے۔ لڑائی بھِڑائی سے کبھی بھِڑکے نہ نکلے۔ تمام عُمر بدن میں سوئی نہ گڑی۔ یہ سر وہ سِپر ہے جس پر جوتے کے سوا کوئی چیز نہیں پڑی۔ بے غیرتی کا بھلا ہو، جس کے صدقے میں آج تک جان سلامت رہی۔ اِس پر بھی قسمت نے یہ روزِ سیاہ دِکھایا! خُدا نے ہمیں ہیجڑا کیوں نہ بنایا!\n\nفوج میں تو اِس طرح کی کھلبل، ہَلچل مچی تھی؛ اُدھر انجمن آرا اور ملکہ مہر نگار نے ایک اونچا ٹیکرا تجویز کر، خیمہ بَیا کیا۔ چِلمن چھوڑ آ بیٹھیں، سَیر دیکھنے لگیں۔ اِس عرصے میں لشکرِ غنیم کی آمد ہوئی، یعنی شَہپال جادو سیاہ رو نَو لاکھ ساحر کا پَرا ہمراہ رکاب شِکست انتساب لے کر، تخت پر سوار، چالیس اَژدَرِ خوں خوار تخت اُٹھائے، شعلے نکلتے، بھاڑ سا مُنہ ہر ایک پھیلائے، بڑے کَرّ و فَر سے آیا۔ فوجِ بے قِیاس وہ خُدا نا شَناس لایا اور سامنے جوانانِ تہمتن و گُردانِ صَف شِکَن کے اپنا پَرا جمایا۔ پھر عَلَم کالے آگے نکالے اور پَرچَمِ سیاہ ہَم صورتِ بخت اُس گم راہ کے، کھلے۔ دَف و نَے اور جھانجھ بجنے لگے، اِدھر کوس و کور گرجنے لگے۔ دونوں لشکر لڑائی پر تُلے۔ وزیر اُس کا کچھ پیام پہلے پیر مرد کے پاس لایا، دَستِ ادب باندھ کر عرض کی: اِیلچی کو زَوال نہیں، زیادہ گوئی کی مجال نہیں، شہپال نے فرمایا ہے؛ تمھارا جینا مرنا برابر ہے کہ گرم و سردِ زمانہ دیکھ کر عُمرِ طَبعی کو پہنچے؛ مگر اِن نَوجوانوں پر، اپنے بے گانوں پر رحم نہ کیا۔ اِن کے خون کا حساب اپنے اعمال کی کتاب پر لِکھوایا، بوجھ اپنے ذِمّے لیا۔ پیر مردِ خوش تقریر نے فرمایا: اُس اَجَل رَسیدہ پیرِ نابالغ سے کہنا: طَرفَین سے جس کا خون زمین پر بہے گا؛ اُس کا مَظلِمَہ مُواخَذہ؛ تیری بیٹی جو فاحِشَہ تھی، اُس کی گردن پر رہے گا۔ ہم سمجھتے تھے وہی نَنگِ خانداں تھی؛ لیکن اب معلوم ہوا: وہی زمین سے اُگتا ہے، جو بُوتے ہیں، اَیسوں کے وَیسے ہی ہوتے ہیں۔ تجھے سفید ڈاڑھی کی شَرم نہ آئی کہ وہ مَری، تیرا کلنک کا ٹیکا مِٹا۔\n\nتو تو اُس سے زیادہ بے حیا، سِیہ قلب نکلا۔ یہ مَقامِ رَزم ہے جائے نیزہ و شمشیر، یا بَزم ہے جو محلِ تقریر ہو؟ گفتگو بے فائدہ ہے، لا طائِل باتوں سے کیا حاصل۔ جو منظور ہو، بِسمِ اللہ، اُس میں دیر نہ کر۔ دیکھیں آج کس کے حصّے میں تخت و تاج ہوتا ہے اور گور و کفن کو کون محتاج ہوتا ہے!\n\nوزیر محجوب پھرا، شہپال سے سب حال کہا۔ پھر تو وہ کافِرِ غَدّار، گَبرِ ناہنجار مِثلِ مارِ دُم بُریدہ بَرخود پیچیدہ ہو، شُعلۂ غَضَب سے وہ ناری جَل گیا۔ چہرے کا رنگ گرگٹ کی طرح بدل گیا۔ پہلے تو آپ حُقّۂ آتشی پیر مرد پر مارا، پھر لشکر کے سرداروں کو، جادوگر ناہنجاروں کو للکارا۔ دوپہر تک عجیب و غریب سحر سازی، ہَنگامہ پَردازی، جادوگر اور جادوگرنیوں کی لڑائی رہی کہ دیکھی نہ سُنی۔ کسی نے کسی کو جَلایا، کسی نے بُجھایا۔ کسی سنگ دل نے پتھر برسائے، سب کچھ سحر کے نَیرنگ دکھائے۔\n\nآخِر کار جب جادوگری ختم ہوئی، لڑائی کی نوبت بہ گُرز و شمشیر و نیزہ و تیر آئی؛ پھر تو شہ زادہ جان عالم کی بَن آئی، باگ اُٹھائی۔ فوجِ جَرّارِ غازِیانِ نام دار خبردار ہوئی، سِپاہ مانندِ اَبر چار سمت سے گھر آئی۔ صف کی صف دھَر دھَمکی، برقِ شمشیر چمکی۔ پہلوانوں کے نعرے نے رَعد کا کام کیا۔ خوب لُوہا برسا، بوند بھر پانی کو ہر ایک زخمی ترسا۔ یہ سب تازہ دم، وہ دوپَہَر کے شَل؛ سیکڑوں ٹاپُوں میں کُچل گئے، گھوڑوں کی جھپٹ میں کھُندَل گئے۔ شمشیرِ صاعِقہ خِصالِ جان عالم کا یہ حال تھا: جس کے سر پر پڑی، خود و سَر اُس خود سَر کا کاٹا۔ حلق میں قطرۂ سیماب کی طرح اُتر، سینۂ پُر کینہ کا لہو چاٹا۔ وہی سر جو پناہِ خود میں تھا، پلک جھپکی تو گود میں تھا۔ پھر گھوڑے کے تَنگ سے چُست گُزر، زَخم کُشادہ کر، خانۂ زیں سے زمین میں قرار لیا۔ سَرِ بالیں اُس کے قضا کو روتے دیکھا، اُسے خوابِ مرگ میں پاؤں پھیلائے سُوتے دیکھا۔ مَلَکُ الموت کی صدا آئی: وہ مار لیا۔ جس پر لَپَک کر ایک وار کیا، دو کیا؛ دو کو چار کیا۔۔ حَوَاسِ خَمسَہ کسی کے درست نہ تھے، ششدر ہو گئے۔ ساتوں طَبَق زمین کے تھرّائے، آسمان کو چکّر ہوا، مُردے قبروں سے چَونک کے باہَر نکل آئے۔ جُو اَٹکا، اُسے مار لیا، بھاگتے کا پیچھا نہ کیا۔\n\nگھڑی بھر میں خون کا دریا بہہ گیا۔ لاشوں کا اَنبار رہ گیا۔ کاسۂ سَر حبابِ دریا کی طرح بہتے نظر آتے تھے۔ مَوجِ خوں میں دھَڑ، دھَڑا دھَڑ غُوطے کھاتے تھے۔ دشمنوں کی کشتیِ زیست طوفانی تھی، آبِ تیغ کی طُغیانی تھی۔ فوجِ عَدو کا زِندَگی سے دل سِیراب اور اُچاٹ تھا۔ لہو لُہان ہر تلوار کا گھاٹ تھا۔ کوسوں تک لاشے پَٹے تھے، یہ پاٹ تھا۔ آخِر کار فوج کو شکست ہوئی۔ شہپال کو مارا، سر اُس خود سَر کا مِثلِ خِیارِ تَر اُتارا۔ سِپاہِ باقی ماندہ اُس تِیرَہ بخت، نِگو نسار کی فَرار ہوئی، زِندَگی دشوار ہوئی۔ پھر تو غازِیانِ فتح نصیب و جادُوانِ مُہیب لوٹ پر ٹوٹ پڑے۔ سب کچھ لوٹا، ساز و سامان اُن کا ذرّہ نہ چھوٹا۔\n\nاِدھر نشان کھلے، شادِیانے بجے۔ وہ سب چادر پھراتے، ماتم کرتے، گرِیباں چاک، سَرو رو آغشتَۂ خاک، دَمِ سرد بھرتے، جس کا مُنہ جدھر اُٹھا، بھاگ نکلے۔ میدان کُشتُوں سے اَٹ گیا۔ جنگل لاشوں سے پَٹ گیا۔ آج تک طُعمۂ زاغ و زَغَن اُسی بَن سے ہے۔ صحرائی دَرِندوں کے خوب پیٹ بھرے؛ بلکہ جانوروں کی دعوتوں کو، گوشت کے مُچّے قیمہ کیے اُٹھا رکھے۔ بہت ہَیضہ کر کر مرے۔ وہ سَر زمیں، قَلعَہ، خَزانہ جانِ و الم کے قبضے میں آیا۔ بڑی جستجو، تَگاپو سے وہ لَوح اور نقش پایا۔ پیر مرد رخصت ہوا اور جتنے مَدارِج پند و نصیحت تھے، مُکرّر سمجھائے۔ راہ کا خَطَر، مصیبتِ سفر، ہر منزل و مَقام کا نَفع و ضَرَر کہہ کر، کہا: میری جان! اب ایسی حرکت، وہ سامان نہ کرنا جو پھر کوئی روزِ سیاہ دشمنوں کے سامنے آئے، دوستوں سے دیکھا نہ جائے۔ ہم سے باغ چھوٹے، کوہ الم ٹوٹے، لو اللہ حافِظ و ناصِر رہے! رسول اُس کا تمھارا مددگار و یاوَر رہے!", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D9%86%D8%A7%D9%82%DB%81_%D8%A8%D9%90%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%8F%D8%B3%DB%8C_%D8%AF%D8%B4%D8%AA%D9%90_%D9%BE%D9%8F%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D9%81_%D9%88_%D8%AE%D8%B7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "فسانۂ عجائب/نعت", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "نعت\n\nعِناں تابِی اَشہبِ خامہ وادیٔ نعتِ رسولِ مجتبی،\n\nمحمدِ مُصطفیٰ سزا وارِ اُلوف تَحِیَّت و ثنا میں\n\nبعدِ حمدِ خالقِ جِن و بَشَر، حاکم قضا و قَدَر، مبدِءِ شام، طالعِ سحر، نعت سیدِ کائنات، خلاصہ موجودات، بہترینِ عالَم، برگزیدہ نوعِ بنی آدم کی ہے؛ جس کے چراغ ہدایت کی روشنی سے تیرہ بخت، گم گشتۂ کوچۂ ضلالت بہ راہ راست آئے۔ بہ تَوفیق رفیق اور مدارج تحقیق کیا کیا مرتبے بلند پائے۔ اور مُنحَرِف کور باطنوں کو فہمِ ناقص کی کجی اور زعمِ فاسِد، وہمِ باطل نے کیسے کیسے روز سیاہ دکھائے۔ اس کے حق میں یہ حکمِ حق آیا ہے، بہ چشمِ غور دیکھو تو، کسی اور نے ایسا رتبہ رفیع اِس خاکدانِ پست بنیاد میں پایا ہے:لَولَاكَ لَمَا خَلَقتُ الاَفلَاك۔\n\nسر حلقہ اَولین، خاتمُ المرسلین، مظہر صنعتِ کریم، احمدِ بے میم، شفیعِ عرصۂ جزا محمد مصطفیٰ صَلَی اللہُ عَلَیهِ وَ آلِهِ الطَّاھرِین وَ اَصحَابِهِ المُکَرَّمِین وَسَلَّم۔ کوئی شاعر اس کی شان میں کہتا ہے، لا اَعلَم:\n\nپیش از ہمہ شاہان غیور آمدہ\n\nاے ختم رسل! قرب تو معلومم شد\n\nہر چند کہ آخر بہ ظہور آمدہ\n\nدیر آمدہ، ز راہِ دور آمدہ\n\nاس مُشتِ خاک کا کیا فہم و اِدراک، جو شِمہ صِفاتِ ذاتِ با برکات زبان پر لائے، جو عَجز میں در نہ آئے۔ کام و زباں ناکامی سے فوراً جل جائے۔\n\nاور منقبتِ امیر المومنین، امامُ المتقین، یَکَّہ تازِ میدانِ لافتیٰ، خلاصہ مضمون سورہ ھل اَتیٰ یہی کافی ہے جسے پیمبر نے کہا ہے:لَحمُكَ لَحمِی وَ دَمُكَ دَمِی۔ عَلِــيٌّ مِنـّـِي وَ اَنَا مِنهُ۔\n\nاور مدح اہل بیت رسالت کہ وِلا اُن کی، ایمان کی دلیل ہے اور محبت ان کی، ہر فرد بشر کو واجب بہ ایں حدیث جلیل ہے، حدیث:\n\nمَثَلُ اھلِ بَیتِی کَمَثَلِ سَفِینَةِ نوح، مَن رَکَبَھا نَجیٰ ومَن تَخلَّفَ عَنها غَرَقَ وَھویٰ۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D9%86%D8%B9%D8%AA"} {"title": "فسانۂ عجائب/نقل سوداگر کی بیٹی کی", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "نقل سوداگر کی بیٹی کی، انگریز کا آنا، فریفتہ ہو جانا؛ آخر کو جان دینا دونوں کا\n\nکلکتے میں ایک سوداگر تھا عالی شان۔ متاعِ ہر دِیار، تُحفۂ جوار جوار دُکان میں فراواں۔ اُس کی بیٹی تھی حسین، مہر طلعت، ماہ جبیں، سیمیں تن، کافرِ فرنگ، غارت گرِ لندن۔ غرض کہ اور تو اسباب سب طرح کا دُکان میں تھا؛ مگر گھر میں وہ زور رقم، طُرفہ ٹوم تھی۔ فرنگ سے ہند تک اُس کے حُسن کا چرچا تھا۔ روم سے شام تک اور بنبئی سے سورت تک اُس کی صورت کی دھوم تھی۔ اُستاد:\n\nہے رخنہ سازِ ایماں وہ زادۂ فرنگی\n\nاِسلام اب کہاں ہے؛ عاصی، فرامِشن ہے\n\nہزاروں انگریز بِرِیز بِرِیز کرتے، اُس پر شیفتہ و بے تاب تھے۔ لاکھوں مسلمان سرگرداں، خستہ و خراب تھے۔ جب ہوا کھانے کو سوار ہو کر آتی تھی؛ راہ میں دو رویہ خلقت کی جان، اُس کی ہوا خواہی میں برباد جاتی تھی۔ گبر و ترسا اُس کا کلمہ پڑھتے تھے، یہود و نصاریٰ اُس کا دم بھرتے تھے، مسلمان دل و جاں نذر کرتے تھے۔ مُؤلف:\n\nاُس لُعبتِ فرنگ کو دکھلا کے قاشِ دل\n\nکہتا ہوں: چکھو، یہ دلِ بریاں کا توس ہے\n\nاتفاقِ زمانہ، کوئی انگریز لندن سے تازہ وارد ہوا جلیلُ القدر، ذی شان، خوب صورت، نوجوان؛ شورِ عشقِ سودا خیز سر میں، سوز دل میں، مزاج بے شر، بے قراری آب و گِل میں۔ میرؔ:\n\nتھا طرح دار آپ بھی، لیکن\n\nرہ نہ سکتا تھا اچھی صورت بِن\n\nقضا را، وہ آفت کا مارا کچھ اسباب لینے اُس کی کوٹھی میں آیا اور اُس غارت گرِ دین و ایمانِ ہر گبر و مسلماں سے دو چار ہوا۔ عشق گلے کا ہار ہوا۔ دیکھتے ہی متاعِ عقل، اثاثِ ہُوش و حواس گرہ سے کھو بیٹھا۔ دل سے ہاتھ دھو، دمِ نقد جان کو رو بیٹھا۔ اسباب خریدنے گیا تھا، سودا مول لیا۔ اُس نے مُشتری سمجھ، میزانِ محبت میں تُول لیا۔ ہاتھ پاؤں نے سَت، دل نے ہمت ہاری؛ دن دیے لُٹ گیا عشق کا بیپاری۔ جب اور کچھ تدبیر بن نہ آئی، خرید و فروخت کے حیلے میں آمد و رفت بڑھائی۔ پھر تو یہ حال ہوا، جُرأتؔ:\n\nدن میں سو سو بار اب ہم اُن کے گھر جانے لگے\n\nمُنہ چھپانے وہ لگے، ہم اُن پہ مر جانے لگے\n\nسلف سے آج تک عشق چھپا نہیں، مشہور ہے۔ اس مُقدمے میں انسان مجبور ہے۔ میرؔ:\n\nعشقِ بے پردہ جب فسانہ ہوا\n\nمُضطرب کد خُدائے خانہ ہوا\n\nجب یہ امر مُفصل سوداگر کے گوش زد ہوا، بہ پاسِ نام و نشاں خوف ذِلت و رُسوائی کا از حد ہوا۔ پہلے دونوں کو نصیحت کی، پَند کیا؛ پھر سلسلۂ آمد و رفت قطع، دیکھا بھالی کا رخنہ بند کیا۔ اُدھر شُعلۂ عشق نے بھڑک کر تاب و توان و شکیب و تحمل کو ہیزُمِ خُشک کی طرح جلا دیا، عقل کا چراغ بجھا دیا، صبر کا قافلہ لُٹ گیا، دامنِ ضبط ناتواں کے ہاتھ سے چھُٹ گیا، بے چارے صاحب کو چند عرصے میں سلامت نہ رکھا۔ میرؔ:\n\nبستر خاک پر گرا یہ زار\n\nدرد کا گھر ہوا دلِ بیمار\n\nخاطر افگار، خار خار ہوئی\n\nجاں، تمنا کشِ نگار ہوئی\n\nدل نہ سمجھا اور اضطراب کیا\n\nشوق نے کام کو خراب کیا\n\nرفتہ رفتہ سخن ہوئے نالے\n\nلگے اُڑنے جگر کے پَر کالے\n\nیہاں تک تپِ مُہاجرت اور دردِ مُفارقت سے حال درہم و برہم ہوا کہ صاحب بہادُر شِکستِ فاش اٹھا کے صاحبِ فِراش ہوا، دل و جگر سینے میں پاش پاش ہوا۔ حِس و حرکت کی طاقت نہ رہی، لینے کے دینے پڑ گئے۔ اُستاد:\n\nمرض یہ پھیل پڑا ہے تپِ جُدائی سے\n\nکہ پیٹھ لگ گئی یاروں کی چارپائی سے\n\nجو جو اُس کے یار، مونِس و غم گُسار تھے؛ نصیحت و پند، قید و بند کرنے لگے۔ عورتوں کی بے وفائی، بُتوں کی سنگ دلی، معشوقوں کی کج ادائی بہت مُشرح سمجھائی؛ سود مند نہ ہوئی، خاطر میں نہ آئی۔ اُن سب میں ایک اُس دشمنِ جاں کا شفیق و غم خوار، وفا شعار تھا؛ کہنے لگا: کیوں جُویائے مرگ ہوا ہے! ظالم، یہ کیا کرتا ہے! اے ناداں، عدوئے دل، بدخواہِ جاں! اِس کا انجام ذِلت ہے۔ حاصل اس کا خفت ہے۔ یہ خیالِ مُحال اپنے دل سے نکال۔ زورقِ زندگانی، سفینۂ نوجوانی دیدہ و دانستہ ورطۂ ہلاکت میں نہ ڈال۔ اپنے کس و کو پر نظر کر۔ للہ دلِ خود رفتہ کو سنبھال۔ تو نے پِسرِ مِجِسٹن کی حِکایت نہیں سُنی کہ اُس پر کیا گُزری! یہ سُن کے، وہ حزیں با دِلِ غمگین پوچھنے لگا: کیونکر ہے؟", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D9%86%D9%82%D9%84_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "فسانۂ عجائب/وجہِ تالیف اس قصۂ بے نظیر کی", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "وجہِ تالیف اس قصۂ بے نظیر کی اور کیفیت صاحبِ فرمائش کی تقریر کی۔ حکیم صاحب کی تحریک، سفر کانپور کا، لکھنا سُرور کا\n\nحسب اتفاق ایک روز چند دوست صادق، محب موافق باہم بیٹھے تھے، مگر نیرنگیِ زمانہ، نا ہنجار اور کج رویِ فلکِ سِفلَہ پرور، دوں نواز، جفا شعار سے سب بادِل حزیں و زار اور ہجومِ اندوہ و یاس سے اور کثرت حرمان و افکار سے کہ ہر دم یہ پاس تھے؛ دل گرفتہ، سینہ ریش، اور اداس تھے؛ یہ ذکر بر زباں آیا کہ شعبدہ بازیِ چرخ چنبریِ نیلی فام از آدم علیہ السلام تا این دم یوں ہی چلی آئی ہے۔ اور تفرقہ پردازی، رنج و محن سے سِوا آزار دیتی ہے، یہ ادنیٰ اس ظالم کی کج ادائی ہے۔ اب یہی غنیمت جانیے، اس کا احسان مانیے کہ تم ہم اس دم باہم تو بیٹھے ہیں۔ اُستاد:\n\nجو ہم تم پاس بیٹھے ہیں، سُنو، یہ دم غنیمت ہے\n\nیہ ہنسنا بولنا رہ جائے، تو کیا کم غنیمت ہے\n\nاور واقعی شِدتِ رنج و اَلَم میں دوستِ صادق، یارِ مُوافق ہَم پہلو ہو تو کچھ خیال میں نہیں آتا ہے، دل بہل جاتا ہے۔ اور صحبتِ غیر جِنس میں تختِ سلطنت، تختۂ تابوت سے بدتر ہو کے کاٹے کھاتا ہے۔ سعدیؔ:\n\nپای در زنجیر پیشِ دوستاں\n\nبِہ کہ با بیگانگاں در بوستاں\n\nلیکن زمانے کی عادت یہی ہے کہ باوجودِ کثرتِ غم و شِدتِ اَندوہ و اَلَم، دو شخص باہم نہیں دیکھ سکتا۔ مرزا:\n\nپھینکے ہے مَنجنیقِ چرخ، تاک کے سنگِ تَفرِقَہ\n\nبیٹھ کر ایک دم کہیں، ہوویں جو ہم کلام دو\n\nجب سلسلۂ سخن یہاں تک پہنچا، اُس زمرے میں ایک آشنائے با مزہ بندے کے تھے، انھوں نے فرمایا: اِس وقت تو کوئی قصہ یا کہانی بہ شیریں زبانی ایسی بیان کر کہ رفعِ کُدورَت و جَمعِیّتِ پریشانیِ طبیعت ہو اور غُنچۂ سَر بستۂ دل، جو سَمومِ حوادِث سے مضمحل ہے، بہ اہتزازِ نسیمِ تکلم کھِل جائے۔ فرماں بردار نے بجز اقرار، اِنکار مناسب نہ جانا، چند کلمے گوش گُزار کیے۔ اگرچہ گریہ کردن را ہم دلِ خوش می باید، مگر اس نظر سے، مصر؏\n\nہر چہ از دوست میرسد، نیکو ست\n\nوہ باتیں انھیں بہت پسند آئیں، کہا: اگر بہ دل جَمعیِ تمام تو اِس پَراگَندہ تقریر کو، از آغاز تا انجام، قصے کے طور پر زبانِ اردو میں فراہم اور تحریر کرے تو نہایت منظورِ نظرِ اہلِ بصر ہو، لیکن تقصیر معاف ہو، لغت سے صاف ہو۔ بندے نے کہا: طبیعتِ ابنائے روزگار بیش تر متوجہِ عیب جوئی و ہُنر پوشی ہے، بہ قولِ دِلگیرؔ، شعر:\n\nقُبح کے دیکھنے والے تو بہت ہیں دلگیرؔ\n\nاور یہاں حُسن شَناسانِ سُخَن تھوڑے ہیں\n\nوہ بولے: چَشمداشتِ صلہ، طَلَبِ اُجرت کسی سے مُتَصوِّر نہیں، فقط ہماری خوشی مَدِّ نظر رکھ۔ جیسا رَطب و یابس کہے گا، ہمیں پسند ہے؛ بہ شرطے کہ جو روزمرہ اور گفتگو ہماری تمھاری ہے، یہی ہو۔ ایسا نہ ہو کہ آپ رنگینیِ عبارت کے واسطے دِقّت طلبی اور نکتہ چینی کریں، ہم ہر فقرے کے معنی فَرنگی محل کی گلیوں میں پوچھتے پھریں۔ نِیاز مند نے کہا: یہ تو مُقدمۂ تحریر ہے، اگر سر سرکار کے کام آئے، جائے تقریر نہیں، مگر جلدی نہ کرنا، بہ وقتِ فرصت لکھوں گا۔ وہ تو یارِ شاطِر، نہ بارِ خاطِر تھے؛ قبول کیا۔\n\nاُسی دن سے ہمیشہ اِس کا خیال رہتا تھا، عدمِ فرصت سے نہ کہتا تھا۔ آخِر الاَمر بہ مقتضائے عادت، تلاشِ مَعاش کے حیلے میں فلکِ تَفرِقہ پرداز، گردون عَربَدہ ساز نے صورت مُفارَقت کی دکھائی، مُہاجَرت وطن آوارہ کے استقبال کو آئی۔ مَسرّتؔ:\n\nبوقتِ لقمہ خوردن اے مسرتؔ! گفت لبہایم\n\nکہ روزی میکند از ہم جدا یارانِ ہمدم را\n\nربیع الثانی کے مہینے میں کہ سنہ ہجری نبَوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بارہ سَے چالیس تھے، آنے کا اتفاق مجبور، کوردِہِ کان پور میں ہوا۔ بس کہ یہ بستی ویران، پوچ و لَچَر ہے۔ اَشراف یہاں عَنقا صفت نا پیدا ہیں اور جو ہوں گے تو گوشہ نشیں، عُزلَت گُزیں، مگر چھوٹی اُمّت کی بڑی کثرت دیکھی۔ یہ طَور جو نظر آیا، دلِ وحشت منزل اِس مَقام سے سخت گھبرایا۔ قریب تھا جُنون ہو جائے، تیرہ بختی روزِ سیاہ دکھائے، لیکن بہ شربتِ عنایت و معجونِ شَفقتِ ارَسطو فِطرت، بُقراط حِکمت، حار و بارِدِ زمانہ دیدہ، تجربہ رسیدہ حکیم سید اسد علی صاحب شیرِ بیشۂ علم و کمال، سخن فہم، ظریف، خوش خِصال؛ طبعِ سودا خیز اور سرِ جُنوں انگیز کو آرام و تسکیں حاصل ہوئی۔ اکثر حالِ فقیرِ دل گیر پر اَلطاف و کرم فرماتے تھے۔ تدبیریں نیک و اَحسَن، دافِعِ رنج و محن بتاتے تھے۔\n\nایک روز بعد اظہارِ حالِ مُکلِّفِ فسانۂ دوستانہ، یہ بھی کہا کہ حسبِ وعدہ ایک کہانی لکھا چاہتا ہوں۔ سُن کے فرمایا: بیکار مَباش، کچھ کیا کر۔ میرؔ:\n\nمیرؔ! نہیں پیر تم، کاہلی اللہ رے\n\nنامِ خدا ہو جواں، کچھ تو کیا چاہیے\n\nاُس وقت یہ کلمہ تَوسَنِ طبع کو تازیانہ ہوا، تحریر کا بہانہ ہوا۔ اگرچہ اِس ہیچ مَیرَز کو یہ یارا نہیں کہ دعویِ اردو زبان پر لائے یا اِس فسانے کو بہ نظَرِ نَثّاری کسی کو سنائے۔ اگر شاہ جہاں آباد کہ مَسکَنِ اہلِ زباں، کبھی بیت السلطنتِ ہندوستاں تھا، وہاں چَندے بود و باش کرتا، فصیحوں کو تلاش کرتا، اُن سے تحصیلِ لا حاصل ہوتی، تو شاید اِس زبان کی کیفیت حاصل ہوتی۔ جیسا میر امّن صاحب نے قصہ چار درویش کا باغ و بہار نام رکھ کے خار کھایا ہے، بکھیڑا مچایا ہے کہ ہم لوگوں کے دہَن، حصے میں یہ زبان آئی ہے؛ مگر بہ نسبت مولفِ اول عطا حسین خاں کے، سو جگہ منہ کی کھائی ہے۔ لکھا تو ہے کہ ہم دلی کے روڑے ہیں، پر مُحاوروں کے ہاتھ پاؤں توڑے ہیں۔ پتھر پڑیں ایسی سمجھ پر۔ یہی خیال انسان کا خام ہوتا ہے۔ مفت میں نیک بد نام ہوتا ہے۔ بشر کو دعویٰ کب سزا وار ہے۔ کامِلوں کو بیہودہ گوئی سے انکار بلکہ ننگ و عار ہے۔ مُشک آنست کہ خود بوید، نہ کہ عطّار گوید۔ یہ وہی مَثل سننے میں آئی کہ اپنے منہ سے دھنّا بائی۔ لیکن تحریر اِس کی، ایفائے تقریر ہے۔ قصہ یہ دل چسپ، بے نظیر ہے۔\n\nامید ناظرین پُر تمکیں سے یہ ہے کہ بہ چشمِ عیب پوشی و نظرِ اصلاح مُلاحظہ فرما، جہاں سَہو یا غلَطی پائیں، بہ اصلاح مُزَیّن فرمائیں۔ کیسی ہی طبیعتِ عالی ہو، ممکن نہیں جو بشر خطا سے خالی ہو۔ اِس کے مُطالعے سے خاطرِ خطیر اگر شاد ہو، عاصی دعائے خیر سے یاد ہو۔ نیاز مند کو اس تحریر سے نَمودِ نظم و نثر، جَودَتِ طبع کا خیال نہ تھا۔ شاعری کا احتمال نہ تھا۔ بلکہ نظر ثانی میں جو لفظ دِقَّت طَلَب، غیر مستعمل، عربی فارسی کا مشکل تھا، اپنے نزدیک اُسے دور کیا۔ اور جو کلمہ سَہلِ ممتنع، مُحاورے کا تھا، رہنے دیا۔ دوست کی خوشی سے کام رکّھا، فسانۂ عجائب اِس کا نام رکھا۔ اِنّہُ المُبدِءُ وَ اِلَیہِ المَآب۔ عِنایتِ ایزَدی سے تمام ہوئی کتاب۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D9%88%D8%AC%DB%81%D9%90_%D8%AA%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%81_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%B5%DB%82_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "فسانۂ عجائب/وطن آوارہ ہونا نو گرفتارِ محبت کا", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "وطن آوارہ ہونا نو گرفتارِ محبت کا اٹھانا ایذائے غربت کا۔ نیا نیا سفر، راہ معلوم نہیں، رہ بر بجز ذات حَیٌّ قَیُّوم نہیں، ایک رفیق، وہ انیلا۔ دوسرا جانور، یہ بے چارہ بے پر۔ پھر ہرن کا ملنا، ان سب کا چھوٹنا، جادوگرنی کا سدِّ راہ ہو کے مزے لوٹنا\n\nبادیہ پیمایانِ مرحلۂ محبت و صحرا نوردانِ منزلِ مودّت، رہ روانِ دشتِ اشتیاق و طے کنندگانِ جادۂ فراق، مسافرانِ بارِ ناکامی بر دوش، بجز راہ کوچۂ یار دین و دنیا فراموش، عشق سر پر سوار، خود پیادہ، زیست سے دل سیر، مرگ کے آمادہ لکھتے ہیں کہ جب بہ ایں ہیئت کذائی، وہ پروردۂ دامنِ ناز و آغوشِ شاہی، گھر سے نکلا اور درِ شہر پناہ پر پہنچا، پھر کر عمارات سلطانی، بسے ہوئے شہر کو بہ نظر پریشانی دیکھ، آہ سرد دل پر درد سے کھینچی۔ بیاباں مد نظر کر، غریب الوطنی پر کمر ہمت چست کی اور فراق یاران وطن میں دل کھول کے وہ خستہ تن خوب رویا۔ پھر فاتحہ خیر پڑھ، آگے بڑھ، توتے کو پنجرے سے کھول دیا۔ گھوڑوں پر شہ زادہ اور وزیر زادہ، سَمَندِ صبا پر میاں مِٹّھو پیادہ، نیا دانہ کھاتے، نیا پانی پیتے روانہ ہوئے۔\n\nبَعدِ طَىِّ مَنازِل وَ قَطعِ مَراحِل، ان کا گزر ایک دشتِ عجیب، صحرائے غریب میں ہوا۔ ہر تختہ جنگل کا بہ رَوشِ باغ تھا۔ جو پھول پھل تھا، تازہ کُنِ دل، مُعطَّر نُمَائے دماغ تھا۔ جہاں تک پَیکِ نگاہ جاتا، بجز گُل ہائے رنگین و یَاسمن و نسرین اور کچھ نظر نہ آتا۔ شہ زادہ شِگُفتہ خاطِری سے صَنّاعی باغبان قَضا و قَدر کی دیکھتا جاتا تھا۔ ناگاہ ایک سمت سے دو ہرن برق وَش، صبا کردار، سبک جَست، با چشمِ سِیہ مست، تیز رفتار سامنے آئے۔ زَربَفت کی جھولیں پڑیں، جَڑاؤ سِنگوٹیاں جَڑیں، گلے میں مُغرّق ہیکلیں، مثل معشوق طَنَّاز، عَربَدہ ساز، سَرگرمِ خِرام ناز، چھم چھم کرتے، چَوکڑِیاں بھرتے۔ جان عالم بے چین ہوا، وزیر زادے سے کہا: کسی طرح ان کو جیتا گرفتار کیجیے، جانے نہ دیجیے۔ اس سعی میں گھوڑے ڈالے۔ یا تو وہ اپنی وضع پر چلے جاتے تھے، جب گھوڑوں کی آمد دیکھی، سنبھل، کَنَوتِیاں بدل، چوکڑی تیز با جَست و خیز بھرنے لگے۔ اِنھوں نے گھوڑے ڈپٹائے۔ ان کا گھوڑے دوڑانا، وہ طَائرِ فرزانہ، چَوکڑی بھول کے پکارا: ہاں ہاں، اے نوجواں! کیا غضب کرتا ہے! یہ دشت پُر سحر ہے۔ بے ہودہ، کیوں قدم دھرتا ہے! ہر چند پکارا، مگر سناٹے میں کسی نے نہ سنا، توتے نے لاکھ سر دھنا۔ آخر مجبور ایک ٹہنی پر بیٹھ رہا، وہ چلے گئے۔\n\nدو چار کوس دونوں ہرن ساتھ بھاگے؛ پھر ایک اور سمت، دوسرا اور طرف چلا۔ ایک کے ساتھ شہ زادہ، دوسرے کے تعاقب میں وزیر زادہ۔ یہ بھی جدا ہوئے۔ القصہ تا غروب آفتاب وہ شمس سپہرِ سَلطنت گھوڑا بگٹٹ پھینکے گیا۔ دفعتاً ہرن نظر سے غائب ہوا۔ اس نے باگ روکی۔ گھوڑا عَرَق عَرَق، خود پسینے میں غرق، سر سے پا تک تَر، بہ حال مضطر، حیران و پریشاں، نادم و پشیماں، یکا و تنہا، وزیر زادہ نہ توتا، آپ یا دشتِ پُر خطر، گھبرا کر ادھر ادھر بہت دیکھا، بوئے انسان و حیواں مشام جاں تک نہ آئی، طبیعت سخت گھبرائی۔ جب کسی کو نہ دیکھا، بہ صد یاس یہ کہا، شعر:\n\nاُڑے یہ ترنگ جوانی کی، کیا جس نے مجھ کو جلا وطن\n\nہوا ایسا پیش ازیں کاہے کو، میں نکل کے گھر سے خراب تھا\n\nاور کبھی جو یادِ یارانِ ہمراہی جی میں آتی تو یہ شعرِ درد ناکِ میر سوزؔ با دِلِ صد چاک و آہِ جگر دوز پڑھتا، میر سوزؔ:\n\nکہیو اے باد صبا بچھڑے ہوئے یاروں کو\n\nراہ ملتی ہی نہیں دشت کے آواروں کو\n\nکچھ آگے بڑھا، چشمۂ آب نظر پڑا۔ گھوڑے سے کود، ہاتھ منہ دھویا، اپنی تنہائی پر خوب رویا۔ اِسی حالِ گریہ و زاری میں دَستِ دعا بہ جناب باری اٹھا، پکارا کہ اے کَسِ بے کَسان، و اے مددگارِ رَہ گم کَردَگَاں! مجھ خستہ و پریشاں، دور فُتادۂ یار و دِیار کی رہ بری کر۔ تیرے بھروسے پر سلطنت کو خاک میں ملا، گھر سے ہاتھ اٹھا، آوارۂ صحرائے غربت، مبتلائے رنج و مصیبت ہوا ہوں۔ لا اعلم:\n\nمونسے، نہ رفیقے، نہ ہمدمے دارم\n\nحدیثِ دل بکہ گویم، عجب غمے دارم\n\nتیری ذات ہے یا یہ جنگل وحشت انگیز، دشت بلا خیز، جہاں بوئے عِمرانات نہیں آتی ہے، دھڑکے میں جان جاتی ہے۔ یہ کہہ کے زار زار، مانند ابر نو بہار رونے لگا، دامن و گریباں بھگونے لگا۔ فریاد و زاری، تڑپ اور بے قراری اس کی بہ درگاہ مُجیبُ الدَعَوات قبول ہوئی۔ تیر دعا، ہَدَفِ اِجَابت سے لَبِ معشوق ہوا۔ ایک پیر مرد سفید ڈاڑھی والے، سبز عمامہ سر پر، عبائے عنّابی کندھے پر ڈالے، ہاتھ میں عصا، خضر صورت، بزرگ سیرت، پارسا، وارد ہو پکارے: السلام علیک اے نَو بادۂ چَمنِ سلطنت و اے گرفتارِ محنتِ محبت! شہ زادے نے آنسو پونچھ سلام کا جواب دیا۔ پیر مرد نے فرمایا: اے عزیز! کیا حاجت رکھتا ہے، بیان کر۔ یہ سن کے ایسا خوش ہوا کہ رنج، راہ بھولنے کا، بھولا۔ وزیر زادے اور توتے کی جدائی بھی یاد نہ آئی، کہا: آپ کو قسم اسی کی جس نے میری رہ بری کو بھیجا ہے، جلد نشانِ ملکِ زرنگار دکھا دیجیے یا درِ دل دار تک پہنچا دیجیے۔ وہ ستودہ صفات ہنسا اور کہا: اللہ رے بے خود ی! ابھی بلائے ناگہانی، آفت آسمانی جس میں آپ پھنسے ہیں، اسی سے نجات نہیں پائی، معشوقہ یاد آئی! جان عالم نے کہا: کوئی آفت و ستم و بلا ہجرِ جاناں اور مُفارَقَتِ دوست سے سِوا نہیں ہے۔ میر سوزؔ:\n\nنہ لگے دردِ جدائی کو قیامت کا رنج\n\nروز محشر کو نہ میری شب ہجراں سے ملا\n\nاس صاف باطن نے فرمایا: صاحب زادے! یہ صحرائے غَضب، دشت پُرتعَب ہے۔ ہر تختہ اس کا دام ستم، گل اور بوٹا نرا خارِ غم و الم ہے۔ یہاں کا پھنسا، الجھا، حشر تک نہیں چھٹتا۔ یہ سب کارخانۂ طلسم ہے۔ شہ زادے نے کہا: ہم سحر محبت میں گرفتار ہیں، ہمیں جینا، مرنے سے فزوں ہے دل کا حال دِگرگوں ہے۔ شیفتہؔ:\n\nہمیشہ آگ نکلتی ہے اپنے سینے سے\n\nالٰہی! موت دے، گزرا میں ایسے جینے سے\n\nاس کریم النفس کو اس کے حال پر رحم آیا، فرمایا: بد حواس نہ ہو، نظر بہ خدا رکھ کہ وہ چارہ ساز عالمیں، جَامِعُ المُتَفَرِّقِین ہے۔ شہ زادے نے کہا: فی الحقیقت، مگر برائے خدا ایک نظر ملک زرنگار اور وہ معشوق طرح دار اگر نظر آئے، جان زار بچ جائے۔ زیست کا کیا اعتبار ہے، مرگ ہم دم ہم کنار ہے، حسرت دید تو نکل جائے۔ اس خدا پرست نے فرمایا: آنکھ بند کر۔ پلک سے پلک شہ زادے کی لگی، ملک زرنگار میں گزار ہوا، آفت تازہ سے دو چار ہوا اور صورت اس حور کردار کی نظر پڑی۔ بہ مجرد نگاہ، دل سے آہ کی۔ بے ہوشی ساری، غشی طاری ہوئی۔ مرد بزرگ نے سمجھایا: اس امر لا طَائل سے کیا حاصل! زندگی درکار ہے، ایک روز دوست بھی ہم کنار ہے۔ سمجھانے سے اتنی تسکین ہوئی کہ آنکھ کھولی۔ رات ہو گئی تھی، پیر مرد نے کچھ کھلا، لب چشمہ سلایا۔\n\nجس وقت افق چرخ سے، راہ گم کردہ مسافر مغرب، یعنی آفتاب عالم تاب، جلوہ افروز ہو حصۂ چہارم آسماں پر آیا، شہ زادے کى آنکھ کھلی۔ وہاں آپ کو پایا، جہاں سے ہرن کے پیچھے گھوڑا اٹھایا تھا، سجدہ شکر ادا کر سرگرمِ رَہِ دوست ہوا۔ راہ کا پتا اس رہبر خَیلِ سبز پُوشاں سے پوچھ لیا تھا۔ قدم بڑھایا۔ جاتے جاتے، ایک روز آفتاب کی تمازت بدرجۂ اتم تھی، پیاس کی شدت ہوئی۔ آب وہاں گوہر نایاب تھا۔ خضر تک اس دشت میں لا علاج، پانی کا محتاج تھا۔ زبان میں کانٹے پڑے، ریت کی گرمی سے تلوے جلتے تھے، دو گام قدم نہ چلتے تھے۔ لوں کا شعلہ یہ سرگرمِ آزارِ جگر سُوختگاں تھا کہ پرندے پتوں میں منہ چھپاتے تھے۔ کوسوں دَوِندے نظر نہ آتے تھے۔ دشت کورہ آہَنگراں تھا۔ ہر طرف شعلہ جوّالہ دواں تھا۔ ریگِ صحرا کیفیتِ دریا دِکھاتی تھی، پیاسوں کی دوڑ دھوپ میں جان جاتی تھی۔ صدائے زَاغ و زَغن سے سناٹا، دھوپ کا تڑاقا۔ دشت کا پتھر تپنے سے انگارا تھا۔ جانور ہر ایک پیاس کا مارا تھا۔ وہ تابشِ شمس جس سے ہرن کالا ہو، مذکور سے زبان میں چھالا ہو، بادِ سموم سے وحشیوں کے منہ پر سیہ تاب تھا۔ لُوں سے گاوِ زمیں کا جگر کباب تھا۔ سیپیوں نے گرمی کے مارے لب کھولے تھے۔ حبابِ دریا کی چھاتی میں پھپھولے تھے۔ ہر ذی حیات حرارت سے بے تاب تھا۔ سوا نیزے پر آفتاب تھا۔ مچھلیاں پانی میں بھنتی تھیں، جل جل کر کنارے پر سر دھنتی تھیں۔ سرطانِ فلک جلتا تھا۔ کیکڑا لب دریا ابلتا تھا۔\n\nایسے موسم کے سفر میں مَفَر کیوں کر ہو۔ مسافر خواب میں بَرّاتے: چُلّو بھر پانی دو۔ درخت خشک، سوکھے پتے کھڑکھڑاتے تھے۔ جانور پر کھولے پھڑپھڑاتے تھے۔ چار پائے ایک سمت ہانپتے تھے، گرمی کے خوف سے کانپتے تھے۔ یہ حرارت مستَولی تھی کہ دوستوں کی گرمی سے جی جلتا تھا۔ مسافرِ وہم پائے گماں سے راہ نہ چلتا تھا۔ خورشیدِ حشر کی طرح آفتاب تاباں تھا۔ صحرائے قیامت وہ بیاباں تھا۔\n\nاسی حال خراب میں شہ زادہ سَر گشتہ، دل بَرِشتہ، حیران پریشان، ایک طرف درخت گنجان، سایہ دار دیکھ کر آیا۔ وہاں حوض مُصَفّیٰ پانی سے مُلَبَّب بھرا پایا۔ پانی دیکھ کے جان رَفتہ تن میں آئی۔ آنکھوں نے لہروں سے ٹھنڈک پائی۔ گھوڑے سے اتر، پانی پینے کو جھکا، چَرخِ کہن نے نیرنگی نئی دکھائی۔ وہی معشوقۂ مرغوبۂ مطلوبہ، جس کے سَیل تلاش میں غریق مُحیطِ الم، گرفتارِ لطمۂ غم، مِثلِ پَرِکاہ بہا بہا پھرتا تھا، حوض میں نظر آئی۔ آنکھ چار ہوتے ہی وہ بولی: اے شِناورِ بحر محبت و اے غَوّاصِ چشمۂ الفت! دیر سے تیری منتظر تھی، للہ الحمد تو جلد پہنچا۔ تَامُّل نہ کر، کود پڑ۔ اِنھیں تو وہ آنکھ بند کرنے کا نقشہ ہر پل مد نظر تھا، بے تَاَمُّل نِہَنگِ آفت کے منہ میں کود پڑا؛ زیست سے سیراب ہو، یہ کہتا، شعر:\n\nکودا کوئی یوں گھر میں ترے دھم سے نہ ہو گا\n\nجو کام ہوا ہم سے، وہ رستم سے نہ ہو گا\n\nکُودتے ہی سر تلے، ٹانگیں اوپر، غَلطَاں پیچاں تَحت الثَّریٰ کو چلا۔ گھڑی بھر میں تہہ کو پاؤں لگا۔ آنکھ کھولی نہ حوض نظر آیا نہ اس دُرِ شہوار کو پایا، مگر صحرائے لق و دق، جسے دیکھ کے رستم اور اِسفندِ یار کا رنگ فق ہو، دیکھا۔ اس وقت سمجھا دوسری زَک اٹھائی، توتے کی بات آگے آئی، ؏\n\nوای برما و گرفتارىِ ما\n\nیہ کہہ کے آگے چلا۔ دور سے چار دیواری معلوم ہوئی۔ جب قریب آیا، باغ اور عمارت مُفَصَّل دیکھی۔ دَرِ باغ بَسانِ آغُوشِ مشتاق وا۔ سرد سرد ہَوا۔ یہ تو گرمی کا مارا، وطن آوارہ تھا، بے تکلف اندر قدم رکھا، باغ میں آیا۔ قطعۂ دلچسپ پھولا پھلا پایا۔ تختہ بندی معقول، پیڑ خوش قطع، خوب صورت پھول۔ رَوِشیں صاف، نہریں شفاف۔ چشمے ہر سمت جاری، نئی تیاری۔ درختوں پر جانورانِ نغمہ سرا۔ برگ و بار و گُل سے بالکل باغ بھرا۔ بَاغبانِیانِ پَری وَش ہر رَوِش پر بہ رَوَشِ دل بَری خِراماں۔ شاخوں پر بلبلیں غزل خواں۔ بیچ میں بارہ دری عالی شان، سب تکلف کا سامان۔ اس کے مُتَّصِل چبوترا سنگ مرمر کا، بادلے کا سائبان کھنچا، مسند مُغرَّق بچھی۔ ایک عورت خوب صورت عجب آن بان سے اس پر بیٹھی، خواصیں دست بستہ گِرد و پیش، وہ مغرور بہ حسن و جمالِ خویش۔\n\nشہ زادے کو دیکھ کر ایک خَواص پکاری: اے صاحب! تم کون ہو؟ جان نہ پہچان، بے دھڑک پرائے مکان میں چلے آئے! یہ تو زیست سے بیزار، مرگ کا طلبگار تھا۔ اسے جواب نہ دیا، بے تامُّل مسند پر برابر جا بیٹھا یہ شعر پڑھتا، استاد:\n\nبھڑ بیٹھے ہو دو زانو، وضعِ مُؤدَّب اس سے\n\nوضعى جو تھا، تو ہم کو دابِ ادب نہ آیا\n\nوہ تو فَریفتۂ قدیم تھی، ہنس کے چپ ہو رہی۔ پوچھا: آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟ شہ زادہ مُتَحیّر باغ کو دیکھ رہا تھا۔ جو پیڑ تھا، پردار جانور کی صورت۔ پھول کھلے، پھل تیار، آپس میں سرگرمِ گفتار۔ جس میوے پر رغبت ہو، اس درخت کا جانور سامنے آ رقص کرے، پھل بے ہاتھ لگائے منہ کے پاس آئے۔ جتنا اسے کھاؤ، ثابت پاؤ۔ جب طبیعت سیر ہو، اسی درخت میں دیکھ لو۔ یہ حرکتیں اس کی خواصیں شہ زادے کے دکھانے کو، درِ پردہ ڈرانے کو کرتی تھیں۔ اس قرینے سے جان عالم کو یقین ہوا کہ یہ سب جادو کا ڈھکوسلا ہے۔ پیر مرد سچ فرماتا تھا۔ افسوس، برے پھنسے!\n\nیہ تو ان خیالوں میں تھا، اس نے مُکرَّر پوچھا۔ شہ زادے نے جواب دیا کہ ہمارا آنا جانا تمھی خوب جانتی ہو۔ اجنبی ہیں، مگر تم پہچانتی ہو۔ وہ مسکرائی، خواصوں سے کہا: آپ مہمان ہیں، مروت شرط ہے۔ انھوں نے کچھ اشارہ کیا۔ کشتیاں شراب کی، قابیں گَزک کو کباب کی، مع جام و صراحی خود بہ خود آئیں اور مینائے بے زباں، پُنبَہ دہاں، رقصاں یہ بولی، حافظؔ:\n\nاگر شراب خوری، جُرعۂ فِشاں بر خاک\n\nازاں گناہ کے نفعے رسد بغیر، چہ باک\n\nپھر دفعتاً جامِ لبریز، بِریز بِریز کہتا، خندہ زناں، جان عالم کے قریب آ کے بولا، حافظؔ:\n\nبنُوش بادہ کہ ایامِ غم نخواہد ماند\n\nچنان نماند و چنیں نیز ہم نخواہد ماند\n\nشہزادے نے انکار میں مصلحت نہ دیکھی۔ ڈرا کہ اگر عذر کروں اور اسی طرح یہ شراب بے قصد حلق میں اترے، تو کیا لطف رہے، مگر صاحب خانہ سے آنکھ ملا، بصد حسرت یہ شعر پڑھا، لا اَعلَم:\n\nیار سے ہے لطف مے کا، آہ یہ ہو، وہ نہ ہو\n\nیہ کوئی صحبت ہے ساقی! واہ یہ ہو، وہ نہ ہو\n\nپھر اس جام کو ناکام ہاتھ میں لے کے، لہو کے سے گھونٹ، گلا گھونٹ گھونٹ پیے۔ وہ دورۂ بے سَر انجام، پُر آلام گردش میں آیا۔ جب دو چار ساغَر مُتَواتِر جادوگرنی نے پیے، کاسۂ دماغ سے عقل دور، ولولۂ مستی سے معمور ہو، چھیڑ چھاڑ کرنے لگی۔ شاہ زادہ اس کا اختلاط، کج بحثی سے بد تر جانتا تھا۔ مجبور، گردشِ گردونِ دوں دیکھ کر، کچھ ہاں ہوں کر دیتا۔ سچ ہے جسے جی پیار کرتا ہے، اس کی گالی، بَدرُچی کے بوس و کنار سے زیادہ مزہ دیتی ہے۔ اسی صحبت میں آدھی رات گزری۔ خاصہ طلب کیا۔ دو چار نِوالے جان عالم نے بہ جبر، پانی کے سہارے سے، اگل اگل، حلق کے نیچے اتارے۔ اس مر بھُکّی نے قرار واقعی ہتھے مارے۔\n\nکھانا زہر مار کر، شہ زادے کا ہاتھ پکڑ، بارہ دری میں لے گئی۔ جَواہِر نِگار مسہری پر بٹھایا۔ ایک تو شراب کا نشہ، دوسرے عالم تنہائی، بیٹھتے ہی، شرم و حجاب کا پردہ اٹھا، لپٹ گئی۔ وہ سَرکا۔ پھر تو خفیف ہو کے بولی: تو نے سنا ہو گا شَہپال جادو شَہنشاہِ ساحران جہاں، فخرِ سامری و جَیپال کا نام، میں اس کی بیٹی ہوں۔ تمام باغ، بلکہ نواح اس کا، سب سحر کا بنا ہے۔ برسوں سے تیری فَریفتہ و شَیدا ہوں۔ بہ تمنائے وصال خراب حال جیتی تھی۔ کوفت کے سوا کچھ نہ کھاتی نہ پیتی تھی۔ آج لات، منات کی مدد سے تو میرے اختیار میں آیا، دل کا مطلب بھر پایا۔ جس چیز کا شائق و طلب گار ہو، جو چیز تجھے درکار ہو، بجز ملاقات انجمن آرا، جہان کا سامان مہیا ہے، بہ شرطِ اطاعت و اظہارِ محبت، وگرنہ خدا جانے تیرا مآلِ کار کیا ہو او بے مروت!\n\nجان عالم پہلے ڈرا، پھر جی مضبوط کر کے بولا: یہ سچ ہے جو تو نے کہا، مگر تیری تقریر سے ثابت ہوتا ہے کہ تو رَہ و رسمِ محبت سے آشنا ہے، نوشِ وَصل، نیشِ فصل کا مزا چکھا ہے۔ انصاف کر، جس کے واسطے خانماں آوارہ، غربت کا مارا، سر گرداں ہوا ہوں، تو اسی کے نام کی دشمن، میں تیری دوستی پر کیوں کر اعتماد کروں؟ دنیا میں تین طرح کے دشمن ہوتے ہیں: ایک تو وہ جو اپنا صریح عدو ہو، دوسرا: دشمن کا دوست، تیسرا: دوست کا دشمن۔ یہ سب سے بُرا ہے، اس سے کنارا اچھا ہے یا یہی شرط محبت ہے کہ ایک شخص کا نام خراب کر کے، جہاں آسائش ملے وہاں بیٹھ رہے؟ فکر سلطنت، جستجوئے دولت میں سَر بہ صحرا نہیں ہوا ہوں، جو تیری جَاہ و ثَروت پر اکتفا کروں۔ تجھے معلوم ہو گا اللہ کی عنایت سے گھر کی حکومت، چین کرنے کو کافی تھی، مگر میرا تو یہ حال ہے، میر تقی:\n\nاک مدت پائے چَنار رہے، اک مدت گلخن تابی کی\n\nبرسوں ہوئے ہیں گھر سے نکلے، عشق نے خانہ خرابی کی\n\nیہ سن کے، وہ کھسیانی کتیا سی جھنجھلائی، کہا: قدرت سحر میری سن لے: مغرب و مشرق کا فاصلہ گردِشِ چشم ہے، زَر نِگار جانا کیا پَشم ہے! ادھر پَلَک جھپکائی، اتنے عرصے میں زر نگار گئی اور آئی۔ خیر، اگر میری ہم صحبتی کَریہہ جانتا ہے، تیری امید بھی قطع کر دیتی ہوں، ابھی انجمن آرا کو لا، تیرے رو بہ رو جلا، اپنا دل ٹھنڈا کرتی ہوں۔ جان عالم بد حواس ہوا کہ رنڈی کے غصے سے ڈرا چاہیے۔ سخت غَضَب میں گرفتار ہوئے۔ انکار میں قَتلِ معشوق مدِّ نظر، اوراقرار کرنے میں اپنی جان کا ضَرَر۔ دونوں طرح مشکل ہے۔ حیران ہو مآل کار سوچنے لگا، منہ نوچنے لگا۔ واقعی یہ مُقَدَّمہ بہت پیچ دار ہے، جس پر گزرا ہو، وہ جانے۔ دل کا حال یہ ہوتا ہے: جدھر آیا، آیا، جس سے پھرا، پھرا اور یہ کیا عذاب عظیم ہے: فراق محبوب، وصال نا مرغوب۔\n\n آخر کار شہ زادے کو بَجُز اِطاعت، مَصلَحت نہ بَن پڑی۔ دل کو تسلی دے کہا: اگر اس سے مُوَافقَت کرو گے، انجمن آرا کی اور اپنی زندگی ہو گی۔ خَالق رَحمَةُ لِّلْعَالَمِین، جَامِعُ المُتَفَرِّقِین ہے، کوئی صورت نکل آئے گی کہ اس بلا سے رہائی، درِ دل دار تک رسائی ہو جائے گی۔ اِلَّا، حیلہ شرط ہے۔ یہ خیال کر، ساحرہ سے کہا: ظالم! ہم تیرا جی دیکھتے تھے۔ ہم نے سنا تھا: عاشق، معشوقوں کے ناز بَردار ہوتے ہیں، مگر یہ جھوٹ تھا۔ دھمکاتے ہیں، ڈراتے ہیں۔ عاشقی میں حکومت کسی نے کانوں سے نہ سنی ہو گی، ہم نے آنکھوں سے دیکھی۔ تو یہ نہ سمجھی، ایسا کون احمق ہو گا جو تجھ سا معشوقِ عاشق خِصال اور یہ سَلطنتِ لازوال چھوڑ کے اَمرِ نَادِیدَہ کی جستجو کرے۔ اُمِّیدِ مُوہوم پر جنگل جنگل ڈھونڈتا پھرے۔ یہ فقط اختلاط تھا۔ یہ کہہ کے گردن میں ہاتھ ڈال دیا، بات کو ٹال دیا۔ وہ قَحبہ تو اِزار کھولے بیٹھی تھی، لیٹ گئی۔ نا چار بَا خَاطِرِ فِگار پہلے تو ٹالا کیا، پھر اس تیٖرَہ بَخت کا منہ کالا کیا۔ پھر ہاتھ منہ دھو، اس کے ساتھ سو رہا۔ وہ چُڑ مَرانی، بَد مست لیٹتے ہی جہنم واصل ہوئی۔ دل کی تمنا حاصل ہوئی۔\n\nیہاں نیند کہاں، جی سینے میں بے قرار، پہلو میں وہ خار۔ ہر دم آہِ سرد دلِ پر درد سے بلند۔ چشمۂ چشم جاری، فریاد و زاری دو چَند۔ جگر میں سُوزِ فِراق نِہاں، لب سے دوُدِ پِنہاں عَیاں۔ سینہ مجمر، دل و جگر سِپَند، یہ رُباعی بَر زباں، لا اَعلَم:\n\nکسی کی شبِ وصل سوتے کٹے ہے\n\nکسی کی شبِ ہجر روتے کٹے ہے\n\nہماری یہ شب کیسی شب ہے الٰہی!\n\nنہ سوتے کٹے ہے، نہ روتے کٹے ہے\n\nمگر جب وہ کروٹ لیتی، اس کی جان خوف سے نکلتی، دَم بہ خود ہو جاتا، جھوٹ موٹ سو جاتا۔ اسی حال سے، بہ ہزار خرابی و مشاہدۂ بے تابئ جان عالم گریبانِ سحر چاک ہوا۔ رات کا قصہ پاک ہوا۔ جادوگرنی اٹھی، شہ زادے کو حمام میں لے گئی۔ وہاں اور عجائبات سحر دکھائے۔ نہا کے دونوں باہر آئے۔ خاصہ چُنا۔ ناچ دیکھا، گانا سنا۔ بَعدِ فراغِ صحبت و جلسۂ طعام اس نے یہ کلام کیا کہ میرا معمول ہے اس وقت سے تا شام علی الدَّوام شَہپال کے دربار میں حاضر رہتی ہوں؛ تیری اجازت ہو تو جاؤں، دربار کا رنگ دیکھ آؤں۔ جان عالم نے دل میں کہا: للہِ الحَمد جو دم تیری صورت پُر کُدورَت نہ دیکھیے، غنیمت ہے، مگر ظاہر میں زمانہ سازی سے کہا: فرقت تمھاری گوارا نہیں، روکنے کا یارا نہیں، جلد آنا۔ ساحرہ اس کلمے سے بہت خوش ہو، چل نکلی۔ اس کے جانے سے باغ سنسان، ویران، وحشت انگیز، ہُو کا مکان ہوا۔ تنہا شاہ زادہ با خیال دل بَر پھر تو بے تکلف ہو، جی کھول کے، میرؔ:\n\nغمِ دل کو زبان پر لایا\n\nآفتِ تازہ جان پر لایا\n\nکہا: ہم سا بھی بد نصیب، دور اَز حبیب دوسرا نہ ہو گا، جس کا یار نہ مددگار، جس سے دل کا درد کہیے، تا تسکین ہو۔ صحبت ان کی ملی ہے، جنھیں دیکھ چپ رہیے کہ عشق اَور کا نہ ان کے ذہن نشیں ہو۔ ایک جانور جو رَہ بَر تھا، یوں اُڑا۔ وزیر زادہ، جو لڑکپن سے جاں نثار اور یاور تھا، ووُں چھٹا۔ ہوسؔ:\n\nسوائے اندوہ و یاس و حِرماں، ہُوا نہ حاصل جہاں سے ہم کو\n\nاٹھائیں کاندھے پہ بارِ ہستی، سفر ہے بہتر یہاں سے ہم کو\n\nنہ رفیق ہے نہ شفیق، حیران و پریشاں، بے سر و ساماں ہوں۔ خیالِ دوست ہے اور میں نیم جاں ہوں۔ شعر:\n\nبھیج دیتا ہے خیال اپنا، عوض اپنے مُدام\n\nاس قدر یار کو غم ہے مری تنہائی کا\n\nاسی سوچ میں چھ گھڑی دن باقی رہا، جادوگرنی چمکی چمکائی آئى۔ جان عالم کو اس کی صورت دیکھ کے رونا آیا۔ لیکن ڈر کے مارے جو ہنسنے لگا، نالہ گلے میں پھنسنے لگا۔ پھر وہی اَکل و شُرب کا چرچا مچا۔ جب نِصف شب گزری، لَہو لَعب سے فرصت ملی۔ وہ تو سو رہی، اِن کو بیداری، اَختر شُماری نصیب ہوئی۔ فَرْد:\n\nشاہد رہیو تو اے شبِ ہجر\n\nجھپکی نہیں آنکھ مصحفی کی\n\nاسی انداز سے دو مہینے گزرے۔ جان عالم کا روز کی کُوفت سے یہ عالم ہوا کہ سوکھ کے کانٹا ہو گیا۔ بدن، ڈھانچا ہو گیا۔ استاد:\n\nہوں کاہ سے کاہیدَہ، بس زار اسے کہتے ہیں\n\nعیسیٰ سے نہ ہو اچھا، بیمار اِسے کہتے ہیں\n\nبن ہاتھ لگے دس کے، جا سے نہیں ہلتا میں\n\nلاغَر اِسے کہتے ہیں، تیار اسے کہتے ہیں\n\nتصویر مُرَقَّع ہوں، سکتے کا سا عالَم ہے\n\nجنبش ہی نہیں، نقشِ دیوار اسے کہتے ہیں\n\nقَضا را، ایک روز وقت رخصت، ساحرہ بولی: جان عالم! تیری تنہائی کا اکثر خیال، بلکہ مجھے ملال رہتا ہے۔ تو اکیلا تمام دن گھبراتا ہو گا، باغ خالی کاٹے کھاتا ہو گا۔ مجبور ہوں، کوئی تیرے دل بہلانے کی گوں نہیں، جسے چھوڑ جاؤں۔ یہ رنڈیاں بد سلیقہ ہیں، ان کو کہاں تک آدمیّت سکھاؤں۔ ہنوز انھیں نشست و بَرخاست کا قَرینَہ نہیں آیا، ان سے تو اور بَرخاستہ خاطِر ہو گا۔ شہ زادے نے کہا: ہم کیا گھبرائیں گے! دل بہلانے والا کہاں سے لائیں گے! تنہا پیدا ہوئے، تمام عمر اکیلے رہے۔ ہماری قسمت میں دوسرا لکھا نہیں۔ ہم صحبت ہمارا خدا نے خَلق کیا نہیں۔ لیکن یہ اندیشہ ہمیشہ رہتا ہے: کوئی ہمیں مار ڈالے تو دن بھر مفت مِٹّی خراب رہے، تم سے کون جا کر کہے۔ ہنسی کی جا ہے، رونے والا نا پیدا ہے۔ وہ بولی: یہ مکانِ طلسم ہے، بادِ مُخَالِف کا گزر مُحال ہے، تیرا کدھر خیال ہے! شہ زادے نے کہا: اگر کوئی جادوگر یہ قَصد کرے، اسے کون روکے؟ فَریفْتَہ بہ شِدَّت تھی، بند ہوئی۔ وہم یہ ہوا کہ میرے بعد کوئی جادوگرنی آئے اور اس پر عاشق ہو جائے، مار ڈالنا کیسا، یہاں سے اُڑائے، تو تُو کہاں پائے! سب محنت برباد جائے! فرطِ مَحَبَّت، نَشَۂ اُلفَت میں انجامِ کار نہ سوچی، بے تَامُّل نقشِ سلیمانی، جو بزرگوں کی امانت اور نشانی تھی، صندوق سے نکال، اس کے بازو پر باندھا، کہا: اب نہ تاثیر سحر، نہ دیو کا گزر، نہ پری سے ضَرَر ہو گا۔ دل کا کھٹکا مِٹا، مزے اُڑَا۔ یہ کہہ کے وہ تو بہ دستور چلی گئی، جان عالم کے سر پہ خرابی آئی، وہی بِلبِلانا، شور مچانا، باغ کو سر پر اٹھانا اور گاہ انجمن آرا کے تَصَوُّر سے یہ کہنا، مُؤَلِّف:\n\nلکھا ہوا یہی قسمت کا تھا، سو جان، ملا\n\nکہ میری، خاک میں، محنت دے آسمان، ملا\n\nہزار صدمے پہ دل نے ہمارے اف بھی نہ کی\n\nجو اک رفیق ملا، وہ بھی بے زبان ملا\n\nنہ ہم نے چَین بہ زیرِ فلک کبھی پایا\n\nعنایت اَزَلی سے عجب مکان ملا\n\nتری تلاش میں دَر دَر بھٹکتے پھرتے ہیں\n\nملا نہ تو ہی، تو جُوتی سے، گو جہان ملا\n\nنہ کہہ تو پیرِ فلک! پر کہے گی ساری خلق\n\nکہ خاک میں ترے جَوروں سے کیا جوان ملا\n\nبہت جہان کی کی سَیر اے سُرورِؔ حَزِیں\n\nیہ بے خزاں نہ ہمیں کوئی بوستان ملا\n\nایک دن عَالَمِ تنہائی میں جان عالم کو یہ خیال آیا: اس نقش کی تعریف اس نے بہت کی تھی، کھولو تو شاید عُقدۂ کارِ بَستَہ کھلے۔ یہ سوچ کے اسے کھولا۔ اس کا یہ نقشہ تھا: بِست دَر بِست کا نقش، ہر خانے میں اَسمَائے اِلٰہی مع ترکیب و تاثیر تحریر تھے۔ دیکھتے دیکھتے خانۂ مطلب میں نظر پڑی۔ لکھا تھا کہ کوئی شخص اگر کسی ساحر کی قید میں ہو، یہ اسم پڑھے، نَجات پائے۔ یا مکانِ طِلسم میں پھنسا ہو، اسے پڑھتا، جدھر چاہے، چلا جائے۔ اور جو کوئی سحر کرتا ہو، اس پر دَم کر پھونک دے، اُسی دم اِس کی برکت ساحر کو پھونک دے۔\n\n یہ سَانِحَہ اُس میں دیکھ کے، قریب تھا شہ زادہ شادی مَرگ ہو۔ جلد جلد وہ سب اِسم یاد کر، نقش بازو پر باندھا۔ اس عرصے میں جادوگرنی موجود ہوئی، جان عالم کے تیوَر بُرے دیکھے۔ پوچھا:\n\nمزاج آج کیسا ہے؟ وہ بولا اَلحَمْدُ لِلّٰہِ بہت اچھا ہے۔ دیر سے تیرا منتظر تھا۔ لے تجھے شیطان عَلیہِ الَّلعْن کو سونپا، ہمارا اللہ نگہبان ہے۔ یہ سنتے ہی روح قالِب سے نکل گئی۔ سمجھی پیچ پڑا۔ جان عالم چل نکلا۔ سحر سے روکنے لگی، تاثیر نہ کی۔ سر پیٹ کر کہا، سعدیؔ:\n\nکس نیا موخت علم تیر ازمن\n\nکہ مرا عاقبت نشانہ نکرد\n\n یہ کہہ کے ناریل زمین پر مارا، وہ پھٹا، ہزار ہا اژدھا شعلہ فِشاں پیدا ہوا۔ شہ زادے نے کچھ پڑھا، وہ سب کے سب پانی ہو گئے، ہستی سے فانی ہو گئے۔ پھر تو مِنَّت کرنے لگی، پاؤں پر سر دھرنے لگی۔ جادوگرنیاں سمجھانے لگیں کہ یہ شرطِ مُرَوَّت نہیں، جو اپنا والِہ و شَیدا ہو اس سے دَغا کیجیے۔ شہ زادے نے کہا: گریبان میں منہ ڈالو، سوچو تو ہم بھی کسی کے عشق میں خود رَفتہ، وحشی، عزیزوں سے جدا، مصیبت کے مبتلا، سَر بہ صحرا ہوئے تھے، ہمیں جبر سے قید کیا، ہزار طرح کا الَمِ مُفَارَقَتْ دیا۔ یہ احسان کچھ کم ہے، ہم نے طلسم دَرہم و بَرہم جو نہ کیا۔ وہ سمجھیں، یہ نہ ٹھہرے گا۔ عاشقی کا کام نصیحت و پند، قید و بند سے نہیں ہوتا۔ اور جبر کا کام اگر اختیار کیا، حباب آسا نا پائیدار ہے، اس کا کیا اعتبار ہے۔ حَسَنؔ:\n\nسدا ناؤ کاغذ کی بہتی نہیں\n\nاور یہ قضیہ اِتِّفَاقیہ ہے، مصر؏:\n\nہر روز عید نیست کے حلوا خورد کسے\n\nحسنؔ:\n\nکبھی یوں بھی ہے گردشِ روزگار\n\nکہ معشوق، عاشق کے ہو اختیار\n\nلیکن سوچو تو، لاکھ طرح کا راحت و آرام ہو، جہان کا چَین صبح و شام ہو، جو جی نہ لگے تو کیا کرے۔ استاد:\n\nدولتِ کونین حاصل ہو تو اٹھیے لات مار\n\nپھر نہیں لگتا ہے جی، جس جا سے ہو جس کا اُچاٹ\n\nالغَرض وہ سر پیٹتی رہیں۔ جان عالم نے بہ برکتِ اسمائے الٰہی اس طِلسم سے رہائی پائی، اپنی راہ لی۔ چند روز میں پھر اُس حوض پر وارد ہوا۔ دیکھا اسپِ وفا دار، پتھر سے سر مار مار، مر گیا تھا۔ اس کی لاش دیکھ کے دل پاش پاش ہوا، خوب رویا۔ اب اور رنج پیادہ پائی کا قدم بوس ہوا۔ پاؤں اٹھانا کالے کُوس ہوا۔ سبحانَ اللّٰہ! کہاں وہ شہ زادہ پروردۂ نعم و ناز، کہاں یہ پیادہ پائی کا سفرِ دور و دراز! ہر قدم خار، ہر گام آزار، مگر تصورِ یار پیشِ نظر۔ ہر قطرۂ اشک میں سَو سَو لختِ جگر۔ آہ و نالہ در دہاں، یہ شعر ہر ساعت بَر زبان، ناسخ:\n\nمانعِ صحرا نَوَردی، پاؤں کی ایذا نہیں\n\nدل دُکھا دیتا ہے لیکن ٹوٹ جانا خار کا\n\nکیوں نہ کھٹکوں آسماں کو رات دن مَیں نَاتَواں\n\nآبلے کی شکل اس میں، مجھ میں عالَم خار کا\n\nرنگِ رو فق، دل میں قَلَق۔ سینہ فِگار، پا آبلہ دار۔ چھاتی غمِ دوری سے شق۔ کبھی حکایتِ شکایتِ بیر، گاہ نالۂ قیامت خیز۔ اور یہ غزل مُؤلّف کی درد آمیز پڑھتا چلا جاتا تھا، مُولِّف:\n\nتوڑ کر خُم اور پٹک کر آج پیمانے کو ہم\n\nسوئے مسجد جاتے ہیں زاہد کے بہکانے کو ہم\n\nشمع رو! محفل میں کب دیں بار پروانے کو ہم\n\nایک کیڑے سے بھی کیا کچھ کم ہیں جل جانے کو ہم\n\nخواب سا کرتے ہیں ہم ایامِ عشرت کو قیاس\n\nدھیان میں لاتے ہیں جس دم گزرے افسانے کو ہم\n\nپر تلک تھا جس مکاں پر شمع رویوں کا ہجوم\n\nچھانتے ہیں اب وہاں پر خاکِ پروانے کو ہم\n\nاشک گل گوں کے نشاں چھٹ، کچھ پتہ ملتا نہیں\n\nجب خزاں میں ڈھونڈھتے ہیں اپنے کاشانے کو ہم\n\nجرم کچھ صیاد کا اپنی اسیری میں نہیں\n\nروتے ہیں کُنج قفس میں آب اور دانے کو ہم\n\nرشکِ زلفِ یار سب عُقدے ہیں میرے اے سُرورؔ\n\nاور الجھ اٹھتے ہیں، بیٹھیں جب کہ سلجھانے کو ہم\n\nچشم تر، رنگ زرد، آہ سرد، دل میں درد۔ پاؤں کہیں رکھتا، آبلہ پائی سے کہیں اور جا پڑتا۔ نہ راہ میں بستی نہ گاؤں۔ نہ میل نہ سنگ نشان، راہ کا سر نہ پاؤں۔ دلِ صفا منزل میں عزم درِ دلدار۔ آبلوں کو اُنسِ خار۔ سخت بد حواسی تھی۔ کانٹوں کی زَبان تلووں کے خون کی پیاسی تھی۔ نہ کوچ کی طاقت، نہ یارائے مقام۔ گھبرا کے وہ ناکام یہ کہتا، مُولِّف:\n\nبدل دے اور دل اِس کے بدلے\n\nالٰہی، تو تو ربُ العالمیں ہے\n\nاور اُس پر نقدِ جاں دے کر، بدل لیتا سرورؔ\n\nگر دلِ بے رنج چڑھ جاتا کسی کا دھیان میں\n\nاور جب ولولہ شوق سے جوشِ جنوں ہوتا، آنکھوں سے موج زن دریائے خوں ہوتا، تو یہ غزل مُولِّف کی پڑھتا، مُولِّف:\n\nقرار پاتی نہیں جانِ زار بِن تیرے\n\nستا رہا ہے دلِ بے قرار، بِن تیرے\n\nگھمنڈ تھا مجھے جن جن کا، سب وہ بھاگ گئے\n\nحواس و ہوش، شکیب و قرار، بِن تیرے\n\nسرورِؔ کشتۂ محبوب، خاک شَرْح کرے\n\nبَسر جو کرتا ہے لیل و نہار بِن تیرے\n\nخُلاصۂ کار یہ کہ اسی حالِ خراب اور دلِ بے تاب سے ہر روز سرگرمِ منزل تھا، دیٖدَۂ دیٖدار طَلَب سے رواں خونابۂ دِل تھا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D9%88%D8%B7%D9%86_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D9%86%D9%88_%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D9%90_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "فسانۂ عجائب/وُرودِ موکبِ جاہ و جلالِ شاہ زادۂ خجستہ خِصال", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "وُرودِ موکبِ جاہ و جلالِ شاہ زادۂ خُجستہ خِصال مُتصلِ باغِ فراق دیدۂ روز گار ملکۂ مہر نگار اور بیان ملاقاتِ انجمن آرا کا، پھر نکاح ملکہ کا\n\nمشاطۂ خامہ نے عروسِ دِل فریبِ سخن کو بہ صد زیب و زینت حجلۂ بیاں میں اس طرح جلوہ آرا کیا ہے کہ بعد قطع منازل وطّی مراحل جس روز وُرودِ لشکرِ فیروزی اثر با کر و فر ملکہ مہر نگار کے باغ سے قریب ہوا، خبرداروں نے اور اخبار کے ہرکاروں نے یہ مُژدۂ جاں بخش فوراً ملکہ کوپہنچایا کہ حُضور کی عُمر و دولت روز افزوں ہو، محکوم گردوں ہو؛ مُبارک! شاہ زادۂ جان عالم تشریف لایا۔ بس کہ غمِ مُفارقت سے تاب و تواں طاق، زندگی شاق تھی؛ سُنتے ہی مشتاق کو غش آیا، پھر سنبھل کر فرمایا: بختِ خُفتہ کب بیدار ہوتا ہے، ایسا پاؤں پھیلائے سوتا ہے! اور جو میرا دل بہلانے کو یہ کہتے ہو، تو سُن لو، مُؤلِف:\n\nتفریح کُلفتوں کی، ترغیب ہے لا حاصل\n\nبہلانے کی باتیں ہیں، یہ دل بھی بہلتے ہیں\n\nچندے جو یہی لیل و نہار ہے تو قصہ، فیصلہ ہے۔ تدبیر خلافِ تقدیر سراسر بے کار ہے۔\n\nمُؤلف:\n\nگر اُس کے ہجر میں یوں ہی اندوہگیں رہے\n\nتو ہوئے گا وصال، دِلا، یہ یقیں رہے\n\nہے احتیاط شرط کہ اس چشم تر پر، آہ!\n\nدامن رہے رہے نہ رہے، آستیں رہے\n\nمدفن کا اپنے ہم کو تردُد ہو کس لیے\n\nکوچے کی تیرے، یار، سلامت زمیں رہے\n\nتو گلشنِ وصال کی کر سیر عندلیب!\n\nہم خرمنِ فراق کے بس خوشہ چیں رہے\n\nجو جو کہ انتخاب تھے صفحے پہ دہر کے\n\nایسے وہ مٹ گئے کہ نشاں بھی نہیں رہے\n\nکس کی خوشی، کہاں کی ہنسی، کیسا اختلاط\n\nہم کو نہ چھیڑو تم کہ وہ اب ہم نہیں رہے\n\nچھوٹا نہ نزع میں بھی خیال اُس کا اے سرورؔ\n\nدم بھرتے ہم اُسی کا دمِ واپسیں رہے\n\nاس عرصے میں وہی خواص دل آرام نام بارہ دری سے نیچے اُتری، پھر کہا: خُدا جانے کہاں سے یہ لشکر آ کر اس دشت میں اُترا ہے! ملکہ ہنس کر بہ حیلۂ سیر خواصوں کے کندھوں پر ہاتھ دھر، ٹھنڈی سانس بھر کوٹھے پر چڑھی۔ دیکھا تو فی الحقیقت لشکرِ بے پایاں، سپاہِ فراواں، فزوں از حدِ شُمار و بیاں ہے۔ خیامِ شاہی اِستادہ ہیں، پھرتے چلتے سوار اور پیادے ہیں۔ یکایک شہ زادہ جان عالم ، بہ چند سوار، اسپِ صرصر خرام، رخشِ تیز گام پر سوار نظر آیا؛ تاجِ سلطانی سر پر کج، شہر یاری کی سج دھج۔ یا تو اُسے نُچا کھُچا، منزلوں کا مارا، دشتِ غربت کا آوارہ دیکھا تھا؛ اب چم و خم، جاہ و حشم سے پایا؛ بدن تھرایا، اعضا اعضا میں رعشہ ہوا، یہ زُور تماشا ہوا۔ اُستاد:\n\nآتے ہی ترے، چھُٹتا ہے رعشہ سا بدن میں\n\nہر چند کہ ہیں بیٹھتے ہر لحظہ سنبھل ہم\n\nوہ زردیِ چہرۂ پُر غم مُژدۂ وصل کی سُرخی سے بدل گئی، غش سے سنبھل گئی۔ شہ زادہ گھوڑے سے اُتر کے، سیدھا ملکہ کے باپ کے پاس گیا، جھُک کر نذر دی، رسمِ سلام بجا لایا۔ اُس نے دُعائے خیر دے کر چھاتی سے لگایا، کہا: للہ الحمد تمھیں بہ صحت و عافیت اللہ نے کام یاب دکھایا۔ پھر انجمن آرا کی سواری آئی، تسلیم بجا لائی۔ پیر مرد نے فرمایا: شہ زادی! فقیر کے حال پر کرم کیا، اللہ بھلا کرے۔ اُس نے عرض کی: کنیز مُدت سے حضور کی صفت و ثنا ظِلِّ سبحانی کی زبانی سُنا کرتی تھی، آج شہ زادے کی بدولت سعادتِ آستاں بُوس سے مُشرف ہوئی۔ دو گھڑی بیٹھی، پھر التماس کیا: اگر اجازت دیجیے، ملکہ کی ملاقات سے مسرور ہوں۔ اُس حق پرست نے فرمایا: اِس کا پوچھنا کیا، بابا! بے تکلف خانہ خانۂ شماست۔ جان عالم تو رخصت ہو کے خیمے میں آیا، انجمن آرا نے ملکہ کے مکان کا رستہ لیا۔ آنے کی خبر پیش تر ملکہ کو پہنچی تھی، سامان اُس اُجڑے مکان کا درست ہو چکا تھا۔\n\nجب سواری اُتری، لبِ فرش لینے آئی، فرّاشی سلام کیا۔ انجمن آرا نے گلے سے لگا لیا۔ ملکہ آبدیدہ ہو کر بولی: تم نے مجھے محجوب کیا۔ میں فقیر کی بیٹی، تم شاہ زادی۔ ہر چند شاہ و گدا دونوں بندۂ خُدا ہیں؛ اِلا، تمھارے قدم آنکھوں پر رکھوں تو بجا ہے، آپ کے آنے سے مجھے بڑا افتخار حاصل ہوا ہے۔ انجمن آرا بولی: ہم نے خوب کیا۔ رنڈی! یہ چُوچلے کی باتیں بیگانہ وار نہ کرتی تو کیا ہوتا! اے صاحب! ہمارے تمھارے تو رشتۂ ہمسری، سر رشتۂ برابری ہے۔ اور حساب کی راہ سے، پہلی تو ’’سلامتی سے‘‘ تمھیں ہو۔ سرکار کا اُلُش ہمیں ملا ہے، پہلے مزہ آپ نے چکھا ہے، جوبن لوٹا ہے۔ غرض کہ دو دو نوکیں ہو گئیں۔ پھر اختلاط، حرف و حکایات، رمز و کنایہ میں تمام رات بسر ہوئی۔\n\nجس وقت عروسِ شب نے مقنعۂ مغرب میں مُنہ چھپایا اور نو شاہِ رُوز مشرق سے نکل آیا؛ انجمن آرا جان عالم کے پاس آئی، ماجرائے شب بر زباں لائی، کہا: بہ خُدا! اس خُلق و مروت، سنجید و صفت کی عورت آج تک نہ دیکھی نہ سُنی تھی۔ دوسرے دن جان عالم نے ملکہ کے باپ سے عرض کیا کہ الْکَرِیْمُ إذا وَعَدَ وَفیٰ۔ اُس سالِکِ راہِ حق نے ارشاد کیا؛ ہم اس لائق کہاں ہیں، لیکن، مصر؏:\n\nشاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را\n\nتم قول کے پورے، اقرار کے سچے ہو۔ بسم اللہ، اپنے زُمرۂ کنیزوں میں سرفراز کرو، آبرو بخشو۔ شادی کا نام لینا، مُنہ چڑانا ہے کہ نہ اب وہ ہم ہیں، نہ ہمارا زمانہ ہے۔ آخرش بہ طورِ شرعِ شریف ملکہ کا نکاح جان عالم کے ہمراہ ہوا۔ اب یہ معمول ٹھہرا: ایک شب انجمن آرا کی، دوسری رات ملکہ کی ملاقات ٹھہری؛ مگر اُن دونوں میں وہ رہ و رسم محبت، اُلفت کی بڑھی کہ شہ زادے کی عاشقی نظر سے گر گئی، نظری ہوئی۔ اور سچ ہے: جو طرفین سے نجیب الطرفین ہوتے ہیں؛ اُن میں رشک و حسد، رنج و ملال دخل نہیں پاتا، شکوہ و شکایت لب تک نہیں آتا۔\n\nکٹی جلی، ڈاہ، بُغض، عداوت، خواہ نخواہ کج بحثی، دانتا کل کل، رُوز کی تو تو میں میں چھوٹی اُمت پر ختم ہے۔ لاکھ طرح انھیں سمجھاؤ، نشیب و فراز دکھاؤ؛ لیکن ان لوگوں سے بے جھُونٹک جھانٹا گھڑی بھر چین سے رہا نہیں جاتا۔ آخر کار یہ ہوتا ہے کہ آدمی سر پکڑ کے روتا ہے۔ دو دن ایک طرح پر صحبت بر آر نہیں آتی ہے، زندگی انسان کی تلخ ہو جاتی ہے۔ لاکھ طرح کا غم ہوتا ہے، ناک میں دم ہوتا ہے۔ مُؤلف:\n\nعشق میں طرفین سے الفت برابر چاہیے\n\nجو بہ دل بندہ ہو، اُس کو بندہ پرور چاہیے", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D9%88%D9%8F%D8%B1%D9%88%D8%AF%D9%90_%D9%85%D9%88%DA%A9%D8%A8%D9%90_%D8%AC%D8%A7%DB%81_%D9%88_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84%D9%90_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%82_%D8%AE%D8%AC%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%AE%D9%90%D8%B5%D8%A7%D9%84"} {"title": "فسانۂ عجائب/وُروٗدِ عَساکِرِ فیروزی اثر صحرائے ہمیشہ بہارمیں", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "وُروٗدِ عَساکِرِ فیروزی اثر صحرائے ہمیشہ بہار میں وفورِ سَرما، شِدّتِ بَرْد دَشت و کُہسار میں۔ کیفیت باہم کے جلسے کی، ترقّی شراب کے نشے کی۔ خیالاتِ فاسد آنا، توتے کا سمجھانا، پھر شہ زادے کا پچھتانا\n\nنا گاہ ایک روز گُذرِ مَوکِبِ با حشمت و جلال، فَرّ و شوکت سے، ایک صحرائے باغ و بہار، دَشتِ لالہ زارِ بے ملال میں ہوا۔ فِضائے صحرا قابلِ تحریر۔ کیفیت دشتِ گُلشن آسا لائقِ تقریر۔ بوٗ باس ہر برگ و گُل کی رشکِ مشکِ اَذْفَر۔ صفحۂ بیاباں مُعَنْبَر و مُعطَّر۔ چشموں کا پانی صفا میں آبِ گُہر سے آب دار تر، ذائقے میں بِہ اَز شیر و شکر۔ چِلّے کے جاڑے، کڑاکے کی سردی تھی، گویا کہ زمین سے آسمان تک یَخ بھر دی تھی۔ پَرِند چَرِند اپنے اپنے آشیانوں اور کاشانوں میں جمے ہوئے بیٹھے، بھوک اور پیاس کے صدمے اُٹھاتے تھے، دھوپ کھانے کو باہَر نہ آتے تھے، قصد سے تھرتھراتے تھے۔ سردی سے سب کا جی جلتا تھا، دَمِ تقریر ہر شخص کے مُنہ سے دھُواں دھار دھُواں نکلتا تھا۔ آواز کسی کی کان تک کسی کے کم جاتی تھی، مُنْہ سے بات باہَر آئی اور جم جاتی تھی۔ مارِ سیاہ اُوس چاٹنے باہَر نہ آتا تھا، سردی کے باعث دُم دَبا کے بانبی میں دبکا جاتا تھا۔ زمانے کے کاروبار میں خلل تھا، ہر ایک دست دَر بَغَل تھا۔ عاشق و معشوق بھی اگر ساتھ سوتے تھے؛ گھٹتے تھے، مگر گھٹنے پیٹ سے جُدا نہ ہوتے تھے۔ اَشکِ شمعِ انجمن لگن تک گرتے گرتے اُولا تھا، پروانوں نے گرد پھرتے پھرتے ٹٹولا تھا۔ شعلہ کانپتا تھا، فانوس کے لحاف میں مُنہ ڈھانپتا تھا۔ شمع کا جسم برف تھا، پگھلنے کا کیا حرف تھا۔ ہر سنگ کے سینے میں آگ تھی، گواہِ شرعی شَرَر تھا، لیکن سردی کو بھی یہ لاگ تھی اور جاڑے کا ایسا اثر تھا کہ سِلیں کی سِلیں جَمی پڑھی تھیں، فَولاد سے زیادہ کڑی تھیں۔ تَنورِ فلکِ چارُم کی چھاتی سرد تھی۔ گلخَن میں یہ بُرودَت تھی کہ کشمیر گَرد تھی۔ لُنجوں نے بٹیر پکڑے، لَوِے لولُوں کے ہاتھ آئے، لنگڑے ہِرَن باندھ لائے۔ سَر زمینِ ہند میں مُردے نہ جلتے تھے، زِندوں کے ہاتھ پاؤں گلتے تھے۔ آتش رُخسارِ گُل شبنم نے بُجھائی تھی، باغ میں بھی جاڑے کی دُہائی تھی۔ اُوس برگ و بار کی، صنعت پروردگار کی دِکھاتی تھی، مُرصَّع کاری یک لَخْت نظر آتی تھی۔ دانہ ہائے اشکِ شبنم، خواہ بڑے یا رِیزِے تھے، ہر شجر کے برگ و بار میں اَلماس اور موتیوں کے سَبُک آوِیزِے تھے۔ عِذارِ لالۂ حمرا رشکِ زعفراں تھا۔ طلائی درختوں کی ٹہنیاں، کہرُ بائی پتّے، بہار میں رنگِ خِزاں تھا۔ اِس سردی کا کہیں ٹھور ٹھکانا ہے، حَمَّام پر یہ پھبتی تھی کہ بَرف خانہ ہے۔ آگ پر لوگ جی نثار کرتے تھے، زَر دُشْت کا طَریق اِختیار کرتے تھے۔ اُسی سردی کا یہ وُفور ہے کہ آج تک بُتوں کی سرد مہری مشہور ہے۔ آفتاب عازِمِ بُرجِ حَمَل تھا، آتَش پَرَستوں کا عَمَل تھا۔ زیست سَمَنْدَر کے عُنوان تھی، آگ میں خلقت کی جان تھی۔ عاشق تو کیا، معشوق ٹھنڈی سانْس بھرتے تھے، گرمی نہ کرتے تھے۔ دانْت سے دانْت بجتا تھا۔ ہونْٹ نیلم کو شرماتے تھے، پان کے لاکھے میں سُوسَن کی پنکھڑی سے نظر آتے تھے۔ عاشق تن، پریوں کو ساتھ لے کے سوتے تھے، اِس پر بچھونے گرم نہ ہوتے تھے۔ عالَم اللّٰہ کا جاڑے میں اَلْمَسْت تھا۔ جس کو دیکھا، آتَش پرست تھا۔ جاڑے سے اُس دشت میں ایسا پالا پڑا، تمام اہلِ لشکر کو تَپ لرزے کا عالم تھا۔ بانکے تِرچھے خود بہ خود اینٹھے جاتے تھے، ڈھال تلوار کھڑکھڑانے کے عِوَض دانْت کَڑکَڑاتے تھے۔ تپنچے، چقماق، پتھر کَلے؛ لاٹھی سے بد تر تھے۔ بندوق میں لاگ نہ تھی، چانْپ کے پتھروں میں آگ نہ تھی۔ اور تُوڑے دار کا یہ حال تھا: بُوجھ کندھا توڑتا تھا، قدم اُٹھانا مُحال تھا۔ تُوڑاہر ایک، گُل تھا؛ توتے کی جگہ شُورِ بلبل تھا۔ ملائم لوگوں کے حواس جم گئے تھے، جُگنو کو چنگاری کے دھوکے میں اُٹھانے کو تھم گئے تھے۔ اور ہوش ایسے کانْپتے تھے؛ کیچوے کی مِٹّی کو الاؤ سمجھ، پھونکتے پھونکتے ہانپْتے تھے۔ سردی بس کہ کارفَرما تھی، ایک کو دوسرے کی تمنّا تھی۔ یہاں تک جاڑے کا زور شور عالم گیر ہوا تھا کہ کُرَۂ نار، زَمْہَریر ہوا تھا۔\n\nجان عالم نے فرمایا: آج خیمہ ہمارا یہیں ہو۔ جس دم تمام لشکر نے مِثْل دَر مِثْل قیام کیا، خود مُتَوجہ سامانِ عیش و نَشاط ہوا۔ ملکہ اور انجمن آرا سے پری پیکر محبوب۔ توتا مُصاحِبِ بے بدل، بہ دِل مرغوب۔ گردش میں دَورِ شرابِ ناب آیا، ساغر میں آفتاب آیا؛ اِلّا، کشتی شراب کی، نہ بَطِ مَے چلتی تھی؛ نہ کباب بھنتے تھے، نہ آگ جلتی تھی۔ گلاس شراب کا برف کی قفلی کو شرماتا تھا، قطرۂ مَے اُس میں گرتے ہی جَم جاتا تھا۔ مینائے بے زَباں کے مُنْہ پر روٗئی تھی، ایسی سردی ہوئی تھی۔ گلا بیٹھا تھا؛ جب بہت غُل کرتی، تب قُلقُل کرتی۔ لَبِ ساغر خُشک، جِسم پر پسینا تھا؛ پانی کا پیالہ فخرِ آبگینہ تھا۔ جاڑے کا لشکر میں ہر طرف شُور و غُل تھا۔ بازار میں روٗئی کا لین دین بِالکل تھا۔\n\nجب دَورِ آفتاب ماہ جبینوں میں چمکا؛ عالَمِ سُرور میں، نشے کے وُفور میں جان عالم کو خیالِ نزدیک و دور آیا۔ دل میں سوچا کہ اِتنے عرصۂ دراز، زمانۂ دِیریاز تک ملکہ اور انجمن آرا کو ہم سے فُرقت، غیروں سے قُربت رہی؛ رنڈی کا اِعتِبار کیا ہے، یہ قوم قدیم سے بے وفا ہے۔ فِردَوسی:\n\nاگر نیک بودے سَر انجامِ زن\n\nزناں را ’’مَزَن‘‘ نام بودے نہ ’’زَن‘‘\n\nیہ نشیب و فَراز جو ذہن میں آیا؛ جَلی کَٹی باہم ہونے لگی، کج بحثی صحبت کا لطف کھونے لگی۔ وہ سبز پُوش، خانہ بدوش، موقع شَناس، مزاج داں، دِل سُوز، ادب آمُوز، بے زَباں بلبلِ ہزار داستاں دل کا حال جانتا تھا، اُڑتی چِڑیا پہچانتا تھا؛ سمجھا: جان عالم کی طبیعت کبیدہ ہوئی۔ قریب وہ وقت آیا چاہتا ہے کہ ایسی گفتگو آغاز ہو، جس کا انجام یہ صحبت دَرہَم و بَرہَم کرے۔ زندَگی سب کی تلخ ہو، ہر کلمہ نبات کا، کارِسَم کرے۔ بات کو کاٹ، طبیعت کو اُچاٹ، کہنے لگا: شہ زادۂ عالَم! نشہ اِس کیفیت سے حرام ہے کہ اِس کی ترقی میں عقل کو تنزل ہوتا ہے۔ خیالِ بیہودہ، لاطائل آتے ہیں، احسان بھول جاتے ہیں۔ فقط گُمانِ بے جا اور خیال، وہ بھی نشے کے حال کا؛ اُس پر حق خدمت ناحق بھول جانا، روکھے ہو کے بگڑنا، مُنْہ بنانا، گویا اِن تِلوں میں تیل نہ تھا، کبھی میل نہ تھا؛ آدمیّت سے بعید ہے۔ اِن میں کوئی آپ کی زر خرید ہے؟ ایک ساعَت اِدھر مُخاطَب ہو جیے۔ اِس مدّتِ مُفارَقَت میں بہت سانِحے دیکھے، افسانے اپنے بیگانے کے سُنے؛ اگر بہ گوشِ ہوش انھیں سُنیے تو یہ تخیلات فاسِددور ہوں۔ جان عالم نے کہا: ایسی بات اس وقت واجبات سے ہے، جلد کہہ۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D9%88%D9%8F%D8%B1%D9%88%D9%97%D8%AF%D9%90_%D8%B9%D9%8E%D8%B3%D8%A7%DA%A9%D9%90%D8%B1%D9%90_%D9%81%DB%8C%D8%B1%D9%88%D8%B2%DB%8C_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "فسانۂ عجائب/پہنچنا شہ زادۂ والا جاہ کا مَرکبِ صبا پر", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "پہنچنا شہ زادۂ والا جاہ کا مَرکبِ صبا پر مع انجمن آرا ملکہ مہرنگار کے پاس بہ ہمراہیِ رفیق کاملِ سبز لباس اور مطلع ہونا وہاں کے بادشاہ کا، بھیجنا سپاہ کا، پھربدولتِ نقش مطیع ہو جانا اُس فوج کا، داخلہ لشکرِ دریا موج کا\n\nنظم:\n\nپلا دے تو ساقی مے لالہ فام\n\nہُوا چاہتا ہے یہ قصہ تمام\n\nوہ مے دے کہ ہوں دور دل سے الم\n\nکہ ہوتے ہیں معشوق و عاشق بہم\n\nجدائی کے ایام طے ہو چکے\n\nشبِ ہجر میں خوب سا رو چکے\n\nمچا دوں کوئی دم بھلا چہچہے\n\nکہ رنج جدائی بہت سے سہے\n\nمثل ہے یہ مشہور اے ذی شعور\n\nکہ ہے رنج کے بعد راحت ضرور\n\nمحرّرانِ حالِ طالب و مطلوب و حاکِیانِ حکایاتِ خوب و مرغوب لکھتے ہیں کہ وہ پرندۂ ہوائے شوق یعنی جان عالم مع ماہ لَقا انجمن آرا اور طائرِ زمردیں لباسِ دشت پیما، آٹھویں روز ملکہ کے پاس پہنچا۔ یہاں جس دن سے توتا رخصت ہوا تھا، ملکہ مہرنگار دونوں وقت بلا ناغہ باغ میں آتی تھی، درخت خالی دیکھ کر گھبراتی تھی۔ بیش تر صبح و شام وہ ناکام، اُس درخت کے تلے جہاں توتا ملا تھا، یہ کہتی تھی، میر سوزؔ:\n\nمانندِ جرس پھٹ گئی چھاتی تو فُغاں سے\n\nفریاد کو پہنچا نہ کوئی راہ رواں سے\n\nاُس روز موافقِ معمول وہ دل ملول قریبِ شام درخت کے نیچے حزین و زار، توتے کے انتظار میں کھڑی تھی اور آنکھ ٹہنی سے لڑی تھی۔ دیدۂ خوں بار سے دریا اُمڈا تھا، اشکِ مسلسل سے تا دامن یا قوت اور موتیوں کی لڑی تھی۔ جب دلِ سُوختہ گھبراتا، تو سُوزِ دَروں مِثلِ دُخاں لب پر آتا۔ جی بہلانے کو یہ غزل پڑھتی، مُؤلِّف:\n\nآتَشِ فُرقت سے سینہ جب سے مِجْمَر ہو گیا\n\nبھُن کے لختِ دل مرا ہر ایک، اَخگر ہو گیا\n\nباعِثِ اِفشائے ذِلّت دم نہ مارا میں نے گاہ\n\nورنہ زیرِ آسماں کیا کیا نہ مجھ پر ہو گیا\n\nنَزْع تک تو آمدِ جاناں کا کھینچا انتظار\n\nوہ نہ آیا، وعدہ اپنا یاں برابر ہو گیا\n\nکیا ڈراتا ہے ہمیں واعظ سُنا شورِ نُشور\n\nشامِ فرقت، یاں عذابِ روزِ محشر ہو گیا\n\nاب جو ہنستا ہوں تو ہنستے ہنستے بھی گرتے ہیں اشک\n\nروتے روتے، آخِرش رُونے کا خوگر ہو گیا\n\nفکر پھر کس کو ہو دیواں جَمع کرنے کی سُرورؔ\n\nجب کہ ہو مجموعۂ خاطر ہی اَبتر ہو گیا\n\nدفعتاً توتے نے سلام کیا۔ وہ خوش ہو کر بولی: اے قاصدِ نیک صدا و ہُد ہُدِ شہْرِ سَبا! میرے سلیمانِ حُسن و خوبی کا پتا، یا اُس بِلقیس محبوبی کا سُراغ ہاتھ آیا؟ توتے نے کہا: اے ملکۂ عالمِ قَدْر داں! خبرداروں کو خِلْعَت و انعام دیتے ہیں، جب دوست کا پیغام پوچھتے ہیں، عَلَی الْخُصوص یہ خبرِ فرحت اثر! پہلے یہ اِرشاد ہو کہ اگر کچھ پتا بتاؤں گا، تو اُس کی اُجرت کیا پاؤں گا؟ یہ سُن کے ملکہ کی جانِ رفتہ بدن میں آئی۔ یقین ہوا، اِس نے مُفصّل خبر پائی۔ یہ کہا، اُستاد:\n\nپیغامِ دوست جلد تو پیغام بَر سُنا\n\nگھبرا کے دم ہی جائے نہ میرا کہیں اُلٹ\n\nتوتا عرض کرنے لگا: حضُور کا اِرشاد واقعی بجا ہے، مگر ایسی خبر کا جلد کہنا، حُمُق کا مُقتضا ہے۔ اُستاد:\n\nدفعتاً خوگرِ فُرقت کو نہ دے مُژدۂ وصل\n\nخبرِ خوش نہیں اچھی جو یکایک ہووے\n\nتوتا تقریر کو طول دیتا تھا۔ کبھی خوش، گاہ مَلول کر دیتا تھا۔ ملکہ بے چین ہوئی جاتی تھی۔ اِدھر شہزادے سے زیادہ انجمن آرا گھبراتی تھی۔ غرض نہ رہ سکی، صورت بدلی۔ جان عالم بھی مُجَسَّم ہو کے سامنے آیا۔ آپَس میں عاشق و معشوق و معشوق و عاشق خوب گلے مِل مِل کے رُوئے۔ غُبارِ کُلْفَتِ پارینہ، داغِ مُہاجَرتِ دیرینہ دل کھول کر صَفْحۂ سینہ سے دھوئے۔ رُونے کی آواز سے مُغلانیاں، خواصیں جمع ہوئیں۔ جس کی آنکھ اِن دونوں پر پڑی؛ دوڑ کر صدقے ہوئی اور پاؤں پر گر پڑی۔ جَلَّ جَلالُہٗ! حُسنِ خوب سے، کوئی چیز زیادہ دِلکش اور محبوب نہیں۔ دوست تو دوست ہے، دُشمن غش کر جاتا ہے۔ لڑکا ہو یا بوڑھا، شَیدا نظر آتا ہے۔ مال تو کیا مال ہے؛ سُوت کی اَنْٹی بھی اگر پاس ہو، تو اَنْٹی ماری سے خریدار بن جاتا ہے۔ جان عزیز نہیں، حُرمت کچھ چیز نہیں۔ غلام کی غلامی پر آقا فخر کرتا ہے۔ جانِ تازہ پاتا ہے جو کوئی کہتا ہے کہ: یہ اُس پر مرتا ہے۔ عِیاذًا بِاللّٰہ یہ اَمر محمود نہیں۔ اِس میں غیرِ ضَرَر کچھ سود نہیں۔\n\nغَرض کہ خُرّم و خَنداں بارہ دری میں آئے۔ انجمن آرا سے ملکہ نے حال پوچھا۔ اُس نے دیو کا اُٹھا لے جانا، باغ کی بے سَروپائی؛ پھر جان عالم کی رَسائی اور سفید دیو کا آنا، باہم کی لڑائی، پھر اُس کو قتل کر کے آفت سے چھڑانا؛ اپنی پِیادہ پائی، صحرا نَوردی، ہَوا گرم، پاؤں کا وَرَم؛ پھر وہ عَمَل جوگی کا بتایا ہوا شہ زادے کا سِکھانا، باد ہَوائی سفر، توتے سے درخت پر مل جانا سُنا دیا۔ پھر اُس نے جان عالم سے سَرگُذشت پوچھی، اپنی صُعوبَت کہی۔ گُذشتہ کا حال میں ذِکْر کر کے، جو کچھ دھیان بندھا، پھر سب رُونے لگے۔ توتا بد مزہ، خفا ہوا، کہا: صاحِبو! اب یہ قصّہ بکھیڑا دور کرو، سجدۂ شکر بجا لاؤ، کھیلو کھاؤ، ہنسی خوشی کا مذکور کرو۔ یاد رکھو یہ بات: گذشتہ را صَلْوات۔\n\nمصحفی:\n\nجُز حسرت و افسوس، نہیں ہاتھ کچھ آتا\n\nایّامِ گذشتہ کو کبھی یاد نہ کیجے\n\nملکہ بولی: اے شیریں مَقال، مبارَک قَدَم، خُجَستہ فال! شہ زادے کے برابر عقل کا دشمن کسی نے دیکھا نہ سُنا ہو گا۔ سوزؔ:\n\nمعلوم ہم کو دل کے سُلوکوں سے یہ ہوا\n\nنادان ہے جو دوست، وہ دشمن ہے جان کا\n\nاِس نے جتنی محنت و مَشقّت اُٹھائی، اپنی بد عقلی کی سزا پائی۔ بھلا عالَمِ تنہائی میں جو کچھ کیا سو کیا؛ دو تین بار اپنے ساتھ ہم دونوں کو خراب، آفت کا مبتلا کر چکا ہے، آگے دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ یہ کہہ کر، دَر بہ روئے دشمناں بند، دوست با دِلِ خُر سَند باہم بیٹھے اور دَورِ ساغَربے دَغْدَغَۂ فلکِ تَفْرِقَہ پسند و سِفْلہ پَروَر شُروع ہوا۔ مُطْرِب نے ساز کی ناسازی پر گوشُمالی دی، صدائے عیش و طرب بلند ہوئی۔\n\nیہ خبر بارہ دری میں مشتہر ہوئی اور وہاں کے بادشاہ کو پہنچی کہ ایک مرد صاحِب جمال، دوسری عورت پری تِمثال ملکہ کے پاس تازہ وارِد ہوئی۔ کہنے لگا: الحمد لِلّٰہ گھر بیٹھے یہ عنایتِ پَروردگار ہے۔ نصیب چمکا ہوا ہے، طالع یار ہے۔ ایک موجود تھی، دو اور آئے۔ اُسی دم دو ہزار سوارِ جَرّار اور دو سپہ سالارِ تَجْرِبہ کار نگہ بانی کو بھیجے۔ جان عالم نے یہ ماجرا سنا، کہا: فَضْلِ الٰہی چاہیے، بعد مدّتِ مَدید یہ صحبتِ ہَمدیگر مُیسَّر ہے، صُبْح کو سمجھ لیں گے۔ سوار تو باغ گھیرے کھڑے رہے، یہاں تمام شب جلسے بڑے رہے۔\n\nجس وقت خُسرَوِ خاوَر آرام گاہِ مشرق سے بر آمد ہو کے جلوہ گرِ تختِ زَنْگاری ہوا اور سِپَہ سالارِ انجم مَع سوار، پیدل ثَوابِت و سیّارہ کے، کوہ مغرب کی طرف فَراری ہوا؛ جان عالم حَمّام سے غسل کر کے نکلا۔ اُس لَوح سے اسمِ تسخیر پڑھتا باغ کے دروازے پر آیا۔ جس کی نگاہ پڑی، دبدبۂ شوکت اور اِسْم کی برکت سے آداب بجا لایا، دست بستہ رو بہ رو آیا۔ وہ دو ہزار سوار مع سِپَہ سالار فرماں بردار ہوئے؛ پھر تو دروازہ بہ کُشادہ پیشانی کھولا۔\n\nیہ خَبرِ وحشت اثر اُس بادشاہ کو پہنچی؛ اور سوار پِیادے، لڑائی کے آمادے بھیجے۔ وہ بھی جب سامنے آئے، گھبرائے، حلقۂ غُلامی کان میں ڈالا، جنگ کا خیال نہ رہا۔ پھر تو مشہور ہوا کہ ساحِر ہے۔ المختصر، تمام فوج آ کر شریک ہوئی۔ اُس وقت وہاں کا تاج دار طیش کھا کے سوار ہوا۔ کہاں یَکَّہ سوار، کجا اَنْبُوہ بے شمار! تلوار چلی، دس بارہ زخمی ہوئے، کچھ جان سے گئے۔ اور فوج نے نَرغا کر جان سے تو نہ مارا، کمندوں میں پھنسا لیا اور جان عالم کے حوالے کیا۔ شہ زادۂ عالی حوصلہ خوفِ خدا سے اور نحوستِ طالعِ نارَسا، کج ادا سے مِثلِ بِید کانپا اور فرمایا: اللّٰہ وہ وقت کسی کو نہ دِکھائے جو اپنی فوج یا رعیّت حاکم سے ناراض ہو۔ دوست دشمن ہو جائے، عداوت سے پیش آئے۔ یہ ارشاد کر کے اُس سے بَغَل گیر ہوا، برابر بِٹھایا، قتْل سے ہاتھ اُٹھایا۔ وہ بے چارہ نادِم و پشیماں، سَر دَر گریباں، گھٹنے پر گردن جھکا، مُنفَعِل، خاموش بیٹھا۔ شہ زادے نے کہا: مسافر کُشی صِفْتِ شاہی سے بعید ہے۔ ہم تمھارے مہمان تھے، تم نے دعوت کے بدلے عداوت کی؛ اللّٰہ کو یہ بات پسند نہ ہوئی، عبرت کا تماشا دکھایا۔ یہ تخت، یہ سلطنت آپ کو مُبارَک رہے۔ بندہ غریبِ دِیار، کمر باندھے چلنے کو تیّار ہے۔ اِس لڑائی کا قصّہ، فَسانہ ہو جائے گا۔ اِمرُوز یا فَردا یہ مسافر روانہ ہو جائے گا۔ وہ اِس کی فصاحت و بلاغت اور یہ سیر چشمی دیکھ کر حیران ہوا، کہ دشمن کو گرفتار کیا، پھر مُلک بخش دیا۔ سر جھکا کر بولا: بہ خُدائے عَزّ و جَل لائقِ حکومت، قابلِ سلطنت آپ کی ذاتِ فَرخُندہ صِفات ہے۔ جان عالم نے کہا: آپ یہ اپنی تعریف کرتے ہیں، وگرنہ من آنم کہ خوب می دانم۔\n\nاَلقِصّہ، وہ محجوب ہو کر رخصت ہوا۔ فوج کو صُلح جو ثابِت ہوئی، اپنے بادشاہ کے ہمراہ چلی گئی۔ جب یہ جنگِ زَرگَری ہو چکی؛ مکان پر آ کر بہت تیّاری اور تکلّف سے دعوت کی اور عُذرِ تَقصیر کر کے عَفو کا اُمّید وار ہوا۔ شہر والے یہ خبر سُن کے ایسے مشتاق ہوئے کہ غول کے غول آنے لگے۔ روز باغ کے دروازے پر میلا رہتا تھا، کسی وقت وہ کوچہ نہ اکیلا رہتا تھا۔\n\nپھر جاسوس، شُتُر سوار، ہرکارے فوج کے تجسس میں بھیجے۔ چالیس منزل پر لشکر ملا۔ جان عالم کی مُفارَقت سے کسی میں جان نہ تھی۔ فرمانِ مُہری دیکھ کر سب نے جانِ تازہ پائی، مُہر آنکھوں سے لگائی۔ رات دن کوچ کرتی، بیس پچّیس دن میں بہ رسمِ یَلغار، فوج داخل ہوئی۔ شہ زادہ لشکر کو مُلاحظہ کر کے مسرور ہوا، ملال بھولا، رنج دور ہوا۔ اَرکانِ سلطنت نے ملازمت حاصل کی، سب نے نذر دی۔ مُوافقِ قَدر و مَنزِلَت خِلْعَت اور انعام خاص و عام کو مَرحَمَت ہوا۔ اور رِعایا بَرایا، بازاری، دُکان دار، اہلِ حِرفہ کو بھی کچھ دیا۔ فوج کے سرداروں کو خِلعَتِ جواہِر نِگار، سِپَر و شمشیر مُرَصَّع کار عنایت کر کے، دو ماہہ تمام فوج کو انعام میں دیا۔ اَز سَرِ نو لشکر چمکا دیا۔ پھر وہاں سے کوچ ہوا۔ وہی راہ میں جلسے، اِختِلاط، فَسانے، حِکایات، عیش و نَشاط۔ توتا ہنْساتا، رَمز و کِنایے کرتا، لطیفے سناتا، دِل بہلاتا جاتا تھا۔ ہر صُبْح با خاطِرِ شِگُفتہ مِثلِ نکہتِ گُل کوچ۔ ہر شام بَسانِ فصلِ بہار بہ آسائش مُقام۔ روز و شب بہ راحت و آرام کبھی کوچ، کبھی مُقام کرتے چلے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D9%86%D8%A7_%D8%B4%DB%81_%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%82_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%8E%D8%B1%DA%A9%D8%A8%D9%90_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "فسانۂ عجائب/کیفیت شہر بے نظیرکی (بیان لکھنؤ)", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "prose", "section": "نثر > فسانۂ عجائب", "year": null, "text_ur": "کیفیت شہر بے نظیرکی (بیان لکھنؤ)\n\nتقریر مورخِ دلپذیر کی، کیفیت شہر بے نظیر کی، ذکرِ صنعتِ کاملینِ علم و فن، واقفانِ رموزِ سخن، و تذکرۂ اہلِ حرفہ، دکان دار بہ طرزِ یادگار\n\nیہ پُنبہ دَہاں، ہیچمداں، محرّر داستاں، مقلّد گذشتگاں، سراپا قصور مرزا رجب علی، تخلص سرور، متوطن خِطۂ بے نظیر، دل پذیر، رشک گلشنِ جِناں، مَسکَنِ حور و غِلماں۔ جائے مردمِ خیز، باشِندے یہاں کے ذکی، فہیم، عقل کے تیز۔ اگر دیدۂ انصاف و نظرِ غَور سے اِس شہر کو دیکھے تو جہان کی دید کی حسرت نہ رہے، ہر بار یہ کہے، شعر:\n\nسنا، رِضواں بھی جس کا خوشہ چیں ہے\n\nوہ بے شک لکھنؤ کی سر زَمیں ہے\n\nسُبحَانَ اللہِ وَ بِحَمدِہ! عجب شہر گلزار ہے۔ ہر گلی دلچسپ؛ جو کوچہ ہے، باغ و بہار ہے۔ ہر شخص اپنے طور کا با وَضع، قَطع دار ہے۔ دو رویہ بازار کس انداز کاہے! ہر دکان میں سرمایہ ناز و نِیاز کاہے۔ گو ہر محلے میں جہان کا ساز و ساماں مُہیا ہے، پر اکبری دروازے سے جِلو خانے اور پکے پُل تک، کہ صراط مستقیم ہے، کیا جلسہ ہے! نان بائی خوش سلیقہ۔ شیر مال، کباب، نان، نہاری، بلکہ جہان کی نعمت اِس آب داری کی، جس کی بو باس سے دل طاقت پائے، دماغ معطر ہو جائے۔ فرشتہ گزرے تو سونگھے، مست ہو جائے، غُنودگی میں اونگھے۔ کیسا ہی سیر ہو، ذرا نہ دیر ہو، دیکھنے سے بھوک لگ آئے۔ وہ سرخ سرخ پیاز سے نہاری کا بگھار، سریلی چھنکار۔ شیرمال شَنگَرف کے رنگ کی خستہ، بھربھری، ایک بار کھائے، نان نعمت کا مزہ پائے، تمام عمر ہونٹ چاٹتا رہ جائے۔\n\nکباب اس آب و تاب کے کہ مُرغانِ ہوا، ماہیانِ دریا کا دل سیخِ آہ پر مُتصل حسرتِ محرومی سے کباب۔ ادرک کا لچھا میاں خیرُ اللہ کی دکان کا بال سے باریک کَترا، ہاضم، نایاب۔ حسینی کے حلوا سُوہن پر عجیب جوبن۔ اس کی شیرینی کی گفتگو میں لب بند، جہان کو پسند۔ پپڑی لذیذ، دبیز، بسی بسائی، پستہ و بادام کی ہوائی، ہونٹ سے چبائے، دانت کا اس پر تمام عمر دانت رہے، لگانے کی نوبت نہ آئے۔ جوزی خوب۔ حبشی اہل ہند کو مرغوب۔ دودھیا شیر خوارہ نوش کر جائے۔\n\nہر کنجڑن کی وہ تیکھی چتون آدمی صورت دیکھتا رہے، رعب حسن سے بات نہ کر سکے۔ سُنکَرنِیں پری زاد، سرو قامت، رشکِ شمشاد۔ دکانوں میں انواع اقسام کے میوے قرینے سے چنے۔ روزمرے محاورے ان کے دیکھے نہ سنے۔ کبھی کوئی پکار اٹھی، بیٹھے بٹھائے قہقہہ مار اٹھی کہ ٹکے کو ڈھیر لگا دیا ہے۔ کھانے والو زور مزہ ہے! کوئی مَوزوں طبیعت یہ فقرۂ برجستہ سناتی، جوبن کی جھمک دکھاتی: مزہ انگور کاہے رَنگتَروں میں! کسی طرف سے یہ صدا آتی گنڈیریاں ہیں یہ پونڈے کی! ایک طرف تنبولی سرخ روئی سے یہ رمز و کنایہ کرتے، بولی ٹھولی میں چبا چبا کر ہر دم یہ دم بھرتے: مگہ کا منہ کالا، مَہُوبا گَرد کر ڈالا! کیا خوب ڈھولی ہے، ابھی کھولی ہے۔ عبیر ہے نہ گلال ہے، اَدّھی میں مکھڑا لال ہے۔\n\nگلیوں میں گَجَر دَم یہ آواز آتی: شیرمال ہے گھی اور دودھ کی! مفلس کا دل اچاٹ ہے، ٹکوں کی چاٹ ہے۔ کدھر لینے والے ہیں، نَمَش کی قُفلِیاں، کھیر کے پیالے ہیں! کیا خوب بھنے، بھربھرے ہیں؛ چنے، پَرمَل اور مُرمُرے ہیں! جیٹھ بیساکھ کی وہ گرمی جس میں چیل انڈا چھوڑتی، دو پیسے کو برف کی قفلی جمی دو کھائے، بدن تھرّائے۔ زیادہ ہَوکا کرے، لَقوے، فالج میں مرے۔\n\nسَرِ چَوک ہمیشہ شانے سے شانہ چھِلا، نسیم و صبا کو سیدھا رستہ نہ ملا۔ شیخ کولی کی مٹھائی جس نے کھائی جہان کی شیرینی سے دل کھٹا ہوا، بنارس کا کھجلا بھولا، متھرا کے پیڑے کا ٹھٹھا ہوا۔ برفی کی نَفاست، بو باس، کھوئے نے ہوش کھوئے۔ وہ اس کا دَردَرا پن، نُقرئی ورق کا جوبن، کسی اور شہر کا رَکاب دار اگر دیکھ پائے، یا ذائقہ لب پر آئے زندگی تلخ ہو، جب تک جیتا رہے، ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے۔ اِمَرتیِ مسلسل کا ہر پیچ ذائقہ کو پیچ تاب دیتا، یاقوتئ مُفَرّح کا جواب دیتا۔ جب منہ میں رکھا اصل تو یہ ہے عسلِ مُصَفی جنت کی نہر کا حلق سے اترا۔ پراچیوں کی گلی کا کھجور: لذت ٹپکتی، ذائقے میں چور، بہتر از انگور، نہایت آب و تاب، ہم خرما ہم ثواب۔\n\nنورا کی دکان کی بالائی جب نظر آئی، بلور کی صفا سے دل مُکدر ہوا، نورٌ علیٰ نور کہہ کر، بے قند و شکر، شُکرِ خدا کر کر چھری سے کاٹی اور کھائی۔ مداریے حقے وہ ایجاد ہوئے، کسگر ایسے استاد ہوئے کہ جب تڑاقا ان کا سنا، پیچوان کا دم بند ہوا، سب کو پسند ہوا۔ پیسے کا مداریا کہیں دنیا میں مدِ نظر نہ ہو، دو روپے کو میسر نہ ہو۔ پٹھانا کا تنباکو مشک و عنبر کی خوش بو، جس نے ایک گھونٹ کھینچا، اسی کا دم بھرنے لگا۔ آغا باقر کے امام باڑے سے متصل جو تنباکو کی دکان ہے، شائق اس کا سب جہان ہے۔ محمدی اس کا نام ہے، تبرک سمجھ کر لے جاتے ہیں، زبان زَدِ خاص و عام ہے۔\n\nرنگ ریز سبک دست، طبیعت کے تیز۔ جو پھول دکھایا، انھوں نے کپڑے پر اس سے ڈہڈہا گُل کھلایا، نقل کو اصل میں ملایا۔\n\nعلی الخصوص مرد تماش بیں کے واسطے یہ شہر خَراد ہے، ہر فن کا یہاں استاد ہے۔ سیکڑوں گھامڑ، بد گِل، کُندۂ نا تراش زعم باطل میں عیاش، اطراف و جوانب سے آ، ہفتے عشرے میں چھل چھلا وضع دار ہو گئے۔ گومتی میں غوطہ لگایا، دیہاتی پن کے دھبے دھو گئے، آدمی ہو گئے۔ ابو تراب خان کے کٹرے میں جا، میاں خیراتی سے کسی کی خیرات میں خط بنوایا، بارہ برس کے سِن کی گالوں میں لوچ آئی، گو گردن میں موچ آئی۔ چار پہر کھونٹی ٹٹولی، پتا نہ پایا۔ کاتبِ قدرت کا لکھا مٹاتا ہے، ایسا خط بناتا ہے۔\n\nسید حسین خاں کے کٹرے کے دروازے پر عبد اللہ عطر فروش کی دکان، جائے نشست ہر وضع دار جوان ہے۔ دو پیسے میں بیلے، چنبیلی یا حنا کا تیل، ریل پیل، فتنہ بپا کرنے والا ایسا مَلا کہ سہاگ کا عطر گرد ہو گیا، جون پور سے دل سرد ہو گیا۔ عطر کی روئی رکھی کان میں، جا بیٹھا کس افیونی کی دکان میں۔ سفید سفید چینی کی پیالیاں خوبصورت رنگتیں نرالیاں۔ افیون فیض آبادی گلاب باڑی والے لالے کی وہ رنگین جس نے تریاک مصر کے نشے کِرکِرے کیے۔ جھمکڑا بادہ ارغوانی و زعفرانی کا پیدا، یاقوت رشک سے ہیرا کھاتا۔ تبدیلِ ذائقے کو فرنی کے خونچے، نقرئی ورق جمے، پستے کی ہوائی پر بادام کا دل دو ٹکڑے ہو کر پستا۔ یا بنبئی کا پونڈا نرم، گُندہ، قند و شہد کا سینچا۔ اگر پوپلا مسوڑھوں سے چبائے، شربت کا گھونٹ حلق سے اتر جائے۔ ادھر چسکی پی، یا اشک بلبل کا دور تسلسل ہوا، آنکھوں میں گل کھلا۔ پھر ایک دم کے بعد حقے کا دم کھینچا، حجاب کا پردہ اٹھ گیا۔ وہاں سے بڑھا، کان میں آواز آئی: بیلے کے ہار ہیں شوقین البیلے کو، پہن لے، چلا جا فرنگی کے میلے کو! جب یہ سج بنی، بگڑا، پنجوں کے بل چلا۔ یہ پھولا، وطن کی چال ڈھال، رہ و رسم بھولا۔ اکثر باہر سے آ، یہ دھج بنا، جون پور کے قاضی ہونے کو مفتی میں راضی ہو گئے ہیں۔ جمع پونجی، پریشان ہو کے کھو گئے ہیں۔\n\nاگر برسات کا موسم ہے تو شہر کا یہ عالم ہے: ادھر مینہ برسا، پانی جا بہ جا سے بہہ گیا، گلی کوچہ صاف رہ گیا۔ ساون بھادوں میں زر دوزی جوتا پہن کر پھرے، سلیقہ شرط ہے، کیچڑ تو کیا مٹی نہ بھرے۔ باغ بہار کے صنعت پروردگار کے۔ رضوان جن کا شائق، دیکھنے کے لائق۔ روز عیش باغ میں تماشے کا میلا، ہر وقت چَین کا جلسہ۔ موتی جھیل کا پانی چشمہ زندگانی کی آب و تاب دکھاتا، پیاسوں کا دل لہراتا۔ سڑک کے درختوں کی فضا، جدھا، کھجوا موجیں مارتا۔ ہار سنگار کے جنگل میں لوگوں کا جمگھٹا۔ رنگارنگ کی پوشاک، آپس کی جھانک تاک، تختہ لالہ و نافرمان جن پر قربان۔ بندہ ہائے خاص کی سبک روی، خِرامِ ناز۔ ہر قدم پر کَبْکِ دَری، چال بھول کر جَبینِ نیاز رگڑتے۔ شاخِ سَرو شمشاد قامتوں کے رو بہ رو نہ اکڑتی۔ شائق ہزار در ہزار، شمع پروانوں کا عالم، غول کے غول باہم۔ آم کے درختوں میں ٹَپکا لگا، خاص جھولا وہیں پڑا۔ جھولنے والوں پر دل ٹپکا پڑتا۔ محبت کے پینگ بڑھتے، دیکھنے والے درود پڑھتے۔ باغ میں کوئل، پپیہے، مور کا شور۔ جھولے پر گھٹا رہی اوٗ بھی گھنگھور۔ ساون بھادوں کے جھالے، وہ رنگین جھولنے والے!\n\n دشت غربت میں یہ جلسہ جو یاد آ جاتا ہے، دل پاش پاش ہو کر کلیجا منہ کو آتا ہے۔ نہ کہ کان پور کی برسات، ہیہات! ہیہات! دخل کیا دروازے سے باہر قدم رکھے اور پھسل نہ پڑے۔ گلی میں پاؤں رکھا، کیچڑ کا چھپکا سرپر پہنچا۔ دو اس فصل میں باہم نہ دیکھے، مگر چہلے کے پھنسے۔ اور جنھیں سواری کا مقدور نہیں، دخل کیا جو وہ جائیں کہیں۔ ان کے حق میں ناحق برسات: حوالات، گھر: جہل خانہ۔ کیچڑ کے مُقیّد، کہیں جانا نہ آنا۔ اگر خواب میں کہیں نکل گئے تو چونک پڑے کہ پھسل گئے۔ اور جو بازاری، کاروباری، ان کا یہ نقشہ دیکھا ہاتھ میں جوتیاں، پائینچا چڑھا، کیچڑ میں لت پت، یہاں گرے، وہاں گرے، خدا خدا کر جیتے گھر پھرے۔ اور جو شیخی کے مارے ننگے پاؤں نہ نکلے تو، شعر:\n\nدیکھی ہے یہ رسم اس نگر میں\n\nجوتا ہے گلی میں، آپ گھر میں\n\nپھر بر سر مطلب آیا: خاص بازار کہ شہر وسیع و خوش قطع ہے، اس کے نقشے سے مانی و بہزاد نے خار کھایا۔ شبیہ کشی تو کیا، خاکہ خاک نہ کھنچا، ہاتھ تھرّایا۔ کوٹھیاں فرح بخش و دل کشا۔ برج ہر ایک جہاں نما، سلطان منزل اور اِستری منجن نشاط افزا، توبہ شکن۔ انسان کو، دیکھ کر سکتہ ہو جائے۔ کام ان کا وہم و قیاس میں نہ آئے۔ سر راہ کی بارہ دری جواہر سے جڑی۔ پری کی صورت کے قریب نہر جاری، تکلف کی تیاری، پائیں باغ اس کا جس نے دیکھا، باغِ ارم سمجھا، سُوسن نَمَط ہزار زبانیں بہم پہنچیں، تعریف نہ کر سکا، گونگے کا سپنا ہوا۔\n\nرومی دروازہ اس رفعت و شان کاہے، گذر گاہ ایک جہان کاہے۔ اگر اس پر چڑھ جائے، بامِ فلک پست معلوم ہو، فرشتوں کا مشورہ کان میں آئے۔ سپہر اولیں اس کی زمیں ہے۔ شش جہت میں دوسرا نہیں ہے۔ مسجد انتخاب ہے۔ امام باڑہ لا جواب ہے۔ مقبرے عالیشان، وہ نادر مکان کہ فلک بہ دیدۂ انجم نگراں ہے، ان کے نظیر کی جستجو میں، مشعلِ مہ و خورشید روز و شب روشن کیے، کوٗ بہ کوٗ سرگرداں ہے، اگر پاؤں پھیلانے کی جگہ ان میں ہاتھ آئے، سر دست مر جانے کو جی چاہے۔ گومتی کے انداز سے نہر کی کیفیت نظر آتی ہے، طبیعت لہراتی ہے، دو رویہ آبادی، عمارت۔ کہیں رَمنے، کسی جا باغ بنے، صبح و شام وہ بہار ہے کہ شامِ اودھ اور بنارس کی سحر نثار ہے۔\n\nشہر نفیس، مجمع رئیس، ہر فن کا کامل یہاں حاصل ہے۔ خوش نویس حافظ ابراہیم صاحب سا۔ اس قطع کا قطعہ لکھا، جو میر علی یا آغا جیتے ہوتے، اپنے لکھے کو روتے، اشکِ حسرت سے وَصلیاں دھوتے۔ مرزائی صاحب کی مشق کا کوئی پرچہ اگر نظر پڑ جاتا، نَیریز بِرِیز بِرِیز کہتا، یاقوت رقم ہیرا کھاتا۔\n\nمرثیہ خواں جناب میر علی صاحب نے وہ طرز نَو مرثیہ خوانی کا ایجاد کیا کہ چرخ کہن نے مُسَلّمُ الثبوت استاد کیا۔ علم موسیقی میں یہ کمال بہم پہنچایا، اس طرح کا دھُرپَت، خیال ٹپّا گایا اور بنایا کہ کبھی کسی نائک کے وہم و خیال میں نہ آیا۔ ایک رنگین احاطہ کھینچا ہے، جو اس میں آیا، پھولا پھلا، وہ ان کا پَیرو ہوا۔ اور جس نے ڈھنگ جدا کیا، وہ ٹکسال باہر، بد رنگ ہوا۔ اگر تان سین جیتا ہوتا، ان کے نام پر کان پکڑتا، بھیک مانگ کھاتا، مگر نہ گاتا۔ ہزاروں شاگرد، جَگت اُستاد ہوا، مولوی سب میں پری زاد ہوا۔ امیروں میں حُسین علی خاں بلبلِ ہزار داستاں، خوش اِلحاں۔ مرثیہ گو بے نظیر میاں دلگیرؔ۔ صاف باطن، نیک ضمیر، خلیق، فصیح، مردِ مِسکیں۔ مَکروہاتِ زمانہ سے کبھی اَفسُردہ نہ دیکھا۔ اللہ کے کرم سے ناظمِ خوب، دبیرِ مرغوب۔ سکندر طالع، بہ صورت گدا۔ بارِ احساں اہلِ دَوَل کا نہ اٹھایا۔ عرصۂ قلیل میں مرثیے، سلام کا دیوانِ کثیر فرمایا۔ شہر میں جتنے رئیس تھے، اُن کے انیس، جلیس تھے۔\n\nطبیب ہر ایک مسیحائی کرتا ہے، قُم بِإذنی کا دم بھرتا ہے۔ جسے دیکھا بُقراط، سُقراط، جالینوسِ زماں ہے۔ اِس معنی میں یہ خِطّہ، رشکِ زمینِ یونان ہے۔ میرکؔ جان صاحب پَیرنے کے فن سے ایسے آشنا ہوئے کہ مَردُمِ برّ و بَحر سَرگرمِ ثَنا ہوئے۔ شاعر، زبان داں ایسے کہ عُرفی و خاقانی کی غلطی بتائی، فِردوسی و اَنوری کی یاد بھلائی۔ شیخ امام بخش ناسخ نے یہ ہندی کی چِندی کی اور روزمرے کو ایسا فصیح و بلیغ کیا کہ کلامِ سابقیں منسوخ ہوا۔ فُصحائے شیراز و اِصفہاں اِس سیف زبان کا جوہر دیکھ کے لوہا مان گئے۔ اپنے قبح پر منفعل ہوئے، اس زبان کا حُسن جان گئے۔ زمینِ شعر کو آسمان پر پہنچایا، سیکڑوں کو اُستاد بنایا۔ خواجہ حیدر علی کی آتش بیانی، شرر افشانی سے دل جلوں کے سینے میں سوز و گداز ہے۔ مردِ قانع، شاعرِ مُمتاز ہے۔\n\nفَرنگی محل کا حال کیا لکھوں! کہاں زبان و دست کا یارا، جو شِمّہ لکھتا۔ مولوی، فاضل، عدیم المثال۔ ہر شخص جمیع علوم کا استاد۔ کتبِ درسی ابتدا سے انتہا تک یاد۔ منقول و معقول میں دقیقہ باقی نہ رہا۔ رِیاضی کے رِیاض سے آسمان کو زمین کر دیا۔ مولوی انوار کی تجلی اور پَرتَوِ فیض سے جہاں روشن۔ مولوی مبین دور بیں، سِراج انجمن، بحرُ العلوم۔ مولوی سید مخدوم جامع ہر علوم۔ مولوی ظہور اللہ سبحان اللہ! ایسے فقیہ، محقق کہاں ہوتے ہیں! یہی لوگ نادِرُ الزّماں ہوتے ہیں۔\n\nاُدھر رُکنِ دیں بِلا کَد میر سید محمد مجتہد مستند۔ مرزا کاظم علی متقی۔ آخوند محمد رضا رَضائے خُدا کا جویا۔ حاملِ قرآں، ہمہ داں، کسی علم میں عاری نہیں، روئے زمیں پر آقا محمد تبریزی سا قاری نہیں۔\n\nمگر وہ جو مَثل ہے نیک اندر بد، یہ اصل ہے۔ لبِ معشوق مولویوں سے، یعنی ہم پہلو لُعبَتانِ مَہ رو، پری شَمائل، زُہرہ جبیں، ہر زَن رہزَنِ دیں، مشتری خصائل۔ ستم ناز، غضب انداز، سحر کرشمہ، طلسم غمزہ، آفت عوہش، قہر ادا، قیامت گات، کرامت بات کی، کہ ہاروت و ماروت تو کیا، مَعاذ اللہ! اگر سب فرشتے عرش سے فرشِ خاک پر آئیں، اُن کی چاہ میں لکھنؤ کے کنویں بھر جائیں۔ گھڑی بھر اُن سے زانو بہ زانو بیٹھے، توبۂ نَصوحا ٹوٹے، اُن کا دروازہ نہ چھوٹے۔ لولیِ چرخ بلا گَرداں، اُن پر نثار ہے۔ ہر ایک حور وَش، آفتِ روزگار ہے۔ خوش مزاج، مردُم شناس۔ روزمرہ شستہ۔ دمِ تقریر رَمز و کِنایہ۔ اِسی کوچے کے فیض سے انسان آدمیت بَہَم پہنچاتا ہے۔ تَراش خَراشِ اَثَرِ صحبت سے کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔\n\nکَلانوَت، قَوال بے مثال۔ چھجّو خاں، غلام رسول، سب کو موسیقی میں کمال حصول۔ شوری کے زور شور کی دنیا میں دھوم ہے۔ ٹپّے کا موجِد ہوا، سب کو معلوم ہے۔ بخشو اور سَلاری نے طبلہ ایسا بجایا کہ پَکھاوَج کو شرمایا۔\n\nپتنگ ایسا بنا، ایسا لڑا کہ نزدیک و دور مشہور ہے۔ ستّر پچہتّر تار ڈور، اس کا پتنگ خیراتی یا چھنگا کے ہاتھ کا، لڑائی کی گھات کا، رُستم کی عافیت تنگ کرنے والا، مُنحَنی ہاتھ پاؤں پر مولوی عَمدو نے ایسا لڑایا، عَمداً اِتنا بڑھایا کہ کَرّوبِیوں سے اِس پیچ میں عِبادت چھوٹی، دوڑ دوڑ کر ڈور لوٹی۔ آنکھ بچا کر پیٹا توڑا، فرشتے خان کا پتنگ نہ چھوڑا۔ مرزا نظر علی نے ہاتھ اور نظر میں یہ زور بَہَم پہنچایا کہ ساٹھ تار کا پتنگ، مُڈھا پھینک کر بڑھایا۔ چھ سات سیر ڈور پر گھٹ بَڑھ دیکھی، کَنّا کسی کے ہاتھ نہ آیا۔ مَردان بیگ مانجھا دینے والا دیکھا نہ سنا۔\n\nغرض یہ کہ جو چیزیں یہاں نئی بنیں اور ایجاد، طبیعت سے کاریگروں نے نکالی، سلف سے آج تک نہ ہوئی تھی۔ زَر دُوزی ایسی بنی، یہ باریکی چھنی کہ بَاہر بَندو، اَورگی کی پَنِّی جو پائیں، بجائے جیغہ و سَرپیچ، اپنے سر پر لگائیں۔ انتہائے حیرت کی بات ہے، ستّر اسّی روپے کی سادی کلابتوں کی اَورگی۔ اور جوتا گھیتلا خُرد نوک کا ببر علی نے اِس نوک جھوک کا بنایا کہ جہان کو پسند آیا۔ آرام پائی جس کے ہاتھ آئی، دل نے چَین پایا۔ پانچ اشرفی دھنیا کہاری نے دے کر جوتا سجوایا۔\n\nچالیس سال جہان کی دیکھ بھال کی؛ ایسا شہر، یہ لوگ نظر سے نہ گزرے چنانچہ میاں محمد اشرف، نواب معتمد الدولہ بہادر کے زمانے میں باورچی خانے کے داروغہ تھے۔ آدمیت، مروت، ہمت۔ ہزاروں مرد آدمی ان کی ذات سے فیض پاتا تھا، جہان کی نعمت کھاتا تھا۔ کاریگر ایسے: معتمد الدولہ بہادر کے دستر خوان پر سَو امرا ہوتے تھے؛ چھ مہینا تک جو چیز ایک دن رو بہ رو آئی، دوسرے دن تکرار نہ ہونے پائی۔ پُلاؤ سے قَلیہ، روٹی تک روز نئی صورت کی تمام شے دستر خوان پر چُنی، ذائقے میں دیکھی نہ سنی۔ اور یہ قول تھا: جو ارشاد ہو، برس دن تک ہر روز جو چیز رو بہ رو آئے، دوسرے دن ممکن نہیں جو اس کی بو آئے۔ کاریگر ایسے تھے؛ ہمت میں امیر نہ ہوں گے، جیسے تھے۔\n\nاور تو اور؛ شہدا پیر بخارا کا، ٹِمّا سا، سید الشہدا کا شیدا؛ برس روز میں جو پیدا کیا، عشرہ محرم میں محتاجوں کو نذر حسین کھلا دیا۔ یہ اک رنگی مزاج میں سمائی تمام سِن جُوا کھیلا، دُوِے کے داؤں پر ادّھی نہ لگائی۔ ایک روپیہ ہوا خواہ سو، کہہ دیا: پَو۔ سیکڑوں داؤں منجے گئے، منہ سے نہ پنجے گئے، وہاں بھی ایک چَوک لگا رہتا ہے، آدمی کے چھکّے چھٹ جاتے ہیں۔ جب وہ لوگ نظر آتے ہیں۔\n\nمَشائخ، فقیروں کے مزار خوب۔ خواب راحت میں آسودہ سالک و مجذوب۔ شاہ مینا، شاہ پیر محمد، شاہ خیر اللہ، ایک سے ایک سبحان اللہ۔ بہ ظاہر مُردہ، حقیقت میں جیتے ہیں۔ اشیائے لطیف کھاتے پیتے ہیں۔ مولوی عبد الرحمٰن برگزیدہ یزداں، عالم با عمل، درویشِ کامل۔ خواجہ باسط اور میر نصیر، جن کا عدیل نہ نظیر۔ خواجہ حُسین و حَسَن سرگروہ انجمن۔ طبیعت بس کہ مصروف بہ اختصار ہے، ایک ایک فقرہ لکھا ہے، وگرنہ اِن بزرگواروں کی صفت میں کتابیں تحریر کرے تو بجا ہے۔ مگر، شعر:\n\nکارِ دنیا کسے تمام نہ کرد\n\nہرچہ گیرید، مختصر گیرید\n\nاِس پر عمل کیا، مُنصِف سے انصاف طَلَب ہیں، ہَٹ دھرم سے کیا کہیں، جھوٹے کے رو بہ رو سچا رو دیتا ہے، بالفرض معترض کہے یہ لوگ کہاں کے تھے؟ تو یہ جواب شافی کافی ہے کہ یہ شہر ایسا تھا، جیتے جی یہاں سے نہ نکلے، مر گئے پر یہیں رہے۔ اور یوں تو ؏\n\n کس نگوید کہ دُوغِ من تُرش است\n\nجو گفتگو لکھنؤ میں کو بہ کو ہے، کسی نے کبھی سنی ہو سنائے۔ لکھی دیکھی ہو، دِکھائے۔ عہدِ دَولتِ بابر شاہ سے تا سلطنتِ اکبر ثانی کہ مَثل مشہور ہے: نہ چولھے آگ، نہ گھڑے میں پانی؛ دہلی کی آبادی ویران تھی، خَلقت مُضطر و حیراں تھی۔ سب بادشاہوں کے عَصر کے روزمَرّے، لہجے، اردوئے مُعلّیٰ کی فصاحت تصنیفِ شعرا سے معلوم ہوئی۔ یہ لطافت اور فصاحت و بلاغت کبھی نہ تھی، نہ اب تک وہاں ہے۔\n\nقَطع نظر اِس سے، لوگ اِس خلقت کے گرہ سے کھوئیں اور جلسہ کریں۔ چنانچہ ایک بندے کے شفیق، جَگَت آشنا جناب مرزا محمد رضا، مجمع خوبی از پا تا فَرق، تخلص برق۔ فی الحقیقت کلامِ بلاغت نظام اُن کا صاعِقۂ خِرمنِ ہستیِ حاسِد ہے۔ بھائی بند شاعروں کا بازار اُن کے رو بہ رو کاسِد ہے۔ جوانِ خوش رو، بہادر، آشنائے با مزہ، نیک خو، شبِ ماہ صحبت مشاعرہ بہ دولت خانۂ مرزا مُعیّن ہے۔ رئیس، امیر، صغیر و کبیر تشریف لاتے ہیں۔ اُس مکان وسیع میں آدمیوں کی کثرت سے جگہ کی قلت ہوتی ہے۔ ہوا کشمکش سے بار پاتی ہے، جب پنکھے کی سعی اٹھاتی ہے۔ سخن سنجِ بے رنج، خوش گو، نازک فہم، باریک بیں، نیک خو جمع ہوتے ہیں۔ لوگ اُن سے، وہ لوگوں سے لطف اٹھاتے ہیں۔ تلامذۂ مرزائے ممدوح خدمت کو حاضر۔ کورے کورے مداریے دم بہ دم۔ گِلوریاں ورق لگی، کتھا بسا، چونا سنگ مرمر کا متواتر۔ قبل از غزل خوانی افیون کا چرچا ہو جاتا ہے، کوئی پیتا ہے، کوئی کھاتا ہے۔ اگر چاہ کسی کو چائے کی ہوئی، دودھ پیتے بچے تک شیر چائے موجود کر دی۔ ہمیشہ صبح اُس شام کے جلسے کی ہو جاتی ہے۔ طبیعت گھبراتی نہیں۔ گھر جانے والوں کو صدائے مُرغ سحر، ندائے اَللّٰہُ اَکبَر آتی ہے۔ ہرچند سب لوگ یہاں کے قَہر ہیں مگر یہ بزرگوار زینتِ شہر ہیں۔\n\nاور لکھنؤ کے جیسے بازاری ہیں، کسی شہر کے ایسے ہَفت ہَزاری ہیں۔ دَلال مُرفَّہ حال، خوش پُوشاک، چمکے چمکائے۔ اور ملکوں کے سیٹھ، کروڑ پتی لاکھ اَلسِیٹھ سے گانّڑ میں لنگوٹی یا دھوتی۔ جب بڑا تکلّف کیا گاڑھے کا مِرزائی پہن لیا۔ کلمۂ حق کہنے والے کا مَدار دار پر ہوتا ہے، منصور نگر اُس کا محلّہ ہے۔ یہ نکتہ بہ گوشِ دل و جان سُن: اَلحَقُّ مُرٌّ۔ حاسِدوں کے خوف سے یہ مذکور، مختصر کیا۔ اگر زیادہ لکھتا، قصہ ہوتا۔ کُوتَہ بیں لکھنؤ کے نام سے چِڑ جاتے ہیں، رشک کھاتے ہیں، اِفتِرا پَردازی کرتے ہیں، کھپ کر جَل مرتے ہیں۔\n\nاچّھے آغاز کا انجام بہ خیر ہوتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ مشقت کسی کی بے کار نہیں کھوتا ہے۔ یہ فسانہ شُروع زمانۂ غازی الدّین حیدر بادشاہ میں ہوا۔ اور تمام عَصرِ سُلطان بن سُلطان، اَبو النَّصر نصیر الدّین حیدر دَامَ مُلکُہ کے ہُوا۔\n\nاللّٰہ اللّٰہ! یہ عجب شاہِ جمَ جاہ اَریِکہ نَشیِن ہوا کہ حاتِم کا نام، صَفحۂ سَخا سے مثلِ حرفِ غَلَط مِٹا دیا۔ فقیروں کو امیر بنا دیا۔ عیش و نَشاط کی طرف طبیعت جو آئی، ایک ایک ادنیٰ کُنجڑن، ہَفت ہزاریوں سے اعلیٰ بنائی۔ شہ زادیوں کو کہاریوں پر رشک آیا۔ خَواصوں کو صاحبِ نَوبت کیا، چَنڈول، سُکھپال میں چڑھایا۔ ہاتھی، پالکی کو جِلَو میں پھرایا۔ ہزار بارہ سَے جلسے والی حور وش، برق کِردار کَبْک رفتار، نَغز گُفتار، اَز پا تا فَرْق دریائے جواہِر میں غَرْق، ہر دم دست بَستہ رو بہ رو کھڑی رہی۔ جہان کی نعمت اُن کے سامنے پڑی رہی۔ اَصیلوں کو کروروں روپے دیے۔ پیش خدمتوں نے بادشاہت کے چَین کیے۔ قدسیہ محل پر طبیعت جو آئی، مَعاً رِفعت و شان فلکِ ہَفتُم پر پہنچائی۔ کئی کروڑ روپے اس منظورِ نظر نے صَرْف کیے۔ خزانے خالی کر، محتاجوں کے گھر بھر دیے۔ تجربہ کاروں کا قول تھا کہ ان کے بعد یہ شہر ویران اور تباہ ہو گا۔ نہ اس ہمت کی بیگم نہ اس حوصلے کا بادشاہ ہو گا۔ ہر وقت راجا اِنْدَر کی صحبت سے بہتر جلسہ رہا۔ نہروں میں عِطْر بہا۔ مکان اِس طرح کے بنوائے کہ فلکِ گرداں نے صدقے ہو کر چکّر کھائے۔ اِندراسن، گلشنِ اِرم، کس کس کا نام لوں! یہ باغ، یہ کوٹھیاں چشم و گوشِ سِنمار نے دیکھیں نہ سنیں۔ دُوازْدَہ اِمام کی درگاہ ایسی بنائی کہ چرخِ گرداں کو اور خواب میں نظر نہ آئی۔ اِندراسن میں عِطْر کا حوض چھلکتا رہا، تمام شہر مہکتا رہا۔\n\nمُغلانیوں نے گوٹے کناری کی کَتْرَنوں سے چاندی سونے کے محل اُٹھائے۔ خاصے والیوں نے لَونگ، اِلائچی زعفران کے اپنے گھروں میں خاصے ڈھیر لگائے۔ مَکّا خَیّاط مالِ دنیا سے مالا مال ہے، اِستغنا کا دم بھرتا ہے سینا تو کیا، ٹانکا کم بھرتا ہے۔\n\nبجز غمِ حسین، شہر یار کو اندُوہ و غم نہیں۔ کون ہے جو اِس زمانے میں شاد و خُرّم نہیں۔ اَربعین تک عَزَا داری ہوتی ہے۔ خَلقِ خدا ماتم حسین میں روتی ہے۔ لاکھوں روپیہ اس راہ میں صرف ہوتا ہے۔ چالیس شب نہیں سوتا ہے۔ تخمِ عملِ نیک مَزرعۂ آخرت میں بوتا ہے۔ روزِ تولُّدِ ہر امام و شبِ وفاتِ جگر بندانِ خیرُ الانام لاکھ لاکھ روپے کا صَرف ہے۔ اِس ہمت کے آگے فیاضانِ گُذشتہ پر حرف ہے۔ حسنِ صورت، شوکت و حشمت، جاہ و ثروت، جتنی دنیا کی خوبیاں ہیں، اللہ نے سب دی ہیں۔ ہر شب شبِ برات، روز عیدَین کے ہیں۔ سیرِ دریا کی دفعتاً جو لہر آئی، گنگا سے نہر منگائی۔ اِس میں بھی غُرَبا نہال، کارِندے مالا مال ہو گئے۔ بس کہ خامۂ مؤلِّف اختصار رقم ہے، مگر جتنا اُس کی صفت میں لکھیے، بہت کم ہے۔ لہٰذا اِس غزل پر مطلب کو اِختتام دیا۔ یہ داستان وہ نہیں جو لکھی جائے، ناچار تمام کیا۔ غزل:\n\nتا ابد قائم رہے فرماں روائے لکھنؤ\n\nیہ نصیر الدین حیدر بادشائے لکھنؤ\n\nگو ملے جنت بھی رہنے کو بجائے لکھنؤ\n\nچونک میں اٹھتا ہوں اس پر کہہ کے ہائے لکھنؤ\n\nرشک کھا کھا، گو فلک مجھ سے چھڑائے لکھنؤ\n\nتب میں جانوں، دل سے جب میرے بھلائے لکھنؤ\n\nیا تو ہم پھرتے تھے اُن میں یا ہوا یہ انقلاب\n\nپھرتے ہیں آنکھوں میں ہر دم کوچہ ہائے لکھنؤ\n\nاِستغنا سے کیا کیا آرزو کرتی ہے رشک\n\nجامِ جم پر تُف نہیں کرتے گدائے لکھنؤ\n\nکیوں گمانِ زاغ بلبل کے ترانے پر نہ ہو\n\nیاد آ جائیں جو وہ نغمہ سرائے لکھنؤ\n\nہر محلے سے بچانا جی، ہے عیسیٰ کو محال\n\nچھوڑتے جیتا نہیں معجز نمائے لکھنؤ\n\nجن و انس و وحش و طائر کیوں نہ سب محکوم ہوں\n\nہے سلیماں ان دنوں فرماں روائے لکھنؤ\n\nدشت غربت میں کیا برباد وحشت نے تو کیا\n\nدل سے اڑتی ہے کوئی اپنے ہوائے لکھنؤ\n\nیہ رہے آباد یارب تا بہ دَورِ مشتری\n\nمیں کہیں ہوں، مانگتا ہوں پر دعائے لکھنؤ\n\nبلبل شیراز کو ہے رشک ناسخ کا سرورؔ\n\nاِصفہاں اِس نے کیے ہیں کوچہ ہائے لکھنؤ\n\nالٰہی! بہ حُرمت سید ابرار احمد مختار و بہ تصدّقِ ائمۂ اطہار، لکھنؤ کو آباد رکھ۔ والیِ ملک کو یہاں کے کار فرما، رعیت پرور، سریر حکومت پر دل شاد رکھ۔ جب تک گنگا جمنا میں پانی بہے، یہ خطہ دلچسپ، فرح افزا آباد رہے۔ فَرد:\n\nالٰہی! لکھنؤ بستا رہے دور قیامت تک\n\nسُرورِ دشت پیما کا کبھی وہ شہر مَسکَن تھا\n\nاور مقلد یہاں کے، موجد سے بہتر ہوتے ہیں۔ شاگرد ہو کر استاد کے ہمسر ہوتے ہیں۔ مَطبع اِس شہر میں اکثر سنگ کے ہیں، نمونے نیرنگ کے ہیں، مگر ہمارے شفیق و مہربان، یک رنگ حاضر و غائب یکساں جناب مولوی محمد یعقوب صاحب مدظلہ عزیزِ دِلہا، ہمہ صفت موصوف ہیں۔ دور دور مشہور و معروف ہیں۔ سابق ازیں فرنگی محل میں چھاپہ خانہ تھا، العاقِل تکفیہ الإشارة، رشکِ اَبنائے زمانہ تھا۔ اخبار کا پرچہ چھپتا تھا، اِن کا پتہ نہ چھپتا تھا۔ خوش نویس ایسے جمع ہوتے تھے اور محرر اپنے لکھے کو روتے تھے۔ اپنے اپنے انداز پر بے نظیر، یادگار آغا، ہم پہلوئے میر۔ کلیں ولایتی دل کو بے کل کرتیں۔ یہ تکلف کہ بے پاؤں اشاروں پر چلتیں۔ کانپی کو دیکھ کر جی کانپتا۔ کیسا ہی زبردست جوان ہو، بے فرمائے، ایک فرما نکالنے میں ہانپتا۔ پتھروں پر ایسی جلا کہ دمِ نظارہ پَیکِ نگاہ کا پاؤں پھسلتا۔ یہ صفا اگر بہ غور دیکھو تو قلم مو سے یہ لکھا ہے کہ ہر پتھر پر طور کا جلوہ ہے۔ کتب پارینہ کے واسطے احیائے اموات کا نقشہ تھا، معجزۂ عیسیٰ کے اثبات کا نقشہ تھا۔ شائقوں سے اَرِنی کی جب صدا آتی، بیلن سے بے لَن تَرَانی اور نہ ندا آتی۔ گو تحریر کا مقدّمہ زمانے میں ہے، سیاہی میں روشنائی کا جلوہ اسی کارخانے میں ہے۔ جو کتاب چھپی، وہ مرقّع مانی کی تصویر تھی۔ حرف مٹنے کا کیا حرف، مثلِ نوشتۂ تقدیر تھی۔\n\nشہروں میں اس چھاپے کی دھوم تھی، گردش تقدیر کسے معلوم تھی! دفعتاً فلک نے یہ چکر کھایا۔ حرف غلط کی طرح رگڑ کے شہر کو مٹایا۔ پرویں سے بناتُ النعش کی صورت نظر آئی۔ ایسا تفرقہ پڑا کہ پھر نہ کسی کی خبر پائی۔ فقیر حسب الطلب مہاراج ایسری پرشاد ناراین سنگھ بہادر راج بنارس دام حشمتہم بنارس میں آیا۔ شکر صد شکر کہ رئیس والا جاہ، رعیت پناہ، غریب نواز، غربا پرور، باریک بیں، قدر شناس، سخی، شجاع، سخن فہم، عدل گستر پایا۔ دریٖں وِلا، دوستوں کی تحریک سے مولوی صاحِب کو شغلِ پاریٖنہ منظور ہوا، پہلے عزمِ فسانۂ سُرور ہوا، اِس کی صحت کی خاطر بندے کو لکھا، بجز اِقرار چارہ نہ ہوا، انکار گوارا نہ ہوا۔\n\nہر چند یہ فَسانہ، بہ طرزِ زمانہ، ہر ایک چھاپہ خانے میں نیا نیا رنگ لایا، جس نے چاہا جس فقرے پر پانی پھیرا، صفحۂ کتاب سے بہایا، بہ قولِ فقیر: جو مضمون سمجھ میں نہ آیا نہ پڑھا گیا، وہ کُند بَسولے سے گڑھا گیا، جَودَتِ قلم نثاروں کی ہوئی، اصلاحِ خط یاروں کی ہوئی۔ شعر:\n\nاور تو بس نہیں چلتا ہے رقیبوں کا، وَلے\n\nسوز کے نام کو لکھ لکھ کے جَلا دیتے ہیں\n\nیہ نہیں سمجھتے، ؏\n\nقبولِ خاطر و لطفِ سخن خدا داد است\n\nتُعِزُّ مَن تَشاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاء۔ حاسد مفلس کے چراغ کی طرح جھلملا کے جلتے ہیں، فروغ کیا ہو، منہ کی کھاتے ہیں، ٹیڑھی راہ چلتے ہیں۔ فقیر نے اِس کے دیکھنے میں عَرق ریزی ازحد کی۔ حضرت کے خوف سے انتہا کی کد کی۔ جس جگہ محل اور موقع پایا ہے کیا کیا جملہ بڑھایا ہے۔ طبیعت نے بڑھاپے میں کیا کیا زور دکھایا ہے۔ کہنے کو قصہ ہے، کہانی ہے، ہر جا تصویر کھینچی ہے، مرقعِ مانی ہے۔ ہر صفحہ رشک گلزار، باغ سراپا بہار ہے، مگر حاسد کے دل میں کھٹکتا ہے، خار ہے۔ ایسی مَتاعِ گراں بہا کس گنجینے میں ہے، جس کی جگہ ذی فہم قدر شناسوں کے سینے میں ہے۔ باریک بیں، نکتہ سنج، مرنجاں مرنج خود دیکھ لیں گے کہ اور نسخوں میں کیا ہے اور اس میں کیا لکھا ہے۔ فصاحت کا دریا بہا دیا ہے۔ حشر تک اِس کے شائق دنیا میں کم نہ ہوں گے، قیامت یہ ہے کہ ہم نہ ہوں گے۔ الٰہی! جب تک فلک کی حرکت سے چمنِ دنیا میں نسیم بہاری رہے، کار فرما سرسبز، کام جاری رہے۔\n\nبندہ کم ترینِ تلامِذہ اور خوشہ چینِ خرمن سخنِ جناب قبلہ و کعبہ، استادِ شاگرد نواز، مُعزز و مُمتاز، مجمعِ فضل و کمال، نیک سیرت، فرخُندہ خِصال، خِرد آگاہ، دانش آموز، یادگارِ جناب میر سوز، عرفیِ عصر، سعدیِ زماں، رشکِ انوری و خاقانی آغا نوازش حسین خاں صاحب، عرف مرزا خانی، تخلص نوازش ہے۔ حقیقت حال یہ مَقال ہے کہ طرزِ ریختہ اور روزمرہ اردو کا اُن پر ختم ہے۔ شعر ان کے واسطے، وہ شعر کی خاطر موضوع ہیں۔ کہنے کے علاوہ، پڑھنے کا یہ رنگ ڈھنگ ہے اگر طفل مکتب کا شعر زبانِ مُعجِز بیاں سے ارشاد کریں، فیضِ دَہاں، تاثیر بیاں سے پسندِ طبعِ سَحبانِ وائل ہو۔ فی زمانہ تو کیا، سابقین جو موجِدِ کلام کوسِ لِمنِ المُلکِی بجاتے تھے، ان کے دیوانوں میں دس پانچ شعر تَناسُبِ لفظی یا صنائع بدائع کے ہوں گے، وہ اُن پر نازاں تھے اور مُتاخّرین فخریہ سند گردانتے ہیں، لہذا جس شخص کو فہم کامل یا اس فن میں مرتبہ کمال حاصل ہو اور طبع بھی عالی ہو، آپ کا دیوان بہ چشمِ انصاف و نظرِ غور سے دیکھے، کوئی غزل نہ ہو گی جو کیفیت سے خالی ہو۔ ہر مصرع گواہِ ہزار صنعت، ہر شعر شاہدِ معانی، با کیفیت۔ مطلع سے مقطع تک ہر غزل پری کی صورت، اکثر اشعار آپ کے تبرُّکاً و تیّمناً بہ طریق یادگار بندے نے لکھے ہیں، جہاں لفظ ‘‘استاد‘‘ ہو، وہ آپ کا شعر سمجھو۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%A8/%DA%A9%DB%8C%D9%81%DB%8C%D8%AA_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1%DA%A9%DB%8C_%28%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A4%29"} {"title": "فسردہ داغ جگر دل ربا نہیں رہتا", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فسردہ داغ جگر دل ربا نہیں رہتا\nچراغ عشق کا ہرگز بجھا نہیں رہتا\n\nبغل میں رشک سے دل دل ربا نہیں رہتا\nخفا ہے یہ کہ تو مجھ سے خفا نہیں رہتا\n\nہمیشہ حسن سن اے بے وفا نہیں رہتا\nکبھی زمانہ سدا ایک سا نہیں رہتا\n\nبجھی جو شمع تو پروانوں پہ ہوا روشن\nکہ بعد مرگ کوئی آشنا نہیں رہتا\n\nکہاں وہ گریہ وہ نالہ وہ جاں بہ لب رہنا\nکسی کا کام ہمیشہ بنا نہیں رہتا\n\nخدانخواستہ تم تو صنم نہیں ایسے\nتمہارے دل میں تو کینہ سدا نہیں رہتا\n\nکہا جو میں نے کہ اے رشک ماہ گھر میں مرے\nتو مہربانی سے کیوں اک ذرا نہیں رہتا\n\nلگا یہ کہنے کہ ہاں ہاں ہے یہ بھی اپنا شوق\nنہیں نہیں نہیں رہتا ہوں جا نہیں رہتا\n\nجو مجھ کو کہیے میں آنکھوں سے ضبط گریہ کروں\nمرا قصور نہیں دل مرا نہیں رہتا\n\nیہاں مجھے ہی نصیحت کو ہیں سبھی موجود\nوہاں تو ہوش کسی کا بجا نہیں رہتا\n\nیہ داغ عشق ہے کیوں کر نہ گل کھلے اس کا\nہزار اس کو چھپاؤ چھپا نہیں رہتا\n\nجو دل لیا ہے تو بوسہ بھی دو سمجھ رکھو\nکہ بد معاملگی میں مزا نہیں رہتا\n\nلگائی تاک ہے کیوں محتسب نے تجھ پہ دلا\nاگر تو دختر رز سے بھلا نہیں رہتا\n\nنہ کھینچ تیغ تو احسانؔ ناتوان پہ آہ\nمیاں یہ زور کسی کا سدا نہیں رہتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7"} {"title": "فسردہ ہو کے میخانے سے نکلے", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فسردہ ہو کے میخانے سے نکلے\nیہاں بھی اپنے بیگانے سے نکلے\n\nشفق کا رنگ گہرا کر گئے اور\nجو شعلے میرے کاشانے سے نکلے\n\nذرا اے گردش دوراں ٹھہرنا\nوہ نکلے رند میخانے سے نکلے\n\nغم دل کا اثر ہر بزم میں ہے\nسب افسانے اس افسانے سے نکلے\n\nکیا آباد ویرانے کو ہم نے\nہمیں آباد ویرانے سے نکلے\n\nجو پہنچے دار تک منصور تھے وہ\nہزاروں رند میخانے سے نکلے\n\nنکلتے ہم نہ غم خانے سے اخترؔ\nحسیں موسم کے بہکانے سے نکلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B3%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "فصل بہار آئی ہے پیمانہ چاہئے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فصل بہار آئی ہے پیمانہ چاہئے\nبلبل کے ساتھ نعرۂ مستانہ چاہئے\n\nعشاق شمع حسن کو کیا کیا نہ چاہئے\nپرواز رنگ کو پر پروانہ چاہئے\n\nپیری میں رات دن ہمیں پیمانہ چاہئے\nرعشہ کے بدلے لغزش مستانہ چاہئے\n\nوحشت میں بات عقل کی سننا نہ چاہئے\nکانوں میں پنبۂ کف دیوانہ چاہئے\n\nکنگھی بناؤں چوب عصائے کلیم کی\nتسخیر مار گیسوئے جانانہ چاہئے\n\nدریائے وحدت و چمن دہر سے ہمیں\nدر یگانہ سبزۂ بیگانہ چاہئے\n\nآب و غذائے عاشق دنداں محال ہے\nروز آب و دانۂ در یکدانہ چاہئے\n\nمیں سائل کمال جنوں ہوں مرے لئے\nکجکول کاسۂ سر دیوانہ چاہئے\n\nاسرار حق ہیں دل میں مگر دل ہے بے خبر\nاس گنج کے لئے یہی ویرانہ چاہئے\n\nسیر بہشت چاہتے ہیں نشہ میں مدام\nمستوں کو چشم حور کا پیمانہ چاہئے\n\nگو بے نقاب رہتے ہو پردے میں ہے حجاب\nدر پردہ ہم سے آپ کو چھپنا نہ چاہئے\n\nعاشق بنا کے ہم کو جلاتے ہیں شمع رو\nپروانہ چاہئے انہیں پروانہ چاہئے\n\nاے پیر مے فروش در توبہ کی طرح\nوا روز حشر تک در مے خانہ چاہئے\n\nتا مرگ آشنا نہ ہوا ایک سبزہ رنگ\nتربت پر اپنی سبزۂ بیگانہ چاہئے\n\nدشمن ہے وہ تو تم بھی نہ ہو دوست اے منیرؔ\nاپنا برا نہ چاہئے اچھا نہ چاہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B5%D9%84_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "فصل خزاں میں سیر جو کی ہم نے جائے گل", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فصل خزاں میں سیر جو کی ہم نے جائے گل\nچھانی چمن کی خاک نہ تھا نقش پائے گل\n\nاللہ رے عندلیب کی آواز دل خراش\nجی ہی نکل گیا جو کہا ان نے ہائے گل\n\nمقدور تک شراب سے رکھ انکھڑیوں میں رنگ\nیہ چشمک پیالہ ہے ساقی ہوائے گل\n\nیہ دیکھ سینہ داغ سے رشک چمن ہے یاں\nبلبل ستم ہوا نہ جو تو نے بھی کھائے گل\n\nبلبل ہزار جی سے خریدار اس کی ہے\nاے گل فروش کریو سمجھ کر بہائے گل\n\nنکلا ہے ایسی خاک سے کس سادہ رو کی یہ\nقابل درود بھیجنے کے ہے صفائے گل\n\nبارے سرشک سرخ کے داغوں سے رات کو\nبستر پر اپنے سوتے تھے ہم بھی بچھائے گل\n\nآ عندلیب صلح کریں جنگ ہو چکی\nلے اے زباں دراز تو سب کچھ سوائے گل\n\nگلچیں سمجھ کے چنیو کہ گلشن میں میرؔ کے\nلخت جگر پڑے ہیں نہیں برگ ہائے گل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B5%D9%84_%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D9%84"} {"title": "فصل گل آئی ہوا اور ہوئی", "poet_page": "مصنف:منشی ٹھاکر پرساد طالب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان طالب مانکپوری (1933)", "year": "1933", "text_ur": "فصل گل آئی ہوا اور ہوئی\nباغ عالم کی فضا اور ہوئی\n\nآنکھ کا ساتھ جو سرمے نے دیا\nذبح مخلوق خدا اور ہوئی\n\nآئنہ توڑنے سے دل ٹوٹا\nبندہ پرور یہ خطا اور ہوئی\n\nہے تپ ہجر ملے شربت وصل\nکچھ نہ ہوگا جو دوا اور ہوئی\n\nخاک جب عاشق وحشی کو ملی\nتیز رو باد صبا اور ہوئی\n\nنزع میں پوچھنے آئے ہیں وہ حال\nجب قضا آئی ادا اور ہوئی\n\nدل کو دیکھا جو گنہ سے تاریک\nروح قالب سے خفا اور ہوئی\n\nدست قاتل کو رنگا خوں نے مرے\nسرخ رو اس سے حنا اور ہوئی\n\nقتل طالبؔ کو نظر کافی تھی\nمستزاد اس پہ حیا اور ہوئی", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B5%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "فصل گل آئی ہے کل اور ہی ساماں ہوں گے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فصل گل آئی ہے کل اور ہی ساماں ہوں گے\nمیرے دامن میں ترے دست و گریباں ہوں گے\n\nسب یہ کافر ہیں حسینوں کی نہ سن تو اے دل\nچار دن بعد یہی دشمن ایماں ہوں گے\n\nکس طرح جائیں گے مانع ہے ہمیں خوف مزاج\nزلف پر خم ہے تو کچھ وہ بھی پریشاں ہوں گے\n\nگریہ انجام تبسم ہے نہ ہنس اے غافل\nخون روئیں گے وہی زخم جو خنداں ہوں گے\n\nیاد آئے گا پس مرگ ہمارا یہ کمال\nحال کھل جائے گا جب خاک میں پنہاں ہوں گے\n\nخانہ زادوں کو کہاں قید محبت سے فراغ\nہم وہ بلبل ہیں یہیں خاک گلستاں ہوں گے\n\nدور ہر نخل کریں گے صفت گرد نسیمؔ\nہم پس مرگ بھی قربان گلستاں ہوں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B5%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%84_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "فصل گل آتے ہی وحشت ہو گئی", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فصل گل آتے ہی وحشت ہو گئی\nپھر وہی اپنی طبیعت ہو گئی\n\nکیا بتاؤں کس طرح دل آ گیا\nکیا کہوں کیوں کر محبت ہو گئی\n\nدیکھیے پختہ مزاجی یار کی\nہو گئی جس پر عنایت ہو گئی\n\nانتہائے نا امیدی دیکھیے\nجو تمنا تھی وہ حسرت ہو گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B5%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "فصل گل بھی ترس کے کاٹی ہے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فصل گل بھی ترس کے کاٹی ہے\nعمر کانٹوں میں بس کے کاٹی ہے\n\nمیں نے رو کر گزار دی اے ابر\nجیسے تو نے برس کے کاٹی ہے\n\nہو کے پابند الفت صیاد\nزندگی بے قفس کے کاٹی ہے\n\nسوز الفت میں زندگی میں نے\nغیر کا منہ جھلس کے کاٹی ہے\n\nزندگی بھر رہے حسینوں میں\nعمر پھولوں میں بس کے کاٹی ہے\n\nاس نے کس ناز سے مری گردن\nکمر شوق کس کے کاٹی ہے\n\nاس کی حسرت ہے دید کے قابل\nجس نے مضطرؔ ترس کے کاٹی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B5%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%B9%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "فصل گل دیکھ کے افزوں ہوئی وحشت اپنی", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فصل گل دیکھ کے افزوں ہوئی وحشت اپنی\nلے چلے دیکھیے کس جا مجھے قسمت اپنی\n\nگو مجھے ضعف نے مجبور کیا تھا لیکن\nمنزل عشق میں کام آ گئی ہمت اپنی\n\nتو ہی انصاف سے کہہ دے کہ یہ پردا کیا ہے\nکیوں چھپاتا ہے دکھا کر مجھے صورت اپنی\n\nپوچھتے کیا ہو فدا جان کیا کیوں میں نے\nعشق اپنا ہے دل اپنا ہے طبیعت اپنی\n\nمحو نظارہ ہیں ہم تو کسی جانب چھپ کر\nاور وہ آئینے میں دیکھا کرے صورت اپنی\n\nراحت و رنج کا غیروں پہ اثر کیا ہوگا\nرنج اپنا ہے الم اپنا مسرت اپنی\n\nجان جائے تو چلی جائے مگر اے قاتل\nتیرے کوچے ہی میں ہو جائے شہادت اپنی\n\nسر میں سودائے ہوس اور تکبر نہ رہے\nچشم باطن سے اگر دیکھے حقیقت اپنی\n\nتار ملبوس خودی کیوں رہیں باقی میرے\nپنجۂ دست جنوں اپنا ہے وحشت اپنی\n\nمر ہی جاؤں میں اگر ہجر میں نالے نہ کروں\nآہ و زاری سے نکل جاتی ہے کلفت اپنی\n\nدل اسے دے کے جمیلہؔ میں عبث کیوں روتا\nاس نے رکھنے کو مجھے دی تھی امانت اپنی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B5%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%81%D8%B2%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C"} {"title": "فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ علی بخش بیمار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے\nبلبل نغمہ سرا رو رو بقضا آتی ہے\n\nدل دھڑکتا ہے یہ کہتے ہوئے اس محفل میں\nیاں کسی کو خفقاں کی بھی دوا آتی ہے\n\nآج وہ شوخ ہے اور کثرت آرائش ہے\nدیکھ کس واسطے پسنے کو حنا آتی ہے\n\nکیا کھلے باغ میں وہ چشم حجاب آلودہ\nآنکھ اٹھاتے ہوئے نرگس کو حیا آتی ہے\n\nجاں کنی حسن پرستوں کو گراں کیا گزرے\nبھیس میں حور بہشتی کے قضا آتی ہے\n\nاس لیے رشک چمن باغ میں گل ہنستے ہیں\nکہ اڑاتی تری رفتار صبا آتی ہے\n\nمرض عشق سے بیمارؔ جو گھبراتا ہے\nیار کہتا ہے مجھے خوب دوا آتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B5%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "فصل گل میں جو کوئی شاخ صنوبر توڑے", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "فصل گل میں جو کوئی شاخ صنوبر توڑے\nباغباں غیب کا اس کا وہیں پھر سر توڑے\n\nدست صیاد میں کہتی تھی یہ کل بلبل زار\nکیا رہائی کا مزا ہے جو مرے پر توڑے\n\nخاک بھی خون کی جا نکلی نہ یہاں اے پیارے\nبے سبب ہائے یہ فضا دون نے نشتر توڑے\n\nوصل کے تشنہ لبوں کو نہ ہو مایوسی کیوں\nدور پر ان کے فلک ہائے جو ساغر توڑے\n\nمیرے دلبر کو ملا دے جو کوئی مجھ سے سرورؔ\nابھی دیتا ہوں زر سرخ کے ستر توڑے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B5%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%AE_%D8%B5%D9%86%D9%88%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%D9%88%DA%91%DB%92"} {"title": "فصل گل میں نئیں بگھولے اٹھتے ویرانوں کے بیچ", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فصل گل میں نئیں بگھولے اٹھتے ویرانوں کے بیچ\nخاک دیوانوں کی وجدی ہے بیابانوں کے بیچ\n\nوہ جلا مجنوں کے دل کا کوئلہ آتی تھی پھونک\nورنہ لیلہ کاہے کو جاتی بیابانوں کے بیچ\n\nجیسے گرہیں دے کوئی زنار کا سبحہ بنائے\nپر ہے کفر عشق تیوں ایمان کے دانوں کے بیچ\n\nپر ہیں مشک تیر بختی سے مری سب دل کے گھاؤ\nجس طرح لٹکے ہے زلف دلبراں شانوں کے بیچ\n\nروح میری بھی نہیں چھوڑے گی رنگ سیر باغ\nجوں بھری رہتی ہے بوئے گل گلستانوں کے بیچ\n\nفصل گل آئی کہ زنجیروں کے سر پر نالے کر\nناچ اٹھے دیوانہ دستک دے کے زندانوں کے بیچ\n\nلال ہو عشرت سے جوں گل ہنس اٹھے ہیں میرے گوش\nیار کے آنے کی جوں پہنچی خبر کانوں کے بیچ\n\nہر سخن کو فخر ہے عزلتؔ توجہ سے مری\nہوں امام وقت دلی کے سخن دانوں کے بیچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B5%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%AF%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%86"} {"title": "فصل گل میں ہے ارادہ سوئے صحرا اپنا", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فصل گل میں ہے ارادہ سوئے صحرا اپنا\nرنگ کیا دیکھیے دکھلاتا ہے سودا اپنا\n\nعشق میں ہم جو مٹاتے ہیں کسی کو کیا کام\nجان اپنی ہے دل اپنا ہے کلیجہ اپنا\n\nآہ ہم کرتے ہیں اے یار کے محفل والو\nدونوں ہاتھوں سے جگر تھام لو اپنا اپنا\n\nپوچھتے کیا ہو جدائی میں جو گزری گزری\nتم کو معلوم ہے سب حال کہیں کیا اپنا\n\nکوئی مشتاق رہا جلوہ کسی نے دیکھا\nاس کو کیا کیجئے مقسوم ہے اپنا اپنا\n\nزندگی شرط ہے کیا درد جگر سے ہوگا\nاپنے حق میں تو دم اپنا ہے مسیحا اپنا\n\nکام آیا عمل نیک مرا تربت میں\nللہ الحمد کہ اک دوست تو نکلا اپنا\n\nپوچھتے ہیں جو کوئی نام مرا لیتا ہے\nجانتے ہیں وہ مجھے عاشق شیدا اپنا\n\nنجد میں درد جگر قیس بیاں کرتا ہے\nخوب ہی روئے گی دل تھام کے لیلیٰ اپنا\n\nشہر سے بھاگتے ہیں دشت میں گھبراتے ہیں\nدل بہلتا ہی نہیں اب تو کسی جا اپنا\n\nایڑیاں مجھ سے رگڑوائے گی مجنوں کی طرح\nنام رکھا ہے شب وصل نے لیلیٰ اپنا\n\nاے شرفؔ خیر تو ہے حال ہے کیوں سکتے کا\nآئنہ لے کے ذرا دیکھو تو چہرا اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B5%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "فصل گل کا غم دل ناشاد پر باقی رہا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فصل گل کا غم دل ناشاد پر باقی رہا\nحشر لگ یہ مظلمہ صیاد پر باقی رہا\n\nکھول کر زلفوں کوں آیا سرو قد جب باغ میں\nنقش حیرت طرۂ شمشاد پر باقی رہا\n\nجل گیا پروانہ پن مجھ سا سمندر خو نہیں\nیہ سخن شاگرد کا استاد پر باقی رہا\n\nعاشقی میں کب روا ہے اس طرح کی ظالمی\nخون شیریں گردن فرہاد پر باقی رہا\n\nرہ گئے ذوق تبسم میں تغافل کے شہید\nبسملوں کا خوں بہا جلاد پر باقی رہا\n\nالفت لیلیٰ نے مجنوں کا مٹایا سب نشاں\nنام اس کا صفحۂ ایجاد پر باقی رہا\n\nکھول چشم لطف دے جاگیر مقصود سراجؔ\nشمع رو پروانہ دل صیاد پر باقی رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B5%D9%84_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "فضائے برق کیا رقص شرر کیا", "poet_page": "مصنف:نازش بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فضائے برق کیا رقص شرر کیا\nکرشموں سے لڑے ان کی نظر کیا\n\nخیال حور و کوثر سے ہے بدمست\nغم دیں کی ہو واعظ کو خبر کیا\n\nرہے گی حشر میں یاد مئے و جام\nکیا ہے اور ہم نے عمر بھر کیا\n\nتلاش درد ہے اہل ہوس کو\nکشش ہے کھیل بکتا ہے اثر کیا\n\nبنے ہیں تار دامن خار دامن\nلگائے ہاتھ ان کو بخیہ گر کیا\n\nانا الحق پر عبث ہے شور بے جا\nنہ تھا یزداں کی صورت میں بشر کیا\n\nنہ ہو مژگاں کو جنبش یہ گزر جائے\nحیات عیش بھی ہے مختصر کیا\n\nگرے تھے پھول کچھ شمع لحد کے\nاڑا کر لے گئی باد سحر کیا\n\nوہ دامن ہو تو رونے کا مزہ ہے\nدکھائے جوش طوفاں چشم تر کیا\n\nبنا رکھا ہے دیوانہ کسی کو\nتمہارے حسن میں ہے یہ اثر کیا\n\nحریف ربط ہے رسوائیٔ شوق\nیہ ہنس کر کہہ گیا پیغامبر کیا\n\nرہوں محروم ذوق مرگ الفت\nمجھے تو کوستا ہے چارہ گر کیا\n\nرہے جس دل میں سوز غم وہ دل ہے\nرہے جس گھر میں تاریکی وہ گھر کیا\n\nجنون عشق ہے اک چیز ناصح\nتجھے سمجھائیں ہم آشفتہ سر کیا\n\nمحبت میں ہے دل کا آئنہ دل\nتمنائیں ادھر سے ہوں ادھر کیا\n\nسخن پرور ہے دور نا شناسی\nسبق آموز ہو عرض ہنر کیا\n\nتماشا گاہ حسرت چشم و دل ہیں\nتجلی منحصر ہے طور پر کیا\n\nکھلا یہ بھی شریک جام تھا یار\nہوئی خلوت کی توبہ پردہ در کیا\n\nرقم لو پیر مے خانہ سے نازشؔ\nتمہیں درپیش ہے حج سفر کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D9%82%D8%B5_%D8%B4%D8%B1%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "فضائے عالم قدسی میں ہے نشو و نما میری", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فضائے عالم قدسی میں ہے نشو و نما میری\nمکافات عمل سے دور ہے بیم و رجا میری\n\nشریعت ہے ازل سے مہر پیمان وفا میری\nطریقت خاتم احرام تسلیم و رضا میری\n\nحقیقت ہے سواد خاطر بے مدعا میری\nحریم معرفت دع ما کدر خود نا صفا میری\n\nتری ذات‌ مقدس ہے مبرا شرک غیری سے\nکہ نور ذات میں سایہ‌ صفت ہستی ہے لا میری\n\nجمال لا یزالی شش جہت سے رونما دیکھا\nبنی آئینہ دار‌ حسن چشم حق نما میری\n\nکسی کا حسن طور افروز محو لن ترانی ہے\nدلیل نیستی ہے ہستی عشق و فنا میری\n\nشہود حق ہے ما بین غیوب اک جلوۂ‌ قدرت\nحیات جاوداں ہے ابتدا اور انتہا میری\n\nازل سے محو دیدار جمال جلوہ آرا ہوں\nنظر با لغیر ہو گر ہو نظر میں ماسوا میری\n\nحدیث عشق بالاتر ہے حرف و صوت سے ساحرؔ\nکہاں میں اور کہاں تقدیر فکر نارسا میری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%82%D8%AF%D8%B3%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%B4%D9%88_%D9%88_%D9%86%D9%85%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "فضل خدا سے عزت پائی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "فضل خدا سے عزت پائی\nآج ہوئے ہم سی ایس آئی\nشیخ نہ سمجھے لفظ انگریزی\nبولے ہوئے ہیں عیسائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B6%D9%84_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D8%B2%D8%AA_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "فطرت مری مانندِ نسیمِ سحرَی ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "فطرت مری مانندِ نسیمِ سحرَی ہے\nرفتار ہے میری کبھی آہستہ، کبھی تیز\nپہناتا ہوں اطلس کی قبا لالہ و گُل کو\nکرتا ہوں سرِ خار کو سوزن کی طرح تیز", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%86%D8%AF%D9%90_%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85%D9%90_%D8%B3%D8%AD%D8%B1%D9%8E%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "فطرت کو خِرد کے رُوبرو کر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "فطرت کو خِرد کے رُوبرو کر\nتسخیرِ مقامِ رنگ و بو کر\n\nتُو اپنی خودی کو کھو چکا ہے\nکھوئی ہوئی شے کی جُستجو کر\n\nتاروں کی فضا ہے بیکرانہ\nتُو بھی یہ مقام آرزو کر\n\nعُریاں ہیں ترے چمن کی حوریں\nچاکِ گُل و لالہ کو رفو کر\n\nبے ذوق نہیں اگرچہ فطرت\nجو اس سے نہ ہو سکا، وہ تُو کر!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D9%90%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%8F%D9%88%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "فطرت کے مطابق اگر انساں لے کام", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "فطرت کے مطابق اگر انساں لے کام\nحیوان تو حیوان جمادات ہوں رام\nمٹی پانی ہوا حرارت بجلی\nدانش مندوں کے ہیں مطیع احکام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B7%D8%A7%D8%A8%D9%82_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85"} {"title": "فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نِگہبانی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نِگہبانی\nیا بندۂ صحرائی یا مردِ کُہستانی\nدنیا میں مُحاسب ہے تہذیبِ فُسوں گر کا\nہے اس کی فقیری میں سرمایۂ سُلطانی\nیہ حُسن و لطافت کیوں؟ وہ قُوّت و شوکت کیوں\nبُلبل چمَنِستانی، شہباز بیابانی!\nاے شیخ! بہت اچھّی مکتب کی فضا، لیکن\nبنتی ہے بیاباں میں فاروقی و سلمانی\nصدیوں میں کہیں پیدا ہوتا ہے حریف اس کا\nتلوار ہے تیزی میں صہبائے مسلمانی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%D9%90%DA%AF%DB%81%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "فغان دہلی", "poet_page": "مصنف:مفتی صدر الدین خان آزردہ", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جن کو دنیا میں کسی سے بھی سروکار نہ تھا\nاہل و نا اہل سے کچھ خلط انہیں زنہار نہ تھا\nان کی خلوت سے کوئی واقف و ہمراز نہ تھا\nآدمی کیا ہے فرشتے کا بھی واں بار نہ تھا\nوہ گلی کوچوں میں پھرتے ہیں پریشاں در در\nخاک بھی ملتی نہیں ان کو کہ ڈالیں سر پر\n\nعیش و عشرت کے سوا کچھ بھی نہ تھا جن کو یاد\nلٹ گئے کچھ نہ رہا ہو گئے بالکل برباد\nٹکڑے ہوتا ہے جگر سن کے یہ ان کی فریاد\nپھر بھی دیکھیں گے الٰہی کبھو دہلی آباد\nکب تلک داغ دل ایک ایک کو دکھلائیں ہم\nکاش ہو جائے زمیں شق تو سما جائیں ہم\n\nروز وحشت مجھے صحرا کی طرف لاتی ہے\nسر ہو اور جوش جنوں سنگ ہو اور چھاتی ہو\nٹکڑے ہوتا ہے جگر جی ہی پہ بن جاتی ہے\nمصطفیٰ خاں کی ملاقات جو یاد آتی ہے\nکیونکہ آزردہؔ نکل جائے نہ سودائی ہو\nقتل اس طرح سے بے جرم جو صہبائی ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C"} {"title": "فغان و آہ سے پیدا کیا درد جدائی کو", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "فغان و آہ سے پیدا کیا درد جدائی کو\nغضب میں جان کو ڈالا جتا کر آشنائی کو\n\nمٹایا پاس رسوائی سے میری آشنائی کو\nبچھاؤں آپ کی عصمت کو اوڑھوں پارسائی کو\n\nنہ آیا بعد مردن بھی لحد پر فاتحہ پڑھنے\nمیں اتنا بھی نہ سمجھا تھا تری ناآشنائی کو\n\nنہ دل اپنا ہوا اپنا نہ اک بت پر ہوا قابو\nکریں گے یاد کیا ہم اے خدا تیرے خدائی کو\n\nکسی محفل میں جس دم ذکر شمع طور ہوتا ہے\nدکھا دیتے ہیں وہ جل کر سر انگشت حنائی کو\n\nفقیر بے نوا اس کے در دولت کا ہے بندہ\nغنیمت جانتے ہیں شاہ تک جس کی گدائی کو\n\nاثر پیدا کرے گی آہ اپنی یار کے دل میں\nنشانے تک خدا پہنچائے گا تیر ہوائی کو\n\nکبھی ہے فکر دنیا کی کبھی عقبیٰ کا دھڑکا ہے\nاتاروں جامۂ تن سے میں کیوں کر اس دلائی کو\n\nگریباں ہاتھ آتا ہے نہ صحرا تک پہنچتا ہوں\nخدا کے واسطے دیکھو مرے بے دست و پائی کو\n\nفلک وہ تفرقہ پرواز عالم ہے دلا سر پر\nغنیمت جانتا ہوں گور تک اپنی رسائی کو\n\nشکستہ دل ہیں ہر دم ہر گھڑی ہیں جان کے لالے\nکروں کیا نوش دارو کو میں کیا لوں موسیائی کو\n\nتمنائے دلی نے منتہیؔ کھویا مشیخت کو\nملایا خاک میں دست ہوس نے میرزائی کو", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A2%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D9%88"} {"title": "فغان و آہ ہے ہر دم پکار رکھتا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "فغان و آہ ہے ہر دم پکار رکھتا ہے\nغضب میں جان دل بے قرار رکھتا ہے\n\nگل چمن نہ در شاہوار رکھتا ہے\nبھرا بھرا جو بدن میرا یار رکھتا ہے\n\nلطیف روح کی مانند جسم ہے کس کا\nپیادہ کون وقار سوار رکھتا ہے\n\nجدا جدا ہے حسینان دہر کا انداز\nہر ایک طرح کی ہر گل بہار رکھتا ہے\n\nفریب حسن سے اللہ آدمی کو بچا\nچلے یہ پیچ تو رستم کو مار رکھتا ہے\n\nکمال عشق کو پاتا ہوں خاکساری میں\nطرف نشیب کے دریا گزار رکھتا ہے\n\nبہار آئی ہے بنت العنب پہ جوبن ہے\nگرہ میں دام کوئی بادہ خوار رکھتا ہے\n\nسنا ہے جب سے کہ ہیں دفن اس میں عاشق زار\nقدم زمیں پہ نہیں وہ نگار رکھتا ہے\n\nہر ایک شیشۂ ساعت فلک کو کہتا ہے\nکہ منتہیؔ سے سراسر غبار رکھتا ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A2%DB%81_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%D9%BE%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ\nفقر ہے میروں کا مِیر، فقر ہے شاہوں کا شاہ\n\nعلم کا مقصود ہے پاکی عقل و خرد\nفقر کا مقصود ہے عفّتِ قلب و نگاہ\n\nعلم فقیہ و حکیم، فقر مسیح و کلیم\nعلم ہے جویائے راہ، فقر ہے دانائے راہ\n\nفقر مقامِ نظر، علم مقامِ خبر\nفقر میں مستی ثواب، علم میں مستی گناہ\n\nعلم کا ’موجود‘ اور، فقر کا ’موجود‘ اور\nاَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہ‘ اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہ!\n\nچڑھتی ہے جب فقر کی سان پہ تیغِ خودی\nایک سپاہی کی ضرب کرتی ہے کارِ سپاہ\n\nدل اگر اس خاک میں زندہ و بیدار ہو\nتیری نِگہ توڑ دے آئنۂ مہروماہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%82%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D8%AC%D8%B2%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%D8%A7%D8%AC_%D9%88_%D8%B3%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%B3%D9%BE%D8%A7%DB%81"} {"title": "فقط شور دل پر آرزو تھا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فقط شور دل پر آرزو تھا\nنہ اپنے جسم میں ہم تھے نہ تو تھا\n\nہر اک کے پاؤں پر جھکتے کٹی عمر\nنہ سمجھے ہم کہ کس قالب میں تو تھا\n\nجہاں پہنچے اسی کا نور پایا\nجدھر دیکھا وہی خورشید رو تھا\n\nجگہ دامن میں اپنے کیوں نہ دیتے\nکہ طفل اشک اپنا ہی لہو تھا\n\nکہوں کیا دل کی میں نازک مزاجی\nخدا بخشے نہایت تند خو تھا\n\nمیں کیفیت کہوں کیا بزم مے کی\nکہ مینا ہاتھ میں آنکھوں میں تو تھا\n\nغش آیا اس نے تولی تیغ جب جب\nعجب ہلکا ہمارا بھی لہو تھا\n\nبہت ڈھونڈا کہیں پایا نہ ہم نے\nبتا دے یہ کہ کس گوشے میں تو تھا\n\nبچا قاتل کا دامن للہ الحمد\nبہت کھولا ہوا اپنا لہو تھا\n\nعدو تھے ساقیا سب مے کدے میں\nیہی اک آس تھی پلے پہ تو تھا\n\nلباس کہنہ جب تھا اپنا صدچاک\nتو پھر بے کار پیوند و رفو تھا\n\nغضب میں آ کے تجھ کو توڑتا شیخ\nنتیجہ بحث کا کیا اے سبو تھا\n\nتری تصویر تھے ہم بھی کسی وقت\nیہی نقشا ہمارا ہو بہو تھا\n\nنظر میں ہیچ تھا کونین ساقی\nلبالب جام تھا ہم تھے سبو تھا\n\nسزا لغزش کی پاتے بزم میں ہم\nخدا کو خیر کرنا تھا کہ تو تھا\n\nہم اپنے ہوش میں باقی تھے ہر طرح\nمگر جب تو ہمارے روبرو تھا\n\nتجھی سے منہ پھلا لیتے عجب کیا\nصبا غنچوں کا بھی آخر نمو تھا\n\nچلے ہم باغ سے اے شادؔ کس وقت\nبہار آنے کو تھی گل کا نمو تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%82%D8%B7_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "فقط قضیہ یہی ہے فن طبعی اور الٰہی میں", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فقط قضیہ یہی ہے فن طبعی اور الٰہی میں\nجو علم معرفت چاہے تو رہ یاد الٰہی میں\n\nسمجھتا ہے اسی کا جلوہ گہ غیب شہادت کو\nنہیں کچھ فرق عارف کو سفیدی و سیاہی میں\n\nنہیں آرام مجھ کو اضطراب دل سے سینہ میں\nکہ دریا مضطرب ہوتا ہے بیتابیٔ ماہی میں\n\nنہ کر مستوں سے کاوش ہر گھڑی آمان کہتا ہوں\nخلل آ جائے گا زاہد تری عصمت پناہی میں\n\nجگا کر خواب آسائش سے بیدارؔ آہ ہستی میں\nعدم آسود گاں کو لا کے ڈالا ہے تباہی میں\n\nجو کیفیت ہے مستی سے تری آنکھوں کی لالی میں\nنہیں وہ نشۂ رنگیں شراب پرتگالی میں\n\nسرو برگ خوشی اے گل بدن تجھ بن کہاں مجھ کو\nگلستان دل آیا فوج غم کی پائمالی میں\n\nدر دنداں ہوئے تھے موجزن کس بحر خوبی کے\nکہ موتی شرم سے پانی ہوئے سلک لالی میں\n\nجہاں وہ شکریں لب گفتگو میں آوے اے طوطی\nسخن سرسبز تیرا کب ہو واں شیریں مقالی میں\n\nعبث ہے آرزوئے خوش دلی بیدارؔ گردوں سے\nمے راحت جو چاہے سو کہاں اس جام خالی میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%82%D8%B7_%D9%82%D8%B6%DB%8C%DB%81_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%81%D9%86_%D8%B7%D8%A8%D8%B9%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "فقط چند نسخوں کا ہے وہ سفینہ", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "فقط چند نسخوں کا ہے وہ سفینہ\nچلے آئے ہیں جو کہ سینہ بہ سینہ\n\nنہ ان کو نباتات سے آگہی ہے\nنہ اصلاً خبر معدنیات کی ہے\n\nنہ تشریح کی لے کسی پر کھلی ہے\nنہ علم طبیعی نہ کیمسٹری ہے\n\nنہ پانی کا علم اور نہ علم ہوا ہے\nمریضوں کا ان کے نگہباں خدا ہے\n\nنہ قانون میں ان کے کوئی خطا ہے\nنہ مخزن میں انگشت رکھنے کی جا ہے\n\nسیدی میں لکھا ہے جو کچھ بجا ہے\nنفیسی کے ہر قول پر جاں فدا ہے\n\nسلف لکھ گئے جو قیاس اور گماں سے\nصحیفے ہیں اترے ہوئے آسماں سے\n\nوہ شعر اور قصائد کا ناپاک دفتر\nعفونت میں سنڈاس سے جو ہے بد تر\n\nزمیں جس سے ہے زلزلہ میں برابر\nملک جس سے شرماتے ہیں آسماں پر\n\nہوا علم و دیں جس سے تاراج سارا\nوہ علموں میں علم ادب ہے ہمارا\n\nبرا شعر کہنے کی گر کچھ سزا ہے\nعبث جھوٹ بکنا اگر ناروا ہے\n\nتو وہ محکمہ جس کا قاضی خدا ہے\nمقرر جہاں نیک و بد کی سزا ہے\n\nگنہ گار واں چھوٹ جائیں گے سارے\nجہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%82%D8%B7_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D9%86%D8%B3%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D9%81%DB%8C%D9%86%DB%81"} {"title": "فقیرانہ آئے صدا کر چلے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فقیرانہ آئے صدا کر چلے\nکہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے\n\nجو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم\nسو اس عہد کو اب وفا کر چلے\n\nشفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی\nکہ مقدور تک تو دوا کر چلے\n\nپڑے ایسے اسباب پایان کار\nکہ ناچار یوں جی جلا کر چلے\n\nوہ کیا چیز ہے آہ جس کے لیے\nہر اک چیز سے دل اٹھا کر چلے\n\nکوئی ناامیدانہ کرتے نگاہ\nسو تم ہم سے منہ بھی چھپا کر چلے\n\nبہت آرزو تھی گلی کی تری\nسو یاں سے لہو میں نہا کر چلے\n\nدکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا\nہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے\n\nجبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی\nحق بندگی ہم ادا کر چلے\n\nپرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے\nنظر میں سبھوں کی خدا کر چلے\n\nجھڑے پھول جس رنگ گلبن سے یوں\nچمن میں جہاں کے ہم آ کر چلے\n\nنہ دیکھا غم دوستاں شکر ہے\nہمیں داغ اپنا دکھا کر چلے\n\nگئی عمر در بند فکر غزل\nسو اس فن کو ایسا بڑا کر چلے\n\nکہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میرؔ\nجہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%B5%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "فقیرانہ ہے دل مقیم اس کی رہ کا", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "فقیرانہ ہے دل مقیم اس کی رہ کا\nغرض کیا کہ محتاج ہو بادشہ کا\n\nخدنگ آہ کا اے فلک بے طرح ہے\nبھروسا تو تاروں کی مت کر زرہ کا\n\nخرابات کی جب سے لذت پڑی ہے\nچھٹا بیٹھنا مسجد و خانقہ کا\n\nطواف حرم تجھ کو زاہد مبارک\nمرا اور تیرا نہیں ساتھ رہ کا\n\nصنم خانہ جاتا ہوں تو مجھ کو ناحق\nنہ بہکا نہ بہکا نہ بہکا نہ بہکا\n\nترے منہ سے کچھ بو جو آتی ہے مے کی\nدماغ دل اس وقت جاتا ہے مہکا\n\nرقیبوں کے دل چاک مثل کتاں ہوں\nگزار اس طرف ہو اگر اپنے رہ کا\n\nتری آشنائی میں کیا ہم نے پایا\nدیا نقد دل اور اپنی گرہ کا\n\nچمک کر تو اے برق مت مار چشمک\nتو مستوں کی آتش کو مت اور دہکا\n\nتبھی لطف ہے ساقیا مے کشی کا\nکہ تو بھی بہک اور مجھ کو بھی بہکا\n\nکبھی تجھ سے انشاؔ نے بوسہ نہ مانگا\nگناہ گار ہے وہ فقط اک نگہ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D9%82%DB%8C%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%DB%81_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "فقیروں پہ اپنے کرم اک ذرا کر", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فقیروں پہ اپنے کرم اک ذرا کر\nترے در پہ بیٹھے ہیں دھونی رما کر\n\nبہت دیر سے در پہ سادھو کھڑے ہیں\nفقیروں پہ داتا دیا کر دیا کر\n\nنہیں ہم کو خواہش کسی اور شے کی\nہمیں اپنے جوبن کا صدقہ عطا کر\n\nسرورؔ ان کی نگری میں برسوں پھرے ہم\nفقیرانہ بھیس اپنا اکثر بنا کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D8%A7%DA%A9_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "فلسطِینی عر ب سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ\nمیں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے\nتری دَوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں\nفرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یَہود میں ہے\nسُنا ہے مَیں نے، غلامی سے اُمتوّں کی نجات\nخودی کی پرورش و لذّتِ نمود میں ہے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%D8%B3%D8%B7%D9%90%DB%8C%D9%86%DB%8C_%D8%B9%D8%B1_%D8%A8_%D8%B3%DB%92"} {"title": "فلسفہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "افکار جوانوں کے خفی ہوں کہ جلی ہوں\nپوشیدہ نہیں مرد قلندر کی نظر سے\nمعلوم ہیں مجھ کو ترے احوال کہ میں بھی\nمدت ہوئی گزرا تھا اسی راہ گزر سے\nالفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا\nغواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے\nپیدا ہے فقط حلقہ ارباب جنوں میں\nوہ عقل کہ پا جاتی ہے شعلے کو شرر سے\nجس معنی پیچیدہ کی تصدیق کرے دل\nقیمت میں بہت بڑھ کے ہے تابندہ گہر سے\nیا مردہ ہے یا نزع کی حالت میں گرفتار\nجو فلسفہ لکھا نہ گیا خون جگر سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%81"} {"title": "فلسفہ ومذہب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "یہ آفتاب کیا، یہ سِپہرِ بریں ہے کیا!\nسمجھا نہیں تسلسلِ شام و سحَر کو مَیں\nاپنے وطن میں ہُوں کہ غریبُ الدّیار ہُوں\nڈرتا ہوں دیکھ دیکھ کے اس دشت و دَر کو مَیں\nکھُلتا نہیں مرے سفَرِ زندگی کا راز\nلاؤں کہاں سے بندۂ صاحب نظر کو میں\nحیراں ہے بُوعلی کہ میں آیا کہاں سے ہُوں\nرومی یہ سوچتا ہے کہ جاؤں کِدھر کو مَیں\n“جاتا ہوں تھوڑی دُور ہر اک راہرو کے ساتھ\nپہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو مَیں”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%81_%D9%88%D9%85%D8%B0%DB%81%D8%A8"} {"title": "فلسفۂ حسن و عشق (یونانیوں کے نقطۂ خیال سے)", "poet_page": "مصنف:مہدی افادی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "عورت کیا ہے؟ وہ دنیا میں کیوں آئی؟ اس کی ہستی کی علت غائی یعنی اس کا موضوع اصلی کیا ہے؟ یہ اور اس قسم کے بہتیرے سوالات ہیں جو ایک شائستہ دماغ کو متوجہ کر سکتے ہیں اور جن پر ہرمانہ میں کچھ نہ کچھ غور ہوا ہے لیکن ان سب کا مختصر، مگر جامع جواب یہ ہے کہ ’’وہ محبت کی چیز ہے اور دنیا میں محض اسی لئے آئی۔‘‘\n\nمحبت کیا ہے؟ ایک مقناطیسی کشش ہے! عورت بغیر چاہنے والے کے رہ نہیں سکتی۔ اس کی نزاکت فطری چاہتی ہے کہ کسی کا سہارا ہو یعنی دو ایک ہوکر رہیں، جہاں یہ خود جان دینے کو تیار ہے۔ یہ چاہتی ہے کہ کوئی اس پر بھی مرتا ہو، دنیا میں یہ صرف محبت کے لئے آئی اور گلے کا ہار بننے بنانے کے لئے، پھولوں کی سیج پر اس کی بہار دیکھئے کہ تھوڑی دیر کے لئے افکار دنیا بھلا کر رہتی ہے۔\n\nعالم خیال عورت کی ایک وسیع دنیا ہے جہاں وہ اپنے جذبات کو فضائے بسیط میں چھوڑ دیتی ہے اور جو باتیں دراصل اس کو حاصل نہیں ہیں ان کا بھی لطف اٹھا لیتی ہے۔ اس کی ساری زندگی حسن و عشق کا فسانہ ہے، وہ خود کسی پر مرتی ہوگی یا کوئی اس پر جان دیتا ہوگا۔ عورت پھنستی ذرا مشکل سے ہے، لیکن جہاں پھنستی ہے اس سے چھٹکارا پسند نہیں کرتی۔ اس کی اصلی غایت زندگی دوسرے کی پھانس ہے لیکن اسے معلوم نہیں کہ جال ڈالنے سے پہلے وہ خود شکار ہو چکتی ہے۔\n\nعورت کتنی ہی پاکیزہ وش ہو، اس خیال سے خالی نہیں ہوتی کہ کوئی اس کی کافر ادائی کا شیدائی ہو۔ اس کی ’’فتوحات‘‘ اس کا سرمایہ نشاط ہیں، جن سے اس کے دل کو راحت ملتی ہے اور جن سے وہ جیتے جی کبھی دستبردار نہیں ہو سکتی۔ وہ وار کرکے رہےگی کیونکہ یہ امر اس کی فطرت میں داخل ہے۔ شانہ سے آنچل خود نہ گرائے لیکن اگر اتفاق سے گر جائے تو وہ دل میں خوش ہوگی، یہ اس کی فطرت کا راز ہے جسے وہ ہی خوب سمجھتی ہے۔ دہرائے ہوئے آنچل میں دراصل اسے سینے کا ابھار غائب کرنا منظور نہیں بلکہ وہ چاہتی ہے کہ اور نظر جماکر دیکھئے! محرم کا جائزۂ نظری ایک طرح کی داد حسن ہے جو ہزار پارسائی کے ساتھ بھی وہ آپ سے لے کر رہےگی۔ اسی لئے جوانی کی آرائشوں میں دستانہ کی طرح چبھی ہوئی چیز اسے دل سے پسند ہے جس میں یہ ان ’’سرکشوں‘‘ کو قید رکھتی ہے جنہیں عورت کے ’’ارمان مجسم‘‘ کہئے۔\n\n’مے دو آتشہ‘ وہ بھی شباب کی، جب کھچ کھچا کر قدرتی کنٹروں میں بھری ہو، توکون ہے جو ان کیف مستی اور بے خودی کے ’’مجسموں‘‘ کی پرستش کا دلدادہ نہ ہوگا۔ ترکیب عناصر ہی تو ہے۔ ذرا ’فطرت‘ کی شوخی دیکھئےگا۔ ’فتنۂ قیامت زا‘ کے لئے گنجائش نکالی بھی تو کہاں؟ دنیا میں معیار حسن ہمیشہ مختلف رہے اور آج بھی اختلاف مذاق کے لحاظ سے حسن کے لئے کوئی نصاب مشترک قائم نہ ہو سکا۔ تاہم ہر زمانہ میں عورت کا ’’مقیاس الشباب‘‘ دائرہ حسن کا مرکز عام رہا ہے۔ آج تک سننے میں نہیں آیا کہ اہل چین کی چپٹی ناک کی طرح ’’سپاٹ‘‘ سینہ بھی کہیں پسند طبائع ہو۔\n\nموجودہ قیصر جرمنی کو اپنی غیرمعمولی شخصیت کے ساتھ بھی عورت کی ’شہنشاہی‘ کے آگے جھکنا پڑا، آپ صنف نازک کے شائق ہیں لیکن اس کے جو خوبصورت ہاتھوں کے ساتھ ابھرا ہوا اور قائم بالذات سینہ رکھتی ہو۔\n\nاسی لئے حکماء، ’بحرحسن کے اس زوردار تموج‘ کو بہترین عطیہ فطرت کہتے ہیں۔ آپ نسائیت کا اصلی زیور کہئے، اس میں کالی، گوری کی تخصیص نہیں، کوئی ہو، کہیں ہو، صرف جوانی کے آلۂ حرب سے اچھی طرح مسلح ہونے کی ضرورت ہے پھر تو اس کی ’’فتوحات‘‘ کے لئے فضائے کائنات بھی کافی نہیں۔ دنیا اس کے قدموں کے نیچے ہوگی۔\n\nعورت مرد کے مقابلہ میں زیادہ باکیف ہوتی ہے اورجن نزاکتوں کی طرف مرد کا ذہن بھی منتقل نہیں ہوتا یہ ان کو سمجھتی بوجھتی اور قوۃ سے فعل میں لانا چاہتی ہے۔ جیتے جی کسی خوبصورت عورت کی پرستش کا موقع ملے تو سمجھئے خدا نے دنیا میں وہ چیز دی جو بڑے بڑے زاہدوں کو سر رگڑنے کے بعد بھی نصیب نہیں۔ بہشت کا بھی وعدہ ہے۔ چاہنے والی عورت سے بڑھ کر جو پاکباز ہو، دنیا میں کوئی چیز نہیں لیکن قابو میں لانے کے بعد یہ ایک سکنڈ کے لئے بھی چھوڑنے کے لائق نہیں۔\n\nوہ انتہا درجہ کی حساس اور نازک مزاج بھی ہوتی ہے۔ دنیا میں اس سے کسی سے بیر ہے تو چاہنے والوں سے، دوپٹہ میلا ہے تو سمجھ لیجئے چاہنے والے کا قصور ہے۔ عورت کہتی ہے کہ انہیں کو پرواہ نہیں تو بدلیں کس کے لئے۔ وہ خوش ہیں تو بات بات میں بانکپن دیکھ لیجئے، کنگھی چوٹی کا درد سر اسی وقت بھلا معلوم ہوتا ہے جب دل سے دل ملا ہو اور اس کی مانگ ہو۔ عورت کے بناؤ سنگار یعنی آرائش کی چھوٹی چھوٹی باتیں اس کے دل کی حالت کی غماز ہوتی ہیں۔ کسی نے آنکھ بدلی اور یہاں صورت بگڑی، وہاں دلداری ہے تو ادھر بھی دل آرائی دیکھ لیجئے۔ محرم کے بند اگر کھنچ کر بندھے ہوں تو سمجھ لیجئے ’زد‘ پر کوئی ہے جس کے لئے یہ سینے کو ’دُہرے پایہ‘ پر رکھنا چاہتی ہے۔\n\nحسین عورت کے لئے کم سنی لازمی نہیں کہ چڑھتی دوپہر سے ڈھلتی چھاؤں زیادہ خوشگوار ہوتی ہے۔ فلسفہ حسن و عشق کا یہ نہایت باریک نکتہ ہے جو لائق غور ہے۔ عورت وہی باکیف ہوگی جو لذت آشنا ہو اور جس میں لذت احساس کامل ہو۔ یہ عالم فطرت کی نیرنگیاں ہیں، شراب کی طرح کہ جتنی پرانی ہو مزیدار ہوتی ہے، عورت کی عمر کا وہ حصہ جو تیز روشنی کی جگہ تاروں کی چھاؤں یا پچھلے پہر کی چاندنی سے مشابہ ہے، جان دے دینے کے لائق ہوتا ہے۔ ۲۵، ۲۶ برس کی حسین عورت جو صورت کے ساتھ حسن سیرت بھی رکھتی ہو اور جس میں نسائیت کوٹ کوٹ کر بھری ہو، انسانی تخیل کا بہترین مرقع ہے۔\n\nعورت باعتبار جذبات ایک خوبصورت گلدستہ ہے جس کی ساخت میں نہایت نازک پھول پتیاں صرف ہوئی ہوں۔ جس طرح پھول کی پتیوں میں نازک رگیں، نسیں اور باریک نقش و نگار ہوتے ہیں، عورت کا دل ودماغ بھی ہر طرح کی لطافتوں اور نزاکتوں کا مخزن ہوتا ہے۔ جس کے بیل بوٹے قدرت کی بہترین نقاشی ہیں، ان ہی باریک حسیات اور جذبات کا ابھارنا، اور ان کے نشو و ارتقا، ءتدریجی کے سلسلہ کو قائم رکھنا، چاہنے والے کا اصلی فرض ہے۔\n\nعورت ہماری زندگی کے ہر صیغہ کو مس کرنا چاہتی ہے۔ وہ ہماری عقلی اور اخلاقی قوتوں کو حرکت میں لاتی ہے لیکن ایک شائستہ عورت پر وہی قابو حاصل کر سکتا ہے جس میں عورت کے فطری اوصاف کے مقابلہ کی قابلیت موجود ہے۔ جس کے قوی تر جذبات عورت کی قدرتی نزاکتوں اورلطافتوں سے ہم آغوش ہوسکیں۔ اس کے خیال میں صرف آرزوئے ’وصل‘ جس پر ہمارے شعرا سر دھنتے ہیں، نری حیوانیت ہے۔ وہ ’خوش عیشی‘ کے مقابلہ میں ’فلسفۂ ناکامی‘ میں کہیں زیادہ لذت پاتی ہے جو اس کے نازک سے نازک جذبات اور حسیات کو تحریک میں لائے۔ عورت کی ایک آہ جو دل سے نکلی ہو، ہزار صوفیانہ ریاض و اعمال پر بھاری ہے جس میں شائبہ خلوص نہ ہو۔\n\nیہ دنیا میں فطرت کی تکمیل کے لئے آئی اور اسی لئے مہذب دنیا میں اسے انسان کا ’نصف بہتر حصہ‘ کہتے ہیں۔ محبت، دل سوزی، خلوص و ہمدردی اس کا خاصہ فطری ہے، یہ جہاں ہماری خوش دلی کو بڑھاتی ہے، رنج و غم کو بانٹ لیتی ہے۔ صحت میں یہ رفیق زندگی، علالت میں خوش سلیقہ دایہ اور موت کے بعد ہماری خوبصورت سوگوار ہے جس کی ہیرا تراش کلائی میں پھنسی ہوئی سیاہ چوڑیاں اور کھلے ہوئے لمبے بال وہ علامات ماتم ہیں جنہیں جیتے جی دیکھنے کو دل چاہتا ہے۔\n\nآہ عورت! تو فسانۂ زندگی ہے۔ توجس طرح ایک جھونپڑے کو اپنی صاف شفاف ہستی سے شیش محل بنا سکتی ہے، بڑے سے بڑے ایوان عیش کی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تیری موجودگی سے آثار اس میں نہ پائے جائیں۔ اس کے لئے چھڑ وں کی جھنکار ضروری نہیں، محض تیرا پس پردہ ہونا کہیں، کسی کے لئے ہو، کافی ہے۔ شیکسپیئر نے سچ کہا ہے کہ ’’تو مجسم عشوہ گری ہے اور دنیا میں بے فوج کی سلطنت تیرا اور صرف تیرا حصہ ہے۔‘‘\n\nیہاں تک تو ’حسن‘ اور اس کے لطیف متعلقات پر شاعرانہ نکتہ سنجیاں تھیں، لیکن مجھے دیکھنا ہے کہ عشق کیاچیز ہے۔ حکما کی رائے کے مطابق یہ ایک جوہر وجدانی ہے۔ انسانی اجسام، انسانی حافظے، انسانی خواہشات فنا ہو جائیں گی لیکن یہ جوہر غیرفانی یعنی عشق ہمیشہ باقی رہنے والی چیز ہے۔\n\n’تصوف‘ صرف مذہب عشق ہے۔ آپ فرط زندگی سے ’حقیقت‘ کے پیچھے پڑے اور جیسے آئے تھے، ستراسی برس کے ریاضات ومجاہدات کے بعد بھی کورے گئے۔ میں نے آنکھ کھولی تو کچھ نہ دیکھ سکا۔ اس لئے آپ کی اصطلاح میں صرف ’عشق مجازی‘ سے غرض رکھی۔ یعنی اپنا ’معبود‘ خود پیدا کر لیا اور تھوڑی سی عمر جو لے کر آیا تھا اس خیال میں گزار دی۔\n\nخدا سر دے تو سودا دے تری زلف پریشاں کا\nجو آنکھیں ہوں تو نظارہ ہو ایسے سنبلستاں کا\n\nگوشوارہ پر آپ دیکھیں گے، میرا پاکیزہ تخیل بڑے بڑے زاہدوں کے ’صعوبات لاطائل‘ سے کتنا اچھا رہا۔ وہ عمر بھر روتے رہے اور روتے گئے۔ اور میں نے ہنستے کھیلتے دن کاٹ دیے۔\n\nیہ فقرۂ معترضہ تھا۔ اہل سائنس کا خیال ہے کہ عشق چاہنے والوں میں سے کسی کا اختیاری نہیں، بلکہ ایک جذبۂ اضطراری ہے جو گزشتہ زمانے کے ہزارہا میلان طبائع نے وراثتاً ہمارے لئے چھوڑا ہے۔ ہم کسی عورت کو اس لئے نہیں چاہتے کہ وہ نازنین ہے، پری پیکر ہے، خوش ادائی اور دل فریبی میں آپ اپنی نظیر ہے، بلکہ وہ ہمارے دائرۂ پرستش کا مرکز اس لئے بنی ہوئی ہے کہ وہ ایک ناقابل بیان طریقہ سے جنس مقابل یعنی مرد کے لئے ایک ایسا ’نغمۂ مستانہ‘ چھیڑتی ہے جسے مرد ہی خوب سمجھتا ہے اور جو ہماری زندگی کے جوہر خالص یعنی روح کو ان طبقات بالا تک پہنچاتا ہے جہاں خیال کے سوا کسی چیز کی رسائی نہیں۔ یہ بحث نہایت دلچسپ ہے۔ لیکن مستقلاً اظہار خیال چاہتی ہے۔ یہاں اس کے چھیڑنے کی گنجائش نہیں، پھر کبھی دیکھئے گا۔ سردست ایک مغربی شاعر کے خیالات سنئے جو جذبات میں ڈوبا ہوا ہے اوراپنی معشوقہ یعنی بیوی کے فراق میں یوں اظہار خیال کر رہا ہے۔\n\n’’رات کا پچھلا پہر اور دل ہی دل میں کچھ باتیں۔‘‘\n\n’’میری ہستی بے ثبات کا سب سے بڑا کارنامہ تیری محبت پر قابو حاصل کرنا تھا، میں نہ ہوتا تو یقیناً غیرمفتوح رہتی۔ یعنی کسی کے بس میں آنے والی نہیں تھی۔ کیا دنیا کی کوئی قوت جیتے جی تجھ کو مجھ سے چھڑا سکتی ہے؟ پھر یہ علیحدگی کیسی؟ دیوانگی، استغراق فنا، مذہب عشق کی صرف اصطلاحات ہیں۔ میں تو تجھ میں اس طرح تحلیل ہو گیا ہوں کہ وجود ذاتی کا سرے سے پتہ نہیں! آخر کیوں؟ کیا تیرا دلفریب حسن، تیری کافر ادائیاں اس کا باعث ہیں؟ نہیں! تو عشق مجسم ہے۔ تو مستی شباب کے سوا جذبات میں اس طرح وڈبی ہوئی ہے کہ تیری غایت زندگی صرف محبت ہے اورکچھ نہیں!\n\nہاں تونے عشق کی کاٹ عشق سے کی اور میں مقابلہ میں ٹھہر نہ سکا یعنی بازی ہاری! ہائے کتنی دلچسپ فتح ہے لیکن آخر مجھے اپنی شکست پرناز کیوں ہے؟ اس لئے کہ یہ ’شکست‘ دنیا کے اور دیوانوں کے حصے میں کبھی نہیں آئی۔ آرزوئیں اور قصہ ہی رہے۔ مطلوب کا ملنا دوسری دنیا کے لئے ا ٹھا رکھا گیا۔ یہ خیال کہ تومجھے چاہتی ہے جان دے دینے کے لئے کافی ہے۔ تجھ کو پاکر چاہئے تھا کہ بے قراری کچھ کم ہوتی، لیکن یہ کیسا روگ ہے جو کسی طرح پنپنے نہیں دیتا، میں دیکھتا ہوں کسی طرح چین نہیں، خاص کر آج کل کی جدائی بلائے جان ہو رہی ہے۔\n\nعرب کی جوشیلی عورت اپنے عاشق سے جدا رہنا پسند نہیں کرتی یعنی وہ فطرتاً ہم آغوشی و ہم بستری کی شائق ہوتی ہے۔ میری پیاری کیا تو کم پرجوش ہے؟ تیری تو رگ رگ میں کوٹ کر بجلی بھری ہوئی ہے، یہ تیری دبی ہوئی چنگاریاں تھیں جن سے میری زندگی کی بجھی ہوئی حرارت دفعتاً بھڑک اٹھی۔\n\nپیاسے کو انگاروں پر لٹانا جب چند قطروں سے پیاس بجھتی ہو! یہی شرط وفا ہے؟ تونے کیوں مجھے وہ گر سکھائے جن سے آج تک ناآشنا سا رہا۔ تونے میری ایک سوئی ہوئی قوت کو جو حاسۂ انسانی میں سب سے زیادہ لطیف و شیریں ہے، چھینٹے دے دے کر جگایا۔ تیری تطبیق اعضائی اور انگوٹھی پرنگ کی سی موزونیت تیری نفاست اور پاکیزگی فطرت کا ایک راز ہے۔ سچ یہ ہے کہ تو یونانیوں کی محض ’زہرۂ عریاں‘ نہیں بلکہ حسن و عشق کی مشترک دیوی ہے۔ جوانانہ خوش فعلیاں ان دنوں خواب و خیال ہو رہی ہیں۔ جب سے تو چھوٹی زندگی وہ نہیں رہی!\n\nمیری خاک ایک دن خاک ہوکر رہےگی لیکن وہ جوہر غیرفانی یعنی تیرا عشق میری یا د دلاتا رہےگا، لیکن قبل اس کے یہ صورت پیش آئے، آکر مجھے گلے لگالے۔ زندگی تو آج کا نام ہے، کل اختیاری نہیں! تیرے ساتھ کے چند گھنٹے ہزار زندگیوں کے برابر ہیں۔ دیکھ! میری عمر کا بڑھانا تیرے لئے کتنا آسان ہے، کیسی مجبوری اور کہاں کا رکھ رکھاؤ؟ جس کوچہ میں تونے قدم رکھا ہے وہاں تیسرے کا گزر نہیں۔ ان ڈھکوسلوں سے کیا واسطہ؟ عشق کا فتویٰ تو یہ ہے کہ دو کے سوا تمام دنیا حرف غلط۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%82_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%28%DB%8C%D9%88%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%B7%DB%82_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%B3%DB%92%29"} {"title": "فلسفۂ غم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "گو سراپا کیفِ عشرت ہے شرابِ زندگی\nاشک بھی رکھتا ہے دامن میں سحابِ زندگی\nموجِ غم پر رقص کرتا ہے حبابِ زندگی\nہے ’الم‘ کا سُورہ بھی جُزوِ کتابِ زندگی\nایک بھی پتّی اگر کم ہو تو وہ گُل ہی نہیں\nجو خزاں نادیدہ ہو بُلبل، وہ بُلبل ہی نہیں\n\nآرزو کے خُون سے رنگیں ہے دل کی داستاں\nنغمۂ انسانیت کامل نہیں غیر از فغاں\nدیدۂ بینا میں داغِ غم چراغِ سینہ ہے\nروح کو سامانِ زینت آہ کا آئینہ ہے\nحادثاتِ غم سے ہے انساں کی فطرت کو کمال\nغازہ ہے آئینۂ دل کے لیے گردِ ملال\nغم جوانی کو جگا دیتا ہے لُطفِ خواب سے\nساز یہ بیدار ہوتا ہے اسی مضراب سے\nطائرِ دل کے لیے غم شہپرِ پرواز ہے\nراز ہے انساں کا دل، غم انکشافِ راز ہے\nغم نہیں غم، رُوح کا اک نغمۂ خاموش ہے\nجو سرودِ بربطِ ہستی سے ہم آغوش ہے\n\nشام جس کی آشنائے نالۂ ’یا رب‘ نہیں\nجلوہ پیرا جس کی شب میں اشک کے کوکب نہیں\nجس کا جامِ دل شکستِ غم سے ہے ناآشنا\nجو سدا مستِ شرابِ عیش و عشرت ہی رہا\nہاتھ جس گُلچیں کا ہے محفوظ نوکِ خار سے\nعشق جس کا بے خبر ہے ہجر کے آزار سے\nکُلفتِ غم گرچہ اُس کے روز و شب سے دُور ہے\nزندگی کا راز اُس کی آنکھ سے مستُور ہے\nاے کہ نظمِ دہر کا ادراک ہے حاصل تجھے\nکیوں نہ آساں ہو غم و اندوہ کی منزل تجھے\n\nہے ابد کے نسخۂ دیرینہ کی تمہید عشق\nعقلِ انسانی ہے فانی، زندۂ جاوید عشق\nعشق کے خورشید سے شامِ اجل شرمندہ ہے\nعشق سوزِ زندگی ہے، تا ابد پائندہ ہے\nرخصتِ محبوب کا مقصد فنا ہوتا اگر\nجوشِ اُلفت بھی دلِ عاشق سے کر جاتا سفر\nعشق کچھ محبوب کے مرنے سے مر جاتا نہیں\nروح میں غم بن کے رہتا ہے، مگر جاتا نہیں\nہے بقائے عشق سے پیدا بقا محبوب کی\nزندگانی ہے عدم ناآشنا محبوب کی\n\nآتی ہے ندّی جبینِ کوہ سے گاتی ہوئی\nآسماں کے طائروں کو نغمہ سِکھلاتی ہوئی\nآئنہ روشن ہے اُس کا صورتِ رخسار حُور\nگِر کے وادی کی چٹانوں پر یہ ہو جاتا ہے چُور\nنہر جو تھی، اُس کے گوہر پیارے پیارے بن گئے\nیعنی اس اُفتاد سے پانی کے تارے بن گئے\nجُوئے سیمابِ رواں پھٹ کر پریشاں ہو گئی\nمضطرب بوندوں کی اک دنیا نمایاں ہو گئی\nہجر، ان قطروں کو لیکن وصل کی تعلیم ہے\nدو قدم پر پھر وہی جُو مثلِ تارِ سیم ہے\nایک اصلیّت میں ہے نہرِ روانِ زندگی\nگِر کے رفعت سے ہجومِ نوعِ انساں بن گئی\nپستیِ عالم میں ملنے کو جُدا ہوتے ہیں ہم\nعارضی فُرقت کو دائم جان کر روتے ہیں ہم\n\nمرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں\nیہ حقیقت میں کبھی ہم سے جُدا ہوتے نہیں\nعقل جس دم دہر کی آفات میں محصور ہو\nیا جوانی کی اندھیری رات میں مستور ہو\nدامنِ دل بن گیا ہو رزم گاہِ خیر و شر\nراہ کی ظلمت سے ہو مشکل سوئے منزل سفر\nخضرِ ہمّت ہو گیا ہو آرزو سے گوشہ گیر\nفکر جب عاجز ہو اور خاموش آوازِ ضمیر\nوادیِ ہستی میں کوئی ہم سفر تک بھی نہ ہو\nجادہ دکھلانے کو جُگنو کا شرر تک بھی نہ ہو\nمرنے والوں کی جبیں روشن ہے اس ظلمات میں\nجس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%82_%D8%BA%D9%85"} {"title": "فلسفی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "بلند بال تھا، لیکن نہ تھا جسور و غیور\nحکیم سِرِّ محبّت سے بے نصیب رہا\nپھرا فضاؤں میں کرگس اگرچہ شاہیں وار\nشکارِ زندہ کی لذّت سے بے نصیب رہا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%8C"} {"title": "فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں\nڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں\n\nمعرفت خالق کی عالم میں بہت دشوار ہے\nشہر تن میں جب کہ خود اپنا پتا ملتا نہیں\n\nغافلوں کے لطف کو کافی ہے دنیاوی خوشی\nعاقلوں کو بے غم عقبیٰ مزا ملتا نہیں\n\nکشتئ دل کی الٰہی بحر ہستی میں ہو خیر\nناخدا ملتے ہیں لیکن با خدا ملتا نہیں\n\nغافلوں کو کیا سناؤں داستان عشق یار\nسننے والے ملتے ہیں درد آشنا ملتا نہیں\n\nزندگانی کا مزا ملتا تھا جن کی بزم میں\nان کی قبروں کا بھی اب مجھ کو پتا ملتا نہیں\n\nصرف ظاہر ہو گیا سرمایۂ زیب و صفا\nکیا تعجب ہے جو باطن با صفا ملتا نہیں\n\nپختہ طبعوں پر حوادث کا نہیں ہوتا اثر\nکوہساروں میں نشان نقش پا ملتا نہیں\n\nشیخ صاحب برہمن سے لاکھ برتیں دوستی\nبے بھجن گائے تو مندر سے ٹکا ملتا نہیں\n\nجس پہ دل آیا ہے وہ شیریں ادا ملتا نہیں\nزندگی ہے تلخ جینے کا مزا ملتا نہیں\n\nلوگ کہتے ہیں کہ بد نامی سے بچنا چاہئے\nکہہ دو بے اس کے جوانی کا مزا ملتا نہیں\n\nاہل ظاہر جس قدر چاہیں کریں بحث و جدال\nمیں یہ سمجھا ہوں خودی میں تو خدا ملتا نہیں\n\nچل بسے وہ دن کہ یاروں سے بھری تھی انجمن\nہائے افسوس آج صورت آشنا ملتا نہیں\n\nمنزل عشق و توکل منزل اعزاز ہے\nشاہ سب بستے ہیں یاں کوئی گدا ملتا نہیں\n\nبار تکلیفوں کا مجھ پر بار احساں سے ہے سہل\nشکر کی جا ہے اگر حاجت روا ملتا نہیں\n\nچاندنی راتیں بہار اپنی دکھاتی ہیں تو کیا\nبے ترے مجھ کو تو لطف اے مہ لقا ملتا نہیں\n\nمعنیٔ دل کا کرے اظہار اکبرؔ کس طرح\nلفظ موزوں بہر کشف مدعا ملتا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%AD%D8%AB_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%B1_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں\nجہاں بجتے ہیں نقارے وہیں ماتم بھی ہوتے ہیں\n\nگلے شکوے کہاں تک ہوں گے آدھی رات تو گزری\nپریشاں تم بھی ہوتے ہو پریشاں ہم بھی ہوتے ہیں\n\nجو رکھے چارہ گر کافور دونی آگ لگ جائے\nکہیں یہ زخم دل شرمندہ مرہم بھی ہوتے ہیں\n\nوہ آنکھیں سامری فن ہیں وہ لب عیسیٰ نفس دیکھو\nمجھی پر سحر ہوتے ہیں مجھی پر دم بھی ہوتے ہیں\n\nزمانہ دوستی پر ان حسینوں کی نہ اترائے\nیہ عالم دوست اکثر دشمن عالم بھی ہوتے ہیں\n\nبظاہر رہنما ہیں اور دل میں بدگمانی ہے\nترے کوچے میں جو جاتا ہے آگے ہم بھی ہوتے ہیں\n\nہمارے آنسوؤں کی آبداری اور ہی کچھ ہے\nکہ یوں ہونے کو روشن گوہر شبنم بھی ہوتے ہیں\n\nخدا کے گھر میں کیا ہے کام زاہد بادہ خواروں کا\nجنہیں ملتی نہیں وہ تشنۂ زمزم بھی ہوتے ہیں\n\nہمارے ساتھ ہی پیدا ہوا ہے عشق اے ناصح\nجدائی کس طرح سے ہو جدا توام بھی ہوتے ہیں\n\nنہیں گھٹتی شب فرقت بھی اکثر ہم نے دیکھا ہے\nجو بڑھ جاتے ہیں حد سے وہ ہی گھٹ کر کم بھی ہوتے ہیں\n\nبچاؤں پیرہن کیا چارہ گر میں دست وحشت سے\nکہیں ایسے گریباں دامن مریم بھی ہوتے ہیں\n\nطبیعت کی کجی ہرگز مٹائے سے نہیں مٹتی\nکبھی سیدھے تمہارے گیسوئے پر خم بھی ہوتے ہیں\n\nجو کہتا ہوں کہ مرتا ہوں تو فرماتے ہیں مر جاؤ\nجو غش آتا ہے تو مجھ پر ہزاروں دم بھی ہوتے ہیں\n\nکسی کا وعدۂ دیدار تو اے داغؔ برحق ہے\nمگر یہ دیکھیے دل شاد اس دن ہم بھی ہوتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "فلک قتل سبط پیمبر ہے کل", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "فلک قتل سبط پیمبر ہے کل\nیہ ہنگامہ ہونا مقرر ہے کل\nسحر شام تیرہ سے بدتر ہے کل\nبلا کل مکل ہے کہ محشر ہے کل\n\nکہاں ہوگا افسر سر شہ کہاں\nیہ خیمہ کہاں اور خرگہ کہاں\nجو کچھ ہے حشم آج سو یہ کہاں\nنہ حاکم نہ یاور نہ داور ہے کل\n\nنہ ہوگا کوئی جو کرے داوری\nرہے گی وہ لاش اس زمیں پر پڑی\nنگہبان ہوگا خداے قوی\nمصیبت عجیب ایک اس پر ہے کل\n\nنہ ہوگا کوئی یار و انصار آہ\nنہ خویش و برادر نہ رتبہ نہ جاہ\nمرے گا بہت ہوکے بیکس وہ شاہ\nنہ قاسم نہ اکبر نہ اصغر ہے کل\n\nجو بازو ہیں جاویں گے سب دے کے جاں\nنظر جس کے اوپر کرے سو کہاں\nستم ہوگا چاروں طرف سے عیاں\nنہ احمدؐ معاون نہ حیدر ہے کل\n\nنہ عباس ہوگا نہ ہوگا علم\nکہ ہاتھ اس کا بازو سے ہوگا قلم\nرہیں گے جو پیچھے کسان حرم\nسو ان کو نہ جاگہ نہ گھر در ہے کل\n\nسر شہ نہ ہوگا یہ اسرار ہے\nکسان حرم اور بازار ہے\nرہے گا جو سجاد بیمار ہے\nسو اس کو نہ دارو نہ بستر ہے کل\n\nمعزز حرم کے رہیں گے جو لوگ\nپریشاں پھریں گے گرفتار سوگ\nاسیری و غارت سے چالوں کو روگ\nنہ پردہ انھوں کو نہ چادر ہے کل\n\nجہاں جاے عبرت ہے کیا اعتبار\nہمیشہ نہیں ایک کا اختیار\nشکست شہ دیں سے ہے آشکار\nنہ وہ کوکبہ ہے نہ لشکر ہے کل\n\nدم آب ہووے گا نایاب وھاں\nنہ کنبہ قبیلہ نہ احباب وھاں\nنہ دولت سرا وہ نہ اسباب وھاں\nنہ ساماں نہ سر ہے نہ سرور ہے کل\n\nتن نازنیں ہوگا گھائل تمام\nبلا ہوگا اس ایک پر ازدحام\nجبیں سے بہے گا لہو لعل فام\nگلوے مبارک پہ خنجر ہے کل\n\nبچے گا جو بیٹا سو ہوگا اسیر\nعزیز حرم سب بحال تغیر\nبکا کرتے ہیں ہوں گے صغیر و کبیر\nکہاں ایسی غارت سے وہ گھر ہے کل\n\nسکینہ کہے گی پدر کیا ہوا\nکرے دل دہی جو گلے سے لگا\nنہ کلثوم کے پاس ہوگی ردا\nنہ زینب کے تارک پہ معجر ہے کل\n\nقیامت ہے اودھر کو ہوگا گذار\nجدھر اس طرح کا ہوا کارزار\nنظر آوے گی لاش شہ ایک بار\nنہ ہوگا وہ ساماں نہ وہ سر ہے کل\n\nفلک حال پر تیرے روتے ہیں آہ\nکہاں ہوں گے یہ دیدۂ مہر و ماہ\nجہاں ان کی آنکھوں میں ہوگا سیاہ\nکرے سوجھتا تو تو بہتر ہے کل\n\nنہ ہووے گا سادات میں مرد ایک\nمگر عابدیں زار اور زرد ایک\nزمیں سے اٹھے گی سیہ گرد ایک\nسپہر بریں تک مکدر ہے کل\n\nسر شہ سناں پر رکھا جاوے گا\nلٹا قافلہ بھی چلا جاوے گا\nبس اب مت لکھے کیا لکھا جاوے گا\nزمانہ ہی اے میرؔ دیگر ہے کل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%82%D8%AA%D9%84_%D8%B3%D8%A8%D8%B7_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A8%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%84"} {"title": "فلک نے ابر مرے سینہ کا بخار کیا", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فلک نے ابر مرے سینہ کا بخار کیا\nمجھے مجھی پہ ستم گر نے اشک بار کیا\n\nہر ایک ذرہ نے ایجاد صد بہار کیا\nیہ میری خاک کو کس گل نے رہ گزار کیا\n\nبلا ہے شوق شہادت نہ اس نے وار کیا\nجگر کو آپ ہی بڑھ کر سناں کے پار کیا\n\nمیں خوش ہوں وعدۂ فردا پہ کون شخص ہوں میں\nوہ شوخ اور یہ عمر اس پہ اعتبار کیا\n\nکچھ ایسی چیز نہ تھے دو جہان کیا ہوتے\nدکھا کے آئنہ تم پر تمہیں نثار کیا\n\nزمیں میں زلزلہ ہے آسماں میں تہلکہ ہے\nکسی نے آج کسی دل کو بے قرار کیا\n\nیہ آبلے نہیں نکلی ہے آنکھ ہر مو پر\nترا تو میرے سراپے نے انتظار کیا\n\nمذاق عشق تو دیکھو کہ دل ہی دل نکلے\nجو چاک سینہ مرا صورت انار کیا\n\nہنوز سنگ میں آئینہ ہے خوشا فرہاد\nکہ بعد مرگ بھی شیریں کا انتظار کیا\n\nطریق عشق میں کی بے خودی سے طے منزل\nیہ تھی وہ رہ کہ نہ اپنا بھی اعتبار کیا\n\nکہ کیوں ہو عاشق و معشوق کا جہاں دشمن\nکہ حسن و عشق نے اچھوں کو بے قرار کیا\n\nادھر وہ جلوہ کہ موسیٰ کو بے حواس رکھا\nادھر یہ جذبہ کہ یوسف کو بے دیار کیا\n\nسروں پہ داور محشر نے فرش کیں آنکھیں\nتمہارے آنے کا کیا کیا نہ انتظار کیا\n\nبیاںؔ مرا دل خونیں وہ قطرہ ہے جس کو\nمحیط اعظم غم ہائے روزگار کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "فلک نے رنج تیر آہ سے میرے زبس کھینچا", "poet_page": "مصنف:سراج الدین خان آرزو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فلک نے رنج تیر آہ سے میرے زبس کھینچا\nلبوں تک دل سے شب نالے کو میں نے نیم رس کھینچا\n\nمرے شوخ خراباتی کی کیفیت نہ کچھ پوچھو\nبہار حسن کو دی آب اس نے جب چرس کھینچا\n\nرہا جوش بہار اس فصل گر یوں ہی تو بلبل نے\nچمن میں دست گلچیں سے عجب رنج اس برس کھینچا\n\nکہا یوں صاحب محمل نے سن کر سوز مجنوں کا\nتکلف کیا جو نالہ بے اثر مثل جرس کھینچا\n\nنزاکت رشتہ الفت کی دیکھو سانس دشمن کی\nخبردار آرزوؔ ٹک گرم کر تار نفس کھینچا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%86%DB%92_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D8%A2%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B2%D8%A8%D8%B3_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%D8%A7"} {"title": "فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کو\nنکالا سر سے میرے جائے مو خار مغیلاں کو\n\nوہ ظالم بھی تو سمجھے کہہ رکھا ہے ہم نے یاراں کو\nکہ گورستان سے گاڑیں جدا ہم اہل ہجراں کو\n\nنہیں یہ بید مجنوں گردش گردون گرداں نے\nبنایا ہے شجر کیا جانیے کس مو پریشاں کو\n\nہوئے تھے جیسے مر جاتے پر اب تو سخت حسرت ہے\nکیا دشوار نادانی سے ہم نے کار آساں کو\n\nکہیں نسل آدمی کی اٹھ نہ جاوے اس زمانے میں\nکہ موتی آب حیواں جانتے ہیں آب انساں کو\n\nتجھے گر چشم عبرت ہے تو آندھی اور بگولے سے\nتماشا کر غبار افشانی خاک عزیزاں کو\n\nلباس مرد میداں جوہر ذاتی کفایت ہے\nنہیں پروئے پوشش معرکے میں تیغ عریاں کو\n\nہوائے ابر میں گرمی نہیں جو تو نہ ہو ساقی\nدم افسردہ کر دے منجمد رشحات باراں کو\n\nجلیں ہیں کب کی مژگاں آنسوؤں کی گرم جوشی سے\nاس آب چشم کی جوشش نے آتش دی نیستاں کو\n\nوہ کافر عشق کا ہے دل کہ میری بھی رگ جاں تک\nسدا زنار ہی تسبیح ہے اس نا مسلماں کو\n\nغرور ناز سے آنکھیں نہ کھولیں اس جفا جو نے\nملا پاؤں تلے جب تک نہ چشم صد غزالاں کو\n\nنہ سی چشم طمع خوان فلک پر خام دستی سے\nکہ جام خون دے ہے ہر سحر یہ اپنے مہماں کو\n\nزبس صرف جنوں میرے ہوا آہن عجب مت کر\nنہ ہو گر حلقۂ در خانۂ زنجیر سازاں کو\n\nبنے نا واقف شادی اگر ہم بزم عشرت میں\nدہان زخم دل سمجھے جو دیکھا روئے خنداں کو\n\nنہیں ریگ رواں مجنوں کے دل کی بے قراری نے\nکیا ہے مضطرب ہر ذرۂ گرد بیاباں کو\n\nکسی کے واسطے رسوائے عالم ہو پہ جی میں رکھ\nکہ مارا جائے جو ظاہر کرے اس راز پنہاں کو\n\nگری پڑتی ہے بجلی ہی تبھی سے خرمن گل پر\nٹک اک ہنس میرے رونے پر کہ دیکھے تیرے دنداں کو\n\nغرور ناز قاتل کو لیے جا ہے کوئی پوچھے\nچلا تو سونپ کر کس کے تئیں اس صید بے جاں کو\n\nوہ تخم سوختہ تھے ہم کہ سر سبزی نہ کی حاصل\nملایا خاک میں دانہ نمط حسرت سے دہقاں کو\n\nہوا ہوں غنچۂ پژمردہ آخر فصل کا تجھ بن\nنہ دے برباد حسرت کشتۂ سر در گریباں کو\n\nغم و اندوہ و بیتابی الم بے طاقتی حرماں\nکہوں اے ہم نشیں تا چند غم ہاے فراواں کو\n\nگل و سرو و سمن گر جائیں گے مت سیر گلشن کر\nملا مت خاک میں ان باغ کے رعنا جواناں کو\n\nبہت روئے جو ہم یہ آستیں رکھ منہ پہ اے بجلی\nنہ چشم کم سے دیکھ اس یادگار چشم گریاں کو\n\nمزاج اس وقت ہے اک مطلع تازہ پہ کچھ مائل\nکہ بے فکر سخن بنتی نہیں ہرگز سخنداں کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%86%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88"} {"title": "فلک نے ہونا اکبر کا نہ چاہا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "فلک نے ہونا اکبر کا نہ چاہا\nگیا قاسم جسے سب نے سراہا\nکوئی دن شہ نے جوں توں کر نباہا\nعجائب سانحہ گذرا الٰہا\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nموئے یار و برادر اس کے پیارے\nسو ہوکر تشنہ لب دریا کنارے\nتماشائی تھے لوگ امت کے سارے\nکہیں سو کیا کہیں ہم غم کے مارے\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nکہے وہ اے کماں داراں سواراں\nپیاسے مارے میرے دوستداراں\nجواب اس کا یہ تھا منصف ہو یاراں\nنہ دیجے پانی کریے تیرباراں\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nعزیز ایسا کہ جو مہمان ہووے\nتصدق اس پہ کی گر جان ہووے\nنہ اس کے سر پہ یہ طوفان ہووے\nکہ قطرہ آب کو حیران ہووے\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nنپٹ اوقات کے تیں تنگ آیا\nبہت کچھ دل کا دل ہی میں سمایا\nسخن ہرگز زباں اوپر نہ لایا\nکہا سو یہ کہ کیا کہیے خدایا\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nبڑے بیٹے سے بیٹھا ہاتھ دھو کر\nرہا چھوٹے کو چپکے چپکے رو کر\nلگی چھاتی میں غم کی زور ٹھوکر\nکہے کیا غیر ازیں دل تنگ ہو کر\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nبرابر خاک سے تاج شہی تھا\nجو کچھ ٹھانا تھا جی میں سو سہی تھا\nثبات پا وہیں سر میں وہی تھا\nاگر لب پر کچھ آتا تھا یہی تھا\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nکس و کو یک طرف سب اس کے بیکس\nاکیلا خود ہزاروں میں گیا پھنس\nرہا نومید ہو جب وہ خدارس\nکہ یعنی ہوچکے اپنے تو اب بس\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nپھر اس کو پڑ گئی جی ہی کی آکر\nکسو جانب نہ دیکھا آنکھ اٹھا کر\nکوئی ہوتا تو کچھ کہتا بلاکر\nسو نے خویش و پسر نے یار و یاور\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nستم کیسا اٹھایا گھر لٹایا\nسبھوں کی مرگ کے دیکھے قضایا\nرہا کھویا گیا سا سر کٹایا\nکہے غم جس سے ٹک سو وہ نہ پایا\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nرضاے حق کا مرتے تک تھا جویا\nلگی چپ ایسی تھا تصویر گویا\nبھر آیا جی بہت لیکن نہ رویا\nغرض بے آبی نے سب گھر ڈبویا\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nنہ پوچھو جس دم اس کا خوں بہا تھا\nستم خنجر کا گردن نے سہا تھا\nطرف قبلے کے منھ کر جھک رہا تھا\nکہا سو یہ دم آخر کہا تھا\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nرہا عابد سو اس پر یہ مصیبت\nبدن میں زور تپ سے کچھ نہ طاقت\nنگہ میں ناامیدی تنگ حالت\nلبوں پر صدہزار افسوس و حسرت\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nکہو کس کس کا اس کے نام لیجے\nموئے سب بھانجے بھائی بھتیجے\nرہا تھا یہ سو اس کو بندی کیجے\nبندھے وے ہاتھ جن پر بوسہ دیجے\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nمہار اونٹوں کی اس کے ہاتھ میں تھی\nگلے میں طوق جس سے تھی غشی سی\nقدم رکھتا تو جاتا تھا چلا جی\nجگر اس کا ہی تھا چھاتی اسی کی\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nاسیر و خستہ دل بے زور و زر تھا\nکٹا سر باپ کا پیش نظر تھا\nنہ یاور تھا نہ داور تھا نہ گھر تھا\nقیامت تھی غضب تھا شور و شر تھا\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nکھنچا آیا پدرمردہ ستم کش\nضعیف و ناتواں صدگونہ غم کش\nیتیم و بیکس و حیراں الم کش\nیہی کہتا تھا ہوتا بھی جو دم کش\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nادھر کلثوم کا نالیدن زار\nادھر زینب کی غم سے چشم خونبار\nسکینہ باپ کو روتی تھی ہر بار\nکرے کیا لاعلاجی اور بیمار\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nہوا لاشے پہ شہ کے جو گذارا\nتن بے سر زمیں پر کر نظارہ\nکرے کیا قافلہ ناچار سارا\nکہا سب نے نہان و آشکارا\nفآہا ثم آہا ثم آہا\n\nنہ لکھ بس میرؔ بے طوری ایام\nسر اس صبح سعادت کا چلا شام\nگیا وہ جمع بھی ناچار ناکام\nنظر کر کہتے تھے سو بار ہر گام\nفآہا ثم آہا ثم آہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A7"} {"title": "فلک چکر میں کیوں چونسٹھ گھڑی ہے", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فلک چکر میں کیوں چونسٹھ گھڑی ہے\nگرہ اس کے بھی طالع میں کڑی ہے\n\nکوئی عیسیٰ نفس ہے آنے والا\nاجل گوشہ میں وہ دبکی کھڑی ہے\n\nترے در پر ہجوم عاشقاں ہے\nتمنا بھی تمنائی کھڑی ہے\n\nتبسم سے ترے گلشن میں ہے نور\nگلوں پر چاندنی لوٹی پڑی ہے\n\nاگر عاشق نہیں موئے کمر پر\nیہ چوٹی کس لئے پیچھے پڑی ہے\n\nکوئی ہٹتی ہے حسرت ان کے در سے\nکھڑی ہے ڈٹ گئی ہے جا اڑی ہے\n\nبہ وقت ذبح بسمل تیغ ہوگی\nدل عاشق کو ایسی تر پھڑی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9_%DA%86%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%86%D9%88%D9%86%D8%B3%D9%B9%DA%BE_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "فلک کرنے کے قابل آسماں ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فلک کرنے کے قابل آسماں ہے\nکہ یہ پیرانہ سر جاہل جواں ہے\n\nگئے ان قافلوں سے بھی اٹھی گرد\nہماری خاک کیا جانیں کہاں ہے\n\nبہت نا مہرباں رہتا ہے یعنی\nہمارے حال پر کچھ مہرباں ہے\n\nہمیں جس جائے کل غش آ گیا تھا\nوہیں شاید کہ اس کا آستاں ہے\n\nمژہ ہر اک ہے اس کی تیز ناوک\nخمیدہ بھوں جو ہے زوریں کماں ہے\n\nاسے جب تک ہے تیر اندازی کا شوق\nزبونی پر مری خاطر نشاں ہے\n\nچلی جاتی ہے دھڑکوں ہی میں جاں بھی\nیہیں سے کہتے ہیں جاں کو رواں ہے\n\nاسی کا دم بھرا کرتے رہیں گے\nبدن میں اپنے جب تک نیم جاں ہے\n\nپڑا ہے پھول گھر میں کاہے کو میرؔ\nجھمک ہے گل کی برق آشیاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "فلک کی گردشیں ایسی نہیں جن میں قدم ٹھہرے", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "فلک کی گردشیں ایسی نہیں جن میں قدم ٹھہرے\nسکوں دشوار ہے کیوں کر طبیعت کوئی دم ٹھہرے\n\nقضا نے دوستوں سے دیکھیے آخر کیا نادم\nکئے تھے عہد و پیماں جس قدر وہ کل عدم ٹھہرے\n\nچھوا تو نے جسے مارا اسے اے افعئ گیسو\nیہ سب تریاق میرے تجربہ کرنے میں سم ٹھہرے\n\nکیا جب غور کوسوں دور نکلی منزل مقصد\nکبھی گر پائے شل اٹھے تو چل کر دو قدم ٹھہرے\n\nلگا کر دل جدا ہونا نہ تھی شرط وفا صاحب\nغم فرقت کی شدت سے کرم جور و ستم ٹھہرے\n\nجو کچھ دیکھا وہ آئینہ تھا آنے والی حالت کا\nجہاں دیکھا یہی آنکھوں کے کانسے جام جم ٹھہرے\n\nعمل کہنے پہ اپنے حضرت واعظ کریں پہلے\nگنہ کے معترف جب ہیں تو وہ کب محترم ٹھہرے\n\nجوانی کی سیہ مستی میں وصف زلف لکھا تھا\nبڑھا وہ سلسلہ ایسا کہ ہم مشکیں قلم ٹھہرے\n\nیہ ثابت ہے کہ مطلق کا تعین ہو نہیں سکتا\nوہ سالک ہی نہیں جو چل کے تا دیر و حرم ٹھہرے\n\nبشر کو قید کلفت مایۂ اندوہ و آفت ہے\nرہے اچھے جو اس مہماں سرا میں آ کے کم ٹھہرے\n\nحبیبؔ ناتواں سے راہ الفت طے نہیں ہوتی\nعجب کیا گر یہ رستہ جادۂ ملک عدم ٹھہرے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D8%AF%D9%85_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1%DB%92"} {"title": "فن اخبار نویسی", "poet_page": "مصنف:ابو الکلام آزاد", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "یورپ اور امریکہ نے جو آج کل حیرت انگیز ترقی کی ہے، اور علوم و فنون، تہذیب و شائستگی میں جوان کا آج طوطی بول رہا ہے، ان میں من جملہ اور اسباب ترقی سے ایک بڑا سبب اخبار دیکھنا ہے، جسے اعلیٰ سے لے کر ادنیٰ تک اور بچے سے لے کر بوڑھے تک روزانہ ہر ایک دیکھا کرتا ہے اور علمی و عملی فیوضات حاصل کرتا ہے۔ چوں کہ کچھ عرصہ سے ہندوستان اور پنجاب میں بھی اخباروں کا چرچا ہو رہا ہے۔ اکثر اردو اخبارات ترقی کر رہے ہیں، لوگوں کو ایک حد تک ان سے دلچسپی بھی ہو گئی ہے، اس لیے ہم اس فن کی مختصر تاریخ اور اس کے اقسام وغیرہ بیان کرتے ہیں۔\n\nاخبار کا موجد اس بارے میں سخت اختلاف ہے کہ اخبار کا موجد کون ہے، چین والے اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کی ایجاد کرنے والے ہم ہیں۔ روما والے مدعی ہیں کہ جناب مسیح علیہ السلام سے کئی سال پیشتر ہم نے جاری کیا تھا۔ لیکن یہ تمام باتیں پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتیں، کیوں کہ اگر تسلیم کر لیا جائے کہ فی الواقع اہل چین یا اہل روما اس کے موجد ہیں، اور سیکڑوں برس پہلے یہ شائع کر چکے ہیں تو بھی ان کا مدعا ثابت نہیں ہوتا۔ ہم جس اخبار کا بیان کر رہے ہیں، اور اخبار سے جو مفہوم بالفعل سمجھا جاتا ہے، اس میں اور اس میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ والشتان بینہ۔ اخبار جب ہی اخبار ہو سکتا ہے جب کہ اس کے متعدد نسخے اشاعت کی غرض سے موجود ہوں، اور ساتھ ہی مختلف مقامات میں بھیجنے کے آسان وسائل بھی میسر ہوں۔ اور یقیناً اس زمانے میں یہ تمام باتیں مفقود تھیں۔ نہ تو مطبع تھا کہ دس چھوڑ ہزار نسخے بہم ہو جائیں۔ اور نہ یہ انتظام ریل تھا کہ جہاں چاہیں مشرق سے مغرب تک اور جنوب سے شمال تک بھیج دیں۔ اس لیے اس زمانے کے اخبار پر اخبار کا اطلاق ہو ہی نہیں سکتا۔ بس اخبار جب ہی سے اخبار ہوسکتا ہے جب سے یہ چھاپہ خانہ ایجاد ہوا ہے، اس اعتبار سے اس چیز کی ایجاد کا سہرا اہل جرمن کے سر باندھنا چاہیے، جنہوں نے پندرھویں صدی عیسوی میں پہلا اخبار دنیا میں پیش کیا، اور ہمارے نزدیک پہلے پہل یہی اخبار شائع ہوا۔ والعلم عند اللہ۔ انگلستان انگلستان میں پہلے پہل اخبار ۱۶۲۲ء میں جاری ہوا۔ یہ وہی اخبار ہے جو آج کل ٹائمز کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ پہلے اس کا نام ویکلی نیوز تھا۔ پھر ۱۷۸۵ء سے ٹائمزکا نام اختیار کر چکا ہے، اس کے بعد ٹیٹلر وغیرہ اسٹیل اور اڈیسن نے شائع کیے، اور پھر گویا یہ راستہ سبھوں کو معلوم ہو گیا۔ لیکن اس کی اصل داغ بیل انگلستان میں ویکلی نیوز ہی نے ڈالی۔ فرانسفرانس میں پہلا اخبار ۱۶۳۱ء میں شائع ہوا۔ جس کا نام گزٹ دی فرانس تھا۔ اس میں زیادہ تر ملکی معاملات پر بحث ہوا کرتی تھی۔ اس کے بعد بہت سے اخبار شائع ہوئے، لیکن ابتداء میں فرانس سے ۱۶۳۱ء ہی کو اخبار نکلا۔ روس روس میں پہلا اخبار ۱۷۰۳ء میں شائع ہوا۔ امریکہ یہ کون نہیں جانتا کہ جو ترقی امریکہ نے اخبارات میں کی ہے وہ یورپ کو نصیب نہیں ہوئی۔ بڑی تحقیق سے معلوم ہوا کہ اخبار یہاں سے پہلے پہل ۱۷۰۳ء میں شائع ہوا۔ اس کا نام بوسٹن نیوز لیٹر تھا اور اس کا دفتر شمالی امریکہ میں تھا۔ اس سے قبل اہلِ امریکہ جانتے بھی نہ تھے کہ اخبار کیا چیز ہے۔ آج جو ترقی امریکہ کو نصیب ہوئی ہے وہ بہت کچھ اخبار ہی کی بدولت ہے۔ اخبار کی قسمیں یورپ میں جہاں اس مفید اخبار نویسی نے اعلیٰ درجے کی ترقی کی ہے۔ اخبار کی بہت سی قسمیں ہو گئی ہیں۔ اور ہر ایک قسم کے اخبار ایک نہیں سیکڑوں شائع ہوتے ہیں۔ مگر اس کی مفید اقسام اور اعلیٰ مضامین یہ ہیں، اقسامگزٹ، میگزین، ریویو، جرنل وغیرہمضامینمذہبی، تعلیمی، تجارتی، قومی، ٹیکنیکل وغیرہاخبارکی تعریف چوں کہ اخبار کے بانی اور موجد اہل یورپ ہیں، اس لیے انہیں کی تعریف ہمارے نزدیک معتبر ہے۔ اخبار جمع ہے خبر کی۔ خبر کو انگریزی میں نیوز کہتے ہیں۔ نیوز میں چار حرف ہیں۔ NEWSیہ چار حرف ان چار لفظوں کا اشارہ کرتے ہیں، (۱) N (اشارہ ہے) North کا جس کے معنی ہیں شمال۔ (۲) E (اشارہ ہے) East کا جس کے معنی ہیں مشرق۔ (۳) W (اشارہ ہے) West کا جس کے معنی ہیں مغرب۔ (۴) S (اشارہ ہے) South کا جس کے معنی ہیں جنوب۔ اب دیکھو کہ اس چھوٹے سے جملے میں کتنی بڑی وسعت ہے کہ جہات اربعہ کو لئے ہوئے ہے۔ بس اخبار کی تعریف یہ ہوئی کہ وہ مجموعہ اک وقت معین پر شائع ہونے والا جس میں مغرب، مشرق، جنوب، شمال کی تمام خبریں اور ان جہات اربعہ کے متعلق مفید باتیں درج ہوں۔ اخبار کے فوائد ناظرین! کیا اخبار کے سوا دنیا میں کوئی بڑی سے بڑی ایسی دور بین ہے جس سے آپ دنیا کو اپنا منظر بنا سکیں؟ اور کیا اخبار کے سوا کوئی اونچے سے اونچا بلند مقام یا کوئی پہاڑ ہے جس پر بیٹھ کر آپ تمام دنیا کا مظاہرہ کر سکیں؟ نہیں! ہرگز نہیں! نہ دنیا میں کوئی ایسی دوربین ہے نہ کوئی ایسا بلند مقام ہے۔ یہ صرف اخبار ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے ملاحظےسے آپ تمام دنیا کو ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ اور جس کے حاصل کرنے سے آپ تمام دنیا کے نظارے حاصل کر سکتے ہیں۔ پچھلے زمانے میں واقفیت اور معلومات حاصل کرنے کا، عجائبات عالم دیکھنے کا، سوائے سفر کے دوسرا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ مگر اس میں علاوہ صرف کثیر کے کہ جس کی وجہ سے غریب اور مفلس شخص اس سے مستفیض نہیں ہوسکتا، محنت، تکلیف اور پریشانی بہت تھی، اور بعض اوقات خود جان کا خطرہ تھا۔ علاوہ بریں اگر ایک شخص متعلقین کی جدائی اور پریشانیوں کا متحمل بھی ہوتا، اور تمام عمر سیاحی بھی اختیار کرتا، جب بھی تمام دنیا کی سیرنہیں کرسکتا تھا لیکن اخبار ایک ایسی چیز ہے کہ گھر بیٹھے بلامحنت و مشقت تمام دنیا کی سیر کرے اور معلومات اور عجائبات عالم کی سیر سے طبیعت کو محظوظ کرے۔ یورپ میں اخبار سلطنت کا ایک جزو اعظم سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ رعیت کے خیالات کی باگ فی الواقع اخبار کے ہاتھ میں ہے۔ پرنس بسمارک کی کیفیت یہ تھی کہ جب کبھی معاملات ملکی میں اسے کوئی خاص طرز اختیار کرنی ہوتی تھی تو اس سے قبل ہی وہ اخبار میں تاکیدی مضامین شائع کرا دیتا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ تمام ملک اس کا ہم زبان ہوکر اسی کا کلمہ پڑھنے لگتا تھا۔ یورپ کے اخباروں کو آج وہ طاقت حاصل ہے کہ جو چاہیں سو کریں، ایک سے دوسرے کی جنگ کرا دیں یا کسی جنگ میں صلح کرا دیں یا ایک کا ملک چھنوا کر دوسرے کو دلوا دیں۔ کسی عہدہ دار کو معزول کرانا اور کسی ادنیٰ شخص کو اعلیٰ عہدے دار بنانا ان اخبار ات کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اخبار کی خاص صفتیں اخبار گورنمنٹ کے حقوق اور منشا کی حفاظت کرتا اور رعایا کے حقوق گورنمنٹ سے حاصل کرتا ہے۔ اخبار علمی مذاق ہر طور سے پھیلاتا ہے، اور قابلِ توجہ باتوں پر توجہ دلاتا ہے۔ اخبار غیر ملکوں کی اچھی باتوں کو ہم تک پہنچاتا ہے۔ اور ہماری باتوں کی ان تک اشاعت کرتا ہے۔ اخبار ہر ملک کے حالات، رسم و رواج، آب و ہوا، طرز معاشرت، طرز حکومت، مذاہب، عادات و اخلاق، قوانین سلطنت، جھگڑے فساد، جنگ وجدل کو اخباری حیثیت سے لکھتا ہے، اور ان پر بحث کرتا ہے۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی اور اچھے کو برے سے جدا کرتا ہے۔ اخبار ناظرین کی معلومات کو بڑھاتا ہے، اور ان کے علم کو جلا دیتا ہے۔ اخبار غلط خیالوں کی تردید کرتا ہے، اور سچے خیالوں کی تائید کرتا ہے۔ اخبار انسان کی تعریف اور فضیلت انسانیت بیان کر کے رؤسا اور امرا کو انسانیت کی جانب بلاتا ہے۔ اور ان کو علوم و صنائع وحرفت کی تعلیم عام کرنے اور مریضوں کو دوا اور علاج کے نئے مدرسے اور نئے شفاخانے قائم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اخبار فوائدِعدالت بیان کر کے حاکم کو اس کی جانب توجہ دلاتا ہے اور گویا تمام رعایا کی وکالت کرتا ہے۔ ان کی فریاد اور شکایتوں کو گوشِ حکومت تک پہنچاتا ہے۔ اخبار حکام اور عمال اور معمورین رشوت خور اور ظالموں کے ظلم و جبر کے رفع کرنے میں کوشش کرتا ہے، اور منتظمینِ اعلیٰ کو اس کی اطلاع دے کر اس کا کافی انسداد کرتا ہے۔ اخبار ہر ایک عالم عاقل کی امانت افکار اور ودیعت خیالات کو دوسرے عالم، عاقل کی نگاہوں اور کانوں تک پہنچاتا ہے، اور علماء، عقلا کو ایک دوسرے سے آگاہ کرتا، اور مبادلۂ خیال کا موقع دیتا ہے۔ اخبار اپنی قوم کے اجزائے پراگندہ اور اعضائے متفرقہ کو یک جا کر کے حیاتِ تازہ بخشتا ہے، اور از سر نو زندہ کرتا ہے۔ اخبار اپنے ناظرین کو بیٹھے بٹھائے تمام عالم کی سیر و سیاحت سے تجربہ کار بناتا اور خوش اور محظوظ و مسرور کرتا ہے۔ اخباردوست دارانِ اُمت اور محبانِ قوم کو دشمنوں اور عدوؤں سے جدا کرتا ہے، اور لباسِ کذب اور پردہ فریب کو چاک چاک کر دیتا ہے۔ اخبار شر اور بدبختی کی گھاٹیوں اور مکین گاہوں سے بچانے کی غرض سے خبر دے کر خیر اور سعادت، نیک بختی اور بصیرت کی شاہراہوں کا راستہ بتاتا ہے تاکہ قوم بری راہ نہ چلے، اور صراطِ مستقیم سے منزلِ مقصود تک پہنچ جائے۔ اخبار جس چیز میں ملک کا فائدہ دیکھتا ہے، فوراً اسے محبتانہ الفاظ میں قوم پر ظاہر کر دیتا ہے، اور نکتہ چینی اور اعتراض کی راہ سے ہمیشہ بچتا رہتا ہے۔ اخبار ایسے ضروری امورات اور معارف کا جن کا جاننا ہر فرد بشر پر ضروری ہے، عام فہم عبارت میں، جس سے عوام الناس کا انتباہ ہو، ذکر کرتا ہے۔ اخبار پست ہمتوں کے برانگیختہ کرنے اور مردہ لوگوں کو زندگی بخشنے کے لیے ملک کی دلچسپ ترقیات اور حالات کو اور صالحین کے کارناموں کو نہایت مؤثرالفاظ میں بیان کرتا ہے، اور ان کے عمدہ خصائل کو بیان کر کے قوم کو ان کی تقلید پر آمادہ کرتا ہے کہ تذکرۃ الاسلاف تبصرۃ الاخلاف ہے۔\n\nاخبار ہمیشہ اخلاق جمیلہ اور خصائل پسندیدہ کے اوصاف اور عادات رذیلہ کے نقصانات بیان کرکے قوم کو اچھی باتوں پر مائل اور بری باتوں سے متنفر کرتا ہے۔ اخبار سے ذہن اور عقل میں ترقی ہوتی ہے، اور علمی مذاق بڑھتا ہے۔ الغرض اخبار کے فوائد بے شمار ہیں جن کے بیان سے اتنا کہہ دینا بہتر ہے کہ جو شخص دنیا میں اپنے برے بھلے کی تمیز کرنا چاہے، اور دنیا میں رہ کر دنیا کی عمدہ باتوں کو حاصل کرنا اور بری باتوں کو چھوڑنا چاہے، حقائق و معارف اور مختلف علمی و عملی معلومات کا شوق رکھتا ہو، اور دنیا میں مہذب اور شائستہ، عاقل و فرزانہ ہوکر رہنا چاہے، اور گھر بیٹھے بلا صرف و خرچ ایک استاد شفیق تلاش کرنا ہو تو وہ اخبار بینی اختیار کرے۔ اخبار آپ کو بتاتا ہے کہ دیکھو! فلاں ملک میں فلاں شخص نے یوں ادنیٰ حالت سے اعلیٰ درجے تک ترقی کی، اور عزت ووقعت یوں حاصل کی، وہ ایک معمولی مفلس شخص تھا مگر تھوڑے دنوں میں دولت مند ہو گیا۔ یہ کیوں؟ اس لیے کہ تعصب اور نفسانیات کو بالائے طاق رکھ کر بے تعصبی اور سلامت روی کا سبق یاد کر لیا تھا، اگر تم بھی ویسے ہی ترقی کے زینے طے کرکے اعلیٰ مینار پر پہنچنا چاہتے ہو تو اسی شخص کے قدم بہ قدم چلو، اپنے مقصد میں کامیاب ہوگے۔ اخبار ایک قومی ہادی ہے اخبار در اصل ایک زندہ ہادی ہے جو ہر قسم کی باتوں میں ہدایت کرتا ہے، بری باتوں سے تنفر دلاتا ہے، اور عمدہ باتوں کی جانب مائل کرتا ہے، کیوں کہ انسان کی طبیعت میں اک ایسی زبردست قوت گمراہ کنندہ موجود ہے کہ راستے کو چھوڑ کر شقاوت کی تنگ و تاریک اور خوفناک و پیچ دار گھاٹیوں تک آنکھ بند کیے بڑھ جاتا ہے۔ اور اس بدبختی کے مقام پر خوش قسمتی کے راستے تلاش کرتا ہے، اورجب تک کوئی خضر صفت رہبر اس کا ہاتھ پکڑ کر منزل مقصود تک نہ پہنچائے، وہ یوں ہی پریشان و سرگرداں رہتا ہے۔ اس لیے قوم اور فرد کو ایک ہادی اور رہبر کی سخت ضرورت ہے اور بے اس کے کوئی بھی صراط مستقیم پر نہیں چل سکتا۔ پس حالت موجود کے اعتبار سے اخبار سے بڑھ کر قوم کا کوئی ہادی اور رہبر نہیں ہے۔ جو اسے سیدھی راہ پر چلانے میں مددگار اور ترقی کا بدل و جان خواستگار ہو۔ اخبار کے متعلق نامور لوگوں کی رائےایک بڑے مدبر کی رائے اخبار بینی کے متعلق یہ ہے کہ کتب بینی سے اخبار بینی زیادہ سودمند ہے، اور اس کا نفع اس سے بدرجہا زیادہ ہے، کیوں کہ ایک کتاب کسی خاص بحث اور مضمون پر ہوا کرتی ہے۔ اور بر خلاف اس کے اخبار میں چھوٹے چھوٹے مضامین مختلف بحثوں پر ہوا کرتے ہیں، اور بجائے ایک بات کے ان میں متعدد سودمند باتیں ہوتی ہیں۔ جس چیز سے ہماری طبیعت کو مناسبت ہو، ہم اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ علامہ سید جمال الدین افغانی المصری اخبار کے فوائد میں یہ لطیف شعر پڑھتے ہیں۔ لا سعادت لامۃ لیس لھا سائقالی الفضائل و لا زاجر عن الرذائل(یعنی جس قوم میں اچھی باتوں کی جانب ہدایت کرنے والا اور بری باتوں سے منع کرنے والا اخبار نہ ہو اسے نیک بختی اور سعادت نہیں مل سکتی۔) یہ شعر اس حکیم وقت کا ہے جس کی علمی لیاقت آج تمام اخباری دنیا میں مسلّم ہے۔ اس شعر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حالتِ موجودہ کے اعتبار سے اخبار سعادت کا باعث ہے۔ سعادت سے محروم ہے جو اخبار بینی سے ناواقف ہے۔ نیک بختی سے دور ہے وہ قوم جو اخبار سے مستفیض نہیں ہے۔ یورپ کو دیکھو آج دنیاوی سعادت میں کوئی قوم اس کے لگ بھگ نہیں ہے۔ تمام دنیا میں مسلّم ہو چکا ہے کہ جو شخص یا قوم دنیاوی سعادت کی خواہاں ہو، یورپ کی تقلید کرے۔ یہ کیوں؟ بس اسی لیے کہ اخبار بینی وہاں طبیعت ثانی ہوگئی ہے۔ جوانوں، بوڑھوں، بچوں، عورتوں، مردوں، معماروں، کتب فروشوں، مزدوروں، عطاروں، ڈاکٹروں، پادریوں، شاعروں، نجومیوں، تاجروں، مصوروں، زمینداروں، کسانوں، انجینئروں، نوکروں وغیرہ وغیرہ ہر ایک فرقہ، ہر ایک عہدہ، ہر ایک فن، ہر ایک علم، ہر ایک قسم کے لوگوں کے لیے علیحدہ علیحدہ اخبار شائع ہوتے ہیں، اور وہ اسے روزانہ دیکھ کر اپنی ضروری حاجتوں کو رفع کرتے ہیں۔ ڈاکٹر بیلمن ٹی ٹی اپنی ایک تصنیف میں تحریر کرتے ہیں کہ میں جس وقت ڈیونٹی کالج میں تحصیل علم میں سرگرم تھا، مجھے مضامین نویسی کا بہت شوق چڑھا تو مجھے اخباروں کے مطالعے سے بہت کچھ فائدہ ہوا، اور بہت باتوں کو میں نے اس سے سیکھا۔ جو علمی اور عقلی مضمون اخباروں میں ہوا کرتا تھا، اسے میں اول غور و فکر کے ساتھ پڑھتا اور رائے زنی کیا کرتا تھا، اور پھر اس کو اور طالب علموں کے سامنے پیش کیا کرتا اور بحث کیا کرتا تھا۔ اس طرح سے ایک علمی مذاق میری طبیعت میں پیدا ہو گیا، اور اس نے ایسا اضطراب پیدا کر دیا کہ میں اس فن اخبار نویسی کو اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اور پھر تو ایسے ایسے لاجواب مدلل علمی آرٹیکل اور مضامن لکھنے لگا جس کی قوم نے داد دی۔ یہ اخبار بینی ایسی عمدہ چیز ہے کہ اس سے زیادہ کوئی دلچسپ مشغلہ نہیں ہے۔ مسٹر گلیڈاسٹون سابق وزیر اعظم انگلستان اخبار کے متعلق لکھتا ہے کہ پبلک اخبار کی کیوں شاکی ہوتی ہے۔ یہ تمہارے ہی فائدے کی بات ہے، اس کا وجود تمہارے لیے غنیمت ہے۔ یہ ایک زبردست ہاتھ ہے، جس سے تمام دینی دنیوی باتوں کی تکمیل ہوتی ہے، اور اس کا فیض جاری ہر طرف پھیلتا ہے۔ اس سے بڑے بڑے کام نکلتے ہیں۔ اس سے بڑے بڑے فائدے انسان کو ہوتے ہیں۔ پرنس بسمارک فن اخبار نویسی میں بڑا مشاق تھا، اور اس کے رموز و نکات کا ایسا ماہر تھا جیسے کوئی بڑا مشاق، لائق وفائق اور تجربہ کار ایڈیٹر ہو، مجھے چوں کہ اس کام پر اس نے مامور کیا تھا۔ اس لئے وہ دن میں کئی بار بلا کر اخبار کے متعلق باتیں کیا کرتا تھا، اخبار کا وہ ایسا عاشق تھا کہ رات دن اسی دھن میں رہتا تھا۔ رات کو آدھی آدھی رات (کے وقت) دفعتاً چونک کر مجھے طلب کرتا تھا، اور جو مضمون اس کے ذہن میں اس وقت سماتا تھا لکھ کر حکم کرتا تھا کہ اسے فوراً صبح کو فلاں فلاں اخبار میں شائع کردیا جائے۔ غرضیکہ اخبار سے اسے بڑی دلچسپی تھی، اور سب سے عمدہ مشغلہ سمجھتا تھا۔ پیٹراعظم شاہ روس کی لائف میں لکھا ہے کہ وہ نہایت دلچسپی سے اخبار وں میں ایٹوریل مضامین لکھا کرتا تھا اور اخبار کو رعایا کے خیالات کا ذریعہ سمجھتا تھا۔ اور اخباروں سے اس کو اتنا شغف تھا کہ بذات خود اس کے پروف کی صحت کیا کرتا تھا، اور وہ تمام پروف اس کی مشہور لائبریری میں موجود ہیں۔ فرانس کے مشہور مدبر نپولین کے حالات میں مؤرخ لکھتا ہے کہ نپولین کا قاعدہ تھا کہ جب وہ کوئی بڑا کام کرتا تھا تو پہلے اخباروں میں اس کے متعلق موافق اور تائیدی مضامین شائع کراتا تھا اور اس طور سے عام رایوں کو اپنے موافق کر لیتا تھا۔ ہندوستان میں جتنے نامور جنرل اور گورنر آئے ہیں، جب وہ پنشن لے کر ولایت کو واپس جاتے ہیں تو وہاں بھی اخبار نویسی کے پر لطف مشغلے میں باقی زندگی بسر کرتے ہیں۔ سرولیم میور سے ہندوستان کا کوئی تعلیم یافتہ ایسا ہے جو واقف نہیں؟ یہ علاوہ اس کے کہ ہندوستان میں عرصے تک گورنر رہ چکے ہیں بہت بڑے مصنف بھی ہیں ان کی تصانیف میں ’’لائف آف محمدؐ‘‘ ایک ممتاز کتاب ہے۔ جس میں آں حضرت پیغمبرؐ برحق روحی فداہ کی لائف لکھ کر اس پر نئی طرز سے نکتہ چینی کی گئی ہے۔ اور جو اس طریق اعتراض سے مختلف ہے جو عام مشنری اور پادری کیا کرتے ہیں۔ جس سے میور صاحب کی ایک ممتاز صفت معلوم ہوتی ہے۔ یہ فاضل شخص بھی اخبار کے نامہ نگار ہیں۔ اور ان کے اکثر مضامین اخباروں میں شائع ہوتے ہیں۔ مسٹر سر الفرڈلائل، سر لیبل گریفن، سر رچرڈ ٹیمپل، سر رچرڈ گارتھ وغیرہ تمام مضامین نگار ہیں۔ سر ولیم ہنٹر سابق ممبر کونسل گورنمنٹ ہند اخبار ٹائمز کے ایڈیٹر ہوئے، اور ان کے پرزور آرٹیکل نہایت وقعت کی نگاہ سے دیکھےجاتے تھے۔ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ فن اخبار نویسی کیسا لاجواب اور دلچسپ فن ہے کہ ایسے فاضل اسے اختیار کرتے ہیں۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%86_%D8%A7%D8%AE%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%B3%DB%8C"} {"title": "فن بلاغت", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "مسلمانوں نے جوعلوم وفنون خودایجاد کئے اورجن میں وہ کسی کے مرہون منت نہیں، ان میں ایک یہ فن بھی ہے۔ عام خیال یہ ہے اورخودہم کوبھی ایک مدت تک یہ گمان تھا کہ یہ فن بھی مسلمانوں نے یونانیوں سے لیا۔ ابن اثیر نے مثل السائر میں ایک جگہ لکھا ہے کہ، ’’یونانیوں نے فن بلاغت پر جو کچھ لکھا ہے اگرچہ اس کاترجمہ عربی میں ہوچکاہے لیکن اس سے واقف نہیں اور اس لئے اس فن میں میں نے جونکتے اضافے کئے ہیں، ان میں سے کسی کامیں مقلد نہیں بلکہ خود مجتہد ہوں۔‘‘ابن اثیر نے گواپنے آپ کو یونان کی خوشہ چینی کے الزام سے بچایا ہے لیکن عبارت سے اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ اصل فن یونان ہی سے آیاتھا، لیکن اب اس خیال کی غلطی علانیہ ثابت ہوگئی۔ اصل یہ ہے کہ ارسطو نے ایک کتاب ریطوریقا کے نام سے لکھی تھی جس کو اس نے منطق کا ایک حصہ قرار دیا تھا۔ ریطوریقا وہی لفظ ہے، جس کوانگریزی میں ریٹارک کہتے ہیں۔ اردو میں اس لفظ کا ترجمہ خطابت یافن تقریر ہو سکتا ہے۔ یہی کتاب ہے جس کی نسبت لوگوں کودھوکہ ہوا کہ مسلمانوں کا فن بلاغت اسی سے ماخوذ ہے۔ اس کتاب کوشیخ بو علی سینا نے اپنی کتاب منطقیات شفا میں پورا پورا لے لیا ہے، یعنی اس کے مطالب اپنے الفاظ میں ادار کر دیے ہیں۔ ابن رشد نے اس کتاب کے اصل ترجمے کی جواصلاح کی تھی، اس کا بڑا حصہ بیرو ت میں چھپ گیاہے۔ یہ ذخیرے ہمارے سامنے ہیں اوران سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا فن بلاغت ارسطو کی کتاب سے چھو بھی نہیں گیاہے۔ ارسطو کی کتاب کا موضوع یہ ہے کہ جب کوئی تقریر کسی موقع پر کی جائے تو امور ذیل قابل لحاظ ہوں گے،(۱) مضمونِ تقریر کیا ہے(۲) تقریر کے مخاطب کون لوگ ہیں(۳) تقریر کرنے والا کون ہےان مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے تقریر کے مقدمات کس قسم کے ہونے چاہیئے۔ چنانچہ ارسطو نے اس کتاب میں بتایا ہے کہ واغط، وکیل، حکیم، فریق مقدمہ وغیرہ وغیرہ کی تقریر کے اصول کیا ہیں؟ اور ہرایک کے طریقہ استدلال کو کس طرح ایک دوسرے سے مختلف ہونا چاہئے۔ اگرچہ اس میں شبہ نہیں کہ ارسطو کی یہ کتاب نہایت دقیق اورلطیف مباحث پر مشتمل ہے اوراگرچہ اس کا بھی سخت افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس کتاب سے کچھ فائدہ نہیں اٹھایا لیکن بہرحال مسلمانوں کافن بلاغت ایک جداگانہ چیز ہے اور اس کے وہ خود موجد ہیں۔ فن بلاغت پر جہاں تک ہم کو معلوم ہے، سب سے پہلی جوکتاب لکھی گئی ہے، وہ دلائل الاعجاز عبدالقاہرالجرجانی ہے، اس سے پہلے کی تصنیفیں بھی ہم نے دیکھی ہیں، لیکن درحقیقت ان کواس فن کی تصنیف نہیں کہہ سکتے۔ دلائل الاعجاز کے بعد اور بہت سی کتابیں لکھی گئیں، یہاں تک کہ ’مطول‘ اور ’مختصر معانی‘ پر گویا خاتمہ ہوا۔آج کل یہ فن جس طریقے سے پڑھا اورپڑھایا جارہا ہے، اس سے زیادہ کسی فن کی مٹی خوار نہیں، طلبہ اور علما ان لفظوں اورعبارتوں کوجو ’مختصر معانی‘ وغیرہ میں مذکور ہیں، بار بار دہراتے ہیں لیکن خود نہیں جانتے کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ جب انسان کسی فن کے مسائل کو سمجھ لیتا ہے اور اس پر حاوی ہوجاتا ہے تو جہاں کہیں ان مسائل کا موقع آتا ہے، انسان ان کو استعمال کرسکتا ہے اور کرتا ہے۔ مثلاً اگر تم نے عربی فن نحو میں مہارت حاصل کرلی ہےتو جب کوئی عربی عبارت تمہارے سامنے آجائے گی، تم اس کوبے تکلف پڑھتے چلے جاؤگے۔ لیکن فن بلاغت کی درس وتدریس کی یہ حالت ہے کہ ’مختصر معانی‘ اور ’مطول‘ سو سو بار دہرا چکے ہیں، لیکن اگر قرآن مجید کی کوئی عبارت یا عربی کا کوئی شعر دے دیا جائے تو ہرگز نہ بتاسکیں گے کہ اس میں کیا کیا بلاغت کے اصول پائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان درسی کتابوں میں مسائل بلاغت کو اس طرح صاف اور سلجھا کر نہیں لکھا ہے کہ طالب علم کے ذہن میں اصل مسئلے کی تصویر اتر جائے۔ مسئلہ ابھی پورا بیان بھی نہیں ہوا ہے کہ اس کے ساتھ لفظی جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں اورطالب علم کا ذہن ان بے ہودہ بحثوں میں پریشان ہوجاتاہے۔ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ان مسائل کے لئے کثرت سے مثالیں نہیں پیش کی جاتیں۔ عبدالقاہر جرجانی نے جومثالیں لکھ دی تھیں، وہی آج تک چلی آتی ہے بلکہ ان میں سے بھی بہت سی چھوٹ گئیں۔ مسائل بلاغت کے ذہن نشین کرنے کاسب سے بہترطریقہ یہ ہےکہ اپنی زبان میں اس کی مثالیں سمجھائی جائیں۔ لیکن ہمارے علما عربی مثالوں میں اس قدر محدود ہیں کہ کسی اور زبان سے ان مسائل کی مثالیں پیش ہی نہیں کرسکتے۔ ان وجوہ کی بنا پر ہم نے ارادہ کیاہے کہ وقتاً فوقتا ًفن بلاغت کے مہمات مسائل اس رسالے میں اس طرح اداکئے جائیں کہ مسئلے کی تصویر دل میں اترجائے اوراس غرض کے لئے تمام مثالیں اردو کے کلام سے دی جائیں۔ چنانچہ اس پرچے میں ہم فصاحت کے مسئلے پر بحث کرتے ہیں، جوبلاغت کا پہلا زینہ ہے۔فصاحت کی تعریف علمائے ادب نے یہ کی ہے کہ، ’’لفظ متنافرالحروف نہ ہو، نامانوس نہ ہو، قواعد صرفی کے خلاف نہ ہو۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ لفظ درحقیقت ایک قسم کی آواز ہے، اورچونکہ آوازیں بعض شیریں، دل آویز اور لطیف ہوتی ہیں۔ مثلاً طوطی و بلبل کی آواز اور بعض مکروہ و ناگوار مثلاً کوے اور گدھے کی آواز، اس بنا پر الفاظ بھی دوقسم کے ہوتے ہیں، بعض شستہ، سبک، شیریں اور بعض ثقیل، بھدے، ناگوار۔ پہلی قسم کے الفاظ کو فصیح کہتے ہیں اوردوسرے کو غیرفصیح۔ بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ فی نفسہ ثقیل اورمکروہ نہیں ہوتے لیکن تحریر و تقریر میں ان کا استعمال نہیں ہوا ہے، یا بہت کم ہوا ہے، ایسے الفاظ بھی جب ابتداءً استعمال کئے جاتے ہیں توکانوں کو ناگوار معلوم ہوتے ہیں، ان کو فن بلاغت کی اصطلاح میں غریب کہتے ہیں۔ اس قسم کے الفاظ بھی فصاحت میں خلل انداز خیال کئے جاتے ہیں لیکن یہ نکتہ یہاں لحاظ کے قابل ہے کہ بعض موقعوں پر غریب لفظ کی غرابت اس وجہ سے کم ہوجاتی ہے کہ اس کے ساتھ الفاظ بھی اسی قسم کے ہوتے ہیں مثلا ایک شاعر کہتا ہے۔ عذریت رسول کی خاطر جلائی نار۔ نار کا لفظ اس موقع پر نہایت نامانوس اوربیگانہ ہے لیکن یہی لفظ جب ترکیبوں کے ساتھ اردومیں مستعمل ہوتا ہے، مثلا ناردوزخ، نارجہنم، تو وہ غرابت نہیں رہتی۔فصاحت کے مدارج میں اختلاف ہے، یعنی بعض الفاظ فصیح ہیں، بعض فصیح تر، بعض اس سے بھی بڑھ کرفصیح۔ مثال کے طورپر ہم دوچارمثالیں نقل کرتے ہیں، جن سے فصاحت اورفصاحت کے اختلاف مراتب کا اندازہ ہوسکے گا، ان مثالوں میں ایک ہی مضمون مختلف الفاظ میں ادا کیاگیاہے۔کس نے نہ دی انگوٹھی رکوع وسجود میں سائل کو کس نے دی ہے انگوٹھی نماز میںآنکھوں میں پھر ےاورنہ مردم کو خبر ہو آنکھوں میں یوں پھرے کہ مژہ کوخبر نہ ہورویا میں بھی حسین کورویا ہی کرتے ہیں حسرت ہے کہ خواب میں بھی رویا کیجےجیسے مکاں سے زلزلے میں صاحب مکاں جیسے کوئی بھونچال میں گھرچھوڑکے بھاگےمعانی و الفاظ کی مناسبتحسن کلام میں ایک بڑا نکتہ یہ ہے کہ مضامین کی نوعیت کے لحاظ سے الفاظ استعمال کئے جائیں۔ لفظ چونکہ آوازکی ایک قسم ہے اور آواز کے مختلف اقسام ہیں، مہیب، پررعب، سخت،نرم ،شیریں، لطیف۔ اسی طرح الفاظ بھی صورت اوروزن کے لحاظ سے مختلف طرح کے ہوتے ہیں۔ بعض نرم، شیریں ا ورلطیف ہوتے ہیں، بعض سے جلالت اور شان ٹپکتی ہے بعض سے درد اورغمگینی ظاہر ہوتی ہے۔ اسی بنا پرغزل میں سادہ، شیریں، سہل اورلطیف الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ قصیدے میں پرزور، شاندار الفاظ کا استعمال پسندیدہ سمجھا جاتاہے۔ اسی طرح رزم و بزم، مدح و ذم، فخرو ادعا، وعظ و پند، ہر ایک کے لئے جدا جدا الفاظ ہیں۔شعرا میں سے جو اس نکتے سے آشنا ہیں، وہ ان مراتب کا لحاظ رکھتے ہیں اوریہ ان کے کلام کی تاثیر کا بڑا راز ہے، لیکن جواس فرق مراتب سے واقف نہیں، یا ہیں لیکن ایک خاص رنگ ان پراس قدر چڑھ گیا ہے کہ ہرقسم کے مضامین میں ایک ہی قسم کے لفظ ان کی زبان سے ادا ہوتے ہیں، ان کا کلام بجز ایک خاص رنگ کے بالکل بے اثر ہو تاہے۔ یہی نکتہ ہے کہ سعدی سے رزم اور فردوسی سے بزم نہیں نبھ سکتی۔ فردوسی نے جہاں حضرت یوسف کی نالہ وزاری کو اپنی کتاب یوسف زلیخا میں لکھا ہے، لکھتا ہے، بغرید یوسف د گربارہ زار۔ رزم، بزم، فخر، حسرت، شوق، ہرایک مضمون کے لئے خاص قسم کے الفاظ موزوں ہیں اوران مضامین کے لئے انہی الفاظ کواستعمال کرنا چاہئے۔ مثلاً ایک شاعر نے جلال اور غیظ کو ان الفاظ میں اداکیاہے،کم تھا نہ ہمہمہ اسد کردگارسے نکلا ڈکارتا ہوا ضیغم کچھار سےکیا جانے کس نے ٹوک دیا ہے دلیر کو سب دشت گونجتا ہے یہ غصہ ہے شیرکوتھا یہ بپھرا ہوا عباس مرا شیرجواں سینہ حر پہ رکھے دیتا تھا نیزے کی سناںلرزہ تھا رعبِ حق سے ہر ایک نا بکار کو روکے تھا ایک شیر جری دس ہزار کوان اشعار میں جو الفاظ آئے ہیں، جس طرح ان کے معنی غیظ وغضب کے ہیں، اسی طرح ان الفاظ کی آواز اورلہجے سے بھی ہیبت اور غیظ وغضب کا اظہار ہوتاہے۔کلام کی فصاحتیہ بحث مفرد الفاظ سے متعلق تھی۔ لیکن کلام کی فصاحت میں صرف لفظ کا فصیح ہونا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی ضرور ہے کہ جن الفاظ کے ساتھ وہ ترکیب میں آئے، ان کی ساخت، ہیئت، نشست، سبکی اورگرانی کے ساتھ اس کو خاص تناسب اور توازن ہو، ورنہ فصاحت قائم نہ رہے گی۔ قرآن مجید میں ہے، ماکذب الفواد مارای۔ فواد اور قلب دو ہم معنی الفاظ ہیں اور دونوں فصیح ہیں، لیکن اگراس آیت میں فواد کے بجائے قلب کا لفظ آئے توخود یہی لفظ غیر فصیح ہو جائے گا، جس کی وجہ یہ ہے کہ گو قلب کالفظ بجائے خود فصیح ہے، لیکن ماقبل اور مابعد کے جوالفاظ ہیں ان کی آواز کا تناسب قلب کے لفظ کے ساتھ نہیں ہے۔میر انیس کا مصرع ہے، فرمایا آدمی ہے کہ صحرا کا جانور۔ صحرا اورجنگل ہم معنی ہیں اوردونوں فصیح ہیں، انیس نے مختلف موقعوں پر ان دونوں لفظوں کا استعمال کیاہے اورہم معنی ہونے کی حیثیت سے کیاہے لیکن اگر اس مصرع میں صحرا کے بجائے جنگل کا لفظ آجائے تو یہی لفظ غیرفصیح ہوجائے گا۔ ذیل کے شعرمیں،طائر ہوا میں مست، ہرن سبزہ زارمیںجنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میںاگر جنگل کے بجائے صحرا لاؤ تو مصرع کا مصرع پھس پھسا ہو جاتاہے۔شبنم اور اوس ہم معنی ہیں اور برابر درجے کے فصیح ہیں لیکن اس شعر میں،کھا کھا کے اوس اوربھی سبزہ ہرا ہوا تھا موتیوں سے دامن صحرا بھرا ہوااگر اوس کے بجائے شبنم کا لفظ لایاجائے تو فصاحت خاک میں مل جائے گی۔ یہی ’’اوس‘‘ کا لفظ جو اس موقع پراس قدرفصیح ہے، اس مصرع میں، شبنم نے بھردیے تھے کٹورے گلاب کے، شبنم کے بجائے لایاجائے توفصاحت بالکل ہوا ہوجائے گی۔اس میں نکتہ یہ ہے کہ ہرلفظ چونکہ ایک قسم کا سُر ہے اس لئے یہ ضرور ہے کہ جن الفاظ کے سلسلے میں وہ ترکیب دیاجائے، ان آوازوں سے اس کو خاص تناسب بھی ہو۔ ورنہ گویا دومخالف سروں کوترکیب دیناہوگا۔ نغمہ اورراگ مفرد آوازوں یا سروں کا نام ہے، ہر سر بجائے خود دلکش اوردل آویزہے، لیکن اگر دو مخالف سروں کو باہم ترکیب دے دیاجائے، تودونوں مکروہ جائیں گے۔ راگ کے دلکش اور مؤثر ہونے کا یہی گر ہے کہ جن سروں سے اس کی ترکیب ہو، ان میں نہایت تناسب اور توازن ہو۔الفاظ بھی چونکہ ایک قسم کی صوت اور سرہیں، اس لئے ان کی لطافت، شیرینی اور روانی اسی وقت تک قائم رہتی ہے جب گردوپیش کے الفاظ بھی ان کے مناسب ہوں۔دبیر کامشہور مصرع ہے ’’زیرِ قدم ِوالدہ فردوس بریں ہے‘‘ اس میں جتنے الفاظ ہیں یعنی زیر، قدم، والدہ، فردوس، بریں، سب بجائے خودفصیح ہیں، لیکن ان کے باہم ترکیب دینے سے جومصرع پیدا ہوا، وہ اس قدر بھدا اورگراں ہے کہ زبان اس کا تحمل نہیں کرسکتی۔ شاید تم کوخیال ہوکہ مصرع کی ترکیب چونکہ فارسی ہوگئی ہے، اس لئے ثقل پیدا ہوگیا ہے لیکن یہ فصیح نہیں۔ سیکڑوں شعروں میں اس قسم کی فارسی ترکیبیں ہیں، لیکن یہ ثقل نہیں پایاجاتا، مثلا ًمیر انیس کہتے ہیں،میں ہوں سردار ِشبابِ چمنِ خلدِ بریں میں ہوں خالق کی قسم دوش ِمحمدؐ کا مکیںپہلے مصرع میں فارسی ترکیب کے علاوہ توالی اضافات بھی موجود ہے،لیکن بھداپن اور ثقل نہیں ہے۔جب کسی مصرع یا شعر کے تمام الفاظ میں ایک خاص قسم کا تناسب، توازن اور توافق پایاجاتاہے اور اس کے ساتھ وہ تمام الفاظ بجائے خود بھی فصیح ہوتے ہیں تو وہ پورا مصرع یاشعر فصیح کہا جاتا ہے۔ یہی چیز جس کوبندش کی صفائی، نشست کی خوبی، ترکیب کی دل آویزی، برجستگی ،سلاست اور روانی سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی چیزہے جس کی نسبت خواجہ حافظ فرماتے ہیں،آں را کہ خوانی استاد گربنگری بہ تحقیق صنعت گراست اما شعر ِروان نداردالفاظ کے توازن وتناسب سے کلام میں جوفرق پیدا ہوتا ہے وہ ایک خاص مثال میں آسانی سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ میرانیس ،حضرت علی اکبر کے اذان دینے کی تعریف ایک موقع پراس طرح کرتے ہیں، تھا بلبلِ حق گو کہ چہکتا تھا چمن میں۔ اسی مضمون کودوسرے موقع پر اس طرح ادا کرتے ہیں، بلبل چہک رہا ہے ریاض رسول میں۔ وہی مضمون ہے، وہی الفاظ ہیں، لیکن ترکیب کی ساخت نے دونوں مصرعوں میں کس قدرفرق پیدا کردیاہے۔ایتلاف الوزنِ مع المعنیترکیب الفاظ کے لحاظ سے شعر کی بڑی خوبی یہ ہے کہ کلام کے اجزا کی جواصلی ترتیب ہے وہ بحال خودقائم رہے، مثلا فاعل، مفعول، مبتدا،خبر، متعلقات فعل جس ترتیب کے ساتھ ہروقت بول چال میں آتے ہیں، یہی ترتیب شعر میں باقی رہے۔ اگرچہ اس میں شبہ نہیں کہ اس ترتیب کا بعینہ قائم رہنا قریب قریب ناممکن ہے، صرف ایک آدھ شعر یا بہت سے بہت شعر دوشعر میں اتفاقیہ یہ بات پیدا ہوجاتی ہے مثلا سعدیؒ کے یہ اشعار،بدو گفتم کہ مشکی یا عبیری کہ ازبوی ولا ویزِ تومستمبگفتا من گِلی نا چیز بودم و لیکن مدتی باگل نشستمجمال ہم نشین در من اثر کرد و گرنہ من ہمان خاکم کہ ہستملیکن چونکہ نظم کا درحقیقت، سب سے بڑا ملال یہی ہے کہ اگراس کو نثر کرنا چاہیں تو نہ ہوسکے اوریہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب شعر میں الفاظ کی وہی ترتیب باقی رہے جو نثر میں معمولاً ہوا کرتی ہے۔ اس بنا پر شاعر کو کوشش کرنی چاہئے کہ اگر اصلی ترتیب پوری پوری قائم نہیں رہ سکتی، تو بہرحال اس کے قریب قریب پہنچ جائے۔ جس قدر اس کا لحاظ رکھا جائے گا، اسی قدر شعر زیادہ صاف، برجستہ، رواں، اور ڈھلا ہوا ہوگا۔ مثلا یہ اشعار،کچھ توہوتے بھی ہیں وحشت میں جنوں کے آثار اورکچھ لوگ بھی دیوانہ بنادیتے ہیںدل نہیں مانتا جہاں جاؤں ہائے میں کیا کروں، کہاں جاؤں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%86_%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%BA%D8%AA"} {"title": "فن کار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھی", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فن کار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھی\nوہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی\n\nاترا تھا جس پہ باب حیا کا ورق ورق\nبستر کے ایک ایک شکن کی شریک تھی\n\nمیں ایک اعتبار سے آتش پرست تھا\nوہ سارے زاویوں سے چمن کی شریک تھی\n\nوہ نازش ستارہ و طنار ماہتاب\nگردش کے وقت میرے گہن کی شریک تھی\n\nوہ ہم جلیس سانحۂ رحمت نشاط\nآسائش صلیب و رسن کی شریک تھی\n\nنا قابل بیان اندھیروں کے باوجود\nمیری دعائے صبح وطن کی شریک تھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%86_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%81%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%B1%DB%8C%DA%A9_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "فنا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دنیا میں کوئی شاد کوئی درد ناک ہے\nیا خوش ہے یا الم کے سبب سینہ چاک ہے\nہر ایک دم سے جان کا ہر دم تپاک ہے\nناپاک تن پلید نجس یا کہ پاک ہے\nجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے\nہے آدمی کی ذات کا اس جا بڑا ظہور\nلے عرش تا بہ فرش چمکتا ہے جس کا نور\nگزرے ہے ان کی قبر پہ جب وحش اور طیور\nرو رو یہی کہے ہے ہر اک قبر کے حضور\nجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے\nدنیا سے جب کہ انبیا اور اولیا اٹھے\nاجسام پاک ان کے اسی خاک میں رہے\nروحیں ہیں خوب جان میں روحوں کے ہیں مزے\nپر جسم سے تو اب یہی ثابت ہوا مجھے\nجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہیں\nوہ شخص تھے جو سات ولایت کے بادشاہ\nحشمت میں جن کی عرش سے اونچی تھی بارگاہ\nمرتے ہی ان کے تن ہوئے گلیوں کی خاک راہ\nاب ان کے حال کی بھی یہی بات ہے گواہ\nجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے\nکس کس طرح کے ہو گئے محبوب کج کلاہ\nتن جن کے مثل پھول تھے اور منہ بھی رشک ماہ\nجاتی ہے ان کی قبر پہ جس دم مری نگاہ\nروتا ہوں جب تو میں یہی کہہ کہہ کے دل میں آہ\nجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے\nوہ گورے گورے تن کہ جنہوں کی تھی دل میں جائے\nہوتے تھے میلے ان کے کوئی ہاتھ گر لگائے\nسو ویسے تن کو خاک بنا کر ہوا اڑائے\nرونا مجھے تو آتا ہے اب کیا کہوں میں ہاے\nجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے\nعمدوں کے تن کو تانبے کے صندوق میں دھرا\nمفلس کا تن پڑا رہا ماٹی اپر پڑا\nقائم یہاں یہ اور نہ ثابت وہ واں رہا\nدونوں کو خاک کھا گئی یارو کہوں میں کیا\nجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے\nگر ایک کو ہزار روپے کا ملا کفن\nاور ایک یوں پڑا رہا ہے بے کس برہنہ تن\nکیڑے مکوڑے کھا گئے دونوں کے تن بدن\nدیکھا جو ہم نے آہ تو سچ ہے یہی سخن\nجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے\nجتنے جہاں میں ناچ ہیں کنگنی سے تا گیہوں\nاور جتنے میوہ جات ہیں تر خشک گوناگوں\nکپڑے جہاں تلک ہیں سپیدہ و سیہ نموں\nکمخواب تاش بادلہ کس کس کا نام لوں\nجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے\nجتنے درخت دیکھو ہو بوٹے سے تا بہ جھاڑ\nبڑ پیپل آنب نیب چھوارا کھجور تاڑ\nسب خاک ہوں گے جب کہ فنا ڈالے گی اکھاڑ\nکیا بوٹے ڈیڑھ پات کے کیا جھاڑ کیا پہاڑ\nجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے\nجتنا یہ خاک کا ہے طلسمات بن رہا\nپھر خاک اس کو ہوتا ہے یارو جدا جدا\nترکاری ساگ پات زہر امرت اور دوا\nزر سیم کوڑی لعل زمرد اور ان سوا\nجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے\nگڑھ کوٹ توپ رہکلہ تیغ و کمان و تیر\nباغ و چمن محل و مکانات دل پزیر\nہونا ہے سب کو آہ اسی خاک میں خمیر\nمیری زباں پہ اب تو یہی بات ہے نظیرؔ\nجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "فنا نہیں ہے محبت کے رنگ و بو کے لئے", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فنا نہیں ہے محبت کے رنگ و بو کے لئے\nبہار عالم فانی رہے رہے نہ رہے\n\nجنون حب وطن کا مزا شباب میں ہے\nلہو میں پھر یہ روانی رہے رہے نہ رہے\n\nرہے گی آب و ہوا میں خیال کی بجلی\nیہ مشت خاک ہے فانی رہے رہے نہ رہے\n\nجو دل میں زخم لگے ہیں وہ خود پکاریں گے\nزباں کی سیف بیانی رہے رہے نہ رہے\n\nدلوں میں آگ لگے یہ وفا کا جوہر ہے\nیہ جمع خرچ زبانی رہے رہے نہ رہے\n\nجو مانگنا ہے ابھی مانگ لو وطن کے لئے\nیہ آرزو کی جوانی رہے رہے نہ رہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%88_%D8%A8%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92"} {"title": "فنا کا ہوش آنا زندگی کا درد سر جانا", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فنا کا ہوش آنا زندگی کا درد سر جانا\nاجل کیا ہے خمار بادۂ ہستی اتر جانا\n\nعزیزان وطن کو غنچہ و برگ و ثمر جانا\nخدا کو باغباں اور قوم کو ہم نے شجر جانا\n\nعروس جاں نیا پیراہن ہستی بدلتی ہے\nفقط تمہید آنے کی ہے دنیا سے گزر جانا\n\nمصیبت میں بشر کے جوہر مردانہ کھلتے ہیں\nمبارک بزدلوں کو گردش قسمت سے ڈر جانا\n\nوہ طبع یاس پرور نے مجھے چشم عقیدت دی\nکہ شام غم کی تاریکی کو بھی نور سحر جانا\n\nبہت سودا رہا واعظ تجھے نار جہنم کا\nمزہ سوز محبت کا بھی کچھ اے بے خبر جانا\n\nکرشمہ یہ بھی ہے اے بے خبر افلاس قومی کا\nتلاش رزق میں اہل ہنر کا در بدر جانا\n\nاجل کی نیند میں بھی خواب ہستی گر نظر آیا\nتو پھر بے کار ہے تنگ آ کے اس دنیا سے مر جانا\n\nوہ سودا زندگی کا ہے کہ غم انسان سہتا ہے\nنہیں تو ہے بہت آسان اس جینے سے مر جانا\n\nچمن زار محبت میں اسی نے باغبانی کی\nکہ جس نے اپنی محنت کو ہی محنت کا ثمر جانا\n\nسدھاری منزل ہستی سے کچھ بے اعتنائی سے\nتن خاکی کو شاید روح نے گرد سفر جانا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D8%A2%D9%86%D8%A7_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B3%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "فنا کہتے ہیں کس کو موت سے پہلے ہی مر جانا", "poet_page": "مصنف:مہاراجہ سر کشن پرشاد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فنا کہتے ہیں کس کو موت سے پہلے ہی مر جانا\nبقا ہے نام کس کا اپنی ہستی سے گزر جانا\n\nجو روکا راہ میں حر نے تو شہہ عباس سے بولے\nمرے بھائی نہ غصے میں کہیں حد سے گزر جانا\n\nکہا اہل حرم نے روکے یوں اکبر کے لاشے پر\nجواں ہونے کا شاید تم نے رکھا نام مر جانا\n\nبقا میں تھا فنا کا مرتبہ حاصل شہیدوں کو\nوہاں اس پر عمل تھا موت سے پہلے ہی مر جانا\n\nنہ لیتے کام گر سبط بنی صبر و تحمل سے\nلعینوں کا نگاہ خشم سے آساں تھا مر جانا\n\nدکھائی جنگ میں صورت ادھر جا پہنچے وہ کوثر\nیہ اصغر ہی کی تھی رفتار ادھر آنا ادھر جانا\n\nیہاں کا زندہ رہنا موت سے بد تر سمجھتا ہوں\nحیات جاوداں ہے کربلا میں جا کے مر جانا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%88%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "فنونِ لطیفہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خُوب ہے لیکن\nجو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے، وہ نظر کیا\nمقصودِ ہُنَر سوزِ حیاتِ ابدی ہے\nیہ ایک نفَس یا دو نفَس مثلِ شرَر کیا\nجس سے دلِ دریا مُتَلاطم نہیں ہوتا\nاے قطرۂ نَیساں وہ صدَف کیا، وہ گُہر کیا\nشاعر کی نَوا ہو کہ مُغَنّی کا نفَس ہو\nجس سے چمن افسردہ ہو وہ بادِ سحَر کیا\nبے معجزہ دُنیا میں اُبھرتی نہیں قومیں\nجو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہُنر کیا!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%86%D9%88%D9%86%D9%90_%D9%84%D8%B7%DB%8C%D9%81%DB%81"} {"title": "فوج مژگاں کا کچھ ارادہ ہے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فوج مژگاں کا کچھ ارادہ ہے\nزلف پیچاں نے لام باندھا ہے\n\nلب رنگیں کو کس نے چوسا ہے\nدیکھ لو یہ عقیق جھوٹا ہے\n\nکون آیا چھڑی سواری سے\nنے سواری کا کس کی شہرا ہے\n\nدانت کھٹے ہوئے اناروں کے\nان کا سیب ذقن یہ میٹھا ہے\n\nبوسۂ لب دیا جو بگڑے غیر\nپھوٹ میں تم نے قند ڈالا ہے\n\nکاٹتے ہو ہمارے نام کے حرف\nخوب شوشہ ہے زور فقرا ہے\n\nوصف قد کے دو چند ہیں مضموں\nکوئی مصرع نہیں ہے دہرہ ہے\n\nدانت کنگھی کا ہے مگر مجھ پر\nمار گیسو جو کاٹے کھاتا ہے\n\nخوب ہے وصل عاشق و معشوق\nیہ بھی جوڑی کا ایک نسخہ ہے\n\nزخم دل پر نمک چھڑک واؤ\nذائقہ میرے منہ کا پھیکا ہے\n\nغیر کے گھر بجا رہے ہو ستار\nتم نے در پردہ ٹھاٹ بدلا ہے\n\nکوئی تازہ کنواں جھکائیں گے\nان دنوں اختلاط گہرا ہے\n\nچٹکی انگیا میں تم نہ ٹکواؤ\nگورے سینہ میں نیل پڑتا ہے\n\nبوسہ ہونٹوں کا مل گیا کس کو\nدل میں کچھ آج درد میٹھا ہے\n\nچین سے ہیں فقیر بعد فنا\nقبر کے بھی سرہانے تکیہ ہے\n\nاے منیرؔ آپ کیوں ہیں آزردہ\nیہ تو کہئے مزاج کیسا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%88%D8%AC_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "فوّارہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "یہ آبجوُ کی روانی، یہ ہمکناریِ خاک\nمری نگاہ میں ناخُوب ہے یہ نظّارہ\nاُدھر نہ دیکھ، اِدھر دیکھ اے جوانِ عزیز\nبلند زورِ درُوں سے ہُوا ہے فوّارہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%88%D9%91%D8%A7%D8%B1%DB%81"} {"title": "فَقر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اک فقر سِکھاتا ہے صیّاد کو نخچیری\nاک فقر سے کھُلتے ہیں اسرارِ جہاں گیری\nاک فقر سے قوموں میں مسکینی و دِلگیری\nاک فقر سے مٹّی میں خاصیّتِ اِکسیری\nاک فقر ہے شبیّری، اس فقر میں ہے مِیری\nمیراثِ مسلمانی، سرمایۂ شبیّری!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%8E%D9%82%D8%B1"} {"title": "فَقر و راہبی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "کچھ اور چیز ہے شاید تری مسلمانی\nتری نگاہ میں ہے ایک، فقر و رُہبانی\nسکُوں پرستیِ راہب سے فقر ہے بیزار\nفقیر کا ہے سفینہ ہمیشہ طوفانی\nپسند رُوح و بدن کی ہے وا نمود اس کو\nکہ ہے نہایتِ مومن خودی کی عُریانی\nوجود صیرفیِ کائنات ہے اُس کا\nاُسے خبر ہے، یہ باقی ہے اور وہ فانی\nاُسی سے پوچھ کہ پیشِ نگاہ ہے جو کچھ\nجہاں ہے یا کہ فقط رنگ و بو کی طُغیانی\nیہ فقر مردِ مسلماں نے کھو دیا جب سے\nرہی نہ دولتِ سلمانی و سلیمانی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%8E%D9%82%D8%B1_%D9%88_%D8%B1%D8%A7%DB%81%D8%A8%DB%8C"} {"title": "فَقر و مُلوکیّت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "فقر جنگاہ میں بے ساز و یراق آتا ہے\nضرب کاری ہے، اگر سینے میں ہے قلبِ سلیم\nاس کی بڑھتی ہوئی بے باکی و بے تابی سے\nتازہ ہر عہد میں ہے قصّۂ فرعون و کلیم\nاب ترا دَور بھی آنے کو ہے اے فقرِ غیور\nکھا گئی رُوحِ فرنگی کو ہوائے زروسِیم\nعشق و مستی نے کِیا ضبطِ نفَس مجھ پہ حرام\nکہ گِرہ غُنچے کی کھُلتی نہیں بے موجِ نسیم", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%8E%D9%82%D8%B1_%D9%88_%D9%85%D9%8F%D9%84%D9%88%DA%A9%DB%8C%D9%91%D8%AA"} {"title": "فِطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "فِطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک\nرکھتی ہے مگر طاقتِ پرواز مِری خاک\n\nوہ خاک کہ ہے جس کا جُنوں صَیقلِ ادراک\nوہ خاک کہ جبریل کی ہے جس سے قبا چاک\n\nوہ خاک کہ پروائے نشیمن نہیں رکھتی\nچُنتی نہیں پہنائے چمن سے خس و خاشاک\n\nاس خاک کو اللہ نے بخشے ہیں وہ آنسو\nکرتی ہے چمک جن کی ستاروں کو عرق‌ناک", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%90%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%AE%D8%B4%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%B4%DB%82_%DA%86%D8%A7%D9%84%D8%A7%DA%A9"} {"title": "فٹ پاتھ", "poet_page": "مصنف:اعظم کریوی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "شہر میں سڑکوں کی دونوں طرف کی دنیا ہر جگہ یکساں نہیں ہوتی۔ کہیں بھرے بازار کے درمیان سڑک یوں نرمی سے بل کھاتی ہوئی گذرتی ہے جیسے مشتاقوں کے ہجوم میں حسن سرمحفل۔ آمدورفت کی کثرت سے کھوئے سے کھوئے چھلتے ہیں۔ کہیں شاندار رہائشی محلوں سے اس کا گذر ہوتا ہے۔ دو طرفہ نئی وضع کی کوٹھیاں، سبزہ زار احاطے، دھنک کی طرح رنگ برنکی ہنستی ہوئی کیاریاں، جدید فیشن کے لباس، ناز فرماتی ہوئی ساریاں،نغمہ زن بالا خانے اوردھومیں مچاتی ہوئی موٹریں اور کہیں مفلوک الحال حلقوں کا جگر چیرتی ہوئی یہ سڑکیں یوں تیر جاتی ہیں جیسے اُپی ہوئی تلوار۔\n\nبڑی سڑکوں کے حاشیوں پر فٹ پاتھ کا وجود ان کے وقار میں اضافہ کرتا ہے۔ سڑکوں کی بہ نسبت فٹ پاتھ کی دنیا ذرا آہستہ خرام کرتی ہے۔ سڑک ندی کے درمیانی دھارے کی طرح ہوتی ہے اور فٹ پاتھ موجِ ساحل آشنا کی مثال۔ مگر فٹ پاتھ کی دنیا حرکت و سکون دونوںکے مناظر پیش کرتی ہے۔ لہٰذا زیادہ دلچسپ ہے۔ رہرروں کے علاوہ فٹ پاتھ کی آغوش میں بہت سی ہستیاں ہوتی ہیں۔ جمادات، نباتات، حیوانات اور اشرف المخلوقات بھی، جی ہاں اشرف المخلوقات بھی جس پرحوریں رشک کریں اور جن کے سامنے فرشتے سجدے میں گریں۔\n\nمیونسپلٹی کے ٹین اپنی الا بلا، کوڑے کرکٹ، بہارن کے ساتھ ایسے دکانداروں کے پلنگ جو صرف نفع کمانا، قانون کودھوکا دینا اور ساری دنیا کو اپنا سمجھنا جانتے ہیں۔ صرف پلنگ ہی نہیں، بنچ، کرسیاں، ٹوکرے، دیودار کے بکس وغیرہ وغیرہ۔ ہندوستانی وزیروں کی طرح موٹے تازے، ہچکتے دمکتے مگر مجبور و پابہ گل لیٹر بکس اور حیوانات میں بکریاں، گائیں گھوڑے، گدھے، کتے اور سب کے سبھاپتی سانڈ دوسروں کی کمائی کھانا خود بیکاررہنا اور دندنانا۔ ویسے ساہوکاروں ، کارخانہ داروں اور زمینداروں کی طرح، سانڈ بھی کچھ نہ کچھ کام کرتے ہی رہتے ہیں۔ نباتات میں میوے کی بڑی دکانوں سے پھیکے ہوئے چھلکے اور ایسی ٹوکریوں کے بیر، خراب و خستہ کے لیے اور آدھی سڑی ہوئی نارنگیاں جن کی پوری کائنات ایک گوشے میں سما جاتی ہے۔ غرض یہی ہستیاں فٹ پاتھ کی رونق ہوتی ہیں۔ مگر جو اشرف المخلوقات نہ ہوتا تو آسمان و زمین ، جمادات، نباتات و حیوانات کہاں ہوتے۔ فٹ پاتھ پر اشرف المخلوقات بھی ہوتے ہیں۔ مسلسل سدا لگائے ہوئے فقیر، اپاہج بھک منگے، بھنکتے ہوئے کوڑھی جو اپنے ٹھنٹہ ہاتھوں کو دکھاکر صرف سوالیہ اشارے کرتے ہیں۔ ایسے زار ونزار مختاج جو برائے نام سا چیتھڑا سامنے بچھاکر بے حس و حرکت لیٹے رہتے ہیں۔ نصف درجن سے زیادہ گندے اور ادھ موئے بچوں والی عورت جو بیر یا شکر قند، رکشا والوں اور قلیوں کے ہاتھ بیچتی ہیں۔ایک پلہ نما بچہ ربود کرتی سے ڈھکی ، ڈھلکی ہوئی خشک چھاتیوں کو اس طرح چاٹتا ہوا جیسے کوئی غریب جو آم کے پھینکے ہوئے چھلکوں کو رس گل جانے کے بعد بھی چاٹ لینا پسند کرے۔ میلے برقعے کے اندر سے نکیاتی ہوئی سائلہ عورت۔ چائے کی پھینکی ہوئی سیٹھی سے بننے والی چائے بیچنے والے اور ان کے گرد بیکار اور تھکے ہوئے مزدور۔ اور راتوں کو انہیں فٹ پاتھوں کے سینوں کی دبی ہوئی آگ دہک اٹھتی ہے۔ خالی خولی ہانڈیوں میں چند دانے ابلتے ہیں۔ پانی کے ابال کی آواز دھرتی کی کراہ معلوم ہوتی ہے۔ بھوکے پیٹوں کو جگا کر فٹ پاتھ پر زندگی بسر کرنے والے سونے کی نقل کرنے کے لیے زمین پر دراز ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح زندگی کا چکر چلتارہتاہے اور قسمت کے بہانے برداشت کر لیا جاتا ہے۔\n\nآج میں آپ کو فٹ پاتھ ہی سے متعلق ایک کہانی سنانے والا ہوں۔ نہ جانے کتنی بن کہی اور ان سنی کہانیاں فٹ پاتھوں سے گرد راہ کی طرح لپٹی ہوئی ہوں گی۔\n\nدس سال کی عمرکا ایک لڑکا میرے مکان کے سامنے سڑک کے چھوٹے سے پل پر بیٹھا ہوا تھا۔ پائوں پھیلائے ہوئے، بے پروا آزاد، کمر میں لنگوٹی کسی بے شرم کی یونہی سی لاج کی طرح چپکی ہوئی۔ گردن سے ایک میلا، ڈھیلا، ڈھالا، چور چور کسی کا اتارن کرتہ جھول رہا تھا۔ شکستہ کرتے کے چاکوں کو ایک حد تک چھپانے میں سیاہ مرزئی مدد دے رہی تھی، جو خود بھی اکثر جگہ خندئہ دنداں نما کی شکل پیدا کررہی تھی۔ یہ مرزئی بھی یوں تھی جیسے چھوٹے تکئے کا خول پہنا دے۔ کرتا جانگھ تک آتا تھا اور سامنے پھٹے ہونے کے سبب جسم زیریں کی عریانی کو دور کرنے کی بجائے، اس کے ننگے ہونے کا پردہ فاش کررہا تھا اور اس کے بال الجھے ہوئے تھے اور اس کے سیاہ ہاتھ پائوں پر گرد کی تہیں نمایاں طور پر جمی ہوئی معلوم ہو رہی تھی۔ زمین کی خاک اور جسم کے پسینے نے مل کر یہ ابٹنا تیار کیا تھا۔ وہ شاید بہت دیر سے بیٹھا ہوا تھا۔ سہ پہر کی دھوپ نے جا بجا پسینہ چلا کر ابٹنے کو ہلکا کر دیا تھا۔ سر کے بال پسینے میں چپک رہے تھے۔ وہ سنہری دھوپ سے لطف اٹھا رہا تھا۔ دنیا سے لاپروا ہو کر وہ اپنی مرزئی کے اوپر کی چلٹیریں مارہا تھا اور گاہ گاہ اپنا بدن تیزی سے کھجا لیا کرتاتھا۔ میرا محلہ شہر کا ایک خاموش حصہ تھا۔ دو جانب کالج کے کوارٹر تھے، تیسری جانب دریا اور چوتھے جانب درمیانی اور ادنیٰ طبقے کے لوگوں کے کچھ مکانات ، وہ نا جانے ادھر کیسے آنکلا۔ شاید پکنک کے لیے روزمرہ کے ہنگاموں سے تنگ آکر محض یونہی آج اس کی ٹانگیں ادھر ہی اسے لے آئیں۔ جاڑے کے دن تھے۔ دسمبر کا مہینہ اسے دھوپ میں بڑے اطمینان و سکون سے بیٹھا دیکھ کر یہ اثر ہوتا تھا جیسے کوئی بچہ ماں کی گود میں عالم رنج و حسرت کوبھول کر آسودگی و طمانیت کے ساتھ بیٹھا ہوا ابدیت کے ساتھ رشتہ جوڑ رہا ہو۔\n\nمیرا ملازم اسے بلا کر میرے مکان کے اندر لے آیا۔ پہلے تواس نے پکار تک نہ سنی۔ وہ اتنا محو تھا ۔ شور کرنے سے وہ چونکا، مگر شان سے پل ہی پر بیٹھا رہا۔ جب اسے اندر بلایا گیا تو اس نے بہت ہی مشکوک تیور سے ماحول کو بھانپا اور پھر چپلٹیریں مارنے لگا۔ خوشامدیں کرنے، چمکارنے اور دلاسے دینے پر مشکلوں سے وہ کشاں کشاں یوں اندر لایا گیا جیسے چھتر کے میلے سے ایک نئے اڑتے ہوئے گریزاں بچھڑے خرید کر کوئی کسان ڈریاتا ہوا لیے جارہے ہو۔\n\nشاید وہ کچھ بہرا بھی تھا اور اس کی دونوں آنکھوں میں پھولیاں تھیں۔ ایک میں زیادہ، دوسری میں کم۔ وہ گھر کی چار دیواری کے اندر گھبرایا گھبرایا سا معلوم ہورہا تھا۔ نو گرفتار پرندے کی طرح، سائبان سے دوڑ کر وہ انگنائی میں چلا گیا اورکنوئیں کی منڈیر پر لاپروائی سے بیٹھ گیا۔ گردن نیچی کئے ہوئے وہ شرما کر دانت نکالے آہستہ آہستہ ہنس رہا تھا۔ اسکے دانت پیلے پیلے تھے۔ پھسی سے اٹے ہوئے جیسے دانتوں پر سونا چڑھایا جاتاہے۔ ہم لوگوں نے اسے کھانا دیا۔ وہ بہ مشکل کھانے پر راضی ہوا مگر جب کھانے لگا تو بھوکے کتے کی طرح کھانے پر ٹوٹ پڑا۔ صحن میں بیٹھا بیٹھا جب وہ رکابی صاف کرچکا تو تیزی سے گرسنہ بھڑئیے کی طرح وہ باورچی خانے میں گھس گیا اور کھانے کی مزید چیزیں تلاش کرنے لگا۔ قاب، ہانڈیاں ، پیالے، ٹکریاں سب اس نے الٹ پلٹ کرنی شروع کیں، باورچی نے اسے ڈانٹ بتائی، ہم لوگوں نے اسے سمجھایا کہ یہ بدتمیزی ہے اورکھانا ہو تو مانگ کر کھایا کرو۔ مگر یہ باتیں اس کی سمجھ سے باہر تھیں۔ وہ اس وقت تک بے چین رہا جب تک اسے کچھ اور کھانے کو نہ مل گیا۔\n\nدوبارہ کھا کر بھی اس کے تقاضے جاری رہے۔ ہم لوگوں نے اسے سمجھایا کہ اب رات کوکھانا پیٹ بھر پھر ملے گا۔ وہ کچھ مایوسی اورجھلاہٹ کے عالم میں رکابی سے دال اورشوربا چاٹنے لگا۔ چاٹ واٹ کر رکابی کو ایک طرف نہایت ہی بے توجہی سے سرکادیا اور کنوئیں کی منڈیر پر جا کر بیٹھ گیا۔ بے تعلق سا ، بے حس، بے فکر، وہ بہت ہی کم باتوں کا جواب دیتا تھا۔ ہم لوگوں کوگملوں اورچمن کی آبپاشی کے لیے ایک ایسے چھوکرے کی ضرورت تھی جو اوپر کے اور کام بھی کردیا کرے، اس لونڈے کوہم نے خداداد سمجھا۔ کم دانے گھاس میں یہ بہت سے کام کر دیتا۔ خودغرضی اور جذبہ ترحم نے مل کر ہم میں یہ شدید خواہش پیدا کی کہ کسی طرح یہ باد آور د ہمارے ہاں ٹک جائے۔ ہم لوگوں نے اسے سمجھانا شروع کیا کہ وہ نوکر ہو کر یہاں اگررہ جائے تو اسے خوب کھانے کو ملے گا، اچھے صاف صاف کپڑے پہننے کو ملیں گے اور پیسے بھی۔ وہ چپ سنتا رہا۔ کبھی کبھار اپنے پیلے پیلے دانت نکال کر ہنس دیتا۔ عجیب طرح کی بے تعلق ، بے جذبے کی کھوکھلی سی ہنسی۔ ہم لوگوں نے اسے نہانے کو کہا، وہ فوراً تیار ہو گیا۔ اسے نہانے کو کپڑا دھونے والا صابن دیاگیا۔ اس نے اسے سونگھا اور منہ بنا لیا۔ پھر ہنستا ہوا نہانے کے لیے کل پر بیٹھ گیا۔ اسے ایک پرانا ہاف پینٹ اور ایک پرانی قمیص دی گئی۔ اس نے خوش خوش انہیں پہنا۔ بٹن لگاتے وقت اسے بڑا لطف آرہاتھا۔ کئی بار بٹن کھول کھول کر انہیں لگائے۔ وہ جدت کا لطف لے رہاتھا۔ اپنے کرتے اور مرزئی میں اس قسم کی نامعقول بندشیں نہیں تھیں۔ نہادھو کپڑے بدل کر وہ سیدھا باورچی خانے میں گھس گیا اور اب کے اس نے باورچی سے بہ منت کچھ اور کھانے کو مانگا۔ چند سوکھی روٹیاں اسے دے دی گئیں اور اس نے انہیں ہفتوں کے بھوکے کی طرح دو تین لقموں میں ختم کر دیا ۔ کھا کر وہ اٹھا اور اپنے پھٹے پرانے کرتے میلی چکٹ لنگوٹی اور چیلٹروں سے اٹی ہوئی مرزئی کو لپیٹ لپاٹ کر سنبھال کے آنگن کے ایک گوشے میں ٹوٹے ہوئے گھڑے پر رکھ دیا۔ اس کے بعد وہ سیدھا میرے پاس آیا۔ اور غیر متوقع جرأت سے اس نے سوال کیا۔\n\n’’کتنا مشارا دو گے؟‘‘\n\nمیں نے کہا۔۔۔۔ ’’ٹھکانے سے کام کر۔ کھانا ، کپڑا، مشاہرہ سب ملیں گے‘‘۔\n\nکہنے لگا ددنہیں بول دو کتنا ملے گا؟‘‘\n\nمیں نے ہنس کر کہا ’’ابے تومشاہرہ لے کہ کیا کرے گا؟ خوب بھر پیٹ کھایا کر اور پیسے لے لیا کردو ایک‘‘۔\n\n’’اونہہ! تب ہم نہیں رہیں گے‘‘۔\n\n’’مشاہرہ بھی ملے گا توگھبراتا کیوں ہے؟ تیرا گھر کہاں ہے؟‘‘ میں نے اسے تسلی دی۔\n\nمجپھڑ پورجلع‘‘۔\n\nمیں نے دریافت کیا ’’ماں باپ ہیں؟‘‘\n\nاس نے کہا ’’نہیں! کوئی نہیں!‘‘ اور نفی میں زور سے سر ہلاتا رہا۔\n\n’’بھائی بہن؟‘‘\n\n’’کہہ تودیا کوئی نہیں‘‘۔ وہ بگڑ سا گیا۔\n\n’’اچھا تجھے مشاہرہ دونگا۔ میرے پاس جمع کرانا، اس سے بہت سے کپڑے بنا لینا اور مٹھائیاں کھانا‘‘۔\n\n’’نہیں مشاہرہ ہاتھ میں لیں گے‘‘۔\n\n’’ہاتھ میں لے کر کیا کرے گا؟ پھینک دے گا، اورکیا! یا گرجائیں گے روپے کہیں‘‘۔\n\n’’نہیں! ہم کو مکان بنانا ہے‘‘۔ اس نے شان و وقار کے ساتھ کہا۔ میں بھی چونک گیا اور سب لوگ ہنسنے لگے۔ اسے چوٹ سی لگی کہنے لگا۔\n\n’’میرے بھی مکان ہے جی! جلجلہ میں گر گیا ہے تھوڑا۔ دو کوٹھڑی ہے! اس کے سیاہ چہرے پر خون نے دھپے ہوئے توے کارنگ پیدا کر دیا۔\n\nمیں نے کہا۔ ’’اچھا بنانامکان ۔ تیرے ہاتھ میں روپے دونگا‘‘۔ وہ خوش ہو گیا اور ہنسنے لگا۔ اس نے یہ بھی نہ پوچھا پھرکتنا مشاہرہ ہوگا۔ اس کے دل میں بھی حسرت ِتعمیر اور تمنائے ملکیت تھی۔ اسی حسرت، اسی تمنا کے پورا ہونے کا تصور ہی اتنا خوش آئند تھاکہ وہ سرمست ہوگیا۔\n\nوہ مکان کے بیرونی احاطے میں جا کر بیٹھ رہا۔ جب اسے کسی کام کے لیے بلایا جاتاتو وہ چلا آتا اور کام کو ادھورا ہی چھوڑ کر پھر باہر احاطے میں جا بیٹھتا۔ اسے ایک دو بار سمجھانے کی کوشش کی گئی مگر وہ اپنی جگہ پر اٹل تھا۔ ہم لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ ابھی زور دینا ٹھیک نہیں چپ ہو رہے کہ کہیں وہ بھاگ نہ جائے۔ اب رات ہو چلی اور اور وہ مزے میں صحن میں بیٹھا رہا۔ کھانا کھانے کے لیے اندر آیااور پھر باہر چل دیا۔ بڑی دقتوں سے اسے سلانے کے لیے اندر لایا گیا۔ اب وہ کوٹھری کے اندر سونے پر رضامند نہیں۔ رات بھر وہ سائبان ہی میں سوتارہا۔ غضب کی سردی تھی مگر وہ توکھلی فضا کا پنچھی تھا۔ اسے اوڑھنے کے لیے ایک کمبل دے دیا گیا جسے اس نے نہایت استغنا کے ساتھ سرسری طور پر لے لیا۔\n\nصبح ہوتے ہی وہ احاطے میں جا پہنچا۔ صرف قمیص اور ہاف پینٹ پہنے ہوئے اسے بلاکر چولہے کے پاس باورچی خانے میں بٹھایا گیا۔ وہاں وہ چپکا بیٹھارہا۔ جب ہم لوگوں کے ناشتے کے بعد اسے روٹی کھانے کو مل چکی تومیرے پاس آیا اورکہنے لگا۔\n\n’’ہم جا کے چادر لی آویں؟‘‘\n\nمیں نے پوچھا ’’کہاں ہے تیری چادر؟‘‘\n\nاس نے نہایت صفائی سے جواب دیا ’’فٹ پاتھ پر‘‘۔\n\n’’ارے فٹ پاتھ پرکہاں؟‘‘\n\n’’جہاں ہم روج سوتے تھے۔ حاطہ کے ٹٹی میں لُکا کے رکھ دیا ہے‘‘۔\n\nاب وہ جانے کے لیے بے چین تھا۔ میں نے کہا۔۔۔۔ ’’تجھے دوسری چادر مل جائے گی مت جا!‘‘\n\nمگر اس نے ایک نہ سنی اور جانے پر مصر ہوا۔ ملازموں نے اسے زبردستی روکنا چاہا تو وہ زورزور سے رونے لگا۔\n\nمیں نے آخرش اسے جانے کی اجازت دے دی۔ وہ چھلانگ لگا کراحاطے کے اندر چلاگیا اور وہاں سے یک بیک لوٹ کر اندر آیا۔ اس نے صحن کے گوشے میں جا کر قمیص اتاردی۔ اپنا میلا سا ربود کرتہ اورمرزئی پہنی اورہاتھ میں لنگوٹی کا چیتھڑا لے کر باہر جانے لگا۔\n\nمیں نے اسے کہا ’’ارے یہ کیا! اپنی چادر لے کر تو واپس نہیں آئے گا کیا؟‘‘\n\nوہ بلاجواب دئیے پھرتی سے احاطے سے باہر نکل گیا اور پھاٹک سے باہرہو کردوڑتا ہوا بھاگا۔ یہ جا وہ جا۔\n\nفٹ پاتھ اسے آوازدے رہا تھا۔ اس نے اپنی ماں کی آواز سن لی۔ کل کا بھولا بچہ اپنے گھر لوٹ چکا تھا۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%D9%B9_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "فکر", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "نہیں ہر چند کسی گمشدہ جنت کی تلاش\nاک نہ اک خلد طرب ناک کا ارماں ہے ضرور\nبزم دو شنبہ کی حسرت تو نہیں ہے مجھ کو\nمیری نظروں میں کوئی اور شبستاں ہے ضرور\n\nمٹ کے برباد جہاں ہو کے سبھی کچھ کھو کے\nبات کیا ہے کہ زیاں کا کوئی احساس نہیں\nکار فرما ہے کوئی تازہ جنون تعمیر\nدل مضطر ابھی اماجگۂ یاس نہیں\n\nتازہ دم بھی ہوں مگر پھر یہ تقاضا کیوں ہے\nہاتھ رکھ دے مرے ماتھے پہ کوئی زہرہ جبیں\nایک آغوش حسیں شوق کی معراج ہے کیا\nکیا یہی ہے اثر نالۂ دل ہائے حزیں\n\nمہ وشوں کا طرب انگیز تبسم کیا ہے\nہے تو سب کچھ یہ مگر خواب اثر کیوں ہو جائے\nحسن کی جلوہ گہہ ناز کا افسوں تسلیم\nیہی قرباں گۂ ارباب نظر کیوں ہو جائے\n\nمیں نے سوچا تھا کہ دشوار ہے منزل اپنی\nاک حسیں بازوے سیمیں کا سہارا بھی تو ہے\nدشت ظلمات سے آخر کو گزرنا ہے مجھے\nکوئی رخشندہ و تابندہ ستارہ بھی تو ہے\n\nآگ کو کس نے گلستاں نہ بنانا چاہا\nجل بجھے کتنے خلیل آگ گلستاں نہ بنی\nٹوٹ جانا در زنداں کا تو دشوار نہ تھا\nخود زلیخا ہی رفیق مہ کنعاں نہ بنی\n\nبہ ایں انعام وفا اف یہ تقاضائے حیات\nزندگی وقف غم خاک نشیناں کر دے\nخون دل کی کوئی قیمت جو نہیں ہے تو نہ ہو\nخون دل نذر چمن بندئ دوراں کر دے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%DA%A9%D8%B1"} {"title": "فکر انجام نہ آغاز کا کچھ ہوش رہا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فکر انجام نہ آغاز کا کچھ ہوش رہا\nچار دن تک تو جوانی کا عجب جوش رہا\n\nمیں قفس میں بھی کسی روز نہ خاموش رہا\nکشمکش میں بھی طبیعت کا وہی جوش رہا\n\nنشۂ الفت ساقی کا عجب جوش رہا\nہول صحرائے قیامت بھی فراموش رہا\n\nغیر ہوں جرعہ کش بزم تمنا افسوس\nخون کے گھونٹ میں پیتا رہا خاموش رہا\n\nہیچ آفت نرسد گوشۂ تنہائی را\nدشت غربت میں میں یہ سونچ کے روپوش رہا\n\nموسم گل کی ہوا داروئے بے ہوشی تھی\nسر اٹھانے کا بھی سبزے کو نہ کچھ ہوش رہا\n\nنکہت گل کی طرح جامے سے باہر ہوں گا\nفصل گل کا جو گلستاں میں یہی جوش رہا\n\nبحر رحمت میں بہت ہوگا تلاطم برپا\nتجھ کو اے اشک ندامت جو یہی جوش رہا\n\nاپنے سر سے بھی کسی روز گزر جائے گا\nآب شمشیر کو قاتل جو یہی جوش رہا\n\nسایۂ دامن قاتل میں جو نیند آئی مجھے\nپھر تو کروٹ بھی بدلنے کا نہ کچھ ہوش رہا\n\nدھوم سنتا رہا اب آتے ہیں اب آتے ہیں\nحشر تک میں یوں ہی کھولے ہوئے آغوش رہا\n\nدور کھنچتی ہی گئی منزل مقصود مگر\nرہرو عشق کی ہمت کا وہی جوش رہا\n\nرحمت حق رہی ہم عاصیوں پر سایہ فگن\nسر پہ چھایا ہوا اک ابر خطا پوش رہا\n\nاٹھتے اٹھتے تھی وہی بزم کی مستانہ روش\nچلتے چلتے بھی خم مے کو وہی جوش رہا\n\nپھر گئیں آنکھیں مری کوچۂ جاناں کی طرف\nشکر ہے مرتے دم اتنا تو مجھے ہوش رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "فکر رنج و راحت کیسی", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فکر رنج و راحت کیسی\nدوزخ کیسا جنت کیسی\n\nبدلی ان کی عادت کیسی\nالٹی اپنی قسمت کیسی\n\nہر شے میں ہے اس کا جلوہ\nکثرت میں ہے وحدت کیسی\n\nآپس میں اے گبرو مسلماں\nناحق ناحق حجت کیسی\n\nالفت میں ذلت رکھی ہے\nعزت کیسی حرمت کیسی\n\nزہد زاہد لا حاصل ہے\nبے گاری کو اجرت کیسی\n\nسن کر میری سینہ کوبی\nبولے وہ یہ نوبت کیسی\n\nچشم وحدت بیں کے آگے\nآئینے کی صورت کیسی\n\nمر جائیں گے ہم فرقت میں\nرہ جائے گی حسرت کیسی\n\nعالم ہے اے مہ رو تجھ پر\nشہروں میں ہے شہرت کیسی\n\nاٹھیں گے جب وہ صحبت سے\nبرہم ہوگی صحبت کیسی\n\nبے خود ہو جا میری صورت\nاے صوفی یہ حالت کیسی\n\nدنیا کے جھگڑوں سے چھوٹے\nمر کر پائی فرصت کیسی\n\nزلفوں کے پھندوں سے نکلے\nٹالی سر سے آفت کیسی\n\nفصل گل کے آتے آتے\nسو جاتی ہے وحشت کیسی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C"} {"title": "فکر عقبیٰ ہے مجھے خواہش دنیا ہے مجھے", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فکر عقبیٰ ہے مجھے خواہش دنیا ہے مجھے\nعیش کی دھن ہے مجھے موت کا دھڑکا ہے مجھے\n\nموت کہتے ہیں جسے ضبط کی تکمیل نہ ہو\nکہ تنفس پہ بھی فریاد کا دھوکا ہے مجھے\n\nحسن وہ چاہیے جو عشق کا آئینہ بنے\nیعنی اپنے لئے اپنی ہی تمنا ہے مجھے\n\nتم نہ گھبراؤ مجھے تم سے کوئی کام نہیں\nاپنی خواہش ہے مجھے اپنی تمنا ہے مجھے\n\nیہ تو معلوم نہیں ان کا ارادہ کیا ہے\nہاں نگاہ غلط انداز سے دیکھا ہے مجھے\n\nہجر کی شب ادھر اللہ ادھر وہ بت ہے\nدیکھنا یہ ہے کہ اب کون بلاتا ہے مجھے\n\nایک بت ایک ہی بت کا ہوں پجاری اخترؔ\nاپنے اس شرک پہ توحید کا دعویٰ ہے مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%B9%D9%82%D8%A8%DB%8C%D9%B0_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B4_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "فکر منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فکر منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھے\nجا رہا ہوں جس طرف لے جا رہا ہے دل مجھے\n\nاب زباں بھی دے ادائے شکر کے قابل مجھے\nدرد بخشا ہے اگر تو نے بجائے دل مجھے\n\nیوں تڑپ کر دل نے تڑپایا سر محفل مجھے\nاس کو قاتل کہنے والے کہہ اٹھے قاتل مجھے\n\nاب کدھر جاؤں بتا اے جذبۂ کامل مجھے\nہر طرف سے آج آتی ہے صدائے دل مجھے\n\nروک سکتی ہو تو بڑھ کر روک لے منزل مجھے\nہر طرف سے آج آتی ہے صدائے دل مجھے\n\nجان دی کہ حشر تک میں ہوں مری تنہائیاں\nہاں مبارک فرصت نظارۂ قاتل مجھے\n\nہر اشارے پر ہے پھر بھی گردن تسلیم خم\nجانتا ہوں صاف دھوکے دے رہا ہے دل مجھے\n\nجا بھی اے ناصح کہاں کا سود اور کیسا زیاں\nعشق نے سمجھا دیا ہے عشق کا حاصل مجھے\n\nمیں ازل سے صبح محشر تک فروزاں ہی رہا\nحسن سمجھا تھا چراغ کشتۂ محفل مجھے\n\nخون دل رگ رگ میں جم کر رہ گیا اس وہم سے\nبڑھ کے سینے سے نہ لپٹا لے مرا قاتل مجھے\n\nکیسا قطرہ کیسا دریا کس کا طوفاں کس کی موج\nتو جو چاہے تو ڈبو دے خشکئ ساحل مجھے\n\nپھونک دے اے غیرت سوز محبت پھونک دے\nاب سمجھتی ہیں وہ نظریں رحم کے قابل مجھے\n\nتوڑ کر بیٹھا ہوں راہ شوق میں پائے طلب\nدیکھنا ہے جذبۂ بے تابئ منزل مجھے\n\nاے ہجوم ناامیدی شاد باش و زندہ باش\nتو نے سب سے کر دیا بیگانہ و غافل مجھے\n\nدرد محرومی سہی احساس ناکامی سہی\nاس نے سمجھا تو بہر صورت کسی قابل مجھے\n\nیہ بھی کیا منظر ہے بڑھتے ہیں نہ رکتے ہیں قدم\nتک رہا ہوں دور سے منزل کو میں منزل مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D8%AC%D8%A7%D8%AF%DB%82_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "فکر میں مفت عمر کھونا ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فکر میں مفت عمر کھونا ہے\nہو چکا ہے جو کچھ کہ ہونا ہے\n\nکھیل سب چھوڑ کھیل اپنا کھیل\nآپ قدرت کا تو کھلونا ہے\n\nآنکھ ٹک کھول دید قدرت کر\nپھر تو پاؤں پسار سونا ہے\n\nچپ رہا کر بڑوں کی مجلس میں\nیہ بھی ایک عافیت کا کونا ہے\n\nمیرا معشوق ہے مزوں میں بھرا\nکبھو میٹھا کبھو سلونا ہے\n\nچھل بل اس کی نگاہ کا مت پوچھ\nسحر ہے ٹوٹکا ہے ٹونا ہے\n\nرو تو حاتمؔ 'حسین' کے غم میں\nاور رونا تو رانڈ رونا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%81%D8%AA_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "فکر ہستی ہے نہ احساس اجل", "poet_page": "مصنف:ہوش بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فکر ہستی ہے نہ احساس اجل\nیہ خرد ہے یا دماغوں کا خلل\n\nزندگی بے کشمکش ملتی نہیں\nآندھیوں سے کھیل طوفانوں میں چل\n\nچھا رہی ہیں عبرتیں ہی عبرتیں\nحلقۂ اوہام ہستی سے نکل\n\nیہ محبت کی رہ‌ دشوار ہے\nڈگمگاتے ہیں قدم ناداں سنبھل\n\nغم سے ہوتی ہے حقیقت آشکار\nمضطرب موجوں میں کھلتا ہے کنول\n\nوقت کی آواز سننا چاہئے\nوقت کا فرمان ہوتا ہے اٹل\n\nغم اگر قسمت میں ہو لکھا ہوا\nہوشؔ کام آتے نہیں سعی و عمل", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D8%AC%D9%84"} {"title": "فکر ہے شوق کمر عشق دہاں پیدا کروں", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فکر ہے شوق کمر عشق دہاں پیدا کروں\nچاہتا ہوں ایک دل میں دو مکاں پیدا کروں\n\nطبع عالی سے اگر اوج بیاں پیدا کروں\nمیں زمین شعر میں بھی آسماں پیدا کروں\n\nہوں میں وہ دل سوختہ تاثیر آہ گرم سے\nگلشن جنت میں بھی دور خزاں پیدا کروں\n\nپاؤں کہتے ہیں ترے کوچے میں آ کر ضعف سے\nتو گرا دے اور میں خواب گراں پیدا کروں\n\nاب بھی تم آؤ تو میں آنکھوں میں بہر یک نظر\nڈھونڈ کر تھوڑی سی جان ناتواں پیدا کروں\n\nمیں ہوں اے تسلیمؔ شاگرد نسیمؔ دہلوی\nچاہیئے استاد کا طرز بیاں پیدا کروں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%DA%A9%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D9%88%D9%82_%DA%A9%D9%85%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AF%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کی\nہے سزا تجھ پہ یہ گستاخ نظر کرنے کی\n\nکہہ حدیث آنے کی اس کے جو کیا شادی مرگ\nنامہ بر کیا چلی تھی ہم کو خبر کرنے کی\n\nکیا جلی جاتی ہے خوبی ہی میں اپنی اے شمع\nکہہ پتنگے کے بھی کچھ شام و سحر کرنے کی\n\nاب کے برسات ہی کے ذمے تھا عالم کا وبال\nمیں تو کھائی تھی قسم چشم کے تر کرنے کی\n\nپھول کچھ لیتے نہ نکلے تھے دل صد پارہ\nطرز سیکھی ہے مرے ٹکڑے جگر کرنے کی\n\nان دنوں نکلے ہے آغشتہ بہ خوں راتوں کو\nدھن ہے نالے کو کسو دل میں اثر کرنے کی\n\nعشق میں تیرے گزرتی نہیں بن سر پٹکے\nصورت اک یہ رہی ہے عمر بسر کرنے کی\n\nکاروانی ہے جہاں عمر عزیز اپنی میرؔ\nرہ ہے درپیش سدا اس کو سفر کرنے کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%DA%A9%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "فکر یہی ہے ہر گھڑی غم یہی صبح و شام ہے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فکر یہی ہے ہر گھڑی غم یہی صبح و شام ہے\nگر نہ ملا وہ کچھ دنوں کام یہاں تمام ہے\n\nاب ہیں ہمارے نام پر سیکڑوں گالیاں یہ لطف\nکہتے تھے تم میاں میاں وہ ہی تو یہ غلام ہے\n\nخیر نہ ملیے روز روز یوں ہی سہی کبھی کبھی\nاس سے بھی انحراف ہے اس میں بھی کچھ کلام ہے\n\nاے دل بے قرار کچھ کر وہ رکے تو رکنے دے\nفائدہ اضطراب سے صبر کا یہ مقام ہے\n\nکوئی کہے برا بھلا کوئی عدو ہو یا ہو دوست\nاور کسی سے کام کیا آپ سے مجھ کو کام ہے\n\nہائے ہر اک کی وہ سنے کچھ میں کہوں تو یہ کہے\nآپ نہ مجھ سے کچھ کہیں آپ سے کب کلام ہے\n\nآج ہیں ہم تو جاں بہ لب کل کو گر آئے بھی حصول\nتم کو کسی سے کیا غرض اپنی خوشی سے کام ہے\n\nیہ بھی غضب کا رشک ہے خط تو ہے نام غیر پر\nاور لفافے پر لکھا سہو سے میرا نام ہے\n\nکس کو کیا شہید ناز کس کی ہوئی وفا پسند\nکہتے ہیں ان کے در پر آج خلق کا ازدحام ہے\n\nاب ہیں فریب کس لیے ہوگا یقیں کسی کو اب\nتم سے وفا کی آرزو یہ بھی خیال خام ہے\n\nتوبہ کا یاں کسے خیال مے کو سمجھتے ہیں حلال\nجس کے لیے حرام ہے اس کے لیے حرام ہے\n\nدن ہو تو آفتیں یہ کچھ رات ہو تو یہ کچھ ستم\nکیسی ہماری صبح ہے کیسی ہماری شام ہے\n\nہجر کے وہ ستم سہے اب نہ رہی ہوائے وصل\nحال یہی ہے نامہ بر یہ ہی مرا پیام ہے\n\nسن کے مری فغاں کا شور پوچھا کسی نے کون ہے\nبولے سنا نہ ہوگا کیا، یہ تو وہی نظامؔ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%DA%A9%D8%B1_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%D8%BA%D9%85_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "فہمیدہ ہے جو تجھ کو تو فہمید سے نکل", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فہمیدہ ہے جو تجھ کو تو فہمید سے نکل\nاور دید کا جو شوق ہے تو دید سے نکل\n\nزنداں ہجر میں ہمیں سونپا تھا عشق نے\nآئے ہیں ہم نصیبوں کی تائید سے نکل\n\nقالب میں میرے یارو بھلا کیا سماوی دم\nجب جان کو کہے کوئی تاکید سے نکل\n\nتشبیب میں بھی لطف ہے اک اے قصیدہ گو\nاتنا شتاب بھی تو نہ تمہید سے نکل\n\nمصرع کو پہنچے مصرعۂ ثانی برا ہے کیا\nکر لے نکاح عالم تجرید سے نکل\n\nکر تو عیوب نظم سے پرہیز اے فلاں\nشاعر ہے تو تنافر و تعقید سے نکل\n\nہیں یاد کب اے مری وحشت کے رنگ ڈھنگ\nمجنوں گیا ہے دشت کو تقلید سے نکل\n\nوہ مست میں نہیں ہوں کہ مستوں کی کھا کے دھول\nجاؤں شراب خانۂ توحید سے نکل\n\nہو مصحفیؔ تو علم الٰہی کا آشنا\nقید عناصر اور موالید سے نکل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%81%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84"} {"title": "فیض محبت سے ہے قید محن", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "فیض محبت سے ہے قید محن\nمیرے لیے ایک بلائے حسن\n\nشام غریباں کے برابر کہاں\nمذہب عشاق میں صبح وطن\n\nآہ وہ غارت گر صبر و شکیب\nسلسلۂ زلف شکن در شکن\n\nفتنۂ جاں وہ سخن دل پذیر\nدشمن دیں وہ نگہ سحر فن\n\nجلوۂ جاناں سے ہے دارالسرور\nخانۂ جاں اب نہیں بیت الحزن\n\nمہر و مروت سے تمہیں واسطا\nیہ بھی حریفوں کا ہے اک حسن ظن\n\nجب سے کہا عشق نے حسرتؔ مجھے\nکوئی بھی کہتا نہیں فضل الحسن", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%DB%8C%D8%B6_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D9%85%D8%AD%D9%86"} {"title": "فیلا لوجیا", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "لغات اور زبانوں کی فلسفی تحقیقات کے اصول\n\nیہ ایک قدیم فن فلاسفۂ یونان کا ہے۔ اس سے مختلف زبانوں کی اصلیں اور ان کاتعلق ایک دوسرے سے معلوم ہو جاتا ہے۔ عرب اور فارس جہاں سے پہلے ہمیں علوم کے ذخیرے ملے، ان میں اس کے اصول و فروع کا پھیلاؤ بہت نہیں ہو اور جس قدر ہوا گُم ہو گیا۔ اب جو کچھ ہے انگریزی میں ہے۔ وہ اسے فلولوجی کہتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی رسالہ اس کا ترجمہ ہو تو امید نہیں کہ ہم وطن بھائیوں کا دل روشن کر سکے۔ کیونکہ انگریزی کے مصنف کئی کئی زبانوں کے ماہر ہوتے ہیں۔ وہ ہر زبان کی طاقت اس میں خرچ کرتے ہیں اور انگریزی، یونانی، لاطینی، عبرانی وغیرہ پر بنیاد رکھتے ہیں۔ یہاں ان طرفوں میں اندھیرا ہے۔ ہم لوگوں کو کچھ نظر نہیں آتا۔ اس لئے میں فارسی اور سنسکرت لفظوں کے چقماق سے آگ نکالوں گا۔ امید ہے کہ کچھ نہ کچھ اجالا ہوگا۔\n\nایشیائی زبانوں میں تحقیقات فلولوجی کا ابھی تک رواج نہیں ہوا۔ اہل یورپ نے اسے یونان سے لیا تھا۔ اسی واسطے علم مذکور کا نام فلولوجی چلا آتا ہے۔ (فلسفۃ اللسان) اب میرے دوست مجھے چند منٹ کے لئے ا جازت دیں کہ اول چند مطالب بیان کروں جن سے معلوم ہو کہ زبان جس سے تقریر یا گویائی مراد ہے وہ کیا شے ہے؟ وہ اظہار خیال کا وسیلہ ہے کہ متواتر آوازوں کے سلسلے میں ظاہر ہوتا ہے جنہیں تقریر یا سلسلۂ الفاظ یا بیان یا عبارت کہتے ہیں۔ اسی مضمون کو شاعرانہ لطیفہ میں ادا کرتا ہوں کہ زبان (خواہ بیان) ہوائی سواریاں ہیں جن میں ہمارے خیالات سوار ہو کر دل سے نکلتے ہیں اور کانوں کے رستے اوروں کے دماغوں میں پہنچتے ہیں۔ اس سے رنگین تر مضمون یہ ہے کہ جس طرح تصویر اور تحریر قلم کی دستکاری ہے، جو آنکھوں سے نظر آتی، اسی طرح تقریر ہمارے خیالات کی زبانی تصویر ہے جو آواز کے قلم نے ہوا پر کھینچی ہے۔ وہ صورت ماجرا، کام، مقام اور ساری حالت کانوں سے دکھاتی ہے۔ خیالات کا مرتبہ زبان سے اول ہے۔ لیکن جب تک وہ دل میں ہیں ماں کے پیٹ میں ادھورے بچے ہیں۔ تقریر میں آکر پورے ہوتے ہیں اور تحریر کا لباس پہن کر بھرپور۔ لوگ جو خیالات سے مطلب نگاری اور نکتہ پردازی میں جان کھپاتے ہیں اس نکتہ کو انہی کا دل جانتا ہے۔ دنیا میں اظہار مراتب کی کارروائی تین طرح سے ہو سکتی ہے۔ اشارات، تقریر، تحریر۔ ان میں زبان یعنی تقریر اپنی توضیح کی زیادتی اور محنت کی کمی سے اول نمبر ہوگئی ہے اور حق پوچھو تو کارروائی کے لئے سب برابر ہیں۔ اب یہ کہو کہ زبان کیونکر پیدا ہوئی؟ سبحان اللہ! ہر مذہب کی کتاب یہی خبر دیتی ہے کہ ہماری زبان خاص خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے، یہ ہمیں ساتھ لے کر بہشت میں جائے گی اور اسی کے ذریعے سے ہم اہل جنت سے باتیں کریں گے۔1 لیکن غور کر کے دیکھو تو صانع مطلق نے اپنی صنعت کاملہ سے انسان ایک ایسا طلسم قدرت بنایا ہے کہ وہ خود زبان پیدا کر سکتا ہے اور یہ راز خیال کو وسعت دینے سے کھلتا ہے۔ ہے انسان صانع قدرت کا ایک صندوق سربستہ و لیکن یہ نہیں کھلتا کہ اس میں بولتا کیا ہے راہِ تہذیب کے مسافرو! ذرا ابتدائے آفرینش کی طرف مڑ کر نگاہ کرو کہ انسان پیدا ہوا ہے۔ اس میں دل ہے، دماغ ہے، خیالات ہیں اور سب طرح کی ضرورتیں بھی ہیں، مگر اظہار مطلب کا اوزار نہیں۔ وہ کیونکر گزارہ کرتا ہوگا؟ اچھا آج جو انسان بے زبان ہیں اور پہلے سے سو درجے زیادہ ضرورتیں رکھتے ہیں، انہیں دیکھو کیا کرتے ہیں؟ وہ کون؟ گونگے کہ اپنے اشاروں میں دنیا کی کوئی بات نہیں چھوڑتے، سب کچھ کہہ دیتے ہیں۔ اور گونگوں پر کیا منحصر ہے، تم خود اکثر نہیں بولتے، سر کو آگے کو ہلا کر ہاں ظاہر کر دیتے ہو۔ دونوں شانوں کی طرف ہلا کر نہیں اور غور کرو تو یہ طبعی حرکت ہے۔ گھوڑے، ہاتھی وغیرہ چار پائے جب مالک کا ارادہ ماننا نہیں چاہتے، تو کس طرح سر جھڑجھڑا کر سرکشی سے انکار دکھاتے ہیں۔ شوق سیاحت مجھے خود کئی ملکوں میں لے گیا جہاں میں گونگا تھا۔ کیونکہ نہ میں کسی کی سمجھتا تھا، نہ کوئی میری وہاں۔ گزارہ کا وسیلہ اشارے ہی تھے۔ انسان جوش ہائے مختلف کا تھیلا ہے۔ جب کسی بات میں ناراض یا خفا ہوتا ہوگا تو اس کی طبیعت سخت آواز نکالتی ہوگی۔ نہیں، غراتا ہوگا۔ تم جانتے ہو کہ سمجھ بھی اپنے اپنے درجہ میں ہر جاندار کو ملی ہے۔ کتّے، بلی کو دیکھو۔ جب تمہیں خوش کرنا چاہتے ہیں، تو کن کن حرکتوں اور جنبشوں سے لگاوٹ کرتے ہیں اور کیسی مہین مہین نرم نرم آوازیں سناتے ہیں۔ اسی طرح ابتدائی انسان بھی دوسرے کا غصہ دھیما کرنے کو عجز و نیاز کی حرکات کام میں لانے لگا ہوگا۔ گونگوں کو بھی دیکھ لو اپنے اشاروں کو رنگ برنگ کی آوازوں سے مدد پہنچاتے ہیں۔ تم ابھی کتّے، بلی، سانپ وغیرہ جانوروں کے ڈرانے یا ہٹانے کے لئے لکڑی کھٹ کھٹا کر کام لیتے ہو۔ کبھی دوسرے شخص کو ہوشیار یا آگاہ یا اپنی طرف متوجہ کرنے کو تالی بجاکر، چھچکار کر، کھنکھار کر آگاہ کرتے ہو۔ آواز کا سمجھ جانا جاندار مخلوق کی طبیعت میں داخل ہے۔ جو جو بولیاں بول کر آپس میں سمجھتے سمجھاتے ہوں گے، وہ تو خدا ہی جانے مگر بلی کو دیکھو، کسی ملک کی ہو، خواہ غافل سوتی ہو، خواہ کسی طرف جاتی ہو۔ جب پھِش پھِش کر کے آواز دوگے، فوراً دیکھنے لگے گی۔ کتّا کسی ولایت کا ہو جب تم چُس چُس کر کے آواز دوگے، ضرور چوکنا ہوکر دیکھنے لگے گا، بلکہ محبت کی دُم بھی ہلانے لگے گا۔ یہ عموماً بازاری کتّوں کا حال ہے اور جو تعلیم یافتہ ہیں ان کا تو کیا کہنا! جب یہ بات قرین قیاس ٹھہری کہ انسان بھی ابتدائے آفرینش میں اشاروں سے سمجھتا سمجھاتا تھا تو یہ بھی ظاہر ہے کہ سوچنے اور ایجاد کرنے کی لیاقت اسے خدا نے دی تھی۔ برس دو برس کے بچوں کو دیکھو فقط چیخیں ہی مارتے ہیں یا مُہمل آوازیں کام میں لاتے ہیں۔ جس بات کو جی چاہتا ہے یا کچھ چیز مانگتے ہیں یا نہیں کرنا چاہتے ہیں تو انگلیوں کے اشاروں سے سر کے ہلانے سے اور اُنھ اُنھ، نے نے کر کے تمہیں اپنی خواہشیں جتا دیتے ہیں۔ رفتہ رفتہ کچھ کچھ اور آوازیں بھی ٹھیرا لیتے ہیں۔ مثلاً پانی کے لئے مم مم اور کھانے کو پَہ پَہ یا ہپہ وغیرہ وغیرہ۔ تم نے دیکھا! اعضائے تکلم میں ہونٹ سب سے زیادہ نرم ہیں۔ ذرا سے ارادہ میں ہل جاتے ہیں۔ انہی سے یہ صدائیں نکلی ہیں، نہ کہ مسوڑوں سے یا ناک سے یا کان سے۔ رفتہ رفتہ کچھ اور آوازیں نکالنے لگتے ہیں یا سیکھ جاتے ہیں۔ البتہ ان کے اُستاد یا رہنما بھی ہوتے ہیں۔ (وہ کون؟ یہی گھر والے) اور یہ آوازیں بھی اول ان چیزوں اور ان آدمیوں پر کام آتی ہیں جو ان کے آس پاس ہوتے ہیں۔ اسی طرح فرض کرو کہ آفرینش عالم طفولیت میں ہے اور ایک جگہ دو چار ہی آدمی رہتے ہیں۔ اس وقت ان کے کیا معاملات اور کیا سامان ہیں؟ ایک پہاڑ کے بن مانس یا صحرا کے حبشی پر خیال کرو کہ اس کے پاس ایک ہڈی ہے، وہ اس میں سے گوشت نوچ نوچ کر کھا رہا ہے۔ فرض کرو ایک ویسا ہی جنگلی اس پر ہاتھ بڑھا کر، آنکھیں نکال کر، گردن کو اینٹھا کر غرایا تو پہلا جنگلی ضرور سمجھ گیا ہوگا کہ یہ ہڈی چھیننی چاہتا ہے۔ اگر برخلاف پہلی حالت کے اُوں اُوں کر کے، نرم نرم مہین آواز نکالی اور غریبی کا رنگ دکھا کر آنکھیں چندھیائیں اور آہستہ آہستہ ہاتھ بڑھایا تو وہ سمجھ گیا ہوگا کہ یہ بیچارا بھی بھوکا ہے۔ عاجزی سے ہڈّی مانگتا ہے۔ اور یہ حالتیں تم روز اکثر حیوانوں میں مشاہدہ کرتے ہو۔ بعد میں اس کے اس کھانے پینے کے علاوہ اور چیزوں کے لئے بھی آوازیں مقرر ہوگئی ہوں گی۔ پھر رفتہ رفتہ لفظ پیدا ہوگئے ہوں گے۔ تاریخی لطیفہ اکبر کے دربار میں گفتگو ہوئی کہ انسان کی اصلی زبان کیا ہے؟ ایک مکان عالیشان شہر سے الگ تجویز ہوا۔ چند حاملہ عورتوں کو وہاں رکھا۔ گونگی انّائیں، مامائیں، گونگے خدمتگار باہر کے لئے نوکر کئے۔ جب بچے پیدا ہوئے تو ماؤں کو الگ کر کے بے زبانوں کو گونگی انّاؤں کے سپرد کردیا۔ پرورش کی ضروریات سب حاضر اور حکم تھا کہ کوئی بولتا آدمی ان کےپاس نہ پھٹکنے پائے۔ جب بچے چار چارپانچ پانچ برس کے ہوئے تو بادشاہ خود گئے۔ بچوں کو سامنے لاکر چھوڑ دیا۔ سب جنگلی جانوروں کی طرح غائیں پائیں کرتے تھے۔ ایک بات سمجھ میں نہ آتی تھی۔ تم ننھے ننھے بچوں کو دیکھتے ہو؟ جو چیزیں انہیں نظر آتی ہیں اورانہی سے کام پڑتے ہیں، ان ہی کے لئے سب سے پہلے اشارے اور آوازیں بھی قرار دیتے ہیں۔ ان میں سب سے اول پیاری ماں اورپیارا باپ ہوتا ہے۔ یہ بھی ظاہر ہے بچوں کے اعضا کا جز جز قابو میں نہیں ہوتا کہ حروف میں امتیاز اور فرق پیدا کر سکیں۔ سب سے آگے وہی ہونٹ ہیں، انہیں میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور بچہ کہتا ہے مَ مَ بَ بَ۔ اس بات کو میں بھی تسلیم کرتا ہوں کہ اختلاف وطن اور آب و ہوا کے فرق سے طبیعتوں میں بھی فرق ہوتا ہے لیکن چونکہ انسانیت کے لحاظ سے سب ایک تھے، اس لئے دیکھو! طبیعت کے استاد نے سب کو ایک ہی نام سکھایا اگرچہ ذرا ذرا سا فرق ہوگیا ہے۔ لیکن تقریباً سب زبانوں میں ماں باپ کے نام جو بچہ سب سے پہلے سیکھتا ہے ایسے اصوات سے مرکب ہیں جن کا تلفظ ہونٹوں کی جنبش یا محض منھ کھول کر آواز نکالنے سے ہوتا ہے۔ مثلاً، انگریزی میں باپ کو پاپا کہتے ہیں، ماں کو ماما عربی میں باپ کو اب یا ابا کہتے ہیں، ماں کو ام فارسی میں باپ کو بابا کہتے ہیں، ماں کو مام اشارات میں دیکھ لو، طبیعت انسانی کا اتحاد۔ ہر ایک کے بچہ سے اشارہ کے لئے پہلے انگلی اٹھواتا ہے پھر آواز سے کہواتا ہے۔ یُہ یُہ۔ پھر پاس کے لئے یہ اور دور کے لئے وُہ ہو جاتا ہے۔ بچہ پہلے چیزوں کے نام یعنی اَسما سیکھتا ہے۔ اسی واسطے جب کوئی چیزلینی چاہتا ہے تو فقط اسی کا نام لے کر پکارتا ہے۔ بھوکا ہوتا تو دُو دُو دُو دُو کہتا ہے۔ پیاسا ہوتا ہے تو فقط مم مم کہتا ہے۔ مٹھائی کو جی چاہتا ہے تو چیجی بلکہ چی کہتا ہے۔ جب گویائی میں ذرا زور رفتار پیدا ہوتا ہے تو فعل بھی لگانے لگتا ہے، مگر غلط سلط۔ رفتہ رفتہ حروف لگا کر باتیں کرنے لگتا ہے۔ زبان کے انجان پردیسیوں کو دیکھا اور خود سیاحتوں میں تجربہ ہوا کہ غیر ملک میں جاکر لین دین، کام کاج میں پہلے فقط اسموں سے کام نکالنا پڑتا ہے۔ مثلاً روٹی چاہئے تو پیسے دکھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نان، یعنی پیسے موجود ہیں روٹی دو۔ دُکان دار روٹی دکھاتا ہے اور انگلی کا اشارہ کرتا ہے، یعنی ایک پَیسا یا دو پیسے۔ اسی طرح گھی، نمک وغیرہ۔ چند روز کے بعد کچھ فعل یاد ہوجاتے ہیں، حرف سیکھ لیتا ہے۔ اسی کہنے سننے میں آدھے سارے جملے جوڑنے لگتا ہے۔ باعتبار ولادت کے اشارت کا نمبر اول تھا، لیکن کلام بہت اچھی کارگزاری کرتا ہے۔ اس لئے زبان اس پر چرب ہوئی اور ادائے مطلب کا کام اٹھا لیا۔ الفاظ جن سے زبان کا کام چلتا ہے کیونکر پیدا ہوئے؟ایک گروہِ کثیر ایک ہی دادا کی اولاد ہو، لیکن جب کنبہ کنبہ ایک ایک پہاڑی یا قطعہ قطعہ زمین پر الگ الگ بستے ہوں تو ضرور ہے کہ ضرورتِ وقت یا قدرتی اتفاق ان میں نئی چیزیں پیدا کریں۔ اور ظاہر ہے کہ ہر مقام میں ایک ہی چیز کا جدا جدا نام پکارا جائے گا۔ کچھ عرصہ کے بعد ایک ہی چیز کے لئے مختلف مقاموں کے نام جمع کریں تو ہر چیز کے لئے کئی کئی نام ہوں گے۔ پھر جب کہ سلطنت کا امن یا باہمی ارتباط آمدو رفت کے نَسَا جال پھیلائے اور تعلیم و تربیت عام ہو جائے تو بہت سے نام خود بخود گر جائیں گے اور ہر شے کے لئے ایک نام رہ جائے گا۔ وہ کبھی تو مناسبت کے سبب سے زیبا و برجستہ ہوگا اور کبھی جو بِنْدھ گیا وہی موتی۔ اس وقت یہ ضروری ہے کہ ہر شے کو نام خاص سے پکارنے کے لئے سب کا اتفاق ہوگا۔ اب اگر کوئی پوچھے کہ لفظ کیا شے ہے؟ تو تم کہہ سکتے ہو کہ وہ ایک زبانی تصویر ہے یا پَتَا۔ نشان ہے کسی چیز کا یا فعل کا۔ دنیا ہمیشہ ترقی کے رستہ میں رواں ہے۔ کیسی ہی ابتدائی حالت ہو، شائستگی پھیلے جائے گی۔ علوم اور فنون کی دستکاری نئی چیزیں پیدا کرے گی۔ لین دین جسے ترقی نے تجارت کا خطاب دیا ہے، ایک جگہ کی چیزیں دوسری جگہ پہنچائیں گے۔ اس سب سے بھی نئے الفاظ ہر جگہ پیدا ہوں گے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچیں گے۔ کیونکہ چیزیں اور کام نئے ہیں۔ دیکھ لو! یہی سبب ہے کہ دیہات میں الفاظ کم ہوتے ہیں، شہروں میں بہت اور شہری الفاظ کی خوش آوازی، خوش ادائی، اور لطافت گاؤں والوں کو اپنی شاگردی پر مجبور اور مشتاق کرتی ہے۔ اسی کو خاص و عام کا اتفاق کہتے ہیں اور اس سے الفاظ اور اصطلاحیں پیدا ہوتی ہیں۔ اب کوئی پوچھے کہ تقریر کیونکر پیدا ہوئی؟ تم صاف کہہ دوگے کہ انسان میں جو چیخنے اور چلانے کی خاصیت ہے، وہ باہمی ضرورتوں اور آپس کے برتاؤ سے اصلاح اور ترقی کرتے کرتے تقریر ہوگئی اور رفتہ رفتہ یہ رتبہ پیدا کیا کہ جس طرح ایک مصور کامل کسی انسان یا باغ یا محل کا نقشہ کھینچ کر اس کی کیفیت آنکھوں کے رستے سمجھاتا ہے، صاحب زبان اپنے مافی الضمیر اور حرکت اعضا کے مجموعہ کو آواز کے رنگ میں کانوں کے رستے سمجھاتا ہے۔ پس گویائی گویا ایک عمدہ آلہ ادائے خیال کا ہے، لیکن نامکمل۔ کیونکہ کون سا قادر الکلام ہے جو دل کے خیال کو جوں کا توں پورا پورا اپنے لفظوں میں ادا کردے۔ عمدہ سے عمدہ کلام دل کے خیالات کی تصویر ہے لیکن ایسے پانی میں ہے جو گدلا ہے۔ یا عکس ہے ایسے آئینہ میں جو دھندلا ہے۔ تم نے خیال کیا؟ زبان یعنی تقریر گویا انسان کے دل، انسان کی خواہش اور اس کے حرکات اعضائی کا مجموعی خلاصہ ہے۔ اسی خیال سے زبان عرب کے ابتدائی محققوں میں عباد بن سلیمان ضمیری نے کہہ دیا کہ ’’الفاظ اپنے حروف، اعراب اور آوازوں کے ذریعے سے خود بخود اپنے معنی بتلاتے ہیں۔ ‘‘ مگر یہ رائے عموماً درست نہیں۔ اصفہانی نے شرح منہاج بیضاوی میں لکھا ہے کہ جمہور اہل لغت اس پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں۔ اگر یہی بات ہوتی تو ہر شخص ہرلفظ کے معنی سمجھتا۔ بتانے اور لغت میں دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ دوسرے اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ایک لفظ کے دو معنی ہوتے ہیں جو باہم مخالف ہیں۔ اگر الفاظ بالطبع اپنے معنوں پر دلالت کرتے تو یہ کیونکر ہو سکتا تھا۔ البتہ لفظ بھی بعض جگہ اپنے معنوں پر آپ اشارہ کرتا ہے۔ دیکھو، تندر (رعد) کو خیال کرو۔ اس لفظ میں گرج زور و شور سنائی دیتا ہے یا نہیں؟ درشت کو دیکھو۔ کرخت پر خیال کرو۔ سختی اور کھردراپن نہیں پایا جاتا؟ تیر کی ی کو مد کی کشش میں دیکھو۔ صاف نظر آتا ہے کہ کوئی تیز چیز تیز رو ہے کہ سیدھی چلی جاتی ہے۔ خُم یا خُنب بولنے میں بھی اپنی پھلاوٹ اور گلاوٹ کی تصویر دکھاتا ہے۔ یورپ کے دانا کہتے ہیں کہ پہلے طبیعت کی تاثیر نے حالت کے مناسب آوازیں نکالی تھیں۔ پھر استعمال اور تہذیب نے انہی کو لفظ بنا دیا۔ یہ رائے قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔ چہچہہ بُلبُل کی آوازِ مسلسل کا نام ہوا۔ کوکو فاختہ کی آواز متواتر کا۔ غرّش جانوروں کی خفگی کی آواز۔ قہقہہ انسان کی ہنسی غوغا۔ غُلغُلہ، غُلغُل، شور و غُل انسان کا ہوا۔ کوہستان خِراسان و ایران کے کوّے دیکھے۔ چپل سے ذرا چھوٹے ہوتے ہیں اور بولنے میں صاف کلغ کلغ آواز دیتے ہیں۔ کلاغ ان کا نام ہو گیا۔ چغوک اسی آواز کے سبب سے چڑے کا نام ہوا۔ (یعنی چڑیا کا نر) تم ضرور کہوگے کہ اپنے رنگ، آواز، اور ادا کے انداز اور دل کی حالت کو ملا کر جو معنی چاہو پیدا کرلو۔ اصلی لفظ میں تو ہمیں کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا۔ یہ بھی درست ہے۔ لیکن میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ زبان انسان کی آواز، دل اور اشارات اعضائی کا مجموعہ ہے۔ اس صورت میں کسی جز کو روکنا نہیں چاہئے۔2 ولادتِ زبان کی بنیاد تم نے دیکھ لی؟ پہلے کچھ اشارے تھے۔ پھر کچھ آوازیں، پھر باہمی اتفاق سےکچھ الفاظ آپس کے سمجھنے سمجھانے کے لئے مقرر ہوگئے۔ پس جب آفرینش بڑھے اور آبادی پھیلے، تب بھی واجب ہے کہ وہی الفاظ کام میں لائیں کہ سب کی سمجھ میں آئیں اور عام فہمی کے سبب سے انہیں سب سے پہلے کام میں لائیں۔3 زبان میں کسی کو اپنی طرف سے ایک لفظ بھی ایجاد کرنے کا اختیار نہیں ہے! یہ ہوسکتا ہے کہ میں شادمی کہوں اور اس کے معنی رکھوں آدمی۔ اسے شاید میرے نوکر چاکر یا دوست آشنا سمجھنے میں بھی لگیں مگر اور سب کب مانیں گے! اور مانیں کیا؟ اگر چند لفظ ایسے تصنیف کر لوں تو کوئی میری بات بھی نہ سمجھے گا۔ اسی بنیاد پر عرب کے اہل تحقیق نے کہا ہے کہ لغت 4 وہ ہے کہ جس پر جمہور کا اتفاق ہو۔ اصطلاح وہ ہے جس پر خاص گروہ کا اتفاق ہو۔ البتہ کوئی علمی مصنف یا صاحب ایجاد قادر الکلام شخص بھی الفاظ ایجاد کر سکتا ہے۔ لیکن ان کے قیام عمر کے لئے اسے بھی جمہور کا حسن قبول حاصل کرنا پڑے گا۔ عزیزان وطن! ولادتِ الفاظ اور آفرینش زبان کے خیالات مجملاً آپ کے تصور میں آگئے ہوں گے۔ اب یہ سنئے کہ فلسفی زبان کا منصب کیا ہے؟ اس کا منصب ہے تقریر کے ہر لفظ کو کریدنا جس سے کہ زبان مرکب ہے۔ اس سے شاید تم یہ سمجھے ہوگے کہ فلسفی زبان کو اکثر زبانوں کے لفظ اور معنی خوب آتے ہوں گے۔ وہ عبارت میں مبتدا، خبر، مضاف، مضاف الیہ، صلہ، موصول، وغیرہ وغیرہ کو خوب سمجھتا ہوگا۔ نہیں! یہ تو بہت ادنی کام ہے۔ وہ لفظ کی اصل و نسل ولادت سے وقتِ موجود تک دریافت کرتا ہے۔ تم نے کسی نیاریے یا تیزابیے کو دیکھا ہے؟ جب ایک دھات کی ڈلی اس کے ہاتھ میں آتی ہے تو وہ اسے دیکھتا ہے اور جانچتا ہے کہ ایک مادہ ہے یا کئی مادّے گٹھے ہوئے ہیں۔ تب کبھی تیزاب سے، کبھی آنچ کے زور سے گلا کر ان کا جوڑ جوڑ کھول لیتا ہے کہ اس کی اصل کہاں پہنچی ہے۔ اسی طرح ماہر زبان ایک لفظ کو لیتا ہے، وہ تیزاب، یا آنچ کام میں نہیں لاتا، فقط عقل کے تیزاب سے حرفوں کے جوڑ بند کھولتا ہے اور معنوں کو سوچ کر اس کی ساری اصل نسل دریافت کر لیتا ہے۔ میرے دوستو! تم حیران ہوگے کہ لفظ کی ولادت اور نسل کیا؟ ہاں لفظ کی بھی ولادت اور نسل ہوتی ہے۔ اور وہ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ فلسفی لفظ کے جز جز کو الگ کرتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وقت بوقت ان کی اصل کس کس ملک اور کس کس قوم میں می پہنچتی آئی ہے۔ ان میں کیا رشتے ہیں؟ اور کیونکر وہ رشتے پیدا ہوئے ہیں اور ملک بہ ملک ان کے معنوں یا حرفوں میں کیا تغیر پیدا ہوئے ہیں۔ پھر اور زبانوں کے لحاظ سے اپنی باتوں پر غور کرتا ہے، ان کے نتائج کو بھی جانچتا ہے اور مطابقت اور مقابلہ کرتا ہے۔ یعنی ایک زبان کے لفظ دوسری زبان سے کن کن باتوں میں متفق ہیں اور کون سی باتیں ہیں کہ ایک ہی کے لئے خاص ہیں۔ پھر ان سببوں کی جستجو کرتا ہے جو زبان میں تبدیلی کا عمل کر رہے ہیں۔ اور یہ غیر منقطع کام ہے، کبھی ترقی کے رنگ میں ہوتا ہے، کبھی تنزل میں، مگر جاری ہمیشہ رہتا ہے اور اسی کو زبان کی اصل نسل کہتے ہیں۔ اب چند مثالیں توضیح کے لئے لکھتا ہوں، گریبان کو فلسفی زبان نے دیکھا۔ بان پر جوڑ معلوم ہوا۔ اس نے گرے کو دیکھا تو فارسی قدیم میں بمعنی گلو پایا۔ سمجھ گیا کہ اس جزو لباس کا گلے پر قبضہ ہے، اس لئے اس کا نام گریبان رکھا ہوگا کہ مالکِ گلو ہے۔ سنسکرت میں دیکھا تو وہاں گریو (ग्रीवा) انہی معنوں میں آیا ہے اور بان سنسکرت میں وان (वान) ہے۔ ثابت ہو گیا کہ ایک گھرانے کی نسل ہے۔ ملک اور مدت کے انقلاب سے آواز بدل گئی۔ یہاں مر گیا وہاں جیتا ہے۔ کلابتون کو سب پہنتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ فلسفی زبان اس کا بل کھولتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کلابہ، کلاوہ (سوت کا لچھا) اکتون ترکی میں سونے کو کہتے ہیں وہی سنہرا لچھا ہوا۔ نیلوفر کو بے خبر آدمی ایک گلِ خودرو سمجھے گا۔ فلسفی زبان دیکھے گا کہ نیلو پر، نیلوفر، نیلوپل، نیلپر سب طرح مستعمل ہوا ہے۔ تب ادھر ادھر نظر دوڑائے گا، اس وقت معلوم ہوگا کہ سنسکرت میں نیل (नील) نیلا، اُت پل (उतपल) پنکھڑی ہے، یعنی نیل پنکھڑی ہے، یعنی نیلی پنکھڑی والا پھول۔ فارسی میں اَدَل بَدَل ہو کر کچھ سے کچھ ہوگیا۔ ناہار اور نہار ہندوستان میں بھی سب جانتے ہیں۔ فلسفی زبان نے دیکھا تو ن پر جوڑ معلوم ہوا۔ اہار کو دیکھا تو فارسی بلکہ سنسکرت میں بھی بمعنی خورش آیا ہے۔ سمجھ گیا کہ صبح سے جب تک کچھ نہ کھایا ہو اس وقت تک ناہار یا نہار ہے۔5 خربُزہ کو سونگھا تو بو آئی کہ مرکب ہے۔ خر کو دیکھا بمعنی کلاں بھی آتا ہے۔ بُزہ کو دیکھا تو فارسی قدیم میں بمعنی ثمر ہے۔ سمجھ گیا کہ بڑا پھل تھا، اس لئے خربُزہ نام رکھا ہوگا۔ سنسکرت میں بھی بعینہ یہی دو جُز اور یہی معنی ہیں۔ میرے دوستو! تم دل میں کہتے ہوگے کہ اس توڑ جوڑ اور لفظوں کے رگ پٹھّے چیرنے سے کیا فائدہ؟ جب ہم ایک زبان سیکھتے ہیں تو اس میں یہی غرض ہوتی ہے کہ اور کی بات سمجھ لیں اپنی بات سمجھا دیں۔ اس کے لئے اتنا کافی ہے کہ لفظوں کے معنی آگئے۔ عبارت کا مطلب معلوم ہوگیا، والسلام۔ میں بھی کہتا ہوں کہ بے شک زبان سیکھنی ہو تو اس سے زیادہ کاوش کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن ذرا خیال کر کے دیکھو۔ جب تم کوئی شکل اقلیدس کی حل کرتے ہو یا ایک حساب کے سوال کا جواب نکال لیتے ہو یا ایک بچہ کوئی پہیلی بوجھتا ہے تو کیا خوشی ہوتی ہے! ہزاروں پھول، پھل، بوٹیاں، نباتات، جمادات ہیں۔ اگر ان کے مزے اور اصلی تاثیریں معلوم کر کے تمہیں خوشی حاصل ہوتی ہوگی تو لفظوں کی اصلیت دریافت کر کے بھی ضرور خوشی ہوگی۔ جن الفاظ کی توضیح میں نے بیان کی۔ انہیں سن کر کس کے دل کو فرحت نہیں ہوئی؟ البتہ بدمزہ، بےمغز سے کہ الفاظ کو فقط مُنہ کی بھاپ یا پیٹ کا سانس سمجھتے ہیں، انہیں خبر بھی نہیں ہوتی۔ ہونٹ سے لفظ نکلے ہوا ہوگئے۔ ان کےنزدیک کچھ بات ہی نہیں۔ الفاظ ظاہر میں ہوائی جنبشیں ہیں لیکن حقیقت میں مستقل چیزیں ہیں۔ تم ضرور پوچھوگے کہ الفاظ مستقل چیزیں کیونکر ہو سکتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں کہ جب تمہیں کوئی چیز مثلاً چاکو یا قلم درکار ہوتا ہے، اگر ایک لڑکے سے بھی کہتے ہو تو فوراً اٹھا لاتا ہے۔ دور ہو یا پاس۔ حالانکہ تم نے فقط لفظ کہا تھا۔ چاکو یا قلم کی تصویر بنا کرنہیں دی۔ دیکھو لفظ نے اس کے دل پر اصل شے کا کام دیا۔‘‘تم لفظوں میں فقط اتنا ہی نہ سمجھو کہ براے نام خاص خاص چیزوں پر اشارے کرتے ہیں۔ غور کروگے تو پاؤگے کہ وہ بھی اور چیزوں کی طرح پیدا ہوتے ہیں۔ ترقی و تنزل کرتے ہیں، سفر کرتے ہیں اور اس میں طبیعت اور رنگ بدلتے ہیں اور مر بھی جاتے ہیں۔ ان کے حالوں، چالوں اور انقلابلوں کو دیکھوگے تو معلوم ہوگا کہ جس طرح قوموں کی تاریخیں اپنے حالات و مقالات سے کملائے ہوئے دلوں کو شگفتہ کرتی ہیں، لفظوں کی تاریخیں اپنے لطف و خوبی کے ساتھ اس سے زیادہ دماغوں کو شاداب کرتی ہیں۔ اس سے زیادہ اور کیا فائدہ ہوگا کہ لفظوں ہی کے مقابلہ اور مطابقت میں قوموں، نسلوں اور ان کے خاندانی رشتوں کے سر رشتے نکل آئے۔ الفاظ کے تغیر طبیعت اور ان کے رنگ بدلنے پر تمہیں ضرور کھٹکا گزرے گا کہ اسما حقیقت میں اشیا کے نام ہیں۔ جب چیزیں نہیں بدلیں اور نام ان کے بدل گئے تو الفاظ اور معانی میں عجب خلط ملط پیدا ہوگا۔ میرے دوستو! یہ تغیر ضرور ہوتے ہیں اور وہ قباحت نہیں پیدا ہوتی جس کا تمہیں خطرہ ہے۔ دیکھو؟ جیب، عرب میں اول سینہ کو اور دل کو بھی کہتے تھے، پھر گریبان کو کہنے لگے کہ سینہ پر ہوتا ہے۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں کہ جَوْب بمعنی قطع ہے۔ گریبان کترا ہوا ہوتا ہے اس لئے اس کا نام جیب رکھا۔ عرب کے لوگ جُبّہ یا کُرتہ کے گریبان میں ایک تھیلی ٹانک کر اس میں چیز رکھ لیا کرتے تھے۔ مدت کے بعد اسی کا نام جیب ہوگیا۔ فارس میں وہ تھیلی گریبان سے ڈھلک کر کمر کے نیچے آگئی اور نام وہی جیب رہا۔ تماشا یہ ہے کہ اب گھڑی کے شوقینوں نے چھاتی کے بائیں طرف جگہ دی اور کوٹ پتلون والوں نے کہیں کا کہیں پہنچا دیا۔ پھر بھی وہی جیب ہے اور عرب میں وہی گریبان ہے۔ جب عرب میں علم ریاضی کا چرچا اور علم مثلث کا یونانی سے ترجمہ ہوا تو جو خط کسی قوس یا اس کے زاویہ کا اندازہ بتائے اسے جیب کہنے لگے کیونکہ وہ بھی قوس کے لئے ایسا ہے جیسے سینہ کے لئے گریبان۔ شمع عرب میں موم کو کہتے ہیں۔ پھر موم کی شمعیں بننے لگیں۔ ان کا نام بھی شمع ہی رہا۔ فارس میں آکر چربی کے قالب میں ڈھلیں۔ یہاں شمع عام ہوگئی۔ موم کی بتی ہو خواہ چربی کی۔ عرب میں شمع وہی موم ہے۔ اسباب عربی میں جمع سبب کی ہے۔ فارسی میں اسباب خانہ داری کو کہتے ہیں۔ شراب عرب میں پینے کو اور اس چیز کو کہتے ہیں جو پینے میں آئے۔ فارس میں مرادفِ بادہ ہو گیا۔ (۱) بعض الفاظ سفر کر کے آتے ہیں اور ملک غیر میں بے عزّت ہو جاتے ہیں۔6 غلام عرب میں نو خط لڑکے کو کہتے ہیں۔ فارس میں لونڈی کا نر غلام۔ مہتر فارسی میں سردار کو کہتے ہیں۔ ہندوستان میں چوڑھا ہوگیا۔ خلفیہ کا رتبہ عرب میں نائب پیغمبر اور خلیفہ الٰہی تک پہنچا ہوا ہے۔ ہندوستان میں نائی کو کہتے ہیں۔ اس زمانہ میں لفظ ایجاد نہیں ہوتے۔ نئے خیالات کے ادا کرنے میں پُرانے الفاظ مدد کرتے ہیں مثلاً، لفظ رال کا مرادف ہے۔ اب مٹی کے تیل کو بھی کہتے ہیں۔ مِداد پہلے سیاہی کو کہتے تھے، اب پنسل کو بھی کہتے ہیں۔ پہلے قلم سرمہ اور کلک فرنگی کہتے تھے یہ لفظ مر گئے۔ بوقلموں، چندسال سے فیل مرغ ( پیرو) وہاں پہنچا ہے۔ اسے بو قلموں کہتے ہیں۔ (۲) کبھی دو لفظ مرکب کرلیتے ہیں۔ مثلاً، سیب زمینی آلو کہتے ہیں۔ یہ بعینہ ترجمہ ہے پوٹے ٹو کا۔ پس معلوم ہوا کہ فرانس کے رستہ سے پہنچا ہے۔ آبجوش سوڈا واٹر کو کہتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ ہزاروں لفظ پیدا ہوگئے ہیں۔ (۳) کبھی مشتق کرلیتے ہیں۔ وہاں بھی اب برف کوزوں میں جماتے ہیں۔ اسے بستنی کہتے ہیں۔ (۴) کبھی جو شے آتی ہے اپنانام ساتھ لاتی ہے۔ تلگراف ایران میں تار کے پیغام کو کہتے ہیں۔ اس میں تصرف کرتے ہیں اور کہتے ہیں ’’ہشت روز است خط نوشتہ بودم۔ جواب نیامد۔ ناچار امروز تیل زدہ ام‘‘ (آج میں نے تار دیا ہے) منات، نوٹ کو کہتے ہیں۔ روسی لفظ ہے۔ پرتغال، ایک قسم کا رنگترہ ہوتا ہے۔ اس کا پودہ پرتگال سے آیا تھا۔ وہی نام ہوگیا۔ کالسکہ، بگی کو کہتے ہیں۔ یہ بھی روسی لفظ ہے۔ ایسے سیکڑوں لفظ ایران میں زبان زد خاص و عام ہیں۔ اور اکثر چیزوں کے نام بدل گئے ہیں۔ پہلے ناموں کو سمجھو کہ مر گئے۔ چاپ چھاپے کا کام ہندوستان سے گیا۔ اسی واسطے یہ نام پایا۔ (۵) علمی الفاظ اور علمی اصطلاحیں بھی پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ اکثر زندہ رہتی ہیں اور کارروائی کرتی ہیں۔ علم ہمیشہ ترقی کرتا ہے اور اصلاح پاتا ہے۔ اس لئے بعض الفاظ جلد مر جاتے ہیں۔ نئے پیدا ہو جاتے ہیں۔ آج سے ۳۰ برس پہلے کی ریاضی یا جغرافیہ کی کتاب اردو زبان میں دیکھو تو یہ تعجب جاتا رہے گا۔ (۶) خوش ایجاد نام بھی اکثر کم عمر اور نا پائیدار ہوتے ہیں۔ محمود غزنوی جب ہندوستان میں آیا اور آم کھایا تو بہت بھایا۔ مگر نام سن کر ہنسا اور کہا۔ سخت ستم ہے کہ ایسا لطیف میوہ اور نام میں یہ فحش! اسے نغزک کہنا چاہئے کہ اسم بامسمیٰ ہو۔ چنانچہ بعض فارسی کی کتابو ں میں نغزک، بعض میں انبہ لکھتے ہیں۔ امیر خسرو نے قران السعدین میں ہندوستان کےمیوؤں کی تعریف کرتے کرتے آم کے باب میں بھی چند اشعار لکھے ہیں، نغزکِ خوش مغز کن بوستاں خوب تریں میوۂ ہندوستاں نعمت خان عالی نے اپنے دوست حسن خاں کو آموں کی رسید لکھی۔ اس کی نظم میں ایک شعر ہے کہ نہیں بھولتا، انبہ فرستاد حسن خاں بمن اَنْبَتَہ اللہ نَبَاتاً حَسَنْ اکبر نے صدہا چیزوں کو ناموں کے خلعت دئے۔ کوئی باقی ہے کوئی پُرانا ہوکر پھٹ گیا۔ ایک دن اصطبل خاصہ میں گھوڑوں کے دیکھنے کو آیا۔ ہلاک خور ٹوکرے بھر بھر کر کثافتیں اٹھا رہے تھے۔ فرمایا کہ بڑی محنت کی روٹی کھاتے ہیں۔ انہیں حلال خور کہنا چاہئے۔ آج تک وہی نام چلا آتا ہے۔ ہار کو کہا کہ سنگار کی چیز اور مبارک چیز پر ہار کا نام آنا بدشگونی ہے۔ اسے پھُل مال کہا کرو۔ اور یہ سرسبز نہ ہوا۔ اسی خیال سے گھوڑے کی اندھیری کا اُجیاری نام رکھا۔ یہ پیش نہ گئی اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جسے اب ہم اندھیری کہتے ہیں اس وقت اسے بھی اندھیاری کہتے تھے۔ جہانگیر نے شراب کا نام رام رنگی رکھا، مگر رنگ نہ جما۔ جمعرات کو نام مبارک شنبہ رکھا کہ جو خوشی ہمیں ہوتی ہے اکثر اسی دن ہوتی ہے۔ پیر کا نام گم شنبہ رکھا۔ لکھتا ہے کہ مجھے جو غم یا فکر ہوتا ہے اسی دن ہوتا ہے۔ اس کا نام ایام ہفتہ سے گم ہونا چاہئے۔ محمد شاہ نے بلبل ہندوستان کا نام گلدم رکھا تھا۔ اب تک اسی طرح چلا آتا ہے۔ رنگترہ کو پہلے پہلے سنگترہ کہتے تھے۔ محمد شاہ نے کہا کہ اس لطیف میوہ کو پتھر مارنا سخت ستم ہے۔ رنگترہ کہا کرو کہ خوش رنگ بھی ہے، تروتازہ بھی ہے۔\n\nشاہ عالم نے سُرخاب کو گلسرہ کہا مگر شہرت نے نامنظور کیا۔ کنجر اور کنجری ہندی میں زنِ رقاصہ کو کہتے تھے۔ اکبر نے ایک دن خوش ہوکر کہا کہ انہیں کنچنی کہا کرو۔ نواب سعادت علی خان نے ملائی کا نام رکھا۔ اہل لکھنؤ اب بھی بالائی کہتے ہیں۔ اور شہروں میں شہرت نہ ہوئی۔ عزیزان وطن! تم ضرور کہتے ہوگے کہ زبان کی عمر کیا؟ اور اس کی تاریخ کیا؟ یہ کچھ تعجب کی بات نہیں۔ عالم میں بہت سے ملک، بے شمار اہل ملک اور ہزاروں قومیں ہیں۔ اسی طرح زبانوں کا بھی عالم گروہ درگروہ سمجھو، کہ تھا، اور ہے، اور ہوتا رہے گا۔ جس طرح قومیں بڑھیں، چڑھیں، ڈھلیں اور فنا ہوگئیں اور ہونگی، اسی طرح زبانوں کا عالم ہے کہ اپنے الفاظ کے ساتھ آباد ہے، وہ اور ا س کے الفاظ پیدا ہوتے ہیں۔ ملک سے ملک میں سفر کرتے ہیں، حروف و حرکات اور معانی کے تغیر سے وضع بدلتے ہیں، بڑھتے ہیں، چڑھتے ہیں، ڈھلتے ہیں اور مر بھی جاتے ہیں۔ تغیراتِ مذکورہ اکثر تغیر سلطنت کے صدمہ سے ہوتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ کم ہوتے ہیں۔ پھر بھی ضرور ہوتے ہیں۔ کیونکہ عادتِ الٰہی اسی رستہ پر جاری ہے اور رہے گی اور میں عنقریب اس کی کیفیت دکھاؤں گا۔ امن و عافیت کے زمانہ میں بھی تغیر کی دستکاری الفاظ و عبارت پر اپنا کام کئے جاتی ہے۔ ان میں آفرینش، ترقی اور فنا کا عمل جاری رہتا ہے اور بہت چپکے چپکے چلتا ہے۔ لیکن اسی طاقت اور اسی انداز سے جیسے دریا کا بہاؤ یا ہوا کارُخ، جس کا پھیر کسی کے اختیار میں نہیں۔ قوم اپنے گھر میں قائم اور ملک پر برقرار ہوتا ہے۔ پھر بھی تغیر مذکور اپنا کام کئے جاتا ہے۔ نثر میں شیخ بو علی سینا کی حکمت فارسیہ وغیرہ، نظم میں دیوان شاہ ناصر خسرو، شاہنامہ وغیرہ۔ دیکھ لو، صدہا لفظ ہیں کہ اب بولنے میں نہیں آتے۔ صدہا ہیں کہ فرہنگوں میں دیکھے بغیر معنی نہیں معلوم ہوتے۔ صدہا ہیں کہ فرہنگوں میں بھی نہیں ملتے۔ اسی کو مرنا کہتے ہیں۔ جب ایک زبان کی تصانیف مختلفہ کو عہد بعہد اور سال بسال برابر سجاتے ہیں اور تغیرات مذکورہ پر نظر کرتے ہیں تو زبان کا عالم ایک سرزمین معلوم ہوتی ہے کہ فصل بہ فصل پرانے نباتات جل کر خاک ہوتے جاتے ہیں اور نئے اُگ کران کی جگہ کو ہرا کرتے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ فلسفی زبان خواہ زمین کی طبیعت سے خواہ انسان کی ضروریات اور کارروائی پر نظر کر کے فقط تغیرات زبان کی تاریخ ہی نہیں جان لیتا بلکہ جس طرح ایک تجربہ کار مورخ یا سلطنت کا مدبر سابق اور موجودہ حالت کو دیکھ کر آئندہ کے واقعات پر پیش بینی کرتا ہے، یہ زبان موجودہ کے حالات پر حکم لگاتا ہے اور بتاتا ہے کہ آئندہ کس طرح اور کس انداز میں بڑھے گی یا دب جائے گی۔ چنانچہ فارسی پر ایک زمانہ میں عرب کی چڑھائی تھی، اب ممالک یورپ کا زور نظر آتا ہے۔ الفاظ جو سفر و سیاحت کر کے ملک غیر سے آتے ہیں، اور زبان میں گھر بناتے ہیں وہ اکثر تجارت کی وکالت یا قوموں کے ارتباط سے راہ پاتے ہیں۔ زبانوں میں عام دستور یہ ہے کہ بعض لباس، بعض کھانے، بعض اجناس، بعض علمی مطالب اور ان کے سامان ملک غیر سے آئے۔ وہ یا تو اپنے نام ساتھ لائے یا یہاں آکر یہیں کی زبان سے نام پائے۔ فارس میں عرب کا تسلط ہوا اور ملک، مملکت، مذہب، سکونت سب کو روک لیا کہ یہی رستے زبان کے استقلال یا انقلاب کےتھے۔ اہل ملک بہت تو مسلمان ہوگئے، بہت سے آوارہ ہوگئے اور جو بھاگنے کے قابل ہی نہ تھے، وہ گمنامی کے غاروں اور پہاڑوں میں بیٹھ رہے۔ زبان قومی کی حفاظت کون کرتا؟ علوم، فنون، کتابیں اور علمی سامان جو یونان سے پہلو مارتے تھے، اس طرح فنا ہوئے کہ نام و نشان تک نیست و نابود ہوگئے۔ پھر جو علم، ادب اور شائستگی نے رونق پھیلائی، وہ علما اور شرفائے عرب سے پھیلی۔ یا ان نو مسلموں سے جنہو ں نے عربیت اور اسلام کا جامہ پہن لیا تھا اور اسی کو فخر سمجھتے تھے۔ اقبال سلطنت ایک ایسی برکت ہے کہ جس قوم کے ماتھے کو لگ جاتا ہے، اس کی ہر چیز بلکہ بات بات دیکھنے والوں کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے ہزاروں فارسی کے لفظ گم ہوکر فنا ہوگئے، ہزاروں رہے، مگر بے رغبتی کے سبب بے رواج ہوکر متروک ہوگئے۔ بہت سے نئے الفاظ ہیں کہ سلاطین چغتائی کے عہد میں اشیائے مختلفہ کے لئے ہندوستان کے اہل انشا یا دربار کے اراکین نے پیدا کئے۔ یہاں کی معتبر تاریخوں میں مسلسل ہیں اور ان شعرا کے کلاموں میں منظوم ہیں جو کہ ہندوستان میں تھے یا آئے اور رہ کر چلے گئے۔ رسد جن معنوں میں بولتے ہیں ایران میں کہو تو کوئی نہ سمجھے گا۔ وہاں سورسات کہتے ہیں۔ منشی ایران میں کسی کو کہیں تو اس کے لفظی معنی (یعنی انشاپرداز) سمجھے جائیں گے اور بس۔ جسے یہاں منشی کہتے ہیں، وہاں اسے میرزا کہتے ہیں۔ تمسّک ہندوستان میں جن معنوں میں متعارف ہے ایران میں کہیں تو کوئی نہ سمجھے گا۔ رسید یہاں قبض الوصول کو کہتے ہیں۔ ایران میں کہیں تو کوئی نہیں سمجھتا۔ گاؤ تکیہ ہندوستانی فارسی ہے، ایران میں متّکا کہتے ہیں۔ روشنائی لکھنے کی سیاہی کو کہیں تو کوئی ایرانی نہیں سمجھتا۔ وہ مرکب کہتے ہیں۔ دست پناہ ہندوستانی فارسی ہے۔ وہاں آتشگیر کہتے ہیں۔ مالیدہ یا ملیدہ ہندوستان میں کہتے ہیں۔ وہاں کوئی نہیں سمجھتا۔ وہ چنگنالی کہتے ہیں۔ اسی طرح عطردان، پاندان وغیرہ وغیرہ۔ ہزاروں لفظ ہیں کہاں تک لکھوں۔ اکثر الفاظ ہیں کہ عربی، فارسی یا ہندی میں اپنے اپنے معنوں میں مستعمل تھے اور ہیں۔ ہماری آنکھوں کے دیکھتے دیکھتے انقلا ب زمانہ نے نئے خیالات پیدا کئے اور وہی الفاظ جُون بدل کر نئے معنوں کے لئے نامزد ہوئے۔ تہذیب کے معنی لغت میں ہیں پاک کردن، اصلاح کردن۔ اب سولزیشن کے معانی کی ہیئت مجموعی جو کچھ ہے تمہارے ذہن میں ہے۔ اور یہ خیال بھی انگریزی سے ہماری زبان میں آیا ہے۔ تم خود غور کر کے دیکھو! جن جن معنوں کی رعایت سے آج لفظ تہذیب بولا جاتا ہے اور اس میں کوٹ، پتلون، اور پھُندنے دار ٹوپی بھی شامل ہے، وہ حقیقی معنوں سے کس قدر علیحدہ ہیں۔ یہ خیال اور یہ لفظ دونوں ہماری آنکھوں کے سامنے پیدا ہوئے ہیں اور یہی حالت ہے شائستگی کی۔ تعلیم یافتہ کےلفظی معنی تم جانتے ہو۔ انگریز ی میں جسے ایجوکیٹڈ کہتے ہیں۔ اب ہم اسے تعلیم یافتہ کہتے ہیں، لیکن اس میں کئی صفتیں اور مقصود ہوگئی ہیں جن میں شرافت کی بربادی اور کوٹ پتلون کی فرضیت لازم کی گئی ہے، جو تعلیم یافتہ کے اصلی معنوں سے بالکل الگ ہیں۔ یہ خیال انگریزی سے آیا اور حال ہی میں یہ لفظ بھی اس کے لئے نامزد ہوا۔ بلند نظری کے لفظی معنی ظاہر ہیں، لیکن حال کی تحریروں اور انگریزی کےترجموں میں بلند نظر ایسے عالی دماغ، ہمت والے شخص کو کہتے ہیں کہ کوئی بلند رتبہ اور عمدہ حالت اس کی خاطر میں نہ آئے۔ ہمیشہ ترقی کا طالب رہے اور اس کی تحصیل میں کسی خطرناک تدبیر سے اندیشہ نہ کرے۔ یہ لفظ بھی تیس چالیس برس سے پیدا ہوا ہے۔ عزت طلب میں یہ لفظ عالم طفولیت میں اکثر شرفا کے باب میں سنا کرتا تھا۔ جو شخص کہ سامان، لباس، اخلاق، اطوار، عادات اور معاشرت احباب میں ہمیشہ ایسی حالت کے ساتھ رہے جس سے حکام اور خاص و عام اس کے ساتھ بہ عزت پیش آئیں، اسے تعریف کے ساتھ کہتے تھے کہ فلاں شخص عزت طلب آدمی ہے۔ لفظ مذکور تحریر میں داخل نہ تھا۔ اب مدت سے متروک ہے۔ ہم سے کچھ پہلے پیدا ہوا اور ہمارے سامنے مر گیا۔ وضعدار بھی ایسے ہی شخص کو کہتے تھے اور تہذیب انگریزی سے پہلے یہ الفاظ شرفا کے لئے تعریف میں داخل تھے کہ پابندی وضع لازمہ شرافت تھی۔ دلی میں اب بھی وضعداری سے بانکپن اور حسن مراد لیتے ہیں۔ اخبار جس صورت سے اب جاری ہیں پہلے یہ صورت ہی نہ تھی۔ اسی واسطے اس کے لئے نام بھی نہ تھا۔ یہ لفظ ان معنوں کے ساتھ ہندوستان میں اب پیدا ہوا ورنہ ظاہر ہے کہ اخبار جمع خبر کی ہے اور بس۔ اہل ایران نے اس کے لئے روزنامہ یا خبرنامہ پیدا کیا اور یہ مناسب تر ہے۔ صاحب لوگ عرب میں صاحب بمعنی ہم صحبت ہے۔ پھر اور لفظوں کے ساتھ مل کر فاعلیت کے معنی پیدا کرنے لگا۔ مثلاً صاحب الصولۃ والملک والدولۃ۔ فارس میں آکر صاحبِ ملک، صاحب دولت، صاحب مال رہا۔ ہندوستان میں آکر لفظ تعظیمی ہوا۔ میر صاحب، مرزا صاحب، نواب صاحب، اسّی نوّے برس سے صاحبان انگریز کے نام کا جز ہو گیا۔ پھر جو کمینہ سے کمینہ کرسٹان ہو، وہی صاحب لوگ ہوگیا۔ کوٹھی ہندوستان میں صاحب لوگ لباس تجارت میں آئے تھے۔ چونکہ تاجروں کا رہنا سہنا، ملنا جلنا، لین دین تاجروں ہی سے ہوتا تھا۔ اول اول معاملات بھی بنگالہ کے تاجروں اور مہاجنوں ہی سے ہوتے ہوں گے۔ عالم مسافرت میں انہیں نوکر چاکر درکار ہوئے ہوں گے۔ وہ بھی انہیں سے لئے ہوں گے۔ عالیشان مہاجنوں اور سوداگروں کی دکانوں کو کوٹھی کہتے ہیں۔ چونکہ صاحب لوگ لباس تجارت میں تھے، جب کسی سے ملتے جلتے ہوں گے کوٹھی پر جاکر ملتے ہوں گے۔ وہ پوچھتے ہوں گے، ’’آپ کی کوٹھی کہاں ہے؟ ‘‘ یہ پتا بتا دیتے ہوں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ کوٹھی گھر کو کہتے ہیں۔ کیونکہ مسافر تھے، ان کی دکان اور کوٹھی ایک ہی تھی۔ ان کے نوکر بھی کوٹھی ہی کہتے ہوں گے۔ کام کے موقع پر آپ کہتے ہوں گے، یہ چیز ہماری کوٹھی پر لے آؤ اور لوگ کہتے ہوں گے جاؤ، یہ چیز صاحب کی کوٹھی پر دے آؤ۔ مدت کے بعد تجارت کا پردہ اٹھا دیا۔ وہی گھر دارالحکومت ہوگئے۔ جب سے کوٹھی کا نام جو محاورہ میں آگیا تھا، وہی رہا اور یہ نیک نیتی کا پھل ہے۔ چٹّھی بنگالہ کے ہندو مسلمان خط کو چٹھی کہتے ہیں۔ ابتدا میں جب کوئی صاحب لوگوں کو کچھ لکھتا ہوگا۔ نوکر آکر کہتا ہوگا۔ صاحب یہ چٹھی آئی ہے۔ یہ بھیجتے ہوں گے تو کہتے ہوں گے۔ ’’یہ چٹھی فلانے مہاجن کو دے آؤ۔ ‘‘ ان سے باتیں کرتے ہوں گے، تو بھی چٹھی ہی کا لفظ محاورہ میں آتا ہوگا۔ صاحب لوگ اردو اور ہندی کے محاورہ سے واقف نہ تھے۔ چٹھی ہی کہتے رہے۔ آگے کے شہروں میں بڑھے۔ پھر بھی جو لفظ محاورہ میں آگیا تھا، اسی طرح رہا۔ یہاں تک کہ اب انگریزں کے خطوط اور ہر انگریزی خط کو چٹھی کہتے ہیں۔ بڑا دن دسمبر کی ۲۵؍ تاریخ کو بڑا دن کہتے ہیں، حالانکہ برس کا سب سے بڑا دن یہ نہیں۔ البتہ ۲۵ سے دن بڑھنا شروع ہوتا ہے۔ لیکن محاورہ میں یہی نام ہوگیا۔ جب کہتے ہیں۔ سب سمجھ جاتے ہیں۔ ایسے ایسے ہزاروں لفظ ہیں کہاں تک لکھوں۔ زبان کا جینا اور مرنا زبان اپنے کمال جوانی اور زور زندگانی پر شمار کی جاتی ہے، جبکہ اس کے ذخیرہ میں ہر علم، ہر فن کی تصنیفات ہوں۔ اور ہر قسم کے حالات و مطالب کے ادا کرنے کے واسطے الفاظ و محاورات کے سامان حاضر ہوں۔ اس کا مضائقہ نہیں کہ الفاظ مذکورہ خاص اسی کے ملک کی آفرینش ہوں خواہ غیر ملکوں سے آئے ہوں۔ زبان کا استقلال اور آئندہ کی زندگی چار ستونوں کے استقلال پر منحصر ہے۔ (۱) قوم کا ملکی استقلال (۲) سلطنت کا اقبال (۳) اس کامذہب (۴) تعلیم و تہذیب۔ اگر یہ چاروں پاسبان پورے زوروں سے قائم ہیں تو زبان بھی زور پکڑتی جائے گی۔ ایک یا زیادہ جتنے کمزور ہوں گے اتنی ہی زبان ضعیف ہوتی جائے گی۔ یہاں تک کہ مرجائے گی۔ مرنا اس کا یہی کہ خواص و عوام کی زبانیں اس کے بولنے سے اور قلم اس کے لکھنے سے منھ پھیر لیں۔ یعنی نہ کہیں بولی جائے، نہ اس میں تصنیف و تالیف کا رواج رہے۔ زبان کا انقلاب کلی اکثر انقلاب تاریخی سے ہوتا ہے۔ وہ طوفان اسے چاروں طرف سے تہ و بالا کردیتا ہے اور اسی میں اکثر زبانیں فنا ہو جاتی ہیں۔ میں اس موقع پر یونان اور روما کی زبانوں کے مرنے کا ذکر نہ کروں گا۔ کیونکہ میں اور میرے ہم وطن ان کے حال سے بے خبر ہیں۔ انہی چند زبانوں کا حال سناتا ہوں، جنہیں سب جانتے ہیں۔ سنسکرت کی زندگی (۱) قوم گھر میں قائم ہے اور یہ شکر کا مقام ہے۔ (۲) سلطنت کے اقبال کے ساتھ زبان کا اقبال رخصت ہوا۔ زبان کو کون سنبھالے۔ دیکھ لو تصنیف و تالیف اور زبان کی ترقی بند ہے۔ (۳) مذہب فقط گھروں میں قائم ہے۔ زبان کو زور دیتا ہے مگر بہت کم۔ (۴) قدیمی تعلیم، قومی تہذیب اور علوم و فنون بھی نہ رہے۔ پہلے صرف ضرورت وقت کے سبب سے مسلمانوں کی تعلیم و تہذیب پسند کرنی پڑی تھی، اب انگریزی ہے۔ دونئے رنگوں نے (سلطنت مغلیہ و انگلشیہ) پرانے رنگ کو مدھم کر دیا ہے۔ ان سب باتوں پر نظر کر کے دیکھ لو زبان سنسکرت کا کیا حال ہے۔ فارس کی قدیمی زبان (۱) قوم آوارہ وطن ہوکر بد حال ہوگئی۔ (۲) سلطنت نے اسے چھوڑ دیا ( مصلحت وقت نے رائج الوقت فارسی اس کے منہ میں رکھ دی۔) (۳) مذہب فقط اتنا زبان کو سنبھالے رہا کہ مرنے جینے اور ریت رسوم کے کام میں آتی ہے۔ وہ بھی اَنْ پڑھ لوگ بے سمجھے الفاظ میں کچھ کا کچھ کہہ لیتے ہیں، سمجھتے اصلاً نہیں۔ (۴) تعلیم اور تہذیب اور علومِ قدیمہ سب مٹ گئے۔ اب زبان مذکور کی حالت کو دیکھ لو کہ کیا ہے۔ ژند، پاژند، پہلوی کو کوئی جانتا بھی نہیں۔ حاشیے، (۱) یہ بھی درست ہے۔ یونان کی زبان نے فلسفہ الٰہی کو پھیلا کر خدا پرست فلاسفر کو بہشت میں پہنچایا۔ سنسکرت نے ہند میں دھرم، گیان، عرب نے معرفت الٰہی سکھایا۔ (۲) اور یہی سبب ہے کہ اگر ایک فصیح صاحب تقریر لیکچر دے رہا ہو اور تم اس پر یہ قید لگا دو کہ کسی طرح کی حرکت اعضا میں یا تغیر چہرہ میں نہ آنے پائے تو دیکھ لوگے کہ بات بھی نہ کرسکے گا۔ (۳) یہاں سے یہ ثابت ہوا کہ جس لفظ پر محاورہ کردے وہی فصیح ہے وہی درست ہے۔ صحیح لفظ ہو اور محاورہ میں نہ ہو تو ناروا ہے اگر اور کچھ نہیں تو کلام کو بدمزہ یا مکروہ ہی کردے گا۔ (۴) لغت کسی زبان کے عام الفاظ جسے ملک مذکور کے عام رہنے والے سمجھتے تھے یا سمجھے ہوں یا زبان مذکور کے جاننے والے جانتے ہوں، اسی کو کہتے ہیں کہ لفظ کے معنی قوم نے تسلیم کئے اور اصطلاح وہ ہے کہ گروہ خاص میں متعارف ہو۔ مثلاً جو بات پیل کی کشت سے ہو اسے پیلبند کہتے ہیں۔ دیکھ لو نعمت خان عالی نے وقائع میں ایک فرضی مہاجن کا معائنہ کیا ہے۔ اس کا شعر ہے، آں صورت مہابتِ پیلان مینہ پول مارا چہ پیلبند حساب و کتاب کرد جوشخص اہل شطرنج کی اصطلاح کو جانتا ہوگا وہ اس شعر کا لطف اٹھائے گا، غیر کی سمجھ میں نہ آئے گا۔ (۵) ایران میں کہتے ہیں نہار حاضر است یعنی دسترخوان پر صبح کا کھانا چنا ہوا ہے۔ آئیے نوش جان فرمائیے۔ اور ہنوز نہار نہ کردم۔ یعنی ابھی صبح کا کھانا نہیں کھایا۔ (۶) آلتہ۔ وصف کردن، شہوت، صحبت کردن، و صحبت داشتن۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%81%DB%8C%D9%84%D8%A7_%D9%84%D9%88%D8%AC%DB%8C%D8%A7"} {"title": "قائل بھلا ہوں نامہ بری میں صبا کے خاک", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قائل بھلا ہوں نامہ بری میں صبا کے خاک\nپھرتی ہے وہ بھی گلیوں میں اکثر اڑا کے خاک\n\nکہتا ہوں سوز دل سے کہ کر چک جلا کے خاک\nایک بات پر جو یار نے جانی اٹھا کے خاک\n\nکیا کانپتا ہے نالۂ سوزاں سے اے فلک\nجب بات تھی کہ مجھ کو کیا ہو جلا کے خاک\n\nپانی نکل کے دشت میں جاری ہے جا بجا\nیارب گیا ہے کون یہ سر پر اڑا کے خاک\n\nدامن اٹھا اٹھا کے جو بچتا ہوا چلا\nکیوں ہوویں مر کے کوچے میں اس بے وفا کے خاک\n\nرضواں عبیر خلد سے بدلوں نہ زینہار\nخوشبو ہے کوچہ میں وہ مرے مہ لقا کے خاک\n\nعارفؔ کو یارو ہم تو سمجھتے تھے اہل دیں\nدریا میں لوگ آئے ہیں اس کی بہا کے خاک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81_%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D8%A7%DA%A9"} {"title": "قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیا\nدوش ہوا پہ رنگ گل و یاسمن گیا\n\nبرگشتہ بخت دیکھ کہ قاصد سفر سے میں\nبھیجا تھا اس کے پاس سو میرے وطن گیا\n\nخاطر نشاں اے صید فگن ہوگی کب تری\nتیروں کے مارے میرا کلیجہ تو چھن گیا\n\nیادش بخیر دشت میں مانند عنکبوت\nدامن کے اپنے تار جو خاروں پہ تن گیا\n\nمارا تھا کس لباس میں عریانی نے مجھے\nجس سے تہ زمین بھی میں بے کفن گیا\n\nآئی اگر بہار تو اب ہم کو کیا صبا\nہم سے تو آشیاں بھی گیا اور چمن گیا\n\nسرسبز ملک ہند میں ایسا ہوا کہ میرؔ\nیہ ریختہ لکھا ہوا تیرا دکن گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%88_%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B6%D8%B9%D9%81_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%86_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "قابو میں دل ہو تو کہیں شیدا نہ کیجئے", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "قابو میں دل ہو تو کہیں شیدا نہ کیجئے\nاپنے کو اپنے ہاتھ سے رسوا نہ کیجئے\n\nدل لے کے بوسہ دیتے نہیں اور یہ کہتے ہیں\nاپنے پرائے میں کہیں چرچا نہ کیجئے\n\nرندان بادہ خوار میں ہے عیب سرکشی\nخم کس طرح سے گردن مینا نہ کیجئے\n\nعیسیٰ سے ان کی چشم سخن گو یہ کہتی ہے\nمیرے مریض عشق کو اچھا نہ کیجئے\n\nمنہ پھیریے نہ لال شکر کھا کے بوسہ سے\nدل اپنے تلخ کام کا کھٹا نہ کیجئے\n\nخونریزیاں ٹپکتی ہیں پائے حنائی سے\nفتنہ خرام ناز کا برپا نہ کیجئے\n\nآغاز عشق کو دیا انجام گریہ نے\nاب کیا وقارؔ کیجئے اور کیا نہ کیجئے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "قاتل عالم سے کیا یارانہ ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "قاتل عالم سے کیا یارانہ ہے\nدل چراغ گور کا پروانہ ہے\n\nہر مکاں میں جلوۂ جانانہ ہے\nعاشقوں کا ہر جگہ افسانہ ہے\n\nچھین لے گا بہر زلف عنبریں\nیہ دل صد چاک رشک شانہ ہے\n\nلوگ کہتے ہیں جسے پیر مغاں\nیار کا کیا جلوۂ مستانہ ہے\n\nحلقۂ اعدا میں ہے وہ سیم بر\nگنج ہے جس جا وہاں ویرانہ ہے\n\nجس جگہ چلتے تھے کل جام شراب\nآج واں الٹا ہوا پیمانہ ہے\n\nبیعت دست سبو سے یہ کھلا\nسب سے بہتر مشرب رندانہ ہے\n\nکیوں نہ پھانسے دولت دنیا ہمیں\nہے وہاں پر دام جس جا دانہ ہے\n\nمرد آخر بیں کے آگے منعموں\nکثرت ہستی بھی اک ویرانہ ہے\n\nکام کیا ہے اس کو ملک و مال سے\nپاس جس کے ہمت مردانہ ہے\n\nہجر میں اشک مسلسل زاہدا\nعاشقوں کا سبحۂ صد دانہ ہے\n\nمنتہیؔ زیر قدم اس یار کے\nسر کٹانا سجدۂ شکرانہ ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "قاتل کے کوچہ میں ہمہ تن جاؤں بن کے پاؤں", "poet_page": "مصنف:منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قاتل کے کوچہ میں ہمہ تن جاؤں بن کے پاؤں\nمر کر ہی تاکہ سو تو ذرا پاؤں تن کے پاؤں\n\nکیوں کر رکھوں میں سیر کو اندر چمن کے پاؤں\nاک عمر سے تو ہو رہے خوگر ہیں بن کے پاؤں\n\nبھاری ہیں نازکی سے جو مہندی میں سن کے پاؤں\nکہتے ہیں کر دیے مرے کیوں لاکھ من کے پاؤں\n\nکیا ساتھ میرا دشت نوردی میں کر سکے\nدو چار چوکڑی میں گئے تھک ہرن کے پاؤں\n\nہاتھوں کو ہے ہوا سے گریباں دری ہنوز\nصحرا طلب ہیں مر کے بھی اندر کفن کے پاؤں\n\nآنا ہے دیر دیر تو جانا ہے جلد جلد\nرفتن کے اور ہیں ترے اور آمدن کے پاؤں\n\nصدمہ سے ہاتھ کے کہیں گٹا اتر نہ جائے\nکیوں کر دباؤں اس بت نازک بدن کے پاؤں\n\nاے دل تو دیکھ اس کی سر زلف میں نہ جا\nناداں ہے سر پہ جو رکھے کالے کے پھن کے پاؤں\n\nکچھ آج یہ بھی آتا ہے رندو پئے ہوئے\nپڑتے ہیں بہکے بہکے جو شیخ زمن کے پاؤں\n\nپہنچا ہے اب تو سحرؔ کلام اپنا دور دور\nشہرت سے لگ گئے ہیں ہمارے سخن کے پاؤں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%81_%D8%AA%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA"} {"title": "قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا\nدنیا سے کیا بخیل بجز رنج لے چلا\n\nمنت تھی بوسۂ لب شیریں کہ دل مرا\nمجھ کو سوئے مزار شکر گنج لے چلا\n\nساقی سنبھالتا ہے تو جلدی مجھے سنبھال\nورنہ اڑا کے پاں نشۂ بنج لے چلا\n\nدوڑا کے ہاتھ چھاتی پہ ہم ان کی یوں پھرے\nجیسے کوئی چور آ کے ہو نارنج لے چلا\n\nچوسر کا لطف یہ ہے کہ جس وقت پو پڑے\nہم بر چہار بولے تو برپنج لے چلا\n\nجس دم ظفرؔ نے پڑھ کے غزل ہاتھ سے رکھی\nآنکھوں پہ رکھ ہر ایک سخن سنج لے چلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%DA%AF%D9%86%D8%AC_%D9%84%DB%92_%DA%86%D9%84%D8%A7"} {"title": "قاسم", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "دھواں", "year": "1941", "text_ur": "باورچی خانہ کی مٹ میلی فضا میں بجلی کا اندھا سا بلب کمزور روشنی پھیلا رہا تھا۔ اسٹوو پر پانی سے بھری ہوئی کیتلی دھری تھی۔ پانی کا کھولاؤ اورا سٹوو کے حلق سے نکلتے ہوئے شعلے مل جل کر مسلسل شور برپا کررہے تھے۔ انگیٹھیوں میں آگ کی آخری چنگاریاں راکھ میں سوگئی تھیں۔ دور کونے میں قاسم، گیارہ برس کا لڑکابرتن مانجھنے میں مصروف تھا۔ یہ ریلوے انسپکٹر صاحب کا بوائے تھا۔\n\nبرتن صاف کرتے وقت یہ لڑکا کچھ گنگنا رہا تھا۔ یہ الفاظ ایسے تھے جو اس کی زبان سے بغیر کسی کوشش کے نکل رہے تھے، ’’جی آیا صاحب! جی آیا صاحب۔۔۔! بس ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔‘‘ ابھی برتنوں کو راکھ سے صاف کرنے کے بعد انھیں پانی سے دھو کر قرینے سے رکھنابھی تھا۔ اور یہ کام جلدی سے نہ ہوسکتا تھا۔ لڑکے کی آنکھیں نیند سے بند ہوئی جارہی تھیں۔ سر سخت بھاری ہورہا تھا مگر کام کیے بغیر آرام۔۔۔ یہ کیونکر ممکن تھا۔\n\nاسٹوو بدستور ایک شور کے ساتھ نیلے شعلوں کو اپنے حلق سے اگل رہا تھا۔ کیتلی کا پانی اسی انداز میں کھل کھلا کر ہنس رہا تھا۔ دفعتاً لڑکے نے نیند کے ناقابل مغلوب حملے کو محسوس کرکے اپنے جسم کو ایک جنبش دی۔اور ’’جی آیا صاحب‘‘ گنگناتا پھرکام میں مشغول ہوگیا۔دیوار گیروں پرچنے ہوئے برتن سوئے ہوئے تھے۔ پانی کے نل سے پانی کی بوندیں نیچے میلی سل پر ٹپک رہی تھیں اور اداس آواز پیدا کررہی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ فضا پر غنودگی سی طاری ہے۔ دفعتاً آواز بلند ہوئی۔\n\n’’قاسم۔۔۔! قاسم۔۔۔!‘‘\n\n’’جی آیا صاحب!‘‘ لڑکا ان ہی الفاظ کی گردان کررہا تھا، بھاگا بھاگا اپنے آقا کے پاس گیا۔\n\nانسپکٹر صاحب نے گرج کرکہا، ’’بیوقوف کے بچے آج پھر یہاں صراحی اور گلاس رکھنا بھول گیا ہے۔‘‘\n\n’’ابھی لایا صاحب۔۔۔ ابھی لایا صاحب۔‘‘\n\nکمرے میں صراحی اور گلاس رکھنے کے بعد وہ ابھی برتن صاف کرنے کے لیے گیا ہی تھا کہ پھر اسی کمرے سے آواز آئی۔\n\n’’قاسم۔۔۔ قاسم!‘‘\n\n’’جی آیا صاحب!‘‘ قاسم بھاگتا ہوا پھر اپنے آقا کے پاس گیا۔\n\n’’بمبئی کا پانی کس قدر خراب ہے۔۔۔ جاؤ پارسی کے ہوٹل سے سوڈا لےکر آؤ۔ بس بھاگے جاؤ۔سخت پیاس لگ رہی ہے۔‘‘\n\n’’بہت اچھا صاحب۔‘‘\n\nقاسم بھاگا بھاگا گیا اور پارسی کے ہوٹل سے، جو گھر سے قریباً نصف میل کے فاصلے پر تھا، سوڈے کی بوتل لے آیا اور اپنے آقا کو گلاس میں ڈال کر دے دی۔\n\n’’اب تم جاؤ۔ مگر اس وقت تک کیا کررہے ہو؟ برتن صاف نہیں ہوئے کیا؟‘‘\n\n’’ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب!‘‘\n\n’’ برتن صاف کرنے کے بعد میرے دونوں کالے شو پالش کردینا۔ مگر دیکھنا احتیاط رہے۔ چمڑے پر کوئی خراش نہ آئے۔ ورنہ۔۔۔‘‘ قاسم کو ’’ورنہ‘‘ کے بعد کاجملہ بخوبی معلوم تھا۔ ’’بہت اچھا صاحب‘‘ کہہ کر وہ باورچی خانہ میں چلا گیا اور برتن صاف کرنے شروع کردیے۔اب نیند اس کی آنکھوں میں سمٹی چلی آرہی تھی۔ پلکیں آپس میں ملی جارہی تھیں، سر میں پگھلا ہوا سیسہ اتر رہا تھا۔۔۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ صاحب کے بوٹ بھی ابھی پالش کرنے ہیں، قاسم نے اپنے سر کو زور سے جنبش دی اور وہی راگ الاپنا شروع کردیا۔\n\n’’ جی آیا صاحب۔ جی آیا صاحب! بوٹ صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔‘‘\n\nمگر نیند کا طوفان ہزار بند باندھنے پربھی نہ رکا۔ اب اسے محسوس ہوا کہ نیند ضرورغلبہ پاکے رہے گی۔ پرابھی برتنوں کو دھو کر انھیں اپنی جگہ پررکھنا باقی تھا۔ جب اس نے یہ سوچا تو ایک عجیب و غریب خیال اس کے دماغ میں آیا، ’’ بھاڑ میں جائیں برتن اور چولھے میں جائیں شو۔۔۔ کیوں نہ تھوڑی دیر اسی جگہ سو جاؤں اور پھر چند لمحہ آرام کرنے کے بعد۔۔۔‘‘ اس خیال کو باغیانہ تصور کرکے قاسم نے ترک کردیا۔ اور برتنوں پرجلدی جلدی راکھ ملنا شروع کردی۔\n\nتھوڑی دیر کے بعد جب نیند پھر غالب آئی تو اس کے جی میں آئی کہ ابلتا ہو ا پانی اپنے سر پر انڈیل لے۔ اور اس طرح اس غیر مرئی طاقت سے جو اس کام میں حارج ہورہی تھی نجات پا جائے۔۔۔ مگر پانی اتنا گرم تھا کہ اس کے بھیجے تک کو پگھلا دیتا۔ چنانچہ منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار مار کر اس نے باقی ماندہ برتن صاف کیے۔ یہ کام کرنے کے بعد اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ اب وہ آرام سے سو سکتا تھا اور نیند۔۔۔ وہ نیند، جس کے لیے اس کی آنکھیں اور دماغ اس شدت سے انتظار کررہے تھے اب بالکل نزدیک تھی۔\n\nباورچی خانے کی روشنی گل کرنے کے بعد قاسم نے باہر برآمدے میں اپنا بستر بچھا لیا اور لیٹ گیا۔ اس سے پہلے کہ نیند اسے اپنے نرم نرم بازوؤں میں تھام لے اس کے کان ’’شو شو‘‘ کی آواز سے گونج اٹھے۔ ’’بہت اچھا صاحب۔ ابھی پالش کرتا ہوں۔‘‘ قاسم ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھا۔ابھی قاسم شو کا ایک پیر بھی اچھی طرح پالش کرنے نہ پایا تھا کہ نیند کے غلبہ نے اسے وہیں سلا دیا۔سورج کی لال لال کرنیں مکان کے شیشوں سے نمودار ہوئیں۔ مگر قاسم سویا رہا۔\n\nجب انسپکٹر صاحب نے اپنے نوکر کو باہر برآمدے میں اپنے کالے جوتوں کے پاس سویا دیکھا تو اسے ٹھوکر مار کے جگاتے ہوئے کہا، ’’یہ سور کی طرح یہاں بے ہوش پڑا ہے اور مجھے خیال تھا کہ اس نے شو صاف کرلیے ہوں گے۔ ’’نمک حرام!۔۔۔ ابے قاسم!‘‘\n\n’’جی آیا صاحب!‘‘ قاسم فوراً اٹھ بیٹھا۔ ہاتھ میں جب اس نے پالش کرنے کا برش دیکھا اور رات کے اندھیرے کی بجائے دن کی روشنی دیکھی تو اس کی جان خطا ہوگئی۔ ’’میں سو گیا تھا صاحب! مگر۔۔۔ مگر شو ابھی پالش ہو جاتے ہیں صاحب۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے جلدی جلدی پالش کرنا شروع کردیا۔پالش کرنے کے بعد اس نے اپنا بستر بند کیا اور اسے اوپر کے کمرے میں رکھنے چلا گیا۔\n\n’’قاسم!‘‘\n\n’’جی آیا صاحب!‘‘\n\nقاسم بھاگا ہوا نیچے آیا۔ اور اپنے آقا کے پاس کھڑا ہوگیا۔\n\n’’دیکھو، آج ہمارے یہاں مہمان آئیں گے، اس لیے باورچی خانہ کے تمام برتن اچھی طرح صاف کررکھنا۔ فرش دھلا ہوا ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ تمہیں ڈرائنگ روم کی تصویریں، میزیں اور کرسیاں بھی صاف کرنا ہوں گی۔۔۔ سمجھے۔۔۔ خیال رہے میری میز پر ایک تیز دھار والا چاقو پڑاہے، اسے مت چھیڑنا! میں اب دفتر جارہا ہوں۔ مگر یہ کام دو گھنٹے سے پہلے پہلے ہو جائے۔‘‘\n\n’’بہت بہتر صاحب۔‘‘\n\nانسپکٹر صاحب دفتر چلے گئے۔ قاسم باورچی خانہ صاف کرنے میں مشغول ہوگیا۔ ڈیڑھ گھنٹے کی انتھک محنت کے بعد اس نے باورچی خانہ کا سارا کام ختم کردیا۔ اور ہاتھ پاؤں صاف کرنے کے بعد جھاڑن لے کر ڈرائنگ روم میں چلا گیا۔ وہ ابھی کرسیوں کو جھاڑن سے صاف کررہا تھا کہ اس کے تھکے ہوئے دماغ میں ایک تصویر سی کھنچ گئی۔ کیا دیکھتا ہے کہ اس کے گرد برتن ہی برتن پڑے ہیں اور پاس ہی راکھ کا ایک ڈھیر لگ رہاہے۔ ہوا زوروں پر چل رہی ہے جس سے وہ راکھ اڑ اڑ کر فضا کو خاکستری بنا رہی ہے۔ یکایک اس ظلمت میں ایک سرخ آفتاب نمودار ہوا جس کی کرنیں سرخ برچھیوں کی طرح ہر برتن کے سینے میں گھس گئیں۔ زمین خون سے شرابور ہوگئی۔\n\nقاسم دہشت زدہ ہوگیا، اور اس وحشت ناک تصور کو دماغ سے جھٹک کر ’’جی آیا صاحب، جی آیا صاحب‘‘ کہتا پھر اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کے تصور میں ایک اور منظر رقص کرنے لگا۔ چھوٹے چھوٹے لڑکے آپس میں کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔ دفعتاً آندھی چلنے لگی جس کے ساتھ ہی ایک بدنما اور بھیانک دیو نمودار ہوا۔ یہ دیو ان سب لڑکوں کو نگل گیا۔ قاسم نے خیال کیاکہ وہ دیو اس کے آقا کے ہم شکل تھا۔ گو کہ قدوقامت کے لحاظ سے وہ اس سے کہیں بڑا تھا۔ اب اس دیو نے زور زور سے ڈکارنا شروع کیا۔ قاسم سرسے پیر تک لرز گیا۔\n\nابھی تمام کمرہ صاف کرنا تھا۔ اور وقت بہت کم رہ گیا تھا۔ چنانچہ قاسم نے جلدی جلدی کرسیوں پر جھاڑن مارنا شروع کیا۔ کرسیوں کا کام ختم کرنے کے بعد وہ میز صاف کرنے کے لیے بڑھا تو اسے خیال آیا، ’’آج مہمان آرہے ہیں۔ خدا معلوم کتنے برتن صاف کرنا پڑیں گے۔ نیند کمبخت پھر ستائے گی۔ مجھ سے تو کچھ بھی نہ ہو سکے گا۔۔۔‘‘\n\nوہ یہ سوچ رہا تھا اور میز پر رکھی ہوئی چیزوں کو پونچھ رہاتھا۔ اچانک اسے قلمدان کے پاس ایک کھلا ہوا چاقو نظر آیا۔۔۔ وہی چاقو جس کے متعلق اس کے آقا نے کہا تھا بہت تیز ہے، چاقو کا دیکھنا تھا کہ اس کی زبان پر یہ لفظ خود بخود جاری ہوگئے، ’’چاقو، تیز دھار چاقو! یہی تمہاری مصیبت ختم کرسکتا ہے۔‘‘ کچھ اور سوچے بغیر قاسم نے تیز دھار چاقو اٹھا کے اپنی انگلی پر پھیر لیا۔ اب وہ شام کو برتن صاف کرنے کی زحمت سے بہت دور تھا اور نیند۔۔۔ پیاری پیاری نیند اسے بآسانی نصیب ہوسکتی تھی۔ انگلی سے خون کی سرخ دھار بہہ رہی تھی۔ سامنے والی دوات کی سرخ روشنائی سے کہیں چمکیلی۔ قاسم اس خون کی دھار کو مسرت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اور منہ میں گنگنا رہا تھا، ’’نیند، نیند۔۔۔ پیاری نیند۔‘‘\n\nتھوڑی دیربعد وہ بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا جو زنان خانہ میں بیٹھی سلائی کررہی تھی اور اپنی انگلی دکھا کر کہنے لگا، ’’دیکھیے بی بی جی!‘‘\n\n’’ارے قاسم یہ تو نے کیا کیا۔۔۔؟ کم بخت، صاحب کے چاقو کو چھیڑا ہوگا تو نے؟‘‘\n\nقاسم مسکرا دیا، ’’بی بی جی۔۔۔ بس میز صاف کررہا تھا کہ اس نے کاٹ کھایا۔‘‘\n\n’’سؤر اب ہنستا ہے، ادھر آ، میں اس پر کپڑا باندھ دوں۔۔۔ پر اب یہ تو بتا کہ آج یہ برتن تیرا باپ صاف کرے گا؟‘‘\n\nقاسم اپنی فتح پر جی ہی جی میں بہت خوش ہوا۔انگلی پر پٹی بندھوا کر قاسم پھر کمرے میں چلا آیا۔ میز پر سے خون کے دھبے صاف کرنے کے بعد اس نے خوشی خوشی اپنا کام ختم کردیا۔ سامنے طوطے کا پنجرہ لٹک رہا تھا۔ اس کی طرف دیکھ کر قاسم نے مسرت بھرے لہجہ میں کہا، ’’اب اس نمک حرام باورچی کو برتن صاف کرنے ہوں گے۔۔۔اور ضرور صاف کرنے ہوں گے۔ کیوں میاں مٹھو؟‘‘ شام کے وقت مہمان آئے اور چلے گئے۔ باورچی خانہ میں جھوٹے برتنوں کا ایک طومار سا لگ گیا۔ انسپکٹر صاحب قاسم کی انگلی دیکھ کر بہت برسے اور جی کھول کر اسے گالیاں دیں۔ مگر اسے مجبور نہ کرسکے۔۔۔ شاید اس وجہ سے کہ ایک بار ان کی اپنی انگلی میں قلم تراش چبھ جانے سے بہت درد ہوا تھا۔\n\nآقا کی خفگی آنے والی مسرت نے بھلا دی اور قاسم کودتا پھاندتا اپنے بستر پر جالیٹا۔ تین چار روز تک وہ برتن صاف کرنےکی زحمت سے بچا رہا مگر اس کے بعد انگلی کا زخم بھر آیا۔۔۔ اب وہی مصیبت پھر نمودار ہوگئی۔\n\n’’قاسم۔۔۔ صاحب کی جرابیں اور قمیص دھو ڈ الو۔‘‘\n\n’’بہت اچھا بی بی جی۔‘‘\n\n’’قاسم اس کمرے کا فرش کتنا میلا ہورہا ہے۔ پانی لاکر ابھی صاف کرو۔ دیکھنا کوئی داغ دھبہ باقی نہ رہے!‘‘\n\n’’بہت اچھا صاحب۔‘‘\n\n’’قاسم، شیشے کے گلاس کتنے چکنے ہورہے ہیں، انھیں نمک سے ابھی ابھی صاف کرو۔‘‘\n\n’’ابھی کرتا ہوں بی بی جی۔‘‘\n\n’’قاسم، ابھی بھنگن آرہی ہے۔ تم پانی ڈالتے جانا۔ وہ سیڑھیاں دھو ڈالے گی۔‘‘\n\n’’بہت اچھا صاحب۔‘‘\n\n’’قاسم ذرا بھاگ کے ایک آنہ کا دہی تو لے آنا!‘‘\n\n’’ابھی چلا بی بی جی۔‘‘\n\nپانچ روز اس قسم کے احکام سننے میں گزر گئے۔ قاسم کام کی زیادتی اور آرام کے قحط سے تنگ آگیا۔ ہر روز اسے نصف شب تک کام کرنا پڑتا۔ پھر بھی علی الصباح چار بجے کے قریب بیدار ہو کر ناشتے کے لیے چائے تیار کرنا پڑتی۔ یہ کام قاسم کی عمر کے لڑکے کے لیے بہت زیادہ تھا۔\n\nایک روز انسپکٹر صاحب کی میز صاف کرتے وقت اس کا ہاتھ خود بخود چاقو کی طرف بڑھا۔ اور ایک لمحہ کے بعد اس کی انگلی سے خون بہنے لگا۔ انسپکٹر صاحب اور ان کی بیوی قاسم کی اس حر کت پرسخت خفا ہوئے۔ چنانچہ سزا کی صورت میں اسے شام کا کھانا نہ دیا گیا۔ مگر قاسم خوش تھا۔۔۔ ایک وقت روٹی نہ ملی۔ انگلی پر معمولی سا زخم آگیا۔ مگر برتنوں کا انبار صاف کرنے سے تو نجات ملی گئی۔۔۔ یہ سودا کیا برا ہے؟\n\nچند دنوں کے بعد اس کی انگلی کا زخم ٹھیک ہوگیا۔ اب پھر کام کی وہی بھرمار تھی۔ پندرہ بیس روز گدھوں کی سی مشقت میں گزر گئے۔ اس عرصہ میں قاسم نے بارہا ارادہ کیا کہ چاقو سے پھر انگلی زخمی کرلے۔ مگر اب میز پر سے وہ چاقو اٹھا لیا گیا تھا اور باورچی خانہ والی چھری کُند تھی۔\n\nایک روز باورچی بیمار پڑ گیا۔ اب قاسم کو ہر وقت باورچی خانہ میں رہنا پڑا۔ کبھی مرچیں پیستا، کبھی آٹا گوندھتا، کبھی کوئلے سلگاتا، غرض صبح سے لےکر شام تک اس کے کانوں میں ’’ابے قاسم یہ کر! ابے قاسم وہ کر!‘‘ کی صدا گونجتی رہتی۔باورچی دو روز تک نہ آیا۔۔۔ قاسم کی ننھی سی جان اور ہمت جواب دے گئی۔ مگر سوائے کام کے اور چارہ ہی کیا تھا۔\n\nایک روز انسپکٹر صاحب نے اسے الماری صاف کرنے کو کہا جس میں ادویات کی شیشیاں اور مختلف چیزیں پڑی تھیں۔ الماری صاف کرتے وقت اسے داڑھی مونڈنے کا ایک بلیڈ نظر آیا۔ بلیڈ پکڑتے ہی اس نے اپنی انگلی پر پھیر لیا۔ دھار تھی بہت تیز، انگلی میں دور تک چلی گئی۔ جس سے بہت بڑا زخم بن گیا۔۔۔\n\nقاسم نے بہت کوشش کی کہ خون نکلنا بند ہو جائے مگر زخم کا منہ بڑا تھا۔ سیروں خون پانی کی طرح بہہ گیا۔ یہ دیکھ کرقاسم کا رنگ کاغذ کی مانند سپید ہوگیا۔ بھاگا ہوا انسپکٹر صاحب کی بیوی کے پاس گیا۔۔۔\n\n’’ بی بی جی، میری انگلی میں صاحب کا استرا لگ گیا ہے۔‘‘\n\nجب انسپکٹر صاحب کی بیوی نے قاسم کی انگلی کو تیسری مرتبہ زخمی دیکھا تو فوراً معاملے کو سمجھ گئی۔ چپ چاپ اٹھی اور کپڑا نکال کر اس کی انگلی پر باندھ دیا اور کہا، ’’قاسم!اب تم ہمارے گھر میں نہیں رہ سکتے۔‘‘\n\n’’کیوں بی بی جی؟‘‘\n\n’’یہ صاحب سے پوچھنا۔‘‘\n\nصاحب کا نام سنتے ہی قاسم کارنگ اور پیلا پڑ گیا۔ چار بجے کے قریب انسپکٹر صاحب دفتر سے لوٹے اور اپنی بیوی سے قاسم کی نئی حرکت سن کر اسے فوراً اپنے پاس بلایا۔\n\n’’کیوں میاں! یہ انگلی ہر روز زخمی کرنے کیا معنی؟‘‘\n\nقاسم خاموش کھڑارہا۔\n\n’’تم نوکر لوگ یہ سمجھتے ہو کہ ہم اندھے ہیں اور ہمیں بار بار دھوکا دیا جاسکتا ہے۔۔۔ اپنا بوریہ بستر دبا کر ناک کی سیدھ میں یہاں سے بھاگ جاؤ۔ ہمیں تم جیسے نوکروں کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ سمجھے۔۔۔!‘‘\n\n’’مگر۔۔۔ مگر صاحب۔‘‘\n\n’’صاحب کا بچہ۔۔۔ بھاگ جا یہاں سے، تیری بقایا تنخواہ کا ایک پیسہ بھی نہیں دیا جائے گا۔۔۔ اب میں اور کچھ نہیں سننا چاہتا۔۔۔‘‘ قاسم کو افسوس نہ ہوا بلکہ اسے خوشی محسوس ہوئی کہ چلو کام سے کچھ دیر کے لیے چھٹی مل گئی۔ گھر سے نکل وہ اپنی زخمی انگلی سے بے پروا سیدھا چوپاٹی پہنچا اور وہاں ساحل کے پاس ایک بنچ پر لیٹ گیا اور خوب سویا۔\n\nچند دنوں کے بعد اس کی انگلی کا زخم بد احتیاطی کے باعث سیپٹک ہوگیا۔ سارا ہاتھ سوج گیا۔ جس دوست کے پاس وہ ٹھہرا تھا اس نے اپنی دانست کے مطابق اس کا بہتر علاج کیا مگر تکلیف بڑھتی گئی۔ آخر قاسم خیراتی ہسپتال میں داخل ہوگیا۔ جہاں اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔اب جب کبھی قاسم اپنا کٹا ہوا ٹنڈ منڈ ہاتھ بڑھا کر فلورا فاؤنٹین کے پاس لوگوں سے بھیک مانگتا ہے تو اسے وہ بلیڈ یاد آجاتا ہے جس نے اسے بہت بڑی مصیبت سے نجات دلائی۔ اب وہ جس وقت چاہے سر کے نیچے اپنی گدڑی رکھ کر فٹ پاتھ پرسو سکتا ہے۔ اس کے پاس ٹین کا ایک چھوٹا سا بھبھکا ہے جس کو کبھی نہیں مانجھتا، اس لیے کہ اسے انسپکٹر صاحب کے گھر کے وہ برتن یاد آجاتے ہیں جو کبھی ختم ہونے میں نہیں آتے تھے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%B3%D9%85"} {"title": "قاسم کی شادی اس دم رچائی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "قاسم کی شادی اس دم رچائی\nجس دم کہ شہ سے کچھ بن نہ آئی\nدلہن سمیں نے ایسی بنائی\nوہ بزم جن نے ساری رلائی\n\nبھائی نہ تھے جو ہوتے براتی\nبزم عروسی رونق بھی پاتی\nسو تو جلائی ہر اک نے چھاتی\nآگے ہی جا جا گردن کٹائی\n\nدولھا اگر تھا ظاہر نویلا\nلیکن نہایت بیکس اکیلا\nبابا کا مرنا اس طور جھیلا\nطاقت سے آگے ایذا اٹھائی\n\nدل کے الم سے رخ زرد جوں زر\nآنسو کا سہرا چہرے کے اوپر\nجوں پارۂ ابر رومال سب تر\nغم کی نہ دل میں مطلق سمائی\n\nبابا موا تھا ہو کرکے مسموم\nشفقت عنایت غیروں سے معلوم\nاب جو چچا ہے سو بھی ہے مظلوم\nڈھونڈے ہے اپنے غم سے رہائی\n\nدولھا گدازاں ہووے نہ کس مس\nنے کوئی غم خوار نے کوئی مونس\nدولہن جلے تھی جوں شمع مجلس\nایسی لگن تھی یہ کب دھرائی\n\nدلہن کو روتی لاکر بٹھایا\nدولھا بھی کڑھتا پاس اس کے آیا\nمرآت و مصحف لاکر دکھایا\nاک دم بھی فرصت ہرگز نہ پائی\n\nچاہا مبارز دشمن نے آکر\nغیرت سے طاقت مطلق نہ لاکر\nاٹھتے ہی واں سے جی کو چلا کر\nسر پر اٹھائی ساری لڑائی\n\nاک زخم سا زخم آخر اٹھایا\nدیکھا چچا نے طاقت نہ لایا\nگھوڑے سے گرتے چھاتی لگایا\nنازک وہ پیکر بے جان پائی\n\nمر جو گیا وہ جا الضرورت\nکچھ اور ہوگئی مجلس کی صورت\nبڑھتی چلی پھر دل کی کدورت\nاس پر کہ گھر کی سب تھی صفائی\n\nآرائش بزم کیا کہیے بارے\nآہوں کے شعلے گل ریز سارے\nگرتے تھے آنسو جیسے ستارے\nچھوٹے تھی منھ پر سب کے ہوائی\n\nکس پردگی کے معجر بہ سر تھا\nسینے میں کس کے اس دم جگر تھا\nبزم عروسی ماتم کا گھر تھا\nاچرج ہوئی ہے یہ کدخدائی\n\nالقصہ اکثر بیکس بچارے\nجور و ستم سے دشمن نے مارے\nباقی جو ہیں اب کتنے دکھارے\nپانی کی ان کو ہے گی منائی\n\nاصغر پیاسا مرنے لگا جب\nمردم حرم کے گریاں ہوئے سب\nلاچار ہو شہ آپھی اٹھا تب\nاک چلو پانی کرنے گدائی\n\nلائے سو اس کو خوں میں ڈبو کر\nایسے گہر کو یوں بیٹھے کھو کر\nرکھا جو سب میں گودی سے رو کر\nچھوٹے بڑے کی چھاتی بھر آئی\n\nگردن کٹائی اکبر نے جب کی\nتر چشم ہے گی ہر خشک لب کی\nعالم سیہ ہے آنکھوں میں سب کی\nدیتا نہیں کچھ اس بن دکھائی\n\nاس واقعے نے شہ کو کھپایا\nآتش نے غم کی سینہ جلایا\nخود کو بخود پھر ہرگز نہ پایا\nدشوار کاٹی اس کی جدائی\n\nافراط غم سے بس تنگ آکر\nجینے سے بیٹھا دل کو اٹھاکر\nوعدے پہ آخر میداں میں جاکر\nخنجر کے کارن ضربت اٹھائی\n\nواماندگاں سب کہتے تھے رو رو\nوارث نہیں اب جز عابدیں سو\nبیمار ایسا دیکھیں تو کیا ہو\nپھر لاعلاجی پھر بے دوائی\n\nسر دے کے شہ تو چھوٹا الم سے\nعزت تھی ساری اس کے ہی دم سے\nوابستہ خواری اب ہے گی ہم سے\nموت اس کی آئی ہم کو نہ آئی\n\nتھی چشم ہم کو جن سے وفا کی\nآخر انھوں نے ایسی جفا کی\nیارب برائی ہم نے وہ کیا کی\nکرتی نہیں جو امت بھلائی\n\nاپنا کیا تھا حیدر نے جس کو\nجانی خصومت ہم سے ہے وس کو\nہم غم زدہ اب دیں دوش کس کو\nکی آشنا نے یہ بے وفائی\n\nچھوڑا مدینہ جس کے بھروسے\nنیکی نہ دیکھی اس زشت خو سے\nمارے گئے مل اس مردہ شو سے\nبیٹے بھتیجے خویش اور بھائی\n\nدنیا کی خاطر دیں ان نے چھوڑا\nابن علی سے سر رشتہ توڑا\nیک بار ادھر سے منھ اپنا موڑا\nتھا آشنا سو نکلا دغائی\n\nتالیف جس کی کی تھی نبیؐ نے\nایذا اٹھائی اس سے علیؓ نے\nبیٹے سے اس کے اب ہم سبھی نے\nیہ آگ گھر کو ان نے لگائی\n\nجانوں سے مارا خیمہ جلایا\nپانی کے بدلے لوہو چٹایا\nسر اس کے اوپر کٹوا منگوایا\nناموس ساری شہ کی لٹائی\n\nغربت میں مارا لاکر وطن سے\nمحروم رکھا تس پر کفن سے\nہاتھ اک پسر کے باندھے رسن سے\nکی ناتواں پر زورآزمائی\n\nاہل حرم کو لوٹا لٹایا\nہر پردگی کو سب میں پھرایا\nاونٹوں کے اوپر ظاہر بٹھایا\nخوش کی ہماری یہ بے ردائی\n\nاب شام کو ہم جاتے ہیں سارے\nشب کر دکھایا دن کو ہمارے\nکیا پیش آوے واں پہنچے بارے\nطالع میں اپنے ہے نارسائی\n\nجاتے تھے کہتے یوں وے گرفتار\nنے کوئی ہمدم نے کوئی غم خوار\nآگے سبھوں کے عابد ہو بیمار\nچوٹ ان کے دل پر ہر گام کھائی\n\nپامال کریے اس کام جاں کو\nدیجے ریاست سگ زادگاں کو\nچپ میرؔ نالاں رکھ لے زباں کو\nکہیے سو کیا اب یہ بھی خدائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%B3%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%85_%D8%B1%DA%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "قاصد آیا مگر جواب نہیں", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قاصد آیا مگر جواب نہیں\nمیرے لکھے کا بھی جواب نہیں\n\nخم تو ہے ساقیا شراب نہیں\nآسماں ہے اور آفتاب نہیں\n\nبن کے بت سب وہ کہہ گزرتے ہیں\nبے دہانی ترا جواب نہیں\n\nصبح ہوتے وہ گھر گئے اپنے\nاب نکلنے کا آفتاب نہیں\n\nنور وہ ہے کہ کچھ نہیں کھلتا\nہے ترے رخ پہ یا نقاب نہیں\n\nطور کے ذکر پر چمک اٹھے\nبات کی ان بتوں کو تاب نہیں\n\nگرچہ دنیا ہے آئینہ خانہ\nمیرا ثانی ترا جواب نہیں\n\nبن گیا ہے نقاب چہرے کی\nکہ اترتا کبھی عتاب نہیں\n\nرخ سے افشاں چھڑا کے کہتے ہیں\nآج تاروں میں ماہتاب نہیں\n\nچاند کو رات کیا چھپائے گی\nزلف رخ کے لئے نقاب نہیں\n\nچڑھ کے اتریں گی تیوریاں سو بار\nکچھ یہ چڑھتا ہوا شباب نہیں\n\nکچھ نہیں میرے بے شمار گناہ\nوہ اگر برسر حساب نہیں\n\nڈھل کے کہتا ہے چودھویں کا چاند\nایک شب سے سوا شباب نہیں\n\nمے تو ڈھل کر رہے گی اے ساقی\nکچھ یہ معشوق کا شباب نہیں\n\nمے کدہ بھی بہشت ہے لیکن\nمفت ملتی یہاں شراب نہیں\n\nسن کے یہ پردے سے نکل آئے\nتیری تصویر کا جواب نہیں\n\nآہ کو سن کے منہ چھپاتے ہو\nایک جھونکے کی بھی نقاب نہیں\n\nختم ہوتی نہیں ہوس دل کی\nایک طوفان ہے شباب نہیں\n\nدل جلے جب مزہ ہے رونے کا\nمے ہے پانی اگر کباب نہیں\n\nعشق میں ہے جلیلؔ لا ثانی\nحسن میں یار کا جواب نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "قاصد اس کا پیام کچھ بھی ہے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قاصد اس کا پیام کچھ بھی ہے\nکہہ دعا یا سلام کچھ بھی ہے\n\nسخن مہر خواہ حرف عتاب\nاس کے منہ کا کلام کچھ بھی ہے\n\nصاف یا درد بادۂ گلگوں\nساقیٔ لالہ فام کچھ بھی ہے\n\nکیا غم ہجر کیا سرور وصال\nگزراں ہے دوام کچھ بھی ہے\n\nاس رخ و زلف سے کہ دوں تشبیہ\nخوبیٔ صبح و شام کچھ بھی ہے\n\nیاد میں اپنے یار کے رہنا\nبہتر اور اس سے کام کچھ بھی ہے\n\nتو جو بیدارؔ یوں پھرے ہے خراب\nپاس ناموس و نام کچھ بھی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "قاصد ترے بار بار آئے", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قاصد ترے بار بار آئے\nایک ہفتہ میں تین چار آئے\n\nقاتل پہ جو سر کو وار آئے\nبار تن زار اتار آئے\n\nآشفتگی ہو نصیب دشمن\nتم زلف نہ کیوں سنوار آئے\n\nاب کی جو نہ چھوٹے فصل گل میں\nپھر دیکھیے کب بہار آئے\n\nدل میں نہیں اس کی کچھ کدورت\nآئینہ پہ کیا غبار آئے\n\nجھولی رہی اپنی گل سے خالی\nدامن میں الجھ کے خار آئے\n\nگل کھانا مرا تپ الم سے\nبلبل جو سنے بخار آئے\n\nآیا جو سخیؔ مۂ محرم\nہم بزم میں اشک بار آئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "قاصد خلاف خط کہیں تیرا بیاں نہ ہو", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قاصد خلاف خط کہیں تیرا بیاں نہ ہو\nکرنا سنبھل کے بات کہ وہ بد گماں نہ ہو\n\nنالوں کا میرے آٹھ پہر امتحاں نہ ہو\nڈرتے نہیں کہ ایک زمیں آسماں نہ ہو\n\nتہمت ہو بھول چوک کی پیغامبر کے سر\nشکوؤں کا لطف کیا جو کوئی درمیاں نہ ہو\n\nنالوں سے لڑ رہی ہے صدائے جرس جو آج\nگم کردہ راہ کوئی پس کارواں نہ ہو\n\nسو سن کے ایک بھی نہ کہیں ہم بجا درست\nاس سے یہ کہیے آئے کہ جس کے زباں نہ ہو\n\nاب تک وہ یاد ہیں مری اگلی عنایتیں\nبس بس ہمارے حال پہ تو مہرباں نہ ہو\n\nچھوٹی تری گلی تو یہ مجھ کو یقیں ہوا\nجنت ہے وہ جہاں ستم آسماں نہ ہو\n\nکرتے ہیں ایک ایک سے میری شکایتیں\nصرف اس خیال سے کہ کوئی بد گماں نہ ہو\n\nیہ کیا کہ سر چڑھا کے نظر سے گرا دیا\nاب مہرباں ہوئے ہو تو نا مہرباں نہ ہو\n\nدل کو کہاں ہے صدمۂ رشک عدو کی تاب\nسو امتحاں ہیں اور یہ اک امتحاں نہ ہو\n\nمرنا پھڑک پھڑک کے گوارا سہی مگر\nاتنا تو ہو قفس میں غم آشیاں نہ ہو\n\nکعبے میں بت کدے میں خرابات میں رہے\nانساں وہ ہے کہیں جو کسی پر گراں نہ ہو\n\nاپنی بھی سر گذشت ہے اک طرفہ داستاں\nبرسوں سنو تو نصف یہ قصہ بیاں نہ ہو\n\nدل سے ہے دل کو راہ یہ سچ ہے اگر حفیظؔ\nممکن نہیں خیال یہاں ہو وہاں نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%81_%D8%AE%D8%B7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "قاصد خوش فال لایا اس کے آنے کی خبر", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قاصد خوش فال لایا اس کے آنے کی خبر\nدل تو خوش کرتا ہے بارے یہ بہانے کی خبر\n\nوہ بت بے رحم ہم سے یوں جدائی کر گیا\nہائے کس کافر کو تھی اس بد زمانے کی خبر\n\nبلبلو دو دن غنیمت ہے یہ فرصت عیش کی\nباغ سے ہے آج کل ہی گل کے جانے کی خبر\n\nتا ابد خالی رہے یارب دلوں میں اس کی جا\nجو کوئی لاوے مرے گھر اس کے آنے کی خبر\n\nمیرے دل کو نسبت فرہاد و مجنوں عار ہے\nدور ہو مجھ کو نہیں ہے اس دوانے کی خبر\n\nکون کس کی عشق کے زنداں میں غم خواری کرے\nخون دل لیتا ہے میرے پینے کھانے کی خبر\n\nآ گیا نادان تو اس کے فریب لطف میں\nمجھ کو حسرتؔ سب تھی اس کے دل لبھانے کی خبر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%81%D8%A7%D9%84_%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A8%D8%B1"} {"title": "قاصد نئی ادا سے ادائے پیام ہو", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قاصد نئی ادا سے ادائے پیام ہو\nمطلب یہ ہے کہ بات نہ ہو اور کلام ہو\n\nباقی ہے شوق راہ میں کیوں کر قیام ہو\nہاتھ آئیں ان کے پاؤں تو منزل تمام ہو\n\nکیا خوش ہو دل کہ ہے وہ جفا جو زمیں سے دور\nتم کیسے آسمان کے قائم مقام ہو\n\nفرماں روائے حسن کو ہوتا نہیں فروغ\nجب تک نہ عشق اس کا مدار المہام ہو\n\nاحسنؔ وہ سن کے شکوۂ تشہیر کہہ گئے\nہم جانتے ہیں تم کو بڑے نیک نام ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88"} {"title": "قاصد کو دے نہ اے دل اس گل بدن کی پاتی", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قاصد کو دے نہ اے دل اس گل بدن کی پاتی\nچل خود ہی لے چلیں ہم اپنے سجن کی پاتی\n\nہر سطر موج شیریں اک مدعا رکھے ہے\nٹک دیکھ جوئے پر خوں ہے کوہ کن کی پاتی\n\nکاغذ ہری زمیں کا نہیں دیکھتا کہ شاید\nپہنچے نہ اس ہنر سے اس کو ہمن کی پاتی\n\nمنفذ نگہ کا آنسو گھیرے ہی لیں ہیں پیارے\nبانچوں سو کس طرح سے اب میں تمہن کی پاتی\n\nآوارہ داغ دل ہیں نالے سے یوں کہ جیسے\nباد خزاں سے درہم ہووے چمن کی پاتی\n\nقائمؔ لکھا تھا اس نے آنے کا شب کو وعدہ\nسو دن میں دیکھی سو دم اس سیم تن کی پاتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%DB%8C"} {"title": "قاضی کے منہ پہ ماری ہے بوتل شراب کی", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قاضی کے منہ پہ ماری ہے بوتل شراب کی\nیہ عمر بھر میں ایک ہوئی ہے ثواب کی\n\nاے یار تیرے لب پہ تبسم نہیں نمود\nپیدا ہے ماہ نو سے کرن آفتاب کی\n\nآیا مژہ پہ لخت دل بے قرار یاد\nگردش جو ہم نے سیخ پہ دیکھی کباب کی\n\nتیری کدورتوں نے مجھے خاک کر دیا\nتیرے غبار نے مری مٹی خراب کی\n\nمیری خطائیں آ نہیں سکتی شمار میں\nگنتی ہو کیا ترے کرم بے حساب کی\n\nساقی ترے کرم سے یہ امید ہے مجھے\nہو روز حشر ہاتھ میں بوتل شراب کی\n\nمستان عشق آئے تعلی پر اے فلک\nاب خیر مانگ تو قدح آفتاب کی\n\nنشہ زمیں سے سوئے فلک لے اڑا مجھے\nساقی شراب نے مری مٹی خراب کی\n\nدو روز جا کے آبنہ‌ رویوں کی بزم میں\nکیا شکل ہو گئی دل خانہ خراب کی\n\nبجلی نہیں تڑپتی ہے اے دل یہ آسمان\nپرواز اڑا رہا ہے ترے اضطراب کی\n\nابرو کی تیغ سے جو بچا میں تو یار نے\nبرچھی لگائی بڑھ کے نگاہ عتاب کی\n\nاللہ رے اثر مری بخت سیاہ کا\nپیری میں احتیاج نہیں ہے خضاب کی\n\nناظمؔ مرے گناہ ہیں باہر حساب سے\nتشویش کچھ نہیں مجھے روز حساب کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D8%B6%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%81_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%88%D8%AA%D9%84_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں\nسرو کو صدقے میں آزاد کیا کرتے ہیں\n\nزلف شب رنگ کو ہم یاد کیا کرتے ہیں\nشب تاریک میں فریاد کیا کرتے ہیں\n\nنگۂ یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں\nدیکھ کر برق کو فریاد کیا کرتے ہیں\n\nکوچۂ یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں\nجا کے گل زار میں فریاد کیا کرتے ہیں\n\nگھر جو بے یار ہے ویراں تو تصور میں مدام\nخانۂ دل کو ہم آباد کیا کرتے ہیں\n\nرشک سے نام نہیں لیتے کہ سن لے نہ کوئی\nدل ہی دل میں اسے ہم یاد کیا کرتے ہیں\n\nگزرے ہیں کوچۂ کاکل سے صبا کے جھونکے\nنکہت گل کو جو برباد کیا کرتے ہیں\n\nہوتے ہیں جاتے ہی مکتب میں پری رو خوں ریز\nکیا یہ جلادوں کو استاد کیا کرتے ہیں\n\nپھونک دیں نالۂ سوزاں سے اگر چاہیں قفس\nہم فقط خاطر صیاد کیا کرتے ہیں\n\nہوتی ہے آفت خط قہر خدا سے نازل\nیہ صنم ہم پہ جو بیداد کیا کرتے ہیں\n\nملک الموت اگر کہیے انہیں تو ہے بجا\nقتل بے تیغ پری زاد کیا کرتے ہیں\n\nتو وہ صیاد ہے جو وار کے تجھ پر لاکھوں\nطائر روح کو آزاد کیا کرتے ہیں\n\nانتقام اس کا کہیں لے نہ فلک ڈرتا ہوں\nجھوٹے وعدوں سے جو وہ شاد کیا کرتے ہیں\n\nتیرا دیوان ہے کیا سامنے ان کے ناسخؔ\nجو کہ قرآن پہ ایراد کیا کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "قبر سے اٹھ کے یہی دھیان مکرر آیا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قبر سے اٹھ کے یہی دھیان مکرر آیا\nوہ تو آئے نہیں میں آپ میں کیوں کر آیا\n\nوعدہ کس شخص کا اور وہ بھی نہایت کچا\nہم بھی کیا خوب ہیں، سچ مچ ہمیں باور آیا\n\nمجھ سے وہ صلح کو اس شان سے آئے گویا\nجنگ کے واسطے دارا سے سکندر آیا\n\nجذبۂ شوق کی تاثیر اسے کہتے ہیں\nسن کے قاصد کی خبر آپ وہ در پر آیا\n\nخاک ہونے کا مرے ذکر نہ آیا ہو کہیں\nآج اس بزم سے کچھ غیر مکدر آیا\n\nاڑ گئے ہوش کہ پیغامِ اجل ہے یہ جواب\nکوچۂ یار سے زخمی جو کبوتر آیا\n\nدلِ صد چاک میں ہے کاکلِ مشکیں کا خیال\nکہ مجھے گریہ جو آیا تو معطر آیا\n\nاے اجل نیم نگہ کی تو مجھے مہلت دے\nاہلِ ماتم میں یہ چرچا ہے کہ دلبر آیا\n\nاپنی محفل سے یہ آزردہ اٹھایا مجھ کو\nکہ منانے کے لئے آپ مرے گھر آیا\n\nیہ دیا ہائے مجھے لذتِ آزار نے چین\nدل ہوا رنج سے خالی بھی تو جی بھر آیا\n\nآپ مرتے تو ہیں پر جیتے ہی بن آئے گی\nشیفتہ ضد پہ جو اپنی وہ ستم گر آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D9%85%DA%A9%D8%B1%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "قبر میں اب کسی کا دھیان نہیں", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قبر میں اب کسی کا دھیان نہیں\nسچ ہے جب جی نہیں جہان نہیں\n\nبند بلبل ہی کی زبان نہیں\nورنہ گل تو ہلاتے کان نہیں\n\nدل نے خود الفت کمر کی ہے\nاس میں کچھ میرا درمیان نہیں\n\nابھی کیا کیا نہ ہوگا حرج نصیب\nہم نہیں ہیں کہ امتحان نہیں\n\nدیر کیوں زاہدوں نے چھوڑ دیا\nکیا بتوں میں خدا کی شان نہیں\n\nشمس کیسا چمک کے نکلا ہے\nآج میرا جو مہربان نہیں\n\nبات کیا ہے سخیؔ جو وہ ہم سے\nایسے چپ ہیں کہ کچھ بیان نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "قبر پر باد فنا آئیے گا", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قبر پر باد فنا آئیے گا\nبے محل پاؤں نہ پھیلائیے گا\n\nلاکھ ہو وصل کا وعدہ لیکن\nوقت پر صاف نکل جائیے گا\n\nجائیں دم بھر کو تو فرماتے ہیں\nچھاؤنی تو نہ کہیں چھائیے گا\n\nسر ہوئے اس کے ملمع سے نہ آپ\nزلف مشکیں سے خطا پائیے گا\n\nنہ کریں آپ وفا ہم کو کیا\nبے وفا آپ ہی کہلائیے گا\n\nاٹھ گیا دل سے دوئی کا پردا\nچھپ کے اب آپ کہاں جائیے گا\n\nکہکشاں صاف بنے گا رستہ\nآپ توسن کو جو چمکائیے گا\n\nرنگ لائے گی نزاکت بڑھ کر\nپھول کے بار سے پتائیے گا\n\nکیا کریں وصف دہن ڈرتے ہیں\nمنہ میں جو آئے گا فرمائیے گا\n\nزلف کو ہاتھ لگائیں گے جو ہم\nبیڑیاں پاؤں میں پہنائیے گا\n\nدیکھیں رغبت سے تو کہتا ہے وہ شوخ\nکوئی حلوا ہے کہ کھا جائیے گا\n\nکیا کیا عشق نے کیوں حضرت دل\nہم نہ کہتے تھے کہ پچھتائیے گا\n\nآپ چلتے تو ہیں اٹکھیلیوں سے\nکوئی آفت نہ کہیں لائیے گا\n\nاے صباؔ عشق پری رویاں میں\nآدمیت سے گزر جائیے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A8%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D9%81%D9%86%D8%A7_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "قبر پر وہ بتِ گل فام آیا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قبر پر وہ بتِ گل فام آیا\nبارے مرنا تو مرے کام آیا\n\nدو قدم یاں سے وہ کوچہ ہے مگر\nنامہ بر صبح گیا، شام آیا\n\nمر گئے پر نہ گیا رنج کہ وہ\nگور پر آئے تو آرام آیا\n\nخیر باد اے ہوسِ کام کہ اب\nدل میں شوقِ بتِ خود کام آیا\n\nشمع کی طرح اٹھے ہم بھی جب\nدشمنِ تیرہ سر انجام آیا\n\nجب مری آہ فلک پر پہنچی\nتب وہ مغرور سرِ بام آیا\n\nجلد منگواؤ شرابِ گل رنگ\nشیفتہ ساقیِ گل فام آیا\n\nس سے میں شکوے کی جا شکرِ ستم کر آیا\nکیا کروں تھا مرے دل میں سو زباں پر آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A8%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AA%D9%90_%DA%AF%D9%84_%D9%81%D8%A7%D9%85_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "قبر پر ہوویں دو نہ چار درخت", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قبر پر ہوویں دو نہ چار درخت\nایک کافی ہے سایہ دار درخت\n\nتھا میں دیوانہ گور پر ہے ضرور\nبید مجنوں کا سایہ دار درخت\n\nہوں وہ بد بخت میرے سائے سے\nخشک ہوتے ہیں بار دار درخت\n\nتو جو اے سرو باغ میں جائے\nثمر و گل کریں نثار درخت\n\nپست ہوں تجھ سے غیرت طوبیٰ\nایک کیا ہوں اگر ہزار درخت\n\nواہ رے میرے آہ کے جھونکے\nاڑتے پھرتے ہیں کاہ وار درخت\n\nمیں جو تاثیر آہ دکھلاؤں\nکوہ ہل جائیں درکنار درخت\n\nباغ ہستی میں ضعف پیری سے\nرندؔ ہوں مثل بیخ خار درخت\n\nباغباں کیوں نہ جانے اس کو فضول\nکر چکے اپنی جب بہار درخت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A8%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88_%D9%86%DB%81_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D8%AA"} {"title": "قبلۂ آب و گل تمہیں تو ہو", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قبلۂ آب و گل تمہیں تو ہو\nکعبۂ جان و دل تمہیں تو ہو\n\nلا مکاں دور دل بہت نزدیک\nمنفصل متصل تمہیں تو ہو\n\nمیرے پہلو میں دل نہ کیوں ہو خوش\nدل کے پہلو میں دل تمہیں تو ہو\n\nتم سے مل کر خجل ہمیں تو ہیں\nہم سے چھٹ کر خجل تمہیں تو ہو\n\nدل کی سختی کا ہے گلہ تم سے\nجس نے رکھی یہ سل تمہیں تو ہو\n\nجیتے جی مجھ کو مار ڈالو تم\nمالک جان و دل تمہیں تو ہو\n\nتم کو مائلؔ بہت ہے شرم گناہ\nرات دن منفعل تمہیں تو ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A8%D9%84%DB%82_%D8%A2%D8%A8_%D9%88_%DA%AF%D9%84_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88"} {"title": "قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے\nسجدہ گاہ اہل عرفاں اور ہے\n\nہو کے خوش کٹواتے ہیں اپنے گلے\nعاشقوں کی عید قرباں اور ہے\n\nروز و شب یاں ایک سی ہے روشنی\nدل کے داغوں کا چراغاں اور ہے\n\nخال دکھلاتی ہے پھولوں کی بہار\nبلبلو اپنا گلستاں اور ہے\n\nقید میں آرام آزادی وبال\nہم گرفتاروں کا زنداں اور ہے\n\nبحر الفت میں نہیں کشتی کا کام\nنوح سے کہہ دو یہ طوفاں اور ہے\n\nکس کو اندیشہ ہے برق و سیل سے\nاپنا خرمن کا نگہباں اور ہے\n\nدرد وہ دل میں وہ سینہ پر ہے داغ\nجس کا مرہم جس کا درماں اور ہے\n\nکعبہ رو محراب ابرو اے امیرؔ\nاپنی طاعت اپنا ایماں اور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A8%D9%84%DB%82_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%82_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "قبول کیجیے انکار کا مقام نہیں", "poet_page": "مصنف:نسیم میسوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قبول کیجیے انکار کا مقام نہیں\nیہ جام مے ہے پری وصل کا پیام نہیں\n\nعجیب ہے یہ سراپا کمر کا نام نہیں\nکچھ ان کی بے دہنی میں مجھے کلام نہیں\n\nہے کون شیخ و برہمن جو دل سے رام نہیں\nتمہارا دیر سے کب تا حرم خرام نہیں\n\nلیا جو مول زلیخا نے ماہ کنعاں کو\nکہا جمال نے صاحب ہوں میں غلام نہیں\n\nبہک نہ جاؤں جو پی جاؤں بحر مے ساقی\nسواری ہیچ ہے جب ہاتھ میں لگام نہیں\n\nاٹھا لے ہاتھ جفا و ستم سے اے ظالم\nخدا کے پاس بھی اس سے بڑا سلام نہیں\n\nصفیں ہیں جام کی مے خانہ اپنی مسجد ہے\nبجز شراب کی بوتل کے یاں امام نہیں\n\nجو ایک بوسۂ لب لوں ہزار شکر کروں\nترے رقیب سا میں بھی نمک حرام نہیں\n\nمیں آپ کرتی ہوں خدمت کہا زلیخا نے\nتری غلامی کے لائق کوئی غلام نہیں\n\nوظیفہ ہے ترے حسن و ادا و غمزے کا\nکسی بشر کی زباں پر کسی کا نام نہیں\n\nمرے گناہوں کو اور کس سے بخشواؤں میں\nشفیع جز ترے یا سید انام نہیں\n\nفراق میں نہیں پیتا میں آب تک مے کیا\nالٰہی بندہ ترا شارب مدام نہیں\n\nچلے نہ جائے وہ گھر کو اسی بہانے سے\nسنا دو میرے جنازے کو اذن عام نہیں\n\nہجوم و یاس و الم دل کو میرے گھیرے ہیں\nکہ منتظر ہے جماعت مگر امام نہیں\n\nکب آنے پاتا ہے رندوں میں نام زاہد کا\nہماری بزم میں بولے کباب خام نہیں\n\nنہ پھول جاؤ نسیمؔ ان کے پھول پھینکے پر\nگلوں کی مہر و محبت کو کچھ قیام نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%A8%D9%88%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا\nپر ترے عہد سے آگے تو یہ دستور نہ تھا\n\nرات مجلس میں ترے حسن کے شعلے کے حضور\nشمع کے منہ پہ جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا\n\nذکر میرا ہی وہ کرتا تھا صریحاً لیکن\nمیں نے پوچھا تو کہا خیر یہ مذکور نہ تھا\n\nباوجودے کہ پر و بال نہ تھے آدم کے\nوہاں پہنچا کہ فرشتے کا بھی مقدور نہ تھا\n\nپرورش غم کی ترے یاں تئیں تو کی دیکھا\nکوئی بھی داغ تھا سینے میں کہ ناسور نہ تھا\n\nمحتسب آج تو مے خانے میں تیرے ہاتھوں\nدل نہ تھا کوئی کہ شیشے کی طرح چور نہ تھا\n\nدردؔ کے ملنے سے اے یار برا کیوں مانا\nاس کو کچھ اور سوا دید کے منظور نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%AA%D9%84_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%85%D8%B9%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "قتل عشاق کیا کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قتل عشاق کیا کرتے ہیں\nبت کہاں خوف خدا کرتے ہیں\n\nسر مرا تن سے جدا کرتے ہیں\nدرد کی آپ دوا کرتے ہیں\n\nآتش غم نے مگر پھونک دیا\nدل سے شعلے جو اٹھا کرتے ہیں\n\nجامۂ سرخ ترا دیکھ کے گل\nپیرہن اپنا قبا کرتے ہیں\n\nخون روتے ہیں چمن میں بلبل\nہم گلوں سے جو ہنسا کرتے ہیں\n\nخم ابروئے صنم کو دیکھیں\nہم یہ کعبے میں دعا کرتے ہیں\n\nاپنے ساقی کو شب فرقت میں\nپانی پی پی کے دعا کرتے ہیں\n\nروز دو چار کا خون کرتا ہے\nدست و پا سرخ رہا کرتے ہیں\n\nمر گئے پر ہدف تیر ہے خاک\nجا بجا تودے بنا کرتے ہیں\n\nدہن زخم سے ہم قاتل کے\nتیغ کو چوم لیا کرتے ہیں\n\nشور محشر سے ڈریں کیا عاشق\nایسے ہنگامے ہوا کرتے ہیں\n\nہوتے ہیں دل میں نہایت نادم\nخون جو بے جرم کیا کرتے ہیں\n\nمہندی ملنے کے بہانے قاتل\nکف افسوس ملا کرتے ہیں\n\nعوض بادہ غم ساقی میں\nخون دل اپنا پیا کرتے ہیں\n\nپاؤں تک ہاتھ نہ پہنچا اس کی\nہاتھ ہیہات ملا کرتے ہیں\n\nجو ہمیں بھول گیا ہے ظالم\nاس کو ہم یاد کیا کرتے ہیں\n\nناتوانی نے دیے پر ہم کو\nجیون پر کاہ اڑا کرتے ہیں\n\nہم بنے چاند کے ہالے گویاؔ ہیں\nگرد اس مہ کے رہا کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%AA%D9%84_%D8%B9%D8%B4%D8%A7%D9%82_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "قتل و خون کی سرخیاں", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "آج کل اخباروں میں سب سے نمایاں سرخیاں قتل و خون کی ہوتی ہیں۔ جہاں تک سرخیوں کا تعلق ہے یہ اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں، لیکن آدمی سوچتا ہے کہ آخر انسان، انسان کے خون کا پیاسا کیوں ہو رہا ہے۔ یہ جذبہ اس کی جبلت کے تحت ہے، اس سے مجھے انکار نہیں لیکن خاص طور پر آج کل اس جذبے کی اتنی فراوانی کیوں ہے۔ صبح اخبار اٹھاؤ تو جلی سرخیوں میں قتل و خون کی وارداتوں کی ہولناک تفصیلات ملتی ہیں، لیکن خفی معاملہ کیا ہے۔ انسان اتنا سفاک اور بہیم کیوں ہو گیا ہے؟ کیا انسانیت سے ہمیں دست بردار ہو جانا چاہیئے۔ کیا ہمارا اس شے سے جسے ضمیر کہا جاتا ہے اعتبار یا اعتقاد اٹھ جانا چاہیئے، کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان سوالوں کا کیا جواب ہے یا کیا ہونا چا ہیئے۔\n\nہم نے سوچا تھا کہ تقسیم کے وقت جو کچھ ہوا ہے، یہ انسانیت کے منہ پر جو کالک ملی گئی ہے، یہ جو ننگی عورتوں کے جلوس نکالے گئے ہیں، یہ جو لاکھوں انسانوں کو ہلاک کیا گیا ہے، یہ جو ہزاروں عورتوں کی عصمت دری کی گئی ہے، اس کے بعد انسان کی بہیمیت کی تشنگی کسی حد تک دور ہو جائے گی، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ مائل بہ ترقی ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات میں جو کچھ ہوا وہ تھوک طور پر ہوا، لیکن اب قتل و غارت کی خوردہ فروشی جاری ہے۔ ہر روز ایک نہ ایک انسان دوسرے انسان کے ہاتھ قتل ہوتا ہے، بیسیوں زخمی ہوتے ہیں۔\n\nیہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ چند افراد اتنے سفاک کیوں ہیں، کیوں ان کے دل و دماغ پر قتل و غارت گری کا بھوت سوار رہتا ہے؟ جو حادثہ گزر چکا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس کی شدت کم کی جا سکتی تھی، مگر افسوس ہے کہ اس کی کوشش طرفین میں سے کسی نے بھی بطریق احسن نہ کی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ہم اپنے درمیان خوفناک مجرم دیکھ رہے ہیں۔ جن کے کارناموں کے تذکرے ہم آئے دن اخباروں میں پڑھتے ہیں۔ وہ عورتیں اور لڑکیاں جنہیں ’’اغوا شدہ‘‘ کہا جاتا ہے ان کا مسئلہ الگ ہے، ان کے بطن سے جو بچے پیدا ہوئے ہیں ان کے مقابلے میں بے جان عمارتیں ہیں۔ معلوم نہیں ان کی اینٹوں کا محافظ کون ہے۔ اور ان سب کے اوپر وہ لوگ ہیں، وہ چند افراد جن کے ہاتھ پچھلے فسادات میں خنجر اور بندوق سے آشنا ہوئے تھے۔ ان کو قابو میں رکھنے کا کیا سامان کیا گیا ہے۔\n\nاصل میں یہ لوگ، یہ چند افراد ایک حادثے کی پیداوار ہیں۔ یہ قتل و خون کے عادی نہیں تھے، مگر حالات نے انہیں ایسا بنا دیا۔ وہ اپنی ماؤں سے پیار کرتے تھے، دوستوں سے محبت کرتے تھے۔ ان کو اپنی بہو بیٹیوں کی عزت و ناموس کا پاس تھا۔ ان کو خدا کا خوف بھی تھا مگر یہ سب کچھ ایک حادثے نے اڑا دیا۔ ایسے حادثہ نے جو چشم فلک نے شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔ جو کچھ ہو چکا ہے، اب اس پر تبصرہ کرنا فضول ہے، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کے نتائج پر غور کریں، ان باریکیوں کا مطالعہ کریں جو پیدا ہو چکی ہیں اور یہ کام مقننین کا نہیں، عدالتوں کا نہیں، نفسیات کے ماہروں کا ہے جو معاملے کی تہہ تک پہنچیں اور اس کا کوئی علاج تجویز کریں۔\n\nمجھے حیرت ہے کہ ہماری حکومت اس معاملے پر فوری توجہ کیوں نہیں دے رہی۔ ہر روز قتل کی کوئی نہ کوئی واردات ہوتی ہے اور اب تو کھلی لڑائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ ایک پارٹی دوسری پارٹی کے مقابلہ میں آتی ہے۔ پستول چلتے ہیں۔ چھرے بھونکے جاتے ہیں۔ سوڈے کی بوتلیں اور پتھر پھینکے جاتے ہیں۔ جو چیز بھی ہاتھ میں آئے بڑی فراخدلی سے دوسرے کو مجروح کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ معلوم نہیں اس وقت محتسب کہاں ہوتے ہیں۔ پولیس کے احتساب کے متعلق میں کچھ کہنا نہیں چاہتا۔ حالانکہ وقتی طور پر اس کی اشد ضرورت ہوتی ہے، لیکن سب سے بڑا سوال نفسیاتی ہے۔ جس کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں۔ اگر موجودہ قتل و خون کی لہروں کا نفسیاتی جائزہ نہ لیا گیا تو مجھے خوف ہے کہ حالات بہت ابتر ہو جائیں گے اور بربریت کا دور دورہ شروع ہو جائے گا۔ شروع ہو جائے گا کیا۔۔۔؟ شروع ہو چکا ہے۔\n\nکون سا دن ہوتا ہے جب کوئی قتل نہیں ہوتا اور دن دہاڑے نہیں ہوتا۔ پھر مصیبت یہ ہے کہ قتل کرنے والے ایسے ہوتے ہیں جن کے خلاف لوگ گواہی دینے سے کتراتے ہیں کیونکہ ان کو اپنی جان کا خوف ہوتا ہے۔ ایسا اکثر ہوا ہے کہ قتل ہوا اور بیچ کھیت ہوا۔ پولیس نے مجرم کو گرفتار بھی کر لیا۔ عدالت میں بھی پیش کیا، مگر گواہان ندارد، جو گواہ عینی تھے وہ عدالت میں کنی کترا گئے اور نتیجہ یہ کہ قاتل صاف بری۔ میں سزائے موت کا قائل نہیں، میں جیل کے حق میں بھی نہیں، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جیل انسان کی اصلاح نہیں کر سکتا، لیکن میں ایسے اصلاح خانوں کے حق میں ہوں جو غلط رو انسانوں کو صحیح راستہ بتا سکیں۔ ہم ایسے درویشوں، ایسے بزرگوں کی عام باتیں کرتے ہیں جن کے ایک لفظ پر بڑے بڑے بدکرداروں نے اپنے برے رستے چھوڑ دیے۔ کوئی معمولی سا فقیر ملا اور شیطان سیرت، فرشتہ بن گئے۔\n\nروحانیت یقیناً کوئی چیز ہے، آج کے سائنس کے زمانے میں جس میں ایٹم بم تیار کیا جا سکتا ہے اور جراثیم پھیلائے جا سکتے ہیں، یہ چیز بعض اصحاب کے نزدیک مہمل ہو سکتی ہے لیکن وہ لوگ جو نماز اور روزے، آرتی اور کیرتن سے روحانی طہارت حاصل کرتے ہیں ہم انہیں پاگل نہیں کہہ سکتے۔ یقیناً روحانیت مسلم چیز ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ بدکرداروں، قاتلوں اور سفاکوں کی نجات کا راستہ صرف روحانی تعلیم ہے، ملائی طریق پر نہیں، ترقی پسند اصولوں پر۔ تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ سقف نیلوفری کے نیچے ان کے لئے اچھی سے اچھی جگہ موجود ہے اور یہ کہ جو کچھ ان سے ہوا ہے صرف حالات کے باعث ہوا ہے اور یہ کہ انہیں صرف اس وجہ سے کہ ان سے ایک خطا ہو چکی ہے، ایک جرم سرزد ہو چکا ہے، جرموں اور خطاؤں کا عادی نہیں ہونا چا ہیئے۔\n\nان کو یہ بھی سمجھانا چا ہیئے کہ خدا نے انسان ہی کو افضل ترین مقام بخشا ہے۔ اس کو نبیوں کا خاتم بنایا ہے، انسان کا جو مرتبہ ہے اگر ان کے ذہن نشین ہو جائے گا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنی لغزشوں سے یقیناً آگاہ ہو جائیں گے اور اس روحانی غسل سے شفایاب ہوں گے۔ ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق۔۔۔ یہ درست ہے مگر جو ہنگامے ہمیں آج کل اپنے گھروں اور بازاروں میں برپا نظر آتے ہیں، ان سے محفوظ و مامون رہنا ہی انسانیت کا تقاضا ہے۔ لیکن یہ انسانیت کہاں ہے۔۔۔؟ اس کے رکھوالے کہاں ہیں؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%AA%D9%84_%D9%88_%D8%AE%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%B1%D8%AE%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "قتل پر باندھ چکا وہ بت گمراہ میاں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قتل پر باندھ چکا وہ بت گمراہ میاں\nدیکھیں اب کس کی طرف ہوتے ہیں اللہ میاں\n\nنزع میں چشم کو دیدار سے محروم نہ رکھ\nورنہ تا حشر یہ دیکھیں گی تری راہ میاں\n\nتو جدھر چاہے ادھر جا کہ سحر سے تا شام\nمیں بھی سائے کی طرح ہوں ترے ہمراہ میاں\n\nہم تری چاہ سے چاہیں گے اسے بھی دل سے\nجس کو جی چاہے اسے شوق سے تو چاہ میاں\n\nلیکن اتنا ہے کہ اس چاہ میں دریا ہیں کئی\nایسے ایسے کئی ہیں جن کی نہیں تھاہ میاں\n\nآگے مختار ہو تم ہم جو تمہیں چاہے ہیں\nاس سبب سے تمہیں ہم کرتے ہیں آگاہ میاں\n\nجب دم نزع نہ آیا وہ ستم گر تو نظیرؔ\nمر گیا کہہ کے یہ حسرت زدہ اے واہ میاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%AA%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE_%DA%86%DA%A9%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%DA%AF%D9%85%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "قتل پہ تیرے مجھے کد چاہئے", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قتل پہ تیرے مجھے کد چاہئے\nخوب ہے یہ اپنے کا بد چاہئے\n\nزلف کے کوچوں کی درازی نہ پوچھ\nچلنے کو واں عمر ابد چاہئے\n\nدل کی میں کرتا نہیں جھوٹی صلاح\nمال ہے سرکار کا جد چاہئے\n\nفوج کی ہے اشک کی حالت تباہ\nآہ سے اس وقت مدد چاہئے\n\nشیخ کی عزت ہے من الواحیات\nکفش نہ ہووے تو لکد چاہئے\n\nپشم ہے یاں مسند قاقم کا فرش\nگھر میں فقیروں کے نمد چاہئے\n\nپس رو احمد ہو کہ مرنا ہے کل\nراہ نہ دیدہ کو بلد چاہئے\n\nہم سے یہ کیا ناخوش و قائمؔ سے خوش\nجو ہو میاں حصہ رسد چاہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%AA%D9%84_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%D8%AF_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "قحط بنگال", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بنگال کی میں شام و سحر دیکھ رہا ہوں\nہر چند کہ ہوں دور مگر دیکھ رہا ہوں\n\nافلاس کی ماری ہوئی مخلوق سر راہ\nبے گور و کفن خاک بہ سر دیکھ رہا ہوں\n\nبچوں کا تڑپنا وہ بلکنا وہ سسکنا\nماں باپ کی مایوس نظر دیکھ رہا ہوں\n\nانسان کے ہوتے ہوئے انسان کا یہ حشر\nدیکھا نہیں جاتا ہے مگر دیکھ رہا ہوں\n\nرحمت کا چمکنے کو ہے پھر نیر تاباں\nہونے کو ہے اس شب کی سحر دیکھ رہا ہوں\n\nخاموش نگاہوں میں امنڈتے ہوئے جذبات\nجذبات میں طوفان شرر دیکھ رہا ہوں\n\nبیداریٔ احساس ہے ہر سمت نمایاں\nبیتابئ ارباب نظر دیکھ رہا ہوں\n\nانجام ستم اب کوئی دیکھے کہ نہ دیکھے\nمیں صاف ان آنکھوں سے مگر دیکھ رہا ہوں\n\nصیاد نے لوٹا تھا عنادل کا نشیمن\nصیاد کا جلتے ہوئے گھر دیکھ رہا ہوں\n\nاک تیغ کی جنبش سی نظر آتی ہے مجھ کو\nاک ہاتھ پس پردۂ در دیکھ رہا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%AD%D8%B7_%D8%A8%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%84"} {"title": "قد ترا سرو رواں تھا مجھے معلوم نہ تھا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قد ترا سرو رواں تھا مجھے معلوم نہ تھا\nگلشن دل میں عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا\n\nدھوپ میں غم کی عبث جی کوں جلایا افسوس\nاس کے سایہ میں اماں تھا مجھے معلوم نہ تھا\n\nیار نے ابرو و مژگاں سیں مجھے صید کیا\nصاحب تیر و کماں تھا مجھے معلوم نہ تھا\n\nسب جگت ڈھونڈ پھرا یار نہ پایا لیکن\nدل کے گوشہ میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا\n\nخاک تیرے قدم پاک کی اے نور نگاہ\nسرمۂ دیدۂ جاں تھا مجھے معلوم نہ تھا\n\nمیں سمجھتا تھا کہ اس یار کا ہے نام و نشاں\nیار بے نام و نشاں تھا مجھے معلوم نہ تھا\n\nروزہ داران جدائی کوں خم ابروئے یار\nماہ عید رمضاں تھا مجھے معلوم نہ تھا\n\nنگۂ شوخ نے دل ایک کرشمہ میں لیا\nکیا بلا سیف زباں تھا مجھے معلوم نہ تھا\n\nشب ہجراں کی نہ تھی تاب مجھے مثل سراجؔ\nرخ ترا نور فشاں تھا مجھے معلوم نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%AF_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "قد صنم سا اگر آفریدہ ہونا تھا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قد صنم سا اگر آفریدہ ہونا تھا\nنہ سرو باغ کو اتنا کشیدہ ہونا تھا\n\nہوا ہے زلف سے گستاخ کس قدر شانہ\nہمارے پاس بھی دست بریدہ ہونا تھا\n\nنہ کھینچنا تھا زلیخا کو دامن یوسف\nاسی کا پردۂ عصمت دریدہ ہونا تھا\n\nدیا نہ ساتھ جو صبر و قرار نے نہ دیا\nروانہ ملک عدم کو جریدہ ہونا تھا\n\nمٹائے سے کوئی مٹتا ہے باطلوں کے حق\nکچھ اختیار سے کیا برگزیدہ ہونا تھا\n\nنہ جانتا تھا غضب ہے نگہ کا تیر اے دل\nتجھی کو سامنے آفت رسیدہ ہونا تھا\n\nرلاتا شام و سحر کس طرح نہ طالع پست\nبلند سر سے مرے آب دیدہ ہونا تھا\n\nگریز یار نے برباد کر دیا ہم کو\nغبار راہ غزال رمیدہ ہونا تھا\n\nنہ آئی دامن دایہ میں نیند اے آتشؔ\nدرون دامن خاک آرمیدہ ہونا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%AF_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%B3%D8%A7_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A2%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "قدر و قیمت", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سنا ہے ریشم کے کیڑوں نے\nپتوں کی ہریالی چاٹی\nشبنم کے قطروں کی دمک بھی\nپھولوں کے رنگوں کو چرایا\nچاند کی کرنوں کے لچھوں سے ریشم کاتا\nاور اک تھان کیا تیار جس کو پا لینے کی خاطر\nشیریں نے فرہاد کو بیچا\nہیر نے ہیرے\nلیلیٰ نے زلفوں کی سیاہی\nلیکن سودا ہو نہ سکا\nاب پھولوں میں رنگ نہیں ہے\nشبنم پانی کے قطروں میں ڈوب گئی ہے\nپتے پتے ہیں لیکن بے آب و نمو\nچاند ہے لیکن بھیک کا پیالہ کرنوں سے محروم\nسنا ہے ریشم کے کیڑے یہ سوچتے ہیں\nان شہروں سے کوچ کریں\nجن میں ان کے ریشم کا گاہک ہی نہیں ہے\nسنا ہے شیریں ہیر اور لیلیٰ اپنے ناموں کو بدلیں گے\nشاید یوں ہی ان کے عاشق پھر ان کو پہچان سکیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D9%88_%D9%82%DB%8C%D9%85%D8%AA"} {"title": "قدر وفا بھی ہوگی کسی دن جفا کے بعد", "poet_page": "مصنف:راج بہادر سکسینہ اوجؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل > تصویر خیال (1933)", "year": "1933", "text_ur": "قدر وفا بھی ہوگی کسی دن جفا کے بعد\nلائے گا رنگ خون شہیداں حنا کے بعد\n\nہوتا ہے انقلاب جہاں ہر ادا کے بعد\nبے باک بھی بنوگے کبھی تم حیا کے بعد\n\nلائے ہیں پھول اہل محبت کی قبر پر\nکیا یاد آ گیا انہیں ترک جفا کے بعد\n\nکعبہ میں مجھ سے شان بتاں پوچھتے ہو شیخ\nتوبہ میں ان کا ذکر کروں گا خدا کے بعد\n\nان کی کمر کا کوئی پتہ ہی نہیں کہیں\nیہ دوسرا طلسم نظر ہے ہما کے بعد\n\nبیٹھی ہے لے کے اب مجھے آغوش میں زمیں\nآرام سے ہوں کنج لحد میں قضا کے بعد\n\nاہل وفا ملے گا نہ مجھ سا جہان میں\nپچھتائیں گے وہ اوجؔ خود آخر جفا کے بعد", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "قدرت حق ہے صباحت سے تماشا ہے وہ رخ", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قدرت حق ہے صباحت سے تماشا ہے وہ رخ\nخال مشکیں دل فرعوں ید بیضا ہے وہ رخ\n\nنور جو اس میں ہے خورشید میں وہ نور کہاں\nیہ اگر حسن کا چشمہ ہے تو دریا ہے وہ رخ\n\nپھوٹے وہ آنکھ جو دیکھے نگہ بد سے اسے\nآئینہ سے دل عارف کے مصفا ہے وہ رخ\n\nبزم عالم ہے توجہ سے اسی کے آباد\nشہر ویراں ہے اگر جانب صحرا ہے وہ رخ\n\nسامری چشم فسوں گر کی فسوں سازی سے\nلب جاں بخش کے ہونے سے مسیحا ہے وہ رخ\n\nدم نظارہ لڑے مرتے ہیں عاشق اس پر\nدولت حسن کے پیش آنے سے دنیا ہے وہ رخ\n\nسایہ کرتے ہیں ہما اڑ کے پروں سے اپنے\nتیرے رخسار سے دلچسپ ہو عنقا ہے وہ رخ\n\nگل غلط لالہ غلط مہر غلط ماہ غلط\nکوئی ثانی نہیں لا ثانی ہے یکتا ہے وہ رخ\n\nکون سا اس میں تکلف نہیں پاتے ہر چند\nنہ مرصع نہ مذہب نہ مطلا ہے وہ رخ\n\nخال ہندو ہیں پرستش کے لیے آئے ہیں\nپتلیاں آنکھوں کی دو بت ہیں کلیسا ہے وہ رخ\n\nکون سا دل ہے جو دیوانہ نہیں ہے اس کا\nخط شب رنگ سے سرمایۂ سودا ہے وہ رخ\n\nاس کے دیدار کی کیوں کر نہ ہوں آنکھیں مشتاق\nدل ربا شے ہے عجب صورت زیبا ہے وہ رخ\n\nتا کجا شرح کروں حسن کے اس کے آتشؔ\nمہر ہے ماہ ہے جو کچھ ہے تماشا ہے وہ رخ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AA_%D8%AD%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B1%D8%AE"} {"title": "قدرداں کوئی نہ اسفل ہے نہ اعلیٰ اپنا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قدرداں کوئی نہ اسفل ہے نہ اعلیٰ اپنا\nنہ زمین پر نہ فلک پر ہے ٹھکانا اپنا\n\nدست شفقت سے دیا آپ نے چھلا اپنا\nہاتھ بھر بڑھ گیا سینے میں کلیجہ اپنا\n\nآئے مستی کے دن ایام بہاری آئے\nشیر کی طرح لگا گونجنے صحرا اپنا\n\nنہ بھرا جام نہ ساقی نے کبھی یاد کیا\nطاق نسیاں پہ دھرا رہتا ہے مینا اپنا\n\nدیکھتے بھی وہ نہیں آنکھ اٹھا کر ہم کو\nصاد ہوتا نہیں سرکار میں چہرا اپنا\n\nکس کے ہاتھوں ہدف تیر بلا ہم نہ ہوئے\nدل ہے مانند کماں سب سے کشیدہ اپنا\n\nدل جلے دوو پریشاں کی طرح ہیں برباد\nہم کہیں ٹھہریں تو بتلائیں ٹھکانا اپنا\n\nکون مشتاق ہے ہم داغ دکھائیں کس کو\nدیکھیں خود صورت طاؤس تماشا اپنا\n\nشرم بندے کی ترے ہاتھ ہے اے رب کریم\nنہ کھلے خاک کے پردے میں بھی پردا اپنا\n\nہم کو جو رنج پہنچتے ہیں وہ کس سے کہئے\nہم کو مہمان سمجھتی نہیں دنیا اپنا\n\nزندگی چاہئے جنگل میں بھی کچھ خوف نہیں\nاے جنوں شیر کا آخر کبھی گھر تھا اپنا\n\nطرفہ خشکی و تری کی ہے ہمیں سیر اے بحرؔ\nدشت ہے اپنا غبار اشک ہے دریا اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3%D9%81%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%B0_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "قدم قدم پہ تمنائے التفات تو دیکھ", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قدم قدم پہ تمنائے التفات تو دیکھ\nزوال عشق میں سوداگروں کا ہات تو دیکھ\n\nبس ایک ہم تھے جو تھوڑا سا سر اٹھا کے چلے\nاسی روش پہ رقیبوں کے واقعات تو دیکھ\n\nغم حیات میں حاضر ہوں لیکن ایک ذرا\nنگار شہر سے میرے تعلقات تو دیکھ\n\nخود اپنی آنچ میں جلتا ہے چاندنی کا بدن\nکسی کے نرم خنک گیسوؤں کی رات تو دیکھ\n\nعطا کیا دل مضطر تو سی دیئے میرے ہونٹ\nخدائے کون و مکاں کے توہمات تو دیکھ\n\nگناہ میں بھی بڑے معرفت کے موقعے ہیں\nکبھی کبھی اسے بے خدشۂ نجات تو دیکھ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%AF%D9%85_%D9%82%D8%AF%D9%85_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%84%D8%AA%D9%81%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE"} {"title": "قدم نہ رکھ مری چشم پرآب کے گھر میں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قدم نہ رکھ مری چشم پرآب کے گھر میں\nبھرا ہے موج کا طوفاں حباب کے گھر میں\n\nکہے ہے دیکھ کے وہ عکس رخ بساغر مے\nنزول ماہ ہوا آفتاب کے گھر میں\n\nمدام رند کریں کیوں نہ آستاں بوسی\nحرم ہے شیخ مشیخت مآب کے گھر میں\n\nہمارے دل میں کہاں آبلے ہیں اے ساقی\nچنے ہوئے ہیں یہ شیشے شراب کے گھر میں\n\nتڑپ کو دیکھ مرے دل کی برق آتش بار\nخجل ہو چھپ گئی آخر سحاب کے گھر میں\n\nدلا نہ کیونکے کروں اختلاط کی باتیں\nحجاب کیا ہے اب اس بے حجاب کے گھر میں\n\nنصیرؔ دیکھ تو کیا جلوۂ خدائی ہے\nہمارے اس بت خانہ خراب کے گھر میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%AF%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%BE%D8%B1%D8%A2%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "قدیم وضع پہ قائم رہوں اگر اکبر", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "قدیم وضع پہ قائم رہوں اگر اکبر\nتو صاف کہتے ہیں سید ہی رنگ ہے میلا\nجدید طرز اگر اختیار کرتا ہوں\nخود اپنی قوم مچاتی ہے شور و واویلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%AF%DB%8C%D9%85_%D9%88%D8%B6%D8%B9_%D9%BE%DB%81_%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%85_%D8%B1%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1"} {"title": "قرآں کتاب ہے رخ جاناں کے سامنے", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "قرآں کتاب ہے رخ جاناں کے سامنے\nمصحف اٹھا لوں صاحب قرآں کے سامنے\n\nجنت ہے گرد کوچۂ جاناں کے سامنے\nدوزخ ہے سرد سینۂ سوزاں کے سامنے\n\nسکتہ ابھی ہو روح سکندر کو شرم سے\nآئینہ آئے گر ترے حیراں کے سامنے\n\nبہر امید گر اسے پھیلاؤں سوئے یار\nدامان دشت تنگ ہو داماں کے سامنے\n\nدست جنوں سے وہ بھی نہ وحشت میں بچ سکا\nپردہ جو کچھ رہا تھا گریباں کے سامنے\n\nمشاطہ ہو عزیز زلیخا اگر وہ لائے\nاس مہر مصر کو مہ کنعاں کے سامنے\n\nنادان کہہ رہے ہیں جسے آفتاب حشر\nذرہ ہے اس کے روئے درخشاں کے سامنے\n\nدم بند اس لتوڑے کی جرأت نے کر دیا\nکرتا ہے ریز بلبل بستاں کے سامنے\n\nدیوار سرخ خون سے دیکھی پتا ملا\nقاصد ٹھہر گیا در جاناں کے سامنے\n\nکہتے ہیں روز وصل جسے پست حوصلہ\nبے قدر ہے مری شب ہجراں کے سامنے\n\nتقریر دل جلاتی ہے سننے سے اے سرورؔ\nآتا ہے کون مجھ شرر افشاں کے سامنے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B1%D8%A2%DA%BA_%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%AE_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92"} {"title": "قرار دل کا یہ کاہے کو ڈھنگ تھا آگے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قرار دل کا یہ کاہے کو ڈھنگ تھا آگے\nہمارے چہرے کے اوپر بھی رنگ تھا آگے\n\nاٹھائیں تیرے لیے بد زبانیاں ان کی\nجنہوں کی ہم کو خوشامد سے ننگ تھا آگے\n\nہماری آہوں سے سینے پہ ہو گیا بازار\nہر ایک زخم کا کوچہ جو تنگ تھا آگے\n\nرہا تھا شمع سے مجلس میں دوش کتنا فرق\nکہ جل بجھے تھے یہ ہم پر پتنگ تھا آگے\n\nکیا خراب تغافل نے اس کے ورنہ میرؔ\nہر ایک بات پہ دشنام و سنگ تھا آگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%A7%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DA%88%DA%BE%D9%86%DA%AF_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A2%DA%AF%DB%92"} {"title": "قرار پر نہ ملو اضطراب ہو کہ نہ ہو", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قرار پر نہ ملو اضطراب ہو کے نہ ہو\nشراب غیر کو دو دِل کباب ہو کے نہ ہو\n\nپھنسا ہے جس کہ غم و پیچ میں ہمارا دل\nوُہ زلف غیر چھوئے پیچ و تاب ہو کے نہ ہو\n\nگلابی آنکھوں سے ساقی کی دِل بچے کیونکر\nشرابیوں میں جُو بیٹھے خراب ہو کے نہ ہو\n\nکہاں تک اشک سے آئے نہ بوئے داغ جگر\nعرق گلوں کا جُو کھینچو گلاب ہو کے نہ ہو\n\nکمال کیوں کے نہ ہو دِل کو کاہش غم میں\nہلال جب کے ہوا ماہتاب ہو کے نہ ہو\n\nوُہ ماہ مہر سے آئے تو رشک کیا اے چرخ\nکبھی قران مہ و آفتاب ہو کے نہ ہو\n\nشعاع مہر کی صورت ہے تاب عارض یازر\nنظر ٹھہر نہیں سکتی نقاب ہو کے نہ ہو\n\nگیا جُو طالب چاہ زکن دل بیتاب\nکنوئیں پہ تشنہ لب آتا ہے آب ہو کے نہ ہو\n\nاگرچہ دِل نہیں لیکن میں آہیں بھرتا ہوں\nسبق تو نوک زباں ہے کتاب ہو کے نہ ہو\n\nنہ بوسۂ لب جاں بخش دو جُو کر کے سوال\nتُو زندگانی سے گویا جواب ہو کے نہ ہو\n\nنسیمؔ غنچہ دہانوں سے بوسہ کیوں مانگا\nکرو جُو بات ہی ایسی عتاب ہو کے نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D9%88_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "قربان ہو رہی ہے مری جاں ادھر ادھر", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قربان ہو رہی ہے مری جاں ادھر ادھر\nواں رہ پہ ہے جو زلف پریشاں ادھر ادھر\n\nجاتے ہیں جب وہ سوئے چمن سیر کے لیے\nہوتے ہیں ساتھ عاشق نالاں ادھر ادھر\n\nہیں لخت دل کہیں تو کہیں پارۂ جگر\nرہتے ہیں پیش چشم گلستاں ادھر ادھر\n\nہنگامۂ جنوں سے جو دونوں ہوئے ہیں چاک\nدامن ادھر ادھر ہے گریباں ادھر ادھر\n\nزلفیں چھٹی ہوئی ہیں جو چہرے پہ دو طرف\nلہرا رہے ہیں افعیٔ پیچاں ادھر ادھر\n\nدیکھا انہوں نے مردہ مجھے میں نے اشک بار\nآئے نظر ہیں خواب پریشاں ادھر ادھر\n\nیا دشمنوں سے قطع ہو یا مجھ سے ترک ربط\nکیوں دل کو کر رہے ہو مری جاں ادھر ادھر\n\nمطرب وہاں ہیں جمع نوا ساز اس طرف\nہوتے ہیں کل سے عیش کے ساماں ادھر ادھر\n\nکیوں کر کروں میں بات چپ و راست یار کی\nرہتے ہیں ساتھ ساتھ نگہباں ادھر ادھر\n\nوہ اپنی ہٹ پہ ہیں مجھے اپنے کہے کی ضد\nسمجھا رہے ہیں دونوں کو انساں ادھر ادھر\n\nآنکھوں پہ سائباں ہیں مزے دید کے ہوں کیا\nپھیلے ہوئے ہیں دامن مژگاں ادھر ادھر\n\nوہ بت ہے میں ہوں صاحب دیں بہر فیصلہ\nہوتے ہیں جمع گبر و مسلماں ادھر ادھر\n\nوہ چاہتے ہیں آئیں میں کہتا ہوں آپ جاؤں\nکس لطف پر ہے رغبت احساں ادھر ادھر\n\nنالاں وہ اقربا سے میں ہوں مخبروں سے تنگ\nکس کس طرح کے دل میں ہیں ارماں ادھر ادھر\n\nہرجائی ان کو کہتے ہیں بے شرم مجھ کو لوگ\nاٹھتے ہیں رات دن یہی طوفاں ادھر ادھر\n\nمنظور ہے جو رنجش سابق کا فیصلہ\nہر روز جمع ہوتے ہیں مہماں ادھر ادھر\n\nہیں پہلوؤں میں داغ جو دونوں طرف نسیمؔ\nجلوہ دکھا رہے ہیں گلستاں ادھر ادھر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1"} {"title": "قربان ہے سو جان سے تم پر گلہ کیسا", "poet_page": "مصنف:ناصری لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نذر احباب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "قربان ہے سو جان سے تم پر گلہ کیسا\nدیکھو تو مرے دل نے کیا حوصلہ کیسا\n\nہوتا ہے مگر قید کوئی آپ کا وحشی\nسنیے تو ہے زنداں کی طرف غلغلہ کیسا\n\nہاں شدت درد جگری بزم میں لائی\nدل مر گیا اے دوست تو پھر ولولہ کیسا\n\nتو نے تو کہا ہے میں رگ جاں سے قریں ہوں\nاور ہجر کا ہے قول کہ یہ فاصلہ کیسا\n\nمر جائے گا پابند وفا ظلم نہ چھوڑو\nمیں قصۂ دل کہتا ہوں اے جاں گلہ کیسا", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%DA%AF%D9%84%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7"} {"title": "قرباں گاہ امن", "poet_page": "مصنف:تصدق حسین خالد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کھیت سوتے ہیں\nفضا میں کرگسوں کا ایک جھنڈ\nتیرتا آتا ہے منڈلاتا ہوا\nسوئی زمیں\nآنکھ میں تنہائیوں کی وسعتیں\nجھونپڑی میں ایک ماں\nاک جواں افسردگی\nسینۂ عریاں سے لپٹائے ہوئے\nایک جان ناتواں\nآنکھ پر نم ہونٹ لرزاں\nپی مری جاں پی\nجواں ہو\nمنتظر ہے تیری قرباں گاہ امن", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%A7%D9%85%D9%86"} {"title": "قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں\nمیں دور ہٹ رہا ہوں وہ پاس آ رہے ہیں\n\nاعجاز پاک بازی حیرت میں لا رہے ہیں\nدل مل گیا ہے دل سے پہلو جدا رہے ہیں\n\nوہ دل سے غم بھلا کر دل کو لبھا رہے ہیں\nگزرے ہوئے زمانے پھر پھر کے آ رہے ہیں\n\nسینے میں ضبط غم سے چھالا ابھر رہا ہے\nشعلے کو بند کر کے پانی بنا رہے ہیں\n\nمعنی نہ پوچھ ظالم اس عذر بے گنہ کے\nاپنے کو اول دے کر تجھ کو بچا رہے ہیں\n\nاے بے خودی کہاں ہے جلدی مری خبر لے\nبھولے تھے جو بہ مشکل پھر یاد آ رہے ہیں\n\nلیں کام ضبط سے کیا الٹا ہے دل کا پھوڑا\nاتنا ابھر رہا ہے جتنا دبا رہے ہیں\n\nفرقت میں ساز راحت ساماں عذاب کا ہے\nٹھنڈی ہوا کے جھونکے کیا جی جلا رہے ہیں\n\nہیں حسن کے کرشمے کیا انقلاب آگیں\nغم خوار جو تھے کل تک اب خار کھا رہے ہیں\n\nخود ان کی جستجو میں ہم دور بھاگے ورنہ\nوہ کب الگ رہے ہیں وہ کب جدا رہے ہیں\n\nلے لے کے ٹھنڈی سانسیں پوچھو نہ حال دیکھو\nتم بھید کھولتے ہو اور ہم چھپا رہے ہیں\n\nدیکھ آرزوؔ یہ رونا شانہ ہلا ہلا کر\nتو آج خواب میں ہے اور وہ جگا رہے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "قربِ سلطان", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "تمیزِ حاکم و محکوم مِٹ نہیں سکتی\nمجال کیا کہ گداگر ہو شاہ کا ہمدوش\n\nجہاں میں خواجہ پرستی ہے بندگی کا کمال\nرضائے خواجہ طلب کُن قباے رنگیں پوش\n\nمگر غرض جو حصولِ رضائے حاکم ہو\nخطاب مِلتا ہے منصب پرست و قوم فروش\n\nپُرانے طرزِ عمل میں ہزار مشکل ہے\nنئے اصول سے خالی ہے فکر کی آغوش\n\nمزا تو یہ ہے کہ یوں زیرِ آسماں رہیے\n“ہزار گُونہ سخن در دہان و لب خاموش”\n\nیہی اصول ہے سرمایۂ سکُونِ حیات\n“گداے گوشہ نشینی تو حافظاؔ مخروش”\n\nمگر خروش پہ مائل ہے تُو تو بسم اللہ\n“بگیر بادۂ صافی، ببانگِ چنگ بنوش”\n\nشریکِ بزمِ امیر و وزیر و سُلطاں ہو\nلڑا کے توڑ دے سنگِ ہوَس سے شیشۂ ہوش\n\nپیامِ مُرشدِ شِیراز بھی مگر سُن لے\nکہ ہے یہ سِرِّ نہاں خانۂ ضمیرِ سروش\n\n“محلِّ نورِ تجلّی ست راے انور شاہ\nچو قُربِ او طلَبی درصفاے نیّت کوش”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B1%D8%A8%D9%90_%D8%B3%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%86"} {"title": "قرص خور کو دیکھ کر تسکیں رکھ اے مہمان صبح", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قرص خور کو دیکھ کر تسکیں رکھ اے مہمان صبح\nتا دہان شام پہنچاتا ہے رازق نان صبح\n\nمعنیٔ روشن جو ہوں تو سو سے بہتر ایک شعر\nمطلع خورشید کافی ہے پئے دیوان صبح\n\nسیر چشمی دید کے بھوکوں کی دیکھو کہتی ہے\nمہ پنیر شام ہے خورشید تاباں نان صبح\n\nصدقے اس پروردگار پاک کے جس نے کیا\nبہر طفل غنچہ پیدا شیر بے پستان صبح\n\nصبح دم غائب ہوئے انجمؔ تو ثابت ہو گیا\nخندۂ بیہودہ پر توڑے گئے دندان صبح\n\nوصل کی شب آنکھ دکھلا کر یہ انجم کہتے ہیں\nلو قیامت آئی مشرق سے اٹھا طوفان صبح\n\nدیکھے وہ گلشن جو دن دو دن رہے یاں مثل گل\nہم تو شبنم ساں نسیمؔ ایک دم کے ہیں مہمان صبح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B1%D8%B5_%D8%AE%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D8%B3%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%81%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%B5%D8%A8%D8%AD"} {"title": "قرض کی پیتے تھے۔۔۔", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "برقعے", "year": "1955", "text_ur": "ایک جگہ محفل جمی تھی۔ مرزا غالب وہاں سے اکتا کر اُٹھے۔ باہر ہوا دار موجود تھا۔ اس میں بیٹھے اور اپنے گھر کا رخ کیا۔ ہوادارسے اتر کر جب دیوان خانے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ متھر ا داس مہاجن بیٹھا ہے۔\n\nغالب نے اندر داخل ہوتے ہی کہا،’’اخاہ متھرا داس ! بھئی تم آج بڑے وقت پر آئے۔۔۔ میں تمہیں بلوانے ہی والا تھا!‘‘ متھرا داس نے ٹھیٹ مہاجنوں کے انداز میں کہا،’’حضور روپوں کو بہت دن ہوگئے۔ فقط دو قسط آپ نے بھجوائے تھے۔۔۔ اس کے بعد پانچ مہینے ہوگئے، ایک پیسہ بھی آپ نے نہ دیا۔‘‘\n\nاسد اللہ خان غالبؔ مسکرائے،’’بھئی متھرا داس! دینے کو میں سب دے دوں گا۔ گلے گلے پانی دوں گا۔۔۔ دو ایک جائیداد ابھی میری باقی ہے۔‘‘\n\n’’اجی سرکار! اس طرح بیوپار ہوچکا۔ نہ اصل میں سے نہ سود میں سے، پہلا ہی ڈھائی ہزار وصول نہیں ہوا۔ چھ سو چھپن سود کے ہوگئے ہیں۔‘‘\n\nمرزا غالبؔ نے حقے کی نَے پکڑ کر ایک کش لیا، ’’لالہ، جس درخت کا پھل کھانا منظور ہوتا ہے، اس کو پہلے پانی دیتے ہیں۔۔۔ میں تمہارا درخت ہوں پانی دو تو اناج پیدا ہو۔‘‘\n\nمتھرا داس نے اپنی دھوتی کی لانگ ٹھیک کی، ’’جی، دیوالی کو بارہ دن باقی رہ گئے ہیں۔ کھاتہ بند کیا جائے گا۔ آپ پہلے روپے کا اصل سود ملا کر دستاویز بنا دیں تو آگے کا نام لیں۔‘‘ مرزا غالبؔ نے حقے کی نَے ایک طرف کی، ’’لو، ابھی دستاویز لکھے دیتا ہوں۔ پر شرط یہ ہے کہ دو ہزار ابھی ابھی مجھے اور دو۔‘‘ متھرا داس نے تھوڑی دیر غورکیا، ’’اچھا، میں اشٹام منگواتا ہوں۔۔۔ بہی ساتھ لایا ہوں۔ آپ منشی غلام رسول عرضی نویس کو بلالیں۔ پر سود وہی سوا روپیہ سینکڑہ ہوگا۔‘‘\n\n’’لالہ کچھ تو انصاف کرو۔ بارہ آنے سود لکھوائے دیتا ہوں۔‘‘ متھرا داس نے اپنی دھوتی کی لانگ دوسری بار درست کی، ’’سرکار بارہ آنے پر بارہ برس بھی کوئی مہاجن قرض نہیں دے گا۔۔۔ آج کل تو خود بادشاہ سلامت کو روپے کی ضرورت ہے۔‘‘ ان دنوں واقعی بہادر شاہ ظفر کی حالت بہت نازک تھی، اس کو اپنے اخراجات کے لیے روپے پیسے کی ہر وقت ضرورت رہتی تھی۔بہادر شاہ تو خیر بادشاہ تھا لیکن مرزا غالب محض شاعر تھے۔ گو وہ اپنے شعروں میں اپنا رشتہ سپاہ گری سے جوڑتے تھے۔\n\nیہ مرزا صاحب کی زندگی کے چالیسویں اور پینتالیسویں سال کے درمیانی عرصے کی بات ہےجب متھرا داس مہاجن نے ان پر عدم ادائیگی قرضہ کے باعث عدالت دیوانی میں دعویٰ دائر کیا۔۔۔ مقدمے کی سماعت مرزا صاحب کے مربی اور دوست مُفتی صدر الدین آزردہ کو کرنا تھی جو خود بہت اچھے شاعر اورغالبؔ کے مداح تھے۔مفتی صاحب کے مردھانے عدالت کے کمرے سے باہر نکل کر آواز دی،’’لالہ متھرا داس مہاجن مدعی اور مرزا اسد اللہ خان غالب مدعاعلیہ حاضر ہیں؟‘‘\n\nمتھرا داس نے مرزا غالب کی طرف دیکھا اور مردھے سے کہا، ’’جی دونوں حاضر ہیں۔‘‘\n\nمِردھے نے روکھے پن سے کہا، ’’تو دونوں حاضرِ عدالت ہوں۔‘‘\n\nمرزا غالب نے عدالت میں حاضر ہو کر مفتی صدر الدین آزردہ کو سلام کیا۔۔۔ مفتی صاحب مسکرائے۔ ’’مرزا نوشہ، یہ آپ اس قدر قرض کیوں لیا کرتے ہیں۔۔۔ آخر یہ معاملہ کیا ہے؟‘‘غالب نے تھوڑے توقف کے بعد کہا، ’’کیا عرض کروں۔۔۔ میری سمجھ میں بھی کچھ نہیں آتا۔ ‘‘مفتی صدر الدین مسکرائے،’’ کچھ تو ہے،جس کی پردہ داری ہے۔‘‘غالب نے برجستہ کہا، ’’ایک شعر موزوں ہوگیا ہے مفتی صاحب۔۔۔ حکم ہو تو جواب میں عرض کروں۔‘‘\n\n’’فرمائیے!‘‘\n\nغالبؔ نے مفتی صاحب اور متھرا داس مہاجن کو ایک لحظے کے لیے دیکھا اور اپنے مخصوص انداز میں یہ شعرپڑھا\n\n؂قرض کی پیتے تھے مے ، لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں\nرنگ لاوےگی ہماری فاقہ مستی ، ایک دن\n\nمفتی صاحب بے اختیار ہنس پڑے۔ ’’خوب، خوب۔۔۔ کیوں صاحب! رسی جل گئی، پر بل نہ گیا۔۔۔ آپ کے اس شعر کی میں تو ضرور داد دوں گا۔ مگر چونکہ آپ کو اصل اور سود، سب سے اقرار ہے۔ عدالت مدعی کے حق میں فیصلہ دیئے بغیر نہیں رہ سکتی۔‘‘مرزا غالبؔ نے بڑی سنجیدگی سے کہا،’’مدعی سچا ہے، تو کیوں فیصلہ اس کے حق میں نہ ہواورمیں نے بھی سچی بات نثر میں نہ کہی، نظم میں کہہ دی۔‘‘\n\nمفتی صدر الدین آزردہ نے کاغذات قانون ایک طرف رکھے اور مرزا غالب سے مخاطب ہوئے،’’اچھا، تو زرِ ڈگری میں ادا کردوں گا کہ ہماری آپ کی دوستی کی لاج رہ جائے۔‘‘ مرزا غالبؔ بڑے خود دار تھے۔ انہوں نے مفتی صاحب سے کہا، ’’حضور ایسا نہیں ہوگا۔۔۔ مجھے متھرا داس کا روپیہ دینا ہے۔ میں بہت جلد ادا کردوں گا۔‘‘\n\nمفتی صاحب مسکرائے، ’’حضرت،روپے کی ادائیگی، شاعری نہیں۔۔۔ آپ تکلّف کو برطرف رکھیے۔۔۔ میں آپ کا مداح ہوں۔۔۔ مجھے آج موقع دیجیے کہ آپ کی کوئی خدمت کرسکوں۔‘‘ غالبؔ بہت خفیف ہوئے، ’’لاحول ولا۔۔۔ آپ میرے بزرگ ہیں۔۔۔ مجھے کوئی سزا دے دیجیے کہ آپ صدرالصدور ہیں۔‘‘\n\n’’دیکھو، تم ایسی باتیں مت کرو۔۔۔‘‘\n\n’’تو اور کیسی باتیں کروں؟‘‘\n\n’’کوئی شعر سنائیے۔‘‘\n\n’’سوچتا ہوں۔۔۔ ہاں ایک شعر رات کو ہوگیا تھا۔۔۔عرض کیے دیتا ہوں۔۔۔‘‘\n\n’’فرمائیے‘‘\n\n’’ہم اور وہ سبب رنج آشنا دشمن‘‘\n\nمُفتی صاحب نے اپنے قانونی قلم سے قانونی کاغذ پر یہ حروف لکھے\n\n’’ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن، کہ رکھتا ہے۔‘‘\n\nمفتی صاحب بہت محظوظ ہوئے۔ یہ شعر آسانی سے سمجھ آسکنے والا نہیں لیکن وہ خود بہت بڑے شاعر تھے، اس لیے غالبؔ کی دقیقہ بیانی کو فوراً سمجھ گئے۔\n\nمقدمہ کی باقاعدہ سماعت ہوئی۔ مفتی صڈرا لدین آزردہ نے مرزاغالب سے کہا ،’’آپ آیندہ قرض کی نہ پیا کریں۔‘‘غالب جو شاید کسی شعر کی فکر کر رہے تھے،کہا، ’’ایک شعر ہو گیا، اگر آپ اجات دیں تو عرض کروں۔ ‘‘مفتی صاحب نے کہا، ’’فرمائیے۔۔۔ فرمائیے۔۔۔‘‘\n\nمرزا غالبؔ کچھ دیر خاموش رہے۔ غالباً ان کو اس بات سے بہت کوفت ہوئی تھی کہ مفتی صاحب ان پر ایک احسان کر رہے ہیں۔ مفتی صاحب نے ان سے پوچھا،’’حضرت آپ خاموش کیوں ہو گئے؟‘‘\n\n’’جی کوئی خاص بات نہیں۔‘‘\n\n؂ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں\nورنہ کیا بات کر نہیں آتی\n\n’’آپ کو باتیں کرنا تو ماشاء اللہ آتی ہیں۔‘‘\n\nغالبؔ نے جواب دیا، ’’جی ہاں۔۔۔ لیکن بنانا نہیں آتیں۔‘‘ مفتی صدر الدین مسکرائے، ’’اب آپ جاسکتے ہیں۔۔۔ زرِ ڈگری میں ادا کردوں گا۔‘‘مرزا غالبؔ نے مفتی صاحب کا شکریہ ادا کیا۔’’ آج آپ نے دوستی کے تمسک پر مہر لگا دی۔ جب تک زندہ ہوں، بندہ ہوں۔‘‘\n\nمفتی صدر الدین آزردہ نے ان سے کہا، ’’اب آپ تشریف لے جائیے۔۔۔ پر خیال رہے کہ روز روز زرِ ڈگری میں ادا نہیں کرسکتا، آئندہ احتیاط رہے۔‘‘\n\nمرزا غالبؔ تھوڑی دیر کے لیے سوچ میں غرق ہوگئے۔ مفتی صاحب نے ان سے پوچھا، ’’کیا سوچ رہے ہیں آپ؟‘‘ مرزا غالبؔ چونک کربولے، ’’جی!میں کچھ بھی نہیں سوچ رہا تھا۔۔۔ شاید کچھ سوچنے کی کوشش کررہا تھا کہ\n\n؂موت کا ایک دن معین ہے\nنیند کیوں رات بھر نہیں آتی\n\nمفتی صاحب نے ان سے پوچھا، ’’کیا آپ کو رات بھر نیند نہیں آتی؟‘‘ مرزا غالبؔ نے مسکرا کر کہا، ’’کسی خوش نصیب ہی کو آتی ہوگی۔‘‘ مفتی صاحب نے کہا، ’’آپ شاعری چھوڑیئے۔۔۔ بس آئندہ احتیاط رہے۔‘‘ مرزا غالبؔ اپنے انگرکھے کی شکنیں درست کرتے ہوئے بولے، ’’آپ کی نصیحت پر چل کر ثابت قدم رہنے کی خدا سے دعا کروں گا۔۔۔ مفتی صاحب! مفت کی زحمت آپ کو ہوئی۔ نقداً سوائے’’ شکر ہے‘‘کے اور کیا ادا کرسکتا ہوں۔ خیر خدا آپ کو دس گنا دنیا میں، اور ستّر گنا آخرت میں دے گا۔‘‘\n\nیہ سن کر مفتی صدر الدین آزردہ زیر لب مسکرائے، ’’آخرت والے میں تو آپ کو شریک کرنا محال ہے۔۔۔ دنیا کے دس گنے میں بھی آپ کو ایک کوڑی نہیں دوں گا کہ آپ مے خواری کیجیے۔‘‘\n\nمرزا غالبؔ ہنسے، ’’مے خواری کیسی مفتی صاحب!‘‘\n\n؂مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو\nاک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے\n\nاور یہ شعر سنا کر مرزا غالبؔ، عدالت کے کمرے سے باہر چلے گئے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B1%D8%B6_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94"} {"title": "قرینے سے عجب آراستہ قاتل کی محفل ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قرینے سے عجب آراستہ قاتل کی محفل ہے\nجہاں سر چاہیئے سر ہے جہاں دل چاہیئے دل ہے\n\nہر اک کے واسطے کب عشق کی دشوار منزل ہے\nجسے آساں ہے آساں ہے جسے مشکل ہے مشکل ہے\n\nزہے تقدیر کس آرام و راحت سے وہ بسمل ہے\nکہ جس کے سر کا تکیہ دیر سے زانوئے قاتل ہے\n\nطریق عشق کچھ آسان ہے کچھ ہم کو مشکل ہے\nادھر رہبر ادھر رہزن یہی منزل بہ منزل ہے\n\nمجھے تجھ سے رکاوٹ اور تو غیروں پہ مائل ہے\nمرا دل اب ترا دل ہے ترا دل اب مرا دل ہے\n\nبڑھا دل اس قدر فرط خوشی سے وصل کی شب کو\nمجھے یہ وہم تھا پہلو میں یہ تکیہ ہے یا دل ہے\n\nتری تلوار کے قربان اے سفاک کیا کہنا\nادھر کشتے پہ کشتہ ہے ادھر بسمل پہ بسمل ہے\n\nعدم میں لے چلا ہے رہنمائے عشق کیا مجھ کو\nیہی کہتا ہے آ پہنچے ہیں تھوڑی دور منزل ہے\n\nانہیں جب مہرباں پا کر سوال وصل کر بیٹھا\nدبی آواز سے شرما کے وہ بولے یہ مشکل ہے\n\nستم بھی ہو تو مجھ پر ہو جفا بھی ہو تو مجھ پر ہو\nمجھے اس رشک نے مارا وہ کیوں عالم کا قاتل ہے\n\nمسیحا نے ترے بیمار کو دیکھا تو فرمایا\nنہ یہ جینے کے قابل ہے نہ یہ مرنے کے قابل ہے\n\nزبردستی تو دیکھو ہاتھ رکھ کر میرے سینے پر\nوہ کس دعوے سے کہتے ہیں ہمارا ہی تو یہ دل ہے\n\nہمارے دل میں آ کر سیر دیکھو خوب رویوں کی\nکہ اندر کا اکھاڑا ہے پری زادوں کی محفل ہے\n\nمدارج عشق کے طے ہو سکیں یہ ہو نہیں سکتا\nزمیں سے عرش تک اے بے خبر منزل بہ منزل ہے\n\nجھڑکتے ہو مجھے کیوں دور ہی سے پاس آنے دو\nبڑھا کر ہاتھ دل دیتا ہوں تم سمجھے ہو سائل ہے\n\nسنا بھی تو نے اے دل کیا صدا آتی ہے محشر میں\nیہی دن امتحاں کا ہے ہمارے کون شامل ہے\n\nاڑاتے ہیں مزے دنیا کے ہم اے داغؔ گھر بیٹھے\nدکن میں اب تو افضل گنج اپنی عیش منزل ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B1%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "قریۂ ویراں", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جھلسے پیڑ جلی آبادی کھیتی سوکھی خرمن راکھ\nہست و بود کا مدفن راکھ\nگرتے بام و در کے لیے گلیوں کا آغوش\nجیسے یہ دیواروں کو تھے کب سے وبال دوش\nبار ہٹا تو آیا ہوش\n\nپنگھٹ اور چوپال بھی سونے راہیں بھی سنسان\nگلیاں اور کوچے ویران\nجھونکے سوکھے پتے رولیں بکھری راکھ اڑائیں\nراکھ اور پتے بن کے بگولے اپنا ناچ دکھائیں\nاور وہیں رہ جائیں\n\nیہ بستی اب توڑ چکی ہے ہستی کی زنجیر گراں\nاور قیود زمان و مکاں\nوقت کے ڈاکو چکر اس کو بساط مطابق لوٹ چکے\nاس کے لیے ماحول و فضا کے سارے بندھن ٹوٹ چکے\nماضی و حال بھی چھوٹ چکے\n\nکون آئے جو آ کر اس میں زیست کے رنگ بھرے\nکھیتوں کو سرسبز کرے\nگلی گلی اور کوچہ کوچہ پنگھٹ اور چوپال\nکھیلتے بچوں ہنستی جوانی سے کر دے چونچال\nزندہ کر دے ماضی و حال", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B1%DB%8C%DB%82_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA"} {"title": "قسم نہ کھاؤ تغافل سے باز آنے کی", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قسم نہ کھاؤ تغافل سے باز آنے کی\nکہ دل میں اب نہیں طاقت ستائے جانے کی\n\nہماری موت نے کچھ مختصر کیا ورنہ\nکچھ انتہا ہی نہ تھی عشق کے فسانے کی\n\nگری نہ برق کچھ اس خوف سے مرے ہوتے\nتڑپ کے آگ بجھا دوں نہ آشیانے کی\n\nتمہارا درد تو درماں بنا لیا ہم نے\nاب اور سوچیے تدبیر دل دکھانے کی\n\nزمانہ کفر محبت سے کر چکا تھا گریز\nتری نظر نے پلٹ دی ہوا زمانے کی\n\nپلٹ پلٹ کے قفس ہی کی سمت جاتا ہوں\nکسی نے راہ بتائی نہ آشیانے کی\n\nنجات دی غم دنیا سے درد دل نے مجھے\nیہ ایک راہ ملی غم سے چھوٹ جانے کی\n\nوہ صبح عید کا منظر ترے تصور میں\nوہ دل میں آ کے ادا تیرے مسکرانے کی\n\nبتا رہا ہے ہر انداز خاک فانیؔ کا\nیہ خاک ہے اسی کافر کے آستانے کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B3%D9%85_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A4_%D8%AA%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B2_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "قسمت برے کسی کے نہ اس طرح لائے دن", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قسمت برے کسی کے نہ اس طرح لائے دن\nآفت نئی ہے روز مصیبت ہے آئے دن\n\nدن سن یہ اور دن دئیے اللہ کی پناہ\nاس ماہ نے تو خوب ہی ہم سے گنائے دن\n\nہے دم شماری دن کو تو اختر شماری شب\nاس طرح تو خدا نہ کسی کے کٹائے دن\n\nان کی نظر پھری ہو تو کیا اپنے دن پھریں\nابر سیہ گھرا ہو تو کیا منہ دکھائے دن\n\nجی جانتا ہے کیونکہ یہ کٹتے ہیں روز و شب\nدشمن کو بھی خدا نہ کبھی یہ دکھائے دن\n\nکیا لطف زیست بھرتے ہیں دن زندگی کے ہم\nکیفیؔ برے کسی کے نہ تقدیر لائے دن", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D8%A8%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%86"} {"title": "قسمت شوق آزما نہ سکے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قسمت شوق آزما نہ سکے\nان سے ہم آنکھ بھی ملا نہ سکے\n\nہم سے یاں رنج ہجر اٹھ نہ سکا\nواں وہ مجبور تھے وہ آ نہ سکے\n\nڈر یہ تھا رو نہ دیں کہیں وہ انہیں\nہم ہنسی میں بھی گدگدا نہ سکے\n\nہم سے دل آپ نے اٹھا تو لیا\nپر کہیں اور بھی لگا نہ سکے\n\nاب کہاں تم کہاں وہ ربط وفا\nیاد بھی جس کی ہم دلا نہ سکے\n\nدل میں کیا کیا تھے عرض حال کے شوق\nاس نے پوچھا تو کچھ بتا نہ سکے\n\nہم تو کیا بھولتے انہیں حسرتؔ\nدل سے وہ بھی ہمیں بھلا نہ سکے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%A2%D8%B2%D9%85%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%DB%92"} {"title": "قسمت میں ہیں بربادیاں یاد وطن سے کیا غرض", "poet_page": "مصنف:نازش بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قسمت میں ہیں بربادیاں یاد وطن سے کیا غرض\nمیں پھول ہوں ٹوٹا ہوا مجھ کو چمن سے کیا غرض\n\nتو نے پھرایا در بدر تقدیر سے کیا واسطہ\nتو نے ملایا خاک میں چرخ کہن سے کیا غرض\n\nغنچے کہیں کھل کر ہنسیں ہنس کر تپے کی کچھ کہیں\nموج تبسم کو بھلا تیرے دہن سے کیا غرض\n\nکیا قتل سے دل شاد ہے کہنا کسی کا یاد ہے\nمیرے شہید ناز کو قید کفن سے کیا غرض\n\nصد چاک داماں ہو تو ہو ٹکڑے گریباں ہو تو ہو\nہم اور ہی عالم میں ہیں اب تن بدن سے کیا غرض\n\nنازشؔ نہ چھوڑو شغل مے تقویٰ کا دعویٰ ہے ریا\nتم صاف باطن رند ہو اس مکر و فن سے کیا غرض", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%88%D8%B7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D8%B1%D8%B6"} {"title": "قسمت کو اپنے لکھے کے تئیں کون دھو سکے", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قسمت کو اپنے لکھے کے تئیں کون دھو سکے\nسب ہو سکے ولیک یہ اتنا نہ ہو سکے\n\nپھولوں کی سیج اس کے لیے فرش خار ہے\nتجھ بن کسی طرح ترا عاشق نہ ہو سکے\n\nتجھ بن نہ کر سکے مئے عشرت سے حلق تر\nخوں ناب غم سے لب ترا عاشق نہ ہو سکے\n\nگر چاہے گلشن دل پر داغ کی بہار\nتو تخم اشک جتنے کہ اے دیدہ بو سکے\n\nدیکھا اثر تمہارا بھی اے چشم اشکبار\nکچھ کر سکے نہ اس کا گھر اپنا ڈبو سکے\n\nدل کی ہوس نکال لیں آہ و فغاں بھی آپ\nیہ بھی نہ درگزر کریں جو ان سے ہو سکے\n\nنئیں جان و دل کے کھونے جہاں دارؔ کو دریغ\nیاد اس کی پر نہ جان و دل اپنے سے کھو سکے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%A9%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%AF%DA%BE%D9%88_%D8%B3%DA%A9%DB%92"} {"title": "قصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیں\nچشم پر آب سے آئینے وضو کرتے ہیں\n\nکرتے اظہار ہیں در پردہ عداوت اپنی\nوہ مرے آگے جو تعریف عدو کرتے ہیں\n\nدل کا یہ حال ہے پھٹ جائے ہے سو جائے سے اور\nاگر اک جائے سے ہم اس کو رفو کرتے ہیں\n\nتوڑیں اک نالے سے اس کاسۂ گردوں کو مگر\nنوش ہم اس میں کبھو دل کا لہو کرتے ہیں\n\nقد دل جو کو تمہارے نہیں دیکھا شاید\nسرکشی اتنی جو سرو لب جو کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B5%D8%AF_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "قصد گر امتحان ہے پیارے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "میریات", "year": null, "text_ur": "قصد گر امتحان ہے پیارے\nاب تلک نیم جان ہے پیارے\n\nگفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر\nیہ ہماری زبان ہے پیارے\n\nچھوڑ جاتے ہیں دل کو تیرے پاس\nیہ ہمارا نشان ہے پیارے\n\nمیر عمدن بھی کوئی مرتا ہے\nجان ہے تو جہان ہے پیارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B5%D8%AF_%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "قصر جاناں تک رسائی ہو کسی تدبیر سے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قصر جاناں تک رسائی ہو کسی تدبیر سے\nطائر جاں کے لیے پر مانگ لوں میں تیر سے\n\nان کو کیا دھوکا ہوا مجھ ناتواں کو دیکھ\nمیری صورت کیوں ملاتے ہیں مری تصویر سے\n\nگالیاں دے کر بجائے قم کے اے رشک مسیح\nآپ نے مردے جلائے ہیں نئی تدبیر سے\n\nصدقے اے قاتل ترے مجھ تشنۂ دیدار کی\nتشنگی جاتی رہی آب دم شمشیر سے\n\nعشوے سے غمزے سے شوخی سے ادا سے ناز سے\nمٹنے والا ہوں مٹا دیجے کسی تدبیر سے\n\nاک سوال وصل پر دو دو سزائیں دیں مجھے\nتیغ سے کاٹا زباں کو سی دئے لب تیر سے\n\nکچھ نہ ہو اے انقلاب آسماں اتنا تو ہو\nغیر کی قسمت بدل جائے میری تقدیر سے\n\nزندگی سے کیوں نہ ہو نفرت کہ محو زلف ہوں\nقید ہستی مجھ کو بیدمؔ کم نہیں زنجیر سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B5%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "قصر رنگیں سے گزر باغ و گلستاں سے نکل", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قصر رنگیں سے گزر باغ و گلستاں سے نکل\nہے وفا پیشہ تو مت کوچۂ جاناں سے نکل\n\nنکہت زلف یہ کس کی ہے کہ جس کے آگے\nہوئی خجلت زدہ بو سنبل و ریحاں سے نکل\n\nگو بہار اب ہے ولے روز خزاں اے بلبل\nیک قلم نرگس و گل جاویں گے بستاں سے نکل\n\nامتحاں کرنے کو یوں دل سے کہا ہم نے رات\nاے دل غمزدہ اس کاکل پیچاں سے نکل\n\nکھا کے سو پیچ کہا میں تو نکلنے کا نہیں\nمگر اے دشمن جاں چل تو مرے ہاں سے نکل\n\nہو پریشانی سے جس کی مجھے سو جمعیت\nکس طرح جاؤں میں اس زلف پریشاں سے نکل\n\nلاکھ زندان پر آفات میں ہوتا ہے وہ قید\nجو کوئی جاتا ہے اس طور کے زنداں سے نکل\n\nمجھ سے ممکن نہیں محبوب کی قطع الفت\nگرچہ میں جاؤں گا اس عالم امکاں سے نکل\n\nچاہ میں مجھ کو یہ مرشد کا ہے ارشاد نظیرؔ\nآبرو چاہے تو مت چاہ زنخداں سے نکل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B5%D8%B1_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%88_%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84"} {"title": "قصہ تو زلف یار کا طول و طویل ہے", "poet_page": "مصنف:شیر محمد خاں ایمان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قصہ تو زلف یار کا طول و طویل ہے\nکیوں کر ادا ہو عمر کا رشتہ قلیل ہے\n\nگنجائش دو شاہ نہیں ایک ملک میں\nوحدانیت کے حق کی یہی بس دلیل ہے\n\nمشہد پہ دل کے دیدۂ گریاں پکار دے\nپیاسا نہ جا بنام شہیداں سبیل ہے\n\nنظریں لڑانے میں وہ تغافل ہے خوش نما\nجس طرح سے پتنگوں کے پنجوں میں ڈھیل ہے\n\nایمانؔ کیا بیاں کروں اس شہسوار کا\nحاضر جلو کے بیچ جہاں جبرئیل ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B5%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%B7%D9%88%D9%84_%D9%88_%D8%B7%D9%88%DB%8C%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "قصہ کتاب عمر کا کیا مختصر ہوا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قصہ کتاب عمر کا کیا مختصر ہوا\nرخ داستان غم کا ادھر سے ادھر ہوا\n\nماتم سرائے دہر میں کس کس کو روئیے\nاے وائے درد دل نہ ہوا درد سر ہوا\n\nتسکین دل کو راز خودی پوچھتا ہے کیا\nکہنے کو کہہ دوں اور اگر الٹا اثر ہوا\n\nآزاد ہو سکا نہ گرفتار شش جہت\nدل مفت بندۂ ہوس بال و پر ہوا\n\nدنیا کے ساتھ دین کی بیگار الاماں\nانسان آدمی نہ ہوا جانور ہوا\n\nفردا کا دھیان باندھ کے کہتا ہے مجھ سے دل\nتو میری طرح کیوں نہ وسیع النظر ہوا\n\nفردا کو دور ہی سے ہمارا سلام ہے\nدل اپنا شام ہی سے چراغ سحر ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B5%DB%81_%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AE%D8%AA%D8%B5%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "قصۂ زیست مختصر کرتے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قصۂ زیست مختصر کرتے\nکچھ تو اپنی سی چارہ گر کرتے\n\nموت کی نیند سو گئے بیمار\nروز کس شام کو سحر کرتے\n\nسچ ہے ہر نالہ کیوں رسا ہوتا\nمیرے نالے تھے کیوں اثر کرتے\n\nخود وفا کیا وفا کا بدلہ کیا\nلطف احسان تھا اگر کرتے\n\nکر لیا تیرے نام پر سجدہ\nاب کہاں قصد سنگ در کرتے\n\nآس ہوتی تو اس سہارے پر\nصبر ممکن نہ تھا مگر کرتے\n\nکاش آئینہ ہاتھ سے رکھ کر\nتم مرے حال پر نظر کرتے\n\nطول روداد غم معاذ اللہ\nعمر گزری ہے مختصر کرتے\n\nغم نے مہلت نہ دی کہ ہم فانیؔ\nاور کچھ دن ابھی بسر کرتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B5%DB%82_%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%D9%85%D8%AE%D8%AA%D8%B5%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "قصۂ سلسلۂ زلف نہ کہنا بہتر", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قصۂ سلسلۂ زلف نہ کہنا بہتر\nپیچ در پیچ ہے خاموش ہی رہنا بہتر\n\nضبط گریہ سے جلا کرتی ہیں آنکھیں سچ ہے\nبند ہونے سے ہے ناسور کا بہنا بہتر\n\nدونوں ہاتھوں کی ترے یار کروں کیا تعریف\nبایاں دہنے سے تو پھر بائیں سے دہنا بہتر\n\nیار کو دیکھیں گے پہنا کے شب مہ میں اسے\nمل گیا کوئی اگر پھولوں کا گہنہ بہتر\n\nنفس امارہ سا رکھتا ہے یہ سرکش دشمن\nآدمی کے لیے غافل نہیں رہنا بہتر\n\nٹیڑھے سیدھے سے غرض رکھتے نہیں اے آتشؔ\nجو کہے یار ہمیں سن کے یہ کہنا بہتر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B5%DB%82_%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%82_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7_%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1"} {"title": "قطرہ دریائے آشنائی ہے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قطرہ دریائے آشنائی ہے\nکیا تری شان کبریائی ہے\n\nتیری مرضی جو دیکھ پائی ہے\nخلش درد کی بن آئی ہے\n\nوہم کو بھی ترا نشاں نہ ملا\nنارسائی سی نارسائی ہے\n\nکون دل ہے جو دردمند نہیں\nکیا ترے درد کی خدائی ہے\n\nجلوۂ یار کا بھکاری ہوں\nشش جہت کاسۂ گدائی ہے\n\nموت آتی ہے تم نہ آؤگے\nتم نہ آئے تو موت آئی ہے\n\nبچھ گئے راہ یار میں کانٹے\nکس کو عذر برہنہ پائی ہے\n\nترک امید بس کی بات نہیں\nورنہ امید کب بر آئی ہے\n\nمژدۂ جنت وصال ہے موت\nزندگی محشر جدائی ہے\n\nآرزو پھر ہے در پئے تدبیر\nسعی ناکام کی دہائی ہے\n\nموت ہی ساتھ دے تو دے فانیؔ\nعمر کو عذر بے وفائی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B7%D8%B1%DB%81_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "قطرہ وہی کہ روکش دریا کہیں جسے", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قطرہ وہی کہ روکش دریا کہیں جسے\nیعنی وہ میں ہی کیوں نہ ہوں تجھ سا کہیں جسے\n\nوہ اک نگاہ اے دل مشتاق اس طرف\nآشوب گاہ حشر تمنا کہیں جسے\n\nبیمار غم کی چارہ گری کچھ ضرور ہے\nوہ درد دل میں دے کہ مسیحا کہیں جسے\n\nاے حسن جلوۂ رخ جاناں کبھی کبھی\nتسکین چشم شوق نظارا کہیں جسے\n\nاس ضعف میں تحمل حرف و صدا کہاں\nہاں بات وہ کہوں کہ نہ کہنا کہیں جسے\n\nیہ بخشش اپنے بندۂ ناچیز کے لیے\nتھوڑی سی پونجی ایسی کہ دنیا کہیں جسے\n\nہم بزم ہو رقیب تو کیونکر نہ چھیڑئیے\nآہنگ ساز درد کہ نالا کہیں جسے\n\nپیمانۂ نگاہ سے آخر چھلک گیا\nسر جوش ذوق وصل تمنا کہیں جسے\n\nآسیؔ جو گل سے گال کسی کے ہوئے تو کیا\nمعشوق وہ کہ سب سے نرالا کہیں جسے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B7%D8%B1%DB%81_%D9%88%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D8%B1%D9%88%DA%A9%D8%B4_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%DB%92"} {"title": "قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفَس پرور ہوا\nخطِّ جامِ مے سراسر رشتۂ گوہر ہوا\n\nاعتبارِ عشق کی خانہ خرابی دیکھنا\nغیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا\n\nگرمیِ دولت ہوئی آتش زنِ نامِ نکو\nخانۂ ماتم میں یاقوتِ نگیں اخگر ہوا\n\nنشّے میں گُم کردہ رہ آیا وہ مستِ فتنہ خو\nآج رنگِ رفتہ دورِ گردشِ ساغر ہوا\n\nدرد سے در پردہ دی مژگاں سیاہاں نے شکست\nریزہ ریزہ استخواں کا پوست میں نشتر ہوا\n\nاے بہ ضبطِ حال خو نا کردگاں جوشِ جنوں\nنشّۂ مے ہے اگر یک پردہ نازک تر ہوا\n\nزُہد گر دیدن ہے گِردِ خانہ ہائے منعماں\nدانۂ تسبیح سے میں مہرہ در ششدر ہوا\n\nاس چمن میں ریشہ واری جس نے سر کھینچا اسدؔ\nتر زبانِ شکرِ لطفِ ساقیِ کوثر ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B7%D8%B1%DB%82_%D9%85%DB%92_%D8%A8%D8%B3%DA%A9%DB%81_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D9%81%D8%B3_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "قطرے ہیں یہ سب جس کے وہ دریا ہے علی", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "قطرے ہیں یہ سب جس کے وہ دریا ہے علی\nپنہاں ہے کبھی تو گاہ پیدا ہے علی\nہوتا ہے گماں خدا کا جس پر ہر بار\nاللہ اللہ ایسا بندہ ہے علی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B7%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%A8_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D9%84%DB%8C"} {"title": "قطع ہو کر کاکل شب گیر آدھی رہ گئی", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قطع ہو کر کاکل شب گیر آدھی رہ گئی\nاب تو اے سودائیو زنجیر آدھی رہ گئی\n\nساری بوتل اب کہاں آدھی میں کرتے ہیں گزر\nمنصفی سے محتسب تعزیر آدھی رہ گئی\n\nشام کا وعدہ کیا آئے وہ آدھی رات کو\nجذبۂ دل کی مرے تاثیر آدھی رہ گئی\n\nڈھل گیا عہد جوانی ہو گیا آخر شباب\nزندگی اپنی بھی چرخ پیر آدھی رہ گئی\n\nاک کشش عشق کمان ابرو کی ہے تیری تڑپ\nبعد میں جو راہ تھی دو تیر آدھی رہ گئی\n\nجبہ سائی کرتے کرتے گھس گئی لوح جبیں\nمیری قسمت کی جو تھی تحریر آدھی رہ گئی\n\nساری عزت نوکری سے اس زمانے میں ہے مہرؔ\nجب ہوئے بے کار بس توقیر آدھی رہ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B7%D8%B9_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%DA%A9%D9%84_%D8%B4%D8%A8_%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%A2%D8%AF%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "قطع ہوتا رہے اس طرح بیان واعظ", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "قطع ہوتا رہے اس طرح بیان واعظ\nایک ہی بات میں ہو بند زبان واعظ\n\nطرفہ آفت میں پھنسی آتی ہے جان واعظ\nکون مے خانہ میں تھا مرتبہ دان واعظ\n\nکیوں نہ مینائے مئے ناب پٹک دوں سر پر\nعیش جب تلخ ہو سن سن کے بیان واعظ\n\nاس طرح پند و نصیحت کی اٹھائی تمہید\nآج ساقی پہ ہوا مجھ کو گمان واعظ\n\nتیزیٔ بادہ کجا تلخیٔ گفتار کجا\nکند ہے نشتر ساقی سے سنان واعظ\n\nفصل گل آتے ہی مے خانہ میں اک بھیڑ ہوئی\nنہ سنی ایک بھی رندوں نے فغان واعظ\n\nپھر در پیر خرابات پہ بیٹھا ہے حبیبؔ\nیہ تو آیا تھا ابھی سن کے بیان واعظ", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B7%D8%B9_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "قطعہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "کل ایک شوریدہ خواب گاہِ نبیؐ پہ رو رو کے کہہ رہا تھا\nکہ مصر و ہندوستاں کے مسلم بِنائے ملّت مِٹا رہے ہیں\n\nیہ زائرانِ حریمِ مغرب ہزار رہبر بنیں ہمارے\nہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھ سے ناآشنا رہے ہیں\n\nغضب ہیں یہ ’مُرشدانِ خود بیں، خُدا تری قوم کو بچائے!\nبگاڑ کر تیرے مسلموں کو یہ اپنی عزّت بنا رہے ہیں\n\nسُنے گا اقبالؔ کون ان کو، یہ انجمن ہی بدل گئی ہے\nنئے زمانے میں آپ ہم کو پُرانی باتیں سنا رہے ہیں!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D8%B7%D8%B9%DB%81"} {"title": "قفس سے چھوٹنے کی کب ہوس ہے", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قفس سے چھوٹنے کی کب ہوس ہے\nتصور بھی چمن کا ہم کو بس ہے\n\nبجائے رخنۂ دیوار گلشن\nہمیں صیاد اب چاک قفس ہے\n\nفغاں کرتا ہی رہتا ہے یہ دن رات\nالٰہی دل ہے میرا یا جرس ہے\n\nکٹیں گے عمر کے دن کب کے بے یار\nمجھے اک اک گھڑی سو سو برس ہے\n\nہماری داد کے تئیں کون پہنچے\nنہ کوئی مونس نہ کوئی فریاد رس ہے\n\nگلی میں یار کی ہو جائیے خاک\nمرے دل میں یہ مدت سے ہوس ہے\n\nسفر دنیا سے کرنا کیا ہے تاباںؔ\nعدم ہستی سے راہ یک نفس ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%81%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%88%D9%B9%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%B3_%DB%81%DB%92"} {"title": "قفس میں اشک حسرت پر مدار زندگانی ہے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قفس میں اشک حسرت پر مدار زندگانی ہے\nیہی دانے کا دانا ہے یہی پانی کا پانی ہے\n\nملے تھے آج برسوں میں مگر اللہ کی قدرت\nوہی صورت وہی رنگت وہی جوش جوانی ہے\n\nہمیں وہ جان بھی لیں گے ہمیں پہچان بھی لیں گے\nاتر جائے گا سب نشہ ابھی چڑھتی جوانی ہے\n\nکلیجے سے لگا رکھوں نہ کیوں درد جدائی کو\nیہی تو اک دل مرحوم کی باقی نشانی ہے\n\nیہ سچ ہے یا غلط ہم نے سنا ہے مرنے والوں سے\nترے خنجر میں قاتل چشمۂ حیواں کا پانی ہے\n\nبتائے جاتے ہیں اوصاف وہ اپنی اداؤں کے\nیہ شان دل رباعی ہے یہ طرز جاں ستانی ہے\n\nیہاں کیا جانیے کس طرح دیکھا ہے تصور میں\nوہاں اب تک وہی پردے کے اندر لن ترانی ہے\n\nکریں تسخیر آؤ مل کے ہم تم دونوں عالم کو\nادھر جادو نگاہی ہے ادھر جادو بیانی ہے\n\nجلیلؔ اک شعر بھی خالی نہ پایا درد و حسرت سے\nغزل خوانی نہیں یہ در حقیقت نوحہ خوانی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%81%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "قفس میں ہوں کہ طائر آشیاں میں", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قفس میں ہوں کہ طائر آشیاں میں\nترا کرتے ہیں ذکر اپنی زباں میں\n\nچمن یوں ہی رہے گا نذر صرصر\nہے اک تنکا بھی جب تک آشیاں میں\n\nہجوم اشک میں ملتا نہیں دل\nمرا یوسف ہے گم اس کارواں میں\n\nمذکر اور مؤنث کی ہیں بحثیں\nبڑا جھگڑا ہے یہ اردو زباں میں\n\nجلیلؔ اس باغ میں کانٹے کی صورت\nکھٹکتا ہے نگاہ باغباں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%81%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D8%B1_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو\nمرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجانِ گلشن کو\n\nنہیں گر ہمدمی آساں، نہ ہو، یہ رشک کیا کم ہے\nنہ دی ہوتی خدا یا آرزوئے دوست، دشمن کو\n\nنہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پر\nکیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگانِ سوزن کو\n\nخدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میں\nکبھی میرے گریباں کو کبھی جاناں کے دامن کو\n\nابھی ہم قتل گہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیں\nنہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے توسن کو\n\nہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کا\nکیا بیتاب کاں میں جنبشِ جوہر نے آہن کو\n\nخوشی کیا، کھیت پر میرے، اگر سو بار ابر آوے\nسمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو\n\nوفاداری بہ شرطِ استواری اصلِ ایماں ہے\nمَرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو\n\nشہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو\nجہاں تلوار کو دیکھا، جھکا دیتا تھا گردن کو\n\nنہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا\nرہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو\n\nسخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کے\nجگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو\n\nمرے شاہ سلیماں جاہ سے نسبت نہیں غالبؔ\nفریدون و جم و کیخسرو و داراب و بہمن کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%81%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D9%88%D9%86_%DA%A9%D9%88"} {"title": "قفس نصیبوں کو تڑپا گئی ہوائے بہار", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قفس نصیبوں کو تڑپا گئی ہوائے بہار\nچھری سی دل پہ چلی جب چلی ہوائے بہار\n\nکوئی تو جرعہ کش جام ارغوانی ہو\nکسی کو ہجر کے غم میں لہو رلائے بہار\n\nہوا میں آج کل اک دھیمی دھیمی وحشت ہے\nاسی زمانے سے شاید ہے ابتدائے بہار\n\nنسیم صحن چمن میں پچھاڑیں کھاتی ہے\nتو دل کو اور بھی تڑپاتی ہے ادائے بہار\n\nقفس پہ رکھیو نہ صیاد بار پھولوں کا\nکہیں اسیروں کو ظالم نہ یاد آئے بہار\n\nکھڑی ہوئی ہے عصا ٹیکے نرگس بیمار\nاس انتظار میں ہے دیکھیے کب آئے بہار\n\nسفید بالوں پہ کیا رنگ دے رہا ہے خضاب\nاب ابتدائے خزاں ہے اور انتہائے بہار", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%81%D8%B3_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%DA%91%D9%BE%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1"} {"title": "قفس کو جانتے ہیں یاسؔ آشیاں اپنا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قفس کو جانتے ہیں یاسؔ آشیاں اپنا\nمکان اپنا زمین اپنی آسماں اپنا\n\nہوائے تند میں ٹھہرا نہ آشیاں اپنا\nچراغ جل نہ سکا زیر آسماں اپنا\n\nسنا ہے رنگ زمانہ کا اعتبار نہیں\nبدل نہ جائے یقیں سے کہیں گماں اپنا\n\nبس ایک سایۂ دیوار یار کیا کم ہے\nاٹھا لے سر سے مرے سایہ آسماں اپنا\n\nمزے کے ساتھ ہوں اندوہ و غم تو کیا کہنا\nیقیں نہ ہو تو کرے کوئی امتحاں اپنا\n\nشریک حال ہوا ہے جو فقر و فاقہ میں\nگڑھے گا ساتھ ہی کیا اپنے مہماں اپنا\n\nعجیب بھول بھلیاں ہے منزل ہستی\nبھٹکتا پھرتا ہے گم گشتہ کارواں اپنا\n\nکدھر سے آتی ہے یوسف کی بوئے مستانہ\nخراب پھرتا ہے جنگل میں کارواں اپنا\n\nجرس نے مژدۂ منزل سنا کے چونکایا\nنکل چلا تھا دبے پاؤں کارواں اپنا\n\nخدا کسی کو بھی یہ خواب بد نہ دکھلائے\nقفس کے سامنے جلتا ہے آشیاں اپنا\n\nہمارے قتل کا وعدہ ہے غیر کے ہاتھوں\nعجیب شرط پہ ٹھہرا ہے امتحاں اپنا\n\nہمارا رنگ سخن یاسؔ کوئی کیا جانے\nسوائے آتشؔ ہوا کون ہم زباں اپنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%81%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%94_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "قفس کی تیلیوں سے لے کے شاخ آشیاں تک ہے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قفس کی تیلیوں سے لے کے شاخ آشیاں تک ہے\nمری دنیا یہاں سے ہے مری دنیا وہاں تک ہے\n\nزمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں تک ہے\nخدا جانے ہمارے عشق کی دنیا کہاں تک ہے\n\nخدا جانے کہاں سے جلوۂ جاناں کہاں تک ہے\nوہیں تک دیکھ سکتا ہے نظر جس کی جہاں تک ہے\n\nکوئی مر کر تو دیکھے امتحاں گاہ محبت میں\nکہ زیر خنجر قاتل حیات جاوداں تک ہے\n\nنیاز و ناز کی روداد حسن و عشق کا قصہ\nیہ جو کچھ بھی ہے سب ان کی ہماری داستاں تک ہے\n\nقفس میں بھی وہی خواب پریشاں دیکھتا ہوں میں\nکہ جیسے بجلیوں کی رو فلک سے آشیاں تک ہے\n\nخیال یار نے تو آتے ہی گم کر دیا مجھ کو\nیہی ہے ابتدا تو انتہا اس کی کہاں تک ہے\n\nجوانی اور پھر ان کی جوانی اے معاذ اللہ\nمرا دل کیا تہ و بالا نظام دو جہاں تک ہے\n\nہم اتنا بھی نہ سمجھے عقل کھوئی دل گنوا بیٹھے\nکہ حسن و عشق کی دنیا کہاں سے ہے کہاں تک ہے\n\nوہ سر اور غیر کے در پر جھکے توبہ معاذ اللہ\nکہ جس سر کی رسائی تیرے سنگ آستاں تک ہے\n\nیہ کس کی لاش بے گور و کفن پامال ہوتی ہے\nزمیں جنبش میں ہے برہم نظام آسماں تک ہے\n\nجدھر دیکھو ادھر بکھرے ہیں تنکے آشیانے کے\nمری بربادیوں کا سلسلہ یارب کہاں تک ہے\n\nنہ میری سخت جانی پھر نہ ان کی تیغ کا دم خم\nمیں اس کے امتحاں تک ہوں وہ میرے امتحاں تک ہے\n\nزمیں سے آسماں تک ایک سناٹے کا عالم ہے\nنہیں معلوم میرے دل کی ویرانی کہاں تک ہے\n\nستم گر تجھ سے امید کرم ہوگی جنہیں ہوگی\nہمیں تو دیکھنا یہ تھا کہ تو ظالم کہاں تک ہے\n\nنہیں اہل زمیں پر منحصر ماتم شہیدوں کا\nقبائے نیلگوں پہنے فضائے آسماں تک ہے\n\nسنا ہے صوفیوں سے ہم نے اکثر خانقاہوں میں\nکہ یہ رنگیں بیانی بیدمؔ رنگیں بیاں تک ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%81%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D9%84%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%B4%D8%A7%D8%AE_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%DB%81%DB%92"} {"title": "قفل صد خانۂ دل آیا جو تو ٹوٹ گئے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قفل صد خانۂ دل آیا جو تو ٹوٹ گئے\nجو طلسمات نہ ٹوٹے تھے کبھو ٹوٹ گئے\n\nسیکڑوں کاسہ سر دہر میں مانند حباب\nکبھو اے چرخ بنے تجھ سے کبھو ٹوٹ گئے\n\nٹانکے کیا جیب کے پھر بعد رفو ٹوٹ گئے\nہو کے ناخن کبھی سینے میں فرو ٹوٹ گئے\n\nتو جو کہتا ہے کہ دے غیر کو بھی ساغر مے\nہاتھ کیا اس کے ہیں اے آئینہ رو ٹوٹ گئے\n\nکیونکے بن کشتیٔ مے کیجیے سیر دریا\nمے کشو زیر بغل اب تو کدو ٹوٹ گئے\n\nدیکھ کر سرمے کی تحریر تری آنکھوں میں\nکافروں کے بھی ہیں زنار گلو ٹوٹ گئے\n\nصدمۂ غم سے ترے جوں گل بازی افسوس\nسارے اعضا مرے اے عربدہ جو ٹوٹ گئے\n\nسنگ غیرت سے کئی آئینے اے عہد شکن\nدیکھ کر صاف ترا روئے نکو ٹوٹ گئے\n\nتیر دل سے وہ نکلتے ہیں کوئی جذبۂ شوق\nنکلے سوفار جو سینے سے گلو ٹوٹ گئے\n\nدل شکستہ ہی رہا بعد فنا بھی میں تو\nکہ مری خاک سے بنتے ہی سبو ٹوٹ گئے\n\nشدت گریہ سے تھا رات یہ اشکوں کا ہجوم\nچشم تر پھر مرے مژگاں کے ہیں مو ٹوٹ گئے\n\nگلشن عشق میں اللہ ہے کیا کثرت بار\nبن ہوا کتنے ہی نخل لب جو ٹوٹ گئے\n\nکہہ بہ تبدیل قوافی غزل اک اور بھی ذوقؔ\nدیکھیں بٹھلائے ہے کس طرح سے تو ٹوٹ گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%81%D9%84_%D8%B5%D8%AF_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%B9%D9%88%D9%B9_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "قلاش ہے قوم تو پڑھے گی کیوں کر", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "قلاش ہے قوم تو پڑھے گی کیوں کر\nپسماندہ ہے اب تو پھر بڑھے گی کیوں کر\nبچوں کے لئے نہیں ہے اسکول کی فیس\nیہ بیل کہو منڈھے چڑھے گی کیوں کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%B4_%DB%81%DB%92_%D9%82%D9%88%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%91%DA%BE%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "قلزم الفت میں وہ طوفان کا عالم ہوا", "poet_page": "مصنف:شیر سنگھ ناز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قلزم الفت میں وہ طوفان کا عالم ہوا\nجو سفینہ دل کا تھا درہم ہوا برہم ہوا\n\nتھامنا مشکل دل مضطر کو شام غم ہوا\nیاد آتے ہی کسی کی حشر کا عالم ہوا\n\nکیا بتائیں کس طرح گزری شب وعدہ مری\nمنتظر آنکھیں رہیں دل کا عجب عالم ہوا\n\nدیکھتے رہتے ہیں اس میں سارے عالم کا ظہور\nآئینہ دل کا ہمارے رشک جام جم ہوا\n\nوہ عدو کو ساتھ لائے ہیں مرے گھر دیکھیے\nشربت دیدار کے نسخے میں داخل سم ہوا\n\nآپ کے تیر نظر سے دل کا بچنا ہے محال\nجس کو دیکھا آنکھ بھر کر بس وہی ہم دم ہوا\n\nکس قدر تسکین رنجور محبت کو ہوئی\nپیار سے دیکھا جو اس نے زخم کو مرہم ہوا\n\nجب اٹھایا یار نے روئے منور سے نقاب\nگر پڑا غش کھا کے کوئی اور کوئی بے دم ہوا\n\nگلشن ہستی میں انساں کی نہیں کچھ زندگی\nجو ہوا پیدا مثال قطرۂ شبنم ہوا\n\nگیسوئے پر خم ہوئے ان کے پریشاں سوگ میں\nمیرے مرنے سے دیار حسن میں ماتم ہوا\n\nبعد مرنے کے ہوا دنیا میں یوں مشہور نازؔ\nشان سے تابوت اٹھا دھوم کا ماتم ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%84%D8%B2%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%B7%D9%88%D9%81%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "قلعۂ اکبرآباد", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وہ بارگہ خاص کی پاکیزہ عمارت\nتاباں تھے جہاں نیر‌ شاہی و وزارت\nبڑھتی تھی جہاں نظم و سیاست کی مہارت\nآتی تھی جہاں فتح ممالک کی بشارت\nجوں شحنۂ معزول پڑی ہے وہ اکارت\nسیاح کیا کرتے ہیں اب اس کی زیارت\n\nکہتا ہے سخن فہم سے یوں کتبہ دروں کا\nتھا مخزن اسرار یہی تاج وروں کا\n\nاورنگ سیہ رنگ جو قائم ہے لب بام\nبوسہ جسے دیتا تھا ہر اک زبدۂ عظام\nاشعار میں ثبت اس پہ جہانگیر کا ہے نام\nشاعر کا قلم اس کی بقا لکھتا ہے مادام\nپر صاف نظر آتا ہے کچھ اور ہی انجام\nسالم نہیں چھوڑے گی اسے گردش ایام\n\nفرسودگئ دہر نے شق اب تو کیا ہے\nآئندہ کی نسلوں کو سبق خوب دیا ہے\n\nہاں کس لیے خاموش ہے او تخت جگر ریش\nکس غم میں سیہ پوش ہے کیا سوگ ہے در پیش\nکملی ہے ترے دوش پہ کیوں صورت درویش\nجوگی ہے ترا پنتھ کہ صوفی ہے تیرا کیش\nبولا کہ زمانے نے دیا نوش کبھی نیش\nصدیاں مجھے گزری ہیں یہاں تین کم و بیش\n\nصدقے کبھی مجھ پر گہر و لعل ہوئے تھے\nشاہان معظم کے قدم میں نے چھوئے تھے\n\nاس عہد کا باقی کوئی ساماں ہے نہ اسباب\nفوارے شکستہ ہیں تو سب حوض ہیں بے آب\nوہ جام بلوریں ہیں نہ وہ گوہر نایاب\nوہ چلمنیں زر تار نہ وہ بستر کم خواب\nہنگامہ جو گزرا ہے سو افسانہ تھا یا خواب\nیہ معرض خدام تھا وہ موقف حجاب\n\nوہ بزم نہ وہ دور نہ وہ جام نہ ساقی\nہاں طاق و رواق اور در و بام ہیں باقی\n\nدرشن کے جھروکے کی پڑی تھی یہیں بنیاد\nہوتی تھی تلا دان میں کیا کیا دہش و داد\nوہ عدل کی زنجیر ہوئی تھی یہیں ایجاد\nجو سمع شہنشاہ میں پہنچاتی تھی فریاد\nوہ نورجہاں اور جہانگیر کی افتاد\nاس کاخ‌‌ ہمایوں کو بہ‌‌تفصیل ہے سب یاد\n\nہر چند کہ بیکار یہ تعمیر پڑی ہے\nقدر اس کی مورخ کی نگاہوں میں بڑی ہے\n\nوہ دور ہے باقی نہ وہ ایام و ایالی\nجو واقعہ حسی تھا سو ہے آج خیالی\nہر کوشک و ایوان ہر اک منزل عالی\nعبرت سے ہے پر اور مکینوں سے ہے خالی\n\nیہ جملہ محلات جو سنسان پڑے ہیں\nپتھر کا کلیجہ کیے حیران کھڑے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%84%D8%B9%DB%82_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"} {"title": "قلندر کی پہچان", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "کہتا ہے زمانے سے یہ درویشِ جواں مرد\nجاتا ہے جِدھر بندۂ حق، تُو بھی اُدھر جا!\nہنگامے ہیں میرے تری طاقت سے زیادہ\nبچتا ہوا بُنگاہِ قلندر سے گزر جا\nمیں کشتی و ملّاح کا محتاج نہ ہوں گا\nچڑھتا ہوا دریا ہے اگر تُو تو اُتر جا\nتوڑا نہیں جادُو مری تکبیر نے تیرا؟\nہے تجھ میں مُکر جانے کی جُرأت تو مُکر جا!\nمہر و مہ و انجم کا محاسِب ہے قلندر\nایّام کا مَرکب نہیں، راکِب ہے قلندر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%84%D9%86%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%DB%81%DA%86%D8%A7%D9%86"} {"title": "قمر کی وہ خورشید تصویر ہے", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قمر کی وہ خورشید تصویر ہے\nگلے میں ستاروں کی زنجیر ہے\n\nکہاں پائے جاناں کہاں میرا سر\nیہ طالع یہ قسمت یہ تقدیر ہے\n\nخفا آپ سے آپ ہوتے ہو کیوں\nبتا دو جو کچھ میری تقصیر ہے\n\nنہ کھولو خط اس کا دھڑکتا ہے دل\nخدا جانے کیا اس میں تحریر ہے\n\nنمایاں ہے قوس قزح ابر میں\nمسی پر لکھوٹے کی تحریر ہے\n\nمناسب ہے کچھ کھا کے مر جاؤ برقؔ\nیہی درد فرقت کی تدبیر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "قواعد میر/ادب کلام", "poet_page": "مصنف:عشرت لکھنوی", "kind": "prose", "section": "قواعد میر", "year": null, "text_ur": "اَدب کلام\n\nنظم ہو یا نثر سب میں ادب کلام کی ضرورت ہے۔ تمام زبانیں اسی وجہ سے علمی بن جاتی ہیں کہ ان کا ادب کلام عام ہوجاتا ہے۔ ادب کلام یہ ہے کہ واضعین زبان کی پیروی کی جائے اور اُن کے نقش قدم پر چل کر زبان کی ایک مستند شاہ راہ بنائی جائے، جو حدود مقررہ سے باہر قدم نکالے وہ نامقبول ٹھہرایا جائے۔ اسی طرح پیروی کرتے کرتے ہر جگہ ایک زبان ہوجاتی ہے اور جو لوگ اس کے خلاف لفظ استعمال کرتے ہیں ان کی زبان پایۂ اعتبار سے ساقط ہو جاتی ہے۔ دہلی اور لکھنؤ جو اُردو زبان کے مستند شہر ہیں وہاں بھی ایسے خدا کے بندے ہیں جو عام بول چال کے خلاف غلط الفاظ بولتے ہیں جن کو فصحائے زبان قبول نہیں کرتے۔ اس سے ان کا شمار عوام میں ہے اور ان کی تقلید روا نہیں۔ بہت لوگ تخت کو تَخَت، سخت کو سَخَت، تسبیح کو تسبی، بیگانہ کو بگانہ، دیوانہ کو دوانہ، دیوار کو دیوال، ہے کو ہیگا بولتے ہیں۔ اسی طرح بعض مرکب جملے جیسے “شب لیلۃ القدر”، “للہ کے واسطے” وغیرہ وغیرہ بولتے ہیں۔ اسی طرح اطراف ہند میں خلاف محاورہ لکھنؤ و دہلی محاورات کا ستعمال کرتے ہیں جیسے “مجھ سے کہا” کی جگہ بعض لوگ “مجھ کو کہا” بول جاتے ہیں یا جیسے “اس کے بعد کہا”کی جگہ“اس کے بعد میں کہا” بولتے ہیں، “مجھے آنا” کی جگہ “میں نے آنا” اور “مجھے” کی جگہ “میرے کو” اور “مجھ کو” کے بدلے “میرے تئیں” اور “سے”کی جگہ “کر” جیسے “اس وجہ کر میرا آنا نہیں ہوا” یعنی “اس وجہ سے میرا آنا نہیں ہوا”۔ بعض لوگ موصوف کو محذوف کر کے صرف صفت کا استعمال کر جاتے ہیں۔جیسے “کل سے میری لڑکی کی طبیعت بدمزہ ہے” اس میں بد مزہ صفت اور طبیعت موصوف ہے اس کو اس طرح بولتے ہیں “کل سے میری لڑکی بدمزہ ہے” اور بعض متعدی جملے کو لازم بنا کر بولتے ہیں جیسے “میں نے کیا ہے” کو “میں کیا ہوں”۔ بعض مرکب مصادر ایسے ہیں جو خلاف صلہ مستعمل ہونے لگے ہیں اور اطراف و جوانب میں اس کا خراب اثر ایسا پھیلتا جاتا ہے جیسے بنا لینا، اٹھا لینا، چُن لینا، سُن لینا فصیح ہیں اور بکثرت بولے جاتے ہیں؛ اسی بنیاد پر بعض لوگوں نے “دے لینا”بھی بنا لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں “ٹوپی سر پر دے لو” یعنی پہن لو، یہ غلط ہے۔ اور اسی طرح پا لینا بھی لوگ بولنے لگے یہ بھی غلط ہے۔ بعض پہننا کو پہرنا بولتے ہیں اور جاگتے کو جگتے اور دکھائی دینا کی جگہ دِکھتا بولتے ہیں جیسے “مجھے دکھائی نہیں دیتا” اس کو کہتے ہیں“مجھے دکھتا نہیں” اور “ادا کرنا” کو “ادا لینا”اور پکڑنا کی جگہ“جا لینا” جیسے “میں نے اس کو جا لیا” یعنی پکڑلیا اور کبھی چلے جانا کی جگہ بھی جیسے “جلدی کیا ہے، جا لینا”۔ اسی طرح بعض خلاف تلفظ اُردوئے معلیٰ مؤنث کے واحد کو جمع نہیں کرتے اور بجائے جمع بول جاتے ہیں جیسے “میرے پاس چارکتاب رکھی ہیں” یہ غلط ہے۔ یوں کہنا چاہیے “میرے پاس چار کتابیں رکھی ہیں”۔ اسی طرح ماہ صیام میں شب کو اٹھ کر جو کھانا کھاتے اور پانی پیتے ہیں اُسے “سحری کھانا” بولتے ہیں مگر اطراف میں “سحری کرنا” بولنے لگے۔\n\nایک سخت خرابی یہ بھی ہے کہ جو لوگ محاورات و اصطلاحات زبان اردو میں وقوف نہیں رکھتے لیکن زبان عربی و فارسی کے ماہر ہیں اردو میں فارسی عربی کے غیر مانوس الفاظ بترکیب اضافات کثیرہ آمیز کر کے اس کی اصلی خوبیوں کو مِٹا رہے ہیں، اس سبب سے غریب اردو کے چہرے پر بدنما دھبہ آنے کا خوف ہے جیسے شذرات، احساسات، اضاعت مالی۔\n\nاسی طرح جملوں میں بھی ایسی بھونڈی زبان بولی جاتی ہے جو ادب کلام کو برباد کرتی ہے اور صرف نحو کی ہڈی پسلی ٹوٹ جاتی ہے۔ یعنی اسم کی جگہ فعل اور فعل کی جگہ فاعل اور فاعل کی جگہ مفعول اور مفعول کی جگہ حرف استعمال ہوتا ہے جیسے “پس تحقیق کہ آیا ہے بیچ اس آیۂ شریفہ کی تفسیر میں کہ معمول داؤد کا تھا یہ”، ایسے جملے زبان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ زبان سنسکرت کے غیر متعارفہ الفاظ شامل کرتے ہیں جن کے بولنے اور سمجھنے میں دماغ اور زبان کو سخت تکلیف پہنچتی ہے یہ سب ادب کلام کے خلاف ہے۔\n\nبعض لوگ اضافت کی جگہ علامت مفعول بو ل جاتے ہیں جیسے “اس کو دور کا ارادہ ہے”، یہ بھی غلط ہے اس طرح بولنا چاہیے “اس کا دور کا ارادہ ہے” یا اس طرح سے “میں رکھ دیا ہوں” یعنی “میں نے رکھ دیا ہے” کی جگہ بولتے ہیں۔ اسی طرح “مان لیں گے” کی جگہ “مان لیویں گے”، اسی طرح تتلی کو تتری، گھینگا کو گھیگا، مچھلی کو مچھی، گتھی کو گلچھتی، ایک کو ایک ٹھو بولتے ہیں؛ یہ سب واجب الصحت ہیں اور بعض لوگ اسمائے صفت کو ترکیب دے کر غلط اسم فاعل بنا لیتے ہیں لال والا، کالا والا، سفید والا یہ بالکل غلط اور ناجائز ہے۔ بعض شعرا بھی اردو زبان کی عدم واقفیت کے سبب سے اردو فارسی الفاظ اور کثیر اضافتیں و حروف زوائد فارسی و حروف منادی لا کر خلاف طرز میرزایان دہلی نظم کے دائرے میں قدم رکھ جاتے ہیں جو قابل احتیاط ہے جیسے فارسی کے مصدر اردو میں معنی مصدری کے ساتھ استعمال کیے جاتے ہیں۔\n\nرفتن، گفتن کا استعمال اور از، در، بر کا استعمال جو مخصوص حرف ربط فارسی ہیں اور ہندی مخلوط یا کو تلفظ میں لانا ناجائز ہے جیسے پیار کو پَیار بفتح بولنا یانظم کرنا یانون ترکیبی کو بہ اعلان نظم کرنا یا بولنا جیسے دلِ ناتواں، تن بے جاں وغیرہ وغیرہ۔یا عربی لفظ کو فارسی لفظ کے ساتھ ترکیب دے کر اور اضافت فارسی کو برقرار رکھ کر بولنا جیسے “آفتاب بالکسوف” و “مہتاب بالخسوف”، لیکن بعض باتیں خلاف رسم کتابت بھی شعرا نے جائز کر لی ہیں اور قدما فصحا مرزایان دہلی بھی جائز رکھتے ہیں جیسے قافیہ ھ کا ساتھ الف کے جب لفظ مفرد ہو مرکب نہو، مژہ کو مژا لکھ کر جفا کے ساتھ ہم قافیہ کر سکتے ہیں یا الف مقصورہ عربی جو بشکل یا لکھا جاتاہے جیسے موسیٰ، عیسیٰ، دعویٰ کو موسا، عیسا، دعوا لکھ کر شیدا کے قافیے میں لا سکتے ہیں۔\n\nبعض نے اصول مفروضہ شاعری سے انحراف کر کے الگ قدم رکھنا شروع کیا ہے۔ لباس تشبیہ و استعارہ کی آڑ میں تکرار اضافت کر کے الفاظ قبیح و تشبیہ خلاف عقل سلیم کو نظم کیاہے، اس روش سے احتیاط لازم ہے۔ جیسے تلوار کی تعریف میں کہا گیا ہے ؏\n\nاٹھتے اٹھتے پرِ جبریل پہ منھ ڈال دیا\n\nناظم کا مطلب یہ ہے کہ تلوار نے پر جبریل پر منھ ڈال دیا۔مگر ایسا درست نہیں ہے اس لیے کہ “منھ ڈالنا” محاورہ ہے اور وہ ذی روح کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح بول سکتے ہیں کہ بلی نے پتیلی میں منھ ڈال دیا، لیکن اس طرح نہیں کہہ سکتے کہ چمچے نے پیالے میں منھ ڈال دیا۔\n\nنوک مژہ پہ اشکِ صباحت نظام ہے\n\nسونٹے پہ آبنوس کے چاندی کی شام ہے\n\nمعشوق کی مژہ کو آبنوس کے سونٹے سے تشبیہ دینا خلاف عقل سلیم ہے۔\n\nرنج درباں سے چھٹے احسان جسمِ راز کے\n\nاکبری دروازے ہیں روزن تری دیوار کے\n\nروزن دیوار کو اکبری دروازے سے تشبیہ دینا خلاف تہذیب زبان ہے۔\n\nسر میں پھپوند لگ گئی آنکھوں کی سیل سے\n\nیہ ضرور ہے کہ سیل یعنی نمی سے پھپوند لگ جاتی ہے مگر بال سفید ہونے کو پھپوند سے نسبت دینا اور اُس کو آنکھوں کی سیل کا سبب ٹھہرانا خلاف مذاق سلیم ہے۔\n\nمیرے دلِ شکستہ پہ رکھنا تھا تم کو ہاتھ\n\nٹوٹے ہوئے مکاں میں اَڑانا ضرور تھا\n\nمعشوق کے ہاتھ کو مکان کا اَڑانا کہنا خلاف ادب کلا م ہے۔\n\nدیکھو نزاکت ان کی کہ دَھروا کے آئینہ\n\nلگواتے ہیں ضماد مہاسے کے عکس پر\n\nمہاسے کے عکس پر ضماد لگانا خلاف عقل بات ہے یا اسی قسم کے چند اشعار:\n\nچَھرّہ چلا فلک پہ بُت خانہ جنگ کا\n\nچھوٹا ہے نیل گاؤ پہ کُتا تفنگ کا\n\nایضاً:\n\nخط کترنے میں ہے مَلتا عارض گلفام کو\n\nبام کی کھونٹی میں لٹکا دو سرِ حجّام کو\n\nایضاً:\n\nپیٹوں سر سُن کر جو گانا اس بُتِ بے پیر کا\n\nدائرہ بجنے لگے حرفِ خطِ تقدیر کا\n\nایضاً:\n\nمرغ جاں پھاڑے گی بلی آپ کے دروازے کی\n\nرختِ تن کو کاٹے گا چوہا تمھاری ناک کا\n\nظاہر ہے کہ دروازے کی بلی اس کھٹکے کو کہتے ہیں جو دروازے کے اندر لگا ہوتا ہے اور اس سے دروازہ بند کرتے ہیں۔اُس بلی کا مرغ جاں کو پھاڑنا استعارۂ کثیف ہے جو خلاف عقل ہے اور ناک کے چوہے کا جو محض ایک میل ہے اسے جاندار تصور کر کے استعارہ بنانااور اس کا رخت تن کو کاٹنا توہم بیجا ہے۔\n\nوہ جامہ زیب دہریہ بالا بلند ہے\n\nپیجامہ جس کو چاہیے ہاتھی کے تھان کا\n\nیعنی معشوق ایسا لمبا ہے کہ اس کو ہاتھی کے تھان کا پیجامہ چاہیے یعنی بہت لمبا۔اصل حقیقت یہ ہے کہ ہاتھی تھان ایک کپڑا ہوتا ہے جس پر ہاتھی کی تصویر بنی ہوتی ہے۔ پس ایسے استعارے خلاف تلفظ روزمرہ ہیں اس سے احتیاط چاہیے ورنہ شعرپایۂ اعتبار سے ساقط ہو جائے گا۔ فقط", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1/%D8%A7%D8%AF%D8%A8_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "قواعد میر/اسم صفت", "poet_page": "مصنف:عشرت لکھنوی", "kind": "prose", "section": "قواعد میر", "year": null, "text_ur": "اسم صفت\n\nاسم صفت وہ اسم ہے جس سے کسی چیز کی اچھائی یا برائی معلوم ہو، جوبغیر موصوف کے اپنے معنی نہ بتا سکے اور جزوِ موصوف ہو۔ اسم صفت حقیقت میں اسم کی پوری پوری تعریف میں نہیں آتا یعنی نہ وہ مستقل اسم ہے نہ بغیر دوسرے اسم کے ملائے ہوئےاپنے معنی بتا سکتاہے۔ خود نہ مؤنث ہے نہ مذکر، دوسرے اسم سے مل کر مذکر یا مؤنث بن جاتا ہے۔\n\nاسم تشبیہ اور اسم صفت میں فرق یہ ہے کہ صفت اپنے موصوف کی ذات کا جزو بن کر آتی ہے اور تشبیہ اپنے مشبہ کی ذات سے کوئی تعلق ذاتی نہیں رکھتی۔ تشبیہ اور صفت میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ تشبیہ کے ساتھ چند حروف مقررہ بھی آتے ہیں اور اسم صفت اور موصوف کے ساتھ کوئی حرف نہیں آتا جیسے کالا آدمی، کالی عورت۔ ان کو اس لیے صفت کہا کہ موصوف کا رنگ سیاہ ہے اور تشبیہ میں ایک قسم کی نسبت ہوتی ہے جیسے تمھارے بال سنبل کی طرح پریشان ہیں، یعنی بالوں کو سنبل سے کوئی ذاتی تعلق نہیں ہے، صرف صورت پریشانی ایکساں ہے۔\n\nشہ نے پھاڑا ہے گریبانِ قبا گُل کی طرح\n\nاس میں گریبانِ قبا حقیقت میں گُل نہیں ہے مگر صورت ظاہری میں گل کے مانند معلوم ہوتا ہے۔ یعنی تعلق ذاتی کا نام صفت اور تعلق فرضی کا نام تشبیہ ہے۔\n\nہے سپر کاندھے پہ یا شب ہے سحر کے پیچھے\n\nیا کوئی ابر کا ٹکڑا ہے قمر کے پیچھے\n\nاس میں سپر کو باعتبار سیاہی کے شب سے مثال دی، حقیقت میں سپر شب نہیں ہے بلکہ مانند شب ہے اس سے معلوم ہوا کہ سپر کو شب سے کوئی تعلق ذاتی نہیں ہے۔ دوسرے مصرع میں ابر کا ٹکڑا سپر کو کہا،یہ بھی تعلق ذاتی نہیں ہے تعلق فرضی ہے یعنی حقیقت میں سپر ابر کا ٹکڑا نہیں ہے، بلکہ جو صفت ابر کے ٹکڑے میں ہے وہ سپر میں بھی ہے یعنی سیاہی، حقیقت میں یہ دونوں موصوف ایک صفت کے ہیں، یعنی سیاہ کے۔\n\nیا جیسے کہیں کہ تم تو بچوں کے مانند روتے ہو، تم عورتوں کی طرح ڈرتے ہو، یہ امرود بعینہ سیب معلوم ہوتا ہے، یہ بندر تو ایسا اُچکتا ہے جیسے لنگور، یہ آدمی ہے یا حیوان۔\n\nاسم تشبیہ اور صفت کے جملے میں یہ فرق بھی ہے کہ اس میں تشبیہ کے دونوں اسم کبھی مذکر یا مؤنث ہوتے ہیں۔ مگر اسم صفت کے جملے میں تذکیر یا تانیث موصوف کی صفت کو بھی قبول کرنا پڑتی ہے کیونکہ اسم صفت نہ مذکر ہے نہ مؤنث جیسے پرانا مکان، پرانی چھت۔ اس میں پرانا اور پرانی اپنے اپنے موصوف یعنی چھت اور مکان کے تابع ہیں اور جز و ہیں اپنے موصوف کے۔\n\nقاعدہ: اسم صفت اردو میں کئی طرح استعمال ہوتا ہے یعنی اگر اسم صفت اور موصوف دونوں ہندی ہیں تو بے اضافت جیسے اندھا آدمی، اندھی عورت۔ اس میں اسم صفت ایسا ہے جس کے آخر میں بحالت تذکیر الف ہے اور وہ موصوف مؤنث کے ہمراہ یائے معروف سے بدل کر آتا ہے، جیسے اُجلا کپڑا، اُجلی دری، میلا گھر، میلی کوٹھری؛ اسی طرح پیلا، کالا، نیلا، اچھا یہ صورت خاص ہندی الفاظ کے لیے ہے۔\n\nدوسرے وہ ہندی الفاظ جن کے آخر مذکر میں الف نہیں ہے وہ مذکر مؤنث اسم موصوف کے ساتھ نہیں بدلتے جیسے کُند چُھری، کند چاقو، لال کبوتر،لا ل مرغی۔\n\nقاعدہ: بعضے اسم صفت عربی فارسی کے ایسے ہیں جو مذکر موصوف کے ساتھ یائے مصدری لگا کر لائے جاتے ہیں اور مؤنث کے ساتھ تانیث کا نون جیسے خبطی مرد، خبطن عورت؛ بعض میں یائے فاعلی لگا کر تذکیر و تانیث موصوف کے ساتھ بولتے ہیں آفتی مرد، آفتی عورت۔ بعض مؤنث ذی روح کے لیے مخصوص ہیں جیسے خیلا عورت، چربانگ دیدہ عورت۔ بعض اسم صفت فعل سے فاعل سماعی بنا لیے جاتے ہیں جیسے رونا لڑکا، رونی لڑکی یعنی رونے والا، جھگڑالو لڑکا، جھگڑالو لڑکی۔\n\nقاعدہ: بعض اسم نکرہ میں یائے مصدری لگا کر اسم صفت بنائے جاتے ہیں، جیسے جنگی سپاہی، فوجی سوار۔ بعض اسمائے نکرہ ہند ی میں (یلی) لگا کر اسم صفت مؤنث بنا لیتے ہیں جیسے پتھریلی زمین۔\n\nقاعدہ: اگر صفت موصوف دونوں ہندی ہیں تو صفت کا پہلے آنا اچھا ہے جیسے کالا آدمی جا رہا تھا،اندھا بیل کنویں میں گر پڑا۔ لیکن بعض اسمائے صفت موصوف کے بعد اچھے معلوم ہوتے ہیں جیسے ہزاری مل بڑا سوم ہے۔ اس میں سوم اسم صفت ہے لیکن اپنے موسوم کے بعد آیا۔\n\nاگر اسم صفت فارسی اسم موصوف ہندی ہے تو بھی صفت پہلے آئے گی سیاہ مرچ، سرخ مرچ، بہادر آدمی، آبدار موتی۔ اگر اسم صفت ہندی ہے اور موصوف فارسی جب بھی صفت پہلے آئے گی، اُس نے ہولے ہولے اپنے کلوں پر تماچے مارے۔ اس میں ہولے ہولے صفت ہے تماچے موصوف ہیں۔\n\nقاعدہ: جب اسم صفت کے آخر میں بحالت تذکیر الف ہوتا ہے اور موصوف کو جمع بولنا منظور ہوتا ہے تو اُسے یائے مجہول سے بدل دیتے ہیں جیسے ڈھیلے کرتے، کالے کبوتر؛ اور بحالت تانیث کالی کبوتری۔ لیکن صفت کی جمع مؤنث نہیں آتی، اس حالت میں موصوف کو جمع کرتے ہیں، کالی کبوتریاں۔\n\nقاعدہ: جب صفت موصوف دونوں فارسی یا ایک فارسی ایک عربی ہو تو اُ س حالت میں صفت آخر میں آئے گی اور موصوف کو اضافت دے دیں گے جیسے ابر سیاہ، رخت کہنہ، شمشیر عریاں، مردم بیمار۔ اس حالت میں صفت کا پہلے بولنا اور فکِّ اضافت کرنا خلاف فصاحت ہے۔\n\nقاعدہ: اردو میں بھی جب صفت کو مضاف الیہ بناتے ہیں جب بھی موصوف کو آخر میں لاتے ہیں جیسے دل کا میلا آدمی، آنکھ کی اندھی عورت۔\n\nدوست دشمن اسمائے صفت ہیں ان کی تذکیر مضمر رہتی ہے۔ اس لیے میرا دوست، میرا دشمن، بولتے ہیں لیکن جب تذکیر و تانیث معلو م ہو تو تا بع بولا جاتا ہے، جیسے وہ عورت میری دشمن ہے، وہ مرد میرا دشمن ہے۔\n\n== حاصل صفت ==\nعربی فارسی اسم صفت میں جس کے آخر الف یا ہائے مخفی نہیں ہے یائے مصدری لگا کر حاصل صفت بنا لیتے ہیں جیسے روشن، دشمن، بزرگ، سفید، سیاہ، عریاں، سیر، شوخ، بیکار، لازم، درکار، ضرور۔ ان کا حاصل صفت روشنی، دشمنی، بزرگی، سفیدی، سیاہی، عریانی، سیری، شوخی، بیکاری، لازمی، درکاری، ضروری آتا ہے۔\n\nعربی کے اسم فاعل میں جبکہ وہ اردو میں اسم صفت ہوتے ہیں (تائے) تانیث لگانے سے حاصل صفت بن جا تے ہیں جیسے قانع ہادی سے قناعت اور ہدایت ارد و میں حاصل صفت ہیں۔ کبھی (یت) اضافہ کر کے حاصل صفت بنا لیتے ہیں جیسے واقفیت، کاہلیت، جاہلیت حاصل صفت ہیں۔\n\nبعض لوگ اسی طرح فارسی کے حاصل صفت پر (ے) زیادہ کر کے بے قاعدہ حاصل صفت بنا لیتے ہیں جیسے دیر جو حاصل صفت اور مؤنث ہے اس کو دیری کہتے ہیں، یہ غلط ہے۔\n\nبعض اسمائے صفت حاصل صفت کی تصریف قبول نہیں کرتے جیسے عبث، محض۔ بڑا اسم صفت ہے اس کی حاصل صفت بڑائی آتی ہے۔\n\nقاعدہ: حاصل مصدر اور حاصل صفت میں فرق یہ ہے کہ حاصل مصدر ہمیشہ مصدر سے معنی مصدری کے لحاظ سے بنایا جاتا ہے اور کبھی مذکر کبھی مؤنث آتا ہے۔ لیکن حاصل صفت ہمیشہ اسم صفت سے بنایا جاتا ہے اور وہ ہمیشہ مؤنث بولا جاتا ہے۔\n\nنیل فارسی اسم نکرہ ہے فارسی والے (ی) زیادہ کر کے صفت مؤنث اور مذکر کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔\n\nلیکن اردو میں اس کا دوسرا قاعدہ ہے وہ نیلا کو اسم صفت مذکر بنا کر نیلی کو اسم صفت مؤنث بناتے ہیں اور اس کا حاصل صفت نِلاہٹ بولتے ہیں۔ اسی طرح گرم سے گرما ہٹ، نرم سے نرماہٹ بنا لیتے ہیں۔\n\nاکثر اسمائے صفت ایسے ہیں جو تذکیر و تانیث کے لیے تصریف قبول نہیں کرتے جیسے نرم، گرم ان کا حاصل صفت اگر اردو کے قاعدے سے آتا ہے تو وہ لازمی مؤنث ہوتا ہے۔\n\nبعض فارسی کے اسم مفعول جو اردو میں بجائے اسم صفت آتے ہیں اور جن کے آخر میں (ہ) ہوتی ہے،حرف آخر گراکر (گی) زیادہ کر کے حاصل صفت بنا لیتے ہیں جیسے پوشیدہ، پسندیدہ، آلودہ سے پوشیدگی، پسندیدگی، آلودگی۔\n\nخاص اردو میں اسم صفت کی تصریف کا قاعدہ یہ ہے کہ اسم صفت ایک ہندی لفظ سے بنایا جاتا ہے جیسے میٹھ جو ہندی لفظ ہے اس کا اردو اسم صفت واحد تذکیر کے لیے میٹھا، جمع تذکیر کے لیے میٹھے، مؤنث واحد کے لیے میٹھی لیکن جمع مؤنث اسم صفت کی نہیں آتی اس لیے جمع مؤنث میٹھیاں جو قدما بولتے تھے، حال کے فصحا نے ترک کر دیں۔ اس کا حاصل صفت مٹھاس ہے اس کی جمع نہیں آتی۔\n\nاردو میں حاصل صفت کئی قاعدے سے بناتے ہیں جیسے کھٹا اسم صفت ہے اس کی حاصل صفت کھٹاس۔ کالا اسم صفت ہے، اس کی حاصل صفت کالک ہے۔ پھیکا اسم صفت ہے، اس کی حاصل صفت پھکاس ہے۔ لال اسم صفت ہے، اس کی حاصل صفت لالی ہے۔ اردو میں حاصل صفت کی جمع بھی نہیں آتی۔ مٹھائی کو حاصل صفت سمجھنا غلطی ہے۔ اردو میں اسم نکرہ مؤنث ہے اور اس کی جمع مٹھائیاں بھی آتی ہے۔ چاہت حاصل صفت نہیں ہے حاصل مصدر ہے اس لیے کہ یہ چاہنامصدر سے بنایا گیا ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1/%D8%A7%D8%B3%D9%85_%D8%B5%D9%81%D8%AA"} {"title": "قواعد میر/تذکیر و تانیث", "poet_page": "مصنف:عشرت لکھنوی", "kind": "prose", "section": "قواعد میر", "year": null, "text_ur": "تذکیر و تانیث\n\nمذکر و مؤنث اسما کی دو قسمیں ہیں: حقیقی اور غیر حقیقی۔ ذی روح اسمائے حقیقی ہیں، ان میں نر مذکر اور مادہ مؤنث ہے۔\n\nقاعدہ: جس اسم ذی روح کے آخر میں الف ہے وہ مذکر ہے جیسے کوّا، بگلا، کچھوا، طوطا، جھینگا، مینڈھا، دُنبا، نیولا، بچہ، کھوپرا، تیندوا، بُھجنگا، بھٹیارا، سقا، لڑکا، دولھا، دادا، چچا، پھوپا، ابا، ابلقا، چڑا، بیٹا، باوا، سسرا، دادا، نانا، گھوڑا، گدھا، بکرا، چیتا، اندھا، کانا، بوچا، لنگڑا، لولا، کتا، بھینسا۔ اس قاعدے سے اَما، مینا، اَنا، ماما مستثنیٰ ہیں۔\n\nقاعدہ:جس اسم ذی روح کے آخر میں (یا) ہو مؤنث ہے جیسےبندریا، چڑیا،کتیا، گھوڑیا، بٹیا۔ اس قاعدے سے بھیڑیا، بنیا اور تمام اسم فاعل جعلیا، فریبیا وغیرہ مستثنیٰ ہیں۔\n\nقاعدہ: جس اسم کے آخر میں (ر) ہو اکثر مذکر ہوتا ہے جیسے کبوتر، چکور، مور، تیتر، مار، شیر، لنگور۔ اس قاعدے سےبٹیر مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ مذکر مؤنث دونوں طرح بولا جاتا ہے۔\n\nقاعدہ: جن کےآخر میں (نی) ہے وہ اسمائے ذی روح مؤنث ہیں جیسے ہتھنی، نٹنی، ڈومنی، اونٹنی، شیرنی، مغلانی، شیخانی، اومتانی، سورنی، نانی، ممانی، مہترانی، کمھارنی، مرزانی، برہمنی، چمارنی، سقنی، رانی، کھترانی، باہمنی، مُلّانی۔\n\nقاعدہ:جس مذکر ذی روح کے آخر میں الف ہوتا ہے اس الف کو یائے معروف سے بدل کر مؤنث بنا لیتے ہیں بشرطیکہ الف کے ما قبل (ی) نہو جیسے بکرا بکری، گھوڑا گھوڑی، چھوکرا چھوکری، لونڈا لونڈی، بیٹا بیٹی، لڑکا لڑکی، کوا کوی، سالا سالی، بھیڑا بھیڑی، پدا پدی، پھوپھا پھوپھی، نانا نانی، دادا دادی، گدھا گدھی، طوطا طوطی، مکھا مکھی، مکڑا مکڑی، چیونٹا چیونٹی، چچا چچی۔ اس قاعدے سے چیتا، شکرا، چڑا، کتا، مینڈھا، جھینگا، بھجنگا، بگلا مستثنیٰ ہیں۔ جس ذی روح کے آخر میں یائے معروف ہے وہ مؤنث ہے جیسے مکھی، تتلی، ٹڈی، مماکی، مکڑی، چیونٹی، کمھاری، بلی، لڑکی، بیٹی، پھپی۔ وہ سب مؤنث ہیں مگر ہاتھی، گندھی، دھوبی، نائی، قصائی، مولوی، ساقی، حاجی، بھائی اس سے مستثنیٰ ہیں۔\n\nاسمائے ذی روح ناطق میں نر مذکر اور مادہ مؤنث ہے لیکن ذی روح غیر ناطق میں کبھی مذکر مؤنث میں فرق نہیں ہوتا جیسے لال نر و مادہ دونوں کو مذکر بولتے ہیں، چیل نر و مادہ دونوں کو مؤنث بولتے ہیں۔\n\n== اسمائے غیر حقیقی ==\nمذکر و مؤنث غیر حقیقی وہ اسما ہیں جو ذی روح نہوں اور فرضی طور پر اہل زبان نے ان کو مذکر و مؤنث مان لیا ہو۔غیر حقیقی اسما کی دو قسمیں ہیں: ایک تو وہ کہ جس میں حروف مقررہ اہل زبان پائے جاتے ہیں یا قانون اور قیاس کے تحت میں ہیں ان کو قیاسی کہتے ہیں۔جیسے توا مذکر ہے اس لیے کہ اس میں حرف الف حروف مقررہ تذکیر موجود ہے، ہانڈی مؤنث ہے اس لیے کہ اس میں حرف یائے معروف حروف مقررہ تانیث موجود ہے۔ دوسرے وہ الفاظ جو اپنے قاعدے کے خلاف مستعمل ہوں جیسے موتی، پانی، دہی کہ یائے معروف موجود ہے لیکن مذکر بولے جاتے ہیں یا وہ الفاظ جن پر کوئی قیاس اور قانون لازم نہ آتا ہو صرف استعمال اہل زبان کی پابندی کی جاتی ہو جیسے برف مؤنث ہے اس میں کوئی حرف تذکیر و تانیث کامقررہ نہیں ہے، محض استعمال فصحا سے اس کو مؤنث تسلیم کر لیا ہے ان کو سماعی کہتے ہیں۔\n\nتمام حروف مفرد جو دو حرفی ہیں مؤنث ہیں اور جو سہ حرفی ہیں مذکر ہیں یہ قاعدہ مسلمہ مرزایان دہلی کا ہے۔ جیسے (بے، تے، ٹے، چے، رے، زے، طو، ظو، فے، ہے) یہ مؤنث ہیں۔ الف، جیم، دال، ڈال، ذال، سین، شین، صاد، ضاد، عین، غین، قاف، کاف، لام، میم، نون، واؤ، ہمزہ اور حروف مخلوطہ ہندی جھا، چھا، گھا وغیرہ مذکر ہیں۔\n\nقاعدہ: تمام افعال نہ مذکر ہیں نہ مؤنث بلکہ وہ تابع ہیں اپنے فاعل کے جیسے عورت آئی، مرد آیا۔\n\nقاعدہ:اسمائے صفت نہ مذکر ہیں نہ مؤنث بلکہ وہ تابع ہیں اپنے فاعل اور مفعول کے جیسے کالا بادل، نیلی بوتل۔ اور کبھی اسم صفت بدلتا ہی نہیں جیسے لال چڑیا، لال کمل۔ فارسی کا اسم صفت بھی نہیں بدلتا جیسے سفید کتا، سفید بلی، سیاہ ٹوپی، سیاہ بادل۔ عربی کے اسمائے صفت کبھی تذکیر و تانیث کا اثر نہیں قبول کرتے، جزوِ موصوف بن جاتے ہیں۔ عربی فارسی کے اسم تفضیل تذکیر تانیث میں اپنے مفعول کے تابع ہوتے ہیں جیسے وہ عورت مردوں سے افضل تھی، آم املی سے خوشتر تھا۔ باقی اسم صفت ہے اس کو مفعول مذکر کے ساتھ مذکر اور مفعول مؤنث کے ساتھ مؤنث بولتے ہیں میری اشرفیاں باقی ہیں، میرا روپیہ باقی ہے۔کبھی رقم کو محذوف مضمر رکھ کر بولتے ہیں میری باقی ادا کردو، اس حساب میں کتنی باقی گری، میرا تم پر کیا باقی ہے۔ کبھی ظاہر کر دیتے ہیں ایک پیسہ باقی نہ بچا، ایک کوڑی باقی نہ بچی۔\n\nقاعدہ: اسم عدد نہ مذکر ہے نہ مؤنث، وہ تذکیر و تانیث میں اپنے معدود کا تابع ہے۔پانچ روٹیاں پکی تھیں، ایک آم آیا تھا۔ اسی طرح تخصیص کے موقع پر بھی بولتے ہیں۔ پانچویں سطر، چوتھی آیت، چھٹا صفحہ یا چھٹواں صفحہ۔\n\nقاعدہ:اسم حالیہ اپنے موسوم کا تابع ہوتا ہے۔ کتا دم ہلاتا ہوا سامنے آیا، بلی روتی ہوئی جاتی تھی۔\n\nقاعدہ:اسم مفعول اپنے موسوم کا تابع ہوتا ہے۔ایک شیر بھاگا ہوا آیا، کتے کی کھائی ہوئی روٹی وہ نہ کھائے گا۔ شیر مذکر ہے اس لیے بھاگا ہوا کہا، روٹی مؤنث ہے اس لیے کھائی ہوئی کہا۔\n\nفارسی کا اسم مفعول تذکیر و تانیث کا اثر بھی نہیں قبول کرتا۔ جوشیدہ دوا پی، جوشیدہ پانی پیا۔ عربی کا اسم مفعول اثر قبول کرتا ہے۔ مقتول مرد کی لاش ملی، مقتولہ عورت کی لاش نہیں ملی۔ مرحومہ، مقتولہ، مسدودہ مؤنث کے لیے اور مرحوم، مقتول، مسدود مذکر کے لیے آتا ہے۔\n\nقاعدہ: اسم فاعل خود نہ مذکر ہے نہ مونث، اپنے موسوم کا تابع ہے۔ کہنے والا آدمی کہتا تھا، کہنے والی عورت کہتی تھی، بھونکنے والا کتا چلا گیا، بجنے والی ڈھولک ٹوٹ گئی۔ فارسی کے اسم فاعل اتنا اثر بھی نہیں قبول کرتے۔ اس خط کی نویسندہ ایک عورت تھی، اس خط کا نویسندہ ایک مرد تھا۔ عربی کے اسم فاعل تابع ہیں۔ قاتلہ عورت کا پتہ لگ گیا، قاتل مرد کا پتہ لگ گیا۔\n\nقاعدہ: تمام وہ ہندی اسما جو غیر ذی روح ہیں اور جن کے آخر میں الف ہے، مذکر ہیں بشرطیکہ ماقبل الف (ے) نہو جیسے اولا، انڈا، ڈنڈا، پونڈا، گنّا، پنڈا۔\n\nقاعدہ:تمام وہ ہندی اسما جو غیر ذی روح ہیں اور جن کے آخر میں یا ہے اور وہ امالہ قبول نہیں کرتے مؤنث ہیں جیسے چندیا، چھالیا، لُٹیا، ہَنڈیا، ٹھلیا، ڈلیا، لیّا۔\n\nقاعدہ:تمام وہ ہندی اسمائے غیر ذی روح جن کے آخر میں یا ہے اور وہ امالہ قبول کرتے ہیں مذکر ہیں جیسے پہیا، موتیا۔\n\nقاعدہ: وہ سب غیر ذی روح اسما جن کے آخر میں یا ئے معروف ہو، مؤنث ہیں جیسے رضائی، روئی، روشنی، دری، ڈلی، کنگھی، چوٹی، پٹی، دھوتی، لُنگی، ڈوئی، سوئی، جوہی۔ مگر دہی، موتی، پانی، جی، گھی اس قاعدے سے مستثنیٰ ہیں۔\n\nقاعدہ: تمام وہ ہندی فارسی عربی الفاظ جن کے آخر میں الف یا ہائے ہوز ہو اور جو غیر ذی روح ہوں اور امالہ قبول کرتے ہوں سب بہ اتفاق مذکر ہیں اس کلیہ سے مستثنیٰ ایک لفظ بھی نہیں ہے۔ جیسے روپیہ، پیسہ، پنجہ، نیچہ، شوربا، حادثہ، اکھاڑا، اندھا، ڈھٹیارا، شعلہ، بہرا، جملہ۔\n\nقاعدہ: فارسی اور عربی کے وہ اسما جو غیر ذی روح ہیں اور جن کے آخر میں الف ہے، امالہ نہیں قبول کرتے ان میں اکثر چہار حرفی مذکر ہیں اور سہ حرفی مؤنث ہیں جیسے دریا، صحرا مذکر ہیں اور وفا، ضیا، رضا، حنا، جفا، قضا، دعا مؤنث۔\n\nقاعدہ: وہ غیر ذی روح اسمائے عربی، فارسی، ہندی جو عزت، لیاقت، گت، معاملت کے قافیہ پر آتے ہیں سب مؤنث ہیں جیسے چھت، شوکت، گت، معاملت، لیکن خلعت، شربت، ست مستثنیٰ ہیں۔\n\n== جملوں کی تذکیر و تانیث کا بیان ==\nقاعدہ: فعل لازم میں فاعل کے لحاظ سے تذکیر و تانیث آتی ہے۔ جیسے عورت آئی، مرد گیا۔ مصرع؎\n\nکس لیے ٹھوکریں کھانے کو قیامت آئی\n\nمصرع؎\n\nکھا کے تیغ نگہ یار دلِ زار گرا\n\nقیامت مؤنث ہے اس لیے آئی کہا، گرنا فعل لازم ہے۔ دل فاعل مذکر ہے اس لیے گرا کہا کہ تذکیر فاعل ظاہر ہو۔\n\nقاعدہ: جب فاعل متعدی مع علامت ہے اور اُس کے ساتھ مفعول بھی ہے اور علامت مفعول نہیں ہے تو تذکیر و تانیث بلحاظ مفعول آئے گی۔ ظفر نے ایک نارنگی کھائی، ہُرمُزی نے اپنا کان پکڑا۔ اور اگر فاعل نہو جب بھی بہ لحاظ مفعول تذکیر و تانیث آئے گی۔ لاکھوں روپیہ آتش بازی میں پھونک دیا، ایک کوڑی خدا کی راہ میں نہ دی۔\n\nقاعدہ: اگر فاعل متعدی مع علامت ہے اور مفعول نہیں ہے تو تذکیر و تانیث کا کچھ لحاظ نہیں کیا جائے گا۔ عورت نے کہا، مرد نے کہا۔متعدی مجہول میں مفعول کا لحاظ تذکیر و تانیث میں کیا جاتا ہے۔ احمد گرفتار کیا گیا، زینت بیگم بھگا دی گئی، لونڈی کو مار پڑی۔ جب کبھی مفعول کو فاعل بنا لیتے ہیں تو اس کی تذکیر و تانیث کا لحاظ کرتے ہیں:\n\nایک آنسو نہ ترا اے بتِ خونخوار گرا\n\nجملے میں آنسو مفعول تھا، فعل کے ساتھ وہی فاعل لازم بنا اس لیے آنسو نہ گرا کہا کہ گرنا کا فاعل آنسو تھا۔ جب جملے میں علامت مفعول آتی ہے تو تذکیر و تانیث کا لحاظ نہیں کیا جاتا جیسے روٹی کو پھیک دیا، لونڈی کو مارا، آدمی کو بلایا۔\n\nاور جب علامت نہیں آتی تو تذکیر و تانیث کا لحاظ بہ اعتبار مفعول کیا جاتا ہے۔ روٹی پھیک دی، لونڈی پٹی، آبرو خاک میں ملی۔\n\nقاعدہ: ترکیب اضافی میں مضاف کے لحاظ سے تذکیر و تانیث آئے گی جیسے مٹی کا بندر، گیہوں کی روٹی، میرا بیٹا، میری بیٹی، ایک ملاح کا چھوکرا، خط کی رسید، مچل کے بیٹھ گئی اور بھی صدا میری، تاج محل کا روضہ، عدالتوں کی مہریں۔\n\nقاعدہ: صفت کے جملے موصوف کے لحاظ سے تذکیر و تانیث آتی ہے۔ کھٹا نیبو، میٹھی نارنگی، کالا کمل، نیلی دری، ٹوٹی ہوئی چارپائی، پکا آم۔ کبھی موصوف محذوف بھی ہوتا ہے جیسے بے پر کی اڑاتے ہو۔ اس میں موصوف چڑیا مضمر ہے یعنی بے پر کی چڑیا اڑاتے ہو۔ محاورے میں اس کے معنی یہ ہیں کہ بے تکی بات کہتے ہو۔\n\nقاعدہ: جملے میں اگر مضاف درمضاف ہے، جب بھی ہر ایک مضاف کے لحاظ سے تذکیر وتانیث الگ الگ آئے گی جیسے تمھاری ممانی کی نواسی کا مکان تیار ہے۔\n\nقاعدہ: ترکیب اضافی فارسی میں بھی اسم کی تذکیر و تانیث مضاف کے لحاظ سے آئے گی۔ ہنگامۂ محشر بپا تھا، قطرۂ آب میسر نہ تھا۔\n\nمجرئی خاتمۂ لشکرِ شبیر ہوا\nچشمِ حیرت زدہ ہر حلقۂ زنجیر ہوا\nہٹتی ہے جس سے آتشِ دوزخ ہزار کوس\nپھر مغفرت پناہ نہ کیوں ہو خطابِ اشک\n\nبزم عزا بپا تھی، چشم امید جاتی رہی۔\n\nاگر اضافت توصیفی فارسی ہے تو موصوف کے لحاظ سے تذکیر و تانیث آئے گی۔ تیغ ظلم چل رہی ہے؎\n\nلباسِ سرخ پہنا اُس حسیں نے\n\nاس میں لباس مذکر ہے، اس لیے پہنا کہا۔\n\nاگر مفعول میں ترکیب اضافی ہے تو بھی تذکیر و تانیث مضاف کے لحاظ سے آئے گی جیسے میں نے اس کی مدد کی، اس میں مدد مضاف ہے اس لیے علامت تانیث آئی۔ اگر مفعول ترکیب اضافی نہیں رکھتا اور علامت مفعول بھی نہیں ہے اور فعل اسم مؤنث سے بنایا گیا ہے توتذکیر و تانیث مفعول کے لحاظ سے آئے گی جیسے میں نے ملک فتح کیا، اس میں فتح مؤنث ہے جس میں فعل مرکب کیا گیا ہے اور مفعول ملک مذکر ہے لہذا مفعول کے لحاظ سے علامت تذکیر آئی، میں نے مکان تعمیر کیا۔ ا س میں تعمیر مؤنث ہے جس سے فعل مرکب کیا گیا ہے، مکان مذکر ہے اس لیے علامت تذکیر آئی۔\n\nقاعدہ: ہم کا لفظ صیغۂ جمع متکلم میں آتا ہے اور تعظیماً واحد متکلم کے ساتھ بھی بولتے ہیں۔ جب ایسا صیغہ مستعمل ہو تو امتیاز تذکیر و تانیث نہیں کیا جاتا اور دونوں حالتوں میں ایک ہی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ عورتوں نے کہا ہم آتے ہیں، لڑکوں نے کہا ہم سبق یاد کرتے ہیں۔\n\nقاعدہ: اگر دو اسم ذی روح ناطق ہیں ایک مؤنث ایک مذکر اس صورت میں فعل کی تذکیر و تانیث مذکر کے لحاظ سے آئے گی۔جب گھر میں میاں بی بی آئے تو کھانا پکا، دولھن دولھا چوتھی کھیل رہے تھے، ماں باپ خوش تھے، لیکن لونڈی غلام تو اپنے مالک کی خدمت کرتے ہیں۔\n\nاگر ذی روح کے درمیان حرف عطف اور اسم عدد ہے تو تذکیر و تانیث اسم آخر کے لحاظ سے لی جائے گی، ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ اگر حرف عطف نہیں ہے تو بھی اسم آخر کا لحاظ کیا جائے گا، پانچ بیٹیاں ایک لڑکا تھا۔ اگر دونوں کے لیے ایک صفت بیان کی گئی اور دونوں شریک صفت ہیں تو علامت تذکیر و تانیث جمع ہو کربلحاظ تذکیر آئے گی، ایک بیٹا اور ایک بیٹی تو پکی عمر کے ہیں۔\n\nقاعدہ: اگر اسم مذکر مؤنث میں ایک جمع ہے توتذکیر تانیث بلحاظ اسم آخر آئے گی، ایک لڑکا اور سات بیٹیاں خدا نے دی تھیں۔\n\nاگر اسم غیر ذی روح ہے تو تذکیر و تانیث بلحاظ اسم آخر آئے گی امرود اور نارنگی کھائی، دال چاول پکائے۔ گوشت روٹی کھائی۔ اگر اسم ذی روح غیر ناطق ہیں تو ان کی تذکیر و تانیث بلحاظ اسم آخر آئے گی، بیل بکری بندھی ہے، مرغ مرغی بند کی، بلی بندر کھل گیا۔\n\nقاعدہ: مصدرمرکب جو ایک اسم اور ایک ہندی مصدر سے بنائے جاتے ہیں تذکیر و تانیث میں اپنے مفعول اور فاعل کے تابع ہوتے ہیں۔ احمد تحریر کرنے لگا، محمود تقریر کرنے لگا۔ یہ صورت فاعلی ہے۔ منشی نے کتاب تحریر کی، لڑکی نے سبق شروع کیا۔یہ صورت مفعولی ہے۔\n\nمگر عرض کرنا اور گزارش کرنا کا استعمال دونوں طرح آتا ہے یعنی عرض کرنا کو جب مصدر مرکب بنا لیتے ہیں اور کہنا کے معنی پر بولتے ہیں تو کہتے ہیں، میں نے عرض کیا، میں نے گزارش کیا اور جب کرنا کو مصدر تصور کرتے ہیں اور مؤنث کو مفعول مؤنث تو عرض کی اور گزارش کی بولتے ہیں۔ لیکن جب ان کے ساتھ کوئی اسم ہوتا ہے تو ان دونوں کو فعل مرکب بنا کر مذکر ومؤنث بولنا لازم آتا ہے۔ جیسے میں نے ایک بات عرض کی، میں نے ایک جملہ گزارش کیا۔ قیاس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرض اور گزارش کو اسم مؤنث خیال کرکے مفعول بنا کر محض کرناکو فعل قرار دے کر لوگ اس طرح بولنے لگے۔\n\nاگر جملے میں اسم مذکر ہے تو فعل کو اُس کی اطاعت اظہار تذکیر میں اس طرح کرنا ہوگی کہ صیغے اور علامت صیغے میں اس کا اثر پایا جائے جیسے سوداگر آیا ہے۔ اس میں آیا مذکر واحد ہے اور ہے بھی واحد ہے۔گھوڑے آئے ہیں، اس میں اسم جمع ہے اس لیے آئے جمع مذکر ہے اور ہیں بھی جمع ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ واحد مذکر کے ساتھ صیغے کے سب اجزا واحد بولے جاتے ہیں اور جمع مذکر کے ساتھ تمام اجزا جمع مذکر بولے جاتے ہیں دروازے پر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، دو خط پڑے ہوئے تھے۔ لیکن اسم مؤنث ہے تو بحالتِ واحد فعل کے سب اجزا اس کے تابع رہیں گے اور بحالت جمع فقط علامت پر اس کی اطاعت لازمی ہوگی اور اگر علامت نہ ہوگی تو صیغے کو اثر قبو ل کرنا پڑے گا جیسے بلی آئی ہے۔ اس میں بلی اسم واحد مؤنث ہے، آئی ماضی مؤنث واحد ہے، علامت ماضی قریب واحد ہے۔ بلیاں آئی ہیں، اس میں بلیاں جمع مؤنث ہے۔ آئی ماضی مؤنث صیغۂ واحد ہے، ہیں علامت جمع ماضی قریب۔ بلّیاں آئیں، اس میں بلّیاں جمع مؤنث ہے، فعل میں کوئی علامت ثانی نہیں ہے اس لیے صیغے کو جمع مؤنث بنا لیا۔ تو کیا آپا تم بڑے بھائی کے لیے رو رہی تھیں؟ نعیمہ نے اس وقت اپنے تئیں ایسا بنا لیا گویا دیر سے پڑی سوتی ہے، یہ باتیں ذہن میں بھی نہیں آئیں۔\n\nقاعدہ: اسم مصدر کی علامت یائے معروف سے بدل کر فصحائے دہلی بولتے ہیں اور مصدر کو بجائے فعل استعمال کرتے ہیں۔ جیسے روٹی کھانی تھی، بازار سے ایک لُٹیا لانی ہوگی، تم کو مکھی مارنی پڑے گی، نیند آنی دشوار ہے۔ لیکن فصحائے لکھنؤ کہتے ہیں کہ مصدر اسم مذکر ہے اور کوئی مذکر اسم یائے تانیث کی تصریف قبول نہیں کرتا اس لیے ان کا استعمال اس طرح ہے: روٹی کھانا تھی، بازار سے ایک لُٹیا لانا ہوگی، تم کو مکھی مارنا پڑے گی، نیندآنا دشوار ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1/%D8%AA%D8%B0%DA%A9%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%AB"} {"title": "قواعد میر/جمع کا بیان", "poet_page": "مصنف:عشرت لکھنوی", "kind": "prose", "section": "قواعد میر", "year": null, "text_ur": "جمع کا بیان\n\nاُردو میں جمع کے قاعدے عربی فارسی وغیرہ سے الگ ہیں اور بہت با اصول ہیں۔\n\nقاعدہ: فارسی کا وہ لفظ جس کا بدل اُردو میں موجود ہے اس کو مُفرد بغیر ترکیب اضافی اردو میں نہیں بولتے جیسے “چشم دندان گوش”۔ ان کی جمع بقاعدۂ اُردو ناجائز اور غیر فصیح ہے۔ جیسے :\n\nچشموں سے چل کےچوم لوں تربت حسین کی\n\nاب چشموں، گوشوں، دندانوں نہیں بولتے۔\n\nقاعدہ: جس اسم پر حرف جر عربی فارسی ہو اُس کو بھی بقاعدۂ ہندی جمع نہیں کرتے جیسے حقیقت اسم ہے، اس کی جمع حقیقتیں بولتے ہیں لیکن فی الحقیقت، در حقیقت، فی الجملہ کو در حقیقتیں، فی الحقیقتیں، فی الجملوں بولنا ناجائز ہے۔\n\nقاعدہ: فارسی عطف و اضافت کی حالت میں اسم ہے تو اس کو بقاعدۂ ہندی جمع نہیں کر سکتے جیسے بارِ محبت کو بارِ محبتوں، رنج و غم کو رنج و غموں نہیں بولتے۔ ہاں اُردو اضافت اور حذف حرف عطف کر کے بولنا جائز ہے جیسے محبتوں کا بار اور رنج و غموں، یا رنج و غموں سے حالت تباہ ہے۔ اور اگر دو اسم ایسے ہیں جو بعد فک اضافت مستعمل ہیں ان کو جمع ہندی بنانا جائز ہے۔ جیسے صاحبدلوں نے کہا۔\n\nاسم مفعول ترکیبی کو اردو میں بقاعدۂ ہندی جمع کرنا جائز ہے جیسے خدا شناس، تعلیم یافتہ، سند یافتہ، دل باختہ، ستم رسیدہ۔ ان کو تعلیم یافتوں، سند یافتوں، دل باختوں، ستم رسیدوں بول سکتے ہیں۔اگر اسم صفت غیر اضافی ہے تو بقاعدۂ ہندی اسے جمع کر سکتے ہیں جیسے نیک دل، پاک نفس، نیک نہاد کو نیک دلوں، پاک نفسوں، نیک نہادوں لکھنا جائز ہے۔\n\n(بے) اور (نا) دونوں حرف نفی ہیں، جن اسما پر یہ دونوں آتے ہیں اُن پر ترکیب فارسی کا اثر قائم نہیں رہتا اس لیے کہ (بے اور نا) ہندی لفظوں پر بھی لگا لیے جاتے ہیں اور یہ حرف حکم ہندی کا رکھتے ہیں جیسے بے خود اور ناتواں۔ قاعدہ یہی چاہتا تھا کہ ایسی لفظوں کی جمع بقاعدۂ فارسی آتی اور بقاعدۂ ہندی نہ آتی مگر (بے اور نا) حکم ہندی کا رکھتے ہیں۔ کیونکہ اصل میں سنسکرت ہے اور یہ دونوں حرف اسمائے ہندی پر مستعمل ہیں جیسے بے باپ کا بچہ، ناسمجھ۔ اس لیے ایسی فارسی اور عربی لفظوں پر اُردو کا حکم جاری ہے جیسے بیخودوں اور ناتوانوں۔\n\nقاعدہ: کوئی لفظ فارسی ہو، عربی ہو، اردو ہو، انگریزی ہو، مذکر ہو یا مؤنث جمع کی حالت میں جب ان پر حروف روابط کا، کو، سے، تک، میں، نے، کے، پر آئیں گے تو ان کی جمع ون سے آئے گی جیسے وہ میری نظروں سے پوشیدہ ہوگیا، ہاتھیوں پرامیر سوار تھے، باوفاؤں سے ذرا آنکھ ملاؤ تو سہی، پھر ہوئی چونے والیوں کی دھوم، امیروں کی سفارش اہل دنیا کو مبارک ہو، باغ کی نہروں میں پانی دو۔\n\nان مثالوں سے یہ معلوم ہوا کہ جس اسم کے بعد حرف ربط آئے گا تو اس کی جمع واؤ نون سے ضرور آئے گی۔ لیکن بعض اسما ایسے ہیں جن کی جمع واؤ نون سے بغیر حرف ربط ما بعد کے بھی آتی ہے اگر وہ اسم اسمِ ظرف ہو جیسے ‘تیغ کے گھاٹوں اتارا چاہیے’۔\n\nیا اسم فاعل: دکھلا کے مانگ گیسوؤں والا نکل گیا۔\n\nیا اسم ظرف زمان: برسوں خبر نہ لی، راتوں رات، مدتوں سفر میں رہا، گھنٹوں رویا کیا۔\n\nیا اسم عدد: ساتوں پریاں گانے لگیں، پانچوں بھائی خوش خوش تھے۔\n\nمذکر اسم کے آخر میں الف یا ہ ہے تو جمع کرتے وقت حرف آخر گرا دیا جائے گا جیسے اندھا سے اندھوں، گلدستہ سے گلدستوں۔ نِدا کی حالت میں جمع صرف واؤ سے آتی ہے دوستو، لڑکیو۔ وہ مذکر اسما جن کے آخر الف یا ہ ہے اور وہ یائے مجہول سے امالہ قبول کرتے ہیں اور ان کے ما بعد حرف ربط نہیں ہے تو جمع کی حالت میں بھی وہ یائےمجہول سے بدل دیے جائیں گے۔ سب کے سب انگوچھے لیے ہوئے گنگا گھاٹ پر اشنان کو آئے، میدان میں لڑکے کھیل رہے تھے۔ اس کے سوا اور کوئی قاعدہ مذکر اسما کے جمع کا نہیں ہے۔\n\nقاعدہ: وہ اسما جن کے آخر میں الف یا ہ ہے اور وہ امالہ قبول نہیں کرتے اور وہ مذکر اسما جن کے آخر میں الف یا ہ نہیں ہے تو اردو میں ان کے لیے کوئی حرف جمع کا نہیں ہے، ان کا مفرد بجائے جمع مستعمل ہوگا لیکن جملے میں افعال سے ان کی جمع معلوم ہوگی۔ گاہک آتے جاتے تھے، دکاندار بیٹھے تھے، دریا بہتے تھے، ہولناک صحرا نظر آئے۔ گاہک اور دکاندار مفرد اسم ہے لیکن فعل جمع آیا ہے اس لیے کہ اسما بجائے جمع مستعمل ہوئے ہیں۔\n\nایک قاعدہ مذکر الفاظ کی جمع کا اور بھی ہے۔ یعنی اگر چاہیں تو عربی الفاظ کو بحالت مفرد بقاعدۂ عربی جمع کر کے لکھیں یا مفرد کو بحالت جمع استعمال کریں، دونوں صورتیں جائز ہیں۔ جیسے شریف منکسرمزاج ہوتے ہیں۔ اس کو اس طرح بھی بول سکتے ہیں کہ “شرفا منکسر مزاج ہوتے ہیں”۔ صاحب کمال نہیں چھپتے، ان کے وقت بند ھے ہوئے ہیں اس کو اس طرح بھی بول سکتے ہیں “ان کے اوقات بندھے ہوئے ہیں”۔\n\nلیکن اگر لفظ مذکر مفرد فارسی ہے تو اُس کو مفرد بمعنی جمع استعمال کریں گے اس کو بقاعدۂ فارسی جمع کرکے بولنا جائز ہے۔ جیسے تمھارے دماغ نہیں ملتے، مہمان آرہے ہیں۔ ایک صورت اظہار جمع کی مذکر الفاظ کے لیے اور بھی ہےیعنی کچھ الفاظ مقرر ہیں جو جمع کا کام دیتے ہیں یہ اسم عدد ہیں۔ جیسے سب آدمی بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے، چند سیب سامنے رکھے تھے، کچھ آم تراشے جاتے تھے، اکثر مہذب ہنسی کے مارے لوٹے جاتے تھے، بعض یار دوست کہتے ہیں۔ بعض مواقع پر ایسا ہوتا ہے کہ صرف اسم عدد سے اظہار جمع کر دیتے ہیں فعل نہیں بدلتے۔ دو چار آم لاؤ، دو ایک سیب کھاؤ۔\n\nقاعدہ: بعض اسم مذکر ایسے ہیں جن کا واحد نہیں ہے، وہ ہمیشہ جمع بولے جاتے ہیں جیسے لوگ، مردم۔\n\nقاعدہ: جس اسم مونث کے آخر میں (ی) ہے اس کی جمع الف نون سے آئے گی:\n\nخاص بردار سب وضیع و شریف\n\nوردیاں زیب تن عجیب و لطیف\n\nچرخیاں اور انار داغ دیے، ہاتھ مَلواتی ہیں حوروں کو تمھاری چوڑیاں، طاقچوں میں ہیرے کی گلابیاں رکھی تھیں۔ اردو کا حاصل صفت جس کے آخر میں ی ہے اسی قاعدے سے جمع ہوتا ہے۔ جیسے بے قرار اسم صفت ہے، بے قراری حاصل صفت ہے۔ اس کی جمع بے قراریاں بولتے ہیں جیسے “وہ آکے دیکھتے ہیں بےقراریاں میری”۔ اسی طرح اور بھی حاصل صفت جیسے سختیاں، کمبختیاں، شوخیاں، بدمعاشیاں، مکاریاں۔\n\nبعض اس قاعدے کے موافق اسم صفت ہندی کو جس میں آخر میں (ی) ہوتی ہے جمع کر لیتے ہیں جیسے گوریاں، سنہریاں، بھاریاں۔\n\nبیڑیاں منت کی بھی پہنیں تو میں نے بھاریاں\nچاندنی راتیں یکایک ہوگئیں اندھیاریاں\n\nقدما فعل مؤنث کوبھی اسی طرح جمع کر لیتے تھے، جیسے ڈالیاں بے شمار قطار قطار ہر طرف رکھیاں تھیں۔ یہ سب بین الفصحا ناجائز ہیں۔ اسم مؤنث کے آخر میں الف یا ہ ہے تو اس کی جمع (ئیں) سے آئے گی جیسے جفائیں، دوائیں، مائیں۔ خالہ سے خالائیں، قُطامہ سے قُطامائیں۔ لیکن جس کے آخر میں ی اور الف ہے اُس کی جمع صرف نون سے آئے گی۔ جیسے چڑیا، کتیا، لُٹیا، ڈلیا، گھوڑیا، بٹیا، بُڑھیا، گڑیا، پُڑیا، کُلھیا، اسے چڑیاں، کتیاں، لُٹیاں، ڈلیاں، گھوڑیاں، بٹیاں، بڑھیاں، گڑیاں، پڑیاں، کلھیاں۔\n\nقاعدہ: جن مؤنث اسما کے آخر میں الف اور یا نہیں ہے ان کی جمع (ین)سے آئے گی جیسے پلٹیں صورتِ صفِ مژگاں، لالٹینیں ہزارہا روشن، کروٹیں بدلا کیا، سنہری رو پہلی چقیں، پردہ نشین عورتیں۔ لیکن عربی فارسی دو حرفی الفاظ کی جمع اس قاعدے سے نہیں آتی جیسے شے،مے،قے۔ اس کی جمع شیئیں، میئیں، قیئیں ناجائز ہے۔ فارسی قاعدے سے اردو میں مفرد الفاظ کو جمع کرنے کا دستور قدما میں بہت تھا مگر آج کل نہیں بولتے “رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم چاہیے”، “رہ گزر میں دفن کرنا اے عزیزاں تم مجھے”، “اے کودکاں ابھی تو ہے فصل بہار دور”، “کیا نفاق انگیز ہمجنساں ہوائے دہر ہے”۔ لیکن فارسی اضافت اور عطف کے ساتھ بولنا جائز ہے جیسے سفر میں یارانِ وطن یاد آتے ہیں۔ بندگاں، سکندرشاں، داغِ عزیزاں۔\n\nقاعدہ: جمع عربی کے مفرد الفاظ اردو میں مستعمل ہیں۔ شائقین، طالبین، عقائد، خیالات، معاصرین، اقربا، حکام، غربا، کتب۔ اسی طرح تثنیہ بھی مستعمل ہیں جیسے والدین، حسنین، تمھارے عقائد اچھے نہیں ہیں، ہمارے معاصرین کیا فرماتے ہیں، حکام کی دوستی اچھی نہیں، شائقین ملاحظہ فرمائیں، خیالات میں فرق آگیا، غربا کی پرورش لازم ہے۔بعض ناواقفی سے عربی کی جمع کو بقاعدۂ اردو جمع بناتے ہیں، یہ غلط ہے۔ شائقینوں کے لیے مفت ہے، حکاموں کی ملاقات کو جایا کرتا ہوں، اپنے خیالاتوں کو ظاہر کرتا ہوں، غرباؤں سے اُنس ہے۔ یہ سب غیر فصیح ہیں لیکن بعض عربی جمع کے الفاظ اردو میں بجائے واحد بولے جاتے ہیں ان کی جمع اردو جائز ہے جیسے اولاد سے اولادیں۔ بعض اردو الفاظ کو بقاعدۂ عربی جمع بنا لیتے ہیں جیسے بنگلہ جات، کھاتہ جات، کوٹھیات اور اسی طرح فارسی الفاظ کو بھی جیسے علاقہ جات،کارخانہ جات، یہ بھی ناجائز ہے؛ ان کو بنگلے، کوٹھیاں، علاقے، کارخانے لکھنا چاہیے۔\n\nقاعدہ: کنواں اور دھواں کی جمع مذکورۂ بالا قاعدوں کے خلاف آتی ہے، کنوئیں اور دھوئیں؛ اسی طرح آنکھ کی جمع انکھڑیاں او ر درد اگرچہ مذکر ہے اس کی جمع دردیں مؤنث بولی جاتی ہے۔ اس کا استعمال دردزہ کے معنی پر مختص ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1/%D8%AC%D9%85%D8%B9_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86"} {"title": "قواعد میر/دیباچہ", "poet_page": "مصنف:عشرت لکھنوی", "kind": "prose", "section": "قواعد میر", "year": null, "text_ur": "دیباچہ\n\nاُردو زبان کے سنوارنے میں بہت سے اُمرا غربا آمادہ نظر آتے ہیں، ہندوستان میں بہت سی انجمنیں قائم ہو گئی ہیں؛ لیکن کام کرنے والوں کی ناواقفی اور لاعلمی اصول زبان سے ان کی ادبی خدمت بجائے نفع، نقصان پہنچا رہی ہے۔ لطف یہ ہے کہ ایسے لوگ اساتذہ ثقات دہلی و لکھنؤ سے زبان کی خدمت کے بارے میں نہ کوئی مدد لیتے ہیں نہ مشورہ کرتے ہیں، نہ زبان کو باقاعدہ حاصل کرتے ہیں۔ بعض اس زعم ناقص میں کہ ان کو اس کام کے انجام کے لیے ریاستوں اور پبلک سے خاطر خواہ دولت مل رہی ہے خوب دل کھول کر زبان کی گردن پرچُھری پھیر رہے ہیں۔ آج کل اُمرا میں جوہر شناسی مفقود ہے اس لیے انتخا ب میں غلطی ہوجانا ممکن ہے۔ ابھی ہم گورنمنٹ کے صیغۂ تعلیم کو اُردو کی غلط خدمت کا الزام دے رہے تھے کہ سر پر اور ایک تازہ مصیبت آ پڑی یعنی ہمارے ملکی بھائیوں نے خود اپنا قدم جادۂ زبان سے الگ رکھنا شروع کیا اور رفتہ رفتہ ان لوگوں کے ہاتھوں زبان کی شیرینی، فصاحت اور لطافت کا خاتمہ ہونے لگا۔ یہ ہم نہیں کہتے ہیں کہ خدانخواستہ ان کو زبان سے دشمنی ہے یا ایسا فعل یہ جان کر کرتے ہیں۔\n\nغریب اہلِ پنجاب اُردو زبان کے زبردست حامی اور معین ہیں۔ بہت سی کتابیں دوسری زبانوں سے اُردو میں ترجمہ کیں، بہت سے اخبار جاری کیے مگر ان لوگوں نے نہ زبان کو باقاعدہ حاصل کیا اور نہ کبھی اپنی غلطیوں کی اصلاح کی کوشش کی اور نہ ان کے پاس کوئی ایسی کتاب تھی جس سے اپنی غلطیوں کو محسوس کر سکتے۔ تیسری آفت یہ پیش آئی کہ بعض ناواقفان اصول زبان نے اُردو ہندی کے جھگڑے کو اُبھار کر ہندوؤں کو اُردو زبان سے بددل کر دیا۔\n\nغرض تمام اُردو کی خدمت کرنے والے غلط راستے پر چلنے لگے اور بعض نے امرا اور رؤساءِ ہند کو اپنا پشت پناہ پا کر خصوصیات زبان کو ایک غیر ضروری چیز سمجھ لیا۔ جب ایسی ایسی کمزوریوں کے سبب سے ان کی ادبی خدمت نامقبول ہوئی تو ہٹ اور ضد میں آکر اور ناکامیابی سے کھسیانے ہوکر لکھنؤ کا بائکاٹ کرنے لگےاور ان کے ساتھ ہندوستان کی نااہل زبان جماعت شریک ہو کر کام کرنے لگی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اُردو کی ابتدا دہلی میں ہوئی، مگر چند روز کے بعد دہلی مٹی اور ایسی مٹی کہ دہلی کے تمام سرمایۂ ناز شاعر اور قلعہ معلیٰ کے شہزادے اور اعیان دولت دہلی کوخیر باد کہہ کر نواب آصف الدولہ بہادر کے سایۂ عاطفت میں آ بسے اور ایک مدت میں لکھنؤ کو دہلی بنا دیا۔ ممکن تھا کہ شاہانِ اودھ کے بعد لکھنؤ بھی مٹ جاتا اور ا س سے بھی زبان اُردو کی خدمت چھین لی جاتی مگر شاہان اودھ نے اپنے بعد بھی لکھنؤ کی سرسبزی کا کامل بندوبست کردیا تھا یعنی اپنے خاندان اور اپنے متوسلین اور اعیان دولت اور شہزادگان دہلی کی پرورش کے قابل بیش بہا وثیقہ مقرر کر دیاتھا جو ان کو نسلاً بعد نسل ملا کرے گا اور مشہور ہے کہ نواب بہو بیگم صاحبہ نے تو اپنے دھوبی اور بہشتی کی بھی تنخواہ نسلاً بعد نسل مقرر کر دی جو اب تک ملتی ہے۔ تخمیناً پانچ لاکھ روپیہ ماہوار وثیقہ لکھنؤ میں اب تک مقرر ہے۔ اس سبب سے لکھنؤ کے شرفا اور ثقات طبقے کو لکھنؤ سے باہر نکلنے کی اب تک ضرورت پیش نہیں آئی۔ اسی وجہ سے لکھنؤ اپنے ادبی وقار کو اب تک قائم رکھے ہوئے ہے اور یہاں کے اہل وثائق اپنے شہر سے باہر نکلنا گناہ سمجھتے ہیں۔ جو بنیاد ہندوستانی زبان کی ہندوستان کے مقدس بادشاہوں نے رکھی تھی اہل لکھنؤ اس کی پوری پابندی کرتے ہیں۔ مخالفین اس کی پائیداری اور دلکشی دیکھ کر سرِ ادب خم کرتے ہیں اور گو زبان سے نہو مگر صدق دل سے اس بات کا اقرار کرنا پڑتا ہے کہ بے شک لکھنؤ زبان کا دار السلطنت ہے۔\n\nاُردو ہندی کا جھگڑا تو فضول ہے، اس لیے اول تو فی نفسہ ایک ہی زبان کےلوگوں نے دو نام رکھ لیے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ہندی کی ترقی اردو کی ترقی کو مانع نہیں ہے اور اصل میں اردو ہندی کی بنیاد پر قائم ہے۔\n\nلوگوں میں سخت غلطی پیدا ہوگئی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں جب ہم ہندوستان کے کسی گوشے میں پیدا ہوئے ہیں تو اُردو ہماری مادری زبان ہے (حالانکہ ایسا نہیں ہے ہندوستان میں سیکڑوں زبانیں بولی جاتی تھیں اور ان سب کا عطر اردو ہے)، جس طرح ہم بولیں وہی صحیح اور فصیح ہے اور جس محاورے کوہمارا جی چاہے بنالیں؛ اس خیال پر عمل کرنے سے اُردو علمی زبان نہیں بن سکتی اور وہ اپنے اصلی مرکز یعنی دہلی ولکھنؤ کی تقلید سے الگ ہو کر مٹ جائے گی اور اندیشہ ہے کہ ہندوستان کے ہر شہر اور قصبے کی زبان الگ الگ ہوجائے گی۔ ایک دوسرے کی زبان سمجھنے میں قاصر رہے گا اور تمام ہندوستان جاہلیت کی زندگی بسر کرےگا کیونکہ زبان بغیر ایک مرکز کے ہرگز ترقی نہیں کر سکتی۔ اگر ہر شہر کا مجتہد اپنا اپنا اجتہاد قائم کرے تو یہ اختلاف زبان کے برباد کرنے کو کافی ہے۔ اُردو کے روشن چہرے پر ایسا بدنما داغ آتے دیکھ کر مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں ملک کا حاکم نہ تھا کہ تحفظ زبان کا کوئی سخت قانون نافذ کرتا، نہ اس کے لیے جہاد واجب تھاکہ تلوار کھینچ کر اُٹھ کھڑا ہوتا، اور افہام و تفہیم کو وہ لوگ کیوں قبول کرتے جن کو اس مخالفت کی برکت سے فوائد حاصل ہو رہے تھے۔\n\nخدا کے فضل سے لکھنؤ اس وقت زبان کا دار السلطنت ہے اور یہاں کے مستند ثقات اپنے وسیع معلومات سے اُردو دنیا پر حکومت کر رہے ہیں۔ بیرونی جو یہاں آتے ہیں انھیں کے فیض صحبت سے کچھ پا جاتے ہیں۔ اگر سب مل کر چاہیں تو اس غلط فہمی کا انسداد اچھی طرح ہوسکتا ہے۔ میں بیچارہ کس شمار و قطار میں ہوں جو مخالفین زبان سے مقابلہ کر سکوں مگر دل میں اُردو زبان کی محبت ہے اس لیے میرے پاس جو ٹوٹے پھوٹے چند زنگ آلود اسلحہ تھے اُنھیں سے مسلح ہو کر حفاظت زبان کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا۔\n\nوہ اسلحہ چند جواہرریزے ہیں جو مجھے ملک الشعرا حضرت میر تقی میرؔ مرحوم دہلوی سے سینہ بسینہ ملے ہیں جن کی روئداد یہ ہے کہ میر دہلوی جب دہلی سے لکھنؤ تشریف لائے تو ان کے ساتھ ان کی نازک مزاجی بھی آئی۔ اس مزاج کا ناز بردارکون ہو سکتا تھا مگر ایک وصف ایسا تھا جس سے نواب آصف الدولہ بہادر جیسا جلیل القدر فیاض بھی تنک مزاجیاں اُٹھاتا تھا وہ ان کی زباں دانی تھی۔ جو لوگ ان سے نفرت رکھتے تھےوہ بھی ان کی زبان محاورے فصاحت کے غلام تھے۔ نہ ان کے پاس دنیا کی دولت تھی نہ جاہ و حشم تھا مگر صرف وہ زبان کے بادشاہ تھے اس لیے دنیا ان کی عزت کرتی تھی۔ شاگردوں کایہ عالم تھا کہ میر پر پروانہ تھےاس کا سبب یہ تھا کہ زبان کے اصول قواعد و ضوابط جیسے میر مرحوم جانتے تھے کوئی نہیں جانتا تھا اور یہ علم ان کو اپنے ماموں سراج الدین خاں آرزو سے ملا تھا۔ میر صاحب نہایت ضعیف ہوئے تو ایک روز اپنے فرزند میر محمد عسکری عرف میر کلو عرش سے فرمانے لگےبیٹا ہمارے پاس مال و متاع دنیا سے تو کوئی چیز نہیں ہے جو آئندہ تمھارے کام آئے لیکن ہمارا سرمایۂ ناز قانون زبان ہےجس پر ہماری زندگی اور عزت کا دار ومدار رہا جس نے ہم کو خاک مذلت سے آسمان شہرت پر پہنچا دیا۔ اس دولت کے آگے ہم سلطنت عالم کو ہیچ سمجھتے رہے۔ تم کو بھی اپنے ترکے میں یہی دولت دیتے ہیں، تم اس کو اپنے سینے میں محفوظ رکھو اور اپنی اولاد یا اپنےکسی شاگرد رشید کو تعلیم کر دینا۔ خدا جانےان قواعدمیں کیا استغنا بھرا ہوا تھاکہ جس کو حاصل ہوتے تھے نازک دماغ اور مُدمغ بنا دیتے تھے۔ چنانچہ جناب عرش کی ملاقات کوجب مولوی محمد حسین آزاد مرحوم لکھنؤ میں تشریف لائے تو انھوں نے اپنی نازک مزاجی سے ہمکلام ہونا بھی پسند نہ کیا اور وہ غریب عرش سے ناخوش گئے اور ان کی بدمزاجی کی شکایت لکھی۔\n\nعرش کے شاگردوں میں سب سے اچھا کہنے والے اُستاد پرست جناب شیخ محمد جان شاد مرحوم تھے جو عمر بھر اُستاد کی خدمت غلاموں کی طرح کرتے رہے اور لیلیٰ سخن کے ایسے فریفتہ ہوئے کہ اپنی شادی بھی نہ کی۔ جناب عرش کی کوئی اولاد نہ تھی، انھوں نے اپنے تمام قواعد جو میر مرحوم سے ان کو حاصل ہوئے تھے جناب شاد کو سکھائے اور چونکہ جناب شاد مرحوم زبان میر کی پیروی پوری پوری کرتے تھے اس لیے پیرو میر ان کو خطاب عطا فرمایا۔جناب پیرو میر میرے استاد تھے اور سب کے آخر میں جس وقت ان کا سن مبارک تخمیناً سو برس کا تھا، مجھ کو ان کی شاگردی کا فخر حاصل ہوا۔ شیخ صاحب کے پرانے شاگرد جو دو چار تھے ان کا مذاق شاعری شباب کے ساتھ رخصت ہوچکا تھا، دو ایک شاگردوں کو خفا ہو کر اپنی شاگردی سے خارج کردیا تھا۔ کچھ مدت کے بعد میری خدمت اور روزانہ حاضری ملحوظ خاطر ہوئی تو مہربان ہوکر فرمانے لگے: “معلوم ہوتا ہے خدا کو تمھارے ذریعہ سے خاندان میر کا نام چلانا منظور ہے، اچھا آج سے جو قواعد ہم بیان کریں ان کو اپنے ذہن میں رکھو۔ یہ ملک الشعرا میر تقی مرحوم کی امانت ہے، اگر ان قواعد کو پیش نظر رکھ کے نظم و نثر پر قلم اُٹھاؤگے تو کوئی تمھارے کلام پر حرف نہ رکھے گا۔ یہی قاعدے تھے جو میر کو محبوب خلائق بنائے ہوئے تھے”۔ اُس دن سے میرا معمول تھا کہ روزانہ دو تین گھنٹے اُستاد کی خدمت میں بیٹھ کر اُردو کی صرفی نحوی کلیات سیکھا کرتاتھا۔ تین برس تک یہی مشق جاری رہی۔ استاد جب میرے غریب خانے پر تشریف لاتے تھے تو بھی یہی سلسلۂ گفتگو جاری رہتا۔ اس تحقیق میں ایسا مزا ملا کہ میں نے استاد کی حیات کو غنیمت شمار کر کے اس مشغلہ کو برابر جاری رکھا اور انھیں کی برکت ہے کہ مجھ کو قواعد اردو بنانے کا طریقہ معلوم ہو گیا۔ حقیقت میں یہ قاعدے علم سینہ ہی رہنے کے قابل تھے اور میرے لیے باعث اعزاز تھے مگر زمانہ کی موجودہ روش اردو کو خاک سیاہ کر رہی ہے جس کا ہندوستان کے مقتدر طبقے کو بھی افسوس ہے۔ چنانچہ اسی اردو کی حفاظت کی غرض سے ہز اگزالٹڈ ہائنیس اعلٰحضرت میر عثمان علی خاں بہادر دام احترام والی دکن نے بھی اردو عثمانیہ یونیورسٹی قائم کر کے اپنی بیش بہا فیاضی اور دریا دلی کا ثبوت دیا ہے۔ اس کی مالی خدمت شاہ دکن کر رہے ہیں لیکن ادبی خدمت ہر انسان پر اپنی حیثیت اور قدرت کے موافق واجب و لازم ہے۔\n\nمیرے دل نے یہ پسند نہ کیا کہ تلوار زیب کمر رہے اور وقت ضرورت بھی کام نہ لیا جائے۔ میں نے بھی چاہا کہ اپنی بساط کے موافق عثمانیہ یونیورسٹی کی خدمت کروں مگر ایسے اہم اور مشکل کاموں میں میری خدمت کیا مقبول ہو سکتی ہے۔ بہرحال نہ کرنے سے کرنا بہتر ہے۔اس خیال نے مجھ کو اس خدمت پر مستعد کیا اور میں اپنی خدمت کا نمونہ “قواعد میر” کے نام سے پیش کرتاہوں کہ عثمانیہ یونیورسٹی کی نیو قائم کرنے میں کچھ مدد دے۔ ان جواہر ریزوں کو میں ملک کی عام فائدہ رسانی کی غرض سے پیش کرتا ہوں اور امید ہے کہ یہ کتاب بھی میری دوسری تصانیف کی طرح مقبول عام ہوگی۔\n\nخواجہ محمد عبد الرؤوف عشرت", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1/%D8%AF%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%86%DB%81"} {"title": "قواعد میر/لغت، اصطلاح، روزمرہ اور محاورے کا فرق", "poet_page": "مصنف:عشرت لکھنوی", "kind": "prose", "section": "قواعد میر", "year": null, "text_ur": "لغت، اصطلاح، روزمرہ اور محاورے کا فرق\n\nلغت لفظ کے اُ س معنی کو کہتے ہیں جو واضع نے وضع کیے ہوں اور حقیقی ہوں، اُس کا دوسرا نام حقیقت لغوی ہے۔ مارنا مصدر متعدی ہے اس کے لغوی معنی چوٹ لگانا ہیں اور چاند قمر کے معنی پر لغت ہے، رات کو چاند کی روشنی بہت صاف تھی، اُ س نے اپنے لڑکے کو بہت مارا۔ یہ دونوں لفظ اپنے وضعی معنی پر مستعمل ہوئےاس لیے ان کو حقیقت لغوی کہیں گے۔ لیکن مارنا قتل کرنا کےمعنی پر اصطلاح ہے یعنی لغت میں یہ معنی وضع نہیں کیے گئے تھے، گفتگوئےعام میں کثرت سے ا س خاص محل پر استعمال ہونے سے ایک جدید معنی پیدا ہو گئے رستم نے ایک شیر مارا، عیدو کی چاند گنجی ہوگئی۔\n\nلغت اور اصطلاح میں معنوی تعلق ضرور رہتاہے جیسے مارنا کے معنی چوٹ لگانے کے ہیں اس نسبت سے اس کو قتل کرنا کے بھی معنی پر بولتے ہیں۔\n\nمحاورہ ان دونوں سے الگ ہے۔ محاورہ ایک لفظ میں نہیں ہوتا بلکہ ایک جملہ میں ہو تا ہے یا دو تین لفظوں میں۔\n\nچھو کرنا، پھونکنا کے معنی پر محاورہ ہے۔\n\nتمھارا لڑکا بالکل دھان پان ہے یعنی دبلا ہے۔\n\nآئینہ اندھا ہے یعنی میلا ہے۔\n\n وہ ڈال کا ٹوٹاہےیعنی عزت دار شریف ہے۔\n\nاس کی رَتی زور پر ہے یعنی قسمت یاور ہے۔\n\nاس بیان سے یہ معلوم ہو اکہ ہر لفظ موضوع کے لغوی معنی ضرور ہوتے ہیں اور بعض لفظوں کے ایک اصطلاحی معنی بھی ہوتے ہیں۔ ہر لفظ کے اصطلاحی معنی ہونا ضرور نہیں ہے۔ جس طرح اصطلاح کو لغوی معنی سے ایک خاص تعلق رہتا ہے محاورے میں بھی لغوی اور اصطلاحی معنی سے تعلق رہتا ہے۔ “آئینہ اندھا ہے”، اس میں بھی تعلق موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ جس آئینہ کی قلعی اُتر جاتی ہے وہ بے رونق ہو جاتا ہے اور اُس میں منہ نہیں دکھائی دیتا۔ بے رونق ہونے کے لحاظ سے آئینہ کو اندھا کہا۔\n\nمحاورہ اکثر اصطلاحی معنوں میں بنایا جاتا ہے۔\n\nوہ ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا یعنی عزت دار ہے۔\n\nاُس کے بال کھچڑی ہوگئے یعنی آدھے سفید آدھے کالے۔\n\nروزمرہ وہ جملہ ہے جو لغوی معنی کے موافق استعمال کیا جائے، میں کل آؤں گا، تم کہاں ملو گے، صاحب ایک خط تمھارا پرسوں آیا اُس میں مندرج تھا کہ میں میرٹھ جاؤں گا، کاتب کی اجرت او ر کاغذ کی قیمت یہاں سے بھیج دی جائے گی۔\n\nیہ سادہ جملے جس میں محض لغوی معنی لیے گئے ہیں روزمرہ میں داخل ہیں۔ روزمرہ کے استعمال میں مستند فصحا کی تقلید لازم آتی ہے۔ روٹی کو کھانا بولتے ہیں، پانی کو پینا، دال دَلنا، اناج پیسنا، صندل گِھسنا روزمرۂ فصحا ہے۔ اب کسی گاؤں کے لوگ ناواقفیت سے روٹی پینا اور پانی کھانا بولیں تو غلط ہے۔ اکثر لوگ دودھ کھانا بول جاتے ہیں، یہ بالکل غیر معتبر اور غلط ہے۔ ہر جملے کے استعمال کے لیے ہم کو تقلید کی ضرورت ہے اور جو لوگ اس تقلید سے باہر ہوجاتے ہیں ان کا کلام غیر مستند اور غلط ہوجاتا ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1/%D9%84%D8%BA%D8%AA%D8%8C_%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%8C_%D8%B1%D9%88%D8%B2%D9%85%D8%B1%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D8%A7%D9%88%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%81%D8%B1%D9%82"} {"title": "قواعد میر/مجاز استعارہ", "poet_page": "مصنف:عشرت لکھنوی", "kind": "prose", "section": "قواعد میر", "year": null, "text_ur": "== مجاز استعارہ ==\n== مجاز مرسل ==\nجو کلمہ لغوی معنی اور اصطلاحی معنی کے خلاف کسی غیر حقیقی معنی پر مستعمل ہو اُسے مجاز کہتے ہیں۔تعلق اور قرینہ سے معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ لفظ اپنے معنی کے خلاف مستعمل ہوا ہے، جیسے کسی سخی کو کہیں تم حاتم ہو۔ حقیقت میں وہ حاتم نہیں ہے لیکن سخاوت اور فیاضی کے تعلق سے اُس کا نام حاتم رکھ دیا۔ کسی بہادر کو کہیں تم شیر ہو، تو حقیقت میں وہ درندہ جانور نہیں ہے مگر شجاعت کے قرائن اور تعلق سے اُسے عارضی شیر کہدیا۔ کسی بیوقوف آدمی کو کہیں تو گدھا ہے تو حقیقت میں وہ جانور نہیں ہے، حماقت کی وجہ سے جو اس کی ذات میں ہے اُسے گدھا کہدیا۔ یہ قرینہ اور علاقہ کبھی مشابہت کا ہوتا ہے جیسے اُس کے گال گلاب کے پھول ہیں۔ حقیقت میں گلاب کے پھول کے معنی گال کے کسی لغت اور اصطلاح میں نہیں ہیں مگر باعتبار تر و تازگی و بہ اعتبار رنگ ایک قرینہ گلاب کے پھول اور گال میں پیدا ہوگیا۔ یا کسی خوبصورت آدمی کو کہیں تم چاند ہو تو بہ اعتبار حُسن کے چاند کہا۔ اُس کی آنکھیں آم کی پھانکیں ہیں، یہ صورت معنی بہ اعتبار وضع اور قطع ہے۔\n\nمجاز میں اگر کوئی تعلق تشبیہ کا ہے اور حرف تشبیہ نہیں ہے اُسے استعارہ کہتے ہیں، میرے گھر وہ شمع رو آیا تو خانۂ تاریک روشن ہوگیا۔\n\nاستعارہ اور تشبیہ میں فرق یہ ہے کہ استعارے میں حروف تشبیہ نہیں آتے۔ اگر تشبیہ میں حروف تشبیہ شامل ہوں تو اُسے استعارہ نہیں کہیں گے تشبیہ کہیں گے۔جیسے چاند سے رخسار ے، کٹورا سی آنکھیں استعارہ نہیں ہے تشبیہ ہے۔\n\nکبھی یہ صورت ترکیب اضافی میں یعنی مضاف مضاف الیہ سے پیدا ہو تی ہے، اَبرو کی تلوار نے قتل کیا۔ اس حالت میں مضاف مجاز ہے یعنی تلوار، کیونکہ تلوا ر نے نہیں قتل کیا ہے بلکہ اَبرو نے۔\n\nقاعدہ: حالت اضافی میں مجاز کی پہچان یہ ہے کہ اگر اس کو نکال ڈالیں جب بھی معنوں میں فرق نہ آئے۔ اس طرح بھی بول سکتے ہیں کہ ‘تمھارے اَبرو نے قتل کیا’ اور معنی میں بھی فرق نہیں آیا۔\n\nقاعدہ: حالت اضافی میں مجاز ہمیشہ مضاف ہوتا ہے، مثال رشکؔ:\n\nغلط ہے خانۂ ہستی محل عیش آزاداں\n\nکہ بندِ غم سے خالی کون ہے دنیا کے گھر بھر میں\n\nخانۂ ہستی، بند غم بترکیب اضافی مضاف مضاف الیہ ہیں، دونوں کے مضاف یعنی خانہ اور بند کو نکال ڈالو معنی میں فرق نہیں آئے گا۔ یوں کہو\n\nہستی محل عیش آزاداں نہیں ہے\n\nغم سے خالی دنیا کے گھر بھر میں کون ہے\n\nگلشن دہر میں ہوں نگہت گل\n\nاس میں گلشن مجاز ہے، مطلب یہ ہے کہ دہر میں نگہت گل ہوں۔\n\nاگر یہ علاقہ باعتبار تشبیہ نہو بلکہ باعتبار دیگر مفروضات ہو تو اس کو مجاز مرسل کہتے ہیں۔\n\nمجاز مُرسل میں اکثر تعلق ذہنی ہوتا ہے جیسے مُہری بہتی ہے۔حقیقت میں مہری نہیں بہتی ہے بلکہ مہری سے پانی بہتا ہے۔ پر نالہ چلتا ہے، حقیقت میں پرنالہ نہیں چلتا بلکہ پرنالے سے پانی بہتا ہے۔ اناج برستا ہے یعنی فصل کے موقع پر پانی برستا ہے۔ اسی طرح ناک بہتی ہے، آگ برستی ہے، چھت ٹپکتی ہے۔ یہ سب مجاز مرسل ہیں۔\n\nترکیب اضافی میں بھی مجاز مرسل آتا ہے جیسے خیال کی آنکھ سے دیکھو، اس جملے کے کہنے والے نے اپنے دل میں خیال کو ایک آدمی فرض کر کے اُس کی آنکھ تجویز کی۔ حالانکہ خیال کی آنکھ حقیقت میں نہیں ہے، محض خیال کو آدمی سے نسبت دی ہے۔ “گلشن عالم میں طرح طرح کے پھول کھلتے ہیں”، عالم کو باغ فرض کر کے گلشن عالم کہا۔ اس میں سے مضاف کو نکال ڈالو اور یوں کہو، خیال سے دیکھو جب بھی معنی صحیح رہتے ہیں۔ گلشن کو نکال ڈالو اور یوں کہو، عالم میں طرح طرح کے پھول کھلتے ہیں، تو بھی جملہ میں فرق نہیں آتا۔\n\nمجاز مرسل بترکیب اضافی اکثر نظم میں آتا ہے، سحرؔ:\n\nپائے نظر اُلجھتے ہیں ہر بار ہاتھ میں\n\nایضاً\n\nدو ہی قدم میں وادئ الفت کو طے کیا\n\nدریائے غم کے پار ہوا چار ہاتھ میں\n\nمثال اردو اضافت کی ؎\n\nگانا سُنا کے ہم کو بیہوش کر دیا ہے\n\nشیشے کے بھی گلے میں ساقی یہ لے نہیں ہے\n\nاس سے یہ معلوم ہوا کہ مجاز کی دو صورتیں ہیں استعارہ، مجاز مرسل۔ استعارۂ غیر اضافی کی مثال : پونڈے نہیں ہیں مٹھائیاں ہیں۔ یعنی مٹھائیاں کا لفظ مستعار ہے اور وجہ شبہ باعتبار مٹھاس پائی جاتی ہے۔ حرف تشبیہ اس میں نہیں ہے اس لیے اس کو استعارۂ غیر اضافی کہیں گے کیونکہ کوئی اضافت بھی واقع نہیں ہوئی۔\n\nکبھی استعارہ زیادہ لطیف الفاظ میں ادا کیا جاتا ہے جیسے ایک گنّے والا کہتا ہے، میاں کنکوے کون لوٹے گا۔ ظاہر ہے کہ گنے سے کنکوے نہیں لوٹتے ہیں بلکہ ہندوستان میں طویل بانس سے کنکوے لوٹتے ہیں اس لحاظ سے کہ گنے بہت بڑے ہیں گویا بانس کے برابر ہیں اور کنکوے لوٹنے کے قابل ہیں۔ گنے کو بانس سے تشبیہ ذہنی دے کر کہا۔ اس کو استعارۂ لطیف کہتے ہیں کیونکہ گنے اور بانس میں وجہ شبہ بہ اعتبار طویل موجود ہے۔\n\n“شبنم کا قطرہ موتی ہے” موتی اور قطرے میں تشبیہ کامل ہے، حرف تشبیہ نہیں ہے۔ اس لیے استعارہ غیر اضافی ہے۔\n\nصیاد ظلمت نے زاغ شب کے شکار کو دانۂ انجم دامگاہ سپہر پر بچھائے۔ اس میں صیاد ظلمت، زاغ شب، دام گاہ سپہر بترکیب اضافی مجاز مرسل ہیں۔ دانۂ انجم میں تشبیہ موجود ہ ہے اس لیے استعارہ اضافی ہے۔ اب ان سب کے مضاف نکال ڈالو، معنوں میں فرق نہ آئے گا جیسے ظلمت نے شب کو انجم سپہر پر بچھائے۔\n\nنگہ کے تیر سے زخمی کیا دل\n\nنگہ کو تیر سے تشبیہ ہے اس لیے استعارہ بترکیب اضافی اردو ہے۔\n\nآج کل دریا بہت رواں ہے۔ یہاں دریا کا لفظ مجاز مرسل ہے کیونکہ دریا پانی کے معنی پر مستعمل ہواہے۔\n\nاس کے کان نہیں ہیں یعنی بہرا ہے۔ یہاں کان کے معنی قوت سماعت کے لیے ہیں اس لیے کان مجاز مرسل ہیں۔\n\nتصور گیسوئے شبگوں کا آیا شکر کرتا ہوں\nسیہ پوشاک تھی درکار میرے کعبۂ دل کو\n\nدل کو کعبہ کہنا مجاز مرسل ہے اس لیے کہ کعبہ سے دل کو کوئی نسبت باعتبار شبہ نہیں ہے۔ اس لیے کعبہ کا لفظ یہاں مجاز مرسل ہے۔\n\nکوشش کرتے کرتے ہمت کے پاؤں ٹوٹ گئے۔ یہاں پاؤں کا لفظ مجاز مرسل ہے اس لیے کہ ہمت کو آدمی فرض کر کے اس کے پاؤں بنا لیے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1/%D9%85%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%DB%81"} {"title": "قواعد میر/مصدر کا بیان", "poet_page": "مصنف:عشرت لکھنوی", "kind": "prose", "section": "قواعد میر", "year": null, "text_ur": "﷽\n\nمَصدَر کا بیان\n\nمصدر ایسا اسم ہے جس سے دوسرے فعل بن سکتے ہیں لیکن وہ خود کسی فعل سے نہیں بنتا۔ سنسکرت میں اسے “دھاتو” کہتے ہیں۔ مصدر کی علامت آخر میں “نا” ہے۔ دوسری علامت یہ ہے کہ اگر نا کو گرادیں تو اس کی جڑ باقی رہے جسے امر کہتے ہیں، جیسے آنا سے آ، کرنا سے کر، جانا سے جا، کھانا سے کھا۔ یہ جڑ ہر حالت میں قائم رہتی ہے۔\n\nبعض مصدروں میں صرف نحو کے خلاف عام تغیر ہوگیا ہے اور امر کے حرف بھی بدل گئے ہیں جیسے کرنا جس کا امر کر ہے، اس کی ماضی کرا ہونا چاہیے تھی، لوگ کیَا بولنے لگے۔جانا جس کا امر جا ہے، اس کی ماضی قاعدہ سے جا ہونا چاہیے تھی لوگ گیا بولنے لگے۔ صرف یہی دو مصدر ایسے ہیں جو اختلاف استعمال سے بدل گئے۔\n\nقاعدہ: علامت مصدر مشدد نہیں آتی۔گِنّا مصدر نہیں، اس لیے کہ اس میں تشدید ہے۔ دوسرے نا علامت نکالنے کے بعد صیغۂ امر باقی نہیں رہتا۔ تیسرے یہ کہ اس سے دوسرے فعل نہیں بن سکتے۔\n\nاُردو میں مصدر کی چار قسمیں ہیں: اصلی، جعلی، فرعی، ترکیبی۔ اصلی مصدر کو وضعی بھی کہتے ہیں۔ اصلی مصدر وہ ہیں جن کی جڑ ہندی امر ہو۔ بنانا، ٹوٹنا، دھونکنا، کاٹنا، چھیلنا۔\n\nجعلی یا غیر وضعی وہ مصدر ہیں جو اہلِ زبان نے کسی ہندی لفظ کو گھٹا بڑھا کرامر بنا لیا ہو اور اس امر پر علامت مصدر اضافہ کر کےمصدر بنا لیا ہو، جیسے کھٹ کھٹ اسم صوت ہے اس میں الف زیادہ کرکے کھٹکھٹا امر بنایا اس پر (نا) علامت مصدر زیادہ کر کے کھٹکھٹانا بنا لیا۔ اسی طرح پچتانا وغیرہ۔\n\nفرعی وہ مصادرہیں جو غیر زبان کے اسم امر فعل حرف پر علامت مصدر کا اضافہ کر کے بنائے ہوں جیسے شرم سے شرمانا، گرم سے گرمانا، فرمود سے فرمانا، بر سے بر آنا، در سے در آنا۔\n\nترکیبی وہ مصدر ہیں جو اردو کے دو مصدروں سے یا ایک امر یا حاصل مصدر یا اسم ہندی یا ماضی یا کسی دوسرے مشتقات یا ماضی پر کوئی حرف زیادہ کرکے اور ایک دوسرا مصدر لگا کر بنالیں، جیسے آنے لگنا، چلنے دینا، لے جانا، ہٹ جانا، چل دینا، اُٹھ بیٹھنا، گھر آنا، بڑھ جانا، دکھ سہنا، پھل پانا، ٹھنڈک ڈالنا، لگّا لگانا، ہوکا ہونا، جی لگانا، ہلکان کرنا، کرتوت دکھانا، سویا کرنا، بیٹھا رہنا، سنائی دینا، دکھائی دینا۔\n\nمصدر اسم مذکر ہے اس لیے جملے میں ا س کو مفعول مؤنث کے ساتھ معروف ی سے بدلنا ناجائز ہے، لکھنؤ کے فصحا خصوصاً پرہیز کرتے ہیں جیسے دال بگھارنی تھی، روٹی پکانی تھی نہیں بولتے بلکہ دال بگھارنا تھی، روٹی پکانا تھی بولتے ہیں مگر فصحائے دہلی بصورت اول استعمال کرتے ہیں اس لیے دونوں طرح بولنا جائز ہے۔ مصدر اسم ہے اس لیے وہ لازم اور متعدی نہیں ہوتا لیکن ا س سے جو صیغے نکلتے ہیں وہ لازم ہوتے ہیں یا متعدی ہوتے ہیں، اس مناسبت سے مصدر کو بھی لازم اور متعدی کہتے ہیں۔\n\nلازم وہ فعل ہے جس میں کوئی مفعول بہ نہو اور اُس کا فعل اپنے فاعل کی ذات پر تمام ہوجائے جیسے آنا۔ اس میں آنا کا فعل اپنے فاعل کی ذات پر تمام ہوگیا۔\n\nمتعدی وہ فعل ہےجس کا فعل فاعل سے گزر کر مفعول کی ذات پر تمام ہو جیسے مارنا۔ اس میں ایک فاعل ہے جس نے مارا اور ایک مفعول ہے جس پر مار پڑی۔\n\nقاعدہ: متعدی فعل کو تین طرح پہچان سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ اُس کی ماضی میں صرف نے ضرور آئےگا۔ جیسے میں نے مارا، میں نے لکھا، میں نے دیا۔لیکن یہ علامت بعض مصادر میں نہیں آتی جیسے لانا۔دوسرے ایک مفعول بہ اس کے ساتھ ضرور ہوگا یعنی اگر سوال کیا جائے کسے مارا یا کس کو مارا تو جواب ہوگا اس کو۔ تیسرے جملہ بنانے میں علامت کو بھی اکثر ذی روح مفعول میں آتی ہے جیسے احمد نے حامد کو مارا۔\n\nمتعدی کے جملے میں اور دوسرے مفعول بھی آتے ہیں مگر وہ متعدی کی علامت کے لیے نہیں ہیں بلکہ متعلق فعل ہوجاتے ہیں، جیسے احمد نے محمود کو کوٹھے پر مارا۔اس میں کوٹھے پر متعلق فعل ہے۔\n\nاسی طرح لازم کے جملے میں دوسرے مفعول یعنی مفعول فیہ، مفعول لہ، مفعول مطلق آتے ہیں۔ جیسے وہ مکان میں آیا، وہ چوروں کی چال چلا۔لیکن چونکہ صدور فعل کا مفعول پر واقع نہیں ہوا ہے، اس لیے اس کو لازم کہتے ہیں۔ یہاں مکان اسم ظرف ہے اور متعلق فعل واقع ہوا ہے۔ اسم ظرف مکان اور ظرف زمان مفعول فیہ میں آتا ہے جس سے کام کرنے کی جگہ یا وقت معلوم ہوتاہے۔ اسی طرح وہ رونے کو آیا، رونے کو مفعول لہ ہے۔\n\nمفعول لہ وہ ہے جس میں کام کرنے کا سبب معلوم ہو یعنی رونے کے لیے آیا۔اس سے معلوم ہوا کہ لازم میں بھی علامت مفعول لہ یعنی کو دوسرے مفعول کے ساتھ آتی ہے۔ مگر حقیقت میں یہ مفعول بہ نہیں ہیں، اُردو میں مفعول بہ کے علاوہ اور تمام مفعول عارضی ہیں یعنی وہ مفعول حقیقی نہیں ہیں۔\n\nفعل متعدی میں فاعل کا فعل ہمیشہ ایک مفعول حقیقی یعنی مفعول بہ کی ذات پر واقع ہوتا ہے، جس فعل میں ایسا نہ ہو وہ لازم ہے۔ اسی طرح متعدی اور لازم مصادر کو پہچاننا چاہیے۔ میں نے دیکھا، معلوم ہوا کہ دیکھنے کا کام ایک مفعول کی ذات پر ختم ہوا۔میں اٹھا، اس میں اٹھنا کا فعل فاعل کی ذات پر ختم ہوا۔ پہلا متعدی اور دوسرا لازم۔\n\nاب لازم میں ایک مفعول عارضی لگا کر کہا جائے میں کرسی سے اٹھا۔ اس میں کرسی مفعول ہے مگر اٹھنے کا فعل اسی مفعول پر نہیں ختم ہواکیونکہ کرسی ظرف زمان ہے اس لیے وقوع فعل کی جگہ ہے اور چونکہ اپنے فاعل پر جملہ ختم ہوگیا ہے اس لیے لازم ہے۔\n\nفعل لازم کے جملے میں جار و مجرور بھی یہی مفعول بن کر آتے ہیں۔ جیسے جانامصدر لازم ہے اس کا جملہ اس طرح بنائیں کہ لکھنؤ سے دہلی تک گیا۔ اس میں دہلی مفعول ہے، تک حرف جار ہے اس لیے جار مجرور مل کر متعلق فعل ہوا۔\n\nقاعدہ: افعال متعدی میں کبھی مفعول بہ کی علامت بدل بھی جاتی ہے جیسے میں نے نظر کی۔مصدر متعدی ہے، اسے اس طرح بولیں گے: میں نے کنگن پر نظر کی تو اُسے کھوٹا پایا۔ یہاں پر کے معنی تک کے نہیں ہیں بلکہ کو کے ہیں۔ نظر کرنا دیکھنے کے معنی پر ہے یعنی کنگن کو دیکھا۔\n\nقاعدہ: معنی کے لحاظ سے بہت سے مصدرِ لازم ایسے ہیں جو متعدی بھی بن جاتے ہیں جیسے قرار پانا جب آرام کرنا کے معنی پر بولا جاتا ہے تو متعدی ہوتا ہے، مدت کے بعد رات کو جب ٹھنڈی ہوا چلی ہے تو میں نے قرار پایا یعنی قرار کو پایا۔ اور جب طے ہونے کے معنی پر بولتے ہیں تو لازم ہوتا ہے، جیسے آخر کو یہ امر قرار پایا یعنی یہ بات طے ہوئی۔ اکثر مصدر اُردو میں ایسے ہیں لیکن وہی ہیں جو کسی اسم کے ساتھ مستعمل ہیں۔\n\nاسی طرح کہنا مصدر متعدی ہے، لوگوں نے اس کا تعدیہ بدو مفعول خلاف قاعدہ صرف نحو کہلانا بنا لیا ہے مگر فصحا کہوانا بولتے ہیں کیونکہ یہ قاعدہ سے درست ہے۔ کہلانا میں دوسری غلطی یہ ہوگئی ہے کہ آج کل لوگ اس کو متعدی مجہول کے معنی پر بولنے لگے۔ جیسے (وہ جو محمود محمود) کہلاتے ہیں یعنی محمود پکارے جاتے ہیں یہ بالکل غیر فصیح اور قابل ترک ہے۔ اس طرح بولنا چاہیے (وہ جو محمودمحمود کہے جاتے ہیں)۔\n\nکرنا کے ساتھ جتنے اسما فارسی عربی ملا کر مصدر بنائے جاتے ہیں وہ متعدی ہوتے ہیں اور فعل کی طرح تذکیر و تانیث میں اپنے مفعول کے تابع رہتے ہیں جیسےکہنا کی ماضی مطلق یہ ہے: میں نے کہا۔ اگر فاعل عورت ہے تو بھی کہے گی: میں نے کہا۔ مرد ہے تو بھی کہے گا: میں نے کہا۔ اسی طرح میں نے قبول کیا، میں نے رد کیا، میں نے منظور کیا، میں نے تحریر کیا، میں نے تجویز کیا، میں نے پسند کیا، میں نے روانہ کیا۔ اس کے بعد اگر جملے میں کوئی مفعول ہوگا تو اس کی اطاعت فعل کو کرنا ہوگی، جیسے میں نے خدمت قبول کی یا میں نے حکم قبول کیا۔\n\nمگر اس طرح کے فعل اُردو اسم ملا کر نہیں بنا سکتے، ہندی کا اسم ایسی جگہ بعض وقت اسم رہتا ہے اور فعل اصلی اس کی اطاعت کرتاہے یعنی جزو مصدر نہیں بنتا، جیسے بات کرنا کی جب ماضی بنائیں گے تو کرنا کو تانیث سے بولیں گے جیسے میں نے بات کی۔ اسی طرح کام مذکر ہے، اس کا فعل اپنے مفعول کی اطاعت کرےگایعنی مذکر بولا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اُردو مصدر میں عربی فارسی کا اسم ملا کر مصدر مرکب بنا سکتے ہیں لیکن ہندی اسم ملا کر مصدر نہیں بنا سکتے کیونکہ ایسا مرکب فعل کی طرح تابع اسم نہیں ہوتا ہے بلکہ محض مصدر اپنے اسم کی اطاعت کرتا ہے۔ ہونا کے ساتھ جتنے مصدر آتے ہیں وہ لازم ہیں اور لازم ہمیشہ اپنے فاعل پر ختم ہوتاہے ان میں کوئی مفعول نہیں ہوتا۔ عورت کہتی ہے میں بیدار ہوئی، مرد کہتا ہے میں بیدار ہوا۔ لیکن اس میں جو اسم صفت عربی فارسی کے لگا کر مصدر بنائے جاتے ہیں وہی مصدری حالت میں رہتے ہیں اور اپنی تذکیر و تانیث کے ساتھ بولے جاتے ہیں جیسے مجھے خوف ہوا۔ اس میں خوف اسم مذکر تھا اس لیے ہوا کہا گیا۔ دہشت ہوئی، دہشت اسم مؤنث ہے اس لیے ہوئی کہا گیا۔\n\nترکیبی مصدر میں بعض ایسے ہیں جو اپنے فعل اول کے مطابق لازم اور متعدی رہتے ہیں اور بعض فعل دوم کے تابع ہوتے ہیں۔دینا کے ساتھ جتنے مصدر بنائے جاتے ہیں اُن میں فعل اول اگر لازم ہے مصدر بھی لازم بولا جاتا ہے اور متعدی ہے تو متعدی جیسے ستا دینا، پٹک دینا، گُھرک دینا، لگا دینا، سنا دینا، دکھا دینا، مار دینا، کہہ دینا، رکھ دینا، کاٹ دینا یہ سب متعدی ہیں۔ چل دینا، رو دینا لازم ہیں۔\n\nجانا کے ساتھ جتنے فعل آتے ہیں چاہے وہ متعدی ہوں یا لازم سب لازم بولے جاتے ہیں نکل جانا، اُٹھ جانا، بیٹھ جانا، سو جانا، چھوٹ جانا، لرز جانا، دھو جانا، سہہ جانا یہ سب متعدی ہیں مگر لازم بولے جاتے ہیں۔ مر جانا، اُترجانا،بگڑ جانا یہ لازم ہیں، لازم بولے جاتے ہیں۔\n\n اُٹھنا کے ساتھ جتنے مرکب مصادر آتے ہیں لازم ہوں یامتعدی، سب لازم ہوتے ہیں۔ رو اُٹھنا، بول اُٹھنا، چلا اُٹھنا لازم ہیں۔ کہہ اٹھنا، پکار اٹھنا متعد ی ہیں مگر لازم بولے جاتے ہیں۔\n\nرہنا کے ساتھ جتنے مصدر آتے ہیں سب لازم بولے جاتے ہیں جیسے مر رہنا، جا رہنا، آ رہنا،پڑ رہنا۔\n\nچلناکے ساتھ جتنے مصدر آتے ہیں سب لازم ہوتے ہیں۔ لے چلنا،اتر چلنا، بہ چلنا، مار چلنا۔\n\nرکھنا کے ساتھ جتنے مصدر آتے ہیں سب متعدی ہوتے ہیں۔ جیسے پکڑ رکھنا، دیکھ رکھنا، اٹھا رکھنا، لگا رکھنا، بچا رکھنا، کاٹ رکھنا، بدل رکھنا۔\n\nڈالناکے ساتھ جتنے مصدر آتے ہیں متعدی ہوتے ہیں جیسے کاٹ ڈالنا، چھانٹ ڈالنا، دیکھ ڈالنا، پُن ڈالنا، مار ڈالنا، بھون ڈالنا، پیس ڈالنا۔\n\nکھجانا مصدر متعد ی ہے لیکن اس کے ساتھ جتنے ترکیبی مصدر آتے ہیں وہ لازم اور متعدی دونوں بولے جاتے ہیں، جیسے سر کھجانا، ناک کھجانا، ہتھیلی کھجانا۔ اس کو لازم بھی کہیں گے، میری ناک کھجائی اور متعدی بھی، میں نے اپنی ناک کھجائی۔\n\nسکنا کے ساتھ جتنے مصدر آتے ہیں سب لازم ہیں۔ چل سکنا، اٹھ سکنا، بیٹھ سکنا، پکڑ سکنا، مار سکنا، رو سکنا، دیکھ سکنا، جا سکنا، کھول سکنا، باندھ سکنا، لگا سکنا، دِکھا سکنا۔\n\nلگنا کے ساتھ جتنے مصدر آتے ہیں سب لازم ہیں۔ دھونے لگنا، دیکھنے لگنا، رونے لگنا، کھانے لگنا، بجانے لگنا، نکلنے لگنا، سننے لگنا، مارنے لگنا، پینے لگنا، دیکھنے لگنا، مرنے لگنا، جانے لگنا۔\n\nلانا کے ساتھ جتنے مصدر آتے ہیں سب متعدی ہیں اگرچہ ان کے ساتھ علامت فاعل (نے) نہیں آتی۔ پکڑ لانا، موڑ لانا،اٹھا لانا، لگا لانا، مار لانا، توڑ لانا۔ ان کو اس طرح بولیں گے، شیر کو پکڑ لایا۔ اس میں نے نہیں ہے مگر مفعول بہ موجود ہے اس لیے متعدی ہے۔\n\nچُکنا کے ساتھ جتنے مصدر آتے ہیں سب لازم ہیں جیسے کھا چکنا، رکھ چکنا، ڈال چکنا، پی چکنا، چکھ چکنا۔\n\nسکنا کے ساتھ جتنے مصدر آتے ہیں سب لازم ہیں جیسے آسکنا، سُن سکنا۔\n\nبعض مصادر لازم ایسے ہیں جو متعدی نہیں بن سکتے۔ آنا، جانا، ہونا، کانپنا، لرزنا۔ بعض متعدی ایسے ہیں جن کے لازم نہیں بن سکتے جیسے لانا، ڈالنا، چُرانا، سونپنا، کرنا۔\n\nقاعدہ: جومصادر لازم میں سے متعدی مستعمل ہیں اور ان کے حرف اول کو فتح ہے ان کے تعدیہ بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ علامت مصدر سے پہلے ایک الف زیادہ کر دیتے ہیں جیسے چلنا سے چلانا، بڑھنا سے بڑھانا، پھیلنا سے پھیلانا، بننا سے بنانا، بسنا سے بسانا، رکھنا سے رکھانا۔ لیکن اس قاعدہ سے بہت سے مصدر مستثنیٰ ہیں جیسے پھٹنا سے پھوڑنا، کٹنا سے کاٹنا۔ اگر مصدر لازم کی علامت دور کرنے کے بعد امر میں واؤ باقی رہے تو اُسے گرا کر ایک الف زیادہ کر کے متعدی بنا لینا چاہیے جیسے سونا سے سلانا، رونا سے رلانا۔\n\nقاعدہ: اگر مصدر لازم ہے او ر اس کے امر میں لام ما قبل مضموم ہے تو متعدی بنانے میں الف یا واؤ زیادہ کریں گے جیسے دُھلنا سے دُھلانا، گھلنا سے گھلانا یا جیسے کھلنا سے کھولنا، گھلنا سے گھولنا۔ اور اگر ایسے مصدر میں لام سے قبل واو مضموم ہے تو اسے ساقط کر دیں گے جیسے بھولنا سے بھلانا، پھولنا سے پھلانا۔\n\nقاعدہ: ایسے تمام مصدر لازم جن کے امر کے آخر میں کاف ہے الف زیادہ کر کے متعدی بنائے جاتے ہیں۔ بھٹکنا، کھٹکنا، اٹکنا، ٹھٹکنا، چٹکنا، چمکنا، مٹکنا، اٹکنا، سسکنا، تھپکنا، تھکنا، پھڑکنا، بہکنا، لچکنا، چرکنا، سرکنا، چھلکنا، پکنا، ہمکنا۔ اِس کُلیہ سے تکنا مستثنیٰ ہے، اس کی متعدی تاکنا آتی ہے۔\n\n ماضی بنانے کا قاعدہ حصر استقرائی ==\nمصدر کی علامت دور کرنے کے بعدامر کے آخر میں اگر حرف علت (الف یا واؤ) ہے تو حرف یا زیادہ کرکے ماضی مطلق بنا لیں گے جیسے لانا سے لایا، کھانا سے کھایا، پانا سے پایا، چمکانا سے چمکایا، سونا سے سویا، رونا سے رویا، بونا سے بویا۔ کھونا سے کھویا۔ اور اگر حرف علت (ے) ہے تو اسے حذف کر دیں گے جیسے دینا سے دیا، پینا سے پیا، لینا سے لیا۔ لیکن اس قاعدہ سے جانا مستثنیٰ ہے اس کی ماضی گیا بنتی ہے اور اگر علامت مصدر نکالنے کے بعد امر کے آخر میں حرف علت نہ ہو تو محض الف زیادہ کر کے ماضی بنا لیں گے۔ مصدر متعدی ہو یا لازم دونوں میں یہی کلیہ قائم رہے گا۔ جیسے رکھنا سے رکھا، بولنا سے بولا،کہنا سے کہا، مارنا سے مارا، جھکنا سے جھکا، دیکھنا سے دیکھا۔ اس قاعدے سے کرنا مستثنیٰ ہے جس کی ماضی کیا آتی ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1/%D9%85%D8%B5%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86"} {"title": "قوس قزح", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "تھی شام قریب اور دہقاں\nمیداں میں تھا گلے کا نگہباں\nدیکھی اس نے کمان ناگاہ\nجو کرتی ہے مینہ سے ہم کو آگاہ\nرنگت میں اسے عجیب پایا\nظاہر میں بہت قریب پایا\nپہلے سے وہ سن چکا تھا اکثر\nہے قوس میں اک پیالۂ زر\nمشہور بہت ہے یہ کہانی\nافسانہ تراش کی زبانی\nملتی ہے جہاں کماں زمیں سے\nملتا ہے وہ جام زر وہیں سے\nسوچا لو جام اور بنو جم\nچھوڑو بزو گو سفند کا غم\nبیہودہ گنوار اس گماں پر\nسیدھا گیا تیر سا کماں پر\nدن گھٹنے لگا قدم بڑھایا\nامید کہ اب خزانہ پایا\nجتنی کوشش زیادہ تر کی\nاتنی ہی کماں پرے کو سرکی\nپنہاں ہوئی قوس آخر کار\nاور ظلمت شب ہوئی نمودار\nناکام پھر وہ سادہ دہقاں\nحسرت زدہ غم زدہ پشیماں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%88%D8%B3_%D9%82%D8%B2%D8%AD"} {"title": "قول اس دروغ گو کا کوئی بھی سچ ہوا ہے", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قول اس دروغ گو کا کوئی بھی سچ ہوا ہے\nواعظ جہان بھر کا جھوٹا لباریا ہے\n\nکعبے میں جس حسیں کا لگتا نہیں پتا ہے\nمل جائے بت کدے میں جو وہ صنم خدا ہے\n\nپوجا نہ کر بتوں کو اپنی ہی کر پرستش\nاے بت پرست پتلا تو بھی تو خاک کا ہے\n\nرگ رگ میں یہ بندھی ہے گرد ملال خاطر\nوہ صید ہوں کہ جس کا سب گوشت کرکرا ہے\n\nعمر رواں ہے مثل موج رواں گریزاں\nبحر جہاں میں انساں پانی کا بلبلا ہے\n\nکرنے کو سر پھٹول جس کوہ کے درے میں\nجب میں پکارتا ہوں فرہاد بولتا ہے\n\nوہ بت نہ رام ہوگا بے رب کسی کے چاہے\nاے برہمن خدا کا کیا کوئی دوسرا ہے\n\nدنداں کے عاشقوں کے آنسو ہیں در نہیں ہیں\nنکلی جو سیتلا ہے وہ بھی تو موتیا ہے\n\nگم زار شادؔ گاہے امروز را بفردا\nمعلوم یہ کسے ہے کل کیا ہے آج کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%88%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D8%B1%D9%88%D8%BA_%DA%AF%D9%88_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%DA%86_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "قول تیرا شوق میرا چاہیئے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قول تیرا شوق میرا چاہیئے\nجھوٹ سچ کے واسطے کیا چاہیئے\n\nہو سکے کیا اپنی وحشت کا علاج\nتیرے کوچے میں بھی صحرا چاہیئے\n\nگو تری نظروں سے کل گر ہی پڑیں\nآج تو کوئی سہارا چاہیئے\n\nہر طرف ہے تیرے بیماروں کا شور\nہر گلی میں اک مسیحا چاہیئے\n\nکیوں نہ چھائے مے کشوں کے سر پر ابر\nکچھ گنہ گاروں کا پردہ چاہیئے\n\nکاش دے کر کچھ گرہ سے ہو نجات\nتجھ کو زاہد دین و دنیا چاہیئے\n\nکیوں نہیں دیتے تسلی داغؔ کو\nاس سے لیجے گر تمنا چاہیئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%88%D9%84_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%D8%A6%DB%92"} {"title": "قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جُدائی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جُدائی\nہو صاحبِ مرکز تو خودی کیا ہے، خدائی!\nجو فقر ہُوا تلخیِ دوراں کا گِلہ مند\nاُس فقر میں باقی ہے ابھی بُوئے گدائی\nاس دور میں بھی مردِ خُدا کو ہے میَسّر\nجو معجزہ پربت کو بنا سکتا ہے رائی\nدر معرکہ بے سوزِ تو ذوقے نتواں یافت\nاے بندۂ مومن تو کجائی، تو کجائی\nخورشید! سرا پردۂ مشرق سے نکل کر\nپہنا مرے کُہسار کو ملبوسِ حنائی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%88%D9%85%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DA%A9%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%8F%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "قومی گیت", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے ماں اے ماں تجھ کو سلام بھارت ماتا کو پرنام\n\nتو تو کیسی پیاری ماں ہے\nسب ماؤں سے اچھی ماں ہے\n\nلاڈ اٹھانے والی ماں ہے\nاپنی ماں ہے اپنی ماں ہے\n\nماتا کو پرنام اے ماں اے ماں تجھ کو سلام\n\nتیری مانگ میں گنگا جل ہے\nبھرا پرا تیرا آنچل ہے\n\nہریالی ہے پھول ہے پھل ہے\nتیری گود سکھ منڈل ہے\n\nماتا کو پرنام اے ماں اے ماں تجھ کو سلام\n\nسب سے اونچے پربت والی\nسب سے بڑھ کر شوکت والی\n\nسب سے بھاری دولت والی\nعزت والی عظمت والی\n\nماتا کو پرنام اے ماں اے ماں تجھ کو سلام\n\nتیری چھاتی دھرم سمندر\nجس کی موجیں مسجد مندر\n\nدونوں کی ہے گونج برابر\nاللہ اللہ ایشور ایشور\n\nماتا کو پرنام اے ماں اے ماں تجھ کو سلام\n\nہندو مسلم گورے کالے\nپریم کی دارو کے متوالے\n\nسب ہیں تیری گود کے پالے\nسب ہیں بات پہ مرنے والے\n\nماتا کو پرنام اے ماں اے ماں تجھ کو سلام\n\nتیرے دودھ کی سب میں طاقت\nالفت عزت ہمت جرأت\n\nتیری دعائیں فتح و نصرت\nتیرے پاؤں کے نیچے جنت\n\nماتا کو پرنام اے ماں اے ماں تجھ کو سلام\n\nاب تو لٹیرے تجھ کو لوٹیں\nبے بھگتے بھگتان نہ چھوٹیں\n\nہاتھ میں دھن ہو بازو ٹوٹیں\nگھور کے دیکھیں آنکھیں پھوٹیں\n\nماتا کو پرنام اے ماں اے ماں تجھ کو سلام\n\nتجھ سے آشیرباد جو پائیں\nآرزو ایسے بھی تن جائیں\n\nبجلی بن کر آفت ڈھائیں\nدور ہوں پھر تو ساری بلائیں\n\nماتا کو پرنام اے ماں اے ماں تجھ کو سلام\nاے ماں اے ماں تجھ کو سلام بھارت ماتا کو پرنام", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C_%DA%AF%DB%8C%D8%AA"} {"title": "قوی دل شادماں دل پارسا دل", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قوی دل شادماں دل پارسا دل\nترے عاشق نے بھی پایا ہے کیا دل\n\nلگا دو آگ عذر مصلحت کو\nکہ ہے بے زار اس شے سے مرا دل\n\nجفاکاری ہے تسلیم ستم بھی\nنہ ہوگا تابع جور و جفا دل\n\nلگا کر آنکھ اس جان جہاں سے\nنہ ہوگا اب کسی سے آشنا دل\n\nمٹے افکار گوناگوں کے جھگڑے\nترے غم کو نہ دے کیونکر دعا دل\n\nنہ پہنچے گی کبھی کیا گوش گل تک\nقفس سے اڑ کے فریاد عنا دل\n\nتو انائے صداقت ہے تو ہرگز\nنہ ہوگا پیرو باطل مرا دل\n\nبڑی درگاہ کا سائل ہوں حسرتؔ\nبڑی امید ہے میری بڑا دل", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%88%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%D8%AF%D9%84"} {"title": "قَبر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مرقد کا شبستاں بھی اُسے راس نہ آیا\nآرام قلندر کو تہِ خاک نہیں ہے\nخاموشیِ افلاک تو ہے قبر میں لیکن\nبے قیدی و پہنائیِ افلاک نہیں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%8E%D8%A8%D8%B1"} {"title": "قُم بِاذنِ اللہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "جہاں اگرچہ دِگر گُوں ہے، قُم بِاذنِ اللہ\nوہی زمیں، وہی گردُوں ہے، قُم بِاذنِ اللہ\nکیا نوائے ’انا الحق‘ کو آتشیں جس نے\nتری رگوں میں وہی خُوں ہے، قُم بِاذنِ اللہ\nغمیں نہ ہو کہ پراگندہ ہے شعور ترا\nفرنگیوں کا یہ افسُوں ہے، قُم بِاذنِ اللہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%8F%D9%85_%D8%A8%D9%90%D8%A7%D8%B0%D9%86%D9%90_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "قُوّت اور دین", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اسکندر و چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں میں\nسَو بار ہوئی حضرتِ انساں کی قبا چاک\nتاریخِ اُمَم کا یہ پیامِ اَزلی ہے\n’صاحب نظَراں! نشّۂ قُوّت ہے خطرناک،\nاس سیلِ سبک سیر و زمیںگیر کے آگے\nعقل و نظَر و عِلم و ہُنر ہیں خس و خاشاک\nلا دیں ہو تو ہے زہرِ ہلاہلِ سے بھی بڑھ کر\nہو دِیں کی حفاظت میں تو ہر زہر کا تِریاک", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%D9%8F%D9%88%D9%91%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D9%86"} {"title": "قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق\nسچ تو یوں ہے بری بلا ہے عشق\n\nاثر غم ذرا بتا دینا\nوہ بہت پوچھتے ہیں کیا ہے عشق\n\nآفت جاں ہے کوئی پردہ نشیں\nکہ مرے دل میں آ چھپا ہے عشق\n\nبوالہوس اور لاف جانبازی\nکھیل کیسا سمجھ لیا ہے عشق\n\nوصل میں احتمال شادی مرگ\nچارہ گر درد بے دوا ہے عشق\n\nسوجھے کیونکر فریب دل داری\nدشمن آشنا نما ہے عشق\n\nکس ملاحت سرشت کو چاہا\nتلخ کامی پہ بامزا ہے عشق\n\nہم کو ترجیح تم پہ ہے یعنی\nدل ربا حسن و جاں ربا ہے عشق\n\nدیکھ حالت مری کہیں کافر\nنام دوزخ کا کیوں دھرا ہے عشق\n\nدیکھیے کس جگہ ڈبو دے گا\nمیری کشتی کا ناخدا ہے عشق\n\nاب تو دل عشق کا مزا چکھا\nہم نہ کہتے تھے کیوں برا ہے عشق\n\nآپ مجھ سے نباہیں گے سچ ہے\nباوفا حسن و بے وفا ہے عشق\n\nمیں وہ مجنون وحشت آرا ہوں\nنام سے میرے بھاگتا ہے عشق\n\nقیس و فرہاد و وامق و مومنؔ\nمر گئے سب ہی کیا وبا ہے عشق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%81%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "قیامت راگ ظالم بھاؤ کافر گت ہے اے پنّا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قیامت راگ ظالم بھاؤ کافر گت ہے اے پنّا\nتمہارے حسن سو دیکھے سو اک آفت ہے اے پنّا\n\nسگھڑ جتنے ہیں یہ یہ سب تجھی کو پیار کرتے ہیں\nسیانے سو ہے پر ان سو کی اک ہی مت ہے اے پنّا\n\nلگا جاتی ہے اپنا داؤں اور میرا بچا جاتی\nتو اپنے کام میں بانکیت اور راوت ہے اے پنّا\n\nتری کنچن برن سی دیہہ جس کی گود میں ہووے\nاسے دنیا کے عیاشوں میں کیا دولت ہے اے پنّا\n\nنہیں لیتی ہمارا نام ہم کوں یاں تلک بھولی\nتجھے ہم اور کچھ اب کیا کہیں رحمت ہے اے پنّا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%B1%D8%A7%DA%AF_%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A4_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%DA%AF%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%BE%D9%86%D9%91%D8%A7"} {"title": "قیامت ہیں یہ چسپاں جامے والے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قیامت ہیں یہ چسپاں جامے والے\nگلوں نے جن کی خاطر خرقے ڈالے\n\nوہ کالا چور ہے خال رخ یار\nکہ سو آنکھوں میں دل ہو تو چرا لے\n\nنہیں اٹھتا دل محزوں کا ماتم\nخدا ہی اس مصیبت سے نکالے\n\nکہاں تک دور بیٹھے بیٹھے کہیے\nکبھو تو پاس ہم کو بھی بلا لے\n\nدلا بازی نہ کر ان گیسوؤں سے\nنہیں آساں کھلانے سانپ کالے\n\nتپش نے دل جگر کی مار ڈالا\nبغل میں دشمن اپنے ہم نے پالے\n\nنہ مہکے بوئے گل اے کاش یک چند\nابھی زخم جگر سارے ہیں آلے\n\nکسے قید قفس میں یاد گل کی\nپڑے ہیں اب تو جینے ہی کے لالے\n\nستایا میرؔ غم کش کو کنھوں نے\nکہ پھر اب عرش تک جاتے ہیں نالے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%DA%86%D8%B3%D9%BE%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%85%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "قیامت ہے جو ایسے پر دل امیدوار آئے", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قیامت ہے جو ایسے پر دل امیدوار آئے\nجسے وعدے سے نفرت ہو جسے ملنے سے عار آئے\n\nمری بے تابیاں چھا جائیں یارب ان کی تمکیں پر\nتڑپتا دیکھ لوں آنکھوں سے جب مجھ کو قرار آئے\n\nمٹا دوں اپنی ہستی خاک کر دوں اپنے آپے کو\nمری باتوں سے گر دشمن کے بھی دل میں غبار آئے\n\nاجازت مانگتی ہے دخت رز محفل میں آنے کی\nمزا ہو شیخ صاحب کہہ اٹھیں بے اختیار آئے\n\nخدا جانے کہ وہ بیخودؔ سے اتنے بد گماں کیوں ہیں\nکہ ہر جلسے میں فرماتے ہیں دیکھو ہوشیار آئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "قیامت ہے شب وعدہ کا اتنا مختصر ہونا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قیامت ہے شب وعدہ کا اتنا مختصر ہونا\nفلک کا شام سے دست و گریبان سحر ہونا\n\nشب تاریک نے پہلو دبایا روز روشن کا\nزہے قسمت مرے بالیں پہ تیرا جلوہ گر ہونا\n\nہوائے تند سے کب تک لڑے گا شعلۂ سرکش\nعبث ہے خود نمائی کی ہوس میں جلوہ گر ہونا\n\nدیار بے خودی ہے اپنے حق میں گوشۂ راحت\nغنیمت ہے گھڑی بھر خواب غفلت میں بسر ہونا\n\nوہی ساقی وہی ساغر وہی شیشہ وہی بادہ\nمگر لازم نہیں ہر ایک پر یکساں اثر ہونا\n\nسنا کرتے تھے آج آنکھوں سے دیکھیں دیکھنے والے\nنگاہ یاسؔ کا سنگیں دلوں پر کارگر ہونا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%AE%D8%AA%D8%B5%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا\nتعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں\n\nدل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ\nنہ کر سرگرم اس کافر کو الفت آزمانے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%B3%D9%86_%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%D9%B0_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D9%82%DB%8C%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86%D8%A7"} {"title": "قید اور قید بھی تنہائی کی", "poet_page": "مصنف:محمد علی جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قید اور قید بھی تنہائی کی\nشرم رہ جائے شکیبائی کی\n\nسوجھتا کیا ہمیں ان آنکھوں سے\nشرط تھی قلب کی بینائی کی\n\nدر بت خانہ سے بڑھنے ہی نہ پائے\nگرچہ اک عمر جبیں سائی کی\n\nقیس کو ناقۂ لیلیٰ نہ ملا\nگو بہت بادیہ پیمائی کی\n\nہم نے ہر ذرہ کو محمل پایا\nہے یہ قسمت ترے صحرائی کی\n\nوقف ہے اس کے لیے جان عزیز\nکعبہ کے خادم و شیدائی کی\n\nکعبہ و قدس میں گھر کیا یہ بھی\nاک ادا ہے مرے ہرجائی کی\n\nنظر آیا ہمیں ہر چیز میں تو\nاس پہ یہ دھوم ہے یکتائی کی\n\nعشق اور جور ستم گر کا گلہ\nحد ہے اے دل یہی رسوائی کی\n\nعشق کو ہم نے کیا نذر جنوں\nعمر بھر میں یہی دانائی کی\n\nکر گئی زندۂ جاوید ہمیں\nتیغ قاتل نے مسیحائی کی\n\nہو نہ تقلید دلا مقتل میں\nکہیں موسیٰ سے تمنائی کی\n\nنہ سہی تیغ تجلی ہی سہی\nآنکھ جھپکے نہ تماشائی کی\n\nکل کو ہے پھر وہی زنداں جوہرؔ\nٹھیک کیا آپ سے سودائی کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "قید تن سے روح ہے ناشاد کیا", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قید تن سے روح ہے ناشاد کیا\nچند روزہ عمر کی میعاد کیا\n\nمیری ایذا سے عدو ہو شاد کیا\nتجھ پہ تکیہ او ستم ایجاد کیا\n\nان کی خاطر جائیں بزم غیر میں\nآرزوئے جنت شداد کیا\n\nپا رہا ہے دل مصیبت کے مزے\nآئے لب پر شکوۂ بیداد کیا\n\nدل میں جو آئے اسے کہہ ڈالیے\nآپ کی باتیں کریں گے یاد کیا\n\nدوستو آئے ہیں وہ دشمن کے ساتھ\nمجھ کو دیتے ہو مبارک باد کیا\n\nجب نہیں کچھ اعتبار زندگی\nاس جہاں کا شاد کیا ناشاد کیا\n\nکچھ اگر تاثیر رکھتی ہے تو کھینچ\nورنہ اے دل حاصل فریاد کیا\n\nجب برنگ گل ہے پابند مکاں\nباندھتے ہیں سرو کو آزاد کیا\n\nہے ترا پامال ہر نخل چمن\nتیرے آگے سرو کیا شمشاد کیا\n\nیار کی تصویر دل پر کھینچ لی\nکھینچتے ہم منت بہزاد کیا\n\nغیر دل سے ایک دم جاتا نہیں\nہم تجھے آئیں ستم گر یاد کیا\n\nمجھ سے پہلے سن چکے ہیں غیر کی\nوہ مرے حق میں کریں ارشاد کیا\n\nسر ٹپکتے ہیں اسیران قفس\nہے چمن کی اے صبا روداد کیا\n\nعاشقی ہے سر پہ لینا کوہ غم\nنازش سر بازیٔ فرہاد کیا\n\nعرض اپنی ہے جو ہے عرض عدو\nدیکھیے کرتے ہیں وہ ارشاد کیا\n\nسرکشی تجھ سے کرے کیا تاب ہے\nآدمی کی اے خدا بنیاد کیا\n\nبے حقیقت جان کر دل کو اثرؔ\nتو نے اے ناداں کیا برباد کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D8%AA%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%AD_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "قید خانے میں معتمدؔکی فریاد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اک فغانِ بے شرر سینے میں باقی رہ گئی\nسوز بھی رُخصت ہُوا، جاتی رہی تاثیر بھی\nمردِ حُر زنداں میں ہے بے نیزہ و شمشیر آج\nمَیں پشیماں ہوں، پشیماں ہے مری تدبیر بھی\nخود بخود زنجیر کی جانب کھِنچا جاتا ہے دل\nتھی اسی فولاد سے شاید مری شمشیر بھی\nجو مری تیغِ دو دم تھی، اب مری زنجیر ہے\nشوخ و بے پروا ہے کتنا خالقِ تقدیر بھی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D8%AA%D9%85%D8%AF%D8%94%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "قید دل سے ہے مری کاکل پیچاں نازاں", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "قید دل سے ہے مری کاکل پیچاں نازاں\nاور مرے قتل سے ہے خنجر مژگاں نازاں\n\nہے مری چنگل وحشت سے گریباں نازاں\nاور مری بارش اشکوں سے ہے داماں نازاں\n\nکافر عشق ہوا جب سے میں اس دہر میں ہوں\nہے مرے کفر سے یہ دین اور ایماں نازاں\n\nزخم کھانے سے مرے فخر کناں ہے یہ دل\nخون دل سے ہیں مرے دیدۂ گریاں نازاں\n\nساکن خانۂ زنجیر ہوا ہوں جب سے\nمثل ہر حلقۂ زنجیر ہے زنداں نازاں\n\nہوں وہ مجنوں کہ مرے آبلہائے پا سے\nدشت وحشت میں ہے ہر خار بیاباں نازاں\n\nمحو عشق شہ خادم ہوں میں آثمؔ یکسر\nحسن پر جس کے ہیں یہ میرے دل و جاں نازاں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%DA%A9%D9%84_%D9%BE%DB%8C%DA%86%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D8%B2%D8%A7%DA%BA"} {"title": "قید سے نجات", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بارے آئی نجات کی باری\nکھل گیا عقدۂ گرفتاری\nہم کو منصب ملا رہائی کا\nقید کو جائیداد بیکاری\nپاؤں کو چھوڑ بھاگے مار دو سر\nسر کو پشتارۂ گرانباری\nکوچ ٹھہرا مقام غربت سے\nاب وطن چلنے کی ہے تیاری\nرخصت اے دوستان زندانی\nالوداع اے غم گرفتاری\nالرحیل اے مشقت ہر زور\nالفراق اے ہجوم ناچاری\nدال فے عین اے کتابت قید\nگاف میم اے حساب سرکاری\nدال چاول سے کہہ دو رخصت ہوں\nپانی میں ڈوبے یہ نمک کھاری\nمچھلیوں سے کہو کہ ہٹ کے سڑیں\nگھاس کھودے یہاں کی ترکاری\nچینی برہما ملائی مدراسی\nاہل آشام جنگلی تاتاری\nاپنے دیدار سے معاف کریں\nاپنی باتوں سے دیں سبکساری\nکالے پانی سے ہوتے ہیں رخصت\nاشک شادی ہیں آنکھوں سے جاری\nبیٹھتے ہیں جہاز دوری پر\nاٹھتے ہیں لنگر گرانباری\nکرم اے خضر المدد اے نوح\nرحم اے فضل حضرت باری\nالسلام اے خروش بحر محیط\nالسفر اے سفینۂ جاری\nزاد راہ سفر توکل ہے\nرہنمائی کو اس کی غفاری\nہے ارادہ کہ فکر شعر کریں\nتاکہ ہو دور رنج بیکاری\nبسکہ برسوں رہا ہوں زنداں میں\nبھولی قصر سخن کی معماری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%AA"} {"title": "قید سے پہلے بھی آزادی مری خطرے میں تھی", "poet_page": "مصنف:آسی الدنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قید سے پہلے بھی آزادی مری خطرے میں تھی\nآشیانہ ہی مرا صورت نمائے دام تھا\n\nواہمہ خلاق اور آزادی حسن افزا سرور\nہر فریب رنگ کا پہلے گلستاں نام تھا\n\nضعف آہوں پر بھی غالب ہو چلا تھا اے اجل\nتو نہ آتی تو یہ میرا آخری پیغام تھا\n\nدیدۂ خوننابہ افشاں میرا ان کے سامنے\nبے خودی کے ہاتھ سے چھوٹا ہوا اک جام تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AE%D8%B7%D8%B1%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "قید میں بھی ہے جنوں دست و گریباں ہم سے", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قید میں بھی ہے جنوں دست و گریباں ہم سے\nآ کے خلوت میں بھی ملتا ہے بیاباں ہم سے\n\nقیس سودائے غم گیسوئے لیلیٰ کے لئے\nلے گیا چند خیالات پریشاں ہم سے\n\nعشق میں اتنا زمانہ ہمیں گزرا ہے کہ لوگ\nپوچھتے آتے ہیں اس درد کا درماں ہم سے\n\nکوئی ناقوس و جرس کی نہیں کرتا فریاد\nہم جو نالاں ہیں تو ہر شخص ہے نالاں ہم سے\n\nحال کا اپنے ہمیں علم نہیں ان کو ہے\nراز رکھتے ہیں ہمارا بھی وہ پنہاں ہم سے\n\nقید غم سے ہے رہائی بہت آساں ناطقؔ\nشرم اس کی ہے کہ وابستہ ہے زنداں ہم سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%D9%88_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "قیدی ہوں سر زلف گرہ گیر سے پہلے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قیدی ہوں سر زلف گرہ گیر سے پہلے\nپابند ہوں پیدائش زنجیر سے پہلے\n\nسرگشتہ ہوں دور فلک پیر سے پہلے\nگردش میں ہوں میں گردش تقدیر سے پہلے\n\nکیا لاتی ہے تیری نگہ قہر کا مژدہ\nدوڑے ہوئے آتی ہے اجل تیر سے پہلے\n\nنالوں سے انہیں ہوتی ہے نفرت عوض لطف\nتقدیر بگڑ جاتی ہے تدبیر سے پہلے\n\nمارا ہے مجھے خنجر ابرو سے کسی نے\nنہلائیو آب دم شمشیر سے پہلے\n\nگھر سے ترے دیوانے نے جب پاؤں نکالا\nچھالوں نے قدم لے لئے زنجیر سے پہلے\n\nکس طرح کہوں آپ کے ہونٹوں کی حلاوت\nلب بند ہوئے جاتے ہیں تقریر سے پہلے\n\nپابند غم زلف کا مرنا نہ چھپے گا\nپہنچے گی خبر نالۂ زنجیر سے پہلے\n\nکس حوصلہ پر طالب دیدار ہے عالم\nآنکھیں تو لڑا لے کوئی تصویر سے پہلے\n\nبے تاب ہوئے یار کی چٹکی سے نکل کر\nتیر آپ تڑپنے لگے نخچیر سے پہلے\n\nپانے کی نہیں دل کا ٹھکانا خلش غم\nجب تک نہ پتا پوچھے ترے تیر سے پہلے\n\nگھبرانے سے کیا کام منیرؔ جگر افکار\nتو عرض تو کر حضرت شبیر سے پہلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D8%B1_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%AF%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92"} {"title": "قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو", "poet_page": "مصنف:میاں داد خاں سیاح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو\nخوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو\n\nلال ڈورے تری آنکھوں میں جو دیکھے تو کھلا\nمئے گل رنگ سے لبریز ہیں پیمانے دو\n\nٹھہرو تیوری کو چڑھائے ہوئے جاتے ہو کدھر\nدل کا صدقہ تو ابھی سر سے اتر جانے دو\n\nمنع کیوں کرتے ہو عشق بت شیریں لب سے\nکیا مزے کا ہے یہ غم دوستو غم کھانے دو\n\nہم بھی منزل پہ پہنچ جائیں گے مرتے کھپتے\nقافلہ یاروں کا جاتا ہے اگر جانے دو\n\nشمع و پروانہ نہ محفل میں ہوں باہم زنہار\nشمع رو نے مجھے بھیجے ہیں یہ پروانے دو\n\nایک عالم نظر آئے گا گرفتار تمہیں\nاپنے گیسوئے رسا تا بہ کمر جانے دو\n\nسخت جانی سے میں عاری ہوں نہایت اے تلخؔ\nپڑ گئے ہیں تری شمشیر میں دندانے دو\n\nحشر میں پیش خدا فیصلہ اس کا ہوگا\nزندگی میں مجھے اس گبر کو ترسانے دو\n\nگر محبت ہے تو وہ مجھ سے پھرے گا نہ کبھی\nغم نہیں ہے مجھے غماز کو بھڑکانے دو\n\nجوش بارش ہے ابھی تھمتے ہو کیا اے اشکو\nدامن کوہ و بیاباں کو تو بھر جانے دو\n\nواعظوں کو نہ کرے منع نصیحت سے کوئی\nمیں نہ سمجھوں گا کسی طرح سے سمجھانے دو\n\nرنج دیتا ہے جو وہ پاس نہ جاؤ سیاحؔ\nمانو کہنے کو مرے دور کرو جانے دو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%B3_%D8%AC%D9%86%DA%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%A9%DB%8C%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%88"} {"title": "قیس وہ ناتوان صحرا ہے", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "قیس وہ ناتوان صحرا ہے\nکالبد نیستان صحرا ہے\n\nآتش عشق سے ہے سینہ گرم\nجلوۂ برق جان صحرا ہے\n\nتیرے دیوانہ کے لیے زنجیر\nموج رنگ روان صحرا ہے\n\nغم میں کس شعلہ رو کے دود آہ\nآتش دودمان صحرا ہے\n\nہے جو فرہاد دعوتیٔ کوہ\nقیس بھی میہمان صحرا ہے\n\nحیف پیک اپنا رہ غلط کردہ\nتازہ چشم روان صحرا ہے\n\nہے ہر اک حرف چشم غول وقارؔ\nاس غزل میں بیان صحرا ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%B3_%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "قیس کا تجھ میں جنوں جذبۂ منصور نہیں", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قیس کا تجھ میں جنوں جذبۂ منصور نہیں\nورنہ منزل گہہ دل دار تو کچھ دور نہیں\n\nکوہ و وادی وہی بجلی وہی بے ہوشی بھی\nجلوہ لیکن وہ دل افروز سر طور نہیں\n\nڈھونڈنے جاؤں کسے جاؤں تو میں جاؤں کہاں\nدل کے جو پاس ہے وہ آنکھ بھی کچھ دور نہیں\n\nپھیر میں ذات و صفت کے نہ سراسیمہ ہو\nنہیں معلوم کہ جوہر سے عرض دور نہیں\n\nنظر آتا نہیں تجھ کو تو ہے آنکھوں کا قصور\nعکس سے شخص حقیقت میں ذرا دور نہیں\n\nجلوہ ساماں ہے رہ عشق میں ذرہ ذرہ\nصاحب ذوق نظر منتظر طور نہیں\n\nامر حق حرف ازل ہے تو یہ فتوے کیسے\nوہ نئی بات نہیں میں کوئی منصور نہیں\n\nجھوٹ سچ اس کو ہے یکساں وہ ہے اپنی دھن کا\nحق شناسی مرے نقاد کا دستور نہیں\n\nکبر ہی سے تو عزازیل ہے شیطان رجیم\nآدمی ہے وہی انسان جو مغرور نہیں\n\nکیا تماشا ہے لئے جاتے ہیں تقدیر کا نام\nاور تدبیر سے اک لحظہ بھی معذور نہیں\n\nنہیں تقدیر کی تحریر سے انکار مگر\nاس میں تدبیر مقدر ہے جو مذکور نہیں\n\nآپ تقدیر سدھر جائے گی تدبیر تو کر\nکون کہتا ہے کہ انسان کو مقدور نہیں\n\nتو عوارض سے عوارض کی ہے تجھ سے پرواز\nتو جو مطلق نہیں مختار تو مجبور نہیں\n\nذرے ذرے کو ہے اک فرض ودیعت حق سے\nنہ سمجھ تو کوئی قیصر نہیں فغفور نہیں\n\nکار گاہ عمل اس دہر کو وہ سمجھے ہیں\nگل و بلبل کے کرشموں سے جو ماتور نہیں\n\nکل میں مل جل کے رہے جز کا اسی میں ہے وقار\nفرد ناچیز ہے گر شامل جمہور نہیں\n\nکیوں کھچے رہتے ہیں یہ شیخ و برہمن باہم\nدیر کعبہ سے جو حق پر ہو نظر دور نہیں\n\nادب و شعر کا عالم ہے وہ وحدت آئیں\nکہ جہاں کافر و دیں دار کا مذکور نہیں\n\nحد جغرافیہ سے شعر کی دنیا ہے جدا\nدور کیلاس سے دو گز بھی یہاں طور نہیں\n\nکیف باقی ہے وہ اس میں کہ نہیں جس کو خمار\nبادۂ شعر کوئی بادۂ انگور نہیں\n\nساقئ مست نظر ہے یہ فسوں یا اعجاز\nسب کو مدہوش کیا آپ تو مخمور نہیں\n\nساغر اک اور بھی دے پیر مغاں کیفیؔ کو\nنشۂ بیخودیٔ عشق میں وہ چور نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%82_%D9%85%D9%86%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "قیس کہتا تھا یہی فکر ہے دن رات مجھے", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "قیس کہتا تھا یہی فکر ہے دن رات مجھے\nمار دے ناقۂ لیلیٰ نہ کہیں لات مجھے\n\nرخ روشن پہ فدا اور نہ سیہ زلف کا خبط\nنہ کوئی دن ہے مجھے اور نہ کوئی رات مجھے\n\nمکتب عشق میں بیٹھا ہوا حل کرتا ہوں\nجیسے الجبرا کے ملتے ہیں سوالات مجھے\n\nبوتلیں بیچتے نخاس میں دیکھا اس کو\nکس جگہ جا کے ملا پیر خرابات مجھے\n\nغسل خانے میں یہ غسال سے مردہ بولا\nجیل ہے قبر تو یہ گھر ہے حوالات مجھے\n\nرشتۂ عمر ہے کم اور مری رسی ہے دراز\nآئی چرخے سے یہ آواز نہ تو کات مجھے\n\nنئی تہذیب نے معشوق کا فیشن بدلا\nکارڈ بھیجوں تو میسر ہو ملاقات مجھے\n\nدرد دل عشق میں ہے کاہے سے سیکوں میں ظریفؔ\nنہ فلالین ہی ملتی ہے نہ بانات مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D8%B3_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%86_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "قیمے کی بجائے بوٹیاں", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بغیر اجازت", "year": "1955", "text_ur": "ڈاکٹر سعید میرا ہمسایہ تھا۔اس کا مکان میرے مکان سے زیادہ سے زیادہ دو سو گز کے فاصلے پر ہوگا۔ اس کے گراؤنڈ فلور پر اس کا مطب تھا۔ میں کبھی کبھی وہاں چلا جاتا، ایک دو گھنٹے کی تفریح ہو جاتی۔ بڑا بذلہ سنج،ادب شناس اور وضع دار آدمی تھا۔\n\nرہنے والا بنگلور کا تھا مگر گھر میں بڑی شستہ و رفتہ اردو میں گفتگو کرتا تھا۔ اس نے اردو کے قریب قریب تمام بڑے شعرا کا مطالعہ کچھ ایسے ہی انہماک سے کیا تھا کہ جس طرح اس نے ایم بی بی ایس کورس کی جملہ کتابوں کا۔ میں کئی دفعہ سوچتا کہ ڈاکٹر سعید کو ڈاکٹر بننے کی بجائے کسی بھی مضمون میں ایم اے ایچ پی کی ڈگری حاصل کرنی چاہیے تھی۔۔۔ اس لیے کہ اس کی افتاد طبع کے لیے یہ نہایت موزوں و مناسب ہوتی۔\n\nچنانچہ میں نے ایک روز اس سے کہا، ’’ڈاکٹر صاحب! آپ نے یہ پروفیشن کیوں اختیار کیا؟‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\nمیں نے ان سے کہا،’’آپ اردو ، فارسی زبان کے بڑے اچھے پروفیسر ہوتے۔۔۔ بڑے ہر دلعزیز۔۔۔ طالب علم آپ کے گرویدہ ہوتے۔ ‘‘وہ مسکرایا،’’ ایک ہی بات ہوتی۔۔۔ نہیں۔۔۔ زمین و آسمان کا فرق ہوتا۔ میں یہاں اپنے مطب میں بڑے اطمینان سے بیٹھا ہر روز کم از کم سو سوا سو روپے بنا لیتا ہوں۔۔۔ اگر میں نے کوئی دوسرا پیشہ اختیار کیا ہوتا تو مجھے کیا ملتازیادہ سے زیادہ چھ سات سو روپے ماہوار۔‘‘\n\nمیں نے ڈاکٹر سے کہا، ’’بڑی معقول آمدنی ہے۔‘‘\n\n’’ آپ اسے معقول کہتے ہیں۔۔۔سو روپے کے قریب تو میرا اپنا جیب خرچ ہے۔۔۔ آپ جانتے ہی ہیں۔۔۔ کہ میں شراب پینے کا عادی ہوں، اور وہ بھی ہر روز۔۔۔ قریب قریب پچھتر روپے تو اس پر اٹھ جاتے ہیں۔۔۔ پھر سگریٹ ہیں۔۔۔ دوست یاروں کی تواضع ہے ۔۔۔ یہ سب خرچ کیا ایک لیکچرر ،پروفیسر، ریڈر یا پرنسپل کی تنخواہ پورا کرسکتی ہے؟‘‘\n\nمیں قائل ہوگیا۔\n\n’’جی نہیں۔۔۔ آپ ڈاکٹر نہ ہوتے۔۔۔ ادیب ہوتے، مصور ہوتے۔‘‘ میری بات کاٹ کر انہوں نے ایک چھوٹا سا قہقہہ لگا کر کہا، ’’اور فاقہ کشی کرتا۔۔۔‘‘ میں بھی ہنس پڑا۔ ڈاکٹر سعید کے اخراجات واقعی بہت زیادہ تھے، اس لیے کہ وہ کنجوس نہیں تھا۔۔۔ اس کے علاوہ اسے اپنے مطب سے فارغ ہو کر فرصت کے اوقات میں دوست یاروں کی محفل جمانے میں ایک خاص قسم کی مسرت حاصل ہوتی تھی۔ شادی شدہ تھا۔۔۔ اس کی بیوی بنگلور ہی کی تھی جس کے بطن سے دو بچے تھے۔ ایک لڑکی اور ایک لڑکا۔۔۔ اس کی بیوی اردو زبان سے قطعاً نا آشنا تھی، اس لیے اسے تنہائی کی زندگی بسر کرنا پڑتی تھی۔ کبھی کبھی چھوٹی لڑکی آتی اور اپنی ماں کا پیغام ڈاکٹر کے کان میں ہولے سے پہنچا دیتی اور پھر دوڑتی ہوئی مطب سے باہر نکل جاتی۔\n\nتھوڑی ہی دیر میں ڈاکٹر سے میرا دوستانہ ہوگیا۔۔۔ بڑا بے تکلف قسم کا۔ اس نے مجھے اپنی گزشتہ زندگی کے تمام حالات و واقعات سنائے۔ مگر وہ اتنے دلچسپ نہیں کہ ان کا تذکرہ کیا جائے۔اب میں نے باقاعدگی کے ساتھ ان کے ہاں جانا شروع کر دیا۔ میں بھی چونکہ بوتل کا رسیا تھا۔۔۔ اس لیے ہم دونوں میں گاڑھی چھننے لگی۔ ایک دو ماہ کے بعد میں نے محسوس کیا کہ ڈاکٹر سعید الجھا سا رہتا ہے۔ اپنے کام سے اس کی دلچسپی دن بدن کم ہو رہی ہے۔ پہلے تو میں اسے ٹٹولتا رہا،آخر میں نے صاف لفظوں میں اس سے پوچھا،’’یارسعید۔۔۔تم آج کئی دن سے کھوئے کھوئے سے کیوں رہتے ہو؟‘‘\n\nڈاکٹر سعید کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی، ’’نہیں تو۔۔۔ ‘‘\n\n’’نہیں تو کیا۔۔۔ میں اتنا گدھا تو نہیں کہ پہچان بھی نہ سکوں کہ تم کسی ذہنی الجھن میں گرفتار ہو۔۔۔‘‘\n\nڈاکٹر سعید نے اپنا وسکی کا گلاس اٹھایا اور ہونٹوں تک لے جا کر کہا، ’’محض تمہارا واہمہ ہے۔۔۔ یا تم اپنی نفسیات شناسی کا مجھ پر رعب گانٹھنا چاہتے ہو۔ ‘‘میں نے ہتھیار ڈال دیے۔۔۔ حالانکہ اس کا لب و لہجہ صاف بتا رہا تھا کہ اس کے دل کا چور پکڑا جا چکا ہے ۔ مگر اسے اپنی شکست کے اعتراف کا حوصلہ نہیں۔۔۔ بہت دن گزر گئے۔\n\nاب وہ کئی کئی گھنٹے اپنے مطب سے غیر حاضر رہنے لگا۔ یہ جاننے کے لیے کہ وہ کہاں جاتا ہے، کیا کرتا ہے، اس کی ذہنی پریشانی کا باعث کیا ہے، میرے دل و دماغ میں بڑی کھد بد ہو رہی تھی۔ اب اتفاقاً اگر اس سے ملاقات ہوتی تو میرا بے اختیار جی چاہتا کہ اس سے ایک بار پھر وہ سوالات کروں جن کے ٹل جواب سے میری ذہنی الجھن دور ہو اور ڈاکٹر سعید کے عقب میں جو کچھ بھی تھا، اس کی صحیح تصویر میری آنکھوں کے سامنے آ جائے۔ مگر ایسا کوئی تخلیے کا موقع نہ ملا۔ایک دن شام کو جب میں اس کے مطب میں داخل ہوا۔۔۔ تو اس کے نوکر نے مجھے روکا۔\n\n’’صاحب!ابھی اندر نہ جائیے۔۔۔ ڈاکٹر صاحب ایک مریض کو دیکھ رہے ہیں۔‘‘\n\n’’تو دیکھا کریں۔‘‘\n\nنوکر نے مؤدبانہ عرض کی، ’’صاحب۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ میرا مطلب ہے۔۔۔ کہ مریض عورت ہے۔۔۔ ‘‘\n\n’’اوہ۔۔۔ کب تک فارغ ہو جائیں گے۔۔۔ اس کے متعلق تمہیں کچھ معلوم ہے؟‘‘\n\nنوکر نے جواب دیا، ’’جی کچھ نہیں کہہ سکتا۔۔۔ تقریباً ایک گھنٹے سے وہ بیگم صاحبہ کو دیکھ رہے ہیں۔۔۔‘‘ میں تھوڑے توقف کے بعد مسکرایا، ’’تومرض کوئی خاص معلوم ہوتا ہے۔۔۔‘‘ اور یہ کہہ کر میں نے غیر ارادی طور پر ڈاکٹر سعید کے کمرۂ تشخیص کا دروازہ کھول دیا اور اندر داخل ہوگیا۔\n\nکیا دیکھتا ہوں کہ سعید ایک ادھیڑ عمر کی عورت کے ساتھ بیٹھا ہے، تپائی پر بیئرکی بوتل اور دو گلاس رکھے ہیں اور دونوں محو گفتگو ہیں۔ سعید اور وہ محترمہ مجھے دیکھ کر چونک پڑے۔ میں نے ازرہِ تکلف ان سے معذرت طلب کی اور باہر نکلنے ہی والا تھا کہ سعید پکارا، ’’کہاں چلے۔۔۔ بیٹھو۔‘‘\n\nمیں نے سعید سے کہا، ’’میری موجودگی شاید آپ کی گفتگو میں مخل ہو۔‘‘ سعید نے اٹھ کر مجھے کاندھوں سے پکڑ کر ایک کرسی پر بٹھا دیا۔\n\n’’ہٹاؤ یار اس تکلف کو۔‘‘\n\nپھر اس نے ایک خالی گلاس میں میرے لیے بیئر انڈیلی اور اسے میرے سامنے رکھ دیا، ’’لو،پیو۔۔۔‘‘ میں نے دو گھونٹ بھرے تو سعید نے اس ادھیڑ عمر کی عورت سے جو لباس اور زیوروں سے کافی مال دار معلوم ہوتی تھی۔۔۔تعارف کرایا۔\n\n’’سلمےٰ رحمانی۔۔۔ اور یہ میرے عزیز دوست سعادت حسن منٹو۔‘‘\n\nسلمےٰ رحمانی چند ساعتوں کے لیے مجھے بڑے غور اور تعجب سے دیکھتی رہی۔\n\n’’سعید۔۔۔ کیا واقعی یہ سعادت حسن منٹو ہیں۔۔۔ جن کے افسانوں کے سارے مجموعے میں بڑے غور سے ایک نہیں ،دو دو ،تین تین مرتبہ پڑھ چکی ہوں۔۔۔‘‘ ڈاکٹر سعید نے اپنا گلاس اٹھایا۔\n\n’’ہاں،وہی ہیں۔۔۔ میں نے کئی مرتبہ خیال کیا کہ اس سے تمہارا غائبانہ تعارف کرا دوں۔۔۔ پر میں نے سوچا تم اس نام سے یقیناًواقف ہوگی۔۔۔ شیطان کو کون نہیں جانتا۔۔۔ ‘‘سلمےٰ رحمانی یہ سن کر پیٹ بھر کے ہنسی۔۔۔ اور اس کا پیٹ عام پیٹوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی بڑا تھا۔\n\nاس کے بعد مس سلمےٰ رحمانی سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔۔۔ پڑھی لکھی عورت تھی۔ بڑے اچھے گھرانے سے متعلق تھی۔ تفتیش کیے بغیر مجھے اس کے متعلق چند معلومات حاصل ہوگئیں کہ وہ تین خاوندوں سے طلاق لے چکی ہے۔۔۔ صاحبِ اولاد ہے۔۔۔ جہاں رہتی ہے۔۔۔ اس گھر میں دو چھوٹے چھوٹے کمرے اور ایک غسل خانہ ہے، وہاں اکیلی رہتی ہے۔ غیر منقولہ جائیداد سے اس کی آمدن چار پانچ سو روپے ماہوار کے قریب ہے۔ ہیرے کی انگوٹھیاں پہنتی ہے۔ ان انگوٹھیوں میں سے ایک میں نے دوسرے روز شام کو سعید کی انگلی میں دیکھی۔ تیسرے روز کو ڈاکٹر سعید کے مطب میں سلمےٰ رحمانی موجود تھی۔ دونوں بہت خوش تھے اور چہچہا رہے تھے۔۔۔ میں بھی ان کی بیئر نوشی میں شریک ہوگیا۔\n\nپچھلے ایک ہفتے سے میں دیکھ رہا تھا کہ ڈاکٹر سعید کے کمرۂ تشخیص سے کچھ دور جو کمرے خالی پڑے رہتے ہیں، ان کی بڑی توجہ سے مرمت کرائی جارہی ہے۔۔۔ ان کو سجایا بنایا جارہا ہے۔ فرنیچر جب لایا گیا تو وہی تھا جو میں نے سلمےٰ رحمانی کے گھر دیکھا تھا۔اتوار کو ڈاکٹر سعید کی چھٹی کا دن ہوتا ہے۔ کواڑ بند رہتے تاکہ اس کو تنگ نہ کیا جائے۔مجھے تو وہاں ہر وقت آنے جانے کی اجازت تھی۔۔۔ ایک اور چور دروازہ تھا۔ اس کے ذریعے میں اندر پہنچا۔۔۔ اور سیدھا ان دو کمروں کا رخ کیا جن کی مرمت کرائی گئی تھی۔ دروازہ کھلا تھا۔۔۔ میں اندر داخل ہوا تو حسب توقع ڈاکٹر سعید کی بغل میں سلمےٰ رحمانی بیٹھی تھی۔\n\nسعید نے مجھ سے کہا، ’’میری بیوی سلمےٰ رحمانی سے ملو۔۔۔‘‘\n\nمجھے اس عورت سے کیا ملنا تھا۔۔۔ سیکڑوں بار مل چکا تھا۔ لیکن اگر کسی عورت کی شادی ہو تو اس کو کن الفاظ میں مبارک باد دینی چاہیے۔۔۔ اس کے بارے میں میری معلومات صفر کے برابر تھیں۔۔۔ سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کہوں۔ لیکن کہنا بھی کچھ ضرور تھا۔۔۔ اس لیے جو منہ میں آیا، باہر نکال دیا، ’’تو آخر اس ڈرامے کا ڈراپ سین ہوگیا۔۔۔‘‘\n\nمیاں بیوی دونوں ہنسے۔ سعید نے مجھے بیٹھنے کو کہا۔ بیئر پیش کی اور ہم شادی کے علاوہ دنیا کے ہر موضوع پر دیر تک گفتگو کرتے رہے۔میں شام پانچ بجے آیا تھا۔۔۔ گھڑی دیکھی تو نو بجنے والے تھے۔ میں نے سعید سے کہا، ’’لو بھئی۔۔۔ میں چلا۔۔۔ باتوں باتوں میں اتنی دیر ہوگئی ہے،اس کا مجھے علم نہیں تھا۔‘‘\n\nسعید کے بجائے سلمےٰ رحمانی۔۔۔ معاف کیجیے گا سلمےٰ سعید مجھ سے مخاطب ہوئیں، ’’آپ نہیں جاسکتے۔۔۔کھانا تیار ہے۔۔۔ اگر آپ کہیں تو لگوا دیا جائے۔ ‘‘خیر ،سعید اور اس کی نئی بیوی کے پیہم اصرار پر مجھے کھانا کھانا پڑا۔۔۔ جو بہت خوش ذائقہ اور لذیذ تھا۔دو برس تک ان کی زندگی بڑی ہموار گزرتی رہی ۔۔۔ایک دن میں ناسازئ طبیعت کے باعث بستر ہی میں لیٹا تھا کہ نوکر نے اطلاع دی، ’’ڈاکٹر سعید صاحب تشریف لائے ہیں۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’اندر۔۔۔ جاؤ،ان کو اندر بھیج دو۔۔۔‘‘\n\nسعید آیا تو میں نے محسوس کیا وہ بہت مضطرب اور پریشان ہے۔ اس نے مجھے کچھ پوچھنے کی زحمت نہ دی اور اپنے آپ بتا دیا کہ سلمےٰ سے اس کی ناچاقی شروع ہوگئی ہے، اس لیے کہ وہ خود سر عورت ہے ،کسی کو خاطر ہی میں نہیں لاتی۔۔۔ میں نے صرف اس لیے اس سے شادی کر لی تھی کہ وہ اکیلی تھی۔۔۔اس کے عزیز و اقربا اسے پوچھتے ہی نہیں تھے جب وہ بیمار ہوئی۔۔۔ اور یہ کوئی معمولی بیماری نہیں تھی۔۔۔ ڈپتھریا تھا جسے خناق کہتے ہیں، تو میں نے اپنا تمام کام چھوڑ کر اس کا علاج کیا اور خدا کے فضل و کرم سے وہ تندرست ہوگئی۔۔۔ پر اب وہ ان تمام باتوں کو پسِ پشت ڈال کر مجھ سے کچھ اس قسم کا سلوک کرتی ہے جو بے حد ناروا ہے۔‘‘\n\nتو آغاز کا انجام شروع ہوگیا تھا۔\n\nچونکہ ڈاکٹر سعید کا گھر میرے گھر کے بالکل پاس تھا ،اس لیے ان کی لڑائیوں کی اطلاعات ہمیں مختلف ذریعوں سے پہنچتی رہتی تھیں۔سلمےٰ کے ساتھ دو نوکرانیاں تھیں ،بڑی تیز طرار اور ہٹی کٹی۔ ان دونوں کے شوہر تھے۔۔۔ وہ ایک طرح اس کے ملازم تھے۔۔۔ اس کے اشارے پر جان دے دینے والے۔۔۔ اور ڈاکٹر سعید بڑا نحیف اور مختصر مرد۔ ایک دن معلوم ہوا کہ ڈاکٹر سعید اور سلمےٰ نے پی رکھی تھی کہ آپس میں دونوں کی چخ چخ ہوگئی۔۔۔ ڈاکٹر نے معلوم نہیں نشے میں کیا کہا کہ سلمےٰ آگ بگولا ہوگئی۔ اس نے اپنی دونوں نوکرانیوں کو آواز دی ۔۔۔وہ دوڑی دوڑی اندر آئیں۔ سلمےٰ نے ان کو حکم دیا کہ ڈاکٹر کی اچھی طرح مرمت کر دی جائے، ایسی مرمت کہ ساری عمر یاد رکھے۔\n\nیہ حکم ملنا تھا۔۔۔ کہ ڈاکٹر سعید کی مرمت شروع ہوگئی۔۔۔ ان دونوں نوکرانیوں نے اپنے شوہروں کو بھی اس سلسلے میں شامل کر لیا۔ لاٹھیوں، گھونسوں اور دوسرے تھرڈ ڈگری طریقوں سے اسے خوب مارا پیٹا گیا کہ اس کا کچومر نکل گیا۔ افتاں و خیزاں بھاگا وہاں سے ،اور اوپر اپنی پرانی بیوی کے پاس پہنچ گیا جس نے مستعد نرس کی طرح اس کی خدمت شروع کر دی۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ اس نے ان دو کمروں کا رخ قریب قریب دو ماہ تک نہ کیا۔ اب وہ سلمےٰ سے کسی قسم کا رشتہ قائم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ہوگیا۔۔۔ سو ہوگیا۔۔۔ اب اس کو اپنے گھر سے بہت زیادہ دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔\n\nلیکن کبھی کبھی اسے یہ محسوس ہوتا کہ یہ عورت جس سے میں نے شادی کا ڈھونگ رچایا تھا۔۔۔ کیوں ابھی تک اس کے سر پر مسلط ہے۔۔۔اس کے گھر سے چلی کیوں نہیں جاتی۔ مگر اس سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔\n\nایک دو ماہ اور گزر گئے۔\n\nاس دوران ڈاکٹر سعید کو معلوم ہوا کہ اس کا یوپی کے تاجر سے معاشقہ چل رہا ہے۔ یہ شخص صرف نام ہی کا تاجر تھا۔۔۔ اس کے پاس کوئی دولت نہیں تھی۔صرف ایک مکان تھا۔۔۔ جو اس نے ہجرت کرنے کے بعد اپنے نام الاٹ کرا لیا تھا۔ دونوں ہر روز شام کو میرے یہاں آتے۔۔۔ شعر و شراب کی محفلیں جمتیں۔۔۔ اور میرے سینے پر مونگ دلتی رہتیں۔۔۔ ایک دن اس سے یہ کہے بغیر نہ رہا جاسکا۔\n\nمیں نے ذرا سخت لہجے میں اس سے کہا، ’’اول تو تم نے یہ غلطی کی۔۔۔ کہ سلمےٰ سے شادی کی۔۔۔ دوسری غلطی تم یہ کر رہے ہو کہ اسے اپنے گھر سے باہر نہیں کرتے۔۔۔ کیا یہ اس کے باپ کا گھر ہے؟‘‘ ڈاکٹر سعید کی گردن شرمساری کے باعث جھک گئی۔\n\n’’یار! چھوڑو اس قصّے کو۔‘‘\n\n’’قصے کو تو تم اور میں دونوں چھوڑنے کے لیےتیار ہیں۔۔۔ لیکن یہ قصہ ہی تمہیں نہیں چھوڑتا۔۔۔ اور نہ چھوڑے گا۔۔۔جبکہ تم کوئی بھی مردانہ وار کوشش نہیں کرتے۔۔۔‘‘\n\nوہ خاموش رہا۔میں نے اس پر ایک گولہ اور پھینکا، ’’سچ پوچھو تو سعید۔۔۔تم نامرد ہو۔۔۔ میں تمہاری جگہ ہوتا تو محترمہ کا قیمہ بنا ڈالتا۔۔۔ اصل میں تم ضرورت سے زیادہ ہی شریف ہو۔‘‘\n\nسعید نے نقاہت بھری آواز میں صرف اتنا کہا، ’’میں بہت خطرناک مجرم بھی بن سکتا ہوں۔۔۔ تم نہیں جانتے۔‘‘\n\nمیں نے طنزاً کہا، ’’سب جانتا ہوں۔۔۔ اس سے اتنی مار کھائی۔۔۔ اتنے ذلیل ہوئے۔۔۔ میں صرف اتنا پوچھتا ہوں کہ محترمہ تمہارے گھر سے جاتی کیوں نہیں۔۔۔؟ اس پر اس کا اب کیا حق ہے؟‘‘ سعید نے جواب دیا، ’’وہ چلی گئی ہے۔۔۔ اور اس کا سامان بھی۔۔۔ بلکہ میرا سامان بھی اپنے ساتھ لے گئی ہے۔۔۔‘‘\n\nمیں بہت خوش ہوا، ’’لعنت بھیجو اپنے سامان پر۔۔۔چلی گئی ہے۔۔۔ بس ٹھیک ہے تم خوش تمہارا خدا خوش۔۔۔ چلو اسی خوشی میں وہ بیئر کی یخ بستہ بوتلیں پئیں۔۔۔ جو میں اپنے ساتھ لایا ہوں۔۔۔اس کے بعد کھانا کسی ہوٹل میں کھائیں گے۔‘‘ سلمےٰ کے جانے کے بعد ڈاکٹر سعید کم از کم ایک ماہ تک کھویا کھویا سا رہا۔۔۔ اس کے بعد وہ اپنی نارمل حالت میں آگیا۔۔۔ ہر شام اس سے ملاقات ہوتی۔۔۔ گھنٹو ں ادھر ادھر کی باتیں کرتے اور ہنسی مذاق کرتے رہتے۔\n\nکچھ دنوں سے میری طبیعت موسم کی تبدیلی کے باعث بہت مضمحل تھی۔بستر میں لیٹا تھا کہ ڈاکٹر سعید کا ملازم آیا۔۔۔ اس نے مجھ سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ کو یاد کرتے ہیں اور بلا رہے ہیں۔۔۔ ایک ضروری کام ہے۔ میرا جی تو نہیں چاہتا تھا کہ بستر سے اٹھوں مگر سعید کو ناامید نہیں کرنا چاہتا تھا، اس لیے شیروانی پہن کر اس کے یہاں پہنچا۔مکان کے باہر دیکھاکہ چار دیگیں چڑھی ہیں۔ قصائی دھڑا دھڑ بوٹیاں کاٹ کاٹ کر صف کے ایک ٹکڑے پر پھینکے چلا جارہا ہے۔ آس پاس کے کئی آدمی جمع تھے۔\n\nمیں سمجھا شاید کوئی نذر نیاز دی جا رہی ہے۔۔۔۔ میں نے گوشت کا وہ بڑا سا لوتھڑا دیکھا، جس پر کلہاڑی چلائی جارہی تھی۔ اس کے ساتھ دو بانہیں تھیں۔۔۔! بالکل انسانوں کی مانند۔۔۔ !میں نے پھر غور سے دیکھا۔۔۔ قطعی طور پر انسانی بانہیں تھیں۔ سمجھ میں نہ آیا۔۔۔ یہ قصہ کیا ہے۔\n\nقصائی کی چھری اور کلہاڑی چل رہی تھی۔۔۔ چار دیگوں میں پیاز سرخ کی جارہی تھی۔۔۔ اور میرا دل۔۔۔ دماغ ان دونوں کے درمیان پھنستا اور دھنستا چلا جارہا تھا۔۔۔ کہ ڈاکٹر سعید نمودار ہوا۔ مجھے دیکھتے ہی پکارا، ’’آئیے۔۔۔ آئیے۔۔۔ آپ کے کہنے کے مطابق قیمہ تو نہ بن سکا۔ مگریہ بوٹیاں تیار کرالی گئی ہیں۔۔۔ ابھی اچھی طرح بھونی نہیں گئیں۔ ورنہ میں آپ کو ایک بوٹی پیش کرتا۔۔۔ یہ معلوم کرنے کے لیے کہ مرچ مصالحہ ٹھیک ہے یا نہیں۔‘‘\n\nیہ سن کر پہلے مجھے متلی آئی۔۔۔ اور پھر میں بے ہوش ہوگیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%82%DB%8C%D9%85%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D9%88%D9%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "لا الٰہ الاّ اللہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "خودی کا سِرِّ نہاں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ\nخودی ہے تیغ، فَساں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ\nیہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے\nصنم کدہ ہے جہاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ\nکِیا ہے تُو نے متاعِ غرور کا سودا\nفریب سُود و زیاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ\nیہ مال و دولتِ دنیا، یہ رشتہ و پیوند\nبُتانِ وہم و گُماں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ\nخرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زنّاری\nنہ ہے زماں نہ مکاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ\nیہ نغمہ فصلِ گُل و لالہ کا نہیں پابند\nبہار ہو کہ خزاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ\nاگرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں\nمجھے ہے حُکمِ اذاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%91_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "لا دینی و لاطینی، کس پیچ میں اُلجھا تُو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "لا دینی و لاطینی، کس پیچ میں اُلجھا تُو\nداَرو ہے ضعیفوں کا ’لَاغَالِبَ اِلّاَ ھُوْ‘\nصیّادِ معانی کو یورپ سے ہے نومِیدی\nدِلکش ہے فضا، لیکن بے نافہ تمام آہُو\nبے اشکِ سحَر گاہی تقویمِ خودی مشکل\nیہ لالۂ پیکانی خوشتر ہے کنارِ جُو\nصیّاد ہے کافر کا، نخچیر ہے مومن کا\nیہ دیرِ کُہن یعنی بُتخانۂ رنگ و بوُ\nاے شیخ، امیروں کو مسجد سے نکلوا دے\nہے ان کی نمازوں سے محراب تُرش ابرو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%8C_%D9%88_%D9%84%D8%A7%D8%B7%DB%8C%D9%86%DB%8C%D8%8C_%DA%A9%D8%B3_%D9%BE%DB%8C%DA%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%8F%D9%84%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%8F%D9%88"} {"title": "لا ریب بہشتیوں کا مرجع ہے یہ", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "لا ریب بہشتیوں کا مرجع ہے یہ\nسب جس میں بھرے ہیں گل و مجمع ہے یہ\nدیکھے کوئی مومنوں کے چہروں کی ضیا\nمانیؔ بھی ہے دنگ وہ مرقع ہے یہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7_%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%A8%DB%81%D8%B4%D8%AA%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B1%D8%AC%D8%B9_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81"} {"title": "لا مکاں لگ عاشقاں کے عشق کا پرواز ہے", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "لا مکاں لگ عاشقاں کے عشق کا پرواز ہے\nآسمان اور عرش و کرسی ان کا پا انداز ہے\n\nاک تفکر ان کا افضل از طاعت ہفتہ و سال\nسب خلائق پر انہوں کا اس سبب اعزاز ہے\n\nعالماں اور عابداں کی بندگی سب قیل و قال\nعاشقاں کے دل میں روشن جو کہ مخفی راز ہے\n\nموتو قبل ان تموتوا حال ہے عشاق کا\nعالماں کے گوش میں اس حرف کا آواز ہے\n\nبو الہوس کو شمع سے دل باندھنا ممکن نہیں\nعاشقاں کا اس سبب زاہد سدا اغماض ہے\n\nخیر و شر سوں عاشقاں بے دل نہیں اور بوجھتے\nرنج و راحت عشق میں معشوق کا سب ناز ہے\n\nٹل گئے اس معرکے سوں کئی ہزاراں اے علیمؔ\nجو رہا سو نام اس کا عاشق جاں باز ہے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DA%AF_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92"} {"title": "لا مکاں نام ہے اجڑے ہوئے ویرانے کا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لا مکاں نام ہے اجڑے ہوئے ویرانے کا\nہو کے عالم میں ہے مسکن ترے دیوانے کا\n\nشوق رسوا کوئی دیکھے ترے دیوانے کا\nخود وہ آغاز بنا ہے کسی افسانے کا\n\nجام دل بادۂ الفت سے بھرا رہتا ہے\nواہ کیا ظرف ہے ٹوٹے ہوئے پیمانے کا\n\nداستاں عشق کی ہے پوری سنائیں گے کلیم\nقصہ طور تو اک باب ہے افسانے کا\n\nشمع نے بزم میں جل جل کے جلایا آخر\nآہ کیا حشر ہوا عشق میں پروانے کا\n\nمستتر قلقل مینا میں ہے راز مستی\nبھید کس طرح کھلے پھر ترے مستانے کا\n\nحشر میں دیکھ کے مجمع لب کوثر ساقی\nپھر گیا آنکھوں میں نقشہ ترے میخانے کا\n\nملتے ہی ساغر و شیشہ سے چھلک جاتا ہے\nیہ بھی کیا دور ہے ساقی ترے پیمانے کا\n\nکیا قیامت ہے کہ محشر میں بھی پرسش نہ ہوئی\nحشر اب دیکھیے کیا ہو ترے دیوانے کا\n\nصفحہ دل مرا آئینۂ رمز توحید\nراز کونین خلاصہ مرے افسانے کا\n\nشوقؔ اب کس لئے فکر مے و میخانہ ہے\nبھرنے والا تو کوئی اور ہے پیمانے کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%AC%DA%91%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "لا و اِلّا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "فضائے نُور میں کرتا نہ شاخ و برگ و بر پیدا\nسفر خاکی شبستاں سے نہ کر سکتا اگر دانہ\nنہادِ زندگی میں ابتدا ’لا‘، انتہا ’اِلّا‘\nپیامِ موت ہے جب ’لا ہوُا ’اِلاّ‘ سے بیگانہ\nوہ مِلّت رُوح جس کی ’لا ‘سے آگے بڑھ نہیں سکتی\nیقیں جانو، ہُوا لبریز اُس ملّت کا پیمانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7_%D9%88_%D8%A7%D9%90%D9%84%D9%91%D8%A7"} {"title": "لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں\nزندگانی پھر کہاں ناداں جوانی پھر کہاں\n\nدو گھڑی مل بیٹھنے کو بھی غنیمت جانئے\nعمر فانی ہی سہی یہ عمر فانی پھر کہاں\n\nآ کہ ہم بھی اک ترانہ جھوم کر گاتے چلیں\nاس چمن کے طائروں کی ہم زبانی پھر کہاں\n\nہے زمانہ عشق سلمیٰ میں گنوا دے زندگی\nیہ زمانہ پھر کہاں یہ زندگانی پھر کہاں\n\nایک ہی بستی میں ہیں آساں ہے ملنا آ ملو\nکیا خبر لے جائے دور آسمانی پھر کہاں\n\nفصل گل جانے کو ہے دور خزاں آنے کو ہے\nیہ چمن یہ بلبلیں یہ نغمہ خوانی پھر کہاں\n\nپھول چن جی کھول کر عیش و طرب کے پھول چن\nموسم گل پھر کہاں فصل جوانی پھر کہاں\n\nآخری رات آ گئی جی بھر کے مل لیں آج تو\nتم سے ملنے دے گا دور آسمانی پھر کہاں\n\nآج آئے ہو تو سنتے جاؤ یہ تازہ غزل\nورنہ اخترؔ پھر کہاں یہ شعر خوانی پھر کہاں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7_%D9%BE%D9%84%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D8%B1%D8%BA%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی\nہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی!\n\nتین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند\nاب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی\n\nمری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی\nشیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی\n\nشیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی\nرہ گئے صوفی و ملّا کے غلام اے ساقی\n\nعشق کی تیغِ جگردار اُڑا لی کس نے\nعِلم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی\n\nسِینہ روشن ہو تو ہے سوزِ سخن عینِ حیات\nہو نہ روشن، تو سخن مرگِ دوام اے ساقی\n\nتُو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ\nترے پیمانے میں ہے ماہِ تمام اے ساقی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "لا کے دنیا میں ہمیں زہر فنا دیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لا کے دنیا میں ہمیں زہر فنا دیتے ہیں\nہائے اس بھول بھلیاں میں دغا دیتے ہیں\n\nرحم بھی ظلم و ستم سے نہیں خالی ان کا\nدامن تیغ سے زخموں کو ہوا دیتے ہیں\n\nدل میں درد آنکھوں میں آشوب جگر میں سوزش\nعشق کیا دیتے ہیں اک روگ لگا دیتے ہیں\n\nمنعموں کا نہیں دریوزہ گروں پر احساں\nآپ کیا دیں گے وہ خالق کا دیا دیتے ہیں\n\nدہن یار کی تعریف لکھی کیا کہنا\nقدرؔ تو جھوٹ کو سچ کر کے دکھا دیتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%DB%81%D8%B1_%D9%81%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے\nبجلیاں بے تاب ہوں جن کو جَلانے کے لیے\n\nوائے ناکامی، فلک نے تاک کر توڑا اُسے\nمیں نے جس ڈالی کو تاڑا آشیانے کے لیے\n\nآنکھ مل جاتی ہے ہفتاد و دو ملّت سے تری\nایک پیمانہ ترا سارے زمانے کے لیے\n\nدل میں کوئی اس طرح کی آرزو پیدا کروں\nلوٹ جائے آسماں میرے مٹانے کے لیے\n\nجمع کر خرمن تو پہلے دانہ دانہ چُن کے تُو\nآ ہی نکلے گی کوئی بجلی جلانے کے لیے\n\nپاس تھا ناکامیِ صیّاد کا اے ہم صفیر\nورنہ مَیں، اور اُڑ کے آتا ایک دانے کے لیے!\n\nاس چمن میں مرغِ دل گائے نہ آزادی کا گیت\nآہ! یہ گُلشن نہیں ایسے ترانے کے لیے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D9%86%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "لائق وفا کے خلق و سزائے جفا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لائق وفا کے خلق و سزائے جفا ہوں میں\nجتنے ہیں یاں سو نیک ہیں جو کچھ برا ہوں میں\n\nجا ہے کہ ہوں یہ لوگ ترے پاس اس جگہ\nکب قابل عنایت و مہر و وفا ہوں میں\n\nمجھ کو بتاں کی دید سے مت منع کر کہ شیخ\nکیا جانے اس لباس میں کیا دیکھتا ہوں میں\n\nآگے مرے نہ غیر سے گو تم نے بات کی\nسرکار کی نظر کو تو پہچانتا ہوں میں\n\nبیگانہ جن سے مل کے تو پیارے ہوا ہے یاں\nان سب میں اک بڑا تو ترا آشنا ہوں میں\n\nپوچھو ہو مجھ سے تم کہ پیے گا بھی تو شراب\nایسا کہاں کا شیخ ہوں یا پارسا ہوں میں\n\nجور سپہر و دوریٔ یاراں و روئے غیر\nجو کچھ نہ دیکھنا تھا سو اب دیکھتا ہوں میں\n\nآئینہ و غبار میں جوں یک دگر ہے ربط\nجو پر کدر ہیں ان سے زیادہ صفا ہوں میں\n\nقائمؔ حیات و مرگ بز و گاؤ میں ہیں نفع\nاس مردمی کے شور پہ کس کام کا ہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D8%A6%D9%82_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D9%84%D9%82_%D9%88_%D8%B3%D8%B2%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے\nاپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے\n\nہو عمر خضر بھی تو ہو معلوم وقت مرگ\nہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے\n\nہم سے بھی اس بساط پہ کم ہوں گے بد قمار\nجو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے\n\nبہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے\nپر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے\n\nلیلیٰ کا ناقہ دشت میں تاثیر عشق سے\nسن کر فغان قیس بجائے حدی چلے\n\nنازاں نہ ہو خرد پہ جو ہونا ہے ہو وہی\nدانش تری نہ کچھ مری دانش وری چلے\n\nدنیا نے کس کا راہ فنا میں دیا ہے ساتھ\nتم بھی چلے چلو یوں ہی جب تک چلی چلے\n\nجاتے ہوائے شوق میں ہیں اس چمن سے ذوقؔ\nاپنی بلا سے باد صبا اب کبھی چلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%D9%84%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%8C_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "لائی نہیں پیام کوئی زلف یار سے", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لائی نہیں پیام کوئی زلف یار سے\nمجھ کو شکایتیں ہیں نسیم بہار سے\n\nکھیلا ہو جو درازیٔ گیسوئے یار سے\nوہ کیا ڈرے گا طول شب انتظار سے\n\nآہستہ اے نسیم کہ یہ زندگی مری\nملتی ہوئی ہے شمع سر رہ گزار سے\n\nمیرا ہی ایک عکس ہے کیا طور کیا کلیم\nدیکھے کوئی مجھے نگہ اعتبار سے\n\nاک داغ ہی سہی ٹھہر اے مرگ ناگہاں\nلے جائیں کچھ تو عالم ناپائیدار سے\n\nمجھ کو مٹائے گردش لیل و نہار کیا\nباہر ہے عشق گردش لیل و نہار سے\n\nوہ دل کے آئنے میں رہے اور مری نظر\nآگے بڑھی نہ آئنہ اعتبار سے\n\nہم بیخودان عشق سے کیا پرسش بہار\nپوچھو ہمارے پیرہن تار تار سے\n\nمیری طرح انہیں بھی نہ رسوا کرے ظفرؔ\nڈرتا ہوں اپنے نالۂ بے اختیار سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "لائے گی رنگ آپ کی یہ دل لگی کچھ اور", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "لائے گی رنگ آپ کی یہ دل لگی کچھ اور\nبڑھ کر رہے گی اب مری آشفتگی کچھ اور\n\nمجھ پر کھلیں گے اور ابھی راز ہائے عشق\nدل کو ملے گی لذت بے چارگی کچھ اور\n\nمیری حیات عشق ہے تمہید انبساط\nجلوے دکھائے گی مجھے خود رفتگی کچھ اور\n\nان کی طرف ہے چشم‌ سخن گو دم اخیر\nاس کے سوا نہیں اثر زندگی کچھ اور\n\nہاں اے خیال دوست دکھا دوست کو دکھا\nباقی کچھ اور ہے ہوس بندگی کچھ اور\n\nرہتا نہ اتنا دور میں اس جلوہ گاہ سے\nاے کاش ابھارتا غم افتادگی کچھ اور\n\nوعدے یوں ہی جو کرتے رہیں گے وہ نو بہ نو\nحاصل کروں گا میں طرب زندگی کچھ اور\n\nمنظورؔ اک نگاہ طرب سوز کے سوا\nدیکھا نہ ہم نے حاصل شرمندگی کچھ اور", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "لادِین سیاست", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "جو بات حق ہو، وہ مجھ سے چھُپی نہیں رہتی\nخدا نے مجھ کو دیا ہے دلِ خبیر و بصیر\nمری نگاہ میں ہے یہ سیاستِ لا دِیں\nکنیزِ اہرمن و دُوں نہاد و مُردہ ضمیر\nہوئی ہے ترکِ کلیسا سے حاکمی آزاد\nفرنگیوں کی سیاست ہے دیوِ بے زنجیر\nمتاعِ غیر پہ ہوتی ہے جب نظر اس کی\nتو ہیں ہراولِ لشکر کلِیسیا کے سفیر!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D8%AF%D9%90%DB%8C%D9%86_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA"} {"title": "لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور\nتنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور\n\nمٹ جائےگا سَر، گر، ترا پتھر نہ گھِسے گا\nہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور\n\nآئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ “جاؤں؟”\nمانا کہ ھمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور\n\nجاتے ہوئے کہتے ہو “قیامت کو ملیں گے”\nکیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور\n\nہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارف\nکیا تیرا بگڑ تا جو نہ مرتا کوئی دن اور\n\nتم ماہِ شبِ چار دہم تھے مرے گھر کے\nپھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور\n\nتم کون سے ایسے تھے کھرے داد و ستد کے\nکرتا ملکُ الموت تقاضا کوئی دن اور\n\nمجھ سے تمہیں نفرت سہی، نیر سے لڑائی\nبچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور\n\nگزری نہ بہرحال یہ مدت خوش و ناخوش\nکرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور\n\nناداں ہو جو کہتے ہو کہ “کیوں جیتے ہیں غالبؔ”\nقسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "لازم ملزوم ہو گئے ذات و صفات", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "لازم ملزوم ہو گئے ذات و صفات\nہیں شخص و وجود عکس و سایہ کا ثبات\nتوحید کا جلوہ ہیں حدوث اور قدم\nمعدوم صفت ہے ذات قائم ہے بذات", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85_%D9%85%D9%84%D8%B2%D9%88%D9%85_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%B0%D8%A7%D8%AA_%D9%88_%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA"} {"title": "لازم نہیں اس دولت فانی پہ دماغ", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "لازم نہیں اس دولت فانی پہ دماغ\nکر شکر جو حاصل ہے ترے دل کو فراغ\nمت تیغ زباں سے کر دلوں کو گھائل\nبھر جانے پہ زخم کے بھی رہ جاتا ہے داغ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%D9%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%BE%DB%81_%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA"} {"title": "لازم ہے بے وفا تجھے اہلِ وفا سے ربط", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لازم ہے بے وفا تجھے اہلِ وفا سے ربط\nکیسا ہے دیکھ عکسِ ادا کو ادا سے ربط\n\nیہ ناخن و خراش میں بگڑی کہ کیا کہوں\nاک دم ہوا جو عقدہ بندِ قبا سے ربط\n\nناصح مری ملامتِ بے جا سے فائدہ\nبے اختیار دل کو ہے اس دل ربا سے ربط\n\nاس سرد مہر کو ہو اثر، پر جو ہو سکے\nکام و دہاں کو میرے دمِ شعلہ زا سے ربط\n\nکیجے گر ان سے شکوہ انجامِ کارِ عشق\nکہتے ہیں مجھ کو تم سے نہ تھا ابتدا سے ربط\n\nدو دن میں تنگ ہو گئے جورِ سپہر سے\nاس حوصلے پہ کرتے تھےاس کی جفا سے ربط\n\nکیا کیجے، بد گمانیِ ابرو کا دھیان ہے\nکرتے وگرنہ ہجر میں تیغِ قضا سے ربط\n\nتیرے ستم سے ہے یہ دعا لب پہ دم بہ دم\nیا رب نہ ہو کسی کو کسی بے وفا سے ربط\n\nصبحِ شبِ فراق کیا لطفِ مرگ نے\nکیا دیر میں ہوا ہمیں زود آشنا سے ربط\n\nفریادِ نزع کان تک اس کے نہ جا سکی\nتھا شیفتہ ہمیں نفسِ نارسا سے ربط", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%DB%81%D9%84%D9%90_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%A8%D8%B7"} {"title": "لازم ہے سوز عشق کا شعلہ عیاں نہ ہو", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "لازم ہے سوز عشق کا شعلہ عیاں نہ ہو\nجل بجھیے اس طرح سے کہ مطلق دھواں نہ ہو\n\nزخم جگر کا وا کسی صورت وہاں نہ ہو\nپیکان یار اس میں جو شکل زباں نہ ہو\n\nاللہ رے بے حسی کہ جو دریا میں غرق ہوں\nتالاب کی طرح کبھی پانی رواں نہ ہو\n\nگل خندہ زن ہے چہچہے کرتی ہے عندلیب\nپھیلی ہوئی چمن میں کہیں زعفراں نہ ہو\n\nبھاگو یہاں سے یہ دل نالاں کی ہے صدا\nبہکے ہو یارو یہ جرس کارواں نہ ہو\n\nہستی عدم سے ہے مری وحشت کی اک شلنگ\nاے زلف یار پانو کی تو بیڑیاں نہ ہو\n\nلینا بہ جاے فاتحہ تربت پہ نام یار\nمرنے پہ یہ خیال ہے وہ بدگماں نہ ہو\n\nناقہ چلا ہے نجد میں لیلیٰ کا بے مہار\nمجنوں کی بن پڑے گی اگر سارباں نہ ہو\n\nچالوں سے چرخ کی یہ مرا عزم ہے سرورؔ\nاس سر زمیں پہ جاؤں جہاں آسماں نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "لازم ہے کہ فکر رخ دلبر چھوڑوں", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "لازم ہے کہ فکر رخ دلبر چھوڑوں\nواجب ہے یہی اب کہ مقرر چھوڑوں\nناصح نے کیا مجھ کو بھی آخر مجنوں\nہوں قید میں جس کی اسے کیوں کر چھوڑوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%D8%AE_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D9%88%DA%BA"} {"title": "لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے\nمیرا ذمہ، دیکھ کر گر کوئی بتلا دے مجھے\n\nکیا تعجب ہے کہ اُس کو دیکھ کر آ جائے رحم\nوا ں تلک کوئی کسی حیلے سے پہنچا دے مجھے\n\nمنہ نہ دکھلاوے، نہ دکھلا، پر بہ اندازِ عتاب\nکھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دکھلا دے مجھے\n\nیاں تلک میری گرفتاری سے وہ خو ش ہے کہ مَیں\nزلف گر بن جاؤں تو شانے میں اُلجھا دے مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%D8%AF%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "لال قعہ کی جھلک ظرافت آمیز", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "بہادر شاہ ابو ظفر کے عہد میں غدر سے پہلے دو داستان گو شہر میں مشہور تھے۔ بڑے عبد اللہ خاں اور چھوٹے عبد اللہ خاں۔ دونوں کے دونوں اپنے فن میں کامل تھے۔ بڑے عبد اللہ خاں اکثر حضور والا کو داستان سناتے تھے اور حضور والا پسند فرماتے تھے۔ میر کاظم علی دہلوی جو داستان گوئی میں فرد تھے، انہیں کے شاگرد تھے اور میر باقر علی دہلوی انہیں اپنے ماموں میر کاظم علی صاحب کے داستان میں شاگرد بے نظیر تھے، جو حال ہی میں فوت ہوئے ہیں۔رات کا وقت تھا۔ حضور والا چھپر کھٹ پر لیٹے تھے۔ حکیم احسن اللہ خاں صاحب چھپر کھٹ کے پاس بیٹھے تھے۔ عبد اللہ خاں نے حسب دستور داستان شروع کرنے سے پہلے یہ لطیفہ بیان کیا کہ امر گڑھ کے قلعہ کے پاس چوک میں دو مسافر یوں بات چیت کر رہے تھے،’’آپ کی وضع سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ لکھنؤ کے رہنے والے ہیں۔‘‘ ’’جی ہاں! میں لکھنؤ کا باشندہ ہوں۔ مگر آپ کے لب و لہجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ دہلی والے ہیں۔‘‘ ’’بیشک میں دہلی رہتا ہوں۔ لکھنوی صاحب! یہ تو فرمائیے، آپ یہاں کیوں آئے ہیں اور کیا کام کرتے ہیں؟‘‘ لکھنوی میں امیروں کو میٹھی میٹھی باتیں سناتا ہوں۔ آپ کیا شغل رکھتے ہیں؟دہلوی میں بات میں رفو کرتا ہوں۔لکھنوی ہم تم اس راجہ کے دربا رمیں چلیں اور اپنا ہنر دکھائیں۔دونوں کی سرشام راجہ تک پہنچ ہوگئی۔ راجہ نے کہا، ’’کچھ بیان کرو۔‘‘ لکھنوی حضور یہ فددی آج ہی آپ کے شہر میں داخل ہوا ہے۔ شہر سے ملی ہوئی ندی جو بہتی ہے اس میں ٹخنوں ٹخنوں پانی تھا۔ اتفاقاً ایک بیل ندی میں اترا، اس کا پاؤں پانی میں پھسلا۔ گرا اور گرتے ہی بھسم ہوگیا اور ا س کا ریشہ ریشہ پانی میں بہہ گیا۔راجہ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔دہلوی حضور ان کا کہنا سچ ہے۔ بیل کی بیٹھ پر سوکھا چونہ لدا ہوا تھا۔ بیل کے گرتے ہی چونہ بجھا اور بیل کو گلا کر اس کی بوٹی بوٹی کردی۔راجہ اس حاضر جوابی سے بہت خوش ہوا اور دونوں کو پچاس روپیہ دے کر رخصت کیا۔ راجہ کے محل سے نکل کر لکھنؤ والے نے دہلی والے سے کہا، ’’کل پھر ہم تم مل کر راجہ کے یہاں چلیں گے۔‘‘ دہلی والے بولے میں تمہاری بات میں رفو نہیں کرسکتا۔ تم بے تکی باتیں بناتے ہو۔ کجا سوکھی ندی میں بیل کا گرنا اور کجا اس کا بھسم ہوجانا وہ تو مجھے سوجھ گئی اور بات میں رفو ہوگیا۔ (۲)حسن بانو ایسے گھر میں بیاہی آئیں، جس میں سوائے ان کے دولھا، ولایت بیگ کے دوسرا نہ کوئی مرد تھا نہ کوئی عورت تھی۔ البتہ حسن بانو کے جہیز میں ایک لونڈی آئی تھی، جس کا نام کیتگی تھا۔ جب ولایت بیگ نے پینس سے نکال کر دولہن کو محل میں مسند پر لاکر بٹھایا، تو کیتگی لونڈی بولی، ’’دولہن بڑی نازک مزاج ہیں۔ سچ مچ پھول سونگھ کر جیتی ہیں۔ بس ایک چڑیا کی جیب اور ایک مانڈہ کا پھپولا کھاتی ہیں۔ اس کا بندوبست روز کردیا کیجئے۔ اور خدا رکھے آپ کو سب طرح کے کھانے پکاکر میں کھلایا کروں گی۔‘‘ ولایت بیگ اس بات کو سن کر حیران ہوگیا اور اس نے کہا، ’’مانڈہ کیتگی تم پکایا کرنا۔ اور چڑیا کی جیب میں روزانہ کاٹ دیا کروں گا۔‘‘ اس بات کو چھ مہینے ہوئے۔ میاں بیوی ہنسی خوشی رہنے سہنے لگے۔ ولایت بیگ نے اپنے یار دوستوں سے کہا، ’’میری بیوی ایسی کم خوراک ہے کہ رات دن میں ایک چڑیا کی جیب اور مانڈہ کا ایک پھپولا کھاتی ہے۔‘‘ یاروں نے کہا، ’’مرزا تمہاری جورو تمہیں احمق بناتی ہے۔ تم اس کی باتوں میں نہ آؤ۔ اور وقت بے وقت چھپ کر اس کے کھانے پینے کو جانچو۔‘‘ مرزا کے دل کو یاروں کا کہنا لگ گیا اور ایک دن اس نے حسن بانو سے کہا، ’’آج رات کو میں گھر نہیں آؤں گا۔ دوستوں کے ساتھ جلسہ میں رہوں گا۔ تم شام ہوتے ہی گھر کا درواز بند کرلینا اور تم دونوں ہوشیار رہنا۔‘‘ یہ بہانہ کر کے وہ کوٹھے پر چلا گیا اور چھپ کر بیٹھ رہا۔ بیوی سمجھی میاں جلسہ میں گئے۔ مغرب سے پہلے دروازے کی کنڈی لگا لی اور بیوی باندی کھاپی کر سائبان میں سو رہیں۔ ایک پہر کے بعد بیوی کی آنکھ کھلی اور وہ اپنے پلنگ پر اٹھ کر بیٹھ گئی، اور کہنے لگی، ’’کیتگی رات کتنی؟‘‘ کیتگی بولی، ’’بیوی پہلا پہرا۔‘‘ بیو ی نے کہا، ’’مارے بھوک کے میرا دم نکلا جاتا ہے، تو کچھ پکاکر جلدی لا۔‘‘ کیتگی نے کہا، ’’ہر طرح کی جنس خدا رکھے گھر میں ہے، جو حکم ہو۔‘‘ بیوی سیر بھرتل، سیر بھر قند، سیر بھر گھی، لے کر کُٹ بنالا۔ لونڈی تل کٹ بنالائی۔ حسن بانو تل کٹ سب ڈکار گئی، اور بچھونے پر پڑکر سوگئی۔ کچھ دیر بعد اس کی آنکھ کھلی تو اس نے کہا، ’’کیتگی رات کتنی؟‘‘ کیتگی نے کہا، ’’دوجا پہرا۔‘‘ حسن بانو نے کہا، ’’اری کمبخت مارے بھوک کے میری جان ہوا ہوئی۔ کچھ پکاکر جلدی لا۔ دیکھ سیر بھر میدہ، سیر بھر کھانڈ، سیر بھر گھی کی ٹکیہ پکالا۔‘‘ لونڈی نے روغنی روٹ پکاکر حسن بانو کو کھلا دیا اور وہ پھر سوگئی اور کچھ دیر بعد پھر اس کی آنکھ کھلی تو اس نے کہا، ’’کیتگی رات کتنی؟‘‘ لونڈی نے کہا، ’’تیجا پہرا۔‘‘ حسن بانو بولی۔ اری مردار بھوک کے مارے میرا دم نکلا۔ کچھ پکاکر فوراً لا۔ لونڈی نے کہا، ’’جو حکم ہو۔‘‘ حسن بانو ’’دو سیر مونگ کی کھچڑی، سیر بھر گھی لے کر چٹ پٹ پکاکر حاضر کر۔‘‘ لونڈی کھچڑی پکا لائی اور حسن بانو اسے چاٹ کر پڑ گئی اور خراٹے لینے لگی۔ پھر جو یکایک اس کی آنکھ کھلی تو اس نے کہا، ’’کیتگی رات کتنی؟‘‘ لونڈی نے کہا، ’’بیگم چوتھا پہرا۔‘‘ حسن بانو ’’ہائے اللہ وہ بندی بھوکی مری۔ ارے نا نصیب بھوک نے میرا کام تمام کیا۔ تو دوسیر روا، دو سیر کھانڈ، سیر بھر گھی لے پنجیری بنا لا۔ اسے پھانک کر دو گھونٹ پانی پی کر اپنا دم تھام لوں گی۔‘‘ پنجیری بن کر آئی۔ حسن بانو نے کھائی، پھر جو پڑکر سوئی تو دن کے آٹھ بجے اٹھی۔ اور اس نے دیکھا میاں انگنائی میں ایک ہنڈیا لئے بیٹھے ہیں، جس کا منہ کپڑے سے بندھا ہے۔ بیوی اٹکھیلیاں کرتی میاں کے پاس آکر کہنے لگیں، ’’اچھی صبح ہی صبح کیا لائے ہو؟‘‘ میاں نے ہانڈی کا منھ کھولا۔ اور اس میں سے کالا سانپ پھنپھنا کر کھڑا ہوگیا۔بیوی (سانپ کو دیکھ کر) ’’وہی میاں یہ کالا۔‘‘ میاں ’’بیوی تل کٹ بھرا کنڈالا۔‘‘ بیوی ’’وہی میاں یہ موٹا۔‘‘ میاں ’’بیوی بھوبل میں کا روٹا۔‘‘ بیوی ’’وہی میاں یہ چلّے۔‘‘ میاں ’’بیوی کچھڑی میں کھی ہِلے۔‘‘ بیوی ’’وہی میاں اسے ڈھانکو۔‘‘ میاں ’’بیوی سارے گھر کا آٹا پھانکو۔ بیوی تو کوئی بلا نوش عورت ہے، منہ سوئی پیٹ کوئی، عورت کا قاعدہ ہے کہ مردوں کو طرح طرح سے ستاتی ہیں۔ مجھ سے کہا، میں چڑیا کی جیب اور مانڈہ کا پھپولا کھاتی ہوں۔ اور درپردہ ایک بیل کا راتب زہر مار کرتی ہے لعن ہے ایسے ہوکے پر۔‘‘ (۳)پودینہ نام شاہ عالم کے عہد میں ایک نقال تھا۔ بادشاہ اسے مہربانی اور قدر کی آنکھ سے دیکھتے تھے۔ اکثر اوقات دربار میں حاضر رہتا تھا۔ یہاں تک عنایت تھی کہ بادشاہی جلوت اس کے واسطے خلوت کا حکم رکھتی تھی، ایک روز بادشاہ کو کسی تقریب سے اس نے ننگا دیکھ لیا تھا اور یہ بات بادشاہ پر بھی ظاہر ہوگئی تھی۔ بادشاہ کو نہایت غصہ آیا۔ یہ بھی اس وقت حاضر تھا اور سامنے سنتری پہرہ پر ٹہل رہا تھا۔ اس سے کہا کہ اس نالائق کو حوالات میں رکھو۔ اس کو اس وقت تو کچھ بن نہ پڑی۔ حکم حاکم مرگ مفاجات، ناچار سنتری کے ساتھ ہولیا۔اس سے پہلے کہ سنتری کچھ اس کی نسبت کہے، جھٹ بول اٹھا کہ، ’’داروغہ صاحب اس سنتری سے کچھ خطا سرزد ہوئی ہے۔ حضور والا کا حکم ہے کہ یہ حوالات میں رکھا جائے۔‘‘ سنتری نے کہا، ’’نہیں اس کے واسطے حوالات کا حکم ہے۔‘‘ اس نے کہا، ’’لو اور سنو۔ دروغ گویم بر روئے تو۔ حکم تیرے واسطے ہوا۔ حوالات میں بھگتوں۔ داروغہ کو یقین تھا کہ یہ تو بادشاہ کی ناک کا بال ہورہا ہے۔ اس کو بادشاہ حوالات کا حکم کیوں دیتے۔ بیشک اس سنتری کے واسطے حکم ہے۔ کچھ اس سے قصور ہوا ہوگا۔ پودینہ سنتری کو حوالات میں پھنسواکر پھر بادشاہ کو آداب بجالایا۔بادشاہ نے کہا، ’’ناشدنی تو نے پھر اپنا روئے سیاہ دکھایا۔ ہم نے تجھے حوالات کا حکم دیا تھا۔‘‘ کہا، ’’خداوند فدوی اس سنتری کو حوالات سپرد کر تو آیا۔‘‘ بادشاہ نے اس کی بات پر مسکراکر منہ پھیر لیا اور حکم دیا کہ ’’یہ نامعقول دربار میں حاضر نہ ہوا کرے۔‘‘ کچھ دن اسی طرح گزرے۔ آخر ایک دن باغبان کو کچھ روپیہ دیے کہ مجھ کو ٹوکرے میں بند کر کے دربار میں لے چل۔ باغبان حضور والا کے لئے کچھ گلدستہ بناکر اور پودینہ کو ٹوکرہ میں بند کر کے دربار میں لے پہنچا۔ گلدستہ پیش کیے۔ بادشاہ نے پوچھا، ’’اس ٹوکرہ میں کیا ہے؟‘‘ آپ جلدی سے ٹوکرے میں سے بولے، ’’حضور وہی آپ کا پودینہ ہے۔‘‘ بادشاہ ہنس دیے اور قصور معاف کردیا۔ (۴)جاننے والے جانتے ہیں کہ عرفی اکبر کے عہد میں ایک مشہور شاعر گزرا ہے۔ ایک روز اکبر فتح پور سیکری جارہے تھے۔ عرفی اور فیضی بھی حاضر تھے۔ راستہ میں بادشاہ نے ایک بٹیا دیکھی۔ دونوں طرف سبزہ اور بیچ میں ایک سیدھی لکیر۔ بادشاہ نے عرفی سے مخاطب ہوکر کہا، ’’یہ بٹیا اس وقت کیسی خوبصورت اور اچھی معلوم ہوتی ہے۔ ادھر ادھر سبزہ بیچ میں ایک سیدھی اور سفید تحریر۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی معشوق کے سر کی مانگ ہے۔ یا آسمان نیلی فام پر کہکشاں ہے۔‘‘ عرفی نے جو بادشاہ کا میل اس طرف دیکھا تو فوراً فی البدیہہ ایک شعر اس مضمون پر کہہ کر بادشاہ کو سنایا۔این سطرے جا داہا کہ بصحرا نوشتہ انداحوال رفتہ ایسٹ کہ از پانوشتہ اندبادشاہ نے نہایت تعریف کی۔ دو تین روز کے بعد فیضی اور بادشاہ دونوں بجرہ میں بیٹھ کر دریا کی سیر کر رہے تھے۔ اکبر نے فیضی سے کہا، ’’اس روز عرفی کا شعر سنا؟‘‘ فیضی نے کہا، ’’غلام نے سنا تھا۔‘‘ اکبر نے کہا، ’’اس موقع کے لحاظ سے تم بھی کچھ کہو۔‘‘ فیضی نے دریا کی روانی دیکھ کر کہا،این سطر موجہا کہ بدریا نوشتہ انداحوال گریہ ایست کہ از مانوشتہ انداکبر پھڑک اٹھے اور کہا، ’’بھئی تم نے نرالی بات پیدا کی ہے۔ مگر انصاف شرط ہے کہ پہلا شعر عرفی کا ہی ہے۔‘‘ فیضی نے کہا، ’’اس میں کیا شک ہے۔‘‘ (۵)عالمگیر بادشاہ کے زمانہ میں ایک شخص فولاد خاں نامی شیدی دلی میں کوتوال تھا۔ ایک روز بازار میں پالکی پر سوار چلا جاتا تھا۔ اتفاقاً ادھر ایک آزاد فقیر چلا آتا تھا۔ فولاد خاں کو دیکھ کر موقع سے ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ جب فولاد خاں کی پالکی آزاد کے پاس آئی تو کہنے لگا، ’’اوبے انگیٹھی کے کوئلہ کچھ ہمیں بھی۔‘‘ اس واہیات بات کو سن کر فولاد خاں آگ بگولہ ہوگیا۔ اور اپنے نوکر کی طرف اشارہ کیا کہ اس بدمعاش کو دھکے دو۔ نوکروں نے دھکے دینے شروع کئے۔ آزاد کہنے لگا، ’’بابا چٹخو نہیں، چٹخو نہیں۔‘‘ یہ بات فولاد خاں کو پسند آئی اور آزاد کو انعام دیا۔ آزاد نے انعام لے کر دعا دی کہ بابا لال رہو۔ (یعنی کوئلہ کی مناسبت سے یہ باتیں کہیں۔) (۶)عالمگیر بادشاہ حیدرآباد میں تشریف رکھتے تھے۔ ایک روز نعمت خاں عالی سے فرمایا کہ، ’’کیوں نعمت خاں پہلے حیدرآباد کا کیا نام تھا؟‘‘ عرض کیا، ’’فرخندہ بنیاد حیدرآباد۔‘‘ بادشاہ نے فرمایا، ’’اور اب دارالجہاد حیدرآباد۔‘‘ نعمت خاں نے کہا کیا شک ہے۔ حضور معلیٰ نے دین کو از سر نوزندہ کیا ہے کوئی سنت و فرض ایسا نہ ہوگا، جو حضور نے ادا نہ کیا ہوگا۔ مگر ایک سنت بندگان عالی سے ادا نہ ہوئی۔ اگر وہ بھی ادا ہوجائے تو کوئی سنت باقی نہ رہے۔ عالمگیر نے پوچھا وہ کیا سنت باقی ہے۔ کہا، سرورِ کائنات نے گدھے کو بھی اپنی سواری سے شرف بخشا ہے۔ عالمگیر نے کہا بیشک یہ سنت رہی جاتی ہے۔ اچھا کل ہم گدھے پر سوار ہوں گے۔اراکین سلطنت نے جو یہ بات سنی تو ہوش اڑ گئے۔ آپس میں کہنے لگے اگر بادشاہ حیدرآباد میں گدھے پر سوار ہوکر نکلے تو بڑا غضب ہوگا۔ نعمت خان عالی کو خدا غارت کرے۔ یہ افترا پردازیاں اسی فیلسوف کی ہیں۔ اب اس کا علاج یہ ہے کہ اس کی چل کر خوشامد کرو، ورنہ یقین ہے کل بادشاہ گدھے پر ضرور سوار ہوں گے۔ چنانچہ سب مل جل کر نعمت خاں عالی کے ہاں پہنچے اور کہنے لگے، بھئی خدا کے واسطے یہ کیا آگ لگائی ہے۔ بادشاہ کی دور دور بدنامی ہوگی اور تمہارا کچھ نہ جائے گا۔نعمت خاں نے کہا، خالی خوشامد سے کام نہیں چلتا۔ کچھ دلواؤ تو بادشاہ کو گدھے کی سواری سے روکوں۔ سب امرا نے کہا، جو تم کہو۔ نعمت خاں نے کہا کہ ایک ایک مہینہ کی تنخواہ سب میرے حوالہ کیجئے۔ سب نے وعدہ کیا کہ ہم ایک مہینہ کی تنخواہ تم کو دے دیں گے۔ نعمت خاں نے کہا تو میں بادشاہ کو بھی گدھے پر نہیں چڑھنے دوں گا۔ دوسرے دن بادشاہ کے لئے ایک گدھا زین سے سجاکر لایا گیا۔ نعمت خاں وقت پر پہنچ گئے تھے اور بادشاہ سے کہا، ظل سبحانی نے تمام سنتیں ادا کردی ہیں۔ میری رائے ناقص میں اس سنت سے باز رہیں، کیونکہ حضور تمام سنتیں ادا کرچکے ہیں۔صرف ایک یہ سنت (یعنی گدھے پر چڑھنا) باقی ہے۔ اگر حضور نے یہ سنت بھی ادا کردی تو حضور سرور عالمؐ سے مساوات اور برابری ہوجائے گی اور یہ خلاف ادب ہے۔ بادشاہ نے یہ بات تسلیم کری اور گدھا واپس کردیا گیا۔ اور نعمت خاں نے تمام امراء سے ایک ماہ کی تنخواہ وصول کرلی۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D9%84_%D9%82%D8%B9%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%DA%BE%D9%84%DA%A9_%D8%B8%D8%B1%D8%A7%D9%81%D8%AA_%D8%A2%D9%85%DB%8C%D8%B2"} {"title": "لال قلعہ کے نیچے گولڈن ہارن", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "نہ گیا کوئی عدم کو، دل شاداں لے کر\nیاں سے کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر\n\nصدیاں اور قرن ابھی نہیں گزرے، بلکہ کچھ دنوں کی بات ہے کہ ترپولیہ سے گزر کر دیائے جمنا کی سنہری شاخ لال قلعہ کی قدم بوسی کرتی ہوئی زینت المساجد کے نیچے آتی تھی۔ اور زینت المساجد کے پاس جو فصیل میں کھڑکی لگی ہوئی ہے، اس کے پاس سے ہوتی ہوئی آگے جاکر دریا میں مل جاتی تھی۔ کھڑی کی سے بس کوئی سو قدم جاکر ایک کنواں تھا۔ اور کنوئیں سے اتر کی طرف پانی میں اینڈ پڑتی تھی۔ بڑے بڑے تیراک اور نہانے والے یہاں پیر نے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ اینڈمیں پھنس کر استاد تو نکل ہی جاتے تھے اور اناڑی ڈوب کر مر جاتے تھے۔\n\nمسجد گھاٹ سے لے کر ترپولیہ تک نہانے والوں کے جھومر کے جھومر اور جھلّڑ کے جھلّڑ دکھائی دیتے تھے اور لال قلعے کے جھروکوں کے نیچے جو آبِ رواں کی لطافت تھی، وہ کہتی تھی کہ میں کبھی حسن مغلیہ کے فوٹو کی پلیٹ رہ چکی ہوں۔ مجھ میں زیب النساء اور جہاں آرا اور عالم آرا اور ممتاز محل کے سراپا کا عکس پڑا ہے۔ اس شاخ زرین کے کنارے مچھلی پکڑنے والے شست اور کانٹا دریا میں ڈال کر اپنے محبوب کی تصور میں کنارے پر غرق رہتے تھے۔ کانٹوں میں کبھی بڑی سی پاتل آ پھنستی تھی، تو اس کا دریا سے نکلنا قیامت ہوتا تھا۔ کانٹا الگ خراب ہوتا تھا۔ ڈور جدا ستیاناس ہوتی تھی۔ فقیر فراق ؔبارہ دری میں بیٹھے بیٹھے اشراقی نظر سے یہ تماشے دیکھا کرتا تھا۔\n\nایک باری میری آنکھوں کے سامنے یہ سماں آیا کہ شمس برج کے نیچے پھنکیتی کے استاد مچھلی کے شکار میں مشغول ہیں۔ اور ان کے ادھر ادھر اور بھی کئی شکاری مچھلی کا شکار کھیل رہے ہیں۔ اور کانٹے دریا میں ڈالے چپ چاپ بیٹھے ہیں۔ شاہدرہ کی طرف سے سورج نکل رہا ہے اور شفق اور سورج کا عکس پانی میں عجب بہار دے رہا ہے۔ ناگہاں ایک شخص دراز قد، میلے کپڑے پہنے، اونچی سی دھوتی باندھے بغل میں ایک توشک کے اندر موٹی سی کوئی چیز لپیٹے دریا پر پہنچا۔ اس شخص کے پیچھے ایک لہنگے والی عورت تھی۔ عورت کی گود میں کوئی ساڑھے تین برس کابچہ تھا، اور کوئی پانچ برس کا بچہ اس کے ساتھ تھا، جس کی انگلی وہ پکڑے ہوئے تھی۔ شکار یوں نے ان دونوں زن و مرد اور دونوں بچوں کونگاہ غلط انداز سے دیکھا اور آنکھیں نیچی کر کے اپنے اپنے کانٹوں کو گھورنے لگے کہ اتنی سی غفلت میں مچھلی کانٹے کو لے کر چل تو نہیں دی۔\n\nاس شخص نے اپنی لپٹی ہوئی توشک کو دریا میں زور سے پھینک دیا۔ توشک کے دریا میں گرتے ہی پانی کے اندر ایک دھماکا ہوا۔ اور اب سب شکاریوں نے چوکنا ہوکر دیکھا کہ اس شخص نے دریا میں کیا چیز پھینکی اور اس میں توشک دریا پر تِر کر بہنے لگی۔ اور اس کے نیچے سے کالے کتے کی لاش ابھر کر پانی پر آئی، اور پانی کا بہاؤ اسے لے چلا۔ کتے کی لاش کو دیکھ کر وہ اجنبی شخص آہ و فغاں کرنے لگا۔ مرد کو روتا دیکھ کر لہنگے والی عورت بھی بیان کر کے رونے لگی۔ ماں باپ کو روتا دیکھ کر دونوں بچے بھی بلک بلک کر رونے لگے۔\n\nسننے والوں کو اس عورت کے بیان سے یہ معلوم ہوا کہ ان دونوں میاں بیوی نے اس کتے کو چھوٹا سا پالا تھا اور یہ دونوں اور ان کے بچے اس کتے سے بہت مانوس تھے اور کتا بھی ان سب پر اپنی جان دیتا تھا۔ قضا ءالٰہی سے یہ فوت ہوگیا۔ اور یہ لوگ اپنے یار وفادار کی لاش کو سپرد دریا کرنے آئے ہیں۔ کتے کو بے کسی اوربے بسی میں دریا کی تھپیڑیں کھاتا دیکھ کر ان کا جی بھر آیا ہے، اور عورت کتے سے مخاطب ہوکر کہہ رہی ہے، پیارے تیری جدائی شاق ہے۔ مگر کیا کریں۔ تو رہنے سے مجبور ہے اور ہم تجھے رکھنے سے معذور ہیں۔ ہم نے تجھے بڑے لاڈ سے پالا تھا۔ مگر یہ نہ معلوم تھا کہ تو بھی بیمار ہوکر مر جائےگا۔ اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔\n\nپھنکیتی کے استاد نے جب ان سوگواروں کے رونے کا بھید سمجھا تو یہ ماہی بے آب کی طرح بے قرار ہو گئے۔ کیونکہ حضرت کا دل ایک قتالہ عالم پر آیا ہوا تھا اور وہ کافر انہیں تڑپتا چھوڑ کر اغیار کے ساتھ آگرہ کو چل دی تھی۔ ان میاں بیوی کے تعلق کو دیکھ کر غیرت و حیا نے استاد کے کلیجہ میں چٹکی لی، اور درون سینہ سے ان کے کان میں آواز آئی کہ، اے انسان! تو نے عشق کے کرشمے کو دیکھا کہ یہ انسان اور حیوان سے سانگا جوڑ دیتا ہے اور آدمی پر آدمی مرنے لگے تو کچھ تعجب کاموقعہ نہیں ہے۔ اگر آدمی کی معرفت کے کان کھل جائیں تو اسے معلوم ہو کہ صدا آ رہی ہے کہ انسان و حیوان کیسے عشق سے کائنات کا کوئی ذرہ اور دریا کوئی قطرہ محبت و الفت سے خالی نہیں ہے اور جب آدمی عشق و الفت سے خالی ہو تو وہ خاک اور دھول سے بدتر ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D9%84_%D9%82%D9%84%D8%B9%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%8C%DA%86%DB%92_%DA%AF%D9%88%D9%84%DA%88%D9%86_%DB%81%D8%A7%D8%B1%D9%86"} {"title": "لال ٹین", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "دھواں", "year": "1941", "text_ur": "میرا قیام ’’بٹوت‘‘ میں گو مختصر تھا۔ لیکن گوناگوں روحانی مسرتوں سے پر۔ میں نے اس کی صحت افزا فضا میں جتنے دن گزارے ہیں ان کے ہر لمحہ کی یاد میرے ذہن کا ایک جزو بن کے رہ گئی ہے۔ جو بھلائے نہ بھولے گی۔۔۔ کیا دن تھے۔۔۔! باربار میرے دل کی گہرائیوں سے یہ آواز بلند ہوتی ہے اور میں کئی کئی گھنٹے اس کے زیر اثر بے خودو مدہوش رہتا ہوں۔\n\nکسی نے ٹھیک کہا ہے کہ انسان اپنی گزشتہ زندگی کے کھنڈروں پر مستقبل کی دیواریں استوار کرتا ہے۔ ان دنوں میں بھی یہی کررہا ہوں یعنی بیتے ہوئے ایام کی یاد کو اپنی مضمحل رگوں میں زندگی بخش انجکشن کے طور پر استعمال کررہا ہوں۔\n\nجو کل ہوا تھا اسے اگر آج دیکھا جائے تو اس کے اور ہمارے درمیان صدیوں کا فاصلہ نظر آئے گا اور جو کل ہونا ہے اس کے متعلق ہم کچھ نہیں جانتے اور نہ جان سکتے ہیں۔ آج سے پورے چار مہینے پہلےکی طرف دیکھا جائے تو بٹوت میں میری زندگی ایک افسانہ معلوم ہوتی ہے۔ ایسا افسانہ جس کا مسودہ صاف نہ کیا گیا ہو۔ اس کھوئی ہوئی چیز کو حاصل کرنا دوسرے انسانوں کی طرح میرے بس میں بھی نہیں۔ جب میں استقبال کے آئینہ میں اپنی آنے والی زندگی کا عکس دیکھنا چاہتا ہوں تو اس میں مجھے حال ہی کی تصویر نظر آتی ہے اور کبھی کبھی اس تصویر کے پس منظر میں ماضی کے دھندلے نقوش نظر آجاتے ہیں۔ ان میں بعض نقش اس قدر تیکھے اور شوخ رنگ ہیں کہ شاید ہی انھیں زمانہ کا ہاتھ مکمل طور پر مٹا سکے۔\n\nزندگی کے اس کھوئے ہوئے ٹکڑے کو میں اس وقت زمانہ کے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں جو شریر بچے کی طرح مجھے بار بار اس کی جھلک دکھا کر اپنی پیٹھ پیچھے چھپا لیتا ہے۔۔۔ اور میں اس کھیل ہی سے خوش ہوں۔ اسی کو غنیمت سمجھتا ہوں۔\n\nایسے واقعات کو جن کی یاد میرے ذہن میں اب تک تازہ ہے، میں عام طور پر دہراتا رہتا ہوں،تاکہ ان کی تمام شدت برقراررہے۔ اور اس غرض کے لیے میں کئی طریقے استعمال کرتا رہتا ہوں۔ بعض اوقات میں یہ بیتے ہوئے واقعات اپنے دوستوں کوسنا کر اپنا مطلب حل کرلیتا ہوں۔\n\nاگر آپ کو میرے ان دوستوں سے ملنے کا اتفاق ہو تو وہ آپ سے یقیناً یہی کہیں گے کہ میں قصہ گوئی اور آپ بیتیاں سنانے کا بالکل سلیقہ نہیں رکھتا۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ داستان سنانے کے دوران میں مجھے سامعین کے تیوروں سے ہمیشہ اس بات کا احساس ہوا ہے کہ میرا بیان غیر مربوط ہےاور میں جانتا ہوں کہ چونکہ میری داستان میں ہمواری کم اور جھٹکے زیادہ ہوتے ہیں اس لیے میں اپنے محسوسات کو اچھی طرح کسی کے دماغ پر منتقل نہیں کرسکتا اور مجھے اندیشہ ہے کہ میں ایسا شاید ہی کرسکوں۔\n\nاس کی خاص وجہ یہ ہے کہ میں اکثر اوقات اپنی داستان سنانے سناتے جب ایسے مقام پر پہنچتا ہوں جس کی یاد میرے ذہن میں موجود نہ تھی اور وہ خیالات کی رو میں خود بخود بہہ کر چلی آئی تھی تو میں غیر ارادی طور پر اس نئی یاد کی گہرائیوں میں گم ہو جاتا ہوں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ میرے بیان کا تسلسل یک لخت منتشر ہو جاتا ہے اور جب میں ان گہرائیوں سے نکل کر داستان کے ٹوٹے ہوئے دھاگے کو جوڑنا چاہتا ہوں تو عجلت میں وہ ٹھیک طور سے نہیں جڑتا۔\n\nکبھی کبھی میں یہ داستانیں رات کو سوتے وقت اپنے ذہن کی زبانی خود سنتا ہوں، لیکن اس دوران میں مجھے بہت تکلیف اٹھانا پڑتی ہے۔ میرے ذہن کی زبان بہت تیز ہے اور اس کو قابو میں رکھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات چھوٹے چھوٹے واقعات اتنی تفصیل کے ساتھ خود بخود بیان ہونا شروع ہو جاتے ہیں کہ طبیعت اکتا جاتی ہے اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک واقعہ کی یاد کسی دوسرے واقعہ کی یاد تازہ کردیتی ہے اور اس کا احساس کسی دوسرے احساس کو اپنے ساتھ لے آتا ہے اور پھر احساسات و افکار کی بارش زوروں پر شروع ہو جاتی ہےاور اتنا شور مچتا ہے کہ نیند حرام ہو جاتی ہے۔ جس روز صبح کو میری آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے نظر آئیں آپ سمجھ لیا کریں کہ ساری رات میں اپنے ذہن کی قصہ گوئی کا شکار بنا رہا ہوں۔\n\nجب مجھے کسی بیتے ہوئے واقعے کو اس کی تمام شدتوں سمیت محفوظ کرنا ہوتا ہے تو میں قلم اٹھاتا ہوں اور کسی گوشے میں بیٹھ کر کاغذ پر اپنی زندگی کے اس ٹکڑے کی تصویر کھینچ دیتا ہوں۔ یہ تصویر بھدی ہوتی ہے یا خوبصورت، اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ ہمارے ادبی نقاد میری ان قلمی تصویروں کے متعلق کیا رائے مرتب کرتے ہیں۔ دراصل مجھے ان لوگوں سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔ اگر میری تصویر کشی سقیم اور خام ہے تو ہوا کرے مجھے اس سے کیا اور اگر یہ ان کے مقرر کردہ معیار پر پورا اترتی ہے تو بھی مجھے اس سے کیا سروکار ہوسکتا ہے۔ میں یہ کہانیاں صرف اس لیے لکھتا ہوں کہ مجھے کچھ لکھنا ہوتا ہے۔ جس طرح عادی شراب خور، دن ڈھلے شراب خانہ کا رخ کرتا ہے ٹھیک اسی طرح میری انگلیاں بے اختیار قلم کی طرف بڑھتی ہیں اور میں لکھنا شروع کردیتا ہوں۔ میرا روئے سخن یا تو اپنی طرف ہوتا ہے یا ان چند افراد کی طرف جو میری تحریروں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ میں ادب سے دور اور زندگی کے نزدیک تر ہوں۔\n\nزندگی۔۔۔ زندگی۔۔۔! آہ زندگی!\n\nمیں زندگی زندگی پُکارتا ہوں مگر مجھ میں زندگی کہاں۔۔۔؟ اور شاید یہی وجہ ہے کہ میں اپنی عمر کی پٹاری کھول کر اس کی ساری چیزیں باہر نکالتا ہوں اور جھاڑ پونچھ کر بڑے قرینے سے ایک قطار میں رکھتا ہوں اور اس آدمی کی طرح جس کے گھر میں بہت تھوڑا سامان ہو ان کی نمائش کرتا ہوں۔ بعض اوقات مجھے اپنا یہ فعل بہت برا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن میں کیا کروں،مجبور ہوں۔ میرے پاس اگر زیادہ نہیں ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔ اگر مجھ میں سفلہ پن پیدا ہوگیا ہے تو اس کا ذمہ دار میں کیسے ہوسکتا ہوں۔ میرے پاس تھوڑا بہت جوکچھ بھی ہے غنیمت ہے۔ دنیا میں تو ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی زندگی چٹیل میدان کی طرح خشک ہے اور میری زندگی کے ریگستان پر تو ایک بار بارش ہو چکی ہے۔\n\nگو میرا شباب ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکا ہے مگر میں ان دنوں کی یاد پر جی رہا ہوں جب میں جوان تھا۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ سہارا بھی کسی روز جواب دے جائے گا اور اس کے بعد جو کچھ ہوگا، میں بتا نہیں سکتا۔ لیکن اپنے موجودہ انتشار کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ میرا انجام چشم فلک کو بھی نم ناک کردےگا۔ آہ! خرابہ فکر کا انجام!\n\nوہ شخص جسے انجام کار اپنے وزنی افکار کے نیچے پس جانا ہے، یہ سطور لکھ رہا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ ایسی اور بہت سی سطریں لکھنے کی تمنا اپنے دل میں رکھتا ہے۔\n\nمیں ہمیشہ مغموم و ملول رہا ہوں۔ لیکن شبیر جانتا ہے کہ بٹوت میں میری آہوں کی زردی اور تپش کے ساتھ ساتھ ایک خوش گوار مسرت کی سرخی اور ٹھنڈک بھی تھی۔ وہ آب و آتش کے اس باہمی ملاپ کو دیکھ کر متعجب ہوتا تھا اور غالباً یہی چیز تھی جس نے اس کی نگاہوں میں میرے وجود کو ایک معما بنا دیا تھا۔ کبھی کبھی مجھے وہ سمجھنے کی کوشش کرتا تھا اور اس کوشش میں وہ میرے قریب بھی آجاتا تھا۔ مگر دفعتاً کوئی ایسا حادثہ وقوع پذیر ہوتا جس کے باعث اسے پھر پرے ہٹنا پڑتا تھا اور اس طرح وہ نئی شدت سے مجھے پراسرار اور کبھی پرتصنع انسان سمجھنے لگتا۔\n\nاکرام صاحب حیران تھے کہ بٹوت جیسی غیر آباد اور غیر دلچسپ دیہات میں پڑے رہنے سے میرا کیا مقصد ہے۔ وہ ایسا کیوں سوچتے تھے؟ اس کی وجہ میرے خیال میں صرف یہ ہے کہ ان کے پاس سوچنے کے لیے اور کچھ نہیں تھا۔ چنانچہ وہ اسی مسئلے پر غور و فکر کرتے رہتے تھے۔\n\nوزیر کا گھر ان کے بنگلے کے سامنے بلند پہاڑی پر تھا اور جب انھوں نے اپنے نوکر کی زبانی یہ سنا کہ میں اس پہاڑی لڑکی کے ساتھ پہروں باتیں کرتا رہتا ہوں تو انھوں نے یہ سمجھا کہ میری دکھتی ہوئی رگ ان کے ہاتھ آگئی ہے اور انھوں نے ایک ایسا راز معلوم کرلیا ہے جس کے افشا پر تمام دنیا کے دروازے مجھ پر بند ہو جائیں گے۔ لوگوں سے جب وہ اس ’’مسئلے‘‘ پر باتیں کرتے تھے تو یہ کہا کرتے تھےکہ میں تعیش پسند ہوں اور ایک بھولی بھالی لڑکی کو پھانس رہا ہوں اور ایک بارجب انھوں نے مجھ سے بات کی تو کہا، ’’دیکھیے یہ پہاڑی لونڈیا بڑی خطرناک ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ اس کے جال میں پھنس جائیں۔‘‘\n\nمیری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ انھیں یا کسی اور کو میرے معاملات سے کیا دلچسپی ہو سکتی تھی۔ وزیر کا کیریکٹر بہت خراب تھا اور میرا کریکٹر بھی کوئی خاص اچھا نہیں تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ لوگ کیوں میری فکر میں مبتلا تھے اور پھر جو ان کے من میں تھا صاف صاف کیوں نہیں کہتے تھے۔ وزیر پر میرا کوئی حق نہیں تھا اور نہ وہ میرے دباؤ میں تھی۔ اکرام صاحب یا کوئی اور صاحب اگر اس سے دوستانہ پیدا کرنا چاہتے تو مجھے اس میں کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ دراصل ہماری تہذیب و معاشرت ہی کچھ اس قسم کی ہے کہ عام طور پر صاف گوئی کو معیوب خیال کیا جاتا ہے۔ کھل کر بات ہی نہیں کی جاتی اور کسی کے متعلق اگر اظہار خیال کیا بھی جاتا ہے تو غلاف چڑھا کر۔\n\nمیں نے صاف گوئی سے کام لیا اور اس پہاڑی لونڈیا سے جسے بڑا خطرناک کہا جاتاتھا، اپنی دلچسپی کا اعتراف کیا۔ لیکن چونکہ یہ لوگ اپنے دل کی آواز کو دل ہی میں دبا دینے کے عادی تھے اس لیے میری سچی باتیں ان کو بالکل جھوٹی معلوم ہوئیں اور ان کا شک بدستور قائم رہا۔\n\nمیں انھیں کیسے یقین دلاتا کہ میں اگر وزیر سے دلچسپی لیتا ہوں تو اس کا باعث یہ ہے کہ میرا ماضی و حال تاریک ہے۔ مجھے اس سے محبت نہیں تھی اسی لیے میں اس سے زیادہ وابستہ تھا۔ وزیر سے میری دلچسپی اس محبت کا ریہرسل تھی جو میرے دل میں اس عورت کے لیے موجود ہے جو ابھی میری زندگی میں نہیں آئی۔۔۔ میری زندگی کی انگوٹھی میں وزیر ایک جھوٹا نگینہ تھی لیکن یہ نگینہ مجھے عزیز تھا اس لیے کہ اس کی تراش،اس کا ماپ بالکل اس اصلی نگینہ کے مطابق تھا جس کی تلاش میں مَیں ہمیشہ ناکام رہا ہوں۔\n\nوزیر سے میری دل بستگی بے غرض نہیں تھی اس لیے میں غرض مند تھا۔ وہ شخص جو اپنے غم افزا ماحول کو کسی کے وجود سے رونق بخشنا چاہتا ہو،اس سے زیادہ خود غرض اور کون ہوسکتا ہے۔۔۔؟ اس لحاظ سے میں وزیر کا ممنون بھی تھا اور خدا گواہ ہے کہ میں جب کبھی اس کو یاد کرتا ہوں تو بے اختیار میرا دل اس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔\n\nشہر میں مجھے صرف ایک کام تھا۔۔۔ اپنے ماضی، حال اور مستقبل کے گھپ اندھیرے کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے رہنا اور بس! مگر بٹوت میں اس تاریکی کے اندر روشنی کی ایک شعاع تھی۔ وزیر کی لال ٹین!\n\nبھٹیارے کے یہاں رات کو کھانا کھانے کے بعد میں اور شبیر، ٹہلتے ٹہلتے اکرام صاحب کے بنگلے کے پاس پہنچ جاتے۔ یہ بنگلہ ہوٹل سے قریباً تین جریب کے فاصلے پر تھا۔ رات کی خنک اور نیم مرطوب ہوا میں اس چہل قدمی کا بہت لطف آتا تھا۔ سڑک کے دائیں بائیں پہاڑوں اور ڈھلوانوں پر مکئی کے کھیت رات کے دھندلکے میں خاکستری رنگ کے بڑے بڑے قالین معلوم ہوتے تھے۔ اور جب ہوا کے جھونکے مکئی کے پودوں میں لرزش پیدا کردیتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ آسمان سے بہت سی پریاں ان قالینوں پر اتر آئی ہیں اور ہولے ہولے ناچ رہی ہیں۔\n\nآدھا راستہ طے کرنے پر جب ہم سڑک کے بائیں ہاتھ ایک چھوٹے سے دو منزلہ چوبی مکان کے قریب پہنچتے تو شبیر اپنی مخصوص دھن میں یہ شعر گاتا،\n\nہر قدم فتنہ ہے قیامت ہے\n\nآسماں تیری چال کیا جانے\n\nیہ شعر گانے کی خاص وجہ یہ تھی کہ اس چوبی مکان کے رہنے والے اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ میرے اور وزیر کے تعلقات اخلاقی نقطہ نگاہ سے ٹھیک نہیں، حالانکہ وہ اخلاق کے معانی سے بالکل ناآشنا تھے۔ یہ لوگ مجھ سے اور شبیر سے بہت دلچسپی لیتے تھے اور میری نقل و حرکت پر خاص طور پر نگرانی رکھتے تھے۔ وہ تفریح کی غرض سے بٹوت آئے ہوئے تھے اور انھیں تفریح کا کافی سامان مل گیا تھا۔ شبیر اوپر والا شعر گا کر ان کی تفریح میں مزید اضافہ کیا کرتا تھا۔ اس کو چھیڑ چھاڑ میں خاص لطف آتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کی رہائش گاہ کے عین سامنے پہنچ کر اس کو یہ شعر یاد آجاتا تھا اور وہ فوراً اسے بلند آواز میں گا دیا کرتا تھا۔ رفتہ رفتہ وہ اس کا عادی ہوگیا تھا۔\n\nیہ شعر کسی خاص واقعے یا تاثر سے متعلق نہ تھا۔ میرا خیال ہے کہ اسے صرف یہی شعر یاد تھا، یا ہو سکتا ہے کہ وہ صرف اسی شعر کو گا سکتا تھا، ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ بار بار یہی شعر دہراتا۔\n\nشروع شروع میں اندھیری راتوں میں سنسان سڑک پر ہماری چہل قدمی چوبی مکان کے چوبی ساکنوں پر( وہ غیر معمولی طور پر اجڈا اور گنوار واقع ہوئے تھے) کوئی اثر پیدا نہ کرسکی۔ مگر کچھ دنوں کے بعد ان کے بالائی کمرے میں روشنی نظر آنے لگی اور وہ ہماری آمد کے منتظر رہنے لگے اور جب ایک روز ان میں سے ایک نے اندھیرے میں ہمارا رخ معلوم کرنے کے لیے بیٹری روشن کی میں نے شبیر سے کہا، ’’آج ہمارا رومان مکمل ہوگیا ہے۔‘‘ مگر میں نے دل میں ان لوگوں کی قابلِ رحم حالت پر بہت افسوس کیا، کیونکہ وہ بےکار دو دو تین تین گھنٹے تک جاگتے رہتے تھے۔\n\nحسبِ معمول ایک رات شبیر نے اس مکان کے پاس پہنچ کر شعر گایا اور ہم آگے بڑھ گئے۔ بیٹری کی روشنی حسب معمول چمکی اور ہم باتیں کرتے ہوئے اکرام صاحب کے بنگلے کے پاس پہنچ گئے۔ اس وقت رات کے دس بجے ہوں گے، ہُو کا عالم تھا، ہر طرف تاریکی ہی تاریکی تھی، آسمان ہم پر مرتبان کے ڈھکنے کی طرح جھکا ہوا تھا اور میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ ہم کسی بند بوتل میں چل پھر رہے ہیں۔ سکوت اپنی آخری حد تک پہنچ کر متکلم ہو گیا تھا۔\n\nبنگلے کے باہر برآمدے میں ایک چھوٹی سی میز پر لیمپ جل رہا تھا اور پاس ہی پلنگ پر اکرام صاحب لیٹے کسی کتاب کے مطالعہ میں مصروف تھے۔ شبیر نے دور سے ان کی طرف دیکھا اور دفعتاً سادھوؤں کا مخصوص نعرہ مستانہ ’’الکھ نرنجن بلند کیا۔‘‘ اس غیر متوقع شور نے مجھے اور اکرام صاحب دونوں کو چونکا دیا۔ شبیر کھل کھلا کر ہنس پڑا۔ پھر ہم دونوں برآمدے میں داخل ہو کر اکرام صاحب کے پاس بیٹھ گئے۔ میرا منہ سڑک کی جانب تھا۔ عین اس وقت جب میں نے حقہ کی نَے منہ میں دبائی۔ مجھے سامنے سڑک کے اوپر تاریکی میں روشنی کی ایک جھلک دکھائی دی۔ پھر ایک متحرک سایہ نظر آیا اور اس کے بعد روشنی ایک جگہ ساکن ہو گئی۔ میں نے خیال کیا کہ شاید وزیر کا بھائی اپنے کتے کو ڈھونڈ رہا ہے۔ چنانچہ ادھر دیکھنا چھوڑ کر میں شبیر اور اکرام صاحب کے ساتھ باتیں کرنے میں مشغول ہو گیا۔\n\nدوسرے روز شبیر کے نعرہ بلند کرنے کےبعد پھر اخروٹ کے درخت کے عقب میں روشنی نمودار ہوئی اور سایہ حرکت کرتا ہوا نظر آیا۔ تیسرے روز بھی ایسا ہوا۔ چوتھے روز صبح کو میں اور شبیر چشمے پر غسل کو جا رہے تھے کہ اوپر سے ایک کنکر گرا، میں نے بیک وقت سڑک کے اوپر جھاڑیوں کی طرف دیکھا۔ وزیر سر پر پانی کا گھڑا اٹھائے ہماری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔\n\nوہ اپنے مخصوص انداز میں ہنسی اور شبیر سے کہنے لگی، ’’کیوں جناب، یہ آپ نے کیا وطیرہ اختیار کیا ہے کہ ہر روز ہماری نیند خراب کریں۔‘‘\n\nشبیر حیرت زدہ ہو کر میری طرف دیکھنے لگا۔ میں وزیر کا مطلب سمجھ گیا تھا۔ شبیر نے اس سے کہا ’’آج آپ پہیلیوں میں بات کر رہی ہیں۔‘‘\n\nوزیر نے سر پر گھڑے کا توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا، ’’میں اتنی اتنی دیر تک لال ٹین جلا کر اخروٹ کے نیچے بیٹھی رہتی ہوں اور آپ سے اتنا بھی نہیں ہوتا کہ پھوٹے منہ سے شکریہ ہی ادا کر دیں۔ بھلا آپ کی جوتی کو کیا غرض پڑی ہے۔۔۔ یہ چوکیداری تو میرے ہی ذمے ہے ۔۔۔ آپ ٹہلنے کو نکلیں اور اکرام صاحب کے بنگلے میں گھنٹوں باتیں کرتے رہیں اور میں سامنے لال ٹین لیے اونگھتی رہوں۔‘‘\n\nشبیر نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا، ’’یہ کیا کہہ رہی ہیں۔ بھئی میں تو کچھ نہ سمجھا، یہ کس دھن میں الاپ رہی ہیں؟‘‘\n\nمیں نے شبیر کو جواب نہ دیا اور وزیر سے کہا، ’’ہم کئی دنوں سے رات گئے اکرام صاحب کے یہاں آتے ہیں۔ دو تین مرتبہ میں نے اخروٹ کے پیچھے تمہاری لال ٹین دیکھی، پر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ تم خاص ہمارے لیے آتی ہو ۔۔۔ اس کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ تم ناحق اپنی نیند کیوں خراب کرتی ہو؟‘‘\n\nوزیر نے شبیر کو مخاطب کر کے کہا،’’آپ کے دوست بڑے ہی ناشکرے ہیں، ایک تو میں ان کی حفاظت کروں اور اوپر سے یہی مجھ پر اپنا احسان جتائیں۔ ان کو اپنی جان پیاری نہ ہو پر۔۔۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی اور بات کا رخ یوں بدل دیا، ’’آپ تو اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہاں ان کے بہت دشمن پیدا ہو گئے ہیں۔ پھر آپ انھیں کیوں نہیں سمجھاتے کہ رات کو باہر نہ نکلا کریں۔‘‘\n\nوزیر کو واقعی میری بہت فکر تھی۔ بعض اوقات وہ مجھے بالکل بچہ سمجھ کر میری حفاظت کی تدبیریں سوچا کرتی تھی، جیسے وہ خود محفوظ و مامون ہے اور میں بہت سی بلاؤں میں گھرا ہوا ہوں۔ میں نے اسے کبھی نہ ٹوکا تھا اس لیے کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اسے اس شغل سے باز رکھوں جس سے وہ لطف اٹھاتی ہے، اس کی اور میری حالت بعینہٖ ایک جیسی تھی۔ ہم دونوں ایک ہی منزل کی طرف جانے والے مسافر تھے جو ایک لق و دق صحرا میں ایک دوسرے سے مل گئے تھے۔ اسے میری ضرورت تھی اور مجھے اس کی۔ تاکہ ہمارا سفر اچھی طرح کٹ سکے۔ میرا اور اس کا صرف یہ رشتہ تھا جو کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔\n\nہم ہر شب مقررہ وقت پر ٹہلنے کو نکلتے۔ شبیر چوبی مکان کے پاس پہنچ کر شعر گاتا، پھر اکرام صاحب کے بنگلے سے کچھ دور کھڑے ہو کر نعرہ بلند کرتا، وزیر لال ٹین روشن کرتی اور اس کی روشنی کو ہوا میں لہرا کر ایک جھاڑی کے پیچھے بیٹھ جاتی۔ شبیر اور اکرام صاحب باتیں کرنے میں مشغول ہو جاتے۔ اور میں لال ٹین کی روشنی میں اس روشنی کے ذرے ڈھونڈھتا رہتا جس سے میری زندگی منور ہو سکتی تھی۔ وزیر جھاڑیوں کے پیچھے بیٹھی نہ جانے کیا سوچتی رہتی؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D9%84_%D9%B9%DB%8C%D9%86"} {"title": "لالۂ صحرا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "یہ گُنبدِ مِینائی، یہ عالمِ تنہائی\nمجھ کو تو ڈراتی ہے اس دشت کی پہنائی\nبھٹکا ہُوا راہی مَیں، بھٹکا ہُوا راہی تُو\nمنزل ہے کہاں تیری اے لالۂ صحرائی!\nخالی ہے کلیموں سے یہ کوہ و کمر ورنہ\nتُو شعلۂ سینائی، مَیں شعلۂ سینائی!\nتُو شاخ سے کیوں پھُوٹا، مَیں شاخ سے کیوں ٹُوٹا\nاک جذبۂ پیدائی، اک لذّتِ یکتائی!\nغوّاصِ محبّت کا اللہ نِگہباں ہو\nہر قطرۂ دریا میں دریا کی ہے گہرائی\nاُس موج کے ماتم میں روتی ہے بھَنْور کی آنکھ\nدریا سے اُٹھی لیکن ساحل سے نہ ٹکرائی\nہے گرمیِ آدم سے ہنگامۂ عالم گرم\nسُورج بھی تماشائی، تارے بھی تماشائی\nاے بادِ بیابانی! مجھ کو بھی عنایت ہو\nخاموشی و دل سوزی، سرمستی و رعنائی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7"} {"title": "لالے پڑے ہیں جان کے جینے کا اہتمام کر", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لالے پڑے ہیں جان کے جینے کا اہتمام کر\nجن میں ہو کیف زندگی بہر خدا وہ کام کر\n\nطور حیات سے اڑا جذبۂ زیستن کی آگ\nجب کہیں جا کے نیت زندگی دوام کر\n\nپہلے یہ سوچ دام کے توڑنے کی سکت بھی ہے\nبعد کو دل میں خواہش دانۂ زیر دام کر\n\nتجھ کو تری ہی آنکھ سے دیکھ رہی ہے کائنات\nبات یہ راز کی نہیں اپنا خود احترام کر\n\nحیف سمجھ رہا ہے تو اپنی جھجک کو محتسب\nمے کدۂ حیات میں شوق سے مے بجام کر\n\nنقش نوی نہیں ہے تو صفحۂ روزگار پر\nمٹنے سے گر نہیں مفر مٹ ہی کے اپنا نام کر\n\nبندۂ خواہشات کو کہتا ہے کون عبد حر\nچاہیئے حریت اگر دل کو امیںؔ غلام کر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%92_%D9%BE%DA%91%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DB%81%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "لاوے خاطر میں ہمارے دل کو وہ مغرور کیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لاوے خاطر میں ہمارے دل کو وہ مغرور کیا\nجس کے آگے مہر کیا مہ کیا پری کیا حور کیا\n\nدل نیا ہم نے لگایا ہے بتا دو مہرباں\nاس کی ہے رہ کیا روش کیا رسم کیا دستور کیا\n\nیاد ہوں عیاریاں جس کو بہت ہم کیا کریں\nاس کے آگے مکر کیا جل کیا فسوں کیا زور کیا\n\nیوں کہا ہم لیں گے بوسہ اب تو چھو کر زلف کو\nبولا منہ کیا دست گہ کیا تاب کیا مقدور کیا\n\nہم کو چاہت ایک سی ہے اس پری رو سے نظیرؔ\nروبرو کیا در قفا کیا متصل کیا دور کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%D9%88%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "لاکھ دل مست ہو مستی کا عیاں راز نہ ہو", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لاکھ دل مست ہو مستی کا عیاں راز نہ ہو\nیہ وہ شیشہ ہے کہ ٹوٹے بھی تو آواز نہ ہو\n\nخوف ہے موسم گل میں کہ صبا کا جھونکا\nطائر ہوش کے حق میں پر پرواز نہ ہو\n\nدل بہت بلبل شیدا کا ہے نازک گلچیں\nپھول گل زار کے یوں توڑ کہ آواز نہ ہو\n\nکیا قیامت ہے وہ دل توڑ رہے ہیں میرا\nاس گماں پر کہ چھپا اس میں کوئی راز نہ ہو\n\nآئینہ ہاتھ میں ہے حسن کا نظارہ ہے\nان سے کہہ دو مری حالت نظر انداز نہ ہو\n\nہو کے وہ مست مئے ناز گلے لپٹے ہیں\nہوش کمبخت کہیں تفرقہ پرداز نہ ہو\n\nاس گرفتار کی پوچھو نہ تڑپ جس کے لیے\nدر قفس کا ہو کھلا طاقت پرواز نہ ہو\n\nاہل دل کو جو لٹاتی ہے صدا نغمے کی\nپردۂ ساز میں پنہاں تری آواز نہ ہو\n\nتھام لینے دو کلیجہ مجھے ہاتھوں سے جلیلؔ\nقصۂ درد جگر کا ابھی آغاز نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%DB%81%D9%88_%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "لاکھ دیکھوں تجھے پھرتی نہیں نیت میری", "poet_page": "مصنف:مردان صفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مردان صفی (1914)", "year": "1914", "text_ur": "لاکھ دیکھوں تجھے پھرتی نہیں نیت میری\nدل ہے قابو میں مرا اب نہ طبیعت میری\n\nآ کے پہلو میں مرے بیٹھ میں ہو جاؤں نثار\nہے تمنا تو یہی ہے یہی حسرت میری\n\nدم آخر تو مرے پاس بھلا آ بے درد\nتیری فرقت میں کوئی دم میں ہے رخصت میری\n\nقبر پر میری اگر فاتحہ پڑھنے کے لئے\nوہ جو آ جائیں تو تھرا اٹھے تربت میری\n\nتم کو دیکھا کروں ہر وقت سراپا ہوں فنا\nکرتی رہ رہ کے تقاضا ہے یہ حالت میری\n\nزندہ درگور ہوں لیکن مجھے زندہ نہ سمجھ\nایک مدت جو یہی رہ گئی حالت میری\n\nکشتۂ ناز ہوں جن کا ہے انہیں کا کونین\nثروت جم سے اٹھے گی وہ ہے میت میری\n\nبعد مردن بھی میں بیمار محبت ہی رہوں\nتا قیامت نہ ہو یا رب کبھی صحت میری\n\nہیچ دنیا ہے زر و مال ہے سب ہیچ مگر\nاک محبت تری مرداںؔ ہے یہ دولت میری", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%8C%D8%AA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیا", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیا\nجس نے اس دل کو ہتھیلی کا پھپھولا کر دیا\n\nدیکھنا مغرب کی جانب یہ شفق کا پھولنا\nڈوبتے سورج نے سونے میں سہاگا کر دیا\n\nزندگی اور موت میں اک عمر سے تھی کشمکش\nوقت پر دو ہچکیوں نے پاک جھگڑا کر دیا\n\nاک شرارہ سا قریب شمع جا کر مل گیا\nآتش پروانہ نے شعلے کو دونا کر دیا\n\nبلبل تصویر ہوں اب بولنا ہے ناگوار\nتیری اس ہنگامہ آرائی نے چپکا کر دیا\n\nاس کو کہتے ہیں لگی پروانے جل بجھ ڈوب مر\nروتے روتے شمع نے آخر سویرا کر دیا\n\nدے دیا آنکھیں لڑا کر اس پری پیکر نے جام\nمیں نشے میں چور تھا ہی اور اندھا کر دیا\n\nکیا گرامی ہستیاں ہیں حضرت عثمانؔ و شادؔ\nشاعرؔ ان دونوں نے دنیا میں اجالا کر دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "لاکھ پردے سے رخ انور عیاں ہو جائے گا", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لاکھ پردے سے رخ انور عیاں ہو جائے گا\nپردہ کھل جائے گا ہر پردہ کتاں ہو جائے گا\n\nجوہر تیغ اصالت سب عیاں ہو جائے گا\nامتحاں کے وقت اپنا امتحاں ہو جائے گا\n\nتو اگر اے ماہ آ نکلا کسی دن بعد مرگ\nپردۂ خاک مزار اپنا کتاں ہو جائے گا\n\nپیچ زلفوں کے جو کھل جائیں گے روئے یار پر\nسنبل تر آتش گل کا دھواں ہو جائے گا\n\nتو وہ گل رو ہے کہ تجھ کو دیکھ کر نکلے گی جان\nبلبل روح و رواں بے آشیاں ہو جائے گا\n\nروئے رنگیں کی حکایت نظم اگر کرنے لگیں\nبرقؔ سب دیواں ہمارا بوستاں ہو جائے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%AE_%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیا\nجس دل کو تم نے دیکھ لیا دل بنا دیا\n\nہر چند کر دیا مجھے برباد عشق نے\nلیکن انہیں تو شیفتۂ دل بنا دیا\n\nپہلے کہاں یہ ناز تھے یہ عشوہ و ادا\nدل کو دعائیں دو تمہیں قاتل بنا دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%AE%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "لاکھوں چیزیں بنا کے بھیجیں انگریز", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "لاکھوں چیزیں بنا کے بھیجیں انگریز\nسب کرتے ہیں دندان ہوس ان پر تیز\nچڑتے ہیں مگر علوم انگریزی سے\nگڑ کھاتے ہیں اور گلگلوں سے پرہیز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%86%DB%8C%D8%B2%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AC%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2"} {"title": "لاہور و کراچی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمانِ غُیور\nموت کیا شے ہے، فقط عالَمِ معنی کا سفر\nاُن شہیدوں کی دِیَت اہلِ کلیسا سے نہ مانگ\nقدر و قیمت میں ہے خُوں جن کا حرم سے بڑھ کر\nآہ! اے مردِ مسلماں تجھے کیا یاد نہیں\nحرفِ ’لا تَدعُ مَعَ اللہِ الٰھاً آخر‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1_%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"} {"title": "لب بہ لب نبت العنب ہر دم رہے", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لب بہ لب نبت العنب ہر دم رہے\nدور دور جام مے جم جم رہے\n\nذکر قمری بھی جو کرتے ہم رہے\nاس سہی قامت کا بھرتے دم رہے\n\nدود خط ہو یا دخان زلف ہو\nجس جگہ دھونی رمائی رم رہے\n\nشوخ کیسا ہے عقیق سرخ ہو\nلعل لب سے رنگ میں مدھم رہے\n\nناتوانی نے بٹھایا جس جگہ\nپھر نہ اٹھے لیس ہو کر جم رہے\n\nجب میں رویا بارش باراں ہوئی\nکھل گیا منہ اشک جس دم تھم رہے\n\nشادؔ پیچھا کر کے غول نفس کا\nراہ حق بھولے بھٹکتے ہم رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%D8%A8%DB%81_%D9%84%D8%A8_%D9%86%D8%A8%D8%AA_%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%86%D8%A8_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "لب ترے لعل ناب ہیں دونوں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لب ترے لعل ناب ہیں دونوں\nپر تمامی عتاب ہیں دونوں\n\nرونا آنکھوں کا روئیے کب تک\nپھوٹنے ہی کے باب ہیں دونوں\n\nہے تکلف نقاب وے رخسار\nکیا چھپیں آفتاب ہیں دونوں\n\nتن کے معمورے میں یہی دل و چشم\nگھر تھے دو سو خراب ہیں دونوں\n\nکچھ نہ پوچھو کہ آتش غم سے\nجگر و دل کباب ہیں دونوں\n\nسو جگہ اس کی آنکھیں پڑتی ہیں\nجیسے مست شراب ہیں دونوں\n\nپاؤں میں وہ نشہ طلب کا نہیں\nاب تو سرمست خواب ہیں دونوں\n\nایک سب آگ ایک سب پانی\nدیدہ و دل عذاب ہیں دونوں\n\nبحث کاہے کو لعل و مرجاں سے\nاس کے لب ہی جواب ہیں دونوں\n\nآگے دریا تھے دیدۂ تر میرؔ\nاب جو دیکھو سراب ہیں دونوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%84%D8%B9%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA"} {"title": "لب جاں بخش پر جو نالہ ہے", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لب جاں بخش پر جو نالہ ہے\nاب مسیحا بھی مرنے والا ہے\n\nخون تھوکا مدام صورت زخم\nدل ناصور اب تک آلا ہے\n\nرو رہا ہوں مثل ابر بہار\nدونگڑا مینہ کا ہے نہ جھالا ہے\n\nوہ بلانوش رنج و محنت ہوں\nغم کونین اک نوالا ہے\n\nہر قدم پر ہیں سیکڑوں پامال\nسرکشوں کا چلن نرالا ہے\n\nہر مژہ پر رواں ہیں کودک اشک\nنے سواروں کا یار سالا ہے\n\nاشک خوں روح پر ہیں مثل شفق\nرنگ کس شوخ نے اچھالا ہے\n\nفرد اعمال نیک کاراں شادؔ\nقصر فردوس کا قبالہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%AE%D8%B4_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "لب جاں بخش پہ دم اپنا فنا ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لب جاں بخش پہ دم اپنا فنا ہوتا ہے\nآج عیسیٰ سے یہ بیمار جدا ہوتا ہے\n\nزلف کو دست حنائی سے جو چھوتا ہے وہ شوخ\nتو گرفتار وہیں درد حنا ہوتا ہے\n\nتھا گرفتار شب و روز نگہبانی میں\nہم جو اب چھوٹیں ہیں صیاد رہا ہوتا ہے\n\nپھر بہار آتی ہے اے خار بیاباں خوش ہو\nآج کل پھر گزر آبلہ پا ہوتا ہے\n\nمر گئے ہم تو صبا لائی جواب نامہ\nوہی ہوتا ہے جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%AE%D8%B4_%D9%BE%DB%81_%D8%AF%D9%85_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%81%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "لب جاں بخش کے میٹھے کا تیرے جو مزہ پایا", "poet_page": "مصنف:باقر آگاہ ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لب جاں بخش کے میٹھے کا تیرے جو مزہ پایا\nتو چشمہ زندگی کا اپنی لبریز بقا پایا\n\nنہ ہوئے کیوں بصد جاں دل مرا مفتوں ترا جاناں\nکہ ہر جلوے میں تیرے یک کرشمہ میں جدا پایا\n\nدوبالا کیوں نہ ہو نشہ دل حیراں کی حیرت کا\nجو تجھ کو سب میں اور تیرے میں سب کو برملا پایا\n\nتری اک گردش مژگاں سے یوں بے تاب و طاقت ہوں\nنہ کہہ سکتا ہوں کچھ گر کوئی پوچھے تو نے کیا پایا\n\nنہ دنیا اس میں رہ پاوے نہ عقبیٰ اس کو پھیلاوے\nدل آگاہؔ کے کوثر میں جن نے انزوا پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%AE%D8%B4_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B2%DB%81_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "لب جوئے بارے", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ایک ہی پل کے لیے بیٹھ کے پھر اٹھ بیٹھی\nآنکھ نے صرف یہ دیکھا کہ نشستہ بت ہے\nیہ بصارت کو نہ تھی تاب کہ وہ دیکھ سکے\nکیسے تلوار چلی، کیسے زمیں کا سینہ\nایک لمحے کے لیے چشمے کی مانند بنا\n\nپیچ کھاتے ہوئے یہ لہر اٹھی دل میں مرے\nکاش! یہ جھاڑیاں اک سلسلۂ کوہ بنیں\nدامن کوہ میں میں جا کے ستادہ ہو جاؤں\nایسی انہونی جو ہو جائے تو کیوں یہ بھی نہ ہو\nخشک پتوں کا زمیں پر جو بچھا ہے بستر\nوہ بھی اک ساز بنے ساز تو ہے ساز تو ہے\nنغمہ بیدار ہوا تھا جو ابھی کان ترے\nکیوں اسے سن نہ سکے سننے سے مجبور رہے\nپردۂ چشم نے صرف ایک نشستہ بت کو\nذہن کے دائرۂ خاص میں مرکوز کیا\n\nیاد آتا ہے مجھے کان ہوئے تھے بیدار\nخشک پتوں سے جب آئی تھی تڑپنے کی صدا\nاور دامن کی ہر اک لہر چمک اٹھی تھی\nپڑ رہا تھا اسی تلوار کا سایہ شاید\nجو نکل آئی تھی اک پل میں نہاں خانے سے\nجیسے بے ساختہ انداز میں بجلی چمکے\n\nلیکن اس دامن آلودہ کی ہر لہر مٹی\nجل پری دیکھتے ہی دیکھتے روپوش ہوئی\nمیں ستادہ ہی رہا میں نے نہ دیکھا (افسوس!)\nکیسے تلوار چلی کیسے زمیں کا سینہ\nایک لمحے کے لیے چشمے کی مانند بنا\n\nدامن کوہ میں استادہ نہیں ہوں اس وقت\nجھاڑیاں سلسلۂ کوہ نہیں پردہ ہیں\nجس کے اس پار جھلکتا نظر آتا ہے مجھے\nمنظر انجان، اچھوتی سی دلہن کی صورت\n\nہاں تصور کو میں اب اپنے بنا کر دولہا\nاسی پردے کے نہاں خانے میں لے جاؤں گا\nکیسے تلوار چلی کیسے زمیں کا سینہ\nدل بے تاب کی مانند تڑپ اٹھا تھا\nایک بے ساختہ انداز میں بجلی کی طرح\nجل پری گوشۂ خلوت سے نکل آئی تھی!\nزندگی گرم تھی ہر بوند میں آبی پاؤں\nخشک پتوں پہ پھسلتے ہوئے جا پہنچے تھے!\nمیں بھی موجود تھا اک کرمک بے نام و نشاں\nمیں نے دیکھا کہ گھٹا شق ہوئی دھارا نکلی\nبرق رفتاری سے اک تیر کماں نے چھوڑا\nاور وہ خم کھا کے لچکتا ہوا تھرا کے گرا\nقلۂ کوہ سے گرتے ہوئے پتھر کی طرح\nکوئی بھی روک نہ تھی اس کے لیے اس کے لیے\nخشک پتوں کا زمیں پر ہی بچھا تھا بستر\nاسی بستر پہ وہ انجان پری لیٹ گئی!\n\nاور میں کرمک بے نام، گھٹا کی صورت\nاسی امید میں تکتا رہا تکتا ہی رہا\nاب اسی وقت کوئی جل کی پری آ جائے\nبانسری ہاتھ میں لے کر میں گوالا بن جاؤں\nجل پری آئے کہاں سے؟ وہ اسی بستر پر\nمیں نے دیکھا ابھی آسودہ ہوئی لیٹ گئی\nلیکن افسوس کہ میں اب بھی کھڑا ہوں تنہا\nہاتھ آلودہ ہے، نم دار ہے، دھندلی ہے نظر،\nہاتھ سے آنکھوں کے آنسو تو نہیں پونچھے تھے!", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%D8%AC%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "لب خشک در تشنگی مردگاں کا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لبِ خشک در تشنگی، مردگاں کا\nزیارت کدہ ہوں دل آزردگاں کا\n\nشگفتن کمیں گاہِ تقریب جوئی\nتصوّر ہوں بے موجب آزردگاں کا\n\nغریبِ ستم دیدۂ باز کشتن\nسخن ہوں سخن بر لب آوردگاں کا\n\nسراپا یک آئینہ دارِ شکستن\nارادہ ہوں یک عالم افسردگاں کا\n\nہمہ نا امیدی، ہمہ بد گمانی\nمیں دل ہوں فریبِ وفا خوردگاں کا\n\nبصورت تکلّف، بمعنی تاسّف\nاسدؔ میں تبسّم ہوں پژمردگاں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%D8%AE%D8%B4%DA%A9_%D8%AF%D8%B1_%D8%AA%D8%B4%D9%86%DA%AF%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%AF%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "لب رنگیں سے اگر تو گہر افشاں ہوتا", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لب رنگیں سے اگر تو گہر افشاں ہوتا\nلکھنؤ لعلوں کے معدن سے بدخشاں ہوتا\n\nاے پری تو وہ پری ہے کہ تری دیکھ کے شکل\nہر فرشتہ کی تمنا ہے کہ انساں ہوتا\n\nرہ گیا پردہ مرا ورنہ ترے جاتے ہی\nنہ یہ دامن نظر آتا نہ گریباں ہوتا\n\nآ نکلتا کبھی زاہد جو تری محفل میں\nہاتھ میں شیشۂ مے طاق پہ قرآں ہوتا\n\nخیر گزری جو کھلے بالوں کو اس نے باندھا\nورنہ مجموعہ عناصر کا پریشاں ہوتا\n\nمر گیا زلف کی میں پیچ اٹھا کر اے برقؔ\nکیوں نہ افسانہ مرا خواب پریشاں ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DA%AF%DB%81%D8%B1_%D8%A7%D9%81%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "لب رنگیں ہیں ترے رشک عقیق یمنی", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لب رنگیں ہیں ترے رشک عقیق یمنی\nزیب دیتی ہے تجھے نام خدا کم سخنی\n\nہار کل پہنے تھے پھولوں کے نشاں ہے اب تک\nختم ہے گل بدنوں میں تری نازک بدنی\n\nشرم سے آب ہوئے نیشکر و قند و نبات\nدیکھ کر اے شکریں لب تری شیریں دہنی\n\nمیوۂ باغ ارم اس کو نہ بھاوے ہرگز\nتوبر بوسہ کیا جس نے وہ سیب ذقنی\n\nجھوٹے وعدے ترے اے جان کروں سب باور\nدل شکستہ نہ کرے گر تری پیماں شکنی\n\nشمع رویوں سے جسے شام و سحر صحبت ہو\nہے سزاوار اسے دعویٔ خوش انجمنی\n\nاس قدر مہکے ہے اس کاکل مشکیں کی شمیم\nجستجو میں ہوئے بیدارؔ غزال ختنی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D8%B9%D9%82%DB%8C%D9%82_%DB%8C%D9%85%D9%86%DB%8C"} {"title": "لب ساغر سے سن لو زاہدو تقریر مے میخانہ", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لب ساغر سے سن لو زاہدو تقریر مے میخانہ\nشکست توبہ ہی ہے یا نئی تعمیر مے خانہ\n\nازل سے اس پہ رحمت ہے ابد تک اس پہ رحمت ہو\nرقم ہے خط جام بادہ میں تقدیر مے خانہ\n\nتو کیا اے زاہد خشک اس کی عظمت جان سکتا ہے\nقلم سے موج کوثر کے کھچی تصویر مے خانہ\n\nیہ مے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید\nکہ دانائے رموز دو جہاں ہے پیر مے خانہ\n\nملا پاؤ گے اس کا سلسلہ تسنیم و کوثر سے\nبہت طول و طویل اے شیخ ہے زنجیر مے خانہ\n\nبنا ہے شیشۂ مے سر بسر آئینۂ محشر\nبری زہد و ریا سے ہے جوان پیر مے خانہ\n\nتو ساری عمر اب ماتھا رگڑتا رہ کڑا کے کر\nنہ ٹالے سے ٹلے اے شیخ یہ تعزیر مے خانہ\n\nدہائی ساقیٔ کوثر کی یہ ہیں نفس کے بندے\nجو وصل حور کی خاطر کریں تحقیر مے خانہ\n\nحباب خط جام و قلقل مینا سے ثابت ہے\nوہ ہے تسبیح مے خانہ یہ ہے تکبیر مے خانہ\n\nگرا جو خشت خم پر سر لب کوثر نے چوما ہے\nکہ ہے تقصیر مے خانہ ہی میں توقیر مے خانہ\n\nنہ کیوں ہر قطرۂ مے مہر کی آنکھوں کا تارا ہو\nکہ برق طور کی ہے اک چمک تنویر مے خانہ\n\nپڑی ہے اک نظر جس پر وہ بے خود ہو گیا کیفیؔ\nنگاہ مست ساقی میں ہے کیا تاثیر مے خانہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%86_%D9%84%D9%88_%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF%D9%88_%D8%AA%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "لب شیریں ہے مصری یوسف ثانی ہے یہ لڑکا", "poet_page": "مصنف:ناجی شاکر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لب شیریں ہے مصری یوسف ثانی ہے یہ لڑکا\nنہ چھوڑے گا میرا دل چاہ کنعانی ہے یہ لڑکا\n\nلیا بوسہ کسی نے اور گریباں گیر ہے میرا\nڈوبایا چاہتا ہے سب کو طوفانی ہے یہ لڑکا\n\nسر اوپر لال چیرا اور دہن جوں غنچۂ رنگیں\nبہار مدعا لعل بدخشانی ہے یہ لڑکا\n\nقیامت ہے جھمک بازو کے تعویذ طلائی کی\nحصار حسن کوں قائم کیا بانی ہے یہ لڑکا\n\nہوئے روپوش اس کا حسن دیکھ انجم کے جوں خوباں\nچمکتا ہے برنگ مہر نورانی ہے یہ لڑکا\n\nقیامت قامت اس کا جن نے دیکھا سو ہوا بسمل\nمگر سر تا قدم تیغ سلیمانی ہے یہ لڑکا\n\nمیں اپنا جان و دل قرباں کروں اوس پر سیتی ناجیؔ\nجسے دیکھیں سیں ہوئے عید رمضانی ہے یہ لڑکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%D8%B4%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B5%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%D9%88%D8%B3%D9%81_%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D9%84%DA%91%DA%A9%D8%A7"} {"title": "لب عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لب عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی\nقیامت کشتۂ لعل بتاں کا خواب سنگیں ہے\n\nبیابان فنا ہے بعد صحراۓ طلب غالبؔ\nپسینہ توسن ہمت تو سیل خانۂ زیں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%D8%B9%DB%8C%D8%B3%DB%8C%D9%B0_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%86%D8%A8%D8%B4_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%AF%DB%81%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D9%86%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "لب و دنداں کا تمہارے جو ہے دھیاں آٹھ پہر", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لب و دنداں کا تمہارے جو ہے دھیاں آٹھ پہر\nنہیں لگتی مری تالو سے زباں آٹھ پہر\n\nروش سیر وہ گلشن میں جو ٹک جا بیٹھے\nبلبلیں گل کے اٹھایا کریں کاں آٹھ پہر\n\nدر سے اب نکلے وہ کیوں اس کو تو یہ ہے منظور\nکہ نکلتی ہی کسی کی رہے جاں آٹھ پہر\n\nکیوں کہ خوں ریز رہے تیز نہ وہ تیغ نگاہ\nسنگ سرمہ سے چڑھا کرتی ہے ساں آٹھ پہر\n\nکہتے ہیں سب ترے عاشق کو کہ شاید اے واے\nہے گرفتار مصیبت یہ جواں آٹھ پہر\n\nدل کے لگنے سے یہ دیکھا کہ لگے رہتے ہم آہ\nخود بخود مضطرب الحال نداں آٹھ پہر\n\nجس کا ہے دھیان ہمیں اس کو بھی اپنا ہے خیال\nوائے غفلت کہ یہ ہم کو ہے گماں آٹھ پہر\n\nحسن خوبی بتاں کچھ نہ ادا ہو بخدا\nکیجے گر لاکھ برس تک یہ بیاں آٹھ پہر\n\nطرفہ اس جنس محبت کا بھی سودا دیکھا\nسود میں جس کے رہے خوف زیاں آٹھ پہر\n\nجب سے ہے ہم سے جدا آہ وہ رشک مہ و مہر\nمنہ لپیٹے ہیں بس اور ہے یہی دھیاں آٹھ پہر\n\nرات کو رات سمجھتے ہیں نہ ہم دن کو دن\nاپنی آنکھوں میں ہے تاریک جہاں آٹھ پہر\n\nان دنوں آپ میں تجھ کو کبھی پاتے ہی نہیں\nکس کا رہتا ہے یہ جرأتؔ تجھے دھیاں آٹھ پہر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%D9%88_%D8%AF%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D9%B9%DA%BE_%D9%BE%DB%81%D8%B1"} {"title": "لب پر جو مرے آہ غم آلود نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لب پر جو مرے آہ غم آلود نہیں ہے\nاظہار محبت مجھے مقصود نہیں ہے\n\nہم جیسے فقیروں کو تو یوں بھی نہ کہے وہ\nپھر آئیو کچھ اس گھڑی موجود نہیں ہے\n\nکہتا ہوں میں یہ گبر و مسلمان کے منہ پر\nوہ عبد نہیں جس کا تو معبود نہیں ہے\n\nنرمائے ہے کس طرح سے اس آہن دل کو\nیہ آہ اگر نغمۂ داؤد یہیں ہے\n\nپھرتے ہیں کئی قیس سے حیران و پریشان\nاس عشق کی سرکار میں بہبود نہیں ہے\n\nتاثیر مدد کیجیو اب سینے میں اپنے\nاس نالے سے اک آہ بھی افزود نہیں ہے\n\nخوبیٔ ایاز آپھی نظر آ گئی ہوتی\nافسوس ترے عہد میں محمود نہیں ہے\n\nاس آتش فرقت کے سوا دہر میں ؔجوشش\nدیکھا تو کہیں آتش بے دود نہیں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A2%DB%81_%D8%BA%D9%85_%D8%A2%D9%84%D9%88%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "لب پہ آئی ہوئی یہ جان پھرے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "لب پہ آئی ہوئی یہ جان پھرے\nیار گر اس طرف کو آن پھرے\n\nچین کیا ہو ہمیں جب آٹھ پہر\nاپنے آنکھوں میں وہ جوان پھرے\n\nخون عاشق چھٹا کہ ہے لازم\nتیرے تلوار پر یہ سان پھرے\n\nساقیا آج جام صہبا پر\nکیوں نہ لہراتی اپنی جان پھرے\n\nہچکیاں لی ہے اس طرح بط مے\nجس طرح گٹکری میں تان پھرے\n\nیا تو وہ عہد تھے کہ ہم ہرگز\nنہ پھریں گے اگر جہان پھرے\n\nآئے اب روکے ہو معاذ اللہ\nآپ سے شخص کی زبان پھرے\n\nروٹھ کر اٹھ چلے تھے انشاؔ سے\nبارے پھر ہو کے مہربان پھرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%D9%BE%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%92"} {"title": "لب چپ ہیں تو کیا دل گلہ پرداز نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:شوق قدوائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لب چپ ہیں تو کیا دل گلہ پرداز نہیں ہے\nسب کچھ ہے خموشی میں اک آواز نہیں ہے\n\nکتنا ہی وہ جھڑکیں میں کہے جاتا ہوں اپنی\nغیرت مری اب کچھ خلل انداز نہیں ہے\n\nپہونچوں گا ضرور آج میں اس شوخ کے گھر میں\nدیوار تو نیچی ہے جو در باز نہیں ہے\n\nاس سمت مرض عشق کا انجام کو پہونچا\nاس سمت توجہ کا بھی آغاز نہیں ہے\n\nکیا سادہ دلی ہے کہ تری چین جبیں کو\nمیں ناز سمجھتا ہوں مگر ناز نہیں ہے\n\nمرنا تھا کہ صحت مرض عشق سے پائی\nاب کچھ بھی طبیعت ناساز نہیں ہے\n\nکیوں سچ یہ کہا اس نے کہ الفت نہیں مجھ سے\nیہ عیب ہی ظالم میں کہ دم باز نہیں ہے\n\nروتے ہوئے جینے سے اجل عشق میں اچھی\nمردے میں یہ خوبی ہے کہ غماز نہیں ہے\n\nذلت مجھے منظور مگر آؤں ترے گھر\nکیا حرج محبت کا جو اعزاز نہیں ہے\n\nکیوں بیٹھے ہیں ہم وعدۂ محبوب پہ خوش خوش\nکیا کھوئے تلون بھی در انداز نہیں ہے\n\nاے شوقؔ کہے دیتی ہے کچھ شکل خموشی\nچپ کیوں ہو اگر دل میں کوئی راز نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8_%DA%86%D9%BE_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%AF%D9%84%DB%81_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "لباس یار کو میں پارہ پارہ کیا کرتا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لباس یار کو میں پارہ پارہ کیا کرتا\nقبائے گل سے اسے استعارہ کیا کرتا\n\nبہار گل میں ہیں دریا کے جوش کی لہریں\nبھلا میں کشتئ مے سے کنارہ کیا کرتا\n\nنقاب الٹ کے جو منہ عاشقوں کو دکھلاتے\nتمہیں کہو کہ تمہارا نظارہ کیا کرتا\n\nسنا جو حال دل زار یار نے تو کہا\nطبیب مرتے ہوئے کاہے چارہ کیا کرتا\n\nہلال عید کا ہر چند ہو جہاں مشتاق\nتمہاری ابروؤں کا سا اشارہ کیا کرتا\n\nحقیقت دہن یار کھولتا کیوں کر\nنہفتہ راز کو میں آشکارہ کیا کرتا\n\nقدم کو پیچھے رہ خوفناک عشق میں رکھ\nیہ پہلے دیکھ لے دل ہے اشارہ کیا کرتا\n\nخم شراب سے مجھ مست نے نہ منہ پھیرا\nکنار آب سے پیاسا کنارہ کیا کرتا\n\nبہار تھی جو وہ گل چہرہ یار بھی ہوتا\nاکیلے جا کے چمن کا نظارہ کیا کرتا\n\nگداز موم سے ہر استخواں کو پاتا ہوں\nپھر اور سوزش دل کا حرارہ کیا کرتا\n\nبڑا ہی خوار علاقہ ہے گلشن الفت\nمری طرح کوئی اس میں اجارہ کیا کرتا\n\nشراب خلد کی خاطر دہن ہے رکھتا صاف\nوضو میں ورنہ یہ زاہد غرارہ کیا کرتا\n\nشکستہ دل نہ ہو اس بت کے ناز سے کیوں کر\nسلوک شیشہ سے ہے سنگ خارا کیا کرتا\n\nبہار گل میں پیالہ لگا لیا منہ سے\nشراب پینے کو میں استخارہ کیا کرتا\n\nفقیر کو نہیں درکار شان امیروں کی\nسر برہنہ سر گوشوارہ کیا کرتا\n\nبہار گل میں تھا جامہ سے باہر اے آتشؔ\nنہ کرتا میں جو گریباں کو پارہ کیا کرتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8%D8%A7%D8%B3_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7"} {"title": "لبالب کر دے اے ساقی ہے خالی میرا پیمانہ", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لبالب کر دے اے ساقی ہے خالی میرا پیمانہ\nسلامت دور گردوں تک یہ شیشہ اور یہ مے خانہ\n\nنہ پوچھو نام مجھ وحشت زدہ کا دشت فرقت میں\nسڑی سودائی مجنوں مست بے خود زار و دیوانہ\n\nمجھے مشرک نہ سمجھو میں موحد ہوں زمانہ میں\nتصاویر خیالی سے بھرا ہے میرا بت خانہ\n\nہوا مطلع جو مشرک میں تو مغرب میں ہوا مقطع\nلئے پھرتے ہیں ہم دوش صبا پر بیت کا خانہ\n\nعروس فکر میری اور دولہے سے نہ ذم ہوگی\nفقیری کی ملے گی بو جو جوڑا ہوگا شاہانہ\n\nبھلا لہج و لہجہ ایستادہ کیا بیاں ہوگا\nقیامت تک تو سنیے بیٹھ کر الفت کا افسانہ\n\nضعیفی میں بھی لپٹی ہے بلائے شاعری مجھ سے\nنہ چھوٹے گی کبھی اخترؔ قلم سے مشق طفلانہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "لبریز حقیقت گو افسانۂ موسیٰ ہے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لبریز حقیقت گو افسانۂ موسیٰ ہے\nاے حسن حجاب آرا کس نے تجھے دیکھا ہے\n\nمحفل سی سجائی ہے دیدار کی حسرت نے\nہر چند ترا جلوہ محبوب تماشا ہے\n\nمٹتا ہے کبھی دل سے نقش اس کی محبت کا\nناکام تمنا بھی مجبور تمنا ہے\n\nجذبات کی دنیا میں برپا ہے قیامت سی\nاس حال میں رو پوشی کیا آپ کو زیبا ہے\n\nساقی تری محفل کو رنگین کیا جس نے\nوہ خون ہے تقوے کا یا جلوۂ مینا ہے\n\nاک شیوہ تغافل ہے اک عشوہ تجاہل ہے\nغصہ ہے بجا تیرا شکوہ مرا بے جا ہے\n\nیہ بے دلی اچھی ہے دیوانہ نہ بن وحشتؔ\nانجام تمنا کا حسرت کے سوا کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D8%B2_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%DA%AF%D9%88_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D9%85%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%B0_%DB%81%DB%92"} {"title": "لجیائی سے نازک ہے اے جان بدن تیرا", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لجیائی سے نازک ہے اے جان بدن تیرا\nاب چھو نہیں سکتے ہم پھولا یہ چمن تیرا\n\nآنکھیں تری نرگس ہیں رخسار ترے گل ہیں\nچٹواتا ہے ہونٹھوں کو یہ سیب ذقن تیرا\n\nناخن ترے سورج ہیں اور چاند ہتھیلی ہے\nآئینہ خود رو ہے شفاف بدن تیرا\n\nدنداں ترے موتی ہیں خورشید سا ماتھا ہے\nدر جھڑتے ہیں باتوں میں ایسا ہے دہن تیرا\n\nاس سے تجھے نفرت ہے غیروں سے محبت ہے\nکب بھائے گا اخترؔ کو اے جان چلن تیرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%AC%DB%8C%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2%DA%A9_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا\nاشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھا\n\nدامن میں آج دیکھا پھر لخت میں لے آیا\nٹکڑا کوئی جگر کا پلکوں میں رہ گیا تھا\n\nاس قید جیب سے میں چھوٹا جنوں کی دولت\nورنہ گلا یہ میرا جوں طوق میں پھنسا تھا\n\nمشت نمک کی خاطر اس واسطے ہوں حیراں\nکل زخم دل نہایت دل کو مرے لگا تھا\n\nاے گرد باد مت دے ہر آن عرض وحشت\nمیں بھی کسو زمانے اس کام میں بلا تھا\n\nبن کچھ کہے سنا ہے عالم سے میں نے کیا کیا\nپر تو نے یوں نہ جانا اے بے وفا کہ کیا تھا\n\nروتی ہے شمع اتنا ہر شب کہ کچھ نہ پوچھو\nمیں سوز دل کو اپنے مجلس میں کیوں کہا تھا\n\nشب زخم سینہ اوپر چھڑکا تھا میں نمک کو\nناسور تو کہاں تھا ظالم بڑا مزہ تھا\n\nسر مار کر ہوا تھا میں خاک اس گلی میں\nسینے پہ مجھ کو اس کا مذکور نقش پا تھا\n\nسو بخت تیرہ سے ہوں پامالیٔ صبا میں\nاس دن کے واسطے میں کیا خاک میں ملا تھا\n\nیہ سر گذشت میری افسانہ جو ہوئی ہے\nمذکور اس کا اس کے کوچے میں جا بجا تھا\n\nسن کر کسی سے وہ بھی کہنے لگا تھا کچھ کچھ\nبے درد کتنے بولے ہاں اس کو کیا ہوا تھا\n\nکہنے لگا کہ جانے میری بلا عزیزاں\nاحوال تھا کسی کا کچھ میں بھی سن لیا تھا\n\nآنکھیں مری کھلیں جب جی میرؔ کا گیا تب\nدیکھے سے اس کو ورنہ میرا بھی جی جلا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%AE%D8%AA_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%8C%DA%A9_%D9%84%D8%AE%D8%AA_%D8%B1%D9%88_%DA%86%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "لخت جگر کو کیونکر مژگان تر سنبھالے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لخت جگر کو کیونکر مژگان تر سنبھالے\nیہ شاخ وہ نہیں جو بار ثمر سنبھالے\n\nدیوانہ ہو کے کوئی پھاڑا کرے گریباں\nممکن نہیں کہ دامن وہ بے خبر سنبھالے\n\nتلوار کھینچ کر وہ خوں خوار ہے یہ کہتا\nمنہ پر جو کھاتے ڈرتا ہو وہ سپر سنبھالے\n\nتکیے میں آدمی کو لازم کفن ہے رکھنا\nبیٹھا رہے مسافر رخت سفر سنبھالے\n\nیک دم نہ نبھنے دیتی ان کی تنک مزاجی\nرکھتے نہ ہم طبیعت اپنی اگر سنبھالے\n\nوہ نخل خشک ہوں میں اس گلشن جہاں میں\nپھرتا ہے باغباں بھی مجھ پر تبر سنبھالے\n\nہر گام پر خوشی سے وارفتگی سی ہوگی\nلانا جواب خط کو اے نامہ بر سنبھالے\n\nیا پھر کتر پر اس کے صیاد یا چھری پھیر\nبے بال و پر نے تیرے پھر بال و پر سنبھالے\n\nدرد فراق آتشؔ تڑپا رہا ہے ہم کو\nاک ہاتھ دل سنبھالے ہے اک جگر سنبھالے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%AE%D8%AA_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D8%B1_%D8%B3%D9%86%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "لذت سنگ (مضمون)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "لذت سنگ", "year": "1948", "text_ur": "لاہور کے ایک رسوائے عالم رسالے میں جو فحاشی و بے ہودگی کی اشاعت کو اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے، ایک افسانہ شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے ’بو‘، اور اس کے مصنف ہیں مسٹر سعادت حسن منٹو۔ اس افسانے میں فوجی عیسائی لڑکیوں کا کیریکٹر اس درجہ گندا بتایا گیا ہے کہ کوئی شریف آدمی برداشت نہیں کر سکتا۔ افسانہ نگار نے اظہار مطلب کے لئے جو اسلوب اختیار کیا ہے اور جو الفاظ منتخب کئے ہیں، ان کے لئے تہذیب، شرافت کے دامن میں کوئی جگہ نہیں ہو سکتی، لیکن حکومت اب تک خاموش ہے، حالانکہ یہی حکومت ہے جو ’لذت النساء‘ اور ’کوک شاستر‘ ایسی فنی؟ (یہ استفہامیہ میرا ہے) کتابوں کو بھی قابل مواخذہ سمجھتی ہے، لیکن ایسے افسانوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتی جو ادب جدید کے نام سے سفلی جذبات میں ہلچل ڈالنے کا موجب ہیں اور فحاشت نگار ادیبوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ وہ قانون کی گرفت سے بے نیاز ہو کر گندگی بکھیرتے رہتے ہیں۔ ( ہفتہ وار ’خیام‘ لاہور۔ )\n\nپریس برانچ کے انچارج چودھری محمد حسین بہت نیک خیال کے بزرگ ہیں۔ اس قسم کے افسانے پڑھ کر ان کی روح یقیناً کانپ اٹھتی ہے۔ ان کے ہاتھ میں قانون ہے اور وہ اسے نہایت سختی سے استعمال کر سکتے ہیں۔ کیا ان کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ جس طرح قابل اعتراض مذہبی مضامین لکھنے والوں کے خلاف گورنمنٹ کی مشینری حرکت میں آئی، اسی طرح ان گندے افسانوں کو لکھنے والے سعادت حسن منٹو وغیرہ، بیچنے والے پبلشر جو رسالے کی فروخت سے ہزاروں روپیہ کماتے ہیں اور چھاپنے والے پریس کے مالک کو فوراً گرفتار کر لیتے اور ان میں سے ہر ایک کو تین تین سال کے لئے جیلوں میں بند کرا دیتے۔ ہمیں یقین ہے کہ کوئی بھی عدالت ان افسانوں کو قانون کی زد سے نہیں بچنے دے گی۔ یہ صاف طور سے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں بداخلاقی پھیلاتے ہیں اور عوام کا مذاق بگاڑتے ہیں۔ (روزنامہ پربھات۔ لاہور)\n\nادب لطیف، اس نام کا ایک رسالہ لاہور سے شائع ہوتا ہے۔ یہ کہنے کو تو ایک ادبی ماہنامہ ہے لیکن اگر اسے ادب کثیف کہیئے تو بجا ہے۔ اس کا سالانہ نمبر اس وقت ہمارے پیش نظر ہے، جس میں ایک لچر اور فحش افسانہ از قلم فحش نگار سعادت حسن منٹو شائع ہوا ہے جس کے خلاف ہم نہایت پرزور احتجاج کرتے ہیں، نہ فقط اس کے کوک شاسترانہ خیالات کی وجہ سے بلکہ اس لئے بھی کہ یہ گورنمنٹ عالیہ کی ومینزاگزالیری کور (Wac) کی مساعی درباب جنگ کی راہ میں روڑا اٹکانے والا اور اس کی بدنامی کا موجب ہے حتیٰ کہ اس محکمہ کو بیہودہ شخص قحبہ خانہ کا نام دیتا ہے۔ ہم حیران ہیں کہ اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر گورنمنٹ کی مشینری فوراً حرکت میں آ جاتی ہے، لیکن اس خلاف تہذیب مضمون پر اس کی اب تک نظر نہیں پڑی۔ کیا سپرنٹنڈنٹ پریس برانچ اس بداخلاق اور بے ادب ’ادیب‘ اور رسالہ مذکور کے خلاف جلد کوئی کارروائی نہ کریں گے، د یکھنا چاہیئے! (اخوت، لاہور)\n\nایک مقامی ماہنامہ نے سعادت حسن منٹو کا ایک فحش افسانہ ’بو‘ شائع کیا تھا۔ خیام میں اس اخلاق سوز حرکت کے خلاف آواز اٹھائی گئی تھی، جو حکومت پنجاب کے کانوں تک پہنچے بغیر نہ رہ سکی، چنانچہ معلوم ہوا کہ جس پرچے میں ’بو‘ شائع ہوا تھا، وہ ضبط کر لیا گیا ہے۔ یہ ضبطی ۳۸/۲۹۲ دفعہ کے ماتحت عمل میں آئی۔ ہم اس فیصلے پر حکومت پنجاب کو مستحق تبریک سمجھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اس قسم کی فحاشی کو مستقل طور پر روکنے کے لئے کوئی موثر قدم اٹھائے گی۔ (ہفتہ وار خیام ۸ اپریل ۱۹۴۴ء)\n\n۳۱؍ ملک بلڈنگ، میو روڈ، لاہور\n\nبھائی جان، سلام شوق!\nبرادرم آغا خلش صاحب کا گرامی نامہ پرسوں ملا تھا۔ آپ کی علا لت کا علم ہوا، اللہ کرے آپ اب تک اچھے ہوں۔ جب آپ کو اپنی صحت کا اندازہ ہے تو اتنا زیادہ کام کیوں کرتے ہیں کہ دنوں صاحب فراش رہتے ہیں۔ مجھے لوٹتی ڈاک میں اپنی صحت کی حالت سے مطلع کیجئے اور للہ اتنی محنت نہ کیجئے کہ آپ انجکشن کے کانٹوں میں گھرے رہ جائیں۔ ابھی برسوں تک آپ کی ضرورت ہے۔ لیجئے، خیام، عالمگیر، آئینہ (بمبئی) اور دیگر مہربا نوں کے دم سے ادب لطیف کا سالنامہ زیر دفعہ ۲۹۲ تعزیرات ہند اور ۳۸ ڈیفنس آف انڈیا رولز ۲۹/ مارچ کی شام کو ضبط ہو گیا۔ پولیس نے چھاپہ مارا۔ سالنامے کے باقی ماندہ نمبر لے گئی، ابھی پروپرائٹر اور ایڈیٹروں کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، لیکن افواہ ہے کہ ہم بہت جلد گرفتار کر لئے جائیں گے۔ یہ ضبطی آپ کے مضمون اور افسانے کی وجہ سے عمل میں آئی ہے۔ (احمد ندیم قاسمی، ایڈیٹر ادب لطیف)\n\nمضمون جس کا ذکر محولہ صدر خط میں ہے، ایک تقریر ہے جو میں نے جو گیشوری کالج بمبئی میں طالب علموں کو پڑھ کے سنائی تھی۔ اس سے پہلے چند اصحاب ادب جدید کے خلاف اس کالج میں تقریریں کر چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے کالج کی مجلس ادب کی دعوت قبول کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہ تقریر بعد میں ادب جدید کے عنوان سے ادب لطیف کے زیر عتاب سالنامہ ۱۹۴۴ء میں میرے افسانے ’بو‘ کے ساتھ شائع ہوئی۔ میں اسے ذیل میں نقل کرتا ہوں،\n\n’’میرے مضمون کا عنوان ادب جدید ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ میں اس کا مطلب ہی نہیں سمجھتا۔ لیکن یہ زمانہ ہی کچھ ایسا ہے کہ لوگ اسی چیز کے متعلق باتیں کرتے ہیں، جن کا مطلب ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ پچھلے دنوں گاندھی جی نے آغا خان کے محل میں مرن برت رکھا۔ جب لوگوں کی سمجھ میں نہ آیا وہ کس طرح زندہ رہ سکتے ہیں تو ایک نارنگی پیدا کر دی گئی۔ یہ نارنگی بھی کچھ دنوں کے بعد ناقابل فہم ہو گئی۔ بعض آدمیوں نے کہا کہ نارنگی نہیں تھی، موسمی تھی۔ بعض نے کہا نہیں موسمبی، نارنگی ہر گز نہیں تھی، مالٹا تھا۔۔۔ بات بڑھتی گئی، چنانچہ اس پھل کی ساری ذاتیں گنوا دی گئیں۔ نارنگی، سنترہ، موسمبی، مالٹا، چکوترہ، سویٹ لائم، کھٹا لیموں، میٹھا لیموں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ پھر ڈاکٹروں نے ان میں سے ہر ایک کی وٹامنز گنوائیں۔ غذائیت کو کیلوریز میں تقسیم کیا گیا۔۔۔ ایک برس میں پچھتر برس کے بڈھے کو کتنی کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پر بحث کی گئی اور صاحب! گاندھی جی کی یہ نارنگی یا موسمبی جو کچھ بھی تھی، سعادت حسن منٹو بن گئی۔۔۔\n\nیہ میرا نام ہے لیکن بعض لوگ ادب جدید المعروف نئے ادب، یعنی ترقی پسند ادب کو سعادت حسن منٹو بھی کہتے ہیں اور جنہیں صنف کرخت پسند نہیں، وہ اسے عصمت چغتائی بھی کہہ لیتے ہیں۔ جس طرح میں، یعنی سعادت حسن منٹو اپنے آپ کو نہیں سمجھتا، اسی طرح ادب جدید المعروف نیا ادب یعنی ترقی پسند لٹریچر بھی میری فہم سے بالاتر ہے اور جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، ان لوگوں کی سمجھ سے بھی اونچا ہے جو اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند مضمونوں میں اس ادب کو جس کے کئی نام ہیں اور زیادہ نام دینے کے لئے فحش نگاری اور مزدور پرستی سے، منسوب کیا گیا ہے۔ میں چیزوں کے نام رکھنے کو برا نہیں سمجھتا۔ میرا اپنا نام اگر نہ ہوتا تو وہ گالیاں کیسے دی جاتیں جو اب تک میں ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں اپنے نقادوں سے وصول کر چکا ہوں۔۔۔ نام ہو تو گالیاں اور شاباشیاں دینے اور لینے میں بہت سہولت پیدا ہو جاتی ہے، لیکن اگر ایک ہی چیز کے بہت سے نام ہوں تو الجھاؤ پیدا ہونا ضروری ہے۔\n\nسب سے بڑا الجھاؤ اس ترقی پسند ادب کے بارے میں پیدا ہوتا ہے، حالانکہ پیدا نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ ادب یا تو ادب ہے ورنہ ادب نہیں ہے۔ آدمی یا تو آدمی ہے ورنہ آدمی نہیں ہے، گدھا ہے۔ مکان ہے، میز ہے، یا اور کوئی چیز ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سعادت حسن منٹو ترقی پسند انسان ہے۔ یہ کیا بے ہودگی ہے! سعادت حسن منٹو انسان ہے اور ہر انسان کو ترقی پسند ہونا چاہیئے۔ ترقی پسند کہہ کر لوگ میری صفت بیان نہیں کرتے بلکہ اپنی برائی کا ثبوت دیتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود ترقی پسند نہیں، یعنی وہ ترقی نہیں چاہتے۔ میں زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کا خواہش مند رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ سب ترقی کریں۔ آج آپ طالب علم ہیں، ترقی کرتے کرتے آپ بھی اپنے آئیڈیل تک پہنچ جائیں۔\n\nہر آدمی ترقی پسند ہے۔ وہ لوگ جنہیں تخریبی یا رجعت پسند کہا جاتا ہے، خود کو ترقی پسند ہی سمجھتے ہیں اور پھر زمانے میں قریب قریب ہر آدمی گزری ہوئی نسل کے مقابلے میں اپنے کو زیادہ ذہین، طباع اور ترقی یافتہ انسان ہی سمجھتا ہے۔ یہی حال ادب کا ہے۔ شرر کے ناول اور راشد الخیری کے قصے آج کل کے اکثر مصنفین کو بالکل بے جان معلوم ہوتے ہیں۔ پڑھنے والوں کی بھی یہی کیفیت ہے۔ مارکیٹ میں چلے جائیے۔۔۔ آج سے دس بیس برس پہلے کے لکھنے والوں کی کتابیں اسٹالوں پر بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔ کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو کی کتابیں، ایم اسلم، تیرتھ رام فیروز پوری، سید امتیاز علی تاج اور عابد علی عابد کے مقابلے میں زیادہ پڑھی جاتی ہیں، اس لئے کہ کرشن چندر اور اس کے ہم عصر نوجوانوں نے زندگی کے نئے تجربے بیان کئے۔\n\nآج سے بیس پچیس برس پہلے ملک کی سیاسی اور مجلسی حالت بالکل مختلف تھی۔ اسی طرح آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پچاس ساٹھ برس اور پہلے کیسی ہوگی، اور اگر مغلئی حکومت کا دور دورہ ہوتا تو بہت ممکن ہے میرے گھر میں ایک حرم سرائے ہوتی۔ حرم سرائے نہ ہوتی تو کم از کم ایک بیوی گھر میں ہوتی اور دو تین طوائفیں میری ملازمت میں ہوتیں، مجھے بٹیریں لڑانے کا شوق ہوتا۔ یہ مضمون پڑھنے کے بجائے میں پرنسپل صاحب بالقابہ کی شان میں ایک قصیدہ سناتا جو خوش ہو کر یا تو میرا منہ موتیوں سے بھر دیتے یا جو گیشوری کالج مجھے بخش دیتے تاکہ میں اپنا طویلہ بنا سکوں، مگر جیسا کہ آپ جانتے ہیں، حالت بہت مختلف ہے۔ مجھے یہاں سے پیدل اسٹیشن جانا پڑے گا اور فلمستان میں اپنے آقاؤں کو جواب دینا پڑے گا کہ میں اتنی دیر ڈاکٹر کے پاس کیا کرتا رہا۔۔۔ ان سے جھوٹ بول کر آیا ہوں کہ ڈاکٹر سے ٹیکہ لگوانے جا رہا ہوں۔\n\nہاں، تو میں عرض کر رہا ہوں کہ حالات بہت مختلف ہیں اور یہ اختلاف ہی ادب میں مختلف رنگ پیدا کرتا ہے۔ پہلے فارغ البالی تھی، لوگ آرام پسند اور عیش پرست تھے۔ اس زمانے کے ادب میں آپ کو بہت سی دماغی عیاشیاں نظر آ سکتی ہیں۔ وہ غنودگی بھی آپ محسوس کرسکتے ہیں جو اس زمانہ کے ادیبوں پر طاری تھی۔ اس زمانہ میں شاعر اپنے اصیل مرغ کی جوان مرگی پر زوردار نوحہ لکھتا تھا اور بہت بڑا شاعر تسلیم کیا جاتا تھا۔ آج کا شاعر اپنی جوان مرگی پر زور دار نوحہ لکھتا ہے۔ اس عہد کا قصہ نویس جنوں اور پریوں کی داستانیں لکھ کر نام پیدا کرتا تھا۔ آج کا افسانہ نویس ان مردوں اور عورتوں کی کہانیاں لکھتا ہے جو جنوں اور پریوں سے کہیں زیادہ دلچسپ ہیں۔ اس دور کا ادیب مطمئن انسان تھا۔ آج کا ادیب ایک غیر مطمئن انسان ہے۔ اپنے ماحول، اپنے نظام، اپنی معاشرت، اپنے ادب، حتیٰ کہ اپنے آپ سے بھی۔\n\nاس کی اس بے اطمینانی کو لوگوں نے غلط نام دے رکھے ہیں۔ کوئی اسے ترقی پسند کہتا ہے، کوئی فحش نگار اور کوئی مزدور پرست۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان ادیبوں کے اعصاب پر عورت سوار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہبوط آدم سے لے کر اب تک ہر مرد کے اعصاب پر عورت سوار رہی ہے اور کیوں نہ رہے، مرد کے اعصاب پر کیا ہاتھی گھوڑوں کو سوار ہونا چاہیئے۔ جب کبوتر، کبوتریوں کو دیکھ کر گٹکتے ہیں تو مرد، عورتوں کو دیکھ کر ایک غزل یا افسانہ کیوں نہ لکھیں، عورتیں کبوتریوں سے کہیں زیادہ دلچسپ خوبصورت اور فکر انگیز ہیں۔ کیا میں جھوٹ کہتا ہوں۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے شاعری میں عورت کو ایک خوبصورت لڑکا بنا دیا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس زمانے کے شاعروں نے اس میں کوئی مصلحت دیکھی ہوگی، مگر آج کے شاعر اس مصلحت کے خلاف ہیں۔ وہ عورت کے چہرے پر سبزے یا خط کے آغاز کو بہت ہی مکروہ اور خلاف فطرتِ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی اس کو اس کی اصلی شکل ہی میں دیکھیں۔۔۔ خدا لگتی کہیئے، کیا آپ اپنی محبوب کے گالوں پر داڑھی پسند کریں گے؟\n\nمیں عرض کر رہا ہوں کہ زمانے کی کروٹوں کے ساتھ ادب بھی کروٹیں بدلتا رہتا ہے۔۔۔ آج اس نے جو کروٹ بدلی ہے اس کے خلاف اخباروں میں مضمون لکھنا یا جلسوں میں زہر اگلنا بالکل بیکار ہے۔ وہ لوگ جو ادبِ جدید کا، ترقی پسند ادب کا، فحش ادب کا یا جو کچھ بھی یہ ہے، خاتمہ کر دینا چاہتے ہیں تو اس کا راستہ یہ ہے کہ ان حالات کا خاتمہ کر دیا جائے جو اس ادب کے محرک ہیں۔ محمود آباد کے راجہ صاحب کا، حیدرآباد کے شاعر ماہر القادری صاحب کا یا بمبئی کے دوا فروش حکیم مرزا حیدر بیگ صاحب کا اس لٹریچر کے خلاف ریزولیوشن پاس کرنا بالکل بیکار ہے۔ جب تک عورتوں اور مردوں کے جذبات کے درمیان ایک موٹی دیوار حائل رہے گی، عصمت چغتائی اس کے چونے کو اپنے تیز ناخنوں سے کریدتی رہے گی، جب تک کشمیر کے حسین دیہاتوں میں شہروں کی گندگی پھیلی رہے گی، غریب کرشن چندر ہولے ہولے روتا رہے گا۔ جب تک انسانوں میں اور خاص طور پر سعادت حسن منٹو میں کمزوریاں موجود ہیں، وہ خوردبین سے دیکھ دیکھ کر باہر نکالتا اور دوسروں کو دکھاتا رہے گا۔۔۔\n\nراجہ صاحب محمود آباد اور ان کے ہم خیال کہتے ہیں۔ یہ سراسر بیہودگی ہے۔۔۔ تم جو کچھ لکھتے ہو، خرافات ہے۔ میں کہتا ہوں، بالکل درست ہے۔ اس لئے کہ میں بیہودگیوں اور خرافات ہی کے متعلق لکھتا ہوں۔ راجہ صاحب محمود آباد ایک کانفرنس کے صدر بن جائیں یا حکیم حیدر بیگ صاحب کھانسی دور کرنے کا مجرب شربت ایجاد کریں، مجھے ان کی صدارت اور ان کے شربت سے کوئی دلچسپی نہیں، البتہ جب میں ٹرین میں بیٹھا اپنا خریدا ہوا قیمتی پن نکالتا ہوں، صرف اس غرض سے کہ لوگ دیکھیں اور مرعوب ہوں تو مجھے اپنا سفلہ پن بہت دلچسپ معلوم ہوتا ہے۔\n\nمیرے پڑوس میں اگر کوئی عورت ہر روز خاوند سے مار کھاتی ہے اور پھر اس کے جوتے صاف کرتی ہے تو میرے دل میں اس کے لئے ذرہ برابر ہمدردی پیدا نہیں ہوتی، لیکن جب میرے پڑوس میں کوئی عورت اپنے خاوند سے لڑ کر اور خودکشی کی دھمکی دے کر سینما دیکھنے چلی جاتی ہے اور میں خاوند کو دو گھنٹے سخت پریشانی کی حالت میں دیکھتا ہوں تو مجھے دونوں سے ایک عجیب و غریب قسم کی ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔ کسی لڑکے کو لڑکی سے عشق ہو جائے تو میں اسے زکام کے برابر اہمیت نہیں دیتا، مگر وہ لڑکا میری توجہ کو اپنی طر ف ضرور کھینچے گا جو ظاہر کرے کہ اس پر سیکڑوں لڑکیاں جان دیتی ہیں، لیکن درحقیقت وہ محبت کا اتنا ہی بھوکا ہے جتنا بنگال کا فاقہ زدہ باشندہ۔۔۔ اس بظاہر کامیاب عاشق کی رنگین باتوں میں جو ٹریجڈی سسکیاں بھرتی ہوگی، اس کو میں اپنے دل کے کانوں سے سنوں گا اور دوسروں کو سناؤں گا۔\n\nچکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے اور رات کو اطمینان سے سو جاتی ہے، میرے افسانوں کی ہیروئن نہیں ہو سکتی۔ میری ہیروئن چکلے کی ایک ٹکھیائی رنڈی ہو سکتی ہے جو رات کو جاگتی ہے اور دن کو سوتے میں کبھی کبھی ڈراؤنا خواب دیکھ کر اٹھ بیٹھتی ہے کہ بڑھاپا اس کے دروازے پر دستک دینے آ رہا ہے۔۔۔ اس کے بھاری بھاری پپوٹے جن پر برسوں کی اچٹی ہوئی نیندیں منجمد ہو گئی ہیں، میرے افسانوں کا موضوع بن سکتے ہیں۔ اس کی غلاظت، اس کی بیماریاں، اس کا چڑچڑاپن، اس کی گالیاں یہ سب مجھے بھاتی ہیں۔۔۔ میں ان کے متعلق لکھتا ہوں اور گھریلو عورتوں کی شستہ کلامیوں، ان کی صحت اور ان کی نفاست پسندی کو نظر انداز کر جاتا ہوں۔\n\nاعتراض کیا جاتا ہے کہ نئے لکھنے والوں نے عورت اور مرد کے جنسی تعلقات ہی کو اپنا موضوع بنا لیا ہے۔ میں سب کی طرف سے جواب نہیں دوں گا، اپنے متعلق اتنا کہوں گا کہ یہ موضوع مجھے پسند ہے۔۔۔ کیوں ہے۔۔۔ بس ہے، سمجھ لیجئے کہ مجھ میں (Pervession) ہے، اور اگر آپ عقل مند ہیں، چیزوں کے عواقب و عواطف اچھی طرح جانچ سکتے ہیں تو سمجھ لیں گے کہ یہ بیماری مجھے کیوں لگی ہے۔ زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں، اگر آپ اس سے ناواقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیئے، اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ زمانہ ناقابل برداشت ہے۔۔۔ مجھ میں جو برائیاں ہیں، وہ اس عہد کی برائیاں ہیں۔۔۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں۔ جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، در اصل موجودہ نظام کا نقص ہے۔۔۔\n\nمیں ہنگامہ پسند نہیں۔ میں لوگوں کے خیالات و جذبات میں ہیجان پیدا کرنا نہیں چاہتا۔ میں تہذیب و تمدن اور سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو ہے ہی ننگی۔۔۔ میں اسے کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا، اس لئے کہ یہ میرا کام نہیں درزیوں کا ہے۔۔۔ لوگ مجھے سیاہ قلم کہتے ہیں، میں تختہ سیاہ پر کالی چاک سے نہیں لکھتا، سفید چاک استعمال کرتا ہوں کہ تختہ سیاہ کی سیاہی اور بھی زیادہ نمایاں ہو جائے۔ یہ میرا خاص انداز، میرا خاص طرز ہے جسے فحش نگاری، ترقی پسندی اور خدا معلوم کیا کچھ کہا جاتا ہے۔۔۔ لعنت ہو سعادت حسن منٹو پر، کم بخت کو گالی بھی سلیقے سے نہیں دی جاتی۔\n\nجب میں نے لکھنا شروع کیا تھا تو گھر والے سب بیزار تھے۔ باہر کے لوگوں کو بھی میرے ساتھ دلچسپی پیدا ہو گئی تھی، چنانچہ وہ کہا کرتے تھے، ’’بھئی کوئی نوکری تلاش کرو۔ کب تک بیکار پڑے افسانے لکھتے رہو گے۔۔۔‘‘ آٹھ دس برس پہلے افسانہ نگاری بیکاری کا دوسرا نام تھا، آج اسے ادبِ جدید کہا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن نے کافی ترقی کر لی ہے۔۔۔ وہ وقت بھی آ جائے گا جب اس جدید ادب کا صحیح مطلب واضح ہو جائے گا اور حکیم حیدر بیگ صاحب دہلوی کو اپنے شفاخانے سے اٹھ کر نئے لکھنے والوں کے روگ کی تشخیص نہیں کرنا پڑے گی۔\n\nجب سے جنگ شروع ہوئی ہے، ادب جدید پر ایک نئے زاویے سے حملہ کیا جا رہا ہے۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ جب ساری دنیا جنگ کے شعلوں میں لپٹی ہے، ہر روز ہزاروں انسانوں کا خون مٹی میں مل رہا ہے، فنا بادۂ ہر جام بنی ہے، دوسری اجناس کی طرح انسانوں کے گوشت پوست کی دکانیں بھی کھلی ہیں۔ یہ نئے لکھنے والے کیوں خاموش ہیں۔۔۔ کیا ان کے قلم صرف جنسیات کی روشنائی ہی میں ڈوبتے ہیں؟ دنیا کا نقشہ بدل رہا ہے۔ ہر لحظہ، ہر گھڑی ایک نئے طوفان کا پیغام لا رہی ہے، مگر ان کے دل و دماغ پر ایسا جمود طاری ہے کہ دور ہی نہیں ہوتا۔\n\nمیں پھر دوسروں کی طرف سے جواب نہیں دوں گا۔۔۔ اپنے متعلق عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا کا نقشہ واقعی بدل رہا ہے، لیکن اگر میں نے اس کے متعلق کچھ لکھ دیا تو میرا حلیہ بھی بدل جائے گا۔ ڈرپوک آدمی ہوں، جیل سے بہت ڈر لگتا ہے۔ یہ زندگی جو بسر کر رہا ہوں، جیل سے کم تکلیف دہ نہیں۔ اگر اس جیل کے اندر ایک اور جیل پیدا ہو جائے اور مجھے اس میں ٹھوس دیا جائے تو چٹکیوں میں دم گھٹ جائے۔۔۔ زندگی سے مجھے پیار ہے۔ حرکت کا دلدادہ ہوں، چلتے پھرتے، سینے میں گولی کھا سکتا ہوں لیکن جیل میں کھٹمل کی موت نہیں مرنا چاہتا۔ یہاں اس پلیٹ فارم پر یہ مضمون سناتے سناتے آپ سب سے مار کھا لوں گا اور اف تک نہیں کروں گا، لیکن ہندو مسلم فساد میں اگر کوئی میرا سر پھوڑ دے تو میرے خون کی ہر بوند روتی رہے گی۔ میں آرٹسٹ ہوں اور اوچھے زخم اور بھدے گھاؤ مجھے پسند نہیں۔۔۔ جنگ کے بارے میں کچھ لکھوں اور دل میں پستول دیکھنے اور اس کو چھونے کی حسرت دبائے کسی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں مر جاؤں۔۔۔ ایسی موت سے تو یہی بہتر ہے کہ لکھنا وکھنا چھوڑ کر ڈیری فارم کھول لوں اور پانی ملا دودھ بیچنا شروع کر دوں۔\n\nمیں اس جنگ کے بارے میں کچھ نہیں لکھوں گا۔ گولے اور تار پیڈو ایک طرف رہے، میں نے تو آج تک ہوائی بندوق بھی نہیں چلائی۔۔۔ بچپن کی بات ہے، ہمارے پڑوس میں ایک تھانے دار رہتے تھے۔ ان کے پاس پستول تھا۔ پیٹی اتار کر جب وہ پلنگ پر رکھتے تو سب بچوں سے کہہ دیا جاتا، دیکھو اس کمرے میں مت جانا۔۔۔ وہاں پستول پڑا ہے۔۔۔ کبھی کبھی ہم ڈرتے ڈرتے اس کمرے میں چلے جاتے۔ دور کھڑے رہ کر اس خطرناک آلے کی طرف دیکھتے تو دل دھک دھک کرنے لگتا۔ ایسا محسوس ہوتا کہ پڑے پڑے وہ پستول دغ جائے گا۔ اب بتایئے، میں اور میرے دوست ٹینکوں کے بارے میں کیا لکھیں گے!\n\nمجھے چست وردی پہننے کا شوق نہیں ہے۔ پیتل اور تانبے کے تمغوں اور کپڑے کے رنگین بلوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ ہوٹلوں میں ڈانس کر کے، کلبوں میں شراب پی کر اور ٹیکسیوں میں چونا کتھا لگی لڑکیوں کے ساتھ گھوم کر میں دارالیفرٹ کی مدد کرنا نہیں چاہتا۔ اس سے کہیں زیادہ دلچسپ مشاغل مجھے میسر ہیں۔ مثال کے طور پر یہ مشغلہ کیا برا ہے کہ میں ہر روز بمبئی سنٹرل سے گورے گاؤں اور گورے گاؤں سے بمبئی سنٹرل تک برقی ٹرین میں سیکڑوں وردی پوش فوجیوں کو دیکھتا ہوں جو فتح و نصرت کو اور زیادہ قریب لانے کے لئے شراب کے نشے میں مدہوش یا تو ٹانگیں پسارے سو رہے ہوتے ہیں یا نہایت ہی بدنما عورتوں سے، میری موجودگی سے غافل، نہایت ہی واہیات قسم کا رومانس لڑانے میں مصروف ہوتے ہیں۔\n\nمیں اس جنگ کے بارے میں کچھ نہیں لکھوں گا، لیکن جب میرے ہاتھ میں پستول ہوگا اور دل میں یہ دھڑکا نہیں رہے گا کہ یہ خود بخود چل پڑے گا تو میں اسے لہراتا ہوا باہر نکل جاؤں گا اور اپنے اصلی دشمن کو پہچان کر یا تو ساری گولیاں اس کے سینے میں خالی کر دوں گا۔۔۔ یا خود چھلنی ہوجاؤں گا۔۔۔ اس موت پر جب میرا کوئی نقاد یہ کہے گا کہ پاگل تھا تو میری روح ان لفظوں ہی کو سب سے بڑا تمغہ سمجھ کر اٹھا لے گی اور اپنے سینے پر آویزاں کر لے گی۔‘‘\n\nاس تقریر یا مضمون پر حکومت پنجاب نے زیر دفعہ ۳۰ ڈیفنس آف انڈیا رولز مقدمہ چلایا۔ الزام یہ ہے کہ اس میں حضور ملک معظم کی ’فورسز‘ کے متعلق ایسی غلط باتیں موجود ہیں جن سے ان کو ضعف پہنچ سکتا ہے۔ ’بو‘ پر جو اس کتاب کا پہلا افسانہ ہے صرف فحاشی کا الزام ہے۔\n\nمقدمہ جیساکہ ظاہر ہے لاہور میں چودھری برکت علی ولد چودھری محمد نتھو ساکن لاہور، مالک ادب لطیف، چودھری نذیر احمد ولد چودھری غلام حسین قوم اراعین ساکن لاہور (اڈیٹر) پیرزادہ احمد ندیم قاسمی ساکن لاہور (اڈیٹر) سعادت حسن منٹو ولد غلام حسن منٹو ساکن بمبئی کے خلاف مسٹر بنواری لال کی عدالت میں پیش ہوا۔ مجھے بمبئی سے بہت ضروری کام چھوڑ کر حاضر ہونا پڑا۔ لاہور پہنچا تو خیال تھا کہ مجھے گرفتار کیا جائے گا کیونکہ میرے وارنٹ جاری ہو چکے تھے، مگر سب انسپکٹر صاحب نے جن سے اتفاقیہ مکتبہ اردو میں ملاقات ہو گئی، مجھ سے کہا کہ میں صبح دوسرے ملزمین کے ساتھ عدالت میں حاضر ہو جاؤں۔ گورنمنٹ کالج کے بالکل سامنے گردوغبار میں اٹی ہوئی اینٹوں کی دو منزلہ عمارت ہے۔ جسے ضلع کہتے ہیں۔ شاید جگت کے طور پر۔۔۔ اس عمارت کے ایک کمرے میں ہم سب ملزم پیش ہوئے۔\n\nپہلے میری ضمانت ہوئی۔ اس کے بعد کارروائی شروع ہوئی۔ میں اس سے پہلے اس عدالت میں اپنے افسانے ’کالی شلوار‘ کے مقدمے کے سلسلے میں پیش ہو چکا تھا۔ مجسٹریٹ صاحب چنانچہ میری طرف دیکھتے ہی مسکرا دیے۔ استغاثے کی گواہیاں ہوتی رہیں۔ میں خاموش سنتا رہا، اس لئے کہ سب کی سب لایعنی، بے ہودہ اور منطق و استدلال سے عاری تھیں۔ اسی روز میں نے اپنے وکیل مسٹر ہیرا لال سیبل کی معرفت عدالت سے درخواست کی کہ میری حاضری آئندہ پیشیوں میں معاف کر دی جائے۔ عدالت نے یہ درخواست منظور کر لی۔\n\nاتفاق سے ان دنوں میرے بڑے بھائی الحاج محمد حسن منٹو بار ایٹ لاء جزائر فجی سے لاہور آئے تھے۔ میں نے ان کو اپنا افسانہ ’بو‘ اور مضمون ’ادب جدید‘ پڑھنے کے لئے دیا اور پوچھا کہ انجام کیا ہوگا۔ دونوں چیزیں بغور پڑھنے کے بعد انہوں نے جواب دیا، ’’میرا خیال ہے کہ استغاثے کی گواہیاں سننے کے بعد ہی مجسٹریٹ مقدمہ خارج کر دے گا۔‘‘ لیکن ایسا نہ ہوا۔ میں بمبئی چلا آیا تھا۔ وہاں لاہور میں فردِ جرم عائد ہو گیا اور دونوں چودھریوں اور احمد ندیم قاسمی کو صفائی کے گواہ پیش کرنے میں کافی دوڑ دھوپ کرنی پڑی۔ اسی دوران میں مسٹر بنواری لال تبدیل ہو گئے اور ان کی جگہ چودھری مہدی علی خان متعین ہوئے۔ چونکہ یہ مقدے کی تفصیل سے بخوبی واقف نہیں تھے، اس لئے فیصلہ مرتب کرنے میں کافی دیر ہو گئی۔\n\n۲/مئی ۱۹۴۵ء کو چودھری مہدی علی خان نے بالآخر فیصلہ سنا دیا۔ صرف اتنا کہا کہ سعادت حسن منٹو بری ہے، اس لیئے کہ مسٹر بنواری لال اسے پہلے ہی بری کر چکے تھے۔ میں نے سوچا اگر ایسا ہی تھا تو مجھے بمبئی سے لاہور آنے کی زحمت کیوں دی گئی۔۔۔ احمد ندیم قاسمی بھی بری کر دیے گئے، لیکن دونوں چودھریوں کو ساٹھ روپے فی کس کے حساب سے جرمانہ ہوا۔ عدم ادائیگی کی صورت میں ایک ایک ماہ قید بامشقت۔ مشقت کا نام سنتے ہی چودھریوں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور جرمانہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد چودھری مہدی علی خان کے فیصلے کے خلاف مسٹر ایم۔ آر۔ بھاٹیہ ایڈیشنل جج کی عدالت میں اپیل کی گئی۔ فیصلہ ۲۴/ نومبر ۱۹۴۵ء کو ہوا، جس کا ترجمہ یہ ہے،\n\nزیر نظر مقدمہ دفعہ ۲۹۲ تعزیرات ہند کے تحت ہے جس میں برکت علی اور نذیر احمد کو ساٹھ روپے جرمانہ، اور عدم ادائیگی کی صورت میں ایک ماہ قید بامشقت کی سزا کے خلاف مجھ سے اپیل کی گئی ہے۔ ماتحت عدالت فاضلہ نے اپنے فیصلے میں یہ ریمارک کیا ہے کہ مضمون ’بو‘ کا مصنف سوسائٹی کی نظروں میں سخت ترین سزا کا مستحق تھا اور یہ کہ وہی صحیح آدمی تھا جسے قانونی گرفت میں لینا چاہیئے تھا، مگر پیش رو فاضل جج (مسٹر بنواری لال) نے اسے بری کر دیا۔\n\nموجودہ ملزموں میں سے ایک پبلشر ہے اور دوسرا ایڈیٹر جس نے مضمون چھاپا۔ قابل غور امر یہ ہے کہ ایسے اشخاص ملزمین کی صفائی میں پیش ہوئے جو اردو زبان کے عالم ہونے کی حیثیت میں بہت مشہور ہیں۔ مثال کے طور پر خان بہادر عبد الرحمن چغتائی، مسٹر کے ایل کپور، پروفیسر ڈی اے وی کالج، راجندر سنگھ (بیدی) اور ڈاکٹر آئی ایل لطیف، پروفیسر ایف سی کالج جو بطور گواہان صفائی پیش ہوئے۔ ان سب کی رائے ہے کہ مضمون ’بو‘ میں ایسی کوئی چیز نہیں جو شہوانی حسیات پیدا کرے، بلکہ ان لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ مضمون ترقی پسند ہے اور اردو ادب کے ماڈرن رجحان سے تعلق رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ استغاثہ کے گواہ نمبر چار بشیر، نے بھی دوران جرح میں تسلیم کیا کہ مضمون انسان کے اخلاق پر برا اثر نہیں ڈالتا۔\n\nمیری نظر میں مضمون ایک عشقیہ کہانی ہے۔ ایک لڑکے اور لڑکی کی جس میں ایسی بات کا دلچسپ ذکر ہے جو عموماً ہر روز نوجوان آدمیوں میں نہیں ہوتی۔ ماتحت عدالت فاضلہ نے ہندوستانی نوجوانوں کی تعیش پسند زندگی کا ذکر کرتے ہوئے افسوس کیا ہے اور اس پر ماتم کیا ہے کہ ملک میں ہندوستانیوں کا پرانا کیریکٹر نابود ہو رہا ہے۔ (ماتحت عدالت کے فاضل جج) نے وہ خوبیاں یاد کرائی ہیں جن کے لئے ہم ہندوستانی کبھی مشہور تھے، اور نصیحت کی ہے کہ نئے فیشنوں کو ختم کر دینا چاہیئے۔\n\nمعلوم ہوتا ہے کہ ماتحت عدالت فاضلہ کے خیالات ترقی پسند نہیں ہیں۔ ہمیں زمانے کے ساتھ ساتھ چلنا ہے۔ حسین چیز ایک دائمی مسرت ہے۔ آرٹ جہاں کہیں بھی ملے، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیئے۔۔۔ آرٹ خواہ وہ تصویر کی صورت میں ہو یا مجسمے کی شکل میں، سوسائٹی کے لئے قطعی طور پر ایک پیش کش ہے، چاہے اس کا موضوع غیر معقول ہی کیوں نہ ہو۔ یہی کلیہ تحریروں پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ جب ملک کے مشہور و معروف آرٹسٹوں اور ادیبوں نے ملزمین کے حق میں کہا ہے۔ سارا فیصلہ یہیں ہو جاتا ہے۔ زیربحث مضمون ایسا مضمون نہیں کہ جس پر کسی قانونی عدالت میں نکتہ چینی کی جائے۔ میں اپیل کرنے والوں کو بری کرتا ہوں۔\n\nمجھے چونکہ ’شہادت‘ کا رتبہ حاصل نہیں کرنا ہے، اس لئے میں ان تکلیفوں کا ذکر نہیں کرنا چاہتا جو مجھے لاہور آنے جانے میں اٹھانی پڑیں۔ ایک لعنت سر سے دور ہو گئی، یہی کافی تھی۔ مجھے ان اخباروں کے متعلق بھی کچھ نہیں کہنا ہے جن میں ہفتوں بلکہ مہینوں حکومت اور رعایا کو اخلاقیات کے سبق دیے جاتے رہے۔ افسوس صرف اتنا ہے کہ یہ پرچے ایسے لوگوں کی ملکیت ہیں، جو عضو خاص کی لاغری اور کجی دور کرنے کے اشتہار، خدا اور رسول کی قسمیں کھا کھا کر شائع کرتے ہیں، لیکن اپنے ایڈیٹروں کی ٹیڑھی بنگی ٹانگوں اور ان کی جھکی ہوئی کمروں کا مطلق خیال نہیں کرتے۔۔۔ مجھے ان قلم سے مزدوری کرنے والوں سے دلی ہمدردی ہے۔ ان میں سے اکثر شریف آدمی ہیں جنہیں ادب سے دور کا بھی واسطہ نہیں، لیکن چونکہ پرچہ چھپنا ہی چاہیئے اور اس میں شروع سے لے کر آخر تک کچھ لکھا بھی ہونا چاہیئے، اس لئے یہ مجبور انسان، سیاست، سائنس اور ادب پر جو بھی ان کے ناتربیت یافتہ دماغوں میں آئے، کاغذ پر گھسیٹ دیتے ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ صحافت جیسے معزز پیشے پر ایسے لوگوں کا اجارہ ہے جن میں سے اکثر طلاء فروش ہیں۔\n\nپنجاب کی پریس برانچ کے متعلق میں ’ایں دفتر بے معنی‘ نہیں کہہ سکتا، اس لئے کہ یہ دفتر اپنے معنی وقتاً فوقتاً ضرورت کے مطابق نکالتا رہتا ہے۔ چند برسوں سے اس کے معنی یہ ہیں کہ علامہ اقبال مرحوم کے بعد خدائے عزوجل نے ادب کے تمام دروازوں میں تالے ڈال کر ساری چابیاں ایک نیک بندے کے حوالے کر دی ہیں۔۔۔ کاش علامہ مرحوم زندہ ہوتے! پولیس کی عدالتیں تو خیر پولیس کی عدالتیں ہیں۔۔۔ اندھی روح اور گنجے فرشتے! اس اندھی روح، گنجے فرشتوں اور پنجاب کے طلاء فروش اخبار والوں اور رسالوں کے مالکوں اور ان کے مریض ایڈیٹروں کی بدولت ایک بار پھر مجھے لاہور کی عدالت میں حاضر ہونا پڑا جسے جگت کے طور پر ضلع کہتے ہیں۔\n\nاب کی مقدمہ ساقی بک ڈپو دہلی کی شائع کردہ کتاب ’دھواں‘ پر تھا۔ الزام وہی فحاشی کا تھا۔ دو افسانے زیر عتاب تھے۔ کتاب کا پہلا افسانہ ’دھواں‘ اور ’کالی شلوار۔‘ کالی شلوار پر عرصہ ہوا، قانونی پوسٹ مارٹم ہو چکا تھا اور سیشن کورٹ میں یہ فحاشی سے مبرا قرار دی جا چکی تھی۔ معلوم نہیں ایک بار پھر اس بے ضرر افسانے پر تعزیرات ہند کی دفعہ ۲۹۵ کیوں آزمائی گئی۔ اس دفعہ معاملہ کچھ زیادہ سنگین معلوم ہوا کیوں کہ میرے اور مسٹر شاہد احمد دہلوی (مالک ساقی بک ڈپو) کے علاوہ کاتب بھی گرفتار کر لیا گیا جس نے ’دھواں‘ لکھنے کے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ وہ کتب فروش بھی گرفتار کئے گئے جن کے پاس یہ ملعون کتاب موجود تھی۔ پریس جس میں چھپی تھی، اس کا مالک بھی دھر لیا گیا۔\n\nمیں سلیقے کا بہت قائل ہوں۔ ناگوار سے ناگوار چیز بھی اگر سلیقے کے ساتھ کی جائے تو مجھے ناگوار معلوم نہیں ہوتی۔ لاہور سی آئی ڈی کے ایک سب انسپکٹر نے جس کا نام شاید رام سروپ تھا، مجھے ۵/ دسمبر۱۹۴۴ء کو گورے گاؤں سے ’ملاڈ‘ پولیس اسٹیشن بلوایا اور بغیر وارنٹ دکھائے گرفتار کر لیا۔ میں نے وارنٹ کے متعلق استفسار کیا تو رام سروپ نے کہا، ’’پرائیویٹ کاغذات میں تمہیں نہیں دکھا سکتا۔‘‘ یہ حرکت مجھے بری معلوم ہوئی، چنانچہ میں نے شام کو گھر آ کر اپنے سولسٹر کو ٹیلی فون کیا جس نے مجھے بتایا کہ میری گرفتاری غیر قانونی ہے، اس لئے حسب الحکم لاہور کی عدالت میں حاضر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں نے ایسا ہی کیا لیکن ۸/جنوری ۱۹۴۵ء کو مجھے میرے مکان پر رات کے دس بجے قانونی طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ عصمت چغتائی (مسز شاہد لطیف) کے ساتھ بھی قریب قریب یہی سلوک ہوا۔\n\n۴/فروری ۱۹۴۵ء کے ’’قومی جنگ‘‘ (بمبئی) میں، یہ ادب اور تہذیب پر حملہ ہے، کے عنوان سے ایک مضمون علی سردار جعفری کے قلم سے شائع ہوا جس کی ابتدائی سطور یہ ہیں، ’’اردو کے بہترین افسانہ نگاروں میں سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی کے نام بہت مشہور ہیں۔ حال ہی میں منٹو کے افسانوں کا ایک نیامجموعہ ’دھواں‘ اور عصمت کے افسانوں میں ایک نیا مجموعہ ’چوٹیں‘ دہلی سے شائع ہوا ہے۔ ان مجموعوں میں دونوں افسانہ نگاروں کی بعض بہت اچھی کہانیاں شامل ہیں، لیکن معلوم ہوا ہے کہ حکومت پنجاب نے عصمت اور منٹو کے بعض افسانوں کو عریاں قرار دے دیا ہے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ عتاب کون کون سے افسانے پر نازل ہوا ہے، لیکن دونوں کتابیں زد میں ہیں۔ مقدمے کی سماعت ابھی تک شروع نہیں ہوئی ہے۔ اسپیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں ۲/فروری کو عصمت اور منٹو کی پیشی ہونے والی ہے‘‘\n\nلیکن عدالتی کارروائی سے پہلے ہی ان دونوں پر بہت کچھ گزر گئی۔ دسمبر ۴۴ء کو بمبئی کی پولیس نے عصمت چغتائی کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کر لیا اور ایک ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کر دیا۔ ۶ دسمبر کو عصمت کو دادر پولیس کورٹ میں حاضری دینی پڑی اور انہیں حکم ملا کہ ۶ جنوری ۴۵ء کو دوبارہ حاضر ہوں۔ جنوری میں پنجاب سے عصمت کا وارنٹ آ گیا اور انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ اس مرتبہ دو ہزار روپے کی ضمانت دے کر گلو خاصی ہوئی اور حکم ملا کہ عصمت ۲ فروری کو لاہور کے اسپیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں جا کر حاضری دیں۔ تقریباً یہی حشر سعادت حسن منٹو کا ہوا۔ سعادت حسن منٹو کا حشر کچھ زیادہ ہی قابل رحم تھا۔۔۔ مجھے ان دنوں اعصابی درد کی شکایت تھی۔ گھر میں رات کے دس بجے جب مجھے گرفتار کیا گیا تو میں مارے درد کے کراہ رہا تھا۔ سینے پر گرم بوتل تھی، لیکن حکم حاکم مرگ مفاجات لاہور حاضر عدالت ہونا ہی پڑا۔\n\nاس دفعہ مقدمہ رائے صاحب لالہ سنت رام اسپیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوا۔۔۔ ایک لطیفہ سن لیجئے۔ عدالت میں داخل ہونے سے پہلے ایک ادھیڑ عمر کے شریف سے صاحب آئے اور مجھ سے ہاتھ ملا کر کہا، ’’آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی!‘‘ میں نے پوچھا، ’’آپ کا اسم گرامی؟‘‘ ادھیڑ عمر کے شریف صاحب نے جواب دیا، ’’نانک چند ناز۔‘‘ میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کہا، ’’معاف کیجئے! مجھے آپ سے مل کر خوشی نہیں ہوئی۔‘‘ لالہ نانک چند ناز استغاثہ کے معزز ترین گواہ تھے جو میرے اور عصمت چغتائی، دونوں کے خلاف بھگتے۔۔۔ آپ واقعی بھگتے۔۔۔ ایک اور لطیفہ سن لیجئے۔ لالہ جی نے عصمت کے افسانے ’لحاف‘ کے متعلق کہا کہ اس میں گندے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ ہمارے وکیل مسٹر ہیرا لال نے پوچھا، ’’مثلاً؟‘‘\n\nلالہ جی نے ’چوٹیں‘ اٹھالی۔ کافی دیر ’لحاف‘ کی ورق گردانی کے بعد ایک لفظ نکالا، مثلاً ’’عاشق!‘‘ ہم سب مسکرا دیے۔ مسٹر ہیرا لال نے لالہ جی سے کہا، ’’یہ لفظ گندا ہے تو آپ اس کی جگہ کوئی دوسرا تجویز کر دیجئے۔‘‘ لالہ جی سوچنے لگے۔ مسٹر ہیرا لال نے پوچھا، ’’یار، کیسا رہے گا؟‘‘ اس دفعہ رائے صاحب لالہ سنت رام بھی مسکرا دیے۔\n\nجب تک استغاثے کے گواہ پیش ہوتے رہے، ایسی مسکراہٹیں جاری رہیں، لیکن عدالت برخاست ہونے سے پہلے جب ہمارے وکیل نے درخواست پیش کی کہ مجھے اور عصمت کو آئندہ پیشیوں میں حاضر ہونے سے معاف کر دیا جائے، اور جب مجسٹریٹ صاحب نے اسے مسترد کر دیا تو ہم دونوں کو یہ تکلیف دہ احساس ہوا کہ ہم عدالت میں پیش تھے اور ہم پر فحاشی کاسنگین جرم عائد تھا۔۔۔ مجھے اس کا بھی شدید احساس ہوا کہ سخت سردی ہے اور میں اعصابی درد میں مبتلا ہوں۔ عدالت سے باہر مسٹر ہیرا لال سے مشورہ کیا گیا۔ ایک ہی صورت تھی کہ ہائی کورٹ میں اپیل کی جائے، جو فوراً ہی داخل کر دی گئی۔ دوسرے روز میں اور عصمت آنریبل جسٹس اچھر ورام کی عدالت میں پیش ہوئے۔ آپ نے ہم دونوں کو غور سے دیکھا اور کہا، ’’مجھے آپ دونوں کے افسانے بہت پسند ہیں۔‘‘ ہمیں بہت خوشی ہوئی لیکن انہوں نے اپیل کے کاغذات آنریبل جسٹس دین محمد کی عدالت میں منتقل کر دیے۔\n\nاب پھر دوسرے روزز حاضر ہونا تھا۔ شام کو میری طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی۔ اتفاق سے میرا بھانجا میجر عبد الوحید ان دنوں لاہور کے ملٹری ہسپتال میں متعین تھا۔ اس نے میرا ایکسرے لیا اور بتایا مجھے ہائی ڈرونیو مورتھوریکس ہے۔ یعنی میرے داہنے پھیپھڑے کے ایک حصے میں پانی اور ہوا داخل ہوئی ہے۔ میجر وحید کے کہنے پر میں نے دوسرے روز صبح سویرے کرنل امیر چند سے بھی تشخیص کرائی۔ انہوں نے وہی مرض بتایا اور رائے دی کہ مجھے آرام کرنا چا ہیئے۔ میں نے ان سے سر ٹیفکیٹ لے لیا کہ شاید کام آ جائے، داشتہ آید بکار۔\n\nدوسرے روز آنریبل جسٹس دین محمد کی عدالت میں پیش ہوا۔ عصمت غیر حاضر تھی۔ جسٹس دین محمد صاحب نے قہر آلود نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور بڑبڑائے، ’’ان لوگوں کا وجود ننگ ادب ہے۔‘‘ مجھے ایسا لگا جیسے میری قسمت پر مہر لگا دی گئی ہے۔ انہوں نے اپیل منظور کرنے سے انکار کر دیا، لیکن جب میں نے اپنے وکیل سے کرنل امیر چند کا سرٹیفیکیٹ پیش کرنے کے لئے کہا تو اپیل ایک قہر آلود دستخط نے منظور کر دی۔۔۔ میں بمبئی واپس چلا آیا۔\n\nبمبئی میں بہت دیر تک ڈاکٹروں میں یہ بحث ہوتی رہی کہ میرا مرض کیا ہے۔ میجر وحید اور کرنل امیر چند کی تشخیص یہ کہتی تھی کہ ’’مجھے ہائی ڈرونیو موتھوریکس‘‘ ہے لیکن ڈاکٹر لیملا اور ڈاکٹر ایف ڈبلیو برجر (یا برگر) کی ایکسرے دیکھنے کے بعد یہ رائے تھی کہ صرف ’’نیوموتھوریکس‘‘ ہے۔ آخر یہ فیصلہ ہوا کہ ڈاکٹر ایچ پی مودی سے جوریڈیالوجی کے ماہر ہیں، رجوع کیا جائے، چنانچہ انہوں نے میرا پرانا ایکسرے دیکھنے اور نیا امتحان لینے کے بعد ڈاکٹر ایف ڈبلیو برجر (یا برگر) کو خط لکھا، ’’مریض اس وقت نارمل حالت میں ہے۔ ’نیو موتھوریکس‘ اور ’سیال مادہ‘ بالکل غائب ہے۔ یہ کیس جیساکہ ظاہر ہے سپانٹینس ’نیو موتھوریکس‘ کی قبیل سے تھا۔ ایسے چند کیس بعض اوقات ’کوخ‘ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔‘‘\n\nاس ’’کوخ‘‘ کا مطلب مجھے لاہور میں میجر وحید نے بتایا جب میں اس مقدمے کا فیصلہ سننے کے لئے گیا۔ مطلب یہ تھا کہ ایسے چند کیس بعض اوقات دق میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔۔۔ لیکن دق اور زچ میں اس وقت ہوا جب میں نے صفائی کے گواہوں کی فہرست تیار کی، اور رائے صاحب لالہ سنت رام نے ان کی گواہی بذریعہ کمیشن لینے سے انکار کر دیا۔ کوئی گواہ حیدر آباد میں تھا، کوئی لکھنؤ میں اور کوئی بمبئی میں، لیکن رائے صاحب مصر تھے کہ سب کے سب لاہور میں حاضر ہوں۔۔۔ مکرمی نیاز فتح پوری صاحب کو جب لکھنؤ میں اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے لکھا، ’’یقیناً کمیشن کے ذریعے شہادت قلم بند ہو سکتی تھی اور اس میں بڑی آسانی تھی۔ تعجب ہے کہ مجسٹریٹ نے اسے منظور نہیں کیا اور آپ کے مشیر قانون نے کیوں اس پر زور نہ دیا۔‘‘\n\nمجھے معلوم نہیں مسٹر ہیرا لال نے اس پر زور دیا تھا یا نہیں۔ بہرحال، رائے صاحب لالہ سنت رام کا فیصلہ اٹل تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قاضی عبد الغفار صاحب ایڈیٹر پیام حیدر آباد، لیفٹیننٹ کرنل قریشی (آئی ایم ایس بمبئی)، نیاز فتح پوری صاحب ایڈیٹر نگار لکھنؤ، ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم صاحب ایم اے ایل، ایل بی پی ایچ ڈی (اس وقت پرنسپل) امر سنگھ کالج، سری نگر، مسٹر ہریندر ناتھ چٹو پادھیائے بمبئی جیسے اہل الرائے صاحبان کے خیالات سے نہ صرف میں بلکہ عدالت بھی محروم رہی۔ میں نے ان کو اور دوسرے حضرات کو گواہی کی دعوت ان الفاظ میں دی تھی،\n\n(بمبئی مورخہ ۳۰ ستمبر)\n\nمکرمی!\nتسلیمات۔ لاہور کی عدالت میں میرے ایک افسانے ’دھواں‘ پر فحاشی کے الزام میں مقدمہ چل رہا ہے۔ میں نے آپ کو گواہ صفائی کے طور پر بلایا ہے۔ متذکرہ صدر افسانے کے بارے میں آپ کی جو رائے بھی ہو، مجھے منظور ہوگی، اس لئے فحاشی اور غیر فحاشی کے اہم موضوع پر آپ جیسے اہل الرائے ادیب اور صاحب قلم کے خیالات نہ صرف میرے لئے بلکہ ملکی ادب کے لئے مفید ہوں گے۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری یہ دعوت قبول فرمائیں گے۔ شکریہ!\n\nنیاز کیش\nسعادت حسن منٹو\n\nسب نے میری دعوت قبول کی جس کے لئے میں شکرگزار ہوں۔ ڈاکٹر مولوی عبدالحق صاحب سیکرٹری ’انجمن ترقی اردو‘ ہند نے میرے عریضے کا جواب نہ دیا۔ بہت ممکن ہے ان تک پہنچا ہی نہ ہو۔۔۔ سردار دیوان سنگھ مفتون ’ایڈیٹر ریاست ‘ کی طرف سے جب مجھے کوئی رسید نہ آئی تو مجھے بہت غصہ آیا۔۔۔ کیوں کہ مجھے ان کی دوستی پر ناز ہے۔۔۔ میں نے پھر ان کو لکھا، جواب آیا، ’’آپ کا دوسرا خط ملا۔ میرا داخلہ پنجاب میں بند ہے، اس لئے شہادت کیسے دوں۔ یہی میں نے سمن پر لکھ دیا تھا۔ اگر مجسٹریٹ، پنجاب گورنمنٹ سے اجازت لے لے تو میں جانے کے لئے تیار ہوں۔‘‘\n\nایک اور لطیفہ سنیئے! بمبئی سے میں نے لاہور میں پروفیسر موہن سنگھ دیوانہ کو گواہی دینے کے لئے لکھا۔ سمن ان کے پاس پہلے پہنچ چکے تھے۔ میرا خط انہیں دیر کے بعد ملا، چنانچہ انہوں نے ایک کارڈ لکھا،\n\nحضرت سلامت! آپ کے وکیل سے ایک مرتبہ پہلے ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے نہ مقدمے کی وجہ بیان کی نہ یہ کہا کہ کس افسانے پر دھرے گئے ہو۔ ۴ کو پیشی تھی۔ دس بجے حاضر عدالت ہوا۔ سوا بارہ بجے تک دھوپ میں سڑتا رہا۔ ٹانگوں کو مسلتا اور بلغم نکالتا رہا۔۔۔ نہ جائے نشستن نہ اذن رفتن۔ سوا بارہ بجے بلوایا گیا۔ ’’کیوں جی، وہ کہانیاں تم نے پڑھی ہیں۔‘‘\n\n’’حضور نہیں۔‘‘\n\n’’برخاست!‘‘\n\nلنگڑاتا لنگڑاتا گھر پہنچا۔ دیکھا کہ ایک بڑے پیٹ والا لفافہ لیٹر بکس سے جھانک رہا ہے جس میں حضور کے ارشادات تھے۔۔۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں بے قصور ہوں۔ آپ خفا نہ ہوں گے کہ ایک ہم پیشہ ’قلم مار‘ نے یہ کیا حرکت کی۔ میں خفا ہوں کہ وکیل سست، مؤکل سست تو۔۔۔ منٹو کو سستی کی بیماری ہو، یقین نہیں آتا۔\n\nاور مجھے یہ یقین نہیں آتا کہ پروفیسر موہن سنگھ دیوانہ نے میری کہانیاں پڑھی ہی نہیں تھیں۔۔۔ غلطی مجھ سے بھی ہوئی کہ میں نے ’بڑے پیٹ والے لفافے‘ عین اس وقت بھیجے جبکہ سمن جاری ہو چکے تھے۔ ان لفافوں میں، میں نے اپنے اس تحریری بیان کی نقل بھیجی تھی جو میں نے عدالت میں دیا تھا۔ چونکہ اس بیان کا میری تحریروں سے گہرا تعلق ہے، اس لئے میں اسے ذیل میں نقل کرتا ہوں۔\n\n’’میں ساقی بک ڈپو، دہلی کی مطبوعہ کتاب بعنوان ’دھواں‘ کا مصنف ہوں۔ یہ کتاب میں نے ۱۹۴۱ء میں جب کہ میں آل انڈیا ریڈیو، دہلی میں ملازم تھا، ساقی بک ڈپو کے مالک میاں شاہد احمد صاحب کو غالباً تین یا ساڑھے تین سو روپے میں فروخت کی تھی۔ اس کے جملہ حقوق اشاعت اب ساقی بک ڈپو کے پاس ہیں۔ اس کتاب کے جو نسخے میں نے عدالت میں دیکھے ہیں، ان کے ملاحظے سے پتا چلتا ہے کہ یہ کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے۔ چوبیس افسانوں کے اس مجموعے میں جو انسانی زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق ہیں، دو افسانے بعنوان ’دھواں‘ اور ’کالی شلوار‘ استغاثے کے نزدیک عریاں اور فحش ہیں۔۔۔ مجھے اس سے اختلاف ہے کیوں کہ یہ دونوں کہانیاں عریاں اور فحش نہیں ہیں۔\n\nکسی ادب کے متعلق ایک روزانہ اخبار کے ایڈیٹر، ایک اشتہار فراہم کرنے والے اور ایک سرکاری مترجم کا فیصلہ صائب نہیں ہو سکتا۔ بہت ممکن ہے کہ یہ تینوں کسی خاص اثر، کسی خاص غرض کے تحت اپنی رائے قائم کر رہے ہوں، اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ تینوں حضرات ایسی رائے دینے کے اہل ہی نہ ہوں کیوں کہ کسی بڑے شاعر، کسی بڑے افسانہ نگار کے افسانوں پر صرف وہی آدمی تنقید کر سکتا ہے جو تنقید نگاری کے فن کے تمام عواقب و عواطف سے آگاہ ہو۔ استغاثے نے میرے ان دو افسانوں پر کوئی بصیرت افروز تنقید نہیں کی۔ صرف اتنا کہہ دینے سے کہ یہ دونوں افسانے فحش ہیں، اس آدمی کی، جو روشنی کا خواہش مند ہے، جو اپنے عیوب و محاسن جاننا چاہتا ہے اور ان کی اصلاح کرنا چاہتا ہے، ہر گز ہر گز تسکین نہیں ہوتی۔۔۔ میں اگر جواب میں صرف اتنا کہہ کر خاموش ہو جاؤں کہ یہ دونوں افسانے فحش نہیں ہیں تو ظاہر ہے کہ میں اندھیرے میں اور بھی اضافہ کر دوں گا۔۔۔ مگر میں ایسا نہیں کروں گا اور جہاں تک مجھ سے ہو سکے گا، اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔\n\nزبان میں بہت کم لفظ فحش ہوتے ہیں۔ طریق استعمال ہی ایک ایسی چیزہے جو پاکیزہ سے پاکیزہ الفاظ کو بھی فحش بنا دیتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ کوئی بھی چیز فحش نہیں، لیکن گھر کی کرسی اور ہانڈی بھی فحش ہو سکتی ہے اگر ان کو فحش طریقے پر پیش کیا جائے۔۔۔ چیزیں فحش بنائی جاتی ہیں، کسی خاص غرض کے، ماتحت۔ عورت اور مرد کا رشتہ فحش نہیں، اس کا ذکر بھی فحش نہیں، لیکن جب اس رشتے کو چوراسی آسنوں یا جوڑ دار خفیہ تصویروں میں تبدیل کر دیا جائے اور لوگوں کو ترغیب دی جائے کہ وہ تخلیے میں اس رشتے کو غلط زاویے سے دیکھیں تو میں اس فعل کو صرف فحش ہی نہیں بلکہ نہایت گھناؤنا، مکروہ اور غیر صحت مند کہوں گا۔\n\nفحش اور غیر فحش میں تمیز کرنے کے لئے شاید یہ مثال کام دے سکے، ایک آرٹ گیلری میں نمائش کے لئے ننگی عورتوں کی بہت سی تصویریں پیش ہوئیں۔ ان میں سے کسی نے بھی جیسا کہ ظاہر ہے دیکھنے والوں کا اخلاق خراب نہ کیا اور نہ ان کے شہوانی جذبات کو ابھارا۔ البتہ ایک تصویر جس میں عورت کا سارا بدن کپڑوں میں مستور تھا اور ایک خاص حصہ اس ترکیب سے نیم عریاں چھوڑ دیا گیا کہ دیکھنے والوں کے جذبات میں گدگدی ہوتی تھی، فحش قرار دی گئی۔ کیوں۔۔۔ اس لئے کہ آرٹسٹ کی نیت میں فرق تھا اور اس نے جان بوجھ کر لباس کو کچھ اس طرح اوپر اٹھا دیا تھا کہ دیکھنے والوں کے دل و دماغ میں ہلچل سی مچ جائے اور وہ اپنے تصور سے مدد لے کر اس نیم عریاں حصے کو عریاں دیکھنے کی کوشش کریں۔\n\nتحریر و تقریر میں، شعرو شاعری میں، سنگ سازی و صنم تراشی میں فحاشی تلاش کرنے کے لئے سب سے پہلے اس کی ترغیب ٹٹولنی چاہیئے، اگر یہ ترغیب موجود ہے، اگر اس کی نیت کا ایک شائبہ بھی نظر آ رہا ہے تو وہ تحریر، وہ تقریر، وہ شعر، وہ بت، قطعی طور پر فحش ہے۔ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ یہ ترغیب ’دھواں‘ میں موجود ہے یا نہیں۔۔۔ آیئے! ہم افسانے کا تجزیہ کرتے ہیں،\n\nمسعود ایک کم سن لڑکا ہے غالباً دس بارہ برس کا۔۔۔ اس کے جسم میں جنسی بیداری کی پہلی لہر کس طرح پیدا ہوتی ہے۔ یہ اس افسانے کا موضوع ہے۔ ایک خاص فضا اور چند خاص چیزوں کا اثر بیان کیا گیا ہے، جو مسعود کے جسم میں دھندلے دھندلے خیالات پیدا کرتا ہے۔ ایسے خیالات جن کا رجحان جنسی بیداری کی طرف ہے۔ یہ بیداری وہ سمجھ نہیں سکتا لیکن نیم شعوری طور پر محسوس ضرور کرتا ہے۔ بے کھال کا بکرا جس میں سے دھواں اٹھتا ہے۔ سردیوں کا ایک دن جب کہ بادل گھرے ہوتے ہیں اور آدمی سردی کے باوجود ایک میٹھی میٹھی حرارت محسوس کرتا ہے۔ ہانڈی جس میں سے بھاپ اٹھ رہی ہے۔ بہن، جس کی ٹانگیں وہ دباتا ہے۔۔۔ یہ سب عناصر مل کر مسعود کے بدن میں جنسی بیداری پیدا کرتے ہیں۔ جوانی کی اس پہلی انگڑائی کو وہ غریب سمجھ نہیں سکتا اور انجام کار اپنی ہاکی سٹک توڑنے کی ناکام سعی کرتا کرتا تھک جاتا ہے۔۔۔ یہ تھکاوٹ اس بے نام سی چنگاری کو ’اس‘ کچھ کرنے کی تحریک کو دبا دیتی ہے۔\n\n’دھواں‘ میں شروع سے لے کر آخر تک ایک کیفیت، ایک جذبے، ایک تحریک کا نہایت ہی ہموار نفسیاتی بیان ہے! اصل موضوع سے ہٹ کر اس میں دو راز کار باتیں نہیں کی گئیں۔ اس میں ہمیں کہیں بھی ایسی ترغیب نظر نہیں آتی جو قارئین کو شہوانی لذتوں کے دائرے میں لے جائے، اس لیئے کہ افسانے کا موضوع ’شہوت‘ نہیں ہے۔ استغاثہ اگر ایسا سمجھتا ہے تو یہ اس کی کم نظری ہے۔۔۔ خشخاش کے دانے افیم کی گولی بننے تک کافی مرحلے طے کرتے ہیں۔\n\nمیں نے اس کہانی میں کوئی سبق نہیں دیا۔ اخلاقیات پر یہ کوئی لیکچر بھی نہیں، کیوں کہ میں خود کو نام نہاد ناصح یا معلم اخلاق نہیں سمجھتا۔ البتہ اتنا ضرور سمجھتا ہوں کہ اس لڑکے کو مضطرب کرنے والی چیزیں خارجی تھیں۔ انسان اپنے اندر کوئی برائی لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ خوبیاں اور برائیاں اس کے دل و دماغ میں باہر سے داخل ہوتی ہیں۔ بعض ان کی پرورش کرتے ہیں، بعض نہیں کرتے۔ میرے نزدیک قصائیوں کی دکانیں فحش ہیں کیونکہ ان میں ننگے گوشت کی بہت بدنما اور کھلے طور پر نمائش کی جاتی ہے۔۔۔ میرے نزدیک وہ باپ اپنی اولاد کو جنسی بیداری کا موقع دیتے ہیں جو دن کو بند کمروں میں کئی کئی گھنٹے اپنی بیوی سے سر دبوانے کا بہانہ لگا کر اس سے ہم بستری کرتے ہیں۔\n\nہندوستان میں بچوں کے اندر بہت کم سنی ہی میں جنسی بیداری پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ کسی حد تک آپ کو میرے افسانے کے مطالعے سے معلوم ہو سکتی ہے۔۔۔ اتنی چھوٹی عمر میں جنسی بیداری کا پیدا ہونا میرے نزدیک بہت ہی بھونڈی چیز ہے۔ یعنی اگر میں کسی چھوٹے بچے کو جنسیات کی طرف راغب دیکھوں تو مجھے کوفت ہوگی، میرے صناعانہ جذبات کو صدمہ پہنچے گا۔ افسانہ نگار اس وقت اپنا قلم اٹھاتا ہے جب اس کے جذبات کو صدمہ پہنچتا ہے۔ مجھے یاد نہیں کیوں کہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن ’دھواں‘ لکھنے سے پہلے مجھے کوئی منظر، کوئی اشارہ یا کوئی واقعہ دیکھ کر ضرور ایسا صدمہ پہنچا ہوگا جو افسانہ نگار کے قلم کو حرکت بخشتا ہے۔\n\nافسانے کا مطالعہ کرنے سے یہ امر اچھی طرح واضح ہو سکتا ہے کہ میں نے اس بے نام سی لذت میں جو مسعود کو محسوس ہو رہی تھی، خود کو یا قارئین کو کہیں شریک نہیں کیا۔۔۔ یہ ایک اچھے فن کار کے قلم کی خوبی ہے۔ اس افسانے میں سے چند سطور پیش کرتا ہوں جس سے افسانہ نگار کے غایت درجہ محتاط ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ اس نے کہیں بھی مسعود کے دماغ میں شہوانی خیالات کی موجودگی کا ذکر نہیں کیا۔ ایسی لغزش افسانے کا ستیاناس کر دیتی۔\n\n(۱) مسعود کے وزن کے نیچے کلثوم کی چوڑی چکلی کمر میں خفیف سا جھکاؤ پیدا ہوا، جب اس نے پیروں سے دبانا شروع کیا۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح مزدور مٹی گوندھتے ہیں۔۔۔ تو کلثوم نے مزا لینے کی خاطر ہولے ہولے ہائے ہائے کرنا شروع کیا۔\n\n(۲) کلثوم کی رانوں میں اکڑی ہوئی مچھلیاں اس کے پیروں کے نیچے دب دب کر ادھر ادھر پھسلنے لگیں۔ مسعود نے ایک بار اسکول میں تنے ہوئے رسے پر ایک بازی گر کو چلتے دیکھا تھا۔ اس نے سوچا کہ بازی گر کے پیروں کے نیچے تنا ہوا رسا بھی اسی طرح پھسلتا ہوگا۔\n\n(۳) بکرے کے گرم گرم گوشت کا اسے بار بار خیال آتا تھا۔ ایک مرتبہ اس نے سوچا، ’’کلثوم کو اگر ذبح کیا جائے تو کھال اترنے پر کیا اس کے گوشت میں سے دھواں نکلے گا۔‘‘ لیکن ایسی بیہودہ باتیں سوچنے پر اس نے اپنے آپ کو مجرم محسوس کیا اور دماغ کو اس طرح صاف کر دیا، جس طرح وہ سلیٹ کو اسفنج سے صاف کیا کرتا تھا۔\n\nخط کشیدہ الفاظ اس بات کے ضامن ہیں کہ مسعود کا ذہن کہیں بھی شہوت سے ملوث نہیں ہوا۔ وہ اپنی بہن کی کمر دباتا ہے جس طرح وہ مزدور مٹی گوندھتے ہیں۔ ٹانگیں دباتا ہے تو اس کا خیال بازی گر کی طرف چلا جاتا ہے، جس کا تماشا اس نے ایک بار اپنے اسکول میں دیکھا تھا۔۔۔ اور جب یہ سوچتا ہے کہ اس کی بہن ذبح کر دی جائے تو کیا اس کے گوشت میں سے دھواں نکلے گا تو فوراً اسے بری بات سمجھ کر اپنے دماغ سے نکال دیتا ہے اور خود کو مجرم سمجھتا ہے۔\n\nخدا جانے استغاثہ اس افسانے کو فحش کیوں کہتا ہے جس میں فحاشی کا شائبہ تک موجود نہیں۔۔۔ اگر میں کسی عورت کے سینے کا ذکر کرنا چاہوں گا تو اسے عورت کا سینہ ہی کہوں گا۔۔۔ عورت کی چھاتیوں کو آپ مونگ پھلی، میز یا استرا نہیں کہہ سکتے۔۔۔ یوں تو بعض حضرات کے نزدیک عورت کا وجود ہی فحش ہے، مگر اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے۔ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جن کو بکری کا ایک معصوم بچہ ہی معصیت کی طرف لے جاتا ہے۔۔۔ دنیا میں ایسے اشخاص بھی موجود ہیں جو مقدس کتابوں سے شہوانی لذت حاصل کرتے ہیں۔۔۔ اور ایسے انسان بھی آپ کو مل جائیں گے، لوہے کی مشینیں جن کے جسم میں شہوت کی حرارت پیدا کر دیتی ہیں۔۔۔ مگر لوہے کی ان مشینوں کا، جیسا کہ آپ سمجھ سکتے ہیں، کوئی قصور نہیں۔ اسی طرح نہ بکری کے معصوم بچے کا، ا ور نہ مقدس کتابوں کا۔\n\nایک مریض جسم، ایک بیمار ذہن ہی ایسا غلط اثر لے سکتا ہے، جو لوگ روحانی، ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تندرست ہیں، اصل میں انہیں کے لئے شاعر شعر کہتا ہے، افسانہ نگار افسانہ لکھتا ہے اور مصور تصویر بناتا ہے۔ میرے افسانے تندرست اور صحت مند لوگوں کے لئے ہیں، ایسے انسانوں کے لئے جو عورت کے سینے کو عورت کا سینہ ہی سمجھتے ہیں اور اس سے زیادہ آگے نہیں بڑھتے۔۔۔ جو عورت اور مرد کے رشتے کو استعجاب کی نظر سے نہیں دیکھتے۔۔۔ جو کسی ادب پارے کو ایک ہی دفعہ نگل نہیں جاتے۔\n\nروٹی کھانے کے متعلق ایک موٹا سا اصول ہے کہ ہر لقمہ اچھی طرح چبا کر کھاؤ، لعاب دہن میں اسے خوب حل ہونے دو تاکہ معدے پر زیادہ بوجھ نہ پڑے اور اس کی غذائیت برقرار رہے۔ پڑھنے کے لئے بھی یہی موٹا اصول ہے کہ ہر لفظ کو، ہر سطر کو، ہر خیال کو اچھی طرح ذہن میں چباؤ۔ اس لعاب کو جو پڑھنے سے تمہارے دماغ میں پیدا ہو گا، اچھی طرح حل کرو تاکہ جو کچھ تم نے پڑھا ہے، اچھی طرح ہضم ہو سکے، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کے نتائج برے ہوں گے جس کے لئے تم لکھنے والے کو ذمہ دار نہ ٹھہرا سکو گے۔ وہ روٹی جو اچھی طرح چبا کر نہیں کھائی گئی تمہاری بدہضمی کی ذمہ دار کیسے ہو سکتی ہے!\n\nمیں ایک مثال سے اس کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ فرانس میں ایک بہت بڑا افسانہ نگار گائی دی موپاساں گزرا ہے۔ جنسیات اس کا محبوب موضوع تھا۔ بڑے بڑے ڈاکٹروں اور ماہرین نفسیات نے اس کے افسانوں کا اپنی علمی کتابوں میں حوالہ دیا ہے۔ اپنے ایک افسانے میں وہ ایک لڑکے اور لڑکی کی داستان بیان کرتا ہے جو بے حد الہڑ تھے۔ پہلی رات کے متعلق دونوں نے سنی سنائی باتوں سے ایک عجیب و غریب تصویر اپنے ذہن میں کھینچ رکھی تھی۔ دونوں اس خیال سے کپکپا رہے تھے کہ خدا معلوم کتنی بڑی لذت ان کو پہلی رات کے ملاپ سے ملے گی۔\n\nدونوں کی شادی ہو گئی۔۔۔ دولہا ماہ عسل منانے کی خاطر دلہن کو ایک ہوٹل میں لے گیا۔ وہاں پہلی رات کو۔۔۔ اس رات کو جس میں دونوں کے خیال کے مطابق شاید فرشتے اتر کر ان کو لوریاں دینے والے تھے، دولہا اور دلہن ہم بستر ہو گئے۔۔۔ دونوں لیٹے تھے اور بس۔۔۔ دلہن نے شامت اعمال سے اتنا کہہ دیا، ’’بس۔۔۔ کیا یہی ہماری پہلی رات تھی جس کے ہم دونوں اتنے شیریں خواب دیکھا کرتے تھے۔‘‘ دولہا کو یہ بات کھا گئی۔ آخر مرد ہی تو تھا۔ اس نے سوچا یہ میری مردانگی پر حملہ ہے۔۔۔ چنانچہ اس کی مردانگی بالکل ہی ختم ہو گئی۔۔۔ عرق ندامت میں غرق وہ حجلہ عروسی سے باہر نکل گیا، اس غرض سے کہ اپنی ناکام زندگی کسی دریا کے سپرد کر دے۔\n\nعین اس وقت جب یہ نیا نویلا دولہا اس خطرناک فیصلے پر پہنچا، فرانس کی ایک کسبی۔۔۔ ایک ویشیا پاس سے گزری جو غالباً گاہک تلاش کر رہی تھی۔ اس عصمت باختہ عورت نے اس کو اشارہ کیا۔ دولہا نے محض انتقام لینے کے لئے۔۔۔ ساری عورت ذات سے بدلہ لینے کے لئے اس کو اس اشارے کا جواب دیا کہ ہاں میں تیار ہوں۔ وہ ٹکھیائی اسے اپنے گھر لے گئی۔ اس کے غلیظ گھر میں دولہا وہ کام کرنے میں کامیاب ہو گیا جو وہ اپنے نفیس ہوٹل کے حجلہ عروسی میں نہ کر سکا تھا۔۔۔ اب وہ اس ویشیا کو بھول گیا۔۔۔ دوڑا دوڑا اپنی نئی بیاہتا بیوی کے پاس پہنچا جیسے اسے کھوئی ہوئی دولت مل گئی ہے۔۔۔ دونوں پاس پاس لیٹے تھے مگر اب اس کی بیوی کو وہ شیریں خواب دیکھنے کی خواہش باقی نہیں رہی تھی جس کا اس نے پہلے گلہ کیا تھا۔\n\nیہ افسانہ پڑھ کر اگر کوئی شخص جو پہلی رات کو ناکام رہا ہو، سیدھا ویشیا کے کوٹھے کا رخ کرے تو میں سمجھتا ہوں اس جیسا چغد اور کوئی نہیں ہوگا۔ میرے ایک دوست نے یہی بے وقوفی کی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسے اپنا کھویا ہوا وقار تو مل گیا، پر اس کے ساتھ ہی ایک مکروہ مرض چمٹ گیا جس کے علاج کے لئے اسے کافی زحمت اٹھانا پڑی۔\n\nپچھلے دنوں میں نے آل انڈیا ریڈیو بمبئی سے ایک تقریر نشر کی تھی۔ اس میں، میں نے کہا تھا، ’’ادب ایک فرد کی اپنی زندگی کی تصویر نہیں۔ جب کوئی ادیب قلم اٹھاتا ہے تو وہ اپنے گھریلو معاملات کا روزنامچہ پیش نہیں کرتا۔ اپنی ذاتی خواہشوں۔۔۔ خوشیوں، رنجشوں، بیماریوں اور تندرستیوں کا ذکر نہیں کرتا۔ اس کی قلمی تصویروں میں بہت ممکن ہے آنسو اس کی دکھی بہن کے ہوں، مسکراہٹیں آپ کی ہوں اور قہقہے ایک خستہ حال مزدور کے۔۔۔ اس لئے اپنی مسکراہٹوں، اپنے آنسوؤں اور اپنے قہقہوں کی ترازو میں ان تصویروں کو تولنا بہت بڑی غلطی ہے۔۔۔ ہر ادب پارہ ایک خاص فضا، ایک خاص اثر، ایک خاص مقصد کے لئے پیدا ہوتا ہے، اگر اس میں یہ خاص اثر اور یہ خاص مقصد محسوس نہ کیا جائے تو یہ ایک بے جان لاش رہ جائے گی۔‘‘\n\nمیں ایک زمانے سے لکھ رہا ہوں۔ گیارہ کتابوں کا مصنف و مؤلف ہوں۔ آل انڈیا ریڈیو کے تقریباً ہر اسٹیشن سے میرے ڈرامے اور فیچر براڈ کاسٹ ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی تعداد سو سے اوپر ہے۔۔۔ میں تحر یرو تصنیف کے جملہ آداب سے واقف ہوں۔۔۔ میرے قلم سے بے ادبی شاذو نادر ہی ہو سکتی ہے۔ میں فحش نگار نہیں، افسانہ نگار ہوں۔ دوسرے افسانے ’کالی شلوار‘ کے متعلق میں نے اس لئے کچھ نہیں کہا کہ لاہور کی سیشن کورٹ میں اسے فحاشی سے بری قرار دیا جا چکا ہے۔‘‘\n\nمیرے اس بیان کا کچھ اثر نہ ہوا۔ صفائی کے گواہوں میں ڈاکٹر سعید اللہ، ایم اے، ایل ایل بی، پی ایچ ڈی، ڈی ایس سی، پروفیسر کنہیا لال کپور، ایم اے، ایل ایل بی، ڈاکٹر آئی لطیف ایم اے، پی ایچ ڈی، مولانا باری علیگ، دیوندر ستیارتھی جیسے اہل الرائے ہستیاں موجود تھیں۔ ان حضرات نے اپنا قیمتی وقت ضائع کر کے سارا سارا دن عدالت میں گزار کر میرے حق میں گواہی دی اور کہا کہ زیرعتاب افسانوں میں فحاشی کا شائبہ بھی موجود نہیں، لیکن رائے صاحب لالہ سنت رام نے دونوں افسانے فحش قرار دیے اور مجھے دو سو روپیہ جرمانہ ادا کرنے کی سزا دی۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں کتنے مہینوں کی قید بامشقت تھی، تھی یا نہیں، اس کا مجھے علم نہیں۔ میں نے جب اپنی جیب سے دو سو روپے نکالے تو اسپیشل مجسٹریٹ صاحب کے ہونٹوں پر ایک اسپیشل مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ آ پ نے کہا، ’’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیل کانٹے سے لیس ہو کر آئے تھے۔‘‘\n\nباوجود کوشش کے میرے ہونٹوں پر اسپیشل مسکراہٹ پیدا نہ ہو سکی۔ سیشن میں اپیل کی گئی۔ پیروی مسٹر ہیرا لال سیبل نے کی۔ کئی مہینے گزرنے پر ایک روز ان کا تار آیا کہ مبارک ہو، سیشن کورٹ نے اپیل منظور کر لی ہے۔ جرمانہ واپس ہو جائے گا۔ تیسری دفعہ انجام بخیر ہوا!\n\nایک اور لطیفہ سنئے۔ چند روز ہوئے، ایک صاحب مجھ سے ملنے آئے، میں نے نوکر سے کہا، ’’پوچھو کون ہے؟‘‘ جواب آیا، ’’سی آئی ڈی کا آدمی۔‘‘ ظاہر ہے کہ لاہور سے گرفتاری کا وارنٹ تھا لیکن جب میں اس سی آئی ڈی کے آدمی سے ملا اور اس سے کہا، ’’فرمایئے، اب کی میری کس کہانی پر عتاب نازل ہوا ہے۔‘‘ تو وہ جیسے کچھ سمجھا ہی نہیں۔ کہنے لگا، ’’ہم تپاس (پوچھ گچھ) کرنے آیا ہے۔ تمہارا نام ادھر کمیونسٹ پارٹی کے آفس میں چوپڑی (کتاب) میں لکھا تھا۔۔۔ بولو، تمہارا کیا تعلق ہے اس سے؟‘‘ یہ سن کر مجھے تسلی ہوئی اور مذاق سوجھا، ’’چوپڑی سے یا کمیونسٹ پارٹی سے؟‘‘\n\n’’کمیونسٹ پارٹی سے؟‘‘\n\nمیں نے جواب دیا، ’’ تعلق ہے مگر ناجائز۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’اس لیئے کہ تمہاری حکومت یہی سمجھتی ہے۔ ورنہ تم یہاں تپاس کرنے کیوں آتے!‘‘ یہ قصہ بھی ختم ہوا۔\n\nآخر میں ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں جنہوں نے لاہور کی ایسی عدالت میں جہاں شریف انسانوں کو بیٹھنے کے لئے ایک ٹوٹی ہوئی کرسی بھی نہیں ملتی، گھنٹوں اپنا قیمتی وقت ضائع کر کے بھینسوں کے آگے بین بجائی۔ مسٹر اے ایس بخاری کا بھی ممنون و متشکر ہوں۔ متذکرہ صدر مقدمے کے فیصلے کے بعد یا اس سے کچھ دیر پہلے، آپ نے بمبئی ریڈیو اسٹیشن میں مجھے بلایا اور بڑی شفقت سے بتایا کہ وہ اور ڈاکٹر محمد دین تاثیر میرے اور عصمت کے عتاب زدہ افسانوں کے متعلق ہندوستان کے مشہور ادیبوں کی رائے مرتب کرنے والے ہیں، اور یہ کہ انہوں نے لاہور میں عدالت سے بیانات وغیرہ کی نقل لینے کے لئے ایک آدمی بھی متعین کر دیا ہے۔ یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ آپ نے اتفاق سے میرا افسانہ نہیں پڑھا تھا، چنانچہ ان کے ارشاد کے مطابق ایک جلد اس کتاب کی ان کو دہلی روانہ کر دی۔ اس ملاقات کو تقریباً ایک برس ہو چکا ہے، امید ہے بخاری صاحب نے اپنا کام ختم کر لیا ہوگا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B0%D8%AA_%D8%B3%D9%86%DA%AF_%28%D9%85%D8%B6%D9%85%D9%88%D9%86%29"} {"title": "لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا\nکب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا\n\nہم جاہ و حشم یاں کا کیا کہیے کہ کیا جانا\nخاتم کو سلیماں کی انگشتر پا جانا\n\nیہ بھی ہے ادا کوئی خورشید نمط پیارے\nمنہ صبح دکھا جانا پھر شام چھپا جانا\n\nکب بندگی میری سی بندہ کرے گا کوئی\nجانے ہے خدا اس کو میں تجھ کو خدا جانا\n\nتھا ناز بہت ہم کو دانست پر اپنی بھی\nآخر وہ برا نکلا ہم جس کو بھلا جانا\n\nگردن کشی کیا حاصل مانند بگولے کی\nاس دشت میں سر گاڑے جوں سیل چلا جانا\n\nاس گریۂ خونیں کا ہو ضبط تو بہتر ہے\nاچھا نہیں چہرے پر لوہو کا بہا جانا\n\nیہ نقش دلوں پر سے جانے کا نہیں اس کو\nعاشق کے حقوق آ کر ناحق بھی مٹا جانا\n\nڈھب دیکھنے کا ایدھر ایسا ہی تمہارا تھا\nجاتے تو ہو پر ہم سے ٹک آنکھ ملا جانا\n\nاس شمع کی مجلس میں جانا ہمیں پھر واں سے\nاک زخم زباں تازہ ہر روز اٹھا جانا\n\nاے شور قیامت ہم سوتے ہی نہ رہ جاویں\nاس راہ سے نکلے تو ہم کو بھی جگا جانا\n\nکیا پانی کے مول آ کر مالک نے گہر بیچا\nہے سخت گراں سستا یوسف کا بکا جانا\n\nہے میری تری نسبت روح اور جسد کی سی\nکب آپ سے میں تجھ کو اے جان جدا جانا\n\nجاتی ہے گزر جی پر اس وقت قیامت سی\nیاد آوے ہے جب تیرا یکبارگی آ جانا\n\nبرسوں سے مرے اس کی رہتی ہے یہی صحبت\nتیغ اس کو اٹھانا تو سر مجھ کو جھکا جانا\n\nکب میرؔ بسر آئے تم ویسے فریبی سے\nدل کو تو لگا بیٹھے لیکن نہ لگا جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B0%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%D9%BE%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "لذت عرفاں", "poet_page": "مصنف:ز خ ش", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "رنگ فطرت ہے وجہ حیرانی\nعقل ہے اور حیائے نادانی\nرازداں مدعا کو کہتے ہیں\nحسن الفت کا داغ پیشانی\nحسن باقی نے دل کو کھینچ لیا\nرخصت اے حسن ہستئ فانی\nدل ہے وقف رجائے رحم و کرم\nجاں ہے نذر رضائے ربانی\nاب میں سمجھی کہ ہے فنائے خودی\nانبساط بہشت لافانی\nغم نہ کر ہے نقیب ابر بہار\nخشکیٔ موسم زمستانی\nدل صد پارہ کے الم گن لوں\nدیکھی جائے گی سبحہ گردانی\nکر سکے طے نہ ملک عرفاں کو\nرومی و مغربی و کرمانی\nدورئ بزم دوست کے غم میں\nمحو افغاں ہے اک افغانی\nعرش کے کنگرے پہ طائر قدس\nرات کرتا تھا یوں خوش الحانی\nکہ ہے انساں طلسم شان خدا\nقدر اپنی نہ اس نے پہچانی\nبند کیں اس نے جب ذرا آنکھیں\nکھل گیا راز بزم امکانی\nچارۂ روح فلسفی ہے نہ شیخ\nایک وہمی ہے ایک خفقانی\nکثرت این و آں میں وحدت دوست\nکنج نایاب کی فراوانی\nشیخ رنج بیاں کا ڈر نہ کرے\nلا بیاں ہے یہ کیف وجدانی\nمتشکک ہے اور شکایت ہجر\nنزہت اور شکر لطف پنہانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B0%D8%AA_%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "لذت غم", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "گو گلستان جہاں پر میری نظریں کم پڑیں\nاور پڑیں بھی تو خدا شاہد بہ چشم نم پڑیں\nکر رہی تھی فصل گل جب راز قدرت آشکار\nجب اگلتی تھی زمیں گنجینہ ہائے پر بہار\nخون کے آنسو بھرے تھے دیدۂ نمناک میں\nمختلف شکلیں تھیں غم کی چہرۂ غم ناک میں\nفطرتاً دل میں نہ تھا میرے کبھی ارمان عیش\nبند کر لیتا تھا آنکھیں دیکھ کر سامان عیش\nکیا کہوں اے ہم نفس سیر چمن کی داستاں\nگل تھے جب شبنم بکف آنکھیں تھیں جس دن خوں چکاں\nآبشاروں کے مقابل بیٹھ کر رویا ہوں میں\nخار صحرا کے بچھا کر چین سے سویا ہوں میں\nصبح کو جب کروٹیں لیتی تھیں نہریں باغ میں\nکیا کہوں کیسی چمک اٹھتی تھی دل کے داغ میں\nمیں نے دیکھی ہیں یہاں تاروں بھری راتیں بہت\nاور کی ہیں فطرت خاموش سے باتیں بہت\nکیا بتاؤں دل میں میرے ایک برچھی سی گڑی\nصبح کو پہلی کرن سورج کی جب مجھ پر پڑی\nمیرے نظارے میں مضمر تھا مرا حال تباہ\nآبلہ بن کر ابھر آتی تھی میری ہر نگاہ\nرات کی تاریکیوں میں دل بہلتا تھا کبھی\nپر خطر ویرانیوں میں میں ٹہلتا تھا کبھی\nکیا بتاؤں میں بھڑک اٹھتے تھے کیوں کر دل کے داغ\nجب چمن کرتا تھا روشن تازہ کلیوں کے چراغ\nاشک باری میں بسر دنیا کی راتیں میں نے کیں\nبے کسی میں ایک اک ذرے سے باتیں میں نے کیں\nڈبڈبا آتی تھیں آنکھیں کوئی ہنستا تھا اگر\nتھی نشاط زندگی میری نظر میں پر خطر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B0%D8%AA_%D8%BA%D9%85"} {"title": "لذت چاہو تو وصل معشوق کہاں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "لذت چاہو تو وصل معشوق کہاں\nشوکت چاہو تو زر کا صندوق کہاں\nکہتا ہے یہ دل کہ خودکشی کی ٹھہرے\nخیر اس کو بھی مان لیں تو بندوق کہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B0%D8%AA_%DA%86%D8%A7%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%D8%B9%D8%B4%D9%88%D9%82_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "لرزتا دیپ", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دور شب کا سرد ہات\nآسماں کے خیمۂ زنگار کی\nآخری قندیل گل کرنے بڑھا\nاور کومل چاندنی\nایک در بستہ گھروندے سے پرے\nمضمحل پیڑوں پہ گر کر بجھ گئی\n\nبے نشاں سائے کی دھیمی چاپ پر\nاونگتے رستے کے ہر ذرے نے پل بھر کے لیے\nاپنی پلکوں کی بجھی درزوں سے جھانکا\nاور آنکھیں موند لیں\n\nاس سمے طاق شکستہ پر لرزتے دیپ سے\nمیں نے پوچھا\nہم نفس\nاب ترے بجھنے میں کتنی دیر ہے؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B1%D8%B2%D8%AA%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%BE"} {"title": "لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر\nمیں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر\n\nنہ چھوڑی حضرتِ یوسف نے یاں بھی خانہ آرائی\nسفیدی دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر\n\nفنا “تعلیمِ درسِ بے خودی” ہوں اُس زمانے سے\nکہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر\n\nفراغت کس قدر رہتی مجھے تشویش مرہم سے\nبہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمک داں پر\n\nنہیں اقلیم الفت میں کوئی طومارِ ناز ایسا\nکہ پشتِ چشم سے جس کی نہ ہووے مُہر عنواں پر\n\nمجھے اب دیکھ کر ابرِ شفق آلودہ یاد آیا\nکہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلِستاں پر\n\nدلِ خونیں جگر بے صبر و فیضِ عشق مستغنی\nالٰہی! یک قیامتِ خاور آ ٹوٹے بدخشاں ہر\n\nبجُز پروازِ شوقِ ناز کیا باقی رہا ہو گا\nقیامت اِک ہوائے تند ہے خاکِ شہیداں پر\n\nنہ لڑ ناصح سے، غالبؔ، کیا ہوا گر اس نے شدّت کی\nہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B1%D8%B2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%AD%D9%85%D8%AA_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "لشکر عشق آ پڑا ہے ملک دل پر ٹوٹ ٹوٹ", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "لشکر عشق آ پڑا ہے ملک دل پر ٹوٹ ٹوٹ\nکان میں آتی نہیں ہے جز صدائے لوٹ لوٹ\n\nمل نہیں سکتا خدا ہے اس خودی کے ساتھ میں\nاے دل اس قید خودی سے جلد تر اب چھوٹ چھوٹ\n\nبرق ساں ہنسنا ترا یاد آوے ہے جس دم مجھے\nابر کی مانند روتا ہوں میں یکسر پھوٹ پھوٹ\n\nہے صدائے خندۂ گل خار اس کے کان میں\nاس لئے کہتا ہوں میں نالہ کو اپنے کھوٹ کھوٹ\n\nتیرے کفر زلف کی ڈوری میں اکثر اہل دیں\nقید دیں داری سے بھاگے ہیں نکل کر چھوٹ چھوٹ\n\nکوئی کافر ہی نہیں جز نفس خود اس دہر میں\nپس اسی کافر کے سر کو رات دن تو کوٹ کوٹ\n\nآ گیا بحر حقیقت کا ہی گوہر ہاتھ میں\nہے ملا جب سے شہ خادم سے آثمؔ ٹوٹ ٹوٹ", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A2_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%84%DA%A9_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D9%B9%D9%88%D9%B9_%D9%B9%D9%88%D9%B9"} {"title": "لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی\nچمن زنگار ہے آئینۂ باد بہاری کا\n\nحریف جوشش دریا نہیں خودداری ساحل\nجہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا\n\nبہار رنگ خون گل ہے ساماں اشک باری کا\nجنون برق نشتر ہے رگ ابر بہاری کا\n\nبرائے حل مشکل ہوں ز پا افتادۂ حسرت\nبندھا ہے عقدۂ خاطر سے پیماں خاکساری کا\n\nبہ وقت سرنگونی ہے تصور انتظارستاں\nنگہ کو آبلوں سے شغل ہے اختر شماری کا\n\nاسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی\nکہ ننگ فہم مستاں ہے گلہ بد روزگاری کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%81%D8%AA_%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D8%AB%D8%A7%D9%81%D8%AA_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%8C"} {"title": "لطف آمیز ہر انداز ستم ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:سید واجد علی فرخ بنارسی", "kind": "poetry", "section": "غزل > تجلیات فرخ (1930)", "year": "1930", "text_ur": "لطف آمیز ہر انداز ستم ہوتا ہے\nدرد بیمار نہ بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے\n\nبے قراروں کو نہیں راہ طلب میں مشکل\nاک تڑپ میں حد منزل پہ قدم ہوتا ہے\n\nدیکھتا ہے جو مرا حال وہ رو دیتا ہے\nمیرے پردے میں زمانہ پہ ستم ہوتا ہے\n\nخوگر جور کو آزار میں بھی راحت ہے\nدل تڑپتا ہے سوا جور جو کم ہوتا ہے\n\nسننے والے ادھر آ دیکھ وہ وقت آ پہونچا\nکہ اشاروں میں بیاں قصۂ غم ہوتا ہے\n\nکیا قیامت ہے وہی دشمن جاں ہوتے ہیں\nجن نگاہوں میں کچھ انداز کرم ہوتا ہے\n\nتپش دل سے ہے ہنگامۂ ہستی بیدار\nروح سو جاتی ہے کچھ درد جو کم ہوتا ہے\n\nعجب آرام سے ہوں ترک تمنا کر کے\nاب نہ ہوتی ہے خوشی مجھ کو نہ غم ہوتا ہے\n\nکیف جو اصل میں ہے روح نشاط اے فرخؔ\nوقت آخر وہی سرمایۂ غم ہوتا ہے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%A2%D9%85%DB%8C%D8%B2_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "لطف اب زیست کا اے گردش ایام نہیں", "poet_page": "مصنف:امانت لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لطف اب زیست کا اے گردش ایام نہیں\nمے نہیں یار نہیں شیشہ نہیں جام نہیں\n\nکب مجھے یاد رخ و زلف سیہ فام نہیں\nکوئی شغل اس کے سوا صبح سے تا شام نہیں\n\nہر سخن پر مجھے دیتا ہے وہ بد خو دشنام\nکون سی بات مری قابل انعام نہیں\n\nنیک نامی میں دلا فرقۂ عشاق ہیں عشق\nہے وہ بدنام محبت میں جو بدنام نہیں\n\nچہرۂ یار کے سودے میں کہا کرتا ہوں\nرخ ہے یہ صبح نہیں زلف ہے یہ شام نہیں\n\nبوسہ آنکھوں کا جو مانگا تو وہ ہنس کر بولے\nدیکھ لو دور سے کھانے کے یہ بادام نہیں\n\nحلقۂ زلف بتاں میں ہے بھری نکہت گل\nاے دل اس لام میں بوئے گل اسلام نہیں\n\nابتدا عشق کی ہے دیکھ امانتؔ ہشیار\nیہ وہ آغاز ہے جس کا کوئی انجام نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%A7%D8%A8_%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لطف تشریف جُو عشق اس کہ نے آغاز کیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لطف تشریف جُو عشق اس کہ نے آغاز کیا\nہم نے تعظیم کی اور جھپ در دِل باز کیا\n\nدیکھ کر اس کو بتاں سحر سب اپنا بھولے\nاس شہ حسن کہ عالم نے یہ اعجاز کیا\n\nلطف سے جس کی طرف ایک نگہ کی اس نے\nاس کو سو قدر و شرف سے وہیں ممتاز کیا\n\nجس کہ ہاں پاؤں رکھا اس نے تُو کیا کیا اس کو\nعالم ظاہر و باطن میں سرافراز کیا\n\nہم تُو کس گنتی میں ہیں حُسن نے اس کہ تُو نظیرؔ\nہیں جُو معشوق انہیں عاشق جانباز کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%AA%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81_%D8%AC%D9%8F%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%92_%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "لطف سے مطلب نہ کچھ میرے ستانے سے غرض", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لطف سے مطلب نہ کچھ میرے ستانے سے غرض\nشوخیوں سے کام ان کو مسکرانے سے غرض\n\nاس گلی سے کام ان کا سامنا ہو یا نہ ہو\nمجھ کو ہو آنا وہاں تک ہر بہانے سے غرض\n\nشکوۂ اغیار پر ظالم نے یوں ٹالا مجھے\nتم کو ہم سے کام ہے تم کو زمانے سے غرض\n\nکوئی موسم کوئی دن ہو اس سے کچھ مطلب نہیں\nحضرت بیخودؔ کو ہے پینے پلانے سے غرض", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%B1%D8%B6"} {"title": "لطف ظاہر کر دیا درد نہانی دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:محمد علی خاں رشکی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لطف ظاہر کر دیا درد نہانی دیکھ کر\nرحم نے پائی ہے قوت ناتوانی دیکھ کر\n\nجو کہ ملتی ہو ہماری سرگزشت عشق سے\nقصہ خواں کہنا وہاں ایسی کہانی دیکھ کر\n\nتجھ سے گو ملتے نہیں داغ غم ہجراں تو ہے\nشکر ہے جیتے تو ہیں تیری نشانی دیکھ کر\n\nکون ہے خون جگر آشام میں یا مدعی\nدیجیو ساقی شراب ارغوانی دیکھ کر\n\nاب بلائے آسمانی بھی بھلی لگنے لگی\nآپ کے سر پر دوپٹے آسمانی دیکھ کر\n\nاس رمیدہ وش کو کیا حال دل محزوں لکھوں\nجو خفا ہو ربط الفاظ و معانی دیکھ کر\n\nہے دگر گوں ابتدائے عشق میں رشکیؔ کا حال\nرحم آتا ہے مجھے اوس کی جوانی دیکھ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%86%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "لطف میں واں ڈھنگ ہے بیداد کا", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لطف میں واں ڈھنگ ہے بیداد کا\nکام دے اے خامشی فریاد کا\n\nکیوں کہ لے تصویر اس کی دیکھیے\nہاتھ قابو میں نہیں بہزاد کا\n\nعمر بھر رکھتا ہے پابند کمیں\nصید خود اک دام ہے صیاد کا\n\nدعویٔ باطل کی پرسش رہ گئی\nکون پرساں حسرت شداد کا\n\nدور تک اپنی نگاہیں ہیں رسا\nپردہ حائل گر نہ ہو ایجاد کا\n\nکون یاں قید تعلق میں نہیں\nپا بہ گل ہے سرو سے آزاد کا\n\nدل میں جب آئے کہ اس نے سن لیا\nنارسا کیوں نام ہے فریاد کا\n\nآپ ہی گردش سے ہے مجبور چرخ\nچاہنا ایسے سے کیا امداد کا\n\nدیکھیے کثرت سے وحدت کو تو ہے\nایک جلوہ موجد و ایجاد کا\n\nکوہ کن نے عمر بھر کاٹا پہاڑ\nمیں ہوں جویا چرخ کی بنیاد کا\n\nبچ گیا تیر نگاہ یار سے\nواقعی آئینہ ہے فولاد کا\n\nبھولا ہے دین و دنیا آدمی\nخاصہ ہے یہ بتوں کی یاد کا\n\nپہلے نفغ صور سے آ جاؤں یاں\nشک نہ ہو تم کو مری فریاد کا\n\nضربت تیشہ تھی پتھر کی لکیر\nنام مٹتا ہی نہیں فرہاد کا\n\nخود اڑا جاتا ہوں سالکؔ ضعف سے\nآہ میں طوفاں ہے قوم عاد کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DA%88%DA%BE%D9%86%DA%AF_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں\nمیں نے بھی زخم دل کے ان کو دکھا دئیے ہیں\n\nکچھ حرف آرزو تھا کچھ یاد عیش رفتہ\nجتنے تھے نقش دل میں ہم نے مٹا دیئے ہیں\n\nفرط غم و الم سے جب دل ہوا ہے گریاں\nاس نے عنایتوں کے دریا بہا دیئے ہیں\n\nدیکھے ہیں تیرے تیور دھوکا نہ کھائیں گے اب\nاٹھتے تھے ولولے کچھ ہم نے دبا دیئے ہیں\n\nاس دل نشیں ادا کا مطلب کبھی نہ سمجھے\nجب ہم نے کچھ کہا ہے وہ مسکرا دیئے ہیں\n\nشوخ کر دیا ہے چھڑیوں سے ہم نے تم کو\nکچھ حوصلے ہمارے تم نے بڑھا دیئے ہیں\n\nکوئی تجھ کو دیکھے پردہ اٹھانے والے\nتو نے تجلیوں کے پردے گرا دیئے ہیں\n\nکرتا ہوں وحشتؔ ان سے عرض نیاز پنہاں\nاس کام کے طریقے دل نے بتا دیئے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%AC%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B3%DA%A9%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D8%A6%DB%8C%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لطف و کرم کے پتلے ہو اب قہر و ستم کا نام نہیں", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لطف و کرم کے پتلے ہو اب قہر و ستم کا نام نہیں\nدل پہ خدا کی مار کہ پھر بھی چین نہیں آرام نہیں\n\nجتنے منہ ہیں اتنی باتیں دل کا پتہ کیا خاک چلے\nجس نے دل کی چوری کی ہے ایک اسی کا نام نہیں\n\nجلوہ و دل میں فرق نہیں جلوے کو ہی اب دل کہتے ہیں\nیعنی عشق کی ہستی کا آغاز تو ہے انجام نہیں\n\nرک کے جو سانسیں آئیں گئیں مانا کہ وہ آہیں تھیں لیکن\nآپ نے تیور کیوں بدلے آہوں میں کسی کا نام نہیں\n\nعشق کے آزاری بھی کہیں مر جانے سے جی جاتے ہیں\nلے یہ تسلی رہنے دے اے موت یہ تیرا کام نہیں\n\nکب سے پڑی ہیں دل میں تیرے ذکر کی ساری راہیں بند\nبرسوں گزرے اس بستی میں رسم سلام و پیام نہیں\n\nحد تھی یہ بیتابی دل کی جانیے اب کیا ہونا ہے\nصبر کی حد بھی ہونے آئی صبح نہیں یا شام نہیں\n\nدل پہ اپنا بس نہیں چلتا ان کی شکایت کیا کیجے\nآپ ہم اپنے دشمن ٹھہرے دوست پہ کچھ الزام نہیں\n\nدل سے کسی کی آنکھوں تک کچھ راز کی باتیں پہنچی ہیں\nآنکھ سے دل تک آیا ہو ایسا تو کوئی پیغام نہیں\n\nنزع میں فانیؔ تو نے یہ کس کا چپکے چپکے نام لیا\nکیوں او کافر تیری زباں پر اب بھی خدا کا نام نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%AA%D9%84%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%A8_%D9%82%DB%81%D8%B1_%D9%88_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لطف وفا نہیں کہ وہ بیداد گر نہیں", "poet_page": "مصنف:محمد دین تاثیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لطف وفا نہیں کہ وہ بیداد گر نہیں\nخاموش ہوں کہ میری فغاں بے اثر نہیں\n\nتیرے بغیر تلخی کام و دہن حرام\nدرد جگر ہے لذت درد جگر نہیں\n\nسجدوں سے نامراد ہے جلووں سے ناامید\nوہ رہ گزر کہ اب جو تری رہ گزر نہیں\n\nتم کیا گئے کہ سارا زمانہ چلا گیا\nوہ رات دن نہیں ہیں وہ شام و سحر نہیں\n\nہر ہر روش معاملۂ حسن و عاشقی\nہر ہر قدم فروغ جمال نظر نہیں\n\nبے باک چال چال سے بیباک تر نظر\nاب حسن تو بہت ہے مگر فتنہ گر نہیں\n\nزخموں سے چور قافلے پر خار راستے\nاس میں ترا قصور تو اے راہبر نہیں\n\nدنیائے چشم و گوش تو برباد ہو گئی\nاب کچھ بغیر معرکۂ خیر و شر نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے\nرنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے\n\nجو زمانے کے ستم ہیں وہ زمانہ جانے\nتو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے\n\nتم نہیں جانتے اب تک یہ تمہارے انداز\nوہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے\n\nانہیں قدموں نے تمہارے انہیں قدموں کی قسم\nخاک میں اتنے ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے\n\nدوستی میں تری در پردہ ہمارے دشمن\nاس قدر اپنے پرائے ہیں کہ جی جانتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%D9%88%DB%81_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "لطف چاہو اک بت نوخیز کو راضی کرو", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لطف چاہو اک بت نوخیز کو راضی کرو\nنوکری چاہو کسی انگریز کو راضی کرو\n\nلیڈری چاہو تو لفظ قوم ہے مہماں نواز\nگپ نویسوں کو اور اہل میز کو راضی کرو\n\nطاعت‌ و امن و سکوں کا دل کو لیکن ہو جو شوق\nصبر پر طبع ہوس انگیز کو راضی کرو\n\nذق ذق‌ و بق بق میں دنیا کے نہ ہو اکبرؔ شریک\nچپ ہی رہنے پر زبان تیز کو راضی کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%DA%86%D8%A7%DB%81%D9%88_%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%AA_%D9%86%D9%88%D8%AE%DB%8C%D8%B2_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D8%A7%D8%B6%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "لطف کی ان سے التجا نہ کریں", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لطف کی ان سے التجا نہ کریں\nہم نے ایسا کبھی کیا نہ کریں\n\nمل رہے گا جو ان سے ملنا ہے\nلب کو شرمندۂ دعا نہ کریں\n\nصبر مشکل ہے آرزو بے کار\nکیا کریں عاشقی میں کیا نہ کریں\n\nمسلک عشق میں ہے فکر حرام\nدل کو تدبیرآشنا نہ کریں\n\nبھول ہی جائیں ہم کو یہ تو نہ ہو\nلوگ میرے لیے دعا نہ کریں\n\nمرضئ یار کے خلاف نہ ہو\nکون کہتا ہے وہ جفا نہ کریں\n\nشوق ان کا سو مٹ چکا حسرتؔ\nکیا کریں ہم اگر وفا نہ کریں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%AC%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لطف کیا ہے بے خودی کا جب مزا جاتا رہا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لطف کیا ہے بے خودی کا جب مزا جاتا رہا\nیوں نہ مانوں میں مگر ساغر تو سمجھاتا رہا\n\nطاق سے مینا اتارا پاؤں میں لغزش ہوئی\nکی نہ ساقی سے برابر آنکھ شرماتا رہا\n\nمجھ سا ہو مضبوط دل تب مے کشی کا نام لے\nمحتسب دیکھا کیا مجبور جھلاتا رہا\n\nکیا کروں اور کس طرح اس بے قراری کا علاج\nیار کے کوچے میں بھی تو دل کا بہلاتا رہا\n\nنوجواں قاتل کو اچھی دل لگی ہاتھ آ گئی\nجب تلک کچھ دم رہا بسمل کو ٹھکراتا رہا\n\nشادؔ وقت نزع تھا خاموش لیکن دیر تک\nنام رہ رہ کر کسی کا زیر لب آتا رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D8%B2%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں", "poet_page": "مصنف:اثر صہبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں\nعمر تمام کٹ گئی کاوش احتساب میں\n\nتیرے شباب نے کیا مجھ کو جنوں سے آشنا\nمیرے جنوں نے بھر دیے رنگ تری شباب میں\n\nآہ یہ دل کہ جاں گداز جوشش اضطراب ہے\nہائے وہ دور جب کبھی لطف تھا اضطراب میں\n\nقلب تڑپ تڑپ اٹھا روح لرز لرز گئی\nبجلیاں تھیں بھری ہوئی زمزمۂ رباب میں\n\nچرخ بھی مے پرست ہے بزم زمیں بھی مست ہے\nغرق بلند و پست ہے جلوۂ ماہتاب میں\n\nمیرے لیے عجیب ہیں تیری یہ مسکراہٹیں\nجاگ رہا ہوں یا تجھے دیکھ رہا ہوں خواب میں\n\nمیرے سکوت میں نہاں ہے مرے دل کی داستاں\nجھک گئی چشم فتنہ زا ڈوب گئی حجاب میں\n\nلذت جام جم کبھی تلخی زہر غم کبھی\nعشرت زیست ہے اثرؔ گردش انقلاب میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B2%DB%81_%D8%AB%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لطف ہو حشر میں کچھ بات بنائے نہ بنے", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لطف ہو حشر میں کچھ بات بنائے نہ بنے\nآنکھ بھی شوخ ستمگر سے چرائے نہ بنے\n\nمجھ کو اٹھوا تو دیا اس نے بھری محفل سے\nکون تھا یہ کوئی پوچھے تو بتائے نہ بنے\n\nبات ساری یہ ہے وہ ضد پہ اڑے بیٹھے ہیں\nیاد کی بھول ہو تو لاکھ جتائے نہ بنے\n\nتم سے اب کیا کہیں وہ چیز ہے داغ غم عشق\nکہ چھپائے نہ چھپے اور دکھائے نہ بنے\n\nسیدھی باتوں پہ ہے مطلوب سند اور ثبوت\nہیں وہ کج بحث زباں ان سے ملائے نہ بنے\n\nفتح کا راز ہے ثابت قدمی اور ہمت\nکام بھی ہے کوئی ایسا کہ بنائے نہ بنے\n\nبات وہ کہہ گئے آئے بھی تو کس طرح یقیں\nاور سحر اس میں کچھ ایسا ہے بھلائے نہ بنے\n\nبے کسی کی ہے مصیبت میں شکایت بے سود\nکب پڑا وقت کہ اپنے بھی پرائے نہ بنے\n\nغم جو پیارے سے ملے کیوں نہ ہو وہ بھی پیارا\nبھولنا بھی اسے چاہیں تو بھلائے نہ بنے\n\nہے نظر میں وہ سماں نقش ہے جس کا دل پر\nدرد وہ نام ہے لب تک جسے لائے نہ بنے\n\nبے خودی کا ہے جہاں بے اثر ناز و نیاز\nسرکشی بھی نہ چلے سر بھی جھکائے نہ بنے\n\nآہ سرد اور بھی بھڑکاتی ہے شعلہ دل میں\nیہ دیا وہ ہے جو پھونکوں سے بجھائے نہ بنے\n\nسرد آزاد ہے دل رشک و نمائش ہے عبث\nخار کھائے نہ بنے گل بھی کھلائے نہ بنے\n\nعین یک رنگی ہے نیرنگ تماشا ہر چند\nیہ وہ عریانی کا پردہ ہے اٹھائے نہ بنے\n\nبے خودی میں بھی تو کیفیؔ کی یہ خودداری ہے\nحال دل پوچھ بھی لیں وہ تو سنائے نہ بنے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%DB%81%D9%88_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%DB%92"} {"title": "لطف ہو گر تو ہو اور مے خانہ ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "لطف ہو گر تو ہو اور مے خانہ ہو\nمیں ہوں اور میرا دل دیوانہ ہو\n\nجس زباں پر ہو ترا افسانہ ہو\nکوئی ہو اپنا ہو یا بیگانہ ہو\n\nیاں تو ہے دیدار سے تیری غرض\nدیر ہو کعبہ ہو یا بت خانہ ہو\n\nجس کو دیکھا جلتے ہی دیکھا یہاں\nشمع ہو عاشق ہو یا پروانہ ہو\n\nہم کو تو دو گز زمیں درکار ہے\nشہر ہو بستی ہو یا ویرانہ ہو\n\nدور ساقی میں کسے گردش نہیں\nشیشہ ہو ساغر ہو یا پیمانہ ہو\n\nکیا قیامت ہو جو انجمؔ حشر میں\nکوئی سودائی کوئی دیوانہ ہو", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D8%B7%D9%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "لفظوں کے چمن بھی اس میں کھل جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "لفظوں کے چمن بھی اس میں کھل جاتے ہیں\nبے ساختہ قافیے بھی مل جاتے ہیں\nدل کو مطلق نہیں ترقی ہوتی\nتعریف میں سر اگرچہ ہل جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%81%D8%B8%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لم یات نظیرک فی نظر مثل تو نہ شد پیدا جانا", "poet_page": "مصنف:احمد رضا خان", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جانا\nجگ راج کو تاج تورے سر سوہے تجھ کو شہ دوسرا جانا\n\nاَلبحرُ عَلاَوالموَجُ طغےٰ من بیکس و طوفاں ہوشربا\nمنجدہار میں ہوں بگڑی ہے ہواموری نیا پار لگا جانا\n\nیَا شَمسُ نَظَرتِ اِلیٰ لیَلیِ چو بطیبہ رسی عرضے بکنی\nتوری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی مری شب نے نہ دن ہونا جانا\n\nلَکَ بَدر فِی الوجہِ الاجَمل خط ہالہ مہ زلف ابر اجل\nتورے چندن چندر پروکنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا\n\nانا فِی عَطَش وّسَخَاک اَتَم اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم\nبرسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا\n\nیَا قاَفِلَتیِ زِیدَی اَجَلَک رحمے برحسرت تشنہ لبک\nمورا جیرا لرجے درک درک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا\n\nوَاھا لسُویعات ذَھَبت آں عہد حضور بار گہت\nجب یاد آوت موہے کر نہ پرت دردا وہ مدینہ کا جانا\n\nاَلقلبُ شَح وّالھمُّ شجوُں دل زار چناں جاں زیر چنوں\nپت اپنی بپت میں کاسے کہوں مورا کون ہے تیرے سوا جانا\n\nاَلروح فداک فزد حرقا یک شعلہ دگر برزن عشقا\nمورا تن من دھن سب پھونک دیا یہ جان بھی پیارے جلا جانا\n\nبس خامہ خام نوائے رضا نہ یہ طرز میری نہ یہ رنگ مرا\nارشاد احبا ناطق تھا، ناچار اس راہ پڑا جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1%DA%A9_%D9%81%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%D8%AB%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B4%D8%AF_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "لنج وہ پائے طلب ہوں کہیں جا ہی نہ سکوں", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لنج وہ پائے طلب ہوں کہیں جا ہی نہ سکوں\nشل یہ ہو دست ہوس ہاتھ بڑھا ہی نہ سکوں\n\nضد یہ اس کو ہے جو رویا میں بھی چھپ کر جاؤں\nکھول دی آنکھ نظر خواب میں آ ہی نہ سکوں\n\nدیکھ کر حسن بتوں کا جو خدا سے پھر جائے\nدل گمراہ کو پھر راہ پہ لا ہی نہ سکوں\n\nمدد اے دست جنوں پیرہن گل کی طرح\nیہ پھٹے جامۂ اصلی کہ سلا ہی نہ سکوں\n\nیا الٰہی شب وصلت جو کہے جانے کو\nپاؤں سو جائیں یہ اس کے کہ جگا ہی نہ سکوں\n\nمیں وہ غم خوار ہوں غم آنکھ کی پتلی کا تری\nدانۂ خال نہیں ہے کہ جو کھا ہی نہ سکوں\n\nحسن محفل ہے تو ہونے دو اسی خلوت میں\nبند قلیان نہیں ہیں جو بلا ہی نہ سکوں\n\nصفت سایہ وہ اک جان دو قالب ہوں میں\nدور ہو لاکھ کبھی پاس سے جا ہی نہ سکوں\n\nنظر افتادہ وہ ہوں اشک چکیدہ کی طرح\nگروں آنکھوں سے تو نظروں میں سما ہی نہ سکوں\n\nاے کماندار جو تو مجھ کو بلائے سو بار\nتیر جستہ میں نہیں ہوں کہ پھر آ ہی نہ سکوں\n\nاے صنم جو تو نہ مانع ہو تری محفل سے\nغیر کیا ناز ترا ہے کہ اٹھا ہی نہ سکوں\n\nنہ سہی وصف دہن بال تو سلجھانے دو\nزلف کچھ بات نہیں ہے جو بنا ہی نہ سکوں\n\nکھاؤں سوگند پہ سہواً قسم اے بت تری\nقسمیہ بھی جو میں کھاؤں کبھی کھا ہی نہ سکوں\n\nطعنۂ غیر سے اے ضعف جو بیٹھے دل زار\nبات وہ بار گراں ہو کہ اٹھا ہی نہ سکوں\n\nکیا تماشا ہے کہ نظروں میں ہے لیکن اے شادؔ\nقرب شہ رگ میں جو ڈھونڈوں اسے پا ہی نہ سکوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%86%D8%AC_%D9%88%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D9%88%DA%BA"} {"title": "لندن کی ایک شام", "poet_page": "مصنف:محمد دین تاثیر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہ رہ گزر\nیہ زن و مرد کا ہجوم یہ شام\nفراز کوہ سے جس طرح ندیاں سر پر\nلیے ہوئے شفق آلود برف کے پیکر\nسفید جھیل کی آغوش میں سمٹ جائیں\nیہ تند گام سبک سیر کارواں حیات\nنہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم\nکدھر سے آئے کدھر جا رہے ہیں کیا معلوم\n\nسنہری شام\nیہ 'ای روس' جھلملاتا ہوا\nبندھا ہوا ہے نشانہ کھنچی ہوئی ہے کماں\nکسے یہ تیر لگے گا\nکہاں؟ یہاں کہ وہاں!\nنظر نظر سے ملی دل کا کام ختم ہوا\n\nسنہری شام\nیہ 'ای روس' جگمگاتا ہے\nکوئی ہنسے کوئی روئے یہ مسکراتا ہے\nاسی مقام پہ پھر لوٹ کر میں آیا ہوں\nیہ رہ گزر یہ زن و مرد کا ہجوم یہ شام\nیہ تند سیر سبک گام کاروان حیات\nیہ جوش رنگ یہ طغیان حسن کے جلوے\nیہیں کے نور سے روشن مری نگاہیں ہیں\nمرے شباب کی روندی ہوئی یہ راہیں ہیں\nوہی مقام ہے لیکن وہی مقام نہیں\nیہ شام تو ہے مگر وہ سنہری شام نہیں\nوہ رعب داب نہیں ہے\nوہ دھوم دھام نہیں\nوہ میں نہیں ہوں\nکہ ان کا میں اب غلام نہیں\nصنم کدوں میں اجالے نہیں رہے کہ جو تھے\nکہ اب وہ دیکھنے والے نہیں رہے کہ جو تھے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%86%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B4%D8%A7%D9%85"} {"title": "لو جائیے بس خدا ہمارا حافظ", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "لو جائیے بس خدا ہمارا حافظ\nبے یار کا ہے وہی پیارا حافظ\nکیا رشک مرے دل سے گیا گزرا ہے\nکس منہ سے کہوں خدا تمہارا حافظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D8%A8%D8%B3_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%81%D8%B8"} {"title": "لو ضعف سے اب یہ حال تن ہے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لو ضعف سے اب یہ حال تن ہے\nسایہ متجسس بدن ہے\n\nیہاں تن ہی نہیں ہے لاغری سے\nہم کو کیا حاجت کفن ہے\n\nمثل نکہت ہیں جامہ کیسا\nاپنا تو بدن ہی پیرہن ہے\n\nہوں بلبل بوستان تصویر\nبے خوف خزاں مرا چمن ہے\n\nہوں کشتہ تیغ شرم جاناں\nہر زخم کا بے زباں دھن ہے\n\nلا ریب نسیمؔ دہلوی تو\nاستاد نزاکت سخن ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%88_%D8%B6%D8%B9%D9%81_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AA%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "لو فقیروں کی دعا ہر طرح آباد رہو", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "لو فقیروں کی دعا ہر طرح آباد رہو\nخود رہو موجیں کرو تازے رہو شاد رہو\n\nایرے غیرے وہ جو ہوں شوق سے چٹ کر لو انہیں\nپر خدا والوں کی کرتے ہوئے امداد رہو\n\nقمری باغ بہشت اب جو یہ بے فاختہ ہیں\nانہیں بھی کہہ دو کہ تم سرو سے آزاد رہو\n\nدید اس کی ہے کرو جس نے بنایا سب کچھ\nنہ کہ ہر لحظہ فدائے گل و شمشاد رہو\n\nدام میں سے جو چھٹے ہیں انہیں یہ حکم ہوا\nکہ بس اب گرد در خانۂ صیاد رہو\n\nجا کے اوروں سے بدو یاد فراموش ولے\nخود فراموشوں کو مولیٰ مری تم یاد رہو\n\nصورت آوے جو نظر کھینچ لو اس کی تصویر\nاپنے اس وقت کے تم مانی و بہزاد رہو\n\nچمن امن و اماں کے تمہیں ہو سیر نصیب\nسائیں اللہ سدا بر سر ارشاد رہو\n\nعیش و عشرت کرو ہر وقت تم انشا اللہؔ\nحسن چمکائے پھرو سب میں پری زاد رہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%88_%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81%D9%88"} {"title": "لو نہ ہنس ہنس کے تم اغیار سے گل دستوں سے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لو نہ ہنس ہنس کے تم اغیار سے گل دستوں سے\nاتنی ضد بھی نہ رکھو اپنے جگر خستوں سے\n\nفندقیں بزم میں دیکھ اس کے سر انگشتوں سے\nرشتۂ ربط نے لی راہ کف دستوں سے\n\nروبرو ہووے جو چشمان بتاں سے اے دل\nڈرتے رہنا ہی مناسب ہے سیہ مستوں سے\n\nدست صیاد سے چھوٹے تو اچھل پے در پے\nورنہ کیا فائدہ اے آہوے دل جستوں سے\n\nپیش جاتی نہیں ہرگز کوئی تدبیر نظیرؔ\nکام جب آن کے پڑتا ہے زبردستوں سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%88_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%86%D8%B3_%DB%81%D9%86%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D9%85_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D8%AF%D8%B3%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں\nاچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%88_%DB%81%D9%85_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%B6_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لو یار ستمگر نے لڑائی کی ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "لو یار ستمگر نے لڑائی کی ہے\nاک ہی تلوار میں صفائی کی ہے\nاس کوچے کی راہ نعش میری جاوے\nواں میرؔ بہت میں نے گدائی کی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D8%AA%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%91%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "لوٹ لے سرمایۂ دل لوٹ لے", "poet_page": "مصنف:راج بہادر سکسینہ اوجؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل > تصویر خیال (1933)", "year": "1933", "text_ur": "لوٹ لے سرمایۂ دل لوٹ لے\nاے فریب‌ چشم قاتل لوٹ لے\n\nمجھ سے فیاض محبت ہے کوئی\nکہہ رہا ہوں خود مرا دل لوٹ لے\n\nیہ تمنا ہے کہ کوئی راہزن\nکاروان منزل دل لوٹ لے\n\nلطف جب ہے تیری دزدیدہ نظر\nآنکھ ملتے ہی مرا دل لوٹ لے\n\nصورت پروانہ ہوں میں بزم میں\nمجھ کو تو اے شمع محفل لوٹ لے\n\nحسن کی آزادیوں کا ذکر کیا\nحسن اگر چاہے تو محفل لوٹ لے\n\nاوجؔ کی بھی کائنات جان و دل\nاو بت زہرہ شمائل لوٹ لے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%88%D9%B9_%D9%84%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D9%85%D8%A7%DB%8C%DB%82_%D8%AF%D9%84_%D9%84%D9%88%D9%B9_%D9%84%DB%92"} {"title": "لوٹا ہے مجھے اس کی ہر ادا نے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لوٹا ہے مجھے اس کی ہر ادا نے\nانداز نے ناز نے حیا نے\n\nدونوں نے کیا ہے مجھ کو رسوا\nکچھ درد نے اور کچھ دوا نے\n\nبے جا ہے تری جفا کا شکوہ\nمارا مجھ کو مری وفا نے\n\nپوشیدہ نہیں تمہاری چالیں\nکچھ مجھ سے کہا ہے نقش پا نے\n\nکیوں جور کشان آسماں سے\nمنہ پھیر لیا تری جفا نے\n\nدل کو مایوس کر دیا ہے\nبیگانہ مزاج آشنا نے\n\nدونوں نے بڑھائی رونق حسن\nشوخی نے کبھی کبھی حیا نے\n\nخوش پاتے ہیں مجھ کو دوست وحشتؔ\nدل کا احوال کون جانے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%88%D9%B9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%92"} {"title": "لوگ اپنے آپ کو مدہوش کیوں کرتے ہیں؟", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے مضامین", "year": "1942", "text_ur": "اس حقیقت کی کیا توضیح ہو سکتی ہے کہ لوگ ایسی اشیاء استعمال میں لاتے ہیں جو انہیں بے خود و مدہوش بنا دیں۔ مثال کے طور پر شراب، بیئر، چرس، گانجا، افیم، تمباکو اور دوسری چیزیں جو زیادہ عام نہیں مثلاً ایتھر، مارفیا وغیرہ وغیرہ۔ ان منشیات کا استعمال کیوں شروع ہوا؟ ان کا استعمال اتنی جلدی کیوں عام ہو گیا ہے۔ مہذب اور غیر مہذب لوگوں میں ان کی کھپت کیوں روز بروز بڑھ رہی ہے؟ یہ کیا بات ہے کہ جہاں شراب یا بیئر نہیں ملتی، وہاں افیم، گانجا اور چرس وغیرہ کا استعمال عام ہے اور تمباکو دنیا کے ہر کونے میں پیا جاتا ہے۔\n\nلوگ اپنے آپ کو مدہوش کیوں کرتے ہیں؟ آپ کسی سے یہ سوال پوچھئے کہ اس نے کیوں پینا شروع کی اور یہ کہ اب وہ کیوں پیتا ہے تو وہ غالباً یہ جواب دے گا، ’’شراب بڑی خوش گوار چیز ہے۔۔۔ اور پھر سبھی تو پیتے ہیں۔‘‘ شاید وہ یہ بھی کہے، ’’میں پیتا ہوں ا س لئے کہ مجھے اس سے فرحت حاصل ہوتی ہے۔‘‘ اور وہ لوگ جنہوں نے آج تک اس بات پر غور کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی کہ شراب بری چیز ہے یا اچھی۔ اپنے جواب میں یہ کہیں گے کہ وہ صحت قائم رکھنے کے لئے شراب پیتے ہیں۔۔۔ یہ ایک ایسا بیان ہے جو آج سے بہت عرصہ پہلے بے بنیاد ثابت ہو چکا ہے۔\n\nکسی تمباکو پینے والے سے پوچھئے کہ حضرت آپ نے کس ضرورت کے ماتحت تمباکو پینا شروع کیا اور اب آپ تمباکو کیوں پیتے ہیں۔ تو اس کا جواب بھی کچھ اس قسم کا ہوگا، ’’وقت کاٹنے کیلئے ہر شخص تمباکو پیتا ہے۔‘‘ وقت کاٹنے کے لئے، فرحت حاصل کرنے کے لئے۔۔۔ وقت کاٹنے کے لئے، فرحت حاصل کرنے کے لئے اگر کوئی اپنی انگلیاں چٹخائے، سیٹی بجائے، کچھ گنگنائے یا اسی قسم کی کوئی اور چیز کرئے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ ایسا کرنے سے نیچر کی دولت ضائع نہیں ہوتی اور نہ کوئی ایسی چیز ہی خرچ ہوتی ہے، جس کے بنانے پر بے شمار سرمایہ اور محنت صرف ہوئی ہو۔ اس کے علاوہ اس سے نہ اپنے آپ کو اور نہ دوسروں کو کوئی دکھ ہی پہنچتا ہے، لیکن تمباکو، چرس، شراب اور افیم بنانے پر لاکھوں آدمیوں کی محنت خرچ ہوتی ہے اور کروڑوں ایکڑ زمین بھنگ، پوست، انگور اور تمباکوکی کاشت کے لئے وقف کر دی جاتی ہے۔\n\nعلاوہ بریں یہ مسلمہ نقصان دہ چیزیں نہایت ہی خطرناک برائیاں پیدا کرنے کا موجب ہوتی ہیں اور لوگوں کو متعدی امراض اور جنگوں سے کہیں زیادہ تباہ و برباد کرتی ہیں۔ یہ تمام حقائق روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اس لئے ظاہر ہے کہ ان کا استعمال ’’وقت کاٹنے کے لئے، فرحت حاصل کرنے کے لئے‘‘ ہر گز ہر گز نہیں ہو سکتا اور نہ یہ بہانہ ہی چل سکتا ہے کہ’’ہر شخص پیتا ہے۔‘‘\n\nان کے استعمال کی کوئی اور ہی وجہ ہے۔ ہم ہر روز ایسے آدمیوں سے ملتے ہیں جو اپنے بال بچوں سے محبت کرتے ہیں اور جو ان کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں، لیکن وہ اس کے باوصف شراب، بھنگ، افیون یا چرس پر اتنا روپیہ خرچ کرتے ہیں جو ان کے غربت زدہ اہل و عیال کی حالت بہتر بنا سکتا ہے یا کم از کم ان کو افلاس سے نجات دلا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اہل و عیال کی ضروریات اور ان کی مشکلات پر مدہوش کرنے والی چیزوں کو ترجیح دیتا ہے تو کوئی اور ہی معقول وجہ کارفرما ہوتی ہے۔ یہاں ’’وقت کاٹنے، فرحت حاصل کرنے کے لئے اور ہر شخص پیتا ہے۔‘‘ کی دلیل عائد نہیں ہو سکتی۔ کوئی ٹھوس وجہ اس فعل کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ ٹھوس وجہ۔۔۔ جیسا کہ میں نے اس موضوع پر کتابیں پڑھ کر، دوسرے لوگوں کا مشاہدہ کر کے اور خاص طور پر اپنی اس حالت کا اندازہ کرنے کے بعد جب میں شراب اور تمباکو کو پیا کرتا تھا، سوچا ہے، مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کی جا سکتی ہے۔\n\nاگر کوئی شخص اپنی زندگی پر نظر کرے تو اکثر اوقات وہ اپنے اندر دو ہستیاں موجود پائے گا۔ ایک اندھی اور جسمانی ہے۔ دوسری بصارت کی مالک ہے، یعنی روحانی۔ اول الذکر اندھا حیوانی وجود کھاتا ہے، پیتا ہے، آرام کرتا ہے، سوتا ہے، بڑھتا ہے، حرکت کرتا ہے، بالکل کوک بھری مشین کے مانند اور روحانی وجود جو کہ دیکھتا ہے یعنی بصارت کا مالک ہے، حیوانی وجود سے بندھا ہوا ہے، یہ اپنے آپ کچھ نہیں کرتا۔ صرف اپنے ساتھی کی حرکات جانچتا رہتا ہے۔ جب یہ حیوانی وجود کے کسی عمل کو پسند کرتا ہے تو اس کے اندر گھل مل جاتا ہے اور جب یہ حیوانی وجود کے کسی عمل کو ناپسند کرتا ہے تو اس سے الگ ہو جاتا ہے۔\n\nاس مشاہدہ و ملاحظہ کرنے والے وجود کی تشبیہ کمپاس کی سوئی سے دی جا سکتی ہے۔ جس کا ایک سرا شمال کی طرف اور دوسرا سرا جنوب کی طرف رہتا ہے۔ ہم کو اصل سمت اور اس سوئی کا فرق صرف اسی صورت میں معلوم ہوتا ہے، اگر ہم غلط سمت جا رہے ہوں۔ ٹھیک اسی طرح روحانی وجود (جس کے اظہار کو ہم عام طور پر ضمیر کہتے ہیں) کا ایک سرا برائی کی طرف رہتا ہے اور دوسرا سرا اچھائی کی طرف، اس روحانی وجود کی موجودگی سے باخبر ہونے کے لئے ہمیں کوئی ایسا فعل کرنا پڑے گا، جو ضمیر کے خلاف ہو کیونکہ حیوانی وجود کا رخ اس مقام سے ہٹ جائے گا جس کی طرف ضمیر اشارہ کرتا رہتا ہے۔\n\nجس طرح وہ جہاز ران جو اس بات سے آگاہ ہو کہ وہ غلط رستے پر جا رہا ہے، جب تک کمپاس کے مطابق اپنا رخ ٹھیک نہ کر لے یا اپنی غلطی کے احساس کو قطعی طور پر مٹا دے، چپو نہیں چلا سکتا اور نہ بادبانوں ہی سے کام لے سکتا ہے، ٹھیک اسی طرح وہ انسان جو اپنے حیوانی وجود کی حرکات اور ضمیر کی آواز کی دوئی سے آگاہ ہو، صرف اس صورت میں اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے، اگر وہ اسے ضمیر کے مطالبات کے ساتھ ہم آہنگ و منضبط کر دے، یا پھر ان اشارات سے بالکل غافل ہو جائے جو ضمیر اس کے حیوانی وجود کی غلط روی پر اس تک پہنچاتا ہے۔ انسانی زندگی ان دو سرگرمیوں یا عامل قوتوں پر مشتمل ہے۔ ۱۔ اپنے افعال کو ضمیر کے ساتھ ہم آہنگ کرنا۔ ۲۔ ضمیر کی آواز پر اپنے کان بند کر لینا تاکہ حسب معمول زندگی بسر کی جا سکے۔\n\nبعض حضرات پہلی بات پر عمل کرتے ہیں اور بعض دوسری پر۔ اول الذکر بات صرف اخلاقی روشنی سے حاصل ہوتی ہے اور آخرالذکر بات کے لئے یعنی ضمیر کی آواز پر اپنے کان بند کر لینے کے لئے دو ذریعے ہیں۔ ایک خارجی اور ایک اندرونی۔ خارجی ذریعہ یہ ہے کہ خود کو ایسے مشاغل میں مصروف رکھا جائے جو ہماری توجہ ضمیر کے اشارات سے ہٹائے رکھیں اور اندرونی ذریعہ یہ ہے کہ خود ضمیر ہی کی روشنی کو آہستہ آہستہ گل کر دیا جائے اور اس میں اندھیرا پیدا کر دیا جائے۔ اپنے سامنے کی چیزوں کو نہ دیکھنے کے لئے انسان کے پاس دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ نگاہیں ہٹا کر کسی دوسری چیز کو دیکھنا شروع کر دیا جائے، جو زیادہ جاذب نظر ہوں اور دوسرا یہ کہ اپنی آنکھوں کی بصارت کو مسدود کر دیا جائے، اسی طرح انسان ضمیر کی آواز پر اپنے کان دو طریقوں سے بند کر سکتا ہے۔ پہلا طریقہ خارجی ہے یعنی یہ کہ وہ اپنی توجہ مختلف مشاغل، تفکرات، کھیلوں وغیرہ کی طرف مبذول کر دے اور دوسرا طریقہ اندرونی ہے یعنی یہ کہ وہ توجہ پیدا کرنے والے عضو ہی کو معطل کر دے۔\n\nان لوگوں کے لئے جن کی قوت احساس کند ہوتی ہے اور جن کے اخلاقی احساسات محدود ہوتے ہیں، بیرونی تفریحات اکثر اوقات اس بات کے لئے کافی ہوتی ہیں کہ وہ ضمیر کے اشارات نہ سمجھیں، لیکن ان لوگوں کے لئے جو اخلاقی طور پر کافی حساس ہوتے ہیں، ایسی تفریحات بالکل ناکافی ہوتی ہیں۔ بیرونی ذرائع پورے طور پر شعور اور ضمیر کی آواز کو نہیں دبا سکتے اور نہ وہ شعور کے مطالبات ہی سے ہمیں قطعی طورپر غافل کر سکتے ہیں۔ اس لئے ظاہر ہے کہ یہ احساس، یہ شعور ہماری زندگی میں روڑے اٹکانا شروع کر دیتا ہے۔ اب وہ لوگ جو اپنے دن حسب سابق گزارنا چاہتے ہیں، اندرونی قابل اعتماد طریقے کو استعمال کرتے ہیں۔ یعنی یہ کہ ضمیر ہی کو تاریک بنا دیا جائے، چنانچہ اس کام کے لئے وہ دماغ کو مدہوش بنانے والی چیزوں سے زہر آلود کرتے ہیں۔\n\n(۲)\n\nشراب، افیم، چرس، بھنگ اور تمباکو کا عالمگیر استعمال اس لئےنہیں ہوتا کہ یہ چیزیں فرحت یا دل بستگی کا سامان مہیا کرتی ہیں، بلکہ ان کا استعمال صرف اس لئے کیا جاتا ہے کہ ضمیر کے مطالبات سے خود کو چھپا لیا جائے۔\n\nمیں ایک روز بازار میں جا رہا تھا۔ میرے پاس سے دو گاڑیبان گزر رہے تھے۔ ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا، ’’بے شک جب ہم ہوش میں ہوں تو ایسا کرتے ہوئے ہمیں شرم محسوس ہوتی ہے۔‘‘ جب آدمی ہوش میں ہو تو اسے کوئی خاص کام کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے اور جب وہ شراب میں مخمور ہو تو اسے وہی کام ٹھیک معلوم ہوتا ہے۔ ان الفاظ میں وہ وجہ پوشیدہ ہے جو انسانوں کو مدہوش بنانے والی اشیاء کی طرف راغب کرتی ہے، لوگ ان اشیاء کو یا تو ا س لئے استعمال کرتے ہیں کہ شرم کے ان احساسات کو دبا دیں جو کسی غلط کام کرنے پر پیدا ہوتے ہیں یا پہلے ہی سے خود پر ایسی حالت طاری کر لیں جس میں وہ ضمیر کے خلاف کام کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ اپنے حیوانی وجود کی اطاعت کر سکتے ہیں۔\n\nہوش کی حالت میں مرد ویشیا کے مکان پر جانے سے ڈرتا ہے۔ چوری کرنے سے خوف کھاتا ہے اور کسی کو قتل کرنے کی جرأت نہیں کرتا، لیکن یہ تمام کام کرتے ہوئے شرابی کو کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ ثابت ہوا کہ اگر کوئی آدمی اپنے ضمیر کے خلاف کام کرنا چاہے تو اسے خود کو مدہوش کرنا پڑتا ہے۔ مجھے اس باورچی کا بیان یاد آ جاتا ہے جس نے میری ایک بوڑھی رشتہ دار کو قتل کر دیا تھا۔ اس نے عدالت میں کہا تھا کہ جب اس نے اپنی داشتہ (ایک نوکرانی) کو باہر بھیج دیا اور کام کرنے کا وقت قریب آ گیا تو اس نے چاقو لے کر کمرۂ خواب میں جانا چاہا، لیکن اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ ہوش کی حالت میں وہ یہ کام نہیں کر سکے گا، چنانچہ وہ لوٹا اور ’’وودکا‘‘ کے دو گلاس پینے کے بعد اس نے خود کو قتل کے لئے بالکل تیار پایا، چنانچہ اس نے کمرے میں جا کر بڑھیا کو ہلاک کر دیا۔ یہاں اسی گاڑیبان کی بات یاد آجاتی ہے کہ ’’جب ہم ہوش میں ہوں تو ایسا کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔‘‘\n\nدس میں سے نو جرم اسی طریقے پر کئے جاتے ہیں، یعنی اس بات پر عمل کیا جاتا ہے، ’’ہمت حاصل کرنے کیلئے شراب پیو۔‘‘ وہ عورتیں جو اپنی عصمت کھوتی ہیں، ان میں سے پچاس فیصدی ایسی ہوتی ہیں جو شراب کے نشے میں اپنی زندگی کا بہترین زیور اتار کر پھینک دیتی ہیں۔ ویشیاؤں کے ہاں اکثر وہی لوگ جاتے ہیں جو شرابی ہوں، چونکہ لوگ شراب کے اس اثر سے واقف ہیں کہ یہ ضمیر کی آواز بالکل دبا دیتی ہے، ا س لئے وہ اسے جان بوجھ کر اسی کام کے لئے پیتے ہیں۔ لوگ صرف اپنے ضمیر ہی کی آواز دبانے کیلئے شراب نہیں پیتے بلکہ دوسروں کو بھی اپنے ضمیر سے غافل کرنے کے لئے شراب پلاتے ہیں۔ جنگ میں دو بدو لڑائی کے وقت فوجیوں کو عام طور پر شراب پلائی جاتی ہے۔ سبستوپول پر جب فرانسیسی فوجیوں نے حملہ کیا تھا تو وہ سب کے سب مخمور تھے۔\n\nجب کسی جگہ پر قبضہ کیا جاتا ہے اور فوجی وہاں کے بے یارومددگار بچوں اور بوڑھوں کو مارنے سے انکار کر دیتے ہیں تو عام طور پر ان کو شراب سے مدہوش کرنے کے احکام جاری کئے جاتے ہیں، مخموری کی حالت میں وہ اس کام کے لئے تیار ہو جاتے ہیں جو ان سے چاہا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کی کئی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے کوئی غلط کام کرنے کے بعد شراب نوشی شروع کی۔ چونکہ وہ اپنی ندامت دور کرنا چاہتے تھے، اس لئے انہوں نے خود کو مدہوش بنانا شروع کر دیا اور پھر سب لوگ جانتے ہیں کہ وہ لوگ جو بری زندگی بسر کرتے ہیں، منشیات کی طرف جلد راغب ہوتے ہیں۔ چور اچکے رہزن اور ویشیائیں بغیر شراب کے زندہ نہیں رہ سکتیں۔\n\nہر شخص یہ جانتا ہے اور تسلیم کرتا ہے کہ مدہوش بنانے والی چیزوں کا استعمال باعث ہے ضمیر کی ٹیسیں، اور یہ کہ زندگی کے غیر اخلاقی رستوں پر چلتے وقت مدہوش بنانے والی اشیاء کا استعمال صرف اس لئے کیا جاتا ہے کہ ضمیر کو کند بنا دیا جائے اور یہ بھی ہر شخص پر واضح ہے کہ مدہوش بنانے والی چیزوں کا استعمال ضمیر کو کند بنا دیتا ہے اور یہ کہ مخموری کی حالت میں آدمی وہ فعل بھی کر گزرتا ہے، جو ہوش کی حالت میں وہ کبھی نہیں کر سکتا، بلکہ یوں کہئے کہ جس کا اسے کبھی قیاس بھی نہیں ہوگا۔ ہر شخص ان باتوں کو تسلیم کرتا ہے، مانتا ہے لیکن جب مدہوش بنانے والی اشیاء چوری چکاری، قتل و غارت یا تشدد پر منتج نہیں ہوتیں، جب ان کو کسی بھیانک جرم کے بعد استعمال نہیں کیا جاتا، جب ان کو ایسے لوگ استعمال میں لاتے ہیں جو مجرم نہیں ہوتے اور جب ایسی چیزیں تھوڑی تھوڑی مقدار میں استعمال کی جاتی ہیں تو عام طور پر کسی وجہ سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مدہوش بنانے والی اشیاء ضمیر کو کند نہیں بناتیں۔ چنانچہ اسی خیال کہ ماتحت یہ کہا جاتا ہے کہ تھوڑی مقدار میں شراب، بیئر، افیون وغیرہ صرف فرحت حاصل کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں اور یوں ان کا ضمیر پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔\n\nکہا جاتا ہے کہ جب معمولی مدہوشی کے بعد کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا جاتا، نہ چوری کی جاتی ہے اور نہ قتل کیا جاتا ہے، تو وہ بیہودہ اور فضول حرکات جو عام طور پر دیکھنے میں آتی ہیں، ان کا مدہوشی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ وہ خود بخود وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ جب یہ لوگ جرائم سے متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتے، تو انہیں اپنے ضمیر کی آواز دبانے کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں ہو سکتی اور یہ کہ وہ زندگی جو منشیات کے عادی بسر کرتے ہیں، بڑی اچھی زندگی ہوتی ہے اور اگر وہ اس عادت کو چھوڑ دیں تو بھی ان کی زندگی ویسی ہی اچھی رہ سکتی ہے۔ یہ بھی فرض کر لیا گیا ہے کہ مدہوش بنانے والی چیزوں کا متواتر و مسلسل استعمال ان کے ضمیر کو قطعی طور پر تاریک نہیں بناتا۔\n\nگوہر شخص تجربے کی بنا پر جانتا ہے کہ شراب اور تمباکو سے انسان کے دل و دماغ کی ہئیت تبدیل ہو جاتی ہے، ان چیزوں کے استعمال سے ان افعال پر شرم محسوس نہیں ہوتی، جن پر ہوش کی حالت میں ہونی چاہیئے۔ ضمیر کی ہر چٹکی پر انسان کسی مدہوش بنانے والی چیز کی طرف رجوع کرتا ہے۔ نشے کی حالت میں اپنی زندگی اور اپنے حالات کا اندازہ نہیں کر سکتا، منشیات کا باقاعدہ اور مسلسل استعمال وہی نفسیاتی خلل پیدا کرتا ہے جو ان کا غیر معتدل اور بے قاعدہ استعمال پیدا کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کو جو تمباکو اور شراب اعتدال سے پیتے ہیں، یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ منشیات اپنے ضمیر کو کند بنانے کے لئے استعمال نہیں کرتے بلکہ صرف ذائقے اور فرحت کے لئے استعمال میں لاتے ہیں۔\n\nلیکن ان لوگوں کو غیر جانب دارانہ طریقے پر بڑی متانت اور سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلے پر غور کرنا چاہیئے۔۔۔ ایسے نہیں سوچنا چاہیئے گویا سر کی بلا ٹال دی گئی ہے بلکہ اس کو سمجھنا چاہیئے۔ اولاً یہ کہ جب منشیات زیادہ مقدار میں باقاعدہ استعمال کی جائیں تو ضمیر کو کند بنا دیتی ہیں تو ان کا تھوڑی مقدار میں باقاعدہ استعمال بھی ایسے ہی نتائج پیدا کرتا ہوگا، ثانیاً یہ کہ تمام منشیات، ضمیر کو کند بنانے کی خاصیت رکھتی ہیں، دونوں حالتوں میں ان کی یہ خاصیت برقرار رہتی ہے، خواہ ان کے اثر کے تحت ایسے الفاظ زبان پر آئیں، یا ایسے احساسات دل میں پیدا ہوں جو ہوش کی حالت میں پیدا نہیں ہونے چاہیئے تھے اور ثالثاً یہ کہ اگر چوروں، ڈاکوؤں اور ویشیاؤں کو اپنے ضمیر کند کرنے کے لئے منشیات کی حاجت ہوتی ہے تو ان لوگوں کو بھی جو اپنے ضمیر کے خلاف کوئی کام یا پیشہ اختیار کرتے ہیں (خواہ یہ کام اور پیشے آپ کے نزدیک بڑے باوقار اور موزوں ترین ہوں) ان چیزوں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔\n\nمختصر الفاظ میں ہم اس حقیقت سے ہر گز ہر گز انکار نہیں کر سکتے کہ منشیات کا استعمال خواہ وہ تھوڑی مقدار میں اور باقاعدہ ہو، یا زیادہ مقدار میں اور بے قاعدہ، اونچے طبقے میں ہو یا نچلے طبقے میں، صرف ایک ہی ضرورت کے ماتحت عمل میں آتا ہے اور وہ ضرورت ضمیر کی آواز کو دبانے کی ہے تاکہ راستے میں کوئی حائل نہ ہو۔\n\n(۳)\n\nصرف ان چند الفاظ میں منشیات و مسکرات اور تمباکو (جو عام پیا جاتا ہے اور جو سب سے زیادہ مضرت رساں ہے) کے عالمگیر استعمال کا راز پوشیدہ ہے۔ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ تمباکو تازگی بخشتا ہے، خیالات کو صاف کرتا ہے اور لوگوں کی توجہ اپنی طرف ایسے ہی مبذول کرتا ہے جیسے دوسری چیزیں اور یہ کہ شراب کے مانند اس کا ضمیر پر کچھ اثر نہیں پڑتا، لیکن اگر بڑے غور سے ان حالتوں کا مشاہدہ و مطالعہ کیا جائے جن میں تمباکو پینے کی خواہش پیدا ہوتی ہے تو آپ پر واضح ہو جائے گا کہ ضمیر پر تمباکو کا وہی اثر ہوتا ہے جو شراب کا ہوتا ہے، اگر تمباکو واقعی تازگی بخشنے یا خیالات صاف کرنے والا ہوتا تو اس کی شدید طلب ہر گز ہر گز پیدا نہ ہوتی۔ ایسی طلب جو خاص خاص مواقع پر نمودار ہو اور لوگ یہ ہر گز ہر گز نہ کہتے کہ ہم بھوکے رہ سکتے ہیں، لیکن تمباکو ضرور پئیں گے۔\n\nاس باورچی نے جس نے اپنی مالکہ کو قتل کر دیا تھا، کہا تھا کہ جب کمرۂ خواب میں داخل ہو کر اس نے بڑھیا کے گلے پر چھری پھیر دی اور خون کے فوارے چھوٹنے لگے تو اس کی ہمت، اس کی طاقت جواب دے گئی، ’’میں اپنا کام پوری طرح ختم نہ کر سکا۔‘‘ اس نے عدالت میں بیان دیا، ’’ چنانچہ کمرے سے باہر نکل کر میں نے سگریٹ سلگایا۔‘‘ سگریٹ پی کر اور خود کو مدہوش کرنے کے بعد وہ اس قابل ہوا کہ واپس جا کر بڑھیا کے سر کو تن سے جدا کر دے، ظاہر ہے کہ اس وقت اس کے دل میں سگریٹ پینے کی خواہش اس لئے پیدا نہ ہو ئی کہ وہ اپنے خیالات کو صاف کرنا چاہتا تھا یا فرحت حاصل کرنا چاہتا تھا، بلکہ اس وقت اس کو اپنی وہ چیز کند بنانا تھی، جو اس برے کام کی تکمیل سے روک رہی تھی۔\n\nہر تمباکو نوش تھوڑے سے غورو فکر کے بعد معلوم کر سکتا ہے کہ ایسے خاص لمحات آتے ہیں جب وہ خود کو تمباکو سے مدہوش بنانا چاہتا ہے، ان دنوں کو پیش نظر رکھ کر جب میں تمباکو پیا کرتا تھا، آپ کو ایک واقعہ بتاتا ہوں، جب مجھے اس کی طلب محسوس ہوا کرتی تھی۔ عام طور پر میں ایسے لمحات میں تمباکو پیا کرتا تھا جب کسی بات کی یاد کو فراموش کر دینا چاہتا تھا۔ جب میں کسی چیز کو بھول جانا چاہتا تھا یا سرے ہی سے غور و فکر کرنا نہیں چاہتا تھا۔\n\nمیں بے کار بیٹھا ہوتا تھا۔ مجھے معلوم ہوتا تھا کہ مجھے کام کرنا ہے، لیکن چونکہ میں ایسے ہی بے کار بیٹھا رہنا چاہتا تھا اس لئے میں تمباکو پینا شروع کر دیتا تھا۔ میں نے کسی کے ساتھ وعدہ کیا ہوتا تھا کہ میں اس کے یہاں پانچ بجے ضرور آؤں گا لیکن جب یہ وعدہ پورا نہ ہوتا تو اس کے احساس کو بھلانے کے لئے میں تمباکو پینا شروع کر دیتا تھا۔ طبیعت میں چڑچڑے پن کے باعث میں اگر کسی کو ناخوشگوار کلمات کہہ دیتا تو اس غلطی کے احساس کو دور کرنے کے لئے پائپ سلگا لیا کرتا تھا۔ تاش کھیلنے کے دوران میں اگر میں توقع سے زیادہ رقم ہار جاتا تو تمباکو پینا شروع دیتا تھا۔ مجھ سے اگر کوئی بری حرکت سرزد ہو جاتی تھی اور اس کا اعتراف کرنے کو جی نہیں چاہتا تھا تو پائپ پینے لگ جاتا تھا اور دوسروں کو قصور وار ٹھہرانا شروع کر دیتا تھا۔\n\nکوئی مضمون لکھتے وقت اگر مجھے پوری طرح تسکین حاصل نہیں ہوتی تھی اور ہونا یہ چاہیئے تھا کہ میں لکھنا ترک کر دوں، لیکن میں زبردستی اس مضمون کو ختم کرنا چاہتا تھا، اس لئے میں تمباکو نوشی شروع کر دیتا تھا۔ کسی سے گفتگو کرتے وقت اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کی بات کو نہیں سمجھ رہے، لیکن چونکہ میں اپنی رائے کا اظہار جاری رکھنا چاہتا تھا، اس لئے میں تمباکو پینا شروع کر دیتا تھا۔\n\nتمباکو اور دوسری مدہوش بنانے والی چیزوں میں یہ امتیازی فرق ہے کہ اس کے ذریعے ہم بڑی آسانی کے ساتھ خود کو مدہوش بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کا بظاہر بالکل بے ضرر اور نقل پذیر ہونا ہے۔ افیم بھنگ اور شراب وغیرہ استعمال کرنے کے لئے ابتدائی تیاریاں کرنا پڑتی ہیں اور دیگر لوازمات کی بھی ضرورت ہوتی ہے مگر تمباکو ہر وقت جیب میں رکھا جا سکتا ہے اور اس کے پینے کے لئے اور لوازمات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ شراب اور گانجا پینے والوں کو دیکھ کر عام طور پر لوگ ہیبت زدہ ہوجاتے ہیں، لیکن تمباکو پینے والے اس قسم کی کیفیت پیدا نہیں کرتے۔ لوگ ان سے دور ہٹنے کی کوشش نہیں کرتے۔\n\nشراب افیون اور گانجا وغیرہ تمام حسیات پر اثرانداز ہوتے ہیں اور یہ اثر دیر تک قائم رہتا ہے مگر تمباکو سے ایسا نہیں ہوتا۔ آپ کوئی ایسا کام کرنا چاہتے ہیں جو آپ کو نہیں کرنا چاہیئے تو آپ سگریٹ پی کر خود کو بقدر ضرورت مدہوش بنا لیتے ہیں، اس کے بعد آپ پھر ہوش میں آجاتے ہیں اور اچھی طرح سوچنے لگتے ہیں۔ یا فرض کر لیا جائے کہ آپ نے کوئی ایسا کام کیا ہے، جو آپ کو نہیں کرنا چاہیئے تھا تو آپ سگریٹ پیتے ہیں اور اس غلطی کے احساس کو مٹا کر کوئی اور کام کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ تمباکو نہ کسی طلب کو پورا کرنے کے لئے اور نہ وقت کاٹنے کے لئے پیا جاتا ہے، بلکہ صرف اپنا ضمیر کند بنانے کے لئے پیا جاتا ہے اور کیا ان تمام امور سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انسان کی زندگی اور اس کے دل میں تمباکو پینے کی خواہش کے درمیان ایک گہرا رشتہ ہے۔\n\nلڑکے کب تمباکو پینا شروع کرتے ہیں۔۔۔؟ عام طور پر اس وقت جب وہ اپنے بچپن کی معصومیت کھو دیتے ہیں۔ یہ کیا بات ہے جب انسان اپنی زندگی کے اخلاقی راستوں پر گامزن ہوتا ہے تو وہ تمباکو کی عادت ترک کر دیتا ہے اور جب ان راستوں سے ہٹ جاتا ہے تو پھر تمباکو پینا شروع کر دیتا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ سب قمار باز تمباکو کے عادی ہوتے ہیں؟ وہ عورتیں جو ہموار زندگی بسر کرتی ہیں، کیوں بہت کم تمباکو پیتی ہیں؟ ویشیائیں اور دیوانے سب کے سب تمباکو کے عادی کیوں ہوتے ہیں۔۔۔؟ عادت عادت ہے، لیکن تمباکو نوشی یقیناً ضمیر کو کند بنانے والی خواہش سے متعلق ہے اور اس سے یہ خواہش پوری ہوتی ہے۔\n\nعام طورپر کہا جاتا ہے (میں خود بھی یہی کہا کرتا تھا) کہ تمباکو پینے سے دماغی کام اچھی طرح ہوتا ہے، اگر ہم دماغی کام کی مقدار کو پیش نظر رکھیں تو یہ بیان بلاشک و شبہ صداقت پر مبنی ہے۔ وہ شخص جو تمباکو پیتا ہے اور جو انجام کار اپنے خیالات کو جانچنے اور پرکھنے کی قوت کھو دیتا ہے، عام طور پر یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے دماغ میں بے شمار خیالات آ رہے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس کے دماغ میں واقعی بے شمار خیالات آ رہے ہیں۔ در اصل بات یہ ہوتی ہے کہ اسے اپنے خیالات پر قابو نہیں رہتا اور وہ غلط نتیجہ مرتب کر لیتا ہے۔\n\nجب آدمی کام کرنے لگے تو اسے اپنے اندر دو وجودوں کا احساس ہوتا ہے۔ ایک وہ وجود جو کام کرتا ہے اور دوسرا وہ جو جانچتا رہتا ہے۔ یہ جانچ جس قدر کڑی ہوگی، اسی قدر کام سست رفتاری سے، مگر اچھا اور پختہ ہوگا اور اگر یہ جانچ پڑتال کمزور ہوگی تو کام جلدی مگر خام ہوگا۔ جب کام کرنے والے پر مدہوشی طار ی ہوتی ہے تو کام کی مقدار بڑھ جاتی ہے، مگر اس میں اچھائی پیدا نہیں ہوتی۔\n\nلوگ عام طور پر کہتے ہیں، ’’اگر میں تمباکو نہ پیوں تو لکھ ہی نہیں سکتا۔ شروع کرتا ہوں مگر لکھ ہی نہیں سکتا۔۔۔‘‘ میں بھی یہی کہا کرتا تھا، لیکن سوچنا یہ ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ میرا خیال یہ ہے کہ اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ آپ لکھنا ہی نہیں چاہتے ہیں، پھر یہ ہونا چاہیئے کہ آپ کے شعور میں لکھنے کی خواہش ابھی تک خام ہے، اس کی صرف دھندلی سی صورت آپ کی نظروں کے سامنے آ رہی ہے۔ جس کی خبر آپ کے اندر والا نقاد بشرطیکہ وہ مدہوش نہ ہو، آپ کو پہنچا دیتا ہے، اگر آپ تمباکو نہ پئیں تو آپ یقیناً یا تو لکھنے کا خیال ہی چھوڑ دیں گے یا پھر اس دھندلے خیال کی تہ تک پہنچنے کی کوشش کریں گے تاکہ وہ پختگی اختیار کرئے اور آپ کی نظروں کے سامنے صحیح شکل میں آ جائے۔ لیکن اگر آپ نے تمباکو پی لیا تو آپ کے اندر والا نقاد مدہوش ہو جائے گا اور وہ روک جو آپ کے راستے میں تھی ہٹ جائے گی۔ تمباکو پینے سے پہلے جو خیال آپ کو بالکل مبہم اور فضول نظر آتا تھا، تمباکو پینے کے بعد اہمیت اختیار کر لیتا ہے، وہ رکاوٹیں جو آپ کے راستے میں حائل تھیں، دور ہو جاتی ہیں۔ آپ لکھنا شروع کر دیتے ہیں اور زیادہ تیزی کے ساتھ۔۔۔!\n\n(۴)\n\nلیکن کیا معمولی اور حقیر سانشہ جو شراب اور تمباکو کے معتدل استعمال سے پیدا ہوتا ہے، اہم نتائج کا باعث ہوتا ہے؟ اگر کوئی شخص گانجا اور شراب پی کر گر پڑے اور اپنے حواس کھودے تو یقیناً اہم نتائج پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن اگر تمباکو اور گانجا وغیرہ تھوڑی سی مقدار میں استعمال کیا جائے جو معمولی نشہ پیدا کرے تو اس سے خطرناک نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔۔۔ یہ بیان عام طور پر سننے میں آتا ہے اور فرض کر لیا گیا ہے کہ معمولی سی مدہوشی برا اثر پیدا نہیں کرتی، یہ تو ایسا ہی ہے، اگر یہ خیال کر لیا جائے کہ پتھر پر گھڑی کو پٹک دینے سے اس کو نقصان پہنچے گا، لیکن معمولی سا گرد و غبار اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔\n\nیہ خیال رکھنا چا ہیئے کہ انسان کی زندگی کو وہ کام حرکت یا اکساہٹ نہیں بخشتا جو ہاتھوں پیروں یا پیٹھ سے کیا جائے بلکہ وہ کام حرکت بخشتا ہے جو ضمیر کرے۔ ہاتھوں اور پیروں سے اگر کوئی کام شروع کیا جائے تو شعوری احساس میں رد و بدل کا ہونا ضروری ہے اور یہی رد و بدل بعد کی حرکات کو واضح اور ممیز کرتا ہے، حالانکہ یہ بالکل معمولی اور ناقابل ادراک ہوتا ہے۔\n\nبرولوف (روس کا ایک مشہور و معروف مصور۔ ۱۸۵۲۔ ۱۷۹۹) نے ایک روز اپنے شاگرد کی کھینچی ہوئی تصویر کی اصلاح کی۔ اصلاح شدہ تصویر کو دیکھ کر شاگرد ایکا ایکی بول اٹھا، ’’آپ نے برش سے صرف چھوٹے چھوٹے نشان بنائے لیکن اس میں جان پیدا کر دی۔‘‘ برولوف نے جواب دیا، ’’آرٹ وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے یہ چھوٹے چھوٹے نشان شروع ہوتے ہیں۔‘‘ برولوف کا کہنا بالکل درست ہے۔ صرف آرٹ ہی کے بارے میں نہیں بلکہ تمام زندگی پر اس کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ ہم بلاخوف تردید کہہ سکتے ہیں کہ صحیح زندگی کا آغاز وہیں سے ہوتا ہے، جہاں سے ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ہوتا ہے، جہاں ہمارے قیاس کے مطابق ناقابل ادراک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اصل زندگی وہاں بسر نہیں کی جاتی جہاں بڑے بڑے خارجی انقلاب آتے ہیں، جہاں لوگ چلتے پھرتے ہیں، لڑتے ہیں اور ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں۔۔۔ بلکہ وہاں بسر کی جاتی ہے جہاں بالکل ننھی ننھی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔\n\nننھی ننھی تبدیلیاں۔۔۔ لیکن ان ہی سے نہایت ہولناک اور نہایت اہم نتائج وابستہ ہوتے ہیں۔ کسی کام کا ارادہ کرنے سے لے کر اس کے کر گزرنے تک بہت سی مادی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔۔۔ گھر کے گھر تباہ و برباد ہو سکتے ہیں، دھن دولت کا ستیاناس ہو سکتا ہے اور انسانوں کی غارت گری عمل میں آ سکتی ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم چیز وہ ہے جو انسان کے شعور میں چھپی ہوئی ہے۔ امکان یعنی ہو سکنے کی تحدید شعور ہی کرتا ہے۔\n\nشعور کے اندر چھوٹی سے چھوٹی تبدیلی بھی ناقابل قیاس نتائج پیدا کرنے کا موجب ہو سکتی ہے۔ آپ کہیں یہ نہ سمجھ لیں کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں، اس کا انسان کی اختیاری قوت یا عقیدہ جبر یعنی جبریت سے کوئی تعلق ہے۔ اس پر بحث کرنا بالکل فضول ہے۔ اس سوال کا فیصلہ کئے بغیر کہ آیا انسان اپنی خواہش کے مطابق کام کر سکتا ہے یا نہیں (یہ سوال میرے نزدیک درست نہیں ہے) میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب انسانی سرگرمیاں اور شعور کی خفیف ترین تبدیلیاں لازم و ملزوم ہیں تو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے (ہم اختیاری قوت کی موجودگی کو تسلیم کریں یا نہ کریں) کہ ہم خاص طور پر ان حالات کا جائزہ لیں جن کے تحت یہ خفیف ترین تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کوئی چیز تولتے وقت ہمیں ترازو کے پلڑوں کا خاص طور پر دھیان رکھنا پڑتا ہے۔\n\nہمیں حتی الامکان اس بات کی کوشش کرنا چا ہیئے کہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو ایسے حالات سے دور رکھیں جو خیال کی اس نزاکت اور صفائی پر اثر انداز ہوتے ہوں، جن کے بغیر شعور اپنا کام صحیح طور پر نہیں کر سکتا۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں منشیات کا استعمال ہر گز ہر گز نہیں کرنا چاہیئے۔ اس لئے کہ وہ ضمیر و شعور کے کام میں رخنہ اندازی کرتا ہے۔ چونکہ انسان بیک وقت روحانی اور حیوانی مخلوق ہے، اس لئے ہو سکتا ہے کہ وہ کبھی ان اشیاء سے متاثر ہو جائے جو اس کی روحانی فطرت پر اثرانداز ہوتی ہیں اور کبھی ان اشیاء سے متاثر ہو جائے جو اس کی حیوانی فطرت پر اثر انداز ہوتی ہیں جیسا کہ کلاک سوئیوں کے ذریعے سے بھی متحرک ہو سکتا ہے اور بڑے پہیے کے ذریعے سے بھی حرکت میں آ سکتا ہے۔ جس طرح بہتر صورت یہ ہے کہ کلاک کو اس کی اندرونی مشینری کے ذریعے سے منضبط کیا جائے۔ ٹھیک اسی طرح انسان خود کو ضمیر باشعور ہی کے ذریعے سے باضابطہ بنا سکتا ہے۔\n\n(۵)\n\nلوگ وقتی طور پر اداسی دور کرنے کے لئے یا فرحت حاصل کرنے کے لئے شراب نہیں پیتے اور نہ وہ ا س لئے پیتے ہیں کہ یہ خوش گوار شے ہے بلکہ اپنے اندر اپنے ضمیر کی آواز غرق کرنے کے لئے پیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے بہت ہولناک نتائج برآمد ہوتے ہوں گے۔ ذرا اسی عمارت کے نقشے کا تصور کیجئے جس کی دیواریں اور کونے ضروری آلات کی مدد کے بغیر تیار کئے گئے ہوں گے۔ کیا ایسی عمارت پائیدار ہو سکتی ہے؟ لیکن لوگ پھر بھی اپنے آپ کو مدہوش کرتے ہیں۔ جب زندگی ضمیر کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتی تو ضمیر کو توڑ مروڑ کر اس کے ساتھ منضبط کر دیا جاتا ہے۔\n\nضمیر کو مدہوش بنانے کی صحیح اہمیت معلوم کرنے کے لئے آپ اپنی زندگی کے ہر دور کے روحانی لمحات کو پیش نظر ر کھیئے۔ آپ کو یاد آ جائے گا کہ ہر دور میں آپ کے سامنے کوئی نہ کوئی اخلاقی سوال تھا، جس کو آپ حل کرنا چاہتے تھے اور جس کے حل ہونے سے آپ کی زندگی کی بہتری وابستہ تھی۔ اس سوال کو حل کرنے کے لئے توجہ کے اجتماع و ارتکاز کی ضرورت تھی، ہر محنت و مشقت سے متعلقہ کام کرنے میں اور خاص طور پر اس کے شروع کرتے وقت ا یسے لمحات آتے ہیں، جب یہ مشکل اور تکلیف دہ معلوم ہوا کرتا ہے اور جب انسانی کمزوری یہ خواہش پیدا کرتی ہے کہ اس کو چھوڑ دیا جائے۔ جسمانی کام تکلیف دہ معلوم ہوتا ہے اور دماغی کام اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے، جیساکہ ژونگ کہتا ہے کہ لوگ عام طور پر اس وقت سوچنا بند کر دینا چاہتے ہیں، جب کوئی خیال مشکل محسوس ہوتا ہے، لیکن میں کہوں گا کہ یہیں جہاں سے یہ مشکل شروع ہوتی ہے، سوچنا یعنی غور و فکر بارآور ہونا شروع ہوتا ہے۔\n\nجب آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے پیش نظر سوالات کے تصفیے پر محنت صرف ہوگی جو عام طور پر تکلیف دہ ہوتی ہے تو اس کے دل میں اس الجھن سے نجات حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے، اگر اس کے پاس خود کو مدہوش بنانے والے ذرائع نہ ہوتے تو وہ اپنے ضمیر سے ان سوالات کو کبھی خارج نہ کر سکتا، جو اس کے درپیش تھے، لیکن چونکہ اس کو ایسے ذرائع معلوم نہیں جن سے ان خیالات کو بھگایا جا سکتا ہے، اس لئے وہ بوقت ضرورت انہیں استعمال کرتا ہے۔\n\nجونہی حل طلب سوالات اس کو دق کرنا شروع کرتے ہیں، دکھ دینے لگتے ہیں، وہ جھٹ سے ان ذرائع کی طرف رجوع کرتا ہے اور ان تکلیف دہ سوالوں کی پیدا کردہ پریشانی سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ضمیر ان سوالوں کا حل طلب کرنا بند کر دیتا ہے اور یہ غیر حل شدہ سوال آئندہ روحانی لمحات تک غیر حل شدہ رہتے ہیں اور جب یہ لمحات آتے ہیں تو پھر وہ انہی ذرائع کو استعمال کرتا ہے اور انجام کا ر وہ اپنی زندگی اسی طرح گزار دیتا ہے اور اخلاقی سوالات جو اس کے درپیش تھے، ویسے کے ویسے حل طلب رہتے ہیں۔ حالانکہ ان سوالات کے حل ہونے ہی میں زندگی کی ساری حرکت پوشیدہ ہے۔ ایسے لوگوں کی مثال بالکل اس انسان کے مانند ہے، جو گدلے پانی کے پاس کھڑا ہو اور اس کے اندر داخل ہو کر موتی نکالنے سے گھبراتا ہو، چنانچہ بار بار جب کہ پانی پرسکون اور شفاف ہونے لگے تو وہ اسے ہلا کر پھر گدلا بنا دے۔\n\nاگر آپ اس زمانے کو پیش نظر رکھیں جب آپ تمباکو اور شراب پیا کرتے تھے یا دوسرے پینے والوں کے متعلق اپنے تجربے پر نظر کریں تو آپ کو منشیات کے عادی لوگوں اور منشیات سے پرہیز کرنے والوں کے درمیان ایک مستقل منقسم لکیر نظر آئے گی۔ لوگ جس قدر زیادہ منشیات کو استعمال کریں گے، اسی قدر وہ اخلاقی طور پر غیر حساس ہوتے چلے جائیں گے۔\n\n(۶)\n\nجیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے افیم اور گانجا کے نتائج بڑے ہولناک ہوتے ہیں۔ جیساکہ ہم جانتے ہیں پکے شرابیوں کے لئے شراب نہایت مہلک نتائج کا موجب ہوتی ہے اور اس سے زیادہ شراب، بیئر، تمباکو وغیرہ کا معتدل استعمال جو بالکل بے ضرر سمجھا جاتا ہے، ہماری سوسائٹی کے لئے ہولناک نتائج کا باعث ہوتا ہے۔ نتائج فطری طور پر ہولناک اور خطرناک ہونے چاہئیں، اس حقیقت کے پیش نظر کہ سوسائٹی کی معاشرتی، فکری، سائنٹیفک، ادبی اور فنی سرگرمیاں زیادہ تر ان لوگوں سے متعلق ہیں جو غیر معتدل ہوتے ہیں یعنی جو شراب پیتے ہیں۔\n\nعام طور پر فرض کر لیا جاتا ہے کہ وہ لوگ جو کھانا کھانے کے بعد شراب پیتے ہیں دوسرے روز کام کے اوقات میں بالکل ٹھیک اور معتدل حالت میں ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ وہ لوگ جو شراب، بیئر یا کسی اور نشیلی چیز کے ایک دو گلاس پیتے ہیں، دوسرے دن ان پر غنودگی کی حالت طاری ہوتی ہے اور وہ خود کو اداس اداس محسوس کرتے ہیں جس کا بالآخر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مشتعل ہو جاتے ہیں۔ ان کی دماغی پژمردگی اور ناتوانی کو تمباکو نوشی اور بھی زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ تمباکو اور شراب کو اعتدال کے ساتھ استعمال کرنے والے اگر اپنے دماغ کو اصلی حالت میں لانا چاہیں تو کم از کم ایک ہفتہ درکار ہوگا مگر ایسا شازو نادر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ثابت ہوا کہ ہمارے درمیان جو کچھ بھی ہوتا ہے (خواہ اس کی ذمہ داری ان لوگوں کے سر پر ہو، جو حکومت کرتے ہیں یا دوسروں کو سبق دیتے ہیں۔ خواہ اس کی ذمہ داری ان لوگوں سے متعلق ہو، جو محکوم ہیں اور دوسروں سے سبق لیتے ہیں) سنجیدہ و متین حالت میں نہیں ہوتا۔\n\nاگر میں یہ کہوں کہ ہماری زندگیوں کے انتشار اور ان کے ضعف کا باعث مدہوشی کی وہ مستقل حالت ہے، جس میں کہ اکثر لوگ رہتے ہیں تو آپ اسے مذاق نہ سمجھیئے گا، اگر لوگ مدہوشی کی حالت میں نہ ہوں تو ہمارے ارد گرد جو کچھ ہو رہا ہے، کیا کسی کے وہم و گمان میں آ سکتا ہے، ایفل ٹاور بنانے سے لے کر فوجی ملازمت اختیار کرنے تک۔ کسی ضرورت کے بغیر ایک کمپنی بنائی جاتی ہے، سرمایہ اکٹھا کیا جاتا ہے، لوگ محنت و مشقت کرتے ہیں، حساب لگاتے ہیں، اسکیمیں تیار کرتے ہیں۔ لاکھوں ٹن لوہا ایک منار بنانے پر صرف کر دیا جاتا ہے۔ اس مینار کی تعمیر دوسرے لوگوں کے دلوں میں اس سے بڑے میناربنانے کی خواہش پیدا کرتی ہے، ذرا غور فرمایئے کیا صحیح دماغی حالت میں ایسی فضول باتیں سوجھ سکتی ہیں؟\n\nایک اور مثال لیجئے۔ یورپی اقوام کئی برسوں سے ایسے عمدہ طریقے ایجاد کرنے پر غور و فکر کر رہی ہیں جن سے انسانوں کو ہلاک کیا جا سکے اور لاکھوں نوجوانوں کو بالغ ہونے کے ساتھ ہی قتل و غارت کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ اب بربری لوگوں کے حملوں کا کوئی خطرہ نہیں رہا، لیکن یہ جنگی تیاریاں، متمدن و مہذب اقوام عمل میں لاتی ہیں، جو عیسائی مذہب رکھتی ہیں اور پھر وہ ایک دوسرے سے نبرد آزما ہونے کی کوششیں کرتی ہیں۔۔۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ یہ تکلیف دہ، ضرر رساں، سکون شکن، تباہ کن اور اخلاق و ادراک کے خلاف ہے، لیکن اس کے باوجود سب باہمی قتل و غارت کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ بعض سیاسی تدبیریں سوچتے ہیں کہ کیسے، کس کس کے ساتھ مل کر اور کس کو تباہ و برباد کرنا چا ہیئے، بعض ان لوگوں کی تنظیم کرتے ہیں جن کو قتل و غارت گری کے سبق دیے جا رہے ہوتے ہیں، بعض اپنے ضمیر، اپنے ادراک اور اپنی مرضی کے خلاف قتل و غارت کی ان تیاریوں کے سامنے اپنا سر جھکا دیتے ہیں۔ کیا متین و سنجیدہ لوگ ایسا کر سکتے ہیں؟ صرف شرابی ہی ایسے کام کر سکتے ہیں جو سنجیدگی و متانت کی صحیح حالت تک کبھی نہیں پہنچتے۔\n\nمیرا خیال ہے کہ آج سے پہلے لوگ کبھی ایسی زندگی بسر نہیں کرتے تھے۔ جس میں ضمیر اور افعال کے درمیان اس قدر فاصلہ ہو کہ انسانیت ایک جگہ گڑ گئی ہے۔ رک گئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی خارجی سبب نے اسے فطری حالت اختیار کرنے سے روک رکھا ہے جو اسے من حیث العلت اختیار کرنا چاہیئے تھا اور یہ سبب۔۔۔ اگرچہ یہ اکیلا ہی نہ ہو، یقیناً جسمانی طور پر خود کو مدہوش کرتا ہے اور یہ سب سے بڑا سبب ہے جس کے ذریعے سے لوگ اپنے آپ کو دن بدن کمزور اور ضعیف بنا رہے ہیں۔\n\nانسانیت کی تاریخ میں وہ دن قابل یادگار ہوگا جب اس خطرناک برائی سے نجات حاصل کی جائے گی اور وہ دن دور نہیں، اس لئے کہ اس برائی کے نتائج سے لوگ اچھی طرح آگاہ ہو چکے ہیں۔ مدہوش بنانے والی اشیاء کے متعلق لوگوں کا نظریہ بہت حد تک تبدیل ہو چکا ہے اور ان اشیاء کے خطرناک نقصانات سے لوگ اچھی طرح واقف ہو گئے ہیں۔ اب وہ دن بہت نزدیک ہے، جب یہ بیداری لوگوں کو ان مدہوش بنانے والی چیزوں سے ہمیشہ کے لئے نجات دلا دے گی اور ان کی آنکھیں کھول دے گی تا کہ وہ اپنے ضمیر کے مطالبات دیکھ سکیں اور ان پر غور کر سکیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%88%DA%AF_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%AF%DB%81%D9%88%D8%B4_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F"} {"title": "لوگ کہتے ہیں محبت میں اثر ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لوگ کہتے ہیں محبت میں اثر ہوتا ہے\nکون سے شہر میں ہوتا ہے کدھر ہوتا ہے\n\nاس کے کوچے میں ہے نت صورت بیداد نئی\nقتل ہر خستہ بانداز دگر ہوتا ہے\n\nنہیں معلوم کہ ماتم ہے فلک پر کس کا\nروز کیوں چاک گریبان سحر ہوتا ہے\n\nووہیں اپنی بھی ہے باریک تر از مو گردن\nتیغ کے ساتھ یہاں ذکر کمر ہوتا ہے\n\nکر کے میں یاد دل اپنے کو بہت روتا ہوں\nجب کسی شخص کا دنیا سے سفر ہوتا ہے\n\nاس کی مژگاں کا کوئی نام نہ لو کیا حاصل\nمیرا ان باتوں سے سوراخ جگر ہوتا ہے\n\nمصحفیؔ ہم تو ترے ملنے کو آئے کئی بار\nاے دوانے تو کسی وقت بھی گھر ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%88%DA%AF_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "لوگ کہتے ہیں یار آتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لوگ کہتے ہیں یار آتا ہے\nدل تجھے اعتبار آتا ہے\n\nدوست ہوتا جو وہ تو کیا ہوتا\nدشمنی پر تو پیار آتا ہے\n\nتیرے کوچہ میں بے قرار ترا\nہر گھڑی بار بار آتا ہے\n\nزیر دیوار تو سنے نہ سنے\nنام تیرا پکار آتا ہے\n\nحال اپنے پہ مجھ کو آپ اثرؔ\nرحم بے اختیار آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%88%DA%AF_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "لوگوں کی ملامت بھی ہے خود درد سری بھی", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لوگوں کی ملامت بھی ہے خود درد سری بھی\nکس کام کی یہ اپنی وسیع النظری بھی\n\nکیا جانیے کیوں سست تھی کل ذہن کی رفتار\nممکن ہوئی تاروں سے مری ہم سفری بھی\n\nراتوں کو کلی بن کے چٹکتا تھا ترا جسم\nدھوکے میں چلی آئی نسیم سحری بھی\n\nخود اپنے شب و روز گزر جائیں گے لیکن\nشامل ہے مرے غم میں تری در بدری بھی\n\nفرقت کے شب و روز میں کیا کچھ نہیں ہوتا\nقدرت پہ ملامت بھی دعائے سحری بھی\n\nاک فرد کی الفت تو بڑی کم نظری ہے\nہے کس میں مگر اہلیت کم نظری بھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B3%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولے\nغالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں\n\nخوش وحشتے کہ عرض جنون فنا کروں\nجوں گرد راہ جامۂ ہستی قبا کروں\n\nآ اے بہار ناز کہ تیرے خرام سے\nدستار گرد شاخ گل نقش پا کروں\n\nخوش افتادگی کہ بہ صحراۓ انتظار\nجوں جادہ گرد رہ سے نگہ سرمہ سا کروں\n\nصبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک\nدرد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں\n\nوہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میں\nوحشت بہ داغ سایۂ بال ہما کروں\n\nوہ التماس لذت بے داد ہوں کہ میں\nتیغ ستم کو پشت خم التجا کروں\n\nوہ راز نالہ ہوں کہ بہ شرح نگاۂ عجز\nافشاں غبار سرمہ سے فرد صدا کروں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%88%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%D8%AE%D9%81%D8%AA%DB%81_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DA%A9_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%88%D9%84%DB%92"} {"title": "لٹاؤ جان تو بنتی ہے بات کس نے کہا", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لٹاؤ جان تو بنتی ہے بات کس نے کہا\nیہ بزم عشق میں راز حیات کس نے کہا\n\nرہ طلب میں سناتا کوئی ترانۂ نو\nیہاں فسانۂ ذات و صفات کس نے کہا\n\nابھی ثوابت و سیار میں ہے فصل بہت\nسمٹ چکی ہے بہت کائنات کس نے کہا\n\nہر اک چوٹ پہ کھلتی ہے آنکھ انساں کی\nہیں خضر راہ طلب حادثات کس نے کہا\n\nہم آسماں کو زمیں پر اتار لائے مگر\nابھی نہیں ہے شعور حیات کس نے کہا\n\nہم اپنی دھن میں ہیں مصروف کس طرف دیکھیں\nہمیں نہیں ہے غم التفات کس نے کہا\n\nہمیں سکون میسر نہیں مگر اخترؔ\nہمارے دور کو دور نجات کس نے کہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%B9%D8%A7%D8%A4_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D9%86%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7"} {"title": "لٹاتے ہیں وہ باغ عشق جائے جس کا جی چاہے", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لٹاتے ہیں وہ باغ عشق جائے جس کا جی چاہے\nگل داغ تمنا لوٹ لائے جس کا جی چاہے\n\nچراغ یاس و حسرت ہم ہیں محفل میں حسینوں کی\nجلائے جس کا جی چاہے بجھائے جس کا جی چاہے\n\nکسی معشوق کی کوئی خطا میں نے نہیں کی ہے\nستانے کو زبردستی ستائے جس کا جی چاہے\n\nبحل شوق شہادت میں کیا ہے ہم نے خون اپنا\nہمارے شوق سے پرزے اڑائے جس کا جی چاہے\n\nدو عالم میں نہیں اے یار مجھ سا شیفتہ تیرا\nمحبت یوں جتانے کو جتائے جس کا جی چاہے\n\nخوشی و ناخوشی موقوف ہے اپنی حسینوں پر\nہنسائے جس کا جی چاہے رلائے جس کا جی چاہے\n\nصدائیں سرخ روئی دیتی ہے گنج شہیداں میں\nلہو کا مینہ برستا ہے نہائے جس کا جی چاہے\n\nجو ہو جائے گا پروانہ چراغ حسن کا اس کے\nکرے گا نام روشن لو لگائے جس کا جی چاہے\n\nعجائب لطف ہیں کوئے توکل کی فقیری میں\nخدائی ہے یہاں دھونی رمائے جس کا جی چاہے\n\nکوئی غنچہ نہ پہنچے گا ترے حسن تبسم کو\nسر میداں چمن میں مسکرائے جس کا جی چاہے\n\nجگہ اس شمع رو نے دی ہے پروانوں کے لشکر کو\nسر میداں چمن میں مسکرائے جس کا جی چاہے\n\nپشیماں غنچہ و گل ہوں گے میرے زخم خنداں سے\nہنسے جی چاہے جس کا مسکرائے جس کا جی چاہے\n\nعطا کی نہر گلشن اس نے اپنے عشق بازوں کو\nاجازت دی یہاں نکھرے نہائے جس کا جی چاہے\n\nخوشی ہو ہو کے خود صیاد کہتا ہے عنادل سے\nبہار آئی ہوئی ہے چہچہائے جس کا جی چاہے\n\nنہ دیکھیں گے کسی بیتاب کو وہ آنکھ اٹھا کے بھی\nکلیجے کو مسوسے تلملائے جس کا جی چاہے\n\nمریں گے اس پہ کلمہ پڑھ کے اس کا جان ہم دیں گے\nخدائی بھر میں ہم کو آزمائے جس کا جی چاہے\n\nعجب خوشبو ہے گلدستے میں شوق و ذوق کے اس کی\nکرے گا وجد پیراہن بسائے جس کا جی چاہے\n\nدعائے مغفرت تم دو اتارے قبر میں کوئی\nپڑھو تلقین تم شانہ ہلائے جس کا جی چاہے\n\nشرفؔ دم توڑتے ہیں اک پری رو کی جدائی میں\nعجب عالم ہے ان کا دیکھ آئے جس کا جی چاہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%B9%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%92"} {"title": "لپٹ لپٹ کے میں اس گل کے ساتھ سوتا تھا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لپٹ لپٹ کے میں اس گل کے ساتھ سوتا تھا\nرقیب صبح کو منہ آنسوؤں سے دھوتا تھا\n\nتمام رات تھی اور کہنیاں و لاتیں تھیں\nنہ سونے دیتا تھا مجھ کو نہ آپ سوتا تھا\n\nجو بات ہجر کی آتی تو اپنے دامن سے\nوہ آنسو پونچھتا جاتا تھا اور میں روتا تھا\n\nمسکتی چولی تو لوگوں سے چھپ کے سینے کو\nوہ تاگے بٹتا تھا اور میں سوئی پروتا تھا\n\nغرض دکھانے کو آن و ادا کے سو عالم\nوہ مجھ سے پاؤں دھلاتا تھا اور میں دھوتا تھا\n\nلٹا کے سینے پہ چنچل کو پیار سے ہر دم\nمیں گدگداتا تھا ہنس ہنس وہ ضعف کھوتا تھا\n\nوہ مجھ پہ پھینکتا پانی کی کلیاں بھر بھر\nمیں اس کے چھینٹوں سے تو پیرہن بھگوتا تھا\n\nنہانے جاتے تو پھر آہ کرتی چھینٹوں سے\nوہ غوطے دیتا تھا اور میں اسے ڈبوتا تھا\n\nہوا نہ مجھ کو خمار آخر ان شرابوں کا\nنظیرؔ آہ اسی روز کو میں روتا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%BE%D9%B9_%D9%84%D9%BE%D9%B9_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%D9%88%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "لپٹ وہ زلف کی جاں بخش اور وہ پیاری رات", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لپٹ وہ زلف کی جاں بخش اور وہ پیاری رات\nبسر ہوئی کبھی ایسی بھی ساری ساری رات\n\nکہاں وہ بستر دیبا حصیر کہنہ کہاں\nکجا امیروں کی راتیں کہاں ہماری رات\n\nفراق یاد میں گزرا ہے جیسے سارا دن\nیوں ہی کٹے گی بصد آہ و بے قراری رات\n\nاداس شام سے بیٹھے ہیں چارہ گر سارے\nضرور ہے ترے بیمار غم پہ بھاری رات\n\nسحر کے پہلے ہی اے شادؔ سو رہوں گا میں\nستا کے مجھ کو اٹھائے گی شرمساری رات", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%BE%D9%B9_%D9%88%DB%81_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%AE%D8%B4_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "لپٹتی ہے بہت یاد وطن جب دامن دل سے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لپٹتی ہے بہت یاد وطن جب دامن دل سے\nپلٹ کر اک سلام شوق کر لیتا ہوں منزل سے\n\nنظر آئے جب آثار جدائی رنگ محفل سے\nنگاہ یاسؔ بیگانہ ہوئی یاران یک دل سے\n\nابھرنے کے نہیں بحر فنا میں ڈوبنے والے\nدر مقصود ہی غم ہے تو پھر کیا کام ساحل سے\n\nتصور لالہ و گل کا خزاں میں بھی نہیں مٹتا\nنگاہ شوق وابستہ ہے اب تک نقش باطل سے\n\nنہیں معلوم کیا لذت اٹھائی ہے اسیری میں\nدل وحشی پھڑک اٹھتا ہے آواز سلاسل سے\n\nکسی شے میں نہ ہوگی بادۂ عرفاں کی گنجائش\nلڑا لے ساغر جم کو بھی کوئی شیشۂ دل سے\n\nتصور نے دکھایا شاہد مقصود کا جلوہ\nاتر آئی ہے لیلیٰ سر زمین دل پہ محمل سے\n\nرہے گی چار دیوار عناصر درمیاں کب تک\nاٹھے گا زلزلہ اک دن اسی بیٹھے ہوئے دل سے\n\nکہاں تک پردۂ فانوس سے سر کی بلا ٹلتی\nازل سے لاگ تھی باد فنا کو شمع محفل سے\n\nیہیں سے سیر کر لو یاسؔ اتنی دور کیوں جاؤ\nعدم آباد کر ڈانڈا ملا ہے کوئے قاتل سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%D9%BE%D9%B9%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%88%D8%B7%D9%86_%D8%AC%D8%A8_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92"} {"title": "لڑ کے پھر آئے ڈر گئے شاید", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لڑ کے پھر آئے ڈر گئے شاید\nبگڑے تھے کچھ سنور گئے شاید\n\nسب پریشاں دلی میں شب گزری\nبال اس کے بکھر گئے شاید\n\nکچھ خبر ہوتی تو نہ ہوتی خبر\nصوفیاں بے خبر گئے شاید\n\nہیں مکان و سرا و جا خالی\nیار سب کوچ کر گئے شاید\n\nآنکھ آئینہ رو چھپاتے ہیں\nدل کو لے کر مکر گئے شاید\n\nلوہو آنکھوں میں اب نہیں آتا\nزخم اب دل کے بھر گئے شاید\n\nاب کہیں جنگلوں میں ملتے نہیں\nحضرت خضر مر گئے شاید\n\nبے کلی بھی قفس میں ہے دشوار\nکام سے بال و پر گئے شاید\n\nشور بازار سے نہیں اٹھتا\nرات کو میرؔ گھر گئے شاید", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%91_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%88%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%AF"} {"title": "لڑ ہی جائے کسی نگار سے آنکھ", "poet_page": "مصنف:بشیر الدین احمد دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لڑ ہی جائے کسی نگار سے آنکھ\nکاش ٹھہرے کہیں قرار سے آنکھ\n\nکچھ محبت ہے کچھ مروت ہے\nآج پڑتی ہے مجھ پہ پیار سے آنکھ\n\nچلتے رہتے ہیں خوب تیر نگاہ\nباز آتی نہیں شکار سے آنکھ\n\nٹکٹکی سے کہاں ملی فرصت\nآ گئی عاجز انتظار سے آنکھ\n\nکیا پڑی ہے بلا کو اس کی عرض\nکیوں ملائے امیدوار سے آنکھ\n\nکوئی تدبیر بن نہیں پڑتی\nکیا ملے چشم شرمسار سے آنکھ\n\nنیچی نظروں سے دیکھ لیتے ہیں\nکیا ملائیں وہ بے قرار سے آنکھ\n\nدید بازی کا جس کو لپکا ہے\nکب ٹھہرتی ہے اضطرار سے آنکھ\n\nنظروں نظروں میں باتیں ہوتی ہیں\nخوب ملتی ہے رازدار سے آنکھ\n\nکیوں یہ ملتی ہے بے وفاؤں سے\nکاش لڑتی وفا شعار سے آنکھ\n\nکبھی در پر کبھی ہے رستے میں\nنہیں تھکتی ہے انتظار سے آنکھ\n\nمرنے کے بعد بھی تھی شرم ان کو\nکہ چرائی مرے مزار سے آنکھ\n\nصبح محشر اٹھا نہیں جاتا\nاب بھی کھلتی نہیں خمار سے آنکھ\n\nدل غنی ہے مرا تو کیا پروا\nکب ملاتا ہوں مال دار سے آنکھ\n\nکیوں جھکاؤں نظر بشیرؔ اپنی\nکبھی جھپکی نہیں ہزار سے آنکھ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%91_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE"} {"title": "لڑائیں آنکھ وہ ترچھی نظر کا وار رہنے دیں", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لڑائیں آنکھ وہ ترچھی نظر کا وار رہنے دیں\nلڑکپن ہے ابھی نام خدا تلوار رہنے دیں\n\nکہیں کس منہ سے اپنا آئینہ بردار رہنے دیں\nتمنا ہے غلامی میں ہمیں سرکار رہنے دیں\n\nوہ کیوں بیخودؔ کو محو لذت دیدار رہنے دیں\nوہ دیوانے نہیں غافل کو جو ہشیار رہنے دیں\n\nمرے دم تک وفا و عشق بھی دنیا میں باقی ہیں\nمسیحائی یہی ہے وہ مجھے بیمار رہنے دیں\n\nقیامت آ گئی اب تو گلا مردار کا کاٹیں\nکہاں تک موت کو زندہ ترے بیمار رہنے دیں\n\nاسی پردے نے عمر خضر شوق دید کو بخشی\nقیامت تک وہ اپنی گرمئ بازار رہنے دیں\n\nسن اے قاصد انہیں ضد ہے تو ہم کو بات کی پچ ہے\nمناسب وہ اگر سمجھیں تو یہ تکرار رہنے دیں\n\nمرے ماتم کی کیا جلدی ہے کیوں زیور بڑھاتے ہیں\nابھی آراستہ وہ حسن کا بازار رہنے دیں\n\nاگر منکر نکیر آتے ہیں تربت میں تو آ جائیں\nنہ چھیڑیں وہ مجھے محو جمال یار رہنے دیں\n\nقفس میں بیکسوں کو کس نے پوچھا کون پوچھے گا\nکہاں تک زخم کی صورت میں وا منقار رہنے دیں\n\nنگاہ شرم کے زخمی ہیں، تیغ ناز کے بسمل\nتڑپنے کے لیے ہم کو پس دیوار رہنے دیں\n\nیہ فقرے ہیں، یہ چالیں ہیں، نظر لاکھوں میں اٹھ جاتی\nعدو کے سامنے وہ ہو گئے نا چار رہنے دیں\n\nجگر میں درد دل میں ٹیس دم گھٹنے لگا اپنا\nبھلا ہم ایک گھر میں اور دو بیمار رہنے دیں\n\nمحبت سے ہمیں نفرت حسینوں سے ہمیں وحشت\nدل آزاری کی باتیں اب یہ دل آزار رہنے دیں\n\nہمارے کان لفظ بے وفا سن ہی نہیں سکتے\nیہ خلعت تو عدو کے واسطے سرکار رہنے دیں\n\nمری تربت پہ ان کو صرف بے جا کی ضرورت کیا\nکبھی کام آئے گا یہ فتنۂ رفتار رہنے دیں\n\nمقدر کو بدل دیں وہ زمانے کو خفا کر دیں\nمگر اپنے تصور کو مرا غم خوار رہنے دیں\n\nنظر ان کی کہیں پتلی کہیں آنکھیں کہیں ان کی\nیہ گردش دوسری صورت کی ہے پرکار رہنے دیں\n\nوہ کیوں مجھ کو تسلی دیں وہ کیوں پوچھیں مرے آنسو\nگھرا ہے ابر غم آنکھوں کو گوہر بار رہنے دیں\n\nکوئی بیخودؔ کی جانب سے ذرا سمجھائے واعظ کو\nعبادت کو فرشتے ہیں اسے مے خوار رہنے دیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%91%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لڑکا جو خوبرو ہے سو مجھ سے بچا نہیں", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لڑکا جو خوبرو ہے سو مجھ سے بچا نہیں\nوہ کون ہے کہ جس سے میں یارو ملا نہیں\n\nاے بلبلو چمن میں نہ جاؤ گئی بہار\nگلشن میں خار و خس کے سوا کچھ رہا نہیں\n\nہے کیا سبب کہ یار نہ آیا خبر کے تئیں\nشاید کسی نے حال ہمارا کہا نہیں\n\nآتا نہیں وہ یار ستم گر تو کیا ہوا\nکوئی غم تو اس کا دل سے ہمارے جدا نہیں\n\nتعریف اس کے قد کی کریں کس طرح سے ہم\nتاباںؔ ہماری فکر تو ایسی رسا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%91%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لڑکپن میں یہ ضد ہے جانی تمہاری", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لڑکپن میں یہ ضد ہے جانی تمہاری\nابھی دیکھنی ہے جوانی تمہاری\n\nکہا میں نے ٹھہرو تو بولے یہ ہنس کر\nکبھی پھر سنیں گے کہانی تمہاری\n\nنثار ان کے جائیں جو سچ جانے اس کو\nفسانہ ہمارا زبانی تمہاری\n\nبڑی خدمتیں کیں اب آزاد کر دو\nبہت دیکھ لی مہربانی تمہاری\n\nچھپاؤں نہ کس طرح سے جاں بدن میں\nمری جان یہ ہے نشانی تمہاری\n\nبہت صاف ہیں گالیاں واہ وا ہے\nسنی بارہا خوش بیانی تمہاری\n\nمقرر بلا آنے والی ہے کوئی\nنہیں بے سبب مہربانی تمہاری\n\nنسیمؔ اب تو گھبرا گیا دل ہمارا\nسنے کون پہروں کہانی تمہاری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%91%DA%A9%D9%BE%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%B6%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی\nڈھُونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ\n\nروشِ مغربی ہے مدِّنظر\nوضعِ مشرق کو جانتے ہیں گُناہ\n\nیہ ڈراما دِکھائے گا کیا سِین\nپردہ اُٹھنے کی منتظرِ ہے نگاہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%91%DA%A9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DA%91%DA%BE_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2%DB%8C"} {"title": "لکھ دے عامل کوئی ایسا تعویذ", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لکھ دے عامل کوئی ایسا تعویذ\nیار ہو جائے گلے کا تعویذ\n\nکب مسخر یہ حسیں ہوتے ہیں\nسب یہ بیکار ہے گنڈا تعویذ\n\nنہ ہوا یار کا غصہ ٹھنڈا\nبارہا دھو کے پلایا تعویذ\n\nسر سے گیسو کی بلا جاتی ہے\nلائے تو رد بلا کا تعویذ\n\nمر کے بھی دل کی تڑپ اتنی ہے\nشق ہوا میری لحد کا تعویذ\n\nہر طرح ہوتی ہے مایوسی جب\nلوگ کرتے ہیں دعا یا تعویذ\n\nآرزو خاک میں دشمن کی ملے\nاس لیے دفن کیا تھا تعویذ\n\nہاتھ سے اپنے جو لکھا اس نے\nہم نے اس خط کو بنایا تعویذ\n\nجس سے آیا ہوا دل رک جائے\nکوئی ایسا بھی ہے لٹکا تعویذ\n\nدل پسیجا نہ کسی دن ان کا\nروز لکھ لکھ کے جلایا تعویذ\n\nکام لو جذب محبت سے حفیظؔ\nنقش کیا چیز ہے کیسا تعویذ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D9%85%D9%84_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%AA%D8%B9%D9%88%DB%8C%D8%B0"} {"title": "لکھا جو وصف دہن غیب سے ندا آئی", "poet_page": "مصنف:نہال لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لکھا جو وصف دہن غیب سے ندا آئی\nعدم کا قصد کیا تیرے دل میں کیا آئی\n\nجو نخل بند ازل کا ہوا چمن میں خیال\nنظر گلوں میں عجب شان کبریا آئی\n\nغریق بحر محبت کی لی خبر نہ کبھی\nخدا سے شرم نہ کچھ تجھ کو ناخدا آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%88%D8%B5%D9%81_%D8%AF%DB%81%D9%86_%D8%BA%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%AF%D8%A7_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "لکھا خط اسے لے قلم اور کاغذ", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لکھا خط اسے لے قلم اور کاغذ\nجلے عشق سوزاں سے ہم اور کاغذ\n\nنہ رکھ دیدۂ تر پہ مکتوب اس کا\nمخالف ہیں آپس میں نم اور کاغذ\n\nخدا سے بھی ڈر لکھ نہ احوال دل کا\nدوانے یہ سوز رقم اور کاغذ\n\nلکھا صفحۂ دل پہ مکتوب تجھ کو\nنہ تھا تیرے لائق صنم اور کاغذ\n\nمرے دل کو اے چشم نامے کا اس کے\nخوش آتا ہے حسن رقم اور کاغذ\n\nذرا دیر تیرے جو تھم جائیں آنسو\nرہے ہاتھ میں کوئی دم اور کاغذ\n\nجو کچھ صفحۂ دل میں اپنے ہے ؔجوشش\nرکھے ہے یہ خوبی تو کم اور کاغذ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AE%D8%B7_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D9%84%DB%92_%D9%82%D9%84%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0"} {"title": "لکھنؤ", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "فردوس حسن و شق ہے دامان لکھنؤ\nآنکھوں میں بس رہے ہیں غزالان لکھنؤ\n\nصبر آزما ہے غمزۂ ترکان لکھنؤ\nرشک زنان مصر کنیزان لکھنؤ\n\nہر سمت اک ہجوم نگاران لکھنؤ\nاور میں کہ ایک شوخ غزل خوان لکھنؤ\n\nمطرب بھی ہے شراب بھی ابر بہار بھی\nشیراز بن گیا ہے شبستان لکھنؤ\n\nتولے ہوئے ہے تیغ و سناں حس بے نقاب\nناوک فگن ہے جلوۂ پنہان لکھنؤ\n\nاک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ\nوہ نو بہار ناز کہ ہے جان لکھنؤ\n\nدست جنوں کو روکئے یہ خبط چھوڑیئے\nرسوا ہے یوں ہی چاک گریبان لکھنؤ\n\nکچھ روز کا مسافر و مہماں ہوں اور کیا\nکیوں بد گماں ہوں یوسف کنعان لکھنؤ\n\nاب اس کے بعد صبح ہے اور صبح نو مجازؔ\nہم پر ہے ختم شام غریبان لکھنؤ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A4"} {"title": "لکھنؤ (اختر شیرانی)", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "خدا آباد رکھے لکھنؤ کو\nہمیشہ شاد رکھے لکھنؤ کو\nیہ بستی خوب صورت ہے حسیں ہے\nکہیں اس شہر کا ثانی نہیں ہے\nہے بڑھ کر خلد سے ہر باغ اس کا\nامین آباد و قیصر باغ اس کا\nہے پھولوں کی مہک ساری فضا میں\nبہاریں کھیلتی ہیں اس ہوا میں\nرواں ہے گومتی دل کش ادا سے\nبہلتی ہے طبیعت اس فضا سے\nہے اس کی شام کی شہرت جہاں میں\nنظیر اس کی کہاں ہندوستاں میں\nنہایت خوش نما ہے ساری بستی\nاودھ کی جان ہے یہ پیاری بستی\nبہت سی ہیں پرانی یادگاریں\nپرانی پر سہانی یادگاریں\nہمارے ملک کی اردو زباں ہے\nزباں اس شہر کی سی پر کہاں ہے\nبہت شستہ زباں ہے لکھنؤ کی\nجو ہے اردو وہ جاں ہے لکھنؤ کی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A4_%28%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1_%D8%B4%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C%29"} {"title": "لکھنؤ کا عہد شاہی/دربار شاہان اودھ", "poet_page": "مصنف:عشرت لکھنوی", "kind": "prose", "section": "لکھنؤ کا عہد شاہی", "year": null, "text_ur": "دربار شاہان اودھ\n\nہندوستان کی سرزمین سواد اعظم کے نام سے مشہور ہے۔ اور ملکوں پر اس کو اس لیے ترجیح ہے کہ حضرت آدم بہشت چھوڑ کر ہندوستان کی سرزمین پر آئے، جہاں سردی، گرمی، برسات ہر فصل اعتدال سے ہوتی ہے۔ ہندوستان میں بھی اودھ ہی کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس کو گلشن ہند کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ اِس مضمون میں ہم دربار اودھ کی جھلک دکھانا چاہتے ہیں کیونکہ آج کل جب کہ ہر طرف سلور جوبلی کی دھوم دھام مچی ہوئی ہے اور تمام اہل ہند اپنے شاہنشاہ معظم(١) کی تخت نشینی کی پچیسویں سالگرہ اور جشن آرائی پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے ہیں؛ شاہان اودھ کے دربار کی کیفیت کا بیان دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔\n\nنصیر الدین غازی حیدر\n\nشاہی محل کی عالیشان عمارت کے وسط میں صدر مقام پر ایک نفیس بارہ دری بنی ہوئی اور شیشہ آلات سے سجی ہوئی ہے۔ نفیس نفیس جھاڑ، نازک نازک دیوار گیریاں، قلمی تصویریں، خوشخط قطعے لگے ہیں۔ کمروں میں تمام کا فرش بچھا ہے۔ سنہری، روپہلی چلمنیں، زربفت کے پردے پڑے ہیں۔ بارہ دری کے سامنے پُرفضا چمن لگا ہے۔ سنگ مرمر کی نہریں جن میں فوارے چھوٹ رہے ہیں۔ شہ نشین میں صدر مقام پر کارچوبی گاؤ تکیے لگائے ہوئے حضرت شاہ نصیر الدین حیدر بادشاہ غازی جلوہ افروز ہیں۔ اُن کے پہلو میں بڑے تُزک و احتشام سے نواب ملکہ زمانیہ بیٹھی ہیں۔ گردا گرد خواصیں ماہتاب کے ہالے کی طرح، اردلی کی خواص چنور اور مورچھل جھل رہی ہے۔ ڈومنیاں مع سازندہ عورتوں کے بھاؤ بتا بتاکر سریلے سُروں میں گارہی ہیں۔ کوئی چیخ کر بات نہیں کرسکتا۔ نظر سے نظر ملانے کا حکم نہیں ہے۔ کسی کو کھنکارنے کا حکم نہیں ہے۔ جو شخص جو کچھ کہتا ہے، آتو جی سر جھکاکر با ادب عرض کرتی ہیں۔ اتنے میں داروغہ ڈیوڑھی نے خبر بھجوائی “کوئی بی حسینی خانم ہیں، جن کو آتو جی نے محل کی ملازمت کے لیے طلب فرمایا تھا، وہ ڈولی میں آئی ہیں۔ کیا حکم ہوتا ہے؟ ڈولی اتروائی جائے یا نہیں؟” آتو جی نے کہا “ہاں ہاں مجھ سے بیگم صاحبہ نے فرمایا تھا ایک چٹھی نویسنی کے لیے؛ آنے دو”۔\n\nباہر سے ایک خواجہ سرا ہمراہ آیا۔ بی حسینی خانم کی سِٹّی بھول گئی، یا الٰہی کس طرف جاؤں۔ چاروں طرف اچھی پوشاک والی بیبیاں بڑے ٹھسّے سے بیٹھی ہیں۔ پہلے تو انّا کو دیکھ کر سمجھیں شاید یہی بادشاہ بیگم ہیں۔ جھک کر سلام کیا، خواجہ سرا نے کہا آگے چلو۔ اب یہ قدم قدم پر فرشی سلام کرتی ہیں۔ اتنے میں دور سے آتو جی آتے ہوئے دکھائی دیں، اِن کی جان میں جان آئی۔ انہوں نے کہا چلو ہم تو تمہارا راستہ دیکھ رہے تھے۔ بیگم صاحبہ سے تمہارا ذکر کرچکے ہیں۔ غرض سارے محل کے صدقے ہوتی ہوئیں بارہ دری کے زینہ سے تہہ خانہ کے اندر اتریں۔ محلدار ساتھ ساتھ ہوئی۔ محلدار نے کہا سامنے بادشاہ اور بیگم بیٹھے ہیں، ذرا ادب قاعدے سے، پھر آگے بڑھ کر عرض کیا: سرکار عالیہ کے فرمان سے بی حسینی خانم حاضر ہیں، نگہ رو برو! حسینی خانم نے نہایت ادب قاعدے سے سلام کیا اور بادشاہ کی خدمت میں اپنا لکھا ہوا خوشخط قطعہ نذر میں پیش کیا اور بیگم صاحبہ کو پانچ اشرفیاں نذر میں دکھائیں۔ بیگم صاحبہ کے اشارے سے قطعہ اور اشرفیاں آتوجی نے قبول کرلیں۔ بیگم صاحبہ نے بیٹھنے کا حکم دیا اور سرفرازی کا خلعت منگوایا۔ لونڈیاں دوڑتی ہوئی بھاری خلعت کی کشتیاں لے کر حاضر ہوئیں۔ ایک دوشالہ بھاری، ایک رومال سنہری جالدار، ایک تھان کمخواب، ایک تھان سرخ اطلس کا، ڈھاکے کی جامدانی، بنارسی دو ڈوپٹے، مشروع کے دو تھان اور سونے کے کڑے مرحمت ہوئے۔ بادشاہ نے ایک ہزار روپیہ کا توڑا منگوا کر انعام دیا اور پچاس روپیہ ماہوار پر چٹھی نویسوں میں اسم ہوگیا۔\n\nدو گھنٹے یہاں دل بہلا کر بادشاہ سلامت نے بوچہ طلب فرمایا۔ کہاریاں سواری لے کر حاضر ہوئیں، حضور سوار ہوئے۔ ڈیوڑھی کے باہر کہاروں نے کندھا دیا، حضور دربار میں تشریف لائے۔ دربار کی کوٹھی رمنہ میں “فرح بخش” کے نام سے مشہور تھی، تخت شاہی یہیں رہتا تھا۔ جب سواری مع ماہی مراتب اور جلوس کے کوٹھی تک پہنچی، سارے عملے نے سر وقد ہوکر سلامی دی۔ معتمد الدولہ آغا میر وزیر، ظفر الدولہ کپتان فتح علی خاں بہادر، اقبال الدولہ، مکرّم الدولہ، مَجد الدولہ، میر محمد سر رشتہ دارِ عدالت، نواب روشن الدولہ، افتخار الدولہ، مہاراجا میوہ رام، راجا امرت لال عرض بیگی، مرزا کیوان جاہ نے باری باری سے مُجرا کیا اور اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ بادشاہ نے تخت شاہی پر جلوس فرمایا۔ خُدّام داہنے بائیں چنور لیے کھڑے ہیں۔ پشت پر ایک خواص چھڑ لگائے ہوئے ہے۔ درباری لوگ بہت ادب قاعدے سے بیٹھے ہوئے، نگاہیں نیچی کیے ہوئے، خاموشی کا عالم۔\n\nپہلے معتمد الدولہ آغا میر نے ضروری کاغذات پیش کیے اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ حضور نے بعد ملاحظہ دریافت طلب باتیں پوچھ کر دستخط فرمائے۔ پھر مقدمات عدالت پیش ہوئے۔ روبکاری سماعت فرماکر احکام جاری کیے۔ اتنے میں مِردھے نے عرض کیا “شاہ عالم عالمیان نگاہ روبرو نواب عاشق علی حاضر ہو”۔ آپ نے اشارہ فرمایا۔ داروغہ ڈیوڑھی نے کہا آنے دو، بادشاہ نے طلب فرمایا ہے۔ چوبدار نے آواز دی: نواب عاشق علی حاضر ہے، نگاہ روبرو۔ پہلی ڈیوڑھی کے چوبدار نے کہا کہ سب چوبدار یکے بعد دیگرے آواز دینے لگے۔ اس کے بعد رستم علی مِردھے نے بھی آواز دی۔ نواب عاشق علی پھاٹک سے دوطرفہ سلام کرتے ہوئے جھکے جھکے چلے آتے ہیں، دربار کے رعب سے کانپ رہے ہیں۔ راجا امرت لال عرض بیگی نے اِن کو سامنے لے جاکر عرض کیا: ملاحظہ ہو، نواب عاشق علی حاضر ہے۔ نواب نے زمین دوز ہوکر مجرا کیا۔ دس اشرفیاں نذر میں پیش کیں، حضور نے اشارے سے قبول کیں۔ ٢٤ جنوری ١٨٢٨؁ء کو پیش ہوئے، نذر قبول ہوئی، اُسی روز خلعتِ سرفرازی ہوا، پانچ سو روپیہ ماہوار تنخواہ مقرر ہوئی اور عہدۂ سفارت مرحمت ہوا۔ اُسی روز کلکتہ جانے کا حکم ملا۔ تین لاکھ روپیہ نقد سرکار سے واسطے ضروریات کے مرحمت ہوا۔ اِسی طرح نجم الدولہ جعفر علی خاں ابن مظفر علی خاں گوالیار سے آئے، بادشاہ نے بہت مرحمت فرمائی اور عہدۂ توپ خانہ سلمانی عنایت ہوا۔ پانچ سو روپیہ مہینہ مقرر ہوا۔\n\nسعادت علی خاں\n\nنواب سعادت علی خاں قبل طلوع آفتاب کے دربار سواری کا فرماتے تھے، عرب اور جنگل کے تال میل سے خانہ زاد گھوڑے تھے۔ محل سے بوچہ پر سوار ہوکر برآمد ہوئے اور گھوڑے پر سوار ہوئے۔ اس وقت آپ لباس انگریزی، ولایتی ڈاب زیر کمر کیے ہوئے اور سیاہ مغلی ٹوپے دیے ہوتے تھے۔ پہلے سلام مرشد زادوں کا ہوتا تھا، اس کے بعد امرائے خاص کا۔ دو گھڑی میں ہوا خوری سے فراغت کرکے ہاتھی پر مع جلوس سوار ہوتے تھے۔ سواری مع جلوس مع ڈنکا و نشان ہوتی تھی۔ امرائے دولت ہاتھیوں پر سوار ہمراہ ہوتے تھے۔ خاص بردار چنور لیے ہوئے، چوبدار سواری کے داہنے بائیں ساتھ ہوتے تھے۔ مرزا کریم بیگ، محمد غلامی سوار انگریزی پوشاک میں آگے آگے ہوتے تھے۔ بیس سوار اور بیس پیدل روزانہ اہتمام سواری کرتے تھے اور کل اہتمام نواب انتظام الدولہ مظفر علی خاں کے سپرد تھا۔ نواب اشرف الدولہ رمضان علی خاں، مرزا اشرف علی بھی ہمراہ ہوتے تھے۔ روزانہ پہرہ چوکی پر بائیس سوار آدمی مختلف فرقے کے ملازم تھے، ان میں دو سوار بھی تھے۔\n\nدربار سواری کی بھی شان تھی۔ امرا درِ دولت سے رخصت ہوجاتے تھے۔ نو بجے صبح کو چائے پانی ہوتا تھا۔ کرسی نشین امرا، مقربان خاص، صمصام الدولہ مرزا ہجّو، مرزا محمد تقی خاں ہوس پہلو میں، مکلوڈ صاحب، ڈاکٹر لا صاحب خاص کرسی کی پشت پر بیٹھتے تھے۔ میر انشاء اللہ خاں، میر ابوالقاسم خاں، سراج الدولہ، معززین، خواجہ سرا باریابِ سلام ہوتے تھے۔\n\nسلام کا قاعدہ یہ تھا کہ مِردھا پہلے عرض خدمت کرتا تھا۔ پھر عرض بیگی اپنے سامنے پیش کرکے ادب قاعدے سے سلام کراتا تھا۔ اس میں بہت دیر موقع محل دیکھنے میں ہوجاتی تھی۔ ایک دربار وقت خاصے کے ہوتا تھا، جس میں مقربان خاص، اردلی و نواب جلال الدولہ، مہدی علی خاں، رُکن الدولہ، نواب محمد حسن خاں شریکِ خاصہ ہوتے تھے۔ اس کے بعد حضور محل میں تشریف لے جاتے تھے۔\n\nبارہ بجے برآمد ہوتے، کچہری فرماتے تھے۔ کاغذات ملاحظہ ہوتے تھے۔ نواب نصیر الدولہ تمام رپورٹیں ایک بند لفافے میں رکھ کر پیش کرتے تھے۔ نواب شمس الدولہ بھی کاغذات بند لفافے میں پیش کرتے تھے اور آپ علاحدہ کمرے میں حاضر رہتے تھے۔ اِسی طرح نواب منتظم الدولہ مہدی علی خاں، وزیر راجا دیا کرشن رائے رتن چند صاحب، اخبار رائے رام اخبار نویس، خفیہ منشی رونق علی، منشی دانش علی اپنے اپنے لفافے میز پر رکھ کر علاحدہ کمرے میں بیٹھتے تھے۔ استفسار کے لیے بلائے جاتے تھے۔ جناب عالی لفافے ملاحظہ فرماکر ضروری کاغذات پر دستخط فرماتے تھے اور جو ناقابل داخل دفتر ہوتے تھے وہ طشتِ آب میں ڈال دیے جاتے تھے، اِن کا ایک ایک حرف دھو ڈالا جاتا تھا۔ جس کاغذ پر مہر خاص کرنا ہوتی تھی، ظفر الدولہ سامنے حضور کے مہر کرتے تھے۔ جو کاغذ باقی رہ جاتے تھے، رات کو ملاحظہ فرماتے تھے۔ پرچہ اخبار ہر وقت گزر سکتا تھا۔ بعد دستخط تمام کاغذ ہر دفتر میں بھجوادیے جاتے تھے۔ اُسی روز تمام احکام جاری ہوتے تھے۔\n\nوقت شام دو اسپہ گاڑی پر سوار ہوکر ہوا خوری کو نکلتے تھے۔ جلوس سواری میں راجا بختاور سنگھ کا رسالہ تُرک سواران ہمراہ ہوتا تھا۔ کبھی تامدان پر تشریف فرما ہوتے تھے۔ اکثر گنج میں جاکر نرخ غلہ کا دریافت کرتے تھے کہ رعایا کو گرانی غلہ سے تکلیف نہ ہو۔ بقّال اس خوف سے اناج مہنگا نہیں کرسکتے تھے۔ اُس وقت دو پیسے سیر آٹا بکتا تھا۔\nغازی الدین حیدر\n\nنواب غازی الدین حیدر ایک بسنتی دربار بسنت کے موسم میں کرتے تھے۔ یہ دربار موتی محل اور شاہ منزل خاص میں ہوتا تھا، جس میں ہر فرقے کے لوگ جمع ہوتے تھے۔ آپ کے دربار کا طریقہ یہ تھا کہ صبح نو بجے درِ دولت سے کوٹھی فرح بخش میں جلوس فرماتے تھے۔ کنارہ نہر بینڈ باجے سے سلامی ہوتی تھی۔ جب تخت شاہی پر متمکن ہوتے، دو چنور بردار مورچھل ہلاتے تھے۔ پہلے صاحب زادے سلام کو آتے تھے، پھر بھائی نواب نصیر الدولہ کاظم علی خاں، جعفر علی خاں، حسین علی خاں، مہدی علی خاں، کلب علی خاں نہایت ادب سے اپنی اپنی کرسی کے پاس کھڑے رہتے تھے۔ جب بادشاہ باشارۂ ابرو سلام قبول کرتے تو اپنی اپنی جگہ بیٹھ جاتے۔ بائیں طرف ڈاکٹر مکلوڈ صاحب بیٹھتے جن سے فارسی میں بات چیت ہوتی۔ کمرے کے ایک گوشے میں ایک انگریز مشک بجاتا تھا جو بہت سریلی ہوتی تھی۔ رجب علی، افضل علی خیال گاتے تھے۔ سہرو بائی دکن کی رہنے والی نے غضب کی آواز پائی تھی۔ جس وقت صبح کے وقت گاتی تھی ؏\n\nاے نسیم سحر! آرام گہہِ یار کُجاست\n\nسب کو وجد ہوجاتا تھا اور جھومنے لگتے تھے؛ خصوصاً مکلوڈ صاحب کی کیفیت کچھ نہ پوچھیے۔\n\nجناب عالی کے سامنے ایک قد آدم آئینہ وسط میز پر رکھا جاتا تھا۔ آئینہ کے سامنے ایک بلوریں جھاڑ تھا، جس کے ہر پیالے میں دھنیا، الائچی، مسالہ وغیرہ خوشنمائی سے چُنا جاتا تھا۔ میز پر انگریزی اور ہندوستانی عمدہ عمدہ کھانے چُنے جاتے تھے اور گلدستے لگائے جاتے تھے۔ اہل دربار وہاں بیٹھ کر کھاتے پیتے اور آپس میں مذاق کرتے تھے۔ تمام مجرائی لال پردے کے باہر بیٹھے رہتے تھے، جب حکم ہوتا تھا سلام کو حاضر ہوتے تھے۔ نجم الدولہ رائے امرت لال، شیخ فتح علی سلام کر آتے تھے۔ اس کے بعد یہ دربار برخاست ہوتا اور جناب محل سرا میں تشریف لے جاتے تھے۔\n\nسلطان الزماں محمدعلی شاہ\n\nابوالفتح معین الدین سلطان الزماں محمد علی شاہ جن کا مزار امام باڑہ حسین آباد مبارک میں ہے، بوجہ کبر سنی کے ان کے ہاتھ پاؤں رہ گئے تھے۔ دربار کی صورت یہ تھی کہ آٹھ بجے برآمد ہوئے، سونے کی پلنگڑی پر اجلاس فرمایا۔ شہزادے، امرا، اہل دربار باریابِ سلام ہوئے۔ نو بجے دربار برخاست ہوا۔ کچہری کے کاغذات عملے نے پیش کیے۔ دوپہر تک دستخط ہوا کیے۔ دوپہر کو خاصہ چُنا گیا، (خود معذور تھے) رفیق الدولہ نے خاصہ کھلایا۔ ایک گھنٹہ قیلولہ فرمایا پھر خفیہ رپورٹیں سماعت کیں۔ قریبِ شام تامدان میں سوار ہوکر نواب ملکہ جہاں کے محل میں تشریف لے گئے۔\n\nامجد علی شاہ\n\nثریا جاہ حضرت سلطان زماں امجد علی شاہ کا طریق دربار یہ تھا کہ صبح کو بوچہ خاص پر محل سے برآمد ہوئے۔ مع مختصر جلوس کے ہوا خوری کو تشریف لے گئے۔ آٹھ بجے دربار میں آئے۔ سب امرائے دولت نے حاضر ہوکر سلام کیا، اپنے اپنے قاعدے سے بیٹھ گئے۔ مقربین خاص نے اپنی اپنی تقریر خوش سے محظوظ فرمایا۔ انعام واکرام ہوئے، درباری لوگ رخصت ہوئے۔ عدالت کے کاغذات ملکی ومالی پیش ہوئے۔ بارہ بجے کے بعد محل سرا تشریف لے جاتے تھے۔ سہ پہر کو مدیر الدولہ محل سرائے میں حاضر ہوکر کاغذات پیش کرتے تھے۔ شام کو پھر سوار ہوکر شہر کی حالت معائنہ فرماتے تھے۔ کبھی مدرسہ سلطانیہ میں تشریف لے جاتے تھے، جسے خود قائم کیا تھا۔ اِس مدرسہ میں کئی ہزار لڑکا پڑھتا تھا۔ فی کَس پانچ روپیہ ماہوار سرکار سے ملتا تھا۔ ایک ایک مدرس بیس بیس لڑکوں کو تعلیم دیتا تھا۔ آٹھ بجے سے چار بجے تک مدرسہ کھلا رہتا تھا۔\nواجد علی شاہ\n\nحضرت سلطان عالم محمد واجد علی شاہ نے کوٹھی فرح بخش قدیم بیت السلطنتِ شاہی کو چھوڑ دیا اور اپنا دربار شہنشاہ منزل میں قائم کیا۔ کوٹھی فرح بخش میں محض اتوار کو دربار ہوتا تھا۔ تمام شہزادے، امرائے دولت، رفقا حاضر رہتے تھے۔ بادشاہ تشریف لاکر دس بجے تک قیام فرماتے تھے۔ عدالت کا دربار روزانہ ہوتا تھا۔ ۹ بجے نواب امین الدولہ، مہاراجا مدیر الدولہ اور تدبیر الدولہ، اہل دفتر خاص دولت خانہ قدیم (در دولت) پر تشریف لاتے تھے، دوپہر تک ملاحظہ کاغذات میں مصروف رہتے تھے۔ دوپہر کے بعد تخلیہ ہوجاتا۔ جب بادشاہ کی سواری شہر میں نکلتی تھی، چاندی کے مکّلف صندوقچے سواری خاص کے داہنے بائیں دو ترک سوار لیے ہوتے تھے۔ اِن صندوقچوں کا نام “مشغلہ نوشیروانی” تھا۔ عام لوگوں کو حکم تھا کہ جس کسی کو کوئی خاص استغاثہ کرنا ہو (جس کی سماعت سرکاری عملے نے خلاف انصاف کی ہو) اپنی درخواست اس صندوقچہ میں ڈال دے۔ حضور خود ملاحظہ کرکے بلا رو و رعایت احکام صادر فرماتے تھے۔ اِس سے عملے کو مجبور ہوکر رعایا کے حقوق کی حفاظت کرنا پڑتی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بادشاہ تک استغاثہ جائے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A4_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C/%D8%AF%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%DB%81%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%AF%DA%BE"} {"title": "لکھنؤ کا عہد شاہی/شاہانِ اودھ کی بے تعصبی", "poet_page": "مصنف:عشرت لکھنوی", "kind": "prose", "section": "لکھنؤ کا عہد شاہی", "year": null, "text_ur": "شاہانِ اودھ کی بے تعصبی\n\nدہلی کے بادشاہوں میں تو تاریخی طومار نے کسی کو متعصب اور کسی کو منصف مزاج ہونے کا افتخار دے دیا حالانکہ عموماً بادشاہ متعصب نہیں ہوتے، اُن کو رعایا کی آبادی اور ملک کی آمدنی سے مطلب ہوتا ہے۔ عملہ کو کسی ملکی ضرورت سے بڑھادینے اور گھٹادینے پر متعصب اور غیر متعصب کا لقب دے دینا بڑی تنگ خیالی ہے۔\n\nاسی طرح ہمارے اودھ کے تمام بادشاہ ہمیشہ سے غیر متعصب اور صلح کل واقع ہوئے تھے۔ اُن کی فیاضیاں عام تھیں، اُن کے سلوک ہر قوم کے ساتھ یکساں رہے۔ وہ سب قریب قریب دوسری قوموں کے حق میں اکبر سے کچھ کم نہ تھے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ ان کے تاریخی واقعات پر ایسا گہرا پردہ پڑا ہوا ہے جس سے ان کی خوبیوں کا دریافت کرنا مشکل ہے۔\n\nتمثیلاً اس وقت ہم راجا درشن سنگھ معروف بہ راجا غالب جنگ کے حالات پیش کرتے ہیں:\n\nراجا غالب جنگ حیدرآباد کے رہنے والے ایک معمولی حیثیت کے آدمی تھے۔ عہد نواب یمین الدولہ سعادت علی خاں مبارز جنگ میں گردش روزگار سے تباہ اور برباد ہوکر لکھنؤ میں وارد ہوئے۔ ایک روز صبح کو ہندوؤں کی رسم کے مطابق گومتی پر اشنان کرنے گئے، بعد غسل کے رمنہ کی سیر کرتے ہوئے جا رہے تھے کہ بادشاہ کی سواری برآمد ہوئی۔ غربت اور بے کسی کے آثار اُن کے چہرہ سے روشن تھے۔ حضور نے اپنے ایک خواص سے اشارہ کیا کہ اس مسافر کو اپنے ہمراہ لیتے آؤ۔ در دولت پر ان کا سلام ہوا۔ حضور نے دریافت فرمایا کہ تم ملازمت کی غرض سے لکھنؤ آئے ہو یا سیاحت کے لیے۔ عرض کیا بتلاش روزگار۔ سرکار نے جیب خاص سے تیس روپیہ مہینہ بغیر شرط خدمت کے مقرر فرمایا۔ بندوق کی نشانہ اندازی سیکھنے کے واسطے ایک قدر انداز مقرر ہوا۔ جب اچھے نشانہ لگا دینے والوں میں ان کا شمار ہونے لگا تو بادشاہ نے از راہ پرورش دو سو تیس روپیہ ماہوار مقرر فرمادیا اور کچھ خدمتیں تفویض فرمادیں، غرض اسی طرح بتدریج ترقی ہوتی رہی۔\n\nاس مدت میں بادشاہ کا انتقال ہوگیا اور ١٨١٤؁ء میں مرشد زادۂ آفاق نواب غازی الدین حیدر خاں بہادر مسند نشین ہوئے۔ نواب معتمد الدولہ مختار الملک سید محمد خاں بہادر ضیغم جنگ عرف آغا میر وزیر ہوئے، یہ بھی مقربان خاص میں ہوگئے اور ہر وقت بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملنے لگا۔ ایک روز باشاہ اور وزیر میں خلوت کی باتیں ہورہی تھیں، لاعلمی سے یہ بھی چلے گئے اور خلوت دیکھتے ہی فوراً الٹے پاؤں واپس چلے۔ لوٹتے وقت حضور کی نگاہ پڑگئی، جلدی میں نام تو یاد نہ رہا، فرمایا راجا کیوں چلے گئے؟ ان کو خوف معلوم ہوا کہ ایسا نہ ہو یہ کلمہ باشاہ نے طنز سے کہا ہو لیکن دہشت کھاتے ہوئے نہایت ادب سے ہاتھ باندھے ہوئے خدمت میں حاضر ہوئے۔ ارشاد ہوا جاؤ تم کو ہم نے راجا کردیا۔ انہوں نے نذر پیش کی اور دست بستہ عرض کیا کہ حضور ہم تین دوست آوارہ وطن ہوکر لکھنؤ میں وارد ہوئے تھے۔ مروّت سے بعید ہے کہ ایسے وقت میں ان کو بھول جاؤں۔ بختاور سنگھ اور شیودین سنگھ کی بھی عزت افزائی فرمائی جاوے۔ آخر بادشاہ نے ان کی خاطر سے اُن کو بھی خطاب راجا کا مرحمت فرمایا اور جاگیر عطا فرمائی۔ اس عرصہ میں وزیر اعظم سے ان سے ان بن ہوگئی اور بہت سی افترا بندیوں کے بعد یہ قید کرکے فیض آباد کے جیل خانہ میں بھیج دیے گئے۔\n\nاس عرصہ میں بادشاہ نے انتقال کیا اور ابو النصر قطب الدین سلیمان جاہ حضرت نصیر الدین حیدر تخت نشین ہوئے۔ نواب منتظم الدولہ حکیم مہدی علی خاں وزیر ہوئے تو ظفر الدولہ منتظم الملک کپتان فتح علی خاں بہادر ہیبت جنگ نے محض خدا ترسی اور غم خواری سے ان کی سفارش کی۔ خالص ہمدردی کا اثر یہ ہوا کہ بادشاہ نے ان کو قید سے چھڑا کر دیوان خانہ کا میر منشی کردیا۔ تھوڑے دنوں میں انہوں نے ایسا تقرب حاصل کرلیا کہ ایک دَم کو باشاہ نظر سے غائب نہ ہونے دیتے تھے، اب اعزاز واکرام روز بروز زیادہ ہونے لگا اور ترقی پر ترقی ہونے لگی۔\n\nایک عمارت کے بنوانے پر یہ مقرر ہوئے اور سرکاری تخمینہ سے دو لاکھ روپیہ بچاکر شاہی خزانہ میں داخل کیا۔ بادشاہ کو معلوم ہوا تو خفا ہوکر ارشاد کیا کہ یہ بات ہمارے خلاف ہے۔ اپنا روپیہ فوراً خزانہ سے لے جاؤ، ہم ہرگز نہیں لے سکتے، وہ تم اپنے گھر لے جاؤ۔ راجا نے عرض کی کہ حضور میں مسکین سوائے در دولت کے گھر نہیں رکھتا، مگر حکم عالی بجا لاؤں گا۔ ایسی ایسی کارگزاریوں سے غالب جنگ کا خطاب ملا اور سرکار سے کرسی عنایت ہوئی۔ آخر ان کے زیادہ رسوخ نے انہیں محسودِ خلایق بنادیا اور دربار والوں نے سازش کرکے بادشاہ کا مزاج ان کی طرف سے منغص کردیا اور یہ قید ہوکر شاہ گڑھ میں بھیج دیے گئے۔\n\nجب نصیر الدین حیدر بادشاہ کا انتقال ہوگیا تو ابو الفتح معین الدین سلطان الزماں محمد علی شاہ تخت نشین ہوئے۔ اُن کو عمارت کا بہت شوق تھا اور تعمیر کی واقف کاری کی شہرت غالب جنگ کی گوش زد ہوچکی تھی۔ سرکار نے حکم رہائی نافذ فرمایا لیکن اہل دربار نے اس جملہ کو ٹال دیا۔ آخر قسمت کی مددگاری سے حضور میں پیش ہوئے۔ پیشتر سے بھی زیادہ عزت ہوئی۔ کلید برداروں کی نظامت اور مفسدوں کی سرکوبی کی خدمت عطا ہوئی اور اطراف اودھ کا انتظام سپرد ہوا۔ دو پلٹنیں، ایک ذوالفقار صفدری، دوسری حسام حیدری حوالہ ہوئیں۔ پانچ سو سوار ہندی اور انگریزی کی افسری،١٢ توپیں ہمراہی میں جاتی تھیں۔ بلرام پور اور نان پارہ کی سرکشی اس وقت قابل درگزر نہ تھی، حالانکہ یہ گھاٹیاں بہت سخت تھیں۔ راہ میں شیروں کے جنگل ایسے حائل تھے کہ پرندہ کا گزر وہاں دشوار تھا، انہوں نے چشم زدن میں محاصرہ کرلیا اور جموگ لگادیا۔ ان فتح مندیوں کے صلہ میں چودہ پارچہ کا خلعت عطا ہوا۔\n\nآخر ستّر برس کی عمر میں حضرت ظل سبحانی نے شب سہ شنبہ ١٨٤٤؁ء کو طرف فردوس بریں کے نہضت فرمائی۔ سنہری برج میں غسل دیا گیا، حسین آباد کے امام باڑہ میں صدر بارہ دری میں مدفون ہوئے۔ بعد ازاں ثریا جاہ محمد امجد علی شاہ نے جلوس فرمایا تو غالب جنگ کو وہی اعزاز حاصل تھا۔ پرچہ لگا کہ قلعہ چھترپت کی رانی جو علاقہ ہڑہا کے نام سے مشہور تھا ڈاکہ زنی کرنے لگی، مسافروں کو لوٹ لیتی تھی۔ رعیت ستمگاری سے نالاں تھی، صفدر گنج سے دس میل تک راستہ بند ہوگیا تھا۔ قصبہ کتہور کے سادات سخت نالاں ہیں۔ بادشاہ نے پانچ پلٹنیں، تیس توپیں، پانچ سو سوار راجا کے جلو میں کیے اور اس کی سرکوبی کے واسطے روانہ کیا۔ اُس نے یہ خبر سن کر قصد کیا کہ صفدر گنج میں مقابلہ کرے، لیکن فوج شاہی نے اتنی مہلت نہ دی اور قلعہ کو گھیر لیا۔ کئی روز تک بڑی خوں ریز جنگ رہی۔ آخر اُس کے اعوان وانصار سب بھاگ کھڑے ہوئے، محض رانی قلعہ میں رہ گئی اور دو چار نمک حلال ملازم باقی رہ گئے۔ تب رانی نے فوجیوں کا دل بڑھانے کو کہا: “ہاں! ایک حملہ زبردست کرو اب دشمن کو مار لیا ہے۔” فوج کے سپاہی تو بندوقیں چلانے میں مصروف ہوئے، وہ آپ نابدان کے راستہ سے بھاگ کھڑی ہوئی۔ جب فوج نے یہ حال دیکھا، اُس نے بھی پُشت قلعہ سے نکل کر جنگل کی راہ لی۔ جب قلعہ خالی ہوگیا تو فوج شاہی قلعہ میں گئی اور فتح وفیروزی کے ساتھ بہت سا اسباب جنگ اور مال وخزانہ بیت المال شاہی میں داخل ہوا۔ راجا کو خلعت ہوا۔\n\nظل سبحانی دموی مزاج تھے اور ابتدا سے مرض آتشک میں مبتلا تھے۔ حکیم مرزا محمد علی مرتعش ہر ہفتہ میں تنقیہ خاص وعام کرتے تھے، بلکہ بادشاہ سے اکثر کہتے تھے کہ اگر کوئی طبیب اخراج خون میں تامل کرے گا ہرگز مزاج قابل اصلاح نہ رہے گا۔ جب حکیم مرزا محمد علی بقضائے طبع فوت ہوئے، حکیم مسیح الدولہ نے احتیاج فصد میں تامل کیا۔ اس لیے کثرت خون فاسد سے تحریک عارضۂ مزمنہ ہوکر عارضۂ سرطان پیدا ہوا، حتی کہ متواتر فصدوں کے لینے سے بادشاہ کا حال غیر ہوگیا اور سرطان باطن کی طرف رجوع ہوا۔ آخر دوشنبہ کے دن ١٨٤٧؁ء کو انتقال فرمایا، مینڈو خاں کی چھاؤنی میں دفن ہوئے۔\n\nاُن کے بعد حضرت سلطان عالم واجد علی شاہ تخت نشین ہوئے۔ ان کے عہد میں غالب جنگ کی عزت روز افزوں ہوتی گئی۔ جب نواب گورنر جنرل بہادر کی تشریف آوری کی خبر رزیڈنٹ بہادر نے دی تو بادشاہ نے کانپور تک استقبال کا ارادہ کیا۔ غالب جنگ کو حکم ہوا کہ راستہ کا انتظام بہت عمدہ اور ستھرا ہونا چاہیے اور کانپور میں گنگا کے کنارے خیمہ شاہی باشان وشوکت نصب ہو۔ اس کے سامنے ایک باغ نہایت لطیف ہو، جس میں ہر قسم کے پھولوں کے درخت، میوہ دار شجر اور چاروں طرف سبزہ لگایا جائے۔ سبزہ کے چاروں طرف پانی کی نالیاں ہوں۔ تمام ماکول ومشروب لایق صاحبان عالیشان کے اور لشکر کے واسطے سامان رسد موجود رہے۔\n\nحسب فرمان شاہی راجا فوراً کانپور تشریف لے گئے اور دریا کے کنارے چمن بندی ہونے لگی، ریحان وسنبل کے انبار لگا دیے گئے۔ نہروں کے کنارے کنارے سبزہ خودرو کیا لہلہاتا تھا، گویا معشوقوں کے رخسار پر سبزہ خط نمایاں تھا۔ باغ کی تیاری کے بعد خیمہ میں چاروں طرف موقع مناسب پر قد آدم تصویریں لگائی گئیں۔ تمام فرنیچر انگریزی ساز وسامان سے سجایا گیا۔ تمام بازار آراستہ کیے گئے۔ لکھنؤ سے اس قدر سامان رسد گیا کہ اس ہنگامہ میں روپیہ کا تین سیر گھی، ایک من کا چنا، تین پیسے سیر آٹا بکنے لگا۔ اس بازار کا نام اردو بازار رکھا گیا۔ ایک طرف خوانچہ والوں کا غل، حلوائی، نان بائی، ترکاری فروش، تنبولی، بزاز، غرض کہ ضرورت کی ہر شے مہیا تھی۔ بارگاہ سلطانی میں عمدہ رونق تھی، غرض کانپور بالکل لکھنؤ بن گیا تھا۔ جب سب سامان درست ہوگیا تو بادشاہ کو اطلاع دی گئی۔ بادشاہ بنفس نفیس لکھنؤ سے تشریف لائے۔ خیمہ میں فروکش ہوئے۔ غالب جنگ کا انتظام اور سب سامان دیکھ کر بادشاہ سلامت بہت خوش ہوئے۔ گورنر جنرل بہادر سے بڑے لطف کی ملاقات ہوئی۔ صاحب بہادر کے ہمراہ راجا بھی لکھنؤ آئے۔ راستہ میں رسد کا انتظام اور سامان بھی بہت معقول تھا۔\n\nآخر بمقتضائے كُلُّ نَفسٍ ذَائِقَةُ المَوت راجا کا پیام اجل آگیا۔ ایک چھوٹا سا دانہ ماتھے پر نکلا جس میں بہت سوزش رہی، تیسرے دن منہ دھونے میں وہ دانہ پھوٹ گیا، اُس سے جو مواد نکلا وہ زرد زرد پانی تھا، جہاں جہاں وہ پانی لگ گیا دانے نکل آئے، تمام چہرہ مُشبّک ہوگیا۔ جرّاحوں نے بہت کچھ علاج کیا، کچھ سود مند نہ ہوا:\n\nاز قضا سرکنگبین صفرا فزود\n\nروغن بادام خشکی می نمود\n\nآخر انتقال کیا۔ کروڑوں روپیہ چھوڑ گئے۔\n\nناظرین ملاحظہ کریں کہ ایک غریب الوطن مسافر کے ساتھ جو نہ شہر کا باشندہ، نہ ہم قوم تھا، نہ کوئی وسیلہ اور سفارش رکھتا تھا، یہ شاہی فیاضیاں تھیں۔ اسی طرح شاہی دربار میں غیر قوموں کے ہزاروں لوگ پرورش پاتے اور بادشاہ ہر مذہب کے لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتے تھے۔ چنانچہ راجا ٹکیت رائے، مہاراجا میوہ رام، راجا بختاور سنگھ، مشیر الدولہ مہاراجا بال کرشن جسارت جنگ، راجا کندن لعل، راجا امرت لال، عرض بیگی راجا بینی بہادر وغیرہ سب شاہی فیاضیوں کے نمونے تھے۔ اسی طرح شاہان اودھ کی اولوالعزمیاں روز روشن کی طرح منور ہیں۔\n\nشاہان اودھ اگر مذہبی تعصب رکھتے ہوتے تو رعیت تباہ اور برباد ہوجاتی۔ حالانکہ واجد علی شاہ آخری شاہ اودھ کے عہد میں سولہ لاکھ کی آبادی خاص لکھنؤ کی تھی۔ اصل یہ ہے کہ بادشاہوں کے مزاج میں عموماً تعصب نہیں ہوتا۔ غلطی سے لوگ محض کسی تہدید پر اپنی طبیعت کے موافق اُن پر تعصب کا الزام لگا دیتے ہیں۔ ورنہ غور سے دیکھا جائے تو نہ عالمگیر متعصب تھا، نہ اکبر دہریہ۔ اپنے اپنے عہد کی پالیسی تھی۔ دونوں پر تعصب اور دہریت کے الزام محض بے بنیاد ہیں۔ بادشاہوں کی نیت کا حال رعیت کی سر سبزی سے معلوم ہوتا ہے۔ اگلی سرسبزیاں دیکھنے کے بعد ہرگز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تعصب اور نامنصفی کے وجود کے ساتھ یہ سلاطین اتنے بڑے حصہ ملک پر اس اطمینان سے حکمرانی کرتے تھے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A4_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C/%D8%B4%D8%A7%DB%81%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%A7%D9%88%D8%AF%DA%BE_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D8%AA%D8%B9%D8%B5%D8%A8%DB%8C"} {"title": "لکھنؤ کا عہد شاہی/لکھنؤ کا شاہی زمانہ", "poet_page": "مصنف:عشرت لکھنوی", "kind": "prose", "section": "لکھنؤ کا عہد شاہی", "year": null, "text_ur": "لکھنؤ کا شاہی زمانہ\n\nشاہی زمانہ کچھ اسی لحاظ سے قابل قدر نہ تھا کہ اس کے دور میں غلہ کی ارزانی، بارش کی فراوانی، پیداوار کی کثرت اور شاہی فیاضیوں سے لوگ خوشحال اور فارغ بال تھے۔ کیونکہ ایک لحاظ سے اگر خیال کیجیے تو روز مرہ کی فوجداریاں اور بانکوں کی تیغ زنی، شہزوروں کی ڈاکہ زنی، مارپیٹ، دھینگا مُشتی، نوچ کھسوٹ، ذرا ذرا سی بات پر خون کی ندیاں بہانا، چوریاں، ڈاکہ زنی، چھاپے مارنا، گِرہ کاٹ لینا، گھر لوٹ لینا، دن دہاڑے لپّاڈُگی، یہ سب خرابیاں ایسی تھیں جن کا ذکر سن کر رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔\n\nپھر محکمۂ عدالت کی بدعنوانیاں، مقدّمے کی سماعت نہ ہونا، سفارشوں کا لحاظ کرنا، پولیس کی بے وقعتی اور سونے میں سُہاگہ تھی۔\n\nگُلباز خاں شاہی چور جو ہمیشہ اپنی بدکرداریوں سے جیل خانے میں رہا کرتا تھا اور آخر کو اس کی شناخت کے لیے شاہی حکم سے اس کے دونوں گال پیسہ لال کرکے داغ دیے گئے تھے، مگر اﷲ رے چوری اور سینہ زوری، ایسی دھاک بندھی ہوئی تھی کہ جس مہاجَن سے کہلا بھیجا کہ ہم کو دس ہزار روپیہ کی ضرورت ہے، اس نے ہاتھ باندھ کر روپیہ حاضر کردیا اور جو کچھ چین چپڑکی، پہلو بدلے، ناک بھُوں چڑھائی، دون کی لی، روپیہ تو اس وقت تیار نہیں ہے، کل مُنیب جی آلیں تو لے لینا، آج جنم اشٹمی ہے، دوچار ہُنڈیاں سکارنا ہیں، ابھی اننت چودس تک تو ہم روپیہ نہیں دے سکتے، بڑے لالہ تیرتھ گئے ہیں، تو سمجھ لیجیے کہ شاہ جی کی شامت آگئی، بیٹھے بٹھائے عذاب مول لیا۔ رات کو دندناتے ہوئے آ دھمکے۔ نہ کہیں پولیس ہے نہ روند ہے۔ شاہ جی کے ہاتھ پاؤں کھٹیا سے باندھ دیے اور قرولی چھاتی پر رکھ دیا اور گڑی ہوئی دھن دولت پوچھ پوچھ کر کھود کھاد کر باندھ لی اور چمپت ہوئے۔ مزے ہونے لگے۔ کچھ یار دوستوں میں بانٹی، کچھ محلے کے غریب غربا کو دی، کنّیا کی شادی کرادی۔ اگرچہ حرام کی کمائی تھی لیکن اس کا مصرف نیک کاموں میں ہوا۔\n\nگلباز کو لوگ میر صاحب میر صاحب کہتے تھے۔ محلے بھر کے لوگ ان سے خوش۔ جس محلے میں یہ رہے، کبھی کسی پسنہاری کے یہاں بھی ایک جھاڑو کی چوری نہ ہوئی تھی۔ اپنے کمال میں ایسے فرد تھے کہ چومنزلے پر چشم زدن میں چڑھ جانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ میر صاحب سے ان کے دوست نے پوچھا کہ آج تک تمہارا کسی بہادر سے بھی سامنا ہوا ہے؟ کہنے لگے جان ایسی بری ہے کہ تلوار کی آنچ کے سامنے لوگ آتے ہوئے ڈرتے ہیں، بڑے بڑے سورما وقت آنے پر دبک جاتے ہیں۔ لیکن اس بارے میں ہم ایک عورت ذات کی بہادری کا ذکر نہ کرنا حق پوشی سمجھتے ہیں جس نے ہم ایسے دس بہادروں کو زیر کرلیا تھا۔\n\nمحمد علی شاہ کا زمانہ تھا۔ ہمارا آغازِ شباب اور ہمارے ساتھ دس شاگرد پیشہ جُسیدار سورما سپہ گری کے فن میں ہوشیار، اس وقت ہماری نگہ میں آدمی کی وقعت ایک مچھر سے زیادہ نہ تھی۔\n\nایک روز خبر ملی کہ درگاہ کے قریب حکیم سید علی کے مکان میں دہلی کی ایک بیگم بہت مالدار آئی ہوئی ہیں۔ ہم نے اپنے دستور کے موافق اپنے ایک شاگرد سے کہلا بھیجا؛ اگر لکھنؤ میں رہنا ہے تو ہمارا حق پہلے دے دو۔ بیگم صاحب نے کہا کہ میر صاحب کی شہرت میں سن چکی ہوں اور دو ہزار روپیہ ان کی نذر کرنے کو رکھا ہے۔ مگر تم کو نہ دوں گی، تم انہیں کو بھیج دو۔\n\nبیگم صاحب نے تو درحقیقت یہ بات سچے دل سے کہی تھی مگر چور کا دل کتنا ہوتا ہے، ہمارے شاگرد کو اس دال میں کچھ کالا معلوم ہوا۔\n\nآٹھ روز ٹال کر ہم دسوں آدمی مسلح ہوکر بیگم صاحب کے مکان پر پہنچے۔ ایک شاگرد نے کہا آپ لوگوں کو اندر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں جاکر جو کچھ پونجی ہے سمیٹ لاتا ہوں۔ رات کے دو بجے ہوں گے کہ یہ مکان کی دیوار پر چڑھ کر درانہ کود پڑا۔\n\nاتفاق سے بیگم صاحب اس وقت پیشاب کی ضرورت سے اٹھی تھیں، دردانہ لونڈی ایک ہاتھ میں شمع اور دوسرے ہاتھ میں لوٹا لیے ہوئے ساتھ تھی۔ دھماکے کی آواز سن کر جو لونڈی نے آدمی کو دیکھا تو وہ “ووئی” کہہ کر بیہوش ہوگئی۔ بیگم صاحب نے لوٹا پکڑ لیا۔ بیگم صاحب کے گھر بھر میں مرد کا نام نہ تھا۔ مامائیں اصیلیں اپنے اپنے کونے میں دبک رہیں لیکن بیگم صاحب نے نہایت استقلال سے کہا کون؟ ہمارے شاگرد نے جواب دیا ہم ہیں۔ کہا کیوں قضا نے گھیرا ہے، جا سیدھا پلٹ جا۔ اس نے کہا سیدھی طرح سے اپنا زیور اتار کر رکھ دو اور روپیہ کا صندوقچہ حوالے کردو، نہیں تو تمہاری قضا پھڑپھڑا رہی ہے۔ بیگم صاحب نے کہا اچھا تو اپنا وار کر۔ ہمارے دم میں جب تک دم ہے ایک پیسہ نہ دیں گے۔ شاگرد نے پہلے تو دھمکایا، تلوار میان سے کھینچ کر اٹھائی، مگر یہ بھی پھکیت نکلی اور پیترا بدل کر ڈٹ گئی، اور کہا ہاں دیکھوں تو سہی تُو کیسا تلوریا ہے۔ اس نے ایک ہاتھ بھرپور مارا، بیگم نے لوٹے پر روک لیا۔ اسی طرح اس نے کئی ہاتھ مارے بیگم سب خالی دے گئی۔ اِتنی دیر میں پھرتی سے بیگم نے اپنا ریشمی رومال جو گلے میں بندھا تھا کھولا، ایک موٹا پیسا ازار بند سے کھول کر اس کے کونے میں باندھ خوب بل دیے اور ہتکٹی بچاکر وہی رومال گردن پر کھینچ مارا، جس کی چوٹ سے یہ غش کھاکر گر پڑا۔ جب اس کو بہت دیر ہوگئی تو ہم میں سے دوسرا آدمی کود گیا اور اس نے جو اپنے ساتھی کو مرا ہوا پایا تو نہایت غصے میں بیگم پر تلوار کے کئی ہاتھ لگائے، مگر وہ بھی ایسی ماہر فن تھی کہ سب ہاتھ لوٹے پر روکے اور جب اپنی باری آئی تو گھماکر وہی رومال مارا کہ وہ بھی غش کھاکر گر پڑا۔ یکے بعد دیگرے ہمارے سب آدمی کام آگئے تو گھبرا کر ہم خود کودے۔ مکان کو گنج شہیداں دیکھ کر ہماری آنکھوں میں خون اتر آیا اور بیگم پر بہت خشمناک حالت میں ہم نے حملہ کرنا چاہا۔ اس نے کہا میر صاحب! تم ایک نامی استاد ہو، میں تم سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتی اور نہ اس میں میرا رتّی بھر قصور تھا۔ میں نے تمہارے لیے دو ہزار روپیہ الگ رکھا تھا لیکن تمہارے شاگرد کی حماقت سے یہ نوبت پہنچی۔ ہم نے کہا اب تو جو کچھ ہونا تھا وہ ہوچکا۔ میرے قوت بازو نو بہادر سپاہی تونے مار ڈالے، اب اس کے بعد زندگی کا کچھ مزا نہیں اور بہادر کے ہاتھ سے مرنا میں اپنے لیے بہتر سمجھتا ہوں۔ میں عورت پر کیا ہاتھ اٹھاؤں تو ہی پہل کر۔ بیگم نے کہا میر صاحب! تم خاطر جمع رکھو، یہ سب زندہ ہیں مرے نہیں ہیں۔ ان کو ابھی اچھا کیے دیتی ہوں، لیکن اس شرط سے کہ یہ سب ننگے سر اور ننگے پاؤں میرے گھر سے جائیں اور صبح کو اپنا جوتا اور ٹوپی لینے آئیں۔ میں نے طوعاً وکرہاً اس شرط کو منظور کرلیا۔ اس نے ہر ایک کی گردن آہستہ سے ہلائی وہ ہوشیار ہوکر اٹھ بیٹھا۔ جب اس طریق عمل سے سب اچھے ہوگئے تو میں نے کہا جس طرح تم نے ان سب کو بے ہوش کیا، ایسا ہی ایک ہاتھ مجھ پر بھی مارو۔ اس نے میرے لحاظ کی وجہ سے بہت پس وپیش کیا۔ جب میرا اصرار بڑھ گیا تو وہ رومال مجھ کو بھی رسید کیا۔ میں بھی بیہوش ہوکر گر پڑا۔ اُسی وقت میری گردن بیگم نے ہلائی، میں اچھا ہوگیا۔ جب ہم سب جانے لگے تو اس نے دو ہزار روپیہ ہماری نذر کیا۔ ہم نے کہا اب ہم روپیہ نہیں لے سکتے اور نہ تمہارے یہاں آج سے کوئی آئے گا۔ تم چَین سے پاؤں پھیلا کر سویا کرو۔ جہاں پر اس نے پیسہ مارا تھا اس دن سے آج تک وہاں درد ہوتا ہے۔ ہم نے تو اس عورت کے مقابلے میں کسی مرد کو بھی نہیں پایا۔\n\nیہ حال تو چوری اور سینہ زوری کا تھا۔ چوک میں روز دو ایک سے بات بات پر تلوار چل جاتی تھی۔ ہر ایک بانکے کے پاس دو تلواریں ہوتی تھیں۔ ایک ہاتھ میں، ایک پرتلے میں؛ ذرا سی چشمک پر خچاخچ اور شپاشپ چلنے لگی۔\n\nاِن سب باتوں پر بھی لوگ شاہی زمانہ کے معترف نظر آتے ہیں تو آخر وہ کونسی بات تھی جس سے اس زمانے کی اِس قدر عزت ہے۔ بات یہ ہے کہ شاذ ونادر واقعے تو ہر زمانے میں ہوا کرتے ہیں، لیکن عام طور پر شاہی زمانے کی سوسائٹی پر نظر دوڑائی جائے اور اگلے لوگوں کے طرز معاشرت پر غور کیا جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ اُس زمانے اور اِس زمانے کے لوگوں میں زمین وآسمان کا فرق تھا۔ اِس وقت کے لوگ اپنی تن پروری اور عمدہ اچھی پوشاک اور دولتمندی کو انتہائی امارت سمجھتے ہیں، اور اُس زمانے کے لوگ اپنی دولت کو کُنبہ پروری اور نیک نامی کی غرض سے صرف کرنے کو ریاست سمجھتے تھے۔ وضعداری کو اپنا جوہر سمجھتے تھے۔\n\nیہ بات طے شدہ ہے کہ سلطنت کیسی ہی عادل اور منصف مزاج، نیک دل اور رحیم کیوں نہ ہو، لیکن اگر رعیّت کا طرز معاشرت خراب ہے تو سلطنت کو قانون کی کَل اُسی رخ پر پھیرنا پڑتی ہے۔ اور اگر سلطنت کے افعال ناشائستہ، قانون ناقابل عمل ہیں مگر رعیت کا طرز معاشرت عمدہ اور شریفانہ ہے تو سلطنت کو وہی رنگ اختیار کرنا ہوگا۔ یہ قانون قدرت ہے کہ جیسا طرز معاشرت مجموعۃً لوگوں کا ہوتا ہے اُسی کے مناسب حال گورنمنٹ کو قانون بنانا پڑتا ہے۔ تمام دنیا کی مخلوقات پر ایک قانون نافذ نہیں ہوسکتا۔\n\nشاہی قانون کا سبک اور برائے نام نفاذ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ عام طریق پر شریف، نیک چلن، ایماندار اور خوش اخلاق تھے۔ غلہ ارزاں تھا۔ شہر میں ہُن برستا تھا۔ روپے پیسے کی طرف سے لوگوں کو بے فکری تھی۔ لباس، پوشاک اور کھانے پینے میں بہت تکلفات نہ تھے۔ چور، اچکّے، بدمعاش بھی اپنی کمائی نیک کام میں صرف کرتے تھے۔ بنی جان طوائف نے پچاس ہزار روپیہ خرچ کرکے چوک میں امام باڑہ بنوادیا جو آج تک موجود ہے۔ عباسی جان، گوہر جان کے امام باڑے دیکھ کرلوگوں کو یہ گمان ہوتا ہے کہ ان کی ساری کمائیاں شہر کی آبادی برقرار رکھنے کے لیے صرف ہوتی تھیں۔\n\nدہلی کے ایک بزرگ عمدۃ الملک اسلام خاں مشہدی وزیر شاہجہاں کے پڑوتےسید حیدر حسین صاحب سہیل اس وقت لکھنؤ میں موجود ہیں۔ تخمیناً اسی برس کا سِن شریف ہے، آپ برہان علی خاں جلادت جنگ کے نواسے ہیں۔ قدیم مکان نیل کے کٹرے میں تھا۔ واجد علی شاہ آخری شاہ اودھ کے آغاز حکومت میں بیس روپیہ کی کرائے کی بہل کرکے پندرہ روز میں لکھنؤ آئے۔ فرماتے ہیں کہ اس وقت کے لکھنؤ کا کیا پوچھنا، شہر رشک جنت بنا ہوا تھا۔ لکھنؤ بھر میں کہیں سڑک کا نام نہیں، دو طرفہ سر بفلک عمارتیں، عالی شان مکانات، پتلی پتلی گلیوں میں دو طرفہ دکانیں، مینا بازار سے چینی بازار تک دوکانوں میں ہر طرح کے تاجر پیشہ۔ جابجا ناچ رنگ کے جلسے ہورہے تھے۔ قیصر باغ کی بُرجیوں پر سنہری کلس چڑھائے جاتے۔ لوگ عموماً متواضع با اخلاق تھے۔ اسی طرح اور لکھنؤ کے شاہی زمانہ دیکھنے والے بڈّھے قدیم طرز معاشرت کا ذکر کر کے آٹھ آٹھ آنسو روتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شاہی زمانہ ایک خواب تھا جس کا سماں آنکھوں میں اب تک بندھا ہوا ہے۔ آہ کیا کیا لوگ تھے۔ شاہی عملے میں شرفا اہلکار تھے۔ کسی نیچ قوم کو سرکاری ملازمت کا عہدہ نہیں ملتا تھا۔ ایک کماتا تھا، دس کھاتے تھے۔ اناج سستا تھا۔ غریب سے غریب آدمی کے یہاں دوچار مہمان بنے رہتے تھے۔ ذرا ذرا سی بات پر نالشا نالشی نہ ہوتی۔ سرکار دربار میں لوگ جاتے ہوئے ہچکچاتے تھے۔ بڑے بڑے معاملے آپس میں فیصلہ ہوجاتے تھے۔ اس قدر خود غرضی کا بازار گرم نہ تھا۔ اگلے وضعداروں میں پنڈت دلارام کشمیری شاہی میں بانگرمو کے چکلہ دار تھے۔ مزاج میں خیر تھی۔ ایک بارہ دری اپنے نام سے بنوائی، وسعت اور خوبصورتی میں اس کے ساتھ کی ایک نہ تھی، اس کو تمام شہر کی حاجت روائی کے واسطے وقف کردیا تھا۔ بیاہ شادی یا اور کسی تقریب یا غمی کی مجلس کے لیے جس کو ضرورت ہوئی اطلاع کردی اور صاحب خانہ نے دری، چاندنی، نمگیری، قنات، جھاڑ کنول، مردنگیں، دیوار گیریاں، دنگل قالین سے آراستہ کردیا۔ زیادہ ضرورت ہوئی، دیگیں اور خوان پوش وغیرہ بھی موجود۔ یہ سب سامان بارہ دری کے کوٹھے پر مستعد رہتا تھا۔\n\nاِسی طرح تمام عمال سرکاری کی فیاضی اور سخاوت کا حال تھا۔ بادشاہ سے لے کر فقیر تک خوش نیت، مخیّر اور نیکی کی طرف راغب تھا۔ شُہدے سال بھر بھیک مانگ کر جو روپیہ جمع کرتے وہ یوم عاشورہ سید الشہدا کی مجلس میں لٹا دیتے۔\n\nمہاراجا ٹکیت رائے نے جس قدر دولت کمائی مع تنخواہ کے سب تالاب، کنویں اور مسجدیں اور مندروں کی تعمیر میں صرف کردی، آپ ہمیشہ سادہ لباس اور سادہ وضع سے بسر کی۔\n\nشاہی زمانے کو جو لوگ اب تک یاد کررہے ہیں وہ محض اگلے لوگوں کے اخلاق، تواضع، بردباری، نیک چلنی، وضعداری اور ملک کی مجموعی حالت اور شریفانہ برتاؤ کا ماتم کرتے ہیں اور یہ تو اس وقت تک رونا رہے گا جب تک ہم اپنی حالت کو نہ بدلیں گے۔ در حقیقت یہ ہماری بد اخلاقیوں کا رونا ہے۔\n\n١۔ جارج پنجم مراد ہیں جو ٦ مئی ١٩١٠؁ء سے ٢٠ جنوری ١٩٣٦؁ء تک برطانوی ہند کے بادشاہ (قیصرِ ہند) رہے۔ ١٩٣٥؁ء میں ان کی تخت نشینی کی پچیسویں سالگرہ منائی گئی تھی، اسی موقع پر عشرتؔ لکھنوی نے یہ مضمون سپرد قلم کیا تھا۔ (Yethrosh)", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A4_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C/%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A4_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "لکھنؤ کی ادبی خدمات", "poet_page": "مصنف:سید سلیمان ندوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "لکھنؤ کی خدمات\n\nآج ہم جس تاریخی شہر میں جمع ہیں وہ گو ہمارے پورے ملک کی راجدھانی کبھی نہیں بنا لیکن یہ کہنا بالکل سچ ہے کہ ہمارے علوم وفنون اور شعرو ادب کا مدتوں پایہ تخت رہا ہے اور اب بھی ہے۔ شاہ پیر محمدصاحب جن کا ٹیلہ اورٹیلے پر والی مسجد مشہور ہے، یہاں کے سب سے پہلے عالم ہیں۔ عالمگیر کے عہد میں سہالی سے فرنگی محل کو علم و فنون کاوہ خاندان منتقل ہوا جو صدیوں تک ہمارے علوم و فنون کا محافظ اور شیراز ہند پورب کا دارالعلوم رہا اوراس نئے زمانے میں مسلمانوں کی نئی عربی درس گاہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کی یہیں بنیاد پڑی۔ یہاں کا خاندان اجتہاد پورے ملک کے طول وعرض پر تنہا حکمراں ہے۔ دلی کے باغ میں جب خزاں آئی تو یہاں بہار کا دور آیا۔ اس اجڑے باغ کے کتنے مرغ خوش لحن تھے، جنہوں نے اڑ اڑ کر اس چمن کی شاخوں پر بسیرا لیا۔ ہندوستان کی موجودہ بولی پیدا تو سندھ اور پنجاب میں ہوئی، نشو و نما دکن میں پایا، تعلیم وتربیت دلی میں حاصل کی، لیکن تہذیب اور سلیقہ لکھنؤ میں سیکھا۔ اودھ کی راجدھانی جب فیض آباد سے لکھنؤ منتقل ہوئی تو اس کو اور چار چاند لگ گئے۔ میرتقی میرؔ، انشاء اللہ خاں انشاءؔ، جرأت اورمصحفیؔ وغیرہ نے اودھ کا رخ کیا۔ میرانیس کا خاندان دلی سے پہلے ہی آچکا تھا۔ ان بزرگوں کے دم قدم سے بادشاہوں کے دربار، امراء کی ڈیوڑھیاں اور اہل علم کی محفلیں شعر وسخن کے نغموں سے پرشور بن گئیں۔ ناسخ و آتشؔ، وزیرؔ وصباؔ اور ان کے شاگردوں کے شاگردوں نے شعر وادب کے جواہر ریزوں کے ڈھیر لگا دیے۔ شعر وسخن کے چرچوں اور شاعروں کے تفریحی جمگھٹوں کوچھوڑ کر نفس زبان کی ترقی، محاورات کی نزاکت، الفاظ کی تراش خراش اور اصول و قواعد کے وضع وتالیف کا جو اہم کام گزشتہ دوصدیوں میں یہاں انجام پایا، اسی کا اثر ہے کہ اس نے بولی سے بڑھ کر زبان کا درجہ پایا۔ ملک سخن کے دواخیر فرماں روا انیسؔ اور دبیرؔ نے شاعری نہیں کی، بلکہ اپنے نام سے زبان وادب کے سکے ڈھال ڈھال کر اہل ملک میں تقسیم کرتے رہے۔ ناسخؔ نے زبان کی نزاکت ولطافت میں وہ کام کیا جوہر ایک ہوشیار جوہری جواہرات کے نوک پلک نکال کرجلا دینے میں کرتا ہے۔ ان کے شاگرد والاجاہ میراوسط علی رشک نے صحیح وغلط، ثقیل وسبک لفظوں کو اس طرح پرکھ کر الگ کردیا کہ ان کی پسند فصاحت کا معیار بن گئی۔ سیکڑوں الفاظ جو بول چال میں رائج تھے، مگر شعروانشاء کی بارگاہ میں ان کو بار حاصل نہ تھا، ان کوخود اپنے شعروں میں نظم کرکے پچھلوں کے لئے سند پیدا کی۔ لکھنؤ میں غالباً یہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے ۱۲۵۶ھ ۱۸۴۸ء میں اردولغت ترتیب دیا، جس کا نام ’’نفس اللغۃ‘‘ہے۔ سیدانشاء اللہ خاں کے دریائے لطافت کا دھارا بھی یہیں بڑھا۔ شیخ امداد علی بحر المتوفی ۱۳۰۰ھ ۱۸۸۲ء کی نسبت بھی مشہور ہے کہ انہوں نے کوئی لغت لکھا تھا، مگراس کا سراغ نہیں ملتا۔ حکیم ضامن علی جلال جن کے دیدار کا شرف مجھے بھی حاصل ہے، ان شعراء میں ہیں جنہوں نے زبان کو نہ صرف شاعری بلکہ وضع اصول اور تحقیقات کے لحاظ سے بھی مالا مال کیا ہے۔ سرمایہ زبان اردو، مفید الشعراء، تنقیح اللغات، گلشن فیض اور قواعد المنتخب وغیرہ ان کی وہ کتابیں ہیں جو اردو زبان کا سرمایہ ہیں۔ منشی امیر احمدمینائی کے شاعرانہ خدمات سے قطع نظر، امیر اللغات کے مصنف کی حیثیت سے ہماری زبان پر ان کا بڑا احسان ہے کہ اردو کے اس عظیم الشان لغت کے دوحصے الف ممدودہ اور الف مقصورہ تک چھپ سکے۔ ان کے جلیل القدر شاگرد نواب فصاحت جنگ جلیل سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ رام پور میں اس لغت کا پورامسودہ موجود ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو ہماری زبان کی بڑی بدقسمتی ہوگی کہ ترقی کے اس روز بازار میں بھی مشتاقوں کی آنکھیں اس عروس فن کی دید سے محروم ہیں۔ لکھنؤ نے شعر وسخن کے ذریعہ سے اس زبان کی جو خدمتیں انجام دی ہیں، وہ ہماری علمی محفلوں کی بار بار کی دہرائی ہوئی کہانیاں ہیں اور جوشہرت کی بنا پر زبان زد خاص و عام ہیں۔ مجھے اس شاہراہ سے ہٹ کر لکھنؤ کی وہ خدمتیں گنانا ہیں جن کو اس دور کے قدرداں بھول گئے ہیں یا ہماری زبان کی تاریخ سے یہ اوراق گر کر کھو گئے ہیں۔ عہد جدید کی تابانی لکھنؤ کے افق میںہمارے ملک میں سات سمندرپار سے آکر جب اہل یورپ نے اپنے نئے علوم و فنون کی نمائش کی ہے تویہ لکھنؤ کا وہ وقت تھا جب وہ عیش و مسرت کی شراب سے بدمست تھے، اس وقت کس کو ہوش تھا کہ وہ دساور کی نئی چیزوں کی قدر کرے اور بزرگوں کی چھوڑی ہوئی کمائی اوراپنے گھر کی اندوختہ دولت میں، جس پر ان کوبڑا غرور تھا، باہر سے خرید کر کچھ اور قیمتی سامانوں کا اضافہ کرے، تاہم اس میخانہ میں کچھ اہل ہوش بھی تھے۔ انہوں نے نئے اورپرانے کا جائزہ لیا اور جوچیز ان کے یہاں نہ تھی وہ فرنگستان کی دکان سے خرید کر لائے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ خاص حالات نے سرکار اودھ اور سرکار کمپنی کومتحد کر دیا تھا۔ اس کا اثر یہ تھا کہ انگریزی ریزیڈنٹ اور ان کا عملہ لکھنؤ میں اور سرکار اودھ کا وکیل کلکتہ میں اورکبھی کبھی لندن میں رہتا تھا۔ اس میل جول سے دو عظیم الشان مشرقی اورمغربی تمدنوں کا سب سے پہلے یہیں پیوند لگا، اس زمانے کے ریزیڈنٹ اور انگریز حکام اردو و فارسی میں پوری مہارت رکھتے تھے۔ نواب سعادت علی خاں کے دربار میں صاحب ریزیڈنٹ اور انشاء اللہ خاں کی ادبی نوک جھونک کی حکایتیں آب حیات کے ذریعہ مشہور عام ہیں۔ سرکار اودھ کی طرف سے وکالت اورانشاء کے منصب پر جو لوگ سرفراز ہوتے تھے، وہ عموماً اہل علم کے طبقہ سے ہوتے تھے۔ انگریزوں کے میل جول سے وہ بھی انگریزی علوم و فنون سے آشنا ہوجاتے تھے اور بعض بعض تو کسی نہ کسی جدید علم میں مہارت پیدا کر لیتے تھے۔ خان علامہ تفضل خاں انہیں لوگوں میں سے تھے۔ وہ گو رہنے والے سیالکوٹ کے تھے اور ریاضیات اور متوسطات کی تعلیم دلی میں پائی لیکن انتہائی تعلیم لکھنؤ میں ملا حسن فرنگی محلی سے حاصل کی۔ پہلے نواب سعادت علی خاں کے اتالیق مقرر ہوئے۔ پھر نواب آصف الدولہ نے انشاء کو اپنا وکیل بناکر کلکتہ بھیجا۔ اس اثنا میں انہوں نے انگریزی اور لاطینی زبانیں سیکھیں اور جدید ریاضیات و ہیئت کو حاصل کیا، نواب سعادت علی خاں کے زمانہ میں درس و تدریس اور تالیف کا مشغلہ جاری کیا اورجدید علم ہیئت اور جبر ومقابلہ میں کئی کتابیں تصنیف کیں۔ ۱۲۱۵ھ ۱۸۰۰ء میں وفات پائی۔ نواب محمدعلی خان کے زمانہ میں منشی الملک فخرالدولہ، دبیر الملک ہشیار جنگ رتن سنگھ زخمی نے علوم و فنون کی نئی بساط بچھائی۔ گو ان کے بزرگوں کا وطن بریلی تھا، مگران کے فضل و کمال کی بہار لکھنؤ میں آئی۔ بادشاہ کے میر منشی تھے۔ قدیم علوم کے ساتھ جدید ہیئت اور ریاضیات میں بھی ماہر تھے۔ انگریزی سیکھی تھی، حدائق النجوم ان کی مشہور تصنیف ہے۔ ۱۲۵۳ھ ۱۸۳۸ء میں تالیف پائی۔ نئے علم کلام کے لئے نئی اصطلاحوں کا وضع کرنا ان کا خاص کارنامہ ہے۔ کہتے ہیں، ’’باید دانست کہ چوں ایرادوالفاظ یونانی و برطانیقی (انگریزی) بعینہ درکتاب فارسی وعربی مکروہ و غیرمانوس است وکتب عرب یکسر بہ مذہب بطلیموس کہ فیمانحن فیہ اگرچہ بعضے بآنست لیکن بسیارے مخالف ازاں وبرخے مجدد کو نشانے ازاں در تصانیف قدماء پیدانیست۔ ناچار بوضع واضع از اصطلاحات جدیدہ یا تصرفے درتعریضات و جزاں چنانچہ عادت ترجمان قدیم ہنگام نقل علوم از یونانی بعربی بودہ است من ہم اقتضائے ایشاں کردہ می گویم (ص ۹) ان ہی لوگوں میں ایک اور قابل ذکر ہستی رائے منولال فلسفی کی ہے۔ ان کا وطن سندیلہ تھا، فلسفہ و حکمت کے علوم میں دسترس رکھتے تھے۔ نواب آصف الدولہ کے دربار میں نوکر تھے۔ دوسری تصانیف کے ساتھ علم حساب و جغرافیہ و ہیئت اور حکمت انگریزی میں رسائل یادگار چھوڑے۔ ۱۲۴۸ھ ۱۸۲۲ء میں وفات پائی۔ سرکار اودھ کی طرف سے جو علماء وقتاً فوقتاً لندن بھیجے گئے، ان میں سے دونام خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ مولوی محمداسماعیل لندنی اور مولوی محمد حسین لندنی۔ ان دونوں نے یورپ کے جدید علوم و فنون سے اس ملک کو آشنا کیا۔ مولوی محمداسماعیل لندنی مرادآباد کے رہنے والے تھے۔ نواب نصیرالدین حیدر کی طرف سے سفیرلندن مقرر ہوئے تھے۔ منطق کی بعض پرانی کتابوں پر ان کے حاشیے ہیں۔ ۱۲۵۳ھ ۱۸۳۷ء میں وفات پائی۔\n\nمولوی محمد حسین کا ایک عربی رسالہ ندوہ کے کتب خانہ میں ہے، جس میں یورپ کے نئے علوم و فنون، جارج سیل کے ترجمہ قرآن اور یورپ کے بعض اختراعات کا تذکرہ ہے۔ نواب نصیرالدین حیدر کے زمانہ میں ان دو کے علاوہ اور صاحب قابل تذکرہ ہیں۔ مولوی عبدالرب اور مولوی کمال الدین حیدر، لکھنؤ میں جو یورپین علماء رہتے تھے ان سے برابر کی ان کی ملاقاتیں رہتی تھیں۔ اس کا نتیجہ وہ رصد خانہ ہے جو ۱۲۴۷ھ ۱۸۳۱ء میں شاہ نصیرالدین حیدر کے زمانہ میں جنرل مکلاوڑ کی کوٹھی میں بننا شروع ہوا اور محمدعلی شاہ کے زمانے میں بن کر تیار ہوا۔ اس رصد خانہ میں کرنل ولکاکس وغیرہ علماء کے علاوہ مولوی عبدالرب صاحب، مولوی کمال الدین حیدر صاحب اورمولوی اسماعیل صاحب مرادآبادی شریک تھے۔ اور اب یہ وہ مقام ہے جس میں امپیریل بینک کی عمارت قائم ہے۔ اب تک ملک میں جدید علوم و فنون کی اشاعت کی تاریخ میں لکھنؤ کا نام نہیں لیا جاتا۔ حالانکہ شاہان اودھ کے زمانے میں لکھنؤ میں بھی ایک دارالترجمہ قائم تھا۔ نئے علوم وفنون کی کتابیں یہاں ترجمہ ہوکر طبع سلطانی سے شائع ہوتی تھیں۔ اس محکمہ کی طرف سے انیس رسالے چھپ کر شائع ہوئے تھے، جس میں دس رسالوں کے نام ہمیں معلوم ہیں۔ ان کی تفصیل میں نے معارف ۱۹۱۷ء میں کی ہے۔ یہ ہیئت، کیمیا، مناظر اور طبیعات اور اس کے اقسام قوت مقناطیسی، علم الماء، علم الہواء، علم الحرارت وغیرہ سائنس کے مختلف علوم پر ہیں۔ لارڈ بردم کا اردوترجمہ مقاصد العلوم کے نام سے محمدعلی شاہ کے زمانے میں چھپا اور بھوپال کے دفتر صیغہ تاریخ میں میری نظر سے گزرا ہے۔ لکھنؤ کی اس علمی وتعلیمی مجلس کا نام اسکول بک سوسائٹی تھا اوراس کی ایک جنرل کمیٹی تھی جو کتابوں کے ترجمہ واشاعت کا کام کرتی تھی اور رصد خانۂ سلطانی کا انگریز مہتمم ان ترجموں کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ ایک انگریز نے اردو فن زراعت پر کتاب لکھی تھی۔ ضرورت ہے کہ لکھنؤ کی اس اسکول بک سوسائٹی کے مطبوعات کا پتہ چلایا جائے اورآئندہ دلی سوسائٹی اور فورٹ ولیم کالج کے ساتھ اس کا نام بھی لیا جائے۔ اسی عہد کی ایک کتاب اردو حساب میں لوگارتم ہے جس کا ایک نسخہ ہمارے پاس ہے۔ لکھنؤ کی اولیاتلکھنؤ نے اس کے بعد زبان کی جو خدمتیں انجام دی ہیں، افسوس ہے کہ ان کی کوئی مفصل تاریخ موجود نہیں۔ بادشاہوں کے زمانے میں داستان گوئی کا ایک مفصل فن تھا اور بڑے بڑے زبان داں اور زبان آور بادشاہوں اور امیروں کے شبستانوں میں بیٹھ کر اپنی دلچسپ داستانوں سے بادشاہوں اور امیروں کے دل بہلایا کرتے تھے۔ حکیم ضامن علی جلال کے والد بزرگوار حکیم اصغر علی اس فن کے ماہر تھے۔ اخیر زمانے میں اس فن پر کتابیں بھی لکھی جانے لگیں۔ اس وقت کہانیوں کے کردار دیو، پریاں اور جادوگر اور طلسم ساز ہوتے تھے۔ داستان امیرحمزہ، نوشیرواں نامہ، طلسم ہوش ربا، ابرج نامہ وغیرہ مختلف نا موں سے ہزاروں صفحات میں خیالی ادب اور زور بیان کا ایک طلسم کھڑا کیا گیا۔ اس کتابی طلسم کا فتاح ہمارے ملک کا کوئی دوسرا شہر پیش نہیں کرسکتا۔ ان کتابوں کے مصنف جن کو خدا جانے کس مصلحت سے مترجم کا درجہ دیا جاتا ہے، امیر محمد حسین جاہ، منشی احمدحسین قمر، شیخ تصدق حسین اور توتارام شایان وغیرہ ہیں۔ یہ نظم ونثر کے ہزاروں صفحات حق یہ ہے کہ ہماری پرانی زبان کا بہترین نمونہ ہیں۔ نثر میں سرور کا فسانہ عجائب اورنظم میں نواب مرزا شوقؔ اور دیاشنکر نسیمؔ وغیرہ کی مثنویاں وہ جواہرپارے ہیں جن سے کبھی ادب اردو کی الماریاں سجائی جاتی تھیں۔ امانت کا اندرسبھا مدتوں تک اہل شوق کا تماشا گا ہ رہا ہے، اوراب یہ بات پوری تحقیق سے ثابت ہوچکی ہے کہ یہ صرف شاعرانہ فسانہ نہ تھا، بلکہ واقعی لکھنؤ میں اندر کا یہ اکھاڑا لگتا تھا اوراس کا تماشا پردوں کے ساتھ کھیل کر دکھایا جاتا تھا اوراس طرح اردو میں ان جدید تماشوں اورناٹکوں کی تمدنی بدعت بھی یہیں پیدا ہوئی۔ میں نے ہندوستانی ادب کی اس صنف کی یہ تمہیدی تاریخ اس لئے بیان کی ہے تاکہ معلوم ہو کہ قدیم وجدید سے مل کر ہماری زبان میں ناولوں کی پیدائش کے لئے لکھنؤ ہی کی زمین کیوں موزوں ہوئی۔ جوشرؔ روسرشارؔ، مرزا رسواؔ، سجادحسین، مرزا مچھوبیگ اور جوالاپرشاد برقؔ کی تخلیق کا باعث ہوئی۔ شرر نے قومی تاریخ اور اصلاح معاشرت کے بعض موضوعات کو اور سرشار نے لکھنؤ کے آخری تمدن کے رسم ورواج اورطریق کو اور مرزا رسوا نے لکھنؤ کے ایک خاص طبقہ کے خصوصیات کو اس خوبی سے بیان کیا ہے کہ یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ انیسویں صدی کا اخیر عہد ان ہی کے دم قدم سے پر رونق رہا تھا۔ لکھنؤ کے اس ادبی دور میں سرشار کی سیر کہسار اور فسانہ آزاد، شرر کی فردوس بریں اور مرزا رسوا کی امراؤ جان ادا اور سجاد حسین کی حاجی بغلول ادب اردو کی بہترین کتابیں ہیں۔ مطبعے، آج کل ادبیات کے سلسلہ تاریخ کی ایک کڑی مطبعے بھی ہیں۔ لکھنؤ میں مطبع سلطانی کے علاوہ مطبع محمدیہ (۲۵۵ھ بعہد محمدعلی شاہ) محمدیعقوب مطبع علوی علی بخش خاں (۱۲۶۳ھ) مطبع مصطفائی، محمدمصطفی خاں (۱۲۷۱ھ) کانپور، مطبع محمدی محمد حسین لکھنوی (۱۲۶۲ھ) مطبع جعفریہ، حکیم مرزا جعفرخاں (۱۲۶۵ھ) مطبع امینی محمدعباس، مطبع صدیقی عنایت اللہ وغیرہ بہت سے مطابع تھے اوراایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب مطبعے مطبع سلطانی، سلطان المطابع کے قانوناً زیر نگرانی تھے۔ لوح پر اس کے مہتمم کپتان مقبول احمد احسان الملک، مرزا محمدمہدی، علی خاں بہادر قبول ثابت جنگ کا نام باقاعدہ لکھا جاتاتھا۔ یہ نام اس عہد کی مطبوعہ کتابوں پر اثر لکھا ہوا ملتا ہے۔ مطبع مصطفائی اپنی صحت اور صفائی میں معیار کے بلند درجے پر تھا۔ علماء اور طلبہ اس کی چھپی ہوئی کتابوں کے قدرداں تھے اوراب بھی اس کی چھپی ہوئی کتابیں اہل شوق میں اشرفیوں کے مول خریدی جاتی ہیں۔ سب سے آخر لکھنؤ کے اس مطبع کا نام لیا جاتا ہے جس کی زندگی اب اسی برس کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس سے میری مراد نول کشور کا مشہور نول کشورپریس ہے۔ یہ غدر کے بعد ۱۸۵۸ء میں قائم ہوا۔ اور بلامبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ مشرقی علوم وفنون کی جتنی ضخیم اور کثیر کتابیں اس مطبع نے شائع کیں، ان کا مقابلہ ہندوستان کیا مشرق کا کوئی مطبع نہیں کر سکتا۔ ہماری زبان کی اکثر علمی وادبی کتابیں اس مطبع سے چھپ کر نکلیں۔ شعراء کے دوادین، مثنویاں، قصائد، مرثیے، افسانے، داستانیں اور درس کی عام کتابیں سب اسی کی کوششوں کی ممنون ہیں، تاہم غلط نویسی اور غفلت جو کثرت کا نتیجہ ہے اس کی شہرت کے چہرے کا بد نما داغ ہے۔ شعرائے قدیم میرؔ، سوداؔ، ناسخؔ، آتشؔ، جرأتؔ، مصفحیؔ، انشاءؔ، رندؔ، دبیرؔ، صباؔ میرمونسؔ، امیرؔ اور اسیرؔ وغیرہ کے دیوان اور کلاموں کے مجموعے اسی مطبع سے نکل کر دنیا کا اجالا ہوئے اورملک کے گوشہ گوشہ میں زبان کی اشاعت کا سبب بنے۔ مطبع تیغ بہادر بھی صدی کے وسط میں ادب کی اشاعت کا اچھا ذریعہ تھا۔ اخباراتزبان کی اشاعت کا تیسرا ذریعہ اخبارات ہیں۔ ہمارا یہ شہر اس سلسلہ میں پیچھے نہ رہا۔ یہ نہیں معلوم کہ یہاں کا پہلا اردواخبار کون ہے، تاہم یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس صوبہ میں اردوکا پہلا روزانہ اخبار ’’اودھ اخبار‘‘ یہیں سے نکلا اور جوآج تک نکل رہا ہے۔ اس کے آغاز کی تاریخ ۱۸۵۸ء ہے اور یہ بے مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ اس اخبار نے اس ملک کے مشہور ادیبوں کے پیدا کرنے اور ان کے پروان چڑھانے میں بہت بڑا حصہ لیا ہے۔ سرشارؔ اور شررؔ دونوں اسی اخبار کے ذریعہ شہرت کے اسٹیج پر آئے۔ اردوکا سب سے پہلا کامیاب مذاقیہ اخبار اودھ پنج بھی اسی شہر کے افق پر نمودار ہوا۔ سید سجاد حسین جن کی ملاقات کی عزت مجھے حاصل ہے، اس کے ایڈیٹر تھے۔ یہ وہ اخبار ہے جس کے صفحات میں منشی احمدعلی کسمنڈوی، منشی احمد علی شوق، میر اکبرحسین اورسید محمدآزاد وغیرہ ہماری زبان کے وہ پرانے ادیب جونئے طور طریق سے آگاہ تھے، روشناس ہوئے۔ سنجیدہ اخباروں میں مشیرقیصر (مرتبہ مولوی غلام محمد خاں تپش ۱۸۳۱ء) اور آئینہ اور آزاد ہفتہ وار اخبار بھی گزشتہ صدی کے ادیبوں کی پیداوار میں معین ہوئے۔ آزادآخر میں اودھ پنج کا ضمیمہ ہو گیا تھا۔ یہ میری طالب علمی کا زمانہ تھا۔ سجاد حسین مرحوم بے کار ہو چکے تھے۔ اس وقت آزاد کی چند ماہ، شکمی ایڈیٹری کا فرض چند دوستوں کے ساتھ مل کر میں نے بھی ادا کیا تھا۔ اردو کے سب سے پہلے آزاد سیاسی اخبار ’ہندوستان‘ نے بھی اسی شہر میں جنم لیا۔ گنگاپرشاد رما اس کے ایڈیٹر تھے۔ یہ اپنے زمانے میں کانگریس کے خیالات کا بہترین وکیل تھا۔ مولانا شبلی مرحوم جو خود بھی کانگریسی خیال کے تھے، اس کو بہت شوق سے پڑھا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اخبار یہ ہے۔ آج تومسلمانوں میں بہت سے آزادسیاسی اخبار ہیں لیکن زمیندار کے بعد ۱۹۱۰ء میں اس صوبہ کا سب سے پہلا آزاد مسلمان سیاسی اخبار مسلم گزٹ بھی یہیں سے نکلا جس کے ایڈیٹر مرحوم وحیدالدین سلیم اور اس کے مشیر خاص اورمضمون نگار مولانا شبلی تھے۔ رسالےرسائل کے لحاظ سے بھی یہ شہر پیچھے نہیں رہا۔ میرے موجودہ معلومات کے لحاظ سے یہاں کا سب سے پہلا رسالہ رسالہ محشر ہے جو مولوی عبدالحلیم شرر کا پہلا ادبی کارنامہ تھا۔ یہ ۱۸۸۲ء میں نکل کر دوسال کے بعد بند ہو گیا تھا۔ ۱۸۸۶ء میں شرر نے اپنا مشہور ادبی رسالہ دلگداز نکالا جواپنے زمانہ میں جدید طریق تحریر کا بہترین معیار تھا۔ یہی وہ رسالہ ہے جس نے ملک میں اردوکے بے شمار ادیب اور نثار پیدا کئے۔ نثرنویسی کا سلیقہ سب سے پہلے شرر ہی کی تحریروں سے ہمارے نوجوانوں میں پیدا ہوا۔ لکھنؤ کا ایک اورادبی رسالہ ذکر کے قابل ہے۔ منشی نثارحسین کا پیام یار۔ یہ گلدستہ ایک زمانہ میں شوق کے ہاتھوں سے لیا اور عزت کی آنکھوں سے پڑھا جاتا تھا۔ اس میں اس عہد کے بڑے بڑے شعراء، امیرؔ، داغؔ، جلیلؔ اور تسلیمؔ وغیرہ اوران کے باکمال شاگردوں کی غزلیں چھپتی تھیں۔ یہ انیسویں صدی کے اواسط میں حسن وعشق کا تنہا پیام بر تھا۔ جس کی باتوں کو سن کر خدا جانے کتنوں کو عروس سخن کا شیدائی بننا پڑا، اور صحیح زبان کے سیکھنے اور لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اس عہد کا ایک اورادبی رسالہ مرقع عالم ہے جوحکیم محمدعلی خاں کی ایڈیٹری میں ہردوئی سے نکلتا تھا۔ اس کو دلگداز کا حریف سمجھنا چاہئے۔ حکیم صاحب ناول نویسی میں بھی اپنے وقت میں شہرت رکھتے تھے اوران کا قلم وقت کا سماں اور سبزی دکھانے میں خاص ملکہ رکھتا تھا۔ اوپر کے صفحوں پر جوکچھ کہا گیا ہے کہ وہ اس شہر کی انفرادی کوششوں کا ذکر تھا جنہوں نے اصل زبان کو ملک میں مقبول اور ہردلعزیز بنا دیا لیکن اب جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے، انفرادی کوششوں کے بجائے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ اب ہر چیز اسی پانی سے نشو و نما پا رہی ہے اور بڑھ رہی ہے۔ اسی لئے زبان کی ترقی میں بھی اب شخصی کوششوں کے بجائے قوم کی یکجائی کوششوں کی ضرورت ہے۔ میں چاہتا تھا کہ ذراتفصیل سے کام کا نقشہ پیش کروں، مگر وقت کی کمی کا خیال کرکے اختصار کے ساتھ اپنا مدعا عرض کرتا ہوں۔ (۱) ہم کو اپنا لٹریچر اس لئے ناچیز معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک ہمارے سامنے ہماری پچھلی کوششوں کے ثمر ے ایک جگہ نہیں ہیں، اس لئے ایک وسیع کتب خانہ کا قیام نہایت ضروری ہے۔ اس غرض کے لئے میں یہ تحریر کرتا ہوں کہ ہندوستانی اکیڈمی اگرپورے ہندوستان میں نہیں تو یوپی گورنمنٹ کا ایک جز ہونے کی حیثیت سے آئندہ اسمبلی میں یہ تجویز پیش کرائے کہ برٹش میوزیم لائبریری کے اصول کے مطابق صوبہ یوپی کا ہر مطبع ہر کتاب کا ایک ایک نسخہ اس کے کتب خانے کے لئے کلکٹر ضلع کے دفتر میں پیش کرے۔ (۲) ہم کو ہندوستانی زبان کی ترقی کے لئے اس پرانے خیال کو دل سے نکال دینا چاہئے کہ یہ زبان فارسی یا سنسکرت سے نکلی ہوئی ہے یا وہ کسی بھاشا کا ضمیمہ ہے بلکہ وہ خود ایک مستقل زبان ہے جس کے الفاظ خود اسی کے ہیں اور جس کے قواعد خود اس کے ہیں۔ یہ نکتہ ذہن میں نہ رہنے کے سبب سے ہم میں سے بعض صاحبوں کو یہ دھوکا ہے کہ وہ ہندوستانی لفظوں کی صحت اور غلطی کی پہچان عربی، فارسی یا ہندی یا سنسکرت سے کرتے ہیں۔ اس اکیڈمی کے ایک لائق صدر کو ہندوستانی میں موت اور روح وغیرہ لفظوں کو مونث ماننے میں اس لئے شک ہے کہ اصل سنسکرت میں وہ مؤنث نہیں۔ اسی طرح میں نے ایک دفعہ عربی اثر کی ہندوستانی جمع اثرات استعمال کی توالہ آباد کے میرے ایک لائق اور پرانے اہل قلم دوست نے اس لئے مجھ کو ٹوکا کہ عربی میں اس کی جمع اثرات نہیں بلکہ آثار ہے۔ حالانکہ ہماری زبان میں لفظ اثر کی یہ دونوں جمعیں دومعنوں میں آتی ہیں۔ عربی میں آثار کے کچھ ہی معنی ہوں مگر ہندوستانی میں اس کے معنی قرینے کے ہیں۔ آثاریہ ہیں، آثاریہ معلوم ہوتے ہیں اوراثرات کا لفظ نتیجے کے معنی رکھتا ہے، اس لئے ہمیں ہندوستانی زبان کومستقل زبان مان کر اس کی خودمختاری کا اعلان کر دینا چاہئے۔ اسی طرح لفظ اصل کو دیکھئے جس کے معنی عربی میں جڑ کے ہیں۔ اس کی جمع عربی میں اصول ہے مگر اردو میں اصول ایک مفرد لفظ کی طرح قاعدے کے معنی میں بولا جاتا ہے اور اس کی جمع اصولوں بنائی جاتی ہے، خود قاعدے کے عربی معنی بنیاد کے ہیں۔ اس کی جمع قواعد ہماری زبان میں دو معنوں میں آتی ہے جب اس کو جمع بولیں تواصول کے معنی میں مذکر، اورجب مفرد بولیں تو فوجی قواعد کے معنی میں وہ مفرد ہے اور مؤنث۔ مواد کا لفظ ماد کی جمع ہے۔ مادہ کے لغوی معنی ہیں پھیلنے والی چیز اور اصطلاحی معنی میٹر، لیکن اب مواد کا لفظ ہماری زبان میں مفرد ہے اور زخم کی آلائش کے معنوں میں ہے اورمیٹر کے معنوں میں اور کسی مضمون کے ضروری معلومات اور مسالے کے لئے بھی وہ بولا جاتا ہے۔ خود مسالے کی اصلیت عربی میں مصالح ہے اور وہ مصلح کی جمع ہے۔ یعنی وہ چیزیں جو کسی کھانے کی اصلاح کے لئے اس میں ملائی جائیں مگراب وہ ہماری زبان میں مسالا لکھا جاتا ہے۔ (م س ا ل ا) اور لکھا جانا چاہئے اور اب وہ کھانے کے مسالے کے ساتھ ہر مضمون کا مسالا بن گیا ہے۔ عربی کا مشعل ہماری زبان میں مشال بن گیا ہے۔ ایسی ہی مثالیں ہندی سے بھی دی جا سکتی ہیں۔ آخری مثالوں میں یہ بات بھی ہمارے بزرگ کچھ کچھ قبول کر چکے ہیں کہ عربی میں کسی لفظ کی اصلیت کچھ ہو اور اس کا املا بھی کچھ ہو مگر ہماری زبان کے استعمال میں اگر اس کا تلفظ اور املا بدل گیا ہے تو وہی غلط تلفظ ہماری زبان میں صحیح ہوگا جیسے ہم مصالحہ کو مسالا اور مشعل کو مثال لکھتے ہیں اور بولنے لگے ہیں بلکہ صحیح کو بھی ہم نے سہی کر لیا ہے، ذرہ ذرا اور طیار تیار اور خراط خراد ہو گیا ہے تو کیا اس قسم کی کمی بیشی ہم دوسرے لفظوں میں نہیں کرسکتے۔ فارسی والوں نے عربی کے مصدروں کے آخر میں سے ت نکال دیا ہے۔ مثلاً مدارات سے مدارا، محابات سے محابا، یا تماشی کو تماشا، تجلی کو تجلا یا اسم فاعل کے آخرسے ی کو گرا دیا۔ مثلاً محاذی کو محاذ کر دیا اور اب ہم بھی محاذ بولتے ہیں۔ اسی طرح کوئی وجہ نہیں کہ ہم ہندوستانی ان میں تصرفات نہ کریں جیسے جن مصدروں یا لفظوں کے آخر میں ع ہو۔ ہم ہندوستانی لہجے میں ان کو نہیں بولتے، اگران کو لکھنے میں گرا دیا جائے تو کیا برا ہے۔ جیسے اطلاع کو اطلا، اجتماع کو اجتما، اتباع کو اتبا، نزاع کو نزا، انتزاع کو انتزا، مطلع کو مطلے اور متبع کو متبے وغیرہ۔ (۴) دلی اور لکھنؤ کے استادوں نے ہمارے لئے ایک اورمثال متروکات کی چھوڑی ہے، یعنی بہت سے لفظوں کو ثقیل یا نامانوس سمجھ کر چھوڑ دیا، یا ٹکسال باہر کردیا ہے جیسے تلک، تئیں، دکھلانا اور جتلانا وغیرہ۔ کوئی وجہ نہیں کہ آج بھی ہم اس اصول سے کام نہ لیں۔ نمط کا لفظ مانند اور طرح کے معنوں میں پہلے بولتے تھے مگراب نہیں بولتے۔ اس لئے عربی، فارسی اورسنسکرت کے ان موٹے موٹے لفظوں کو جن کے کام میں لانے کی ضرورت سرے سے نہیں اور وہ اسی لئے بولے یا لکھے گئے کہ ان سے ان کے لکھنے اور بولنے والے کی لیاقت ظاہر ہو ان کو اپنی ڈکشنری سے الگ کردیں اور ان کو ٹکسال باہر سمجھیں۔ (۵) ان موٹے نامانوس لفظوں کے استعمال کی ایک وجہ یہ بھی ہوئی ہے کہ بڑے بڑے اہل علم اور خصوصاً یورپ کے فاضل بہت سے معنوں اور چیزوں کے ٹھیٹ ہندوستانی لفظوں سے واقف نہ تھے یا نہیں ہیں، وہ ان کی جگہ پر عربی وفارسی کے لفظ جیسے تقاطر امطار، اوائل ریعاں بدو شور بول کر اپنی ناواقفیت پر پردہ ڈالتے ہیں اوراب بھی ڈالتے ہیں۔ اسی لئے یہ ضرورت معلوم ہوتی ہے کہ ایسا لغت لکھا جائے جس میں عربی و فارسی کے مشکل لفظوں کے مرادف ٹھیٹ ہندوستانی لفظ ہوں۔ اس کام کو لکھنؤ اور دہلی کے اہل زبان بہتر کرسکتے ہیں اورپھر وہ لفظ پورے ملک میں پھیل سکتے ہیں۔ (۶) اس قسم کا لغت نئی اصطلاحوں کے بنانے میں بھی کام آسکتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ چھاپے کا کام بالکل نیا ہے، اس کے سارے پرزے اور کام کی چیزیں سب نئی ہیں، مگرچونکہ یہ فن پڑھے لکھے اور ارباب لغت کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ ان پڑھ جاہلوں کے ہاتھوں میں رہا ہے اس لئے انہوں نے اس کے لئے کسی اکیڈمی کی طرف رجوع کئے بغیر سارے لفظ اور اصطلاحیں بنا لیں جو سب کے سب ہندوستانی ہیں یا ہندوستانی کر لی گئی ہیں۔ جس کاغذ پر لکھا گیا وہ کاپی، اس کی غلطیاں دیکھی گئیں توتصحیح، ان غلطیوں کو کاتب نے درست کرلیا تو ترمیم، اس کی نقل پتھر پر سے اتار لی گئی تو پروف، دوسری طرف اتارا گیا تو مطابق، تیسری دفعہ دکھایا تو سطابق، چوتھی دفعہ دکھایا گیا تو چطابق، پتھر سے حروف اڑ گئے تو چھن گئے، کاپی کو گرم پتھر پر رکھ دیا توکاپی کو جمایا، کاپی کے حروف بگڑ گئے توکچل گئے، غرض اسی طرح ان اَن پڑھوں نے اپنی ساری ضرورتیں پوری کرلیں اور اصلاح بنانے والوں کے ہاتھ انہیں دیکھتے رہے۔ (۷) ہمارے ہندی کے دوستوں کو شکایت ہے کہ ہم ہندی کے لفظ قصداً چھوڑتے ہیں، حالانکہ یہ بات نہیں ہے، زبان کا سارا دارومدار لفظوں کے چلن پر ہے۔ ہندو مسلمان آپس میں جتنا ملیں گے اتنے ہی فارسی اور ہندی کے لفظ گھلیں اور ملیں گے۔ چنانچہ جب ہمارے بزرگ آپس میں خوب گھلے ملے تھے، دیکھئے کہ سیکڑوں ہندی کے لفظ مسلمانوں کی زبان پر اور سیکڑوں عربی فارسی کے لفظ ہندو منشیوں کے قلم پر چڑھ گئے۔ ولی کے زمانے کی زبان دیکھئے، اس میں آج سے کتنے زیادہ ہندی لفظ ہماری زبان میں تھے۔ آج تو ہندوستانی میں فارسی عربی لفظوں کی ملاوٹ کے گنہگار مسلمان ہیں۔ مگر ہندو مسلمان دونوں سے الگ سات سمندر پار کے ایک بے لاگ کی گواہی سنئے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے ۱۹۲۹ء کے ایڈیشن میں ہے، اردو کا یوں شدید طورپر فارسیت آمیز ہوجانا ایرانی اثر سے زیادہ ہندی اثر سے تھا، اگرچہ اپنی اصل کے اعتبار سے اسلامی تھا تاہم اس میں فارسی عنصر کوکثرت سے داخل کرنے والے ان ایرانی یا ایرانی نژاد لوگوں سے زیادہ ہندو عمال تھے جوحکومت مغلیہ میں ملازم اور فارسی داں تھے۔ کیونکہ وہ (ایرانی اورمغل) صدیوں سے اپنے علم وادب کے لئے صرف اپنی ہی فارسی زبان استعمال کرتے آئے تھے۔ (ص، ۵۷۰ ج۱۱) لیکن یہ بھی اسی لئے ہوا کہ فارسی تعلیم یافتہ ہندو عمال بکثرت مسلمان افسروں سے ملتے جلتے تھے تو ان کے لفظ ان کی زبانوں پر چڑھ جاتے تھے۔ اسی طرح جو مسلمان صوفی درویش اور عام لوگ بلکہ بادشاہ تک جوکثرت سے ہندوؤں سے ملتے تھے، ان کی زبانوں پر ہندی الفاظ بڑی آسانی سے چڑھ گئے تھے۔ آئین اکبری اور فارسی کی دوسری مغل تاریخوں اور صوفیوں کے دکھنی اور گجراتی ہندوستانی کلام میں اس کی جھلک معلوم ہوتی ہے۔ آج سے صدیوں پہلے خواجہ صدرالدین من مہنگ میں کہتے ہیں، اک روپ تھے کیوں ہوئے بہروپہر روپ میں دیکھ انوپ کے روپجگ ہے تو یہ جگ دستا ہے ساراجگ نہیں تو سکل جگت اندھیاراجس جگ میں گیان کی اچھی جوتاس جگ کو سمجھئے کہ ہے وہ لایموتمیں مثال کے طورپر کہتا ہوں کہ ۱۹۱۹ء سے ۱۹۲۵ء تک ہندو مسلمان مل کر ایک سیاسی تحریک میں شریک تھے۔ ہر جگہ وہ مل کر ہر مجمع میں جس میں ہندو مسلمان دونوں ہوتے تھے، تقریریں کرتے تھے۔ اس موقع پر اپنی تقریر کا اثربڑھانے اور مجمع کو اچھی طرح سمجھانے کے لئے دونوں قوموں کے باتونی ایڑی چوٹی کا زور لگاتے تھے کہ ان کی ہر بات دونوں سمجھ جائیں۔ اب ہندو مجبورہوتے تھے کہ ترک موالات بولیں اورمسلمان مجبورہتے تھے کہ اَسہ یوگ کہیں۔ چنانچہ اس زمانہ میں سوراج، نراج، سامراج، آندولن، پرستاؤ، چناؤ، راج نیتک، سبھاپتی، کرپا، شانتی، سماج اور پریم کے لفظ بے تکلف بڑے بڑے جبہ و دستار والے بولنے لگے تھے۔ ایسے ہی ہندو دوست عربی وفارسی کے سیاسی لفظ بے اختیار استعمال کرنے لگے تھے۔ (۸) اسی لئے میری یہ تجویز ہے کہ ایسے آسان ہندی لفظوں کا ایک لغت فارسی خط میں لکھا جائے۔ اس کے ہم معنی ہندوستانی لفظ بتائے جائیں تاکہ وہ آسانی سے ہندوستانی میں شامل ہو سکیں۔ (۹) ہم کو ہندو دوستوں سے یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بھی ہندی کے بڑے بڑے لفظ بولنے سے بچیں۔ مجھ کو ہندو دوستوں کے ساتھ کبھی کبھی ان کے جلسوں میں جانا پڑا ہے اور بعض بعض ایسے اناڑیوں کی تقریریں سنی ہیں جن کا ایک لفظ بھی میری سمجھ میں نہیں آیا ہے اور اس پر مزہ یہ ہے کہ اس تجویز کی تائید بھی میرے ذمہ تھی۔ ہندو یونیورسٹی کے ایک ریسرچ اسکالر اپنے مضمون کی ضرورت سے میرے پاس اکثر آتے رہے، لیکن انگریزی کا سہارا نہ ہوتا تو میں نہ ان کی سمجھ سکتا تھا اورنہ وہ میری۔ کیا مجھ کو اوران کو کوئی ایک دیس کا رہنے والا سمجھ سکتا ہے۔ ہندی جس طرح سنسکرت سے کٹ چھنٹ کر بنی ہے اسی ہندی سے کٹ چھنٹ کر ہندوستانی بنی ہے۔ اب ہمارے ہندو دوستوں کی یہ کوشش کہ پھر ہندی لفظ کواسی روپ میں بولیں جس میں وہ ٹھیٹ ہندی میں بولا گیا ہے، ایک طرح کا ظلم ہے۔ میں ایک مثال دیتا ہوں۔ لیکن کے معنی پرنتو، ایک ہندی لفظ ہے۔ وہ اردو میں کٹ چھنٹ کر پر ہوگیا۔ اب اسی جگہ پرنتو بول کر بے پر کی اڑانی کہاں تک درست ہے۔ ہر کلام میں اور کی ضرورت کتنی دفعہ ہوتی ہے۔ اور ہندی کالفظ ہے جس کو اردو نے قبول کرلیا ہے مگر اس لئے کہ یہ اردو میں چل گیا ہے۔ اس کو چھوڑ کر تتھا بولنا کہاں تک صحیح ہے۔ باقی ہندی کا لفظ ہے اور فارسی والے اتنے پرانے زمانے سے اس سے مانوس ہیں کہ سنائی ۵۴۵ء اور سعدی تک نے اپنی زبانیں اسی پانی سے سیراب کی ہیں مگر اب لفظی چھوت کے ڈر سے پانی کا لفظ بھی آپ چھوڑ دیں اور جل پینے لگیں تو یہ کتنی بے گانگی ہے۔ (۱۰) ہماری پرانی اردومیں جب وہ دکھنی یا گوجری ہندی کہلاتی تھی، ہندی کے سیکڑوں پیارے اور میٹھے لفظ تھے جن کو اردو کے چلن سے بعض نفاست پسندوں نے نکال دیا جیسے موہن، موہ، سجن، بچن، پریم، داس، ریت، بس، روگ، پریت، درپن، جگت، بروہ، ٹک، مکھ، پی، چھب، پیا، لٹک (ادا)، سنسار، دیا، چرن، ادھک (بہت)، ندھڑک (بے دھڑک)، نگر، اپاس، میا (مروت)، نپٹ، درس (دیدار)، پریت وغیرہ ان لفظوں کو دوبارہ کام میں لانا چاہئے۔ (۱۱) اس سلسلے میں سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ لفظوں کے لینے اور نکالنے میں عربی وفارسی و سنسکرت و ہندی کی ڈکشنریوں کو کسوٹی بنانا اوران میں سے دیکھ دیکھ کر لفظوں کو چننا اور کلام میں لانا ہماری مشترکہ ہندوستانی زبان کے حق میں زہر ہے۔ اس کی سچی کسوٹی رواج اور چلن ہے۔ آج جو لفظ عربی فارسی، ترکی، ہندی، مرہٹی، گجراتی، پرتگالی اورانگریزی کے عام طور سے برتے جارہے ہیں وہ ٹھیٹ ہندوستانی لفظ ہیں، ان کو اسی تلفظ کے ساتھ بولنا چاہئے جس کے ساتھ وہ بولے جاتے ہیں۔ ہمارے نامور شاعر غالب نے نمبرکو لمبر باندھا، مجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا لمبر سہرا۔ اس سے محاورہ بنا لمبر لے جانا، لمبر چھیننا، لمبر لگانا۔ رپورٹ انگریزی لفظ ہے۔ تھانے والوں کی زبان میں یہ رپٹ ہو گیا اوراس کے خاص معنی ہو گئے۔ یہاں تک کہ لسان العصر اکبرؔ نے کہا، حریفوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کر یہ تھانے میں کہ اکبرؔ نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں دوسرے انگریزی لفظوں میں بھی اسی قسم کا تصرف کیا گیا ہے اور وہی صحیح ہے۔ عربی، فارسی لفظوں کا بھی یہی حال ہے بلکہ خود عربی و فارسی زبانوں کا قاعدہ بھی یہی ہے جس کو تعریب یا تفریس کہتے ہیں۔ اسی اصول پر سنسکرت اورہندی کے لفظ بھی جس شکل میں ہندوستانی میں آ گئے ہیں ان کو پھر سنسکرت اور ہندی کے اصلی روپ میں بولنے اور لکھنے کی کوشش بنی بنائی زبان کو بگاڑنا ہے اور یہ کرنا ہے کہ دوسری قومیں ان کی بات کو نہ سمجھ سکیں۔ آس کو آشا، برہمن کو برہمنڑ اور گن کو گنٹر کہنا ادبی باپ ہے۔ عربی میں لفظ شہوت خواہش کے معنی میں ہے، جوکھانے پینے، مطالعہ کتاب ہر ایک کے ساتھ بولا جاتا ہے، مگر ہماری ہندوستانی میں ایک خاص معنی میں بولا جاتا ہے، اوراس سے اشتہا بنایا گیا ہے جو کھانے کی رغبت کوکہتے ہیں۔ یہ بھی اس معنی میں عربی نہیں مگریہ دونوں ہماری ہندوستانی کے لفظ ہیں اور صحیح ہیں۔ عربی میں مشکور اس کو کہتے ہیں جس کا شکریہ ادا کیا جائے مگر ہماری زبان میں اس کوکہتے ہیں جوکسی کا شکریہ ادا کرے۔ اسی لئے مشکور کی جگہ بعض عربی کی قابلیت جتانے والے اس کو غلط سمجھ کر صحیح لفظ شکر یا متشکر بولنا چاہتے ہیں مگران کی یہ اصلاح شکریہ کے ساتھ واپس کرنی چاہئے۔ خود لفظ شکریہ کو دیکھئے، اصل عربی ہے مگر شکل عربی نہیں۔ اب اس سے ہم نے دو لفظ بنائے ہیں شکر اور شکریہ۔ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں اور انسانوں کا شکریہ۔ وہ ناشکرا ہے جو زبان کی اس توسیع کی نعمت کی قدر نہیں کرنا چاہتا ہے۔ (۱۲) ہمارے علم و فن کے ماہروں کی ایک خو ہے کہ وہ اپنے لئے کسی لفظ کو اس وقت تک علمی اصطلاح بننے کے قابل نہیں سمجھتے، جب تک اس میں بیگانہ پن اور موٹاپن نظر نہ آئے۔ مثلاً دو دریاؤں کا میل جہاں پر ہو اس کے لئے ملتقی البحرین یا دریا میں جہاں پانی پینے کے لئے جگہ ہو اس کو مورد کہیں گے، حالانکہ پہلے کو آسانی سے سنگم اور دوسرے کو پن گھٹ کہہ سکتے ہیں۔ ڈائل کو دھوپ گھڑی کی جگہ ساعت شمسیہ یا دائرہ ہند یہ کہنا ظلم ہے۔ ہمارے عوام نے ریل، جہاز، ہوائی جہاز، گھڑی، گھڑی کی سوئی سیکڑوں لفظ بنا لئے مگران کو قاموس دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوئی۔ ہم جانتے ہیں کہ علمی اصطلاحات میں دقتیں ہوتی ہیں مگر یہ آسانی سے ممکن ہے کہ اصطلاحات میں جہاں تک ہوغرابت سے بچا جائے۔ یہی حال ہندی کے بعض فاضلوں کا ہے کہ انہوں نے ہی نئی ضرورتوں کے لئے سنسکرت اور ہندی کے شبد ساگر کا غوطہ لگایا۔ موتی اورپتھر جوان کے ہاتھ آگیا، اس سے ایک مصنوعی زبان بنالی۔ میرے ایک تعلیم یافتہ ہندو دوست نے بتایا کہ ہندی کے شاعر ڈکشنری دیکھ دیکھ کر لفظ چنتے ہیں اور ان کو شعر میں باندھتے ہیں اور کہنے کے بعد وہ خود کبھی نہیں سمجھتے ہیں کہ ہم نے کیا کہا ہے۔ غرض کہنا یہ ہے کہ ہم ہندوستانی زبان کے لفظوں کے پرکھنے کی کسوٹی دوسری زبان کی ڈکشنریوں کی جگہ رواج اور چلن کو بنائیں، چلتے ہوئے سکوں کو قبول کریں اور کھوٹے کو پھینک دیں۔ آخر میں یہ کہنا ہے کہ اس ہندوستانی کو ہندومسلمانوں کی ایک زبان بنانے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں مل کر اس کو اپنائیں اور جہاں تک ہوسکے اس کو آسان اور سب کی سمجھ میں آنے والی بنانے کی کوشش کریں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہندو مسلمانوں میں آپس میں بات کرنا بھی محال ہو جائےگا۔ انگریزی کے سہارے یگانگت کا خیال پرائے مال کے بل پر دولت مند بننے کی آرزو ہے۔ حاشیے۱۔ میں نے لکھنے کو تویہ لکھا مگراردو والوں نے اس خیال سے اس تجویز کوپسند نہیں کیا کہ اس سے لفظوں کی اصلی حقیقت مٹ جائے گی مگر ہندوستانی تحریک والوں نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔ اب زمانہ آگے بتائے گا کہ یہ تجویز کہاں تک حسن قبول کو حاصل کرتی ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A4_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%D8%A8%DB%8C_%D8%AE%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%AA"} {"title": "لگ جا تو مرے سینہ سے دروازہ کو کر بند", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "لگ جا تو مرے سینہ سے دروازہ کو کر بند\nدے کھول قبا اپنی کی بے خوف و خطر بند\n\nافسون نگہ سے تری اے ساقیٔ بد مست\nشیشہ میں ہوئی مثل پری اپنی نظر بند\n\nمکڑاتے ہوئے پھرتے ہیں ہم کوچہ میں اس کے\nکیا کیجئے دروازہ ادھر بند ادھر بند\n\nیا شاہ نجف نام اشارہ میں ترا لوں\nہو جائے دم نزع زباں میرے اگر بند\n\nآوے وہ اگر یار سفر کردہ تو انشاؔ\nمیں دوڑ کے کس لطف سے کھلواؤں کمر بند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%AF_%D8%AC%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2%DB%81_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%D9%86%D8%AF"} {"title": "لگ رہی جس طرح لالہ کے سارے بن کو آگ", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لگ رہی جس طرح لالہ کے سارے بن کو آگ\nدل کو اپنے داغ دیو اے عاشقو اور تن کو آگ\n\nگل پہ یہ شبنم نہیں پانی چھڑکتی ہے بہار\nہائے رے کنے لگائی آ کے اس گلشن کو آگ\n\nہم سیہ بختوں کا کیوں کر رائیگاں جاوے وبال\nشام نیں پھولی یہ لاگی ہے فلک کے تن کو آگ\n\nچل یقیںؔ کی بات پر اے عشقؔ ہم بھی جل مریں\nکیا ہی پھولا ہے پلاس اور لگ رہی ہے بن کو آگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%AF_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%DA%AF"} {"title": "لگا جب عکس ابرو دیکھنے دل دار پانی میں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لگا جب عکس ابرو دیکھنے دل دار پانی میں\nبہم ہر موج سے چلنے لگی تلوار پانی میں\n\nنہانا مت تو اے رشک پری زنہار پانی میں\nحباب ایسا نہ ہو شیشہ بنے اک بار پانی میں\n\nسنا اے بحر خوبی تیری اٹھکھیلی سے چلنے کی\nاڑائی رفتہ رفتہ موج نے رفتار پانی میں\n\nجھلک اس تیرے کفش پشت ماہی کی اگر دیکھے\nکرے قالب تہی ماہی بھی پھر لاچار پانی میں\n\nنہیں لخت جگر یہ چشم میں پھرتے کہ مردم نے\nچراغ اب کر کے روشن چھوڑے ہیں دو چار پانی میں\n\nلب دریا پہ دیکھ آ کر تماشا آج ہولی کا\nبھنور کالے کے دف باجے ہے موج اے یار پانی میں\n\nکہوں کیا ساتھ غیروں کے تو اس بے دید نے ہمدم\nنہانے کے لیے ہرگز نہ کی تکرار پانی میں\n\nکہا میں نے جو اتنا رکھ قدم اس دیدۂ تر پر\nلگا کہنے کہ آتی ہے مری پیزار پانی میں\n\nنصیرؔ آساں نہیں یہ بات پانی سخت مشکل ہے\nاٹھائی ریختے کی تو نے کیا دیوار پانی میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لگا دے سوز محبت پھر آگ سینے میں", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لگا دے سوز محبت پھر آگ سینے میں\nمزہ پھر آنے لگے دل جلوں کو جینے میں\n\nبخیر گزریں یہ دو دن بہار کے یارب\nکہ روک ٹوک بہت ہو رہی ہے پینے میں\n\nکھٹک رہی ہے کوئی شے نکال دے کوئی\nتڑپ رہا ہے دل بے قرار سینے میں\n\nچمک رہی ہے یہ بجلی گرے گی توبہ پر\nجھلک رہی ہے مئے لالہ فام مینے میں\n\nیہ خاص وقتوں کے کچھ نالہ ہائے موزوں ہیں\nہمارے شعر مبارکؔ نہیں سفینے میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D8%AF%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%DA%AF_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لگا کر عشق کا کجرا نین کو", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "لگا کر عشق کا کجرا نین کو\nدکھاؤں یاں سیتی حب الوطن کو\n\nبزاں لے جاؤں ہر لحظے میں اک بار\nکہ جب لگ روح سوں رشتہ ہے تن کو\n\nرہے عالم میں اس کا سیر اور طیر\nنہ دیکھے اس کے کوئی مستانے پن کو\n\nچمن سوں دل کے عالم کو خبر نہیں\nہمیشہ دیکھتے خاکی بدن کو\n\nکر آؤں سیر دل کے بوستاں کا\nنہ جاوے وہ کبھی ہرگز چمن کو\n\nدکھاؤں یار کے زلفاں سوں یک تار\nنہ چاہے پھر کبھی مشک ختن کو\n\nنہ تھا آدم اتھا وہ ذات مطلق\nسناؤں یہ صدا اب تجھ کرن کو\n\nصدف میں نین کے دکھلاؤں گوہر\nنہ راکھے آرزو در عدن کو\n\nنہیں گوہر وہ ہیں جیوں چاند اور سور\nعلیمؔ اللہ جہاں کے انجمن کو", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%AC%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%8C%D9%86_%DA%A9%D9%88"} {"title": "لگاؤ نہ جب دل تو پھر کیوں لگاوٹ", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لگاؤ نہ جب دل تو پھر کیوں لگاوٹ\nنہیں مجھ کو بھاتی تمہاری بناوٹ\n\nپڑا تھا اسے کام میری جبیں سے\nوہ ہنگامہ بھولی نہیں تیری چوکھٹ\n\nیہ تمکیں ہے اور لب ہوں جان تبسم\nنہ کھل جائے اے شوخ تیری بناوٹ\n\nمیں دھوکے ہی کھایا کیا زندگی میں\nقیامت تھی اس آشنا کی لگاوٹ\n\nٹھکانا ترا پھر کہیں بھی نہ ہوگا\nنہ چھوٹے کبھی وحشتؔ اس بت کی چوکھٹ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A4_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%88%D9%B9"} {"title": "لگائے بیٹھے ہیں مہندی جو میرے خوں سے پوروں میں", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لگائے بیٹھے ہیں مہندی جو میرے خوں سے پوروں میں\nیہی تو رہزنوں میں ہیں یہی ہیں دل کے چوروں میں\n\nپڑے رہتے ہیں اکثر سوئے مشکیں روئے جاناں پر\nبہت دیکھا ہے ہم نے اتفاق ان کالے گوروں میں\n\nلگائی آگ ان کے حسن عالم سوز نے ہر سو\nجلانے چو لکھا بیٹھے ہیں یوں کورے سکوروں میں\n\nوفور صحبت اغیار سے کچھ ایسے کھل کھیلے\nنہ وہ جھیپیں ہزاروں میں نہ شرمائیں کروروں میں\n\nہمیں کوئے بتاں سے دو قدم اٹھنے نہیں دیتی\nہماری ناتوانی ان دنوں ہے ایسے زوروں میں\n\nاماں دیتا نہیں وہ چاہنے والوں کو مر کر بھی\nہمارے نام کو ظالم نے پٹوایا ڈھنڈوروں میں\n\nمرے نالوں کا عاشقؔ رنگ اڑایا عندلیبوں نے\nخرام یار کی شہرت ہوئی سارے چکوروں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں\nکس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں\n\n ان حسرتوں سے کہ دو کہیں اور جا بسیں\nاتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں\n\nکانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباں\nیہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں\n\nبلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ\nقسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں\n\nکتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے\nدو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%AF%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D8%AC%DA%91%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لگتے ہیں نت جو خوباں شرمانے باؤلے ہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لگتے ہیں نت جو خوباں شرمانے باؤلے ہیں\nہم لوگ وحشی خبطی دیوانے باؤلے ہیں\n\nیہ سحر کیا کیا ہے بالوں کی درہمی نے\nجو اس پری پر اپنے بیگانے باؤلے ہیں\n\nجی جھونکتا ہے کوئی آتش میں ناحق اپنا\nجلتے ہیں شمع پر جو پروانے باؤلے ہیں\n\nعصمت کا اپنی اس کو جب آپھی غم نہ ہووے\nلگتے ہیں ہم جو ناحق غم کھانے باؤلے ہیں\n\nاس مے کا ایک قطرہ سوراخ دل کرے ہے\nبھر بھر جو ہم پئیں ہیں پیمانے باؤلے ہیں\n\nگردش سے پتلیوں کی سرگشتہ ہے زمانہ\nمستی سے اس نگہ کی مے خانے باؤلے ہیں\n\nجاتے ہیں اس گلی میں لڑکوں کو ساتھ لے کر\nمیاں مصحفیؔ بھی یارو کیا سیانے باؤلے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%AF%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%AA_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%A4%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لگی ہے مسی پان کھائے ہوئے ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "لگی ہے مسی پان کھائے ہوئے ہیں\nسنانے پہ بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں\n\nغضب ہے حسینوں سے دل کا لگانا\nیہ آفت کے پتلے بنائے ہوئے ہیں\n\nمرے خط کو پھاڑا رقیبوں کے آگے\nکسی کی وہ پٹی پڑھائے ہوئے ہیں\n\nالجھنے سے بالوں کے بگڑو نہ صاحب\nتمہارے ہی یہ سر چڑھائے ہوئے ہیں\n\nکلیجہ ہتھیلی پہ رکھ لوں تو جاؤں\nوہ ہاتھوں میں مہندی لگائے ہوئے ہیں\n\nشب ہجر جب خواب دیکھا یہ دیکھا\nکہ تجھ کو گلے سے لگائے ہوئے ہیں\n\nتری تیغ کی آب جاتی رہی ہے\nمرے زخم پانی چرائے ہوئے ہیں\n\nجدھر دیکھتا ہوں انہیں کا ہے جلوہ\nوہ نظروں میں ایسے سمائے ہوئے ہیں\n\nاتاریں گے کس کس کو نظروں سے انجمؔ\nوہ کیوں آج تیوری چڑھائے ہوئے ہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D9%BE%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سا\nفلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا\n\nنہ جاؤں گا کبھی جنت میں میں نہ جاؤں گا\nاگر نہ ہووے گا نقشہ تمہارے گھر کا سا\n\nکرے نہ خانہ خرابی تری ندامت جور\nکہ آب شرم میں ہے جوش چشم تر کا سا\n\nیہ جوش یاس تو دیکھو کہ اپنے قتل کے وقت\nدعائے وصل نہ کی وقت تھا اثر کا سا\n\nلگے ان آنکھوں سے ہر وقت اے دل صد چاک\nترا نہ رتبہ ہوا کیوں شگاف در کا سا\n\nذرا ہو گرمی صحبت تو خاک کر دے چرخ\nمرا سرور ہے گل خندۂ شرر کا سا\n\nیہ ناتواں ہوں کہ ہوں اور نظر نہیں آتا\nمرا بھی حال ہوا تیری ہی کمر کا سا\n\nجنون کے جوش سے بیگانہ وار ہیں احباب\nہمارا حال وطن میں ہوا سفر کا سا\n\nخبر نہیں کہ اسے کیا ہوا پر اس در پر\nنشان پا نظر آتا ہے نامہ بر کا سا\n\nدل ایسے شوخ کو مومنؔ نے دے دیا کہ وہ ہے\nمحب حسین کا اور دل رکھے شمر کا سا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DA%AF%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D9%86%DA%AF_%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7"} {"title": "لہو ٹپکا کسی کی آرزو سے", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لہو ٹپکا کسی کی آرزو سے\nہماری آرزو ٹپکی لہو سے\n\nیہ ہے کس کا سویم پوچھا عدو سے\nکہ دم ہے ناک میں پھولوں کی بو سے\n\nوہ بچہ پرورش کرتی ہے الفت\nجو پیکاں پوروے کی طرح چوسے\n\nیہ ٹوٹے گی ہوائے گل سے واعظ\nمری توبہ کو کیا نسبت وضو سے\n\nاسے کہتے ہیں قمری طوق الفت\nچھری لپٹی ہوئی ہے یاں گلو سے\n\nیہ تاثیر محبت ہے کہ ٹپکا\nہمارا خوں تمہاری گفتگو سے\n\nوہ ہیں کیوں حسن کے پردہ پہ نازاں\nیہ سیکھا ہے ہماری گفتگو سے\n\nکیا ہے دامن محشر کو افشاں\nاڑے چھینٹے یہ کس کس کے لہو سے\n\nسنا ہے جام تھا جمشید کے پاس\nارے ساقی فقیروں کے کدو سے\n\nوہ شرمیلی نگاہیں کہہ رہی ہیں\nہٹا دو عکس کو بھی روبرو سے\n\nلب گل رنگ پر ہے خال مشکیں\nمگس اور پھول کی پتی کو چوسے\n\nبیاںؔ خوف گنہ سے مر چکے تھے\nمگر جاں آ گئی لا تقنطو سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%81%D9%88_%D9%B9%D9%BE%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D8%B3%DB%92"} {"title": "لہُو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اگر لہُو ہے بدن میں تو خوف ہے نہ ہراس\nاگر لہُو ہے بدن میں تو دل ہے بے وسواس\nجسے مِلا یہ متاعِ گراں بہا، اُس کو\nنہ سیم و زر سے محبّت ہے، نے غمِ افلاس", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%81%D9%8F%D9%88"} {"title": "لیا نہ ہاتھ سے جس نے سلام عاشق کا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لیا نہ ہاتھ سے جس نے سلام عاشق کا\nوہ کان دھر کے سنے کیا پیام عاشق کا\n\nقصور شیخ ہے فردوس و حور کی خواہش\nتری گلی میں ہے پیارے مقام عاشق کا\n\nغرور حسن نہ کر جذبۂ زلیخا دیکھ\nکیا ہے عشق نے یوسف غلام عاشق کا\n\nترے ہی نام کی سمرن ہے مجھ کو اور تسبیح\nتو ہی ہے ورد ہر اک صبح و شام عاشق کا\n\nوفور عشق کو عاشق ہی جانتا ہے نصیرؔ\nہر اک سمجھ نہیں سکتا کلام عاشق کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "لیا ہے عشق نے کیا انتخاب کر کے مجھے", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لیا ہے عشق نے کیا انتخاب کر کے مجھے\nچنا جو بزم میں جام شراب کر کے مجھے\n\nخطا و جرم پہ مجھ کو بہت ندامت تھی\nدیا جو خلد میں جا بے حساب کر کے مجھے\n\nتمہارے نقش قدم سے یہ آ رہی ہے صدا\nقدم نے چھوڑ دیا ہم رکاب کر کے مجھے\n\nخطا نہیں ہے مری اے صنم میں کیا کرتا\nبٹھایا دشت میں دل نے عذاب کر کے مجھے\n\nیہ خاک عاشق غمگیں سے آ رہی ہے صدا\nقضا چلی گئی مصروف خواب کر کے مجھے\n\nخدا کی شان تو دیکھو کہ ان کے گلشن میں\nنسیم لے گئی بوئے گلاب کر کے مجھے\n\nبنایا سجدہ گہہ انس و جن دلا نے مرے\nجمیلہؔ سنگ در بو تراب کر کے مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%AE%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "لیتا ہے جان میری تو میں سر بدست ہوں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لیتا ہے جان میری تو میں سر بدست ہوں\nاے یار میں تو کشتۂ روز الست ہوں\n\nاک دم کی زندگی کے لیے مت اٹھا مجھے\nاے بے خبر میں نقش زمیں کی نشست ہوں\n\nتو مست کر شراب سے اے گل بدن مجھے\nظالم میں تیری چشم گلابی سے مست ہوں\n\nدور از طریق مجھ کو سمجھیو نہ زاہدا\nگر تو خدا پرست ہے میں بت پرست ہوں\n\nان سنگ دل بتوں کا گلہ کیا کروں نظیرؔ\nمیں آپ اپنے شیشۂ دل کی شکست ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%B1_%D8%A8%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں\nنام لے لے کر ترا راتوں کو چلاتا ہوں میں\n\nغیر جب کہتا ہے اس پر میں بھی مرتا ہوں تب آہ\nوہ تو کیا مرتا ہے بس غیرت سے مر جاتا ہوں میں\n\nآ نکلتا ہے کبھی پر بات وہ کرتا نہیں\nبولتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ اب جاتا ہوں میں\n\nتو وہ ہے آتش کا پرکالہ کہ تیرے سامنے\nآفتاب آ کر کہے جاڑے سے تھراتا ہوں میں\n\nناتوانی نے نکل جانے کا ڈر تو کھو دیا\nیار کو اب اپنے مر جانے سے دھمکاتا ہوں میں\n\nگر چلیں راہ طلب میں توڑ ڈالوں اپنے پاؤں\nبس کبھی ساقی کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہوں میں\n\nابر کو دیکھا جو ساقی نے نگاہ مست سے\nرعد بولا اب مئے گل رنگ برساتا ہوں میں\n\nدوڑتے ہیں پاؤں جب دامان صحرا کی طرف\nہاتھ بھی سوئے گریباں ساتھ دوڑاتا ہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D9%88%D9%B9%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D9%86_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لیتے ہی دل جو عاشق دل سوز کا چلے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لیتے ہی دل جو عاشق دل سوز کا چلے\nتم آگ لینے آئے تھے کیا آئے کیا چلے\n\nتم چشم سرمگیں کو جو اپنی دکھا چلے\nبیٹھے بٹھائے خاک میں ہم کو ملا چلے\n\nدیوانہ آ کے اور بھی دل کو بنا چلے\nاک دم تو ٹھہرو اور بھی کیا آئے کیا چلے\n\nہم لطف سیر باغ جہاں خاک اڑا چلے\nشوق وصال دل میں لیے یار کا چلے\n\nغیروں کے ساتھ چھوڑ کے تم نقش پا چلے\nکیا خوب پھول گور پہ میری چڑھا چلے\n\nدکھلا کے مجھ کو نرگس بیمار کیا چلے\nآوارہ مثل آہوئے صحرا بنا چلے\n\nاے غم مجھے تمام شب ہجر میں نہ کھا\nرہنے دے کچھ کہ صبح کا بھی ناشتا چلے\n\nبل بے غرور حسن زمیں پر نہ رکھے پاؤں\nمانند آفتاب وہ بے نقش پا چلے\n\nکیا لے چلے گلی سے تری ہم کو جوں نسیم\nآئے تھے سر پہ خاک اڑانے اڑا چلے\n\nافسوس ہے کہ سایہ مرغ ہوا کی طرح\nہم جس کے ساتھ ساتھ چلیں وہ جدا چلے\n\nکیا دیکھتا ہے ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیب\nیاں جان ہی بدن میں نہیں نبض کیا چلے\n\nقاتل جو تیرے دل میں رکاوٹ نہ ہو تو کیوں\nرک رک کے میرے حلق پہ خنجر ترا چلے\n\nلے جائیں تیرے کشتے کو جنت میں بھی اگر\nپھر پھر کے تیرے گھر کی طرف دیکھتا چلے\n\nآلودہ چشم میں نہ ہوئی سرمے سے نگاہ\nدیکھا جہاں سے صاف ہی اہل صفا چلے\n\nروز ازل سے زلف معنبر کا ہے اسیر\nکیا اڑ کے تجھ سے طائر نکہت بھلا چلے\n\nساتھ اپنے لے کے توسن عمر رواں کو آہ\nہم اس سرائے دہر میں کیا آئے کیا چلے\n\nسلجھائیں زلفیں کیا لب دریا پہ آپ نے\nہر موج مثل مارسیہ تم بنا چلے\n\nدنیا میں جب سے آئے رہا عشق گل رخاں\nہم اس جہاں میں مثل صبا خاک اڑا چلے\n\nقاتل سے دخل کیا ہے کہ جاں بر ہو اپنا ہوش\nگر اڑ کے مثل طائر رنگ حنا چلے\n\nفکر قناعت ان کو میسر ہوئی کہاں\nدنیا سے دل میں لے کے جو حرص و ہوا چلے\n\nاس روئے آتشیں کے تصور میں یاد زلف\nیعنی غضب ہے آگ لگے اور ہوا چلے\n\nاے ذوقؔ ہے غضب نگہ یار الحفیظ\nوہ کیا بچے کہ جس پہ یہ تیر قضا چلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%DA%A9%D8%A7_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "لیجئے ختم ہوا گردش تقدیر کا رنگ", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لیجئے ختم ہوا گردش تقدیر کا رنگ\nآئیے دیکھیے مٹتی ہوئی تصویر کا رنگ\n\nہم نے جھیلی ہیں زمانے میں کشش کی کڑیاں\nہم سے پوچھے کوئی بگڑی ہوئی تقدیر کا رنگ\n\nذکر تدبیر عبث فکر رہائی بے سود\nجب کہ مٹتا نظر آنے لگا تقدیر کا رنگ\n\nہم بھی آئے ہیں کفن باندھ کے سر سے قاتل\nدیکھنا ہے تری چلتی ہوئی شمشیر کا رنگ\n\nکیا بتاؤں میں تمہیں سوز دروں کی حد کو\nدن میں سو بار بدل جاتا ہے زنجیر کا رنگ\n\nاف رے وہ زور جوانی کہ الٰہی توبہ\nآئنہ توڑ کے نکلا تری تصویر کا رنگ\n\nہم سمجھتے ہیں زمانے کی روش کو عالمؔ\nہم نے دیکھا ہے بدلتے ہوئے تقدیر کا رنگ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D9%86%DA%AF"} {"title": "لیس ہو کر جو مرا ترک جفا کار چلے", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "لیس ہو کر جو مرا ترک جفا کار چلے\nسیکڑوں خون ہوں ہر گام پہ تلوار چلے\n\nناتوانی نے انہیں دریا پہ جانے نہ دیا\nاٹھ کے سو بار گرے راہ میں سو بار چلے\n\nتیرا کوچہ ہے وہ اے بت کہ ہزاروں زاہد\nڈال کے سبحہ میں یاں رشتۂ زنار چلے\n\nاے شہ حسن مکدر نہ ہو گر تیرا مزاج\nخاک اپنی بھی جلو میں پس رہوار چلے\n\nسن کے یہ گرمئ بازار تیری اے یوسف\nنقد جاں رکھ کے ہتھیلی پہ خریدار چلے\n\nہے یقیں حشر میں بھی ایک نیا محشر ہو\nاٹھ کے گر کاکل جاناں کے گرفتار چلے\n\nفصل گل آئی اٹھا ابر چلی سرد ہوا\nسوئے مے خانہ اکڑتے ہوئے مے خوار چلے\n\nہوگا احساں پئے گلگشت اگر تو صیاد\nساتھ لے کر قفس مرغ گرفتار چلے\n\nدیر سے بیٹھے تھے مشتاق سخن سب یہ حبیبؔ\nدیکھ اٹھتے ہی تیرے بزم سے حضار چلے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%8C%D8%B3_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "لینن", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "اے انفُس و آفاق میں پیدا ترے آیات\nحق یہ ہے کہ ہے زندہ و پائندہ تِری ذات\nمیں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے\nہر دم متغّیر تھے خرد کے نظریات\nمحرم نہیں فطرت کے سرودِ اَزلی سے\nبِینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات\nآج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہُوا ثابت\nمیں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات\nہم بندِ شب و روز میں جکڑے ہُوئے بندے\nتُو خالقِ اعصار و نگارندۂ آنات!\nاک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پُوچھوں\nحل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات\nجب تک میں جِیا خیمۂ افلاک کے نیچے\nکانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ بات\nگفتار کے اسلوب پہ قابُو نہیں رہتا\nجب رُوح کے اندر متلاطم ہوں خیالات\nوہ کون سا آدم ہے کہ تُو جس کا ہے معبود\nوہ آدمِ خاکی کہ جو ہے زیرِ سماوات؟\nمشرق کے خداوند سفیدانِ فرنگی\nمغرب کے خداوند درخشندہ فِلِزّات\nیورپ میں بہت روشنیِ علم و ہُنر ہے\nحق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظُلمات\nرعنائیِ تعمیر میں، رونق میں، صفا میں\nگِرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات\nظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جُوا ہے\nسُود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات\nیہ عِلم، یہ حِکمت، یہ تدبُّر، یہ حکومت\nپیتے ہیں لہُو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات\nبے کاری و عُریانی و مے خواری و اِفلاس\nکیا کم ہیں فرنگی مَدنِیّت کے فتوحات\nوہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم\nحد اُس کے کمالات کی ہے برق و بخارات\nہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت\nاحساسِ مروّت کو کُچل دیتے ہیں آلات\nآثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر\nتدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا مات\nمیخانے کی بُنیاد میں آیا ہے تزَلزُل\nبیٹھے ہیں اسی فکر میں پِیرانِ خرابات\nچہروں پہ جو سُرخی نظر آتی ہے سرِ شام\nیا غازہ ہے یا ساغر و مِینا کی کرامات\nتو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں\nہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات\nکب ڈُوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟\nدُنیا ہے تری منتظرِ روزِ مکافات!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%8C%D9%86%D9%86"} {"title": "لینے لگے جو چٹکی یک بار بیٹھے بیٹھے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لینے لگے جو چٹکی یک بار بیٹھے بیٹھے\nیہ چھیڑ کیا نکالی اے یار بیٹھے بیٹھے\n\nکل وعدہ گاہ میں جب وہ بے وفا نہ آیا\nاکتا کے اٹھ گئے ہم ناچار بیٹھے بیٹھے\n\nجو کچھ پڑھا ہے ہم نے ہم آپ ہی آپ اس کی\nگھر میں کیا کریں ہیں تکرار بیٹھے بیٹھے\n\nہم نے تو اس کو ہرگز یارو کہا نہ تھا کچھ\nکچھ یوں ہی ہو گیا وہ بیزار بیٹھے بیٹھے\n\nتجھ بن تو ہم نے وے بھی با خامشی ادا کیں\nیاد آئیاں جو باتیں دو چار بیٹھے بیٹھے\n\nاے مصحفیؔ انہیں میں صنعت نہیں کچھ اپنی\nلکھ ڈالے ہم نے کل یہ اشعار بیٹھے بیٹھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D9%B9%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92"} {"title": "لیچیاں، آلوچے اور الائچیاں", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "poetry", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "زاغ کی چونچ میں انگور خدا کی قدرت\nپہلوئے حور میں لنگور خدا کی قدرت\n\nیوں تو الیچی بھی، موسمی بھی، نارنگی بھی\nہاتھ میں آج چقندر کے ہے سارنگی بھی\n\nبات چل جاتی ہے اس بزم میں بے ڈھنگی بھی\nزلف اشعار کو سلجھا نہ سکی کنگھی بھی\n\nالٹا دنیا کا ہے دستور خدا کی قدرت\nپہلوئے حور میں لنگور خدا کی قدرت", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%8C%DA%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA%D8%8C_%D8%A2%D9%84%D9%88%DA%86%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%A6%DA%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "لیکھے کی یاں بہی نہ زر و مال کی کتاب", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لیکھے کی یاں بہی نہ زر و مال کی کتاب\nہے اپنے حق میں وا شد دل فال کی کتاب\n\nبلبل کا زیر بال نہ بے جا سمجھ تو ہے\nاس کے مطالعے میں پر و بال کی کتاب\n\nمذکور زلف ہے مرے دیواں میں سر بسر\nہر صفحہ اس کا کیوں نہ بنے جال کی کتاب\n\nفرصت ملی تو خامۂ بال تدرو سے\nعاشق ترے لکھیں گے تری چال کی کتاب\n\nجز یسفک الدما کی آیہ نہ وہ پڑھے\nقرآں ہو گرچہ اس بت قتال کی کتاب\n\nشکل عروس چھٹ نہ خوش آوے مجھے کبھی\nرکھ دیں جو میرے سامنے اشکال کی کتاب\n\nدیکھے جو غور سے کوئی دیواں مرے تو ہاں\nہر بیت ہے زمانے کے احوال کی کتاب\n\nشرم گنہ سے آب ہوا گرچہ میں ولے\nدھوئی گئی نہ نامۂ اعمال کی کتاب\n\nپایا نہ سعد و نحس سے کوئی ورق تہی\nتاروں کی میں نے خوب جو غربال کی کتاب\n\nکس طرح روز حشر وہ ہوویں گے سرخ رو\nدیکھا کیے ہیں یاں جو خط و خال کی کتاب\n\nاس دہر میں بلندیٔ اذہان کند سے\nمیں گرچہ جانتا تھا انہیں فال کی کتاب\n\nہر جلد مصحفیؔ ترے دیوان کی ولے\nنقطوں سے شک کے بن گئی رمال کی کتاب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B2%D8%B1_%D9%88_%D9%85%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8"} {"title": "لیے آدم نے اپنے بیٹے پانچ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لیے آدم نے اپنے بیٹے پانچ\nجدی ہوتی ہے ہولے ہولے آنچ\n\nقید مذہب سے مجھ کو کیا مطلب\nمیں نہیں جانتا ہوں تین اور پانچ\n\nکس دہن نے یہ اس کو تنگ کیا\nطفل غنچہ کی جو نکل گئی کانچ\n\nآدمی ہے وہی جو دنیا میں\nجھوٹ کو جھوٹ جانے سانچ کو سانچ\n\nاستخواں بندیٔ تن مجنوں\nاپنی نظروں میں ہے پتنگ کا ڈھانچ\n\nرام مجنوں نہیں ہوئی لیلیٰ\nمثل آہو برہ بھرے ہے کلانچ\n\nگو پڑھیں تو نے سو کتاب تو کیا\nمصحفیؔ اک خط جبیں کو تو بانچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A2%D8%AF%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86"} {"title": "لے اعتبار وعدۂ فردا نہیں رہا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لے اعتبار وعدۂ فردا نہیں رہا\nاب یہ بھی زندگی کا سہارا نہیں رہا\n\nتم مجھ سے کیا پھرے کہ قیامت سی آ گئی\nیہ کیا ہوا کہ کوئی کسی کا نہیں رہا\n\nکیا کیا گلے نہ تھے کہ ادھر دیکھتے نہیں\nدیکھا تو کوئی دیکھنے والا نہیں رہا\n\nآہیں ہجوم یاس میں کچھ ایسی کھو گئیں\nدل آشنائے درد ہی گویا نہیں رہا\n\nاللہ رے چشم ہوش کی کثرت پرستیاں\nذرے ہی رہ گئے کوئی صحرا نہیں رہا\n\nدے ان پہ جان جس کو غرض ہو کہ دل کے بعد\nان کی نگاہ کا وہ تقاضا نہیں رہا\n\nتم دو گھڑی کو آئے نہ بیمار کے قریب\nبیمار دو گھڑی کو بھی اچھا نہیں رہا\n\nفانیؔ بس اب خدا کے لیے ذکر دل نہ چھیڑ\nجانے بھی دے بلا سے رہا یا نہیں رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%82_%D9%81%D8%B1%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "لے اڑا رنگ فلک جلوۂ رعنائی کا", "poet_page": "مصنف:چندر بھان کیفی دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لے اڑا رنگ فلک جلوۂ رعنائی کا\nعکس ہے قوس قزح میں تری انگڑائی کا\n\nاس قدر ناز ہے کیوں آپ کو یکتائی پر\nدوسرا نام ہے یہ بھی مری تنہائی کا\n\nعجب انداز سے کچھ مہر خموشی ٹوٹی\nوصف پیدا ہوا تصویر میں گویائی کا\n\nکھل رہا ہے تری رحمت کی بدولت ورنہ\nکون تھا دیکھنے والا گل صحرائی کا\n\nہو گئی میرے گناہوں کی سیاہی مقبول\nسنگ اسود پہ چڑھا رنگ جبیں سائی کا\n\nصورت یاس سے آئینۂ حیرت ہو کر\nدیکھتے رہ گئے چہرہ وہ تمنائی کا\n\nبے خودی دیکھ کے میری سر محفل پوچھا\nنام مشہور ہے کیفیؔ اسی صہبائی کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%D8%A7%DA%91%D8%A7_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%B1%D8%B9%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "لے اڑے گیسو پریشانی مری", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لے اڑے گیسو پریشانی مری\nآئنے لے بھاگے حیرانی مری\n\nکہہ اٹھا جوبن کہ بس بس ہو چکی\nنیچی نظروں سے نگہبانی مری\n\nبام پر کہہ آئے جا کر آہ گرم\nبڑھ کے بجلی سے ہے جولانی مری\n\nگیسوؤں سے ان کے اچھی غم کی رات\nمیں فدا اس پر وہ دیوانی مری\n\nپیارے پیارے منہ سے پھر کہہ دے ذرا\nہو مبارک تجھ کو مہمانی مری\n\nساتھ میرے دل بھی مٹی ہو چکا\nتیرے صدقے خاک کیوں چھانی مری\n\nاتنی مدت میں بچھڑ کر دل ملا\nدیر تک صورت نہ پہچانی مری\n\nتھک گئے وہ رک گیا خنجر ریاضؔ\nاب بڑی مشکل ہے آسانی مری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%D8%A7%DA%91%DB%92_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%8C"} {"title": "لے دام نگاہ یار آیا", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لے دام نگاہ یار آیا\nکرنے کوں مجھے شکار آیا\n\nکیوں آوے نہ مجھ بدن سوں خوش باس\nمجھ بر میں وو گل عذار آیا\n\nخط دیکھ تیرے رخ اوپر آغاز\nآئینہ اوپر غبار آیا\n\nجس باج تھی دل کوں بے قراری\nوو دل کا مرے قرار آیا\n\nزاہد نے اپس کا زہد تقویٰ\nکوچے میں تیرے بسار آیا\n\nنکلا ہے رقیب گل بدن سات\nلے گل کی پناہ خار آیا\n\nمجھ پردۂ دل پہ ساز کر غم\nہو نالہ میرا ستار آیا\n\nشبنم نہیں ہر سحر اے داؤدؔ\nتجھ غم سوں گل اشک بار آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D9%85_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "لے دیدۂ تر جدھر گئے ہم", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لے دیدۂ تر جدھر گئے ہم\nڈبرے جو تھے خشک بھر گئے ہم\n\nتجھ عشق میں روز خوش نہ دیکھا\nدکھ بھرتے ہی بھرتے مر گئے ہم\n\nتیرا جو ستم ہے اس کی تو جان\nاپنی تھی سو خوب کر گئے ہم\n\nیہ قطعہ پڑھے تھا سوز دل سے\nسودا کے جو رات گھر گئے ہم\n\nجوں شمع لبوں پر آ رہا جی\nتن تھا سو گداز کر گئے ہم\n\nاتنی بھی پتنگ پیش قدمی!\nگر شام نہیں سحر گئے ہم\n\nہوگی نہ کسی کو یہ خبر بھی\nاس مجلس سے کدھر گئے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%AA%D8%B1_%D8%AC%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "لے قضا احسان تجھ پر کر چلے", "poet_page": "مصنف:مردان علی خاں رانا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لے قضا احسان تجھ پر کر چلے\nہم ترے آنے سے پہلے مر چلے\n\nکوچۂ جاناں میں جانا ہے ضرور\nچاہے آرا سر پہ یا خنجر چلے\n\nبس یہ ہے کوئے بتاں کی سرگزشت\nسر پہ میرے سیکڑوں پتھر چلے\n\nکوئے جاناں کا نہ پایا کچھ نشان\nخضر کے ہمراہ ہم دن بھر چلے\n\nپائی تیرے در پہ آ کر زندگی\nاو مسیحا کھا کے ہم ٹھوکر چلے\n\nدیکھیے دیکھیں گے کیا روز جزا\nیاں بشر آئے وہاں با شر چلے\n\nہو خزاں کیوں کر نہ گلشن کی بہار\nجب یہاں باد صبا سرسر چلے\n\nبزم سے جاتے ہو دزدیدہ نظر\nنیم بسمل کر چلے کیا کر چلے\n\nقول واعظ نے نہ کچھ تاثیر کی\nکشتۂ کاکل پہ کب منتر چلے\n\nخوں تری ترچھی نگاہوں نے کیا\nلاکھ خنجر ایک کشتہ پر چلے\n\nفرش پر ہے یوں خراماں رشک ماہ\nعرش پر جیسے کوئی اختر چلے\n\nکب ہوئی سودائے مژگاں سے شفا\nنشتروں پر سیکڑوں نشتر چلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "لے لے کے قلم کے لوگ بھالے نکلے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "لے لے کے قلم کے لوگ بھالے نکلے\nہر سمت سے بیسیوں رسالے نکلے\nافسوس کہ مفلسی نے چھاپہ مارا\nآخر احباب کے دوالے نکلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D9%84%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D9%88%DA%AF_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D9%84%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا\nایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا\n\nاپنے دل کو بھی بتاؤں نہ ٹھکانا تیرا\nسب نے جانا جو پتا ایک نے جانا تیرا\n\nتو جو اے زلف پریشان رہا کرتی ہے\nکس کے اجڑے ہوئے دل میں ہے ٹھکانا تیرا\n\nآرزو ہی نہ رہی صبح وطن کی مجھ کو\nشام غربت ہے عجب وقت سہانا تیرا\n\nیہ سمجھ کر تجھے اے موت لگا رکھا ہے\nکام آتا ہے برے وقت میں آنا تیرا\n\nاے دل شیفتہ میں آگ لگانے والے\nرنگ لایا ہے یہ لاکھے کا جمانا تیرا\n\nتو خدا تو نہیں اے ناصح ناداں میرا\nکیا خطا کی جو کہا میں نے نہ مانا تیرا\n\nرنج کیا وصل عدو کا جو تعلق ہی نہیں\nمجھ کو واللہ ہنساتا ہے رلانا تیرا\n\nکعبہ و دیر میں یا چشم و دل عاشق میں\nانہیں دو چار گھروں میں ہے ٹھکانا تیرا\n\nترک عادت سے مجھے نیند نہیں آنے کی\nکہیں نیچا نہ ہو اے گور سرہانا تیرا\n\nمیں جو کہتا ہوں اٹھائے ہیں بہت رنج فراق\nوہ یہ کہتے ہیں بڑا دل ہے توانا تیرا\n\nبزم دشمن سے تجھے کون اٹھا سکتا ہے\nاک قیامت کا اٹھانا ہے اٹھانا تیرا\n\nاپنی آنکھوں میں ابھی کوند گئی بجلی سی\nہم نہ سمجھے کہ یہ آنا ہے کہ جانا تیرا\n\nیوں تو کیا آئے گا تو فرط نزاکت سے یہاں\nسخت دشوار ہے دھوکے میں بھی آنا تیرا\n\nداغؔ کو یوں وہ مٹاتے ہیں یہ فرماتے ہیں\nتو بدل ڈال ہوا نام پرانا تیرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%DA%86%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاس", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاس\nاب کے چھوڑ آؤں گا ظالم کو ستم گار کے پاس\n\nمیں تو ہر ہر خم گیسو کی تلاشی لوں گا\nکہ مرا دل ہے ترے گیسوئے خم دار کے پاس\n\nتو تو احسان جتاتی ہوئی آتی ہے صبا\nیوں بھی آتا ہے کوئی مرغ گرفتار کے پاس", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%DA%86%D9%84%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3"} {"title": "لے چکو دل جو نگہ کو تو یہ دشوار نہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لے چکو دل جو نگہ کو تو یہ دشوار نہیں\nلیک تم دیکھتے پھرتے ہو خریدار نہیں\n\nگو کہ مشرف بہ ہلاکت ہوں میں اس بار پہ شوخ\nتو عیادت کو گر آوے تو کچھ آزار نہیں\n\nتنگ تو ہم کو تو اے جیب کرے ہے لیکن\nاٹھ گیا ہاتھ گر اپنا تو پھر اک تار نہیں\n\nگو سبک مجھ کو زمانے نے کیا ہے لیکن\nیہ بھی ہے شکر کسی دل کا تو میں بار نہیں\n\nمجلس مے سے مشابہ ہے خرابات جہاں\nجان کر یاں جو نہ ہو مست سو ہشیار نہیں\n\nہر بد و نیک جہاں اپنی جگہ ہے مطلوب\nکون سا عضو بدن میں ہے کہ درکار نہیں\n\nمے کی توبہ کو تو مدت ہوئی قائمؔ لیکن\nبے طلب اب بھی جو مل جائے تو انکار نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%DA%86%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D9%86%DA%AF%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D8%B4%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لے چکے دل تو جنگ کیا ہے اب", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لے چکے دل تو جنگ کیا ہے اب\nآ ملو پھر درنگ کیا ہے اب\n\nپی گئے خم کے خم نہ کی مستی\nیاں شراب فرنگ کیا ہے اب\n\nاس نگہ کا ہے دل جراحت کش\nزخم تیغ و خدنگ کیا ہے اب\n\nہوں میں دریائے عشق کا غواص\nخوف کام نہنگ کیا ہے اب\n\nدید و وا دید تو ہوے باہم\nشرم اے شوخ و سنگ کیا ہے اب\n\nدل سے وحشی کے تئیں شکار کیا\nصید شیر و پلنگ کیا ہے اب\n\nتھی جو رسوائی ہو چکی بیدارؔ\nپاس ناموس و ننگ کیا ہے اب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%DA%86%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D9%86%DA%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8"} {"title": "لے کے اپنی زلف کو وہ پیارے پیارے ہاتھ میں", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لے کے اپنی زلف کو وہ پیارے پیارے ہاتھ میں\nکہتے ہیں فتنوں کی چوٹی ہے ہمارے ہاتھ میں\n\nساقیا دونوں جہاں سے پھر تو بیڑا پار ہے\nگر بط مے آئے دریا کے کنارے ہاتھ میں\n\nعاشقوں کی آنکھ سے ہر دم برستا ہے لہو\nرنگ پر ہے آج کل مہندی تمہارے ہاتھ میں\n\nخوب ہے تیری حمایت پا کے لوٹے نقد دل\nاے پری دزد حنائی مال مارے ہاتھ میں\n\nحشر میں ہم سمجھے آیا یار کے خط کا جواب\nنامۂ اعمال جب آیا ہمارے ہاتھ میں\n\nجب کبھی دست حنائی سے کترتا ہے وہ شوخ\nبرق بن جاتے ہیں افشاں کے ستارے ہاتھ میں\n\nمنہ چڑھانا بے سبب ہر دم بگڑنا چھوڑ دو\nہو اگر غصے میں آئینہ تمہارے ہاتھ میں\n\nدست ساقی جام جمشیدی سے بڑھ کر ہے مجھے\nدونو عالم کے میں کرتا ہوں نظارے ہاتھ میں\n\nوصل ہے اک شہسوار حسن سے شام و سحر\nہے عنان ابلق گردوں ہمارے ہاتھ میں\n\nفکر تھی ان کو کہ کیوں کر کیجیے عاشق کو قتل\nآ گئی تیغ ادا و ناز بارے ہاتھ میں\n\nمثل شاخ گل لچکتی ہے کلائی بار بار\nگجرے پھولوں کے ہیں یا کنگن تمہارے ہاتھ میں\n\nوائے قسمت دیکھنے پائیں نہ ہم آنکھوں سے بھی\nلے کے مشاطہ ترے گیسو سنوارے ہاتھ میں\n\nکہتے ہیں افشاں کے ذرے لے کے پیشانی سے وہ\nآسماں سے ہم نے یہ تارے اتارے ہاتھ میں\n\nبند محرم کے وہ کھلواتے ہیں ہم سے بیشتر\nآج کل سونے کی چڑیا ہے ہمارے ہاتھ میں\n\nنبض پر مجھ دل جلے کے انگلیاں رکھیں اگر\nاے مسیحا آگ لگ جائے گی سارے ہاتھ میں\n\nہاتھ آنا اب دل گم گشتہ کا ممکن نہیں\nچھپ رہا دزد حنا جا کر تمہارے ہاتھ میں\n\nدل مرا مٹھی میں لے کر مجھ سے کہتا ہے وہ شوخ\nکیا ہے اے ناظمؔ بتاؤ تو ہمارے ہاتھ میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%D9%88_%D9%88%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "لے کے خود پیر مغاں ہاتھ میں مینا آیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لے کے خود پیر مغاں ہاتھ میں مینا آیا\nمے کشو شرم کہ اس پر بھی نہ پینا آیا\n\nنہ پلانا کسی مے کش کو نہ پینا آیا\nتجھ کو زاہد اگر آیا بھی تو کینہ آیا\n\nعمر بھر خون جگر بیٹھ کے پینا آیا\nآرزوؤ تمہیں مرنا ہمیں جینا آیا\n\nدل نے دیکھا مجھے اور میں نے فلک کو دیکھا\nبچ کے ساحل پہ اگر کوئی سفینا آیا\n\nکسی بدمست کی یاد آ گئیں آنکھیں ساقی\nجب چھلکتا ہوا آگے مرے مینا آیا\n\nاک ذرا سی تھی کبھی کی خلش اس پر اے حشر\nدل میں لیتا ہوا زاہد وہی کینہ آیا\n\nلڑکھڑانا کوئی سیکھا کوئی سیکھا مستی\nہم کو آیا تو فقط ڈھال کے پینا آیا\n\nخوش ہو اے چشم کہ ہے فصل یہی رونے کی\nمژدہ اے ابر کہ ساون کا مہینہ آیا\n\nپی ہی لینی تھی جو مے خانے کو آ نکلا تھا\nتجھ کو صحبت کا بھی زاہد نہ قرینا آیا\n\nچاہا جو کچھ وہ زمانے نے کیا نقش اس پر\nمیں تو سادہ لیے اس دل کا نگینہ آیا\n\nآج تک دامن گل چاک ہے خیاط ازل\nتجھ کو خلعت بھی حسینوں کا نہ سینا آیا\n\nدیکھ چاروں طرف اپنے کہ تماشا کیا ہے\nلے کے اس بزم میں تو دیدۂ بینا آیا\n\nمنہ پہ عاشق کے محبت کی شکایت ناصح\nبات کرنے کا بھی ناداں نہ قرینا آیا\n\nکس طرح ملتے ہیں بچھڑوں سے دکھا دیں گے کبھی\nدل میں وہ تیر اگر چیر کے سینا آیا\n\nڈھال کر دیتے ہیں کس کو کسے بے ڈھالے ہوئے\nمیرے ساقی کو تو یہ بھی نہ قرینا آیا\n\nزندگی کرتے ہیں کس طرح یہ سیکھو اس وقت\nشادؔ کیا نفع اگر مرنے پہ جینا آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%BE%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%A7_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "لے کے دل اس شوخ نے اک داغ سینے پر دیا", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لے کے دل اس شوخ نے اک داغ سینے پر دیا\nجو لیا اس کا عوض اس سے مجھے بہتر دیا\n\nدور تجھ سے ساغر مے پر نظر میں نے جو کی\nکاسہ اپنا چشم نے خوناب دل سے بھر دیا\n\nجو سلوک اب دل میں آویں کر مجھے تقدیر نے\nدست و بازو باندھ کر تیرے حوالے کر دیا\n\nدلبروں کے شہر میں بیگانگی اندھیر ہے\nآشنائی ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں لے کر دیا\n\nبعضے ہی اوقات راحت ہم کو دی ہے چرخ نے\nرنج و غم ہی اس ستم گر نے بیاںؔ اکثر دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D9%86%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "لے کے دل مہر سے پھر رسم جفا کاری کیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لے کے دل مہر سے پھر رسم جفا کاری کیا\nتم دل آرام ہو کرتے ہو دل آزاری کیا\n\nتم سے جو ہو سو کرو ہم نہیں ہونے کے خفا\nکچھ ہمیں اور سے کرنی ہے نئی یاری کیا\n\nجوں حباب آئے ہیں ملنے کو نہ ہو چیں بہ جبیں\nہم سے اک دم کے لیے کرتے ہو بے زاری کیا\n\nتیغ ابرو کی تو الفت نے کیا دل کو دو نیم\nدیکھیں اب کرتی ہے کاکل کی گرفتاری کیا\n\nپھر سناں مژۂ دل پر وہ اٹھاتا ہے نظیرؔ\nزخم شمشیر نگہ آہ نہیں کاری کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B1%D8%B3%D9%85_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "لے گیا دل کون میرا سو بشر کے سامنے", "poet_page": "مصنف:نبی بخش نایاب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نایاب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "لے گیا دل کون میرا سو بشر کے سامنے\nکس کی صورت پھرتی ہے یا رب نظر کے سامنے\n\nامتحان حسن آئینے میں لیتے ہیں مدام\nرکھ کے وہ تصویر یوسف کو نظر کے سامنے\n\nدور آبادی سے رکھنا اپنے دیوانے کو یار\nگھر نہ آ جائے کسی کا چشم تر کے سامنے\n\nخط کہاں وہ انتظار خط کی بھی لذت گئی\nحیف کیوں رویا میں اس کے نامہ بر کے سامنے\n\nیار سے نایابؔ اب منہ پھیرنا اچھا نہیں\nطوطیٔ دل باندھ شہباز نظر کے سامنے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%D8%A8%D8%B4%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92"} {"title": "لے گیا گھر سے انہیں غیر کے گھر کا تعویذ", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "لے گیا گھر سے انہیں غیر کے گھر کا تعویذ\nہم نے دیکھا نہ سنا ایسے اثر کا تعویذ\n\nدے کے بو زلف کی رکھ لو تہہ محرم دل کو\nخواب میں پھر نہ ڈرو گے یہ ہے ڈر کا تعویذ\n\nصدقے تیرے مجھے تسکین سے تسکین ہوئی\nخط ترا تھا کہ مرے درد جگر کا تعویذ\n\nہو مبارک تجھے آنکھوں میں سمانا دن رات\nزیب بازو رہے ہر وقت نظر کا تعویذ\n\nرہ گیا غیر کے گھر جائیے بھی لائیے بھی\nآپ کے سر کی قسم آپ کے سر کا تعویذ\n\nباندھ لے بہر خدا اپنے بھرے بازو پر\nنظر بد سے بچائے گا نظر کا تعویذ\n\nگھر گئے اپنے بتا کر وہ ہمیں راہ عدم\nوصل کی شب کی نشانی ہے کمر کا تعویذ\n\nہاتھ بھی آئیں تو ہے ہاتھ لگانا مشکل\nسر‌ بازو ہے بندھا خاص اثر کا تعویذ\n\nڈر سے ان کے بھرے بازو کئی کاغذ اترے\nہاتھ تھاما تھا شب وصل کہ سرکا تعویذ\n\nدل ہے اب مانگ کے آغوش میں دن رات ریاضؔ\nیہ تو سر چڑھ کے بنا یار کے سر کا تعویذ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%84%DB%92_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%B9%D9%88%DB%8C%D8%B0"} {"title": "مآل جور سمجھے اور نہ انجام وفا سمجھے", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مآل جور سمجھے اور نہ انجام وفا سمجھے\nنہ ان کا مدعا جانا نہ اپنا مدعا سمجھے\n\nتم اس مدہوش کو کیوں شاکیٔ جور و وفا سمجھے\nجو مصروف دعا رہ کر نہ مقصود دعا سمجھے\n\nزمانہ میں ہزاروں صورتیں ہیں موت آنے کی\nہمیں کیوں کوئی اس کا کشتۂ تیغ ادا سمجھے\n\nوفا کا تذکرہ بھی جرم ہے کیا کیوں بگڑتے ہو\nذرا سوچو تو کیا میں نے کہا اور آپ کیا سمجھے\n\nاگر تو دشت غربت میں مرا ہو ہم سفر ناصح\nتو رہزن تو کجا ریگ رواں کو رہنما سمجھے\n\nجہاں میں بے نیازی کی اسے شانیں دکھانا ہیں\nوہ کیوں پابند فطرت ہو وہ کیوں اچھا برا سمجھے\n\nکسی کی شوخیٔ برق نظر کا ہے یہ آئینہ\nمنیرؔ اس اضطراب دل کو میرے کوئی کیا سمجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A2%D9%84_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "مآل سوز غم ہائے نہانی دیکھتے جاؤ", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مآل سوز غم ہائے نہانی دیکھتے جاؤ\nبھڑک اٹھی ہے شمع زندگانی دیکھتے جاؤ\n\nچلے بھی آؤ وہ ہے قبر فانیؔ دیکھتے جاؤ\nتم اپنے مرنے والے کی نشانی دیکھتے جاؤ\n\nابھی کیا ہے کسی دن خوں رلا دے گی یہ خاموشی\nزبان حال کی جادو بیانی دیکھتے جاؤ\n\nغرور حسن کا صدقہ کوئی جاتا ہے دنیا سے\nکسی کی خاک میں ملتی جوانی دیکھتے جاؤ\n\nادھر منہ پھیر کر کیا ذبح کرتے ہو ادھر دیکھو\nمری گردن پہ خنجر کی روانی دیکھتے جاؤ\n\nبہار زندگی کا لطف دیکھا اور دیکھو گے\nکسی کا عیش مرگ ناگہانی دیکھتے جاؤ\n\nسنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوے\nکفن سرکاؤ میری بے زبانی دیکھتے جاؤ\n\nوہ اٹھا شور ماتم آخری دیدار میت پر\nاب اٹھا چاہتی ہے نعش فانیؔ دیکھتے جاؤ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A2%D9%84_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%BA%D9%85_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A4"} {"title": "مآل کار نہ کچھ بھی ہوا تو کیا ہوگا", "poet_page": "مصنف:ہوش بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مآل کار نہ کچھ بھی ہوا تو کیا ہوگا\nنہ ہم رہے نہ زمانہ رہا تو کیا ہوگا\n\nمیں ہنس رہا ہوں زمانہ کی شاد کامی پر\nچراغ عیش جو گل ہو گیا تو کیا ہوگا\n\nمجھے فریب نہ دے اے طلسم خواب و خیال\nرخ حیات اگر پھر گیا تو کیا ہوگا\n\nضمیر دہر میں وہ زندگی کی لہر کہاں\nدلوں میں سوز محبت رہا تو کیا ہوگا\n\nتلاش منزل ہستی ضرور ہے لیکن\nنشان راہ نہ گر مل سکا تو کیا ہوگا\n\nتمہیں یقیں ہے کہ ہے کھیل رقص بیتابی\nجو میرے دل کو سکوں آ گیا تو کیا ہوگا\n\nمآل موسم گل ہے خزاں تو پھر اے ہوشؔ\nہوئی بھی دعوت آب و ہوا تو کیا ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A2%D9%84_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "مئے کوثر کا اثر چشم سیہ فام میں ہے", "poet_page": "مصنف:دل شاہ جہانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مئے کوثر کا اثر چشم سیہ فام میں ہے\nساقیٔ مست عجب کیف ترے جام میں ہے\n\nدیکھیے فیصلۂ یاس و تمنا کیا ہو\nصبح محشر کی جھلک تیرگئ شام میں ہے\n\nنگہ مست کا پھر زہد شکن دور چلے\nپھر ڈھلے بادۂ سرجوش جو اس جام میں ہے\n\nچھا گئے شیوۂ بیداد پہ دل کش نغمے\nمیں قفس میں ہوں کہ صیاد مرے دام میں ہے\n\nمطمئن خود ہی نہیں پھر اثر انداز ہو کیا\nپند واعظ ابھی اندیشۂ انجام میں ہے\n\nآرزو لطف طلب عشق سراسر ناکام\nمبتلا زندگی دل انہیں اوہام میں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%AB%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%D9%81%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "مئے گل رنگ سے لبریز رہیں جام سفید", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مئے گل رنگ سے لبریز رہیں جام سفید\nچشم بدبیں کو کرے گردش ایام سفید\n\nبسکہ اس بت کی طبیعت ہے زمانے سے خلاف\nصبح پوشاک سیہ ہے تو سر شام سفید\n\nکون سی شام نہیں صبح ہوئی اے مغرور\nایک دن ہوتی ہے یہ زلف سیہ فام سفید\n\nقطرۂ اشک میں سرخی کا کہیں نام نہیں\nلہو تیرا بھی ہوا اے دل ناکام سفید\n\nدل کی تسکیں کو میں پیغام صفا کا سمجھوں\nپرزہ کاغذ کا جو بھیجے وہ گل اندام سفید\n\nچاندنی رات میں وہ ماہ جو یاد آتا ہے\nکاٹنے دوڑتے ہیں مجھ کو در و بام سفید\n\nوصل کی شب جو ہوئی صبح یکایک تو ہوا\nمیں ادھر زرد ادھر روئے دلارام سفید\n\nنسبت اس فتنۂ دوراں سے کوئی اندھا دے\nیار کی آنکھ سیہ دیدۂ بادام سفید\n\nکسی حالت میں نہیں فکر سے دشمن غافل\nآفت مرغ ہے رنگین ہو بادام سفید\n\nبس ہے اتنی ہی زمانہ کی دو رنگی آتشؔ\nمئے گل رنگ سے لبریز رہیں جام سفید", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%B3%DB%92_%D9%84%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D8%B2_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%B3%D9%81%DB%8C%D8%AF"} {"title": "مائل صحبت اغیار تو ہم ہیں تم کون", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مائل صحبت اغیار تو ہم ہیں تم کون\nکیوں برا مان گئے یار تو ہم ہیں تم کون\n\nکیوں رہائی کی دعا کرتے ہو تم حضرت دل\nان کی زلفوں میں گرفتار تو ہم ہیں تم کون\n\nزاہدو حشر کے دن تم کو خدا کیوں بخشے\nواجب الرحم گنہ گار تو ہم ہیں تم کون\n\nان کی آنکھوں سے مرے سوگ میں آنسو جو گرے\nزلف بولی کہ عزا دار تو ہم ہیں تم کون\n\nدل مضطرؔ کی وفاؤں سے تمہیں کیا مطلب\nاس کی ہر چیز کے مختار تو ہم ہیں تم کون", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88%D9%86"} {"title": "مائل ہوں گل بدن کا مجھے گل سیں کیا غرض", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مائل ہوں گل بدن کا مجھے گل سیں کیا غرض\nکاکل میں اس کے بند ہوں سنبل سیں کیا غرض\n\nخونیں دلوں کے قتل کوں سیدھی نگاہ بس\nاس تیغ کوں فسان تغافل سیں کیا غرض\n\nرسوائی جہاں سیں مجھے فکر کچھ نہیں\nدیوانۂ جنوں کوں تأمل سیں کیا غرض\n\nبس ہے غبار راہ لباس شہنشہی\nسلطان بے خودی کوں تجمل سیں کیا غرض\n\nجام مئے الست سیں بے خود ہوں اے سراجؔ\nدور شراب و شیشۂ پر مل سیں کیا غرض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D8%B1%D8%B6"} {"title": "ماتم بہت رہا مجھے اشک چکیدہ کا", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ماتم بہت رہا مجھے اشک چکیدہ کا\nآخر کو پاس آ ہی گیا نور دیدہ کا\n\nنام فراق پھر نہ لیا میں نے عمر بھر\nتھا ذائقہ زباں پہ عذاب چشیدہ کا\n\nاب وہ مزا نہیں لب شیریں کے قند میں\nچوسا ہوا ہے یہ کسی خدمت رسیدہ کا\n\nاے چرخ پیر زور جوانی سے در گزر\nاب پاس چاہیے تجھے پشت خمیدہ کا\n\nابرو میں خم جبیں میں شکن آنکھ میں غضب\nکیا مدعا ہے قاتل خنجر کشیدہ کا\n\nدولت غرض نہ تھی جو دعا سے ہوئی حصول\nتھا اور مدعا مرے دست کشیدہ کا\n\nاے ساکنان چرخ معلی بچو بچو\nطوفاں ہوا بلند مرے آب دیدہ کا\n\nوہ نا توانیاں ہیں کہ جسم ضعیف پر\nجامہ ہے عنکبوت کے دام تنیدہ کا\n\nبے دید دید میں نہیں آتے کسی طرح\nغم آشیاں ہے طائر رنگ پریدہ کا\n\nاڑتے ہیں ہوش کوئی بھلا کس طرح سنے\nافسانہ تیرے وحشیٔ از خود رمیدہ کا\n\nاو گل خیال ہے عرق جسم کا ترے\nشیشہ ہے دل ہمارا گلاب چکیدہ کا\n\nیاد نگاہ مست سے ہے دل کو انتشار\nپیمانہ ہے خراب شراب چکیدہ کا\n\nقاتل خدا سے ڈر ہوس ذبح تا کجا\nنالہ نہ سن کسی کے گلوئے بریدہ کا\n\nمستی کے ولولوں کا جوانی میں لطف ہے\nپیری میں دھیان چاہیے قد خمیدہ کا\n\nجلوے دکھا رہا ہے یہ فرش زمردیں\nسبزہ مزار پر ہے گیاہ دمیدہ کا\n\nچڑھتی ہے روز چادر گل جلتے ہیں چراغ\nیہ ڈھیر ہے ضرور کسی برگزیدہ کا\n\nبالوں کو اے نسیمؔ رنگو گے خضاب سے\nسک کو عصا بناؤ گے پشت خمیدہ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%AA%D9%85_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%DA%86%DA%A9%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ماتم دید ہے دیدار کا خواہاں ہونا", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ماتم دید ہے دیدار کا خواہاں ہونا\nجس قدر دیکھنا اتنا ہی پشیماں ہونا\n\nسخت دشوار ہے آسان کا آساں ہونا\nخون فرصت ہے یہاں سر بہ گریباں ہونا\n\nتیرا دیوانہ تو وحشت کی بھی حد سے نکلا\nکہ بیاباں کو بھی چاہے ہے بیاباں ہونا\n\nکوچۂ غیر میں کیوں کر نہ بناؤں گھر کو\nمیری آبادی سے آباد ہے ویراں ہونا\n\nخاک وحشی سے اگر ربط ہے ٹھوکر کو تری\nدور دامن سے نہیں دور گریباں ہونا\n\nنہ وہ خوں ہی ہے جگر میں نہ وہ رونے کا دماغ\nمل گیا خاک میں ہر اشک کا طوفاں ہونا\n\nجی کا جی ہی میں رہا حرف تمنا افسوس\nکہنا کچھ آپ ہی اور آپ پشیماں ہونا\n\nدل سے انداز شکن زلف نے سب جمع کیے\nچھیڑ کر اس کو کہیں تو نہ پریشاں ہونا\n\nتجھ کو ارمان خرابی ہے جو اے دہلی اور\nسیکھ جا گھر میں مرے رہ کے بیاباں ہونا\n\nدل ہے اک قطرۂ خوں جس پہ یہ سینہ زوری\nکچھ سمجھتا ہی نہیں ہم صف مژگاں ہونا\n\nمجھ میں کچھ تاب ہو اے جاں تو میں بے تاب رہوں\nورنہ دشوار ہے اس راز کا پنہاں ہونا\n\nیاد مژگاں سے ادھر زخم جگر پر کھانا\nاور ادھر شورش دل سے نمک افشاں ہونا\n\nآج وہ وقت قلقؔ پر ہے کہ جوں ابن خلیل\nغیر تسلیم نہیں قتل کا آساں ہونا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%AA%D9%85_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "ماتم رنج و الم غم ہیں بہم چاروں ایک", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ماتم رنج و الم غم ہیں بہم چاروں ایک\nستم و جور جفا ناز و صنم چاروں ایک\n\nجب اٹکتا ہے جو دل کچھ نہیں چھوڑے باقی\nننگ و ناموس حیا اور شرم چاروں ایک\n\nعشق بازاں کے تئیں عشق میں تیرے اے یار\nمسجد و مدرسہ و دیر و حرم چاروں ایک\n\nفرق ہرگز نہیں جو تجھ سے ملاوے آنکھیں\nتیر اور خنجر و جمدھر کے زخم چاروں ایک\n\nزلف جوں مار سیہ قد جو درخت چندن\nآج دیکھ آئے ہیں اس طور سے ہم چاروں ایک\n\nیار اور عاشق و ساقی و شراب و سبزہ\nدیکھتا ہے کوئی یک جائے پہ کم چاروں ایک\n\nبھول جاتے ہیں سبھی بزم میں مہ رویوں کی\nعقل و دانش و تمیز اور فہم چاروں ایک\n\nہوں ترا اے صنما اس وضع سے فرماں بردار\nساربان و نفر و بندہ خدم چاروں ایک\n\nغیر وصلت کے ترے اور نہ خواہش اپنی\nکیا طلا نقرۂ و دینار و درم چاروں ایک\n\nاٹھ گیا قوم سے اشراف کے ہیہات افسوس\nعشرت و عیش کہاں جاہ و حشم چاروں ایک\n\nروشنائی و زباں تحفہ کرے قصہ بیاں\nجس گھڑی ہوتے ہیں کاغذ و قلم چاروں ایک\n\nبھول جا شوق میں وصلت کے تو سب کو اے دل\nدوزخ و جنت و اعراف و عدم چاروں ایک\n\nواسطے تیرے مقرر ہیں دل اندیشہ نہ کر\nمہربانی و عطا فضل و کرم چاروں ایک\n\nہے شجاعت و سخا حلم و حیا قاسمؔ علی\nشان میں شیر خدا کے ہیں ختم چاروں ایک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%AA%D9%85_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%BA%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D9%85_%DA%86%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9"} {"title": "ماتمی جلسہ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "کالی شلوار", "year": "1941", "text_ur": "رات رات میں یہ خبر شہر کے اس کونے سے اس کونے تک پھیل گئی کہ اتاترک کمال مر گیا ہے۔ ریڈیو کی تھرتھراتی ہوئی زبان سے یہ سنسنی پھیلانے والی خبر ایرانی ہوٹلوں میں سٹے بازوں نے سنی جو چائے کی پیالیاں سامنے رکھے آنے والے نمبر کے بارے میں قیاس دوڑا رہے تھے اور وہ سب کچھ بھول کر کمال اتاترک کی بڑائی میں گم ہوگئے۔\n\nہوٹل میں سفید پتھر والے میز کے پاس بیٹھے ہوئے ایکا سٹوری نے اپنے ساتھی سے یہ خبر سن کر لرزاں آواز میں کہا، ’’مصطفےٰ کمال مر گیا!‘‘ اس کے ساتھی کے ہاتھ سے چائے کی پیالی گرتے گرتے بچی، ’’کیا کہا، مصطفےٰ کمال مرگیا؟‘‘\n\nاس کے بعد دونوں میں اتاترک کمال کے متعلق بات چیت شروع ہوگئی۔ ایک نے دوسرے سے کہا، ’’بڑے افسوس کی بات ہے، اب ہندوستان کا کیا ہوگا؟ میں نے سنا تھا یہ مصطفےٰ کمال یہاں پر حملہ کرنے والا ہے۔۔۔ ہم آزاد ہو جاتے، مسلمان قوم آگے بڑھ جاتی۔۔۔ افسوس تقدیر کے ساتھ کسی کی پیش نہیں چلتی‘‘!\n\nدوسرے نے جب یہ بات سنی تو اس کے روئیں بدن پر چیونٹیوں کے مانند سرکنے لگے۔ اس پر ایک عجیب و غریب کیفیت طاری ہوگئی۔ اس کے دل میں جو پہلا خیال آیا، یہ تھا، ’’مجھے کل جمعہ سے نماز شروع کردینی چاہیے۔۔۔‘‘ اس خیال کو بعد میں اس نے مصطفےٰ کمال پاشا کی شاندار مسلمانی اور اس کی بڑائی میں تحلیل کردیا۔\n\nبازار کی ایک تنگ گلی میں دو تین کوکین فروش کھاٹ پر بیٹھے باتیں کررہے تھے۔ ایک نے پان کی پیک بڑی صفائی سے بجلی کے کھمبے پر پھینکی اور کہا، ’’میں مانتا ہوں، مصطفےٰ کمال بہت بڑا آدمی تھا۔ لیکن محمد علی بھی کسی سے کم نہیں تھا۔ یہاں بمبئی میں تین چار ہوٹلوں کا نام اسی پر رکھا گیا ہے۔‘‘\n\nدوسرے نے جو اپنی ننگی پنڈلیوں پر سے ایک کھردرے چاقو سے میل اتارنے کی کوشش کررہا تھا، اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا، ’’محمد علی کی موت پر تو بڑی شاندار ہڑتال ہوئی تھی۔۔۔‘‘\n\n’’ہاں بھئی تو کل ہڑتال ہورہی ہے کیا؟‘‘ تیسرے نے ایک کی پسلیوں میں کہنی سے ٹہوکا دیا۔ اس نے جواب دیا، ’’کیوں نہ ہوگی۔۔۔ ارے اتنا بڑا مسلمان مر جائے اور ہڑتال نہ ہو۔‘‘\n\nیہ بات ایک راہ گزرنے سن لی، اس نے دوسرے چوک میں اپنے دوستوں سے کہی اور ایک گھنٹے میں ان سب لوگوں کو جو دن کو سونے اور رات کو بازاروں میں جاگتے رہنے کے عادی ہیں، معلوم ہوگیا کہ صبح ہڑتال ہورہی ہے۔\n\nابو قصائی رات کو دو بجے اپنی کھولی میں آیا۔ اس نے آتے ہی طاق میں سے بہت سی چیزوں کو ادھر ادھر الٹ پلٹ کرنے کے بعد ایک پڑیا نکالی اور ایک دیگچی میں پانی بھر کر اس کو اس میں ڈال کر گھولنا شروع کردیا۔اس کی بیوی جو دن بھر کی تھکی ماندی ایک کونے میں ٹاٹ پر سو رہی تھی، برتن کی رگڑ سن کر جاگ پڑی۔ اس نے لیٹے لیٹے کہا،’’آگئے ہو؟‘‘\n\n’’ ہاں آگیا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر ابو نے اپنی قمیص اتار کر دیگچی میں ڈال دی اور اسے پانی کے اندر مسلنا شروع کردیا۔اس کی بیوی نے پوچھا، ’’پر یہ تم کرکیارہے ہو؟‘‘\n\n’’مصطفےٰ کمال مر گیا ہے، کل ہڑتال ہورہی ہے!‘‘ اس کی بیوی یہ سن کر گھبراہٹ کے مارے اٹھ کھڑی ہوئی، ’’کیا مارا ماری ہوگی؟میں تو ان ہر روز کے فسادوں سے بڑی تنگ آگئی ہوں۔‘‘ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی، ’’میں نے تجھ سے ہزار مرتبہ کہا ہے کہ تو ہندوؤں کے اس محلے سے اپنامکان بدل ڈال ،پر نہ جانے تو کب سنے گا!‘‘\n\nابو جواب میں ہنسنے لگا، ’’اری پگلی۔۔۔ یہ ہندو مسلمانوں کا فساد نہیں۔ مصطفےٰ کمال مر گیا ہے۔۔۔ وہی جو بہت بڑا آدمی تھا۔۔۔ کل اس کے سوگ میں ہڑتال ہوگی۔‘‘\n\n’’جانے میری بلا، یہ بڑا آدمی کون ہے۔۔۔ پر یہ تو کیا کررہا ہے؟‘‘ بیوی نے پوچھا، ’’سوتا کیوں نہیں ہے!‘‘ قمیص کو کالا رنگ دے رہا ہوں۔۔۔ صبح ہمیں ہڑتال کرانے جانا ہے۔ ‘‘یہ کہہ کر اس نے قمیص نچوڑ کر دو کیلوں کے ساتھ لٹکا دی جو دیوار میں گڑی ہوئی تھیں۔\n\nدوسرے روز صبح کو سیاہ پوش مسلمانوں کی ٹولیاں کالے جھنڈے لیے بازاروں میں چکر لگا رہی تھیں۔ یہ سیاہ پوش مسلمان دکانداروں کی دکانیں بند کرارہے تھے اور یہ نعرے لگا رہے تھے، ’’انقلاب زندہ باد۔انقلاب زندہ باد!‘‘\n\nایک ہندو نے جو اپنی دکان کھولنے کے لیے جارہا تھا یہ نعرے سنے اور نعرے لگانے والوں کو دیکھا تو چپ چاپ ٹرام میں بیٹھ کر وہاں سے کھسک گیا۔ دوسرے ہندو اور پارسی دکانداروں نے جب مسلمانوں کے ایک گروہ کو چیختے چلاتے اور نعرے مارتے دیکھا تو انھوں نے جھٹ پٹ اپنی دکانیں بند کرلیں۔\n\nدس پندرہ سیاہ پوش گپیں ہانکتے ایک بازار سے گزر رہے تھے۔ ایک نے اپنے ساتھی سے کہا، ’’دوست ہڑتال ہوئی تو خوب ہے، پرویسی نہیں ہوئی جیسی محمد علی کے ٹیم پر ہوئی تھی۔۔۔ ٹرامیں تو اسی طرح چل رہی ہیں۔‘‘ اس ٹولی میں جو سب سے زیادہ جوشیلا تھا اور جس کے ہاتھ میں سیاہ جھنڈا تھا، تنک کر بولا، ’’آج بھی نہیں چلیں گی!‘‘ یہ کہہ کر وہ اس ٹرام کی طرف بڑھا جو لکڑی کے ایک شیڈ کے نیچے مسافروں کو اتار رہی تھی۔ ٹولی کے باقی آدمیوں نے اس کا ساتھ دیا اور ایک لمحہ کے اندر سب کے سب ٹرام کی سرخ گاڑی کے اردگرد تھے۔ سب مسافر زبردستی اتار دیےگیے۔\n\nشام کو ایک وسیع میدان میں ماتمی جلسہ ہوا۔ شہر کے سب ہنگامہ پسند جمع تھے۔ خوانچہ فروش اور پان بیڑی والے چل پھر کر اپنا سودا بیچ رہے تھے۔ جلسہ گاہ کے باہر عارضی دکانوں کے پاس ایک میلہ لگا ہوا تھا، چاٹ کے چنوں اور ابلے ہوئے آلوؤں کی خوب بکری ہورہی تھی۔\n\nجلسہ گاہ کے اندر اور باہر بہت بھیڑ تھی۔ کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ اس ہجوم میں کئی آدمی ایسے بھی چل پھر رہے تھے جو یہ معلوم کرنےکی کوشش میں مصروف تھے کہ اتنے آدمی کیوں جمع ہورہے ہیں۔ ایک صاحب گلے میں دور بین لٹکائے ادھر ادھر چکرکاٹ رہے تھے۔ دور سے اتنی بھیڑ دیکھ کر اور یہ سمجھ کر کہ پہلوانوں کا دنگل ہورہا ہے وہ ابھی ابھی اپنے گھر سے نئی دور بین لے کر دوڑے دوڑے آرہے تھے اور اس کا امتحان لینے کے لیے بےتاب ہورہے تھے، میدان کے آہنی جنگلے کے پاس دو آدمی کھڑے آپس میں بات چیت کررہے تھے۔ ایک نے اپنے ساتھی سے کہا، ’’بھئی یہ مصطفےٰ کمال توواقعی کوئی بہت بڑا آدمی معلوم ہوتا ہے۔۔۔ میں جو صابن بنانے والا ہوں اس کا نام ’کمال سوپ‘ رکھوں گا۔۔۔ کیوں کیسا رہے گا؟‘‘\n\nدوسرے نے جواب دیا، ’’وہ بھی برا نہیں تھا جو تم نے پہلے سوچا تھا۔۔۔’ جناح سوپ‘ یہ جناح مسلم لیگ کا بہت بڑا لیڈر ہے۔‘‘\n\n’’نہیں، نہیں۔ کمال سوپ اچھا رہے گا۔۔۔۔۔۔ بھائی مصطفےٰ کمال اس سے بڑا آدمی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنے ساتھی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا، ’’آؤ چلیں جلسہ شروع ہونے والا ہے۔‘‘ وہ دونوں جلسہ گاہ کی طرف چل دیے۔\n\nجلسہ شروع ہوا۔\n\nآغاز میں نظمیں گائی گئیں جن میں مصطفےٰ کمال کی بڑائی کا ذکر تھا پھر ایک صاحب تقریر کرنے کے لیے اٹھے۔ آپ نے کمال اتاترک کی عظمت بڑےبلند بانگ لفظوں میں بیان کرنا شروع کی۔ حاضرین جلسہ اس تقریر کو خاموشی سے سنتے رہے۔ جب کبھی مقرر کے یہ الفاظ گونجتے ،’’مصطفےٰ کمال نے درہ دانیال سے انگریزوں کو لات مار کے باہر نکال دیا۔ ‘‘یا’’ کمال نے یونانی بھیڑوں کو اسلامی خنجر سے ذبح کر ڈالا۔ ‘‘تو’’ اسلام زندہ باد ‘‘کے نعروں سے میدان کانپ کانپ اٹھتا۔یہ نعرے مقرر کی قوتِ گویائی کو اور تیز کردیتے اور وہ زیادہ جوش سے اتاترک کمال کی عظیم الشان شخصیت پر روشنی ڈالنا شروع کردیتا۔ مقرر کا ایک ایک لفظ حاضرین جلسہ کے دلوں میں ایک جوش و خروش پیدا کررہا تھا۔\n\n’’جب تک تاریخ میں گیلی پولی کا واقعہ موجود ہے ،برطانیہ کی گردن ٹرکی کے سامنے خم رہے گی۔ صرف ٹرکی ہی ایک ایسا ملک ہے جس نے برطانوی حکومت کا کامیاب مقابلہ کیا،اور صرف مصطفےٰ کمال ہی ایسا مسلمان ہے جس نے غازی صلاح الدین ایوبی کی سپاہیانہ عظمت کی یاد تازہ کی۔ اس نے بہ نوک شمشیر یورپی ممالک سے اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔ ٹرکی کو یورپ کا مردِ بیمار کہا جاتا تھا مگر کمال نے اسے صحت اور قوت بخش کر مردِ آہن بنا دیا۔‘‘\n\nجب یہ الفاظ جلسہ گاہ میں بلند ہوئے تو ’’انقلاب زندہ باد، انقلاب زندہ باد‘‘ کے نعرے پانچ منٹ تک متواتر بلند ہوتے رہے۔ اس سے مقرر کا جوش بہت بڑھ گیا۔ اس نے اپنی آواز کو اور بلند کرکے کہنا شروع کیا، ’’کمال کی عظمت مختصر الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتی۔ اس نے اپنے ملک کے لیے وہ خدمات سرانجام دی ہیں جس کو بیان کرنے کے لیے کافی وقت چاہیے۔ اس نے ٹرکی میں جہالت کا دیوالیہ نکال دیا۔ تعلیم عام کردی۔ نئی روشنی کی شعاعوں کو پھیلایا۔ یہ سب کچھ اس نے تلوار کے زور سے کیا۔ اس نے دین کو جب علم سے علیحدہ کیا تو بہت سے قدامت پسندوں نے اس کی مخالفت کی مگر وہ سرِ بازار پھانسی پر لٹکا دیے گیے۔ اس نے جب یہ فرمان جاری کیا کہ کوئی تُرک رومی ٹوپی نہ پہنے تو بہت سے جاہل لوگوں نے اس کے خلاف آواز اٹھانا چاہی مگر یہ آواز ان کے گلے ہی میں دبا دی گئی۔اس نے جب یہ حکم دیا کہ اذان ترکی زبان میں ہو تو بہت سے مُلّاؤں نے عدولِ حکمی کی مگر وہ قتل کردیے گیے۔۔۔‘‘\n\n’’یہ کفر بکتا ہے۔‘‘ جلسہ گاہ میں ایک شخص کی آواز بلند ہوئی اور فوراً ہی سب لوگ مضطرب ہوگئے۔\n\n’’یہ کافر ہے جھوٹ بولتا ہے۔‘‘کے نعروں میں مقرر کی آواز گُم ہوگئی۔ پیشتر اس کے کہ وہ اپنا مافی الضمیر بیان کرتا اس کے ماتھے پر ایک پتھر لگا اور وہ چکرا کر اسٹیج پر گر پڑا۔ جلسے میں ایک بھگدڑ مچ گئی۔اسٹیج پر مقرر کا ایک دوست اس کے ماتھے پر سے خون پونچھ رہا تھا اور جلسہ گاہ ان نعروں سے گونج رہی تھی،’’مصطفےٰ کمال زندہ باد، مصطفےٰ کمال زندہ باد۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%AA%D9%85%DB%8C_%D8%AC%D9%84%D8%B3%DB%81"} {"title": "ماتھے پہ لگا صندل وہ ہار پہن نکلے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ماتھے پہ لگا صندل وہ ہار پہن نکلے\nہم کھینچ وہیں قشقہ زنار پہن نکلے\n\nاللہ رے تری شورش اے فصل جنوں تجھ میں\nدیوانوں کی زنجیریں ہشیار پہن نکلے\n\nعاشق کے تئیں اپنے سج اپنی دکھانے کو\nململ کا انگرکھا وہ سو بار پہن نکلے\n\nمرغوب جنوں پائی پوشاک نہ جب کوئی\nہم جامۂ عریانی ناچار پہن نکلے\n\nکیوں کر نہ ہوسؔ جاوے صدقے فلک نیلی\nنیلم ہی کا سب گہنا جب یار پہن نکلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D8%B5%D9%86%D8%AF%D9%84_%D9%88%DB%81_%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DB%81%D9%86_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "مادام", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "زلف کی چھاؤں میں عارض کی تب و تاب لیے\nلب پہ افسوں لیے آنکھوں میں مئے ناب لیے\n\nہر نفس رو میں لیے سورش طغیان نہاں\nہر نظر شوق کا افسانۂ بے تاب لیے\n\nسحر و اعجاز لیے جنبش مژگان دراز\nخندۂ شوخ جمال در خوش آب لیے\n\nضو فگن روئے حسیں پر شب مہتاب شباب\nچشم مخمور نشاط شب مہتاب لیے\n\nنشۂ ناز جوانی میں شرابور ادا\nجسم ذوق گہر اطلس و کمخواب لیے\n\nزلف شب رنگ لیے صندل و عود و عنبر\nخم ابروئے حسیں دیر کی محراب لیے\n\nلب گل رنگ و حسیں جسم گداز و سیمیں\nشوخئ برق لیے لرزش سیماب لیے\n\nایک صیاد خوش اندام سواد مشرق\nزلف بنگال لیے طلعت پنجاب لیے\n\nنزہت و ناز کا اک پیکر شاداب و حسیں\nنکہت و نور کا امڈا ہوا سیلاب لیے\n\nمیری وارفتگئ مسلم لیکن\nکس کی آنکھیں ہیں زلیخا کا حسیں خواب لیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D9%85"} {"title": "مار ڈالا مسکرا کر ناز سے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مار ڈالا مسکرا کر ناز سے\nہاں مری جاں پھر اسی انداز سے\n\nکس نے کہہ دی ان سے میری داستاں\nچونک چونک اٹھتے ہیں خواب ناز سے\n\nپھر وہی وہ تھے وہاں کچھ بھی نہ تھا\nجس طرف دیکھا نگاہ ناز سے\n\nدرد دل پہلے تو وہ سنتے نہ تھے\nاب یہ کہتے ہیں ذرا آواز سے\n\nمٹ گئے شکوے جب اس نے اے جلیلؔ\nڈال دیں بانہیں گلے میں ناز سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DA%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D9%85%D8%B3%DA%A9%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92"} {"title": "مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کی", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کی\nموت کا پیغام آئے گا زبانی آپ کی\n\nزندگی کہتے ہیں کس کو موت کس کا نام ہے\nمہربانی آپ کی نا مہربانی آپ کی\n\nبعد مردن کھینچ لایا جذب دل سینے پہ ہاتھ\nاک انگوٹھی میں جو پہنے تھا نشانی آپ کی\n\nبڑھ چکا قد بھی فروغ حسن کی حد ہو چکی\nاب تو قابل دیکھنے کے ہے جوانی آپ کی\n\nآپ سے مل کے گلے راحت سے آ جاتی ہے نیند\nسبزۂ خوابیدہ ہے پوشاک دھانی آپ کی\n\nرنگ عالم کا بدلنا آپ کے صدقے میں ہے\nجمع کر رکھی تھیں پوشاکیں پرانی آپ کی\n\nآنکھوں پر بندھوائی پٹی تا نہ دیکھوں اور کو\nمر گیا میں پر وہی ہے بد گمانی آپ کی\n\nجب وہ مجھ کو دیکھتا ہے ہنس کے کہتا ہے رشیدؔ\nکتنی پابند وفا ہے زندگانی آپ کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DA%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "مار کر تیر جو وہ دلبر جانی مانگے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مار کر تیر جو وہ دلبر جانی مانگے\nکہہ دو ہم سے نہ کوئی دے کے نشانی مانگے\n\nاے صنم دیکھ کے ہر دم کی تری کم سخنی\nموت گھبرا کے نہ کیوں یہ خفقانی مانگے\n\nخاک سے تشنۂ دیدار کے سبزہ جو اٹھے\nتو زباں اپنی نکالے ہوئے پانی مانگے\n\nمار پیچاں تو بلا ہے گا مگر تو اے زلف\nہے وہ کافر کہ نہ کاٹا ترا پانی مانگے\n\nدہن یار ہو اور مانگے کسی سے دل کو\nوہ جو مانگے تو بانداز نہانی مانگے\n\nدل مرا بوسہ بہ پیغام نہیں ہے ہمدم\nیار لیتا ہے تو لے اپنی زبانی مانگے\n\nجلوہ اس عالم معنی کا جو دیکھے اے ذوقؔ\nلطف الفاظ نہ بے حسن معانی مانگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%92"} {"title": "مارے غصے کے غضب کی تاب رخساروں میں ہے", "poet_page": "مصنف:شوق قدوائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مارے غصے کے غضب کی تاب رخساروں میں ہے\nکل تو تھی پھولوں میں گنتی آج انگاروں میں ہے\n\nتب کی سوزش سے مرے چہرے کی سرخی دیکھنا\nکچھ تمہیں خوش رو نہیں یہ پھر طرح داروں میں ہے\n\nروح تیرے گھر کو چھوڑے یہ کبھی ممکن نہیں\nجسم میرا خاک ہو کر اس کی دیواروں میں ہے\n\nاتنی زردی ساری دنیا کی خزاں میں بھی نہ ہو\nجتنی اور ظالم تری الفت کے بیماروں میں ہے\n\nیا گھٹے کچھ عشق میرا یا بڑھے دنیا میں حسن\nیہ تو نا کافی ہے جتنا ان دل آزاروں میں ہے\n\nآئنے میں ڈالتا ہے رخ پہ میری سی نگاہ\nتو بھی میرے ساتھ الفت کے گنہ گاروں میں ہے\n\nقدرت اتنے ناز پیدا کر سکے گی یا نہیں\nان کا جتنا صرف تیرے ناز برداروں میں ہے\n\nمسئلہ کثرت میں وحدت کا ہوا حل تم سے خوب\nایک ہی جھوٹ اور تمہارے لاکھ اقراروں میں ہے\n\nقید میں کتنی بڑھی میرے جنوں کی کاہلی\nاس سے کم ہے جتنی دنیا بھر کے بے کاروں میں ہے\n\nچاند ہی کہہ دے جو دیکھا ہو کہیں تجھ سا حسیں\nاس نے بھی دیکھی ہے دنیا یہ بھی سیاروں میں ہے\n\nکفر نے اسلام کو شاید کہیں مارا کہ شوقؔ\nماتمی پوشاک سے کعبہ عزاداروں میں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%BA%D8%B5%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "مال کچھ شے ہے نہ کچھ صاحب ساماں ہونا", "poet_page": "مصنف:عنایت اللہ روشن بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مال کچھ شے ہے نہ کچھ صاحب ساماں ہونا\nباعث فخر ہے انسان کو انساں ہونا\n\nشعلہ سر دھنتا ہے کس سوختہ جاں کے غم میں\nسوگ میں کس کے ہے اے شمع یہ گریاں ہونا\n\nنالہ کش غم سے نہ ہو فصل خزاں میں بلبل\nخاص آبادی کے آثار ہیں ویراں ہونا\n\nصورت زخم جگر ہنستے ہی روتا ہوں لہو\nیاں میسر نہیں دم بھر کو بھی شاداں ہونا\n\nدست وحشت کی خطا ہے نہ جنوں کی تقصیر\nاپنی تقدیر میں تھا چاک گریباں ہونا\n\nہاں خبردار کہ انجام مسرت ہے ملال\nصورت گل نہ خوشی سے کبھی خنداں ہونا\n\nشامل حال اگر فضل و کرم ہو اس کا\nسہل ہے مشکل دشوار کا آساں ہونا\n\nخاک ہو جائے تو ہو آنکھ میں جائے انساں\nکام آیا مرا یوں گرد بیاباں ہونا\n\nبات میں بات نہ ہو تو وہ سخن کیا روشنؔ\nدعویٰ آسان ہے مشکل ہے سخنداں ہونا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B4%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "مان مت کر عاشق بے تاب کا ارمان مان", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مان مت کر عاشق بے تاب کا ارمان مان\nجان کر انجان مت ہو مج کوں تو بے جان جان\n\nفکر اپنی نہیں مجھے ہے اس کی بد نامی کا خوف\nمجھ کوں نام و ننگ کی ہے ہر گھڑی ہر آن آن\n\nتیر و خنجر میں نہیں ہے آب داری اس قدر\nتجھ نگہ کی دیکھ کر جلدی ہوا قربان بان\n\nدشت وحشت میں نپٹ بے کس ہوں اے آہو نگہ\nہوں بھکاری وصل کا دے مج کوں اس میدان دان\n\nقتل کرنے پر ترے ہے تیغ بر کف وو صنم\nسرکشی مت کر سراجؔ اب جان کا فرمان مان", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%B1_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%A8%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%85%D8%A7%D9%86"} {"title": "مانا سحر کو یار اسے جلوہ گر کریں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مانا سحر کو یار اسے جلوہ گر کریں\nطاقت ہمیں کہاں کہ شبِ غم سحر کریں\n\nتزئین میری گور کی لازم ہے خوب سی\nتقریبِ سیر ہی سے وہ شاید گزر کریں\n\nاب ایک اشک ہے دُرِ نایاب، وہ کہاں\nتارِ نظر جو گریہ سے سلکِ گہر کریں\n\nوہ دوست ہیں انہیں جو اثر ہو گیا تو کیا\nنالے ہیں وہ جو غیر کے دل میں اثر کریں\n\nآئے تو ان کو رنج، نہ آئے تو مجھ کو رنج\nمرنے کی میرے کاش نہ ان کو خبر کریں\n\nہے جی میں سونگھیں نکہتِ گل جا کے باغ میں\nبس کب تک التجائے نسیمِ سحر کریں\n\nاب کے ارادہ ملکِ عدم کا ہے شیفتہ\nگھبرا گئے کہ ایک جگہ کیا بسر کریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مانا واعظ بڑا ہی علامہ ہے", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مانا واعظ بڑا ہی علامہ ہے\nمحشر کا زبان پہ اس کے ہنگامہ ہے\nکیوں کر نہ ملے نجات سب کو مائلؔ\nقسمت کے مطابق تو عمل نامہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%D8%A8%DA%91%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "مانا وہ چھپنے والا ہر دل میں چھپ جائے گا", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مانا وہ چھپنے والا ہر دل میں چھپ جائے گا\nلیکن ڈھونڈھنے والا بھی ڈھونڈے گا اور پائے گا\n\nکیا ہوتا ہے محبت میں یہ مجھ کو معلوم نہیں\nجس نے آگ لگائی ہے وہی آگ بجھائے گا\n\nمیں تو نام کا مالی ہوں پھولوں کا رکھوالا ہوں\nجس نے بیل لگائی ہے خود پروان چڑھائے گا\n\nجس نے خزاں کو بھیجا ہے اس کے پاس بہار بھی ہے\nجس نے باغ اجاڑا ہے وہ خود پھول کھلائے گا\n\nافسرؔ میرے کانوں میں جیسے کوئی یہ کہتا ہے\nوہ سرکار ہماری ہے بے مانگے بھی پائے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%88%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%BE_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "مانا کہ سخت ہوتی ہے تیر و تبر کی چوٹ", "poet_page": "مصنف:محمود رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مانا کہ سخت ہوتی ہے تیر و تبر کی چوٹ\nلیکن بری بلا ہے کسی کی نظر کی چوٹ\n\nتیغ ادا کا وار ہے تیر نظر کی چوٹ\nدل کی بچاؤں ضرب کہ روکوں جگر کی چوٹ\n\nبڑھ کر ہے زخم تیغ سے بھی زخم بات کا\nیہ چار دن کی چوٹ ہے وہ عمر بھر کی چوٹ\n\nسینے سے وہ ملے تو نظر سے نظر ملی\nدل کا بھرا جو زخم تو ابھری جگر کی چوٹ\n\nاحساں کا بار صاحب ہمت کی موت ہے\nمیری دعا قبول کرے کیوں اثر کی چوٹ\n\nدرد انتہا کا دل میں ہے محمودؔ آج تک\nکھائی تھی ابتدا میں کسی کی نظر کی چوٹ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%B3%D8%AE%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%AA%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D9%88%D9%B9"} {"title": "مانا کہ مرا دل بھی جگر بھی ہے کوئی چیز", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مانا کہ مرا دل بھی جگر بھی ہے کوئی چیز\nلیکن وہ نظر تیر نظر بھی ہے کوئی چیز\n\nممکن نہیں وہ چاہنے والوں کو نہ چاہیں\nاخلاص و محبت کا اثر بھی ہے کوئی چیز\n\nلٹ جائے کہ رہ جائے رہ عشق و وفا میں\nدل بھی ہے کوئی مال جگر بھی ہے کوئی چیز\n\nان سے جو نہ اٹھا تھا اسے اس نے اٹھایا\nقائل ہیں ملائک کہ بشر بھی ہے کوئی چیز\n\nچھپنے کے لئے شوق سے پردے میں چھپیں آپ\nاتنا رہے معلوم نظر بھی ہے کوئی چیز\n\nیہ کثرت آزار و غم و رنج کہاں تک\nاے شام شب ہجر سحر بھی ہے کوئی چیز\n\nکہتے ہو ہم آئیں گے مگر ظلم کریں گے\nسوچو تم اگر تو یہ مگر بھی ہے کوئی چیز\n\nباقی نہ رہی ناوک دل دوز کی حاجت\nظالم تری سیدھی سی نظر بھی ہے کوئی چیز\n\nنالے سے کہوں گا کہ پہنچ عرش بریں تک\nاب تیز مسافر یہ سفر بھی ہے کوئی چیز\n\nبیتاب ادھر آپ پریشان ادھر ہم\nآپس کی محبت کا اثر بھی ہے کوئی چیز\n\nچلتی ہوئی میرے دل بے تاب کو لے کر\nلاکھوں میں وہ دزدیدہ نظر بھی ہے کوئی چیز\n\nبے کار نہ جائے گا مرے دل کا تڑپنا\nنالہ ہے کوئی شے تو اثر بھی ہے کوئی چیز\n\nآنکھوں کے لئے ذوق نظر بھی ہے کوئی بات\nپہلو کے لئے درد جگر بھی ہے کوئی چیز\n\nاللہ رے ترے حسن ضیا بار کا جلوہ\nیہ پیش نظر ہو تو نظر بھی ہے کوئی چیز\n\nاے نوحؔ شب ماہ میں پاس اس کو بٹھا کر\nکہتا ہوں مرا رشک قمر بھی ہے کوئی چیز", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%86%DB%8C%D8%B2"} {"title": "مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں\nایک چکّر ہے مرے پاؤں میں زنجیر نہیں\n\nشوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو، کہ جہاں\nجادہ غیر از نگہِ دیدۂ تصویر نہیں\n\nحسرتِ لذّتِ آزار رہی جاتی ہے\nجادۂ راہِ وفا جز دمِ شمشیر نہیں\n\nرنجِ نومیدیِ جاوید گوارا رہیو\nخوش ہوں گر نالہ زبونی کشِ تاثیر نہیں\n\nسر کھجاتا ہے جہاں زخمِ سر اچھا ہو جائے\nلذّتِ سنگ بہ اندازۂ تقریر نہیں\n\nآئینہ دام کو سبزے میں چھپاتا ہے عبث\nکہ پری زادِ نظر قابلِ تسخیر نہیں\n\nمثلِ گُل زخم ہے میرا بھی سناں سے توام\nتیرا ترکش ہی کچھ آبِستنِ تیر نہیں\n\nجب کرم رخصتِ بیباکی و گستاخی دے\nکوئی تقصیر بجُز خجلتِ تقصیر نہیں\n\nمیرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ\nجس کا دیوان کم از گلشنِ کشمیر نہیں\n\nغالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقولِ ناسخ\n“آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میر نہیں”", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%B9_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D9%86%D9%88%D8%B1%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مانند شمع بزم پگھلنے کے واسطے", "poet_page": "مصنف:ہاجر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مانند شمع بزم پگھلنے کے واسطے\nپیدا ہوا ہوں عشق میں جلنے کے واسطے\n\nوہ ناز کر رہے ہیں شب وصل اور ادھر\nارماں تڑپ رہے ہیں نکلنے کے واسطے\n\nبلبل سے کہہ دو شیوۂ فریاد چھوڑ دے\nآئیں گے باغ میں وہ ٹہلنے کے واسطے\n\nرونے کو ہجر یار میں آنکھیں عطا ہوئیں\nبخشا گیا ہے دل بھی مچلنے کے واسطے\n\nسچ پوچھئے تو عشق میں خود کو بدل لیا\nہم نے خیال یار بدلنے کے واسطے\n\nہاجرؔ قرار دل کو نہ آیا کسی طرح\nکیا کیا کیا نہ اس کے بہلنے کے واسطے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%86%D8%AF_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%BE%DA%AF%DA%BE%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92"} {"title": "مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا\nالقصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایا\n\nاحوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے\nافسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا\n\nجیتے جو ضعف ہو کر زخم رسا سے اس کے\nسینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا\n\nشہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں\nآخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا\n\nاتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھو کے روتے\nجیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا\n\nکیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھا\nجس نے جہاں میں آ کر کچھ اعتبار پایا\n\nآہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میرؔ سے شب\nواں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%86%D8%AF_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3_%D8%B4%D8%A8_%D8%A7%D8%B4%DA%A9%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مانگو ہو ابھی دل مجھے نادان سمجھ کر", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مانگو ہو ابھی دل مجھے نادان سمجھ کر\nپھر دوں گا جواب اس کا مری جان سمجھ کر\n\nبچ جائیوں کمبخت مری بخت سیہ سے\nیاں آئیو تو اے شب ہجران سمجھ کر\n\nکیا کام مہ نو سے مجھے میں اسے ہر دم\nدیکھوں ہوں ترا عکس گریبان سمجھ کر\n\nرنگ اپنا ہوا سنتے ہی ملتانی کی مٹی\nتو کیجو سفر جانب ملتان سمجھ کر\n\nنو روز ہے اور ساقیٔ کوثر کا ہے اب دور\nایذا دے مجھے گردش دوران سمجھ کر\n\nکلکتہ میں الفت کی گورنر ہے سدا عشق\nآمادہ ہو تو رستم دستان سمجھ کر\n\nمیجر نے جنوں کی ہے یہ تیار کی پلٹن\nہاں دیکھ صف خار مغیلان سمجھ کر\n\nجرنیل تو صحرا میں ہیں اور کوہ میں کرنیل\nہے شہر میں چھوڑا مجھے کپتان سمجھ کر\n\nکیا محتسب شہر کد و بیر سے لے گا\nہم کرتے ہیں پیمانہ سے پیمان سمجھ کر\n\nیا رب میں کہاں جاؤں کہ ہر دم بت کافر\nایذا مجھے دیتا ہے مسلمان سمجھ کر\n\nحب بکنے لگا شب کو جو وہ غصہ سے منعم\nاک رحم سا آیا مجھے ہذیان سمجھ کر\n\nارمان سے ارمان ہے ارمان نہ تو نے\nارمان نکالے مرے ارمان سمجھ کر\n\nدل سرد ہے تم سے کہ بایں گرم تپا کے\nیک شب بھی نہ یاں سوئے زمستان سمجھ کر\n\nمیاں بوس ابھی لوں گا دھری رہویگی تروار\nگالی نہ سنا سب کو تو یکسان سمجھ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D9%86_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "مانگیں نہ ہم بہشت نہ ہو واں اگر شراب", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مانگیں نہ ہم بہشت نہ ہو واں اگر شراب\nدوزخ میں ڈال دیجئے دیجے مگر شراب\n\nزاہد کے بخت بد کی ہے خوبی وگرنہ کیوں\nچھوڑے کوئی شراب کی امید پر شراب\n\nتوبہ تو ہم نے کی ہے پر اب تک یہ حال ہے\nپانی بھر آئے منہ میں دکھا دیں اگر شراب\n\nگویا شراب ہی سے بھرا عمر کا قدح\nموت اس کی خوب ہے جو پیے عمر بھر شراب\n\nسمجھا نہیں کہ جیتے ہیں مردے اسی طرح\nچھڑکے وگرنہ کیوں وہ مری خاک پر شراب\n\nہے لطف زیست یہ کہ وہ بیٹھا ہو روبرو\nبکھرے ہوں پھول ادھر تو دھری ہو ادھر شراب\n\nبے خود کیا جہاں کو تری چشم مست نے\nتھی کیسی اس پیالے میں اے فتنہ گر شراب\n\nچشم سیاہ مست نگہ مست آپ مست\nپیتا ہے دل لگی کو بت عشوہ گر شراب\n\nتوبہ میں ہم نہ کھائیں گے الزام کیا ہوا\nاک آدھ یار پی گئے گر بھول کر شراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DB%81%D8%B4%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "مانگے ہے ترے ملنے کو بے طرح سے دل آج", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مانگے ہے ترے ملنے کو بے طرح سے دل آج\nکل کیا ہے جو ملنا ہے مری جان تو مل آج\n\nپھر صبح سے آشوب قیامت ہے جہاں میں\nچہرہ پہ ترے کن نے بنایا ہے یہ تل آج\n\nاے گریہ تو خاطر سے مری کیجو نہ صرفہ\nمیں خون دل خستہ کیا تجھ پہ بحل آج\n\nچاہے ہے اگر کل کو تری نشو و نما ہو\nدل کھول کے دانہ کی طرح خاک میں رل آج\n\nکیا سینہ جو تڑپھوں کو نگہ کی تری جھیلے\nاس تیر سے رہ جائے نہ فولاد کی سل آج\n\nیارب نہ پڑے اصل سے اپنی کوئی یاں دور\nیہ آب تھا سب جتنی کہ دیکھے ہے تو گل آج\n\nقائمؔ یہ غضب کل تو نہ ٹوٹے تھا ترے پر\nدیکھا ہے کہیں تیں وہ بت مہر گسل آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "مانی نے جو دیکھا تری تصویر کا نقشہ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مانی نے جو دیکھا تری تصویر کا نقشہ\nسب بھول گیا اپنی وہ تحریر کا نقشہ\n\nاس ابروئے خم دار کی صورت سے عیاں ہے\nخنجر کی شباہت دم شمشیر کا نقشہ\n\nکیا گردش ایام ہے اے آہ جگر سوز\nالٹا نظر آیا تری تاثیر کا نقشہ\n\nدن رات ترے کوچے میں رووے ہے ہمیشہ\nعاشق کے یہ ہے منصب و جاگیر کا نقشہ\n\nتدبیر تو کچھ بن نہیں آتی ہے نظیرؔ آہ\nاب دیکھیے کیا ہوتا ہے تقدیر کا نقشہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D9%82%D8%B4%DB%81"} {"title": "مانی ہزار منتیں رد نہ ہوئی بلائے دل", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مانی ہزار منتیں رد نہ ہوئی بلائے دل\nدرد کچھ اور بڑھ گیا میں نے جو کی دوائے دل\n\nمیری طرح خدا کرے تیرا کسی پے آئے دل\nتو بھی جگر کو تھام کہ کہتا پھرے کے ہائےدل\n\nغنچہ سمجھ کے لے لیا چُٹکی سے یوں مسل دیا\nان کا تو اک کھیل تھا لُٹ گیا میرا ہائے دل\n\nروندو نہ میری قبر کو اس میں دبی ہیں حسرتیں\nرکھنا قدم سنبھال کر دیکھو کُچل نہ جائے دل\n\nعاشقِ نامراد کی قبر پہ تھا لکھا ہوا\nجس کو ہو زندگی عزیز وہ نہ کہیں لگائے دل\n\nپوچھتے کیا ہو میرے غم ملتے ہیں بے وفا صنم\nچھوڑو بُتوں کی دوستی دیتا یہی ہے رائے دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D9%86%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%AF_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%84"} {"title": "ماں کا خواب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب\nبڑھا اور جس سے مرا اضطراب\n\nیہ دیکھا کہ مَیں جا رہی ہوں کہیں\nاندھیرا ہے اور راہ مِلتی نہیں\n\nلرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال\nقدم کا تھا دہشت سے اُٹھنا محال\n\nجو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی\nتو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی\n\nزَمرّد سی پوشاک پہنے ہوئے\nدِیے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے\n\nوہ چُپ چاپ تھے آگے پیچھے رواں\nخدا جانے جانا تھا اُن کو کہاں\n\nاسی سوچ میں تھی کہ میرا پِسر\nمجھے اُس جماعت میں آیا نظر\n\nوہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا\nدِیا اُس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا\n\nکہا مَیں نے پہچان کر، میری جاں!\nمجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں؟\n\nجُدائی میں رہتی ہوں مَیں بے قرار\nپروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار\n\nنہ پروا ہماری ذرا تم نے کی\nگئے چھوڑ، اچھّی وفا تم نے کی!\n\nجو بچّے نے دیکھا مرا پیچ و تاب\nدیا اُس نے مُنہ پھیر کر یوں جواب\n\nرُلاتی ہے تجھ کو جُدائی مری\nنہیں اس میں کچھ بھی بھلائی مری\n\nیہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چُپ رہا\nدِیا پھر دِکھا کر یہ کہنے لگا\n\nسمجھتی ہے تُو ہو گیا کیا اسے؟\nترے آنسوؤں نے بُجھایا اسے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8"} {"title": "ماں کی لوری", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے میرے بچے\nاچھوں سے اچھے\nتو ہے پیارا\nآنکھوں کا تارا\nمیرا دلارا\nجی کا سہارا\nجھولا جھلاؤں\nہپا کھلاؤں\nمکھڑا دھلاؤں\nلوری سناؤں\nکیا تیرا مکھڑا\nہے گورا گورا\nآ میرے راجا\nگودی میں آ جا\nسرمہ لگا کے\nپہناؤں کپڑے\nآئیں گے ابا\nلائیں گے چڑیا\nکھیلے گا ننھا\nبولے گی چڑیا\nہے میرا بچہ\nمیرا کھلونا\nبچے کو میرے\nاللہ رکھے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%D9%88%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ماہ اچھا ہے کہ وہ بدر کمال اچھا ہے", "poet_page": "مصنف:راجہ نوشاد علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ماہ اچھا ہے کہ وہ بدر کمال اچھا ہے\nدیکھنا ہے یہ ہمیں کس کا جمال اچھا ہے\n\nآپ کی چشم عنایت نے سنبھالا اس کو\nآج تو آپ کے بیمار کا حال اچھا ہے\n\nحال جب ہوگا برا دیکھنے وہ آئیں گے\nلوگ کہتے ہیں برا جس کو وہ حال اچھا ہے\n\nجس سے ملتے ہیں ملاتے ہیں اجل سے اس کو\nچشم قاتل میں تمہاری یہ کمال اچھا ہے\n\nوصل جب اس بت کافر کا میسر ہو جائے\nروز وہ اچھا وہ ماہ اچھا وہ سال اچھا ہے\n\nخال و ابرو میں تمہیں فیصلہ کر دو کوئی\nبدر اچھا ہے تمہارا کہ ہلال اچھا ہے\n\nحوریں جنت کی نہ کام آئیں گی اپنے نوشادؔ\nان حسینوں کا مگر حسن و جمال اچھا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ماہ رو یاں ہزار کو دیکھا", "poet_page": "مصنف:مسکین شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "ماہ رو یاں ہزار کو دیکھا\nہم نے اب تک نہ یار کو دیکھا\n\nعمر بھر منتظر رہے اس کے\nراہ کے انتظار کو دیکھا\n\nوعدۂ حشر لوگ کہتے ہیں\nہم نے وہ بھی قرار کو دیکھا\n\nکوئی آیا نظر نہ اس جا بھی\nجب دل غم گسار کو دیکھا\n\nرہ گئے نامراد دنیا میں\nکتنے سر افتخار کو دیکھا\n\nباغ ہستی میں سرخ رو نہ ہوئے\nگل کے ہر خار خار کو دیکھا\n\nگنج جس جا ہے اس جگہ مسکیںؔ\nبیٹھے رہتے ہیں مار کو دیکھا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%B1%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ماہ من شمع تمن دل کے شبستان میں آ", "poet_page": "مصنف:قربی ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ماہ من شمع تمن دل کے شبستان میں آ\nنور دیدہ ہو میری چشم کے ایوان میں آ\n\nبے نیازی سوں تیری جاں بلب آیا ہے مجھے\nچھوڑ کر طور جفا کچھ رہ احسان میں آ\n\nدل تو بے حال ہوا گوئی نمن سرگرداں\nزلف پر پیچ کے چوگان لے میدان میں آ\n\nسرو شمشاد و گل و لالہ اسی کا ہے ظہور\nدیکھنے اس کے ظہورات کوں بستان میں آ\n\nصورت لفظ و عبارات و معانی اندر\nجلوہ گر توں چہ ہوا ہے میرے دیوان میں آ\n\nسخت پردا ہے گماں دیدۂ دل پر قربیؔ\nدیک مکھ یار کا ہر جا رہ ایقان میں آ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%DB%81_%D9%85%D9%86_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%AA%D9%85%D9%86_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B4%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2"} {"title": "ماہ نو پردۂ سحاب میں ہے", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ماہ نو پردۂ سحاب میں ہے\nیا کہ ابرو کوئی نقاب میں ہے\n\nرنگت اس رخ کی گل نے پائی ہے\nاور پسینے کی بو گلاب میں ہے\n\nآج ساقی شکار کھیلے گا\nبط مے کانسۂ شراب میں ہے\n\nطول روز فراق کہتا ہے\nحشر کا روز کس حساب میں ہے\n\nشربت قند کی سی شیرینی\nدہن یار کے لعاب میں ہے\n\nشان سے کچھ بگڑ گئی شاید\nزلف شب رنگ پیچ و تاب میں ہے\n\nہو سخیؔ کو نہ فکر یا اللہ\nعرض اتنی تیری جناب میں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%DB%81_%D9%86%D9%88_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%82_%D8%B3%D8%AD%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ماہ و سال", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اسی روش پہ ہے قایم مزاج دیدہ و دل\nلہو میں اب بھی تڑپتی ہیں بجلیاں کہ نہیں\nزمیں پہ اب بھی اترتا ہے آسماں کہ نہیں؟\n\nکسی کے جیب و گریباں کی آزمائش میں\nکبھی خود اپنی قبا کا خیال آتا ہے\nذرا سا وسوسۂ ماہ و سال آتا ہے؟\nکبھی یہ بات بھی سوچی کہ منتظر آنکھیں\nغبار راہ گزر میں اجڑ گئی ہوں گی\nنظر سے ٹوٹ چکے ہوں گے خواب کے رستے\nوہ ماہتاب سی نیندیں بچھڑ گئی ہوں گی\n\nنیاز خواجگی و شان سروری کیا ہے\nشعار مشفقی و طرز دلبری کیا ہے\nیہ بے رخی یہ ادائے ستم بھی پوچھیں گے\nہماری عمر کے ہو لو تو ہم بھی پوچھیں گے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%DB%81_%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%84"} {"title": "ماہ کامل ہو مقابل یار کے رو سے چے خوش", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ماہ کامل ہو مقابل یار کے رو سے چے خوش\nخم ہو دم مارے ہلال اس تیغ ابرو سے چے خوش\n\nاک جھلک بھی یار کی شوخی کی تجھ میں نہیں اے برق\nتسپہ ہم سر ہو تو اس کی تندئ خو سے چے خوش\n\nاس کی جولاں کی ہوا سے گئی ہے برباد اور اس پر\nمدعی ہے نکہت گل یار کی بو سے چے خوش\n\nآنکھ میں ہرنوں کی خاک افگن ہے اس کی گرد راہ\nتسپہ گردن کش ہیں پی کے چشم جادو سے چے خوش\n\nگرچہ سنبل ہے اے عزلتؔ تیرہ بخت اور داغ رشک\nپیچ و خم کھا کر ہے سرکش پی کے گیسو سے چے خوش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%84_%DB%81%D9%88_%D9%85%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%88_%D8%B3%DB%92_%DA%86%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%B4"} {"title": "ماہرِ نفسیات سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "جُرأت ہے تو افکار کی دنیا سے گزر جا\nہیں بحرِ خودی میں ابھی پوشیدہ جزیرے\nکھُلتے نہیں اس قُلزُمِ خاموش کے اسرار\nجب تک تُو اسے ضربِ کلیمی سے نہ چِیرے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%DB%81%D8%B1%D9%90_%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ماہِ نَو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ٹُوٹ کر خورشید کی کشتی ہوئی غرقابِ نیل\nایک ٹکڑا تیرتا پھرتا ہے رُوئے آبِ نیل\nطشتِ گردُوں میں ٹپکتا ہے شفَق کا خونِ ناب\nنشترِ قُدرت نے کیا کھولی ہے فصدِ آفتاب\nچرخ نے بالی چُرا لی ہے عروسِ شام کی\nنیل کے پانی میں یا مچھلی ہے سیمِ خام کی\n\nقافلہ تیرا رواں بے منّتِ بانگِ درا\nگوشِ انساں سُن نہیں سکتا تری آوازِ پا\nگھٹنے بڑھنے کا سماں آنکھوں کو دِکھلاتا ہے تُو\nہے وطن تیرا کدھر، کس دیس کو جاتا ہے تُو\nساتھ اے سیّارۂ ثابت نما لے چل مجھے\nخارِ حسرت کی خلش رکھتی ہے اب بے کل مجھے\n\nنور کا طالب ہوں، گھبراتا ہوں اس بستی میں مَیں\nطفلکِ سیماب پا ہوں مکتبِ ہستی میں مَیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%DB%81%D9%90_%D9%86%D9%8E%D9%88"} {"title": "مایوس ازل ہوں یہ مانا ناکام تمنا رہنا ہے", "poet_page": "مصنف:دل شاہ جہانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مایوس ازل ہوں یہ مانا ناکام تمنا رہنا ہے\nجاتے ہو کہاں رخ پھیر کے تم مجھ کو تو ابھی کچھ کہنا ہے\n\nکھینچیں گے وہاں پھر سرد آہیں آنکھوں سے لہو پھر بہنا ہے\nافسانہ کہا تھا جو ہم نے دہرا کے وہیں تک کہنا ہے\n\nدشوار بہت یہ منزل تھی مر مٹ کے تہہ تربت پہنچے\nہر قید سے ہم آزاد ہوئے دنیا سے الگ اب رہنا ہے\n\nرکھتا ہے قدم اس کوچہ میں ذرے ہیں قیامت زا جس کے\nانجام وفا ہے نظروں میں آغاز ہی سے دکھ سہنا ہے\n\nاے پیک اجل تیرے ہاتھوں آزاد تعلق روح ہوئی\nتا حشر بدل سکتا ہی نہیں ہم نے وہ لباس اب پہنا ہے\n\nاے گریۂ خوں تاثیر دکھا اے جوش فغاں کچھ ہمت کر\nرنگیں ہو کسی کا دامن بھی اشکوں کا یہاں تک بہنا ہے\n\nاپنا ہی سوال اے دلؔ ہے جواب اس بزم میں آخر کیا کہیے\nکہنا ہے وہی جو سننا ہے سننا ہے وہی جو کہنا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%DB%8C%D9%88%D8%B3_%D8%A7%D8%B2%D9%84_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مایۂ ناز راز ہیں ہم لوگ", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مایۂ ناز راز ہیں ہم لوگ\nمحرم راز ناز ہیں ہم لوگ\n\nبزم دل میں دیا نہ عیش کو بار\nصاحب امتیاز ہیں ہم لوگ\n\nہم سے ملتی ہے برق طور کو داد\nوہ تبسم نواز ہیں ہم لوگ\n\nعقل عاجز ہے بے خبر ہے ہوش\nچشم بد دور راز ہیں ہم لوگ\n\nحشر امید سے مراد ہیں ہم\nگلہ ہائے دراز ہیں ہم لوگ\n\nتیری ناز آفرینیاں ہیں گواہ\nکہ سراپا نیاز ہیں ہم لوگ\n\nحسن بے جلوہ کچھ سہی فانیؔ\nجلوۂ جلوہ ساز ہیں ہم لوگ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A7%DB%8C%DB%82_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%84%D9%88%DA%AF"} {"title": "مبادیات فصاحت", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ہر زمانہ میں بعض افراد اس خیال کے ہوتے ہیں کہ قاعدہ اور قانون فضول ہیں۔ ان کے زعم میں مشق اور عادت سب کچھ سکھا دیتی ہے۔ وہبیت کا یہ جنوں دماغوں پر آج کل از حد طاری ہے۔ لیکن دیکھا جاتا ہے کہ جو لوگ ادب کے حق میں کٹر بت شکن ہیں وہ پرانے بت توڑ کر اپنے نئے بت بناتے ہیں اور خلقت سے ان کی پرستش کا مطالبہ کرتے ہیں۔\n\nاس میں کلام نہیں کہ ہر عروضی اچھا شاعر اور ہر صرفی اچھا ناثر نہیں ہوتا لیکن اس سے عروض اور صرف سے واقفیت کی ضرورت زائل نہیں ہو جاتی۔ متمدن جماعت کی مصروفیت کے ہر شعبے میں ضابطے اور قانون کی ضرورت مسلم ہے۔ ہاں قواعد فن اکثر آخری لفظ یا اتمام حجت پر محتوی نہیں ہوا کرتے۔ غرض و غایت علامہ سکا کی کی بھی وہی تھی جو آج کسی کی ہو سکتی ہے۔ لائحہ عمل میں خواہ اختلاف ہو لیکن اس سے قاعدے کی ہستی ساقط و باطل نہیں ہو سکتی۔ ذوق سلیم، معصوم ذہن، تیز تخیل اور سچے کان ضابطہ قدیم میں اصلاح و ترمیم ضرور کریں گے مگر قاعدے سے قطعاً منکر نہیں ہو سکتے۔الفاظ کی بے جوڑ بندش، معقولیت سے تہی دستی، التزام تالیف کاعدم احساس، حسن ترتیب کلمات کا فقدان، جدت اور تازگی کی کمی، تخیل کی پستی اور فرو مائیگی وغیرہ، انشا کے نقائص مشق سے بہت کچھ رفع تو ہو جاتے ہیں لیکن اس سہولت اور وثوق سے نہیں کہ جب قاعدے سے بھی استمداد ہو۔ اور یہ وہ عیوب ہیں جو مخاطب کے ذہن کو متکلم یا منشی کے ذہن کے قریب نہیں پہنچنے دیتے۔ قدمانے نے جو معائب کلام گنائے ہیں، مثلاً تنافر کلمات، ضعف تالیف، تعقید لفظی و معنوی، حشو و زیادت، شتر گربہ، ذم کا پہلو، تولی اضافت وغیرہ یہ سب ان مدات میں ایک طرح سے موجود ہیں جن کا ذکر ابھی آیا ہے۔ ان کو خواہ مزید علیہ سمجھئے، یہ سب وہ عیوب ہیں جو مخل فصاحت ہیں۔ تاثر کلام کے منافی ہیں۔ ان سے بچنا ہدایت کے بغیر نا ممکن ہوتا ہے۔ ہدایت کا ماخذ استاد کی اصلاح ہو یا فن کی کتابوں کا مطالعہ، بات ایک ہی ہے۔متقدمین نے جو قاعدے علم معانی کے تحت فصاحت سے متعلق وضع کئے، ان کا مطمح نظر زیادہ تر کلام کی لفظی حیثیت معلوم ہوتا ہے، نہ کہ اس کی معنوی حیثیت۔ قاعدہ وہی مفید اور واثق ہوتا ہے جو سائنٹیفک یا علمی اصول کی میزان میں پورا اترے۔ اس کی توضیح کے لئے میں ایک نہایت معمولی بات پیش کرتا ہوں۔ وہ ہے اسم ذات اور اسم صفت کی ترتیب، یعنی صفت و موصوف کی تقدیم و تاخیر کی طرف آپ کو متوجہ کرتا ہوں۔سوال یہ ہے کہ کلام میں صفت سے پہلے موصوف لایا جائے یا اس کا الٹ؟ فرانسیسی اور فارسی زبانوں میں موصوف پہلے لایا جاتا ہے اور صفت اس کے بعد، انگریزی اور اردو میں عمل اس کے بر عکس ہے۔ مثال کے لئے، اسپ مشکی کو لیجئے۔ یہ تو ہوئی فارسی کی ترکیب۔ اردو میں کہیں گے ’’مشکی گھوڑا۔‘‘ سطحی نظر کے نزدیک ان دونوں فقروں میں کوئی فرق نہیں پایا جائے گا لیکن سائنس کی نظر میں فرق موجود ہے، اور بڑا فرق ہے۔ علم نفسیات کی رو سے اس دو لفظی فقرے کا تجزیہ اس طرح ہوگا۔ جب ’’اسپ مشکی‘‘ یا ’’گھوڑا مشکی‘‘ کہا گیا تو پہلے گھوڑا سامعہ نے اخذ کیا یعنی سامع کا ذہن گھوڑے، محض گھوڑے کی طرف معاً راجع ہو گیا اور چونکہ گھوڑے کی کوئی خصوصیت اس کے علم میں نہیں آئی ہے، اس لئے کسی گھوڑے کی شکل ذہن پر اثر آفریں ہو جاتی ہے۔اغلباً سامع کا ذہن کمیت یا سبزہ گھوڑے کی طرف جائے گا کیونکہ ان رنگوں کے گھوڑے عموماً پائے جاتے ہیں اور روز مرہ دیکھنے میں آتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب لفظ ’’مشکی‘‘ ایزاد کیا گیا تو تخیل کی رفتار میں مزاحمت ڈالی گئی۔ یا تو کمیت گھوڑے کا نقش لوح تخیل سے مٹا کر اس کی جگہ مشکی گھوڑے کا نقش کھینچا گیا یا اگر کمیت گھوڑے کا نقش ابھی مرتسم نہیں ہوا تھا تو اس ارتسام کا میلان روک دیا گیا۔ ان دونوں میں سے کوئی صورت ظہور پذیر ہو، ان میں سے ہر ایک مزاحمت کی منتج ہے۔ اس کے بر عکس اگر صفت کو پہلے اور موصوف کو بعد میں لائیں یعنی ’’مشکی گھوڑا‘‘ کہیں تو مغالطے اور مزاحمت کا امکان نہیں رہتا۔ ’’مشکی‘‘ ایک مجرد صفت کا حامل ہے اور کسی خاص تمثیل کا خالق نہیں۔ وہ ذہن کو اس خاص معروض کے تصور کے لئے تیار کر دیتا ہے جو مشکی رنگ کا ہے اور توجہ لگی رہتی ہے جب تک کہ معروض معلوم نہیں ہو جاتا۔ان دو الفاظ کی اس ترتیب سے یعنی صفت کو موصوف سے قبل لانے سے ذہن کے فعل کے ساتھ کوئی مزاحمت نہیں ہوئی، نہ مغالطے کا امکان پیدا ہوا۔ لہذا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ ترتیب زیادہ مؤثر یعنی فصیح ہے، اسی طرح ’’جوان‘‘ اور ’’مرد‘‘ کی ترتیب پر نظر ڈالیے۔ اگر مرد جوان کہا جائے تو پہلے ’’مرد‘‘ کی صورت ذہن میں بیٹھے گی اور ذہن بھٹکے گا۔ اس تلاش میں کہ مرد کس قسم کا ہے؟ جوان ہے بوڑھا ہے یا ادھیڑ ہے، یا مغالطے کا شکار ہوگا جب تک کہ ’’جوان‘‘ کا لفظ اخذ نہ کرے۔ لیکن’’جوانمرد‘‘ کہنے سے یہ دقتیں رفع ہو جاتی ہیں اور ذہن کسی قسم کے اختلال اور تذبذب میں مبتلا نہیں ہوتا۔ اس کو میں کہتا ہوں قاعدے کا سائنٹیفک اصول پر مبنی ہونا۔ شاعر نے زندگی اور موت کی حقیقت اپنی طرز میں اس طرح بیان کی،زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیبموت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونااسی طرح سمجھ لیجئے کہ فصاحت کیاہے، اجزائے کلام میں حسن ترتیب ہے اور انہیں اجزا کا پریشان ہونا فقدان فصاحت ہے۔کہنا یہ مقصود تھا کہ تہذیب کے اور اداروں کی مانند زبان بھی ضابطے اور قواعد کی محتاج ہے۔ اسلاف نہ تو اس حقیقت سے بے خبر تھے اور نہ بے پروا۔ عوارض اور ضرورت کے مطابق انہوں نے فن انشا و تکلم کے قاعدے مدون کئے۔ اب عہد حاضر میں اگر زبان کا ڈھانچ اور زمانہ کی ضرورتیں کچھ اور ہیں، زاویہ نگاہ اور مطمح نظر بدل گیا ہے، زیادہ وسیع ہو گیا ہے، کلام اور انشاکی غرض و غایت بھی تغیر پذیر ہے، عندیہ بھی منشی کا وہ نہیں جو پہلے تھا، تو کیا پرانا ضابطہ تقویم پارینہ ہو گیا؟ یہ ایک قسم کی خوش فہمی ہے اور کیا کہوں۔ ریاضی اور ہیات کے عالم سے پوچھئے وہ کس طرح تقویم پارینہ کو حرز جان بنا کر رکھتا ہے۔ تازہ مشاہدات اور تحقیقات سے اس پر حاشیے چڑھاتا ہے ا ور اس کی مدد سے نئی تقویم مرتب کرتا ہے۔اسی طرح زبان کے ان قواعد اور ضابطوں کو سامنے رکھ کر آپ نئے قاعدے انشا اور تکلم کے وضع کر سکتے ہیں اور زبان کے ضابطے کو معقولیت اور سائنس کا جامہ پہنا کر اس سے ہر کام لے سکتے ہیں۔ جاڑوں میں گرمی کے کپڑے پھینک نہیں دیے جاتے۔ ان میں سے کچھ تو گرم کپڑوں کے نیچے شعار کی طور پر استعمال ہوتے ہیں اورکچھ نمونہ کے لئے درزی کو دیے جاتے ہیں کہ وہ اس ٹھنڈی شیروانی کے مطابق گرم کپڑے کی شیروانی تیار کر دے۔ عام انسانی زندگی کایہ اصول تہذیب و تمدن کے تمام شعبوں پر عائد ہے۔ جو لوگ اسے نظر انداز کرتے ہیں وہ مصلح نہیں بلکہ تباہ کار اور ہنگامہ پرداز ہیں۔سوال کے د وسرے پہلو پر بھی نظر ڈالنی لازمی ہے۔ جہاں دنیائے اردو میں ایسے اصحاب پیدا ہو گئے ہیں جو کسی قاعدے یا ضابطے کے پابند ہی نہیں، وہیبت کا جن ان کے سر پر ایسا سوار ہے کہ ان کی گردن کسی اصول اور ہدایت کے سامنے خم ہونے میں نہیں آتی۔ ایسے اصحاب بھی عنقا کا حکم نہیں رکھتے جو قدیم ضابطے اور دستور العمل میں سر مو تبدیلی اور ترمیم کو کفر و ارتاد کا مرادف سمجھتے ہیں۔ ان کا ادبی جبر و استبداد سیاسی جبر و استبداد سے کم نہیں۔ یہ ادبی سخت جان اور سخت گیر بھی زبان کے حق میں ایک طرح کا مزمن مرض ہیں۔ ان میں اور ان میں فرق وہی ہے جو تپ دق اور طاعون میں ہے۔ دونوں ادب کی جان کے لاگو ہیں۔ان جملہ امور واقعی کو مد نظر رکھ کر اردو کی ترقی اور زبان کی توسیع متقاضی ہے کہ قدیم ضابطہ کا جائزہ لیا جائے۔ زمانہ کے تغیر اور ضروریات حالیہ کا لحاظ رکھا جائے۔ مستقبل کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔ منقول اور سند کے مقابلہ میں معقول اور سائنس کو جگہ دی جائے اور ایسا ضابطہ مرتب کیا جائے جو مقبول خاص و عام ہونے کی وجاہت رکھتا ہو۔ ان امور کو پیش نظر رکھ کر میں نے آج کے لئے یہ موضوع انتخاب کیا یعنی ’’مبادیات فصاحت‘‘ اور میں سمجھتا ہوں کہ حیدر آباد اس کے لئے نہایت موزوں مقام ہے۔ وہ مقامی جذبات سے مبرا ہے۔ دوسرے صوبوں کی ہنگامہ خیزی اردو زبان کے خلاف بے راہ روی سے معصوم ہے۔جو کچھ عرض کیا گیا اور جواب گذارش ہوگا وہ ان صاحبوں کی طرف خطاب ہے جن کے دل میں اردو کی ترقی اور توسیع کی چیٹک ہے۔ جو اصلاح اور ترمیم ضروری کو ایک فعل حسنہ یقین کرتے ہیں۔ جن حضرات کو ان امور سے دلچسپی نہیں اور جو اپنی بے بضاعتی کو آزادگی اور بے قاعدگی کی خلعت فاخرہ پہنانا چاہتے ہیں ان کی طرف میرا روئے سخن نہیں۔ یہ شعر ان کے حسب حال ہے،ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کیدل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاںنظریہ فصاحت قدیماکثر سننے میں آتا ہے کہ فلاں شخص افصح الفصحا اور ابلغ البلغا ہے۔ یعنی اس کا کلام فصاحت کی جان اور بلاغت کی روح و رواں ہے۔ عام لوگ کہنے کو تو کہہ دیتے ہیں لیکن فصاحت اور بلاغت کا اصلی مفہوم ان کے ذہن سے اتناہی دور ہوتا ہے جتنا قطب شمالی سے قطب جنوبی۔ وہ سہل، سلیس اور با محاورہ کو فصاحت کی تعریف سمجھتے ہیں اور دبیز، بلند آہنگ و مغلق اور مشکل کلام کو بلیغ جانتے ہیں۔ لیکن خواص کے ذہن میں صرف حقیقت و مجاز، تشبیہ وہ استعارہ، تعریض و کنایہ اور ایجاز و اطناب وغیرہ صنائع بدایع بلاغت کا ماحول ہوتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بلاغت کے لئے فصاحت پہلی شرط ہے۔ایک فلسفی کا قول ہے کہ دنیا میں سجاوٹ کو افادت پر غلط ترجیح دی جاتی ہے۔ شعور کا یہ نقص ادب پر بھی اس طرح حاوی ہے جس طرح تہذیب و تمدن کے دوسرے اداروں پر۔ کلام میں صحت اور تاثر کا لحاظ کم رکھا جاتا ہے۔ بناؤ چناؤ اور خود نمائی پر اکثر و بیشتر نظر رہتی ہے۔ مذاق کی سلامتی اور زبان کی صلاحیت کے تحفظ کو مد نظر رکھ کر قدیم زمانے میں ادیبوں نے قاعدے مقرر کئے اور فلسفہ انشا مدون کیا۔ اردو میں یہ قاعدے فارسی سے آئے اور فارسی میں عربی سے۔ لیکن اصل ماخذ اہل عرب کے دل و دماغ کا مولود نہ تھا بلکہ اہل عجم کا۔ یہ ایک نہایت دلچسپ منظر ہے کہ ان بزرگوں نے جو عربی نژاد نہ تھے، اہل عرب کی زبان میں اور عربی سے متعلق محاسن ومعائب سخن پر قواعد وضع کئے اور کتابیں لکھیں۔فارسی میں سب سے پہلے سراج المحققین علامہ سراج الدین علی خاں آرزو نے علم معانی و بیان پر دو مختصر کتابیں تالیف کیں۔ ان کے نام ہیں ’’عطیہ کبریٰ‘‘ اور ’’موہبت عظمیٰ۔‘‘ اس کے بعد میر تقی کا اردو تذکرہ ’’نکات الشعرا‘‘ نکلا جس میں شاعروں کے کلام پر جابجا تنقیدی حاشیوں میں فصاحت کے بعض نکات واضح کئے گئے۔ میر مبرور خان آرزو کے عزیز اور ادبی تلمیذ تھے۔ نکات الشعراکی تنقیدوں سے اس امر پر روشنی پڑتی ہے کہ اب تک ادب اور شعر کے متعلق عربی اور فارسی میں جو ہدایتیں جاری ہو چکی تھیں، وہ سب یا ان میں سے اکثر اردو پر عائد ہیں۔ اسی زمانے میں مرزا قتیل کی کتابیں مثل ’’چار شربت‘‘ اور ’’نہر الفصاحت‘‘ وغیرہ نکلیں۔ دو کتابوں کا نام لینا اس تشکیل کی نفی کرتا ہے کہ اب تک قدما اور متوسطین نے ادب اور بیان پر جو کچھ لکھا وہ اردو پر حاوی ہے یا نہیں؟ وہ ہیں سید انشا کی ’’دریائے لطافت‘‘ اور مولانا صہبائی کا ترجمہ ’’حدایق البلاغت‘‘ حدایق البلاغت کا ترجمہ اردو زبان میں ہے اور مثالیہ اشعار بھی اردو کے ہیں۔’’دریائے لطافت‘‘ اگر چہ اس زمانے کے دستور کے مطابق فارسی میں لکھی گئی لیکن اس کتاب کو اردو کے فن انشا کی اولین کتاب تسلیم کرنا چاہئے۔ زبان دانی کے بنیادی اصول اور قاعدے سید انشا نے قرار دیے۔ ان کی تشریح کی اور تمثیل سے اپنے عندیہ کو واضح کیا لیکن کہنا پڑتا ہے کہ فصاحت کا جہاں تک تعلق ہے، سید انشا کیا آج تک کوئی بھی اس مقام سے ادھر ادھر نہیں ہوا جہاں سکاکی اور قزوینی مقیم ہوئے، وہی ’’الفصاحت یوصف بہا المفرد و الکلام و المتکلم‘‘ کے ترجمے ہر کہیں دیکھنے میں آتے ہیں۔اس ضمن میں صرف دو امور کی طرف توجہ دلا کر اصل مطلب پر آؤں گا۔ اول یہ کہ عربی کی جن کتابوں میں فصاحت کا تذکرہ آیا ہے وہ اگر چہ عجمیوں نے تصنیف کیں، لیکم ان کا مطمح نظر عجم نہیں بلکہ عرب تھا، اور چونکہ اہل عرب قدیم الایام سے فن خطابت میں طاق تھے اس لئے لابد تھا کہ منشی پر خطیب کو ترجیح ہوتی۔ فصاحت میں تثلیث کا مسئلہ یعنی فصاحت سہ گانہ کا وجود اس کی توثیق کرتا ہے۔ ’’فصاحت متکلم‘‘ سو زبان سے اس کی شہادت دیتا ہے کہ علم معانی و بیان پر جو کتابیں مشہور ہیں، ان میں مقدمہ کی ذیل میں فصاحت کے متعلق جو کچھ درج ہے وہ زیادہ تر خطابت پر عائد ہوتا ہے نہ کہ انشا پر۔ اگر چہ وہ جو کچھ بھی ہے انشا کے بارے میں اس سے بہت کچھ استفادہ ہو سکتا ہے لیکن اس سے فصاحت کی جامع و مانع تعریف مستنبط نہیں ہو سکتی۔ اور وہ تعریف تعریف کہے جانے کی مستحق نہیں جس میں یہ دونوں صفتیں موجود نہ ہوں۔ منطق کی رو سے تعریف جامع و مانع ہونی چاہئے۔ یہاں صرف یہ پچھلی صفت ہی پائی جاتی ہے، یعنی وہ کلام فصیح ہے جو ایسا اور ایسا نہ ہو جس میں تنافر نہ ہو، ضعف تالیف نہ ہو، تعقید نہ ہو وغیرہ۔دوسرا امر ہے ’’فصاحت کلمہ۔‘‘ اس میں تنافر حروف و غرابت وغیرہ کی ممانعت کا ذکر آیا ہے، اور مثال میں ’’مستشزرات‘‘ 1 پر اعتراض کیا گیا ہے۔ میرا گمان ہے کہ وہ فاضل مولف اس کلمہ کی اتنی چتھاڑ نہ کرتے اگر خطیب اور خطابت انکے ذہن پر مسلط نہ ہوتے۔ میں یہ نہ کہوں گا کہ اگر یہ لغت صرف عربی کے مطابق صحیح ہے اور اجلل کی طرح متروک بھی نہیں قراردیا گیا۔ اسلوب بیان کے اعتبار سے اور معنی کے اعتبار سے بھی صحیح محل پر استعمال ہوا ہے تو پھر اس میں کیا فیہ نکل آئی؟ اگر یہ کہا جائے کہ اس لفظ کی جگہ امر اء القیس ’’مسترفعات‘‘ لکھ دیتا تو بہتر تھا تو اسے زیادہ سے زیادہ ترقی کہا جائے گا نہ کہ اصلاح۔ لیکن ان فاضل مولفوں نے ’’مشتشزرات‘‘ کے بدلے کوئی اور لفظ تجویز فرمانے کی زحمت نہیں اٹھائی۔چونکہ یہ شعر فصاحت کلمہ کے تذکرے میں اس لفظ کی وجہ سے بہت بدنام ہے، اس لئے میں نہایت ادب سے یہ عرض کرنے کی جسارت کرتا ہوں کہ وہ بزرگ اگر چہ زبان عربی کے جید عالم تھے لیکن صاحب قاموس کی طرح اہل زبان نہ تھے۔ اس وجہ سے ’’مستشزرات‘‘ پر یہ اعتراض کر گئے۔ ممکن ہے میں غلطی پر ہوں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اعتراض حرف شین کی وجہ سے ہوا۔ یعنی ش جو مہموسہ رخوہ ہے، درمیان ’’ت‘‘ کے، جو مہموسہ شدید ہے اور ’’ز‘‘ کے جو مہجور معجمہ، آ گیا ہے۔ اس سے ثقل تلفظ کا گمان ہوا۔لیکن مجھے اس استدلال پر اعتراض ہے کیونکہ ’’رائے مہملہ‘‘ بھی تو مہجورہ ہے مثل ’’ز‘‘ کے۔ کہا گیا ہے کہ حرف قریب المخارج کے اجتماع سے بھی ایسا ثقل پیدا ہوتا ہے جو مخل فصاحت ہے۔ ا سی بنا پر اس آیت میں ’’الم آعہد‘‘ 2 میں کہا گیا کہ ایسا ثقل ہے جو تنافر کے قریب اور فصاحت کلمہ کے مخل ہے، مگر اصل میں ایسا نہیں ہے، اس کی تفصیل کے لئے ’’الاتقان‘‘ کا مطالعہ ضروری ہے۔ اگر ایک لمحہ کے لئے مذہبی تقدس کی نظر ہٹا کر محض ادبی نگاہ قرآن مجید پر ڈالی جائے تو ثابت ہوگا کہ اس کا لفظ لفظ فصاحت کی روح و رواں ہے۔ ایسی تعریفوں سے جن کا نقص ظاہر کر چکا ہوں۔ ماثور ہو کر ایک صاحب نے اعتراض کردیاکہ ’’نوح یوحبط‘‘ 3 میں تنافر حروف ہے۔ یہ اور ایسے معترض حروف کے مخارج کی حقیقت سے جاہل مطلق ہیں۔ الف اور عین ہائے ہوز اور حائے حطی کی صحیح اور حقیقی آواز ادا کرنے سے ان کے آلات نطق عاری ہیں۔ جب اس بارے میں اہل زبان کو بھی مغالطہ ہو جاتا ہے، پھر غیر اہل زبان کا تو ذکر ہی کیا ہے۔دیکھا جاتا ہے کہ آج کل طبائع زیادہ ذکی الحس ہیں۔ علل سے بحث نہیں۔ یہ واقعہ بدیہی ہے کہ عہد حاضر میں ہر امر میں خواہ وہ معاشرت یا ملیات سے متعلق ہو یا دینیات و ادبیات سے، لوگوں کے ذہن زیادہ حساس ہو گئے ہیں۔ اس خوف سے میں صرف یہ عرض کروں گا کہ اہل زبان ہی اپنی زبان کے کلام یعنی عبارت اور الفاظ کو صحیح انداز اور لب و لہجے سے ادا کر سکتے ہیں۔ غیر اہل زبان اس زبان کا خواہ کتنا ہی عالم اور مصنف کیوں نہ ہو، اس کے آلات نطق لب و لہجہ کی صحت اور طرز ادا کی قدرتی شستگی پر حاوی نہیں ہو سکتے۔آیا فصاحت کا تعلق جیسا کہ متقدمین نے زور دیا ہے کلمہ کی ذات سے ہے؟ یہ مبحث ابھی تشنہ ہے۔ آگے ذکر آیا ہے کہ فارسی میں سب سے اول خان آرزو نے اہل ہند کو علم معانی اور اس کے رموز سے آشنا کیا۔ ممکن ہے اہل فارس نے اس موضوع پر اپنی زبان میں کچھ لکھا ہو لیکن وہ ہم تک نہیں پہنچا۔ خان موصوف ’’عطیہ کبریٰ‘‘ کے دیباچہ میں فرماتے ہیں،’’دہر گاہ کہ نظر بر کتب قدیمہ وجدید افتاد کتابے در علم بیان کہ یک جز و فصاحت است، در فارسی بہ نظر در نمی آید۔۔۔ پس ایں رسالہ اول کتابے است کہ از آسمان فکر بلند بہ زمین شعر فارسی نازل شدہ۔‘‘پھر انہوں نے دوسرا رسالہ ’’موہبت عظمیٰ‘‘ لکھا جس کو علم معانی سے متعلق کہا جاتا ہے۔ ان کے مندرجات و طواط کے حدائق السحر اور دوسری عربی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ جیسا عربی کتابوں میں التزام تھا، اس کی تقلید خان آرزو نے کی، یعنی فصاحت کا ذکر ضمناً اور مجمل طور پر دیباچہ میں کر دیا لیکن پھر بھی وہ ’’تلخیص‘‘ سے کچھ زیادہ ہی ہے۔ چونکہ سکا کی زبان سے نکل گیا تھا کہ کلام بلیغ کے لئے فصیح ہونا لازمی ہے، اس لئے انہیں اور ان کے متعاقبین کو چند لفظ فصاحت کی نذر کرنے پڑے۔ تثلیث فصاحت کا نظریہ بس اتنا ہے۔ فصاحت کلمہ، فصاحت کلام، فصاحت متکلم ان اجزائے تثلیث کی تعریفوں میں سب کا اتفاق ہے۔1۔ فصاحت کلمہ خلوص اوست از تنافر حروف و غرابت و مخالفت قیاس لغوی۔ پہلی خرابی یہ واقع ہوئی کہ محض فصاحت کی تعریف کی طرف کسی کا ذہن راجع نہ ہوا۔ فصاحت کلمہ، فصاحت کلام اور فصاحت متکلم یہ تینوں اضافی ترکیبیں ہیں۔ کلمہ کی تعریف صرف میں اور کلام کی تعریف نحو میں آ جاتی ہے۔ اس لئے ضروری نہ تھا کہ ان کی تعریفیں وضع یا نقل کی جاتیں، کیونکہ صرف و نحو کا علم ان کتابوں کے مطالعے سے پیشتر ہونا لا بد ہے۔ لیکن یہ کسی کے خیال میں نہ آیا کہ اتنا تو فرما دیتے کہ فصاحت اسے کہتے ہیں۔ ان مرکبات میں فصاحت ہی اہم اور جزو اعظم ہے، اور اسی کی اصطلاحی حیثیت بتانے سے احتراز کیا گیا۔ لغت کی کتابوں نے اس لفظ کے معنی بتائے ہیں۔ ’’کشادہ سخن گفتن و تیز زبانی و خوش گوئی۔‘‘ مگر ایک لفظ جب اصطلاحی حیثیت حاصل کر لیتا ہے تو اپنے لغوی معنی سے کم و بیش دور ہو جاتا ہے۔ یہ ایک بدیہی امر ہے۔خیر اب فصاحت کلمہ کو لیجئے۔ اس کی تعریف جو کچھ بھی کی گئی ہے وہ محض مانع ہے۔ یعنی تنافر حروف، غرابت اور مخالفت قیاس لغوی کا نہ ہونا۔ اس کلمہ کو فصیح کہا گیا جس میں تین عیب نہ ہوں۔ پھر فصاحت کلمہ کی ان تینوں شرائط کی تعریف یوں کی گئی۔(ا) تنافر ان حروف کے اجتماع کو کہتے ہیں جن کا تلفظ طبع سلیم پر دشوار ہو۔ اسے ایک ذوقی امر بتایا گیا ہے۔(ب) غرابت کی نسبت کہا گیا کہ وہ کلمہ جو غیر مانوس الاستعمال ہو یعنی جسے اہل زبان استعمال نہ کرتے ہوں۔(ج) مخالفت قیاس لغوی کی نسبت فرمایا گیا کہ ایک کلمے کاقاعدے، قانون اور محاورے کے خلاف لانا۔ اس کی کئی قسمیں ہیں۔(1) شعر کا وزن یا قافیہ درست کرنے کو کلمے میں تغیر کرنا جیسا اس شعر میں کیا ہے۔آب انگور و آب نیلوفل شد مرا از عبیر و مشک بدلنیلو فر کی ’’ر‘‘ کو ’’ل‘‘ سے بدل دیا تاکہ قافیہ درست رہے۔ تو مطلب پورا ہو جاتا، مخالفت کا نقص بھی نکل جاتا۔(2) کلمے کا بے موقع استعمال جیسے ’’ٹوٹنا‘‘ کی جگہ ’’پھوٹنا‘‘ کہنا۔ اس فقرے میں ’’اس کی باتیں سن کر میرا دل ٹوٹ گیا۔‘‘ یہاں ٹوٹ گیا کہ جگہ پھوٹ گیا کہا جائے تو مخالفت کا نقص عائد ہوتا ہے۔ اسی طرح اس جملے میں ’’ساجھے کی ہنڈیا چوراہے پر پھوٹا کرتی ہے۔‘‘ پھوٹنا کے بدلے ’’ٹوٹنا‘‘ کہنا ویسا ہی ہے جیسا پہلی مثال میں پھوٹنا تھا۔(3) الف اشباع جو بعض کلموں کے آخر میں ضرورت شعری کی وجہ سے بڑھا دیا جائے، جیسے نظامی نے اس مصرعہ میں کاخ کو کا خا باندھا ہے،بسا کا خاکہ محمودش بنا کرد۔زیادہ تفصیل غیر ضروری ہے۔میں یہ عرض کروں گا کہ کاخ کو کاخا کہنا غلط، دل ٹوٹ گیا کو دل پھوٹ گیا کہنا غلط ہے۔ اسی طرح تغیر یا تقلیب وغیرہ سے کلمے کی ہیت بدل دینا غلط اور ممنوعہ ہے۔ جو شخص ’’رحیم بخش‘‘ کو حریم بسک اور ’’قادر‘‘ کو ’’کادر‘‘ کہتا ہے اور غلط اور مہمل الفاظ بول رہا ہے۔اب دیکھنا ہے کہ فصاحت کلمہ کی جو تعریف قرار دی گئی، معقولیت کے کس درجہ میں رکھی جا سکتی ہے؟ اس بارے میں یہ جتانا ہے کہ کوئی کلمہ جو علم صرف کے قواعد سے مطابقت رکھتا ہے، اپنی لغوی حیثیت میں فصیح یا غیر فصیح نہیں ٹھہرایا جا سکتا، ہاں اس کا مناسب یا غیر مناسب استعمال۔ یا صَرف ہی وہ عمل ہے جو اسے یعنی اس کے استعمال کو فصیح یا غیر فصیح بنا سکتا ہے اور یہ صرف یا استعمال کلام سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ جب ایک جملے یافقرے میں کسی کلمہ کا استعمال ہو تو بداہۃ کلام کی ہستی پیدا ہوگئی۔ لہذا فصاحت یا غیر فصاحت کا اطلاق کلام پر ہوا نہ کہ کلمے پر۔اگر وضو کے مسئلے کو فقہ کی کسی کتاب میں مطالعہ کر رہے ہوں یا اس سے متعلق تحریر کریں تو جور بین کا کلمہ ضرور استعمال ہوگا اور وہاں وہ کلمہ ہر گز غیر فصیح نہ ہوگا لیکن اگر آپ غزل میں یہ لفظ استعمال کریں جیسے پیرہن، آنچل، نقاب، دامن اور گریبان کا ذکر ہوتا ہے تو یقیناً یہ صرف اس کلمے یعنی جور بین کابے محل ہوگا، اس لئے غیر فصیح۔ یہی حال ان کلمات اور مرکبات کا ہے جو غالب اور ناسخ کے پہلے کے کلام میں پائے جاتے ہیں یعنی ان کی غزلوں میں۔ اگر ان میں سے اکثر قصیدے یا نثر میں صرف کئے جاتے تو مضائقہ نہ تھا۔جو لفظ متروک ہو چکے ہیں وہ گویا زبان سے خارج کر دیے گئے۔ لغات میں جو وہ پائے جاتے ہیں تو اس غرض سے کہ متقدمین کا کلام سمجھنے میں مدد ملے۔ اب میں فصاحت کلمہ کے نظریہ کا تجزیہ پیش کرتا ہوں۔ پہلی خامی اس نظریہ میں یہ نظر آتی ہے کہ جہاں تک فارسی یا اردو کا تعلق ہے، متقدمین یا متاخرین نے کلمہ میں تنافر حروف کی مثال پیش نہیں کی جس سے ان کے عندیہ کی وضاحت ہوتی لیکن صاحب غیاث اللغات نے اس بارے میں طبع آزمائی کی ہے۔ فرمایا ہے جیسے شمع علم، صدق قول میں ثقل تلفظ ہے۔اول تو مجھے ان کو کلمہ تسلیم کرنے میں کلام ہے۔ یہ دونوں مرکب وہ نوعیت نہیں رکھتے جو خوش گفتار یا سخن شناس کی ہے۔ بلکہ شمع علم اور صدق قول ایک کلام کے دو ٹکڑے ہیں، جو اس میں سے قطع برید کر کے الگ دکھائے گئے ہیں، شمع اور صدق، علم اور قول کو ضرور کلمہ کہا جائے گا، ان مرکبات کی مستقل حیثیت نہیں۔ بفرض محال اگر صاحب غیاث اللغات کا یہ ادعا مان بھی لیں تو ان کے مذہب کے مطابق ملل، قصص اور اساس وغیرہ سینکڑوں عربی اور فارسی کلمے کلام سے خارج کر دینے پڑیں گے اور خود ان کی کتاب کا نام یعنی غیاث اللغات انہیں کے قول کے مطابق فصاحت کلمہ کے متبائن ٹھہرے گا کیونکہ اس میں دو لام پے در پے آ گئے جیسے صدق قول میں دو قاف اور شمع علم میں دو عین تھے اور شش کا ہندسہ تو اعداد شمار سے خارج ہی کر دینے کے قابل ہے۔ اگر مومن کے اس شعر میں تنافر ہے تو وہ کلام سے متعلق ہے، کلمہ سے اس کا کوئی واسطہ نہیں۔ وہ شعر یہ ہے،پاؤں تربت پہ میری دیکھ سنبھل کر رکھناچور ہے شیشہ دل سنگ ستم سے پس کےاعتراض ہے کہ چار سین ایک جگہ لا کے اکھٹے کر دیے۔ یہ اعتراض شاعر کے شعور تالیف کے خلاف ہو سکتا ہے ورنہ ان کلمات میں سے سنگ ستم سے پس کے کسی میں بھی اپنی مجرد حیثیت میں یعنی با اعتبار مجرد کلمے کے نام کونقل تلفظ یا تنافر نہیں۔ یہی کلمے جب مناسب محل پر صرف کئے جائیں تو اعتراض وارد نہیں کیا جاتا۔ یہی حال فارسی کے ان مصرعوں کا ہے،(1) زمیں شش شد و آسماں گشت ہشت(2) از یک کشش شہ شش صد شیر بلرزدان مصرعوں میں شش سے لے کر شیر تک کسی کلمہ پر تنافر حروف یا اثقال کا نقص عائد نہیں ہو سکتا۔ نقص جو ہے وہ کلام کا ہے۔ یہی کیفیت غرابت کی ہے۔ جو ربین کا ذکر آگے آ چکا ہے۔ اس ضمن میں یہ بتانا ہے کہ کوئی کلمہ اگر غیر مانوس الاستعمال ہے یعنی اہل زبان یا زبان داں اسے استعمال نہیں کرتے تو وہ اس زبان میں داخل ہی نہیں یا ایک مدت کے استعمال کے بعد متروک ہو گیا۔ متروکات کی طرف ابھی اشارہ ہوا ہے۔ لغات میں ہر علم و فن کی اصطلاحیں، ہر زمانے کے محاورے اور ہر عہد کے مستعملات لکھے ہوتے ہیں۔ اگر آپ ان الفاظ وغیرہ کو چھانٹ چھانٹ کر نکالیں اور کلام میں لائیں۔ محل، مناسبت، موضوع اور بے جا صرف، نیز صنف شعر کا لحاظ نہ رکھیں تو بے شک کلام کی گراں باری غرابت کے الزام کی مستوجب ہوگی۔مثلاً آج کل کے فصحا اور نیز متاخرین نے فعل حال کی شکل کو جیسے جائے ہے کرے ہے کلام سے خارج کر دیا ہے۔ اب اگر کوئی قدامت پرست فعل حال کے یہ صیغے استعمال کرے تو بے شبہ اس کا یہ فعل اہل زبان کے ا ستعمال سے متجاوز ہوگا اور اس کا کلام غیر صحیح سمجھا جائے گا۔ مرزا غالب نے اپنے اردو دیوان کی تیسری اشاعت کے خاتمے پر لفظ کسو کی نسبت لکھا تھا۔’’میں یہ نہیں کہتا کہ یہ لفظ صحیح نہیں، البتہ فصیح نہیں۔ قافیے کی رعایت سے اگر لکھا جائے تو عیب نہیں۔ ورنہ فصیح بلکہ افصح کسی ہے۔ ‘‘اسی طرح بہت سے کلموں کے محل استعمال پر نظر تعمق ڈالی جائے تو یہ تعمیم درست ہوگی کہ کلمہ بجائے خود فصیح یا غیر فصیح نہیں ہوا کرتا بلکہ اس کا محل استعمال یا صرف ایسا ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں یہ واضح کر دینا بھی ضروری ہے کہ بعض متروک الفاظ ایسے ہیں جن کا استعمال عام صورتوں میں جائز نہیں لیکن مرزا کے کسو کی طرح اگر چہ اب کسو قطعا ًمتروک ہے، خاص محل پر جائز اور جاری ہے، جیسے نت کہ اس کا استعمال نیا کے ساتھ تو درست ہے اور صورتوں میں نہیں۔ اس سے واضح ہو گیا کہ فصاحت کا تعلق کلام سے ہے، کلمہ سے نہیں ہے۔ ہاں صحت کلمہ کے لئے لازمی ہے۔مخالفت قیاس لغوی کو کلمہ پر عائد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کا مطلب ہے کلمہ کا قاعدے قانون اور محاورے کے خلاف لانا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جو کلمہ قاعدے اور قانون کے خلاف ہوگا وہ صحت سے محروم ہوگا۔ فصاحت یا غیر فصاحت کا اس میں دخل ہی کیا ہے۔ اگر فصاحت کلمہ کے اس نظریہ کو جس کی تشریح ہو چکی ہے مسلم اور موکد مانا جائے تو آپ ہی فرمائیں، ایران اور ہندوستان کے ان نامی استادوں کے حق میں کیا فتویٰ دیا جائے گا جو فرما گئے ہیں،لنگنت گر ترا کند فربہسیر خوردن تراز لنگن فربہنہ دراں دیدہ قطرۂ پانیحکیم سنائی نے ’’لنگن‘‘ کا کلمہ فاقہ کے معنی میں استعمال کیا ہے جیسا کہ ہندی میں ہوتاہے، قطرۂ پانی پر بھی نظر رہے۔ عرفی فرماتے ہیں،در چاشت کہ از شبنم گل گرد فشاں استآں یاد کہ در ہند در آید جکر آیداس شعر میں جھکڑ آندھی کو ایرانی لہجے میں ’جکر‘ کہا گیا ہے، ارشاد ہوا ہے،گیت خوانت زہرہ قوال و مکی رانت زحلآبدا رت ابر نیساں و خواصت آفتاباس شعر میں گیت، اور مکی یعنی مکھی کا راگ حسن سماعت چاہتا ہے۔سالکؔ کا شعر ہے،سیر گشتم ز کچری ایامہوس خو ان سیم و زر نہ کنمہندی فارسی کی اس کھچڑی کی قبولیت کو ملاحظہ فرمایئے اور کسرۂ اضافت کا بھی خیال رکھئے۔از سخن تاثیر ما از لفظ ہائے انتخاببستہ ہائے خوش قماش پر زانک آوردہ است’’انک‘‘ وہ نشاں ہے جو ہندستان میں کپڑا بنانے والے یا بزاز تھانوں وغیرہ پر بنتے یا چھاپ دیتے ہیں۔ یہ سنسکرت کا لغت ہے، اس کے معنی ہیں نشان، پتا، سنسکرت میں خدا کے ناموں میں ’’نرانکار‘‘ بھی آیا ہے۔ اس کے معنی ہیں پہچان کی نشانی نہ رکھنے والا۔ آج کل قماش کے انک’کو‘ مار کا کہتے ہیں جو ٹریڈ مارک کا بگڑا ہوا ملخص ہے۔امیر خسرو کے ہاں آیا ہے،ہمہ راز نوک مژگاں زدہ بر جگر کٹارہمرزا صاحب نے اضافت سے اس ہندی لفظ کٹارہ کو اور بھی اپنا لیا۔ فرمایا ہے،دلیر میروی از پے سیاہ چشماں راکٹارہ نگہت بر جگر نیامدہ استمرزا غالب نے فرمایا،سر پہ چڑھنا تجھے زیبا ہے پر اے طرف کلاہمجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا نمبر سہرابعض اہل عملہ انگریزی لفظ نمبر کو ’’لمبر‘‘ بھی کہتے اور لکھتے ہیں جیسے رجسٹروں کے اول خانہ کا عنوان لمبر شمار۔ اور مرزا صاحب کے فارسی دیوان میں ہے،ارے نہ چک بود نہ تمسک زہر کہ ہستنے دستخط نہ مہر نہ نام و نشاں اوستمضمون شعر، نوٹ، بودفی زماننایعنی بدست ہر کہ بیفتاد آن اوستاس کے باوجود کہ مرزا قتیل مع اپنی معانی و بیان کی کتابوں کے اتنے برس لکھنؤ میں رہے، شیخ ناسخ نے فرمایا،ترے رخسار تاباں کا کبھی جو عکس پڑتا ہےفریم آئینہ بنتی ہے ہالا ماہ کامل کا’’فریم‘‘ اور ’’ہے ہالا‘‘ قابل ملاحظہ ہے۔ذوقؔ کا ارشاد ہے،پکارے سب کہ، قواعد ہے فوج کی شایدکہ ’’فیر اڑا‘‘ رہے ہر صف میں ہیں قطار قطار’’لال کتاب‘‘ اپنی اب بادہ لالہ رنگ ہےمیکدہ اپنے واسطے مدرسہ فرنگ ہےآپ گھبرائیں نہیں، میں اور مثالیں مخالفت یا غرابت کی پیش نہیں کروں گا۔ خلاصہ یہ کہ وہ سکاکی ہوں یا رشید الدین و طواط، خان آرزو ہوں یا مرزا قتیل اور ان کا اجتہاد، نہ استدلال کی میزان میں پورا اترتا ہے نہ اساتذہ ایران و ہندوستان کے عمل کی رو سے قابل تسلیم ٹھہرتا ہے۔اس فصاحت کلمہ کے فتوے نے ایک بدعت شنیعہ ہمارے ادب میں لا کر داخل کردی۔ خاص کر نظم میں شعرا کا مطمح نظر صرف کلمہ مفرد رہ گیا اور کلام و تخیل پس پشت ڈال دیے گئے۔ جہاں الفاظ پر غیر ضروری زور اور تاکید کا درہ لگایا گیا وہاں یہی نتیجہ ظہور میں آیا۔ اس لفظی فصاحت کے منتر نے عہد ٹیودر میں جوگت انگریزی لٹریچر کی بنائی تھی وہ ہی متاخرین کے زمانہ میں اردو شاعری خاص کر لکھنؤ کے ایک خاص طبقہ کی بن گئی تھی یعنی متکلم کی تمام و کمال توجہ کلام سے ہٹ کر کلمہ پر مرکوز ہو گئی۔ اس زمانہ میں تو انگلستان میں ایک شخص ایسا وسیع النظر پیدا ہو گیا جس نے کلمہ کے ساتھ کلام کا بھی لحاظ رکھا یعنی جان ملٹن، لیکن ہندوستان میں کلمہ اور مفرد کا جادو ایسا چلا کہ آج تک کلام اس کی بھول بلیاں میں چپر غٹو ہے۔الفاظ کا تقابل اور مناسبت کا جنون بھی ا س ذیل میں آتا ہے جو منشی اور متکلم کے ہاتھ سے تخیل اعلیٰ کا سلسلہ چھڑا دیتا ہے اور کلام صرف الفاظ کا گورکھ دھندا رہ جاتا ہے۔ یہ ساری خرابی دلی والوں نے جن میں خان آرزوؔ اور مرزا قتیل کا بڑا حصہ ہے، لکھنؤ کی نو توڑ سر زمین میں جا کر پھیلائی اور پھر یہ ادبی بدعت کشش باز گشت کے قانون کے تحت خود دہلی پر بھی عائد ہو گئی۔ آج کل کے اکثر لوگوں کو اپنے زعم میں کلام کی آراستگی کا یہ سہل لٹکا ہاتھ آ گیا ہے جیسا کہ سیاست کا اصول ہے کہ ایک موقع جو خود بخود پیدا ہو گیا ہے کیوں نہ اس سے فائدہ اٹھا لیا جائے۔ یہی اصول آج کل ادبیات پر حاوی ہے۔ ہلدی لگے نہ پھٹکری رنگ چھوکھا دے۔گیتا نے فلسفہ عمل پر اس ہدایت کے ساتھ اتمام حجت کیا کہ جو فعل تمہارا فرض ہے اسے انجام دیے جاؤ اور اس کے ثمر کے پھیر میں نہ پڑو۔ اسی طرح لوگ اچھے اچھے کلمات، شاندار ترکیبیں، بلند آہنگ لغات استعمال کرتے ہیں۔ بھئی اس سے مطلب کیا نکلا؟ اس کلام کا ماحصل کیا ہے؟ یہ سب اگر کہیں ہے تو شاعر کے بطن میں یعنی ذی رعب کلمات استعمال کئے جاؤ، کلام کی معنوی خوبی سے غرض نہیں۔ جب ہی تو مولانا صہبائی 4 نے تاکید کی،’’مدار حسن قبول بر فصاحت کلام است۔‘‘کلموں کے تقابل و تناسب وغیرہ کے بارے میں موصو ف کا شاکیانہ لہجہ بھی قابل غور ہے، فرمایا ہے، ’’پائے بند مناسبات شدن و آنگاہ بر ایں قدر کہ گامے بے مراعات آں بر ندارند و لقمہ بے ملاحظہ، آ درد دہن نہ گزارند ساپئے سعی رالنگ و مائدہ سخن را تنگ کردانیدن است۔ 5یہاں ایک جملہ معترضہ ذہن میں آیا جس کا ذکر اگر چہ فصاحت کلمہ کی ذیل میں تو نہیں آتا لیکن فلسفہ کلمہ سے اس کا بہت تعلق ہے۔ اس لئے اس کا مجمل تذکرہ کئے دیتا ہوں۔ بعض کا خیال بلکہ یقین ہے کہ فارسی یا عربی الفاظ کا استعمال کلام میں زور پیدا کر دیتا ہے۔ خدا معلوم وہ لوگ زور سے کیا مراد لیتے ہیں۔ ایک ریل انجن لمبی ٹرین کو لے کربھاگے جاتا ہے ا ور جلدی سے منزل پر پہنچا دیتا ہے۔ یہ ہوئی ایک بات۔آپ کسی کام کو گھر سے نکلتے ہیں، راستے میں آپ کو ایک گھوڑا نظر آتا ہے، جس کا رنگ نہایت ہی دلفریب ہے، بدن سڈول کہ سانچے میں ڈھلا ہوا، مور کی سی ٹھمک چال ہے، رگ و ریشے میں بجلیاں بھری ہوئی ہیں، اٹکھیلیاں کرتا جا رہا ہے۔ آپ ٹھہر جاتے ہیں اور اس گھوڑے کو دیکھتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ دکھائی دیتا ہے۔ اب غور طلب امر یہ ہے کہ آیا اس انجن میں زور تھا یا اس گھوڑے میں۔ آپ ذہن مبارک کو ضغطے میں ڈالیں۔ میں جلدی سے کہے دیتا ہوں کہ انجن میں بھی زور ہے اور گھوڑے میں بھی، مگر میں ایک زور کو جناتی کہوں گا اور دوسرے کو ملکوتی، کیونکہ انجن کا زور اضطراب آگیں ہے اور گھوڑے کا زور سکوں آفریں۔ اگر ا ٓپ اس گفتگو کو اقلیدس کی ایک شکل کے دعوے کی حیثیت دیں تو ثبوت میں چند شعر اساتذہ کرام کے سنیئے جن مین مشکل سے دو تین فارسی یا عربی الفاظ واقع ہوئے ہیں بلکہ انہیں فارسی یا عربی نہیں اردو ہی کہنا چاہئے۔ ناخواندہ شخص بھی انہیں سمجھتا بولتا ہے۔تم مرے پاس ہوتے ہو گویاجب کوئی دوسرا نہیں ہوتامومن کے اس شعر میں صرف ایک فارسی لفظ ’’گویا‘‘ آیا ہے۔اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گےمر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گےذوقؔ کے اس مطلع میں ایک لفظ بھی فارسی یا عربی نہیں آیا۔وہ نہیں بھولتا جہاں جاؤں ہائے میں کیا کروں کہاں جاؤںناسخ کے اس شعر میں بھی فارسی عربی کا کوئی لفظ دخل نہ پا سکا۔ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہےغالب کے ا س شعر میں رونق، حال، بیمار یہ تین لفظ آئے ہیں۔ انہیں جو چاہئے سمجھ لیجئے۔سامعین کرام کے مذاق اور ذہنیت کی تحقیر ہوگی اگر میں ان اشعار کی خوبیاں اور زور دکھانے بیٹھوں۔ بس اتنا کہوں گا کہ یہ وہ شعر ہیں جن پر سینکڑوں دیوان نثار ہیں۔ ادب میں زور اس موسل کو نہیں کہتے ہیں جو اوکھلی میں دھان کوٹتا ہے بلکہ زور نام ہے اس تاثر کا جس کا تعلق نفسیات سے ہے۔حیطہ ادب میں یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ لفظ کے ٹکڑے جسے انگریز ی میں سلیبل کہتے ہیں اور ایکسنٹ، جسے ایک لفظ کے کسی جزو کی صوت کا توڑ کہئے اس کی معنوی حیثیت سے قطع نظر سامع کے ذہن کو تسخیر اور متاثر کرنے میں حد درجہ دخل رکھتے ہیں۔ انگریزی لفظ گرینڈ کے مقابلہ میں میگنیفیسنٹ اور اسی طرح ہمارے شاندار کے مقابلے میں عظیم الشان میں جو مابہ الامتیاز ہے، اس کی تفسیر کی ضرورت نہیں، فلسفہ انشا کا یہ ایک کنبہ ہے جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ہاں گفتگو تھی فصاحت کلمہ سے متعلق۔ میرا مذہب یہ ہے کہ جو کلمہ صحیح اور لغوی یا اصطلاحی یا مجازی معنی میں مستعمل ہو، اہل زبان کے محاورے کے مطابق ہو اور مناسب محل پر صرف ہوا ہو، موضوع کے اعتبار سے بھی درست اور بجا ہو، ایسے کلمے کلام میں استعمال کرنا اس کی خوبی اور تاثیر کو بڑھا دیتا ہے۔ اس سے زیادہ کہنا عبث ہے۔ جس کلمے میں غرابت یا مخالفت کا نقص ہو، اسے متروک سمجھنا چاہئے۔ نپٹ اور انجھواں، نین اور ندان کبھی مستعمل تھے، ان سے کلام چمک اٹھتا تھا مگر آج غریب ہیں۔ اسی طرح مخالفت قیاس لغوی کو قیاس کر لیجئے۔تنافر حروف کا ذکر ’’مستشزرات‘‘ کی ذیل میں آ چکا ہے۔ اس بحث کا ملخص یہ ہے کہ آج تک فصاحت کے اول رکن کے باب میں جو کچھ فرمایا گیا وہ زیادہ تر موشگافی اور فصاحت کلام سے متعلق ہے۔ اس کے ذکر کی ضرورت نہیں کہ کوئی خوش فہم، موقع محل اور موضوع کو اونچے سے طاق پر رکھ کر لغت کی کتابوں سے لفظ لے لے کر کلام میں بھر دے۔اب میں آپ کو فصاحت کی دوسری حد پر لے جانا چاہتا ہوں۔ میرا مطلب ہے فصاحت متکلم۔ آگے کہہ چکا ہوں کہ اس کا تعلق زیادہ تر خطابت سے ہے، ضمناً مکالمہ بھی اسی میں آ جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص زنجیر کو زنزیر یا جنجیر، شام کو سام، قلم کو کلم کہے تو صاحب مذاق سننے والے ضرور بدمزہ ہوں گے۔ اس لئے ضروی ہے کہ بولنے میں لفظ صحیح تلفظ میں ادا ہو اور ہر حرف سے اس کی صحیح آواز پیدا ہو۔ بعض مقامی خصائص ایسے ہیں جو صحیح علم کے باوجود مکالمہ کو صحیح نہیں ہونے دیتے، اس کی وجہ آلات نطق کی بناوٹ کی خصوصیت اور عادت ہے، جس کا مداوا صحبت اور مزاولت کے سوا کچھ نہیں۔ ایک مفرد نظیر سے اس کی وضاحت ہو جائے گی۔سید انشا نے دریائے لطافت میں جو گفتگو اور لہجہ میر غفر غینی کا لکھا ہے۔ اس سے اس امر پر تیز روشنی پڑتی ہے۔ میر غفر غینی کے آلات نطق کچھ ایسے واقع ہوئے تھے کہ ’ل‘ ا ور ’ر‘ وغیرہ کی آواز صحیح ادا نہ کر سکتے تھے بلکہ ان حروف کی جگہ ’غ‘ اور ’ف‘ وغیرہ کی آواز ناگزیر تھی۔ سحر البیان کے اس شعر کو،چلی واں سے دامن اٹھاتی ہوئی کڑے کو کڑے سے بجاتی ہوئیوہ یوں کہتے تھے،چغی واں سے دامن اٹھاتی ہوئی کفے کو کفے سے بجاتی ہوئیاس لہجے کی وجہ سے ان کا نام ہی غفر غینی پڑ گیا۔ ایسی ہی کیفیت قوموں کی ہے۔ مختلف ملکوں یا ایک ملک کے مختلف حصوں کے رہنے والوں کا لہجہ خصوصی طور پر خاص حروف کی آواز نکالنے میں مختلف ہوتا ہے۔ صحت تکلم اہل زبان کے لہجے سے وابستگی رکھتی ہے اور یہ امتیاز ہر ملک اور ہر زبان میں موجود ہے۔ قریش کے لہجے اور سبعہ احرف کا محض حوالہ دینا، امید ہے اس بارے میں کافی سمجھا جائے گا۔ابھی کلمے کے جز یعنی سلیبل اور توڑ یعنی ایکسنٹ کا ذکر آ چکا ہے اور زبانوں میں توڑ کے فرق اور رد و بدل سے کلمے کے معنی بدل جاتے ہیں۔ کبھی اسم سے فعل اور فعل سے اسم بن جاتا ہے، اگر چہ کتابت وہی جوں کی توں رہتی ہے مثلاً انگریزی میں کنٹریکٹ اور کونٹریکٹ۔ مکالمے میں ایک اور چیز بھی ہے، جو کلام کے معنی اور متکلم کے عندیہ پر جید اثر رکھتی ہے۔ یعنی لہجے سے الفاظ پر زور ڈالنا جسے انگریزی میں امفیسس کہتے ہیں اس کا تعلق کلام سے ہے، کلمے سے نہیں۔ اس کی تشریح ایک جملے سے بخوبی ہو جائے گی جس میں یہی کلمات کا صوتی زور مختلف معنی پیدا کر دیتا ہے۔ وہ جملہ ہے۔’میں کل دہلی جاؤں گا‘(1) میں کل دہلی جاؤں گا؟ (آپ نے یہ کس سے سنا میں نے تو ایسا ارادہ نہیں کیا)(2) میں کل دہلی جاؤں گا! (یہ کون کہتا ہے کہ کل جاؤں گا ابھی جانے کی تاریخ مقرر نہیں ہوئی)(3) میں کل دہلی جاؤں گا! (اور لوگ کل جائیں گے میرا ابھی طے نہیں پایا)(4) میں کل دہلی جاؤں گا۔ (اور کوئی جائے نہ جائے میں ضرور جاؤں گا)(5) میں کل دہلی جاؤں گا۔ (آج یا پرسوں نہیں کل جاؤں گا)(6) میں کل دہلی جاؤں گا۔ (بمبئی یا بنگلور نہیں، دہلی جاؤں گا)آپ نے دیکھا کہ لہجے اور صوت کے اتار چڑھاؤ نے ان چاروں لفظو ں میں کیا معنی پیدا کئے۔ جملہ استفہامیہ ندائیہ سے خبریہ اور انشائیہ ہو گیا۔ اسی نہج پر اور آدھی درجن صورتیں اس جملے کی نکل سکتی ہیں۔ فصاحت متکلم کی حقیقت بس یہی اور اتنی ہے۔ اس سے زیادہ فن خطابت سے تعلق رکھتا ہے۔ اب فصاحت کلام کے بارے میں عرض کرنا ہے۔ اس کی تعریف کی گئی ہے، ’’خلوص آنست از ضعف تالیف و تنافر کلمات و تعقید۔‘‘فصاحت کلام کی یہ تعریف کتب قدیمہ سے ماخوذ ہے۔ ایک صاحب نے ان تین عیوب مخل فصاحت میں ایزدی کی اور تکرار کلمہ واحد، توالی اضافت، ابتذال، تغیر، اثقال اور تناقص کی ایزا دی فرمائی۔ 6 ایک اور صاحب نے اس فہرست کو اتنی طوالت دی کہ فصاحت کی تعریف میں بیس عیوب گن کر دس عیوب قافیہ بھی شامل کر دیے۔وہ تین عیبوں سے خلوص درکار ہو یا تیس عیبوں سے، معائب کلام کی ان فہرستوں کو فصاحت کلام کی تعریف قرار دینا معقولیت سے خارج ہے اور پھر توجیہہ و استدلال کا سایہ تک نہیں پڑنے پاتا۔ اس لٹریچر کے ملاحظہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان عیوب کی کیفیت و کمیت کے بارے میں اختلاف رائے بھی ہے۔ بوستاں کا مطلع ہے،بنام جہاں دار جاں آفریںحکیم سخن بر زباں آفریںایک بزرگ دوسرے مصرعہ میں ضعف تالیف کا نقص نکالتے ہیں کہ دو کلموں میں جو فاعلیت کے معنی رکھتے ہیں، فصل جائز نہیں اور پھر خون دل آشام کی طرح بوجہ فصل محض اضافت ہی نہیں بلکہ یہاں حرف جار ہے۔ دوسرے بزرگ اس مصرعہ میں ضعف تالیف مانتے ہی نہیں۔ضعف تالیف، تنافر کلمات، تعقید و غیرہ کی ماہیت بتانا اور مثالیں پیش کرنا فضول معلوم ہوتا ہے۔ وہ سب کچھ کتب متداولہ میں آ چکا ہے جو آپ کے ملاحظے سے گذر چکی ہیں۔یہاں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیوں متقدمین نے فصاحت کلام کی تعریف میں صرف تین عیوب سے خلوص کی تاکید کی اور کیوں متوسطین اور متاخرین نے اس تعداد کو دس گنا کر دیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ قدیم زمانہ میں کلام پر اور عیوب عائد ہو ہی نہیں سکتے تھے، لوگ زیادہ فصیح لکھتے تھے۔ جوں جوں کلام فصاحت کے معیار سے گرتا گیا عیوب کی فہرست بڑھتی گئی۔ یہ دلیل اس وقت پذیر ا ہو سکتی تھی جب ایک عہد کے کلام کا موازنہ دوسرے عہد کے کلام سے کیا جاتا۔ جیسے زمانہ جاہلیت کی شاعری کا موازنہ بعثت کے بعد کے زمانہ کی شاعری سے کیا جاتا ہے۔فصاحت علم معانی کا جز و اعظم ہے۔ زیادہ تر اس وجہ سے کہ کلام بلیغ کے لئے پہلے فصیح ہونا لابد ہے۔ علم معانی و بیان وغیرہ کی تعریفیں وہی برقرار ہیں، لیکن فصاحت کی تعریف کہئے فصاحت کلام کی تعریف میں کیوں تبدیلیاں ہوتی رہیں؟ اس کے دو وجوہ ذہن میں آتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ متقدمین کی وضع کی ہوئی تعریف جو کچھ کہ تھی جامع و مانع نہ تھی اور دوسرے یہ کہ فصاحت کے باب میں تقریباً سب کا ذہن غیر مستقل تھا۔ ان کے مزاج کو چوں و چرا کی برداشت نہ تھی۔ اسی وجہ سے ان کے ملفوظات میں تخرجے تعمیے کا دخل دیکھا جاتا ہے۔ سبھوں نے زور طبع بلاغت پر صرف کیا۔ فصاحت کا ذکر چلتے چلتے کسی نے مقدمہ میں کر دیا کسی نے خاتمہ پر۔ جبھی تو آج ہر کوئی اچھے سے اچھے شاعر کو منہ کھول کر کہہ گزرتا ہے۔ فصیح نہیں، یہ لفظ فصیح نہیں۔ بھئی وجہ علت کیوں فصیح نہیں؟ جواب ملتاہے سنا نہیں کانوں کو بھلا نہیں معلوم ہوتا۔اردو میں جو برچھے گردی اور طوائف الملوکی پھیلی ہوئی ہے اس کی علت غالی ادیبوں کا اختلال طبع اور اضطراب ذہن ہے۔ اسلاف ہر حال میں مستحق تشکر ہیں کہ وہ ایک داغ بیل تو ڈال گئے۔ متعاقبین کا فرض تھا کہ اگر اس میں کہیں کجی اور لرزش کے آثار تھے تو اسے خط مستقیم کی شکل دیتے تاکہ تمام الجھاؤ اور گلجٹیاں نکل جاتیں۔ سکاکی اور وطواط، خاں آرزو یا شمس الدین فقیر کا کہنا کوئی آیت و حدیث تو تھا ہی نہیں کہ اس پر کہیں انگلی رکھنا کفر تھا یا گناہ کبیرہ۔ بات یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا ہے، مشاطگی کو افادیت پر ترجیح دی گئی، اس سے کلام میں بہت سے نقص عارض ہو گئے۔ اس کی تشریح میں غالب اور ناسخ کا ایک ایک شعر پیش کیا جاتا ہے۔ میں اس کی نسبت اپنی رائے محفوظ رکھوں گا کہ جو اعتراض ان اشعار پر وارد کئے گئے ہیں وہ درست ہیں یا نہیں؟ میرا عندیہ ان اشعار کے پیش کرنے میں بس یہ ہے کہ خواص کو بھی ان کی صحت و فصاحت میں شبہ ہے اور شبہ کرنے والوں کی ادبی حیثیت سب پر روشن ہے کہ مسلم ہے۔ غالب کا شعر مطلع دیوان ہے۔نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کاکاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کاناسخ کا مشہور اور روشن مطلع ہے،میرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کاطلوع صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کااول شعر کو غلط بتایا گیا 7 اور دوسرے کو مہمل۔ 8 اعتراض کی نوعیت سے غرض نہ رکھ کر ضرور آپ کی بھی یہ رائے ہوگی کہ کلام کی مشاطگی کی بہتات نے فاضل معترضوں کو ایراد و تعریض کا موقع دیا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ان دونوں شعروں میں مشاطگی کس کمال کی ہے۔ چیزے فزوں کندکی گنجائش نہیں۔جیسا کہ گزارش ہوا ہے، سجاوٹ کا شوق جب غلبہ پا جاتا ہے تو انسان کا نفس ناطقہ افادت کی طرف سے بطی الحس ہو جاتا ہے اور شعور یا کہئے اس کی تمام ذہنیت، سجاوٹ اوربناوٹ کی حلقہ بگوش ہو جاتی ہے۔ آپ کو انتظار ہوگا کہ فصاحت کی تعریف آخر میں نے اپنے ذہن میں کیا قرار دی ہے۔ سنیئے گوش حق نیوش سے سنیے اور نظر اصلاح سے دیکھئے، ’’فصاحت کلام کا وہ وصف ہے جو قاری یا سامع کے ذہن کو منشی یا متکلم کے ذہن کے قریب ترین پہنچا دیتا ہے۔‘‘اب یہ دیکھنا ہے کہ ذہنی قربت کن طریقوں سے مترتب ہو سکتی ہے، اس کے کئی مدارج ہیں۔ پہلا درجہ افہام و تفہیم ہے۔ کلام ایسا ہو کہ منشی اپنا مافی الضمیر قاری کو سمجھا سکے اور قاری بغیر دقت اور زحمت کے اسے سمجھ سکے۔ دوسرا درجہ ہے لطف اندوزی یا تلذذ یعنی سننے اور پڑھنے والے کو اس کلام سے لذت اور راحت حاصل ہو۔ او رسبحان اللہ بے ساختہ اس کی زبان سے نکلے۔ کہئے روح و جد میں آ جائے۔ تیسرااور آخری درجہ ہے تاثر، اس کے معنی ہیں مخاطب آپ کے کلام سے متاثر ہو کر آپ کا ہم خیال ہو جائے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہئے کہ دونوں میں کامل ذہنی قربت اور یگانگی پیدا ہو جائے۔ ان تینوں کیفیتوں کو فصاحت کہئے یا ارتقائے انشا، یہی کلام کی معراج ہے۔فصاحت کے اس تدریجی ارتقا کے مدارج میں درمیانی درجہ وضاحت چاہتا ہے۔ ہر زبان اور ادب کے ثقات اس لطف کو مستحسن نہیں سمجھتے جس میں تہیج یا ایک قسم کی بربریت کا خروش پایا جائے۔ حسین ساگر سے جب آپ کی بنسی نے ایک بڑی کم خار مچھلی نکال کر کنارے پر ڈالی، اس وقت آپ کو لطف آیا ہوگا اور آپ خوش ہو ئے ہوں گے اور جب آپ نے اسی حسین ساگر سے ایک ڈوبتے ہوئے شخص کی جان بچائی تو اس وقت بھی آپ کو خوشی ہوئی اور راحت ملی۔ اب آپ خود دیکھ لیں کہ ان دونوں کیفیتوں کی ذہنی نوعیت میں کیا مابہ الامتیاز ہے۔ وہ نفسانی ہیجان جس میں بربریت کا جوش خروش ہو، دل گزیں نہیں ہوا کرتا۔ اس لئے دیر پا نہیں ہوتا، کیونکہ اس کی بنیاد میں روحانیت نہیں بلکہ مادیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ شاعر کہہ گیا ور کس حسرت سے کہہ گیا ہے،حقیقت تم پہ کھل جائے ابھی اس درد الفت کیگھڑی بھر تم جو میرے دل کو اپنے دل میں رہنے دوشاعر نے اپنی دھن میں دل میں دل ڈالنے کی تمنا ظاہر کی۔ میں اسے دوسرے پیرایہ میں ذہنی قربت سے تعمیر کرتا ہوں۔ دونوں باتیں اصل میں ہیں ایک ہی۔ جب ایسے شخص سے آپ کا واسطہ پڑے جو وجیہہ ہو، خوش گفتار ہو، ستودہ اخلاق اور نیک سیرت رکھتا ہو تو اس کے لئے ضرور آپ کے دل میں انس کا احساس پیدا ہوگا۔ اسی طرح جب ایسا کلام پڑھنے یا سننے میں آئے جس میں الفاظ صحیح اور ترنم ریز ہوں، جس کے فقروں کی بندش چست اور سلجھی ہوئی ہو، جس میں اول سے آخر تک شباب تخیل کی اٹھان ہو، جس کا موضوع دلکش اور مطلب دل آویز ہو، مگر جس جواہر کے لیے آپ کو ہمالہ الٹ دینے کی ضرورت نہ پڑے، ایسا کلام قاری اور سامع کے ذہن کو، اس کے دل و دماغ کو اپنی طرف کھینچے گا اور انہیں کم سے کم وقت اور توجہ اس کلام کواپنے ذہن میں جذب کرنے کے لئے صرف کرنی پڑے گی۔اسے میں کہتا ہوں ایک ذہن کا دوسرے ذہن کے قریب ترین ہونا۔ جن ہستیوں نے انسانوں کی ذہنیت پلٹ دی، معما گوئی اور بدیع گفتاری ان سے نامحرم تھیں۔ کلام مجید کی فصاحت بالا اتفاق ضرب المثل ہے۔ مستشرقین اس پر اتفاق کرتے ہیں کہ رگ وید میں جو رچائیں اوشا یعنی طلوع سحر کی شان میں ہیں، ان سے بڑھ کر فصیح کلام اور زبانوں کی نظم میں نہیں ملتا۔ اسی ضمن میں آتا ہے وہ اثر اور جذب ذہنیت جو مارٹن لوتھر کے کلام سے یورپ کی ذہنیت پر مترتب ہوا۔پہلے درخت ہوا یا بیج؟ یا اولیت خیال کا حصہ ہے یا نطق کا؟ ایسے سوالوں کی ادھیڑ بن میں پڑنا سعی لا طائل ہے۔ وہ کچھ بھی ہو، یہ امر تو بدیہی حقیقت ہے کہ تخیل بغیر الفاظ کے ناممکن ہے۔ اسی استدلال کی بنا پر اسلوب کا اثر تخیل پر مسلم ہے۔ اچھی بات اچھے خیال کے لئے زبان اور اسلوب بھی اچھا چاہئے، بلکہ ان کا اثر بری بات کو بھی دل پذیر بنا دیتا ہے۔ متنبی نے ایک شاعر کو سن کر کہا،واسمع من الفاظ اللعت للتییلذ بہا سمعی و لو ضمنت شتمی(اس کی زبان سے میرے کان لذت پاتے ہیں، اگر چہ ان میں گالیاں بھری ہوں اور وہ مجھی پر پڑ رہی ہوں۔)قصہ مختصر پھر عرض کیا جاتا ہے، ’’فصاحت کلام کا وہ وصف ہے جو قاری یا سامع کے ذہن کو منشی یا متکلم کے ذہن کے قریب ترین کر دیتا ہے۔‘‘قربت ذہن نہایت جامع کلمہ واقع ہوا ہے۔ اس مبحث پر نہ صرف علم لسان بلکہ نفسیات کے تحت بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ اگر میں یہ رام کہانی سنانے بیٹھوں تو لکچر دفتر ہو جائے اور مضمون پھر بھی تشنہ رہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ قربت ذہن کی نظیر یا تشریح میں استاد کا شعر سنا کر آپ سے رخصت ہوں، فرمایا ہے،دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہامیں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے\n\nحاشیے\n\n(1) امرء القیس کا شعر ہے،غدا یرہ مستشزرات الی العلی تضل العقاض فی مثنیٰ و مرسل\n\n(2) سورۂ یسین\n\n(3) سورہ ہود\n\n(4) قول فیصل مولفہ مولانا امام بخش صہبائی دہلی۔\n\n(5) قول فیصل مولفہ مولانا امام بخش صہبائی دہلی۔\n\n(6) بحر الفصاحت، ص، 344\n\n(7) شرح دیوان غالب مولفہ طبا طبائی\n\n(8) گنجینہ تحقیق مصنفہ بیخود موہانی۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%D9%81%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%AA"} {"title": "مبارک ساقیٔ ستاں مبارک", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مبارک ساقیٔ ستاں مبارک\nفروغ مجلس رنداں مبارک\n\nجبین شوق کے سجدوں پہ سجدے\nتجھے سنگ در جاناں مبارک\n\nتجلیٔ جمال روئے جاناں\nتجھے اے دیدۂ حیراں مبارک\n\nادائے دلبری و دل نوازی\nتجھے اے خسرو خوباں مبارک\n\nردائے خواجگی تاج ولایت\nتمہیں اے مرشد دوراں مبارک\n\nکسی کے زخم ہائے دل کو یارب\nکسی کی جنبش مژگاں مبارک\n\nدر وارثؔ پہ ہے بیدمؔ کا بستر\nتری جنت تجھے رضواں مبارک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D9%94_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9"} {"title": "مبارک وہ ساعت", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میں بھٹکا ہوا اک مسافر\nرہ و رسم منزل سے ناآشنائی پہ نازاں\nتعاقب میں اپنی ہی پرچھائیوں کے رواں تھا\nمیرے جسم کا بوجھ دھرتی سنبھالے ہوئے تھی\nمگر اس کی رعنائیوں سے مجھے کوئی دل بستگی ہی نہیں تھی\nکبھی راہ چلتے ہوئے خاک کی روح پرور کشش\nمیں نے محسوس کی ہی نہیں تھی\nمیں آنکھوں سے بینا تھا لیکن\nمیرے چار سو چادریں آئنوں کی طرح تھیں\nکہ جن کے لیے میرا پرتو ہی تھا اک زندہ حقیقت\nکسی دوسرے کو گوارہ نہ تھی اس میں شرکت\nمیں کانوں سے بہرا نہیں تھا\nمگر جس طرح کہنہ گنبد میں چمگادڑوں کے بھٹکنے کی آواز گونجتی نہیں ہے\nکھلے آسماں کے پرندوں کی چہکار اندر پہنچتی نہیں ہے\nاسی طرح میرا بھی ذوق سماعت رسا تھا فقط اپنی ہی دھڑکنوں تک\nبس اپنے لہو کی سبک آہٹوں تک\nمیں بھٹکا ہوا اک مسافر\nمیری راہ پر مٹ چکے تھے سفر کے اشارات سارے\nفراموشیوں کی گھنی دھند میں کھو چکے تھے جہت کے نشانات سارے\nرہ و رسم منزل سے میں آشنا ہی نہیں تھا\nمگر میں اکیلا\nکروڑوں کی اس بھیڑ میں بھی اداس اور اکیلا\nتعاقب میں اپنی ہی پرچھائیوں کے رواں تھا\nمیں شاید ہمیشہ یوں ہی اپنی پرچھائیوں کے تعاقب میں حیران پھرتا\nاگر روشنی مجھ پہ چمکی نہ ہوتی\nمبارک وہ ساعت کہ جب موت اور تیرگی کے گھنے سائباں کے تلے\nروشنی مجھ پہ چمکی\nمیرے دل پہ دھرتی نے اور اس کے ارفع مظاہر نے اپنی محبت رقم کی\nمبارک وہ ساعت کہ جب برق کے کوڑے لہراتی\nلوہے کی چیلوں سے اور\nآتشیں تیر برساتے فولاد کے پر درندوں سے مڈبھیڑ میں\nمیں نے دیکھے\nمیرے ساتھیوں کے جگر میں ترازو ہیں جو تیر\nہوا ہوں میں خود ان کا نخچیر\nجو قطرہ لہو کا گرا ان کے تن سے\nبہا ہے وہ میرے بدن سے\nمبارک وہ ساعت کہ جب میں نے جانا\nمری دھڑکنوں میں کروڑوں دلوں کی صدا ہے\nمیری روح میں مشترک \"گرچہ قالب جدا ہے\"", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%B9%D8%AA"} {"title": "مبتلا ایک بت کا ہوتا ہوں", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "مبتلا ایک بت کا ہوتا ہوں\nآج ایمان اپنا کھوتا ہوں\n\nتیغ ابرو کے تیر عشق میں یار\nجان سے اپنی ہاتھ دھوتا ہوں\n\nجان لے گی یہ مفت کی بیگار\nبار رنج فراق ڈھوتا ہوں\n\nغوطے کھاتا ہوں بحر الفت میں\nحال پر اپنے آپ روتا ہوں\n\nایک جھوٹے کے وصف دنداں میں\nسچے موتی سدا پروتا ہوں\n\nدل لگاتا ہوں ان کی مژگاں سے\nاپنے حق میں یہ کانٹے بوتا ہوں\n\nغم میں اک ماہ وش کے اشکوں سے\nدامن آسماں بھگوتا ہوں\n\nبخت خفتہ کا ہوں دل بیدار\nکون شب اے وقارؔ سوتا ہوں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "مبتلا یہ دل ہوا جب یار ننگا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "مبتلا یہ دل ہوا جب یار ننگا ہو گیا\nشمع بے پردہ ہوئی قرباں پتنگا ہو گیا\n\nگر پڑے عشاق اس کی تیغ خوں آشام پر\nکل شہادت کے طلب گاروں کا دنگا ہو گیا\n\nدفن کر کے فاتحہ پڑھ کے مرا بولا وہ شوخ\nآج بیمار محبت میرا چنگا ہو گیا\n\nبزم میں جل کر کیا شب راز الفت آشکار\nشمع کے مانند پروانہ بھی ننگا ہو گیا\n\nگر کے اس کے کوچۂ تاریک میں نکلا نہ دل\nپیچ زلف یار کا مجھ کو اڑنگا ہو گیا\n\nوصف دیر و کعبہ کا ہم نے جداگانہ کیا\nایک ہی مضمون تھا فقرہ دو رنگا ہو گیا\n\nبڑھتے بڑھتے اپنا طول زندگانی کم ہوا\nگھٹتے گھٹتے جامۂ ہستی اٹنگا ہو گیا\n\nخوش نما ہے اس رخ روشن پہ کیا خال سیاہ\nزیب گلزار ارم کا لا بھجنگا ہو گیا\n\nشاہ ہفت اقلیم سے اے دل گدائے دہر تک\nڈھنگ سے آیا وہاں سے یاں کڈھنگا ہو گیا\n\nجس قدر وہ مجھ سے بگڑا میں بھی بگڑا اس قدر\nوہ ہوا جامہ سے باہر میں بھی ننگا ہو گیا\n\nیوں کہیں گے یار اقلیم سخن میں ان دنوں\nمنتہیؔ بھی ایک ہی کٹا دبنگا ہو گیا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D9%86%DA%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مت بولیو تو اوس سے جہاں دارؔ دیکھنا", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مت بولیو تو اوس سے جہاں دارؔ دیکھنا\nکھینچے ہوئے ہے آج وہ تلوار دیکھنا\n\nابرو کماں سے تیر نگہ مار دیکھنا\nلگتی ہے پار دل کے مرے یار دیکھنا\n\nگریاں ہوں ایک عمر سے پوچھا نہ یار نے\nروتا ہے کون یہ پس دیوار دیکھنا\n\nتعلیم اشک و آہ سے لی میرے ابر نے\nجو یوں برس رہا ہے دھواں دھار دیکھنا\n\nسر رشتہ کفر و دیں کا حقیقت میں ایک ہے\nجو تار سبحہ ہے سو ہے زنار دیکھنا\n\nیارو میں کہہ رہا تھا کہ دل مت دے دے کے دل\nآیا ہے تنگ کیا ہی جہاں دارؔ دیکھنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AA_%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%94_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "مت بیٹھ وقت نزع تو یاں اے حسیں بہت", "poet_page": "مصنف:میر شیر علی افسوس", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مت بیٹھ وقت نزع تو یاں اے حسیں بہت\nالفت نہ کر تو آہ دم واپسیں بہت\n\nیہ سچ کرے ہے ناز ہر اک نازنیں بہت\nعاشق کشی کا چاؤ پہ دیکھا یہیں بہت\n\nہوتی ہے اس کے دیکھتے حالت مری تغیر\nہر چند میں سنبھالوں ہوں اپنے تئیں بہت\n\nیہ کون جانے جھوٹ ہے یا سچ ولیک آج\nاس کم سخن نے پیار کی باتیں تو کیں بہت\n\nعشاق ہی کو غم نہیں معشوق کو بھی ہے\nلیکن یہ فرق ہے کہیں تھوڑا کہیں بہت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AA_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%86%D8%B2%D8%B9_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA"} {"title": "مت ستا مجھ کو آن آن عزیز", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مت ستا مجھ کو آن آن عزیز\nٹک کہا بھی کسی کا مان عزیز\n\nکیونکے دل اس سے پھیر لوں ناصح\nجس سے رکھتا نہیں ہوں جان عزیز\n\nیاں ہے خواہش خدنگ کی تیرے\nنہ رکھے گو کہ واں کمان عزیز\n\nدل ادھر کھینچتا ہے سینہ ادھر\nسب کو ہوتا ہے مہمان عزیز\n\nدل سے خادم ہوں میں بیاںؔ ان کا\nجتنے ہیں میرے مہربان عزیز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AA_%D8%B3%D8%AA%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D9%86_%D8%A2%D9%86_%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2"} {"title": "مت غصہ کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جا", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مت غصہ کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جا\nٹک مہر کے پانی سوں تو آگ بجھاتی جا\n\nتجھ چال کی قیمت سوں دل نیں ہے مرا واقف\nاے مان بھری چنچل ٹک بھاؤ بتاتی جا\n\nاس رات اندھاری میں مت بھول پڑوں تجھ سوں\nٹک پاؤں کے جھانجھر کی جھنکار سناتی جا\n\nمجھ دل کے کبوتر کوں باندھا ہے تری لٹ نے\nیہ کام دھرم کا ہے ٹک اس کو چھڑاتی جا\n\nتجھ مکھ کی پرستش میں گئی عمر مری ساری\nاے بت کی پجن‌ ہاری ٹک اس کو پجاتی جا\n\nتجھ عشق میں جل جل کر سب تن کوں کیا کاجل\nیہ روشنی افزا ہے انکھیا کو لگاتی جا\n\nتجھ نیہ میں دل جل جل جوگی کی لیا صورت\nیک بار اسے موہن چھاتی سوں لگاتی جا\n\nتجھ گھر کی طرف سندر آتا ہے ولیؔ دائم\nمشتاق درس کا ہے ٹک درس دکھاتی جا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AA_%D8%BA%D8%B5%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%92_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D8%AA%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجن", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجن\nآ جدائی خوب نئیں مل جا سجن\n\nبے دلوں کی عذر خواہی مان لے\nجو کہ ہونا تھا سو ہو گزرا سجن\n\nتم سوا ہم کوں کہیں جاگا نہیں\nپس لڑو مت ہم سیتی بے جا سجن\n\nمر گئے غم سیں تمہارے ہم پیا\nکب تلک یہ خون غم کھانا سجن\n\nجو لگے اب کاٹنے اخلاص کے\nکیا یہی تھا پیار کا ثمرا سجن\n\nچھوڑ تم کوں اور کس سیں ہم ملیں\nکون ہے دنیا میں کوئی تم سا سجن\n\nپاؤں پڑتا ہوں تمہارے رحم کو\nبات میری مان لے ہاہا سجن\n\nتنگ رہنا کب تلک غنچے کی طرح\nپھول کے مانند ٹک کھل جا سجن\n\nآبروؔ کوں کھو کے پچھتاؤ گے تم\nہم کو لازم ہے اتا کہنا سجن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AA_%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%92_%D8%BA%D8%B5%DB%81_%D8%B3%D8%AC%D9%86"} {"title": "مت مال کسی کا یار تل کر رکھنا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مت مال کسی کا یار تل کر رکھنا\nتو داؤ نہ یاں بہت سا جل کر رکھنا\nآیا تو قمارخانۂ عشق میں تو\nسربازی ہے یاں قدم سنبھل کر رکھنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AA_%D9%85%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "مت مردمک دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مت مردمک دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں\nہیں جمع سویداۓ دل چشم میں آہیں\n\nکس دل پہ ہے عزم صف مژگان خود آرا\nآئینے کے پایاب سے اتری ہیں سپاہیں\n\nدیر و حرم آئینۂ تکرار تمنا\nواماندگی شوق تراشے ہے پناہیں\n\nجوں مردمک چشم سے ہوں جمع نگاہیں\nخوابیدہ بہ حیرت کدۂ داغ ہیں آہیں\n\nپھر حلقۂ کاکل میں پڑیں دید کی راہیں\nجوں دود فراہم ہوئیں روزن میں نگاہیں\n\nپایا سر ہر ذرہ جگر گوشۂ وحشت\nہیں داغ سے معمور شقائق کی کلاہیں\n\nیہ مطلع اسدؔ جوہر افسون سخن ہو\nگر عرض تپاک جگر سوختہ چاہیں\n\nحیرت کش یک جلوۂ معنی ہیں نگاہیں\nکھینچوں ہوں سویداۓ دل چشم سے آہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AA_%D9%85%D8%B1%D8%AF%D9%85%DA%A9_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مت مہر سیتی ہاتھ میں لے دل ہمارے کوں", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مت مہر سیتی ہاتھ میں لے دل ہمارے کوں\nجلتا ہے کیوں پکڑتا ہے ظالم انگارے کوں\n\nچہرے کو چھڑکیاؤ کیا ہے انجہو نیں یوں\nپانی کے دھارے کاٹتے ہیں جوں کرارے کوں\n\nمعقول کیوں رقیب ہو منت سیں خلق کی\nکوئی خوب کر سکے ہے خدا کے بگاڑے کوں\n\nمرتا ہوں لگ رہی ہے رمق آ درس دکھاؤ\nجا کر کہو ہماری طرف سے پیارے کوں\n\nمیں آ پڑا ہوں عشق کے ظالم بھنور میں آج\nایسا کوئی نہیں کہ لگاوے کنارے کوں\n\nسینے کو ابرواں نیں ترے یوں کیا فگار\nتختے اوپر چلاوتے ہیں جونکہ آرے کوں\n\nاپنا جمال آبروؔ کوں ٹک دکھاؤ آج\nمدت سے آرزو ہے درس کی بچارے کوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AA_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%BA"} {"title": "مت پوچھ تو جانے دے احوال کو فرقت کے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مت پوچھ تو جانے دے احوال کو فرقت کے\nجس طور کٹے کاٹے ایام مصیبت کے\n\nجی میں ہے دکھا دیجے یک روز ترے قد کو\nجو شخص کہ منکر ہیں اے یار قیامت کے\n\nکہتا ہوں غلط تجھ سے میں دل کو چھڑاؤں گا\nچھٹتے ہیں کہیں پیارے باندھے ہوئے الفت کے\n\nقصر و محل منعم تجھ کو ہی مبارک ہوں\nبیٹھے ہیں ہم آسودہ گوشہ میں قناعت کے\n\nبے دار چھپائے سے چھپتے ہیں کوئی تیرے\nچہرہ سے نمایاں ہیں آثار محبت کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AA_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%92"} {"title": "مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہے\nیاں سلیماں کے مقابل مور ہے\n\nمر گئے پر بھی ہے صولت فقر کی\nچشم شیر اپنا چراغ گور ہے\n\nجب سے کاغذ باد کا ہے شوق اسے\nایک عالم اس کے اوپر ڈور ہے\n\nرہنمائی شیخ سے مت چشم رکھ\nوائے وہ جس کا عصا کش کور ہے\n\nلے ہی جاتی ہے زر گل کو اڑا\nصبح کی بھی باؤ بادی چور ہے\n\nدل کھنچے جاتے ہیں سارے اس طرف\nکیونکے کہیے حق ہماری اور ہے\n\nتھا بلا ہنگامہ آرا میرؔ بھی\nاب تلک گلیوں میں اس کا شور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AA_%DB%81%D9%88_%D9%85%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "متاع زیست کیا ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "متاع زیست کیا ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیں\nجسے سب درد کہتے ہیں اسے ہم دل سمجھتے ہیں\n\nاسی سے دل اسی سے زندگی دل سمجھتے ہیں\nمگر حاصل سے بڑھ کر سعی بے حاصل سمجھتے ہیں\n\nکبھی سنتے تھے ہم یہ زندگی ہے وہم و بے معنی\nمگر اب موت کو بھی خطرۂ باطل سمجھتے ہیں\n\nبہت سمجھے ہوئے ہے شیخ راہ و رسم منزل کو\nیہاں منزل کو بھی ہم جادۂ منزل سمجھتے ہیں\n\nابھرنا ہو جہاں جی چاہتا ہے ڈوب مرنے کو\nجہاں اٹھتی ہوں موجیں ہم وہاں ساحل سمجھتے ہیں\n\nکوئی سرگشتۂ راہ طریقت اس کو کیا جانے\nیہاں افتادگی کو حاصل منزل سمجھتے ہیں\n\nتماشا ہے نیاز و ناز کی باہم کشاکش کا\nمیں ان کا دل سمجھتا ہوں وہ میرا دل سمجھتے ہیں\n\nعبث ہے دعوئ عشق و محبت خام کاروں کو\nیہ غم دیتے ہیں جس کو جوہر قابل سمجھتے ہیں\n\nغم لا انتہا سعی مسلسل شوق بے پایاں\nمقام اپنا سمجھتے ہیں نہ ہم منزل سمجھتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%B9_%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "متاعِ بےبہا ہے درد و سوزِ آرزومندی\nمقام بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی\n\nترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا، نہ وہ دنیا\nیہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی\n\nحجاب اِکسیر ہے آوارۂ کوئے محبّت کو\nمِری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی\n\nگزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں\nکہ شاہیں کے لیے ذلّت ہے کارِ آشیاں‌بندی\n\nیہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی\nسِکھائے کس نے اسمٰعیلؑ کو آدابِ فرزندی\n\nزیارت‌گاہِ اہلِ عزم و ہمّت ہے لحَد میری\nکہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا رازِ الوندی\n\nمِری مشّاطگی کی کیا ضرورت حُسنِ معنی کو\nکہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حِنابندی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%B9%D9%90_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%88_%D8%B3%D9%88%D8%B2%D9%90_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D9%85%D9%86%D8%AF%DB%8C"} {"title": "متروکات", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "طب کی کتابوں میں لکھا ہے کہ چند برسوں کے بعد انسان کا گوشت اور پوست نیا بن جاتا ہے۔ زیادہ تر اس وجہ سے کہ وہ اپنی غذا کے لئے بے شمار بیرونی اشیا کا محتاج ہے۔ اس پر بھی جراح نے جو کبھی کسی انسان کے جسم پر نشتر چلایا تھا اس کا نشان مرتے دم تک باقی رہتا ہے۔ یہی حال دنیا کی نئی اور غیر صرفی زبانوں کا ہے، یعنی اخذ و ترک ان میں برابر جاری رہتا ہے لیکن ان کے جگری نشان اور جوہر جوں کے توں رہتے ہیں۔حضرت ولیؔ کو اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر مان کر اردو کی عمر دو سو برس سے کچھ اوپر ٹھہرتی ہے۔ ولی مرحوم محمد شاہ گورگانی کے عہد میں دکن سے دہلی آئے 1 اس بادشاہ کی حکومت کا زمانہ1719 سے 1749ء تک شمار کیا جاتا ہے۔ زبان کے باب میں یہ تھوڑی سی مدت بھی کچھ حقیقت رکھتی ہے؟ بلا مبالغہ کہنا پڑتا ہے کہ اردو والوں کا اخذ اور ترک ان دو صدیوں کی قلیل مدت میں تعجب خیز اور تحسین انگیز ہے۔ مرا روئے سخن متروکات سے ہے، اس لئے ماخوذات سے سروکار نہیں رکھا جائے گا۔شروع شروع میں جو لفظ یا ترکیبیں متروک قرار دی گئیں، ان کی بنیاد اس اصول پر ہوگی کہ ریختہ یا اردو زبان کا ذاتی تشخص اور اپنی جگہ اس کی ایک مستقل ہستی قائم کی جائے۔ پھر لطافت اور نغریت، ترنم اور سلاست کا نظریہ ترک کا معیار ٹھہرا ہوگا۔ متقدمین اور متوسطین غالباً اسی اصول پر کاربند رہے ہوں گے۔ ہاں کہیں یہ بھی ہوا کہ اردو کی دنیا میں اپنی ایک خود مختار حیثیت تسلیم کرانے کی غرض سے زبان کی گردن پر ترک کی کند چھری ریت کر ایک امر ما بہ الامتیاز قائم کیا گیا۔ یہاں سے اردو میں بدعت کی بنیاد پڑی۔زبان مانجھنے اور معقولیت کی بنا پر اخذ اور ترک کا سہرا شاہ حاتم کے سر ہے۔ شاہ صاحب محمد شاہی عہد کے شاعر اور ولی کے ہم عصر تھے۔ یہ تحقیق کرنا مشکل ہے کہ ان کا زمانہ کتنی دور تک ان کے زمانہ کا ہم ردیف ہے۔ شاہ حاتم نے بہت سے ہندی اور دکنی الفاظ جو ولی کے کلام کی زینت تھے، ترک کرکے ان کی جگہ فارسی کے ایسے الفاظ زبان میں داخل کئے جو غیر مانوس نہ تھے بلکہ انہوں نے زبان کی اصطلاح میں یہاں تک کیا کہ اپنے ابتدائی کلام میں جہاں رکیک لفظ نظر آئے، اس حصہ کو ہی اپنے کلیات سے خارج کر کے اپنے کئی دیوانوں سے غزلوں اور غزلوں سے شعروں کا انتخاب کر کے ایک منتخب دیوان ترتیب دیا، جس کا نام دیوان زادہ رکھا۔ اس کے شروع میں ایک دیباچہ لکھا اور اس میں تمام متروکات کی فہرست دے دی۔ غرض کہ شاہ حاتم دہلوی کی ذات سے زبان کی خراش تراش اور اس میں کانٹ چھانٹ کی بنیاد پڑی۔ زبان کی اس خدمت کے اعتبار سے آزاد مرحوم نے شاہ صاحب کو پہلے دور سے نکال کر جہاں ان کی جگہ تھی، دوسرے دور کے شعرا میں رکھ دیا ہے۔میں یہاں متروکات کی تاریخ نہیں لکھ رہا ہوں، ورنہ میر تقی، مرزا رفیع السوداؔ، مظہر ؔ، دردؔ جراتؔ، سوزؔ، مصحفی، انشاؔ، نصیر اور اساتذہ ثلاثہ یعنی مومنؔ، ذوق، اور غالب اور ناسخ اور آتشؔ کے متروکات کی عہد بہ عہد کی تفصیل اور تاریخ پیش کرتا۔ مرزا غالب کا اردو دیوان تیسری بار 1278ھ میں چھپا۔ اس کے خاتمہ کی عبارت میں مرزا صاحب لکھتے ہیں،’’ایک لفظ سو بار چھاپا گیا کہاں تک بدلتا۔ ناچار جابجا یونہی چھوڑ دیا یعنی کسو۔۔۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ لفظ صحیح نہیں، البتہ فصیح نہیں۔ قافیہ کی رعایت سے اگر لکھا جائے تو عیب نہیں ورنہ فصیح بلکہ افصح کسی ہے۔‘‘ اسی طرح ذوقؔ کے ہاں کبھو قافیہ کی رعایت سے ایک دو جگہ ہی آیا ہے۔ مومن خاں نے بھی بہت سے الفاظ ترک کئے لیکن چونکہ ذاتی تشخص قائم کرنے کی ضرورت نہ تھی، میر علی اوسط رشک کی طرح ان کی ایک فہرست مرتب کر کے تالے کنجی میں نہیں رکھی۔ جناب شوق لکھتے ہیں، ’’اس لفظ سے اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ ناسخ کے ساتھ اور شعرا بھی زبان کی اصلاح میں شریک ہیں۔ جب مومن و آتش وغیرہ کا کلام بہت سے رکیک مستعملات سے پاک ہے تو میں ان لوگوں کے مصلح زبان ہونے سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔‘‘ کہا جاتاہے کہ حضرت ناسخ کے شاگرد میر علی اوسط رشک نے چالیس پینتالیس کے قریب الفاظ متروک قرار دیے تھے جن سے ان کا تیسرا دیوان پاک تھا لیکن وہ دیوان افسوس ہے کہ چھپا ہی نہیں۔ رشک مرحوم ان متروکات کے دفتر کو ہمیشہ مقفل رکھتے تھے اور اپنے خاص شاگردوں کے سوا کسی کو اس سے مستفیض ہونے نہ دیتے تھے۔ ان صورتوں میں وثوق سے نہیں کہا جا سکتاکہ متروکات کی اس فہرست میں کون کون سے لفظ داخل تھے، وہ متروکات کس اصول پر مبنی تھے اس کا اندازہ ان کے کلام سے کیا جائے تو ان کے اجتہاد کے خلاف شبہات کی بڑی گنجائش ہے۔ نمونہ ملاحظہ ہو،چاول الماس، گوشت لخت جگرفرقت یار میں پلاؤ نہیںمیرے کھانے سے کیوں فلک ہے کبابپاوروٹی ہے نان پاؤ نہیںدیکھو نزاکت آپ کی دھروا کے آئینہ لگواتے ہیں ضماد مہا سے کے عکس پررشک مرحوم کے سینہ بسینہ متروکات سے قطع نظر کر کے اس بحث میں یہ کتابیں اور رسالے قابل ذکر ہیں،(1) آب حیات، مصنفہ آزاد مرحوم۔(2) اصلاح مع ایضاح شرح اصلاح، مصنفہ جناب مولانا محمد ظہیر احسن صاحب شوقؔ نیموی، مطبوعہ قومی پریس لکھنؤ1887ء(3) تسہیل البلاغت مصنفہ جناب مرزا محمد سجاد بیگ صاحب دہلوی1339ھ(4) قرار المحاورات و قرار المتروکات، مولفہ جناب سید تصدق حسین قرار شاہجہاں پوری مقیم لکھنؤ۔(5) اصلاح زبان اردو، مصنفہ جناب خواجہ عبد الروؤف صاحب عشرت لکھنوی1919ء(6) نور اللغات (دیباچہ) مولفہ جناب مولوی نورالحسن صاحب نیر کاکوری1924ء(1) آب حیات میں خاص خاص شعرا کے حال ہیں کبھی ایک دور کے شروع یا آخر میں اس کے متروکات کا ذکر آیا ہے مگر وضاحت اورترک کی وجہ مفقود ہے۔(2) حضرت شوق نے پہلے پہل اپنی کتاب 1887ء میں لکھنؤ سے شائع کی۔ اس کا پچھلا ایڈیشن کئی برس بعد جناب حسرت موہانی نے مع ازاحۃ الاغلاط اپنے اردو پریس علی گڑھ سے شائع کیا۔ حضرت شوق لکھتے ہیں،’’جس طرح میر و مرزا نے ولی و حاتم کے اکثر مستعملہ الفاظ ترک کردیے تھے اسی طرح مومن و غالب و ناسخ ؔ آتش وغیرہ نے میر و میرزا کے بہت سے لفظ متروک کر دیے۔ جیسے اودھر، ایدھر، بگانہ، بجائے بیگانہ، دوانہ بجائے دیوانہ، پیار و پیاس باشباع یا تئیں کو کے معنی میں، تنک ٹک ذرا کے معنی میں، ستی سوں سجن، کنے کسو، لوہو، مکھ، نت نین، مجھ پاس، کرے ہے، آئیاں جائیاں۔ ان میں سے اکثر الفاظ تو وجوباً ترک کر دیے اور بعض الفاظ ایسے ہیں کہ کسی نے کہیں کہیں استعمال بھی کئے ہیں اس کے بعد ان کے تلامذہ کا دور ہوا انہوں نے بھی کچھ لفظ ترک کئے۔‘‘(3) جناب سجاد مرزا صاحب کی تسہیل البلاغت کے صفحہ 49 سے متروک الفاظ کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ اس میں واچھڑے، بہتات، سرس (زیادہ بہتر) نپٹ وغیرہ الفاظ بھی موجود ہیں۔ ان میں سے کئی الفاظ شاہ حاتم متروک ٹھہرا چکے تھے یہی حال زوربل، بے، خوباں اور عزیزاں کا ہے۔ ایسی فہرستوں سے کچھ فائدہ مترتب نہیں ہوتا۔ پڑھنے والا سوچتا ہے کہ جب امیر اور داغ جن کو ہم نے کل دیکھا سنا تھا، تلک اوربل بے لکھ گئے تو ضرورت کے وقت ہم بھی کیوں نہ وہ لفظ استعمال کریں۔(4) جناب قرار کی کتاب کے خاتمہ پر چودہ صفحے متروکات کے موضوع پر دیے گئے ہیں۔ شروع میں جولکھا ہے اس میں بہت کچھ عیوب ترکیب وغیرہ کی ذیل میں آتا ہے جس کا تعلق ٹھیٹھ متروکات سے ہر گز نہیں، مثلا (صفحہ 46) ایک جنس کے دو حرفوں کا قریب قریب آنا کلام کا یہ نقص علم معانی میں تنافر حروف کی ذیل میں آتا ہے۔ اگر متروکات کی فہرست کو اس طرح طوالت دی جائے تو کلام کے تمام نقائص جن کا ذکر علم معانی اور علم بیان وغیرہ میں آیا ہے اس میں داخل ہو جائیں گے۔ آخر میں ایک فہرست بھی دی گئی ہے۔ اس میں وہ الفاظ مثالوں کے ساتھ لکھے ہیں جو میر سودا اور مصحفی وغیرہ متقدمین نے استعمال کئے مگر اب متروک ہیں۔امیرؔ، داغؔ اور جلالؔ بھی اس فہرست میں آ جاتے ہیں یعنی بقول مؤلف ان کے بھی بعض مستعملہ الفاظ اب متروک ہیں۔ اس اقتباس میں زمانہ وغیرہ کی ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ چنانچہ آخری متروک لفظ ’’ہے گی‘‘ ہے اور اس کے لئے سودا کا شعر نقل کیا ہے۔ اس فہرست کے تین خانے میں اول خانے میں جائز الفاظ ردیف وار درج ہیں، دوسرے میں متروک، تیسرے میں مثال کے شعر۔ چاہئے یہ تھا کہ اول خانے میں متروک الفاظ کو لاتے۔(5) اصلاح زبان اردو۔ کہتے ہیں لکھنؤ میں ایک انجمن اصلاح سخن تھی وہ ایک رسالہ گلچیں نکالا کرتی تھی۔ اس کے ممبروں نے زبان کے کچھ قواعد مرتب کئے تھے۔ غالباً انہیں قواعد کی بنا پر یہ رسالہ ترتیب دیا گیا۔ راقم اس انجمن، اس کے ممبروں اور رسالہ سے قطعاً ناواقف ہے۔ اگر یہ انجمن ایک دوسری انجمن، انجمن دائرہ کی نوعیت رکھتی تھی جس کا ذکر نومبر 1908ء کے معیار میں آیا ہے تو اس کے معتبر ہونے میں شبہ کی بہت گنجائش ہے۔ یہ چھوٹی تقطیع کا رسالہ 28 صفحوں میں اردو کی اصلاح اور متروکات کو نبٹا دیتا ہے۔(6) نور اللغات کے دیباچہ پر نومبر 1924ء درج ہے۔ اس لئے اس بحث سے متعلق یہ تازہ ترین کتاب ہے۔ فاضل مولف نے دیباچہ میں 297 متروکات کی فہرست دی۔ یہ فہرست مولف کے خیال میں ساری فہرستوں سے بڑی ہے۔ اس میں تمام ایسے لفظ آ جاتے ہیں جنہیں اردو شعرا نے اول سے آج تک مولف کے قول کے مطابق متروک قرار دیا ہے۔ میں اسے محض فضول طوالت اور تحصیل حاصل کہوں گا۔ گھر جانا، گھر ویران ہونا کی جگہ، گہنا، پکڑنا کے بدلے سوں، سیتی، سیں، سے کی جگہ اب کون لکھتا ہے۔ یا اب سے پچاس برس پہلے کون نظم میں لاتا تھا جو یہ بھی اس فہرست میں داخل کر دیئے گئے ہیں۔ متعلق کو اس فہرست سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔ چاہئے یہ تھا کہ داغ ؔ اور امیرؔ کے متروک الفاظ اور ان کی وفات سے آج تک جو الفاظ ترک کئے گئے، ان کی فہرست دے دیتے یا زمانہ اور دور کا تعین کر کے ایک مسلسل اور مکمل فہرست پیش کرتے۔ مولف نے اس طویل فہرست کے بعد چند اصول بھی متروکات کی بحث میں قلم بند کئے ہیں جن کی تعداد 49 تک پہنچی ہے۔ ان میں صرف ہدایتیں ہیں، وجہ اور علت کا ذکر کہیں نہیں آیا کہ کیوں فلاں لفظ متروک سمجھا جائے؟ کیوں ایسا ایسا کرنا معیوب ہے؟ان چھئوں مطبوعات میں سے کئی ایسے ہیں کہ محض تجارتی مفاد پر نظر رکھ کر شائع کئے گئے ہیں۔ کئی ایسے بھی ہیں جنہیں سندی حیثیت دینا انصاف کے قرین نہ ہوگا کیونکہ ان کی مندرجات مقامی پاسداری سے مبرا نہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے لکھنؤ والے نے جو کچھ لکھا اس میں اس نے وہ الفاظ متروکات کی ذیل میں درج کر دیے، جن کو لکھنؤ والوں نے استعمال ہی نہیں کیا اور ان میں اکثر ہندی کے مانوس الاستعمال الفاظ ہیں۔ جاننا چاہئے کہ ترک، اخذ یا استعمال کے وجود کو ممکن ہی نہیں لازم ٹھہراتا ہے۔ جب ایک لفظ کبھی کسی کے استعمال میں آیا ہی نہیں تو آپ کا اس کو ترک کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟اس قبیل سے ایک لفظ سندیسا ہے۔ 2 یہ لفظ لکھنؤ کے مشاہیر شعرا نے استعمال نہیں کیا مگر دہلی میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ مہتاب داغ میں آیا ہے۔ پھر اسے متروکات کی فہرست میں شامل کر کے داغؔ کا شعر لکھ دینا معقولیت سے خارج ہے۔ اگر یہ فرض بھی کر لیں کہ یہ لفظ کسی شاعر نے سوائے داغ کے استعمال کیا ہی نہیں تو اس کے خلاف یہ کہا جا سکتا ہے کہ ناسخ وغیرہ نے ایسے بہت سے الفاظ استعمال کئے ہیں، جو ان کے سوا، اور کسی شاعر نے استعمال کئے ہی نہیں۔ خواہ وہ کہیں کا رہنے والا اور زبان کے کسی مرکز کا متبع تھا۔ مثلا سپر غم، جریدتین، خالق الاصباح، سباح وغیرہ۔ تو کیوں نہ انہیں بھی متروکات کی فہرست میں درج کیا جائے؟ان اصحاب نے یہ بھی کیا ہے کہ عام متروکات کی تمثیل میں چن چن کر دلی والوں کے اشعار اقتباس کئے ہیں اور لکھنؤ والوں کے کلام سے مجبور ی کی حالت میں استفادہ کیا ہے۔ غالباً وہ روش اسی وتیرہ کا جواب ہوگی جو جناب سجاد مرزا بیگ صاحب نے اپنی تسہیل البلاغت میں اختیار کی۔ راقم کے اعتقاد میں ادیب اور نقاد کا مسلک ان دونوں رستوں سے پرے پرے ہونا چاہئے۔ جناب شوق کے ہاں یہ افراط و تفریط نام کو نہیں۔تاریخی کوائف کہئے یا مبادیات، ان کے بعد چند امور ناظرین کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں۔ پھر بعض الفاظ کے متروک قرار دینے کے متعلق بحث کی جائے گی۔ سب سے اول جو سوال ذہن میں اٹھتے ہیں یہ ہیں کہ،(1) ایک لفظ مدت سے اردو میں مستعمل ہے اب جو اسے ترک کیا جاتا ہے تو کس بنا پر؟ اس کے خلاف کون سی نئی باتیں پیدا ہوگئیں اور اسی معنی اور موقع کا کون سا نیا اور بہتر لغت مل گیا ہے جو اسے متروک الاستعمال قرار دیا جاتا ہے؟(2) وہ کون شخص یا اشخاص ہیں جو الفاظ کو متروک قرار دینے کے اہل ہیں؟(3) جو الفاظ وغیرہ متروک بتائے جاتے ہیں، آیا وہ اردو زبان سے نکال دیے گئے ہیں یا صرف اردو کی نظم سے؟ اگر صرف نظم سے خارج کئے گئے ہیں تو اس اخراج کا اطلاق محض غزل اور عاشقانہ شاعری پر ہے یا نئے طرز کی شاعری پر بھی جسے بوجہ اختصار نیچرل شاعری کہا جائے گا؟اس ضمن میں اور بھی بہت سے امور تنقیح ہیں لیکن طوالت کے خوف سے ان ہی تین امور کا ذکر کیا جائے گا۔(1) جن الفاظ یا ترکیبوں کو ہم سب اردو میں ترک کر بیٹھے ہیں، ان میں سے کسی ایک کی نسبت بھی کبھی یہ سننے میں نہ آیا کہ ان وجوہ سے یا اس اصول کے تحت یہ لفظ ترک کیا گیا۔ ابتدا سے اب تک یہ بد عنوانی چلی آئی ہے۔ اس سے بدعت اور طوائف الملوکی کا ہنگامہ گرم ہو گیا۔ جو جس کے جی میں آیا کر گزرا۔ متروکات کی فہرست پر جب غور کی نظر ڈالی جاتی ہے تو ثابت ہوتا ہے کہ چھانٹ چھانٹ کر ٹھیٹھ اردو الفاظ جو زبان میں مدتوں سے رچے پچے تھے، کان پکڑ کر اردو کی سبھا سے باہر کئے جاتے ہیں اور اردو کو عربی فارسی لغات سے گراں بار کیا جاتا ہے۔میں اس ضمن میں ان کا ذکر نہیں کروں گا جو دوسری طرف سنسکرت لغات کی بھرمار کر رہے ہیں کیونکہ وہ تعداد اور اثر میں کم ہیں۔ اردو کے کسی ہندو شاعر یا ادیب کو جس کی ادبی حیثیت مسلمہ ہو یہ الزام نہیں دیا گیا کہ وہ زبان میں اس طرح ثقالت پیدا کر رہا ہے۔ مختصر یہ کہ کیا ہندو اور کیا مسلمان اردو لکھنے والے سب ہی ارادی یا غیر ارادی متروکات کے باب میں برابر ہیں۔ میں اس جگہ ہندوستانی کے دو لفظ لکھتا ہوں۔ سندیسا اور بتھا۔ یہ دونوں لفظ اردو لغات میں موجود ہیں۔ ان میں سے سندیسا نور اللغات کی متروکی فہرست میں داخل ہے۔ دوسرا لفظ بتھا اس میں نہیں آیا۔ شاید کسی نے استعمال بھی نہیں کیا۔ راقم نے ایک جگہ استعمال کیا ہے۔ اب ذرا ان دونوں لفظوں کے معنی کو دیکھئے۔سندیسا کے معنی ہیں راضی اور خوشی کا پیغام، خیریت کی خبر 3 عربی فارسی کا کوئی لغت جو اس معنی کا حامل ہو اب تک اردو کے علم سے باہر ہے۔ ان زبانوں میں اس کا کوئی مترادف ہوگا بھی تو وہ لغات کے محبس میں قید ہوگا۔ مژدہ یا نوید سندیسا کے مترادف نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ ایک خاص مسرت آمود واقعہ کی خبر دیتے ہیں۔ پیغام بری بھلی دونوں قسم کی خبر پر محتوی ہوتا ہے، صلح کا پیغام بھی ہوتا ہے اور جنگ کا بھی۔ نور اللغات کے جامع سے پوچھنا چاہئے کہ یہ لفظ کس وجہ سے متروکات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے اور یہ کہ سندیسا کا مترادف لفظ پیغام انہوں نے کس تحقیقات کی بنا پر لکھ دیا ہے۔ وہ اس غلطی پر ہیں۔ اگر پیغام سندیسا کا مترادف ہو سکتا ہے تو سنانی کو بھی کیوں نہ ایسا مانا جائے۔آپ کا کوری کے رہنے والے ہیں، جو قصبہ زبان کے لحاظ سے لکھنؤ کا متبع ہے۔ اگر لکھنؤ نے اس لفظ کو ترک کر دیا تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس نے اس لفظ کو استعمال کب کیا تھا؟ اخذ، اختیار یا استعمال کئے بغیر ایک شے ترک نہیں کی جا سکتی ہے۔ کسی ہندو کا یہ کہنا کہ ختنے کا ترک کیا جائے یا کسی مسلمان کا یہ کہنا کہ مردے کو جلانا متروک ہے، ایسا ہی لا یعنی ہے جیسے یہ کہنا کہ سندیسا اردو میں متروک ہے کیونکہ یہ لفظ لکھنؤ نے کبھی استعمال ہی نہیں کیا۔ بہر حال انہیں چاہئے تھا کہ لکھنؤ کے متروکات کی اور ان الفاظ کی جنہیں اور مقاموں کے بر خلاف لکھنؤ نے استعمال نہیں کیا، ایک ایک علیحدہ فہرست مرتب کرتے تاکہ پڑھنے والے کو دھوکا نہ ہوتا۔متروک الفاظ کی مثالوں میں انہوں نے جابجا دہلی اور لکھنؤ اور سب مقاموں کے شاعروں کے کلام نقل کر دیے ہیں۔ اس سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ ان کی یہ فہرست کل اردو دنیا میں مسلمہ ہے مگر جہاں تک اس لفظ کا تعلق ہے یہ ادعا درست نہیں۔ داغ کے ہاں یہ لفظ مہتاب میں آیا ہے۔سن کے وہ حال مرا غیر سے فرماتے ہیںآئے ہیں آپ محبت کا سندیسا لے کرمیری رائے میں ہمارے پاس کوئی وجہ موجود نہیں کہ اس لفظ کو متروکات میں داخل کیا جائے۔ دوسرا لفظ جس کا ذکر آگے آیا، بتھا ہے۔ اس کے معنی ہیں تکلیفوں یا مصیبتوں کی روداد یا داستان غم۔ میرے علم میں مختلف زبانوں کے ان لغات میں سے جن سے اردو کو شناسا سائی ہے، ایسا پر معنی مفرد لفظ کوئی نہیں دکھائی دیتا۔ پھر کیوں نہ اسے رواج دیا جائے۔ اب تک ہم یہی سنتے آئے ہیں کہ فلاں لفظ فلاں ترکیب فصحا یا اکثر فصحا نے ترک کردی۔ کوئی پوچھے کہ حضرت آخر اس ترک کی وجہ، اس کا موجب؟ تو جواب ندارد۔یہ کبھی ظاہر نہ ہوا کہ فصاحت اورفصیح کی تعریف کیا قرار دی گئی ہے؟ اس کا معیار کیا ہے؟ اس کے موازنہ کے کیا اصول ہیں؟ مزاج کی سودائیت نے ایک حساسی کیفیت پیدا کر کے قوت ممیزہ کو ماؤف کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر شے میں ’’آدم بو‘‘ کا مضمون صورت پذیر ہو گیا۔ نہ لفظ کی صرفی ماہیت پر نظر کی گئی نہ اس کی معنوی اہمیت کا لحاظ ہوا اور خرج یخرج ترک یترک کی گردان شروع ہو گئی۔ یہ دیکھ کر بڑا اچنبھا ہوتا ہے کہ اس اچھوت سدھار، دلت ادھار، تبلیغ اور مساوات کے زمانہ میں جب ہر ایک دوسرے کو اپنے میں لینے کو لپکتا ہے، اردو میں ’’نکالو! باہر کرو‘‘ کے سوا اور کوئی صدا سننے میں نہیں آتی۔ یہ بے وقت کا راگ ہے۔اردو والے یاد رکھیں اور خوب یاد رکھیں کہ اگر ان کے متروک الاستعمال کی لے اسی طرح بڑھتی گئی تو ان کی وہی گت ہوگی جو ’خارج از برادری‘ کی لے نے ہندوؤں کی بنائی۔ خوف ہے کہ کہیں اردو ادب کو ان ’’تارکان ادب‘‘ کے ہاتھوں وہی دن دیکھنا نصیب نہ ہو جو چھوت چھات اور سوچم کی مریضانہ حساسی نے ہندوؤں کے قومی ادبار کا منتہا ثابت کیا۔ کوڑھی کے ساتھ کوئی کھانا نہیں کھاتا۔ کھجلی والے سے سب الگ رہتے ہیں۔ ہیضہ اور پلیگ کے مریض سے سب ہی بچنا چاہتے ہیں۔ یہاں تک تو احتیاط کرنا درست۔ اس سے زیادہ بیماری ہے خواہ وہ سوشل معاملہ ہو یا ادبی معاملہ میں۔(2-3) اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر داغ اور امیر نے یا غالب اور مومن نے میں کہتا ہوں شاہ نصیر اور ناسخ نے کچھ الفاظ اردو کی برادری سے خارج کئے تو کیا وہ پھر اس میں داخل نہیں ہو سکتے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ سو کوئی تیس چالیس برس متروک رہنے کے بعد اب اردو میں واپس آیا ہے۔ ان سب باتوں سے قطع نظر دیکھنا تو یہ ہے کہ متاخرین اور معاصرین شاہ نصیر سے لے کر داغ تک اور داغ سے لے کر آج تک جن شاعروں نے نظم کے فن کے قاعدے وضع کئے، اور خاص خاص لفظوں یا ترکیبوں کو متروک قرار دیا، ان کی حیثیت اردو نظم کے باب میں کیا تھی، بلحاظ اس کے مختلف اصناف اور موضوع کے تنوع کے متقدمین سے قطع نظر کر کے، شاہ نصیر سے لے کر مرزا داغ تک کیا لکھا کرتے تھے، ان کے کلام کی نوعیت کیا تھی، اس کا میدا ن کتنا وسیع تھا؟ ’’نام نیک رفتگان‘‘ کو ضاع کرنا اپنا شیوہ نہیں، یہ اور دوسرے بزرگ نہ صرف ہمارے لئے بلکہ تمام اردو دنیا کے لئے ہمیشہ واجب التعظیم رہیں گے لیکن سچ کہنے سے چارہ نہیں۔کہنا پڑتا ہے کہ غزل اور کبھی کبھی قصیدے کے سوا اور صنف میں یا کسی مفید اور کار آمد موضوع پر انہوں نے کبھی فکر نہیں کی وہ جس وہ جس صنف میں بھی لکھتے اس پر وہی مجاز کا رنگ حاوی تھا۔ لیکن اس سے ان پر کوئی الزام عائد نہیں ہوتا۔ اس زمانہ کی چال یہی تھی اور ملک کا مذاق ہی ایسا تھا۔ آزاد مرحوم نے بے شک چھاتی پر سل رکھ کر یہ سطریں لکھی ہوں گی،’’دوسرے وہ عالی دماغ جو فکر کے دخان سے ایجاد کی ہوائیں اڑائیں گے اور برج آتش بازی کی طرح اس سے رتبہ عالی پائیں گے، انہوں نے اس ہوا سے بڑے کام لئے مگر یہ غضب کیا کہ گرد و پیش جو وسعت بے انتہا پڑی تھی اس میں سے کسی جانب میں نہ گئے، بالاخانوں میں سے بالا بالا اڑ گئے۔‘‘ 4جس شاعری کی یہ بساط ہو کہ محض خیال بندی اور قافیہ پیمائی سے شروع ہو کر اسی پر اس کا خاتمہ ہو جائے۔ یعنی غزل اور غزل کی ہر بیت بجائے خود ایک قائم بالذات نظم۔ مطلع میں رستم سے کشتی لڑ رہے ہیں، حسن مطلع میں موت کا فرشتہ شاعر کی روح قبض کرنے آتا ہے لیکن آپ اتنے نحیف اور ضعیف ہیں کہ اسے دکھائی ہی نہیں دیتے اور وہ خالی کا خالی چلا جاتا ہے، اگلے شعر میں آپ کا جنازہ اٹھتا ہے اور آپ شرمسار ہیں کہ نازنین معشوق کو چالیس قدم ساتھ چلنے کی اذیت ہوئی، اس سے اگلے شعر میں آپ ساغر اور پیمانہ پٹک کر مٹکا ہی منہ سے لگا کر شراب پی رہے ہیں اور آگے چل کر آپ کا اپنے محبوب سے اختلاط ہو رہا ہے۔ مقطع میں آپ میں اور آپ کے خدا میں نام کو فرق اور امتیاز نہ رہا۔ یہ گڑبڑ جھالا ایران سے ہندوستان میں آئی اور یہاں اسے اور بھی بگاڑ دیا گیا۔مختصر یہ کہ غزل کیا ہے؟ چند قوافی کا خوش اسلوبی سے نباہ۔ قصیدہ کیا ہے؟ مبالغہ کا قطب مینار۔ جس میں شعرگوئی کی یہ کائنات اور غرض و غائت ہو اسے شاعری کہنا ہی معقولیت سے خارج ہے۔ اول تو انہوں نے یا کسی اچھے شاعر نے کوئی قاعدے شعر کے، فن یا متروکات کے کبھی وضع کئے ہی نہیں۔ یہاں یہ ذکر کرنا بر محل ہوگا کہ کسی زبان میں اچھے شاعروں نے شاعری کے قاعدے نہیں باندھے اور اگر اس کے خلاف ہوا ہے تو النادر کا لمعدوم کی مصداق ہے۔خیر اردو کے ان استادوں کے کلام یا ان کی اصلاحوں سے لوگوں نے بالواسطہ کچھ باتیں استنباط کر کے ان کا نام قاعدہ اور ضابطہ رکھ لیا۔ بہر حال آج کل کے زمانہ اور موجودہ صورتوں میں نہ وہ قاعدے جوں کے توں واجب التعمیل ہیں اور نہ ان کے وضع کرنے والے یہ اہلیت رکھتے تھے۔ ان کا اطلاق زیادہ سے زیادہ پرانی چال کی عاشقانہ شاعری پر ہو سکتا ہے۔ دوسرں پر کہئے نیچرل شاعری پر لازم نہیں آتا کہ وہ بھی ان الفاظ اور ترکیبوں کے استعمال سے محترز رہیں۔ محض اس بنا پرفلاں استاد نے ایسا کیا وہ دہلی کی سادہ کاری ہو یا لکھنؤ کی مرصع سازی یا پنجاب کی ہفت پروازی، غزل کی شاعری کے متعلق متروکات کے لے جتنی جی چاہے بڑھاتے جائیے، لیکن یہ قیدیں نیچرل شاعری پر عاید نہیں ہو سکتیں۔حالی مرحوم کا تقریباً وہ تمام کلام جو مسدس کی تصنیف کے بعد موزوں ہوا، حضرات صفی، چکبست، سرور مرحوم اور اقبال کی اکثر اور بیشتر نظمیں اور اسی قبیل سے اردو کے اکثر اچھے شعرا کا کلام ’’تنگنائے غزل‘‘ سے پرے پرے جاتا ہے۔ جب آپ معشوق سے باتیں کریں گے یا اس کا ذکر تو بے شک چھوٹے چھوٹے سہانے لفظ نازک اسلوب اور میٹھی بولی میں گفتگو ہوگی لیکن جب زندگی کے جید مسائل اور حقیقت اور انسانی جذبات کے شدید موضوعات پر لکھنے بیٹھیں گے تو سخن کا طرز اور ہوگا۔ غرض کہ خیال کی شاعری کام کی شاعری سے جداگانہ ہے۔ اس کے قاعدے اور ضابطے بھی جداگانہ ہونے چاہئیں اور ان کے وضع کرنے والے بھی۔ان وجوہ سے میں یہ عرض کرنے کی جرات کرتا ہوں کہ وہ قاعدے جو اب تک نظم کے لئے باندھے گئے ہیں اور الفاظ اور ترکیبیں جنہیں ترک کر دیا گیا ہے ان سب کی نظر ثانی اور ترمیم کی ضرورت ہے۔ جبھی تو ہم دیکھتے ہیں کہ کئی لفظ تیس چالیس سال متروک رہنے کے بعد اب پھر زبان میں داخل ہو گئے ہیں جیسے سو۔ خیر یہ بات تو دور کی ہے، نہ اب تک کسی کے ذہن میں آئی، نہ اب سے پہلے کبھی اس سے بحث ہوئی۔ غزل ہی کولیں تو ظاہر ہوگا کہ جو الفاظ وجوباً یا ترجیحا ًمتروک بتائے جاتے ہیں ان کے ساتھ غز ل کے نامی شاعراور دوسرے شعرا کا کیا عمل ہے؟آئندہ مندرجات کے متعلق راقم نے یہ التزام کیا ہے کہ داغ اور امیر کو ایک حد قائم کر کے دکھایا گیا ہے کہ انہوں نے ایک لفظ جسے متروک کہا جاتا ہے استعمال کیا یا نہیں اور یہ کہ ان کی وفات سے آج تک مشاہیر شعرا کا کیا سلوک اس لفظ کے ساتھ رہا ہے۔ اس زمرہ کے اکثر شعرا اس وقت موجود ہیں اور اردو دنیا میں عزت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔اب میں چند ایسے الفاظ سے بحث کروں گا جنہیں متروک ٹھہرا یا جاتا ہے۔ استعمال کے ثبوت میں اساتذہ اور مشاہیر شعرا کے تازہ ترین کلام سے جو دستیاب ہو سکا، اشعار نقل کئے گئے ہیں۔ داغؔ کے تمام اشعار مہتاب سے، امیر کے صنم خانہ سے، جلال کے نظم نگارین سے اور جلیل کے جان سخن اور تاج سخن سے لئے گئے ہیں اورمیرے علم میں ان اصحاب کے یہ سب سے آخری مطبوعہ دیوان ہیں۔ اور حضر ت جلیل کے دونوں دیوان کی عمر دس بارہ برس سے زیادہ نہیں۔ ان شعرا کے کلام کی طرف اس مضمون میں جہاں کہیں اشارہ کیا گیا ہے وہاں ان کی انہیں کتابوں سے مطلب ہے، جن کا ذکر ابھی کیا گیا۔ دوسرے شاعروں کا کلام جہاں تک ممکن ہوا ہے، معتبر کتابوں اور رسالوں سے لیا گیا ہے۔ ناظرین کی آسانی کے لئے ان کی ایک فہرست ذیل میں درج کی جاتی ہے۔ابر ؔمرحوم۔ آنریبل پنڈت بشن نرائن در صاحب لکھنوی، بیرسٹرائٹ لا۔ابرؔ مقلد میر و غالب جناب حکیم سید علی حسن صاحب لکھنویاقبال۔ ڈاکٹر سر محمد اقبال۔ ایم اے، پی ایچ ڈی بیرسٹرائٹ لا سیالکوٹیاکبرؔ۔ جناب سید اکبر حسین صاحب الہ آبادی مرحومامیرؔ۔ جناب منشی امیر احمد صاحب مینائی لکھنوی مرحومباسط۔ جناب سید محمد باسط علی صاحب بسوانی برق۔ جناب منشی جوالا پرشاد صاحب بی اے لکھنوی۔ سشن جج اودھ مرحومبرقؔ۔ جناب منشی مہاراج بہادر دہلوی، منشی فاضل بی اے۔برہمؔ۔ جناب حکیم عبد الکریم صاحب گورکھپوری، ایڈیٹر مشرق و فتنہ وغیرہبلیغؔ۔ جناب نواب سید عسکری مرزا صاحب لکھنویبیخودؔ۔ جناب منشی سید وحید الدین صاحب دہلویجلالؔ۔ جناب حکیم سید ضامن علی صاحب لکھنوی مرحومجلیلؔ۔ جلیل القدر فصاحت جنگ جناب حافظ جلیل حسن صاحب مانکپوریچکبست۔ جناب پنڈت برج نرائن صاحب چکبست بی اے ایل ایل بی وکیل ہائی کورٹ لکھنویحسرت۔ جناب مولانا سید فضل الحسن صاحب موہانی بے اے ایڈیٹر اردو ے معلیٰداغ۔ فصیح الملک، دبیر الدولہ ناظم یار جنگ، نواب مرزا خاں صاحب دہلوی مرحوم۔راسخؔ۔ جناب مولوی سید عبد الرحمان صاحب دہلوی مرحومریاضؔ۔ جناب سید ریاض احمد صاحب خیر آبادیزکیؔ۔ جناب مولانا سید زکریا خاں صاحب دہلوی مرحومسائلؔ۔ جناب نواب سراج الدین احمد خاں صاحب دہلویسرورؔ۔ جناب منشی درگا سہائے صاحب جہاں آبادی مرحومسلیمؔ۔ جناب مولانا وحید الدین صاحب پانی پتی۔ پروفیسر عثمانیہ یونیورسٹیشادؔ۔ یمین الملک مہاراجہ سرکشن پرشاد صاحب حیدر آبادیشاد۔ خان بہادر جناب مولوی سید علی محمد صاحب عظیم آبادیشاعرؔ۔ افسر الشعرا جناب آغا شاعر صاحب دہلوی۔ شاعر دربار جھالاواڑشوقؔ۔ جناب منشی احمد علی صاحب قدوائی لکھنوی مرحومصفدر۔ جناب مولوی صفدر علی صاحب مرزا پوریصفیؔ۔ جنا ب مولانا سید علی نقی صاحب لکھنویضامنؔ۔ جناب مولوی مرزا محمد ہادی صاحب لکھنویظہیر۔ جناب مولانا سید ظہیر الدین حسین صاحب دہلوی مرحومعزیز۔ جناب مولوی مرزا محمد ہادی صاحب لکھنویمحروم۔ جناب حکیم اسد علی خاں صاحب دہلوینادرؔ۔ جناب مولوی نادر علی خاں صاحب کاکوری مرحومنظرؔ۔ جناب منشی نوبت رائے صاحب لکھنوی مرحومنظمؔ۔ نواب حیدر یار جنگ جناب مولانا علی حیدر صاحب طبا طبائی لکھنویوحشت۔ جناب سید رضا علی صاحب کلکتوییاسؔ۔ جناب مرزا واجد حسین صاحب عظیم آبادیپہ بمعنی پر، حضرت شوق نے اسے اپنی متروکات کی فہرست میں نہیں شامل کیا۔حضرت عشرت لکھنوی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں، ’’پہ کا استعمال اب اکثر فصحا نے ترک کر دیا ہے۔ اس کے بدلے پر بولتے ہیں۔ آخر میں داغؔ و جلالؔ نے بھی ترک کر دیا۔‘‘ صاحب نور اللغات اس لفظ کی نسبت یہ لکھتے ہیں کہ ’’بعض فصحا نے اس کا استعمال نثر اور بول چال میں ترک کر دیا ہے۔‘‘ اس بات میں راقم کے خیال میں حضرت عشرت کے مقابلہ میں نور اللغات کا قول زیادہ معتبر ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ نظم میں یہ کلمہ متروک نہیں۔ اکثر شعرا کے کلام سے بھی ایسا ہی پایا جاتا ہے۔ خود داغ اور جلال ؔ کے یہاں یہ لفظ موجود ہے۔داغؔکاش تو گور غریباں پہ نہ مضطر پھرتاصبر سے ناز سے تمکین سے ٹھہر کر پھرتادیکھو دیکھو مجھ پہ برساتے رہو تیر نگاہصید جس دم آنکھ سے اوجھل ہوا جاتا رہادل کو لے لیتے ہیں در پردہ وہ عیاری سے چر یاروں پہ جو کھل جائے تو پھر گھات ہی کیاامیرؔکیوں مرے سر پہ نہ ہو لغزش پا کا احساںہاتھ پڑ جائے تو بیساختہ اس شانے پردر کار ہے بہانہ پے مغفرت امیرتقویٰ پہ منحصر ہے نہ صوم و صلوت پرظہیرؔکسی کو غرض کہ دل کی مصیبت پہ جی جلائےاپنی خوشی کسی پہ اگر آئے آئے دلشاد عظیم آبادیان محنتوں پہ بھی یہ میرا ہو رہا تھا حاللڑکوں کی بھی سند تھی پہ میں غیر مستندنظمکیوں تن آسانی پہ مائل ہوگئےجو فضائل تھے رذائل ہوگئےدامن ہستی پہ تھیں داغ سیاہمٹ گئیں اس طرح جیسے دھو گئیںجلیلؔمیرے زخموں پہ چھڑک کر وہ نمک کہتے ہیںوہ تھا تلوار کا جوہر یہ ہے جوہر اپنابیخودؔکیوں الجھتے ہو ہر ایک بات پہ بیخود ان سےتم بھی نادان بنے جاتے ہو نادان کے ساتھحصر کعبہ پہ کیا ہے دیر سہیحج کا موسم نہیں تو سیر سہیسائلؔمنہ پہ ملتا ہوں تری خاک قدم رو رو کر کرنا پڑتا ہے وضو کر کے تیمم مجھ کوبرقؔ لکھنویگھونگٹ اک ناز سے نکالےسہرا پھولوں کا منہ پہ ڈالےچرخ چارم پہ ہے نمایاںفیاض زماں مسیح دوراںسید ابرؔغور سے جب کسی دیوانہ کی حالت دیکھیدل پہ اک چوٹ لگی ہائے میں وحشی نہ ہواصفیؔحسن رسوا ہو دل اس بات پہ راضی نہ ہوااک نظر دیکھ لیا اس کو جو کوئی نہ ہواعزیزؔطبقہ گور غریباں پہ ذرا یوں نہ چلواک قیامت ہوئی یہ زور جوانی نہ ہوامیں نے مجموعہ جذبات پہ کی جب کہ نظر تیری تاثیر تھی اے جلوہ جانا نہ جداوحشتؔتیری رعنائی قامت کا بھلا کیا کہناایسے مصرعہ پہ تو استاد ازل صاد کرےچکبستؔموت کے رنگ سے مٹتا ہے کہیں رنگ شبابسرد ہونٹوں پہ جوانی کی ہنسی آتی ہےسرورؔجس پہ اتراتی ہے اب تک آہ تیری خاک پاکدفن ہے زیر زمیں یہ کون فخر روزگارمضطرترے وعدہ پہ مرتا ہوں قیامت کے لئے ظالمکوئی تہمت لگا مجھ پر کوئی طوفان پیدا کربرق دہلویگر مجھ سے تیرا دل نہیں ملتا نہیں سہیتو جس پہ جان دیتا ہے کر اس کی دلدہیباسطآئینہ زانو پہ رکھا جب وفور جوش میںماہ کامل کو لیے بیٹھا تھا میں آغوش میںسلیمؔہیں تیری شمع حسن پہ پروانہ اس لئےشعلوں سے کھیلتے ہیں تری انجمن میں ہمراسخؔاس پہ عاشق ہیں نگہ باز ہیں راسخ ہم بھیدیکھ لیں گے نہ دکھائے رخ روشن سہرامیں نہیں جانتا وہ کون سے فصحا ہیں اور کہاں رہتے ہیں جنہوں نے بقول جناب عشرت پہ بمعنی پر اب ترک کر دیا ہے۔ جن شاعروں کے کلام سے ابھی اقتباس کیا گیا ہے وہ بے شک فصیح سمجھے جاتے ہیں اور ان میں سے اکثر اس وقت بفضلہ موجود ہیں۔ حضرت عشرت کو اس قسم کے اجتہاد سے آئندہ احتیاط چاہئے۔ اب رہا نور اللغات کاقول۔ اس مضمون میں ہمارا روے سخن اردو کی نظم کی طرف ہے۔ بول چال کا جو اس میں ذکر آیا ہے سو بول چال کی کوئی سند نہیں۔جلال ؔ مرحوم کے ہاں ان کے چوتھے دیوان نظم نگارین میں بے شک یہ لفظ نہیں آیا۔ اس کے بدلے ہر جگہ انہوں نے پر ہی لکھا ہے۔ لیکن بوجہ ادغام کے جو انہیں اکثر و بیشتر موقعوں پرکرنا پڑا ہے۔ بیسوں جگہ ’’پر آیا‘‘ کا پر ایا وغیرہ شکلیں پیدا ہو گئیں۔ اس سے تو کہیں بہتر تھا کہ وہ پہ ہی استعمال کرتے۔ اس کے علاوہ متروکات کے باب میں جناب جلال کو سند پیش کرنا شاید ٹھیک نہ ہوگا کیونکہ ان کے ہاں بہت سے قدیم اورمسلمہ متروکات موجود ہیں جیسے انکھڑیاں، اسی دیوان میں فرماتے ہیں،اپنی شوخ انکھڑیوں میں کچھ توحجاب آنے دوراہ پر آئیں جو یہ خانہ خراب آنے دواس کے علاوہ چٹیلا، بے مرمٹے نہ جائے، بہ سہل، پری گات، رسوا کن و غماز، جانی بن ٹھن رہنا، پیش اہل مذاق، جاویداں، نڈری، نفس چند کے مہماں، گہ، پھبن کی تذکیر وغیرہ الفاظ اورترکیبیں ان کے ہاں کثرت سے موجود ہیں۔ میں یہ ضرور کہوں گا کہ بعض امور کا لحاظ انہوں نے بہت کیا ہے چنانچہ ان کے ہاں کہیں خود رفتہ نہیں آیا۔ ہر جگہ بڑے جد و جہد سے از خود رفتہ اور از خود رفتگی ہی لائے ہیں۔ حکیم صاحب مغفور کے مداح آزردہ ہوں گے ورنہ یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ چند فارسی اور بعض اردو ’’متروکات‘‘ سے بچنے مین ان کا ذہن اتنا صرف ہو گیا کہ ان کے کلام میں تخیل شاعرانہ کا اتنا نشان بھی نہیں ملتا جتنا بے چاری غزل کے لئے ضروری سمجھا گیا ہے۔پر بمعنی مگر یالیکنحضرت شوقؔ لکھتے ہیں، ’’پر بمعنی لیکن بعض فصحا نے ترک کر دیا ہے۔‘‘ معلوم نہیں وہ بعض فصحا کون سے ہیں جنہوں نے یہ لفظ متروک قرار دیا۔ جناب عشرت لکھتے ہیں، ’’آخر میں داغ و جلال نے بھی ترک کر دیا تھا۔‘‘ جلال کی متروکات کی نسبت اوپر کچھ ذکر آ گیا ہے۔ داغ کے اخیری دیوان میں ایسے بہت سے لفظ اور ترکیبیں موجود ہیں جنہیں متروک بتایا جاتا ہے۔ مثلا سو، ساقیا، گلابی پوش، وہ ہی، بسا غنیمت، تا بہ حشر، دستگہ، روسیہ، سدا، دیجے بجائے دیجئے وغیرہ۔ اس لئے اس بات میں نہ جلال کی سند مسلم ہو سکتی ہے نہ داغ کی۔ نورا للغات شوق کا ہمنوا ہے۔ چونکہ اس معنی کا حامل اور کوئی لفظ اتنا مختصر نہیں ہے اس لئے اگر اسے صرف عشقیہ غزل کے متعلق متروک سمجھا جائے تو مضائقہ نہ ہوگا، مگر نظموں میں یا نیچرل مضمون کی غزلوں میں ہرگز ایسا نہ ہونا چاہئے۔ اس لفظ میں نہ کوئی ثقالت ہے، نہ ذم کا پہلو اور پھر اتنا مختصر۔ کوئی وجہ نہیں کہ اسے ترک کیا جائے۔ چند فصحا کے کلام سے استفادہ کیا جاتا ہے،امیرؔسیہ کاری سے جی بھرتا نہیں پر شرم آتی ہےکہاں تک بوجھ رکھئے کاتب اعمال کے سر پرلگایا تو گلے سے پر لگائی تیغ بھی آ کےملا تو عید کے دن وہ مگر چیں بہ جبیں ہو کراس قدر ہے دراز ہجر کی رات پر تڑپنے سے جی نہیں بھرتا نظرؔنظر ہم کو علاقہ شعر سے کیا پر یہ حسرت ہےنہ رہتے ہم تو اپنا ذکر اس محفل میں رہ جاتاصفیؔلب پر ایک موج تبسم ہاتھ میں ہلکی سی تیغنیم بسمل سیکڑوں پر نیم جاں کوئی نہیںابر مرحومجو نازک طبع ہیں مٹ جاتے ہیں پر اف نہیں کرتےشکست رنگ گل کی کب صدا آتی ہے گلشن میںبرقؔ لکھنویہر اک کا جدا ہے رنگ و روغن پر سبزہ پہ ہے بلا کا جوبنبظاہر یہ پایا جاتا ہے کہ پر کلمہ استثنا کے معنی میں متروکات دہلی میں سے ہے۔گر بجائے اگرشوقؔ لکھتے ہیں، ’’گر بجائے اگر بعضوں نے وجوباً ترک کر دیا ہے۔‘‘ عشرت نے اس لفظ کو متروکات میں نہیں لیا۔ نور اللغات اردو نثر میں متروک اور نظم میں اگر کو فصیح قرار دیتا ہے۔ اس کی نسبت بھی میرا وہی قول ہے جو پر کی نسبت آ چکا ہے۔ اب شعرا کا قول سنئے،داغؔفتنہ سازی بھی مرے دل کی قیامت ہوتیگر ترے کوچے کی مٹی سے بنایا جاتااے واعظ اس کا ڈر ہے کہ آئے نہ آئے راسگر بادہ طہور مرے حق میں سم ہواامیرؔکرتے تو ہو سوال امیر اس سے حشر میںاور اس کو گر جواب نہ آیا تو پھر کہوبیخودؔسنوگے اسی طرح گر بن کے پتھرنہ میں کہہ سکوں گا نہ تم سن سکو گےجلیلؔیہی عالم ہے گر جوش جنوں میں خاک اڑانے کازمیں بھی سر پہ اک دن آ رہے گی آسمان ہو کر 5نظرؔنہ دیتا گر سہارا کچھ امید وصل کا طوفان شناور بحر غم کا حسرت ساحل میں رہ جاتامحرومؔہم کو گرہستی جاوید عطا کی تو نےاپنے الطاف پہ اک اور اضافہ کر دےبرق دہلویؔگر اور ہی کسی پہ ترا دل نثار ہےدم بھر بھی گر تجھے مرے ملنے سے عار ہے\n\n(مثنوی)صفدرؔوزیر اس وقت گر ہوتے تو ان سے پوچھتے ہم بھیلیا ملک معانی کس نے شاہ شاعراں ہو کرراسخؔگر مال طلب کروں تو کتنا چاہوکیا مجھ پہ بنی ہے کیوں یہ فتنہ چاہونظمؔالٹ جانے کی شایاں گر زمیں ہےتو پھٹ پڑنے کے قابل آسماں ہےتلکجناب شوق کے قول کے مطابق، ’’اکثر خواص نے ترک کر دیا ہے۔‘‘ اور یہ امر واقعہ ہے کہ ایسا ہوا ہے۔ جناب عشرت کی متروکی فہرست میں یہ لفظ شامل نہیں۔بقول نور اللغات، ’’خاص خاص شعرا نے ترک کر دیا ہے۔‘‘ معلوم یہ ہوتا ہے کہ 1887ء کے بعد یہ لفظ پھر تناسخ پذیر ہو گیا اور صرف خاص خاص شعرا ہی اسے مردہ سمجھتے رہے۔ لیکن موجودہ شاعروں کا کلام دیکھنے سے پایا جاتا ہے کہ غالباً اس خوف سے کہ مبادا تنقید کے توپ خانہ کا منہ ان کی طرف موڑ دیا جائے، اول صف کے اکثر شاعر اس کے استعمال سے پرہیز کرتے ہیں۔ جو عہد متروکات کے باب میں تعین کر چکا ہوں، اس میں اس کے استعمال کی مجھے صرف تین نظیریں ملیں۔ بعض الفاظ خواہ مخواہ مرعوب ہو کر بھی ترک کر دیے جاتے ہیں۔ اگر یہ لفظ ترک کر دینے کے قابل ہے تو اس کی وجہ کیوں نہیں بتائی جاتی۔ مانا کہ تک اس کا مرادف اور اس سے مختصر لفظ موجود ہے مگر جب نظم میں قافیہ کی قید لازمی ہے تو ملک اور فلک کا ایسا بولتا ہوا قافیہ لغات سے کیوں خارج کیا جاتا ہے۔ اگر امیرؔ مرحوم فصاحت کے باب میں خصوصیت رکھتے تھے تو سنئے وہ کیا کہتے ہیں۔امیرؔدھوم کرنا ہے تو اے وحشت تو خاطر خواہ کرشہر گردی کب تلک صحرا سے بھی کچھ راہ کرکعبہ نہ جائے جو وہ نہ پہنچے خدا تلکزاہد خدا کے گھر کی یہی ایک راہ ہےاقبالؔہمنشیں افسانہ بیداری جمہور چھیڑقصہ خواب آور اسکندر و جم کب تلک\n(کب تلک ردیف)معلوم ہوتاہے کہ تلک کا ترک دہلی کے اجتہادات میں سے ہے۔ نہ داغؔ کے ہاں آیا اور نہ دوسرے مشاہیر کے ہاں ملا۔ لکھنو بھی اس سے محترز ہو چلا ہے۔ بہر حال غزل کے متعلق راقم کو اس لفظ کی حمایت میں اصرار نہیں۔یاں واںبقول شوق محض غیر فصیح ہے اور اکثر شعرا نے ترک کر دیا ہے۔ قرار نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ نور اللغات کے ارشاد کے بموجب، ’’فصحائے دہلی استعمال کرتے ہیں، لکھنو کے بعض شعرا احتراز کرتے ہیں۔‘‘ لیکن تحقیق کا نتیجہ اس کے برعکس ہے۔ داغ کے ہاں یہ لفظ کہیں نہیں آیا۔ نہ مشاہیر دہلی کے کلام میں دیکھا گیا۔ ہاں لکھنؤ اور اس کے توابعات میں اس کا استعمال کم و بیش پایا جاتا ہے۔ جس لفظ کو امیر آخر تک استعمال کرتے رہے اور جلیلؔ اور چکبستؔ اب تک کر رہے ہیں، وہ بقول شوقؔ غیر فصیح کیسے ہو سکتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ وہ شوق کا اجتہاد اس بات میں دیکھ چکے تھے۔امیرؔکسی پہ زخم پڑ ایاں جگر پہ آئی چوٹبھلا ہو زخم کا اپنی ہوئی پرائی چوٹمجھ سے ہو سکتا کہ دیتا بازوئے قاتل کو رنجواں ہوئی ابرو کو جنبش یاں بدن پہ سر نہ تھاجلیلؔوعدے پہ نہ یاں آنا وعدہ نہ وفا کرناآنا تو الگ رہنا کرنا تو جفا کرناواعظ کی کیا مجال جو مستوں میں آ سکےیاں ہوش کا گذر نہ کسی ہوشیار کاچکبستؔسنتے ہیں انہیں کے لئے ہے کوثر و تسنیمیاں جو رہ مولا میں لٹاتے ہیں زر و سیمیاسؔرہائی کا خیال خام ہے یاں کان بجتے ہیںاسیرو بیٹھے کیا ہو گوش بر آواز در ہو کرہوا کا دخل نہیں یاں وہاں ہوا کا عملقفس کی سست بنا ہے کہ آشیانے کیبلیغؔتم گھر گئے یاں دل میں اٹھا درد قضاآئیکیا پوچھتے ہو حال عدم کی سفری کاعالم نزع میں اٹھوائے گئے ہم واں سےہائے کس وقت ہوا ہے در جانا نہ جداحسرتؔنکلا جو واں سے پھر نہ فراغت ہوئی نصیبآسودگی کی جان تری انجمن میں ہےہوں دولت وحشمت پر ارباب ہوس ناداںیاں بے سر و سامانی سامان محبت ہےضامنؔاس کی جمعہ کی کل غنیمتواں ہوتی تھی زیب خواں نعمتالف ندا کا اختلاط منادی کے ساتھبقول شوق، ’’اب غیر فصیح ٹھہرا ہوا ہے۔‘‘ تعجب ہے کہ مہتاب اور صنم خانہ میں یہ ترکیب کیوں فصیح سمجھی گئی۔ شوقؔ کے یہ لفظ 1887ء سے آج تک کئی بار چھپ چکے ہیں مگر فصحا اور شعرا نے دلا تو ترک کر دیا لیکن ساقیا زاہدا وغیرہ اب تک برابر لکھ رہے ہیں۔ یہ ترکیب مع خوشا کے (جلال ’’خوشا نصیب اس کے‘‘ ایسی ترکیبیں بہت استعمال کرتے ہیں) وجوباً ترک کر دینی چاہئے۔ارفع کے وزن پر یعنی اُر۔ اَور کے بدلے، حضرت شوقؔ لکھتے ہیں بعض فصحا واؤ نہیں گراتے۔ جناب عشرت کے رسالہ میں یہ لفظ نہیں آیا۔ قرار صاحب نے بھی اسے چھوڑ دیا ہے۔ نور اللغات میں اسے متروکات کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ راقم کی رائے ہے کہ غزل میں یہ لفظ غور کے وزن پر ہی استعمال کرنا بہتر ہے۔ داغؔ، جلالؔ اور جلیلؔ نے یہ لفظ بروزن فع استعمال نہیں کیا۔ عزیز ؔ، سرور، ؔشوق قدوائیؔ، برق لکھنوی، وحشت، نظمؔ اور نادرکے ہاں کہیں نہیں آیا۔ 6 غزل کے شاعروں نے خوب کیا کہ اسے ترک کر دیا۔چکھا، رکھا، لکھا، اٹھا، جناب شوقؔ فرماتے ہیں، ’’دوسرے حرف کی تشدید کے ساتھ فصیح ہے۔ تحتی نوٹ میں لکھتے ہیں، ’’حتی الوسع بالتشدید ہی استعمال کرنا چاہئے مگر بضرورت بالتخفیف بھی بے تکلف استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ تلک اور سدا کی طرح یہ متروک نہیں۔‘‘ بارے 7 اصول نہیں تو اصول کی پرچھائیں ہی سہی، کچھ تو پتہ چلا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ضرورت کی شرط اور متروکات سے وابستہ کیوں نہ ہو۔ کیا وجہ ہے کہ تکلف اور سدا ضرورت پر بے تکلف استعمال نہ کئے جائیں؟ جناب قرار کی فہرست میں صرف رکھا ہی ہے۔ راقم کا قول یہ ہے کہ غزل میں ان تینوں لفظوں کا ک تشدید بغیر آنا وجوباً متروک قرار دینا چاہئے۔میں نے ایک اور چوتھا لفظ بھی لکھ دیا یعنی اٹھا۔ اس کے ماضی مطلق واحد کے صیغے میں ٹ پر وجوباً تشدید لانی چاہئے تاکہ امر کے و احد حاضر صیغہ اور اسی طرح فعل کے دوسرے صیغوں کا آپس میں التباس بالکل نہ رہے۔ ذیل کے شعرا کا کلام دیکھ کر جن کی فصیح بیانی کے سب قائل ہیں، یہ شبہ ہوتا ہے کہ وہ بزرگ ان ’’تارکان ادب‘‘ کے اجتہاد کو نہیں مانتے جس کا سبب غالباً انہیں کی نازک مزاجی ہوئی۔ جب ترک کی لے بے حد بڑھی تو شاعروں نے ان ’تارکان ادب‘ کو نظر انداز کر دیا۔داغؔروزہ رکھیں نماز پڑھیں حج ادا کریںاللہ یہ ثواب بھی ہے کس عذاب کالڑیں گے وہ حوروں سے فردوس میںیہ فتنہ اٹھے گا قیامت کے بعدلکھا ہے داغؔ نے اس کا یہ مصرعہ تاریخہزاورں سال مبارک یہ جشن سالگرہامیرؔضبط کرتے ہی اثر نالوں کا ظاہر ہو گیابول اٹھے گھبرا کے ہے ہے لو وہ آخر ہو گیاخط طویل یار کو میں نے لکھا مگرمطلب کو دیکھئے تو کہیں کچھ پتہ نہیںجلالؔبے تمہارے یہ رہی شکل نشست و برخاستبیٹھے دل ہو کے اٹھے درد جگر کی صورتتقدیر کا لکھا اسے کہتا ہے نامہ برخط آئے غیر کا مرے خط کے جواب میںریاضؔریاض اب کیا کریں قصد اس شہر جانے کانصیبوں میں لکھا ہے خاک گورکھپور ہو جاناجلیلؔدل چیخ اٹھا خیال جو ابرو کا آگیاخنجر لگا گیا کوئی خنجر لگا گیالکھا ہے شان میں اس کی جو مہر برج شاہی ہےچمک جائے نہ کیوں اس بندہ درگاہ کا سہراعزیزؔپردہ اٹھا تو مرجع دل یہ جہان تھاشرمندگی ہوئی مجھے اپنے خمیر سےمہاراجہ شادؔہوا جو تاریخ کا میں خواہاں تو بول اٹھا شاد ہو کے شاداں ؔبرہمؔمیں نے اے برہمؔ لکھا ترتیب دیواں کا یہ سالبرقؔ لکھنویمرغان چمن چمک اٹھو تم گلہائے چمن مہک اٹھو تملیجے دیجے بجائے لیجئے، دیجئے، جناب شوقؔ لکھتے ہیں، ’’ایک ی گرانا اور بر وزن فعلن استعمال کرنا غیرفصیح ٹھہرا ہوا ہے۔‘‘ نور اللغات شوق کاہم زبان ہے۔ عشرت اور قرار کے ہاں اس کا ذکر نہیں۔ کیا وجوہ لاحق ہوئے کہ فعل کی ان دو شکلوں میں سے ایک کو قطعاً متروک قرار دینے کی ٹھہرائی؟ پایا جاتا ہے کہ یہ لکھنؤ کے متروکات میں سے ہے۔ وہاں معاصرین کے کلام میں ایسے صیغے فعلن کے وزن پر نہیں آتے۔ ہاں دہلی میں یہ شکل اب تک رائج ہے۔داغؔوہ خریدار ہی دل کے نہ ہوئے کیا کیجےہم بھی کچھ دبتے کچھ ان کو بھی دبایا جاتامیرے ہی ہاتھ سے مشکل میری آساں ہوگیمجھ کو دیجے جو نہیں آپ سے خنجر پھرتابیخودؔناپ لیجے اپنے گیسو کی درازی قد سے آپاب تو یہ فتنہ قیامت کے برابر ہو گیازکیؔدلیل راہ اس کا نقش پا ہے سر فدا کیجےطریق عشق میں یہ ارمغاں ہے پہلی منزل کاراسخؔہے توڑ یہ بھوک کاکہ سم کھا لیجےٹھوکر بھی لگے تو ہر قدم کھا لیجےسائلؔدونوں جملوں کو جمع کر لیجےسن ہجری کی ہو گئی تکمیلشاعرؔسر شوریدہ میں وہ بات نہیں پہلی سیاب تو وقت آ گیا کیجے بھی سبکدوش مجھےبتلانا، دکھلانا وغیرہ، بتلانا، دکھلانا وغیرہ بتانا، دکھانا وغیرہ کی جگہ استعمال کرنا دہلی کے متروکات میں سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کی نسبت بھی راقم کی یہ رائے ہے کہ اگر اس کا ترک واجب رکھا جائے تو غزل تک محدود رہے۔امیرؔسنتا ہوں محتسب نے کیا میکدہ کو قرق بٹھلا دیا یزید نے پہرا فرات پرآنکھ دکھلاتے ہیں وہ دیکھیں گے مجھ کو بیتابیہ نکالا ہے نیا درد جگر کا تعویذجلالؔوہ ٹھکانا تمہیں بتلا دے جہاں رہتاہےہوش میں اپنے زخود رفتہ کو جب لاؤ بھیچکبستؔنہ بتلائی کسی نے بھی حقیقت راز ہستی کی بتوں سے جا کے سر پھوڑا بہت دیر برہمن میںعزیزؔایک حالت ہو تو اس منظر کو دکھلائے کوئی سیکڑوں دیکھے تماشے اے بلائے نا گہاںسداسدا کے خلاف دہلی اور لکھنؤ نے غضب تلوار سوتی ہوئی ہے۔ حضرت اکبر مرحوم اور جناب جلیل کی جوانمردی توصیف کے قابل ہے کہ انہوں نے اس غریب کو اچھوت نہ مانا۔اکبرؔصدائے سر مدی سے مست رہتاہوں سدا اکبرمجھے نغموں سے کیا مطلب مجھے سر گم سے کیا مطلبجلیلؔجلیل سنگ حوادث کا کیا کریں شکوہہمارے دل نے سدا چوک پر اٹھائی چوکیہ سوال نہایت اہم ہے کہ کیوں اس لفظ کو ترک کیا جائے۔ اگر یہ کہا جائے کہ صدا سے التباس نہ ہو، اس غرض سے اس غریب کو اردو کی برادری سے کان پکڑ کر نکال باہر کیا تو میں کہوں گا کہ ہماری زبان میں بہت لفظ ایسے موجود ہیں جو ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں اور وہ بے تکلف استعمال کئے جاتے ہیں۔ مگر حرف استثنا ہے اور ایک دریائی جانور کا نام بھی ہے اور کسی سے سر گوشی کرنے کا امتیاز بھی رکھتا ہے۔ کیوں نہ اس لفظ کو صرف ایک معنی میں استعمال کیا جائے اور باقی دو میں ترک کر دیا جائے۔ایک اور لغت صلوات ہے جو دو بالکل متناقص معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ بھاشا کے ایسے بہت لفظ اردو میں موجود ہیں جو سدا اور صدا سے بھی زیادہ متشابہ باہم ہیں۔ کہئے کہ تلفظ اور املا میں عربی یا فارسی الفاظ سے بالکل یکساں ہیں۔ جیسے کالا، مالی، مور، بندر، در وغیرہ۔ کیوں بھاشا لفظ متروک قرار دیا جائے اور عربی فارسی کے نہیں جن کے مترادف اردو میں موجود ہیں۔یہ دیکھ کر نہایت تعجب ہوتا ہے کہ ادھر تو ایک لفظ کو اس کے مقدس معنی سے ہٹا کر نہایت مکروہ معنی پہنائے جاتے ہیں اورادھر ایک لفظ کو جس کا ہم وزن ہم معنی میسر نہیں، اس بنا پر ترک کیا جاتا ہے کہ اس کی آواز ایک اور لفظ کی آواز سے ملتی ہے۔ ہمیشہ، دائم، دائما، مدام وغیرہ الفاظ رباعی ہیں بلکہ بعض ان میں سے خماسی بھی۔ جناب جلیلؔ اور جناب اکبر نے بہت معقولیت سے کام لیا کہ انیس اور مومن کے استعمال کی تقلید کی۔ میں ان ’’تارکان ادب‘‘ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ان کا عندیہ یہ ہے کہ سے، میں، کا جیسے چند روابط گنتی کے مصدروں، دس پانچ اسمائے ذات اور دو چار صفات کے سوا باقی تمام اردو اور سودیشی لفظ زبان سے خارج کر دیے جائیں اور ان کی جگہ عربی اور فارسی، ترکی، مصری، عراقی وغیرہ الفاظ بھرتی کئے جائیں؟ ایسا ہے تو اس کا اعلان ہونا چاہئے تاکہ کوئی دھوکے میں نہ رہے۔جن لوگون نے ہندی اور اردو بنائی وہ ایک اور زبان بھی بنا سکتے ہیں۔ اساتذہ اور مشاہیر کے کلام کے اقتباسات سے واضح ہو سکتا ہے کہ اکثر نام کے متروکات کی متروکی حیثیت کہاں تک اسم با مسمیٰ کی شان رکھتی ہے۔ ان ’’تارکان ادب‘‘ نے یہ بھی کیا ہے کہ ایک شاعر نے کوئی غلطی کی یعنی غلط استعمال کیا یا ایک استاد کے باب میں کہہ دیجئے کہ تصرف کیا تو اسے بھی متروکات میں شامل کر کے اپنی فہرست کی طوالت میں اضافہ کر دیا ہے۔ مثلاً حضرت عشرت، خواجہ آتش کے المضاف کو بھی متروکات کی ذیل میں لے آئے ہیں۔ خواجہ مرحوم نے لا علمی سے یا بے خیالی میں المضاف کو غلط باندھ دیا تھا۔زہر پرہیز ہوگیا مجھ کودرد درماں سے المضاف ہوااسی طرح صاحب نور اللغات نے خواجہ مرحوم کی دوسری غلطی یا ’’تصرف استادانہ‘‘ یا شاعرانہ مجبوری کو جو ’’حلوہ بے دود‘‘ کی شکل میں ظہور پذیرہوئی تھی، متروکات کی فہرست میں رکھ دیا ہے۔ ’’سندیسا‘‘ کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔ یہ واقعات طویل استدلال سے مستغنی کر کے یقین دلاتے ہیں کہ ان کی فہم نے ’’متروک‘‘ کی تعریف ہی متروک قرار دے دی ہے۔ غرابت، مخالفت قیاس لغوی، ضعف تالیف وغیرہ کے تحت میں جو ذمائم اور نقائص بیان کئے گئے ہیں، ان سب کومتروکات میں گڈ مڈ کر دینا ایسا کرنے والوں کی علمی استعداد اور فن کی واقفیت کی قلعی کھولتا ہے۔متروک کی تعریف یہ قرار دی جا سکتی ہے، ’’متروک وہ لفظ یا ترکیب ہے جو ایک وقت میں ایک زبان میں بغیر کسی قید یا تخصیص کے مستعمل ہو لیکن پھر اس کا استعمال بالکل یا اس کے ایک مختص معنی میں ترک کر دیا گیا ہو۔‘‘اس اہم موضوع پر کسی نے تفصیل اور دلائل کے ساتھ بحث تو کی نہیں، ہاں کیاتو یہ کیا کہ اپنے زعم میں جن لفظوں یا صیغوں کو رکیک اور مذموم یا غلط سمجھا، انہیں آنکھ بند کر کے متروکات کی فہرست میں داخل کر دیا۔ لکھنؤ والوں نے دہلی کی خصوصیات کو اور دہلی والوں نے لکھنو کی خصوصیات اور اغلاط کو متروکات کی مثل میں نتھی کر دیا اور سب نے پنجاب کی خصوصیات کو متروکات قرار دے دیا۔ اردو کے متروکات اور مترادف کی تعریف ہر ایک کے ذہن سے پرے ہی پرے رہی۔ اور یہ بھی ہوا کہ ایک جگہ کے مستقل متروک کی پروا اس شخص نے جو وہاں سے ادبی واسطہ نہیں رکھتا تھا مطلق نہ کی۔مثلا آگے ذکر آ چکا ہے کہ صاحب نور اللغات نے اپنے ہاں متروکات کی فہرست کو فضول طول دیا ہے لیکن اس پر بھی وہ فہرست مکمل نہیں۔ جاننا چاہئے کہ دہلی کے فصحا میں ’’دکھنا‘‘ متروک اور غیر فصیح ہے اور اس کے بدلے ’’دکھائی دینا‘‘ کہتے ہیں۔ اگر چہ میں اس ترک کے خلاف ہوں کیونکہ مجھے کوئی برہان ناطق نظر نہیں آتی کہ کیوں کہ ایک چار حرف کا لفظ ترک کر کے اس کی جگہ نو حرف کا لفظ وجوباً استعمال کیا جائے۔ میرے ہاں یہ لفظ ایک جگہ آ گیا تھا۔ احباب نے ٹوکا میں نے کہا آپ سے نکلے تو نکال دیجئے۔ اس میں وہ سب قاصر رہے۔ آخر وہ اسی طرح قائم رہا۔اسی ضمن میں ایک اور لفظ کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔ وہ لفظ ہے گیرنا، گیر نا قاعدہ تعدیہ کے عین مطابق گرنا سے بنا۔ جیسے پھرنا سے پھیرنا، مرنا سے مارنا، لٹنا سے لوٹنا، گیرنا پہلے لکھنؤ میں پھر دلی میں متروک ہوا لیکن اگر یہ سوال کیا جائے کہ گیرنا کیوں متروک ہے تو اس کا جواب کہیں سے نہیں ملتا۔ یہاں جو ذکر آ گیا ہے تو میں ایک اصول کی بات بتانا چاہتا ہوں۔ہم لوگ یعنی ہندوستان کے ہندو مسلمان خواہ کسی خطے اور حصے میں رہتے ہوں، مذہبی عقیدت اور دینی احکام کی پابندی میں نہایت راسخ اور استوار ہونے کے باوجود تہذیب و اخلاق کے باب میں نہ صرف یقین سے بلکہ عمل سے بھی ضعیف الاعتقاد اور ڈھلمل یقین ہیں۔ شبہ شنکا، شگون بد شگون، سعد و نحس وغیرہ ارکان دین کے ساتھ ساتھ ہمارے دلوں پر مسلط ہیں۔ نذر نیاز، بھینٹ چڑھاوا، سامنے سے چھینک پڑی ابھی مت جاؤ، بلی راستہ کاٹ گئی، کسی سے لڑائی ہوگی، اس طاقچے کو جمعرات کے دن سہرا اور گھی کا دیا چڑھاؤ، اس پیپل کے پیڑ کو پورن ماسی کی رات کو دودھ پلاؤ اور کلاوہ پہناؤ، وہ پیر جی پرانے بخارکا تیر بہدف تعویز دیتے ہیں، سول سرجن ہو جائیں تو ضرور ان پیر جی کو بلائیں گے، وہ بھگت جی تلی کا حکمی جھاڑا کرتے ہیں، کل مسہل ہولے تو جھڑوا لایا کرو۔مختصر یہ کہ جب افراد کے مزاج میں سودائیت غلبہ پا جاتی ہے تو نظام اعصابی ماؤف ہو کر ذکی الحس ہو جاتا ہے۔ یعنی ذرا سی سردی یا گرمی سے طبیعت بگڑ جاتی ہے۔ برائے نام تری یا خشکی کی زیادتی بیماری کی صورت پیدا کر دیتی ہے۔ خاص اسباب سے جو کیفیت افراد کی جسمانی صحت میں مریضانہ چڑوندا پن کی شکل میں صورت پذیر ہوتی ہے، ویسی ہی کیفیت انسانوں کی من حیثیت الجماعت ذہنی صحت میں احساس کی مریضانہ شدت کی شکل میں صورت پذیر ہو جاتی ہے، جس کی آئینہ برداران کی زبان ہوا کرتی ہے۔ جنہوں نے علمی اصول پر زبانوں کی تحقیق کی ہے، وہ ایک زبان کی ساخت، اس کے محاوروں، کہاوتوں اور صنائع بدائع سے اس کے استعمال کرنے والوں کے سیر اور تہذیب معاشرت کا مجسمہ تیار کر لیتے ہیں۔جبکہ ہماری معاشری اور جماعتی حالت وہ ہے جس کی طرف ابھی اشارہ ہوا تو یہ امر لابد تھا کہ ہماری زبان شکوک اور واہمہ کی زیر مشق ہو۔ جبھی تو آپ دیکھتے ہیں کہ نقائص اور سقائم عیوب اور ذمائم جتنے ہمارے ہاں بتائے جاتے ہیں اس قسم کی کسی اور زبان میں نہیں پائے جاتے۔ ایک ذم کا پہلو ہی ایسا جن ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے کہ شاید کوئی اس سے بچا ہوگا۔ جو بولو وہی لکھو، نہیں تو فصاحت کی ٹکسال سے باہر۔ یہ کانوں کو بھلا نہیں معلوم ہوتا۔ وہ لفظ اب تک کسی نے استعمال نہیں کیا۔ یہ روز مرہ کے خلاف، وہ محاوروں کی سندکا محتاج وغیرہ وغیرہ۔ ان سب باتوں پر طرہ یہ کہ لے دے کے تین حروف علت۔ تو ہماری زبان کی پونجی مگر وہ بھی منہ کھول کر اپنا نام نہیں بتانے پاتے۔کوئی کہتا ہے فارسی الفاظ کا الف گرانا جائز نہیں، کوئی حکم لگاتا ہے کہ الف واؤ یا کسی کا بھی تقطیع سے ساقط ہونا جائز نہیں۔ کوئی فتویٰ دیتاہے کہ واؤ اور ی کا مضائقہ نہیں لیکن الف سالم الصوت اور تقطیع کے اندر رہنا چاہئے۔ یہ شاید اس ادب کے پاس سے کہ رام اور خدا میں یہ حرف آیا ہے اور یہ کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ اردو نظم میں آخر ایسی کیا بات ہے کہ اس غریب تثلیث کی گوشمالی ناگزیر ہے۔ 8عرصہایک صاحب فرماتے ہیں، ’’عرصہ بمعنی مدت آج کل زبانوں پر بہت جاری ہے مگر احتیاط لازم ہے کیونکہ عرصہ بمعنی میدان ہے۔‘‘ محض یہ واقعہ کہ یہ لفظ آج کل اس معنی میں زبانوں پر بہت جاری ہے، اس کے ترک کے خلاف بیٹھتا ہے۔ پھر حرج کیا ہے اگر دونوں معنوں میں استعمال کیا جائے۔ لیکن لکھنے والے نے یہ غلط کہا کہ عرصہ بمعنی مدت آج کل زبانوں پر بہت جاری ہے۔ ہم تو شہنشاہ اورنگ زیب کے زمانہ سے اس لفظ کو اس معنی میں سن رہے ہیں۔ نعمت خاں عالی وقائع اول میں فرما گئے ہیں،یکے بشرط کہ فرداست کوچ تا دہلیتواں بہ عرصہ چہل روز یاد و ماہ رسیدعادیمشکور یہ بھی ہو رہا ہے کہ عرصہ کی طرح فارسی عربی کے وہ الفاظ جو ابتدا سے اب تک ایک خاص معنی میں مستعمل تھے اب ترک کئے جا رہے ہیں۔ وہ لوگ یہ بھولتے ہیں کہ ایک لفظ کے لغوی معنی کے علاوہ اور معنی بھی ہوا کرتے ہیں اور کہ کلام کی عقلی حقیقت یا عقلی مجاز متکلم کے عندیہ اور اعتقاد پر منحصر ہے۔ جب عادی اور مشکور مدتوں سے عادت گیر ندہ اور احسان مند کے معنی میں استعمال ہو رہا ہے اور متکلم اور سامع دونوں کا ذہن انہیں معنوں کی طرف جاتا ہے تواب قاموس اور صراح سے فتویٰ لے کر ان الفاظ کو اردو سے خارج کرنے میں کیا مصلحت ہے؟ میں کہتا ہوں کہ گلاب کی مانند ان کو بھی مہند کیوں نہ مانا جائے۔ جس طرح گلاب سے گلابی بنا لیتے ہیں اسی طرح مشکور سے مشکوری بنا لیا تو کیا حرج ہو گیا؟ معنی یا املا اور ہجا کی تبدیلی کے ساتھ بے شمار الفاظ مفرس اور معرب ہو گئے ہیں۔ زکی مرحوم فارسی عربی میں مسلمہ قابلیت رکھتے تھے اور مرزا غالب کے ارشد تلامذہ میں تھے۔ انہوں نے مشکور استعمال کیا ہے۔ہوئی تقدیم احساں احسن تقویم سے ثابتنہ ہو مشکور پھر کیوں بندہ لطف کبریائی کاجناب ضامن کنتوری ’’گلزار نسیم اور تنقید نقاد‘‘ والے مضمون میں مشکور لکھتے ہیں۔ عادی ہر اہل زبان کی زبان پر ہے۔ حضرت جلالؔ نے اس بنا پر اس لفظ کو اردو سے خارج کیا تھا کہ اس کا وجود اردو کے ثقات شعرا کے کلام میں پایا نہیں جاتا۔ حکیم صاحب اگر نواب مرزا لکھنوی کو ثقات شعرا میں نہیں سمجھتے تھے، جو کہہ گئے ہیں۔ہم تو دشمن میں جعل سازی کےآپ عادی ہیں ’’رنڈی بازی‘‘ کےتو خواجہ وزیر لکھنوی تو یقیناً ان ثقات حضرات کے حلقے کے ایک اعلیٰ رکن ہیں۔ فرماتے ہیں،تیغ ابرو کی زبان عادی ہوئیبات سیدھی بھی جو کی ٹیڑھی ہوئیاسی پر اور الفاظ کے ترک کے اسباب اور علل کو قیاس فرما لیجئے۔اضافتیںیہ قرار دیا گیا ہے کہ تین مسلسل اضافتوں سے زیاد ہ کلام میں لانا ممنوع ہے لیکن اس کی پابندی کم ہوتی ہے۔ حضرت ریاضؔ ایک جگہ چار اضافتیں لکھ گئے ہیں۔ فرماتے ہیں،رہ گئے ہم گرد پس کارواںنقش کف رہروان سخننقش کف پا بھی نہیں نقش آبخاک سر آب روان سخندیکھئے چھوٹی بحر کے ان چار مصرعوں میں بارہ اضافتیں آئی ہیں۔اضافت وہیں تو لابد لانی پڑتی ہے جہاں تشبیہ اور استعارہ سے کام لیا جائے اور ان صنعتوں میں ہندی اردو سے کہیں بڑھی ہوئی ہے۔ ہندی والے کس طرح کسرہ اضافت کے بغیر ان کا نباہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فارسی میں اضافتوں کی اتنی بھر مار کیوں نہیں ہوتی۔ خواجہ حافظ اور نظیری کی غزلیں پڑھئے۔ اضافت کی وہ بہتات ان کے ہاں ہرگز نہیں جو اردو میں مرزا غالب اور اقبال کے ہاں پائی جاتی ہے بلکہ خود مرزا صاحب کے فارسی کلام میں اضافتوں کا وہ ہجوم نہیں جو ان کے اردو کلام میں موجود ہے۔ یہ ضرور ہے کہ جب آپ نے دو تین کے سوا باقی تمام حروف تشبیہ متروک قرار دے دیے 9 جیسے آسا، ساں، نمط، صفت، رنگ وغیرہ تو پھر تشبیہ اور استعارہ کا نباہ نا ممکن کے قریب ہو جائے گا۔ ان سب امور کو نظر میں رکھ کر راقم کی رائے ہے کہ نثر میں اضافت وجوباً متروک قرار دی جائے اور نظم میں دو سے زیادہ اضافتیں نہ لائی جائیں۔ نظم میں غزل بھی داخل ہے لیکن غزل گو شعرا سے بھی یہ کہوں گا اگر یہ درست ہے کہ غزل میں معشوق سے بات چیت کی جاتی ہے اور وہ معشوق اناث کی جنس کا ایک فرد ہے، فعل خواہ کسی صیغہ میں لایا جائے تو ان سب ہے کہ ایسی غزل کو اضافت سے معرا رکھا جائے کیونکہ عورتیں اضافت نہیں بولتیں۔ ریختی کے دیوانوں میں اضافت کا نشان کہیں نہ ملے گا۔ غزل کا معشوق اسی زبان میں بات سننا پسند کرے گا جو وہ خود بولتا ہے۔نوننون کے غنہ رکھنے یا اس کے اعلان کا قاعدہ بھی کلیہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ تو مانا کہ اضافت کے بعد اس کا اعلان جائز ہے 10 لیکن اضافت کے بغیر اس کے اعلان یا غنہ ہونے کے متعلق کوی التزام نہیں رکھا گیا۔ بس یہی کہہ دیا ہے کہ بلا اضافت نون کا اعلان ہونا چاہئے مگر جن الفاظ کا نون روز مرہ میں غنہ بولا جاتا ہے اس کا اعلان مکروہ ہے۔ ان الفاظ کی مکمل فہرست چاہئے تھی۔متبعض ہندو فرقوں میں عورتوں اور ملک کے ایک خاص حصہ میں اس لفظ کا جا و بے جا استعمال دیکھ کر یہ حکم لگا دیا کہ مت نفی کے معنی میں متروک ہے۔ راقم بھی اس معنی میں اس کے ترک کا حامی ہے۔ لیکن فعل نہی حاضر کے صیغہ کے استثنا کے ساتھ اس موقع پر مت کے بغیر نہیں کی تاکید آدھی بھی نہیں رہتی۔اب میں اس قسم کی بحث کو فی الحال بند کر کے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اب تک کوئی اصول اور قاعدہ الفاظ اور ترکیبوں کے ترک کرنے کا اردو میں وضع نہیں کیا گیا ہے۔ راقم کے نزدیک ایک لفظ یا مرکب کو متروک اعلان کرنے سے پہلے ان اصولوں کا لحاظ رکھنا چاہئے۔(ا) جو لفظ کریہہ الصوت ہو یا ثقیل التلفظ ہو جب کہ اس کا مترادف موجود ہو۔(ب) جس میں بالذاتہ دوسرے الفاظ کے ساتھ مل کر ذم کا پہلو نکلتا ہو۔(ج) علاوہ ان نقائص کے جو غرابت اور مخالفت قیاس لغوی کے تحت میں آتے ہیں، ایسے الفاظ اور ترکیبیں جن کو پورے طور پر سمجھنے کے لئے عربی یا فارسی لغات دیکھنے کی ضرورت پڑے۔ یعنی اردو کو عربیرانی نہ بنایا جائے۔ (عرب اور ایران کی زبان سے ماخوذ)(د) جو الفاظ سلاست، فصاحت اور ترنم کے منافی ہوں اور اردو کی شخصیت کے قیام میں حارج ہوں۔ان میں تخرجہ تعمیہ ہو سکتا ہے۔ اصل میں ایسے اصول قائم کرنا کسی ایک انسان کا کام ہے ہی نہیں۔ انجمن ترقی اردو کا فرض ہے کہ وہ ایک جامع اجلاس کسی مرکزی مقام پر منعقد کرنے کا انصرام کرے جہاں ملک کے ہر حصے کے ادیب اور مصنف جمع ہوں اور اس معاملہ اور زبان کے متعلق دوسرے امور کا فیصلہ پوری بحث مباحثہ کے بعدہو کر قرار دادیں قائم کی جائیں۔ راقم کے ذہن میں چند الفاظ اور باتیں ایسی ہیں جنہیں ترک کر دینا چاہئے۔ مگر میرے متروکات دو قسم کے ہیں۔ لفظی اور معنوی۔لفظی متروکات کا ذکر ہر شخص کرتا ہے اور انہیں سے اس مضمون میں اب تک بحث کی گئی ہے۔ مناسب بلکہ ضروری ہے کہ متروکات کے دفتر میں معنوی متروکات کی جدا مثل ترتیب دی جائے۔معنوی متروکاتمیری رائے میں امور ذیل کا انتظام بطور معنوی متروکات کے ہونا چاہئے۔(ا) خط عارض یا معشوق کی ڈاڑھی مونچھ کا تذکرہ قطعاً ترک کر دینا چاہئے۔ مشاہیر میں حضرت جلیل تک اس کا وجود پایا جاتا ہے۔ تاج سخن میں لکھا ہے۔نمود سبزہ رخ پر سکوت ان کا ہوا یہ خط وہ آیا جس کا کوئی جواب نہیںامید کی جاتی ہے کہ غزل گو حضرات یہ تجویز بلا چوں چرا منظور فرمائیں گے۔(2) معشوق کی کم سنیداغؔوہ کم سنی میں کھیل بھی کھیلیں گے تو یہیمٹی کے تیغ و ناوک و خنجر بنائیں گےابھی سن ہی کیا ہے جو بے باکیاں ہوںانہیں آئیں گی شوخیاں آتے آتےسہمے جاتے ہیں ڈرے جاتے ہیں وہ عاشق سےکم سنی ہے ابھی اس سن میں جھجک ہوتی ہےجلیلؔوہ کم سنی کے سبب واقف عتاب نہیںدم سحر ہے ابھی گرم آفتاب نہیںغزل کی یہ بیہودگی، شرافت اور صالح مذاق کے اس قدر منافی ہے کہ ایراد و تعریض کی محتاج نہیں۔ اس اخلاقی جرم سے بچنا چاہئے۔(3) معشوق کا روٹھنا سر آنکھوں پر مگر گالیاں دینا اور کوسنا سوقیت اور رکاکت کی خبر لاتا ہے اس لئے اس ناشائستہ حرکت سے اسے وجوباً باز رکھنا چاہئے۔(4) قصابی مضمون۔ یہ نام میں ایسے مضمون کو دیتا ہوں،نہ سوچے ہم کہ تہ تیغ ہوگی خلق اللہگھٹا نہ حوصلہ قاتل کے دل بڑھانے کامعشوق نہ ہوا کسی شہر کے مسلح کا میر قصاب ہوا۔لگائیں لاش پہ تلواریں اس نے مقتل میںجو میرے بعد بھی آیا مرا ہی وار آیاامیرؔاتر کر اس نے مقتل میں جو کھینچا میان سے خنجرقضا میداں سے بھاگی بیٹھ کر قاتل کے تو سن پرمہتاب داغ میں 88 جگہ اس قسم کے قصابی مضمون آئے ہیں۔ اس قبیل کے مضامین میں سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ معشوق کی جنسیت کے متعلق سامع کا ذہن ایک خاص جانب منتقل ہوتا ہے اور شاعر کے مذاق کو مسموم ٹھہراتا ہے۔ ستم گر اور ظالم کے ساتھ سفاک اور قاتل معشوقوں کے ناموں میں رہنے دیجے مگر یہ قتل اور سفاکی، بوندی کی کٹاری، سروہی کی تلوار اور اصفہانی شمشیر سے نہیں ہوتی۔ اس کے لئے قدرت نے ان کو اور ہتھیاروں سے مسلح کیا ہے، جیسے تیغ ادا، تیر نظر، شمشیر تغافل، سنان مژگاں۔ قدرت کی کار پردازی آپ کی اصلاح اور ترقی سے مستغنیٰ ہے۔ یہ ہتھیار آپ کے تیغ اور تیر سے زیادہ کاری ہیں اور معشوق کی جنسیت بھی قائم رہتی ہے۔(5) وصل۔ اس مضمون کے اشعار میں ایسی بد مذاقی اور عریاں نویسی سے کام لیا جاتا ہے کہ کوئی شاعر سینہ پر ہاتھ مار کر یہ نہیں کہ سکتا کہ میں اپنی غزلیں اپنی ماں اور باپ اور بہن کے سامنے پڑھا کرتا ہوں۔ خلخال پائے دوست کی جھنکار منہ اور زبان کے مضامین اور زیادہ کیا کہوں۔ بھلا ان باتوں میں شاعری کا کون سا کمال اور ادب کا کون سا معجزہ دکھایا جاتا ہے۔ راقم کی ناقص رائے میں اس قسم کے مضامین اور وصل کا یہ مفہوم ایک قلم ترک ہونا لازم ہے۔ اس کا مفہوم صرف اور محض عاشق معشوق کا ایک جگہ بیٹھنا جیسے دو پیارے دوست بیٹھتے ہیں، شکوہ شکایت اور پیار محبت کی میٹھی میٹھی باتیں، باغ میں ساتھ پھرنا وغیرہ وغیرہ ہونا چاہئے۔ سونا، پلنگ اور شبستاں یا خواب گاہ میں معشوق سے تخلیہ کرنا وجوباً متروک ہونا چاہئے۔(6) جوبن کی نسبت کچھ قیدیں ہیں لیکن اس پر کار بند کوئی نہیں ہوتا۔ تذکرہ نویسوں اور رسالہ والوں کو چاہئے کہ ایسے شعر قلم زد کر دیا کریں۔ اپنے شاگردوں کی غزل بناتے وقت استادوں کو بھی اس کا اور نیز دوسرے امور کا خیال چاہئے جن کا ذکر اس ذیل میں آیا ہے، مختصر یہ کہ معشوق کا سر اور گردن ہاتھ کہنی تک پاؤں ٹخنے تک شاعری کی ملکیت ہونی چاہئے۔ کمر کو وحدہ لاشریک کی مصداق پر مان کر اس کی نازکی کا تذکرہ کر سکتے ہیں۔ جسم کے باقی حصوں اور عضوؤں سے لا دعویٰ ہونا چاہئے۔(7) معشوق کا لباس۔ معشوق کی کج کلاہی اور ایک پیچہ وغیرہ تو اب لوگ بھول گئے ہیں اور زیادہ توجہ زنانہ لباس کی جانب ہے۔ جب یہ تسلیم ہو چکا ہے کہ معشوق ہمشہ اناث کی جنس سے ہے تو اس باب میں اور بھی احتیاط درکار ہے۔ دوپٹہ آنچل اس تذکرہ میں کافی ہے۔ یہ ساڑی پہننے والوں اور دوسری قسم کی پوشاک والوں سب پر عائد ہو سکتا ہے کیونکہ ہندوستان کی ہر زنانی پوشاک میں آنچل کا وجود ثابت ہے۔ دامن اور زیریں لباس کے گھیر کا بھی مضائقہ نہیں۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جو کسی خاص فرقہ یا پبلک کے حصہ سے مختص نہیں۔ پوشاک کی باقی چیزوں کا ذکر وجوباً متروک ہونا چاہئے۔(8) غزل میں ایک اور انوکھا سوانگ بھرا جاتا ہے۔ شاعر اپنے آپ کوپرند بنا کر صیاد کے جال میں پھنساتا ہے، وہاں سے پنجرے میں منتقل کیا جاتا ہے جہاں میاں مٹھو بنا کر چڑی مار کو کوسا کرتا ہے۔ کبھی دشت جنوں میں تنکے چننا بھول کر جو اس کا منصبی فرض تھا، سچ مچ کے تنکے چننے لگتا ہے۔ اس سے اپنا گھونسلا بناتا ہے۔ وہ تو خیریت گزری اس نشیمن کو بجلی نے فنا کر دیا ورنہ عجب نہ تھا کہ انڈے بچوں کی نوبت آ جاتی۔ فہم قاصر ہے کہ ان مضمونوں میں عاشقی اور شاعری کی کون سی شان اور نازک خیالی مضمر ہے۔ بلبل اگر پھول کی شیدا ہے تو ہو آپ کو انسان پیدا کیا ہے، انسانیت کی باتیں کیجئے۔(9) دل کی تجارت۔ ہمارے شعری عاشق دل کے معاملے میں بھی بد نظمی سے کام لیتے ہیں۔ دل دینے میں ایسی جھک جھک اور تکرار ہوتی ہے کہ چھٹ بھیا دوکانداروں سے سودا کرنا بھول جاتا ہے۔ گلی کوچوں کا وہ نظارہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوگا جب پھیری والا سرمہ، مسی، فیتے اور چوڑیاں بیچنے آتا ہے یا ایک جہانیان جہاں گشت ’’زری گوٹا پرانا‘‘ کی آواز لگاتا ہے۔ اکثر عورتیں ان سے لین دین کرتی ہیں۔ دام چکانے میں پیسے پیسے پر وہ تکرار ہوتی ہے کہ الہی ا مان۔ یہی گت ان زبانی عاشقوں نے جو انفس جذبات اور لطیف حسیات کے لئے مردہ ہیں دل جیسی چیز بنا رکھی ہے۔ متاخرین تو لکھتے ہی تھے،غالبؔکہتے ہیں نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایادل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایادل نہ ہوا کسی اچکن کا ٹوٹا ہو ابٹن ہواکہ اس طرح پڑا مل جائے۔ استاد ذوق نے اس پر ترقی کی،ذوقؔمال جب اس نے بہت رد و بدل میں ماراہم نے دل اپنا اٹھا اپنی بغل میں مارا’’ہم‘‘ نہ ہوئے ٹٹ پونجئے پھیری والے ہوئے کہ ایک گاہک سے سودا نہ بنا تو اپنا بقچہ باندھ کر چلتے بنے اورآگے جاکر ’’سرمہ مسی‘‘ پکارنے لگے۔ داغؔ اور امیرؔ کے ہاں بھی دل کا سودا ہوا ہے۔ جلال فرماتے ہیں،جلالؔجلد دل کا فیصلہ کچھ ہو چکےلے چکو سودا یہ جتنے کو چکےکبھی عاشق اڑ بیٹھتا ہے کہ ایک بوسہ دو تو دل دوں۔ یہ باتیں نہایت رکیک ہیں۔ ان میں ابتذال کی پھٹکار ہے۔ دل بھی کوئی بیع و شرا کی جنس ہے۔ وہ جب کسی پر آتا ہے تو کسی کی اجازت سے نہیں آتا۔ اپنے آپ آتا ہے اور کسی کے روکے نہیں رکتا۔ قوت ارادی کااس میں دخل نہیں۔ عاشق بیپاری نہیں ہوا کرتے۔ دیکھئے اللہ بخشے میر تقی کس خوش اسلوبی سے دل کے ہاتھ سے جانے کا نقشہ اتار گئے ہیں۔ شاعر پر اگر یہ روحانی کیفیت طاری نہیں ہوئی تو اس کا بیان ہی کیا ضرور ہے۔ اور پھر آپ بیتی نہیں کہہ سکتا تو جگ بیتی ہی کہے لیکن عشق کے مسلک کو پیٹھ اور نخاس تو نہ بنا دے،میرؔپڑ گئی اس پہ اک نظر اس کی پھر نہ آئی اسے خبر اس کیتھی نظر یا کہ جی کی آفت تھیوہ نظر ہی وداع طاقت تھیہوش جاتا رہا نگاہ کے ساتھ صبر رخصت ہوا ایک آہ کے ساتھبے قراری نے کج ادائی کیتاب و طاقت نے بے وفائی کییہ چند معنوی متروکات ہیں جن کی طرف شاعروں اور ادیبوں کی توجہ دلائی جاتی ہے۔ اس قبیل سے اور بہت سے امور احتراز کے قابل ہیں جن کا بیان طوالت کے خوف سے اس وقت ملتوی رکھا جاتا ہے۔لفظی متروکات(1) نثر میں اضافت کا استعمال قطعاً ترک کیا جائے۔ اصطلاحیں، محاورے اور لفظوں کے مقررہ جگ مستثنیٰ ہیں، جیسے علت غائی، نام خدا۔ گوشت خر، دندان سگ وغیرہ۔(2) واؤ عاطفہ کے ساتھ بھی اضافت کا سلوک کرنا چاہئے۔(3) تا بہ ابد تا بمعنی تک اور جب تک۔ تا چند وغیرہ فارسی روابط سے احتراز لازم ہے۔ یہ اصول قرار پانا چاہئے کہ فارسی روابط اور مرکبات جہاں تک ہو سکے اردو میں کم ملائے جائیں۔(4) نظم میں اضافت۔ غزل میں قطعاً متروک سمجھی جائے۔ نیچرل نظموں میں دو سے زیادہ اضافتیں ایک ساتھ نہ لائی جائیں۔ اس کے متعلق آگے مفصل مذکور آ چکا ہے۔(5) نظم میں واؤ عاطفہ ایک دفعہ سے زیادہ مسلسل نہ آئے۔ کبھی ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پورے مصرعے کے تمام الفاظ تسلسل کے ساتھ معطوف معطوف علیہ واقع ہوئے۔ اس اسلوب سے مصرعہ کا مصرعہ فارسی ہو جاتا ہے۔آخر میں یہ عرض کرنا ہے کہ یہ مضمون اجتہاد کے طریق پر نہیں بلکہ استشہاد کے طور پر لکھا گیا ہے۔ راقم ممنون ہوگا اگر فن کے واقفوں اور ادیبوں ارو نظم نثر کے لکھنے والوں نے اس طرف توجہ فرمائی۔ یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ متروکات کے باب میں راقم کا یہ مذہب ہے۔سر برہنہ نیستم دارم کلاہ چار ترکترک دنیا، ترک عقبیٰ، ترک مولا ترک ترکمیں ادب اور زبان کے معاملوں میں ’’بر چھی گردی‘‘ کے سخت خلاف ہوں جس کا ثبوت خود میرا کلام ہے۔ ہاں زیادت جیسی کلام کا سقم ہے ویسی ہی فن کے قواعد کی توضیع کا۔ میں دیکھتا ہوں کہ ایک فریق ایک امر میں ایک حد پر جاتا ہے تو دوسرا دوسری حد پر۔ یہ باز گشتی حرکت قدرت کے قانون کا خاصہ ہے۔ شاید اسی نہج پر جناب عزیز نے ایک صدی کے مردہ لفظ کو پھر زندہ کرنے کا خیال فرمایا۔ہر داغ دل ہے گویا تاریخ میرے تن میںجلوے ہیں رفتگاں کے پیدا اسی چمن میںعربی کا ایک مشہور قول ہے۔ ’’یجوز لاشعر مالا یجوز لغیرہ‘‘ یعنی جو دوسروں کو جائز نہیں وہ شاعرکو جائز ہے۔ اس جواز کا جائز استعمال مفقود ہے اگر عریاں نویسی، ابتذال نگاری، با سلیقہ سرقہ اور زبان سے اخلاقی جرائم کا ارتکاب اس قول کا مفہوم ہے تو میں خاموش ہو جاؤں گا ورنہ اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر اس کا مفہوم انشا اور اسلوب سے علاقہ رکھتا ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ جتنی قیدیں نظم لکھنے والوں پر عائد کی گئی ہیں وہ سراسر جابرانہ اور ناجائز ہیں اور اس قول کے بالکل منافی۔ نہ اس سے زبان کی ترقی ہوگی نہ تخیل شاعرانہ کی توسیع، ایسی کاجو بھو جو زبان جو ہمارے نقاد اور غیر مصنف ادیب بنانا چاہتے ہیں، سر سبز نہیں ہو سکتی۔ ہمارا دستور العمول یہ ہونا چاہئے،مصلحت بیں و کار آساں کنورنہ خوف ہے کہ اگر اس خرج یخرج اور ترک یترک کی لے یوں ہی بڑھتی گئی تو کہیں مرزا غالب کایہ قول ہمارے حال کی مصداق نہ ہو جائے۔مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آسان ہو گئیں\n\nحاشیے\n\n(1) اس کا ذکر مفصل بعد میں آئے گا۔\n\n(2) بعض اورنگ زیب کا زمانہ بتاتے ہیں۔ دکنی اردو کے پہلے کے دیوان مصنف تک اس لکچر کے بعد پہنچے۔\n\n(3) اس کا مفصل ذکر آگے آئے گا۔\n\n(4) دیکھو فرہنگ آصفیہ، مولفہ شمس العلما سید احمد صاحب دہلوی۔\n\n(5) آب حیات پانچویں دور کی تمہید۔\n\n(6) تارکان ادب کے قول کے مطابق اس شعر میں دو متروکات موجود ہیں۔ دوسرے مصرعہ میں بجائے پر کے پہ آیا ہے مگر شعر کی شان ملاحظہ کے قابل ہے۔\n\n(7) امیر مرحوم نے صنم خانہ میں ایک جگہ ضرور استعمال کیا ہے،دل جو دیں ان سے تواے جان یہ گہرا پردااور روا رکھتے ہیں پردے میں پھر آنا دل کا\n\n(8) راقم ’بارے‘ کو ترک کے قابل نہیں سمجھتا۔\n\n(9) یہ موضوع اتنا تفصیل طلب ہے کہ اس سے یہاں بحث نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کسی آئندہ وقت پر ملتوی رکھا جاتا ہے۔\n\n(10) اس بات میں راقم کا کلی اتفاق ادب کے تارکوں کے ساتھ نہیں ہے۔\n\n(11) بہت سے اچھے شاعر اس قید کو نہیں مانتے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AA%D8%B1%D9%88%DA%A9%D8%A7%D8%AA"} {"title": "متکبر نہ ہو زردار بڑی مشکل ہے", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "متکبر نہ ہو زردار بڑی مشکل ہے\nسب ہے آسان یہ سرکار بڑی مشکل ہے\n\nکفر پر خلق ہے تیار بڑی مشکل ہے\nدین بالکل نہیں درکار بڑی مشکل ہے\n\nکیسے ٹیڑھا نہ چلے مار بڑی مشکل ہے\nسیدھی ہو زلف گرہ دار بڑی مشکل ہے\n\nاور ہوں گے وہ کوئی دام میں آنے والے\nمرغ دانا ہو گرفتار بڑی مشکل ہے\n\nدل ہے غم ناک تو کونین ہے ماتم خانہ\nروتے ہیں سب در و دیوار بڑی مشکل ہے\n\nلوگ کہتے ہیں کہ دل اس کو نہ دینا لیکن\nبعد اقرار کے انکار بڑی مشکل ہے\n\nشعلۂ حسن بتاں پھونک نہ دے عالم کو\nسرخ ہیں پھول سے رخسار بڑی مشکل ہے\n\nان دنوں حضرت یوسف کی وہ ناقدری ہے\nنہیں بڑھیا بھی خریدار بری مشکل ہے\n\nمل کے رہنا ہی نہیں جانتا یاں اب کوئی\nجان و دل میں بھی ہے تکرار بڑی مشکل ہے\n\nنہ تردد کا مزا ہے نہ سکوں کی لذت\nکبھی وعدہ کبھی انکار بڑی مشکل ہے\n\nطالب صلح ہوں میں اور نظر طالب جنگ\nرات دن لڑنے پہ تیار بڑی مشکل ہے\n\nہائے دنیا میں کسی میں نہیں اتنی بھی وفا\nجتنا کتا ہے وفادار بڑی مشکل ہے\n\nآج تم تیغ بکف ہو تو صفا چٹ میداں\nکون مرنے پہ ہو تیار بڑی مشکل ہے\n\nجنس دل بیچنے کی ہم کو ضرورت پرویںؔ\nاور معدوم خریدار بڑی مشکل ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AA%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B2%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%91%DB%8C_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "مثال تار نظر کیا نظر نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مثال تار نظر کیا نظر نہیں آتا\nکبھی خیال میں موئے کمر نہیں آتا\n\nہمارے عیب نے بے عیب کر دیا ہم کو\nیہی ہنر ہے کہ کوئی ہنر نہیں آتا\n\nمحال ہے کہ مرے گھر وہ رات کو آئے\nکہ شب کو مہر درخشاں نظر نہیں آتا\n\nتمام خلق میں رہتی ہے دھوپ راتوں کو\nوہ مہر بام سے جب تک اتر نہیں آتا\n\nمحال ہے کہ جہنم میں خلد سے جائیں\nجو در پر آپ کے جاتا ہے گھر نہیں آتا\n\nہماری زیست میں تھے ساتھ کون کون اے برقؔ\nاب ایک فاتحہ کو قبر پر نہیں آتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AB%D8%A7%D9%84_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "مثال سایہ محبت میں جال اپنا ہوں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مثال سایہ محبت میں جال اپنا ہوں\nتمہارے ساتھ گرفتار حال اپنا ہوں\n\nسرشک سرخ کو جاتا ہوں جو پیے ہر دم\nلہو کا پیاسا علی الاتصال اپنا ہوں\n\nاگرچہ نشہ ہوں سب میں خم جہاں میں لیک\nبرنگ مے عرق انفعال اپنا ہوں\n\nمری نمود نے مجھ کو کیا برابر خاک\nمیں نقش پا کی طرح پائمال اپنا ہوں\n\nہوئی ہے زندگی دشوار مشکل آساں کر\nپھروں چلوں تو ہوں پر میں وبال اپنا ہوں\n\nترا ہے وہم کہ یہ ناتواں ہے جامے میں\nوگرنہ میں نہیں اب اک خیال اپنا ہوں\n\nبلا ہوئی ہے مری گو کا طبع روشن میرؔ\nہوں آفتاب ولیکن زوال اپنا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AB%D8%A7%D9%84_%D8%B3%D8%A7%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "مثال چرخ رہا آسماںؔ سر گرداں", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "مثال چرخ رہا آسماںؔ سر گرداں\nپر آج تک نہ کھلا یہ کہ جستجو کیا ہے\n\nیہاں تو کام تمنا ہی میں تمام ہوا\nمگر انہوں نے نہ پوچھا کہ آرزو کیا ہے\n\nیہ بحث کثرت و وحدت کی ہم سے کیوں واعظ\nہماری آنکھوں سے تو دیکھ چار سو کیا ہے\n\nکوئی تو چاہئے رخنہ امیدواری کو\nبرائے چاک جگر حاجت رفو کیا ہے\n\nمثل جہاں میں ہے \"مشتے نمونہ از خروار\"\nجو ہٹ دھرم نہیں تم ہو تو ہٹ کی خو کیا ہے\n\nگواہ ہیں یہ تری بہکی بہکی باتوں کے\nیہ جام کیا ہے یہ مے کیا ہے یہ سبو کیا ہے\n\nتمہارے دانت نہیں ہیرے کی ہیں یہ کنیاں\nتمہارے سامنے موتی کی آبرو کیا ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AB%D8%A7%D9%84_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA%D8%94_%D8%B3%D8%B1_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%A7%DA%BA"} {"title": "مثالِ پرتوِ مے طوفِ جام کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "مثالِ پرتوِ مے طوفِ جام کرتے ہیں\nیہی نماز ادا صبح و شام کرتے ہیں\n\nخصوصیت نہیں کچھ اس میں اے کلیم تری\nشجر حجر بھی خدا سے کلام کرتے ہیں\n\nنیا جہاں کوئی اے شمع! ڈھونڈیے کہ یہاں\nستم کشِ تپشِ ناتمام کرتے ہیں\n\nبھلی ہے ہم نفَسو اِس چمن میں خاموشی\nکہ خوشنواؤں کو پابندِ دام کرتے ہیں\n\nغرض نشاط ہے شغلِ شراب سے جن کی\nحلال چیز کو گویا حرام کرتے ہیں\n\nبھلا نِبھے گی تری ہم سے کیونکر اے واعظ!\nکہ ہم تو رسمِ محبّت کو عام کرتے ہیں\n\nالٰہی سِحر ہے پیرانِ خرقہ پوش میں کیا!\nکہ اک نظر سے جوانوں کو رام کرتے ہیں\n\nمیں اُن کی محفلِ عشرت سے کانپ جاتا ہُوں\nجو گھر کو پھونک کے دنیا میں نام کرتے ہیں\n\nہرے رہو وطنِ مازنی کے میدانو!\nجہاز پر سے تمھیں ہم سلام کرتے ہیں\n\nجو بے نماز کبھی پڑھتے ہیں نماز اقبالؔ\nبُلا کے دَیر سے مجھ کو امام کرتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AB%D8%A7%D9%84%D9%90_%D9%BE%D8%B1%D8%AA%D9%88%D9%90_%D9%85%DB%92_%D8%B7%D9%88%D9%81%D9%90_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مثل آئینہ با صفا ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مثل آئینہ با صفا ہیں ہم\nدیکھنے ہی کے آشنا ہیں ہم\n\nنہیں دونوں جہاں سے کام ہمیں\nاک فقط تیرے مبتلا ہیں ہم\n\nدیکھ سائے کی طرح اے پیارے\nساتھ تیرے ہیں اور جدا ہیں ہم\n\nٹک تو کر رحم اے بت بے رحم\nآخرش بندۂ خدا ہیں ہم\n\nظلم پر اور ظلم کرتے ہو\nاس قدر قابل جفا ہیں ہم\n\nجوں صبا نام کو تو ہیں ہم لوگ\nلیک دیکھا تو جا بہ جا ہیں ہم\n\nزلفیں کہتی ہیں اس کی، عاشق کے\nمار لینے کو تو بلا ہیں ہم\n\nجب سے پیدا ہوئے ہیں جوں افلاک\nآہ گردش ہی میں سدا ہیں ہم\n\nہم بھی کچھ چیز ہیں میاں لیکن\nیہ نہیں جانتے کہ کیا ہیں ہم\n\nشعلۂ ناتوان کی مانند\nہاتھ میں تیرے اے صبا ہیں ہم\n\nگر یہی ہے ہوا یہاں کی تو آہ\nاب کوئی آن میں ہوا ہیں ہم\n\nتو جو کہتا ہے ہر گھڑی تیرے\nدیکھنے سے بہت خفا ہیں ہم\n\nکیا کریں یار تو ہی کر انصاف\nتجھ پہ مائل نہیں ہیں یا ہیں ہم\n\nدل کے ہاتھوں سے اے میاں جرأتؔ\nزندگانی سے بھی خفا ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AB%D9%84_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%A7_%D8%B5%D9%81%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "مثل حباب بحر نہ اتنا اچھل کے چل", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مثل حباب بحر نہ اتنا اچھل کے چل\nہیں ساتھ ساتھ موج حوادث سنبھل کے چل\n\nبرگ خزاں رسیدہ سے آتی تھی یہ صدا\nاس باغ سبز پر کف افسوس مل کے چل\n\nدرپئے نہنگ مرگ ہے درپیش چاہ گور\nمستی نہ کر حواس میں آ مت مچل کے چل\n\nسوتے ہیں لوگ تار ہیں کوچے گزر ہے تنگ\nتاریک شب ہے ساتھ چراغ عمل کے چل\n\nاے تن پرست جامۂ صورت کثیف ہے\nبزم حضور دوست میں کپڑے بدل کے چل\n\nآتی ہے زیر خاک سے آواز ہر قدم\nافتادگان راہ کے سر مت کچل کے چل\n\nکب تک کثافتوں میں رہے گا برنگ سرد\nآب رواں کی طرح نکل اور نکل کے چل\n\nجوں شمع تجھ کو آتش غم سے گریز کیوں\nسر پر دھری ہے آگ قدم تک پگھل کے چل\n\nجوں نخل شمع برق تجلی گرے کہیں\nداغوں سے آبلوں سے بیاںؔ پھول پھل کے چل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AB%D9%84_%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%D8%AD%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D9%84_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84"} {"title": "مثل سرمد طالب حق بیں اگر سرداد داد", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مثل سرمد طالب حق بیں اگر سرداد داد\nدیکھ لے منصور نے جی دار پر استاد داد\n\nعشق ہے اے دل کٹھن کچھ خانۂ خالہ نہیں\nرکھ دلیرانہ قدم تا تجھ کو ہو امداد داد\n\nہو نہیں سکتی ہے جس کی گوش زد فریاد داد\nجس نے آباداں میرے دل کا نگر برباد داد\n\nرشک دنیا ہے کسی نے کیوں برائے چند روز\nزندگی اپنے تئیں افسوس یا میعاد داد\n\nکس سے ہو سکتا ہے جو اس نے کیا عالم کے ساتھ\nصورت خاکی میں کیسا کچھ دم ایجاد داد\n\nخرم و خورسند اک عالم ہے پر حیراں ہوں میں\nکیوں مجھے خاطر حزیں ہوئے دل ناشاد داد\n\nآفریدیؔ اس شکار انداز سے کیونکر بجے\nدام میں جس کے ہے سب خلقت ازاں صیاد داد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AB%D9%84_%D8%B3%D8%B1%D9%85%D8%AF_%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8_%D8%AD%D9%82_%D8%A8%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B3%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%AF%D8%A7%D8%AF"} {"title": "مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہے\nیہ سب ہے اک خواب کی سی حالت، جو دیکھتا ہے سحر نہیں ہے\n\nشمیم گلشن نسیم صحرا شعاع خورشید موج دریا\nہر ایک گرم سفر ہے ان میں میرا کوئی ہم سفر نہیں ہے\n\nنظر میں وہ گل سما گیا ہے، تمام ہستی پہ چھا گیا ہے\nچمن میں ہوں یا قفس میں ہوں میں، مجھے اب اس کی خبر نہیں ہے\n\nچمک دمک پر مٹا ہوا ہے، یہ باغباں تجھ کو کیا ہوا ہے\nفریب شبنم میں مبتلا ہے چمن کی اب تک خبر نہیں ہے\n\nیہ مجھ سے سن لے تو راز پنہاں سلامتی خود ہے دشمن جاں\nکہاں سے راہ رو میں زندگی ہو کہ راہ جب پر خطر نہیں ہے\n\nمیں سر سے پا تک ہوں مے پرستی تمام شورش تمام مستی\nکھلا ہے مجھ پر یہ راز ہستی کہ مجھ کو کچھ بھی خبر نہیں ہے\n\nہوا کو موج شراب کر دے فضا کو مست و خراب کر دے\nیہ زندگی کو شباب کر دے نظر تمہاری نظر نہیں ہے\n\nپڑا ہے کیا اس کے در پہ اصغرؔ وہ شوخ مائل ہے امتحاں پر\nثبوت دے زندگی کا مر کر نیاز اب کارگر نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجال کس کی ہے اے ستم گر سنائے تجھ کو جو چار باتیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجال کس کی ہے اے ستم گر سنائے تجھ کو جو چار باتیں\nبھلا کیا اعتبار تو نے ہزار منہ ہیں ہزار باتیں\n\nجو کیفیت دیکھنی ہے زاہد تو چل کے تو دیکھ میکدے میں\nبہک بہک کر مزے مزے کی سنائیں گے بادہ خوار باتیں\n\nفسانۂ درد و غم سنایا تو بولے وہ جھوٹ بولتا ہے\nسنی ہوئی ہے بہت کہانی نہ ہم سے ایسی بگھار باتیں\n\nابھی سے ہے کچھ اداس قاصد ابھی سے ہے بد حواس قاصد\nسنبھل سنبھل کر سمجھ سمجھ کر کرے گا کیا بے قرار باتیں\n\nتمہاری تحریر میں ہے پہلو تمہاری تقریر میں ہے جادو\nپھنسے نہ کس طرح دل ہمارا جہاں ہوں یہ پیچ دار باتیں\n\nبری بلا ہے یہ داغؔ پر فن تم اس کو ہرگز نہ منہ لگانا\nوگرنہ ڈھب پر لگا ہی لے گا سنیں اگر اس کی چار باتیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مجبوری", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بچوں کا سال امی کہئے منائیں کیسے\nہوتے نہیں ہیں کافی دیتی ہو تم جو پیسے\nدس پیسے کا غبارہ اب ہو گیا ہے پندرہ\nمہنگا ہوا ہے امی لو چاکلیٹ پیارا\nمنی بھی رو رہی ہے کہتی ہے دو ملائی\nکلفی بھی مہنگی مہنگی مہنگی ہوئی مٹھائی\nتم نے ہی تو کہا تھا لے کر مری بلائیں\nبچوں کا سال امی کہئے منائیں کیسے\nآخر یہ کیا سبب ہے کہ سال کے شروع سے\nتم دے رہی ہو پیسے کیوں ہاتھ روکے روکے\nآنکھوں میں آنسو لا کر کہنے لگیں یہ امی\nمجبور ہو گئی ہوں اے میرے ننھے منے\nسرکار ہی نے اس کا اعلان کر دیا تھا\nانیس سو اناسی بچوں کا سال ہوگا\nلیکن بھلا ہو بچوں اس سال کے بجٹ کا\nجس نے ہمارے اوپر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا\nدل میں تو ہیں امنگیں لا دوں تمہیں کھلونے\nمجبور کر دیا ہے پر ملک کے بجٹ نے\nسوچا نہیں ہے شاید نیتاؤں نے ہمارے\nخوشیاں منائیں کیسے بچے یہ پیارے پیارے پیارے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%D8%A8%D9%88%D8%B1%DB%8C"} {"title": "مجبوریاں", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میں آہیں بھر نہیں سکتا کہ نغمے گا نہیں سکتا\nسکوں لیکن مرے دل کو میسر آ نہیں سکتا\n\nکوئی نغمے تو کیا اب مجھ سے میرا ساز بھی لے لے\nجو گانا چاہتا ہوں آہ وہ میں گا نہیں سکتا\n\nمتاع سوز و ساز زندگی پیمانہ و بربط\nمیں خود کو ان کھلونوں سے بھی اب بہلا نہیں سکتا\n\nوہ بادل سر پہ چھائے ہیں کہ سر سے ہٹ نہیں سکتے\nملا ہے درد وہ دل کو کہ دل سے جا نہیں سکتا\n\nہوس کاری ہے جرم خودکشی میری شریعت میں\nیہ حد آخری ہے میں یہاں تک جا نہیں سکتا\n\nنہ طوفاں روک سکتے ہیں نہ آندھی روک سکتی ہے\nمگر پھر بھی میں اس قصر حسیں تک جا نہیں سکتا\n\nوہ مجھ کو چاہتی ہے اور مجھ تک آ نہیں سکتی\nمیں اس کو پوجتا ہوں اور اس کو پا نہیں سکتا\n\nیہ مجبوری سی مجبوری یہ لاچاری سی لاچاری\nکہ اس کے گیت بھی دل کھول کر میں گا نہیں سکتا\n\nزباں پر بے خودی میں نام اس کا آ ہی جاتا ہے\nاگر پوچھے کوئی یہ کون ہے بتلا نہیں سکتا\n\nکہاں تک قصۂ آلام فرقت مختصر یہ ہے\nیہاں وہ آ نہیں سکتی وہاں میں جا نہیں سکتا\n\nحدیں وہ کھینچ رکھی ہیں حرم کے پاسبانوں نے\nکہ بن مجرم بنے پیغام بھی پہنچا نہیں سکتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%D8%A8%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "مجرم", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہی رستہ مری منزل کی طرف جاتا ہے\nجس کے فٹ پاتھ فقیروں سے اٹے رہتے ہیں\nخستہ کپڑوں میں یہ لپٹے ہوئے مریل ڈھانچے\nیہ بھکاری کہ جنہیں دیکھ کے گھن آتی ہے\n\nہڈیاں جسم کی نکلی ہوئی پچکے ہوئے گال\nمیلے سر میں جوئیں، اعضا سے ٹپکتا ہوا کوڑھ\nروح بیمار، بدن سست، نگاہیں پامال\nہاتھ پھیلائے پڑے رہتے ہیں روگی انسان\n\nچند بیواؤں کے مدقوق سے پیلے چہرے\nکچھ ہوس کار نگاہوں میں اتر جاتے ہیں\nجن کے افلاس زدہ جسم، ڈھلکتے سینے\nچند سکوں کے عوض شب کو بکا کرتے ہیں\n\nشدت فاقہ سے روتے ہوئے ننھے بچے\nایک روٹی کے نوالے سے بہل جاتے ہیں\nیا سر شام ہی سو جاتے ہیں بھوکے پیاسے\nماں کی سوکھی ہوئی چھاتی کو دبا کر منہ میں\n\nچند بد زیب سے شہرت زدہ انساں اکثر\nاپنی دولت و سخاوت کی نمائش کے لیے\nیا کبھی رحم کے جذبے سے حرارت پا کر\nچار چھ پیسے انہیں بخش دیا کرتے ہیں\n\nکیا فقط رحم کی حق دار ہیں ننگی روحیں؟\nکیوں یہ انسانوں پہ انسان ترس کھاتے ہیں؟\nکیوں انہیں دیکھ کے احساس تہی دستی ہے\nاکثر اوقات میں کترا کے نکل جاتا ہوں؟\nیہی رستہ مری منزل کی طرف جاتا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%D8%B1%D9%85"} {"title": "مجرم سرتابیٔ حسن جواں ہو جائیے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "مجرم سرتابیٔ حسن جواں ہو جائیے\nگل فشانی تا کجا شعلہ فشاں ہو جائیے\nکھائیے گا اک نگاہ لطف کا کب تک فریب\nکوئی افسانہ بنا کر بد گماں ہو جائیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%D8%B1%D9%85_%D8%B3%D8%B1%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C%D9%94_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "مجرم کون", "poet_page": "مصنف:رشید جہاں", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "شام کا وقت ہے، انگلش کلب میں آج بہت رونق ہے۔ سٹرک پر دور دور تک موٹریں کھڑی ہیں۔ دیواروں پر ٹینس کے نیلے پردے کسے ہوئے ہیں جو اندر کی کارروائی گندی اور غلیظ ہندوستانی آنکھوں سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پھر بھی کسی نہ کسی صاحب یا میم صاحب یا کسی ہندوستانی افسر پر نظر پڑ ہی جاتی ہے۔ کلب کے سامنے ہاکی کھیلنے کا ایک بڑا میدان ہے جس پر اپنے کئی ہندوستانی بھائی جمع ہو گئے ہیں۔ کچھ چل پھر رہے ہیں لیکن منہ سب کے کلب کی طرف ہیں۔ نہ معلوم وہ کیوں جمع ہیں؟ غالباً پردوں اور موٹروں کی چہل پہل نے ان میں ایک خواہش ایک جستجو پیدا کر دی ہے اور وہ تماشا دیکھنے کے انتظار میں جمع ہیں۔\n\n’’یار دیکھو وہ بجلی والے صاحب ہیں۔‘‘\n\n’’اور میم کس کی بغل میں دبائے ہیں۔‘‘\n\nقہقہہ پڑتا ہے۔\n\n’’اجی یہ لوگ بھی خوب ہیں، چاہے کوئی میم ہو۔۔۔‘‘\n\n’’تیرا دل بھی صاحب بہادر بننے کو چاہتا ہے۔ نکال نہ اپنی جورو کو، ہم بھی ذرا بھابی کے درشن کر لیں۔‘‘\n\n’’تم نے سنا نہیں یار، وہ تو کانی بھی ہے اور نکٹی بھی۔‘‘\n\nسب ہنسنے لگے۔\n\n’’ارے یہ کون ہیں یہ تو کالے ہیں ان کا یہاں کیسے گذر ہو گیا؟‘‘\n\n’’کوا چلا ہنس کی چال، اپنی بھی بھول گیا۔‘‘\n\nاس پر بہت زور کا قہقہہ پڑا۔\n\n’’دیکھو، دیکھو! وہ پھانسی والا آگیا۔‘‘\n\n’’اجی وہ دیکھو موٹر سے وہ جج صاحب اترے۔‘‘\n\n’’ارے یار بڑا انصاف کرتے ہیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی۔ خدا قسم! ادھر جب میں فتو والی مارپیٹ میں پھنس گیا تھا تو جج صاحب نے چھوڑ دیا۔‘‘\n\n’’ابے سالے چپ بھی رہ، نہیں تو کھینچ دوں گا ایک ہاتھ۔ فتو سے تو پوچھ دودھ کا دودھ پانی کا پانی۔‘‘\n\n’’چلو یار چھوڑو اس مردود کو یہاں، وہ جنٹ صاحب کی لڑکی تو آتی نظر نہیں آتی۔‘‘\n\nآج جج رابنسن صاحب کی الوداعی پارٹی ہے۔ وہ آٹھ مہینے کی چھٹی پر ولایت شادی کرنے جا رہے ہیں۔ اپنے زمانے کے صحیح جج ثابت ہوئے ہیں۔ کلب میں بہت ہر دلعزیز تھے۔ شہر کے انگریزوں کی تو گویا وہ جان تھے۔ ہندوستانی اعلیٰ افسروں کی پیٹھ بھی کافی تھپک دیتے تھے۔ کبھی کبھار ان کو کھانے یا چائے پر بھی بلا لیتے تھے۔ اس لئے وہ بھی ان کی بہت قدر کرتے تھے۔ باقی ’’نیٹیو‘‘ آبادی پر صاحب کا کافی رعب و داب تھا۔ بعض لوگ کلکٹر ججوں میں سے ہیں جو رشوت نہیں لیتے، تو لوگ عزت بھی کرتے تھے۔ قانون کو ایسا سمجھتے تھے کہ صوبہ میں کم جج ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ بس یہ کہو کہ اس انگریزی قانون کی جو انہوں نے غلاموں کے لئے بنایا تھا ان سے اچھی ترجمانی کوئی نہ کر سکتا تھا۔ ان کو اپنی ایمانداری اور انصاف پر ناز تھا۔\n\nکالے آدمیوں سے صاحب لوگ اپنی زندگی کے بارے میں ہزار چھپائیں لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ خبر باہر نکل ہی آتی ہے۔ تین سال ہوئے جج رابنس چھٹی کا کچھ حصہ شملے پر گزار رہے تھے کہ وہ اچانک ایک مسزبلیک سے ملے۔ مسز بلیک بیس اکیس سال کی خوبصورت لڑکی تھی چند مہینے پہلے کرنل بلیک سے شادی کر کے ہندوستان آئی تھی۔ کرنل صاحب فیروز پور میں تھے اور وہ جلدی جلدی شملے آتے جاتے رہتے تھے۔ لیکن جب رابنس صاحب وہاں پہنچے تو سلویا سے بھی ملے۔ دو تین دن ہی میں دونوں میں اتنی بے تکلفی ہو گئی کہ اچھے خاصے دوست ہو گئے اور بہت جلدی دوستی عشق کی حدتک پہنچ گئی۔ رابنس ان خوش قسمت انگریزوں میں تھا جس پر کئی عورتوں کی آنکھ تھی اور رابنس جہاں کہیں جاتا ان کی آنکھوں کا تارا بنا رہتا تھا۔ عشق ایک نہیں کئی ہوئے تھے۔ شادی شدہ غیر شادی شدہ ہر قسم کی عورتوں سے۔ لیکن یہ بھوت ہی کچھ اور تھا۔ مسز بلیک تو بس دنیا و مافیہا کو بھول چکی تھی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کا سوسائٹی میں خیال رکھا جاتا ہے کہ پردہ فاش نہ ہو۔ اس کو تو یہ کھیل جیسے آتا ہی نہ تھا۔ وہ ایک کھلی ہوئی کتاب تھی جس کا جی چاہے پڑھ لے۔ ہر طرف جارج رابنس لکھا ہوا تھا۔ رابنس نے اس کو سمجھایا بھی۔ اس کا جواب یہی ملا ’’مجھے تو کوئی ڈر نہیں۔ تمہیں ڈر ہو تو مجھ سے نہ ملو۔‘‘\n\nآخر کو اور بھی عورتیں ہوٹل میں تھیں، جن میں سے اکثر رابنسن پر ریجھی ہوئی تھیں۔ کئی سلویا بلیک کے حسن سے خار کھائے بیٹھی تھیں۔ عشق برابر ہوٹل میں چلا ہی کرتے تھے۔ چھیڑ چھاڑ، ہنسی مذاق، چھپ کے ملنا، راتیں ساتھ گزارنا بھی کچھ برا نہ تھا۔ اس کے خاص سلیقے اور قاعدے بن جاتے ہیں۔ لیکن ایسا کھلم کھلا عشق وہ بھی ایک شادی شدہ عورت کا سوسائٹی کیسے برداشت کر لیتی۔ پہلے چہ میگوئیاں ہوئیں پھر باتیں ہوئیں آوازے کسے گئے کرنل صاحب بھی آئے۔ بیوی کا رنگ ہی اور دیکھا۔ بات کو پی گئے۔ لیکن آخر کہاں تک، ایک روز مسز بلیک شملہ سے غائب ہو گئیں۔ تین دن سہارن پور جا کر رہیں۔ پتہ لگانے والوں نے لگا ہی لیا۔ رابنس ہندوستان میں دس سال سے تھا۔ اونچ نیچ کو اچھی طرح سمجھتا تھا لیکن پھر کیا کرتا۔ مجبور تھا۔ محبت اختیار میں نہ تھی۔ معاملہ طشت از بام ہو گیا۔ کرنل دیوانہ ہو کر انتقام لینے پر آمادہ ہو گیا۔ اس کو بھی ضد پڑ گئی کہ وہ ضرور رابنس پر اپنی بیوی بھگا لے جانے کا دعویٰ کرے گا۔ بلکہ اس نے وکیلوں سے کوئی نہ کوئی مطلب کا قانون نکالنے کی باتیں بھی شروع کردیں۔ رابنس بہت چکرایا۔ لیکن کرتا تو کیا۔ معاملہ بہت بگڑ چکا تھا، خود کرنل سے ملا۔ دوستوں سے کہلوایا۔ لیکن بلیک اپنی ضد پر اڑا رہا۔ اس طرح دو انگریزوں میں کھلم کھلا مقدمہ بازی کرنا انگریزی رعب و داب میں فرق ڈالنا تھا۔ لہٰذا ادھر گورنر تک اور ادھر کمانڈر ان چیف کے کانوں تک خبر پہنچائی گئی۔ ایک زبردست دباؤ کے بعد کرنل صاحب راضی ہو ئے کہ وہ بجائے رابنس پر دفعہ 496 کا مقدمہ چلانے کے اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا اور مسز بلیک کو فوراً ولایت روانہ کیا گیا کہ جب تک طلاق کی کارروائی پوری نہ ہو وہ وہیں رہیں۔\n\nاس عرصہ میں کہ طلاق کی کارروائی جاری تھی، رابنسن ولایت ایک مرتبہ ہوائی جہاز سے اپنی معشوقہ سے مل آئے تھے۔ اب وہ آٹھ ماہ کے لئے جا رہے تھے ایک ایک لمحہ ہندوستان میں کاٹنا مشکل تھا۔ چلنے سے پہلے سلویا کا ایک تار ملا تھا کہ ’’میں تم کو وینس میں مل جاؤں گی۔‘‘ اس تار نے رابنس کو بالکل ہلا دیا۔ وہ بہت دیر تک سر جھکائے سلویا کے بارے میں سوچتا رہا۔ کیا غضب کی عورت ہے۔ پہاڑوں کی چاندنی راتیں، ہوٹل میں چھپ چھپ کر ملنا، ہزاروں نگاہوں سے چھپ کر راتوں کو اس کے پاس آنا، بلیک کی نگہداشت کے باوجود بھی آنا۔ اور پھر اس کی گود میں سر رکھ کر آہستہ سے کہنا۔ ’’کیا کروں بہت کوشش کرتی ہوں لیکن جارج تم سے محبت نہیں جاتی۔‘‘ اس کا خیال ہی چکرا دیتا تھا اور پھر وہ ہاتھ وہ گردن وہ جسم! جب وہ پہلی دفعہ اس کے ساتھ آئی تھی تو کیا سین ہوٹل میں نہ ہوا تھا۔ لوگوں نے کیا کیا ناک بھوؤں نہ چڑھائے تھے۔ لیکن اس نے آ کر نہایت سادگی سے اتنا کہا ’’جارج میں آگئی۔‘‘ گورابنسن پارٹی میں گھوم رہا تھا، لوگوں سے باتیں کر رہا تھا، لیکن اس کا دل وہاں نہ تھا۔ اس کو تشویش تھی تو یہ کہ وہ سلویاسی لاجواب عورت کو خوش بھی رکھ سکے گا یا نہیں۔\n\n’’بھولا! تمہارے کھلاف گجڑیا کو ڈوسری ڈفعہ بھگانے کا جرم لگایا ہے وہ ثابٹ ہے۔ ٹم کو تین سال کی سکٹ سزا کا حکم سنایا جاٹا ہے۔ مٹرو! تم کو عورٹ گجڑیا واپس دی جاتی ہے۔‘‘\n\nیہ حکم سنا کر رابنسن صاحب کانسٹبل کی طرف مخاطب ہوئے اور کہا۔ ’’لے جاؤ مولزم کو۔‘‘ ان کا یہ کہنا تھا کہ ایک گندمی رنگ درمیانہ قد کی سولہ سترہ سال کی لڑکی چند مردوں کو چیرتی ہوئی جا کر بھولا سے لپٹ گئی۔ اور زور زور سے رونے چیخنے لگی۔ کچہری میں عورتوں کی چیخ و پکار روز ہی سنی جاتی ہے لیکن اس کی تڑپن میں کچھ جادو تھا کہ راہ چلتوں کے پیر روک لیتا تھا۔ کچہری کا کمرہ بھر گیا۔\n\nبھولا بیس سال کا ایک چھوٹے قد کا دبلا پتلا آدمی تھا۔ کالے چہرہ پر کالی آنکھیں ناگ کی طرح چمک رہی تھیں۔ وہ بالکل خاموش تھا۔ گجریا کے بین اور رونے کاایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس پر کوئی اثر نہ تھا۔ ’’اے بھولا میں تو کونہ جانے دوں گی۔ اے جج صاحب ایسا جُلم نہ کرو۔ موکو بھی سنگ ہی بھیج دو۔ اے سپیّا میں ہاہاکھاؤں موکو بھی لے چل، یا کے سنگ موکو بھی بند کر دیجیو!‘‘\n\n’’ہٹ ہٹ، چھوڑتی نہیں سسری۔‘‘\n\n’’مٹرو، پکڑو نہ اس۔۔۔ کو۔۔۔ نے گجب اٹھا رکھا ہے۔‘‘\n\nادھر اس کے بھائی نے اور تین سپاہیوں نے پکڑا، ادھر کانسٹبلوں نے بھولا کو دھکا دیا۔ ’’چل بے، کھڑا کیا دیکھتا ہے۔‘‘ اس کو گھسیٹ کر کمرے سے لے گئے۔\n\n’’بھولا، اوبھولا، کہاں چھوڑ چلا۔‘‘ پیچھے بھاگنے کی کوشش کی لیکن وہ چار مردوں کی آہنی گرفت سے کہاں جا سکتی تھی، زمین پر مچل گئی۔ ایڑیاں رگڑنے لگی۔ ’’بھولا۔ اے بھولا، بھولا، بھولا۔‘‘\n\n’’کورٹ صاحب اس عورت کو بار نکالو، شور نہیں مانگٹا۔‘‘\n\n’’پیشکار! سرکار بنام بندو کو آواز لگاؤ۔‘‘\n\nبھولا قوم کا گڈریہ تھا۔ کانسرو کے جنگل میں گائے بیل چرایا کرتا تھا۔ پتلا سامست آدمی تھا۔ اپنے بھائی بھاوج کے ساتھ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں بھاندو والے میں رہتا تھا۔ بچپن سے اسی جنگل میں رہا، پلا بڑھا۔ جنگل میں اس کا من لگتا تھا۔ سونگ ندی میں گاؤں کے اور جوانوں کے ساتھ مل کر نہاتا اور پھر اس کی آواز بھی کیا غضب کی تھی۔ اس کا پتوں کے ڈھیر پر لیٹ کر اور لہک لہک کر گانا۔\n\n’’نینوں سے نینا ملاؤ میری جان۔‘‘ گاؤں کی لڑکیوں کی آنکھوں میں چمک پیدا کر دیتا۔\n\nکانسرو کا جنگل فروخت ہوا اور کئی بڑھئی درختوں کو کاٹنے اور گرانے لگے۔ ان میں سے ایک مٹرو بھی تھا۔ وہ مع اپنی جوان گجریا کے وہاں آیا۔ بڑھئی اپنی عورتوں کو جنگل میں کام پر نہیں لے جاتے ہیں۔ لیکن مٹرو کا چچا پھاندو والے میں رہتا تھا۔ لہٰذا وہ گجریا کو بھی ساتھ ہی لے آیا۔ گجریا سولہ سترہ سال کی گندمی رنگ کی بھرے بھرے جسم کی ایک گرم گرم لڑکی تھی، گاؤں کی اور عورتوں کے ساتھ ندی پر پانی بھرنے جاتی تھی۔ راستے بھر ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ چہلیں کرتی بھاگ دوڑ مچاتی ہوئی جاتی تھی۔ راستہ ادھر سے نکلتا تھا جہاں گاؤں کا ایک آدھ گڈریہ گایوں اور بیلوں کے واسطے پڑا رہتا تھا۔ اکثر ان مردوں اور عورتوں میں چھیڑ چھاڑ، ہنسی مذاق ہوتا تھا۔ کوئی لڑکی کہتی۔ ’’اے بھولا جرا وہ ہولی تو سنا دے۔‘‘\n\n’’کیا دے گی؟‘‘ بھولا آنکھ مار کر پوچھتا۔\n\nلڑکی اٹھا کر پتھر مارتی۔ ’’دیکھو بھابی یہ بھولا گاری دیتا ہے۔‘‘\n\n’’تو بڑا جلمی ہے رے بھولا۔‘‘ اس کی بھاوج جو بھولا کے مذاقوں کو پسند کرتی تھی بن کر جواب دیتی۔\n\nگجریا کے آنے سے بھولا کی زندگی میں بہت تبدیلیاں ہونے لگیں۔ اب پہلے سے بھی زیادہ گانے لگا۔ اس کے مذاق بھی زیادہ تیکھے ہو گئے۔ وہ گجریا کے انتظار میں بیٹھا رہتا۔ ایک آدھ دفعہ گاؤں کی گلی میں گجریا اس کو اکیلی بھی ملی لیکن گجریا کو دیکھ کر اس کے پیر بندھ جاتے تھے اور منہ تو جیسے کسی نے کیل دیا ہو۔ جب گجریا سامنے نہ ہوتی تو بڑی بڑی باتیں سوچتا لیکن دیکھ کر سب بھول جاتا۔ ایک دن جب وہ جنگل میں گا رہا تھا، گجری اور عورتوں کے ساتھ ادھر سے گزری۔ اس کو دیکھ کر بہت عورتیں رکیں۔ وہ اسی طرح لیٹا گاتا رہا۔ پھر گجریا کی طرف دیکھا۔ اس نے نیچی نگاہ کر کے مسکرا دیا۔ بھولا گانا وانا سب بھول گیا۔ گجریا اور دوسری عورتیں چلی گئیں۔ لیکن اس دن سے گجریا اور وہ آنکھوں اور مسکراہٹ میں باتیں کرنے لگے۔\n\nایک دوپہر کو گجریا کا پانی جلدی سے ختم ہو گیا اور اس کو اکیلے جنگل پانی لینے جانا ہوا۔ راستہ میں بھولا مل گیا۔ ہمت کر کے بھولا۔ ’’گوری آج اکیلی اکیلی کہاں؟‘‘ گجریا بگڑ گئی۔ یہ ڈر گیا لیکن ہمت کر کے چھیڑتا ہی گیا۔ گجری بھی ہنس دی۔ بھولا نے اٹھ کر اس کی کولی بھر لی۔ وہ گھبرا کر کھڑی وہ گئی۔ لیکن وقت اور جگہ مقرر ہو گئی۔\n\nبھولا کی بے چینی کا عجیب حال تھا۔ تین رات سے اسی جگہ گجریا کا انتظار کر رہا تھا۔ لیکن وہ آئی نہ تھی۔ آخرکو چوڑیاں بچھوے اتار کر دبے پاؤں گاؤں کے باہر لکڑیوں کے ڈھیر کے پیچھے آ کر کھڑی ہوئی اور چپکے سے بھولا کو بتایا کہ اس کامیاں مٹرو پورے وقت اس کے ساتھ ہی سوتا رہا۔ وہ کوئی بہانہ نہ لگا سکی۔ اب پیٹ میں دردد اور جنگل کا بہانہ کر کے آئی ہے اور بہت جلدی جانا ہے۔ اب یہی قصہ چلنے لگا کہ بھولا رات رات بھر گجریا کے انتظار میں جاگا کرتا اور وہ اگر موقع لگ جاتا تو آجاتی۔\n\nبھولا اپنی اور سب آشنا عورتوں کو بھول گیا۔ جہاں سگائی ہوئی اس کی بھی سدھ بدھ نہ رہی تھی۔ بھائی کے بہت بگڑنے پر کہہ دیتا۔ ’’ابھی میں نا کرتا۔‘‘ پریم کی پینگیں بڑھتی گئیں۔ دونوں انجام سے بے خبر جب ہی تک زندہ رہتے جب تک ایک دوسرے کی آغوش میں ہوتے۔\n\nگاؤں کے آس پاس لکڑی کے ڈھیر لگے تھے۔ ایک رات کچھ لوگ بیٹھے حقہ پی رہے تھے کہ گجریا نکلی اور جنگل کی طرف چلی۔\n\n’’کون گئی؟‘‘ ایک نے شک کے لہجے میں آہستہ سے پوچھا۔\n\nدوسرے نے کہا۔ ’’مٹرو کی معلوم پڑتی ہے۔‘‘\n\n’’یاوکھت وہاں اس کا کیا کام ہے؟‘‘\n\nاتنے میں آہستہ آہستہ بھولا بھی اسی راستے سے جاتا دکھائی دیا۔\n\n’’ہوں! تو یہ بات ہے!‘‘\n\n’’لو، کو اور بھی کوئی نہ ملا۔ یہ گڈریا کاہی رہ گیا تھا؟‘‘\n\nگاؤں میں ایسی بات آگ کی طرح پھیلتی ہے۔ دوسرے روز آہستہ آہستہ ہر طرف اس کا چرچا تھا لیکن مٹرو کے منہ پر کون کہے۔ آخر کو کاشی بڑھئی نے حقہ پیتے پیتے مٹرو کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’مٹرو تیری عورت ہے تو بڑی سندری۔‘‘\n\nمٹرو نے غضب ناک آنکھیں نکال کر کاشی کی طرف دیکھا\n\n’’تجھ سے کا؟‘‘\n\n’’نابھیا میں تو کہتا تھا کسی سندری کا قابو میں رکھنا بڑا مشکل کام ہے کیوں ٹھیک بات ہے نابلدیوا۔‘‘\n\nبلدیوا نے بھی سر ہلا دیا۔\n\nمٹرو نے بگڑ کر پوچھا۔ ’’کون کا بات ہے؟‘‘\n\n’’کچھ نابھیا۔ کل رات تیری عورت ادھر ندی کے جنگل میں جارہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد بھولا بھی ادھر ہی گیا۔‘‘\n\n’’کون بھولا؟‘‘\n\n’’وہی گڈریا کا!‘‘\n\n’’ہوں‘‘\n\n’’نابھیا کچھ دیکھا ویکھا نا نہیں، بس جو بات تھی کہہ دی۔‘‘\n\nمٹرو کے دل میں تو جیسے چھری بھونک دی ہو، گھر میں آکر گجریا کو خوب پیٹا تو دل کچھ ٹھنڈا ہوا۔ لیکن اب ہر وقت وہ گجریا کو آنکھوں میں رکھنے لگا اور ادھر اپنی چاچی سے بھی کہہ دیا۔ ’’چاچی اس کا دھیان رکھنا، ادھر ادھر اکیلی نہ ڈولے۔‘‘\n\nگجریا پر اب بہت سختی ہونے لگی۔ مٹرو بات بے بات مارنے لگا۔ لیکن اس نے بھولا سے ملنا نہ چھوڑا۔ دو ہی منٹ کو مل لیتی گلے ہی لگ آتی۔ ہاتھ ہی چھو لیتی۔ رفتہ رفتہ چاچی بھی بات کو بھولنے لگی اور مٹرو بھی ذرا غافل ہو گیا۔\n\nایک رات مٹرو کی آنکھ کھلی گجریا غائب تھی۔ چپکے چپکے جھونپڑے میں ڈھونڈھا۔ باہر نکل کر ڈھونڈا کہیں نہ ملی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے دیکھا کہ گجریا دبے پاؤں گھر کی طرف جارہی ہے اور کچھ فاصلے پر بھولا بھی ہے۔\n\nبات صاف تھی۔ گجریا کے پیچھے پیچھے گھر چلا اور اس سے پہلے کہ وہ گھر میں گھسے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ گجریا کا دم ہی تو نکل گیا۔ لیکن آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی رہی۔ چھ مہینے کی متواتر محبت نے اس کو تھوڑا سا نڈر بھی کر دیا تھا۔\n\n’’کہاں گئی تھی؟‘‘\n\n’’جنگل‘‘\n\n’’ساتھ کون تھا؟‘‘\n\nگجریا چپ تھی۔\n\n’’بولتی کیوں نہیں؟‘‘ ایک طمانچہ زور کا منہ پر پڑا۔ پھر گھونسہ لات اور گھونسہ لات اور گھونسہ لات! ویسے جب گجریا پٹتی تھی تو گاؤں کی اور عورتوں کی طرح وہ بھی واویلا مچاتی تھی۔ لیکن آج رات وہ مار کھاتی رہی اور چپ رہی۔ گھونسوں کی آواز سن کر چچی نکل آئی۔ مٹرو کو اندر لے گئی۔ گھر والوں میں صلاح ہوئی کہ اپنی عزت کی بات ہے۔ بات دبا دینی چاہئے اور اس کو اس کے باپ کے گھر پہنچا دینا چاہئے۔\n\nدوسرے روز سوجی سجائی گجریا وہاں سے آٹھ میل پر برکوٹ پہنچا دی گئی اور ساتھ ہی مٹرو اس کی ساری بات بھی کھولتا آیا۔ وہاں پر باپ و سوتیلی ماں، بھائی اور بھاوج نے ہر وقت کی چوکیداری شروع کر دی۔ لیکن ایک گڈریہ کے لئے آٹھ میل کیا ہوتے ہیں تھوڑے ہی دنوں پیچھے پھر دونوں آٹھویں اور دسویں چھپ کر ملنے لگے۔ ایک روز بھتیجے نے دیکھ لیا۔ آکر گجریا کے بھائی سے کہا۔ بھائی نے مٹرو سے بھی زیادہ بہن کی مرمت کی اور اب گھر والے رات کو اسے کوٹھری میں بند کر دیتے تھے۔ جون کا مہینہ، چھوٹی سی کوٹھری، گجریا تھی کہ وہاں سے ادھ مری ہو کر نکلتی تھی۔\n\nایک شام کو وہ گھر سے غائب تھی۔ سارا گاؤں، جنگل ڈھونڈھ ڈالا، پتہ نہ لگا۔ مٹرو کے پاس آدمی راتوں رات گیا۔ معلوم ہوا کہ دو دن سے بھولا بھی غائب ہے۔ دوسرے دن پولیس میں اطلاع ہوئی۔ وارنٹ کٹوایا کہ بھولا نابالغ لڑکی کو لے کر بھاگ گیا ہے۔ آٹھ روز بعد دونوں پکڑے ہوئے لائے گئے۔ عدالت میں گجریا نے گواہی دی۔ اپنی محبت اور خود اپنی مرضی سے بھولا کے ساتھ جانے کا اقبال کیا۔\n\nبھولا نے بہت کہا کہ مجھ کو اس کی عمر کی کیا خبر تھی کیا اس کے ماتھے پر لکھی ہوئی تھی، مجھ کو اس سے محبت ہے۔ یہ خود میرے ساتھ چلی آئی لیکن قانون تو قانون ہی ہے اس میں چوں کی کیا مجال۔\n\nاور پھر جب رابنسن جیسا قابل جج قانون کی ترجمانی کرے تو بھولا کو تین سال کی سزا سے کم کیا مل سکتی تھی؟\n\nکلب میں آج شام ہر طرف چہل پہل تھی۔ چالیس کے قریب انگریز مرد اور عورت تھے اور تین چار ہندوستانی معہ اپنی بیویوں کے رونق افروز تھے۔ آج رابنسن کی بہت قدر تھی ہر طرف ان کی پوچھ تھی۔ ہر انگریز ان کے ’’ہوم‘‘ جانے پر افسوس کر رہا تھا۔ انگریز یہاں خواہ کتنے ہی آرام و آسائش میں رہیں لیکن ’’ہوم‘‘ چھٹی پر جانا ایسا ہی محسوس کرتے ہیں جیسے کوئی چڑیا پنجرے سے چھٹ کر خوش ہوتی ہے۔ ہندوستان کی قدر تو وہ اکٹھا ہی کرتے ہیں، یعنی جب پنشن پا کر عمر بھر کے لئے ’’ہوم‘‘ جا کر ہوم بساتے ہیں۔ آج تو رابنسن اور بھی غیر معمولی طور پر خوش تھا کہ وہ اب شادی کرنے جا رہا تھا۔ ایک میز پر وہ، ٹم راجرس، ایک اور انگریز اور مس فوکس بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔\n\n’’ہاں یہ بات ٹھیک ہے۔ یہ لوگ ہوتے تو ’’ایموشنل‘‘ ہیں بالکل جانوروں کی طرح۔‘‘\n\n’’اب دیکھو چھ آنے پر لڑکر کیپٹن مارٹن کے بیرانے چوکیدار کے چھرا بھونک دیا۔‘‘ مس فوکس نے تائید کرتے ہوئے کہا۔\n\n’’روگ Pogueکا مجھ کو وہ آدمی بالکل پسند نہیں تھا۔ نہ معلوم مارٹن نے اس کو کیوں رکھا ہوا تھا۔‘‘\n\n’’مجھے تو بہت خوشی ہے کہ میں جا رہا ہوں ورنہ اس کو پھانسی کی سزا بھی مجھی کو دینی پڑتی۔‘‘ رابنسن نے کہا۔\n\n’’پھانسی کی سزا مجھ کو بالکل پسند نہیں۔‘‘ ٹم راجرس نے کہ جو ابھی تین مہینے پہلے ہندوستان آیا تھا۔ یہاں کی ہر چیز اس کو ایک عجوبہ معلوم ہوتی تھی۔\n\n’’پھانسی کی سزا پسند نہیں۔‘‘ مس فوکس زور سے چیخیں۔‘‘ اگر پھانسی کا ڈر نہ ہو تو یہاں کے وحشی ’’نیٹیو‘‘ ہم میں سے کسی کو زندہ نہ چھوڑیں۔‘‘\n\n’’ارے چلئے بھی مس فوکس آپ کتنی عجیب باتیں کرتی ہیں۔‘‘ ٹم راجرس نے جس پر ابھی تک کیمبرج کارنگ چڑھا ہوا تھا۔ ہنس کر مس فوکس کو چھیڑا۔\n\n’’لیکن مارٹن کے بیرا کو تو ضرور پھانسی ملنی چاہئے۔ رات بھر اس کی چوکیداری کی عورت اتنے زور زور سے روتی رہی ہے کہ مارٹن کے کمپاؤنڈ اور ہمارے کمپاؤنڈ میں کسی کو سونے ہی نہ دیا۔‘‘\n\n’’تو بیرا کے پھانسی لگنے سے کیا چوکیدار کی بیوی کا رونا رک جائے گا۔‘‘\n\nٹم نے پھر پوچھا۔\n\n’’سنو راجرس تم ابھی ابھی ہندوستان آئے ہو تم جوش میں بہت سی باتیں بھولتے ہو لیکن مس فوکس نے جو کچھ کہا ہے سچ ہے۔ اگر پھانسی کا ڈر نہ ہو تو اس وحشی ملک میں ہر وقت قتل و خون ہوا کرے۔ ہمارے قانون کی برکت سے اتنا ہوا ہے کہ امن و امان قائم ہے۔‘‘ جج نے کہا۔\n\n’’ہاں چلتے چلو۔‘‘ ٹم راجرس نے کہا۔\n\n’’یہ ہمارا ہی بنایا ہوا قانون ہے جس کے سامنے ہر چھوٹا بڑا بغیر کسی قوم و ملت کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ اور جبھی ہر ہندوستانی کہتا ہے کہ اس انگریزی راج میں شیر اور بکری ایک جگہ پانی پی سکتے ہیں۔‘‘\n\n’’سچ مچ تو کیا یہاں کا قانون اپنے ’موم‘ کے قانون سے مختلف ہے؟‘‘\n\nٹم راجرس نے مسکرا کر سوا ل کیا۔\n\nاس پر تینوں انگریز جو کئی سالوں سے ہندوستان میں تھے ہنس پڑے۔\n\nٹم بالکل سرخ ہو گیا۔\n\nمس فوکس نے کہا۔ ’’ٹم تمہارا مطلب کیا ہے، تمہارے خیال میں ہم میں اور ’نیٹیو‘ میں کچھ فرق ہے؟‘‘\n\n’’میرا مطلب یہی ہے کہ قانون ہندوستان میں چھوٹا بڑا یا اونچا نیچا نہیں دیکھتا۔ میں اپنی طرف سے بلکہ سب انگریزوں کی طرف سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے دل میں کبھی ایسے خیالات نہیں آئے۔ ہم تو قانون سب کے لئے برابر سمجھتے ہیں۔‘‘ رابنسن نے کہا۔\n\nاتنے میں سوشیل کمار گپتا ایک ہندوستانی آئی۔ سی۔ ایس۔ بھی اس گروپ کے قریب آ نکلے اور ہیلو رابنسن کہہ کر میز کی طرف بڑھے۔\n\n’’دیکھوگپتا، آپ نے مجھے ساتھ لے جانے کا وعدہ کیا تھا اور خود جلدی چلے گئے۔‘‘ راجرس نے شکایت کی۔\n\n’’میں بہت سویرے گیا تھا اور پھر میری فیملی بھی ساتھ تھی۔ افسوس کہ آپ کو ساتھ نہ لے جا سکا۔ لیکن مجھ کو دو تین روز بعد پھر جانا ہے۔‘‘\n\n’’آپ کہاں گئے تھے؟‘‘ رابنسن نے پوچھا۔\n\n’’کانسراؤ کی طرف، ہاں وہاں ایک گاؤں ہے پھاندو والا۔ وہاں پر کل ایک عجیب واقعہ ہوا۔ (ہنس کر) اس کے ذمہ دار رابنسن تم بھی ہو۔‘‘\n\n’’میں!‘‘ ربنسن نے حیران ہو کر پوچھا۔\n\n’’کیا ہوا؟‘‘ مس فوکس نے سوال کیا۔\n\n’’ایک جوان لڑکی نے اپنے شوہر کے گھر کو آگ لگا دی اور پھر اپنے کپڑوں پر تیل چھڑک کر آگ میں گھس گئی۔‘‘\n\n’’تو میں کس طرح ذمہ دار ہوا؟‘‘ رابنسن نے مسکرا کر پوچھا۔\n\n’’ تم نے دو عاشق و معشوق کو جدا کر دیا۔ آدمی کو جیل بھجوا دیا۔ لڑکی خود جل مری گھر بھی ساتھ پھونک گئی۔‘‘\n\n’’کون سا کیس؟‘‘ رابنسن نے دماغ پر زور ڈالتے ہوئے کہا۔\n\n’’کہانی مجھ کو معلوم ہے، کیس کی مجھ کو خبر نہیں۔‘‘ گپتا نے کہا۔\n\n’’مسٹر گپتا ضرور ساری بات سنایئے۔‘‘ مس فوکس نے اشتیاق سے پوچھا۔ گپتا نے کہا کہ۔\n\n’’مس فوکس کہانی دلچسپ ہے۔ ایک بڑھئی کی عورت کا ایک گڈریے سے عشق تھا۔ جب بڑھئی کو خبر لگی تو اس نے مارا پیٹا، کچھ نہ ہوا۔ دونوں ملتے رہے۔ لوگ توکہہ رہے تھے کہ وہ دونوں نہ چیتے سے ڈرتے تھے نہ شیر سے اور چھپ چھپ کر راتوں کو جنگلوں میں ملتے تھے۔ پھر بڑھئی نے اس کو اس کے باپ کے یہاں بھیج دیا۔ وہاں اس کے رشتہ داروں نے مارا پیٹا، بند کیا۔ لیکن پھر بھی کوئی اثر نہ ہوا، اور وہ برابر چھپ چھپ کر راتوں کو جنگل میں ملتے رہے۔\n\nآخر وہ ایک دن اس لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی۔ ہر دوار سے دونوں پکڑے آئے۔ نمبر ایک مقدمہ قائم ہوا۔ رابنسن صاحب کے ہاں لڑکا ضمانت پر چھوڑ دیا گیا۔ ان دونوں نے پھر چھپ کر ملنا شروع کیا اور پھر بھاگ گئے۔ اب کے بمبئی جارہے تھے کہ دہلی پکڑے گئے۔ اب دو مقدمے قائم ہو گئے۔ ہمارے رابنسن نے لڑکے کو تین سال کی قید کر دی۔‘‘\n\n’’اچھا ہندوستان میں بھی لوگ محبت کرتے ہیں؟‘‘ مس فوکس نے نہایت تعجب سے پوچھا۔\n\nگپتا اور ٹم قہقہہ مار کر ہنس پڑے۔\n\n’’قانون ہے جناب میں کیاکروں۔‘‘ رابنسن نے تھوڑی دیر بعد جواب دیا۔\n\n’’اوہ جارج!‘‘ مس فوکس نے تین سال کی ناامیدی کا بدلہ اپنی آواز میں بھر دیا۔ رابنسن مطلب سمجھ کر سرخ ہو گیا۔\n\n’’میری بات ٹھیک ہے نا، رابنسن اگر گپتا کی عورت کو لے کر بھاگ جائے تو تم یہی سزا دیتے؟‘‘\n\n’’میرا نام کیوں لیتے ہو میری بیوی تو قریب ہی بیٹھی ہے۔ اپنا ذکر کرو۔‘‘\n\n’’اچھا میرا ہی سہی، اچھا سچ بتاؤ رابنسن اگر میں اس مرد کی جگہ ہوتا تو تم یہی سزا دیتے۔ (ٹھہر کر) اور جو فرض کرو تم اس کی جگہ ہوتے تو تم کیا میرے سے یہ امید کرتے کہ میں تم کو یہی سزا دوں؟‘‘\n\nٹم راجرس نے جو رابنسن کی عشقیہ ہسٹری سے بالکل ناواقف تھا، یہ سوال کیا۔\n\n’’تمہارے سوال کا جواب۔۔۔‘‘\n\nمس فوکس نے بات کاٹ کر اس کو ایک ’’نیٹیو‘‘ کے سامنے بڑھنے نہ دیا۔ اور اٹھ کھڑی ہوئیں۔\n\n1941", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%D8%B1%D9%85_%DA%A9%D9%88%D9%86"} {"title": "مجسم داغ حسرت ہوں سراپا نقش عبرت کا", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجسم داغ حسرت ہوں سراپا نقش عبرت کا\nمجھے دیکھو کہ ہوتا ہے یہی انجام الفت کا\n\nانہیں شوق دل آزاری ہمیں ذوق وفاداری\nخدا حافظ ہے اب اپنے کشور کار الفت کا\n\nوصال یار کی اے دل کوئی پر زور کوشش کر\nہوائے آہ سے پردہ اٹھا دے شام فرقت کا\n\nدل پر شوق نے ڈالا ہے مجھ کو کس کشاکش میں\nادھر ہے حد کی بے صبری ادھر وعدہ قیامت کا\n\nتم ایسے بے خبر بھی شاذ ہوں گے اس زمانے میں\nکہ دل میں رہ کے اندازہ نہیں ہے دل کی حالت کا\n\nجہاں میں چار دن رہ کر فقط بوئے وفا دینا\nگلوں سے میں سبق لیتا ہوں آئین صحبت کا\n\nلگا رکھتا ہے اس کی نذر کو چشم تمنا نے\nوہ اک آنسو کہ مجموعہ ہے ساری دل کی طاقت کا\n\nمری قدرت سے اب اخفائے راز عشق باہر ہے\nکہ رنگ آنے لگا ہے آنسوؤں میں خون حسرت کا\n\nاک آہ سرد بھر لیتا ہوں جب تم یاد آتے ہو\nخلاصہ کس قدر میں نے کیا ہے رنج فرقت کا\n\nوہ دل ہے بزم عالم میں نظرؔ اک ساز بشکستہ\nنہ چھیڑے تار ہستی پر جو نغمہ اس کی قدرت کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%BE%D8%A7_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D8%B9%D8%A8%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "مجلس عیش گرم ہو یارب", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجلس عیش گرم ہو یارب\nیار اگر ہووے شمع بزم طرب\n\nخون دل آنسوؤں میں صرف ہوا\nگر گئی یہ بھری گلابی سب\n\nمہر ہے داغ غم سیں دل کی برات\nنقد دیدار ہے ہماری طلب\n\nچاہئے زاہدوں کوں حجرۂ تنگ\nباغ عاشق ہے وسعت مشرب\n\nدل مرا ہے ترے تغافل سیں\nعندلیب گل بہار غضب\n\nدل کی جاگیر ہے جمال آباد\nجب سیں پایا ہے عشق کا منصب\n\nنہ ملے جب تلک وصال اس کا\nتب تلک فوت ہے مرا مطلب\n\nگل کی مانند مت پریشاں ہو\nبند کر مثل غنچہ اپنے لب\n\nشمع و پروانہ سیں سنا ہے سراجؔ\nصدق دل سیں ادب ہے ترک ادب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%DB%81%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8"} {"title": "مجموعۂ خار و گل ہے زیب گلزار", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مجموعۂ خار و گل ہے زیب گلزار\nنیکی و بدی ہے جلوہ گاہ اظہار\nہے مخمصہ اختیار حق و باطل\nہے وسوسہ اعتبار یار و اغیار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%D9%85%D9%88%D8%B9%DB%82_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D9%88_%DA%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%B2%DB%8C%D8%A8_%DA%AF%D9%84%D8%B2%D8%A7%D8%B1"} {"title": "مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے\nنظّارے کی ہوس ہو تو لیلیٰ بھی چھوڑ دے\n\nواعظ! کمالِ ترک سے مِلتی ہے یاں مراد\nدنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے\n\nتقلید کی روِش سے تو بہتر ہے خودکُشی\nرستہ بھی ڈھُونڈ، خِضر کا سودا بھی چھوڑ دے\n\nمانندِ خامہ تیری زباں پر ہے حرفِ غیر\nبیگانہ شے پہ نازشِ بے جا بھی چھوڑ دے\n\nلُطفِ کلام کیا جو نہ ہو دل میں دردِ عشق\nبِسمل نہیں ہے تُو تو تڑپنا بھی چھوڑ دے\n\nشبنم کی طرح پھُولوں پہ رو، اور چمن سے چل\nاس باغ میں قیام کا سودا بھی چھوڑ دے\n\nہے عاشقی میں رسم الگ سب سے بیٹھنا\nبُت خانہ بھی، حرم بھی، کلیسا بھی چھوڑ دے\n\nسوداگری نہیں، یہ عبادت خدا کی ہے\nاے بے خبر! جزا کی تمنّا بھی چھوڑ دے\n\nاچھّا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل\nلیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے\n\nجینا وہ کیا جو ہو نفَسِ غیر پر مدار\nشہرت کی زندگی کا بھروسا بھی چھوڑ دے\n\nشوخی سی ہے سوالِ مکرّر میں اے کلیم!\nشرطِ رضا یہ ہے کہ تقاضا بھی چھوڑ دے\n\nواعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز میں\nاقبالؔ کو یہ ضد ہے کہ پینا بھی چھوڑ دے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%92"} {"title": "مجنوں کا جو اے لیلیٰ جوتا نہ پھٹا ہوتا", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجنوں کا جو اے لیلیٰ جوتا نہ پھٹا ہوتا\nپیچھے ترے ناقہ کے کیوں برہنہ پا ہوتا\n\nبے فائدہ غل مچتا کیا جانیے کیا ہوتا\nگر ان کی گلی ہوتی اور میرا گلا ہوتا\n\nہوتا اگر آدم کا دنیا میں کوئی بھائی\nنسل بنی آدم کا واللہ چچا ہوتا\n\nگر قیس کی وحشت کا کچھ اونٹ اثر لیتا\nلیلیٰ کو گرا دیتا اور بھاگ کھڑا ہوتا\n\nمفلس سے زیادہ تر منعم ہی گرسنہ ہیں\nکیوں روز ہوا کھاتے گر پیٹ بھرا ہوتا\n\nوہ بن کے مسیحا بھی اچھا جو نہ کر سکتے\nبیمار ترے حق میں یہ اور برا ہوتا\n\nمعدوم دہن ہوتا مفقود کمر ہوتی\nمعشوق ظریفؔ ایسا ہوتا بھی تو کیا ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%D9%B0_%D8%AC%D9%88%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "مجنوں کو اپنی لیلیٰ کا محمل عزیز ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجنوں کو اپنی لیلیٰ کا محمل عزیز ہے\nتو دل میں ہے ہمارے ہمیں دل عزیز ہے\n\nابرو و چشم و زلف مژہ کی تو کہیے کیا\nہم کو تو تیرے منہ سے ترا تل عزیز ہے\n\nدل کو کیا جو قتل تو اس نے بھلا کیا\nمجھ کو تو اپنے دل سے وہ قاتل عزیز ہے\n\nاتنا نہیں کوئی کہ پکڑ آستیں مری\nاس سے کہے کہ تجھ پہ یہ مائل عزیز ہے\n\nجا بیٹھتے ہیں چھپ کے کبھی ہم بھی اس جگہ\nاس واسطے ہمیں تری محفل عزیز ہے\n\nاک نقش دے کہ جس سے مسخر ہو وہ پری\nایسا بھی دوستو کوئی عامل عزیز ہے\n\nکیوں کر کروں نہ اس دل مجروح کا علاج\nمدت کا ہے رفیق یہ گھائل عزیز ہے\n\nنے حور نہ پری ہے نہ وہ ماہ و مشتری\nاک نور ہے کہ سب کو وہ حاصل عزیز ہے\n\nہجراں میں انتظار بھی ہے اس کا مغتنم\nجو ڈوبتا ہو اس کو تو ساحل عزیز ہے\n\nآن و ادا میں ٹھور ہی رکھتا ہے خلق کو\nاپنے تو فن میں ایک وہ کامل عزیز ہے\n\nکیوں کر نہ چاہے اس کو ہر اک جان کی طرح\nخواہش میں اس کی سب ہیں وہ ہر دل عزیز ہے\n\nہر پھر کے تیرے کوچہ میں کرتے ہیں ہم مقام\nہم سے مسافروں کو یہ منزل عزیز ہے\n\nصحبت سے کوئی کیونکہ حسنؔ کے نہ ہووے خوش\nشاعر ہے یار باش ہے قابل عزیز ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%D9%B0_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D9%85%D9%84_%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجھ بلانوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقی", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ بلانوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقی\nبھر دے چلو میں جو ہو شیشے میں باقی ساقی\n\nبھر کے پلواتا نہیں ایک پیالی ساقی\nساری میں مانگتا ہوں دیتا ہے آدھی ساقی\n\nتو نے کیا آتش حل کردہ پلا دی ساقی\nبھون ڈالا ہے جگر آگ لگا دی ساقی\n\nپھول مانگوں تو پلاتا ہے برانڈی ساقی\nکرتا ہے بزم گزشتہ کی تلافی ساقی\n\nجام جم چاہئے رندوں کو نہ شاہی ساقی\nسلطنت ہے ترے کوچے کی گدائی ساقی\n\nجام اوروں کو دیے مجھ کو پیالی ساقی\nخود بہکنے لگا مانند شرابی ساقی\n\nکیا کروں پی کے بھلا ایک پیالی ساقی\nاس تنک ظرفی کا بندہ نہیں عادی ساقی\n\nکب سے کہتا ہوں بلانوش میں ساقی ساقی\nاور پلوا دے جو ہو شیشہ میں باقی ساقی\n\nمرض ہجر میں مے گرچہ مضر ہے لیکن\nمیں تو پی جاتا ہوں اللہ ہے ساقی ساقی\n\nصبح سے شام تلک ہاتھ سے چھٹتا نہیں جام\nچاہئے اپنا تخلص کرے جامی ساقی\n\nمصلحت ہوگی جو محروم رکھا مے سے مجھے\nفعل حکمت سے نہیں ہے ترا خالی ساقی\n\nمست کیا جانیں کدھر دیر ہے کعبہ ہے کہاں\nعمر ساری تری بھٹی میں گزاری ساقی\n\nمسجد و دیر و کلیسا کی وہ رونق نہ رہی\nتو نے بنیاد جو مے خانے کی ڈالی ساقی\n\nدیکھیے صحبت نا جنس نبھے گی کیوں کر\nپست ہمت تو طبیعت مری عالی ساقی\n\nفصل گل آ چکی کیا دور سے دہکاتا ہے\nمئے گل رنگ سے بھر بھر کے گلابی ساقی\n\nواعظو ووہی کروں گا میں جو فتویٰ دے گا\nقبلہ و کعبہ و مرشد مرا ہادی ساقی\n\nشیشہ و جام و سبو ہوں گے ابھی چکناچور\nمست بہکے تو بڑی ہوگی خرابی ساقی\n\nکوئی آفت ترے مے خانے پہ آ سکتی ہے\nسب دعا گو ہیں یہ جتنے ہیں شرابی ساقی\n\nصرف للٰلہ بھی مے خانے میں جاری کر دے\nمقتضی ہو جو تری ہمت عالی ساقی\n\nتنگ ہو کر ترے ہر بار کے دہکانے سے\nکوس بیٹھے نہ کوئی رند شرابی ساقی\n\nجو پیے گا نہ شراب آج وہ مجرم ہوگا\nکو بہ کو کل سے تو کر دے یہ منادی ساقی\n\nدرد بھی مجھ کو پلا دے گا تو بد مستی میں\nسب سنا دوں گا میں دیوان زلالی ساقی\n\nبرف پلوا کے کلیجہ مرا ٹھنڈا کر دے\nآب انگور نے تو آگ لگا دی ساقی\n\nتیرا جی چاہے تو پلوا دے کوئی جام شراب\nہاتھ پھیلانے کا بندہ نہیں عادی ساقی\n\nنفس گرم کی تاثیر نے مے ساغر سے\nشعلۂ لفظ کے مانند اڑا دی ساقی\n\nاور تو حسرتیں سب رندؔ کے دل سے نکلیں\nجام کوثر کی تمنا رہی باقی ساقی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D9%84%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B4_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%84%DA%86%DA%BE%D9%B9_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%81%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "مجھ درد سیں یار آشنا نئیں", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ درد سیں یار آشنا نئیں\nشاید کہ کسی کا مبتلا نئیں\n\nخوباں کوں روا ہے قتل عاشق\nاس شہر میں رسم خوں بہا نئیں\n\nنہیں بار یزید بو الہوس کوں\nظالم کی گلی ہے کربلا نئیں\n\nتجھ زلف میں دل نے گم کیا راہ\nاس پیہم گلی کوں انتہا نئیں\n\nاے شمع دل سراجؔ مجھ کوں\nجلنے کے بغیر مدعا نئیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D9%86%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مجھ سا بھی کوئی عشق میں ہے بد گماں نہیں", "poet_page": "مصنف:مفتی صدر الدین خان آزردہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سا بھی کوئی عشق میں ہے بد گماں نہیں\nکیا رشک دیکھ کر مجھے رنگ خزاں نہیں\n\nآنکھوں سے دیکھ کر تجھے سب ماننا پڑا\nکہتے تھے جو ہمیشہ چنیں ہے چناں نہیں\n\nاٹھ کر سحر کو سجدۂ مستانہ کے سوا\nطاعت قبول خاطر پیر مغاں نہیں\n\nافسردہ دل ہو در در رحمت نہیں ہے بند\nکس دن کھلا ہوا در پیر مغاں نہیں\n\nاے جذب شوق رحم کہ مد نظر ہے یار\nجا سکتی واں تلک نگہ ناتواں نہیں\n\nشب اس کو حال دل نے جتایا کچھ اس طرح\nہیں لب تو کیا نگہ بھی ہوئی ترجماں نہیں\n\nکٹتی کسی طرح سے نہیں یہ شب فراق\nشاید کہ گردش آج تجھے آسماں نہیں\n\nاچھا ہوئی نکل گئی آہ حزیں کے ساتھ\nاک قہر تھی بلا تھی قیامت تھی جاں نہیں\n\nجانے ہے دل فلک کا مری سخت جانیاں\nان ناتوانیوں کو پہنچتی تواں نہیں\n\nکہتا ہوں اس سے کچھ میں نکلتا ہے منہ سے کچھ\nکہنے کو یوں تو ہے گی زباں اور زباں نہیں\n\nمہکا ہوا ہے بیت حزن دیکھنا کوئی\nآیا نسیم مصر کا ہو کارواں نہیں\n\nلب بند ہوں تو روزن سینہ کو کیا کروں\nتھمتا تو مجھ سے نالۂ آتش عناں نہیں\n\nکیا کچھ نہ کر دکھاؤں پر اک دن کے واسطے\nملتا بھی ہم کو منصب ہفت آسماں نہیں\n\nوہ شاخ نخل خشک ہوں میں کنج باغ میں\nدیکھے ہے بھول کر بھی جسے باغباں نہیں\n\nبے وقت آئے دیر میں کیا شورشیں کریں\nہم پیرو پیر میکدہ بھی نوجواں نہیں\n\nآزردہؔ نے پڑھی غزل اک مے کدہ میں کل\nوہ صاف تر کہ سینہ پیر مغاں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%AF_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مجھ سا بیتاب ہووے جب کوئی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سا بیتاب ہووے جب کوئی\nبے قراری کو جانے تب کوئی\n\nہاں خدا مغفرت کرے اس کو\nصبر مرحوم تھا عجب کوئی\n\nجان دے گو مسیح پر اس سے\nبات کہتے ہیں تیرے لب کوئی\n\nبعد میرے ہی ہو گیا سنسان\nسونے پایا تھا ورنہ کب کوئی\n\nاس کے کوچے میں حشر تھے مجھ تک\nآہ و نالہ کرے نہ اب کوئی\n\nایک غم میں ہوں میں ہی عالم میں\nیوں تو شاداں ہے اور سب کوئی\n\nنا سمجھ یوں خفا بھی ہوتا ہے\nمجھ سے مخلص سے بے سبب کوئی\n\nاور محزوں بھی ہم سنے تھے ولے\nمیرؔ سا ہو سکے ہے کب کوئی\n\nکہ تلفظ طرب کا سن کے کہے\nشخص ہوگا کہیں طرب کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "مجھ سا نہ دے زمانے کو پروردگار دل", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سا نہ دے زمانے کو پروردگار دل\nآشفتہ دل فریفتہ دل بے قرار دل\n\nہر بار مانگتی ہیں نیا چشم یار دل\nاک دل کے کس طرح سے بناؤں ہزار دل\n\nمشہور ہو گئی ہے زیارت شہید کی\nخوں کشتہ آرزو کا بنا ہے مزار دل\n\nیہ صید گاہ عشق ہے ٹھہرائیے نگاہ\nصیاد مضطرب سے نہ ہوگا شکار دل\n\nطوفان نوح بھی ہو تو مل جائے خاک میں\nاللہ رے غبار ترا پر غبار دل\n\nپوچھا جو اس نے طالب روز جزا ہے کون\nنکلا مری زباں سے بے اختیار دل\n\nکرتے ہو عہد وصل تو اتنا رہے خیال\nپیمان سے زیادہ ہے ناپائیدار دل\n\nتاثیر عشق یہ ہے ترے عہد حسن میں\nمٹی کا بھی بنائیں تو ہو بے قرار دل\n\nاس کی تلاش ہے کہ نظر آئے آرزو\nظالم نے روز چاک کئے ہیں ہزار دل\n\nعالم ہوا تمام رہا اس کو شوق حور\nبرسائے آسمان سے پروردگار دل\n\nپہلے پہل کی چاہ کا کیجے نہ امتحاں\nآنا تو سیکھ لے ابھی دو چار بار دل\n\nنکلے مری بغل سے وہ ایسے تڑپ کے ساتھ\nیاد آ گیا مجھے وہیں بے اختیار دل\n\nاے عندلیب تجھ کو لگے کب ہوائے عشق\nکلیوں کی طرح تجھ میں نہ پھوٹے ہزار دل\n\nعاشق ہوئے وہ جیسے عدو پر یہ حال ہے\nرکھ کہہ کے ہاتھ دیکھتے ہیں بار بار دل\n\nاس نے کہا ہے صبر پڑے گا رقیب کا\nلے اور بے قرار ہوا بے قرار دل\n\nبیتاب ہو کے بزم سے اس کی اٹھا دیا\nغافل میں ہوں مگر ہے بہت ہوشیار دل\n\nمشہور ہیں سکندر و جم کی نشانیاں\nاے داغؔ چھوڑ جائیں گے ہم یادگار دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%84"} {"title": "مجھ ساتھ سیر باغ کوں اے نوبہار چل", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ ساتھ سیر باغ کوں اے نوبہار چل\nبلبل ہے انتظار میں اے گل عذار چل\n\nکرنے کوں قتل عاشق جاں باز کے صنم\nلے تیغ ناز ہاتھ کمر رکھ کٹار چل\n\nکرنے نظارہ باغ کا نکلا ہے گلبدن\nبرجا ہے ہر چمن سوں گر آوے بہار چل\n\nاس گل بدن سوں ذوق ہم آغوش ہے اگر\nہو چاک سینہ گل کے نمن بن کے ہار چل\n\nاس شمع رو کے وصل کا گر تجھ کوں شوق ہے\nمحفل میں عاشقاں کی ہو پروانہ وار چل\n\nآخر اسیر عمر کا ہے اس جہاں سوں کوچ\nاس واسطے ہے دم کی جرس میں پکار چل\n\nگر عزم ہے بزرگی اس عالم میں ہوئے حصول\nاعمال نامہ جگ میں اپس کا سنوار چل\n\nگر یار کے ہے وصل کی نعمت کی اشتہا\nہر شے سوں رہ او پاس وہاں لگ نہار چل\n\nاول خودی کے گھر کوں اے داؤدؔ توڑ سٹ\nمے خانۂ وصال میں تب سدھ بسار چل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%86%D9%84"} {"title": "مجھ سوز بعد مرگ سے آگاہ کون ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سوز بعد مرگ سے آگاہ کون ہے\nشمع مزار میر بجز آہ کون ہے\n\nبیکس ہوں مضطرب ہوں مسافر ہوں بے وطن\nدوری راہ بن مرے ہم راہ کون ہے\n\nلبریز جس کے حسن سے مسجد ہے اور دیر\nایسا بتوں کے بیچ وہ اللہ کون ہے\n\nرکھیو قدم سنبھل کے کہ تو جانتا نہیں\nمانند نقش پا یہ سر راہ کون ہے\n\nایسا اسیر خستہ جگر میں سنا نہیں\nہر آہ میرؔ جس کی ہے جانکاہ کون ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D9%85%D8%B1%DA%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجھ سیں غم دست و گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سیں غم دست و گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا\nچاک سینے کا نمایاں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nاب تلک مجھ کوں کسی شخص کے چہرہ کا خیال\nصورت آئنۂ جاں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nصف عشاق میں کوئی ثانیٔ مجنوں مجھ سا\nوحشی کوہ و بیاباں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nاشک اولے ہو برستے ہیں مرے دامن میں\nیہ ورق نقرۂ افشاں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nخنجر عشق نے احسان کیا سر پہ مرے\nجان کندن کبھی آساں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nقبلہ رو رحم کیا مجھ پہ خط آغازی میں\nکافر ہند مسلماں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nآہ سوزاں سیں مرے دامن صحرا میں سراجؔ\nقبر مجنوں پہ چراغاں نہ ہوا تھا سو ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%D9%88_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "مجھ سے آزردہ جو اس گل رو کو اب پاتے ہیں لوگ", "poet_page": "مصنف:غمگین دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سے آزردہ جو اس گل رو کو اب پاتے ہیں لوگ\nاور ہی رنگت سے کچھ کچھ آ کے فرماتے ہیں لوگ\n\nجب سے جانا بند میرا ہو گیا اے ہمدمو\nتب سے ان کے گھر میں ہر ہر طرح کے آتے ہیں لوگ\n\nمیرے آہ سرد کی تاثیر اس کے دل میں دیکھ\nہائے کس کس طرح مجھ پر اس کو گرماتے ہیں لوگ\n\nجب وہ گھبراتے تھے مجھ سے تب تھے ان کے گھر کے خوش\nاب جو وہ خوش ہیں تو ان کے گھر کے گھبراتے ہیں لوگ\n\nکوئی سمجھاؤ انہیں بہر خدا اے مومنو\nاس صنم کے عشق میں جو مجھ کو سمجھاتے ہیں لوگ\n\nروز ہجراں تو دکھایا سو فریبوں سے مجھے\nدیکھیے اب اور کیا کیا ہائے دکھلاتے ہیں لوگ\n\nجو لگاتے تھے بجھاتے تھے ہمیشہ ان سے آہ\nوہ ہی اب ناچار غمگیںؔ مجھ سے شرماتے ہیں لوگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%B2%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%A8_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D9%88%DA%AF"} {"title": "مجھ سے اب صاف بھی ہو جا یوں ہی یار آپ سے آپ", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سے اب صاف بھی ہو جا یوں ہی یار آپ سے آپ\nجس طرح ہے تری خاطر میں غبار آپ سے آپ\n\nکب کہا آتش فرقت سے جلایا تو نے\nہیں مرے نالۂ دل صاعقہ بار آپ سے آپ\n\nخار تدبیر ہے پیش گل تقدیر عبث\nوقت پر باغ میں آتی ہے بہار آپ سے آپ\n\nدونوں عالم میں اگر ایک نہیں شعبدہ باز\nجمع کیوں کر ہوئے اضداد یہ چار آپ سے آپ\n\nنہیں آتا جو وہ خورشید مرے گھر میں نہ آئے\nصبح ہو جائے گی آخر شب تار آپ سے آپ\n\nکچھ شکایت نہیں عشق کمر نازک کی\nہو گیا ہوں میں صنم زار و نزار آپ سے آپ\n\nاو وجود چمن آرائے ازل کے منکر\nخود بخود گل ہوئے موجود نہ خار آپ سے آپ\n\nسرخ پوشاک پہن کر وہ سہی قد جو گیا\nجل اٹھے سرو چمن مثل چنار آپ سے آپ\n\nزلف کو چھو کے پڑا ہے جو بلا میں اے دل\nکاٹ کھاتا ہے کسی کو کوئی مار آپ سے آپ\n\nکچھ تری تیغ جفا کی نہیں تقصیر اے گل\nصورت غنچہ مرا دل ہے فگار آپ سے آپ\n\nغیر کا منہ ہے کہ لے بوسے ترے او ظالم\nنیلگوں ہو گئے ہوں گے یہ عذار آپ سے آپ\n\nنالہ کش مثل جرس کیوں ہے عبث اے مجنوں\nصبر کر آئے گی جمازہ سوار آپ سے آپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%B5%D8%A7%D9%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "مجھ سے افسردہ نہ اے جوش بہاراں ہونا", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سے افسردہ نہ اے جوش بہاراں ہونا\nکیف میں بھول گیا چاک گریباں ہونا\n\nجب بکھر جاتی ہے زلف اور نکھر جاتی ہے\nمجھ کو جمعیت خاطر ہے پریشاں ہونا\n\nذرہ ذرہ ہے تجلی سے لڑائے ہوئے آنکھ\nکس قیامت کی نمائش ہے یہ پنہاں ہونا\n\nدور ہیں تجھ سے ابھی نور کے ذرے ہر سو\nاے مری خاک ذرا اور پریشاں ہونا\n\nحسرت دید نے آئینہ بنایا دل کو\nعین نظارہ ہے نظارہ کا ارماں ہونا\n\nحسن ہر شے کو دیا عشق ملا ہر دل کو\nتاکہ آسان ہو انسان کا انساں ہونا\n\nخوب ہوتا ہے نمایاں سخن ناطقؔ سے\nمثل معنی ترا ہر لفظ میں پنہاں ہونا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "مجھ سے اک بات کیا کیجئے بس", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سے اک بات کیا کیجئے بس\nاس قدر مہر و وفا کیجئے بس\n\nآفریں سامنے آنکھوں کے مری\nیوں ہی تا دیر رہا کیجئے بس\n\nدل بیمار ہوا اب چنگا\nدوستو ترک دوا کیجئے بس\n\nخون عاشق سے یہ پرہیز اسے\nآشنائے کف پا کیجئے بس\n\nشرم تا چند حیا بھی کب تک\nمنہ سے برقعے کو جدا کیجئے بس\n\nگر زباں اپنی ہو گویا تو مدام\nطالعوں کا ہی گلا کیجئے بس\n\nتم میاں مصحفیؔ رخصت تو ہوئے\nاب کھڑے کیوں ہو دعا کیجئے بس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%B3"} {"title": "مجھ سے جو نہ ملتے وہ کوئی رات نہ تھی", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مجھ سے جو نہ ملتے وہ کوئی رات نہ تھی\nمجھ سے جو نہ کہتے وہ کوئی بات نہ تھی\nبے گانگی اب انہوں نے ایسی برتی\nگویا کہ کبھی مجھ سے ملاقات نہ تھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%92_%D9%88%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "مجھ سے دل آپ کا مکدر ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سے دل آپ کا مکدر ہے\nایسا جینا مجھے بھی دوبھر ہے\n\nکیا قلم کاریاں ہیں قدرت کی\nایک پتی ہزار دفتر ہے\n\nہاتھ آئے تو دل میں رکھ لوں میں\nکیسا پیارا تمہارا خنجر ہے\n\nاپنی شہ رگ کا خوں پلاؤں اسے\nدو مجھے یہ تمہارا خنجر ہے\n\nیہ اسی کے لئے ہوا پیدا\nآپ کی تیغ ہے مرا سر ہے\n\nبھولتی ہی نہیں ہے یاد تری\nرات بھر ہے یہ شغل دن بھر ہے\n\nاپنی ہی شکل کے وہ عاشق ہیں\nبس نظر ان کی آئنے پر ہے\n\nدیکھ کر ان کو جی گیا عاشق\nیہ ہے صورت جو روح پرور ہے\n\nہاتھ خالی اگر ہیں کیا پروا\nجان حاضر ہے دل تونگر ہے\n\nمر گیا آج آپ کا عاشق\nاب نہ وہ شور ہے نہ وہ شر ہے\n\nشاعری کا مزا گیا اکبرؔ\nاب ہجوم آفتوں کا دل پر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DA%A9%D8%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجھ سے عاشق کے تئیں مار کے کیا پاوے گا", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سے عاشق کے تئیں مار کے کیا پاوے گا\nمفت بدنامی تجھے ہووے گی پچھتاوے گا\n\nجو ترا عاشق رفتار ہے جوں نقش قدم\nتیرے کوچے کے تئیں چھوڑ کہاں جاوے گا\n\nغیر کے کہنے پر اے یار نہ کہیو ہرگز\nیہ سمجھ رکھیو وہ شیطان ہے بہکاوے گا\n\nدہر میں تیرے فریبوں سے اے شوخ عیار\nکم کوئی ہوگا نہ دل جس کا دغا پاوے گا\n\nیار کو طرز جفا سے نہیں رکھنے کا باز\nناصحا ہر گھڑی مجھ کو ہی تو سمجھاوے گا\n\nآشنائی نہ جہاں دارؔ سے توڑ اے پیارے\nایسا عاشق نہ جہاں میں تو کوئی پاوے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D9%88%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا\nمیرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گا\n\nٹھہرو ٹھہرو مرے اصنام خیالی ٹھہرو\nمیرا دل گوشۂ تنہائی میں گھبرائے گا\n\nلوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو\nزخم گہرا ہی سہی زخم ہے بھر جائے گا\n\nعزم پختہ ہی سہی ترک وفا کا لیکن\nمنتظر ہوں کوئی آ کر مجھے سمجھائے گا\n\nآنکھ جھپکے نہ کہیں راہ اندھیری ہی سہی\nآگے چل کر وہ کسی موڑ پہ مل جائے گا\n\nدل سا انمول رتن کون خریدے گا شکیبؔ\nجب بکے گا تو یہ بے دام ہی بک جائے گا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "مجھ سے ملنے کے لیے ماہ وہ گھر سے نکلا", "poet_page": "مصنف:صغرا ہمایوں مرزا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سے ملنے کے لیے ماہ وہ گھر سے نکلا\nکام میرا مری آہوں کے اثر سے نکلا\n\nہو گئیں مشکلیں آسان مری دم بھر میں\nنیک اختر یہ مرا شمس و قمر سے نکلا\n\nکیا وہ مطلب تھا فرشتے نہیں سمجھے جس کو\nآسماں پر وہی مطلب تو بشر سے نکلا\n\nمیٹھی باتوں سے نکلتا ہے جو مقصد اپنا\nوہ نہ دنیا میں کبھی لعل و گہر سے نکلا\n\nبعد مدت کے وہ آیا جو تو یہ میں نے کہا\nکس طرف سجدہ کروں چاند کدھر سے نکلا\n\nآپ نے خاک جو چھانی ہے حیاؔ دنیا کی\nفائدہ آپ کا کیا اتنے سفر سے نکلا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D9%88%DB%81_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "مجھ سے مڑنے کی نیں کسی رو سے", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سے مڑنے کی نیں کسی رو سے\nچشم رکھتا ہوں تیری ابرو سے\n\nاب تو بیٹھا میں نقش پا کی طرح\nکوئی اٹھتا ہے یار کی کو سے\n\nحسن سیرت ہے لازم محبوب\nخوبیٔ گل ہے خوبیٔ بو سے\n\nعشق میں درد سے ہے حرمت دل\nچشم کو آبرو ہے آنسو سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DA%91%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B1%D9%88_%D8%B3%DB%92"} {"title": "مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کر", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کر\nداد خواہی کے لیے آیا ہوں بیداد نہ کر\n\nدیکھ مٹ جائے گا ہستی سے گزر جائے گا\nدل نا عاقبت اندیش انہیں یاد نہ کر\n\nآ گیا اب تو مجھے لطف اسیری صیاد\nذبح کر ڈال مگر قید سے آزاد نہ کر\n\nجس پہ مرتا ہوں اسے دیکھ تو لوں جی بھر کے\nاتنی جلدی تو مرے قتل میں جلاد نہ کر\n\nآپ تو ظلم لگاتار کئے جاتے ہیں\nمجھ سے تاکید پہ تاکید ہے فریاد نہ کر\n\nجلوہ دکھلا کے مرا لوٹ لیا صبر و قرار\nپھر یہ کہتے ہیں کہ تو نالہ و فریاد نہ کر\n\nآپ ہی اپنی جفاؤں پہ پشیمان ہیں وہ\nان کو محجوب زیادہ دل ناشاد نہ کر\n\nاے صبا کوچۂ جاناں میں پڑا رہنے دے\nخاک ہم خاک نشینوں کی تو برباد نہ کر\n\nہم تو جب سمجھیں کہ ہاں دل پہ ہے قابو بیدمؔ\nوہ تجھے بھول گئے تو بھی انہیں یاد نہ کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%BE_%DA%A9%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "مجھ سے کہتے ہو کیا کہیں گے آپ", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سے کہتے ہو کیا کہیں گے آپ\nجو کہوں گا تو کیا سنیں گے آپ\n\nکیا بیان شب فراق کریں\nنہ سنا ہے نہ اب سنیں گے آپ\n\nنہیں کھلتا سبب تبسم کا\nآج کیا کوئی بوسہ دیں گے آپ\n\nناصحا آپ خود ہی ناداں ہیں\nکیا نصیحت مجھے کریں گے آپ\n\nدم آخر یہ تھا مرے لب پر\nکس پہ جور و ستم کریں گے آپ\n\nظلم کی کچھ بھی انتہا ہوگی\nیا ہمیشہ ستم کریں گے آپ\n\nمنتظر ہیں تمہارے مدت سے\nدیکھیے ہم سے کب ملیں گے آپ\n\nدرد نا گفتہ بہ ہو جب ساقی\nوہ سنیں بھی تو کیا کہیں گے آپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "مجھ سے کیوں کہتے ہو مضموں غیر کی تحریر کا", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ سے کیوں کہتے ہو مضموں غیر کی تحریر کا\nجانتا ہوں مدعا میں آپ کی تقریر کا\n\nساتھ گر سونے نہ دو گے تم کو بھی نیند آ چکی\nمیں تو عادی ہو گیا ہوں نالۂ شب گیر کا\n\nاپنے مطلب کی سمجھ کر ہو گئے تھے ہم تو خوش\nکیوں مکرتے ہو یہی مطلب ہے اس تقریر کا\n\nعہد کس کا، آپ جو کہتے اسے سچ جانتا\nکیا کروں قائل ہوں میں تو غیر کی تدبیر کا\n\nکچھ اثر ان پر ہوا تو کیا ہی دیتے ہیں فریب\nکہتے ہیں قائل نہیں میں آہ بے تاثیر کا\n\nیہ تو فرماؤ کہ کیا اس کو کروں گا میں معاف\nمیرے آگے ذکر کیوں ہے غیر کی تقصیر کا\n\nایک دن سن کر چلے آئے تھے وہ بے ساختہ\nآسماں پر ہے دماغ اب آہ بے تاثیر کا\n\nپنجۂ الفت سے پکڑا ہے اسے دل نے مرے\nسہل ہے قاتل کوئی پہلو سے کھنچنا تیر کا\n\nکوشش بے جا تھی یہ کچھ اعتماد عقل پر\nاب یہ درجہ ہے کہ قائل ہی نہیں تدبیر کا\n\nجتنے سر ہیں اتنے سودے کیا خطا ناصح مری\nمیں ہی اک قیدی نہیں اس زلف عالمگیر کا\n\nکیا کہا تھا میں نے تم کیا سمجھے اس کا کیا علاج\nتم ہی منصف ہو یہ مطلب تھا مری تقریر کا\n\nیہ مرا لکھا کہ جو تدبیر کی الٹی پڑی\nاور اس پر بھی مجھے شکوہ نہیں تقدیر کا\n\nجذب الفت اس کو کہتے ہیں کہیں پڑ جائے ہاتھ\nزخم دل پر ہی پہنچتا ہے تری شمشیر کا\n\nمجھ کو اس کے پاس جانا اس میں جو کچھ ہو نظامؔ\nایک مطلب جانتا ہوں ذلت و توقیر کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D9%85%D8%B6%D9%85%D9%88%DA%BA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "مجھ قبر سے یار کیونکے جاوے", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ قبر سے یار کیونکے جاوے\nہے شمع مزار کیونکے جاوے\n\nرہتا ہے رقیب نت تیرے سنگ\nچھاتی کا پہاڑ کیونکے جاوے\n\nحیراں ہوئے بسکہ منہ تیرا دیکھ\nگلشن سے بہار کیونکے جاوے\n\nہے ہجر کی رات سنسناتی\nناگن سے پھنکار کیونکے جاوے\n\nنت ہے مرا کینہ اس کے دل میں\nپتھر سے شرار کیونکے جاوے\n\nکس وجہ اٹھے وہ منہ سے یہ دل\nگلشن سے ہزار کیونکے جاوے\n\nگلزار کو فصل گل میں عاشق\nپے لالۂ داغدار کیونکے جاوے\n\nہے بزم بتوں سے شیخ محروم\nجنت میں حمار کیونکے جاوے\n\nمنہ سے تیرے سرکے زلف کس وجہ\nگلزار سے مار کیونکے جاوے\n\nکیوں کر کروں ضبط آہ قاتل\nگھائل سے پکار کیونکے جاوے\n\nجیتا ہے اسی گلی میں عزلتؔ\nجب جی دیا ہار کیونکے جاوے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%82%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%92"} {"title": "مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے\nدیوانے کو ایک ہو بہت ہے\n\nموتی کی طرح جو ہو خداداد\nتھوڑی سی بھی آبرو بہت ہے\n\nجاتے ہیں جو صبر و ہوش جائیں\nمجھ کو اے درد تو بہت ہے\n\nمانند کلیم بڑھ نہ اے دل\nیہ درد کی گفتگو بہت ہے\n\nبے کیف ہو مے تو خم کے خم کیا\nاچھی ہو تو اک سبو بہت ہے\n\nکیا وصل کی شب میں مشکلیں ہیں\nفرصت کم آرزو بہت ہے\n\nمنظور ہے خون دل جو اے یاس\nاپنے لیے آرزو بہت ہے\n\nاے نشتر غم ہو لاکھ تن خشک\nتیرے دم کو لہو بہت ہے\n\nچھیڑے وہ مژہ تو کیوں میں روؤں\nآنکھوں میں خلش کو مو بہت ہے\n\nغنچے کی طرح چمن میں ساقی\nاپنا ہی مجھے سبو بہت ہے\n\nکیا غم ہے امیرؔ اگر نہیں مال\nاس وقت میں آبرو بہت ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجھ میں تو ایک خوئے جفا اور ہو گئی", "poet_page": "مصنف:وحیدالدین احمد وحید", "kind": "poetry", "section": "غزل > انتخاب وحید (1939)", "year": "1939", "text_ur": "مجھ میں تو ایک خوئے جفا اور ہو گئی\nمیں اور ہو گیا نہ وفا اور ہو گئی\n\nگل کا کہیں نشاں ہے نہ بلبل کا ذکر ہے\nدو روز میں چمن کی ہوا اور ہو گئی\n\nآمد کو سن کے کھولی تھی بیمار غم نے آنکھ\nتم آ گئے امید شفا اور ہو گئی\n\nبنت عنب تو رندوں کو یوں ہی مباح تھی\nزاہد نظر پڑا تو روا اور ہو گئی\n\nشکل قبول ہو کے پھری آسمان سے\nتاثیر ہو گئی تو دعا اور ہو گئی\n\nیاد آ گئی جو کعبے میں ابرو کی اے وحیدؔ\nاپنی نماز عشق ادا اور ہو گئی", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AE%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "مجھ پاس کبھی وو قد شمشاد نہ آیا", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ پاس کبھی وو قد شمشاد نہ آیا\nاس گھر منے وو دل بر استاد نہ آیا\n\nگلشن مری انکھیاں میں لگے گلخن دوزخ\nجو سیر کو مجھ ساتھ پری زاد نہ آیا\n\nسانجھ آئی دیو دن بی ہوا فکر میں آخر\nوو دل بر جادو گر و صیاد نہ آیا\n\nآیا نہ ہمن پاس کیا وعدہ خلافی\nفائزؔ کا کچھ احوال مگر یاد نہ آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%88%D9%88_%D9%82%D8%AF_%D8%B4%D9%85%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مجھ پر ان کا عتاب ہو ہی گیا", "poet_page": "مصنف:رنج حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > مخبر عشق (1895)", "year": "1895", "text_ur": "مجھ پر ان کا عتاب ہو ہی گیا\nجان پر اک عذاب ہو ہی گیا\n\nدل مرا آخر اے غم جاناں\nتیرے ہاتھوں خراب ہو ہی گیا\n\nلاکھ چاہا بچائے اس سے خدا\nعشق خانہ خراب ہو ہی گیا\n\nغیر نے امتحان دے ہی دیا\nبے حیا کامیاب ہو ہی گیا\n\nمیکدے سے گیا جو مسجد کو\nمجھ کو حاصل ثواب ہو ہی گیا\n\nآپ کا اور میرا افسانہ\nشہر میں انتخاب ہو ہی گیا\n\nآخر اک روز وہ بت کافر\nحسن میں لا جواب ہو ہی گیا\n\nاس نے کی غیر کی طرف داری\nیہ بھی روز حساب ہو ہی گیا\n\nغش ہے زاہد شراب کوثر پر\nاس کو شوق شراب ہو ہی گیا\n\nدیکھنا نامہ بر کی طراری\nیہ بھی حاضر جواب ہو ہی گیا\n\nدشمنوں کی مراد بر آئی\nدوستوں پر عتاب ہو ہی گیا\n\nایک دو وقت کے وہ ملنے میں\nغیر سے بے حجاب ہو ہی گیا\n\nوہ نہ اٹھے بغیر جان لئے\nان کا مقصد شتاب ہو ہی گیا\n\nباتوں باتوں میں رنجؔ رنجؔ ان سے\nآخر اک دن جناب ہو ہی گیا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88_%DB%81%DB%8C_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مجھ پر ایسی جفا کی کثرت کی", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ پر ایسی جفا کی کثرت کی\nکہ اسے غیر نے ملامت کی\n\nتم کو اپنے خرام سے مطلب\nٹھوکریں کھائے کوئی قسمت کی\n\nوعدۂ وصل صبح اس سے کرو\nکٹ سکے جس سے رات فرقت کی\n\nاپنی بیداد کو نہیں کہتے\nمیری فریاد کی شکایت کی\n\nاب کہاں حور خلد میں واعظ\nتو نے برباد یوں ہی محنت کی\n\nہیں جو دنیا کی یہ پری زادیں\nیہی حوریں بنیں گی جنت کی\n\nترک عشق اور میں غلط سالکؔ\nکون روکے زبان خلقت کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%AB%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "مجھ پر اے محرم جاں پردۂ اسرار کوں کھول", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ پر اے محرم جاں پردۂ اسرار کوں کھول\nخواب غفلت سیں اٹھا دیدۂ بے دار کوں کھول\n\nدل کوں اب دامن صحرائے جنوں یاد آیا\nعقل کے دام سیں اس صید گرفتار کوں کھول\n\nاے نسیم سحری بوئے محبت لے آ\nطرۂ یار ستی عطر کی مہکار کوں کھول\n\nآرزو ہے مری آنکھوں سیں رواں ہویں آنسو\nنشتر غم سیں رگ ابر گہر بار کوں کھول\n\nمیں خریدار ہوں دے جنس جنوں خاطر خواہ\nاے غم قافلہ سالار ٹک اس بار کوں کھول\n\nقفس غم میں دل افسردہ رہوں گا کب تک\nنغمۂ شوق سیں میرے لب گفتار کوں کھول\n\nقصۂ درد کوں انجام نہیں مثل سراجؔ\nغم کے دفتر کوں لپیٹ آہ کے طومار کوں کھول", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%82_%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84"} {"title": "مجھ پہ رکھتے ہیں حشر میں الزام", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ پہ رکھتے ہیں حشر میں الزام\nآ نہ جائے زباں پہ تیرا نام\n\nضبط کی کوششیں بھی جاری ہیں\nدرد بھی کر رہا ہے اپنا کام\n\nجو عبارت نہ ہو ترے غم سے\nاہل دل پر وہ زندگی ہے حرام\n\nوقفۂ موت بھی غنیمت ہے\nکچھ تو فی الجملہ مل گیا آرام\n\nاس نے دیکھا ہے شام کا منظر\nجس نے دیکھی ہے بیکسوں کی شام\n\nکس سے اب درد کی دوا چاہوں\nدرد اٹھتا ہے لے کے تیرا نام\n\nاب قیامت قریب ہے فانیؔ\nفتنۂ عشق ہو چلا ہے تمام", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%85"} {"title": "مجھ کو آتا ہے تیمم نہ وضو آتا ہے", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو آتا ہے تیمم نہ وضو آتا ہے\nسجدہ کر لیتا ہوں جب سامنے تو آتا ہے\n\nیوں تو شکوہ بھی ہمیں آئینہ رو آتا ہے\nہونٹ سل جاتے ہیں جب سامنے تو آتا ہے\n\nہاتھ دھوئے ہوئے ہوں نیستی و ہستی سے\nشیخ کیا پوچھتا ہے مجھ سے وضو آتا ہے\n\nمنتیں کرتی ہے شوخی کہ منا لوں تجھ کو\nجب مرے سامنے روٹھا ہوا تو آتا ہے\n\nپوچھتے کیا ہو تمناؤں کی حالت کیا ہے\nسانس کے ساتھ اب اشکوں میں لہو آتا ہے\n\nیار کا گھر کوئی کعبہ تو نہیں ہے شاعرؔ\nہائے کم بخت یہیں مرنے کو تو آتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D9%85%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%88%D8%B6%D9%88_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجھ کو اب ساقیٔ گلفام سے کچھ کام نہیں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو اب ساقیٔ گلفام سے کچھ کام نہیں\nمے سے کچھ کام نہیں جام سے کچھ کام نہیں\n\nدل میں خوش آئی ہیں صحرا کی ببولیں پر خار\nاب کسی سرو گل اندام سے کچھ کام نہیں\n\nاپنے آرام سے ہوں دشت جنوں میں تنہا\nکسی محبوب دل آرام سے کچھ کام نہیں\n\nخانہ برباد ہوں صحرا میں بگولوں کی طرح\nسقف و دیوار و در و بام سے کچھ کام نہیں\n\nطائر روح رمیدہ کی طرح چھوٹا ہوں\nاب تو صیاد ترے دام سے کچھ کام نہیں\n\nطبع روشن کو نہیں خوف سیہ روزی کا\nصبح محشر ہوں مجھے شام سے کچھ کام نہیں\n\nاتنی مدت سے ہوں غربت میں وطن بھول گیا\nمجھ کو اب نامہ و پیغام سے کچھ کام نہیں\n\nہے فراق بت خود کام میں ناسخؔ کا کلام\nہوں میں ناکام مجھے کام سے کچھ کام نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D9%94_%DA%AF%D9%84%D9%81%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہے", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہے\nیہ محبت نہیں ہے آفت ہے\n\nلوگ کہتے ہیں عاشقی جس کو\nمیں جو دیکھا بڑی مصیبت ہے\n\nبند احکام عقل میں رہنا\nیہ بھی اک نوع کی حماقت ہے\n\nایک ایمان ہے بساط اپنی\nنہ عبادت نہ کچھ ریاضت ہے\n\nآ پھنسوں میں بتوں کے دام میں یوں\nدردؔ یہ بھی خدا کی قدرت ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجھ کو تو شراب سے مستی ہے اور", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مجھ کو تو شراب سے مستی ہے اور\nتن قید کے چھوٹنے سے ہستی ہے اور\nقاسم علی دیر اور حرم کے اندر\nحق اور ہے شوق بت پرستی ہے اور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "مجھ کو تو مرض ہے بے خودی کا", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو تو مرض ہے بے خودی کا\nزاہد کو گمان ہے مے کشی کا\n\nہر رنگ ہے تیرے آگے پھیکا\nمہتاب ہے پھول چاندنی کا\n\nچل جائے گا کام کچھ کسی کا\nمنہ مڑ نہ گیا اگر چھری کا\n\nہر وقت ہیں موت کی دعائیں\nاللہ رے لطف زندگی کا\n\nآئینہ بنا رہے ہو دل کو\nدل ٹوٹ نہ جائے آرسی کا\n\nہم کہتے تھے جوڑے میں نہیں پھول\nآخر نکلا وہ دل کسی کا\n\nکہیے ابھی اک ادا پہ کٹ جائیں\nدم دیکھتے تھے فقط چھری کا\n\nمٹتی نہیں دشمنی کسی کی\nرنگ اس میں ہے میری دوستی کا\n\nبوسے کو جگہ ملی لبوں پر\nاب رنگ جمے گا کیا مسی کا\n\nپیارے پیارے تھے پھول سے ہونٹھ\nدھبا یہ برا لگا مسی کا\n\nاٹھلا اٹھلا کے ان کو چلنا\nمٹ جائے بلا سے دل کسی کا\n\nپاتے ہیں جو مجھ کو جی سے بیزار\nکہتے ہیں مزہ ہے عاشقی کا\n\nہوں ایک سے سب حسین کیوں کر\nہے رنگ جدا کلی کلی کا\n\nپہلے تو تھے محو دید موسیٰ\nاب لیتے مزہ ہیں بے خودی کا\n\nسمجھے تھے نہ ہم کو تم پہ مرنا\nہو جائے گا روگ زندگی کا\n\nشوخی مضمون کی لے اڑی ہے\nعالم ہے شعر میں پری کا\n\nکھینچیں جو وہ تیر دل بھی دے ساتھ\nحق کچھ تو ادا ہو دوستی کا\n\nنالے بلبل کے تھے کہ چھریاں\nدل ٹکڑے ہوا کلی کلی کا\n\nاٹھنے نہ دیا کسی کے در سے\nاحسان ہے مجھ پہ لاغری کا\n\nپھولوں سے کہو کہ روتی ہے اوس\nاب اس سے مزہ نہیں ہنسی کا\n\nکہتے تھے نہ ہم جلیلؔ تم سے\nانجام برا ہے دل لگی کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B1%D8%B6_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "مجھ کو تو یہ دُنیا نظر آتی ہے دِگرگُوں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مجھ کو تو یہ دُنیا نظر آتی ہے دِگرگُوں\nمعلوم نہیں دیکھتی ہے تیری نظر کیا\nہر سینے میں اک صُبحِ قیامت ہے نمودار\nافکار جوانوں کے ہوئے زیر و زبر کیا\nکر سکتی ہے بے معرکہ جِینے کی تلافی\nاے پِیرِ حرم تیری مناجاتِ سحَر کیا\nممکن نہیں تخلیقِ خودی خانقہوں سے\nاس شُعلۂ نم خوردہ سے ٹُوٹے گا شرَر کیا!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%8F%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%90%DA%AF%D8%B1%DA%AF%D9%8F%D9%88%DA%BA"} {"title": "مجھ کو خاک در مے خانہ بنایا ہوتا", "poet_page": "مصنف:چندر بھان کیفی دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو خاک در مے خانہ بنایا ہوتا\nپھر اسی خاک سے پیمانہ بنایا ہوتا\n\nجلوہ گر حسن مجازی میں حقیقت ہوتی\nکعبۂ دل کو صنم خانہ بنایا ہوتا\n\nنہ مجھے رنگ چمن سے کوئی مطلب ہوتا\nصورت سبزۂ بیگانہ بنایا ہوتا\n\nآپ بیتی جو سناتا ہوں تو کہہ دیتے ہیں\nاس سے بہتر کوئی افسانہ بنایا ہوتا\n\nمے کشوں کے جو مقدر میں نہ تھے یہ دانے\nنخل انگور کو بے دانہ بنایا ہوتا\n\nعمر بھر خانہ خمار میں سر خوش رہتے\nزندگی کا یہی پیمانہ بنایا ہوتا\n\nکفر و ایماں میں نہ رہتی یہ کشاکش کیفیؔ\nکعبہ و دیر کو مے خانہ بنایا ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیا\nچور کر دے کیوں نہ وہ شیشہ جسے پتھر دیا\n\nاس سے طالب ہوں دیت کا آپ سے مطلب نہیں\nجس نے گردن ایک کو دی ایک کو خنجر دیا\n\nتھا مکافات عمل احباب کا حسن عمل\nیہ بھی ایسا قرض تھا جو اور سے لے کر دیا\n\nاب نہ ہے فکر حفاظت اور نہ ضیق رفع کار\nدینے والے نے دیا اور میری خواہش بھر دیا\n\nگریۂ بے اختیار غم بھی تھا فطری علاج\nجس نے تھوڑے جوش کو ہر مرتبہ کم کر دیا\n\nجس میں کیف غم نہیں باز آئے ایسے دل سے ہم\nیہ بھی دنیا ہے کوئی مے تو نہ دی ساغر دیا\n\nآرزوؔ اک روز ڈھا دیتا مجھے میرا ہی زور\nیہ بھی اس کی کارسازی دل میں جس نے ڈر دیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%BA%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مجھ کو دنیا کی تمنا ہے نہ دیں کا لالچ", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "مجھ کو دنیا کی تمنا ہے نہ دیں کا لالچ\nہائے لالچ ہے تو اک ماہ جبیں کا لالچ\n\nعشق بازی پہ سنا مجھ کو ملامت نہ کرو\nحیف ہے جس کو نہ ہو تم سے حسیں کا لالچ\n\nحالت قلب سر بزم بتاؤں کیوں کر\nپردۂ دل میں ہے اک پردہ نشیں کا لالچ\n\nجب یہیں طیش میں گزرے تو وہاں کیا امید\nنہ رہا اس لئے ہم کو تو کہیں کا لالچ\n\nبوریا تخت سلیماں سے کہیں بہتر ہے\nہم غریبوں کو نہیں تاج و نگیں کا لالچ\n\nنہ میں دنیا کا طلب گار نہ عقبیٰ کی ہوس\nآسمانوں کی تمنا نہ زمیں کا لالچ\n\nدل بھی دو جان بھی دو زر بھی دو اس کو پرویںؔ\nبڑھ گیا سب سے مرے ماہ جبیں کا لالچ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%84%D8%A7%D9%84%DA%86"} {"title": "مجھ کو دیار غیر میں مارا وطن سے دور", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو دیار غیر میں مارا وطن سے دور\nرکھ لی مرے خدا نے مری بیکسی کی شرم\n\nوہ حلقہ ‌ہاۓ زلف کمیں میں ہیں یا خدا\nرکھ لیجو میرے دعوی وارستگی کی شرم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%88%D8%B7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1"} {"title": "مجھ کو دیکھا تو ہنس کے کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو دیکھا تو ہنس کے کہتے ہیں\nاشک اب بے سبب بھی بہتے ہیں\n\nان کے کوچے میں خوش وہ رہتے ہیں\nہر طرح کے جو رنج سہتے ہیں\n\nجن کے دل میں ہے درد دنیا کا\nوہی دنیا میں زندہ رہتے ہیں\n\nمے کدہ کیوں ہے قبلۂ حاجات\nوہ مجھے بےوقوف کہتے ہیں\n\nجو مٹاتے ہیں خود کو جیتے جی\nوہی مر کر بھی زندہ رہتے ہیں\n\nدیجئے کیوں ریاضؔ کو تکلیف\nشعر سنتے ہیں وہ نہ کہتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%86%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مجھ کو سمجھو یادگار رفتگان لکھنؤ", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو سمجھو یادگار رفتگان لکھنؤ\nہوں قد آدم غبار کاروان لکھنؤ\n\nخون حسرت کہہ رہا ہے داستان لکھنؤ\nرہ گیا ہے اب یہی رنگیں بیان لکھنؤ\n\nگوش عبرت سے سنے کوئی مری فریاد ہے\nبلبل خونیں نوائے بوستان لکھنؤ\n\nمیرے ہر آنسو میں اک آئینۂ تصویر ہے\nمیرے ہر نالہ میں ہے طرز فغان لکھنؤ\n\nڈھونڈھتا ہے اب کسے لے کر چراغ آفتاب\nکیوں مٹایا اے فلک تو نے نشان لکھنؤ\n\nلکھنؤ جن سے عبارت تھی ہوئے وہ ناپدید\nہے نشان لکھنؤ باقی نہ شان لکھنؤ\n\nاب نظر آتا نہیں وہ مجمع اہل کمال\nکھا گئے ان کو زمین و آسمان لکھنؤ\n\nپہلے تھا اہل زباں کا دور اب گردش میں ہیں\nچاہئے تھی تیغ اردو کو فسان لکھنؤ\n\nمرثیہ گو کتنے یکتائے زمانہ تھے یہاں\nکوئی تو اتنوں میں ہوتا نوحہ خوان لکھنؤ\n\nیہ غبار ناتواں خاکستر پروانہ ہے\nخاندان اپنا تھا شمع دودمان لکھنؤ\n\nچلتا تھا جب گھٹنیوں اپنے یہاں طفل رضیع\nسجدہ کرتے تھے اسے گردن کشان لکھنؤ\n\nعہد پیرانہ سری میں کیوں نہ شیریں ہو سخن\nبچپنے میں میں نے چوسی ہے زبان لکھنؤ\n\nگلشن فردوس پر کیا ناز ہے رضواں تجھے\nپوچھ اس کے دل سے جو ہے رتبہ دان لکھنؤ\n\nبوئے انس آتی ہے حیدرؔ خاک مٹیا برج سے\nجمع ہیں اک جا وطن آوارگان لکھنؤ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%D9%81%D8%AA%DA%AF%D8%A7%D9%86_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A4"} {"title": "مجھ کو عاشق کہہ کے اس کے روبرو مت کیجیو", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو عاشق کہہ کے اس کے روبرو مت کیجیو\nدوستاں گر دوست ہو تو یہ کبھو مت کیجیو\n\nجس ادا کا کشتہ ہوں میں وہ رہے میرے ہی ساتھ\nاس ادا کو مبتذل اے خوبرو مت کیجیو\n\nوقت رخصت دل نے اتنا ہی کہا رو کر کہ بس\nاب پھر آنے کی مرے تو آرزو مت کیجیو\n\nمیں تو یوں ہی تم سے دیوانہ سا بکتا ہوں کہیں\nاس کے آگے دوستاں یہ گفتگو مت کیجیو\n\nزلف کے کوچہ سے ہو گلشن میں گزرے ہے صبا\nآج واں جا کر گلوں کو کوئی بو مت کیجیو\n\nکل کے جھگڑے میں بھلا ہے کس کے یارو حق بطرف\nواجبی جو ہو سو کہیو میری رو مت کیجیو\n\nواں حسنؔ ہرگز نہیں ہے ڈھیل پھر جانے میں کچھ\nآشنائی پر بھروسہ اس کی تو مت کیجیو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D9%85%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%8C%D9%88"} {"title": "مجھ کو فرقت کی اسیری سے رہائی ہوتی", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو فرقت کی اسیری سے رہائی ہوتی\nکاش عیسیٰ کے عوض موت ہی آئی ہوتی\n\nعاشقی میں جو مزہ ہے تو یہی فرقت ہے\nلطف کیا تھا جو اگر اس سے جدائی ہوتی\n\nگر نہ ہو شمع تو معدوم ہیں پروانے بھی\nتو نہ ہوتا تو صنم کب یہ خدائی ہوتی\n\nغیر سے کرتے ہو ابرو کے اشارے ہر دم\nکبھی تلوار تو مجھ پر بھی لگائی ہوتی\n\nاس کی ہر دم کی نصیحت سے میں تنگ آیا ہوں\nکاش ناصح سے بھی آنکھ اس نے لڑائی ہوتی\n\nہوں وہ غم دوست کہ سب اپنے ہی دل میں بھرتا\nغم عالم کی اگر اس میں سمائی ہوتی\n\nخط کے آغاز میں تو مجھ سے ہوا صاف تو کب\nلطف تب تھا کہ صفائی میں صفائی ہوتی\n\nابر رحمت سے تو محروم رہی کشت مری\nکوئی بجلی ہی فلک تو نے گرائی ہوتی\n\nدشت پر خار میں مہندی کی ہوس بھی نکلی\nکب ہماری کف پا ورنہ حنائی ہوتی\n\nدھوئی کیوں اشک کے طوفان سے لوح محفوظ\nسرنوشت اپنی ہی ناسخؔ نے مٹائی ہوتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C"} {"title": "مجھ کو لینا ہے ترے رنگ حنا کا بوسہ", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو لینا ہے ترے رنگ حنا کا بوسہ\nدست رنگیں کا ملے یا کف پا کا بوسہ\n\nرنگ اڑ جائے جو منقار عنا دل چھو لے\nہے گراں گل کو لب موج صبا کا بوسہ\n\nچومتا ہاتھ میں ساقی کے ادب مانع تھا\nلے لیا جام مئے ہوش ربا کا بوسہ\n\nبجلی ہر لہر سے پیدا ہو ترے کوچے میں\nلے مرا ہر نفس گرم ہوا کا بوسہ\n\nمیں وہ ساغر نہیں آئے کبھی لب تک جو ریاضؔ\nکس کو ملتا ہے ترے رنگ حنا کا بوسہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DB%8C%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AD%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%81"} {"title": "مجھ کو مرے نصیب نے روز ازل سے کیا دیا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو مرے نصیب نے روز ازل سے کیا دیا\nدولت دو جہاں نہ دی اک دل مبتلا دیا\n\nدل ہی نگاہ ناز کا ایک ادا شناس تھا\nجلوۂ برق طور نے طور کو کیوں جلا دیا\n\nقبر میں جب کسی طرح دل کی تڑپ نہ کم ہوئی\nیاد خرام ناز نے حشر کا آسرا دیا\n\nروز جزا گلہ تو کیا شکر ستم ہی بن پڑا\nہائے کہ دل کے درد نے درد کو دل بنا دیا\n\nاب مری لاش پر حضور موت کو کوستے تو ہیں\nآپ کو یہ بھی ہوش ہے کس نے کسے مٹا دیا\n\nدل میں سما کے پھر گئی آس بندھا کے پھر گئی\nآج نگاہ دوست نے کعبہ بنا کے ڈھا دیا\n\nاف کہ گناہ گار ہم ہیں تو مگر خطا معاف\nآٹھ پہر کے درد نے دل ہی تو ہے دکھا دیا\n\nآپ ہم اپنی آگ میں اے غم عشق جل بجھے\nآگ لگے اس آگ کو پھونک دیا جلا دیا\n\nیوں نہ کسی طرح کٹی جب مری زندگی کی رات\nچھیڑ کے داستان غم دل نے مجھے سلا دیا\n\nگریۂ آتشیں کی داد دے شب غم تو کون دے\nخود سر شام کیا بجھی شمع نے دل بجھا دیا\n\nیاس نے درد ہی نہیں حق تو یہ ہے دوا بھی دی\nفانیؔ ناامید کو موت کا آسرا دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8_%D9%86%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%A7%D8%B2%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مجھ کو مسند پہ قلمداں بخشا", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو مسند پہ قلمداں بخشا\nشیر قالیں کو نیستاں بخشا\n\nپیر کنعاں کو دیا داغ فراق\nایک زن کو مہ کنعاں بخشا\n\nمرض عشق میں موت آتی ہے\nتو نے ہر درد کو درماں بخشا\n\nقابل دید ہے حسن حکمت\nحور کو روضۂ رضواں بخشا\n\nقطرہ بھی وسعت رحمت سے ہے بحر\nچشم کو نوح کا طوفاں بخشا\n\nدل نالاں کو دیے داغ فراق\nایک بلبل کو گلستاں بخشا\n\nدل بے رحم دیا ظالم کو\nجس طرح تیر کو پیکاں بخشا\n\nگل کو پر زر جو گریباں بخشا\nخار کو دشت کا داماں بخشا\n\nرحم آیا جو گنہ گاروں پر\nگنہ گبر و مسلماں بخشا\n\nآ گیا کچھ جو کریمی کا خیال\nحور کو ملک سلیماں بخشا\n\nتیری تدبیر ہے عین تقدیر\nموت کو عالم امکاں بخشا\n\nسرخ رو اہل کرم کو رکھا\nبحر کو پنجۂ مرجاں بخشا\n\nلب کی جا بوسۂ رخسار دیا\nعوض لعل بدخشاں بخشا\n\nمصحف رخ کا جو دیکھا کوئی شعر\nروح حافظؔ کو بھی قرآں بخشا\n\nاس سے ہوں طالب ایماں اے عرشؔ\nجس نے کافر کو بھی ایماں بخشا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B3%D9%86%D8%AF_%D9%BE%DB%81_%D9%82%D9%84%D9%85%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%AE%D8%B4%D8%A7"} {"title": "مجھ کو معلوم نہ تھا ان سے محبت ہوگی", "poet_page": "مصنف:عزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی", "kind": "poetry", "section": "غزل > چشمۂ کوثر (1934)", "year": "1934", "text_ur": "مجھ کو معلوم نہ تھا ان سے محبت ہوگی\nدرد پر درد مصیبت پہ مصیبت ہوگی\n\nیہی حالت ہے تو اک روز یہ صورت ہوگی\nقیس و فرہاد سے بڑھ کر مری وحشت ہوگی\n\nکر کے بدنام مجھے اور یہ کہنا اس پر\nآپ کے ملنے سے بے شک مری ذلت ہوگی\n\nاضطراب دل مضطر ہے بیاں سے باہر\nتیرے دیدار سے حاصل اسے راحت ہوگی\n\nلے خبر جلد مسیحا تو خدارا آ کر\nتیرے بیمار کی ورنہ بری حالت ہوگی\n\nدل یہ کہتا ہے ذرا چل تو در جاناں تک\nشرم کہتی ہے ترے جانے میں ذلت ہوگی\n\nمیں نے پوچھا کہ بھلا پھر بھی ملو گے صاحب\nبولے منہ پھیر کے ہاں گر ہمیں فرصت ہوگی\n\nآپ چل پھر کے ذرا چال دکھائیں تو سہی\nآپ کی جانے بلا ہوگی قیامت ہوگی\n\nمیں تو گھل گھل کے یوں ہی ہجر میں جاں دوں گا عزیزؔ\nاس کو معلوم مرے بعد حقیقت ہوگی", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C"} {"title": "مجھ کو منظور ہے مرنے پہ سبک باری ہو", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو منظور ہے مرنے پہ سبک باری ہو\nاور احباب کو ہے فکر کفن بھاری ہو\n\nزندگی میں نہ ملا زخم جگر کو مرہم\nخیر چادر ہی مری قبر کی زنگاری ہو\n\nیاد ہے روز ازل دل جو گراں ہے کیا غم\nمیں نے خود کہہ کے لیا تھا کہ ذرا بھاری ہو\n\nآتش حسن جوانان چمن بھڑکا دے\nجو گل سرخ کی پتی ہو وہ چنگاری ہو\n\nتیری رحمت کے سہارے پہ گنا کرتا ہوں\nترک کر دوں اگر اس میں بھی گناہ گاری ہو\n\nمجھ سیہ کار کی ہے مہر تو اٹھتی نہیں مہر\nمیرے اللہ نہ اتنی بھی گراں باری ہو\n\nآج کل پاس ہے پھر نقد دل زار رشیدؔ\nپھر کسی غیرت یوسف کی خریداری ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D8%B3%D8%A8%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%88"} {"title": "مجھ کو نہ دل پسند نہ دل کی یہ خو پسند", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو نہ دل پسند نہ دل کی یہ خو پسند\nپہلو سے میرے جائے دل آرزو پسند\n\nتجھ کو عدو پسند ہے وضع عدو پسند\nمجھ کو ادا پسند تری مجھ کو تو پسند\n\nروز ازل تھے ڈھیر ہزاروں لگے ہوئے\nچپکے سے چھانٹ لائے دل آرزو پسند\n\nتم نے تو آستیں کے سوا ہاتھ بھی رنگے\nآیا شہید ناز کا اتنا لہو پسند\n\nاے دل تری جگہ شکن زلف میں نہیں\nخو بو تری پسند نہ کافر کو تو پسند\n\nپہنچا جو میں تو دھوم مچی بزم یار میں\nآئے ہیں آج ایک بڑے آرزو پسند\n\nمسجد میں ظرف آب نہ تھا کوئی لے چلے\nآیا جو میکدے میں اچھوتا سبو پسند\n\nجنت کی حور جیسے کوئی میری قبر پر\nاے شمع اس طرح مجھے آئی ہے تو پسند\n\nآتا پسند کاش کچھ ان کا کلام بھی\nبزم سخن میں آئے کئی خوش گلو پسند\n\nہو عکس آئنے میں ترا یا ہو کوئی اور\nآیا ہے اک حسین ترے روبرو پسند\n\nدن میں شباب کے وہ بھرے ہیں شباب میں\nمسکی ہوئی قبا میں نہیں ہے رفو پسند\n\nمیرا مذاق اور ہے مجھ کو تو اے کلیم\nپردے کے ساتھ دور سے ہے گفتگو پسند\n\nمے کا نہ میکدے کا نہیں کچھ رہے گا ہوش\nآئے خدا کرے نہ کوئی خوب رو پسند\n\nکس طرح اس نے روکے ملایا ہے خاک میں\nآیا نہ آنکھ کو بھی ہمارا لہو پسند\n\nکچھ شوق ہے تو اہل خرابات سے ملو\nاے صوفیو نہیں یہ ہمیں ہاؤ ہو پسند\n\nآئے گا مے کشو بط مے کا شکار یاد\nجنت میں آ گئی جو کوئی آب جو پسند\n\nسو بار سر سے شیخ کے ٹکرا چکے جسے\nہم کو تو میکدے میں وہی ہے سبو پسند\n\nجب پی لگا کے منہ دم افطار رند نے\nبوتل کے منہ کی آئی فرشتوں کو بو پسند\n\nہو جاؤں میں بھی گم کہیں تیری تلاش میں\nتیری طرح مجھے ہے تری جستجو پسند\n\nیہ کون ہیں ریاضؔ ہیں رسوائے کوئے یار\nآئے ہیں آج بن کے بڑے آبرو‌ پسند", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%AE%D9%88_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF"} {"title": "مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند\nدونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند\n\nیہ دل وہی تو ہے جو تمہیں اب ہے نا پسند\nمعشوق کر چکے ہیں جسے بارہا پسند\n\nجنس وفا کو کرتے ہیں اہل وفا پسند\nدشمن کو کیا تمیز ہے دشمن کی کیا پسند\n\nجنت کی کوئی حور نظر پر چڑھی نہیں\nدنیا میں مجھ کو ایک پری زاد تھا پسند\n\nروندی کسی نے پائے حنائی سے میری نعش\nتھی زندگی میں مجھ کو جو بوئے حنا پسند\n\nوہ بد نصیب ہے جسے آیا پسند تو\nقسمت تو اس کی ہے جسے تو نے کیا پسند\n\nچڑتے ہیں وہ سوال سے یہ ہم سمجھ گئے\nہے اس لیے انہیں دل بے مدعا پسند\n\nصورت بھی پیش چشم ہے سیرت بھی پیش چشم\nدم بھر میں تو پسند ہے دم بھر میں نا پسند\n\nتجھ کو غرور زہد ہے شرم گنہ مجھے\nزاہد کسے خبر کہ خدا کو ہو کیا پسند\n\nچوٹیں چلیں گی خوب برابر کی جوڑ ہے\nتو ہے ادا شناس تو میں ہوں ادا پسند\n\nہر پھر کے ان کی آنکھ عدو سے لڑے نہ کیوں\nفتنہ کو کرتی ہے نگہ فتنہ زا پسند\n\nمیں خود سکھا رہا ہوں ستم کی ادا انہیں\nدنیا میں کب ہوا کوئی مجھ سا جفا پسند\n\nرکھ دیں گے آئینہ کے برابر ہم اپنا دل\nیا تو یہ نا پسند ہوا ان کو یا پسند\n\nکس درجہ سادہ لوح ہیں عاشق مزاج بھی\nجو ڈھب پہ چڑھ گیا وہ انہیں آ گیا پسند\n\nمیرا ہی کیا قصور یہ مجھ پر ستم ہے کیوں\nآنکھوں نے دیکھا آپ کو دل نے کیا پسند\n\nانکار سن چکے ہیں طلب گار کیوں بنیں\nملتا نہیں کوئی تو ہے بے فائدہ پسند\n\nبیخودؔ تو مر مٹے جو کہا اس نے ناز سے\nاک شعر آ گیا ہے ہمیں آپ کا پسند", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF_%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF"} {"title": "مجھ کو چپ چاپ اس طرح مت دیکھ", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "مجھ کو چپ چاپ اس طرح مت دیکھ\nمیرے بستر کی سلوٹیں مت کھول\nرات میں کتنی دیر سویا ہوں\nبول اے صبح کے ستارے بول", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D9%BE_%DA%86%D8%A7%D9%BE_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%85%D8%AA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE"} {"title": "مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد\nساری مخلوق بلا سے ہو فنا میرے بعد\n\nمر چکا میں تو نہیں اس سے مجھے کچھ حاصل\nبرسے گر پانی کی جا آب بقا میرے بعد\n\nچاہنے والوں کا کرتا ہے زمانہ ماتم\nماتمی رنگ میں ہے زلف رسا میرے بعد\n\nروئیں گے مجھ کو مرے دوست سب آٹھ آٹھ آنسو\nبرسے گی قبر پہ گھنگھور گھٹا میرے بعد\n\nیوں ہی کھلتی رہیں گی صحن چمن میں کلیاں\nیوں ہی چلتی رہے گی باد صبا میرے بعد\n\nجان دینے کو نہ ان پر کوئی تیار ہوا\nگویا جاں باز زمانہ میں نہ تھا میرے بعد\n\nہاتھ سے ان کے ٹپکتے نہیں مے کے قطرے\nاشک خوں روتا ہے یہ رنگ حنا میرے بعد\n\nحشر تک کوئی نہ روکے گا ستم گاروں کو\nجو خدا پہلے تھا وہ ہی ہے خدا میرے بعد\n\nجیتے جی دیتے تھے جو گالیاں مجھ کو پرویںؔ\nمغفرت کے لئے کرتے ہیں دعا میرے بعد", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%81%D8%A7%D8%A6%D8%AF%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "مجھ کو یہ چھیڑ کہ تم سے بھی حسیں ہوتے ہیں", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھ کو یہ چھیڑ کہ تم سے بھی حسیں ہوتے ہیں\nان کو یہ ضد کہ دکھا دو جو کہیں ہوتے ہیں\n\nان کو ہم سے ہے تعلق نہ ہمیں ان سے غرض\nاب یہیں ہوتے ہیں شکوے نہ وہیں ہوتے ہیں\n\nان سے بچ جائے جو ایماں تو غنیمت سمجھو\nخوش نگاہوں میں بہت رہزن دیں ہوتے ہیں\n\nلاکھ وہ ناز سے ٹھکرائیں عدو کی تربت\nیہ عجب بات ہے پامال ہمیں ہوتے ہیں\n\nاب تصور میں بھی تصدیق کا آتا ہے مزہ\nجب گماں مٹتے ہیں واللہ یقیں ہوتے ہیں\n\nباتیں پیاری ہیں حسینوں کی ادائیں پیاری\nعیب یہ ہے کہ وفادار نہیں ہوتے ہیں\n\nاپنے میخانے کو جنت کا بتاتے ہیں جواب\nاتنے بے ہوش خرابات نشیں ہوتے ہیں\n\nاک فقط نام کا ہونا ہے جہاں میں ان کا\nنہ مکاں ہوتے ہیں صفدرؔ نہ مکیں ہوتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%DB%81_%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر پیام آیا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر پیام آیا\nتھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا\n\nذرا تقدیر کی گہرائیوں میں ڈُوب جا تُو بھی\nکہ اس جنگاہ سے مَیں بن کے تیغِ بے نیام آیا\n\nیہ مصرع لِکھ دیا کس شوخ نے محرابِ مسجد پر\nیہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقتِ قیام آیا\n\nچل، اے میری غریبی کا تماشا دیکھنے والے\nوہ محفل اُٹھ گئی جس دم تو مجھ تک دَورِ جام آیا\n\nدیا اقبالؔ نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا\nیہ اک مردِ تن‌آساں تھا، تن‌آسانوں کے کام آیا\n\nاسی اقبالؔ کی مَیں جُستجو کرتا رہا برسوں\nبڑی مُدّت کے بعد آخر وہ شاہیں زیرِ دام آیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A2%DB%81_%D9%88_%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D9%90_%D9%86%DB%8C%D9%85_%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مجھے اس جھمک سے آیا نظر اک نگار رعنا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے اس جھمک سے آیا نظر اک نگار رعنا\nکہ خور اس کے حسن رخ کو لگا تکنے ذرہ آسا\n\nخد و خال خوبی آگیں لب لعل پاں سے رنگیں\nنظر آفت دل و دیں مژہ صد مضرت افزا\n\nپڑی رخ پہ زلف پر خم مسی رشک رنگ نیلم\nغرض اس طرح کا عالم کہ پری کہے اہا ہا\n\nکہا ہم نے اے سمن بر پری چہرہ مہر پیکر\nجو چلی ہو یوں جھمک کر کہو عزم ہے کدھر کا\n\nہے یہ وقت سیر بستاں پھلیں ہم بھی ساتھ اے جاں\nکہا سن کے یہ ارے میاں کوئی تم بھی ہو تماشا\n\nہے یہ آشنائی اگلی نہ شناخت اک دو دن کی\nجو ہے دل دہی کی مرضی تو ہے لوچ پھر یہ کیسا\n\nکہا جب نظیرؔ ہم نے \"یہی دل ہیں ہم تو رکھتے\"\nتو کہا جو نیکی ہووے تو پھر اس کا پوچھنا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%AC%DA%BE%D9%85%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%D8%B9%D9%86%D8%A7"} {"title": "مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے\nمگر اپنے دل کو میں کیا کروں اسے پھر بھی شوق وصال ہے\n\nاس ادا سے کون یہ جلوہ گر سر بزم حسن خیال ہے\nجو نفس ہے مست بہار ہے جو نظر ہے غرق جمال ہے\n\nانہیں ضد ہے عرض وصال سے مجھے شوق عرض وصال ہے\nوہی اب بھی ان کا جواب ہے وہی اب بھی میرا سوال ہے\n\nتری یاد میں ہوا جب سے گم ترے گم شدہ کا یہ حال ہے\nکہ نہ دور ہے نہ قریب ہے نہ فراق ہے نہ وصال ہے\n\nتری بزم خلوت لا مکاں ترا آستاں مہ و کہکشاں\nمگر اے ستارۂ آرزو مجھے آرزوئے وصال ہے\n\nمیں وطن میں رہ کے بھی بے وطن کہ نہیں ہے ایک بھی ہم سخن\nہے کوئی شریک غم و محن تو وہ اک نسیم شمال ہے\n\nمیں بتاؤں واعظ خوش نوا ہے جہان و خلد میں فرق کیا\nیہ اگر فریب خیال ہے وہ فریب حسن خیال ہے\n\nیہی داد قصۂ غم ملی کہ نظر اٹھی نہ زباں ملی\nفقط اک تبسم شرمگیں مری بے کسی کا مآل ہے\n\nوہ خوشی نہیں ہے وہ دل نہیں مگر ان کا سایہ سا ہم نشیں\nفقط ایک غم زدہ یاد ہے فقط اک فسردہ خیال ہے\n\nکہیں کس سے اخترؔ بے نوا ہمیں بزم دہر سے کیا ملا\nوہی ایک ساغر زہر غم جو حریف نوش کمال ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%BE%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%B1%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D9%81%D8%B9%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجھے اے اہل کعبہ یاد کیا مے خانہ آتا ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے اے اہل کعبہ یاد کیا مے خانہ آتا ہے\nادھر دیوانہ جاتا ہے ادھر مستانہ آتا ہے\n\nمری مژگاں سے آنسو پوچھتا ہے کس لئے ناصح\nٹپک پڑتا ہے خود جو اس شجر میں دانہ آتا ہے\n\nیہ آمد ہے کہ آفت ہے نگہ کچھ ہے ادا کچھ ہے\nالٰہی خیر مجھ سے آشنا بیگانہ آتا ہے\n\nدم تقریر نالہ حلق میں چھریاں چبھوتے ہیں\nزباں تک ٹکڑے ہو ہو کر مرا افسانہ آتا ہے\n\nرخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں\nادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے\n\nجگر تک آتے آتے سو جگہ گرتا ہوا آیا\nترا تیر نظر آتا ہے یا مستانہ آتا ہے\n\nوہی جھگڑا ہے فرقت کا وہی قصہ ہے الفت کا\nتجھے اے داغؔ کوئی اور بھی افسانہ آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%A7%DB%81%D9%84_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجھے بھول جاؤ", "poet_page": "مصنف:م حسن لطیفی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "چلو یوں سہی میرا دل دل نہیں تھا\nوفا کا لہو اس میں شامل نہیں تھا\nیہ سچی محبت کا حامل نہیں تھا\nتمہاری پرستش کے قابل نہیں تھا\nیہ بہتر ہے اب تم مجھے بھول جاؤ\nغضب کی تھی اف وہ ملاقات پہلی\nجب اک کم زباں سے تھی کی بات پہلی\nوہ ہلکی سی بوندیں وہ برسات پہلی\nخدا جانے کیسی تھی وہ رات پہلی\nیہ بہتر ہے اب تم مجھے بھول جاؤ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A4"} {"title": "مجھے جانا ہے اک دن", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر\nابھی پھر درد ٹپکے گا مری آواز سے آخر\nابھی پھر آگ اٹھے گی شکستہ ساز سے آخر\nمجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر\n\nابھی تو حسن کے پیروں پہ ہے جبر حنا بندی\nابھی ہے عشق پر آئین فرسودہ کی پابندی\nابھی حاوی ہے عقل و روح پر جھوٹی خداوندی\nمجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر\n\nابھی تہذیب عدل و حق کی کشتی کھے نہیں سکتی\nابھی یہ زندگی داد صداقت دے نہیں سکتی\nابھی انسانیت دولت سے ٹکر لے نہیں سکتی\nمجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر\n\nابھی تو کائنات اوہام کا اک کارخانہ ہے\nابھی دھوکا حقیقت ہے حقیقت اک فسانہ ہے\nابھی تو زندگی کو زندگی کر کے دکھانا ہے\nمجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر\n\nابھی ہیں شہر کی تاریک گلیاں منتظر میری\nابھی ہے اک حسیں تحریک طوفاں منتظر میری\nابھی شاید ہے اک زنجیر زنداں منتظر میری\nمجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر\n\nابھی تو فاقہ کش انسان سے آنکھیں ملانا ہے\nابھی جھلسے ہوئے چہروں پہ اشک خوں بہانا ہے\nابھی پامال جور آدم کو سینے سے لگانا ہے\nمجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر\n\nابھی ہر دشمن نظم کہن کے گیت گانا ہے\nابھی ہر لشکر ظلمت شکن کے گیت گانا ہے\nابھی خود سرفروشان وطن کے گیت گانا ہے\nمجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر\n\nکوئی دم میں حیات نو کا پھر پرچم اٹھاتا ہوں\nبایمائے حمیت جان کی بازی لگاتا ہوں\nمیں جاؤں گا میں جاؤں گا میں جاتا ہوں میں جاتا ہوں\nمجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%D9%86"} {"title": "مجھے جلووں کی اس کے تمیز ہو کیا میرے ہوش و حواس بچا ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے جلووں کی اس کے تمیز ہو کیا میرے ہوش و حواس بچا ہی نہیں\nہے یہ بے خبری کہ خبر ہی نہیں وہ نقاب اٹھا کہ اٹھا ہی نہیں\n\nمرے حال پہ چھوڑ طبیب مجھے کہ عذاب ہے مری زیست مجھے\nمیرا مرنا ہی میرے لیے ہے شفا میرے درد کی کوئی دوا ہی نہیں\n\nاسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے کھو گئے ہمیں ہوا کیا اور کیا ہو گئے ہم\nہمیں پہروں تک اپنی خبر ہی نہیں ہمیں کوسوں تک اپنا پتا ہی نہیں\n\nمرا حال خراب سنا تو کہا کہ وہ سامنے میرے نہ آئے کبھی\nمجھے روتے جو دیکھا تو ہنس کے کہا کہ یہ شیوۂ اہل وفا ہی نہیں\n\nجہاں کوئی ستم ایجاد کیا مجھے کہہ کے فلک نے یہ یاد کیا\nکہ بس ایک دل بیدمؔ کے سوا کوئی قابل مشق جفا ہی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D9%84%D9%88%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D9%85%DB%8C%D8%B2_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D9%88_%D8%AD%D9%88%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%DA%86%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مجھے خاموش رہنے دو", "poet_page": "مصنف:محمد صادق ضیا", "kind": "poetry", "section": "نظم > صبح مشرق (1938)", "year": "1938", "text_ur": "یہ چڑیاں چہچہاتی ہیں تو ان کو چہچہانے دو\nپرندوں کو درختوں پر خوشی کے گیت گانے دو\nزمیں پر ابر کی ہر بوند کو نغمے سنانے دو\nفلک پر لیلیٔ قوس قزح کو مسکرانے دو\nمرا دل سرد ہے مجھ کو یوں ہی بے ہوش رہنے دو\nمجھے خاموش رہنے دو\n\nفضائے دہر لبریز مسرت ہے تو مجھ کو کیا\nاگر دنیا خراب عیش و عشرت ہے تو مجھ کو کیا\nجو معمور صدا ساز محبت ہے تو مجھ کو کیا\nجہاں کو میرے نغموں کی ضرورت ہے تو مجھ کو کیا\nمجھے اپنے خیالوں ہی سے ہم آغوش رہنے دو\nمجھے خاموش رہنے دو\n\nمجھے فرصت نہیں ہے فرط غم سے سر اٹھانے کی\nگراں ہے میرے دل پر شورش و کاوش زمانے کی\nابھی کڑیاں مرتب ہو رہی ہیں اک فسانے کی\nابھی ساعت کہاں ہے داستان دل سنانے کی\nکسی کی یاد میں مجھ کو تصور کوش رہنے دو\nمجھے خاموش رہنے دو\n\nجو میں بولا تو سب کو اپنے اشکوں میں بھگو دوں گا\nدل انساں میں غم کے سینکڑوں کانٹے چبھو دوں گا\nجو میں بولا تو گویائی زمانے بھر کی کھو دوں گا\nجو میں بولا تو دنیا کو خموشی میں ڈبو دوں گا\nیہی بہتر ہے خلوت میں مجھے خاموش رہنے دو\nمجھے خاموش رہنے دو", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%88"} {"title": "مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے\nیہ زندگی کی ہے صورت تو زندگی کیا ہے\n\nفغاں تو عشق کی اک مشق ابتدائی ہے\nابھی تو اور بڑھے گی یہ لے ابھی کیا ہے\n\nتمام عمر اسی رنج میں تمام ہوئی\nکبھی یہ تم نے نہ پوچھا تری خوشی کیا ہے\n\nتم اپنے ہو تو نہیں غم کسی مخالف کا\nزمانہ کیا ہے فلک کیا ہے مدعی کیا ہے\n\nصلاح کار بنایا ہے مصلحت سے اسے\nوگرنہ ناصح ناداں کی دوستی کیا ہے\n\nدلوں کو کھینچ رہی ہے کسی کی مست نگاہ\nیہ دل کشی ہے تو پھر عذر مے کشی کیا ہے\n\nمذاق عشق کو سمجھو گے یوں نہ تم ناصح\nلگا کے دل کہیں دیکھو یہ دل لگی کیا ہے\n\nوہ رات دن نہیں ملتے تو ضد نہ کر احسنؔ\nکبھی کبھی کی ملاقات بھی بری کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجھے خیال ہوا اور عدو کو خواب ہوا", "poet_page": "مصنف:مرزا رحیم الدین حیا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے خیال ہوا اور عدو کو خواب ہوا\nنصیب پر نہ ہوا یہ کہ ایک عذاب ہوا\n\nہوئی لبوں کو نہ جنبش کہ بس عتاب ہوا\nتمہارا نام نہ لینا ہوا عذاب ہوا\n\nایک اژدہام ہے اس شوخ کی گلی میں آج\nمرے نصیب سے محشر بپا شتاب ہوا\n\nبگاڑی خو تری کس نے بتا تو اے ظالم\nزباں پہ بوسہ کا نام آتے ہی عتاب ہوا\n\nگلی گلی مرا لاشہ لئے پھرا قاتل\nپس از فنا بھی یہ مردہ مرا خراب ہوا\n\nعجب طرح کا ہے دل سنگ اس کا ورنہ حیاؔ\nمرے تڑپنے پہ دشمن کا زہرہ آب ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں\nکوئی اور بھی ہے ترے سوا تو اگر نہیں تو جہاں نہیں\n\nپڑی جس طرف کو نگاہ یاں نظر آ گیا ہے خدا ہی واں\nیہ ہیں گو کہ آنکھوں کی پتلیاں مرے دل میں جائے بتاں نہیں\n\nمرے دل کے شیشے کو بے وفا تو نے ٹکڑے ٹکڑے ہی کر دیا\nمرے پاس تو وہی ایک تھا یاں دکان شیشہ گراں نہیں\n\nمجھے رات ساری ہی تیرے ہاں کٹے کیوں کے روتے نہ شمع ساں\nکہ ہو سکے ہے کچھ اب بیاں نہ یہ بات ہے کہ زباں نہیں\n\nکوئی سمجھے کیوں کے یہ مدعا کہ پہیلی سا ہے یہ ماجرا\nکہا میں تجھے نہیں چاہ کیا لگا کہنے مجھ سے کہ ہاں نہیں\n\nنہ ملا ہمیں کوئی نکتہ داں یہ بپت سنا دیں بھلا کہاں\nنہ ہوا سبھوں پہ وہی عیاں جو کسو سے یاں تو نہاں نہیں\n\nتجھے درد کیوں کہ سناؤں میں نہ خدا کسی کو دکھائے یہ\nجو کچھ اپنے جی پہ گزرتی ہے کہوں کیا کہ اس کا بیاں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%B9%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%AA%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا\nپرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا\n\nمجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے\nبہانہ کر کے تنہا پار اتر جانا نہیں آتا\n\nمصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا\nمجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا\n\nدل بے حوصلہ ہے اک ذرا سی ٹھیس کا مہماں\nوہ آنسو کیا پیے گا جس کو غم کھانا نہیں آتا\n\nسراپا راز ہوں میں کیا بتاؤں کون ہوں کیا ہوں\nسمجھتا ہوں مگر دنیا کو سمجھانا نہیں آتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%B7%D8%A7_%D9%BE%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%94_%D8%B4%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہے", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہے\nغرض ہاتھ دونوں سے دھونا پڑا ہے\n\nجو رونا یہی ہے تو پھوٹیں گی آنکھیں\nمجھے اب تو آنکھوں کا رونا پڑا ہے\n\nکیے سیکڑوں گھر محبت نے غارت\nسنو جس محلے میں رونا پڑا ہے\n\nمیں پاتا نہیں دل کو سینے میں اپنے\nکئی دن سے خالی یہ کونا پڑا ہے\n\nکرو چل کے آباد اب گور اے رندؔ\nبہت دن سے سونا وہ کونا پڑا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%86%D8%A7_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجھے ساغر دوبارہ مل گیا ہے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "مجھے ساغر دوبارہ مل گیا ہے\nتلاطم میں کنارا مل گیا ہے\nمری بادہ پرستی پر نا جاؤ\nجوانی کو سہارا مل گیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D9%85%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجھے ساقیٔ چشم یار نے عجب ایک جام پلا دیا", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "مجھے ساقیٔ چشم یار نے عجب ایک جام پلا دیا\nکہ نشہ نے جس کے غم جہاں مرے دل سے صاف بھلا دیا\n\nکروں کیا بیان میں وصف اب مئے ناب عشق کا دوستو\nکہ خودی کی قید سے یک قلم بخدا کہ مجھ کو چھڑا دیا\n\nاثر اس کی چشم کرم کا اب کروں کس زبان سے میں بیاں\nکہ بہ ہر مکان و بہ ہر طرف مجھے حق کا جلوہ دکھا دیا\n\nکسی آرزو کی رہی نہیں ہے مرے دل میں کچھ بھی سمائے اب\nمجھے ساقیا مے لطف سے تو نے کیا ہی خوب چکھا دیا\n\nتری تیغ غمزۂ چشم نے جو ہیں قتل مجھ کو کیا صنم\nتو وہیں پہ عیسیٰ ناز نے مجھے ایک دم میں جلا دیا\n\nنہ فقط تمہاری نگاہ نے مرے دل کو ہاتھ سے لے لیا\nکہ تمہاری زلف دراز نے مجھے سو بلا میں پھنسا دیا\n\nنہ تھی چشم مجھ کو یہ اے صنم کہ تمہاری چشم نے یک قلم\nمرے رخت عقل و شکیب کو برق نگہ سے جلا دیا\n\nمجھے تو نے اپنے جمال کے دکھلا کے طرحیں نو بنو\nکبھو مثل ابر رلا دیا کبھو مثل برق ہنسا دیا\n\nمیں فدائے خادم شاہ ہوں دل و جان سے آثمؔ جس نے اب\nجسے بوجھنا ہی محال تھا اسے ایک پل میں سوجھا دیا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D9%94_%DA%86%D8%B4%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%BE%D9%84%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مجھے شکایت ہے", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے مضامین", "year": "1942", "text_ur": "مجھے شکایت ہے ان لوگوں سے جو اردو زبان کے خادم بن کر ماہانہ، ہفتہ یا روزانہ پرچہ جاری کرتے ہیں اور اس ’’خدمت‘‘ کا اشتہار بن کر لوگوں سے روپیہ وصول کرتے ہیں مگر ان مضمون نگاروں کو ایک پیسہ بھی نہیں دیتے، جن کے خیالات و افکار ان کی آمدن کا موجب ہوتے ہیں۔ مجھے شکایت ہے ان ایڈیٹروں سے جو ایڈیٹر بھی ہیں اور مالک بھی۔ جو مضمون نگاروں کی بدولت چھاپے خانے کے مالک بھی ہیں لیکن جب ایک مضمون کا معاوضہ دینا پڑ جائے تو ان کی روح قبض ہو جاتی ہے۔\n\nمجھے شکایت ہے ان سرمایہ داروں سے جو ایک پرچہ روپیہ کمانے کے لئے جاری کرتے ہیں اور اس کے ایڈیٹر کو صرف پچیس یا تیس روپے ماہوار تنخواہ دیتے ہیں۔ ایسے سرمایہ دار خود تو بڑے آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں، لیکن وہ ایڈیٹر جو خون پسینہ ایک کر کے ان کی دولت میں اضافہ کرتے ہیں، آرام دہ زندگی سے ہمیشہ دور رکھے جاتے ہیں۔ مجھے شکایت ہے ان ناشروں سے جو کوڑیوں کے دام تصانیف خریدتے ہیں اور اپنی جیبوں کے لئے سیکڑوں روپے اکٹھے کر لیتے ہیں۔ جو سادہ لوح مصنفین کو نہایت چالاکی سے پھانستے ہیں اور ان کی تصانیف ہمیشہ کے لئے ہڑپ کر جاتے ہیں۔ مجھے شکایت ہے ان سرمایہ دار جہلا سے جو روپے کا لالچ دے کر غریب اور افلاس زدہ ادیبوں سے ان کے افکار حاصل کرتے ہیں اور اپنے نام سے انہیں شائع کرتے ہیں۔\n\nسب سے بڑی شکایت مجھے ان ادیبوں، شاعروں اور افسانہ نگاروں سے ہے جو اخباروں اور رسالوں میں بغیر معاوضے کے مضمون بھیجتے ہیں۔ وہ کیوں اس چیز کو پالتے ہیں جو ایک کھیل بھی ان کے منہ میں نہیں ڈالتی۔ وہ کیوں ایسا کام کرتے ہیں جس سے ان کو ذاتی فائدہ نہیں پہنچتا۔ وہ کیوں ان کاغذوں پر نقش و نگار بناتے ہیں جو ان کے لئے کفن کا کام بھی نہیں دے سکتے۔\n\nمجھے شکایت ہے۔۔۔ مجھے شکایت ہے۔۔۔ مجھے ہر اس چیز سے شکایت ہے جو ہمارے قلم اور ہماری روزی کے درمیان حائل ہے۔ مجھے اپنے ادب سے شکایت ہے جس کی کنجی صرف چند افراد کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے۔ ادب کی کنجی پریس ہے۔ جس پر چند ہوس پرست سرمایہ داروں کا قبضہ ہے۔ چند ایسے تاجروں کا قبضہ ہے جو ادب سے اتنے ہی دور ہیں جتنے کہ وہ تجارت کے نزدیک۔ مجھے اپنے ہم پیشہ ادیبوں سے شکایت ہے جو چند افراد کی ذاتی اغراض اپنے قلم سے پوری کرتے ہیں، جو ان کے جائز اور ناجائز مطالبے پر اپنے دماغ کی قاشیں پیش کر دیتے ہیں۔ مجھے شکایت ہے۔ مجھے اپنے آپ سے بھی شکایت ہے۔ ا س لئے کہ میری آنکھیں بہت دیر کے بعد کھلی ہیں۔ بڑی دیر کے بعد یہ مضمون میں لکھنے بیٹھا ہوں جو آج سے بہت پہلے مجھ لکھ دینا چا ہیئے تھا۔\n\nہندی ہندوستانی اور اردو ہندی کے قضیے سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں۔ ہم اپنی محنت کے دام چاہتے ہیں۔ مضمون نویسی ہمارا پیشہ ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس کے ذریعے سے زندہ رہنے کا مطالبہ نہ کریں۔ جو پرچے، جو رسالے، جو اخبار ہماری تحریروں کے دام ادا نہیں کر سکتے بالکل بند ہو جانے چاہئیں۔ ملک کو ان پرچوں کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ادب ہی کو ان کی کوئی ضرورت ہے۔ ملک اور اس کے ادب کو لکھنے والے چاہئیں اور لکھنے والوں کو ایسے اخبار اور ایسے رسالے چاہئیں جو ان کی محنت کا معاوضہ ادا کریں۔ اخبار اور رسالے چھاپنا کوئی رضاکارانہ کام نہیں ہے۔ وہ لوگ جو زبان اور ادب کی خدمت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، میری نظر میں کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ زبان اور ادب کی خدمت کاغذ سیاہ کر دینے سے نہیں ہوتی۔ ہر مہینے کاغذوں کا ایک پلندہ پیش کر دینے سے نہیں ہوتی۔ زبان اور ادب کی خدمت ہو سکتی ہے صرف ادیبوں اور زبان دانوں کی حوصلہ افزائی سے اور حوصلہ افزائی صرف ان کی محنت کا معاوضہ ادا کرنے ہی سے ہو سکتی ہے۔\n\nپچھلے دنوں میں نے اپنا ایک مضمون ہندوستان کے ایک ایسے ماہانہ پرچے کو بھیجا جس کی آمدن سے پچیس لکھنے والوں کی مالی پریشانیاں دور ہو سکتی ہیں۔ مضمون کے ساتھ میں نے ایک خط بھیجا جس میں یہ لکھا تھا کہ اگر آپ اس کا معاوضہ ادا کر سکتے ہوں تو اپنے پرچے میں چھاپیں ورنہ واپس بھیج دیں۔ جیسا کہ مجھے معلوم تھا مضمون واپس بھیج دیا گیا۔ اس کے ساتھ ایڈیٹر صاحب نے جو خط بھیجا اس میں یہ لکھا تھا کہ چونکہ جنگ کے باعث بہت سے اخراجات کی کمی کرنا پڑی ہے۔ ا س لئے رسالے کے مالکوں نے مضامین کی اجرت دینے کا سلسلہ بھی بند کر دیا ہے۔\n\nیہ خط پڑھ کر میرے جی میں آئی کہ اس کا جواب اس طرح لکھوں، ’’مجھے بہت افسوس ہے کہ جنگ کے باعث آپ کی مالی حالت اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ آپ کو مضامین کے معاوضے کا سلسلہ بند کرنا پڑا۔ میری رائے ہے کہ آپ پرچہ بند کر دیں۔ خواہ مخواہ نقصان اٹھانے کی کیا ضرورت ہے۔ جنگ ختم ہو جانے پر جب حالات موافق ہو جائیں تو پھر سے اپنا پرچہ جاری فرما دیجئے گا۔‘‘\n\nمیں پھر کہتا ہوں کہ ہمارے یہاں ایسے پرچوں کا وجود نہیں ہونا چاہیئے جو معاوضہ ادا کرتے وقت اس قسم کے عذر لنگ پیش کریں۔ آخر ملک کو ایسے پرچوں کی ضرورت ہی کیا ہے۔ میری رائے ہے کہ کسی نہ کسی طرح ان کی اشاعت بالکل بند کر دی جائے تاکہ دوسرے پرچے جو ادیبوں کو ان کی محنت کا حق ادا کرتے ہیں، زیادہ پھول پھل سکیں۔ ہمارے ادب کو دس ہزار اخباروں اور رسالوں کی ضرورت نہیں۔ صرف دس کی ضرورت ہے جو ہماری ضروریات پوری کریں۔ وہ پرچے، وہ رسالے، وہ اخبار جو ہماری ضروریات پوری نہیں کرتے، آخر کس مرض کی دوا ہیں۔ ہم ان کی زندگی کے لئےکیوں جدوجہد کریں۔ جب وہ زندگی میں ہمارے ممد و معاون نہیں ہوتے۔\n\nمضمون نگار دماغی عیاش نہیں۔ افسانہ نگار خیراتی ہسپتال نہیں ہیں۔ ہم لوگوں کے دماغ لنگر خانے نہیں ہیں۔ ہم اس زمانے کو اور اس کی یاد تک کو ماضی کے تاریک گڑھوں میں ہمیشہ کے لئے دفن کر دینا چاہتے ہیں، جب شاعر بھک منگے ہوتے تھے اور جب صرف وہی لوگ عیاشی کے طور پر مضمون نگاری کیا کرتے تھے جن کے پاس کھانے کو کافی ہوتا تھا۔ ہم نئے زمانے، نئے نظام کے پیغامبر ہیں۔ ہم ماضی کے کھنڈروں پر مستقبل کی دیواریں استوار کرنے والے معمار ہیں۔ ہمیں کچھ کرنا ہے۔ ہمارے راستے میں مشکلات حائل نہیں ہونی چاہئیں۔ ہم گرسنہ شکم اور برہنہ پا نہیں رہ سکتے۔ ہمیں اپنے قلم سے روزی کمانا ہے اور ہم اس ذریعے سے روزی کما کر رہیں گے۔ یہ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ ہم اور ہمارے بال بچے فاقے مریں اور جن اخباروں اور رسالوں میں ہمارے مضامین چھپتے ہیں، ان کے مالک خوشحال رہیں۔\n\nہم ادیب ہیں، بھڑ بھونجے نہیں۔ ہم افسانہ نگار ہیں، کنجڑے نہیں، ہم شاعر ہیں بھنگی نہیں۔ ہمارے ساتھ دنیا کو امتیازی سلوک روا رکھنا ہوگا۔ ہم لوگوں کو مجبور کریں گے کہ وہ ہمارا احترام کریں۔ ہم تاروں سے باتیں کرنے والے ہیں۔ ہم ایسی باتیں ہر گز نہیں سنیں گے جو ہمیں پستی کی طرف لے جائیں۔ ہمارا رتبہ ہر لحاظ سے ان لوگوں سے بہتر ہے جو صرف روپے گننے کا کام جانتے ہیں۔ ہم ہر جہت سے ان لوگوں کے مقابلے میں ارفع و اعلیٰ ہیں جو نہ بنا سکتے ہیں اور نہ ڈھا سکتے ہیں۔ ہم ادیب، ہم شاعر، ہم افسانہ نگار بنا بھی سکتے ہیں اور ڈھا بھی سکتے ہیں۔ ہمارے ہاتھ میں قلم ہے، جو قوموں کی سوئی ہوئی تقدیریں جگا سکتا ہے جو ایک ایک جنبش کے ساتھ انقلاب برپا کر سکتا ہے۔\n\nہماری عظمت ہماری بزرگی تسلیم کرنا ہوگی۔ ان تمام لوگوں کو ماننا ہوگی جو ہمارے ساتھ مل جل کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ ہمارے لئے ہندوستانیوں کو ایک خاص جگہ بنانا ہوگی۔ جہاں ہم آرام و اطمینان سے اپنا کام کر سکیں۔ ہم اپنی ضروریات زندگی کی تکمیل چاہتے ہیں۔ ہمیں تاج و تخت کی خواہش نہیں۔ ہم کشکول لے کر پھرنے والے انسان نہیں ہیں۔ ہم زر و دولت کے انبار نہیں چاہتے۔ ہم گداگر نہیں ہیں۔ ہم انسانوں کی سی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے کہ ہم انسان ہیں۔\n\nہم پر وہ دروازے کیوں بند کر دیے جاتے ہیں، جن میں سے گزر کر ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ ان دروازوں کو مقفل کر کے پھر یہ رونا کیوں رویا جاتا ہے، ’’ہمارا ادب بہت پیچھے ہے۔ اس میں ترقی کیوں نہیں ہوتی۔ لکھنے والے بہت کم ہیں وغیرہ وغیرہ۔‘‘ لکھنے والے کیسے پیدا ہوں گے۔ ادب میں کیسے ترقی ہوگی، جب ہر ایک صوبے سے سیکڑوں پرچے شائع ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے ماتھے پر ہمیں خدمت ادب کا لیبل نظر آتا ہے۔ یہ پرچے پرچے نہیں ہیں، کاغذی کشکول ہیں جن میں ہم سے اور دوسرے لوگوں سے بھیک ڈالنے کے لئے کہا جاتا ہے ایسے کشکول نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کے وجود سے ہمارا ادب بالکل پاک ہو جانا چاہیئے آج ہی، ابھی ابھی!\n\nمیں اپنے ان تمام ہم پیشہ بھائیوں سے جن میں خودداری و خود اعتمادی کا مادہ موجود ہے، کہوں گا کہ وہ ان تمام پرچوں سے اپنا قطع تعلق کر لیں جو ان کی محنت کے دام ادا نہیں کرتے۔ آج ہی ہمیں ان تمام پرچوں، رسالوں اور اخباروں کے وجود سے انکار کر دینا چاہیئے، جومفت خور ہیں۔ ان رسالوں اور مقبروں میں کیا فرق ہے۔ جہاں کے مجاور ہر وقت جھولی پھیلائے نذر نیاز مانگتے رہتے ہیں۔ ہمیں نہ ایسے مقبروں کی ضرورت ہے اور نہ ایسے رسالوں اور اخباروں کی جن سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔\n\nپریس کو، جہاں یہ پلندے چھپتے ہیں، روپیہ ادا کیا جاتا ہے۔ کاتبوں کو جو لکھائی کرتے ہیں معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ ان مزدوروں کو ہر روز ہر ہفتے یا ہر مہینے مزدوری ادا کی جاتی ہے جو ان کو اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہیں، مگر مضمون نگاروں کو ان کی محنت کے دام ادا نہیں کئے جاتے۔ کس قدر تعجب کی بات ہے۔ کیا مضمون نگار کی ضروریات زندگی نہیں؟ کیا اسے بھوک نہیں لگتی؟ کیا اسے پہننے کو کپڑے نہیں چاہئیں؟ کیا وہ انسان نہیں ہے؟ اگر وہ انسان ہے تو پھر اس سے حیوانوں کا سا سلوک کیوں روا رکھا جاتا ہے۔\n\nمیں بغاوت چاہتا ہوں۔ ہر اس فرد کے خلاف بغاوت چاہتا ہوں جو ہم سے محنت کراتا ہے مگر اس کے دام ادا نہیں کرتا۔ میں بغاوت چاہتا ہوں۔ زبردست بغاوت چاہتا ہوں کہ ہمارے ادب سے یہ بدعت بالکل دور ہو جائے، جس کی موجودگی میں مضمون نگار اپنی محنت کا معاوضہ طلب کرتے جھجکتا ہے۔ میں اس حجاب کے خلاف بغاوت چاہتا ہوں جو سرمایہ دار طبقے نے ہم لوگوں پر ایک زمانے سے اپنے فائدے کے لئے طاری کر رکھا ہے۔ میں اس احساس کے خلاف بغاوت چاہتا ہوں، جو اس حجاب نے ہمارے دلوں میں پیدا کر دیا ہے۔ اس احساس کے خلاف جس کی موجودگی میں اکثر مضمون نگار یہ خیال کرتے ہیں کہ مضمون نگاری محض شغل ہے، ایسا شغل جو محض بے کار آدمیوں کا کام ہے۔\n\nادب کی رونق ہمارے دم سے ہے۔ ان لوگوں کے دم سے نہیں ہے جن کے پاس چھاپنے کی مشینیں، سیاہی اور ان گنت کاغذ ہیں۔ لٹریچر کا دیا ہمارے ہی دماغ کے روغن سے جلتا ہے۔ چاندی اور سونے سے اس کی بتی روشن نہیں ہو سکتی۔ اگر آج ہم۔۔۔ ہم شاعر، افسانہ نگار اور مقالہ نویس اپنے قلم ہاتھ سے رکھ دیں تو کاغذوں کی پیشانیاں تلک سے محروم رہیں۔ اگر ہمیں مضمون نگاری کو ایک معزز پیشہ بنانا ہے تو ہمیں اپنا احترام مخالفین کی آنکھوں میں پیدا کرنا ہے۔ ہمیں لڑنا ہوگا۔ ہمیں ایک زبردست جنگ کرنا ہوگی۔ ہمیں ہڑتال کرنا ہوگی۔ اپنے خیالات و افکار کی ہڑتال کرنا ہوگی۔ ہمیں اس وقت تک اپنے جذبات و محسوسات اپنے اندر دبا کر رکھنا ہوں گے جب تک پیاس کے مارے کاغذ کی زبان باہر لٹک نہ پڑے۔ بھوک کی شدت سے اس کا برا حال نہ ہو جائے۔\n\nآؤ ہم اپنا ایک محاذ بنائیں۔ سب اکٹھے ہو جائیں، اگر ہم سب اپنے قلم ایک جگہ پر رکھ دیں تو ایک پہاڑ کھڑا ہو سکتا ہے۔ کیوں نہ ہم تعاون سے اس بدعت کے خلاف آواز بلند کریں، جو ہمارے وقار پر ایک بدنما دھبا ہے۔ ہم سوسائٹی میں اپنے لئے جگہ چاہتے ہیں اور بس ہم یہ چاتے ہیں کہ ہماری محنت کو معاوضے کے قابل سمجھا جائے اور ہمیں وہ تمام سہولتیں بہم پہنچائی جائیں جن کے ہم حق دار ہیں۔ ہمارا مطالبہ جائز ہے۔ پھر کیوں نہ ہم آج ہی سے اپنے حقوق مانگنا شروع کر دیں۔ آخر کب تک ادیب ایک ناکارہ آدمی سمجھا جائے گا۔ کب تک شاعر کو ایک گپیں ہانکنے والا متصور کیا جائے گا، کب تک ہمارے لٹریچر پر چند خودغرض اور ہوس پرست لوگوں کی حکمرانی رہے گی۔ کب تک؟\n\nجیسا کہ میں اوپر کہہ چکا ہوں مجھے شکایت ہے اپنے مضمون نگار بھائیوں سے، جن کی تحریریں دوسروں کی روزی کا ذریعہ بنتی ہیں، مگر ان کے لئے ایک دھیلا بھی پیدا نہیں کرتیں، وہ مضمون لکھتے ہیں کسی اور حیلے سے پیٹ بھر کر، وہ شعر لکھتے ہیں کسی دوسرے کنویں سے اپنی پیاس بجھا کر، وہ مقالے لکھتے ہیں مگر اپنی ستر پوشی کا سامان حاصل کرنے کے لئے انہیں کوئی اور ہی کام کرنا پڑتا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ان کے مضمون، ان کے شعر، ان کے مقالے ان لوگوں کی بھوک اور پیاس بجھاتے ہیں جو صرف انہیں کاغذ کے چند پرزوں پر چھاپ دیتے ہیں، ان کی تحریریں دوسروں کا تن ڈھانکتی ہیں، مگر ان کے لئے کپڑے کی ایک چندی بھی حاصل نہیں کر سکتیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔ ایسا نہیں ہوگا۔\n\nہمیں حالات کو بدلنا ہے اور ہم حالات کو بدل کر رہیں گے۔ ایک انقلاب برپا ہونا چاہیئے، جو حالات کو پلٹ دے۔ ادیب اپنے قلم سے روزی کمائے۔ سقفِ نیلوفری کے نیچے وہ بھی دوسرے آدمیوں کی طرح خدا کی نعمتوں کو استعمال کریں اور لوگ اس کے پیشے کو احترام کی نظروں سے دیکھیں۔ زمانہ کروٹ بدل رہا ہے۔ آؤ ہم بھی کروٹ بدلیں اور ایک کروٹ میں وہ تمام بدعتیں جھٹک دیں جو ہمارے ساتھ چپکا دی گئی ہیں۔ آؤ ہم ایک شان سے زندہ رہیں اور شان سے مریں۔ ہماری زندگی اور ہماری موت میں ایک امتیازی شان ہونا چاہیئے۔ ا س لئے کہ ہم شاندار ہیں، ہم ادیب ہیں، شاعر ہیں، افسانہ نگار ہیں، ہمارے ہاتھ میں قلم ہے جو تلوار سے زیادہ طاقتور ہے۔\n\nحضرات! حالات بہت نازک ہو گئے ہیں۔ اب تو یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ بعض اہل قلم لوگوں نے دکانیں کھول لی ہیں۔ جہاں وہ خریداروں کے ہاتھ غزلیں، مضمون اور افسانے بیچتے ہیں۔ آٹھ آٹھ آنے میں غزل بیچی جا رہی ہے۔ بیس بیس روپے میں ناول لکھنے کو لوگ تیار ہیں۔ پانچ روپے افسانے کا نرخ ہے۔ ایسی کئی دکانوں کا اشتہار آپ نے پرچوں میں پڑھا ہوگا۔ ان اشتہاروں کا معاوضہ یہ لوگ مضامین اور غزلوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔ یہ صرف ا س لئے ہو رہا ہے کہ ہم لوگ غافل ہیں۔ ہم نے اپنی پوزیشن خود گرا رکھی ہے۔ لیکن حالات ایک منٹ میں سدھر سکتے ہیں۔ چٹکی بجانے کے عرصے میں ہم اپنی کھوئی ہوئی عظمت حاصل کر سکتے ہیں۔ بہت ہی کم عرصے میں ہم اپنے لئے ایک خوبصورت دنیا بنا سکتے ہیں۔ جس میں ہم کو ہر طرح کی آزادی ہوگی۔ کیا ارادہ ہے آپ کا؟\n\nمیں کہتا ہوں اٹھو۔ اپنے سوئے ہوئے بھائیوں کو جھنجوڑو۔ ان کے کانوں تک میرا پیغام پہنچاؤ۔ ایک جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ۔ اپنا ایک محاذ بناؤ اور جنگ شروع کر دو۔ اپنے قلموں کو کچھ عرصے کے لئے روشنائی سے دور رکھو۔ کاغذ کی دنیا تمہارے قدموں پر سر رکھ دے گی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجھے شکوہ نہیں برباد رکھ برباد رہنے دے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے شکوہ نہیں برباد رکھ برباد رہنے دے\nمگر اللہ میرے دل میں اپنی یاد رہنے دے\n\nقفس میں قید رکھ یا قید سے آزاد رہنے دے\nبہر صورت چمن ہی میں مجھے صیاد رہنے دے\n\nمرے ناشاد رہنے سے اگر تجھ کو مسرت ہے\nتو میں ناشاد ہی اچھا مجھے ناشاد رہنے دے\n\nتری شان تغافل پر مری بربادیاں صدقے\nجو برباد تمنا ہو اسے برباد رہنے دے\n\nتجھے جتنے ستم آتے ہیں مجھ پر ختم کر دینا\nنہ کوئی ظلم رہ جائے نہ اب بیداد رہنے دے\n\nنہ صحرا میں بہلتا ہے نہ کوئے یار میں ٹھہرے\nکہیں تو چین سے مجھ کو دل ناشاد رہنے دے\n\nکچھ اپنی گزری ہی بیدمؔ بھلی معلوم ہوتی ہے\nمری بیتی سنا دے قصۂ فرہاد رہنے دے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%92"} {"title": "مجھے عیش و عشرت کی قدرت نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے عیش و عشرت کی قدرت نہیں ہے\nکروں ترک دنیا تو ہمت نہیں ہے\n\nکبھی غم سے مجھ کو فراغت نہیں ہے\nکبھی آہ و نالہ سے فرصت نہیں ہے\n\nصفوں کی صفیں عاشقوں کی الٹ دیں\nقیامت ہے یہ کوئی قامت نہیں ہے\n\nبرستا ہے مینہ میں ترستا ہوں مے کو\nغضب ہے یہ باران رحمت نہیں ہے\n\nمرے سر پہ ظالم نہ لایا ہو جس کو\nکوئی ایسی دنیا میں آفت نہیں ہے\n\nہے ملنا مرا فخر عالم کو لیکن\nترے پاس کچھ میری حرمت نہیں ہے\n\nمیں گور غریباں پہ جا کر جو دیکھا\nبجز نقش پا لوح تربت نہیں ہے\n\nبری ہی طرح مجھ سے روٹھی ہیں مژگاں\nانہیں کچھ بھی چشم مروت نہیں ہے\n\nتو کرتا ہے ابلیس کے کام زاہد\nترے فعل پر کیونکے لعنت نہیں ہے\n\nمیں دل کھول تاباںؔ کہاں جا کے روؤں\nکہ دونوں جہاں میں فراغت نہیں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجھے فریب وفا دے کے دم میں لانا تھا", "poet_page": "مصنف:ہجر ناظم علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے فریب وفا دے کے دم میں لانا تھا\nیہ ایک چال تھی ان کی یہ اک بہانا تھا\n\nنہ درد تھا نہ خلش تھی نہ تلملانا تھا\nکسی کا عشق نہ تھا وہ بھی کیا زمانا تھا\n\nکھلی جو آنکھ تو صیاد کے قفس میں کھلی\nنہ باغ تھا نہ چمن تھا نہ آشیانا تھا\n\nمرے نصیب میں تھی موت اس بہانے سے\nکسی کا عشق مری موت کا بہانا تھا\n\nکوئی کسی کا نہیں اس جگہ یہ محشر ہے\nوہ دن گئے کہ ستم گر ترا زمانا تھا\n\nترے جمال کو تھا کوہ طور سے کیا کام\nنگاہ بن کے مری آنکھ میں سمانا تھا\n\nخبر کسے تھی کہ زانو سے سر اٹھا دوگے\nہمیں سے چوک ہوئی آپ میں نہ آنا تھا\n\nہزار رنج ہیں اب یہ بھی اک زمانا ہے\nکوئی ملال نہ تھا وہ بھی اک زمانا تھا\n\nپیامبر کہیں رستے ہی سے نہ پھر آئے\nتجھے بھی اے دل بیتاب ساتھ جانا تھا\n\nرقیب سے نہ کبھی حال درد دل کہتے\nغرض یہ تھی کہ انہیں اس طرح سنانا تھا\n\nسنا کیا کوئی خلوت میں رات بھر اے ہجرؔ\nعجیب طرح کا دل کش مرا فسانہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "مجھے فکر و سر وفا ہے ہنوز", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے فکر و سر وفا ہے ہنوز\nبادۂ عشق نارسا ہے ہنوز\n\nاو نظر دل سے پھیرنے والے\nدل تجھی پر مٹا ہوا ہے ہنوز\n\nساری دنیا ہو ناامید تو کیا\nمجھے تیرا ہی آسرا ہے ہنوز\n\nآستاں سے ابھی نظر نہ ہٹا\nکوئی تقدیر آزما ہے ہنوز\n\nمحویت بے سبب نہیں سیمابؔ\nروح پر کوئی چھا رہا ہے ہنوز", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D9%88_%D8%B3%D8%B1_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%86%D9%88%D8%B2"} {"title": "مجھے لے چل", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مری سلمیٰؔ مجھے لے چل تو ان رنگیں بہاروں میں!\nجہاں رنگیں بہشتیں کھیلتی ہیں سبزہ زاروں میں!\nجہاں حوروں کی زلفیں جھومتی ہیں شاخساروں میں\nجہاں پریوں کے نغمے گونجتے ہیں کوہساروں میں\nجوانی کی بہاریں تیرتی ہیں آبشاروں میں\nمری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں بہاروں میں\nوہ مستانہ بہاریں جن پہ قرباں ارض جنت ہے\nجہاں ہر ذرہ اک گہوارۂ موج لطافت ہے\nجہاں رنگت ہی رنگت ہے جہاں نکہت ہی نکہت ہے\nمحبت حکمراں ہے جن کے پاکیزہ دیاروں میں!\nمری سلمیٰؔ مجھے لے چل تو ان رنگیں بہاروں میں!\nوہ دوشیزہ فضائیں جنتوں کا ہے گماں جن پر\nچھڑکتا ہے مئے تسنیم و کوثر آسماں جن پر\nلٹاتی ہے سحاب حسن و طلعت کہکشاں جن پر\nسرور و نور و نکہت بستے ہیں جن کے ستاروں میں\nمری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں بہاروں میں!\nجہاں شام و سحر نیلی گھٹائیں گھر کے آتی ہیں!\nافق کی گود میں نیلم کی پریاں مسکراتی ہیں!\nفضاؤں میں بہاریں ہی بہاریں لہلہاتی ہیں\nجہاں فطرت مچلتی ہے لہکتے ابر پاروں میں!\nمری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں بہاروں میں!\nجہاں چاروں طرف باغ و گلستاں لہلہاتے ہیں\nشگفتہ وادیوں میں جنتوں کے خواب آتے ہیں\nجہاں معصوم طائر عشق کے نغمے سناتے ہیں\nاور ان کا لحن شیریں گونجتا ہے کوہساروں میں!\nمری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں بہاروں میں!\nحکومت ہے جہاں صدق و صفا و مہر و الفت کی\nنشاط و عیش و عشرت کی سرور و لطف و راحت کی\nنسیم و انجم و گل کی نوا و نور و نکہت کی!\nمحبت موجزن ہے جن کے دوشیزہ نظاروں میں\nمری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں نظاروں میں!\nجہاں آباد یہ ناپاک شہرستاں نہیں ہوتے\nفسادی فتنہ پرور اور ذلیل انساں نہیں ہوتے\nیہ انساں ہاں یہ حیواں بد تر از شیطاں نہیں ہوتے\nفساد و شر جہاں سوتے ہیں خوابوں کے مزاروں میں!\nمری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں نظاروں میں!\nبہشتوں کی لطافت ہے جہاں کی زندگانی میں\nمزہ آتا ہے کوثر کا جہاں کے سادہ پانی میں\nخدائی حسن عریاں ہے جہاں کی نوجوانی میں!\nصداقت کروٹیں لیتی ہے ساز دل کے تاروں میں\nمری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں نظاروں میں!\n”حیات دائمی” لکھا ہوا ہے جن کے ایواں پر\nارم زار ابد ہے سایہ زن جن کے خیاباں پر\nدوامیت کے جلوے چھا رہے ہیں باغ و بستاں پر\nگزر ممکن نہیں ہے موت کا جن کے نظاروں میں\nمری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں نظاروں میں\nمحبت میں جو ہو جاتا ہے پائندہ نہیں مرتا!\nصداقت جس کو کر دیتی ہے تابندہ نہیں مرتا!\nہے جس میں عشق رقصاں وہ دل زندہ نہیں مرتا!\nنوائے ”لا فنا” ہے روح کے خاموش تاروں میں\nمری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں نظاروں میں!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%84%DB%92_%DA%86%D9%84"} {"title": "مجھے میرے دوستوں سے بچاو", "poet_page": "مصنف:سجاد حیدر یلدرم", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "(ایک مضمون نگار کی شکایت احباب سے)\n\nاور کوئی طلب ابنائے زمانہ سے نہیں\n\nمجھ پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا\n\nایک دن میں دلی کے چاندنی چوک میں سے گزر رہا تھا کہ میری نظر ایک فقیر پر پڑی جو بڑے موثر طریقے سے اپنی حالت زار لوگوں سے بیان کرتا جارہا تھا۔ دو تین منٹ کے وقفہ کے بعد یہ درد سے بھری اسپیچ انھیں الفاظ اور اسی پیرایہ میں دہرا دی جاتی تھی۔ یہ طرز کچھ مجھے ایسا خاص معلوم ہوا کہ میں اس شخص کو دیکھنے اور اس کے الفاظ سننے کے لیے ٹھہر گیا۔ اس فقیر کا قد لمبا، جسم خوب موٹا تازہ تھا اور چہرہ ایک حد تک خوبصورت ہوتا، مگر بدمعاشی اور بے حیائی نے صورت مسخ کردی تھی۔ یہ تو اس کی شکل تھی۔ رہی اس کی صدا، تو میں ایسا قسی القلب نہیں ہوں کہ صرف اس کا مختصر سا خلاصہ لکھ دوں۔ وہ اس قابل ہے کہ لفظ بلفظ لکھتی جائے چنانچہ وہ اسپیچ یا صدا جو کچھ کہیے یہ تھی۔\n\n’’اے بھائی مسلمانو! خدا کے لیے مجھ بدنصیب کا حال سنو! میں آفت کا مارا، سات بچوں کا باپ ہوں۔ اب روٹیوں کو محتاج ہوں اور اپنی مصیبت ایک ایک سے کہتا ہوں۔ میں بھیک نہیں مانگتا، میں یہ چاہتا ہوں کہ اپنے وطن کو چلا جاؤں مگر کوئی خدا کا پیارا مجھے گھر بھی نہیں پہنچاتا۔ بھائی مسلمانو! میں غریب الوطن ہوں، میرا کوئی دوست نہیں۔ ہائے میرا کوئی دوست نہیں۔ اے خدا کے بندو میری سنو، میں غریب الوطن ہوں۔‘‘\n\nفقیر تو یہ کہتا ہوا اور جن پر اس کے قصے کا اثر ہوا ان کی خیرات لیتا ہوا آگے بڑھ گیا لیکن میرے دل میں چند خیالات پیدا ہوئے اور میں نے اپنی حالت کا مقابلہ اس سے کیا اور مجھے خود تعجب ہوا کہ اکثر امور میں میں نے اس کو اپنے سے اچھا پایا۔ یہ صحیح ہے کہ میں کام کرتا ہوں اور وہ مفت خوری سے دن گزارتا ہے۔ نیز یہ کہ میں نے تعلیم پائی ہے وہ جاہل ہے۔ میں اچھے لباس میں رہتا ہوں وہ پھٹے کپڑے پہنتا ہے، بس یہاں تک میں اس سے بہتر ہوں۔ آگے بڑھ کر اس کی حالت مجھ سے بدرجہا اچھی ہے، اس کی صحت پر مجھے رشک کرنا چاہیے، میں رات دن فکر میں گزارتا ہوں اور وہ ایسے اطمینان سے بسر کرتا ہے کہ باوجود بسورنے اور رونے کی صورت بنانے کے اس کے چہرے سے بشاشت نمایاں تھی۔ بڑی دیر تک میں غور کرتا رہا کہ اس کی یہ قابل رشک حالت کس وجہ سے ہے؟ اور آخر کار میں اس بظاہر عجیب نتیجے پر پہنچا کہ جسے وہ مصیبت خیال کرتا ہے وہی اس کے حق میں نعمت ہے وہ حسرت سے کہتا ہے کہ ’’میرا کوئی دوست نہیں‘‘ میں حسرت سے کہتا ہوں، ’’میرے اتنے دوست ہیں۔‘‘ اس کا کوئی دوست نہیں؟ اگر یہ سچ ہے تو اسے مبارکباد دینی چاہیے۔\n\nمیں اپنے دل میں یہ باتیں کرتا ہوا، مکان پر آیا۔ کیسا خوش قسمت آدمی ہے، کہتا ہے میرا کوئی دوست نہیں۔ اے خوش نصیب شخص! یہیں تو تو مجھ سے بڑھ گیا، لیکن کیا اس کا یہ قول صحیح بھی ہے؟ یعنی کیا اصل میں اس کا کوئی دوست نہیں جو میرے دوستوں کی طرح اسے دن بھر میں پانچ منٹ کی بھی فرصت نہ دے؟ میں اپنے مکان پر ایک مضمون لکھنے جارہا ہوں مگر خبر نہیں کہ مجھے ذرا سا بھی وقت ایسا ملے گا کہ میں تخلیے میں اپنے خیالات جمع کرسکوں اور انھیں اطمینان سے قلمبند کرسکوں یا جو اسپیچ مجھے کل دیتی ہے اسے سوچ سکوں۔ کیا یہ فقیر دن دھاڑے اپنا روپیہ لے جاسکتا ہے اور اس کا کوئی دوست راستہ میں نہ ملے گا اور یہ نہ کہے گا۔\n\n’’بھائی جان! دیکھو پرانی دوستی کا واسطہ دیتا ہوں، مجھے اس وقت ضرورت ہے، تھوڑا سا روپیہ قرض دو۔‘‘ کیا اس کے احباب، وقت بے وقت اسے دعوتوں اور جلسوں میں کھینچ کر نہیں لے جاتے۔ کیا کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ اسے نیند کے جھونکے آرہے ہوں، مگر یار دوستوں کا مجمع ہے جو قصے پر قصہ اور لطیفے پر لطیفہ کہہ رہے ہیں اور اٹھنے کا نام نہیں لیتے؟ کیا اسے دوستوں کے خطوں کا جواب نہیں دینا پڑتا؟ کیا اس کے پیارے دوست کی تصنیف کی ہوئی کوئی کتاب نہیں جو اسے خواہ مخواہ پڑھنی پڑے اور ریویو لکھنا پڑے؟ کیا اسے احباب کی وجہ سے شور مچانا اور ہو حق کرنا نہیں پڑتا؟ کیا دوستوں کے ہاں ملاقات کو اسے جانا نہیں پڑتا اور اگر نہ جائے تو کوئی شکایت نہیں کرتا؟ اگر ان سب باتوں سے وہ آزاد ہے تو کوئی تعجب نہیں کہ وہ ہٹا کٹا ہے اور میں نحیف و نزار ہوں۔ یا اللہ کیا اس پر بھی وہ شکر ادا نہیں کرتا؟ خدا جانے وہ اور کونسی نعمت چاہتا ہے؟ لوگ کہیں گے کہ اس شخص کے کیسے بیہودہ خیالات ہیں۔ بغیر دوستوں کے زندگی دوبھر ہوتی ہے اور یہ ان سے بھاگتا ہے۔ مگر میں دوستوں کو برا نہیں کہتا۔ میں جانتا ہوں کہ وہ مجھے خوش کرنے کے لیے میرے پاس آتے ہیں اور میرے خیر طلب ہیں، مگر عملی نتیجہ یہ ہے کہ احباب کا ارادہ ہوتا ہے مجھے فائدہ پہنچانے کا اور ہوجاتا ہے مجھے نقصان۔ چاہے مجھ پر نظریں کی جائے مگر میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آج تک میرے سامنے کوئی یہ ثابت نہ کرسکا کہ احباب کا ایک جم غفیر رکھنے اور شناسائی کےدائرے کو وسیع کرنے سے کیا فائدہ ہے۔ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ اگر دنیا میں کچھ کام کرنا ہے اور باتوں ہی میں عمر نہیں گزارنی ہے تو بعض نہایت عزیز دوستوں کو چھوڑنا پڑے گا، چاہے اس سے میرے دل پر کیسا ہی صدمہ ہو۔\n\nمثلاً میرے دوست احمد مرزا ہیں، جنہیں میں بھڑ بھڑ یا دوست کہتا ہوں، یہ نہایت معقول آدمی ہیں اور میری ان کی دوستی نہایت پرانی اور بے تکلفی کی ہے مگر حضرت کی خلقت میں یہ داخل ہے کہ دو منٹ نچلا نہیں بیٹھا جاتا۔ جب آئیں گے شور مچاتے ہوئے، چیزوں کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے غرض کہ ان کا آنا بھونچال کے آنے سے کم نہیں ہے۔ جب وہ آتے ہیں تو میں کہتا ہوں، ’’کوئی آرہا ہے قیامت نہیں ہے۔‘‘ ان کے آنے کی مجھے دور سے خبر ہوجاتی ہے باوجودیکہ میرے لکھنے پڑھنے کا کمرہ چھت پر ہے اگر میرا نوکر کہتا ہے کہ ’’میاں! اس وقت کام میں بہت مشغول ہیں‘‘ تو وہ فوراً چیخنا شروع کردیتے ہیں کہ کم بخت کو اپنی صحت کا بھی تو کچھ خیال نہیں (نوکر کی طرف مخاطب ہوکر) خیراتی!کب سے کام کررہے ہیں؟ بڑی دیر سے؟ تو بہ توبہ! اچھا بس میں ایک منٹ ان کے پاس بیٹھوں گا مجھے خود جانا ہے۔ چھت پر ہونگے نا؟ میں پہلے ہی سمجھتا تھا۔‘‘\n\nیہ کہتے ہوئے وہ اوپر آتے ہیں اور دروازہ کو اس زور سے کھولتے ہیں کہ گویا کوئی گولہ آکے لگا (آج تک انھوں نے دروازہ کھٹکھٹایا نہیں) اور آندھی کی طرح داخل ہوتے ہیں۔\n\n’’اہا ہا ہا! آخر تمھیں میں نے پکڑ لیا، مگر دیکھو دیکھو میری وجہ سے اپنا لکھنا بند مت کرو، میں حرج کرنے نہیں آیا۔ خدا کی پناہ! کس قدر لکھ ڈالا ہے، کہو طبیعت تو اچھی ہے؟ میں تو صرف یہ پوچھنے آیا تھا واللہ مجھے کس قدر خوشی ہوتی ہے کہ میرے دوستوں میں ایک شخص ایسا ہے جو مضمون نگار کے لقب سے پکارا جاسکتا ہے تو اب جاتا ہوں، میں بیٹھوں گا نہیں۔ ایک منٹ نہیں ٹھہرنے کا، تمھاری خیریت دریافت کرنی تھی، خدا حافظ۔‘‘ یہ کہہ کے وہ نہایت محبت سے مصافحہ کرتے ہیں اور اپنے جوش میں میرے ہاتھ کو اس قدر دبا دیتے ہیں کہ انگلیوں میں درد ہونے لگتا ہے اور میں قلم نہیں پکڑ سکتا۔ یہ تو علیحدہ رہا اپنے ساتھ میرے کل خیالات کو بھی لے جاتے ہیں۔ خیالات کو جمع کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر اب وہ کہاں؟ اور دیکھا جائے تو میرے کمرے میں ایک منٹ سے زیادہ نہیں رہے۔ تاہم وہ اگر گھنٹوں رہتے تو اس سے زیادہ نقصان نہ کرتے۔ کیا میں انھیں چھوڑ سکتا ہوں؟ میں اس سے انکار نہیں کرتا کہ میری اور ان کی دوستی بہت پرانی اور وہ مجھ سے بھائیوں کی طرح محبت کرتے ہیں تاہم میں انھیں چھوڑ دوں گا۔ہاں چھوڑ دوں گا، اگر کلیجے پر پتھر رکھنا پڑے۔\n\nاور لیجیے دوسرے دوست محمد تحسین ہیں۔یہ بال بچوں والے صاحب ہیں اور رات دن انھیں کی فکر میں رہتے ہیں جب کبھی ملنے آتے ہیں تو تیسرے پہر کے قریب آتے ہیں جب میں کام سے تو فارغ ہوچکتا ہوں لیکن اس قدر تھکتا ہوا ہوتا ہوں کہ دل یہی چاہتا ہے کہ ایک گھنٹہ آرام کرسی پر خاموش پڑا رہوں مگر تحسین آئے ہیں اور ان سے ملنا ضروری ہے۔ ان کے پاس باتیں کرنے کے لیے سوائے اپنی بیوی بچوں کی بیماری کے اور کوئی مضمون ہی نہیں۔ میں کتنی ہی کوشش کروں مگر وہ اس مضمون سے باہر نہیں نکلتے۔ اگر میں موسم کا ذکر کرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں ہاں بڑا خراب موسم ہے، میرے چھوٹے بچے کو بخار آگیا، منجھلی لڑکی کھانسی میں مبتلا ہے۔ اگر پالی ٹکس یا لٹریچر کے متعلق گفتگو شروع کرتا ہوں تو تحسین صاحب فوراً معذرت پیش کرتے ہیں کہ بھائی آج کل گھر بھر بیمار ہے، مجھے اتنی فرصت کہاں کہ اخبار پڑھوں۔ اگر کسی عام جلسے میں آتے ہیں تو اپنے لڑکوں کو ضرور ساتھ لیے ہوتے ہیں اور ہر ایک سے بار بار پوچھتے رہتے ہیں کہ ’’طبیعت تو نہیں گھبراتی؟ پیاس تو نہیں معلوم ہوتی؟‘‘ کبھی کبھی نبض دیکھ لیتے ہیں اور وہاں بھی کسی سے ملتے ہیں تو گھر کی بیماری ہی کا ذکر کرتے ہیں۔\n\nاسی طرح میرے مقدمہ باز دوست ہیں، جنھیں اپنی ریاست کے جھگڑوں اپنے فریق مخالف کی برائیوں اور جج صاحب کی تعریف یا مذمت کے (تعریف) اس حالت میں جب کہ انھوں نے مقدمہ جیتا ہو اور کوئی مضمون نہیں۔ من جملہ اور بہت سے مختلف قسموں کے دوستوں کے میں محمد شاکر خاں صاحب کا ذکر خصوصیت سے کروں گا کیونکہ وہ مجھ پر خاص عنایت فرماتے ہیں شاکر خاں صاحب موضع سلیم پور کےرئیس اور ضلع بھر میں نہایت معزز آدمی ہیں۔ انھیں اپنی لیاقت کے مطابق لٹریچر کا بہت شوق ہے، لٹریچر پڑھنے کا اتنا نہیں جتنا لٹریری آدمیوں سے ملنے اور تعارف پیدا کرنے کا۔ ان کا خیال ہے کہ اہل علم کی تھوڑی سی قدر کرنا، امرا کے شایان شان ہے ایک مرتبہ میرے ہاں تشریف لائے اور بہت اصرار سے مجھے سلیم پور لے گئے یہ کہہ کے۔\n\n’’شہر میں رات دن شور وشغب رہتا ہے، دیہات میں کچھ عرصہ رہنے سے تبدیل آب و ہوا بھی ہوگی اور وہاں مضمون نگاری بھی زیادہ اطمینان سے کرسکوگے۔ میں نے ایک کمرہ خاص تمھارے واسطے آراستہ کرایا ہے جس میں پڑھنے لکھنے کا سب سامان مہیا ہے۔ تھوڑے دن رہ کے چلے آنا۔ دیکھو! میری خوشی کرو۔‘‘\n\nمیں ایسے محبت آمیز اصرار پر انکار کیسے کرسکتا تھا؟ مختصر سا سامان پڑھنے لکھنے کا لے کر میں ان کے ساتھ ہولیا۔ ’’ایڈیٹر معارف‘‘ سے وعدہ کرچکا تھا کہ ایک خاص عرصہ میں ان کی خدمت میں ایک مضمون بھیجوں گا۔ شاکر خاں صاحب کی کوٹھی پر پہنچ کر میں نے وہ کمرہ دیکھا جو میرے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ کمرہ کوٹھی کی دوسری منزل میں تھا اور نہایت خوبی سے آراستہ تھا۔ اس کی ایک کھڑکی پائیں باغ کی طرف کھلتی تھی اور ایک نہایت ہی دلفریب نیچرل منظر میری آنکھوں کے سامنے ہوتا تھا۔ صبح کو میں نیچے ناشتہ کی غرض سے بلایا گیا، جب دوسرا پیالہ چائے کا پی چکا تو اپنے کمرے جانے کے لیے اٹھا ہی تھا کہ چاروں طرف سے اصرار ہونے لگا کہ ، ’’ہیں! ہیں! کہیں ایسا غضب نہ کرنا کہ آج ہی سے کام شروع کردو۔ اپنے دماغ کو کچھ تو آرام دو اور آج کا دن تو خاص کر اس قابل ہے کہ سینری کا لطف اٹھانے میں گزارا جائے۔ چلیے گاڑی تیار کراتے ہیں، دریا پہ مچھلی کا شکار کھیلیں گے۔ پھر وہاں سے دو میل پر احمد نگر ہے آپ کو وہاں کے رئیس راجہ طالب علی صاحب سے ملائیں گے۔‘‘\n\nمیرا ماتھا وہیں ٹھنکا کہ اگر یہی حال رہا تو یہاں بھی فرصت معلوم! خیر سیکڑوں حیلے حوالوں سے اس وقت تو میں بچ گیا اور میرے میزبان بھی میری وجہ سے نہ گئے، مگر مجھے بہت جلد معلوم ہوگیا کہ جس عنقا یعنی یکسوئی کی تلاش میں میں سرگرداں تھا، وہ مجھے یہاں بھی نہ ملے گی۔\n\nمیں جلدی سے اٹھ کر اپنےکمرے میں آیا اور اس وقت ذرا غور سے اس میز کے سامان کو دیکھا، جو میرے لکھنے پڑھنے کے لیے تیار کی گئی تھی، میز پر نہایت قیمتی کا مدار کپڑا پڑا ہوا تھا، جس پر سیاہی کا ایک قطرہ گرانا، گناہ کبیرہ سے کم نہ ہوگا، ندی کی دوات، مگر سیاہی دیکھتا ہوں تو سوکھی ہوئی۔ انگریزی قلم نہایت قیمتی اور نایاب مگر اکثر میں نب ندارد۔ جاذب کاغذ ایک مخملی جلد کی کتاب میں مگر لکھنے کے کاغذ کا پتا نہیں۔ اسی طرح بہت سا اعلیٰ درجے کا بیش قیمت سامان میز پر تھا، مگر اکثر اس میں سے میرے کام کا نہیں۔ اور جو چیزیں کہ ضرورت کی تھیں وہ موجود نہیں۔ آخر کار میں نے اپنا وہی پرانا استعمالی، مگر مفید بکس اور اپنی معمولی دوات اور قلم (جس نے اب تک نہایت ایمان داری سے میری مدد کی تھی اور میرے پّراں خیالات کو تیزی کے ساتھ قفس کاغذ میں بند کیا تھا) نکالا اور لکھنا شروع کیا۔ یہ ضرور ہے کہ جن مرغان خوش نوا کی تعریف میں شعرا اس قدر طب اللسان ہیں ان کی عنایت سے میں خوش نہیں ہوا کہ سب کے سب میرے کمرے کے نیچے درخت پر جمع ہوگئے اور شور مچانا شروع کردیا، تاہم میں نے کوشش کرکے ان کی طرف سے کان بند کرلیے اور کام میں ہمہ تن مشغول ہوگیا۔\n\nتن، تنتن، تنتنانا، چھن، تاتن، تن تن تن۔ میں ایسا مصروف تھا کہ دنیا اور مافیہا کی خبر نہ تھی، یکایک اس تن تن نے چونکا دیا، ہیں یہ کیا ہے؟ افوہ! اب میں سمجھا، میرے کمرے کے قریب شاکر خاں صاحب کے چھوٹے بھائی کا کمرہ ہے! انھیں موسیقی میں بہت دخل ہے۔ اس وقت ستار سے شوق فرما رہے ہیں۔ بہت خوب بجارہے ہیں۔\n\n’’اس کی گلی سے آئے کیوں؟\n\nنکہت زلف لائے کیوں؟\n\nمجھ کو صبا سے ہے امید،\n\nاہا مجھ کو صبا سے ہے امید،\n\nمجھ سے صبا کو کیا غرض۔‘‘\n\nواہ وا! سبھان اللہ کیا غزل چھیڑی ہے۔\n\n’’اے ترک سوار نواح عربی یثر ب نگری پہنچا دینا،\n\nکس رنگ میں ہے وہ حبیب مرا، مجھے واکی کھبریا لادینا‘‘\n\nبہت ہی خوب! کمال کرتے ہیں۔\n\nکوئی آدھ گھنٹہ انھوں نے موسیقی کی مشق فرماکر مجھے میری خواہش کے خلاف محظوظ فرمایا۔ پھر کسی وجہ سے وہ اپنے کمرے سے چلے گئے اور خاموشی طاری ہوگئی، تو مجھے پھر اپنے کام کا خیال آیا۔\n\n’’اے میرے خیالات، تمھیں میرا گنجینہ، میرا خزانہ ہو، خدا کے لیے رحم کرو، میرے دماغ میں پھر آجاؤ۔‘‘ یہ کہہ کے میں کاغذ کی طرف متوجہ ہوا کہ دیکھوں کہاں چھوڑا ہے۔ میں اس فقرے تک پہنچا تھا۔\n\n’’ہم اس وسیع اور دقیق مضمون پر جتنا غور و فکر کرتے ہیں اتنا ہی اس مشکلات کا مثل۔۔۔‘‘\n\nمثل کے آگے میں کیا لکھنے والا تھا؟ ’’ریگ دریا کے اندازہ نہیں کرسکتے؟‘‘ ہرگز نہیں۔ ایسا معمولی فقرہ تو نہ تھا، مجھے یقین ہے کہ کچھ اور تھا، کوئی اعلیٰ درجے کی تشبیہ تھی اور فقرے کو نہایت شاندار الفاظ میں ختم کرنے والا تھا، خدا ہی جانتا ہے کہ کیا تھا کیا نہ تھا، اب تو دماغ میں اس کا پتہ بھی نہیں۔ گانے والے صاحب تو شکایت کررہے تھے کہ،\n\n’’اس کی گلی سے آئے کیوں؟ نکہت زلف لائے کیوں؟\n\nمجھ کو صبا سے ہے امید، مجھ سے صبا کو کیا غرض؟‘‘\n\nمگر میرا تو صبا کے نام نے دماغ خالی کردیا، اگروہ آتی اور نکہت زلف بھی لاتی تو نہ معلوم کیا ہوتا۔ بہرحال اب مجھے وہ فقرہ از سرنو درست کرنا چاہیے۔ مشکلات کی بجائے کچھ اور ہونا چاہیے۔\n\n’’ہم اس وسیع مضمون پر جتنا غور و فکر کرتے ہیں، اتنا ہی ان بیش بہا، علمی جواہر کو جو ہمارے ملک اور قوم کے علمی خزانے کے پر کرنے کے لیے کافی ہیں اور جن کی قدر آپ کہاں بھول پڑے اتنے دنوں کہا رہے؟‘‘\n\n’’جن کی قدر آپ کہاں بھول پڑے اتنے دنوں کہا رہے؟‘‘ یہ کیا مہمل فقرہ ہوا! لاحول ولا قوۃ میں بھی کیا گڑ بڑ کررہا ہوں ’’آپ کہاں بھول پڑے اتنے دنوں کہاں رہے۔‘‘ یہ فقرے تو شاکر خاں صاحب نے کسی دوست سے کہے ہیں جو ابھی ان سے ملنے آیا ہے۔ میں مصروفیت میں انھیں ہی لکھ گیا۔\n\nہاں تو کاٹ کے فقرہ درست کرنا چاہیے۔ ’’اور جن کی قدر ابھی تک ملک و قوم کو معلوم نہیں ہوئی ہے اور بظاہر۔‘‘\n\nکوئی دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔\n\n’’کون ہے؟‘‘\n\n’’میں ہوں شبن! سرکار نے کہا ہے کہ اگر آپ کو تکلیف نہ ہو تو نیچے ذرا سی دیر کے لیے تشریف لائے، کوئی صاحب آئے ہوئے ہیں اور سرکار انھیں آپ سے ملانا چاہتے ہیں۔‘‘\n\nبادل ناخواستہ میں اٹھا اور نیچے گیا۔ شاکر صاحب کے دوست راجہ طالب علی صاحب تشریف لائے تھے، ان سے میرا تعارف کرایا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ تشریف لے گئے اور مجھے بھی فرصت ملی اور میں نے یکسو ہوکر لکھنا شروع کیا۔ تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ شبن نے پھر دروازہ کھٹکھٹایا۔ معلوم ہوا کہ میری پھر یاد ہوئی، ہمارے میزبان کے کوئی اور دوست آئے ہوئے ہیں اور میں انھیں دکھایا جاؤں گا، گویا میں بھی مثل اس عربی گھوڑے کے تھا جسے میزبان نے حال ہی میں خریدا تھا اور جو ہر دوست کو اصطبل سے منگا کے دکھایا جاتا تھا۔ ان دوست سے نجات پاکر اور بھاگ کر میں پھر اپنے کمرے میں آیا۔ خیالات غائب ہوگئے تھے، فقرہ از سر نو پھر بنانا پڑا، طبیعت اچاٹ ہوگئی، بہ ہزار دقت پھر بیٹھا اور لکھنا شروع کیا۔ اب کی مرتبہ خوش قسمتی سے کوئی آدھ گھنٹہ ایسا ملا جس میں کوئی آیا گیا نہیں۔ اب میرا قلم تیزی سے چل رہا تھا اور میں لکھ رہا تھا۔\n\nہم کو کامل یقین ہے کہ ہمارے ملک کے قابل نوجوان جنھیں تفتیش اور تحقیقات کا شوق ہے اور جو کولمبس کی طرح نئی معلومات اور نئی دنیا (گو وہ علمی دنیا ہی کیوں نہ ہو) کے دریافت کرنے کے لیے اپنے تئیں۔‘‘\n\nدروازہ پھر دستک۔\n\n’’کیا ہے؟‘‘\n\n’’اچھا۔‘‘\n\nدریافت کرنے کے لیے ایک خطرے میں ڈالنے سے بھی خوف نہیں کھاتے، ضرور اس طرف متوجہ ہونگے اور اپنی کاوشوں اور کوششوں سے موجودہ۔۔۔‘‘\n\nدروازہ پھر کھٹکھٹایا گیا۔\n\n’’ہاں‘‘\n\n’’حضور! سرکار آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ کھانا ٹھنڈا ہوا جاتا ہے۔‘‘\n\n’’افوہ! مجھے خیال نہیں رہا۔ سرکار سے عرض کرنا میرا انتظار نہ کریں۔ میں پھر کھالوں گا۔ اس وقت مجھے کچھ ایسی بھوک نہیں۔‘‘ ’’اور آیندہ نسلوں کی زیربار احسان کریں گے۔ یہی وہ نوجوان ہیں جو قوم کی کشتی کو، خدا کی مدد پر بھروسہ کرکے خطرات سے بچاتے اور ساحل مراد تک پہنچاتے ہیں۔ زندگی اور موت کالا نیحل مسئلہ۔۔۔‘‘\n\nدستک۔\n\n’’کیا ہے؟‘‘\n\n’’سرکار کہتے ہیں اگر آپ تھوڑی دیر میں کھائیں گے تو ہم بھی اس وقت کھائیں گے، مگر کھانا ٹھنڈا ہوکے بالکل خراب ہوجائے گا۔‘‘\n\n’’اچھا بھائی لو ابھی آیا۔‘‘\n\nیہ کہہ کے میں کھانے کے لیے جاتا ہوں، سب سے معذرت کرتا ہوں، میزبان نہایت اخلاق سے فرماتے ہیں، ’’چہرے پر تھکن معلوم ہوتی ہے۔ کیا بہت لکھ ڈالا، دیکھو میں تم سے کہتا تھا نا کہ شہر میں ایسی فرصت اور خاموشی کہاں؟‘‘\n\nسوائے اس کے کہ آمنا وصد قنا کہوں اور کیا کہہ سکتا تھا؟ اب کھانے پر اصرار ہوتا ہے، جس چیز سے مجھے رغبت نہیں وہی کھلائی جاتی ہے۔ بعد کھانے کے، میزبان صاحب فرماتے ہیں۔\n\n’’سہ پہر کو تمھیں گاڑی میں چلنا ہوگا۔ میں تمھیں اس واسطے یہاں نہیں لایا کہ سخت دماغی کام کرکے اپنی صحت خراب کرلو۔‘‘\n\nواپس کمرے میں آکر میں تھوڑی دیر اس غرض سے لیٹتا ہوں کہ خیالات جمع کرلوں اور پھر لکھنا شروع کردوں۔ مگر اب خیالات کہاں؟ مضمون اٹھاکر دیکھتا ہوں۔ ’’زندگی اور موت کا لانیحل مسئلہ!‘‘ اس کے متعلق کیا لکھنے والا تھا؟ ان الفاظ کے بعد کون سے الفاظ دماغ میں تھے؟ اب کچھ خیال نہیں کہ اس کو پہلے فقروں سے کیوں کر ربط پیدا کرنا تھا۔ یوں ہی پڑے پڑے نیند آجاتی ہے۔ تیسرے پہر اٹھتا ہوں تو دماغ نہایت صحیح پاتا ہوں ’’زندگی اور موت کا لا نیحل مسئلہ‘‘ بالکل حل ہوجاتا ہے۔ پورا فقرہ آئینہ کی طرح صاف نظر آتا ہے۔ میں خوشی خوشی اٹھ کر میز پر گیا اور لکھنا چاہتا تھا کہ پھر وہی دستک!\n\nنوکر اطلاع دیتا ہے کہ گاڑی تیار ہے، سرکار کپڑے پہنے آپ کا انتظار کررہے ہیں، میں فوراً نیچے جاتا ہوں تو پہلا فقرہ جو میزبان صاحب کہتے ہیں یہ ہوتا ہے۔ ’’آج تو دستے کے دستے لکھ ڈالے۔‘‘ میں سچی بات کہوں کہ ’’کچھ بھی نہیں لکھا‘‘ تو وہ ہنس کے جواب دیتے ہیں کہ ’’آخر اس قدر کسر نفسی کی کیا ضرورت ہے؟\n\nخدا کے واسطے جھوٹی نہ کھائیے قسمیں\n\nمجھے یقین ہوا اور مجھ کو اعتبار آیا‘‘\n\nمل ملاکر شام کو واپس آئے، کھانے کے بعد باتیں ہوتی ہیں۔ سونے کے وقت اپنا دن بھر کا کام اٹھاکر دیکھتا ہوں تو ایک صفحے سے زیادہ نہیں، وہ بھی بے ربط و بے سلسلہ۔ غصہ اور رنج میں آکر اسے پھاڑ کر پھینک دیتا ہوں اور دوسرے روز اپنے میزبان کو ناراض کرکے اپنے گھر واپس چلا آتا ہوں۔ میں ناشکرا اور احسان فراموش کہا جاؤں گا، مگر میں مجبور ہوں اس عزیز اور مہربان دوست کو بھی چھوڑ دونگا۔\n\nمیں نے ذرا تفصیل سے ان کا حال بیان کیا ہے، مگر یہ خیال نہ کرنا کہ یہیں ان احباب کی فہرست ختم ہوگئی جن سے میں رخصت طلب کرسکتا ہوں۔ نہیں ابھی بہت سے باقی ہیں مثلاً ایک صاحب ہیں جو مجھ سے کبھی نہیں ملتے مگر جب آتے ہیں میں ان کا مطلب سمجھ جاتا ہوں۔ یہ حضرت ہمیشہ قرض مانگنے کے لیے آتے ہیں۔ ایک صاحب ہیں جو ہمیشہ ایسے وقت آتے ہیں جب میں باہر جانے والا ہوتا ہوں۔ ایک صاحب ہیں جب مجھ سے ملتے ہیں کہتے ہیں ’’میاں! عرصہ سے میرا دل چاہتا ہے تمھاری دعوت کروں‘‘ مگر کبھی اپنی خواہش کو پورا نہیں کرتے۔ ایک دوست ہیں وہ آتے ہی سوالات کی بوچھاڑ کردیتے ہیں، جب میں جواب دیتا ہوں تو متوجہ ہوکر نہیں سنتے یا اخبار اٹھاکر پڑھنے لگتے ہیں یا گانے لگتے ہیں۔ ایک صاحب ہیں جو جب آتے ہیں اپنی ہی کہے جاتے ہیں۔ میری نہیں سنتے۔\n\nیہ سب میرے عنایت فرما اور خیر طلب ہیں مگر اپنی طبیعت کو کیا کروں، صاف صاف کہتا ہوں کہ ان میں سے ہر ایک سے کہہ سکتا ہوں۔\n\n’’مجھ پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا‘‘\n\nاب چونکہ میں نے یہ حال لکھنا شروع کردیا ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چند اور احباب کے متعلق اپنے دلی خیالات ظاہر کروں۔ دروازے پر ایک گاڑی آکے رکی ہے، میں سمجھ گیا کہ کون صاحب تشریف لارہے ہیں میں ان کی شکایت نہیں کرنے کا، کیوں کہ کیا یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ تین گھنٹے سے میں یہ مضمون لکھ رہا تھا کہ کسی کرم فرما نے کرم نہیں فرمایا اس لیے اس کے شکریہ میں میں اس مضمون کو اسی نا تمام حالت میں چھوڑتا ہوں اور اپنے دوست کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ یہ دوست میری صحت کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ جب آتے ہیں مجھ پر اس وجہ سے ناراض ہوتے ہیں کہ ’’تم اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتے۔‘‘ میں جانتا ہوں کہ اس وقت بھی یہ کسی نئے حکیم یا ڈاکٹر کا حال سنائیں گے جو بڑا حاذوق ہے یا کوئی مجرب نسخہ میرے لیے کسی سے مانگ کر لائے ہونگے۔\n\n’’آئیے آئیے، مزاج علی، بہت دن بعد تشریف لائے‘‘\n\n(ملحض)", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%86%D8%A7%D9%88"} {"title": "مجھے پہلے تم اک نظر دیکھ لینا", "poet_page": "مصنف:محمود رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے پہلے تم اک نظر دیکھ لینا\nجدھر چاہے جی پھر ادھر دیکھ لینا\n\nمرے جذب دل کا اثر دیکھ لینا\nوہ خود آئیں گے میرے گھر دیکھ لینا\n\nشب وصل تم چھوڑ کر مجھ کو جاؤ\nمزا اس کا وقت سحر دیکھ لینا\n\nکسی روز یہ تیر مژگاں تمہارا\nکرے گا مرے دل میں گھر دیکھ لینا\n\nتمہیں فتنۂ حشر کہتی ہے دنیا\nکوئی تم سے اٹھے گا شر دیکھ لینا\n\nمجھے روز در پر جو دیکھا تو بولے\nغضب ہے تمہارا ابھی گھر دیکھ لینا\n\nتمہیں قدر محمودؔ کی کچھ نہ آئی\nملے گا نہ ایسا بشر دیکھ لینا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "مجھے چھیڑنے کو ساقی نے دیا جو جام الٹا", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے چھیڑنے کو ساقی نے دیا جو جام الٹا\nتو کیا بہک کے میں نے اسے اک سلام الٹا\n\nسحر ایک ماش پھینکا مجھے جو دکھا کے ان نے\nتو اشارا میں نے تاڑا کہ ہے لفظ شام الٹا\n\nیہ بلا دھواں نشہ ہے مجھے اس گھڑی تو ساقی\nکہ نظر پڑے ہے سارا در و صحن و بام الٹا\n\nبڑھوں اس گلی سے کیوں کر کہ وہاں تو میرے دل کو\nکوئی کھینچتا ہے ایسا کہ پڑے ہے گام الٹا\n\nدر مے کدہ سے آئی مہک ایسی ہی مزے کی\nکہ پچھاڑ کھا گرا واں دل تشنہ کام الٹا\n\nنہیں اب جو دیتے بوسہ تو سلام کیوں لیا تھا\nمجھے آپ پھیر دیجے وہ مرا سلام الٹا\n\nلگے کہنے آب مائع تجھے ہم کہا کریں گے\nکہیں ان کے گھر سے بڑھ کر جو پھرا غلام الٹا\n\nمجھے کیوں نہ مار ڈالے تری زلف الٹ کے کافر\nکہ سکھا رکھا ہے تو نے اسے لفظ رام الٹا\n\nنرے سیدھے سادے ہم تو بھلے آدمی ہیں یارو\nہمیں کج جو سمجھے سو خود ولد الحرام الٹا\n\nتو جو باتوں میں رکے گا تو یہ جانوں گا کہ سمجھا\nمرے جان و دل کے مالک نے مرا کلام الٹا\n\nفقط اس لفافہ پر ہے کہ خط آشنا کو پہنچے\nتو لکھا ہے اس نے انشاؔ یہ ترا ہی نام الٹا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%B9%D8%A7"} {"title": "مجھے کیا دیکھ کر تو تک رہا ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے کیا دیکھ کر تو تک رہا ہے\nترے ہاتھوں کلیجہ پک رہا ہے\n\nجہاں کیونکر نہ ہو نظروں میں تاریک\nترا منہ زلف نیچے ڈھک رہا ہے\n\nتمہاری نا قدر دانی کا افسوس\nہمارے جی میں مرتے تک رہا ہے\n\nخدا کے واسطے اس سے نہ بولو\nنشے کی لہر میں کچھ بک رہا ہے\n\nپھرا اب تک نہیں حاتمؔ کا قاصد\nخدایا راہ میں کیا تھک رہا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D8%AA%DA%A9_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب الٹا", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب الٹا\nکہ پڑا ہے آج خم میں قدح شراب الٹا\n\nعجب الٹے ملک کے ہیں اجی آپ بھی کہ تم سے\nکبھی بات کی جو سیدھی تو ملا جواب الٹا\n\nچلے تھے حرم کو رہ میں ہوئے اک صنم کے عاشق\nنہ ہوا ثواب حاصل یہ ملا عذاب الٹا\n\nیہ شب گزشتہ دیکھا وہ خفا سے کچھ ہیں گویا\nکہیں حق کرے کہ ہووے یہ ہمارا خواب الٹا\n\nابھی جھڑ لگا دے بارش کوئی مست بڑھ کے نعرہ\nجو زمین پہ پھینک مارے قدح شراب الٹا\n\nیہ عجیب ماجرا ہے کہ بروز عید قرباں\nوہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا\n\nیوں ہی وعدہ پر جو چھوٹے تو نہیں ملاتے تیور\nاے لو اور بھی تماشا یہ سنو جواب الٹا\n\nکھڑے چپ ہو دیکھتے کیا مرے دل اجڑ گئے کو\nوہ گنہ تو کہہ دو جس سے یہ ہے وہ خراب الٹا\n\nغزل اور قافیوں میں نہ کہی سو کیونکہ انشاؔ\nکہ ہوا نے خود بخود آ ورق کتاب الٹا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D9%88%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D9%B9%D8%A7"} {"title": "مجھے گھر یاد آتا ہے", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دو\nیہ پھیلا آسماں اس وقت کیوں دل کو لبھاتا تھا\nہر اک سمت اب انوکھے لوگ ہیں اور ان کی باتیں ہیں\nکوئی دل سے پھسل جاتی کوئی سینہ میں چبھ جاتی\nانہی باتوں کی لہروں پر بہا جاتا ہے یہ بجرا\nجسے ساحل نہیں ملتا\nمیں جس کے سامنے آؤں مجھے لازم ہے ہلکی مسکراہٹ میں کہیں یہ ہونٹ تم کو\nجانتا ہوں دل کہے 'کب چاہتا ہوں میں'\nانہی لہروں پہ بہتا ہوں مجھے ساحل نہیں ملتا\n\nسمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دو\nوہ کیسی مسکراہٹ تھی بہن کی مسکراہٹ تھی، میرا بھائی بھی ہنستا تھا\nوہ ہنستا تھا بہن ہنستی ہے اپنے دل میں کہتی ہے\nیہ کیسی بات بھائی نے کہی دیکھو وہ اماں اور ابا کو ہنسی آئی\nمگر یوں وقت بہتا ہے تماشا بن گیا ساحل\nمجھے ساحل نہیں ملتا\n\nسمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دو\nیہ کیسا پھیر ہے تقدیر کا یہ پھیر تو شاید نہیں لیکن\nیہ پھیلا آسماں اس وقت کیوں دل کو لبھاتا ہے\n\nحیات مختصر سب کی بہی جاتی ہے اور میں بھی\nہر اک کو دیکھتا ہوں مسکراتا ہے کہ ہنستا ہے\nکوئی ہنستا نظر آئے کوئی روتا نظر آئے\nمیں سب کو دیکھتا ہوں دیکھ کر خاموش رہتا ہوں\nمجھے ساحل نہیں ملتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مجھے یاد ہیں وہ دن جو تری بزم میں گزارے", "poet_page": "مصنف:ہوش بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مجھے یاد ہیں وہ دن جو تری بزم میں گزارے\nوہ جھکی جھکی نگاہیں وہ دبے دبے اشارے\n\nیہ ترا سکوت رنگیں یہ ادائے بے نیازی\nکہیں بجھ کے رہ نہ جائیں مری روح کے شرارے\n\nکبھی شوق زندگی تھا کبھی لطف سر خوشی تھا\nمگر اب تو جی رہا ہوں تری یاد کے سہارے\n\nیہ چمن چمن بہاریں یہ رواں دواں ہوائیں\nانہیں کیا سمجھ سکیں گے غم زندگی کے مارے\n\nمجھے کیا سکون ملتا مرے اشک کیسے تھمتے\nکہ مچل رہے ہیں دل میں ترے غم کے تیز دھارے\n\nکہیں ہے وجود ساحل مجھے کیسے باور آئے\nمری کشتی تمنا نہ لگی کبھی کنارے\n\nشب انتظار گزری مری زندگی نہ بدلی\nوہی ہوشؔ میرے آنسو وہی ڈوبتے ستارے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%86_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "مجید کا ماضی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "خالی بوتلیں، خالی ڈبے", "year": "1950", "text_ur": "مجید کی ماہانہ آمدن ڈھائی ہزار روپے تھی۔ موٹر تھی۔ ایک عالیشان کوٹھی تھی۔ بیوی تھی۔ اس کے علاوہ دس پندرہ عورتوں سے میل جول تھا۔ مگر جب کبھی وہ وسکی کے تین چار پیگ پیتا تو اسے اپنا ماضی یاد آجاتا۔ وہ سوچتا کہ اب وہ اتنا خوش نہیں جتنا کہ پندرہ برس پہلے تھا۔ جب اس کے پاس رہنے کو کوٹھی تھی، نہ سواری کے لیے موٹر۔ بیوی تھی نہ کسی عورت سے اس کی شناسائی تھی۔ ڈھائی ہزار روپے تو ایک اچھی خاصی رقم ہے۔ ان دنوں اس کی آمدن صرف ساٹھ روپے ماہوار تھی۔ ساٹھ روپے جو اسے بڑی مشکل سے ملتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ خوش تھا۔ اس کی زندگی افتاں و خیزاں حالات کے ہوتے ہوئے بھی ہموار تھی۔\n\nاب اسے بے شمار تفکرات تھے۔ کوٹھی کے،بیوی کے، بچوں کے، ان عورتوں کے جن سے اس کا میل جول تھا۔ انکم ٹیکس کا ٹنٹا الگ تھا، سیلز ٹیکس کا جھگڑا جدا۔ اس کے علاوہ اور بہت سی الجھنیں تھیں جن سے مجید کو کبھی نجات ہی نہیں ملتی تھی۔ چنانچہ اب وہ اس زمانے کو اکثر یاد کرتا تھا جب اس کی زندگی ایسے تفکرات اور ایسی الجھنوں سے آزاد تھی۔ وہ ایک بڑی غریبی کی لیکن بڑی خوشگوار زندگی بسر کرتا تھا۔\n\nانکم ٹیکس زیادہ لگ گیا ہے۔ ماہروں سے مشورہ کرو،آفیسروں سے ملو، ان کو رشوت دو، سیلز ٹیکس کا جھگڑا چکاؤ،بلیک مارکیٹ کرو،یہاں سے جو کماؤ اس کو وائٹ کرو، جھوٹی رسیدیں بناؤ، مقدموں کی تاریخیں بھگتو، بیوی کی فرمائشیں پوری کرو، بچوں کی نگہداشت کرو۔ یوں تو مجید کام بڑی مستعدی سے کرتاتھا اور وہ اپنی اس نئی ہنگامہ خیز زندگی میں رچ مچ گیا تھا لیکن اس کے باوجود ناخوش تھا۔ یہ ناخوشی اسے کاروباری اوقات میں محسوس نہیں ہوتی تھی۔ اس کا احساس اس کو صرف اس وقت ہوتا تھا جب وہ فرصت کے اوقات میں آرام سے بیٹھ کروسکی کے تین چار پیگ پیتا تھا۔ اس وقت بیتا ہوا زمانہ اس کے دل و دماغ میں ایک دم انگڑائیاں لیتا ہوا بیدار ہو جاتا اور وہ بڑا سکون محسوس کرتا۔ لیکن جب اس بیتے ہوئے زمانے کی تصویر اس کے دل و دماغ میں محو ہو جاتی تو وہ بہت مضطرب ہو جاتا، پر یہ اضطراب دیرپا نہیں ہوتا تھا کیونکہ مجید فوراً ہی اپنی کاروباری الجھنوں میں گرفتار ہوجاتا تھا۔\n\nمجید نے جو کچھ بنایا تھا، اپنی محنت و مشقت سے بنایا تھا۔ کوٹھی، اس کا سازو سامان، موٹر غرضیکہ ہر چیز اس کے گاڑھے پسینے کی کمائی تھی۔ اس کو اس بات کا بہت مان تھا کہ آسائش کے جتنے سامان ہیں، سب اس نے خود بنائے ہیں۔ اس نے کسی سے مدد نہیں لی، لیکن تفکرات اب زیادہ ہوگئے تھے۔\n\nوہ جو دس پندرہ عورتیں تھیں،اس کے لیے وبال جان بن گئی تھیں۔ ایک سے ملو تو دوسری ناراض ہو جاتی تھی۔ٹیلی فون پہ ٹیلی فون آرہے ہیں۔ بیوی کا ڈر الگ، کاروبار کی فکر جدا، عجب جھنجٹ تھا۔ مگر وہ دن بھی تھے جب مجید کو صرف دو روپے روزانہ ملتے تھے۔ ساٹھ روپے ماہوار، جو اسے بڑی مشکل سے ملے تھے مگر دن عجیب انداز میں گزرتے تھے۔ بڑے د لچسپ تھے وہ دن۔ بڑی دلچسپ تھیں وہ راتیں جو لکڑی کے ایک بنچ پر گزرتی تھیں جس میں ہزار ہا کھٹمل تھے، خدا معلوم کتنے عمر رسیدہ۔ کیونکہ وہ بنچ بہت پرانی تھی۔ اس کے مالک نے دس برس پہلے اس کو ایک دکاندار سے لیا تھا جو اپنا کاروبار سمیٹ رہا تھا۔ اس دکاندار نے گیارہ برس پہلے اس کا سودا ایک کباڑی سے کیا تھا۔\n\nمجید کوجو مزا، جو لطف اس کھٹملوں سے بھری ہوئی بنچ پر سونے میں آیا تھا اب اسے اپنے پرتکلف اسپرنگوں والے پلنگ پر سونے میں نہیں آتا تھا۔ اب اسے ہزاروں کی فکر ہوتی تھی۔ اس وقت صرف دو روپے روزانہ کی۔ ان دنوں اس کے پاس کینوس کے دو بوٹ تھے، اب سیکڑوں تھے۔۔۔ مگر وہ بات نہیں تھی۔ہر روز دن کے کام سے فارغ ہو کر جب وہ اپنے دفتر کے بنچ پرسونے لگتاتو بوٹ اتار کر اس پر بلینکو ملتا۔صبح اٹھ کر حمام میں اکنی دے کر نہاتا، شیو کرتا سامنے ہوٹل میں ،باہر والے سے کہتا کہ اس کا ناشتہ لے آئے، ایک مکھن لگا براؤن، ایک پیالی چائے۔ لطف آ جاتا۔ ناشتہ کر کے پاسنگ شو کا سگریٹ پیتا، ایک پان کھتا اور کام شروع کر دیتا۔\n\nدوپہر کا کھانا وہ بھنڈی بازار میں حاجی کے ہوٹل میں کھاتا،یہ ہوٹل کتنا اچھا تھا۔ کھڑی دال،گھی میں بگھاری ہوئی،کتنی مزے دار ہوتی تھی۔ کھارا گوشت تو بے حد لذیذ ہوتا تھا، پھر برف کا ٹھنڈا پانی، پاسنگ شو کا ایک سگریٹ، اس کا سارا وجود ہشاش بشاش ہو جاتا تھا۔\n\nکھانے کے بعد تھوڑا سا آرام کیا پھر کام شروع کر دیا۔شام کو چھ بجے فارغ ہوئے، ایک آنہ ٹرام پر خرچا، اور اپولو بندر پہنچ گیے۔ ٹھنڈی ہوا، بھانت بھانت کے آدمی، بھانت بھانت کی بولیاں، بڑی بڑی عالی شان عمارتیں، وسیع و عریض سمندر، اونچی اونچی نہریں، کشتیاں، موٹریں، سائیکلیں، خوبصورت عورتیں، گجراتی عورتیں، مرہٹی عورتیں، جو اپنے چمکیلے جوڑوں پر پھولوں کی بینی لگاتی تھیں۔ پارسی عورتیں، یہودی عورتیں، تیکھی تیکھی ناک والی اینگلو انڈین اور یوروپین عورتیں ۔یہ سب اس کے پاس سے گزرتیں، وہ ان کو دیکھتا تو اس کے دل و دماغ کو فرحت پہنچتی۔اس کو کبھی یہ خواہش نہ ہوتی کہ ان میں کوئی اس کی ہو جائے۔ لیکن اب بیوی کے علاوہ دس پندرہ عورتوں سے اس کا جنسی میل جول تھا۔ اب وہ ہر خوبصورت عورت کو شہوانی نظروں سے دیکھتا تھا۔ ترکیبیں سوچتا کہ کس طرح ان کو حاصل کیا جائے۔\n\nاب بھی وہ سیر کرتا تھا،باغوں میں گھومتا تھا،مگر پھول اتنے خوبصورت دکھائی نہ دیتے جتنے کہ اس زمانے میں دکھائی دیتے تھے۔ اب سیکڑوں پھول اس کے گل دانوں میں پڑے رہتے تھےجو مرجھا جانے پر پھینک دیے جاتے تھے،اس کی نگاہ ان پر پڑتی ہی نہیں تھی،پڑتی بھی ہوگی تو وہ ان میں کوئی کشش محسوس نہیں کرتا تھا۔\n\nایک دن اپولو بندرگیے، دوسرے دن چوپاٹی چلے گیے، دہی بڑے اور چاٹ کھائی، گیلی رات پر بیٹھے سمندر کا نظارہ کرتے رہے۔دور حد نگاہ تک پھیلا سمندر، دھوپ میں چاندنی کی طرح چمکتی ہوئی لہریں، کشتیوں کے سفید سفید بادبان، یہاں سے جی اکتایا تو مالا بار ہل چلے گیے۔ ہینگنگ گارڈنز کیسا فرحت بخش مقام تھا۔\n\nاس زمانے میں اس کو کوئی دشمن نہیں تھا،اس کو ساری دنیا دوست نظر آتی تھی، ٹرام اس کی دوست تھی،کھلا آسمان اس کا دوست تھا، سڑکیں اور فٹ پاتھ اس کے دوست تھے، کھٹملوں سے بھری ہوئی بنچ پر سونے سے پہلےوہ فٹ پاتھوں پر سویا کرتا تھا۔۔۔ ہر چیز اس کو اپنی محسوس ہوتی تھی مگر اب اپنے بھی پرائے لگتے تھے۔ سیکڑوں حریف تھے کاروبار میں، عشق بازیوں میں، ہر جگہ، ہر مقام پر اس کا کوئی نہ کوئی حریف موجود ہوتا تھا۔\n\nوہ زندگی عجیب و غریب تھی۔ یہ زندگی بھی عجیب و غریب تھی مگر دونوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ وہ تفکر سے آزاد تھی، یہ تفکر سے پر۔ چھوٹی سے چھوٹی خوشی اس کے دل و دماغ میں ایک عرصے تک موجود رہتی، ایک عرصے تک اس کو شاداں و فرحاں رکھتی۔ چھ آنے دے کر ایک میل ٹیکسی میں بیٹھے تو یہ ایک بہت بڑی عیاشی تھی۔ بھکاری کو ایک پیسہ دیا تو بڑی روحانی مسرت محسوس کی۔ اب وہ سیکڑوں کی خیرات کرتا تھا اور کوئی روحانی مسرت محسوس نہیں کرتا تھا اس لیے کہ یہ محض نمائش کی خاطر ہوتی۔\n\nاس زمانے میں اس کی عیاشیاں بڑی چھوٹی چھوٹی مگر بڑی دلچسپ ہوتی تھیں۔ خود کو خوش کرنے کے لیے وہ بڑے نرالے طریقے ایجاد کرلیتا تھا۔الیکٹرک ٹرین میں بیٹھے اور کسی گاؤں میں جا کر تاڑی پینے لگے۔پتنگ لیا اور چوپاٹی پر بچوں کے ساتھ اڑانے لگے۔ دادر اسٹیشن پر صبح سویرے چلے گئے اور اسکول جانے والی لڑکیاں تاڑتے رہے۔۔۔ پل کے نیچے کھڑے ہوگئے۔ اینگلو انڈین لڑکیاں اسکرٹ پہنے اوپر چڑھتیں تو ان کی ننگی ٹانگیں نظر آتیں۔ اس نظارے سے اس کو بڑی طفلانہ سی مسرت محسوس ہوتی۔\n\nکبھی کبھی طویل فاصلے پیدل طے کرتا۔ گھر پہنچتا تو اسے خوشی ہوتی کہ اس نے اکنی یا دونی بچا لی ہے۔ یہ اکنی یا دونی وہ کسی ایسی چیز پر خرچ کرتا جو اس کے روزانہ پروگرام میں نہیں ہوتی تھی۔کسی لڑکی کو محبت بھرا خط لکھا اور جو پتا دماغ میں آیا لکھ کر پوسٹ کردیا اور اس حماقت پر دل ہی دل میں خوب ہنسے۔ایک انگلی کا ناخن بڑھا لیا اور کسی دکان سے ٹسٹ کرنے کے بہانے اس پر کیوٹکس لگالیا۔\nایک دن صرف دوسروں سے مانگ مانگ کے سگریٹ پیے اور بے حد شرارت بھری خوشی محسوس کی۔دفتر میں بنچ کے کھٹملوں نے زیادہ تنگ کیا تو ساری رات بازاروں میں گھومتے رہے اور بجائے کوفت کے راحت محسوس کی۔جیب میں پیسے کم ہوئے تو دوپہر کا کھانا گول کردیا اور یہ محسوس کیا کہ وہ کھا چکا ہے۔\n\nاب یہ باتیں نہیں تھی۔ دفتر سے اس نے روپے کمانے کے ڈھنگ سیکھے۔ دولت آنے لگی تو یہ سب باتیں آہستہ آہستہ غائب ہوگئیں۔ اس کی یہ ننھی ننھی مسرتیں سب سونے اور چاندی کے نیچے دب گئیں۔ اب رقص و سرود کی محفلیں جمتی تھیں مگر ان سے وہ لطف حاصل نہیں ہوتا تھا، جو پل کے نیچے کھڑے ہو کر ایک خاص زاویے سے ننگی متحرک ٹانگیں دیکھنے میں محسوس ہوتا تھا۔ اس کی راتیں پہلے بالکل تنہا گزرتی تھیں، اب کوئی نہ کوئی عورت اس کی آغوش میں ہوتی مگر وہ سکون غائب تھا۔ وہ کنوارا سکون جس میں وہ رات بھر ملفوف رہتا تھا۔ اب اسے یہ فکر دامن گیرہوتی تھی کہ کہیں اس کی بیوی کو پتہ نہ چل جائے، کہیں یہ عورت حاملہ نہ ہو جائے، کہیں اس کو بیماری نہ لگ جائے، کہیں اس عورت کا خاوند نہ آن دھمکے۔ پہلے ایسے تفکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔\n\nاب اس کے پاس ہر قسم کی شراب موجود رہتی تھی مگر وہ مزا،وہ سرورجو اسے پہلے ہر روز شام کو جاپان کی بنی ہوئی، ’’اب ہی بیئر‘‘ پینے میں آتا تھا، بالکل غائب ہی ہوگیا تھا۔اس کا معمول تھا کہ دفتر سے فارغ ہو کر چوپاٹی یا اپولوبندر کی سیر کی، خوب گھومے پھرے، نظاروں کا مزا لیا، آٹھ بجے تو گھر کا رخ کیا، کسی نل سے منہ دھویا اور بائی کھلہ پل کے پاس والی بار میں داخل ہوگئے۔ پارسی سیٹھ کی جو بہت ہی موٹا اور اس کی ناک بڑی بے ہنگم تھی، صاحب جی کہا، ’’کہم سیٹھ سوں حال چھے؟‘‘\n\nاس کو بس صرف اتنی گجراتی آتی تھی، مگر جب وہ کہتا تو اسے بڑی خوشی ہوتی کہ وہ اتنے الفاظ بول سکتا ہے۔ سیٹھ مسکراتا اور کہتا، ’’ساروچھے، ساروچھے‘‘ پھر وہ پارسی سیٹھ سے کاؤنٹر کے پاس کھڑے ہو کر جنگ کی باتیں چھیڑ دیتا۔ تھوڑی دیر کے بعد یہاں سے ہٹ کر وہ کونے والی میز کے پاس بیٹھ جاتا۔ یہ اس کی محبوب میز تھی۔ اس کے اوپر کا حصہ سنگ مرمر کا تھا۔ بیرا اسے گیلے کپڑے سے صاف کرتا اور مجید سے کہتا، ’’بولو سیٹھ۔‘‘\n\nیہ سن کر مجید خود کو واقعی سیٹھ سمجھتا۔ اس وقت اس کی جیب میں ایک روپے چار آنے ہوتے۔ وہ بیرے کی طرف دیکھ کر بڑی شان سے مسکراتا اور کہتا،’’ہر روز تم مجھ سے پوچھتے ہو سب جانتے ہو۔۔۔ لے آؤ جو پیا کرتا ہوں۔‘‘\n\nبیرا اپنی عادت کے مطابق جانے سے پہلے گیلے کپڑے سے میز صاف کرتا۔ پونچھ کر ایک گلاس رکھتا۔ ایک پلیٹ میں کابلی چنے، دوسری میں کھاری سینگ یعنی نمک لگی مونگ پھلی لاتا۔ مجید اس سے کہتا، ’’پاپڑ لانا تم ہمیشہ بھول جاتے ہو۔‘‘\n\nیہ چیزیں گزک کے طور پر بیئر کے ساتھ مفت ملتی تھیں۔ مجید نے یہ طریقہ ایجاد کیا تھا کہ بیرے سے کابلی چنوں کی ایک اور پلیٹ منگوا لیتا تھا۔ چنے کافی بڑے بڑے ہوتے تھے۔ نمک اور کالی مرچ سے بہت مزیدار بن جاتے تھے۔ مونگ پھلی کی پلیٹ ہوتی تھی۔ یہ سب مل ملا کر مجید کا رات کا کھانا بن جاتے تھے۔\n\nبیئر آتی تو وہ بڑے پرسکون انداز میں اس کو گلاس میں انڈیلتا۔ آہستہ آہستہ گھونٹ بھرتا۔ ٹھنڈی یخ بیئر اس کے حلق سے اترتی تو ایک بڑی عجیب فرحت اس کو محسوس ہوتی۔ اس کو ایسا لگتا کہ ساری دنیا کی ٹھنڈک اس کے دل و دماغ میں جمع ہوگئی ہے۔۔۔ وہ موٹے پارسی کی طرف دیکھتا اور سوچتا، یہ پارسیوں کی ناک کیوں اتنی موٹی ہوتی ہے۔ اس قوم نے کیا قصور کیا ہے کہ خد ا ان کی ناکوں سے بالکل غافل ہے۔۔۔ پرسوں ٹریم میں جو پارسن بیٹھی تھی، بڑا سڈول بدن خوبصورت آنکھیں، ابھرا ہوا سینہ بے داغ سفیدرنگ، ماتھا کشادہ، پتلے پتلے ہونٹ، لیکن یہ بڑی طوطے ایسی ناک۔ اس کو دیکھ کر مجید کو بہت ترس آیا تھا۔ اس نے سوچا تھا کہ آیا ایسی کوئی ترکیب نہیں ہوسکتی کہ اس کی ناک ٹھیک ہو جائے۔۔۔ پھر اس کے دماغ میں مختلف اوقات پر دیکھی ہوئی خوبصورت اور جوان لڑکیاں تیرنے لگتی تھیں۔ اس کو ایسا لگتا تھا کہ وہ ان کا شباب بیئر میں گھول کر پی رہا ہے۔دیر تک وہاں بیٹھا وہ اپنی زندگی کے حسین لمحات دہراتا رہتا۔\n\nپندرہ دن ہوئے اپولو بندر پر جب تیز ہوا میں ایک یہودن لڑکی کا ریشمی اسکرٹ اٹھا تھا تو کتنی متناسب اور حسین ٹانگوں کی جھلک دکھائی دی تھی۔ پچھلے اتوار ایرانی کے ہوٹل میں پائے کا شوربہ کتنا لذیذ تھا۔ کیسے چٹخارے لے لے کر اس نے اس میں گرم گرم نان بھگو کر کھایا تھا۔رنگین فلم کتنا اچھا تھا۔ رقص کتنا دلفریب تھا ان عورتوں کا۔آج صبح ناشتے کے بعد سگریٹ پی کر لطف آگیا۔ ایسا لطف ہر روز آیا کرے تو مزے آجائیں۔ وہ میاں بیوی جواس نے دادر اسٹیشن پر دیکھے تھے، آپس میں کتنے خوش تھے، کبوتر اور کبوتری کی طرح گٹک رہے تھے۔\n\nکیکی مستری بڑااچھا آدمی ہے۔ کل میں نے اسپرو مانگی تو اس نے مفت دے دی کہنے لگا، ’’اس کے دام کیا لوں گا آپ سے‘‘ پچھلے ماہ اس نے وقت پر میری مدد بھی کی تھی۔ پانچ روپے ادھار مانگے، فوراً دے دیے اور کبھی تقاضا نہ کیا۔ٹریم میں جب میں نے اس روز مرہٹی لڑکی کو اپنی سیٹ دی تو اس نے کتنی پیاری شکر گزاری سے کہا تھا، ’’تھینک یو۔‘‘\n\nپھر وہ موٹے پارسی کی طرف دیکھتا، اس کے چہرے پر یہ بڑی ناک اس کو نظر آتی۔ مجید پھر سوچتا، ’’یہ کیابات ہے، ان پارسیوں کی ناکوں کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا گیا ہے۔۔۔ کتنی کوفت ہورہی ہے اس ناک سے۔‘‘ فوراً ہی اسے خیال آتا کہ یہ پارسی بڑا نیک آدمی ہے کیونکہ وہ اس کو ادھار دے دیتا تھا۔ جب اس کی جیب میں پیسے نہ ہوتے تو وہ کاؤنٹر کے پاس جاتا اور اس سے کہتا، ’’سیٹھ آج مال پانی نہیں۔۔۔کل!‘‘ سیٹھ مسکراتا، ’’کوئی واندہ نہیں۔‘‘ یعنی کوئی ہرج نہیں۔ پھر آجائیں گے۔\n\nبیئر کی بوتل چودہ آنے میں آتی تھی۔ اس کو خالی کرکے اور پلیٹیں صاف کرکے وہ ہاتھ کے بڑے خوبصورت اشارے سے بیرے کوبل لانے کے لیے کہتا۔ بیرا بل لاتا تووہ اسے ایک روپیہ دیتا اور بڑی شان سے کہتا،’’باقی دو آنے تم اپنے پاس رکھو۔‘‘\n\nبیرا سلام کرتا۔ مجید بے حد مسرور اور شادماں اٹھتا اور پارسی سیٹھ کو ’’صاحب‘‘ کہہ کر دفتر کی طرف روانہ ہوتا۔ وہاں پہنچتے ہی اس کے قدم رک جاتے۔ پڑوس کی گلی میں ایک چھوٹی سی تاریک کھولی میں مس لینا رہتی تھی۔ کسی زمانے میں بڑی مشہور ڈانسر تھی مگر اب بوڑھی ہو چکی تھی۔ یہودن تھی۔ اس کی دو لڑکیاں تھیں۔ ایستھر اور ہیلن۔ ایستھر سولہ برس کی تھی اور ہیلن تیرہ برس کی۔ دونوں رات کو اپنی ماں کے پاس ایک لمبا کرتہ پہنے لیٹی ہوتی تھیں۔ صرف ایک پلنگ تھا۔ مس لینا فرش پر چٹائی بچھا کرسوتی تھی۔\n\nرات کو بیئر پی کر مس لینا کے ہاں جانا مجید کا معمول بن گیا۔ وہ باہر ہوٹل والے کو تین چائے کا آرڈر دے کر گلی میں داخل ہوتا اور مس لینا کی کھولی میں پہنچ جاتا۔ اندر ٹین کی کپی جل رہی ہوتی۔ ایستھر اور ہیلن قریب قریب نیم برہنہ ہوتیں۔ مجید پہنچتا تو زور سے پکارتا، ’’السلام علیکم۔‘‘\n\nماں بیٹیاں ٹھیٹ عربی لہجے میں وعلیکم السلام کہتیں اور وہ لوہے کی کرسی پر بیٹھ جاتا اور مس لیناسے کہتا، ’’چائے کا آرڈر دے آیا ہوں۔‘‘ ایستھر باریک آوازمیں کہتی ’’تھینک یو۔‘‘ چھوٹی بستر پر لوٹیں لگانا شروع کردیتی۔ مجید کو اس کی آڑو آڑو جتنی چھاتیوں اور ننگی ٹانگوں کی کئی جھلکیاں دکھائی دیتیں جو اس کے مسرور و مخمور دماغ کو بڑی فرحت بخشتیں۔\n\nباہر والا چائے لے کر آتا تو ماں بیٹیاں پینا شروع کردیتیں۔ مجید خاموش بیٹھا رہتا، اس تنگ و تار ماحول میں ایک عجیب و غریب سکون اس کو محسوس ہوتا۔ وہ چاہتا کہ ان تینوں کا شکریہ ادا کرے۔ اس دھواں دینے والی کپی کا بھی شکریہ ادا کرے جو دھیمی دھیمی روشنی پھیلا رہی تھی۔ وہ لوہے کی اس کرسی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا جس نے اس کو نشست پیش کی ہوئی تھی۔\n\nتھوڑی دیر وہ ماں بیٹیوں کے پاس بیٹھتا۔ دونوں لڑکیاں خوبصورت تھیں۔ ان کی خوبصورتی مجید کی آنکھوں میں بڑی پیاری نیند لے آتی۔ رخصت لے کروہ اٹھتا اور جھومتا جھامتا اپنے دفتر میں پہنچ جاتا اور کپڑے بدل کر بینچ پر لیٹتا اور لیٹتے ہی خوشگوار اور پرسکون نیند کی گہرائیوں میں اتر جاتا۔\n\nفرصت کے اوقات میں وسکی کے تین چار پیگ پی کر جب مجید اس زمانے کو یاد کرتا تو کچھ عرصے کے لیے سب کچھ بھول کر اس میں محوہو جاتا، نشہ کم ہوتا تو وہ بلیک مارکیٹ کے متعلق سوچنے لگتا۔ روپیہ کمانے کے نئے ڈھنگ تخلیق کرتا۔ ان عورتوں کے متعلق غور کرتا جن سے وہ جنسی رشتہ قائم کرنا چاہتا تھا۔\n\nمجید کا ماضی جنگ سے پہلے کی فضا میں گم ہو چکا تھا۔۔۔ ایک مدھم لکیر سی رہ گئی تھی جس کو مجید اب دولت سے پیٹ رہا تھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AC%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D8%B6%DB%8C"} {"title": "محاکمہ مرکز اردو", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": null, "year": null, "text_ur": "== کتاب ==\nبسم اللہ الرحمن الرحیم\n\nمرکز اردو کا محاکمہ بدیں ثبوت کہ ہر زبان کا مرکز اس کی جاے پیدا‌‌ئش ہے۔ قطعہ ؎\n\nآزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل\n\nہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے\n\nمرکز میں آپڑی ہے مگر فلسفانہ بحث\n\nمقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے\n\nجس طرح مرکز دائرہ کا وہ وسطی نقطہ ہے کہ اس سے محیط تک جس قدر خط کھینچیں وہ سب آپس میں برابر ہوں، اسی طرح زبان کا مرکز بھی وہ مقام ہے جہاں کسی زبان کے ایجاد یا پیدا ہونے کا مہر جہاں تاب طلوع ہوا ہو اور اس سورج کی کرنیں وہاں سے چاروں طرف پھیلی تو ہوں مگر قرب مرکز اور بعد مرکز میں وہی فرق ہو جو ہر ایک چیز کے قرب مخرج اور بعد مسافت میں ہوا کرتا ہے۔\n\nپس اس سے ثابت ہے کہ ان کرنوں کی روشنی مقامات قریبہ میں بعیدہ کی نسبت زیادہ اثر کرے گی، یعنی جو اثر مرکز کے قریب ہوگا وہ بعید میں نہیں ہو سکتا۔ بلکہ جس قدر فاصلہ ہوتا جائے گا اسی قدر اس کا زور گھٹتا اور مغایرت بڑھتی جائے گی۔ شعلہ کی لپٹ یا تیزی جو اس کے پاس محسوس ہوتی ہے وہ زیادہ فاصلہ پر نہیں ہوتی۔ جوں جوں فاصلہ زیادہ ہوتا جائے گا اس کی تیزی کم ہوتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ بہت دور جا کر اس کا محسوس ہونا بھی قریب قریب معدوم یا نا معلوم ہو جائے گا اور ہر شخص تمیز کرنے سے مقصّر رہے گا۔ یعنی جس طرح وہ روشنی اپنی ہر ایک حد کو مرکز نہیں بنا سکتی اسی طرح زبان بھی اپنی اصلی جگہ اور نکاس چھوڑ کر دوسرے مقام کو اپنا مرکز یا مخرج نہیں قائم کر سکتی۔ ہر ایک ملک کی زبان اپنے ملک اور ہر ایک شہر کی بولی اپنے شہر سے ایک مخصوص خصوصیت رکھتی ہے۔ مرکز ہمیشہ اپنی خاص جگہ اس طرح قائم رہتا ہے جس طرح آفتاب اپنے خاص مقام پر قائم ہے اور دیگر سیّارے اس کے گرد گردش کر رہے ہیں، اسی طرح زبان کا مرکز بھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹ سکتا۔\n\nہر ایک درخت اپنی جڑ سے شاخوں، ٹہنیوں، پتّوں، پھولوں، پھلوں کو قوّت پہنچاتا ہے، نہ کہ شاخیں، ٹہنیاں، پتّے، پھول، پھل وغیرہ اس کی مدد کو آتے یا تقویت بخشتے ہیں۔ اس موقع پر مرکز کو منبع یا سر چشمہ خیال کرنا چاہیے اور اس کے خطوط یا شعاعوں کو سوتیں جو چاروں طرف پھیلتی اور ہر قسم کی مٹّی، جڑی بوٹی اور مختلف معدنیات کا اثر اپنے میں لیتی اور ابتدائی حالت میں فرق ڈالتی چلی جاتی ہیں۔\n\nکوئی سی زبان کیوں نہ ہو اس کے جاننے اور استعمال کرنے والے دو قسم پر منقسم ہیں۔ ایک وہ جن کا اصلی وطن، جن کا مسقط الراس، جن کے باپ دادا اور ننھیال کا وطن وہی سر زمین اور خطہ ہو جس جگہ سے وہ زبان نکلی ہے۔ یہ لوگ اہل زبان کہلاتے اور اول قسم میں شمار ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ جنھوں نے اس زبان کو مستند کتابوں سے، اساتذہ کے کلام سے، صحبت سے، اہل زبان کے مختلف مضامین اور اخباروں سے حاصل کیا ہو۔ بلکہ قریب قریب خاص محاورات و اصطلاحات کے علاوہ ویسی ہی زبان لکھنے اور بولنے لگے ہوں۔ لیکن اس پر بھی ان سے غلطی کا ہو جانا ممکن اور واجب التسلیم ہے۔ مگر اہل زبان سے ناممکن اور خلاف قیاس۔ یہ دوسری قسم کے لوگ زبان داں یا مقلّد زبان کہلاتے اور دوسرے درجہ میں گنے جاتے ہیں۔\n\nظاہر ہے کہ جس جگہ کوئی چیز پیدا ہوتی ہے اس میں وہاں کی آب و ہوا، وہاں کی سر زمین، وہاں کے لاحقہ و عارضہ تغیّرات، طیور و وحوش، پیداوار، اشجار و اثمار، جمادات و نباتات وغیرہ کا اثر شامل حال ہوتا ہے۔ اسی طرح زبان بھی ان تعلّقات و عوارضات سے باہر نہیں ہو سکتی۔ یعنی ہر ایک زبان کے بولنے والوں میں ساخت گلو، ساخت دہن، طبیعی جذبات و خواص، اندرونی و بیرونی ملکات و اصناف تاثیرات، حسب موقع حرکات و سکنات، بلکہ سب سے زیادہ لب و لہجہ کا بہت بڑا دخل ہوا کرتا ہے اور یہی باتیں ہیں جن سے غیر ملک یا غیر شہر کا رہنے والا خواہ کیسا ہی کسی زبان کا عالم متبحر و ماہر کامل کیوں نہ ہو جائے، ٹھوکر کھائے بغیر نہیں رہتا اور اول پہچان اپنی اجنبیت ظاہر کر دیتا ہے۔ جیسا کہ صاحب قاموس اور اس کی بیوی خاتون عرب کا معاملہ زبان زد خلائق ہے۔ تذکیر و تانیث میں وہ لڑکنیاں کھاتا ہے، لب و لہجہ میں وہ پھسلتا ہے، خاص خاص اشاروں اور کنایوں میں وہ گرتا ہے، کسی امر کا سماں باندھنے میں وہ کنّی کھاتا ہے، از روے الفاظ مقامی اثر پیدا کر کے دکھانے میں وہ قاصر رہتا ہے، خوشی کا چربہ وہ نہیں اتار سکتا، ماتم کا پر درد سین وہ نہیں دکھا سکتا، بہادرانہ حرکات و دلیری، سپاہیانہ کرتب اور ہتھکھنڈے وہ ظاہر نہیں کر سکتا، رزم و بزم کا ہیرو وہ نہیں بنا سکتا، عادلانہ عدالت اور ظالمانہ ضلالت کا نقشہ وہ نہیں کھینچ سکتا۔ غرض اسی قسم کی اور سینکڑوں باتیں ہیں کہ وہ ہر جگہ کے اہل زبان کا حصّہ اور انھیں کا ورثہ ہیں۔\n\nجن لوگوں میں کسی زبان کا تبحّر یا اس کا صحیح مذاق نہیں ہوتا اور اس امر کا دعوی کر بیٹھنے کی لاج دامن گیر ہوتی ہے تو وہ ہمیشہ ایسی تدبیریں سوچا کرتے ہیں جن سے اہل زبان ہونے کی قید، زبان دانی کی پخ، ٹکسالی اور غیر ٹکسالی محاورات کی جانچ ایک سرے سے اٹھ ہی جائے اور ہم مصلح زبان ہونے کا دعوی کر سکیں۔ اہل زبان کے اعتراضات سے بچیں اور جو کچھ ہم قلم اٹھا کر آزادانہ اناپ شناپ لکھ دیں یہ سب کھپتا اور داخل زبان ہوتا چلا جائے۔ مگر یہ نہیں جانتے کہ جب تک مرکز زبان کا چکّر نہ کاٹیں، گلی گلی کی خاک نہ چھانیں، کوچہ کوچہ کی ٹھوکریں نہ کھائیں، وہاں کی شریف زادیوں کی گودیوں میں نہ پلیں، ان کی آب و گل، ان کی گھٹّی، ان کے خمیر میں وہاں کی طبیعی خصوصتیں، فطرتی امنگیں نہ پیدا ہوں، ان کی ما‌ؤں نے، ان کے بزرگوں نے، رنج کا، خوشی کا، خوف کا، دلیری کا، ہنسی کا، گریہ و زاری کا، مصیبت و آفت کا، روز مرّہ الفاظ اور ان کے برتاؤ کا، اخلاق اور معاشرت وغیرہ کا سبق نہ پڑھایا ہو، وہ مرکز زباں کے طفل مکتب کی برابری بھی نہیں کر سکتے۔ بلکہ ان پر یہ مثل صادق آتی ہے کہ سکھائے پوت دربار نہیں جاتے۔\n\nکیسے ہی بڑے بڑے مصنّف، کیسے ہی اعلی درجہ کے مضمون نگار، کیسے ہی عالم بے بدل، کیسے ہی فاضل بے مثل کیوں نہ ہوں، لیکن اس کوچہ سے نا بلد ہی رہیں گے۔ یعنی جب تک عاشقانہ ٹھوکریں نہ کھائیں گے، معشوقوں کی ناز برداریاں نہ اٹھائیں گے، ہر فرقہ کے لوگوں کے فقروں میں نہ آئیں گے، ان کی لن ترانیاں نہ سنیں گے، انھیں کب یہ درجہ میسّر ہوگا کہ وہ آسانی سے اہل زبان ہونے کا دم مارنے لگیں۔\n\nزبان کی خوبی محاورات و اصطلاحات کی خوش اسلوبی، فصیحانہ بول چال، بلیغانہ خاص خاص ضرب الامثال، صنائع و بدائع کی واقفیت اور ہر قسم کی صحبت پر موقوف ہے۔ اگر یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ جو لوگ اس بات کے درپے ہیں کہ اردو زبان کی یہ مخصوص خوبیاں جاتی رہیں، وہ صرف مخرّب زبان ہی نہیں بلکہ زبان کے مزے، روز مرّہ کے لطف، مذاق سخن تک سے نا واقف اور کسی ایسے کوردِہ کے رہنے والے ہیں جہاں زبان کو زبان ہی نہیں جانتے، اسے صرف ایک عضو معطّل خواہ گوشت کی بوٹی یا آلۂ اصوات سمجھتے ہیں، کجا کہ اس کے نکات اور اس کی باریکیوں سے لذّت آشنا ہونا۔\n\nاس ضروری تمہید کے بعد اب ہمیں یہ دکھانا منظور ہے کہ دہلی کو کس وجہ سے اردو زبان کا خاص مرکز، خاص ملجا و ماویٰ، خاص ٹکسال گھر، خاص ماخذ و مخرج، خاص کھیت کہنا چاہیے تاکہ کھیت کے لکھے پڑھے بھی اسے بخوبی سمجھ لیں اور دل سے مان لیں کہ جب تک اردو کا لفظ اس زبان کے ساتھ وابستہ ہے، دہلی شاہجہاں آباد اس کی جان کے ساتھ ہم رشتہ ہے۔ ورنہ وہ اردو نہیں ایک ست بے جھڑی زبان ہے۔ علم ادب، علم مجلس، انشا پردازی، آداب شاہی، جملہ تصنیف و تالیف، تمام علوم و فنون میں کرسی نشینی کا رتبہ اگر ہے تو خاص اسی اردو کو حاصل ہے، باقی اللہ اللہ خیر سلّا۔\n\nدہلی سے زیادہ کہیں کی زبان شیریں، سلیس، سہل المخارج، عام فہم، دلاویز، دل نشیں، مؤثر، بے تکلّف، خارج از آورد، لفّاظی سے نفور، بھرتی کے ثقیل و کرخت یا غیر مانوس الفاظ سے خارج اور مرغوب الطبع نہیں ہے۔ سلاست اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے اور بلاغت میں یہ ایک عجیب دل ربا ابلا پری ہے۔ اس کی بلند پروازی آسمان سے ٹکّر کھاتی ہے اور اس کی وسعت فضاے عالم سے بڑھ جاتی ہے۔ سر سیّد کی دھواں دھار اسپیچیں جو سامعین کا دل ہلا ہلا دیتی اور کبوتر کی طرح لٹا لٹا دیتی ہیں کہاں کی زبان میں تھیں، اسی دہلی کا تصدّق تھا۔ خواجہ حالی مد ظلہ العالی کی نظمیں جو سنگ دلوں کو موم بنا کر بن چھری تڑپاتی اور پھڑکاتی ہیں کس زبان کی رسیلی لاڈلیاں ہیں۔ خیر یہ تو ایک آمد سخن بات تھی، اس جملۂ معترضہ سے آگے سنیے۔\n\nدیکھنا یہ ہے کہ دہلی کو اردو زبان کا مرکز کیوں کہتے ہیں اور دیگر امصار و دیار پر اس کا اطلاق کیوں روا نہیں رکھتے۔ یہ بات بالاتفاق مانی ہوئی اور تسلیم شدہ ہے کہ اردو زبان کا اگر مصدر ہے تو دہلی ہے، مبدا و مخرج ہے تو دہلی ہے، مرکز و ماخذ ہے تو دہلی ہے۔ یہ پیدا کہاں ہوئی؟ دہلی میں۔ اس نے جنم کہاں لیا؟ دہلی میں۔ اس کا نعل کہاں گڑا؟ دہلی میں۔ اس کا خروج یعنی نکاس اور رواج کہاں سے ہوا؟ دہلی سے۔ اس کی بنیاد کہاں پڑی؟ دہلی میں۔ اس کا شاہ جہانی اردو نام کہاں رکھا گیا؟ دہلی میں۔ اس نے عروج کہاں پایا؟ دہلی میں۔ اس کا سرپرست اور بانی کون ہوا؟ شاہجہاں پادشاہ دہلی و ہندوستاں۔ البتّہ صاحب قران ثانی سے پیشتر اس زبان کی نیو رکھنے والے بزرگ تیرھویں صدی عیسوی میں جناب خواجہ ابو الحسن امیر خسرو دہلوی ہیں جنھوں نے دہلی کے سات بادشاہوں کی سلطنتیں دیکھیں، ان کے مصاحب رہے، معزّز عہدوں کی خدمت بجا لائے۔ علاء الدین خلجی کو اپنا ایسا دل دادہ بنایا کہ اسے آپ کے بغیر ایک لمحہ چین نہ آیا۔\n\nنظم اردو کے متعلق گو ولی محمد گجراتی کو اس کا مخترع اور موجد بیان کرتے ہیں، مگر اس نے بھی جو کچھ فیض پایا دہلی میں رہ کر پایا اور اسی جگہ اپنے کلام کو ٹکسال بنا کر خراد چڑھایا اور اپنے پیر شیخ سعد اللہ عرف گلشن شاہ دہلوی کی ہدایت سے دیوان اردو مرتب کیا۔ اگر فارسی آمیز ہندی زبان کے بنیاد ڈالنے والے حضرت امیر خسرو ہیں تو اس میں تراش و خراش پیدا کرنے، با قاعدہ بنانے، ترتیب دینے، مروّج فرمانے، شاہجہانی اردو نام رکھنے والے شاہجہاں بادشاہ ہند ہیں اور یہ دونوں خاص الخاص دہلی سے تعلق رکھنے والے ہیں۔\n\nاس بات کو کون نہیں جانتا کہ جہاں سے کوئی زبان نکلتی اور جہاں کا بادشاہ اس کا سرپرست ہوتا ہے وہیں کی زبان ٹکسالی اور درباری کہلاتی ہے۔ گو مرور زمانہ کے باعث بعض پرانے الفاظ و محاورات متروک الاستعمال اور جدید مانوس الاستعمال ہوتے چلے جائیں۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان باتوں سے اس کا اصلی مسکن اور مرکز بھی بدل جائے یا اس کی آن و ادا اور انداز دلفریب میں فرق آجائے۔ دہلی کا روڑا اگر کسی کارخانہ کا بیٹھنے والا یا محنت و مزدوری کرنے والا، خواہ ٹوکری ڈھونے والا بھی ہوگا تو ممکن نہیں کہ وہ بے محاورہ بات زبان سے نکال جائے۔ ابھی کا ذکر ہے کہ ایک بڑھیا ماما جاڑے کے مارے سو سو کرتی ہوئی بازار سودا لینے جا رہی تھی، کسی دکان دار نے پوچھا کہ بڑی بی اس طرح کیوں سکڑتی ہوئی جا رہی ہو۔ اس نے جواب دیا کہ بھائی! برف کٹ رہی ہے۔ بھلا اس محاورے کو کوئی اور تو بول جائے، حالانکہ اس بڑھیا نے کوئی برفانی پہاڑ نہیں دیکھا، برف پڑتی ہوئی اس کی نظر سے نہیں گذری، مگر پھر بھی وہ ٹکسالی محاورہ زبان سے نکالا کہ جس سے سردی کی صورت بن گئی۔ کٹنے کے لفظ نے اور بھی جان ڈال دی، جس کا لطف اہل زبان ہی خوب لے سکتے ہیں۔\n\nدہلی کی گلیوں میں آؤ، بازاروں میں پھرو، کارخانوں میں گشت لگاؤ، جامع مسجد کی سیڑھیوں کی ہوا کھاؤ اور دیکھو کہ بازاری آدمیوں کے منہ سے بھی کیسے پھول جھڑتے ہیں، ان کی گالیوں اور مذاق کو بھی ندرت سے خالی نہیں پاؤگے۔ جہلا اور بازاریوں کی زبان سے کبوتر کو قبوتر سنوگے، پتّھر کو پھتّر گوش زد فرماؤگے، فصیل کو صفیل استماع کروگے، بلکہ کی بجاے بلکن کی آواز تمھارے کانوں میں پڑے گی، علی ہذا کدھی بجاے کبھی، تعینات بجاے متعین، مگھم بجاے مبہم، جریبانہ بجاے جرمانہ اصغا کروگے، مگر اس کے لوچ، اس کے لہجہ اور تذکیر و تانیث نیز فصیحانہ انداز کے لحاظ سے جان لوگے کہ وہ برمحل اور درست پتا دے رہا ہے۔ گو غلط العام سے گذر کر غلط العوام کالانعام اور تحریری استعمال سے باہر سہی لیکن بول چال میں کوئی عیب نہیں پاؤگے۔\n\nہاں اہل زبان کو یہ بات ضرور ملحوظ رکھنی پڑتی ہے کہ جن الفاظ نے عہد حال میں رواج پایا ہے، ان پر بناے سخن موقوف رکھتے ہیں، گو قدما کسی اور طرح استعمال کر گئے ہوں مگر انھیں موجودہ طبقہ کے روز مرّہ کی طرف رجوع کرنی محاورے کی صحت کے لیے ایک لازمی امر ہے۔ یعنی اس حالت میں بھی اہل زبان کو استعمال الفاظ و ایراد محاورات میں اپنے ہی شہر کے محاورے پر اعتماد کرنا چاہیے، نہ کہ زبان اطراف کی طرف رجحان کیا اور قدما کے متروک الاستعمال الفاظ پر دھیان رکھا جائے۔\n\nاسی طرح مقلّد کو بھی اہل زبان کے محاورے کی تلاش لازم ہے تاکہ اس کا سخن قابل اعتبار ہو۔ مقلّد سے غیر ملک کا آدمی ہماری مراد نہیں ہے۔ دہلی کے علاوہ ہند کے کسی شہر اور قصبے کا رہنے والا زبان داں کیوں نہ ہو۔ جس حالت میں اہل دہلی کی زبان اصل اردو و مبدءِ فصاحت قرار دی گئی اور یہ شہر زبان کا ٹکسال گھر ٹھہرا تو ہند کے اطراف و جوانب کے باشندے گو وہ لکھنؤ، اکبرآباد، بنارس، کانپور، میرٹھ یا لاہور وغیرہ کے رہنے والے ہی کیوں نہ ہوں، دائرۂ تقلید و احاطۂ تتبّع سے خارج نہیں ہو سکتے۔ اسی بنا پر ہم کہتے ہیں کہ دہلی شاہجہاں آباد کے سوا دوسرا کوئی سا شہر ٹکسال اور مرکز اردو قرار نہیں پا سکتا، کیونکہ اردو لکھنا اور ہے اور اس کا صحیح لہجہ ادا کرنا اور۔\n\nجس طرح ساکنان دہلی، اہل مشرق و اہل پنجاب کے موافق ہاے مخلوط یا ہاے ہوّز ایک خاص لہجہ سے ادا نہیں کر سکتے اور اہل پنجاب حرف قاف کے تلفّظ سے معذور پائے جاتے ہیں، اسی طرح دہلی کے سوا دوسری جگہ کے رہنے والے یہاں کے لب و لہجہ میں ان کی برابری نہیں کر سکتے۔ لفظ ہواں صاحبان مشرق، لفظ بھرا باشندگان پنجاب جس خوبی سے ادا کریں گے، دہلی والے اگر سر پٹک کر مر جائیں گے تو بھی ان کے حلق سے ادا نہ ہوگا۔\n\nاس میں شبہ نہیں کہ اہل دہلی صرف ایک ہی لفظ سے بتغیّر لہجہ مختلف معانی پیدا کر سکتے ہیں۔ فقط ایک ہاں کے لفظ یا اور کے استعمال کو دیکھیے کس کس موقع پر لہجہ بدلنے سے کیا کیا معنی دیتا ہے، علی ہذا القیاس بھلا، بہت اچھا وغیرہ وغیرہ۔\n\nاس موقع پر ہمیں چند ایسے شعروں کا لکھ کر دکھا دینا بھی مناسب ہے جو صرف لہجہ سے اپنی خوبی ظاہر کرتے اور اداے مقاصد کا زور دار کام لیتے ہیں۔ اشعار ذیل باوجودیکہ خاص محاورات و اصطلاحات سے پہلو بچائے ہوئے ہیں، مگر ان میں اگر حرکات و سکنات اور لہجہ سے کام نہ لیا جائے تو سر تا سر بے لطف اور بے نمک بات ہو جائے، یہاں تک کہ کچھ بھی مزا نہ آئے۔ گو عشقیہ مضمون ہیں، مگر ایشیائی شاعری جب اسی پر موقوف ہے تو کیا کیا جائے۔ یہ اشعار ان لوگوں کے ہیں جنھیں زبان پر پورا پورا قابو اور اس کی حرکات و سکنات پر بدرجۂ اتم عبور حاصل ہے۔ اشعار ؎\n\nمیں نے ہی؟ بزم غیر میں کی شب کو مے کشی\n\nمیری ہی؟ آنکھوں میں تو نشہ ہے شراب کا\n\nمسّی مَل کو تم نہ غرفہ سے نکالا منہ کرو\n\nاور نہیں گر مانتے تو جاؤ؟ کالا منہ کرو\n\nتم تو بیٹھے ہی بیٹھے آفت ہو!\n\nاٹھ کھڑے ہو تو کیا قیامت ہو!\n\nغنچۂ نا شگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں\n\nبوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں\n\nسر بوقت ذبح اپنا اس کے زیر پاے ہے\n\nیہ نصیب اللہ اکبر! لوٹنے کی جائے ہے\n\nوہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر!\n\nنہ تم! کہ چور بنے عمر جاوداں کے لیے\n\nگل پھینکے ہیں عالم کی طرف بلکہ ثمر بھی\n\nاے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی\n\nاب تو راضی ہو کہ ہم جینے سے بیٹھے ہیں خفا\n\nاب تو خوش ہو کہ تمھارا ہی کہا کرتے ہیں\n\nکیوں دل زار محبت کا نتیجہ دیکھا؟\n\nدرد فرقت کا کوئی پوچھنے والا دیکھا؟\n\nکیا کہیں! خاک کہیں! عشوہ گروں نے مارا\n\nجان کر سیدھا سا بے چارا مسلماں ہم کو\n\nجی بھی اٹھو کہ یار آتا ہے\n\nدم یہ خاصا دیا مسیحا نے\n\nہم دموں کا پوچھنا ہر دم مرا دم کھا گیا\n\nکیا کہوں میں، دم نہیں مجھ میں، مجھے غم کھا گیا\n\nرہو گے دل میں آنکھوں سے نہاں ہو\n\nبھلا؟ بچ کر رہو! جاتے کہاں ہو\n\nہنس ہنس کے کرو تنگ نہ مجھ خاک نشیں کو\n\nدیکھو! میں ہلا دوں گا ابھی چرخ بریں کو\n\nپیو بھی! پلاؤ بھی! اس کا مزا ہے\n\nیہ مینا رکھا ہے یہ ساغر دھرا ہے\n\nمزا ہے یہی بات میں بات نکلے\n\nادا میں ادا جب نہ ہو پھر تو کیا ہے\n\nکریں بت کدہ سے عبث قصد کعبہ\n\nیہاں بھی خدا ہے وہاں بھی خدا ہے\n\nرخصت کے وقت ہاے اس انداز کے نثار\n\nانگڑائی لے کے اس نے کہا دیکھنا مجھے\n\nادھر میں ہوں ادھر محشر میں تو ہو\n\nجو ہونی ہو خدا کے رو برو ہو\n\nمیخانہ میں کیا لطف ہے کیا مانگ ہے ساقی\n\nآواز چلی آتی ہے لا اور، پلا اور\n\nمیں بھی تو آزمائش مہر وفا کروں\n\nمیرا تو امتحان کئی بار ہو چکا\n\nکبھی کی ہو چکی جاں تک بھی نذر جانستاں طالب\n\nدھرا ہے خاک یہاں لینے جو کچھ اب موت آئی ہے\n\nپھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں\n\nاس عاشقی میں عزّت سادات بھی گئی\n\nاس کی سیدھی سیدھی باتیں دل میں چبھتی ہیں بہت\n\nایسا ویسا تم نہ سمجھو اس کو بیدلؔ دور ہے\n\nمنہ سے تو پھوٹ بیدلؔ کیا تو نے جی میں ٹھانی\n\nتیرا اداس رہنا آفت کی ہے نشانی\n\nوہ قہقہے کہاں ہے وہ ولولے کدھر ہیں\n\nروتا ہوں یاد کر کے گذری ہوئی جوانی\n\nاب سانس کے لینے کی بھی طاقت نہیں باقی\n\nبیدلؔ کا برا حال ہے اللہ بچا لے\n\nبھلا میں ان کے چکمہ میں کہیں آنے کے قابل ہوں\n\nاگر اغیار بے ڈھب ہیں تو یاروں میں بھی بیدل ہوں\n\nتھا جواب آپ کی شکایت کا\n\nورنہ شکوہ ہمارا کام نہیں\n\nسچ پوچھیے تو ملنا ممکن نہیں جہاں میں\n\nدانا بھی آدمی سا نادان بھی بشر سا\n\nخوشی جینے کی کیا مرنے کا غم کیا؟\n\nہماری زندگی کیا اور ہم کیا؟\n\nکیا کہیں باغ جہاں میں کیا سے کیا کیا ہو گیا\n\nخار صحرا گل ہوا اور پھول کانٹا ہو گیا\n\nدیکھنا باد بہاری کی ذرا اٹھکھیلیاں\n\nآج بلبل کا چمن میں گل سے کانٹا ہو گیا\n\nمیکدہ دور ہے کتنی اے شیخ!\n\nلو آؤ ابھی پی کے چلے آتے ہیں\n\nکیسی شفا کہاں کی شفا یہ بھی چند روز\n\nقسمت میں تھا کہ نا‌ز مسیحا اٹھائیے\n\nعاشق کی دلداری دلبر کیا ہی خدا را کرتے ہو\n\nان نیچی نیچی نظروں سے تم کام ہمارا کرتے ہو\n\nکہاں تک راز عشق افشا نہ کرتا\n\nمثل ہے یہ کہ مرتا کیا نہ کرتا\n\nاگر مینا کی گردن ختم نہ ہوتی\n\nتو کیا ساقی کو میں سیدھا نہ کرتا\n\nاس عاشق غریب کو گر وہ ستائیں گے\n\nپہنچیں گے کس فلاح کو کیا فیض پائیں گے\n\nارادہ گدگدی کا اور نہ قصد بوسہ یاں دل میں\n\nبھلا تم بیٹھے بیٹھے بے تکلف کیوں سنبھل بیٹھے\n\nزاہد تجھے قسم ہے خدا کی ادھر تو آ\n\nکیا نور سا جھلکتا ہے شیشہ کے جام میں\n\nبت ہی بن کر آن بیٹھیں گے بلا تو لو ہمیں\n\nکاٹ لینا تم زباں گر لب ہلائیں سامنے\n\nہم کو آرام ہو چکا ناصح\n\nآپ کی بات اور طبیب کی بات\n\nیاں تلک آکے پھر الٹا تمھیں جانا کیا تھا\n\nکیا زمین ماپنے آئے تھے یہ آنا کیا تھا\n\nیہ کبھی ہونی نہیں میں تمھیں سونے دوں آج\n\nلاکھ اب آپ لیا کیجیے انگڑائیاں\n\nڈبا دیا مجھے اس چشم تر کو کیا کوسوں\n\nجلا دیا مجھے سوز جگر کو کیا کوسوں\n\nلو ہم ہی اس جہان سے روپوش ہو چلے\n\nتہ کر رکھو اب آپ اس اپنے حجاب کو\n\nقدم کو ہاتھ لگاتا ہوں اٹھ کہیں گھر چل\n\nخدا کے واسطے اتنے تو پاؤں مت پھیلا\n\nنہ روکو مجھ کو یہ کہہ کر کہ ہا! سنو تو سہی\n\nوصال میں ہے ستم یہ ادا سنو تو سہی\n\nچلو بس حضرت عیسی تم اپنا کام کرو\n\nمریض عشق کو ہوگی شفا؟ سنو تو سہی\n\nچھوٹ جائیں غم کے ہاتھوں سے جو نکلے دم کہیں\n\nخاک ایسی زندگی پر تم کہیں اور ہم کہیں\n\nدل کھول کے مل چکیے جو میر سے ملنا ہے\n\nآنکھیں بھی دکھاتے ہو پھر منہ بھی چھپاتے ہو\n\nکچھ بات راز کی ہے ذرا کان لائیے\n\nہے جی میں آج خوب عدو کو بنائیے\n\nکیا دیکھتا ہے ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیب\n\nیاں جان ہی بدن میں نہیں نبض کیا چلے\n\nنہ کر برباد عمر بے بہا کی ایک ساعت بھی\n\nکہ یہ جنس گراں مایہ کہیں جا کر بھی آتی ہے\n\nغرض جن وجوہ سے اہل زبان کو اپنے ہاں کے طبقۂ موجودہ کے روز مرّوں اور محاوروں کی تقلید سے گریز لازم نہیں، اسی طرح مقلّد زبان پر بھی یہ فرض نہیں کہ وہ پرانی لکیر کا فقیر بن کر زبان قدما کی پیروی عیار سخن اور میزان زبان قرار دے۔\n\nہم دیکھتے ہیں جس طرح دہلی کو مرکز اردو سے حرف غلط کی طرح اڑایا جاتا ہے، اسی طرح لکھنؤ پر بھی منہ آیا جاتا ہے۔ گو اہل دہلی لکھنؤ کو بھی اس وجہ سے مرکز اردو نہ مانیں کہ اودھ میں دہلی ہی کے اہل زبان یہاں کے قدر دانوں کے مٹ جانے کے سبب وہاں جا کر رہے اور انھوں نے اسی اجڑے دیار یعنی دہلی کے محاورات و اصطلاحات کو وہاں بھی اپنے روز مرّہ برتاؤ اور بول چال میں برقرار رکھا۔ چنانچہ ایک موقع پر سید محمد تقی میر نے خود فرمایا ہے۔ قطعہ ؎\n\nکیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو!\n\nہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے\n\nدلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب\n\nرہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے\n\nاس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا\n\nہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے\n\nایک دفعہ حضرت غالب سے ناسخ کی بابت پوچھا تو آپ نے بھی طنزا یہ جواب دیا ؎\n\nزبان میر اور مرزا کہاں ہے\n\nمگر ہاں پُربیوں میں خوش بیاں ہے\n\nاس کے علاوہ جو خاندان شاہان اودھ کے مورث اعلی کے ساتھ دہلی سے بگڑ کر لکھنؤ چلے گئے تھے، وہ بھی اکثر دہلی کے امرا و شرفا کے خاندان تھے جن کی آل و اولاد آصف الدولہ کے عہد سے لے کر سعادت علی خاں کے زمانہ تک تمام دربار پر حاوی و مسلّط رہی۔ اسی وجہ سے اعلی طبقہ کے لوگوں میں انھیں کی زبان جاری ہوئی، یہاں تک کہ شعراے دہلی بھی نوابان لکھنؤ کی قدر دانی کے باعث اسی طرف جھک پڑے۔ ادھر مرزا رفیع السودا اپنے بلیغ اشعار کا گراں مایہ سودا لے کر وہاں پہنچے، ادھر سید محمد تقی میر اپنی فصاحت کا ڈنکا بجاتے ہوئے درآمد ہوئے۔ اخیر میں میر غلام حسن متخلّص بہ حسن خلف میر غلام حسین ضاحک نے آسمان لکھنؤ میں بدر کمال اور ماہ منیر بن کر کھیت کیا۔ جب تک ان لوگوں کا دور دورہ اور دم کا دمامہ رہا، انھوں نے اپنی زبان کو مشرقی زبان کے اختلاط سے برابر بچاے رکھا۔ مگر پھر جو زمانہ نے پلٹی کھائی تو وہاں کی وہ زبان جو خاص خاص لوگوں میں مروّج تھی، پوربی بھاکا آمیز اردو بن گئی، یہاں تک کہ نامی شعراے لکھنؤ بھی اس سے نہ بچ سکے، کچھ نہ کچھ اثر آ ہی گیا۔ بلکہ محاورات کے علاوہ وہاں کے لب و لہجہ نے بھی وہی طرز اختیار کر لی جس سے اہل دہلی کے کان نہ جب آشنا تھے اور نہ اب آشنا ہیں۔ لکھنؤ کے صرف عوام نے ہی اس پر عمل نہیں کیا بلکہ خواص بھی خالی نہ رہے۔ اکثر تذکیر و تانیث کے فرق سے لے کر محاورات میں بھی بہت کچھ بل پڑ گیا۔ چنانچہ ہم تمثیلاً نہایت اختصار کے ساتھ چند باتیں بلا ترتیب معرض تحریر میں لاتے ہیں، دونوں جگہ کے اہل زبان نظر انصاف سے ملاحظہ فرمائیں کہ یہ فرق جو پایا جاتا ہے کیا اس بات کو ثابت نہیں کرتا کہ ہر حالت میں دہلی کے سوا دوسرا مقام اردو کا مرکز ہوا ہے نہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جناب میر انیس مرحوم فخریہ فرمایا کرتے تھے کہ میرے آبا و اجداد خاک پاک دہلی سے تھے۔ اب چند تمثیلیں ملاحظہ فرمائیے۔ مثلاً ساؤنی گانا، ساؤنی پھولنا اہل دہلی کبھی نہیں بولتے مگر حضرت امیر مینائی اور جناب احمد علی صاحب شوق وغیرہ کے کلام میں موجود ہے۔ امیر ؎\n\nجب چمن میں آگیا مستوں کو ساون کا خیال\n\nساؤنی گاتی ہوئی آئی گھٹا برسات کی\n\nاور بھی لگائی آگ ساؤنی نے پھول کر\n\nپیڑ پر میری نظر پھر پڑی نہ بھول کر\n\nپانا بجاے لینا یا حاصل کرنا دہلی والے کبھی نہیں بولتے مگر امیر صاحب و حضرت شوق نے باندھا ہے، ملاحظہ ہو۔ امیر ؎\n\nہاتھ ہے کوتہ شاخ ہے اونچی پائیں گے کیونکر کوئی ثمر ہم\n\nپا کے تمھارے خط کو آج دل کی تڑپ بڑھی کچھ اور\n\nدل میں بھڑک کے غم کی آگ جسم پہ تپ چڑھی کچھ اور\n\nیا قدم رکھتی نہیں تو آنسوؤں کو پا کے شور\n\nیا قدم جمتے نہیں غالب ہے تجھ پر ان کا زور\n\nلاکھ بٹ جائے خیال آئے جو تو چین آ ہی جائے\n\nشوق کو بھی یہ تمنّا ہے کہ تجھ کو پا ہی جائے\n\nبولا چاہتی ہے خاص پوربی اور کھڑی بول چال ہے، مگر حضرت امیر نے اسے بھی داخل فصاحت فرمایا ہے ؎\n\nخوشامد اے دل بیتاب اس تصویر کی کب تک\n\nیہ بولا چاہتی ہے پر نہ بولے گی نہ بولی ہے\n\nنشہ ہرن کرنا ؎\n\nبڑھاپے نے ہرن سب کر دیے نشے جوانی کے\n\nعلی ہذا لفظ جان جائیے ؎\n\nکیا ہے ہمارے دل میں بھلا جان جائیے\n\nچکھا چاہیے ؎\n\nترک لذت بھی نہیں لذت سے کم\n\nکچھ مزہ اس کا بھی چکّھا چاہیے\n\nچاٹ دینا ؎\n\nوہ چاٹ دوں کرے نہ مذمّت شراب کی\n\nپیراک ؎\n\nدست و پا کتنے ہی پیراکوں نے مارے رہ گئے\n\nارے توبہ۔ احمد علی شوق ؎\n\nارے توبہ ستاروں پر ہوئے کیا کیا گماں دیکھو\n\nتلوری ؎\n\nآ پڑا باشا تلوری پر وہ کندے جوڑ کر\n\nکیا میں غل کردوں کہ یہ اڑ جائے اس کو چھوڑ کر\n\nتتلی ؎\n\nتتلیوں کے رنگ دیکھو کس قدر دلچسپ ہیں\n\nسر پھرنا ملاحظہ ہو ؎\n\nتو نے رخ جدھر کیا دل کا رخ ادھر پھرا\n\nتو پھرا جو یاس سے دل بھر آیا سر پھرا\n\nپینگ آنا جانا ؎\n\nپینگ آئیں جائیں گے اور ہلے گا دل مرا\n\nپلنگ پر رہنا ؎\n\nوہ پلنگ انھیں کا ہے اس پہ اب رہے تو کون\n\nخود آ کے وہ رہیں جا کے یہ کہے تو کون\n\nچہرے کا رنگ کٹنا ؎\n\nضعف سے جسم لٹ چلا، روح بدن سے ہٹ چلی\n\nچہرے کا رنگ کٹ چلا، نبض کی چال گھٹ چلی\n\nکرم کی لفظی رعایت ؎\n\nتم سے مرے نصیب میں شاید ابھی کرم نہیں\n\nوہ ہیں بڑے ہی خوش نصیب ہجر کا جن کو غم نہیں\n\nاسی طرح شعریں، برسیں، چپتیں، سانسیں، چھان بنان بجاے چھان بین، گتّھی بجاے گنجلک یا گلجھٹی، بھل بجاے بل، پلّا بجاے پلڑا، بھنگی آنکھ بجاے بھینگی آنکھ۔ گواہی دینا ہوگی، لوٹ چلو، پلٹ چلو بجاے پھر چلو، میں ان کے یہاں گیا تھا، وہ میرے کے یہاں آئے تھے بجاے ہاں۔ (سکت، آنکھ مچولا، دھاگا، چپت، طوطی، دریا، ہاتھی وغیرہ بحالت تانیث)۔ (مالا، موتیا، فہم، ہتھنی، وغیرہ بحالت تذکیر)۔\n\nامیر؎\n\nکب زاہدوں کو مسئلہ عشق کا ہے فہم\n\nارے صاحب، ارے تو صاحب لے اب جائیے، لے اب جانے دیجیے، تمسّک لکھ گیا، روپیہ کھو گیا بجاے کھویا گیا، ابھی ابھی، سانسیں، سلّی بجاے پتھری، مچّھی بمعنی بوسہ نیز مچھلی، لے اب ہماری بھی سنو، جھوٹھا، اندھڑ بجاے اندھیاؤ، سارے دن بجاے تمام دن وغیرہ وغیرہ۔ اس موقع پر ہمیں دو لطیفے یاد آگئے۔\n\nپہلا لطیفہ\n\nاستاد ذوق کے پاس ایک مرتبہ ان کے ایک لکھنوی دوست شیخ ناسخ کی ایک تازہ غزل سنانے آئے جس کے تین شعر یہ ہیں۔ اشعار ؎\n\nکوئی غنچہ ہے کوئی گل ہے کوئی پژمردہ ہے\n\nدیکھتے ہیں ہم تماشا گلشن ایجاد کا\n\nعاشق جانباز کا ضائع نہیں جاتا ہے خوں\n\nخسرو و شیریں سے پوچھو ماجرا فرہاد کا\n\nباغ سے وحشت ہوئی یاد قد دل دار میں\n\nدیو کا سایہ ہوا سایہ مجھے شمشاد کا\n\nمگر استاد ذوق کے پاس یہ غزل پہلے ہی پہنچ چکی تھی اور وہ اس پر غزل بھی لکھ چکے تھے چنانچہ جھٹ اندر اٹھ کر گئے اور وہ غزل لاکر سنانے بیٹھ گئے جس کے تین شعر یہ ہیں۔ اشعار ؎\n\nسرو عاشق ہو گیا اس غیرت شمشاد کا\n\nغل مچایا قمریوں نے ہے مبارک باد کا\n\nہے قفس سے شور ایک گلشن تلک فریاد کا\n\nخوب طوطی بولتا ہے ان دنوں صیّاد کا\n(جناب نواب احمد سعید خاں صاحب جاگیردار لوہارو فرماتے ہیں ؎\n\nطالب غزل سرا ہے تو کہتے ہیں اہل بزم\n\nطوطی چہک رہا ہے کسی شاخسار پر)\n\nکچھ گداز عشق میں ہوتا اثر تو دیکھتے\n\nکوہ کے چشموں سے ہوتا خوں رواں فرہاد کا\n\nدوسرا شعر سنتے ہی چونکے اور فرمایا کہ ہیں؟ آپ نے طوطی کو مذکر باندھ دیا، حالانکہ اس میں یاے معروف علامت تانیث موجود ہے۔ کل کو آپ جوتی کو بھی احاطۂ تذکیر میں لے آئیں گے۔ استاد ذوق نے فرمایا کہ حضرت! محاورے پر کسی کے باپ کا اجارہ نہیں ہے، آج آپ میرے ساتھ چوک پر چلیے اور اکبر آباد کی یہ ضرب المثل کہ \"چڑیمار ٹولا، بھانت بھانت کا جانور بولا\" آزمائیے، دیکھیے کہاں کہاں کے پکھیرو جمع ہوتے اور کیا کیا ہانک لگاتے ہیں۔ وہ اس بات پر راضی ہوگئے۔ جب شام کا وقت ہوا، دونوں صاحب جامع مسجد کی سیڑھیوں پر جہاں گذری لگتی ہے پہنچے۔ دیکھا، کوئی قسم قسم کے کبوتروں کا پنجرا بھرے بیٹھا ہے، کسی کے پنجرے میں لال ہیں، کسی کے بئے، کوئی اصیل مرغ کی گردن پر ہاتھ پھیر پھیر کر دکھا رہا ہے، کوئی مینا، کوئی اگن، کوئی بٹیر، کوئی تیتر لیے ہوئے ٹہل رہا ہے۔ ایک شہدے صاحب بھی ہاتھ میں طوطی کا پنجرہ اٹھائے دنڑ خم دکھاتے چلے آتے ہیں۔ استاد ذوق نے اشارہ کیا، ذرا ان سے بھی دیافت کر لیجیے۔ آپ نے بے تکلف پوچھا کہ \"بھیا! تمھاری طوطی کیسی بولتی ہے؟\" بھلا شہدے سے ایسے موقع پر کب رہا جاتا ہے، جواب دیا کہ میاں بولتی تمھاری ہوگی یاروں کا طوطی تو خوب بولتا ہے\"، یہ غریب بہت خفیف ہوئے اور اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ استاد ذوق نے کہا کہ حضرت اس بات پر نہ جائیے کہ شہدوں کی زبان ہے، یہی دہلی کے خاص و خواص کی منطق ہے۔ جس موقع پر یہ محاورہ بولا جاتا ہے اس کے لیے مذکّر بولنا اور بھی باعث لطف ہو گیا۔\n\nدوسرا لطیفہ\n\nسنہ 73 یا 74ء کا ذکر ہے کہ اسی طرح ایک دفعہ کسی رئیس لکھنؤ وارد دہلی اور مرزا قربان علی بیگ سالک شاگرد رشید حضرت غالب سے بعض الفاظ کی کراہت، ثقالت اور لطافت کی چھیڑ ہوئی۔ رئیس لکھنؤ نے بر وقت ملاقات حضرت سالک سے ارشاد کیا کہ حضرت آپ کے دلّی والے الفاظ کریہ بولنے سے درگذر نہیں کرتے اور انھیں عین فصاحت سمجھ کر شربت کا سا گھونٹ پی جاتے ہیں۔ مرزا سالک نے فرمایا: بھئی وہ کون سے لفظ ہیں جن کی طرف آپ کا اشارہ ہے ذرا میں بھی تو سنوں۔ اگر در حقیقت کریہ الصوت اور کریہ المعنی ہیں تو میں بھی ان سے اجتناب کروں گا۔ رئیس صاحب نے فرمایا: دور کیوں جائیے ذرا کیچڑ ہی کے لفظ کو ملاحظہ فرمائیے، راے ثقیلہ کا کیسا کریہ اور ثقیل لفظ ان کی زبان پر چڑھا ہوا ہے۔ حضرت سالک نے پوچھا: آپ کے نزدیک اس لفظ کے بجاے کون سا فصیح اور موزوں لفظ ہے؟ کہنے لگے ارے حضرت کیچ بر وزن پیچ، دیکھیے کیسا چھوٹا سا اور سلیس لفظ ہے اور ہمارے کے یہاں یہی بولا جاتا ہے۔ حضرت سالک مسکرائے اور ذرا ستم ظریفی کو کام میں لا کر فرمایا کہ میری راے میں بھی ایسی راے ثقیلہ کو کل الفاظ سے نکال ڈالنا چاہیے لیکن ذرا اتنا اور بتا دیجیے کہ آپ کے ہاں سرین کے معنیٰ میں کس لفظ کا استعمال ہے؟ کیا آپ اس کی راے ثقیلہ کو بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں؟ یہ فقرہ سنتے ہی ایسے لیے گئے کہ منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور یہی کہتے بنی کہ در حقیقت ہمارے کے یہاں بھی یہی راے مثقّلہ بعض الفاظ میں اس قدر مستعمل ہے کہ جن الفاظ کو دہلی میں راے مہملہ سے بولتے ہیں ہم انھیں راے ثقیلہ سے استعمال کرتے ہیں گو یہ استعمال یہاں والوں کے کانوں کو اچّھا معلوم نہ دے مگر جس طرف جمّ غفیر ہو اسی طرف یہ فقیر نام کا امیر بھی ہے۔ مثلا مچھڑ، کنکڑ وغیرہ بہ راے ثقیلہ ہم جائز رکھتے اور فصیح سمجھتے ہیں، لیکن دہی برے، پکورے، پکوریاں وغیرہ بہ راے مہملہ ناجائز اور خلاف فصاحت جانتے ہیں گو آپ کے یہاں بہ راے ثقیلہ اچھا خیال کرتے ہیں۔ چلو ہم دونوں برابر رہے اور اب کسی کو بھی کسی پر اعتراض کی گنجائش نہیں رہی۔ مرزا سالک نے فرمایا: خیر یہی غنیمت ہے کہ آپ کی اڑ تو ٹوٹی کہ آپ نے دہلی اور لکھنؤ کو مساوات کا درجہ بخش دیا ورنہ صاحبان لکھنؤ تو دہلی کی زبان کو زبان ہی نہیں مانتے۔ جس روز یہ لطیفہ ہوا اس کے دوسرے ہی دن منشی بہاری لال مشتاق نے اکمل الاخبار میں یہ ساری کیفیت مع نام درج کر کے گلی گلی اور کوچہ کوچہ میں اس مناظرہ کی شہرت کر دی۔ اکثر لوگ اس لطیفہ کو حضرت غالب کی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن یہ غلط ہے کیونکہ ان کا انتقال سنہ 69ء میں ہوچکا تھا اور یہ اس کے پانچ چھ سال بعد کا ذکر ہے۔ چنانچہ اس امر کی دہلی کے ایک مستند رئیس قرابت دار حضرت غالب سے بھی تصدیق ہوئی۔ وہ فرماتے ہیں کہ \"مجھے خوب یاد ہے اسی زمانہ میں میری شادی ہوئی تھی اور اکمل الاخبار نے اس کا خوب خاکہ اڑایا تھا\"۔\n\nاس میں شبہ نہیں کہ اہل لکھنؤ غیر مانوس، غیر متعارف، دقیق اور بے میل الفاظ کو مستعمل کر لینا ترقّی زبان کا باعث خیال فرماتے اور آورد کو داخل حسنات سجھتے ہیں۔ چنانچہ اسی وجہ سے جو لوگ زبان کی خوبیوں سے واقف ہیں ان کا دہلی اور لکھنؤ کی زبان کے متعلق یہ فیصلہ ہے کہ لکھنؤ کی زبان آورد کے بغیر نہیں بولی جاتی، قافیہ پیمائی اور جگت بازی اس کی جان ہے، لفظی رعایت اس کا دین و ایمان۔\n\nدہلی کی زبان تکلّف سے دور، تصنّع سے نفور، تکلفات سے منزّہ اور نہایت شستہ ہے۔ اگر دہلی زبان کے حق میں شیراز ہے تو لکھنؤ اصفہان، جس طرح شیراز شاہان ایران اور زبان فصیح کا سب سے پہلا اور قدیم دار السلطنت ہے، اسی طرح اصفہان اس کے بعد، طہران سب سے اخیر وقت کا دار الخلافہ ہے۔\n\nہم نے اوپر لکھا ہے کہ زبان لکھنؤ میں غیر مانوس اور بے میل الفاظ کی بھرتی ہے، اب ہم کہتے ہیں کہ بے جوڑ الفاظ کی آمیزش سے بھی لکھنؤ کو کبھی انکار نہیں ہوا۔ چند الفاظ بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیے اور یہ سمجھ لیجیے کہ ہم نظیراً پیش کرتے ہیں نہ کہ اعتراضاً، ورنہ ؎\n\nجو رو کر ابر کو دریا بہا دینے کا دعوی ہے\n\nتو ہم کو اپنے رونے پر رلا دینے کا دعوی ہے\n\nہوا بمعنی خواہش، جناب احمد علی شوق ؎\n\nگرد جنگل بیچ جنگل میں فضا ہے باغ کی\n\nدیکھ لیں جنگل کو پھر دل کو ہوا ہے باغ کی\n\nگرم خو بجاے تند خو۔ امیر ؎\n\nخدا ہی باندھے ہوا کچھ ایسی کہ دل ہو اس گرم خو کا پانی\n\nہاتھ فگار کرنا بجاے ہاتھ زخمی کرنا، امیر ؎\n\nہاتھ گلچیں کے کیے باغ میں کانٹوں نے فگار\n\nعلی ہذا آنسو پاک کرنا، آنسو جوش پر آنا، آنکھ اٹھنے آنا، بلّی نانگھنا، آتشک نکلنا، آشنائی کھٹ کرنا، آگ ابلنا، اکھلا پن، آمد آمد پھیلنا، خشم بہنا، آنکھیں پڑ پڑ کرنا، تمھاری قضا پھڑ پھڑا رہی ہے، تلوار خچا خچ چلنے لگی، آنکھیں اگلنا، آنکھوں پاؤں بمعنی آنکھوں کے آگے پاؤں، کسی کے قدم بقدم چلنے کے بجاے پاؤں پر چلنا جیسا کہ حال میں ایک صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ \"خدا امّت کے دل میں بھی ایسا ہی اثر ڈالے کہ اس فداے قوم کے پانوں پر چلے\" وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح پوربی الفاظ نظم نثر میں مخلوط و آمیز ہوئے ہیں جو اوپر ظاہر کر دیے گئے ہیں۔ پس انھیں وجوہ سے ہم لکھنؤ کو خاص اردو یا ٹھیٹ اردو کا مرکز یا ماخذ نہیں کہہ سکتے، ورنہ باعتبار تصانیف و علم و عروض وغیرہ اس نے خاصی ترقّی کی ہے۔\n\nلکھنؤ کی بحث تو ختم ہوئی اگر اس کو اردو کا مرکز نہ مانا جائے تو کچھ بیجا نہیں، اب لاہور کی طرف توجہ فرمائیے۔ یہ بات کچھ پوشیدہ نہیں ہے کہ زندہ دلان پنجاب نے بلحاظ ترقی مردہ دلان دہلی کو پرے بٹھا دیا ہے اور ان کو پست ہمّتی، سستی، کاہلی، بے علمی، باوجود افلاس لن ترانی نے رہا سہا کھو دیا ہے، مگر اس حالت میں بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ سرشتی اثر اور اپنی مادری زبان کو کھو بیٹھے، یہاں کی آب و ہوا اور فطرتی مناسبت کو رو بیٹھے۔ ہاں اگر یہاں کی سر زمین، یہاں کی آب و ہوا، یہاں کے گلی کوچے، یہاں کی سی صفائی گلو، حسب مخرج اداے الفاظ کی قوّت اٹھ کر لاہور چلی جائے تو اس کا زبان اردو کے واسطے مرکز قرار دے لینا کچھ قابل اعتراض امر نہیں مگر جس حالت میں لکھنؤ مرکز ثابت نہ ہو سکا اور اس کی قدامت نے بھی مرکز نہ بننے دیا تو لاہور کی تو وہی مثل ہے کے آمدی کے پیر شدی۔ اس میں اردو کے رواج کو کے دن کے راتیں ہوئیں، سب سے پہلے منشی ہر سکھ راے صاحب نے جن کے ہاں منشی نول کشور جیسے اولو العزم اور لائق کارکن تھے۔ غدر سے آٹھ نو برس پہلے بر وقت الحاق پنجاب سنہ 1848ء و 49ء میں اخبار کوہ نور بزبان اردو نکالا اور وہ شمالی ہند کی نسبت ہمارے ہاں زیادہ خریدا گیا۔ 1856ء میں محکمۂ تعلیم قائم ہوا۔ مگر بعد از فتح دہلی جب لاہور پنجاب کا دار الخلافہ قرار پایا اور دہلی اس میں شامل ہو کر 1864ء میں لاہور گورنمنٹ کالج کی، 1866ء میں لاہور مشن کالج کی وہاں بنیاد پڑی۔ 1877ء میں دہلی کالج اجڑا اور ڈاکٹر لیٹنر صاحب کی کوشش سے 1882ء میں پنجاب یونیورسٹی با اختیار ہوئی تو ہر ایک محکمہ میں اردو کا تسلط زیادہ ہونے لگا۔\n\nپنجابی اخبار سنہ 63ء میں نکلا، منشی محمد عظیم اور ان کی لائق اولاد نے زبان دہلی کا چسکہ ڈالنا شروع کر دیا۔ اس کے دو برس بعد یعنی سنہ 65ء میں اخبار انجمن پنجاب کا دور دورہ ہوا، اس کے مضامین کی نفاست، زبان کی سلاست، تصانیف پر معقول تقریظوں وغیرہ نے تمام پنجاب کو ایک دفعہ ہی اردو زبان کا فریفتہ اور شیفتہ بنا دیا۔\n\nمولوی محمد حسین آزاد، منشی سید محمد لطیف جیسے اڈیٹروں نے چار چاند لگا دیے۔ اخیر میں مولوی سیف الحق ادیب اور میر نثار علی شہرت نے بھی زبان کی ترقی میں کچھ کسر نہ رکھی۔ انجمن پنجاب کے مشاعروں میں ڈاکٹر لیٹنر کی صدر مجلسی نے نیچری نظم کا شوق ڈالا۔ مولوی محمد حسین صاحب آزاد، خواجہ حالی مدظلہ العالی، خواجہ ضیاء الدین، مرزا ارشد، سیف الحق ادیب، میر نثار علی شہرت وغیرہ نے اشعار کا ولولہ پیدا کیا۔ سنہ 71ء میں سر رشتۂ تعلیم سے رسالۂ اتالیق پنجاب سر رشتہ تعلیم کے سرکاری اخبار نامی کے بجاے جو راے بہادر ماسٹر پیارے لال صاحب آشوب کی اڈیٹری اور حضرت آزاد کی سب اڈیٹری سے نکلتا تھا جاری ہوا اور اکثر اردو کے قابل قدر اخبارات جیسے رفیق ہند، رہبر ہند، شفیق ہند، اخبار عام وغیرہ نے ظہور پکڑا۔ دہلی کے خانہ خراب مضمون نگاروں کی بھی روزی نکل آئی، کرنل ہالرایڈ صاحب بہادر نے ڈائرکٹری کا چارج لیتے ہی دہلی کے اہل کمال کو نہایت اعزاز سے وہاں بلا لیا اور سر رشتہ تعلیم کی اردو تصانیف کو ایسا مانجھا کہ دہلی کی اصلی اور ٹکسالی زبان کا لطف آگیا۔ البتّہ ان کے بعد سائم صاحب کے زمانہ میں جس قدر جدید تصانیف ہوئی وہ بلحاظ زبان قابل اعتراض رہی اور ابھی تک یہ نقص باقی ہے۔ جس طرح شاہی زمانہ میں دہلی کے باکمال و اہل خاندان لکھنؤ چلے گئے تھے اسی طرح غدر کے بعد بتلاش روزگار دہلی کے اکثر اہل زبان پنجاب میں اور زیادہ تر خاص لاہور میں دار الصدر ہو جانے کے باعث عاریتاً جا رہے تھے۔ ان کے دم سے اردو کا زیادہ رواج ہوا، اخباروں کی اڈیٹری ان لوگوں نے کی، نامہ نگار یہ بنے، کاتب یہ بنے، ناولوں کی زبان ان لوگوں نے درست کی اور ہر طرح سے لاہور کی اردو کو عیوب سے پاک کیا۔ چونکہ اہل پنجاب میں مادّۂ اخذ خداداد ہے، انھوں نے اس طرف توجہ کرتے ہی صاف و شستہ اردو لکھنی شروع کردی لیکن خاص خاص محاورات و اصطلاحات اور علی الخصوص لب و لہجہ میں بعد مسافت و فرق سکونت کے باعث بازی نہ لے سکے، جس کی وجہ سے ہم لاہور کو مرکز اردو کہنے میں متامّل ہیں۔ البتّہ اگر حیدرآباد دکن کی نسبت یہ خیال کیا جاتا تو وہ ایک حد تک درست اور بجا تھا، کیونکہ اول تو دہلی کے مغلیہ خاندان کے ساتھ یہاں کے شرفا و نجبا، اہل زبان ارکین سلطنت وہاں جا بسے تھے۔ عالم گیر نے مرتے دم تک دکن نہ چھوڑا، اس کی فوج، اس کے سپاہ سالار، اس کے وزرا، امرا اس کے دم کے ساتھ رہے۔ چنانچہ اب تک وہاں کی مستورات میں دہلی کے ٹھیٹ محاورے، دہلی کے رسم و رواج، عورتوں کے قدیمی عقائد موجود پائے جاتے ہیں اور مرد تو دہلی الاصل تھے ہی۔ اس کے علاوہ وہاں کے بادشاہ نے خدا اسے سلامت رکھے اردو کی وہ سرپرستی اختیار کر رکھی ہے کہ کوئی حامیِ اردو اس سے لگّا نہیں کھا سکتا۔ اردو کی گرتی ہوئی زبان کو اس نے سنبھالا۔ قدیم و جدید محاورات زبان کا مخزن اس نے جمع کرا دیا۔ ہر ایک علم و فن کی تصنیف کا ذخیرہ اس نے لگا دیا، بڑے بڑے اہل کمالوں کو فراہم کر لیا، گویا ڈوبتی ہوئی ناؤ کو ابھار لیا۔ اردو کے شعرا کا وہاں جمگھٹا ہے، اردو کے انشا پردازوں کا وہاں ہجوم ہے، اہل زبان وہاں جمع ہیں اور مقلّد زبان وہاں۔ اس کے ما سوا سلطان دکن خلد اللہ ملکہ نے خود بھی اردو نظم کی طرف توجہ فرمائی۔ کلام الملوک ملوک الکلام کی زندہ مثال دکھائی۔ سر رشتہ تعلیم و دفاتر میں اسی کو شاہی زبان ٹھہرا کر جگہ دی۔ اردو اخبارات اور رسالوں کی خریداری سے امداد فرمائی، مصنّفوں کو وظائف انعام و اکرام دے دے کر ان کی محنت کی داد دی اور ما یحتاج سے مستغنی فرما کر اظہار خیالات و ترقّی زبان و علوم و فنون کا موقع دیا۔ نہ کہ جس طرح بعض مقامی گورنمنٹوں اور اردو کی مخالف ریاستوں نے تعصّب کو کام فرما کر اسے دودھ کی مکھی طرح نکال کر پھینک دیا یا پھینک رہی ہیں۔ اس سلطنت نے بھی ایسا ہی کیا ہو۔ دکن کے خمیر میں چھ سو برس سے پہلے سلطان محمد عرف الغ خان نے دلّی شہر کو اجاڑ کر یہاں کی خو بو، عادت و خصلت کا وہاں ڈھچر ڈال دیا تھا مگر اردو زبان کے پیدا ہوتے ہی رؤساے دکن نے اس کے قالب میں ایک تازہ روح پھونک دی اگرچہ اردو شاعری کا چرچا اب سے 84، 85 برس پیشتر عالی جناب نواب سکندر جاہ بہادر و نواب فلک انتساب ناصر الدولہ بہادر کے عہد میں جو تقریباً 1244-45 ہجری کا زمانہ ہے، راجۂ راجایاں مہاراجہ چندو لال صاحب مدار المہام ریاست حیدرآباد کے دم سے خوب زوروں پر رہا۔ بلکہ علم ادب، علم تصوّف، علم تاریخ، علم اخلاق پر بھی دیوان صاحب کی نہایت توجہ رہی جس کے سبب سے دہلی کے نامی شعرا میں سے شاہ نصیر شیخ وزیر علی مسرت، وجیہ الدین منیر اور ان کے بعد دیگر شعرا بھی پہنچے، حتی کہ استاد ذوق سے بھی یہ ذکر ایک مقطع میں لائے بغیر نہ رہا گیا چنانچہ فرماتے ہیں ؎\n\nگرچہ ہے ملک دکن میں ان دنوں قدر سخن\n\nکون جائے ذوق پر دلّی کی گلیاں چھوڑ کر\n\nمگر اب کے اور جب کے زمانہ اور زبان میں بہت بڑا فرق ہے۔ اس وقت وزیر دکن کو شوق تھا، خود بھی شاعر تھے، اور شاداں تخلّص فرماتے تھے، مگر اب شاہ دکن کو خود شوق ہے اور ان کی بدولت موجودہ وزیر دکن بھی جو اسی سخن سنج، سخن فہم خاندان کی یادگار ہیں، وہاں کے شعراے ہم عصر میں سبقت لے گئے ہیں۔ گو اپنا تخلّص شاد اپنے کلام و دیگر تصانیف میں درج فرماتے ہیں مگر اس تخلّص کو اسم با مسمی بنا کر تمام دکن و اہل جوہر کا دل شاد اور ان کا گھر خوشی و خرّمی سے آباد کر رکھا ہے، ان وجوہ پر خیال کر کے ہم لکھنؤ پر بھی حیدرآباد دکن کو ترجیح دیتے ہیں۔ کیونکہ لکھنؤ کی زبان کا سرپرست دنیا سے اٹھ گیا، وہاں کی ریاست و سلطنت مٹ مٹا گئی، صرف نام ہی نام باقی ہے۔ مگر حف نظر چشم بد دور ملک دکن حرسہا اللہ عن الشرور و الفتن کی اسلامی ریاست زندہ و سلامت موجود ہے اور تا قیامت رہے گی جس نے مامون رشید کا علمی زمانہ بھلا دیا، بغداد و قرطبہ کا لطف دکھا دیا، بلکہ اس تھوڑے سے زمانے میں خلفاے عبّاسیہ کی سلطنت سے بڑھا دیا اور بڑھا رہی ہے۔ اگر زمانہ ترقی کے موافق اردو کا مرکز کہہ سکتے ہو تو بلحاظ قدامت، باعتبار بول چال و سرپرستیِ زبان اردو حیدرآباد دکن کو کہو اور ان سے اس زبان کی پختگی، قیام اور روز افزوں ترقی کے واسطے مدد لو کیونکہ اس ریاست کا والی اردو زبان کا جوہری و مبصّر بلکہ نقّاد ہے اور اسی وجہ سے ہر ایک اہل زبان کی زبان پر حیدرآباد حیدرآباد ہے۔\n\nمرکز زبان کے متعلق تو جو کچھ محاکمہ کرنا تھا وہ کر چکے اب ذرا اس مضمون کو بھی پڑھ کر دیکھتے ہیں جس میں اس کے متعلق لمبی چوڑی بحث ہوئی ہے۔\n\nیہ مضمون حضرت وجاہت جھنجھانوی مالک رسالۂ اصلاح سخن نے بزم اردو کے جلسۂ منعقدہ انیس مئی 1910ء میں پڑھا تھا اور سب سے پہلے ہمارے محترم دوست مولوی محبوب عالم صاحب نے اپنے معزّز و با وقعت روزانہ پیسہ اخبار مطبوعہ تیسری جون سنہ مذکور میں چھاپا تھا۔ اس کے بعد رسالۂ اصلاح سخن و فصیح الملک میں ہماری نظر سے گذرا اور معلوم ہوا کہ دیگر رسائل میں بھی یہ بحث چھڑی ہے، مگر ہم اپنی بیماری، عدم فرصت و مقدّمات دیوانی کی پیروی سے مجبور تھے ورنہ کچھ نہ کچھ ہم بھی اپنی راے ظاہر کرتے۔ اب چند دوستوں کے سر ہو جانے سے رطب و یابس جیسا کچھ خیال میں آیا لکھنا پڑا۔\n\nاس میں کلام نہیں کہ حضرت وجاہت نے جو کچھ لکھا بہ نظر اصلاح کہ یہ ان کا کام ہی ہے نیک نیتی سے لکھا اور زمانۂ حال و موجودہ رفتار کے موافق بظاہر بہت کچھ ذہن لڑایا، لیکن اس بحث کے اٹھانے میں انھوں نے غالباً اپنی ناواقفیت کے سبب تمثیلوں تک میں دھوکا کھایا، اگر غلطی نہیں کی تو سہو ضرور ہوا اور یہ غلط فہمی کتب لغات کے حال و قدیم محاورات میں فرق نہ کرنے کے باعث واقع ہوئی۔ مثلا انھوں نے لکھا ہے کہ اہل دہلی زیادہ محبّت کے واسطے \"جان چھڑکنا\" بولتے ہیں اور آگ لگ جانے کے واسطے \"پھول پڑا\" استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کی اصل عبارت یہ ہے کہ \"وہ زمانہ دور نہیں کہ دہلی و لکھنؤ کے ایجاد کردہ الفاظ لوکل بولی سے زیادہ وقعت نہیں رکھیں گے۔ مثال کے طور پر دہلی کے ایک آدھ محاورہ کا ذکر کیا جاتا ہے، جب کسی کو کسی سے زیادہ محبت ہو تو دہلی والے کہا کرتے ہیں کہ فلاں آدمی اس آدمی پر جان چھڑکتا ہے، جان کیا ہوئی گویا گلاب یا کیوڑے کا عرق ہے۔ اب علمی دنیا کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ دہلی یا لکھنؤ کے اتّباع کی وجہ سے بے حد محبت کرنے کا مفہوم جان چھڑکنے سے ادا کرے، سیدھی بات کیوں نہ کہی جائے کہ ہم اس آدمی سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔\"\n\nاوّل اس فقرے کے پہلے حصے کا جواب ملاحظہ فرمائیے کہ \"دہلی اور لکھنؤ کے ایجاد کردہ الفاظ لوکل بولی سے زیادہ وقعت نہیں رکھیں گے\"۔ ہم کہتے ہیں یہی الفاظ روز بروز زیادہ ترقّی کریں گے اور ہر علم و فن کے الفاظ اسی زبان میں بڑھا کر اسے علوم و فنون کے لحاظ سے بھی زیادہ مکمل بنائیں گے۔ کیونکہ ان کی سادگی، سلاست، جامعیت، وسعت ایسی نہیں ہے کہ وہ دیگر زبان کے الفاظ تراش و خراش پیدا کر کے اپنے ساتھ شامل نہ کر لے۔ اردو زبان میں ہر ایک زبان کی اسی طرح کھپت ہے جس طرح شیخوں کی ذات کا ہر ایک مسلم و نو مسلم کے واسطے دروازہ کھلا ہوا ہے۔ چنانچہ ایک شاعر کا قول ہے ؎\n\nسیّد اکل کھرے ہیں میاں کائنات میں\n\nسب کی سمائی ہوتی ہے شیخوں کی ذات میں\n\nکوئی زبان، کوئی علم، کوئی فن اپنی خاص خاص اصطلاحات و محاورات سے خالی نہیں، جن کاموں میں جس علم اور جس فن کی ضرورت پڑتی ہے اس میں انھیں کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ انشا پردازی کا جزو اعظم، قصّوں، ناولوں، ڈراموں، رزمیہ داستانوں، بزمیہ افسانوں کی جان اصطلاحیں اور محاورے نہیں ہیں تو اور کون سی بات ہے جو روتوں کو ہنساتی، ہنستوں کو رلاتی، لومڑیوں کو شیر بناتی، سنگ دلوں کو رحم دل کر دکھاتی، بخیلوں کو سخاوت کی طرف توجہ دلاتی، قوموں میں ہمدردی پھیلاتی، قومی قوّت بڑھاتی، سخیوں کو ان کی حیثیت سے زیادہ دریا دلی پر آمادہ کر دیتی ہے۔ صرف زبان اور محاورے ہی تو ہیں جو ہر ایک بیان کا سماں باندھ کر لوگوں کے دلوں پر قابو کرا دیتے ہیں۔\n\nکیا آپ نے یہ نہیں سنا کہ یورپ میں جس قدر نامی و گرامی مقرّر یعنی اسپیکر ہوئے ہیں اور جس قدر بڑے بڑے انشا پرداز ہیں ان سب نے اپنی اس قوّت کو زیادہ تر ناولوں کے مطالعہ سے بڑھایا ہے اور وہاں ناول خاص کر اسی غرض سے زیادہ پڑھے جاتے ہیں کہ ان میں سے زود اثر، پر اثر، دل گداز، ہیبت افزا، رعب نما، معنی خیز وغیرہ ہر قسم کے فقرے یا الفاظ چن چن کر اپنی زبان پر چڑھائے اور بر وقت ضرورت حسب موقع کام میں لائے جائیں۔ یہ باتیں صرف ٹکسالی زبان کو حاصل ہوتی ہیں اور اسی میں یہ جادو بھرا ہوا ہے۔\n\nرہے علمی اور فنونی الفاظ یا اصطلاحیں جس قدر اور جس وقت میں جس علم یا جس فن کا دور دورہ ہوا اسی کے واسطے سینکڑوں اور ہزاروں الفاظ بن گئے بلکہ ان میں سے بھی بعض اصطلاحیں لے کر روز مرّہ میں داخل کر لی گئیں، مثلاً کھٹائی میں ڈالنا سناروں کی اصطلاح ہے مگر اردو میں تعویق کے موقع پر استعمال ہونے لگی۔ علی ہذا انگرکھے کا بند، تیر بہدف، لیس ہونا بمعنی تیار و مستعد ہونا، کتر بیونت، پاپڑ بیلنا، چھکے چھوٹنا وغیرہ ہزاروں اصطلاحیں اور محاورے ایسے ہیں کہ وہ اہل حرفہ، اہل پیشہ، اہل فن، اہل علم وغیرہ کے خاص خاص علوم و فنون سے استنباط کئے گئے ہیں۔ علم ریاضی، حساب، علم جبر و مقابلہ، اقلیدس، تاریخ، جغرافیہ، علم مثلّث، لوکارثم، مساحت وغیرہ کے ترجمے کیا حسب ضرورت نہیں ہوئے اور اب سائنس و طبیعیات کے کیا نہیں ہو رہے ہیں؟ اسی طرح فقہ، حدیث، علم کلام، علم منطق وغیرہ کے ترجموں کو کیا اہل زبان نے چھوڑ دیا ہے؟ خاص ہماری دہلی میں خان بہادر منشی ذکاء اللہ مرحوم نے کون سے علم کا ترجمہ نہیں کیا۔ ایل ایل ڈی مولوی نذیر احمد صاحب نے عربی ترجموں سے کون سی دینی خدمت نہیں کی، اردو میں منطق لکھی اور مضامین کے بیسیوں رسالے شائع فرمائے۔ مولوی کریم بخش صاحب نے جبر و مقابلہ کا کیسا ترجمہ کیا۔ مولوی مملوک علی نے عربی سے اقلیدس کا ترجمہ کیسا کیا۔ مولوی امام بخش صہبائی نے قواعد اردو کیسی بنائی؟ ماسٹر رام چندر نے ریاضی میں کیسا نام پایا کہ یورپ تک دھوم مچ گئی۔ ان کی کتابیں تذکرۃ الکاملین، رسالۂ خواب، سریع الفہم وغیرہ اور بہت سے رسالے ہماری نظر سے گذرے۔ مولوی نواب قطب الدین خاں مرحوم نے کیا مشکوۃ وغیرہ کا ترجمہ نہیں کیا؟ کیا مولوی نذیر حسین صاحب محدّث دہلوی نے، مولوی عبد الرب واعظ دہلوی نے، مولوی حفیظ اللہ خاں صاحب دہلوی نے اردو زبان کی دینی خدمت کچھ کم کی؟ ایل ایل ڈی مولوی ضیاء الدین صاحب نے کیا اصول علم طبعی کے رسالے نہیں لکھے؟ کیا مولوی عبد الحق صاحب نے اردو میں تفسیر حقّانی نہیں لکھی؟ کیا مولوی رفیع الدین صاحب نے لفظی اور مولوی شاہ عبد القادر صاحب نے قرآن شریف کا عام فہم اردو با محاورہ ترجمہ نہیں کیا؟ کیا شمس العلماء مولوی نذیر احمد صاحب کا ترجمۂ قران مجید مقبول خاص و عام نہیں ہوا؟ کیا ان باشندگان دہلی کو ان ترجموں کے واسطے لاہور، لکھنؤ یا دیگر امصار و دیار سے الفاظ لانے پڑے؟ کیا سر رشتۂ تعلیم پنجاب کے دہلوی مترجموں نے تعلیمی کتابوں کو اس زبان میں انگریزی سے نہیں ڈھالا؟ کیا مولوی کریم الدین نے کوئی اور زبان سر رشتۂ تعلیم کی تصانیف میں برتی؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ کرنل ہالرائڈ صاحب بہادر نے اپنے سر رشتہ کی کتابوں کا ترجمہ کس طریقہ سے ٹھیٹ اردو میں کرایا؟ اگر نہیں معلوم تو ہم سے سن لیجیے۔ ہم بھی یہ کام بک ڈپو کے نائب مترجم رہ کر کر چکے ہیں، وہ اوّل تو انگریزی دانوں سے جس کتاب کا ترجمہ مقصود ہوتا کراتے۔ جب وہ کر چکتے تو ایسے دہلوی اہل زبانوں کو دیتے جو مطلق انگریزی نہیں جانتے تھے اور فرماتے کہ اس کو اپنی بول چال کے موافق بنا دو۔ انگریزی سے اکثر ترجمے راے بہادر ماسٹر پیارے لال صاحب یا ماسٹر چندو لال صاحب یا مولوی محمد یوسف مرحوم کیا کرتے۔ ان کی نظر ثانی کبھی مولانا آزاد صاحب، کبھی خواجہ ضیاء الدین صاحب مرحوم، کبھی خواجہ حالی مدظلہ العالی، کبھی مولوی مرزا اشرف بیگ خاں صاحب، کبھی مولوی محمد سعید صاحب، کبھی بندہ سید احمد، کبھی مرزا ارشد گورگانی، کبھی سیف الحق ادیب، کبھی مولوی مرزا بیگ خاں صاحب دہلوی وغیرہ کیا کرتے تھے۔ راے بہادر ماسٹر پیارے لال صاحب نے جو کلاں تاریخ انگلستان یا دربار قیصری کا ترجمہ کیا ہے، بھلا کوئی دوسرا کر تو لے۔ جس وقت لارڈ لٹن کی زبردست، معنی خیز، پہلو دار، مغلق اور زبردست اسپیچ کے ترجمہ کا موقع آیا تو بندہ بھی سنہ 80ء میں اس وقت وہیں موجود تھا اور کچھ اس نے بھی ماسٹر صاحب کے حکم سے اسے دیکھا تھا۔ انصاف یہ ہے کہ ماسٹر صاحب سا لائق آدمی ہو اور نہ یہ ترجمہ قابل تعریف کیا جائے۔ ان کے علاوہ قصص ہند حصّہ اوّل وغیرہ بھی آپ ہی کی تالیف ہے۔ ان کتابوں میں اگر دہلی کے ایجاد کردہ لفظ نہیں ہیں تو کیا کرانے جھنجھانے سے یہ لڈوے کی پال آئی ہے؟ اگر یہ لوکل الفاظ مانے جائیں تو اور بھی زیادہ قابل وقعت ہیں کیونکہ خواص ہر جگہ محدود ہوا کرتے ہیں اور عوام غیر محدود ؎\n\nسب مذاہب میں یہی ہے نہیں اسلام میں خاص\n\nکہ جہاں عام ہے ہوتا ہے وہاں عام میں خاص\n\nساغر دل کی تو واقف نہیں کیفیت سے\n\nدیکھ عکس رخ ساقی ہے اسی جام میں خاص\n\nاب ذرا اس مثال کی طرف رخ فرمائیے جس کے سبب سے محاورات دہلی پر بائی کاٹ کا حکم لگایا گیا ہے اور ساتھ ہی اس کا مفہوم بھی اس طرح بتا دیا ہے: \"جب کسی کو کسی سے زیادہ محبت ہو تو دہلی والے کہا کرتے ہیں کہ فلاں آدمی اس آدمی پر جان چھڑکتا ہے، جان کیا ہے گویا گلاب یا کیوڑے کا عرق ہے\"۔ اس محاورے کا لطف اور اس کی عدم واقفیت تو ہم آگے چل کر بیان کریں گے لیکن پہلے انھیں کی عبارت میں سے دو ایک فقرے پیش کر کے الزامی جواب دیتے اور ان کی طرف سے یہ مصرع پڑھتے ہیں۔ مصرع\n\nمیں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا\n\n\"کانوں کو مزا نہیں دیتے\"، کان نہ ہوئے کوئی زبان ہوئی جو ذائقہ سے تعلق رکھے۔ \"صورتیں فسانہ ہوگئیں\"، صورتیں نہ ہوئیں کوئی ذکر اذکار ہوئے جو فسانہ سے نسبت دی گئی۔ \"دنیا کی ہر چیز انقلاب پسند ہے\"، لفظ پسند کو ملاحظہ فرمائیے اور ہر چیز کو جو ذی روح بن کر انقلاب پسند فرماتی ہے۔\n\nخیر ان باتوں کو جانے دیجیے، جان چھڑکنا اوّل تو یہ فرمائیے کہ آپ نے اپنے کانوں سے سنا ہے؟ کہاں سنا ہے؟ اور کس سے سنا ہے؟ مردوں سے یا عورتوں سے یا صرف کتب لغات میں دیکھا ہے؟ یا کسی استاد کے کلام میں نظر پڑا ہے؟ بے شک جان چھڑکنا بولا جاتا ہے مگر عورتوں میں اور وہ بھی اولاد یا مثل اولاد کسی نہایت قریبی رشتہ دار کی محبّت میں، نہ کہ عام محاورہ ہے اور ہر جگہ فرط محبّت کے موقع پر بولا جاتا ہے۔ اگرچہ عورتیں اس کی اصلیت سے واقف نہیں مگر اس موقع کے واسطے اس سے بہتر اور پر اثر لفظ ملنا مشکل ہے۔ جان کے لغوی معنی روح ہیں اور اطبّا کی اصطلاح میں جوہر لطیف یا بخار لطیف۔ ان دونوں صورتوں میں جان کا سیّال ہونا پایا جاتا ہے اور سیّال چیز کا چھڑکنا ممکنات سے ہے اور اس جگہ فرط محبّت سے جان نثار کرنے کے معنی ہیں۔ اب ایک اور طرح سے سنیے، اردو محاورہ میں جان بمعنی خون بھی آجاتا ہے جیسے خوف کے موقع پر جہاں دم خشک ہونا بولتے ہیں وہاں جان سوکھنا بھی استعمال کرتے ہیں اور دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، آپ نے کام سے جان چرانا بھی سنا ہوگا، بھلا اس جگہ جان نہ ہوئی کوئی گٹھڑی یا جوکھوں ہوئی کہ کوئی چرا کر لے جائے گا، حالانکہ صرف اسی کی ذات کے متعلق بولتے ہیں جو جان بوجھ کر کام سے بچتا ہے\n\n اب دیکھیے یہ گلاب کا عرق ہے یا کیوڑا۔ اور لیجیے جانفشانی فارسی کا محاورہ ہے اور اسی کا یہ ترجمہ ہے۔ اہل فارس پر آپ کا اس موقع کے لیے فرمائیے کیا اعتراض ہے؟ اسی جگہ آپ فرماتے ہیں \"کہ اب علمی دنیا کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ دہلی یا لکھنؤ کے اتّباع کی وجہ سے بے حد محبّت کرنے کا مفہوم جان چھڑکنے سے ادا کرے، سیدھی بات کیوں نہ کہی جائے کہ ہم اس آدمی سے بے انتہا محبّت کرتے ہیں\"۔ اگر آپ بے انتہا محبت یا صرف کسی کے ساتھ محبت کرنے کے دوسرے معنی پر توجّہ فرماتے تو ہرگز ہرگز یہ لفظ زبان پر نہ لاتے، ایسی ہی باتیں آدمی کو پابندیِ زبان سے آزادی حاصل کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ہمارے نزدیک علمی دنیا کو سب سے زیادہ زبان دانی کی ضرورت ہے ورنہ مفہوم کچھ ہوگا اور سمجھا کچھ جائے گا۔\n\nاب دوسرے محاورے اور لفظ کو بھی ملاحظہ فرمائیے! آپ ارشاد کرتے ہیں کہ \"اسی طرح کسی کے گھر میں آگ لگ جانے کا مفہوم اہل دہلی یوں ادا کرتے ہیں کہ فلاں شخص کے گھر میں پھول پڑا، آگ نہیں کہتے، اس کو وہ لوگ بد شگونی سمجھتے ہیں۔ یہ اچھا پھول پڑا کہ سارا گھر جل کر خاک ہو گیا اور یہاں خیر سے انگارے کو ابھی تک پھول ہی سمجھے بیٹھے ہیں۔ صاف صاف بات کیوں نہ کہی جائے کہ فلاں آدمی کا گھر جل گیا۔\" مہربانی فرما کر اوّل تو یہ ارشاد کیجیے کہ آپ کبھی دہلی میں آئے بھی ہیں یا نہیں؟ اگر آئے ہیں تو آپ کو بگوش خود اس محاورے کے سننے کا اتفاق ہوا ہے یا نہیں؟ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کسی کتاب یا کبھی کسی شعر میں دیکھ لیا ہے اور آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس محاورے کو عورتیں بولتی ہوں گی یا مرد؟ اگرچہ آپ کا یہ فقرہ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ اس کو وہ لوگ بد شگونی سمجھتے ہیں، یعنی یہ محاورہ ہو نہ ہو عورتوں کا ہو، کیونکہ یہی فرقہ اپنی زبان سے ایسے الفاظ نہیں نکالتا جس سے بد شگونی ہو۔ مثلاً \"خیر سے\" آپ نے ہی کئی جگہ برتا ہے۔ \"خدا کی سنوار\" بجاے خدا کی مار آپ نے سنا ہی ہوگا۔ \"تمھیں خدا کی نیکی\" بھی گوش زد فرمایا ہوگا۔ \"وہ جمی جم گھر میں ہیں\" یہ بھی کبھی نہ کبھی ضرور گوش آشنا ہوا ہوگا۔ اسی طرح پھول پڑنا بھی ظاہر کر رہا ہے کہ اس کو عورتیں ہی بولتی ہوں گی، مگر آپ نے اپنے ثبوت میں مرد و زن سب کو لے لیا اور بہت بڑی اپنی نا واقفیت ظاہر فرمائی۔ اب ہم سے سنیے۔ دہلی میں کوئی بھی اس محاورے کو اب نہیں بولتا اور نہ پہلے یہ محاورہ شہر کے اندر بکثرت بولا جاتا تھا۔ البتّہ قلعۂ معلّیٰ میں بیگماتوں نے اس کا کسی قدر استعمال کر رکھا تھا، لیکن عام آگ لگنے کے واسطے نہ تھا۔ اگرچہ رنگین کے ایک شعر میں یہ محاورہ موجود ہے مگر اس میں جو لفظ گوئیاں آگیا ہے یہ اس امر میں شبہ ڈالتا ہے، کیونکہ گوئیاں خاص پوربی محاورہ ہے جو آج تک دہلی کیا اطراف دہلی میں بھی نہیں بولا جاتا، وہ شعر یہ ہے ؎\n\nبھول کر بھی جو کسی اور کے گھر بھول پڑے\n\n(پہلا مصرع سر تا سر محاوروں سے پر ہے اور خاص کر بھول پڑے تو ہر ایک کی سمجھ میں بھی مشکل سے آئے گا۔)\n\nتو الہی کرے گوئیاں مرے گھر پھول پڑے\n\nعجب نہیں جو یہ شعر انشاء اللہ خاں کا ہو اور اگر بالفرض رنگین کا مانا جائے تو اس زمانہ کا ہوگا جس زمانہ میں سعادت یار خاں رنگین لکھنؤ میں جا کر اپنے پگڑی بدل بھائی انشاء اللہ خاں کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے اور باہم دونوں صاحبوں کی ریختیوں کا موازنہ ہوا کرتا تھا۔ لیکن رشک لکھنوی نے اس کو صاف کر دیا ہے چنانچہ اس کا شعر ہے ؎\n\nاہل جنّت کو ہو جنّت پر جہنّم کا خیال\n\nپھول اگر پڑ جائے میری آہ آتش بار کا\n\nاس سے ہماری یہ غرض نہیں کہ کسی شاعر نے بھی نہیں باندھا۔ جن لوگوں نے مردانہ زبان کا نام ریختہ اور بیگماتی بول چال کا نام ریختی رکھ چھوڑا تھا، انھوں نے اس زمانہ میں شاذ و نادر باندھا ہے۔ اہل لکھنؤ میں سے بحر اور انشا نے صرف ایک ایک شعر میں استعمال کیا ہے اور اہل دہلی میں سے نکہت اور رنگین نے۔ ان کے سوا ذوق، ظفر، مونس، درد، غالب وغیرہ کسی نے بھی اس کا استعمال نہیں فرمایا۔ اگر یہ محاورہ مروّج خاص و عام ہوتا تو کوئی بھی اسے نہ چھوڑتا، اہل لغت کو چونکہ ہر زمانہ کا محاورہ دکھانا منظور تھا انھوں نے بے شک داخل لغات کر دیا، محاورہ کی خوبی میں شبہ نہیں، لیکن آپ نے بے وقت مثال دی۔\n\nپھول کے لفظ پر آپ نے طعنہ مارا تھا یہاں وہ طعنہ بیکار ہوا بلکہ آپ نے جو لکھا ہے کہ \"یہاں خیر سے انگارے کو ابھی تک پھول ہی سمجھے بیٹھے ہیں۔\" سبحان اللہ کیا اچھا خیال ہے، انگارے کی تعریف بھی جناب کو معلوم نہیں، کیا انگارا اڑ کر جا سکتا ہے؟ یا انگارا اڑ سکتا ہے؟ اگر آپ ان الفاظ کے محل موقع سے واقف ہوتے تو اس جگہ چنگاری، شرارہ یا آگ کا پتنگا تحریر فرماتے۔ دیکھیے اہل زبان اور مقلّد زبان میں کس قدر فرق ثابت ہوا۔ اب دوسری طرح سے اس کا جواب ملاحظہ فرمائیے، جب کوئلے جلتے وقت چٹختے ہیں تو ان کو آپ کیا فرمائیں گے؟ کیا ان کے روشن ذروں کو پھول یا چنگاری یا پتنگے سے تعبیر نہیں کریں گے؟ کبھی آپ نے چراغ کو بھڑکتے ہوئے دیکھا ہوگا تو اس وقت جو روشن پتنگا سا یا اس کی جلتی ہوئی ٹیم نیچے گرتی ہے تو اسے بھی پھول کہتے ہیں یا نہیں؟ کیا توا جس وقت جلتے میں جگمگ جگمگ کرتا ہے تو اسے توا ہنسنا کسی وجہ سے کہتے ہیں یا نہیں؟ آتش بازی کے پھول تو آپ نے ضرور سنے ہوں گے، ان کو انگارا کیوں نہیں کہا؟ پھلجھڑی، ہتھ پھول، مہتابی، انار، جائی جوئی، بتاسے وغیرہ آتش بازی میں نظر اقدس سے گذرے ہوں گے۔ ان میں سے انگارے اچھلتے ہیں یا پھول نکلتے ہیں؟ تیسری مثال اور لیجیے، منہ سے پھول جھڑنا کیوں بولتے ہیں، منہ نہ ہوا کسی باغ کا بوٹا یا گل گلزار وجاہت ہوا۔\n\nہم نے آپ کے پہلے اعتراض اور اس کی مثال کے متعلق آپ ہی کے فقروں سے تھوڑا سا الزامی جواب دیا تھا، اب آپ اس کی نسبت اور نظیریں بھی ملاحظہ فرما لیجیے۔ زبان دینا کس معنی میں آپ خود بولتے ہیں، کیا زبان کی بوٹی کاٹ کر دے دی جاتی ہے؟ یا زبان نکال کر حوالہ کر دی جاتی ہے؟ یہ وہ لفظ ہے جو آپ کے روزمرّہ میں داخل ہے۔ سانچ کو آنچ نہیں، کیا سانچ کوئی مجسّم چیز ہے، یا کوئی درخت یا از قسم نباتات ہے؟ اسی طرح پیسہ کی آنچ، کیا پیسہ کسی قسم کی آگ ہے؟ تلوار کی آنچ، کیا تلوار کوئی شعلہ ہے؟ آنچ آنا بمعنی صدمہ پہنچنا بھی آپ نے سنا ہی ہوگا، چنانچہ کہا کرتے ہیں کہ تمھارے بچے کو ذرا آنچ آئے تو میرا ذمّہ۔ اب پھول کے چوتھے معنی اور لیجیے کہ پتّی یا برگ کے معنی میں بھی یہ لفظ مستعمل ہے، مثلاً سوکھی میتھی کے دو پھول ڈال دینے سے مچھلی اڑ جاتی ہے، یعنی خوشبودار اور خوش ذائقہ ہوجاتی ہے۔ پوربی زردے یعنی تمباکو کے دو پھول بھی سر پھرا دیتے ہیں، بھنگ کے دو پھول مانگ کر نشہ جما لو، ابھی سیاہی پھیکی ہے دو پھول اور ڈال دو۔ پانچویں اور لیجیے، برص یا کوڑھ کے دھبے اور دو آتشہ شراب کو بھی پھول کہتے ہیں۔ چھٹے معنی بھی ملاحظہ فرمائیے، کانسی دھات کو بھی پھول کہتے ہیں۔ پھول کا کٹورا، پھول کی تھالی سینکڑوں دفعہ سنی ہوگی۔ معلوم نہیں یہ کس درخت اور کس موسم کے پھول ہیں؟ علی ہذا القیاس اس قسم کے سینکڑوں اور بہتیرے استعارے یا محاورے ہیں جو ہر ایک زبان میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ زبان کی خوبی انھیں باتوں پر موقوف ہے۔ اور تو اور گنواری یعنی ادنی سے ادنی دہقانی زبان بھی ایسے استعاروں اور محاوروں سے خالی نہیں پائی جاتی، کجا کہ شہری اور خاص کر ٹکسالی زبان ان سے معرّا ہو یا بائی کاٹ یعنی متروک الاستعمال کر دی جائے۔ گنوار لوگ بیوقوف کو بچھیا کا باوا کہتے ہیں، کیا وہ در حقیقت گاؤ زادہ ہوتا ہے؟ پنجاب کے عوام الناس نا فہم کو ڈھگا کہتے ہیں، کیا وہ فی الواقع بیل ہوتا ہے؟ گدھا اسی معنی میں تمام ہندوستان کیا عرب تک میں مستعمل ہے، آپ نے سنا ہوگا الکاتب کالحمار۔ علی ہذا ہری چگ خود غرض کے حق میں، لاد جانا دودھ سے ہٹ جانے کے موقع پر، پسر چرانا پچھلی رات سے ڈھور چرانے لے جانے کو، بیس بسوے بجاے غالباً، سو بسوے یا بیسوں بسوے بجاے بالضرور، شرطی، بیچ کھیت بجاے علانیہ، بیٹی کا باپ بجاے نامرد یا بودا، ٹھور رکھنا بجاے کھیت رکھنا، کام تمام کرنا۔ سوت کے بنولے کر دیے، بنا بنایا کام بگاڑ دیا، قدر گھٹا دی۔ جیوڑی سے گردن گھسنی، تمام عمر نباہ کرنا۔ لٹیا ڈبو دی، بات بگاڑ دی۔ بھاڑے کا ٹٹو، جو بھروسے کے قابل نہ ہو وغیرہ وغیرہ۔ یہ ساری گنواری باتیں اصطلاحات سے خالی نہیں ہیں۔ میسور اور بمبئی کے خیال سے ان سب کو بائی کاٹ فرمائیے، بلکہ دیہاتی تعلیمی کتابوں میں سے بھی نکال دیجیے۔\n\nاب فرمائیے اس مثال سے کس کا گھر جل کر راکھ ہو گیا اور کس نے انگارے کو پھول سمجھا؟ کلکتہ ہو یا بمبئی، لاہور ہو یا پشاور، ملتان ہو یا بلوچستان جہاں کے لوگ اردو کو اردو سمجھ کر بولیں گے، اس کی تصانیف پڑھیں گے، وہ سب جان لیں گے کہ کہاں کون سا محاورہ بولا جاتا ہے۔ اوّل تو آپ کا یہ دعوی ہی غلط تھا کہ دہلی میں پھول پڑنا آگ لگنے کے موقع پر بولا جاتا ہے، جس حالت میں آج کل کے اہل دہلی نے نہیں سنا اور نہ زبان پر لائے تو آپ نے کہاں سے سن لیا؟ یوں فرمائیے کہ ایک اعتراض جڑنا تھا سو جڑ دیا اور وہ بھی بلا تحقیق، بلا مشاہدہ اور بلا تجربہ کسی پرانی کتاب میں دیکھ کر۔\n\nعلمی زبان جو شاید خود آپ ایجاد فرمائیں، وہ تو اس لوکل امتیاز کو مٹا دے گی، مگر پہلے آپ نے تو اس لوکل زبان کو اپنے مضمون میں نہ رہنے دیا ہوتا۔ ملاحظہ فرمائیے کہ یہ لوکل محاورے نہیں ہیں تو اور کون سے ہیں جو آپ نے تحریر فرمائے ہیں؟ جوتیاں چٹخاتے پھرنا، خالی موچھوں پر تاؤ دینا، جو جی بچے گا دیکھ لے گا، گھر میں چوہے قلا بازیاں کھا رہے ہیں، پھولنا پھلنا، دقیانوسی محاورے۔ کیا ان کو بمبئی یا میسور والے بخوبی سمجھ لیں گے اور دقیانوس کی تاریخ اور اس کی وجہ تسمیہ پر ان کو فوراً عبور ہوجائے گا، ہرگز نہیں، ہرگز نہیں، تا وقتیکہ اہل زبان کی تصانیف ان کی نظر سے نہیں گذرے گی، آپ کے ان محاوروں کو بھی وہ نہیں سمجھ سکیں گے۔ اور تو اور آپ کی تازہ نظم مسلم یونیورسٹی بھی دہلی کے محاوروں سے خالی نہیں، مثلاً ڈنکا بجانا، جامہ پہننا، چھاتی پر مونگ دلنا، بیل منڈھے چڑھنا وغیرہ۔\n\nاب ذرا اپنے خاص الخاص محاورات پر بھی نظر ڈال لیجیے جس سے معلوم ہو جائے کہ آپ نے با وجودیکہ اصلاح سخن کے مدّعی ہیں کہاں کہاں ٹھوکر کھائی ہے۔ ٹکے بھر کی زبان، اس کی بجاے ٹکا سی یا ٹکا بھر کی زبان فرما سکتے تھے، ٹکے بھر نہیں بولتے اظہار مقدار کے واسطے ایسے موقع پر ٹکا بول سکتے ہیں، حقہ کی متواتر گڑگڑاہٹ پر بے شک کہتے ہیں کہ ٹکے گن رہا ہے۔ \"شاہی (سید محمد تقی میر نے اپنے مرغ کے مرثیہ میں جس وقت بلی نے اس کی گردن مروڑ کر پھینک دی اور وہ اس کے پنجوں میں آ کر گری، ایک لطف پیدا کرنے کے واسطے تاج خروس کی مناسبت سے یہ شعر موزوں کیا تھا اور غالباً اسی کی یہاں ریس کی ہے ؎\n\nجھکا بسوے قدم سر خروس بے جاں کا\n\nزمیں پہ تاج گرا ہدہدِ سلیماں کا)\n\nتاج زمین پر گر پڑا\" اس کی بجاے شاہی تاج تاراج یعنی غارت ہوا کہتے ہیں۔ \"گنے چنے با کمال\" اس جگہ صرف گنتی کے با کمال بولتے ہیں۔ \"دل جسم کا بادشاہ ہے زبان اس کی وزیر\" \"دہلی اور لکھنؤ کے محاورے گھس پھٹ کر پرانے ہوگئے\"، یہ اس کی جگہ گھس پس کر کہا ہوتا۔ مگر یہ محاورہ بھی عورتوں ہی میں کپڑے کے ساتھ زیادہ مستعمل ہے، چونکہ آپ نے زبان کو اپنے دعوے کے برخلاف کپڑے سے استعارہ فرمایا اس وجہ سے اس پر زیادہ بحث نہیں کی جاتی۔ اس وقت آپ کا ایک شعر بھی یاد آگیا جو ایڈورڈ ہفتم کی وفات پر لکھا ہے، جس میں طوطی بجنا کا محاورہ خاص آپ ہی کا ایجاد ہے ؎\n\nوجاہت آج نوبت اٹھ گئی اڈورڈ ہفتم کی\n\nبجی ہے دھوم سے دنیا میں طوطی جارج پنجم کی\n\nطوطی نہ ہوئی، کوئی ڈھول یا نقارہ ہوا۔ طوطی بولتا ہے ضرور سنا ہے۔\n\nاب میں آپ کے باقی امور کی طرف لگتے ہاتھ چند حق حق باتوں کو تسلیم کر کے اور قابل اعتراض امور کا مختصر جواب دے کے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں، ورنہ یہ بحث اس قدر طویل ہے کہ برسوں میں بھی ختم نہ ہو اور ایک اصطلاح یا محاورہ ورق کے ورق سیاہ کرا دے۔\n\nزبان کی صرف اتنی تعریف جامع نہیں کہ \"زبان اس طر‌ز و انداز گفتگو کا نام ہے جس سے ایک دوسرے پر خیالات کا اظہار کیا جائے۔\" بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ زبان ان الفاظ و کلمات کا نام ہے جن سے اپنا مفہوم دوسروں پر حسب موقع انداز گفتگو کے ساتھ ظاہر کیا جائے، کیونکہ صرف طرز و انداز گفتگو کا نام زبان نہیں ہے بلکہ موقع بھی شرط ہے۔ زمانۂ حال کے ایک نامی لاہوری اردو اخبار میں ہماری نظر سے گذرا کہ نیولا چالاکی سے سانپ پکڑتا ہے، یہ دراصل انگریزی سے ترجمہ ہوا تھا، لیکن چونکہ مترجم کو اس موقع اور محل کا لفظ معلوم نہ تھا اس نے چالاکی ترجمہ کر دیا حالانکہ وہ پھرتی کا موقع تھا۔ گو چالاکی از روے معنی اس کا مترادف ہے مگر اس جگہ محاورے کے برخلاف ہے جس سے نیولے کی صحیح تعریف ادا نہ ہوئی۔ علی ہذا ایک دفعہ یہ فقرہ نظر سے گزرا: \"فی الحال مسلمانوں کو اردو زبان کی تحصیل پر چل پڑنا چاہیے\"، اہل دہلی جھک پڑنا بولتے۔\n\nایک حال کی تالیفات کیا، قدامت سے پرانے اور نئے الفاظ میں تغیّر و تبدّل ہوتا آیا ہے، مگر لہجہ نہیں بدلا۔ آپ کا یہ فرمانا آپ کے نزدیک ٹھیک ہوگا کہ \"لکھنؤ اور دہلی نے پچاس سال میں کچھ بھی لٹریری ماسٹر تیار نہیں کیے\"۔ اگر حضرت شرر غدر سے پیشتر کی پیدائش نہیں ہیں اور غالباً نہ ہوں گے کیونکہ ان کے چہرۂ مبارک سے اتنی بڑی عمر نہیں پائی جاتی تو یہ کس پچاس سال میں شمار ہوں گے۔ علی ہذا سید سجاد حسین صاحب اڈیٹر اودھ پنج وغیرہ۔ رہی دلّی، اس غریب پر اگرچہ غدر کے طفیل یہ آفت آئی کہ اوّل تو یہاں کے نامی علما و فضلا کا صفایا ہوا اور اگر کچھ رہے تو انھیں عدم اطمینان اور فکر معاش نے تنگ کیا۔ سب سے بڑا غضب یہ ہوا کہ دہلی کالج جہاں سے بڑے بڑے لائق لٹریری مین تیار ہو کر نکلتے، صرف بارہ برس دہلی کی ہوا کھا کر لاہور سدھارا۔ اگر مسلمانوں کو اس زمانہ میں بھی انگریزی سے رغبت ہوتی تو دس بارہ برس کے عرصے ہی میں بہت کچھ کر دکھاتے۔ اس کے علاوہ قلعہ کے اجڑنے سے ان کو پیٹ کی پڑ گئی، لٹریری مین کیونکر بنتے۔ جب کسی کام پر کمر باندھ کر اٹھے اگر ایک وقت کی روٹی بھی بے فکری سے مل گئی تو ان کی غفلت، ان کی سستی، ان کی کاہلی نے یہی کہا: \"لیٹ رہو مین\"۔ جب خدا دے کھلانے کو تو بلائے جائے کمانے کو ؎\n\nاب تو آرام سے گذرتی ہے\n\nعاقبت کی خبر خدا جانے\n\nمگر اس پر بھی لٹریری مینوں کی کمی نہیں ہوئی۔ اوّل ہمارے ہندو ہم وطن بھائیوں کو دیکھو کہ انھوں نے اس تھوڑے سے وقت میں بھی اپنا کیسا جوہر دکھایا۔ دیوان سری رام صاحب ایم۔ اے علم تاریخ کے کیسے ماہر نکلے، لیکن ریاست الور کی مدار المہامی نے تصنیف و تالیف کی مہلت نہ دی۔ آنریبل راے بہادر لالہ مدن گوپال صاحب ایم۔ اے بیرسٹر ایٹ لا کس پایہ کے لائق ہوئے کہ اردو میں صرف علم منطق پر ہی نہایت عمدہ رسالہ نہیں لکھا بلکہ قانونی کتابوں کے ترجمہ کے علاوہ میونسپل ایکٹ، کورٹ ایکٹ، ایکٹ مزارعان پنجاب، ایکٹ لگان پنجاب، لاز ایکٹ پنجاب وغیرہ تک بنا کر تیار کر دیے اور اپنی روشن دماغی اس قدر ثابت کی کہ سب سے پہلے وہی آنریبل ہوئے۔ وائسراے کی کونسل میں داخل ہونے والے تھے کہ اکیاون برس کی عمر میں چل بسے۔ لالہ سری رام صاحب ایم۔ اے خلف الرشید آنریبل لالہ مدن گوپال صاحب مدوّن تذکرۂ ہزار داستان یعنی خمخانۂ جاوید جنھوں نے اساتذہ کے نا پید دیوان بہم پہنچا کر شائع فرمائے، کمال دہلی رسالہ نکلوایا، ایک اعلی درجہ کے لٹریری مین ہیں۔ راے بہادر ماسٹر ساگر چند صاحب جو انگریزی اور اردو دونوں زبانوں کے ماہر کامل اور سر رشتۂ تعلیم پنجاب کے فیض رساں رکن اعظم ہیں۔ راے حکم چند صاحب ایم۔ اے کا حیرت افزا ذکر سنیں تو آپ یونہیں رہ جائیں۔ جس زمانہ یعنی سنہ 69ء میں انھوں نے ایم۔ اے کا امتحان دیا تھا تو اس وقت شمالی ہند میں متعدد کالج تھے۔ دہلی کالج جسے ابھی چھ سات برس ہی جنم لیے ہوئے گذرے تھے اسی کالج سے راے صاحب نے ایم اے کا امتحان دیا اور تمام یونیورسٹی میں سب سے اول رہے۔ خیر لکھنؤ اور دہلی کو جانے دیجیے مگر کلکتہ کے پریسیڈنٹی کالج سے بازی لے جانا کارے دارد۔ کیونکہ بنگالی ماشاء اللہ علمی ترقی میں کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہے، انگریزی ان کی مدر ٹنگ بن گئی ہے۔ دماغ یورپ کے عالی دماغوں سے ٹکّر کھانے لگا ہے۔ اس کے بعد آپ نے ملازمت اختیار کی۔ سنہ 73ء کے بنگال اور اڑیسہ کے قحط میں وہ لیاقت دکھائی کہ سنہ 77ء کے دربار قیصری کے موقع پر وایسراے ہند نے اپنے دست مبارک سے دو طلائی تمغے مرحمت فرمائے۔ اگر یہ جوڈیشل سروس پنجاب سے 82ء میں استعفا نہ دیتے تو چيف کورٹ کی ججی کے واسطے بھی رپورٹ ہو گئی تھی۔ اب قانونی لیاقت کی طرف توجہ فرمائیے، تعزیرات ہند کی اردو شرح، ضابطۂ دیوانی اور ضابطۂ فوجداری کی اردو شرح ایسی مقبول عام لکھی کہ انھیں ایک مطبع کر کے ماہواری قانونی رسالہ نکالنا پڑا۔ اس کے علاوہ لا آف کنسینٹ (Law of consent) کا نہایت عمدہ اور سب سے پہلا ترجمہ کیا، جس نے دقیق سے دقیق قانونی اصطلاحوں، ادق مضامین کو اردو میں نہایت آسان اور پانی کر کے دکھا دیا۔\n\nاس کے بعد جب آپ حیدرآباد دکن تشریف لے گئے اور لیجس لیٹیو کونسل کے سکریٹری مقرر ہوئے تو وہاں بسرپرستی اعلی حضرت بندگان عالی متعالی (His Pidicete) یعنی دفعہ تیرہ ضابطہ دیوانی کی شرح ہزار صفحوں پر ایسی مبسوط اور مدلل لکھی کہ امریکہ، فرانس اور انگلستان کے نامور مقننوں نے ان کی عالمگیر واقفیت و معلومات کی صرف داد ہی نہیں دی بلکہ ان کے مشرقی دماغ پر حیرت ظاہر کی۔\n\nاگر ہندوستان کے کسی دوسری جگہ کا آدمی ایسا لائق ہوا ہو تو وہ ہمیں دکھا دو، لیکن ان کو بھی بد نظروں کی نظر کھا گئی۔ سائم صاحب بہادر کو اپنے ان شاگردوں پر ناز تھا اور دہلی والوں کی روشن دماغی کی نظیر میں ان کے نام پیش کیا کرتے تھے۔ لالہ سورج نرائن متخلّص بہ مہر نے سر رشتۂ تعلیم پنجاب میں علمی کتابوں کی تصنیف سے جو کچھ مدد دی وہ اب تک پڑھائی میں داخل ہیں اور کلام مہر ان کی انوکھی شاعری کا اعلی نمونہ۔\n\nلیٹنر صاحب کی دشمنی بھی ان کا کچھ نہ کر سکی، البتّہ شاہجہاں آباد کا پہلا سا علمی عزّ و شرف صرف انگریزی کی طرف توجہ نہ کرنے اور یہاں موجودہ سلطنت کا دار الصدر یا دار الحکومت نہ ہونے سے جاتا رہا۔ بلکہ ایک وجہ یہ بھی ہے اہل حرفہ، دستکاری پیشہ لوگوں نے تو پیٹ بھر لینے کو کافی سمجھا اور جو کھاتے پیتے تھے انھوں نے اپنا آبائی علم و ہنر چھوڑ کر یا تو دوسری طرف توجہ نہ کی یا بساط سے زیادہ مدارس کے اخراجات کی برداشت نہ کر سکے، قوت لا یموت پر مٹے رہے، لیکن پھر بھی اصحاب ذیل اس وقت اپنا جوہر طبیعت ایسا دکھا رہے ہیں کہ آپ کو ان کا نام سن کر اپنی ناواقفیت پر آپ افسوس آئے گا۔\n\nخان بہادر میر ناصر علی صاحب مالک صلاے عام مضمون آفرینی، مضمون نگاری، متانت، بلاغت، ظرافت میں کیسے شہرہ آفاق ہیں۔ شیخ محمد عنایت اللہ صاحب بی۔ اے خلف منشی ذکاء اللہ مرحوم مصنّف تذکرۂ ابو ریحان بیرونی و مترجم مضامین اشاعت الاسلام مصنّفہ جناب ٹی ڈبلیو آرنلڈ صاحب اور نیز آپ نے پریچنگ آف اسلام کا قابل قدر ترجمہ انگریزی سے اردو میں کیا لیکن موجودہ ملازمت نے ان کا سارا وقت لے لیا ہے جس سے یہ مجبور ہیں۔ مولوی احمد حسن صاحب سابق تعلّقدار ریاست نظام، علم عربی کے بڑے ادیب، تفسیر قران کے مفسّر اور ترجمہ مشکوۃ کے نامی مترجم ہیں۔ مولوی سید اشرف حسین صاحب بی۔ اے جنھوں نے میر حسن کی مثنوی کا دیباچہ لکھا اور مخزن پریس میں مع مثنوی طبع ہوا، حافظ سید حسین صاحب عرشی ہمشیرہ زادۂ مولوی نذیر احمد صاحب ایل۔ ایل۔ ڈی جن کے مختلف مضامین نظم و نثر مخزن و عصمت میں نکلتے رہتے ہیں اور آج کل آپ تذکرۂ خواتین دکن و سلطانہ چاند بی بی تصنیف فرما رہے ہیں۔ مولوی بشیر الدین احمد صاحب مصنّف حرز طفلاں و اقبال دلہن وغیرہ۔ مولوی عبد الراشد صاحب الخیری مصنف صبح زندگی، منازل السائرہ، صالحات وغیرہ۔ قاری سرفراز حسین عزمی دہلوی مصنف شاہد رعنا، سعید و سعادت، انگریزی سلکشن آف دی قران۔ ڈاکٹر مشرف الحق صاحب ایم۔ اے پی۔ ایچ۔ ڈی جنھوں نے انگلستان کے کتب خانہ کی لسٹ بڑی قابلیت سے تیّار کی اور ان کے مضامین مخزن میں نکلے ہیں۔ مولوی عبد الجبار، مولوی عبد الستار خیری ایم۔ اے امریکہ یونیورسٹی جنھوں نے بیروت میں مسلمانوں کا دار العلوم قائم کر دیا اور اس کے کورس تیار کیے۔ ماسٹر سید ذاکر حسین صاحب مصنف اتالیق انگریزی، پاکٹ ہسٹری وغیرہ۔ یہ دس پانچ برس سے ایک اور عظیم الشان تاریخ ملازمت چھوڑ کر لکھ رہے ہیں جو یقین ہے اس سال میں ختم ہو جائے۔ ان کی اور بھی کئی کتابیں ہیں جن کا ہمیں اس وقت نام یاد نہیں۔ مولوی انعام الحق و مولوی احتشام الدین جن کے مضامین اور جن کی کوشش سے رسالۂ خاتون نے جنم لیا۔ مولوی احمد علی خاں جن کے دم سے سلسلۂ اتالیق نسواں تیار ہو کر شائع اور مفید مستورات ہوا۔ مولوی نصرت علی مالک نصرت الاخبار، شیخ نور الہی مصنف نا خواندہ مہمان و قتل شوہر وغیرہ۔ ان کے علاوہ منشی درگا پرشاد نادر مصنف کتب متعددہ بھی قابل ذکر ہیں۔ جب یہ لٹریری مین نہیں شمار ہو سکتے تو اور کون سے ہو سکتے ہیں۔\n\nزندہ دلان پنجاب خدا ان کی ہمّت، ان کی اولو العزمی، ان کے استقلال میں برکت دے باوجود عدم فراغ بالی اس طرف جھک پڑے اور ایسے جھکے کہ اپنے وطن، اپنی قوم کی ناک کیا لاج رکھ لی، ہمیں ان پر فخر کرنا چاہیے۔ دنیا میں ترقی ایک ہرتی پھرتی چھاؤں ہے، لیکن یہ اب بھی ہم کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ مقامی اثر کو کوئی نہیں بدل سکتا، ہر ایک چیز اپنی خاص جگہ میں خوب پھولا پھلا کرتی ہے اور اصل جوہر وہیں دکھایا کرتی ہے۔ کشمیر کو زعفران کے ساتھ، باڑے کو چاولوں کے ساتھ، سرولی کو آموں کے ساتھ، سہارنپور کو نیشکر کے ساتھ، لمبے لمبے بالوں کو بنگالہ کے ساتھ، ناگپور کو رنگتروں کے ساتھ، بمبئی کو کیلوں کے ساتھ، بنگالہ اور دکن کو تاڑی کے ساتھ، انناس اور ناریل کو کلکتہ کے ساتھ، لاہور کو بید مشک کے ساتھ، میسور کو صندل کے ساتھ جو مناسبت ہے وہ ہر ایک سر زمین کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔ بقول شخصے مانگے کے پروں سے اڑا نہیں جاتا یعنی آمد اور آورد میں بہت بڑا فرق ہو جاتا ہے۔ لیکن اس پر بھی زبان اردو میں جس قدر انھوں نے ترقی کی، قابل داد و صاد ہے۔ مگر محاورات کے اختراع کرنے اور مادری زبان کی طرح اس پر قابو پانے سے ابھی کوسوں دور ہیں اور یہ فرق اگر اہل دہلی بھی اجڑ کر وہاں جا بسیں تو لاہور کے خطے کی آب و ہوا اس صورت میں بھی پنجاب کے لب و لہجہ کو چھوڑ کر تا وقتیکہ دہلی میں جنم نہ لیا جائے یہاں کے لب و لہجہ میں شامل نہ ہونے دے۔ اہل فارس کا لب و لہجہ اہل ہند کہاں سے لا سکتے ہیں، اہل عرب کی طرز گفتگو کیوں کر پیدا کر سکتے ہیں، یوریشین اور یورپین کی زبان میں کیوں فرق ہے، کرنٹوں کی انگریزی اور دوغلوں کی انگریزی میں کیوں بل ہے، اٹیلین حرف ٹی کیوں نہیں نکال سکتے؟ یہ ساری باتیں مقامی اثر سے متعلق ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ جس طرح غیر ممالک کے مصنفوں نے طویل طویل کتابیں دوسری زبانوں میں لکھی، علوم و فنون کے ترجموں سے اپنے ہم وطنوں کو بڑے بڑے فائدے پہنچائے اسی طرح اہل پنجاب پہنچا رہے ہیں۔ البتہ شعر گوئی میں جس طرح اہل لکھنؤ اساتذہ کے کلام سے یا اصلاح سے مدد لے لے کر خاصے زبانداں بن گئے ہیں، اسی طرح باشندگان لاہور بھی ان سے پیچھے نہیں رہ سکتے، بلکہ لکھنؤ اور دہلی کی مسافت کا فرق ہانکے پکارے یہ کہہ رہا ہے کہ لاہور ضرور ایک دن دہلی کا بچہ بن جائے گا اور اب بھی اس میں اردو زبان کے ایسے لائق اہل سخن پیدا ہونے لگے ہیں کہ انھوں نے حضرت داغ کا پورا پورا تتبع کر کے دکھا دیا ہے، بلکہ مغربی و فلسفی خیالات کی چاشنی نے مضامین کے لحاظ سے شاگردوں کو بھی مغربی استاد بنا دیا ہے۔ لیکن اس صورت میں بھی ہم لاہور کو مرکز کہنے میں مبادرت نہیں کر سکتے اور اس کا ادنی سا ثبوت یہ دے سکتے ہیں کہ لاہور کا کوئی سا تعلیم یافتہ کوئی سی ٹھیٹ اردو عبارت لکھ کر اسی عبارت کو اہل دہلی سے ملا کر دیکھ لے، ضرور کوئی نہ کوئی بات اہل زبان کے بر خلاف اس میں پائی جائے گی۔ گو لغوی غلطیوں سے، صرفی غلطیوں سے وہ پاک ہے، مگر آب و گل کے اثر کو نہیں بدل سکتی۔ یہ کہنا غلط بلکہ محض خوشامد ہے کہ لاہور ٹھیٹ اردو زبان کا مرکز کہے جانے کی قابلیت رکھتا ہے، ہاں ہندوستانی زبان یا اردو مخلوط زبان بولنے، لکھنے، پڑھنے کی اس میں پوری پوری قابلیت و صلاحیت آگئی ہے جو روز بروز بڑھتی چلی جاتی ہے اور یہ زبان خاص کر اہل اسلام سے زیادہ تعلق رکھتی ہے۔\n\nالبتہ اس بات کا ثبوت ہم کو ابھی تک نہیں ملا کہ داغ مرحوم آپ کے بقول زمانے کی رفتار کے ساتھ ساتھ اپنا رنگ زبان بھی بدلتے گئے۔ ہمارے نزدیک داغ نے اپنی پہلی ہی زبان قائم رکھ کر یہ عروج پایا۔ جو معاملہ بندی، جو روزمرّۂ دہلی وہ ابتدا سے لکھتے آئے تھے اسی کو لکھتے چلے گئے اور یہی ان کی قدردانی کا باعث ہوا۔ اگرچہ دہلی مٹ گئی مگر اس کی زبان، اس کے چوچلوں، اس کے محاوروں، اس کے انداز کلام کو نہ مٹایا، نیچری شاعری کو انھوں نے پسند نہیں کیا، کوئی ناول یا ڈراما انھوں نے نہیں لکھا، کوئی سائنس یا کسی اور علوم جدید کا پہلو انھوں نے اختیار نہیں کیا، پھر وہ کون سے زمانہ کی رفتار تھی جو انھوں نے اختیار کی، وہ تو ہمیشہ اپنے اسی رنگ میں ڈوبے رہے جس رنگ میں انھیں خدا داد ملکہ حاصل تھا۔ ہمارے وہ دوست تھے، فصیح اللغات میں انھوں نے ہماری فرہنگ آصفیہ سے کچھ مدد لی، جسے مقابلہ کر کے دیکھیے۔ تقاضا کر کے ہم سے کتابیں منگوائیں۔ جب ہم حیدرآباد گئے تو ہر بار دعوتیں کھلائيں، اپنے قصیدوں کی داد چاہی اور فرمایا کہ لوگ کہتے تھے کہ داغ قصیدہ نہیں لکھ سکتا، دیکھیے خدا نے یہ مشکل بھی کیسی آسان کی۔ احکم الحاکمین نے انھیں دہلی کی زبان کا بادشاہ بنایا تھا۔ وہ اصناف سخن پر قادر تھے، گو بعض سخن سنج یہ فرماتے ہیں کہ حضرت داغ رباعی کے وزنوں کی پابندی سے آزاد رہے، مگر ان باتوں کو سخن فہم ہی خوب سمجھ سکتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ \"بعض موقعوں پر ان کا قدم رفتار ‌زمانہ سے بھی کچھ آگے بڑھ کر پڑا\"، جس کی نظیر کے واسطے ہمار دل بے تابی کے ساتھ منتظر ہے۔ داغ کا کلام سو برس کیا جب تک زبان اردو کا نام باقی ہے برابر قائم و برقرار رہے گا۔ وہ کون سی بات ہے کہ دہلی کے اور شاعروں نے جس کی طرف توجہ نہیں کی، وہی پرانی ترکیبیں اور دقیانوسی محاورے ہوتے۔ جن پرانے محاوروں کی سمجھ سے آدمی عاری ہوتا ہے وہاں ایسے ہی جملے زبان سے سرزد ہوا کرتے ہیں۔ خواجہ حالی کی برکھا رت، سیف الحق ادیب کی برکھا رت، بدر الاسلام شائق کی برکھا رت دیکھیے کس زبان میں ہے۔ حضرت داغ کی ان رنگوں کی طرف توجہ ہی نہ تھی۔ ایک دفعہ منشی احسان اللہ مخیّر ان کے استاد بھائی کا ذکر آیا فرمایا کہ ہم کو ان سے کمال محبت ہے، اب کہاں ہیں اور کس رنگ میں ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ رڑکی میں ہیں مگر عاشقانہ شعر گوئی سے توبہ کر لی ہے۔ فرمایا بس تو اب ہم نے بھی یاری کُٹ کر دی۔ اور سنو ایک دفعہ خواجہ حالی نے حضرت داغ کو لکھا کہ کیونکر گذرتی ہے؟ انھوں نے اس کے جواب میں اپنی دو تازہ غزلیں بھیجیں اور سید وحید الدین احمد صاحب بیخودؔ حاضر الوقت سے یہ سطریں لکھوائیں کہ \"بھائی میں تمام دن گھر کی کنڈی لگائے اپنی زبان کی حفاظت کرتا رہتا ہوں\"۔ یعنی وہی قدیم انداز، وہی بندش، وہی دائرہ ہے، اس سے باہر نکلنا منظور نہیں۔ اعتبار نہ آئے تو ان غزلوں کے رنگ کو دیکھ لو، اس بیان سے بھی یہی ظاہر ہے کہ کوئی نیا رنگ اختیار نہیں کیا۔ جو اشعار مقبول آپ کے کانوں کو مزہ نہ دیں تعجب ہے کہ اصلاح سخن میں انھیں الفاظ سے بھری غزلیں درج ہوتی رہتی ہیں اور وہی پرانا عاشقانہ رنگ پایا جاتا ہے۔ دہلی اہل کمال کہاں سے پیدا کرے، پیٹ کو ٹکیا نہیں سونے کو کھٹیا نہیں، اطمینان ہو تو سب کچھ کیا جائے۔ وہی مثل ہو رہی ہے کہ مردے کو بیٹھ کر رویا جاتا ہے اور روٹی کو کھڑے ہو کر۔ اگر یہ لوگ کچھ اپنے مادّۂ خدا داد سے کر کے بھی دکھائیں تو اپنا قدر دان کہاں سے لائیں، خدا وہ دن کرے کہ کلکتہ کی بجاے دہلی دار السلطنت ہو جائے یا لاہور کی لفٹنٹی یہاں آجائے تو ہم دکھاویں کہ یہاں کے اجلی سمجھ والے کیا کچھ کر دکھاتے ہیں اور اب تو رات دن روٹی کے دھندے میں لگے رہتے ہیں۔ بقول خواجہ میر درد ؎\n\nوہ دن کدھر گئے کہ ہمیں بھی فراغ تھا\n\nیعنی کبھو تو اپنا بھی دل تھا دماغ تھا\n\nلیکن اب بھی جو دو چار ٹوٹے پھوٹے دم ہیں، غنیمت ہیں۔ بلکہ چھوٹی تانتی بھی جودت طبع، رسائی دماغ، بلند پروازیِ خیالات میں اپنی آن بان دکھاتی رہتی ہے۔ اگر روزانہ پیسہ اخبار وغیرہ کا یہاں اسی طرح شوق رہا تو ان کے مطالعہ سے روز بروز علمی مذاق بھی بڑھتا جائے گا۔ اتنا تو ہو گیا ہے کہ جو لوگ بازار سے خرید کر پڑھنے کا مقدور نہیں رکھتے تو وہ دلّی پبلک لائبریری میں ضرور جا کر پڑھ آتے ہیں۔\n\nتجارتی منڈی کے جو دھنی ہیں انھوں نے بھی قومی مدرسے کھول دیے، جہاں سے تجارتی کاروبار اور ابتدائی تعلیم کی پلٹنیں نکلنی شروع ہوگئی ہیں۔ کوئی وکالت پر گرا ہے تو کوئی تجارتی مشغلہ پر باقاعدہ ڈھلا ہے۔ مضمون نگاری، انشا پردازی، مدرّسی، ماسٹری میں بھی قدم رکھنے لگے ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے کہ دہلی کے پنجابی تاجر ہر فن مولا ہو جائیں گے۔ اصلاح قوم، اصلاح رسوم، درستیِ اخلاق پر بھی ٹوٹ پڑے ہیں۔ دہلی کا نام رکھ لینے والے اگر ہیں تو اب یہی اصحاب ہیں۔ آسودگی نے سخاوت کا ڈنکا بھی انھیں کے نام کا بجوا دیا ہے، مگر بعض بعض سخاوتیں ایسی ہیں کہ وہ لوگوں کو رہا سہا سست، کاہل اور مجہول بنائے دیتی ہیں۔ حرفت، پیشہ، مزدوری، ملازمت چھوڑ چھوڑ کر مردوں اور عورتوں نے بھیک مانگنے پر کمر باندھ لی ہے۔ زکوۃ سے، صدقہ سے، فطرہ سے، قربانی سے، مال میّت سے، فاتحہ درود کے لوازمات سے، حج کے نام سے لوگوں کو برابر مدد پہنچ رہی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ سخاوت نہیں اہل اسلام کے ساتھ عین عداوت ہے۔ جن لوگوں کو گھر بیٹھے بلا محنت و مشقّت روٹی ملے وہ کیونکر کوئی ایجاد یا اختراع رفع ضرورت کے واسطے بر روے کار لا سکتے ہیں، کیونکہ ہر ایک ایجاد اور اختراع کی رہنما ضرورت ہے۔ جب ما یحتاج کی ضرورت نہ رہی تو کیوں کوئی فن نکالا یا علم ایجاد کیا جائے۔ یونان بھیک کو عیب نہ سمجھنے سے اپنے کاروبار چھوڑ کر ایک مرتبہ تباہ و برباد ہوچکا ہے، اب ہندوستان کی باری ہے۔\n\nاس میں کیا کلام ہے کہ آگرہ اور اودھ کے بعد پنجاب، دکن اور بہار نے اردو زبان کی بہت کچھ خدمت کی ہے۔ خان بہادر مولوی سید علی محمد صاحب شادؔ، مولوی فضل حق صاحب آزادؔ، حکیم سید فہیم الدین صاحب فہیمؔ عظیم آبادی، مولوی حبیب الرحمن صاحب مونگیری، مولوی ابو العاص صاحب ہوسؔ عظیم آبادی ان سب روشن سیّاروں کے آفتاب مولوی قاری مولانا شاہ سلیمان صاحب پیر زادۂ پھلواری کیسے مقدّس، خوش بیان، خوش تقریر قابل فخر بزرگوار ہیں، مگر میرٹھ بھی کچھ کم نہیں ہے۔\n\nپنجاب کی ترقی کو ہم دل سے مانتے اور سراہتے ہیں، لیکن دکن پر ترجیح نہیں دے سکتے۔ لٹریری ذخیرہ تیار ہونے میں جس وجہ سے قدرے کمی ہوئی وہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں، مگر اصلاح سخن کے مطلب کی فوج ہمیشہ تیار ہے، یعنی ابھی تک دہلی شعراے گرامی قدر سے خالی نہیں ہے گو اہل لکھنؤ کی طرح یہاں ذرا ذرا سی بات پر دھوم مچا دینے کی عادت نہیں، لیکن ملکۂ خدا داد، طبع وقاد، رسائی طبع، لطافت زبان ان کے گھر کی لونڈی ہے۔ بچہ بچہ بلحاظ زبان ذوق، میر، داغ، غالب، مومن بنا ہوا ہے۔ ایک تھیلی کے چٹّے بٹّے ہیں۔ یعنی جو ان کا خمیر تھا وہی ان کا خمیر ہے، جس باغ کے وہ گل بوٹے تھے، اسی باغ کے یہ غنچے اور کلیاں ہیں۔ پشت پناہ سخن اردو عالی جناب سید ظہیر الدین (افسوس کہ حال میں بمقام حیدرآباد دکن انتقال فرمایا) حسین صاحب ظہیرؔ دہلوی کا ولولہ انگیز، نزاکت آمیز کلام سنو اور انھیں ملجا و ماواے سخن بے چوں و چرا نہ مانو تو ہم اپنا کان پکڑیں۔ سید وحید الدین احمد صاحب بیخودؔ کا کلام سن کر بے خود نہ ہوجاؤ تو ہم ہارے تم جیتے۔ منشی کرم اللہ خاں صاحب شیداؔ کے کلام پر فریفتہ ہو کر نہ مر مٹو تو ہمارا ذمّہ۔ حضرت مولوی عبد الرحیم خاں صاحب بیدلؔ کی فصاحت اور روزمرہ تمھارا دل نہ چھین لے اور دل پکڑے پکڑے نہ پھرو تو ہم جھوٹے تم سچے۔ نواب احمد سعید خاں صاحب طالبؔ کے اشعار سنو تو شاگردی کے طالب ہو جاؤ۔ نواب سراج الدین احمد خاں صاحب سائلؔ کی نغمہ سنجی پر کان لگاؤ تو فقیر بن جاؤ۔ آغا صاحب شاعرؔ کی بلند پروازی دیکھو تو انھیں آقاے سخن سمجھنے میں تامّل نہ کرو۔ علی ہذا القیاس ان سے آگے چلو تو منشی بہاری لال صاحب مشتاقؔ کے پیارے کلام کے ہمیشہ مشتاق رہو۔ منشی قمر الدین صاحب قمرؔ کے لیے چکور بن کر آسمان کے چکر کاٹتے پھرو۔ بابو مہاراج بہادر برقؔ کے دھواں دھار اشعار کی برق اندازی پر نظر ڈالو، اگر زمین پر لوٹے لوٹے نہ پھرو تو اس سمجھ پر بجلی ٹوٹے۔ مرزا تقی بیگ صاحب شیداؔ کے کلام پر شیدا و والہ بنو۔ منشی سورج نراین صاحب مہرؔ کی صوفیانہ و موحدانہ جلوہ افروزیوں سے آنکھ لڑاؤ اور چکا چوند سے سورج مکھی نہ بن جاؤ یا ان کے ناراین کی شکتی کو نہ مانو تو ہمیں مات دو۔ محمد مرزا خاں صاحب عابدؔ کے لیے معبود کی قدرت دیکھ کر سر بسجود نہ ہو جاؤ تو ہمیں عبادت کا منکر سمجھو۔ پنڈت برج موہن دتاتریہ صاحب کیفی کے سرور افزا اشعار سن کر مسرور نہ ہو تو ہمارے دعوے کو بے بنیاد ٹھہراؤ۔ حکیم اسد علی خاں صاحب مضطرؔ کا کلام آپ کو مضطرب و بے قرار نہ پھرائے تو جو کچھ تم سے کہا جائے ہمیں کہہ لو۔ منشی گوری شنکر صاحب قصیرؔ کے کثیر المعانی اور قصیر التعداد شاعرانہ الفاظ و وفادارانہ مضامین کو دیکھو اور یونہیں نہ رہ جاؤ تو ہمیں قصور وار ٹھہراؤ۔ نواب سید اکبر مرزا صاحب سید کا کلام سنو اور ساداتی کرشمہ کے معتقد نہ بنو یا انھیں گل شعرا کا سردار با وقار نہ مانو تو بے شک ہمیں قائل کرو۔ مرزا خورشید عالم بہادر گورگانی خورشیدؔ کے اشعار کا کبھی جلال کبھی جمال دیکھو اور آفتاب پرستی پر نہ اتر پڑو تو بے شک ہمیں شمّاسی خیال کرو۔ اسی طرح اگر ضیاء گورگانی کے کلام کی نور افزا شعاع تار برقی کی طرح رگ رگ میں سرایت کر کے نورانی جلوہ نہ دکھا دے تو ہمیں معدوم البصر جانو۔ محمد تقی بیگ مائلؔ کے لیے بصدق دل مائل ہو اور آکر ان کا کلام سنو تو قلعی کھلے۔\n\nبے شک یہ لوگ شہرت طلب نہیں ہیں، یہ اپنی شہرت کو تشہیر اور اس قسم کی ناموری کو عین تحقیر سمجھتے ہیں مگر کوئی شائق آجائے، ان کا کلام سنے یا سن کر لے جائے تو اس میں دریغ بھی نہیں فرماتے۔ یہ بھی ایک مرکزی ثبوت ہے۔\n\nیہ بات تامّل طلب ہے کہ \"دہلی یا لکھنؤ کے بعض محاورے پرانے ہوگئے، ان کو قابل استعمال نہیں سمجھتے\"۔ یوں تو ہر ایک زبان غیر مانوس الفاظ کو چھوڑتی اور مانوس کو اختیار کرتی جاتی ہے اور یہی حال دہلی کا بھی قیاس میں آسکتا ہے، مگر دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو قابل استعمال نہیں سمجھتے۔ اگر اہل دہلی ہیں تو یہ بات قابل اعتراض نہیں، وہ حکّ و اصلاح کے مجاز ہیں جو کچھ کریں گے اپنی زبان اور رجحان کے موافق کریں گے۔ اگر باہر والے ہیں جن کی جہالت سے خدا نکالے اور ان کے بے میل، بے جوڑ الفاظ سے پالا نہ ڈالے تو یہ بات قابل تسلیم نہیں۔ اس کے علاوہ بعض کا اطلاق کل یا کثرت پر نہیں ہو سکتا، جزو کی خاطر کل کو چھوڑنا انصاف کے برخلاف ہے۔\n\nایک پنجاب کے اخباروں پر کیا موقوف ہے، جہاں کے اخباروں میں کوئی بات چھپے گی وہ سب میں مشتہر ہو جائے گی۔ اگر وہ اخبار کثیر الاشاعت نہیں ہے اور وہ بات اس قابل ہے کہ اس سے عام لوگوں کو باخبر کیا جائے تو کثیر الاشاعت اخبار خود اسے اپنے اخباروں میں جگہ دیں گے اور اگر جگہ نہ دیں گے تو پبلک کے گناہ گار ٹھہریں گے۔ اس میں علمی زبان ہو یا لٹریری، مگر علمی زبان آپ کس کو کہتے ہیں۔ اگر علم سے غرض فنون، طبیعیات، سائنس، ریاضی وغیرہ ہے تو ہر علم کی اصطلاحیں مخصوص ہوا کرتی ہیں اور وہ اسی علم میں کار آمد ہوتی ہیں جس علم سے متعلق ہیں، نہ کہ خواہ مخواہ ہر ایک موقع پر دخل در معقولات سے کام لیں اور کھینچ تان کر بلا مناسبت ہر ایک جگہ پر لے آئیں۔\n\nرَو آپ جانتے ہیں کہ پانی کے ریلے کو کہتے ہیں، مگر طبیعیات یا سائنس کے ترجمہ میں بجلی کی دوڑتی ہوئی قوّت یا شعلہ کو برقی رو لکھا گیا ہے، تو کیا ضرور ہے کہ ہم یہاں اس رو کو بھی پانی کی رو سمجھیں یا اپنے سابقہ روز مرّہ کے موافق پانی کے ریلے کی بجاے برقی رو خیال کر لیں۔\n\nمثبت اور منفی دراصل گریمر یا منطقی اصطلاحیں تھیں، لیکن سائنس کے ترجمہ میں بجلی کی تقسیم سے مراد لی ہے (یعنی قائم و مُفر بجلی) تو کیا لازم ہے کہ ہم سائنس میں بھی منطق و صرف و نحو کی مجوّزہ اصطلاح سے کام لیں اور وہی بجلی کی اصطلاحی تقسیم برقرار رکھیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو اصطلاح جس علم میں بیان ہوئی ہے وہ اسی علم کے متعلق مفہوم ہوگی، نہ کہ دیگر علوم سے بھی ویسا ہی تعلق رکھے گی۔\n\nدائرہ کی تعریف جو اقلیدس میں ہے کیا اس کے لیے ہم چکّر، کنڈل، منڈل، گھیرا، گتّا، گروہ، پیّہ، قرص، چکئی، حلقہ، کنڈلی وغیرہ اقلیدس کی تعریف کے برخلاف ہر ایک جگہ مستعمل کر سکتے ہیں؟ کیا کرہ کے واسطے گولا یا گیند کا لفظ خاص اصطلاح کو چھوڑ کر برتاؤ میں لا سکتے ہیں؟ کیا قوس کی مخصوص تعریف سے گذر کر اسے دھنک، دھنش یا کمان سے تعبیر کر سکتے ہیں؟ پس علمی زبان اور ہے اور روز مرّہ بول چال یا علم ادب اور کوئی سا علم کیوں نہ ہو اردو زبان میں آسکتا ہے، اس کا میدان وسیع ہے۔ ہندی کے الفاظ، سنسکرت کے الفاظ، عربی کے الفاظ، فارسی کے الفاظ، گریک یا لٹین کے الفاظ، ترکی الفاظ، انگریزی کے الفاظ جونسے چاہو اس میں کھپا سکتے ہو۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ جہاں تک ہندی، فارسی، عربی کے الفاظ مل سکیں انھیں مقدّم سمجھیں اور باقی اصطلاحیں خواہ مرکّب کر کے خواہ مفرد حالت میں قائم رکھی جائیں۔ اردو زبان میں جو ناول، تاریخیں، الجبرا، اقلیدس، مساحت، ریاضی کا ترجمہ ہوا ہے کیا اس کے لیے الفاظ میسر نہیں آئے۔ اگر نہیں آئے تو یہ اتنے بڑے بڑے ترجمے کہاں سے کیے گئے۔ ہمارے ایک دوست نے صوبۂ بہار کی تعلیمی کتابوں کے واسطے کچھ ٹھیٹ ہندی الفاظ گھڑے تھے، مثلاً ادھ چکّر نصف دائرہ کے واسطے، پورا چکّر پورے دائرے کے لیے۔ لیکن پہلے ترجموں میں جو عربی الفاظ مستعمل ہوگئے تھے ان کے آگے یہ سمجھ میں نہیں آئے۔\n\nاسی طرح راجا شیو پرشاد صاحب نے جو اردو صرف و نحو نام رکھ کر ٹھیٹ سنسکرت اصطلاحات کا اس میں نمونہ دکھایا وہ بھی پانی کے بلبلے کی طرح ابھر کر رہ گئی۔ اردو تو اردو ہندی خوانوں کو بھی اس کا سمجھنا اور اس پر عمل درآمد کرنا مشکل ہو گیا۔ کسی نے بھی نہ جانا کہ سارتھک کیا ہے اور نرتھک کس جانور کا نام ہے۔ ہاں موضوع اور مہمل سب نے سمجھ لیا۔ سوبھاوک دھات اور کرترم کسی کی سمجھ میں نہیں آیا۔ مصدر وضعی و غیر وضعی آسانی سے ذہن نشین ہو گیا۔ مشتق کی بجاے دھاتج، لازم کی بجاے اکرمک، نکرہ کی بجاے جات باچک وغیرہ الفاظ کا رواج چاہا مگر نہ ہوا۔ استاد نے ماضی کی بجاے بھوت سمجھایا، طالب علم اسے پریت اور بھتنا سمجھے، جس سے ثابت ہوا کہ اردو میں مغلق اور ثقیل المخارج الفاظ کے قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی فصاحت ایسے الفاظ اخذ کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتی۔ وہ تو عام فہم اور سہل المخارج کی دل دادہ ہے اور یہی مقبولیت عام کی وجہ ہے۔\n\nاگر بدھ مذہب سنسکرت زبان میں اپنی انمول نصیحتوں کو بیان کرتا تو اس قدر ترقی نہ ہوتی جس قدر پراکرت یعنی عام زبان میں اس کی ہدایات نے رواج پاکر دل نشینی و خاطر گزینی کا مرتبہ حاصل کیا۔ یہی حال خاص اردوے معلے یعنی دہلی کی مقبول عام زبان کا ہے نہ کہ لکھنؤ کی زبان کا کہ فقرے کے فقرے اگر ان میں سے چند ہندی روابط و افعال نکال دیے جائیں تو خاصی فارسی کی عبارت بنتی چلی جائے۔ اب فرمائیے انوکھے محاورے یہ ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا یا جان چھڑکنا اور پھول پڑجانا، جن کے سمجھنے میں آپ نے خود غلطی کی اور بہت بڑی غلطی کی۔ دہلی کی زبان کا مرکز تو کیا، ہاں لکھںؤ کی زبان کا مرکز لاہور ہوسکتا ہے کیونکہ دونوں مقلد ہیں۔\n\nآپ نے یہ کیونکر جانا کہ عربی نے اپنا پرانا وطن چھوڑ دیا۔ کیا وہاں اب یہ زبان بالکل نہیں بولی جاتی یا مستند نہیں رہی۔ یہ فرمائیے چونکہ وہ اسلامی مرکز تھا وہاں کا وہیں بنا رہا، مگر اس کی زبان جو سلاست و فصاحت میں اپنا جواب نہیں رکھتی یہاں تک پھیلی کہ بیروت اور مصر میں جا پہنچی اور ایسی مقبول ہوئی کہ عربی میں یہودی، نصرانی، قبطی، الجیرین، ابیسینین، اہل مراکو، اہل نوبہ وغیرہ نے صرف یہ زبان ہی اختیار نہیں کی بلکہ اس زبان میں تصنیفات کے ڈھیر لگا دیے، اخبار جاری کردیے اور اس قدر ترقی کی کہ جرمنی، فرانس اور انگلستان میں بھی اس کے فاضل نظر آنے لگے۔ لین صاحب کی مدّ القاموس (اس کی حرف قاف تک کی جلدیں ہماری نظر سے بھی گذریں ہیں۔) آپ نے دیکھی ہوگی، جنھوں نے خاص عرب میں رہ کر جمع کی اور انگلستان میں آکر شاید بیس جلدوں میں چھپوائی۔ اہل عرب کو فخر کرنا چاہیے کہ ان کی زبان زندہ زبانوں میں ہے، ڈیڈ لینگویج میں نہیں ہے۔ اس نے یہاں تک ترقی کی ہے کہ غیر قوموں اور غیر ملکوں میں بھی دوڑ گئی ہے۔ عرب کو سب پوچھتے ہیں اور جب تک مذہب اسلام اور خدا کا کلام قائم رہے گا برابر پوچھے جائیں گے۔ آپ جو بیروت اور مصر کو عربی کے حق میں قابل سند گردانتے ہیں، کیا حلّ لغات قران و احادیث میں بھی بیروتی یا مصری عربی سند لی جاتی ہے؟ جس کا نام ٹھیٹ اردو زبان ہے وہ دہلی سے نکل کر اپنی اصلی حالت کے ساتھ لاہور نہیں چلی جائے گی، بلکہ لاہور والے خود دہلی کی زبان کے متّبع ہیں اور ہوتے چلے جائیں گے۔ یہی دہلی کے واسطے مرکزی ثبوت اور اردو کی ترقی کا پورا پورا معیار ہے۔ جس زبان میں اپنے مقام پیدائش کی اصالت، شستگی، مختلف قسم کی تصانیف کا مادّہ ہوتا ہے، اس میں ہر ایک علم جگہ پاتا چلا جاتا ہے۔ ہماری زبان میں جس طرح علوم قدیمہ کا ذخیرہ موجود ہے اسی طرح علوم جدیدہ کا اندراج بھی ہو رہا ہے اور روز بروز ہوتا رہے گا۔ دیوناگری کا دیو کیا، بڑے سے بڑا ناگ بھی حملہ کر کے اپنا زہریلا اثر اس پر نہیں پہنچا سکتا، کالے سے وہ ڈرے جس کے پاس اس کے کاٹے کا منتر نہ ہو۔\n\nسنہ 73ء کا ذکر ہے کہ صوبۂ بہار میں ایک دفعہ یہ ہلہلہ اٹھا کہ فارسی حروف کی بجاے کائستی ہندی حرفوں میں حکماً عدالتی کارروائی کی جائے گی۔ چنانچہ اس پر عمل در آمد ہونے لگا، مسلمان گھبرا اٹھے کہ اب ہمیں نہ تو روزگار ملے گا اور نہ ہماری یہ زبان رہے گی۔ ہم بھی اتّفاق سے دانا پور میں موجود تھے۔ بہتیرے مسلمانوں نے ہندی سیکھنی شروع کر دی اور بہتیرے روزگار چھوڑ دینے پر مستعد ہوگئے۔ با وجودیکہ وہاں کی عدالتوں میں ہندی حروف کا رواج ہو گیا اور شاید صوبہ بہار کا گورنمنٹ گزٹ بھی اسی میں چھپنے لگا، مگر وہاں کی جو اردو زبان تھی وہ آج تک نہ مٹی، اڑتیس برس ہوگئے، وہی شاعری کا چرچا، وہی تصنیف کا ذوق شوق، وہی زبان کی تراش و خراش بنی رہی، یہاں تک کہ آپ کے قلم سے بھی یہی نکلا کہ \"آگرہ اور اودھ کے بعد پنجاب، دکن اور بہار کا نمبر ہے، جہاں اردو نے غیر معمولی ترقی کی ہے\"۔ جب یہاں اردو زبان کی بیخ کنی نہ ہو سکی تو صوبجات متّحدہ میں اور خاص کر پنجاب میں کیونکر ہوسکتی ہے۔ گو صوبجات متّحدہ میں ناگری حروف عدالتی کارروائی کے واسطے مختص ہوگئے، گوالیار میں مرہٹی و ناگری حروف میں لکھے جانے کی پخ لگ گئی، مگر زبان وہی رہی اور رہے گی۔ پٹیالہ میں گرمکھی کا رواج دیا گیا تو کیا وہاں کے لوگوں کی زبان کٹ گئی۔ اسی طرح اگر بفرض محال اگر تمام پنجاب میں گرمکھی حروف اور پنجابی زبان کا سر رشتۂ تعلیم میں رواج دیا جائے گا تو کیا اردو زبان سلب و مفقود ہوجائے گی، نہیں ہرگز نہیں، یہ ایک ایک کے گھٹ میں بیٹھی ہوئی ہے، دلوں میں اتر گئی ہے، رگ و پے میں پیوست ہوگئی ہے، اس کے الفاظ ملائے بغیر چارہ ہی نہیں۔ قانونی اصطلاحیں، علمی الفاظ اس میں سے نکلنے مشکل اور بسا مشکل ہیں۔ پہلے قانونی اصطلاحوں کو بدلو، عام ملکی مذاق کو چھوڑو، سر رشتۂ تعلیم کے ذخیرہ کا دیوالہ نکالو، جب زبان پر یہ لفظ لاؤ کہ ہماری ہندوستانی زبان جس کی اردو زبان ایک دوسری شان ہے، ترقی سے گر کر تنزّل کے راستے پر پڑنے لگی۔ کوئی زبان جب تک اس کے بولنے والے زندہ رہتے اور بازار کے سودا سلف، رسوم مروّجہ کا اس سے کام پڑتا رہتا ہے کبھی نہیں مرتی۔ ممالک متحدہ میں جس قسم کی تصنیفات کی جب ترقی تھی اسی قسم کی اب ہے، وہی ناول نگاری، وہی انشا پردازی، وہی شاعری اب تک برابر دھوم مچا رہی ہے۔\n\nیہ شور مچانا کہ ہاے! اردو چلی! ہائے! اردو چلی! ہماری زبان کی الٹی کمزوری ثابت کر رہا ہے حالانکہ ہم مخالفوں کی زبان اس کی روز مرّہ نمایاں ترقی اور حالت موجودہ سے کیل سکتے ہیں، لیڈروں کا منہ بند کر سکتے ہیں، گورنمنٹ مانے یا نہ مانے، روساے ہند ساتھ دیں یا نہ دیں، اردو زبان نے وہ ہردلعزیزی اور عمومیت پیدا کر لی ہے کہ یہ مٹی ہے نہ مٹے گی۔ ریلوں میں بیٹھ کر، جہازوں پر سوار ہو کر، ملک در ملک پھر کر دیکھ لو، کہاں کہاں بولی اور سمجھی جاتی ہے، پھر گھبرانے اور تلملانے سے کیا فائدہ؟ اہل اسلام کی یہ گھر کتّی کی بولی ہے اور صاحبان ہنود کی تسلیم و پسند کردہ، ملکی، عام، مہذّب، درباری اور علمی زبان ہے۔ اگر یہ بات نہیں تو اس قدر اور اس کثرت سے صاحبان ہنود میں شاعر، انشا پرداز، ناول نگار، مصنّف، مترجم کیوں ہیں؟ اردو میں صاحبان ہنود، اخبار، رسالے کیوں نکال رہے ہیں۔ اگر وہ ضدّم ضدّا میں آکر ٹھیٹ ہندی کا استعمال بھی کرنا چاہتے ہیں تو کوئی سطر، کوئی عبارت تمھاری اس زبان اور اس کے الفاظ سے خالی نہیں پائی جاتی۔ گو غرض کی جگہ گرج، عرض کی جگہ ارج، قرض کی جگہ کرج، غریب نواز کی جگہ گریب نواج، عقل کی جگہ اکّل، بادشاہ کی جگہ باچھا، حضور کی جگہ ہجور، حضرت کی ہجرت، فرمان کی جگہ پھرمان، حکم کی جگہ ہکم، پیغام کی جگہ پیگام، غافل کی جگہ گاپھل، باتوں کی جگہ باتاں، تکلیفوں کی جگہ تکلیفاں، شرابوں کی جگہ شراباں، قلموں کی جگہ قلماں، گھاتوں کی جگہ گھاتاں، انگریزوں کی جگہ انگریجوں لکھ دیں، مگر کہنے میں یہی آئے گا کہ اردو کا منہ چڑانا ہے۔ اس کے الفاظ کو بگاڑا نہیں بلکہ سنوارنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔\n\nہم اس بات کے بالکل برخلاف ہیں کہ اردو کے واسطے آل انڈیا کانفرنس، انجمن حامیِ اردو، انجمن ترقیِ اردو قائم کی جائیں اور ان سے یہ بات حاصل ہوجائے کہ آپ کی اردو کو چھوڑنے والے بھی آپ کے ساتھی بن جائیں۔ ترقی دینے کی یہ صورتیں نہیں ہیں، یہ تو نری دھما چوکڑی ہے۔ ترقی کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اس میں جس بات کی کمی ہو اسے پورا کرو اور اس طرح پورا کرو جس طرح کوئی موجد یا کوئی صنّاع اپنی صنعت یا ایجاد میں ایک نہ ایک ایسی نئی بات نکال دیتا ہے کہ اس سے پیشتر کی چیزیں گرد ہو کر بیٹھ جاتی ہیں اور اس کا ایجاد اس کی نئی چیز کو لے اڑتا ہے۔ سب اسی طرف از خود ٹوٹ پڑتے ہیں، نہ کہ واویلا کر کے کسی چیز کو کسی کے سر ڈالنا اور تجربہ کے برخلاف زبانی تعریف سے یقین دلانا، یہ تو ایک دھینگا دھینگی ہوئی نہ کہ ترقی۔\n\nاگر اردو میں کوئی وصف ہے تو وہ منکروں کو اپنا مقر بنائے گی، غیر قوموں کے مصنّفوں کو اپنا ساتھی کر لے گی۔ عدالتی کارروائیوں کو اس زبان کا گرویدہ بنا لے گی اور جو وہ اپنے ذاتی جوہر، ذاتی وصف سے خالی ہے تو یہ غل شور اور اس قدر شورا شوری اپنی آپ تھپڑی پٹوائے گی۔ اس سے پارٹی فیلنگ کا مسئلہ ثابت ہوجائے گا اور یہی ہمارے حق میں گورنمنٹ کی طرف سے مضر پڑے گا۔ تم کسی کو ترغیب نہ دو، کسی کو ساتھی نہ بناؤ، خود آپ چشمۂ شیریں بنو اور سب کو اپنی طرف کھینچ بلاؤ۔ بلکہ سمجھ لو کہ ناگری سے ڈراؤنے حملے ہمارا کچھ نہیں کر سکتے۔ جو تیر از دست رفتہ ہے اسے کوئی پکڑ کر نہیں لا سکتا، جو بات طشت از بام ہو گئی جس کو ایک ایک شخص نے جان لیا، وہ کبھی قابو میں نہیں آسکتی۔ عدالت لوگوں کو منع نہیں کر سکتی کہ اپنے گھروں میں اردو نہ بولو، شاہی دربار کسی زبان کو اس کے بولنے والوں، شہروں اور گانو گنویں کے رہنے والوں میں سے کبھی نہیں نکال سکتا کہ یہ درباری زبان نہیں ہے اسے نہ بولو۔ سر رشتۂ تعلیم یہ نہیں کر سکتا کہ اگر وہ اس کو ملکی یا علمی زبان قرار نہ دے یا لازمی نہ گردانے تو تمھارے ملک سے بھی یہ زبان خارج البلد ہو جائے۔ جس حالت میں ہر ایک فرقہ کی خاص خاص بولی نہیں بند کی جا سکتی تو اتنی بڑی بولی جو ہندوستان کے ایک بڑے احاطہ کو گھیرے ہوئے ہے اور اس کے بولنے والوں میں سے اگر صرف ایک ہی فرقہ کو لیا جائے تو چھ سات کروڑ اور بصورت دیگر دس بارہ کروڑ اہل ہند اردو زبان بولتے ہیں پھر کیونکر خارج از ملک ہوسکتی ہے۔ ہاں سب کی ایک سرے سے زبانیں نکال لی جائیں اور صرف اشاروں پر کاروبار آن ٹھہرے تو ممکن ہے۔ لیکن غیر ملکوں سے اخراج کرنا پھر بھی ناممکن و دشوار ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ \"اہل پنجاب کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے ہاتھ میں کثیر الاشاعت اخبار و رسائل ہیں، جو بات منہ سے نکالیں غور سے دیکھ لیا کریں کہ اس میں لفظی یا معنوی سقم تو نہیں ہے۔\" یہ بات نہایت بودی اور اوچھی ہے اور آپ کے مرکزی دعوے و امید کو زور کے ساتھ توڑتی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ غل غپاڑا کہ آپ کی زبان اردو زبان ہے محض ایک دل لگی اور اوپری دل سے دعویٰ ہے ورنہ اس قول کے موافق آپ کی اردو میں ہر قسم کے سینکڑوں نقص موجود ہیں۔ میں اس بات کو کبھی تسلیم نہیں کرتا کہ لاہور کی اردو میں اس قدر نقص ہیں، میرے نزدیک وہ ایسے عیوب اور نقائص سے پاک ہے۔ اس کے اردو اخباروں نے دہلی کے براے نام اردو اخباروں کو پرے بٹھا دیا ہے۔ اہل لاہور کی زبان میں اگر فرق ہے تو صرف اتنا جتنا کہ اہل زبان اور مقلّد زبان میں ہوا کرتا ہے، پنجاب کے سر رشتۂ تعلیم میں سب سے زیادہ پنجاب یا تعلیم یافتہ اہالیان لاہور نے حصّہ لے رکھا ہے۔ ان کا ترجمہ نہایت صاف اور قابل گرفت عیوب سے مبرّا ہوتا ہے۔ حمایت الاسلام کی کتابیں دیکھو، انشاء اللہ خاں صاحب مالک وطن کے مضامین پڑھو، پیسہ اخبار کے ایڈیٹوریل یا ریڈنگ آرٹیکل مطالعہ کرو۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال صاحب کی نظم جن کی مسلم استادی کا سب کو اقبال ہے استماع فرماؤ۔ خان احمد حسین خاں صاحب احمدؔ بی۔ اے کی عاشقانہ غزلیں، نعتیہ اشعار اور ناولوں کی بھرمار گوش زد فرماؤ۔ پرفیسر خواجہ دل محمد صاحب ایم۔ اے کا جنھیں شعراے پنجاب کا دل کہنا چاہیے پاکیزہ کلام ملاحظہ فرماؤ، رسالۂ مخزن پر نظر ڈالو۔ علی ہذا مولوی ظفر علی خاں صاحب بی۔ اے اڈیٹر اخبار زمیندار کی لیاقت، تصانیف، تراجم، اردو بول چال، زور دار مضامین اور نظموں کو دیکھو، کس دھڑلّے کی نظمیں اور مضمون ہیں کہ بڑے بڑے قابل عش عش کرتے ہیں۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان میں کچھ عیب ہے؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔ رہے خاص خاص محاورے ان کی بات دوسری ہے، ان میں کون نہیں چوکتا، لیکن یہ چوک زبان کے امتحان میں بحالت مجموعی فیل نہیں کر سکتی، پاس ایبل نمبر دلا ہی دیتی ہے۔ اس سے آگے جو کچھ آپ نے لکھا ہے وہ اس کا نقیض ہے۔\n\nبے شک اس میں ہمیں اتفاق ہے کہ \"اردو زبان کی قابلیت رکھنے والا، کسی ملک، کسی شہر، کسی قوم، کسی مذہب کا کیوں نہ ہو وہ قابل قدر اور واجب التعظیم ہے۔\" اس میں تعصّب کو راہ دینا گویا انصاف کا خون کرنا اور اہل جوہر کی ترقی کو مٹانا ہے۔ آپ کی یہ راے بھی قرین قیاس ہے کہ اگر کوئی مسئلہ متنازع فیہ یا راے طلب ہو تو کسی لٹریری رسالہ میں پیش کر کے طے کر لیا جائے، مگر یہ بالکل ناواجب ہے کہ دہلی اور لکھنؤ کو بائیکاٹ کر دیا جائے، کیونکہ جب تک زبان کے متعلق اہل زبان کی شرکت نہ ہو وہ فیصلہ انقطاعی یا حتمی قرار نہیں پا سکتا، اہل زبان کی انانیت اول تو سرے سے اپنی سمجھ کی غلطی ہے اور اگر بالفرض ہے تو اس کی پروا نہ کی جائے، ان سے موافق یا نا موافق جواب ضرور لیا جائے۔ جن وجوہ سے وہ فیصلہ کریں گے مقلد بجز اس کے کہ اساتذہ کے کلام، اساتذہ کی تصانیف کو جس میں کاتبوں کی طرف سے غلطیوں کا ہو جانا ممکن ہے، پیش نظر رکھ کر سندیں لائیں اور جواب دیں، اس کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ ان کی موجودہ زبان نے جو تبدیلیاں کی ہوں گی انھیں بھی دیگر امصار کے اہل قلم نہیں دیکھ سکیں گے۔ ایران کی پہلی اور اب کی زبان ہی کو دیکھ لو، سفرنامۂ شاہ ایران ہی کو پڑھ لو، کس قدر فرق ہو گیا ہے۔ یہی حال دہلی اور لکھنؤ کی زبان کا سمجھ لینا چاہیے۔\n\nکوئی کیسا ہی دعوی کرے، کبھی نہیں دکھا سکتا کہ اہل زبان مقلّد زبان کے کلام یا محاورے کا اتّباع کرے گا۔ اس کے کان، اس کا لب و لہجہ، اس کی زبان کبھی گوارا نہیں کرے گی کہ پوربی بھاکا یا پنجابی آمیز اردو سے سند لے۔ وہ اپنے شہر کے ناخواندہ بچہ کو زبان کے فیصلہ کے واسطے پسند کرلے گا مگر مقلّد زبان کی بات کو ہرگز ہرگز تسلیم نہیں کرے گا۔ اہل انگلینڈ اہل آئرلینڈ کی زبان کو کیوں اپنی زبان پر ترجیح نہیں دیتے؟ کیا آئرلینڈ میں بڑے بڑے فاضل، بڑے بڑے مصنّف، بڑے بڑے انشا پرداز، ناول نگار موجود نہیں ہیں؟ امریکہ کی زبان انگلش کو اہل انگلستان کیوں مستند نہیں سمجھتے؟ حالانکہ اصلاً نسلاً ایک ہی جگہ، ایک ہی نسل اور ایک ہی زبان کے بولنے والے ہیں۔\n\nہم ہر ایک قابل کی قدر کریں گے، اردو کی خدمت، اردو کی دل سوزی کرنے والے کو اپنا دلی دوست، اپنا دلی ہمدرد اور خیر خواہ سمجھیں گے، خواہ وہ کسی ملک، کسی شہر اور کسی مذہب یا فرقہ کا کیوں نہ ہو۔ مگر قبلہ! یہ نہیں ہو سکتا کہ اسے اہل زبان اپنی زبان کے کسی فیصلہ کا جج سمجھیں۔ ہاں اگر اس نے دہلی میں جنم لیا ہے، یہاں کی مختلف صحبتیں دیکھی ہیں، شعرا و علما کی خدمت میں رہا ہے، غیر جگہ کے محاورات کو اس نے اپنی زبان پر چڑھا کر اردو میں نہیں ملایا ہے تو بے شک وہ اہل زبان اور یہاں کی زبان کا قاضی القضات ہے، اس میں اگر کوئی جھنجھانوی درک دے تو ہم کھلے خزانے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ناحق کی جھنجھٹ ہے اور جو کوئی لاہوری اہل زبان بننے کا دعوی کرے تو ہم ان دلیلوں سے آگے دلیلیں مانگیں گے اور انھیں توڑ توڑ کر انھیں کی زبان میں یہ کہیں گے: لا ہور، لا ہور (لا اَور لا اَور)، یعنی ابھی اور دلیلیں پیش فرمائیے، یہ مکتفی نہیں ہیں۔\n\nہم نے یہ جو کچھ لکھا ہے، حب الوطنی اور واقعی حالت کی مناسبت سے لکھا ہے۔ جس طرح ہمارے دوست وجاہت نے اپنی وجاہت دکھا کر لاہور میں رہنے کا حق ادا کیا ہے، اسی طرح ہم نے بھی اپنی تحقیقات اور معلومات کے اظہار سے اپنے شہر کو مرکزی حقدار ثابت کیا ہے۔ وگرنہ ابھی بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے، بقول سعدی علیہ الرحمۃ ؎\n\nندانی کہ ما را سر جنگ نیست\n\nوگرنہ مجال سخن تنگ نیست\n\nورنہ یہ مضمون اور اس کی ایک ایک شاخ ایک ایک کتاب سے کم نہ ہوتی۔ اس کے ماسوا ہمیں اپنے دوست سے کچھ پرخاش بھی نہ تھی۔ جس طرح انھوں نے اپنی دانست میں نیک نیتی سے کام لیا ہے، اسی طرح ہم نے بھی انصاف کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ہے۔ مبصّران زبان دونوں کے مضامین سامنے رکھ کر آپ فیصلہ کرلیں گے کہ کون غلطی پر ہے اور کون راستی پر، کس نے پھیر کا راستہ اختیار کیا ہے، کس نے سیدھا۔ اور یوں تو ؏\n\nکس نگوید کہ دوغ من ترش است\n\nاپنی اپنی دانست میں وہ بھی حق پر ہیں اور ہم بھی ؎\n\nاندکے پیش تو گفتم غم دل ترسیدم\n\nکہ دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است\n\nخیر آپس کی سر پھٹول تو چلی ہی جائے گی، مگر دیگر مخالفان زبان کی نسبت ہم اخیر میں اتنا کہہ دینا اور مناسب جانتے ہیں کہ ہمارے اسلامی بھائی دراصل ہندوستانی شائستہ اور مہذب مادری زبان کو اردو کہتے ہیں۔ اس سے پیشتر برج بھاکا اس کے بعد ریختہ اور آخر میں اردو کہنے لگے تھے۔ دہلی کا اردو بازار اب بھی کچھ کھنڈر لیے کھڑا ہے، جس کی بڑی وجہ اس میں مختلف زبانوں کی ایک خوبصورتی، تناسب و خوش اسلوبی کے ساتھ آمیزش ہے اور اسی آمیزش نے اس کا نام اردو ڈال دیا۔ کیونکہ اردوے معلّی کہنے کا اب زمانہ نہیں رہا۔ لفظ معلّی اس کا جانی دشمن اور لفظ شاہجہاں اس کے خون کا پیاسا ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ زبان باقاعدہ ہے، بالترتیب ہے، عام فہم ہے، سہولت پسند ہے۔ علم ادب، علم عروض، علم تاریخ وغیرہ کی بلحاظ تصانیف مختلفہ جان ہے۔ ایک زمانہ میں یہی شاہی زبان تھی۔ مگر اور قومیں جن کو اہل اسلام اور شاہان اسلام سے تعلیم موجودہ نے نفرت دلا دی ہے، وہ ہماری اس مادری زبان کو اردو لقب سے ملقّب ہونا پسند نہیں کرتیں اور اسے خاص اسلامی زبان قرار دیتی ہیں جس کا سبب میرے نزدیک صریح ہٹ دھرمی اور نری مذہبی پچ کے سوا دوسرا نہیں ہے۔ نیز فرقہ آریہ کا یہ ایک ادنی کرشمہ ہے۔ اگر نظر تعمّق سے دیکھا جائے تو جسے اردو کہتے ہیں، اس میں سب سے بڑا حصہ ہندی، پراکرت، پالی اور سنسکرت کے سالم یا بگڑے بگڑائے الفاظ کا ہے، اس کے بعد فارسی کا، فارسی کے بعد عربی، ترکی، یونانی، پرتگالی کا بقدر وسعت۔ اور فی زمانہ انگریزی الفاظ دریاے ذخّار کی رو بن کر اس طرح اس کی رگ رگ میں دوڑ رہے ہیں کہ کوئی جگہ خالی نہیں چھوڑی۔ کوئی دن جاتا ہے کہ اس اردو کو شاہجہانی اردو کی بجاے انگلستانی یا کرانی اردو کہیں گے۔ مگر نہیں جو اس زبان کے اہل، اس کے جوہری اور نقّاد ہیں وہ کھرے کھوٹے کو پرکھ پرکھ کر لے رہے ہیں، میل کھاتے ہوئے الفاظ کو جوں کا توں اور اکھیڑ کی لیتے ہوئے الفاظ کو ٹھیک بنا کر اپنی زبان میں ملا رہے ہیں۔ سپٹمبر کو ستمبر، فیبروئری کو فروری، کلکٹر کو کلٹر، اسٹامپ کو اسٹام، لائن کو لین، آرڈرلی کو اردلی، بوٹل کو بوتل، ریکروٹ کو رنکروٹ، رائفل کو رفل، کمانڈر کو کمانیر، لونگ کلوتھ کو لٹھا، سفر مینا سیپرز انڈ مائنرز کو، ڈمٹی کو گمٹی، لینٹرن کو لالٹین، ڈیپوٹی کو ڈپٹی، سینٹری کو سنتری، ڈزن کو درجن، ٹون ڈیوٹی کو پون ٹوٹی، سیلج کیرج کو سیج گاڑی کر کے کس خوبصورتی سے اپنی زبان کا مانوس جز بنا لیا ہے۔ جو لوگ اردو کے خمیر، اس کی ترتیب اور موزونیت الفاظ سے واقف ہیں وہ اس قسم کا تصرف کیے بغیر نہیں رہتے۔ سکریٹری کو جب کہیں گے سکتّر ہی کہیں گے، لارڈ کو لاٹھ، لفٹیننٹ کو لفٹنٹ، کرنل کو کرنیل بولیں گے۔ اب فرمائیے اس میں انگریزی کے تلفّظ نے بگڑ کر اپنی زبان سے کون سی مغایرت کر لی، انگریز بھی حرف گیر نہ ہوئے اور اردو کے اہل زبان بھی گھر کے گھر رہے۔ ثقیل و غیر مانوس الفاظ کو گھڑ گھڑ کر اپنی زبان کا ہم رشتہ بنایا، جس طرح کوئی بڑھئی کسی بے ڈول اور ان گھڑ لکڑی کو چھیل چھال کر سڈول اور موزوں بنا لیتا ہے، اسی طرح انھوں نے الفاظ کو تراش خراش کر خوش نما بنا لیا۔\n\nاب اگر جھگڑا ہے تو صرف لفظ اردو کا جھگڑا ہے، لیکن اس کو مذہبی پہلو پر لے جانا اور مذہبی قیود کا ایک جز بنا کر اسے مغلوب کرنے یا مٹانے کے درپے ہو جانا، ایسا ہی ہے جیسے کسی درخت پر بیٹھ کر اپنی ہی طرف سے اس کا ٹہنا کاٹنا اور خود گر کر پچھتانا۔\n\nاس زمانہ میں نہ تو پیور ہندی ہی بول چال میں باقی ہے نہ خالص اردو۔ اگر اس مخلوط زبان کو کوئی ہندوستانی کہے تو کچھ حرج نہیں اور جو کوئی اردو زبان سے تعبیر کرے تو بھی کچھ اعتراض نہیں، کیونکہ بے غش نہ ہندوستانی زبان رہی نہ اردو؛ ہر ایک مرکّب ہوگئی اور ہوتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ برج بھاکا، جو ایک رسیلی، ولولہ انگیز، سلیس اور فصیح زبان تھی اب وہ بھی اپنی اصلی حالت پر نہ رہی مگر پھر بھی اس کی آن لبھائے بغیر نہیں رہتی۔\n\nمسلمانوں میں پردہ نشینوں، علم سے بے بہرہ عورتوں میں اور برج میں وہاں کی دہقانی آبادیوں میں خالص زبان کا پتہ چلتا ہے۔ ورنہ اس زمانہ کی مردانہ تصنیف نے عورتوں کی زبان کو بھی کچھ سے کچھ کر دیا، جس سے دن بدن زبان کا لطف اٹھتا اور اصلیت کا معیار گھٹتا چلا جائے گا۔ مردانہ زبان میں رسالوں، اخباروں وغیرہ کا لکھا جانا اور عورتوں کے واسطے انھیں مخصوص بنانا خالص زبان کے ساتھ علانیہ دشمنی ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ عورتوں کو پڑھاؤ لکھاؤ نہیں، مگر یہ ضرور کہتے ہیں کہ اپنے الفاظ کا مفہوم سمجھا کر ان سے ان کی زبان کے سے پیارے اور میٹھے الفاظ بنواؤ، انگریزی لیڈیوں کے سے ملائم نرم اور نازک الفاظ ان کی خلقت کے موافق رواج دو اور دلواؤ، تازہ گھڑے ہوئے الفاظ کو منہ نہ لگانے دو۔ خیر یہ تو ایک جملۂ معترضہ تھا، نکتہ کی بات سنو اور اس پر صاف دل سے عمل کرو۔ دیکھو زبان کو مذہبی پالا بنانا آئندہ کی ترقی، علمی، کتابی اور درباری زبان سے دیس نکالا دینا ہے۔ اگر ایک قوم اس کا نام اردو قائم رکھے جو درحقیقت اس کا صحیح لقب ہے اور دوسری قوم اسے ہندوستانی زبان کہے جو دراصل کچھ بیجا نہیں ہے تو ہمارا کیا نقصان ہے؟ کیونکہ یہ زبان کچھ آج سے نہیں آٹھ نو سو برس سے مخلوط ہو کر گرگٹ کے سے رنگ بدل رہی ہے۔ سنسکرت اور ہندی بھاکا بلحاظ ماخذ ایک اور باعتبار زبان دو جداگانہ زبانیں ہیں۔ بقول فاضل سنسکرت میکس مولر: ہندی ملک ہندوستان کی ایک زندہ زبان ہے اور سنسکرت یعنی ویدوں اور برہمنوں کا لٹریچر ایک دوسری مردہ زبان ہے، گو اس کی اصل وہیں سے ہے جہاں سے سنسکرت نے خروج کیا ہے۔ آج کل کی اردو کی نسبت سر لائل جیسے محقق زبان کی بھی یہی راے ہے کہ \"یہ دراصل سولھویں صدی کی ہندی ہے، جس میں حسب ضروت فارسی الفاظ مل گئے ہیں\"۔\n\nمسلمانوں نے جس شوق سے ہندی الفاظ کا ذخیرہ اپنی زبان اور اپنی روزمرّہ میں خزانہ سمجھ کر بھرا دوسری قوم اور خاص کر ہند کی آریہ قوم نے اس کے پاسنگ بھی ان کی زبان کی طرف توجہ نہیں کی۔ اگرچہ سکندر لودھی کے زمانہ سے فارسی میں سب سے اول کایستھوں نے اپنا قدم رکھا مگر ان کی فارسی بھی ایک خاص طرز اور ہندی لہجہ آمیز فارسی ہو گئی۔ مسلمانوں میں سب سے اول مقام غزنہ سے ہند میں آکر جس شخص نے ہندی ضخیم دیوان لکھا وہ امیر سعد اللہ مسعود غزنوی تھا، جس کی نسبت محمد عوفی اپنے اس تذکرہ میں جو سنہ 600 ہجری میں لکھا گیا، اس طرح سخن سرا ہوتا ہے کہ اس کے تین دیوان ہیں ایک عربی میں، دوسرا فارسی میں، تیسرا ہندی میں۔ حضرت امیر خسرو اپنی کتاب غرّۃ الکمال میں اس امر کی تصدیق فرماتے اور اس کے تینوں ضخیم دیوانوں کی از حد تعریف کرتے ہیں۔ تقی کاشی کا بیان ہے کہ امیر مسعود غزنہ میں پیدا ہوا، یہ شخص امرا و عمائد غزنوی میں شمار کیا جاتا ہے، جو غزنی کا بخشی اور میر منشی رہا تھا۔ سنائی اس کی تعریف میں لکھتا ہے ؎\n\nاے عمیدے کہ باز غزنی را\n\nصورت و سیرتت گلستاں کرد\n\nحضرت امیر خسرو کے زمانہ میں امیر مسعود کے ہندی شعر مشہور تھے۔ ابو ریحان بیرونی کی کتاب الہند جو محمود غزنوی کے وقت میں لکھی گئی اور اس کی سنسکرت کی لیاقت، علم جوتش، ہندی فلسفہ کی کما حقہ واقفیت دیکھیے جس نے 430 ہجری میں انتقال فرمایا۔ کبیر کے موحدانہ بھجن پڑھیے۔ محمد جائسی کی پدماوت بھاکا کی ملاحظہ فرمائیے۔ امیر خسرو دہلوی کے چوچلے بھری ہندی تصانیف پر نظر ڈالیے۔ عبد الرحیم خاں خانخاناں، فیضی، فیاضی، عبد الجلیل بلگرامی کی سنسکرت دانی کی داد دیجیے۔ جعفر زٹلی کی ہندی زٹل، عبد الرحمن دہلوی کی کتاب جمک ستک یعنی ضلع جگت، دارا شکوہ کی ہندی و سنسکرت سے واقفیت پر توجہ فرمائیے۔ شمس العلماء مولوی سید علی بلگرامی سلمہ اللہ تعالی کی سنسکرت پر بلا مبالغہ عش عش کیجیے اور دیکھ لیجیے کہ مسلمانوں کو اس زبان سے خاص انس اور دلچسپی رہی ہے یا نہیں (افسوس صد افسوس کہ 3 مئی سنہ 11 ء کو رحلت سے داغ مفارقت دے گئے)۔\n\nمقطع کا بند یہ ہے کہ ہندوستانی زبان اور اردو زبان ایک ہی ہے۔ صرف تراش و خراش، اسلوب تربیت و ترکیب اور دلچسپی کا فرق ہے، جس کے سبب ریختہ اور ہندوستانی زبان کہنے کے بجاے اردو زبان کہنا نہایت موزوں ہے جو ہر ایک زبان کے اختلاط کا نتیجہ اور اس کا مزیدار پھل پیش کر رہی ہے۔ ہاں ضد، ہٹ، تعصب کی دھندلی عینک ان خوبیوں کو کیونکر ٹھنڈے پیٹوں دیکھنے دے گی۔\n\nہمارے نزدیک جو لوگ اردو زبان سے نفرت کر کے اس کی بول چال، انداز گفتگو، طرز لب و لہجہ کو بگاڑیں گے، وہ اپنی ہنسی آپ اڑائیں گے۔ غیر ملک کا کوئی فصیح، کوئی بلیغ، کوئی عالم، کوئی فاضل، کوئی مصنّف، کوئی لکچرار اس زبان کی بے ترتیبی، ان میل الفاظ، عجیب ترکیب و غریب انشا پردازی کو دیکھ کر تمسخر کیے بغیر نہ رہے گا۔ رنگروٹی زبان کا خطاب دے کر چلا جائے گا۔ اس کی انشا پردازی نفرت کی نگاہ سے دیکھی جائے گی اور اس کی خوش بیانی سر تا سر اوچھوں اور جاہلوں کی بولی ثابت ہوگی۔ ادھر پادریوں نے ادھر آریوں نے اردو کو اردو کیا، ہندوستانی زبان بھی نہ رکھا، ان کی تصانیف دل پر بوجھ ڈال کر پڑھی اور لکھی جاتی ہے، نہ وہ کتابی زبان ہے، نہ روزمرّہ کی بول چال۔ اردو زبان کے علمی، درباری اور مہذب زبان ہونے میں کچھ کلام نہیں۔ اس کے بالمقابل اگر کوئی اور زبان عام یا ملکی زبان ہے اور وہ ہندوستان کے اس سرے سے اس سرے تک اردو کے الفاظ کی آمیزش کے بغیر بولی جاتی ہے تو اس میں کثرت سے تصنیفات بھی ہوگی اور رسالے یا اخبارات بھی بافراط نکلتے ہوں گے، تاریخی ذخیرہ اس میں ہوگا، سفرناموں کا خزانہ اس میں ملے گا، غرض ہر قسم کی کتابوں اور تصانیف سے معمور ہوگی اور جو اس میں نہ تو ایسا ذخیرہ ہوگا اور نہ وہ عام بولی ہوگی اور نہ کوئی آسانی سے سمجھ سکے گا تو کسی عقلمند کے نزدیک بھی وہ ملکی زبان کا استحقاق نہیں رکھے گی۔\n\nتعجب یہ ہے کہ جو لوگ اردو کو نکّو بناتے اور حقارت کی نظر سے چھی چھی کر کے پرے ہٹ جاتے ہیں وہ بھی اپنی بول چال میں صرف چند ہندی یا سنسکرت بے میل الفاظ ملا کر بولنے پر مجبور ہو ہی جاتے ہیں۔ غرض اس بحث سے اور کچھ ہو یا نہ ہو مگر ہمارے ملک کی زبان کا ستّیاناس غیر قوموں میں جا کر ضرور ہوجائے گا۔ اگر دونوں قومیں مل گئی ہیں اور دل سے ملی ہیں تو اس زبانی جدید امتیاز کو درمیان سے اٹھا دیں۔ اردو اور ہندوستانی زبان کو ایک ہی سمجھیں اور درحقیقت ہیں بھی دونوں ایک ہی مرکّب زبان، آگے اپنی اپنی راے اور اپنی اپنی سمجھ۔\n\nاس کے ساتھ ہی دیوناگری میں لکھنے کا مسئلہ بھی چھڑا ہوا ہے اور حکام وقت کو صحیح تلفظ، زود نویسی اور درست تحریر کے لیے اس سے بہتر حروف نہیں بتائے جاتے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ اس میں زود نویسی کہاں سے آئے گی؟ اول تو ہر ایک حرف کی پوری شکل بنانی پڑتی ہے دوسرے اس کا کوئی اختصاری قاعدہ مقرر نہیں ہے، مگر اردو حرفوں میں ابتدا ہی سے شورٹ ہینڈ کا قاعدہ ڈال کر پورے پورے حرفوں کی شکلوں کی بجاے حرفوں کے صرف سروں، شوشوں یا نقطوں سے کام لیا ہے، بلکہ نقطوں کے بغیر بھی نقطوں کا کام نکل جاتا ہے۔ چنانچہ مشہور ہے کہ عاقلان پیرویِ نقطہ نکنند۔ پس اختصار کے حق میں بھی اردو رسم الخط نہایت موزوں ہے اور اس اختصار کا ہم لوگ چاہیں تو اور اختصار بھی کر سکتے ہیں، لیکن موجودہ ناگری میں یہ بات کیونکر ممکن ہو سکتی ہے۔\n\nاس میں عربی، فارسی الفاظ کا املا کیونکر درست ہوگا جس میں الف کی بجاے عین، عین کی بجاے الف، صاد کی بجاے سین اور سین کی بجاے صاد، علی ہذا ضاد کی بجاے زے اور زے کی بجاے ضاد کچھ سے کچھ معنی پیدا کر دیتا ہے۔ اگر یہ کہو کہ ان الفاظ کی ضرورت ہی کیوں پڑے گی؟ تو ہم اس کو جب تک قانونی کتابوں کا ترجمہ اردو میں موجود ہے، جب تک عدالتوں کی پرانی اور نئی مسلیں ثابت ہیں، جب تک صیغۂ مال کے رجسٹروں میں جاگیروں اور زمینوں کے نام ہیں، جب تک یونیورسٹیوں میں اس زبان کا کچھ نہ کچھ رواج ہے، برابر عربی، فارسی، ترکی الفاظ کی ضرورت پڑے گی۔ مچلکہ ترکی لفظ ہے مگر کس قدر مستعمل ہے۔ اجارہ عربی لفظ ہے مگر ہندی ٹھمریوں تک میں موجود ہے، مثلاً ؎\n\nایسے تم ہی ہو کیا؟ برج کے اجار دار\n\nموری انگیا کے کر دینے تار تار\n\nچسپاں فارسی لفظ ہے مگر لفظ ثمن چسپاں کرنے کے ساتھ مخصوص ہو گیا ہے۔ علی ہذا عرضی، دعوے، قرقی، طلبانہ، شجرہ بہتیری مثالیں ہیں۔ ہماری راے میں اگر تبدیلی بغیر چارہ ہی نہیں اور نستعلیق سے بھی ناگری حروف بڑھ گئے ہیں تو ناگری کی بجاے تو رومن کا جاری ہونا حاکم و محکوم دونوں کے واسطے مفید ہے۔ رومن ناگری کی نسبت انگریزی حروف میں جلدی بھی لکھی جاتی ہے اور ایک حد تک تلفظ بھی بہت صحیح ادا ہوتا ہے۔ بعض علامتیں جو مقرر ہوگئی ہیں ان پر خیال رکھنا کافی ہے، لیکن ہمارا تجربہ زور کے ساتھ یہی کہتا ہے اور یہی دکھا دے گا کہ حکام کو سب سے زیادہ وقت ناگری کارروائی میں صرف کرنا پڑے گا اور گذشتہ سارا انتظام درہم برہم ہو کر بہت کچھ رعایا سے واویلا مچوائے گا۔ اردو اور ہندوستانی زبان کو فارسی کے نستعلیق خط کے ساتھ ایک خاص مناسبت اور موزونیت ہوگئی ہے، شکستہ لکھنے والوں اور کچّے عدالتی محرّروں نے بے شک اس میں دقتیں پیدا کردی ہیں، تاوقتیکہ عدالتوں میں، اسکولوں میں خوشخطی لازم نہ گردانی جائے گی یہی دقتیں پیش آتی رہیں گی۔ جس قدر ہماری زبان کی تصانیف اور اخبارات یا رسائل ہیں وہ نستعلیق میں لکھے جاتے اور آسانی سے پڑھے جاتے ہیں، نہ تلفظ میں غلطی ہوتی ہے نہ ان کے قیام و روانی کے جملوں میں۔ ندا، ٹھہراؤ یا رہاؤ وغیرہ کی ساری صورتیں بنی رہتی ہیں۔ اگر یہ زبان دوسرے خط میں لکھی گئی، تصانیف کی صحیح قرات ناممکن اور بے لطف ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ سچّے دلی اثر کو اس ناقص اداے تلفظ سے بالکل بے بہرہ کر دے گی۔ فقط\n\nسید احمد دہلوی\n\n12 فروری 1911ء\n\nگزارش شکریہ\n\nصرف دہلی کے اہل زبانوں کو کیا، بلکہ اردو کے کل ہوا خواہوں اور قدر دانوں پر واجب ہے کہ وہ جناب شیخ محمد اشفاق صاحب دہلوی تاجر نامی گرامی کے تہ دل سے شکر گزار ہوں جن کی کوشش و فرمائش سے یہ رسالہ مشتہر ہوا۔ گو بظاہر یہ ایک محاکمہ ہے مگر درحقیقت اردو زبان کی معلومات کا خزانہ ہے جو حامیان اردو کو ہر طرح سے مدد دیتا رہے گا اور چند روز بعد غالباً ڈھونڈے میسر نہ آئے گا۔ کیونکہ کثیر تعداد میں طبع نہیں ہوا ہے۔ فقط\n\nسید احمد دہلوی\n\nمولف فرہنگ آصفیہ وغیرہ وغیرہ", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A7%DA%A9%D9%85%DB%81_%D9%85%D8%B1%DA%A9%D8%B2_%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88"} {"title": "محبت", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "کرشن آئے کہ دیں بھر بھر کے وحدت کے خمستاں سے\nشراب معرفت کا روح پرور جام ہندو کو\n\nکرشن آئے اور اس باطل ربا مقصد کے ساتھ آئے\nکہ دنیا بت پرستی کا نہ دے الزام ہندو کو\n\nکرشن آئے کہ تلواروں کی جھنکاروں میں دے جائیں\nحیات جاوداں کا سرمدی انعام ہندو کو\n\nاگر خوف خدا دل میں ہے پھر کیوں موت کا ڈر ہو\nکرشن آئیں تو اب بھی دیں یہی پیغام ہندو کو\n\nمسلمانوں کے دل میں بھی ادب ہے ان حقائق کا\nسکھاتا ہے یہی سچائیاں اسلام ہندو کو\n\nوہ میرے جذبۂ دل کی کشش کا لاکھ منکر ہو\nمحبت سے میں آخر کر ہی لوں گا رام ہندو کو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA"} {"title": "محبت (شہیدِ محبّت نہ کافر نہ غازی)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "شہیدِ محبّت نہ کافر نہ غازی\nمحبّت کی رسمیں نہ تُرکی نہ تازی\nوہ کچھ اور شے ہے، محبّت نہیں ہے\nسِکھاتی ہے جو غزنوی کو ایازی\nیہ جوہر اگر کار فرما نہیں ہے\nتو ہیں علم و حکمت فقط شیشہ بازی\nنہ محتاجِ سُلطاں، نہ مرعوبِ سُلطاں\nمحبّت ہے آزادی و بے نیازی\nمِرا فقر بہتر ہے اسکندری سے\nیہ آدم گری ہے، وہ آئینہ سازی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%28%D8%B4%DB%81%DB%8C%D8%AF%D9%90_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%91%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%BA%D8%A7%D8%B2%DB%8C%29"} {"title": "محبت (عروسِ شب کی زُلفیں تھیں ابھی ناآشنا خَم سے)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "عروسِ شب کی زُلفیں تھیں ابھی ناآشنا خَم سے\nستارے آسماں کے بے خبر تھے لذّتِ رم سے\n\nقمر اپنے لباسِ نَو میں بیگانہ سا لگتا تھا\nنہ تھا واقف ابھی گردش کے آئینِ مسلّم سے\n\nابھی امکاں کے ظُلمت خانے سے اُبھری ہی تھی دنیا\nمذاقِ زندگی پوشیدہ تھا پہنائے عالم سے\n\nکمالِ نظمِ ہستی کی ابھی تھی ابتدا گویا\nہوَیدا تھی نگینے کی تمنّا چشمِ خاتم سے\n\nسُنا ہے عالمِ بالا میں کوئی کیمیاگر تھا\nصفا تھی جس کی خاکِ پا میں بڑھ کر ساغرِ جم سے\n\nلِکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اِکسیر کا نسخہ\nچھُپاتے تھے فرشتے جس کو چشمِ رُوحِ آدم سے\n\nنگاہیں تاک میں رہتی تھیں لیکن کیمیاگر کی\nوہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسمِ اعظم سے\n\nبڑھا تسبیح خوانی کے بہانے عرش کی جانب\nتمنّائے دلی آخر بر آئی سعیِ پیہم سے\n\nپھرایا فکرِ اجزا نے اُسے میدانِ امکاں میں\nچھُپے گی کیا کوئی شے بارگاہِ حق کے مَحرم سے\n\nچمک تارے سے مانگی، چاند سے داغِ جگر مانگا\nاُڑائی تیرگی تھوڑی سی شب کی زُلفِ برہم سے\n\nتڑپ بجلی سے پائی، حُور سے پاکیزگی پائی\nحرارت لی نفَسہائے مسیحِ ابنِ مریمؑ سے\n\nذرا سی پھر ربوبِیّت سے شانِ بے نیازی لی\nمَلک سے عاجزی، اُفتادگی تقدیرِ شبنم سے\n\nپھر ان اجزا کو گھولا چشمۂ حیواں کے پانی میں\nمرکّب نے محبّت نام پایا عرشِ اعظم سے\n\nمُہوّس نے یہ پانی ہستیِ نوخیز پر چھِڑکا\nگرہ کھولی ہُنر نے اُس کے گویا کارِ عالم سے\n\nہوئی جُنبش عیاں، ذرّوں نے لُطفِ خواب کو چھوڑا\nگلے ملنے لگے اُٹھ اُٹھ کے اپنے اپنے ہمدم سے\n\nخرامِ ناز پایا آفتابوں نے، ستاروں نے\nچٹک غُنچوں نے پائی، داغ پائے لالہ زاروں نے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%28%D8%B9%D8%B1%D9%88%D8%B3%D9%90_%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D9%8F%D9%84%D9%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D8%AE%D9%8E%D9%85_%D8%B3%DB%92%29"} {"title": "محبت (علی منظور حیدرآبادی)", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "محبت خدا کی حقیقت کا نور\nمحبت کسی کا پیام ظہور\nمحبت کے پیغامبر انبیا\nمحبت کے زیر اثر اولیا\nمحبت نقوش بیاض وجود\nتر و تازہ اس سے ریاض شہود\nمحبت نہیں تو نہیں زندگی\nمحبت سے ہے دل نشیں زندگی\nمحبت سے ہر ذرہ پیوستہ ہے\nطرب زا محبت کا گلدستہ ہے\nنشاط محبت رفیق حیات\nکئے اس نے حل زندگی کے نکات\nمحبت سے ہر اک حقیقت عیاں\nمحبت سے ماں کی فضیلت عیاں\nمحبت سے شان پدر سر بلند\nمحبت سے وصف پسر ارجمند\nمحبت سے مضبوط اجزائے قوم\nمحبت سے مربوط آرائے قوم\nمحبت سے قائم نظام حیات\nتغیر میں بھی ان کا نور ثبات\nمحبت نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں\nمحبت ہی ہے اصل دنیا و دیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%28%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%D8%AD%DB%8C%D8%AF%D8%B1%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%29"} {"title": "محبت آپ اپنی ترجماں ہے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت آپ اپنی ترجماں ہے\nیہی خود چشم و دل لفظ و بیاں ہے\n\nنگاہوں میں بہار جاوداں ہے\nجہاں میں ہوں وہیں اب آشیاں ہے\n\nمحبت دونوں جانب مہرباں ہے\nکہ ہم اس سے وہ ہم سے بدگماں ہے\n\nوہ کب سے مضطرب ہیں اے غم عشق\nخدا جانے تیری غیرت کہاں ہے\n\nہماری رفعتوں کا پوچھنا کیا\nجہاں ہم پاؤں رکھ دیں آسماں ہے\n\nکوئی آواز ہی دے گمشدہ دل\nکہاں ہے او مرے یوسف کہاں ہے\n\nاگر تو ہے تو اے جان دو عالم\nیہاں ہر شے جواں جاوداں ہے\n\nمزے سوز دروں کے مل رہے ہیں\nبحمد للہ کہ دل آتش بجاں ہے\n\nتماشا دیدنی ہے دیکھ جاؤ\nزبان شوق و گلبانگ فغاں ہے\n\nمبارک باد اے جذب محبت\nانہیں اپنے پر اب میرا گماں ہے\n\nکسی کو اک نظر ہی دیکھ تو لیں\nاب اتنی بھی ہمیں جرأت کہاں ہے\n\nترے نقش قدم کا ذرہ ذرہ\nعبادت گاہ جان عاشقاں ہے\n\nالٰہی خیر کرنا دیر سے پھر\nبہت مضطر نگاہ رازداں ہے\n\nپھنکا جاتا ہے دل جس سوز غم سے\nجہنم میں یہ چنگاری کہاں ہے\n\nجو پڑھ سکتا ہے تو پڑھ اے غم دل\nکہ ان نظروں میں آج اک داستاں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%A2%D9%BE_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D8%AC%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "محبت ابتدا میں کچھ نہیں معلوم ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت ابتدا میں کچھ نہیں معلوم ہوتی ہے\nمگر پھر دشمن ایمان و دیں معلوم ہوتی ہے\n\nوجود ذات عکس عالم ہستی سے ہے ثابت\nتری صورت ہی صورت آفریں معلوم ہوتی ہے\n\nمیں ملنا چاہتا ہوں تجھ سے ایسے طور پر جا کر\nجہاں تیری تجلی بھی نہیں معلوم ہوتی ہے\n\nگئے ہم دیر سے کعبے مگر یہ کہہ کے پھر آئے\nکہ تیری شکل کچھ اچھی وہیں معلوم ہوتی ہے\n\nتری برق تجلی کے چلن ہم سے کوئی پوچھے\nچمکتی ہے کہیں لیکن کہیں معلوم ہوتی ہے\n\nترا اعجاز قدرت ہے کہ ہستی کی نمائش میں\nزمانے بھر کو شکل اپنی حسیں معلوم ہوتی ہے\n\nدل مضطرؔ خدا کے واسطے اس سے کنارہ کر\nمحبت دشمن جان حزیں معلوم ہوتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "محبت ابتدا ہے ہر خبر کی", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت ابتدا ہے ہر خبر کی\nمحبت انتہا ہے ہر نظر کی\n\nمحبت روشنی قلب و جگر کی\nمحبت آبرو ہے چشم تر کی\n\nمحبت نے فرشتوں کو جھکایا\nمحبت سے بڑھی وقعت بشر کی\n\nمحبت ظلمت شب کی تمنا\nمحبت آرزو نور سحر کی\n\nمحبت پرتو نور ازل ہے\nمحبت روشنی ہے ہر نظر کی\n\nمحبت اک مسلسل درد سر ہے\nمحبت ہی دوا ہے درد سر کی\n\nمحبت آئنہ ہے لفظ کن کا\nمحبت ہے نظر آئینہ گر کی\n\nمنیرؔ اس دل کے پردے میں محبت\nتجلی ہے خدائے بحر و بر کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "محبت باعث نا مہربانی ہوتی جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت باعث نا مہربانی ہوتی جاتی ہے\nہماری ساری محنت دھول دھانی ہوتی جاتی ہے\n\nحکایت ہوں جو راتوں کو ہمیشہ ہوتی رہتی ہے\nشکایت ہوں جو آپس میں زبانی ہوتی جاتی ہے\n\nترا غم آج تک تازہ ہے ظالم ورنہ دنیا میں\nنئی شے دن گزرنے سے پرانی ہوتی جاتی ہے\n\nتمہاری یاد میں اہل جہاں مر مر کے جیتے ہیں\nقضا لوگوں کے حق میں زندگانی ہوتی جاتی ہے\n\nبڑا الزام ٹھہرا ہے تعلق رشتہ داری کا\nقرابت کی محبت بد گمانی ہوتی جاتی ہے\n\nیہی تنبیہ ملنے پر انہیں مجبور کرتی ہے\nیہی تاکید گویا ضد کی بانی ہوتی جاتی ہے\n\nمرے غم میں وہ مجبوری سے ان حالوں کو پہنچے ہیں\nکہ اب ان کی نزاکت ناتوانی ہوتی جاتی ہے\n\nترے کوچے میں اب گردش کی صورت پڑتی جاتی ہے\nزمیں کی چال دور آسمانی ہوتی جاتی ہے\n\nمرے پہلو میں دل کب تھا لہو کی بوند تھی مضطرؔ\nسو اب وہ بوند بھی قسمت سے پانی ہوتی جاتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%D8%A7%D8%B9%D8%AB_%D9%86%D8%A7_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے\nمگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہے\n\nکشش سے کب ہے خالی تشنہ کامی تشنہ کاموں کی\nکہ بڑھ کر موجۂ دریا لب ساحل سے ملتا ہے\n\nلٹاتے ہیں وہ دولت حسن کی باور نہیں آتا\nہمیں تو ایک بوسہ بھی بڑی مشکل سے ملتا ہے\n\nگلے مل کر وہ رخصت ہو رہے ہیں ہائے کیا کہنے\nیہ حالت ہے کہ بسمل جس طرح بسمل سے ملتا ہے\n\nشہادت کی خوشی ایسی ہے مشتاق شہادت کو\nکبھی خنجر سے ملتا ہے کبھی قاتل سے ملتا ہے\n\nوہ مجھ کو دیکھ کر کچھ اپنے دل میں جھینپ جاتے ہیں\nکوئی پروانہ جب شمع سر محفل سے ملتا ہے\n\nخدا جانے غبار راہ ہے یا قیس ہے لیلیٰ\nکوئی آغوش کھولے پردۂ محمل سے ملتا ہے\n\nجلیلؔ اس کی طلب سے باز رہنا سخت غفلت ہے\nغنیمت جانیے اس کو کہ وہ مشکل سے ملتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AF%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "محبت سحر ہے یارو اگر حاصل ہو یک روئی", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت سحر ہے یارو اگر حاصل ہو یک روئی\nیہ افسوں خوب اثر کرتا ہے لیکن جبکہ جادوئی\n\nخیال ماسوا سیں صاف کر تو اپنے سینے کوں\nکہ دل کے رشتۂ اخلاص کوں لازم ہے یکسوئی\n\nلباس پنبئی بن کیونکے گزرے موسم سرما\nقیامت ہے یہ تیری سرد مہری تس پے یہ سردی\n\nاندھیرا آ گیا آنکھوں کے آگے خشم سوں میری\nجبھی اس چھوکرے کی بو الہوس نیں زلف ٹک چھوئی\n\nپسینے سیں ترے اے شوخ بو آتی ہے دارو کی\nایتی اے فتنہ گر سیکھی کہاں سیں تو نیں بد خوئی\n\nمقابل دختر رز کی جبھی وہ مغبچہ بولا\nاب اس کے دیکھ مارے شوق کے پانی ہو کرچوئی\n\nہوئے پھرتے ہو دشمن آبروؔ کے اے سجن اب تو\nکہو الفت دلی اور دوستی جانی وہ کیا ہوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%DB%81%D9%88_%DB%8C%DA%A9_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "محبت سے بندہ بنا لیجئے گا", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت سے بندہ بنا لیجئے گا\nبتا دیجیے کیا خدا لیجئے گا\n\nکہاں تک یہ چھلا چھپول رہے گی\nبتا دیجیے ہم سے کیا لیجئے گا\n\nاگر کھوٹی الفت سے ہے تم کو دھوکہ\nکسوٹی پر اس کو چڑھا لیجئے گا\n\nگلوری رقیبوں نے بھیجی ہے صاحب\nکسی اور کو بھی کھلا لیجئے گا\n\nمچلکے کا کیوں نام آیا زباں پر\nمحبت کا ہم سے لکھا لیجئے گا\n\nکسی اور سے پھر نہ کیجے گا الفت\nیہ قیمت ہے پہلے چکا لیجئے گا\n\nخفا کیجیئے اب نہ اخترؔ کو صاحب\nیہ دل لیجئے اور کیا لیجئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "محبت صلح بھی پیکار بھی ہے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت صلح بھی پیکار بھی ہے\nیہ شاخ گل بھی ہے تلوار بھی ہے\n\nطبیعت اس طرف خوددار بھی ہے\nادھر نازک مزاج یار بھی ہے\n\nادائے عشق ادائے یار بھی ہے\nبہت سادہ بہت پرکار بھی ہے\n\nیہ فتنے جن سے اک دنیا ہے نالاں\nانہیں سے گرمئ بازار بھی ہے\n\nجنوں کے دم سے ہے نظم دو عالم\nجنوں برہم زن افکار بھی ہے\n\nنفس پر ہے مدار زندگانی\nنفس چلتی ہوئی تلوار بھی ہے\n\nاسی انسان میں سب کچھ ہے پنہاں\nمگر یہ معرفت دشوار بھی ہے\n\nوہ بوئے گل کہ ہے جان چمن بھی\nقیامت ہے چمن بے زار بھی ہے\n\nیہی دنیا ہے نسبت آنسوؤں کی\nیہی دنیا تبسم زار بھی ہے\n\nجہاں وہ ہیں وہیں میرا تصور\nجہاں میں ہوں خیال یار بھی ہے\n\nخبردار اے سبک ساران ساحل\nیہ ساحل ہی کبھی منجدھار بھی ہے\n\nغنیمت ہے کہ اس دور ہوس میں\nترا ملنا بہت دشوار بھی ہے\n\nجو کوئی سن سکے تو نکہت گل\nشکست رنگ کی جھنکار بھی ہے\n\nان آنکھوں کی زہے معجز بیانی\nبہم انکار بھی اقرار بھی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%B5%D9%84%D8%AD_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو\nمرے دل پہ گزرتی کیا ہے اس کا بھی مزا لے لو\n\nجو کہتا ہوں جفائیں چھوڑ دو عہد وفا لے لو\nتو کہتے ہیں خدا سے تم مقدر دوسرا لے لو\n\nجو پوچھا چھوڑ دوں الفت تو بولے اس سے کیا ہوگا\nجو پوچھا اپنا دل لے لوں تو جھنجھلا کر کہا لے لو\n\nجناب خضر راہ عشق میں لڑنے سے کیا حاصل\nمیں اپنا راستہ لے لوں تم اپنا راستہ لے لو\n\nشب فرقت جو درد دل سے مضطرؔ دم الجھتا ہے\nقضا کہتی ہے گھبراؤ نہیں مجھ سے دوا لے لو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D9%84%DB%92_%D9%84%D9%88"} {"title": "محبت ماسوا کی جس نے کی گوری کلوٹی کی", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت ماسوا کی جس نے کی گوری کلوٹی کی\nیقیں کیجو کہ کافر ہو کے اپنی راہ کھوٹی کی\n\nمحبت ماسوا اللہ کی ہر کفر سے بد تر\nفقیروں نے قناعت تب تو برسیلی لنگوٹی کی\n\nقناعت کا خزینہ گر کسی کے ہاتھ لگ جاوے\nنہیں پرواہ رکھتا ہے کسی صراف سوٹی کی\n\nدل قانع کے تئیں نان جویں خوشتر ز تر حلوہ\nنہیں ہو احتیاج اس کو پلاؤ گوشت روٹی کی\n\nجگر کھانے میں اپنے فائدہ از بس، تو کیا جانے\nوہ جانے چاشنی چکھی ہو جس نے دل کی بوٹی کی\n\nتن لاغر براہ عشق بہتر ہے بچا لا کے\nکیا مضغے نے کیا حاصل اگرچہ شکل موٹی کی\n\nاب اس دنیا میں دنیا چھوڑ کر رہنا ہی بہتر ہے\nکہانی تھی بڑی لیک آفریدیؔ نے تو چھوٹی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%D8%A7%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D9%88%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D9%84%D9%88%D9%B9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "محبت منہ پہ کرنا اور دل میں بے وفائی ہے", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت منہ پہ کرنا اور دل میں بے وفائی ہے\nیہ آئینہ یہاں کہتا ہے کیسی آشنائی ہے\n\nبھلا بوسہ ہم اس سے آج مانگیں گے کسی ڈھب سے\nتوقع تو نہیں لیکن یہ طالع آزمائی ہے\n\nمحبوں کو کریں ہیں قتل دشمن کو جلاتے ہیں\nبتوں کی بھی میاں صاحب نرالی ہی خدائی ہے\n\nعجائب رسم ہے ان دلبران دہر کی یا رب\nکسی کے ساتھ جا سونا کہیں سائی بدھائی ہے\n\nیہ عاشق اپنے اپنے اشک کو طوفان کہتے ہیں\nجو سچ پوچھو تو یہ گنگا ہماری ہی کھدائی ہے\n\nالٰہی کیا بنے گی ساتھ میرے شیخ و واعظ کو\nادھر رندی شرابی ہے ادھر کو پارسائی ہے\n\nنہیں یہ ابر و باراں سوزؔ کے احوال کو سن کر\nفلک کی بھی محبت سے یہ اب چھاتی بھر آئی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "محبت میں آرام سب چاہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت میں آرام سب چاہتے ہیں\nمگر حضرت داغؔ کب چاہتے ہیں\n\nخطا کیا ہے ان کی جو اس بت کو چاہا\nخدا چاہتا ہے تو سب چاہتے ہیں\n\nوہی ان کا مطلوب و محبوب ٹھہرا\nبجا ہے جو اس کی طلب چاہتے ہیں\n\nمگر عالم یاس میں تنگ آ کر\nیہ سامان آفت عجب چاہتے ہیں\n\nاجل کی دعا ہر گھڑی مانگتے ہیں\nغم و درد و رنج و تعب چاہتے ہیں\n\nنہ تفریح آسائش دل کی خواہش\nنہ سامان عیش و طرب چاہتے ہیں\n\nقیامت بپا ہو نزول بلا ہو\nیہی آج کل روز و شب چاہتے ہیں\n\nنہ معشوق فرخار سے ان کو مطلب\nنہ یہ جام بنت العنب چاہتے ہیں\n\nنہ جنت کی حسرت نہ حوروں کی پروا\nنہ کوئی خوشی کا سبب چاہتے ہیں\n\nنرالی تمنا ہے اہل کرم سے\nستم چاہتے ہیں غضب چاہتے ہیں\n\nنہ ہو کوئی آگاہ راز نہاں سے\nخموشی کو یہ مہر لب چاہتے ہیں\n\nخدا ان کی چاہت سے محفوظ رکھے\nیہ آزار بھی منتخب چاہتے ہیں\n\nغم عشق میں داغؔ مجبور ہو کر\nکبھی جو نہ چاہا وہ اب چاہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D8%B3%D8%A8_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "محبت میں اک ایسا بھی مقام آتا ہے مشکل کا", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت میں اک ایسا بھی مقام آتا ہے مشکل کا\nجہاں خود دل ہی بن جاتا ہے دشمن ہستئ دل کا\n\nنظر کیسی خیالوں سے ہے اونچا سلسلہ دل کا\nپتہ خود پوچھتا ہے عشق مجھ سے میری منزل کا\n\nہر اک کروٹ پہ درد عشق کی تڑپا نہیں جاتا\nکہاں تک ساتھ دے گی زندگی بے تابئ دل کا\n\nمری آنکھوں میں موجیں ہیں مری نظروں میں طوفاں ہے\nسفینہ میرا پروردہ نہیں آغوش ساحل کا\n\nمری ذوق خلش اک مستقل دنیائے راحت ہے\nکہ ہر اک خار پہ ہوتا ہے دھوکا مجھ کو منزل کا\n\nمزے تنہائیوں کے بھی کبھی آتے ہیں محفل میں\nکبھی تنہائیاں بھی لطف دے جاتی ہیں محفل کا\n\nپلا ساغر نگاہ مست سے بھی کام لے ساقی\nمجھے احساس کچھ ہونے لگا ہے حق و باطل کا\n\nاگر سمجھو تو ہر قطرہ محبت کی کہانی ہے\nنہیں یہ اشک اک پیغام ہے ٹوٹے ہوئے دل کا\n\nصدائے شوق نظارہ نہ ساز بے نیازی ہے\nبس اک نغمہ فضا میں گونجتا ہے پردۂ دل کا\n\nترے در پر مجھے یہ فطرت مجبور لائی ہے\nنہ جانے آج کس دنیا میں عالم ہے مرے دل کا\n\nغم پنہاں کے پردے میں نشاط کامرانی ہے\nزمانہ سے الگ ہٹ کر زمانہ ہے مرے دل کا\n\nجنوں کی عظمتیں مجھ کو منیرؔ آغوش میں لیں گی\nطواف اپنی نگاہیں کر رہی ہیں اس کی محفل کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "محبت میں تری جب مجھ کو عالم نے ملامت کی", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت میں تری جب مجھ کو عالم نے ملامت کی\nدل و جاں نے تب آپس میں مبارک اور سلامت کی\n\nقیامت جس کو کہتے ہیں یہ اک مدت کا تھا مصرع\nیہ میرے مصرع موزوں نے اس قد کی قیامت کی\n\nکیا قمری نے نالہ اور کھینچی آہ بلبل نے\nچلی کچھ بات جب گلشن میں میرے سرو قامت کی\n\nجب اپنا کام تیرے عشق میں تدبیر سے گزرا\nچلی آنکھوں سے میری سیل تب اشک ندامت کی\n\nسخن کا یہ بزرگوں کی تتبع بسکہ کرتا ہے\nنکلتی ہے حسنؔ کی بات میں اک بو قدامت کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "محبت میں تپاک ظاہری سے کچھ نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت میں تپاک ظاہری سے کچھ نہیں ہوتا\nجہاں دل کو لگی ہو دل لگی سے کچھ نہیں ہوتا\n\nیہ ہے جبر مشیت یا مری تقدیر ہے یا رب\nسہارا جس کا لیتا ہوں اسی سے کچھ نہیں ہوتا\n\nکوئی میری خطا ہے یا تری صنعت کی خامی ہے\nفرشتے کہہ رہے ہیں آدمی سے کچھ نہیں ہوتا\n\nترے احکام کی دنیا مرے اعمال کا محشر\nیہاں میری وہاں تیری خوشی سے کچھ نہیں ہوتا\n\nرضا تیری لکھا تقدیر کا میری زیاں کوشی\nکسی کی دوستی یا دشمنی سے کچھ نہیں ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%BE%D8%A7%DA%A9_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "محبت میں جینا نئی بات ہے", "poet_page": "مصنف:سائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت میں جینا نئی بات ہے\nنہ مرنا بھی مر کر کرامات ہے\n\nمیں رسوائے الفت وہ معروف حسن\nبہم شہرتوں میں مساوات ہے\n\nنہ شاہد نہ مے ہے نہ بزم طرب\nیہ خمیازۂ ترک عادات ہے\n\nشب و روز فرقت ہمارا ہر ایک\nاجل کا ہے دن موت کی رات ہے\n\nاڑی ہے مے مفت سائلؔ مدام\nکہ ساقی سے گہری ملاقات ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A7_%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "محبت میں زباں کو میں نواسنج فغاں کر لوں", "poet_page": "مصنف:تاجور نجیب آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت میں زباں کو میں نواسنج فغاں کر لوں\nشکستہ دل کی آہوں کو حریف ناتواں کر لوں\n\nنہ میں بدلا نہ وہ بدلے نہ دل کی آرزو بدلی\nمیں کیوں کر اعتبار انقلاب ناتواں کر لوں\n\nنہ کر محو تماشا اے تحیر اتنی مہلت دے\nمیں ان سے داستان درد دل کو تو بیاں کر لوں\n\nسبب ہر ایک مجھ سے پوچھتا ہے میرے ہونے کا\nالٰہی ساری دنیا کو میں کیوں کر رازداں کر لوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B3%D9%86%D8%AC_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%D9%88%DA%BA"} {"title": "محبت میں زیاں کاری مراد دل نہ بن جائے", "poet_page": "مصنف:تاجور نجیب آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت میں زیاں کاری مراد دل نہ بن جائے\nیہ لا حاصل ہی عمر عشق کا حاصل نہ بن جائے\n\nمجھی پر پڑ رہی ہے ساری محفل میں نظر ان کی\nیہ دل داری حساب دوستاں در دل نہ بن جائے\n\nکروں گا عمر بھر طے راہ بے منزل محبت کی\nاگر وہ آستاں اس راہ کی منزل نہ بن جائے\n\nترے انوار سے ہے نبض ہستی میں تڑپ پیدا\nکہیں سارا نظام کائنات اک دل نہ بن جائے\n\nکہیں رسوا نہ ہو اب شان استغنا محبت کی\nمری حالت تمہارے رحم کے قابل نہ بن جائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "محبت میں مروت کی حکایت کے سخن خالی", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت میں مروت کی حکایت کے سخن خالی\nکہ جوں فانوس دل کی شمع بن ہے پیرہن خالی\n\nرہے کب ہوں گے اب تک بستیوں میں نقش شیریں کے\nدل اپنا کس سے کرتا ہوگا یاروں کوہ کن خالی\n\nگئی یہ کہہ کر آنے سے خزاں کے پیشتر بلبل\nپھر ان آنکھوں سے کیونکر دیکھا جائے گا چمن خالی\n\nموا آگے ہی جل کر شمع سے کیا خوب سمجھا تھا\nنہ سکتا دیکھ پروانہ سجن سے انجمن خالی\n\nخسارت ہے یقیںؔ سرکار کی اتنا سخن مت کر\nنہ کر ان موتیوں سے جوں صدف اپنا دہن خالی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D9%88%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "محبت میں ٹھنی اکثر یہاں تک", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت میں ٹھنی اکثر یہاں تک\nکہ پہنچے معرکے تیر و کماں تک\n\nچلے ناوک کھنچی ظالم کماں تک\nکہاں تک امتحاں آخر کہاں تک\n\nچلے جاتے ہیں آواز جرس پر\nپہنچ جائیں گے بچھڑے کارواں تک\n\nہوائے شوق کے جھونکے سلامت\nرہوگے تم پس پردہ کہاں تک\n\nنہ وہ عیار مجھ سے پوچھتا ہے\nنہ دل کی بات آتی ہے زباں تک\n\nاسی سر کو سر شوریدہ کہیے\nجو پہنچے اس کے سنگ آستاں تک\n\nنیاز و ناز کے چرچے رہیں گے\nہماری اور تمہاری داستاں تک\n\nمبارکؔ کو کوئی دن اور سن لو\nبیاں کا لطف ہے اس خوش بیاں تک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%B9%DA%BE%D9%86%DB%8C_%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیں\nکہ منزل پہ ہیں اور چلے جا رہے ہیں\n\nیہ کہہ کہہ کے ہم دل کو بہلا رہے ہیں\nوہ اب چل چکے ہیں وہ اب آ رہے ہیں\n\nوہ از خود ہی نادم ہوئے جا رہے ہیں\nخدا جانے کیا کیا خیال آ رہے ہیں\n\nہمارے ہی دل سے مزے ان کے پوچھو\nوہ دھوکے جو دانستہ ہم کھا رہے ہیں\n\nجفا کرنے والوں کو کیا ہو گیا ہے\nوفا کر کے بھی ہم تو شرما رہے ہیں\n\nوہ عالم ہے اب یارو اغیار کیسے\nہمیں اپنے دشمن ہوئے جا رہے ہیں\n\nمزاج گرامی کی ہو خیر یارب\nکئی دن سے اکثر وہ یاد آ رہے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D8%A2_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "محبت نے کیا کیا نہ آنیں نکالیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت نے کیا کیا نہ آنیں نکالیں\nکہ تار قلم نے زبانیں نکالیں\n\nہوا ہاتھ اس کا لہو سے حنائی\nزبس اس نے کشتوں کی جانیں نکالیں\n\nوہ لڑکا تھا جب تک یہ سج دھج کہاں تھی\nجواں ہوتے ہی اس نے شانیں نکالیں\n\nلگا تیر سا آ کے مانیؔ کے دل پر\nجب ان ابرووں کی کمانیں نکالیں\n\nشبہ کا گماں تھا نہ یاروں کو جس جا\nمیں واں لعل و گوہر کی کانیں نکالیں\n\nپھسل ہی گیا کلک تصویر مانیؔ\nکمر کھینچ کر جوں ہی رانیں نکالیں\n\nزہے کلک صنعت کہ جس نے زمیں پر\nبہاریں بنائیں خزانیں نکالیں\n\nگلا ڈوک میں گرچہ تھا مصحفیؔ کا\nپر اس پر بھی دو چار تانیں نکالیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C%DA%BA"} {"title": "محبت چاہیے باہم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت چاہیے باہم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو\nخوشی ہو اس میں یا ہو غم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو\n\nغنیمت تم اسے سمجھو کہ اس خم خانہ میں یارو\nنصیب اک دم دل خرم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو\n\nدلاؤ حضرت دل تم نہ یاد خط سبز اس کا\nکہیں ایسا نہ ہو یہ سم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو\n\nہمیشہ چاہتا ہے دل کہ مل کر کیجے مے نوشی\nمیسر جام مے جم جم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو\n\nہم اپنا عشق چمکائیں تم اپنا حسن چمکاؤ\nکہ حیراں دیکھ کر عالم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو\n\nرہے حرص و ہوا دائم عزیزو ساتھ جب اپنے\nنہ کیونکر فکر بیش و کم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو\n\nظفرؔ سے کہتا ہے مجنوں کہیں درد دل محزوں\nجو غم سے فرصت اب اک دم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88"} {"title": "محبت کا اثر جاتا کہاں ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت کا اثر جاتا کہاں ہے\nہمارا درد سر جاتا کہاں ہے\n\nدل بیتاب سینے سے نکل کر\nچلا ہے تو کدھر جاتا کہاں ہے\n\nعدم کہتے ہیں اس کوچے کو اے دل\nادھر آ بے خبر جاتا کہاں ہے\n\nکہوں کس منہ سے میں تیرے دہن ہے\nجو ہوتا تو کدھر جاتا کہاں ہے\n\nترے جاتے ہی مر جاؤں گا ظالم\nمجھے تو چھوڑ کر جاتا کہاں ہے\n\nہمارے ہاتھ سے دامن بچا کر\nارے بیداد گر جاتا کہاں ہے\n\nتری چوری ہی سب میری نظر میں\nچرا کر تو نظر جاتا کہاں ہے\n\nاگرچہ پا شکستہ ہم ہیں اے داغؔ\nمگر قصد سفر جاتا کہاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "محبت کا اچھا نتیجہ نہ دیکھا", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت کا اچھا نتیجہ نہ دیکھا\nنہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا\n\nیوں ہی دل مجھے دے دیا اس نے واپس\nنہ سوچا نہ سمجھا نہ جانچا نہ دیکھا\n\nکبھی لطف اٹھائے کبھی غم اٹھائے\nخدا کی خدا کی میں کیا کیا نہ دیکھا\n\nچلو نوحؔ تم کو دکھا لائیں تم نے\nنہ مے خانہ دیکھا نہ بت خانہ دیکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D9%86%D8%AA%DB%8C%D8%AC%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "محبت کا تری بندہ ہر اک کو اے صنم پایا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت کا تری بندہ ہر اک کو اے صنم پایا\nبرابر گردن شاہ و گدا دونوں کو خم پایا\n\nبرنگ شمع جس نے دل جلایا تیری دوری میں\nتو اس نے منزل مقصود کو زیر قدم پایا\n\nبجا کرتے ہیں عاشق طاق ابرو کی پرستاری\nیہی محراب دیر و کعبہ میں بھی ہم نے خم پایا\n\nنشانہ تیر تہمت کا ہے میرا اختر طالع\nاٹھاؤں داغ میں تو آسماں سمجھے درم پایا\n\nہزاروں حسرتیں جاویں گی میرے ساتھ دنیا سے\nشرار و برق سے بھی عرصۂ ہستی کو کم پایا\n\nسوائے رنج کچھ حاصل نہیں ہے اس خرابے میں\nغنیمت جان جو آرام تو نے کوئی دم پایا\n\nنظر آیا تماشائے جہاں جب بند کیں آنکھیں\nصفائے قلب سے پہلو میں ہم نے جام جم پایا\n\nجلایا اور مارا حسن کی نیرنگ سازی نے\nکبھی برق غضب اس کو کبھی ابر کرم پایا\n\nفراق انجام کام آغاز وصلت کا بلا شک ہے\nبہت رویا میں روح و تن کو جب مشتاق ہم پایا\n\nہر اک جوہر میں اس کا نقش پائے رفتگاں سمجھا\nدم شمشیر قاتل جادۂ راہ عدم پایا\n\nہمارا کعبۂ مقصود تیرا طاق ابرو ہے\nتری چشم سیہ کو ہم نے آہوئے حرم پایا\n\nہوا ہرگز نہ خط شوق کا ساماں درست آتشؔ\nسیاہی ہو گئی نایاب اگر ہم نے قلم پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "محبت کا جب روز بازار ہوگا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت کا جب روز بازار ہوگا\nبکیں گے سر اور کم خریدار ہوگا\n\nتسلی ہوا صبر سے کچھ میں تجھ بن\nکبھی یہ قیامت طرحدار ہوگا\n\nصبا موئے زلف اس کا ٹوٹے تو ڈر ہے\nکہ اک وقت میں یہ سیہ مار ہوگا\n\nمرا دانت ہے تیرے ہونٹوں پہ مت پوچھ\nکہوں گا تو لڑنے کو تیار ہوگا\n\nنہ خالی رہے گی مری جاگہ گر میں\nنہ ہوں گا تو اندوہ بسیار ہوگا\n\nیہ منصور کا خون ناحق کہ حق تھا\nقیامت کو کس کس سے خوں دار ہوگا\n\nعجب شیخ جی کی ہے شکل و شمائل\nملے گا تو صورت سے بیزار ہوگا\n\nنہ رو عشق میں دشت گردی کو مجنوں\nابھی کیا ہوا ہے بہت خوار ہوگا\n\nکھنچے عہد خط میں بھی دل تیری جانب\nکبھو تو قیامت طرحدار ہوگا\n\nزمیں گیر ہو عجز سے تو کہ اک دن\nیہ دیوار کا سایہ دیوار ہوگا\n\nنہ مر کر بھی چھوٹے گا اتنا رکے گا\nترے دام میں جو گرفتار ہوگا\n\nنہ پوچھ اپنی مجلس میں ہے میرؔ بھی یاں\nجو ہوگا تو جیسے گنہ گار ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "محبت کا مجھے دعویٰ ہی کیا ہے", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت کا مجھے دعویٰ ہی کیا ہے\nچلو جانے بھی دو جھگڑا ہی کیا ہے\n\nبہت کچھ دیکھنا ہے آگے آگے\nابھی دل نے مرے دیکھا ہی کیا ہے\n\nالٰہی کس کے لئے گرتی ہے بجلی\nنشیمن میں مرے رکھا ہی کیا ہے\n\nمحبت میں جئے یا کوئی مر جائے\nکسی کی آپ کو پروا ہی کیا ہے\n\nنہ مانے گا نہ مانے گا مرا دل\n\"نہیں\" سے آپ کی ہوتا ہی کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%D8%B9%D9%88%DB%8C%D9%B0_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "محبت کر کے لاکھوں رنج جھیلے بیکلی پائی", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت کر کے لاکھوں رنج جھیلے بیکلی پائی\nوہ مجھ کو کیا ملے اک موت گویا جیتے جی پائی\n\nوہ بلبل ہوں کہ جس دن سے لٹا ہے آشیاں میرا\nاٹھا لایا میں اپنا دل سمجھ کر جو کلی پائی\n\nشکایت اس کی کیا تجھ سے یہ اپنی اپنی قسمت ہے\nکہ میری آنکھ کو آنسو ملے تو نے ہنسی پائی\n\nجہاں میں واقعی مضطرؔ کا بھی اک دم غنیمت تھا\nمگر افسوس تھوڑے دن جیا کم زندگی پائی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D8%AC%DA%BE%DB%8C%D9%84%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%A9%D9%84%DB%8C_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "محبت کس قدر یاس آفریں معلوم ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:چراغ حسن حسرت", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "محبت کس قدر یاس آفریں معلوم ہوتی ہے\nترے ہونٹوں کی ہر جنبش نئی معلوم ہوتی ہے\n\nیہ کس کے آستاں پر مجھ کو ذوق سجدہ لے آیا\nکہ آج اپنی جبیں اپنی جبیں معلوم ہوتی ہے\n\nمحبت تیرے جلوے کتنے رنگا رنگ جلوے ہیں\nکہیں محسوس ہوتی ہے کہیں معلوم ہوتی ہے\n\nجوانی مٹ گئی لیکن خلش درد محبت کی\nجہاں معلوم ہوتی تھی وہیں معلوم ہوتی ہے\n\nامید وصل نے دھوکے دئیے ہیں اس قدر حسرتؔ\nکہ اس کافر کی ہاں بھی اب نہیں معلوم ہوتی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B3_%D8%A2%D9%81%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "محبت کو کہتے ہو برتی بھی تھی", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت کو کہتے ہو برتی بھی تھی\nچلو جاؤ بیٹھو کبھی کی بھی تھی\n\nبڑے تم ہمارے خبر گیر حال\nخبر بھی ہوئی تھی خبر لی بھی تھی\n\nصبا نے وہاں جا کے کیا کہہ دیا\nمری بات کم بخت سمجھی بھی تھی\n\nگلہ کیوں مرے ترک تسلیم کا\nکبھی تم نے تلوار کھینچی بھی تھی\n\nدلوں میں صفائی کے جوہر کہاں\nجو دیکھا تو پانی میں مٹی بھی تھی\n\nبتوں کے لیے جان مضطرؔ نے دی\nیہی اس کے مالک کی مرضی بھی تھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%A8%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "محبت کی انتہا چاہتا ہوں", "poet_page": "مصنف:باسط بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت کی انتہا چاہتا ہوں\nانہیں حاصل ابتدا چاہتا ہوں\n\nاسے برملا دیکھنا چاہتا ہوں\nادب اے محبت یہ کیا چاہتا ہوں\n\nغم عشق کا سلسلا چاہتا ہوں\nمیں تجھ تک ترا واسطا چاہتا ہوں\n\nکرم ہائے نا مستقل کا گلہ کیا\nستم ہائے بے انتہا چاہتا ہوں\n\nوہ گھبرا کے جس پر نظر ڈال ہی دیں\nمیں وہ قلب شورش ادا چاہتا ہوں\n\nکرم کیجیئے تو کرم کا ہوں طالب\nسزا دیجئے تو سزا چاہتا ہوں\n\nتری یاد اچھی طرح ذکر پیارا\nمگر میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں\n\nترے عشق ہی سے بنی میری ہستی\nترے عشق ہی میں مٹا چاہتا ہوں\n\nجو تازہ کرے قصۂ طور باسطؔ\nمیں ایسا ہی اک واقعہ چاہتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں\nمری سادہ دل تجھ کو مغرور کر دوں\n\nترے دل کو ملنے کی خود آرزو ہو\nتجھے اس قدر غم سے رنجور کر دوں\n\nمجھے زندگی دور رکھتی ہے تجھ سے\nجو تو پاس ہو تو اسے دور کر دوں\n\nمحبت کے اقرار سے شرم کب تک\nکبھی سامنا ہو تو مجبور کر دوں\n\nمرے دل میں ہے شعلۂ حسن رقصاں\nمیں چاہوں تو ہر ذرے کو طور کر دوں\n\nیہ بے رنگیاں کب تک اے حسن رنگیں\nادھر آ تجھے عشق میں چور کر دوں\n\nتو گر سامنے ہو تو میں بے خودی میں\nستاروں کو سجدے پہ مجبور کر دوں\n\nسیہ خانۂ غم ہے ساقی زمانہ\nبس اک جام اور نور ہی نور کر دوں\n\nنہیں زندگی کو وفا ورنہ اخترؔ\nمحبت سے دنیا کو معمور کر دوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%88%DA%BA"} {"title": "محبت کی فطرت ہے یہ بے قراری", "poet_page": "مصنف:ہوش بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت کی فطرت ہے یہ بے قراری\nکوئی کیا کرے گا مری غم گساری\n\nوہی کامیابی کے اسرار سمجھا\nمحبت کی بازی یہاں جس نے ہاری\n\nتمہارے اشاروں پہ چلتی ہے دنیا\nنہ مختار یاں ہیں نہ بے اختیاری\n\nمرے دل کو پتھر خدارا نہ سمجھو\nنگاہیں پھر اس پر نگاہیں تمہاری\n\nمحبت کی قسمت میں لکھی ہوئی ہے\nیہی درد مندی یہی اشک باری\n\nزمانہ مرا سوز غم کیا سمجھتا\nکہ ہر سانس ہے اک نئی شعلہ باری\n\nغم دل سناتا ہوں میں ہوشؔ ان کو\nمگر کوئی دیکھے مری بے قراری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "محبت کی ٹھوکر", "poet_page": "مصنف:اعظم کریوی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "شیاما نے لڑکپن میں کسی کو پیار کیا تھا۔ کسی سے محبت کی تھی لیکن جسے پیار کیا تھا اس کے پیار کا وہ مطلب نہ سمجھتی تھی۔ پیار محبت کامطلب محبت کرنے اور محبت کی ٹھوکر کھانے ہی سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ پھر شیاما جوٹھوکروں کے خیال سے گھبراتی تھی وہ اس پیار کرنے والے کو کیسے سمجھ پاتی جو ٹھوکریں کھا چکا تھا۔ شیاما کی آنکھوں میں تو اب تک اس جوان کی صورت بسی تھی جس میں بانکپن تھا جو ہنس ہنس کر پریم کرنا جانتا تھا۔ ایسی حالت میں وہ اس دیوانہ الفت کو کیسے سمجھاتی جو ننگے پاؤں ننگے سر پر ا کرتا تھاجو اس کے سامنے پہنچ کر منہ سے ایک لفظ نہ نکالتا لیکن اس کی آنکھیں دل کا حال بتا دیتی تھیں۔ ایسی محبت کا وہی نتیجہ ہوا جو اکثر لڑکپن کی محبت کا ہوا کرتاہے۔ وہ دیوانہ الفت شیاما کی محبت سے مایوس ہوکر دنیائے عاشقی سے کنارہ کش ہوگیا۔ایسی حالت میں بہت دن گزر گئے۔ لڑکپن کا زمانہ ختم ہوا اور وہ جوان ہوگیا، اس کے دل کے مندرمیں شیاما کی مورت نے اپنا قبضہ جمائے رکھا۔ محبت کی آگ دل کےاندر جلتی تو رہی لیکن ظاہر نہ ہوسکی، اس پر راکھ کی ہلکی سی چادر پڑ گئی تھی۔ ایک دن ہوا کے ایک جھونکے نے چادر الٹ دی۔\n\nشام ہو چکی تھی۔ الہ آباد، مغل سرائے پسنجر کے انٹرکلاس کے ڈبہ میں انند کمار جو ایک مشہور اخبار کا ایڈیٹر تھا بیٹھا ہوا کوئی کتاب پڑھ رہا تھا، سامنے اخباروں کا ڈھیر تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد کتاب سے نظر ہٹاکر وہ کھڑکی کے باہر دیکھنے لگا۔ گاڑی بھک بھک کرتی ہوئی تیزی سے جارہی تھی۔ ہر چیز بھاگتی دوڑتی چلتی پھرتی نظر آرہی تھی۔ جتے ہوئے کھیت، ہرے بھرے میدان۔ پانی سے بھرے تال تلیاں۔ کندھے پر ہل رکھے بیلوں کو ہانکتے ہوئے جفاکش کسان اور اڑتی ہوئی چڑیوں کا نظارہ نہایت دلکش تھا۔ چاروں طرف خوشی و مسرت کا دریا لہریں مارتا دکھائی دیتا تھا لیکن اس کا اثر انند کے دل پر نہ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گوشت پوست اور ہڈی کا پتلا تھا جس میں زندگی تھی لیکن زندگی کا سُکھ جسے کہتے ہیں اس سے وہ محروم تھا۔ اس کی کافی آمدنی تھی، اسے روپے پیسے کی کمی نہ تھی پھر بھی وہ سچی خوشی سے دور تھا۔ انند تفکرات میں ڈوبا ہوا تھا۔ کسی نے ’’مسٹر‘‘ کہہ کر اس کے خیالات کا سلسلہ منقطع کردیا۔ انند نے پھر کر دیکھا۔ ایک کھدرپوش کمسن عورت سامنے کھڑی ہوئی اس کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اس کی آنکھوں میں جھجھک یا بناوٹ کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ ’’کیا میں آپ کا بمبئی کرانیکل دیکھ سکتی ہوں؟‘‘\n’’بمبئی کرانیکل ۔۔۔ ضرور ضرور ۔۔۔ آپ بڑی خوشی سے دیکھ سکتی ہیں۔‘‘ سُکڑ کر بیٹھتے ہوئے آنند نے کہا۔ وہ عورت بمبئی کرانیکل لے کر ’’شکریہ! شکریہ!‘‘ کہتی ہوئی اپنی بینچ کی طرف چلی گئی۔\n\nآنند کو سخت تعجب ہوا۔ اچھے گھر کی عورت اتنی نڈر ہوسکتی ہے یہ اس نے کبھی سوچا ہی نہ تھا۔ جن ہندوستانی عورتوں کو وہ اب تک قفس کی چڑیاں سمجھتا تھا انہیں میں کی ایک قیدِ قفس سے نکلی ہوئی عورت کو اتنا آزاد دیکھ کر اسے تعجب ہونا ہی چاہیے تھا۔ اِدھر ادھر بیٹھے ہوئے مسافروں کے درمیان سے ہوکر چلنے پھرنے والی عورت کو آنند دیر تک چپ چاپ غور سے دیکھتا رہا۔ وہ حسین نہ تھی پھر بھی اسے کوئی بدصورت نہ کہہ سکتا تھا۔ اس کے گندمی رنگ کے جسم میں چہرہ کی بناوٹ میں چھوٹے چھوٹے ہونٹوں اور بڑی بڑی آنکھوں میں ایک عجیب قسم کی چمک تھی۔ ان میں کشش تھی، ایسی کشش جو آنند کے دل کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ ہاں ان میں چمک تھی، ایسی چمک جو آسمان پر اس وقت ہوتی ہے جب سورج غروب ہوتا ہے اور آسمان کے نیلے آنچل سے نکل کر پہلا تارا مسکرانے لگتا ہے۔ سادگی اور نفاست کی ایسی حسین عورت آنند نے کبھی نہ دیکھی تھی۔ اسی قسم کی ایک جھلک لڑکپن میں ضرور اسے دکھائی دی تھی لیکن وہ تو بہت دنوں کی بات تھی جس کا اب خیال کرنا بھی بے کار تھا۔ ایک مرتبہ اس عورت نے سراٹھاکر آنند کی طرف دیکھا، دونوں کی آنکھیں مل گئیں۔ نوجوان عورت کی آنکھیں فاتحانہ تمکنت سے ہنس پڑیں۔ ہارنے والے کی طرح جھینپ کرآنند نے اپنی نظریں نیچی کرلیں اور پھر کتاب اٹھاکر پڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ نوجوان عورت پھر آئی اور بمبئی کرانیکل کو بعد شکریہ واپس کیا۔ جہاں آنند بیٹھا تھا اس کے سامنے والی سیٹ پر جو دو مسافر بیٹھے تھے وہ پیچھے اسٹیشن پر اتر گئے تھے۔ دونوں بینچیں خالی تھیں۔\n\n’’آپ کہاں تشریف لے جارہی ہیں۔ بیٹھیے۔‘‘ انند نے کہا۔\n\n’’میں تو بنارس جارہی ہوں اور آپ؟‘‘ وہ سامنے والی بینچ پر بیٹھ گئی۔\n\n’’میں بھی بنارس ہی جارہا ہوں، غالباً آپ وہاں کانفرنس میں شریک ہونے کے لیے جارہی ہیں۔‘‘\n\n’’آپ کا خیال درست ہے ۔ اسم شریف!\n\n’’شیاما دیوی ۔اور آپ کا ۔۔۔؟‘‘\n\n’’شیاما دیوی! شیاما دیوی! ’’انند نے دل ہی دل میں نام کو دہرایا ۔ لڑکپن کی ایک بھولی بسری ہوئی صورت انند کی آنکھوں کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔ شیاما نے مکرر انند کا نام دریافت کیا تو اس نے چونک کر کہا ۔ جی۔۔۔ معاف کیجیے گا، مجھے آنند کمار کہتے ہیں۔‘‘\n\n’’آپ کیا کام کرتے ہیں؟‘‘\n\n’’میں ایک اخبار کاایڈیٹر ہوں ۔ اور آپ؟‘‘\n\n’’میں ایک اسکول میں استانی ہوں۔‘‘\n\nدونوں خاموش ہوگئے۔ پوچھنے والی باتیں ختم ہوگئیں، اب ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا بات چیت کی جائے۔ اتنےمیں بنارس کا اسٹیشن آگیا۔ شیاما دیوی نے کھڑے ہوکر پوچھا ’’بنارس میں آپ کہاں ٹھہریں گے۔‘‘\n\n’’کسی ہوٹل میں ٹھہرنے کا ارادہ ہے، اور آپ؟‘‘\n\n’’میں اپنی ایک سکھی کے یہاں ٹھہروں گی۔‘‘ ہونٹوں تک ایک استدعا آکر لوٹ گئی۔\n’’کانفرنس میں تو آپ سے ملاقات ہوگی نہ۔‘‘\n\n’’ضرور! میں آپ سے ضرور ملوں گی۔‘‘ اتنا کہہ کر شیاما دیوی نے ہاتھ جوڑکر سرجھکاتے ہوئے انند کو نمسکار کیا اور اپنی بینچ کی طرف چلی گئی اور اپنا چھوٹا سا ٹرنک لیے وہ گاڑی سے اترگئی۔ انند بھی قلیوں سے اپنا اسباب اٹھواکر ٹرین سے اتر پڑا۔\n\nجب کانفرنس کی پہلے دن کی کارروائی ختم ہوئی اور انند اپنی رپورٹ لیے پنڈال سے باہر نکلا تو وہ اداس تھا۔ ’’آج وہ دکھائی کیوں نہیں دی ۔کیا وہ نہیں آئی ۔ کیوں نہیں آئی۔‘‘ وہ یہی سوچتا ہوا جارہا تھا کہ کسی نے ’’انند بابو‘‘ کہہ کرپکارا۔ ڈوبتے ہوئے کو سہارا مل گیا۔ گھنٹوں سے آسمان پر منڈلاتے ہوئے کبوتر یکایک چھتری پر اتر پڑے، خشک تالاب میں چاروں طرف سے یکبارگی پانی بھرنے لگا۔ جھاگ اٹھے اور لہریں مل مل کر ناچنے لگیں، انند کے جسم میں خوشی و مسرت کی لہریں دوڑنے لگیں، اس نےشیاما دیوی کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ قریب پہنچ کر شیاما نےہاتھ جوڑ کر پرنام کیا۔\n\n’’میں آپ کو دیر سے تلاش کر رہا تھا۔‘‘\n\nانند کے سُر میں جو پریم کی جھنکار تھی اس کی چوٹ کھاکر شیاما تلملا گئی اور اس نے کہا ۔ ’’میں بھی آپ کا انتظار کر رہی تھی۔‘‘\n\n’’پنڈال میں آپ کدھر بیٹھی تھیں میں نے آپ کو نہیں دیکھا۔‘‘\n\n’’لیکن میں نے تو آپ کو دیکھ لیا تھا۔ بدلہ ہوگیا۔‘‘\n\n’’اس وقت آپ کہاں جائیں گے۔ میرے ساتھ چلیے۔‘‘\n\nانند الجھن میں پڑ گیا ۔ ’’چل تو سکتا ہوں لیکن مجھے آج کی رپورٹ اخبار کو بھیجنی ہے۔‘‘\n\n’’ہاں یہ تو بہت ضروری بات ہے خیر پھر دیکھا جائے گا۔‘‘\n\n’’کیا آپ میرے ساتھ ہوٹل چل سکتی ہیں۔‘‘\n\n’’اس وقت تو معافی چاہتی ہوں، میری سہیلی میرا انتظار کرتی ہوگی۔‘‘\n’’کب تک آپ کو فرصت ہوجائے گی۔‘‘\n\n’’شاید چھ بجے تک۔ آپ کہاں ٹھہرے ہیں؟‘‘\n\n’’گرانڈ ہوٹل میں ۔ تو کیا میں آپ کا ہوٹل میں چھ بجے انتظار کرسکتا ہوں۔ کیا آپ وہاں تشریف لاسکتی ہیں؟‘‘\n\n’’میں ساڑھے چھ بجے تک وہاں آجاؤں گی ، اچھا نمسکار۔‘‘ شیاما نے اپنا ہاتھ انند کی طرف بڑھادیا۔ شیاما سے ہاتھ ملاتے ہی انند کے جسم میں گویا بجلی کی لہر دوڑ گئی، وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر آہستہ آہتسہ ایک تانکہ کی طرف بڑھا ۔ خوابوں کی اجڑی ہوئی دنیا پھر ایک مرتبہ آباد ہوگئی۔ وہ شیاما کو اپے دل سے کسی وقت نہ بھلا سکا۔ رپورٹ لکھتے وقت، تار گھر جاتے وقت، وہاں سے واپس ہوکر ہاتھ منھ دھوکر چائے پیتے وقت شیاما برابر اس کی آنکھوں کے سامنے کھڑی رہی گویا وہ ہمیشہ سے اس کے ساتھ ہی رہی تھی۔\n\nمقررہ وقت قریب آگیا۔ انند بڑی بے چینی سے اس کا انتظار کر رہا تھا۔ کئی مرتبہ وہ ہوٹل سے نیچے اوپر آیا گیا، آخر وہ آگئی۔ ہوٹل کے اوپر والی منزل کے برآمدہ میں شیاما کو آرام کرسی پر بٹھاکر انند اس کی طرف شکایت آمیز نظروں سے دیکھنےلگا، وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن نہ کہہ سکا۔\n\n’’مجھے کچھ دیر ہوگئی، معاف کیجیے گا۔‘‘ شیاما نے محبت آمیز نظروں سے انند کی طرف دیکھ کر کہا۔\n\n’’آپ تو آگئیں میرے لیے یہی کیاکم ہے۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ شاید آپ نہ آئیں گی۔‘‘\n\n’’یہ کیسے ممکن تھا ۔ آپ مجھے آپ، نہ کہا کیجیے۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’یوں ہی، مجھے اچھا نہیں لگتا۔‘‘\n\nشیاما سے آنکھیں ملاکر انند نے کہا ۔ ’’مجھے تم سے ایسی ہی امید تھی شیاما۔‘‘\n\n’’کیسی امید؟‘‘\n\nانند نے سنبھل کر کہا۔ ’’مہربانی کی۔‘‘\n\n’’کیا خوب؟ آپ کو باتیں بنانا بہت آتا ہے۔‘‘\n\n’’تھوڑی دیر خاموش رہ کر انند نے کہا، میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں لیکن ہمت نہیں پڑتی۔‘‘\n\n’’آپ کو جو کچھ پوچھنا ہے شوق سے پوچھئے میں بتانے کے لیے تیار ہوں۔ صرف ڈر ہے تو اس کا کہ میری باتیں سن کر کہیں آپ مجھ سے نفرت نہ کرنے لگیں۔‘‘ اتنا کہہ کر شیاما نے سرجھکالیا۔\n\n’’تمہارا خیال غلط ہے شیاما! میں اتنا کمزور دل کا نہیں ہوں، زندگی زندگی ہے۔ ماں کے پیٹ سے کوئی قابل بن کر نہیں نکلتا۔ بار بار غلطیوں کی ٹھوکریں کھاکر ہی انسان اوپر کو اٹھتا ہے۔‘‘\n\nشیاما بحر خیال میں غوطے کھانے لگی۔ جس راز کو دنیاسے پوشیدہ رکھنے ہی میں اس کی بہتری تھی اسی راز کو آج کھولنے میں اس کو اپنا فائدہ نظر آیا۔ ڈوبتا ہوا آدمی پانی میں ایک لکڑی کا سہارا پاکر اسے چھوڑدینے کی کبھی ہمت نہیں کرسکتا خواہ وہ لکڑی اسے کنارے سے دور ہی کیوں نہ بہالے جائے۔ بار بار غلطیوں کی ٹھوکریں کھاکر ہی آدمی اوپر کو اٹھتا ہے۔ یہ وہ کئی مرتبہ سن چکی تھی لیکن اس کا اس کے دل پر کوئی خاص اثر نہ ہوا تھامگر آج وہ انند کو سب کچھ بتانے کے لیے تیار ہوگئی۔‘‘\n\nخیالات میں ڈوبی ہوئی شیاما کی طرف دیکھ کر انند نے کہا ’’شیاما! میں تم سے صرف اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کہ تم کون ہو؟‘‘ خیالات کی دنیا سے نکل کر شیاما نے کہا ’’یہ تو میں آپ کو پہلے ہی بتاچکی ہوں۔‘‘\n\n’’لیکن اس سے میری تسلی نہیں ہوئی اور اس سے بھی شاید اب تم کو انکار نہ ہوگا کہ سب کچھ جان لینے کا مجھے حق ہے۔ جب میں نے تم کو پہلے پہل دیکھا تو اسی وقت سے سمجھ گیا تھا کہ تم کوئی معمولی عورت نہیں ہو۔ تمہاری زندگی میں ضرور ایسے حادثے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے تم وہ بن گئی ہو جواس وقت ہو۔ انھیں حادثوں اور واقعات کا حال میں تمہاری زبان سے سننا چاہتا ہوں۔‘‘ ایک گہری سانس لے کر شیاما نے کہا ’’آپ میری آپ بیتی سننا ہی چاہتے ہیں تو میں ضرور سناؤں گی لیکن اگر اس سےآپ کو صدمہ ہو تو مجھے الزام نہ دیجیے گا۔‘‘\n\nشیاما کچھ سوچتی رہی پھر اس نے کہنا شروع کیا۔\n\n’’اپنے ماں باپ کی میں اکلوتی اولاد تھی۔ جب میں نے دسویں سال میں قدم رکھا تو میری ماں پرلوک سدھاری۔ میرے والد ایک دفتر میں کلرک تھے، وہ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے، میری تعلیم و ترتیب کی طرف وہ میری ماں سے زیادہ خیال رکھتے تھے۔ لیکن اب تجربہ نے مجھے یہ بتادیا ہے کہ ماں سے بڑھ کر نہ تو کوئی لڑکی کو تعلیم دے سکتا ہے اور نہ ان غلطیوں سے اس کی حفاظت کرسکتا ہے جو زندگی کی راہ میں قدم قدم پر سنہرا جال بجھائے رکھتی ہیں۔ دن میں پاٹ شالہ میں پڑھنے جاتی اور صبح و شام پتاجی خود مجھے پڑھاتے۔ اس طرح سے علمی تعلیم تو مجھے مل گئی لیکن گرہستی کی تعلیم جس کی عورت کو سخت ضرورت رہتی ہے مجھے کچھ بھی نہ مل سکی۔ میں باغ کے اس پودے کی طرح تھی جس کی دیکھ بھال کرنے کے لیے کوئی ہوشیار مالی نہ ہو۔\n\nاسی طرح چار پانچ برس گز گئے۔ میں پاٹ شالہ جاتی رہی، ایک دن اسکول سے لوٹ کر گاڑی سے اترکر جب گلی میں گھسی تو مجھے ایسا معلوم ہوا گویا کوئی میری طرف دیکھ رہا ہے، خواہش ہوئی مڑ کر دیکھوں کہ کون ہے۔ اس وقت اگر میں اس خواہش کو روک سکتی تو شاید میری زندگی کا افسانہ وہ نہ ہوتاجو آج ہے لیکن لڑکپن کی اس خواہش کو میں نہ روک سکی۔ میں نے مڑ کر دیکھا۔ ایک پکے مکان کے برآمدہ میں کھڑا ہوا ایک لڑکا میری طرف دیکھ رہا ہے۔ جلدی جلدی قدم بڑھاکر میں اس گلی میں مڑگئی جس میں میرا سنسان گھر تھا۔ اس دن بہت کوشش کرنے پر بھی میرے دل سے اس لڑکے کا خیال نہ گیا۔ جس طرح اس نے مجھے دیکھا تھا پہلے کسی نے نہ دیکھا تھا۔ دوسرے دن پاٹ شالہ سے لوٹ کر گلی میں گھستے ہی میں نے پھر اس کو دیکھا۔ میرے دل میں گدگدی پیدا ہوئی۔ نشہ سا چڑھ گیا۔ سر نیچا کیے آگے بڑھی، برآمدہ کے قریب پہنچتے ہی میرے سامنے کوئی چیز آکر گری۔ میں نے دیکھا کہ ایک رنگین لفافہ ہے۔ اس وقت گلی میں کوئی نہیں تھا، ہمت کرکے میں نےلفافہ اٹھالیا، جدسی سے گھر میں گھسی اور اپنے کمرہ میں جاکر اور کتابوں کا بستہ ایک طرف پھینک کر لفافہ کو پھاڑ کر خط پڑھنے لگی۔ ٹوٹی پھوٹی زبان میں لکھی ہوئی لڑکپن کی وہ پاگل پنے کی باتیں سن کر آپ کو کیا فائدہ ہوگا۔ آپ خود سمجھ سکتے ہیں۔ اس وقت کی باتیں یاد کرکے آج مجھے ہنسی آتی ہے لیکن اس زمانہ میں مجھے وہ خط بہت پیارا معلوم ہوا۔ میں گھنٹوں اسے پڑھتی رہی پھر بڑی رات تک بیٹھ کر میں نے اس کاجواب لکھا۔ میں نے کیا لکھا اسے بھی نہ پوچھئے۔ دوسرے دن پاٹ شالہ جاتے وقت جب دائی کے ساتھ میں اس گلی میں نکلی تو وہ اپنےگھر کے برآمدہ میں پھر کھڑا ملا۔ خط زمین پر گراکر میں جلدی جلدی سڑک پر کھڑی ہوگئی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔ گاڑی پر بیٹھ کر میں نے دیکھا کہ وہ خط اٹھاکر جلدی سےاپنے گھر میں گھس گیا۔ اس دن پاٹ شالہ میں میراجی نہ لگا۔ کسی طرح چھٹی کا گھنٹہ بجا۔ دھڑکتے ہوئے دل کو کسی نہ کسی طرح سنبھال کر میں گھرکی طرف چلی، گلی کے سامنے پہنچ کر گاڑی رکی۔ وہ میرا انتظار کر رہا تھا۔ قریب پہنچ کر میں نے اس کی طرف دیکھا، وہ مسکرارہا تھا۔ شرم سے میری آنکھیں نیچے جھک گئیں۔ تب میری زندگی کو تباہ کرنے والا میرے خط کاجواب میرے سامنے آگرا۔ سنتی ہوں گناہ کرنے والے کےسرپر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے، آہ اس وقت میرے سر پر بجلی کیوں نہ کری جب میں اس خط کو اٹھانے کے لیے جھکی۔ اگر اسوقت بھگوان جی مجھ پر دیا کرتے تو میرے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ کیوں لگتا۔ خیر اس خط میں جو کچھ لکھا تھا اس کو سوچ کر آج بھی شرم و ندامت سے میں کانپ اٹھتی ہوں۔ اس دن تو میری عقل ماری گئی، اس خط نے مجھے پاگل بنادیا تھا۔ اس نے رات کو مجھ سے ملاقات کرنےکی استدعا کی تھی میں اس سے ملنے کے لیے تیار ہوگئی اور رات کے سناٹے میں دروازہ کے پاس کھڑے ہوکر میں نے انتظار کیا ۔ کسی نے دروازہ پر تھپکی دی، میں نے دروازہ کھول دیا، وہ آہستہ آہستہ قدم رکھتا ہوا اندر داخل ہوا۔ اس وقت میرے دل میں جذبات کا طوفان اٹھا ہوا تھا ۔ بس انند بابو آگے کہنے کی ضرورت نہیں۔\nہم دونوں کی خفیہ ملاقات کا سلسلہ بہت دنوں تک جاری رہا۔ ان دنوں میری حالت چوروں کی سی ہوگئی تھی۔ کسی سے کھل کر آنکھیں ملاکر باتیں کرنا میرے لیے مشکل تھا۔ آخرکار اس قسم کی باتوں کا جو کچھ نتیجہ ہوتا ہے۔ وہی ہوا، چوری پکڑی گئی۔ ایک رات جب وہ باہر نکل گیا اور میں دروازہ بند کرنےکو بڑھی تو مجھے ایسا معلوم ہوا گویا میرے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسک گئی، سامنے پتاجی کھڑے ہوئے تھے غصہ کی ایسی خطرناک صورت میں نے کبھی نہ دیکھی تھی، اس وقت ان کے منھ سے بات نہ نکلتی تھی۔ میرا ہاتھ تھام کر وہ اپنے کمرہ میں کھینچ لے گئے۔ میں کمرہ کے فرش پر گرپڑی، غصہ کی نظروں سے پتاجی میری طرف دیکھنےلگے۔ کتنا اچھا ہوتا اگر میں ان کے غصہ کی آگ میں جل کر خاک ہوجاتی۔ تھوڑی دیر تک وہ مجھے اسی طرح دیکھتے رہے، پھر ان کی بڑی بڑی آنکھوں سےآنسو کی جھڑی لگ گئی۔ آنچل سے منھ کو چھپاکر میں بھی رونےلگی۔ جب غصہ اور نفرت کا جوش کچھ کم ہوا تو پتاجی نے مجھ سے حقیقت دریافت کی۔ میں نے ان سے سب کچھ کہہ دیا۔ بڑی رات تک وہ مجھے نصیحت کرتے رہے۔\n\nدوسرے دن سے میرا اسکول جانا بند ہوگیا۔ گھر میں ایک بوڑھی خادمہ میری حفاظت کرنے لگی۔ اپنی حرکت پر میں نادم تو ضرور تھی لیکن مجھے بدراہ کرنے والے اس نوجوان کی صورت میری آنکھوں سے کسی وقت اوجھل نہ ہوتی تھی۔ ہر گھڑی اسی کا دھیان رہتا۔ اسی کی میٹھی میٹھی باتیں میرے کانوں میں گونجا کرتیں۔ ایک دن جب میری خادمہ باہر گئی ہوئی تھی ایک ادھیڑ عورت میرے گھر میں آئی اور اس نے مجھے موہن کا خط دیا۔ خط میں میرا حال دریافت کیا گیا تھا۔ میں نے فوراً جواب لکھ دیا۔ میرا جواب لے کر وہ عورت چلی گئی اور پھر دوسرے دن وہ موہمن کا خط لائی۔ اس خط کو پڑھ کر میں کانپ اٹھی۔ آج ایک دوسری استدعا تھی جو اس سے پہلے کبھی نہ کی گئی تھی۔ اس استدعا میں جو آزادی کی امید تھی اس نے مجھے پاگل بنادیا۔\n\nاسی دن رات کی تاریکی میں اپنےگہنے اور کپڑے لے کر گھر سے نکل پڑی اور موہن کے ساتھ لکھنؤ پہنچی۔ کان پور سے کچھ دور نہیں، ہم ٹرین سے جلدی پہنچ گئے۔ ہم لکھنؤ میں ایک دھرمشالہ میں ٹھہرے، بعد میں ایک چھوٹا سا مکان لے کر رہنے لگے، موہن محبت تو بہت کرتا تھا۔ لیکن نہ جانے کیوں لکھنؤ پہنچ کر میرے دل میں اس کی جانب سے نفرت پیدا ہونے لگی۔ مجھے ایسا معلوم ہونے لگا کہ وہ مجھے دل سے پیار نہیں کرتا۔ مجھے گھر کی یاد ستانےلگی، باپ کے گھر میں مجھے جو آرام تھا وہ کہاں نصیب، میں ان کے درشن کے لیے تڑپنے لگی۔ لیکن اپنے ہاتھوں سے پاؤں میں کلہاڑی مار کر پچھتانے سے کیا ہوتا ہے، ہم دونوں جو کچھ ساتھ لائے تھے وہ سب ختم ہوگیا۔ اب روپے کی ضرورت ہوئی۔ ایک دن موہن کام کی تلاش میں صبح سے جوگھر سے نکلا تو پھر وہ واپس نہ آیا۔ میرے چاروں طرف تاریکی تھی، ایک دن میں نے گومتی کی لہروں میں خود کو چھپانے کی کوشش کی تو ایک بھلے آدمی نے مجھے بچالیا اور انھیں کی کوشش سے مجھے ایک پاٹ شالہ میں نوکری مل گئی۔ اس وقت سے میں ایک دھرم شالہ میں رہتی ہوں اور پاٹ شالہ میں لڑکیوں کو پڑھاتی ہوں۔ انند بابو بس یہ ہے میری آپ بیتی۔‘‘ اتنا کہہ کر شیاما نے انند بابو کی طرف دیکھا، اس نے کچھ دیر خاموش رہ کر پوچھا۔\n\n’’پتاجی کا کیا حال ہوا؟‘‘\n\n’’ایک مرتبہ میں نے کان پور جاکر ان کاحال دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ گھربار چھوڑ کر کہیں چلے گئے۔‘‘ انند کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ بڑی مشکل سے خود کو سنبھال کر انھوں نے کہا ’’شیاما! تمہاری کہانی درد سے بھری ہوئی ہے۔ مجھے تو حیرت ہے کہ اتنی تکلیف سہہ کر کوئی عورت وہ کیسے بن سکتی ہے جو تم اس وقت ہو۔‘‘ شیاما کا دل کچھ ہلکا ہوگیا۔ انند بابو نے اس سے نفرت نہیں کی۔\n\n’’تمہاری طرح میں بھی اس دنیا میں تنہا ہوں شیاما! اور تمہاری طرح میں نے بھی ٹھوکریں کھائی ہیں۔‘‘\n\nآنکھیں ملاکر شیاما نے کہا ۔ ’’یہ تو میں پہلے ہی سمجھ گئی تھی۔‘‘\n\nچپ رہ کر انند سوچنے لگا کہ کیا جواب دے۔ آخر اس نے دل کو سنبھال کر کہا۔ ’’بنارس میں کب تک رہوگی؟‘‘\n\n’’آپ کب تک رہیں گے؟‘‘\n\n’’میں تو کل یہاں سے چلاجاؤں گا۔‘‘\n\n’’تو میں بھی کل یہاں سے چلی جاؤں گی۔‘‘\n\n’’کہاں؟‘‘\n\nٹھنڈی سانس بھر کر شیاما نے کہا ۔ جہاں قسمت لے جائے۔‘‘\n\nشیاما کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اس کی طرف تاکتے ہوئے انند بابو نے کہا ’’کیا تم میرے ساتھ چل سکتی ہو؟‘‘\n\nسر جھکا کر شیاما نے دھیرے سے جواب دیا ۔ ’’بڑی خوشی سے۔‘‘\n\n’’لیکن میں تم کو وہ سب کچھ تو نہ دے سکوں گا جو تمہیں ملنا چاہیے۔‘‘\n\n’’مجھے کچھ نہیں چاہیے۔‘‘\n\n’’پھر تو ۔۔۔انند نے شیاما کو اپنی طرف کھینچ لیا اور دائمی محبت کی مہر اس کے لبوں پر لگادی۔ جس نے لڑکپن میں محبت کی ٹھوکر کھائی ہو وہی محبت کی قدر و قیمت سمجھ سکتا ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%B9%DA%BE%D9%88%DA%A9%D8%B1"} {"title": "محبت کی یادگار", "poet_page": "مصنف:اعظم کریوی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "کشوری بڑی ہنس مکھ اور نیک خصلت لڑکی تھی۔ گو وہ یوں بہت مالدا نہ تھی مگر حسن کی دولت سے مالا مال تھی، سب اسے گاؤں کی رانی کہتے تھے۔ اب اس نے بارہویں سال میں قدم رکھا تھا۔ ایک دن صبح کے وقت وہ اپنے گھر کے سامنے نیم کے پیڑ کے نیچے چبوترہ پر بیٹھی بڑی خوش الحانی سے رامائن پاٹ کر رہی تھی کہ ادھر سے گاؤں کے زمیندار کا لڑکا جسونت گزرا، آج بہت دنوں کے بعد کشوری نے جسونت کو دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئی۔ دونوں لڑکپن کے ساتھی تھے، گاؤں کے پاٹ شالہ میں دونوں نے تعلیم حاصل کی تھی۔ پاٹ شالہ کی تعلیم ختم کرکے جسونت بنارس انگریزی پڑھنے چلا گیا اور کشوری اپنی تعلیم کا اور سلسلہ قائم نہ رکھ سکی، جب جسونت گرمیوں کی چھٹیوں میں گاؤں آتا تو کشوری کے لیے بنارس سے کوئی نہ کوئی تحفہ ضرور لاتا۔ اس مرتبہ جب وہ کشوری سے ملا تو اس نے ایک چاندی کا تعویذ پیش کیا۔ یہ کوئی بڑی چیز نہ تھی مگر کشوری انکار نہ کرسکی۔ وہ جسونت کو ’’بھائی‘‘ کہتی تھی، وہ اسے دنیا میں سب سے زیادہ لائق عقلمند اور قابل عزت سمجھتی تھی۔ اس کے لیے جسونت ایک ’’دیوتا‘‘ تھا اور دیوتا ہی سمجھ کر اپنے دل میں اس کی پوجا کرتی تھی۔ گلے میں تعویذ پہن کر اس نے اس پر ایک اچٹتی نظر ڈالی ’’دیوتا‘‘ کا تحفہ پاکر کشوری کے دل کی خوشی اس کی آنکھوں سے جھلکنے لگی۔ وہ فوراً اپنی ماں کے پاس دوڑی گئی اور کہا:\n\n’’ماں! دیکھ تو سہی۔ جسونت بھائی میرے لیے کیسا خوبصورت تعویذ بنارس سے لائے ہیں۔‘‘\n\n’’ہاں! ہاں بہت خوبصورت ہے‘‘۔ ماں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ’’ہاں، بہت خوبصورت ہے۔ مگر جسونت نے تو تجھ ایسی بدصورت لڑکی کو ایسا خوبصورت تعویذ لاکر دیا اور تونے اس کے بدلہ میں ان کو کچھ بھوجن بھی نہ کرایا۔‘‘\n\nاس عرصہ میں جسونت بھی کشوری کی ماں کو پرنام کرنے گھر کے اندر پہنچ گیا اور اس نے کہا: ’’نہیں ماں! میں ناشتہ کرآیا ہوں پھر کسی دن آکر کھالوں گا۔‘‘\n\nیہ سن کر کشوری کی بھوئیں تن گئیں، اس کے ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہوگئی اور اس نے کہا ’’کیوں نہ کھاؤگے؟ تم کو ضرور کھانا پڑے گا ورنہ یہ لو، اپنا تعویذ واپس لے جاؤ‘‘ یہ کہہ کر کشوری نے اپنےگلے سے تعویذ اتارنے کی کوشش کی جسونت نے اس کا ہاتھ تھام لیا ’’بس بس زیادہ غصہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور یہ لو! آنکھوں میں آنسو بھی آگئے، بڑی پگلی ہے۔ اس میں رونے کی کون بات ہے خوشی کے وقت آنسو بہانا منحوس ہوتا ہے۔ اچھا لے آ، کیا کھلاتی ہے میں ضرور کھاؤں گا۔‘‘\n\nبرستا ہوا بادل چھٹ گیا اور آفتاب چمکنے لگا کشوری کے ہونٹوں پر پھر مسکراہٹ کا راج ہوگیا۔ جب ایک گلاس دودھ پی کر جسونت رخصت ہونے لگا تو کشوری نے پوچھا ’’کب آؤگے۔‘‘ جسونت نے کہا ۔ ’’جب تم بلاؤگی۔‘‘\n\n’’اور اگر میں نہ بلاؤں تو ۔‘‘ کشوری نے منہ بناکر کہا۔\n\nجسونت نے مسکراکر جواب دیا ۔ ’’تو میں نہ آؤں گا۔‘‘\n\nکشوری کا چہرہ اداس ہوگیا۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا اچھی بات ہے جیسی تمہاری خوشی۔ میں غریب تم کو مجبور نہیں کرسکتی۔\n\nجسونت نے دیکھا کہ ہنسی ہنسی میں کشوری پھر روٹھنا چاہتی ہے اس نے خوشامدانہ لہجہ میں کہا ’’میں نے تو یوں ہی ہنسی میں تم کو چھیڑنے کے لیے کہہ دیا تھا تم بلاؤ چاہے نہ بلاؤ مگر جب کبھی میں بنارس سے چھٹیوں میں یہاں آؤں گا تو تم سے ضرور ملوں گا۔‘‘ یہ کہتا ہوا کشوری سے جسونت رحصت ہوگیا۔\n\nجسونت اور کشوری کے ایسے تعلقات دیکھ کر گاؤں والوں کا خیال تھا کہ جب کشوری جوان ہوگی تو اس کی شادی جسونت ہی کے ساتھ ہوگی لیکن ان کے والدین کے خیالات اور ہی قسم کے تھے۔ کشوری کے ماں باپ غریب تھے وہ سوچتے تھے کہ غریب لڑکی کے ساتھ زمیندار اپنے لڑکے کی شادی کبھی نہ کرے گا لیکن اس کے ساتھ ہی ان کو جسونت سے بہت سی امیدیں تھیں وہ سمجھتے تھے کہ ممکن ہے۔ جسونت کی کوشش سے زمیندار شادی کرنے کے لیے تیار ہوجائے، ہم غریب ہیں تو کیا لیکن ہمارا خاندان تو معزز و شریف ہے۔ ادھر جسونت کے والدین نے کبھی یہ سوچنے کی ضرورت ہی نہ سمجھی کہ وہ اپنے لڑکے کی شادی ایک غریب گھر میں کریں گے۔ مغرور زمیندار تو جسونت کے لیے کشوری کے بجائے کسی راجکماری کی تلاش میں تھا۔\n\nکشوری ان تمام حالات سے بے خبر اپنے ’’جسونت‘‘ کی محبت میں مگن تھی۔ جس دن جسونت نے اس کو تعویذ دیا اس رات کو کشوری خوشی کے مارے اچھی طرح سے سو بھی نہ سکی۔ وہ سوچتی تھی کہ کب سویرا ہو اور وہ اپنی سہیلیوں کو تعویذ دکھائے۔\n\nکشوری نے آہستہ آہستہ اس سہانے سبزہ زار میں قدم رکھا جسے دنیا ’’جوانی‘‘ کہتی ہے۔ اس کا ح\n\nسن و شباب دیکھ دیکھ کر اس کے والدین دل ہی دل کڑھتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کشوری کسی غریب جاہل مرد کے پالے پڑے جواس کی قدر نہ کرسکے۔ جسونت سے وہ ناامید ہوچکے تھے۔ اس وقت جسونت بی -اے میں پڑھ رہا تھا لیکن وہ گاؤں میں آتا تو حسبِ معمول کشوری سے ملنے ضرور آتا تھا اور کشوری بھی جوں جوں بڑھتی گئی اس کے دل میں جسونت کی محبت بڑھتی گئی۔ وہ اب جسونت کو خط بھی لکھنے لگی تھی۔ ان دونوں لڑکپن کی بے لوث سادی محبت والوں میں خط و کتابت کاسلسلہ دیکھ کر گاؤں والوں نے جھوٹی افواہیں بھی اڑانی شروع کردیں اور اس کی خبر ان کے والدین کو بھی ہوگئی۔ کشوری کے گھروالوں کے لیے یہ بڑی شرم اور بے عزتی کی بات تھی۔ لیکن جسونت کے والدین کے لیے کوئی فکر کی ضرورت نہ تھی۔ اول تو جس افواہ سے غریب کی عزت خاک میں مل جاتی ہے اسی افواہ سے دولتمند کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچتا۔ دوسرے یوں بھی لڑکے والوں کی بدنامی ہوتے ہوئے بھی سماج میں رہنا مشکل نہیں ہوتا لیکن لڑکی والوں کے لیے تھوڑی سی کانا پھوسی بھی قیامت ہوجاتی ہے۔ سماج میں پھر ان کو بڑی مشکل سے جگہ ملتی ہے۔ انھیں تمام وجوہ سے کشوری کے والدین نےاپنی لڑکی کا بیاہ اساڑھ میں کرنے کا انتظام کیا۔\n\nجب کشوری کو معلوم ہوا کہ اس کا بیاہ ہونے والا ہے تو اس کے دل میں اسی قسم کے خیالات آنے لگے جو اس کی ہم عمر لڑکیوں کے دلوں میں شادی ہونے سے کچھ پہلے پیدا ہونے لگتی ہیں۔ وہ بہت خوش ہوئی اور وہ سوچنے لگی ’’کچھ دنوں کے بعد اسے کسی کو خوش کرنا پڑے گا وہ گھر کی ملکہ بنے گی۔ گرہستی کا انتظام کرنا پڑے گا۔ وہ اپنے شوہر کا کمرہ سجائے گی۔ وہ سینے پرونے سے اس کی آمدنی بڑھانے کی کوشش کرے گی۔ اور ہاں بچوں کو کس طرح خوش کرے گی۔‘‘ اسی قسم کے خیالات سے کنواری لڑکیاں اپنے مستقبل کی دنیا بناتی ہیں۔ یہی ان کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ انھیں ارمانوں اور امیدوں کے ساتھ وہ گرہستی کے آشرم میں قدم رکھتی ہیں۔ اسی قسم کے خیالات کے ساتھ کشوری نے اپنے جسونت کو بھی یاد کیا۔ اوہو وہ اس خوشی کے موقع پر اس کو ضرور کوئی قیمتی تحفہ نذر کریں گے اور وہ اس تحفہ کو اپنے ’’پتی دیوتا‘‘ کو دکھائے گی۔ آہا وہ کتنااچھا نظارہ ہوگا۔ ان تمام خیالات کے آتے ہی اس نے ’جسونت‘ کو لکھا کہ ’’میرا جلدی بیاہ ہونےوالا ہے‘‘ اس نے سوچھا تھا کہ خط کے جواب میں جسونت اس کو مبارک باد کا خط لکھیں گے اور آشیرباد دیں گے لیکن خلاف توقع وہ جسونت کے جواب سے خوش نہ ہوسکی۔ اس نے ایک بار، دوبار اور پھر بار بار خط کو پڑھا جس سے اس کے دل پر چوٹ لگی۔ اس نے سوچا کہ جسونت اب اس کو پیار نہیں کرتے۔ اس نے اپنی ماں سے بھی شکایت کی کہ معلوم نہیں کیوں جسونت اب اس سے پہلی سی محبت نہیں کرتے۔\n\nیہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ شادی کا دن نہ بھولی۔ ایک ہفتہ پہلے اس نے پھر جسونت کو لکھا ’’بھیا آپ کالج سے کچھ دنوں کی چھٹی لے کر آئیں اور میری شادی میں ضرور شریک ہوں۔‘‘ وہ سوچتی تھی کہ اس مرتبہ جسونت ضرور آئیں گے اور جب وہ آئیں گے تو وہ ان کے چرنوں کی خاک اپنی پیشانی سے لگائے گی اور وہ اسے آشیرواد دیں گے۔ وہ اس کے لیے بنارس سے ضرور کوئی تحفہ لائیں گے۔ آہ اب بھیا سے جدا ہونا پڑے گا۔ معلوم نہیں کتنے دنوں کے لیے؟‘‘ وہ یہ سب کچھ سوچ کر روئی بھی مگر وہ خوشی کارونا تھا۔ واہ ری شادی کی خوشی۔\n\nآخرکار زندگی کا وہ قیمتی دن آہی گیا، صبح سے شام تک اگر کشوری کو کس کی فکر تھی کسی کاخیال تھا تو وہ جسونت تھا۔ شوہر کا زیادہ انتظار نہ تھا کیونکہ اس کوتو آنا ہی تھا۔ اسے جسونت بھیا کی یاد ستارہی تھی جن سے جدا ہوکر وہ نئی زندگی گزارنے کے لیے جارہی تھی۔\n\nوہ جسونت کا انتظار کر رہی تھی۔ دولہاسج کر آیا۔ گاؤں والے بھی اپنے اپنے تحفے لائے، اس کی سہیلیاں بھی ہنسی مذاق کرنے کے لیے آگئیں، مگر جسونت کا اب تک پتہ نہ تھا۔ شبھ مہورت بھی آپہنچی، ’’بھونر‘‘ کا وقت بھی آگیا لیکن جسونت نہ آیا۔ کشوری گھونگھٹ کاڑھے مہاور لگائے زیوروں سے لدی ہوئی بیاہ کے ’’منڈپ‘‘ کی طرف چلی۔ اس موقع پر بھی اس کی آنکھیں جسونت بھیا کو تلاش کر رہی تھیں لیکن اس کا کہیں پتہ نہ تھا۔ یکایک اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، لیکن اس کو جسونت کا کہنا یاد آگیا کہ ’’خوشی کے وقت آنسو بہانا منحوس ہوتا ہے، یہ سوچتے ہی اس نے اپنے دل کو سنبھال لیا۔ وہ منڈپ میں پہنچ گئی۔ منتر کا جاپ ہوا، سنکھ پھونکے گئے اور کچھ دیر کے لیے کشوری بھی اپنا رنج بھول گئی۔\n\nشادی ہوگئی اور کشوری اپنی سہیلیوں، لڑکپن کے ساتھیوں اور اپنے والدین سے رخصت ہوکر اپنے پتی دیوتا کے گھر پہنچ گئی۔\n\nکشوری کا شوہر سکریٹریٹ میں کلرک تھا، تھوڑی تنخواہ میں اسے نو دس آدمیوں کا خرچ اٹھانا پڑ رہاتھا۔ کشوری کالڑکپن کچھ آرام سے نہ گزرا تھا، شہر میں آکر بھی اس کا وہی حال رہا مگر وہ ایک ہوشیا ر لڑکی تھی وہ اپنے شوہر کو جان سے بھی زیادہ پیار کرتی تھی۔ ساس سسر کی خدمت گزار اور گھر کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے لیے شفیق ماں تھی۔ اس نے اپنی کفایت شعاری سے دوسال تک گھر کا خرچ آمدنی سےزیادہ بڑھنے نہ دیا۔\n\nدیوالی کی چھٹیوں میں سکریٹریٹ بند ہوا۔ جب وہ دفتر سے آج اپنے گھر واپس ہوا تو کشوری نے اپنے شوہر کے چہرہ پر خلاف معمول اداسی دیکھی جب وہ رات کو اپنےشوہر کے پاس پان لیے ہوئی پہنچی تو اس کے شوہر نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور اس کے سرپر محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔ ’’ہردیشوری! تمھیں میرے لیے کتنی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے، اگر تم اس جھونپڑی کے بجائے کسی راج محل کی رونق بڑھاتیں تو کتنا اچھا ہوتا۔‘‘\n\nکشوری نے جلدی سے اپنا ہاتھ اپنے پتی کے منہ پر رکھ دیا اور کہا ’’پران ناتھ! آپ بار بار ایسا کیوں کہتے ہیں اگر آپ جھونپڑی میں رہتے ہیں تو وہ میرے لیے سورگ ہے۔ آپ ہی میرے لیے سب کچھ ہیں۔ آپ میرے دیوتا ہیں آپ کی سیوا کرنا ہی میرا دھرم ہے۔ آپ مجھے تو کہتے ہیں لیکن خود اپنی صحت کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ آپ رنج و فکر میں کمزور ہوتے جارہے ہیں۔ اگر میں آپ کو آرام نہ پہنچا سکوں تو میرا مرجانا ہی بہتر ہے۔‘‘\n\n’’کیا تم سچ مچ مرنا چاہتی ہو؟ لیکن یہ تو بتاؤ کہ مجھے کس پر چھوڑ جاؤگی ۔ خیر تم پہلے مرو یا میں یہ تو ایشور جانے لیکن دیوالی قریب ہے۔ اس موقع پر مرد اپنی عورتوں کو سونے چاندی کے تحفے دیتے ہیں سچ بتاؤ کہ تم اپنے غریب شوہر سے دیوالی کے دن کیا لینا چاہتی ہو؟‘‘\n\n’’میرا شوہر ممکن ہے کہ غریب ہو لیکن محبت میں وہ امیر ہے تو میں اس سے پریم چاہتی ہوں۔ سونے چاندی کی مجھے ضرورت نہیں۔‘‘\n\nمگر ایسا نہیں ہوسکتا تم کو کچھ نہ کچھ ضرور قبول کرنا پڑے گا۔ ذرا سوچو تو سہی شادی ہوئے دو سال ہوگئے مگر میں نے اب تک تم کو کچھ بھی نہ دیا اس سال میں تم ضرور کوئی زیور بنوادوں گا۔\n\nکشوری محبت کے آنسوؤں کو نہ روک سکی وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کے شوہر کے پاس روپیہ نہیں ہے۔ بڑی مشکل سے گھر کا خرچ چلتا ہے اس لیے اس کی صحت جواب دے رہی ہے۔ زیور بنوانے میں اسے اور کتنی محنت کرنی پڑے گی ۔ اس کے شوہر گوپال نے کشوری کو کھینچ کر اپنے کلیجہ سے لگالیا۔ کشوری کی آنکھوں میں آنسو کیوں آئے یہ وہ اچھی طرح سے سمجھ گیا۔ اس کی آنکھیں بھی بھر آئیں، گوپال نے پھر کہا ’’میں تمہارے لیے قیمتی زیور نہ بنواسکوں گا کیونکہ میرے پاس روپے کم ہیں پھر بھی میں آج تم کو بتاتا ہوں کہ میں نے کچھ روپے جمع کرلیے ہیں تم اپنا وہ چاندی کا تعویذ دے دو، میں اس پر سونے کا خول چڑھا دوں گا۔ اس میں خرچ بھی زیادہ نہ لگے گا۔ تم اس کو کل ضرور اتار دینا۔‘‘\n\nکشوری نے آہستہ سے جواب دیا ’’میرے سرتاج! آپ ضد کیوں کرتے ہیں آپ نے جو کچھ جمع کیا ہے اس سے اپنا علاج کرائیے۔‘‘\n\nگوپال نے کچھ دیر خاموش رہ کر کہا ’’میں اور علاج کراؤں، نہیں کل میں تم کو ضرور تحفہ دوں گا۔‘‘\n\n’’پران ناتھ! کیا یہ آپ کی انتہائی ضد نہیں ہے۔‘‘\n\n’’ہرگز نہیں۔ تم ابھی اپنے گلے سے تعویذ اتارو۔‘‘ یہ کہہ کر تعویذ اتارنے لگا۔\n\nپہلے تو کشونی نے اسے روکنا چاہا مگر جب گوپال نہ مانا تو اس نے کہا ’’کئی سال ہوچکے جسونت بھیا نے مجھے یہ تحفہ دیا تھا میں ان کی یادگار کو جدا نہیں کرنا چاہتی۔‘‘\n\n’’میں تو اسے سونے سے مڑھوادوں گا۔‘‘\n\n’’لیکن اس سے اس کی اصلیت چھپ جائے گی۔ اس کا رنگ بدل جائے گا۔ آپ ایسے کام میں کیوں فضول خرچ کرنا چاہتے ہیں جس کو میں ناپسند کرتی ہوں۔‘‘\n\n’’کیا وہ اتنا قیمتی ہے کہ تم میری خواہش کو پورا نہ ہونے دوگی۔‘‘\n\n’’میرے مالک! میں آپ کے حکم کے خلاف نہیں چلنا چاہتی پھر بھی میں بتانا چاہتی ہوں کہ یہ تعویذ میرے جسونت بھیا کے محبت کی یادگار ہے اس لیے میں آپ کی بات نہیں مانتی۔‘‘\n\nگوپال خاموش ہوگیا، اس کا چہرہ پھیکا پڑگیا۔ کشوری نے یہ سب کچھ دیکھا مگر وہ چپ چاپ بیٹھی رہی۔ گوپال نے تھوڑی دیر کے بعد کشوری کو آہستہ سے ڈھکیل دیا۔ کشوری پھر بھی اس کے پاس تھوڑی دیرتک بیٹھی رہی۔ اس کی آنکھوں سے کچھ آنسو نکل پڑے اس نے گہری سانس لی اور دھیرے سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلی گئی ۔ رنگ میں بھنگ ہوتے دیر نہیں لگی۔\n\nگوپال نے بڑی مشکل سے کچھ روپے جمع کیے تھے۔ وہ اس سے کشوری کے لیے کوئی تحفہ خریدنا چاہتا تھا لیکن کشوری نے انکار کردیا۔ کشوری کو کیا معلوم تھا کہ وہ اپنے انکار سے گوپال کے دل کو کتنا صدمہ پہنچائے گی۔ آج کشوری نے اپنے شوہر کی مدت کی آرزو پر اپنے انکار سے پانی پھیر دیا۔ گوپال نے کشوری اور جسونت کے تعلقات کے متعلق کچھ باتیں سنی تھیں لیکن اس کے دل پر پہلے اس کا کچھ اثر نہ ہوا تھا کیونکہ کشوری کی محبت کی وجہ سے گوپال کے دل میں کسی قسم کی بدگمانی پیدا ہی نہ ہوسکی لیکن جب گوپال محبت کی نیند سے چونکا تو محبت کا وہ شوخ رنگ پھیکا نظر آیا۔ جس کو وہ پہلے پری حور او ردیوی سمجھ رہا تھا اب وہ کسی اور رنگ میں نظر آنے لگی۔ محبت کی ترنگ میں عیب بھی ہنر معلوم ہوتا ہے لیکن اس کا نشہ اترتے ہی ہنر بھی عیب معلوم ہونے لگتا ہے۔ محبت والے ایک دوسرے کی غلطیان تلاش کرنے لگتے ہیں اگر ایسی حالت میں اس کے دل میں بدگمانی اپنا گھر بنالیتی ہے تو ساری زندگی برباد ہوجاتی ہے ساری خوشیوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔\n\nگوپال نے گاؤں والوں سے کشوری کے متعلق بہت سی افواہیں سنی تھیں لیکن وہ ان افواہوں کو بھول گیا تھا، اس کی کچھ کچھ یاد اس کے دل کے کسی گوشہ میں باقی تھی۔ شادی ہونے کے بعد بھی کشوری جسونت کو خط لکھا کرتی تھی بعد میں گوپال کو کسی قسم کی غلط فہمی یا بدگمانی نہ ہوسکی اب جب کہ جسونت کا پھر نام لیا گیا اور کشوری نے جسونت کے تحفہ کو جدا کرنے سے انکار کیا تو گوپال کے دل میں بدگمانی نے اپنی جگہ بنالی اور اس کو پورا یقین ہوگیا کہ کشوری شادی سے پہلے ہی جسونت کو پیار نہیں کرتی تھی بلکہ اب بھی وہ اسی طرح سے جسونت سے محبت رکھتی ہے۔ انتہا یہ ہے کہ وہ اس کے سامنے اپنے شوہر کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتی۔ ’’آہ وہ کتنی بے شرم ہے کہ جسونت کا نام لے کر مجھ سے کہتی ہے کہ یہ تعویذ ان کی محبت کی یادگار ہے۔ اف یہ ناقابل برداشت بات ہے اس زندگی سے تو موت بہتر ہے۔‘‘ تمام رات گوپال کو اسی فکر میں نیند نہ آئی صبح ہوتے ہی اس کی طبیعت خراب ہوگئی وہ دن بھر بستر ہی پر پڑا رہا رفتہ رفتہ اس کی حالت ایسی خراب ہوئی کہ وہ ایک ہفتہ پلنگ سے نہ اٹھ سکا۔\n\nاب تک کشوری نہ سمجھ سکی کہ گوپال کی بیماری کی اصل وجہ کیا تھی وہ سمجھتی تھی کہ اس کا شوہر بہت محنت کرتا ہے اسی سے اس کی طبیعت خراب ہوگئی۔ اسی خیال سے تعویذ مڑھانے کے بدلے اس نے دوا لانے کے لیے گوپال سے کہا تھا۔ وہ اس سے بے خبر تھی کہ اس کا شوہر غیرت اور بدگمانی کی آگ میں جل رہا ہے۔ جب وہ گوپال کے پاس جاتی تو گوپال اسے نفرت کی نگاہوں سے دیکھتا۔ کشوری اپنے شوہر کا یہ حال دیکھ کر دل میں کڑھتی آخر کار اس نے سوچا کہ ان کی خفگی کی اصل وجہ یہ تعویذ ہے اس کو یہ پتہ نہ تھا کہ گوپال کے کانوں میں گاؤں کی کچھ افواہیں پہنچ چکی تھیں۔ اس نے اب تعویذ کو پارسل کے ذریعے سے جسونت کے پاس واپس کرنے کا ارادہ کیا مگر یہ سوچتے ہی کہ یہ تحفہ ان ’’جسونت بھیا‘‘ کا ہے جن کو وہ جان سے زیادہ عزیز رکھتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے لیکن ہندوستانی عورتوں کے لیے شوہر کی خوشی ہی دنیا کی سب چیزوں سے پیاری ہوتی ہے۔ اس لیے کشوری نے تعویذ کو واپس کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا لیکن یہ سوچ کر ڈاک کے ذریعے سے بھیجنے میں ’’جسونت بھیا‘‘ کو برا لگے گا اس نے ان کو خط لکھ کر اپنے یہاں بلانے اور سب باتیں اچھی طرح سے سمجھاکر تعویذ واپس کرنے کا ارادہ کیا۔\n\nگوپال کی حالت روز بروز خراب ہونے لگی۔ جب وہ دفتر میں کام کرنے بیٹھتا تو کشوری اور جسونت کی باتیں سوچ سوچ کر وہ ایسا پریشان ہوتا کہ سرکاری کام میں غلطیاں ہوجاتیں۔ ایک دن جب وہ دفتر سے گھر واپس ہوا تو اس نے کشوری کو اپنے پاس بلایا اور پیار سے اس کی طرف دیکھنے لگا وہ سوچنے لگا ’’آہ ایسی معصوم عورت کیا کوئی پاپ کرسکتی ہے، نہیں میری بدگمانی فضول ہے۔‘‘\n\nعرصہ کے بعد کشوری نے جو شوہر کی محبت بھری نگاہیں دیکھیں تو اس کی آنکھیں بھرآئیں۔ گوپال نے اس کی تھوڑی پکڑ کر اس کا منہ اوپر اٹھایا اور کلیجہ سے لگاکر اس سے پوچھا۔ ’’ہردیشوری! کیوں روتی ہو‘‘ بہت دنوں کے بعد کشوری نے اپنے شوہر کی زبان سے محبت بھری باتیں سنیں، عرصہ کے بعد گوپال نے اس کو اپنے سینہ سے لگایا تھا، رکے ہوئے آنسو اک دم امنڈ پڑے، اس سے جتنا رویا گیا وہ روئی، گوپال کا بھی دل بھر آیا۔ مگر واہ رے شکی مزاج مرد، گوپال نے بہت نرمی سے کشوری سے دریافت کیا ’’سچ بتاؤ کیا تم میں اور جسونت میں کوئی خراب تعلق تھا۔‘‘ آسمان سے گویا بجلی گر پڑی یکایک کشوری کے آنسو خشک ہوگئے، وہ حیرت سے اپنے شوہر کی طرف دیکھنے لگی اور وہ یہ نہ سوچ سکی کہ اسے ایسے موقع پر کیا کرنا چاہیے اس کا سر چکرانے لگا اس کی قسمت میں شوہر کی زبان سے ایسے شرمناک الفاظ کا سننا لکھا تھا جب کہ شادی ہوئے تین سال ہوچکے تھے، کیا کوئی بہن اپنے بڑے بھائی سے ناجائز تعلق رکھ سکتی ہے۔ شدت سے رنج و غم سے وہ اپنے شوہر کے قدموں پر گر پڑی اس کادل پھٹا جاتا تھا اس نے اپنے شوہر کے قدموں کو زور سے اپنی چھاتی سے چپکالیا، وہ ایک لفظ بھی نہ بول سکی۔\n\nلیکن کشوری کی اس حالت سے گوپال کی بدگمانی بڑھ گئی، وہ کشوری کی صداقت اور سچائی کا اندازہ ہی نہ لگا سکا، اس نے سوچا کہ ’’کشوری شرم اور ڈر کے مارے سرنگوں ہے کیونکہ اس کا راز کھل گیا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو وہ میرے قدموں پر کیوں گرتی۔‘‘ گوپال کی بدگمانی بڑھتی ہی گئی پھر بھی اس وقت اس نے کشوری پر رحم ہی کیا۔ واہ ری انسان کی عقل! اس دنیا میں عورت اور مرد ایک دوسرے کو کبھی اچھی طرح سے نہ پہچان سکیں گے۔\n\nکشوری کو اب معلوم ہوگیا کہ اس کا شوہر اس سے کیوں بدگمان ہے۔ اس کو اب اپنے شوہر کو اپنا منہ دکھانا بھی اچھا نہ معلوم ہوتا تھا، وہ جب کبھی اپنے شوہر کے کمرہ میں جاتی تو سوچتی کہ اس کا شوہر اس کے بارے میں ایسی باتیں سوچتا ہوگا جن کا خواب میں اسے خیال نہ تھا۔ وہ شرم اور غیرت کے مارے زمین میں گڑی جاتی تھی اس نے اپنے شوہر سے ایک لفظ بھی نہ کہا، وہ ہر وقت یہی سوچا کرتی تھی کہ اس کے شوہر نے ایسی ذلیل بات کیوں سوچی، اسے اب ہر چیز سے نفرت ہوگئی۔ اس کی تندرستی بھی خراب رہنے لگی۔ آخرکار اس نے کچھ سوچ کر جسونت بھیا کو لکھا ’’میں بڑی مصیبت میں ہوں، آپ فوراً میری سسرال میں تشریف لائیے۔‘‘ اس کا دل کہہ رہا تھا کہ اس بار وہ ضرور آئیں گے۔\n\nاس دن خلاف معمول گوپال دفتر سے جلدی آگیا اور بہت تھکا ہوا تھا۔ کشوری سے کھانا لانے کو کہا اور خود پلنگ پر لیٹ گیا۔ کشوری نے جو خط جسونت کو لکھا تھا وہ تکیہ کے نیچے پڑا تھا، گوپال کی نظر اس خط پر پڑ گئی، پتہ لگا ہوا تھا مگر خط بند نہ تھا۔ اس کو دیکھتے ہی گوپال کا نازک جسم غصہ کے مارے پیپل کے پتہ کی طرح کانپنے لگا۔ کانپتی ہوئی انگلیوں سےاس نے خط کھولا اور پڑھنے لگا۔\n\n’’پیارے جسونت بھیا! میں بڑی مصیبت میں ہوں، مہربانی کرکے جلدی آکر میری مدد کیجیے۔‘‘\n\nآپ کی کشوری\n\nآج گوپال نے چوری پکڑی اس نے سوچا ’’وہ جسونت کو بلانا چاہتی ہے، مصیبت سے چھڑانے کے لیے یعنی اس کو بھگالے جانے کے لیے اور وہ بھی جلدی۔ وہ اس کے ساتھ جائے گی نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اب معلوم ہوگیا وہ ہمیشہ اسی طرح خط لکھتی رہی ہوگی اور یہ آخری خط ہے جسے میں نے پکڑلیا ۔ بے ایمان۔ بے وفا لڑکی! آہ میں نے اپنے دل کا خون پلاکر اس ناگن کی کیوں پرورش کی۔ کیا اس لیے کہ وہ مجھی کو ڈسے گی۔‘‘ یہ سوچتے ہی گوپال کو اپنی قسمت پر بے اختیار رونا آگیا وہ سوچنے لگا ’’اس فاحشہ سے میں نے شادی ہی کیوں کی۔ اگر اس وقت جسونت مل جائے تو میں اس کا خون پی لوں، ہاں میں اس وقت تک انتظار کروں گا جب تک یہ چھٹی اس کے پاس پہنچے اور وہ یہاں آئے۔ اب مجھے زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ کمرہ سے نکل کر باہر ہوگیا۔\n\nگوپال کے جانے کے کچھ دیر بعد جب کشوری کھانا لے کر آئی تو اسے یہ دیکھ کر بہت تعجب ہوا کہ اس کا شوہر کمرہ میں نہیں ہے۔ وہ اداس ہوکر اس کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔ ایک گھنٹہ گزر گیا لیکن وہ واپس نہ آیا۔ اس کو اب اپنے اس خط کی یاد آئی جو اس نے جسونت کے نام لکھا تھا۔ تکیہ اٹھاکر اس نے دیکھا تو جس طرح سے وہ رکھ گئی تھی وہ اسی طرح سے رکھا تھا، اس نے اس خط کو فوراً ڈاک خانہ میں بھجوادیا۔\n\nکافی رات گزرنے کے بعد گوپال گھر واپس ہوا، انسان کب تک ایسے صدمے برداشت کرسکتا ہے، گوپال کا دل جل رہا تھا۔ نہ اسے گھر میں چین تھا نہ باہر اس لیے اب وہ موت کی راہ دیکھ رہا تھا۔ وہ ایسا معلوم ہونے لگا گویا وہ برسوں کا بیمار ہے۔ کشوری نے بھی اسے دیکھا اور آنسو بہائے لیکن پرماتما کی لیلا کو کون جان سکتا ہے۔ اس دفعہ گوپال پلنگ پر ایسا گرا کہ وہ پھر اٹھ ہی نہ سکا، تیسرے دن ’’کشوری! کشوری!‘‘ کہتا ہوا وہ اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔\n\nچوتھے دن جسونت آگیا۔ کشوری اپنے سب زیور اتار چکی تھی، جب جسونت آیا تو کشوری نے اپنا سر اس کے چرنوں میں جھکایا اور اس کا تعویذ لے کر کہا: بھائی صاحب! کیا آپ کو اپنے اس تحفہ کا دھیان ہے جب آپ نے اسے میرے گلے میں پہنایا تھا تو میں رونے لگی تھی اور آپ نے کہا تھا کہ یہ اچھی بات نہیں۔ بھیا آپ کا کہنا سچ ہوا۔ اس لیے اب اسے واپس لے لیں۔‘‘\n\nجسونت رونے لگا وہ ایک لفظ بھی نہ کہہ سکا اور کہتا بھی کس سے کیونکہ تعویذ کو جسونت کے ہاتھ میں دینے کے ساتھ ہی کشوری کی روح بھی اس قید ہستی سے آزاد ہوگئی تھی۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D8%B1"} {"title": "محبت کیا بڑھی ہے وہم باہم بڑھتے جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت کیا بڑھی ہے وہم باہم بڑھتے جاتے ہیں\nہم ان کو آزماتے ہیں وہ ہم کو آزماتے ہیں\n\nنہ گھٹتی شان معشوقی جو آ جاتے عیادت کو\nبرے وقتوں میں اچھے لوگ اکثر کام آتے ہیں\n\nجو ہم کہتے نہیں منہ سے تو یہ اپنی مروت ہے\nچرانا دل کا ظاہر ہے کہ وہ آنکھیں چراتے ہیں\n\nسماں اس بزم کا برسوں ہی گزرا ہے نگاہوں سے\nکب ایسے ویسے جلسے اپنی آنکھوں میں سماتے ہیں\n\nکہاں تک امتحاں کب تک محبت آزماؤ گے\nانہیں باتوں سے دل اہل وفا کے چھوٹ جاتے ہیں\n\nخمار آنکھوں میں باقی ہے ابھی تک بزم دشمن کا\nتصدق اس ڈھٹائی کے نظر ہم سے ملاتے ہیں\n\nدل اک جنس گراں مایہ ہے لیکن آنکھ والوں میں\nیہ دیکھیں حسن والے اس کی قیمت کیا لگاتے ہیں\n\nکسی کے سر کی آفت ہو ہمارے سر ہی آتی ہے\nکسی کا دل کوئی تاکے مگر ہم چوٹ کھاتے ہیں\n\nگئے وہ دن کہ نامے چاک ہوتے تھے حفیظؔ اپنے\nحسین اب تو مری تحریر آنکھوں سے لگاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DA%91%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81%D9%85_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "محبت ہو تو برق جسم و جاں ہو", "poet_page": "مصنف:انور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت ہو تو برق جسم و جاں ہو\nوہ آتش کیا کہ سینے میں نہاں ہو\n\nنہیں ہوا اور پھر کہنے کو یہاں ہو\nحریف بد گماں کے ہم گماں ہو\n\nتحیر فرط شوق دید سے ہوں\nوہیں مجھ کو بھی دیکھو تم جہاں ہو\n\nسنی جاتی ہو جب محشر میں روداد\nتو اپنی ختم کیوں کر داستاں ہو\n\nوہ مستغنی سہی پر دل گیا ہے\nجو پھر ہو تو انہیں پر کچھ گماں ہو\n\nجو سچ ہو وعدۂ دیدار ان کا\nتو باتوں میں قیامت کیوں عیاں ہو\n\nمجھے سر پھوڑنے میں عذر کیا ہے\nمگر ان کا ہی ہی سنگ آستاں ہو\n\nتمہیں وہ پردہ یہاں ہے پردہ داری\nمیرے دل میں نہیں تو پھر کہاں ہو\n\nرکا جاتا ہے دم سینہ میں کیا کیا\nگلے پر کاش خنجر سا رواں ہو\n\nچھپائے ہم سے کیا کیا راز اپنے\nاگر کوئی ہمارا رازداں ہو\n\nرہے کیوں تلخیٔ فرہاد کا ذکر\nاگر شیریں کی شیریں داستاں ہو\n\nزلیخا پر نہ ہو کیوں نازش عشق\nکہ جب یوسف متاع کارواں ہو\n\nعدو خوش خوش ہے کچھ کہہ کر سنا ہے\nنہ مانوں گا کبھی تم بے دہاں ہو\n\nملا ہے بیٹھے رہنے کا سہارا\nجہاں ہو اور تمہارا آستاں ہو\n\nاسی میں فیصلہ سمجھا ہوں دل کا\nکہاں تک دیکھیے ضبط فغاں ہو\n\nیہاں بیٹھے ہو پر کچھ اکھڑے اکھڑے\nنظر ملتی نہیں دل سے کہاں ہوں\n\nسراپا سوز ہے الفت میں انورؔ\nعجب کیا ہے اگر آتش‌ زباں ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88"} {"title": "محبت ہے تو پھر اندازۂ شوق وفا کیوں ہو", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبت ہے تو پھر اندازۂ شوق وفا کیوں ہو\nشکایت درد کی کیوں ہو جفاؤں کا گلہ کیوں ہو\n\nکسی کے کان تک پہنچے وہ میری التجا کیوں ہو\nبر آنا جس کا ممکن ہو وہ میرا مدعا کیوں ہو\n\nیہ راہ عشق ہے اے دل مآل اندیشیاں کیسی\nجنوں ہے دستگیر اپنا کوئی زنجیر پا کیوں ہو\n\nحیات آرزو پروردۂ آغوش طوفاں ہے\nجسے ہو فکر ساحل کی وہ میرا ناخدا کیوں ہو\n\nنہ یہ فریاد ہوگی پھر نہ یہ آہیں نہ یہ نالے\nدل ناداں محبت میں حقیقت آشنا کیوں ہو\n\nوہ نظریں خاک میں جن کو ملانا بھی نہیں آتا\nانہیں نظروں سے وابستہ ہمارا مدعا کیوں ہو\n\nحدود شش جہت سے ماورا جب اس کے جلوے ہیں\nتو پرواز محبت تا بہ حد دو سرا کیوں ہو\n\nخدا کے یاد آنے کا بڑا اچھا ذریعہ ہے\nشناسائے کرم وہ بانی جور و جفا کیوں ہو\n\nمحیط عرش و کرسی جب خدا کا ظل رحمت ہے\nمنیرؔ اپنی خطا کوشی کی کوئی انتہا کیوں ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2%DB%82_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88"} {"title": "محبوب خدا نے تجھے نایاب بنایا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محبوب خدا نے تجھے نایاب بنایا\nقد سرو کیا رخ گل مہتاب بنایا\n\nجب کچھ نہ بنی عشق نے بیتاب بنایا\nخود بن گیا شعلہ مجھے سیماب بنایا\n\nاس حسن کے دریا نے جو پھر کر مجھے دیکھا\nموج قدم ناز کو گرداب بنایا\n\nسرمست شہادت ہیں ترے عشق میں ساقی\nآب دم خنجر کو مئے ناب بنایا\n\nآگاہ کیا عشق نے قانون وفا سے\nجب ناخن شمشیر کو مضراب بنایا\n\nسب عضو بدن شمع صفت بہہ گئے گل کر\nاس سوزش دل نے مجھے سیلاب بنایا\n\nاک رات اڑائی نہ مری دختر رز سے\nساقی نے بط مے کو بھی سرخاب بنایا\n\nجسم ایسا دمکتا ہے کہ کپڑے چمک اٹھے\nنینو کو ترے حسن نے کمخواب بنایا\n\nکب طالب راحت ہوئے زخمیٔ محبت\nمرہم کی جو حاجت ہوئی تیزاب بنایا\n\nعارض نے کیا سر بہ زمیں سارے گلوں کو\nقامت نے ہر اک شاخ کو محراب بنیا\n\nاے بحرؔ بر و بحر میں گردش رہے ہم کو\nقسمت نے بگولا تجھے گرداب بنایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "محبوب نے پیرہن میں جب عطر ملا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "محبوب نے پیرہن میں جب عطر ملا\nاور پان چبا کے اپنے گھر سے وہ چلا\nہم نے یہ کہا نہ جاؤ باہر اے جاں\nہے شام قریب ہنس دیا کہہ کے بھلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%81%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%B9%D8%B7%D8%B1_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "محبّت کا جُنوں باقی نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "محبّت کا جُنوں باقی نہیں ہے\nمسلمانوں میں خُوں باقی نہیں ہے\nصفیں کج، دل پریشاں، سجدہ بے ذوق\nکہ جذبِ اندرُوں باقی نہیں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%91%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%8F%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "محتاج اجل کیوں ہے خود اپنی قضا ہو جا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محتاج اجل کیوں ہے خود اپنی قضا ہو جا\nغیرت ہو تو مرنے سے پہلے ہی فنا ہو جا\n\nاے شوق طلب بڑھ کر مجنون ادا ہو جا\nاے ہمت مردانہ راضی بہ رضا ہو جا\n\nآغوش فنا میں ہم پروردۂ آفت ہیں\nاے فتنۂ دوراں اٹھ اے حشر بپا ہو جا\n\nضد اور یہ ضد اے دل اچھا تو خدا حافظ\nقربان ہی اس بت پر ہوتا ہے تو جا ہو جا\n\nاس جان تمنا سے بے پردہ نہ شکوہ کر\nوہ تجھ سے خفا ہے تو جینے سے خفا ہو جا\n\nہر قافلۂ دل کو تو مژدۂ منزل دے\nہر رہ گزر غم میں نقش کف پا ہو جا\n\nیہ درد محبت بھی کیا شے ہے معاذ اللہ\nمیں درد محبت سے کہتا ہوں سوا ہو جا\n\nظالم کا نہ شکوہ کر ظلموں کی نہ پروا کر\nتو اپنی وفاؤں کی عزت پہ فدا ہو جا\n\nاس ہستئ فانی سے کر قطع نظر فانیؔ\nتو دوست کا طالب ہے دشمن سے جدا ہو جا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%AA%D8%A7%D8%AC_%D8%A7%D8%AC%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "محتاج نہیں قافلہ آواز درا کا", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محتاج نہیں قافلہ آواز درا کا\nسیدھی ہے رہ بت کدہ احسان خدا کا\n\nگر ہے سر دریوزۂ فیض اہل نظر سے\nہو راہ نشیں مرحلۂ فقر فنا کا\n\nخوش نودئی معشوق ہے رنجور ہے عاشق\nبے درد ہے وہ خستہ کہ لے نام دوا کا\n\nاس باغ کی نکہت کا ہوں مشتاق کہ ہو جائے\nجاتے ہوئے دم بند جہاں باد صبا کا\n\nکوئی نہیں کہتا کہ یہ کس کا ہے کرشمہ\nاک شور ہے عیسیٰ کے دم روح فزا کا\n\nجھاڑیں ترے عشاق اسے گرد سمجھ کر\nپڑ جائے اگر سر پہ کبھی سایہ ہما کا\n\nتن فرط لطافت سے ہو جب روح مجسم\nکیا زور چلے کشمکش بند قبا کا\n\nکب کالبد خاک میں ہو اتنی نزاکت\nجو بت ہے وہ پتلا ہے مگر ناز و ادا کا\n\nیوں قتل کرے غمزۂ دلدار کہیں کیا\nجوہر نہ کہیں گر مژہ کہ تیغ قضا کا\n\nکیا دانے کی خواہش کہ ہے تاثیر کہ جس سے\nہوتا ہے گزر دام میں مرغان ہوا کا\n\nاسرار حقیقت کا ہو اشعار میں شارح\nکیا حوصلہ ہے ناظمؔ آشفتہ نوا کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%AA%D8%A7%D8%AC_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D8%A7%D9%81%D9%84%DB%81_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "محتسب سے صلاح کیجئے گا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محتسب سے صلاح کیجئے گا\nمے کو چندے مباح کیجئے گا\n\nنامہ بر مل رہا ہے غیر کے ساتھ\nخط میں کچھ اصطلاح کیجئے گا\n\nدختر رز کو دی طلاق پر اب\nمغبچوں سے نکاح کیجئے گا\n\nصبح کا کام شام پر تو رکھا\nشام بولا صباح کیجئے گا\n\nگر یہی ڈول ہے تو کب قائمؔ\nساز و برگ فلاح کیجئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%AA%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "محتسب سے ہوئی دم بھر بھی جو محفل خالی", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محتسب سے ہوئی دم بھر بھی جُو محفل خالی\nجی میرا جام کا شیشہ کا ہوا دِل خالی\n\nہمت پیر مغاں دیکھ لے زاہد چل کر\nکوئی مے خانہ سے پھرتا نہیں سائل خالی\n\nسینہ زخمی ہے جگر چور ہے دِل گھائل ہے\nوار نیزا کوئی جاتا نہیں قاتِل خالی\n\nعہد پیری میں روانہ ہوئے یوں ہوش و ہوس\nصبح کو جیسے مسافر سے ہو منزل خالی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%AA%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "محتسب نے جو نکالا ہمیں میخانے سے", "poet_page": "مصنف:اشک رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محتسب نے جو نکالا ہمیں میخانے سے\nدور تک آنکھ ملاتے گئے پیمانے سے\n\nآج تو خم ہی لگا دے مرے منہ سے ساقی\nمیری نیت نہیں بھرتی ترے پیمانے سے\n\nآپ اتنا تو ذرا حضرت ناصح سمجھیں\nجو نہ سمجھے اسے کیا فائدہ سمجھانے سے\n\nمیں نے چکھی تھی تو ساقی نے کہا جوڑ کے ہاتھ\nآپ للہ چلے جائیے میخانے سے\n\nتم ذرا ناصح ناداں کو دکھا دو جلوہ\nباز آتا نہیں ظالم مجھے سمجھانے سے\n\nنہ اٹھے جور کسی سے تو وہ رو کر بولے\nبے مزہ ہو گئے ہم اشکؔ کے مر جانے سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%AA%D8%B3%D8%A8_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92"} {"title": "محراب و مصلیٰ اور زاہد بھی وہی", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "محراب و مصلیٰ اور زاہد بھی وہی\nسجدہ مسجود اور ساجد بھی وہی\nتکلیف قیامت ہے یہ کس کی خاطر\nحاکم بھی مدعی بھی شاہد بھی وہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%88_%D9%85%D8%B5%D9%84%DB%8C%D9%B0_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%88%DB%81%DB%8C"} {"title": "محرم دل ہوا وو صحرا وا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محرم دل ہوا وو صحرا وا\nکر کہ معلوم والہ و رسوا\n\nسوچ کر آہ درد کوں آرام\nدل ہمارا ہوا درس کا گدا\n\nمہر کر مہر موم دل ہو کر\nکر عطا دل کا مدعا سارا\n\nدرد کا گھر ہوا ہمارا دل\nہار گل کا ہوا گل سودا\n\nدل کہا لاالہ الا اللہ\nورد اسم رسول کر کے سدا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%88%D9%88_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D9%88%D8%A7"} {"title": "محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا\nیاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا\n\nرنگِ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہے\nیہ وقت ہے شگفتنِ گل ہائے ناز کا\n\nتو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیز\nمیں اور دُکھ تری مِژہ ہائے دراز کا\n\nصرفہ ہے ضبطِ آہ میں میرا، وگرنہ میں\nطُعمہ ہوں ایک ہی نفَسِ جاں گداز کا\n\nہیں بسکہ جوشِ بادہ سے شیشے اچھل رہے\nہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا\n\nکاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز\nناخن پہ قرض اس گرہِ نیم باز کا\n\nتاراجِ کاوشِ غمِ ہجراں ہوا، اسدؔ!\nسینہ، کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%8C_%D9%86%D9%88%D8%A7_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلال", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلال\nقیامت رہیں گے دلوں پر ملال\nکیا تھا جو ماتم بہت پر کے سال\nسو آئے نہیں اب تلک جی بحال\n\nبہت چھاتی کوٹی تھی لے لے کے سنگ\nلہو رو کے لائے تھے چہروں پہ رنگ\nجو ویسا ہی اب کے بھی غم کا ہے ڈھنگ\nتو ہو جائے گی زندگانی وبال\n\nالف داغ کھینچے کہیں جائیں گے\nکہیں نعل سینوں پہ جڑوائیں گے\nبہت لوہو روتے ہوئے آئیں گے\nبہت سینہ کوبی سے ہوں گے نڈھال\n\nنہوں سے بہت چہرے ہوں گے فگار\nپھریں گے بہت روتے نالاں و زار\nبہت اپنا شیون کریں گے شعار\nاٹھیں گے سروں پر بہت خاک ڈال\n\nعزیزوں کے احوال ہوں گے بتر\nبرہنہ سر آویں گے اکثر نظر\nسیہ ہوں گے ہر کو و برزن میں گھر\nپریشاں کریں گی زناں سر کے بال\n\nجواں اپنے جامے کریں گے سیاہ\nپھریں گے گریباں پھٹے دل تباہ\nگذارے کی رستوں میں ہوگی نہ راہ\nرکھیں گے جو روضے گھروں سے نکال\n\nبجاویں گے جھانجھیں اڑاویں گے خاک\nکریں گے بہت نالۂ دردناک\nلہو ہوں گے دل سب جگر ہوں گے چاک\nرہیں گے نہوں کے نچے چہرے لال\n\nزناں موپریشاں دوانوں کے رنگ\nلیے سینہ کوبی کو ہاتھوں میں سنگ\nکشادہ رخ و زندگانی سے تنگ\nعجب خستہ حالی عجائب مقال\n\nزباں پر حسنؓ زیر لب واحسینؓ\nکہے ایک یہ ہوگیا کیا حسینؓ\nاٹھے گی کوئی کہہ کے جو یاحسینؓ\nتو سامع سروں کے تئیں لیں گے ڈال\n\nعجب حال ہوگا جو لڑکے تمام\nپکاریں گے ہے دوست ہے دوست شام\nکہے گا کوئی غم سے گر یا امام\nتو ہوگا بکا مسجدوں میں کمال\n\nدہل کی صدا چکچکی کا وہ شور\nقیامت سی رکھیں گے ہر چار اور\nجواں چھاتیاں اپنی کوٹیں گے زور\nمنھ اپنے کو پیٹیں گے پیرانہ سال\n\nبہم لے کے آئیں گے ماتم کے تیں\nسیہ خانہ کر دیں گے عالم کے تیں\nبیاں کرکے روئیں گے اس غم کے تیں\nجو دل کو کلیجے کو لے ہے نکال\n\nکریں گے سیہ خانہ اہل عزا\nبناویں گے شہروں میں دشت بلا\nجہاں ایک ہووے گا ماتم سرا\nگریں گے جو آنسو تو خوں کی مثال\n\nگہ ماتم آوے گی نعش اک بنی\nسو ہووے گی تیروں کے مارے چھنی\nلگے گی غضب ہونے سینہ زنی\nجیوں میں نہ مرنے کا ہوگا خیال\n\nپڑھیں گے کوئی مرثیہ میرؔ کا\nدلوں میں کرے کام جو تیر کا\nپھٹے گا جگر کودک و پیر کا\nنپٹ خونچکاں ہوگی وہ قیل و قال\n\nستم شامیوں کے کریں گے بیاں\nکہ ان میں پھنسا تھا امام زماں\nہوا ہائے کیا ظلم اس پر عیاں\nگیا تشنہ لب جی سے وہ خوش خصال\n\nجواں اک پسر اس کا مارا گیا\nرفیقوں کا سب زور و یارا گیا\nکھپی جان گھربار سارا گیا\nسزا اس جفا کے محمدؐ کی آل\n\nسیہ خاک سے آپ یکساں ہوا\nپس از قتل گھر بار ویراں ہوا\nوہ جمع معزز پریشاں ہوا\nرہا عابدیں سو گرفتارحال\n\nلگی آگ خیمے جلے سربسر\nہوئے لوگ ناموس کے دربدر\nنہ وارث نہ صاحب نہ جاگہ نہ گھر\nملا خاک میں جاہ و مال و منال\n\nاسیر بلا مردمان حرم\nپدر مردہ سجاد ننگے قدم\nنہ پہنچی مرض میں دوا بھی بہم\nنہ اپنا کوئی جو کرے مشت مال\n\nچلا تپ میں آیا کھنچا ناتواں\nہوا ساتھ اہل حرم کے رواں\nپھر اس پر تقید چلا چل دواں\nقدم گرچہ رکھتا تھا اپنا سنبھال\n\nولے ضعف سے تن سنبھلتا نہ تھا\nتمنا تھی پر جی نکلتا نہ تھا\nکھڑا کیونکے ہو بس تو چلتا نہ تھا\nزمانے کی ٹیڑھی نہایت ہے چال\n\nبندھے ہاتھ جن میں شتر کی زمام\nنظر سوے اہل حرم گام گام\nگرا ناتوانی سے جو وہ امام\nپریشاں ہوا اس جماعت کا حال\n\nاٹھا بی بیوں میں سے یک بار شور\nکہ ٹک دیکھ عابد ہماری بھی اور\nنہ وارث ہے تجھ بن نہ کچھ ہم میں زور\nستم ہے قضا گر تجھے دیوے ٹال\n\nہوا کشتگاں پر جو ہو کر گذار\nقیامت ہوئی قیدیوں سے دوچار\nلگی کہنے ہر ایک رو رو کے زار\nکہ اے شہ ہوا کیا وہ جاہ و جلال\n\nترے ساتھ کل تک تو اسباب تھا\nترا در ادب کرنے کا باب تھا\nنہ یہ خاک یوں بستر خواب تھا\nنہ ہوتی تھی حرف و سخن کی مجال\n\nسو ہنگامہ ہے تیرے پیکر پر آج\nبلا شور ہے کچھ کٹے سر پر آج\nقیامت ہوئی ہے ادھر گھر پر آج\nکھنچے آئے ہیں ہم کھلے سر کے بال\n\nتری پاسبانی تھی فخرملک\nتو خورشید تھا تیری جا تھی فلک\nتو پہنچا ہے کیوں خاک تیرہ تلک\nترے سر پہ آیا ہے کیوں یہ زوال\n\nعزیز آہ تیرے جو تھے کٹ گئے\nمچی غارت ایسی کہ ہم لٹ گئے\nردائیں گئیں رک گئے گھٹ گئے\nیہ اب حال ہے دیکھیں کیا ہو مآل\n\nترے باغ میں کیا خزاں آگئی\nجہاں تک تھی سرسبزی سو کھا گئی\nگل و برگ جنگل میں پھیلا گئی\nشجر کٹ گئے چھٹ گئے سب نہال\n\nبرادر پسر رنج سے لٹ گئے\nرفیق اور بازو ترے کٹ گئے\nجگر درد و غم کھینچتے پھٹ گئے\nبیاں کریے کس کس کا حسن و جمال\n\nنظر کر ہمارے بھی آشفتہ مو\nتنک دیکھ عابد کا طوق گلو\nکسے ایسے جینے کی تھی آرزو\nترے ہجر میں کاش ہوتے وصال\n\nہمیں شام کا اب سفر پیش ہے\nتری بیکسی سے جگر ریش ہے\nنہ بیٹا ہے بیٹھا نہ اب خویش ہے\nاٹھانا ترا خاک سے ہے محال\n\nنہ احوال کا کوئی عالم ہے یاں\nنہ داور نہ یاور نہ حاکم ہے یاں\nنہ تو ہے نہ اکبر نہ قاسم ہے یاں\nکریں داد دل کا سو کس سے سوال\n\nجگرچاک دل خستہ روتے اسیر\nیہ کہہ کر گئے سب بہ حال فقیر\nنہ لکھ بیکسی ان کی اب آگے میرؔ\nہنوز ان پہ روتے ہیں دشت و جبال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%84%D8%A7%D9%84"} {"title": "محرم کے ستارے ٹوٹتے ہیں", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محرم کے ستارے ٹوٹتے ہیں\nپستان کے انار چھوٹتے ہیں\n\nدل پر ہے وہ صدمۂ جدائی\nگھڑیال بھی سینہ کوٹتے ہیں\n\nکوئی تو متاع دل کو پوچھے\nآباد رہیں جا لوٹتے ہیں\n\nآنکھوں کو بہائے گا یہ رونا\nدریا میں چراغ چھوٹتے ہیں\n\nطے کس سے ہو وادئ محبت\nچلتے ہوئے پاؤں ٹوٹتے ہیں\n\nکس کے گالوں سے ہمسری کیے\nسونے کے ورق کو کوٹتے ہیں\n\nیہ دل اسے مفت بھی ہے مہنگا\nہم خوش ہیں کی سستے چھوٹتے ہیں\n\nرندوں نے دیا جو سانہ اپنا\nساقی کی دکان لوٹتے ہیں\n\nکیا شکوہ سنگ کو دکان بحرؔ\nہم پر تو پہاڑ ٹوٹتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%B9%D9%88%D9%B9%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "محروم شہادت کی ہے کچھ تجھ کو خبر بھی", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محروم شہادت کی ہے کچھ تجھ کو خبر بھی\nاو دشمن جاں دیکھ ذرا پھر کے ادھر بھی\n\nہے جان کے ساتھ اور اک ایمان کا ڈر بھی\nوہ شوخ کہیں دیکھ نہ لے مڑ کے ادھر بھی\n\nوہ ہم سے نہیں ملتے ہم ان سے نہیں ملتے\nاک ناز دل آویز ادھر بھی ہے ادھر بھی\n\nٹھنڈا ہو کلیجا مرا اس آہ سحر سے\nجب دل کی طرح جلنے لگے غیر کا گھر بھی\n\nاللہ ری بے تابئ دل وصل کی شب کو\nکچھ کشمکش شوق بھی کچھ صبح کا ڈر بھی\n\nانگڑائیاں لے لے کے اٹھے صاحب محفل\nکچھ نیند بھی آنکھوں میں ہے کچھ مے کا اثر بھی\n\nہم مانگتے ہی کیوں جو یہی جانتے ساقی\nپھر جائے گی قسمت کی طرح تیری نظر بھی\n\nہم ہاتھ سے دل تھامے ہوئے دور کھڑے ہیں\nدیکھیں تو کوئی لیتا ہے کچھ اس کا اثر بھی\n\nاے جذبۂ دل دیکھ بہت تو نے کمی کی\nہاں آہوں میں اب چاہیے تھوڑا سا اثر بھی\n\nاب چپ رہو جو دل پہ گزرنی تھی وہ گزری\nایسا نہ ہو پھٹ جائے کہیں زخم جگر بھی\n\nمحروم شہادت تجھے کچھ شرم نہ آئی\nکم بخت گلا کاٹ کے جلدی کہیں مر بھی\n\nبھاری ہے مسافر پہ بہت گور کی منزل\nسنتے ہیں کہ اس راہ میں ہے جان کا ڈر بھی\n\nوہ کشمکش غم ہے کہ میں کہہ نہیں سکتا\nآغاز کا افسوس اور انجام کا ڈر بھی\n\nکھول آنکھیں ذرا مست ہے کیا ساغر جم سے\nہے گردش ایام کی کچھ تجھ کو خبر بھی\n\nلیلیٔ شب ہجر نے بکھرا دیے گیسو\nماتم میں مرے چاک گریباں ہے سحر بھی\n\nکس شان سے آتی ہے مری شام مصیبت\nوہ دیکھو جلو میں ہے قیامت کی سحر بھی\n\nبجھتی ہوئی اک شمع ہوں کیا دم کا بھروسا\nدشمن ہے مری جان کی اب آہ سحر بھی\n\nدیکھے کوئی جاتی ہوئی دنیا کا تماشا\nبیمار بھی سر دھنتا ہے اور شمع سحر بھی\n\nصحرا کی ہوا کھینچے لیے جاتی ہے مجھ کو\nکہتا ہے وطن دیکھ ذرا پھر کے ادھر بھی\n\nہاں کٹ گئی شاید ترے دیوانے کی بیڑی\nپچھلے پہر آئی تھی کچھ آواز ادھر بھی\n\nکیا وعدۂ دیدار کو سچ جانتے ہو یاسؔ\nلو فرض کرو آئی قیامت کی سحر بھی\n\nاللہ مبارک کرے پیری کی سحر یاسؔ\nمرنے کی تمنا تھی تو لے اب کہیں مر بھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%88%D9%85_%D8%B4%DB%81%D8%A7%D8%AF%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تک", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تک\nباقی ہے ترے عشق کی تاثیر ابھی تک\n\nوصل اس بت بد خو کا میسر نہیں ہوتا\nوابستۂ تقدیر ہے تدبیر ابھی تک\n\nاک بار سنی تھی سو مرے دل میں ہے موجود\nاے جان تمنا تری تقریر ابھی تک\n\nسیکھی تھی جو آغاز محبت میں قلم نے\nباقی ہے وہ رنگینئ تحریر ابھی تک\n\nاس درجہ نہ بیتاب ہو اے شوق شہادت\nہے میان میں اس شوخ کی شمشیر ابھی تک\n\nکہنے کو تو میں بھول گیا ہوں مگر اے یار\nہے خانۂ دل میں تری تصویر ابھی تک\n\nبھولی نہیں دل کو تری دزدیدہ نگاہی\nپہلو میں ہے کچھ کچھ خلش تیر ابھی تک\n\nتھے حق پہ وہ بے شک کہ نہ ہوتے تو نہ ہوتا\nدنیا میں بپا ماتم شبیرؔ ابھی تک\n\nگزرے بہت استاد مگر رنگ اثر میں\nبے مثل ہے حسرتؔ سخن میرؔ ابھی تک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%88%D9%85_%D8%B7%D8%B1%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D9%84%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "محرومی", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میں کہتا ہوں تم سے اگر شام کو بھول کر بھی کسی نے کبھی کوئی دھندلا ستارہ نہ دیکھا\nتو اس پر تعجب نہیں ہے نہ ہوگا\nازل سے اسی ڈھب کی پابند ہے شام کی ظاہرا بے ضرر شوخ ناگن\nابھرتے ہوئے اور لچکتے ہوئے اور مچلتے ہوئے کہتی جاتی ہے آؤ مجھے دیکھو میں نے\nتمہارے لیے ایک رنگین محفل جمائی ہوئی ہے\nانوکھا سا ایوان ہے ہر طرف جس میں پردے گرے ہیں وہاں جو بھی ہو اس کو\nکوئی نہیں دیکھ سکتا\nتہیں اس کے پردوں کی ایسے لچکتی چلی جاتی ہیں جیسے پھیلی ہوئی سطح دریا نے\nاٹھ کر دھندلکے کی مانند پنہاں کیا ہو فضا کو نظر سے\nذرا دیکھو چھت پر لٹکتے ہیں فانوس اپنی ہر اک نیم روشن کرن سے سجھاتے\nہیں اک بھید کی بات کا گیت جس میں مسہری کے آغوش کی لرزشیں ہوں\nستونوں کے پیچھے سے آہستہ آہستہ رکتا ہوا اور جھجکتا ہوا چور سایہ یہی کہہ رہا\nہے وہ آئے وہ آئے\nابھی ایک پل میں اچانک یونہی جگمگانے لگے گا یہ ایوان یکسر\nہر اک چیز کیسے قرینے سے رکھی ہوئی ہے\nمیں کہتی ہوں مانو چلو آؤ محفل سجی ہے\nتم آؤ تو گونج اٹھے شہنائی دالان میں آنے جانے کی آہٹ سے ہنگامہ پیدا\nہو لیکن مسہری کے آغوش کی لرزشوں میں تمہیں اس کا احساس\nبھی ہونے پائے تو ذمہ ہے میرا\nازل سے اس ڈھب کی پابند ہے موج بیتاب اس کو خبر بھی نہ ہوگی کہ اک شاخ نازک\nنے بے باک جھونکے سے ٹکرا کے آہیں بھری تھیں\nمگر میں یہ کہتا ہوں تم سے اگر شاد کو بھول کر بھی کسی نے کبھی کوئی دھندلا ستارہ\nنہ دیکھا تو اس پر تعجب نہیں ہے\nازل سے اسی ڈھب کی پابند ہے شام کی شوخ ناگن\nیہ ڈستی ہے ڈستے ہوئے کہتی جاتی ہے\nجاؤ اگر تم جھجکتے رہوگے تو\nہر لمحہ یکساں روش سے گزر جائے گا اور تم دیکھتے ہی رہوگے اکیلے اکیلے\nتمہیں دائیں بائیں تمہیں سامنے کچھ دکھائی نہ دے گا فقط سرد دیواریں ہنستی رہیں گی\nمگر ان کا ہنسنا بھی آہستہ آہستہ بیتے زمانے کی مانند اک دور کی بات معلوم ہونے لگے گا\nدھندلکے میں ڈوبی ہوئی آنکھ دیکھے گی روزن سے دور اک ستارہ نظر آ رہا ہے\nمگر چھت پہ فانوس کا کوئی جھولا نہ ہوگا\nشکستہ فتادہ ستونوں کی مانند فرش حزیں پر تمہارا وہ سایہ تڑپتا رہے گا جسے\nیہ تمنا تھی کہہ دوں تمنا کیا تھی\nبس اب اپنی غم ناک باتوں کو اپنے ابھرتے ہوئے اور بدلتے ہوئے رنگ میں تو چھپا لے\nمیں اب مانتا ہوں کہ تو نے روانی میں اپنی بہت دور روزن سے دھندلے\nستارے بھی دیکھے ہیں لاکھوں\nمیں اب مانتا ہوں مری آنکھ میں ایک آنسو جھلکتا چلا جا رہا ہے ٹپکتا نہیں ہے\nمیں اب مانتا ہوں مجھے دائیں بائیں مجھے سامنے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے فقط\nسرد دیواریں ہنستی چلی جا رہی ہیں\nمیں اب مانتا ہوں کہ میں نے اس ایوان کو آج تک اپنے خوابوں میں دیکھا ہے لیکن\nوہاں کوئی بھی چیز ایسے قرینے سے رکھی نہیں ہے\nکہ جیسے بتایا ہے تو نے تری ایک رنگین محفل سجی ہے\nمسہری کے آغوش کی لرزشوں کا مجھے خواب بھی اب نہ آئے گا میں اپنے\nکانوں سے کیسے سنوں گا وہ شہنائی کی گونج سیندور\nکا سرخ نغمہ جسے سن کے دالان میں آنے جانے کی آہٹ\nسے ہنگامہ ہو جاتا ہے ایک پل کو\nمجھے تو فقط سرد دیواریں ہنستی سنائی دیے جا رہی ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%88%D9%85%DB%8C"} {"title": "محزوں نہ ہو حضورؔ اب آتا ہے یار اپنا", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محزوں نہ ہو حضورؔ اب آتا ہے یار اپنا\nکرتا ہے فضل تجھ پر پروردگار اپنا\n\nجب سے گیا وہ مہ رو آغوش سے ہماری\nرہتا ہے جیوں مہ نو خالی کنار اپنا\n\nزلف و رخ صنم کے غم میں سدا رہے ہم\nگزرا ہمیشہ یوں ہی لیل و نہار اپنا\n\nاے بے خودیٔ مے تو آ دوش پر اٹھا لے\nاٹھتا نہیں مجھ سے اب بوجھ بھار اپنا\n\nمحبوب ہیں جہاں تک نہیں آشنا کسو کے\nہوتے نہیں ہیں اپنے کیجے ہزار اپنا\n\nکہنے سے شعر کے کچھ حاصل نہیں مگر ہاں\nیہ ہے کہ بعد اپنے ہو یادگار اپنا\n\nآزردہ کچھ ہیں شاید ورنہ حضورؔ مجھ سے\nکیوں منہ پھلا رہا ہے وہ گلعذار اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%B2%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1%D8%94_%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "محشر میں اگر یہ آتشیں دم ہوگا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "محشر میں اگر یہ آتشیں دم ہوگا\nہنگامہ سب اک لپٹ میں برہم ہوگا\nتکلیف بہشت کاش مجھ کو نہ کریں\nورنہ وہ باغ بھی جہنم ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D8%AA%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%85_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "محشر میں بھی کسی کے اٹھائیں گے ناز ہم", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محشر میں بھی کسی کے اٹھائیں گے ناز ہم\nایسے نیاز مند ہیں اے بے نیاز ہم\n\nہوگی فقط شریک دعا ایک بیکسی\nمیت پر اپنی آپ پڑھیں گے نماز ہم\n\nواعظ یہی نہ کہہ دے کہ پیدا ہی کیوں ہوئے\nدنیا میں آئیں اور رہیں پاک باز ہم\n\nاس میں بھی کوئی بھید ہے تم جانتے نہیں\nکہتے ہیں ایک ایک سے کیوں دل کے راز ہم\n\nجب سنتے ہیں کہ آپ پہ دو چار مر گئے\nدلواتے ہیں رقیبوں کی اپنے نیاز ہم\n\nوہ دن گئے کہ داغؔ تھی ہر دم بتوں کی یاد\nپڑھتے ہیں پانچ وقت کی اب تو نماز ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D9%85"} {"title": "محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیا\nرحم اس نے کب کیا تھا کہ اب یاد آ گیا\n\nالجھا ہے پانوں یار کا زلف دراز میں\nلو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا\n\nناکامیوں میں تم نے جو تشبیہ مجھ سے دی\nشیریں کو درد تلخی فرہاد آ گیا\n\nہم چارہ گر کو یوں ہی پنہائیں گے بیڑیاں\nقابو میں اپنے گر وہ پری زاد آ گیا\n\nدل کو قلق ہے ترک محبت کے بعد بھی\nاب آسماں کو شکوۂ بیداد آ گیا\n\nوہ بدگماں ہوا جو کہیں شعر میں مرے\nذکر بتان خلخ و نوشاد آ گیا\n\nتھے بے گناہ جرأت پا بوس تھی ضرور\nکیا کرتے وہم خجلت جلاد آ گیا\n\nجو ہو چکا یقیں کہ نہیں طاقت وصال\nدم میں ہمارے وہ ستم ایجاد آ گیا\n\nذکر شراب و حور کلام خدا میں دیکھ\nمومنؔ میں کیا کہوں مجھے کیا یاد آ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%85_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "محشر میں چلتے چلتے کروں گا ادا نماز", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محشر میں چلتے چلتے کروں گا ادا نماز\nپڑھ لونگا پل صراط پہ مائلؔ قضا نماز\n\nسر جائے عمر بھر کی ہو یا رب ادا نماز\nآئے مری قضا تو پڑھوں میں قضا نماز\n\nمانگی نجات ہجر سے تو موت آ گئی\nروزے گلے پڑے جو چھڑانے گیا نماز\n\nدیکھو کہ پھنس نہ جائیں فرشتے بھی جال میں\nکیوں پڑھ رہے ہو کھول کے زلف رسا نماز\n\nہر اک ستون خانۂ شرع شریف ہے\nروزہ ہو یا زکوٰۃ ہو یا حج ہو یا نماز\n\nیہ کیوں خمیدہ ہے صفت صاحب رکوع\nکیا پڑھ رہی ہے دوش پہ زلف دوتا نماز\n\nنیت جو باندھ لی تو چلا میں حضور میں\nرہبر مری نماز مری رہنما نماز\n\nساقی قیام سے یہ جو آیا رکوع میں\nشیشہ خدا کے خوف سے پڑھتا ہے کیا نماز\n\nاٹھ اٹھ کے بیٹھ بیٹھ کے کرتا ہے کیوں غرور\nزاہد کہیں بڑھائے نہ تیری ریا نماز\n\nارکان یاد ہیں مجھے اے داور جزا\nگر حکم ہو تو سامنے پڑھ لوں قضا نماز\n\nشیطان بن گیا ہے فرشتہ غرور سے\nکیا فائدہ ہوا جو پڑھی جا بہ جا نماز\n\nلے جاتے ہیں مجھے سوئے دوزخ کشاں کشاں\nروزے مرے ادھر ہیں ادھر ہے قضا نماز\n\nحق الیقین کا نام عروج مقام ہے\nپڑھتے ہیں اولیا سر دوش ہوا نماز\n\nمسجد میں پانچ وقت دعا وہ بھی وصل کی\nمائلؔ بتوں کے واسطے پڑھتے ہو کیا نماز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%92_%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2"} {"title": "محشر کا ہمیں کیا غم عصیاں کسے کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محشر کا ہمیں کیا غم عصیاں کسے کہتے ہیں\nپلے پہ وہ بت ہوگا میزاں کسے کہتے ہیں\n\nعشاق پھرے دردر ایواں کسے کہتے ہیں\nسر بار رہا تن پر ساماں کسے کہتے ہیں\n\nوصل بت مہرو ہے شرب مئے گلگوں ہے\nپھر اور عنایات یزداں کسے کہتے ہیں\n\nقیدی رہے وحشت میں بے خود تھے مگر ایسے\nیہ بھی نہ کھلا ہم پر زنداں کسے کہتے ہیں\n\nانسان کا بس نفس امارہ مخرب ہے\nلاحول ولا قوت شیطاں کسے کہتے ہیں\n\nمہتاب ترے آگے نکلا تو نجومی کو\nثابت نہ ہوا ماہ تاباں کسے کہتے ہیں\n\nبیمار محبت ہیں مر جائیں تو اچھا ہے\nقربان اطبا کے درماں کسے کہتے ہیں\n\nکیوں کر نہ ہنسیں سن کر حال دل عاشق کو\nکمسن ہیں وہ کیا جانیں ارماں کسے کہتے ہیں\n\nاے واعظو یہ باتیں اچھی نہیں گنجلک کی\nکوئی جو کبھی سمجھے ایماں کسے کہتے ہیں\n\nدیکھیں تو خضر تیرے آب دم خنجر کو\nمعلوم نہیں آب حیواں کسے کہتے ہیں\n\nہاں دست جنوں سو سو زنجیر کی ٹکڑے ہوں\nسنسی کسے کہتے ہیں سوہاں کسے کہتے ہیں\n\nبے یار یہ بادل ہیں دل شام کی فوجوں کے\nبوچھار ہے تیروں کی باراں کسے کہتے ہیں\n\nہم آپ کے گھر آ کر فرمائیے جائیں گے\nاچھی رہی لو سنئے مہماں کسے کہتے ہیں\n\nجب دیکھتے ہیں گل کو کہتے ہیں وہ شوخی سے\nروتی ہوئی صورت ہے خنداں کسے کہتے ہیں\n\nبے خود خلش غم سے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں\nاے دل یہ کھٹک کیا ہے مژگاں کسے کہتے ہیں\n\nدیوار کو زنداں کی پتھرا گئے دیوانے\nجس دم یہ خیال آیا میداں کسے کہتے ہیں\n\nآئینے کے ساتھ اپنی صورت انہیں دکھلائیں\nدیکھیں تو وہ دونو میں حیراں کسے کہتے ہیں\n\nشہرہ ہے صباؔ اب تو اپنی بھی فصاحت کا\nآتشؔ کے مقلد ہیں سحباں کسے کہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%D8%B9%D8%B5%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "محشرستان جنوں میں دل ناکام آیا", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محشرستان جنوں میں دل ناکام آیا\nنالہ ہنگامہ نوازی پہ سر شام آیا\n\nمہر از روئے معلی جو لب بام آیا\nدیکھیے دیکھیے اب دھوپ گئی گھام آیا\n\nبرق کی شعلہ نوازی سبب طول حیات\nفطرت موت تری زیست کا ہنگام آیا\n\nمنتشر ہو گئے جس وقت سب اجزائے حیات\nقطرہ دریا میں بہ اندازۂ انجام آیا\n\nتوسن عمر گریزاں کی سبک رفتاری\nکام دیتی نہیں جب موت کا پیغام آیا\n\nمرکز روح یہ ہے کشمکش موت و حیات\nپھر بھی وارفتگئ شوق پہ الزام آیا\n\nمیں وہ آسودۂ سوز خلش مژگاں ہوں\nجس کو راہ طلب شوق میں آرام آیا\n\nطور سے اک کشش مشق تھی صورت گر شوق\nتجھ پر اے وادیٔ ایمن عبث الزام آیا\n\nسرد مہری سے کسی کو جو ہوئی حاجت غسل\nگرم جوشی کو بغل میں لیے حمام آیا\n\nزلف کے جال میں معشوق کا سر ہے خود بھی\nقیدیوں مژدہ کہ صیاد تہ دام آیا\n\nقبر سے راستہ سیدھا ہے خدا کے گھر کا\nجو ادھر جانے لگا باندھ کے احرام آیا\n\nہے اگر نام اسی کا ادبیات لطیف\nتو ظریفؔ اس کو کہیں کیا جسے یہ کام آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D8%B4%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھے", "poet_page": "مصنف:تعشق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھے\nسب پھول ترے باغ تھے اک خار ہمیں تھے\n\nہم کس کو دکھاتے شب فرقت کی اداسی\nسب خواب میں تھے رات کو بیدار ہمیں تھے\n\nسودا تری زلفوں کا گیا ساتھ ہمارے\nمر کر بھی نہ چھوٹے وہ گرفتار ہمیں تھے\n\nکل رات کو دیکھا تھا جسے خواب میں تم نے\nرخسار پہ رکھے ہوئے رخسار ہمیں تھے\n\nدل سوختہ تھے چاہنے والوں میں تمہارے\nلیکن سبب گرمئ بازار ہمیں تھے\n\nکل کوچۂ قاتل میں جو تھا خلق کا مجمع\nکھائے ہوئے اس ہاتھ کی تلوار ہمیں تھے\n\nاے عشق مژہ کون ہمیں دیکھنے آتا\nآنکھوں میں کھٹکتے تھے وہ بیمار ہمیں تھے\n\nتربت میں بھی آنکھیں نہ ہوئیں بند ہماری\nایسے ترے اک طالب دیدار ہمیں تھے\n\nٹھنڈے کئے غیروں کے دل اور ہم کو جلایا\nاک تھے تو محبت کے گنہ گار ہمیں تھے\n\nملتے ہی لب یار سے لب دل نکل آیا\nمارا جسے عیسیٰ نے وہ بیمار ہمیں تھے\n\nتم غیروں سے ڈر ڈر کے لپٹ جاتے تھے پیہم\nکل رات کو نالاں پس دیوار ہمیں تھے\n\nسب راز تعشقؔ سے بیاں ہوتے تھے دل کے\nپہلے ترے اک محرم اسرار ہمیں تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%B2%D8%A7_%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "محفل عشق میں جب نام ترا لیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محفل عشق میں جب نام ترا لیتے ہیں\nپہلے ہم ہوش کو دیوانہ بنا لیتے ہیں\n\nروز اک درد تمنا سے نیا لیتے ہیں\nہم یونہی زندگیٔ عشق بڑھا لیتے ہیں\n\nدیکھتے رہتے ہیں چھپ چھپ کے مرقع تیرا\nکبھی آتی ہے ہوا بھی تو چھپا لیتے ہیں\n\nرنگ بھرتے ہیں وفا کا جو تصور میں ترے\nتجھ سے اچھی تری تصویر بنا لیتے ہیں\n\nدے ہی دیتے ہیں کسی طرح تسلی سیمابؔ\nخوش رہیں وہ جو مرے دل کی دعا لیتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "محفل عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھے", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محفل عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھے\nہے وہ ملکہ کہ سبکبار اٹھے اور بیٹھے\n\nرقص میں جب کہ وہ طرار اٹھے اور بیٹھے\nبے قراری سے یہ بیمار اٹھے اور بیٹھے\n\nکثرت خلق وہ محفل میں ہے تیری اک شخص\nنہیں ممکن ہے کہ یکبار اٹھے اور بیٹھے\n\nسر اٹھانے کی بھی فرصت نہیں دیتا ہے ہمیں\nچو حباب سر جو یار اٹھے اور بیٹھے\n\nخوف بدنامی سے تجھ پاس نہ آئے ورنہ\nہم کئی بار سن اے یار اٹھے اور بیٹھے\n\nدرد کیوں بیٹھے بٹھائے ترے سر میں اٹھا\nکہ قلق سے ترے سو بار اٹھے اور بیٹھے\n\nتیری دیوار تو کیا گنبد دوار بھی یار\nچاہئے آہ شرربار اٹھے اور بیٹھے\n\nآپ کی مجلس عالی میں علی الرغم رقیب\nبہ اجازت یہ گنہ گار اٹھے اور بیٹھے\n\nآپ سے اب تو اس احقر کو سروکار نہیں\nجس جگہ چاہئے سرکار اٹھے اور بیٹھے\n\nحضرت دل سپر داغ جنوں کو لے کر\nیوں بر عشق جگر خوار اٹھے اور بیٹھے\n\nچوں دلیرانہ کوئی منہ پہ سپر کو لے کر\nشیر خونخوار کو للکار اٹھے اور بیٹھے\n\nکفش دوز ان کے جب اپنے ہی برابر بیٹھیں\nایسی مجلس میں تو پیزار اٹھے اور بیٹھے\n\nزاہد آیا تو گوارا نہیں رندوں ہم کو\nاپنی اس بزم میں مکار اٹھے اور بیٹھے\n\nدونوں کانوں کو پکڑ کر یہی ہے اس کی سزا\nکہہ دو سو بار یہ عیار اٹھے اور بیٹھے\n\nبیٹھتے اٹھتے اسی طرح کے لکھ اور غزل\nجس میں احساںؔ ہو نہ پیکار اٹھے اور بیٹھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92"} {"title": "محفل فروز جلوۂ جانانہ ہو چکا", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محفل فروز جلوۂ جانانہ ہو چکا\nدیوانہ دل کو ہونا تھا دیوانہ ہو چکا\n\nسیکھے تری نگاہ سے آداب خامشی\nاب مجھ سے کوئی نعرۂ مستانہ ہو چکا\n\nبکھرے چمن میں پھول تو آتا ہے مجھ کو یاد\nوہ موسم بہار کہ افسانہ ہو چکا\n\nاس بد نصیب کو کہیں ملتی نہیں پناہ\nجو تیری بارگاہ سے بیگانہ ہو چکا\n\nآیا ہمارے جینے کا انداز سب کو یاد\nجب ذکر جاں نثاریٔ پروانہ ہو چکا\n\nکچھ روز آستان در یار بھی سہی\nعابدؔ طواف کعبہ و بت خانہ ہو چکا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%D8%A7"} {"title": "محفل میں آتے جاتے ہیں انساں نئے نئے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محفل میں آتے جاتے ہیں انساں نئے نئے\nاب تو چلن لیے ہیں مری جاں نئے نئے\n\nاس زلف و رخ کے عشق کا چرچا ہوا یہ کچھ\nحیراں نئے نئے ہیں پریشاں نئے نئے\n\nآ آ کے اپنی اپنی سناتا ہے ہر کوئی\nزخم جگر پہ ہیں نمک افشاں نئے نئے\n\nمجھ کو سنا کے کہتے ہیں لوگوں کو اس سے کیا\nانداز ہم نے سیکھے ہیں ہاں ہاں نئے نئے\n\nآ جائیں ہم بھی یاد کسی بات پر کبھی\nعاشق ہوئے ہیں اب تو مری جاں نئے نئے\n\nہر دم نئی نئی ہے خلش میری جان کو\nلاتی ہے رنج و غم شب ہجراں نئے نئے\n\nباتوں پر ان کی کیوں نہ یقین آئے پھر مجھے\nقسمیں نئی نئی ہیں تو پیماں نئے نئے\n\nگر اب کے وصل ہو تو نہ مانوں میں ایک بھی\nدل کے نکالوں حسرت و ارماں نئے نئے\n\nسو سو طرح ستاتی ہے اک اک کی یاد اب\nشب آپ نے کیے تھے جو احساں نئے نئے\n\nکس کس کی روز روز خوشامد کیا کریں\nہوتے ہیں ان کے در پہ تو درباں نئے نئے\n\nامید بھی کبھی کبھی نومیدی ہے مجھے\nدکھلاتی رنگ ہے شب ہجراں نئے نئے\n\nکوئی تو آج آئے گا پھر کس لیے نظامؔ\nتجویزیں ہیں نئی نئی ساماں نئے نئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%A6%DB%92_%D9%86%D8%A6%DB%92"} {"title": "محفل میں اس پہ رات جو تو مہرباں نہ تھا", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محفل میں اس پہ رات جو تو مہرباں نہ تھا\nایسا سبک تھا غیر کہ کچھ بھی گراں نہ تھا\n\nوصل بتاں میں خوف فراق بتاں نہ تھا\nگویا کہ اپنے سر پہ کبھی آسماں نہ تھا\n\nپیش رقیب پرسش دل تم نے خوب کی\nدشمن تھا پردہ دار نہ تھا راز داں نہ تھا\n\nعبرت دلا چکی تھی ہماری ستم کشی\nمطلق شب وصال عدو شادماں نہ تھا\n\nبگڑے ہوئے رقیب سے وہ آئے میرے گھر\nاس حسن اتفاق کا کوئی گماں نہ تھا\n\nسرگرم نالہ کیوں رہی بلبل بہار میں\nکیا ہم نہ تھے اسیر کہ ذوق فغاں نہ تھا\n\nسرشار بے خودی تھے اثرؔ بزم یار میں\nکیا جانیں ہم رقیب کہاں تھا کہاں نہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "محفل میں شور قلقل مینائے مل ہوا", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محفل میں شور قلقل مینائے مل ہوا\nلا ساقیا پیالہ کہ توبہ کا قل ہوا\n\nجن کی نظر چڑھا ترا رخسار آتشیں\nان کا چراغ گور نہ تا حشر گل ہوا\n\nبندہ نوازیاں تو یہ دیکھو کہ آدمی\nجزو ضعیف محرم اسرار کل ہوا\n\nدریائے غم سے میرے گزرنے کے واسطے\nتیغ خمیدہ یار کی لوہے کا پل ہوا\n\nپروانہ بھی تھا گرم تپش پر کھلا نہ راز\nبلبل کی تنگ حوصلگی تھی کہ غل ہوا\n\nآئی تہی دروں کی نہ ہرگز سمجھ میں بات\nآوازہ گو بلند مثال دہل ہوا\n\nاس بن رہا چمن میں بھی میں ذوقؔ دل خراش\nناخن سے تیز تر مجھے ہر برگ گل ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D9%82%D9%84%D9%82%D9%84_%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا\nمیری طرف بھی بھول کے سرکار دیکھنا\n\nآغاز سبزہ سے ہے جو رخسار پر غبار\nاگلے برس اسے خط گل زار دیکھنا\n\nجب صرف گفتگو ہوں تو دیکھے انہیں کوئی\nمنظور ہو جو ابر گہربار دیکھنا\n\nمیں نے کہا کہ ہجر میں کچھ مشغلہ نہیں\nبولے کہ رات دن در و دیوار دیکھنا\n\nکہتا ہوں جب میں ان سے بناؤ سنگھار کو\nکہتے ہیں کوئی اور طرحدار دیکھنا\n\nمیں جان بھی دریغ کروں تو گناہ گار\nمیرے سوا نہ اور خریدار دیکھنا\n\nوہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کچھ عیب تو نہیں\nرفتار دیکھنا مری گفتار دیکھنا\n\nشیخ زماں قدیم روش کے بزرگ ہیں\nکتنا بڑا ہے گنبد دستار دیکھنا\n\nوہ بار بار دیکھتے ہیں آئنہ میں منہ\nاللہ ان کا روئے پر انوار دیکھنا\n\nچلتے ہیں کوئے یار میں ہے وقت امتحاں\nہمت نہ ہارنا دل بیمار دیکھنا\n\nہوشیار پھونک پھونک کے رکھنا یہاں قدم\nپرویںؔ ذرا زمانہ کی رفتار دیکھنا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "محفل میں ہم تھے اس طرف وہ شوخ چنچل اس طرف", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محفل میں ہم تھے اس طرف وہ شوخ چنچل اس طرف\nتھی سادہ لوحی اس طرف مکر و فسوں چھل اس طرف\n\nبیٹھے ہم اپنے دھیان میں بیٹھا وہ اپنی آن میں\nفکر نظارہ اس طرف مکھڑے پر آنچل اس طرف\n\nکیا کیا دکھاتی ہے الم کیا کیا رکھے ہے پیچ و خم\nآہوں کی شورش اس طرف زلف مسلسل اس طرف\n\nہم دے کے دل ہیں رنج کش وہ لے کے دل ہے جی میں خوش\nبے تابیٔ جاں اس طرف راحت خوشی کل اس طرف\n\nآج اس سے ملنے کو نظیرؔ احوال ہے دل کا عجب\nہم کھینچتے ہیں اس طرف کہتا ہے وہ چل اس طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%86%D9%86%DA%86%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "محمد علی باب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "تھی خوب حضورِ عُلَما باب کی تقریر\nبیچارہ غلَط پڑھتا تھا اعرابِ سمٰوٰات\nاس کی غلَطی پر عُلَما تھے مُتَبسّم\nبولا، تمہیں معلوم نہیں میرے مقامات\nاب میری امامت کے تصّدق میں ہیں آزاد\nمحبوس تھے اعراب میں قرآن کے آیات!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%A8"} {"title": "محمودہ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سرکنڈوں کے پیچھے", "year": "1955", "text_ur": "مستقیم نے محمودہ کو پہلی مرتبہ اپنی شادی پر دیکھا۔ آر سی مصحف کی رسم ادا ہورہی تھی کہ اچانک اس کو دو بڑی بڑی۔۔۔ غیر معمولی طور پر بڑی آنکھیں دکھائی دیں۔۔۔ یہ محمودہ کی آنکھیں تھیں جو ابھی تک کنواری تھیں۔\n\nمستقیم، عورتوں اور لڑکیوں کے جھرمٹ میں گھرا تھا۔۔۔ محمودہ کی آنکھیں دیکھنے کے بعد اسے قطعاً محسوس نہ ہوا کہ آر سی مصحف کی رسم کب شروع ہوئی اور کب ختم ہوئی۔ اس کی دلہن کیسی تھی، یہ بتانے کے لیے اس کو موقع دیا گیا تھا مگر محمودہ کی آنکھیں اس کی دلہن اور اس کے درمیان ایک سیاہ مخملیں پردے کے مانندحائل ہوگئیں۔\n\nاس نے چوری چوری کئی مرتبہ محمودہ کی طرف دیکھا۔ اس کی ہم عمر لڑکیاں سب چہچہا رہی تھی۔ مستقیم سے بڑے زوروں پر چھیڑ خانی ہورہی تھی مگر وہ الگ تھلگ، کھڑکی کے پاس گھٹنوں پر ٹھوڑی جمائے، خاموش بیٹھی تھی۔\n\nاس کا رنگ گورا تھا۔ بال تختیوں پر لکھنے والی سیاہی کے مانند کالے اور چمکیلے تھے۔ اس نے سیدھی مانگ نکال رکھی تھی جو اس کے بیضوی چہرے پر بہت سجتی تھی۔مستقیم کا اندازہ تھا کہ اس کا قدچھوٹا ہے چنانچہ جب وہ اٹھی تو اس کی تصدیق ہوگئی۔ لباس بہت معمولی قسم کا تھا۔ دوپٹہ جب اس کے سر سے ڈھلکا اور فرش تک جا پہنچا تو مستقیم نے دیکھا کہ اس کا سینہ بہت ٹھوس اور مضبوط تھا۔ بھرابھرا جسم، تیکھی ناک، چوڑی پیشانی، چھوٹا سا لبِ دہان۔۔۔ اور آنکھیں۔۔۔ جو دیکھنے والے کو سب سے پہلے دکھائی دیتی تھی۔\n\nمستقیم اپنی دلہن گھر لے آیا۔ دو تین مہینے گزر گئے۔ وہ خوش تھا، اس لیے کہ اس کی بیوی خوبصورت اور باسلیقہ تھی۔۔۔ لیکن وہ محمودہ کی آنکھیں ابھی نہیں بھول سکا تھا۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ اس کی دل و دماغ پر مرتسم ہوگئی ہیں۔مستقیم کو محمودہ کا نام معلوم نہیں تھا۔۔۔ ایک دن اس نے اپنی بیوی، کلثوم سے برسبیل تذکرہ پوچھا۔’’وہ۔۔۔ وہ لڑکی کون تھی ہماری شادی پر۔۔۔ جب آر سی مصحف کی رسم ادا ہورہی تھی، وہ ایک کونے میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔‘‘\n\nکلثوم نے جواب دیا، ’’میں کیا کہہ سکتی ہوں۔۔۔ اس وقت کئی لڑکیاں تھیں۔ معلوم نہیں آپ کس کے متعلق پوچھ رہے ہیں۔‘‘ مستقیم نے کہا، ’’وہ۔۔۔ وہ جس کی یہ بڑی بڑی آنکھیں تھیں۔‘‘ کلثوم سمجھ گئی، ’’اوہ۔۔۔ آپ کا مطلب محمودہ سے ہے۔۔۔ ہاں، واقعی اس کی آنکھیں بہت بڑی ہیں، لیکن بری نہیں لگتیں۔۔۔ غریب گھرانے کی لڑکی ہے۔ بہت کم گو اور شریف۔۔۔ کل ہی اس کی شادی ہوئی ہے۔‘‘\n\nمستقیم کو غیر ارادی طور پر ایک دھچکا سا لگا، ’’اس کی شادی ہوگئی کل؟‘‘\n\n’’ہاں۔۔۔ میں کل وہیں تو گئی تھی۔۔۔ میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ میں نے اس کو ایک انگوٹھی دی ہے؟‘‘\n\n’’ہاں ہاں۔۔۔ مجھے یاد آگیا۔۔۔ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ تم جس سہیلی کی شادی پر جا رہی ہو، وہی لڑکی ہے، بڑی بڑی آنکھوں والی۔۔۔ کہاں شادی ہوئی ہے اس کی؟‘‘\n\nکلثوم نے گلوری بنا کر اپنے خاوند کو دیتے ہوئے کہا، ’’اپنے عزیزوں میں۔۔۔ خاوند اس کا ریلوے ورکشاپ میں کام کرتا ہے، ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار تنخواہ ہے۔۔۔ سنا ہے بے حد شریف آدمی ہے۔‘‘ مستقیم نے گلوری کلّے کے نیچے دبائی، ’’چلو،اچھا ہوگیا ۔۔۔ لڑکی بھی، جیسا کہ تم کہتی ہو، شریف ہے۔‘‘ کلثوم سے نہ رہاگیا،اسے تعجب تھاکہ اس کا خاوندمحمودہ میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے، ’’حیرت ہے کہ آپ نے اس کو محض ایک نظر دیکھنے پر بھی یاد رکھا۔‘‘\n\nمستقیم نے کہا، ’’اس کی آنکھیں کچھ ایسی ہیں کہ آدمی انھیں بھول نہیں سکتا۔۔۔ کیا میں جھوٹ کہتا ہوں؟‘‘ کلثوم دوسرا پان بنا رہی تھی۔ تھوڑے سے وقفے کے بعد وہ اپنے خاوند سے مخاطب ہوئی، ’’میں اس کے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتی۔ مجھے تو اس کی آنکھوں میں کوئی کشش نظر نہیں آتی۔۔۔ مرد جانے کن نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔‘‘\n\nمستقیم نے مناسب خیال کیاکہ اس موضوع پر اب مزید گفتگو نہیں ہونی چاہیے۔ چنانچہ جواب میں مسکرا کروہ اٹھا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔ اتوار کی چھٹی تھی۔ حسب معمول اسے اپنی بیوی کے ساتھ میٹنی شو دیکھنے جانا چاہیے تھا، مگر محمودہ کا ذکر چھیڑ کر اس نے اپنی طبیعت مکدر کرلی تھی۔\n\nاس نے آرام کرسی پر لیٹ کرتپائی پر سے ایک کتاب اٹھائی جسے وہ دو مرتبہ پڑھ چکا تھا۔ پہلا ورق نکالا اور پڑھنے لگا، مگر حرف گڈمڈ ہوکر محمودہ کی آنکھیں بن جاتے۔ مستقیم نے سوچا، ’’شاید کلثوم ٹھیک کہتی تھی کہ اسے محمودہ کی آنکھوں میں کوئی کشش نظر نہیں آتی۔۔۔ ہو سکتا ہے کسی اور مرد کو بھی نظر نہ آئے۔ایک صرف میں ہوں جسے دکھائی دی ہے۔۔۔ پر کیوں۔۔۔ میں نے ایسا کوئی ارادہ نہیں کیا تھا۔۔۔ میری ایسی کوئی خواہش نہیں تھی کہ وہ میرے لیے پرکشش بن جائیں۔۔۔ ایک لحظے کی تو بات تھی۔ بس میں نے ایک نظر دیکھا اور وہ میرے دل ودماغ پر چھا گئیں۔ اس میں نہ ان آنکھوں کا قصور ہے، نہ میری آنکھوں کا جن سے میں نے انھیں دیکھا تھا۔‘‘\n\nاس کے بعد مستقیم نے محمودہ کی شادی کے متعلق سوچنا شروع کیا، ’’تو ہوگئی اس کی شادی۔۔۔چلو اچھا ہوا۔۔۔ لیکن دوست یہ کیا بات ہے کہ تمہارے دل میں ہلکی سی ٹیس اٹھتی ہے۔۔۔ کیا تم چاہتے تھے کہ اس کی شادی نہ ہو۔۔۔ سدا کنواری رہے، کیوں کہ تمہارے دل میں اس سے شادی کرنے کی خواہش تو کبھی پیدا نہیں ہوئی، تم نے اس کے متعلق کبھی ایک لحظے کے لیے بھی نہیں سوچا، پھر جلن کیسی۔۔۔ اتنی دیر تمہیں اسے دیکھنے کا کبھی خیال نہ آیا، پر اب تم کیوں اسے دیکھنا چاہتے ہو۔۔۔ بفرض محال دیکھ بھی لو تو کیا کرلو گے، اسے اٹھا کر اپنی جیب میں رکھ لو گے۔۔۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں نوچ کر اپنے بٹوے میں ڈال لو گے۔۔۔ بولونا، کیا کرو گے؟‘‘ مستقیم کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اصل میں اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ اگر کچھ چاہتا بھی ہے تو کیوں چاہتا ہے۔\n\nمحمودہ کی شادی ہو چکی تھی، اور وہ بھی صرف ایک روز پہلے۔ یعنی اس وقت جب کہ مستقیم کتاب کی ورق گردانی کرہا تھا، محمودہ یقیناً دلہنوں کے لباس میں یا تو اپنے میکے یا اپنی سسرال میں شرمائی لجائی بیٹھی تھی۔۔۔ وہ خود شریف تھی، اس کا شوہر بھی شریف تھا، ریلوے ورکشاپ میں ملازم تھا اور ڈیڑھ سو روپے ماہوار تنخواہ پاتا تھا۔۔۔ بڑی خوشی کی بات تھی۔ مستقیم کی دلی خواہش تھی کہ وہ خوش رہے۔۔۔ ساری عمر خوش رہے۔۔۔ لیکن اس کے دل میں جانے کیوں ایک ٹیس سی اٹھتی تھی اور اسے بے قرار بنا جاتی تھی۔\n\nمستقیم آخر اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ سب بکواس ہے۔ اسے محمودہ کے متعلق قطعاً سوچا نہیں چاہیے۔۔۔ دو برس گزر گئے۔ اس دوران میں اسے محمودہ کے متعلق کچھ معلوم نہ ہوا اور نہ اس نے معلوم کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ وہ اور اس کا خاوند بمبئی میں ڈونگری کی ایک گلی میں رہتے تھے۔۔۔ مستقیم گو ڈونگری سے بہت دور ماہم میں رہتا تھا، لیکن اگر وہ چاہتا تو بڑی آسانی سے محمودہ کو دیکھ سکتا تھا۔\n\nایک دن کلثوم ہی نے اس سے کہا، ’’آپ کی اس بڑی بڑی آنکھوں والی محمودہ کے نصیب بہت برے نکلے!‘‘چونک کر مستقیم نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا،’’ کیوں کیا ہوا؟ ‘‘کلثوم نے گلوری بناتےہوئے کہا،’’ اس کا خاوند ایک دم مولوی ہوگیا ہے۔‘‘\n’’تو اس سے کیا ہوا؟‘‘\n\n’’آپ سن تو لیجیے۔۔۔ ہر وقت مذہب کی باتیں کرتا رہتا ہے۔۔۔ لیکن بڑی اوٹ پٹانگ قسم کی۔ وظیفے کرتا ہے، چلے کاٹتا ہے اور محمودہ کو مجبورکرتا ہے کہ وہ بھی ایسا کرے۔ فقیروں کے پاس گھنٹوں بیٹھا رہتا ہے۔ گھر بار سے بالکل غافل ہوگیا ہے۔ داڑھی بڑھالی ہے۔ ہاتھ میں ہر وقت تسبیح ہوتی ہے۔ کام پر کبھی جاتا ہے، کبھی نہیں جاتا۔۔۔ کئی کئی دن غائب رہتا ہے۔۔۔ وہ بے چاری کڑھتی رہتی ہے۔ گھر میں کھانے کو کچھ ہوتا نہیں، اس لیے فاقے کرتی ہے۔ جب اس سے شکایت کرتی ہے تو آگے سے جواب یہ ہوتا ہے۔۔۔ فاقہ کشی اللہ تبارک و تعالیٰ کو بہت پیاری ہے۔‘‘ کلثوم نے یہ سب کچھ ایک سانس میں کہا۔\n\nمستقیم نے پندنیا میں سے تھوڑی سی چھالیا اٹھا کر منہ میں ڈالی،’’کہیں دماغ تو نہیں چل گیا اس کا؟ ‘‘کلثوم نے کہا،’’ محمودہ کا تو یہی خیال ہے۔۔۔ خیال کیا، اس کو یقین ہے۔ گلے میں بڑے بڑے منکوں والی مالا ڈالے پھرتا ہے۔ کبھی کبھی سفید رنگ کا چولا بھی پہنتا ہے۔ ‘‘مستقیم گلوری لے کر اپنے کمرے میں چلا گیا اور آرام کرسی میں لیٹ کر سوچنے لگا،’’ یہ کیا ہوا۔۔۔ ایسا شوہر تو وبال جان ہوتا ہے۔۔۔ غریب کس مصیبت میں پھنس گئی ہے۔\n\nمیرا خیال ہے کہ پاگل پن کے جراثیم اس کے شوہر میں شروع ہی سے موجود ہوں گے جو اب ایک دم ظاہر ہوئے ہیں۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اب محمودہ کیا کرے گی۔ اس کا یہاں کوئی رشتہ دار بھی نہیں۔ کچھ شادی کرنے لاہور سے آئے تھے اور واپس چلے گئے تھے۔۔۔ کیا محمودہ نے اپنے والدین کو لکھا ہوگا۔۔۔ نہیں، اس کے ماں باپ تو جیسا کہ کلثوم نے ایک مرتبہ کہا تھا اس کے بچپن ہی میں مرگئے تھے۔ شادی اس کے چچا نے کی تھی۔ ڈونگری۔۔۔ ڈونگری میں شاید اس کی جان پہچان کا کوئی ہو۔۔۔ نہیں، جان پہچان کا کوئی ہوتا تو وہ فاقے کیوں کرتی۔۔۔ کلثوم کیوں نہ اسے اپنے یہاں لے آئے۔۔۔ پاگل ہوئے ہو مستقیم۔۔۔ ہوش کے ناخن لو۔‘‘\n\nمستقیم نے ایک بار پھر ارادہ کرلیا کہ وہ محمودہ کے متعلق نہیں سوچے گا، اس لیے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا، بے کار کی مغز پاشی تھی۔ بہت دنوں کے بعد کلثوم نے ایک روز اسے بتایا کہ محمودہ کا شوہر جس کا نام جمیل تھا، قریب قریب پاگل ہوگیا ہے۔ مستقیم نے پوچھا، ’’کیا مطلب؟‘‘ کلثوم نے جواب دیا، ’’مطلب یہ کہ اب وہ رات کو ایک سیکنڈ کے لیے نہیں سوتا۔ جہاں کھڑا ہے، بس وہیں گھنٹوں خاموش کھڑا رہتا ہے۔۔۔ محمودہ غریب روتی رہتی ہے۔۔۔ میں کل اس کے پاس گئی تھی۔ بے چاری کو کئی دن کا فاقہ تھا۔ میں بیس روپے دے آئی کیوں کہ میرے پاس اتنے ہی تھے۔‘‘\n\nمستقیم نے کہا، ’’بہت اچھا کیا تم نے۔۔۔ جب تک اس کا خاوند ٹھیک نہیں ہوتا، کچھ نہ کچھ دے آیا کرو تاکہ غریب کو فاقوں کی نوبت نہ آئے۔‘‘ کلثوم نے تھوڑے توقف کے بعد عجیب وغریب لہجے میں کہا، ’’اصل میں بات کچھ اور ہے۔‘‘\n\n’’کیا مطلب؟‘‘\n\n’’محمودہ کا خیال ہے کہ جمیل نے محض ایک ڈھونگ رچا رکھا ہے۔ وہ پاگل واگل ہرگز نہیں۔۔۔ بات یہ ہے کہ وہ۔۔۔‘‘\n\n’’وہ کیا؟‘‘\n\n’’وہ۔۔۔عورت کے قابل نہیں۔۔۔ نقص دور کرنے کے لیے وہ فقیروں اور سنیاسیوں سے ٹونے ٹوٹکے لیتا رہتا ہے۔‘‘\n\nمستقیم نے کہا، ’’یہ بات تو پاگل ہونے سے زیادہ افسوس ناک ہے۔۔۔ محمودہ کے لیے تو یہ سمجھو کہ ازدواجی زندگی ایک خلا بن کر رہ گئی ہے۔‘‘\n\nمستقیم اپنے کمرے میں چلا گیا۔ وہ بیٹھ کر محمودہ کی حالت زار کے متعلق سوچنے لگا۔ ایسی عورت کی زندگی کیا ہوگی جس کا شوہر بالکل صفر ہو۔ کتنے ارمان ہوں گے اس کے سینے میں۔ اس کی جوانی نے کتنے کپکپا دینے والے خواب دیکھے ہوں گے۔ اس نے اپنی سہیلیوں سے کیا کچھ نہیں سنا ہوگا۔۔۔ کتنی ناامیدی ہوئی ہوگی غریب کو، جب اسے چاروں طرف خلا ہی خلا نظر آیا ہوگا۔۔۔ اس نے اپنی گود ہری ہونے کے متعلق بھی کئی بار سوچا ہوگا۔۔۔ جب ڈونگری میں کسی کے ہاں بچہ پیدا ہونے کی اطلاع اسے ملتی ہوگی تو بے چاری کے دل پر ایک گھونسا سا لگتا ہوگا۔۔۔اب کیا کرے گی۔۔۔ ایسا نہ ہو خود کشی کرلے۔۔۔ دو برس تک اس نے کسی کو یہ راز نہ بتایا مگر اس کا سینہ پھٹ پڑا۔ خدا اس کے حال پر رحم کرے!‘‘\n\nبہت دن گزر گئے۔ مستقیم اور کلثوم چھٹیوں میں پنچ گنی چلے گئے۔ وہاں ڈھائی مہینے رہے۔ واپس آئے تو ایک مہینے کے بعد کلثوم کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔۔۔ وہ محمودہ کے ہاں نہ جاسکی۔ لیکن ایک دن اس کی ایک سہیلی جو محمودہ کو جانتی تھی، اس کو مبارک باد دینے کے لیے آئی۔ اس نے باتوں باتوں میں کلثوم سے کہا، ’’کچھ سنا تم نے۔۔۔ وہ محمودہ ہے نا، بڑی بڑی آنکھوں والی!‘‘\n\nکلثوم نے کہا، ’’ہاں ہاں۔۔۔ ڈونگری میں رہتی ہے۔‘‘\n\n’’خاوند کی بے پروائی نے غریب کو بری باتوں پر مجبور کردیا۔‘‘ کلثوم کی سہیلی کی آواز میں درد تھا۔ کلثوم نے بڑے دکھ سے پوچھا، ’’کیسی بری باتوں پر؟‘‘\n\n’’اب اس کے یہاں غیر مردوں کا آنا جانا ہوگیا ہے۔‘‘\n\n’’جھوٹ!‘‘ کلثوم کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ کلثوم کی سہیلی نے کہا،’’نہیں کلثوم، میں جھوٹ نہیں کہتی۔۔۔ میں پرسوں اس سے ملنے گئی تھی۔ دروازے پر دستک دینے ہی والی تھی کہ اندر سے ایک نوجوان مرد جو میمن معلوم ہوتا تھا، باہر نکلا اور تیزی سے نیچے اتر گیا۔ میں نے اب اس سے ملنا مناسب نہ سمجھا اور واپس چلی آئی۔‘‘\n\n’’یہ تم نے بہت بری خبر سنائی۔۔۔ خدا اس کو گناہ کے راستے سے بچائے رکھے۔۔۔ ہو سکتا ہے وہ میمن اس کے خاوند کا کوئی دوست ہو۔‘‘ کلثوم نے خود کو فریب دیتے ہوئے کہا۔اس کی سہیلی مسکرائی، ’’دوست، چوروں کی طرح دروازہ کھول کر بھاگا نہیں کرتے۔‘‘ کلثوم نے اپنے خاوند سے بات کی تو اسے بہت دکھ ہوا۔ وہ کبھی رویا نہیں تھا پر جب کلثوم نے اسے یہ اندوہ ناک بات بتائی کہ محمودہ نے گناہ کا راستہ اختیار کرلیا ہے تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے اسی وقت تہیہ کرلیا کہ محمودہ ان کے یہاں رہے گی، چنانچہ اس نے اپنی بیوی سے کہا، ’’یہ بڑی خوف ناک بات ہے۔۔۔ تم ایسا کرو، ابھی جاؤ اورمحمودہ کو یہاں لے آؤ!‘‘\n\nکلثوم نے بڑے روکھے پن سے کہا، ’’میں اسے اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتی۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘ مستقیم کے لہجے میں حیرت تھی۔\n\n’’بس، میری مرضی۔۔۔ وہ میرے گھرمیں کیوں رہے۔۔۔ اس لیے کہ آپ کو اس کی آنکھیں پسند ہیں؟‘‘ کلثوم کے بولنے کا انداز بہت زہریلا اور طنزیہ تھا۔مستقیم کو بہت غصہ آیا، مگر پی گیا۔ کلثوم سے بحث کرنا بالکل فضول تھا۔ ایک صرف یہی ہو سکتا تھا کہ وہ کلثوم کو نکال کر محمودہ کو لے آئے۔۔۔ مگر وہ ایسے اقدام کے متعلق سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔ مستقیم کی نیت قطعاً نیک تھی۔ اس کو خود اس کا احساس تھا۔ دراصل اس نے کسی گندے زاویہ نگاہ سے محمودہ کو دیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔ البتہ اس کی آنکھیں اس کو واقعی پسند تھیں۔ اتنی کہ وہ بیان نہیں کرسکتا تھا۔\n\nوہ گناہ کا راستہ اختیار کر چکی تھی۔ ابھی اس نے صرف چند قدم ہی اٹھائے تھے۔ اس کو تباہی کے غار سے بچایا جاسکتا تھا۔۔۔مستقیم نے کبھی نماز نہیں پڑھی تھی، کبھی روزہ نہیں رکھاتھا، کبھی خیرات نہیں دی تھی۔۔۔ خدا نے اس کو کتنا اچھا موقع دیا تھا کہ وہ محمودہ کو گناہ کے رستے پر سے گھسیٹ کر لے آئے اور طلاق وغیرہ دلوا کر اس کی کسی اور سے شادی کرادے۔۔۔ مگر وہ یہ ثواب کا کام نہیں کرسکتا تھا۔ اس لیے کہ وہ بیوی کا دبیل تھا۔\n\nبہت دیر تک مستقیم کا ضمیر اس کو سرزنش کرتا رہا۔ ایک دو مرتبہ اس نے کوشش کہ اس کی بیوی رضا مندہو جائے۔ مگر جیسا کہ مستقیم کو معلوم تھا، ایسی کوششیں لا حاصل تھیں۔ مستقیم کا خیال تھا کہ اور کچھ نہیں تو کلثوم، محمودہ سے ملنے ضرور جائے گی۔ مگر اس کو ناامیدی ہوئی۔ کلثوم نے اس روز کے بعد محمودہ کا نام تک نہ لیا۔\n\nاب کیا ہوسکتا تھا۔۔۔ مستقیم خاموش رہا۔\n\nقریب قریب دو برس گزر گئے۔ ایک دن گھر سے نکل کر مستقیم ایسے ہی تفریحاً فٹ پاتھ پر چہل قدمی کررہا تھا کہ اس نے قصائیوں کی بلڈنگ کی گراؤنڈ فلور کی کھولی کے باہر، تھڑے پر محمودہ کی آنکھوں کی جھلک دیکھی۔مستقیم دو قدم آگے نکل گیا تھا۔ فوراً مڑ کر اس نے غور سے دیکھا۔۔۔ محمودہ ہی تھی۔ وہی بڑی بڑی آنکھیں۔۔۔ وہ ایک یہودن کے ساتھ جو اس کھولی میں رہتی تھی، باتیں کرنے میں مصروف تھی۔\n\nاس یہودن کو سارا ماہم جانتا تھا۔ ادھیڑ عمرکی عورت تھی۔ اس کا کام عیاش مردوں کے لیے جوان لڑکیاں مہیا کرنا تھا۔ اس کی اپنی دو جوان لڑکیاں تھیں جن سے وہ پیشہ کرواتی تھی۔۔۔ مستقیم نے جب محمودہ کا چہرہ نہایت ہی بے ہودہ طور پر میک اپ کیا ہوا دیکھا تو وہ لرز اٹھا۔ زیادہ دیر تک یہ اندوہ ناک منظر دیکھنے کی تاب اس میں نہیں تھی۔۔۔ وہاں سے فوراً چل دیا۔\n\nگھر پہنچ کر اس نے کلثوم سے اس واقعے کا ذکر نہ کیا۔۔۔ کیوں کہ اس کی اب ضرورت ہی نہیں رہی تھی۔ محمودہ اب مکمل عصمت فروش عورت بن چکی تھی۔۔۔ مستقیم کے سامنے جب بھی اس کا بے ہودہ اور فحش طور پر میک اپ کیا ہوا چہرہ آتا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے۔اس کا ضمیر اس سے کہتا، ’’مستقیم! جو کچھ تم نے دیکھا ہے، اس کا باعث تم ہو۔۔۔ کیا ہوا تھا اگرتم اپنی بیوی کی چند روزہ ناراضی اور خفگی برداشت کرلیتے۔ زیادہ سے زیادہ وہ غصے میں آکر اپنے میکے چلی جاتی۔۔۔ مگر محمودہ کی زندگی اس گندگی سے تو بچ جاتی جس میں وہ اس وقت دھنسی ہوئی ہے۔۔۔کیا تمہاری نیت نیک نہیں تھی۔۔۔ اگر تم سچائی پر تھے اور سچائی پر رہتے تو کلثوم ایک نہ ایک دن اپنے آپ ٹھیک ہو جاتی۔۔۔ تم نے بڑا ظلم کیا۔۔۔ بہت بڑا گناہ کیا۔‘‘\n\nمستقیم اب کیا کرسکتا تھا۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔ پانی سر سے گزر چکا تھا۔ چڑیاں سارا کھیت چگ گئی تھیں۔اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ مرتے ہوئے مریض کو دم آخر آکسیجن سنگھانے والی بات تھی۔تھوڑے دنوں کے بعد بمبئی کی فضا فرقہ وارانہ فسادات کے باعث بڑی خطرناک ہوگئی۔ بٹوارے کے باعث ملک کے طول و عرض میں تباہی اور غارت گری کا بازار گرم تھا۔ لوگ دھڑادھڑ ہندوستان چھوڑ کر پاکستان جارہے تھے۔ کلثوم نے مستقیم کو مجبور کیا کہ وہ بھی بمبئی چھوڑ دے۔۔۔ چنانچہ جو پہلا جہاز ملا، اس کی سیٹیں بک کراکے میاں بیوی کراچی پہنچ گئے اور چھوٹا موٹا کاروبارشروع کردیا۔\n\nڈھائی برس کے بعد یہ کاروبار ترقی کرگیا، اس لیے مستقیم نے ملازمت کا خیال ترک کردیا۔۔۔ ایک روز شام کو دکان سے اٹھ کر وہ ٹہلتا ٹہلتا صدر جا نکلا۔۔۔ جی چاہا کہ ایک پان کھائے۔ بیس تیس قدم کے فاصلے پر اسے ایک دکان نظر آئی جس پر کافی بھیڑ تھی۔ آگے بڑھ کر وہ دکان کے پاس پہنچا۔۔۔ کیا دیکھتا ہے کہ محمودہ پان لگا رہی ہے۔ جھلسے ہوئے چہرے پر اسی قسم کا فحش میک اپ تھا۔ لوگ اسے گندے گندے مذاق کررہے ہیں اور وہ ہنس رہی ہے۔۔۔مستقیم کے ہوش وہ حواس غائب ہوگئے۔ قریب تھا کہ وہاں سے بھاگ جائے کہ محمودہ نے اسے پکارا، ’’ادھر آؤ دلہا میاں۔۔۔ تمہیں ایک فسٹ کلاس پان کھلائیں۔۔۔ ہم تمہاری شادی میں شریک تھے۔ مستقیم بالکل پتھرا گیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%85%D9%88%D8%AF%DB%81"} {"title": "محنت و سرمایہ دنیا میں صف آرا ہو گئے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "محنت و سرمایہ دنیا میں صف آرا ہو گئے\nدیکھئے ہوتا ہے کس کس کی تمنّاؤں کا خُون\n\nحکمت و تدبیر سے یہ فتنۂ آشوب خیز\nٹل نہیں سکتا، وَقَدْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنْ،\n\n’کھُل گئے، یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام\nچشمِ مسلم دیکھ لے تفسیرِ حرفِ ’یَنْسِلُوْنْ‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%86%D8%AA_%D9%88_%D8%B3%D8%B1%D9%85%D8%A7%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D9%81_%D8%A2%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "محنت کرو", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "ہے امتحاں سر پر کھڑا محنت کرو محنت کرو\nباندھو کمر بیٹھے ہو کیا محنت کرو محنت کرو\n\nبے شک پڑھائی ہے سوا اور وقت ہے تھوڑا رہا\nہے ایسی مشکل بات کیا محنت کرو محنت کرو\n\nشکوے شکایت جو کہ تھے تم نے کہے ہم نے سنے\nجو کچھ ہوا اچھا ہوا محنت کرو محنت کرو\n\nمحنت کرو انعام لو انعام پر اکرام لو\nجو چاہو گے مل جائے گا محنت کرو محنت کرو\n\nجو بیٹھ جائیں ہار کر کہہ دو انہیں للکار کر\nہمت کا کوڑا مار کر محنت کرو محنت کرو\n\nتدبیریں ساری کر چکے باتوں کے دریا بہہ چکے\nبک بک سے اب کیا فائدہ محنت کرو محنت کرو\n\nیہ بیج اگر ڈالوگے تم دل سے اسے پا لو گے تم\nدیکھو گے پھر اس کا مزا محنت کرو محنت کرو\n\nمحنت جو کی جی توڑ کر ہر شوق سے منہ موڑ کر\nکر دو گے دم میں فیصلہ محنت کرو محنت کرو\n\nکھیتی ہو یا سوداگری ہو بھیک ہو یا چاکری\nسب کا سبق یکساں سنا محنت کرو محنت کرو\n\nجس دن بڑے تم ہو گئے دنیا کے دھندوں میں پھنسے\nپڑھنے کی پھر فرصت کجا محنت کرو محنت کرو\n\nبچپن رہا کس کا بھلا انجام کو سوچو ذرا\nیہ تو کہو کھاؤ گے کیا محنت کرو محنت کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%86%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "محو ایسا تری صورت میں ہے شیدا تیرا", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محو ایسا تری صورت میں ہے شیدا تیرا\nدیکھتا ہے وہ ہر اک شکل میں جلوہ تیرا\n\nہے جو کچھ عالم فانی میں وہ سب تیرا ہے\nجب سے ہم بولے یہی بولے کہ تیرا تیرا\n\nتو کہیں ہو میں تجھے ڈھونڈ نکالوں گا ضرور\nتو ہے مطلوب مرا اور میں جویا تیرا\n\nتیری تصویر میں اے جاں نظر آئی مری شکل\nمیری صورت میں نظر آیا جلوہ تیرا\n\nچاک دامانیٔ عاشق نے غضب کر ڈالا\nاے مرے پردہ نشیں کھل گیا پردہ تیرا\n\nدل بھی روشن ترے جلوے سے ہے اور آنکھیں بھی\nہر جگہ نور نئی شان سے چمکا تیرا\n\nتو ہو جس رنگ میں پہچانتا ہوں میں تجھ کو\nکبھی دھوکا نہیں کھاتا ہے شناسا تیرا\n\nآئنہ ہے یہ اسی میں نظر آئے گی وہ شکل\nدیکھ اے طالب حق دل ہو نہ میلا تیرا\n\nنام گنوانے کو یوں تو ہیں بہت اہل نظر\nمری جاں پر ترا اکبرؔ ہی ہے شیدا تیرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%88_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "محو رخ یار ہو گئے ہم", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محو رخ یار ہو گئے ہم\nسو جی سے نثار ہو گئے ہم\n\nفتراک سے باندھ خواہ مت باندھ\nاب تیرے شکار ہو گئے ہم\n\nدامن کو نہ پہنچے تیرے اب تک\nہر چند غبار ہو گئے ہم\n\nآتا نہیں کوئی اب نظر میں\nکس سے یہ دو چار ہو گئے ہم\n\nتھا کون کہ دیکھتے ہی جس کے\nیوں عاشق زار ہو گئے ہم\n\nہستی ہی حجاب تھی جو دیکھا\nاس بحر سے پار ہو گئے ہم\n\nبیدارؔ سرشک لالہ گوں سے\nہم چشم بہار ہو گئے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%88_%D8%B1%D8%AE_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "محو فریاد ہو گیا ہے دل", "poet_page": "مصنف:باقر آگاہ ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محو فریاد ہو گیا ہے دل\nآہ برباد ہو گیا ہے دل\n\nسینہ کادی میں اپنے ناخن سے\nرشک فرہاد ہو گیا ہے دل\n\nدیکھتے دیکھتے ستم تیرا\nسخت ناشاد ہو گیا ہے دل\n\nکرتے ہی کرتے تیرے قد کا خیال\nمثل شمشاد ہو گیا ہے دل\n\nہو کے پابند تیرے کاکل سے\nسر سے آزاد ہو گیا ہے دل\n\nالفت اہل بیت سے آگاہؔ\nحیدرآباد ہو گیا ہے دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%88_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84"} {"title": "محو کمال آرزو مجھ کو بنا کے بھول جا", "poet_page": "مصنف:ہادی مچھلی شہری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محو کمال آرزو مجھ کو بنا کے بھول جا\nاپنے حریم ناز کا پردہ اٹھا کے بھول جا\n\nجلوہ ہے بے خودی طلب عشق ہے ہمت آزما\nدیدۂ مست یار سے آنکھ ملا کے بھول جا\n\nلطف جفا اسی میں ہے یاد جفا نہ آئے پھر\nتجھ کو ستم کا واسطہ مجھ کو مٹا کے بھول جا\n\nلوث طلب کے ننگ سے عشق کو بے نیاز رکھ\nہو بھی جو کوئی آرزو دل سے مٹا کے بھول جا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%88_%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "محو ہوں میں جو اس ستمگر کا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محو ہوں میں جو اس ستمگر کا\nہے گلہ اپنے حالِ ابتر کا\n\nحال لکھتا ہوں جانِ مضطر کا\nرگِ بسمل ہے تار مسطر کا\n\nآنکھ پھرنے سے تیری، مجھ کو ہوا\nگردشِ دہر دور ساغر کا\n\nشعلہ رو یار، شعلہ رنگ شراب\nکام یاں کیا ہے دامنِ تر کا\n\nشوق کو آج بے قراری ہے\nاور وعدہ ہے روزِ محشر کا\n\nنقشِ تسخیرِ غیر کو اس نے\nخوں لیا تو مرے کبوتر کا\n\nمیری ناکامی سے فلک کو حصول؟\nکام ہے یہ اُسی ستم گر کا\n\nاُس نے عاشق لکھا عدو کو لقب\nہائے لکھا مرے مقدر کا\n\nآپ سے لحظہ لحظہ جاتے ہو\nشیفتہ ہے خیال کس گھر کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%88_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%AA%D9%85%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "محیط رحمت ہے جوش افزا ہوئی ہے ابر سخا کی آمد", "poet_page": "مصنف:انوری جہاں بیگم حجاب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "محیط رحمت ہے جوش افزا ہوئی ہے ابر سخا کی آمد\nخدا کی ہر چیز کہہ رہی ہے کہ اب ہے نور خدا کی آمد\n\nفلک کو ہے آرزو کہ جھک کر میں اپنے تارے کروں نچھاور\nہوئی ہے مکہ کی سر زمیں پہ یہ آج کس مہ لقا کی آمد\n\nہر اک محب پر یہ فضل رب ہے اثر کو نالوں کی خود طلب ہے\nمگر اس الطاف کا سبب ہے حبیب رب العلا کی آمد\n\nحجابؔ پیہم یہ کہہ رہا ہے گناہ گاروں نے جوش رحمت\nمبارک اے عاصیو مبارک شفیع روز جزا کی آمد", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AD%DB%8C%D8%B7_%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%A7%D9%81%D8%B2%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%D8%AE%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%85%D8%AF"} {"title": "مخالف ہے صبائے نامہ بر کچھ اور کہتی ہے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مخالف ہے صبائے نامہ بر کچھ اور کہتی ہے\nادھر کچھ اور کہتی ہے ادھر کچھ اور کہتی ہے\n\nنہ تو دشمن کے گھر سویا نہ تو دشمن کے گھر جاگا\nیہ سب سچ ہے تری صورت مگر کچھ اور کہتی ہے\n\nادھر مد نظر ان کو چھپانا راز الفت کا\nادھر کمبخت میری چشم تر کچھ اور کہتی ہے\n\nتصور دل میں شاید آ گیا ہے گھر کے جانے کا\nیہ انگڑائی تری وقت سحر کچھ اور کہتی ہے\n\nنہیں معلوم مضطرؔ مر گیا یا سانس باقی ہے\nالٰہی خیر شکل چارہ گر کچھ اور کہتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D8%A7%D9%84%D9%81_%DB%81%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81_%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "مخالفت کا جواب خاموشی سے بہتر نہیں", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "حق بول کے اہل شر سے اڑنا نہ کہیں\nبھڑکے گی مدافعت سے اور آتش کیں\nگر چاہتے ہو کہ چپ رہیں اہل خلاف\nجز ترک خلاف کوئی تدبیر نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%AE%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مخلوط زبان", "poet_page": "مصنف:مولوی عبد الحق", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(یہ مقالہ انجمن روح ادب الہ آباد کے اجلاس منعقدہ ۲۱ دسمبر ۱۹۴۱ میں پڑھا گیا)\n\nجناب صدر و حضرات!اردو پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ یہ مخلوط زبان ہے۔ یہاں کی خالص زبان نہیں۔ دوغلی ہے۔ اس سے تو کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ یہ ٹھیٹ ہندوستانی زبان ہے اور رسوا ہندوستان کے کسی دوسرے ملک میں نہیں بولی جاتی۔ اب رہی یہ بات کہ یہ مخلوط ہے تو مخلوط ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ ایک اعتبار سے خوبی ہے۔یوں تو دنیا میں کوئی زبان خالص نہیں۔ ہر زبان نے کسی نہ کسی زمانے میں دوسری زبانوں سے کچھ نہ لفظ لیے ہیں۔ یہاں تک کہ جو زبانیں مقدس کہلاتی ہیں وہ بھی اچھوتی نہیں لیکن جسے ہم مخلوط زبان کہتے ہیں اس کی خاص حیثیت ہوتی ہے۔ مخلوط زبان سے مراد وہ زبان ہے جو دو زبانوں کے آپس میں گھل مل جانے سے ایک نئی صورت اختیار کرلے اور اس کا اطلاق ان دو زبانوں میں سے کسی پر بھی نہ ہو سکے جس سے مل کر وہ بنی ہے۔ اس کی مثال بعینہ ایسی ہے جیسے دو اجزا کیمیائی طور سے اس طرح ترکیب دیے جائیں کہ وہ اپنی ہیئت، تاثیر اور خاصیت میں ایک نئی چیز بن جائیں۔ اب اس کا طلاق ان دو اجزا میں سے کسی پر بھی نہ ہو سکےگا۔ یہی حال اردو کا ہے جو فارسی اور ہندی کے سنجوگ سے بنی لیکن اب ہم اسے نہ تو ہندی کہہ سکتے ہیں اور نہ فارسی، اردو ہی کہیں گے۔اس قسم کی مخلوط یعنی کھچڑی زبانوں کے وجود میں آنے کے کئی سبب بیان کیے گئے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک ملک گیری ہے۔ ایک ملک گیری تو یہ ہوئی کہ حملہ آور آیا اور لوٹ کھسوٹ کے چل دیا۔ دوسری قسم ملک گیری کی یہ ہے کہ فاتح نے کسی ملک کو فتح کرکے اس کا الحاق اپنے ملک سے کر لیا یعنی اسے اپنی سلطنت کا صوبہ بنا لیا۔ پہلی صورت میں ظاہر ہے کہ فاتح قوم کا کوئی اثر مفتوح قوم پر نہیں ہوتا اور اگر ہوتا بھی ہے تو نہایت خفیف اور عارضی جو قابل اعتبار نہیں۔ دوسری صورت میں یا تو یہ ہوتاہے کہ فاتح جبراً اپنی زبان اس دیس میں جاری کر دیتا ہے یا اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں زبان کے مخلوط ہونے کا امکان نہیں ہوتا۔لیکن ملک گیری کی ایک تیسری قسم بھی ہے، وہ یہ کہ فاتح مفتوح ملک میں آکر بس جاتا اور اس ملک کی قوم سے مل جل کر زندگی بسر کرنے لگتا ہے۔ اس کا اثر دیرپا اور مستقل ہوتا ہے اور اس صورت میں دو قوموں کے ملنے سے ان دونوں کی زبانوں میں بھی ٹکر ہوتی ہے۔ اگر فاتح میں رواداری ہے اور مفتوح سے برابر کا برتاؤ کرتا ہے تو دونوں کے ملنے سے ایک نئی تہذیب اور نئی زبان پیدا ہو جاتی ہے۔ اسے ہم نہ فاتح کی تہذیب اور زبان کہہ سکتے ہیں اور نہ مفتوح کی بلکہ ان میں دونوں کی تہذیبیں اور زبانیں برابر کی شریک ہوتی ہیں اور دونوں قومیں اس کی بانی اور اس کی وارث ہوتی ہیں۔ اگر یہ نہیں تو پھر کسی مخلوط زبان یا تہذیب کے پیدا ہونے کی گنجائش نہیں ہوتی۔مثلاً انگریز اس ملک میں ڈیڑھ دو سو برس سے حکمراں ہیں اور انگریزی کا رواج بھی ملک بھر میں غیر معمولی طور پر پایا جاتا ہے۔ دفتروں، عدالتوں، اسکولوں، کالجوں، اسمبلیوں، کونسلوں اور تجارت خانوں میں اسی کا رواج ہے۔ یہاں تک کہ ذریعہ تعلیم بھی انگریزی ہے اور باوجود کہ وہ گھر گھر پہنچ گئی ہے، اس پر بھی وہ یہاں اپنا گھر نہ کر سکی، اس کا اثر ہماری زبانوں پر ضرور ہوا اور بہت کچھ ہوا لیکن اس نے ہماری کسی زبان سے میل نہ کھایا، اس لیے کہ حکومت کے غرور اور قومی وقار نے انگریزوں کو ہندوستانیوں سے الگ الگ رکھا اور وہ یگانگت اور معاشرتی بے تکلفی جو ہم مذاقی اور ہم آہنگی سے پیدا ہوتی ہے نہ ہونے پائی اور تیل پانی کا ملاپ نہ ہوسکا۔ مولانا حالی کا قول صحیح نکلا،سانپ سے جس طرح رہتا ہے سپیرا دور دورحکم راں تیرے یونہیں تجھ سے رہیں برکراںلیکن مسلمانوں کی حالت جدا تھی۔ انھوں نے ہندوستان فتح کیا اور کچھ عرصے کے بعد یہیں بس گئے اور یہیں کے ہو گئے اور جب دلی میں ان کی حکومت کو استقلال ہوا اور ان میں اور اہل ملک میں ربط ضبط بڑھا تو اس کے ساتھ ساتھ فارسی اور مقامی زبان میں بھی ربط ضبط بڑھتا گیا اور جیسا کہ دستور ہے کاروباری اور ملکی اور معاشرتی ضرورت سے مسلمان بول چال میں ہندی لفظ استعمال کرنے کی کوشش کرتے اور ہندو فارسی لفظوں کی۔ ہوتے ہوتے بغیر کسی ارادے اور خیال کے خود بہ خود ایک نئی زبان کا ڈول پڑنا شروع ہو گیا۔ اس وقت کون کہہ سکتا تھا اور کسے معلوم تھاکہ آئندہ یہ دوغلی بولی جیسے اہل علم اور اہل فکر حقیر سمجھتے تھے، ایک دن مسند ادب و انشا پر جلوہ گر ہوگی۔مخلوط زبان میں ہوتا یہ ہے کہ غیر زبان جو کسی قوم کو سیکھنی پڑتی ہے، مخلوط نہیں ہوتی بلکہ اس کی اپنی زبان غیر زبان کے میل سے مخلوط ہو جاتی ہے۔ بعینہ یہی حال مسلمانوں کے آنے کے بعد ہوا۔ فارسی مخلوط نہیں ہوئی بلکہ مقامی زبان فارسی سے مخلوط ہو کر ایک نئی زبان بن گئی اور ہندی میں فارسی مخلوط کرنے والے ہندو تھے۔بات یہ ہے کہ جب کبھی ہم غیر زبان کے سیکھنے یا بولنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ہماری اپنی زبان کا کوئی لفظ نہ آنے پائے۔ ہماری کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو صحیح اور فصیح زبان بولیں اور اس بات کی سخت احتیاط کرتے ہیں کہ ہماری گفتگو یا تحریرمیں ہماری زبان کے الفاظ یا طرز ادا کا شائبہ نہ پایا جائے۔ غیر زبان کے بولنے یا لکھنے میں ہم جس بات سے اس قدر پرہیز کرتے ہیں اس کا ہم اپنی زبان میں مطلق خیال نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر یوں سمجھیے کہ جب کوئی ہندوستانی، انگریزی بولتا یا لکھتا ہے توتا امکان اپنی گفتگو یا تحریر میں اپنی زبان کا لفظ یا اسلوب آنے نہیں آنے دیتا اور جہاں تک ہو سکتا ہے اہل زبان کی تقلید کرتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انگریزی لب و لہجے کی نقل اتارنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ (شروع شروع میں تو بعض ہندوستانی جنھیں انگریزی بہت چر گئی تھی، اپنی زبان بھی انگریزی لہجے میں بولنے لگے تھے۔)برخلاف اس کے اپنی زبان میں بیسیویں انگریزی لفظ بلاتکلف استعمال کر جاتا ہے۔ یا تو اس سے اپنی مشیخت یا علمی فضیلت جتانی مقصود ہوتی ہے یا پھر ناواقفیت اور کاہلی کی وجہ سے ایسا کرتا ہے۔ ناواقفیت اس لیے کہ اپنی زبان سے پوری طرح واقف نہیں اور کاہلی اس معنی میں کہ اسے اتنی توفیق نہیں ہوتی کہ اپنی زبان میں ان کے مترادف تلاش کرے۔ اس میں وہ کسی قدر مجبور بھی ہے۔ فاتح قوم کی زبان کے متواتر مطالعے، لکھنے، بولنے اور سننے سے معمولی اور عام ضروریات کے لفظ بھی اس کی زبان پر اس طرح چڑھ جاتے ہیں کہ بلا ارادہ بھی اپنی زبان میں بول جاتاہے۔ چنانچہ تیس چالیس برس پہلے سویلزیشن، ریفارم، پولیٹکل، سیلف رسپکٹ وغیرہ الفاظ ہماری زبان میں عام ہو گئے تھے۔یہ عام اصول ہندوستان کے اسلامی عہد میں بھی حرف بہ حرف عمل میں آیا۔ ملکی تسلط کے وقت فاتح قوم کی زبان فارسی تھی۔ امراء، بادشاہ، دربار اور دفتر میں رسائی کا بڑا ذریعہ یہی زبان تھی اور جیسا کہ ہونا چاہئے اور ہوتا آیا ہے اہل ہند نے فارسی سیکھنی شروع کی اور ایسی سیکھی کہ استاد ہو گئے۔ فارسی کا جاننا حصول علم و معاش ہی کی خاطر نہ تھا بلکہ فارسی تہذیب و شائستگی کی علامت سمجھی جاتی تھی اور جیسا کہ دستور ہے، فیشن میں داخل ہوگئی تھی۔ متواتر مطالعے، انشا وشعر وسخن کی مشق، سرکاری اور دفتری نوشت وخواند کی وجہ سے اہل ملک کی طبائع میں ایسی رچ گئی تھی کہ انھوں نے فارسی لفظ ملکی زبان میں بلا تامل داخل کرنے شروع کر دیے۔یہ بھی ایک مسلم اصول ہے کہ غیر زبان کے لفظ جو کسی زبان میں داخل ہو جاتے ہیں یا کسی زبان کو مخلوط کرتے ہیں تو وہ اصلی زبان کی صرف ونحو کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ یہی صورت اس مخلوط زبان اردو میں پیش آئی کہ فارسی کا اثر اسماء و صفات تک رہا۔ البتہ بعض حروف عطف مثلاً اگر، مگر، اگرچہ، لیکن وغیرہ آ گئے۔ اصل صرف ونحو بالکل دیسی زبان کی رہی، اور جب ضرورت پڑی، فارسی، عربی لفظوں کو ہندی قالب میں ڈھال کر اپنا بنالیا۔ مثلاً عربی الفاظ، بَدَل، کفن، دفن، قبول، بحث سے بدلنا، کفنانا، دفنانا، قبولنا، بحثنا مصدر بنالیے، اسی طرح فارسی سے بخشنا، فرمانا، نوازنا، داغنا وغیرہ بنالیے گئے۔ یہ سب اردو ہوگئے، فارسی عربی نہیں رہے۔زبان کے خالص ہونے کا خیال در حقیقت سیاسی ہے لسانی نہیں۔ اس کا باعث قومیت کا بے جا فخر اور سیاسی نفرت ہے۔ جرمنوں نے فرانسیسی لفظوں کے خلاف جہاد کیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک مدت تک ان کے ملک میں فرانس کا ادبی اور سیاسی تسلط رہا۔ یہ خیال ان کے دل میں کھٹکتا تھا اور اس غصے میں انھوں نے فرانسیسی لفظ نکالنے شروع کیے۔ اسی طرح اور اسی بنیاد پر زکس نے جرمنی لفظوں اور یونانیوں نے ترکی لفظوں کا اخراج شروع کیا۔ شیواجی کے زمانے میں مرہٹی سے فارسی لفظوں کے خارج کرنے کی تحریک ہوئی۔ آئرلینڈ میں محض انگریزوں کی مخالفت میں آئرش زبان کے زندہ کرنے کی جد وجہد جاری ہوئی۔ ترکوں نے عربی فارسی لفظوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا۔ ایرانیوں نے بھی ایک زمانے میں عربی لفظوں کے نکال دینے کی کوشش کی تھی مگر ناکام رہی مگر اب ترکوں کی دیکھا دیکھی عربی لفظوں کے نکال دینے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ان سب کی تہہ میں سیاسی غم و غصہ ہے۔ اگر بدگمانی نہ سمجھی جائے تو غالباً یہی خیال بعض جماعتوں میں ہماری زبان سے عربی فارسی الفاظ کے اخراج کا محرک ہے۔ لفظ جب ایک بار زبان میں آ گیا اور رائج ہو گیا تو وہ ہمارا ہوجاتا ہے، غیر نہیں رہتا۔ اسے غیر سمجھ کر نکال دینا سخت بے دردی ہے۔ وہ اب جائے تو کہاں جائے۔ کیونکہ اب اس کا رنگ روپ بدل گیا ہے۔ بعض وقت اس کا تلفظ اور مفہوم بھی کچھ کا کچھ ہوجاتاہے۔ اصل وطن میں تو اس کا ٹھکانا نہیں رہا اور یہاں سے دیس نکالامل گیا۔ اس کی حالت یہودیوں کی سی ہو جاتی ہے یعنی نہ گھرا نہ درا۔زبان میں یہ ہٹلری جائز نہیں۔ مثلاً منصوبے کا لفظ ہے تو عربی نسل کا مگر ہماری زبان میں اس کے معنی ہی اور ہوگئے ہیں۔ ارادہ، تجویز وغیرہ۔ یہ اس ہیئت اور معنوں میں اردو لفظ ہے اور اسے نکالنے کا ہمیں کوئی حق نہیں، یہی حال اور بہت سے لفظوں کا ہے جو ہماری زبان میں آکر ہمارے ہو گئے ہیں۔ مثلاً تماشا، تلاش وغیرہ جن کے معنی اصل زبان میں کچھ اور ہیں اور ہماری زبان میں کچھ اور۔ان وطن پرستوں کا یہ خیال ہے کہ بدیسی لفظوں سے ہماری زبان ناپاک اور خراب ہو جائےگی۔ ہمارے قومی احساس کو ٹھیس لگےگی۔ اس سے ہماری زبان کی بے مائیگی ظاہر ہوگی، نیز غیر زبانوں کے الفاظ سے زبان بوجھل اور بھدی ہو جائے گی۔ لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ بدیسی لفظوں سے زبان خراب نہیں ہوتی بلکہ برخلاف اس کے اس میں وسعت اور قوت اور شان پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ بہت سے غیر ضروری الفاظ بھی باہر سے آکر داخل ہو جاتے ہیں۔ غیرضروری سے میری مراد ان لفظوں سے ہے کہ جن کے ہم معنی لفظ پہلے سے زبان میں موجود ہیں۔ لیکن مترادف الفاظ سے کوئی نقصان نہیں بلکہ زبان میں اضافہ ہو جاتا ہے اور زبان کی فطرت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ ایک مدت کے استعمال کے بعد مترادف الفاظ کے مفہوم میں خود بہ خود ایسے نازک فرق پیدا ہو جاتے ہیں جس سے زبان کی لطافت بڑھ جاتی ہے اور وہ لفظ جو پہلے غیر ضروری سمجھے جاتے تھے ضروری ہو جاتے ہیں۔یہ خیال بھی صحیح نہیں کہ بدیسی الفاظ سے زبان بوجھل اور بھدی ہوجاتی ہے۔ وہ لفظ جو غیرزبان سے آ کر داخل ہوجاتے ہیں وہ اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ زبان میں پوری طرح کھپ جاتے ہیں اور ان کی اجنبیت بالکل جاتی رہتی ہے اور ان میں اور دیسی لفظوں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ اس لیے وہ زبان پر بار نہیں ہوتے بلکہ اس میں آسانی اور وسعت پیدا کرتے ہیں۔انسانی خیال کی کوئی تھاہ نہیں اور نہ اس کے تنوع اور وسعت کی کوئی حد ہے۔ زبان کیسی ہی وسیع اور بھرپور ہو، خیال کی گہرائیوں اور باریکیوں اور نازک فرقوں کو صحت کے ساتھ ادا کرنے میں قاصر رہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے اداکرنے کے لیے طرح طرح کے جتن کیے جاتے ہیں۔ مترادف الفاظ ایسے موقعوں پر بہت کام آتے ہیں۔ مترادف الفاظ سب ہم معنی نہیں ہوتے، ان کے مفہوم اور استعمال میں کچھ نہ کچھ ضرور فرق ہوتا ہے۔ اس لیے ادائے مطالب میں ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔خاص کر شاعری کے اغراض کے لیے مترادف الفاظ کا کثرت سے ہونا بہت کام آتا ہے۔ شاعر ان کے ذریعے سے لطیف سے لطیف خیال اورنازک سے نازک جذبات کو ادا کر سکتا ہے۔ پھر اسے ردیف و قافیے کے لیے بہت سہولت ہو جاتی ہے۔ ادیب اور شاعر کے لیے لفظ کا انتخاب بڑی اہمیت اور قدر و قیمت رکھتا ہے۔ ایک برمحل صحیح لفظ کا انتخاب کلام میں جان ڈال دیتا ہے۔ مخلوط زبان میں انتخاب کی بہت گنجائش ہوتی ہے۔ ذوق کا شعر ہے،مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتےمسیح و خضر بھی کرنے کی آرزو کرتےخاصا شعر ہے مگر کوئی خاص بات نہیں۔ میری تقی میر اسی مضمون کو یوں ادا کرتے ہیں،لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جاناکب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزا جانایہاں ’’کھپا جانا‘‘ کے لفظ نے کیا کام کیا ہے، کوئی دوسرا لفظ رکھ کر دیکھیے یہ بات نہیں آئے گی۔ اسی شعر میں ’لذت‘ اور ’مزہ‘ دو مترادف لفظ ہیں، اگر ایک ہی لفظ دونوں جگہ استعمال ہوتا تو شعر سست اور بے مزہ ہو جاتا،محبت ہے یا کوئی جی کا ہے روگسدا میں تو رہتا ہوں بیمار ساہماری زبان میں مرض، بیماری، روگ عارضہ مترادف ہیں لیکن ایک سچا شاعر یا ادیب خوب سمجھتا ہے کہ کون لفظ کہاں استعمال کرنا چاہیے۔ اسی شعر میں جی کے ساتھ ’روگ‘ کی جگہ مرض یا بیماری یہ لطف نہ دے گا۔غرض فارسی کے میل سے ہماری لغت میں بے بہا اضافہ ہوا ہے۔ الفاظ کے ساتھ ساتھ خیالات بھی آ جاتے ہیں۔ صرف لفظوں کا ذخیرہ کوئی چیز نہیں، بڑی چیز ان کا استعمال ہے جو خیال کے صحیح طور پر ادا کرنے میں ہے۔ مترادفات کے نازک فرق، خیالات میں صفائی اور صحت بیان پیدا کرنے میں بڑی مدد دیتے ہیں اور یہ نہ بھی ہو تو ایک فائدہ یہ ہے کہ بار بار ایک لفظ کے اعادے سے جو بیان میں بھدا پن آ جاتا ہے، وہ رفع ہو جاتا اور کلام میں حسن پیدا ہو جاتا ہے۔اگر زبان کی قدر و منزلت ان مقاصد کے پورا کرنے میں ہے جن کے لیے زبان بنی ہے تو ہمیں اس امر کوماننا پڑےگا کہ غیرزبان کے الفاظ داخل ہونے سے ہماری زبان کو بے انتہا فائدہ پہنچاہے۔ عوام کی زبان یعنی کھڑی بولی جس پر اردو کی بنیاد ہے، اس قدر محدود تھی کہ اگر اس میں فارسی عنصر شریک نہ ہوتا تو وہ کبھی علم وادب کے کوچے سے آشنا نہ ہوتی اور اس وقت جو اردو میں اظہار خیال کے نئے نئے ڈھنگ پیدا ہوگئے ہیں، وہ ان سے محروم رہتی۔اردو میں ہندی اور فارسی لفظ مل جل کر شیر وشکر ہو گئے ہیں اور عام بول چال، محاوروں اورکہاوتوں میں بے تکلف آ گئے ہیں۔ مثلاً تم کس باغ کی موٗلی ہو، اِکّے دُکّے کی خیر، اشرفیاں لٹیں اور کوئلوں پر مہر، ایک آنکھ میں شہد ایک آنکھ میں زہر، لاکھ کا گھر خاک ہو گیا، اللہ کادیا سر پر، خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں، بد اچھا بدنام برا، بدن پر نہیں لتّا پان کھائیں البتہ، باہمن مشری بھاٹ خواص، اس راجہ ہوئے ناس وغیرہ وغیرہ سیکڑوں کہاوتیں ہیں۔ یہی حال محاوروں کا ہے مثلاً اللہ بیلی، آنکھوں میں خار لگنا، خدا لگتی کہنا، آنکھوں پر پردہ پڑ جانا، لہو لگا کے شہیدوں میں ملنا، اللہ میاں کی گائے۔مخلوط زبان میں ایک آسانی مرکب الفاظ کے بنانے میں بھی ہوتی ہے۔ دیکھیے ہندی فارسی کے میل سے کیسے اچھے اچھے مرکب لفظ بن گئے ہیں مثلاً دل لگی، نیک چلن، جگت استاد، بھتیج داماد، گھر داماد، سمجھ دار، گنڈے دار، اُگال دان، عجائب گھر، کفن چور، جیب گھڑی، امام باڑہ، منھ زور وغیرہ وغیرہ ہزاروں مرکبات ہیں۔مخلوط زبانوں کے بننے کے دوران میں ایک اور بات بھی عمل میں آتی ہے جو قابل غور ہے یعنی ان میں سے ہر زبان کو اس خیال سے کہ جانبین کو ایک دوسرے کی بات آسانی سے اور جلد سمجھ میں آ جائے، اپنی بعض خصوصیات ترک کرنی پڑتی ہیں اور صرف ایسی صورتیں باقی رکھنی پڑتی ہیں جو یا تو مشترک ہوتی ہیں یا جن کا اختیار کرنا دونوں کے لیے سہل ہوتا ہے اور اس طرح دونوں میں ایک توازن سا پیدا ہو جاتا ہے جو فریقین کے لیے سہولت کا باعث ہوتا ہے۔ اردو کے بننے میں بھی یہی ہوا۔ فریقین یعنی ہندو مسلمان دونوں نے اپنی اپنی زبانوں میں کتر بیونت کی۔ اپنی مخصوص خصوصیات ترک کیں اور اس قربانی کے بعد جو نئی زبان بنی اسے اختیار کر لیا، جو اب بھی ہماری ملکی اور قومی زبان ہے اور ہندوستان کی مشترک اور عام زبان ہونے کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ ہم نے اسے قربانی کرکے حاصل کیا ہے اور کسی کا منھ نہیں ہو سکتا کہ ہم سے چھڑائے۔ایک حکیم کا قول ہے کہ ’’غیر اقوام کے لوگوں کو اپنی قوم میں اس طرح جذب کر لینا کہ اپنے اور غیر میں امتیاز نہ رہے، بلاشبہ مشکل ہے لیکن غیر زبان کے الفاظ کو اپنی زبان میں اس طرح جذب کر لینا کہ معلوم تک نہ ہو کہ یہ غیر ہیں، اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔‘‘ یہ استعداد اردو میں بہ درجہ کمال موجود ہے۔ اس میں سیکڑوں ہزاروں لفظ غیر زبانوں کے اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ بولنے اور پڑھنے والوں کو خبر تک نہیں ہوتی کہ دیسی ہیں یا بدیسی، اپنے ہیں یا پرائے۔غرض ہماری زبان ایک خوش اور ہرا بھرا گل دستہ ہے جس میں رنگ برنگ کے خوب صورت پھول اور نازک پتیاں ہیں۔ کیا ہم اس وہم سے کہ اس میں گلاب بدیسی ہے اور کچھ پتیاں باہر کے پودوں کی ہیں، انھیں نوچ کر پھینک دیں گے؟ اگر کوئی ایسا کرے تو سراسر نادانی ہے۔مجھے سر تیج بہادر سپرو کے اس قول سے حرف بہ حرف اتفاق ہے کہ ’’یہی زبان جسے ہم اردو کہتے ہیں تنہا وسیلہ ہے جس سے ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کی تہذیب کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہی وہ ذریعہ ہے جس سے ہندو مسلمانوں میں اتحاد پیدا کیا جاسکتا ہے۔ میرے خیال میں اس سے بڑھ کر کوئی غلطی نہیں ہوسکتی کہ اس زبان کو مٹانے اور اس رشتے کو توڑنے کی کوشش کی جائے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B7_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86"} {"title": "مخلوق ہوں یا خالق مخلوق نما ہوں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مخلوق ہوں یا خالق مخلوق نما ہوں\nمعلوم نہیں مجھ کو کہ میں کون ہوں کیا ہوں\n\nہوں شاہد تنزیہہ کے رخسار کا پردہ\nیا خود ہی مشاہد ہوں کہ پردے میں چھپا ہوں\n\nہے مجھ سے گریبان گل صبح معطر\nمیں عطر نسیم چمن و باد صبا ہوں\n\nگوش شنوا ہو تو مرے رمز کو سمجھے\nحق یہ ہے کہ میں ساز حقیقت کی نوا ہوں\n\nہستی کو مری ہستیٔ عالم نہ سمجھنا\nہوں ہست تو پر ہستیٔ عالم سے جدا ہوں\n\nہوں سینۂ عشاق میں سوز جگر و دل\nاور دیدۂ معشوقاں میں کیا ناز و ادا ہوں\n\nیہ کیا ہے کہ مجھ پر مرا عقدہ نہیں کھلتا\nہر چند کہ خود عقدہ و خود عقدہ کشا ہوں\n\nاے مصحفیؔ شانیں ہیں مری جلوہ گری میں\nہر رنگ میں میں مظہر آثار خدا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D9%84%D9%88%D9%82_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D9%84%D9%82_%D9%85%D8%AE%D9%84%D9%88%D9%82_%D9%86%D9%85%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "مخلوقاتِ ہُنر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہے یہ فِردوسِ نظر اہلِ ہُنَر کی تعمیر\nفاش ہے چشمِ تماشا پہ نہاں خانۂ ذات\nنہ خودی ہے، نہ جہانِ سحَر و شام کے دور\nزندگانی کی حریفانہ کشاکش سے نجات\nآہ، وہ کافرِ بیچارہ کہ ہیں اُس کے صنَم\nعصرِ رفتہ کے وہی ٹُوٹے ہوئے لات و منات!\nتُو ہے مَیّت، یہ ہُنَر تیرے جنازے کا امام\nنظر آئی جسے مرقد کے شبستاں میں حیات!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D9%84%D9%88%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%90_%DB%81%D9%8F%D9%86%D8%B1"} {"title": "مخمس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ (I)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "منقبت", "year": null, "text_ur": "عقل ہے تو مرا کہا کر تو\nمحو یاد علی رہا کر تو\nیک طرح یہ بھی ہے رہا کر تو\nاشک رخسار پر بہا کر تو\nیا علی یا علی کہا کر تو\n\nنہیں ورد و وظیفہ کچھ درکار\nسبحہ گردانی سے کر استغفار\nاس کو جپنا ہے عاقلوں کا شعار\nچپکے چپکے ہو یا پکار پکار\nیا علی یا علی کہا کر تو\n\nمتفق اس پہ ہیں خواص و عوام\nکہ ولا اس کی معرفت ہے تمام\nہو نماز سحر کہ طاعت شام\nسر فرو کر پس از درود و سلام\nیا علی یا علی کہا کر تو\n\nلحظہ لحظہ جدا ہے اس کی شان\nاس کی عادت مروت و احسان\nدوستی اس کی عین ہے ایمان\nچلے جب تک زباں غنیمت جان\nیا علی یا علی کہا کر تو\n\nایسے مظہر کا فہم ہے دشوار\nہے یہ وہ ایک جس کے نام ہزار\nگرم تسبیح اس کے ہیں ابرار\nاللہ اللہ کی جا بھی سو سو بار\nیا علی یا علی کہا کر تو\n\nوہی احیاکن عظام رمیم\nوہی رحماں وہی رؤف و رحیم\nدم بخشش وہی رسول کریم\nگہ جرأت وہی علی عظیم\nیا علی یا علی کہا کر تو\n\nجور انواع دشمنوں کے سہ\nپر نہ کر یار گفتگو بے تہ\nدوستی میں علی کی بیخود رہ\nبات یہ ہے گی اور کچھ مت کہہ\nیا علی یا علی کہا کر تو\n\nاسم یہ ایک جو مکرم ہے\nسب کے نزدیک اسم اعظم ہے\nیہ سب اوراد پر مقدم ہے\nغرض اے ہم نشیں جو آدم ہے\nیا علی یا علی کہا کر تو\n\nرہ ولاے علی کا خواہش مند\nہے یہ شیوہ خدا رسول پسند\nدب کے ہرگز نہ رکھ زباں کو بند\nپست کرنے کو مدعی کے بلند\nیا علی یا علی کہا کر تو\n\nبدرآسا علی تمام ہے نور\nذات پاک اس کی ہے علیم صدور\nبھول مت اس کو گر تجھے ہے شعور\nیاد خاطر رہے ضرور ضرور\nیا علی یا علی کہا کر تو\n\nسونپ رکھ اس کو اپنی موت و حیات\nرحمت صرف ہے علی کی ذات\nبس ہے اس کی ولا براے نجات\nباتیں یوں سو ہیں پر یہی ہے بات\nیا علی یا علی کہا کر تو\n\nشوق تیرے تئیں نہیں ہے ہنوز\nورنہ سینہ رہا کرے پرسوز\nاس طرح جیسے طفل نوآموز\nسیکھے جو حرف وہ کہے شب و روز\nیا علی یا علی کہا کر تو\n\nورد اوراد کا نہ لے تو نام\nشغل و اشغال چھوڑ بیٹھ تمام\nذکر اذکار سے تجھے کیا کام\nایک دو دم ہمیشہ صبح و شام\nیا علی یا علی کہا کر تو\n\nخوف محشر سے میرؔ حال ہے کیا\nیہ حواسوں کا اختلال ہے کیا\nاس سے محشور رہ ملال ہے کیا\nہے علی تو یہ پھر خیال ہے کیا\nیا علی یا علی کہا کر تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D9%85%D8%B3_%D8%AA%D8%B1%D8%AC%DB%8C%D8%B9_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%93_%28I%29"} {"title": "مخمس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ (II)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "منقبت", "year": null, "text_ur": "قدر کو میری بہت ہے برتری\nکب مری خورشید سے ہو ہمسری\nحکم بز رکھے ہے یاں شیر نری\nکر مخالف سوچ کر ٹک اژدری\nحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری\n\nمنقبت خوانی سے میری سب ہیں سن\nاس سوا مجھ میں نہیں ہے کوئی گن\nساتھ سر کے ہے علی گوئی کی دھن\nمدعی اس کان یا اس کان سن\nحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری\n\nشوق کامل سے تعجب ہے یہ کیا\nجو بدن ہو خاک سب بعد فنا\nاور اس سے نے اگے سبزے کی جا\nبرگ برگ اس کا کرے پھر یہ صدا\nحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری\n\nتھا کبھو عاقل مخبط تھا کبھو\nگاہ کرتا گفتگو گہ جستجو\nاب اخیر عمر ہے یہ آرزو\nایک دو دن ترک کر میں اور تو\nحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری\n\nکل منافق ہوکے آیا بہبہا\nپھاڑے اپنے منھ کو جیسے اژدہا\nغار سا منھ کھولے بھیچک ہو رہا\nمعرکے میں میں نے جو آکر کہا\nحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری\n\nدل میں میرے ہے تمناے کہن\nہو میسر اے خداے ذوالمنن\nجس گھڑی ہوویں جدا جان اور تن\nہو مرے ہونٹھوں کے اوپر یہ سخن\nحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری\n\nہے ولاے اہل بیت اپنا شعار\nجانے ہے اس کے تئیں سارا دیار\nزیر لب کہتا ہوں میں پر اب کی بار\nتو سہی جو میں کہوں سب میں پکار\nحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری\n\nرخت ہستی جائے رستم بار کر\nماروں اک مکا اگر تیار کر\nچپ رہیں موذی دلوں کو مار کر\nروز میداں گر کہوں للکار کر\nحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری\n\nاے مخالف بحث مت کر نابکار\nبات ایسے سے ہے مجھ کو ننگ و عار\nبس کہا اس آستاں کا ہوں غبار\nکیا کہا تجھ سے کروں میں بار بار\nحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری\n\nشیخ کو نسبت نہیں تجرید سے\nہے یہ خر جکڑا ہوا تقئید سے\nیہ عقائد ہوتے ہیں تائید سے\nگو کہا ان نے مری تقلید سے\nحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری\n\nاس عقیدے ہی پہ اپنے میں رہوں\nگو خوارج کے ستم اس میں سہوں\nبے ولا حیدر کے ہوں میں تو نہ ہوں\nلب ہلیں جب تک یہی تب تک کہوں\nحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری\n\nاب ہوا پیری سے ٹک میں مضمحل\nورنہ تھا یہ شور تا چین و چگل\nشوق میرا کچھ نہ تھا بے صدق دل\nرات دن رہتا تھا کہتا متصل\nحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری\n\nاے مرے سرمایۂ ہر دو جہاں\nعشق تیرا ہے مرے ہمراہ جاں\nہو اگر تن پر مرے ہر مو زباں\nبے گماں سرزد ہو اس سے ہر زماں\nحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری\n\nہوں اگر یار و گدا و شاہ میں\nپر ہوں سر کار سے آگاہ میں\nدل وہیں ہے گو چلوں سو راہ میں\nمیرؔ جی باور کرو واللہ میں\nحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D9%85%D8%B3_%D8%AA%D8%B1%D8%AC%DB%8C%D8%B9_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%93_%28II%29"} {"title": "مخمس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ (III)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "منقبت", "year": null, "text_ur": "پارسا ہیں جو جواں پیر ہدیٰ کہتے ہیں\nجو ولایت رکھے ہیں شاہ ولا کہتے ہیں\nسالک مسلک دل راہ نما کہتے ہیں\nایک مولا کہیں ہیں ایک خدا کہتے ہیں\nیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں\n\nآفتاب فلک عز و علا تو ہی تھا\nچہرہ آراے زمیں اور سما تو ہی تھا\nجانشینی پیمبرؐ کے سزا تو ہی تھا\nقالب خاکی کے پردے میں خدا تو ہی تھا\nیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں\n\nہے تری قدر سے بے ختم رسلؐ کون آگاہ\nحبذا شان تری صل علیٰ تیری جاہ\nزور سے تیرے اڑے کوہ بسان پر کاہ\nوہ ثبات اس قد و قامت پہ یہ قدرت اللہ\nیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں\n\nتجھ کو وہ خلوتی راز نہاں پاتے ہیں\nجس کو اب خلق میں ہر جاے عیاں پاتے ہیں\nافسر و تخت ترے در سے شہاں پاتے ہیں\nسر ترے سجدے کا شائستہ کہاں پاتے ہیں\nیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں\n\nپاشکستوں کی ہوئی کام روائی تجھ سے\nبستہ کاروں کی ہوئی عقدہ کشائی تجھ سے\nگھٹتی آئیں کی گئی ٹک نہ اٹھائی تجھ سے\nرہ گئی دین محمدؐ کی بڑائی تجھ سے\nیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں\n\nخشمگینی تری دشمن کے سر آفت لائی\nعمرو و عنتر نے سنبھلنے کی نہ فرصت پائی\nروکشی مہد میں اژدر سے نہ ٹک بن آئی\nزور و قدرت نے ترے قدرت حق دکھلائی\nیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں\n\nشور و ہنگامہ تھا کیسا ہی مٹایا تونے\nصبح محشر تئیں فتنے کو سلایا تونے\nدر خیبر کو دو انگشت سے ڈھایا تونے\nکاڑھ خورشید کو دوبارہ دکھایا تونے\nیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں\n\nعالم کون و فساد آکے کیا تونے پاک\nدہر گلزار ہوا جھڑ گئے خار و خاشاک\nدیو سرکش ہوئے آوازہ ترا سن کے ہلاک\nپردۂ قاف تلک پہنچی ترے زور کی دھاک\nیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں\n\nتھے قوی پنجہ ترے عہد میں سب جان سے سیر\nبھیڑ بکری کی طرح خوف سے رہتے تھے دلیر\nہر زبردست زمانے کا رہا تیرا زیر\nتونے سلماں کے لیے توڑ دیا پنجۂ شیر\nیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں\n\nتجھ سے پایا نہ گیا بعد نبیؐ فاضل تر\nہے فضیلت تری قرآن سے ثابت سب پر\nقرب کیا تیرا بیاں کیجیے اے فخر بشر\nجس جگہ تو ہے تو وھاں جلتے ہیں جبریل کے پر\nیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں\n\nدوش پر رحمت عالم کے رکھا تونے پا\nخانۂ حق سے دیا شرک کی صورت کو مٹا\nعالم خاکی میں تھا مصلحتاً جلوہ نما\nعرش اعظم سے بھی تھی ورنہ پرے تیری جا\nیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں\n\nاے ترا مرتبہ بالاتر فہم و ادراک\nایک رتبے کے تئیں پہنچی ترے جلوے سے خاک\nہیں ترے شوق میں سرگشتہ شب و روز افلاک\nپر کہاں عالم خاک اور کہاں عالم پاک\nیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں\n\nاپنے اسرار کا تو آپ ہی کچھ دانا ہے\nورنہ کن نے تجھے جوں چاہیے پہچانا ہے\nایک فرقے نے تجھے روح قدس مانا ہے\nایک نے ذات مقدس تجھی کو جانا ہے\nیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں\n\nشان و شوکت تری کیا کہہ سکے عاجزتقریر\nیعنی مداح ترا کیونکے ہو الکن ہے میرؔ\nزیب دیتی ہے تجھی کو شہی کل امیر\nتیں فقیروں کے تئیں بخش دیے تاج و سریر\nیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D9%85%D8%B3_%D8%AA%D8%B1%D8%AC%DB%8C%D8%B9_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%93_%28III%29"} {"title": "مخمس در مدح حضرت علیؓ (I)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "منقبت", "year": null, "text_ur": "اے مرتفع نشین علی العرش استوا\nوے غیر ماسواے خدا خویش مصطفےٰؐ\nتو تھا کہ تونے دوش نبی پر قدم رکھا\nبت توڑ توڑ شرک کی صورت دی سب مٹا\nلایا بہ زور عرصے میں یکتائی خدا\n\nرکھتے ہیں تجھ سے چشم کرم صاحب نظر\nافضل ہوئی سبب سے ترے خلقت بشر\nتو مجمع کمال ہے تو مصدر ہنر\nہے مورد قبول دعا تیرے گھر کا در\nہے مولد شریف ترا خانۂ خدا\n\nہر مو زبان ہو تو کریں وصف ہم ترا\nکرتا رہا ہمیشہ مسیحائی دم ترا\nرونق ہوئی جہاں میں جو آیا قدم ترا\nبرپا نہ ہووے روز جزا گر علم ترا\nخورشید حشر سائے میں کس کے ہو پھر کھڑا\n\nتو وہ ہے نام لیتے ترا بھیجئے درود\nگذرے اگر تو دل میں تو کر بیٹھیے سجود\nشخص کرم کی وقت دہش تیرے کیا نمود\nتو گرم جود ہووے تو پھر کیا بھلا ہے جود\nتیری سخا کے روبرو کیا چیز ہے سخا\n\nآگہ ہیں تیری قدر سے کاہے کو بے تہاں\nجانیں ہیں فخر یاں کی گدائی کے تیں شہاں\nتجھ سا کریم عرصے میں آفاق کے کہاں\nہے در ترا وہ کان عطا و کرم جہاں\nہوتی ہے سیر آن کے حرص شہ و گدا\n\nمقدور والے عہد کے گھٹتی سہا کیے\nافسانے تیرے جود کے مردم کہا کیے\nدریا گہر کے ہاتھ سے تیرے بہا کیے\nاحساں پہ تیرے سینکڑوں احساں رہا کیے\nہمت نے تیری ہمت عالی سے کچھ لیا\n\nدکھلاوے چند چرخ نشیب و فراز کو\nپیوند کر زمیں کا غم جاں گداز کو\nکر ناز ایک لطف سے میرے نیاز کو\nتو وہ امام ہے کہ جب آوے نماز کو\nپیشینیاں تمام کریں تجھ سے اقتدا\n\nہر اک کو اس تقدس ذاتی سے کیا خبر\nپہنچانیں تجھ کو کیونکے عزیزان بے بصر\nنے تصفیہ دلوں کو نہ باریکی نظر\nپر علم ہورہے گا کہ تھا حق ہی جلوہ گر\nپردہ یہ بیچ سے بشریت کا جب اٹھا\n\nجاگہ ہر ایک دل میں تری ہی ولا کی تھی\nتیرا ظہور آرزو ارض و سما کی تھی\nتجھ سے شہان عہد کو نسبت گدا کی تھی\nقدرت جو دیکھی تیری سو قدرت خدا کی تھی\nگر آسماں حریف ہوا خاک میں ملا\n\nزورآوری جہاں میں تری داستاں ہوئی\nعرصے کے پہلوانوں کی قدرت عیاں ہوئی\nکتنوں کی جان سامنے تیرے رواں ہوئی\nکتنوں کی دور بیٹھے ہی خاطرنشاں ہوئی\nسیسر تری کماں کی نہ کوئی اٹھا سکا\n\nفرضاً ہوا غلام سے تیرے اگر بگاڑ\nدشمن سب آئے سامنے ہر ایک جوں پہاڑ\nمارا نہ ایک دو ہی کو میدان میں پچھاڑ\nجس کی کمر میں ہاتھ چلایا لیا اکھاڑ\nجس کی طرف کو آن جھکا پھر جھکا دیا\n\nآیا ڈپٹ کے گھوڑے کو جس وقت بھیڑ چیر\nخرگوش تھے بہیر کے گویا جوان و پیر\nسرگرم رزم جب کہ ہوا کہہ کے گیر گیر\nاس کی کماں کے ساتھ تھا پیغام مرگ تیر\nتلوار اس کے ہاتھ میں تھا نامۂ فنا\n\nبہتیرے کوہ و دشت کو بھاگے کڈھب گئے\nبہتیرے زخم تن پہ اٹھا جاں بلب گئے\nتھے برج سے جوان سو ہیبت سے دب گئے\nجوڑا ادھر سے تیر ادھر سہم سب گئے\nچمکی ادھر سے تیغ ادھر سر ہوا جدا\n\nہے کون دادرس جو کہوں دل کے اس سے بھید\nجور فلک سے چھاتی میں سب پڑ گئے ہیں چھید\nامید ہے کہ پہنچے ترے لطف کی نوید\nکم بخت بھی پھرا نہ ترے در سے ناامید\nازبسکہ وقف کرتے ہیں واں طالع رسا\n\nہر شب یہ دل خفا ہے یونہیں عمر ہوگئی\nہر روز اک جفا ہے یونہیں عمر ہوگئی\nجی پر غرض بلا ہے یونہیں عمر ہوگئی\nہر شام غم غذا ہے یونہیں عمر ہوگئی\nہر صبح خون دل ہے مجھے آب ناشتا\n\nآشفتہ کوہ و دشت میں مدت پھرا ہوں میں\nآوارہ گرد بادیۂ ابتلا ہوں میں\nجوں گردباد خاک میں یکسر ملا ہوں میں\nیعنی برہنگی سے تو ٹک بچ رہا ہوں میں\nتہ گرد کی جو بیٹھے ہے تن پر سو ہے قبا\n\nاس شہر میں ہوں دیر سے آوارہ بے وطن\nمرنا بنا نہ اس سے کہ پیدا نہ تھا کفن\nالقصہ حال بد سے کروں تاکجا سخن\nاحوال میرؔ تجھ پہ ہویدا ہے من و عن\nاظہار اس پہ ہے یہ طبیعت کا مقتضا\n\nہوں مبتلاے رنج و بلا سینہ چاک ہوں\nپھوڑا سا پک رہا ہوں سبھی دردناک ہوں\nدور آستاں سے تیرے کہاں تک ہلاک ہوں\nیہ جی میں آرزو ہے کہ جب مر کے خاک ہوں\nلاوے نجف کی اور اڑاتی ہوئی صبا\n\nامداد کر کہ پہنچوں ترے آستاں تلک\nلے جاوے اشتیاق مجھے کھینچ واں تلک\nہر در پہ اضطراب پھراوے کہاں تلک\nیوں اتفاق ہوکہ کروں صرف جاں تلک\nمقصد یہی ہے دل کا یہی جی کا مدعا\n\nیوں کشتہ چند مرتبہ و جاہ کا رہوں\nکب تک ہلاک مطلب دلخواہ کا رہوں\nجی چاہتا ہے خاک ہو اس راہ کا رہوں\nپامال تیرے زائر درگاہ کا رہوں\nتاج شرف ہو سر پہ مرے عاقبت کو تا\n\nبے اختیار روؤں ہوں ہر صبح اور شام\nیعنی کہ شوق در کا ترے دل کو ہے تمام\nمقصد اسی کو جانوں ہوں سمجھا یہی ہوں کام\nاے جدپاک حضرت موسیٰ رضا امام\nاپنی تو آرزو ہے یہ آگے تری رضا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D9%85%D8%B3_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%93_%28I%29"} {"title": "مخمس در مدح حضرت علیؓ (II)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "منقبت", "year": null, "text_ur": "زور و ثبات و تاب و تواں مرتضےٰ علی\nامیدگاہ خرد و کلاں مرتضےٰ علی\nمقصود خلق و خواہش جاں مرتضےٰ علی\nذکر روان و ورد زباں مرتضےٰ علی\nجو کچھ کہو سو اپنے ہیں ہاں مرتضےٰ علی\n\nاس کی ولا ہے باعث بہبود کائنات\nاس کی ولا ہی شرط پڑی ہے پئے نجات\nکیا کیا نمود کرتے ہیں اتنے عجائبات\nوا ہو جو چشم دل تو تماشا ہے اس کی ذات\nیکتاے عرصۂ دوجہاں مرتضےٰ علی\n\nہرچند کام ایسی جگہ کیا کرے سمجھ\nاس راز کو سمجھ جو سکے تو ارے سمجھ\nیعنی نہ ذات پاک سے اتنا ورے سمجھ\nعقل نخست سے بھی اسے کچھ پرے سمجھ\nہے آں سوے خیال و گماں مرتضےٰ علی\n\nموجود اس کے ہونے سے روشن جہاں ہوا\nاس پردے میں جو تھا پس پردہ عیاں ہوا\nفرمان شاہ بحروبر ان پر رواں ہوا\nپیر زمانہ دیدۂ عالم جواں ہوا\nچشم و چراغ کون و مکاں مرتضےٰ علی\n\nشخصیت ایسی کس کی تھی کس کو تھا یہ شرف\nاس قدر سے تھا کون بغیر از شہ نجف\nاللہ رے زور کوئی نہ اس کا ہوا طرف\nدریاے موج خیز تھا اس کے کرم کا کف\nابن عم رسول زماں مرتضےٰ علی\n\nہرچند ہے یہ عرصہ ہمیشہ سے پرغبار\nیاران رفتہ کے بھی تردد ہیں یادگار\nلیکن کہاں یہ حربے کہاں ایسے مردکار\nنکلی نہ ویسی تیغ کہ جیسی تھی ذوالفقار\nدیکھا نہ تھا وہ جیسا جواں مرتضےٰ علی\n\nپامال راہ اس کے ہیں سرہاے پرغرور\nنزدیک اہل عقل کے رتبہ ہے اس کا دور\nشائستۂ سجود سمجھتے ہیں ذی شعور\nہے جملہ تن منزہ و سر تا قدم ہے نور\nاس بے نشاں سے دے ہے نشاں مرتضےٰ علی\n\nآیا ہے یہ جو شاہد غیبی شہود میں\nلایا ہے اس کو شوق ہی اس کا وجود میں\nانداز کیسے کیسے ہیں اس کی نمود میں\nگہ سر فرو نہ لاوے گہے ہو سجود میں\nہے خلوتی راز نہاں مرتضےٰ علی\n\nکب گفتگو انھوں سے ہے جن میں ہے بے تہی\nکاہے کو اس طریق پہ ہیں محو گمرہی\nختم رسلؐ کو قدر سے ہے اس کی آگہی\nقربان اس کے در کے گدا پر سے کی شہی\nخورشید چرخ عزت و شاں مرتضےٰ علی\n\nبارے چھپا ہو کوئی تو اس کو جتایئے\nجو بے بصر ہیں ان کے تئیں کچھ سجھایئے\nخورشید کو اشاروں سے کب تک بتایئے\nروشن ہیں سب پہ باتیں عبث کیا بنایئے\nحاجت نہیں بیاں ہے عیاں مرتضےٰ علی\n\nوہ جانے جس کو اور کسو سے کچھ ہووے کام\nشام و سحر یہاں تو وظیفہ اسی کا نام\nمیلان دل ہے میرؔ غرض اس طرف تمام\nسرمایہ دوجہاں کا ہے اپنا یہی امام\nیاں مرتضےٰ علی ہے وہاں مرتضےٰ علی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D9%85%D8%B3_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%93_%28II%29"} {"title": "مخمس در مدح حضرت علیؓ (III)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "منقبت", "year": null, "text_ur": "یاعلی شاہ اولیا ہے تو\nمحرم راز اِنّما ہے تو\nزور بازوے مصطفےٰؐ ہے تو\nمظہر قدرت خدا ہے تو\nعلم کس کو ہے یہ کہ کیا ہے تو\n\nگرچہ آخر کیا ہے تونے ظہور\nپر ترے قرب کا ہے رتبہ دور\nہے تو اللہ کا مجسم نور\nجانے ہیں جن کو کچھ ہے عقل و شعور\nاگلے پچھلوں کا پیشوا ہے تو\n\nتیرے پردے میں حق ہوا موجود\nتجھ سے کیا کیا عجب ہوئے مشہود\nجانتے ہیں تجھی کو سب معبود\nتھا زمین و زماں سے تو مقصود\nآرزو تو ہے مدعا ہے تو\n\nاس زمانے میں آہ دکھ ہے عظیم\nہے مری جان پر عذالب الیم\nمستحق کرم ہوں میں تو کریم\nملتفت ہو بہت ہے حال سقیم\nمیرے ہر درد کی دوا ہے تو\n\nفرصت وقت جوں حباب ہے کم\nحال مانند موج ہے درہم\nڈوب جاتا ہے جی مرا ہردم\nجوش زن گوکہ ہو محیط غم\nغم نہیں کچھ جو آشنا ہے تو\n\nتجھ سے ظاہر ہوئے چھپے سب بھید\nجلوہ تیرے ظہور کا جاوید\nذرے ذرے کو تجھ سے ہے امید\nدن ہے طالع ہوا جہاں خورشید\nسب پہ روشن ہے کیا چھپا ہے تو\n\nمیرؔ کو کب تلک یہ رنج و غم\nاس بھی اندوہ گیں کو کر خرم\nمنبسط ہے ترا سحاب کرم\nیعنی سائے میں ہے ترے عالم\nسارے عالم میں چھا رہا ہے تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D9%85%D8%B3_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%93_%28III%29"} {"title": "مخمس در مدح حضرت علیؓ (IV)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "منقبت", "year": null, "text_ur": "ہے حقیقت سے تو اگر آگہ\nیاد میں روز و شب علی کی رہ\nکعبہ اس کا ہی در ہے اے ابلہ\nمیرے مولا کی ذات پاک ہے وہ\nجس کو کہتے ہیں لا شریک لہ\n\nاک تلطف میں خاک ساری زر\nاک توجہ میں قطرہ آب گہر\nاک نظر میں نہال خشک ہو تر\nاک سخن میں تمام یہ بہتر\nاعرج و اعمیٰ ابرص و اکمہ\n\nہاتھ پکڑے دم مصائب یہ\nیار ہووے گہ نوائب یہ\nہے غرض مظہر عجائب یہ\nمستقل ہے نبیؐ کا نائب یہ\nجو کہے سو یہ کچھ کرے سو یہ\n\nہر نفس لب پہ گفتگو اس کی\nہر زماں جی کو جستجو اس کی\nپوچھ مت کچھ ولا سے تو اس کی\nخواہش اس کی ہے آرزو اس کی\nمطلب و مدعا و مقصد وہ\n\nشان ارفع تری فلک کردار\nایک ہے تو برابر دو ہزار\nاللہ اللہ ترا ثبات و قرار\nحلم سے تیرے کہتے تھے کہسار\nسن کے کبک دری ہنسے قہ قہ\n\nدیکھے سب لوگ پھر کے چاروں دانگ\nمردمی یاں کی ہے عجائب سوانگ\nشخص ہمت کے ان کے ہاتھ نہ مانگ\nمانگے ہے تو جو کچھ خدا سے مانگ\nجو کہے ہے سو تو علی سے کہہ\n\nشاد اس نام سے جو خوگر ہے\nاسم اعظم یہی مقرر ہے\nانس کرنا اسی سے بہتر ہے\nیہی جنت یہی تو کوثر ہے\nاس میں تو پھر بگاہ یا بیگہ\n\nخلق سب دیکھے اس کے ہاتھ کی اور\nلے سلیماں سے مفتقر تا مور\nکف ہمت کی اس کے دھوم ہے زور\nظرف ہوتا تو یوں نہ کرتے شور\nبحر و عماں نکل گئے بے تہ\n\nہے وہ امیدگاہ خلق خدا\nروز محشر اسی سے سب کو رجا\nوہ مروت شعار و جملہ حیا\nبحر ذخار جود و کان عطا\nاس سے نفع گدا تمتع شہ\n\nمرتبہ کچھ نہ پوچھو اس گھر کا\nبندگی یاں کی فخر قیصر کا\nشاہ چیں پیش دست قنبر کا\nآسماں ہے گدا اسی در کا\nدیکھتے ہیں ادھر ہی مہر و مہ\n\nاس کی ہمت اسی کو بن آوے\nدولت اس کی جہان سب کھاوے\nبار اس در پہ جو گدا پاوے\nایک آواز کرکے لے جاوے\nمال و اسباب و ملک و تاج و کلہ\n\nمیرؔ عازم ہوئے ہو کیدھر کے\nجو تلاشی ہو یار و یاور کے\nرہگرے دوستی حیدر کے\nنہیں محتاج ہوتے رہبر کے\nہے اسی راہ میں خدا ہمرہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D9%85%D8%B3_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%93_%28IV%29"} {"title": "مخمس در مدح حضرت علیؓ (V)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "منقبت", "year": null, "text_ur": "اے نائب مصاحب ذی القوۃ المتیں\nوے دست زور خلوتی قدرت آستیں\nچاہے تو ایک کردے ابھی آسماں زمیں\nٹھوکر لگے تری تو اڑے کوہ آہنیں\nپایا نہ جائے جیسے پر کاہ پھر کہیں\n\nتو ہے کہ تیری قدر نہ آئے بیان میں\nقدرت تری نہ گذرے کسو کے گمان میں\nشانیں ہزار قسم ہیں اک تیری شان میں\nشہرت ہے تیرے زور کی دونوں جہان میں\nنکلا نہ شہربند عدم سے ترا قریں\n\nغیب و شہود دونوں میں مشہود ہے تو تو\nہستی ہماری وہم ہے موجود ہے تو تو\nحاصل کہ دوجہان کا مقصود ہے تو تو\nمسجود تجھ کو جانے ہیں معبود ہے تو تو\nناجی ہیں وے ہی لوگ جنھوں کا ہے یہ یقیں\n\nاحوال خوش انھوں کا جنھیں تجھ سے ہے ولا\nاعدا تو آسماں نے دیے خاک میں ملا\nآئینہ ہے کہ دین کو تجھ سے ہوئی جلا\nبرپا وہی رہے گا جو تجھ تک ہے سلسلہ\nیاروں نے جتنی رسمیں بٹھائیں تھیں اٹھ چلیں\n\nفتنے کو تیرے عہد میں سوتے گذر گئی\nآشوب کی خطر سے ترے سدھ بسر گئی\nآفت کہاں کہ کب کی کنارہ بھی کر گئی\nآوازہ تیرا سن کے بلا جیسے مر گئی\nیوں مٹ گئے فساد کہ مذکور بھی نہیں\n\nداور ہوا جو تو تو ملی بیکسوں کی داد\nتلوار مارنے سے ترے مٹ گئے فساد\nاٹھے نہ گرد زندقہ و کفر پر عناد\nزنار ٹوٹے مہرے جلے بت گئے بہ باد\nبرہم ہوئے گھڑی میں ہزاروں برس کے دیں\n\nہنگامے گرم یاروں کے سب سرد ہوگئے\nچہرے منافقوں کے ووہیں زرد ہوگئے\nسر در نقاب خاک بڑے مرد ہوگئے\nجن سے تھا پر غبار جہاں گرد ہوگئے\nگلوں میں بکریوں کے چھٹے شیر خشمگیں\n\nبھاگے پھرے پلنگ نمر ہانپنے لگے\nروکش جو ہونے کو تھے سو منھ ڈھانپنے لگے\nرستم ہو بے حواس زمیں ناپنے لگے\nہلنے لگے پہاڑ فلک کانپنے لگے\nرکھا گیا جو پیٹھ پہ مرکب کے تیرے زیں\n\nتلوار تیری برق تھی آنکھیں جھپک گئیں\nگھوڑوں کی باگیں ہاتھ سے سب کے اچک گئیں\nبھاگیں جو اضطرار سے فوجیں بہک گئیں\nلاشوں کی سیر کرتے ہوئے آنکھیں تھک گئیں\nلوہو کی ہر چہار طرف ندیاں بہیں\n\nنعرہ کیا ہے تو جو کبھو ہاتھ جھاڑ کر\nنکلا ہے پردہ گوش فلک کا بھی پھاڑ کر\nقوت جو تونے کی ہے کبھو پاؤں گاڑ کر\nکوہ گراں کو پھینک دیا ہے اکھاڑ کر\nپہنچا ہے ملک قدس تلک شور آفریں\n\nرکھتا ہے پائمال حوادث یہ آسماں\nجاگہ نہیں رہی کہ کریں داد جا کے واں\nہو دستگیر لطف ترا تو ملے اماں\nتیری طرف نہ آویں تو پھر جاویں ہم کہاں\nاے عرش تخت دادگر لامکاں مکیں\n\nتو ہے کہ تجھ کو کہتے ہیں حلال مشکلات\nتو ہے کہ حلقہ زن ہے ترے در پہ کائنات\nتو ہے کہ تجھ سے دید میں آئے عجائبات\nاحسنت تیری قدرت و رحمت ترا ثبات\nآگے سے تیرے سینکڑوں بھیڑیں سرک گئیں\n\nقدغن ہوا جو رفع کا بدعت کی ایک بار\nپردوں میں مطربوں نے رکھے دف طمانچے مار\nنغمہ یہ سن کے یاروں نے چھیڑا کبھو نہ تار\nنالہ ہوا نہ بلبل طنبور سے دوچار\nآواز نے کی بند ہوئی ہوگئی حزیں\n\nتردامنوں کے دیکھے تو لب خشک ہوگئے\nاحوال میکدہ پہ بہت ابر رو گئے\nمعتاد مے جنھوں کی تھی سب جان کھو گئے\nمخمور کھینچ کھینچ کے خمیازہ سو گئے\nکیا کیا خرابیاں نہ خرابات پر رہیں\n\nلا شکل اس کی دل میں وہی مصطفےٰ کو دیکھ\nاس رخ کا کر تصور نور خدا کو دیکھ\nرنگینی جمالت شاہ ولا کو دیکھ\nنرگس نے غش کیا تھا کہیں اس ادا کو دیکھ\nگلشن میں دلبروں کی نہ پھر انکھڑیاں ملیں\n\nعاجزنوازی تیری سے ہو مشت خاک زر\nبرسے گدا پہ ابر کرم سے ترے گہر\nجور فلک نے سیر کیا جی سے رحم کر\nمہماں ترے سماط پہ ہے خلق ہر سحر\nحاتم یک آشمال ہے یاں معن ریزہ چیں\n\nجس دل کو ہو نہ شوق ترا ہوجیو گداز\nجس چشم کو نہ میل ہو تیرا نہ ہوجو باز\nجو سر ترا خیال رکھے رہیو بے نیاز\nسجدے سے تیرے در کے جو ہوتی ہو سرفراز\nمسجود ہوجو صبح سعادت کی وہ جبیں\n\nاہل نظر سے دیکھنا اودھر کا ہے عجب\nآنکھوں سے تیری رہ نہ چلے واقف ادب\nکس کو تھی یہ بزرگی و کس کا تھا یہ حسب\nیہ قدر تھی تری مرے مولا ہوا تو جب\nرونق فزاے کعبہ محمدؐ کا جانشیں\n\nکیا کہیے تیرے قرب سے اے سایۂ الٰہ\nبے دانشی سے کچھ کہے کوئی دروں سیاہ\nاپنی تو تجھ پہ پڑتی ہے جا کر وہیں نگاہ\nفہم و گمان و وہم کو جس جا نہیں ہے راہ\nہے چشم شوق عینک شفاف دوربیں\n\nجس کو نہیں ہے تیری محبت کا کچھ خیال\nافسوس اس کی زندگی و واے اس کا حال\nیاں اس کے سر وبال ہے واں رنج یا نکال\nتجھ سے نہ رکھے بندگی ہے کفر اور ضلال\nتیری ولا ہے داخل ایمان مومنیں\n\nمیرؔ شکستہ حال نہایت ہے تنگ اب\nشوریدہ سر سے مارے ہے لے لے کے سنگ اب\nہر آن اس کو آپ سے رہتی ہے جنگ اب\nدست تہی سے خلق جہاں کا ہے ننگ اب\nخوش مت کر آہ اس سے زیادہ نہ کر غمیں\n\nافسوس ہے مدیح ترا اتنا خستہ حال\nہر لحظہ اک عذاب نیا ہردم اک وبال\nتھے اس چمن میں جو روش سبزہ پائمال\nیک دم میں تیرے ابر کرم نے کیے نہال\nبرسے انھوں پہ اوس کی جاگہ در ثمیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D9%85%D8%B3_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%93_%28V%29"} {"title": "مخمس در مدح حضرت علیؓ (VI)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "منقبت", "year": null, "text_ur": "ہراس روز محشر کیا محمد مصطفےٰؐ بس ہے\nکرم خصلت وفاسیرت علی مرتضےٰ بس ہے\nشفیع جرم سوز سینۂ خیرالنسا بس ہے\nنہ ٹکڑے دل کے کر مسموم امام مجتبےٰ بس ہے\nلہو مت رو شہید تشنہ کام کربلا بس ہے\n\nرکھے کوئی توقع تو رکھے آل پیمبر سے\nطلب ہووے کسی کو کچھ تو ہو اولاد حیدر سے\nامانت چاہنا پھر لطف ہے یاران دیگر سے\nدل اپنا جمع کر دور قمر کے شور اور شر سے\nبہت ہے گرچہ ہنگامہ ولے زین العبا بس ہے\n\nولا باقر کی فرض عین ہے حیدرپرستی میں\nجپا کر نام کو اس کے تو ہشیاری و مستی میں\nغرض رہ محو اس کا دشت میں ہو تو کہ بستی میں\nعجب ہے نونہال اک سایہ دار اس باغ ہستی میں\nکرم اس کا پئے ہر شخص بے برگ و نوا بس ہے\n\nمحبت چاہیے صادق جناب پاک جعفر میں\nاسی کا شوق دل میں ہو اسی کا شور ہو سر میں\nوہی یاں بھی نشاں ہے تھا جو کچھ ساقی کوثر میں\nعنایت کی اسی سے چشم رکھ آشوب محشر میں\nبلا صد رنگ ہووے کیوں نہ ایک اس کی ولا بس ہے\n\nرکھے کاظم کو جو سر پر غم و غصہ سے کیا اس کو\nنہ دیکھے یہ امام دیں بلا میں مبتلا اس کو\nبیک چشمک زدن حاصل ہو ایسا مرتبہ اس کو\nکہ رکھے کفش جس کے سر پہ دیکھو بادشا اس کو\nتوجہ گونہ اے مولا پئے ہر مدعا بس ہے\n\nجسے اے مجلس آرایان دیں بہرہ ہے ایماں سے\nاسے اک بندگی خاص ہے شاہ خراساں سے\nنگہ کی چشم سے آتی ہے خلق ایران و توراں سے\nگذر جاتے ہیں اس کے نام پر جنس خوش جاں سے\nجو سودا اس سے بن جائے تو ہو راضی رضا بس ہے\n\nجو وہ دن ہو کہ نکلے آفتاب اس روز پچھم سے\nموکل درمیاں لاویں سخن جنت جہنم سے\nکریں پرسش بد و نیک عمل کی خلق عالم سے\nمخاطب ہم کسو سے ہوں نہ یارب نے کوئی ہم سے\nتقی متقی ہم کو امام اتقیا بس ہے\n\nتقی پاک کا آکر علم جس وقت برپا ہو\nالٰہی ہم سیہ کاروں کی اس کے سائے میں جا ہو\nوہ حامی لطف سے ہو تو کچھ اپنا کام اچھا ہو\nوگرنہ زشتی اعمال سے کیا جانیے کیا ہو\nووں ہی ہووے تو بس کیا اور یوں ہووے تو کیا بس ہے\n\nنہ ہو لشکرکشی سے غم کی اے دل اس قدر درہم\nکرے گا عسکری انبوہ اس اندوہ کا برہم\nعدو مجروح ہے اس کا احبا کا ہے وہ مرہم\nرہیں گے ناامید رستگاری اس سے کیونکر ہم\nوسیلہ ہم گنہگاروں کا وہ روز جزا بس ہے\n\nاگرچہ اشک آنکھوں میں لبوں پر آہ رہتے ہیں\nولے مستغنیانہ ہرگہ و بے گاہ رہتے ہیں\nکبھو ہیں شہر میں جاکر کبھو درگاہ رہتے ہیں\nکرم پر مہدی ہادی کے ہم گمراہ رہتے ہیں\nہمیں اس وادی پرخوف میں وہ رہنما بس ہے\n\nکہاں تک بت پرستی میں جفا و جور کا سہنا\nکہاں تک آنکھ سے رخسار پر ہر دم لہو بہنا\nکہن سالی میں کس کا چاہیے ہے ہم کو کچھ کہنا\nدیے قشقہ صنم خانے میں کب تک روز و شب رہنا\nگیا وقت ہوس کعبہ کو چلیے اب خدا بس ہے\n\nنہیں مشتاق ہم کچھ مال کے اسباب کے زر کے\nنہ اچھے فرش کے طالب نہ پاکیزہ کسو گھر کے\nتجھے درویش سب کہتے ہیں لوگ ایدھر کے اودھر کے\nہمارا حشر ہووے مر گئے پر ساتھ حیدر کے\nیہی کہہ میرؔ تو بھی حق میں اپنے یہ دعا بس ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D9%85%D8%B3_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%93_%28VI%29"} {"title": "مخمس در مدح حضرت علیؓ (VII)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "منقبت", "year": null, "text_ur": "ہادی علی رفیق علی رہنما علی\nیاور علی ممدّ علی آشنا علی\nمرشد علی کفیل علی پیشوا علی\nمقصد علی مراد علی مدعا علی\nجو کچھ کہو سو اپنے تو ہاں مرتضےٰ علی\n\nنور یقیں علی سے ہمیں اقتباس ہے\nایمان کی علی کی ولا پر اساس ہے\nیوم التناد میں بھی علی ہی کی آس ہے\nبے گاہ و گاہ ناد علی اپنے پاس ہے\nقبلہ علی امام علی مقتدا علی\n\nدیوانگان شوق کا مت پوچھو معتقد\nفہم اس کا تب ہو روح قدس جب کرے مدد\nظاہر اس ایک شان سے شانیں ہیں لاتعد\nگہ احمد اس کو کہتے ہیں گاہے اسے احد\nشایان حمد و قابل صل علیٰ علی\n\nنے شہ سے کچھ غرض ہے ہمیں نے وزیر سے\nنے اعتقاد شیخ سے نے کچھ فقیر سے\nرکھتے نہیں ہیں کام صغیر و کبیر سے\nہے لاگ اپنے جی کو اسی اک امیر سے\nمولا علی وکیل علی بادشا علی\n\nپہنچے ہے تیرے ہاتھ تلک کب کسو کا دست\nکیا سمجھے شیخ حال کو فطرت ہے اس کی پست\nہوں جوں نصیری ساقی کوثر کا محو و مست\nمسکن علی نگر ہے مرا میں علی پرست\nپیغمبر اس جگہ کا علی ہے خدا علی\n\nشیوہ اگرچہ اپنا نہ یہ وعظ و پند ہے\nپر اس کو سن رکھ اے کہ تو کچھ دردمند ہے\nکیا ہے جو عرصہ تنگ ہوا کام بند ہے\nدل جمع کر کہ ہمت مولیٰ بلند ہے\nیعنی کرم شعار ہے مشکل کشا علی\n\nاپنی بساط تو ہے علی ہے وہی علیم\nکس طور جیتے رہتے نہ ہوتا جو وہ کریم\nدیکھیں ہیں اس کی اور جو ہم ہوتے ہیں سقیم\nیاں کا وہی ہے شافی و کافی وہی حکیم\nعارض ہو کوئی درد ہمیں ہے دوا علی\n\nہے دوستی علی کی تمناے کائنات\nبے لطف اس بغیر ہے کیا موت کیا حیات\nیعنی کہ ذات پاک ہے اس کی خدا کی ذات\nکیا ان موالیوں کے تئیں ہے غم نجات\nمرتے ہوئے جنھوں کے دلوں میں رہا علی\n\nیہ کس طرح سے راز کہوں میں زبان سے\nحالات اس روش کے پرے ہیں بیان سے\nیک شب نبیؐ جو نکلے زمان و مکان سے\nذات مبارک آئی نظر اور شان سے\nتھا بزم لامکاں میں بھی رونق فزا علی\n\nخواہش مدد کی غیر سے یہ ہے خیال خام\nکرتا ہے کب قبول اسے عاقل تمام\nکافی ہے دوجہان میں مولا کا میرے نام\nلاریب اس پہ آتش دوزخ ہوئی حرام\nاک بار بھی زبان سے جن نے کہا علی\n\nسر تا قدم ثبات دل و جملگی ادب\nصورت پکڑ کے سامنے آیا تھا لطف رب\nظاہر ہوئے ظہور جہاں میں عجب عجب\nمحراب میں نہ گرم بکا تھا کدام شب\nہنستا رہا نہ کون سے روز غزا علی\n\nعنتر کو نار خشم نے اس کی جلا دیا\nاژدر کو چیر ایک ہی دم میں کھپا دیا\nخورشید کو نکال دوبارہ دکھا دیا\nہنگامہ کفر و شرک کا آکر مٹا دیا\nتھا جانشین ختم رسلؐ کا بجا علی\n\nگو چشم دل کھلے نہ کسی روسیاہ کی\nاس تک مجال کب ہے کسو کی نگاہ کی\nاللہ ری بلندی تری قدر و جاہ کی\nمرمر کے جبرئیل نے درباں سے راہ کی\nشاہا ملک سپاہ جہان صفا علی\n\nدشمن کو آگہی ہے کماینبغی کہاں\nقدرت سے اس کی قدرت حق ہوتی ہے عیاں\nزورآوری مزاج میں آوے تو الاماں\nکچھ بھی نہیں ہے پھر یہ جو سب کچھ ہے درمیاں\nارض و سما کے دیوے قلابے ملا علی\n\nدی تیغ ایسی کس کو کہ جیسی ہو ذوالفقار\nمرکب کہاں ہیں اس کے سے ویسے کہاں سوار\nگذرے ہیں گرچہ مردم خوب آگے بھی ہزار\nپر یہ شرف خدا کی طرف سے ہے یہ وقار\nخلقت تو دیکھ کعبے میں پیدا ہوا علی\n\nتھی حق کے ہاں سے احمد مرسلؐ کو سروری\nکہتی تھی ساری خلق خدا کی اسے ولی\nنسبت بغیر ہوتے ہیں یہ اتحاد بھی\nلطف و سخا و ہمت و حلم و حیا نبیؐ\nجود و سخا و جرأت و مہر و وفا علی\n\nنزدیک سب کے اس کو ہے درجہ قبول کا\nایک عندیہ ہے سید و شیخ و مغول کا\nکب معتبر ہے حرف کسو بوالفضول کا\nباطن علی ہے ظاہر خوب رسولؐ کا\nخاک اس کے فرق پر جو کہے تھا جدا علی\n\nہر فرد کی زباں پہ علی کی ہے گفتگو\nہر شخص کے تئیں ہے علی ہی کی جستجو\nعالم کو ہے علی کی تولا سے آرزو\nاپنا ہی کچھ علی کی طرف کو نہیں ہے رو\nمقصود خلق و مطلب ارض و سما علی\n\nاک شوق ہے علی کا مرے قلب میں نہاں\nشاید یہی نجات کا باعث بھی ہو وہاں\nاب زیر لب ہے زیست میں جو میرؔ ہر زماں\nاس وقت میں کہ جان ہو یک دم کی میہماں\nامید ہے کہ یوں ہی لبوں پر ہو یا علی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D9%85%D8%B3_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%93_%28VII%29"} {"title": "مخمور چشموں کی تبرید کرنے کوں شبنم ہے سرداب شوروں کی مانند", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مخمور چشموں کی تبرید کرنے کوں شبنم ہے سرداب شوروں کی مانند\nروپے کے تھالے سفیدی ہے نرگس کی زردی ہے زر کے کٹوروں کی مانند\n\nدارائی سرخ ان جامہ زیبوں نے عاشق کے لوہو سے رنگیں کئے ہیں\nبے خود ہو کہتا ہوں کیا خوب لگتے ہیں میرے کلیجے کے قوروں کی مانند\n\nاے دست مشاطہ توں جب سیں پہونچا ہے اس زلف مشکیں کی شانہ کشی کوں\nعاشق کی آہوں کے ان صاف رشتوں میں گرہاں ہیں انگلی کی پوروں کی مانند\n\nیہ تنگی انہوں کے دہن کی نہ پاوے گا اپنے گریباں میں سر کو نوا توں\nاے غنچہ باغی ہو مہتاب رویوں سیں مت خندہ پن کر چکوروں کی مانند\n\nدل کے خزانے سیں شاید لیجاوے گا جی کے جواہر کوں عیاریوں سیں\nہر دم خیال اوس کا آنکھوں کے روزن سیں آتا ہے چھپ چھپ کہ چوروں کی مانند\n\nغم کے پہاڑوں کوں سر پر اٹھائے ہیں وحشت کے پنجوں سیں آہوں نے میری\nدل کے اکھاڑے میں اب کون ہم سر ہے ان پہلوانوں کے زوروں کی مانند\n\nپروانہ رنگوں کے عرس جدائی میں سیر چراغاں ہے جان سراجؔ آج\nروشن فتیلے ہیں آہوں کے شعلوں کے سینے میں کورے سکوروں کی مانند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AE%D9%85%D9%88%D8%B1_%DA%86%D8%B4%D9%85%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%B4%D8%A8%D9%86%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%A8_%D8%B4%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%86%D8%AF"} {"title": "مداح ہوں میں دل سے محمد کی آل کا", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مداح ہوں میں دل سے محمد کی آل کا\nمشتاق ہوں وصیٔ نبی کے جمال کا\n\nخواہاں گہر کا ہوں نہ میں طالب ہوں لال کا\nمشتاق ہوں تمہارے دہن کے اگال کا\n\nدیکھو تو ایک جا پہ ٹھہرتی نہیں نظر\nلپکا پڑا ہے آنکھ کو کیا دیکھ بھال کا\n\nکیا ان سے فیض پہنچے جو خود تیرہ بخت ہیں\nکھلتے نہ دیکھا ہم نے کبھی پھول ڈھال کا\n\nہم ہیں فقیر دولت دنیا سے کام کیا\nبہتر ہے جام جم سے پیالہ سفال کا\n\nدانہ دکھا کے دام میں عنقا کو لاؤں گا\nمضمون لکھ رہا ہوں ترے خط و خال کا\n\nسو جان سے فدا ہوں محمد کے نام پر\nجس نے بتایا فرق حرام و حلال کا\n\nوہ آنکھ بھی اٹھا کے ہمیں دیکھتے نہیں\nرتبہ پہنچ گیا ہے یہ رنج و ملال کا\n\nکس زندگی کے واسطے دولت کی آرزو\nدیکھو نتیجہ غور سے قاروں کے مال کا\n\nاقبال گر نہیں ہے تو انکار کیجئے\nکچھ دیجئے جواب ہمارے سوال کا\n\nمٹھی کو کھول کر ید بیضا دکھاتے ہیں\nناخن پہ ان کے ہوتا ہے دھوکا ہلال کا\n\nشاعر غضب کے ہوتے ہیں ہرگز نہ چوکتے\nموقع نہیں دہن میں ترے قیل و قال کا\n\nاے رشک مہر وصل میں غصہ ہے کس لئے\nیہ وقت میری جان نہیں ہے جلال کا\n\nتاریکیٔ لحد سے کچھ آغاؔ نہ خوف کر\nدامن ہے تیرے ہاتھ میں زہرا کے لال کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%AD_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "مدت سے ہوں میں سر خوش صہبائے شاعری", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مدت سے ہوں میں سر خوش صہبائے شاعری\nناداں ہے جس کو مجھ سے ہے دعوائے شاعری\n\nمیں لکھنؤ میں زمزمہ سنجان شہر کو\nبرسوں دکھا چکا ہوں تماشائے شاعری\n\nپھبتا نہیں ہے بزم امیران دہر میں\nشاعر کو میرے سامنے غوغائے شاعری\n\nاک طرفہ خر سے کام پڑا ہے مجھے کہ ہائے\nسمجھے ہے آپ کو وہ مسیحائے شاعری\n\nہے شاعروں کی اب کے زمانے میں یہ معاش\nپھرتے ہیں بیچتے ہوئے کالائے شاعری\n\nلیتا نہیں جو مول کوئی مفت بھی اسے\nخفت اٹھا کے آتے ہیں گھر وائے شاعری\n\nاے مصحفیؔ ز گوشۂ خلوت بروں خرام\nخالی ست از برائے تو خود جائے شاعری\n\nہر سفلہ را زبان و بیان تو کے رسد\nآرے توئی فغانی و بابائے شاعری\n\nمجنوں منم چرا دگرے رنج می برد\nدر حصۂ من آمدہ لیلائے شاعری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%B5%DB%81%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C"} {"title": "مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط\nمیری شکایتوں سے بھرا ہے تمام خط\n\nگھبرا نہ اس قدر دل بے تاب صبر کر\nآتا ہے کوئی روز میں اب صبح و شام خط\n\nلکھا ہوا ہے خاص تمہارے ہی ہاتھ کا\nپہچانتا ہے خوب تمہارا غلام خط\n\nتحریر ان کی سینہ پہ رکھ دیجیو مرے\nبدلے جواب نامہ کے آئے گا کام خط\n\nلکھا ہے اب نہ لکھیں گے ہم کوئی خط تجھے\nخط آیا میری موت کا لایا پیام خط\n\nضائع نہ جائے گی تری محنت کسی طرح\nقاصد اجورہ دیتا ہوں چٹکی میں تھام خط\n\nعاشق نوازیاں ہیں طبیعت میں یار کی\nلکھا ہے ہر مہینے میں بھیجو مدام خط\n\nتحریر کر کے سیکڑوں وعدے مکر گئے\nدکھلاؤں گا حضور کو روز قیام خط\n\nخط لکھ کے آج ڈاک پہ پہنچیں گے یار کو\nپہنچائے گا ہمارا پیام و سلام خط\n\nآغاؔ نثار ہوجیے انعام دیجئے\nلایا ہے ان کا قاصد صرصر خرام خط", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%AE%D8%B7"} {"title": "مدت کے بعد منہ سے لگی ہے جو چھوٹ کر", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مدت کے بعد منہ سے لگی ہے جو چھوٹ کر\nتو یہ بھی مے پہ گرتی ہے کیا ٹوٹ ٹوٹ کر\n\nمہندی تھا میرا خون کہ ہوتا جو رائیگاں\nاک شب کے بعد ہاتھ سے قاتل کے چھوٹ کر\n\nپہلا ہی دن تھا ہم کو کیے ترک مے کشی\nکیا کیا پڑا ہے رات کو مینہ ٹوٹ ٹوٹ کر\n\nصبر و قرار لے کے دیا داغ آرزو\nآباد تم نے دل کو کیا مجھ کو لوٹ کر\n\nحیرت ہے میرے اختر بخت سیاہ کو\nکیوں کر گہن سے چاند نکلتا ہے چھوٹ کر\n\nاللہ رے آنسوؤں کا کھٹکنا فراق میں\nآنکھوں میں بھر گیا کوئی الماس کوٹ کر\n\nٹپکے نہیں قلم کے فقط اشک نامہ پر\nوہ کچھ لکھا کہ روئی سیاہی بھی پھوٹ کر\n\nکر بند و بست ابھی سے نہ گلشن میں باغباں\nوہ دن تو ہو کہ مرغ قفس آئیں چھوٹ کر\n\nصد حیف سرگذشت جو اپنی کہی جلالؔ\nتو اس کو داستان سمجھ سچ کو جھوٹ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%86%DA%BE%D9%88%D9%B9_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "مدت کے جو بعد جی بحال آتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مدت کے جو بعد جی بحال آتا ہے\nخاطر پہ جہاں جہاں ملال آتا ہے\nوے ووں گئے جان یوں چلی جاتی ہے آہ\nرہ رہ کے ہمیں یہی خیال آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D8%AC%DB%8C_%D8%A8%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مدت ہوئی ہے مدح حسیناں کئے ہوئے", "poet_page": "مصنف:وحید الدین سلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مدت ہوئی ہے مدح حسیناں کئے ہوئے\nنور سخن سے دل کو چراغاں کئے ہوئے\n\nعرصہ ہوا ہے وصف بہار جمال سے\nروئے ورق کو رشک گلستاں کئے ہوئے\n\nبرسوں ہوئے ہیں تذکرۂ سوز عشق سے\nبزم سخنوری کو درخشاں کئے ہوئے\n\nآتا ہے کس شکوہ سے وہ رشک آفتاب\nظلمت کدے دلوں کے چراغاں کئے ہوئے\n\nجاتا ہوں کوئے یار کو دیکھ اے گھٹا مجھے\nبرپا ہجوم اشک سے طوفاں کئے ہوئے\n\nبیٹھے ہیں ہم تصور گیسوئے یار میں\nاس زندگی کو خواب پریشاں کئے ہوئے\n\nخوں کر کے لے چلا ہوں دل و جاں کو اپنے ساتھ\nدیدار روئے یار کا ساماں کئے ہوئے\n\nمر مٹئے اس ادا پہ کہ کچھ لوگ جل بجھے\nسینے میں سوز عشق کو پنہاں کئے ہوئے\n\nوہ نو بہار حسن بھی اس راہ سے گیا\nہر نقش پا کو روضۂ رضواں کئے ہوئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے\nجوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے\n\nکرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو\nعرصہ ہوا ہے دعوت مژگاں کیے ہوئے\n\nپھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دم\nبرسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے\n\nپھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفس\nمدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے\n\nپھر پرسش جراحت دل کو چلا ہے عشق\nسامان صدہزار نمکداں کیے ہوئے\n\nپھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خون دل\nساز چمن طرازی داماں کیے ہوئے\n\nباہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب\nنظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے\n\nدل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے\nپندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے\n\nپھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب\nعرض متاع عقل و دل و جاں کیے ہوئے\n\nدوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال\nصد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے\n\nپھر چاہتا ہوں نامۂ دل دار کھولنا\nجاں نذر دل فریبی عنواں کیے ہوئے\n\nمانگے ہے پھر کسی کو لب بام پر ہوس\nزلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے\n\nچاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو\nسرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوئے\n\nاک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ\nچہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے\n\nپھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں\nسر زیر بار منت درباں کیے ہوئے\n\nجی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن\nبیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے\n\nغالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے\nبیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%81%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "مدتوں کور نگاہی دل کی", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "مدتوں کور نگاہی دل کی\nنور عرفاں کو ترستی رہتی\nتو جو خورشید نہ بن کر آتی\nذہن پر اوس برستی رہتی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%B1_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں\nاب تری یاد کے حوالے ہیں\n\nزندگی کے حسین چہرے پر\nغم نے کتنے حجاب ڈالے ہیں\n\nکچھ غم زیست کا شکار ہوئے\nکچھ مسیحا نے مار ڈالے ہیں\n\nرہ گزار حیات میں ہم نے\nخود نئے راستے نکالے ہیں\n\nاے شب غم ذرا سنبھال کے رکھ\nہم تری صبح کے اجالے ہیں\n\nذوق خود آگہی نے اے قابلؔ\nکتنے بت خانے توڑ ڈالے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%D9%86%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مدرسہ علی گڑھ", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے\nبھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادے\nلطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرم\nطبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادے\nکمال محنت سے پڑھ رہے ہیں کمال غیرت سے پڑھ رہے ہیں\nسوار مشرق راہ میں ہیں تو مغربی راہ میں پیادے\nہر اک ہے ان میں کا بے شک ایسا کہ آپ اسے چاہتے ہیں جیسا\nدکھاوے محفل میں قد رعنا جو آپ آئیں تو سر جھکا دے\nفقیر مانگے تو صاف کہہ دیں کہ تو ہے مضبوط جا کما کھا\nقبول فرمائیں آپ دعوت تو اپنا سرمایہ کل کھلا دے\nبتوں سے ان کو نہیں لگاوٹ مسوں کی لیتے نہیں وہ آہٹ\nتمام قوت ہے صرف خواندن نظر کے بھولے ہیں دل کے سادے\nنظر بھی آئے جو زلف پیچاں تو سمجھیں یہ کوئی پالیسی ہے\nالکٹرک لائٹ اس کو سمجھیں جو برق وش کوئی کودے\nنکلتے ہیں کر کے غول بندی بنام تہذیب و درد مندی\nیہ کہہ کے لیتے ہیں سب سے چندے جو تم ہمیں دو تمہیں خدا دے\nانہیں اسی بات پر یقیں ہے کہ بس یہی اصل کار دیں ہے\nاسی سے ہوگا فروغ قومی اسی سے چمکیں گے باپ دادے\nمکان کالج کے سب مکیں ہیں ابھی انہیں تجربے نہیں ہیں\nخبر نہیں ہے کہ آگے چل کر ہے کیسی منزل ہیں کیسے جادے\nدلوں میں ان کے ہیں نور ایماں قوی نہیں ہے مگر نگہباں\nہوائے منطق ادائے طفلی یہ شمع ایسا نہ ہو بجھا دے\nفریب دے کر نکالے مطلب سکھائے تحقیر دین و مذہب\nمٹا دے آخر کو دین و مذہب نمود ذاتی کو گو بڑھا دے\nیہی بس اکبرؔ کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہے\nعلوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%B1%D8%B3%DB%81_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%DA%AF%DA%91%DA%BE"} {"title": "مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا\nہم سبھی مہمان تھے واں تو ہی صاحب خانہ تھا\n\nواے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا\nخواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا\n\nحیف! کہتے ہیں ہوا گل زار تاراج خزاں\nآشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بیگانہ تھا\n\nہو گیا مہماں سرائے کثرت موہوم آہ\nوہ دل خالی کہ تیرا خاص خلوت خانہ تھا\n\nبھول جا خوش رہ عبث وے سابقے مت یاد کر\nدردؔ! یہ مذکور کیا ہے آشنا تھا یا نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%B1%D8%B3%DB%81_%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "مدرَسہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "عصرِ حاضر مَلک الموت ہے تیرا، جس نے\nقبض کی رُوح تری دے کے تجھے فکرِ معاش\nدل لَرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے ترا\nزندگی موت ہے، کھو دیتی ہے جب ذوقِ خراش\nاُس جُنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کِیا\nجو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش\nفیضِ فطرت نے تجھے دیدۂ شاہیں بخشا\nجس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہِ خفّاش\nمَدرسے نے تری آنکھوں سے چھُپایا جن کو\nخلوَتِ کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں فاش", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%B1%D9%8E%D8%B3%DB%81"} {"title": "مدعا گریہ سے کچھ عشق کا اظہار نہیں", "poet_page": "مصنف:منشی بہاری لال مشتاق دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مدعا گریہ سے کچھ عشق کا اظہار نہیں\nکیا کہوں تم سے کہ کہنے میں دل زار نہیں\n\nاس میں کیا ذلت یوسف سر بازار نہیں\nسامنے تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں\n\nہو گیا آج سے بس علم قیافہ باطل\nسادگی سے یہ کھلا تھا کہ ستم گار نہیں\n\nسب طرح سے تو وہ اچھے ہیں پر اچھے کیا ہیں\nاک یہی عیب ہے کیسا کہ وفادار نہیں\n\nطلب بوسۂ رخسار کو جانے دیجے\nکون سی بات ہے جس میں تمہیں انکار نہیں\n\nیاں یہ منظور کہ مطلب کو زباں پر لائیں\nواں ہے انگشت لبوں پر کہ خبردار نہیں\n\nپوچھتے پوچھتے آ جاؤ میرے گھر کی طرف\nہے پتہ یہ کہ نشان در و دیوار نہیں\n\nمیرے رونے پہ وہ ہنس ہنس کے یہ کہنا تیرا\nکہ تنک ظرف سے چھپتے کبھی اسرار نہیں\n\nکوئی پس جائے کہ کٹ جائے بلا سے ان کی\nکچھ خبر ان کو کسی کی دم رفتار نہیں\n\nتار انفاس ہیں سینے کے نمایاں ورنہ\nدیکھنے کو بھی گریباں میں کوئی تار نہیں\n\nسچ تو یہ ہے کہ ہے مشتاقؔ عدو سے اچھا\nورنہ بندہ تو کسی کا بھی طرف دار نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%81_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مدعی اس سے سخن ساز بہ سالوسی ہے", "poet_page": "مصنف:میر قمر الدین منت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مدعی اس سے سخن ساز بہ سالوسی ہے\nپھر تمنا کو یہاں مژدۂ مایوسی ہے\n\nمیری ہی طرح جگر خوں ہے ترا مدت سے\nاے حنا کس کی تجھے خواہش پا بوسی ہے\n\nآہ اے کثرت داغ غم خوباں کہ مدام\nصفحۂ سینہ پر از جلوۂ طاؤسی ہے\n\nتہمت عشق عبث کرتے ہیں مجھ کو منتؔ\nہاں یہ سچ ملنے کی خوباں سے تو اک خو سی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%B9%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D8%A8%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "مدعیان تہذیب کی بد اعمالیاں", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(یہ مضمون مولانا کی مشہور نظم ’’زمزمہ قیصری‘‘ کے ایک طویل فٹ نوٹ کی نقل ہے۔ یہ نظم مولانا نے ۱۸۷۸ء میں لکھی تھی اور ایک انگریزی نظم کاترجمہ ہے۔)انگریزی مؤرخوں اور شاعروں کوجب یہ منظور ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنی رحم دلی اور انسانی ہمدردی پر فریفتہ اور مسلمانوں پر غضبناک اور برافروختہ کریں تو وہ محمود غزنوی اور تیمور وغیرہ کی سختی اورتشدد کو خوب چھڑک چھڑک کر جلوہ گر کرتے ہیں۔ مسٹر ایسٹوک ایک انگریز مصنف نے دربار قیصری منعقدہ ۱۸۷۸ء کے موقع پر ایک انگریزی نظم لکھی تھی جس کے تین حصے تھے۔ پہلے حصے میں ہندوستان اور مسلمان بادشاہوں اور انگریزی سلطنت کی ابتدا اور ترقی کا ذکر ہے۔ دوسرے اورتیسرے حصے میں ان ہندوستانی رؤسا اور والیان ریاست کا تذکرہ ہے جو دربار قیصری میں شریک ہوئے تھے۔ پہلے حصے میں مصنف نے بعض مسلمان بادشاہوں پر نکتہ چینی کی ہے جس کے ایک بند کا ترجمہ مثالاً پیش کیا جاتا ہے،پھر ہوا اسلام کے اقبال کا تارا بلندجانب ہندوستاں محمود نے ہانکا سمندوہ مسلمانوں کے حق میں ابرر حمت تھا مگرہندوؤں کے دل رہے اس کے ستم سے دردمندوہ پہنچتا تھا جہاں ہوتی تھی واں آفت بپااور چلتا تھا جلو میں اس کے آسیب و گزندغش پہ غش آتے تھے ہر ذی روح کو پیہم وہاںسانس لیتا تھا جہاں وہ اژدہائے زور مندروندتا تھا جس کو وہ کھیتی نہ ہوتی تھی ہریصلح سے بجھتا نہ تھا، ہوتا تھا جو شعلہ بلندخوف تھا دل میں خدا کا اور نہ کچھ بندوں پر رحمقتل اور تاراج تھا اک بازی سلطان پسندجب وہ آیا تھا تو سرتا پا گلستاں تھا یہ ملکجب گیا یہاں سے تو مثل دشت ویراں تھا یہ ملکاسی طرح ایک اور انگریز نے محمود کے متعلق کچھ اشعارنظم کئے ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے،اے ملک زرنگار 1 قدم ہے یہ وہ کون ساحملے سے جس کے ہے ترے ارکاں میں زلزلہوہ تیرے قصر اور ستوں دار سائباںمعبد وہ جو پہاڑوں کے غاروں میں ہیں نہاںٹھاکر اور ان کے مندر راجا اور ان کے تختحملے سے اس کے آکے پڑا سب پہ وقت سختپتلا غضب کا کون سا وہ ہولناک ہےاے ملک زرنگار وہ غزنیں کی خاک ہےآتا ہے لوٹتا ہوا اس بزم گاہ میںپھرتے ہیں بکھرے تاج بہت اس کی راہ میںکتے جو اس کے ساتھ شکاری ہیں بے شماران کے گلوں میں ہیں وہ جواہر نگار باربے رحم فوج لائی ہے جو لوٹ مار کرمقتول رانیوں کے گلے سے اتار کرکرتا ہے قتل لڑکیوں کو وہ گھروں کے بیچاور بے گنہ پجاریوں کو مندروں کے بیچاگرچہ ان دونوں شاعروں نے محمود کے تشددکوبہت مبالغہ کے ساتھ بیان کیا ہے مگرحق یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے ان کے بعض بادشاہوں کی ظالمانہ کاروائیاں گووہ کیسی ہی تاریکی اور وحشت کے زمانے میں کی گئی ہوں ہمیشہ باعث شرم و ندامت رہیں گی۔ لیکن ہم پوچھتے ہیں کہ آیا دنیا میں کوئی ایسی قوم ہے جو اس دھبے سے پاک ہو؟ یورپ کی تاریخ سے ظاہر ہے کہ وہاں کی شائستہ قومیں جو آج اپنے سوا تمام دنیا کی قوموں کو وحشی یا نیم وحشی کا خطاب دیتی ہیں، محمود کے زمانے میں بلکہ اس کے بعدکئی صدیوں تک ایشیا سے بمراتب زیادہ وحشت و خونریزی و بے رحمی میں مبتلا تھیں۔ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو بنی نوع انسان کی دو خصلتیں نہ کبھی بدلی ہیں نہ آئندہ بدلنے کی امید ہے۔ (۱) طمع اور خودغرضی (۲) زبردستوں کا زیردستوں کو دلنا اور پیسنا۔ جس طرح مگرمچھ، مچھلیوں اور مینڈکوں کو، یا شیر اور چیتاہرن اور نیل گائے کو نوش جان کر تاہے اسی طرح جو انسان قوی اور زبردست ہیں وہ ضعیف اور کمزور انسانوں کے شکار کرنے سے کبھی در گزر نہیں کرتے۔سولہویں صدی کو (جس میں اہل یورپ امریکہ میں جا کر آباد ہوئے) کچھ بہت زمانہ نہیں گزرا۔ اس صدی میں یورپ کی بعض قوموں کے ہاتھ سے امریکہ کے اصلی باشندوں پر کون ساظلم اور کون سی بے رحمی ہے جو روا نہیں رکھی گئی۔ میکسیکو اور پیرو جوکہ امریکہ کے دوشائستہ ملک تھے، وہاں کے مفتوحین پر جو وحشیانہ ظلم ہسپانیہ والوں نے کئے ان کی نظیر دنیا کی تاریخ میں مشکل سے ملےگی۔ کورٹیز جو کہ ہسپانیہ کا رہنے والا اور میکسیکو کا فاتح تھا، اس نے اور اس کے بعد نئے آنے والے جرنیلوں نے یہ ٹھان لی تھی کہ میکسیکو کو قاطبۃ ً ویران کر دیجئے اور وہاں ہسپانیہ کی ایک کولونی (آبادی) آباد کیجئے۔ چنانچہ جہاں تک ان سے ہوسکا وہاں کے قدیم باشندوں کے نیست و نابود کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ کورٹیز نے میکسیکو کے شہنشاہ مونٹی زوما کو گرفتار کرکے الٹا لٹکا دیا اور اس کی رعایا کو اس کی آنکھ کے سامنے جلایا اور قتل کرایا۔بڑے بڑے الاؤ لگے ہوئے تھے جن میں ہزارہا بنی آدم عام طور پر بے تکلف جلائے جاتے تھے۔ معصوم بچوں کے روبرو ان کی مائیں اور باپ بہ ہزار عقوبت و سختی آگ میں جھونک دیے جاتے تھے۔ دیہات اور جنگلوں میں ہزاروں آدمی شکاری کتوں سے پھڑوا دیئے جاتے تھے۔ یہ ہسپانیہ کے وہی مقدس اور بے عیب عیسائی تھے جنہوں نے کافروں (یعنی مسلمانوں) کو غرناطہ سے ایک ناپاک اور گنہگار قوم ہونے کا الزام لگا کر نکالا تھا اور جن کا قول تھا کہ ’’ظالم اوربددین مسلما ن اس لائق نہیں ہیں کہ فرشتہ صفت عیسائیوں کے ہمسائے اور ہم وطن ہوکر رہیں۔‘‘ اندازہ کیا گیا ہے کہ تقریباً ایک ملین (دس لاکھ) بنی آدم ان مقدس عیسائیوں کے ہاتھ سے طرح طرح کی عقوبت اور سختی کے ساتھ مارے اور جلائے گئے۔یہی حال کچھ دنوں بعد پیرو کا ہوا۔ یہ ملک جنوبی امریکہ میں بحرالکاہل کے کنارے پر واقع ہے۔ فرنسیسلوپزیرو کہ غالباً اٹلی کا رہنے والا ایک مجہول النسب آدمی تھا، اس کو جنوبی امریکہ میں فتوحات کرنے اور وہاں سے سونا چاندی، رولنے کامدت سے خیال تھا۔ اس نے پناما یا اس کے قریب کسی مقام میں ایک جماعت کواس بات پر آمادہ کیا کہ وہ ایک بیڑا جہازوں کا اور کچھ سپاہ اس کے ماتحت ملک پیرو کو جس کے تمول کی بہت شہرت تھی، روانہ کریں۔ چنانچہ اس سامان کے ساتھ وہ وہاں پہنچا اور ایک دو پھیرے کے بعد اس ملک پر قابض ہو گیا۔ پھر تو کوئی ظلم اور تعدی ایسی نہ تھی جو پیرو کے اصلی باشندوں پرجائز نہ رکھی گئی ہو۔ ان سے سونا اور چاندی چھین چھین کر اپنے ملک کو بھیجتا تھا۔ ہزاروں بندگان خدا اس کے ظلم وستم کے باعث ملک چھوڑ چھوڑ کر پہاڑوں پر چڑھ گئے تھے۔ جہاں وہ آخرکار فاقے کر کرکے مرجاتے تھے اور ہزاروں قتل کرائے جاتے تھے۔ تمام مؤرخوں کا اتفاق ہے کہ ایسی بے رحمی کبھی دنیا میں نہیں ہوئی۔انگریزوں کا بیان ہے کہ آسٹریلیا کے قدیم باشندوں پربہت سختی نہیں کی گئی۔ اگر یہ بیان صحیح ہے تو وہاں سختی کی کچھ ضرورت بھی نہ تھی۔ وہ بے چارے اس درجہ ناہموار، بیڈول اورناشائستہ تھے کہ انگریز فاتحوں کی صورتیں، ٹیپ ٹاپ اور چمک دمک دیکھ کر شرم کے مارے زمین میں گڑے جاتے تھے اور کسی طرح ممکن نہ تھا کہ ان کے پڑوس میں رہ سکیں۔ جس قدر انگریز مہاجروں کی تعداد آسٹریلیا میں بڑھتی گئی، وہ لوگ ملک کے اندرونی حصے میں غائب ہوتے گئے اور رفتہ رفتہ وہیں معدوم ہو گئے۔ اب شاذ و نادر کہیں کہیں اندرونی پہاڑوں کے سلسلے میں پائے جاتے ہیں۔ ٹسمانیہ کے قدیم باشندے جو ایک خوش بشرہ مگران سویلائزڈقوم (ناتربیت یافتہ) تھی، یورپ والوں کی ہمسائیگی کے باعث بالکل فنا ہو گئی۔ یہاں تک کہ اب ایک متنفس بھی ان کی نسل کا باقی نہیں۔ پس آسٹریلیا کے قدیم باشندے جو انڈیمن والوں سے بھی زیادہ بدقوارہ اور ناشائستہ تھے، انگریز جیسی اعلیٰ درجہ کی شائستہ قوم کے پڑوس میں کیوں کر ٹھہر سکتے تھے،تو بہ جلوہ چوں در آئی، اجل از سرترحمہمہ جا کند منادی پے احتراز کردناگرفی الواقع انگریزوں نے آسٹریلیا والوں پرسختی نہیں کی تو یہ ان کی عین دانائی تھی کہ انہوں نے مفت کی بدنامی نہیں لی اور تمام براعظم ان کے لئے خود بخود خس و خاشاک سے پاک ہو گیا۔بات یہ ہے کہ دنیا کے ایک بہت بڑے حصے نے علم وہنر میں اس قدر ترقی کی ہے اوروہ دوسرے حصہ کے ابنائے جنس سے اس قدر آگے بڑھ گیا ہے کہ اگلے زمانے کے فاتح اور کشور کشاجن ناجائز ذریعوں سے مفتوحین کی دولت و ثروت اور سطلنت کے مالک ہوتے تھے ان ذریعوں کے کام میں لانے کی اب مطلق ضرورت نہیں رہی۔ جس قدر مال ودولت پہلے قتل وغارت اور لوٹ کھسوٹ سے حاصل کیا جاتا تھا اس سے اضعاف مضاعفہ اب صنعت و تجارت کے ذریعہ سے خود بخود کھچا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب دو ایسی گورنمنٹوں کے درمیان جن میں سے ایک شائستہ اور دوسری ناشائستہ ہو، تجارتی عہدنامہ تحریر ہو جاتا ہے تو یقیناً یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ شائستہ گورنمنٹ بغیر اس کے کہ ہلدی لگے نہ پھٹکری، دوسری گورنمنٹ کے تمام ملک ودولت ومنافع و محاصل کی بالکل مالک ہو گئی، کسی شاعر نے خوب کہا ہے،نہیں خالی ضرر سے وحشیوں کی لوٹ بھی لیکنحذر! اس لوٹ سے جو لوٹ ہے علمی و اخلاقینہ گل چھوڑے برگ وبار چھوڑے تونے گلشن میںیہ گل چینی ہے یالٹس ہے گلچیں! یا ہے قزاقیشاید ان شعروں میں کچھ مبالغہ ہو لیکن اس میں شک نہیں کہ جو نتیجہ اگلے زمانے کے غارتگروں کی لوٹ کھسوٹ سے مترتب ہوتا تھا اسی نتیجے کے قریب قریب یہ شائستہ لوٹ بھی پہنچادیتی ہے۔ کروڑوں اہل صنعت و حرفت جن کی دستکاری مکینکس (کلوں، مشینوں) کا کسی طرح مقابلہ نہیں کر سکتی، نان شبینہ کو محتاج ہو جاتے ہیں۔ فلاحت پیشہ لوگوں پر یہ بپتا پڑتی ہے کہ زمین کی پیداوار جس قدر کثرت کے ساتھ غیر ملکوں کو جاتی ہے اسی قدر ملک میں زیادہ کاشت کا تردد کیا جاتا ہے اور اس سبب سے روز بروز زیادہ لاگت لگانی پڑتی ہے اور محنت کا کافی معاوضہ نہیں ملتا۔پولیٹکل اکانومی (علم سیاست مدن) کا یہ مسلم مسئلہ ہے کہ قدرتی پیداوار کی جس قدر زیادہ مانگ ہوتی جاتی ہے، اسی قدر اس کے بہم پہنچانے میں زیادہ لاگت اور زیادہ محنت صرف ہوتی ہے اور مصنوعی چیزوں کی جس قدر زیادہ طلب ہوتی ہے اسی قدران پر کم لاگت آتی ہے اور کم محنت صرف ہوتی ہے۔\n\nملکی تاجروں کے لئے جو کہ شائستہ ملکوں کی مصنوعی چیزوں کی تجارت کرتے ہیں اول تو اوپر والے منافع کی کچھ گنجائش ہی نہیں چھوڑتے اوراگر قدر قلیل (جیسے آٹے میں نمک) کچھ فائدہ ہوت ابھی ہے تو اپنے ملک کی نہایت ضروری اور ناگزیر اشیا کا نرخ گراں ہونے کے سبب ان کی کمائی میں سے بہت کم پس انداز ہوتا ہے اور جس قدر ہوتا ہے وہ غیر ملکوں کی آرائشی اورغیر ضروری چیزوں کے خریدنے میں جو باوجود کمال نفاست اور لطافت کے نہایت ارزاں دستیاب ہوتی ہیں صرف ہو جاتا ہے۔ پس ان کو بھی فارغ البالی اور آسودگی کبھی نصیب نہیں ہوتی۔ اگر سو دوسو میں دوچار ایسے نکل بھی آتے ہیں جو اپنے ملک میں مرفہ الحال سمجھے جاتے ہیں، ان کا معاملہ اورلین دین ان کروڑپتیوں سے ہوتا ہے جن کے مقابلے میں وہ اپنے تئیں محض مفلس اور قلانچ تصور کرتے ہیں اور جن کی مانگ کے خوف سے ہمیشہ دوالہ نکل جانے کا اندیشہ رہتا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ طمع، خود غرضی اور زبردستوں کا زیر دستوں کو دلنا اور پیسنا تاریکی اور وحشت کے زمانے میں تھا۔ اسی کے قریب قریب اب بھی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دولت گھسیٹنے کے لئے پہلے جبر و تعدی کی ضرورت تھی اب اس کی کچھ ضرورت نہیں رہی، ان سویلائزڈ (وحشی) دنیا کی دولت سویلائزڈ (مہذب) دنیا کی طرف خود بخود کھچی چلی جاتی ہے۔ ایک اژدہ اشیر کو بہت برا بھلا کہہ رہا تھا کہ تو کیسا بے رحم ہے کہ ہمیشہ جانداروں کا خون پینے کی فکر میں رہتا ہے اور شکار کی دھن میں دور دور کے دھاوے کرت اہے۔ تمام جنگلوں میں تیری دھاک ہے، آج اس ہرن کو پھاڑ ڈالا، کل اس پاڑھے کے ٹکڑے اڑائے۔ ایسی خونخواری پر کمر باندھنی اچھی نہیں ہے۔ شیر نے کہا قبلہ! اگرمیرے سانس میں بھی ایسی کشش ہوتی ہے کہ دور دور سے جانور خود گھسٹتے ہوئے منہ میں چلے آٓتے اور میری حرص وآزکی آگ کو بجھا دیتے تو میں بھی ہرگز بے گناہ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین نہ کرتا۔مع ذالک اگر کہیں آزادی تجارت میں کوئی مزاحمت پیش آتی ہے اور بغیر جبر و تعدی سے کام نہیں چلتا تو اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کی شائستہ قوم بھی سب کچھ کرنے کو موجود ہو جاتی ہے اورکہا جاتا ہے کہ آزادی تجارت کی مزاحمت رفع کرنی عین انصاف ہے حالانکہ آج تک پولیٹکل اکانومی نے اس بات کاتصفیہ نہیں کیا کہ فری ٹریڈ (FREE TRADE) کا قاعدہ مطلقاً قرین انصاف ہے یا خاص خاص صورتوں میں خلاف انصاف بھی ہو سکتا ہے۔ انگلینڈ کافائدہ فری ٹریڈ میں ہے اس لئے وہ اسی کو عین انصاف سمجھتا ہے، فرانس اور یونائٹیڈ اسٹیٹس (اضلاع متحدہ امریکہ) اس کو اپنے حق میں بالفعل مضر سمجھتے ہیں اس لے وہ اس کو جائزنہیں رکھتے۔لیکن انصاف شرط ہے جن حکمتوں اور تدبیروں سے آج کل دنیا کی دولت گھسیٹتی جاتی ہے، ان پربرخلاف اگلے زمانے کی جابرانہ لوٹ کھسوٹ کے کچھ اعتراض نہیں ہو سکتا۔ مشہور ہے کہ حکیم علوی خاں 2 جوکہ محمدشاہ کا معالج اور نہایت حاذق طبیب تھا، اس کے زمانے میں ایک عطار بھی اس کے نسخے دیکھتے دیکھتے علاج کرنے لگا تھا۔ لوگوں نے اس کا ذکرعلوی خاں کے سامنے بھی کیا اور کہا کہ ’’جس قدر مریض آپ کے علاج سے اچھے ہوتے یا مرتے ہیں اسی کے قریب اس کے علاج سے اچھے بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں۔‘‘ علوی خاں نے کہا، ’’بلے ! لاکن من بقاعدہ می کشم و آں قرم ساق بے قاعدہ می کشد۔‘‘ حاشیے(۱) یعنی ہندوستاں(۲) ٹسمانیہ۔ براعظم آسٹریلیا کے ایک صوبے کا نام ہے۔(۳) حکم علوی خاں دراصل خطاب ہے۔ اصلی نام محمد ہاشم تھا۔ ۱۰۸۰ھ ۱۶۶۹ء میں بمقام شیراز پیدا ہوئے۔ بڑے ہونے پر ۱۱۱۱ھ میں ہندوستان آئے اور شہزادہ محمد اعظم (ابن حضرت عالمگیرؒ) کے ہاں ملازم ہوئے۔ محمدشاہ کے دربار میں منصب شش ہزاری پر فائز اور خطاب ’’معتمدالملک‘‘ سے سرفراز ہوئے اور بادشاہ نے ان کو چاندی میں تلوا کر سب چاندی ان کو مرحمت فرمائی۔ سلطنت کی ابتری کی بدولت جب محمد شاہ کے زمانے میں نادر شاہ نے ہندوستان پر حملہ کیا توواپسی پر ان کو بھی اپنے ہمراہ لے گیا۔ وہاں سے حج کرتے ہوئے ۱۷۴۳ میں واپس دہلی چلے آئے اور ۱۷۴۷میں انتقال فرمایا۔ نامی طبیب اور حاذق معالج تھے۔ جامع الجوامع طب میں ان کی ایک مشہور کتاب ہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AA%DB%81%D8%B0%DB%8C%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%AF_%D8%A7%D8%B9%D9%85%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "مدن مست بدل مست کجن مست پری مست", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مدن مست بدل مست کجن مست پری مست\nہوئی مست پون مست لگن مست پری مست\n\nچڑھی مست بہی مست ڈلی مست رہی مست\nمکھا مست سدا مست صحن مست پری مست\n\nکھڑی مست انچل مست ڈھلی مست اوڑھی مست\nگزک مست نقل مست بچن مست پری مست\n\nپری مست پیون مست سرا مست ہوئی مست\nملی مست کھجی مست رسن مست پری مست\n\nکھپا مست پھلاں مست کجل مست کھلی مست\nلٹاں مست نین مست دیکھن مست پری مست\n\nتلا مست طرا مست دھری مست دھڑی مست\nشکر مست چمن مست ہنسن مست پری مست\n\nچولی مست کھلی مست کمل مست بھنور مست\nقطبؔ مست کری مست یون مست پری مست", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D9%86_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D8%A8%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D8%AC%D9%86_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%B3%D8%AA"} {"title": "مذہب (اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر\nخاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی\n\nاُن کی جمعیّت کا ہے مُلک و نسَب پر انحصار\nقوّتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیّت تری\n\nدامنِ دیں ہاتھ سے چھُوٹا تو جمعیّت کہاں\nاور جمعیّت ہوئی رُخصت تو مِلّت بھی گئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B0%DB%81%D8%A8_%28%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%85%D9%90%D9%84%D9%91%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%85%D9%90_%D9%85%D8%BA%D8%B1%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%29"} {"title": "مذہب (تعلیمِ پیرِ فلسفۂ مغربی ہے یہ)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "تعلیمِ پیرِ فلسفۂ مغربی ہے یہ\nناداں ہیں جن کو ہستیِ غائب کی ہے تلاش\n\nپیکر اگر نظر سے نہ ہو آشنا تو کیا\nہے شیخ بھی مثالِ بَرہمن صنَم تراش\n\nمحسوس پر بِنا ہے علومِ جدید کی\nاس دَور میں ہے شیشہ عقائد کا پاش پاش\n\nمذہب ہے جس کا نام، وہ ہے اک جنُونِ خام\nہے جس سے آدمی کے تخیّل کو انتعاش\n\nکہتا مگر ہے فلسفۂ زندگی کچھ اور\nمجھ پر کِیا یہ مُرشدِ کامل نے راز فاش\n\n“باہر کمال اند کے آشفتگی خوش است\nہر چند عقلِ کُل شدہ ای بے جُنوں مباش”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B0%DB%81%D8%A8_%28%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85%D9%90_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D9%90_%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%82_%D9%85%D8%BA%D8%B1%D8%A8%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81%29"} {"title": "مذہب کا ہو کیوں کر علم و عمل دل ہی نہیں بھائی ایک طرف", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مذہب کا ہو کیوں کر علم و عمل دل ہی نہیں بھائی ایک طرف\nکرکٹ کی کھلائی ایک طرف کالج کی پڑھائی ایک طرف\n\nکیا ذوق عبادت ہو ان کو جو بس کے لبوں کے شیدا ہیں\nحلوائے بہشتی ایک طرف ہوٹل کی مٹھائی ایک طرف\n\nطاعون و تپ اور کھٹمل مچھر سب کچھ ہے یہ پیدا کیچڑ سے\nبمبے کی روانی ایک طرف اور ساری صفائی ایک طرف\n\nمذہب کا تو دم وہ بھرتے ہیں بے پردہ بتوں کو کرتے ہیں\nاسلام کا دعویٰ ایک طرف یہ کافر ادائی ایک طرف\n\nہر سمت تو ہے ایک دام بلا رہ سکتے ہیں خوش کس طرح بھلا\nاغیار کی کاوش ایک طرف آپس کی لڑائی ایک طرف\n\nکیا کام چلے کیا رنگ جمے کیا بات بنے کون اس کی سنے\nہے اکبرؔ بیکس ایک طرف اور ساری خدائی ایک طرف\n\nفریاد کئے جا اے اکبرؔ کچھ ہو ہی رہے گا آخر کار\nاللہ سے توبہ ایک طرف صاحب کی دہائی ایک طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B0%DB%81%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%B9%D9%84%D9%85_%D9%88_%D8%B9%D9%85%D9%84_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "مذہب کی میرے یار اگر جستجو کریں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مذہب کی میرے یار اگر جستجو کریں\nمرتے ہوئے مرا نہ سوئے قبلہ رو کریں\n\nتھا میں شراب دوست بہت، میری خاک کے\nکاسے بنانے چاہئیں کچھ، کچھ سبو کریں\n\nمذکور میرے گریے کا ہو جس جگہ وہاں\nاہل نماز جائے تیمم وضو کریں\n\nبانگ ذبیح ہو نہ کبھی آشنائے گوش\nکیوں کر ترے شہید فغاں بے گلو کریں\n\nگر تو سنے تو سلسلۂ زلف کے اسیر\nشرح نیاز مندی دل مو بہ مو کریں\n\nاس کے دہان تنگ میں جائے سخن نہیں\nہم گفتگو کریں بھی تو کیا گفتگو کریں\n\nطالب ہیں دل سے حسن محبت فزا کے ہم\nاس سے زیادہ اور تجھے خوبرو کریں\n\nزنداں میں اس کے ہیں تو کئی بے گنہ اسیر\nغالب کہ روز عید انہیں سرخ رو کریں\n\nدعوے میں تیرے عشق کے صادق نہ ہو سکے\nشرمندگی سے کیونکہ نہ ہم سرفرو کریں\n\nچرخ ہزار رخنہ کا پیوند کیونکہ ہو\nیہ شال وہ نہیں ہے کہ جس کو رفو کریں\n\nکھلوا دو ان کی فصد کہ دیوانے ہیں وہ شخص\nجو فصل گل میں میرا گریباں رفو کریں\n\nیہ چاہئے ہے ہم کو کہ ہم سب سے مل چلیں\nاے مصحفیؔ کسی کو نہ اپنا عدو کریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B0%DB%81%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مر جائیں گے لیکن کبھی الفت نہ کریں گے", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مر جائیں گے لیکن کبھی الفت نہ کریں گے\nہم جینے کو اپنے یہ مصیبت نہ کریں گے\n\nہے دل میں کہ مل جائیے اب بو الہوسوں میں\nپھر ہم سے کہاں تک وہ مروت نہ کریں گے\n\nکہتے ہیں مری جان کا جانا نہیں ممکن\nجب تک وہ مجھے آپ سے رخصت نہ کریں گے\n\nاے خضر جو پینا ہو ہمیں آب بقا بھی\nاس پھرنے سے مے خانہ کی خدمت نہ کریں گے\n\nتو اب تو گریباں کو مرے چھوڑ دے عارفؔ\nبس آج سے ہم تجھ کو نصیحت نہ کریں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا\nنکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا\n\nپیدا ہے کہ پنہاں تھی آتش نفسی میری\nمیں ضبط نہ کرتا تو سب شہر یہ جل جاتا\n\nمیں گریۂ خونیں کو روکے ہی رہا ورنہ\nاک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتا\n\nبن پوچھے کرم سے وہ جو بخش نہ دیتا تو\nپرسش میں ہماری ہی دن حشر کا ڈھل جاتا\n\nاستادہ جہاں میں تھا میدان محبت میں\nواں رستم اگر آتا تو دیکھ کے ٹل جاتا\n\nوہ سیر کا وادی کے مائل نہ ہوا ورنہ\nآنکھوں کو غزالوں کی پاؤں تلے مل جاتا\n\nبے تاب و تواں یوں میں کاہے کو تلف ہوتا\nیاقوتی ترے لب کی ملتی تو سنبھل جاتا\n\nاس سیم بدن کو تھی کب تاب تعب اتنی\nوہ چاندنی میں شب کی ہوتا تو پگھل جاتا\n\nمارا گیا تب گزرا بوسے سے ترے لب کے\nکیا میرؔ بھی لڑکا تھا باتوں میں بہل جاتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%D9%84_%D8%A8%D9%86_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%AE%D9%84%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "مر رہتے ہیں در پر ترے دو چار ہمیشہ", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مر رہتے ہیں در پر ترے دو چار ہمیشہ\nہے جور و جفا تجھ کو سزا وار ہمیشہ\n\nعاشق ترا مرنے کو ہے تیار ہمیشہ\nدکھلا نہ مژہ خنجر خوں خار ہمیشہ\n\nاک چھیڑ نکالے ہے نئی یار ہمیشہ\nرہتا ہے مرے درپئے آزار ہمیشہ\n\nاللہ سلامت رکھے تیرے لب شیریں\nسنوایا کرے باتیں مزے دار ہمیشہ\n\nہے ڈر سے ترے عالم بالا تہ و بالا\nلٹکے ہے تری عرش پہ تلوار ہمیشہ\n\nجوں حلقۂ در در پہ ترے صبح سے تا صبح\nرہتا ہے ترا طالب دیدار ہمیشہ\n\nاظہار کروں جس سے میں احوال کو اپنے\nاحوال تباہ اس کا رہے یار ہمیشہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%88_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81"} {"title": "مر مر کے لحد میں میں نے جا پائی ہے", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مر مر کے لحد میں میں نے جا پائی ہے\nیاں تک مجھے تیری ہی کشش لائی ہے\nآ اے مرے منہ چھپانے والے آ جا\nخلوت ہے شب تار ہے تنہائی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1_%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%AD%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میں\nکپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن میں\n\nگل پھول سے کب اس بن لگتی ہیں اپنی آنکھیں\nلائی بہار ہم کو زورآوری چمن میں\n\nاب لعل نو خط اس کے کم بخشتے ہیں فرحت\nقوت کہاں رہے ہے یاقوتی کہن میں\n\nیوسف عزیز دلا جا مصر میں ہوا تھا\nپاکیزہ گوہروں کی عزت نہیں وطن میں\n\nدیر و حرم سے تو تو ٹک گرم ناز نکلا\nہنگامہ ہو رہا ہے اب شیخ و برہمن میں\n\nآ جاتے شہر میں تو جیسے کہ آندھی آئی\nکیا وحشتیں کیا ہیں ہم نے دوان پن میں\n\nہیں گھاؤ دل پر اپنے تیغ زباں سے سب کی\nتب درد ہے ہمارے اے میرؔ ہر سخن میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1_%D9%85%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مر کر ارے واعظ کوئی زندہ نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مر کر ارے واعظ کوئی زندہ نہیں ہوتا\nوہ حشر مزے کا ہے جو برپا نہیں ہوتا\n\nبت توڑنے سے بت کدہ کعبہ نہیں ہوتا\nپہلے کبھی ہوتا ہو اب ایسا نہیں ہوتا\n\nسب حشر میں ہیں آج ہمیں زیر لحد ہیں\nکیا جانئے کیوں حشر ہمارا نہیں ہوتا\n\nہوتی ہے جو شیشے میں تو ہوتی نہیں کچھ فکر\nتھوڑی سی بھی ہو تو غم فردا نہیں ہوتا\n\nٹھکراتے نہیں پائے حنائی سے وہ سر کو\nروشن کبھی قسمت کا ستارا نہیں ہوتا\n\nسن لیتے ہیں چپکے سے موذن کی ہم اے شیخ\nجب ہاتھ میں ناقوس کلیسا نہیں ہوتا\n\nآنے کو تو آتی ہیں جنوں خیز بہاریں\nکیا جانئے اب کیوں ہمیں سودا نہیں ہوتا\n\nمیخانے میں کیوں یاد خدا ہوتی ہے اکثر\nمسجد میں تو ذکر مے و مینا نہیں ہوتا\n\nاللہ دکھائے نہ برا وقت کسی کو\nکوئی بھی زمانے میں کسی کا نہیں ہوتا\n\nٹھکراتے ہوئے ڈرتے ہو کیوں میری لحد کو\nٹھوکر سے تمہاری کوئی زندہ نہیں ہوتا\n\nآقا سے ریاضؔ آپ تو کہتے نہیں کچھ بھی\nاوروں سے گلہ کام ہمارا نہیں ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "مر کر بھی ہے تلاش مجھے کوئے یار کی", "poet_page": "مصنف:ابراہیم عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاجز (1934)", "year": "1934", "text_ur": "مر کر بھی ہے تلاش مجھے کوئے یار کی\nمٹی خراب کیوں نہ ہو میرے غبار کی\n\nوعدہ بھی کر کے آئے نہ اک شب وہ میرے گھر\nچھٹکی نہ چاندنی قمر گلعذار کی\n\nکچھ تار پیرہن سے نہیں امتیاز اب\nحالت نہ پوچھئے مرے جسم نزار کی\n\nآنا نہ تھا تو خط ہی کوئی آپ بھیجتے\nتسکین کچھ تو ہوتی دل بے قرار کی\n\nنرگس ہے شکل چشم تمنا بعینہ\nلالہ بھی ہے شبیہ دل داغدار کی\n\nگلدستہ پیش کیجئے لالہ کے پھولوں کا\nسننی ہوں گالیاں جو کسی گلعذار کی\n\nکیوں اس کے پیچھے ہوتی ہے حیران اے صبا\nملنے کی گرد بھی نہیں میرے غبار کی\n\nوہ خاکسار تھے نہ ہوا سے ہوئی بلند\nمرنے کے بعد خاک ہمارے مزار کی\n\nوعدہ خلاف یار سے کہتا نہیں کوئی\nطاقت نہیں رہی مجھے اب انتظار کی\n\nدل کا اب آنکھوں سے یہ تقاضا ہے رات دن\nتصویر سامنے رہے ہر دم نگار کی\n\nغربت میں کیوں وطن کی تمنا نہ کیجئے\nکیا کیا اذیتیں نہ سہیں دشت خار کی\n\nیوسف عزیز مصر تھے حاصل تھی سلطنت\nاس جاہ پر بھی چاہ تھی اپنے دیار کی\n\nفرقت میں زندگانئئ شیریں ہے زہر آب\nخواہش ہو خاک مجھ کو مے خوش گوار کی\n\nعاجزؔ ہماری آنکھیں ترستی ہی رہ گئیں\nنادیدوں کو نصیب رہی دید یار کی", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B4_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "مر کر ترے خیال کو ٹالے ہوئے تو ہیں", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مر کر ترے خیال کو ٹالے ہوئے تو ہیں\nہم جان دے کے دل کو سنبھالے ہوئے تو ہیں\n\nبے زار ہو نہ جائے کہیں زندگی سے دل\nتاثیر سے خفا مرے نالے ہوئے تو ہیں\n\nرستے ہیں اب کے سال کہ بہتے ہیں دیکھیے\nپھر فصل گل میں زخم دل آلے ہوئے تو ہیں\n\nارماں جو یوں نہیں تو نکلتے ہیں کس طرح\nیعنی ہمارے دل سے نکالے ہوئے تو ہیں\n\nہاں درد عشق ان پہ کرم کی نظر رہے\nصبر و قرار تیرے حوالے ہوئے تو ہیں\n\nیہ صحبتیں بھی دیکھیے لاتی ہیں رنگ کیا\nمہمان خار پاؤں کے چھالے ہوئے تو ہیں\n\nکیا جانیے کہ حشر ہو کیا صبح حشر کا\nبیدار تیرے دیکھنے والے ہوئے تو ہیں\n\nفانیؔ ترے عمل ہمہ تن جبر ہی سہی\nسانچے میں اختیار کے ڈھالے ہوئے تو ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%B9%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مر کر مریض غم کی وہ حالت نہیں رہی", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مر کر مریض غم کی وہ حالت نہیں رہی\nیعنی وہ اضطراب کی صورت نہیں رہی\n\nہر لمحۂ حیات رہا وقف کار شوق\nمرنے کی عمر بھر مجھے فرصت نہیں رہی\n\nایک نالۂ خموش مسلسل ہے اور ہم\nیادش بخیر ضبط کی طاقت نہیں رہی\n\nوہ عہد دل فریبئ تاثیر اب کہاں\nمدت سے آہ آہ کی حسرت نہیں رہی\n\nدل اور ہوائے سلسلۂ جنبانئ نشاط\nکیوں پاس وضع غم تجھے غیرت نہیں رہی\n\nہر بے گناہ سے وعدۂ بخشش ہے روز حشر\nگویا گناہ کی بھی ضرورت نہیں رہی\n\nاے عرض شوق مژدہ کہ دل چاک ہو گیا\nتکلیف پردہ دارئ حسرت نہیں رہی\n\nپتھرا گئی تھی آنکھ مگر بند تو نہ تھی\nاب یہ بھی انتظار کی صورت نہیں رہی\n\nعبرت نے بیکسی کا نشاں بھی مٹا دیا\nاڑتی تھی جس پہ خاک وہ تربت نہیں رہی\n\nمحشر میں بھی وہ عہد وفا سے مکر گئے\nجس کی خوشی تھی اب وہ قیامت نہیں رہی\n\nکس منہ سے غم کے ضبط کا دعویٰ کرے کوئی\nطاقت بقدر حسرت راحت نہیں رہی\n\nفانیؔ امید مرگ نے بھی دے دیا جواب\nجینے کی ہجر میں کوئی صورت نہیں رہی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%B6_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%8C"} {"title": "مر کے بھی قامت محبوب کی الفت نہ گئی", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مر کے بھی قامت محبوب کی الفت نہ گئی\nہو چکا حشر بھی لیکن یہ قیامت نہ گئی\n\nشب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی\nرند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی\n\nبوسہ لے کر جو مکرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں\nشاعری کا اثر اور جھوٹ کی عادت نہ گئی\n\nداغ مٹتے نہ سنا دل سے تری حسرت کا\nآئی جس گھر میں پھر اوس گھر سے یہ دولت نہ گئی\n\nپاس بیٹھے بھی تو کیا جلد اٹھے گھبرا کر\nمیرا سودا تو گیا آپ کی وحشت نہ گئی\n\nنہ ہوا صاف دل یار کسی طرح جلالؔ\nخاک میں مل گئے ہم اس کی کدورت نہ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "مر کے ٹوٹا ہے کہیں سلسلۂ قید حیات", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مر کے ٹوٹا ہے کہیں سلسلۂ قید حیات\nمگر اتنا ہے کہ زنجیر بدل جاتی ہے\n\nاثر عشق تغافل بھی ہے بیداد بھی ہے\nوہی تقصیر ہے تعزیر بدل جاتی ہے\n\nکہتے کہتے مرا افسانہ گلہ ہوتا ہے\nدیکھتے دیکھتے تقدیر بدل جاتی ہے\n\nروز ہے درد محبت کا نرالا انداز\nروز دل میں تری تصویر بدل جاتی ہے\n\nگھر میں رہتا ہے ترے دم سے اجالا ہی کچھ اور\nمہ و خورشید کی تنویر بدل جاتی ہے\n\nغم نصیبوں میں ہے فانیؔ غم دنیا ہو کہ عشق\nدل کی تقدیر سے تدبیر بدل جاتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%B9%D9%88%D9%B9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%82_%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA"} {"title": "مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم\nدل کے ہاتھوں سے پڑے کیسی گرفتاری میں ہم\n\nسب پہ روشن ہے ہماری سوزش دل بزم میں\nشمع ساں جلتے ہیں اپنی گرم بازاری میں ہم\n\nیاد میں ہے تیرے دم کی آمد و شد پر خیال\nبے خبر سب سے ہیں اس دم کی خبرداری میں ہم\n\nجب ہنسایا گردش گردوں نے ہم کو شکل گل\nمثل شبنم ہیں ہمیشہ گریہ و زاری میں ہم\n\nچشم و دل بینا ہے اپنے روز و شب اے مردماں\nگرچہ سوتے ہیں بظاہر پر ہیں بیداری میں ہم\n\nدوش پر رخت سفر باندھے ہے کیا غنچہ صبا\nدیکھتے ہیں سب کو یاں جیسے کہ تیاری میں ہم\n\nکب تلک بے دید سے یا رب رکھیں چشم وفا\nلگ رہے ہیں آج کل تو دل کی غم خواری میں ہم\n\nدیکھ کر آئینہ کیا کہتا ہے یارو اب وہ شوخ\nماہ سے صد چند بہتر ہیں اداداری میں ہم\n\nاے ظفرؔ لکھ تو غزل بحر و قوافی پھیر کر\nخامۂ در ریز سے ہیں اب گہر باری میں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%88%D8%A7%DB%81_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%A8%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "مر گئے پر بھی نہ ہو بوجھ کسی پر اپنا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مر گئے پر بھی نہ ہو بوجھ کسی پر اپنا\nروح کے ساتھ ہوا ہو تن لاغر اپنا\n\nبے طرح دل میں بھرا رہتا ہے زلفوں کا دھواں\nدم نکل جائے کسی روز نہ گھٹ کر اپنا\n\nیار سوتا نہیں منہ کر کے ہماری جانب\nکبھی کروٹ نہیں لیتا ہے مقدر اپنا\n\nتم جو دو پھول چڑھاؤ تو خوشی کے مارے\nقبر کھل جائے یہ پھولے تن لاغر اپنا\n\nانتظام آپ کی سرکار میں یوں لازم ہے\nبند و بست آپ کا گھر میں رہے باہر اپنا\n\nحور بھی تم ہو نگاہوں میں پری بھی تم ہو\nاب تو اے جان دل آیا ہے تمہیں پر اپنا\n\nنور برساتی ہے زلفوں کی گھٹا چہرے پر\nپاؤں اس کوچے میں پھسلے گا مقرر اپنا\n\nنیند فرقت میں کہاں موت سے آنے والی\nگھر سے بہتر ہے جو تکیے میں ہو بستر اپنا\n\nخانہ برباد کیا عشق نے طفلی سے ہمیں\nکہ مٹا بیٹھی گھروندے کی طرح گھر اپنا\n\nاب نہ کچھ بولتے بنتی ہے نہ چپ رہتے ہمیں\nنہ دل اپنا نظر آتا ہے نہ دلبر اپنا\n\nوعدۂ وصل اگر آج بھی پورا نہ ہوا\nیہ سمجھ لیجئے وعدہ ہے برابر اپنا\n\nخوبرو کچھ بھی اگر بندہ نوازی فرمائیں\nمالداروں کو کریں بندۂ بے زر اپنا\n\nبے گلا کاٹے ہوئے رات نہیں کٹنے کی\nصدقہ ابرو کا دیے جائیے خنجر اپنا\n\nڈور ہیں سلک گہر پر کہیں اشعار اے بحرؔ\nقدرداں ہو تو سنائیں اسے جوہر اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%A8%D9%88%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "مر گئے ہیں جو ہجرِ یار میں ہم", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مر گئے ہیں جو ہجرِ یار میں ہم\nسخت بے تاب ہیں مزار میں ہم\n\nتا دلِ کینہ ور میں پائیں جگہ\nخاک ہو کر ملے غبار میں ہم\n\nوہ تو سو بار اختیار میں آئے\nپر نہیں اپنے اختیار میں ہم\n\nکب ہوئے خارِ راہِ غیر بھلا\nکیوں کھٹکتے ہیں چشمِ یار میں ہم\n\nکوئے دشمن میں ہو گئے پامال\nآمد و رفتِ بار بار میں ہم\n\nنعش پر تو خدا کے واسطے آ\nمر گئے تیرے انتظار میں ہم\n\nگر نہیں شیفتہ خیالِ فراق\nکیوں تڑپتے ہیں وصلِ یار میں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D9%90_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "مرا احوال چشم یار سوں پوچھ", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا احوال چشم یار سوں پوچھ\nحقیقت درد کی بیمار سوں پوچھ\n\nمرے حال پریشاں کی حکایت\nصنم کے زلف کے ہر تار سوں پوچھ\n\nدل پر پیچ کا میرے ہر ایک پیچ\nسجن کے چیرۂ بل دار سوں پوچھ\n\nہمارے عندلیب دل کا مطلب\nپیارے کے گل رخسار سوں پوچھ\n\nسدا بے تاب کیوں رہتا ہے داؤدؔ\nپیا کے طرۂ طرار سوں پوچھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84_%DA%86%D8%B4%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE"} {"title": "مرا اس کے پس دیوار گھر ہوتا تو کیا ہوتا", "poet_page": "مصنف:غمگین دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا اس کے پس دیوار گھر ہوتا تو کیا ہوتا\nقضا سے اے فلک گر اس قدر ہوتا تو کیا ہوتا\n\nجنازہ پر مرے اس شوخ کو لایا ہے تو آخر\nاگر اے عشق کچھ تجھ میں اثر ہوتا تو کیا ہوتا\n\nہوا بے ہوش بالکل آہ اس کی آمد آمد میں\nگر آنے سے میں اس کے با خبر ہوتا تو کیا ہوتا\n\nاسی عالم میں ہیں یہ لطف اے دل عشق بازی کے\nاگر باغ جناں میں بو البشر ہوتا تو کیا ہوتا\n\nتجلی تو ہوئی موسیٰ کو پر میری طرح واعظ\nہمیشہ جلوہ گر ہر اک شجر ہوتا تو کیا ہوتا\n\nہنر مندوں کو تیرے ہاتھ سے ہے زندگی مشکل\nجو تجھ میں بھی کوئی اے دل ہنر ہوتا تو کیا ہوتا\n\nکیا بد نام اک عالم نے غمگیںؔ پاک بازی میں\nجو میں تیری طرح سے بد نظر ہوتا تو کیا ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B3_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "مرا جی گو تجھے پیارا نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا جی گو تجھے پیارا نہیں ہے\nپر اتنا بھی تو ناکارا نہیں ہے\n\nہیں اکثر خوب رو اوباش لیکن\nکوئی تجھ سا تو آوارا نہیں ہے\n\nجو دل لے کر ہوئے منکر تم اس طرح\nمیاں ہم نے بھی کچھ ہارا نہیں ہے\n\nہزاروں آرزو دل میں گرہ ہے\nپہ کہنے کا ہمیں یارا نہیں ہے\n\nنہ مرنے دیتے ہیں قائمؔ کو لیکن\nخداوندی سے کچھ چارہ نہیں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%DB%8C_%DA%AF%D9%88_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہے", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہے\nزباں جب تلک ہے یہی گفتگو ہے\n\nخدا جانے کیا ہوگا انجام اس کا\nمیں بے صبر اتنا ہوں وہ تند خو ہے\n\nتمنا تری ہے اگر ہے تمنا\nتری آرزو ہے اگر آرزو ہے\n\nکیا سیر سب ہم نے گلزار دنیا\nگل دوستی میں عجب رنگ و بو ہے\n\nغنیمت ہے یہ دید و دید یاراں\nجہاں آنکھ مند گئی نہ میں ہوں نہ تو ہے\n\nنظر میرے دل کی پڑی دردؔ کس پر\nجدھر دیکھتا ہوں وہی رو بہ رو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "مرا خط ہے جہاں یارو وہ رشک حور لے جانا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا خط ہے جہاں یارو وہ رشک حور لے جانا\nکسی صورت سے واں تک تم مرا مذکور لے جانا\n\nاگر وہ شعلہ رو پوچھے مرے دل کے پھپھولوں کو\nتو اس کے سامنے اک خوشۂ انگور لے جانا\n\nجو یہ پوچھے کہ اب کتنی ہے اس کے رنگ پر زردی\nتو یارو تم گل صد برگ یا کافور لے جانا\n\nاگر پوچھے مرے سینے کے زخموں کو تو اے یارو\nکہیں سے ڈھونڈھ کر اک خانۂ زنبور لے جانا\n\nرقیب رو سیہ کے حال کا گر ماجرا پوچھے\nتو اس کے سامنے جنگل سے اک لنگور لے جانا\n\nنظیرؔ اک دن خوشی سے یار نے ہنس کر کہا مجھ کو\nکہ تو بھی ایک بوسہ ہم سے اے رنجور لے جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AE%D8%B7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D8%AD%D9%88%D8%B1_%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "مرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا ہے", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا ہے\nکہ ہر جلوے میں اس کے کیا کہوں اور ہی جھمکا ہے\n\nنہیں ہونے کا چنگا گر سلیمانی لگے مرہم\nہمارے دل پہ کاری زخم اس ناوک پلک کا ہے\n\nکئی باری بنا ہو جس کی پھر کہتے ہیں ٹوٹے گا\nیہ حرمت جس کی ہو اے شیخ کیا تیرا وہ مکا ہے\n\nہر اک دل کے تئیں لے کر وہ چنچل بھاگ جاتا ہے\nستم گر ہے جفا جو ہے شرابی ہے اچکا ہے\n\nنہ جا واعظ کی باتوں پر ہمیشہ مے کو پی تاباںؔ\nعبث ڈرتا ہے تو دوزخ سے اک شرعی درکا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%D8%B1%D9%88_%D8%B3%D8%A8_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%DA%86_%DB%8C%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مرا دل آ گیا جھٹ پٹ جھپٹ میں", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا دل آ گیا جھٹ پٹ جھپٹ میں\nہوا لٹ پٹ لپٹ زلفوں کی لٹ میں\n\nنمایاں ہے وو نور چشم مردم\nپلک کی پٹ میں پتلی کی اولٹ میں\n\nاگر دیدار کے پانے کی ہے چاہ\nلے سمرن آنسووں کی رہ رہٹ میں\n\nہر اک ناقوس میں آتی ہے آواز\nکہ ہے پرگھٹ وو ہر ہر، ہر کے گھٹ میں\n\nلگی ہے چٹ پٹی مت کر نپٹ ہٹ\nچھپے مت لٹ پٹے گھونگٹ کے پٹ میں\n\nدل دیوانہ میرا آ گیا ہے\nتری زلفوں کے سائے کی جھپٹ میں\n\nسراجؔ اس شمع رو بن جل گیا ہے\nنپٹ حسرت کے شعلوں کی لپٹ میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%DA%BE%D9%B9_%D9%BE%D9%B9_%D8%AC%DA%BE%D9%BE%D9%B9_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مرا دل داد خواہ ظلم اصلاً ہو نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا دل داد خواہ ظلم اصلاً ہو نہیں سکتا\nمروت منہ کو سی دیتی ہے شکوا ہو نہیں سکتا\n\nچھپاؤ آپ کو جس رنگ یا جس بھیس میں چاہو\nمگر چشم حقیقت بیں سے پردا ہو نہیں سکتا\n\nتماشا گاہ حیرت ہے دیار دل کی ویرانی\nیہ سناٹا میان دشت و صحرا ہو نہیں سکتا\n\nبڑھا ایک اور غم افشائے راز عشق سے ورنہ\nنہ میں کھلتا نہ وہ کہتے کہ ایسا ہو نہیں سکتا\n\nمرے ظلمت کدہ میں روز روشن کا گزر کیسا\nسلامت ہے شب غم تو اجالا ہو نہیں سکتا\n\nدم عہد و وفا ٹھہرا نہ ان کے سامنے کوئی\nسوا میرے تو میں کس دل سے کہتا ہو نہیں سکتا\n\nکبھی کج‌ طبع کو دیکھا نہ سیدھی راہ پر آتے\nجو ہے دراصل بد باطن وہ اچھا ہو نہیں سکتا\n\nنہ ہوں سنگ در مے خانہ اہل زہد اے ثاقبؔ\nکہ میں پابند رسم و راہ تقویٰ ہو نہیں سکتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%D8%B8%D9%84%D9%85_%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D9%8B_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "مرا دل دیکھو اب یا میرے دشمن کا جگر دیکھو", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا دل دیکھو اب یا میرے دشمن کا جگر دیکھو\nتمہارے بس میں آنکھیں ہیں جدھر جاؤ ادھر دیکھو\n\nقیامت میں نہ میرے منہ سے پھر فریاد نکلے گی\nاگر یہ کہہ دیا اس نے یہاں آؤ ادھر دیکھو\n\nتمہارے نام پر مر مٹنے والا کون ہے میں ہوں\nاگر سوچو اگر سمجھو اگر مانو اگر دیکھو\n\nمرے دل کو چرا کر پھر چراؤ آنکھ کیا معنی\nنگاہ قہر ہی سے تم مجھے دیکھو مگر دیکھو\n\nجو کہتا ہوں فنا کے بعد سب کو چین ملتا ہے\nتو وہ کہتے ہیں پھر اب دیر کیا تم بھی مر دیکھو\n\nرقیبوں کو تم آنکھیں تو دکھاتے ہو سر محفل\nکہیں ایسا نہ ہو بن جائے میری جان پر دیکھو\n\nکسی کو دیکھ کر اے نوحؔ کیسی کچھ بنی دل پر\nیہ کس کمبخت نے تم سے کہا تھا تم ادھر دیکھو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%A7%D8%A8_%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "مرا دل نہیں ہے میرے ہات تم بن", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا دل نہیں ہے میرے ہات تم بن\nخوش آتی نہیں کسی کی بات تم بن\n\nگھٹا غم اشک پانی آہ بجلی\nبرستا ہے عجب برسات تم بن\n\nپکاروں کیوں نہ میں ہے دوست ہے دوست\nکہ ہر شب قتل کی ہے رات تم بن\n\nکبھی تو آئے گی پھر وصل کی آن\nکیا غم نے مرے پر گھات تم بن\n\nسراجؔ از بس کہ ہے بے تاب دیدار\nاسے ہے زندگی سکرات تم بن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%D9%85_%D8%A8%D9%86"} {"title": "مرا دل ہے مشتاق اس گل بدن کا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا دل ہے مشتاق اس گل بدن کا\nکہ یہ باغ اک گل ہے جس کے چمن کا\n\nوہی زلف ہے جس کی نکہت سے اب تک\nپڑا خون سوکھے ہے مشک ختن کا\n\nوہی لعل لب ہے کہ حسرت سے جس کے\nجگر آج تک خوں ہے لعل یمن کا\n\nعجب سیر دیکھی نظیرؔ اس چمن کی\nابھی وصل تھا نرگس و نسترن کا\n\nابھی یک دگر جمع تھے سنبل و گل\nابھی تھا بہم جوش سرو و سمن کا\n\nابھی چہچہے بلبلوں کے عیاں تھے\nابھی شور تھا قمریٔ نعرہ زن کا\n\nگھڑی بھر کے ہی بعد دیکھا یہ عالم\nکہ نام و نشاں بھی نہ واں تھا چمن کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D9%82_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "مرا راز دل آشکارا نہیں", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا راز دل آشکارا نہیں\nوہ دریا ہوں جس کا کنارا نہیں\n\nوہ گل ہوں جدا سب سے ہے جس کا رنگ\nوہ بو ہوں کہ جو آشکارا نہیں\n\nوہ پانی ہوں شیریں نہیں جس میں شور\nوہ آتش ہوں جس میں شرارہ نہیں\n\nبہت زال دنیا نے دیں بازیاں\nمیں وہ نوجواں ہوں جو ہارا نہیں\n\nجہنم سے ہم بے قراروں کو کیا\nجو آتش پہ ٹھہرے وہ پارا نہیں\n\nفقیروں کی مجلس ہے سب سے جدا\nامیروں کا یاں تک گزارا نہیں\n\nسکندر کی خاطر بھی ہے سد باب\nجو دارا بھی ہو تو مدارا نہیں\n\nکسی نے تری طرح سے اے انیسؔ\nعروس سخن کو سنوارا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا\nطلوع صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کا\n\nازل سے دشمنی طاؤس و مار آپس میں رکھتے ہیں\nدل پر داغ کو کیوں کر ہے عشق اس زلف پیچاں کا\n\nکسی خورشید رو کو جذب دل نے آج کھینچا ہے\nکہ نور صبح صادق ہے غبار اپنے بیاباں کا\n\nچمکنا برق کا لازم پڑا ہے ابر باراں میں\nتصور چاہیئے رونے میں اس کے روئے خنداں کا\n\nدیا میرے جنازے کو جو کاندھا اس پری رو نے\nگماں ہے تختۂ تابوت پر تخت سلیماں کا\n\nکسی سے دل نہ اس وحشت سرا میں میں نے اٹکایا\nنہ الجھا خار سے دامن کبھی میرے بیاباں کا\n\nتہہ شمشیر قاتل کس قدر بشاش تھا ناسخؔ\nکہ عالم ہر دہان زخم پر ہے روئے خنداں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B4%D8%B1%D9%82_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "مرا محبوب سب کا من ہرن ہے", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا محبوب سب کا من ہرن ہے\nنظر کر دیکھ وو آہو نین ہے\n\nنہیں اب جگ میں ویسا اور ساجن\nمجھے صورت شناسی بیچ فن ہے\n\nسبی دیوانے ہیں اس مہ لقا کے\nمگر وہ دل ربا جادو نین ہے\n\nکرے رشک گلستاں دل کو فائزؔ\nمرا ساجن بہار انجمن ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%86_%DB%81%D8%B1%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "مرا مضموں سوار توسن طبع رواں ہو کر", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا مضموں سوار توسن طبع رواں ہو کر\nزمین شعر پر پھرتا ہے گویا آسماں ہو کر\n\nکھٹک جاتے ہیں چشم برق میں میرا نشاں ہو کر\nغضب ڈھاتے ہیں یعنی چند تنکے آشیاں ہو کر\n\nسن اے جوش جنوں تقلید مجنوں کی نہیں اچھی\nمبادا ہم بھی رہ جائیں کسی دن داستاں ہو کر\n\nدما دم شعبدے ہم کو دکھاتا ہے کوئی جلوہ\nکہیں شیخ حرم ہو کر کہیں پیر مغاں ہو کر\n\nان آنکھوں سے بہار باغ دنیا دینے والو\nیہ آنکھیں رنگ لائیں گی کسی دن خوں فشاں ہو کر\n\nاجی کیا شمع کیا پروانہ دونوں جل بجھے آخر\nکوئی آتش فشاں ہو کر کوئی آتش بجاں ہو کر\n\nخدا محفوظ رکھے یہ حسیں دل لے ہی لیتے ہیں\nکسی پر مہرباں ہو کر کسی سے سرگراں ہو کر\n\nنہ پایا اور کچھ بھی جز خدا کعبے میں اے اخترؔ\nبہت نادم ہوئے ہم بت کدے سے بد گماں ہو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%B6%D9%85%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%88%D8%B3%D9%86_%D8%B7%D8%A8%D8%B9_%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "مرا یہ زخم سینہ کا کہیں بھرتا ہے سینے سے", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرا یہ زخم سینہ کا کہیں بھرتا ہے سینے سے\nلگائے اے صنم جب تک نہ تو سینہ کو سینے سے\n\nفلک نے شادماں دیکھا جسے آیا اسی کے سر\nخدا محفوظ ہر انساں کو رکھے اس کمینے سے\n\nجو لے جاتے ہیں دل میرا بچانا ٹھیس سے اس کو\nوہ ہے اے سنگ دل نازک زیادہ آبگینے سے\n\nنہ ہوگی دور غش میری گلاب و مشک و عنبر سے\nمرے رخ کو تو دھو اے گل بدن اپنے پسینے سے\n\nکہیں یہ صاف ہوتا ہے کدورت اور کینے سے\nاگر زخم جگر مل بھی گیا دشمن کے سینے سے\n\nدل اک دہنے رہا گر دوسرا دائم رہا بائیں\nنہ دو باہم ہوئے دل گو ملا سینہ بھی سینے سے\n\nکوئی رنج و الم آئے نہ دل کے پاس اے ساقی\nجو ہو آغاز مے نوشی محرم کے مہینے سے\n\nتو چاہے دوسروں کو اور ہم مرتے پھریں تجھ پر\nہمارے واسطے مرنا ہے بہتر ایسے جینے سے\n\nسمجھنا چاہیے کینے سے سینہ ہے بھرا اس کا\nکیا ہے مشرقیؔ انکار جس نے مے کے پینے سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92"} {"title": "مرادیں کوئی پاتا ہے کسی کی جان جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرادیں کوئی پاتا ہے کسی کی جان جاتی ہے\nہزاروں دیکھنے والے تری چتون کے بیٹھے ہیں\n\nعدو عاشق سہی مانا اسی پر منحصر کیا ہے\nابھی تو چاہنے والے بہت بچپن کے بیٹھے ہیں\n\nصبا کیا خاک اڑائے گی عدو کیا قہر ڈھائیں گے\nوہ خود پامال کرنے کو مرے مدفن کے بیٹھے ہیں\n\nسراغ نقش پائے غیر شاید اپنا رہبر ہو\nسر راہ طلب ہم منتظر رہزن کے بیٹھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "مرتا بھلا ہے ضبط کی طاقت اگر نہ ہو", "poet_page": "مصنف:حکیم محمد اجمل خاں شیدا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرتا بھلا ہے ضبط کی طاقت اگر نہ ہو\nکتنا ہی درد دل ہو مگر چشم تر نہ ہو\n\nوہ سر ہی کیا کہ جس میں تمہارا نہ ہو خیال\nوہ دل ہی کیا کہ جس میں تمہارا گزر نہ ہو\n\nایسی تو بے اثر نہیں بیتابئ فراق\nنالے کروں میں اور کسی کو خبر نہ ہو\n\nمل جاؤ تم تو شب کو بڑھا لیں گے تا ابد\nمانگیں گے یہ دعا کہ الٰہی سحر نہ ہو\n\nزلف ان کی اپنے رخ پہ پریشاں کریں گے ہم\nڈر ہے شب وصال کہیں مختصر نہ ہو\n\nمیں ہوں وہ تفتہ دل کی ہوا آفتاب پر\nمیرا گماں کہ آہ کا میری شرر نہ ہو\n\nشیداؔ کو تیرے خوف کسی کا نہیں یہاں\nسارا جہاں ہو اس کا عدو تو مگر نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B6%D8%A8%D8%B7_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%A7%D9%82%D8%AA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گا", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گا\nنیا اک کارواں گرد رہ منزل سے نکلے گا\n\nہمارے منہ سے اور شکوہ تمہارا ہو نہیں سکتا\nتمہارا نام بھی شاید بڑی مشکل سے نکلے گا\n\nنہ ہوگا گوشۂ دامن مرا وابستۂ منزل\nنہ جب تک ہاتھ تیرا پردۂ منزل سے نکلے گا\n\nمری آنکھیں ہیں بزم رنگ و بو میں منتظر تیری\nنہیں معلوم تو کب تک حجاب دل سے نکلے گا\n\nمیں اپنے دل کو یوں پیش نظر سیمابؔ رکھتا ہوں\nکہ میرا چاند جب نکلا اسی منزل سے نکلے گا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D9%85%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D8%BA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "مرتے دم نام ترا لب کے جو آ جائے قریب", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرتے دم نام ترا لب کے جو آ جائے قریب\nجی کو ٹھنڈک ہو تپ غم نہ مرے آئے قریب\n\nبوسہ مانگوں تو کہیں مجھ سے یہ بلوا کے قریب\nکس کا منہ ہے جو مرے منہ کے وہ منہ لائے قریب\n\nہاتھ دوڑاؤں نہ کیوں جبکہ وہ یوں آئے قریب\nپاؤں پھیلاؤں نہ کیوں پاؤں جو پھیلائے قریب\n\nپاس آؤں تو کہے پاس ادب بھی ہے ضرور\nدور جاؤں تو وہاں جائے تقاضائے قریب\n\nمجھ کو اے پیر مغاں محتسب ناہنجار\nقرب محشر ہے کہ بے قربی سے بلوائے قریب\n\nغم دوری سے ترے کوچے کے رویا عاشق\nواں سے جب روضۂ رضوان اسے لائے قریب\n\nمیری بیداری سے اے دولت بیدار ہو کیا\nبخت جاگیں جو مجھے اپنے تو بلوائے قریب\n\nمیرے نالوں سے نہ دن چین نہ شب کو ہے قرار\nمرگ کے پہنچے ہیں اب تو مرے ہم سایے قریب\n\nایسی مجلس سے اگر رہیے بعید اولیٰ ہے\nدل دماغ اپنا تو وہ اور یہ غوغائے قریب\n\nپاس جاؤں تو مچل کر کہے چل یاں سے دور\nدور بیٹھوں تو گھڑک کر مجھے فرمائے قریب\n\nعشق کے پیچ میں ہوں چاہئے ہمدم پس مرگ\nعشق پیچاں ہی مری قبر کے لگوائے قریب\n\nمشک و صندل ہو ترے رنگ سے بالوں ہم سر\nغصہ دل کو مرے کس طرح نہ آ جائے قریب\n\nکچھ ردیف اب کی بڑھا قافیہ احساںؔ تو بدل\nپھر قریب ایسے بٹھا تجھ کو وہ بٹھلائے قریب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AA%DB%92_%D8%AF%D9%85_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%84%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8"} {"title": "مرتے مرتے یہ ہم نے کام کیا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرتے مرتے یہ ہم نے کام کیا\nجان دے کر وفا کا نام کیا\n\nشیخ صنعا بنا ہے عشق میں دل\nبت کو سجدہ کیا سلام کیا\n\nزلف پر پیچ کھول کر رخ پر\nایک جا لطف صبح و شام کیا\n\nتم نے مجنوں کہا تو عاشق نے\nدشت پر خار میں قیام کیا\n\nمحو حیرت بنا دیا مجھ کو\nتم نے کس لطف سے کلام کیا\n\nچل کے گلشن میں دیکھ لے کیسا\nموسم گل نے اہتمام کیا\n\nمبتلا خود نثار ہو جاتے\nتم نے افسوس قتل عام کیا\n\nاپنے بندوں کے واسطے اس نے\nواہ کیا کچھ نہ انتظام کیا\n\nساری خلقت ہوئی تماشائی\nتم نے جب بام پر قیام کیا\n\nکوئے جاناں ہے مجھ کو خلد بریں\nمیں نے اپنا یہیں مقام کیا\n\nکھینچ لایا جمیلہؔ آخر کار\nجذب صادق نے خوب کام کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AA%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مرثیہ بال گنگا دھر تلک", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "موت نے رات کے پردے میں کیا کیسا وار\nروشنئ صبح وطن کی ہے کہ ماتم کا غبار\n\nمعرکہ سرد ہے سویا ہے وطن کا سردار\nطنطنہ شیر کا باقی نہیں سونا ہے کچھار\n\nبیکسی چھاتی ہے تقدیر پھری جاتی ہے\nقوم کے ہاتھ سے تلوار گری جاتی ہے\n\nاٹھ گیا دولت ناموس وطن کا وارث\nقوم مرحوم کے اعزاز کہن کا وارث\n\nجاں نثار ازلی شیر دکن کا وارث\nپیشواؤں کے گرجتے ہوئے رن کا وارث\n\nتھی سمائی ہوئی پونا کی بہار آنکھوں میں\nآخری دور کا باقی تھا خمار آنکھوں میں\n\nموت مہراشٹ کی تھی یا تری مرنے کی خبر\nمردنی چھا گئی انسان تو کیا پتھر پر\n\nپتیاں جھک گئیں مرجھا گئے صحرا کے شجر\nرہ گئے جوش میں بہتے ہوئے دریا تھم کر\n\nسرد و شاداب ہوا رک گئی کہساروں کی\nروشنی گھٹ گئی دو چار گھڑی تاروں کی\n\nتھا نگہبان وطن دبدبۂ عام ترا\nنہ ڈگیں پاؤں پہ تھا قوم کو پیغام\n\nدل رقیبوں کے لرزتے تھے یہ تھا کام تیرا\nنیند سے چونک پڑے سن جو لیا نام تیرا\n\nیاد کر کے تجھے مظلوم وطن روئیں گے\nبندۂ رسم جفا چین سے اب سوئیں گے\n\nزندگی تیری بہار چمنستان وفا\nآبرو تیرے لئے قوم سے پیمان وفا\n\nعاشق نام وطن کشتہ ارمان وفا\nمرد میدان وفا جسم وفا جان وفا\n\nہو گئی نذر وطن ہستئ فانی تیری\nنہ تو پیری رہی تیری نہ جوانی تیری\n\nاوج ہمت پہ رہا تیری وفا کا خورشید\nموت کے خوف پہ غالب رہی خدمت کی امید\n\nبن گیا قید کا فرمان بھی راحت کی نوید\nہوئے تاریکیٔ زنداں میں ترے بال سپید\n\nپھر رہا ہے مری نظروں میں سراپا تیرا\nآہ و قید ستم اور بڑھاپا تیرا\n\nمعجزہ اشک محبت کا دکھایا تو نے\nایک قطرہ سے یہ طوفان اٹھایا تو نے\n\nملک کو ہستی بیدار بنایا تو نے\nجذبۂ قوم کو جادو کو جگایا تو نے\n\nاک تڑپ آ گئی سوتے ہوئے ارمانوں میں\nبجلیاں کوند گئیں قوم کے ویرانوں میں\n\nلاش کو تیری سنواریں نہ رفیقان کہن\nہو جبیں کے لئے صندل کی جگہ خاک وطن\n\nتر ہوا ہے جو شہیدوں کے لہو سے دامن\nدیں اسی کا تجھے پنجاب کے مظلوم کفن\n\nشور ماتم نہ ہو جھنکار ہو زنجیروں کی\nچاہیے قوم کے بھیشم کو چتا تیروں کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AB%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D9%84_%DA%AF%D9%86%DA%AF%D8%A7_%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AA%D9%84%DA%A9"} {"title": "مرثیہ گوپال کرشن گوکھلے", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "لرز رہا تھا وطن جس خیال کے ڈر سے\nوہ آج خون رلاتا ہے دیدۂ تر سے\nصدا یہ آتی ہے پھل پھول اور پتھر سے\nزمیں پہ تاج گرا قوم ہند کے سر سے\nحبیب قوم کا دنیا سے یوں روانہ ہوا\nزمیں الٹ گئی کیا منقلب زمانہ ہوا\n\nبڑھی ہوئی تھی نحوست زوال پیہم کی\nترے ظہور سے تقدیر قوم کی چمکی\nنگاہ یاس تھی ہندستاں پہ عالم کی\nعجیب شے تھی مگر روشنی ترے دم کی\nتجھی کو ملک میں روشن دماغ سمجھے تھے\nتجھے غریب کے گھر کا چراغ سمجھے تھے\n\nوطن کو تو نے سنوارا کس آب و تاب کے ساتھ\nسحر کا نور بڑھے جیسے آفتاب کے ساتھ\nچنے رفاہ کے گل حسن انتخاب کے ساتھ\nشباب قوم کا چمکا ترے شباب کے ساتھ\nجو آج نشو و نما کا نیا زمانہ ہے\nیہ انقلاب تری عمر کا فسانہ ہے\n\nرہا مزاج میں سودائے قوم خو ہو کر\nوطن کا عشق رہا دل کی آرزو ہو کر\nبدن میں جان رہی وقف آبرو ہو کر\nرگوں میں جوش محبت رہے لہو ہو ہو کر\nخدا کے حکم سے جب آب و گل بنا تیرا\nکسی شہید کی مٹی سے دل بنا تیرا\n\nوطن کی جان پہ کیا کیا تباہیاں آئیں\nامنڈ امنڈ کے جہالت کی بدلیاں آئیں\nچراغ امن بجھانے کو آندھیاں آئیں\nدلوں میں آگ لگانے کو بجلیاں آئیں\nاس انتشار میں جس نور کا سہارا تھا\nافق پہ قوم کے وہ ایک ہی ستارا تھا\n\nحدیث قوم بنی تھی تری زباں کے لیے\nزباں ملی تھی محبت کی داستاں کے لیے\nخدا نے تجھ کو پیمبر کیا یہاں کے لیے\nکہ تیرے ہاتھ میں ناقوس تھا اذاں کے لیے\nوطن کی خاک تری بارگاہ اعلیٰ ہے\nہمیں یہی نئی مسجد نیا شوالا ہے\n\nغریب ہند نے تنہا نہیں یہ داغ سہا\nوطن سے دور بھی طوفان رنج و غم کا اٹھا\nحبیب کیا ہیں حریفوں نے یہ زباں سے کہا\nسفیر قوم جگر بند سلطنت نہ رہا\nپیام شہ نے دیا رسم تعزیت کے لیے\nکہ تو ستون تھا ایوان سلطنت کے لیے\n\nدلوں میں نقش ہیں اب تک تری زباں کے سخن\nہماری راہ میں گویا چراغ ہیں روشن\nفقیر تھے جو ترے در کے خادمان وطن\nانہیں نصیب کہاں ہوگا اب ترا دامن\nترے الم میں وہ اس طرح جان کھوتے ہیں\nکہ جیسے باپ سے چھٹ کر یتیم روتے ہیں\n\nاجل کے دام میں آنا ہے یوں تو عالم کو\nمگر یہ دل نہیں تیار تیرے ماتم کو\nپہاڑ کہتے ہیں دنیا میں ایسے ہی غم کو\nمٹا کے تجھ کو اجل نے مٹا دیا ہم کو\nجنازہ ہند کا در سے ترے نکلتا ہے\nسہاگ قوم کا تیری چتا میں جلتا ہے\n\nرہے گا رنج زمانہ میں یادگار ترا\nوہ کون دل ہے کہ جس میں نہیں مزار ترا\nجو کل رقیب تھا ہے آج سوگوار ترا\nخدا کے سامنے ہے ملک شرمسار ترا\nپلی ہے قوم ترے سایۂ کرم کے تلے\nہمیں نصیب تھی جنت ترے قدم کے تلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AB%DB%8C%DB%81_%DA%AF%D9%88%D9%BE%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%B1%D8%B4%D9%86_%DA%AF%D9%88%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%92"} {"title": "مرثیۂ خروس کہ در خانۂ فقیر بود", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "کئی برس سے ہمارے کنے تھا ایک خروس\nخروس عرش کی اولاد سے ولے افسوس\nپھرا جو اس سے یکایک زمانۂ کج باز\nقضا نے اس کو کیا ایک بار مرغ انداز\nدیا کرے وہ اذاں دونوں وقت صبح و شام\nبجا ہے مرغ مصلی رکھیں گر اس کا نام\nنہیں ہے مرغ چمن میں جہاں کے ایسا آج\nبہ رنگ کلۂ تاج خروس سر پر تاج\nجو بیٹھے جھانپے میں پرواز پر سے مرغ خیال\nکھڑا ہو دھوپ میں تو رشک مرغ زریں بال\nکبھو جو صحن میں گھر کے وہ اشرف الطیار\nپھرا ہے کیس کو ڈالے تو مرغ آتش خوار\nنہ بطخیں ہیں ثناگستری میں اس کی مدام\nبزرگ داشت کریں مرغ سبزوار تمام\nرہا ہمیشہ سے وہ مرغ مستعد جنگ\nطرف نہ اس کے ہوئے بچگی میں قاز و کلنگ\nجب ان نے گانٹھ کے اک لات حلق پر ماری\nشتردلی کی شترمرغ نے کئی باری\nنہ اس کے سامنے کوئی کھڑا رہا مرغا\nحواصل اس سے بگڑتا تو تھا وہ کیا مرغا\nبجز کنارہ نہ سیمرغ کو بنا چارہ\nکہ فیل مرغ کو بکری کی طرح سے مارا\nہمیشہ گربہ و سگ سے تھی روک ٹوک اسے\nجہاں سے لے گئی آخر یہ نوک چوک اسے\nخصومت اس کی تھی یک مادہ سگ سے شام و سحر\nکبھو وہ لات اسے مارتا کبھو شہپر\nقضا جو پہنچی تھی نزدیک وہ بھی جھنجھلائی\nحریف ہوکے دلیرانہ سامنے آئی\nیہ بہبہا تھا نہ سمجھا ادا کو کینے کی\nلگائی سامنے ہوتے ہی ایک سینے کی\nہلائی ان نے بھی گردن لگی کہیں بے کل\nکہ ایک دم میں گئی آہ اس کی گردن ڈھل\nجھکا جو خاک کی جانب کو کیس بے جاں کا\nزمیں پہ تاج گرا ہدہد سلیماں کا\nہوا کے مرغ ہوئے داغ اس کے ماتم سے\nسیاہ پوش رہے طائر حرم غم سے\nوہاں جو نوحۂ مرغان قدس باز ہوا\nکہ مرغ قبلہ نما کا بھی دل گداز ہوا\nقفس کے مرغ نے سن ترک آب و دانہ کیا\nطیور نے بھی نہ پھر قصد آشیانہ کیا\nہوا زبسکہ پراگندہ یہ غم جاں سوز\nاداس رہنے لگے سارے مرغ دست آموز\nخروس عرش ہی اس بن نہیں ہے سینہ فگار\nہزار مرغ کا اب گھر خروس پر ہے بار\nزمانہ جب تئیں ہے اس کے درد کے مارے\nرہیں گے خاک فشاں مرغ خانگی سارے\nخموش میرؔ تجھی کو نہیں یہ رنج و تعب\nکباب آتش غم میں ہیں مرغ و ماہی سب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AB%DB%8C%DB%82_%D8%AE%D8%B1%D9%88%D8%B3_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%82_%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%D9%88%D8%AF"} {"title": "مرثیۂ دہلی 4", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "تذکرہ دہلیٔ مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ\nنہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز\nداستاں گل کی خزاں میں نہ سنا اے بلبل\nہنستے ہنستے ہمیں ظالم نہ رلانا ہرگز\nڈھونڈھتا ہے دل شوریدہ بہانے مطرب\nدردانگیز غزل کوئی نہ گانا ہرگز\nصحبتیں اگلی مصور ہمیں یاد آئیں گی\nکوئی دلچسپ مرقع نہ دکھانا ہرگز\nموجزن دل میں ہیں یاں خون کے دریا اے چشم\nدیکھنا ابر سے آنکھیں نہ چرانا ہرگز\nلے کے داغ آئے گا سینے پہ بہت اے سیاح\nدیکھ اس شہر کے کھنڈروں میں نہ جانا ہرگز\nچپے چپے پہ ہیں یاں گوہر یکتا تہ خاک\nدفن ہوگا نہ کہیں اتنا خزانہ ہرگز\nمٹ گئے تیرے مٹانے کے نشاں بھی اب تو\nاے فلک اس سے زیادہ نہ مٹانا ہرگز\nہم کو گر تو نے رلایا تو رلایا اے چرخ\nہم پہ غیروں کو تو ظالم نہ ہنسانا ہرگز\nکبھی اے علم و ہنر گھر تھا تمہارا دلی\nہم کو بھولے ہو تو گھر بھول نہ جانا ہرگز\nشاعری مر چکی اب زندہ نہ ہوگی ہرگز\nیاد کر کر کے اسے جی نہ کڑھانا ہرگز\nغالبؔ و شیفتہؔ و نیرؔ و آزردہؔ و ذوقؔ\nاب دکھائے گا یہ شکلیں نہ زمانا ہرگز\n\nمومنؔ و علویؔ و صہبائیؔ و ممنونؔ کے بعد\nشعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگز\nکر دیا مر کے یگانوں نے یگانہ ہم کو\nورنہ یاں کوئی نہ تھا ہم میں یگانہ ہرگز\nداغؔ و مجروحؔ کو سن لو کہ پھر اس گلشن میں\nنہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانا ہرگز\nرات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیر و زبر\nاب نہ دیکھو گے کبھی لطف شبانہ ہرگز\nبزم ماتم تو نہیں بزم سخن ہے حالیؔ\nیاں مناسب نہیں رو رو کے رلانا ہرگز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AB%DB%8C%DB%82_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C_4"} {"title": "مرثیۂ دہلی مرحوم", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ\nنہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانا ہرگز\nداستاں گل کی خزاں میں نہ سنا اے بلبل\nہنستے ہنستے ہمیں ظالم نہ رلانا ہرگز\nڈھونڈھتا ہے دل شوریدہ بہانے مطرب\nدردانگیز غزل کوئی نہ گانا ہرگز\nصحبتیں اگلی مصور ہمیں یاد آئیں گی\nکوئی دلچسپ مرقع نہ دکھانا ہرگز\nلے کے داغ آئے گا سینے پہ بہت اے سیاح\nدیکھ اس شہر کے کھنڈروں میں نہ جانا ہرگز\nچپہ چپہ پہ ہیں یاں گوہر یکتا تہ خاک\nدفن ہوگا نہ کہیں اتنا خزانہ ہرگز\nمٹ گئے تیرے مٹانے کے نشاں بھی اب تو\nاے فلک اس سے زیادہ نہ مٹانا ہرگز\nوہ تو بھولے تھے ہمیں ہم بھی انہیں بھول گئے\nایسا بدلا ہے نہ بدلے گا زمانا ہرگز\nجس کو زخموں سے حوادث کے اچھوتا سمجھیں\nنظر آتا نہیں اک ایسا گھرانا ہرگز\nہم کو گر تو نے رلایا تو رلایا اے چرخ\nہم پہ غیروں کو تو ظالم نہ ہنسانا ہرگز\nآخری دور میں بھی تجھ کو قسم ہے ساقی\nبھر کے اک جام نہ پیاسوں کو پلانا ہرگز\nبخت سوئے ہیں بہت جاگ کے اے دور زماں\nنہ ابھی نیند کے ماتوں کو جگانا ہرگز\nکبھی اے علم و ہنر گھر تھا تمہارا دلی\nہم کو بھولے ہو تو گھر بھول نہ جانا ہرگز\nغالبؔ و شیفتہؔ و نیرؔ و آزردہؔ و ذوقؔ\nاب دکھائے گا نہ شکلوں کو زمانا ہرگز\nمومنؔ و علویؔ و صہبائیؔ و ممنونؔ کے بعد\nشعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگز\nداغؔ و مجروحؔ کو سن لو کہ پھر اس گلشن میں\nنہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانا ہرگز\nرات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیر و زبر\nاب نہ دیکھو گے کبھی لطف شبانہ ہرگز\nبزم ماتم تو نہیں بزم سخن ہے حالیؔ\nیاں مناسب نہیں رو رو کے رلانا ہرگز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AB%DB%8C%DB%82_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%AD%D9%88%D9%85"} {"title": "مرثیۂ سر سید ردیف ی", "poet_page": "مصنف:خوشی محمد ناظر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "عرش کے نوری زمیں کے فرش پر آنے کو ہیں\nاور اک خاکی کو سیر خلد دکھلانے کو ہیں\nباغ جنت کو سدھارا سید عالی مقام\nراہ میں اس کی ملائک نور برسانے کو ہیں\nوائے حسرت چل دیا دنیا سے وہ محبوب قوم\nاور جو باقی ہیں اس کے ہجر میں جانے کو ہیں\nساقیٔ مرحوم تیرے بادہ خواروں کے لیے\nخون دل پینے کو اور لخت جگر کھانے کو ہیں\nگلشن ملت میں غنچوں نے ابھی کھولی تھی آنکھ\nایک جھونکے سے خزاں کے اب وہ مرجھانے کو ہیں\nچھپ گیا وہ روئے رخشاں مہر عالم تاب کا\nاب شب یلدا کی ہر سو ظلمتیں چھانے کو ہیں\nاے شاہ بے تاج وہ ماتم کی تیرے دھوم ہے\nتاج داروں کے علم اس غم سے جھک جانے کو ہیں\nدشت میں دوں لگ رہی ہے قیس کے ماتم میں آج\nآہوان نجد کی آنکھوں میں اشک آنے کو ہیں\nایک سینے میں تھی سید کے تڑپ اسلام کی\nہم مسلماں سب برائے نام کہلانے کو ہیں\nکاروان قوم کا ہنگامہ تیرے دم سے تھا\nیہ نہ تھا معلوم حضرت کوچ فرمانے کو ہیں\nبوسہ گاہ قوم ہوگا تیرے سنگ آستاں\nنقش پا پر تیرے لاکھوں قافلے آنے کو ہیں\nہر زماں ایں رہ گزر را کاروان دیگر است\nکشتگان‌ عشق را ہر لخت جان دیگر است\nہائے وہ خورشید انور چہرۂ تاباں ترا\nہائے وہ ماہ منور عارض رخشاں ترا\nوہ نگاہیں جاں فزا اور وہ ادائیں دل ربا\nوہ جبین دل کشا وہ دل فروز عنواں ترا\nہائے اس ریش مبارک پر وہ بارش نور کی\nشام پیری میں بیاض صبح نور افشاں ترا\nہائے وہ جان بصیرت تیرا نورانی دماغ\nہائے وہ کان محبت سینۂ سوزاں ترا\nوہ تری شان جلالی وہ ترا رعب‌ جمال\nپڑ گئی جس پر نظر تھا بندۂ فرماں ترا\nمہدی و مشتاق ہمدم شبلی و حالی ندیم\nاور زین العابدیں خاصائی خاصاں ترا\nبام و در کالج کے ہیں ماتم میں تیرے سر نگوں\nمرثیہ خواں بن گیا ہر کاخ و ہر ایواں ترا\nدل سے خشت و سنگ کے کالج میں اٹھتی ہے صدا\nکیا ہوا میر عمارت خانۂ ویراں ترا\nتا جہاں میں ہے ترے نانا کی امت کو بقا\nقوم میں ماتم رہے گا سید احمد خاں ترا\nبندہ پرور وقت رخصت یاد فرمایا نہ کیوں\nناظر مہجور تھا وابستۂ داماں ترا\nاے چمن پیرائے ملت تیرے شوق دید میں\nتھا نواسنج فغاں یہ بلبل بستاں ترا\nسر بہ صحرا اب رہیں گے آہ دیوانے تیرے\nشمع تربت کا کریں گے طوف پروانے ترے\nہائے بزم قوم میں اب جلوہ فرمائے گا کون\nماہ کے مانند ہالے میں نظر آئے گا کون\nاے مسیحا قوم کے تجھ بن عظام خستہ کو\nقم بہ اذنی کہہ کے اب جنبش میں پھر لائے گا کون\nدیکھ کر چتون تری اٹھتے تھے دل میں ولولے\nاس نگاہ گرم سے اب دل کو گرمائے گا کون\nتھا ترا روئے منور ایک نجم رہنما\nاب وہ نورانی فضا ظلمت میں دکھلائے گا کون\nاس شعاع روح پرور سے پھر اے ماہ منیر\nدل کے دریا میں وہ رقص موج دکھلائے گا کون\nخانہ جنگی ہر طرف ہے معاشر اسلام میں\nہائے تجھ بن ان کے یہ الجھاؤ سلجھائے گا کون\nدار و گیر دہر مثل عرصۂ شطرنج ہے\nیار شاطر بن کے اس کی چال بتلائے گا کون\nجھگیوں کا روپ بھر کر قوم کی اسٹیج پر\nما نمی خواہیم ننگ و نام را گائے گا کون\nروٹھ کر جاتا ہے سید آؤ لیں اس کو منا\nورنہ اتنی مشکلیں آسان فرمائے گا کون\nدفن کرنا صحن میں کالج کے سر سید کی لاش\nاس خلیل اللہ سے کعبہ کو چھڑوائے گا کون\nیوں تو لاکھوں آئیں گے اس نجد میں اور جائیں گے\nسید احمد سا جنوں ساماں مگر آئے گا کون\nاے حریفاں آں قدح بہ شکست و آں ساقی نماند\nجرعۂ جز اشک خوں در جام ما باقی نماند\nسید مرحوم امت کا بھلا کرتا رہا\nفکر ملت روز و شب صبح و مسا کرتا رہا\nجو فلاح قوم کی آئی سمجھ میں اس کی بات\nبرملا کہتا رہا اور برملا کرتا رہا\nتھی اسے پرواہ تحسیں اور نہ کچھ نفریں کا ڈر\nاس کو جو کرنا تھا بے رو و ریا کرتا رہا\nناسزا سنتا رہا اور مرحبا کہتا رہا\nکفر کے فتووں میں کام اسلام کا کرتا رہا\nگر ہوئے ناکامیوں سے حوصلے یاروں کے پست\nہمت عالی کا اپنی اقتضا کرتا رہا\nقوم میں پھر تازہ ذوق بت پرستی دیکھ کر\nاک نیا کعبہ علی گڑھ میں بنا کرتا رہا\nاے کہ کالج کے یہ قصر و خاک و ایواں دیکھیے\nکام جو شاہوں کا تھا سو یہ گدا کرتا رہا\nاس نے کی اسلام اور اوہام باطل میں تمیز\nزنگ سے آئینۂ دیں کی جلا کرتا رہا\nکفر کے حملوں میں تھا اسلام کی دائم سپر\nعالم امت یہ کار انبیا کرتا رہا\nشاہد اردو کی زلفوں کے نکالے پیچ و خم\nحسن کے غمزوں کو فطرت آشنا کرتا رہا\nیہ چلی تھی امت مرحوم سیل غدر میں\nموت کے طوفاں میں کار ناخدا کرتا رہا\nزندگی سید کی تھی قلب تپاں کی زندگی\nتھی جہاں کی زندگی جان جہاں کی زندگی\nچھپ گیا وہ مہر تاباں بزم دوراں چھوڑ کر\nمطلع امید کا تاریک عنواں چھوڑ کر\nفصل گل میں وہ چلا بزم گلستاں چھوڑ کر\nشاخ سارے آرزو کے گل بہ داماں چھوڑ کر\nنالۂ دل دوز صحن بوستاں میں سر کیا\nبلبلان زار نے درس گلستاں چھوڑ کر\nآ لیا سیل فنا نے کارواں سالار کو\nقافلہ کو دشت حرماں میں پریشاں چھوڑ کر\nپیر کنعاں کی جدائی سے جگر ہے پاش پاش\nگو چلا ہے مصر میں وہ ماہ کنعاں چھوڑ کر\nسو گیا کنج لحد میں شاہ بے تاج و سریر\nباغ و راغ و بارگاہ و قصر و ایواں چھوڑ کر\nفیض سے تیرے رہی وابستہ حاصل کی امید\nتشنہ لب کہتی نہ جائے ابر نیساں چھوڑ کر\nیہ تو بتلا دے کہ ہے کس کا سہارا قوم کو\nکعبۂ دل قبلۂ جاں تیرا داماں چھوڑ کر\nکون ہوگا مرد میداں اب مصاف دہر کا\nہاتھ میں کس کے چلا ہے گو وہ چوگاں چھوڑ کر\nبندہ پرور یہ جنون عشق کے شایاں نہ تھا\nسیر گلزار ارم خار مغیلاں چھوڑ کر\nگاہے گاہے قوم کی حالت پہ بھی کرنا نظر\nسیر جنت چھوڑ کر گل گشت رضواں چھوڑ کر\nاس چمن میں روح منڈلاتی رہے گی آپ کی\nجائے گی بلبل کہاں بزم گلستاں چھوڑ کر\nدار فانی کی ہے ناظرؔ گرچہ فانی زندگی\nکشتگان‌ عشق کی ہے جاودانی زندگی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AB%DB%8C%DB%82_%D8%B3%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D8%B1%D8%AF%DB%8C%D9%81_%DB%8C"} {"title": "مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ\nسورج ہوں میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھ\n\nکاغذ کی کترنوں کو بھی کہتے ہیں لوگ پھول\nرنگوں کا اعتبار ہی کیا سونگھ کے بھی دیکھ\n\nہر چند راکھ ہو کے بکھرنا ہے راہ میں\nجلتے ہوئے پروں سے اڑا ہوں مجھے بھی دیکھ\n\nدشمن ہے رات پھر بھی ہے دن سے ملی ہوئی\nصبحوں کے درمیان ہیں جو فاصلے بھی دیکھ\n\nعالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہکار پر\nدیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھ\n\nتو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں\nآنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ\n\nاس کی شکست ہو نہ کہیں تیری بھی شکست\nیہ آئنہ جو ٹوٹ گیا ہے اسے بھی دیکھ\n\nتو ہی برہنہ پا نہیں اس جلتی ریت پر\nتلووں میں جو ہوا کے ہیں وہ آبلے بھی دیکھ\n\nبچھتی تھیں جس کی راہ میں پھولوں کی چادریں\nاب اس کی خاک گھاس کے پیروں تلے بھی دیکھ\n\nکیا شاخ با ثمر ہے جو تکتا ہے فرش کو\nنظریں اٹھا شکیبؔ کبھی سامنے بھی دیکھ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%AC%DA%BE%DB%8C%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE"} {"title": "مرحبا سال فرخی آئیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "مرحبا سال فرخی آئیں\nعید شوال و ماہ فرور دیں\nشب و روز افتخار لیل و نہار\nمہ و سال اشرف ہفتہ بعد نہیں\nسو اس اکیس دن میں ہولی کی\nمجلسیں جا بجا ہوئیں رنگیں\nشہر گویا نمونۂ گلزار\nباغ گویا نگارخانۂ چیں\nتین تیوہار اور ایسے خوب\nجمع ہرگز ہوے نہ ہونگے کہیں\nپھر ہوئی ہے اسی مہینے میں\nمنعقد محفل نشاط قریں\nمحفل غسل صحت نواب\nرونق افزاے مسند تمکیں\nبزم گہ میں امیر شاہ نشاں\nرزم گہ میں حریف شیر کمیں\nپیش گاہ حضور شوکت و جاہ\nخیر خواہ جناب دولت و دیں\nجن کی مسند کا آسماں گوشہ\nجن کی خاتم کا آفتاب نگیں\nجن کی دیوار قصر کے نیچے\nآسماں ہے گداے سایہ نشیں\nدہر میں اس طرح کی بزم سرور\nنہ ہوئی ہو کبھی بروے زمیں\nانجم چرخ گوہر آگیں فرش\nنور مے ماہ ساغر سیمیں\nراجہ اندر کا جو اکھاڑا ہے\nہے وہ بالاے سطح چرخ بریں\nوہ نظرگاہ اہل وہم و خیال\nیہ ضیا بخش چشم اہل یقیں\nواں کہاں یہ عطا و بذل و کرم\nکہ جہاں گدیہ گر کا نام نہیں\nیاں زمیں پر نظر جہاں تک جائے\nژالہ آما بچھے ہیں در ثمیں\nنغمۂ مطربان زہرہ نوا\nجلوۂ لولیان ماہ جبیں\nاس اکھاڑے میں جو کہ ہے مظنوں\nیاں وہ دیکھا بچشم صورت بیں\nسرور مہر فر ہوا جو سوار\nبکمال تجمل و تزئیں\nسب نے جانا کہ ہے پری توسن\nاور بال پری ہے دامن زیں\nنقش سم سمند سے یکسر\nبن گیا دشت دامن گلچیں\nفوج کی گرد راہ مشک فشاں\nرہرووں کے مشام عطر آگیں\nبس کہ بخشی ہے فوج کو عزت\nفوج کا ہر پیادہ ہے فرزیں\nموکب خاص یوں زمیں پر تھا\nجس طرح ہے سپہر پر پرویں\nچھوڑ دیتا تھا گور کو بہرام\nران پر داغ تازہ دے کے وہیں\nاور داغ آپ کی غلامی کا\nخاص بہرام کا ہے زیب سریں\nبندہ پرور ثنا طرازی سے\nمدعا عرض فن شعر نہیں\nآپ کی مدح اور میرا منھ\nگر کہوں بھی تو کس کو آئے یقیں\nاور پھر اب کہ ضعف پیری سے\nہو گیا ہوں نزار و زارو حزیں\nپیری و نیستی خدا کی پناہ\nدست خالی و خاطر غمگیں\nصرف اظہار ہے ارادت کا\nہے قلم کی جو سجدہ ریز جبیں\nمدح گستر نہیں دعاگو ہے\nغالبؔ عاجز نیاز آگیں\nہے دعا بھی یہی کہ دنیا میں\nتم رہو زندہ جاوداں آمیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AD%D8%A8%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%84_%D9%81%D8%B1%D8%AE%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا\nتو کہاں آ کے عناں گیر ہوا\n\nکام دنیا کا ہے تیر اندازی\nہم ہوئے یا کوئی نخچیر ہوا\n\nسنگ بنیادی ہیں ہم اس گھر کا\nجو کسی طرح نہ تعمیر ہوا\n\nسفر شوق کا حاصل معلوم\nراستہ پاؤں کی زنجیر ہوا\n\nعمر بھر جس کی شکایت کی ہے\nدل اسی آگ سے اکسیر ہوا\n\nکس سے پوچھیں کہ وہ انداز نظر\nکب تبسم ہوا کب تیر ہوا\n\nکون اب داد سخن دے باقیؔ\nجس نے دو شعر کہے میرؔ ہوا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AD%D9%84%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "مرحلے زیست کے آسان ہوئے", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرحلے زیست کے آسان ہوئے\nشہر کچھ اور بھی ویران ہوئے\n\nآس لگاؤ پہ ہر اک شخص سے لاگ\nتھی نئی بات کہ حیران ہوئے\n\nوہ نظر اٹھنے لگی دل کی طرف\nحادثے اب مرے ارمان ہوئے\n\nآپ کو ہم سے شکایت کیسی\nہم تو غافل ہوئے نادان ہوئے\n\nدل وارفتہ کی باتیں باقیؔ\nیاد کر کر کے پشیمان ہوئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AD%D9%84%DB%92_%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%B3%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "مردانِ خُدا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "وہی ہے بندۂ حُر جس کی ضَرب ہے کاری\nنہ وہ کہ حَرب ہے جس کی تمام عیّاری\nازل سے فطرتِ احرار میں ہیں دوش بدوش\nقلندری و قبا پوشی و کُلہ داری\nزمانہ لے کے جسے آفتاب کرتا ہے\nاُنھی کی خاک میں پوشیدہ ہے وہ چنگاری\nوجود انھی کا طوافِ بُتاں سے ہے آزاد\nیہ تیرے مومن و کافر، تمام زُنّاری!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%AE%D9%8F%D8%AF%D8%A7"} {"title": "مردم دیدہ", "poet_page": "مصنف:چراغ حسن حسرت", "kind": "prose", "section": "نثر", "year": null, "text_ur": "== دیباچہ ==\nمشاہیر کے سوانح حیات پر ہماری زبان میں کتابوں کی کمی نہیں۔ لیکن اپنی بعض قابل قدر خصوصیات کے اعتبار سے ’’مردم دیدہ‘‘ اردو میں ایک نئی قسم کی کتاب قرار دی جا سکتی ہے۔\n\nاس میں جن مشاہیر پر مضامین ہیں ان کے حالات زندگی سوانح نگاری کے پرانے انداز کے مطابق پیدائش سے وفات تک سنہ وار بیان کئے گئے نہ ان میں ان کی زندگی کے متنازعہ فیہ واقعات پر کسی قسم کی بحث ہے۔ نہ ان مضامین میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ مشاہیر کی زندگی کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات پڑھنے والوں کو بہم پہنچا دی جائیں۔\n\n’’ مردم دیدہ‘‘ میں چند ایسے مشاہیر کی زندگی کے متعلق مضامین ہیں جن سے مصنف کے ذاتی طور پر عرصہ تک مراسم رہے۔ چنانچہ تعلقات اور واقفیت کی بنا پر ان کی شخصیت نے جو تاثر مصنف کے دل میں پیدا کیا اسے مصنف نے ان مضامین میں منتخب واقعات کے ذریعے پیش کیا ہے۔ اور ان واقعات کو ایسی ترتیب سے اور ایسے انداز میں لکھا ہے کہ ان مشاہیر کی جیتی جاگتی تصویر آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔\n\nاس اعتبار سے ’’مردم دیدہ‘‘ میں ’’ تاریخ‘‘ نہیں بلکہ ایک ذاتی تصور کا اظہار یعنی ’’ تخلیق‘‘ ہے۔ مغرب میں جدید سوانح نگاری (بیوگرافی) اپنی اسی خصوصیت کے باعث ادب کی ایک جدید صنف قرار پا چکی ہے۔\n\nجن مشاہیر پر اس کتاب میں مضامین جمع کئے گئے ہیں چونکہ ان کا تعلق زمانہ موجودہ سے ہے اس لئے بہت ممکن ہے کہ ان کی شخصیت کے متعلق آج کل کے بعض دوسرے ادیبوں کا تاثر حسرت صاحب کے تاثر سے بہت مختلف ہو لیکن اس کے متعلق حسرت صاحب غالباً یہی فرمائیں کہ جب جدید سوانح نگاری انفرادی تصور سے تعلق رکھتی ہے تو ایک ہی شخص پر دو ایسے مضامین لکھے جانا جن میں اس کی دو مختلف تصویریں ہوں ناممکن اور ناجائز نہ فرض کر لینا چاہئے۔\n\nحسرت صاحب کی خوش طبعی اور لطیف و شگفتہ انداز بیان نے کتاب کو اس درجہ دلاویزی بخش دی ہے کہ اسے ختم کرنے کے لئے کسی کو بھی ایک سے زیادہ نشست کی ضرورت محسوس نہیں ہو سکتی۔\n\nمجھے یقین ہے کہ ’’مردم دیدہ‘‘ میں سوانح نگاری کی جو جدید طرز اردو میں پیش کی گئی ہے اس پر کئی ادیب طبع آزمائی کرنا پسند فرمائیں گے۔\n\nسید امتیاز علی تاج\n\n== موید الاسلام ==\nآقائے موید الاسلام جلال الدین طہرانی ایران کے ایک مشہور خانوادہ سیادت کے چشم و چراغ اور سیاسیات میں سید جمال الدین اسد آبادی کے مرید تھے۔ ناصر الدین شاہ قاچار کے عہد حکومت میں سید اسد آبادی مرحوم کی کوششوں سے جمہوریت پسندوں کا جو گروہ پیدا ہو گیا تھا، اس میں یہ بھی شریک تھے اور جمہوریت کے اصولوں کی تائید و حمایت میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ حکام کو ان کی سرگرمیاں خوش نہ آئیں اور ان کی گرفتاری کے احکام نافذ کر دئیے گئے۔ اتفاق سے انہیں پہلے ہی اس بات کی اطلاع ہو گئی تھی۔ یکہ و تنہا گھر سے نکل کھڑے ہوئے اور صعوبتیں اٹھاتے پولیس اور سرکاری جاسوسوں سے بچتے بچاتے ہندوستان پہنچے۔\n\nپہلے کچھ دن کلکتہ میں رہے۔ وہاں سے پٹنہ پہنچے۔ پٹنہ سے علی گڑھ کا رخ کیا اور سرسید احمد خاں مرحوم سے ملے وہ بہت اخلاق سے پیش آئے۔ اور مدرستہ العلوم میں فارسی کی پروفیسری پیش کی لیکن ان کی اور سید احمد خاں کی طبیعتوں میں زمین و آسمان کا فرق تا۔ وہ فرنگی دوست تھے اور یہ فرنگی دشمن۔ اس لئے صاف انکار کر دیا اور کلکتہ اٹھ آئے۔\n\nکلکتہ آتے ہی انہوں نے ’’ حبل المتین‘‘ کے نام سے ایک ہفت روزہ اخبار جاری کیا۔ جس میں شرق قریب خصوصاً ایران کے سیاسی اور معاشرتی مسائل کے متعلق مضامین شائع ہوتے تھے۔ یہ اخبار سارے اسلامی ملکوں میں پہنچتا اور بڑی قدر و منزلت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ خاص طور پر ایرانیوں کا تو یہ حال تھا کہ وہ اسے ’’ حبل المتین‘‘ مقدس کہتے تھے اور اس کے لفظ لفظ کو وحی و الہام سمجھتے تھے۔ آج تو ایران کے ہر شہر اور قصبہ سے کئی کئی اخبار نکل رہے ہیں۔ مگر اس زمانے میں ملک کے اندرانے گنے اخبار تھے اور ان میں سے بھی کسی کو ناصر الدین شاہ قاچار کے استبداد اور انگریزوں اور روسیوں کے بڑھتے ہوئے اقتدار کے خلاف احتجاج کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ لیکن موید الاسلام تیغ بے نیام تھے۔ انہوں نے قلم سنبھالا تو ناصر الدین شاہ کی انشاء 1؎ پردازی نے اس کی روشن خیالی کا جو نظر فریب طلسم باندھ رکھا تھا۔ اس کے دھوئیں اڑا دئیے۔ وہ موید الاسلام سے انتقام لینے کی فکر میں تھا کہ آزادی کے ایک فدائی نے اس کا کام تمام کر دیا۔\n\nموید الاسلام کی بصارت عین شباب میں ہی جواب دے گئی تھی مگر ان کی چشم\n\n1؎ ناصر الدین شاہ قاچار کے سفر نامہ نے اس ظالم بادشاہ کے بہت سے عیوب پر پردہ ڈال رکھا ہے۔\n\nبصیرت روشن تھی اور قدرت نے انہیں سیاسی مسائل کے فہم و درک کی غیر معمولی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ مشرق قریب کے مسائل کے متعلق وہ سند الوقت سمجھے جاتے تھے اور اسٹیٹس مین کے ایڈیٹر مسٹر آرتھر مور کو جب کوئی مشکل پیش آتی تھی تو انہیں سے رجوع کرتے تھے۔ ان کا انداز تحریر بہت سنجیدہ ہوتا تھا۔ شاعرانہ عبارت آرائی سے وہ ہمیشہ احتراز کرتے تھے اور جو کچھ کہنا ہوتا تھا استعارہ و تشبیہہ کا سہارا لئے بغیر سیدھے سادے الفاظ میں کہہ دیتے تھے۔ ایران کے امور ملکی پر وہ ہمیشہ بڑی شدت سے تنقید کرتے تھے لیکن ان کا انداز تنقید ہمدردانہ ہوتا تھا۔ وہ ایک مرتبہ جو رائے قائم کر لیتے تھے اس پر سختی سے عمل کرتے تھے۔ لیکن انہیں جب اپنی غلطی کا احساس ہوتا تھا تو رائے بدلنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے۔\n\nرضا خاں پہلوی جب تک جمہوریت کا دم بھرتا رہا موید الاسلام اس کے حامی تھے لیکن جب اس نے تمام وعدوں کو یک قلم فراموش کر کے تاج سلطنت سر پر رکھ لیا تو انہوں نے اس کی مخالفت شروع کر دی۔ یہ مخالفت کوئی معمولی چیز نہیں تھی۔ جسے حکومت ایران بآسانی برداشت کر لیتی چنانچہ ان کو ہموار کرنے کی بہت کوششیں کی گئیں لیکن وہ ایسے شخص نہیں تھے کہ روپے کے لالچ یا کسی دباؤ سے مخالفت ترک کر دیتے۔ ہاں جب انہوں نے خود محسوس کیا کہ رضا شاہ کا وجود ایران کے لئے مفید ہے تو کسی بیرونی اثر کے بغیر مخالفت ترک کر دی۔\n\nہندوستان کے مسائل سے بظاہر انہیں کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ خود بھی ہندوستانی سیاسیات سے بے تعلقی ظاہر کرتے تھے۔ لیکن در پردہ ہندوستان کی تمام قومی تحریکوں میں برابر حصہ لیتے رہتے تھے اور جب کوئی ایسی تحریک شروع ہوتی جس سے برطانیہ کے اقتدار پر زد پڑ سکتی تھی تو وہ ضرور اس کی مدد کرتے تھے لیکن اس معاملہ میں وہ اس قدر اخفا اور راز داری سے کام لیتے تھے کہ خاص خاص لوگوں کے سوا کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے پاتی تھی۔ ہندوستان کے برطانوی حکام انہیں بہت خطرناک شخص سمجھتے تھے لیکن ان کی تحریر و تقریر میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی تھی جس پر انگلی ر کھنے کی گنجائش نکل سکتی۔ جنگ عظیم سے کئی سال پہلے انہوں نے ’’ حبل المتین‘‘ میں حج کے متعلق ایک مضمون لکھا جس میں حج کی مذہبی اہمیت کے ساتھ اس کی سیاسی اہمیت کا بھی ذکر تھا اور اس سلسلہ میں وہ یہ بھی لکھ گئے تھے کہ حج اصل میں عالم اسلام کے نمائندوں کا سیاسی اجتماع ہے جو بدقسمتی سے ایک مذہبی رسم بن کر رہ گیا ہے۔ا گرچہ یہ مضمون بظاہر بے ضرر تھا لیکن اس پر سرکاری حلقوں میں بڑا شور مچا۔ اور گورنر بنگال نے ایک خیر خواہ سرکار ہندوستانی سے اس مضمون کا ذکر کرتے ہوئے کیا موید الاسلام کو ایسے مضامین لکھنے سے روکو۔ اگر حج کے متعلق اس کا منصوبہ کامیاب ہو گیا تو مشرق میں یورپ کی کسی قوم کے قدم نہیں جم سکیں گے۔\n\n۱۹۲۶ء میں موید الاسلام کے قلم سے برطانیہ کی مشرقی حکمت عملی کے خلاف کچھ ایسے تیز مضامین نکل گئے کہ انگریزی حکومت نے انہیں ہندوستان سے نکال دینے کا فیصلہ کر لیا۔ ہندوستان سے موید الاسلام کا تعلق ایک دو برس کا نہیں بلکہ پورے چالیس سال کا تھا۔ انہوں نے کلکتہ میں شادی کر لی تھی اور یہاں ان کی کچھ جائیداد بھی تھی۔ اس لئے اس پیرانہ سالی میں انہیں کلکتہ چھوڑنا بہت ناگوار تھا۔ ابھی وہ اس بات کا کوئی فیصلہ نہیں کر پا ئے تھے کہ ہندوستان چھوڑ کے کس طرف کا رخ کریں کہ اسلامی دنیا کے ہر حصہ سے دعوتیں آنے لگیں۔ مصطفیٰ کمال انہیں اپنے ہاں بلا رہے تھے۔ رضا شاہ پہلوی کی آرزو تھی کہ وہ اپنے آبائی وطن میں زندگی کے باقی ایام گزار دیں اور امان اللہ خاں چاہتے تھے کہ وہ ا فغانستان میں مستقل طور پر سکونت اختیار کر لیں۔ ان کے علاوہ شاہ فواد والئے مصر اور سلطان ابن سعود بھی انہیں اپنے ہاں آنے کی دعوت دے رہے تھے گویا بالکل یہ کیفیت تھی کہ\n\nہمہ آہواں صحرا سر خود فہادہ بر کف\n\nبامید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد\n\nلیکن عجیب بات یہ ہے کہ موید الاسلام نے جس ملک میں زندگی کے چالیس برس گزار دئیے وہاں کے بہت کم لوگ ان کے مرتبہ سے واقف تھے۔ کلکتہ میں تو اکثر لوگ انہیں جانتے تھے لیکن کلکتہ کے باہر تو ایسے لوگ بہت کم تھے جنہوں نے ان کا نام بھی سنا ہو۔ ایک دو اخباروں نے اس واقعہ پر بیدلی سے چند سطریں لکھ دیں۔ کلکتہ میں ایک بے رونق سا جلسہ بھی ہوا اور بس۔ با ایں ہمہ اسلامی ملکوں میں حکومت ہند کی اس حرکت کے خلاف جس قدر پر زور احتجاج ہوا اس سے متاثر ہو کر حکومت نے خود ہی ان کے اخراج کا حکم واپس لے لیا۔\n\nاس واقعہ سے کوئی سال ڈیڑھ سال کے بعد میں نے پہلی مرتبہ انہیں دیکھا۔ البرٹ ہال میں زاغلول پاشا کی وفات پر ایک ماتمی جلسہ ہوا جس کے صدر سر عبدالرحیم تھے۔ کلکتہ کے اکثر معززین جلسہ میں موجود تھے۔ ہال میں کہیں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ پہلے سر عبدالرحیم نے افتتاحی تقریر کی اور مجھ پر غنودگی سی طاری ہونے لگی۔ سر عبدالرحیم کی تقریریں عام طور پر بہت خواب آور ہوتی ہیں۔ وہ ہر لفظ کو اس طرح کھینچتے ہیں ۔ گویا الفاظ ربڑ کے بنے ہوئے ہیں۔ جنہیں وہ کھینچ کھینچ کے لمبا کر رہے ہیں۔ ان کی تقریر کے بعد ایک دو اور پھیکی اور بے مزہ سی تقریریں ہوئیں ۔ صدر نے آقائے موید الاسلام کا نام لیا اور وہ ایک شخص کے کندے پر ہاتھ رکھے لمحہ بھر میں اسٹیج پر آ گئے۔\n\nموید الاسلام دبلے پتلے سے آدمی تھے۔ رنگت کبھی بہت گوری ہو گی لیکن کلکتہ کی گرمی میں کسی قدر سنولا گئی تھی۔ پتلے پتلے ہونٹ۔ چھوٹے چھوٹے ہاتھ پاؤں۔ خشخسی داڑھی۔ سیاہ قبا اور اس پر سیاہ عمامہ جو ایران کے علماء کا عام لباس ہے۔ انہوں نے فارسی میں تقریر شروع کی لیکن مجمع میں فارسی جاننے والے بہت کم تھے کوئی پندرہ منٹ تقریر کی ہو گی کہ لوگ اٹھ اٹھ کر جانے لگے۔\n\nمعلوم ہوتا ہے انہیں فوراً اس بات کا احساس ہو گیا کہ اس اجتماع میں فارسی جاننے والے بہت کم ہیں کیونکہ انہوں نے تقریر جلد ختم کر دی اور بیٹھ گئے۔\n\nمجھے ان سے ملنے کی آرزو پہلے بھی تھی لیکن انہیں دیکھنے اور ان کی تقریر سننے کے بعد میرا اشتیاق بڑھ گیا چنانچہ ایک دن حضرت خیال مرحوم اور مولانا شائق احمد عثمانی کے ساتھ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ شہر سے باہر بنیاپوکھر روڈ پر ایک وسیع مکان میں رہتے تھے۔ مکان کے ایک حصے میں چھاپہ خانہ اور حبل المتین کا دفتر تھا۔ دوسرے میں ان کی سکونت تھی۔ ان کے ملازم نے ہمیں ایک وسیع کمرہ میں لے جا کر بٹھا دیا۔ کمرہ میں نہ فرش تھا۔ نہ کوئی آرائش کا سامان۔ وسط میں ایک بیضوی میز تھی۔ اس کے گرد چند کرسیاں پڑی تھیں ۔ چند منٹ کے انتظار کے بعد وہ تشریف لائے۔ اس وقت وہ سر سے ننگے اور ایک لمبا سپید کرتا پہنے ہوئے تھے۔ ہاتھ میں ایک لکڑی تھی۔ جو راستہ ٹٹولنے کے کام آتی تھی۔ سب کے ساتھ بڑے تپاک سے ملے۔ مزاج پرسی کے بعد اسلامی ممالک کی سیاسیات کے متعلق بحث چھڑ گئی۔\n\nان دنوں سلطان ابن سعود کی مخالفت کی کجلائی ہوئی آگ پھر سلگ اٹھی تھی۔ لکھنو سے علامہ ہندی خاص طور پر اسی غرض سے کلکتہ تشریف لائے ہوئے تھے کہ لوگوں کو ابن سعود کی مخالفت پر آمادہ کیا جائے۔ یہ تذکرہ چھڑا تو مولانا شائق کی زبان سے نکل گیا ۔ ’’ ابن سعود سے قبہ گرانے کے معاملہ میں غلطی تو ضرور ہوئی۔‘‘ موید الاسلام بولے ’’ مسلمانوں کو قبوں میناروں اور قبروں سے جتنا شغف ہے کاش اس سے آدھا زندہ انسانوں سے ہوتا۔‘‘ پھر کہنے لگے’’ تم مردوں کو روتے ہو اور مجھے صرف زندوں کی فکر ہے۔‘‘\n\n’’ یہ جو تھوڑے بہت آزاد مسلمان دنیا میں نظر آ رہے ہیں یہ یورپ والوں سے بچے رہیں تو اسے غنیمت سمجھو۔‘‘ حضرت خیال مسکرائے۔ مولانا شائق نے مجھے کنکھیوں سے اس طرح دیکھا گویا کہہ رہے ہیں کہ یہاں آ کے تم بھی وہابی بن گئے مگر میں چپکا بیٹھا رہا۔ اتنے میں موید الاسلام کی آواز پھر گونجی’’ بابا شائق اگر ابن سعود دنیا بھر کی قبریں کھود ڈالے۔ تو مسلمانوں کا کیا بگڑ جائے گا۔‘‘ یہ گویا ٹیپ کا بند تھا۔ مجھے اس موقع پر سیٹھ چھوٹانی اور مولوی قحبندی یاد آ گئے کہ اس محفل میں وہ بھی موجود ہوتے تو کیا کہتے؟\n\nہم تینوں اگرچہ فارسی جانتے تھے اور فارسی میں گفتگو کر سکتے تھے لیکن موید الاسلام سے اردو میں ہی باتیں ہوتی رہیں۔ میں نے اس خیال سے ایک آدھ مرتبہ فارسی میں بات کرنے کی کوشش کی کہ شاید اس ترکیب سے یہ اردو کا پنڈ چھوڑ دیں لیکن انہوں نے رسید تک نہ دی۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ خود فارسی بولنا نہیں چاہتے تھے بلکہ انہیں ہماری ہندوستانی قسم کی فارسی سنانا گوارا تھا۔ ان کی اردو بھی ہماری فارسی سے کسی طرح بہتر نہیں تھی۔ یعنی خالص ایرانی لہجہ میں اردو بولتے تھے اور تذکیر و تانیث کی بھی چنداں پرواہ نہیں کرتے تھے پھر بھی ہم نے اسے بزرگوں کا تبرک سمجھ کر گوارا کر لیا۔\n\nباتوں باتوں میں میں نے پوچھا۔’’ رضا شاہ پہلوی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ کہنے لگے ’’ وہ مصطفیٰ کمال تو نہیں لیکن بہرحال غنیمت ہے۔ ایرانیوں کو مدت سے ایسا رہنما نہیں ملا۔‘‘ میں نے کہا اور ’’ ابن سعود‘‘ کہنے لگے ’’ بڑا دانش مند شخص ہے۔‘‘ میں نے کہا’’ ابھی تک تو انگریزوں کے اشارے پر ہی چل رہا ہے۔‘‘ فرمایا ’’ بیچارا کیا کرے مجبور ہے۔ لیکن اسے موقع مل گیا تو دیکھ لینا کیا کرتا ہے؟‘‘ میں نے پھر کہا’’ امان اللہ خاں کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘ یہ سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے’’ تم ایک سانس میں ساری دنیا کے متعلق میری رائے معلوم کر لینا چاہتے ہو۔‘‘\n\nان دنوں امان اللہ خاں یورپ کی سیاحت میں مصروف تھا۔ خیال مرحوم بولے ’’ یورپ میں اس کی آؤ بھگت تو خوب ہوئی ہے۔‘‘ کہنے لگے’’ مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ آؤ بھگت ہی اس کے لئے وبال ثابت نہ ہو۔‘‘ میں نے کہا وہ کیسے؟ کہنے لگے’’ امان اللہ خاں بڑا ہونہار لڑکا ہے۔ اس کے خیالات بھی اچھے ہیں لیکن ابھی ناتجربہ کار ہے۔ قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتا ہے۔ یہ کہتے کہتے وہ جوش میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ ان کی بے نور آنکھیں بحد وسعت کشادہ ہو گئیں۔ دہنا ہاتھ مغرب کی طرف پھیل گیا اور وہ کہنے لگے ’’ میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں تم نہیں دیکھ سکتے۔ امان اللہ خاں اگر سیدھی راہ چلا تو کوئی عجب نہیں کہ خلافت کا منصب اس کے ہاتھ آ جائے۔ وسط ایشیا کی قوموں میں پھر قومی شرف کا سچا احساس پیدا ہو جائے۔ اور ہم مشرق میں کامرانی کی ایک نئی صبح طلوع ہوتے دیکھیں۔ یاد رکھو۔ ایک بہت بڑا طوفان آنے والا ہے۔ ایک شدید طوفان۔‘‘ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کے لئے رک گئے۔ اور مجھے ایسا معلوم ہوا کہ افق کے اس پارسنانوں کی بجلیاں چمک رہی ہیں۔ شمال کی تیز ہوا میں سفید عمامے لہرا رہے ہیں اور کہیں بہت دور سے قرناؤں کے پھنکنے اور گھوڑوں کے ہنہنانے کی آوازیں آ رہی ہیں۔ اتنے میں پھر ان کی آواز گونجی ’’ لیکن ایسا نہیں ہو گا۔ وہ تباہی کا راستہ ہے۔ ابھی ہمیں کچھ دیر اور انتظار کرنا پڑے گا۔‘‘ یہ الفاظ انہوں نے بہت جلد جلد کہے اور میں نے ایسا محسوس کیا کہ اندھیری رات میں ایک بجلی سی کوند گئی۔ جس نے سنگلاخ چٹانوں کے پر ہیبت چہرہ کو لمحہ بھر کے لئے بے نقاب کر دیا۔ اب جو میں نے نظر اٹھا کے دیکھا تو آقائے موید الاسلام کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی آنکھیں جھکی جا رہی تھیں۔ اور چہرہ زرد تھا۔ ہم کچھ دیر بیٹھے رہے۔ لیکن وہ کچھ کھوئے کھوئے سے معلوم ہوتے تھے۔ اس لئے ہم نے اجازت چاہی۔ دروازہ سے نکلتے وقت خیال مرحوم کہنے لگے ‘‘ میں نے موید الاسلام کو اس عالم میں کبھی نہیں دیکھا۔\n\nراستہ بھر ہم نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی۔ ہم تینوں اپنے اپنے خیالات میں کھوئے ہوئے تھے۔\n\nآقائے موید الاسلام کی زندگی بڑی عزت اور گوشہ نشینی کی زندگی تھی۔ وہ گھر سے بہت کم نکلتے تھے اور ان کے اوقات کا بیشتر حصہ لکھنے پڑھنے میں صرف ہو جاتا تھا۔ اس سے جو وقت ملتا تھا۔ وہ مقدمہ بازی کی نذر ہو جاتا تھا کیونکہ ان کی جائداد کے متعلق ہمیشہ کوئی نہ کوئی جھگڑا ضرور رہتا تھا۔ شہرت سے انہیں سخت نفرت تھی۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ بھئی کام ہونا چاہئے۔ نام و نمود کی طلب بے سود ہے۔ انہوں نے کوئی تصنیف یادگار نہیں چھوڑی۔ لیکن اکثر کتابیں جو دوسرے لوگوں کے ناموں سے چھپیں ان کی تصنیف میں موید الاسلام کا ہاتھ تھا اور اکثر لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ سیاحت نامہ ابراہیم بیگ بھی اصل میں انہیں کی تصنیف ہے۔ یہ خیال تو صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ کتاب انہیں کے ایماء سے لکھی گئی ہو۔\n\nعقاید کے اعتبار سے وہ شیعی تھے اور شیعی بھی کیسے؟ بہت بڑے مجتہد زادے لیکن تشیع کو وہ محض ایک سیاسی عقیدہ سمجھتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ جن لوگوں کے باہمی جھگڑوں نے تشیع کو پیدا کیا وہ بھی نہ رہے۔ جس نے خلافت کے لئے جھگڑا تھا وہ بھی ختم ہو گئی۔ اب شیعیت کیس؟ ہاں وہ پکے وطن پرست ضرور تھے اور وطنیت کے معاملہ میں ضرورت سے زیادہ حساس۔ ایران کے خلاف کسی نے کچھ کہا اور وہ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو گئے۔ چنانچہ ان کے ملنے والوں میں ایک صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ تم موید الاسلام کو کیا سمجھتے ہو۔ اس کا بس چلے تو ہندوستان پر ایران کا قبضہ کرا دے۔\n\nہندوستان کے متعلق ان کی رائے یہ تھی کہ اول تو حقوق کی تقسیم کے لئے سمجھوتے کرنا ہی بے سود ہے اور اگر سمجھوتا ہی کرنا ہے تو مسلمانوں کو ہر چیز میں نصف کا مطالبہ کرنا چاہئے ۔ ایک دن یہی بحث ہو رہی تھی۔ ایک کانگریسی بزرگ نے کہا کہ مسلمان تو تہائی کے حقدار ہیں۔ نصف کیسے مانگیں؟ یہ سن کر مسکرائے۔ آدھا مانگو تو بڑی رد و قدح کے بعد تہائی ملے گا۔ تم نے تہائی سے شروع کیا ہے دس سال کے بعد چوتھائی پر آ رہو گے۔\n\nکوئی شخص کوئی اچھا مضمون لکھتا۔ یا کوئی اچھی بات کہتا تو بہت خوش ہوتے اور فرماتے تھے۔ ’’ آخر شاگرد ماست‘‘ ہندوستان کے مسلمان سیاست دانوں میں صرف مولانا ابو الکلام آزاد کے قائل تھے اور اکثر کہا کرتے تھے ’’ ابو الکلام بہت ہونہار لڑکا ہے۔ چرانہ باشد۔ آخر شاگرد ماست‘‘ اور یہ فقرہ ان کی زبان پر اس طرح چڑھا ہوا تھا کہ جن لوگوں سے ان کی جان پہچان تک نہ تھی ان کے متعلق بھی کوئی اچھی بات سنتے تو آخر ’’ شاگرد ماست‘‘ کہہ کر ہی داد دیتے تھے۔\n\nمیں پہلے لکھ چکا ہوں کہ ہندوستان آئے انہیں تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ وہ بصارت سے محروم ہو گئے۔ اس لئے لکھنے پڑھنے کے معاملہ میں وہ بہت حد تک دوسروں کے محتاج تھے۔ صبح اٹھتے ہی اخباروں کے اہم حصے پڑھوا کے سنتے۔ لیکن جو کچھ سنتے اسے ذہن میں اس طرح محفوظ کر لیتے تھے کہ جب حبل المتین کے لئے مضمون لکھوانا شروع کرتے تو محض حافظہ کی مدد سے دوسروں کی تحریروں کے لمبے لمبے اقتباسات لکھوا دیتے تھے۔ ان کے ڈھب کی کوئی کتاب چھپتی تو ضرور منگواتے۔ اور ایک دفعہ پڑھوا کے سننے کے بعد اس کی جستہ جستہ عبارتیں تو انہیں یاد ہو جاتی تھیں لیکن وہ زیادہ تر وہی کتابیں پڑھوا کے سنتے تھے جن کا تعلق سیاسیات تاریخ اور فلسفہ سے ہوتا تھا۔ شعر و شاعری کا چنداں مذاق نہیں رکھتے تھے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ ایران اور ہندوستان دونوں کو شاعری نے ڈبویا۔\n\nایرانیوں کو ان سے اس درجہ عقیدت تھی کہ کلکتہ سے کوئی شخص ایران چلا جاتا تھا تو لوگ اس کی ملاقات کو باعث شرف سمجھتے تھے۔ ڈاکٹر ظفر احمد جو حکیم سید قاسم علی مرحوم کے فرزند اور کلکتہ کے نامور ڈاکٹر ہیں کہتے تھے کہ میں ایران گیا۔ تو جدھر جاتا تھا لوگ مجھ سے ملنے کو ٹوٹ پڑتے تھے اور ہر شخص مجھے اپنا مہمان بنانے کا آرزو مند نظر آتا تھا اور مجھ میں لے دے کے صرف یہ خوبی تھی کہ میں اور موید الاسلام مدت سے ایک ہی شہر میں رہتے ہیں۔\n\nکلکتہ میں موید الاسلام کا امکان ایرانیوں کے لئے اچھی خاصی سیاسی درسگاہ تھا۔ ایران سے بعض نوجوان محض ان سے سیاسیات کے گر سیکھنے کلکتہ آتے اور مہینوں بلکہ بعض اوقات برسوں ان کے ہاں پڑے رہتے تھے۔\n\nموید الاسلام نے ۱۹۳۲ء میں انتقال کیا۔ نعش ان کی وصیت کے مطابق ایران بھیج دی گئی۔ انہوں نے کوئی اولاد نرینہ یادگار نہیں چھوڑی۔ البتہ دو صاحبزادیوں نے باپ کے نام کو روشن کیا۔ ان میں سے بڑی بیگم امیر الدین ہیں جو نسوانی تحریکوں میں حصہ لیتی رہتی ہیں اور چھوٹی فرخ سلطان موید زادہ۔ جنہوں نے ہندوستان کی مسلمان عورتوں میں سب سے پہلے وکالت کا امتحان پاس کیا اور کلکتہ میں وکالت کر رہی ہیں۔\n\nمرحوم کو سید جمال الدین اسد آبادی سے بے حد عقیدت تھی۔ اور اکثر اس بات پر افسوس کیا کرتے تھے کہ سید موصوف کے حالات میں کوئی مبسوط کتاب نہیں لکھی گئی۔ خود کئی مرتبہ ارادہ کیا لیکن جس پایہ کی کتاب وہ لکھنا چاہتے تھے اس کے لئے سامان فراہم نہ ہو سکا۔ دوسروں سے کہا اور اس کام کے لئے روپیہ صرف کرنے پر بھی آمادہ ہو گئے لیکن کسی کو اس کام کا بیڑا اٹھانے کی ہمت نہ پڑی۔ خدا کی قدرت دیکھئے کہ خود ان کے ساتھ بھی زمانے نے یہی سلوک کیا۔ یعنی آج تک ان کے حالات میں کوئی چھوٹی موٹی کتاب بھی نہیں لکھی گئی۔\n\n== خیال عظیم آبادی ==\nپنجاب فائن آرٹ پریس والے برج لال بابو کو رسالہ نکالنے کا شوق تھا اور مجھے ایڈیٹر بننے کا۔ آخر ہم دونوں کے اشتراک سے ۲۵ء کے اواخر میں رسالہ آفتاب نکلا۔ میں نیا نیا اخبار نویسی کے میدان میں آیا تھا۔ پہلے پرچہ کے تقریباً سارے مضامین خود لکھے۔ ایک دو افسانے تھے دو تین غزلیں۔ تین چار ذرا سنجیدہ قسم کے مضامین۔ پہلا پرچہ تو خیر جوں توں کر کے نکل گیا لیکن ہر مہینے سارے مضامین خود لکھنا ذرا ٹیڑھا کام تھا اس لئے اچھے اچھے مضمون نگاروں کی جستجو ہوئی۔ سید نجیب اشرف ندوی پاس ہی رہتے تھے۔ پہلے انہیں گانٹھا۔ پھر ان کے توسط سے پروفیسر محفوظ الحق سے ملا۔ اور انہوں نے حضرت خیال کی خدمت میں پہنچا دیا۔\n\nسید سلیمان ندوی کلکتہ آئے ہوئے تھے۔ مسلم انسٹی ٹیوٹ میں عربوں کی جغرافیہ دانی پران کی تقریر تھی۔ اور خیال اس جلسے کے صدر تھے۔ میں نے اس سے پہلے انہیں نہیں دیکھا تھا۔\n\nسید سلیمان تقریر کر چکے۔ تو وہ اٹھے اور چند جملے کہہ کر بیٹھ گئے۔ اسی رات کو میں محفوظ میاں کے ساتھ ان سے ملا۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میر انیس کا ذکر آ گیا۔ کہنے لگے ’’ میر انیس کے متعلق ابھی اردو میں بہت کم لکھا گیا ہے۔ لے دے کے ایک مولانا شبلی کا موازنہ ہے۔ لیکن مولانا کہیں کہیں دھاندلی کر جاتے ہیں۔ میں نے کہا کسی صاحب نے موازنہ کا جواب لکھا ہے۔ شبلی نے انیس کو بڑھایا ہے۔ انہوں نے دبیر کو انیس پر فوقیت دی ہے۔ ’’ مکاتیب شبلی‘‘ میں مولانا کا ایک خط چھپا ہے جس میں انہوں نے اسی کتاب کی تعریف کی ہے۔‘‘\n\nمیں کہنے کو تو یہ بات کہہ گیا۔ لیکن اب جو غور کرتا ہوں تو حضرت خیال کے چہرہ کی رنگت متغیر ہے اور محفوظ میاں کے ابر پر بل پڑے ہیں۔ کچھ دیر تو سناٹا رہا۔ پھر خیال کہنے لگے ’’ ہاں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو شیخ امام بخش ناسخ اور مرزا دبیر کو شاعر سمجھتے ہیں۔‘‘ میں کچھ کہنے کو تھا کہ محفوظ صاحب نے کوئی اور تذکرہ چھیڑ دیا اور بات کا رخ دوسری طرف پلٹ گیا۔\n\nتھوڑی دیر کے بعد ہم دونوں رخصت ہوئے۔ سڑک پر پہنچ کر میں نے محفوظ صاحب سے کہا ’’ معلوم ہوتا ہے دبیر کا نام لینے میں میں نے سخت غلطی کی ہے؟‘‘ کہنے لگے’’ یہ بات تو نہیں۔ البتہ تم نے جس انداز میں انیس اور دبیر کا ذکر کیا اس سے معلوم ہوتا تھا کہ تم خود بھی دبیر کو انیس سے بہتر سمجھتے ہو۔ تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت خیال بڑے پکے انیسئے ہیں۔ میں نے تمہیں بہتیرے اشارے کئے لیکن تم کب رکتے تھے؟ اب یہ تو آفتاب کے لئے مضمون لکھنے سے رہے۔‘‘ میں نے کہا’’ فکر نہ کرو۔ دو تین ملاقاتوں میں انہیں ڈھب پر لے آؤں گا۔‘‘ اور یہی ہوا خیال پڑھتے بہت تھے۔ لکھتے بہت کم تھے اور لکھتے بھی تھے تو کسی رسالے میں نہیں چھپواتے تھے۔ لیکن اب جو انہوں نے لکھنا شروع کیا تو آفتاب کا کوئی نمبر ان کے مضمون سے خالی نہیں ہوتا تھا۔ وہ شہر سے باہر تالتلہ کے پاس رہتے تھے۔ میں تقریباً ہر شام کو کام سے فارغ ہو کر ان کے ہاں پہنچ جاتا تھا۔ رات کے بارہ بجے تک صحبتیں رہتی تھیں اور اتوار کو سارا دن انہیں کے ہاں گزرتا تھا۔ انہیں صحبتوں میں کبھی مولانا شائق احمد عثمانی ہوتے تھے کبھی نواب زادہ ایف ایم عبدالعلی باقی غازی پوری۔ خان بہادر رضا علی وحشت پروفیسر محفوظ الحق اور پروفیسر عبدالرحیم تشریف لے آتے تھے۔\n\nخیال کا پورا نام سید نصیر حسین خیال تھا۔ ان کے والد سید نو روز حسین عظیم آباد کے مشہور شرفاء میں سے تھے اس کا سلسلہ نسب سادات بارہہ کی اس شاخ سے ملتا تھا۔ جس میں سید عبداللہ اور سید حسین ہوئے ہیں۔ یہ وہی دو بھائی ہیں جو تاریخ میں بادشاہ گھر سیدوں کے نام سے مشہور ہیں۔ شاد عظیم آبادی خیال کے سگے ماموں ہوتے تھے۔\n\nخیال نے عربی بقدر ضرورت پڑھی تھی۔ فارسی میں ان کی استعداد فاضلانہ تھی۔ انگریزی بھی اچھی خاصی جانتے تھے۔ بچپن سے کلکتہ ان کا آنا جانا تھا۔ چونکہ ان کی شادی مٹیا برج میں ہوئی تھی۔ اس لئے جوانی ہی میں کلکتے اٹھ آئے۔ اور ساری عمر وہیں گزار دی۔ جب سید علی امام حیدر آباد میں وزیراعظم مقرر ہوئے تو ان کے ساتھ یہ بھی حیدر آباد پہنچے اور کئی خدمتوں پر مامور ہوئے۔ مہاراجہ سرکشن پرشاد سے ان کے تعلقات گہرے تھے۔ حیدر آباد سے واپس آنے کے بعد بھی برابر ان سے خط و کتابت جاری رہی۔ سر علی امام کے ساتھ ولایت بھی گئے اور انگلستان کے علاوہ فرانس، جرمنی، آسٹریا، مصر وغیرہ ملکوں کی سیر کی۔ واپس آئے تو حسن خدمت کے صلے میں ادیب الملک نصیر یار جنگ کا خطاب پایا۔ حیدر آباد سے تعلقات منقطع ہونے پر کچھ دنوں کے لئے خیر پور بھی رہے لیکن وہاں کی فضا انہیں راس نہ آئی۔\n\nخیال کی رنگت گوری چٹی تھی۔ قد مولوی غلام محی الدین قصوری سے کسی قدر نکلتا ہوا۔ دبلا پتلا جسم۔ بڑی بڑی آنکھیں۔ سوتواں ناک۔ کھلی پیشانی، داڑھی منڈی ہوئی، مونچھیں نکیلی زیادہ تر انگریزی لباس پہنتے تھے۔ کبھی کبھی شیروانی اور گھٹنا بھی پہن لیتے تھے۔ میں نے انہیں پہلی مرتبہ دیکھا تو سیاہ سوٹ پہنے ہوئے تے۔ جو ان کی گوری رنگت پر عجب بہار دے رہا تھا۔ اس وقت ان کی عمر پچپن سال کی تھی لیکن طبیعت بے اختیار ان کی طرف کھینچتی تھی۔ جوانی میں خدا جانے کیا قیامت ہوں گے۔؟\n\nعقیدہ کے لحاظ سے شیعہ تھے۔ لیکن غلو ان کی طبیعت میں نام کو نہ تھا۔ میں نے انہیں نہ کبھی محرم کی مجلسوں میں شریک ہوتے دیکھا۔ نہ انہوں نے تعزیہ داری میں شرکت کی۔ خود کہتے تھے کہ ان چیزوں سے کیا حاصل؟ تعزیہ داری اصل میں پروپیگنڈے کا ایک طریقہ تھا۔ جن لوگوں کے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا گیا تھا جب وہ نہ رہے تو تعزیہ داری کیا ضرورت باقی رہ گئی؟ سیاسیات میں وہ سرسید اور ان کے ساتھیوں کے معتقد تھے اور پرانی مسلم لیگ سے جو سوٹ ایبل سلف گورنمنٹ کو معراج سمجھتی تھی۔ مدت تک وابستہ رہے تھے وہ سیاسی قضیوں میں خود آگے نہیں آتے تھے البتہ پس پردہ بیٹھ کے ڈور ضرور ہلاتے رہتے تھے۔ چنانچہ سر عبدالرحیم کو سیاسیات کی طرف لانے میں ان کا بڑا حصہ تھا۔ سر عبدالرحیم مدراس سے نئے نئے آئے تھے۔ یہاں یار لوگوں نے انہیں بہلا پھسلا کے علی گڑھ مسلم لیگ کی صدارت پر آمادہ کر لیا۔ اس اجتماعی میں انہوں نے ایسی تقریر کی کہ مدت تک ان کا نام ڈاکٹر مونجے کے نام کے ساتھ ایک ہی سانس میں لیا جاتا رہا۔\n\nشاعری کے معاملے میں مرحوم کا عجب حال تھا۔ وہ لوگوں میں زیادہ اپنے تخلص سے مشہور تھے لیکن خود شعر نہیں کہتے تھے بلکہ ہمیشہ شعر و شاعری کی مذمت کرتے اور جہاں تک ہو سکتا نوجوانوں کو شعر کہنے سے روکتے تھے۔ مشاعروں سے تو انہیں چڑھ سی تھی۔ کہتے تھے کہ مشاعروں نے شاعری کی اہمیت کو کھو دیا ہے۔ ایک دن مشاعروں کا ذکر ہو رہا تھا میں نے کہا’’ نواب صاحب آپ جوانی میں تو مشاعروں میں شریک ہوئے ہوں گے؟‘‘ کہنے لگے ’’ میں آج تک کبھی مشاعرہ میں نہیں گیا۔ پٹنہ کے اکثر بڑے بڑے مشاعرے ہمارے مکان میں ہی ہوئے ہیں اور ان میں بعض مشاعرے ایسے بھی تھے جن میں داغ اور امیر بھی شریک ہوتے رہے لیکن میں پاس کے کمرے میں مزے سے سوتا رہتا تھا۔ ہاں کبھی کبھی داد کے شور و غل سے آنکھ کھل جاتی تھی۔ تو میں بھی دو تین شعر سن لیتا تھا۔‘‘ میں نے کہا ’’ آپ نے شعر تو ضرور کہے ہوں گے؟‘‘\n\nکہنے لگے جوانی میں کبھی کبھی کہہ لیا کرتا لیکن جو کچھ کہا نہ کسی مشاعرہ میں پڑھا نہ کہیں چھپوایا۔ پھاڑ کے پھینک دیا اس قصہ کو بیس پچیس سال ہو چکے ہیں۔\n\nان دنوں ایک دلچسپ واقعہ ہوا۔ گورنر بنگال نے سر عبدالرحیم کو وزارت مرتب کرنے کے لئے کہا۔ لیکن وہ علی گڑھ والی تقریر کی وجہ سے ہندوؤں میں بہت بدنام ہو چکے تھے۔ کوئی ہندو ان کے ساتھ مل کر وزارت مرتب کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ گورنر نے مجبور ہو کر مسٹر بی سی چکرورتی کو طلب کیا اور انہوں نے سرائے کے غزنوی کے ساتھ مل کر وزارت قائم کر لی۔ سر عبدالرحیم موقع پا کر کانگریس سے جا ملے اور وزارت کا تار پود بکھیر کر رکھ دیا۔ اس واقعہ پر اخباروں میں بڑے زناٹے کے مضامین نظم و نثر چھپے۔ ان میں ایک مزے کی نظم بھی تھی جو مولانا محمد علی کے اخبار ہمدرد دہلی میں شائع ہوئی تھی۔ ہمدرد نے شاعر کا نام نہیں بتایا تھا البتہ اس کے ابتداء میں ایک نوٹ لکھ کر واضح کر دیا تھا کہ یہ نظم کلکتہ کے ایک صاحب ذوق بزرگ کے قلم سے نکلی ہے۔\n\nکوئی پچاس پچپن شعر کی نظم تھی لیکن سارے شعر ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے۔ مجھے صرف ایک شعر یاد رہ گیا ہے۔\n\nغزنوی کون کہے تجھ سے دنی فطرت کو\n\nنام محمود نما اور غلامی میں ایاز\n\nیہ نظم پڑھ کے بہت حیرت ہوئی کہ کلکتہ میں کون ہے جو ایسے شعر لکھے۔ ہر پھر کے حضرت خیال پر ہی نظر پڑتی تھی لیکن اس معاملہ میں ان کا یہ حال تھا کہ شعر کا نام لیتے ہی کانوں پر ہاتھ رکھتے تھے۔ دوسرے دن میں ان سے ملنے گیا تو ہمدرد کا پرچہ ان کی میز پر پڑا تھا۔ میں نے پرچہ اٹھا کے کہا ’’ آپ نے یہ نظم ملاحظہ فرمائی۔‘‘ کہنے لگے ’’ ہاں‘‘ میں نے کہا’’ کیا خیال ہے؟‘‘ کہنے لگے ’’ خاصی ہے‘‘ میں نے کہا’’ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کلکتہ میں ایسی نظم لکھنے والا کون ہے؟‘‘ مسکرا کر کہنے لگے’’ بہتیرے اللہ کے بندے پڑے ہیں۔‘‘ میں نے کہا’’ کہیں آپ تو نہیں؟‘‘ یہ سن کر مسکرا پڑے اور پہلو بدل کے کوئی اور ذکر چھیڑ دیا۔\n\nمیں تو یہ سمجھ گیا کہ یہ نظم انہوں نے ہی لکھی ہے لیکن انہیں اخفا منظور تھا۔ اس لئے میں نے بھی زیادہ اصرار مناسب نہ سمجھا۔\n\nاگلے پچھلے شعرا میں وہ دو تین کے سوا کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ لکھنو کے شاعروں میں صرف آتش کے قائل تھے۔ غالب اور میر کے کمال کے بھی معترف تھے لیکن جتنی عقیدت انہیں انیس اور درد سے تھی اور کسی سے نہیں تھی۔ آخری زمانہ کے شعرا میں شاد کی بہت تعریف کیا کرتے تھے۔ زبان کی صحت اور صفائی کا انہیں بہت خیال تھا لیکن اس معاملہ میں لکھنو اور دہلی کے تفوق کے چنداں قائل نہیں تھے۔ ایک دن میں نے کہا اقبال پر لکھنو والوں نے بڑے بڑے اعتراضات کئے ہیں۔ کہنے لگے ’’ اقبال کی زبان پنجاب والوں کے لئے مستند ہے۔ لکھنو کے شاعروں کو کیا حق ہے کہ ان پر اعتراض کریں۔ وہ زمانہ گیا جب لکھنو کی زبان آوری کا سکہ سارے ہندوستان پر چلتا تھا۔‘‘\n\nایک دن کہنے لگے’’ بھئی دلی میں بھی کوئی شخص اچھے شعر کہتا ہے؟‘‘ میں نے کہا’’ دلی میں بیخود کی بڑی تعریف سنی ہے۔‘‘\n\nکہنے لگے ’’ ان کا کوئی شعر سناؤ۔‘‘ میں نے یہ دو شعر سنائے:\n\nسلسلہ دل کا بندھے زلف گرہ گیر کے ساتھ\n\nاپنی تقدیر ملا دو میری تقدیر کے ساتھ\n\nکبھی قسمت کی شکایت کبھی رونا دل کا\n\nرات دن رہتی ہیں باتیں تری تصویر کے ساتھ\n\nدوسرا شعر سن کے مسکرائے اور کہنے لگے۔\n\n’’ خیالات سے تو میں بحث نہیں کرتا۔ البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ ’’ ساتھ‘‘ کا یہ موقع نہیں۔ دلی والوں کی برتری زبان کی وجہ سے تھی۔ زبان بھی نہ رہی تو دلی کے پاس کیا رہ گیا۔‘‘\n\nمیں نے کہا’’ شاعری نہ سہی نثر نگاری میں تو راشد الخیری اور حسن نظامی کی بڑی شہرت ہے۔‘‘ کہنے لگے ’’ راشد الخیری اچھا لکھتے ہیں لیکن اس کا کیا علاج کہ نذیر احمد کی طرح وہ بھی محاروں پر جان دیتے ہیں۔ نذیر احمد نے قرآن کا ترجمہ کیا لیکن محاورے لکھنے کی دھن میں اسے باہر والوں کے لئے چیستان بنا دیا ہے۔ کہیں کہیں ایسے الفاظ اور محاورات لکھ گئے ہیں جنہیں دلی سے بارہ کوس ادھر کوئی نہیں سمجھتا۔‘‘ میں نے پوچھا ’’ اور خواجہ حسن نظامی‘‘ کہنے لگے ’’ میں خواجہ صاحب کے دوسرے کمالات کا قائل ہوں لیکن ان کی زبان کو مستند نہیں سمجھتا۔‘‘\n\nمیر انیس سے انہیں اس درجہ عقیدت تھی کہ سارے شاعروں کا کمال ان کی شاعری کے سامنے ہیچ نظر آتا تھا کبھی کبھی میں حاضر ہوتا تھا تو وہ انیس کا کوئی مرثیہ پڑھنا شروع کر دیتے تھے۔ ایک ایک بند پر خود وجد کرتے دوسروں کو وجد میں لاتے تھے۔ میر حسن سے بھی انہیں بڑی عقیدت تھی اور شاید اس عقیدت کی وجہ یہ تھی کہ وہ میر انیس کے دادا تھے۔\n\nخیال کبھی کوئی پرانا قصہ بیان کرتے تھے تو سماں باندھتے تھے اور لکھنے بیٹھتے تھے تو موتی رولتے چلے جاتے تھے۔ نثر میں ان کا انداز محمد حسین آزاد سے بہت ملتا جلتا ہے لیکن آزاد اپنی تحریروں کو بہت کاٹ چھانٹ کے بعد شائع کرتے تھے۔ انہوں نے جہاں کوئی چیز قلم برداشتہ لکھی ہے۔ اس میں ان کے حقیقی انداز کی جھلک تک نظر نہیں آتی۔ ان کے خطوں کا مجموعہ مکتوبات آزاد کے نام سے چھپ گیا ہے۔ دو تین خطوں کے سوا باقی سب پھیکے ہیں۔ خیال کا یہ حال نہیں تھا۔ وہ قلم برداشتہ بھی لکھتے تھے۔ تو ماہر فن مرصع نگار کی طرح الفاظ کے نگینے جڑتے چلے جاتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے دوستوں کو وقتاً فوقتاً جو خط لکھے ہیں ان میں بھی عجب کیفیت ہے کئی مضمون انہوں نے مجھے لکھوا دئیے اور نظر ثانی کئے بغیر چھپنے بھیج دیئے۔\n\nانہوں نے پہلا مضمون غالباً رسالہ حسن میں لکھا تھا جو نواب محسن الملک کی ایڈیٹری میں دکن سے نکلتا تھا۔ پھر جب پٹنہ سے ان کے دوست سید علی سجاد عرف پیارے صاحب نے رسالہ ادیب نکالا تو اس میں مضامین لکھنے لگے۔ کچھ دیر تک ضامن کنتوری کے رسالے لسان الملک میں بھی لکھتے رہے چنانچہ خالاؤں کا مارا آغا پہلے پہل لسان الملک میں ہی چھپا تھا۔ اس مضمون میں انہوں نے ایک تازہو ارد ایرانی کا قصہ بیان کیا تھا جو بلیوں سے بہت ڈرتا تھا۔ اس قصے میں آدھی اردو تھی۔ آدھی فارسی لیکن فارسی ایسی شستہ و رفتہ کہ کسی ایرانی کو بھی حرف گیری کی جرأت نہیں ہو سکتی تھی۔\n\n۱۹۱۶ء میں کانگریس اور مسلم لیگ کے جلسوں کے ساتھ ساتھ لکھنو میں ایک دھوم دھامی کانفرنس ہوئی جس کے صدر نواب خیال تھے۔ انہوں نے اس جلسے میں خطبہ پڑھا۔ اس میں انہوں نے زبان اردو کی پوری تاریخ بیان کر دی تھی۔\n\nابو الاثر حفیظ جالندھری کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ لکھنو گیا اور مولانا شرر کے ہاں کئی دن رہا۔ ان کے کتب خانہ میں اس خطبہ کا ایک نسخہ تھا۔ میں نے اسے پڑھا تو تحریر کا انداز بہت پسند آیا۔ مولانا سے کتاب مانگنے کی ہمت تو نہ پڑتی تھی۔ آخر ایک دن جی کڑا کر کے ان سے کہہ دیا کہ یہ کتاب مجھے دے دیجئے۔ وہ کہنے لگے ’’ میاں میرا کتب خانہ حاضر ہے جو کتاب چاہے لے جاؤ لیکن یہ نہ مانگو۔‘‘\n\nخیال نے اسی خطبہ کو بڑھا کے زبان اردو کی ایک مبسوط تاریخ لکھ ڈالی اور اس کا نام ’’داستان اردو‘‘ رکھا۔ سہیل علی گڑھ، آفتاب کلکتہ اور بعض دوسرے رسالوں میں اس داستان کے کچھ ٹکڑے چھپے ہیں۔ اس کا ایک بات ’’ مغل اور اردو‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں بھی چھپ چکا ہے۔ لیکن پوری کتاب چھپنے کی نوبت نہیں آئی۔\n\nانہوں نے ’’ تزک خیال‘‘ کے نام سے اپنی سرگزشت بھی لکھی تھی۔ اس کا ایک حصہ حکیم حبیب الرحمان جو ان دنوں ڈھاکہ سے رسالہ جادو نکالتے تھے۔ اپنے رسالے میں چھاپنے کے ارادے سے لے گئے جادو میں تین چار قسطیں ہی نکلی تھیں کہ یہ رسالہ ہی بند ہو گیا۔ اس کتاب میں خیال نے اپنے حالات کے ساتھ ساتھ اکثر معاصرین کے سوانح بھی بیان کر دیئے تھے۔ یہ کتاب پوری ہو جاتی تو عجب چیز ہوتی۔\n\nایک دن میں ان سے ملنے گیا۔ بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے میں نے پوچھا ’’ کوئی نئی کتاب شروع کی ہے؟‘‘ کہنے لگے بھئی کہاں کی کتاب۔ امیر نواب (صاحبزادہ کا نام) کو اردو پڑھانا چاہتا ہوں۔ کوئی ڈھب کی کتاب نہیں ملتی۔ اس کے لئے ایک چھوٹا سا رسالہ لکھا ہے۔ کوئی سو ڈیڑھ سو صفحات کی کتاب تھی۔ ہند اور اہل ہند اس کا نام رکھا تھا۔\n\nاس میں ہندوستان کے جغرافیہ کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کے لباس، رسم و رواج، خیالات و عادات اچھی خاصی تفصیل کے ساتھ بیان کر دیئے گئے تھے۔ اس کے چند اجزاء میں نے ’’ آفتاب‘‘ میں بھی چھاپے تھے۔\n\nاس کے علاوہ انہوں نے چھوٹے بڑے بیسیوں مضامین لکھے جو مختلف رسالوں میں شائع ہوئے۔ ان میں ایک دلچسپ مضمون ہمارے پانچ ملک الشعراء ’’ آفتاب‘‘ میں چھپا تھا۔ یہ ملک الشعراء کون تھے۔ سر عبدالرحیم، سر علی امام، عبداللہ یوسف علی، صاحبزادہ آفتاب احمد خاں اور ڈاکٹر ضیاء الدین۔ لطف یہ کہ ان پانچوں میں ایک بھی ایسا نہیں جسے شاعری سے کوئی تعلق ہو۔ طنزیہ مضمون تھا لیکن طنز کے پردے میں وہ بہت سی کام کی باتیں کہہ گئے ہیں۔\n\nایک دفعہ نواب صدر یار جنگ حبیب الرحمن خاں شیروانی اور خیال مرحوم میں معرکہ کی بحث ہوئی۔ میر انیس کا مشہور مصرع ہے۔\n\nپانچویں پشت ہے شبیر کی مداحی میں\n\nانیس کے جو مرثیے مطبع نول کشور میں چھپے ہیں ان میں یہ مصرع اسی طرح ہے۔ آب حیات میں مولانا آزاد نے بھی یوں ہی لکھا ہے۔ مولانا شیروانی کو بھی اصرار تھا کہ یہ مصرع یوں ہی درست ہے لیکن خیال کہتے تھے کہ مصرع میں پانچویں پشت کی بجائے ساتویں پشت ہونا چاہئے۔\n\nجادو ڈھاکہ میں دیر تک دونوں طرف سے مضامین شائع ہوتے رہے۔ آخر نظم طباطبائئی کو حکم مقرر کیا گیا اور انہوں نے اپنے محاکمہ میں خیال کی تائید کر کے اس بحث کو ختم کر دیا۔\n\nایک اور طویل مضمون جو انہیں دنوں آفتاب میں چھپا خیال کے ہم مکتب اور بچپن کے رفیق سید علی عرف پیارے صاحب کا تذکرہ ہے۔ جس میں ان کا قلم کہیں گلفشاں اور کہیں خونبابہ بار نظر آتا ہے۔ یعنی اس میں کہیں چوچلے اور چہلیں ہیں کہیں زمانہ کی قدر ناشناسی کا ماتم۔\n\nاس قسم کی چیزوں کے لئے خیال کا انداز تحریر بہت موزوں ہے۔ چنانچہ جب کبھی اگلی محبت کا حال بیان کرتے ہیں صحیح تصویر کھینچ دیتے ہیں اور روکھے پھیکے مضامین کو ایسا بامزہ بنا دیتے ہیں کہ قصہ کہانی کا سا مزہ آتا ہے لیکن میری رائے میں دقیق علمی مسائل کیلئے ان کی زبان موزوں نہیں۔ وہ سبک ترکیبوں اور ہلکے پھلکے الفاظ کو بہت پسند کرتے اور مغلق الفاظ اور بھاری بھر کم ترکیبوں سے بہت بچتے رہتے تھے۔ کہیں کہیں تو ان کا یہ حال ہے کہ صفحوں کے صفحے پڑھتے چلے جایئے۔ فارسی عربی کی ایک بھی ترکیب نظر نہیں آئے گی۔\n\nمیں نیا نیا کلکتہ گیا تو فارسی کی گرانبار ترکیبیں زبان قلم پر چڑھی ہوئی تھیں۔ بہت الجھی ہوئی نثر لکھتا تھا لیکن ان کے فیض صحبت سے آہستہ آہستہ میری زبان میں بھی سلجھاؤ پیدا ہو گیا۔ لیکن انہوں نے کبھی مجھے ثقیل ترکیب یا الجھے ہوئے جملے پر ٹوکا نہیں۔ ہاں کسی ایسے طریقے سے جتا دیا کرتے تھے کہ مجھے بالکل ناگوار معلوم نہیں ہوتا تھا۔\n\nایک دن میں نے پوچھا ’’ نواب صاحب آپ بھی کسی زمانہ میں عربی آمیز اردو لکھتے ہوں گے؟‘‘ کہنے لگے ’’ ہاں ابتداء میں میری طبیعت کا رحجان بھی اسی طرف تھا۔ لیکن ایک دن بیٹھا انشائے ابو الفضل پڑھ رہا تھا۔ ایک تازہ ولائت ایرانی پھرتا پھراتا آنکلا۔ مجھے ابو الفضل پڑھتے دیکھ کر کہنے لگا بابا نصیر چہ می خوانی؟ میں نے جواب دیا ’’ انشائے ابو الفضل‘‘ اس نے یہ سن کر کتاب اٹھا لی۔ اسے پلٹ کے دیکھا اور پھر کہنے لگا کدام زبان است۔ میں نے کہا’’ فارسی‘‘ وہ حیرت زدہ ہو کر بولا کہ ’’ بابا ایں چہ فارسی است کہ ور فہم مانمی آید‘‘ اس فقرہ سے مجھے ہمیشہ کے لئے کان ہو گئے۔ انسان جس زبان میں لکھے وہ ایسی تو ہو کہ اہل زبان اسے سمجھ سکیں۔‘‘\n\nپھر کہنے لگے’’ مولوی عبدالماجد صاحب نے برکلے کی ایک کتاب کا ترجمہ اردو میں کیا ہے میں نے بہت غور سے پڑھی ہے لیکن اکثر مقامات کا مطلب سمجھنے کے لئے اصل سے رجوع کرنا پڑا۔ حالانکہ میں انگریزی سے زیادہ اردو جانتا ہوں۔ تمہیں کہو کہ ایسے ترجمہ کا کیا فائدہ؟‘‘\n\nزبان کے معاملہ میں وہ لکیر کے فقیر نہیں تھے بلکہ کہیں کہیں عام اصول و قواعد سے انحراف بھی کر جاتے تھے۔ داستان اردو کا مسودہ پہلی مرتبہ میری نظر سے گزرا تو اس میں کئی ایسی ترکیبیں نظر آئیں جو قاعدہ کی رو سے غلط تھیں۔ مثلاً بعض جگہ انہوں نے فارسی اور بھاشا کے الفاظ کو آپس میں ترکیب دے کر کوئی اصطلاح گھڑ لی ہے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا ’’ نواب صاحب فارسی اور بھاشا کے الفاظ میں عطف و اضافت قاعدہ کے رو سے غلط ہے۔‘‘ کہنے لگے۔ ’’ اتنا تو میں بھی جانتا ہوں لیکن تم نے دیکھا نہیں میں نے بھاشا کے جن الفاظ کو فارسی سے ترکیب دیا ہے وہ باعتبار صوت فارسی سے بہت مشابہت رکھتے ہیں۔ میرے نزدیک ایسے الفاظ کوباہمدگر ترکیب دینے میں کوئی ہرج نہیں۔‘‘\n\nالفاظ کی تذکیر و تانیث کے معاملہ میں ان کی رائے یہ تھی کہ کہیں کہیں الفاظ کی تذکیر و تانیث کا انحصار عبارت کے سیاق و سباق پر ہوتا ہے۔ یعنی ایسا اتفاق بھی ہو جاتا ہے کہ ایک لفظ جو اہل زباں کے نزدیک مذکر ہے کسی خاص عبارت میں مونث ہی اچھا معلوم ہوتا ہے۔ ایک دن الفاظ کی تذکیر و تانیث کا ذکر چھڑا تو کہنے لگے کہ میں نے اودھ پنچ میں ایک مضمون لکھا۔ جس میں ایک جگہ قلم (پیوند کے معنوں میں) بالتذکیر آیا تھا۔ فقرہ غالباً یہ تھا ’’ یہاں بھانت بھانت کے جانور آئے اور قسم قسم کے قلم لگائے گئے۔‘‘ بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو میں نے کہا میں نے سیاق عبارت کا لحاظ کر کے اسے مذکر لکھا ہے۔ پہلے ٹکڑے میں ’’ جانور آئے‘‘ لکھا گیا ہے۔ دوسرے ٹکڑے میں ’’قلمیں لگائی گئیں‘‘ کہا جاتا تو بہت ناگوار معلوم ہوتا۔ جلال لکھنوی اس زمانے میں زندہ تھے۔ ان سے رجوع کیا گیا تو انہوں نے بھی میری تائید کی۔\n\nخیال مرحوم واقعات کو ترتیب دے کر ان سے نتائج اخذکرنے کا بھی خاص سلیقہ رکھتے تھے لیکن مولانا محمد حسین آزاد کی تحریریں جس نقص کی وجہ سے لوگوں میں انگشت نما ہیں وہ ان کے ہاں بھی موجود ہے۔ یعنی وہ بھی مستند اور غیر مستند روایتوں میں تمیز نہیں کرتے۔ جہاں کوئی چٹکلہ یا لطیفہ کوئی مزے کی حکایت یا کہانی نظر آتی ہے فوراً اسے قبول کر لیتے ہیں۔ ہزار کہئے کہ اس کا راوی ضعیف ہے۔ قرائن سے بھی کوئی شہادت نہیں ملتی لیکن کون مانتا ہے؟ جن دنوں وہ داستان اردو کو ترتیب دے رہے تھے اور میں روز ان کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اکثر ایسے واقعات پیش آتے رہتے تھے۔ مجھے کھلم کھلا ٹوکنے کی جرأت تو نہ ہوتی تھی۔ پھر بھی لوازم ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی نہ کسی طرح اعتراض کر ہی دیتا تھا۔ مثلاً ایک دفعہ انہوں نے نور جہاں کے چند اردو اشعار سنائے جن کی زبان بہت صاف تھی۔ میں نے کہا’’ اشعار تو بہت اچھے ہیں لیکن لوگوں کو یقین دلانا بہت مشکل ہے کہ واقعی نور جہاں کا کلام ہے۔‘‘ کہنے لگے ’’ صغیر بلگرامی نے تذکرہ جلوۂ خضر میں یہ اشعار نقل کئے ہیں۔‘‘ میں نے کہا ’’ صغیر بلگرامی نے اپنے تذکرہ میں بہت سی غلط سلط باتیں بھی لکھ دی ہیں۔‘‘\n\nیہ سن کر ان کے ابروؤ ں پر بل پڑ گئے اور کچھ سوچنے لگے۔ اتنے میں کوئی اور صاحب آ گئے اور بات آئی گئی ہو گئی۔\n\nانہیں اظہار خیال کے نئے نئے ڈھنگ یاد تھے اور وہ ادائے مطالب کے لئے ہمیشہ کوئی ایسی نئی راہ تلاش کر لیتے تھے کہ ان کی ذہانت اور سوجھ بوجھ پر حیرت ہوتی تھی۔ حکیم سید قاسم علی کلکتہ کے ایک نامور طبیب تھے جنہیں انتقال کئے ہوئے کوئی بیس پچیس سال ہو چکے تھے ایک مرتبہ خیال نے ان کے حالات لکھے جو رسالہ خیابان لکھنو میں شائع ہوئے۔ اس مضمون میں انہوں نے حکیم صاحب کے عادات و خیالات اور ان کی خاص خاص صحبتوں کے نقشے کھینچے ہیں۔ ان میں ایک خاص صحبت کی کیفیت مجھے یاد ہے۔ ’’ حکیم صاحب احباب کے حلقے میں بیٹھے ہیں کہ کوئی شخص مولانا شبلی کی کتاب موازنہ انیس و دبیر پیش کرتا ہے۔ حکیم صاحب اسے بڑے شوق سے دیکھنا شروع کرتے ہیں اتنے میں وہ شخص کہتا ہے کہ حکیم صاحب مولانا شبلی نے انیس کی زبان پر کچھ اعتراضات بھی کئے ہیں۔ یہ سن کر ان حکیم صاحب کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں ذرا میں بھی سنوں کیا کیا اعتراضات ہیں وہ؟ وہ جواب دیتا ہے انیس نے ایک جگہ خوشی کو خوش کر کے معنوں میں استعمال کیا ہے اور مولانا کے نزدیک یہ صحیح نہیں۔ حکیم صاحب فرماتے ہیں مولانا شبلی کو غلط فہمی ہوئی خوشی ان معنوں میں بھی درست ہے۔ مثلاً آتش کہتے ہیں‘‘\n\nخوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے\n\nغرض وہ شخص شبلی کے سارے اعتراضات ایک ایک کر کے سناتا ہے اور حکیم صاحب انیس کی تائید میں اساتذہ کے کلام سے سندیں پیش کرتے جاتے ہیں۔ میں نے خیابان میں یہ مضمون پڑھ کر حضرت خیال سے کہا کہ معلوم ہوتا ہے حکیم سید قاسم علی بڑے صاحب علم بزرگ تھے۔ کہنے لگے ’’ ہاں! ان کے صاحب علم ہونے میں کیا شک ہے؟‘‘ لیکن ان کی اس ہاں سے میری تسلی نہ ہوئی۔ پھر کہا’’ مرحوم نے اساتذہ کے ہزاروں شعر یاد کر رکھے ہوں گے جہاں کسی نے ٹوکا سند میں فوراً شعر پڑھ دیا۔‘‘ یہ سن کر مسکرائے اور کہنے لگے’’ معلوم ہوتا ہے کہ تم بات کو پا گئے۔ خیر تم سے کیا پردہ؟ اصل بات یہ ہے کہ ہمارا سارا خاندان انیس کا معتقد ہے اور میں اس عقیدت مندی میں سب سے آگے رہا ہوں۔ موازنہ انیس و دبیر شائع ہوئی تو اس میں انیس پر اعتراضات دیکھ کر طبیعت بہت بے چین ہوئی کئی مرتبہ سوچا کہ ان اعتراضات کا جواب ضرور ہونا چاہئے لیکن شبلی مرحوم میرے بزرگ اور بزرگوں کے ملنے والے تھے اس لئے خون کے گھونٹ پی کے خاموش ہو رہا۔ آخر یہ خلش پچھلے دنوں دور ہوئی یعنی حکم سید قاسم علی کے حالات لکھنے بیٹھا تو خیال آیا کہ شبلی کے اعتراضات کا جواب ان سے کیوں نہ دلوایا جائے۔ حکیم صاحب شبلی مرحوم کے ہم سن اور عزت اور رتبہ میں ان کے برابر تھے۔ میں نے ان کی زبانی شبلی مرحوم کے متعلق جو باتیں کہلوائی ان میں سوئے ادب کا پہلو کہیں نہیں نکلتا۔ حالانکہ یہی باتیں اگر میں کہتا تو انگلیاں اٹھتیں۔ سب کہتے کہ کل کا لڑکا مولانا شبلی کی برابری کرنے چلا ہے۔‘‘\n\nدراصل خیال ان لوگوں میں سے تھے جو وضع داری کو لازمہ شرافت سمجھتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ یہ رکھ رکھاؤ اور ادب قاعدے انہیں لوگوں کے ساتھ ختم ہو گئے اب تو چھوٹے بڑے کی تمیز ہی اٹھ چکی ہے جس کے منہ میں جو آتا ہے کہہ گزرتا ہے اور یہ نہیں دیکھتا کہ مخاطب کون ہے؟ اس قسم کے خالص مشرقی خیالات کے باوجود بعض باتوں میں مغرب کے پیرو تھے۔ مثلاً وہ مغربی لباس کو بہت پسند کرتے تھے اور خود بھی یہی لباس پہنتے تھے۔ جب کبھی ہندوستانیوں کے لباس کا ذکر آیا انہوں نے یہی کہا کہ بھئی ہندو مسلمانوں میں بڑا اختلاف معاشرت کا ہے یہ تو ہونے سے رہا کہ ہندو مسلمانوں کی وضع اختیار کر لیں یا مسلمان ہندوؤں کا سا لباس پہننا شروع کر دیں۔ باہمی اتحاد کا طریقہ یہی ہے کہ دونوں اپنا اپنا طریق معاشرت چھوڑ کے یورپ کی پیروی شروع کر دیں اور ایک نہ ایک دن یہ ہو کے رہے گا ۔ وہ پردے کے بھی سخت مخالف تھے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ بدصورت عورتوں کو پردہ میں بٹھا دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن حسین عورتوں کو کیوں پردہ میں رکھا جائے؟\n\nغرض یوں کہنا چاہئے کہ خیال مشرقیت اور مغربیت کے امتزاج کا عجیب و غریب نمونہ تھے۔ بظاہر ان کے خیالات بالکل مغربیت کے سانچے میں ڈھلے ہوئے معلوم ہوتے تھے لیکن بہت سی باتوں میں وہ خالص مشرقی تھے۔ مثلاً وہ باہر نکلتے تو انگریزی لباس پہن لیتے تھے گھر میں اکثر اوقات صرف تہہ بند اور بنیان میں نظر آتے تھے۔\n\nنشست و برخاست کے طریقے میل جول کے ادب آداب میں بھی ان پر مشرقیت کا اثر غالب نظر آتا تھا۔ خاص طور پر جب کبھی کسی پرانی صحبت یا اگلے وقتوں کے کسی بزرگ کا ذکر کرتے تھے تو ان کی مشرقیت بالکل بے نقاب ہو جاتی تھی۔ اس وقت وہ پرانے زمانے کی کوئی داستاں گویا الف لیلہ کا کوئی کردار معلوم ہوتے تھے۔ بعض ایسے موقعوں پر میں نے انہیں آبدیدہ بھی دیکھا ہے۔\n\nان کے ہاں صبح و شام اچھی خاصی محفل جمی رہتی تھی جس میں زیادہ تر ادبی ذکر اذکار رہتے تھے۔کبھی کبھی سیاسی اور مذہبی بحثیں بھی چھڑ جاتی تھیں لیکن جس طرح مولانا ظفر علی خاں گفتگو کرتے وقت ادیبات مذہب سے گریز کر کے سیاسیات پر آ رہتے ہیں اسی طرح خیال مرحوم کو یہ سلیقہ حاصل تھا کہ بحث سیاسی ہو یا مذہبی وہ بڑی خوبی سے اس کا سرا ادبیات سے ملا دیتے تھے اور پھر اپنا یا کسی دوسرے بزرگ کا کوئی مضمون، میر انیس کا کوئی مرثیہ، شاد کی کوئی غزل یا میر حسن کی مثنوی کا کوئی ٹکڑا پڑھ کر سنانا شروع کر دیتے تھے اور اس دھن میں انہیں بالکل اس بات کا خیال نہیں رہتا تھا کہ محفل میں جو لوگ موجود ہیں ان میں کتنے ایسے ہیں جنہیں اس موضوع سے دلچسپی ہے؟ اگر اوقات ایسا ہوتا تھا کہ اہل محفل میں سے دو تین تو ان کی باتیں غور سے سن رہے ہیں باقی کا یہ حال ہے کہ کبھی ان کا منہ تکنے لگتے ہیں کبھی سننے والوں کا۔\n\nمیں حضرت خیال سے پہلے پہل ملا تو وہ بڑے ٹھاٹھ سے زندگی بسر کرتے تھے تین چار نوکر تھے۔ کوٹھی اگرچہ کرایہ کی تھی لیکن اس کا کرایہ بھی ڈھائی تین سو سے کم کیا ہو گا؟ کوئی تیس سال سے ان کی زندگی کا یہی ہنجار تھا لیکن آخر میں ان کی مالی حالت اگلی سی نہیں رہی تھی۔ مجھے اس بات کا بالکل احساس نہ ہوتا لیکن جب میرے لئے سٹیٹ اکسپریس کے بجائے گھٹیا قسم کے سگریٹ آنے لگے اور چار نوکروں کے بجائے صرف دو رہ گئے تو مجھے خیال ہوا کہ ان کی حالت دگرگوں ہے۔ تھوڑے دنوں کے بعد انہوں نے کوٹھی چھوڑ دی اور مٹیا برج اٹھ گئے۔ اب روز کی ملاقاتیں ختم ہو چکی تھیں۔ کبھی کبھی وہ مجھے اور مولانا شائق کو بلا بھیجتے تھے اور چاند پال گھاٹ پر ان سے ملاقات ہو جاتی تھی لیکن یہ صحبتیں بھی جلد برہم ہو گئیں۔ یعنی دو تین مہینے گزرے تھے کہ میں لاہور چلا آیا۔ یہاں مجھے ان کے دو خط ملے۔ ایک خیر پور سے آیا تھا، دوسرا حیدر آباد سے۔ پھر دو تین سال تک ان کی کوئی خبر نہ ملی۔\n\n۱۹۳۳ء کا ذکر ہے۔ میں دار الاشاعت پنجاب میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص نے ایک لفافہ لا کر دیا۔ کھولا تو سوا د تحریر آنکھوں کو آشنا معلوم ہوا۔ غور کیا تو حضرت خیال کا خط تھا۔ خط کا مضمون یہ تھا کہ میں دو دن سے لاہور ہی میں ہوں۔ موچی دروازہ کے اندر مرزا مہدی حسین صاحب کے ہاں قیام ہے۔ ہوسکے تو آج شام کو مجھ سے آ کے مل جاؤ۔ میں شام کو کوئی ساڑھے پانچ بجے مرزا صاحب کے ہاں ان سے ملا اور جب تک وہ یہاں رہے بلاناغہ ان کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ اگرچہ اب ان کے چہرے پر نہ وہ اگلی سی رونق تھی۔ نہ وہ توانائی۔ پھر بھی ان کی آن تان میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ وہی گفتگو کا انداز تھا وہی تبسم۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس شخص کا دل دنیا کے فکروں اور اندیشوں سے خالی ہے۔\n\nیہاں وہ کوئی دو مہینے رہے۔ ان دو مہینوں میں یہاں کے اکثر ادیبوں اور شاعروں سے ان کی ملاقات ہوئی۔ پنجاب والے پورب کے اہل قلم سے بہت بدظن تھے کیونکہ اب تک لکھنو، آگرہ اور دلی سے جو شاعر لاہور آئے تھے ان میں کوئی بھی یہاں کے لوگوں کو متاثر نہیں کر سکا تھا۔ لیکن خیال کا معاملہ ہی دوسرا تھا جب کسی مسئلہ پر گفتگو شروع کرتے تھے سماں بندھ جاتا تھا۔ ’’ مغل اور اردو‘‘ کے چند اجزاء ان کے ساتھ تھے۔لوگوں کے اصرار سے بعض محفلوں میں پڑھ کر سنائے اور سالک اور تاثیر جیسے ’’ کافروں‘‘ کو ایمان لانے پر مجبور کر دیا۔\n\nوہ دو مہینے لاہور رہ کر جولائی کے مہینے میں کشمیر چلے گئے وہاں سے اکتوبر میں لوٹے اور لاہور میں دو راتیں رہ کر کلکتہ کا رخ کیا۔ اس واقعہ پر کوئی آٹھ نو مہینے گزرے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا۔\n\nان کے انتقال کا قصہ بھی عجیب ہے۔ کلکتہ سے نواب چھتاری کو ملنے علی گڑھ آئے ہوئے تھے۔ ایک دن سیر کو نکلے اور چلتے چلتے گر پڑے۔ لوگوں نے اٹھایا تو معلوم ہوا کہ روح پرواز کر چکی ہے۔\n\n’’ داستان اردو‘‘ ان کی عمر بھر کی کمائی تھی۔ لیکن مسودہ تلاش کے باوجود کہیں نہیں ملا۔ فردوسی پر ایک طویل مضمون ان کے آخری زمانی کا کارنامہ ہے جو کتابی صورت میں چھپ گیا ہے۔ افسوس کہ اردو نثر نگاری میں جتنا اونچا ان کا پایہ ہے اتنی شہرت نہیں پائی۔ ان کے کارناموں سے آشنا ہونا تو درکنار اکثر لکھے پڑھے لوگ ان کا نام تک نہیں جانتے۔\n\nحضرت خیال نے صرف ایک فرزند نرینہ (سید امیر نواب سلمہ) اپنی یادگار چھوڑا ہے۔ نہال عظیم آبادی جو اچھے خوشگوار شاعر ہیں مرحوم کے سوتیلے بھائی ہیں۔\n\n== آغا حشر ==\n\nمجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے پہلی مرتبہ آغا حشر کا نام کب سنا؟ صرف اتنا یاد ہے کہ ’’ ڈرامہ‘‘ کا نام سننے سے پہلے اس نام سے میرے کان آشنا ہو چکے تھے۔ کچھ دنوں کے بعد میری معلومات میں اتنا اضافہ اور ہوا کہ آغا حشر جو کچھ کہتا ہے اس کا نام ڈراما ہے۔ ڈرامہ کی اصل کے متعلق مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔ ہاں کبھی کبھی یہ خیال آتا تھا کہ ڈراما اور ڈرانا کے معنی میں بہت تھوڑا فرق ہو گا۔\n\nہمارے پڑوس میں ایک افغان سردار رہتے تھے ان کا ایک نوکر تھا جسے سب ’’ آغا آغا‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ بڑے کلے ٹھلے کا دیدار و جوان تھا۔ سیاہ گنجا داڑھی، زلفیں چھٹی ہوئیں۔ وہ جدھر سے گزرتا تھا لڑکے ’’ آغا آغا‘‘ کہہ کے اس کے پیچھے دوڑ پڑتے تھے۔ وہ اکثر اوقات تو ہنستا ہوا گزر جاتا لیکن کبھی کبھی جب وہ چرس کے نشے میں ہوتا لڑکوں کے نعرے سن کے چلتے چلتے رک جاتا۔ اپنی زبان میں چلا چلا کے کچھ کہنا اور سرخ سرخ آنکھیں نکال کے ہماری طرف اس طرح دیکھا کہ سب سہم جاتے۔\n\nانہیں دنوں ہمارے قصبہ میں ایک اور آغا وارد ہوئے۔ یہ بینک بیچنے آئے تھے۔ لمبی داڑھی، بال شانوں پر بکھرے ہوئے۔ صدری پر میل کی تہہ جمی ہوئی۔ وہ ایک ہاتھ سے گٹھڑی سنبھالے سڑک پر کھڑے رہتے اور ’’ اینگ لے لو، اینگ لے لو‘‘ پکارا کرتے تھے لیکن میں نے کبھی کسی شخص کو ان سے ہینگ خریدتے نہیں دیکھا۔ کبھی کبھی وہ جھنجھلا کے چلا چلا کے کچھ کہتے۔ غالباً بستی کے لوگوں کو جن میں کوئی ہینگ کا قدر شناس نہیں تھا گالیاں دیتے رہے ہوں گے۔ اس عالم میں کوئی شخص آ نکلا تو اسے پکار کے کہتے ’’ خواینگ لے لو‘‘ اگر وہ چپ چاپ گزر جاتا تو کچھ دیر تک بک جھک کر خاموش ہو رہتے۔ ورنہ اگر وہ جواب میں کہتا کہ مجھے ہینگ کی ضرورت نہیں تو چلا کے فرماتے۔ ’’ خوام تمہارے باپ کا نوکر ہے کہ تمہارا واسطے اتنی دور سے اینگ لایا اینگ لو۔ ام سے مسخری مت کرو۔‘‘\n\nہماری پڑوسن بی۔۔۔۔ کا خیال تھا کہ یہ موا بردہ فروش ہے۔ ننھے ننھے بچوں کو چرا کے لے جاتا ہے اور بابا خلیل جو موچیوں کے پیر تھے۔ اس باب میں اس کے ہم خیال تھے۔\n\nغرض آغا1؎ حشر اور ڈراما تینوں لفظ میرے نزدیک بہت ڈراؤنے اور\n\n1؎ لفظ ’’ حشر‘‘ سے جس قسم کے تصورات ہیں۔ ان کے متعلق نے کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا، کیونکہ کشمیری زبان میں حشر گالی ہے)\n\nبھیانک تھے۔ اور انہوں نے میرے ذہن پر کوئی خوشگوار اثر نہیں چھوڑا۔\n\nپھر جب ہمارے ہاں ایک ’’ ڈرامیٹک کلب‘‘ کی بنیاد پڑی۔ اور اسیر حرص۔ سفید خون، خواب ہستی ہملٹ کے نام ہر شخص کی زبان سے سنائی دینے لگے۔ تو آغا حشر کا نام بھی بار بار زبانوں پر آنے لگا۔ اس دور افتادہ مقام میں لے دے کے یہی ایک تفریح تھی۔ اس لئے بوڑھے بچے، جوان سب تھیٹر دیکھنے جاتے تھے۔ مستری خدا بخش سے جو تھیٹر کے پردے بھی بناتے تھے اور میلوں میں اپنا ہنڈولا لے کر بھی پہنچ جاتے تھے۔ سہیلیوں تک جن میں اکثر اسکول کے بھاگے ہوئے لڑکے تھے۔ میں سب کو جانتا تھا۔ لیکن ان میں آغا حشر کوئی بھی نہیں تھا مجھے یقین تھا کہ آغا حشر پردوں کے پیچھے کھڑا ہے۔ اس کا سر چھت سے لگا ہوا ہے۔ لمبی داڑھی ہے۔ گیسو کمر تک پہنچتے ہیں۔ ایک ہاتھ میں ہینگ کی گٹھڑی ہے۔ دوسرے میں جادو کا ڈنڈا۔ اسی کے حکم سے پردے اٹھتے اور گرتے اور ایکٹر بھیس بدل بدل کر نکلتے ہیں۔ ایک آدھ مرتبہ خیال آیا کہ کسی طرح پردے کے پیچھے جا کر اس کی ایک جھلک دیکھ لوں۔ لیکن پھر ہمت نہ پڑی۔\n\nمیں نے جس زمانے کا ذکر کیا ہے۔ ابھی ہندوستان میں فلموں کا رواج نہیں تھا۔ جو کچھ تھا تھیٹر ہی تھیٹر تھا اور اس دنیا میں آغا حشر کا طوطی بول رہا تھا۔یوں تو اور بھی اچھے اچھے ڈرامائسٹ موجود تھے۔ احسن، بیتاب، طالب مائل سب کے سب ناٹک کی لنکا کے باون گزے تھے لیکن آغا کے سامنے بونے معلوم ہوتے تھے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ آغا سے پہلے اس فن کی قدر بھی کیا تھی؟ بچارے ڈراماٹسٹ تھیٹر کے منشی کہلاتے تھے۔ اور یہ لقب اتنا ذلیل ہو چکا تھا کہ تھانہ کے محرر، نہر کے پٹواری، ساہوکاروں اور تاجروں کے گماشتے بھی اسے اپنے نام کے ساتھ لکھتے ہچکچاتے تھے۔\n\nپنجاب میں اگرچہ تھیٹر نے چنداں ترقی نہیں کی۔ اور یہاں منشی غلام علی دیوانہ اور ماسٹر رحمت کے کینڈے کے لوگ اس فن میں سند الوقت سمجھے جاتے تھے۔ لیکن ۱۹۲۱ء میں جب مجھے پہلی مرتبہ لاہور آنے کا اتفاق ہوا تو یہاں آغا حشر کی شاعری کی دھوم تھی۔ جن لوگوں نے انہیں انجمن حمایت اسلام میں نظمیں پڑھتے دیکھا تھا۔ وہ ان کے انجمن کے جلسے میں آنے اور نظم سنانے کی کیفیت اور ذوق شوق سے بیان کرتے تھے۔ گویا کربلائے معلی کے محرم کا حال بیان کر رہے ہیں۔ ’’ موج زمزم‘‘ اور ’’ شکریہ یورپ‘‘ کے اکثر اشعار لوگوں کو زبانی یاد تھے اور انہیں آغا کی طرح مٹھیاں بھینچ کر گونجیلی آواز میں پڑھنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔\n\nاگرچہ آغا اپنے عروج شباب کے زمانے میں صرف ایک مرتبہ پنجاب آئے لیکن ان کا یہ آنا عوام و خواص دونوں کے حق میں قیامت تھا۔ یعنی جو ثقہ حضرات ڈرامہ کو بد وضع اور آوارہ لوگوں سے مخصوص سمجھتے تھے۔ ان کی رائے اس فن کے متعلق بدل گئی۔ اور کیوں نہ بدلتی؟ اسی گروہ کے ایک شخص نے انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں جو ان دنوں ایک قومی میلہ سمجھا جاتا تھا۔ ایسی نظم پڑھی کہ روپے پیسے کا مینہ برس گیا۔ اور جو کام بڑے بڑے عالموں سے نہ ہو سکا۔ اس نے کر دکھایا۔\n\nیہ تو خواص کا حال تھا۔ آغا کے لاہور آنے نے عوام کے مذاق پر بھی اثر ڈالا۔ اور جو لوگ ماسٹر رحمت کی غزلوں پر سر دھنتے اور ان کے ڈراموں کو اس فن کی معراج سمجھتے تھے وہ بھی یک بیک چونک پڑے اور انہوں نے جان لیا کہ اس فن میں اس سے اونچا کوئی مقام بھی ہے اور ماسٹر رحمت سے بہتر ڈراما ٹسٹ بھی دنیا میں موجود ہیں۔\n\nمیں ۱۹۲۵ء میں کلکتہ گیا۔ تو آغا صاحب کلکتہ چھوڑ مہاراجہ ٹکاری کے ہاں جا چکے تھے۔ لیکن ان کے ہزاروں مداح ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے کلکتہ میں موجود تھے۔ ان کی زبانی آغا کی زندگی کے اکثر واقعات ان کے لطیفے، اشعار، پھبتیاں سنیں۔ کوئی سال بھر کے بعد ایک دن کسی نے آ کر کہا کہ آغا آئے ہیں۔ فائن آرٹ پریس والے لالہ برج لال اروڑہ آغا کے بڑے عقیدت مند تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آغا آ گئے ان سے کب ملوائے گا؟ وہ کہنے لگے ابھی چلو نیکی اور پوچھ پوچھ۔ میں نے رسالہ آفتاب کے کچھ پرچے بغل میں دبائے لالہ برج لال نے ٹوپی ٹیڑھی کر کے سر پر رکھی اور نجط مستقیم آغا کے ہاں پہنچے۔ وہ ان دنوں سکی اسٹرپٹ میں رہتے تھے۔ بڑا وسیع مکان تھا۔ ڈیوڑھی سے داخل ہوتے ہی صحن تھا۔ اس کے دہنے بائیں کمرے لالہ برج لال نے ان کے نوکر سے پوچھا آغا صاحب کہاں ہیں اس نے بائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کیا صحن سے ملا ہوا ایک وسیع کمرہ تھا۔ اس میں ایک چارپائی اور دو تین کرسیاں پڑی تھی چارپائی آغا صاحب لنگی باندھے اور ایک کرتا پہنے لیٹے تھے۔ ہمیں دیکھتے ہی اٹھ بیٹھتے۔ اب جو دیکھتا ہوں تو ہینگ والے آغا اور اس آغا میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ سر پر انگریزی فیشن کے بال داڑھی منڈی ہوئی چھوٹی چھوٹی مونچھیں، دہرا جسم، سرخ و سپید رنگ، میانہ قد، ایک آنکھ میں نقص تھا۔ محفل میں بیٹھے ہوئے ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ میری طرف ہی دیکھ رہے ہیں۔ بڑے تپاک سے ملے۔ پہلے لالہ برج لال سے خیر و عافیت پوچھی پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور ادبی ذکر و اذکار چھڑ گئے۔\n\nآغا صاحب نے اگرچہ ہزاروں کمائے اور لاکھوں اڑائے لیکن ان کی معاشرت ہمیشہ سیدھی سادی رہی۔ مکان میں نہ نفیس قالین تھے نہ صوفے نہ کوچ نہ ریشمی پردے نہ غالیچے نفیس کپڑے پہننے کا بھی شوق نہ تھا۔ گھر میں ہیں تو لنگی باندھے۔ ایک بنیان پہنے کھری چارپائی پر بیٹھے ہیں باہر نکلے ہیں تو ریشمی لنگی اور لمبا کرتا پہن لیا۔ میں نے پہلی مرتبہ انہیں اسی وضع میں دیکھا اور زندگی کے آخری ایام میں جب لاہور آئے ان کی یہی وضع تھی۔ ہاں اکثر لوگوں سے اتنا سنا ہے کہ لاہور آنے سے پہلے وہ کلکتہ میں بڑے ٹھاٹھ سے رہتے تھے۔ لیکن اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ اس زمانے میں انہوں نے شراب چھوڑ دی تھی اور گھر کی آرائش اور ٹھاٹھ باٹھ میں طبیعت کے حوصلے نکال کے اس کمی کی تلافی کرنا چاہتے تھے۔\n\nآغا بڑے حاضر جواب اور بذلہ سنج شخص تھے جس محفل میں جا بیٹھتے تھے سب پر چھا جاتے تھے ۔ ان کے ملنے والوں میں اکثر لوگ ضلع جگت میں طاق اور پھبتی میں مشاق تھے۔ اور جب شام کو صحبت گرم ہوتی تین تین چار چار آدمی مل کے آغا پر پھبتیوں کا جھاڑ باندھ دیا کرتے تھے۔ لیکن آغا چومکھی لڑنا جانتے تھے۔ حریف دم بھر میں ہتھیار ڈال دیتا لیکن آغا کی زبان نہ رکتی تھی۔ اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک بانکا پھکیت سردہی کے ہاتھ پھینکتا چلا جا رہا ہے کبھی کمر کو بتا کے سر پر وار کیا۔ کبھی پالٹ کا ہاتھ مارا کبھی دہنے سے کبھی بائیں سے۔ اس فن میں ان کا کوئی حریف نہیں تھا۔ البتہ حکیم 1؎ صاحب سے آغا کو بھی کور دیتی تھی۔\n\nجس شخص سے بے تکلفی بڑھانا منظور ہوتا۔ اسے اس بے ساختگی سے گالی دے بیٹھتے تھے۔ کہ بچارا حیران رہ جاتا تھا۔ ’’ گالی ‘‘ کا نام سن کر کچھ لوگ کہیں گئے کہ گالی دینا کہاں کا اخلاق ہے؟ لیکن آغا کنجڑے قصابوں جیسی گالیاں تھوڑے ہی دیتے تھے۔ انہوں نے ’’ گالی‘‘ کو ادب و شعر سے ترکیب دے کر ایسی خوش نما چیز بنا دیا تھا۔ کہ مرحوم اگر کچھ دنوں اور زندہ رہتے تو ان کا شمار فنون لطیفہ میں ہونے لگتا۔ اصل میں آغا ایک تو یوں بھی بڑے ذہین اور طباع شخص تھے۔ پھر انہوں نے جوانی میں ہی تھیٹر کی طرف توجہ کی جہاں دنیا بھر کے بگڑے لوگ جمع تھے۔ رات بھر نوک جھونک کا بازار گرم رہتا تھا۔ کچھ تو ان صحبتوں میں ان کی طبیعت نے جلا پائی۔ اس پر مطالعہ کا شوق سونے پر سہاگہ ہو گیا۔\n\nوہ ہر قسم کی کتابیں پڑھتے تھے ادنیٰ قسم کے بازاری ناولوں اخباروں رسالوں سے لے کر فلسفہ اور مابعد الطبیعیات کی اعلیٰ تصانیف تک سب پر ان کی نظر تھی۔ اور فضل بک ڈپو سے دار المصنفین تک وہ سارے اداروں کی سرپرستی\n\n1؎ اشفاء الملک حکیم فقیر محمد صاحب چشتی نظامی مرحوم جو آغا مرحوم کے جگری دوست تھے۔\n\nفرماتے تھے۔ کلکتہ میں ان کا معلوم یہ تھا کہ سہ پہر کو گھر سے نکلے اور نجط مستقیم اخبار عصر جدید کے دفتر میں پہنچے پہلے سارے اخبار پڑھے پھر رسالوں کی نوبت آئی۔ کبھی ریویو کے لئے کوئی کتاب آ گئی تو وہ بھی آغا صاحب کی نذر ہوئی کچھ اخبار اور رسالے تو وہیں بیٹھے بیٹھے دیکھ لئے جو بچ رہے انہیں گھر لے گئے۔ بازار میں چلتے چلتے کتابوں کی دکان نظر آ گئی کھڑے ہو گئے۔ اچھی اچھی کتابیں چھانٹ کے بغل میں دبائیں اور چل کھڑے ہوئے۔ راستہ میں کسی کتاب کا کوئی گرا پڑا ورق دکھائی دیا تو اسے اٹھا لیا اور وہیں کھڑے کھڑے پڑھ ڈالا۔ نوکر بازار سے سودا سلف لے کر آیا ہے بنئے نے اخباروں اور کتابوں کے اوراق میں پڑیا باندھ کے دی ہیں یکایک آغا صاحب کی نظر پڑ گئی۔ نوکر سے پوچھ رہے ہیں اس پڑیا میں کیا ہے؟ شکر! اچھا شکر ڈبے میں ڈالو۔ پڑیا خالی کر کے لاؤ۔ اسے کہیں پھینک نہ دیجئو یہ بڑے کام کی چیز معلوم ہوتی ہے خدا جانے کسی اخبار کے ورق ہیں یا کسی کتاب کے بہرحال مجھے اس پر شبلی کا نام لکھا نظر آ رہا ہے۔\n\nمطالعہ سے ان کے اس شغف کا حال سن کر شاید بعض لوگوں کا خیال ہو کہ آغا نے بہت بڑا کتب خانہ جمع کر لیا ہو گا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ کتب خانہ چھوڑ ان کے ہاں دس پانچ کتابیں بھی نہیں تھیں ایک تو ان کا حافظہ بہت اچھا تھا۔ ایک مرتبہ کوئی کتاب پڑھ لیتے تھے تو اسے دوسری مرتبہ دیکھنے کی ضرورت نہیں رہتی تھی۔ دوسرے ان کی طبیعت علائق سے گھبراتی تھی۔ کتابیں سینت سنبھال کے رکھنے کے جھنجھٹ میں کون پڑے۔ ان کا تو بس یہ حال تھا کہ کتاب آئی پڑھ کے مکان کے کسی گوشے میں ڈال دی کوئی ملنے والا آیا اور اٹھا کر لے گیا۔\n\nیہ اسی مطالعہ کی برکت تھی کہ ان کی معلومات پر لوگوں کو حیرت ہوتی تھی۔ طب ہو یا فلسفہ شاعری ہو یا ادب کسی موضوع میں بند نہیں تھے۔ اور جہاں علم ساتھ نہیں دیتا تھا وہاں ان کی ذہانت آڑے آ جاتی تھی۔ بازار سے نئی جوتی منگوائی ہے کسی نے پوچھا آغا صاحب کتنے کو مول لی ہے؟ بس آغا صاحب نے جوتی کے فضائل اور محاسن پر تقریر شروع کر دی۔ چمڑے کی مختلف قسموں دباغت کے طریقوں۔ جوتی کی وضع قطع ایک ایک چیز پر اس تفصیل سے بحث کر رہے ہیں۔ گویا کسی نہایت اہم مسئلہ پر گفتگو ہو رہی ہے۔ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد جب ان کی تقریر ختم ہوئی تو سننے والوں کو یہ احساس تھا کہ آغا صاحب کی جوتی کو سچ مچ تاریخی حیثیت حاصل ہے۔\n\nایک دن آغا عصر جدید کے دفتریں بیٹھے تھے۔ کچھ اور لوگ بھی جمع تھے۔ آغا باتیں کر رہے تھے۔ ہم سب بت بنے بیٹھے سن رہے تھے۔ اتنے میں سید ذاکر علی جوان دنوں کلکتہ خلافت کمیٹی کے سیکرٹری تھے اور آج کل مسلم لیگ کے جائنٹ سیکرٹری ہیں۔ پھرتے پھراتے آ نکلے تھوڑی دیر وہ چپکے بیٹھے آغا کی باتیں سنا کئے۔ لیکن پھر ان کے چہرے سے بے چینی کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ کچھ تو انہیں یہ بات ناگوار گزری کہ ایک شخص بیٹھا باتیں کئے جا رہا ہے اور کسی دوسرے کو بات نہیں کرنے دیتا۔ کیونکہ سید صاحب خود بھی بڑے بزلہ سنج اور لطیفہ گو بزرگوار ہیں۔\n\nاور انہوں نے اگلے پچھلے ہزاروں لطیفے یاد کر رکھے ہیں۔ اور غالباً اس وقت انہیں کوئی نیا لطیفہ یاد آ گیا تھا۔ جسے سنانے کے لئے وہ بے قرار تھے۔ دوسرے آغا کی گفتگو میں خود ستائی کا عنصر بہت زیادہ تھا۔ اور وہ اپنی شاعری کا تذکرہ کر رہے تھے اور اپنے بعض ہمعصر شعراء پر چوٹیں بھی کرتے جاتے تھے۔ سید ذاکر علی کو ان کی باتوں پر غصہ بھی تھا اور حیرت بھی جی ہی جی میں کہہ رہے تھے کہ خداجانے یہ کون شخص ہے۔ جو اقبال، ابو الکلام، ظفر علی خان کا ذکر اس انداز میں کر رہا ہے۔ گویا سب ساتھ کے کھیلے ہوئے دوست اور بچپن کے رفیق ہیں۔ آخر ان سے ضبط نہ ہو سکا اور کہنے لگے یہ کون بزرگوار ہیں ذرا ان سے میرا تعارف تو کرا دیجئے۔ مولانا شائق بولے آپ انہیں نہیں جانتے آغا حشر یہی ہیں۔ آغا صاحب یہ سید ذاکر علی ہیں۔ کلکتہ خلافت کمیٹی کے نئے سیکرٹری مولانا شوکت علی نے انہیں بمبئی سے بھیجا ہے۔\n\nہم سمجھتے تھے کہ اس معرفی کے بعد سید ذاکر علی کا استعجاب دور ہو جائے گا لیکن وہ بڑی سادگی سے کہنے لگے۔ آغا حشر؟ کون آغا حشر؟ بس ان کا یہ کہنا قیامت ہو گیا۔ آغا صاحب کڑک کر بولے’’ آپ نے آغا حشر کا نام نہیں سنا سید ذاکر علی نے جواب دیا نہیں صاحب! میں نے آج پہلی مرتبہ جناب کا نام سنا ہے۔‘‘ پھر پلٹ کے مولانا شائق سے پوچھنے لگے آغا صاحب کا شغل کیا ہے؟ مولانا شائق نے فرمایا ہائیں سید ذاکر علی صاحب! آپ نے واقعی آغا حشر کا نام نہیں سنا۔ آپ کس دنیا میں رہتے ہیں؟ انہوں نے بڑی مسمی صورت بنا کے کہا۔ مجھ سے قسم لے لیجئے میں نے آج تک یہ نام نہیں سنا۔ خدا جانے وہ بن رہے تھے یا واقعی انہوں نے آغا کا نام نہیں سنا تھا۔ ہم سب کو حیرت تھی کہ یہ شخص کلکتہ خلافت کمیٹی کا سیکرٹری مدتوں اہل ذوق کی صحبت میں رہ چکا ہے۔ شعر و شاعری کا بھی مذاق رکھتا ہے لیکن آغا حشر کو نہیں جانتا۔ خیر مولانا شائق احمد نے انہیں سمجھایا کہ دیکھئے یہ آغا حشر ہیں بہت بڑے شاعر بہت بڑے ڈراماٹسٹ۔ لوگ انہیں ہندوستان کا شیکسپیئر کہتے ہیں تو ان کی سمجھ میں بات آ گئی اور کہنے لگے۔ا چھا تو آپ شاعر ہیں میں اب سمجھا۔ خیر اب اس بحث کو جانے دیجئے اپنا کوئی شعر سنایئے۔ آغا بھرے بیٹھے تھے۔ یہ سن کے آگ بگولا ہو گئے۔ اور کہنے لگے سنئے جناب! آپ کو شعر سننا ہے تو خلافت کمیٹی کے لونڈوں سے سنئے۔ میں ایسا ویسا شاعر نہیں کہ ہر ایرے غیرے پچ کلیان کو شعر سناتا پھروں پھر جو انہوں نے تقریر شروع کی تو اللہ دے اور بندہ لے ہمارا یہ حال تھا کہ کاٹو تو لہو نہیں بدن میں۔ اور سید ذاکر علی پر تو سینکڑوں گھڑے پانی کے پڑ گئے۔\n\nایک سید ذاکر علی پر کیا موقوف ہے۔ آغا مناظرہ کے میدان کے شیر تھے۔ جس محفل میں جا بیٹھتے تھے۔ سب پر چھا جاتے تھے۔ باقاعدہ تعلیم تو واجبی تھی۔ لیکن مطالعہ نے انہیں کہیں سے کہیں پہنچا دیا تھا۔ ایک دن میں نے کہا آغا صاحب جی چاہتا ہے آپ کے سوانح حیات لکھ ڈالوں۔ کہنے لگے میرے سوانح حیات میںکیا پڑا ہے۔\n\nحاصل عمرم سہ حرف است و بس\n\nخام بدم پختہ شدم سو ختم\n\nبزرگوں کا وطن کشمیر ہے۔ وطن میں ان پر کچھ ایسی افتاد پڑی کہ امرت سر اٹھ آئے۔ وہاں سے والد مرحوم شالوں کی تجارت کے سلسلہ میں بنارس پہنچے اور وہیں ڈیرے ڈال دیئے۔ ہر چند انہوں نے میری تعلیم میں سعی کی لیکن جی نہ گا فارسی کی چند کتابیں پڑھ کر چھوڑ دیں۔ وہ پرانی وضع کے آدمی تھے اور مجھے ملائے مکتبی بنانا چاہتے تھے لیکن مجھے ملائیت سے نفرت تھی۔ ابھی مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں کہ بنارس سے بھاگ کر بمبئی پہنچا۔ وہاں پارسیوں نے تھیٹر کا ایسا طلسم باندھ رکھا تھا کہ ادنیٰ اور اعلیٰ سب اس پر غش تھے۔ میں نے بھی ڈرامہ لکھنے کو ذریعہ معاش بنایا اور ایک دو ڈرامے لکھ کر شیکسپیئر پر ہاتھ صاف کیا۔ اگرچہ ان دنوں بمبئی میں بڑے بڑے انشاء پرداز اور شاعر موجود تھے۔ لیکن خدا کی قدرت کہ تھوڑے دنوں میں سب گرد ہو گئے۔ لو میرے سوانحی حیات کا بہت بڑا حصہ تو چند لفظوں میں ختم ہو گیا۔\n\nایک دن کہنے لگے۔ تمہیں معلوم ہے۔ جوانی کے زمانے میں ہمارے دوست کون کون لوگ تھے؟ میں نے کہا نہیں کہنے لگے۔ بزرگوں میں مولانا شبلی مرحوم۔ نوجوانوں میں ابو نصر غلام یٰسین آہ، یہ تمہارا ابو الکلام اور حکیم فقیر محمد چشتی۔ لیکن بھائی میں نے ابو النصر آہ جیسا ذہین آدمی نہیں دیکھا جانتے ہو آہ کون تھا؟ ابو الکلام کا بڑا بھائی۔ بے چارے نے جوانی میں انتقال کیا۔ زندہ رہتا تو لوگ ابو الکلام کو بھول جاتے۔ آہ نے وفات پائی ابو الکلام اور میں دونوں برسوں سے ایک ہی شہر میں رہتے ہیں۔ لیکن سلام و کلام تک ترک ہے۔\n\nپھر کچھ دیر خاموش رہ کر بولے۔ وہ زمانہ بھی عجیب تھا میں ڈرامے بھی لکھتا تھا شراب بھی پیتا تھا نہ کبھی نماز پڑھی نہ روزہ رکھا۔ لیکن دینی حرارت سے دل گداز تھا آریہ اور عیسائی اسلام میںاعتراض کرتے تھے۔ اور میں اور ابو الکلام انہیں جواب دیتے تھے۔ اسی شوق میں مختلف مذاہب کی کتابیں پڑھیں۔ آریوں اور عیسائیوں کے رسالے لکھے۔ مناظرے کئے اور جس دنگل میں اترا فتح پائی ۔ ان دنوں پادری احمد مسیح کا بڑا زور تھا۔ ایک تو اندھا اور دوسرا حافظ قرآن۔ کترنی کی طرح زبان چلتی تھی۔ وہ دلی میں فوارہ پر اکثر تقریریں کیا کرتا تھا۔ میرے اور اس کے کئی معرکے ہوئے اور ہمیشہ میدان میرے ہی ہاتھ میں رہا۔ وہ کسی دوسرے کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ صرف مجھ سے اس کی کور دیتی تھی۔ اکثر مناظروں میں تو تکارتک نوبت پہنچ جاتی تھی۔ میں اس پر پھبتیاں کہتا وہ مجھ پر ایک دفعہ پادری احمد مسیح بمبئی آیا۔ اور ایک دو معرکے کی تقریریں کیں۔ ان دنوں میرے قیام کا کچھ ٹھیک نہیں تھا۔ کبھی کلکتہ کبھی دلی لیکن اتفاق یہ ہوا کہ احمد مسیح کو بمبئی آئے ہوئے صرف دو دن ہوئے تھے کہ میں بھی پہنچا۔ لوگوں نے مجھے مناظرے کے لئے کہا میں نے کہا میں چلنے کو تو تیار ہوں لیکن اسے میرا نام نہ بتانا۔ غرض وہ مجھے لے گئے اور احمد مسیح سے صرف اتنا کہا کہ ایک مولوی صاحب مناظرہ کرنے آئے ہیں۔ لیکن میں نے تقریر شروع کی تو وہ آواز پہچان کر بولا۔ آغا صاحب ہیں میں نے کہا جی ہاں! وہ کہنے لگا۔ ارے کسی مولوی کو لائے ہوتے۔ اس بھانڈ کو کیوں لے آئے؟ میں بولا پادری صاحب کسی بھلے مانس کے ہاں کتا گھس آئے تو خود اٹھ کر اسے نہیں دھتکارتا بلکہ نوکر سے کہتا ہے کہ اسے نکال دو۔ پھر تمہارے مقابلے پر کوئی مولوی کیوں آئے؟ پادری چیخ کر بولا یہ مجلس مناظرہ ہے یا بھانڈوں کی منڈلی؟ میں نے کہا بھانڈوں کی منڈلی ہی سہی۔ لیکن ان میں چست خورے تم ہو پادری نے کہا ارے تو تو تھیٹر کا نچنیا ہے۔ تجھ سے کون زبان لڑائے؟ میں نے کہا اب تمہیں تھیٹر میں نچاؤں گا۔ غرض میں نے مارے پھبتوں کے الو کر دیا۔ اور وہ صاف انکار کر گیا۔ کہ میں آغا سے بحث نہیں کرتا۔\n\nاکثر لوگوں کو یہ بات بہت ناگوار گذرتی تھی کہ آغا خود اپنی تعریفیں کرتے ہیں اور اپنے مناسب سب کو ہیچ سمجھتے ہیں۔ لیکن آغا صاحب کا خیال تھا کہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اپنی تعریف کرنا بہت ضروری ہے ایک مرتبہ کسی اخبار میں میری ایک نظم جو غالباً عید کے متعلق تھی شائع ہوئی۔ آغا نے اخبار دیکھا تو نظم کی بڑی تعریف کی خصوصاً آخری شعر کئی مرتبہ پڑھا اور پھر بولے اماں تم بہت خوب کہتے ہو۔ اس سے اچھا کوئی کیا کہے گا؟ میں نے کہا آغا صاحب آپ تو کانٹوں میں گھسیٹتے ہیں۔ میں کیا اور میری نظم کیا؟ کہنے لگے کیا کہا؟ ہم تعریف کرتے ہیں اور تم اپنی مذمت سننا چاہتے ہو اچھا صاحب یوں ہی سہی۔ نظم بہت بری ہے تم نے جھک ماری جو یہ نظم لکھی۔ اور ہم نے جھک ماری جو تمہاری تعریف کی کہو کہو اس ہیچ مدان پنبہ دہان کج کج زبان خفیر فقیر سراپا تقصیر کو کیا شعور ہے۔ کہ نظم لکھ سکے حضور کی ذرہ نوازی ہے اور سیدھی سادی زبان میں یہ مضمون ادا کرنا چاہو تو کہو میں نے یہ نظم نہیں لکھی۔ اور تم جھوٹے ہو جو اس کی تعریف کر رہے ہو۔ ارے بھائی میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر تمہارے انکسار کا یہی حل رہا تو فاقے کرو گے سینہ تان کہ کیوں نہیں کہتے کہ جی ہاں میری نظم تعریف کے قابل ہے۔ میں تو یہی کرتا ہوں ترکی حور لکھ کے رستم جی کو سنایا سب نے واہ وا کی لیکن سرگوشیاں بھی برابر ہو رہی تھیں حریف اس تاک میں تھے کہ موقع ملے۔ تو ایسی اکھیڑ ماریں کہ آغا چاروں شانے چت جا گرے اتنے میں کڑک کے کہا کون ہے جو آج ایسا ڈرامہ لکھ سکے؟ یہ سن کر سب کے سر جھک گئے۔ اور ہر طرف سے آوازیں آئیں پیر و مرشد بجا و درست۔\n\nآغا سے یہ بات سن کے مجھے ہمیشہ کے لئے کان ہو گئے اگرچہ میں ان کی طرح اپنی تعریفیں آپ نہیں کرتا لیکن کوئی تعریف کرے تو یہ بھی نہیں کہتا کہ حضرت میں تو بالکل جاہل ہوں۔\n\nآغا جوانی سے شراب کے عادی اور روز کے پینے والے تھے۔ دن ڈھلتے ہی پینا شروع کر دیتے تھے۔ اور بہت مدت گئے تک یہ محفل جمی رہتی تھی ان محفلوں میں جب کہیں کوئی تھیٹر اور ڈرامے کا ذکر چھیڑ دیتا تھا۔ تو بیچارے شیکسپیئر کی شامت آ جاتی تھی۔ لیکن شیکسپیئر غریب کی گت صرف انہیں محفلوں میں بنتی تھی۔ ورنہ عام طور پر آغا اس کا ذکر ہمیشہ عزت و احترام سے کرتے تھے۔\n\nوہ چھپ کر پینے کے قائل نہیں تھے۔ سب کہ سامنے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ بیج کھیت پیتے تھے۔ اور بوتلوں کی بوتلیں خالی کر دیتے تھے۔ لیکن موت سے کوئی تین سال پہلے شراب ترک کر دی۔ یوں دفعتہ شراب چھوڑ دینے سے ان کی صحت پر بہت برا اثر پڑا رنگت سنولا گئی۔ آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئے۔ ہڈیاں نکل آئیں۔ اور ایسا روگ لگا جو آخر ان کی جان لے کر ہی ٹلا ڈاکٹروں نے ہر چند کہا کہ اس حالت میں آپ کے لئے شراب کا استعمال مفید ہے۔ تھوڑی مقدار میں روز پی لیا کریں لیکن انہوں نے نہ مانا اور مرتے مر گئے۔ شراب نہ پی ہاں یہ ضرور تھا کہ اس حالت میں بھی ان کا کوئی پرانا دوست آ جاتا تھا تو اسے شراب منگوا کے اپنے سامنے پلواتے اور اس کی باتیں سن سن کر ہنستے۔\n\nآغا ہاتھ کے سخی تھے اور دل کے صاف ان ملنے والوں میں ہر قسم کے لوگ تھے۔ تھیٹر کے ایکٹروں اور ڈوم ڈھاڑیوں سے لے کر بڑے بڑے اہل علم تک سب سے ان کی بے تکلفی تھی۔ او روہ ان سب سے بڑے خلق اور مروت کے ساتھ پیش آئے تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی آغا محمود کو یہ بات ناگوار تھی۔ کہ آغا چھوٹی امت کے لوگوں سے کیوں بے تکلفی سے ملتے ہیں۔ لیکن ان کے جن لوگوں سے جس قسم کے تعلقات تھے۔ انہیں مرتے دم تک نبھائے چلے گئے۔ اور وضع داری میں فرق نہ آنے دیا وہ ہر شخص سے ان کی لیاقت اور مذاق کے مطابق گفتگو کرتے تھے عالموں میں بیٹھے ہیں تو حدوث و قدم مادہ کے متعلق گفتگو ہو رہی ہے۔ یا احادیث کی حیثیت پر بحث کر رہے ہیں۔ اسلام عیسائیت اور آریہ سماج کے اصولوں پر تقریریں کی جا رہی ہیں۔ ایکٹروں میں جا پہنچے۔ تو ضلع جگت شروع ہو گئی۔ پھبتیاں کہی جا رہی ہیں قہقہے اڑ رہے ہیں۔\n\nآغا نے اگرچہ لاکھوں کمائے اور لاکھوں ہی اڑائے لیکن وہ تنہا خوری کے عادی نہیں تھے جب روپیہ آتا تھا اس میں سب عزیزوں کے حصے لگائے جاتے تھے قریب کے رشتہ داروں کو تو انہوں نے ہزاروں لاکھوں دے ڈالے والدہ کی ایسی خدمت کی کہ کوئی کیا کرے گا لیکن دور کے رشتہ داروں کو بھی وہ کبھی نہ بھولے۔ ان کے عزیزوں میں کئی بیوہ عورتیں اور یتیم بچے تھے۔ ان سب کے درما ہے مقرر تھے۔ روپیہ آتا تھا۔ تو جس کا جو حصہ مقرر تھا۔ اسے گھر بیٹھے پہنچ جاتا تھا۔ غرض آغا کی ذات کئی بیکسوں کی زندگی کا سہارا بنی ہوئی تھی۔ ان کے اٹھتے ہی یہ سہارا مٹ گیا۔\n\nآغا کے والد ایک صوفی منش بزرگ تھے۔ وہ اکثر بیٹے کی بے قیدی اور آزادہ روی دیکھ دیکھ کے بہت کڑھتے تھے۔ شفاء الملک حکیم فقیر محمد چشتی مرحوم فرماتے تھے۔ کہ جب آغا لاہور آئے۔ مولانا ظفر علی خان کے ہفتہ وار اخبار ستارہ صبح میں ان کی ایک نظر چھپی جس کا روے سخن اگرچہ خواجہ حسن نظامی کی طرف تھا۔ لیکن جگہ جگہ تمام صوفیوں پر چوٹیں کی گئی تھیں۔ حکیم صاحب مرحوم تو ایک ہی زندہ دل بزرگ تھے۔ انہوں نے آغا دق کرنے کے لئے ان کے والد کو یہ نظم پڑھ کر سنائی اور کہا کہ دیکھئے آپ کا صاحبزادہ اب صوفیوں پر طعن کرنے لگا وہ یہ نظم سن کر بیٹے پر بہت بگڑے پھر کہنے لگے دیکھ لینا بڑھاپے میں یہ ان تمام حرکتوں سے توبہ کر لے گا معلوم نہیں آخری عمر میں صوفیوں کے متعلق آغا صاحب کا کیا عقیدہ تھا۔ البتہ اتنا تو ہم نے بھی دیکھا ہے کہ موت سے پہلے انہوں نے شراب سے توبہ کر لی۔\n\nآغا کے کلام اور ان کے ڈراموں پر تبصرہ کرنا میرا فرض نہیں البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ وہ شعر بہت جلد کہتے تھے۔ مولانا ظفر علی خان کے بعد اگر میں نے کسی کو اس قدر جلد شعر کہتے دیکھا ہے تو وہ آغا تھے۔ شعر خود نہیں لکھتے تھے بلکہ دوسروں کو لکھوا دیتے تھے۔ ڈراموں کا بھی یہی حال تھا اصل میں انہیں لکھنے سے نفرت سی تھی۔ عمر بھر کسی کو خط کا جواب نہیں دیا اور جواب دیا بھی تو اپنے ہاتھ سے نہیں لکھا۔\n\nکئی موقعوں پر ایسا ہوا کہ میں نے ایک مصرع پڑھا انہوں نے برجستہ دوسرا مصرع کہہ دیا اور چند منٹوں میں غزل ہو گئی۔ ان کی غزلوں میں ایک خاص سر مستی اور جو ش ہے جو اردو زبان میں ان کے سوا کسی کے ہاں نظر نہیں آتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ غزل گوئی کا اثر ان کے ڈراموں پر بھی پڑا ہے۔ یعنی جس طرح غزل میں ہر شعر مستقل حیثیت رکھتا ہے اسی طرح ان کے ڈراموں مختلف اجزاء تو اپنی اپنی جگہ خوب ہیں۔ لیکن آپس میں مل کر وہ اپنا حسن کسی حد تک کھو بیٹھے ہیں۔ گویا یوں کہنا چاہیے کہ آغا کے ڈراموں کا حسن اجزاء میں ہے کل میں نہیں۔ اسی مفہوم کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ مکان کا گارا چونا، اینٹیں اور لکڑی تو اپنی اپنی جگہ بہت اچھے ہیں۔ لیکن جب ان سے مل کر مکان بنتا ہے۔ تو اس میں بہت سے نقص نظر آتے ہیں۔ پھر بھی یہ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے اردو ڈرامے کو بہت اونچے مرتبہ پر پہنچا دیا اور اس معاملہ میں ان کا کوئی حریف نہیں تھا۔\n\nوہ خود بھی اکثر کہا کرتے تھے کہ میں لوگوں کے مذاق کو ملحوظ رکھ کر ڈرامے لکھتا ہوں۔ ورنہ اگر میں عوام کے مذاق کی پروا نہ کر کے اپنے اصلی رحجان طبیعت کے مطابق کچھ لکھوں تو اور ہی عالم نظر آئے میں نے ایک مرتبہ کہا کہ آغا صاحب اپنی طبیعت کے حقیقی جوش کا ظاہر کیوں نہیں ہونے دیتے۔ اور عوام کے مذاق کا اتنا خیال کیوں رکھتے ہیں؟ یہ سن کر آغا کے ابرو پر بل پڑ گئے۔ اور کہنے لگے کہ اگر میں اپنی طبیعت کے صحیح رحجان کی پیروی کرتا تو جوتیاں چٹخاتا پھرتا وہ تو بڑی خیر گزری کہ میں نے زمانے کی نبض کو پہچان لیا۔ لوگوں کے مذاق کے مطابق ڈرامے لکھتا ہوں۔ اور موٹروں میں اڑا پھرتا ہوں۔\n\n۱۹۲۸ء کے اواخر میں آغا حشر ٹکاری سے کلکتہ آئے ہوئے تھے کہ ایک دن میں ان سے ملنے گیا پہلے تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے پھر کہنے لگے ارے میاں اس اخبار نویسی میں کیا پڑا ہے اسے چھوڑو اور میرے ساتھ ٹکاری چلو ڈرامہ لکھنے میں برق نہ کر دوں تو میرا ذمہ میں نے اس وقت تو کہہ دیا کہ اچھا آغا صاحب یوں ہی سہی۔ مگر گھر آ کر سوچا تو خیال آیا اب تو آغا صاحب سے نیا زمندانہ تعلق ہے۔ ملازمت کا قصہ ہو گا تو اور بات ہو جائے گی کیا عجب کہ کسی بات پر ان سے بگڑ جائے۔ اور جو صاحب سلامت آج ہے یہ بھی نہ رہے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ آغا سے اقرار کر چکا تھا اب انکار کی ہمت نہیں پڑتی اتفاقاً اسی درمیان کچھ ایسے پیچ پڑے کہ میں نے کلکتہ چھوڑ لاہور آنے کا تہیہ کر لیا چلنے سے پہلے ایک دن آغا سے ملنے گیا مجھے دیکھتے ہی بولے ٹکاری چلتے ہو نا؟ میں نے کہا میں تو لاہور جانے کا ارادہ کر چکا ہوں۔ وہ یہ سن کر بہت ناراض ہوئے۔ میرے ساتھ لاہور اور لاہور کے اخباروں اور اخبار نویسوں کو بھی لے ڈالا۔ میں تھوڑی دیر بیٹھا ان کی باتیں سنتا رہا پھر اٹھ کر چلا آیا۔ دوسرے تیسرے دن معلوم ہوا کہ آغا ٹکاری چلے گئے۔\n\nکوئی سات سال کے بعد پھر آغا سے لاہور میں ملاقات ہوئی۔ میں حکیم فقیر محمد مرحوم کے ہاں ملنے گیا تو وہ چھ سات آدمیوں میں گھرے بیٹھے ہوئے تھے۔ لیکن میں نے انہیں بالکل نہیں پہچانا۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑے ہوئے تھے۔ گالوں میں گڑھے، ہڈیاں نکلی ہوئیں اور گردن کا گوشت لٹکا ہوا۔ پہلے کچھ دن حکیم صاحب کے ہاں ٹھہرے پھر شہر کے باہر ایک کوٹھی کرایہ پر لی ور وہاں اٹھ گئے۔ میں کبھی کبھی وہاں جاتا تھا اگرچہ اب بھی ان کی طبیعت اور وضعداری کا وہی عالم تھا لیکن یک لخت شراب چھوڑ دینے سے جہاں انہیں امراض نے آ گھیرا تھا وہاں طبیعت میں وہ اگلی سی جودت بھی نہیں رہی تھی۔ البتہ وہ کبھی نہیں مانتے تھے کہ شراب چھوڑ دینے سے ان کے دماغ پر کوئی اثر پڑا ہے۔ میں نے اس بات کا ذکر کیا تو کہنے لگے تم غلط کہتے ہو میں نے جب سے شراب چھوڑی ہے میری طبیعت زیادہ رواں ہو گئی ہے۔\n\nایک دن میں میکلوڈ روڈ سے گذر رہا تھا کہ کسی نے آواز دی مڑ کر کیا دیکھتا ہوں کہ آغا صاحب ایک دکان کے سامنے بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا آپ یہاں کہاں؟ فرمانے لگے آج مجھے امرت سر جانا ہے اور موٹر خراب ہو گئی ہے اس کی مرمت کرانے یہاں بیٹھا ہوں۔ پھر بولے یہ کیا حرکت ہے تم ہمارے ہاں آتے کیوں نہیں؟ میں نے کہا آغا صاحب فرصت نہیں ملتی بولے چل چلاؤ لگ رہا ہے ہم مر جائیں گے تو افسوس کرو گے کہ آغا سے اس کی زندگی کے آخری دنوں میں بھی نہ ملے میں نے کہا آغا صاحب کل ضرور حاضر ہوں گا فرمانے لگے آج تو میں امرت سر جا رہا ہوں پرسوں واپس آؤں گا۔ مجھے فون کر لینا۔\n\nدوسرے دن فون کیا تو معلوم ہوا کہ آغا صاحب ابھی نہیں آئے تیسرے دن رات کے وقت کسی نے کہا کہ آغا صاحب سخت بیمار ہیں میں نے سوچا کہ اس وقت تو ان سے ملنا مناسب نہیں صبح چلیں گے۔ صبح میں اٹھ کر کپڑے پہن رہا تھا اتنے میں خبر ملی کہ آغا کا انتقال ہو گیا انا للہ وانا الیہ راجعون۔\n\nلوگوں کا خیال تھا کہ جنازہ شہر میں لایا جائے گا۔ اخباروں میں یہ خبر بھی چھپی کہ نیلے گنبد میں نماز جنازہ ہو گی لیکن پھر خدا جانے کیا ہوا کہ یہ ارادہ ترک کر دیا گیا جنازہ کے ساتھ صرف سو سوا سو آدمی تھے ان میں بھی یا تو ان کی فلم کمپنی کے لوگ تھے یا بعض بعض خاص خاص نیاز مند کوئی دس بجے جنازہ اٹھا اور گیارہ ساڑھے گیارہ بجے انہیں میانی صاحب کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے افسوس ہے کہ آج تک کسی کو ان کی قبر پختہ بنوانے یا لوح مزار تک نصب کرنیکی توفیق بھی نہیں ہوئی۔\n\nشفاء الملک مرحوم\n\nآپ کی نظر سے شفاء الملک حکیم فقیر محمد صاحب چشتی کی آخری تصویر ضروری گزری ہو گی، جو انہوں نے موت سے صرف چند مہینے پہلے کھچوائی تھی۔ لیکن تصویر آخر تصویر ہے۔ اس سے نہ ان کے سن و سال کا اندازہ ہوتا ہے نہ قد و قامت کا پھر اس تصویر سے نہ وہ طبیب معلوم ہوتے ہیں۔ خدا دیب اگر تصویر کے نیچے ان کا نام نہ لکھا ہوتا۔ تو بہتیرے لوگ جنہوں نے مرحوم کو ان کی زندگی میں نہیں دیکھا یہی سمجھتے کہ اخباروں والوں نے کسی صوبے دار میجر یا سرحد کے کسی لیڈر کی تصویر چھاپ دی ہے اور تصویر پر کیا موقوف ہے۔ اگر یہ لوگ حکیم صاحب کو دیکھ لیتے جب بھی یہی کہتے۔\n\nاصل میں ادیبوں اور شاعروں کے لئے یہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔ کہ وہ بہت دبلے پتلے اور ہمیشہ کے روگی ہوں۔ اگرچہ پنجاب کے بعض ادیبوں نے بہت حد تک اس خیال کی تردید کر دی ہے اور جس لوگوں نے صرف اسی قسم کے بعض پنجابی ادیب دیکھے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی اچھا ادیب گاماں پہلوان سے کیا کم ہوتا ہو گا؟ لیکن ابھی تک یوپی کے بعض پان دھان شاعروں کی وجہ سے اکثر لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بیٹھا ہوا ہے کہ فطری ادیب کو فسانہ آزاد کے میاں خوجی کا ہم سنگ ہونا چاہیے باقی رہا طبیب تو جب تک اس کے چہرے سے یہ معلوم نہ ہو کہ بو علی سینا نے جتنے امراض کا ذکر کیا ہے وہ بچارا ان سب میں مبتلا ہو چکا ہے لوگ اس کی طبابت اور حذاقت پر کیسے ایمان لائیں۔\n\nیہ عجیب بات ہے کہ حضرت شفاء الملک مرحوم طبیب بھی تھے۔ اور ادیب بھی۔ لیکن طبیبوں اور ادیبوں کی اس مشترک خصوصیت سے بالکل محروم۔ قد کوئی چھ فٹ کے قریب چوڑا سینہ۔ بڑے بڑے ہاتھ پاؤں گھنی داڑھی گندمی رنگت چار کم ستر سال کی عمر میں وفات پائی لیکن پچاس سال سے زیادہ کاسن معلوم نہیں ہوتا تھا۔ سید احمد شاہ بخاری جو پہلے پطرس کے لقب سے مشہور تھے اور اب ریڈیو تخلص فرماتے ہیں ان کا قد و قامت شکل و شمائل دیکھ کر کہا کرتے تھے کہ حکیم صاحب کو تو شادی بیاہ کی محفلوں کے لئے کرایہ پر چلانا چاہیے۔ یعنی جہاں کوئی برات ہو حکیم صاحب کو بیعانہ بھیج دیا جائے کہ اپنے دوستوں1؎ سمیت تشریف لے آیئے۔ مجھے یقین ہے کہ برات کی رونق دوبالا ہو جائے گی۔\n\nحکیم صاحب کا وطن مالوف جگراؤں تھا۔ جو ضلع لدھیانہ کا ایک قصبہ ہے\n\nحکیم صاحب کے برض ہم سن دوست جن سے ان کی بے تکلفی تھی انہیں کی طرح ہمارے قوی ہیکل اور خوش پوش تھے\n\nنوجوانی میں دلی چلے گئے۔ اور حکیم عبدالمجید خان سے طب پڑھی۔ پھر چند سال ان کے مطب میں رہ کر طب کی عملی تعلیم حاصل کی۔ طبیعت بچپن سے شوخ تھی دلی کا قیام سونے پر سہاگہ ہو گیا۔\n\nایک دن مطب میں بیٹھے تھے۔ کہ ایک نازک اندام ہندو عورت آئی اس کا دوپٹہ گوٹے سے لپا ہوا تھا حکیم عبدالمجید خاں کے سامنے اور تو کچھ کہہ نہ سکتے تھے اپنے ایک ہم درس کو جو دوائیں دے رہا تھا۔ پکار کر کہا:\n\n’’خمیرہ گاؤ زبان بہ ورق نقرہ پیچیدہ‘‘\n\nشاہ نصیر کے متعلق اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ مشہور ہے۔ ایک عورت وسمے کی رضائی اوڑھے گزری شاہ صاحب نے فورا کہا\n\nاودی وسمے کی نہیں ہے یہ رضائی سر پر\n\nمہ جبیں رات ہے تاروں بھری چھائی سر پر\n\nلیکن ’’ خمیرہ گاؤ زبان بہ ورق نقرہ پچیدہ کا جواب نہیں ایک تو حکیم عبدالمجید خاں جیسے باکمال کی صحبت دوسرے زبان اور محاورہ کی تحقیق کا خدا داد ذوق۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکیم صاحب کی زبان بہت منجھ گئی۔ الفاظ کی تذکیر و تانیث محاورات کا محفل استعمال۔ فصحا اور اہل بازار کی زبان کے فرق پر وہ بہت غور کرتے رہتے تھے۔ اگرچہ دلی سے آ کے وہ بتیس تینتیس سال تک لاہور میں رہے۔ یہاں انہیں ہر طبقہ کے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا رہا۔ لیکن ان کی زبان پر کوئی اثر نہ پڑا اور وہ ہمیشہ نہایت شستہ و رفتہ اردو بولتے رہے۔ یہ بات باہر کے لوگوں کو تو درکنار خود دلی والوں کو بھی میسر نہیں۔ وہاں کے بڑے بڑے شرفا کچھ انگریزی کے تال میل اور کچھ کر خنداروں کی خاص زبان کے اثر سے ایسی بولی بولتے ہیں۔ جسے کسی طرح دلی کی زبان نہیں کہا جا سکتا۔\n\nمعلوم نہیں حکیم صاحب نے زبان سیکھنے میں کتنی محنت کی۔ دلی میں کن کن لوگوں سے ملتے رہے؟ یہ کسے معلوم تھا کہ ان کا انتقال یوں اچانک ہو جائے گا۔ ورنہ یہ سب کچھ پوچھ لیتا۔ البتہ یہ تو ظاہر ہے کہ محنت کے سوا زبان پر اتنا عبور حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ تو میں نے خود دیکھا کہ بڑے بڑے مدعیان زبان دانی کو وہ ٹوک دیتے تھے۔ تو کوئی جواب بن نہیں پڑتا تھا۔ خود مجھ سے اس قسم کے واقعات گزرے کہ حکیم صاحب نے ٹوکا۔ اور مجھے اپنی غلطی ماننی پڑی۔ لیکن انہیں اپنی زبان دانی کا کوئی بڑا دعویٰ نہیں تھا۔ کوئی ان سے یہ ذکر چھیڑ دیتا۔ تو کہا کرتے تھے۔ کہ میں بنفشہ گاؤ زبان خسانیدہ جو شانیدہ مالیدہ صاف کردہ بخورند لکھنے والا زبان کو کیا جانوں۔‘‘\n\nحکیم صاحب ۱۹۰۵ء میں دلی سے لاہور آئے۔ اور نواب محبوب سبحانی کی حویلی میں جو سوتر منڈی میں ہے۔ مطب کھولا موت سے تین سال پہلے جب انہیں شفاء الملک کا خطاب ملا تو اپنے مکان شفا منزل واقع بارود خانہ میں اٹھ گئے۔ لوگوں سے ان کے لمبے چوڑے تعلقات نہیں تھے۔ صرف شہر کے چند شرفاء سے بے تکلفی تھی۔ یا پھر ادیبوں اور شاعروں سے کھل کے ملتے تھے۔ ان کے ہاں اس گروہ کے لوگوں کا تو تانتا لگا رہتا تھا۔ کسی کو جگر کا عارضہ کوئی اسہال میں مبتلا کسی کو کھانسی کسی کو زکام، لیکن جہاں ان کے ہاں پہنچے اور انہوں نے ایک دو پھبتیاں کہیں۔ مرض آدھا رہ گیا یوں تو وہ نبض بھی دیکھتے تھے۔ نسخہ بھی لکھ دیتے تھے مگر میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اصل مرض کا علاج وہ پھبتیوں سے کرتے تھے۔ اور نسخہ محض مریض کا جی بہلانے کے لئے لکھ دیا جاتا تھا۔ ورنہ بازار میں بنفشہ اب بھی ملتا ہے۔ اور خیسا نیدہ جوشانیدہ صاف کردہ بخورند اب بھی لکھا جاتا ہے لیکن ویسا اثر نہیں دراصل انہوں نے پورا نسخہ کسی کو لکھ کر نہیں دیا۔ ورنہ اس کی صورت یہ ہوتی۔\n\nہو الشافی\n\nاول نزد شفاء الملک رفتہ ’’پھبتی با سماعت فرمایندو\n\nبعد ازاں ادویہ ذیل جوش دادہ صاف کردہ بخورند‘‘\n\nمعلوم ہوتا ہے کہ حکیم نے پھبتیوں کا ایک علیحدہ قرابا دین مرتب کر رکھا تھا۔ جس میں ہر مرض کے لئے علیحدہ علیحدہ پھبتیاں مخصوص کر دی گئی تھیں۔ کچھ چھوٹی کچھ بڑی۔ کچھ ہلکی پھلکی کچھ بھاری بھر کم کچھ مشتہی۔ کچھ مقوی کچھ قابض۔ کچھ ملین، کچھ دافع طحامل دورم جگر، کچھ محلل اورام۔ کچھ شربت انار کی طرح میٹھی کچھ شاہترہ چرایتہ کے جوشاندہ کی طرح کڑوی۔ وہ جیسا موقع سمجھتے تھے مناسب بدرقہ کے ساتھ استعمال کراتے تھے اور مریض کو بہت فائدہ ہوتا تھا۔\n\nآغا حشر سے ان کی بے تکلفی تھی۔ آپس میں ہمیشہ نوک جھونک رہتی تھی۔ لیکن آغا ہمیشہ حد اعتدال سے بڑھ جاتے تھے۔ مثلاً ایک مرتبہ آغا صاحب نے گاندھی ٹوپی پر ایک بڑی معرکہ کی پھبتی کہی۔ جسے لکھنا درکنار بے تکلف احباب کی صحبتوں میں بھی سنایا نہیں جا سکتا۔ لیکن حکیم صاحب نے فرمایا ایسا معلوم ہوتا ہے الٹا کھرل سر پر رکھ لیا ہے۔\n\nایک مرتبہ وہ سفر میں تھے۔ لکھنو کے کسی بزرگ سے پنجابیوں کی زبان اور روز مرہ کے متعلق گفتگو چل نکلی لکھنوی بزرگ بولے پنجاب کے شاعر تذکیر و تانیث کا خیال ہی نہیں رکھتے حکیم صاحب نے جواب دیا۔ اور آپ کو تذکیر و تانیث کا خیال کب ہے؟ پورب میں دنیا کے سب سے بڑے مذکر یعنی ہاتھی کو مونث بولا جاتا ہے۔ لکھنوی بزرگ نے پنجابیوں کی پگڑیوں کا ذکر چھیڑا اور کہا صاحب پنجاب کے لوگ کیسے اتنا بوجھ اٹھاتے پھرتے ہیں؟ حکیم صاحب نے ان کی دو پلڑی ٹوپی کی طرف اشارہ کر کے کہا شکر ہے۔ کہ آپ کو نہ ٹوپی سے غرض نہ پگڑی سے واسطہ ایک پیسہ دے کر فرق مبارک کی چوحدی پر قلعی کرا لی۔ چلو چھٹی ہوئی۔\n\nایک دن آغا حشر اور حکیم صاحب آم کھا رہے تھے آغا آم کھاتے جاتے تھے اور اپنی عادت کے مطابق کہتے جاتے تھے کہ بھئی حکیم بمبئی کے الفانسو کا جواب نہیں لکھنو کا سفیدہ اس کے آگے کیا مال ہے؟ حکیم صاحب نے کہا جی ہاں لیکن ہم تو بنارس کے لنگڑے پر لٹو ہیں۔ آغا پھڑک گئے۔ بات یہ تھی کہ آغا مرحوم بنارس کے رہنے والے تھے اور ایک ٹانگ سے لنگڑے۔ اس لئے بنارس کے لنگڑے کی پھبتی ان پر ایسی بیٹھی جیسے انگشتری میں نگینہ بیٹھتا ہے۔\n\nزندگی کے آخری زمانے میں آغا مختار بیگم پر بڑے مہربان تھے۔ دنیا کے عام قاعدہ کے مطابق اس تعلق کے سلسلہ میں طرح طرح کی افواہیں مشہور ہوئیں حکیم صاحب ایسے موقع پر کب چوکتے تھے۔ کئی پھبتیاں کہیں انہیں دنوں آغا کلکتہ سے لاہور آئے اور مختا ربیگم وہیں رہ گئی تو مجھے ایک دن ٹیلی فون پر حکیم صاحب سے باتیں کرنے کا موقع ملا۔ کہنے لگے اور سنا؟ میں نے پوچھا کیا ہوا ؟ فرمایا آغا صاحب خود مختار ہو گئے۔ یعنی لاہور تشریف لے آئے ہیں۔\n\nآغا نے موت سے کوئی تین سال پہلے شراب دفعتہ ترک کر دی۔ ان کی صحت پر اس واقعہ کا بہت ناگوار اثر پڑا۔ گردن کا گوشت لٹک گیا آنکھیں اندر کو گھس گئیں حکیم صاحب اس زمانے میں انہیں دیکھ دیکھ کر کہا کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایڑی سے جراب سمٹ گئی ہے۔\n\nایک دفعہ سیر کو نکلے دیکھا کہ ایک بابو صاحب جو ایک ٹانگ سے لنگڑے ہیں بڑی تیزی سے چلے جا رہے ہیں حکیم صاحب نے انہیں دیکھ کر کہا ۔ ذرا انہیں دیکھنا پاؤں سے ٹائپ کرتے چلے جا رہے ہیں۔\n\nپھبتی تشبیہہ کی ہی ایک قسم ہے تشبیہہ میں یہ ضروری ہے کہ مشبہ ادنیٰ ہو اور مشبہ بہ اعلیٰ لیکن پھبتی کا حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ یعنی اعلیٰ کو ادنیٰ سے تشبیہ دی جاتی ہے یوں تو شاید ہم اور آپ بھی غور کریں۔ تو اچھی اچھی بہت سی پھبتیاں سوچ لیں۔ لیکن وقت پر اچھی پھبتی بڑی مشکل سے سوجھتی ہے اور حکیم صاحب کا تو یہ حال تھا کہ وقت پر ایسی برجستہ پھبتی دماغ سے اتار لیتے تھے۔ کہ جو سنتا تھا حیران رہ جاتا تھا۔\n\nحکیم صاحب ایک مرتبہ کسی مریض کو دیکھنے گئے۔ ایک کالا بھجنگ معمر آدمی جو صاحب خانہ کا قریبی رشتہ دار تھا۔ مریض کی پٹی سے لگا پنڈلی کھجلا رہا تھا۔ حکیم صاحب کو یہ بات بہت ناگوار گزری لیکن کچھ کہہ نہ سکے جب مریض کو دیکھ کر چلنے لگے۔ تو اس شخص کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔ یہ صاحب زادے کس درجہ میں پڑھتے ہیں؟ صاحب خانہ نے کہا حکیم صاحب انہیں آپ نے صاحب زادہ کیسے کہ دیا ان کی عمر تو پچپن سال کے لگ بھگ ہو گی حکیم صاحب نے کہا اچھا یہ سلیٹ پر کچھ لکھ رہے تھے اس لئے میں یہ سوال کر بیٹھا۔\n\nان کے ہاں ہر قسم کے لوگ علاج کرانے کے لئے آتے تھے جن میں بعض نامی طوائفیں بھی تھیں۔ یہ لوگ ضلع جگت اور پھبتی میں تاق ہوتے ہیں۔ اس لئے کبھی کبھی ان سے نوک جھونک ہو جاتی تھی۔ ایک دفعہ ایک سیاہ فام طوائف علاج کروانے کے لئے آئی حکیم صاحب کی حاضر جوابی اور بذلہ سجی کی شہرت اس نے سن رکھی تھی۔ اس لئے آتے ہی ان پر ایک دو پھبتیاں کہہ دیں۔ گرمی کے دن تھے اور وہ جالی کا کرتہ پہنے ہوئے تھی جس سے ان کا جسم جھلکتا نظر آتا تھا حکیم صاحب اس کی باتیں سن کر بولے آپ اپنی کہیے یہ باورچی خانہ میں سفیدی کیسی کرا رکھی ہے؟\n\nمیں جن دنوں تہذیب نسواں میں نیا نیا گیا تھا۔ ایک مرتبہ حکیم صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا کہنے لگے کوئی نئی خبر سناؤ۔ میں نے آج کا اخبار نہیں دیکھا میں نے کہا صاحب میں خود کئی کئی دن اخبار نہیں دیکھتا ہنس کے فرمایا جی ہاں!\n\nعشق کا حال بیسوا جانیں\n\nہم بہو بیٹیاں یہ کیا جانیں\n\nایک مرتبہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا تومیرے ساتھ مظفر حسین صاحب شمیم بھی تھے۔ میں نے حکیم صاحب سے ان کا تعارف کرایا تو پوچھا وطن مالوف؟ شمیم صاحب نے کیا رائیپور کہنے لگے رائے پور کہاں ہے؟ وہ بولے سی پی میں کہنے لگے اچھا یوں کہئے آپ سی پی سے آئے ہیں تو پھر شمیم تخلص کیسا ’’ موتی‘‘ تخلص کیا کیجئے۔\n\nحکیم صاحب مرحوم جس طرح خود صاحب کمال تھے اسی طرح اہل ہنر کے قدر شناس بھی تھے۔ یہ ناممکن تھا کہ وہ اپنے ملنے والوں میں سے کسی کی اچھی نظم یا اچھا مضمون پڑھیں یا کوئی شوخ فقرہ یا اچھی پھبتی سنیں اور داد نہ دیں کبھی کبھی یار لوگ خود ان پر پھبتیاں کہہ جاتے تھے۔ اور وہ بڑی فیاضی سے داد دیتے تھے۔\n\nمیں ایک دن حاضر ہوا تو وہ خضاب کئے اور ڈھاٹا باندھے بیٹھے تھے۔ میں نے عرض کیا آج کیا بات ہے کہ حضور نے چہرے کو گل حکمت کر رکھا ہے۔ ہر چند کہ پھبتی پرانی تھی لیکن موقع کے لحاظ سے ایسی مناسب کہ وہ سنتے ہی اچھل پڑے۔\n\nاخبار نویسوں کی نوک جھوک میں انہیں بڑا لطف آتا تھا مجھ سے بار ہا کہا کہ بھئی کچھ سالک صاحب کے متعلق ضرور لکھو۔ سالک صاحب سے بھی کئی مرتبہ کہا کہ آپ سے اور حسرت سے چل جائے تو بڑا لطف رہے۔ لیکن ہمیشہ یہی ہوتا تھا کہ میں نے سالک صاحب کو چھیڑا اور وہ طرح دئیے گئے یا انہوں نے میرے متعلق کچھ لکھا اور میں پی گیا یا کبھی سلسلہ چھڑ گیا تو صرف دو تین دن تک ہلکی ہلکی چوٹیں چلتی رہیں اور قصہ ختم ہو گیا۔\n\nجن دنوں مولانا عبدالباقی نے آزاد نکالا میں زمیندار میں تھا دونوں اخباروں میں کئی زور کے معرکے ہوئے پہلے ایک عروضی بحث چھڑی۔ پھر بعض اصلاحات کے متعلق گرما گرم باتیں ہوئیں۔ مقالہ سے مقالہ لڑا۔\n\nشذرات سے شذرات اور فکاہات سے فکاہات۔ یہ جنگ ابتدا میں علمی لیکن اخیر میں چلمی ہو کر رہ گئی۔ یعنی اس کا خاتمہ پھبتیوں پر ہوا۔ حکیم صاحب کا تو ان دنوں یہ حال تھا کہ ادھر اخبار ان کی نظر سے گزرا ادھر انہوں نے ٹیلی فون پر داد دی اور پھر داد اس طرح کہ ایک ایک جملہ پر داد ہر نکتہ اور ہر پھبتی پر تحسین۔ سچ پوچھئے تو ہم لوگ اکثر چیزیں صرف حکیم صاحب کی خاطر لکھتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد لکھنے کا لطف ہی اٹھ گیا۔\n\nچچا چھکن سید امتیاز علی تاج کی مشہور تصنیف ہے۔ یہ کتاب انہوں نے کہہ کہہ کر لکھوائی۔ ورنہ امتیاز صاحب تو شاید اس سلسلہ کا ایک آدھ ہی مضمون لکھ کر بس کر چکے تھے۔ شیرازہ نکالنے کی تحریک بھی ابتدا میں ان کی ہی طرف سے ہوئی۔ اور اس کے لئے سب سے زیادہ خریدار بھی انہوں نے ہی دیئے۔\n\nحکیم صاحب کچھ عرصہ تک فکر سخن بھی کرتے رہے۔ اور اچھی اچھی غزلیں کہیں لیکن مشاعرہ میں خود غزل نہیں پڑھتے تھے اکثر یہ حال ہوتا تھا کہ سالک صاحب مشاعرہ میں ان کی غزل پڑھ رہے ہیں اور وہ کچھ فاصلہ پر ٹہل رہے ہیں لیکن ان کی شاعری کا زمانہ بہت مختصر تھا۔ صرف چند غزلیں کہیں اور انہیں کسی اخبار یا رسالہ میں شائع نہیں کرایا۔ آغا حشر مرحوم نے بہتیرا کہا کہ تمہاری طبیعت شاعری کے لئے بہت موزوں ہے۔ ضرور شعر کہا کرو۔ لیکن انہوں نے ٹال دیا۔ اشعار کے علاوہ کسی زمانے میں انہوں ’’ بابا رلدو ‘‘ کے فرضی نام سے چند مضامین بھی لکھے تھے۔ ’’ شیرازہ‘‘ نکالا تو میں نے پھر اس ڈھرے پر لانا چاہا لیکن میں نے جب یہ سلسلہ چھیڑا ادھر سے جواب ملا ارے بھائی میں ’’ بنفشہ گاؤ زبان‘‘ لکھنے والا مضمون لکھنا کیا جانوں؟\n\nطبیب کی حیثیت سے حکیم صاحب کا جو مرتبہ تھا۔ اس کے متعلق کوئی طبیب ہی اظہار رائے کر سکتا ہے۔ مجھے کچھ کہنا زیب نہیں دیتا البتہ اتنا ضرور ہے کہ ہمارے سامنے انہوں نے ایسے ایسے مریضوں کا علاج کیا۔ جنہیں ڈاکٹر متفقہ طور پر نقابل علاج بتا چکے تھے۔ اور ہمارا تو یہ حال تھا کہ کیسی ہی تکلیف کیوں نہ ہو؟ جہاں انہوں نے نبض پر ہاتھ رکھا آدھا مرض دور ہو گیا۔ ایک مرتبہ ایک نوجوان لڑکی کو ان کے پاس لایا گیا جو بصارت سے محروم تھی پوچھا تو معلوم ہوا کہ لڑکی کو میعادی بخار ہو گیا تھا۔ اس کے بعد اس کی بصارت زائل ہو گئی۔ حکیم صاحب نے نسخہ لکھ دیا اور کہا کہ اس نسخہ کے استعمال سے اسے زور کا بخار ہو گا لیکن تشویش کی کوئی بات نہیں یہ دوا برابر پلاتے رہنا۔\n\nوہ کوئی مہینہ بھر بخا رمیں مبتلا رہی۔ اور اسی زمانہ میں اس کی بصارت بھی عود کر آئی۔ جب بخار اترا تو اس کی آنکھیں بالکل بھلی چنگی ہو چکی تھیں۔ بعض لوگوں نے اس علاج پر حیرت ظاہر کی تو انہوں نے فرمایا معمولی بات ہے اس لڑکی کو میعادی بخار ہوا۔ معالج ناتجربہ کار تھا اس لئے ایسی دوائیں دیں کہ بخار ایکبارگی اتر گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ تپ اترتے وقت کچھ مواد فاسد آنکھوں کے اعصاب کے قریب تھا۔ جسے خارج کرنے کی کوئی تدبیر نہیں کی گئی او راس طرح آنکھیں ماؤف ہو گئیں۔ میں نے ایسی دوائیں دیں کہ مریضہ کو پھر بخار ہوا اور یہ مواد فاسد بخار کی حرارت سے پگھل کر آہستہ آہستہ خارج ہو گیا۔\n\nسید امتیاز علی تاج کو ایک مرتبہ گلے میں ایک مرض ہو گیا تھا جس کے متعلق ڈاکٹروں کی یہ رائے تھی کہ ہندوستان میں اس کا علاج نہیں ہو سکتا۔ امتیاز صاحب وی آنا جانے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ کہ اتفاقاً حکیم صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے ایک معمولی سا نسخہ لکھ دیا۔ جس کے استعمال سے چند دنوں میں تکلیف رفع ہو گئی۔ سر سکندر حیات خاں پر بھی یہی مہاجرا گزرا یعنی پٹنہ میں انہیں درد گردہ کا شدید دورہ پڑا۔ کلکتہ جا کر ڈاکٹروں کے ایک بورڈ سے معائنہ کرایا۔ انہوں نے کہا پتھری اور اس کا علاج وی آنا کے سوا اور کہیں نہیں ہو سکتا۔ سر سکندر لاہور آئے اور حکیم صاحب سے علاج شروع کرایا دو تین مہینہ کے علاج میں شفا ہو گئی۔\n\nاس قسم کے واقعات ہیں تو بہت لیکن اس لئے نہیں لکھتا کہ کہیں یہ مضمون رموز الاطبابن کر نہ رہ جائے۔\n\nحکیم صاحب کی زندگی افکار و آلام سے خالی نہیں تھی۔ سب سے بڑا داغ تو بے اولادی کا تھا لیکن اس کے باوجود ان کی طبعی شگفتگی کا یہ حال تھا کہ کبھی میں نے انہیں ملول و متفکر نہیں پایا۔ جب دیکھا مسکراتے ہی دیکھا جہاں دو چار خوش ذوق آدمی ان کے پاس جا بیٹھے پان سے ان کی تواضع کی خود ایک گلوری کلے میں دبائی اور مسکرانے لگے۔ یہ مسکرانا گویا اس بات کا اشارہ تھا کہ اب وہ کوئی پھبتی کہنے کو ہیں۔ سنبھل جایئے پھبتی کے ساتھ وہ اس طرح قہقہ لگاتے تھے کہ در و دیوار گونج اٹھتے تھے اور پھر یہ نہیں کہ دوسرا کچھ کہے تو جھینپ جائیں۔ بلکہ اسی طرح قہقہہ سے داد دیتے تھے۔ بس یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کے ذہن میں نسخوں کے ساتھ ساتھ لطیفے بھرے پڑے تھے۔ پیٹ میں قہقہے تھے۔ اور ہونٹوں پر مسکراہٹ اور یہ تینوں اس ترتیب سے باری باری اپنا اپنا جلوہ دکھاتے تھے۔ تبسم پھبتی قہقہہ یا کبھی یوں کہ قہقہہ، لطیفہ، تبسم۔\n\nمرحوم مرنج و مرنجان بے ہمہ و با ہمہ قسم کے انسان تھے۔ خود وہ راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ اور ان کے دل میں قوم کا درد بھی تھا۔ لیکن دوسروں کے سیاسی اور مذہبی عقائد سے انہیں کوئی سروکار نہیں تھا۔ اور حجت تکرار بخشا بحثی سے ہمیشہ محترز رہتے تھے پرانے بزرگوں میں وضع داری لازمہ شرافت سمجھی جاتی تھی۔ حکیم صاحب مرحوم بھی اسی قسم کے باوضع انسان تھے۔ ساری زندگی ایک ہی ڈھنگ پر گزار دی۔ معمولات میں کبھی فرق نہیں آیا۔ جس سے جو تعلق تھا۔ اسے نباہے گئے اپنے نیاز مندوں پر ہمیشہ شفقت فرماتے تھے لیکن سرکشوں کے ساتھ سرکشی سے پیش آتے تھے۔ ہرچند کہ انہیں علاج کے سلسلہ میں بڑے بڑے رؤسا اور ارباب جاہ سے سابقہ پڑتا تھا۔ لیکن انہوں نے کبھی لایہ گری کو شعار نہیں بنایا۔\n\nمرحوم کی اپنی صحت بہت اچھی تھی۔ وہ ہمیشہ ایسی دوائیں استعمال کرتے رہتے تھے جن سے مرض قریب نہیں آنے پاتا تھا۔ ۱۹۳۷ء کی گرمیوں میں بمبئی گئے وہاں طبیعت بگڑی اور اسہال شروع ہو گئے۔ انہوں نے پروا نہ کی اور کمار صاحب ٹکاری کے ساتھ ڈیرہ دون چلے گئے۔ وہاں مرض نے زور پکڑا تو لاہور چلے آئے لیکن اپنے آنے کی خبر کسی کو نہ دی۔ یہاں پہلے کچھ دن علاج کرتے رہے پھر کچھ دوستوں نے ڈاکٹر یار محمد اور ڈاکٹر وشوا ناتھ کو بلا بھیجا۔ ان کے علاج سے کچھ فائدہ نہ ہوا تو دلی سے حکیم فرید احمد کو بلایا گیا۔ مگر کوئی تدبیر نہ چلی اور آخر مرحوم نے دو مہینے کی علالت کے بعد ارسٹھ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ راحل ہوشیار پوری نے تاریخ کہی شفاء الملک حکیم فقیر محمد مرحوم۔\n\nمرحوم نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔ ان کی موت کے ساتھ مطب درہم برہم ہو گیا۔ دواخانہ ابھی تک ہے لیکن اس کی بھی حالت اچھی نہیں۔\n\n== علامہ اقبال ==\n\nمیکلوڈ روڈ پر لکشمی انشورنس کمپنی کی عمارت سے کچھ آگے سینما ہے۔ سینما سے ادھر ایک مکان چھوڑ کے ایک پرانی کوٹھی ہے۔ جہاں آج کل آنکھوں یا دانتوں کا کوئی ڈاکٹر رہتا ہے۔ کسی زمانے میں علامہ اقبال یہیں رہا کرتے تھے۔ چنانچہ ۱۹۳۰ء میں یہیں پہلی مرتبہ ان کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا تھا۔ اب بھی میں اس طرف سے گزرتا ہوں تو اس کوٹھی کے قریب پہنچ کر قدم رکتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ اور نظریں بے اختیار اس کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔\n\nکوٹھی اچھی خاصی تھی ۔ صحن بھی خاصا کشادہ۔ ایک طرف شاگرد پیشہ کے لئے دو تین کمرے بنے ہوئے تھے۔ جن میں علامہ اقبال کے نوکر چاکر علی بخش رحمان، دیوان علی وغیرہ رہتے تھے۔ لیکن کوٹھی کی دیواریں سیلی ہوئی۔ پلستر جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا۔ چھتیں ٹوٹی پھوٹی۔ منڈیر کی کچھ اینٹیں اپنی جگہ سے اس طرح سرکی ہوئی تھیں کہ ہر وقت منڈیر کے زمین پر آرہنے کا اندیشہ تھا۔ میر کا مکان نہ سہی۔ بہرحال غالب کے بلی ماراں والے مکان سے ملتا جلتا نقشہ ضرور تھا۔\n\nکوٹھی کے صحن میں چارپائی بچھی تھی۔ چارپائی پر اجلی چادر اس پر علامہ اقبال ململ کا کرتہ پہنے تہ بند باندھے تکیہ سے ٹیک لگائے حقہ پی رہے تھے۔ سرخ و سپید رنگت بھرا ہوا جسم سر کے بال کچھ سیاہ کچھ سپید۔ داڑھی گھٹی ہوئی چار پائی کے سامنے کچھ کرسیاں تھیں۔ ان پر دو تین آدمی بیٹھے تھے۔ دو تین اٹھ کے جا رہے تھے۔ سالک صاحب میرے ساتھ تھے۔ علامہ اقبال نے پہلے ان کی مزاج پرسی کی پھر میری طرف توجہ فرمائی۔\n\nان دنوں نمک کی ستیا گرہ زوروں پر تھی۔ ڈانڈی کے مارچ کے چرچے جگہ جگہ ہو رہے تھے۔ لاہور میں روز جلوس نکلتے۔ جلسے ہوتے اور انقلاب زندہ باد کے نعرے لگتے تھے۔ میں نے پہلے کبھی کھدر کا لباس نہیں پہنا تھا۔ مگر یہ تو کھدر کا خاص موسم تھا۔ کچھ رواج عام کااثر کچھ کفایت کا خیال۔ میں نے بھی یہی لباس پہننا شروع کر دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کا ذہن میرے کھدر کے لباس سے چرخے چرخے سے گاندھی اور گاندھی سے کانگریس کی جانب منتقل ہو گیا کیونکہ اس رسمی تعارف کے بعد انہوں نے جو گفتگو شروع کی۔ اس کی لپیٹ میں گاندھی کانگریس اور اہنسا سب کے سب آ گئے تھے۔\n\nموضوع روکھا پھیکا تھا۔ مگر بیچ بیچ میں لطیفے بھی ہوتے جاتے تھے۔ میں تو ہوں ہاں کر کے رہ جاتا تھا۔ مگر سالک صاحب کب رکتے تھے۔ جہاں موقع ملتا تھا کوئی لطیفہ کوئی چٹکلہ۔ کوئی پھبتی ضرور کہہ دیتے تھے۔ ہم جب گئے تھے تو سورج چھپنے میں کوئی آدھ گھنٹہ باقی تھا۔ مگر اٹھے تو اچھی خاصی رات ہو چکی تھی۔ مجھے لاہور آئے ہوئے سوا سال سے اوپر ہو چکا تھا۔ لیکن زیادہ لوگوں سے ربط نہیں تھا۔ یا تنہا گھر میں بیٹھا ہوں۔ یا سالک صاحب کے ہاں ہفتہ میں ایک دو مرتبہ حکیم فقیر محمد صاحب چشتی کے ہاں بھی چلا جاتا تھا لیکن اب جو علامہ اقبال کی خدمت میں باریاب ہونے کا موقع ملا۔ تو ایک اور ٹھکانا ہاتھ آ گیا۔ کچھ دنوں میں یہ کیفیت ہوئی کہ اول تو دوسرے تیسرے ورنہ ساتویں آٹھویں ان کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتا تھا۔ کبھی کسی دوست کے ساتھ کبھی اکیلا۔ مگر جب جاتا تھا۔ گھنٹہ دو گھنٹہ ضرور بیٹھتا تھا کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا کہ بارہ بارہ بجے تک برابر محفل جمی ہے۔ لوگ آ رہے ہیں جا رہے ہیں۔ ادب، شاعری، سیاست، مذہب پر بحثیں ہو رہی ہیں لیکن ان محفلوں میں سب سے زیادہ علامہ اقبال باتیں کرتے تھے دوسرے لوگوں کی حیثیت زیادہ تر سامعین کی ہوتی تھی۔ میرا مقصود یہ نہیں کہ وہ دوسروں کو بات کرنے کا موقع نہیں دیتے تھے۔ یا بات کاٹ کے بولنا شروع کر دیتے تھے۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ہر مسئلہ کے متعلق ان کی معلومات دوسروں سے زیادہ ہوتی تھیں۔ اور اہل محفل کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ چند جملے کہہ کے چپکے ہو رہیں۔\n\nان کے مکان کے دروازے غریب و امیر ادنیٰ و اعلیٰ سب پر کھلے تھے۔ نہ کوئی حاجب نہ دربان، نہ ملاقات کے لئے کارڈ بھجوانے کی ضرورت، نہ تعارف کے لئے کسی واسطہ کی حاجت جو آتا ہے کرسی کھینچ کے بیٹھ جاتا ہے اور یا تو خود اپنا تعارف کرا دیتاہے۔ یا چپ چاپ بیٹھا باتیں سنتا رہتا ہے۔ علامہ اقبال باتیں کرتے کرتے تھوڑی دیر کے لئے رکتے ہیں تو اس کی طرف توجہ فرماتے ہیں اور پوچھتے ہیں ’’ فرمائیے کہاں سے آنا ہوا؟‘‘ وہ اپنا نام بتاتا ہے۔ کوئی حاجت ہوتی ہے تو بیان کر دیتا ہے۔\n\nڈاکٹر محمد دین تاثیر کہتے ہیں کہ ایک رات کو میں ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر تھا کچھ اور لوگ بھی بیٹھے تھے کہ ایک شخص جس کے سر کے بال بڑھے ہوئے تھے اور کچھ بدحواس معلوم ہوتا تھا آیا اور سلام کر کے بیٹھ گیا۔ علامہ اقبال کچھ دیر کے بعد اس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے ’’فرمائیے‘‘ کہاں سے تشریف لائے؟ وہ کہنے لگا’’ یوں ہی آپ سے ملنے چلا آیا تھا‘‘ خدا جانے علامہ اقبال نے اس کے چہرے سے معلوم کر لیا کہ اس نے کھانا نہیں کھایا یا کوئی اور بات تھی ۔ بہرحال انہوں نے پوچھا’’ کھاناکھائیے گا؟‘‘ اس نے جواب دیا’’ جی ہاں کھلا دیجئے‘‘ علامہ اقبال نے علی بخش کو بلا کے کہا’’ انہیں دوسرے کمرے میں لے جا کے کھانا کھلا دو یہ سن کر وہ کہنے لگا میں کھانا یہیں کھاؤں گا۔ غرض علی بخش نے وہیں دستر خوان بچھا کر اسے کھانا کھلایا۔ وہ کھانا کھا کے بھی نہ اٹھا۔ اور وہیں چپ چاپ بیٹھا رہا رات اچھی خاصی جا چکی تھی۔ اس لئے میں اسے وہیں چھوڑ کے گھر چلا آیا۔ دوسرے دن علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے سب سے پہلے یہ سوال کیا کہ کیوں ڈاکٹر صاحب رات جو شخص آیا تھا اس کا کیا ہوا؟ کہنے لگے تمہارے جانے کے بعد میں نے اس سے کہا۔ اب سو جایئے لیکن وہ کہنے لگا کہ آپ کے کمرے میں ہی پڑ رہوں گا۔ چنانچہ علی بخش نے میرے کمرے کے دروازہ کے ساتھ اسے چارپائی بچھا دی صبح سویرے اٹھ کر وہ کہیں چلا گیا!‘‘\n\nان سے جو لوگ ملنے آتے تھے۔ ان میں کچھ تو روز کے آنے والے تھے کچھ دوسرے تیسرے اور کچھ ساتویں آٹھویں آتے تھے۔ بہت سے لوگ ایسے تھے۔ جنہیں عمر بھر میں صرف ایک آدھ مرتبہ ان سے ملنے کا موقع ملا۔ پھر بھی ان کے ہاں ہر وقت میلا سا لگا رہتا تھا۔ جب جاؤ دو تین آدمی بیٹھے ہیں۔ کوئی سفارش کرانے آیا ہے۔ کوئی کسی شعر کے معنی پوچھ رہا ہے۔ کسی نے آتے ہی سیاسیات کے متعلق بحث چھیڑ دی ہے اور کوئی مذہب کے متعلق اپنے شکوک بیان کر رہا ہے۔\n\nاکثر لوگ جو باہر کے کسی شہر سے لاہور کی سیر کرنے آتے تھے ان کی کوٹھی پر حاضر ہونا واجبات میں سے سمجھتے تھے۔ کیونکہ لاہور آ کے ڈاکٹر اقبال کو نہ دیکھا۔ تو کیا دیکھا؟ ایسے لوگ بھی تھے جو ان کے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا دیکھ کر ان سے علاج کرانے آ جاتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ ایک شخص ان سے دانت نکلوانے چلا آیا تھا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر اقبال علاج کرنا نہیں جانتے تو وہ بہت حیران ہوا اور کہنے لگا کہ یہ کیسے ڈاکٹر ہیں جنہیں دانت نکالنا بھی نہیں آتا!\n\nبہت سے لوگ ایسے بھی ہیں۔ جنہیں علامہ اقبال سے ملنے اور ان کی باتیں سننے کا اشتیاق عمر بھر رہا۔ مگر ان کی خدمت میں حاضر ہونے کی جرأت نہ ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کو ان کی طبیعت کا حال معلوم نہیں تھا۔ وہ ان کے عظمت کے ذکر و اذکار سن کر اور ان کے ساتھ سر جیسا پر رعب خطاب دیکھ کر دل میں سمجھتے تھے کہ ان کے حضور میں ہم ایسے غریب لوگوں کی رسائی کہاں؟ میرے ایک عزیز دوست جو علامہ اقبال کے سچے عقیدت مند ہیں۔ ان کی وفات سے کوئی دو مہینے کے بعد مجھ سے ملنے آئے اور جب تک بیٹھے رہے انہیں کا ذکر کرتے رہے جب انہیں میری زبانی معلوم ہوا کہ علامہ اقبال سے ہر شخص مل سکتا تھا تو انہوں نے بے اختیار رونا شروع کر دیا اور کہنے لگے ’’ تم نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا؟ مجھے کئی سال سے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کی تمنا تھی مگر حوصلہ نہیں پڑتا تھا۔ جی میں سوچتا تھا کہ کسی تقریب کے بغیر کیسے ملوں؟ کیا عجب ہے کہ وہ ملنے سے انکار ہی کر دیں۔ کئی دفعہ اس شوق میں ان کی کوٹھی تک گیا مگر اندر قدم رکھنے کی ہمت نہ پڑی۔ اس لئے باہر سے ہی الٹے پاؤں لوٹ آیا۔‘‘\n\nعلامہ اقبال بہت سیدھی سادی زندگی بسر کر تے تھے۔ گھر میں تو وہ ہمیشہ تہ بند اور کرتے میں نظر آتے تھے البتہ باہر نکلتے تو کبھی کوٹ پتلون پہن لیتے تھے۔ کبھی فراک کوٹ کے ساتھ شلوار اور ترکی ٹوپی ہوتی تھی۔ ولایت جانے سے پہلے وہ پنجابیوں کا عام لباس پہنتے تھے یعنی کبھی مشہدی لنگی فراک کوٹ اور شلوار کبھی سپید ململ کی پگڑی۔ وہ شروانی اور چسٹ گھٹنا بھی پہنتے رہے ہیں۔ مگر بہت کم میں نے اس لباس میں انہیں دیکھا تو نہیں البتہ قیاس کہتا ہے کہ شروانی اور چست گھٹنا ان کے جسم پر بہت کھلتا ہو گا۔\n\nوہ کھانا کم کھاتے تھے مگر ہمیشہ اچھا کھاتے تھے مدت سے ان کا یہ دستور تھا کہ رات کو کھانا نہیں کھاتے تھے صرف نمکین کشمیری چائے پر اکتفا کرتے تھے۔ دسترخوان پر ہمیشہ دو تین سالن ضرور ہوتے تھے۔ پلاؤ اور کباب انہیں بہت مرغوب تھے۔ شبدیگ بھی بہت پسند تھی۔ جاڑے کے دنوں میں بڑے چاؤ سے شبدیگ پکواتے اور خشکہ کے ساتھ کھاتے تھے۔ پھلوں میں صرف آموں سے رغبت تھی۔ آموں کی فصل میں لگن اور سینیاں بھر کے بیٹھ جاتے۔ خود کھاتے احباب کو کھلاتے لطیفے کہتے۔ آپ ہنستے دوسروں کو ہنساتے تھے۔\n\nجوانی کے زمانے میں ان کا معمول یہ تھا کہ صبح اٹھ کے نماز پڑھتے۔ قرآن کریم کی تلاوت کرتے۔ پھر ورزش کرنا شروع کر دیتے۔ ڈنٹر پیلتے۔ لدر ہلاتے اور جب سارا جسم عرق عرق ہو جاتا تو مگدر ہاتھ سے چھوٹتا سن زیادہ ہو گیا تو ورزش چھوٹ گئی۔ البتہ قرآن کریم کی تلاوت آخر تک جاری رہی۔\n\nعام طور پر پنجابی بولتے تھے ۔ کبھی کبھی اثنائے گفتگو میں انگریزی بولنا بھی شروع کر دیتے تھے۔ یوپی کے جو شاعر اور ادیب ان سے ملنے آتے تھے۔ انہیں علامہ اقبال کے ڈیل ڈول لب و لہجہ اور گفتگو کے انداز پر حیرت ہوتی تھی کیونکہ ان لوگوں کے ذہن میں شاعر کا تصور یہ ہے کہ تیکھے تیکھے نقش۔ جس دھان پان بلکہ بالکل مشت استخواں کلے میں گلوری جس کی پیک بہ کر ٹھوڑی تک پہنچی ہے۔ سر پر پٹے اور ان پر دوپلڑی ٹوپی۔ بات بات پر تسلیمات بجا لاتا اور دہرا ہوا جاتا ہے۔ بغل میں کاغذوں کا پلندہ جس میں کچھ ادھوری اور کچھ پوری غزلیں۔ مخاطب کے مزاق اور خیالات کا لحاظ نہیں کرتا جو ملنے آتا ہے۔ اسے اپنا کلام سنانا شروع کر دیتا ہے اور اس وقت تک خاموش نہیں ہوتا جب تک سننے والا اکتا نہیں جاتا۔\n\nمجھ سے یوپی کے ایک مشہور شاعر نے جو علامہ اقبال سے مل چکا تھا۔ استعجاب کے انداز میں کہا اجی صاحب ! ڈاکٹر اقبال اپنے لب و لہجہ اور ڈیل ڈول سے بالکل پنجابی معلوم ہوتے ہیں۔\n\n’’ گویا ان لوگوں کے نزدیک اچھے شاعر کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے لب و لہجہ اور ڈیل ڈول سے پنجابی معلوم نہ ہو۔‘‘\n\nایک دفعہ یوپی کے ایک شاعر صاحب آئے اور تھوڑی دیر کے بعد علامہ اقبال سے ان کا کلام سننے کا اشتیاق ظاہر کیا۔ انہوں نے ٹالنا چاہا۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ یوپی کا شاعر شعر سننے اور سنانے کے معاملہ میں ہمیشہ بے پناہ ہوتا ہے۔ انہوں نے علامہ مرحوم کے انکار کو شاعرانہ انکسار سمجھا اور برابر تقاضا جاری رکھا جب یوں کام نہ نکلا تو اپنی ایک غزل سنانا شروع کر دی۔ علامہ اقبال کچھ دیر تو چپ بیٹھے سنتے رہے لیکن جب دیکھا کہ مدعی سامعہ خراشی پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ داد کا بھی طالب ہے۔ تو ان سے ضبط نہ ہو سکا صاف کہہ دیا کہ اس قصے کو جانے دیجئے میں شعر سننے سنانے کا قائل نہیں وہ تھوڑی دیر چپکے بیٹھے رہے پھر اٹھ کر چلے گئے۔ مگر ان کے تیوروں سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ یہاں سے نکلتے ہی خود کشی کر لیں گے اور اس معاملہ میں وہ حق بجانب بھی تھے۔ انہیں یقینا عمر بھر میں کبھی اس قسم کے شاعر سے سابقہ نہیں پڑا ہو گا۔ جی میں کہتے ہوں گے کہ یہ کیسے شاعر ہیں جو نہ شعر سناتے ہیں نہ سنتے ہیں نہ داد لینے کا شوق نہ داد دینے کا سلیقہ۔\n\nعلامہ اقبال جوانی میں کبھی کبھار مشاعروں میں بھی شریک ہو جاتے تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ انہیں اس قسم کے اجتماعات سے نفرت سی ہو گئی۔ ایک دن مشاعروں کا ذکر آ گیا تو فرمایا اردو شاعری کو ان مشاعروں نے کھویا۔ میں نے پوچھا وہ کیسے؟ کہنے لگے مشاعروں میں برے بھلے سب شریک ہوتے ہیں۔ اور داد کو شعر کے حسن و قبح کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اردو شاعری نے عوام کے مذاق کو اپنا رہنما بنا لیا میں نے عرض کیا۔ ’’ ان مشاعروں نے تو اردو زبان کو بہت فائدہ پہنچایا ہے۔‘‘ فرمایا’’ ہاں زبان کو فائدہ پہنچایا۔ اور شاعری کو غارت کر ڈالا۔‘‘\n\nمرحوم کی طبیعت میں ظرافت بہت تھی۔ خشک فلسفیانہ مسائل کو بھی وہ لطیفوں اور پھبتیوں میں ایسا دلچسپ بنا دیتے تھے کہ جی چاہتا تھا پہروں بیٹھے ان کی باتیں سنتے رہیں یوں تو ہر روز دو تین لطیفے ہو جایا کرتے تھے لیکن جو پھبتیاں انہوں نے سر شہاب الدین کے متعلق کہی ہیں انہیں تاریخی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں دیکھ کر علامہ اقبال کو لطیفوں او رپھبتیوں کے سوا کچھ نہیں سوجھتا تھا۔ سر شہاب الدین کی رنگت سیاہ ہے ایک دفعہ وہ سیاہ سوٹ پہن کر اسمبلی میں تشریف لے آئے۔ علامہ اقبال نے انہیں دیکھا تو ہنس کے فرمایا ’’ چودھری صاحب آج تو آپ ننگے ہی چلے آئے۔‘‘\n\nچودھری صاحب نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ لباس کے انتخاب کا معاملہ نظر ثانی کا محتاج ہے۔ سیاہ رنگت پر سیاہ سوٹ واقعی بھلا معلوم نہیں ہوتا۔ لوگوں کو یہ معلوم کرنے میں دقت ہوتی ہے کہ کوٹ کا کالر کہاں ہے؟ اور ٹھوڑی کہاں۔ یہ سوچ کے سیاہ سوٹ کے بجائے سپید سوٹ پہننا شروع کر دیا۔ سپید پتلون، سپید کوٹ، سپید قمیض، سپید پگڑی چونکہ وہ خود بھی پنجابی کے شاعر ہیں۔ اس لئے سپید سوٹ زیب تن کر کے سمجھ لیا کہ اب حریف کے لئے اعتراض کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ سپید لباس میں سیاہ چہرہ اسی طرح معلوم ہو گا جس طرح گورے گالوں پر سیاہ تل ۔ اور خال رخ یار کی تعریف میں تو دیوانوں کے دیوان بھرے پڑے ہیں۔ علامہ اقبال نے انہیں دیکھا تو سر سے پاؤں تک ایک نظر ڈالی اور بے اختیار ہنس پڑے چودھری صاحب نے جھنجھلا کے کہا۔ ’’ آپ ہنستے کیوں ہوں؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ آپ ہیں یا کپاس کے کھیت میں ارنا بھینسا ایک مرتبہ پھر ایسا ہی موقع پیش آیا تو مرحوم نے ان پر بجھے ہوئے سگریٹ کی پھبتی کہی۔\n\nایک مرتبہ بے تکلف احباب کی صحبت میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ چودھری شہاب الدین کا ذکر چھڑ گیا۔ ’’ میں نے عام مثال میں ایک بڑھیا دیکھی۔ جو اسٹیشن کی طرف جا رہی تھی میں نے پوچھا تو کون ہے؟ کہنے لگی میں طاعون ہوں میں نے کہا تو بھاگ کے کہاں جا رہی ہے؟ کہنے لگی میں شہر کی طرف جانا چاہتی تھی لیکن وہاں شہاب الدین پہلے ہی موجود ہے میری کیا ضرورت رہ گئی۔‘‘\n\nایک دن سر شہاب الدین سے کہنے لگے ’’ چودھری صاحب آپ سچے مسلمان ہیں‘‘ چودھری صاحب نے پوچھا’’ آپ کو کیونکر معلوم ہوا‘‘ کہنے لگے مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ اس کا ظاہر و باطن یکساں ہوتا ہے۔ اور بحمد اللہ کہ آپ کا ظاہر و باطن یکساں ہے۔\n\nجن دنوں ابھی چودھری شہاب الدین نہ سر تھے نہ کونسل کے صدر بلکہ صرف لاہور میونسپلٹی کی صدارت فرماتے اور نرے چودھری جی کہلاتے تھے۔ مہتر صاحب چترال لاہور تشریف لائے اور یہاں کے معززین نے ان کے اعزاز میں ایک شاندار پارٹی دی۔ چونکہ علامہ اقبال کے سوا مہتر صاحب سے کسی کی شناسائی نہیں تھی۔ اس لئے مہمان سے میزبانوں کا تعارف کرانے کی خدمت انہیں کے سپرد ہوئی۔ چودھری شہاب الدین کی باری آئی۔ تو علامہ مرحوم نے فرمایا اعلیٰ حضرت مہتر چترال۔۔۔۔ چودھری شہاب الدین۔\n\nاتنا کہہ کے بڑی متانت سے فرمایا۔ ’’ ایں ہم مہتر لاہور است‘‘ اور اس ایک فقرہ میں چودھری صاحب کی تمام صوری اور معنوی حیثیتیں ان کا طول و عرض او رعمق یعنی پورے ابعا و ثلثہ آ گئے۔\n\nاس قسم کے لطیفے جو صرف چودھری سر شہاب الدین سے متعلق ہیں۔ ہزاروں نہیں تو کم از کم سینکڑوں ضرور ہیں۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ علامہ اقبال کا انتقال ہو گیا۔ اور چودھری صاحب بتاتے نہیں دوسرے لوگوں کو جو لطیفے یا درہ گئے ہیں۔ ان میں سے بعض حاضر ہیں۔ کچھ اور بھی ہیں لیکن انہیں اس لئے نہیں لکھتا کہ میں تعزیرات ہند اور ضابطہ دیوانی دونوں سے بہت ڈرتا ہوں تو خیر کچھ زیادہ ڈرنے کی چیز نہیں لیکن ضابطہ دیوانی کی زد میں آنے کے لئے ذرا جیب میں ’’ زرد‘‘ ہونا چاہیے۔ آپ کو ممکن ہے اس موقع پر غالب یاد آ جائے اور آپ فرمائیں کہ\n\nعشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا\n\nلیکن میں عرض کروں گا کہ یوں ہی سہی بلا سے ڈگری اور قرقی کا خطرہ تو نہیں۔\n\nمیں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ ان سے ہر قسم کے لوگ ملنے آتے تھے۔ اور وہ سب کی باتیں غور سے سنتے اور ان کا جواب دیتے تھے۔ دوسرے تیسرے کالجوں کے کچھ طلبہ بھی آ جاتے تھے۔ ان میں سے کوئی ان کے اشعار کے معنی پوچھتا تھا۔ کوئی مذہب کے متعلق سوالات کرتا تھا۔ کوئی فلسفہ کی بحث لے بیٹھتا تھا۔ ایک دفعہ گورنمنٹ کالج کے چار پانچ طالب علم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ جانتے ہیں کہ کالج کی مخلوق میں بننے سنورنے کا شوق زیادہ ہے۔ پوڈر اور سرخی کا استعمال روز بروز بڑھتا جاتا ہے۔ ابروؤں کو خم دینے زلفوں میں بل ڈالنے ہونٹوں کو سرخی کے استعمال سے ’’ لعلین‘‘ بنانے کا شوق زیادہ ہوتاجا رہا ہے ۔ ایک تو یہ چاروں پانچوں گلچرہ اور نازک اندام اس پر بناؤ سنگار کا خاص اہتمام۔ انہوں نے آتے ہی پردہ کی بحث چھیڑ دی۔ اور ایک نوجوان کہنے لگا ’’ ڈاکٹر صاحب اب مسلمانوں کو پردہ اٹھا دینا چاہیے۔‘‘\n\nڈاکٹر صاحب مسکرا کے بولے ’’ آپ عورتوں کو پردہ سے نکالنا چاہتے ہیں اور میں اس فکر میں ہوں کہ کالج کے نوجوانوں کو بھی پردہ میں بٹھا دیا جائے۔‘‘\n\nعلی بخش ان کا پرانا نوکر ہے اور کوئی چالیس سال تک برابر ان کے ساتھ رہا ہے۔ ملازمت اختیار کی تو مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں اب داڑھی مونچھیں سپید ہو چکی ہیں۔ داڑھی تو خیر منڈا دی اور پردہ ڈھک گیا مونچھوں کو خضاب کیا مگر چند دنوں میں خضاب اڑ گیا اور مونچھوں کی رنگ کچھ عجیب سی ہو گئی۔ انتقال سے ایک دو مہینے پہلے کا ذکر ہے۔ کہ علامہ مرحوم تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ارد گرد کچھ بے تکلف احباب بیٹھے تھے۔ علی بخش پاس کھڑا تھا۔ کہ اس کی مونچھوں کی رنگت کا ذکر چھڑ گیا۔ ایک صاحب کہنے لگے۔ ’’ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ کہ آخر علی بخش کی مونچھوں کی رنگت کیا ہے؟‘‘ دوسرے بولے خاکستری؟ ایک اور صاحب نے کہا خاکستری نہیں اگرئی ڈاکٹر صاحب بھی سن رہے تھے مسکرا کر بولے نہ اگرئی نہ خاکستری مچھئی کہو مچھئی۔\n\nعلامہ اقبال کے ملنے والوں میں دو شخص بہت دلچسپ تھے۔ مولانا گرامی اور عبداللہ چغتائی گرامی ہوشیار پور کے رہنے والے اور فارسی کے بہت بڑے شاعر تھے لیکن ان کی صورت شکل چہرے مہرے سے قطعاً ذہانت کے آثار نظر نہیں آتے تھے۔ سر پر بڑا پگڑ جس کے پیچ کھلے ہوئے بڑے بڑے ہاتھ پاؤں۔ ہاتھ میں ڈنڈا علامہ اقبال سے انہیں سچی محبت تھی۔ لاہور آتے تھے تو مہینوں انہیں کے ہاں رہتے تھے کبھی وہ دیر تک نہ آتے تھے تو علامہ اقبال انہیں خود بلوا بھیجتے تھے۔ ایک مرتبہ معلوم ہوا کہ گرامی جالندھر آئے ہوئے ہیں۔ حضرت مرحوم نے علی بخش کو جالندھر بھیجا۔ کہ گرامی کو لے آؤ۔ گرامی نے اسے دیکھ کے کہا ’’ ارے علی بخش تم کہاں؟‘‘ کہنے لگا’’ آپ کو لینے آیا ہوں۔‘‘ ارشاد ہوا میں تو خود لاہور چلنے کی تیاری کر رہا ہوں۔ ارے کوئی ہے تانگہ والا ہم اسٹیشن تک جائیں گے۔ اچھا سا تانگہ ہو۔ لاہور جا رہے ہیں لاہور وقت پر اسٹیشن پہنچ جائے۔\n\nتانگہ آیا اور تانگہ والے نے اسے دھوپ میں کھڑا کر دیا۔ تھوڑی دیرمیں مولانا گرامی گھر سے نکلے اور پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ لیکن لمحہ بھر بیٹھ کے اتر گئے اور علی بخش سے کہنے لگے ’’ تم لاہور چلے جاؤ میں نہیں جاتا۔‘‘ اس نے پوچھا۔ ’’ وہ کیوں؟‘‘ کہنے لگے ’’ تانگہ گرم ہو گیا۔ ڈاکٹر کو میرا بہت بہت سلام کہنا اور کہہ دینا تانگہ گرم ہو گیا تھا۔ اس لئے نہیں آئے۔ اگلے مہینے آئیں گے۔ اگلے مہینے ہاں یہ ضرور کہہ دینا کہ تانگہ گرم ہو گیا تھا۔‘‘\n\nگرامی کے لطیفے تو بے شمار ہیں لیکن اس خیال سے نہیں لکھتا کہ یہ مضمون کہیں ’’ لطائف گرامی‘‘ بن کر نہ رہ جائے۔ عبداللہ چغتائی گرامی کو نہیں پہنچتے۔ البتہ وہ بھی اپنے انداز کے ایک ہی بزرگوار ہیں۔ جتنا تیز بولتے ہیں اتنا ہی تیز چلتے ہیں اور لکھنے میں بولنے اور چلنے دونوں سے تیز۔ آدھا فقرہ ذہن میں ہے آدھا کاغذ پر یہی وجہ ہے کہ ان کی نثر غالب اور بیدل کی نظم سے زیادہ مشکل ہوتی ہے ڈاکٹر اقبال انہیں چھیڑ چھیڑ کے ان کی باتیں سنتے اور لطف اٹھاتے تھے۔\n\nمرحوم زندگی کے بعض معاملات میں خاص ضابطوں کے پابند تھے۔ وہ گھر کا سارا حساب کتاب باقاعدہ رکھتے تھے۔ اور ہر شخص کے خط کا جواب ضرور دیتے تھے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ کوئی شخص ان سے کوئی سند یا کسی تصنیف پر ان کی رائے لینے آتا تھا تو کہتے تھے خود لکھ لاؤ میں دستخط کر دوں گا۔ اور یہ بات صرف ٹالنے کی غرض سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو کچھ کوئی لکھ لاتا تھا اس پر دستخط کر دیتے تھے۔ ان کی طبیعت میں بلا کی آمد تھی۔ ایک ایک نشست میں دو دو سو شعر لکھ جاتے تھے۔ پلنگ کے پاس ایک تپائی پر پنسل اور کاغذ پڑا رہتا تھا۔ جب شعر گوئی پر طبیعت مائل ہوتی تھی۔ لکھنا شروع کر دیتے تھے۔ کبھی خود لکھتے تھے کبھی کسی کو لکھوا دیتے تھے۔ عشق رسول نے ان کے دل کو گداز کر رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتے وقت ان کی آنکھیں پر نم ہو جاتی تھیں اور قرآن پڑھتے پڑھتے بے اختیار رو پڑتے تھے۔ غرض ان کی شخصیت بے حد دلآویز تھی۔ جن لوگوں نے صرف ان کا کلام پڑھا ہے۔ اور ان سے ملے نہیں و ہ اقبال کے اعلیٰ کمالات سے بے خبر ہیں۔\n\nموت سے کوئی ڈھائی سال پہلے وہ میو روڈ پر اپنی نو تعمیر کوٹھی میں اٹھ گئے۔ وہاں گئے ابھی تھوڑے دن ہی ہوئے تھے کہ ان کی بیگم صاحبہ کا انتقال ہو گیا۔ انہیں اس واقعہ کا بہت صدمہ ہوا۔ میں نے اس حالت میں انہیں دیکھا کہ مرحومہ کی قبر کھودی جا رہی ہے اور وہ پیشانی پر ہاتھ رکھے پاس بیٹھے ہیں۔ اس وقت وہ بہت بوڑھے معلوم ہو رہے تھے۔ کمر جھکی ہوئی تھی اور چہرہ زرد۔ اس واقعہ کے بعد ان کی صحت برابر بگڑتی چلی گئی۔ آخر ۲۱ اپریل ۱۹۳۸ء کو انتقال کیا اور شاہی مسجد کے باہر دفن ہوئے۔\n\n== ظفر علی خاں ==\n\nاب سے کوئی دس سال ادھر کا ذکر ہے کہ میں اخبار ’’ نئی دنیا‘‘ کلکتہ کے دفتر میں بیٹھا کام کر رہا تھا۔ اتنے میں کسی نے آ کے کہا کہ ’’ جمیندار‘‘ صاحب آئے ہیں۔ میں لنگی باندھے بیٹھا تھا۔ سر کے بال پریشان۔ داڑھی کئی دن کی بڑھی ہوئی۔ ’’ جمیندار‘‘ صاحب کا نام سنتے ہی ہڑبڑا کے اٹھا۔ پوچھا کون جمیندار صاحب؟ وہ بچارا کچھ کہنے نہ پایا تھا کہ مولانا شائق 1؎ احمد عثمانی آئے اور کہنے لگے ’’بھئی ! مولانا ظفر علی خاں آئے ہیں۔ چچا صدیق2؎ انصاری نے جو اپنے گدیلے پر بیٹھے پانوں کی جگالی فرما رہے تھے۔ انگڑائی لی اور نیم باز آنکھوں سے۔۔۔۔ ادھر ادھر دیکھ کر ایک اور گلوری کلے میں دبا لی۔ ان دنوں نئی دنیا کا دفتر چونا گلی میں ہوا کرتا تھا۔ سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا مکان تھا۔ باہر ایک\n\n1؎ مولانا شائق احمد عثمانی ایڈیٹر عصر جدید کلکتہ\n\n2؎ پہلے کتابت کرتے تھے۔ پھر اخبار نویس بنے۔ اب فلم ایکٹر ہیں یہ مصرع انہیں کا ہے۔\n\nغلہ چوں ارزاں شود امسال سیدی شوم\n\nطرف عصر جدید پریس دوسری طرف حکیم غلام مصطفی کا مطب دروازے سے اندر گھسو تو دہنی طرف نئی دنیا آباد تھی۔ اور بائیں طرف مولانا شائق احمد عثمانی نے اپنی پرانی دنیا بسا رکھی تھی۔ یعنی اپنے اہل و عیال اور عربی کی بھاری بھر کم کتابوں سمیت رہتے تھے۔ میں اس نئی دنیا کا کولمبس تھا اور مقالہ افتتاحیہ کے جہاز کے ساتھ ساتھ نکاہات کی کشتی بھی چلاتا تھا۔ افسوس کہ یہ محفل سال بھر کے اندر اندر برہم ہو گئی۔ نہ نئی دنیا رہی نہ پرانی دنیا۔ رہے نام اللہ کا۔‘‘\n\nتھوڑی دیر میں مولانا ظفر علی خاں کھٹ کھٹ کرتے تشریف لے آئے۔ میں نے انہیں اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ تصویریں ضرور دیکھی تھیں لیکن تصویروں سے کسی شخص کی صورت شکل کے متعلق صحیح اندازہ نہیں کیا جا سکتا بہرحال اتنا تو یقین تھا کہ ان کی توند ضرور بڑھی ہوئی ہو گی۔ آخر جب معمولی قومی کارکنوں کا قبہ شکم گنبد فلک سے ہمسری کرتا ہے تو مولانا ظفر علی خاں کو جنہیں آل انڈیا لیڈر کی حیثیت حاصل ہے۔ ایک عد د گرانڈیل توند کا مالک ہونا چاہیے لیکن انہیں دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ توند نہ عمامہ آخر یہ کیسے مولانا اور کیسے لیڈر ہیں ! یہ راز لاہور آ کے کھلا کہ مولانا توند سے کیوں محروم رہے؟\n\nغرض مولانا تشریف لائے اور آتے ہی سائمن کمیشن ہندوستان کی جدید اصلاحات راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اور کامل آزادی کا قصہ چھیڑ دیا۔ مولانا شائق احمد عثمانی ان دنوں کانگریس سے باغی ہو چکے تھے اور سائمن کمیشن سے تعاون کے حامی تھے۔ ان سے اس مسئلہ پر بحثیں رہتی تھیں۔ اب مولانا نے یہ حکایت شروع کی تو پھر یہی بحث چھڑ گئی لیکن دراصل مجھے اس بحث سے چنداں دلچسپی نہ تھی۔\n\nمولانا کے نزدیک آئینی کمیشن کا ہندوستان آنا بہت اہم واقعہ تھا۔ اور ہمارے نزدیک مولانا ظفر علی خاں کا کلکتہ تشریف لانا بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔اب کھینچا تانی شروع ہوئی میں چاہتا تھا کہ مولانا شعر و شاعری کی طرف آئیں اور مولانا ہم سب کو سیاست کی طرف کھینچے لئے جاتے تھے۔ میں نے غالب کا نام لیا۔ مولانا نے برکن ہیڈ کا ذکر شروع کر دیا۔ میں نے اقبال کی رجائیت کی داستان چھیڑ دی۔ مولانا نے اقبال سے سائم کمیشن اور سائمن کمیشن سے ٹو ڈیٹ کی طرف گریز کی اور ہندوستان کے ٹوڈیوں کی فہرست ایک سانس میں بیان کر گئے۔ بس اب یہ کیفیت تھی کہ میں انہیں میر کی طرف لاتا ہوں۔ اور وہ مجھے بالڈون کی طرف لئے جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں مومن وہ فرماتے ہیں۔ سائمن غرض دیر تک یہی جھگڑا رہا آخر مولانا کو فتح ہوئی۔ یعنی ہم نے مجبوراً شعر و ادب کا پنڈ چھوڑا۔ اور خاموشی سے ان کی باتیں سننے لگے۔\n\nمولانا ظفر علی خاں اگلے سال پھر کانگریس کے موقع پر کلکتہ تشریف لے گئے۔ ان کے جانے اور آنے تک مجھ پر کئی سانحے گزر چکے تھے۔ نئی دنیا چھوٹی تو کچھ دنوں عصر جدید دامن پکڑے رہا۔ یہ سہارا بھی نہ رہا تو بعض دوستوں کے ساتھ مل کر حمبورہ کے نام سے ایک نیا اخبار نکالا اتنے میں نہرو رپورٹ کا فتنہ شروع ہوا۔ راقم الحروف نے اخبار میں نہرو رپورٹ کی حمایت کی۔ بس یہ حمایت قیامت ہو گئی۔ اخبار کے خلاف طوفان امڈا۔ تو گھر سے باہر نکلنا مشکل ہو گیا۔ آخر گھبرا کے پنجاب کا ارادہ کیا۔ انہیں دنوں مولانا سے ملاقات ہو گئی۔ وہ بھی نہرو رپورٹ کی حمایت کے صدقے نہر وانی مخلوطی ہندوؤں کا غلام اور اس قسم کے دوسرے خطابات حاصل کر چکے تھے۔ مجھ سے پوچھا کہ اب کیا قصد ہے میں نے عرض کیا کہ۔\n\nباز ہو ائے چمنم آرز دست\n\nکہنے لگے۔ آؤ میرے ساتھ چلو میں نے کہا بہ چشم وہ تو کانگریس کا اجلاس ختم ہوتے ہی چلے آئے۔ لیکن میں کچھ دنوں ٹھہر گیا۔ کیونکہ کلکتہ سے دامن چھڑانا آسان نہیں تھا۔\n\nمیں لاہور آیا تو کچھ دنوں زمیندار کے دفتر میں ہی قیام رہا۔ ایک رات کا ذکر ہے کہ کسی نے پچھلے پہر میرا شانہ ہلایا میں آنکھیں ملت ہوا اٹھ بیٹھا۔ لیکن ابھی صبح کاذب تھی۔ ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ صرف اتنا معلوم ہوا کہ کوئی شخص میرے سرہانے کھڑا ہے میں گھبرایا کہ الٰہی یہ کیا ماجرا ہے۔ اتنے میں مولانا کی آواز آئی۔ کہ اٹھو میرے ساتھ سیر کو چلو میں سمجھ گیا۔ کہ مولانا سیر کو جا رہے ہیں اور مجھے شرف رفاقت بخشنا چاہتے ہیں۔ لیکن خدا بھلا کرے قاضی احسان 1؎ اللہ کا مرحوم کا انہوں نے مجھے پہلے ہی بتا رکھا تھا کہ اگر مولانا تمہیں اپنے ساتھ سیر کو لے جانا چاہیں تو ہرگز نہ جائیو میں نے پوچھا یہ کیوں کہنے لگے۔ وہ تو پچھلے پہر اٹھ کر نہر کے کنارے میلوں دوڑتے چلے جاتے ہیں۔ پھر ڈنٹر پیلتے ہیں۔ تم ساتھ گئے تو تمہیں بھی دوڑائیں گے۔ اور جب تم نڈھال ہو جاؤ گے تو اپنے ساتھ نماز پڑھائیں گے۔ اب جو مولانا نے ساتھ چلنے کو کہا تو قاضی صاحب کی نصیحت یاد آگئی۔ اور آنکھوں تلے موت کا نقشہ پھر گیا۔ میں نے نہایت مضمحل آواز میں کہا کہ مولانا میں تو۔۔۔۔ میں تو سخت بیمار ہوں۔ رات بخار ہو گیا تھا۔ اب سر میں سخت درد ہے۔ پیٹ میں بھی درد ہو رہا ہے۔ غالباً قولنج ہے۔ مجھے پہلے بھی یہ مرض ہو چکا ہے۔۔۔۔۔ ہائے اللہ یہ کہہ کے میں نے آنکھیں بند کر لیں۔\n\n1؎ زمیندار کے ایڈیٹر تھے۔ فارسی کا اچھا ذوق رکھتے تھے۔ کوئی ۴۵ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔\n\nیہ تدبیر کارگر ہوئی۔ مولانا نے مجھ سے ہمدردی ظاہر کی علاج کے متعلق چند معقول مشورے دیئے اور تشریف لے گئے میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ اور جی میں تہیہ کر لیا کہ اب دفتر میں نہیں رہوں گا۔ اب یہ بات بھی سمجھ میں آ گئی کہ مولانا توند سے کیوں محروم ہیں؟\n\nآگے چل کے معلوم ہوا کہ انہیں صرف دوڑنے اور ڈنٹر پیلنے کا ہی شوق نہیں۔ مگدر بھی ہلاتے ہیں۔ نیزہ بازی اور شہسواری میں بھی برق ہیں۔ پیرا کی اور کشتی گیری میں بھی بند نہیں۔ نشانہ بھی بہت اچھا لگاتے ہیں۔ حیدر آباد کی ملازمت کے زمانے میں کچھ دن فوج میں بھی رہے۔ یہ قصہ عجیب ہے۔ سپاہی نیزہ بازی کے کرتب دکھا رہے تھے۔ ان کی بھی طبیعت لہرائی۔ گھوڑے پر سوار ہو کے نیزہ تانا اور آن کی آن میں میخ اکھیڑ لی۔ ہر طرف سے تحسین و آفرین کا غلغلہ بلند ہوا۔ اور ان کی خدمات فوج کے صیغہ میں منتقل کر دی گئیں۔ لیکن افسر الملک سے نباہ نہ ہو سکا۔ اس لئے استعفیٰ دے دیا۔\n\nوہ جو راقم الحروف نے اپنی ایک جہازی غزل میں لکھا تھا کہ\n\nحقہ پیتا ہے شعر کہتا ہے\n\nاور عاشق میں کیا برائی ہے\n\nتو وہ دراصل مولانا ظفر علی خاں کے ہی متعلق ہے بات یہ ہے کہ مولانا حقہ کے بڑے رسیا ہیں۔ جب شعر کہتے ہیں تو حقہ ضرور پیتے ہیں۔ اور حقہ پیتے ہیں تو شعر ضرور کہتے ہیں۔ ان کے شعر کہنے کا انداز یہ ہے کہ حق بھرا والیا اور شعر کہنے بیٹھ گئے۔ طبیعت کی روانی کا یہ حال کہ کبھی کبھی فی کش ایک شعر کے حساب سے کہتے چلے جاتے ہیں۔ کبھی خود لکھتے ہیں کبھی کسی کو لکھوا دیتے ہیں۔ اس وقت ان کا انگوٹھا انگشت شہادت پر نیم دائرہ سا بناتا ہوا گھومتا جاتا ہے۔\n\nلوگوں کو یہ سن کر تعجب ہوتا ہے کہ فیضی چتوڑ کے محاضرہ کے زمانے میں پہلی مرتبہ اکبر کے سامنے پیش ہوا تو پچاس ساٹھ شعر کا قصیدہ ارتجالاً کہہ ڈالا۔ لیکن ہم نے ایسے معرکے بارہا دیکھے ہیں کہ باتوں باتوں میں پندرہ بیس شعر ہو گئے۔ ادھر حقہ کی نے منہ میں آئی۔ ادھر انگوٹھا انگشت شہادت پر پہنچا۔ پیشانی پر بل پڑے۔ دھواں ہوا میں منتشر ہوا اور کھٹ سے شعر سامنے آ گیا۔ اب بندش پر غور کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ کل کا بنا ہوا شعر ہے ہاتھ کا بنا ہوا ہی نہیں۔\n\nایک مرتبہ ایک صاحب کہنے لگے کہ مولانا ظفر علی زبان اور محاورہ کے استاد ہیں ۔ اشعار کی بندش خوب ہوتی ہے لیکن ان کے ہاں حقیقی شاعری بہت کم ہے۔ میں نے کہا ذرا بحیرہ قلزم۔ لندن کی ایک صبح رامائن کا ایک سین پڑھ کر دیکھئے کہنے لگے میں نے یہ نظمیں تو نہیں پڑھیں لیکن مولانا کے اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قلب عشق و محبت کے لطیف جذبات سے خالی ہے۔ میں نے گفتگو کا پہلو بدل کے شعر خوانی شروع کر دی۔پہلے فارسی کے ایک دو شعر سنائے جب وہ جھومنے لگے تو شاد کا یہ شعر پڑھا۔\n\nدیکھا کئے وہ مست نگاہوں سے بار بار\n\nجب تک شراب آئے کئی دور ہو گئے\n\nانہوں نے دو تین مرتبہ یہ شعر پڑھوایا۔ میں نے پھر کہا۔\n\nسلیقہ مے کشی ہو تو کر لیتی ہے محفل میں\n\nنگاہ مست ساقی مفلسی کا اعتبار اب بھی\n\nوہ یہ شعر سن کر تڑپ گئے کہنے لگے کس کا شعر ہے؟ میں نے پوچھا’’ جو شخص ایسا شعر کہہ سکتا ہے۔ اس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ کہنے لگے اس کے شاعر ہونے پر کیا شک ہے۔ میں نے کہا تو پھر سن لیجئے کہ یہ شعر مولانا ظفر علی خاں کا ہے۔ ’’ یہ سن کر ان کا اوپر کا سانس اوپر اور تلے کا تلے رہ گیا۔ کہنے لگے\n\nدر خرابات مغاں نور خدامی بینم\n\nدراصل مولانا کی شاعری پر تنقیدی کرنا میرا موضوع نہیں یونہی برسبیل تذکرہ یہ باتیں آ گئیں۔ مجھے تو یہ کہنا ہے کہ مولانا نے اپنی تمام نظمیں بہت تھوڑے وقت میں کہی ہیں۔ شاید ہی کوئی نظم ایسی ہو جو انہوں نے گھنٹۃ دو گھنٹۃ میں کہی ہو۔ ورنہ ایک نظم پر عموماً آدھہ گھنٹہ سے زیادہ وقت صرف نہیں ہوتا۔‘‘ پتھر نکال ہمسر نکال بڑے معرکے کی نظم ہے۔ سترہ شعر ہیں جو گھنٹہ بھر میں لکھے گئے ہیں اس کا آخری شعر مجھے نہیں بھولتا۔\n\nتو غزل خوانی پہ آ جائے تو ہے خوا جوئے وقت\n\nزلف عنبر بار سے کثردم بکھیر اژدر نکال\n\nہم نے اکثر شاعروں کو دیکھا ہے کہ شعر کہنا چاہتے ہیں۔ تو شفاء الملک حکیم فقیر محمد صاحب چشتی سے رجوع کرتے ہیں۔ اور ہفتہ بھر کا مسہل لے لیتے ہیں۔ پھر فی یوم ایک شعر کے حساب سے کہتے چلے جاتے ہیں۔ یہ نہیں کرتے تو بیوی کو پیٹتے ہیں یا اس سے پٹتے ہیں بچوں کو گھر کتے ہیں۔ ذرا گھر میں شور ہوا۔ اور وہ سر کے بال نوچنے لگے۔ ’’ ہائے عنقائے مضمون دام میں آ کے نکل گیا۔ کم بختو ملعو نو تمہارے شور نے اسے اڑا دیا۔‘‘ مولانا ظفر علی خاں کا یہ حال نہیں جس طرح ہم اور آپ شعر کہتے ہیں اسی طرح وہ شعر کہتے چلے جاتے ہیں۔\n\nمیں دفتر زمیندار میں آیا ہوں۔ تو ابھی سالک اور مہر سے معرکے ہو رہے تھے۔ ایک طرف سارا پنجاب دوسری طرف تنہا یہ بوڑھا پہلوان سخن۔ مدتوں چومکھی لڑتا رہا۔ اور ہنس ہنس کے لڑتا رہا۔ ایک مرتبہ سالک صاحب نے لکھا کہ یہ خلافت کی بلیاں ہمارا کھمبا نوچنے پر کیوں آمادہ ہیں؟ مولانا نے جواب میں فکاہات لکھے۔ جن میں یہ چبھتا ہوا فقرہ تھا کہ کیوں حضرت! خلافت کے ابوہریرہ یعنی مولانا عبدالقادر قصوری کے متعلق کیا ارشاد ہوتا ہے؟ شنواریوں کی بغاوت کے متعلق زمیندار میں جو مقالہ شائع ہوا ہے اس کا آغاز اس شعر سے ہوتا تھا۔\n\nجنگ کا کب ہے سلیقہ کسی شنواری میں\n\nکوئی معشوق ہے اس پردہ زنگاری میں\n\nجس روز بچہ سقا کے کابل پہنچنے اور امان اللہ خاں کے بھاگنے کی خبر آئی۔ مولانا نے برجستہ دو شعر کہے۔\n\nگدھوں کی آج کل کابل میں ہے ایسی فراوانی\n\nگماں ہوتا ہے یہ انساں وہاں پیدا نہیں ہوتے\n\nہوا کرتے ہیں پیدا رات دن سقوں کے گھر بچے\n\nمگر ہر روز امان اللہ خاں پیدا نہیں ہوتے\n\nمسٹر جینا سے بعض باتوںمیں اختلاف ہو گیا۔ مولانا نے فوراً ایک گرما گرم مقالا گھسیٹ ڈالا جس کا عنوان یہ شعر تھا۔\n\nکیونکر اس کی نگہ ناز سے جینا ہو گا\n\nزہر دے اس پہ یہ تاکید کہ پینا ہو گا\n\nمولانا جب تک دفتر میں رہتے تھے۔ بڑی چہل پہل رہتی تھی۔ نظم لکھی اور پکار کے کہا۔ کہ بلاؤ قاضی کو بلاؤ اختر کو۔ کہاں ہے زاہدی۔ کہاں ہے حسرت؟ سب جمع ہوئے اور مولانا نے نظم پڑھ کے سنائی۔ پھر انہیں نت نئی تجویزیں سوجھتی رہتی تھیں۔ جو دو تین دن کے چرچے میں غائب غلہ ہو جاتی تھیں۔ ہم میں سے کوئی اچھا شعر کہتا یا کوئی اچھا مضمون لکھتا۔ تو تعریف کر کے دل بڑھاتے۔ اور انعام بھی دیتے۔ ایک مرتبہ راقم نے فکاہات لکھے۔ بہت خوش ہوئے بٹوا نکلا کر دے دیا اور کہنے لگے ’’ اس میں جو کچھ ہے لے لو‘‘ لیکن اکثر لوگ پھر بھی دعائیں مانگتے رہتے تھے کہ اللہ کرے مولانا کہیں دورے پر چلے جائیں اور عموماً یہ دعائیں قبول ہی ہوتی تھیں۔\n\nاصل میں مولانا کو اخبار کی زبان اور کتابت کی صحت کا بڑا خیال رہتا تھا۔ کاتبوں کی جان الگ آفت میں۔ اڈیٹر الگ مصیبت میں مبتلا۔ جب تک مولانا دفتر میں ہیں۔ غل غپاڑا مچا ہوا ہے جوں ہی کاپی پر نظر پڑی۔ شور مچ گیا۔ ’’ ارے یہ کیا کیا؟ یہ عبارت تو بالکل مہمل ہے۔ اس مراسلہ کی تصحیح نہیں ہوئی۔ یوں ہی کاتب کو دے دیا گیا ہے خبروں کی عبارت چست نہیں۔ کتابت کی غلطیاں تو دیکھو ایک ایک کالم میں پچاس پچاس غلطیاں اور کتابت کیسی عجیب ہوئی ہے۔ کوئی دائرہ بھی تو صحیح نہیں۔ غضب خدا کا قرآن کی آیت غلط لکھ دی۔ اتنا خیال نہ آیا کہ کلا م الٰہی ہے ستیاناس کر دیا اخبار کا۔ ان تمام کاپیوں کو جلا دو از سر نو اخبار مرتب کرو کیا کہا؟ اب اخبار مرتب نہیں ہو سکتا۔ اعلان کر دو کہ کل اخبار نہیں نکلے گا۔ بلاؤ اختر کو۔ اختر! اختر کہاں ہے؟ کہاں ہے قاضی۔ بند کرو جی اخبار کو بند کر دو میں یوں اخبار نہیں نکالنا چاہتا۔\n\nمولانا ظفر علی خاں کی آرزو ہے کہ دنیا کے سارے کام ان کے ہاتھوں انجام پا جائیں۔ لیکن ایک سر ہزار سودا بچارے کیا کیا کریں۔\n\nغم عالم فراواں اس و من یک غنچہ دل دارم\n\nچساں در شیشہ ساعت کنم ریگ بیاباں را\n\nپھر حالات ناموافق سروسامان ناپید، وقت ساتھ نہیں دیتا۔ اور رفقا ہمرہان سست عناصر دو قدم ساتھ نہیں چل سکتے۔ مسئلہ فلسطین کی گتھی کون سلجھائے؟ مسلمانوں کی تجارت کا انتظام کون کرے؟ مسجدوں کی تنظیم کے لئے کہاں سے کارکن آئیں؟ مسلم لیگ کی شاخیں کون کھولے، تحریک ملت تو چل رہی ہے لیکن اس تحریک کو سارے ہندوستان میں پھیلانا ہے۔ تبلیغ کا کام بھی تھوڑا بہت ہوتے رہنا چاہیے۔ اور ان جھگڑوں میں اردو کی خدمت تو رہ گئی اردو میں کام کی کتابیں انگلیوں پر گننے کے لائق ہیں یورپی زبانوں کی ساری قابل ذکر کتابوں کا ترجمہ اردو میں ہونا چاہیے۔\n\nایک دن زمیندار کے دفتر میں کسی نے کہا۔ کہ چین جاپان، انگلستان، جرمنی اور فرانس کے لوگ مسلمان ہونے پر آمادہ ہیں لیکن انہیں تبلیغ کون کرے؟ مولانا نے فرمایا’’ بات تو آپ نے ٹھیک کہی۔ اچھا سالک صاحب اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کیجئے کہ اگر ہم ایک تبلیغی ادارہ کھول لیں تو کیسا ہے؟ ذرا مہر صاحب کو بھی بلوائیے۔۔۔۔ آ گئے مہر صاحب؟ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ اگر یہاں لاہور میں ایک مرکزی تبلیغی ادارہ کھول لیا جائے۔ اور اس کی شاخیں ساری دنیا میں پھیلا دی جائیں تو کیا ہرج ہے؟ کوئی دس لاکھ روپیہ خرچ ہو گا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کتنی ہے؟ سات کروڑ نہیں آٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہو گی اگر ہر مسلمان سے ایک ایک پیسہ وصول کیا جائے تو کتنے روپے ہوئے؟‘‘ ریاضی کا سوال تھا کسی سے حل نہ ہوا سب ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ اتنے میں مولانا نے کہا۔ ’’ آٹھ کروڑ پیسے ہوتے ہیں نا؟ آٹھ کروڑ کو ۶۴ پر تقسیم کیجئے ساڑھے بارہ لاکھ روپے ہوئے۔ چلئے دس لاکھ ہی سہی دس لاکھ بہت ہے۔ یہ مرحلہ تو طے ہو گیا اب سوال یہ ہے کہ تبلیغ کا کام کن کن لوگوں کے سپرد کیا جائے؟ لیکن مبلغ بھی چوٹی کے آدمی ہوں۔ مثلاً مولانا ابوالکلام آزاد فرانس جرمنی وغیرہ میں تبلیغ کریں۔ اور ڈاکٹر اقبال کو چین بھیج دیا جائے۔ سالک صاحب آپ اور مہر صاحب مل کے اخبار سنبھالئے۔ میں تو اب تبلیغ اسلام کا کام کروں گا۔‘‘ کچھ دیر تو دفتر بھر میں سناٹا رہا۔ آخر ایک صاحب نے جی کڑا کر کے کہا کہ مولانا اس میں کوئی شک نہیں کہ تجویز بہت خوب ہے لیکن روپیہ جمع کیسے ہو گا؟ آخر مسلمانوں سے دس لاکھ روپیہ جمع کرنے کے لئے بھی ایک لاکھ روپیہ چاہیے۔ آپ کہیں سے ایک لاکھ روپے کا انتظام کر دیجئے۔ باقی کام ہم سنبھال لیں گے۔‘‘ مولانا نے فرمایا ’’ ہاں بھئی یہی تو مشکل ہے‘‘ یہ کہہ کے منہ پھیر کر حقہ کی نے سنبھالی۔ انگوٹھا انگشت شہادت پر نیم دائرہ بناتا گھومنے لگا۔ اور اس تبلیغی ادارہ کے اجزاء حقہ کے دھوئیں کے ساتھ فضا میں تحلیل ہو کر رہ گئے۔ میرے سامنے بھی ایسے ایسے معرکے گزر گئے ایک مرتبہ دار الترجمہ کھولنے کی تجویز ہوئی۔ اور مولانا نے تہیہ کر لیا کہ اخبار کوچھوڑ کر کرم آباد جا بیٹھیں۔ اور مترجموں کی ا چھی خاصی فوج جمع کر کے انگریزی ادب پر دھاوا بول دیں۔ لیکن دو تین لاکھ روپے سے کم میں یہ مہم شروع نہیں ہو سکتی تھی اس لئے یہ خواب بھی پریشان ہو کر رہ گیا۔\n\nترجمہ و تالیف۔ تبلیغ اسلام تو خیر ایسے کام ہیں۔ جن سے مولانا کی طبیعت کو مناسبت ہے۔ لیکن کبھی کبھی وہ ایسے کاموں پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ بھی کر بیٹھتے ہیں جن سے ان کی طبیعت کو کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا۔ مثلاً ایک مرتبہ مولانا کرم آباد میں شکو سازی کا کارخانہ کھولنے کا ارادہ کر بیٹھے تھے۔ حالانکہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپ کو شکر سازی کا کیا تجربہ ہے۔ تو ان سے بجز اس کے اور کچھ بن نہیں پڑے گا۔ کہ سند میں یہ شعر پڑھ دیں۔\n\nکریں کیوں نہ شکر لبوں کو مرید\n\nکہ دادا ہمارا ہے بابا فرید\n\nمولانا ہاتھ کے سخی ہیں۔ اور دل کے نرم جو لوگ ان کی طبیعت کے اتار چڑھاؤ سے واقف ہیں وہ با سانی انہیں اپنے ڈھب پر لے آتے ہیں۔ چنانچہ ایک دفعہ مولانا کو خیال ہوا کہ جیش رضا کاران اسلام مرتب ہونا چاہیے۔ ادھر ادھر سے کچھ نوجوان جمع ہوئے۔ انہوں نے کئی دن پلاؤ قورمے پر ہتھے مارے۔ نقد روپے بھی وصول کئے اور دفتر کے لئے ایک مکان کرایہ پر بھی لیا گیا۔ اب تقاضا ہوا کہ فرنیچر دلوائیے۔ چنانچہ مولانا نے اپنے ہاں سے چار پانچ کرسیاں اور ایک دری بھجوا دی۔ چند دن اس دفتر میں اچھی خاصی رونق رہی جلسوں میں زندہ باد کے نعرے بھی لگتے رہے۔ پھر یہ لوگ ایسے غائب ہوئے کہ کئی دن ان کا سراغ نہ لگا۔ دفتر پہنچ کر دیکھا تو خاک اڑتی پائی۔ نہ کرسیاں نہ میز، نہ دری، ہاں آموں کی گٹھلیاں اور تاش کے پتے ضرور فرش پر بکھرے ہوئے تھے۔\n\nکالجوں کے طلبہ کے لئے ایک بڑی دشواری یہ ہے کہ والدین بمشکل اتنا روپیہ بھیجتے ہیں جس میں کالج کی فیس اور ہوسٹل کا خرچ نکل سکے۔ بہت ہوا تو چار پانچ روپے بچ رہے۔ اب ان میں سینما دیکھیں یا ہوٹل کا بل چکائیں چنانچہ ایک مرتبہ لاہور کے ایک کالج کے بعض طلبہ نے فیصلہ کیا کہ مولانا ظفر علی خاں قوم کے لیڈر ہیں۔ اس لئے سینما کے دام ان سے وصول کرنا چاہیے دوسرے دن ایک طالب علم مولانا کے پاس پہنچا۔ اور سیاسی مسائل پر گفتگو شروع کی۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ جب اس نے دیکھا کہ مولانا پر اچھی طرح رنگ جم چکا ہے تو اپنے کالج کے پروفیسروں کا ذکر چھیڑا اور کہا مولانا یہ کم بخت سب کے سب ٹوڈی ہیں۔ سیاسیات کا نام لو۔ تو بگڑ جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے اور میرے دو تین ساتھیوں نے چاہا کہ کالج میں آپ کی تقریر کرا دی جائے۔ بس صاحب کالج بھر میں شور مچ گیا۔ ٹیوٹر نے مجھے بلا کر کہا کہ دیکھو بھئی! تم نے اگر ظفر علی خاں کو کالج میں تقریر کرنے کی دعوت دی تو کان پکڑ کر نکال دیئے جاؤ گے۔ بھول گئے ہمارے احسانات؟ فیس تمہاری معاف ہے۔ اڑے تھڑے وقت سارے پروفیسر تمہاری مدد کرتے ہیں۔ تم اور کیا چاہتے ہو؟ یہ سن کر پہلے تو میرے جی میں آئی۔ کہ کالج چھوڑ کر چلا جاؤں لیکن پھر سوچا کہ جاؤں گا کہاں؟ چنانچہ پروفیسر سے دبنا پڑا۔\n\nمولانا نے اور حالات پوچھے تو معلوم ہوا کہ بچارا یتیم ہے بچپن میں ماں باپ کا انتقال ہو گیا تھا۔ میٹرک تک ماموں نے پڑھایا۔ وہ بھی چل بسے کالج میں فیس معاف ہے۔ کتابوں اور دوسرے اخراجات کے لئے بعض اہل خیر کا سہارا ہے۔ ارادہ ہے کہ بی اے کا امتحان پاس کر کے اپنے آپ کو قومی خدمت کے لئے وقف کر دے فرنگی کی نوکری کرنے کو جی نہیں چاہتا۔\n\nغرض اس بہانے سے یہ نوجوان جو خوش حال گھرانے کا چشم و چراغ تھا مولانا سے بہت کچھ لے مرا۔ پھر تو مولانا کہ ہاں روز آنا جانا ہو گیا۔ دسویں پندرویں سینما کے لئے کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا تھا۔ اس کینڈے کے دو تین اور طالب علم بھی تھے۔ وہ بھی اکثر مولانا کے پاس آتے جاتے رہتے تھے اور جب آتے تھے تو مولانا سے چند روپے اینٹھ لیتے تھے۔\n\nمولانا ظفر علی خاں کی سیرت چند لفظوں میں بیان کرنا ہو تو یوں کہنا چاہئے کہ وہ ہاتھ کہ سخی دل کے نرم کان کے کچے اور دھن کے پکے ہیں۔ جس طرف جھک پڑے جھک پڑے جو کچھ دل میں ہے وہی زبان پر ہے۔ موقع و محل کا کیا ذکر؟ گھر کے اندر یا گھر کے باہر سیاسی صحبتوں یا ادبی محفلوں میں دلی دروازے کے جلسوں میں یا ’’ زمیندار کے صفحات پر نثر میں یا نظم میں تقریر میں یا گفتگو میں بس ایک ہی رٹ لگی ہے۔ آپ کچھ کہے جایئے ادھر سے ایک ہی جواب ملے گا۔ آپ کی اور ہماری دلیل بازی بے کار ہے کیونکہ آندھی بروزن گاندھی اسی کا نام ہے۔‘‘\n\nمولانا کی صدارت میں مشاعرہ ہو رہا ہے۔ شعرا آتے ہیں غزلیں پڑھتے ہیں جب سب اپنا کلام سنا چکتے ہیں تو مولانا اٹھتے ہیں پہلے شاعروں کو ڈانٹ بتاتے ہیں۔ پھر شاعری کی شامت آ جاتی ہے۔ کچھ نظم کچھ نثر کبھی ترنم سے کبھی تحت اللفظ ۔ آخر سیاسیات پر تان ٹوٹتی ہے۔ ہندوستان کے افلاس کی شکایت، مسلمانوں کی زبوں حالی کا گلہ، قادیانی جماعت، ہندو مسلم اتحاد، برطانی استعمار غرض چند لمحوں میں مشاعرہ دلی دروازے کا جلسہ بن کر رہ جاتا ہے۔\n\nغالب کی شاعری دکن میں اردو، قطب شمالی کی مہم نظریہ اضافت چغتائی کی مصوری، شاہ دولہ کے چوہے، آم آلو کا بھرتا، ٹماٹر، غرض دنیا بھر کا کوئی موضوع ہو۔ مولانا ظفر علی خاں دو تین جھٹکوں میں اسے اس طرح اپنے ڈھب پر لے آتے ہیں کہ لوگ منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔ آم شاہ پسند پھل ہے بابر نے تزک میں اس کی بہت تعریف کی ہے بابر بھی عجیب و غریب انسان تھا بارہ ہزار ترک اور مغل لے کر آیا اور ہندوستان پر قبضہ کر لیا افسوس کہ آج مسلمانوں میں بابر جیسے جواں مرد پیدا نہیں ہوتے۔ ایک طرف ہندو ہے ایک طرف انگریز ہے۔\n\nغالب کا کیا کہنا ہے غالب علیٰ کل غالب۔ لیکن زمانے کی قدر ناشناسی نے اسے انگریزوں کی قصیدہ نگاری پر مجبور کر دیا۔ پھر بھی اسے ہم ٹوڈی نہیں کہہ سکتے ٹوڈی تو یہ لوگ ہیں جو۔۔۔۔ الخ۔\n\nغرض مولانا کو جو کچھ زمیندار کے مقالہ افتتاحیہ میں لکھنا ہے۔ جلوت خلوت میں وہی کہنا ہے۔ آپ ہزار کہئے کہ ان باتوں کا موضوع بحث سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ کب مانتے ہیں دراصل جن لوگوں کو کسی کام کی دھن ہوتی ہے وہ اسی قسم کی باتیں کیا کرتے ہیں۔ یہ او ربات ہے کہ مولانا ظفر علی خاں اس معاملہ میں دوسروں سے کسی قدر آگے ہیں۔\n\nمولانا ظفر علی خاں کو تقریر کرتے دیکھا ہے حاضرین جلسہ کی تعداد ان کے جوش کا پیمانہ ہے۔ یعنی تقریر سننے والوں کی تعداد کے مطابق ان کا جوش گھٹتا اور بڑھتا ہے لیکن دو ہزار کا جلسہ ہو یا پچاس ہزار کا وہ ہر حالت میں لوگوں کے ساتھ اسکول کے طلبہ کا سا سلوک کرتے ہیں۔\n\nجو خدا کو ایک مانتا ہے۔ ہاتھ کھڑا کر دے۔\n\nجو محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلینی پر یقین رکھتا ہے ہاتھ کھڑا کر دے۔\n\nجس کا ایمان ہے کہ مسلمان ساری دنیا کی حفاظت کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ ہاتھ کھڑا کر دے۔\n\nحاضرین جلسہ کی تعداد کے متعلق ان کا اندازہ ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔ یعنی دس ہزار کا مجمع ہو تو کہیں گے چالیس ہزار اور چالیس ہزار ہوں تو لاکھ ڈیڑھ لاکھ تک پہنچا دیں گے۔ لیکن یہ چیز ریاضی سے تعلق رکھتی ہے۔ اور ریاضی کے معاملہ میں مسلمان ہمیشہ انگشت نما رہے ہیں۔\n\nان کے اکثر دوستوں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ سیاسیات ان کے ڈھب کی چیز نہیں او ریہ بات بہت صحیح ہے۔ آج سے پچیس سال پہلے کی سیاسیات کے لئے شاید وہ کسی حد تک موزوں ہوں لیکن سیاسیات حاضرہ کے ایچ پیچ سمجھنا ان کے بس کا روگ نہیں۔ یوں کہنا چاہیے کہ نہ سیاست ان کے ڈھب کی رہی اور نہ وہ سیاست کے ڈھب کے یہی وجہ ہے کہ وہ جہاں آج سے بیس سال پہلے تھے آج بھی وہیں ہیں مدت تک کانگریس میں رہے لیکن ورکنگ کمیٹی کی ممبری چھوڑ صوبہ کی کانگریس کے صدر بھی منتخب نہ ہو سکے۔ لیگ میں گئے وہاں بھی ان سے یہی سلوک کیا گیاا گر وہ سیاسیات کو چھوڑ کر ادب و شاعری کی طرف جھکتے تو قیامت ہوتے لیکن مصیبت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص سیاسیات سے قطع تعلق کر لینے کا مشورہ دے تو فورا ً بگڑ جاتے تھے۔ میں ایک مرتبہ اس قسم کی گستاخی کر بیٹھا تھا اس پر ایسے بگڑے کہ بس خدا کی پناہ۔\n\nجن دنوں تحریک شہید گنج کے سلسلہ میں حکومت نے انہیں کرم آباد نظر بند کر رکھا تھا سالک صاحب اور میں کئی مرتبہ ان سے ملنے گئے ہم دونوں ہر بار گھر سے یہی ارادہ کر کے چلتے تھے کہ مولانا کو سیاسیات کے متعلق بات نہ کرنے دیں گے اور اس منصوبہ میں ہمیں کسی حد تک کامیابی بھی ہوتی۔ پھر بھی زیادہ وقت سیاسی بکھیڑوں کی نذر ہو جاتا تھا۔ اس زمانے میں ہم نے یہ بھی چاہا کہ انہیں کوئی کتاب لکھنے پر آمادہ کیا جائے۔ بعض خاص خاص موضوعوں پر جن کے لئے ان کی طبیعت زیادہ موزوں ہے۔ گفتگو بھی ہوئی۔ پھر بھی سیاسی جھگڑوں نے انہیں کچھ کرنے نہ دیا۔\n\nمولانا کی مستقل تصانیف ان کے ادبی پایہ سے بہت فروتر نظر آتی ہیں۔ جنگل میں منگل، سیر ظلمات، سنہری گھونگا وغیرہ تو خیر پھر غنیمت ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ انہوں نے مسٹریز آف لندن کا ترجمہ کرنے میں بہت وقت ضائع کر دیا۔ ایک مرتبہ مولانا ابو الکلام آزاد سے ان کے تراجم کا ذکر آیا۔ کہنے لگے ’’ ظفر علی خاں نے جتنا وقت مسٹریز آف لندن کے ترجمہ پر صرف کیا۔ اے کاش کسی علمی کتاب کے ترجمہ پر صرف ہوتا۔ معرکہ مذہب و سائنس البتہ کام کی چیز ہے۔ سورہ روم کی تفسیر بھی اچھی لکھی ہے۔ سکاٹ کی تاریخ اندلس کا ترجمہ بھی شروع کیا تھا۔ جو ادھورا ہی رہ گیا۔ ڈرامہ روس و جاپان ڈرامہ کی حیثیت سے شاید زیادہ اہم نہ ہو۔ البتہ ان کی قادر الکلامی کا اچھا نمونہ ہے۔ ان کی نظموں کا ایک مجموعہ ’’ بہارستان‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے۔ اب نگارستان کے نام سے ایک اور مجموعہ چھپنے والا ہے۔‘‘\n\nبااینہمہ مولانا ظفر علی خان اس دور میں بہت غنیمت ہیں۔ اور آج جو لوگ ان پر اعتراض کرتے ہیں کل وہی انہیں یاد کر کے روئیں گے۔\n\nپیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ\n\nافسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی\n\n== ابو الکلام آزاد ==\n\nمیرے ایک دوست جنہیں ادب سے فطری مناسبت ہے۔ پچھلے دنوں کلکتہ گئے۔ وہاں سے لوٹے تو میں نے پوچھا۔ ’’ کلکتہ میں کیا کیا دیکھا؟‘‘ کہنے لگے ’’ وکٹوریہ میموریل اور میوزیم کی سیر کی۔ نیو مارکیٹ میں گھوما۔ ایک دن ڈائمنڈ ہاربر تک سمندر کی سیر دیکھنے بھی چلا گیا تھا۔‘‘ میں نے پوچھا’’ ابو الکلام کو بھی دیکھا؟‘‘ وہ گھبرا کے میرا منہ تکنے لگے۔ میں نے کہا’’ خدانخواستہ میرا مطلب یہ نہیں کہ مولانا بھی محض پرانے تبرکات میں سے ہیں۔ لیکن انہیں پنجاب کے نام سے چڑھ سی ہو گئی ہے۔ ابھی سرحد کا دورہ کر کے لوٹے ہیں لاہور راستہ میں پڑتا تھا۔ چاہتے تو ایک دن کے لئے یہاں بھی ٹھہر جاتے۔ مگر انہیں اتنا بھی گوارا نہ ہوا۔ تم کلکتہ گئے تھے۔ ایک دن ان سے بھی مل لیتے۔ کلکتہ جا کے بھی ابو الکلام کو نہ دیکھا تو کیا دیکھا؟‘‘\n\nمیں پہلی مرتبہ شملہ میں مولانا سے ملا تھا۔ ایڈورڈ گنج میں ان کی تقریر تھی۔ تقریر ہو چکی تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ لیکن چند منٹ کی ملاقات تھی اور ملنے والوں میں ایک میں ہی نہیں تھا۔ بہت سے لوگوں کا ایک وفد سا تھا۔ جس میں اسلامیہ اسکول کے ہیڈ ماسٹر سے لے کر ایڈورڈ گنج کے تنبولی تک سب شامل تھے۔ میں بھی گھس پیٹھ کے ان لوگوں میں شامل ہو گیا۔ لوگ سوال کر رہے تھے۔ اور وہ جواب دے رہے تھے۔ اس وقت ان کی صورت شکل کے عام انداز سے ان پر عقاب کا دھوکا ہوتا تھا۔ لیکن ایسا عقاب نہیں جو محض شکاریوں کا بازیچہ ہو۔ بلکہ ایسا عقاب جوسنگ خارا کی چٹانوں میں آشیانہ بناتا ہے۔\n\nاگلے سال کلکتہ جانا ہوا تو مدت تک مولانا سے ملنے کا کوئی موقع ہاتھ نہ آیا۔ اصل میں میں ان سے ملنے کے لئے بے تاب تھا لیکن کسی تقریب کے بغیر جا دھمکنا کچھ معیوب سا معلوم ہوتا تھا۔ اسی طرح سات آٹھ مہینے گزر گئے۔ آخر جب مولانا نے دوسری دفعہ الہلال نکالنے کا ارادہ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک روزانہ اخبار نکالنے کی تجویز ہوئی تو انہوں نے مجھے بلا بھیجا۔\n\nمولانا ان دنوں بالی گنج میں رہتے تھے۔ بڑی خوش قطع کوٹھی تھی۔ بیچ میں گھاس کا ایک قطعہ ایک طرف البلا غ پریس دوسری طرف مولانا کا سکونتی مکان پریس مدت سے بند پڑا تھا۔ لیکن اس کے عملہ کے بہت سے لوگ ابھی تک مولانا کے ساتھ تھے۔ مولوی عبدالرزاق ملیح آبادی بھی ان دنوں انہیں کے پاس رہتے تھے اور شاید جب سے وہ مصر سے آئے تھے ان کا قیام وہیں تھا۔ میرے ساتھ غلام احمد جامعی بھی تھے۔ جو کلکتہ کے کئی اخباروں میں کام کر چکے تھے۔ ہم دونوں اپنے بعض مضامین ساتھ لے گئے تھے۔ مولانا نے انہیں دیکھنے کے لئے رکھ لیا۔ پھر دیر تک ہم دونوں کے حالات پوچھتے رہے۔\n\nدوسرے تیسرے دن پھر بلایا۔ اور کہنے لگے میرے بھائی دس پندرہ دن تک اخبار نکال لینا چاہتا ہوں۔ تم سے یہ تو نہیں ہو سکتا کہ تم تمام اطراف سے انقطاع کر کے اپنے اوقات اسی ایک کام کے لئے وقف کر دو کیونکہ تمہاری دوسری مصروفیات بھی ہیں اور انہیں بھی بہرحال جاری رہنا چاہیے۔ البتہ تمہیں ہر صبح کو ڈھائی تین گھنٹے یہاں کام کرنا ہو گا۔ خیر اوقات کی تعیین بعد میں ہو جائے گی۔ فی الحال میں چاہتا ہوں کہ معاوضہ کا فیصلہ ہو جائے۔\n\nہم دونوں مولانا کے پرانے عقیدت مند تھے۔ ’’ الہلال‘‘ کی اکثر عبارتیں ہمیں زبانی یاد تھیں۔ تذکرہ کے جستہ جستہ فقرے زبان پر چڑھے ہوئے تھے۔ غزل گو شاعروں میں حسرت موہانی کا کلام پسند تھا۔ اور نثر نگاروں میں ابو الکلام کے سوا کسی کا انداز جچتا نہیں تھا۔ تذکرہ پڑھتے پڑھتے تھک جاتے تو حسرت کا کلام پڑھنا شروع کر دیتے تھے۔ اور حسرت کے کلام سے طبیعت اکتا جاتی تھی تو یہ شعر پڑھ کر تذکرہ اٹھا لیتے تھے۔\n\nجب سے دیکھی ابو الکلام کی نثر\n\nنظم حسرت میں بھی مزا نہ رہا\n\nاب جو مولانا نے معاوضہ کا ذکر کیا تو ہم بگڑ گئے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کہیں آخر مولانا نے ہمیں اس زحمت سے بچا لیا۔ یعنی خود معاوضہ متعین کر کے فرمایا آپ کو اتنے روپے پر کام کرنا منظور ہے؟ یہاں قیل و قال کی جرات کس میں تھی۔ ہم نے کہا ’’ بسر و چشم‘‘\n\nمولانا نے فرمایا تھا کہ اخبار دس پندرہ دن میں نکلے گا لیکن یہ دس پندرہ دن پورے ڈیڑھ مہینے میں ختم ہوئے۔ پہلے ابتدائی انتظامات مکمل ہونے میں نہ آتے تھے۔ انتظامات مکمل ہوئے تو اچھے خوشنویس نہ مل سکے۔ خوش نویس مہیا ہوئے تو کئی اور رخنے نکل آئے۔ ایک دفعہ گھبرا کے مولانا سے پوچھا کہ آخر اخبار کب تک نکلے گا؟ فرمانے لگے ’’ میرے بھائی میں تو جلد نکالنا چاہتا تھا لیکن چند مراحل درپیش ہیں جو طے ہونے میں نہیں آتے۔ خیر عرفت ربی بفسخ الغرائم۔\n\nمولانا نے انگریزی کے چند مضامین ترجمہ کے لئے دیئے تھے۔ جب تک اخبار نہ نکلے۔ ان مضامین کا ترجمہ ہوتا رہے غلام احمد کے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتا۔ البتہ میں نے بڑی کاوش سے ترجمہ کیا تھا۔ اور اس میں کہیں کہیں مولانا کے انداز خاص کا چربا اتارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب تو یاد نہیں رہا کہ ترجمہ کیسا تھا۔ تتبع کامیاب تھا یا صرف ان کے طرز تحریر کا منہ چڑایا گیا تھا۔ ہاں مولانا کے فیض و اثر سے اتنا ضرور ہوا کہ ہم دونوں کا انداز گفتگو کسی قدر بدل گیا یعنی کوئی بات ہو ہم اسے ہمیشہ میرے بھائی سے شروع کرتے اور ’’ تو خیر‘‘ پر ختم کر دیتے تھے۔‘‘\n\nایک دن مولانا نے فرمایا کہ کل صبح سے تم باقاعدہ آنا شروع کر دو۔ پرسوں تک اخبار ضرور نکل آئے گا۔ صبح سویرے ہم دونوں حاضر ہوئے۔ مولانا نے ہمیں لائبریری میں بٹھا دیا۔ صبح کے انگریزی اخبار موجود تھے۔ مولانا نے اہم خبروں پر سرخ پنسل سے نشان بھی کر دیئے تھے۔ ہم دونوں نے دو گھنٹے میں تراجم کا انبار لگا دیا۔ لیکن ساری محنت اکارت گئی یعنی اخبار کئی دن کے بعد نکلا۔\n\nاس اخبار کا نام پیغام تھا اور وہ کوئی مہینہ بھر چل کر بند ہو گیا ۔ لیکن ہم اس سے بہت پہلے اخبار سے الگ ہو چکے تھے۔ اصل میں پیغام کے منیجر مولوی عبدالوالی سے ہمارے کچھ اختلافات تھے اور یہ اختلافات بھی کیا تھے۔ مولوی صاحب اچھے سانحوردہ آدمی تھے۔ اور کسی زمانے میں لکھنو سے رسالہ معلومات بھی نکالتے رہے تھے۔ بس ان کی یہ کہن سالی اور تجربہ ہمارے حق میں آفت ہو گیا۔ جب دیکھو دخل در معقولات فرما رہے ہیں۔ ایک دن ہم نے پوچھا آپ کو دخل دینے کا کیا حق ہے؟ فرمایا معلومات۔۔۔۔ ہم نے انہیں زیادہ بات کرنے ہی نہیں دی۔ فوراً استعفیٰ دے دیا۔ در حقیقت اس معاملہ میں ان کا کوئی قصور نہیں تھا۔ ان کی تو عادت تھی کہ جب تک دن بھر میں دس پندرہ مرتبہ معلومات کا نام نہیں لیتے تھے۔ کھانا ہضم نہیں ہوتا تھا۔ لیکن ہم بھی اپنی پنجابیت سے مجبور تھے ایک دفعہ بگڑ گئے تو بگڑ گئے۔\n\nیہاں تک تو خیر تھی لیکن میں نے غصہ میں مولانا کو ایک خط لکھا جس میں ’’ مزدوری اور سرمایہ داری‘‘ کی طرف تیز تیز اشارے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد مولانا کا خادم ایک لفافہ دے گیا۔ اسے کھولا تو اس میں میرے خط کا جواب اور کچھ نوٹ تھے۔ خط کا مضمون یہ تھا کہ تمہارے خط سے مجھے دلی اذیت ہوئی ہے۔ خیر تم نے انقطاع کا ارادہ کر لیا ہے۔ تو یوں ہی سہی۔\n\nمیں کچھ ایسے ناگوار حالات میں پیغام سے علیحدہ ہوا تھا کہ مجھے مولانا سے کچھ حجاب سا تھا۔ ان سے ملنے کو جی تو بہت چاہتا تھا لیکن ہمت نہیں پڑتی تھی۔ آخر جب سائمن کمیشن کی آمد آمد کا شور مچا۔ اور گانے اور باجہ کے مسئلہ کو سلجھانے کے لئے کلکتہ میں لیڈروں کی ایک کمیٹی بیٹھی تو میں مولانا سے ملا۔ میں ان کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا۔ کہ کہیں ان کی طبیعت میں میری طرف سے کوئی تکدر تو نہیں۔ لیکن بظاہر اس قسم کے آثار بالکل نظر نہیں آتے تھے۔ اس ملاقات کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جو ایک جھجک سی تھی۔ وہ دور ہو گئی او رمیں پھر ان کی خدمت میں حاضر ہونے لگا۔\n\nنہرو رپورٹ کے خلاف کلکتہ میں جو طوفان اٹھا تھا ہندوستان میں کہیں اس کی نظر نہیں ملتی۔ اس موقع پر بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگا گئے۔ اور مسلمان قومی کارکنوں میں تو صرف انے گنے آدمی ایسے رہ گئے تھے جو ابھی تک کانگریس سے وابستہ تھے میں اگرچہ نہ کانگریس کا پرانا کارکن تھا۔ نہ خلافت کمیٹی سے میرا زیادہ تعلق رہا تھا۔ لیکن میری طبیعت کا رحجان ہمیشہ سے کانگریس کی طرف تھا۔ اس لئے میں نے نہرو رپورٹ کی حمایت میں کئی مضمون لکھے اور اس طرح بہت سے دوستوں کو اپنا دشمن بنا لیا۔\n\nان دنوں میں مولانا کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ اور ان سے اکثر مسائل پر گفتگو رہتی تھی۔ ایک دن میں حاضر ہوا کہنے لگے ’’ کیا حال ہے؟‘‘ میں نے کہا مولانا یہ جو طوفان اٹھا ہے اس سے پناہ پانا بہت مشکل معلوم ہوتا ہے۔ اب تک تو خیر کلکتہ خلافت کمیٹی ہی مخالفت کر رہی تھی لیکن جب سے مولانا شوکت علی آئے ہیں شہر میں آگ سی لگی ہوئی ہے۔ کہنے لگے ’’ خیر میرے بھائی یہ موسمی ہوائیں ہیں۔ گزر جائیں گی۔‘‘\n\nلیکن اس معاملہ میں مولانا کا انداز غلط نکلا۔ نہرو رپورٹ کی مخالفت میں جو پروپیگنڈا ہوا تھا۔ اس کا اثر مدت تک زائل نہ ہو سکا۔ اتفاق سے عید میلاد انہیں دنوں تھی۔ کلکتہ میں یوم میلاد بڑے سرو سامان سے منایا جاتا ہے۔ بلکہ ربیع الاول کے مہینے میں تو تیسوں دن بڑی چہل پہل اور گہما گہمی رہتی ہے۔ محلہ محلہ میں میلاد کی محفلیں برپا کی جاتی ہیں۔ باہر سے مولود خوان اور واعظ منگوائے جاتے ہیں۔ لیکن اس دفعہ ان محفلوں کا عجب انداز تھا۔ ایک محفل کا حال سنئے۔ ایک مولوی صاحب جن کا منہ ان کی داڑھی کا ضمیمہ معلوم ہوتا تھا۔ مولود خوانی کے لئے کھڑے ہوئے تو بے اختیار رونا شروع کر دیا۔ لوگوں نے پوچھا کیوں حضرت خیر تو ہے؟ مولوی صاحب نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا۔’’ میں آخری دفعہ یہاں آیا ہوں۔ اگلی دفعہ میلادی محفل نہیں ہو گی۔\n\nمجمع سے آوازیں بلند ہوئیں وہ کیسے؟‘‘\n\nمولوی صاحب نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔’’ نہرو نے جو ہندوؤں کا لیڈر ہے۔ مسلمانوں کے خلاف رپٹ لکھوا دی ہے۔ اس لئے اب نہ میلاد ہو سکے گا نہ ہم تم نماز پڑھ سکیں گے۔ لوگ جوش میں کھڑے ہو گئے اور آوازیں آئیں کس کی مجال ہے کہ ہمیں نماز پڑھنے سے روکے۔‘‘\n\nمولوی صاحب نے ایک زہرخند کے ساتھ کہا۔’’ جب مسجدوں کے سامنے باجہ بجانے کا قانون بنا تھا۔ تو تم نے کیا کر لیا تھا۔ جواب میلاد کے بند ہونے پر کر لو گے؟ اور اصل میں خود مسلمانوں کا سارا فساد ہے۔ تمہیں معلوم نہیں کہ بہت سے مسلمان لیڈر روپیہ لے کے ہندوؤں کی حمایت کر رہے ہیں۔‘‘\n\nیہ سن کے لوگوں کے جوش غضب کی انتہا نہ رہی ہر طرف سے غلغلہ بلند ہوا۔ ’’ ذرا ان کے نام تو بتایئے؟‘‘\n\nمولوی صاحب نے فرمایا ’’ مولانا ابو الکلام آزاد، مولوی اکرم خان، مولوی مجیب الرحمن سب نہرو رپورٹ کے حق میں ہیں۔‘‘\n\nلوگوں نے نہایت حیرت و استعجاب سے پوچھا’’ اچھا مولوی آجاو کلام بھی ہندوؤں کے ساتھ ہیں۔ وہ تو بہت اچھا واج وغط کیا کرتے ہیں؟‘‘\n\nمولوی صاحب کہنے لگے ’’ لیکن اب وہ ہندوؤں کے مندروں میں جا کے وعظ کیا کریں گے۔‘‘\n\nاس قسم کا پروپیگنڈا ایک دو جگہ نہیں ہوا ۔ بلکہ ہر محلہ میں اسی طرح لوگوں کو بھڑکایا گیا۔ کلکتہ کے مسلمانوں میں پڑھے لکھے بہت کم ہیں۔ انہیں کیا خبر کہ نہرو رپورٹ کیا ہے مولویوں نے جو کچھ کہا انہوں نے اس پر یقین کر لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہی لوگ جو مولوی ’’ آجا و کلام‘‘ کا آواج سن سن کر سر ہلایا کرتے تھے۔ ان کی جان کے لاگو بن گئے۔\n\nدسمبر ۱۹۲۸ء میں کلکتہ کی حالت عجیب تھی۔ اخباروں کے دفتروں، قہوہ خانوں، سیر گاہوں، بیاہ شادی کی محفلوں میں جہاں کچھ لوگ جمع ہو جاتے تھے۔ نہرو رپورٹ کا ذکر چھڑتا تھا۔ اور بحث میں لپاڈگی تک نوبت پہنچ جاتی تھی۔ کچھ دنوں تک تو یہ فیصلہ کرنا دشوار تھا۔ کہ کس فریق کا پلہ بھاری ہے۔ لیکن جب مولانا شوکت علی خلافت کانفرنس کا انتظام کرنے آئے۔ اور یہ افواہ پھیل گئی کہ سیٹھ گھنشام داس برلانے مسلمانوں کے ’’ ایمان‘‘ خریدنے کے لئے دس لاکھ روپیہ کانگریس کو دیا ہے۔ تو کانگریسیوں کے قدم اکھڑتے معلوم ہونے لگے۔ جہاں کسی مسلمان نے کانگریس کی حمایت میں زبان کھولی۔ لوگوں نے گھیر لیا اور ہر طرف سے چاؤں چاؤں ہونے لگی۔ کوئی کہتا ہے یہ مسلمان ہی نہیں آریہ ہے کوئی کہتا ہے کہ برلا کے روپے سے اسے بھی حصہ ملا ہے۔ دسمبر کے آخری دنوں میں تو یہ حال تھا کہ کانگریسی مسلمانوں کے لئے بازاروں میں نکلنا مشکل ہو گیا تھا۔\n\nمولانا شوکت علی کو خیر کھلم کھلا کانگریس کے مخالف تھے البتہ رئیس الاحرار محمد علی مرحوم کی طبیعت کا رحجان ابھی تک کانگریس کی طرف تھا۔ اتفاق سے کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ ان کی طبیعت بھی کانگریس سے اچاٹ ہو گئی۔ یعنی پہلے وہ کنونشن میں گئے تو کچھ بنگالی نوجوانوں نے ان پر آوازے کسے۔ پھر خلافت کانفرنس میں مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی ان سے الجھ پڑے۔ اور دونوں طرف سے ایسی باتیں کہی گئیں کہ اگر کچھ لوگ بیچ بچاؤ نہ کر دیتے تو بڑا خون خرابا ہوتا اس واقعہ نے مولانا محمد علی کی طبیعت کو ایسا برانگیختہ کیا۔ کہ وہ کانگریس سے بالکل الگ ہو گئے۔\n\nمولانا آزاد بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔ ان کی طبیعت کو ان باتوں کی تاب کہاں؟ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں پنڈال کے دروازہ پر کھڑا تھا۔ کہ مولانا آزاد نکلے اس وقت ان کا چہرہ سرخ تھا۔ اور وہ بار بار کہہ رہے تھے نہایت افسوسناک واقعہ ہے ان کے ساتھ تصدق احمد خاں شروانی مرحوم اور چودھری خلیق الزمان بھی تھے۔ شروانی مرحوم زار و قطار رو رہے تھے۔\n\nاس وقت تو مجھے ان کے رونے کا سبب معلوم نہ ہوا لیکن وہ جا چکے۔ تو لوگوں نے بتایا کہ جب پنجاب کے کچھ کارکنوں نے مولانا محمد علی کی شان میں گستاخیاں کیں تو شروانی سے ضبط نہ ہو سکا۔ دوسرا کوئی ہوتا تو پٹھان شاید لڑ مرتا۔ لیکن اپنے پرانے رفیقوں پر کیسے ہاتھ اٹھتا۔ اس لئے اور کچھ نہ ہو سکا تو رونا شروع کر دیا۔\n\nمولوی شوکت علی کلکتہ آئے تھے۔ تو ان کا اچھا خاصا جلوس نکلا تھا اور مولانا محمد علی مرحوم کا جلوس تو خاص طور پر پر رونق تھا۔ لیکن جب مولانا ظفر علی خاں اور پنجاب کے دوسرے لیڈر کانگریس اور خلافت کے جلسوں میں شریک ہونے کلکتہ پہنچے تو کسی نے انہیں پوچھا تک نہیں۔ ان میں بعض لوگوں کو جلوس نکلوانے کا بڑا شوق تھا۔ ادھر کانگریس اور خلافت کے اجلاس ہو رہے تھے۔ ادھر یہ لوگ جلوس نکلوانے کی تدبیروں میں مصروف تھے۔ آخر امرت سر اور لاہور کے بعض لوگوں نے جو کلکتہ میں بسلسلہ تجارت مقیم ہیں ان کا جلوس نکلانے کی حامی بھر لی۔ یار لوگوں نے مولانا آزاد کو بھی کھینچنا چاہا تھا لیکن وہ اس دام میں نہ آئے۔\n\nمیں نے خود یہ جلوس دیکھا ہے۔ اس میں ڈیڑھ دو سو سے زیادہ آدمی نہیں تھے۔ اور جب تک اہل جلوس میں کوئی شخص خود نہیں بتا دیتا تھا کہ یہ پنجاب کے لیڈروں کا جلوس ہے۔ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آخر اتنے لوگ اللہ اکبر اور زندہ باد کے نعرے کیوں لگا رہے ہیں؟\n\nجب بڑے بڑے لیڈروں کا یہ حال ہو۔ تو ہمہ شما کا کیا ذکر۔ ان جھگڑوں نے ایسا طول کھینچا کہ میں تنگ آ کر لاہور چلا آیا۔ چلتے وقت مولانا سے ملا کہنے لگے میرے بھائی! میں تمہارے حالات سن چکا ہوں میرے عندیہ میں تمہارے لئے لاہور چلا جانا ہی مناسب ہے کیونکہ۔۔۔۔ تو خیر سیاسی زندگی میں ایسے واقعات پیش آیا ہی کرتے ہیں۔\n\nمیرے دل پر مولانا کی جس خصوصیت کا اثر سب سے زیادہ ہے۔ وہ ان کی ذہانت اور علمی تبحر ہے۔ فارسی عربی میں تو ان کی فضیلت مسلم ہے۔ انگریزی انہوں نے علی پور جیل میں پڑھی تھی اور ان کے انگریزی پڑھنے کا بھی یہ حال تھا کہ کنگ پرائمر کے چند صفحے سبقاً پڑھے۔ اور چھوٹی موٹی کتابیں اور اخبار دیکھنے لگے۔ تھوڑی عرصہ میں ہی یہ کیفیت ہو گئی کہ انگریزی کی بڑی بڑی دقیق کتابیں پڑھنے اور ان کا مطلب سمجھنے لگے۔ الہلال دوسری مرتبہ نکلا۔ تو اس کے لئے خود انگریزی کے ایک آدھ مضمون کا ترجمہ کیا۔ یہ ترجمہ اس قدر پاکیزہ ہے کہ اسے دیکھ کر ان کی خدا داد صلاحیت پر حیرت ہوتی ہے۔\n\nمولانا ابو الکلام آزاد انگریزی بول بھی لیتے ہیں۔ لکھنے میں بھی بند نہیں۔ البتہ ان کا انگریزی تلفظ کچھ اچھا نہیں۔ میں نے انہیں ایک مرتبہ انگریزی کی ایک عبارت پڑھتے سنا تھا۔ جس کی بناء پر میں نے یہ رائے قائم کی ہے اور یہ ہونا بھی چاہیے تھا کیونکہ انہوں نے انگریزی باقاعدہ نہیں پڑھی بلکہ مطالعہ سے اس میں استعداد بہم پہنچائی ہے۔\n\nمطالعہ کا انہیں بہت شوق ہے۔ وہ ہر قسم کی کتابیں پڑھتے ہیں اور ہر فن کے متعلق معلومات رکھتے ہیں۔\n\nایک دفعہ میں نے افسانہ نگاری کے متعلق انہیں اپنا ایک مضمون دکھایا۔ پڑھ کے کہنے لگے ’’ تم نے فلاں فلاں فرانسوی اور قصہ نویس کا ذکر نہیں کیا۔ حالانکہ ان کے تذکرہ کے بغیر اس موضوع پر کوئی مضمون مکمل نہیں ہو سکتا۔‘‘ پھر افسانہ نگاری کے متعلق ایک تقریر شروع کر دی۔ اور اس سلسلہ میں ایسے ایسے مصنفوں اور ان کی تصانیف کا ذکر کر گئے ہیں جن کے نام بھی میں نے نہیں سنے تھے۔\n\nپٹنہ میں بڑی دھوم سے طبی کانفرنس ہوئی۔ غالباً حکیم مسیح الملک مرحوم اس کے صدر تھے۔ چونکہ مولانا آزاد بھی اتفاق سے وہیں موجود تھے۔ اس لئے بعض طبیبوں نے ان سے استدعا کی۔ کہ آپ کانفرنس میں طب یونانی کے متعلق چند کلمات کہہ دیجئے۔ حکیم اجمل خاں مرحوم نے بھی سفارش کی۔ لیکن مولانا تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو پورے دو گھنٹے طب قدیم و طب جدید کے نظریوں اور طریق علاج وغیرہ پر بحث کرتے رہے اور منضج مسہل تبرید تکمید سے لے کر رشید خطبی اور خمیرہ گاؤ زبان تک کو لے ڈالا۔ حکیم نثار احمد نے جو کلکتہ کے مشہور طبیب ہیں۔ اور اس اجتماع میں موجود تھے۔ خود مجھ سے بیان کیا ہے کہ مولانا نے اپنی تقریر میں جو باتیں بیان فرمائیں وہ بڑے بڑے نامور طبیبوں کو بھی معلوم نہیں۔\n\nان کا حافظہ بہت اچھا ہے عر بی فارسی اور اردو کے ہزاروں اشعار بلکہ عربی کی بڑی بڑی کتابوں کی طویل عبارتیں انہیں زبانی یاد ہیں۔ تذکرہ ان کی مشہور تصنیف ہے، یہ کتاب انہوں نے اپنی نظر بندی کے زمانے میں بمقام رانچی لکھی ہے۔ رانچی میں کوئی کتب خانہ تو تھا نہیں۔ کہ اس سے رجوع کرتے۔ اس لئے انہیں محض حافظہ پر منحصر کرنا پڑا۔ چنانچہ انہوں نے جگہ جگہ عربی کی طویل عبارتیں محض حافظہ کی مدد سے لکھ دی ہیں۔\n\nتحریر و تقریر دونوں کا جامع ہونا بہت مشکل ہے اور غالباً ہندوستان بھر میں تنہا مولانا ابو الکلام آزاد کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ انہیں قلم اور زبان دونوں پر یکساں قدرت حاصل ہے۔ ان کی تحریر میں خطابت کا انداز ہے اور تقریر میں انشاء کا اسلوب یعنی ان کی تحریر دیکھو تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شیوا بیان مقرر کسی بہت بڑے مجمع سے خطاب کر رہا ہے۔ اور تقریر کو لکھ لو تو بہت اچھا مضمون مرتب ہو جائے گا جس میں کہیں انگلی رکھنے کی گنجائش نظر نہیں آئے گی۔\n\nاکثر مقرر تقریر کرنے کھڑے ہوتے ہیں۔ تو موضوع سخن سے بہت دور جا پڑتے ہیں۔ سید عطاء اللہ شاہ کی جادو بیانی مسلم ہے۔ لیکن ان کی تقریر کا کوئی خاص موضوع نہیں ہوتا۔ بلکہ بات سے بات نکالتے جاتے ہیں۔ اگر ان کی تقریر لکھ دی جائے تو ایسا معلوم ہو گا کہ بہت سے چٹکلے اور لطیفے ایک جگہ جمع کر دیئے گئے ہیں۔ یوں کہنا چاہیے کہ ان کی تقریر اچھی خاصی الف لیلہٰ ہوتی ہے کہ ایک کہانی میں سے کئی کہانیاں نکلتی چلی آتی ہیں۔ یہ تشبیہہ آپ کے مذاق پہ بار ہو تو اسے غزل کہہ لیجئے جس کے اشعار اپنی اپنی جگہ تو خوب ہیں۔ مگر ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں رکھتے لیکن مولانا آزاد کی تقریر مسلسل نظم ہے کہ اس میں سے ایک شعر طبی نکال دیاجائے۔ تو بے معنی ہو کہ رہ جائے۔\n\n۱۹۲۷ء میں مولانا ابو الکلام آزاد نے ہالیڈے پارک کلکتہ میں ایک تقریر کی تھی۔ جس کی یاد سے ابھی تک دل لذت یاب ہے۔ ان دنوں گانے باجے کا جھگڑا بڑے زوروں پر تھا۔ ہندو مسلمانوں کے تعلقات بہت بگڑے ہوئے تھے۔ کلکتہ میں ایک دو سخت ہنگامے ہو چکے تھے باریسال میمن سنگھ اور بنگال کے بہت سے دوسرے علاقوں میں برابر فسادات کی خبریں چلی آتی تھیں۔ کانگریس کا اقتدار مٹ چکا تھا۔ نہ ہندو اسے مانتے تھے نہ مسلمان انہیں دنوں مولانا آزاد سبحانی کلکتہ آئے۔ خلافت کمیٹی نے ہالیڈے پارک میں جلسہ کا انتظام کیا۔ بڑی مشکل سے کہیں دو سو ڈھائی سو آدمی جمع ہوئے۔ لیکن جب مولوی صاحب نے تقریر شروع کی اور ایک پھڑکتا ہوا شعر پڑھ کر صدر جلسہ کی طرف دیکھا تو لوگ اٹھ کر چل دیئے۔ وہ ’’ حضرت!‘‘ کہہ کر پلٹے۔ تو جناب صدر چپکے سے کھسک گئے۔ اب جلسہ گاہ میں صرف میں تھا۔ یا مولانا آزاد سبحانی وہ مقرر میں سامعین انہوں نے کچھ کہنے کو منہ کھولا۔ میں نے عرض کیا مسلمانوں کے حق میں دعائے خیر کیجئے اور گھر چلئے شکر ہے کہ ان کی سمجھ میں یہ بات آ گئی۔ ورنہ اگر وہ اپنی پوری خطابت تنہا مجھ غریب پر صرف کر ڈالتے تو میں ان کا کیا کر لیتا۔\n\nاس واقعہ کو تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا کہ خلافت کمیٹی نے اسی پارک میں مولانا ابو الکلام کی تقریر کا انتظام کیا۔ کلکتہ کے مسلمان ان سے پہلے ہی ناراض تھے۔ کیونکہ فسادات کے زمانے میں وہ چپ چاپ گوشے میں بیٹھے رہے تھے۔ کانگریس کے دشمنوں نے انہیں اور بھڑکایا۔ بلکہ ایک صاحب نے جو کلکتہ کے بہت بڑے لیڈر اور نامی گرامی رئیس تھے۔ اپنے بہت سے آدمی بھیج دیئے کہ لوگ مولانا کی تقریر سننے پر آمادہ ہو جائیں تو کوئی ایسا اشقلہ چھوڑیں کہ جلسہ نہ ہو سکے۔ ان میں سے کچھ لوگ لاٹھیاں اور چھریاں لے کے آئے تھے۔\n\nمیں سر شام ہی ہالیڈے پارک میں پہنچ گیا۔ بہت بڑا مجمع تھا۔ اور جلسہ گاہ میں میدان کار زار کا نقشہ کھچا ہوا تھا۔ دو دو تین تین آدمی جگہ جگہ کھڑے آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے۔ اتنے میں مولانا کی کار پہنچی کچھ نیاز مندوں نے بڑھ کر عرض کی کہ لوگوں کے تیور بے ڈھب معلوم ہوتے ہیں۔ بہتر ہے کہ آپ یہیں سے پلٹ جائیں انہوں نے فرمایا’’ پہلے معلوم ہوتا تو میں نہ آتا لیکن اب تو میں تقریر کر کے ہی جاؤں گا۔‘‘\n\nمولانا تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو مجمع کی یہ حالت تھی کہ کچھ لوگ کھڑے ہیں۔ کچھ بیٹھے ہیں۔ کچھ سرگوشیوں میں مصروف ہیں۔ کچھ کھانس رہے ہیں۔ اس لئے تقریر کے ابتدائی جملے کسی نے سنے کسی نے نہ سنے۔ لیکن ان کی آواز بتدریج بلند ہوتی گئی۔ اور تھوڑی دیر میں یہ کیفیت ہوئی کہ لوگ بت بنے کھڑے تھے۔ جلسہ گاہ کے کسی گوشہ سے کوئی ہلکی سے ہلکی صدا بھی سنائی نہیں دیتی تھی۔\n\nمولانا نے کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے تقریر کی۔ تقریر میں سیدھی سادی باتیں تھیں۔ اور انہوں نے بظاہر لوگوں کے جذبات کو ابھارنے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ پھر بھی جو لوگ گھر سے یہ ارادہ کر کے نکلے تھے کہ ابو الکلام کو جلسے میں دو لفظ کہنے نہیں دیں گے۔ ان میں بعض جھوم رہے تھے اور بعض کی داڑھیاں آنسوؤں سے تر تھیں۔\n\nانہیں اپنے وقار اور عزت کا بڑا خیال رہتا ہے۔ اس لئے وہ ایسے مجمعوں میں جہاں لڑائی بھڑائی کا اندیشہ ہو۔ سرے سے شریک نہیں ہوتے۔ لیکن جب کبھی وہ کسی ایسے مجمع میں گئے انہوں نے کسی نہ کسی طرح لوگوں پر قابو پا لیا مسلمانوں کو عام جلسوں میں تو مدت سے شریک نہیں ہوتے تھے لے دے کر سال میں دو مرتبہ عید کی نماز پڑھا دیا کرتے تھے۔ اور اس طرح مسلمانوں کو ان کے خیالات سننے کا موقع مل جاتا تھا۔ لیکن جب مسلم لیگ والوں نے ان کی امامت عید پر اعتراض کیا تو وہ خود بہ خود امامت سے دست بردار ہو گئے استقامت اور وضعداری ان کی طبیعت کے خاص جوہر ہیں۔ ان کی استقامت کا حال تو ساری دنیا کو معلوم ہے۔ مسلمانوں کے اکثر بڑے بڑے لیڈروں کی یہ کیفیت رہی ہے۔ کہ آج کانگریس کے حامی ہیں کل اس کے مخالف لیکن مولانا آج سے بیس برس پہلے جہاں تھے آج بھی وہیں ہیں۔ شاعر نے شاید انہیں کے لئے کہا ہے۔\n\nواغط زدیں برآمدو صوفی ز اعتقاد\n\nترسا محمدی شدہ عاشق ہماں کہ ہست\n\nان کی طبیعت میں نفاست بہت ہے۔ کسی زمانے میں وہ بہت نفیس اور قیمتی لباس پہنا کرتے تھے۔ لیکن جب سے کانگریس میں شریک ہوئے ہیں گاڑھے پر گزر کر رہے ہیں۔ البتہ سگریٹ ہمیشہ اچھے پیتے ہیں اور بہت پیتے ہیں کھانا بھی اچھا کھاتے ہیں لیکن کم کھاتے ہیں۔ تدبر و سیاست میں یگانہ ہیں۔ مگر گھر کے انتظام کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی لوگ انہیں دھوکا دے جاتے ہیں۔ چنانچہ اخبار اور پریس کے کام میں انہوں نے کئی سخت نقصان اٹھایا۔ ترجمان القران کی طباعت کے سلسلے میں بھی ایک شخص نے انہیں سخت دھوکا دیا۔ یعنی ان سے کاغذ کی دگنی قیمت وصول کر لی گئی اور انہیں خبر بھی نہ ہوئی۔\n\nجس طرح جلسوں میں وہ عوام پر چھا جاتے تھے اسی طرح نج کی صحبتوں میں وہ خواص کو مسحور کر لیتے ہیں۔ ان کے تلفظ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اور کو اور اور غور کو غور (واؤ مجہول کے ساتھ) بولتے ہیں۔ کسی دوسرے کا تلفظ اس قسم کا ہوتا تو لوگوں میں انگشت نما ہو جاتا۔ لیکن انہیں ٹوکنے کی کسی کو جرأت نہیں ہوتی بلکہ اکثر لوگ تو تلفظ کے معاملہ میں ان کی پیروی کرتے ہیں۔\n\nمولانا ابو الکلام کسی زمانے میں شعر بھی کہتے تھے اور مشاعروں میں بھی شریک ہوتے تھے۔ چنانچہ میں نے بعض لوگوں کی زبانی سنا ہے کہ آج سے تیس پینتیس سال پہلے کلکتہ کے مسلم انسٹی ٹیوٹ میں جو مشاعرے ہوتے تھے۔ ان میں وہ ہمیشہ طرح پر غزل کہہ کے لاتے اور خود پڑھ کے سناتے تھے۔ لیکن یہ قصہ ہے جب کا جب آتش جوان تھا۔\n\nاور جوانی بھی کہاں یہ ان کے لڑکپن کا ذکر معلوم ہوتا ہے کیونکہ جوانی میں وہ بڑے بوڑھوں سے آگے تھے۔\n\nان کے والد بزرگوار مولانا خیر الدین ایک مشہور خانوادہ طریقت سے تعلق رکھتے تھے۔ چنانچہ اب بھی ان کے عقیدت مند ملک کے مختلف حصوں میں موجود ہیں۔ لیکن مولانا ابو الکلام آزاد اور ان کے بڑے بھائی ابو نصر غلام یسین1؎ آہ دونوں نے پیری مریدی سے کوئی سروکار نہیں رکھا۔ا ٓہ تو جوانی میں انتقال کر گئے۔ ابو الکلام وضعداری نباہتے چلے جاتے ہیں۔ یعنی سال کے سال ان کے والد کا جو عرس ہوتا ہے۔ اس میں شریک ہو جاتے ہیں۔\n\n1؎ آہ بڑے ذہین شخص تھے اور اکثر اکباروں اور رسالوں میں مضامین لکھتے رہتے تھے۔ چنانچہ حکیم محمد علی کے مشہور رسالہ مرقع عالم میں ان کے بعض مضامین میری نظر سے گزرے ہیں۔\n\nمولانا کا پایہ ملک کے سیاسی رہنماؤں میں بہت اونچا ہے۔ لیکن یقین جانئے۔ انہوں نے کبھی اس قسم کی چھچھوری حرکات نہیں کیں۔ جو لیڈر لوگ شہرت حاصل کرنے کے لئے کرتے رہتے ہیں۔ اور اگر آج ان کا نام گاندھی اور جواہر لال کے نام کے ساتھ ساتھ لیا جا رہا ہے۔ تو اس کا باعث ان کی غیر معمولی قابلیت اور سیاسی بصیرت ہے پروپیگنڈا کو اس میں کوئی دخل نہیں۔ اس ملک میں اگر کوئی شخص بہت بڑا لیڈر بننا چاہے۔ تو اس کے لئے قابلیت شرط نہیں۔ بلکہ اسے ذرا نیاز مند قسم کا انسان بھی ہونا چاہیے۔ اس کی ایک مثال خان عبدالغفار خان ہیں۔ جو ابھی کل کانگریس میں آئے اور آج پرانے پرانے لیڈروں سے آگے نظر آتے ہیں۔\n\nلیکن مولانا سے خان عبدالغفار خان کا مقابلہ کیجئے تو بڑا فرق نظر آتا ہے۔ ایک مجمع میں خان عبدالغفار خان اور مولانا ابو الکلام آزاد دونوں موجود تھے۔ پہلے خان عبدالغفار خان آئے اور ہاتھ جوڑ کے سب کو پرنام کیا۔ پھر مولانا تشریف لائے۔ لیکن نہ ان کا ہاتھ سلام کے لئے اٹھا نہ سر جھکا۔ پھر بھی یہ حال تھا کہ جدھر وہ جاتے تھے خلقت اسی طرف جھک پڑتی تھی۔ اور خان عبدالغفار خان اپنی نیاز مندی کے باوجود یوسف بے کارواں بنے ہوئے تھے۔\n\nمولانا آزاد پر اگر لوگوں کو کوئی اعتراض ہے تو صرف یہی کہ وہ رند بلا کش نہیں۔ یعنی ان میں اتنی ہمت نہیں کہ ہاتھ میں علم لئے گھر سے نکل کھڑے ہوں۔ ہر شہر اور قریہ میں تقریریں کرتے پھریں۔ لوگوں سے گالیاں بھی سنیں داد بھی حاصل کریں۔ مار بھی کھائیں جلوس بھی نکلوائیں اور اس طرح مولانا حبیب الرحمن بن کر رہ جائیں۔ اور یہ اعتراض صحیح ہے انہیں اپنے وقار کا بہت خیال ہے وہ ان مجمعوں میں شریک نہیں ہوتے۔ جہاں گالیاں کھانے اور پٹ جانے کا اندیشہ ہو۔ اس چیز کے لئے بڑے دل گردہ کی ضرورت ہے۔\n\nمولانا پر بڑے بڑے کڑے وقت بھی آئے ہیں۔ لیکن اس غیرت کے پتلے نے کبھی کسی کا احسان نہیں اٹھایا۔ ان کے والد بزرگوار کے مریدوں میں بہتیرے لوگ ایسے ہیں۔ جو اپنا سب کچھ انہیں دے ڈالنے کو تیار ہیں ان کے بعض عقیدت مندوں نے جو الہلال کے دور اول سے آج تک ان کے مداح چلے آتے ہیں۔ کئی مرتبہ ان کی مالی اعانت کرنا چاہی لیکن انہوں نے گوارا نہ کیا۔ ان میں اکثر لوگوں نے بڑی بڑی رقموں کے منی آرڈر اور چک بھیجے جو واپس کر دیئے گئے۔\n\nغیر معمولی ذہانت اور علمی تبحر کے ساتھ ساتھ سنجیدگی اور استغنا ان کے دو اہم وصف ہیں۔ ان کی سنجیدگی کا یہ حال ہے کہ وہ کبھی کوئی لطیفہ یا پھبتی بھی کہتے ہیں۔ تو اس میں بھی گونہ سنجیدگی پائی جاتی ہے۔ ہنستے ہیں تو اس میں بھی وقار ہوتا ہے۔ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ سنجیدگی کے معاملہ میں ان کی نقالی کرتے ہیں۔ اور اپنے آپ پر ان کی سی متنانت طاری کر لینا چاہتے ہیں لیکن مولانا کی طبیعت کا یہ بھاری بھر کم پن فطری ہے۔ جسے نقل اور مشق سے حاصل نہیں کیا جا سکتا ان کی عمر زیادہ نہیں۔ ان کا سال ولادت ۱۸۸۸ء ہے اور اس حساب سے پنڈت جواہر لال نہرو کے ہم عمر ہیں۔ لیکن طبعی سنجیدگی کی وجہ سے وہ بہت زیادہ بوڑھے معلوم ہوتے ہیں۔ دراصل وہ اپنی غیر معمولی ذہانت و فطانت کے باعث لڑکپن میں ہی وہاں تھے۔ جہاں دوسرے لوگ بڑھاپے میں بھی نہیں پہنچتے۔ سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں اخبار نویسی شروع کی۔ بائیس سال کی عمر میں الہلال نکالا۔ اور تیس برس کی عمر میں تذکرہ لکھا گویا ان کی جن تحریروں پر آج بھی سارا ہندوستان سر دھن رہا ہے۔ وہ ان کے عنوان شباب کا کارنامہ ہیں۔ باایں ہمہ شباب کی ان تحریروں میں جوانی کی شوخی اور کج رائی کہیں نہیں۔ بلکہ جگہ جگہ بڑھاپے کی پختگی اور متانت جھلکتی نظر آتی ہے۔ یوں کہنا چاہیے کہ ابو الکلام کو زمانے نے قبل از وقت بوڑھا کر دیا۔ جوانی ان پر کبھی آئی ہی نہیں اور آئی بھی تو اس کا زمانہ بہت مختصر تھا۔\n\nاس غیر معمولی سنجیدگی اور وقار کے ساتھ استغنا کا جامعہ ان کے قامت احوال پر بہت کھلتا ہے۔ اس معاملہ میں ان کا یہ حال ہے۔ کہ کوئی بڑے سے بڑا سانحہ بھی انہیں بے نیازی کے زاویہ سے قدم باہر نکالنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ ذرا غور کیجئے کہ یہ جو دو لفظ تو خیر میرے بھائی ان کی زبان پر چڑھے ہوئے ہیں۔ ان میں کس قدر بے پروائی کا انداز ہے۔ شدید سے شدید حادثہ پر وہ صرف لمحہ بھر کے لئے غور کرتے ہیں اور پھر تو خیر میرے بھائی کہہ کر اس طرح باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AF%D9%85_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81"} {"title": "مردود خلائق ہوں گنہ گار ہوں میں", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مردود خلائق ہوں گنہ گار ہوں میں\nپامال جہاں ہوں کہ سزاوار ہوں میں\nانجام جو خاک ہے اگر جیتے جی\nمل جاؤں نہ خاک میں تو بے کار ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%AF_%D8%AE%D9%84%D8%A7%D8%A6%D9%82_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مردِ بزرگ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اُس کی نفرت بھی عمیق، اُس کی محبّت بھی عمیق\nقہر بھی اُس کا ہے اللہ کے بندوں پہ شفیق\nپرورش پاتا ہے تقلید کی تاریکی میں\nہے مگر اُس کی طبیعت کا تقاضا تخلیق\nانجمن میں بھی میَسّر رہی خلوَت اُس کو\nشمعِ محفل کی طرح سب سے جُدا، سب کا رفیق\nمثلِ خورشیدِ سحَر فکر کی تابانی میں\nبات میں سادہ و آزادہ، معانی میں دقیق\nاُس کا اندازِ نظر اپنے زمانے سے جُدا\nاُس کے احوال سے محرم نہیں پیرانِ طریق", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AF%D9%90_%D8%A8%D8%B2%D8%B1%DA%AF"} {"title": "مردِ فرنگ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہزار بار حکیموں نے اس کو سُلجھایا\nمگر یہ مسئلۂ زن رہا وہیں کا وہیں\nقصور زن کا نہیں ہے کچھ اس خرابی میں\nگواہ اس کی شرافت پہ ہیں مہ و پرویں\nفساد کا ہے فرنگی معاشرت میں ظہور\nکہ مرد سادہ ہے بیچارہ زن شناس نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AF%D9%90_%D9%81%D8%B1%D9%86%DA%AF"} {"title": "مردِ مسلمان", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن\nگُفتار میں، کردار میں، اللہ کی برُہان!\nقہاّری و غفاّری و قدّوسی و جبروت\nیہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان\nہمسایۂ جِبریلِ امیں بندۂ خاکی\nہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشان\nیہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن\nقاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قُرآن!\nقُدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے\nدُنیا میں بھی میزان، قیامت میں بھی میزان\nجس سے جگَرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو، وہ شبنم\nدریاؤں کے دِل جس سے دہَل جائیں، وہ طوفان\nفطرت کا سرودِ اَزلی اس کے شب و روز\nآہنگ میں یکتا صفَتِ سورۂ رحمٰن\nبنتے ہیں مری کارگہِ فکر میں انجم\nلے اپنے مقدّر کے ستارے کو تو پہچان!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%AF%D9%90_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86"} {"title": "مرزا غالبؔ", "poet_page": "مصنف:محمد صادق ضیا", "kind": "poetry", "section": "نظم > صبح مشرق (1938)", "year": "1938", "text_ur": "راز دان زندگی اے ترجمان زندگی\nہے ترا ہر لفظ زندہ داستان زندگی\nہر تبسم سے ترے پیدا فغان زندگی\nہر فغاں تیری نشید گلستان زندگی\nگلشن حسن و وفا کی آبیاری تجھ سے ہے\nخاک کے ذروں کو فخر تاجداری تجھ سے ہے\n\nدور مستقبل پہ دنیا کے نگاہیں تھیں تری\nرہبر راہ عمل دل دوز آہیں تھیں تری\nسینۂ علم حقیقت میں پناہیں تھیں تری\nعرش سے بھی اور آگے جلوہ گاہیں تھیں تری\nکام تھا تجھ کو نہ مطلق ہستئ ناکام سے\nتھی نوا وابستہ تیری پردۂ الہام سے\n\nفلسفے کی خوب صورت ترجمانی تو نے کی\nدشت ہو میں آنسوؤں سے باغبانی تو نے کی\nاپنی آنکھوں سے مسلسل خوں فشانی تو نے کی\nمدتوں ملک سخن پر حکمرانی تو نے کی\nروح مطلق جذب تھی گویا ترے احساس میں\nقدس کے نغمے نہاں تھے پردۂ انفاس میں\n\nنطق کو تو نے دیا پیرایۂ سوز و گداز\nخون سے کر کے وضو تو نے پڑھی اکثر نماز\nگونج اٹھا تیرے نغموں سے حریم حسن و ناز\nآج تک محفوظ ہے ہر دل میں تیرا سوز و ساز\nعالم بالا سے اک پیغام نو لاتا تھا تو\nروح کی گہرائیوں تک اس کو پہنچاتا تھا تو\n\nمے کدہ تھا تیرا یکسر سوز مطلق ساز بھی\nتھی مے ہندی بھی ساغر میں مے شیراز بھی\nتو حقیقت فہم بھی تھا آشنائے راز بھی\nروح کی آواز تھی گویا تری آواز بھی\nنقش فریادی ہے تیری شوخیٔ تحریر کا\nکاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا\n\nآہ خاک ہند میں تو دیر سے خوابیدہ ہے\nزینت ہر بزم تیرا جلوۂ نادیدہ ہے\nتیرے غم میں آج بھی جان سخن کاہیدہ ہے\nہے تصرف تیرا پیدا اور تو پوشیدہ ہے\nسوز تیرا آگ بن کر بزم پر چھا جائے گا\nساز ہستی حشر تک تیرے ہی نغمے گائے گا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%B2%D8%A7_%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%94"} {"title": "مرزا غالِب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "فکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہُوا\nہے پرِ مرغِ تخیّل کی رسائی تا کجا\nتھا سراپا روح تُو، بزمِ سخن پیکر ترا\nزیبِ محفل بھی رہا، محفل سے پنہاں بھی رہا\nدید تیری آنکھ کو اُس حُسن کی منظور ہے\nبن کے سوزِ زندگی ہر شے میں جو مستور ہے\n\nمحفلِ ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار\nجس طرح ندّی کے نغموں سے سکُوتِ کوہسار\nتیرے فردوسِ تخیّل سے ہے قدرت کی بہار\nتیری کشتِ فکر سے اُگتے ہیں عالم سبزہ وار\nزندگی مُضمرَ ہے تیری شوخیِ تحریر میں\nتابِ گویائی سے جُنبش ہے لبِ تصویر میں\n\nنُطق کو سَو ناز ہیں تیرے لبِ اعجاز پر\nمحوِ حیرت ہے ثریّا رفعتِ پرواز پر\nشاہدِ مضموں تصّدق ہے ترے انداز پر\nخندہ زن ہے غنچۂ دلّی گُلِ شیراز پر\nآہ! تُو اُجڑی ہوئی دِلّی میں آرامیدہ ہے\nگُلشنِ ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے\n\nلُطفِ گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں\nہو تخیّل کا نہ جب تک فکرِ کامل ہم نشیں\nہائے! اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیں\nآہ! اے نظّارہ آموزِ نگاہِ نکتہ بیں\nگیسوئے اُردو ابھی منّت پذیر شانہ ہے\nشمع یہ سودائیِ دل‌سوزیِ پروانہ ہے\n\nاے جہان آباد! اے گہوارۂ عِلم و ہُنر\nہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام و در\nذرّے ذرّے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمر\nیوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر\nدفن تجھ میں کوئی فخرِ روزگار ایسا بھی ہے؟\nتجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%B2%D8%A7_%D8%BA%D8%A7%D9%84%D9%90%D8%A8"} {"title": "مرزا کے اخلاق و عادات و خیالات", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "مرزا کے اخلاق نہایت وسیع تھے۔ وہ ہر شخص سے جوان سے ملنے جاتا تھا بہت کشادہ پیشانی سے ملتے تھے۔ جو شخص ایک دفعہ ان سے مل آتا تھا اس کو ہمیشہ ان سے ملنے کا اشتیاق رہتا تھا۔ دوستوں کو دیکھ کر وہ باغ باغ ہو جاتے تھے اور ان کی خوشی سے خوش اور ان کے غم سے غمگین ہوتے تھے۔ اس لئے ان کے دوست ہر ملت اور ہر مذہب کے نہ صرف دہلی میں بلکہ تمام ہندوستان میں بے شمار تھے۔ جو خطوط انہوں نے اپنے دوستوں کو لکھے ہیں ان کے ایک ایک حرف سے مہر و محبت، غم خواری ویگانگت ٹپکتی پڑتی ہے۔ ہر ایک خط کا جواب لکھنا وہ اپنے ذمہ فرض عین سمجھتے تھے۔ ان کا بہت سا وقت دوستوں کے خطوط کے جواب لکھنے میں صرف ہوتا تھا۔ بیماری اور تکلیف کی حالت میں بھی وہ خطوط کے جواب لکھنے سے باز نہ آتے تھے۔\n\nوہ دوستوں کی فرمائش سے کبھی تنگ دل نہ ہوتے تھے۔ غزلوں کی اصلاح کے سوا اور طرح طرح کی فرمائشیں ان کے بعض خالص و مخلص دوست کرتے تھے اور وہ ان کی تعمیل کرتے تھے۔ لوگ ان کو اکثر بیرنگ خط بھیجتے تھے، مگر ان کو کبھی ناگوار نہ گزرتا تھا۔ اگر کوئی شخص لفافے میں ٹکٹ رکھ کر بھیجتا تھا تو سخت شکایت کرتے تھے۔ انہوں نے میسور کے ایک شہزادے کو اپنی کتاب بھیجی ہے۔ اس نے کتاب کی رسید لکھی ہے اور قیمت دریافت کی ہے۔ اس کے جواب میں لکھتے، ’’حرف پرسش مقدار قیمت چرابر زبان قلم رفت؟ ہنجار نوازش نیازمنداں بے نوانہ ایں ست۔ بے سرمایہ ام نافر و مایہ۔ سخن ورم نہ سوداگر۔ موئینہ پوشم نہ کتاب فروش پزیرندہ عطائم نہ گیرندہ بہا۔ ہرچہ آزادگان بخشند تبرک۔ بیع وشراین ست، چوں وچرانیست۔ ہرچہ فرستادہ ام ارمغانست و ہرچہ خواہم فرستادار مغان خواہدبود۔‘‘\n\nمروت اور لحاظ مرزا کی طبیعت میں بدرجہ غایت تھا۔ باوجود کہ اخیر عمرمیں وہ اشعار کی اصلاح دینے سے بہت گھبرانے لگے تھے، باایں ہمہ کبھی کسی کا قصیدہ یاغزل بغیر اصلاح کے واپس نہ کرتے تھے۔ ایک صاحب کو لکھتے ہیں، ’’جہاں تک ہو سکا احباب کی خدمت بجا لایا۔ اوراق اشعار لیٹے لیٹے دیکھتا تھا اور اصلاح دیتا تھا۔ اب آنکھ سے اچھی طرح سوجھے نہ ہاتھ سے اچھی طرح لکھا جائے۔ کہتے ہیں کہ شاہ شرف بوعلی قلندر کو بہ سبب کبرسن خدا نے فرض اور پیمبر نے سنت معاف کر دی تھی۔ میں متوقع ہوں کہ میرے دوست بھی خدمت اصلاح اشعار مجھے معاف کریں۔ خطوط شوقیہ کاجواب جس صورت سے ہو سکےگا لکھ دیا کروں گا۔‘‘ باوجود اس کے بھی لوگ مرزا کو برابر ستاتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ کہیں مرزا تفتہ نے یہ لکھ دیا تھا کہ آپ نے بہ سبب ذوق سخن کے اصلاح اشعار منظور فرمائی تھی۔ اس کے جواب میں لکھتے ہیں، ’’لاحول و لاقوۃ! کس ملعون نے بہ سبب ذوق شعر کے اشعار کی اصلاح منظور رکھی؟ اگر میں شعر سے بیزار نہ ہوں تومیرا خدا مجھ سے بیزار۔ میں نے توبہ طریق قہر درویش بہ جان درویش لکھا تھا۔ جیسے اچھی جو روبرے خاوند کے ساتھ مرنا بھی اختیار کرتی ہے میرا تمہارے ساتھ وہ معاملہ ہے۔‘‘\n\nاگرچہ مرزا کی آمدنی قلیل تھی مگر حوصلہ فراخ تھا۔ سائل ان کے دروازہ سے خالی ہاتھ بہت کم جاتا تھا۔ ان کے مکان کے آگے اندھے، لنگڑے، لولے اور اپاہج مرد و عورت ہرقت پڑے رہتے تھے۔ غدرکے بعد ان کی آمدنی کچھ اوپر ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار کی ہو گئی تھی اور کھانے پینے کا خرچ بھی کچھ لمبا چوڑا نہ تھا، مگر وہ غریبوں اور محتاجوں کی مدد اپنی بساط سے زیادہ کرتے تھے۔ اس لئے اکثر تنگ رہتے تھے۔ غدر کے بعدایک بار میں نے خود دیکھا کہ نواب لیفٹیننٹ گورنر کے دربارمیں ان کو حسب معمول سات پارچے کا خلعت مع تین رقوم جواہر کے ملا تھا۔ لفٹنینٹ کے چپراسی اور جمع دارقاعدے کے موافق انعام لینے کو آئے۔ مرزا صاحب کوپہلے ہی معلوم تھا کہ انعام دینا ہوگا۔ اس لئے انہوں نے دربار سے آتے ہی خلعت اور رقوم جواہر بازار میں فروخت کرنے کے لئے بھیج دی تھیں۔ چپراسیوں کو الگ مکان میں بٹھا دیا اور جب بازار سے خلعت کی قیمت آئی تب ان کو انعام دے کر رخصت کیا۔\n\nوہ اپنے ان دوستوں کے ساتھ جو گردش روزگار سے بگڑ گئے تھے، نہایت شریفانہ طور پر سلوک کرتے تھے۔ دلی کے عمائد میں سے ایک صاحب جو مرزا کے دلی دوست تھے اور غدر کے بعد ان کی حالت سقیم ہو گئی تھی ایک روز چھینٹ کا فرغل پہنے ہوئے مرزا سے ملنے کو آئے۔ مرزا نے کبھی ان کو مالیدہ یا جامہ دار وغیرہ چغوں کے سوا ایسا حقیر کپڑا پہنے نہیں دیکھا تھا۔ چھینٹ کا فرغل ان کے بدن پر دیکھ کر دل بھر آیا۔ ان سے پوچھا کہ یہ چھینٹ آپ نے کہاں سے لی؟ مجھے اس کی وضع بہت ہی بھلی معلوم ہوتی ہے۔ آپ مجھے بھی فرغل کے لئے یہ چھینٹ منگو ادیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ فرغل آج ہی بن کر آیاہے اور میں نے اسی وقت اس کو پہنا ہے، اگر آپ کو پسند ہے تو یہی حاضر ہے۔ مرزا نے کہا جی تو یہی چاہتا ہے کہ اسی وقت آپ سے چھین کر پہن لوں، مگر جاڑا شدت سے پڑ رہا ہے، آپ یہاں سے مکان تک کیا پہن کر جائیں گے؟ پھر ادھر ادھر دیکھ کر کھونٹی پر سے اپنا مالیدہ کانیا چغہ اتار کر انہیں پہنا دیا اور اس خوبصورتی کے ساتھ وہ چغہ ان کی نذر کیا۔\n\nوہ ایک خط میں لکھتے ہیں، ’’قلندری، آزادگی وایثار وکرم کے جو دواعی میرے خالق نے مجھ میں بھر دیے ہیں، بہ قدر ہزار ایک ظہور میں نہ آئے۔ نہ وہ طاقت جسمانی کہ ایک لاٹھی ہاتھ میں لوں اور اس میں شرطنجی اور ایک ٹین کا لوٹا مع سوت کی رسی کے لٹکالوں اور پیادہ پاچل دوں، کبھی شیراز جا نکلا، کبھی مصر میں جا ٹھہرا، کبھی نجف جا پہنچا، نہ وہ دست گاہ کہ عالم کامیزبان بن جاؤں۔ اگر تمام عالم میں نہ ہو سکے نہ سہی، جس شہرمیں رہوں، اس شہرمیں تو بھوکا ننگا نظر نہ آئے۔ خدا کا مقہور، خلق کامردود، بوڑھا، ناتواں، بیمار، فقیر، نکبت میں گرفتار۔ میرے اور معاملات کلام وکمال سے قطع نظر کرو، جو کسی کو بھیک مانگتے نہ دیکھ سکے اور خود دربہ دربھیک مانگے وہ میں ہوں۔‘‘\n\nجیسی مرزا کی طبیعت میں درا کی اور ذہن میں جودت اور سرعت انتقال تھی اسی طرح ان کا حافظہ بھی قوی تھا اور ہم اوپر لکھ چکے ہیں کہ ان کے گھر میں کتاب کا کہیں نشان نہ تھا۔ ہمیشہ کرائے کی کتابیں منگوا لیتے تھے اور ان کو دیکھ کر واپس بھیج دیتے تھے۔ مگر جو لطف یا کام کی بات کتاب میں نظر پڑ جاتی تھی، ان کے دل پر نقش ہو جاتی تھی۔ فارسی کلام میں وہ کوئی لفظ یا محاورہ یا ترکیب ایسی نہیں برتتے تھے جس کی سنداہل زبان کے کلام سے نہ دے سکتے ہوں۔ کلکتہ میں جن لوگوں نے ان کے کلام پر اعتراض کئے تھے اور جن کے جواب میں مرزا نے مثنوی باد مخالف لکھی تھی، ان کو مثنوی کے علاوہ ایک ایک اعتراض کے جواب میں دس دس بارہ بارہ سندیں اساتذہ کے کلام سے لکھ کر علاحدہ بھیجی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے خطوط میں ان کو مفصل بیان کیا ہے۔ ’’برہان قاطع‘‘پر جو کچھ انہوں نے لکھا وہ محض اپنی یادداشت کے بھروسے پر لکھا ہے۔ فکر شعر کا یہ طریقہ تھا کہ اکثر رات کو عالم سرخوشی میں فکر کیا کرتے تھے اور جب کوئی شعر سر انجام ہو جاتا تھا تو کمربند میں ایک گرہ لگا لیتے تھے۔ اسی طرح آٹھ آٹھ دس دس گرہیں لگا کر سو رہتے تھے اور دوسرے دن صرف یاد پر سوچ سوچ کر تمام اشعار قلم بند کر لیتے تھے۔\n\nشعر فہمی اور کتاب فہمی میں وہ ایک مستثنیٰ آدمی تھے۔ کیسا ہی مشکل مضمون ہو، وہ اکثر ایک سرسری نظر میں اس کی تہہ کو پہنچ جاتے تھے۔ نواب مصطفی خاں مرحوم ’’گلشن بے خار‘‘ میں مرزا کی نسبت لکھتے ہیں، ’’مضامین شعرے راکماحقہ فہمد او بہ جمیع نکات و لطائف پے می برد، ایں فضیلتے است کہ مخصوص خواص اہل سخن است اماخوش فہم، کم یاب ترخوشاحال کسے کہ ہر دوازشربے یافتہ، درخطے ربودہ بالجملہ چنیں نکتہ سخت نغزہ گفتار کمتر مرئی شدہ۔‘‘\n\nنواب ممدوح نے مجھ سے ایک واقعہ بیان کیا جس سے مرزا کی سخن سنجی کا بہت بڑا ثبوت ملتا ہے۔ مولانا آزردہ نے ’’دور نہیں، حور نہیں۔‘‘ اس زمین میں غزل لکھی تھی۔ اس میں اتفاق سے مطلع بہت اچھا نکل آیا تھا۔ مولانا نے اپنی غزل دوستوں کو سنا کر ان سے کہا کہ ’’اگرچہ بحر دوسری ہے، مگر اسی ردیف و قافیہ میں نظیری کی بھی ایک غزل ہے جس کا مطلع یہ ہے کہ،\n\nعشق عصیاں است اگر مستور نیست\nکشتہ جرم زباں مغفور نیست\n\nظاہر ہے کہ نظیری اگر ہندی نژاد ہوتا اور اسی زمین میں جس میں ہماری غزل ہے، اردو غزل لکھتا تو اس کامطلع اس طرح ہوتا۔\n\nعشق عصیاں ہے اگر مخفی و مستورنہیں\nکشتہ جرم زباں ناجی و مغفور نہیں\n\nآؤ آج مرزا غالب کے یہاں چلیں اور بغیر اس کے کہ قائل کا نام لیا جائے، اپنا مطلع اور نظیری کے مطلع کا یہی اردوترجمہ (جو اوپر مذکور ہوا) مرزا کو سنائیں اور پوچھیں کہ کون سا مطلع اچھا ہے۔ چونکہ نظیری کا مطلع اردو ترجمہ سے بہت پست ہو گیا تھا۔ سب کو یقین تھا کہ مرزا نظیری کے مطلع کو ناپسند کریں گے اور مولانا آزردہ کے مطلع کو ترجیح دیں گے۔ چنانچہ مولانا اور نواب صاحب اور بعض اور احباب مرزا کے ہاں پہنچے۔ معمولی بات چیت کے بعد مولانا نے کہا کہ اردو کے دو مطلع ہیں، ان میں آپ محاکمہ کیجئے کہ کون سا مطلع اچھا ہے؟ اور بطور بیٹھن کے اول نظیری کے مطلع کا یہی ترجمہ پڑھا۔ ابھی مولانا اپنا مطلع پڑھنے نہیں پائے تھے کہ مرزا اس مطلع کو سن کر سر دھننے لگے اور متحیر ہوکر پوچھنے لگے کہ یہ مطلع کس نے لکھا؟ اور اس قدر تعریف کی کہ مولانا آزردہ کو یہ امید نہ رہی کہ اس سے زیادہ میرے مطلع کی داد ملےگی۔ چنانچہ انہوں نے اپنا مطلع نہیں پڑھا اور سب لوگ نہایت تعجب کرتے ہوئے وہاں سے اٹھے۔\n\nمرزا حقائق و معارف کی کتابیں اکثر مطالعہ کرتے تھے اور ان کو خوب سمجھتے تھے۔ نواب ممدوح فرماتے تھے کہ میں شاہ ولی اللہ کا ایک فارسی رسالہ جو حقائق و معارف کے نہایت دقیق مسائل پرمشتمل تھا، مطالعہ کر رہا تھا اور ایک مقام پر بالکل سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ اتفاقاً اسی وقت مرزا صاحب آ نکلے، میں نے وہ مقام مرزا کو دکھایا۔ انہو ں نے کسی قدر غور کے بعد اس کا مطلب ایسی خوبی اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا کہ شاہ ولی اللہ صاحب بھی شاید اس سے زیادہ نہ بیان کر سکتے۔\n\nمرزا کی تقریر میں ان کی تحریر اور ان کے نظم ونثر سے کچھ کم لطف نہ تھا اور اسی وجہ سے لوگ ان سے ملنے اور ان کی باتیں سننے کے مشتاق رہتے تھے۔ وہ زیادہ بولنے والے نہ تھے۔ مگر جو کچھ ان کی زبان سے نکلتا تھا لطف سے خالی نہ ہوتا تھا، ظرافت مزاج میں اس قدر تھی کہ اگر ان کوبجائے حیوان ناطق کے حیوان ظریف کہا جائے تو بیجا ہے۔ حسن بیان، حاضر جوابی اور بات میں سے بات پیدا کرنا ان کی خصوصیات میں سے تھا۔ ایک دفعہ جب رمضان گزر چکا توقلعے میں گئے۔ بادشاہ نے پوچھا مرزا تم نے کتنے روزے رکھے عرض کیا، ’’پیر و مرشد ایک نہیں رکھا۔‘‘\n\nایک دن نواب مصطفی خاں کے مکان پر ملنے کو آئے۔ ان کے مکان کے آگے چھتہ بہت تاریک تھا۔ جب چھتے سے گزر کر دیوان خانے کے دروازے پرپہنچے تو وہاں نواب صاحب ان کے لینے کو کھڑے تھے۔ مرزا نے ان کو دیکھ کر یہ مصرعہ پڑھا، ’’کہ آب چشمہ حیواں درون تاریکیست‘‘ جب دیوان خانے میں پہنچے تو اس کے دالان میں بہ سبب شرق رویہ ہونے کے دھوپ بھری ہوئی تھی مرزا نے وہاں یہ مصرعہ پڑھا، ’’ایں خانہ تمام آفتا ب است۔‘‘ ایک صحبت میں مرزا میر تقی کی تعریف کر رہے تھے۔ شیخ ابراہیم ذوق بھی موجود تھے۔ انہوں نے سودا کو میر پر ترجیح دی۔ مرزا نے کہا، ’’میں تو تم کو میری سمجھتا تھا مگراب معلوم ہوا کہ آپ سودائی ہیں۔‘‘\n\nمکان کے جس کمرے میں مرزا دن بھر بیٹھتے اٹھتے تھے وہ مکان کے دروازے کی چھت پر تھا اور اس کے ایک جانب ایک کوٹھری تنگ و تاریک تھی جس کا در اس قدر چھوٹا تھا کہ کوٹھری میں بہت جھک کر جانا پڑتا تھا۔ اس میں ہمیشہ فرش بچھا رہتا تھا اور مرزا اکثر گرمی اور لوکے موسم میں دس بجے سے تین چار بجے تک وہاں بیٹھتے تھے۔ ایک دن جبکہ رمضان کا مہینہ اور گرمی کاموسم تھا، مولانا آزردہ ٹھیک دوپہر کے وقت مرزا سے ملنے کو چلے آئے۔ اس وقت مرزا صاحب اسی کوٹھری میں کسی دوست کے ساتھ چوسر یا شطرنج کھیل رہے تھے۔ مولانا بھی وہاں پہنچے اور مرزا کو رمضان کے مہینے میں چوسر کھیلتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگے کہ ’’ہم نے حدیث میں پڑھا تھا کہ رمضان کے مہینے میں شیطان مقید رہتا ہے مگر آج اس حدیث کی صحت میں تردد پیدا ہو گیا۔‘‘ مرز ا نے کہا، ’’قبلہ! حدیث بالکل صحیح ہے۔ مگر آپ کو معلوم رہے کہ وہ جگہ جہاں شیطان مقید رہتا ہے وہ یہی کوٹھری تو ہے۔‘‘\n\nالغرض مرزا کی کوئی بات لطف اور ظرافت سے خالی نہ ہوتی تھی۔ اگر کوئی تمام ملفوظات جمع کرتا تو ایک ضخیم کتاب لطائف و ظرائف کی تیار ہو جاتی۔ باوجود یکہ مرزا کی آمدنی اور مقدور بہت کم تھا، مگر خودداری اور حفظ وضع کو وہ کبھی ہاتھ سے نہ دیتے تھے۔ شہر کے امراء اور عمائد سے برابر کی ملاقات تھی۔ کبھی بازار میں بغیر پالکی یا ہوادار کے نہیں نکلتے تھے۔ عمائد شہر میں سے جو لوگ ان کے مکان پر نہیں آتے تھے وہ بھی کبھی ان کے مکان پر نہیں جاتے تھے اور جو شخص ان کے مکان پر آتا تھا وہ بھی اس کے مکان پر ضرور جاتے تھے۔ ایک روز کسی سے مل کر نواب مصطفے خاں مرحوم کے مکان پر آئے۔ میں بھی اس وقت وہاں موجود تھا، نواب صاحب نے کہا آپ مکان سے سیدھے یہیں آئے ہیں یا کہیں اور بھی جانا ہوا تھا؟ مرزا نے کہا مجھ کو ان کا ایک آنا دینا تھا۔ اس لے اول اول وہاں گیا تھا وہاں سے یہاں آیا ہوں۔\n\nایک دن دیوان فضل اللہ خاں مرحوم چرٹ میں سوار مرزا کے مکان کے پاس سے بغیر ملے نکل گئے۔ مرزا کو معلوم ہوا تو ایک رقعہ دیوان جی کو لکھا، مضمون یہ ہے کہ ’’ آج مجھ کو اس قدر ندامت ہوئی ہے کہ شرم کے مارے زمین میں گڑا جاتا ہوں۔ اس سے زیادہ اور کیا نالائقی ہو سکتی ہے کہ آپ کبھی نہ کبھی تو اس طرف کو گزریں اور میں سلام کو حاضر نہ ہوں۔‘‘ جب یہ رقعہ دیوان جی کے پاس پہنچا وہ نہایت شرمندہ ہوئے اور اسی وقت گاڑی میں سوار ہوکر مرزا صاحب سے ملنے آئے۔\n\nمرزا کی نہایت مرغوب غذا گوشت کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی۔ ایک وقت بھی بغیر گوشت کے نہیں رہ سکتے تھے۔ یہاں تک کہ مسہل کے دن بھی انہوں نے کھچڑی یا شوربہ نہیں کھایا۔ اخیر میں ان کی خوراک بہت کم ہوگئی تھی۔ صبح کو و ہ اکثر شیرہ بادام پیتے تھے۔ دن کو جو کھانا ان کے لئے گھر میں سے آتا تھا اس میں صرف پاؤ سیر گوشت کا قورمہ ہوتا تھا۔ ایک پیالہ میں بوٹیاں اور دوسرے میں لعاب یا شوربہ، ایک پیالی میں ایک پھلکے کا چھلکا شوربے میں ڈوبا ہوا۔ ایک پیالی میں کبھی کبھی ایک انڈے کی زردی، ایک اور پیالی میں دوتین پیسہ بھر دہی اور شام کوکسی قدر شامی کباب یا سیخ کے کباب۔ بس اس سے زیادہ ان کی خوراک اور کچھ نہ تھی۔ ایک روزہ دوپہر کا کھانا آیا اور دسترخوان بچھا۔ برتن تو بہت سے تھے مگر کھانا نہایت قلیل تھا۔ مرزا نے مسکرا کر کہا، ’’اگر برتنوں کی کثرت پر خیال کیجئے تو میرا دسترخوان یزید کا دسترخوان معلوم ہوتا ہے اور جو کھانے کی مقدار کو دیکھئے تو بایزید کا۔‘‘\n\nفواکہ میں آم ان کو نہایت مرغوب تھا۔ آموں کی فصل میں ان کے دوست دور دور سے ان کے لئے عمدہ آم بھیجتے تھے۔ اور وہ خود اپنے بعضے دوستوں سے تقاضا کرکے آم منگواتے تھے۔ ان کے فارسی مکتوبات میں ایک خط ہے جو غالباً کلکتہ کے قیام کے زمانہ میں انہوں نے امام بارہ ہگلی بندر کے متولی صاحب کو آموں کی طلب میں لکھا تھا۔ اس میں لکھتے ہیں، ’’سختی شکم بندہ ام و قدرے ناتواں، ہم آرائش خواں جوئم وہم آسائش جاں خرددراں دانند کہ ایں ہر دوصفت بہ انبہ اندرست، و اہل کلکتہ برآنند کہ قلم روانبہ ہگلی بندرست آرے انبہ از ہگلی، وگل از گلشن، ایثار از جناب وسپاس از من شوق می سگالد کہ تاپایان موسم دوسہ باربخاطر ولی نعمت خواہم گذشت، وآزمی نالد کہ حاشابدیں مایہ برخورداری خورسندنہ خواہم گشت۔‘‘\n\nایک روز مرحوم بہادر شاہ آموں کے موسم میں چند مصاحبوں کے ساتھ، جن میں مرزا بھی تھے، باغ حیات بخش یامہتاب باغ میں ٹہل رہے تھے۔ آم کے پیڑ رنگ برنگ کے آموں سے لد رہے تھے۔ یہاں کا آم بادشاہ یا سلاطین یا بیگمات کے سوا کسی کو میسر نہیں آ سکتا تھا۔ مرزا بار بار آموں کی طرف غور سے دیکھتے تھے۔ بادشاہ نے پوچھا، مرزا اس قدر غور سے کیا دیکھتے ہو؟ مرزا نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا، ’’پیر مرشد یہ جو کسی بزرگ نے کہا ہے،\n\nبرسر ہر دانہ بنوشتہ عیاں\nکایں فلاں ابن فلاں ابن فلاں\n\nاسے دیکھتا ہوں کہ کسی دانے پر میرا اور میرے باپ دادا کا نام بھی لکھا ہے یا نہیں۔ بادشاہ مسکرائے اور اسی روز ایک بہنگی عمدہ عمدہ آموں کی مرزا کو بھجوائی۔\n\nحکیم رضی الدین خاں، جو مرزا کے نہایت دوست تھے ان کو آم نہیں بھاتے تھے۔ ایک دن وہ مرزا کے مکان پر برآمدے میں بیٹھے تھے اور مرزا بھی وہیں موجود تھے، ایک گدھے والا اپنے گدھے لئے ہوئے گلی سے گزرا۔ آم کے چھلکے پڑے تھے، گدھے نے سونگھ کر چھوڑ دیا۔ حکیم صاحب نے کہا، دیکھئے آم ایسی چیز ہے جسے گدھا بھی نہیں کھاتا۔ مرزا نے کہا بے شک گدھا نہیں کھاتا۔\n\nمرزا کی نیت آموں سے کسی طرح سیر نہیں ہوتی تھی۔ اہل شہر تحفتاً بھیجتے تھے، خود بازار سے منگواتے تھے، باہر اور دور کا آم بطور سوغات کے آتا تھا۔ مگر حضرت کا جی نہیں بھرتا تھا۔ نواب مصطفی خاں ناقل تھے کہ ایک صحبت میں مولانا فضل الحق اور مرزا اور دیگر احباب جمع تھے اور آم کی نسبت ہرشخص اپنی اپنی رائے بیان کر رہا تھا کہ اس میں کیا کیا خوبیاں ہونی چاہئیں۔ جب سب لوگ اپنی اپنی کہہ چکے تو مولانا فضل الحق نے مرزا سے کہاکہ تم بھی اپنی رائے بیان کرو، مرزا نے کہا بھئی میرے نزدیک تو آم میں صرف دو باتیں ہونا چاہئیں، میٹھا ہو اور بہت ہو۔ سب حاضرین ہنس پڑے۔\n\nمرزا کو مدت سے رات کو سوتے وقت کسی قدر پینے کی عادت تھی۔ جو مقدار انہوں نے مقرر کر لی تھی اس سے زیادہ کبھی نہیں پیتے تھے۔ جس بکس میں بوتلیں رہتی تھیں اس کی کنجی داروغہ کے پاس رہتی تھی اور اس کو سخت تاکید تھی کہ اگر رات کو سر خوشی کے عالم میں مجھ کو زیادہ پینے کا خیال پیدا ہو تو ہرگز میرا کہنا نہ ماننا اور کنجی مجھ کو نہ دینا۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ وہ رات کو کنجی طلب کرتے تھے، اور نشے کی جھانجھ میں داروغہ کو بہت برا بھلا کہتے تھے مگر داروغہ بہت خیرخواہ تھا ہرگز کنجی نہ دیتا تھا۔ اول تو مقدار میں بہت کم پیتے تھے، دوسرے اس میں دو تین حصے گلاب ملا لیتے تھے جس سے اس کی حدت اور تیزی کم ہو جاتی تھی۔ چنانچہ ایک جگہ کہتے ہیں،\n\nآسودہ باد خاطر غالب کہ خوی اوست\nآمیختن بہ بادہ صافی گلاب را\n\nمگر باوجود اس قدر احتیاط کے اس کا فر نشے کی عادت نے آخر مرزا کی صحت کو سخت صدمہ پہنچایا جس کی شکایت سے ان کے تمام اردو رقعات بھرے ہوئے ہیں۔\n\nمرزا کے خاص خاص شاگرد اور دوست جن سے نہایت بے تکلفی تھی، اکثر شام کو ان کے پاس جاکر بیٹھتے تھے اور مرزا سرور کے عالم میں اس وقت بہت پرلطف باتیں کیا کرتے تھے۔ ایک دن میر مہدی مجروح بیٹھے تھے، اور مرزا پلنگ پر پڑے ہوئے کراہ رہے تھے، میر مہدی پاؤں دابنے لگے۔ مرزا نے کہاکہ بھئی تو سید زادہ ہے مجھے کیوں گنہگار کرتا ہے؟ انہوں نے نہ مانا اور کہا آپ کو ایسا ہی خیال ہے تو پیر دابنے کی اجرت دے دیجئےگا۔ مرزا نے کہاہاں اس کا مضائقہ نہیں۔ جب وہ پیر داب چکے، انہوں نے اجرت طلب کی، مرزا نے کہا بھئی کیسی اجرت؟ تم نے میرے پاؤں دابے میں نے تمہارے پیسے دابے، حساب برابر ہوا۔\n\nایک دن قبل غروب آفتاب کے مرزا صاحب شام کو کھانا کھارہے تھے اور کھانے میں صرف شامی کباب تھے۔ میں بھی وہاں موجود تھا اور ان کے سامنے بیٹھا رومال سے مکھیاں جھل رہا تھا، مرزا نے کہا آپ ناحق تکلیف فرماتے ہیں، میں ان کبابوں میں سے آپ کو کچھ نہ دوں گا۔ پھر آپ ہی یہ حکایت بیان کی۔ نواب عبدالاحد خاں کے دسترخوان پر ان کے مصاحبوں اور عزیزوں اور دوستوں کے لئے ہر قسم کے کھانے چنے جاتے تھے، مگر خاص ان کے لئے ہمیشہ ایک چیز تیار ہوتی تھی۔ وہ اس کے سوا کچھ نہ کھاتے تھے۔ ایک روز ان کے لئے مز عفر پکا تھا وہی ان کے سامنے لگایا گیا۔ مصاحبوں میں ایک ڈوم بہت منہ لگا ہوا تھا جو اس وقت دسترخوان پر موجود تھا۔ نواب نے اس کو کھانا دینے کے لئے خالی رکابی طلب کی۔ اس کے آنے میں دیر ہوئی۔ نواب کھانا کھاتے جاتے تھے اورخالی رکابی باربار مانگتے تھے۔ وہ مصاحب نواب کے آگے رومال ہلانے لگا اور کہا، ’’حضور رکابی کیا کیجئےگا اب یہی خالی ہوئی جاتی ہے۔‘‘ نواب یہ فقرہ سن کر پھڑک گئے اور وہی رکابی اس کی طرف سرکا دی۔\n\nایک دفعہ رات کو پلنگ پر لیٹے ہوئے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے، تاروں کی ظاہری بے نظمی اور انتشار دیکھ کر بولے، ’’جو کام خود رائی سے کیا جاتا ہے اکثر بے ڈھنگا ہوتا ہے۔ ستاروں کو تو دیکھو، کس ابتری سے بکھرے ہوئے ہیں؟ نہ تناسب ہے، نہ انتظام ہے، نہ بیل ہے، نہ بوٹا ہے، مگر بادشاہ خود مختار ہے۔ کوئی دم نہیں مار سکتا۔ ایک دن سید سردار مرزا مرحوم شام کو چلے آئے تھے۔ جب تھوڑی دیر ٹھہر کر جانے لگے تو مرزا خود اپنے ہاتھوں میں شمع دان لے کر کھسکتے ہوئے لب فرش تک آئے تاکہ روشنی میں جوتا دیکھ کر پہن لیں۔ انہوں نے کہا قبلہ و کعبہ آپ نے کیوں تکلیف فرمائی؟ میں اپنا جوتا آپ پہن لیتا۔ مرزا نے کہا، ’’میں آٖپ کو جوتا دکھانے کے لئے شمع دان نہیں لایا، بلکہ اس لئے لایا ہوں کہ آپ میرا جوتا نہ پہن جائیں۔‘‘", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%B2%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%82_%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%AA_%D9%88_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA"} {"title": "مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے\nنہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے\n\nتم جسے یاد کرو پھر اسے کیا یاد رہے\nنہ خدائی کی ہو پروا نہ خدا یاد رہے\n\nلوٹتے سیکڑوں نخچیر ہیں کیا یاد رہے\nچیر دو سینے میں دل کو کہ پتا یاد رہے\n\nرات کا وعدہ ہے بندے سے اگر بندہ نواز\nبند میں دے لو گرہ تا کہ ذرا یاد رہے\n\nقاصد عاشق سودا زدہ کیا لائے جواب\nجب نہ معلوم ہو گھر اور نہ پتا یاد رہے\n\nدیکھ بھی لینا ہمیں راہ میں اور کیوں صاحب\nہم سے منہ پھیر کے جانا یہ بھلا یاد رہے\n\nتیرے مدہوش سے کیا ہوش و خرد کی ہو امید\nرات کا بھی نہ جسے کھایا ہوا یاد رہے\n\nکشتۂ ناز کی گردن پہ چھری پھیرو جب\nکاش اس وقت تمہیں نام خدا یاد رہے\n\nخاک برباد نہ کرنا مری اس کوچے میں\nتجھ سے کہہ دیتا ہوں میں باد صبا یاد رہے\n\nگور تک آئے تو چھاتی پہ قدم بھی رکھ دو\nکوئی بیدل ادھر آئے تو پتا یاد رہے\n\nتیرا عاشق نہ ہو آسودہ بہ زیر طوبیٰ\nخلد میں بھی ترے کوچے کی ہوا یاد رہے\n\nباز آ جائیں جفا سے جو کبھی آپ تو پھر\nیاد عاشق کو نہ کیجے گا بھلا یاد رہے\n\nداغ دل پر مرے پھاہا نہیں ہے انگارا\nچارہ گر لیجو نہ چٹکی سے اٹھا یاد رہے\n\nزخم دل بولے مرے دل کے نمک خواروں سے\nلو بھلا کچھ تو محبت کا مزا یاد رہے\n\nحضرت عشق کے مکتب میں ہے تعلیم کچھ اور\nیاں لکھا یاد رہے اور نہ پڑھا یاد رہے\n\nگر حقیقت میں ہے رہنا تو نہ رکھ خود بینی\nبھولے بندہ جو خودی کو تو خدا یاد رہے\n\nعالم حسن خدائی ہے بتوں کی اے ذوقؔ\nچل کے بت خانے میں بیٹھو کہ خدا یاد رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%B6_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "مرض عشق دل کو زور لگا", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرض عشق دل کو زور لگا\nجاں بلب ہوں خیال گور لگا\n\nبے طرح کچھ گھلا ہی جاتا ہے\nشمع کی طرح دل کو چور لگا\n\nتیرے مکھڑے کو یوں تکے ہے دل\nچاند کے جوں رہے چکور لگا\n\nدر و دیوار پر ہر ایک طرف\nآنسوؤں سے اثرؔ کے شور لگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%B6_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B2%D9%88%D8%B1_%D9%84%DA%AF%D8%A7"} {"title": "مرض پیری لا علاج ہے", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اب ضعف کے پنجہ سے نکلنا معلوم\nپیری کا جوانی سے بدلنا معلوم\nکھوئی ہے وہ چیز جس کا پانا ہے محال\nآتا ہے وہ وقت جس کا ٹلنا معلوم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%B6_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%84%D8%A7_%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC_%DB%81%DB%92"} {"title": "مرغ جاں کو زلف پیچاں جال ہے", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "مرغ جاں کو زلف پیچاں جال ہے\nجال کیا اے جان جاں جنجال ہے\n\nآؤ حاضر سر پئے پامال ہے\nجان لب پر بہر استقبال ہے\n\nخاک ہو سرسبز تخم عاشقی\nہے زمیں آس آسمان غربال ہے\n\nحسن یوسف کا بکا بازار میں\nعشق کا راعیل کے اقبال ہے\n\nجو مرے لب پر ہوا حسرت کا خون\nوہ بخار شوق کا تبخال ہے\n\nبولتا ہے آج کل طوطی مرا\nغیر کی گلتی وہاں کب دال ہے\n\nفوج خط آتی ہے اے سلطان حسن\nملک رخ سے تیرا استیصال ہے\n\nہے نکلتی بات ان کی بات سے\nچال وہ چلتے ہیں جس میں جال ہے\n\nکیا لکھوں وصف اچھی صورت کا وقارؔ\nجنس ناقص کے لئے دلال ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%BA_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%BE%DB%8C%DA%86%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "مرغ زیرک عقل کا ہے عشق کا صیاد شوخ", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "مرغ زیرک عقل کا ہے عشق کا صیاد شوخ\nعقل ہے بسیار شیریں عشق کا فرہاد شوخ\n\nعقل اپنے دام میں کرتا ہے کل عالم کو قید\nبند اور زنجیر سوں نت عشق ہے آزاد شوخ\n\nعقل بوجھا عاشقاں سب واجب التعذیر ہیں\nقاتل عقل و فہم ہے عشق کا جلاد شوخ\n\nعقل کو سب ملک میں ہے داد انصاف و عدل\nکیا نہایت عشق کا ہے بادشہ بیداد شوخ\n\nفہم اور فکرت میں اپنی عقل گر فولاد ہے\nآب کرتا ہے گلا کر عشق کا حداد شوخ\n\nعقل کے میزاں میں آیا بحر اور بر کا حساب\nنہیں مگر آیا عدد میں عشق کا تعداد شوخ\n\nعقل سوں جانے گزر تب عاشقاں پاتے ہیں وصل\nاے علیمؔ اللہ عجب ہے عشق کا ارشاد شوخ", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%BA_%D8%B2%DB%8C%D8%B1%DA%A9_%D8%B9%D9%82%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%B5%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B4%D9%88%D8%AE"} {"title": "مرغابی", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ڈھل گیا دن اور شبنم ہے زمیں پر قطرہ ریز\nگوشۂ مغرب میں گلگوں ہے شفق سے آسماں\nپڑ رہی ہیں دور تک سورج کی کرنیں زرد زرد\nجا رہی ہے تو اکیلی شام کو اڑتی کہاں\nدیکھتا ہے کیوں عبث صیاد سوئے آسماں\nیاس کی نظروں سے تیری شوکت پرواز کو\nارغواں زار فلک کے منظر خوش رنگ نے\nکر دیا ہے اور دل کش تیرے نقش ناز کو\nڈھونڈتی پھرتی ہے کیا کوئی سہانا آبشار\nیا کہ سر گرم تلاش دامن دریا ہے تو\nیا کسی بحر تموج خیز کی ہے جستجو\nیوں سکوت شام میں کیوں آسماں پیما ہے تو\nتو جو بے سنگ نشان جادہ و بے مرحلہ\nکر رہی ہے آسماں پر قطع طبقات ہوا\nاڑ سکے بے بدرقہ تو یہ کہاں تیری مجال\nکوئی طاقت ہے مگر تیری مقرر رہنما\nاے سبک پرواز! تیری سرعت پرواز نے\nطے کئے کتنے ہی دن بھر سرو طبقات نسیم\nہو کے داماندہ زمیں پر گر نہ شہ پر جوڑ کر\nشب کی ظلمت کا ہے گرچہ سر پہ طوفان عظیم\nہو چکی تیری مشقت ختم تجھ کو عن قریب\nگرمیوں کا اک سہانا گھر ملے گا خوش گوار\nگاتی ہوگی چھوٹی چڑیوں میں ہم آہنگی سے تو\nاور نشیمن پر ترے ہوگی نیستاں کی بہار\nہو گئی غائب فضائے آسماں میں گرچہ تو\nاور اب آنکھوں میں ہے تیرا تصور یادگار\nمیں نے سیکھا ہے سبق لیکن تری پرواز سے\nہے طریق زندگی میں تو مری آموز گار\nمنطقہ سے منطقہ تک اے سبک پرواز شوق\nوسعت اوج فلک پر ہے جو تیرا راہبر\nمجھ کو بھی لے جائے گا وہ منزل مقصود تک\nجب کروں گا جادۂ ہستی سے میں تنہا سفر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%BA%D8%A7%D8%A8%DB%8C"} {"title": "مرغوب ہو گر تم کو عمومی شاباش", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مرغوب ہو گر تم کو عمومی شاباش\nہر طرح کرو دولت دنیا کی تلاش\nہیں قوم میں مدعی ولایت کے بہت\nافسوس نہیں ولایتی عقل معاش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D8%BA%D9%88%D8%A8_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%B4"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/اردوئے دہلی کی سابقہ، موجودہ اورآئندہ حالت کی تصویر", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "﷽\n\nاردوئے دہلی کی سابقہ، موجودہ اورآئندہ حالت کی تصویر\n\nیہ سوال دو رخہ پہلو رکھتا ہے۔ ایک گزشتہ حالت سے متعلق اور دوسرا موجودہ حالت سے۔ مگر جب تک پہلی حالت کا ذکر نہ کیا جائے، تصویر کا صرف ایک ہی رخ سامنے آتا اور دوسرا پردے میں چھپا رہتا ہے۔ چونکہ ایک رخی تصویر پورا پورا لطف و انداز نہیں دکھا سکتی، پس ہمارے نزدیک واجب ہے کہ اول اندھیرے رخ کا گھونگٹ اٹھایا جائے اور اس کے بعد رخ روشن سے آنکھیں سینکنے کا موقع دیا جائے۔ نیز اخیر میں وہ بھیانک صورت بھی دکھا دی جائے جو عنقریب پیش آنے والی اور ہمارا دل دُکھانے والی ہے۔ خدا وہ دن نہ دکھائے بلکہ ہمیں اس کے سنبھالنے کی ہمت دلائے۔\n\nاردو زبان کی پہلی اور حال کی صورت میں زمین و آسمان کا فرق ہو گیا ہے۔ زبان کے لحاظ سے جو علم و ادب کی جڑ ہے، قبل از غدر جیسی دلکش و دلربا حالت تھی اسے انقلابِ زمانہ کے ہاتھوں نے تھپڑ لگا لگا کر اس طرح ملیا میٹ کیا جس طرح گدھے کے سر سے سینگ رفو چکر ہوئے؛ گویا خالص اور اصل اردو نام کو نہ رہی:\n\nدیکھا وہ اپنی آ نکھ سے جو کچھ سنا نہ تھا\n\nاور دیکھیے حزیںؔ ابھی کیا کیا دکھائے دل\n\nفصحائے دہلی جو اہل قلعہ کے پیرو تھے، ناشاد و نامراد قبر میں جا سوئے:\n\nہائے کس حسرت سے شبنم نے سحر رو کر کہا\n\nخوش رہو اے ساکنانِ باغ! اب تو ہم چلے\n\nدر حقیقت:\n\nسامعین کا نہ فقط سننے سے دم رکتا ہے\n\nسرگزشت ان کی جو لکھیے تو قلم رکتا ہے\n\nجس قلعہ معلی میں اُردو زبان نے جنم لیا تھا، جہاں روز بروز نئے نئے محاورے، اصطلاحیں ایجاد و اختراع ہوتی تھیں، جس جگہ زبان کا ایک ایک لفظ خراد چڑھتا، تراش و خراش پاکر ٹکسالی بنتا تھا، وہاں تو اینٹ سے اینٹ بج کر گدھے کے ہل چل گئے۔ نہ وہ مکان رہے نہ وہ مکیں:\n\nانقلاب دہر سے اک یہ رہے خانہ خراب\n\nورنہ عالم بارہا بگڑا ہے اور بن بن گیا\n\nبقول حضرت شاہ نصیر رحمۃ اللہ علیہ:\n\nنصیرؔ زیبِ مکاں جلوۂ مکیں سے ہے\n\nفروغِ خانہ انگشتری نگیں سے ہے\n\nقبل از غدر یعنی آج سے ستاون برس پیشتر جسے 1857؁ء سے تعبیر کرنا چاہیے، اس زبان کی تراش و خراش، اصلاح و درستی برابر جاری تھی۔ گویا دہلی میں ایک ماں کی دو بیٹیاں راؤ چاؤ سے پرورش پا رہی تھیں، بڑی بیٹی کا مسقط الراس قلعہ معلیٰ تھا، چھوٹی کا دلی شہر۔ مگر شہر و قلعہ کی بیگماتی زبان اور مردانہ بول چال میں بھی بڑا فرق تھا۔ عورتوں کی خاص زبان اور تھی، مردوں کی اور۔ علی ہذا القیاس شہر میں بھی اناث اور ذکور کے روز مرے میں اختلاف بلکہ بیّن فرق تھا۔ ہر محلہ کی زبان الگ، ہر کوچہ کے محاورے جدا، ہر شاعر کا تذکیر و تانیث میں اختلاف۔ مگر ایسا نہیں کہ ایک دوسرے کی زبان نہ سمجھ سکے یا کوئی انھیں مطعون کرے۔ قلم کو کسی نے مونث مانا، کسی نے مذکر۔ رتھ کو اہل قلعہ نے مذکر کہا تو اہل شہر نے مونث۔ نشو و نما و منشا نیز التماس ایسے الفاظ ہیں کہ دونوں طرح بولے جا سکتے ہیں جیسے فکر، بلبل، طرز، التماس۔ بعض الفاظ ایک معنی میں مونث، دوسرے میں مذکر؛ جیسے عرض بمعنی گزارش مونث و بمعنی چوڑائی مذکر۔ لب کے تین چار معنی ہیں، کسی معنی میں مذکر، کسی میں مونث بصورتِ واحد و بصورتِ جمع بولا جاتا ہے۔ مثلاً بمعنی ہونٹ، بمعنی لعاب دہن، بمعنی کنارہ مذکر ہے لیکن اخیر معنی میں مونث بھی ہے، جیسے اوڑھنی کی لب پر دھنک ٹانک دو تو اچھی معلوم دے۔ موچھ بمعنی سبلت صرف مونث جیسے لبیں بڑھ گئیں ہیں، کیا میٹھا خرپزہ نکلا کہ لبیں بند ہوتی ہیں۔\n\nعورتوں اور مردوں کا روزمرہ تو ایک تھا مگر خاص خاص اصطلاحیں خاص انھیں کے دم سے وابستہ تھیں، مرد مطلق نہیں بولتے تھے۔اہل زبان نے لفظ ریختہ کی تانیث قرار دے کر اسی کو ریختی سے منسوب کر لیا تھا۔ مثلاً ننانواں بجائے ہیضہ، تھتکاری (1) بمعنی پاؤں کی بیڑی، جولان، زنجیر پا، سلاسل۔ (2) چڑیل، پچھلپائی۔ زمین دیکھنا بمعنی قے کرنا۔ موئی مٹی کی نشانی بمعنی زندہ یادگارِ عزیز مردہ۔ مُوا بمعنی اجل رسیدہ۔نگوڑا (1) پابُریدہ، لنگڑا، لولا، اپاہج (2) بمعنی نکما، ناکارہ، چِنڈال، بدقسمت، بدنصیب (3) عورتوں کا حقارةً تکیہ کلام۔ ناٹھا: بےزن و فرزند، بے اولادا، بے وارثا جس کے آگے پیچھے کوئی نہ ہو۔ سیتاستی بمعنی پاک دامن و پارسا۔ ایک برایک بمعنی آزمودہ، مجرب نیز موثر وغیرہ۔\n\nان خاص الخاص اصطلاحوں میں توہمات، ان کے عقائد اور ہندی ریت رسم کو بھی بہت بڑا دخل تھا۔ بیگماتِ قلعہ کے نام اور زنانہ عہدے بھی شہری بیگمات سے اکثر جدا ہوتے تھے۔اُن میں ترکی و فارسی کی ترکیبیں اور الفاظ کی آمیزش زیادہ لیکن عربی اور ہندی کی برائے نام تھی۔ مثلاً آغا بیگم، زبیدہ خاتون، آغائی وغیرہ بیگمات کے ترکی نام تھے۔ ملازمت پیشہ عورتوں کے عہدے حسب ذیل جیسے قِلماقنی، جسولنی، اُردابیگنی، حبشن، تُرکن۔ علیٰ ہذا لونڈی باندیوں کے نام بھی جدا تھے جیسے گل چمن، دلشاد، دُردانہ، کاکا بمعنی معزز و کہن سال خانہ زاد۔ بیگموں کے فارسی آمیز نام مہر افروز، ارجمند بانو، دل افروز، خورشید جہاں، مریم زمانی، گیتی آرا، نور جہاں، خورشید زمانی، برجیس بیگم، انجمن آرا، روشن آرا وغیرہ۔\n\nجب تک قلعہ آباد رہا اور اہل قلعہ بے فکری سے زندگی بسر کرتے رہے، بیگمات کی شستہ و خالص زبان بھی عجیب عجیب انوٹیں دکھاتی رہی۔ شہزادگان والاتبار، سلاطینِ عشرت پسند غفلت شعار، برائے نام بادشاہِ ہند کی درباری زبان، درباری ادب و قاعدہ، خاص و عام موقعوں کے الفاظ، شعر و اشعار کے چرچے، مہذبانہ گفتگو کے طریقے، اخلاقانہ گفت و شنید، خلوت و جلوت کی رمزیں، دل لگی کی باتیں، راگ راگنیوں کی گھاتیں اپنے اپنے موقع کا سماں باندھ کر سامعین کو محظوظ و خوش وقت کرتی رہیں۔ شاعروں، مصنفوں،واعظوں، مترجموں، ادیبوں، علمائے دین و دنیا کو انعامات، خطابات و وظائف اور ملازمت سے ممتاز فرما کر دینی و دنیاوی ترقی کا کام لیتے رہے۔ مگر افسوس علوم جدیدہ کی طرف ذرا آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔ گو علم تاریخ، علم ادب، علم جغرافیہ، علم حکمت، فلسفہ، طب، ریاضی، طبیعیات میں اہل عرب نے ید طولیٰ حاصل کر لیا تھا اور بآسانی ان کے ترجموں کی کارروائی ہو گئی تھی۔ لیکن اردو زبان میں ان علوم کو لانے کی کما حقہ کوشش نہ کی گئی، کجا کہ علم سائنس، مائعات، طبقات الارض وغیرہ سے اس زبان کے خزانے کو بھرا جاتا۔ سیکڑوں علمی اصطلاحیں، علمی الفاظ اس زبان میں رنگروٹوں کی طرح بھرتی ہو جاتے۔ علوم تو علوم، مختلف فنون بھی اسی زمرے میں آ جاتے۔ اگر چہ عربی اور سنسکرت سے فارسی میں اکثر کتابوں کے ترجمے ہوئے مگر ان میں بھی عربی کی وہی اصطلاحیں قائم رہیں۔\n\nاسی طرح ہندی بھاکا میں بھی زیادہ تر سنسکرت کے الفاظ سے بلا تغیر یا تغیر سے کام لیا گیا۔ وَیا کرن یعنی گریمر یا صرف و نحو کی اصطلاحیں سنسکرت سے بھری پڑی ہیں۔\n\nنام کو اردو زبان نے شاہجہاں سے لے کر ابو ظفر بہادر شاہ تک تیرہ بادشاہتیں دیکھیں لیکن یہ بادشاہتیں چار کے سوا سب کی سب چند روزہ تھیں۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض بادشاہوں کی سلطنت تین تین اور چھ چھ مہینے سے آگے نہ بڑھی۔ چونکہ شاہجہاں کے وقت میں ایک حد تک امن و امان، رونق ملک، بہبودیٔ سلطنت، اطمینانِ خاطر رہا اور بادشاہ کو عمارات و زبانِ اردو کے رواج کا از حد شوق بڑھتا گیا، اس وجہ سے اکتیس برس تک اردو کی جڑ بندھتی اور بنیاد جمتی گئی۔ عالمگیر کو دکن کی مہمات نے چین سے نہ بیٹھنے دیا جو اس طرف پوری توجہ کرتا۔ اگر چہ 49 سال تک اس کی سلطنت قائم رہی مگر پھر بھی دل سے اِس کا سرپرست بنا رہا۔ شاہ عالم نے پانچ سال کے دَور دَورے میں بہت کچھ کیا بلکہ عالم شباب تک پہنچا دیا اور اس کے قیام، رواج، نیز ترقی میں تنزل نہ ہونے دیا۔ فرخ سیر کے شش سالہ عہد کے اخیر میں جعفر زٹلّی نے اپنے زٹل قافیہ سے اس زبان کو عوام میں خوب پھیلایا۔ شہزادۂ معظم محمد احمد شاہ خلف عالمگیر بادشاہ نے بروقتِ تخت نشینی سید جعفر زٹلی کا سکۂ سلطنت پسند فرما کر ایک لاکھ روپیہ کا انعام مع ایک زنجیر فیل مرحمت فرمایا تھا جو گھر کے دروازہ تک پہنچتے پہنچتے مساکین و فقرا کی نذر ہوا۔ جیسے تھے ویسے ہی مفلسا بیگ رہ گئے۔ البتہ محمد شاہ رنگیلے کی سلطنت میں اس زبان نے اور بھی ترقی شروع کی لیکن خاص علم موسیقی پر زیادہ عنایت رہی۔ چنانچہ محمد شاہ کی ٹوڑی جس کے شوق میں سلطنت اودھ ادھ موئی کر چھوڑی، اب تک مشہور ہے۔ یہ راگنی اسے نہایت مرغوب تھی۔ بعض چیزوں کے نام بھی اپنی رنگینیٔ طبع سے بدلے، مثلاً سنترہ کو رنگترہ محمد شاہ نے ہی قرار دیا۔ اردو دہ مجلس اسی کے عہد میں لکھی گئی۔ اس زمانہ میں رقص و سرود، رنگ رس اور عیش پرستی کا بڑا چرچا رہا۔ ہاں عالی گوہر شاہ عالم ثانی نے اس طرف پوری پوری توجہ فرمائی۔ چونکہ خود بھی شاعر تھے اور شاعرانہ مذاق رکھتے تھے، اس وجہ سے شعرا کی زیادہ خاطر و مدارات اور قدردانی فرماتے تھے۔ آفتاب آپ کا تخلص تھا۔ چار دیوان لکھ ڈالے تھے۔ نثر میں ایک ضخیم کتاب تصنیف کی تھی۔ سودا، میر، نصیر، انشا، اعظم، زار،ممنون، احسان، قاسم، فراق یہ سب آپ ہی کے زمانہ کے شاعر اور آپ ہی کی سلطنت کے مدّاح و دعاگو تھے جنھوں نے اپنے کلام اور اپنی بالغ نظری، عالی دماغی سے غضب ڈھا دیا تھا۔ غلام قادر رُہیلے کی آنکھوں میں جو ان کی سلطنت اور اقبال مندی کھٹکی، آنکھیں نکال کر ایسا سر ہوا کہ اندھا بصیر بنا کر چھوڑا، چنانچہ جیسا کیا ویسا ہی اپنی آنکھوں کے آگے پایا۔ اگر یہ ظلم اور اندھیر پیش نہ آتا تو خدا جانے اس اکیاون سال کی مدت میں اُردو زبان کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتی۔ لیکن پھر بھی دن دونی رات چوگنی ترقی کی۔ اُردو تصانیف کی پہلی سیڑھی کا یہی زمانہ تھا۔ اسی صدی میں نو طرز مرصّع، آرائش محفل، باغ و بہار، قواعدِ اردو، پریم ساگر، بیتال پچیسی اور اخلاق محسنی وغیرہ بہت سی کتابوں کا ترجمہ اور بہت سی تصنیف و تالیف ہوئیں۔ خاصکر قرآن شریف کا ترجمہ، مذہبی مسائل کے رسالے بھی اردو زبان میں تحریر ہوئے اور 1835؁ء سے سرکار انگریزی نے بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ 1836؁ء سے اجرائے اخبارات کا موقع بھی آ گیا۔\n\n184٦؁ء میں دہلی کالج(١) کے استادوں، ماسٹروں، ہیڈ ماسٹر اور پرنسپل صاحب نے بخیالِ ترقیٔ زبان مل جل کر ایک اردو سوسائٹی قائم کی۔ مختلف زبانوں سے مفید و عمدہ کتابوں کا ترجمہ کر کے شائع کرنا اس سوسائٹی کا دلی مقصد قرار پایا۔ چنانچہ فارسی زبان سے تزک تیموری کا ترجمہ ہوا۔ عربی سے تذکرہ شعرائے عرب اور تاریخ ابو الفداء کی تین جلدوں کا ترجمہ کیا گیا۔ طبقات الشعراء یعنی اُردو کے شعرا کا تذکرہ جسے گاریسن ڈیٹیسی(٢) فاضل فرانس نے لکھا تھا،فرنچ زبان سے ماسٹر فیلن صاحب بہادر نے بامداد مولوی کریم الدین صاحب اردو میں ترجمہ کرایا۔ اقلیدس و جبر و مقابلہ کا بھی انگریزی و عربی سے ترجمہ کیا گیا۔ مولوی امام بخش صاحب صہبائی اور مولوی احمد علی صاحب والد حکیم قاسم علی خاں صاحب بوریہ والے نے ایک اردو گریمر لکھی، لیکن مولوی امام بخش صاحب صہبائی نے اپنے قواعد اردو کے ساتھ ہندی لغات کی بھی ایک فصل شامل کر دی۔ طبیعیات کے متعلق بھی دو ایک کتابیں لکھی گئیں۔ رسالہ وجود باری، رسالہ خواب، سریع الفہم یعنی رسالہ ابتدائی حساب وغیرہ ماسٹر رام چندر صاحب نے تحریر فرمائے۔ ان کے علاوہ مولوی امام بخش صاحب صہبائی نے بہت سی کتابیں تالیف و تصنیف کیں۔ مثلاً رسالہ معما و نغز، تذکرہ گلستانِ سخن از جانب مرزا صابر ، شرح سہ نثر ظہوری، پنج رقعہ، مینابازار، حسن و عشق، حل مقامات نصیر رائے ہمدانی، قول فیصل یعنی جواب تنبیہ العارفین خان آرزو، انتخاب لا جواب یعنی مجموعہ اشعار اساتذہ، ترجمہ حدائق البلاغۃ حسب ارشاد جناب بوترس صاحب بہادر پرنسپل دہلی کالج ١٨٤٢؁ء میں اردو نظائر اور بعض ترمیم و اضافہ کے ساتھ کیا جن کا نام لکھنا طوالت سے خالی نہیں۔ یہ ہی اس زمانہ کی یادگار ہے۔ مولوی سید محمد صاحب مدرس کالج نے بھی ایک ہندی لغات موسم بہ مفتاح اللغات و کتاب عروض و قوافی، ترجمہ لیلاوتی حساب میں تیار کیا۔ علی ہذا معرفتِ طبیعی مولوی محمد باقر صاحب کی جانب سے طبع ہوئی۔ مصطلحاتِ نکہت مولفہ مرزا نیاز علی بیگ وغیرہ۔ ان کے علاوہ اور بہت سی کتابیں لکھی گئیں جن کے نام ذہن سے اس وقت اتر گئے ہیں۔ غرض اس سوسائٹی کے ممبر ممد و معاون مولوی امام بخش صاحب صہبائی، مولوی کریم بخش صاحب جن کا جبر و مقابلہ مشہور ہے، فیلن صاحب، ماسٹر رام چندرصاحب، مولوی سبحان بخش صاحب، مولوی احمد علی صاحب، مولوی سید محمد صاحب، مولوی محمد باقر صاحب مالک و اڈیٹر اردو اخبار دہلی، مولوی نور محمد صاحب، مولوی مملوک علی صاحب، خان بہادر منشی ذکاء اللہ صاحب وغیرہ تھے۔\n\nاس اردو سوسائٹی کے سکرٹری ڈاکٹر سپنجر صاحب مقرر ہوئے جن کی ان تھک محنت نے تھوڑے ہی عرصہ میں بہت کچھ کامیابی اور ترقی کر دکھائی۔ ان کے بعد کارگل صاحب پرنسپل ہوئے، بعد ازاں ٹیلر صاحب پرنسپل بنائے گئے۔ دس برس بعد انھیں کے زمانہ میں غدر ہو گیا۔ اس وقت یہ غدر علمی ترقی کا سد باب، علما و اشراف گردی کا مرکز بن گیا۔ اردو زبان کی علمی ترقی نے کچھ دنوں دم لیا اور امن و امان ہو جانے کے بعد انگریزی زبان کے ترجموں کی طرف کسی قدر توجہ مبذول ہوئی۔\n\nمعین الدین اکبر شاہ بھی پچھلی لکیر پیٹے گئے۔ شعرا اور اہل فن کی قدردانی حسب مقدور بدستور جاری رکھی۔ بہادر شاہ مغلیہ خاندان کے اخیر بادشاہ نے بیس برس کے قریب اس زبان کو خوب مانجھا۔ شاہ نصیرؔ، استاد ذوقؔ، حضرت غالبؔ، مومنؔ، میر ممنونؔ، احسانؔ ان کے زمانے میں چڑھے بڑھے رہے۔ چار ضخیم دیوان لکھے۔ خاص بھاکا زبان میں ٹھمریاں، فقیروں کی صدائیں گھڑیں اور پنجابی آمیز اردو میں بہت سے گیت لکھے۔ غزل کے مقطع میں ظفرؔ، ٹھمریوں، ہولیوں وغیرہ میں شوقؔ، رنگؔ اپنا تخلص ڈالا۔ اردو زبان کی شامت اعمال نے غدر کی افراتفری میں ان کے ہوش و حواس درست نہ رکھے۔ وہ بات کی جس سے قلعہ، ان کی قوم اور خود اجڑ گئے۔ رنگون جا کر بھی مرتے دم تک شعر گوئی کا مشغلہ نہ چھوڑا اور عجیب عجیب دردانگیز مناجاتیں ، غزلیں نیز اشعار لکھے جن میں سے سید محمود سرسید کے خلف رشید کو بہت سے یاد تھے۔\n\nپہلے یہ زبان ہندی عربی فارسی ترکی کا مجموعہ تھا۔ اگرچہ پرتگال، فرنچ، انگریزی کے الفاظ بھی کسی قدر شامل ہو گئے تھے، مگر اردو زبان مرکب چار ہی زبانوں سے مانی گئی تھی ۔ چنانچہ مشہور ہے :\n\nہے زباں ایک اور چار مزے\n\nاس کی ہر بات میں ہزار مزے\n\nجب قدردان مٹ گئے، وہ صحبتیں درہم و برہم ہو گئیں ۔ وہ بےفکریاں خواب و خیال بن گئیں۔ اصطلاحوں کا ایجاد، محاورات کا اختراع، شیریں زبانی کا لطف، باہمی اختلاط و ارتباط کا سلسلہ بند ہو گیا۔ جن اہل قلعہ کی گودیوں میں پل رہی تھی، جن بیگمات شاہی کی زبان سے موتی بن کر پھول سے جھڑتے تھے ، پس ان کے مٹتے ہی اصلی اور ٹکسالی زبان کا انحطاط یا تنزل شروع ہو گیا اور وہی مثل پیش آئی :\n\nروندے ہے نقش پا کی طرح خلق یاں مجھے\n\nاے عمر رفتہ چھوڑ گئی تو کہاں مجھے\n\nجو لوگ اس کے بناؤ سنگار میں لگے ہوئے تھے، جو اس کی مشّاطہ گری اختیار کرکے روز بروز اسے دلہن کی طرح کنگھی چوٹی سے آراستہ و پیراستہ کر رہے تھے، جن شاعروں میں بلبلِ ہزار داستان کے چہچہے تھے، جن کے شعر سن سن کر حاضرین مشاعرہ اچھل اچھل پڑتے تھے، جن صحبتوں میں ایک ایک بات کا سماں باندھ کر دکھا دیا جاتا تھا، جہاں بڑے بڑے عقدے حل ہوتے تھے ساتھ ہی وہ بھی چل بسے۔ جن مصنفوں سے اردو کی جان میں جان پڑتی تھی، جن جلسوں میں طبع زاد محاورات و اصطلاحات پر بحثیں ہوتی تھیں، جن میں کھوٹے کھرے محاورے پرکھے جاتے تھے، جو جلسے شاعری اور زباں کےلیے ابرِ نیساں سے کم نہ تھے وہ درہم برہم ہو گئے تو اب اردو کی دلآویز ترقی کہاں سے آسکتی ہے۔\n\nاردو کی خدمت سب سے زیادہ شعرا نے کی۔ قلعہ معلّی کے محاورات اب عنقا ہو گئے، جیسا ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔پہلے اس میں چار مزے تھے، انگریزی مل کر پانچ ہوئے اور سچ پوچھو تو اب یہ زبان ست بجھڑی بولی بن گئی۔ خدمت گاروں کی زبان، خانساماؤں کی زبان، لشکری زبان، پنجابی زبان، قلیوں اور مزدوروں کی زبان، ٹھیکہ داروں کی زبان، عدالتی زبان، تاجروں کی زبان، پولس کی زبان، تماشا کرنے والے ایکٹروں کی زبان،وارد و صادر مسافروں کی زبان مل کر کچھ اور ہی رنگ بدل گیا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D8%A8%D9%82%DB%81%D8%8C_%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%A2%D8%A6%D9%86%D8%AF%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/انگریزی زبان وغیرہ کا اختلاط", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "انگریزی زبان وغیرہ کا اختلاط\n\nاگر چہ یہ بات خوشی کی ہے کہ ہماری زبان ایک بہت بڑا ذخیرہ بہم پہنچا رہی ہے، مگر ساتھ ہی یہ نقص بھی ہے کہ اصلی خوبی کو مٹا رہی ہے۔ اگر انھیں الفاظ کا اہل زبان تال میل ملا کر رواج دیں اور علمی و قومی اصطلاحوں کو اپنی زبان میں ڈھال دیں تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں۔ اب سے پیشتر بھی غیر ملکوں، غیر قوموں اور مختلف علوم و فنون کے الفاظ ملائے گئے ہیں مگر وہ اتنے بےجوڑ نہیں ہیں، کیونکہ وہ اردو زبان میں ایسے گھل مل گئے ہیں کہ ان میں ذرا مغایرت نہیں پائی جاتی ۔ مثلاً چند عربی، فارسی، ترکی، انگریزی و پرتگالی الفاظ جو اپنی اصلیت سے بگڑ بگڑا کر یا ان کے حروف منقلب ہو ہوا کر، خواہ باہم بدل بدلا کر بظاہر ایک جان ہو گئے ہیں، بطور نمونہ پیش کیے جاتے ہیں:\n\nعربی قرناس تھا۔ انگریزی زبان میں کارنس ہو کر وہی کنگنی کی بجائے اردو میں رائج ہو گیا۔ عربی شاقول تھا، اس کا معماروں نے ساہول بنا لیا اور اب سہاول یا سَول کہنے لگے۔ مقدّم بمعنی قصائیوں نے مکدّم ۔ کتف کا کتیب کر لیا۔ مقنع کا مکھنا۔ منیب کا ساہوکاروں نے منیم ۔ طلابہ کا تلاوا بمعنی ہراوُل ۔ حوضہ کا ہودہ بمعنی چوبچہ (یعنی چاہ بچہ)۔ ہودج کا ہودہ بمعنی عماری بن کر داخل روز مرہ ہو گیا۔ اسی طرح فارسی گنبد تھا، ہندی میں گمّت ۔ گنگ صم کا گم صم ۔ نمد کا نمدہ ۔ سالانہ کا سالیانہ ۔ ماہانہ کا مہینا بمعنی ماہوار ۔ شگوفہ کا شفوقہ ۔ شُلّہ کا شولہ بولا جانے لگا۔\n\nترکی یساول تھا، اس سے جساول، بحالت تانیث جساول سے جسولنی بن گیا۔ آتون کا آتو۔ انگہ کا تگّا۔ تورہ کو جداگانہ بنول کر اس کا مرادف شرع کے ساتھ ملا کر شرع تورہ بولنے لگے۔ قرمزی کا کرمزی کر لیا۔\n\nپرتگالی زبان میں روٹی کو پاؤ کہتے ہیں۔ ہندوستانیوں نے نان پاؤ بنا لیا۔ بلکہ انگریزی باورچیوں، خدمت گاروں نے اس کا نام ڈبل روٹی رکھ دیا۔ المائراکا الماری۔ پینسنیس کا پینس۔ کورپریل کا کھپریل رائج ہو گیا۔ علی ہذا القیاس۔\n\nانگریزی سکرٹری تھا، اس کا سِکتّر ۔ کوپی کا کاپی۔ کمانڈ کمان۔ کم مِٹی کُمیٹی۔ کیپٹن کا کپتان۔ کارٹرچ کا کارتوس۔ فائر کا فیر۔ فی کا فیس جو فی کی جمع ہے مگر مفرد استعمال کرنے لگے ہیں۔ سارسنٹ کا ساسن لیٹ۔ سپٹمبر کا ستمبر۔ ہاک کا ہُک۔ بٹن کا بوتام۔ کارک کا کاگ۔ کرسچن کا کرشٹان۔ ڈژن کا درجن۔ سیکورٹ کا مسکوٹ۔ کناویز کا قناویز۔ شال مرینہ کا شال مدینہ۔ کاچکرڈ کا چکن۔ فلونل کا فلالین۔ اوفیسر کا افسر۔ بٹیلین کا پلٹن۔ گوڈم کا گودام۔ رکروٹ کا رنگ روٹ۔ پریڈ کا پریٹ ۔ رجمنٹ کا رجمٹ۔ رپورٹ کا رپٹ۔ مارئل کا مارتول۔ ارڈرلی کا اردلی۔ ولنٹیر کا بلمٹیر۔ ویسکوٹ کا واسکٹ۔ سپر اینڈ مائنز کا سفر مینا۔ کیمپ کا کمپّو۔ کمانڈر کا کمانیر۔ کوچمین کا کوچوان۔ ڈریور کا درابی۔ میل کارٹ کا کاٹھ میل۔ ٹنڈم کا ٹمٹم۔ پُٹلس کا پُلٹس۔ بابن نٹ کا بابل لیٹ۔ ہوسپیٹل کا اسپتال۔ ڈَسک کا ڈِکس۔ نمبر کا لمبر۔ ڈکری کا ڈگری۔ اسکنر کا سکندر۔ ڈیمنٹی کا گمٹی۔ ٹارپلینگ کا ترپال۔ میجسٹن کا مجنٹن۔ جیل کا جیل خانہ۔ کورشین کا کروسین یا قریشیا۔ کورنس کا کانس۔ کنفائینگ ہوس کا کانجی ہوس۔ میگزین کا میخزین۔ لیڈنگ بِل کا بلٹی۔ لائسینس کا لیسن وغیرہ وغیرہ۔\n\nیہ الفاظ تو وہ ہیں جو ہماری زبان کو ناگوار نہیں گزرتے۔ مگر آج کل انگریزی خوانوں، انگریزی دانوں اور ان کے انگلش سے نا آشنا فیشن ایبل یارغاروں نے جو اردو میں انگریزی الفاظ کی بھرتی شروع کی ہے وہ ہمارے کانوں سے غیر مانوس، ہماری زبان کے لہجہ سے کوسوں دور۔ انگریزی صحبت نایافتہ لوگوں کی سمجھ سے بالکل مغائر ہیں۔ ہم انھیں نہ تو بول سکتے ہیں، نہ ان کا صحیح تلفظ ادا کر سکتے ہیں اور نہ ان کے مفہوم ہی کو سمجھتے ہیں۔ بلکہ الٹی اپنی ہنسی آپ اڑواتے ہیں۔ جیسے بھائی کی وائف پرشن بھی سمجھنے لگی ہے۔ ڈاکٹر نے اسے اَنفِٹ لکھ دیا۔ میں نے سکہ لیو لی ہے۔ محمود میرے انڈر میں نہیں ہے۔ یہ چیز ویری نائس ہے۔ تھنگس۔ مینی مینی تھنگس۔ تھینکیو۔ وہ بیوٹی فل مین ہے۔ مگر آئیڈل مین کہنا چاہیے۔ ڈیمڈ بگر جسے بگاڑ کر ڈام بگر کر لیا ہے۔ تمھاری کیا پے ہے۔ یہ ایکٹر اچھا ایکٹ نہیں کرتا۔ کیا ڈرٹی کاغذ ہے۔ یہ ڈرٹی مین ہے۔ سینری شملہ سے بہتر نہیں۔ آج ریل دو گھنٹے لیٹ آئی۔ تم مدرسہ میں روز لیٹ کر آتے ہو۔ وہ سپاہی سیکوان ہے یعنی سِک مین ہے۔ بریڈ۔ واٹر۔ کوئیشچن۔ مدرٹنگ۔ یہ تو وہ الفاظ ہیں جو زبان سے بآسانی نکل سکتے ہیں۔ مگر کرخت الفاظ کا تو نہ لکھنا آسان نہ بولنا۔ تلفظ اور ہے اور اسپیل اور۔\n\nشورٹ ہینڈ۔ ٹریولنگ اِلونس۔ نائین سوئٹ بمعنی لا دعویٰ جس کا نین سُٹ بباعثِ ضرورتِ عدالت بنا لیا گیا۔ گران جیوری جس کا بمجبوریٔ قانون گران جوڑی کر لیا۔ سکیم آف سٹیڈی بمعنی انضباط اوقات۔ علی ہذا القیاس سیکڑوں بلکہ اس قسم کے ہزاروں لفظ نکلیں گے۔\n\nخیر یہ تو انگریزی الفاظ کی آمیزش اور اس کی دخلیابی کا ذکر ہوا۔ لیکن ہندوستان کے مختلف طبقوں، خطوں کی مختلف زبانوں نے جو ایک دفعہ ہی حملہ کر دیا ہے، اس کا کیا علاج؟ ہمارے نزدیک عام بول چال کو تو زمانہ کی رفتار پر چھوڑ دیں۔ مگر خاص اردو زبان کو علمی، اخلاقی، مہذب، درباری زبان سمجھ کر اردو تصانیف میں برابر ترقی دیے جائیں۔ نہ اِسے آریاورت کی زبان سمجھیں، نہ پوربی بھاکا بنائیں۔ نہ مارواڑی اور پنجابی کا جزوِ اعظم خیال کریں۔\n\nاس میں شبہ نہیں کہ یہ ایک قومی زبان اور خاص پہلو سے اسلامی زبان ہے جسے مغلیہ سلطنت کی ایک عمدہ یادگار کہنا چاہیے۔ مگر چونکہ اس نے ہر زبان کے الفاظ اپنے زمرہ میں شامل کر لیے ہیں اور ہر قوم کے لکھے پڑھے اس کو زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ ادنی و اعلیٰ سب اس کو سمجھتے اور بولتے ہیں۔ لہذا یہ ملکی زبان اور عام ہندوستانی زبان ہونے کا پورا پورا استحقاق رکھتی ہے۔ اس زبان میں ہر شخص کو گفتگو و تصنیف کرنے کا مجاز ہے۔ بشرطیکہ تعصب کی دھندلی عینک سے اسے واسطہ نہ پڑا ہو۔\n\nعنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ اس ٹکسالی زبان کے الفاظ کا فرہنگوں، پرانی کتابوں، شعرا کے دیوانوں اور بیاضوں کے سوا کہیں بھی پتہ نہیں لگے گا۔ ہندوستانی قومیں خلط مبحث ہو کر زبان کو کچھ کا کچھ کردیں گی۔ اردو زبان کی مکمل ڈکشنریوں کا ابھی سے کال ہے تو آئندہ کون لکھے گا اور کون لکھوائے گا۔ دعا دیں ریاستِ نظام حضور نظام خلّد اللہ ملکہ کے دم قدم کو جن کے دم کی بدولت ایک آدھ ڈکشنری تیار ہو گئی اور آئندہ کے واسطے قومی زبان کے قیام کی ایک بنیاد پڑ گئی۔\n\nانگریز لوگ اس امر کی طرف کوشش کریں کہ یہ زبان پہلے کی طرح پھر ملکی یا ہندوستانی زبان قرار دی جائے۔ عدالتوں میں اس کا پہلا سا رواج ہو جائے۔ عرائض و فیصلجات اردو میں لکھے جائیں۔ سررشتہ تعلیم اس طرف کامل توجہ فرمائے۔ عدالتی دفاتر انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں قائم رہیں تو یہ ڈوبتا ہوا بیڑا غرق ہونے سے بچ جائے یا خود وہ لوگ جو اس زبان کو قومی زبان مانتے ہیں، جنھوں نے اپنی مذہبی کتابوں کے اس میں ترجمے کر ڈالے ہیں یا شعرائے ہند، نیز اہل اسلام روسائے ہند جنھیں اس زبان سے دلچسپی ہے اس طرف توجہ مبذول فرمائیں۔ اپنی عدالتوں میں، درباروں میں اس کا رواج دیں تو ایک یہ صورت بھی اس کے قیام کی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ حضور لامع النور نظام خلّد اللہ ملکہ نے اپنے دفاتر میں یہ بات جاری کر دی ہے۔\n\nاس میں ذرا شبہ نہیں کہ سبک مایہ سارقانِ تصانیف نے اس کی ترقی کا اور بھی بیج مار دیا ہے جس کے سبب اس زبان کے اہلوں نے اس کی طرف سے توجہ اٹھا لی ہے اور نا اہل جو ان کی تصانیف کے چُرانے کا بھی سلیقہ نہیں رکھتے، ہر پہلو سے کامیاب بن رہے ہیں۔ ان باتوں کو دیکھ کر جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے ایسے کام کے دماغ دیے تھے، انھوں نے اپنے دماغوں سے یہ کام نہ لے کر انھیں بیکار اور معطل کر دیا۔ اور اگر کسی نے کچھ کام لیا تو ایسا پچھتایا کہ اخیر عمر تک سر پیٹتا اور پچھتاتا رہا۔ ابھی کا ذکر ہے کہ ایک صاحب شیدائے اردو نے ہماری مملوکہ کتاب بزم آخر کو پرانی کتاب سمجھ کر اس کے مضامین پر اپنا دعویٰ جمانا اور اخباروں میں اپنے نام سے چھاپنا شروع کر دیا تھا؛ مگر جب جتایا گیا تو اس سے باز نہ رہے۔ چنانچہ اس کے متعلق جو چند ظریفانہ سطریں لکھی گئی ہیں وہ کرزن گزٹ مطبوعہ 8؍ نومبر ١٩١٥؁ءجلد 17 نمبر 1٢ میں “یاروں کے غمزہ” کے نام سے طبع ہو گئی ہیں تاکہ یہ عیب لوگوں کے دلوں سے نکل جائے۔ ان سے پیشتر بھی بڑے بڑے عالم فاضل مگر فن لغت سے ناآشنا اور چند مبلغ معلومات سے بے بہرہ اشخاص ہماری فرہنگ پر ہاتھ صاف کر چکے ہیں لیکن مراد کو نہ پہنچے، اَدَھر میں لٹکے رہے۔\n\nاے اپنی زبان کو قائم رکھنے والو! اپنے ذاتی خدا داد مادہ سے کام لو، جس میں دسترس نہ ہو اسے اختیار کر کے قوم کو نقصان نہ پہنچاؤ۔ ان باتوں سے بچو! بچو!! اور زبان کی خیر مناؤ۔ ورنہ منہ کی زبان کے سوا جو صرف ایک گوشت کی بوٹی ہے، بول چال کی زبان سے محروم رہ جاؤگے۔\n\nاس وقت چونکہ زبان کی طویل بحث آن پڑی ہے اور ہم کو ہر ایک پہلو سے زبان کی تعریف اور اس کے رواج و عدم رواج کی وجہ سمجھا دینی ہے؛ لہذا ہم اپنا ایک پہلا مضمون جو “زبان کی تمیز اور اس کے فرق” کے نام سے لکھا گیا تھا، اس جگہ نقل کر دینا مناسب جانتے ہیں۔ یہ مضمون زبان کے شوقینوں کو بہت سی مدد دے گا اور اس مضمون کی تشریح بھی کر دے گا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88%D8%BA%DB%8C%D8%B1%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B7"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/اہل قلعہ اور اہل شہر کی زبانوں کا موازنہ", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "اہل قلعہ اور اہل شہر کی زبانوں کا موازنہ\n\nآمدم بر سر مطلب۔ اہل قلعہ اس زبان کے موجد تھے اور اہل شہر ان کے متبع۔ بلکہ اس زمانہ میں بہت سے محاورے ایسے تھے جو خاص خاندان شاہی یا جہاں پناہ سے متعلق تھے اور شہزادے ان کے برتاؤ سے بیگانہ وار کام رکھتے تھے۔ مثلاً:\n\nبِھنڈا بمعنی حُقّہ\n\nچرن بردار بمعنی کفش بردار\n\nخاصہ: پادشاہی یا امرائی کھانا۔ اس کا رواج دہلی کے نوابوں میں بھی ہو گیا تھا\n\nآب حیات: خاص بادشاہ کے پینے کا پانی جو گنگا سے آتا تھا، گنگا جل\n\nگلابی مینائے مُل: شراب کی چھوٹی سی بوتل\n\nشیشہ شراب: کنٹر\n\nگلّا بمعنی بیت الخلا\n\nباری دار بمعنی چوکیدار\n\nصاحب عالم بمعنی شہزادہ، مرشد زادہ\n\nگفت و شنود بجائے گفت و شنید\n\nخاص تراش: حجام\n\nنعمت خانہ: چوبی، باریک جالی دار کمرہ جو سُفُلدان رکھ کر کھڑا کر دیا جاتا اور اس کے اندر مکھیوں سے بچ کر کھانا کھایا جاتا تھا\n\nقول کا چھلّا: اقرار و مدار کی نشانی۔ خواہ یاد داشت کا چھلا\n\nلکھا بمعنی حالت، حال، درجہ\n\nسُریت بمعنی باندی۔ مگر اہل شہر حرم کے ساتھ ملا کر زیادہ بولتے ہیں\n\nناموس: باندی\n\nگونتھنا بجائے گوندھنا جیسے ہار گوندھنا\n\nسکھ کرنا یعنی سونا، استراحت فرمانا\n\nتیکھی یعنی غضبناک\n\nچھائیں پھوئیں بجائے خدا محفوظ رکھے،نوج، خدا نہ کرے\n\nسُکھپال بمعنی پینس،پالکی\n\nسکھ سیج بمعنی چھپر کھٹ، مسہری\n\nاسی طرح وہاں کے کھانے بھی خاص تھے۔ مثلاً نور محلی پلاؤ از ایجاد نور جہاں۔ غوصی روٹی، نان پنبہ، نان تنکی، نان گلزار، نان قماش، نُکتی پلاؤ، موتی پلاؤ، نرگس پلاؤ، من و سلویٰ، یاقوتی، دودھ کا دُلمہ، بورانی، سمنی، بادشاہ پسند دال، حسینی کباب، نکتی کباب، کپڑے کا اچار وغیرہ وغیرہ۔\n\nیہی حال پوشاکوں، ٹوپیوں، پاپوشوں وغیرہ کا تھا۔ سلیم شاہی جوتی کا ایجاد جس کے مرزا سلیم موجد ہیں، قلعہ ہی سے ہوا۔ جو محاورے قلعہ معلیٰ سے شہر میں پھیلتے تھے، ان کی وجہ سے اہل شہر کو اپنی زبان پر بھی فخر ہوتا تھا۔ چنانچہ حضرت شیفتہ ایک موقع پر فرماتے ہیں:\n\nشیفتہ اور ستائش کے نہیں ہم خواہاں\n\nیہی بس ہے کہ کہیں ہے یہ زبان دہلی\n\nان کی ادنی مثال یہ ہے۔ مثلاً تڑپنا بمعنی پھڑکنا جیسے چھری کے تلے تڑپنا، بے تاب و مضطرب ہونا۔جیسے ہنسی کے مارے تڑپنا۔ گُل کھانا، بطور نشانی چھلے وغیرہ کا داغ اختیار کرنا۔ سبز قدم ، منحوس۔ مارنا بمعنی ذبح کرنا، قتل کرنا۔ چھٹی کا دودھ زبان پر آنا بجائے چھٹی کا دودھ یاد آنا۔ زمین پکڑنا، جم کر بیٹھ جانا۔ ہوا باندھنا، دھاک باندھنا۔ جگر پکڑ کر بیٹھ جانا بمعنی جان پر بن جانا۔ پھبتی کہنا بمعنی نظیر موزوں کرنا، موزوں نظیر دینا۔ بِھنّانا، چکرانا، گھبرانا، حواس باختہ ہونا۔ بستگی، انقباض خاطر۔ ظفر:\n\nکہاں تک میری جانب سے رہے گی بستگی تم کو\n\nگرہ دل کی کہیں کھولو ذرا ایمان سے بولو\n\nناک پکڑے دم نکلنا، نہایت ناتواں و کمزور ہونا۔ ظفرؔ:\n\nمریض غم وہ عرصہ خاک پکڑے\n\nنکلتا دم ہو جس کا ناک پکڑے\n\nچھرّا بجائے بوچھاڑ۔ ظفر:ؔ\n\nگالیوں کا ہم پہ چلتا روز چھرّا صاف ہے\n\nکیا زباں ہے آپ کی کیا روز مرہ صاف ہے\n\nچراغ جلے آنا یعنی شام یا مغرب کے وقت آنا۔ ظفرؔ:\n\nنہ کیونکہ شوق کی گرمی سے دل کا داغ جلے\n\nوہ کہہ گئے ہیں کہ آئیں گے ہم چراغ جلے\n\nغرض اس طرح کے سیکڑوں اور ہزاروں محاورے ہیں جنھوں نے شہر میں آکر شہری زبان کو دلچسپ اور دل آویز بنا دیا تھا۔ لیکن اب:\n\nہم کہاں وہ کہاں، کہاں جلسے\n\nچشمِ بد لگ گئی مقدر کو\n\nعلی ہذا القیاس قلعہ کی بیگماتی زبان اور شہر کی بیگماتی زبان میں بھی فرق تھا۔ لیکن اگر ذرا غور اور انصاف سے دیکھا جائے تو خالص، پِیور اُردو وہی ہے جو مستورات سے حاصل کی گئی ۔ اِن کی زبان ایک بڑی پر اثر، پیاری، دلچسپ، میٹھی، شیریں اور بے تکلف زبان ہے۔ شعرا نے انھیں کی زبان حاصل کرنے سے نام پایا۔ مصنفوں نے انھیں کی زبان کے الفاظ سے ہر ایک بات کا سماں باندھا۔ علم ادب کی مقبول عام تصانیف انھیں کے دم قدم سے قابل قدر و شوق انگیز ثابت ہوئی۔ اس خالص زبان کا سرچشمہ بند ہو گیا۔ بچا بچایا ذخیرہ مرنے والے اپنے ساتھ لے گئے اور اگر برائے نام گنتی کے دو چار اس زبان کے ماہر رہ گئے ہیں تو وہ بھی بستر باندھے قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں۔ اگر ان سے اس پچھلی جمع پونجی کو نہ سنگوا لیا تو یہ بھی ہاتھ سے جاتی رہے گی۔ زبان کے دلدادہ! جو کچھ لوٹنا ہے ان سے لوٹ لیں، جو کچھ چھیننا ہے ان سے چھین لیں۔ اگر چہ اس زمانہ کی تصانیف میں خاص کر دواوین، قصائد، مثنویات وغیرہ میں جہاں تک شاعرانہ مذاق سے تعلق ہے بہت سے الفاظ ملیں گے اور ان کے لیے بھی ڈکشنری کی ضرورت پڑےگی۔ لیکن زبان سے برمحل بول کر دکھانے والے شاذ و نادر ہی نظر آئیں گے اور کچھ دنوں میں یہ بھی عالم بالا کو سدھار جائیں گے ورنہ:\n\nہاتھ مَلنے کے سوا کچھ بھی نہ حاصل ہوگا\n\nاور چلی جائے گی یوں ہی یہ زباں آخر کار\n\nچونکہ ہم نے بیگماتی زبان کا ذکر چھیڑ دیا، اس وجہ سے ہمیں لازم ہوا کہ چند خاص خاص محاورات جو بیگمات قلعہ سے تعلق رکھتے ہیں یا شرفائے دہلی کی مستورات سے متعلق ہیں، مثالاً لکھ کر ان کی عالی فہمی ، ان کے خیالات، ان کے توہمات کا چربہ اتار دیں۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D8%A7%DB%81%D9%84_%D9%82%D9%84%D8%B9%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%88%D8%A7%D8%B2%D9%86%DB%81"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/بعض نقلیں اور لطیفے وغیرہ", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "بعض نقلیں اور لطیفے وغیرہ\n\nاگر چہ ان لطیفوں میں بعض لطیفے لطافت و ظرافت انگیزی سے گرے ہوئے ہیں مگر نقلِ کفر کفر نباشد بطور یادگار چند باتیں لکھ دیتے ہیں۔\n\nایک دفعہ مرزا محمد سلطان فتح الملک بہادر ولی عہد نے بادشاہی موتی محل شاہ برج اور اپنی قیام گاہ کے درمیان بادشاہ کی بلا اجازت دیوار کھچوا لی، بادشاہ کو ان کی یہ حرکت ناگوار ہوئی۔ ولی عہد مرحوم سے فرمایا: امّا!(٢٧) اب تم سر پر چڑ ھے آتے ہو، جو کچھ جی میں آتا ہے حضور کی مرضی کے خلاف کر گزرتے ہو۔ ولی عہد مغفور بڑے تیز طبع، عالی دماغ، حاضر جواب تھے۔ ہاتھ باندھ کر عرض کیا کہ جہاں پناہ! غلام تو ازل ہی سے حضور کے سر مبارک پر آیا ہے۔ اب چالیس برس سے جدا ہو گیا تو اس کی عزت میں فرق نہیں آیا۔ بادشاہ کی خفگی ولی عہد کی اس حاضر جوابی سے رفت گزشت ہو گئی۔\n\nلطیفہ\n\nاگلے بادشاہوں کی اولاد بادشاہِ حال کے بھائی بند کہلاتے تھے۔ ایک دفعہ بادشاہ نے سب بھائی بندوں کو کسی سبب سے دیوان خاص میں آنے کی بندی کر دی۔ مرزا بٹّو حضرت عالمگیر بادشاہ کی اولاد میں سے ایک بڑی عمر کے بادشاہزادے تھے۔بادشاہ ان سے اکثر ہنس بول لیا کرتے تھے۔ ان کی بڑی بڑی آنکھیں کٹورا سی تھیں، اس لیے انھیں مرزا بٹّو کہتے تھے۔ اسی طرح شاہزادے آپس میں جیسی جس کی صورت و ہیئت ہوتی تھی پھبتے ہوئے نام رکھ دیتے تھے۔جس کا لمبا چہرہ، چُگّی ڈاڑھی ہوئی اس کو کدال، چکلے چہرہ والے کو چوپال، ٹھنگنے کو گھٹنّا، بونے کو جانگیا کہا کرتے تھے۔ علی ہذا القیاس کسی کو مرزا چڑیا، کسی کو مرزا ٹورے، کسی کو مرزا سُریلے، کسی کو مرزا رنگیلے کہتے اور کوئی مرزا چپاتی، مرزا شیدی، مرزا کالٹین، مرزا جھِر جھِری کہلاتا تھا۔\n\nمرزا بٹّو کو بادشاہ کی ہمکلامی کے سبب زیادہ رسوخ تھا۔ بادشاہ سے یہ ذو معنی فقرہ اس لہجہ سے عرض کیا (کہ جہاں پناہ حضور کے بھائی بند) بادشاہ ان کی رمز سمجھ گئے اور بھائی بندوں کی بندی کھول دی۔\n\nلطیفہ\n\nاسی طرح ایک شخص ظریفانہ شعر و غزل کہہ کے سب کو خوش کیا کرتا تھا۔ ہُدہُد الشعراء اس کا تخلص تھا۔ مسخرہ و مسخر الذی کہلاتا تھا۔ بادشاہ کے ہاں سے تنخواہ پاتا تھا۔ چنانچہ اس کا ذکر کئی تذکروں میں مع کلام موجود ہے۔ راجا دیبی سنگھ و سالگرام مختارِ سرکار بادشاہی نے اس بیچارے کی تنخواہ بند کر دی تھی۔ ایک دن ایک غزل کہہ کے لے گیا اور ایسے وقت میں کہ راجا صاحب مذکور بھی وہاں موجود تھے، ساری غزل پڑھ کر سنائی جس کا مقطع جو خاص راجا صاحب کی طرف منہ کر کے پڑھا، حسب ذیل ہے:\n\nدے دے دیبی سنگھ یہ ہُد ہُد کا کھاجا ہے (ہد ہد کا کھا جا)\n\nاس لہجہ سے اور خوب کھینچ کے اس طرح پڑھا کہ اہل دربار نے دانتوں میں انگلی رکھ لی کہ بہت بڑھ کے کہی۔ مگر مسخرے کی بات کو کون دُلک سکے۔ ہنسی میں شاہ و گدا دونوں برابر۔ راجا جی خفیف ہوئے اور اس کی تنخواہ دلا دی۔ مگر تذکرہ گلستانِ سخن میں مرزا صاحب نے اس موقع کے یہ دو شعر درج فرمائے ہیں:\n\nجہاں میں آج دیبی سنگھ تو راجوں کا راجا ہے\nکسی کو دے نہ دے تنخواہ تو مختار ہے اس میں\n\nخدا کا فضل ہے جو قلعہ میں تو آ براجا ہے\nمگر ہدہد کو دے دے کیوں یہی ہد ہد کا کھاجا ہے\n\nقلعہ معلیٰ میں بادشاہ کی طرف سے دھوم دھام کے مشاعرے بھی ہوا کرتے تھے۔ بڑے بڑے نامی گرامی شعرا وہاں آکر اپنے کلام کی داد پاتے تھے۔ جہاں مشاعرہ ہوتا ہے وہاں ایک نہ ایک مسخرہ بھی جسے نُقلِ مشاعرہ یا رونقِ مشاعرہ کہنا چاہیے، اہل مشاعرہ کے ہنسانے، پھڑکانے، خوش کرنے کے واسطے اپنے مسخرہ پن کے اشعار سناتا اور لوگوں کو اپنا منتظر بنائے رکھتا ہے۔ جب تک اس کا وار نہیں آتا مشاعرہ برابر جما رہتا ہے۔\n\nایسے لوگوں میں سے ایک شخص میاں عبد الرحمٰن جناب حکیم آغا جان عیشؔ کے بنائے ہوئے مسخر الّذی تھے؛ جن کی مختصر کیفیت یہ ہے کہ اصل میں یہ پورب سے دلی میں آئے تھے گویا پورب کے منہئی تھے ۔جس طرح مالی جمع پونجی سے نادار تھے، اسی طرح علمی سرمایہ بھی ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ صرف شُد بُد کے حوصلے پر دلّی کی گلیو ں میں مکتب لے بیٹھے تھے ۔الفاظ کے معانی دل سے گھڑگھڑ کر بے محل اور بے موقع بنادیتے تھے ۔جہاں حکیم صاحب کا درِ دولت تھا وہاں ایک مکتب جما لیا تھا جس میں حکیم صاحب کے عزیزوں میں سے بھی بعض بچے پڑھنے جاتے تھے۔ ان میں سے ایک لڑکا سکندر نامہ پڑھا کرتا تھا۔ حکیم صاحب کا معمول تھا کہ آٹھویں ساتویں دن ایک لڑکے کا سبق سنا کرتے تھے۔سکندر نامہ کا سبق جو سنا تو عجیب وغریب معانی و مضامین سننے میں آئے۔فرمایا کہ اپنے مولوی صاحب کو کسی وقت ہمارے پاس بھیج دینا ۔وہ دوسرے ہی روز تشریف لائے۔ حکیم صاحب صرف نبّاض ہی نہیں بلکہ قیافہ شناس بھی تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ ایک طرفہ معجون ملّا ئے مکتبی ہے ۔تھوڑی سی ترکیب میں رونقِ محفل بن سکتا ہے۔ پوچھا کہ آپ کو شعر و سخن کا کچھ مذاق ہے؟ مولوی صاحب نے فرمایا کیا مشکل بات ہے، ابھی ہو سکتا ہے۔حکیم صاحب نے ارشاد کیا کہ دو چار روز میں ایک جگہ مشاعرہ ہونے والا ہے اور یہ طرح ہے۔ آپ بھی اس پر طبع آزمائی فرمائیے۔ ان بیچاروں نے مشاعرہ میں شریک ہونا تو کیسا، اس کا نام بھی نہ سنا تھا۔حکیم صاحب نے مشاعرہ کی صورت ان کے ذہن نشین کر دی۔ مولوی صاحب نے فرمایا اس عرصے میں تو میں بہت کچھ کہہ سکتا ہوں۔ غرض مضحکہ انگیز اشعار گھڑ کر لائے جنھیں دیکھ کر حکیم صاحب نے کہا کہ اچھا خوش مسخرہ ہاتھ لگا۔ ان کے شعروں میں نمک مرچ لگا کر انھیں خوب چٹ پٹا بنا دیا۔ مولوی صاحب اس اصلاح سے بہت خوش ہوئے اور حکیم صاحب سے فرمائش کی کہ تخلص بھی آپ ہی تجویز کر دیجیے۔ انھوں نے دیکھا کہ مولوی صاحب کا گُھٹا ہوا چھوٹا سا سر ہے ۔چُگّی كدال نما ڈاڑھی، اس پر اوندھی سیدھی لٹ پٹی دستار خاصے کُھٹ بڑھئی نظر آتے ہیں۔ مولوی صاحب سے فرمایا کہ سب سے موزوں، نرالا اور تاجدار تخلص تو ہدہد ہے۔ مرغ سلیمان کا لقب اور قاصد خجستہ پیام کا خطاب اسی کو ملا ہوا تھا۔ پس آپ یہی تخلص اختیار کیجیے اور کُل پرندوں کے بادشاہ بن جائیے۔ اس کے سر پر تاج ہے تو آپ کا عمامہ اس کا سرتاج۔ جتنے شاعر ہیں سب خوش الحان پرندوں کے زمرہ میں شامل ہیں۔ ان کا چہکنا سب کو پسند ہے۔ بُلبلِ ہزار داستان، طوطیٔ خوش الحان انھیں کی تعریف ہے۔ ملا جی نے اس تخلص کو بہت ہی پسند کیا۔ مشاعرہ میں گئے۔ جب ان کا نمبر آیا تو شمع لاکر آگے رکھی گئی۔ حکیم صاحب نے اِن کی بہت سی تعریف کی اور وہ تازہ انوکھی غزل ان کی زبان سے پڑھوا دی۔ تمام مشاعرہ پھڑک گیا۔ ہنستے ہنستے لوگوں کے پیٹ میں بل پڑ گئے۔ ان کے اشعار کی زمین کشتِ زعفران بن گئی۔ اور سر جھکا کر کدال سی ڈاڑھی کا نیچے کرکے اونچا اٹھانا ہو بہو کُھٹ بڑھئی کا نقشہ دکھاتا تھا۔ لیاقت کے کھوکھلے درخت کو کھود کھود کر لوگوں کے دلوں میں گھر بناتا تھا۔ اب ہر ایک مشاعرہ میں بلائے جانے لگے۔ اس شغل میں مکتب وَکتب سب رفو چکر ہوا۔ بھوکے مرنے لگے۔ حکیم صاحب کو ان کی حالت زار پر رحم آیا۔ فرمایا کہ ہدہد! بادشاہ کی شان میں کوئی قصیدہ لکھو تو تمھیں دربار میں لے چلیں اور وہاں سے کوئی گزارہ کی صورت کرا دیں۔ انھوں نے جھٹ ایک قصیدہ تیارکیا جس کا مطلع یہ تھا:\n\nجو تیری مدح میں مَیں چونچ اپنی وا کر دوں\n\nتو رشک باغ ارم اپنا گھونسلا کر دوں\n\nبادشاہ اس قصیدہ سے نہایت خوش ہوئے۔ طائر الاراکین، شہپر الملک، ہدہد الشعراء، منقار جنگ بہادر خطاب دے کر سات روپیہ ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا۔ اب میاں ہدہد کو یہ دن لگے کہ بلبلانِ سخن کے ٹھونگیں مارنے لگے۔ سرِ مشاعرہ اکثر شعرا پر منہ آتے۔ دو دو چونچیں ہو جاتیں۔ گو شعر بالکل بے معنی ہوتے تھے مگر الفاظ نہایت شستہ اور رنگین باندھتے تھے۔ بعض شعرا نے ان کے مقابلہ کے واسطے دو ایک پٹھے تیار کیے۔ کسی کا تخلص زاغ، کسی کا باز رکھ دیا اور ان کی خوب جھڑپ ہوتی تھی۔ چنانچہ ایسے موقع کے دو ایک شعر اس جگہ نقل کیے جاتے ہیں:\n\nباز پر چوٹ\n\nجسے کہتے ہیں ہدہد وہ تو نر شیروں کا دادا ہے\nگر اب کے بازڑی میداں میں آئی سامنے میرے\n\nمقابل تیرے کیا ہو تُو تو اک جُرّے کی مادہ ہے\nتو دُم میں پر نہ چھوڑوں گا یہی میرا ارادہ ہے\n\nزاغ پر چوٹ\n\nجون آیا ہے بدل اب کے عدو کوّے کی\nوہی کاں کاں وہی کیں کیں وہی ٹاں ٹاں اُس کی\nبن کے کوّا جو یہ آیا ہے تو اے ہدہدؔ شاہ\n\nاُس کی ہے پاؤں سے تا سر وہی خو کوّے کی\nبات چھوڑی نہیں ہاں اک سر مو کوّے کی\nدُم کتر دینے کو کچھ کم نہیں تو کوے کی\n\nخود ستائی\n\nہدہد کا مذاق ہے نرالا سب سے\nسر دفترِ لشکر سلیماں ہے یہ\n\nانداز ہے اک نیا نکالا سب سے\nاڑتا بھی ہے دیکھو بالا بالا سب سے\n\nقلعہ معلیٰ کا مشاعرہ\n\nچونکہ برسبیل تذکرہ مشاعرہ کا کچھ ذکر اوپر آیا ہے، لہذا ہم اس جگہ ایک مشاعرہ کا ذکر کر دینا بھی خالی از لطف نہیں سمجھتے ۔ یوں تو قلعہ معلیٰ میں شہزادگانِ دہلی کی طرف سے اکثر مشاعرے ہوا کرتے تھے، مگر کبھی کبھی بہادر شاہ بادشاہِ دہلی کے روبرو بھی شعرا کا اکھاڑا جما کرتا تھا، جس کا یہ طریقہ تھا کہ بادشاہ کی طرف سے چیدہ چیدہ شاعروں کو طرح کا مصرع بھیج دیا جاتا تھا۔ وہ اپنے خاص خاص شاگردوں کی ٹولیاں لے کر بارگاہِ سلطانی میں متعینہ وقت پر حاضر ہو جاتے تھے۔ بادشاہ شہ نشین میں تشریف لا کر جلوہ افروز ہوتےاور تمام شاعر حضور معلی کے سامنے حسب ارشاد والا بیٹھ جاتے تھے۔ بادشاہ کے مقابل شمع رکھی جاتی تھی، جس شاعر کو حکم ہوتا تھا وہ سامنے حاضر ہوکر غزل پڑھتا تھا۔ اس وقت شاہی امرا میں سے ایک دو امیر بھی حاضرخدمت رہتے تھے۔ بادشاہ جس شعر کی تعریف فرماتے تھے، حاضر باش امیروں میں سے ایک امیر بآواز بلند اس شاعر سے کہتا تھا کہ ظلّ سبحانی آپ کے اس شعر کی تعریف فرماتے ہیں۔وہ شاعر سر و قد کھڑا ہو کر حسب قاعدہ تین آداب بجالاتا اور از سر نو وہ غزل پھر اہل مشاعرہ کی فرمائش سے سنا دیتا تھا۔ واہ واہ کے شکریہ میں سلام کرتے کرتے تھک جاتا تھا۔\n\nایک مرتبہ میر محمد حسین تسکینؔ خلف میر حسن عرف میرن صاحب جو شاعر نکتہ سنج، نہایت متین اور شاگرد مومن خاں متخلص بہ مومن تھے، اپنی غزل پڑھ رہے تھے ۔جب اس شعر پر پہنچے:\n\nتمھیں بھی کھولنی زلفیں پڑیں گی\n\nدل گم گشتہ اپنا گر نہ پایا\n\nتو بادشاہ موصوف نے خود بے ساختہ زبان مبارک سے تعریف کی کہ میر صاحب بہت اچھا کہا۔\n\nشاہی مشاعروں کے موقع پر حسب موسم ایک علاحدہ مکان میں مٹھائی، شربت، تر میوے اور ترکاریاں،چائے، قہوہ وغیرہ مہیا رہتا تھا۔ اختتام مشاعرہ پر سب شاعر وہاں جاتے اور بادشاہ کے خوان نعمت سے متلذذ و محظوظ ہوتے تھے۔\n\nلطیفہ\n\nایک مرتبہ بادشاہ کے دشمنوں کی طبیعت کچھ ناساز ہوئی۔ بڑے صاحب بہادر رزیڈنٹ دہلی کو خبر پہنچی۔ جمعدار کو مزاج پرسی کے واسطے بھیجا اور یہ عرض کرایا کہ حضور آم نوش نہ فرمائیں کہ یہ حضور کو مضر ہیں۔ بادشاہ کو آموں کا بہت شوق تھا اور نہایت مرغوب تھے۔ مہتاب باغ میں وہ وہ نایاب آموں کے درخت اگلے بادشاہوں کے لگائے ہوئے جن کا نام شہد کوزہ، بتاسہ،محمد شاہی لڈوا وغیرہ تھا، ایسے تھے کہ پیوندی آم ان کے آگے پانی بھرتے تھے۔ قطب صاحب میں جھرنے پر ان کی پود پھیلائی۔ پیوندی آموں کے ناندوں میں درخت لگا کے خاص موتی محل، ہیرا محل میں اپنے سامنے رکھے تھے اور جھروکوں میں بھی بہت سے درخت رکھوا دیے تھے۔بھلا جس چیز پر ایسی رغبت ہو وہ کس طرح چھوٹ سکے۔ جمعدار کے ہاتھ اسی وقت یہ شعر لکھ کے بڑے صاحب بہادر کو بھیج دیا:\n\nآم اے فرزند من مجھ کو بہت مرغوب ہیں\n\nکچھ نہیں کرتے ضرر میرے لیے یہ خوب ہیں\n\nفرزندِ ارجمندِ سلطانی بادشاہ نے بڑے صاحب بہادر کو خطاب دیا تھا، اس لیے فرزند کہتے تھے۔ پورا خطاب یہ تھا “معظم الدولہ، امین الملک، اختصاص یار خاں، فرزند ارجمند، بجاں پیوندِ سلطانی سرچارلس مٹکاف(٢٨) صاحب بہادر فیروز جنگ”۔\n\nلطیفہ\n\nقصبہ مہرولی میں جہاں حضرت قطب الاقطاب خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا مزار مبارک ہے، آب وہوا کی موافقت یا سیر و شکار کے سبب بادشاہ اکثر جا کر رہا کرتے تھے۔ ایک دن منہ اندھیرے کسی کو ساتھ لیے بغیر بے خبری کے عالم میں اکیلے محل میں سے درگاہ شریف میں فاتحہ پڑھنے برآمد ہوئے۔ شاہی سپاہی خاص ڈیوڑھی پر پہرا دے رہا تھا۔ یہ کسی کی آمد ورفت کا وقت نہ تھا۔ اندھیرے میں اس نے نہ پہچانا، قاعدہ کے موافق ٹوکا کہ “ہوکم ڈر” (اصل میں یہ جملہ مخفف ہے انگریزی جملہ “ہو کمس دِیر” کا جس کے معنی ہے “کون آتا ہے”)، بادشاہ نے فرمایا کہ ظفر! سپاہی یہ سنتے ہی سہم گیا۔ سلامی اتاری، پرے ہٹ گیا۔\n\nلطیفہ\n\nبادشاہ شہزادگی کے زمانے میں مرزا ابّن کہلاتے تھے، جب ولی عہدی ملی ابو ظفر مشہور ہوئے۔ حضرت عرش آرامگاہ معین الدین محمد اکبر شاہ بادشاہ ان سے ناراض تھے۔ یہ محل میں جب آداب و کورنش کے واسطے بادشاہ کے حضور میں حاضر ہوتے تو بادشاہ ان کی طرف آنکھ اٹھا کے نہ دیکھتے، گھڑیوں کھڑے رہتے، جب بیگم صاحبہ نواب ممتاز محل عرض کرتیں کہ حضور! مرزا مُجرے کو کھڑا ہے تو ان کی طرف بے التفاتی کی نظر ڈال لیتے اور یہ مُجرا بجالاتے۔ دیگر شاہزادے بادشاہ کے لاڈلے اور چاہیتے بیٹے تھے مگر یہی نظروں سے گرے ہوئے تھے۔ بادشاہ کی ایک بیگم نے ان کے حسب حال یہ شعر کہا تھا:\n\nیوں ہیں ابو ظفر شہِ اکبر کے روبرو\n\nجیسے ابالی دال مزعفر کے رو برو\n\nمرزا کوڑے کا تام جھام\n\nاسی قلعہ کے شہزادگانِ والا تبار میں سے ایک صاحب عالم بہادر مرزا کوڑے کے نام سے مشہور و معروف تھے۔ آپ کے ہاں پالکی، نالکی،رتھ، تام جھام، سواری شکاری کے گھوڑے وغیرہ سب ٹھاٹھ موجود تھا۔ رتھ بان نے بیلوں کے واسطے پولیاں منگا دینے کی درخواست کی۔ آپ نے فوراً گڑوالوں کے پاس آدمی بھیج کر پولیوں کے چھکڑے منگوا دیے۔ لیکن اٹھا کر رکھوانے کے واسطے آدمی کم تھے۔تام جھام کے کہاروں کو ارشاد ہوا کہ پولیاں اٹھا اٹھا کر رتھ خانہ میں رکھوا دیں۔سب کہاروں نے ایک زبان ہو کر عرض کیا کہ حضور ہم تام جھام اٹھانے کے نوکر ہیں۔ پالکی، نالکی،پینس ہم سے اٹھوا لیجیے۔ آپ نے کہا کہ تام جھام اٹھا لاؤ۔ چناچہ وہ ارشاد کے ساتھ اٹھا لائے۔حکم ہوا کہ اس کے اندر پولیوں کو بھرو اور رتھ خانہ تک لے چلو۔ غرض دس بیس پھیرے پولیوں کے کرائےاور آئندہ کے واسطے یہ قاعدہ مقرر کر لیا کہ جو کچھ بازار سے لانا ہوتا، تام جھام میں سوار ہوکر خود جاتے اور آپ ہی لے کر آتے۔\n\n کہاروں کے دن بھر میں دس دس، بیس بیس پھیرے ہو جاتے۔ مثلاً اگر گھر میں ترکاری کی ضرورت ہے تو حکم دیا لگا تام جھام۔ پانوں کی خواہش ہوئی تو فرمایا لگا تام جھام۔ غرض ہر ایک چیز کے واسطے خریدنے جاتے اور کہاروں کو ان کے انکار کا مزہ چکھاتے۔اخیر کو کہاروں نے ہار مان کر اقرار کر لیاکہ ہم جب نوکر ٹھہرے تو ہمیں کسی بوجھ کے اٹھانے سے بھی انکار نہیں۔ آپ ہمارے اوپر رحم کھائیے اور کوڑی پھیرا نہ کرائیے۔ غرض ان کا قصور معاف کر دیا۔\n\n بھانڈوں، نقالوں کو محافل و مجالس سور و سرور میں نقل کر کے اہل محفل کو ہنسانے کا ایک مشغلہ ہاتھ آ گیا۔ جہاں جاتے وہاں مرزا کوڑا کے تام جھام کی بھی ضرور نقل کرتے اور یہ فقرہ زبان پر لاتے “دو کوڑی کی ہینگ ہے لانی، لاؤ میری پالکی”۔\n\n اصل بات تو اتنی تھی مگر جہلا نے اس کا یہ نتیجہ نکالا کہ کنجوسی اور کفایت شعاری کو مدنظر رکھ کر مرزا کوڑے پالکی کے کہاروں سے ہی سارا کام لیتے اور نوکروں کی تنخواہ بچاتے تھے۔\n\nنقل\n\nنواب زینت محل جو ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ خاتم السلاطینِ مغلیہ کی بڑھی چڑھی ملکہ تھیں، وہ بیمار ہوئیں۔ اپنی بیماری کا حال اس شعر میں لکھ کے بادشاہ کو بھیجا، شعر:\n\nحضرت ہمارے حال کی تم کو خبر بھی ہے؟\n\nکھانسی بھی ہے بخار بھی ہے درد سر بھی ہے!\n\nاس سے معلوم ہوتا ہے کہ زینت محل صاحبہ کو شعر و سخن کا ملکہ ہی نہیں تھا بلکہ طبیعت بھی موزوں تھی۔\n\nنقل\n\nبہادر شاہ بادشاہ اور سُکھ دیو پہلوان\n\nایام غدر سے چند روز پیشتر ریاست بھرتپور(٢٩) کا مشہور پہلوان سُکھ دیو جیٹھی دہلی میں آیا اور بادشاہ کے حضور میں عرضی گزرانی کہ حضور تمام شہر میں منادی کرا دیں کہ جس پہلوان کو دعویٰ کشتی ہو وہ کل جھروکوں کے نیچے آ جائے، ورنہ اب میں لنگوٹ کھول ڈالوں گا۔ یعنی اپنا ثانی نہ دیکھ کر کشتی سے عہد کر لوں گا۔چنانچہ دوسرے روز جین ریتی میں جھروکوں کے نیچے دہلی کی تمام خلقت اور بڑے بڑے نامی پہلوان جمع ہوئے۔ ایک بڑا بھاری میلہ لگ گیا۔ مگر کسی کی ہمت نہ پڑی کہ سکھ دیو سے کشتی لڑے۔ آخر کار سکھ دیو نے بھاری بھاری مُگدر ہلا کر طرح طرح سے ڈنڈ پیل کر ڈھینکلیاں کھا کھا کر اپنا زور دکھایا اور بادشاہ کے روبرو لنگوٹا رکھ کر آئندہ کشتی کرنے، پکڑ لڑنے سے ہاتھ اٹھایا۔ بادشاہ سلامت نے اس کی خداداد طاقت اور دعوے کے ثبوت میں فی البدیہہ یہ شعر فرمایا بلکہ ایک چاندی کی تختی میں اسے کھدوا کر اس کے ڈنڈ پر بندھوا دیا:\n\nصورت رستم، سیرت گیو(٣٠)\n\nیکتا گُرو مہا سُکھ دیو(٣١)", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D8%A8%D8%B9%D8%B6_%D9%86%D9%82%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%84%D8%B7%DB%8C%D9%81%DB%92_%D9%88%D8%BA%DB%8C%D8%B1%DB%81"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/جھروکوں کی زنانہ اور بے تکلفانہ بیگماتی زبان کی آخری جھلک", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "جھروکوں کی زنانہ اور بے تکلفانہ\nبیگماتی زبان کی آخری جھلک\n\nدیکھو! بادشاہی جھروکوں کے سامنے شاہ باغ ہے۔ باغ کے نیچے دریا بہتا ہے۔ دریا کے کنارے خیمے کھڑے ہوئے۔ بیچ میں کشتیاں چھوٹیں۔ کشتیوں میں بھی خیمے پڑے۔ زنانہ کا حکم ہوا۔ دور دور تک ریتی میں پہرے لگ گئے کہ غیر کی بھنبھنی(٣٢) بھی نہ دکھائی دے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں اور عورتوں نے دکانیں لگائیں۔ خضری دروازے سے اتر کر شہزادے اور شہزادیاں، محل، نومحلے کے سلاطین اور ان کی بیگماتیں خیموں میں آکر جمع ہوئیں۔ ایلو! وہ بادشاہ کی سواری آئی۔ دیکھنا؟ کہاریاں کیا بے تکان ہوادار کندھوں پر لیے چلی آتی ہیں۔ ساتھ ساتھ خوجے مورچھل کرتے بھنڈا ہاتھ میں لیے اور حبشنیاں، ترکنیاں وغیرہ چلی آتی ہیں۔ وہ جسولنی نے آواز دی: خبردار ہو۔ ایلو، سب کھڑے ہوگئے۔ مجرا کیا۔ بادشاہ جہاں نما میں آکے بیٹھے۔ باغ لوٹنے کا حکم دیا۔ اہاہا۔ دیکھنا کیا سر پر پاؤں رکھ کر دوڑیں جیسے ٹڈی دل امنڈ کر آیا۔ دم بھر میں سارے باغ کو نوچ کھسوٹ ڈالا۔ کسی نے نیبو کھٹوں کی جھولیاں بھر لیں۔ کوئی کیلے کی گیل پکڑے کھڑی ہے۔ ایک ایک کوٹھری چیختی ہے۔ اچھی بُوا آئیو؟ یہ نگوڑی شیطان کی آنت تڑوائیو۔بھلا اس لُٹّس اور لوٹم لاٹ میں کون کسی کی سنتا ہے۔کوئی آموں کے درختوں پر پتھرے مار رہی ہے۔ کوئی چاقو سروتوں سے بیٹھی گنّے کاٹ رہی ہے۔ لونڈیاں باندیاں جو ذرا دل چلی تھیں، جھپ جھپ درختوں پر چڑھ گئیں۔ توڑ توڑ کر وہیں بکر بکر کھانے لگیں۔ اہاہا دیکھنا کوئی تو گد سے گر پڑی۔ کسی کے کانٹا کسی کے کھڑینچ لگی۔ بھوں بھوں بیٹھی رو رہی ہیں: “ووئی جھلسا لگے اس باغ کو، مجھ سر مونڈی کے تو کچھ ہاتھ نہ آیا۔مفت میں لہولہان ہوئی”۔\n\nلو باغ لٹ چکا۔ دیکھو نیبو، نارنگی، انار، کھٹوں وغیرہ کی جھولیاں، بھرے ہاتھوں میں گنّے لیے خوش ہوتی گرتی پڑتی چلی آتی ہیں۔ کوئی بے چاری جو خالی ہاتھ ہے تو کیا؟ خفت کے مارے کتراتی، کنیاتی، آنکھ چرائے خفیف خفیف اپنا منہ لیے چلی آتی ہے۔ سب اس کو چھیڑتی نکّو بناتی چلی آتی ہیں۔ دیکھو ہم یہ جھولیاں بھر کر لائے۔ لو ہم سے لے لو ۔ تم اپنے جی میں نہ کڑھو۔ وہ کہتی ہیں، بُوا تمھارا تمھیں کو مبارک رہے۔بھاڑ میں پڑو۔ کیا موئی چار کوڑی کی چیز کے لیے اپنا منہ ہاتھ کانٹوں سے نُچواتی۔اپنی ایڑی چوٹی پر سے صدقہ کروں۔ ایسی کیا نعمت کی مانکا کلیجا تھا۔ اہاہا ! سچ کہتی ہو۔ تمھاری خفت ہمارے سر آنکھوں پر۔ اچھّی یہ بتاؤ پھر تم گئی کیوں تھیں۔ ایک ایک کا منہ تکنے؟ بوا تمھاری وہی لومڑی کی کہاوت ہے۔ انگور کے درخت کے نیچے آئی، خوشے لٹکے ہوئے دیکھ کر بہت للچائی۔ بہت سی اچھلی کودی۔ جب کچھ نہ ہاتھ آیا، یہ کہتی چلی گئی: ابھی کچے ہیں کون دانت کھٹّے کرے۔\n\nلو اب یہ خیموں میں آکر ناچ رنگ دیکھنے لگیں۔ ناؤ میں بیٹھ کر دریا کی سیر کرنے لگیں۔ دریا کے کنارے آپس میں چھینٹم چھانٹا لڑنے لگیں۔ دیکھو کسی کا پاؤں کیچڑ میں پھسل گیا، ساری لت پت ہوگئی۔ کوئی دلدل میں پھنس گئی، ان پر قہقہے پڑ رہے ہیں۔ وہ کھسیانی اور رُنکھی ہو ہو ایک ایک کو چیختی اور پکارتی ہیں۔ اے بی امکی! اے بی ڈھمکی ! اچھی ادھر آئیو۔ ذرا ہمیں اس کیچڑ میں سے نکالیو! کوئی تو جان بوجھ کر آنا کانی دیتی ہے۔ کوئی کہتی ہے بُوا اُپٹکی پڑے تمھارے ڈھنگوں پر۔ اچھی؟ کیچڑ میں کیوں جا پھنسیں۔ اللہ رے تمھارا موٹا دیدہ! دلدل میں جا کودیں۔ سچ مچ دریا کو دیکھ کر آنکھیں پھٹ گئیں یا دیدے پتھرا گئے۔ غرض خوب سی بولیاں ٹھٹولیاں مار کر ان کو نکالا۔لو اب پنکھے کا وقت آیا۔ بادشاہ کو گلابی پوشاک پہنائی اور سب نے سر سے پاؤں تک گلابی کپڑے پہنے۔ جدھر دیکھو گلابی پوش دکھائی دیتے ہیں۔ دریا کے کنارے گویا گلابی باغ کھل گیا۔ سب سلاطینوں کے گلابی کپڑے، گلابی پگڑیاں، کندھوں پر بندوقیں، گلے میں پرتلے، کمر میں تلواریں ہیں۔ کوئی صوبیدار ، جمعدار، دفعدار، نشان بردار۔ کوئی تاشے باجے والا، کوئی نقیب بن کر اپنی پلٹن جمائے کھڑا ہے۔ اوہو! وہ چاندی کا پنکھا مہتاب باغ میں سے اٹھ کر دھوم سے آیا۔ سلاطینوں کی پلٹن سلامی اتار پنکھے کے آگے ہوئی۔ اس کے پیچھے تاشے باجے اور روشن چوکی والیاں چلیں۔ ان کے پیچھے ہوا دار میں بادشاہ اور شہزادے۔ شاہزادیاں، سلاطینوں کی بیگماتیں تخت کے اردگرد پنکھے کے ساتھ ساتھ چلیں۔ درگاہ میں جا کے پنکھا چڑھا دیا۔ بادشاہ اپنی بیٹھک میں آئے اور سب اپنے گھر گئے۔\n\nبعون اللّٰہ تعالی رسالہ نذر آصف ختم ہوا۔\n\nصبحِ عشرت کی شام ہوتی ہے\nدیکھ لے دل تو اب نظر بھر کر\n\nبزم رونق تمام ہوتی ہے\n\nانجمن اختتام ہوتی ہے\n\nبندہ سید احمد دہلوی، وظیفہ خوار سرکار عالی نظام خلد اللہ ملکہ، ممبر ٹیکسٹ بک کمیٹی پنجاب، المخاطب بہ خان صاحب مؤلف فرہنگ آصفیہ وغیرہ وغیرہ۔\n\nدہلی گلی شاہ تارا\n\nیکم جون 1916؁ء\n\nگزارش تازہ\n\nیہ کتاب اول مرتبہ کم تعداد میں طبع ہوئی تھی۔چونکہ ٹیکسٹ بک کمیٹی پنجاب نے 289 جلدوں کی خریداری منظور فرمائی اور اطراف سے بھی بکثرت مانگ آئی۔ لہذا بارِ دیگر بعد از نظر ثانی و اضافہ چھاپ کر مشتہر کی۔فقط۔\n\nبندہ سید احمد", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D8%AC%DA%BE%D8%B1%D9%88%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D8%AA%DA%A9%D9%84%D9%81%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D9%85%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%DA%BE%D9%84%DA%A9"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/حواشی", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "١۔ ١٧٩٤؁ء سے اس کالج کی بنیاد سمجھی جاتی ہےمگر اس وقت صرف عربی، فارسی، دیسی طریق پر اجمیری دروازہ کے باہر پڑھائی جاتی تھی۔ لیکن 1829؁ء سے گورنمنٹ کالج بن کر انگریزی تعلیم بھی شروع ہو گئی۔ مسٹر ٹیلر پرمٹ کے کلکٹر نے اسے سرکاری کالج بنوا دیا جن کے فرزند مسٹر بٹلر، کاربل صاحب پرنسپل کے بعد اس عہدہ پر مقرر ہوئے اور غدر 57؁ء میں کسی حق نا شناس ماتحت کی کج ادائی سے مارے گئے جس سے یہ کالج برباد ہو گیا اور آخر کار وہ حق نا شناس اپنے کیے کے پاس بیٹھا۔ (سید احمد)\n\n٢۔ گارساں دتاسی مراد ہیں۔ (Yethrosh)\n\n[1]۔ دھول دھپّے کی اردو\n\n[2]۔ روزانہ پیسہ اخبار مطبوعہ 23؍ اپریل 1915؁ء میں درج ہے کہ نیو شیل کے متعلق وہاں کے آمدہ سپاہیوں میں سے ایک زندہ دل سپاہی نے اپنی نج کی چٹھی میں یہ پھڑکا دینے والی دلچسپ خبر لکھی ہے کہ جس وقت ہم لوگ جرمن خندقوں میں بے جگری سے بے دھڑک داخل ہوئے تو جرمنوں نے اپنی بندوقیں ہمارے آگے ڈال دیں اور ہاتھ جوڑ کر رام رام کرنے لگے۔ اتنے میں انگریزی سپاہی آ دھمکے اور انھیں قید کر کے صدر چھاؤنی میں لے گئے۔ ان میں سے کسی برطانی افسر نے مسلمان سپاہی سے پوچھا کہ جرمن لوگ گرفتاری کے موقع پر تم سے رام رام کیوں کرتے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ یہ لوگ لفظ رام رام کا ٹھیک مفہوم نہیں سمجھتے۔ ان کا خیال ہے کہ ہندوستانی سپاہی اپنے ملک کے اس لفظ کو سن کر ہماری جان بچا دیں گے، اس سبب سے جب ہمارے ملک کے سپاہیوں کو دیکھتے ہیں تو رام رام کی توبہ دھاڑ مچاتے ہیں، جن سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہمیں جان سے نہ مارو ۔ ہم ہاہا کھاتے، منہ میں تنکا لیتے اور تمھاری سرن میں آتے ہیں۔ اب ہماری جان بخشی تمھارے ہاتھ ہے۔\n\nلو اب ہم سے از روئے لغت و اصطلاح اس کے معنی سنو۔ اگر چہ یہ لفظ کثیر المعانی ہے مگر یہاں جن جن معانی سے تعلق ہے ہم صرف انھیں کو دکھاتے ہیں۔ لفظ رام رام عام طور پر “باہمی سلام” اور کبھی کبھی صاحب سلامت کے معنی میں آتا ہے مگر اس جگہ توبہ توبہ کے معنی ہیں اور رام دُہائی کا ثبوت دیتا ہے۔ رحم دلانے کے موقع پر اکثر بولا جاتا ہے، یعنی اس رحیم کریم کا خیال کر کے اور اپنے شہنشاہ کا واسطہ مان کر ہمارے اوپر دَیا کرو۔ دیاونت بنو۔ جیسا تمھارا بادشاہ رحم دل اور بے کسوں کا ہمدرد ہے، تم بھی اس وقت ویسے ہی خدا ترس اور درد مند بن جاؤ۔ چونکہ مسلمان سپاہی ہندی اور فارسی زبان سے پورا واقف نہ تھا اور جرمن لوگ فارسی کیا ہندی نیز سنسکرت تک سے خواہ تجارت کے باعث، خواہ علمی مذاق کے سبب کچھ نہ کچھ واقفیت رکھتے ہیں۔ اس (بقیہ حاشیہ صفحہ ١٤) وجہ سے فارسی اور ہندی دونوں زبانوں کے معنی اس سے پوری پوری مناسبت ظاہر کرتے ہیں۔ ہندی کے معنی ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ اب ذرا فارسی کے معنی سے جو لگاؤ ہے اسے بھی ملاحظہ فرمائیے۔ فارسی زبان میں لفظ رام کے معنی مطیع ، حکم بردار، تابعدار، فرمانبردار اور اطاعت پذیر ہیں، یعنی ہم آپ کی اطاعت قبول کرتے ہیں ایسی صورت میں کہ ہم بے دست و پا کے برابر ہیں۔ ہمارے اوپر آپ جیسے بہادروں کو رحم کرنا چاہیے۔ ہم آپ کی غلامی میں آگئے۔ ہماری جان بخشی اب آپ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ آپ ماریں یا جِلائیں ہم تو اب آپ کے ہو لیے۔ رام رام کی تکرار یعنی مکرر آنے سے اطاعت پر اور زور پڑ گیا۔ یعنی غلام در غلام، مطیع در مطیع ہیں۔ ہمارے نزدیک اس رام رام کے جواب میں ان مردہ دلوں کے واسطے رام رام ست ہے کہہ دینا زیادہ موزوں تھا۔ جائے شکر ہے کہ ہماری انگریزی افواج کے گرفتاروں کی زبان سے حالت اسیری میں بھی اپنی جان بچانے کے واسطے ایسے عاجزانہ کلمے سرزد نہیں ہوئے۔ کجا کہ گڑگڑانا اور ہاہا کھانا۔ ہماری فوج کا اس شعر پر عمل رہا ہے:\n\nمردوں کا نہیں کام ہے آزار سے مرنا\n\nبیروں(1) کی بڑی شان ہے تلوار سے مرنا\n\n1۔ بہادروں، سور بیروں۔\n\n٥۔ عربی ہے\n\n٦۔ ہندی ہے\n\n٧۔ ترکی ہے\n\n٨۔ انگریزی ہے\n\n٩۔ بیگماتی ہندی ہے\n\n١٠۔ صفاتی ہندی ہے جس کے معنی ذائقہ لینے والا عضو ہیں\n\n١١۔ اس کی بڑی بھاری بحث ہم اپنے رسالہ “محاکمہ مرکزِ اردو” میں چھاپ چکے ہیں۔ (سید احمد دہلوی)\n\n١٢۔ یہاں ٹوپی والے نادر شاہی سرخ کلاہ پوش سفاک قزلباش سپاہیوں سے تشبیہ دی ہے۔\n\n١٣۔ یہ کھیل کٹار نما ٹیڑھی چھریوں سے بیٹھ کر یا لیٹ کر کھیلا جاتا ہے۔ بانک کھیلنے کے ہتھیار خنجر، کٹار، چھری، کھوکری، بُجالی وغیرہ تھے۔\n\n١٤۔ جس میں پھری اور ڈھال وغیرہ سے کام نہیں لیا جاتا۔ اس لیے اس کا نام بِن اوٹ رکھا گیا تھا جس کا الف گر کر بنوٹ ہو گیا۔\n\n١٥۔ فن چوب بازی، پٹا بازی،لکڑی بازی یہ کھیل پھری گنگوں سے کھیلے جاتے ہیں۔\n\n١٦۔ بیدانہ جامن، رائے جامن، بھدّو دان جامن، گلاب جامن اس کی قسمیں ہیں۔\n\n١٧۔ صحیح رنگترہ جسے حرف گاف گرا کر رنترہ کر لیا ہے۔\n\n١٨۔ یہ غدر سے دو مہینے پیشتر ایک فقیر صدا لگاتا ہوا آیا تھا اور غدر کے ہو جانے اور اب دار السلطنت بن جانے سے یہ پیشین گوئی سچ ہو گئی۔\n\n١٩۔ بگھیلا ایک مخلوط النسل درندے کا نام ہے جسے فارسی میں پلنگ، ہندی میں لکڑ بھگاّ، باگھ اور تیندوا کہتے ہیں۔ یہ کتوں کو پکڑ کر لے جاتا ہے اور انھیں اپنا کھاجا بناتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کا جبڑا سگ گزیدہ کے واسطے اکسیر کا حکم رکھتا ہے اور ہمارا بذات خود آزمودہ ہے۔\n\nنسخہ سگ گزیدہ: مثالاً ایک تازہ نظیر دیتے ہیں۔ ہمارے کاتب کے نوجوان ہونہار لڑکے کو باؤلے کتّے نے کاٹ کھایا۔ وہ اسے کسولی لے گیا، وہاں سے آکر برس روز تک اچھا رہا ۔ برس روز کے بعد پھر ہڑک اٹھی، اس نے کسولی کے اسپتال کو پھر لکھا۔ وہاں سے جواب آیا کہ جگہ خالی نہیں ہے۔ لڑکے نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ پانی سے ڈرنے اور سگ گزیدہ کی سی حرکتیں کرنے لگا۔ وہ غریب اس پریشانی کے سبب غیر حاضر ہو گیا۔ جب دریافت کیا تو یہ سبب بتایا۔ ہم نے کہا کہ خدا کے حکم سے آج ہی اچھا بچھا ہو جائے تو کتنے بھوکوں کو کھانا کھلاؤگے۔ اس نے جواب دیا کہ اپنی توفیق سے زیادہ یتیموں اور مسکینوں کو کھلاؤں گا۔پسں ہم نے پتا بتا کر اس سے تیندوے کا جبڑا منگوایا۔ جب لے آیا تو کہا کہ اس کے دانت گھس گھس کر تین چار مرتبہ پلاؤ اور مقدار میں چائے کا ایک ایک چمچہ کافی ہے۔ وہ خوش اعتقاد اپنے گھر گیا اور یہی عمل کیا۔ خدا کی عنایت سے دو ہی دفعہ پلانے میں اس نے پانی سے ڈرنا اور اس کا نہ پینا چھوڑ دیا۔ بلکہ غٹ غٹ کر کے پی گیا۔ دوسرے روز پانی سے نہلا دیا اور اس کا باپ اس تندرست کو اپنے ساتھ لکھنؤ لے گیا۔ سید ظہور الحسن صاحب اس کے باپ کا نام ہے۔ اب کتابوں کی تجارت کرتے ہیں۔ غالباً مولوی عبد الحلیم صاحب شرر بھی اس واقعہ سے بخوبی واقف ہوں گے۔ کیونکہ انھیں دنوں میں ان کے ایک مولوی دوست جو سید ظہور الحسن صاحب کے بھائی ہیں، اس جگہ موجود تھے۔ خدا کے فضل سے لڑکا زندہ سلامت اسکول میں پڑھ رہا ہے۔ یہ نسخہ خیر خواہان و دعا گویانِ حضور نظام خلد اللہ اور ملکہ کے واسطے عام خلائق کی نذر کیا جاتا ہے۔ جن کو آرام ہو وہ حضور کی دوام سلطنت و قیام عمر و دولت کے واسطے دعا مانگیں۔ اگر خطا کرے تو ہم ذمہ دار ہیں۔(سید احمد)\n\n٢٠۔ ساتھ کبوتر بازوں کی اصطلاح میں کبوتروں کی ٹکڑی کو کہتے ہیں۔\n\n٢١۔ کبوتر بازوں کی اصطلاح میں پٹیت اس کبوتر کو کہتے ہیں جس کے گلے میں طوق اور باقی رنگ یکساں ہوتا ہے۔\n\n٢٢۔ بھڑیاں وہ ہیں کہ کبوتروں کو “کو” کہہ کر اڑایا اور فوراً “آ” کہہ کر بٹھا لیا۔\n\n٢٣۔ تاوا وہ ہے کہ ٹکڑی کو ہنکایا اور ٹکڑی نے اپنے مکان کا چکر لگا کر آگے بڑھنا چاہا مگر کھلاڑی نے اسی جگہ سے بلا لیا۔\n\n٢٤۔ ساتھ کو دور تک جانے دینا اور پھر بلا لینا۔\n\n٢٥۔ زفیلنا بمعنی سیٹی دینا، سیٹی بجانا ہے۔ زفیل عربی میں زفیر تھا۔ فارسی میں سپیل جس کا معرب صفیر ہو گیا۔ اردو والوں نے زفیر کو زفیل کر لیا۔\n\n٢٦۔ ایران کے ایک شہر کا نام جہاں کے اولیاء اللہ مشہور ہیں۔ چنانچہ شمس الدین سبزوار جن کا مزار ملتان میں ہے، وہیں کے رہنے والے ہیں۔ محمد عماد حسن بن سلطان علی سبزواری نے ہی 1014؁ھ میں حضرت امیر خسرو کے مزار مبارک کا گنبد تعمیر کرایا تھا۔\n\n٢٧۔ بادشاہ کا تکیہ کلام جیسے میاں یا پیارے وغیرہ اولاد کو کہہ کر بات چیت کرتے ہیں۔ بادشاہ امّا کہہ کے خطاب کیا کرتے تھے۔ در اصل ارے میاں کا مخفف ہے۔ سید احمد\n\n٢٨۔ ان کی عالی شان کوٹھی طامس صاحب کی کوٹھی کے نام سے مشہور تھی، مگر اب مٹکاف ہوس کہتے ہیں۔\n\n٢٩۔ بعض لوگ اس کو الور کا بتاتے ہیں۔\n\n٣٠۔ گیو بہ یائے مجہول گودرز ایرانی پہلوان کے بیٹے کا نام ہے جو خود بڑا پہلوان تھا۔\n\n٣١۔ دلاور، پہلوان۔\n\n٣٢۔ یعنی بُھنگا", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D8%AD%D9%88%D8%A7%D8%B4%DB%8C"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/دہلی والوں کا خدا داد ملکہ", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "دہلی والوں کا خدا داد ملکہ\n\nجس حالت میں ہم نے دہلی کی پہلی، حال کی اور آئندہ زبان کا بیان، اس کی تمیز اور مقامی فرق کو آئینہ کر کے دکھا دیا تو اب مناسب نہیں کہ 1857؁ء سے پیشتر جو یہاں کے لوگوں کی چال ڈھال، تراش و خراش، چہل پہل ہماری نظر سے گزری تھی اسے چھپائے رکھیں۔ ان کی خدا داد طبعی جولانیاں، ملکۂ داد طلب کی روانیاں، ان کی جودتِ طبع، ان کی روشنیٔ طبع اور بے ساختہ اپج کو دل سے بھلا دیں۔ یہ باتیں آئندہ تاریخ نگاروں کے واسطے ایک قیمتی نوٹ کا کام دیں گی اور موجودہ نسلوں کو دلّی کے خمیر اور وہاں کی سرشت و خصلت سے آگاہی بخشیں گی۔ یہ ایک تھیٹر ہوگا اور ہمارا بیان ان کا ایکٹر۔ لیکن افسوس کہ ہم اس چھوٹے سے رسالہ میں اس کا تمام و کمال تماشا نہیں دکھا سکتے۔ ہر ایک بات کی مفصل کیفیت ہم نے ارمغانِ دہلی کے مقدمہ میں درج کر دی تھی جو آتشزدگی کے بعد کاتب کے گھر سے اور مطبع کے پروفوں سے ہاتھ لگا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ اگر خدا کو منظور ہوا تو فرہنگِ آصفیہ کے طبع ثانی کے موقع پر اسے بھی درج کردیں گے۔ اب تو صرف بطورِ نمونہ اس کے ایک موقع کی نقل اس جگہ کر دیتے ہیں۔ اصل مقدمہ میں اس کی سرخی “کرامات دہلی” تھی، اب خدا داد ملکہ ہے۔ جدید دارالسلطنت کی نو بہار دیکھنے والے اِسے بھی پیش نظر رکھیں اور دیکھیں کہ سرزمین دہلی نے اول اول کیسے گل کھلائے اور کیسے کیسے نو نہال پیدا کیے۔ اب نئے سرے سے ہمارے مَلکِ معظم شہنشاہ ہند و انگلینڈ جارج پنجم کے عہدِ معدلت مہد میں یہ گلزار نئے نئے پھلوں، پھولوں سے آراستہ و پیراستہ ہو کر کیسا کیسا لطف دکھاتا ہے۔ عمارتوں کی، سڑکوں کی، تفرّج گاہوں کی، تفریحی مقاموں، جدید بازاروں، جدید شاہی دفتروں، اجتماعِ افواج، انگریزی باجوں، شاہی درباروں، روسائے ہند کے رئیسانہ جلوسوں، شاندار سواریوں، سلامی کی توپوں وغیرہ کی کیسی دھوم دھام دکھاتا اور ہر طرح سے ادنیٰ و اعلیٰ کے دلوں کو لبھاتا ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C_%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D9%85%D9%84%DA%A9%DB%81"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/ذہن کی رسائی اور سودا بیچنے والوں کی آوازیں", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "خدا داد ذہن کی رسائی اور طباعی کا یہ عالم تھا کہ ادنیٰ جاہلِ مطلق ترکاری فروش جن کو غلط و صحیح زبان کا ہوش نہیں اور جاہل کیا بلکہ اجہل ہیں، اپنی ترکاریوں کو اس مزے سے چھڑک چھڑک کر بیچتے تھے کہ اَنہوئے کا جی للچا جاتا اور جی چلا کر خریدار بن جاتا تھا۔ کسی ترکاری کا نام کنایہ و تشبیہِ تام سے خالی نہیں ہوتا تھا۔ غیر ملک اور غیر شہر کا آدمی اِن کے لہجے کی خوبی اور بنا کر بیچنے کی خوش اسلوبی سے مستانہ وار بن بلائے آن پھنستا تھا۔ اگر بالفرض کوئی کنجوس مکھی چوس ہوتا تھا تو وہ بھی حاتم کی قبر پر لات مار حاتمانہ دل کر جاتا تھا۔ کبھی لحن داؤدی کا لطف آتا تھا تو کبھی میاں تان سین کی تان کا مزہ آ جاتا تھا۔ اگر کوئی مارو بینگن بیچنے والا ہے تو چھیبے میں مارو بینگن ہیں اور یہ آواز لگا رہا ہے “بھاڑ میں ڈال یا چنے کی دال میں ڈال”، نام نہیں لیتا۔ مگر لوازمات سے دلنشیں کر دیتا ہے کہ میں وہ چیز بیچ رہا ہوں کہ اسے دل چاہے بھاڑ میں بھنوا کر بھرتہ بناؤ یا چنے کی دال میں پکا کر سالن یا قلیہ کا لطف اٹھاؤ۔ کوئی “شاہ مرداں کی لالڑیاں” پکار رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ علی گنج کی میٹھی میٹھی لال لال اور اُودی اُودی گاجریں کھاؤ تو لے لو۔ علی گنج کی زمین چونکہ ریتلی ہے اس لیے وہاں کی گاجریں اور جگہ کی نسبت میٹھی اور خوش رنگ ہوتی ہیں جس کے سبب لعل کی تصغیر کرکے لالڑیاں کہہ دیا۔ “پال کے لڈو”، “لڈوے کی پال”، اس جگہ صرف پال کے اشارہ سے جتا رہا ہے کہ ہمارے پاس لڈّو کے مزے کے گولڑے آم ہیں۔ لڈو نہ کھاؤ انھیں کھا لو۔ “تیر کر آئی ہے بہتے دریاؤں کو”، نام نہیں لیا مگر جتا دیا کہ یہ وہ ترکاری ہے جو دریا کے کنارے فالینر میں بوئی جاتی ہے اور اب دریا پار سے لاکر یہاں بیچی جاتی ہے۔ وہ کیا ہے؟ ککڑی۔ “شرط والے کی باڑی ہے” یعنی شرطیہ میٹھی باڑی کی ککڑیاں ہیں۔ “نون کے بتاسے”، “کالی بھونرالی نمکین”، “نون والے ہی نمکین” جامن(١٦) فروشوں کی آواز ہے۔ (1) چونکہ شروع فصل میں بے دانہ جامن گول اور گودے دار ہوتی ہے جسے فروشندہ نمک ڈال کر ہانڈی میں گھلا کر دیتا ہے اور بتاسے کی طرح منہ میں جلد گھل جاتی ہے، اس سبب سے نون کے بتاسے کہا۔ (2) جو چیز ہم بیچ رہے ہیں وہ بھونراسی کالی، اسی کے سے قد کی نمک میں گھلائی ہوئی اور نمکین ہے۔ (3) یہ چیز نون کے ساتھ مزہ دینے والی اور نمکین ہے۔ “نرمل تلاؤ کے دودھیا”، “کیوڑے کی بیل کے سنگھاڑے” (1) یعنی ہم جس چیز کو بیچ رہے ہیں وہ صاف پانی کے تلاؤ کے لائے ہوئے اور دودھ کے سے مزہ کی ہے۔ (2) ہم سنگھاڑے بیچ رہے ہیں جن میں کیوڑے کی سی خوشبو ہے۔ پس ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سنگھاڑے کی بیل نہیں وہ کیوڑے کی بیل ہے۔ بھنے سنگھاڑے کی آواز۔ “کاغذ گری کے بھنا دیے بادام” یعنی ہمارے بالو میں بھنے ہوئے سنگھاڑے کاغذی بادام کی گری سے کم نہیں ہیں۔ نام تو نہیں لیا مگر مزہ یاد دلا دیا۔ علی ہذا “اخروٹ کی گری کے مزے کا، گرمی کی ٹھنڈائی ہے میرٹھ سے منگائی ہے” کسیرو والے کی آواز۔ چونکہ میرٹھ کے پاس کسیرو کھیڑے میں بہ کثرت ہوتے ہیں اور موسم گرما میں ان کے کھانے سے دل میں ٹھنڈک سی پڑ جاتی ہے، نیز مزاجاً بھی دوسرے درجہ میں سرد ہیں، پس اس مناسبت سے یہ آواز لگائی۔ “پیڑ کے پکّے امرود میں سیب کا مزہ” اس آواز میں جتاتا ہے کہ پھل وہی اچھا ہے جو پیڑ کا پکّا ہو نہ کہ پال ڈال کے یا گدرے توڑ کر پختہ کر لیے ہوں، پس ہمارے پاس پیڑ کے پکّے امرود ہیں اور اسی وجہ سے ان میں سیب کا مزہ ہے۔توت فروش کی آواز “ریشم کے جال میں ہلایا، قند کا بنا ہے جلیبا”۔ باغبان اکثر تو یونہی پیڑوں کی ٹہنیاں ہلا کر شہتوت جھاڑ لیا کرتے ہیں اور بعض درخت کے نیچے چادر تان کر ٹہنی کو ہلا دیتے ہیں، ریت اور مٹی سے بچا کر جمع کر لیتے ہیں۔یہ کہتا ہے کہ ہمارا جلیبا ریشم کے جال میں ہلا ہلا کر جھاڑا گیا ہے۔ گرد و غبار سے پاک ہونے کے سبب اس میں قند کا مزہ ہے، گویا قند سے ہی بنایا گیا ہے۔ ریشم کے جال سے ایک اور خوبی بھی جتائی یعنی ظاہر کر دیا ہے۔ چونکہ ریشم کے کیڑوں کی توت کے پتّے خوراک ہے اور اسی درخت پر وہ پالے نیز پرورش کیے جاتے ہیں۔ پسں ہم نے اسی کیڑے کے جال میں جھاڑ کر اکھٹا کیا ہے جو اس درخت کا مایہ ناز اور اعلیٰ درجہ کا ریشمی کیڑا ہے۔ آڑو والے کی آواز “ڈالی ڈالی کا گھلا پیوندی ہے” یعنی ہمارے پاس پیوندی آڑو ہیں جو ڈالی ڈالی میں پک کر قدرتاً گھل گئے ہیں۔ فالسے والے کی آواز “سانولے سلونے ہیں شربت کو” یہاں فالسوں کا نام نہیں لیتا مگر ان کی رنگت اور لوازمات کو جتا رہا ہے جس سے گاہک خود سمجھ جاتا ہے کہ سانولا رنگ اور نمک سے مزیدار بننے یا شربت بنا کر پینے والی چیز یعنی فالسے ہیں۔ وہ یہ سمجھ کر خرید لیتا ہے کہ فالسے ہیں۔ خربزہ والے کی آوازیں “قند کے ڈلے ہیں قند کے” (2) تربوز فروش کی آواز “باڑی کے رنگ لال ہیں”۔ (3) “رنگت کے گھڑے ہیں”، “بھائی سب ہی رنگ لال” (1) یعنی مزے میں قند کے ڈلے ہیں تربوز (2) فالیز کے رنگ لال تربوز ہیں۔ (3) مصنوعی رنگ سے لال نہیں کیے ہیں بلکہ کھیت میں ہی پک کر لال ہوئے ہیں۔ ان کو ضرور خرید لو۔ “کالے پہاڑ کی سوندھی اور میٹھیاں” (پھونٹیں) (2) “بیجوں سے میٹھیاں” یعنی سیندھیاں یا کچریاں۔ یہ کچریاں بیچنے والے کی آواز ہے کہ ہم منہ سے نام نہیں بتاتے مگر اتا پتا دیتے ہیں کہ جو چیز ہم بیچ رہے ہیں یہ اس کھیت کی ہیں جو دہلی سے قریب جانب غرب کالا پہاڑ نامی ہے۔ وہاں کی سوندھی اور میٹھیاں ہیں۔ بھلا کیا؟ کچریاں ! جن کا خوشگوار خوشبو کے سبب سیندھیاں نام پڑ گیا ہے۔ میٹھی بھی ہیں، کھٹ مٹھی بھی۔ ان کے بیج اور جگہ کی کچریوں کی طرح کڑوے نہیں ہیں۔ بھٹے والے کی آوازیں “دریا کی ریتی کے کیلے ہی کا مزہ”، “نو بہار کیلے بھٹے لے جا ہری ڈالی کے”، اول آواز میں بھٹے کو بلحاظِ قد و قامت و شیرینی کیلے سے تشبیہ دی۔ دریاؤں کی ریتی سے اصل کیلے کا شبہ مٹا دیا تاکہ خریدار دھوکا نہ کھائے۔ دوسری آواز میں لفظ نو بہار سے نیا پھل، ہری ڈالی سے اس کے تازہ ہونے کا یقین دلایا۔ کیونکہ تازہ بھٹّا جس قدر میٹھا ہوتا ہے دیر کا رکھا ہوا یا رات کا بسا ہوا ایسا مزیدار نہیں ہوتا۔ اس خوبی کے علاوہ بعض میوہ فروش تو مصرعے کے مصرعے گھڑ ڈالتے ہیں۔ مثلاً “مزہ انگور کا ہے رنترے(١٧) ہیں” پورا مصرع ہے جسے شاعروں تک نے مانگ کر اپنی غزلوں میں شامل کر لیا اور دوسرا مصرع اس طرح چسپاں کر دیا ہے “عسل زنبور کا ہے سنترے میں”۔ کھٹّے چنے والے کی مصرع میں آواز “کرارے بُھربُھرے نیبو کے رس کے”، دیگر “لے آ چاٹ ہے یہ دہی کے بڑوں کی”، “یہ جاڑے کی لو کھوپرا ہے گجک” یعنی گجک جو ہم تلوں سے بنا کر بیچ رہے ہیں، یہ جاڑے کے موسم کی گجک اور کھوپرے کے مزے کی نیز موسم سرما کے مناسبِ حال ہے۔ غدر سے ایک برس پیشتر ایک موتیا فروش بوڑھا چاندنی چوک میں یہ آواز لگایا کرتا تھا۔ بالا خانوں کی تعلیم سے آشنائی رکھنے والے پھولوں، کنٹھوں کے دلدادہ، عاشق مزاج اسی سے خرید کر رقاصوں، طوائفوں کو اپنے گلے کا ہار بناتے اور پھولے نہ سماتے تھے۔ وہ دلفریب و دلکش آواز تھی۔ گل فروشوں کی آوازیں “لوکٹورے موتیا میاں لوکٹورے (مو)”، “کیا لپٹیں آ رہی ہیں چنبیلی میں”، “کیا بہار ہے زرد چنبیلی میں”۔ القصہ ہر ایک چیز کے بیچنے والے کی جداگانہ آواز تھی۔\n\nیہی فقیروں کا حال تھا کہ روز ایک نئی صدا بنا کر گھر گھر مانگتے پھرتے تھے۔ کوئی کہتا تھا (1) کیا تھا کیا ہو گیا۔ چمن تھا گل ہو گیا۔ (2) کیا تھا کیا ہو گیا گل تھا چمن(١٨) ہو گیا۔ یاد رب کی اور خیر سب کی۔ یہاں دے اور وہاں لے۔ ترے آگے کی بھی خیر پیچھے کی بھی خیر (یہ ایک رسول شاہی پر معنی صدا تھی)۔ اِس ہاتھ دے، اُس ہاتھ لے۔ فرید شکر گنج، نہ رہے دکھ نہ رہے رنج۔ دُھم قلندر دودھ ملیدہ۔ مست قلندر دودھ ملیدہ۔\n\nاب ذرا سقّوں کی بھی کیفیت سنیے۔ چھل پلانے والے سقے۔ دہلی میں ایک تو وہ سقے ہیں جو گھروں میں پانی بھرتے پھرتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو دن بھر کٹورہ بجا کر بازاروں میں دو کوڑی پیاس، چار کوڑی پیاس پانی پلایا کرتے تھے، انھیں چھل پلانے والے سقّے کہا کرتے تھے۔ سہ پہر سے چاندنی چوک میں، جامع مسجد پر، چاؤڑی بازار میں، فراشخانہ کے باہر ان کا جمگھٹ رہا کرتا تھا۔ ایسے مزے سے تال سر کے ساتھ دو کٹورے ملا کر بجاتے تھے کہ بار بد بھی ان کے آگے کان پکڑتا تھا۔ اور جس وقت دو سقّوں میں بحث آ پڑتی تھی تو ہر ایک اپنا کمال دکھا کر تحسین و آفریں کا مستحق ہوتا تھا۔ بھری مشک کندھے پر ، مشک پر کھاروے کا تربتر کپڑا پڑا ہوا، ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا کٹورا بھرا ہوا لیا اور ہر ایک شریف سے کہا کہ میاں پانی لاؤں! اگر کسی نے سبیل پلانے کی اجازت دے دی تو اس صورت میں شعر پر شعر پڑھتے جاتے اور سبیل پکارتے جاتے تھے۔ کوئی کہتا تھا کہ سبیل ہے پیاسوں کو۔ کوئی کہتا تھا کہ تیرے پاس ہو تو دے جا، نہیں پی جا راہِ مولی۔ کوئی کہتا تھا کہ سبیل ہے حسینؑ کے نام کی۔ سبیل ہے دونوں شہزادوں کے نام کی:\n\nپانی پیو تو یاد کرو پیاس امام کی\n\nپیا سو! سبیل ہے یہ شہیدوں کے نام کی\n\nدن بھر پانی پلاتے۔ رات کو اپنی اپنی منڈلی میں بیٹھ کر کھنڈ الاپتے اور تمام دن کی تھکن اتارتے تھے۔ باقی پھر کبھی:\n\nاب تو جاتے ہیں میکدہ سے میر\n\nپھر ملیں گے اگر خدا لایا", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D8%B0%DB%81%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%DA%86%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/زبان اردو اوّل کن کن زبانوں سے مخلوط ہوئی", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "زبان اردو اوّل کن کن زبانوں سے مخلوط ہوئی\n\nاُس زمانے میں اردو کو صرف چار زبانوں سے مرکب خیال کرتے تھے یعنی عربی، فارسی، ترکی، ہندی کے مجموعے کا نام ریختہ یا اردو تھا۔ مگر نہیں، اس میں شاذ و نادر تاجرانِ ممالکِ غیر کے سبب پرتگالی، فرانسیسی، انگریزی زبان نے بھی کچھ دخل پالیا تھا۔ چنانچہ محسن دہلوی نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے:\n\nکیوں نہ مطبوعِ جہاں یاں کی زباں ہو محسنؔ\n\nسب زبانوں کا خلاصہ ہے زبان دہلی\n\nلیکن اب تو قریب قریب چوتھائی انگریزی زبان اس میں شامل ہو گئی ہے اور ہوتی چلی جاتی ہے۔ اخیر میں جا کر اردو زبان کے صرف افعال ہی افعال رہ جائیں گے۔ تذکیر و تانیث، ترکیب نحوی وغیرہ کے سب جھگڑے جاتے رہیں گے۔\n\nپہلی اور کسی قدر موجودہ حالت تو ضمناً آپ صاحبوں کی نظر سے گزر گئی۔ اب موجودہ حالت کی کسی قدر وضاحت کے ساتھ کیفیت بیان کی جاتی ہے۔\n\nاردو زبان کو جسے اب ہندوستانی زبان کہنا پڑے گا،بخیالِ وسعت بہت کچھ ترقی ہے اور بلحاظِ فصاحت و بلاغت نہایت تنزل۔ کتابی عبارت، تصانیفی حالت تو اب بہت کچھ بدل گئی۔اخلاقی اور علم ادب کی تحریر کا بھی قریب قریب یہی حال ہے۔ ٹکسالی زبان خود ٹکسال باہر ہو گئی۔ عوام کالانعام کی بولی نے اس کی جگہ سنبھال لی۔ اس بھرتی کی ترقی کے اسباب مختلف ممالک کے سیاحوں، ریلوے پاسنجروں، دُخانی کارخانوں، انجینئروں کے کاموں، ملک ملک کے قُلیوں، کاریگروں، فوجی سپاہیوں، متفرق محکموں، ڈاک خانوں، تارگھروں، ریلوے ملازموں، اہل پیشہ، اہل حرفہ کے محاوروں، تھیٹروں کے ناولوں، ڈراموں، مذہبی مباحثوں، اخباروں، تازہ ولایت صاحب لوگوں، خدمت گاروں، خانساماؤں، بٹلروں کے بے قاعدہ، غیر مربوط، غیر مانوس، بے ڈھنگے الفاظ ہیں جو کثرت سے معمولی زبان میں آمیز ہو گئے ہیں۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%D8%A7%D9%88%D9%91%D9%84_%DA%A9%D9%86_%DA%A9%D9%86_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/زبان کی تمیز، اس کا فرق اور مقامی امتیاز", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "زبان کی تمیز ، اس کا فرق اور مقامی امتیاز\n\n(١) زبان تو وہی ایک گوشت کی بوٹی ہے جو دانتوں کی چار دیواری میں تالو کی چھت کے نیچے بَل مارتی پھرتی ہے۔ کبھی تو ہونٹوں کے پھاٹک میں درّانہ آ کھڑی ہوتی ہے، کبھی گردن نکال کر ادھر ادھر کچھوے کی طرح جھانکنے لگتی ہے۔ کبھی میٹھی چیز کا مزہ لیتی ہے، کبھی کھٹے اور کڑوے سے منہ بناتی ہے۔ کوئی اسے لسان(٥) کہتا ہے کوئی جِیب(٦) کوئی تیل(٧) کہتا ہے تو کوئی ٹنگ(٨) کسی نے للّو(٩) کہہ لیا، کسی نے رسنا(١٠) سمجھ لیا۔ مگر ہماری مراد اس جگہ روز مرہ کی بول چال یا ہر ایک ملک کی بھاکا سے ہے۔ اس میں خواہ عورتوں کی بولی ہو خواہ مردوں کی ، گنواروں کی گفتگو ہو یا شہر والوں کی، لکھنؤ کی لغت تراشی اور متانت ہو یا دہلی کی سادگی اور سلاست، قلعہ معلیٰ کی معاملہ بندی ہو یا ثقات کی لطیفہ گوئی، شُہدوں کا پھکّڑ ہو یا آزادوں کی بدلگامی، پیشہ وروں کی اصطلاحیں ہوں یا دلالوں کی رمزیں، بچوں کا اوں اوں اور مم مم کرنا ہو یا بیگموں کا نِت نِت اور جم جم کہنا۔ یہ ساری باتیں ہماری اُس زبان میں داخل ہیں جس کا ہمیں بیان کرنا منظور ہے۔\n\n(٢) عام زبان کسی خاص قوم یا شہر پر مخصوص نہیں ہے۔ یہی زبان ہے کہ جانوروں کے منہ میں ہے اور یہی زبان ہے کہ آدمیوں کے دہن میں ہے۔ اگر بلبل اپنے چہکنے میں خوش ہے تو کوّا اپنی کائیں کائیں میں مگن ہے۔ کوئل کوک کو اچھا جانتی ہے تو مور جھِنگارنے کو افضل سمجھتا ہے۔ مینڈک ٹرّانے میں مست ہے تو جھینگر جھیں جھیں میں خوش۔ پپیہا پی پی سے دل بہلاتا ہے تو فاختہ کو کو سے انند ہوتی ہے۔ کتا بھونکنے کو خوب سمجھتا ہے تو شیر دھاڑنے کو پسند کرتا ہے۔ اونٹ کو بڑّانا بھاتا ہے تو بِجار کو ڈکرانا بھلا لگتا ہے۔ غرض ایک دوسرے کی زبان اور لہجہ کو بحیثیت مجموعی ہم برا نہیں کہہ سکتے۔ اس لیے کہ ہر ایک کی زبان بجائے خود عمدہ اور بہتر ہے۔ جو فصیح آدمی اپنی زبان سے کام لیتے ہیں وہی غیر فصیح اور جانور بھی اپنا مطلب نکال لیتے ہیں۔\n\n(٣) زبان کیا ہے۔ منشائے دلی کے اظہار کرنے کا آلہ ہے۔ ایک زمانہ ہوگا کہ ہم آنکھوں یا ہاتھوں کے اشارہ سے کام لیتے ہوں گے۔ پھر ایک زمانہ وہ آیا ہوگا کہ ہم نے صرف اِسموں سے کام نکالا ہوگا۔ اب ایک زمانہ یہ ہے کہ ہم نے اسما، افعال، روابط وغیرہ وغیرہ کو ملا جلا کر ایک عمدہ تسلسل پیدا کر لیا اور اپنے مفہوم کو اس طرح ادا کرنے لگے کہ سامع کو سمجھنے میں کسی طرح کی دقت نہ رہی۔\n\n(٤) اب اگر ہم طاقتور، شہ زور اور کسی جنگل یا پہاڑ کے محنت کش باشندے ہوں گے تو ہمارا ایک ایک لفظ اور ایک ایک کلمہ جرأت، طاقت، سختی، اکّھڑپن، غضب و خشونت کا جامہ پہنے ہوئے ہوگا۔ حاکم سے بولیں گے تو اکڑ ہی کر بولیں گے۔ اخلاص کی بات بھی کریں گے تو ایسی جیسے پتھر کھینچ مارا ۔ اس میں بھی اگر بانگر میں ہماری بود و باش ہوگی تو ہم سب سے زیادہ کرخت لفظ زبان سے نکالیں گے اور جو کھادر میں تو اس سے دوسرے درجے پر ہمارے الفاظ ہوں گے۔ اور اگر ہم دال چپاتی کھانے والے ، ناز پروردہ، عیش منانے والے ہوں گے اور کبھی ریاضت کے پاس نہ بھٹکے ہوں گے تو ہماری بات بات سے مسکینی، غربت ، سستی، کاہلی ٹپکے گی۔\n\n(٥) اوپر کی بحث سے ثابت ہوا کہ کوئی ملک اور کوئی ولایت کیوں نہ ہو، اس میں دو طرح کی زبان اور دو طرح کے الفاظ ہوں گے۔ بعض الفاظ میں صرف لہجہ کا فرق ہوگا، بعض میں اصلیت کا۔ اس میں سے ایک زبان اکّھڑ اور سخت کے نام سے جسے گنواری یا جفاکش لوگوں کی بولی کہہ سکتے ہیں، مشہور ہوگی۔ دوسری ملائم اور نرم جسے شہری زبان کے نام سے موسوم کرنا بیجا نہ ہوگا، تعبیر کی جائے گی۔\n\n(٦) تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ بارہ بارہ کوس کے فاصلہ پر زبان بدل جاتی ہے مگر خاص شہر میں بھی دو طرح کی زبان ہوتی ہے۔ ایک عام لوگوں کی جسے بعض لوگ زبانِ جہلا یا ادنیٰ آدمیوں کی زبان کہتے ہیں۔ دوسری خاص لوگوں کی جسے زبانِ شعرا یا فصحا سے نسبت دیتے ہیں۔ شعرا کی زبان میں بھی اختلاف ہے۔ کوئی عام محاورے پسند کرتا ہے، کوئی خاص۔ جیسے استاد ذوقؔ اور حضرت غالب۔ اب اُن شہروں میں بھی فرق ہے۔ جو شہر کسی بادشاہ کا مدت تک دارالخلافہ رہا ہوگا، اس کی زبان اور شہروں کی نسبت عمدہ اور زیادہ شائستہ خیال کی جائے گی اور ہر ایک مصنف یا شاعر یا فصیح اسی شہر کی زبان کو قابل سند اور لائق تقلید سمجھ کر وہاں کے باشندوں کی پیروی کرے گا۔ اور جو وہ شہر(١١) نہ تو کسی نواب یا وزیر یا اس کی تخت گاہ ہوگا اور نہ اس میں فصحا و شعرائے زبان کا مجمع ہوگا تو اُس کا چنداں اعتبار نہیں کیا جائے گا، گو وہ شہر کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرے۔ لیکن باعتبارِ زبان تو ہر ایک زبان کا مرتبہ ایک ہی ہے مگر اس لحاظ سے کہ دار السلطنت میں آکر ہر ایک لفظ سانچے میں ڈھلتا اور خراد چڑھتا ہے، اسے سب پر ترجیح دے سکتے ہیں۔ اس بات کے ثبوت میں ہزاروں دلیلیں موجود ہیں۔ اگر کوئی کشمیر کا رہنے والا ہندوستان کی زبان کو برا بتائے یا کوئی ہندی نژاد اصفہان کی زبان کو ٹکسال باہر ٹھہرائے تو کیا کوئی عقلمند تسلیم کر لے گا؟ نہیں ہرگز نہیں۔\n\n(٧) اب رہی یہ بات کہ زبان کی عمدگی کن باتوں پر منحصر ہے۔ سو یہ ہم کیا تمام عالم کھلے خزانے کہہ رہا ہے کہ زبان کی خوبی اس کی سلاست، عام فہمی، نرمی،موزونی، دل کشی، چھوٹے چھوٹے الفاظ، بڑے بڑے مطالب پر موقوف ہے۔ جو لفظ جہاں چسپاں ہو وہیں نگینے کی طرح جڑا ہو۔ بچوں سے لے کر بوڑھوں تک کی سمجھ میں آجائے۔ سو یہ بات زیادہ تر عورتوں کی زبان میں پائی جاتی ہے اور عورتیں بھی کون سی جو بازاری نہ ہوں یا ان لوگوں کی بول چال میں جنھوں نے اپنے ماں باپ کے روزمرہ کو معیوب سمجھ کر اس کے چھوڑ دینے پر مبادرت نہ کی ہو، اپنی اصل پر خود بھی قائم رہے ہوں اور زبان کو بھی جوں کا توں بنا رکھا ہو۔ اگر چہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ اوروں کی زبان کی حرف گیری کرتے ہیں وہ بھی گھر میں جا کر اپنے بال بچوں کے ساتھ وہ گفتگو نہیں کرتے جو باہر لوگوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کی تحریر میں بھی وہ لفّاظی، سجع بندی، قافیہ پیمائی، خودرائی پائی جاتی ہے کہ جسے سن کر خواہ مخواہ آدمی کی طبیعت الجھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کوئی بات بناوٹ، ساختگی اور آوُرد سے خالی نہیں ہوتی ۔ بلکہ ان کا کلام نِرا بے لطف اور بے اثر ہوتا ہے۔ خواہ مخواہ عربی، فارسی کے غیر مستعمل لغت ٹھونس ٹھونس کر بھر دیتے ہیں۔ اگر کوئی عبارت لکھنے بیٹھے تو دس بیس لغت کی کتابیں آگے رکھ لیں اور اپنی بے معنی علمیت جتانے کو بڑے بڑے لفظ چن کر اس عبارت میں داخل کرتے چلے گئے اور اس کا نام زبانِ علمی رکھ لیا۔ اگر وہ زبانِ اردو ہے تو اس کا نام بدنام کرنے کو بود کی جگہ تھا، است کی جگہ ہے لکھ دیااور اس عبارت کو سررشتہ تعلیم کا رہنما سمجھ لیا۔ عربی لفظوں کو اس طرح بھرا کہ ایک ایک بات کے چار چار مترادف ٹھہرا کر لکھ دیے۔ ان کی بلا سے کوئی اس سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے۔ کسی نے اس عبارت کو مجذوب کی بَڑ جانا اور کسی نے بلائےجان سمجھا۔ اگر وہ اخبار ہے تو پُڑیاں بندھیں اور جو کتاب ہے تو لڑکوں نے پٹاخے بنائے۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ اب پھر اپنے مطلب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔\n\n(٨) جس طرح زبان کی خوبی سلاست پر موقوف ہے، اسی طرح اس کی تکمیل ہر قسم کے الفاظ کی دستیابی اور کسی طرح کی روک نہ ہونے پر مخصوص ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کے سخت الفاظ سے پرہیز کریں اور ان کو اپنی زبان پر نہ آنے دیں تو سخت کاموں کے واسطے کہاں سے لفظ لائیں گے اور سخت آلات کا نام کن کن لفظوں سے موزوں کریں گے۔ ایسے لفظوں کا استعمال کرنا جو بالکل ہمارے کانوں سے جدا، زبان سے نا آشنا ہوں کسی طرح کارآمد نہ ہوگا۔ بلکہ اگر وہ لفظ ہمارے قواعد اور لہجہ کے موافق ڈھالے جائیں گے تو بھی پورا پورا مطلب نکالنے پر قادر نہ ہوں گے۔ مگر پچھلی صورت جب تک اپنی زبان سے کوئی لفظ بنایا جائے اور اس کی کامل ترقی ہو، کام نکالنے کے لیے اچھی ہے۔ پہلی صورت کا مصداق ہمارے ہندوستان میں اسی شہر کے لوگ ہیں، جہاں کے نوکر چاکر تک جن کو آٹھ پہر اُن لوگوں سے کام پڑتا ہے، اپنے آقا کی بولی نہیں سمجھ سکتے۔ ان کے آقاؤں کی زبان پر عربی فارسی کے وہ الفاظ چڑھے ہوئے ہیں جو شاید ان کے سوا اور لوگ لکھنے میں بھی استعمال نہ کرتے ہوں گے اور وہ بھی لکھتے ہوں گے تو لغت کی کتاب سامنے رکھ کر۔\n\n(٩) پرانی زبانوں کو جو تنزل ہوا ہے اس کا بڑا سبب یہی ہے کہ غیر مانوس الفاظ کا رواج پانا، دوسرے ملک کے ایسے لفظوں کو جن کا ثانی اپنے ملک میں موجود ہو داخل زبان کرنا، سخت سخت مخارج کے لفظوں کو فخریہ اپنی زبان پر چڑھانا، عام لوگوں کی زبان کو پایۂ اعتبار سے گرانا، سہل الخروج لفظوں کو خیال میں نہ لانا۔ علی ہذا القیاس اور بھی ایسے ہی باعث ہوئے ہیں کہ جہاں کوئی کرخت اور سخت لفظ لوگوں کی زبان سے نہ نکلا یا تو اسے بالکل ترک کر دیا یا کچھ سے کچھ کر لیا۔ اور دیگر زبان کے آسان لفظ دیکھ کر اپنی زبان میں ملا لیے۔ سخت زبان صرف کتاب ہی میں دھری رہ گئی۔\n\n(١٠) ایک زمانہ وہ تھا کہ تمام ہندوستان میں سنسکرت پھیلی ہوئی تھی۔ کوئی اکّا دکّا ہی ہوگا جو سنسکرت سے آشنا نہ ہوگا۔ مگر چونکہ اس کے اکثر الفاظ بآسانی ادا نہیں ہو سکتے تھے، اُسی زمانے میں اس سے ملتی جلتی ایک اور پالی زبان بولی جانے لگی۔ جب اُس میں بھی وہی دقت پیش آئی تو پراکرِت کا جھنڈا قائم ہوا، یہاں تک کہ رفتہ رفتہ بھاکا اور پھر اردو زبان کا رواج ہو گیا۔ قدیمی زبان ایسی گم ہو گئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ البتہ سنسکرت کے وہ الفاظ جو ہماری زبان سے آسانی کے ساتھ نکل سکتے تھے آج تک جوں کے توں قائم ہیں اور جو الفاظ اس زمانہ میں پنڈتوں کے سوا اور لوگوں کی زبان سے صاف ادا نہیں ہو سکتے تھے یا تو وہ صرف کتابوں میں ہیں یا انھوں نے کوئی اور صورت قبول کر لی ہے۔ یعنی کہیں سے کوئی حرف گرا دیا، کہیں کسی حرف کو کسی حرف سے بدل دیا اور اپنا مطلب نکال لیا۔\n\n(١١) ایک ہی ملک میں ایک زبان کے ہوتے جو دوسری زبان کا رواج ہو جاتا ہے، اُس کا سبب بھی یہی ہوتا ہے کہ پہلی زبان اپنی سختی کے باعث ناگوار گزرنے لگتی ہے۔ دیکھو سنسکرت کے زمانہ میں پالی اور پراکرت نے اپنا جھنڈا گاڑ ہی دیا۔ژند و پاژند کے وقت میں دَری کا نقشہ جم ہی گیا۔ عبرانی کے وقت میں عربی نکل ہی آئی۔ اسی طرح ہر ایک زبان میں ہوتا آیا ہے اور اکثر سخت زبانوں کا یہی حال ہوتا ہے۔\n\n(١٢) اس بیان سے ہماری مراد یہ نہیں کہ غیر زبانوں کے لفظ اپنی زبان میں داخل ہی نہ کیے جائیں۔ نہیں اگر ضرورت پڑے تو ضرور داخل کر لو۔ بعض علومِ جدیدہ اس قسم کے ہیں کہ ان میں جو اصطلاحیں استعمال میں آتی ہیں وہ ہماری زبان میں موجود نہیں۔ مثلاً علم نباتات و جمادات میں جو اصطلاحیں استعمال کی جاتی ہیں، ان کے مرادف ہماری زبان میں بہت کم ہیں۔ اسی طرح ریل اور تار کی اکثر اصطلاحیں ایسی ہیں، جن کے مرادف نہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم نئے لفظ تراشنے کی کوشش کریں اگر انھیں الفاظ کو بجنسہٖ یا تھوڑے تغیر و تبدل سے اپنی زبان میں داخل کر لیں تو اس کا مضائقہ نہیں۔سٹیشن، لمپ، انجن، پنسل انگریزی کے لفظ ہیں۔ مگر ان کا رواج ایسا عام ہو گیا ہے کہ کانوں کو برے معلوم نہیں ہوتے۔ اس قسم کے الفاظ زبان میں داخل کرنے سے زبان کی وسعت ہوتی ہے اور اپنے خیالات کو ظاہر کرنے کا آسان طریقہ حاصل ہوتا ہے۔ البتہ کوئی شخص روٹی کی جگہ بریڈ، پانی کی جگہ واٹر استعمال کرے تو یہ نہ تو کانوں کو اچھا معلوم ہوگا اور نہ زبان کو اس سے وسعت حاصل ہوگی۔\n\nجس وقت ١٩١١؁ء میں دلی شہر ہند کا دارالخلافہ قرار دیا گیا تو ہماری زبان سے حسب فرمائش جناب لفٹنٹ کرنل ڈیلس صاحب بہادر کمشنر دہلی، بے ساختہ اس جدید دار السلطنت کا نام “مستقر الخلافہ” ظہور پذیر ہوا۔ روزانہ پیسہ اخبار اور رسالہ تاج حیدرآباد دکن کے رسالے نے اسے بڑے شوق سے چھاپا۔ چنانچہ بمقتضائے وقت اس جگہ بھی اس کی نقل کیے دیتے ہیں۔\n\nقطعہ تاریخ جدید دار الخلافہ دہلی\n\nیہ ڈیلس بہادر نے فرمایا مجھ سے\nاسی کے مطابق ہو نام اس کا ایسا\nبرآمد ہوا ایسا ہی نام سید\nنہ ہجری نہ سمّت نہ فصلی کا جھگڑا\n\nکہ قیصر نگر کی جو ہے شان و عظمت\nبرآمد ہو تاریخ بے رنج و کلفت\nنہیں جس کے اعداد میں کچھ بھی حجت\nمگر عیسوی مستقر خلافت\n\nشہنشاہ اکبر کے زمانہ میں اکبر آباد کو مستقر خلافت لکھا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں دہلی شاہجہاں آباد کو بھی مستقر خلافت لکھنا واجب و لازم ہے۔ اب ہم غیر مطبوعہ مقدمہ لغات میں سے کسی قدر عبارت کی اس جگہ نقل کر کے ناظرین رسالہ کو محظوظ کرتے ہیں:\n\n“القصہ دلّی کے ادنیٰ ادنیٰ آدمیوں پر سحر بیانی ختم ہے۔ نغمہ داؤدی ان کی ایک قدیم رسم ہے۔ بات بات میں اعجاز ہے۔ مسیحا کو انھیں حضرات پر ناز ہے۔ فصاحت طفل مکتب ہے اور بلاغت تلمیذِ اصلاح طلب:\n\nکسے را زندگانی شاد باشد\n\nکہ در شاہ جہاں آباد باشد\n\nچونکہ ہر بدایت کے واسطے نہایت اور ہر آغاز کے لیے انجام ضرور ہے۔ پس ہمارے وقت کے فصحا نے بعہد گورنری جناب لارڈ کوئیس آف رِپن اور ڈائرکٹر صاحب بہادر سر رشتہ تعلیم جناب کرنل ہالرائڈ صاحب بہادر نے جبکہ اخبار نویسوں کو آزادی بخشی گئی اور پنجاب یونیورسٹی قائم ہوئی تو 1882؁ء میں زبانِ نیچرل و سخن کو کمال پر پہنچا دیا اور فرشتوں نے زبان کے حق میں مقولہ اتممت عليكم سنا دیا۔ آئندہ امید شستگی معلوم و تمنائے آراستگی مفہوم:\n\nغلط کہ صانع کو ہو گوارا خراشِ انگشتہائے نازک\nجوابِ خط کی امید رکھتے جو قولِ جفّ القلم نہ ہوتا", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%85%DB%8C%D8%B2%D8%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%81%D8%B1%D9%82_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/شریفوں کے مشغلے", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "شریفوں کے مشغلے\n\nشریفوں کا شغل ڈنڑ، مُگدر، بانک(١٣)، بنوٹ(١٤)، پھکیتی(١٥)، اکنگ، تیراندازی، نیزہ بازی، غلیل بازی، لیزم کشی، نعل برداری، پنجہ آویزی، شکرے اور باز کا شکار، روزمرہ آمیز سخن پردازی، نشانہ بازی وغیرہ کھیل جن کی گھر کے اندر مشق کی جاتی تھی اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ پھکیت یا بِنَوٹیے یا پٹا باز یا اِکنگ باز ہیں۔ ان میں ایسے ایسے استاد ہوتے تھے کہ وہ صرف رومال میں پیسہ یا ٹھیکری باندھ کر حریف کے سامنے آ جاتے اور رومال کی ضرب سے اس کا ہتھیار چھین لیتے تھے، ان کو ہتھیار کی کچھ ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ بلکہ کشتی گیر بھی اعلیٰ درجہ کے ہوتے تھے۔ بعض لوگوں کو تیراکی اور مچھلی کے شکار کا بھی بڑا ملکہ حاصل تھا۔ غرض سپاہ گری کے فنون سے کوئی خالی نہ تھا اور وقت پر اپنا جوہر دکھا کر مرحبا کا مصداق ہو جاتا تھا۔ چنانچہ مولوی اسماعیل صاحب شہیدؒ تیرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ علیٰ ہذا القیاس ستار بجانے میں مرزا گوہر، مرزا کالے، مرزا چڑیا۔ بین نوازی میں شاہ ناصر وزیر از خاندانِ خواجہ میر درد۔ خوش نویسی میں سید محمد امیر پنجہ کش ، آغا صاحب، مرزا عبید اللہ بیگ، امام الدین، احمد خاں، محمد جان، اخوند عبد الرسول وغیرہ یکتائے روزگار تھے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B4%D8%BA%D9%84%DB%92"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/شکریہ", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "شکریہ\n\nحضورِ اقدس و اعلیٰ سلطانِ دکن سلّمہ اللہ تعالیٰ\n\nچونکہ میرا جدید وظیفہ عنایت بالائے عنایت پر بلا توسّل توجہ فرما کر مع اِجرائے منصبِ برخوردار سعادت اطوار دربار احمد طال عُمرُہ حضور لامع النور نے قومی زبان، علمی زبان، درباری زبان، مغلیہ خاندان کی یادگار، میری دائمی تصانیف متعلقۂ زبان و اخلاق و ادبِ اردو یعنی قومی خدمت جاریہ کے باعث یہ رتبہ، یہ عزت، یہ فخر عطا فرمایا کہ:\n\nبے طلب جو ملا، ملا مجھ کو\n\nبے سبب جو دیا، دیا مجھ کو\n\nتو یہ کب ہو سکتا ہے کہ میری کوئی سی تصنیف، کوئی سا مضمون اس شکریہ کے ادائے فرض سے آنکھ چرائے اور اس نمک حلالی کو کور نمکی کا پالا بنائے۔ ہارون رشید، مامون رشید کا ذکر تاریخوں میں پڑھا تھا، بغداد و قرطبہ کی علمی شان و شوکت کو سیاحوں کے سفر ناموں میں دیکھا تھا، حاتم کی فیاضانہ کہانیاں عربوں کی رگ رگ میں بسی ہوئی پائی تھیں، مگر خدا سلامت رکھے عالیجناب معلیٰ القاب نواب میر عثمان علی خاں بہادر کی ذات بابرکات، مجموعہ صفات کو کہ ان کی فیاضی، علمی قدردانی، ہر فن کی دستگیری، غربا پروری کو اپنے کانوں سے سنا، آنکھوں سے دیکھا، ہم نے خود برتا اور تمام خلائق کو اس برتاؤ کا مدّاح و ثنا خواں پایا۔ پس ہمارا مختصر پہلا نذرانہ باعتبارِ تحریر ما قلّ و دلّ بحالتِ اختصار و بلحاظِ تحقیق و نتائج زبان اُردو وغیرہ از حد وسیع ہے؛ نہایت عجز و انکسار اور کمال ادب سے “برگ سبز است تحفہ درویش” پر عمل کر کے دست بستہ پیش کیا جاتا ہے:\n\nپائے ملخے پیشِ سلیماں بُردن\n\nعیب است، لیکن ہنر است از مورے\n\nاگر عمر نے وفا کی اور اللہ نے چاہا تو ضرور وفا کرے گی، نیز ساتھ ہی حصول سرمایہ نے دغا نہ دی تو اسی طرح لغات النساء، بچوں کا رکھ رکھاؤ، اخلاق النساء، رسالہ روزمرہ، رسالہ تفہیم المصادر، اُردو کا انوکھا قاعدہ مع طرز تعلیم بھی جن کے اکثر مسودوں کو فدوی نے قابلِ انطباع بنا دیا ہے، پبلک سے داد لے کر حضور اقدس و اعلیٰ کی نذر کرے گا بلکہ ہمیشہ کرتا رہے گا۔ اور ان شاءاللہ تعالیٰ وہ دن عنقریب آنے والا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے اور میرے کارکنانِ دفتر کو پاؤں پھیلا کر بیٹھنے کے واسطے ایک چھوٹا سا کمرہ بنوا دے گا:\n\nکام رکنے کا نہیں اے دلِ ناداں کوئی\n\nخود بخود غیب سے ہو جائے گا ساماں کوئی\n\nچنانچہ امید بستہ پکار پکار کر یہ شعر سنا رہی ہے:\n\nافسردہ دل نہ ہو در رحمت نہیں ہے بند\n\nکس دن کھلا ہوا درِ شاہِ زماں نہیں\n\nتاریخ تالیف\n\nمرقع کی ترتیب ہجری جو دیکھی\n\nتو نکلی ہے نذرِ آصف بہادر\n\n دہلی سید احمد دہلوی\n\n دسمبر ١٩١٥؁ء مؤلف فرہنگ آصفیہ وغیرہ\n\n دعا گوئے سلطنت ابد قیام حضورِ نظام خلدہ اللہ ملکہ\n\nواہ رے تیری قدرت\n\nخدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تصنیف کدہ یعنی کمرۂ دفتر فرہنگِ آصفیہ اور اس کا خلوت کدہ نہایت خوشنما بن کر تیار ہو گیا۔ اس کمرہ پر اس کے نام کا پتھر بھی لگ گیا۔ صرف استرکاری، فرنیچر اور کواڑوں کی چوڑیاں باقی ہیں۔صدر دروازے کے لیے مصرع ذیل تجویز ہوا ہے، کیونکہ یہ سارا سلطنت آصفیہ کے دم قدم اور اس کی عام فیاضی کا ظہور ہے۔ مصر؏: ہے نشانِ فیض عام دولت آصف یہاں\n\nاگر چہ فرہنگ آصفیہ مقروض ہو گیا مگر یہ قرضہ خدا تعالیٰ عنقریب ادا کردے گا، کیونکہ سلطنت آصفیہ کے آثار قدیمہ کا ایک معزز ناظم بچشم خود دیکھ کر اس تعمیر کی نسبت اپنی چشم دید نہایت سچی رائے تحریر کر گیا ہے۔فقط\n\nسید احمد دہلوی 28 مئی ١٩١٦؁ء", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D8%B4%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DB%81"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/شہری بیگمات کے محاورے", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "شہری بیگمات کے محاورے\n\nاب چند شہری بیگمات کے محاورے بھی ملاحظہ فرمائیے۔ان میں سے اکثر مشترک بھی ہیں۔\n\nتیز ہونا: غصہ ہونا، خفا ہونا، جھلانا\n\nکلیجہ پکڑے پھرنا: بے تابانہ پھرنا\n\nکُشتم کُشتا: مارپیٹ۔ گتھم گتھا۔ غٹ پٹ\n\nکلیجہ پکڑ کر رہ جانا: دل مسوس کر رہ جانا۔ آہ کر کے دم بخود ہو جانا\n\nمنہ فق فق ہو رہا ہے: چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ خوف یا ناتوانی سے چہرہ اتر رہا ہے\n\nماتھا ٹھنکا: کسی آنے والے صدمہ یا آفت کا اندیشہ گزرا\n\nہونٹ چاٹنا: مزہ لینا۔ لذت یاد کرنا جیسے اس مزہ کا کھانا کھلایا کہ آج تک ہونٹ چاٹ رہے ہیں۔\n\nڈال کا ٹوٹا: انوکھا، عجوبہ\n\nٹیکے کا: (1) حقدار (2) مستحق، وارثِ تاج و تخت، گدی کا مالک۔ راج تلک کا مستحق(3) مخصوص، خصوصیت رکھنے والا، مستحق، خاص کیا گیا، نام زد کیا گیا۔ (4) نرالا، انوکھا، عجوبہ جیسے ماں بچے سے کہتی ہے: ایک تم ہی ٹیکے کے نہیں ہو کہ سب آم تمھیں کو دے دوں۔\n\nچوٹی والا: بھتنا\n\nڈالی والا: بندر\n\nپتوں والی: مولی\n\nاُجلی: دھوبن\n\nہلکان کرنا: مضمحل کرنا، ہلاک کرنا\n\nلقّات: نہایت دبلا جیسے سوکھ کر لقّات ہوگیا\n\nاوپر والی: چیل\n\nاوپر والا: چاند، قمر، ماہ، چندرماں۔ مشترک بیگمات قلعہ و دہلی\n\nجلے پاؤں کی بلی: ایک جگہ نہ ٹھہرنے والی\n\nلہو پانی ایک کرنا: غم و غصہ کھانا۔ پیچ و تاب کھانا۔ جان ہلکان کرنا\n\nآنکھوں میں نیند گُھلنا: آنکھیں کڑوانا۔ نیند کے جھونکے آنا۔ نیند بھر آنا۔ نیند کا زور ہونا۔نہایت غنودگی ہونا\n\nاب سے دور: جب کسی کی بیماری کا ذکر دُہرانا ہوتا ہے تو پہلے یہ کلمہ زبان پر لاکر اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یعنی زمانہ حال سے محفوظ رہ کر\n\nجان سے دور: یعنی مشبہ کو مشبہ بہ کا کچھ اثر نہ پہنچے۔ کسی متوفی کا ذکر اپنے عزیز سے تشبیہ دے کر بیان کرتے وقت یہ کلمہ زبان پر لاتی ہیں۔\n\nآ بے لونڈے جا بے لونڈے کرنا: آدمی کو حیران کرنا، دق کرنا، ہیرا پھیری کرانا، ناحق ستانا، فضول کام لینا۔ ذرا سے کام کے واسطے بار بار بھیجنا\n\nاپنی والیوں پر آنا: اپنی ضد اور ہٹ پر آنا، اپنی سی کرنا، ذاتی جلال و غضب سے کام لینا\n\nاپنی چھاتی پر ہاتھ رکھنا: اپنے دل کا سا حال جاننا\n\nآمنے سامنے کا بنج یا رشتہ: جس گھر کی بیٹی لینی اسی گھر میں بیٹی دینی۔ آنٹے سانٹے کا ناتا\n\nعلی ہذا، ات گت، ارواح بھرنا، اس کی ارواح ادھر ہی رہے، اس کی ارواح نہ شرمائے، آسمان میں تھگلی لگانا، اللہ آمیں کا، امن چین، اندھیرے گھر کا اجالا، مرت بیاہی، آنچل میں بات باندھنا، ہلکا خون،غرض یہ محاورے کہاں تک لکھے جائیں۔ ہماری “لغات النساء” میں یہ سب بافراط موجود ہیں جو ایک دفعہ جل جانے کے بعد اب پھر از سر نو تیار کی گئی ہے۔ اگر کہیں سے مدد مل گئی تو بہت جلد چھاپ دی جائے گی۔ غرض یہ تو زیادہ تر ایام غدر سے پیشتر کے محاورات کا نمونہ ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D8%B4%DB%81%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D9%85%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A7%D9%88%D8%B1%DB%92"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/عالم ہمہ افسانۂ مادارد و ما ہیچ", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "عالم ہمہ افسانۂ مادارد و ما ہیچ\n\nاس ہیچمدان، ہیچ میرز سید احمد دہلوی مؤلف فرہنگ آصفیہ کی نسبت جو ہمارے مخدوم و مکرم، بالغ نظر، صائبِ رائے عالی جناب فضیلت مآب خان بہادر مولوی سید اکبر حسین صاحب اکبرؔ سابق جج الہ آباد حال پنشز نے ایک کارڈ مورخہ 8؍ اکتوبر اور ایک مکرمت نامہ محررہ 11؍ اکتوبر 1915؁ء میں اپنے حسن ظن سے آسمان پر چڑھا دینے والے دو ایک فقرے تحریر فرمائے ہیں۔ وہ ازروئے فخر اس موقع پر ٹکسالی سند سمجھ کر تیمناً و تبرکاً درج رسالہ ہذا کیے جاتے ہیں۔ اور وہ یہ ہیں:\n\n الہ آباد۔ 8؍ اکتوبر 1915؁ء\n\nجناب من! اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ آپ بخیر و عافیت ہیں۔ خطیب میں آپ کا مضمون جو نکلا ہے، عقل بھی سکھاتا ہے اور زبان بھی، فقط۔ آپ کا نیاز مند سید اکبر حسین\n\n الہ آباد۔ 11؍ اکتوبر 1915؁ء\n\nمخدومی و مکرمی سلمہ اللہ تعالیٰ۔ اخبار مطلوبہ واپس کرتا ہوں۔ آپ کے مضامین بہت اچھے اور نہایت دانشمندانہ ہیں۔ نہ صرف دانشمندانہ بلکہ رئیسانہ و شریفانہ۔ دلّی کی عزت آپ کے دم سے ہے۔ کم سے کم ان آنکھوں میں جو میرے سر میں ہیں۔\n\nامید ہے کہ آپ صحت و عافیت سے ہوں گے۔ میں اچھا نہیں ہوں۔ موت تو اکثر ناگوار ہی ہوتی ہے۔ لیکن بلحاظِ حالاتِ موجودہ مجھ پر زندگی بار ہے فقط۔ نیاز مند سید اکبر حسین۔\n\nالہ آباد۔ مکرمی میں 12؍ مارچ 1916؁ء سے علیل ہوں۔ اسی سبب سے ارادہ سفر دہلی کا ملتوی ہو گیا۔ اچھا ہو گیا اور موسم زیادہ سخت نہ ہوا تو غالباً حاضر ہوں۔ یہ کتاب بہت مفید ہے۔ یادگارِ زبان و مراسمِ دہلی ہے۔ کون ہے جو اس کی قدر نہ کرے۔ فقط۔ سید اکبر حسین\n\nتقریظ رسالہ نذر آصف\n\nاز مبصر زبان اردو، صراف دار الضربِ لسان ریختہ، نثار و انشا پرداز بے مثل، ناظم و شاعر بے بدل منشی میر نثار علی صاحب شہرتؔ جوائنٹ ایڈیٹر رسالہ مخزن لاہور\n\nیہ ایک مختصر رسالہ ہے جسے مرقع زبان و بیان دہلی کہنا چاہیے، ہماری نظر سے گزرا۔ اس کی دلچسپی کے باعث بغیر پڑھے ہاتھ سے چھوڑنے کو جی نہ چاہا:\n\nزفرق تا بقدم ہر کجا کہ می نگرم\n\nکرشمہ دامن دل میکشد کہ جا اینجا ست\n\nدر حقیقت اگر یہ رسالہ جو حضور نظام کی فیاضی کی بدولت بطور شکریہ چھاپا گیا ہے، نہ لکھا جاتا تو اردو زبان کے متعلق ایک بہت بڑی معلومات رہ جاتی۔ محققان زبان کے واسطے اعلیٰ درجہ کا سرمایہ اور مورّخان اردو کے لیے گہری معلومات کا ذخیرہ ہے۔ صرف زبان ہی کے واسطے نہیں بلکہ اور بھی اس ضمن میں جو کچھ اذکار آ گئے ہیں، وہ بھی یاد کر لینے اور اکثر موقعوں پر حوالہ دینے کے لیے نہایت کار آمد ہیں۔\n\nاس میں مصنف نے سب سے اول 1857؁ء سے پیشتر کی اہل قلعہ اور اہل شہر کی زبان کا فرق بتا کر ذکور و اناث کے خاص الخاص محاورات پر بحث کی ہے۔ بعد ازاں موجودہ زبان اور آئندہ اس کے انقلاب کی صورت سے تقسیم ارشدی دکھائی ہے۔ اس بحث کو ختم کر کے زبان کی تمیز اور اس کا مدعا ظاہر کیا ہے۔ اس کے بعد ایک موقع نکال کر سابق اہل دہلی کی طباعی، ذہن کی رسائی، شریفوں کے شغل، گئی گزری سلطنت کے کھیل تماشے، چلتی بہار یعنی تیمور شاہی اٹھتے جشن کا دربار، جھروکوں کی زنانہ اور بیگماتی زبان کی آخری جھلک دکھا کر رسالہ کو ختم کر دیا ہے۔ جن لوگوں کو اردو زبان کی لگن، اس کے قیام سے پوری پوری دلبستگی اور حصول معلومات کا تعشق ہے وہ ضرور اسے جان کی برابر لگا کر رکھیں اور آئندہ نسل کے واسطے اپنی اس خاندانی زبان کا ورثہ چھوڑ جائیں۔\n\nشکریہ گورنمنٹ و ارباب اولو الالباب\n\nاس نذر کو حضور وائسرائے، لفٹنٹ گورنر پنجاب صاحب، چیف کمشنر بہادر صوبہ دہلی آنریبل مسٹر طامسن صاحب بہادر ریونیوسکرٹری گورنمنٹ پنجاب کی قبولیت اور وعدہ مطالعہ کا فخر حاصل ہونے کے علاوہ واجب التعظیم بزرگانِ ذیل کی مختصر رایوں کا بھی جو بطور رسید وصول ہوئیں، شرف حاصل ہوا ہے۔ مگر گورنمنٹ پنجاب کا دو سو نواسی (289) رسالوں کی خریداری فرمانا شکریہ بالائے شکریہ بجا لانے کا مستحق ہے۔\n\nتازہ خلاصہ آرائے بزرگانِ ہند\n\nنقل نامی گرامی علامہ فہامی عالیجناب نواب حاجی محمد اسحاق خان صاحب بہادر آنریری سکرٹری محمڈن کالج علی گڈھ صدر دفتر تکمیل مسلم یونیورسٹی خط نمبر449٠، مورخہ 4؍ مارچ ١٩١٦؁ء\n\nمخدوم و مکرم بندہ جناب خان صاحب مولوی سید احمد صاحب دہلوی سلامت۔ سلام مسنون!\n\nآپ کا گرامی عطیہ رسالہ نذر آصف یعنی مرقع زبان وبیان دہلی پہنچا۔ جس کے مطالعہ سے بہت ہی محظوظ ہوا۔ یہ نہایت مشکل ہے کہ اس رسالہ کو کوئی دیکھنا شروع کرے اور بغیر ختم کیے چھوڑے۔ اس رسالہ کے ذریعہ سے زبان اردو کی جو آپ نے قابل قدر خدمت کی ہے اور جس شیریں بیانی کے ساتھ کی ہے، اس کی داد تو زبان داں لوگ ہی آپ کو دے سکیں گے ۔ میں تو صرف آپ کا شکریہ ادا کر سکتا ہوں کہ آپ نے توجہ فرما کر مجھے اپنے حسن بیان سے مستفیض ہونے کا موقع عنایت فرمایا۔ والسلام فقط\n\nخاکسار محمد اسحاق خان عفی عنہ آنریری سیکرٹری محمڈن کالج\n\nنقل خط عالی جناب خلیفہ عماد الدین صاحب بی اے انسپکٹر مدارس حلقہ راولپنڈی\n\nراولپنڈی 10؍ مارچ 1916؁ء\n\nمخدوم و مکرم جناب خانصاحب زاد لطفہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ\n\nیاد آوری کا شکریہ۔ مرقع زبان وبیان دہلی مجھے گزشتہ ہفتہ موصول ہوا تھا۔ واقعی یہ آپ کا ہی حصہ ہے کہ جس مضمون کو آپ لیتے ہیں، اسے اس خوبی سے نباہتے ہیں کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ باتیں تو پرانی ہیں، مگر انداز نیا ہے اور آپ نے انھیں کتاب کی صورت میں جمع کرکے دنیا کے صفحہ سے مٹ جانے سے بچالیا ہے، جزاک اللہ ۔ والسلام فقط۔ خلیفہ عماد الدین عفی عنہ\n\nنقل خط عالی جناب مولوی سید غلام بھیک صاحب نیرنگ گورنمنٹ ایڈوکیٹ انبالہ 24؍ فروری 1916؁ء\n\nمکرم و محترم حضرت مولانا دامت برکاتکم۔ بعد تسلیمات مسنونہ گزارش ہے تحفہ گراں قدر یعنی نسخہ نذر آصف مرسلہ آں مخدوم باعث صد فخر و ناز ہوا۔ واقعی یہ گرانمایہ ہدیہ ایسے عالی جاہ ولی نعمت کے پیشکش کرنے کی قابل ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو تادیر سلامت رکھے۔ آپ کی ذات سے جو خدمات زبان اردو کی ہوئی ہیں وہ ہمیشہ زبان کی تاریخ میں یادگار رہیں گی ۔ دہلی اور اہل دہلی کے لیے آپ کا وجود سرمایہ ناز ہے۔ زیادہ نیاز۔ فقط۔\n\nراقم بندہ غلام بھیک نیرنگ وکیل از شہر انبالا\n\nنقل خط عالی جناب خلیفہ سید حامد حسین صاحب وزیر مال ریاست پٹیالہ\n\nجناب مولوی سید احمد صاحب۔ تسلیم\n\nرسالہ نذر آصف یعنی مرقع زبان و بیان دہلی اور آپ کے عنایت نامہ کا شکریہ عرض کرتا ہوں۔ یہ رسالہ میں نے نہایت دلچسپی سے پڑھا۔ خدا آپ کو اس تصنیفات کے لیے جو سوائے آپ کے اب کسی کے قلم سے نہیں نکل سکتیں اور زبان اُردو کے عہد زریں کی یادگار قائم رکھنے کے لیے تادیر زندہ و سلامت رکھے۔ زیادہ نیاز\n\n خاکسار سید حامد حسین پٹیالہ 6 مئی ١٩١٦؁ء\n\nنقل کارڈ عالی جناب منشی درگا پرشاد صاحب نادرؔ گورنمنٹ پنشنر سابق ہیڈ ایگزیمز گورنمنٹ بک ڈپو پنجاب، مؤلف تذکرہ شعرائے دکن، تذکرة النساء، رسالہ قوافی، نکات الحساب وغیرہ وغیرہ۔ 5 مارچ 1916؁ء\n\nمشفقا! آپ کا عطیہ مرقع زبان و بیان دہلی میرے پاس آیا۔ اول سے آخر تک ایک دفعہ بنظر سرسری دیکھا۔ شاہی زمانہ جو دیکھا بھالا تھا، آنکھوں کے آگے ہو بہو دکھائی دے گیا۔ سبحان اللہ کیا کہنا ہے۔ اس کام کے لائق تمھیں ہو جو اس قدر لکھ دیا۔ ورنہ اب کون ان باتوں کو جانتا ہے۔ خیر یہ بھی آپ کی ایک عمدہ یادگار رہے گی۔ فقط\n\nدرگا پرشاد نادرؔ\n\nرسید بطور ریویو نگاشتہ قلم صداقت رقم جناب مولوی عبد الحق صاحب بی اے سکرٹری انجمن ترقی اردو، انسپکٹر مدارس اورنگ آباد، علاقہ حیدرآباد دکن۔ کیمپ سوجنی 5 اپریل 1916؁ء\n\nمخدومِ بندہ تسلیم۔ آپ کا رسالہ نذر آصف یعنی مرقع زبان و بیان دہلی وصول ہوا جس کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ نے اس میں زبان کے متعلق جو نکات بیان فرمائے ہیں وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ یہ باتیں بس آپ ہی کے دم تک ہیں۔ خدا آپ کی عمر و ہمت میں برکت دے۔\n\nنیازمند عبد الحق بی۔اے\n\nخلاصہ تقریظ از رسالہ مخزن بابت اپریل 1916؁ء\n\nرسالہ نذر آصف یعنی مرقع زبان و بیان دہلی\n\nاس میں شک نہیں کہ اللہ تعالی نے ہمارے دوست (خان صاحب) سید احمد صاحب مصنف فرہنگ آصفیہ و ارمغان دہلی وغیرہ وغیرہ کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ زبان اردو کو نہ فقط زندہ کریں، بلکہ اس کو بنا سنوار کر زبانوں کی مجلس میں لابٹھا دیں۔ایک ایسی حالت میں جبکہ بے کس اردو کا کوئی والی وارث نہیں رہا تھا۔ آپ نے اول ایک ضخیم کتاب ارمغان دہلی لکھی:\n\nلغاتِ ارمغاں لکھتے ہی اردو ہوگئی زندہ\n\nیہ سید کی بزرگی کا اثر ہے جو رہی زندہ\n\nجس میں اردو کے لغات اور محاوروں اور ضرب المثلوں کا خزانہ بھردیا ہے۔ اس وقت چونکہ اردو کی لغات عمدہ طور پر لکھی نہ گئی تھی۔آپ کی کتاب مذکور دیکھ کر زبان دانِ تعلیم یافتہ باغ باغ ہوگئے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کتاب سے اردو کی جان میں جان آگئی تھی ۔یا تو بے سری اردو تھی یا اب مستقل اردو قرار پا گئی۔ اردو کے جس لفظ کے معنی دیکھنے کا جس نے ارادہ کیا، لغت سے دیکھ کر اپنی تسلی کر لی اور دوسری زبانوں نے جان لیا کہ اردو کی لغات تیار ہونے لگی ۔یہ بھاگنے والی اور فنا ہونے والی نہیں ہے۔ ہم نے مدتوں امید لگائی کہ صاحب موصوف کی طرح کوئی اور صاحب بھی اس مشن میں حصہ لیں۔ لیکن کسی کو کیا پروا تھی، سب اپنے دھندوں میں لگے رہے اور کسی نے آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا کہ بیچاری اردو، کم عمر اردو،بے کس اردو پر کیا بیت رہی ہے ۔کیونکہ یہ دہلی کے قلعہ معلیٰ میں پلی تھی۔ اب اس کو پالنے والا کوئی نہ رہا تھا۔\n\nہم نے نج کے طور پر ان دنوں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ صاحب موصوف برابر اپنے خیال میں لگے ہوئے ہیں اور اردو کی بابت تصنیف جاری ہے۔ آپ نے انھی دنوں میں ایک عورتوں کی زبان کا اخبار جاری کیا تھا جس کو دیکھ کر زبانداں ششدر ہو گئے تھے۔ اس لیے کہ اُس میں فصیح اردو کے دریا بہائے جاتے تھے۔ پھر آپ نے اپنی عمر کا بڑا حصہ خرچ کرکے فرہنگ آصفیہ ایک ضخیم کتاب لکھی جس کی کئی جلدیں ہیں۔ ان میں اردو کے نکات ایسے لکھے گئے ہیں کہ اگر کوئی ان کو بالالتزام دیکھے، تو وہ نامی زبان داں ہو سکتا ہے۔ چونکہ اردو زبان میں سررشتہ تعلیم کی کتابیں ہیں۔ان کی تحقیق الفاظی اس فرہنگ سے ہو رہی ہے۔اس کے علاوہ کروڑوں آدمی اردو بولتے ہیں اور ہزاروں آدمی اس زبان میں کتابیں لکھتے ہیں۔ ان کے لیے یہی فرہنگ آصفیہ خضر و استاد ہے۔ ہم نے اس کتاب کو دیکھا ہے۔ آپ نے بڑی تحقیق کے ساتھ لکھی ہے اور حضرت مولانا حالی مرحوم نے بھی آپ کی اس تحقیق کی داد دی ہے۔ غرضیکہ جو کام بڑے بڑے نامی شعرا سے نہ ہو سکا، وہ آپ نے انجام دیا۔ پس تعلیم یافتوں بلکہ سب کے نزدیک آپ ہی اردو کے لیڈر ہیں:\n\nتم نے دیکھا ہی نہیں تم میں جو دیکھا ہم نے\n\nاجی ہم تم کو بھی اب تم سے چھپا رکھتے ہیں\n\nہم دیکھتے ہیں کہ دن بدن زبان اردو بگڑتی جاتی ہے۔ تعلیم یافتوں کو چاہیے کہ آپ نے اس ضخیم کتاب میں جو لاکھوں لفظ لکھے ہیں، وہ مستند ہیں۔ وہ اور طرف توجہ نہ کریں، کیونکہ آپ نے سند کے طور پر یہ لکھے ہیں۔ اگر تعلیم یافتہ اور پبلک ہماری نصیحت پر عمل کرے تو پھر کبھی اردو زبان بگڑ نہیں سکتی اور یہ دیدہ کی دلیری لوگوں کی ہے کہ اس لغت کے خلاف لغت گھڑنے لگے ہیں جو بالکل غلط اور غیر فصیح ہیں۔\n\n اس عظیم الشان کام کے بعد بھی آپ خالی نہیں بیٹھتے۔ ایک کتاب “مرقع زبان و بیان دہلی” لکھی ہے جو اس وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگرچہ ہم زبان دان مشہور ہیں، لیکن اس میں چند محاورے اور لغات فصیح و افصح ایسے دیکھے گئے جو ہم بھول گئے تھے۔ اور ہم ثابت کر دیں گے کہ اس کتاب میں جن امور پر زبان اردو کے متعلق بحث کی ہے، ہر زبان داں اور ہر تعلیم یافتہ اور تمام ملک کے لوگوں کا فرض ہے کہ اس کتاب کو دیکھیں اور فائدہ اٹھائیں۔ لائق مصنف نے اول سابقہ فصیح اردوئے دہلی کا فوٹو کھینچا ہے اور اب جو اردو کی گت بن رہی ہے اور آئندہ جو بننے والی ہے اس کا اظہار زور شور کے ساتھ کیا ہے۔ شروع شروع میں جو فصیح محاورے اور قلعہ معلیٰ کی خاتونان کی گفتگوئیں لکھی ہیں، وہ دیکھنے کیا یاد رکھنے کے قابل ہیں۔ ہما را دل چاہتا ہے کہ عورتوں کی اصطلاحیں اور الفاظ جو آپ نے لکھے ہیں، ان میں سے چند کی نقل ذیل میں درج کریں (اصل کتاب میں دیکھو)۔\n\n آگے چل کر آپ نے زبان اردو کے متعلق بہت سے نادر حالات ارقام فرمائے ہیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور بادشاہوں کے زمانے میں جو یہ اردو پل کر پروان چڑھی،اس کے حالات بھی تحریر ہیں۔ بعد میں اردو جو بگڑ رہی ہے، اس کے حالات سے مطلع کیا ہے۔ ہمارے دوست مرزا عبدالغنی صاحب ارشدؔ نے آپ کی تصانیف پر تقریظ لکھی تھی،اس کا خلاصہ آپ نے درج فرمایا ہے جس کا لکھنا ہم کو بھی ضروری ہے اور جس سے اردو اور اس کی آئندہ حالت کا پتہ لگتا ہے (یہ بھی سارا اس رسالے میں موجود ہے۔ نقل کی ضرورت نہیں)۔ ہم نے چند مقامات کی نقل اس بے نظیر تصنیف کی کر دی ہے جس سے لائق لوگوں کو پتہ لگ گیا ہوگا کہ کیسی بے نظیر تصنیف ہے۔ ہیڈ ماسٹروں، مدرسوں کے ٹیچروں اور شاعروں اور دیگر اہل زبان کو اس کتاب کا بطور سند اپنے پاس رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ اس سے زبانِ نفیس، زبانِ فصیح آتی ہے۔ باوجود ان خوبیوں کے اس کی قیمت فی جلد 9؍ علاوہ محصول ڈاک ہے۔ فقط\n\nاسسٹنٹ اڈیٹر رسالہ مخزن\n\nتمام شد", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DB%81%D9%85%DB%81_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%82_%D9%85%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%AF_%D9%88_%D9%85%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%86"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/قوتِ ایجاد و تقلید", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "ایجاد و تقلید میں اس شہر کے رہنے والوں کی قوت طبع، رسائی ذہن سب سے زیادہ اور نرالی تھی۔ اگر مغل بننا چاہتے تھے تو کابلی، فارسی کو اس لہجہ اور خوبی سے ادا کرتے تھے کہ وہاں کے ولایتی ان کی صحتِ زبان و لب لہجہ دیکھ کر دھوکا کھا جاتے تھے۔ چنانچہ مشہور ہے کہ نادر گردی کے موقع پر یہاں کے نقّالوں اور بھانڈوں نے نادر کے چلے جانے کے بعد نادر شاہی سرداروں، فوجی افسروں، قزلباشوں کی نقلیں مجالسِ سور و سرور میں روپ بھر بھر کر ایسی دکھائیں کہ اوروں سے بن نہ آئیں۔ سب دھوکا کھا گئے۔ غرض اگر عرب بننے کا ارادہ کرتے تو اہل عرب کو حیرت میں ڈال دیتے تھے۔ عربی جبّہ و عمامہ، دستار و گفتار بلکہ رفتار میں دھوئے دھائے عرب معلوم ہوتے تھے۔ تعال يا شيخ اهلاً و سهلاً۔ مرحبا في عين الله۔ صبحكم الله بالخير ان کا تکیہ کلام تھا، قال الله، قال الرسول وظیفہ دوام۔ اگر چہ انگریزی میں بھی یہی حال تھا کہ انگلستانیوں کو پرے بٹھاتے تھے مگر اپنے چہرے کی رنگت سے ناچار تھے۔ اگر کوئی شخص پردے میں بٹھا کر انگریزی زبان سنے تو بیشک ولایت زاد کہتے بنے۔ ماسٹر وزیر علی مرحوم کو ہم نے بھی دیکھا اور ان کی زبان سے انگریزی لب و لہجہ سنا تھا۔ ادائے الفاظ میں تمام حرکات و سکنات ہو بہو یورپینوں سے ملتی جلتی تھیں۔ جس حالت میں عربی، فارسی، انگریزی کا یہ حال ہو تو پوربی، پنجابی، کشمیری، مارواڑی، بنگالی وغیرہ کس شمار میں ہیں۔ مگر نہیں پھر بھی جو مادری زبان کا لہجہ ہے اس میں غلطی ممکن تھی، پنجاب کی ہائے مخلوط، پورب کی ہائے مختفی مشکل ہی سے ادا ہوتی تھی۔ قوت ایجاد کا یہ عالم تھا کہ مروّجہ زبانوں کے علاوہ چند مفروضہ سب سے جدا شیریں زبانیں اختراع کرکے یہاں کے لڑکے بالے، لڑکی بالیاں، نوجوان باہم گفتگو کرلیا کرتے تھے، جن سے ناواقف اور اجنبی متعجب ہو کر منہ دیکھتے رہ جاتے تھے اور جو کچھ چاہتے تھے آپس میں صلاح و مشورہ کر لیتے تھے۔ یہ سلسلہ کسی قدر غدر کے بعد بھی جاری رہا۔ مگر اب اس کی بجائے انجانوں کے سامنے انگریزی سے کام لیا جاتا ہے۔\n\nاُن مخترع زبانوں میں زیادہ تر مفصلۂ ذیل زبانوں کا رواج تھا۔ مثلاً زرگری کہ یہ کسی شہر یا ملک کی زبان نہیں ہے۔ صرف حروف تہجی کے دو دو حرفوں کے درمیان زائے معجمہ زیادہ کرتے جاتے تھے۔ زبان مقلوب،اس میں ہر ایک لفظ کو الٹ کر کہتے اور سیدھا سمجھتے تھے۔ زبان کشٹولی، ہر ایک کلمہ کے اولین حرف کے نام کے بعد (کشٹولی تین، پلاشہ) لگا کے دوسرے حرف پر کشٹولی ماشہ لگا دیتے تھے۔ بکنی یہ بولی حضرت شاہ عالم بادشاہ کے ایام طفولیت کی یادگار تھی۔ اس میں دو حرفوں کے درمیان لفظ بکنی ضرور لاتے تھے۔ جیسے کبکنا، لپکنی، کپکنی یعنی کالپی۔\n\nغرض اسی طرح تمام حروف تہجی کی بولیاں بنا رکھی تھیں۔ ان کے علاوہ فرفری، سرسری، چھپر، کھپریل اور ٹکے وغیرہ کی بولیاں بھی رائج تھیں۔\n\nعلی ہذا دہلی کے صنّاع دستکار، اہل حرفہ، ایجاد و تقلید میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اور اب بھی یہی حال ہے۔ خانم کا بازار غدر سے پہلے یونان کا طبقہ کہلاتا تھا۔ وہاں کے کاریگر خدا داد ذہن، طبع رسا رکھتے اور لقمان کو عقل سکھاتے تھے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D9%82%D9%88%D8%AA%D9%90_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%D9%88_%D8%AA%D9%82%D9%84%DB%8C%D8%AF"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/لال قلعہ کی بیگمات کے خاص خاص محاورے", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "لال قلعہ کی بیگمات کے خاص خاص محاورے\n\nباری دارنی: ہتھیار بند چوکسی کرنے والی، چوکیدارنی\n\nمحل دارنی: محافظ و نگرانِ محل، معزز خادمہ\n\nرَونّہ: سودا سُلف لانے والا چھوکرا۔ وہ لڑکا جو محل میں چوبداری کا کام دے۔ سرہنگ زادہ\n\nبتانا: چوڑی کامپانہ یا ڈول\n\nگَلرَن: جونک والی\n\nکیڑی: جونک\n\nپتنگ چھری: غمّازہ، چغل خور، آپس میں ان بن کرا دینے والی۔ رشتہ دوستی۔ اپنے افترا اور بہتان سے القط کرا دینے والی\n\nاوپر والا بمعنی چاند ؏ کیوں نہ پھروں میں اہلی گیلی اوپر والا نکلا آج\n\nلشکر والا: بادشاہ وقت۔ صاحب سلطنت۔ سلطان، مالک ملک\n\nچیرے والا یعنی حکیم، طبیب\n\nدُڑنگے مچانا: دوڑتے پھرنا\n\nکُدکڑے لگانا: کودتے پھاندتے پھرنا\n\nچک چک لوندے کھانا: تر بتر مال کھانا۔ تر مال اڑانا\n\nترتراتے: روغن میں تربتر۔ گھی میں ڈوبے ہوئے\n\nبھدرَک: استحکام، استقلال، استواری، جیسے اس کی بات میں ذرا بھدرک نہیں\n\nہپّو: بچوں کو ہپّا کھلانے والی ملازمہ\n\nچھوچھکّا: منتر جنتر، پھونکا پھانکی، چھومنتر\n\nچھو چھو: بچوں کے پوتڑے دھونے والی دایہ\n\nطوطیاں ہاتھ پسارتی ہیں۔\n\nخوش بیانی پر عش عش کرتی ہیں۔\n\nبنت بناؤ: بناؤ سنگار\n\nاُدّو اُدّو ہونا: بدنام اور رسوا ہونا، نکّو بننا۔ حرکات ناشائستہ یا خلاف تہذیب کے سبب انگلیاں اٹھنے لگنا\n\nغصہ تھوک دو: غصہ دور کرو۔ جانے دو۔ معاف کرو۔ دھیمے ہو جاؤ\n\nکٹّم کٹّا: مار کٹائی۔ خون خرابہ\n\nچھری کٹاری: کٹا چھنی۔ خوں ریزی۔ کُشت و خون۔ جانی دشمنی۔ سخت دشمنی\n\nچاندنی منانا: چاندنی رات کی سیر کرنا۔\n\nچٹخارے کا: نہایت چٹپٹا۔ نہایت مزیدار کہ اسے کھا کر انگلیاں چاٹا کرے جیسے چٹخارے کا بھرتہ یا رائتہ۔\n\nہاتھ توڑ توڑ کر کھائے: ذائقہ کے مارے جس ہاتھ سے کھایا ہے اسے چاٹا کرے۔\n\nچٹخارے لینا: مزہ یاد کرنا، یہاں لذیذ چیز کے ذائقہ سے مراد ہے۔ لذت اٹھانا۔\n\nشیطان اچھلنا: شرارت سوجھنا۔ مسخرا پن کرنا\n\nمُرداری: چھپکلی\n\nمامو: سانپ\n\nشیطان کے کان بہرے: خدا کرے فتنہ پرداز شیطان نہ سنے۔\n\nحف تمھاری نظر یعنی چشم بد دور۔ تمھاری نظر نہ لگے۔ تمھاری نظر سے خدا بچائے۔\n\nتمھارے دیدوں میں رائی نون یعنی تمھاری آنکھیں نظر لگانے کے قابل نہ رہیں۔ پھوٹ جائیں۔\n\nپِنڈا پھیکا پھیکا ہے یعنی بخار محسوس ہوتا ہے۔\n\nقہر توڑا: بہت جھنجھلائے۔ غضب ڈھایا۔ ستم توڑا۔ نہایت خفا ہوئے۔\n\nاوڑ اپڑنا: نامیسری ہونا\n\nچونچلے بگھارنا: ناز کرنا، اترانا\n\nکسلمندی ہے یعنی ان کی طبیعت ناساز و بد مزہ ہے۔ ان کے دشمن بیمار ہیں۔\n\nدل میلا نہ کر یعنی اپنے دل پر رنج نہ لا\n\nگرج کر بولنا: مہیب آواز سے بولنا\n\nچھریاں کٹاون ہو یعنی انگ نہ لگے۔ جزو بدن نہ ہو۔ جس طرح چھری کاٹتی ہے اسی طرح ہمارا کھایا پیا تمھاری انتڑیاں کاٹے۔\n\nایک چھت: یکساں\n\nدست بقچہ: چھوٹی سی بقچی\n\nمودی خانہ: گودام گھر۔ بھنڈار\n\nملمّع: سامانِ خورش\n\nتلوے سہلانا: خوشامد در آمد کرنا\n\nلپکا پڑنا: دھت لگنا۔ لت لگنا۔مزہ پڑنا۔ عادت پڑنا\n\nکاکلوتی: مامتا، محبت، الفت\n\nمیری دائی کو کوستی ہے یعنی مجھ کو کوستی ہے\n\nدوجی سے ہے: حاملہ ہے۔ پیٹ سے ہے\n\nچھریوں کا غسل دینا: مار کر لہولہان کرنا ،خون کے نالے بہا دینا۔ جیسے اس ڈھیٹ کو چھریوں کا غسل دو جب بھی باز نہ آئے ۔\n\nبوبو (بواؤ معروف): (1) قلعہ کی بیگمات اُس ذی عزت لونڈی کو کہتی ہیں جس کی گودی میں ماں نے پرورش پائی ہو۔ (2) حرم، سُریت ، مدخولہ (3) باہر والیاں یعنی قصباتی اور دیہاتی عورتیں بمعنی بہن ہمشیرہ، آپا۔ (4) بجائے تکیہ کلام بواؤ مجہول و معروف استعمال کرتی ہیں۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D9%84%D8%A7%D9%84_%D9%82%D9%84%D8%B9%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D9%85%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D8%B5_%D8%AE%D8%A7%D8%B5_%D9%85%D8%AD%D8%A7%D9%88%D8%B1%DB%92"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/پوشاک", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "پوشاک\n\nپوشاک کی یہ دھاک تھی کہ ہر فردِ بشر خود جامہ زیب بن جاتا تھا۔ اپنی شکل و شباہت، تن و توش اور جسامت کے موافق نرالی سج دھج نکال کر اپنے بدن پر لباس موزوں کرلیتا تھا۔ اگر نوجوان ہے تو ایک ایک ٹانکے پر جوانی و طرّاری برستی ہے اور جو بوڑھا ہے تو اس کی ہر قطع و بُرید سے پیری اور سادگی ٹپکتی ہے۔ بانکوں کا بانکپن، چھیلاؤں کا چھیلاپن، ملاؤں کا ملّانہ پن، پہلوانوں کی پہلوانی، شہدوں کا شہدہ پن، اجلافوں کا اجلاف پن، رذالوں کی رذالت ان کی پوشاک و تراش خراش سے خود ظاہر اور شاہدِ حال ہوتی تھی۔ شریفوں کی جس پوشاک کو رذیل اختیار کرتے تھے، شریف اسے یا تو چھوڑ دیتے یا اس میں کچھ نہ کچھ فرق کر دیتے تھے۔ شریفوں میں پہلے اونچی چولی کے انگرکھوں کا رواج تھا، جب ڈوموں، میراثیوں نے یہ وضع اختیار کی تو شریف نیچی چولیاں یہاں تک کہ تابناف بڑھا کر پہننے لگے۔ ڈوموں نے نیچے دامن کا رواج دیا تو شریفوں نے اونچے دامن رکھے۔ دو پلڑی ٹوپیوں کا دستور عام تھا۔ مگر چوگوشی، مغلئی، تاجدار، پچگوشی ٹوپیاں مغل بچے اور شریف زادے پہنتے تھے۔ دہلی کے بانکوں، البیلوں اور وضعداروں کی کج کلاہی مشہور تھی۔ چنانچہ امیر خسروؒ نے بھی کج کلاہی کی بہت تعریف اپنی غزلوں میں باندھی ہے اور اخیر میر تقی میر نے بھی ان کج کلاہوں کو نادر شاہی سفاک خونریز قزلباشوں سے تشبیہ دی ہے۔ چنانچہ یہ قطعہ مشہور ہے:\n\nدہلی کے کج کلاہ لڑکوں نے\n\nکوئی عاشق نظر نہیں آتا\n\nکام عشّاق کا تمام کیا\n\nٹوپی(١٢) والوں نے قتل عام کیا\n\nمندیلیں، بنارسی دو پٹّے، گولے دار پگڑیاں مسلمانوں میں مروّج تھیں۔ صافے سپاہیوں میں۔ قلعہ معلیٰ میں پگڑی بغیر کوئی نہیں جا سکتا تھا۔ درباری لوگ جامہ بھی پہنا کرتے تھے۔ امرا جِیغہ، سرپیچ اور شہزادے کلغیاں بھی لگاتے تھے۔ صاحبانِ ہنود میں جامہ کا زیادہ دستور تھا۔ اور پھر نیمہ یعنی نیم جامہ اور الٹی چولی کے انگرکھے کا رواج ہوا۔ مسلمانوں میں الخالق،بالابر، شیروانی، اچکن، انگرکھے، قبا، عبا،جبّہ، چغہ، مرزئی پوستینوں وغیرہ کا حسب موسم دستور تھا۔ ڈھاکہ کی ململ، لکھنؤ کی شربتی، سونی پت کا سَینوں، بنارس کا مشروع، دیسی سوتی کپڑے میں اول نمبر رکھتا تھا۔ پُھہار دار نینوں بھی کرتوں کے کام میں آتا تھا۔ پاجامے یا تو تنگ موری کے یا ایک برکے یا غرارے دار اکثر پہنے جاتے تھے۔ آڑے پاجاموں کا کوئی نام تک نہ جانتا تھا، یہ پنجاب کا تحفہ ہے۔ مُلّانے اُٹنگے یا ٹخنوں سے اونچے پاجاموں، خواہ تہبندوں سے زیادہ رغبت رکھتے تھے۔ امیر مشروع کے، غریب سونی پت کے سینوں اور نینوں کے جھابڑ جِھلّے کرتے پہنا کرتے تھے۔ ہمارے زمانہ میں کوٹ پتلون نے سب کو یکساں کر دیا۔ مہتر سے لے کر کہتر اور چمار تک اس لباس سے ملبوس نظر آتا ہے۔ لمبی لمبی عقربی مونچھوں، مُنڈی ڈاڑھیوں نے ہندو مسلمان کی شناخت بالائے طاق رکھ دی۔ غدر سے پہلے گھیتلے جوتے، کف پائی، کفش یا گول پنجے کے جوتوں کا زیادہ رواج تھا مگر جب سے مرزا سلیم خلف اکبر شاہ ثانی نے لمبے پنجے کی سلیم شاہی جوتی ایجاد کی، اسے زیادہ پہننے لگے اور آج تک پرانے فیشن والے اسی کو پہنے جاتے ہیں۔ مگر زمانے کی رفتار پر چلنے والوں نے بوٹ، گُرگابی،شوز، پمپ، سلیپر وغیرہ پہننے میں سبقت کر لی۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D9%BE%D9%88%D8%B4%D8%A7%DA%A9"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/پُر مذاق ارشدی اقسام اردو", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "پُر مذاق ارشدی اقسام اردو\n\nہائے ارشد! وائے ارشد! کیا کہنا ہے، کتنی دور کی سوجھتی ہے۔ اس فرہنگ کی لاجواب و محققانہ تقریظ میں کس ظریفانہ انداز سے اقسام موجودہ زبان کی تشریح پر قلم اٹھایا ہے اور آئندہ کے واسطے کس عمدگی اور کس خوبی سے پیشین گوئی فرمائی ہے کہ باید و شاید۔ سچ تو یہ ہے کہ غضب ڈھایا ہے۔ جو کچھ ہوا اور ہونا ہے اس کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔ پورا لطف تواصل تقریظ کے ملاحظہ سے آ سکتا ہے۔ مگر خیر نہایت اختصار کے ساتھ اس موقع پر اُس تقسیم میں سے چند نمبر ہم بھی انتخاباً درج کرتے ہیں۔ یہ کامل تقریظ جادو سے بھری ہوئی ہے۔ ہنستوں کو رلا دینا، روتوں کو ہنسا دینا اس کے بائیں ہاتھ کا کرتب اور چلتا ہوا منتر ہے۔\n\nآپ لکھتے ہیں کہ اقسام اردو میں سے :\n\n“اول نمبر پر اردوئے معلّی ہے جو نورِ سلاست و فصاحت سے مجلّا اور زبان دہلی کا اصل فوٹو ہے۔ دوسرے نمبر پر اردوئے مطلّا ہے جو تکلف و تصنع سے پر، سلاست و فصاحت سے معرّا، طلاقت لِسانی اور لَسّانی سے معمور خاص لکھنؤ کی خود ستا زبان ہے۔ تیسرے نمبر پر فاضلانہ و مولویانہ اُردو جسے زبانِ فضلا و علما کہنا چاہیے۔ اس کا نام فرہنگی اردو ہے، جس کے ہر فقرہ کے واسطے فرہنگوں کے دیکھنے اور اوراقِ لغات الٹ پلٹ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ چوتھے نمبر پر خود رنگی اردو ہے جو اخبارات کے نامہ نگار اور ایڈیٹوریل مضمونوں کا مجموعہ ہے۔ پانچویں نمبر پر ہڑدنگی اردو ہے جو پنچ اخباروں کی منہ پھٹ زبان ہے۔ ہزل و خرافات کے سبب قیودِ زباں آوری سے آزاد اور متانت سے کوسوں دور ہے۔ چھٹے نمبر پر فرنگی اردو ہے جو تازہ ولایت انگریزوں، ہندوستانی عیسائیوں، دفتر کے کرانیوں، چھاؤنیوں کے سوداگروں، لشکری قلیوں اور لین بوائز کی ستّیاناسی زبان ہے۔ ساتویں نمبر پر لفنگی اُردو ہے جسے آکا بھائیوں کی لٹھ مار، کڑاکے دار زبان کہو یا پہلوانوں، ہانڈی بازاروں، ضلع اور جگت کے ماہروں، پھبتیوں کے استادوں، گالی گلوج کے سرتاجوں کا روز مرہ کہنا چاہیے۔ آٹھویں نمبر پر بے ڈھنگی اردو ہے جو ریلوے کے انگریزی داں بابو اس زبان کو بیسنی زبان بنا کر حقیقی اُردو کی ٹانگ توڑتے ہیں۔ بقول شخصے “فارسی را ٹانگ توڑم تاکہ وا لنگڑی شود”۔ نویں نمبر پر خود آہنگی اردو ہے یعنی ناول نویسوں، ڈرامہ نگاروں اور ایکٹروں کی خود تراشیدہ زبان ہے۔ دسویں نمبر پر سربھنگی اُردو ہے، یعنی چرسیوں، بھنگڑوں، بے نواؤں وغیرہ کی زبان۔ گیارھویں نمبر پر جنگی اردو ہےجو اہل مناظرہ کسی کی ہجو لکھتے اور اپنی زباں زوری سے مخاطب کی آبرو لے ڈالتے اور لائبل کیس سے صاف بچ جاتے ہیں۔ اس قسم کی تقسیم چاہو جہاں تک کرتے چلے جاؤ، کسر متوالی کی طرح کبھی ختم نہیں ہوگی۔\n\nجس زبان کی پیشین گوئی کی ہے اس کا نام سر چنگی([1]) اردو ہے۔ یہ اردو بڑی قیامت خیز، فتنہ انگیز ہوگی۔ “پارہ خواہد شد ازیں دست گریبا نے چند”۔ اس اردو کی ایسی مثال ہے جیسے پورب میں اِدھر بھادوں کا مہینہ آیا، اُدھر شوقینوں کو کنہیا جی کے جنم کی خوشی نے گرمایا۔ ولادت سے پہلے کرتہ، ٹوپی، ہنسلی، کڑے تیار ہو گئے۔ اگر چہ یہ اردو ابھی پیدا نہیں ہوئی، مگر اس کا پیش خیمہ، ڈیرا ڈنڈا پورپ میں آگیا ہے۔ لکھنے کے حروف بڑی شد و مد سے تراشے جا رہے ہیں۔ وہ زمانہ قریب ہے کہ خود بدولت بِراجیں۔ چونکہ بھاشا اور سنسکرت کے الفاظ گھسیٹ گھسیٹ کر اس میں ڈالے جائیں گے اور دیگر زبانوں کے لغت کھینچ کھینچ کر باہر نکالے جائیں گے، قدیمی اردو داں اس تازہ اردو کو پورا نہ لکھ سکیں گے نہ بول سکیں گے؛ نا چار سرزنش اٹھانی پڑے گی۔ اس واسطے قبل از ظہور بطور تفاؤل اس کا نام سرچنگی اردو رکھ دیا”۔\n\nگو اس طرح افزونیٔ لغات میں بھرتی کے الفاظ کی ترقی ہوئی مگر علمی، تہذیبی، شریفانہ زبان کوسوں بھاگ گئی۔ اس بے میل، انگھڑ الفاظ کی بیشی کو ہم ترقی نہیں کہہ سکتے۔ ٹکسالی زبان کو مٹا کر غیر ٹکسالی محاورات کو داخل زبان کرنا اور ادبی تصانیف میں اُس سے کام لینا گویا زبان کے گلے پر الٹی چُھری پھیر کر اسے ذبح کرنا ہے۔\n\nہم سررشتہ تعلیم کی موجود تصانیف میں بہت بڑا فرق اور زبان کا نقص پاتے ہیں۔ یہاں بھی خوبیٔ زبان سے ہاتھ کھینچ لیا گیا۔ وہ پہلی سی ولولہ خیز، شوق انگیز زبان نہ رہی ۔ اہل زبان چپ اور اس شعر کے مصداق ہو گئے:\n\nچونک جفت احولانیم اے شمن\n\nلازم آید مشرکانہ دم زدن\n\nپرانی اُردو کو فصیحانہ،مودّبانہ، مہذبانہ زبان نہیں سمجھا جاتا بلکہ روز بروز ایسی زبان کا خاکہ اڑایا جاتا ہے۔\n\n(بقیہ اگلے صفحہ پر)\n\nاس میں شبہ نہیں ہے کہ اب یہ زبان دور دور کے دھاوے مارنے لگی ہے۔ یورپ، افریقہ، امریکہ، آسٹریلیا، جاپان اور شمالی ایشیا تک اس کے بولنے والے پہنچ گئے ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے کہ وہاں کے اکثر لوگ اس زبان کو بولنے اور سمجھنے لگیں گے۔ بلکہ جس وقت اس موجودہ جنگ عظیم میں جرمن کے فوجی سپاہیوں کو ہمارے ہندوستانی دل چلے سپاہیوں نے نرغہ ڈال کر پکڑ لیا تو بطلبِ امان و خوفِ جان رام رام([2]) کا نعرہ مارنے لگے تاکہ یہ لوگ ہمیں اپنا ہم زبان سمجھ کر رحم کھائیں۔ اگر چہ یہ ایک دل خوش کن بات ہے لیکن ہم اسے اصل زبان کی ترقی نہیں کہہ سکتے۔ اصل زبان وہی ہے جس کا ہمیں پیٹنا پڑ رہا ہے:\n\nگلیوں میں اب تلک بھی مذکور ہے ہمارا\n\nافسانہ محبت مشہور ہے ہمارا\n\nاب اگر اہل زبان کو افسوس ہے تو صرف اس بات کا ہے کہ ہائے وہ لچیلی اور چوچلے کی باتیں، وہ موقع موقع کی آن و انداز کی گھاتیں، وہ ثقایانہ گفتگو، وہ مہذبانہ بات چیت، وہ بے تکلفانہ رمز و کنایہ، وہ ذو معنی ظریفانہ صلواتیں، وہ سپاہیانہ اکڑ فوں، وہ خادمانہ و خُردانہ آداب و انکسار، وہ شریفانہ برتاؤ، وہ لچھے دار فقرے، وہ دلچسپ و دلکش تحریر، وہ مربیانہ حسن اخلاق، وہ محبّانہ میل جول، وہ برادرانہ ربط و ضبط، وہ متحدانہ رسم و رواج، وہ مروت اور وہ آنکھ کا لحاظ اب کہاں۔ مجلسوں، محفلوں کے طریقے کچھ سے کچھ ہو گئے۔ تفریحانہ جلسوں کے ڈھنگ مغربی رنگ آمیزی سے دنگ کرنے لگے۔ شاہی آداب، درباری قواعد آزادی سے بالکل بدل گئے۔ اخیر شاہی زمانہ میں کانوں پر ہاتھ رکھنا ایک درباری سلام تھا۔ مگر اب نئی پود اس معلومات سے کانوں پر ہاتھ رکھتی اور دوسروں کا سلام ایک انگلی سے لیتی ہے۔ سیر سپٹّوں، میلوں ٹھیلوں، دیسی کرتبوں اور تماشوں نے اب دوسرا رنگ پکڑا۔ ڈراموں، ناولوں نے اپنا رنگ جمایا۔ تھیٹروں نے سوانگوں اور جھانکیوں کا قصہ مٹا دیا۔ اشراف گردی، اجلاف پروری، کمینہ پرستی نے بھلے مانسوں کو گھر بٹھا دیا۔ ہاتھی نشینوں، پالکی نشینوں کو خانہ نشین و خلوت گزیں بنا دیا۔ مفلسی و ناداری نے رذالوں کے آگے سر جُھکوا دیا۔ موری کی اینٹ کو چو بارے چڑھا دیا۔ مغربی علوم و فنون نے کم ظرفوں، پست حالت سُبک سروں کو وہ اوج بخشا کہ آسمان سے باتیں کرنے لگے:\n\nیہ اوج حرفہ گزینی میں کسب نے بخشا\n\nکرے ہے خاک مری آسمان سے باتیں\n\nدولت پھٹ پڑی، عزت ٹوٹ پڑی، حکام رَسی ہاتھ آئی، کرسی نشینی و خطابات کی بھرمار نے آپے سے باہر کر دیا۔ جو بات چاہی، بَن آئی۔ من مانی مراد پائی۔\n\nمشرقی علوم و فنون نے اپنی بے قدری و کساد بازاری دیکھ کر عہد عتیق کو بھلا دیا۔ گویا مغربی علوم کی چڑھتی کمان دیکھ کر اپنے آپ کو رہا سہا مٹا دیا۔ اخلاقی پستی سر پر چڑھ گئی۔ ہمت کے ساتھ حمیت نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ غیرت رہی نہ شرم، دل کے نرم، کم ہمتی کے سرگرم بندے بن گئے۔ قانونی کوڑے، دھڑے بندی کے شکنجہ نے سارا تیہا مٹا کر ایسا بزدل بنا دیا کہ بچوں کی گستاخیوں پر بھی شریف کان نہیں ہلا سکتے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%D9%BE%D9%8F%D8%B1_%D9%85%D8%B0%D8%A7%D9%82_%D8%A7%D8%B1%D8%B4%D8%AF%DB%8C_%D8%A7%D9%82%D8%B3%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/چلتی بہار یعنی مغلیہ خاندان کے جشن کا اخیر دربار", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "چلتی بہار یعنی مغلیہ خاندان کے جشن کا اخیر دربار\n\nآج کے روز امیر امرا نقار خانہ کے دروازہ سے اتر کر پیدل دیوان عام میں آتے تھے اور یہ پہلی آداب گاہ کہلاتی تھی۔ دیوانِ عام کے جالی دار دروازے میں موٹی موٹی لوہے کی زنجیریں آڑی پڑی ہوئی تھیں تاکہ آدمی سیدھا نہ جا سکے۔ سب جھک کر زنجیر کے نیچے سے نکل جاتے تھے، یہ دوسری آداب گاہ کہلاتی تھی۔ دیوان خاص کے دروازے پر ایک بڑا سا بانات کا لال پردہ کھنچاہوا ہوتا تھا جسے لال پردے کے نام سے سے موسوم کرتے تھے۔ مِردھے، پیادے، دربان، سپاہی، قُلار ہاتھوں میں لال لال لکڑیاں لیے ہوئے کھڑے ہوتے تھے۔ جو کوئی غیر آدمی اندر جانے کا ارادہ کرتا تھا تو قلار وہی آنکڑے دار لال لکڑی گردن میں ڈال کھینچ کر باہر نکال دیتے تھے۔ مگر جشن کے دن حکم عام تھا کہ جس کا جی چاہے پگڑی باندھ کر چلا آئے، دربار کی سیر دیکھے۔ درباری لال پردے کے پاس کھڑے ہوکر مجرا کر کے کہ یہ تیسری آداب گاہ تھی، دیوان خاص میں تخت کے سامنے آداب بجا لا کر اپنی اپنی جگہ کھڑے ہوجاتے تھے۔ دیوان خاص میں فرش فروش، باناتی پردے کھنچے ہوئے ہوتے تھے۔ بیچوں بیچ میں سنگ مرمر کے ہشت پہلو چبوترے پر نقلی تخت طاؤس رکھا ہوا ہوتا تھا اور اس کے آگے دلدا پیشگیر کھنچا ہوا۔ یہ تخت نہایت خوشنما اور خوبصورت بنا ہوا ہوتا تھا، جس کے چاروں طرف تین تین در نہایت خوشنما محرابوں کے بنے ہوتے تھے۔ گرد کٹہرا، پشت پر تکیہ، آگے تین سیڑھیاں اور بنگلہ نما گول چھت، محراب دار۔اس پر سونے کی کلسیاں۔ سامنے محراب پر دو مور آمنے سامنے موتیوں کی تسبیح منہ میں لیے ہوئے کھڑے نظر آتے تھے۔ تخت سر سے پاؤں تک سونے میں لپا ہوا جگمگاتا تھا۔ بیچ میں رومی مخمل اور زربفت کا مسند تکیہ لگا ہوا ہوتا تھا۔ دو خواص ہما کے مور چھل لیے اہلو پہلو میں کھڑے ہوتے تھے۔ پیچھے ایک جا نماز بچھائی جاتی تھی۔ معتبر الدولہ، اعتبار الملک بہادر وزیر، عمدۃ الحکماء حاذق زماں، احترام الدولہ بہادر طبیب خاص، شمس الدولہ بہادر بخشی، معین الدولہ بہادر ناظر، سیف الدولہ بہادر وکیل، سحبانِ زماں نجم الدولہ بہادر بادشاہی شاعر، میر منشی دارالانشاءِ سلطانی، میر تزک وغیرہ وغیرہ اپنے اپنے مرتبہ اور قاعدہ سے دونوں ہاتھ جریب پر رکھے دائیں بائیں کھڑے ہوجاتے تھے۔ مردھے، نقیب، چوبدار، عرض بیگی سامنے آداب گاہ کے پاس کھڑے رہتے تھے۔دیوان خاص کے آگے صحن میں ایک طرف خاصے گھوڑے چاندی سونے کے ساز سے لدے ہوئے، ایک طرف مولابخش، خورشید گج، چاند مورت ہاتھی وغیرہ رنگے ہوئے ہاتھوں پر فولاد کی ڈھالیں، سونے کے پھول جڑے ہوئے، کانوں میں ریشم اور کلابتون کے گپھے اور لڑیاں کار چوبی جھولیں پڑی ہوئیں۔ ایک طرف ماہی مراتب، چتر نشان، روشن چوکی والے، جھنڈیوں والے، ڈھلیت پرا جما کر کھڑے ہو جاتے تھے۔اسی طرح قلار چاندی کے شیر دہاں سونٹے، خاص بردار بندوقیں لیے ہوئے کٹہرے کے نیچے استادہ ہوتے تھے۔ دیوان عام کے میدان میں ساری پلٹنیں جم جاتی تھیں۔ احتشام توپ خانہ کی توپیں کھڑی کر دی جاتی تھیں۔ اندر سے جسولنی آواز دیتی تھی “خبردار ہو”۔ نقیب، چوب دار جواب دیتے تھے کہ “اللہ رسول خبردار ہے”۔ اب بادشاہ سلامت برآمد ہوتے تھے۔ نقیب چوبدار بآواز بلند پکارتے تھے “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ رسول کی امان، دوست شاد دشمن پائمال، بلائیں رد”۔ اس وقت کہار شاہی کہاریوں سے جھٹ ہوادار لے لیتے تھے۔ پہلے بادشاہ تخت کے نیچے اتر کر نماز کی دو رکعتیں کھڑے ہو کر پڑھتے، دعا مانگتے۔ پھر ہوادار میں سوار ہو جاتے۔ کہار شاہی ہوادار کو تخت طاؤس کے برابر لگا دیتے۔ بادشاہ تخت پر جلوس فرماتے۔ جھنڈیاں ہلتے ہی دنادن توپیں چلنے لگتیں۔ سب فوج سلامی اتارتی اور شادیانے بجنے لگتے۔ گوہرِ اکلیل السلطنت ، مہیں پورِ خلافت، ولی عہد بہادر تخت کے بائیں طرف اور دیگر شہزادگانِ نامدار والاتبار، قرّہ باصرۂ خلافت، غرّہ ناصیۂ سلطنت دائیں جانب تخت کے برابر امیر امرا کے آگے کھڑے ہو جاتے۔ سب سے پہلے ولی عہد نذر دینے کھڑے ہوتے۔ اول آداب گاہ پر آکر مجرا بجالاتے۔ نقیب پکار کر کہتا “جہاں پناہ بادشاہ سلامت! عالم پناہ بادشاہ سلامت! مہابلی بادشاہ سلامت!” مجرا کر کے بادشاہ کو نذر دیتے۔ بادشاہ نذر لے کر نذر نثار کو دے دیتے۔ پھر الٹے پاؤں آداب گاہ پر آتے۔ مجرا کرکے خلعت پہنتے۔ جیغہ، سر پیچ، گوشوارہ بادشاہ اپنے دست مبارک سے ولی عہد بہادر کے سر پر لگاتے۔ موتی مالا، سِپر، تلوار گلے میں ڈال دیتے۔ یہ اُسی طرح آداب گاہ پر الٹے پاؤں آ کر آداب بجالاتے، خلعتی نذر دیتے۔ پھر الٹے ہی پاؤں آداب گاہ پر آکر مجرے کو کھڑے ہوجاتے۔ اور اسی طرح دیگر شہزادے، تمام امیر امرا اپنے اپنے رتبہ سے نذریں گزرانتے۔ جواہر خانہ میں سے خلعت پہن کر آتے۔ بادشاہ اپنے ہاتھ سے شاہزادگان کے سر پر جیغہ، سر پیچ، گوشوارہ اور معزز امیروں کے سر پر صرف گوشوارہ باندھ دیتے تھے اور آداب پر آداب، مجرے پر مجرے۔ نقیب چوبدار پکار پکار کر کہتے “ملاحظہ آداب سے کرو، مجرا، جہاں پناہ بادشاہ سلامت، عالم پناہ بادشاہ سلامت، مہابلی بادشاہ سلامت”۔ اس وقت بادشاہ تکیہ سرکا کر فاتحہ کو ہاتھ اٹھاتے۔ عرض بیگی پکارتا “دربار برخاست”۔ بادشاہ ہوادار پر سوار ہو محل میں درآمد ہوتے۔ سب لوگ رخصت ہوجاتے۔ چالیس دن تک روز دربار اور خلعت اور نذریں ہوتیں۔ انعام و اکرام سب کارخانوں کے داروغاؤں اور آدمیوں کو ان کی حیثیت کے موافق دیا جاتا اور اس کے بعد محل کا دربار شروع ہو جاتا۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%D8%B9%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%BA%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%B4%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%B1"} {"title": "مرقع زبان و بیان دہلی/گئی گزری سلطنت کے شاہی کھیل تماشے", "poet_page": "مصنف:سید احمد دہلوی", "kind": "prose", "section": "مرقع زبان و بیان دہلی", "year": null, "text_ur": "گئی گزری سلطنت کے شاہی کھیل تماشے\n\nجہاں ہم نے 1857؁ء سے پیشتر کی زبان اور سرزمین دہلی کی خاصیتیں، تاثیریں، باشندوں کی خدا داد طبیعتیں، جودتیں، ایجاد و اختراع کی قوتیں دکھائی ہیں، وہاں بطور یادگار یہ بھی کانوں میں ڈال دینا ضرور ہے کہ یہاں کے گئے گزرے بادشاہوں میں اخیر دم تک کس کس بات کی ہوس باقی تھی اور کون کون سے خاندانی اثر اُن کے رگ و ریشہ میں دوڑتے پھرتے تھے۔\n\nخاندانی سلطنت کے آداب و قاعدے، سواری، شکاری کے طریقے، دربار خاص و عام کے قرینے، روز مرہ کے برتاوے، نیاز نذروں کے ڈھنگ، سیر تماشوں کے رنگ بقدر معلومات مختلف موقعوں پر دکھا دیے۔ اب خاتمہ پر ان کے دل بہلاوے لکھ دینا بھی خالی از لطف نہیں۔\n\nجنگ و جدل کے خیال، انسانی قربانیوں، ملک ستانیوں کے چاؤ، خونی فواروں اور پچکاریوں کی ہوس تو انھوں نے دل سے بھلا دی تھی۔ کیونکہ سرکار انگریزی کی امن پسند سلطنت کی بدولت ملک کی حفاظت، امن و امان کا قیام ایسا تھا کہ نہ فوج کی ضرورت تھی نہ سامانِ جنگ کی۔ اس کی بجائے کبوتر بازی، پتنگ بازی، بٹیر بازی، مرغ بازی، سبزوار مرغیوں کے انڈوں کی بیضوی جنگ اختیار کر لی تھی۔ مرغ بازی، تیتر بازی، بلبل بازی، دنبہ بازی وغیرہ۔ کبھی کبھی اپنے بزرگوں کی طرح باہم ہاتھیوں کی لڑائی، ہاتھیوں اور بگھیلوں کی ہاتھا پائی۔ چیتوں کا شکار دل میں چٹکیاں لیتا تھا تو ٹائیں ٹوئیں یہ تماشا بھی نظر آجاتا تھا۔ لیکن وہ رونق، وہ دھوم دھام کہاں جو ان کے بڑوں کو حاصل تھی۔ البتہ اپنا جی ضرور بہلا لیتے تھے۔ لیجیے اب اخیر زمانہ کے اس تھیٹر کے پردے کو بھی ملاحظہ فرمائیے۔\nہاتھیوں کی لڑائی\n\nجب ہاتھیوں کی لڑائی دیکھنے کا شوق اچھلتا تو دریا کی ریتی میں زیرِ جھروکوں دریا کے ریتے کا ایک بڑا سا پشتہ باندھا جاتا۔ آمنے سامنے دو جنگی ہاتھی جو لڑائی کے لیے تیار کیے جاتے تھے، وہاں لاکر کھڑے کر دیے جاتے۔ اس وقت باندار چرخیاں اور بان، فیلبان بھالے اور برچھے لے کے، سانٹ مار چست کپڑا پہن کے سانٹے ہاتھوں میں لیے ہاتھیوں کے ارد گرد کھڑے ہو جاتے۔ سانٹ مار ہاتھیوں کو چمکا اور گرما دیتے۔ ان میں سے ایک نہ ایک پھرتی کر کے ہاتھی کے پیٹ کے تلے سے نکل جاتا۔ ہاتھی جھنجھلا کر اس کا رخ کرتا۔ دوسرا سانٹ مار پینترا کاٹ ہاتھی کے برابر آجاتا۔ ہاتھی اس کی طرف مڑتا، تیسرا لپک کے ہاتھی کے آگے سے نکل جاتا۔ ہاتھی اس پر دوڑتا، وہ کاوا دے پیچھے آجاتا۔ جب ہاتھی خوب گرما جاتے تو پہلے سونڈیں ملا کر زور کرتے۔ ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتا، مستکیں ملا کے وہ اسے ریلتا اور یہ اسے دھکیلتا اور رگیدتا۔ ان میں جو دل کا بودا ہوتا، دوسرے کا زور اور ٹکّر سنبھال نہ سکتا تھا۔ چنگھاڑ مار کر پیچھے ہٹ جاتا۔ دوسرا شیر ہو کر اس پر دوڑتا۔ فیلبان بھالے لے لے کر دوڑتے۔ دونوں کا بیچ بچاؤ کر، ہٹا ہٹو پرے لے جاتے اور یہ کہتے جاتے کہ دیو صفت بہادرو چلو غصہ تھوک دو۔ تم تو وہ کالے پہاڑ ہو کہ تم سے رستم بھی ٹکر نہیں لے سکتا ۔یہ تو دو پہلوانوں کا کمالہ تھا ۔جنگ زرگری کی ہار جیت اور مار پیٹ کیا ۔یہ بھی مردوں مردوں کی ایک جھڑپ تھی جو بادشاہ سلامت کے خوش کرنے کو دکھا دی گئی۔\n\nہاتھی اور بگھیلے کی لڑائی\nبادشاہ کے کلام کا عام شوق\n\nاسی طرح ایک روز بادشاہ کے دل میں یہ اُمنگ اٹھی کہ اب تو ہاتھی اور بگھیلے(١٩) کی لڑائی دیکھے بہت دن ہوئے۔میر شکار کو بلاکر حکم دیا کہ کل ہاتھی اور بگھیلے کی لڑائی کا تماشا دیکھا جائے گا، ضروری انتظام کر لو۔دہلی کی یہ مثل مشہور ہے کہ ہونٹوں نکلی کوٹھوں چڑی اور خاص کر بادشاہ کی بات کہ اس کے واسطے در و دیوار، ہرےسوکھے روکھ، رنگ برنگ کے پکھیرو، چرند، پرند، ہوا کے جھونکے سب تار کا کام دیتے ہیں۔ میر شکار شاہی شکار خانہ تک نہیں پہنچا تھا کہ تمام قلعے اور سارے شہر میں اس لڑائی کی خبر پہنچ گئی۔ سیلانی جیوڑے تماشائی صبح سے پوشاکوں کو درست کرنے لگے۔ ہر ایک سیلانی یہی جانتا تھا کہ بادشاہ کی سب سے پہلی نظر ہماری ہی پوشاک پر پڑے گی۔ خوب بن ٹھن کر تماشا دیکھنے آئے۔ دہلی میں بہادر شاہ کی ہر ایک چیز اور ہر ایک بات اس قدر مرغوب تھی کہ اِدھر بادشاہ سلامت کے منہ سے کوئی بات نکلی، اُدھر شہر کے ایک ایک گلی کوچے میں اس کا چرچا ہو گیا۔ مثلاً بادشاہ نے کوئی غزل، ٹھمری، ٹپّہ، ہولی یا بسنت کہہ کر میر منشی کے حوالے کی اور وہ صبح ہی سے ایک ایک راہ گیر، چھوٹے چھوٹے بچے، بڑے بڑے خوش گلو گاتے ہوئے پھرتے نظر آئے۔ گائنیں بھی اسی تاک میں رہتی تھیں۔ ڈوم ڈھاریوں کو دوڑایا، وہ یاد کر کے لائے اور تھوڑی ہی دیر میں نوکِ زبان کر کے مجرے کی جما دی۔\n\nبادشاہی غزلیں سب سے پیشتر ٹرمونہی خانم کو دی جاتی تھیں۔وہ فن موسیقی میں ید طولیٰ رکھتی اور ٹیڑھے منہ سے گا کر بڑے بڑے گویّوں کو سیدھا کر دیتی تھی۔ جس وقت وہ شاہی محل کے صحن میں چاندنی رات کو الاپتی تو اس کی آواز شاہدرہ، نونی، میراں شاہ عبداللہ اور بہٹے میں اس طرح لوگ سن لیتے کہ گویا اسی جگہ گا رہی ہے۔ غدر کے بعد اپنا بنا گھر اجاڑ کر بی ٹِرمونہی خانم درگاہِ حضرت خواجہ نظام الدین میں آ کر رہیں۔ حضرت سے ان کو کمال عقیدت تھی۔ روز صبح کو درگاہ شریف میں تشریف لاتیں۔ کبھی ساز کے ساتھ، کبھی بغیر ساز ہی دو چار چیزیں حضرت کے مزار مبارک کی نذر کر جاتیں۔ اگر بہادر شاہ کا کوئی ٹپّہ گایا تو شوری ٹپّہ گر کی روح کو خوش کر دیا۔ ٹپہ کا گانا کچھ آسان کام نہیں۔ اس میں آدمی کا سینہ شق ہو جاتا اور ٹپّہ کے شور میں سب کی آوازیں پست پڑ جاتی ہیں۔ کسی ٹھمری کی لَے اٹھائی تو حسینی پیا، سند پیا، پُھلرنگ، خوش رنگ، سدا رنگ اور قدر وغیرہ کو اپنے شوق رنگ کا ادنیٰ چیلا ثابت کر دیا۔ خالص پنجابی ہندی بھاکا، دوہے، ہولیاں، صوفیانہ رنگ میں رنگی ہوئی چیزیں خوب ادا کرتی تھی۔ دُھرپد، ترانہ بھی خوب گاتی تھی۔ اس کو بادشاہ کی بہت سی ایسی غزلیں یاد تھیں کہ وہ چاروں دیوانوں میں نہیں ہیں۔ چنانچہ ایک مصرع اور ایک شعر اس وقت ہماری زبان پر آ گیا ؏\n\nبغض اچھا ہے کسی سے نہ عداوت اچھی\n\nشعر:\n\nاس زمانے میں ظفر ہم سے اگر سچ پوچھو\n\nاپنا گھر اچھا ہے آپ اچھے قناعت اچھی\n\nمرزا شاہرخ والی محبوبن گو بادشاہی طوائفوں میں داخل نہ تھی مگر اس کا گانا قابلِ تعریف تھا۔ ضامن علی شاہ ضامنؔ، صابری چشتی متخلص بہ ضامن سہارنپوری اس کے پیر تھے۔ اس سبب سے صابری رنگ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اساتذہ فارسی کا منتخب کلام بھی اسے خوب یاد تھا۔ سعدی، حافظ، جامی، مغربی، خسرو وغیرہ کی فارسی غزلیں؛ ظفر، داغ، ذوق، مومن، غالب، معروف وغیرہ کی اردو غزلیں اس انداز سے ادا کرتی تھی کہ غزل کی صورت باندھ دیتی تھی۔ ضامن کی غزلوں اور ان کے سات سمندر کی وہ خود عاشق تھی۔ پہلے اس کا نام نصیبن تھا۔ آواز کی مقبولیت کے سبب محبوبن ہو گیا۔ در اصل مرزا شاہ رخ شہزادۂ دہلی کی خانہ زاد تھی۔ انھوں نے اسے خوش الحان و خوش آواز دیکھ کر نامی گویوں سے تعلیم دلوائی تھی۔آواز میں یہ تاثیر تھی کہ کیسا ہی غل شور مچ رہا ہو، جہاں محبوبن نے سُر نکالا اور سب کو سانپ سونگھ گیا۔ شہر خاموشاں کا عالم اور سنسان نظر آنے لگا، پھر واہ واہ کی داد ملنے لگی۔ گو اب بڑھیا ہو گئی تھی، مگر اسے آگرہ والی مُنّی سے جو بھڑا دیا تو یہ بوڑھا پہلوان کُشتی جیت کر اٹھا۔ در حقیقت وہ کسبی نہ تھی۔ بہت بڑی شائستہ، نستعلیق، سلیقہ شعار، مردم شناس، صاحب حال و قال گویا بظاہر طوائف تھی۔ اس کی گفتگو میں رس تھا، دل دردمند تھا، مزاج حق شناس و حق پسند ۔ مخیر بھی تھی، خدا ترس بھی تھی۔ دو چار راگ پسند بوڑھے اس کے دروازے پر پڑے بھی رہتے تھے۔\n\nغرض ہاتھی اور بگھیلے کی دھوم مچ گئی۔ تمام شہر کے لوگ صبح ہی سے ریتی میں جانے شروع ہو گئے۔ بادشاہی جھروکوں کے نیچے دریا کی ریتی میں بادشاہ کی طرف سے تماشائیوں کے بند و بست، ان کی حفاظت کے لیے نجیب، سپاہی، تلنگے اور بہت سے سوار کھڑے ہو گئے تاکہ کوئی جھپٹ میں نہ آجائے۔ میدان کے دُھر بیچ میں فیلبان ہاتھی کو لے کر آئے۔ ہاتھی جھومتا جھامتا، مستانہ چال سے اٹکھیلیاں کرتا ہوا ان کے ساتھ آیا۔ ارد گرد بھالے بردار، بان بردار گویا اس کے خیر مقدم میں کھڑے ہو گئے۔ شکاری بگھیلے کو ہاتھی کے سامنے لائے۔ اس کی رسیاں کھول دیں۔ بگھیلے نے کھلتے ہی ہاتھی پر حربہ کیا۔ ہاتھی نے داؤں بچا کر اس کا وار خالی دیا، بگھیلا جھنجھلا کے ہاتھی پر جھپٹا۔ سُرتے ہاتھی نے کترائی دی۔ پھرتی سے اسے سونڈ میں لپیٹ لیا۔ دونوں پاؤں کے نیچے دبا کے سونڈ سے اٹھا پرے پھینک دیا۔ جونہی ہاتھی پیچھے ہٹا، بگھیلا لوٹ پیٹ کر کھڑا ہو گیا اور کلانچیں مارتا ہوا جھروکوں کی طرف آیا۔ ساری خلقت ڈر کے مارے بِھرّی ہو گئی اور سر پر پاؤں رکھ کر گڑھے گڑھولوں میں جا چھپی۔ کچھ آدمی دریا میں کود پھاند اتر گئے۔ چھوٹی عمر کے بچے تتیری ہو گئے۔ سارا میدان ہو کا مکان بن گیا۔میر فتح علی جو بادشاہ کے جنگلی وزیر کہلاتے تھے، دو نالی بندوق ہاتھ میں لیے ڈٹے رہے۔ اپنی جگہ سے نہ سرکے۔ وہی کہاوت کر دکھائی “قطب جنبد نہ جنبد گل محمد”۔ دور سے گولی بھی نہ چٹخا سکے کہ خلقت چاروں طرف چھپی چھپائی پڑی ہے، کوئی نشانہ نہ بن جائے۔ بگھیلا میر صاحب کو بت بنا کھڑا دیکھ کر انھیں پر لپکا۔ میر صاحب نے اس کے گولی ماری مگر وہ خالی گئی۔ اس بات سے بگھیلا بھبک کر غراتا ہوا ان پر دوڑا۔ میر صاحب نے دوسری گولی اور سرکی ، وہ بھی زمین میں دھس گئی۔ بگھیلے کے ایک بھی نہ لگی۔ بگھیلے نے آتے ہی حملہ کر کے میر صاحب کو پنجوں سے گرا دیا۔ یہ دیکھتے ہی شکاری، بہلیے، پھندیت دوڑ پڑے اور اس موذی کو جوں توں پکڑ کے باندھا۔\n\nمیر فتح علی کو بادشاہی ملازم اٹھا اٹھو کر ان کی قیام گاہ میں زیر جھروکوں لے آئے۔ پنجوں کا خفیف سا زخم آیا تھا۔ لیکن صدمہ سے بیہوش ہو گئے تھے۔ بادشاہی حکیم، طبیب، جراح، فوراً آ موجود ہوئے۔ دوا درمن کر کے ہوش میں لائے۔ زخم پر مرہم پٹی باندھ بوند چند روز میں اچھا بچھا کر دیا۔ ان کی اس ثابت قدمی اور جانبازی سے تمام قلعہ و شہر میں واہ واہ ہو گئی۔ بادشاہ کے ہاں بھی قدر و منزلت بڑھی۔\n\nبادشاہ کے سامنے چیتے اور ہرن کا شکار\n\nبہلیے اور شکاری ہرن وغیرہ جنگل میں سے گھیر گھار کر لائے۔ چیتے والوں نے چیتے کی آنکھوں پر سے ٹوپی اتار کے ان کی طرف چھوڑ دیا۔ چیتے نے داؤں گھات لگا کے ایک آدھ کو دبوچ لیا۔چیتے والے دوڑے۔ چیتے کو پنیر وغیرہ کی چاٹ چٹا کے اس کی پیٹھ اور دم پر ہاتھ پھیرا۔ اور پیار چمکار کے اس سے شکار چھڑا حلال کیا۔\n\nایک دن اسی طرح بادشاہ کے سامنے چیتی کو شکار پر چھوڑا۔ جوں ہی چیتی نے دبک کر گھات لگائی، ہرن چوکنا ہو گیا اور چوکڑی بھرتا ہوا ایسا بھاگا کہ نظروں سے غائب غُلّہ ہو گیا، پھر نہ دکھائی دیا۔ چیتی شکار کے ہاتھ نہ آنے سے جھونجل میں آ کر اُلٹی پھری۔ خلقت جو تماشا دیکھ رہی تھی، ڈر کے مارے تِتّر بتّر ہو گئی۔ مگر شاہ صمد خاں جو سمند خان مشہور تھے، جوان، قوی ہیکل، خوشرو، بڑے دل چلے، بادشاہی رسالدار تھے۔ ایسے وقت میں طرح دے کر بادشاہ کے سامنے سے ہٹ جانا حقارت اور تُھرڈلی سمجھے۔ اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ وہیں جمے کھڑے رہے۔ چیتی بھبھک کر ان پر آئی۔ وہ نہتّے کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھ میں کوئی لکڑی تھی نہ ہتھیار جو اس پر وار کرتے۔ صرف اوسان ان کے ہتھیار بن گئے اور وہی اس وقت کام آئے۔ انھوں نے پیترا بدل اس کا وار خالی دیا۔ سپاہیانہ پیچ کر ایک ہاتھ سے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ، دوسرے ہاتھ سے اس کا ٹیٹوا دبا سر پر سے چکر دے زمین پر دے مارا۔ تمام لوگوں میں ان کی دلاوری کا شہرہ ہو گیا اور بہت سی واہ واہ ہوئی۔ بادشاہ نے خوشنود ہو کے معزز و ممتاز فرمایا۔\n\nبٹیر بازی\n\nجہاں اساڑھ کا مہینہ شروع ہوا، باغوں میں بٹیریں پکڑنے کے جال لگائے گئے۔ باغوں کے مکان اور بارہ دری فرش فروش سے سجائی گئی۔ شوقین شہزادے مع سامان، نوکر چاکر وغیرہ وہاں جا رہے۔ پلی ہوئی بٹیروں کو جال دار تھیلیوں میں برابر برابر بانس میں باندھ کے اونچی بلیوں میں لٹکا دیا۔ رات بھر بٹیروں کی آواز پر بٹیر گرتے رہے۔ فجر ہی منہ اندھیرے شاہزادے نوکروں اور مصاحبوں کو لے کے بٹیروں کی گھِرائی کو اٹھے۔ باغ میں چاروں طرف آدمیوں کو پھیلا کے بٹھایا۔ رسان رسان ہاتھوں سے تھپکی لگا کے سب طرف سے بٹیروں کو گھیر کے جال کی طرف لے گئے۔ جب بٹیر جال میں پہنچ گئے، جلدی سے جال کے بندھن جو بلّیوں میں بندھے ہوئے تھے کھول کے جال گرا دیا۔ جتنے بٹیر جال میں پھنس گئے پکڑ لیا۔ نروں کو کابکوں میں رکھا۔ مادینوں کو حلال کر کے کھا لیا۔ نئے پکڑے ہوئے بٹیروں کو دونوں مٹھیوں میں پکڑ کے مونٹھیں کیں،ان کی چمک نکالی۔ رات کو مونٹھیں کر کے بٹیروں کے کانوں میں کو کا اور جگایا۔ ماشوں سے ناپ تول کر دانہ پانی انھیں دیا جس سے ہلکے پھلکے، چست چالاک رہیں۔ بھدّے اور مست نہ ہو جائیں۔ جب بٹیر لڑائی کے لیے تیار کر لیے اور خوب آزما لیے تو آپس میں صیدیوں سے لڑائے۔ بھروسے کے بٹیروں کو مشک، زعفران میں رنگ رنگا کر بادشاہ کے سامنے جا لڑایا۔ لڑتے لڑتے جس کا بٹیر بھاگا وہ فق رہ گیا، جس کا بٹیر بازی جیتا اس نے شور مچایا “وہ مارا بھگا دیا”۔ ہار جیت کے اپنے گھر آئے۔ بازی جیتے ہوئے بٹیروں کے پاؤں میں چاندی کی کڑیاں ڈال دیں۔ جب تک موسم رہا آپس میں لڑاتے رہے۔ جب موسم نکل گیا، بٹیر بازوں کے حوالہ کیا کہ ان کے ہر موسم کا رکھ رکھاؤ اور دانہ پانی کی خبر گیری کرتے رہیں۔ گرمیوں میں دودھ نان پاؤ، جاڑوں میں کنگنی وغیرہ ملتی رہے۔ اب جب موسم آئے گا پھر اسی طرح پکڑیں گے اور لڑائیں گے۔\n\nکبوتر بازی\n\nگردان اڑان کبوتروں کے ساتھ(٢٠) کے ساتھ رنگ برنگ کے دو ڈھائی تین سو کے، کوئی زرد پٹیتوں(٢١) کا، کوئی کالے پٹیتوں کا، کوئی کالے سبز مُکھی وغیرہ کا۔ ہر ایک ساتھ ایک ایک رنگ کا تھا۔ جب بادشاہ کو کبوتروں کی سیر دیکھنی منظور ہوتی تھی، کبوتر باز بھڑیاں(٢٢) اور تاوے(٢٣) دے کر دو چار ہوائیں بادشاہ کے سامنے دے دیتے تھے۔ ایک کبوتروں کا ساتھ(٢٤) ایسا گردان تھا کہ کبوتر باز نے قلعہ سے اڑایا اور چھیپی سے اشارہ شاہدرہ کی طرف کر دیا، وہ سیدھے شاہدرہ پہنچے۔ وہاں سے دانہ کھلا کر کبوتر باز نے اڑا کے چھیپی سے قلعہ کی طرف ہانک دیا اور زفیلنا(٢٥) شروع کیا، وہ سیدھے قلعہ میں چلے آئے۔ ایک کبوتروں کا ساتھ بادشاہ کی جلوسی سواری کے ہمراہ ایک کاٹھ کے ہاتھی میں جس پر کاٹھ ہی کا ہودہ بھی ہوتا تھا، عید گاہ میں جاکر کبوتر باز ہاتھی کی پیٹھ کی کھڑکی کھول کر کبوتروں کو نکالتا۔ کبوتر ہاتھی کے اوپر ہودے میں جسے قُلقُل کہنا چاہیے، جا بیٹھتے۔ کبوتر باز دو چار ہوائیں اڑاتا اور پھر اسی ہودے میں بند کر دیتا۔\n\nبیضہ بازی یعنی سبز وار مرغیوں کے انڈوں کی لڑائی\n\nشہزادوں نے اچھی نسل کی سبزوار(٢٦) مرغیاں بڑی تلاش و جستجو سے منگوا کے ان کے انڈے بٹھا کے بچے نکلوائے۔ مرغیوں کا رکھ رکھاؤ، کھول موند کی خبر گیری ایسی ہوتی تھی کہ وقت پر کھولا، پھر اپنے سامنے ہی انھیں پھرایا، چلایا، دانہ پانی دے کے کھانچوں میں بند کر دیا۔ مرغوں کو بادام، مرغیوں کو گوشت کی بوٹیاں وغیرہ کھلاتے کہ انڈے مضبوط ہوں۔ انڈوں کی بڑی نگہبانی ہوتی تھی۔ کوئی انڈا چوری نہ جائے تاکہ اور جائے نسل نہ پھیلنے پائے۔ ان کے انڈے ایسے مضبوط اور نوک دار ہوتے تھے کہ چین کی مرغیوں تک کے انڈے توڑ ڈالتے تھے۔ نوروز کے موقع پر وہ انڈے دیتی تھیں۔ چنے برابر انڈوں پر نیش ہوتا تھا۔ ہر منگل کو صیدی آپس میں لڑاتے تھے۔ نوروز کے دن شاہزادے انڈوں کو مشک و زعفران سے رنگ رنگا کے حضور میں لاتے اور لڑاتے تھے۔\n\nسبز وار مرغیوں کا حلیہ یہ ہے: حلق کے نیچے سرخ گوشت اور رنگ برنگ کے پر ہوتے ہیں۔ دیوانِ خاص میں بادشاہ کے سامنے انڈے لڑانے آتےاور محل میں اپنے آنے کی اطلاع کراتے۔ جسولنی آواز دیتی تھی کہ خبردار ہو؛ نقیب، چوبدار پکارتا تھا کہ اللہ رسول خبردار۔ بادشاہ خاصی ڈیوڑھی سے برآمد ہوتے۔ نقیب اور چوبدار آواز لگاتے کہ “اللہ کی امان، دوست شاد دشمن پائمال، کرو مجرا جہاں پناہ سلامت”۔ بادشاہ مسند پر آکر بیٹھتے۔سب مجرا کرتے۔ شاہزادے مسند کے ارد گرد بیٹھ جاتے اور سب اہالی موالی ادب سے پیچھے کھڑے ہو جاتے۔ صیدی پانچ پانچ چھٹے ہوئے مضبوط انڈے نکالتے۔ کوئی صیدی ایک انڈا مٹھی میں اس طرح بند کر لیتا کہ فقط نیش کھُلا رہے۔ دوسرا اوپر سے انڈے کے نیش سے انڈے کے نیش پر چوٹیں لگاتا۔ جو انڈا توڑتا وہ خوش ہو کر پکارتا، وہ توڑا۔ جس کا انڈا ٹوٹ جاتا وہ خفیف ہو جاتا۔ اس طرح بادشاہ کے سامنے پانچ پانچ انڈے لڑا کے ہار جیت کا فیصلہ کرتے۔ بادشاہ محل میں داخل ہوتے۔\n\nپتنگ بازی اور قلعہ کے متعلق ذکر\n\nعصر کے وقت پتنگ باز بڑے بڑے پتنگ، ڈور کی چرخیاں لے کے سلیم گڈھ میں پہنچے۔ بادشاہ کی سواری آئی۔ ایک طرف بادشاہی پتنگ بازوں نے دریا کی طرف پتنگ بڑھایا، دوسری طرف معین الملک نظارت خاں بادشاہی ناظر کا پتنگ اٹھا۔ دریا کی ریتی میں سوار کھڑے ہو گئے۔پیچ لڑے، ڈھیلیں چلیں، پتنگ ڈوبتے ڈوبتے آسمان سے جا لگے۔ پیٹا چھوڑ دیا، ڈور زمین سے لگ گئی۔ سواروں نے آنکڑے دار لکڑی سے ہاتھوں میں لے لی، آخر ایک پتنگ کٹ گیا۔ ہوا سے جھوکے اور تھپیڑیں کھاتا ہوا دریا کے پار جا گرا۔ بادشاہ سیر دیکھتے رہے۔ جی میں آیا تو تخت رواں سے اترے ۔ پتنگ بازوں نے مچھلی کے چھلکوں کے دستانے بادشاہ کے ہاتھوں میں پہنا دیے۔ بادشاہ نے پتنگ ہاتھ میں لیا۔ ایک آدھ پیچ لڑایا۔ پتنگ بازی کی سیر دیکھ کر بادشاہ محل معلّے میں داخل ہوئے۔\n\nبادشاہی پتنگ بازی میں پتنگ اور تکّل قد آدم ہوتی تھی۔ بعض اوقات لوہے کے تار پر بھی اڑاتے تھے۔ بادشاہی حریفوں یا صیدیوں میں مرزا یاور بخت بہت مشہور تھے۔ ان کی برابر کوئی نہیں لڑا سکتا تھا۔ لطف یہ ہے کہ ان کے ہاتھ کا پتنگ بہت کم کٹتا تھا اور کاٹنے میں سب سے زیادہ زبردست رہتا تھا۔ یہ اپنے ہاتھ سے آپ ہی پتنگ بناتے، آپ ہی ڈور تیار کرتے اور آپ ہی لڑاتے تھے۔ مرزا یاور کا سا سُدھ پتنگ کم دیکھنے میں آیا ہے۔ غدر کے بعد بھی مرزا یاور نے پتنگ بازی میں اپنی شہرت قائم رکھی۔ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی دہلی کے پاپڑ والے سکھ بھی پاپڑ بیل کر کچھ چندہ جمع کرتے اور بادشاہی پتنگ بازی میں جھروکوں کے نیچے ریتی میں جا کر پانچویں سواروں میں شامل ہو جاتے تھے۔ یقین ہے ان کے پاپڑی پتنگوں کا رنگ بھی پاپڑ سا زرد اور ڈور بھی بسنتی ہوتی ہوگی، لباس بھی زرد ہو تو عجب نہیں۔ تیلیا کاغذ بھی بھیگنے سے بچا رہتا ہوگا۔ ادھر بوند پڑتی ادھر ڈھل جاتی ہوگی۔ دھیری پکارنے کی نوبت ہی نہ آتی ہوگی۔\n\nپہلے بڑے بڑے پتنگ، تکّلیں، کنکوّے، رنگین اور سادے بازاروں میں بکتے تھے۔ بعض شوقین اپنے ہاتھ سے بڑی بڑی کاریگری ان میں کر کے بناتے تھے۔ کنکوّا، دوباز، دو پنّا، کانڑا، دو پلکہ، چِڑا، پریوں دار، ککُدما، لکُدما، بگلہ وغیرہ تکّلیں لنگوٹ دار، کلیجہ جلی وغیرہ وغیرہ بنا کے ان میں اپنی کاریگری دکھاتے۔ ڈور ایک بَلی، دو بَلی،تِبَلی، چوبَلی، کنکوّوں، تکّلوں کے زور کے موافق مانجھا سونت کے بڑے بڑے پِنڈے، گولے خوبصورت بناتے یا چرخیوں پر چڑھاتے۔ اس پر پتنگ، تکّلیں، کنکوّے اڑاتے اور لڑاتے یا نَخ پر مانجھا سونت کے ڈور کا کام لیتے۔ بچے بالے پیسہ، دھیلچیہ، دمڑچیہ، کنکوّے، چھوٹیتِنّخیں ایک بَلی ڈور پر اڑاتے پھرتے۔ وہ پہلی سی ڈوریں، نخ، پتنگ، تکّلیں، کنکوّے سب اڑ گئے۔ اب لنڈورے، کنکوّے بن پنچھلّے کے جنھیں گڈّی کہتے ہیں، انگریزی موٹے ریل کی ڈور پر مانجھا سونت کر کنکوّے بازی ہوتی ہے۔", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C/%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D9%84%D8%B7%D9%86%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%DB%92"} {"title": "مرمر کے پئے رنج و بلا جیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مرمر کے پئے رنج و بلا جیتے ہیں\nناراض ہیں راضی بہ رضا جیتے ہیں\nارمان مجسم ہے سراپا اپنا\nجی مار کے جیتے ہیں تو کیا جیتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D8%AC%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مرنا تو بہتر ہے جو مر جائیے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرنا تو بہتر ہے جو مر جائیے\nجی سے کسی کے نہ اتر جائیے\n\nقتل تو کرتا نہیں وہ کس طرح\nاس کے گناہ گار ٹھہر جائیے\n\nکیا لکھوں طاقت نہیں اے نامہ بر\nمرنے ہی کی لے کے خبر جائیے\n\nآئے ہو گر یاں تلک اے مہرباں\nبیٹھے کوئی دم تو ٹھہر جائیے\n\nسوئے حرم یا طرف بت کدہ\nالغرض اے شیخ جدھر جائیے\n\nدونوں جگہ جلوہ گہہ یار ہے\nخواہ ادھر خواہ ادھر جائیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "مرنا مریض عشق کے حق میں شفا ہوا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرنا مریض عشق کے حق میں شفا ہوا\nاچھا ہوا نجات ملی کیا برا ہوا\n\nراہ عدم کی منزل اول میں کیا ہوا\nجو آیا خاک ڈال کے مجھ پر ہوا ہوا\n\nنشتر کو ڈوبنے نہ دیا اے رگ جنوں\nکیا اس کا ایک قطرۂ خوں میں بھلا ہوا\n\nجس دل کے داغ سے ہمیں تھی چشم روشنی\nرہتا ہے وہ تو شام ہی سے خود بجھا ہوا\n\nبس ایسی چارہ سازی سے اے شوقؔ باز آئے\nجس سے کہ درد اور بھی دل میں سوا ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%B6_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "مرنے والے خوب چھوٹے گردش ایام سے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرنے والے خوب چھوٹے گردش ایام سے\nسو رہے ہیں پاؤں پھیلائے ہوئے آرام سے\n\nاور تو مطلب نہیں کچھ ہم کو دور جام سے\nہاں عوض لیتا ہے ساقی گردش ایام سے\n\nگرچہ ترک آشنائی کو زمانہ ہو گیا\nلیکن اب تک چونک اٹھتے ہیں وہ میرے نام سے\n\nاشتیاق مے کشی کچھ مے کشی سے کم نہیں\nہم تو ساقی مست ہو جاتے ہیں خالی جام سے\n\nمے کدے کا راز پردے ہی میں رہنا خوب تھا\nدیکھ ساقی شیشہ کچھ کہتا ہے تھک کر جام سے\n\nزلف سنبل نکہت گل موج سبزہ موج آب\nباغ میں کوئی جگہ خالی نہ دیکھی دام سے\n\nہم فقیر مے کدہ ساقی ہمیں کیا چاہیئے\nہے وہی کافی چھلک جاتی ہے جتنی جام سے\n\nبے نشاں تجھ کو سمجھ کر صبر آ جاتا مجھے\nپر یہ مشکل ہے کہ میں واقف ہوں تیرے نام سے\n\nکیا خدا کی شان ہے جن کا وظیفہ تھا جلیلؔ\nآج وہ کہتے ہیں میں واقف نہیں اس نام سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%DA%86%DA%BE%D9%88%D9%B9%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاں", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاں\nکرتا ہے میرے قتل کو تو کیوں شتابیاں\n\nمیرا ہی خانماں نہیں ویراں ہوا کوئی\nبہتوں کی کی ہیں عشق نے خانہ خرابیاں\n\nخوان فلک پہ نعمت الوان ہے کہاں\nخالی ہے مہر و ماہ کی دونوں رکابیاں\n\nہرگز خم فلک میں نہیں ہے شراب عشق\nغنچوں کی خون دل سے بھری ہیں گلابیاں\n\nحلقوں سے اس کی زلف کے رخسار ہے عیاں\nتاباںؔ جتھے میں دیکھو ہیں کیا ماہتابیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D9%BE_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "مروت کا پاس اور وفا کا لحاظ", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مروت کا پاس اور وفا کا لحاظ\nکرے آشنا آشنا کا لحاظ\n\nدم سجدہ سر سخت تھا بے ادب\nکیا کچھ نہ اس نقش پا کا لحاظ\n\nنہ محروم رکھ مجھ کو حسن قبول\nرہے کچھ تو دست دعا کا لحاظ\n\nوہ ہیں پاس اب بس کر اے درد دل\nکرے کچھ مرض بھی دوا کا لحاظ\n\nملائی نہ وحشتؔ کبھی اس سے آنکھ\nمجھے تھا جو اس کی حیا کا لحاظ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%D9%88%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D9%84%D8%AD%D8%A7%D8%B8"} {"title": "مرگ اغیار لب پہ لا نہ سکا", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرگ اغیار لب پہ لا نہ سکا\nوہ قسم ہوں جو یار کھا نہ سکا\n\nاس قدر ضعف تھا کہ تیرا ناز\nتھی تمنا مگر اٹھا نہ سکا\n\nمر کے ٹھنڈا کہیں نہ ہو جائے\nاس لیے وہ مجھے جلا نہ سکا\n\nبخل دیکھو تو میری تربت پر\nایک آنسو بھی وہ گرا نہ سکا\n\nاٹھ نہ جائے رقیب محفل سے\nمجھ کو پہلو میں وہ بٹھا نہ سکا\n\nتھا جو اشک عزیز خاطر میں\nدیدۂ تر مجھے بہا نہ سکا\n\nحسن تیرا وہ ماہ تاباں تھا\nابر گیسو جسے چھپا نہ سکا\n\nدار فانی مقام لغزش ہے\nکوئی اپنا قدم جما نہ سکا\n\nنہ ملا کوئی وقت تنہائی\nحال دل یار کو سنا نہ سکا\n\nجانتا تھا پڑے رہیں گے وہیں\nاس لیے یار گھر بتا نہ سکا\n\nنہ منا لڑ کے وہ بہت چاہا\nایسے بگڑے کہ پھر بنا نہ سکا\n\nدیکھ کر بد دماغیاں ان کی\nنامہ بر خط مرا پڑھا نہ سکا\n\nکس طرح عرض مدعا کرتا\nغیر کو پاس سے ہٹا نہ سکا\n\nآرزو مند رہ گیا مجنوں\nمیرے آگے فروغ پا نہ سکا\n\nکینہ شوق رقیب تھا اے دوست\nکہ طبیعت سے تیری جا نہ سکا\n\nکیا ندامت ہوئی ہے قاتل سے\nناز خنجر گلو اٹھا نہ سکا\n\nخوف تھا غش انہیں نہ آ جائے\nمیں شگاف جگر دکھا نہ سکا\n\nناتواں تھا نسیمؔ اس درجہ\nکہ وہ زنجیر پا ہلا نہ سکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DA%AF_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%DB%81_%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D8%A7"} {"title": "مرگِ خودی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "خودی کی موت سے مغرب کا اندرُوں بے نور\nخودی کی موت سے مشرق ہے مُبتلائے جُذام\nخودی کی موت سے رُوحِ عرب ہے بے تب و تاب\nبدن عراق و عَجم کا ہے بے عروق و عظام\nخودی کی موت سے ہِندی شکستہ بالوں پر\nقفَس ہُوا ہے حلال اور آشیانہ حرام!\nخودی کی موت سے پیرِ حرم ہُوا مجبور\nکہ بیچ کھائے مسلماں کا جامٔہ احرام!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DA%AF%D9%90_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C"} {"title": "مرگھٹ کی دیوی", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا\nآئینہ فرش شش جہتِ انتظار ہے\n\nسوناڈیہ جگنا، میرا یک گاؤں ہے، جو بھگوان پور پرگنہ چین پور ضلع آرہ میں واقع ہے۔ یہ گاؤں ٹھیکہ پر دے دیا گیا ہے اور روپیہ وصول کرنے کی غرض سے مجھے ہر سال یہاں آنا پڑتا ہے۔ سونا ڈیہ، بھگوان پور سے تین میل ہے۔ میں داروغہ بلدیو نراین صاحب متوفی کے مکان پر قیام کرتا ہوں۔ داروغہ صاحب کی اولاد اور ان کے خاندان کے سب چھوٹے بڑے میرے ساتھ بہت ادب و لحاظ سے پیش آتے ہیں۔ شب کو جب میں کھانے پینے اور عشاء کی نماز سے فارغ ہوجاتا ہوں تو تُرنت پرشاد صاحب، داروغہ صاحب کے فرزند ارجمند وغیرہ سب مجھے آکر گھیر لیتے ہیں۔ اور میری ویدانت اور حکمت کی باتوں کو سن کر بہت لطف حاصل کرتے ہیں۔\n\nچنانچہ آج اپریل کی دسویں شب کو کچھ آسیب او ربھوتوں کا ذکر چھڑا تو میں نے کہا، چنار ضلع مرزا پور میں میرے ایک دوست کرم فرما خواجہ سید حسین علی صاحب اپنے قصبہ کے رئیس زادہ ہیں۔ وہ فرماتے تھے کہ میں ضلع مین پوری میں جو کلکتہ کی طرف ایک مشہور مقام ہے، کوتوال تھا۔ ایک روز میں کوتوالی میں بیٹھا ہوا کام کر رہا تھا جو چندن پور کے چوکیدار نے آکر کہا، چندن پور کی حد میں ایک واقعہ ہوگیا ہے۔ آپ موقعہ پر تشریف لے چلئے۔ جب چوکیدار کوتوالی میں پہنچا تو اس وقت دن کے تین بجے تھے۔ چندن پور، کوتوالی سے چھ سات میل کے فاصلہ پر تھا۔ ایک جمعدار اور چار کانسٹبل فوراً چندن پور کو روانہ کئے اور ان سے کہا میں بھی آتا ہوں۔\n\nمیرا گھوڑا آٹھ سو روپیہ کی قیمت کا برق رفتار تھا۔ کچھ دیر بعد میں اس پر سوار ہوکر چلا۔ شام کے چار بج لئے تھے۔ میں تھوڑی دیر میں چندن پور کے قریب پہنچ گیا۔ راستہ تنگ تھا اور دور ویہ تھور کی باڑ لگی ہوئی تھی۔ اس پگ ڈنڈی سے ادھر میں نے دیکھا کہ چند آدمی کھڑے ہیں اور نشیب میں ایک چتا بنی ہوئی ہے اور ایک لاش جلائی جاتی ہے۔ میں نے گھوڑا روک کر ان لوگوں سے پوچھا کہ کون مر گیا۔ لوگوں نے کہا فلاں برہمن کا لڑکا ہیضہ میں مبتلا ہوا اور چند ہی گھنٹہ میں مر گیا۔\n\nہمارے چندن پور میں آج کل ہیضہ کا زور ہے۔ اس نوجوان کی عمر بیس، اکیس سے زیادہ نہ تھی۔ میں سنتا ہوا چل دیا۔ موقع واردات پر پہنچا اور وہاں سے پلٹ کر چندن پور میں ٹھہرا اور معاملہ کی تفتیش کی۔ اور اپنے ساتھی کانسٹبلوں اور جمعدار سے کہا، تم چلو اور ڈاک بنگلہ میں ٹھیرو، اور کھانے پینے کا سامان گاؤں سے لیتے جاؤ۔ یہ لوگ ڈاک بنگلہ کو چنپت ہوئے اور میں چندن پور کے زمینداروں سے بات چیت میں لگ گیا۔ اور بیٹھے بیٹھے رات کے نو بجا دیے۔ چودھویں تاریخ چاند کی تھی اور برسات عنقریب ختم ہوچکی تھی۔ اس لئے چاندنی بہار دے رہی تھی۔ میں دس بجے رات کے چندن پور سے چلا۔\n\nچاندنی کوسوں تک پھیل رہی تھی اور آنکھوں سے لے کر کلیجہ تک اس کی ٹھنڈک اتری چلی جاتی تھی۔ جب میں اس مرگھٹ کے قریب پہنچا، جہاں برہمن بچے کی لاش جلائی جاتی تھی، تو میں نے اپنے مرکب کو بے چین پایا۔ وہ تیزی کرنے لگااور چاہتا تھا کہ میں جلد نکل جاؤں۔ یکایک میری نظر اس نشیب تک گئی جہاں نوجوان پھونکا گیا تھا۔ تو میں نے دیکھا کہ اس نشیب کے کنارہ پر ایک عورت سفید پوش کھڑی ہے۔ اس کا لباس بہت ہی براق ہے۔ عورت کے سر کے بال بھونرا جیسے سیاہ ہیں۔ اس کا چہرہ آبداری اور حسن میں پور نماشی کے چاند کو مات دے رہا ہے۔ اس کے پاؤں جو ساڑی سے نکل رہے ہیں، وہ ستاروں کی طرح روشن ہیں۔ وہ عورت رستہ سے پیٹھ موڑے کھڑی ہے اور برہمن بچہ کی جلی ہوئی ہڈیوں کو غور سے دیکھ رہی ہے۔\n\nمیں نے اس عورت کے سراپا کو شوق کی نظر سے دیکھنا چاہا، اس لئے میں نے گھوڑے کی باگ روکی۔ مگر گھوڑا پارہ کی طرح تڑپنے لگا۔ عورت کے حسن و جمال کو دیکھ کر مجھے خیال ہوا کہ اس سے بات کروں۔ اور میں نے پکار کر کہا، بیوی تم کون ہو اور اس خطرناک جگہ تم کیوں کھڑی ہو۔ مگر عورت نے کچھ جواب نہ دیا۔ اسی طرح میں نے کئی بار اسے پکارا، اور اس نے دھیان نہ کیا۔ اب مجھے طیش آیا اور میں نے حکومت کے لہجہ میں کہا، تو بڑی ڈھیٹ ہے۔ کیوں نہیں بولتی۔ اس عورت کو اب بھی خبر نہ ہوئی اور اس مرے ہوئے برہمن کی چتا کو گھورتی رہی۔ اس عرصہ میں میرا گھوڑا بہت گھبرایا۔ ایک دفعہ وہ الف ہوگیا، اس کی آنکھیں ابل آئیں۔ اس کے نتھنوں اور منہ سے جھاگ اڑنے لگے۔ مجھے بھی ضد آپڑی اور میں نے چاہا، اس عورت کو پکڑ کر سزا دوں۔ اس لئے میں نے ہنٹر سنبھالا کہ مغرور عورت کے کولہوں پر ٹکاوں۔\n\nمگر اب مجھے خیال ہوا کہ غالباً یہ عورت انسان نہیں ہے، بلکہ چڑیل یا بلا ہے۔ اس تصور کے آتے ہی میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور میں نے اپنے ہاتھ پاؤں میں منوں کا بوجھ پایا۔ اب مجھ میں اتنا سکت نہ رہا کہ گھوڑے کی باگ موڑوں، مگر میری کمزوری سے باگ ڈھیلی ہو چلی تھی۔ اس لئے گھوڑا شرارہ آتش بن گیا اور خود رستہ پر آکر دوڑنے لگا اور میری آنکھیں بند ہو گئیں۔ جب میری آنکھیں کھلیں تو میں نے دیکھا۔ گھوڑا مجھے لے کر ڈاک بنگلہ پر پہنچ گیا ہے۔ جمعدار میرے پاس کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں۔ کوتوال صاحب ہم یہاں سے وہ تماشہ دیکھ رہے تھے، جو آپ نے پاس سے دیکھا ہے۔ آپ نے غضب کیا کہ اس بلا کے سر پر پہنچ گئے۔ دیکھئے یہ چندن پور کا چوکیدار اس بلا کی نسبت کیا کہتا ہے۔\n\nمیں گھوڑے پر سے اتر کر آرام کرسی پر بیٹھ گیا۔ مگر اب تک میرا سانس ٹھکانہ نہ ہوا تھا اور دل دھڑک رہا تھا۔ چوکیدار نے ہاتھ باندھ کر کہا، حضور یہ عورت ہمارے مرگھٹ کی دیوی ہے۔ پچاس بر س سے میں اسے گاہے گاہے دیکھتا ہوں اور سو برس سے ہمارے چندن پور میں مشہور ہے کہ یہ عورت مرگھٹ کی داروغہ ہے اور بارہا نظر آئی ہے اور نظر آتی رہتی ہے۔ یہ خدا کو ہی معلوم ہے کہ یہ کوئی روح ہے یا جنیہ ہے یا کوئی بلا ہے۔ چونکہ یہ بات عجیب و غریب تھی اس لئے میں نے قلم بند کر دیا اوربذریعہ ڈاک اسے دلی بھیج دیا کہ میرے دوست میر قربان علی صاحب اسے اردوئے معلیٰ کا آویزۂ گوش کریں۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DA%AF%DA%BE%D9%B9_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D9%88%DB%8C"} {"title": "مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے\nنگاہوں سے بیاں دل کی کہانی اب بھی ہوتی ہے\n\nسرور آرا شراب ارغوانی اب بھی ہوتی ہے\nمرے قدموں میں دنیا کی جوانی اب بھی ہوتی ہے\n\nکوئی جھونکا تو لاتی اے نسیم اطراف کنعاں تک\nسواد مصر میں عنبر فشانی اب بھی ہوتی ہے\n\nوہ شب کو مشک بو پردوں میں چھپ کر آ ہی جاتے ہیں\nمرے خوابوں پر ان کی مہربانی اب بھی ہوتی ہے\n\nکہیں سے ہاتھ آ جائے تو ہم کو بھی کوئی لا دے\nسنا ہے اس جہاں میں شادمانی اب بھی ہوتی ہے\n\nہلال و بدر کے نقشے سبق دیتے ہیں انساں کو\nکہ ناکامی بنائے کامرانی اب بھی ہوتی ہے\n\nکہیں اغیار کے خوابوں میں چھپ چھپ کر نہ جاتے ہوں\nوہ پہلو میں ہیں لیکن بدگمانی اب بھی ہوتی ہے\n\nسمجھتا ہے شکست توبہ اشک توبہ کو زاہد\nمری آنکھوں کی رنگت ارغوانی اب بھی ہوتی ہے\n\nوہ برساتیں وہ باتیں وہ ملاقاتیں کہاں ہمدم\nوطن کی رات ہونے کو سہانی اب بھی ہوتی ہے\n\nخفا ہیں پھر بھی آ کر چھیڑ جاتے ہیں تصور میں\nہمارے حال پر کچھ مہربانی اب بھی ہوتی ہے\n\nزباں ہی میں نہ ہو تاثیر تو میں کیا کروں ناصح\nتری باتوں سے پیدا سرگرانی اب بھی ہوتی ہے\n\nتمہارے گیسوؤں کی چھاؤں میں اک رات گزری تھی\nستاروں کی زباں پر یہ کہانی اب بھی ہوتی ہے\n\nپس توبہ بھی پی لیتے ہیں جام غنچہ و گل سے\nبہاروں میں جنوں کی مہمانی اب بھی ہوتی ہے\n\nکوئی خوش ہو مری مایوسیاں فریاد کرتی ہیں\nالٰہی کیا جہاں میں شادمانی اب بھی ہوتی ہے\n\nبتوں کو کر دیا تھا جس نے مجبور سخن اخترؔ\nلبوں پر وہ نوائے آسمانی اب بھی ہوتی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D9%81%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "مری بے خودی ہے وہ بے خودی کہ خودی کا وہم و گماں نہیں", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مری بے خودی ہے وہ بے خودی کہ خودی کا وہم و گماں نہیں\nیہ سرور ساغر مے نہیں یہ خمار خواب گراں نہیں\n\nجو ظہور عالم ذات ہے یہ فقط ہجوم صفات ہے\nہے جہاں کا اور وجود کیا جو طلسم وہم و گماں نہیں\n\nیہ حیات عالم خواب ہے نہ گناہ ہے نہ ثواب ہے\nوہی کفر و دیں میں خراب ہے جسے علم راز جہاں نہیں\n\nنہ وہ خم میں بادے کا جوش ہے نہ وہ حسن جلوہ فروش ہے\nنہ کسی کو رات کا ہوش ہے وہ سحر کہ شب کا گماں نہیں\n\nوہ زمیں پہ جن کا تھا دبدبہ کہ بلند عرش پہ نام تھا\nانہیں یوں فلک نے مٹا دیا کہ مزار تک کا نشاں نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%DB%81%D9%85_%D9%88_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مری جان رنج گھٹائیے قدم آگے اب نہ بڑھائیے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مری جان رنج گھٹائیے قدم آگے اب نہ بڑھائیے\nادھر آئیے ادھر آئیے ادھر آئیے ادھر آئیے\n\nکھڑے کب سے ہم سر راہ ہیں کہیں مر چکیں کہ تباہ ہیں\nہدف خدنگ نگاہ ہیں ذرا آنکھ ادھر بھی ملائیے\n\nبھلا آنا آپ کا کام ہے یہ غلط تمام کلام ہے\nاجی بس ہمارا سلام ہے کہیں اور باتیں بنائیے\n\nتہ تیغ تیز ہے اک جہاں کوئی کشتہ ہے کوئی نیم جاں\nجو نہ ہو دریغ تو مہرباں کوئی ہاتھ ادھر بھی لگائیے\n\nکبھی مے سے منہ کو نہ موڑیئے ہوس شراب نہ چھوڑیئے\nسر محتسب ہے نہ توڑیئے جو کمال گیت پر آئیے\n\nیہ کمال لطف ہے ساقیا یہی ہے ہوس یہی مدعا\nرہے ہوش سر نہ خیال پا اگر ایسی مے ہے تو لائیے\n\nجو وفور چشم پر آب ہو تو جہان تختۂ آب ہو\nابھی نوح کا سا عذاب ہو اگر اشک چند بہائیے\n\nوہ کہا عدو سے ہے میں نے کیا کہ ہوئے ہیں آپ جو یوں خفا\nیہ غضب یہ جھوٹ یہ افترا مرے سامنے تو بلائیے\n\nغزل ایسی کامل وزن سن متفاعلن متفاعلن\nہے نسیمؔ طاقت ہوش سن کوئی شعر اور سنائیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D9%82%D8%AF%D9%85_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "مری جاں جدائی نہ ہوگی تو ہوگی", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "مری جاں جدائی نہ ہوگی تو ہوگی\nکسی دن لڑائی نہ ہوگی تو ہوگی\n\nانہیں شرم ہے اور یہاں شوق بے حد\nاگر ہاتھاپائی نہ ہوگی تو ہوگی\n\nنہیں اتنی جرأت کہ قدموں پہ گریے\nکہ ان سے صفائی نہ ہوگی تو ہوگی\n\nذرا جذبۂ دل مدد کر خدارا\nجو ان تک رسائی نہ ہوگی تو ہوگی\n\nنہ کچھ حسن و خوبی میں فرق آیا ہوگا\nیہ دولت لٹائی نہ ہوگی تو ہوگی\n\nرہائی اسیر محبت کو تیرے\nاگر موت آئی نہ ہوگی تو ہوگی\n\nنئے ظلم ایجاد کرتے رہو تم\nجہاں میں دہائی نہ ہوگی تو ہوگی\n\nنہیں باک غیروں سے ملنے میں ان کو\nجو دل میں برائی نہ ہوگی تو ہوگی\n\nہر اک بات پر آفریں جب کہیں سب\nتو پھر خود ستائی نہ ہوگی تو ہوگی\n\nمحبت کی جو آنکھ تھی آگے تیری\nجو تو نے چرائی نہ ہوگی تو ہوگی\n\nمحبت کا گر کھل گیا حال ان پر\nتو انجمؔ رکھائی نہ ہوگی تو ہوگی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C"} {"title": "مری خاطر میں ساقی کب ترا پیمانہ آتا ہے", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مری خاطر میں ساقی کب ترا پیمانہ آتا ہے\nکہ یاں ہر دم خیال نرگس مستانہ آتا ہے\n\nٹھکانے جستجوئے یار میں کس کس کے چھوٹے ہیں\nکہ بلبل باغ میں اور بزم میں پروانہ آتا ہے\n\nشب فرقت اٹھا کر فتنۂ محشر سے کہتی ہے\nمجھے زلف دراز یار کا افسانہ آتا ہے\n\nنکل کر آنکھ سے غائب نہیں ہوتے ہیں یہ آنسو\nاسی پانی سے بھرتا عمر کا پیمانہ آتا ہے\n\nالٰہی لوگ کیوں ہو ہو کے خوش فردوس جاتے ہیں\nمگر اس باغ سے آگے کوئی ویرانہ آتا ہے\n\nدل زار اور شست یار میں اک راہ ہے مخفی\nخطا ہو کر بھی سیدھا ناوک جانانہ آتا ہے\n\nچلا ہوں گھر سے اٹھ کر کعبے کی جانب مگر مجھ کو\nتردد ہے کہ رستے میں مرے مے خانہ آتا ہے\n\nمجھے گردش میں پایا دورۂ چرخ بریں کاہے\nکہ میرے ساتھ چکر میں مرا کاشانہ آتا ہے\n\nیہ رغبت ہے اسے اغیار سے جب شعر کہتا ہے\nتو مضموں بھی خیال یار میں بیگانہ آتا ہے\n\nترے کوچے میں ہو جاتا ہے کیا انسان پر جادو\nابھی ہشیار جاتا ہے ابھی دیوانہ آتا ہے\n\nگیا جو اس خم گیسو میں واں کا ہو رہا سالکؔ\nیہ حیرت ہے سلامت کیوں کہ پھر کر شانہ آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مری رنگیں کلامی کا ہے وہ گل پیرہن باعث", "poet_page": "مصنف:میر محمد باقر حزیں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مری رنگیں کلامی کا ہے وہ گل پیرہن باعث\nکہ ہووے بلبلوں کی خوش صفیری کا چمن باعث\n\nکوئی ہوتا ہے سنگ سینہ خسرو سے رقیبوں کا\nہوا ناحق ہلاک اپنے کا آپی کوہ کن باعث\n\nجو ہوتا ہے کسی سے انس سب سے وحشت آتی ہے\nمری صحرا نشینی کا ہے میرا من ہرن باعث\n\nحزیںؔ ان شعلہ رخساروں سے جی کو مت لگا ہرگز\nہوئی آخر کو پروانے کے جلنے کی لگن باعث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D9%84_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%81%D9%86_%D8%A8%D8%A7%D8%B9%D8%AB"} {"title": "مری سانس اب چارا گر ٹوٹتی ہے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مری سانس اب چارا گر ٹوٹتی ہے\nکہیں جڑتی ہے پھر کہیں ٹوٹتی ہے\n\nیہ خو ہے تمہاری تو کیوں کر بنے گی\nادھر بنتی ہے تو ادھر ٹوٹتی ہے\n\nنہ ہم پر ہنسو حال ہوتا ہے یہ ہی\nمصیبت جو انسان پر ٹوٹتی ہے\n\nسمجھتا ہوں کچھ میں بھی باتیں تمہاری\nیہ ہر طعن کیا غیر پر ٹوٹتی ہے\n\nخدا کے لیے پھر تو ایسا نہ کہنا\nمری آس اے نامہ بر ٹوٹتی ہے\n\nیہاں جس کے بے دیکھے جی ٹوٹتا ہے\nوہاں اس کی ہر دم نظر ٹوٹتی ہے\n\nغضب ہاتھاپائی کا ہے لطف ہوتا\nکوئی ان کی چوڑی اگر ٹوٹتی ہے\n\nعدو کا بھی تو گھر ہے اے چرخ ظالم\nجو آفت ہے میرے ہی گھر ٹوٹتی ہے\n\nتری بات کا کیا ہے عنوان قاصد\nتوقع ہماری مگر ٹوٹتی ہے\n\nیہ غم ہے تو رونا بھی اپنا یہی ہے\nیہ رونا ہے تو چشم تر ٹوٹتی ہے\n\nیہ کہنا نظامؔ اب تو سونے دے مجھ کو\nکوئی بیٹھے کب تک کمر ٹوٹتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%B3_%D8%A7%D8%A8_%DA%86%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%AF%D8%B1_%D9%B9%D9%88%D9%B9%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "مری شاخِ اَمل کا ہے ثمر کیا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "مری شاخِ اَمل کا ہے ثمر کیا\nتری تقدیر کی مجھ کو خبر کیا\nکلی گُل کی ہے محتاجِ کشود آج\nنسیمِ صبحِ فردا پر نظر کیا!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%AE%D9%90_%D8%A7%D9%8E%D9%85%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AB%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مری شام غم کو وہ بہلا رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مری شام غم کو وہ بہلا رہے ہیں\nلکھا ہے یہ خط میں کہ ہم آ رہے ہیں\n\nٹھہر جا ذرا اور اے درد فرقت\nہمارے تصور میں وہ آ رہے ہیں\n\nغم عاقبت ہے نہ فکر زمانہ\nپئے جا رہے ہیں جئے جا رہے ہیں\n\nنہیں شکوۂ تشنگی مے کشوں کو\nوہ آنکھوں سے مے خانے برسا رہے ہیں\n\nوہ رشک بہار آنے والا ہے اخترؔ\nکنول حسرتوں کے کھلے جا رہے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%81%D9%84%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مری شاکی ہے خود میری فغاں تک", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مری شاکی ہے خود میری فغاں تک\nکہ تالو سے نہیں لگتی زباں تک\n\nکوئی حسرت ہی لے آئے منا کر\nمرے روٹھے ہوئے دل کو یہاں تک\n\nجگہ کیا درد کی بھی چھین لے گا\nجگر کا داغ پھیلے گا کہاں تک\n\nاثر نالوں میں جو تھا وہ بھی کھویا\nبہت پچھتائے جا کر آسماں تک\n\nفلک تیرے جگر کے داغ ہیں ہم\nمٹائے جا مٹانا ہے جہاں تک\n\nوہ کیا پہلو میں بیٹھے اٹھ گئے کیا\nنہ لیں جلدی میں دو اک چٹکیاں تک\n\nکوئی مانگے تو آ کر منتظر ہے\nلیے تھوڑی سی جان اک نیم جاں تک\n\nاٹھانے سے اجل کے میں نہ اٹھتا\nوہ آتے تو کبھی مجھ ناتواں تک\n\nجلالؔ نالہ کش چپکا نہ ہوگا\nوہ دے کر دیکھ لیں منہ میں زباں تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "مری صورت میں مرا یار ہے اللہ اللہ", "poet_page": "مصنف:مردان صفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مردان صفی (1914)", "year": "1914", "text_ur": "مری صورت میں مرا یار ہے اللہ اللہ\nمرے دل میں مرا دل دار ہے اللہ اللہ\n\nکیا ہی تصویر بنی ہے یہ اہا ہا ہا ہا\nاس میں آپی وہ نمودار ہے اللہ اللہ\n\nشکل آدم کے سوا اور نہ بھایا نقشہ\nسارے عالم میں یہ اظہار ہے اللہ اللہ\n\nمیرا جسم اور مری جاں ہے وہی جاں بالکل\nمیں کہوں کیا کہ میں ہوں یار ہے اللہ اللہ\n\nمستیٔ ہر دو جہاں ہے دل آدم سے عیاں\nیہی بے ہوش تو ہشیار ہے اللہ اللہ\n\nجس کو نسبت ہو پیمبر کی وہی ہو آگاہ\nمیری باتوں میں جو اسرار ہے اللہ اللہ\n\nخاکہ مرشد کا ہوا میں تو ہوا یار عیاں\nیہ عجب فیض کا دربار ہے اللہ اللہ\n\nقصہ قرنوں میں نہ طے ہوتا وہ دم بھر میں ہوا\nفضل مرشد کا یہ اظہار ہے اللہ اللہ\n\nشہ مرداںؔ نہ کوئی اور نہ خادم نہ صفی\nشکل احمد کا یہ اظہار ہے اللہ اللہ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "مری طرف سے یہ بے خیالی نہ جانے ان کو خیال کیا ہے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مری طرف سے یہ بے خیالی نہ جانے ان کو خیال کیا ہے\nکبھی نہ پوچھا ملال کیا ہے کبھی نہ دیکھا کہ حال کیا ہے\n\nمبارک اغیار سے تعلق نئی ہے چاہت نیا تعشق\nبلا سے ہم ہو گئے تصدق تمہیں اب اس کا ملال کیا ہے\n\nتجھی کو جانا تجھی کو مانا تجھی پہ دی جان غائبانہ\nچھپا نہیں کچھ مرا فسانہ یہ اب جواب و سوال کیا ہے\n\nوصال ہو یا رہے جدائی تمہاری اے جان جیسی مرضی\nجو اپنی حالت تھی میں نے کہہ دی اب آگے میری مجال کیا ہے\n\nنظر اٹھائیں جو آرسی سے تو ان سے پوچھوں یہ میں ہنسی سے\nلگائی ہے آنکھ کیا کسی سے کہو تو یہ دیکھ بھال کیا ہے\n\nدر محبت کا اک گدا ہوں پری کا طالب نہ حور کا ہوں\nتجھی کو تجھ سے میں چاہتا ہوں بس اور میرا سوال کیا ہے\n\nکہاں تک اے واعظو یہ جھگڑے مزے اٹھانے دو بے خودی کے\nجو ہوش میں ہوں تو میں یہ سمجھوں حرام کیا ہے حلال کیا ہے\n\nبس اب محبت سے ہاتھ اٹھاؤ بھلے کو کہتے ہیں مان جاؤ\nنہ آپ کو اس طرح مٹاؤ جلیلؔ دیکھو تو حال کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مری میں جشن شب منور", "poet_page": "مصنف:عبدالعزیز فطرت", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "گھر اے دل بے قرار زنداں سے کم نہیں قید کون کاٹے\nحسین سرما کا چاند دیوانہ وار کو بلا رہا ہے\nفسون مہتاب کی قسم ہے پھر آج شب کچھ نہ لکھ سکوں گا\nپھر آج گھر میں نہ رہ سکوں گا\nکہ اک جنوں سا ہے مجھ پہ طاری\nمناظر کوہ و کنج جشن شب منور منا رہے ہیں\nبلا رہے ہیں مجھے مرے واسطے قیامت اٹھا رہے ہیں\n\nغضب کی اس برف بستہ ٹھنڈی ہوا میں سیلاب چاندنی کا\nبدن تو ہے منجمد رگوں میں لہو مگر تمتما رہا ہے\nبلا کی ہے سرد رات لیکن میں آج آوارگی کروں گا\nکہ چاند وادی کے ذرے ذرے کو جلوہ خانہ بنا رہا ہے\nنہ رک سکوں گا میں آج گھر میں\nکہ چاندنی کی کشش غضب ہے\nسفینۂ شوق و شعر دنیائے نور میں ڈگمگا رہا ہے\n\nسکوت شب میں فضا بھی جز و سکوت شب ہو گئی ہے فطرتؔ\nمہ درخشاں فقط غزل میری زیر لب گنگنا رہا ہے\nمیں آج گھر پر نہ رک سکوں گا\nحسین سرما کا چاند اشاروں سے دیکھ مجھ کو بلا رہا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B4%D9%86_%D8%B4%D8%A8_%D9%85%D9%86%D9%88%D8%B1"} {"title": "مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں\nہو اعتبار تو پھر تاب انتظار کہاں\n\nدلوں میں فرق ہوا جب تو چاہ پیار کہاں\nچمن چمن ہی نہیں آئے گی بہار کہاں\n\nجسے یہ کہہ کے وہ ہنس دیں کہ قصہ اچھا ہے\nوہ راز کھل کے بھی ہوتا ہے آشکار کہاں\n\nامنگ تھی یہ جوانی کی یا کوئی آندھی\nملا کے خاک میں ہم کو گئی بہار کہاں\n\nامیدوار بنانے سے مدعا کیا تھا\nجب آس تم نے دلا دی تو اب قرار کہاں\n\nملی ہے اس لیے دو چار دن کی آزادی\nکہ صرف کرتا ہے دیکھیں یہ اختیار کہاں\n\nیہ شوق لے کے چلا ہے چمن سے شکل نسیم\nکہ دیکھیں ملتی ہے جاتی ہوئی بہار کہاں\n\nہے ایک شرط وفا کی وہ قید بے زنجیر\nسب اختیار ہیں اور کچھ بھی اختیار کہاں\n\nمٹے نشاں پہ نظر کر کے رو جسے چاہے\nترے ستم کی ہے تربت مرا مزار کہاں\n\nتم ایسا عہد شکن آرزوؔ سا ناامید\nکہو جو سچ بھی تو آتا ہے اعتبار کہاں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "مری وفا کا ترا لطف بھی جواب نہیں", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مری وفا کا ترا لطف بھی جواب نہیں\nمرے شباب کی قیمت ترا شباب نہیں\n\nیہ ماہتاب نہیں ہے کہ آفتاب نہیں\nسبھی ہے حسن مگر عشق کا جواب نہیں\n\nمری نگاہ میں جلوے ہیں جلوے ہی جلوے\nیہاں حجاب نہیں ہے یہاں نقاب نہیں\n\nجنوں بھی حد سے سوا شوق بھی ہے حد سے سوا\nیہ بات کیا ہے کہ میں مورد عتاب نہیں\n\nیہاں تو حسن کا دل بھی ہے غم سے صد پارہ\nمیں کامیاب نہیں وہ بھی کامیاب نہیں\n\nیہاں تو رات کی بیداریاں مسلم ہیں\nمگر وہاں بھی حسیں انکھڑیوں میں خواب نہیں\n\nنہ پوچھئے مری دنیا کو میری دنیا میں\nخود آفتاب بھی ذرہ ہے آفتاب نہیں\n\nسب ہی ہیں مے کدۂ دہر میں خرد والے\nکوئی خراب نہیں ہے کوئی خراب نہیں\n\nمجازؔ کس کو میں سمجھاؤں کوئی کیا سمجھے\nکہ کامیاب محبت بھی کامیاب نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مری پتھر آنکھیں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اب کے مٹی کی عبارت میں لکھی جائے گی\nسبز پتوں کی کہانی رخ شاداب کی بات\nکل کے دریاؤں کی مٹتی ہوئی مبہم تحریر\nاب فقط ریت کے دامن میں نظر آئے گی\nبوند بھر نم کو ترس جائے گی بے سود دعا\nنم اگر ہوگی کوئی چیز تو میری آنکھیں\nمیرا اجڑا ہوا چہرہ مری پتھر آنکھیں\nقحط افسانہ نہیں اور یہ بے ابر فلک\nآج اس دیس کل اس دیس کا وارث ہوگا\nہم سے ترکے میں ملیں گے اسے بیمار درخت\nتیز کرنوں کی تمازت سے چٹختے ہوئے ہونٹ\nدھوپ کا حرف جنوں لو کا وصیت نامہ\nاور مرے شہر طلسمات کی بے در آنکھیں\nمری بے در مری بنجر مری پتھر آنکھیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:اثر صہبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیں\nمگر اہل دل آواز شکست دل سمجھتے ہیں\n\nگماں کاشانۂ رنگیں کا ہے جس پر نگاہوں کو\nاسے اہل نظر گرد رہ منزل سمجھتے ہیں\n\nالٰہی کشتئ دل بہہ رہی ہے کس سمندر میں\nنکل آتی ہیں موجیں ہم جسے ساحل سمجھتے ہیں\n\nطرب انگیز ہیں رنگینیاں فصل بہاری کی\nمگر بلبل انہیں خون رگ بسمل سمجھتے ہیں\n\nپگھل کر دل لہو ہو ہو کے بہہ جاتا ہے آنکھوں سے\nستم ہے شمع کو جو زینت محفل سمجھتے ہیں\n\nکہاں ہوگا ٹھکانا برق رفتاری ان کی وحشت کا\nکہ وہ منزل کو بھی سنگ رہ منزل سمجھتے ہیں\n\nبگولے اڑ رہے ہیں جو ہمارے دشت وحشت میں\nانہیں کو اے اثرؔ ہم پردۂ محمل سمجھتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%A8_%D9%86%D8%BA%D9%85%DB%82_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مری ہستی فضاۓ حیرت آباد تمنا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مری ہستی فضاۓ حیرت آباد تمنا ہے\nجسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے\n\nخزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو\nوہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے\n\nوفاۓ دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم\nاثر فریاد دل ‌ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے\n\nنہ لائی شوخی اندیشہ تاب رنج نومیدی\nکف افسوس ملنا عہد تجدید تمنا ہے\n\nنہ سووے آبلوں میں گر سرشک دیدۂ نم سے\nبہ جولاں گاۂ نومیدی نگاۂ عاجزاں پا ہے\n\nبہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی\nشرر بھی صید دام رشتۂ رگ‌ ہاۓ خارا ہے\n\nتغافل مشربی سے ناتمامی بسکہ پیدا ہے\nنگاہ ناز چشم یار میں زنار مینا ہے\n\nتصرف وحشیوں میں ہے تصور ہاۓ مجنوں کا\nسواد چشم آہو عکس خال روئے لیلا ہے\n\nمحبت طرز پیوند نہال دوستی جانے\nدویدن ریشہ ساں مفت رگ خواب زلیخا ہے\n\nکیا یک سر گداز دل نیاز جوشش حسرت\nسویدا نسخۂ تہ بندی داغ تمنا ہے\n\nہجوم ریزش خوں کے سبب رنگ اڑ نہیں سکتا\nحناۓ پنجۂ صیاد مرغ رشتہ بر پا ہے\n\nاثر سوز محبت کا قیامت بے محابا ہے\nکہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے\n\nنہاں ہے گوہر مقصود جیب خود شناسی میں\nکہ یاں غواص ہے تمثال اور آئینہ دریا ہے\n\nعزیزو ذکر وصل غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤ\nکہ یاں افسون خواب افسانۂ خواب زلیخا ہے\n\nتصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل\nبہ باغ رنگ ‌ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے\n\nبہ سعی غیر ہے قطع لباس خانہ ویرانی\nکہ ناز جادۂ رہ رشتۂ دامان صحرا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%81%D8%B6%D8%A7%DB%93_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مریض عشق کی جز مرگ دنیا میں دوا کیوں ہو", "poet_page": "مصنف:حکیم محمد اجمل خاں شیدا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مریض عشق کی جز مرگ دنیا میں دوا کیوں ہو\nاگر جاں ہو عزیز اپنی تو جاناں پر فدا کیوں ہو\n\nاٹھے جو آگ سینہ سے دبا دوں اس کو اشکوں سے\nشب ہجراں میں نالہ سے مرا لب آشنا کیوں ہو\n\nملو خلوت میں اور دو تم مجھے درس شکیبائی\nکرم تم میں نہ ہو تو دل مرا صبر آزما کیوں ہو\n\nچلے جب تک زباں جاری ہو اس پر داستان غم\nتوانائی ترے بیمار کی صرف دعا کیوں ہو\n\nبھلا تو اور گھر آئے مرے کیوں کر یقیں کر لوں\nتخیل کیوں نہ ہو میرا تری آواز پا کیوں ہو\n\nاگر بخت رسا نے رہبری کی تیری خلوت تک\nتو پھر دست تمنا رہن دامان قبا کیوں ہو\n\nمرے خوں اور حنا میں دیر سے باہم رقابت ہے\nنہ ہو گر رنگ خوں پا میں تو پھر رنگ حنا کیوں ہو\n\nقیامت ایک دن آئی ہے اس میں شک نہیں شیداؔ\nکھڑا ہو بزم سے جب وہ قیامت پھر بپا کیوں ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%B6_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%B2_%D9%85%D8%B1%DA%AF_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88"} {"title": "مریض غم کے سہارو کوئی تو بات کرو", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مریض غم کے سہارو کوئی تو بات کرو\nاداس چاند ستارو کوئی تو بات کرو\n\nکہاں ہے ڈوب چکا اب تو ڈوبنے والا\nشکستہ دل سے کنارو کوئی تو بات کرو\n\nمرے نصیب کو بربادیوں سے نسبت ہے\nلٹی ہوئی سی بہارو کوئی تو بات کرو\n\nکہاں گیا وہ تمہارا بلندیوں کا جنون\nبجھے بجھے سے شرارو کوئی تو بات کرو\n\nاسی طرح سے عجب کیا جو کچھ سکون ملے\nغم فراق کے مارو کوئی تو بات کرو\n\nتمہارا غم بھی مٹاتی ہیں مستیاں کہ نہیں\nشراب ناب کے مارو کوئی تو بات کرو\n\nتمہاری خاک اڑاتا نہیں شکیبؔ تو کیا\nاداس راہ گزارو کوئی تو بات کرو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%B6_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%DB%81%D8%A7%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "مریض ہجر کو صحت سے اب تو کام نہیں", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "مریض ہجر کو صحت سے اب تو کام نہیں\nاگرچہ صبح کو یہ بچ گیا تو شام نہیں\n\nرکھو یا نہ رکھو مرہم اس پہ ہم سمجھے\nہمارے زخم جدائی کو التیام نہیں\n\nجگر کہیں ہے کہیں دل کہیں ہیں ہوش و حواس\nفقط جدائی میں اس گھر کا انتظام نہیں\n\nکوئی تو وحشی ہے کہتا کوئی ہے دیوانہ\nبتوں کے عشق میں اپنا کچھ ایک نام نہیں\n\nسحر جہاں ہوئی پھر شام واں نہیں ہوتی\nبسان عمر رواں اپنا اک مقام نہیں\n\nکیا جو وعدۂ شب اس نے دن پہاڑ ہوا\nیہ دیکھیو مری شامت کہ ہوتی شام نہیں\n\nوہی اٹھائے مجھے جس نے مجھ کو قتل کیا\nکہ بہتر اس سے مرے خوں کا انتقام نہیں\n\nاٹھایا داغ گل افسوس تم نے دل پہ سرورؔ\nمیں تم سے کہتا تھا گلشن کو کچھ قیام نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%B6_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%B5%D8%AD%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مرے ارمان مایوسی کے پالے پڑتے جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے ارمان مایوسی کے پالے پڑتے جاتے ہیں\nتمہاری چاہ میں جینے کے لالے پڑتے جاتے ہیں\n\nادھر اس کی شرارت جس نے غم کی آگ سلگا دی\nادھر میرا کلیجہ جس میں چھالے پڑتے جاتے ہیں\n\nمرے ان کے تعلق پر کوئی اب کچھ نہیں کہتا\nخدا کا شکر سب کے منہ میں تالے پڑتے جاتے ہیں\n\nغم ناکامیٔ کوشش سے حالت بگڑی جاتی ہے\nکلیجے میں یہاں بے آگ چھالے پڑتے جاتے ہیں\n\nہمارا درد آہ دل مزا دیتا ہے اڑ اڑ کر\nتمہارے چاند سے چہرے پہ ہالے پڑتے جاتے ہیں\n\nمسیحا جا رہا ہے دوڑ کر آواز دو مضطرؔ\nکہ دل کو دیکھتا جا جس میں چھالے پڑتے جاتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%85%D8%A7%DB%8C%D9%88%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D9%84%DB%92_%D9%BE%DA%91%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا\nیہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا\n\nپس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتا\nوہ سر مزار ہوتا میں تہہ مزار ہوتا\n\nترا مے کدہ سلامت ترے خم کی خیر ساقی\nمرا نشہ کیوں اترتا مجھے کیوں خمار ہوتا\n\nمیں ہوں نامراد ایسا کہ بلک کے یاس روتی\nکہیں پا کے آسرا کچھ جو امیدوار ہوتا\n\nنہیں پوچھتا ہے مجھ کو کوئی پھول اس چمن میں\nدل داغدار ہوتا تو گلے کا ہار ہوتا\n\nوہ مزا دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یارب\nمرے دونوں پہلوؤں میں دل بے قرار ہوتا\n\nدم نزع بھی جو وہ بت مجھے آ کے منہ دکھاتا\nتو خدا کے منہ سے اتنا نہ میں شرمسار ہوتا\n\nنہ ملک سوال کرتے نہ لحد فشار دیتی\nسر راہ کوئے قاتل جو مرا مزار ہوتا\n\nجو نگاہ کی تھی ظالم تو پھر آنکھ کیوں چرائی\nوہی تیر کیوں نہ مارا جو جگر کے پار ہوتا\n\nمیں زباں سے تم کو سچا کہو لاکھ بار کہہ دوں\nاسے کیا کروں کہ دل کو نہیں اعتبار ہوتا\n\nمری خاک بھی لحد میں نہ رہی امیرؔ باقی\nانہیں مرنے ہی کا اب تک نہیں اعتبار ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "مرے جب تک کہ دم میں دم رہے گا", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے جب تک کہ دم میں دم رہے گا\nیہی رونا یہی ماتم رہے گا\n\nکہاں تک یہ غرور حسن ظالم\nہمیشہ کیا یہی عالم رہے گا\n\nیہی سوزش ہے داغوں کی تو کیوں کر\nسلامت پنبۂ مرہم رہے گا\n\nجدا جب تک ہوں اے بے درد تجھ سے\nیہی درد اور دل باہم رہے گا\n\nاگر یوں ہی رہے گی حیرت عشق\nاگر یہ دیدۂ نم نم رہے گا\n\nبہ رنگ شبنم آ کر قطرۂ عشق\nہماری ہر مژہ پر جم رہے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%85_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی\nکبھی اٹھتا شعلہ کبھی بہتا پانی\n\nہے خوشی کا سودا خلش نہانی\nہے جگر کا چھالا ثمر جوانی\n\nجو خوشی ہے فانی تو ہے غم بھی فانی\nنہ یہ جاودانی نہ وہ جاودانی\n\nازلی محبت ابدی کہانی\nکہ پس فنا ہے نئی زندگانی\n\nستم و رضا میں یہ ہے عہد محکم\nجو تری کہانی وہ مری کہانی\n\nوہ اٹھیں گے طوفاں کہ خدا بچائے\nیہ نئے نظارے یہ بھری جوانی\n\nیہ نگاہ ترچھی یہ بل ابروؤں کا\nہر ادا ہے دل کش مگر امتحانی\n\nمری کشتئ دل دم آہ و افغاں\nکبھی بادبانی تو کبھی دہانی\n\nدر دل سے پلٹا ہر اک آنے والا\nتری یاد کیا تھی مری پاسبانی\n\nیہ ترا تلون یہ بدلتی چتون\nعجب اک بلا ہے کہ ہے ناگہانی\n\nمری کشت دل پر پئے ژالہ باری\nہے سپید بادل عقب جوانی\n\nکبھی آرزو تھا یہی داغ حسرت\nمجھے جو بنا دے تری مہربانی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "مرے خلوص کی شدت سے کوئی ڈر بھی گیا", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے خلوص کی شدت سے کوئی ڈر بھی گیا\nوہ پاس آ تو رہا تھا مگر ٹھہر بھی گیا\n\nیہ دیکھنا تھا بچانے بھی کوئی آتا ہے\nاگر میں ڈوب رہا تھا تو خود ابھر بھی گیا\n\nاے راستے کے درختو سمیٹ لو سایہ\nتمہارے جال سے بچ کر کوئی گزر بھی گیا\n\nکسی طرح سے تمہاری جبیں چمک تو گئی\nیہ اور بات سیاہی میں ہاتھ بھر بھی گیا\n\nاسی پہاڑ نے پھونکے تھے کیا کئی جنگل\nجو خاک ہو کے مرے ہاتھ پر بکھر بھی گیا\n\nیہیں کہیں مرے ہونٹوں کے پاس پھرتا ہے\nوہ ایک لفظ کہ جو ذہن سے اتر بھی گیا\n\nوہ شاخ جھول گئی جس پہ پاؤں قائم تھے\nشکیبؔ ورنہ مرا ہاتھ تا ثمر بھی گیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%AF%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%88%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مرے دانتوں کی عمر اے آرزو مجھ سے بھی چھوٹی تھی", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے دانتوں کی عمر اے آرزو مجھ سے بھی چھوٹی تھی\nاسی نے ساتھ چھوڑا دانت کاٹی جن سے روٹی تھی\n\nشکایت آرزو کی بے کئے ناصح نہیں بنتی\nیہ سب دل جوئیاں ظاہر کی تھی باطن کی کھوٹی تھی\n\nہوا در در لیے پھرتی ہے اب تو میری مٹی کو\nیہ ہے وہ خاک جو اک دن ترے قدموں پہ لوٹی تھی\n\nبہت گہرے نہ ہوں اوچھے سہی چرکے تو پورے ہیں\nخطا قاتل کی کیا ہے اک درا تلوار چھوٹی تھی\n\nپہاڑ اس پر گرا اے آسماں کیا بس چلے ورنہ\nہمارے آشیاں کی شاخ سب شاخوں سے موٹی تھی\n\nبلا کر تو نے اے ہستی یہاں کی خوب مہمانی\nوہی کرتے ہیں فاقے جن کے دم سے دس کی روٹی تھی\n\nپہنچ جاتی تھی اس اس گھر میں جس جس گھر کا پاسا تھا\nجو سچ پوچھو تو میری آرزو چوسر کی گوٹی تھی\n\nنہ کیوں کر تیری یکتائی کا کلمہ نقش ہو دل پر\nسبق کی طرح برسوں یہ عبارت ہم نے گھوٹی تھی\n\nمجھے خوش خوش جو پایا جل کے کیا جلدی ہوئی رخصت\nشب وصل اے فلک سب کچھ سہی نیت کی چھوٹی تھی\n\nیہ سچ ہے شادؔ کیا تھا کچھ نہ تھا لیکن تمہارا تھا\nنہ سمجھا تم نے اے باریک بینو بات موٹی تھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%86%DA%BE%D9%88%D9%B9%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "مرے دل بیچ نقش نازنیں ہے", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے دل بیچ نقش نازنیں ہے\nمگر یہ دل نہیں یارو نگیں ہے\n\nکمر پر تیری اس کا دل ہوا محو\nترا عاشق بہت باریک بیں ہے\n\nجو کہیے اس کے حق میں کم ہے بے شک\nپری ہے حور ہے روح الامیں ہے\n\nغلام اس کے ہیں سارے اب سریجن\nنگر میں حسن کے کرسی نشیں ہے\n\nنہیں اب جگ میں ویسا اور پیتم\nسبی خوش صورتاں سوں نازنیں ہے\n\nمجھے ہے موشگافی میں مہارت\nجو نت دل محو خط عنبریں ہے\n\nنظر کر لطف کی اے شاہ خوباں\nترا فائزؔ غلام کم تریں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%8C%DA%86_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%86%D8%A7%D8%B2%D9%86%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سے", "poet_page": "مصنف:عبد المجید سالک", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سے\nکہ ملا جمال ساقی کو یہ طنطنہ کہاں سے\n\nوہ یہ کہہ رہے ہیں ہم کو ترے حال کی خبر کیا\nتو اٹھا سکا نگاہیں نہ بتا سکا زباں سے\n\nجو انہیں وفا کی سوجھی تو نہ زیست نے وفا کی\nابھی آ کے وہ نہ بیٹھے کہ ہم اٹھ گئے جہاں سے\n\nمیں عدم کے لالہ زاروں میں نواگر ازل تھا\nمجھے کھینچ لائی ظالم تری آرزو کہاں سے\n\nمری سر نوشت میں تھا وہی داغ نامرادی\nجو ملا مری جبیں کو ترے سنگ آستاں سے\n\nبچے بجلیوں کی زد سے وہی طائران دانا\nجو کڑک چمک سے پہلے نکل آئے آشیاں سے\n\nیہ ہے ماجرائے وحشت کہ ملا سراغ محمل\nنہ غبار کارواں سے نہ درائے کارواں سے\n\nنہیں کچھ سمجھ میں آتا یہ عجیب ماجرا ہے\nکہ زمیں کے رہنے والوں کو ہدایت آسماں سے\n\nشب غم جو آئی سالکؔ مٹے باطنی اندھیرے\nمرا دل ہوا منور تب و تاب جاوداں سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%B4%D8%AF_%D9%85%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیں", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیں\nوہ دہن ہوں جس میں زباں نہیں وہ جرس ہوں جس میں صدا نہیں\n\nنہ تجھے دماغ نگاہ ہے نہ کسی کو تاب جمال ہے\nانہیں کس طرح سے دکھاؤں میں وہ جو کہتے ہیں کہ خدا نہیں\n\nکسے نیند آتی ہے اے صنم ترے طاق ابرو کی یاد میں\nکبھی آشنائے تہ بغل سر مرغ قبلہ نما نہیں\n\nعجب اس کا کیا نہ سماؤں میں جو خیال دشمن و دوست ہے\nوہ مقام ہوں کہ گزر نہیں وہ مکان ہوں کہ پتا نہیں\n\nیہ خلاف ہو گیا آسماں یہ ہوا زمانہ کی پھر گئی\nکہیں گل کھلے بھی تو بوند سے کہیں حسن ہے تو وفا نہیں\n\nمرض جدائی یار نے یہ بگاڑ دی ہے ہماری خو\nکہ موافق اپنے مزاج کے نظر آتی کوئی دوا نہیں\n\nمجھے زعفران سے زرد تر غم ہجر یار نے کر دیا\nنہیں ایسا کوئی زمانہ میں مرے حال پر جو ہنسا نہیں\n\nمرے آگے اس کو فروغ ہو یہ مجال کیا ہے رقیب کی\nیہ ہجوم جلوۂ یار ہے کہ چراغ خانہ کو جا نہیں\n\nچلیں گو کہ سیکڑوں آندھیاں جلیں گرچہ لاکھ گھر اے فلک\nبھڑک اٹھے آتشؔ طور پھر کوئی اس طرح کی دوا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مرے دل کی خطائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے دل کی خطائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں\nخطاؤں پر سزائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں\n\nکہاں سے میں کہاں آیا کہاں سے دل کہاں پہنچا\nمحبت کی ہوائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں\n\nنہیں معلوم کیا روز جزا پیش آنے والا ہے\nقیامت میں سزائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں\n\nکوئی جیتا ہے ان سے اور مرتا ہے کوئی ان پر\nلگاوٹ کی ادائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں\n\nعلاج عشق سے اے چارہ گر تکلیف بڑھتی ہے\nمرے حق میں دوائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں\n\nیہی کہتا ہے سن سن کر وہ اہل غم کے نالوں کو\nفقیروں کی صدائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں\n\nادھر میری طبیعت بھی نہیں رکتی نہیں تھمتی\nادھر ان کی ادائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں\n\nچلو رندوں بڑھو آؤ پیو پھر فصل گل آئی\nیہ ساقی کی صدائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں\n\nکہیں ایسا نہ ہو بڑھ جاے پہلے سے جنوں میرا\nگھٹائیں بھی ہوائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں\n\nقیامت کے جو منکر ہوں وہ دیکھیں میری آنکھوں سے\nحسینوں کی ادائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں\n\nدم بیداد وہ اے نوحؔ دل میں یہ سمجھ رکھے\nہماری بد دعائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%B7%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مرے زخمی ہونٹ", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "نشہ جس وقت بھی ٹوٹے گا، کئی اندیشے\nصبح لب بستہ کے سینے میں اتر آئیں گے\nمحفل شعلۂ شب تاب کے سارے لمحے\nراکھ ہو جائیں گے پلکوں پہ بکھر جائیں گے\nریت در آئے گی سنسان شبستانوں میں\nاور بگولے پس دیوار نظر آئیں گے\n\nاس سے پہلے کہ یہ ہو جائے، مرے زخمی ہونٹ\nمیں یہ چاہوں گا کہ بے لحن و صدا ہو جائیں\nمیں یہ چاہوں گا کہ بجھ جائے مری شمع خیال\nاس سے پہلے کہ سب احباب جدا ہو جائیں\n\nاس لیے مجھ سے نہ پوچھو کہ صف یاراں میں\nکیوں یہ دل بے ہنر و حسن و تمیز اتنا ہے\nاور اے دیدہ ورو! یہ بھی نہ پوچھو کہ مجھے\nساغر زہر بھی کیوں جاں سے عزیز اتنا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B2%D8%AE%D9%85%DB%8C_%DB%81%D9%88%D9%86%D9%B9"} {"title": "مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا\nدہان زخم سے خوں ہو کے حرف آرزو نکلا\n\nمرا گھر تیری منزل گاہ ہو ایسے کہاں طالع\nخدا جانے کدھر کا چاند آج اے ماہ رو نکلا\n\nپھرا گر آسماں تو شوق میں تیرے ہے سرگرداں\nاگر خورشید نکلا تیرا گرم جستجو نکلا\n\nمئے عشرت طلب کرتے تھے ناحق آسماں سے ہم\nوہ تھا لبریز غم اس خمکدہ سے جو سبو نکلا\n\nترے آتے ہی آتے کام آخر ہو گیا میرا\nرہی حسرت کہ دم میرا نہ تیرے روبرو نکلا\n\nکہیں تجھ کو نہ پایا گرچہ ہم نے اک جہاں ڈھونڈا\nپھر آخر دل ہی میں دیکھا بغل ہی میں سے تو نکلا\n\nخجل اپنے گناہوں سے ہوں میں یاں تک کہ جب رویا\nتو جو آنسو مری آنکھوں سے نکلا سرخ رو نکلا\n\nگھسے سب ناخن تدبیر اور ٹوٹی سر سوزن\nمگر تھا دل میں جو کانٹا نہ ہرگز وہ کبھو نکلا\n\nاسے عیار پایا یار سمجھے ذوقؔ ہم جس کو\nجسے یاں دوست اپنا ہم نے جانا وہ عدو نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D9%86%DA%AF%D8%AC%D9%88_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "مرے عیبوں کی اصلاحیں ہوا کیں بحث دشمن سے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے عیبوں کی اصلاحیں ہوا کیں بحث دشمن سے\nلیا ہے راہبر کا کام اکثر میں نے دشمن سے\n\nوہ موتی ہوں جو کھو جاتا ہے ساحل میں سمندر کے\nوہ دانہ ہوں بکھر کے دور ہوتا ہے جو خرمن سے\n\nفضا صحرا کی آنکھوں سے جو دیکھیں ہیں وہ کہہ دیں گے\nگل خود رو کا عالم کم نہیں گلہائے گلشن سے\n\nکسی کی دوستی یوں خاک میں کوئی ملاتا ہے\nمرے بارے میں تم اور مشورے لیتے ہو دشمن سے\n\nتماشا دیکھیے محشر میں قاتل مجھ سے لڑتا ہے\nکہ اپنے خون کا دھبہ چھڑا دے میرے دامن سے\n\nزمیں سے آسماں تک چھا رہی جو یہ اداسی ہے\nبگولہ کوئی اٹھا ہے کسی بیکس کے مدفن سے\n\nقریب در پہنچ کر یوں غش آنے کا سبب آخر\nیہ ممکن ہے جھلک اس کی نظر آئی ہو چلمن سے\n\nہر آفت سے چمن محفوظ ہے اب تو یہ سنتا ہوں\nعداوت برق صرصر کو تھی میرے ہی نشیمن سے\n\nغرض کیا بحث و حجت سے ہمارا تو یہ مشرب ہے\nجہاں تک ہو کنارے ہی رہے شیخ و برہمن سے\n\nحفیظؔ اس کو سمجھ لے خوب ہیں یہ کام کی باتیں\nاگر رفعت طلب ہے جھک کے مل ہر دوست دشمن سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B9%DB%8C%D8%A8%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%AD%D8%AB_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92"} {"title": "مرے مرنے سے تم کو فکر اے دل دار کیسی ہے", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے مرنے سے تم کو فکر اے دل دار کیسی ہے\nتمہاری دل لگی کو محفل اغیار کیسی ہے\n\nہمارے گھر سے جانا مسکرا کر پھر یہ فرمانا\nتمہیں میری قسم دیکھو مری رفتار کیسی ہے\n\nوہ مجھ سے پوچھتے ہیں غیر سے اور تم سے کیوں بگڑی\nذرا ہم بھی سنیں آپس میں یہ تکرار کیسی ہے\n\nمعاذ اللہ برق حسن کس کی آنکھیں اٹھنے دے\nتماشائی نہیں واقف کہ شکل یار کیسی ہے\n\nحسنؔ جام مے گل رنگ لے کر سوچتے کیا ہو\nاگر قیمت نہیں قیمت میں یہ دستار کیسی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%B1%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "مرے مقدر میں جو لکھا تھا نصیب سے وہ پہنچ نہ پایا", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے مقدر میں جو لکھا تھا نصیب سے وہ پہنچ نہ پایا\nگرا تو تھا آسمان سے کچھ کھجور میں رہ گیا اٹک کر\n\nمصیبت آ تو گئی تھی لیکن ہوئی وہ آپ الٹے پاؤں رخصت\nلگا جو تھا زندگی کا کانٹا نکل گیا چار دن کھٹک کر\n\nوہاں ہیں اب ہم کہ کیا بتائیں وہ پیچ و خم ہیں کہ کچھ نہ پوچھو\nیہ چال راہ طلب کی دیکھو کہ چل رہی ہے مٹک مٹک کر\n\nیہ کیسی وحشت اثر خبر ہے پتا تو اے باغباں لگانا\nکھڑے ہوئے کان کیوں گلوں کے کلی نے کیا کہہ دیا چٹک کر\n\nکیا جو ڈر ڈر کے عرض مطلب تو مجھ سے یہ کہہ دیا انہوں نے\nسبق نہیں یاد ابھی یہ تم کو سنا رہے ہو اٹک اٹک کر\n\nخود اپنا رستہ سدھار ناطقؔ نہ فکر کر شیخ و برہمن کی\nوہیں تو جاتے ہیں راستے سب کوئی کہاں جائے گا بھٹک کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%85%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مرے ناصح مجھے سمجھا رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے ناصح مجھے سمجھا رہے ہیں\nفریضہ ہے ادا فرما رہے ہیں\n\nدھواں اٹھتا ہے اک اک موئے تن سے\nسزا اپنے کیے کی پا ہے ہیں\n\nطلسم ہستیٔ فانی دکھا کر\nابھی کچھ دیر وہ بھلا رہے ہیں\n\nجہاں سے کل ہمیں آنا پڑا تھا\nوہیں مجبور ہو کر جا رہے ہیں\n\nدکھا دیں گے عزیزؔ انجام دنیا\nابھی تو خیر دھوکا کھا رہے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مرے نزع کو مت اس سے کہو ہوا سو ہوا", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے نزع کو مت اس سے کہو ہوا سو ہوا\nکہ دل دہندہ جیو یا مرو ہوا سو ہوا\n\nجلا دیا جو پتنگ اب نہ رو ہوا سو ہوا\nاے شمع صبح کو جو ہو سو ہو ہوا سو ہوا\n\nدل اس کوں دے چکا دیوانگی نہ چھوڑوں گا\nاے طفلو پتھروں سے مارو ہنسو ہوا سو ہوا\n\nمجھے رلا کے خوں آنسو نہ پونچھ خوف یہ ہے\nتو ہاتھ میرے لہو سے نہ دھو ہوا سو ہوا\n\nبچھائیں پلکیں جو میں نے نہ آیا کہہ بھیجا\nاب آگے راہ میں کانٹے نہ بو ہوا سو ہوا\n\nکیا ہے قتل جو عزلتؔ کو اب نہ رو اے یار\nکہ سر پہ حسن پرستوں کے جو ہوا سو ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%86%D8%B2%D8%B9_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%AA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کر", "poet_page": "مصنف:غلام بھیک نیرنگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کر\nرہ گیا شوق دل زار میں ارماں ہو کر\n\nزیست دو روزہ ہے ہنس کھیل کے کاٹو اس کو\nگل نے یہ راز بتایا مجھے خنداں ہو کر\n\nاشک شادی ہے یہ کچھ مژدہ صبا لائی ہے\nشبنم آلودہ ہوا پھول جو خنداں ہو کر\n\nذرۂ وادئ الفت پہ مناسب ہے نگاہ\nفلک حسن پہ خورشید درخشاں ہو کر\n\nشوخیاں اس نگہ زیر مژہ کی مت پوچھ\nدل عاشق میں کھبی جاتی ہے پیکاں ہو کر\n\nشدت شوق شہادت کا کہوں کیا عالم\nتیغ قاتل پڑی سر پہ مرے احساں ہو کر\n\nاب تو وہ خبط مرے عشق کو کہہ کر دیکھیں\nخود ہی آئینے کو تکنے لگے حیراں ہو کر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "مزا بے ہوشیٔ الفت کا ہوشیاروں سے مت پوچھو", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مزا بے ہوشیٔ الفت کا ہوشیاروں سے مت پوچھو\nعزیزاں خواب کی لذت کو بے داروں سے مت پوچھو\n\nہمیں کچھ دخل ان باتوں میں سنتے ہو نہیں مطلق\nحقیقت بے وفائی کی وفاداروں سے مت پوچھو\n\nجو پوچھو تو عزیزاں دل سے پوچھو یا کہ تم ہم سے\nہماری اور اس کی بات اغیاروں سے مت پوچھو\n\nگئے وے دن جو رہتے تھے جہاں آباد میں ہم بھی\nخرابی شہر کی صحرا کے آواروں سے مت پوچھو\n\nگلوں کو کب خبر ہے حال زار عندلیبوں سے\nحقیقت مفلسوں کی آہ زر داروں سے مت پوچھو\n\nوہ دل رکھتے ہیں اپنا پاس اپنے بلکہ غیروں کا\nحقیقت بے دلوں کی آہ دل داروں سے مت پوچھو\n\nخبر دل کی اگرچہ ہو مرے اشکوں سے تم سن لو\nیہ واقف خوب ہیں اس گھر سے ہرکاروں سے مت پوچھو\n\nانھوں کا جل رہا ہے دل خدا جانے کہ کیا بولیں\nمرا احوال کوئی میرے غم خواروں سے مت پوچھو\n\nیہ اپنے حال ہی میں مست ہیں ان کو کسی سے کیا\nخبر دنیا وما فیہا کی مے خواروں سے مت پوچھو\n\nہوا ہے ان دنوں وہ آشناؤں سے بھی بیگانہ\nخرابی کو حسنؔ کی آج کل یاروں سے مت پوچھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B2%D8%A7_%D8%A8%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%B4%DB%8C%D9%94_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AA_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88"} {"title": "مزا کیا جو یوں ہی سحر ہو گئی", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مزا کیا جو یوں ہی سحر ہو گئی\nنہیں بھی پہر دو پہر ہو گئی\n\nترے غم میں شب یوں بسر ہو گئی\nغرض روتے روتے سحر ہو گئی\n\nنہ آئینہ ہر وقت دیکھا کرو\nکہوگے کسی کی نظر ہو گئی\n\nجو باندھی کمر قتل عشاق پر\nکمر تو نہ تھی پر کمر ہو گئی\n\nسبب ان کی رنجش کا کہنا نہیں\nکوئی پوچھے کس بات پر ہو گئی\n\nلبوں پر ٹھہرنے سے اے جاں! حصول\nادھر آ گئی یا ادھر ہو گئی\n\nکوئی بات الفت کی اب تو نہیں\nجو کچھ ہو گئی پیشتر ہو گئی\n\nترا وعدہ گو جھوٹ ہی کیوں نہ ہو\nتسلی ہماری مگر ہو گئی\n\nتغافل ہے ہر بات پر کس لیے\nمرے دل کی تجھ کو خبر ہو گئی\n\nقیامت کے آثار بھی ہو گئے\nشب غم دراز اس قدر ہو گئی\n\nمنانا رلانا ہی باہم رہا\nشب وصل یوں ہی سحر ہو گئی\n\nنہیں کیا کرو گے نہ ہم کو سناؤ\nشکایت عدو کی مگر ہو گئی\n\nخدا ہے جو اس بت سے پھر ہو ملاپ\nغرض آج تو اس قدر ہو گئی\n\nکہا بھی تو اس نے کچھ ایسا نہیں\nذرا بات میں چشم تر ہو گئی\n\nنہ مانا نہ مانا اسی شوخ نے\nکہ دنیا ادھر کی ادھر ہو گئی\n\nتمہیں ضد نہ ملنے کی ہے کس لیے\nمری آہ کیا بے اثر ہو گئی\n\nوہ وعدے سے کیوں پھر گئے کہہ تو کچھ\nیہ کیا بات اے نامہ بر ہو گئی\n\nیہ قسمت ہوا وصل بھی گر نصیب\nتو رنجش بھی ہر بات پر ہو گئی\n\nوہ آئے بھی یاں اس سے اے دل حصول\nکوئی دم کو تسکیں اگر ہو گئی\n\nترے غم میں یہ حال تو ہو گیا\nخوشی اب تری فتنہ گر ہو گئی\n\nیہ جھوٹی محبت سے ان کی حصول\nشکایت عدو کی اگر ہو گئی\n\nانہیں صلح منظور ہے مجھ سے کب\nکہوں کیا ہوئی کیونکہ پر ہو گئی\n\nنظام اس گھڑی کا کہوں حال کیا\nجب اس نے کہا وہ سحر ہو گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B2%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہے", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہے\nنمک زخم جگر پر اور ڈالے جس کا جی چاہے\n\nجگر موجود ہے تو وہ بنا لے جس کا جی چاہے\nگلا حاضر ہے خنجر آزما لے جس کا جی چاہے\n\nاگر ہے حسن کا دعویٰ مہ و خورشید دونوں میں\nکف پا سے تمہارے منہ ملا لے جس کا جی چاہے\n\nیہ مشت استخواں اپنے کسی کے کام میں آئیں\nہما ہو یا سگ دل دار کھا لے جس کا جی چاہے\n\nاگر ہے زندگی باقی تو ہم حسرت نکالیں گے\nدل پر آرزو پر خاک ڈالے جس کا جی چاہے\n\nفقیروں کو نہیں کچھ زینت دنیا سے مطلب ہے\nمیں خوش کمبل میں ہوں اوڑھے دوشالے جس کا جی چاہے\n\nجو روشن دل میں ان کی روشنی چھپتی نہیں ہرگز\nمہ تاباں پہ صاحب خاک ڈالے جس کا جی چاہے\n\nشکایت مجھ کو دونوں سے ہے ناصح ہو کہ واعظ ہو\nنہ سمجھا ہوں نہ سمجھوں سر پھرا لے جس کا جی چاہے\n\nمیں ہوں برگ خزاں افتادہ میں مردود دہقاں ہوں\nگرا ہوں ان کی نظروں سے اٹھا لے جس کا جی چاہے\n\nنہیں ہوتا کبھی آب رواں پر شک نجاست کا\nمرے اشکوں کے دریا میں نہا لے جس کا جی چاہے\n\nچمن میں گل کے مرجھانے سے آغاؔ ہو گیا ثابت\nبسان غنچہ دم بھر مسکرا لے جس کا جی چاہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B2%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%B2%D9%85%D8%A7_%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%92"} {"title": "مزاج دہر میں ان کا اشارہ پائے جا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مزاج دہر میں ان کا اشارہ پائے جا\nجو ہو سکے تو بہرحال مسکرائے جا\n\nبہار صد چمنستان آرزو بن کر\nمرے خیال کی رنگینیوں میں آئے جا\n\nخرد نواز نگاہوں کی آڑ میں رہ کر\nفضائے عالم دیوانگی پہ چھائے جا\n\nپلائے جا کہ ابھی ہوش بے خودی ہے مجھے\nپلائے جا مجھے ساقی ابھی پلائے جا\n\nدل و جگر پہ گزر جائے گی جو گزرے گی\nتری نظر سے جو فتنے اٹھیں اٹھائے جا\n\nذرا ٹھہر کہ اب انجام سوز غم ہے قریب\nچراغ زیست بھڑکنے کو ہے بجھائے جا\n\nسکوت میت فانیؔ ہے اک فسانۂ شوق\nلب خموش سے ہر مدعا کو پائے جا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC_%D8%AF%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "مزاح", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "مزاح جس کو غلطی سے مذاق کہنے لگے ہیں، انسان کی ایک جبلی خاصیت ہے جو کم و بیش تمام افرادمیں پائی جاتی ہے۔ مزاح کو عربی، فارسی اور اردومیں تین مختلف القاب دیئے گئے ہیں، یعنی(۱) مطائبہ(۲) خوش منشی(۳) خوش طبعیتینوں لقب اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مزاح کا موضوع ’’خوشی‘‘ کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ روزانہ محنت و مشقت جو ہر انسان کا فرض ہے اس کے بعد ہر شخص ایسے مشغلے ڈھونڈتا ہے جن سے تھوڑی دیر دل بہلے اور دن بھر کی کوفت رفع ہو اور ایسے اوقات میں کوئی مشغلہ مزاح سے بہتر نہیں ہے۔ ہم اپنی زبان میں مزاح کا ترجمہ ہنسی، چہل، دل لگی، ٹھٹھول وغیرہ کر سکتے تھے۔ افسوس ہے کہ اب ہماری زبان میں یہ الفاظ صرف مزاح کے مترادف نہیں رہے بلکہ شہدپن، مسخرگی، فحش، دشنام، بے حیائی، دھول دھپا، جوتی بیزار بھی شامل ہیں۔مزاح جب تک مجلس کا دل خوش کرنے کے لئے (نہ کہ کسی کا دل دکھانے کے لئے) آ جائے، ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا یا ایک سہانی خوشبو کی لپٹ ہے جس سے تمام پژمردہ دل باغ باغ ہو جاتے ہیں۔ ایسا مزاح فلاسفہ وحکما بلکہ اولیا وانبیانے بھی کیا ہے۔ اس سے مرے ہوئے دل زندہ ہوتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لئے تمام پژمردہ کرنے والے غم غلط ہو جاتے ہیں۔ اس سے جو دت اور ذہن کو تیزی ہوتی ہے اور مزاح کرنے والا سب کی نظروں میں محبوب اور مقبول ہوتا ہے۔ برخلاف اس کے جب وہ اس حدسے بڑھنے لگتا ہے تو دم بدم ہولناک ہوتا ہے اور آخر کو اس سے بجائے محبت کے دشمنی اور بجائے خوشی کے غم پیدا ہوتا ہے۔ وہ اخلاق کو اس طرح کھاجاتا ہے جیسے لوہے کو زنگ یا لکڑی کو گھن۔ مزاح کرنے والا ایسا بے دیدہ ہو جاتا ہے کہ خدا اور رسول پر بھی اس کی ایک آدھ پھبتی ہوئے بغیر نہیں رہتی۔ وہ ایسا کذاب ہو جاتا ہے کہ بری خبریں جن کو سن کر خاص یا عام لوگوں کو رنج ہو، نہایت خوشی سے اڑاتا ہے۔ وہ ایسا بے غیرت ہو جاتا ہے کہ اس کو سخت سے سخت گالی پھبتی ناگوار نہیں گزرتی۔ وہ ایسا مفسد ہو جاتا ہے کہ باتوں باتوں میں لڑائی کرادینی اس کے نزدیک ایک کھیل اور معمولی بات ہوتی ہے۔ غرض تمام دنیا کے عیب مزاح کی زیادتی سے انسان میں پیدا ہو جاتے ہیں۔مزاح کے بڑھنے کے مختلف اسباب ہوتے ہیں مگر ہم یہاں وہ خاص سبب بیان کرنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے مزاح کسی خاص قوم میں رفتہ رفتہ تمسخر اور استہزا، فحش و دشنام کے درجہ کو پہنچ کر انسانی خصلت سے ایک قومی خصلت بن جاتا ہے اوراس قدرعام ہو جاتا ہے کہ اس کی برائی اور عیب نظروں سے ساقط ہو جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل ہنسی اور چہل میں جو امتیاز ہماری قوم کو حاصل ہے وہ تمام ہندوستان میں کسی قوم کو حاصل نہیں ہے۔ جتنے ضلع پھکڑ بولنے والے اور پھبتیاں کہنے والے پیدا ہوتے ہیں اسی قوم میں پیدا ہوتے ہیں۔ جتنی گالیاں ایک مسلمان شریف زادہ کو یاد ہوتی ہے کسی کو نہیں ہوتیں۔ تمام ہندوستان میں جتنے پنچ اخبار ہیں ان کے ایڈیٹر، پروپرائٹر (مالک) اور کارسپانڈنٹ (نامہ نگار) اسی قوم کے زندہ دل ہیں۔ ہندوستانی امیروں اور امیرزادوں کی مجلس میں جتنے مسخرے اور رونقِ محفل پاؤگے اسی قوم کے پاؤگے۔ واعظوں میں جتنے لطیفہ گو اور بذلہ سنج دیکھوگے اسی قوم کے پاؤگے۔فحش اور بے حیائی کی کتابوں میں ایک بھی ایسی نہ ہوگی جس کا مصنف مسلمان نہ ہوگا۔ مناظرہ کی کتابیں اسی قوم کے عالموں کی ایسی نکلیں گی جن میں ستم ظریفی کاپورا پورا حق ادا کیا گیا ہو۔ شاعرو ں میں کوئی ہاجی، ہزل گو، ریختی گو اور گندہ دہن ایسا نہ ہوگا جو قوم کا مسلمان نہ ہو۔ داستان کہنے والوں میں صرف ایک شخص ایسا سنا گیا ہے جو اصل میں قوم کا مسلمان نہیں لیکن آخر اس کو بھی مسلمان ہونا پڑا۔ الغرض اس قوم کی فصاحت، ذہانت اور فضیلت جس قدر مزاح میں صرف ہوتی ہے ویسی کسی اور کام میں نہیں ہوتی۔ یہاں نہایت تعجب کے ساتھ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کمینہ خصلت اسی کے حصہ میں کیوں آتی ہے ؟ شاید اس کا یہ جواب دیا جائے کہ تنزل کے زمانے میں ایک قوم کے فضائل رذائل کے ساتھ بدل جاتے ہیں اور تمام کمینہ خصلتیں اور سفلہ عادتیں خاص وعام میں خواہ مخواہ پیدا ہو جاتی ہیں۔ لیکن غور کرنے کے بعد یہ جواب کافی معلوم ہوتا ہے کیونکہ ابھی یہ بات غیر منفصل ہے کہ قومی تنزل اخلاق کے بگڑنے کا باعث ہوتا ہے یا اخلاق کا بگڑنا قومی تنزل کا باعث ہوتا ہے۔ پس وہی سوال اب بھی باقی رہتا ہے۔البتہ ایک اور جواب ہمارے خیال میں آتا ہے جو غور کے قابل ہے۔ ادنی تو جہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مزاح کو جس قدر تعلق زبان اور الفاظ سے ہے ایسا اور کسی سے نہیں۔ خاص خاص صورتوں کے سوا ہمیشہ ہنسی اور چہل الفاظ ہی کے پیرایہ میں کی جاتی ہے۔ اس زمانے میں جبکہ انسان کی اخلاقی تعلیم طفولیت کی حالت میں تھی اور اس منہ زوری اور بدلگامی کا چنداں انسدادنہ ہوا تھا، ضرور ہے کہ مزاح اور ظرافت ان قوموں میں زیادہ رواج پایا ہوگا جن کی زبان میں اس کی زیادہ قابلیت تھی۔ جہاں تک ہم کو معلوم ہے کہہ سکتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں عرب کی زبان اس وقت کی تمام زبانوں کی نسبت اس بات کی زیادہ قابلیت رکھتی تھی، اس میں الفاظ کثرت سے تھے جو دو معنی رکھتے ہوں اور دونوں ایک دوسرے کی ضدہوں۔ جیسے مولی کہ آقا اور غلام دونوں کو کہتے ہیں۔ اس میں ایسے الفاظ بھی بکثرت تھے جو بہت سے مختلف معنوں کے لئے وضع کئے گئے ہوں۔ جیسے عین کہ آنکھ، چشمہ، ذات اور سونے کو کہتے ہیں۔ اس میں مترادف الفاظ بھی بے شمار تھے۔ یعنی ایک ایک معنی کے لئے کئی لفظ مستعمل ہوتے تھے جیسے اسد، لیث، غضنفر وغیرہ۔اس وقت عرب میں شاعری کا زور بھی اس قدر تھا کہ دنیا کی کسی زبان میں نہ تھا اوراس سبب سے مجاز کنایہ اور استعارہ کا وہاں سب جگہ سے زیادہ برتاؤ تھا۔ یہ تمام باتیں جو اوپر بیان کی گئیں ایسی ہیں جو اہل زبان کو مزاح کی طرف خود بخود مائل کرتی ہیں کیونکہ مزاح میں زیادہ تر ایسے ہی لفظوں کا استعمال ہوتا ہے۔ مزاح میں جو خوشی متکلم اور مخاطب کو حاصل ہوتی ہے وہ ایک طبعی بات ہے۔ اگر اس کی مزاحمت نہ کی جائے تو ضرور رفتہ رفتہ وہ حد اعتدال سے متجاوز ہو جاتا ہے اور تمسخر و استہزا بلکہ فحش و دشنام تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔عرب کا بھی ایسا ہی حال ہوا۔ جس وقت خدا تعالیٰ نے خاتم النبیین کو مبعوث فرمایا اس وقت یہ ذمیم خصلت ان میں حد سے زیادہ پھیلی ہوئی تھی۔ ان کے ہاں سب وشتم وقذف کا کچھ عیب نہ تھا۔ ان کے مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے تمسخر و استہزا کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو برے ناموں اور برے القاب سے یاد کرتے تھے، ان کے اشعار میں ہجو اور فحش کثرت سے ہوتا تھا۔ چنانچہ بہت سی آیتیں قرآن میں اوربہت سی حدیثیں صحاح میں ایسی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مزاح، سخریت، استہزا، سب، لعن، قذف، فحش، بذاءت، لمز اور تنابز بالالقاب ان کے ہاں شدت سے رائج تھا۔ آں حضرت ؐ کی پاک تعلیم سے جیسا کہ آگے ذکر کیا جائےگا چند روز میں یہ تمام برائیاں نیست و نابود ہو گئیں اور صر ف اس قدر مزاح باقی رہ گیا جو سوسائٹی کے لیے باعث زینت ہے۔خلافت راشدہ کے زمانے میں بھی یہی حال رہا بلکہ جو لوگ صاحب ہیبت و وقار تھے وہ اس پسندیدہ مزاح کو بھی پسندنہ کرتے تھے۔ چنانچہ ایک بارحضرت عمر فاروقؓ کے سامنے چند صحابہ کے نام لئے گئے جو اس وقت خلافت کے لائق سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے ہر ایک کی نسبت کچھ کچھ اعتراض کئے اور حضرت علیؓ کے نام پر صرف یہ کہاکہ ھور جل کثیرالدعابۃ یعنی ان کے مزاج میں مزاح بہت ہے۔خلافت راشدہ کا زمانہ گزر گیا اوراسلام میں شخصی سلطنت کی بنیاد پڑی اور وہ وقت آیا جس کی نسبت مخبر صادق ؐ نے ثم یصیر ملکا عضوضا کہا تھا تو تمام طبقات انام کو ایک خاص شخص کی مرضی اور رائے کا تابع ہونا پڑا۔ فقیہوں نے خلفا کے جذبات نفسانی پورے کرنے کے لئے شرعی حیلے تراشنے شروع کئے۔ شعرا کو فاسق و فاجر بادشاہوں کی مدح میں قصائد عزا انشا کرنے پڑے۔ مشیر اور ندیم بجائے مشورہ اور صلاح نیک کے لطائف و مضحکات سے ان کے دل لبھانے لگے۔ چونکہ مزاح اور ظرافت عرب کے خمیر میں تھی۔ گو وہ نبی برحقؐ کی تعلیم سے ایک مدت تک اس کو بھولے رہے لیکن جب زمانے کی حالت خود اس کی محرک ہوئی تو پھر اپنی اصلی خاصیت پر آ گئے، تاہم بنی امیہ کے عہدمیں بہ سبب قرب عہد رسالت کے مزاح اور ظرافت محدود رہی۔بنی عباسیہ کے زمانے میں مزاح نے خوب رونق پائی۔ بذلہ سنج مصاحبوں کی جماعت بھی سامان عیش و نشاط کا ایک جز و اعظم قرار پائی۔ بغیران کے شبستان خلافت سونا سمجھا جاتا تھا۔ سفر اور حضر میں مصاحب اور ندیم خلیفہ کے ہمراہ رہتے تھے۔ پھر جس قدر ان کی فتوحات بڑھتی گئیں یہ رنگ بھی ان کے ساتھ پھیلتا گیا۔ مگر امویہ اور عباسیہ کے اخیر زمانے تک ظاہراً فحش اور ہزل نے مسلمانوں میں چنداں رواج نہ پایا تھا۔البتہ ایران میں جاکر بعض اسباب ایسے جمع ہوئے کہ مزاح حداعتدال سے بہت بڑھ گیا۔ چنانچہ سعدی 1 شیرازی کے مطائبات اور انوری و شفائی 2 کے اہاجی و ہزلیات اور سب سے زیادہ فارسی مصطلحات کی کتابیں اس کی گواہ ہیں۔ وہاں ہنسی اورچہل اس درجہ کو پہنچ گئی تھی کہ اصحاب فضیلت اس کی مشق بہم پہنچاتے تھے، تاکہ اس کے ذریعہ سے تقرب سلطانی حاصل کریں۔ وہاں فحش اورہزل کا نام ’’مطائبہ‘‘ رکھا گیا تھا۔ چنانچہ ’’مطائبات سعدی‘‘ مشہور ہیں۔ وہاں لفظ ظرافت جس کے معنی عربی میں زیر کی اور دانائی کے ہیں، ہنسی اورچہل کے معنوں میں مستعمل ہونے لگا تھا (جیسا کہ آج کل ہندوستان میں بھی مستعمل ہے) یعنی وہی لوگ بڑے لائق و فائق سمجھے جاتے تھے جو ہنسی اور چہل میں کمال رکھتے تھے۔ یہی رنگ ’’چغتائیہ‘‘ کے عہد میں فارسی زبان کے ساتھ ایران سے ہندوستان میں آیا۔اگرچہ اسلام کی سلطنت شخصیہ میں بھی بہت سے بادشاہ جن کو مہمات سے فرصت کم ملی یا جن کے مزاج میں قدرتی ہیبت اور وقار تھا، نہایت سنجیدہ گزرے ہیں، جن کے دربار میں کسی کو بےہودہ گوئی کی مجال نہ تھی۔ مگر اکثر ان کے بر خلاف تھے۔ خصوصا ًوہ جن کا ملک کئی کئی پشت سے خارجی حملوں سے محفوظ تھا اورنہایت اطمینان کے ساتھ عیش وعشرت میں زندگی بسر کرتے تھے۔ انسانی نسلوں کی قدیم سے یہ خاصیت رہی ہے کہ جن کو دولت یا سلطنت ور اثتاً بغیر سعی و کوشش کے ہاتھ لگی ہے اور بغیر کسی مزاحمت کے وہ اپنی حالت پر چھوڑ دیے گئے ہیں، انہوں نے کبھی اس عطیہ غیبی کی کچھ قدر نہیں کی۔ وہ اس کی نگہداشت اور محافظت سے غافل ہوکر عیش وعشرت میں ایسے منہمک ہوئے کہ دنیا و مافیہا کو فراموش کر دیا۔ جب وہ عیش کرتے کرتے تھک جاتے ہیں تواس میں کوئی نئی اختراع کرنی چاہتے ہیں اور جب اس نئی اختراع سے بھی طبیعت سیر ہو جاتی ہے تو اسے اور آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ اب ان کی حالت چوپاؤں اور جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتی ہے اور ان کے تمام فضائل مبدل بہ رذائل ہو جاتے ہیں۔ان کی جرأت بے حیائی ہو جاتی ہے، ان کی سخاوت اسراف ہو جاتی ہے، ان کی شجاعت بے رحمی ہو جاتی ہے، ان کی اوالوالعزمی بوالہوسی ہو جاتی ہے، ان کے مذاق ایسے فاسد ہو جاتے ہیں کہ جولذت روح کو پند و حکمت سے ہونی چاہئے وہی لذت ان کو فحش اور ہزل سے حاصل ہوتی ہے۔ جب خود مختار بادشاہوں کی ایسی حالت ہو جاتی ہے تو ملک کے خاص وعام کو وہی روپ بھرنا پڑتا ہے جو ان کے درخور مزاج ہو۔ خصوصاً وہ فرقہ جو مذہب وملت کی رو سے بادشاہ کا ہم قوم ہوتا ہے اورجس کو بہ نسبت اور قوموں کے تقرب اور حضوری کا زیادہ موقع ملتا ہے یا زیادہ امید ہوتی ہے اس کو دربارداری اور مصاحبت کی وہ تمام لیاقتیں پورے اور اکمل طور پر حاصل کرنی پڑتی ہیں جو بادشاہ کے نزدیک لیاقتیں سمجھی جاتی ہیں۔اگربادشاہ کو گانے بجانے کا شوق ہے توہزاروں بھلے مانس گانا بجانا سیکھتے ہیں۔ اگر اس کی طبیعت حسن پرستی اور ہواؤ ہوس کی طرف مائل ہے تو ہزاروں اہل علم غزل، واسوخت اور مثنوی لکھنے میں کمال بہم پہنچاتے ہیں۔ اگروہ خود پسند اور خوشامد پسند ہے تو شعرا کو بھاٹ بننا پڑتا ہے اور قصیدہ گوئی میں یدطولی حاصل کرتے ہیں۔ اگر اس کی ہنسی اور چہل سے رغبت ہے تو ہزاروں سنجیدہ اور متین آدمی مسخرہ پن اختیار کرتے ہیں۔ یہی حال ’’خاندان چغتائیہ’’ 3 کے آخری دور میں ہوا۔ ہنسی اور ٹھٹھول کی چشم بددور اوپر ہی سے بنیاد جمتی چلی آتی تھی یہاں تک کہ عالمگیر 4 جیسے روکھے اور متشرع بادشاہ کے دربار میں بھی نعمت خاں 5 جیسا ظریف اور بذلہ سنج موجود تھا۔محمد شاہ 6 کے عہد میں ظرافت یہاں تک بڑھی کہ منجربہ تمسخر واستہزا ہو گئی۔ بادشاہ ملک کا انتظام اوروں پر چھوڑ کر آپ ہمہ تن عیش وعشرت میں مشغول ہو گیا اور اس کو ناچ رنگ اور شراب و کباب کے سوا کوئی شغل نہ رہا۔ تمام اعیان سلطنت بادشاہ عہد کی طبیعت کا میلان دیکھ کراسی رنگ میں رنگ گئے۔ امیروں میں باہم نوک جھونک ہونے لگی۔ مردوں میں نواب امیرخاں 7 اور عورتوں میں نور بائی 8 ایک ایک پر پھبتیاں کہتے تھے۔ یہاں تک کہ برہان الملک 9 اور آصف 10 جاہ جیسے سنجیدہ آدمیوں پر بھی ان کے وار چلتے تھے اور ان کو بھی کبھی کبھی اپنی وضع کے خلاف جواب دینا پڑتا تھا۔ یہ رنگ رفتہ رفتہ خاص وعام میں پھیل گیا اور تمام امرا کی مجلسوں میں مسخرہ پن ہونے لگا اور اس طرح محمدشاہ رنگیلے کی بدولت تمسخر اور استہزا اعلیٰ سے ادنیٰ تک تمام طبقوں میں پھیل گیا۔پھرجب نواب سعادت علی خاں کے ساتھ دہلی کی زبان لکھنؤ میں گئی تو زبان کے ساتھ ہی ساتھ یہ رنگ بھی وہاں پہنچا اور لکھنؤ میں اس نے اور بھی ترقی پائی۔ وہاں کے اکثر کار فرما ایسے ہوئے جو تعیش و کامرانی میں محمدشاہ پر بھی سبقت لے گئے۔ ان کے ہاں بھی مسخرہ پن کا بازار خوب گرم رہا۔ یہاں تک کہ نواب سعادت علی خاں 11 ثانی جیسے مدبر اور ہوشمند کو بھی سید انشاء اللہ خاں 12 بغیر چین نہ آتا تھا۔چونکہ مزاح اور زبان جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے لازم و ملزوم ہیں اور ظاہر ہے کہ دہلی اور لکھنؤ کو زبان اردو کے لحاظ سے تمام ہندوستان پر ترجیح ہے، اس لئے یہ دونوں شہر ہنسی اور چہل کے لحاظ سے بھی اور شہروں سے بالاتر رہے۔ ان تمام خرابیوں پر بھی جب تک مسلمانوں میں تھوڑی بہت تعلیم و تربیت رہی تب تک تمسخر و استہزا نے ایک حدمعین سے تجاوز نہیں کیا اور شرفا اور خواص کی مجالس میں زیادہ تر بذلہ سنجی اور لطیفہ گوئی ہی پرقناعت رہی مگرجب نکبت اور ادبار کی گھٹا چاروں طرف چھا گئی اوربے علمی و جہالت کا بازار گرم ہوا تو شریف زادوں کو وہ صحبتیں ملنے لگیں جہاں گالی گلوج، دھول دھپا اور جوتی پیزارہی کا نام دل لگی تھا، رفتہ رفتہ یہ لچپن اور بے حیائی ادنی سے اعلیٰ تک تمام خاندانوں میں وبائے عام کی طرح پھیل گئی اور اس کی برائی کا خیال کم ہوتے ہوتے تقریبا ًتمام قوم کے دل سے بالکل جاتا رہا۔پہلے ساری مجلس میں ایک آدھ آدمی بذلہ سنج ہوتا تھا کیونکہ اس وقت بذلہ سنجی کے لئے ذہانت اور جودت طبع کے علاوہ کسی قدر علم وفضل بھی درکار تھا۔ چنانچہ محمدشاہ کے دربار میں صرف نواب امیر خاں ہی ایک ایسا شخص تھا جو اس خدمت سے عہدہ بر آ ہوتا تھا۔ آج کل ہر مجلس میں ایک کثیر مجمع ظریفوں کا ہوتا ہے کیونکہ اب بات بات میں محل بے محل فحش اور ہزل بکنا ہی داخل ظرافت سمجھا جاتا ہے اور اعلیٰ درجہ کی ظرافت چند باتوں پر منحصر ہے مثلاً کوئی ایسا فحش بکنا جو حضار مجلس نے پہلے کم سنا ہو، فحش کی بھری ہوئی واہی تباہی نقلیں بیان کرنی، کوئی ایسا لفظ بولنا جس کے سننے سے شرم آئے، کوئی ایسی حرکت کرنی جسے دیکھ کر ہنسی آئے، کسی دوست کے جھوٹے سچے عیب ظاہر کرنے، کوئی ایسی بات کہنی جس سے مجلس میں بیٹھے ہوئے آدمیوں میں سے کسی ایک کادل دکھے اور باقی سب لوگ ہنسیں۔ کسی نئے آدمی پر جس سے شناسائی نہ ہو کوئی پھبتی کہنی، کسی کی صورت دیکھ کر خواہی نخواہی قہقہہ لگانا، کسی مقدس آدمی کوجس کا نام ہمیشہ تعظیم سے لیا جاتا ہو گالی سے یاد کرنا، کوئی ایسی خبراڑانی جسے سن کر سب کو رنج ہو، کوئی ایسی عجیب روایت کرنی جو عادتاً محال ہو۔غرض ہنسنے ہنسانے، دل دکھانے یا بے حیائی کا نام ’’ظرافت‘‘ رکھا گیاہے، چونکہ غریب اور محنتی آدمیوں کو دو چار گھڑی ہنسنے بولنے کی مہلت بہت کم ملتی ہے، اس سبب سے فحش و دشنام اور بےہودہ باتیں زیادہ تر آسودہ اور مرفہ الحال لوگوں میں سنی اور دیکھی جاتی ہیں۔ اس ذمیم خصلت کی بدولت اردو زبان نے جوکہ خاص مسلمانوں کی زبان کہلاتی جاتی ہے بہت کچھ وسعت پیدا کر لی ہے۔ غالباً دنیا میں کوئی زبان ایسی نہ ہوگی جس میں ہماری زبان کی برابر گالیاں اور فحش اور بے شرمی کے الفاظ اور محاورات بھرے ہوئے ہوں۔ ایک فاضل انگریز نے انہیں دنوں میں اردو زبان کی ایک ڈکشنری انگریزی میں لکھی ہے۔ جس پر انگریزی اخبار نویسوں نے یہ اعتراض کیا تھا کہ اس ڈکشنری کو فوربس اور شیکسپئر پراس کے سوا کوئی ترجیح نہیں ہے کہ اس میں ہزاروں گالیاں اور فحش محاورے ایسے ہیں جو ان میں نہیں ہیں لیکن مصنف نے ایک مختصر جواب دے کر سب کو ساکت کر دیا۔ اس نے کہا،’’فوربس اور شیکسپئر صرف لغات اردو کی ڈکشنریاں ہیں اور ہماری کتاب لغات اردو کے سوا ہندوستانیوں کی طبیعت کا بھی آئینہ ہے جس میں ان کے اخلاق اور خصائل و جذبات نہایت عمدہ طور سے نظر آتے ہیں۔‘‘ اگرچہ مصنف نے اس مقام پر ’’ہندوستانیوں‘‘ کا عام لفظ لکھا ہے مگر حقیقت میں اس کتاب سے زیادہ تر مسلمانوں ہی کے اخلاق ظاہر ہوتے ہیں، کیونکہ جہاں تک ہم کو معلوم ہے اس میں فحش اور بے حیائی کے وہی الفاظ ہیں جو مسلمانوں کی بول چال سے مخصوص ہیں اور خاص انہیں کی سوسائٹی میں وضع ہوئے۔ افسوس ہے کہ یہ ذمیم خصلت اب اس درجہ کو پہنچ گئی ہے کہ واعظ جو اپنی مجلس وعظ کو گرم کرناچاہے اس کو ضرور ہے کہ آیتوں اور حدیثوں کے ضمن میں کچھ تمسخر کی چاشنی بھی دیتا رہے۔ اخبار کا مالک جو اپنے پرچہ کو رونق دینی چاہے اس کو اس کے سوا کچھ چارہ کار نہیں کہ اپنے اخبار کو ’’پنچ‘‘ بنائے۔ مصنف جو کئی کتاب لکھ کر اس کے حق تصنیف سے فائدہ اٹھانا چاہے اس کا فرض ہے کہ اپنی کتاب کی بنیاد ہنسی اور ٹھٹھول پر رکھے۔شاعر جو مشاعرہ کو گرم کرنا چاہے اس کی تدبیر یہی ہے کہ فحش اور ہزل سے اس کی غزل کا کوئی مصرع خالی نہ ہو۔ اہل مناظرہ کی بڑی فتح یابی یہ ہے کہ ان کی تحریر میں اعتراض اور جواب کی جگہ فریق مخالف پر نری پھبتیاں اور آوازے توازے ہوں۔ دنیا کی تمام قوموں کی تفریق مذہب و ملت کے لحاظ سے کی گئی ہے جیسے ہندو، مسلمان، پارسی، یہودی اور عیسائی وغیرہ۔ پس جو اچھی یا بری خصلت کسی خاص قوم کے ساتھ مخصوص ہو جاتی ہے اس سے یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ اس قوم کی مذہبی تعلیم کا متقضایہی ہوگا اور اس سے صاف ظاہر ہے کہ جو قوم خوش نصیبی سے کسی نیک خصلت میں ضرب المثل ہو جاتی ہے وہ نہ صرف اپنی قوم کو بلکہ اپنے مذہب کو بھی نیک نام کرتی ہے اور جو قوم بدنصیبی سے کسی بری خصلت میں انگشت نما ہو جاتی ہے وہ نہ صرف اپنی قوم بلکہ اپنے مذہب کو بھی بدنام کرتی ہے۔اسلام نے انسان کی تہذیب اور اصلاح میں کوئی دقیقہ فر و گزاشت نہیں کیا، اس نے مزاح کوصرف وہیں تک جائز رکھا ہے جس سے خوشی حاصل ہوتی ہو اور اخلاق پر برااثر نہ پڑتا ہو۔ آں حضرت فرماتے ہیں کہ ’’میں بھی مزاح کرتا ہوں مگر کوئی بات بے جا نہیں کہتا۔‘‘ آپ خود بھی کبھی کبھی مزاح فرماتے تھے اور اگر کوئی دوسرا شخص کوئی لطیف مزاح کرتا تھا تو مسکراکر خاموش ہو جاتے تھے لیکن ہر وقت یا بہت مزاح کرنے کو ناپسند کرتے تھے اور سخریت و استہزا کی سخت ممانعت کرتے تھے۔ یعنی کسی کی حقارت یا پردہ دری کرنی جس پر لوگ ہنسیں یا کسی کی نقل اتارنی یا کوئی اور ایسی بات کرنی جس سے دوسرا شخص ذلیل ہو اور فحش اور سب و لعن کو نہایت مبغوض سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ بتوں کو بھی سب کرنے سے منع فرماتے تھے۔ ایک بار چند آدمی کفار کے ان مقتولوں کو جوبدر میں مارے گئے تھے برائی سے یاد کر رہے تھے، آپ سن کر ناراض ہوئے اور ان کو سخت ممانعت کی۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ طعن کرنے والا، لعنت کرنے والا، فحش بکنے والا اور بےہودہ گو مومن نہیں ہے۔آپؐ کی ممانعت کا طریقہ ایسا مؤثر تھا کہ جس کو ایک مرتبہ نصیحت کی وہ ساری عمر کے لئے اس برائی سے باز آگیا۔ کتب احادیث میں اکثرمثالیں ایسے لوگوں کی موجود ہیں جنہوں نے صرف آپ کی ایک بار کی ممانعت پرتمام عمرفحش وغیرہ زبان سے نہیں نکالا۔ مثلاً ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کہ ’’اپنے ماں باپ کو گالی دینا گناہ عظیم ہے۔‘‘ لوگوں نے عرض کیا کہ ’’حضرت ایسا کون ہوگا جو اپنے ماں باپ کو گالیاں دیتا ہوگا؟‘‘ فرمایا، ’’جو شخص کسی کو ماں باپ کی گالی دے کراس سے اپنے ماں باپ کو گالیاں دلواتا ہے حقیقت میں وہی ان کا گالیاں دینے والاہے۔‘‘ اسلام کی یہ تعلیم عرب میں اس قدر پھیلی کہ فحش اور بے شرمی کی باتیں وہاں سے گویا بالکل مفقود ہو گئیں۔ قرآن میں ایسی چیزوں کے بیان میں جن کے نام لینے سے نفرت یا شرم آتی ہے مجاز اور کنایہ برتا گیا۔ مثلا جائے ضرور کے لئے غائط کا لفظ بول اگیا ہے جس کے معنی گڑھے یا نشیب کی زمین کے ہیں جہاں عرب حاجت ضروری کے لئے جایا کرتے تھے یا مثلاً ہمبستری کے لئے ملامست، مس، اور ایتان وغیرہ کے الفاظ استعما ل کئے گئے ہیں جن کے معنی چھونے یا آنے وغیرہ کے ہیں۔عرب کے لئے جوکہ لطف زبان اور استعارہ و کنایہ پرجان دیتے تھے، یہ ایک نہایت عمدہ تعلیم تھی۔ چنانچہ اسی بنا پران کے ہاں صدہا استعارے ایسے لفظوں کی جگہ مستعمل ہونے لگے۔ جیسے وقاع کے لئے لمس، مسیس، مس، دخول، صحبت وغیرہ اور بول و براز کے لئے قضائے حاجت، تغوط، تبرز وغیرہ اور عورتوں کے لئے فی الحجر، من ورءالستر، ام الاولاد وغیرہ۔ اس قسم کی تہذیب عرب میں ایسی پھیلی تھی کہ جتنا بدن کپڑوں سے اکثر ڈھکا رہتا ہے اس کا نام لینا خلاف شرم و حیا سمجھا جاتا تھا۔ ایک بار خلیفہ عمربن عبدالعزیز کی بغل میں کچھ نکلا، لوگ عیادت کو گئے اور پوچھا، ’’من این خرج؟‘‘ خلیفہ نے جواب میں صاف طور پر بغل کا نام نہ لیا بلکہ یہ کہا، ’’خرج من باطن البدن۔‘‘ مزاح و ظرافت بھی عرب میں خلفائے امویہ کے عہد تک بہت کم رہی، لوگ اس وقت اپنی اولاد کو مزاح سے بھی ایسا ہی منع کرتے تھے جیسے اور برائیوں سے۔بہرحال اسلام نے اس بات میں ہدایت و ارشاد کا پورا پورا حق ادا کر دیا تھا اور ایک ایسی قوم سے جس کی سرشت میں ظرافت اور مزاح پیدا کیا گیا تھا، اس کو گویا بالکل نیست و نابود کر دیا تھا۔ لیکن بد نصیبی سے وقتا فوقتا ایسے اسباب جمع ہوئے کہ یہ خصلت مسلمانوں میں بڑھتے بڑھتے انتہا کے درجے کو پہنچ گئی اور جس قوم کو نبی برحق نے اس سے ہمیشہ کے لئے پاک کرنا چاہا تھا وہ داغ بدنامی بن کر ہمیشہ کے لئے ان کی پیشانی پر لکھی گئی ہے اور پورا ہوا وہ جو کلام الہی میں ارشاد ہوا تھا کہ، یعنی اے نبی تو اپنے پیاروں کو ہدایت نہیں کرسکتا، بلکہ خدا جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔یورپ کی قوموں نے جس طرح اور تمام اخلاقی برائیوں کی اصلاح کی ہے اسی طرح انہوں نے اس برائی کو بھی مٹایا ہے۔ ان کے ہاں فحش اور ہزل اس طرح مفقود ہوا ہے کہ لغت کی کتابوں میں اس کا پتہ نہیں لگتا۔ انہوں نے مشرقی کتابوں کے ترجمے جو اپنی زبانوں میں کئے ہیں ان میں جہاں فحش و ہزل کا موقع آ گیا ہے وہاں اس مطلب کو ایسے لطیف پیرایہ میں ڈھال کر لکھا ہے جس میں فحش باقی نہ رہے اور مدعا بخوبی ادا ہو جائے۔ ان کی مجلسوں میں یا ان کی تحریروں میں اگر مزا ح کی باتیں ہوتی ہیں تو اس قدرلطیف اور دقیق ہوتی ہیں کہ ہم لوگ اس کو مشکل سے مزاح کہہ سکتے ہیں۔ جنگ روم و روس کے آغاز میں ایک نہایت لطیف مطائبہ وزیر ہند اوران کی لیڈی کا کسی اخبارمیں نقل کیا گیا تھا۔ اس کو سن کر ہمارے ایک مسلمان دوست سخت متعجب ہوئے اور فرمانے لگے کہ اس میں کون سی بات ظرافت کی ہے۔ان کی ہنسی اورچہل کا سب سے بڑا نمونہ پنچ اخبار ہوتے ہیں جن میں وہ حد سے زیادہ ظرافت خرچ کرتے ہیں، مگران کی ظرافت ہمیشہ کسی نہ کسی غرض پرمبنی ہوتی ہے۔ نری ظرافت ہی نہیں ہوتی مثلاً، کسی قانون کی اصلاح ہو، گورنمنٹ کی کوئی غلط پالیسی بدل جائے، کسی باب میں قوم کو غیرت دلائی جائے۔ ایسی ظرافت ہمارے نزدیک عین حکمت ہے اور ہماری قوم کے بعض رفارمر جو کبھی کبھی مزاح کے پیرایہ میں کوئی مضمون لکھتے ہیں گووہ بالفعل ناعاقبت اندیشوں کو ناگوار گزرتے ہیں لیکن بہت جلد وہ زمانہ آنے والاہے کہ ان کی نہایت تعظیم کی جائےگی اور ان کے دلدوز فقرے اور دل شکن طعنے شفیق استاد کی زد و کوب سے زیادہ قدر کے لائق سمجھے جائیں گے۔حاشیے(۱) شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی اعلیٰ پایہ کے شاعر، مدرسہ نظامیہ بغداد کے طالب علم ابن جوزی کے شاگرد اور شیخ شہاب الدین سہروردی کے مرید تھے۔ اپنی آنکھوں سے بڑے بڑے انقلابات دیکھے اوران سے بے انتہا متاثر ہوئے۔ بغداد انہیں کے سامنے تباہ ہوا۔ عمرکابڑا حصہ ایشیا اور افریقہ کی سیاحت میں گزرا۔ پاپیادہ ۱۴مرتبہ حج کئے۔ فارسی غزل کے پیغمبر اور یورپ میں مشرق کے شیکسپئر تسلیم کئے جاتے ہیں۔ گلستاں بوستاں کی تصنیف نے ان کے نام کو غیر فانی بنا دیا ہے جن کے سیکڑوں ترجمے دنیاکی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ ۵۷۱ھ ۱۱۷۵ء میں پیدا ہوئے اور ۶۹۱ھ ۱۲۹۲ء میں وفات پائی۔(۲) شفائی شمس الدین حسین ابن حکیم ملا شفائی اصفہان کا رہنے والا تھا۔ تھوڑی سی عمر میں بہت سے علوم حاصل کرلئے اور فلسفے میں خاص دستگاہ رکھتا تھا۔ مدت تک طباعت کرتا رہا۔ چنانچہ اس کی قرابا دین اب تک مشہور ہے۔ شاہ عباس اس کی بہت تعظیم کرتا تھا۔ ہجوگوئی اس کی طبیعت پر زیادہ غالب تھی لیکن آخر عمر میں اس لغوگوئی سے توبہ کر لی تھی۔ اس کی وفات ماہ رمضان ۱۰۳۰ھ میں واقع ہوئی۔ تصنیفات میں سے مثنوی دیدہ بیدار، نمکدان حقیقت، مہر و محبت اور ایک دیوان موجود ہے۔(۳) خاندان چغتائیہ۔ اس خاندان نے ماورالنہر، کاشغر، بلخ، بدخشاں وغزنی وغیرہ پر ۶۲۴ھ ۱۲۲۷ء سے ۷۷۱ھ ۱۳۷۰ء تک ۱۴۷سال حکومت کی۔ اس خاندان کا بانی چنگیز خاں کا بیٹا چغتائی تھا۔(۴) محی الدین اورنگ زیب عالمگیر ہندوستان کے زبردست شہنشاہوں میں سے تھا۔ سلطنت مغلیہ کوجتنا عروج اس کے وقت میں ہوا، اتنا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور اس کے بعد تو انحطاط شروع ہو گیا۔ نہایت دیندار، متشرع محنتی، جفاکش، منتظم، منصف مزاج، عادل اور بارعب شہنشاہ تھا۔ ۱۰۶۸ھ ۱۶۵۷ء میں تخت دہلی پر متمکن ہوا اور ۱۱۱۸ھ ۱۷۰۶ء میں انتقال کیا۔(۵) نعمت خاں۔ مرزا محمدنام، عالی تخلص اورنعمت خاں خطاب تھا۔ شیراز سے آکر عالمگیر کا داردغہ مطبخ اورصرف خاص کا دیوان مقرر ہوا۔ ۱۱۲۰ھ ۱۷۰۸ء میں وفات پائی۔ وقائع نعمت خاں عالی اس کی مشہور کتاب ہے۔(۶) محمدشاہ خان مغلیہ کے دورانحطاط کے بد قسمت بادشاہوں میں سے تھا۔ اسی کے عہد میں نادر شاہ نے دہلی پرحملہ کیا۔ ۱۷۱۵ء میں تخت پر بیٹھا اور ۱۷۴۸ء میں مر گیا۔(۷) امیرخاں۔ عمدۃ الملک خطا ب تھا اور محمدشاہ کے خاص الخاص مقربین میں سے تھا۔ الہ آباد کا صوبہ دار مقرر کیا گیا۔ مگر تھوڑے عرصے کے بعد واپس بلا لیا گیا۔ کیونکہ بادشاہ اس کو اپنے سے جدا کرنا پسند نہ کرتا تھا۔ نہایت حاضر جواب اور بےباک تھا۔ اس کی بےباکی آخر رنگ لائی جب بادشاہ کے حضور میں بھی بےباکی اور گستاخی سے پیش آنے لگا تو ایک روز ناخوش ہوکر بادشاہ نے ایک شخص کو اشارہ کیا اور اس نے ۲۶ دسمبر ۱۷۴۰ء کو ایک خنجر سے اس کا کام تمام کر دیا۔(۸) نور بائی۔ دربار محمد شاہ کی مشہور طوائف تھی۔ نادرشاہ اس کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا مگر قسمت تھی کہ بچ گئی۔(۹) برہان ملک۔ اصلی نام محمد امین عرف سعادت خاں تھا۔ خراسان کے تاجروں میں سے تھا۔ محمدشاہ کے زمانے میں ہندوستان آیا اور اودھ کی صوبیداری پر فائز ہوا۔ ۱۷۳۹ء ۱۱۵۲ھ میں وفات پائی۔ اودھ کے نواب اسی کی اولاد میں سے تھے۔(۱۰) آصف جاہ۔ فرماں روایان حیدرآباد کے مورث اعلیٰ اور دربار مغلیہ کے زبردست امرا میں سے تھے محمد شاہ کے وقت میں حیدرآباد کے صوبیدار مقرر ہوئے اور ۳۰ برس تک نہایت کامیابی کے ساتھ صوبہ دکن میں حکومت کی۔ ۱۱۶۱ھ ۱۷۴۸ء میں وفات پائی۔(۱۱) سعادت علی خاں ثانی۔ وزیراعلی بن آصف الدولہ کے بعد ۲۱ جنوری ۱۷۹۰ء کو اودھ کے تخت پر بیٹھا۔ ۱۷برس تک حکومت کرنے کے بعد ۱۱ جنوری ۱۸۱۴ء کو فوت ہو گیا۔(۱۲) سید انشاء اللہ خاں۔ میر ماشاء اللہ خاں کے بیٹے اعلیٰ درجہ کے ظریف الطبع شاعر تھے۔ دربار لطافت ان کی مشہور کتاب ہے۔ بمقام لکھنؤ ۱۲۳۲ھ ۱۸۱۷ء میں وفات پائی۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD"} {"title": "مزدور", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "گرد چہرے پر پسینے میں جبیں ڈوبی ہوئی\nآنسوؤں میں کہنیوں تک آستیں ڈوبی ہوئی\n\nپیٹھ پر نا قابل برداشت اک بار گراں\nضعف سے لرزی ہوئی سارے بدن کی جھریاں\n\nہڈیوں میں تیز چلنے سے چٹخنے کی صدا\nدرد میں ڈوبی ہوئی مجروح ٹخنے کی صدا\n\nپاؤں مٹی کی تہوں میں میل سے چکٹے ہوئے\nایک بدبو دار میلا چیتھڑا باندھے ہوئے\n\nجا رہا ہے جانور کی طرح گھبراتا ہوا\nہانپتا گرتا لرزتا ٹھوکریں کھاتا ہوا\n\nمضمحل واماندگی سے اور فاقوں سے نڈھال\nچار پیسے کی توقع سارے کنبے کا خیال\n\nاپنے ہم جنسوں کی بے مہری سے مایوس و ملول\nصفحۂ ہستی پر اک سطر غلط حرف فضول\n\nاپنی خلقت کو گناہوں کی سزا سمجھے ہوئے\nآدمی ہونے کو لعنت اور بلا سمجھے ہوئے\n\nزندگی کو ناگوار اک سانحہ جانے ہوئے\nبزم کبر و ناز میں فرض اپنا پہچانے ہوئے\n\nراستے میں راہگیروں کی نظر سے بے نیاز\nشورش ماتم سے نغموں کے اثر سے بے نیاز\n\nاس کے دل تک زندگی کی روشنی جاتی نہیں\nبھول کر بھی اس کے ہونٹوں پر ہنسی آتی نہیں\n\nایک لمحہ بھی نہیں فکر معیشت سے نجات\nصبح ہو یا شام ہے تاریک اس کی کائنات\n\nدیکھ اے قارون اعظم دیکھ اے سرمایہ دار\nنا مرادی کا مرقع بے کسی کا شاہکار\n\nگو ہے تیری ہی طرح انساں مگر مقہور ہے\nدیکھ اے دولت کے اندھے سانپ یہ مزدور ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B2%D8%AF%D9%88%D8%B1"} {"title": "مزدوروں کا گیت", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "محنت سے یہ مانا چور ہیں ہم\nآرام سے کوسوں دور ہیں ہم\nپر لڑنے پر مجبور ہیں ہم\nمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم\n\nگو آفت و غم کے مارے ہیں\nہم خاک نہیں ہیں تارے ہیں\nاس جگ کے راج دلارے ہیں\nمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم\n\nبننے کی تمنا رکھتے ہیں\nمٹنے کا کلیجہ رکھتے ہیں\nسرکش ہیں سر اونچا رکھتے ہیں\nمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم\n\nہر چند کہ ہیں ادبار میں ہم\nکہتے ہیں کھلے بازار میں ہم\nہیں سب سے بڑے سنسار میں ہم\nمزدور میں ہم مزدور ہیں ہم\n\nجس سمت بڑھا دیتے ہیں قدم\nجھک جاتے ہیں شاہوں کے پرچم\nساونت ہیں ہم بلونت ہیں ہم\nمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم\n\nگو جان پہ لاکھوں بار بنی\nکر گزرے مگر جو جی میں ٹھنی\nہم دل کے کھرے باتوں کے دھنی\nمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم\n\nہم کیا ہیں کبھی دکھلا دیں گے\nہم نظم کہن کو ڈھا دیں گے\nہم ارض و سما کو ہلا دیں گے\nمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم\n\nہم جسم میں طاقت رکھتے ہیں\nسینوں میں حرارت رکھتے ہیں\nہم عزم بغاوت رکھتے ہیں\nمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم\n\nجس روز بغاوت کر دیں گے\nدنیا میں قیامت کر دیں گے\nخوابوں کو حقیقت کر دیں گے\nمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم\n\nہم قبضہ کریں گے دفتر پر\nہم وار کریں گے قیصر پر\nہم ٹوٹ پڑیں گے لشکر پر\nمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B2%D8%AF%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%AA"} {"title": "مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے\nکہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتے\n\nمزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتے\nمسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے\n\nغرض تھی کیا ترے تیروں کو آب پیکاں سے\nمگر زیارت دل کیوں کہ بے وضو کرتے\n\nعجب نہ تھا کہ زمانے کے انقلاب سے ہم\nتیمم آب سے اور خاک سے وضو کرتے\n\nاگر یہ جانتے چن چن کے ہم کو توڑیں گے\nتو گل کبھی نہ تمنائے رنگ و بو کرتے\n\nسمجھ یہ دار و رسن تار و سوزن اے منصور\nکہ چاک پردہ حقیقت کا ہیں رفو کرتے\n\nیقیں ہے صبح قیامت کو بھی صبوحی کش\nاٹھیں گے خواب سے ساقی سبو سبو کرتے\n\nنہ رہتی یوسف کنعاں کی گرمئ بازار\nمقابلے میں جو ہم تجھ کو روبرو کرتے\n\nچمن بھی دیکھتے گلزار آرزو کی بہار\nتمہاری باد بہاری میں آرزو کرتے\n\nسراغ عمر گزشتہ کا کیجئے گر ذوقؔ\nتمام عمر گزر جائے جستجو کرتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B2%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%D9%B0_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88_%D8%A8%DB%81_%D8%AF%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "مزہ دیتا ہے یاد آ کر ترا بسمل بنا دینا", "poet_page": "مصنف:انوری جہاں بیگم حجاب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مزہ دیتا ہے یاد آ کر ترا بسمل بنا دینا\nلگا دینا ذرا تیر نظر ہاں پھر لگا دینا\n\nوہ میرا بے خودی میں اس کے منہ سے منہ ملا دینا\nقیامت ایک چپ کا پھر وہ دونوں کو سزا دینا\n\nادائے شرم ہو خلوت میں یا انداز شوخی کے\nترے ہر ناز پر ہم کو تو جاں اے دل ربا دینا\n\nہمارا آرزوئے بوسہ کرنا تجھ سے در پردہ\nترا دشنام دینا اور کیا کیا برملا دینا\n\nسفارش ہمدموں کی ان کا جاتے وقت یہ کہنا\nکہ جب تڑپے مری تصویر سینہ سے لگا دینا\n\nنہ ہونے پائے واقف لذت تعزیر سے دشمن\nمظاہر چند ہو اس کی مگر ہم کو سزا دینا\n\nادھر اس لب سے نکلا شوخ چتون کو نہ دینا دل\nادھر چشم سخن گو نے اشاروں میں کہا دینا\n\nلبوں سے لب ملا لیں وصل میں سینے سے یا سینہ\nمگر ممکن نہیں اس بت کے دل سے دل ملا دینا\n\nاگر عہد وفا سے تو بھی پھر جائے محبت میں\nحجابؔ اس شوخ کو معلوم ہو جائے دغا دینا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B2%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "مزہ وصال کا کیا گر فراق یار نہ ہو", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مزہ وصال کا کیا گر فراق یار نہ ہو\nنہیں ہے نشے کی کچھ قدر اگر خمار نہ ہو\n\nنہ روئے تا کوئی عاشق یہ حکم ہے اس کا\nکہ شمع بھی مری محفل میں اشک بار نہ ہو\n\nجو ہچکی آئی تو خوش میں ہوا کہ موت آئی\nکسی کو یار کا اتنا بھی انتظار نہ ہو\n\nذقن ہے سیب تو عناب ہے لب شیریں\nنہیں ہے سرو وہ خوش قد جو میوہ دار نہ ہو\n\nوہ ہوں میں مورد نفرت کہ درکنار ہے یار\nپئے فشار کبھی گور ہم کنار نہ ہو\n\nنہ آئے کنج لحد میں بھی مجھ کو خواب عدم\nاگر سرہانے کوئی خشت کوئے یار نہ ہو\n\nبرنگ حسن بتاں ہے دل شگفتہ مرا\nجو اس چمن میں خزاں ہو تو پھر بہار نہ ہو\n\nگئی ہے کیسی زمانے سے رسم سرگرمی\nعجب نہیں ہے جو پتھر میں بھی شرار نہ ہو\n\nنہ ہنسنے سے کبھی ہم راز پوش واقف ہوں\nبرنگ غنچہ جگر جب تلک فگار نہ ہو\n\nتری مژہ کی جو تشبیہ اس سے ترک کریں\nکسی کے تیر سے کوئی کبھی فگار نہ ہو\n\nدم اخیر تو کر لیں نظارہ جی بھر کے\nالٰہی خنجر سفاک آب دار نہ ہو\n\nیہی ہے قلزم غم میں مری دعا یا رب\nقیام اس میں کوئی بھی حباب دار نہ ہو\n\nوہ صبح سینۂ صد چاک میں ہے داغ جنوں\nکہ جس سے دیدۂ خورشید بھی دو چار نہ ہو\n\nہوس عروج کی لے جائیں گر یہ دنیا سے\nکبھی بلند ہوا سے کوئی غبار نہ ہو\n\nکمال صورت بے درد سے تنفر ہے\nنہ دیکھیں ہم کبھی اس گل کو جس میں خار نہ ہو\n\nہزاروں گور کی راتیں ہیں کاٹنی ناسخؔ\nابھی تو روز سیہ میں تو بے قرار نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B2%DB%81_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D8%B1_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "مزہ گناہ کا جب تھا کہ با وضو کرتے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مزہ گناہ کا جب تھا کہ با وضو کرتے\nبتوں کو سجدہ بھی کرتے تو قبلہ رو کرتے\n\nکبھی نہ پرورش نخل آرزو کرتے\nنمو سے پہلے جو اندیشۂ نمو کرتے\n\nسنیں نہ دل سے تو پھر کیا پڑی تھی خاروں کو\nکہ گل کو محرم انجام رنگ و بو کرتے\n\nگناہ تھا بھی تو کیسا گناہ بے لذت\nقفس میں بیٹھ کے کیا یاد رنگ و بو کرتے\n\nبہانہ چاہتی تھی موت بس نہ تھا اپنا\nکہ میزبانیٔ مہمان حیلہ جو کرتے\n\nدلیل راہ دل شب چراغ تھا تنہا\nبلند و پست میں گزری ہے جستجو کرتے\n\nازل سے جو کشش مرکزی کے تھے پابند\nہوا کی طرح وہ کیا سیر چار سو کرتے\n\nفلک نے بھول بھلیوں میں ڈال رکھا تھا\nہم ان کو ڈھونڈتے یا اپنی جستجو کرتے\n\nاسیر حال نہ مردوں میں ہیں نہ زندوں میں\nزبان کٹتی ہے آپس میں گفتگو کرتے\n\nپناہ ملتی نہ امید بے وفا کو کہیں\nہوس نصیب اگر ترک آرزو کرتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B2%DB%81_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%D8%A7_%D9%88%D8%B6%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "مزے بیتابیوں کے آ رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مزے بیتابیوں کے آ رہے ہیں\nوہ ہم کو ہم انہیں سمجھا رہے ہیں\n\nابھی کل تک تھے کیسے بھولے بھالے\nذرا ابھرے ہیں آفت ڈھا رہے ہیں\n\nکہا اس نے سوال وصل سن کر\nکہ مجھ سے آپ کچھ فرما رہے ہیں\n\nوہ بجلی ہیں تو ہوں ان کو مبارک\nمجھے کس واسطے تڑپا رہے ہیں\n\nمجھے تو انتظار چارہ گر ہے\nالٰہی غش پہ غش کیوں آ رہے ہیں\n\nرہے دامن بھرا ان کا ہمیشہ\nلحد پر پھول جو برسا رہے ہیں\n\nسنا کر قصۂ پروانہ و شمع\nہمارے دل کو وہ گرما رہے ہیں\n\nدو روزہ حسن پر پھولے ہیں کیا گل\nبڑے کم ظرف ہیں اترا رہے ہیں\n\nکبھی ہم نے پیا تھا بادۂ عشق\nجلیلؔ اس کے مزے اب آ رہے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B2%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A2_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں\nسوائے خونِ جگر، سو جگر میں خاک نہیں\n\nمگر غبار ہُوئے پر ہَوا اُڑا لے جائے\nوگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں\n\nیہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے؟\nکہ غیرِ جلوۂ گُل رہ گزر میں خاک نہیں\n\nبھلا اُسے نہ سہی، کچھ مجھی کو رحم آتا\nاثر مرے نفسِ بے اثر میں خاک نہیں\n\nخیالِ جلوۂ گُل سے خراب ہیں میکش\nشراب خانے کے دیوار و در میں خاک نہیں\n\nہُوا ہوں عشق کی غارت گری سے شرمندہ\nسوائے حسرتِ تعمیر۔ گھر میں خاک نہیں\n\nہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ\nکُھلا، کہ فائدہ عرضِ ہُنر میں خاک نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B2%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیں\nکہ جو موت کو زندگی جانتے ہیں\n\nشب وصل لیں ان کی اتنی بلائیں\nکہ ہمدم مرے ہاتھ ہی جانتے ہیں\n\nنہ ہو دل تو کیا لطف آزار و راحت\nبرابر خوشی ناخوشی جانتے ہیں\n\nجو ہے میرے دل میں انہیں کو خبر ہے\nجو میں جانتا ہوں وہی جانتے ہیں\n\nپڑا ہوں سر زم میں دم چرائے\nمگر وہ اسے بے خودی جانتے ہیں\n\nکہاں قدر ہم جنس ہم جنس کو ہے\nفرشتوں کو بھی آدمی جانتے ہیں\n\nکہوں حال دل تو کہیں اس سے حاصل\nسبھی کو خبر ہے سبھی جانتے ہیں\n\nوہ نادان انجان بھولے ہیں ایسے\nکہ سب شیوۂ دشمنی جانتے ہیں\n\nنہیں جانتے اس کا انجام کیا ہے\nوہ مرنا میرا دل لگی جانتے ہیں\n\nسمجھتا ہے تو داغؔ کو رند زاہد\nمگر رند اس کو ولی جانتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B2%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مزے لوں درد کے میں تھوڑے تھوڑے ظلم سہ سہ کر", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مزے لوں درد کے میں تھوڑے تھوڑے ظلم سہ سہ کر\nستم کیجے تو تھم تھم کر جفا کیجے تو رہ رہ کر\n\nملے تھے آج مدت میں بہت روئے بہت تڑپے\nوہ درد عشق سن سن کر ہم اپنا درد کہہ کہہ کر\n\nہوئی ہے شمع محفل تو شریک گریۂ عاشق\nتجھے اے قلقل مینا کہا تھا کس نے قہہ قہہ کر\n\nچھپایا زلف نے چہرہ تو شوخی نے کیا ظاہر\nہزاروں بار نکلا وصل کی شب چاند گہہ گہہ کر\n\nتڑپنے میں مزہ آتا ہے اس کم بخت کے ہم کو\nاگر دل یاس سے بیٹھا ابھارا ہم نے کہہ کہہ کر\n\nیہ جانا تھا نہ آئیں گے تو کیوں جانے دیا ان کو\nیہی اے داغؔ پچھتاوا مجھے آتا ہے رہ رہ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B2%DB%92_%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%92_%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%92_%D8%B8%D9%84%D9%85_%D8%B3%DB%81_%D8%B3%DB%81_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "مس اڈنا جیکسن", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "پھندنے", "year": "1955", "text_ur": "۔۔۔کالج کی پرانی پرنسپل کے تبادلے کا اعلان ہوا، طالبات نے بڑا شور مچایا۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی محبوب پرنسپل ان کے کالج سے کہیں اور چلی جائے۔ بڑا احتجاج ہوا۔ یہاں تک کہ چند لڑکیوں نے بھوک ہڑتال بھی کی، مگر فیصلہ اٹل تھا۔۔۔ ان کا جذباتی پن تھوڑے عرصے کے بعد ختم ہوگیا۔\n\nنئی پرنسپل نے پرانی پرنسپل کی جگہ لے لی۔ طالبات نے شروع شروع میں اس سے بڑی نفرت و حقارت کا اظہار کیا مگر اس نے ان سے کچھ نہ کہا۔ حالانکہ اس کے اختیار میں سب کچھ تھا۔ وہ ان کو کڑی سے کڑی سزا دے سکتی تھی۔ہر وقت اس کے پتلے پتلے ہونٹوں پر مسکراہٹ تیرتی رہتی۔۔۔وہ سرتا پا تبسم تھی۔ کالج میں کھلی ہوئی کلی کی طرح آتی اور جب واپس جاتی تو دن بھر گوناگوں مصروفیتوں کے باوجود اس میں مرجھاہٹ کے کوئی آثار نہ ہوتے۔\n\nتھوڑے عرصے کے بعد۔۔۔ کالج کی طالبات اس کی گرویدہ ہوگئیں۔ ہر وقت اس سے چمٹی رہتیں۔ ایک دن، جب کوئی جلسہ تھا، مس اڈنا جیکسن نے تقریر کی اور کہا، ’’میں بہت خوش ہوں کہ تم اب مجھ سے مانوس ہوگئی ہو۔ شروع شروع میں جیسا کہ میں جانتی ہوں تم مجھ سے نفرت کرتی تھیں، میری پیاری بچیو، میں یہاں اپنی مرضی سے نہیں آئی تھی۔ مجھے یہاں میرے حاکموں نے بھیجا تھا۔۔۔ ایک دن آنے والا ہے جب تم سنجیدہ اور متین بن جاؤ گی۔تمہاری گود میں بچے کھیلتے ہوں گے، تم سے بھی کہیں زیادہ شریر اور نٹ کھٹ۔۔۔ میں تمہاری پرنسپل ہوں۔ لیکن دل میں یہ خیال کبھی نہ لانا کہ میں کوئی ظالم عورت ہوں۔۔۔ میں تم سب سے محبت کرتی ہوں۔۔۔ اور چاہتی ہوں کہ مجھ سے بھی کوئی محبت کرے۔‘‘\n\nیہ تقریر سن کر لڑکیاں بہت متاثر ہوئیں اور مس جیکسن کی محبت میں اور زیادہ گرفتار ہوگئیں۔ سب دل میں نادم تھیں کہ انھوں نے ایسی شریف اور شفیق پرنسپل کے آنے پر کیوں اعتراض کیا۔\n\nایک دن بی اے کی ایک لڑکی طاہرہ، جس نے مس جیکسن کی آمد پر آوازے کسے تھے اور بڑے سخت الفاظ استعمال کیے تھے، پرنسپل کے کمرے میں تھی۔طاہرہ کا سر جھکا ہوا تھا۔ خوف و ہراس اس کے چہرے پر پھیلا ہوا تھا۔ پرنسپل کاغذات پر دستخط کررہی تھی۔ بے حد منہمک تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب اس نے طاہرہ کی سسکیوں کی آواز سنی تو اس کو اس کی موجودگی کا علم ہوا۔ ایک دم چونک کر اس نے اپنا ننھا سا فونٹین پین ایک طرف رکھا اور اس کی طرف متوجہ ہوئی۔ اس کو یاد نہیں آرہا تھا کہ اس نے طاہرہ کو بلایا ہے۔\n\n’’کیا بات ہے طاہرہ؟‘‘ طاہرہ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، ’’آپ۔۔۔ آپ ہی نے تو مجھے یہاں طلب فرمایا تھا۔‘‘ ایک لحظے کے لیے مس جیکسن خالی الدماغ رہی، لیکن اسے فوراً یاد آگیا کہ معاملہ کیا ہے۔ طاہرہ کے نام ایک مرد کا محبت نامہ پکڑا گیا تھا۔ یہ اس کی ایک سہیلی ناہید نے مس جیکسن کے حوالے کردیا تھا۔یہ خط اس کی دراز میں محفوظ تھا۔ مس جیکسن کے مسکراتے ہوئے ہونٹ طاہرہ سے مخاطب ہوئے، ’’بیٹا۔۔۔ یہ کیا بات ہے؟‘‘\n\nاس کے بعد اس نے میز کا دراز کھول کر خط نکالا اور طاہرہ سے کہا، ’’لو۔۔۔یہ تمہارا خط ہے پڑھ لو اور اگر چاہو تو مجھے ساری داستان سنا دوتاکہ میں تمہیں کوئی رائے دے سکوں۔‘‘ طاہرہ کچھ دیر خاموش رہی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کیا کہے۔ پرنسپل مس جیکسن نے اٹھ کر اس کے کاندھے پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا،’ ’طاہرہ! شرماؤ نہیں۔ ہرلڑکی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں۔‘‘ طاہرہ نے رونا شروع کردیا۔ بوڑھا چپراسی کسی کام سے اندر داخل ہوا تو مس جیکسن نے اس سے کہا، ’’نظام دین! ابھی تم باہر ٹھہرو۔۔۔ میں بلالوں گی تمہیں۔‘‘\n\nجب وہ چلا گیا تو مس جیکسن نے بڑے پیار سے طاہرہ سے کہا، ’’محبت ایک عظیم جذبہ ہے۔ مجھے اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ لیکن تمہاری عمر کی لڑکیاں اکثر دھوکا کھا جایا کرتی ہیں۔۔۔ مجھے تمام واقعات بتا دو۔ میں تم سے عمر میں بہت بڑی ہوں مگر مجھ سے آج تک کسی نے محبت نہیں کی، لیکن میں نے کئی استوار اور نااستوار محبتیں دیکھی ہیں۔۔۔ بیٹا، مجھ سے گھبراؤ نہیں۔۔۔ بیٹھ جاؤ۔‘‘ طاہرہ اپنے دوپٹے سے آنسو پونچھتی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی۔\n\nپرنسپل اپنی گھومنے والی کرسی پر نشست اختیار کرتے ہوئے اپنی شاگرد سے بولیں، ’’اب دیر نہ لگاؤ۔۔۔بتا دو۔۔۔ مجھے بہت سے ضروری کام کرنے ہیں۔‘‘\n\nطاہرہ کچھ دیر ہچکچاتی رہی۔ لیکن اس کے بعد اس نے اپنا دل کھول کے اپنی پرنسپل کے سامنے رکھ دیا۔ اس نے بتایا کہ ایک نوجوان لیکچرار ہے جس سے وہ ٹیویشن لیتی ہے۔ قریب قریب ایک سال سے وہ باقاعدہ پانچ بجے اس کے گھرمیں آتا رہا ہے۔ اس کی باتیں بڑی دل فریب ہیں۔ شکل و صورت کے لحاظ سے بھی خوب ہے۔ فارسی کے اشعار کا مطلب سمجھاتا ہے تو ایک نقشہ کھینچ دیتا ہے۔ اس کی زبان میں غضب کی مٹھاس ہے۔ طاہرہ نے مزید بتایا کہ اس کے دل میں لیکچرار کے لیے جگہ پیدا ہوگئی۔ آہستہ آہستہ بے قرار رہنے لگی۔ اس کو ہر وقت اس کی یاد ستاتی۔ پانچ بجنے والے ہوتے تو اس کو یوں محسوس ہوتا کہ وہ مجسم گھڑی بن گئی ہے۔۔۔ اس کا رواں رواں ٹک ٹک کرنے لگتا۔\n\nوہ اس سے زبانی تو کچھ نہیں کہہ سکتی تھی، اس لیے کہ شرم و حیا اجازت نہیں دیتی تھی۔ اس نے ایک رات لیکچرار کے نام خط لکھا۔۔۔ اس نے اپنی زندگی بھر میں ایسا خط کبھی نہیں لکھا تھا، حالانکہ وہ اپنے خاندان میں خط لکھنے کے معاملے میں کافی مشہور تھی کہ ہر بات بڑے سلیقے سے لکھتی ہے، لیکن یہ خط لکھتے ہوئے اسے بڑی دقتیں پیش آئیں۔القاب کیا ہوں، مضمون کیسا ہونا چاہیے، پھر یہ سوال بھی اس کے درپیش تھا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ یہ خط اس کے باپ کے حوالے کردے۔وہ ایک عرصے تک سوچتی رہی۔ اس کے دل میں کئی خدشے تھے لیکن آخر اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ خط ضرور لکھے گی۔ چنانچہ اس نے رائٹنگ پیڈ کے کئی کاغذ ضائع کرکے چند سطور اس لیکچرار کے نام لکھیں:\n\n’’آپ بڑے اچھے استاد ہیں۔ مجھے اس طرح پڑھاتے ہیں جیسے۔۔۔ جیسے آپ کو مجھ سے خاص لگاؤ ہے۔ ورنہ اتنی محنت کون استاد کرتا ہے۔۔۔میرا تو یہ جی چاہتا ہے کہ ساری عمر آپ میرے استاد اور میں آپ کی شاگرد رہوں۔ بس اس سے زیادہ میں اور کچھ نہیں لکھ سکتی۔‘‘\n\nیہ خط اس نے کئی دن اپنے پرس میں رکھا۔ اس کے بعد جرأت سے کام لے کر اس نے کاغذ کا یہ پرزہ اپنے استاد کی جیب میں دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ ڈال دیا۔دوسرے روز جب وہ شام کو ٹھیک پانچ بجے آیا تو اس کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے کسی قسم کے رد عمل کا اظہار نہ کیا۔ اسے سخت مایوسی ہوئی۔ دو گھنٹے کے بعد جب وہ چلا گیا تو اس نے بڑے چڑچڑے پن سے اپنی کتابیں اٹھائیں اور اپنے کمرے میں جانے لگی۔ ایک کتاب اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ طاہرہ نے بڑی بے دلی سے اٹھائی تو اس کے اوراق میں سے کاغذ کا ایک ٹکڑا جھانکنے لگا۔ اس نے یہ ٹکڑا نکالا۔ اس پر چند الفاظ مرقوم تھے۔ طاہرہ کے زخمی جذبات پر مرہم کے پھاہے لگ گئے۔ اس کے استاد نے یہ لکھا تھا:\n\n’’مجھے تمہاری تحریر مل گئی ہے۔۔۔ میں سب کچھ سمجھ گیا ہوں۔ زندگی بھر تمہارا استاد رہنے کا تو میں وعدہ نہیں کرسکتا لیکن خادم ضرور رہوں گا۔ میں استادی شاگردی سے تنگ آگیا ہوں۔ تمہاری غلامی اس سے ہزار درجے بہتر ہوگی۔‘‘\n\nاس کے بعد دونوں میں کتابوں کے اوراق کی اوٹ میں خط و کتابت ہوتی رہی۔ لیکن طاہرہ کے والدین کو یکلخت شہر چھوڑنا پڑا، اس لیے کہ اس کے باپ ظہیر کی تبدیلی کسی سلسلے میں دوسرے شہر میں ہوگئی۔طاہرہ کو ہوسٹل میں داخل کردیا گیا، جس کی سپرنٹنڈنٹ مس جیکسن تھی۔ اس کا قیام اسی ہوسٹل میں تھا۔\n\nکالج سے فارغ ہو کر آتی تو اپنے کمرے میں اکثر ناول پڑھتی رہتی،عجیب عجیب قسم کے۔ ہوسٹل کی لڑکیاں اس کے پاس آتیں اور اس کے کئی ناول چرا کے لے جاتیں اور مزے لے لے کر پڑھتیں۔ پھر واپس وہیں پررکھ دیتیں جہاں سے انھوں نے اٹھائے تھے۔۔۔ مس جیکسن کو لڑکیوں کی اس شرارت کا کوئی علم نہیں تھا۔۔۔ طاہرہ نے بھی کئی ناول پڑھے اور اس کا عشق اپنے استاد کے عشق سے بڑھتا گیا۔ وہ ہوسٹل سے باہر نکل نہیں سکتی تھی اس لیے اس نے ایک خط لکھا اور اسے کسی نہ کسی طریقے سے اپنے استاد تک پہنچا دیا۔یہ خط جو اس نوجوان لیکچرار نے جواب میں لکھا تھا، غلط ہاتھوں میں پہنچ گیا۔ یعنی ناہید کے پاس جس کو طاہرہ سے صرف اس لیے بغض تھا کہ وہ اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ خوب صورت تھی۔۔۔ یہ خط اس نے پرنسپل کے حوالے کردیا۔\n\nطاہرہ، جب اپنی ساری داستان سنا چکی، جو مس جیکسن نے بڑی دلچسپی لیتے ہوئے سنی تو اس نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد طاہرہ سے کہا، ’’اب تم کیا چاہتی ہو؟‘‘\n\n’’مجھے کچھ معلوم نہیں۔۔۔ آپ جو فیصلہ فرمائیں گی، مجھے منظور ہوگا۔‘‘\n\nمس جیکسن اپنی کرسی پر سے اٹھیں اور کہا،’’نہیں طاہرہ، محبت کے معاملے میں مجھے فیصلہ دینے کا اختیار نہیں۔ یہ مذہب سے بھی زیادہ مقدس جذبہ ہے۔۔۔ تم خود بتاؤ۔‘‘\n\nطاہرہ نے شرم سے بھری ہوئی آنکھیں جو نم آلود تھیں، جھکا کر صرف اتنا کہا،’’میں ان سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔‘‘\n\nمس جیکسن نے ٹھیٹ پرنسپلانہ انداز میں پوچھا، ’’کیا وہ بھی چاہتا ہے؟‘‘\n\n’’اس نے ابھی تک اس خواہش کا اظہار نہیں کیا۔۔۔ لیکن وہ۔۔۔‘‘\n\n’’میں سمجھتی ہوں۔ وہ بھی تو تم سے محبت کرتا ہے۔۔۔ اسے کیا عذر ہو سکتا ہے۔۔۔ لیکن کیا تمہارے والدین رضا مند ہو جائیں گے؟‘‘\n\n’’ہرگز نہیں ہوں گے۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’ اس لیے کہ وہ میری منگنی ایک جگہ کر چکے ہیں۔‘‘\n\n’’کہاں؟‘‘\n\n’’ میرے خالہ زاد بھائی کے ساتھ۔‘‘\n\n’’ ہم کرسچینوں میں تو ایسا نہیں ہوتا۔‘‘\n\n’’ ہمارے ہاں تو اکثر ایسا ہوتا ہے۔‘‘\n\n’’خیر چھوڑو اس بات کو۔۔۔ کیا میں تمہارے اس لیکچرار کو اپنے پاس بلا کر اس سے مفصل بات چیت کروں؟ طاہرہ یہ زندگی بھر کا سوال ہے، ایسا نہ ہوکوئی غلطی ہو جائے۔۔۔ میں عمر میں تم سے بہت بڑی ہوں۔ میں تمہیں صحیح مشورہ دوں گی۔ ایک مرتبہ تم مجھے اس سے مل لینے دو۔‘‘\n\nطاہرہ نے شکریہ ادا کیا، ’’آپ ضرور ملیے لیکن۔۔۔اس سے کہہ دیجیے گا۔۔۔کہ۔۔۔‘‘\n\nپرنسپل نے بڑی شفقت سے کہا، ’’رک کیوں گئی ہو۔۔۔ جو کچھ تم اس سے کہنا چاہتی ہو، مجھ سے کہہ دو۔‘‘\n\n’’جی۔۔۔بس صرف اتنا کہ اگر اس کے قدم مضبوط نہ رہے تو میں خود کشی کرلوں گی۔۔۔ عورت زندگی میں۔۔۔ صرف ایک ہی مرد سے محبت کرتی ہے۔‘‘\n\nمحبت کا لفظ سنتے ہی پرنسپل مس اڈنا جیکسن کے دل کی جھریاں اور زیادہ گہری ہوگئیں۔ اس نے طاہرہ کے آنسو اپنے رومال سے بڑی شفقت کے ساتھ پونچھتے ہوئے رخصت کردیا۔ اس کے بعد اس نے گھنٹی بجا کر چپراسی کو اندر بلایا۔ اس نے بڑے ضروری کاغذات اس کے میز پر رکھے۔ اس نے سرسری نظر سے ان کو دیکھا۔ ایک کاغذ پر طاہرہ کے اس لیکچرار کے نام خط لکھا کہ وہ ازراہ کرم اس سے کسی وقت شام کو بورڈنگ ہاؤس میں ملے۔یہ خط اس نے لفافے میں ڈالا، پتہ لکھا اور چپراسی سے کہا کہ فوراً سائیکل پر جائے اور یہ لفافہ لیکچرار صاحب کو پہنچا دے۔چپراسی چلا گیا۔\n\nشام کو مس اڈنا جیکسن اپنے کمرے میں بیٹھی پرچے دیکھ رہی تھی کہ نوکر نے اطلاع دی کہ ایک صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں۔وہ سمجھ گئی کہ یہ صاحب کون ہیں، چنانچہ اس نے نوکر سے کہا، ’’انھیں اندر لے آؤ۔‘‘\n\nطاہرہ کا استاد ہی تھا جو اس کے کمرے میں داخل ہوا۔ مس جیکسن نے اس کا استقبال کیا۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ جون کا مہینہ،سخت تپش تھی۔۔۔ مس جیکسن اس سے بڑے اخلاق کے ساتھ پیش آئی۔ نوجوان لیکچرار بہت متاثر ہوا۔ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ مس اڈنا جیکسن طاہرہ کے بارے میں بات شروع کرنے ہی والی تھی کہ اس پر ہسٹیریا کا دورہ پڑ گیا۔ اس کو یہ مرض بہت دیر سے لاحق تھا۔ لیکچرار بہت فکر مند ہوا۔ گھر میں کوئی نوکر نہیں تھا، اس لیے کہ وہ چھٹی کرکے کہیں باہر سو رہے تھے۔ اس نے خود ہی جو اس کی سمجھ میں آیا، کیا۔\n\nجب۔۔۔کالج گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد کھلا تو لڑکیوں کو یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی کہ ان کی پرنسپل مس اڈنا جیکسن سے اس لیکچرار کی شادی ہو گئی ہے، جس کو طاہرہ سے محبت تھی۔۔۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ لیکچرار لطیف کی عمر پچیس برس کے قریب ہوگی اور مس اڈنا جیکسن کی لگ بھگ پچاس برس۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3_%D8%A7%DA%88%D9%86%D8%A7_%D8%AC%DB%8C%DA%A9%D8%B3%D9%86"} {"title": "مس سیمیں بدن", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ایک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد\nاس خطا پر سن رہا ہوں طعنہ ہائے دل خراش\nکوئی کہتا ہے کہ بس اس نے بگاڑی نسل قوم\nکوئی کہتا ہے کہ یہ ہے بد خصال و بد معاش\nدل میں کچھ انصاف کرتا ہی نہیں کوئی بزرگ\nہو کے اب مجبور خود اس راز کو کرتا ہوں فاش\nہوتی تھی تاکید لندن جاؤ انگریزی پڑھو\nقوم انگلش سے ملو سیکھو وہی وضع تراش\nجگمگاتے ہوٹلوں کا جا کے نظارہ کرو\nسوپ و کری کے مزے لو چھوڑ کر یخنی و آش\nلیڈیوں سے مل کے دیکھو ان کے انداز و طریق\nہال میں ناچو کلب میں جاکے کھیلو ان سے تاش\nبادۂ تہذیب یورپ کے چڑھاؤ خم کے خم\nایشیا کے شیشۂ تقویٰ کو کر دو پاش پاش\nجب عمل اس پر کیا پریوں کا سایہ ہو گیا\nجس سے تھا دل کی حرارت کو سراسر انتعاش\nسامنے تھیں لیڈیاں زہرہ وش و جادو نظر\nیاں جوانی کی امنگ اور ان کو عاشق کی تلاش\nاس کی چتون سحر آگیں اس کی باتیں دل ربا\nچال اس کی فتنہ خیز اس کی نگاہیں برق پاش\nوہ فروغ آتش رخ جس کے آگے آفتاب\nاس طرح جیسے کہ پیش شمع پروانے کی لاش\nجب یہ صورت تھی تو ممکن تھا کہ اک برق بلا\nدست سیمیں کو بڑھاتی اور میں کہتا دور باش؟\nدونوں جانب تھا رگوں میں جوش خون فتنہ زا\nدل ہی تھا آخر نہیں تھی برف کی یہ کوئی قاش\nبار بار آتا ہے اکبرؔ میرے دل میں یہ خیال\nحضرت سید سے جاکر عرض کرتا کوئی کاش\n'درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ ای\n'باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش'", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3_%D8%B3%DB%8C%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%AF%D9%86"} {"title": "مس مالا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "پھندنے", "year": "1955", "text_ur": "گانے لکھنے والے عظیم گوبند پوری جب اے بی سی پروڈکشنز میں ملازم ہوا تو اس نے فوراً اپنے دوست میوزک ڈائریکٹر بھٹسا وے کے متعلق سوچا جو مرہٹہ تھا اور عظیم کے ساتھ کئی فلموں میں کام کر چکا تھا۔ عظیم اس کی اہلیتوں کو جانتا تھا۔ا سٹنٹ فلموں میں آدمی اپنے جوہر کیا دکھا سکتا ہے، بے چارہ گمنامی کے گوشے میں پڑا تھا۔\nعظیم نے چنانچہ اپنے سیٹھ سے بات کی اور کچھ اس انداز میں کی کہ اس نے بھٹساوے کو بلایا اور اس کے ساتھ ایک فلم کا کنٹریکٹ تین ہزار روپوں میں کرلیا۔ کنٹریکٹ پر دستخط کرتے ہی اسے پانچ سو روپے ملے جو اس نے اپنے قرض خواہوں کو ادا کردیے۔ عظیم گو بند پوری کا وہ بڑا شکر گزار تھا۔ چاہتا تھا کہ اس کی کوئی خدمت کرے، مگر اس نے سوچا، آدمی بے حد شریف ہے اور بے غرض۔۔۔ کوئی بات نہیں، آئندہ مہینے سہی۔ کیوں کہ ہر ماہ اسے پانچ سو روپے کنٹریکٹ کی رو سے ملنے تھے۔ اس نے عظیم سے کچھ نہ کہا۔ دونوں اپنے اپنے کام میں مشغول تھے۔\n\nعظیم نے دس گانے لکھے جن میں سے سیٹھ نے چار پسند کیے۔ بھٹساوے نے موسیقی کے لحاظ سے صرف دو۔ ان کی اس نے عظیم کے اشتراک سے دھنیں تیار کیں جو بہت پسند کی گئیں۔\n\nپندرہ بیس روز تک ریہرسلیں ہوتی رہیں۔ فلم کا پہلا گانا کورس تھا۔ اس کے لیے کم از کم دس گویا لڑکیاں درکار تھیں۔ پروڈکشن منیجر سے کہا گیا۔ مگر جب وہ انتظام نہ کرسکا تو بھٹساوے نے مس مالا کو بلایا جس کی آواز اچھی تھی۔ اس کے علاوہ وہ پانچ چھ اور لڑکیوں کو جانتی تھی جو سر میں گا لیتی تھیں۔ مس مالا کھانڈیکر جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ کولہا پور کی مرہٹہ تھی۔ دوسروں کے مقابلہ میں اس کا اردو کا تلفظ زیادہ صاف تھا۔ اس کو یہ زبان بولنے کا شوق تھا۔ عمر کی زیادہ بڑی نہیں تھی۔ لیکن اس کے چہرے کا ہر خدوخال اپنی جگہ پر پختہ۔ باتیں بھی اسی انداز میں کرتی کہ معلوم ہوتا اچھی خاصی عمر کی ہے، زندگی کے اتار چڑھاؤ سے باخبر ہے۔ اسٹوڈیو کے ہر کارکن کو بھائی جان کہتی اور ہر آنے والے سے بہت جلد گھل مل جاتی تھی۔\n\nاس کو جب بھٹساوے نے بلایا تو وہ بہت خوش ہوئی۔ اس کے ذمے یہ کام سپرد کیا گیا کہ وہ فوراً کورس کے لیے دس گانے والی لڑکیاں مہیاکردے۔ وہ دوسرے روز ہی بارہ لڑکیاں لے آئی۔ بھٹساوے نے ان کا ٹیسٹ لیا۔ سات کام کی نکلیں۔ باقی رخصت کردی گئیں۔ اس نے سوچا کہ چلو ٹھیک ہے۔ سات ہی کافی ہیں۔ جگتاپ ساؤنڈ ریکارڈسٹ سے مشورہ کیا، اس نے کہا کہ میں سب ٹھیک کرلوں گا۔ ایسی ریکارڈنگ کروں گا کہ لوگوں کو ایسا معلوم ہوگا بیس لڑکیاں گا رہی ہیں۔\n\nجگتاپ اپنے فن کو سمجھتا تھا، چنانچہ اس نے ریکارڈنگ کے لیے ساؤنڈ پروف کمرے کے بجائے سازندوں اور گانے والیوں کو ایک ایسے کمرے میں بٹھایا جس کی دیواریں سخت تھیں، جن پر ایسا کوئی غلاف چڑھا ہوا نہیں تھا کہ آواز دب جائے۔ فلم ’’بے وفا‘‘ کا مہورت اسی کورس سے ہوا۔ سیکڑوں آدمی آئے۔ ان میں بڑے بڑے فلمی سیٹھ اور ڈسٹری بیوٹرز تھے۔ اے، بی، سی پروڈکشنز کے مالک نے بڑا اہتمام کیا ہوا تھا۔\n\nپہلے گانے کی دو چار ریہرسلیں ہوئیں، مس مالا کھانڈیکر نے بھٹساوے کے ساتھ پورا تعاون کیا۔ سات لڑکیوں کو فرداً فرداً آگاہ کیا کہ خبردار رہیں اور کوئی مسئلہ پیدا نہ ہونے دیں۔بھٹساوے پہلی ہی ریہرسل سے مطمئن تھا لیکن اس نے مزید اطمینان کی خاطر چند اور ریہرسلیں کرائیں، اس کے بعد جگتاپ سے کہا کہ وہ اپنا اطمینان کرلے، اس نے جب ساؤنڈ ٹریک میں یہ کورس پہلی مرتبہ ہیڈفون لگا کر سنا تو اس نے خوش ہوکربہت اونچا ’’اوکے‘‘ کہہ دیا۔ ہر ساز اور ہر آواز اپنے صحیح مقام پرتھی۔\nمہمانوں کے لیے مائکرو فون کا انتظام کردیا گیا تھا۔ ریکاڈنگ شروع ہوئی تو اسے اون کردیا گیا۔ بھٹساوے کی آواز بھونپو سے نکلی۔ سونگ نمبر 1، ٹیک فرسٹ ریڈی، ون۔ ٹو۔\n\nاور کورس شروع ہوگیا۔\n\nبہت اچھی کمپوزیشن تھی۔ سات لڑکیوں میں سے کسی ایک نے بھی کہیں غلط سر نہ لگایا۔ مہمان بہت محظوظ ہوئے۔ سیٹھ، جوموسیقی کیا ہوتی ہے؟ اس سے بھی قطعاً نا آشنا تھا، بہت خوش ہوا، اس لیے کہ سارے مہمان اس کورس کی تعریف کررہے تھے۔ بھٹساوے نے سازندوں اور گانے والیوں کو شاباشیاں دیں۔ خاص طور پر اس نے مس مالا کا شکریہ ادا کیا جس نے اس کو اتنی جلدی گانے والیاں فراہم کردیں۔ اس کے بعد وہ جگتاپ ساؤنڈ ریکارڈسٹ سے گلے مل رہا تھا کہ اے، بی، سی پروڈکشنز کے مالک سیٹھ رنچھوڑ داس کا آدمی آیا کہ وہ اسے بلارہے ہیں، عظیم گوبندپوری کو بھی۔\n\nدونوں بھاگےاسٹوڈیو کے اس سرے پر گئے جہاں محفل جمی تھی۔ سیٹھ صاحب نے سب مہمانوں کے سامنے ایک سو روپے کا سبز نوٹ انعام کے طور پر پہلے بھٹساوے کو دیا، پھر دوسرا عظیم گوبندپوری کو۔وہ مختصر سا باغیچہ جس میں مہمان بیٹھے تھے، تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا۔\n\nجب مہورت کی یہ محفل برخواست ہوئی تو بھٹساوے نے عظیم سے کہا، ’’مال پانی ہے چلو آؤٹ ڈور چلیں‘‘ عظیم اس کا مطلب نہ سمجھا، ’’آؤٹ ڈور کہاں؟‘‘ بھٹساوے مسکرایا، ’’مازے ملگے(میرے لڑکے) موز شوک (موج شوق) کرنے جائیں گے۔ سو روپیہ تمہارے پاس ہے سو، ہمارے پاس۔۔۔ چلو۔‘‘عظیم سمجھ گیا۔ لیکن وہ اس کے موز شوک سے ڈرتا تھا، اس کی بیوی تھی، دو چھوٹے چھوٹے بچے بھی، اس نے کبھی عیاشی نہیں کی تھی۔ مگر اس وقت وہ خوش تھا۔ اس نے اپنے دل سے کہا۔۔۔ چلورے۔۔۔ دیکھیں گے کیا ہوتا ہے؟\n\nبھٹساوے نے فوراً ٹیکسی منگوائی، دونوں اس میں بیٹھے اور گرانٹ روڈ پہنچے۔ عظیم نے پوچھا’’ ہم کہاں جارہے ہیں؟ بھٹساوے؟‘‘ وہ مسکرایا،’’اپنی موسی کے گھر۔‘‘ اور جب وہ اپنی موسی کے گھر پہنچا تو وہ مس مالا کھانڈیکر کا گھر تھا۔ وہ ان دونوں سے بڑے تپاک کے ساتھ ملی، انھیں اندر اپنے کمرے میں لے گئی۔ ہوٹل سے چائے منگوا کر پلائی۔ بھٹساوے نے اس سے چائے پینے کے بعد کہا، ’’ہم موز شوک کے لیے نکلے ہیں، تمہارے پاس۔۔۔ تم ہمارا کوئی بندوبست کرو۔‘‘ مالا سمجھ گئی وہ بھٹساوے کی احسان مند تھی۔ اس لیے اس نے فوراً مرہٹی زبان میں کہا جس کا یہ مطلب تھا کہ میں ہر خدمت کے لیے تیار ہوں۔\n\nدراصل بھٹساوے عظیم کو خوش کرنا چاہتا تھا، اس لیے کہ اس نے اس کو ملازمت دلوائی تھی۔ چنانچہ بھٹساوے نے مس مالا سے کہا کہ وہ ایک لڑکی مہیا کردے۔مس مالا نے اپنا میک اپ جلدی جلدی ٹھیک کیا اور تیار ہوگئی۔۔۔ سب ٹیکسی میں بیٹھے۔ پہلے مس مالا پلے بیک سنگر شانتا کرناکرن کے گھر گئی مگر وہ کسی اور کے ساتھ باہر جا چکی تھی۔ پھر وہ انسویا کے ہاں گئی مگر وہ اس قابل نہیں تھی کہ ان کے ساتھ ایسی مہم پر جاسکے۔\n\nمس مالا کو بہت افسوس تھا کہ اسے دو جگہ ناامیدی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس کو امید تھی کہ معاملہ ہو جائے گا چنانچہ ٹیکسی گول پیٹھا کی طرف چلی۔ وہاں کرشنا تھی۔ پندرہ سولہ برس کی گجراتی لڑکی، بڑی نرم و نازک سُر میں گاتی تھی۔ مالا اس کے گھر میں داخل ہوئی اور چند لمحات کے بعد اس کو ساتھ لیے باہر نکل آئی۔ بھٹساوے کو اس نے ہاتھ جوڑ کے نمسکار کیا اور عظیم کو بھی۔ مالا نے ٹھیٹ دلالوں کے سے انداز میں عظیم کو آنکھ ماری اور گویا خاموش زبان میں اس سے کہا، ’’یہ آپ کے لیے ہے۔‘‘\n\nبھٹساوے نے اس پر نگاہوں ہی نگاہوں میں صادکردیا۔ کرشنا، عظیم گوبندپوری کے پاس بیٹھ گئی۔ چونکہ اس کو مالا نے سب کچھ بتا دیا تھا، اس لیے وہ اس سے چہلیں کرنے لگی۔ عظیم لڑکیوں کا سا حجاب محسوس کررہا تھا۔ بھٹساوے کو اس کی طبیعت کا علم تھا۔ اس لیے اس نے ٹیکسی ایک بار کے سامنے ٹھہرائی، صرف عظیم کو اپنے ساتھ اندر لے گیا۔ نغمہ نگار نے صرف ایک دو مرتبہ پی تھی، وہ بھی کاروباری سلسلے میں۔ یہ بھی کاروباری سلسلہ تھا۔ چنانچہ اس نے بھٹساوے کے اصرار پر دو پیگ رم کے پیے اور اس کو نشہ ہوگیا۔ بھٹساوے نے ایک بوتل خرید کے اپنے ساتھ رکھ لی۔ اب وہ پھر ٹیکسی میں تھے۔ عظیم کو اس بات کا قطعاً علم نہیں تھا کہ اس کا دوست بھٹساوے دو گلاس اور سوڈے کی بوتلیں بھی ساتھ لے آیا ہے۔\n\nعظیم کو بعد میں معلوم ہوا کہ بھٹساوے پلے بیک سنگر کرشناکی ماں سے یہ کہہ آیا تھا کہ جو کورس دن میں لیا گیا تھا، اس کے جتنے ٹیک تھے سب خراب نکلے ہیں اس لیے رات کو پھر ریکارڈنگ ہوگی۔ اس کی ماں ویسے کرشنا کو باہر جانے کی اجازت کبھی نہ دیتی۔ مگر جب بھٹساوے نے کہا کہ اسے اور روپے ملیں گے تو اس نے اپنی بیٹی سے کہا جلدی جاؤ اور فارغ ہو کر سیدھی یہاں آؤ۔ وہاں اسٹوڈیو میں نہ بیٹھی رہنا۔\n\nٹیکسی ورلی پہنچی، یعنی ساحلِ سمندر کے پاس۔ یہ وہ جگہ تھی، جہاں عیش پرست کسی نہ کسی عورت کو بغل میں دبائے آیا کرتے۔ ایک پہاڑی سی تھی، معلوم نہیں مصنوعی یا قدرتی۔۔۔ اس پر چڑھتے۔۔۔ کافی وسیع وعریض سطح مرتفع قسم کی جگہ تھی۔اس میں لمبے فاصلوں پر بنچیں رکھی ہوئی تھیں، جن پرصرف ایک ایک جوڑا بیٹھتا۔ سب کے درمیان ان لکھا سمجھوتا تھاکہ وہ ایک دوسرے کے معاملے میں مخل نہ ہوں۔ بھٹساوے نے جو کہ عظیم کی دعوت کرنا چاہتا تھا ورلی کی پہاڑی پر کرشنا کو اس کے سپرد کردیااور خود مالا کے ساتھ ٹہلتا ٹہلتا ایک جانب چلا گیا۔\n\nعظیم اور بھٹساوے میں ڈیڑھ سو گز کا فاصلہ ہوگا۔ عظیم جس نے غیر عورت کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ محسوس کیا تھا، جب کرشنا کو اپنے ساتھ لگے دیکھا تو اس کا ایمان متزلزل ہوگیا۔ کرشنا ٹھیٹ مرہٹی لڑکی تھی،سانولی سلونی، بڑی مضبوط، شدید طور پر جوان اور اس میں وہ تمام دعوتیں تھیں جو کسی کھل کھیلنے والی میں ہو سکتی ہیں، عظیم چونکے نشے میں تھا، اس لیے وہ اپنی بیوی کو بھول گیا اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کرشنا کو تھوڑے عرصے کے لیے بیوی بنالے۔\nاس کے دماغ میں مختلف شرارتیں پیدا ہورہی تھیں۔ کچھ رم کے باعث اور کچھ کرشنا کی قربت کی وجہ سے۔ عام طور پروہ بہت سنجیدہ رہتا تھا۔ بڑا کم گولیکن اس وقت اس نے کرشنا کے گدگدی کی۔ اس کو کئی لطیفے اپنی ٹوٹی پھوٹی گجراتی میں سنائے۔ پھر جانے اسے کیا خیال آیا کہ زور سے بھٹساوے کو آواز دی اور کہا، ’’پولیس آرہی ہے۔ پولیس آرہی ہے۔‘‘\n\nبھٹساوے، مالا کے ساتھ آیا۔ عظیم کو موٹی سی گالی دی اور ہنسنے لگا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ عظیم نے اس سے مذاق کیا ہے۔ لیکن اس نے سوچا، بہتریہی ہے کسی ہوٹل میں چلیں، جہاں پولیس کا خطرہ نہ ہو۔ چاروں اٹھ رہے تھے کہ پیلی پگڑی والا نمودار ہوا۔ اس نے ٹھیٹ سپاہیانہ انداز میں پوچھا، ’’تم لوگ رات کے گیارہ بجے یہاں کیا کررہا ہے؟ مالوم نہیں، دس بجے سے پیچھے یہاں بیٹھنا ٹھیک نہیں ہے، کانون ہے۔‘‘\nعظیم نے سنتری سے کہا، ’’جناب اپن فلم کا آدمی ہے، یہ چھوکری، اس نے کرشنا کی طرف دیکھا۔ یہ بھی فلم میں کام کرتی ہے۔ ہم لوگ کسی برے خیال سے یہاں نہیں آئے، یہاں پاس ہی جو اسٹوڈیو ہے، اس میں کام کرتے ہیں، تھک جاتے ہیں تو یہاں چلے آتے ہیں کہ تھوڑی سی تفریح ہوجائے، بارہ بجے ہماری شوٹنگ پھر شروع ہونے والی ہے۔‘‘\n\nپیلی پگڑی والا مطمئن ہو گیا، پھر وہ بھٹساوے سے مخاطب ہوا، ’’تم ادھر کیوں بیٹھا ہے؟‘‘ بھٹساوے پہلے گھبرایا۔لیکن فوراً سنبھل کر اس نے مالا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور سنتری سے کہا، ’’یہ ہمارا وائف ہے، ہماری ٹیکسی نیچے کھڑی ہے۔‘‘\nتھوڑی سی اور گفتگو ہوئی اور چاروں کی خلاصی ہوگئی۔ اس کے بعد انھوں نے ٹیکسی میں بیٹھ کر سوچا کہ کس ہوٹل میں چلیں۔ عظیم کو ایسے ہوٹلوں کے بارے میں کوئی علم نہیں تھاجہاں آدمی چند گھنٹوں کے لیے کسی غیر عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرسکے۔ بھٹساوے نے بیکار اس سے مشورہ کیا۔ چنانچہ اس کو فوراً ڈوک یارڈ کا سی ویو ہوٹل یاد آیا اور اس نے ٹیکسی والے سے کہا کہ وہاں لے چلو۔ سی ویو ہوٹل میں بھٹساوے نے دو کمرے لیے۔ ایک میں عظیم اور کرشناچلے گئے، دوسرے میں بھٹساوے اور مس مالاکھانڈیکر۔\n\nکرشنا بدستور مجسم دعوت تھی، لیکن عظیم جس نے دو پیگ اور پی لیے تھے، فلسفی رنگ اختیار کرگیا تھا، اس نے کرشنا کو غور سے دیکھا اور سوچا کہ اتنی کم عمر کی لڑکی نے گناہ کا یہ بھیانک رستہ کیوں اختیار کیا؟ خون کی کمی کے باوجود اس میں اتنی تپش کیوں ہے؟ کب تک یہ نرم و نازک لڑکی جو گوشت نہیں کھاتی اپنا گوشت پوست بیچتی رہے گی؟ عظیم کو اس پر بڑا ترس آیا، چنانچہ اس نے واعظ بن کر اس سے کہنا شروع کیا، ’’کرشنا معصیت کی زندگی سے کنارہ کش ہو جاؤ، خدا کے لیے اس راستے سے جس پر کہ تم گامزن ہو، اپنے قدم ہٹالو، یہ تمہیں ایسے مہیب غار میں لے جائے گا، جہاں سے تم نکل نہیں سکو گی۔ عصمت فروشی انسان کا بدترین فعل ہے۔ یہ رات اپنی زندگی کی روشن رات سمجھو، اس لیے کہ میں نے تمہیں نیک و بد سمجھا دیا ہے۔‘‘\n\nکرشنا نے اس کا جو مطلب سمجھا وہ یہ تھاکہ عظیم اس سے محبت کررہا ہے۔ چنانچہ وہ اس کے ساتھ چمٹ گئی اورعظیم اپنا گناہ وثواب کا مسئلہ بھول گیا۔ بعد میں وہ بڑا نادم ہوا۔ کمرے سے باہر نکلا تو بھٹساوے برآمدے میں ٹہل رہا تھا۔ کچھ اس انداز سے جیسے اس کو بھڑوں کے پورے چھتے نے کاٹ لیا ہے اور ڈنک اس کے جسم میں کھبے ہوئے ہیں۔ عظیم کو دیکھ کر وہ رک گیا، مطمئن کرشنا کی طرف ایک نگاہ ڈالی اور پیچ وتاب کھا کر عظیم سے کہا، ’’وہ سالی چلی گئی۔‘‘\n\nعظیم جو اپنی ندامت میں ڈوبا تھا، چونکا، ’’کون؟‘‘\n\n’’وہی، مالا۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\nبھٹساوے کے لہجے میں عجیب وغریب احتجاج تھا، ہم اس کو اتنا وخت چومتے رہے جب بولا کہ آؤ تو سالی کہنے لگی، ’’ تم ہمارا بھائی ہے۔ ہم نے کسی سے شادی کرلی ہے۔۔۔ اور باہر نکل گئی کہ وہ سالا گھر میں آگیا ہوگا۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3_%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "مسافر", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مسافر یوں ہی گیت گائے چلا جا\nسر رہ گزر کچھ سنائے چلا جا\n\nتری زندگی سوز و ساز محبت\nہنسائے چلا جا رلائے چلا جا\n\nترے زمزمے ہیں خنک بھی تپاں بھی\nلگائے چلا جا بجھائے چلا جا\n\nکوئی لاکھ روکے کوئی لاکھ ٹوکے\nقدم اپنے آگے بڑھائے چلا جا\n\nحسیں بھی تجھے راستے میں ملیں گے\nنظر مت ملا مسکرائے چلا جا\n\nمحبت کے نقشے تمنا کے خاکے\nبنائے چلا جا مٹائے چلا جا\n\nقدامت حدیں کھینچتی ہی رہے گی\nقدامت کی بنیاد ڈھائے چلا جا\n\nقسم شوق کی فطرت مضطرب کی\nیوں ہی نت نئی دھن میں گائے چلا جا\n\nجو پرچم اٹھا ہی لیا سرکشی کا!\nاسے آسماں تک اڑائے چلا جا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1"} {"title": "مسافر (مصطفٰی زیدی)", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مرے وطن تری خدمت میں لے کر آیا ہوں\nجگہ جگہ کے طلسمات دیس دیس کے رنگ\nپرانے ذہن کی راکھ اور نئے دلوں کی امنگ\nنہ دیکھ ایسی نگاہوں سے میرے خالی ہاتھ\nنہ یوں ہو میری تہی دامنی سے شرمندہ\nبسے ہوئے ہیں مرے دل میں سیکڑوں تحفے\nبہت سے غم کئی خوشیاں کئی انوکھے لوگ\nکہیں سے کیف ہی کیف اور کہیں سے درد ہی درد\nجنہیں اٹھا نہیں سکتا ہر ایک دشت نورد\nجو تھیلیوں کے شکم میں سما نہیں سکتے\nجو سوٹ کیس کی جیبوں میں آ نہیں سکتے\n\nبچھڑ کے تجھ سے کئی اجنبی دیاروں نے\nمجھے گلے سے لگایا مجھے تسلی دی\nمجھے بتائے شب تیرہ و سیاہ کے راز\nمرے بدن کو سکھائے ہزار استلذاذ\nکچھ اس طرح مرے پہلو میں آئے زہرہ و شمس\nمیں مدتوں یہی سمجھا کیا کہ جسم کا لمس\nازل سے تا بہ ابد ایک ہی مسرت ہے\nکہ سب فریب ہے میرا بدن حقیقت ہے\nاور اس طرح بھی ہوا ہے کہ میری تنہائی\nسمندروں سے لپٹ کر ہوا سے ٹکرا کر\nکبھی سمیٹ کے مجھ کو نئے جزیروں میں\nکبھی پہاڑ کے جھرنے کی طرح بکھرا کر\nکبھی بٹھا کے مجھے آسماں کے دوش بدوش\nکبھی زمیں کی تہوں میں جڑوں میں پھیلا کر\nکچھ اس طرح مرے احساس میں سمائی ہے\nکہ مجھ کو ذات سے باہر نکال لائی ہے\nکچھ ایسا خواب سا نا خوابیاں سی طاری تھیں\nبدن تو کیا مجھے پرچھائیاں بھی بھاری تھیں\n\nمرے دیار کہاں تھے ترے تماشائی\nکہ دیدنی تھا مرا جشن آبلہ پائی\nکچھ ایسے دوست ملے شہر غیر میں کہ مجھے\nکئی فرشتہ نفس دشمنوں کی یاد آئی\nمیں سوچتا ہوں کہ کم ہوں گے ایسے دیوانے\nنہ کوئی قدر ہو جن کی نہ کوئی رسوائی\nمجھے بجھا نہ سکی یخ زدہ ہوائے شمال\nمجھے ڈبو نہ سکی قلزموں کی گہرائی\nنہ جانے کیسا کرہ تھا مرا وجود کہ روز\nمرے قریب زمیں گھومتی ہوئی آئی\n\nتلاش کرتے ہوئے گم شدہ خزانوں کو\nبہت سے مصر کے فرعون مقبروں میں ملے\nزبان سنگ میں جو ہم کلام ہوتے ہیں\nکچھ ایسے لوگ پرانے مجسموں میں ملے\nبلند بام کلیسا میں تھے وہی فن کار\nجو خستہ حال مساجد کے گنبدوں میں ملے\nمری تھکی ہوئی خوابیدگی سے نالاں تھے\nوہ رت جگے جو مسائل کی کروٹوں میں ملے\nکئی سراغ نظر آئے داستانوں میں\nکئی چراغ کتابوں کے حاشیوں میں ملے\n\nسنا کے اپنے عروج و زوال کے قصے\nسبھی نے مجھ سے مرا رنگ داستاں پوچھا\nدکھا کے برف کے موسم مرے بزرگوں نے\nمزاج شعلگئ عصر نوجواں پوچھا\n\nمری جھکی ہوئی آنکھیں تلاش کرتی رہیں\nکوئی ضمیر کا لہجہ کوئی اصول کی بات\nگزر گئی مری پلکوں پہ جاگتی ہوئی رات\nندامتوں کا پسینہ جبیں پہ پھوٹ گیا\nمری زباں پہ ترا نام آ کے ٹوٹ گیا\nقبول کر یہ ندامت کہ اس پسینے کی\nہر ایک بوند میں چنگاریوں کے سانچے ہیں\nقبول کر مرے چہرے کی جھریاں جن میں\nکہیں جنوں کہیں تہذیب کے طمانچے ہیں\nسنبھال میرا سبک ہدیۂ غم ادراک\nجو مجھ کو سات سمندر کا زہر پی کے ملا\nثقافتوں کے ہر آتش فشاں میں جی کے ملا\nطلب کیا مجھے یونان کے خداؤں نے\nجنم لیا مرے سینے میں دیوتاؤں نے\nفریب و حرص کے ہر راستے سے موڑ دیا\nاور اس کے بعد سپر مارکٹ پہ چھوڑ دیا\nجہاں بس ایک ہی معیار آدمیت تھا\nہجوم مرد و زناں محو سیر و وحشت تھا\nگھڑی کا حسن نئے ریڈیو کی زیبائی\nپلاسٹک کے کنول نائلان کی ٹائی\nاطالیہ کے نئے بوٹ ہانگ کانگ کے ہار\nکرائسلر کی نئی رینج، ٹوکیو کے سنگار\nہر ایک جسم کو آسودگی کی خواہش تھی\nہر ایک آنکھ میں اسباب کی پرستش تھی\nیہ انہماک قیادت میں بھی نہیں ملتا\nیہ سوئے نفس عبادت میں بھی نہیں ملتا\n\nمرے وطن مرے سامان میں تو کچھ بھی نہیں\nبس ایک خواب ہے اور خواب کی فصیلیں ہیں\nقبول کر مری میلی قمیض کا تحفہ\nکہ اس کی خاک میں سجدوں کی سر زمینیں ہیں\nنہ دھل سکے گا یہ دامن کہ اس کے سینے پر\nبیافراؔ کے مقدس لہو کے چھینٹیں ہیں\nیہ ویتنام کی مٹی ہے جس کے ذروں میں\nپیمبروں کی دمکتی ہوئی جبینیں ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1_%28%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%D9%B0%DB%8C_%D8%B2%DB%8C%D8%AF%DB%8C%29"} {"title": "مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میں\nقاضی کے گرفتار نت اعلام کا ہوں میں\n\nبندہ کہو خادم کو چاکر کہو مجھ کو\nجو کچھ کہو سو ساقیٔ گلفام کا ہوں میں\n\nخدمت میں مجھے عشق کی ہے دل سے ارادت\nنے معتقد کفر نہ اسلام کا ہوں میں\n\nیک روز حلال اس کو بھی میں کر کے نہ کھایا\nنوکر جو خرابات میں دو جام کا ہوں میں\n\nنے فکر ہے دنیا کی نہ دیں کا متلاشی\nاس ہستئ موہوم میں کس کام کا ہوں میں\n\nیک رنگ ہوں آتی نہیں خوش مجھ کو دو رنگی\nمنکر سخن و شعر میں ایہام کا ہوں میں\n\nمطلوب دعا حق میں نہیں اپنے کسو کی\nطالب لب محبوب سے دشنام کا ہوں میں\n\nبندہ ہے خدا کا تو یقیں کر کہ بتاں کا\nبندہ یہ جہاں بے زر و بے دام کا ہوں میں\n\nہے شیشۂ مے عینک پیری مجھے سوداؔ\nنظارہ کن اب شیب کے ایام کا ہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D9%88_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81_%DA%A9%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مست نگاہ ناز کا ارماں نکالیے", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مست نگاہ ناز کا ارماں نکالیے\nبے خود بنا کے بزم سے اے جاں نکالیے\n\nحسن نظارہ سوز کی ہیں لن ترانیاں\nارمان دید موسی عمراں نکالیے\n\nپنہاں ہے کفر عشق میں ایمان عاشقاں\nظلمت سے نور چشمۂ حیواں نکالیے\n\nدم بھر میں دھوئے جائیں گے سب داغ معصیت\nیک قطرہ اشک تجربہ ساماں نکالیے\n\nتوحید میں ہے نقش دو رنگی حجاب ذات\nذوق نظر کا حوصلہ اے جاں نکالیے\n\nجب جلوہ ہائے وادیٔ ایمن نظر میں ہوں\nخاطر سے وہم روضۂ رضواں نکالیے\n\nدل کو بنا کے نقطۂ پرکار عافیت\nپائے طلب بہ ہمت مرداں نکالیے\n\nذکر خفی ازل سے ہے ورد دل و زباں\nشک ہے تو تن سے تار رگ جاں نکالیے\n\nکونین عین علم میں ہے جلوہ گاہ حسن\nجیب خرد سے عینک عرفاں نکالیے\n\nہر جام میں ہے عکس رخ یار جلوہ گر\nاے دل سبیل صحبت رنداں نکالیے\n\nمقبولیت سخن کی ہے ساحرؔ جو رنگ بزم\nرنگ عیار طبع سخنداں نکالیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "مست و بے خود تیرے مے خانے کا بام و در بنے", "poet_page": "مصنف:خوشی محمد ناظر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مست و بے خود تیرے مے خانے کا بام و در بنے\nساقیا گر تیری چشم مست کا ساغر بنے\n\nحرص کے صحرا میں جو جھونکا چلے سر سر بنے\nعشق کے دریا میں جو قطرہ گرے گوہر بنے\n\nبت بنے کعبہ بنا مسجد بنی مندر بنے\nعشق کی دنیا میں کیا کیا دل ربا منظر بنے\n\nدرس عبرت دور دوراں میں ہے بزم مے کدہ\nمے کشوں کی خاک سے کیا کیا خم و ساغر بنے\n\nکیا عجب اس خاکداں کے ہوں کبھی چشم و چراغ\nجا کے اوج آسماں پر جو مہ و اختر بنے\n\nبے گداز عشق رنگ حسن بھی کھلتا نہیں\nعشق کے سانچے میں ڈھل کر نور کا پیکر بنے\n\nدل کے ویرانے میں کیا کیا حسرتیں آباد ہیں\nراہ میں سیل فنا کی کیسے کیسے گھر بنے\n\nاے شہہ کونین در پر غیر کے جھکتا نہیں\nتیرے سنگ آستاں کے واسطے جو سر بنے\n\nپھر بہار آئی چمن میں پھر اٹھا جوش جنوں\nپھر سر شوریدہ کی خاطر نئے پتھر بنے\n\nفصل گل ہے باغباں اب رخصت پرواز ہے\nاب تو تنکے آشیاں کے میرے بال و پر بنے\n\nبندۂ ناظرؔ بھی حاضر تیرے مے خواروں میں ہو\nاے شہ‌ لولاک جب تو ساقیٔ کوثر بنے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D8%AF%D8%B1_%D8%A8%D9%86%DB%92"} {"title": "مست ہم کو شراب میں رہنا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مست ہم کو شراب میں رہنا\nکچھ ہو اس سیر آب میں رہنا\n\nابھی تو کچھ نیں کیا ہے غصے ہو\nیونہی یونہی عتاب میں رہنا\n\nاور سے بے حجابیاں کرنا\nایک ہم سے حجاب میں رہنا\n\nتجھ بن اے شمع رو مجھے ہر شب\nشعلہ سا اضطراب میں رہنا\n\nیاد میں اس کی زلف کی اے دل\nکب تئیں پیچ و تاب میں رہنا\n\nکچھ تنبہ تجھے نہیں اب تک\nنام بیدارؔ خواب میں رہنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AA_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "مست ہوں مست ہوں خراب خراب", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مست ہوں مست ہوں خراب خراب\nساقیا ساقیا شراب شراب\n\nآتش عشق سوں تری جل جل\nدل ہوا دل ہوا کباب کباب\n\nدور مکھ سوں عرق نہ کر گل رو\nدے مجھے دے مجھے گلاب گلاب\n\nکہہ اپس چشم با حیا کوں صنم\nرفع کر رفع کر حجاب حجاب\n\nدیکھ چھپتا ہے ابر میں خورشید\nدور کر دور کر نقاب نقاب\n\nمنتظر دل ہے یار کے خط کا\nقاصد آ قاصد آ شتاب شتاب\n\nشیوۂ گل رخاں ہے اے داؤدؔ\nغمزہ و غمزہ و عتاب عتاب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "مستقبل", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آنے والا ہے بہت جلد ایک ایسا عہد بھی\nدہر کے حالات موجود فنا ہو جائیں گے\nاور ہی ہو جائیں گے کچھ یہ زمین و آسماں\nاور ہی کچھ روز و شب صبح و مسا ہو جائیں گے\nرفعتوں پر ہر طرف چھا جائے گا ضعف و جمود\nعرش والے مائل تحت الثریٰ ہو جائیں گے\nپستیاں کر لیں گی طے سارے مقامات فراز\nخاک کے ذرے ثریا تک رسا ہو جائیں گے\nعظمت و ذلت کا سارا امتیاز اٹھ جائے گا\nایک منزل میں شہنشاہ و گدا ہو جائیں گے\nخاک میں مل جائے گا سرمایہ داروں کا غرور\nاہل نخوت راہئ ملک فنا ہو جائیں گے\nفقر و فاقہ کی جگہ لے لیں گے اطمینان و عیش\nمفلس و مزدور آزاد بلا ہو جائیں گے\nصفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا نام ظلم و جبر\nاہل استبداد سب بے دست و پا جائیں گے\nحاکم و محکوم میں باقی نہ ہوگا کوئی فرق\nایک اہل تخت و اہل بوریا ہو جائیں گے\nمنہدم ہو جائے گا دیوار زنداں خودبخود\nاہل زنداں قید محنت سے رہا ہو جائیں گے\nٹوٹ جائیں گی قفس کی تیلیاں اک آن میں\nچہچہوں سے بوستاں رنگیں نوا جو جائیں گے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84"} {"title": "مستقل درد کا سیلاب کہاں اچھا ہے", "poet_page": "مصنف:سورج نرائن مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مستقل درد کا سیلاب کہاں اچھا ہے\nوقفۂ سلسلۂ آہ و فغاں اچھا ہے\n\nہو نہ جائے مرے لہجے کا اثر زہریلا\nان دنوں منہ سے نکل جائے زباں اچھا ہے\n\nمجھ سے مانگے گی مری آنکھ گلابی منظر\nہو مرے ہاتھ میں تصویر بتاں اچھا ہے\n\nجن کے سینے میں تعصب نہیں پلتا کوئی\nایسے لوگوں کے لیے سارا جہاں اچھا ہے\n\nکتنے چالاک ہیں یہ اونچی حویلی والے\nہم سے کہتے ہیں کہ مٹی کا مکاں اچھا ہے\n\nزیر لب رینگتا رہتا ہے تبسم سورجؔ\nاس قیامت سے تو آہوں کا دھواں رہتا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D9%84_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مستمنداں کو ستایا نہ کرو", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مستمنداں کو ستایا نہ کرو\nبات کو ہم سے درایا نہ کرو\n\nدل شکنجے میں نہ ڈالو میرا\nزلف کو گوندھ بنایا نہ کرو\n\nحسن بے ساختہ بھاتا ہے مجھے\nسرمہ انکھیاں میں لگایا نہ کرو\n\nتم سے مجھ دل کو بہت ہے امید\nمجھ سے مسکیں کو کڑھایا نہ کرو\n\nبے دلاں سوں نہ پھرا دو مکھڑا\nہم سے تم آنکھ چرایا نہ کرو\n\nمخلص اپنے کو نہ مارو ناحق\nحق اخلاص بھلایا نہ کرو\n\nعشق میں فائزؔ شیدا ممتاز\nاس کوں سب ساتھ ملایا نہ کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "مستوجب ظلم و ستم و جور و جفا ہوں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مستوجب ظلم و ستم و جور و جفا ہوں\nہر چند کہ جلتا ہوں پہ سرگرم وفا ہوں\n\nآتے ہیں مجھے خوب سے دونوں ہنر عشق\nرونے کے تئیں آندھی ہوں کڑھنے کو بلا ہوں\n\nاس گلشن دنیا میں شگفتہ نہ ہوا میں\nہوں غنچۂ افسردہ کہ مردود صبا ہوں\n\nہم چشم ہے ہر آبلۂ پا کا مرا اشک\nاز بس کہ تری راہ میں آنکھوں سے چلا ہوں\n\nآیا کوئی بھی طرح مرے چین کی ہوگی\nآزردہ ہوں جینے سے میں مرنے سے خفا ہوں\n\nدامن نہ جھٹک ہاتھ سے میرے کہ ستم گر\nہوں خاک سر راہ کوئی دم میں ہوا ہوں\n\nدل خواہ جلا اب تو مجھے اے شب ہجراں\nمیں سوختہ بھی منتظر روز جزا ہوں\n\nگو طاقت و آرام و خور و خواب گئے سب\nبارے یہ غنیمت ہے کہ جیتا تو رہا ہوں\n\nاتنا ہی مجھے علم ہے کچھ میں ہوں بہر چیز\nمعلوم نہیں خوب مجھے بھی کہ میں کیا ہوں\n\nبہتر ہے غرض خامشی ہی کہنے سے یاراں\nمت پوچھو کچھ احوال کہ مر مر کے جیا ہوں\n\nتب گرم سخن کہنے لگا ہوں میں کہ اک عمر\nجوں شمع سر شام سے تا صبح جلا ہوں\n\nسینہ تو کیا فضل الٰہی سے سبھی چاک\nہے وقت دعا میرؔ کہ اب دل کو لگا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%88%D8%AC%D8%A8_%D8%B8%D9%84%D9%85_%D9%88_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D9%88_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "مستی بہ ذوق غفلت ساقی ہلاک ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مستی بہ ذوق غفلت ساقی ہلاک ہے\nموج شراب یک مژۂ خواب ناک ہے\n\nجز زخم تیغ ناز نہیں دل میں آرزو\nجیب خیال بھی ترے ہاتھوں سے چاک ہے\n\nجوش جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں اسدؔ\nصحرا ہماری آنکھ میں یک مشت خاک ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%A8%DB%81_%D8%B0%D9%88%D9%82_%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%D9%84%D8%A7%DA%A9_%DB%81%DB%92"} {"title": "مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھا", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھا\nسنتے ہیں بہار آئی گلستاں نہیں دیکھا\n\nزاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھا\nرخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا\n\nآئے تھے سبھی طرح کے جلوے مرے آگے\nمیں نے مگر اے دیدۂ حیراں نہیں دیکھا\n\nاس طرح زمانہ کبھی ہوتا نہ پر آشوب\nفتنوں نے ترا گوشۂ داماں نہیں دیکھا\n\nہر حال میں بس پیش نظر ہے وہی صورت\nمیں نے کبھی روئے شب ہجراں نہیں دیکھا\n\nکچھ دعوئ تمکیں میں ہے معذور بھی زاہد\nمستی میں تجھے چاک گریباں نہیں دیکھا\n\nروداد چمن سنتا ہوں اس طرح قفس میں\nجیسے کبھی آنکھوں سے گلستاں نہیں دیکھا\n\nمجھ خستہ و مہجور کی آنکھیں ہیں ترستی\nکب سے تجھے اے سرو خراماں نہیں دیکھا\n\nکیا کیا ہوا ہنگام جنون یہ نہیں معلوم\nکچھ ہوش جو آیا تو گریباں نہیں دیکھا\n\nشائستۂ صحبت کوئی ان میں نہیں اصغرؔ\nکافر نہیں دیکھے کہ مسلماں نہیں دیکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%BA_%D8%B1%D8%AE_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "مستی نہ کر اے میرؔ اگر ہے ادراک", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مستی نہ کر اے میرؔ اگر ہے ادراک\nدامان بلند ابر نمط رکھ تو پاک\nہے عاریتی جامۂ ہستی تیرا\nہشیار کہ اس پر نہ پڑے گرد و خاک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%AF%D8%B1%D8%A7%DA%A9"} {"title": "مستی کے پھر آ گئے زمانے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مستی کے پھر آ گئے زمانے\nآباد ہوئے شراب خانے\n\nہر پھول چمن میں زر بہ کف ہے\nبانٹے ہیں بہار نے خزانے\n\nسب ہنس پڑے کھلکھلا کے غنچے\nچھیڑا جو لطیفہ صبا نے\n\nسر سبز ہوا نہالِ غم بھی\nپیدا وہ اثر کیا ہوا نے\n\nرندوں نے پچھاڑ کر پلا دی\nواعظ کے نہ چل سکے بہانے\n\nکر دوں گا میں ہر ولی کو میخوار\nتوفیق جو دی مجھے خدا نے\n\nہم نے تو نثار کر دیا دل\nاب جانے وہ شوخ یا نہ جانے\n\nبیگانۂ مئے کیا ہے مجھ کو\nساقی کی نگاہِ آشنا نے\n\nمسکن ہے قفس میں بُلبلوں کا\nویراں پڑے ہیں آشیانے\n\nاب کاہے کو آئیں گے وہ حسرتؔ\nآغازِ جنوں کے پھر زمانے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A2_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "مستیِ کردار", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "صُوفی کی طریقت میں فقط مستیِ احوال\nمُلّا کی شریعت میں فقط مستیِ گُفتار\nشاعر کی نوا مُردہ و افسُردہ و بے ذوق\nافکار میں سرمست، نہ خوابیدہ نہ بیدار\nوہ مردِ مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو\nہو جس کے رگ و پَے میں فقط مستیِ کردار", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C%D9%90_%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1"} {"title": "مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے\nمن اپنا پُرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا\n\nکیا خوب امیرِ فیصل کو سَنّوسی نے پیغام دیا\nتُو نام و نَسب کا حجازی ہے پر دل کا حجازی بن نہ سکا\n\nتر آنکھیں تو ہو جاتی ہیں، پر کیا لذّت اس رونے میں\nجب خُونِ جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا\n\nاقبالؔ بڑا اُپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے\nگفتارکا یہ غازی تو بنا،کردار کا غازی بن نہ سکا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%8C_%D8%B4%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%B1%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92"} {"title": "مسجد میں تو شیخ کو خروشاں دیکھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مسجد میں تو شیخ کو خروشاں دیکھا\nمیخانے میں جوش بادہ نوشاں دیکھا\nاک گوشۂ عافیت جہاں میں ہم نے\nدیکھا تو محلۂ خموشاں دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%B1%D9%88%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "مسجد میں نہ جا واں نہیں ہونے کا نباہ", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مسجد میں نہ جا واں نہیں ہونے کا نباہ\nبے وجہ خصوصیت بھی ہے عصیاں کی گواہ\nمے خانے میں صدیق مسلمان ہیں گبر\nکیا جوش محبت ہے کہ اللہ اللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%A8%D8%A7%DB%81"} {"title": "مسجد کو دیا چھوڑ ریا کی خاطر", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مسجد کو دیا چھوڑ ریا کی خاطر\nکعبے نہیں جاتا تو حیا کی خاطر\nمے خانے میں جاتا ہوں تو رحمت کے لئے\nمے پیتا ہوں احسان خدا کی خاطر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1"} {"title": "مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے\nبھوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے\n\nعاشق ہوے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر\nآخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے\n\nدے داد اے فلک دل حسرت پرست کی\nہاں کچھ نہ کچھ تلافی مافات چاہیے\n\nسیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری\nتقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے\n\nمے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو\nاک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے\n\nنشو و نما ہے اصل سے غالبؔ فروع کو\nخاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے\n\nہے رنگ لالہ و گل و نسریں جدا جدا\nہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے\n\nسر پائے خم پہ چاہیے ہنگام بے خودی\nرو سوئے قبلہ وقت مناجات چاہیے\n\nیعنی بہ حسب گردش پیمانۂ صفات\nعارف ہمیشہ مست مے ذات چاہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%DB%8C%DB%81_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "مسجدِ قُوّت الاسلام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہے مرے سِینۂ بے نُور میں اب کیا باقی\n’لااِلہ‘ مُردہ و افسُردہ و بے ذوقِ نمود\nچشمِ فطرت بھی نہ پہچان سکے گی مجھ کو\nکہ ایازی سے دِگرگُوں ہے مقامِ محمودؔ\nکیوں مسلماں نہ خِجل ہو تری سنگینی سے\nکہ غلامی سے ہُوا مثلِ زُجاج اس کا وجود\nہے تری شان کے شایاں اُسی مومن کی نماز\nجس کی تکبیر میں ہو معرکۂ بود و نبود\nاب کہاں میرے نفَس میں وہ حرارت، وہ گداز\nبے تب و تابِ درُوں میری صلوٰۃ اور درُود\nہے مِری بانگِ اذاں میں نہ بلندی، نہ شکوہ\nکیا گوارا ہے تجھے ایسے مسلماں کا سجود؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF%D9%90_%D9%82%D9%8F%D9%88%D9%91%D8%AA_%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "مسدس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ (I)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "منقبت", "year": null, "text_ur": "درویش جو ہیں مقصد دلخواہ کہیں ہیں\nسالک جو ہیں وے راہبر راہ کہیں ہیں\nاک واقف اسرار و دل آگاہ کہیں ہیں\nاک چرخ حقیقت کا تجھے ماہ کہیں ہیں\nکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیں\nسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں\n\nمذکور کہیں نام ترا کام روا ہے\nمشہور لقب ایک جگہ راہ نما ہے\nہر ایک نے کچھ حسب خرد اپنے کہا ہے\nسمجھا نہ کوئی یہ کہ حقیقت میں تو کیا ہے\nکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیں\nسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں\n\nمن بعد نبیؐ باعث بہبود تو ہی ہے\nنزدیک خردمندوں کے مسجود تو ہی ہے\nکچھ کوئی کہو خلق سے مقصود تو ہی ہے\nپہنچیں جو حقیقت کو تو معبود تو ہی ہے\nکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیں\nسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں\n\nجس روز سے تو تھا نہ کوئی عرصے میں آیا\nفتنے کو ترے شور نے تا حشر سلایا\nبالفرض فلک سے بھی اگر ہاتھ ملایا\nاک روز میں کر خاک برابر ہی دکھایا\nکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیں\nسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں\n\nاس بات کو جانیں ہیں سب آگاہ تہ کار\nایوبؑ نے جب نالہ کیا کھینچ کے آزار\nقدرت نے کیا حق کی ترے پردے میں اظہار\nصورت سے شفا کی تو ہوا آکے نمودار\nکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیں\nسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں\n\nآدم کی انابت تھی شب و روز تری اور\nجپتے ہیں ملک نام ترا چرخ پہ کر شور\nقائل ہیں ترے لے کے سلیمان سے تا مور\nاللہ ری تری شوکت و احسنت ترا زور\nکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیں\nسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں\n\nہستی میں ترا جلوہ ترا شور عدم میں\nتیرا ہی تصرف ہے حدوث اور قدم میں\nہوتا نہ ترا دست حمایت کا جو یم میں\nیونسؑ کی توقع نہ تھی ماہی کے شکم میں\nکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیں\nسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں\n\nپردے میں صدا تھی تری داؤد کا الحان\nشمہ تھا تری چشم کا اک نوح کا طوفان\nجاں بخش دم عیسوی میں تو ہی تھا پنہان\nتھا ہاتھ ترا معجزۂ موسی عمران\nکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیں\nسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں\n\nیعقوب کا تھا کلبۂ احزاں میں تو غم خوار\nیوسف کا ملک ہو کے ہوا چہ میں مددگار\nرحمت کا فرشتہ ہو ترے لطف نے پر مار\nکی آتش نمرود براہیم پہ گلزار\nکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیں\nسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں\n\nالٹا ہے دو انگشت سے دروازۂ خیبر\nچیرا ہے کس انداز سے گہوارے میں اژدر\nکیا ہاتھ تھا جس سے کہ گیا جان سے عنتر\nظاہر ہے کہ یاں تھا وہی ظاہر وہی مظہر\nکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیں\nسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں\n\nثانی ترا پاتے نہیں تسلیم و رضا میں\nایوب سے ہو صبر ترا سا نہ بلا میں\nمشہور سخاوت ہے تری شاہ و گدا میں\nتیں خود کے تئیں بخش دیا راہ خدا میں\nکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیں\nسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں\n\nاے وہ کہ تو ہے جان و جہاں سارا ہے قالب\nدر پر جو اکٹھے ہوں ترے سینکڑوں طالب\nاک پل میں روا کردے تو ان سب کے مطالب\nہم عاجز و عاجز ہیں تو ہے غالب و غالب\nکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیں\nسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں\n\nہے میرؔ پریشاں دل و آوارہ و مضطر\nکیا تیری صفت کرسکے یا حیدر صفدر\nہے وصف ترا حیز امکان سے باہر\nکہتے ہیں خردور تری قدرت کو نظر کر\nکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیں\nسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AF%D8%B3_%D8%AA%D8%B1%D8%AC%DB%8C%D8%B9_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%93_%28I%29"} {"title": "مسدس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ (II)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "منقبت", "year": null, "text_ur": "چیدہ خواروں میں شہ روم ترے صبح و شام\nریزہ چینی سے تری بادشہ چیں کا قیام\nحبشی ہندی صفاہانی بخارائی تمام\nہیں ترے دست نگر لیجیے کس کس کا نام\nیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیست\nبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست\n\nگرسنہ چشم ترا آدم و سب اس کے خلف\nتو جو دعوت کرے تو آویں فرشتے صف صف\nدہر کا راتبہ ہے بحر ترا کشتی بہ کف\nمہر و مہ دیکھتے ہیں تیرے ہی ہاتھوں کی طرف\nیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیست\nبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست\n\nسایہ گستر دوجہاں کا ہے ترا لطف عمیم\nدے تو جنت کی نعیم اور تو ہی فوز عظیم\nتجھ سے مامول عطا سب تو کریم ابن کریم\nہووے یعقوب کہ اسحاق کہ ہو ابراہیم\nیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیست\nبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست\n\nمردمی کا تری دریا نہیں رکھتا ہے کنار\nایک موجے میں ترے سینکڑوں بیڑے ہوئے پار\nکاڑھے طوفان بلا سے تری ہمت نے پار\nنوح ممنون ہے یونس ہے ترا شکرگزار\nیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیست\nبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست\n\nاہل عالم متمتع رہے ہیں تجھ سے مدام\nمائدہ طور پہنچتا تھا ترے ہاں سے طعام\nمن و سلویٰ تھا فرستادہ کبھو بہر انام\nقول عیسیٰ بھی یہی تھا یہی موسیٰ کا کلام\nیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیست\nبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست\n\nہے بچھا شرق سے تا غرب ترا دسترخوان\nجس پہ مہمان ہے ہر شام و سحر خلق جہان\nآسماں یاں کی گدائی سے بھرے ہے انبان\nماہ و خورشید کو ملتی ہیں یہاں سے دو نان\nیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیست\nبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست\n\nسر شاہان زمانہ تری خاک درگاہ\nکج رکھیں تیرے بھروسے پہ فقیر اپنی کلاہ\nمنھ ترا تکتے رہیں عارف و کامل آگاہ\nتجھ سے سب پہنچے ہیں مقصود کو قصہ کوتاہ\nیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیست\nبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست\n\nنام حاتم کا خنک جیسے لطیفہ مستور\nمعن زائد کا تری بزم میں زائد مشہور\nرنگ رنگ اطعمہ ہیں بذل پھر اس درجہ وفور\nکیا خداوندی ہے اللہ خدائی مشکور\nیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیست\nبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست\n\nلطف ہے عام ترا سب تجھی سے پاتے ہیں\nتیری دولت ہے جو یہ شاہ و گدا کھاتے ہیں\nشکر نعمت یہ نہیں تیرا بجا لاتے ہیں\nاس جہاں سے بھی یہی کہتے ہوئے جاتے ہیں\nیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیست\nبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست\n\nارض میں اور سماوات میں سب تیرا مال\nجس کا گھر چاہے تو کر دیوے اسے مالامال\nروز بہبود کا تجھ سے سر گردوں میں خیال\nاپنی خوبی کو زمیں رات کرے تجھ سے سوال\nیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیست\nبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست\n\nفی الحقیقت تری مہمان خلائق ہے سب\nتیرے دروازے سے محروم کوئی آوے ہے کب\nریجھنے ہی کی ہے گوں تیری مروت کا ہے ڈھب\nجاؤں ناکام اگر میں تو نہایت ہے عجب\nیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیست\nبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست\n\nکاسہ لیسی تیرے مطبخ کی کریں خرد و کبیر\nہاتھ پھیلائے رہے آگے ترے جم غفیر\nظرف ہیں جن کے بڑے سب وے یہیں کے ہیں فقیر\nآدم و جن و ملک شاہ و گدا میر و وزیر\nیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیست\nبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AF%D8%B3_%D8%AA%D8%B1%D8%AC%DB%8C%D8%B9_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%93_%28II%29"} {"title": "مسدس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ (III)", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "منقبت", "year": null, "text_ur": "جاتی ہے شب تارے گنتے دن کو پھرتا ہوں خراب\nکب تلک اس خاکداں میں جوں بگولا پیچ و تاب\nدل تڑپتا ہے جدا جی کو جدا ہے اضطراب\nہر گھڑی تازہ تعب ہر دم نیا ہے اک عذاب\nیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوتراب\nحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب\n\nاب گرا جاتا ہوں چشم خلق سے لے ٹک سنبھال\nدیکھ مت اس سے زیادہ خوار و زار و خستہ حال\nمرحمت کر مکرمت کر رنج سے مجھ کو نکال\nکب تلک محزوں رہوں میں تا کجا کھینچوں ملال\nیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوتراب\nحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب\n\nکیا لکھے اعجاز تیرے خامۂ جادوشعار\nتو وہی ہے ایک لیکن نام تیرے ہیں ہزار\nوقت جب ہوتا ہے تنگ اے قدرت پروردگار\nنام لے لے کر ترے کہتا ہے ہر اک یوں پکار\nیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوتراب\nحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب\n\nحاجت اہل جہاں وابستہ تجھ سے ہے مدام\nسہل ہیں یاں مشکلیں آساں ہیں یاں دشوار کام\nعارف و عامی سبھوں کا ہے وظیفہ تیرا نام\nزیر لب ہر اک کے رہتا ہے یہی ہر صبح و شام\nیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوتراب\nحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب\n\nتنگ ہے عرصہ نہایت دم رکا جاتا ہے آہ\nیاں سے جانا بھی نہیں آتا ہے بن اے خضر راہ\nلیتے ہیں آنکھیں چھپائے جن پہ جاتی ہے نگاہ\nآستاں بن تیرے دکھلائی نہیں دیتی پناہ\nیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوتراب\nحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب\n\nحرف زن ہوتا ہوں جب میں تنگی احوال سے\nصفحہ صفحہ درد کرتا ہے تراوش قال سے\nلطف بن تیرے چھڑاوے کون اس جنجال سے\nآئی ہے سر پر قیامت شامت اعمال سے\nیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوتراب\nحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب\n\nآسمان بے تمیز و بے تہ و دشمن کمال\nدوستی کے پردے میں کرتا ہے مجھ کو پائمال\nیعنی سر سہلا کے بھیجا کھا گیا یکسر نکال\nاب تلک جیتے تو ہیں پر زندگانی ہے وبال\nیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوتراب\nحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب\n\nخاک سے یکساں ہوا ہوں ہو کرم سے دستیار\nہوں گدا تجھ آستاں کا کر ٹک اک امداد کار\nدل کو میرے جس گھڑی ہوتا ہے شاہا اضطرار\nبار بار آوے ہے منھ پر اس گھڑی بے اختیار\nیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوتراب\nحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب\n\nسارے عالم سے کرے ہے کج روی چرخ نژند\nقافیہ ہے تنگ ازبس امن کی راہیں ہیں بند\nغم فروکن کچھ نہیں میرا ہے یہ شعر بلند\nپڑھتے ہیں سب شیخ و شاب و ناتوان و دردمند\nیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوتراب\nحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب\n\nغالباً پہنچے بہم اب میرؔ کو بھی برگ و ساز\nآبلہ یک بن گیا ہے جملہ تن ہو کر گداز\nشام کہتا ہے یہی رکھ خاک پر روے نیاز\nصبح پڑھتا ہے یہی جاے دعا بعد از نماز\nیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوتراب\nحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AF%D8%B3_%D8%AA%D8%B1%D8%AC%DB%8C%D8%B9_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%93_%28III%29"} {"title": "مسدس در نعت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "جرم کی کھو شرمگینی یا رسول\nاور خاطر کی حزینی یا رسول\nکھینچوں ہوں نقصان دینی یا رسول\nتیری رحمت ہے یقینی یا رسول\nرحمۃ للعالمینی یا رسول\nہم شفیع المذنبینی یا رسول\n\nلطف تیرا عام ہے کر مرحمت\nہے کرم سے تیرے چشم مکرمت\nمجرم عاجز ہوں کر ٹک تقویت\nتو ہے صاحب تجھ سے ہے یہ مسئلت\nرحمۃ للعالمینی یا رسول\nہم شفیع المذنبینی یا رسول\n\nکیا سیہ کاری نے منھ کالا کیا\nبات کرنے کا نہیں کچھ منھ رہا\nرحم کر خاک مذلت سے اٹھا\nمیرے عفو جرم کی تخصیص کیا\nرحمۃ للعالمینی یا رسول\nہم شفیع المذنبینی یا رسول\n\nاب ٹھہرتا ٹک نہیں پاے ثبات\nدستگیری کر کہ پاؤں میں نجات\nجرم کیا ہیں میری کتنی مشکلات\nہے کفایت ایک تیری التفات\nرحمۃ للعالمینی یا رسول\nہم شفیع المذنبینی یا رسول\n\nدہر زیر سایۂ لطف عمیم\nخلق سب وابستۂ خلق عظیم\nتجھ سے جویاے کرم عاصم اثیم\nسخت حاجت مند ہیں ہم تو کریم\nرحمۃ للعالمینی یا رسول\nہم شفیع المذنبینی یا رسول\n\nہو رہے ہیں ہم جو دوزخ کے حطب\nسر پہ یہ اعمال لائے ہیں غضب\nرکھتے ہیں چشم عنایت تجھ سے سب\nتجھ سوا کس سے کہیں احوال اب\nرحمۃ للعالمینی یا رسول\nہم شفیع المذنبینی یا رسول\n\nنیک و بد تیرے ثناخوان ہمم\nلطف تیرا آرزوبخش امم\nملتفت ہو تو تو کاہے کا ہے غم\nتو رحیم اور مستحق رحم ہم\nرحمۃ للعالمینی یا رسول\nہم شفیع المذنبینی یا رسول\n\nروؤں ہوں شرم گنہ سے زار زار\nبے عنایت کچھ نہیں اسلوب کار\nدل کو جب ہوتا ہے آکر اضطرار\nزیر لب کہتا ہوں یہ میں بار بار\nرحمۃ للعالمینی یا رسول\nہم شفیع المذنبینی یا رسول\n\nسبز برپا ہوگا جب تیرا نشاں\nآفتاب حشر میں بہر اماں\nہووے گی انواع خلقت جمع واں\nکیوں نہ ہو سائے میں اس کے دوجہاں\nرحمۃ للعالمینی یا رسول\nہم شفیع المذنبینی یا رسول\n\nروسیاہی جرم سے ہے بیشتر\nروسفیدوں میں خجل مجھ کو نہ کر\nایک کیا آنکھیں ہیں میری ہی ادھر\nتجھ سے راجی بے بصر اہل نظر\nرحمۃ للعالمینی یا رسول\nہم شفیع المذنبینی یا رسول\n\nکچھ بھی جو ہیں واقف راز و نیاز\nعام تجھ انعام پر کر چشم باز\nشعر یہ مشہور سب وے دل گداز\nپڑھتے ہیں جاے دعا بعد از نماز\nرحمۃ للعالمینی یا رسول\nہم شفیع المذنبینی یا رسول\n\nجب تلک تاثیر کا تھا کچھ گماں\nگہ قرآں خواں میرؔ تھے گہ سبحہ خواں\nوقت یکساں تو نہیں اے دوستاں\nاب یہی ہے ہر زماں ورد زباں\nرحمۃ للعالمینی یا رسول\nہم شفیع المذنبینی یا رسول", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AF%D8%B3_%D8%AF%D8%B1_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%A7%D8%AA_%D8%B5%D9%84%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81_%D9%88%D8%B3%D9%84%D9%85"} {"title": "مسز ڈی کوسٹا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "نو مہینے پورے ہو چکے تھے۔میرے پیٹ میں اب پہلی سی گڑبڑ نہیں تھی۔ پر مسز ڈی کوسٹا کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ وہ بہت پریشان تھی۔ چنانچہ میں آنے والے حادثے کی تمام ان جانی تکلیفیں بھول گئی تھی اور مسز ڈی کوسٹا کی حالت پر رحم کھانے لگی تھی۔\n\nمسز ڈی کوسٹا میری پڑوسن تھی۔ ہمارے فلیٹ کی بالکنی اور اس کے فلیٹ کی بالکنی میں صرف ایک چوبی تختہ حائل تھا۔ جس میں بے شمار ننھے ننھے سوراخ تھے۔ ان سوراخوں میں سے میں اور اللہ بخشے میری ساس ڈی کوسٹا کے سارے خاندان کو کھانا کھاتے دیکھا کرتے تھے۔ لیکن جب ان کے ہاں سکھائی ہوئی جھینگا مچھلی پکتی اور اس کی ناقابلِ برداشت بو ان سوراخوں سے چھن چھن کر ہم تک پہنچ جاتی تو میں اور میری ساس بالکنی کا رخ نہ کرتے تھے۔ میں اب بھی کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ اتنی بدبودار چیز کھائی کیونکر جاسکتی ہے، پر بابا کیا کہا جائے،انسان بری سے بری چیزیں کھا جاتا ہے۔ کون جانے، انھیں اس ناقابلِ برداشت بو ہی میں لطف آتا ہو۔\n\nمسز ڈی کوسٹا کی عمر چالیس کے لگ بھگ ہوگی۔ اس کے کٹے ہوئے بال جو اپنی سیاہی بالکل کھو چکے تھے اور جن میں بے شمار سفید دھاریاں پڑ چکی تھیں، اس کے چھوٹے سر پر گھسے ہوئے نمدے کی ٹوپی کی صورت میں پریشان رہتے تھے۔ کبھی کبھی جب وہ نیا بھڑکیلے رنگ کا بہت بھونڈے طریقے پر سلا ہوا فراک پہنتی تھی تو سر پر لال لال بندکیوں والا جال بھی لگا لیتی تھی، جس سے اس کے چھدرے بال اس کے سر کے ساتھ چپک جاتے تھے۔ اس حالت میں وہ درزیوں کا ایسا ماڈل دکھائی دیتی تھی جو نیلام گھرمیں پڑا ہو۔\n\nمیں نے کئی بار اسے اپنے انہی بالوں میں لہریں پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف دیکھا ہے۔ اپنے چار بیٹوں کو جن میں سے ایک تازہ تازہ فوج میں بھرتی ہوا تھا اور اپنے آپ کو ہندوستان کے حکمرانوں کی فہرست میں شامل سمجھتا تھا۔ اور دوسرا جو ہر روز اپنی کلف لگی سفید پتلون استری کرکے پہنتا تھا اور نیچے آکر چھوٹی چھوٹی کرسچین لڑکیوں کے ساتھ میٹھی میٹھی باتیں کیا کرتا تھا۔۔۔ ناشتہ کرا دیا کرتی تھی اور اپنے بڈھے خاوند کو جو ریلوے میں ملازم تھا، بالکنی میں نکل کر ہاتھ کے اشارے سے ’’بائی بائی‘‘ کرنے کے بعد فارغ ہو جاتی تھی تو اپنے سر کے ناقابلِ گرفت بالوں میں لہریں پیدا کرنے والے کلپ اٹکا دیا کرتی تھی، اور ان کلپوں سمیت سوچا کرتی تھی کہ میرے ہاں بچہ کب پیدا ہوگا۔\n\nوہ خود آدھے درجن بچے پیدا کر چکی تھی جن میں سے پانچ زندہ تھے۔ ان کی پیدائش پر بھی وہ یونہی دن گنا کرتی تھی یا چپ چاپ بیٹھی رہتی تھی اور بچے کو خود بخود پیدا ہونے کے لیے چھوڑ دیتی تھی، اس کے متعلق مجھے کچھ علم نہیں۔ لیکن مجھے اس بات کا تلخ تجربہ ضرور ہے کہ جو کچھ میرے پیٹ میں تھا، اس سے مسز ڈی کوسٹا کو جس کا داہنا پیر اور اس کے اوپر کا حصہ کسی بیماری کے باعث ہمیشہ سوجا رہتا تھا، بہت گہری دلچسپی تھی۔ چنانچہ دن میں کئی مرتبہ بالکنی میں سے جھانک کر وہ مجھے آواز دیا کرتی تھی اور گرائمر سے بے نیاز انگریزی میں، جس کا نہ بولنا اس کے نزدیک شاید ہندوستان کے موجودہ حکمرانوں کی ہتک تھی، مجھ سے کہا کرتی تھی ’’میں بولی، آج تم کدھر گیا تھا۔۔۔‘‘\n\nجب میں اسے بتاتی کہ میں اپنے خاوند کے ساتھ شاپنگ کرنے گئی تھی تو اس کے چہرے پر ناامیدی کے آثار پیدا ہو جاتے اور وہ انگریزی بھول کر بمبئی کی اردو میں گفتگو کرنا شروع کردیتی جس کا مقصد مجھ سے صرف اس بات کا پتا لینا ہوتا تھا کہ میرے خیال کے مطابق بچے کی پیدائش میں کتنے دن باقی رہ گئے ہیں۔\n\nمجھے اس بات کا علم ہوتا تو میں یقیناً اسے بتا دیتی۔ اس میں ہرج ہی کیا تھا۔ اس بیچاری کو خواہ مخواہ کی الجھن سے نجات مل جاتی اور مجھے بھی ہر روز اس کے نت نئے سوالوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ مجھے بچوں کی پیدائش اور اس کے متعلقات کا کچھ علم ہی نہیں تھا۔ مجھے صرف اتنا معلوم تھا کہ نو مہینے پورے ہو جانے پر بچہ پیدا ہو جایا کرتا ہے۔\n\nمسز ڈی کوسٹا کے حساب کے مطابق نو مہینے پورے ہو چکے تھے۔ میری ساس کا خیال تھا کہ ابھی کچھ دن باقی ہیں۔۔۔ لیکن یہ نو مہینے کہاں سے شروع کرکے پورے کردیے گئے تھے، میں نے بہتیرا اپنے ذہن پر زور دیا، پر سمجھ نہ سکی۔\n\nبچہ میرے پیدا ہونے والا تھا۔ شادی میری ہوئی تھی لیکن سارا بہی کھاتہ مسز ڈی کوسٹا کے پاس تھا۔ کئی بار مجھے خیال آیا کہ یہ میری اپنی غفلت کا نتیجہ ہے۔ اگر میں نے کسی چھوٹی سی نوٹ بک میں، چھوٹی سی نوٹ بک میں نہ سہی، اس کاپی ہی میں جو دھوبی کے حساب کے لیے مخصوص تھی، سب تاریخیں لکھ چھوڑی ہوتیں تو کتنا اچھا تھا۔\n\nاتنا تو مجھے یاد تھا اور یاد ہے کہ میری شادی ۲۶ اپریل کو ہوئی یعنی ۲۶ کی رات کو میں اپنے گھر کے بجائے اپنے خاوند کے گھرمیں تھی۔ لیکن اس کے بعد کے واقعات کچھ اس قدر خلط ملط ہوگئے تھے کہ اس بات کا پتا لگانا بہت مشکل تھا اور مجھے تعجب اسی بات کا ہے کہ مسز ڈی کوسٹا نے کیسے اندازہ لگا لیا تھا کہ نو مہینے پورے ہو چکے ہیں اور بچہ لیٹ ہوگیا ہے۔\n\nایک روز اس نے میری ساس سے اضطراب بھرے لہجے میں کہا، ’’ تمہارے ڈاٹر اِن لا کا بچہ لیٹ ہوگیا ہے۔۔۔ پچھلے ویک (ہفتے) میں پیدا ہونا ہی مانگتا تھا۔‘‘ میں اندر صوفے پر لیٹی تھی اور آنے والے حادثے کے متعلق قیاس آرائیاں کررہی تھی۔ مسز ڈی کوسٹا کی یہ بات سن کر مجھے بڑی ہنسی آئی اور ایسا لگا کہ مسز ڈی کوسٹا اور میری ساس دونوں پلیٹ فارم پر کھڑی ہیں اور جس گاڑی کا انھیں انتظار تھا، لیٹ ہوگئی ہے۔\n\nاللہ بخشے میری ساس کو اتنی شدت کا انتظار نہیں تھا۔ چنانچہ وہ کئی مرتبہ مسز ڈی کوسٹا سے کہہ چکی تھی، ’’کوئی فکر کی بات نہیں، خدا اپنا فضل کرے گا۔ کچھ دن اوپر ہو جایا کرتے ہیں۔‘‘ مگر مسز ڈی کوسٹا نہیں مانتی تھی۔ جو حساب وہ لگا چکی تھی، غلط کیسے ہوسکتا تھا۔جب مسز ڈی سلوا کے ہاں بچہ پیدا ہونے والا تھا تو اس نے دور سے ہی دیکھ کہ کہہ دیا تھا کہ زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ لگے گا۔ چنانچہ چوتھے روز ہی مسزڈی سلوا ہسپتال جاتی نظر آئی۔ اور خود اس نے چھ بچے جنے تھے جن میں سے ایک بھی لیٹ نہ ہوا تھا۔ اور پھر وہ نرس تھی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اس نے کسی ہسپتال میں دایہ گیری کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ مگر سب لوگ اسے نرس کہتے تھے۔ چنانچہ ان کے فلیٹ کے باہر چھوٹی سی تختی پر ’’نرس ڈی کوسٹا‘‘ لکھا رہتا تھا۔ اسے بچوں کی پیدائش کے اوقات معلوم نہ ہوتے تو اور کس کو ہوتے۔\n\nجب کمرہ نمبر۱۷ کے رہنے والے مسٹر نذیر کی ناک سوج گئی تھی تو مسز ڈی کوسٹا ہی نے بازار سے روئی کا بنڈل منگوایا تھا اور پانی گرم کرکے ٹکور کی تھی۔ بار بار وہ اس واقعے کو سند کے طور پر پیش کیا کرتی تھی۔ چنانچہ مجھے بار بار کہنا پڑتا تھا، ’’ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پڑوس میں ایسی عورت رہتی ہے جو خوش خلق ہونے کے علاوہ اعلیٰ نرس بھی ہے۔‘‘ یہ سن کر وہ خوش ہوتی تھی اور اس کو یوں خوش کرنے سے مجھے یہ فائدہ ہوا تھا کہ جب۔۔۔ صاحب کو تیز بخار چڑھا تھا تو مسز ڈی کوسٹا نے برف لگانے والی ربڑ کی تھیلی فوراً مجھے لا دی تھی۔ یہ تھیلی ایک ہفتہ تک ہمارے یہاں پڑی رہی اور ملیریا کے مختلف شکاروں کے استعمال میں آتی رہی۔ یوں بھی مسز ڈی کوسٹا بڑی خدمت گزار تھی۔ لیکن اس کی اس رضا کاری میں اس کی متجسس طبیعت کو کافی دخل تھا۔ دراصل وہ اپنے تمام پڑوسیوں کے ان رازوں سے بھی واقف ہونے کی آرزومند تھی جو سینہ بہ سینہ چلے آتے ہیں۔\n\nمسز ڈی سلوا چونکہ مسز ڈی کوسٹا کی ہم مذہب تھی، اس لیے اس کی بہت سی کمزوریاں اس کو معلوم تھیں۔ مثلاً وہ جانتی تھی کہ اس کی شادی کرسمس میں ہوئی اور بچہ جولائی میں پیدا ہوا۔ جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ اس کی شادی بہت پہلے ہو چکی تھی۔ اس کو یہ بھی معلوم تھا کہ مسز ڈی سلوا ناچ گھروں میں جاتی ہے اور یوں بہت سا روپیہ کماتی ہے۔ اور یہ کہ وہ اب اتنی خوبصورت نہیں رہی جتنی کہ پہلے تھی چنانچہ اس کی آمدنی بھی پہلے کی نسبت کم ہوگئی ہے۔\n\nہمارے سامنے جو یہودی رہتے تھے، ان کے متعلق مسز ڈی سلوا کے مختلف بیان تھے۔ کبھی وہ کہتی تھی کہ موٹی موذیل جورات کو دیر سے گھر آتی ہے، سٹہ کھیلتی ہے اور وہ ٹھنگنا سا بڈھا جو اپنی پتلون کے گیلسوں میں انگوٹھے اٹکائے اور کوٹ کاندھے پر رکھے صبح گھر سے نکل جاتا ہے اور شام کو لوٹتا ہے، موذیل کا پرانا دوست ہے۔ اس بڈھے کے متعلق اس نے کھوج لگا کر معلوم کیا تھا کہ صابن بناتا ہے جس میں سجی بہت زیادہ ہوتی ہے۔\n\nایک دن اس نے ہمیں بتایا کہ موذیل نے اپنی لڑکی کی، جو بہت خوصورت تھی اور ہر روز نیلے رنگ کا ’’جم‘‘ پہن کر اسکول جاتی تھی، اس آدمی سے منگنی کررکھی ہے جو ہر روز ایک پارسی کو موٹر میں لے کر آتا ہے۔ اس پارسی کے متعلق میں اتنا جانتی ہوں کہ اس کی موٹر ہمیشہ نیچے کھڑی رہتی تھی اور وہ موذیل کی لڑکی کے منگیتر سمیت رات وہیں بسر کرتا تھا۔ مسز ڈی کوسٹا کا بیان یہ تھا کہ موذیل کی لڑکی فلوری فلوری کا منگیتر پارسی کا موٹر ڈرائیور ہے اور یہ پارسی اپنے موٹر ڈرائیور کی بہن للی کا عاشق ہے جو اپنی چھوٹی بہن وائلٹ سمیت اسی فلیٹ میں رہتی تھی۔ وائلٹ کے متعلق مسز ڈی کوسٹا کی رائے بہت خراب تھی۔ وہ کہا کرتی تھی کہ یہ لونڈیا جو ہر وقت ایک ننھے سے بچے کو اٹھائے رہتی ہے، بہت برے کیریکٹر کی ہے، اور اس ننھے سے بچے کے متعلق اس نے ایک دن ہمیں یہ خبر سنائی تھی، اور جیسا کہ مشہور کیا گیا ہے، وہ کسی پارسن کا لاوارث بچہ نہیں بلکہ خود وائلٹ کی بہن للّی کا ہے۔ بس مجھے اتنا ہی یاد رہا ہے کیونکہ جو شجرہ مسز ڈی کوسٹا نے تیار کیا تھا اتنا لمبا ہے کہ شاید ہی کسی کو یاد رہ سکے۔\n\nصرف آس پاس کی عورتوں اور پڑوس کے مردوں تک مسز ڈی کوسٹا کی معلومات محدود نہیں تھیں۔ اسے دوسرے محلے کے لوگوں کے متعلق بھی بہت سی باتیں معلوم تھیں۔ چنانچہ جب وہ اپنے سوجے ہوئے پیر کا علاج کرنے کی غرض سے باہر جاتی تو گھرلوٹتے ہوئے دوسرے محلوں کی بہت سی خبریں لاتی تھی۔\n\nایک روز جب مسز ڈی کوسٹا میرے بچے کی پیدائش کا انتظار کرکر کے تھک ہار چکی تھی، میں نے اسے باہر پھاٹک کے پاس اپنے دو بڑے لڑکوں، ایک لڑکی اور پڑوسن کی دو عورتوں کے ساتھ باتوں میں مصروف دیکھا۔ یہ خیال کرکے جی ہی جی میں بہت کڑھی کہ میرے بچے کے لیٹ ہو جانے کے متعلق باتیں کررہی ہوگی۔ چنانچہ جب اس نے گھر کا رخ کیا تو میں جنگلے سے پرے ہٹ گئی۔ مگر اس نے مجھے دیکھ لیا تھا۔ سیدھی اوپر چلی آئی۔ میں نے دروازہ کھول کر باہر بالکنی ہی میں مونڈھے پر بٹھا دیا۔ مونڈھے پر بیٹھتے ہی اس نے بمبئی کی اردو اور گرائمر سے بے نیاز انگریزی میں کہنا شروع کیا، ’’تم نے کچھ سنا۔۔۔؟ مہاتما گاندھی نے کیا کیا۔۔۔؟ سالی کانگریس ایک نیا قانون پاس کرنا مانگتی ہے۔ میرا فریڈرک خبر لایا ہے کہ بمبئی میں پروہبیشن ہو جائے گی۔۔۔ تم سمجھتا ہے پروہبیشن کیا ہوتی ہے؟‘‘\n\nمیں نے لاعلمی کا اظہار کیا کیونکہ جتنی انگریزی مجھے آتی تھی اس میں پروہبیشن کا لفظ نہیں تھا۔ اس پر مسز ڈی کوسٹا نے کہا، ’’پروہبیشن شراب بند کرنے کو کہتے ہیں۔۔۔ ہم پوچھتا ہے۔ اس کانگریس کا ہم نے کیا بگاڑا ہے کہ شراب بند کرکے ہم کو تنگ کرنا مانگٹی ہے۔۔۔ یہ کیسی گورنمنٹ ہے۔ ہم کو ایسی بات ایک دم اچھی نہیں لگٹی۔ ہمارا تہوار کیسے چلے گا۔ ہم کیا کرے گا۔ وسکی ہمارے تہواروں میں ہونا ہی مانگٹا ہے۔۔۔ تم سمجھتی ہونا؟ کرسمس کیسے ہوگا۔۔۔؟ کرسچین لوگ تو اس لاء کو نہیں مانے گا۔ کیسے مان سکتا ہے۔۔۔ میرے گھر میں چوبیس کلاک (گھنٹے) برانڈی کی ضرورت رہتی ہے۔ یہ لاء پاس ہوگیا تو کیسے کام چلے گا۔۔۔ یہ سب کچھ گانڈھی کررہا ہے۔۔۔ گانڈھی جو محمڈن لوگ کا ایک دم بَیری ہے۔۔۔ سالا آپ تو پیتا نہیں اور دوسروں کو پینے سے روکتا ہے اور تمہیں مالوم ہے یہ ہم لوگوں کا میرا مطلب ہے گورنمنٹ کا بہت بڑا اینی می (دشمن) ہے۔۔۔‘‘\n\nاس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انگلستان کا سارا ٹاپو مسز ڈی کوسٹا کے اندرسما گیا ہے۔ وہ گوا کی رہنے والی کالے رنگ کی کرسچین عورت تھی۔ مگر جب اس نے یہ باتیں کیں تو میرے تصور نے اس پر سفید چمڑی منڈھ دی۔ چند لمحات کے لیے وہ یورپ سے آئی ہوئی تازہ تازہ انگریز عورت دکھائی دی جسے ہندوستان اور اس کے مہاتما جی سے کوئی واسطہ نہ ہو۔\n\nسمندر کے پانی سے نمک بنانے کی تحریک مہاتما گاندھی نے شروع کی تھی۔ چرخہ چلانا اور کھادی پہننا بھی اسی نے لوگوں کو سکھایا تھا۔ اسی قسم کی اور بہت سی اوٹ پٹانگ باتیں وہ کر چکا تھا۔ شاید اسی لیے مسز ڈی کوسٹا نے یہ سمجھا تھا کہ بمبئی میں شراب صرف اس لیے بند کی جارہی ہے کہ ’’انگریز لوگوں‘‘ کو تکلیف ہو۔۔۔ وہ کانگریس اور مہاتما گاندھی کو ایک ہی چیز سمجھتی تھی۔۔۔ یعنی لنگوٹی۔ مہاتما گاندھی اور اس کی ہشت پشت پر لعنتیں بھیج کر مسز ڈی کوسٹا اصل بات کی طرف متوجہ ہوئی، ’’اور ہاں یہ تمہارا بچہ کیوں پیدا نہیں ہوتا۔ چلو میں تمہیں کسی ڈاکٹر کے پاس لے چلوں۔‘‘ میں نے اس وقت بات ٹال دی مگر مسز ڈی کوسٹا نے گھر جاتے ہوئے پھر مجھ سے کہا، ’’دیکھوتم کو کچھ ایسا ویسا بات ہوگیا۔ تو پھر ہم کو نہ بولنا۔‘‘\n\nاس سے دوسرے روز کا واقعہ ہے۔۔۔ صاحب بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے مجھے خیال آیا۔ کئی دنوں سے میں نے مسز کاظمی کو ٹیلیفون نہیں کیا۔ اس کو بھی بچے کی پیدائش کا بہت خیال ہے۔ اس وقت فرصت ہے، اور نذیر صاحب کا دفتر جو ان کے گھر کے ساتھ ہی ملحق تھا، بالکل خالی ہوگا کیونکہ چھ بج چکے تھے۔ اٹھ کر ٹیلیفون کردینا چاہیے۔ یوں سیڑھیاں اترنے اور چڑھنے سے ڈاکٹر صاحب اور تجربہ کار عورتوں کے مشورہ پر عمل بھی ہوجائے گا، جو یہ تھا کہ چلنے پھرنے سے بچہ آسانی کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ میں اپنے پیدا ہونے والے بچے سمیت اٹھی اور آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ جب پہلی منزل پر پہنچی تو مجھے نرس ڈی کوسٹا کا بورڈ نظر آیا اور پیشتر اس کے کہ میں اس کے فلیٹ کے دروازے سے گزر کر دوسری منزل کے پہلے زینے پر قدم رکھوں، مسز ڈی کوسٹا باہر نکل آئی اور مجھے اپنے گھر لے گئی۔\n\nمیرا دم پھولا ہوا تھا اور پیٹ میں اینٹھن سی پیدا ہوگئی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ربڑ کی گیند ہے جو کہیں اٹک گئی ہے۔ اس سے بڑی الجھن ہورہی تھی۔ میں نے ایک بار اس تکلیف کا ذکر اپنی ساس سے کیا تھا تو اس نے مجھے بتایا تھا کہ بچے کی ٹانگ وانگ ادھر ادھر پھنس جایا کرتی ہے۔ چنانچہ یہ ٹانگ وانگ ہی ہلنے جلنے سے کہیں پھنس گئی تھی جس کے باعث مجھے بڑی تکلیف ہورہی تھی۔\n\nمیں نے مسز ڈی کوسٹا سے کہا، مجھے ایک ضروری ٹیلیفون کرنا ہے اس لیے میں آپ کے یہاں نہیں بیٹھ سکتی۔ اور بہت سے جھوٹے بہانے پیش کیے مگر وہ نہ مانی اور میرا بازو پکڑ کر اس نے زبردستی مجھے اس صوفے پر بٹھا دیا جس کا کپڑا بہت میلا ہورہا تھا۔مجھے صوفے پر بٹھا کر جلدی جلدی اس نے دوسرے کمرے سے اپنے دو چھوٹے لڑکوں کو باہر نکالا۔ اپنی کنواری جوان لڑکی کو بھی جو مہاتما گاندھی کی لنگوٹی سے کچھ بڑی نیکر پہنتی تھی، اس نے باہر بھیج دیا اور مجھے خالی کمرے میں لے گئی۔ اندر سے دروازہ بند کرکے اس نے میری طرف اس افریقی جادوگر کی طرح دیکھا جس نے الٰہ دین کا چچا بن کر اسے غار میں بند کردیا تھا۔\n\nیہ سب کچھ اس نے اس پھرتی سے کیا کہ مجھے وہ بہت پراسرار دکھائی دی۔ سوجے ہوئے پیر کے باعث اس کی چال میں خفیف سا لنگڑا پن پیدا ہوگیا تھا، جو مجھے اس وقت بہت بھیانک دکھائی دیا۔میری طرف گھور کر دیکھنے کے بعد اس نے ادھر دیوار کی تینوں کھڑکیاں بند کیں۔ ہر کھڑکی کی چٹخی چڑھا کر اس نے میری طرف اس انداز سے دیکھا گویا اسے اس بات کا ڈر ہے کہ میں اٹھ بھاگوں گی۔\n\nایمان کی کہوں، اس وقت میرا یہی جی چاہتا تھا کہ دروازہ کھول کر بھاگ جاؤں۔ اس کی خاموشی اور اس کے کھڑکیاں، دروازے بند کرنے سے میں بہت پریشان ہو گئی تھی۔ آخر اس کا مطلب کیا تھا۔۔۔؟ وہ چاہتی کیا تھی، اتنے زبردست تخلیے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔؟ اور پھر۔۔۔ وہ لاکھ پڑوسن تھی۔ اس کے ہم پر کئی احسان بھی تھے لیکن آخروہ تھی تو ایک غیر عورت اور اس کے بیٹے۔۔۔ وہ موا فوجی، اور وہ کلف لگی پتلون و الا جو چھوٹی چھوٹی کرسچین لڑکیوں سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا۔۔۔ اپنے اپنے ہوتے ہیں۔ پرائے پرائے۔ میں کئی عشقیہ ناولوں میں کٹنیوں کا حال پڑھ چکی تھی۔ جس انداز سے وہ ادھر ادھر چل پھر رہی تھی اور دروازے بند کرکے پردے کھینچ رہی تھی،اس سے میں نے یہی نتیجہ اخذ کیا تھا کہ وہ نرس ورس بالکل نہیں بلکہ بہت بڑی کٹنی ہے۔ کھڑکیاں اور دروازے بند ہونے کے باعث کمرے میں جس کے اندر لوہے کے چار پلنگ پڑے تھے، کافی اندھیرا ہوگیا تھا جس سے مجھے اور بھی وحشت ہوئی۔ مگر اس نے فوراً ہی بٹن دبا کر روشنی کردی۔\n\nسمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ میرے ساتھ کیا کرے گی۔ پراسرار طریقے پر اس نے آتش دان سے ایک بوتل اٹھائی جس میں سفید رنگ کا سیّال مادہ تھا اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگی، ’’اپنا بلاؤز اتارو۔۔۔ میں کچھ دیکھنا مانگٹی ہوں۔‘‘ میں گھبرا گئی، ’’کیا دیکھنا چاہتی ہو؟‘‘ اوپر سے سب کچھ نظر آرہا تھا، پھر بلاؤز اتروانے کا کیا مطلب تھا۔ اور اسے کیا حق حاصل تھا کہ وہ دوسری عورتوں کو یوں گھر کے اندر بلا کربلاؤز اتروانے پر مجبور کرے۔ میں نے صاف صاف کہہ دیا، ’’مسز ڈی کوسٹا میں بلاؤز ہرگز ہرگز نہیں اتاروں گی۔‘‘ میرے لہجے میں گھبراہٹ کے علاوہ تیزی بھی تھی۔\n\nمسز ڈی کوسٹا کا رنگ زرد پڑ گیا، ’’تو۔۔۔تو۔۔۔ پھر ہم کو مالوم کیسے پڑے گا کہ تمہارے گھر بچہ کب ہوگا۔۔۔اس بوتل میں کھوپرے کا تیل ہے۔ یہ ہم تمہارے پیٹ پر گرا کر دیکھے گا۔۔۔ اس سے ایک دم مالوم ہو جائے گا کہ بچہ کب ہوگا۔۔۔ لڑکی ہوگی یا لڑکا۔‘‘ میری گھبراہٹ دور ہوگئی۔ ڈی کوسٹا پھر مجھے مسز ڈی کوسٹا نظر آنے لگی۔\n\nکھوپرے کا تیل بڑی بے ضرر چیز ہے۔ پیٹ پر اگر اس کی پوری بوتل بھی الٹ دی جاتی تو کیا ہرج تھا، اور پھر ترکیب کتنی دلچسپ تھی۔ اس کے علاوہ اگرمیں نہ مانتی تو مسز ڈی کوسٹا کو کتنی بڑی ناامیدی کا سامنا کرنا پڑتا۔ مجھے ویسے بھی کسی کی دل شکنی منظور نہیں ہوتی۔ چنانچہ میں مان گئی۔۔۔ بلاؤز اور قمیص اتارنے میں مجھے کافی کوفت ہوئی مگر میں نے برداشت کرلی۔غیر عورت کی موجودگی میں جب میں نے اپنا پھولا ہوا پیٹ دیکھا جس کے نچلے حصے پر اس طرح کے لال لال نشان بنے ہوئے تھے، جیسے ریشمی کپڑے میں چُرسیں پڑ جائیں تو مجھے ایک عجیب قسم کا حجاب محسوس ہوا۔ میں نے چاہا کہ فوراً کپڑے پہن لوں اور وہاں سے چل دوں لیکن مسز ڈی کوسٹا کا وہ ہاتھ جس میں کھوپرے کے تیل کی بوتل تھی ،اٹھ چکا تھا۔\n\nمیرے پیٹ پر ٹھنڈے ٹھنڈے تیل کی ایک لکیر دوڑ گئی۔ مسز ڈی کوسٹا خوش ہوگئی۔ میں نے جب کپڑے پہن لیے تو اس نے مطمئن لہجہ میں کہا، ’’آج کیا ڈیٹ ہے؟ اگیارہ (گیارہ) بس پندرہ کو بچہ ہو جائے گا اور لڑکا ہوگا۔‘‘\n\nبچہ۲۵ تاریخ کو ہوا لیکن تھا لڑکا۔ اب جب کبھی وہ میرے پیٹ پر اپنے ننھے ننھے ہاتھ رکھتا ہے تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسز ڈی کوسٹا نے کھوپرے کے تیل کی ساری بوتل انڈیل دی ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%B2_%DA%88%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%B3%D9%B9%D8%A7"} {"title": "مسعود مرحوم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "یہ مہر و مہ، یہ ستارے یہ آسمانِ کبود\nکسے خبر کہ یہ عالم عدَم ہے یا کہ وجود\nخیالِ جادہ و منزل فسانہ و افسوں\nکہ زندگی ہے سراپا رحیلِ بے مقصود\nرہی نہ آہ، زمانے کے ہاتھ سے باقی\nوہ یادگارِ کمالاتِ احمد و محمود\nزوالِ علم و ہُنر مرگِ ناگہاں اُس کی\nوہ کارواں کا متاعِ گراں بہا مسعود!\nمجھے رُلاتی ہے اہلِ جہاں کی بیدردی\nفغانِ مُرغِ سحَر خواں کو جانتے ہیں سرود\nنہ کہہ کہ صبر میں پِنہاں ہے چارۂ غمِ دوست\nنہ کہہ کہ صبر معمّائے موت کی ہے کشود\n“دلے کہ عاشق و صابر بود مگر سنگ است\nز عشق تا بہ صبوری ہزار فرسنگ است”\n(سعدؔیؒ)\n\nنہ مجھ سے پُوچھ کہ عمرِ گریز پا کیا ہے\nکسے خبر کہ یہ نیرنگ و سیمیا کیا ہے\nہُوا جو خاک سے پیدا، وہ خاک میں مستور\nمگر یہ غَیبتِ صغریٰ ہے یا فنا، کیا ہے!\nغبار راہ کو بخشا گیا ہے ذوقِ جمال\nخِرد بتا نہیں سکتی کہ مُدّعا کیا ہے\nدِل و نظر بھی اسی آب و گِل کے ہیں اعجاز\nنہیں تو حضرتِ انساں کی انتہا کیا ہے؟\nجہاں کی رُوحِ رواں ’لا اِلٰہَ اِلّا ھُوْ،\nمسیح و میخ و چلیپا، یہ ماجرا کیا ہے!\nقصاص خُونِ تمنّا کا مانگیے کس سے\nگُناہ گار ہے کون، اور خُوں بہا کیا ہے\nغمیں مشو کہ بہ بندِ جہاں گرفتاریم\nطلسم ہا شکنَد آں دلے کہ ما داریم\n\nخودی ہے زندہ تو ہے موت اک مقامِ حیات\nکہ عشق موت سے کرتا ہے امتحانِ ثبات\nخودی ہے زندہ تو دریا ہے بے کرانہ ترا\nترے فراق میں مُضطر ہے موجِ نیل و فرات\nخودی ہے مُردہ تو مانندِ کاہ پیشِ نسیم\nخودی ہے زندہ تو سلطانِ جملہ موجودات\nنگاہ ایک تجلّی سے ہے اگر محروم\nدو صد ہزار تجلّی تلافیِ مافات\nمقام بندۂ مومن کا ہے ورائے سپہر\nزمیں سے تا بہ ثُریّا تمام لات و منات\nحریمِ ذات ہے اس کا نشیمنِ ابدی\nنہ تِیرہ خاکِ لحدَ ہے، نہ جلوہ گاہِ صفات\nخود آگہاں کہ ازیں خاک داں بروں جَستند\nطلسمِ مہر و سِپہر و ستارہ بشکستند", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF_%D9%85%D8%B1%D8%AD%D9%88%D9%85"} {"title": "مسلخ عشق میں کھنچتی ہے خوش اقبال کی کھال", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مسلخ عشق میں کھنچتی ہے خوش اقبال کی کھال\nبھیڑ بکری سے ہے کم قدر بد اعمال کی کھال\n\nجس کی بوسے کے تصور سے چھلے گال کی کھال\nتاب کیا لاوے عرق پونچھتے رومال کی کھال\n\nنقش اس کا بھی کیا دور فلک نے باطل\nتھی جو کاوے کے علم سے بندھی اقبال کی کھال\n\nنہیں قصاب اجل سے کوئی بے غم ہرگز\nپوستیں چھینے یہ منعم کی تو کنگال کی کھال\n\nتن دہی جب نہ کریں کام میں استاد کے یہ\nقمچیوں سے نہ ادھیڑے وہ پھر اطفال کی کھال\n\nبند رومی ہے سمور اس کے پہ کام آں روزوں\nدیکھنے میں کبھی آئی نہ تھی اس جال کی کھال\n\nبد گمانی نہ ہو کیوں تب کے گئے پر افزوں\nدیکھ اکھڑے لب معشوق کے تبخال کی کھال\n\nمالک الملک نصاریٰ ہوئے کلکتے کے\nیہ تو نکلی عجب اک وضع کی جنجال کی کھال\n\nجھریاں کیوں نہ پڑیں عمر فزوں میں منہ پر\nتن پہ جب لائے شکن پیر کہن سال کی کھال\n\nشمسؔ تبریز نے مردے کو کیا تھا زندہ\nشرع نے کھینچی عبث ایسے خوش اعمال کی کھال\n\nکام از بس کہ زمانے کا ہوا ہے برعکس\nچور کھنچوائے ہے اس عہد میں کوتوال کی کھال\n\nنفس گرم سے لیتا ہے وہ اکسیر بنا\nدھونکنی دم کی ہے شاعر کے زر و مال کی کھال\n\nاتنے بے کار نہیں جانور آبی بھی\nدستانوں کے تو کام آتی ہے گھڑیال کی کھال\n\nفکر میں موئے کمر کی ترے حیران رہے\nوہی دقاق جو کھینچے ہے سدا بال کی کھال\n\nاتنا مقدور مجھے دیجو تو اے مہدیٔ دیں\nمارے کوڑوں کے اڑا دوں خر دجال کی کھال\n\nداغ دل چھن گیا یوں سوزن مژگاں سے تری\nجس طرح ہووے مشبک کسی غربال کی کھال\n\nنہیں بے وجہ گرفتاریٔ درویش اس میں\nآہو و شیر کی ہوتی ہے عجب حال کی کھال\n\nجس کے ہر دانے سے اک قطرۂ خوں ٹپکے ہے\nہے منڈھی میان پہ قاتل کے عجب حال کی کھال\n\nتن کو پیری میں ریاضت سے دباغی کر دوں\nمصحفیؔ چرسے کا چرسا ہے یہ اور کھال کی کھال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D9%84%D8%AE_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D9%86%DA%86%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D9%84"} {"title": "مسلم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ہر نفَس اقبالؔ تیرا آہ میں مستور ہے\nسینۂ سوزاں ترا فریاد سے معمور ہے\nنغمۂ اُمّید تیری بربطِ دل میں نہیں\nہم سمجھتے ہیں یہ لیلیٰ تیرے محمل میں نہیں\nگوش آوازِ سرودِ رفتہ کا جویا ترا\nاور دل ہنگامۂ حاضر سے بے پروا ترا\nقصّۂ گُل ہم نوایانِ چمن سُنتے نہیں\nاہلِ محفل تیرا پیغامِ کُہن سُنتے نہیں\nاے درائے کاروانِ خُفتہ پا! خاموش رہ\nہے بہت یاس آفریں تیری صدا خاموش رہ\nزندہ پھر وہ محفلِ دیرینہ ہو سکتی نہیں\nشمع سے روشن شبِ دوشینہ ہوسکتی نہیں\n\nہم نشیں! مسلم ہوں مَیں، توحید کا حامل ہوں مَیں\nاس صداقت پر ازل سے شاہدِ عادل ہوں مَیں\nنبضِ موجودات میں پیدا حرارت اس سے ہے\nاور مسلم کے تخیّل میں جسارت اس سے ہے\nحق نے عالم اس صداقت کے لیے پیدا کیا\nاور مجھے اس کی حفاظت کے لیے پیدا کیا\nدہر میں غارت گرِ باطل پرستی مَیں ہُوا\nحق تو یہ ہے حافظِ ناموسِ ہستی مَیں ہُوا\nمیری ہستی پیرہن عُریانیِ عالم کی ہے\nمیرے مِٹ جانے سے رُسوائی بنی آدم کی ہے\nقسمتِ عالم کا مسلم کوکبِ تابندہ ہے\nجس کی تابانی سے افسونِ سحَر شرمندہ ہے\nآشکارا ہیں مری آنکھوں پہ اسرارِ حیات\nکہہ نہیں سکتے مجھے نومیدِ پیکارِ حیات\nکب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھے\nہے بھروسا اپنی ملّت کے مقّدر پر مجھے\nیاس کے عُنصر سے ہے آزاد میرا روزگار\nفتحِ کامل کی خبر دتیا ہے جوشِ کارزار\nہاں یہ سچ ہے چشم بر عہدِ کُہن رہتا ہوں مَیں\nاہلِ محفل سے پُرانی داستاں کہتا ہوں مَیں\nیادِ عہدِ رفتہ میری خاک کو اِکسیر ہے\nمیرا ماضی میرے استقبال کی تفسیر ہے\nسامنے رکھتا ہوں اُس دورِ نشاط افزا کو مَیں\nدیکھتا ہوں دوش کے آئینے میں فردا کو مَیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85"} {"title": "مسلم لیگ", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "لوگ کہتے ہیں کہ آمادۂ اصلاح ہے لیگ\nیہ اگر سچ ہے تو ہم کو بھی کوئی جنگ نہیں\nصیغۂ راز سے کچھ کچھ یہ بھنک آتی ہے\nکہ ہم آہنگئ احباب سے اب ننگ نہیں\nفرق اتنا تو بظاہر نظر آتا ہے ضرور\nاب خوشامد کا ہر اک بات میں وہ رنگ نہیں\nعرض مطلب میں زباں کچھ تو ہے کھلتی جاتی\nگرچہ اب تک بھی حریفوں سے ہم آہنگ نہیں\nوہ بھی اب نقد حکومت کو پرکھتے ہیں ضرور\nجن کو اب تک بھی تمیز گہر و سنگ نہیں\nقوم میں پھونکتے رہتے ہیں جو افسون وفا\nان کی افسانہ طرازی کا بھی وہ ڈھنگ نہیں\nوہ بھی کہتے ہیں کہ اس جنس وفا کی قیمت\nجس قدر ملتی ہے ذرہ کے بھی ہم سنگ نہیں\nآگے تھے حلقۂ تقلید میں جو لوگ اسیر\nسست رفتار تو اب بھی ہیں مگر لنگ نہیں\nآپ لبرل جو نہیں ہیں تو بلا سے نہ سہی\nیاں کسی کو طلب افسر و اورنگ نہیں\nکام کرنے کے بہت سے ہیں جو کرنا چاہیں\nاب بھی یہ دائرۂ سعی و عمل تنگ نہیں\nسال میں یہ جو تماشا سا ہوا کرتا ہے\nکام کرنے کا یہ انداز نہیں ڈھنگ نہیں\nکچھ تو نظم و نسق ملک میں بھی دیجئے دخل\nشیوۂ حق طلبی ہے یہ کوئی جنگ نہیں\nکچھ نہ کچھ نظم حکومت میں ہے اصلاح ضرور\nہم نہ مانیں گے کہ اس آئینہ میں زنگ نہیں\nکم سے کم حاکم اضلاع تو ہوں اہل وطن\nکیا ہزاروں میں کوئی صاحب فرہنگ نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85_%D9%84%DB%8C%DA%AF"} {"title": "مسلمان اور تعلیمِ جدید", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "مُرشد کی یہ تعلیم تھی اے مسلمِ شوریدہ سر\nلازم ہے رہرو کے لیے دُنیا میں سامانِ سفر\n\nبدلی زمانے کی ہوا، ایسا تغیّر آگیا\nتھے جو گراں قیمت کبھی، اب ہیں متاعِ کس مخر\n\nوہ شُعلۂ روشن ترا، ظُلمت گریزاں جس سے تھی\nگھَٹ کر ہُوا مثلِ شرر تارے سے بھی کم نُور تر\n\nشیدائیِ غائب نہ رہ، دیوانۂ موجود ہو\nغالب ہے اب اقوام پر معبودِ حاضر کا اثر\n\nممکن نہیں اس باغ میں کوشِش ہو بارآور تری\nفرسُودہ ہے پھندا ترا، زِیرک ہے مُرغِ تیز پر\n\nاس دَور میں تعلیم ہے امراضِ مِلّت کی دوا\nہے خُونِ فاسد کے لیے تعلیم مثلِ نیشتر\n\nرہبر کے ایما سے ہُوا تعلیم کا سودا مجھے\nواجب ہے صحراگرد پر تعمیل فرمانِ خضَر\n\nلیکن نگاہِ نُکتہ‌بیں دیکھے زبُوں بختی مری\n“رفتم کہ خار از پا کشم، محمل نہاں شد از نظر\nیک لحظ غافل گشتم و صد سالہ را ہم دُور شد”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85%D9%90_%D8%AC%D8%AF%DB%8C%D8%AF"} {"title": "مسلمان کا زوال", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اگرچہ زر بھی جہاں میں ہے قاضی الحاجات\nجو فقر سے ہے مَیّسر، تونگری سے نہیں\nاگر جواں ہوں مری قوم کے جسوُر و غیور\nقلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں\nسبب کچھ اور ہے، تُو جس کو خود سمجھتا ہے\nزوال بندۂ مومن کا بے زری سے نہیں\nاگر جہاں میں مرا جوہر آشکار ہُوا\nقلندری سے ہُوا ہے، تو نگری سے نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%B2%D9%88%D8%A7%D9%84"} {"title": "مسلمانوں کے میلوں کا ہوا قل", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "مسلمانوں کے میلوں کا ہوا قل\nپجے ہے جوگ مایا اور دیبی\nنشاں باقی نہیں ہے سلطنت کا\nمگر ہاں نام کو اورنگ زیبی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%82%D9%84"} {"title": "مسلماں کے لہُو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "مسلماں کے لہُو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا\nمرّوت حُسنِ عالم‌گیر ہے مردانِ غازی کا\n\nشکایت ہے مجھے یا رب! خداوندانِ مکتب سے\nسبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا\n\nبہت مدّت کے نخچیروں کا اندازِ نگہ بدلا\nکہ مَیں نے فاش کر ڈالا طریقہ شاہبازی کا\n\nقلندر جُز دو حرفِ لااِلہ کچھ بھی نہیں رکھتا\nفقیہِ شہر قاروں ہے لُغَت ہائے حجازی کا\n\nحدیثِ بادہ و مینا و جام آتی نہیں مجھ کو\nنہ کر خارا شگافوں سے تقاضا شیشہ سازی کا\n\nکہاں سے تُونے اے اقبالؔ سِیکھی ہے یہ درویشی\nکہ چرچا پادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%81%D9%8F%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "مسولینی (نُدرتِ فکر و عمل کیا شے ہے، ذوقِ انقلاب)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "نُدرتِ فکر و عمل کیا شے ہے، ذوقِ انقلاب\nنُدرتِ فکر و عمل کیا شے ہے، مِلّت کا شباب\nنُدرتِ فکر و عمل سے معجزاتِ زندگی\nنُدرتِ فکر و عمل سے سنگِ خارا لعلِ ناب\nرومتہ الکبریٰ! دِگرگُوں ہوگیا تیرا ضمیر\nاینکہ می بینم بہ بیدار یست یا رب یا بہ خواب!\nچشمِ پِیرانِ کُہَن میں زندگانی کا فروغ\nنوجواں تیرے ہیں سوزِ آرزو سے سِینہ تاب\nیہ محبّت کی حرارت، یہ تمنّا، یہ نمود\nفصلِ گُل میں پھُول رہ سکتے نہیں زیرِ حجاب\nنغمہ ہائے شوق سے تیری فضا معمور ہے\nزخمہ ور کا منتظر تھا تیری فطرت کا رباب\nفیض یہ کس کی نظر کا ہے، کرامت کس کی ہے؟\nوہ کہ ہے جس کی نِگہ مثلِ شُعاعِ آفتاب!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%86%DB%8C_%28%D9%86%D9%8F%D8%AF%D8%B1%D8%AA%D9%90_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D9%88_%D8%B9%D9%85%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%DB%92_%DB%81%DB%92%D8%8C_%D8%B0%D9%88%D9%82%D9%90_%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8%29"} {"title": "مسولینی (کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!\nبے محل بِگڑا ہے معصومانِ یورپ کا مزاج\nمَیں پھٹکتا ہُوں تو چھَلنی کو بُرا لگتا ہے کیوں\nہیں سبھی تہذیب کے اوزار! تُو چھَلنی، مَیں چھاج\nمیرے سودائے مُلوکیّت کو ٹھُکراتے ہو تم\nتم نے کیا توڑے نہیں کمزور قوموں کے زُجاج؟\nیہ عجائب شعبدے کس کی مُلوکیّت کے ہیں\nراجدھانی ہے، مگر باقی نہ راجا ہے نہ راج\nآلِ سِیزر چوبِ نَے کی آبیاری میں رہے\nاور تم دُنیا کے بنجر بھی نہ چھوڑو بے خراج!\nتم نے لُوٹے بے نوا صحرا نشینوں کے خیام\nتم نے لُوٹی کِشتِ دہقاں، تم نے لُوٹے تخت و تاج\nپردۂ تہذیب میں غارت گری، آدم کُشی\nکل رَوا رکھّی تھی تم نے، مَیں رَوا رکھتا ہوں آج!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%86%DB%8C_%28%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%B1%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B3%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%8F%D8%B1%D9%85%29"} {"title": "مسٹر حمیدہ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بغیر اجازت", "year": "1955", "text_ur": "رشید نے پہلی مرتبہ اس کو بس اسٹینڈ پر دیکھا، جہاں وہ شیڈ کے نیچے کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی۔ رشید نے جب اسے دیکھا تو وہ ایک لحظے کے لیے حیرت میں گم ہوگیا۔ اس سے قبل اس نے کوئی ایسی لڑکی نہیں دیکھی تھی جس کے چہرے پر مردوں کی مانند داڑھی اور مونچھیں ہوں۔\n\nپہلے رشید نے سوچا کہ شاید اس کی نگاہوں نے غلطی کی ہے۔ عورت کے چہرے پر بال کیسے اگ سکتے ہیں۔ پر جب اس نے غور سے دیکھا تو اس لڑکی نے باقاعدہ شیو کر رکھی تھی اور سر مئی غبار اس کے گالوں اور ہونٹوں پر موجود تھا۔\n\nرشید نے سمجھا کہ شاید ہیجڑا ہو، مگر نہیں۔۔۔وہ ہیجڑا نہیں تھی۔ اس لیے کہ اس میں ہیجڑوں کی سی مصنوعی نسوانیت کے کوئی آثار نہیں تھے۔ وہ مکمل عورت تھی ۔۔۔ناک نقشہ بہت اچھا تھا۔۔۔ کولہے چوڑے چکلے۔۔۔ کمر پتلی۔۔۔ سینہ جوانی سے بھرپور۔۔۔ بازو سڈول، غرضیکہ اس کے جسم کا ہر عضو اپنی جگہ پر نسوانیت کا عمدہ نمونہ تھا۔\n\nایک صرف اس کی داڑھی اور مونچھوں نے سب کچھ غارت کر دیا تھا۔ رشید سوچنے لگا۔۔۔ قدرت کی یہ کیا ستم ظریفی ہے کہ ایک اچھی بھلی نوجوان خوبصورت لڑکی کو بد نما بنا دیا۔ رشید کے دماغ میں کئی خیال اوپر تلے آئے اور وہ بوکھلا گیا۔ وہ سوچتا تھا:\n\n’’کیا اس لڑکی کی زندگی اجیرن ہو کے نہیں رہ گئی!‘‘\n\n’’صبح اٹھ کر جب اسے استرا پکڑ کر شیو کرنا پڑتی ہوگی تو اسے کیا محسوس ہوتا ہوگا۔۔۔ کیا اس وقت اس کے جی میں جھنجھلا کر انتقامی خواہش پیدا نہ ہوتی ہوگی کہ وہ گھس کھدے کی طرح اپنے گال اور ہونٹ چھیل ڈالے۔‘‘\n\n’’ایک عورت کے لیے یہ کتنا بڑا عذاب ہے کہ خارپشت کی مانند اس کے گالوں پر دوسرے روز نکیلے بال اگ آئیں۔‘‘\n\n’’اگر مردوں کے مانند عورتوں کے بھی داڑھی مونچھ اگتی تو کوئی ہرج نہیں تھا پر یہاں ازل سے عورتیں ان بالوں سے بے نیاز ہی رہی ہیں۔‘‘\n\n’’جہاں تک میں سمجھتا ہوں، عورتوں کے چہرے پر بالوں کا ہونا کوئی معیوب چیز نہیں ،لیکن مصیبت تو یہ ہے کہ ہم لوگ یہ دیکھنے کے عادی نہیں۔‘‘\n\n’’صنف نازک، آخر صنفِ نازک ہے، اس میں شک نہیں۔ اس لڑکی میں نسوانیت کے تمام جوہر موجود ہیں، پھر یہ داڑھی مونچھ کس لیے اگ آئی ہے۔۔۔ نظر بٹو کے طور پر۔۔۔ اس کی کوئی تشریح و توضیح تو ہونی چاہیے، بیکار میں ایک خوبصورت شے کو بھونڈا بنا دیا، یہ کہاں کی شرافت ہے۔‘‘\n\n’’اب ایسی لڑکی سے شادی کون کرے گا جو ہر روز صبح سویرے اٹھ کر، استرا ہاتھ میں پکڑ کر شیو کر رہی ہو۔‘‘\n\n’’یہ لڑکی مونچھیں نہ مونڈے اور انہیں بڑھا لے۔۔۔ تو کیا اس سے خوف نہیں آئے گا۔۔۔ آپ بے ہوش نہ ہوں،لیکن چند لمحات کےلیے آپ کے ہوش و حواس ضرور جواب دے جائیں گے۔۔۔ آپ اپنے ہونٹوں پر انگلیاں پھیریں گے جہاں مونچھیں منڈی ہوں گی۔۔۔ مگر آپ کی صنف مقابل اپنی مونچھوں کو تاؤ دے رہی ہوگی۔‘‘\n\nبس آگئی۔۔۔ وہ لڑکی اس میں سوار ہو کر چلی گئی۔ رشید کو بھی اسی بس سے جانا تھا لیکن وہ اپنے خیالوں میں اس قدر غرق تھا کہ اس کو بس کی آمد کا پتہ چلانہ اس کے جانے کا۔\n\nتھوڑی دیر کے بعد جب وہ لڑکی کو ایک نظر اور دیکھنے کے لیے پلٹا تو وہ موجود نہیں تھی ۔ اس کا ذہن اس قدر مضطرب تھا کہ اس نے اپنا کام ملتوی کر دیا اور گھر چلا آیا۔ اپنے کمرے میں بستر پر لیٹ کر اس نے مزید سوچ بچار شروع کر دی۔ اس کو اس لڑکی پر بہت ترس آرہا تھا، بار بار قدرت کی بے رحمی پر لعنتیں بھیجتا تھا کہ اس نے کیوں نسوانیت کے اتنے اچھے اور خوبصورت نمونے کو خود ہی بنا کر اس پر سیاہی کا لیپ کر دیا، آخر اس میں کیا مصلحت تھی، اب اس شکل میں اس سے شادی کون کرے گا، قدرت نے کیا اس کے لیے کوئی ایسا مرد پیدا کر رکھا ہے جو اسے قبول کرلے گا لیکن وہ سوچتا کہ قدرت اتنی دور اندیش نہیں ہوسکتی۔‘‘\n\nاس کی بہن آئی۔۔۔ دوپہر ہو چکی تھی۔۔۔ اس نے رشید سے کہا، ’’بھائی جان۔۔۔ چلیے کھانا کھا لیجیے۔‘‘رشید نے اس کی طرف غور سے دیکھا اور اس کو یوں محسوس ہوا کہ اس کے چہرے پر بھی بال ہیں۔\n\n’’سلیمہ!‘‘\n\n’’جی!‘‘\n\n’’کچھ نہیں۔۔۔ لیکن نہیں ٹھہرو۔۔۔ کیا تمہاری مونچھیں ہیں؟‘‘\n\nسلیمہ جھینپ گئی۔\n\n’’جی ہاں۔۔۔ بال اگتے ہیں۔‘‘\n\nرشید نے اس سے پوچھا، ’’تو۔۔۔ میرا مطلب ہے تمہیں الجھن نہیں ہوتی ان بالوں سے؟‘‘ سلیمہ نے اور زیادہ جھینپ کر جواب دیا، ’’ہوتی ہے بھائی جان۔‘‘\n\n’’تو انہیں تم کیسے صاف کرتی ہو۔۔۔ بلیڈ سے؟‘‘\n\n’’جی نہیں۔۔۔ ایک چیز ہے جسے بے بی ٹچ کہتے ہیں۔۔۔ اس کو تھوڑی دیر ہونٹوں پر گھسنا پڑتا ہے۔‘‘\n\n’’تو بال اڑ جاتے ہیں؟‘‘\n\n’’اڑتے وڑتے خاک بھی نہیں، دوسرے تیسرے روز پھر نمودار ہو جاتے ہیں بڑی مصیبت ہے۔ بعض اوقات تو آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔‘‘\n\n’’وہ کیوں؟‘‘\n\nسلیمہ نے دردناک لہجہ میں جواب دیا،’’تکلیف ہوتی ہے بہت، جب بال اکھڑتے ہیں تو چھینکیں آتی ہیں اور چھینکوں کے ساتھ آنکھوں میں پانی اتر آتا ہے۔۔۔ معلوم نہیں اللہ میاں مجھے کن گناہوں کی سزا دے رہا ہے۔‘‘\n\nرشید نے تھوڑے توقف کے بعد اپنی بہن سے پوچھا، ’’تمہاری کسی اور سہیلی کی بھی داڑھی اور مونچھیں ہیں؟‘‘\n\n’’مونچھیں تو کئی لڑکیوں کی دیکھی ہیں پر داڑھی میں نے کبھی کسی عورت کے چہرے پر نہیں دیکھی، ایک دو بال ٹھوڑی پر دیکھنے میں آئے ہیں جو وہ موچنے یا ہاتھ سے اکھاڑ پھینکتی ہیں، یہ آپ نے کیسی گفتگو آج شروع کر دی، چلیے کھانا کھا لیجیے۔‘‘\n\nرشید نے کچھ دیر سوچا، ’’نہیں، میں آج کھانا نہیں کھاؤں گا، میرا معدہ ٹھیک نہیں ہے‘‘ رشید کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس نے بالوں کی پڈنگ کھائی ہے جو ہضم ہونے میں ہی نہیں آتی۔اس کے سارے جسم پر تیز تیز نکیلے بال یوں رینگ رہے تھے جیسے خاردار چیونٹیاں۔ جب سلیمہ چلی گئی تو رشید نے پھر سوچنا شروع کر دیا، لیکن سوچنے سے کیا ہوسکتا تھا، اس لڑکی کے چہرے کے بال تو دور نہیں ہوسکتے تھے۔ اس امر کا رشید کو کامل یقین تھا لیکن پھر بھی وہ سوچے چلا جارہا تھا، جیسے وہ کوئی بہت بڑا معمّا حل کررہا ہے۔\n\nرشید کو داخلے کی درخواست دینا تھی۔ اس نے بی اے کا امتحان راولپنڈی سے پاس کیا تھا۔ اب وہ چاہتا تھا کہ لاہور میں کسی کالج میں داخل ہو جائے اور ایم اے کی ڈگری حاصل کر کے اعلیٰ تعلیم کےلیے انگلستان چلا جائے جہاں اس کے والد پرائمری کونسل میں پریکٹس کرتے تھے۔\n\nاس روز مونچھوں اور داڑھی والی لڑکی کے باعث نہ جاسکا۔ دوسرے روز وہ بس کے بجائے تانگے میں گیا۔ اس نے چونکہ بی اے کا امتحان بڑے اچھے نمبروں پر پاس کیا تھا اس لیے اسے داخلے میں کوئی دِقت محسوس نہ ہوئی۔ وہ داڑھی مونچھوں والی لڑکی اب رشید کے دل و دماغ سے قریب قریب محو ہو چکی تھی ،لیکن ایک دن اس نے اس کو کالج میں دیکھا ،لڑکے اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔\n\nایک نے آوازہ کسا، مسٹر حمیدہ! ‘‘دوسرے نے کہا،’’ ایک ٹکٹ میں دو مزے ہیں۔۔۔ عورت کی عورت اور مرد کا مرد۔ ‘‘تیسرے نے قہقہہ لگایا،’’ عجائب گھر میں رکھنا چاہیے تھا ایسی شخصیت کو۔ ‘‘اور وہ بیچاری خفیف ہو رہی تھی، اس کی پیشانی پسینے سے ترتھی۔ رشید کو اس پر بہت ترس آیا۔ اس کے جی میں آئی کہ آگے بڑھ کر ان تمام لڑکوں کا سر پھوڑ دے جو اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ مگر وہ کسی مصلحت کی بنا پر خاموش رہا۔\n\nجب لڑکے چلے گئے، اور اس لڑکی نے اپنے دوپٹے سے آنکھوں میں امڈے ہوئے آنسو خشک کیے تو وہ جرأت سے کام لے کر اس کے پاس گیا اور بڑے ملائم لہجے میں اس سے مخاطب ہوا، ’’آپ یہاں کس کلاس میں پڑھتی ہیں؟‘‘\n\nاس نے تنگ آ کر کہا، ’’کیا آپ بھی میرا مذاق اڑانے آئے ہیں؟ ‘‘ رشید نے اپنا لہجہ اور ملائم کر دیا، ’’جی نہیں، آپ مجھے اپنا دوست یقین کیجیے۔‘‘ اس نے، جس کا نام حمیدہ تھا۔۔۔ نفرت کی نگاہوں سے رشید کو دیکھا۔\n\n’’مجھے کسی دوست کی ضرورت نہیں۔‘‘\n\n’’یہ آپ کی زیادتی ہے، ہر شخص کو دوست اور ہمدرد کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں اس وقت مناسب نہیں سمجھتا کہ آپ کے مضطرب دماغ کو اپنی باتوں سے اور زیادہ مضطرب کر دوں، ویسے میں آپ سے پھر درخواست کرتا ہوں کہ آپ مجھے اپنا دوست یقین کیجیے۔‘‘\n\nیہ کہہ کر رشید چلا گیا۔\n\nاس کے بعد متعدد مرتبہ اس نے حمیدہ کو دیکھا جو بی اے میں پڑھتی تھی۔ سارے کالج میں اس کی داڑھی مونچھوں کے چرچے تھے، لیکن ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ لڑکوں کی آوازہ بازی کی عادی ہو چکی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اب اس نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا تھا کہ اس کے چہرے پر کوئی بال نہیں ہے۔\n\nوہ ہوسٹل میں رہتی تھی۔ ایک دفعہ وہ شدید طور پر بیمار ہوگئی، دس پندرہ دن تک بستر میں لیٹنا پڑا۔ رشید نے کئی بار ارادہ کیا کہ وہ اس کی بیمار پرسی کے لیے جائے مگر اس کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ وہ مشتعل ہو جائے گی کیونکہ اسے کسی کی ہمدردی پسند نہ تھی۔وہ چاہتی تھی کہ اس کی کشتی ،ٹوٹی پھوٹی، جیسی بھی ہے اسے اس کے سوا اور کوئی کھینے والا نہ ہو۔ لیکن ایک دن مجبور ہو کر اس نے چپراسی کے ہاتھ ایک رقعہ رشید کے نام بھیجا۔۔۔ جس میں یہ چند الفاظ مرقوم تھے:\n\n’’رشید صاحب!\n\nمیں بیمار ہوں، کیا آپ چند لمحات کے لیے میرے کمرے میں تشریف لا سکتے ہیں۔ ممنون و متشکر ہوں گی۔\n\nحمیدہ‘‘\n\nرشید یہ رقعہ ملتے ہی ہوسٹل میں گیا، بڑی مشکلوں سے حمیدہ کا کمرا تلاش کیا، اندر داخل ہوا تو اس نے پہلے یہ سمجھا کہ کوئی مرد جس نے کئی دنوں سے شیو نہیں کی ،کمبل اوڑھے لیٹا ہے مگر اس نے اپنا ردِ عمل ظاہر نہ ہونے دیا۔ چار پائی کے ساتھ ہی کرسی پڑی تھی۔ رشید اس پر بیٹھ گیا۔ حمیدہ مسکرائی۔\n\n’’میں نے آپ کو اس لیے تکلیف دی ہے کہ مجھے بخار کے باعث بہت نقاہت ہوگئی ہے اور شیو نہیں کرسکی۔ کیا آپ میرے لیے یہ زحمت برداشت کر سکیں گے؟‘‘\n\nرشید نے کمرے میں ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ شیو کا سامان کھڑکی کی سل پر موجود تھا۔ٹین میں گرم پانی لا کر اس نے حمیدہ کے چہرے کے بال نرم کیے، صابن ملا۔ اچھی طرح جھاگ پیدا کی اور پھر پانچ منٹ کے اندر اندر شیو بنا ڈالی۔ پھر تولیے سے اس کا چہرہ خشک کیا اور شیو کا سامان صاف کر نے کے بعد وہیں رکھ دیا جہاں سے اس نے اٹھایا تھا۔ حمیدہ نے اپنا نحیف ہاتھ گالوں پر پھیرا، اور پھر رشید سے کہا۔\n\n’’شکریہ!‘‘\n\nاب دونوں ایک دوسرے کے دوست ہوگئے۔رشید نے ایم اے اور حمیدہ نے بی اے پاس کر لیا، رشید کو فوراً بہت اچھی ملازمت مل گئی۔\n\nاب وہ ایک نہیں، روزانہ دو شیو بناتا تھا!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D9%B9%D8%B1_%D8%AD%D9%85%DB%8C%D8%AF%DB%81"} {"title": "مسکرا کر عاشقوں پر مہربانی کیجئے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مسکرا کر عاشقوں پر مہربانی کیجئے\nبلبلوں کی پاس خاطر گل فشانی کیجئے\n\nعشق نے از بس دیا ہے زرد رنگی کا رواج\nارغوانی آنسوؤں کوں زعفرانی کیجئے\n\nمے کش غم کوں شب مہتاب ہے موئے سفید\nموسم پیری میں سامان جوانی کیجئے\n\nہجر کی راتوں میں لازم ہے بیان زلف یار\nنیند تو جاتی رہی ہے قصہ خوانی کیجئے\n\nیار جانی تو زمانے میں نپٹ کم یاب ہیں\nکیجئے دشمن اگر اپنا تو جانی کیجئے\n\nمت ہو اے دل توں سدا بلبل ہزاروں پھول کا\nایک باقی بوجھئے باقی کوں فانی کیجئے\n\nسب سمندر متفق ہو مجھ کوں کہتے ہیں سراجؔ\nشعلہ رو کے وصف میں آتش بیانی کیجئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%DA%A9%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیں", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیں\nدو آڑے سیدھے رکھ لیے تنکے جہاں کہیں\n\nپھولوں کی سیج پھولوں کی ہیں بدھیاں کہیں\nکانٹوں پہ ہم تڑپتے ہیں او آسماں کہیں\n\nجاتے کدھر ہو تم صف محشر میں خیر ہے\nدامن نہ ہو خدا کے لیے دھجیاں کہیں\n\nپہرا بٹھا دیا ہے یہ قید حیات نے\nسایہ بھی ساتھ ساتھ ہے جاؤں جہاں کہیں\n\nبس مجھ کو داد مل گئی محنت وصول ہے\nسن لے غزل یہ بلبل ہندوستاں کہیں\n\nشاعرؔ وہ آج پھر وہیں جاتے ہوئے ملے\nدشمن کے سر پہ ٹوٹ پڑے آسماں کہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%DA%A9%D9%86_%D9%88%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مسکین گدا ہو یا ہو شاہ ذی جاہ", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مسکین گدا ہو یا ہو شاہ ذی جاہ\nبیماری و موت سے کہاں کس کو پناہ\nآ ہی جاتا ہے زندگی میں اک وقت\nکرنا پڑتا ہے سب کو اللہ اللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%DA%A9%DB%8C%D9%86_%DA%AF%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%B0%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%DB%81"} {"title": "مسیحا آ کے بالیں پر جو رو جائے تو رو جائے", "poet_page": "مصنف:صغرا ہمایوں مرزا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مسیحا آ کے بالیں پر جو رو جائے تو رو جائے\nنصیبہ جاگ کر اپنا جو سو جائے تو سو جائے\n\nمجھے پروا نہ اچھے کی برائی کا نہ خطرہ ہے\nمرا دل تیرے ہاتھوں سے جو کھو جائے تو کھو جائے\n\nنہ جینے کی خوشی مجھ کو نہ مرنے کا الم کچھ ہے\nجو ہونا ہے مقدر میں وہ ہو جائے تو ہو جائے\n\nرقیب رو سیہ سے ہے عبث امید نیکی کی\nکوئی کانٹا مرے حق میں جو بو جائے تو بو جائے\n\nنہ کی کچھ قدر جیتے جی وہ پچھتاتا ہے مرنے پر\nمری تربت پہ اب آ کر جو رو جائے تو رو جائے\n\nمرے اشک ندامت سے حیاؔ مجھ کو یقیں ہے یہ\nگنہ جو کچھ ہوا مجھ سے وہ دھو جائے تو دھو جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B3%DB%8C%D8%AD%D8%A7_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%B1%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "مشام بلبل میں رشک گل کی ہنوز بو بھی نہیں گئی ہے", "poet_page": "مصنف:کرامت علی شہیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مشام بلبل میں رشک گل کی ہنوز بو بھی نہیں گئی ہے\nابھی وہ نام خدا ہے غنچہ نسیم چھو بھی نہیں گئی ہے\n\nنہ عشق سرمے کا نے مسی کا نہ شوق غمزے کا نے ہنسی کا\nگماں ہو گر تم کو آرسی کا سو رو بہ رو بھی نہیں گئی ہے\n\nبلا کو اس کی خبر ہے کہتے ہیں کس کو معشوق کیا ہے عاشق\nہنوز کانوں میں اس پری کے یہ گفتگو بھی نہیں گئی ہے\n\nیقیں نہیں مجھ کو قیس گریاں کے حال سے اس کو آگہی ہو\nنکل کے مطلب سے اپنے لیلیٰ کنار جو بھی نہیں گئی ہے\n\nشہیدیؔ اتنی گماں پرستی نشہ میں سب بھول بیٹھے ہستی\nہوئی ہے اس سے ہی تم کو مستی جو تا گلو بھی نہیں گئی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%86%D9%88%D8%B2_%D8%A8%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "مشتاق ہی دل برسوں اس غنچہ دہن کا تھا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مشتاق ہی دل برسوں اس غنچہ دہن کا تھا\nیارو مرے اور اس کے کب ربط سخن کا تھا\n\nواں بالوں میں وہ مکھڑا جاتا تھا چھپا کم کم\nیاں حشر مرے دل پر اک چاند گہن کا تھا\n\nتھے خط شکستہ کی رخسار ترے تعلیم\nاز بس کہ ہجوم ان پر زلفوں کی شکن کا تھا\n\nپروانے کی ہمت کے صدقے میں کہ دی شب وہ\nاس بے پر و بالی پر قربان لگن کا تھا\n\nآخر کو ہمیں ظالم پامال کیا تو نے\nاندیشہ ہمیں دل میں تیرے ہی چلن کا تھا\n\nمیں اس قد و عارض کو کر یاد بہت رویا\nمذکور گلستاں میں کچھ سرو و سمن کا تھا\n\nجوں اشک سر مژگاں ہم پھر نہ نظر آئے\nاز بس کہ یہاں وقفہ اک چشم زدن کا تھا\n\nدو پھول کوئی رکھ کر گزرا تھا جو کل یاں سے\nتربت پہ مری بلوا مرغان چمن کا تھا\n\nجس مرغ چمن کو میں دیکھا تو چمن میں بھی\nحسرت کش نظارہ اس رشک چمن کا تھا\n\nشب دیکھ مہ تاباں تھا مصحفیؔ تو حیراں\nکیا اس میں بھی کچھ نقشہ اس سیم بدن کا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D9%82_%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%81_%D8%AF%DB%81%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "مشتاق ہیں عشاق تری بانکی ادا کے", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مشتاق ہیں عشاق تری بانکی ادا کے\nزخمی ہیں محباں تری شمشیر جفا کے\n\nہر پیچ میں چیرے کے ترے لپٹے ہیں عاشق\nعالم کے دلاں بند ہیں تجھ بند قبا کے\n\nلرزاں ہے ترے دست اگے پنجۂ خورشید\nتجھ حسن اگے مات ملائک ہیں سما کے\n\nتجھ زلف کے حلقے میں ہے دل بے سر و بے پا\nٹک مہر کرو حال اپر بے سر و پا کے\n\nتنہا نہ ولیؔ جگ منیں لکھتا ہے ترے وصف\nدفتر لکھے عالم نے تری مدح و ثنا کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D9%82_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%B4%D8%A7%D9%82_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D9%86%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92"} {"title": "مشرب", "poet_page": "مصنف:م حسن لطیفی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کیوں کہئے کسی سے کہ ہمیں کوئی پلائے\nقسمت میں اگر مے نہیں مل جائے گی چائے\nصہبا نہ ہو شبنم سہی چائے ہو کہ زہراب\nشے بس وہی جو غم زدہ کے غم کو بھلائے\nپینے کا سلیقہ ہو تو بے مول بھی پی لیں\nویرانہ بھی ہو کیف گہ صحرا بھی سرائے\nساقی کو ہے بے جنبش لب تشنہ لبی شاق\nکیوں ساقی گری کے کوئی یوں ناز اٹھائے\nہے کون بجز تیرے اے ساقی جو سنبھالے\nجب شدت‌‌ نشہ ترے رندوں کو گرائے\nمے نوشی بھی ہے معرکہ آرائی کا اک عکس\nباطل سے جو ٹکرا نہ سکے شیشوں کو ٹکرائے\nمستی سہی لیکن ہے بلا خیرگئ جوش\nپیمانہ کی آغوش سے جو مے کو اڑائے\nآخر کسے اندازہ خمار شب دی کا\nاب مے کدہ ویراں پڑا مے ہے کہاں آئے\nہاں تاش کے پتوں میں کچھ احباب تو مشغول\nجو منتشر یاد ہو دل کیسے بھلائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%B1%D8%A8"} {"title": "مشرق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مری نوا سے گریبانِ لالہ چاک ہُوا\nنسیمِ صُبح، چمن کی تلاش میں ہے ابھی\nنہ مصطفیٰ نہ رضا شاہ میں نُمود اس کی\nکہ رُوحِ شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی\nمری خودی بھی سزا کی ہے مستحق لیکن\nزمانہ دارو رسَن کی تلاش میں ہے ابھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%B1%D9%82"} {"title": "مشرق میں اصول دین بن جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "مشرق میں اصول دین بن جاتے ہیں\nمغرب میں مگر مشین بن جاتے ہیں\n\nرہتا نہیں ایک بھی ہمارے پلّے\nواں ایک کے تین تین بن جاتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%B1%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B5%D9%88%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D8%A8%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مشرق و مغرب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "یہاں مَرض کا سبب ہے غلامی و تقلید\nوہاں مَرض کا سبب ہے نظامِ جمہُوری\nنہ مشرق اس سے بَری ہے، نہ مغرب اس سے بَری\nجہاں میں عام ہے قلب و نظر کی رَنجوری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%B1%D9%82_%D9%88_%D9%85%D8%BA%D8%B1%D8%A8"} {"title": "مشکل اس کوچے سے اٹھنا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مشکل اس کوچے سے اٹھنا ہو گیا\nحشر بھی نقش کف پا ہو گیا\n\nدیکھ واعظ مجھ کو میں کیا ہو گیا\nآدمی تھا پی فرشتہ ہو گیا\n\nاور ہی وادی وہ ہے اے اہل طور\nقیس جس میں جا کے لیلیٰ ہو گیا\n\nشاخ میں جب تک یہ ہے انگور ہے\nشیخ نے توڑا کہ مینا ہو گیا\n\nتم کو سمجھا حور تیرہ گور میں\nاے فرشتو مجھ کو دھوکا ہو گیا\n\nمنہ جو کعبے میں کھلا وقت اذاں\nبند ناقوس کلیسا ہو گیا\n\nمے کدہ واعظ سے اب چھٹتا نہیں\nباد پیما بادہ پیما ہو گیا\n\nاے بتو اللہ کو سونپا تمہیں\nبت کدہ سنتا ہوں کعبہ ہو گیا\n\nباغ تک جاتے بھی ہیں آتے بھی ہیں\nاب قفس تو گھر ہمارا ہو گیا\n\nآئے گا پینے پلانے کا مزا\nپارسا اب بادہ پیما ہو گیا\n\nموت آئی آپ کا منہ دیکھ کر\nآپ کا بیمار اچھا ہو گیا\n\nڈوب جائیں تارے وہ طوفاں کہاں\nاشک تو آنکھوں کا تارا ہو گیا\n\nرنگ بدلا کیا زمانے نے ریاضؔ\nدیکھتے ہی دیکھتے کیا ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مشکل کوئی مشکل نہیں جینے کے سوا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مشکل کوئی مشکل نہیں جینے کے سوا\nخاموش لہو کا گھونٹ پینے کے سوا\nکھلتے ہیں جبھی جوہر تسلیم و رضا\nجب کوئی سپر ہی نہ ہو سینے کے سوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7"} {"title": "مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل\nسن سن کے اسے سخنوران کامل\nآساں کہنے کی کرتے ہیں فرمایش\nگویم مشکل وگرنہ گویم مشکل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D8%A8%D8%B3_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84"} {"title": "مشکل ہے کہ پہلو سے جدا دل نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مشکل ہے کہ پہلو سے جدا دل نہیں ہوتا\nاور میرے ستانے سے وہ غافل نہیں ہوتا\n\nپردے میں اگر اس کے مرا دل نہیں ہوتا\nآئینہ رخ یار کے قابل نہیں ہوتا\n\nجب قصد مصمم ہے تو ہر کار ہے آساں\nجو کام کہ مشکل ہے وہ مشکل نہیں ہوتا\n\nگر پردہ نشینی تجھے منظور تھی دلبر\nدل میرا ترے واسطے محمل نہیں ہوتا\n\nمے خانہ کو جاتا ہوں یہ تکرار عبث ہے\nناصح تو کسی طور سے قائل نہیں ہوتا\n\nسفاک کہا میں انہیں ہنس کے وہ بولے\nہر صاحب شمشیر تو قاتل نہیں ہوتا\n\nدیدار طلب کا طالب ہے اسے جلوہ دکھا دے\nعاشق تو زر و مال کا سائل نہیں ہوتا\n\nوہ نور مبیں جو کہ تجلئ لقا ہے\nاس کا بجز آدم کوئی حامل نہیں ہوتا\n\nمیرا تو پتا خاک بھی رہتا نہ جمیلہؔ\nگر فضل الٰہی مرے شامل نہیں ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "مشکل ہے ہونا روکش رخسار کی جھلک کے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مشکل ہے ہونا روکش رخسار کی جھلک کے\nہم تو بشر ہیں اس جا پر جلتے ہیں ملک کے\n\nمرتا ہے کیوں تو ناحق یاری برادری پر\nدنیا کے سارے ناتے ہیں جیتے جی تلک کے\n\nکہتے ہیں گور میں بھی ہیں تین روز بھاری\nجاویں کدھر الٰہی مارے ہوئے فلک کے\n\nلاتے نہیں نظر میں غلطانی گہر کو\nہم معتقد ہیں اپنے آنسو ہی کی ڈھلک کے\n\nکل اک مژہ نچوڑے طوفان نوح آیا\nفکر فشار میں ہوں میرؔ آج ہر پلک کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%B1%D9%88%DA%A9%D8%B4_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%DA%BE%D9%84%DA%A9_%DA%A9%DB%92"} {"title": "مشہور جہاں ہے داستان شیریں", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مشہور جہاں ہے داستان شیریں\nشیریں نے فدا کی شہ پہ جان شیریں\nشبیر کی ہے وعدہ وفائی کا بیاں\nگویا مرے منہ میں ہے زبان شیریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D8%B4%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مشہور چمن میں تری گل پیرہنی ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مشہور چمن میں تری گل پیرہنی ہے\nقرباں ترے ہر عضو پہ نازک بدنی ہے\n\nعریانیٔ آشفتہ کہاں جائے پس از مرگ\nکشتہ ہے ترا اور یہی بے کفنی ہے\n\nسمجھے ہے نہ پروانہ نہ تھامے ہے زباں شمع\nوہ سوختنی ہے تو یہ گردن زدنی ہے\n\nلیتا ہی نکلتا ہے مرا لخت جگر اشک\nآنسو نہیں گویا کہ یہ ہیرے کی کنی ہے\n\nبلبل کی کف خاک بھی اب ہوگی پریشاں\nجامے کا ترے رنگ ستم گر چمنی ہے\n\nکچھ تو ابھر اے صورت شیریں کہ دکھاؤں\nفرہاد کے ذمے بھی عجب کوہ کنی ہے\n\nہوں گرم سفر شام غریباں سے خوشی ہوں\nاے صبح وطن تو تو مجھے بے وطنی ہے\n\nہر چند گدا ہوں میں ترے عشق میں لیکن\nان بو الہوسوں میں کوئی مجھ سا بھی غنی ہے\n\nہر اشک مرا ہے در شہوار سے بہتر\nہر لخت جگر رشک عقیق یمنی ہے\n\nبگڑی ہے نپٹ میرؔ تپش اور جگر میں\nشاید کہ مرے جی ہی پر اب آن بنی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%B1_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%D9%84_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "مشہور ہیں دنوں کی مرے بے قراریاں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مشہور ہیں دنوں کی مرے بے قراریاں\nجاتی ہیں لا مکاں کو دل شب کی زاریاں\n\nچہرے پہ جیسے زخم ہے ناخن کا ہر خراش\nاب دیدنی ہوئی ہیں مری دستکاریاں\n\nسو بار ہم نے گل کے گئے پر چمن کے بیچ\nبھر دی ہیں آب چشم سے راتوں کو کیاریاں\n\nکشتے کی اس کے خاک بھرے جسم زار پر\nخالی نہیں ہیں لطف سے لوہو کی دھاریاں\n\nتربت سے عاشقوں کے نہ اٹھا کبھو غبار\nجی سے گئے ولے نہ گئیں راز داریاں\n\nاب کس کس اپنی خواہش مردہ کو روئیے\nتھیں ہم کو اس سے سینکڑوں امیدواریاں\n\nپڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ\nمدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں\n\nکیا جانتے تھے ایسے دن آ جائیں گے شتاب\nروتے گذرتیاں ہیں ہمیں راتیں ساریاں\n\nگل نے ہزار رنگ سخن سر کیا ولے\nدل سے گئیں نہ باتیں تری پیاری پیاریاں\n\nجاؤ گے بھول عہد کو فرہاد و قیس کے\nگر پہنچیں ہم شکستہ دلوں کی بھی باریاں\n\nبچ جاتا ایک رات جو کٹ جاتی اور میرؔ\nکاٹیں تھیں کوہ کن نے بہت راتیں بھاریاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں\nجنس تو ہے پہ زلیخا سا خریدار کہاں\n\nفیض ہوتا ہے مکیں پر نہ مکاں پر نازل\nہے وہی طور ولے شعلۂ دیدار کہاں\n\nعیش و راحت کے تلاشی ہیں یہ سارے بے درد\nایک ہم کو ہے یہی فکر کہ آزار کہاں\n\nعشق اگر کیجئے دل کیجئے کس سے خالی\nدرد و غم کم نہیں اس دور میں غمخوار کہاں\n\nقیدی اس سلسلۂ زلف کے اب کم ہیں یقیںؔ\nہیں دل آزار بہت جان گرفتار کہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B5%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1%D9%85%D8%A6_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "مصرعے پہ ان کے مصرعۂ قد کا گماں ہوا", "poet_page": "مصنف:منشی خیراتی لال شگفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مصرعے پہ ان کے مصرعۂ قد کا گماں ہوا\nاک طبقہ بیت کا طبق آسمان ہوا\n\nچنتا ہے اپنی جبے پر افشان و مہروش\nگردوں کو شوق پرورش کہکشاں ہوا\n\nکھینچا جو دشمنی سے گریباں کو دوست نے\nدامان اشتیاق مرا دھجیاں ہوا\n\nگھوریں گے کیا گلوں کو گلستان دہر میں\nرخصت ہوئی بہار نزول خزاں ہوا\n\nدکھلائیں گے بہار کلام فصیح کی\nگر دہر میں شگفتہؔ کوئی قدر داں ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B5%D8%B1%D8%B9%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B5%D8%B1%D8%B9%DB%82_%D9%82%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "مصری کورٹ شپ", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "میں نے جو پیرس سے لکھا تھا وہی اب کہتا ہوں کہ میں ہرگز ہرگز اس بات کے لئے تیار نہیں کہ بغیر دیکھے بھالے شادی کر لوں، سو اگر آپ میری شادی کرنا چاہتی ہیں تو مجھ کو اپنی منسوبہ بیوی کو نہ صرف دیکھ لینے دیجئے بلکہ اس سے دو چار منٹ باتیں کر لینے دیجئے۔ یہ الفاظ تھے جو نوری نے اپنی بہن سے پر زور لہجے میں کہے۔\n\nمگر یہ تو بتاؤ کہ آخر اس سے کیا فائدہ، تمہارا یہ خیال ہے کہ اگر لڑکی کی صورت شکل اچھی نہ ہوئی تو تم انکار کر دو گے؟ ہرگز ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا، جب سب معاملات طے ہو چکے ہیں اور شادی کرنا ہی ہے تو پھر تم کو دیکھنے سے کیا فائدہ؟ بہن نے یہ تقریر ختم ہی کی تھی کہ ماں صاحبہ بھی آ گئیں اور اب نوری کو بجائے ایک کے دو سے بحث کرنی پڑی۔\n\nمعلوم ہوتا ہے کہ تین سال فرانس میں رہ کر تم نے اپنی قومیت اور مذہب کو بھی خیر باد کہہ دیا۔ یہ الفاظ ماں نے اسی سلسلہ گفتگو میں کہے۔\n\nجی نہیں یہ ناممکن ہے، میں پکا مسلمان ہوں اور مصری ہوں۔ نہ میں نے مذہب کو چھوڑا ہے اور نہ قومیت کو، میں تو اپنے حق پہ لڑتا ہوں کہ جس سے میری شادی ہونے والی ہے اس کو میں دیکھ لو۔\n\nاور اگر ناپسند ہو تو شادی نہ کروں۔ ماں نے گویا جملہ پورا کیا۔\n\nتم کو بھی معلوم ہے کہ تمہاری منسوبہ بیوی کس کی لڑکی ہے ؟ وہ جامعہ ازہر کے نائب الشیخ کی لڑکی ہے اور شرافت اور امارت اور تمول میں وہ لوگ ہم سے کہیں زیادہ ہیں۔ ذرا ان لوگوں کو دیکھو اور اپنے کو دیکھو، گورنمنٹ کے روپے پر یورپ جا کر تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں اور انجنیئر بن گیے ہیں تو ہم کو کسی شمار ہی میں نہیں لاتے۔\n\nیہ سب کچھ آپ صحیح کہتی ہیں جو مجھ کو لفظ بلفظ تسلیم ہے مگر اس کے تو یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ ان وجوہ کی بناء پر اپنا پیدائشی حق کھو بیٹھوں۔\n\nمگر میں شادی پختہ کر چکی ہوں اور شادی کے تمام ابتدائی مراحل بھی طے ہو چکے ہیں اور اب میں یہ نسبت نہیں توڑ سکتی۔ماں نے نوری سے یہ الفاظ ایک مجبوری کا لہجہ لیے ہوئے کہے۔\n\nمیں کب کہتا ہوں کہ آپ یہ نسبت توڑ دیں، مجھ کو تو یہ رشتہ خود بسر و چشم منظور ہے۔یہ الفاظ سنتے ہی بہن چمک کر بولی، پھر آخر کیوں الٹی سیدھی باتیں کرتے ہو؟ یہی تم نے پیرس سے لکھا تھا ورنہ ہم لوگ کیوں یہ غلطی کرتے؟\n\nغرض اسی قسم کی بحث بہت دیر تک ہوتی رہی مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔ ماں نے بہت کوشش کی کہ نوری اپنی ضد سے باز آئے مگر بے سود اور ادھر نوری نے بے حد کوشش کی کہ ماں اس کی منسوبہ بیوی کے گھر کہلا بھیجے کہ لڑکا لڑکی سے ملنا چاہتا ہے مگر بیکار، ماں کو اپنی بات کا پاس تھا ،وہ اپنے ہم چشموں میں ذلیل ہونا گوارا نہ کر سکتی تھی، وہ پرانی رسموں کی قیود کو توڑنا نہیں چاہتی تھی اور یہ ناممکن تھا کہ ایسا ناشائستہ پیغام لڑکی والوں کے یہاں کہلوا بھیجے کہ جس کو وہ ان لوگوں کی کھلی ہوئی توہین خیال کرتی ہو۔\n\nنتیجہ ماں بیٹے کی ضد کا یہ ہوا کہ ماں خفا ہو گئی، گھنٹوں بیٹھ کر روئی، نوری نے بہت خوشامد کی مگر بیکار، نوری کو ماں کو رنجیدہ کرنے کا بہت افسوس تھا مگر مجبور تھا۔ کھانے کا وقت آیا اور ماں نے کھانا نہ کھایا مگر مصالحت کی کوئی صورت نہ بن پڑی۔بحث کا سلسلہ چھڑ گیا ،نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ ماں خوب روئی پیٹی مگر سنگدل بیٹے نے اپنے اصول سے جنبش نہ کی۔ اب گھر گویا غم کدہ بنا ہوا تھا، ماں نے کھانا نہ کھایا اور بیٹی اور بیٹے نے بھی کھانا نہ کھایا، یہی صورت دوسری شام تک رہی اور ۲۴ گھنٹے سے زیادہ گزر گیے۔\n\nنوری اپنے کمرے میں بیٹھا تھا، ماں کی تکلیف کا خیال تھا، ماں کی ستیہ گرہ آخر کار کامیاب ہو گئی اور نوری نے ماں کی شرائط منظور کر لیں تاکہ ماں کھانا کھا لے۔\n\n(۲)\n\nیہ بھی دراصل نوری کی چال تھی تاکہ ماں کھانا کھا لے۔ چنانچہ ماں کو اس نے راضی کر لیا لیکن وہ اب سوچ میں تھا کہ کرنا کیا چاہیے۔ صبح کا وقت تھا اور اس واقعے کو دو روز گزر چکے تھے۔ نوری اپنے کمرے میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا کہ اس نے اخبار رکھ دیا اور اٹھ کر الماری سے احادیث کی دو کتابیں اٹھا لایا۔ ان کتابوں کا مطالعہ وہ پیشتر بھی کر چکا تھا اور اکثر کرتا رہتا تھا۔وہ اسی سوچ میں تھا کہ اب کیا کرنا چاہیے کہ معاً اس نے دل میں نئی بات ٹھان لی، نوکر کو حکم دیا کہ گاڑی لاؤ کپڑے پہن کر تیار ہوا اور کہا کہ نائب الشیخ کے ہاں چلو۔گاڑی ایک عالیشان مکان پر رکی۔ مکان کا ظاہری ٹھاٹھ کہہ رہا تھا کہ کسی امیر کبیر کا مکان ہے۔ ایک نوکر دوڑ کر گاڑی کے قریب آیا، نوری نے اپنا کارڈ دیا اور اطلاع کی گئی۔نائب الشیخ اپنے منسوبہ داماد کی آمد کی خبر سن کر باہر استقبال کے لئے آئے۔ نوری نے بڑھ کر مصافحہ کیا اور قابل احترام شیخ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا، شیخ نے نوری کی پیشانی پر بوسہ دیا اور ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لا بٹھایا۔\n\nکمرہ مغربی سامان آرائش سے سجا ہوا تھا۔ جگہ جگہ خوبصورت کام ہو رہا تھا اور تمام فرنیچر اور دیگر سامان اعلیٰ قسم کا تھا۔ اس ہال کے ایک حصہ میں بہترین رومی غالیچوں کا فرش بھی تھا اور مشرقی فیشن کا بہترین سامان سجا ہوا تھا۔ نیچے نیچے زمین سے ملے ہوئے خوبصورت صوفے پڑے ہوئے تھے جن پر لوگ اطمینان سے پالتی مارے تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ نائب الشیخ نے نوری کا اپنے ملنے والوں سے تعارف کرایا اور ملنے والوں نے شیخ کو داماد کے انتخاب پر مبارک باد دی۔ تھوڑی دیر بعد قہوہ کا دور چلنے لگا اور شیخ نوری سے بسلسلہ گفتگو فرانس کی باتیں پوچھتے رہے۔ قہوہ کا دور ختم ہوا اور تھوڑی دیر بعد شیخ صاحب کے دوست اٹھ کر چلے اور نوری اور شیخ رہ گیے۔ بڑی مشکل سے اور بڑی دیر کے سوچ کے بعد نوری نے شیخ سے نہایت مودبانہ طریقہ سے کہا،میں جناب کی خدمت میں ایک خاص مقصد سے آیا تھا۔\n\nوہ کیا؟\n\nاگر جناب اجازت دیں تو کچھ عرض کرنے کی جرأت کروں؟\n\nبسر و چشم، بسم اللہ کہو کیا کہتے ہو۔\n\nنوری نے کچھ تامل کیا اور شاید وہ الفاظ ڈھونڈ رہا تھا کہ اپنا مدعا کن مناسب الفاظ میں ادا کرے کہ شیخ نے پھر کہا، تم ضرور اپنے دل کی بات کہو کوئی وجہ نہیں کہ تامل کرو۔ نوری نے ہمت کر کے نیچی نظریں کر کے دبی زبان سے کہا، جناب سے اپنا حق مانگتا ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ میں اپنی منسوبہ سے پانچ منٹ کے لئے مل لوں؟\n\nنوری نے نظر اٹھا کر جو دیکھا تو نائب الشیخ کو ہکا بکا پایا، وہ بالکل تیار نہ تھے اور ان کی خود داری کو کچھ اس سے ٹھیس سی لگی تھی۔ شیخ نے اپنے کو عجیب شش و پنچ میں پایا۔ وہ نوری کو بے حد پسند کرتے تھے مگر اس بات سے وہ اس وقت حواس باختہ تھے۔ اپنے کو سنبھال کر شیخ نے کہا، میں اس کی اہمیت سمجھنے سے قاصر ہوں۔\n\nکیا جناب کو اس بارے میں کسی خاص قسم کا اعتراض ہے ؟\n\nبے شک مجھ کو اعتراض ہے۔\n\nمذہبی نقطہ نظر سے یا دنیاوی نقطہ نظر سے ؟\n\nشیخ چونکہ پھر شیخ تھے وہ بولے، مذہبی نقطہ نظر سے اور نیز دنیاوی نقطہ نظر سے کیونکہ ہمارا دین اور دنیا الگ الگ نہیں۔ نوری نے بھی خوش ہو کر کہا،مگر دین کو دنیا پر سبقت ہے، سب سے پہلے ہمارا مذہب ہے اور پھر دنیا۔ شیخ نے بھی خوش ہو کر کہا، بے شک، بے شک تم صحیح کہتے ہو۔\n\nپھر جب خداوند تعالیٰ نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے قرآن پاک میں کہہ دیا کہ ان عورتوں سے نکاح کرو جو کہ تم کو بھلی معلوم ہوتی ہوں تو پھر کون سا اعتراض رہ گیا۔ یہ کہتے ہوئے نوری نے آیت نکاح پڑھ کر سنائی۔\n\nشیخ صاحب اس رنگ میں بحث کرنے کو خصوصاً نوری کی سی نئی تہذیب کے دلدادہ نوجوان سے قطعی تیار نہ تھے اور نہ اس کی امید تھی، ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کہیں مگر جواب دینے کے لئے کہا ہاں یہ مذہباً جائز تو ہو سکتا ہے مگر میں اس کو پسند نہیں کرتا اور خصوصاً آج کل کے زمانے میں۔\n\nنوری نے فوراً شیخ کی کمزوری کو محسوس کیا اور کہا، آپ کا کیا خیال ہے اگر آج کل ہم لوگ سنت رسول اللہ کی پیروی کریں؟ کیا یہ مستحسن نہیں ہے ؟\n\nشیخ نے فوراً کہا، خدا ہم کو رسول اللہؐ کی پیروی کی توفیق دے۔ نوری نے فوراً جیب میں سے ایک پرچہ نکال کر شیخ کے ہاتھ میں دے دیا، شیخ کی آنکھوں کے سامنے حسب ذیل عبارت تھی:\n\n(۱) جابر سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے نکاح کا پیغام کسی عورت کی طرف بھیجنا چاہے تو ہو سکے کہ اس کو دیکھ لے، جس سے نکاح کا ارادہ ہو تو پھر نکاح کرے۔ (ابی داؤد)\n\n(۲) مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے، پیغام دیا میں نے نکاح کا ایک عورت کے ساتھ زمانے میں رسول اللہﷺ کے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے دیکھ بھی لیا ہے اس کو؟ میں نے کہا نہیں، فرمایا کہ دیکھ لے اس کو، اس سے الفت زیادہ ہو گی تم دونوں میں (نسائی)\n\n(۳) ابو ہریرہ سے روایت ہے پیغام بھیجا ایک آدمی نے لڑکی والوں کے یہاں، فرمایا اس کو رسول اللہؐ نے تو نے اس کو دیکھ بھی لیا ہے یا نہیں۔ اس نے کہا نہیں،، آپؐ نے فرمایا اس عورت کو دیکھ لے یعنی بغیر دیکھے نکاح کرنا اچھا نہیں۔ (نسائی)\n\nشیخ نے ان احادیث کو پڑھا۔ وہ ان احادیث کو پہلے بھی پڑھ چکے ہوں گے مگر ان کے لئے گویا اس وقت یہ بالکل نئی تھیں۔ وہ خاموش تھے اور کچھ بولنے میں ان کو تامل تھا کہ نوری نے ان سے کہا کہ کیا آپ مجھے ان احادیث پر عمل نہ کرنے دیں گے؟ کیا واقعی ہم اس زمانے میں رسول اللہ ص کی نصیحتوں سے بے نیاز ہیں اور وہ ہمارے لئے بے کار ہیں؟\n\nشیخ نے کہا، ہر گز نہیں ہر گز نہیں گفتہ رسول اللہ سر آنکھوں پر مگر میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ آخر تمہارا اس درخواست سے مطلب کیا ہے ؟ اگر فرض کرو تمہاری منسوبہ تم کو ناپسند ہوئی تو کیا تم اس نسبت کو توڑ دو گے اور نکاح نہ کرو گے؟ نوری نے جواب دیا، اس سے شاید آپ بھی اتفاق کریں گے اس صورت میں مجبوری ہو گی کیونکہ قرآن کریم کے حکم کے خلاف ہو گا۔\n\nتو اس شرط پر تو تمہاری شادی صرف یورپ ہی میں ہو سکتی ہے شیخ نے کچھ ترش رو ہو کر کہا، مجھ کو ہر گز گوارا نہیں ہے کہ میری لڑکی سے نسبت کرنے کے لئے لوگ گاہک بن کر آئیں اور ناپسند کر کے چلے جائیں۔ کیا تم نے میری عزت و آبرو کا اندازہ غلط لگایا ہے ؟ کیا تم نہیں خیال کرتے کہ نائب الشیخ کی توہین ہو گی، معاف کیجئے گا میں اس قسم کی گفتگو پسند نہیں کرتا جس میں میری عزت و آبرو کا سوال ہو۔\n\nنوری بھی پختہ ارادہ کر کے آیا تھا اور اس نے بھی تیز ہو کر کہا، بے شک آپ مصر میں وہ عزت و مقام رکھتے ہیں جو دوسروں کو نہیں مگر مجھ کو اجازت دیجئے کہ عرض کروں کہ پھر بھی آپ کو وہ عزت حاصل نہیں ہے جو امیر المومنین عمر بن خطاب رض کو مدینے میں حاصل تھی اور آج ساری دنیا میں حاصل ہے۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ حضرت عمر نے اپنی بیٹی ام المومنین حفصہ کو حضرت عثمان کے سامنے پیش کیا اور نکاح کی خواہش ظاہر کی اور جب حسب خواپش جواب نہیں ملا تو پھر ان کو حضرت ابو بکر صدیق کے سامنے پیش کیا اور وہاں بھی ناکامی ہوئی۔ کیا ان سے ان کی عزت و آبرو میں خدانخواستہ بٹا لگ گیا؟ شیخ کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور وہ لاجواب ہو کر بولے کہ دونوں حضرات تو ان کے دوست تھے۔\n\nمگر میں بھی آپ کے عزیز ترین دوست مرحوم کی نشانی ہوں۔ شیخ نے نظریں نیچی کر لیں اور کچھ تامل کے بعد کہا، مجھ کو کوئی انکار نہیں ہے۔ یہ کہتے ہوئے شیخ گھر میں چلے گیے۔\n\n(۳)\n\nنوری کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا، اس نے کانپتے ہاتھوں سے ریشمی سیاہ پردہ اٹھایا اور اندر داخل ہوا حالانکہ دن تھا مگر کمرے میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے بجلی کا لیمپ روشن تھا، سامنے کرسی پر سیاہ گاؤن پہنے ایک سولہ یا سترہ سال کی نہایت حسین و جمیل لڑکی بیٹھی تھی!\n\nنوری کو دیکھ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی نوری نے سلام کیا کچھ جواب نہ ملا۔ اس نے دوبارہ سلام کیا تو لڑکی نے آہستہ سے جواب دیا، لڑکی کی نظریں نیچی تھیں صرف داخل ہوتے وقت اس نے ایک لمحہ کے لئے نظر اٹھا کر نوری کو ضرور دیکھا تھا۔ وہ ساکت کھڑا تھا اور لڑکی نے نوری سے بیٹھنے تک کو نہ کہا۔ نوری اجازت طلب کرتے ہوئے بیٹھ گیا مگر لڑکی نے کچھ جواب نہ دیا اور کھڑی رہی۔ نوری پھر کھڑا ہو گیا تو کہا کہ بیٹھ جائے۔ نوری نے اپنی کرسی قریب کر لی اور کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں اس وقت اپنی منسوبہ نازلی خانم کے سامنے بیٹھا ہوں اور ان سے کچھ گفتگو کرنے کا مجھ کو موقع ملا ہے کیا مجھ کو اجازت ہے ؟\n\nنازلی نے دبی زبان سے کہا، فرمائیے۔\n\nآپ میرے نام سے تو واقف ہیں کیا میں دریافت کر سکتا ہوں کہ آپ کو مجوزہ یہ رشتہ پسند ہے۔؟ اس کا نازلی نے کوئی جواب نہ دیا اس کے چہرے پر ایک خفیف سا رنگ آیا اور چلا گیا وہ زمین کی طرف دیکھ رہی تھی اور اپنے بائیں ہاتھ کی انگلی سے داہنا ہاتھ کرید رہی تھی۔انداز سے نوری نے معلوم کر کے کہا میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اسی سلسلے میں نوری نے پوچھا،کیا آپ میری اس ملاقات کو ناپسند کرتی ہیں؟\n\nجی نہیں۔\n\nتو پھر آپ نے اپنے والد صاحب سے اس بارے میں غیر آمادگی کا اظہار کیوں کیا تھا؟\n\nنازلی کے لبوں پر ایک مسکراہٹ آئی لیکن شرم کی وجہ سے شاید کچھ نہ کہہ سکی، نوری نے فوراً کہا، آپ کو اس بات کا جواب ضرور دینا پڑے گا اور میں بے پوچھے نہ مانوں گا۔ نازلی نے کچھ تامل سے کہا، میں نے یونہی کہہ دیا تھا۔ نوری نے برجستہ کہا، تو اس سے یہ مطلب میں نکال سکتا ہوں کہ آپ مجھ سے ملنا چاہتی ہیں۔ نوری نے یہ کہتے ہوئے نازلی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور پھر کہا، سچ سچ بتائیے کہ کیا آپ مجھ سے ملنا چاہتی تھیں؛ میں آپ کے دل کی بات معلوم کرنا چاہتا ہوں۔\n\nنازلی کی نظریں نیچی تھیں، اس کے سرخ اونی شال پر بجلی کی روشنی چمک رہی تھی جس کا عکس اس کے چہرے پر پڑ کر سیاہ گاؤن کے ساتھ ایک عجیب کیفیت پیدا کر رہا تھا۔ اس نے ذرا تامل سے کہا ،میں آپ کو دیکھنا چاہتی تھی، ملنے کا تو مجھ کو خیال بھی نہ آ سکتا تھا۔\n\nکیا آپ مجھ کو بتا سکتی ہیں کہ آپ مجھ کو کیوں دیکھنا چاہتی تھیں؟ یہ سوال کرنے سے نوری کو خود ہنسی آ گئی۔نازلی نے بھی اب ہمت کر کے کہا ،پہلے آپ ہی بتائیے کہ آپ آخر کیوں مجھ سے ملنا چاہتے تھے، جس لیے آپ مجھ سے ملنا چاہتے تھے اس لئے میں بھی چاہتی تھی کہ آپ کو دیکھ لوں۔ نوری نے کہا، میں تو آپ کو اس لیےدیکھنا چاہتا تھا کہ جو کچھ بھی میں نے اپنی بہن اور ماں سے آپ کے بارے میں سنا ہے اس کی تصدیق کر لوں مگر یہ تو بتائیے کہ آپ کیوں مجھ کو دیکھنا چاہتی تھیں؟\n\nنازلی نے اب نظریں اوپر کر لی تجیں اور اب روبرو ہو کر باتیں سن رہی تھی، اس کو ان سوالات پر کچھ ہنسی بھی آ رہی تھی اور اس نے جواب دیا کہ میں تو یونہی آپ کو دیکھنا چاہتی تھی۔\n\nمگر میں آپ سے بغیر اس کی وجہ پوچھے نہ مانوں گا۔ نازلی نے کہا، مجھ کو معلوم ہی نہیں تو پھر بھلا آپ کو کیا بتاؤں۔ نوری کو اس جواب سے اطمینان ہو گیا لیکن اس نے اب دوسرا سوال پیش کر دیا،میں جب پیرس میں بیمار پڑ گیا تھا تو آپ کو یاد ہو گا آپ نے دو مرتبہ اپنے خطوط میں میری بہن کو لکھا تھا کہ تمہارے بھائی اب کیسے ہیں؟ یہ آخر کیوں لکھا تھا؟ نازلی کو اس بات پر ہنسی آ گئی اور وہ کہنے لگی، معاف کیجئے گا آپ کیسے سوالات کر رہے ہیں کیا کسی کی خیریت دریافت کرنا گناہ ہے؟\n\nنوری نے کہا، اچھا آپ صرف یہ بتائیے کہ کیا آپ میری بیماری کا سن کر کچھ متفکر ہوئی تھیں اور کیا آپ کو میرا خیال آیا تھا۔ نازلی نے سمجھ لیا تھا کہ ایسے سوالوں سے نوری کا مطلب کیا ہے اور اس کو بھی ان سوالات میں دلچسپی آ رہی تھی۔ اس نے بجائے جواب دینے کے ہنستے ہوئے کہا،اچھا پہلے آپ بتائیے کہ اگر اسی زمانہ میں میں بیمار پڑتی اور آپ کو اس کا علم ہوتا تو آپ میری خیریت دریافت کراتے یا کچھ متفکر ہوتے یا آپ کو میرا کچھ خیال آتا؟\n\nنوری کچھ لاجواب ہو کر، میرا خیال ہے کہ ضرور مجھ کو بہت خیال آتا اور فکر بھی ہوتی اور میں خیریت بھی دریافت کراتا۔ نازلی کامیابی کی خوشی کے لہجے میں تیزی سے بولی، آخر کیوں، آخر کیوں، نہ میں نے کبھی آپ کو دیکھا اور نہ آپ نے ہی مجھ کو دیکھا تھا۔\n\nنوری اس مسئلہ پر غور کر رہا تھا۔ نازلی کا ہاتھ بدستور اس کے ہاتھوں میں تھا اس نے اس کے ہاتھ کو نرمی سے دباتے ہوئے عجیب پیرایہ میں کہا، میری جو باتیں خود سمجھ میں نہیں آتی تھی انہیں دریافت کرنا چاہتا تھا لیکن دراصل میں یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ آپ کی طرف سے جو خیالات میرے دل میں تھے، کیا ویسے ہی میری طرف سے آپ کے دل میں بھی ہیں۔\n\nپھر آپ نے کیا پایا؟\n\nآپ کی اور اپنی حالت کو یکساں پایا۔ یہ ایک بات ہے کہ یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم دونوں میں محبت کی بنیاد دراصل اس وقت سے استوار ہو گئی جب ہم دونوں کو اس کا علم ہوا کہ یہ رشتہ قائم ہو گا۔\n\nاس کا جواب نازلی نے کچھ نہ دیا صرف اس کے نرم ہاتھ کو جنبش سی ہوئی جو نوری کے ہاتھ میں تھا اور یہی جواب تھا جو اس کے جذبات کی صحیح ترجمانی کر رہا تھا۔نوری نے متاثر ہو کر کہا، ایک سوال اور کروں گا اور اس کا جواب خدا کے واسطے ضرور دینا وہ یہ کہ آپ نے جو اپنے ہاتھ سے ایک جنگل کے سین کی رنگ برنگی تصویر بنا کر میری بہن کو بھیجی تھی، وہ کیوں بھیجی تھی؟\n\nوہ میں نے اس لیے بھیجی تھی کہ انہوں نے مجھ کو تصویروں کا ایک البم بھیجا تھا، تبادلہ تحفہ جات تو ایک پرانی رسم ہے۔\n\nنوری نے بے تاب ہو کر کہا، خدا کے واسطے ذرا اپنے دل کو ٹٹولئے اور اچھی طرح ٹٹولئے ہر معاملہ میں میرا اور آپ کا حال ایک سا نکلتا ہے بخدا مجھ کو ایسا معلوم ہوا کہ تصویر آپ نے میری بہن کے لیے نہیں بلکہ میرے لئے بھیجی تھی تاکہ میں دیکھوں اور خوش ہوں، اس وقت جس وقت تصویر آئی تو میرے دل میں یہی خیال تھا اور اب بھی یہی خیال ہے، سچ مچ کہئے گا کہ آپ جس وقت تصویر بھیج رہی تھیں کیا آپ کے دل میں کچھ میرا خیال آیا تھا۔ نازلی کچھ حیران سی رہ گئی کیونکہ اس وقت نوری نے اس کے دل کی گہرائی کا اس طرح پتہ لگا لیا کہ اس کو وہم و گمان بھی ہونا ناممکن تھا۔ وہ کچھ جواب نہ دے سکی اور حیرت میں تھی، ساتھ میں حقیقی شرم بھی اس کو بولنے نہ دیتی تھی۔\n\nنوری نے اصل حقیقت کو سمجھ لیا اور اصرار کے ساتھ کہا، اس بات کا میں آپ سے ضرور جواب لوں گا یہ میرا آخری سوال ہے اور میں اس وقت آپ کے صحیح جواب کا بے تابانہ انتظار کر رہا ہوں بتائیے تو سہی کہ وہ تصویر آپ نے کس کے لیے بھیجی تھی۔\n\nآپ کے لئے یہ کہہ کر نازلی نے آنکھیں نیچی کر لیں۔\n\nنوری کی آنکھیں چمکنے لگیں اس کا دل جواب سن کر دھڑکنے لگا ۔اس نے زور سے نازلی کا ہاتھ گویا لاعلمی میں دبایا اور خوش ہو کر اس کے منہ سے نکلا،بخدا؟\n\nبخدا نازلی کی زبان سے بھی نکلا۔\n\nدونوں تھوڑی دیر تک خاموش رہے ۔نازلی نیچی نظریں کئے ہوئے بیٹھی تھی، نوری نے گھڑی دیکھی اور چاروں طرف دیکھ کر نازلی کا ہاتھ آہستہ سے چھوڑ دیا، اپنی جیب سے اس نے ہیرے کی ایک انگوٹھی نکالی جس کی دمک سے بجلی کی روشنی میں آنکھیں خیرہ ہوتی تھیں، نازلی نے آنکھ کے گوشہ سے انگوٹھی کو دیکھا تو اس نے مسکرا کر کہا، یہ آپ کے لیے ہے ہاتھ پکڑ کر کہا، کیا آپ اجازت دیتی ہیں اور یہ کہتے ہوئے نازلی کی انگلی میں انگوٹھی پہنا کر اس کے ہاتھوں کو لبوں سے لگا کر آہستہ آہستہ سے چھوڑ دیا۔\n\nخدا حافظ۔ خدا حافظ۔ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا، ایک طویل مصافحہ کیا اور پھر خدا حافظ کہہ کر اجازت چاہی۔ خدا حافظ نازلی نے آہستہ سے کہا۔ چلتے چلتے دروازے سے مڑ کر اس نے نازلی کی طرف دیکھا جو خود اس کو جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B5%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%B1%D9%B9_%D8%B4%D9%BE"} {"title": "مصری کی ڈلی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "کالی شلوار", "year": "1941", "text_ur": "پچھلے دنوں میری روح اور میرا جسم دونوں علیل تھے۔ روح اس لیے کہ میں نے دفعتاً اپنے ماحول کی خوفناک ویرانی کو محسوس کیا تھا اورجسم اس لیے کہ میرے تمام پٹھے سردی لگ جانے کے باعث چوبی تختے کے مانند اکڑ گئے تھے۔ دس دن تک میں اپنے کمرے میں پلنگ پر لیٹا رہا۔۔۔ پلنگ۔۔۔ اس چیز کو پلنگ ہی کہہ لیجئے جو لکڑی کے چار بڑے بڑے پائیوں، پندرہ بیس چوبی ڈنڈوں اور ڈیڑھ دومن وزنی مستطیل آہنی چادر پر مشتمل ہے۔ لوہے کی یہ بھاری بھر کم چادر نواڑ اور ستلی کا کام دیتی ہے۔ اس پلنگ کا فائدہ یہ ہے کہ کھٹمل دور رہتے ہیں اور یوں بھی کافی مضبوط ہے، یعنی صدیوں تک قائم رہ سکتا ہے۔\n\nیہ پلنگ میرے پڑوسی سلیم صاحب کا عنایت کردہ ہے۔ میں زمین پر سوتا تھا چنانچہ انھوں نے مجھے یہ پلنگ جو انھیں کے کمرے کے ساتھ ملا تھا مجھے دے دیا۔ تاکہ میں سخت فرش پر سونے کے بجائے لوہے کی چادر پر آرام کروں۔ سلیم صاحب اور ان کی بیوی کومیرا بہت خیال ہے اور میں ان کا بہت ممنون ہوں۔ اگر میں معمولی سے معمولی چارپائی بھی بازار سے لیتا تو کم از کم چار یا پانچ روپے خرچ ہو جاتے۔\n\nخیر، چھوڑیے اس قصّے کو۔ میں یہ بات کررہا تھا کہ پچھلے دنوں میری روح اور میرا جسم دونوں علیل تھے۔ دس دن اور دس راتیں میں نے ایسے خلا میں بسر کیں جس کی تفصیل میں بیان ہی نہیں کرسکتا۔ بس ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میں ہونے اور نہ ہونے کے بیچ میں کہیں لٹکا ہوں۔ لوہے کے پلنگ پر لیٹے لیٹے یوں بھی میرا جسم بالکل شل ہوگیا تھا۔ دماغ ویسے ہی منجمد تھا جیسے یہ کبھی تھا ہی نہیں۔ میں کیا عرض کروں، میری کیا حالت تھی۔دس دن اس ہیبت ناک خلا میں رہنے کے بعد میرے جسم کی علالت دور ہوگئی۔\n\nدس کا عمل تھا۔ دھوپ سامنے کارخانے کی بلند چمنی سے پہلو بچاتی کمرے کے فرش پر لیٹ رہی تھی۔ میں لوہے کے پلنگ پر سے اٹھا، تھکے ہوئے جسم میں انگڑائی سے حرکت پیدا کرنے کی کوشش کے بعد جب میں نے کمرے میں نگاہ دوڑائی تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہ ر ہی۔ کمرہ وہ نہیں تھا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ میں نے غور سے دیکھا۔ دائیں ہاتھ کونے میں ڈریسنگ ٹیبل تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا میز ہمارے کمرے میں ہوا کرتا تھا مگر اس کا پالش اتنا چمکیلا کبھی نہیں تھا اور بناوٹ کے اعتبار سے بھی اس میں اتنی خوبیاں میں نے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ کمرے کے وسط میں جو بڑا میز پڑا رہتا تھا وہ بھی مجھے نامانوس معلوم ہوا۔ اس کا بالائی ہشت پہلو تختہ چمک رہا تھا۔ دیوار پر پانچ چھ تصویریں آویزاں تھیں جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔\n\nان میں سے ایک تصویر میری نگاہ میں جم گئی۔ میں بڑھا اور اس کو قریب سے دیکھا۔ جدید فوٹو گرافی کا بہت عمدہ نمونہ تھا۔ ہلکے بھوسلے رنگ کے کاغذ پر ایک جواں سال لڑکی کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ بال کٹے ہوئے تھے اور کانوں پرسے ادھر کو اڑ رہے تھے، سینہ سامنے سے ناف کے ننھے سے دباؤ تک ننگا۔ اس نرم و نازک عریانی کو اس کی گوری باہیں جو اس کے چہرے تک اٹھی ہوئی تھیں، چھپانے کی دلچسپ کوشش کررہی تھیں۔ پتلی پتلی لمبے لمبے ناخنوں والی انگلیوں میں سے چہرے کی حیا چھن چھن کر باہر آرہی تھی۔ کہنیوں نے ننھے سے پیٹ کے اختتامی خط پر آپس میں جڑ کر ایک دل کش تکون بنا دی تھی جس میں سے ناف کا گدگدا گڑھا جھانک رہا تھا۔ اگر اس چھوٹے سے گڑھے میں ڈنڈی گاڑ دی جاتی تو اس کا پیٹ سیب کا بالائی حصّہ بن جاتا۔\n\nمیں دیر تک اس نیم عریاں و نیم مستور شباب کو دیکھتا رہا۔ مجھے حیرت تھی کہ یہ تصویر کہاں سے آگئی۔ اسی حیرت میں غرق میں غسل خانہ کی طرف بڑھا۔ کمرے کے چوتھے کونے میں نل کے نیچے فرش میں سل لگی ہوئی ہے۔ اس کے ایک طرف چھوٹی سی منڈیر بنا دی گئی ہے۔ یہ جگہ جہاں جست کی ایک بالٹی، صابن دانی، دانتوں کے دو برش، داڑھی مونڈنے کے دو استرے، صابن لگانے کی دو کوچیاں، منجن کی بوتل اور پانچ چھ استعمال شدہ اور زنگ آلود بلیڈ پڑے رہتے ہیں۔ ہمارا غسل خانہ ہے۔ نذیر صاحب جن کا یہ کمرہ ہے، علی الصبح بیدار ہونے کے عادی ہیں۔ چنانچہ داڑھی مونڈ کروہ فوراً ہی غسل سے فارغ ہو جاتے ہیں۔ میں سویا رہتا ہوں اور وہ مزے سے ننگے نہاتے رہتے ہیں۔\n\nاس غسل خانے کی طرف جاتے ہوئے میں نے ایک بار پھر تمام چیزوں پر نگاہ دوڑائی۔اب مجھے وہ کسی قدر مانوس معلوم ہوئیں۔ منڈیر پر میرا استرا اور گھسا ہوا برش اسی طرح پڑا تھا جس طرح میں روز دیکھا کرتا تھا، بالٹی بھی بلاشک و شبہ وہی تھی جو ہر روز نگاہوں کے سامنے آتی تھیں۔ اس میں ڈونگا بھی وہی تھا جس میں جا بجا گڑھوں میں میل جما رہتا تھا۔\n\nمنڈیر پر بیٹھ کر جب میں نے برش سے دانت گھسنے شروع کیے تو میں نے سوچا کمرہ وہی ہے جس میں ایک سو بیس راتیں میں گزار چکا ہوں۔۔۔ راتیں، میں نے غور کیا۔۔۔ معاملہ صاف ہوگیا۔ کمرے اور اس کی اشیا کے نامانوس ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ میں نے اس میں صرف ایک سو بیس راتیں ہی گزاری تھیں۔ صبح سات یا آٹھ بجے جلدی جلدی کپڑے بدل کر جو میں ایک دفعہ باہر نکل جاتا تو پھر رات کو گیارہ بارہ بجے کے قریب ہی لوٹنا ہوتا تھا۔ اس صورت میں یہ کیونکر ممکن تھا کہ مجھے کمرے کی ساخت اور اس میں پڑی ہوئی چیزوں کو دیکھنے کا موقع ملتا اور پھر نہ کمرہ میرا ہے اور نہ اس کی کوئی چیز میری ملکیت ہے۔ اور یہ بھی تو سچی بات ہے کہ بڑے شہر انسانیت کے مرقد و مدفن ہوتے ہیں۔\n\nمیں جس ماحول میں چار مہینے سے زندگی بسر کررہا ہوں، اس قدر یکساں اور یک آہنگ ہے کہ طبیعت بارہا اکتا گئی ہے، جی چاہا ہے کہ یہ شہر چھوڑ کر کسی ویرانے میں چلا جاؤں۔ صبح جلدی جلدی نہانا،پھر عجلت میں کپڑے پہن کر دفتر میں کاغذ کالے کرتے رہنا، وہاں سے شام کو فارغ ہوکر ایک اور دفتر میں چھ سات گھنٹے اسی اکتا دینے والے کام میں مصروف رہنا اور رات کے گیارہ بارہ بجے اندھیرے ہی میں کپڑے اتار کر سلیم کے دیے ہوئے آہنی پلنگ پر سونے کی کوشش کرنا۔۔۔ کیا یہ زندگی ہے؟\n\nزندگی کیا ہے۔۔۔؟ یہ بھی میری سمجھ میں نہیں آتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اونی جراب ہے جس کے دھاگے کا ایک سرا ہمارے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔ ہم اس جراب کو ادھیڑتے رہتے ہیں جب ادھیڑتے ادھیڑتے دھاگے کا دوسرا سرا ہمارے ہاتھ میں آجائے گا تو یہ طلسم جسے زندگی کہا جاتا ہے، ٹوٹ جائے گا۔\n\nجب زندگی کے لمحات کٹتے محسوس ہوں اور حافظے کی تختی پر کچھ نقش چھوڑ جائیں تو اس کایہ مطلب ہے کہ آدمی زندہ ہے اور اگر مہینوں گزر جائیں اور یہ محسوس تک نہ ہو کہ مہینے گزر گئے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان کی حسیات مردہ ہوگئی ہیں۔ زندگی کی کتاب میں اگر اوپر تلے خالی اوراق ہی شامل ہوتے چلے جائیں تو کتنا دکھ ہوتا ہے۔ دوسروں کو بھی اس کا احساس ہوتا ہے یا کہ نہیں، اس کی بابت میں کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن میں تو اس معاملے میں بہت حساس ہوں۔ زندگی کی یہ خالی کاپی جو ہمارے ہاتھ میں تھمائی گئی ہے، آخر اسی لیے تو ہے کہ اس کے ہر ورق کو ہم استعمال کریں، اس پر کچھ لکھیں۔\n\nلیکن افسوس اس بات کا ہے کہ مجھے کوئی ایسی بات ہی نہیں ملتی جس کے متعلق میں کچھ لکھوں۔ لے دے کے میری اس کاپی میں صرف دو تین ورق ایسے ہیں جن پر میں نقش و نگار بنے دیکھتا ہوں۔ یہ ورق مجھے کتنے عزیز ہیں۔ اگر آپ ان کو نوچ کر باہر نکال دیں تو میری زندگی ایک بیاباں بن جائے گی۔ آپ یقین کیجیے، میری زندگی واقعی چٹیل میدان کی طرح ہے جس میں ان بیتے ہوئے دنوں کی یاد ایک خوبصورت قبر کی طرح لیٹی ہوئی ہے۔چونکہ میں نہیں چاہتا کہ اچھے دنوں کی یہ سہانی یاد مٹ جائے اس لیے میں اس قبر پر ہروقت مٹی کا لیپ کرتا رہتا ہوں۔\n\nمیرے سامنے دیوار پر ایک پرانا کلنڈر لٹک رہا ہے جس کے میلے کاغذ پر چیڑ کے لانبے لانبے درختوں کی تصویر چھپی ہے ،میں اسے ایک عرصے سے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہوں۔ اس کے پیچھے، دور، بہت دور مجھے اپنی زندگی کے اس کھوئے ہوئے ٹکڑے کی جھلک نظر آرہی ہے۔\n\nمیں ایک پہاڑی کے دامن میں چیڑوں کی چھاؤں میں بیٹھا ہوں۔ بیگو بڑے بھولے پن سے گھٹنے ٹیک کر اپنا سر میرے قریب لاتی ہے اور کہتی ہے، ’’آپ مانتے ہی نہیں۔۔۔ سچ، میں بوڑھی ہو گئی ہوں۔ اب بھی یقین نہ آئےگا ۔ یہ لیجیے میرے سر میں سفید بال دیکھ لیجیے۔‘‘\n\nچودہ برس کی دیہاتی فضا میں پلی ہوئی جوان لڑکی مجھ سے کہہ رہی تھی کہ میں بوڑھی ہوگئی ہوں۔ معلوم نہیں وہ کیوں اس بات پر زور دینا چاہتی تھی۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی مرتبہ مجھ سے یہی بات کہہ چکی تھی۔ میرا خیال ہے کہ جو ان آدمیوں کو شباب کے دائرے سے نکل کر بڑھاپے کے دائرے میں داخل ہونے کی بڑی خواہش ہوتی ہے۔ یہ میں اس لیے کہتا ہوں کہ میرے دل میں بھی اس قسم کی خواہش کئی بار پیدا ہو چکی ہے۔ میں نے متعدد بار سوچا ہے کہ میری کنپٹیوں پر اگر سفید سفید بال نمودار ہو جائیں تو چہرے کی متانت اور سنجیدگی میں اضافہ ہو جائے گا۔ کنپٹیوں پر اگر بال سفید ہو جائیں تو چاندی کے مہین مہین تاروں کی طرح چمکتے ہیں اور دوسرے سیاہ بالوں کے درمیان بہت بھلے دکھائی دیتے ہیں، ممکن ہے بیگو کو یہی چاؤ ہو کہ اس کے بال سفید ہو جائیں اور وہ اپنی کم عمری کے باوجود بڈھی دکھائی دے۔\n\nمیں نے اس کے خشک مگر نرم بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرنا شروع کی اور کہا،’’تم کبھی بوڑھی نہیں ہوسکتیں۔ ‘‘اس نے سر اٹھا کر مجھ سے پوچھا، ’’کیوں۔۔۔؟میں کیوں بوڑھی نہیں ہوسکتی۔‘‘\n\n’’اس لیے کہ تم میں آس پاس کے درختوں، پہاڑوں اور ان میں بہتے ہوئے نالوں کی ساری جوانی جذب ہوگئی ہے۔‘‘ وہ قریب سے قریب سرک آئی اور کہنے لگی، ’’جانے آپ کیا اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہیں۔۔۔ بھئی میری سمجھ میں تو کچھ بھی نہیں آیا۔۔۔ درختوں اور پہاڑوں کی بھی کبھی جوانی ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’تمہاری سمجھ میں آئے نہ آئے ،پر میں نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا۔‘‘\n\n’’بہت اچھا کیا آپ نے۔۔۔ پر آپ میرے بالوں میں اس اس طرح کرتے رہیں۔‘‘ بیگو نے اپنے ہاتھ سے سر کو کھجلاتے ہوئے کہا، ’’مجھے بڑا مزہ آتا ہے۔‘‘\n\n’’بہت اچھا جناب۔‘‘ کہہ میں نے انگلیوں سے اس کے بالوں میں کنگھی کرنا شروع کردی اور آنکھیں بند کرلیں۔ اس کو تو مزا آ ہی رہا تھا، مجھے خود مزا آنے لگا۔ میں یہ محسوس کرنے لگا کہ اس کے بال میرے الجھے ہوئے خیال ہیں جن کو میں اپنے ذہن کی انگلیوں سے ٹٹول رہا ہوں۔دیر تک میں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا۔ وہ خاموشی سے سر جھکائے مزا لیتی رہی۔ پھر اس نے اپنی خمار آلود نگاہیں میری طرف اٹھائیں اور نیند میں بھیگی ہوئی آواز میں کہا، ’’میں اگر سو گئی تو؟‘‘\n\n’’میں جاگتا رہوں گا۔‘‘\n\nنیم خوابیدہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر پیدا ہوئی اور وہ زمین پر وہیں میرے سامنے لیٹ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد نیند نے اس کو اپنی آغوش میں لے لیا۔بیگو سو رہی تھی مگر اس کی جوانی جاگ رہی تھی۔ جس طرح سمندر کی پر سکون سطح کے نیچے گرم لہریں دوڑتی رہتی ہیں، اس طرح اس کے محوِ خواب جسم کی رگوں میں اس کی گرم گرم جوانی دوڑ رہی تھی۔ بائیں بازو کو سر کے نیچے رکھے اور ٹانگوں کو اکٹھا کیے وہ سو رہی تھی۔ اس کا ایک بازو میری جانب سرکا ہوا تھا۔ میں اس کی پتلی انگلیوں کی مخروطی تراش دیکھ رہا تھا کہ ان میں خفیف سی کپکپاہٹ پیدا ہوئی جیسے مٹر کی پھلیاں ارتعاش پذیر ہو جائیں۔ یہ ارتعاش اس کی انگلیوں سے شروع ہوا اور اس کے سارے جسم پر پھیل گیا۔ جس طرح تالاب میں پھینکی ہوئی کنکری اس کی آبی سطح پر چھوٹا سا بھنور پیدا کرتی ہے اور یہ بھنور د ائرے بناتا ہوا پھیلتا جاتا ہے، اسی طرح وہ کپکپاہٹ اس کی انگلیوں سے شروع ہوکر اس کے سارے جسم پر پھیل گئی۔ نہ جانے اس کی جوانی کیسے ارتعاش پیدا کرنےوالے خواب دیکھ رہی تھی۔\n\nاس کے نچلے ہونٹ کے کونوں میں خفیف سی تھرتھراہٹ کتنی بھلی معلوم ہوتی تھی۔ اس کے سینے کے ابھار میں دل کی دھڑکنیں زندگی پیدا کررہی تھیں۔ گریبان کے نچلے دو بٹن کھلے تھے، اس طرح جسم سے تھوڑی سی نقاب اٹھ گئی تھی اور دو نہایت ہی پیاری قوسیں باہر جھانک رہی تھیں۔ سینے کی ننھی سی وادی میں دونوں طرف کے ابھار بڑی خوبصورتی سے آپس میں گھل مل گئے تھے۔\n\nمیری نگاہ اس کے سینے پر کرتے کی ایک طرف بنی ہوئی جیب پر رک گئی۔ اس میں خدا معلوم کیا کیا کچھ بیگو نے ٹھونس رکھا تھا کہ وہ ایک گیند سی بن گئی تھی۔ میرے دل میں دفعتاً یہ معلوم کرنے کا اشتیاق پیدا ہوا کہ اس میں کیا کیا چیزیں ہیں۔ آہستہ سے اس کی جیب کی تلاشی لینے کا ارادہ جب میں نے کیا تو وہ جاگ پڑی۔ سیدھی لیٹ کر اس نے دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں کھولیں۔ لمبی لمبی پلکیں جو آپس میں ملی ہوئی تھیں، تھرتھرائیں۔ اس نے نیم باز آنکھوں سے میری طرف دیکھا، پھر اس کے ہونٹوں پر ہلکے سے تبسم نے انگڑائی لی اور کہا، ’’آپ بڑے وہ ہیں؟‘‘\n\n’’کیوں۔۔۔؟ میں نے کیا کیا ہے؟‘‘\n\nوہ اٹھ بیٹھی، ’’ابھی آپ نے کچھ کیا ہی نہیں میں سچ مچ سو گئی اور آپ نے مجھے جگانے تک کی تکلیف نہ کی۔ میں اگر ایسے ہی شام تک سوئی رہتی تو؟‘‘ اس نے آنکھوں کی پتلیاں نچائیں اور دفعتاً کچھ یاد کرکے کہا، ’’ہائے میرے اللہ۔۔۔ میں اپنی جان ہیر کو بھول ہی گئی۔‘‘سامنے پہاڑی پر اگی ہوئی سبز جھاڑیوں کی طرف جب اس نے دیکھا تو اطمینان کا سانس لے کر کہنے لگی،’’ کتنی اچھی ہے میری ہیر۔ ‘‘اس کو اپنی بھینس کی فکر تھی جو ہمارے سامنے پہاڑی پر گھاس چر رہی تھی۔\n\nمیں نے اس سے پوچھا، ’’تمہاری ہیر تو موجود ہے پر رانجھا کہاں ہے؟‘‘\n\n’’رانجھا؟‘‘ اس کے لب مسکراہٹ کے ساتھ کھلے۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں اس نے مجھے کچھ بتانے کی کوشش کی اور پھر کھل کھلا کر ہنس پڑی، ’’رانجھا۔۔۔ رانجھا۔۔۔ رانجھا۔‘‘ اس نے یہ لفظ کئی مرتبہ دہرایا۔ میری ہیر کا رانجھا۔۔۔ مجھے کیا معلوم نگوڑا کہاں ہے؟ ‘‘میں نے کہا،’’ تمہاری ہیر کا کوئی نہ کوئی رانجھا تو ضرور ہوگا۔ مجھ سے چھپانا چاہتی ہو تو یہ الگ بات ہے۔‘‘\n\n’’اس میں چھپانے کی بات ہی کیا ہے؟‘‘ بیگو نے آنکھیں مٹکا کر کہا، ’’اور اگر کوئی ہے تو ہیر کو معلوم ہوگا۔ جاکے اس سے پوچھ لیجیے۔ پر کان میں کہیے گا، آہستہ سے کہیے گا، بتاؤ تو تمہارا رانجھا کہاں ہے؟‘‘\n\n’’ میں نے پوچھ لیا۔‘‘\n\n’’کیا جواب ملا؟‘‘\n\n’’بولی، بیگو سے پوچھو، وہی سب کچھ جانتی ہے۔‘‘\n\n’’جھوٹ۔۔۔ جھوٹ۔ اس کا اول جھوٹ اس کا آخر جھوٹ۔‘‘بیگو بچوں کی طرح اُچھل اُچھل کر کہنے لگی، ’’میری ہیر تو بڑی شرمیلی ہے۔ ایسے سوالوں کا وہ کبھی جواب دے ہی نہیں سکتی۔ آپ جھوٹ بولتے ہیں۔ اس نے تو آپ کو غصے میں یہ کہا تھا، چلو ہٹو، کنواریوں سے ایسی باتیں کرتے تمہیں شرم نہیں آتی۔‘‘\n\n’’یہی کہا تھا اور اس کا جواب اس کو یوں ملا تھا، یہ تمہارا اتنا بڑا بچھڑا کہاں سے آگیا ہے۔ کیا آسمان سے ٹپک پڑاتھا۔‘‘بیگو یہ بچھڑے والی دلیل سن کر لاجواب ہوگئی۔ مگر وہ چونکہ لاجواب ہونا نہیں چاہتی تھی اس لیے اس نے بیکار چلانا شروع کردیا،’’ جی ہاں آسمان ہی سے ٹپکا تھا اور سب چیزیں آسمان ہی سے تو آتی ہیں۔۔۔ نہیں، میں بھولی۔۔۔ اس بچھڑے کو تو میری ہیر نے گود لیا ہے۔ یہ اس کا بچہ نہیں کسی اور کا ہے۔۔۔ اب بتائیے آپ کے پاس کیا جواب ہے؟‘‘\n\nمیں نے ہار مان لی اس لیے کہ میری نگاہیں پھر اس کی ابھری ہوئی جیب پر پڑیں جس میں خدا معلوم کیا کیا کچھ ٹھسا ہوا تھا، ’’میں ہار گیا۔۔۔ آپ کی ہیر کنواری ہے، دنیا کی سب بھینسیں اور گائیں کنواریاں ہیں۔ میں کنوارا ہوں۔ آپ کنواری ہیں۔ لیکن یہ بتائیے کہ آپ کی اس کنواری جیب کو کیا ہوگیا ہے؟‘‘\n\nاس نے اپنی پھولی ہوئی جیب دیکھی تو دانتوں میں انگلی دبا کر میری طرف ملامت بھری نظروں سے دیکھ کر کہا، ’’آپ کو شرم نہیں آتی۔۔۔ کیا ہوا ہے میری جیب کو۔ میری چیزیں پڑی ہیں اس میں۔‘‘\n\n’’چیزیں۔۔۔ اس سے تمہارا مطلب؟‘‘\n\n’’ آپ تو بال کی کھال نکالتے ہیں۔ چیزیں پڑی ہیں میرے کام کی اور کیا میں نے پتھر ڈال رکھے ہیں۔‘‘\n\n’’تو جیب میں تمہارے کام کی چیزیں پڑی ہیں۔ میں پوچھ سکتا ہوں یہ کام کی چیزیں کیا ہیں؟‘‘\n\n’’آپ ہرگز نہیں پوچھ سکتے۔ اور اگر آپ پوچھیں بھی تو میں نہیں بتاؤں گی اس واسطے کہ آپ نے مجھے اپنے چمڑے کے تھیلے کی چیزیں کب دکھائی ہیں۔ میں اگر آپ سے کہوں بھی تو آپ کبھی نہ دکھائیں گے۔‘‘\n\n’’میں ایک ایک چیز دکھانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔ یہ رہا تھیلا۔‘‘ میں نے اپنا چرمی تھیلا اس کے سامنے رکھ دیا، ’’خود کھول کر دیکھ لو پر یاد رہے مجھے اپنی جیب کی سب چیزیں تمہیں دکھانا پڑیں گی۔‘‘\n\n’’پہلے میں اس ٰتھیلے کی تلاشی تو لے لوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے میرا تھیلا کھولا اور اس کی سب چیزیں ایک ایک کرکے باہر نکالنا شروع کیں۔ انگریزی کا ایک ناول، کاغذوں کا پیڈ، دو پنسلیں، ایک ربڑ، دس بارہ لفافے، آٹھ ایک ایک آنے والے اسٹامپ، دس بارہ خالی لفافے اور لکھے ہوئے کاغذوں کا ایک پلندہ۔۔۔ یہ میری’’چیزیں ‘‘تھیں۔‘‘\n\nجب وہ ایک ایک چیز اچھی طرح دیکھ چکی تو میں نے اس سے کہا،’’اب اپنی جیب کا منہ ادھر کردو۔ ‘‘اس نے میری بات کا جواب نہ دیا۔ تھیلے میں تمام چیزیں رکھنے کے بعد اس نے مجھ سے تحکمانہ لہجہ میں کہا،’’ اب اپنی جیب دکھائیے۔ ‘‘میں نے اپنی جیب کا منہ کھول دیا۔ اور اس نے ہاتھ ڈال کر اس میں جو کچھ بھی تھا باہر نکال لیا، ایک بٹوہ اور چابیوں کا گچھا تھا، جس میں چھوٹا سا چاقو بھی شامل تھا۔ یہ چاقو گچھے میں سے نکال کر اس نے ایک طرف زمین پر رکھ دیا اور باقی چیزیں مجھے واپس دے دیں، ’’یہ چاقو میں نے لے لیا ہے۔ کھیرے کاٹنے کے کام آئے گا۔‘‘\n\n’’لے لو پر مجھے ٹالنے کی کوشش نہ کرو۔۔۔ میں جب تک تمہاری جیب کی ایک ایک چیز نہ دیکھ لوں چھوڑوں گا نہیں۔‘‘\n\n’’اگر میں نہ دکھاؤں تو؟‘‘\n\n’’لڑائی ہو جائے گی۔‘‘\n\n’’ہو جائے۔۔۔ میں ڈر تھوڑی جاؤں گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ فوراً ہی اپنے دوپٹے کا تنبو بنا کر اس میں چھپ گئی اور جیب میں سے کچھ نکالنے لگی۔ اس پر میں نے رعب دار آوازمیں کہا، ’’دیکھو، یہ بات ٹھیک نہیں، تم کچھ چھپا رہی ہو۔‘‘\n\n’’ آپ مان لیجیے، میں سب کچھ دکھا دوں گی۔۔۔ اللہ کی قسم سب چیزیں ایک ایک کرکے دکھا دوں گی۔۔۔ یہ تو میں اپنے من سمجھوتے کے لیے کچھ کررہی ہوں۔‘‘\n\nمیں نے پھر رعب دار آواز میں کہا، ’’کیا کررہی ہو۔ میں تمہاری سب چالاکیاں سمجھتا ہوں۔ سیدھے من سے تمام چیزیں دکھا دو ورنہ میں زبردستی سب کچھ دیکھ لوں گا۔‘‘ تھوڑی دیر کے بعد وہ دوپٹے سے باہر نکل آئی اور آگے بڑھ کر کہنے لگی، ’’دیکھ لیجیے!‘‘\n\nمیں اس کی جیب میں ہاتھ ڈالنے ہی والا تھا کہ اس کے تنے ہوئے سینے کو دیکھ کر رک گیا،’’تم خود ہی ایک ایک چیز نکال کر مجھے دکھاتی جاؤ۔۔۔ لو اتنا لحاظ میں تمہارا کیے دیتا ہوں۔ یوں تمہاری ایمان داری بھی معلوم ہو جائے گی۔‘‘\n\n’’نہیں، آپ خود نکالتے جائیے، بعد میں آپ کہیں گے میں نے سب چیزیں نہیں دکھائیں۔‘‘\n\n’’میں دیکھ جو رہا ہوں۔ تم نکالتی جاؤ۔‘‘\n\n’’ جیسے آپ کی مرضی‘‘ یہ کر اس نے آہستہ سے اپنی جیب میں دو انگلیاں ڈالیں اور سرخ رنگ کے ریشمیں کپڑے کا ایک ٹکڑا باہر نکالا۔ اس پر میں نے پوچھا، ’’کپڑے کا یہ بیکار سا ٹکڑا تم ساتھ ساتھ کیوں لیے پھرتی ہو؟‘‘\n\n’’اجی آپ کو کیا معلوم، یہ بہت بڑھیا کپڑا ہے۔ میں اس کا رومال بناؤں گی۔ جب بن جائے گا تو پھر آپ دیکھیے گا۔ جی ہاں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے کپڑے کا ٹکڑا اپنی جھولی میں رکھ دیا۔ پھر جیب سے کچھ نکالا اور بند مٹھی میرے بہت قریب لا کر کھول دی۔ سلولائڈ کے تین مستعمل کلپ، ایک چابی اور سیپ کے دو بٹن اس کی ہتھیلی پر مجھے نظر آئے۔میں نےاس سے کہا، ’’یہ اپنی جھولی میں رکھ لو اور باقی چیزیں جلدی جلدی نکالو۔‘‘\n\nاس نے جیب میں جلدی جلدی ہاتھ ڈال کر باری باری یہ چیزیں باہر نکالیں۔ سفید دھاگے کی گولی اس میں پھنسی ہوئی زنگ آلود سوئی، لکڑی کی میلی کچیلی کنگھی، چھوٹا سا ٹوٹا ہوا آئینہ اور ایک پیسہ۔میں نے اس سے پوچھا، ’’کوئی اور چیز باقی تو نہیں رہی؟‘‘\n\n’’جی نہیں۔‘‘ اس نے اپنے سر کو جنبش دی، ’’میں نے سب چیزیں آپ کے سامنے رکھ دی ہیں۔ اب کوئی باقی نہیں رہی۔‘‘\n\n’’غلط‘‘ میں نے اپنا لہجہ بدل کر کہا،’’تم جھوٹ بولتی ہو اور جھوٹ بھی ایسا بولتی ہو جو بالکل کچا ہو، ابھی ایک چیز باقی ہے۔‘‘ جونہی یہ لفظ میرے منہ سے نکلے، غیر ارادی طور پر اس کی نگاہیں یک لخت اپنے دوپٹے کی طرف مڑیں۔ میں نے تاڑ لیا کہ اس نے کچھ چھپا رکھا ہے۔ ’’بیگو، سیدھے من سے مجھے یہ چیز دکھا دو جو تم نے چھپائی ہے، ورنہ یاد رکھو وہ تنگ کروں گا کہ عمر بھریاد رکھو گی۔ گدگدی ایسی چیز ہے کہ۔۔۔۔۔۔‘‘\n\nگدگدی کے تصور ہی نے اس کے جسم کو اکٹھا کردیا۔ وہ سکڑ سی گئی۔ اس پر میں نے ہوا میں اپنے ہاتھوں کی انگلیاں نچائیں، ’’یہ انگلیاں ایسی گدگدی کرسکتی ہیں کہ جناب کو پہروں ہوش نہ آئے گا۔‘‘ وہ کچھ اس طرح سمٹی جیسے کسی نے بلندی سے ریشمی کپڑے کا تھان کھول کر نیچے پھینک دیا ہے، ’’نہیں، نہیں۔۔۔ خدا کے لیے کہیں ایسا کر بھی نہ دیجیے گا۔۔۔ میں مر جاؤں گی۔‘‘\n\nجب میں سچ مچ اپنے ہاتھ اس کے کندھوں تک لے گیا تو وہ بے تحاشا چیختی، ہنستی اور سمٹتی سمٹاتی اٹھی اور بھاگ گئی۔۔۔ دوپٹے میں سے کوئی چیز گری جو میں نے دوڑ کر اٹھالی۔۔۔ مِصری کی ایک ڈلی تھی جو وہ مجھ سے چھپا رہی تھی۔۔۔ جانے کیوں؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B5%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DA%88%D9%84%DB%8C"} {"title": "مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں\nیہ مانا ہم جئے لیکن جئے کیوں\n\nنہ آنا اور پھر الزام دینا\nکہ اتنے بے اثر نالے کئے کیوں\n\nپس خم پینے میں ہے کیا بزرگی\nجو پینا ہے تو پھر چھپ کر پئے کیوں\n\nجو دی تھی حسن میں یہ دل فریبی\nمجھے ہوش و حواس اتنے دیے کیوں\n\nخیال جنبش مژگاں نہ رکھا\nہمارے زخم میں ٹانکے دیے کیوں\n\nعزیزؔ الزام دیتا ہے مجھے ضبط\nنہ تھی تاثیر تو نالے کئے کیوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%84%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA"} {"title": "مصیبت جس سے زائل ہو رہی سامان کر دے گا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مصیبت جس سے زائل ہو رہی سامان کر دے گا\nنہ گھبرانا خدا سب مشکلیں آسان کر دے گا\n\nخرابات جہاں میں کون ہے دل سوز ساقی سا\nاگر ترچھٹ بھی دینا ہے تو تجھ کو چھان کر دے گا\n\nقناعت کی بھی دولت ہو تو استغنا نہیں لازم\nجسے تو نفع سمجھا ہے یہی نقصان کر دے گا\n\nجگہ دل میں نہ دے شوق نموداری بری شے ہے\nیہی چسکا تجھے برباد اے نادان کر دے گا\n\nکہوں گا آج سے میں صاحب اعجاز ناصح کو\nاگر میرے دل مضطر کا اطمینان کر دے گا\n\nتمناؤں کی مہمانی تصور کے حوالے کر\nکہ جو ساماں مناسب ہے وہی سامان کر دے گا\n\nمتاع بے بہا سے کم نہ جان اے چشم اشکوں کو\nیہی رونا ترا خالی تری دوکان کر دے گا\n\nکوئی گر سلطنت بھی دے تو واپس کر نہ لے اے دل\nسبک ہر طرف تجھ کو غیر کا احسان کر دے گا\n\nکہے دیتا ہوں قاتل لے خبر جاں باز کی اپنے\nفنا شوق شہادت میں کسی دن جان کر دے گا\n\nتری رو پوشیاں اے حسن کب بیکار جائیں گی\nیہی پردہ عیاں عالم میں تیری شان کر دے گا\n\nیقیں کر لے کہ خود وہ جلوہ گر پردے میں ہے ورنہ\nیہی ظالم گماں تیرا تجھے حیران کر دے گا\n\nغزل سے کیا مراد اے شادؔ ہے ارباب معنی کی\nکسی دن تصفیہ اس کا مرا دیوان کر دے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%D8%AC%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%84_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "مصیبتیں تو اٹھا کر بڑی بڑی بھولے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مصیبتیں تو اٹھا کر بڑی بڑی بھولے\nمگر فراق کی ایذا نہ اک گھڑی بھولے\n\nنہ ہوگی اس لب رنگیں کی آب و تاب نصیب\nنہ اپنے رنگ پہ پھولوں کی پنکھڑی بھولے\n\nکسی نے پیار سے باہیں گلے میں ڈال جو دیں\nتمام ہجر کے صدمے ہم اس گھڑی بھولے\n\nابھی وہ یاد ہیں ساماں ہمیں اسیری کے\nابھی نہ طوق نہ بیڑی نہ ہتھ کڑی بھولے\n\nتمہیں جو دیکھ لیا غم غلط ہوا اپنا\nتمہیں جو پا گئے سب رنج اس گھڑی بھولے\n\nبری بلا ہے یہ چشم سیاہ کی گردش\nاسے جو دیکھ لے آہو تو چوکڑی بھولے\n\nگری تھی شیخ کی تسبیح میکدے میں رات\nخبر نہیں کہ کہاں نشے میں چھڑی بھولے\n\nحفیظؔ وہ دم رخصت یہ کہتے جاتے ہیں\nکہ میری یاد نہ دل سے کوئی گھڑی بھولے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DA%91%DB%8C_%D8%A8%DA%91%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%92"} {"title": "مضطرب ہوں اب یہ جی کی بات ہے", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مضطرب ہوں اب یہ جی کی بات ہے\nعفو کیجے بے خودی کی بات ہے\n\nسیکڑوں عشاق کے توڑے ہیں دل\nکیا تمہاری نازکی کی بات ہے\n\nکیا عجب پوچھے نہ کوئی حشر میں\nایک یہ بھی بے کسی کی بات ہے\n\nجس فغاں سے مانگتے تھے سب پناہ\nاب وہ اک بے طاقتی کی بات ہے\n\nمدتیں گزریں وصال یار کو\nمیری نظروں میں ابھی کی بات ہے\n\nکہتے ہیں انجام اس کا موت ہے\nجس قدر غم ہو خوشی کی بات ہے\n\nاضطراب شوق میں کہنی پڑی\nجو تری آزردگی کی بات ہے\n\nاے دل امید اس سے ہے تاثیر کی\nیہ فغاں ہے یا ولی کی بات ہے\n\nپھرتے ہیں عہد وفا سے ہم کوئی\nیہ بھی تم سے آدمی کی بات ہے\n\nسچ کہا ہے دل کو ہے اک دل سے راہ\nان کے لب پر میرے جی کی بات ہے\n\nغیر سے کچھ کہہ کے مجھ سے کہتے ہیں\nتم کو کیا مطلب کسی کی بات ہے\n\nوعدہ کیوں کرتے ہو کہہ دو گے ابھی\nیاد کس کو ہے کبھی کی بات ہے\n\nمجھ پہ وہ ہنگامہ گزرا ہے کہ لوگ\nکل کہیں گے آج ہی کی بات ہے\n\nدہر میں سالکؔ یہ پھیلا ہے نفاق\nدوستی بھی دشمنی کی بات ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A8_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "مضمون امید", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ہم دیکھتے ہیں کہ مدار کار خانہ عالم کا امید و توقع کے ساتھ مربوط ہے۔ کوئی شخص دنیا میں ایسا نہیں پایا جاتا کہ جو امید و توقع سے خالی ہو۔ کوئی شخص یہ توقع کرتا ہے کہ مجھے دار عقبیٰ میں یہ یہ نعمتیں اور خوشیاں حاصل ہوں گی اور واسطے کامیابی کے اپنے اوقات کو عبادت حق تعالیٰ میں صرف کرتا ہے۔ کسی کو یہ امید ہے کہ مجھے دنیا میں یہ یہ اسباب خوشی اور راحت کے نصیب ہوں گے اور وہ واسطے ان مطالب کے مساعی ہے۔\n\nہم خاصہ طبیعت انسانی کا دیکھتے ہیں کہ اسے امید و توقع میں بڑی خوشی رہتی ہے اور وہ اس امید میں اپنے نفس پر بڑی تکالیف اور محنتیں اختیار کرتا ہے۔ جن لوگوں کو یہ آرزو ہوتی ہے کہ ہم نیک نامی حاصل کریں اور مراتب عالیہ کو پہنچیں، وہ اپنے تئیں بڑی بڑی مہلکہ مصائب میں ڈالتے ہیں اور ان مصیبتوں کو راحت خیال کرتے ہیں۔ جن لوگوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہم بہت سا روپیہ اور عزت حاصل کریں وہ بڑے بڑے دور دراز ملکوں کا سفر اختیار کرتے ہیں اور اپنے نفس پر جبر کر کے محنت سے منھ نہیں پھیرتے۔\n\nاگر سکندر فتوح ممالک کی کوشش، نہ توقع کرتا تو وہ سفر بحری اور بری نہ اختیار کرتا اور سرحد ہندوستان تک نہ پہنچتا۔ بعضے لوگوں کا ہم یہ حال دیکھتے ہیں کہ جب ان کو امید کی طرف سے مایوسی ہوجاتی ہے تو اپنی زندگانی کو تلف کردیتے ہیں اور اپنے تئیں اپنے ہاتھ سے ہلاک کرتے ہیں۔ اہل خطا کا تاریخوں میں یہ حال دیکھا ہے کہ وہاں کے لوگوں میں یہ رسم ہے کہ جب ان پر فقر وفاقہ گذرتا ہے اور صفائی و عیش سے مایوسی ہو جاتی ہے یا اور کسی طرح کی مصیبت آتی ہے تو وہ اپنے تئیں ہلاک کرتے ہیں۔ اس طرح جب ان میں سے کسی کے ہاں اس حال میں لڑکا پیدا ہوتا ہے، وہ پہلے پہلے اس کی زندگانی سے مایوس ہو کر اس کو راستے میں ڈال دیتے ہیں۔ اگر اس کو کسی نے وہاں سے اٹھایا تو اس کی جان باقی رہی، و گرنہ ہاتھی یا گھوڑوں کے پاؤں کے تلے دب کر مر جاتے ہیں۔\n\nواقعی میں آدمی کے تئیں ایسا نہ چاہئے کہ تھوڑی سی مایوسی کے ساتھ اپنی جان کو تلف کردے۔ حقیقت میں دنیا جگہ آزمائش کی ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے صبر اور محنت کا امتحان کرتا ہے۔ مرد وہ ہے کہ مصیبت پر صبر کرے اور جو کچھ اس پر گذرے تحمل کرے، نہ یہ کہ اس کا متحمل نہ ہوکر اپنے تئیں ہلاک کر دے۔ جس شخص نے حال فرہاد کوہکن کا دیکھا ہوگا اس پر شہادت اس امر کی روشن ہوگی کہ اس کی جان کھونے کا یہی باعث ہوا کہ جب وہ کوہ بے ستوں کو کاٹ چکا، اور اس کی امید بر آنے میں ایک دو دن کا عرصہ باقی رہا تو خسرو نے از راہ فریب ایک عورت کے ہاتھ یہ کہلا بھیجا کہ شیریں کا وصال ہوا۔ جب اس نے یہ خبر سنی تو وہ وصال شیریں سے مایوس ہوگیا اور اپنے سر میں تیشہ مار کے مر گیا۔\n\nآدمی کے تئیں چاہئے کہ اس طرح کی امیدیں نہ کرے کہ جو اس کی نسبت محال اور غیر ممکن معلوم ہوتی ہوں۔ اس طرح کی امید کو خبط سمجھنا چاہئے۔ آدمی وہ امیدیں کرے جو جلدی حاصل ہو جاویں اور اس کی سعی اور کوشش اس میں بیکار نہ ہو۔ بعضے لوگوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بڑے ذی اقتداروں کا حال دیکھ کر یہ جانتے ہیں کہ ہمارے تئیں بھی یہی حاصل ہو۔ جب وہ ان کے عیش و عشرت اور کامیابی مقاصد کو دیکھتے ہیں تو جانتے ہیں کہ ہمارے تئیں بھی یہ نعمتیں اور یہی حکومت اور اختیار حاصل ہو جاوے۔ حالانکہ وہ ہنر سے بے بہرہ اور کوشش سے بیزار ہیں۔ گھر بیٹھے چاہتے ہیں کہ ہم کو ملک دنیا کا مل جاوے۔ پس اس صورت میں سوائے رنج و الم اور کیا انہیں حاصل ہو سکتا ہے۔\n\nبعض لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کہیں سے مدفون خزانہ ہمارے ہاتھ لگ جاوے تو بہت خوب ہے اور خوب چین سے زندگی گذرے۔ اب دیکھو پانا خزانے کا کیسی بعید بات ہے اور شاید اس طرح دولت کسی بشر کو نصیب ہوتی ہوگی۔ بعض لوگ بتوقع کیمیاء کی اپنی بہت سی دولت اور روپیہ پھونک دیتے ہیں۔ کیمیاء بنانی تو نہیں آتی مگر اور گھر کے نقد کو بھی کھو دیتے ہیں اور اسی توقع میں مر جاتے ہیں۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B6%D9%85%D9%88%D9%86_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF"} {"title": "مضمون اگر راہ میں ہاتھ آتا ہے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مضمون اگر راہ میں ہاتھ آتا ہے\nخامہ چلنے میں ٹھوکریں کھاتا ہے\nحال خط تقدیر کھلا آج منیرؔ\nاپنا لکھا پڑھا نہیں جاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B6%D9%85%D9%88%D9%86_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مضمون عشق ذہن ستم گر میں آ گیا", "poet_page": "مصنف:منشی خیراتی لال شگفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مضمون عشق ذہن ستم گر میں آ گیا\nدریا سمٹ کے حلقۂ ساغر میں آ گیا\n\nہنگام ذبح جسم نے گستاخیاں جو کیں\nدھبا لہو کا دامن خنجر میں آ گیا\n\nآ نکلے تیرے سامنے کیا پوچھتا ہے یار\nکچھ اس گھڑی یہی دل مضطر میں آ گیا\n\nاس سرو قد کے قامت موزوں کو دیکھ کر\nخم اے شگفتہؔ نخل صنوبر میں آ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B6%D9%85%D9%88%D9%86_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B0%DB%81%D9%86_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مضموں میرے دل میں بے طلب آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مضموں میرے دل میں بے طلب آتے ہیں\nقدسی طبق نور میں دبے جاتے ہیں\nکچھ اور نہیں علم مجھے اس کے سوا\nکہتا ہوں وہی جو مجھ سے کہلواتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B6%D9%85%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مطبوع یار کو ہے جفا اور جفا کو ہم", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مطبوع یار کو ہے جفا اور جفا کو ہم\nکہتی ہے بد عدو کو وفا اور وفا کو ہم\n\nدشنام بھی سنی نہ تمہاری زبان سے\nہے کوستی اثر کو دعا اور دعا کو ہم\n\nافغانِ چرس رس کی لپٹ نے جلا دیا\nنامے کو ڈھونڈتی ہے صبا اور صبا کو ہم\n\nلاتا ہے ظنِ نیم تبسم سے جوش میں\nدل کو قلق، قلق کو بُکا اور بُکا کو ہم\n\nدرماں مریضِ غم کا ترے کچھ نہ ہو سکا\nچھیڑے ہے چارہ گر کو دوا اور دوا کو ہم\n\nپھر کیوں نہ دیکھنے سے عدو کے ہو منفعل\nپھر اس کو دوکھتی ہے حیا اور حیا کو ہم\n\nہیں جاں بلب کسی کے اشارے کی دیر ہے\nدیکھے ہے اس نگہ کو قضا اور قضا کو ہم\n\nہے آرزوئے شربتِ مرگ اب تو شیفتہ\nلگتی ہے زہر ہم کو شفا اور شفا کو ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B7%D8%A8%D9%88%D8%B9_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85"} {"title": "مطلب نہ کعبہ سے نہ ارادہ کنشت کا", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مطلب نہ کعبہ سے نہ ارادہ کنشت کا\nپابند یہ فقیر نہیں سنگ و خشت کا\n\nسر سبز ہوں جو آپ دکھا دیجے خط سبز\nکشتوں کو کھیت میں ابھی عالم ہو کشت کا\n\nاس حور کی جو گلشن عارض کی یاد تھی\nدیکھا کیا فراق میں عالم بہشت کا\n\nکیا منشی ازل کی یہ صنعت ہے دیکھنا\nماہر نہیں کسی کی کوئی سر نوشت کا\n\nنادان اعتراض ہے صانع پہ غور کر\nبے جا ہے امتیاز یہاں خوب و زشت کا\n\nاے برقؔ سیر کرتے ہیں ہم تو جہان کی\nہر کوچۂ صنم ہے نمونہ بہشت کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D9%86%D8%B4%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "مطلب کی بات شکل سے پہچان جائیے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مطلب کی بات شکل سے پہچان جائیے\nمیں کیوں کہوں زبان سے خود جان جائیے\n\nآئے وہ نزع میں بھی نہ حسرت نکالنے\nاب زیر خاک لے کے سب ارمان جائیے\n\nاس بھولی بھولی شکل کے ہو جائیے نثار\nان بھولی بھولی باتوں کے قربان جائیے\n\nبانہیں گلے میں ڈالیے بھی اب ہنسی خوشی\nیہ ہے شب وصال کہا مان جائیے\n\nکیا تھا جو مسکراتے ہوئے کہہ گئے ابھی\nخاک آ کے میرے در کی ذرا چھان جائیے\n\nمہماں نواز ان سا کوئی دوسرا نہیں\nجی میں ہے ان کے گھر کبھی مہمان جائیے\n\nہے قصد آج حضرت دل ان کی بزم کا\nاللہ آپ کا ہے نگہبان جائیے\n\nجا بیٹھیے تنک کے ذرا مجھ سے پھر الگ\nبے کچھ کہے سنے بھی برا مان جائیے\n\nبدیمن میرے حق میں ہے صبح شب وصال\nکھولے ہوئے نہ بال پریشان جائیے\n\nکیا تاب ہے ریاضؔ تمہاری زبان کی\nرنگینئی کلام کے قربان جائیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%DA%86%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "مطلب کی تم سنو تو ذرا کوئی کچھ کہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مطلب کی تم سنو تو ذرا کوئی کچھ کہے\nجب بے سنے خفا ہو تو کیا کوئی کچھ کہے\n\nہم آپ چھیڑ چھیڑ کے کھاتے ہیں گالیاں\nکانوں کو پڑ گیا ہے مزہ کوئی کچھ کہے\n\nبندے ہیں ہم تو عشق کے اے شیخ و برہمن\nپروا نہیں ہمیں بخدا کوئی کچھ کہے\n\nکم بخت نامراد تو مدت سے ہے خطاب\nجی چاہتا ہے اس سے سوا کوئی کچھ کہے\n\nناصح کہے سنے پہ ہمارا نہیں عمل\nجو جی میں آ گیا وہ کیا کوئی کچھ کہے\n\nاے داغؔ اس کی بزم میں ہم گل کھلائیں گے\nاس کا ہے انتظار ذرا کوئی کچھ کہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%D9%86%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81%DB%92"} {"title": "مطلب کی کہہ سناؤں کسی بات میں لگا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مطلب کی کہہ سناؤں کسی بات میں لگا\nرہتا ہوں روز و شب میں اسی گھات میں لگا\n\nمحفل میں مضطرب سا جو دیکھا مجھے تو بس\nکہنے کسی سے کچھ وہ اشارات میں لگا\n\nہوتے ہی وصل کچھ خفقاں سا اسے ہوا\nدھڑکا یہ بے طرح کا ملاقات میں لگا\n\nکل رات ہم سے اس نے تو پوچھی نہ بات بھی\nغیروں کی یاں تلک وہ مدارات میں لگا\n\nآیا ہے ابر گھر کے اب آنے میں ساقیا\nتو بھی نہ دیر موسم برسات میں لگا\n\nمسجد میں سر بہ سجدہ ہوئے ہم تو کیا کہ ہے\nکم بخت دل تو بزم خرابات میں لگا\n\nگھٹے پہ اپنے ماتھے کہ نازاں جو اب ہوئے\nیہ داغ شیخ جی کے کرامات میں لگا\n\nگر مجھ کو کارخانۂ تقدیر میں ہو دخل\nروز قیام وصل کی دوں رات میں لگا\n\nپرواز تا بہ عرش اگر تو نے کی تو کیا\nصیاد مرگ ہے تری نت گھات میں لگا\n\nوقت اخیر آئے ترے کام جو دلا\nاب دھیان گیان اپنا اس اوقات میں لگا\n\nجرأتؔ ہماری بات پہ آیا نہ یاں تو آہ\nکیا جانیے کسی کی وہ کس بات میں لگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DA%AF%D8%A7"} {"title": "مطمئن اپنے یقیں پر اگر انساں ہو جائے", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مطمئن اپنے یقیں پر اگر انساں ہو جائے\nسو حجابوں میں جو پنہاں ہے نمایاں ہو جائے\n\nاس طرح قرب ترا اور بھی آساں ہو جائے\nمیرا ایک ایک نفس کاش رگ جاں ہو جائے\n\nوہ کبھی صحن چمن میں جو خراماں ہو جائے\nغنچہ بالیدہ ہو اتنا کہ گلستاں ہو جائے\n\nعشق کا کوئی نتیجہ تو ہو اچھا کہ برا\nزیست مشکل ہے تو مرنا مرا آساں ہو جائے\n\nجان لے ناز اگر مرتبۂ عجز و نیاز\nحسن سو جان سے خود عشق کا خواہاں ہو جائے\n\nمیرے ہی دم سے ہے آباد جنوں خانۂ عشق\nمیں نہ ہوں قید تو بربادی زنداں ہو جائے\n\nہے ترے حسن کا نظارہ وہ حیرت افزا\nدیکھ لے چشم تصور بھی تو حیراں ہو جائے\n\nدید ہو بات نہ ہو آنکھ ملے دل نہ ملے\nایک دن کوئی تو پورا مرا ارماں ہو جائے\n\nمیں اگر اشک ندامت کے جواہر بھر لوں\nتوشۂ حشر مرا گوشۂ داماں ہو جائے\n\nلے کے دل ترک جفا پر نہیں راضی تو مجھے\nہے یہ منظور کہ وہ جان کا خواہاں ہو جائے\n\nاپنی محفل میں بٹھا لو نہ سنو کچھ نہ کہو\nکم سے کم ایک دن احسنؔ پہ یہ احساں ہو جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B7%D9%85%D8%A6%D9%86_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%8C%D9%82%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "معاملات عشق", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "کچھ حقیقت نہ پوچھو کیا ہے عشق\nحق اگر سمجھو تو خدا ہے عشق\nعشق ہی عشق ہے نہیں ہے کچھ\nعشق بن تم کہو کہیں ہے کچھ\nعشق تھا جو رسول ہو آیا\nان نے پیغام عشق پہنچایا\nعشق حق ہے کہیں نبی ہے کہیں\nہے محمدؐ کہیں علیؓ ہے کہیں\nعشق عالی جناب رکھتا ہے\nجبرئیل و کتاب رکھتا ہے\nعشق حاضر ہے عشق غائب ہے\nعشق ہی مظہر عجائب ہے\nعشق کیا کیا مصیبتیں لایا\nروز کو رات کرکے دکھلایا\nعشق میں لوگ زہر کھاتے ہیں\nعشق سے رنگ سبز پاتے ہیں\nعشق سر تا قدم امید ہوا\nزیر تیغ ستم شہید ہوا\nمجھ سے مت پوچھ یہ کنھیں ہے عشق\nعشق ہے ان ہی کو جنھیں ہے عشق\nعشق سے رنگ زرد ہوتا ہے\nعشق سے دل میں درد ہوتا ہے\nرہتے ہیں عشق ہی میں مژگاں تر\nیہیں دیکھی ہیں آنکھیں آتے بھر\nعشق ہی کا خراب ہے کنعاں\nعشق ہے ایک خانہ آباداں\nعشق لایا ہے آفتیں کیا کیا\nاس سے آئیں قیامتیں کیا کیا\nقیس کیا رنج کھینچ کھینچ موا\nسر پہ فرہاد کے سنا جو ہوا\nعشق نے چھاتیاں جلائی ہیں\nآگیں کس کس جگہ لگائی ہیں\nعشق میں ایک جی کو کھو بیٹھے\nایک آنکھوں کو روکے رو بیٹھے\nایکوں کا جیب تا بہ دامن چاک\nایک ڈالے ہے سر کے اوپر خاک\nشان ارفع ہیں جن کی خوار ہیں یاں\nعقل والے جنوں شعار ہیں یاں\nخستۂ عشق کچھ نہ میرؔ ہوئے\nبادشہ عشق میں فقیر ہوئے\nکوئی دل تنگ ہو کنویں میں گرا\nکوئی ڈوبا کوئی گیا نہ پھرا\nجب پتنگا ہوا تھا اس سے داغ\nتب دیا جی کو ان نے پیش چراغ\nعشق کی فاختہ ستم کش ہے\nعشق سے عندلیب دم کش ہے\nعشق باعث ہوا وطن چھوٹے\nمرغ پکڑے گئے چمن چھوٹے\nمایۂ درد و رنج سب ہے عشق\nمتصل رونے کا سبب ہے عشق\nپڑ گئے دل جگر میں آخر چھید\nکچھ نہ پایا کنھوں نے عشق کا بھید\nاپنی تیغ ستم جو اینچے عشق\nجامے بہتوں کے خوں میں کھینچے عشق\nعشق سے قمری ہے حریف سرو\nمہ سے آنکھیں لڑا رہا ہے تدرو\nعشق کے دل فگار سارے ہیں\nان نے کیا کیا جوان مارے ہیں\nکہیں حق ناحق ان نے خون کیے\nکہیں سر پر کھڑا ہے تیغ لیے\nکوئی محو گزاف ہیں اس سے\nکہیں میدان صاف ہیں اس سے\nاس سے یک جمع نے لیا ہے جوگ\nایک فرقے کا ہے یہ جی کا روگ\nایک کے لب پہ آہ ہے اس سے\nایک کا دن سیاہ ہے اس سے\nایک کا شیوہ اس سے نالہ کشی\nایک کو بے دمی ہے جیسے غشی\nایک ناشاد زندگانی سے\nایکوں کے دل گداز پانی سے\nایک کے پھول گل پہ نالے ہیں\nایک کے جان ہی کے لالے ہیں\nایک نے کوہ اس سے توڑ دیے\nایک تنکا کر ان نے چھوڑ دیے\nچپ لگی ہے کسو کو اس کے سبب\nبند رہتے نہیں کسو کے لب\nکوئی باتیں کرے ہے شوق کے ساتھ\nکوئی چپکا ہوا ہے ذوق کے ساتھ\nہے تواجد کسی کو حال کہیں\nکہیں نقصان ہے کمال کہیں\nایک محو لباس عریانی\nایک سرگرم دامن افشانی\nکسو کا ذکر کوئی ذاکر ہے\nکوئی صابر ہے کوئی شاکر ہے\nکہیں وسعت کہیں ہے تنگ اوقات\nعشق کے ہیں گے مختلف حالات\nسیر قابل ہیں اس کے دیوانے\nسننے کے گوں ہیں اس کے افسانے\nوصل میں جن کے دل رہیں بے جا\nفصل ہو تو انھوں کا حال ہو کیا\nاس بلا سے مجھے بھی کام ہوا\nعاشق زار میرا نام ہوا\nقصہ میرا بھی سانحہ ہے عجب\nکس پہ گذرا ہے یہ ستم یہ غضب\n\nمعاملۂ اول\n\nایک صاحب سے جی لگا میرا\nان کے عشووں نے دل ٹھگا میرا\nابتدا میں تو یہ رہی صحبت\nنام سے ان کے تھی مجھے الفت\nخوبی ان کی جو سب کہا کرتے\nگوش میرے ادھر رہا کرتے\nبخت برگشتہ پھر جو یار ہوئے\nاک طرح مجھ سے وے دوچار ہوئے\nکیا کہوں طرز دیکھنے کی آہ\nدل جگر سے گذر گئی وہ نگاہ\nچپکے منھ ان کا دیکھ رہتا میں\nجی میں کیا کیا یہ کچھ نہ کہتا میں\nوے تو ہر چند اپنے طور کے تھے\nپر تصرف میں ایک اور کے تھے\nکرتے ظاہر میں احتیاط بہت\nمجھ سے بھی رکھتے اختلاط بہت\nبات کی طرز میری ہی بھاتی\nمیری آزردگی نہ خوش آتی\nپیار چتون سے پھر نکلنے لگا\nدیکھنا دل کو میرے ملنے لگا\nکہیں دیکھوں تو بات دیر کہیں\nبے دماغ اور بے گمان رہیں\nکچھ کچھ آزار مجھ کو دینے لگے\nقسم اقسام مجھ سے لینے لگے\nمیں جو کھاتا قسم تو ہو برہم\nکہنے لگتے کہ کیا گدا کی قسم\nایک دو دن میں بعد رفع ملال\nلطف سے پوچھتے کہو کچھ حال\nجو گذرتی تھی مجھ پہ میں کہتا\nیا کوئی اشک آنکھ سے بہتا\nدیکھ کر روتے آپ بھی روتے\nدل دہی کرتے جب تلک سوتے\n\nمعاملۂ دوم\n\nایک مدت تلک یہ صحبت تھی\nکبھو الفت کبھو یہ کلفت تھی\nرفتہ رفتہ سلوک بیچ آیا\nہاتھ پاؤں کو اپنے لگوایا\nگاہ بے گاہ پاؤں پھیلاتے\nمیری آنکھوں سے تلوے ملواتے\nچل کر آتے تھے جب کبھو ایدھر\nپاؤں رکھتے تھے میری آنکھوں پر\nدیکھنے میں تو پائمالی تھی\nحسن سے چال یہ نہ خالی تھی\nجلتی چھاتی تو ہوتا میں سائل\nکہ ٹک اے سرو ہو ادھر مائل\nکف پا رکھیے یاں تو احساں ہے\nتیرے پاؤں تلے مری جاں ہے\nہنس کے سینے پہ پاؤں رکھ دیتے\nدل مرا یوں بھی ہاتھ میں لیتے\nکیا کہوں کیسا قد بالا ہے\nقالب آرزو میں ڈھالا ہے\nایک جاگہ سے ایک جاگہ خوب\nپیکر نازک اس کے سب محبوب\nموے سر ایسے جی بھی کریے نیاز\nبل ہی کھایا کرے یہ عمر دراز\nاس کے کاکل سے حرف سر نہ کرو\nکاکل صبح پر نظر نہ کرو\nکچھ بھی نسبت ہے تم کو سودا ہے\nکالے کوسوں کی بات کا کیا ہے\nاس کی زلفوں میں دل گئے نہ پھرے\nرہے سنبل کے پیچ پاچ دھرے\nاس جبیں سے ہے دل کی کب جاذب\nصبح صادق کے دعوے ہیں کاذب\nویسی بھوئیں کشیدہ بھی ہیں کہیں\nیہ کمانیں کسو سے کھنچتی نہیں\nپھری پلکوں کی اور سب کی نگاہ\nچشم پر میری تیری چشم سیاہ\nکہوں چتون کے دیکھنے کے طور\nاس قیامت پہ وہ قیامت اور\nسطح رخسار آئینے سے صاف\nجو نہ ٹھہرے نگہ تو رکھیے معاف\nلطف بینی کا فہم ہے دشوار\nایک باریک بینی ہے درکار\nکیا جھمکتا ہے ہائے رنگ قبول\nجیسے مکھڑا گلاب کا سا پھول\nہے دہن تنگی سے سخن کوتاہ\nکچھ نکلتی نہیں سخن کی راہ\nاس سے گل کیا چنے کوئی ہمدم\nغنچۂ ناشگفتہ سے بھی کم\nبرگ گل سے زباں ہے نازک تر\nپھول جھڑتے ہیں بات بات اوپر\nکیا کہوں کم ہیں ایسے شیریں گو\nوہ زباں کاش میرے منھ میں ہو\nدم بدم سوے گوش اشارۂ صبح\nگوہر گوش یا ستارۂ صبح\nجب بناگوش ان نے دکھلایا\nصبح کا سا سماں نظر آیا\nان لبوں کا مزا لیا سو بھانت\nتس کے اوپر ہمارا بھی ہے دانت\nتم نہ گل برگ و لعل ناب کہو\nبات جب تک نہ ٹھہرے چپکے رہو\nکوئی جاں بخش یوں کہے سو کہے\nہم تو مرتے ہی ان لبوں پہ رہے\nکنج لب آرزوے جان و دل\nآگے چلنا نگاہ کو مشکل\nان لبوں سے جو کوئی کام رکھے\nقند و مصری کو کیوں نہ نام رکھے\nجو حلاوت انھوں کی کہیے اب\nہم دگر سے جدا نہ ہوویں لب\nجب وے کھاتے ہیں بیڑۂ پاں کو\nرو نہیں دیتے لعل و مرجاں کو\nایسی ہوتی نہیں ہے سرخ لبی\nرنگ گویا ٹپک پڑے گا ابھی\nہو تبسم سے لعل کا دل خوں\nہنستے دیکھا تھا سو مجھے ہے جنوں\nنہیں دیکھے مسی ملے دنداں\nبرق ابر سیہ ہے تب خنداں\nکیسے کیسے چمکتی ہے بے تہ\nجگ ہنسائی کرے ہے اپنی یہ\nبو اگر کیجے اس زنخ کا سیب\nجائے سر سے جنون کا آسیب\nرہے گردن میں ان کی میرا ہاتھ\nیہ تو یارب ہے میرے جی کے ساتھ\nبس چلے تو گلے لگا ہی رہوں\nتیغ سے پھر جدا کریں تو نہ ہوں\nاس میں ہرچند جی کا نقصاں ہے\nمدعا اختلاط چسپاں ہے\nخوش و پرکار کب پری ان سی\nاور ہو تو کہاں ہے ہم جنسی\nدیکھے ازبس برآمدہ سینے\nایسا معلوم دل جو یوں چھینے\nکیا نظرگاہ کی کروں خوبی\nنظریں اٹھتی نہیں یہ محبوبی\nشانہ و دست و ساعد و بازو\nدلکشی میں تمام یک پہلو\nاس کے تو پہلو سے میں ہوکے جدا\nدرد پہلو سے تنگ دل ہی رہا\nہائے اس سے خدا جدا نہ کرے\nدور اس سے جیوں خدا نہ کرے\nیوں نہیں سرخ اس کی ہر انگشت\nڈوبی ہیں میرے خون میں یک مشت\nوہ کف دست راحت جاں ہے\nکاش سینے پہ رکھ دے غم یاں ہے\nکیا بیاں خوبی شکم کو کرے\nدیکھنے سے کبھو نہ پیٹ بھرے\nصدر کے ناحیے سے لے تا ناف\nچپ کی جاگہ ہے کیونکے کہیے صاف\nاس سے پھر آگے غنچۂ گل ہے\nیاں سخن بابت تامل ہے\nپردے میں بھی جو کچھ کہا جاوے\nآپ سے تو نہ ٹک رہا جاوے\nگئی نظروں سے وہ کمر باریک\nہو نہ آنکھوں میں کیوں جہاں تاریک\nاور کیا دل زدے کو بات آوے\nکہیں یارب شتاب ہاتھ آوے\nنازکی اس میاں کی کیا کہیے\nبنے تو ہاتھوں میں لیے رہیے\nٹک اگر لچکے تو قیامت ہے\nپھر قیامت تلک ندامت ہے\nکیوں پڑی ران پر نظر تا ساق\nاس بن اب زندگی ہوئی ہے شاق\nپاے جاناں سے گفتگو ہے اب\nخاک میں ملنے کا یہی ہے ڈھب\nوہ قدم کاش فرق سر پر ہو\nساق سیمیں مری کمر پر ہو\nوہ کف پا قریب ہو میرے\nٹھوکر اس کی نصیب ہو میرے\nپنڈلی نازک ہے شاخ سنبل کی\nپشت پا پنکھڑی سی ہے گل کی\nیوں نصیبوں سے ہو حنا کا ناؤں\nورنہ ڈوبے ہیں میرے خوں سے پاؤں\nناخن پا حنائی ہیں ایسے\nبرگ گل پاے سرو ہوں جیسے\nہو خراماں تو اس طرف نگہیں\nگل کفش اس کی لوگ دیکھ رہیں\nگل و بلبل سبھی تماشائی\nآگئے جس طرف بہار آئی\nرنگ رفتار دیکھ مجنوں ہو\nطرز گفتار جیسے افسوں ہو\nسر سے پاؤں تلک وہ محبوبی\nساتھ ان خوبیوں کے یہ خوبی\nکہ بہت دل ہے آشناے رحم\nدردمندوں کو جانے جاے رحم\nاب جو ثابت ہوئی ہے میری چاہ\nاس کو مدنظر ہے مجھ سے نباہ\nطعن و تعریض بیچ میں آئے\nکچھ نہ خاطر میں وہ مجھے لائے\nرستے میں اک طرف وفا کے لیے\nچلے جاتے ہیں مجھ پہ لطف کیے\nنہیں آزار کی رواداری\nمہرورزی ہے یا وفاداری\nپر جو معشوقی آب و گل میں ہے\nچھیڑ رکھنے کا شوق دل میں ہے\nمیں کروں تو کہیں خوش آتا ہے\nتیرا آزار جی سے بھاتا ہے\nخواہ ناخواہ وہ نہیں منظور\nکہ رہے دل شدہ مرا رنجور\nیہ بھی شوخی سے ہے گہے گاہے\nپر اس انداز سے کہ جی چاہے\n\nمعاملۂ سوم\n\nایک دن فرش پر تھا میرا ہاتھ\nباتیں کرتے تھے وے بھی میرے ساتھ\nپاؤں سے ایک انگلی مل ڈالی\nلطف سے درد وہ نہ تھا خالی\nدرد سے کی جو میں نے بے تابی\nدست نازک سے دیر تک دابی\nیاد آتے ہیں ایسے لطف جو اب\nگذرے ہیں جان غم زدہ پہ غضب\nتن بدن دیکھ جی نہ رہتا تھا\nمیں جو گستاخ ہوکے کہتا تھا\nکہ یہ جاگہ تم اس فقیر کو دو\nمتبسم ہو کہتے وے یہ لو\nیہ بھی کیا کیا خیال رکھتے ہیں\nآرزوے محال رکھتے ہیں\nپھر گھڑی بھر میں کہتے ہو نہ ملول\nمار کھانے کی باتیں سب ہیں قبول\nجب سلوک ان کا یاد آتا ہے\nکیا کہوں جی ہی بھول جاتا ہے\n\nمعاملۂ چہارم\n\nایک دن پان وے چباتے تھے\nسرخ لب ان کے مجھ کو بھاتے تھے\nکہہ اٹھا میں اگر اگال مجھے\nمنھ سے دو تو کرو نہال مجھے\nبولے یوں ہی ہے میں کہا ہاں سچ\nجھوٹا کھاتے ہیں میٹھے کی لالچ\nہنس کے اس وقت مجھ کو ٹال دیا\nپھر اسی رنگ سے اگال دیا\nایسی صدرنگ مہربانی تھی\nتب سیہ رو کی زندگانی تھی\nاب کے سے رنگ گر فلک لاتا\nخاک کے رنگ میں مجھے پاتا\n\nمعاملۂ پنجم\n\nمنقبت ایک مجھ سے کہوایا\nجس کا میں نے صلہ انھیں پایا\nپھر وہی کرتے میں جو کچھ کہتا\nایک پردہ سا بیچ میں رہتا\nدوستی رابطہ وفا اخلاص\nساتھ میرے تھا ان کو رابطہ خاص\nمیں تقاضائی ملنے کا رہتا\nمختلط ہونے کو سدا کہتا\nمیری تسکیں تھی ہر زماں منظور\nآپ بھی کرتے ملنے کا مذکور\nوصل کے وعدے ہی رہا کرتے\nآج کل رات دن کہا کرتے\nدل تو تھا رحم آشنا ازبس\nکڑھتے تھے جان کر مجھے بے کس\nجانتے تھے کہ ہے یہ دل دادہ\nسید خستہ خاک افتادہ\nدیکھتے مجھ کو جو پریشاں دل\nکہتے اے میرؔ کچھ نہیں حاصل\nدیکھ ٹک تو ہی تیرا حال ہے کیا\nجانے دے اب بھی یہ خیال ہے کیا\nآفت جاں ہے دوستی کرنا\nکب تلک گھٹ کے اس طرح مرنا\nمیں جو دیوانہ ان کے رو کا تھا\nشیفتہ پیچ دار مو کا تھا\nکچھ نہ سمجھی گئی کہن ان کی\nاب جدائی جو ہے کٹھن ان کی\nیاد کرتا ہوں اور روتا ہوں\nوعدہ بن ہی ہلاک ہوتا ہوں\n\nمعاملۂ ششم\n\nگل روؤں بن جگر ہے داغ کباب\nگیسوؤں بن ہے جی کو پیچ و تاب\nصورت ان کی خیال میں ہردم\nخواب میں جو ہوں وہ مژہ باہم\nمیں تو بستر پہ دل شکستہ اداس\nچاند سا منھ انھوں کا تکیے پاس\nمیں بچھونے پہ بے خود و بے خواب\nایک پیکر پری کا سا ہم خواب\nفرش پر پاؤں یہ غبار آلود\nان میں وے دونوں پا نگارآلود\nمیں تو افتادہ محو عجز و نیاز\nبازو میرے کسو کی بالش ناز\nجلتی آنکھوں کنے گل رخسار\nجس پہ کچھ بکھرے موے عنبربار\nپاس منھ کے وے لال تر نازک\nدست گستاخ پر کمر نازک\nفرش اس گل بدن سے سب بویا\nپھول میں نے بچھائے تھے گویا\nشب کٹی صورت خیالی سے\nدن کو ہوں میں شکستہ حالی سے\nگرچہ روزانہ بھی تصور تھا\nلیکن اندوہ سے مکدر تھا\nکہیں تصویر سی نظر آئی\nکہیں منھ پھیر جیسے شرمائی\nکبھی دل ان کے روومو میں رہے\nکبھی ملنے کی آرزو میں رہے\nصورت حال اور کچھ ہر دم\nگاہ لب خشک گاہ مژگاں نم\nمیں بھی مقدور تک وفا کی ہے\nجان غمناک پر جفا کی ہے\nبرسوں تک میں پھرا ہوں سرگرداں\nروز و شب دونوں تھے مجھے یکساں\nنے فقط جان سے جہاں سے گیا\nزن و فرزند خانماں سے گیا\nکیچ پانی ہو مینھ ہو یا برسات\nروز روشن ہو یا اندھیری رات\nان تلک میرے تیں پہنچ رہنا\nبیٹھے منھ دیکھنا نہ کچھ کہنا\nآشنا یار سارے بیگانے\nکہ ہوئے میرؔ جی تو دیوانے\nرشتۂ ربط انھوں نے توڑ دیا\nملنا جلنا سبھوں نے چھوڑ دیا\nنظر آتے نہیں ہیں مدت سے\nانس پیدا کیا ہے وحشت سے\nصبح ہوتے ہی گھر سے چلتے ہیں\nجیسے کھوئے گئے نکلتے ہیں\nچلتے جاتے ہیں دیکھتے ہی راہ\nپر کہیں کی کہیں پڑے ہے نگاہ\nمل گیا جو کوئی تو بچ نکلے\nسڑی خبطی دوانے سچ نکلے\nشوق سے ان کے حال دیگرگوں\nپارہ پارہ دل و جگر سب خوں\nرنگ ہر دم مزاج کا کچھ اور\nکل کا کچھ اور آج کا کچھ اور\nکیا بیاں کریے بے قراری کا\nذکر کیا حال اضطراری کا\nجی پڑا ترسے ساتھ سونے کو\nدل پریشان جمع ہونے کو\nپاس ان کے رہوں تو دل کو قرار\nپھر نہ ٹھہرے ٹک ایک کریے ہزار\nگئی برباد عزت ان کے لیے\nجلف لوگوں نے منھ پہ طعنے دیے\nگھورے پر سے جو اٹھ نہ سکتے تھے\nوے بھی کناس پوچ بکتے تھے\nسفر آیا جو ان کے تیں درپیش\nساتھ اس رنج میں بھی تھا درویش\nکیا کہوں جو اذیتیں دیکھیں\nہر قدم پر قیامتیں دیکھیں\nجو پڑھے گا تسنگ نامہ یاں\nہوگی ساری حقیقت اس پہ عیاں\nیاں نہ تفصیل کرنے کا تھا مقام\nکہ محبت سے یاں ہے حرف کلام\n\nمعاملۂ ہفتم\n\nبارے کچھ بڑھ گیا ہمارا ربط\nہوسکا پھر نہ دو طرف سے ضبط\nتب ہوا بیچ سے یہ رفع حجاب\nجب بدن میں رہی نہ مطلق تاب\nایک دن ہم وے متصل بیٹھے\nاپنے دل خواہ دونوں مل بیٹھے\nشوق کا سب کہا قبول ہوا\nیعنی مقصود دل حصول ہوا\nواسطے جس کے تھا میں آوارہ\nہاتھ آئی مرے وہ مہ پارہ\nگہ گہے دست دی ہم آغوشی\nہم سری ہم کناری ہم دوشی\nچند روز اس طرح رہی صحبت\nپیار اخلاص رابطہ الفت\nکچھ کہوں جو انھوں کی ہو تقصیر\nنارسائی تھی طالعوں کی میرؔ\nہوگئے بخت اپنے برگشتہ\nپھر کیا آسماں نے سرگشتہ\nبات ایسی ہی اتفاق پڑی\nکہ ہوئی سر پہ فرقت آن کھڑی\nلگی کہنے کہ مصلحت ہے یہ\nکتنے روزوں جدا تو مجھ سے رہ\nیوں بھی آتا ہے عشق میں درپیش\nکہ نشان بلا ہوں الفت کیش\nمیں اٹھایا نہیں ہے تجھ سے ہاتھ\nکڑھیو مت تو ہے میری جان کے ساتھ\nاس جدائی کا مجھ کو بھی غم ہے\nکیا کروں آبرو مقدم ہے\nمیں کہوں کیا مجھے نہ اپنا ہوش\nجیسے تصویر سامنے خاموش\nآنسو آنکھوں میں پر پیے جاؤں\nوے کہیں کچھ تو ہاں کیے جاؤں\nان سے رخصت ہوئے جو بعد شام\nتیرہ دیکھا جہان کو ہر گام\nدل ٹھہرتا نہ تھا ملالت تھی\nجان کو رفتگی کی حالت تھی\nیوں ہوا ان کے کوچے سے آنا\nجیسے ہووے جہان سے جانا\nاب جو گھر میں ہوں تو فسردہ سا\nچارپائی پہ ہوں تو مردہ سا\nجی انھوں میں فسردہ قالب یاں\nمتحرک ہو کیا تن بے جاں\nحال دل کا کہوں جو ہمدم ہو\nکروں پیغام کچھ جو محرم ہو\nجی میں کچھ آیا رو کے بیٹھ رہا\nدل زدہ چپکا ہوکے بیٹھ رہا\nکوئی آیا جو واں سے جی آیا\nسو نہ آیا کبھی کبھی آیا\nدیکھیے چند یوں رہیں گے جدا\nچاہے ہے کیا ہمارے حق میں خدا\nخون دل کب تلک پئیں گے ہم\nرنگ یہ ہے تو کیا جئیں گے ہم\nآہ کیا کیا بیاں کروں خوبی\nدل دہی حال پرسی محبوبی\nتند ہوکر نہ بات کو کہنا\nملتفت حال زار پر رہنا\nلطف مبذول حال پر ہر آن\nتازہ ہر دم مروت و احسان\nلب سے جاں بخش حرف سے دل جو\nلطف سے پوچھنا کہ خوش ہے تو\nیاد کر روؤں ان کی کون سی بات\nکس طرح کاٹوں ہجر کے اوقات\nملنا ان سے ہو پھر گھٹے غم بھی\nآئے جیتوں میں جانیے ہم بھی\nمدت ہجر اگر تمام ہوئی\nورنہ اپنی تو صبح شام ہوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%AA_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "معجزہ وہ جو مسیحا کا دکھاتے جاتے", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "معجزہ وہ جو مسیحا کا دکھاتے جاتے\nکہہ کے قم قبر سے مردے کو جلاتے جاتے\n\nمرتے دم باغ مدینہ کا نظارا کرتے\nدیکھ لیتے چمن خلد کو جاتے جاتے\n\nدیکھ کر نور تجلی کو ترے دیوانے\nدھجیاں دامن محشر کی اڑاتے جاتے\n\nبن کے پروانہ مری روح نکلتی تن سے\nلو جو اس شمع تجلی سے لگاتے جاتے\n\nاک نظر دیکھتے ہی روئے محمد کی ضیا\nغش پہ غش حضرت یوسف کو ہیں آتے جاتے\n\nہے وہ صحرائے جنوں آپ کے دیوانوں کا\nحضرت خضر جہاں ٹھوکریں کھاتے جاتے\n\nایسا محبوب ہوا کون کہ امت کے لئے\nروٹھتے آپ تو اللہ مناتے جاتے\n\nطور پہ حضرت موسیٰ نہ کبھی جل بجھتے\nآپ آنکھوں میں جو سرمہ نہ لگاتے جاتے\n\nصف محشر میں الٰہی بہ حضور سرور\nنعت پڑھ پڑھ کے یہ شہرت کی مناتے جاتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%AC%D8%B2%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B3%DB%8C%D8%AD%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92"} {"title": "معزول شہنشاہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "ہو مبارک اُس شہنشاہِ نِکو فرجام کو\nجس کی قربانی سے اسرار ملوکیّت ہیں فاش\n’شاہ‘ ہے برطانوی مندر میں اک مٹّی کا بُت\nجس کو کر سکتے ہیں، جب چاہیں پُجاری پاش پاش\nہے یہ مُشک آمیز افیوں ہم غلاموں کے لیے\nساحرِ انگلیس! مارا خواجۂ دیگر تراش", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%B2%D9%88%D9%84_%D8%B4%DB%81%D9%86%D8%B4%D8%A7%DB%81"} {"title": "معشوق ہمیں بات کا پورا نہیں ملتا", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "معشوق ہمیں بات کا پورا نہیں ملتا\nدل جس سے ملائیں کوئی ایسا نہیں ملتا\n\nدنیا میں اگر ڈھونڈیئے تو کیا نہیں ملتا\nسب ملتے ہیں اک چاہنے والا نہیں ملتا\n\nعشاق سے یوں آنکھ تمہاری نہیں ملتی\nاغیار سے دل جیسے ہمارا نہیں ملتا\n\nرہتی ہے کسر ایک نہ اک بات کی سب میں\nہم کو تو ان اچھوں میں بھی اچھا نہیں ملتا\n\nکچھ حال سنے کچھ ہمیں تدبیر بتائے\nغم خوار تو کیسا کوئی اتنا نہیں ملتا\n\nکیا مفت میں تم دل کے خریدار بنے ہو\nبے خرچ کئے دام یہ سودا نہیں ملتا\n\nجب دیکھیے ہم راہ ہے دشمن کا تصور\nہم سے تو وہ خلوت میں بھی تنہا نہیں ملتا\n\nدل کوئی ملاتا نہیں ٹوٹے ہوئے دل سے\nدنیا میں ہمیں جوڑ ہمارا نہیں ملتا\n\nبرباد کیا یاس نے یوں خانۂ دل کو\nڈھونڈے سے بھی اب داغ تمنا نہیں ملتا\n\nجو بات ہے دنیا سے نرالی ہے نئی ہے\nانداز کسی میں بھی تمہارا نہیں ملتا\n\nآنکھیں کہے دیتی ہیں کہ دل صاف نہیں ہے\nملتا ہے وہ اس رنگ سے گویا نہیں ملتا\n\nکہتے ہیں جلانے کو ہم اغیار کے منہ پر\nایسوں سے تو وہ رشک مسیحا نہیں ملتا\n\nظاہر ہے ملاقات ہے باطن میں جدائی\nتم ملتے ہو دل ہم سے تمہارا نہیں ملتا\n\nافسوس تو یہ ہے کہ تمہیں قدر نہیں ہے\nعاشق تو زمانے میں بھی ڈھونڈا نہیں ملتا\n\nکہنا وہ شرارت سے ترا دل کو چرا کر\nکیا ڈھونڈتے ہو ہم سے کہو کیا نہیں ملتا\n\nبیخودؔ نگہ لطف پہ دے ڈالئے دل کو\nجو ملتا ہے سرکار سے تھوڑا نہیں ملتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%B4%D9%88%D9%82_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D9%88%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "معشوقۂ گل نقاب میں ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "معشوقۂ گل نقاب میں ہے\nمحجوبہ ابھی حجاب میں ہے\n\nمہندی نہ لگا کہ جان میری\nہاتھوں سے ترے عذاب میں ہے\n\nتو ہے وہ بلا کہ ماہ و خورشید\nزلفوں کی ترے رکاب میں ہے\n\nہر اک تجھے آپ سا کہے ہے\nقضیہ مہ و آفتاب میں ہے\n\nاللہ رے ترے پسینے کی بو\nکب ایسی بھبھک گلاب میں ہے\n\nاس زلف کا اینٹھنا تو دیکھو\nبن چھیڑے ہی پیچ و تاب میں ہے\n\nقہاری کی شان جب سے تیری\nعالم کے اوپر عتاب میں ہے\n\nدل کوہ کا ہو گیا ہے پانی\nدریا سب اضطراب میں ہے\n\nاٹھ مصحفیؔ آفتاب نکلا\nاب تک تو دوانے خواب میں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%B4%D9%88%D9%82%DB%82_%DA%AF%D9%84_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے\nدل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانے\n\nکہہ جاتی ہے کیا وہ چین جبیں یہ آج سمجھ سکتے ہیں کہیں\nکچھ سیکھا ہوا تو کام نہیں دل ناز اٹھانا کیا جانے\n\nچٹکی جو کلی کوئل کوکی الفت کی کہانی ختم ہوئی\nکیا کس نے کہی کیا کس نے سنی یہ بتا زمانہ کیا جانے\n\nتھا دیر و حرم میں کیا رکھا جس سمت گیا ٹکرا کے پھرا\nکس پردے کے پیچھے ہے شعلہ اندھا پروانہ کیا جانے\n\nیہ زورا زوری عشق کی تھی فطرت ہی جس نے بدل ڈالی\nجلتا ہوا دل ہو کر پانی آنسو بن جانا کیا جانے\n\nسجدوں سے پڑا پتھر میں گڑھا لیکن نہ مٹا ماتھے کا لکھا\nکرنے کو غریب نے کیا نہ کیا تقدیر بنانا کیا جانے\n\nآنکھوں کی اندھی خود غرضی کاہے کو سمجھنے دے گی کبھی\nجو نیند اڑا دے راتوں کی وہ خواب میں آنا کیا جانے\n\nپتھر کی لکیر ہے نقش وفا آئینہ نہ جانو تلووں کا\nلہرایا کرے رنگیں شعلہ دل پلٹے کھانا کیا جانے\n\nجس نالے سے دنیا بے کل ہے وہ جلتے دل کی مشعل ہے\nجو پہلا لوکا خود نہ سہے وہ آگ لگانا کیا جانے\n\nہم آرزوؔ آئے بیٹھے ہیں اور وہ شرمائے بیٹھے ہیں\nمشتاق نظر گستاخ نہیں پردہ سرکانا کیا جانے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%B5%D9%88%D9%85_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%A7_%D9%BE%D9%86_%D9%84%D9%84%DA%86%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "معلوم تھا تکلیف سوا گزرے گی", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "معلوم تھا تکلیف سوا گزرے گی\nتا قبر نہ راحت سے ذرا گزرے گی\nکچھ بھی نہ جوانی نے کہا وقت وداع\nاتنا نہ بتا گئی کہ کیا گزرے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%81_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "معلوم کا نام ہے نشاں ہے نہ اثر", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "معلوم کا نام ہے نشاں ہے نہ اثر\nگنجائش علم ہے بیاں ہے نہ خبر\nعلم اور معلوم میں دوئی کی بو ہے\nاس واسطے علم ہے حجاب الاکبر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AB%D8%B1"} {"title": "معلوم کچھ ہوا ہی نہ دل کا اثر کہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "معلوم کچھ ہوا ہی نہ دل کا اثر کہیں\nایسا گیا کہ پھیر نہ پائی خبر کہیں\n\nعالم میں ہیں اسیر محبت کے ہر کہیں\nلیکن ستم کسو پہ نہیں اس قدر کہیں\n\nکھولی تھی چشم دید کو تیری پہ جوں حباب\nاپنے تئیں میں آپ نہ آیا نظر کہیں\n\nجوں غنچہ فکر جمع نہ کر ٹک تو گل کو دیکھ\nقسمت کی کھو سکے ہے پریشانی زر کہیں\n\nرہنے دو میری نعش کو ہو جائے تا غبار\nلے جائے گی اڑا کے نسیم سحر کہیں\n\nمصرف ہے سب یہ بالش صیاد کا ترے\nبسمل نہ بھریو خون سے تو بال و پر کہیں\n\nروتی ہے کیا گلوں کو تو شبنم ادھر تو دیکھ\nٹکڑے ہے اس طرح سے کسی کا جگر کہیں\n\nکرتا تھا کل گلی میں وہ اپنی خرام ناز\nاس میں جو آ کے پڑتی ہے مجھ پر نظر کہیں\n\nکہنے لگا یہ دیکھ کے احوال کو مرے\nبد نام تو کسی کے تئیں یاں نہ کر کہیں\n\nکیا ہتیا تجھے یہیں دینی ہے اے عزیز\nاتنا پڑا ہے ملک خدا جا کے مر کہیں\n\nقائمؔ یہ فیض صحبت سوداؔ ہے ورنہ میں\nطرحی غزل سے میرؔ کی آتا تھا بر کہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "معنی طراز عشق ہر اک بادہ خوار تھا", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "معنی طراز عشق ہر اک بادہ خوار تھا\nاس میکدے میں مست جو تھا ہوشیار تھا\n\nتمہید تھی جنوں کی گریباں ہوا جو چاک\nیعنی یہ خیر مقدم فصل بہار تھا\n\nبننے لگے ہیں داغ ستارے خوشا نصیب\nتاریک آسمان شب انتظار تھا\n\nتھے زندگی کے ساتھ محبت کے کاروبار\nآخر کسی کے در پہ ہمارا مزار تھا\n\nمرنے پہ بھی کٹا نہ عذاب غم فراق\nکنج لحد خلاصۂ شب ہائے تار تھا\n\nآغاز عشق ہی میں مجھے چپ سی لگ گئی\nاک بات بھی نہ کی کہ نفس رازدار تھا\n\nکیا لطف دے گیا وہ فریب وفا کا دور\nگویا کسی کے دل پہ ہمیں اعتبار تھا\n\nدنیا سے رہ روان محبت گزر گئے\nاس کارواں کا عالم ہستی غبار تھا\n\nچھٹ کر قفس سے میں نہ گیا سوئے بوستاں\nآخر فریب خوردۂ فصل بہار تھا\n\nاک آہ گرم ہم نے بھری تھی شب فراق\nجل کر سحر کو خاک دل بے قرار تھا\n\nفرصت ملی نہ ہم کو تماشائے دہر کی\nہر ذرہ حسن یار کا آئینہ دار تھا\n\nاک لخت دل بچا تھا مگر وہ بھی اے نظرؔ\nآخر کو نذر دیدۂ خوں نابہ یار تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہے\nنیچر بھی سبق سیکھ لے زینت ہے تو یہ ہے\n\nکمرے میں جو ہنستی ہوئی آئی مس رعنا\nٹیچر نے کہا علم کی آفت ہے تو یہ ہے\n\nیہ بات تو اچھی ہے کہ الفت ہو مسوں سے\nحور ان کو سمجھتے ہیں قیامت ہے تو یہ ہے\n\nپیچیدہ مسائل کے لیے جاتے ہیں انگلینڈ\nزلفوں میں الجھ آتے ہیں شامت ہے تو یہ ہے\n\nپبلک میں ذرا ہاتھ ملا لیجئے مجھ سے\nصاحب مرے ایمان کی قیمت ہے تو یہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "مغربی تہذیب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب\nکہ رُوح اس مَدنِیّت کی رہ سکی نہ عفیف\nرہے نہ رُوح میں پاکیزگی تو ہے ناپید\nضمیرِ پاک و خیالِ بلند و ذوقِ لطیف", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%BA%D8%B1%D8%A8%DB%8C_%D8%AA%DB%81%D8%B0%DB%8C%D8%A8"} {"title": "مغز بہار اس برس اس بن بچا نہ تھا", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مغز بہار اس برس اس بن بچا نہ تھا\nچین جبیں بن ایک گل اب کی ہنسا نہ تھا\n\nجب لگ میں صبح حسن بتوں سے ملا نہ تھا\nدل ہوئے گل سا ہات سے میرے گیا نہ تھا\n\nکیا کی وفا کہ موج گہر سا ہے سر سے بند\nخنجر جز ایک دم کا مرا آشنا نہ تھا\n\nجا کر فنا کے اس طرف آسودہ میں ہوا\nمیں عالم عدم میں بھی دیکھا مزا نہ تھا\n\nاس یار کاروانی کے وقت وداع ہائے\nبے نالہ ایک اشک مرا جوں درا نہ تھا\n\nہوتے ہی جلوہ گر ترے اے آفتاب رو\nسینے میں جیسے شبنم گل دل رہا نہ تھا\n\nمنہ موڑ بت کدہ سے حرم کو چلا ہے شیخ\nعزلتؔ مگر ہے کعبہ ہی میں یہاں خدا نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D8%BA%D8%B2_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%B1%D8%B3_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D9%86_%D8%A8%DA%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "مفت میں توڑ کے رکھ دی مری توبہ تو نے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مفت میں توڑ کے رکھ دی مری توبہ تو نے\nکام پتھر کا کیا شیشۂ صہبا تو نے\n\nمیں نے کی جامہ دری اور انہیں شکوہ ہے\nکر دیا چاک مرے حسن کا پردا تو نے\n\nکس قدر ہوش ربا ہے نگہ مست تری\nاس کو دیکھا نہ سنبھلتے جسے دیکھا تو نے\n\nتو نگاہوں میں تصور میں جگر میں دل میں\nفائدہ کیا جو کیا آنکھ سے پردا تو نے\n\nہم نہ کہتے تھے نہیں طاقت دیدار جلیلؔ\nکیا ہوا جلوہ گہہ ناز میں دیکھا تو نے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%81%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88%DA%91_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92"} {"title": "مفت کب آزاد کرتی ہے گرفتاری مجھے", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مفت کب آزاد کرتی ہے گرفتاری مجھے\nجی ہے آخر لے کے چھوڑے گی یہ بیماری مجھے\n\nکب ہوس ہے مجھ کو رسوائی کی لیکن کیا کروں\nکھینچ کر لاتی ہے اس کوچہ میں لاچاری مجھے\n\nمیں جو بن غم خوار ہرگز جی نہ سکتا تھا کبھو\nان دنوں کرنی پڑی ہے دل کی غم خواری مجھے\n\nعشق کے فن سے ابھی مجھ کو کہاں ہے اطلاع\nکچھ نہیں آتا بغیر از نالہ و زاری مجھے\n\nکیا لگا لیتا ہے خوباں کو یقیںؔ کرتی ہے داغ\nآئنے کی سادہ لوحی ساتھ پرکاری مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%81%D8%AA_%DA%A9%D8%A8_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "مفلس کو مزہ زیست کا چکھنے نہ دیا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مفلس کو مزہ زیست کا چکھنے نہ دیا\nاس نقد شباب کو پرکھنے نہ دیا\nدنیا سے لپٹتے تو لپٹتے کیوں کر\nپٹھے پہ کبھی ہاتھ تو رکھنے نہ دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%81%D9%84%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B2%DB%81_%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%DA%86%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مفلسی", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسی\nکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسی\nپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسی\nبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسی\nیہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسی\nکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاں\nتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاں\nمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاں\nعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاں\nحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسی\nجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیں\nمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیں\nوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیں\nان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسی\nمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حال\nسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جال\nگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھال\nمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمال\nسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسی\nجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمار\nمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چار\nگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بار\nمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یار\nمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسی\nمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پر\nدیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پر\nہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پر\nجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پر\nویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسی\nکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہ\nمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہ\nسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہ\nکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہ\nوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسی\nیہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئی\nپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئی\nزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئی\nہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئی\nبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسی\nلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائے\nمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائے\nمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائے\nاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائے\nمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسی\nکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاں\nجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاں\nکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاں\nپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاں\nدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسی\nبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہے\nکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہے\nجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہے\nزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہے\nآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسی\nنقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرے\nسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرے\nصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرے\nتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرے\nاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسی\nجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہ\nپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہ\nہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہ\nگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہ\nکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسی\nاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درم\nجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دم\nٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسم\nکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غم\nجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسی\nعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑے\nمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنے\nآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسے\nاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دے\nتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسی\nکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمال\nجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جال\nدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈال\nناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھال\nاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسی\nاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائے\nجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائے\nلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائے\nاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائے\nاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسی\nجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیں\nرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیں\nاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیں\nیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیں\nصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسی\nوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گی\nدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گی\nباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گی\nپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گی\nآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسی\nجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداس\nپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاس\nاک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آس\nگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاس\nیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسی\nمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بول\nپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مول\nجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھول\nگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھول\nہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسی\nبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہے\nنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہے\nماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہے\nبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہے\nمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسی\nگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلا\nشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھا\nکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جا\nوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلا\nاور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسی\nدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاں\nاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاں\nمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاں\nسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاں\nیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسی\nکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہے\nبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہے\nبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہے\nبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہے\nآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسی\nمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیں\nمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیں\nذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیں\nصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیں\nیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسی\nجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہ\nپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہ\nدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہ\nجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہ\nوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسی\nچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہے\nپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہے\nمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہے\nمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہے\nعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسی\nکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیل\nکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیل\nکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیل\nمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میل\nسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسی\nہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہے\nجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہے\nاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہے\nشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہے\nہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسی\nجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہی\nوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہی\nکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہی\nتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہی\nمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسی\nمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھا\nباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑا\nکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرا\nنٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹا\nسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسی\nرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کو\nسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کو\nسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کو\nچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کو\nآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسی\nدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیر\nخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیر\nاشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیر\nکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔ\nوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%81%D9%84%D8%B3%DB%8C"} {"title": "مفلسی سب بہار کھوتی ہے", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مفلسی سب بہار کھوتی ہے\nمرد کا اعتبار کھوتی ہے\n\nکیونکے حاصل ہو مج کو جمعیت\nزلف تیری قرار کھوتی ہے\n\nہر سحر شوخ کی نگہ کی شراب\nمجھ انکھاں کا خمار کھوتی ہے\n\nکیونکے ملنا صنم کا ترک کروں\nدلبری اختیار کھوتی ہے\n\nاے ولیؔ آب اس پری رو کی\nمجھ سنے کا غبار کھوتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%81%D9%84%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%D8%A8_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "مقام شکر ہے اے ساکنان خطہ خاک", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "مقام شکر ہے اے ساکنان خطہ خاک\nرہا ہے زور سے ابر ستارہ بار برس\nکہاں ہے ساقی مہوش کہاں ہے ابر مطیر\nبیار لامئے گلنار گوں ببار برس\nخدا نے تجھ کو عطا کی ہے گوہر افشانی\nدر حضور پر اے ابر بار بار برس\nہر ایک قطرے کے ساتھ آئے جو ملک وہ کہے\nامیر کلب علی خاں جییں ہزار برس\nفقط ہزار برس پر کچھ انحصار نہیں\nکئی ہزار برس بلکہ بے شمار برس\nجناب قبلۂ حاجات اس بلا کش نے\nبڑے عذاب سے کاٹے ہیں پانچ چار برس\nشفا ہو آپ کو غالبؔ کو بند غم سے نجات\nخدا کرے کہ یہ ایسا ہو سازگار برس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%A7%DA%A9%D9%86%D8%A7%D9%86_%D8%AE%D8%B7%DB%81_%D8%AE%D8%A7%DA%A9"} {"title": "مقتل میں آج حوصلہ دل کا نکل گیا", "poet_page": "مصنف:عاشق حسین بزم آفندی", "kind": "poetry", "section": "غزل > ایاغ بزم (1927)", "year": "1927", "text_ur": "مقتل میں آج حوصلہ دل کا نکل گیا\nسب اپنے پاؤں سے گئے میں سر کے بل گیا\n\nمنظور دل کا تھا انہیں لینا سو لے چکے\nاب کیوں وہ پاس آئیں گے مطلب نکل گیا\n\nقسمت تو دیکھیے جو شب وصل آئی بھی\nشکوے شکایتوں ہی میں سب وقت ٹل گیا\n\nآتے ہی فصل گل کے جنوں کا ہوا یہ جوش\nدیوانہ ان کا جامہ سے باہر نکل گیا\n\nباقی ہیں بعد قتل بھی الفت کی گرمیاں\nدل کی تڑپ نہ کم ہوئی گو دم نکل گیا\n\nان کی نگاہ قہر سے اب کیا بچے گا دل\nپلٹا نہیں جو تیر کماں سے نکل گیا\n\nاس ڈر سے نالہ کر نہیں سکتا فراق میں\nمر جاؤں گا جو وہ دل نازک دہل گیا\n\nکانٹوں کی آبلوں سے غنیمت تھی نوک جھونک\nوحشی کا تیرے دشت میں کچھ جی بہل گیا\n\nثابت قدم ہمیں ہیں نہ غیروں کو منہ لگاؤ\nکوئی نہ ہوگا ان میں سے جوبن جو ڈھل گیا\n\nاے بزمؔ مجھ سے کرتے وہ اقرار وصل کیا\nوہ تو یہ کہئے ان کی زباں سے نکل گیا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%82%D8%AA%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AC_%D8%AD%D9%88%D8%B5%D9%84%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مقدمہ انتخاب میر", "poet_page": "مصنف:مولوی عبد الحق", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "جہاں سے دیکھئے یک شعر شور انگیز نکلے ہےقیامت کا سا ہنگامہ ہے ہر جا میرے دیواں میںمیر تقی میرؔ سرتاج شعرائے اردو ہیں۔ ان کا کلام اسی ذوق و شوق سے پڑھا جائے گا جیسے سعدی کا کلام فارسی زبان میں۔ اگر دنیا کے ایسے شاعروں کی ایک فہرست تیار کی جائے جن کا نام ہمیشہ زندہ رہےگا تو میرؔ کا نام اس فہرست میں ضرور داخل کرنا ہوگا۔ یہ ان لوگوں میں نہیں ہیں جنھوں نے موزونی طبع کی وجہ سے یا اپنا دل بہلانے کی خاطر یا دوسروں سے تحسین سننے کے لیے شعر کہے ہیں، بلکہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو ہمہ تن شعر میں ڈوبے ہوئے تھے اور جنھوں نے اپنے کلام سے اردو کی فصاحت کو چمکایا اور زبان کو زندہ رکھا۔ شاعری میر صاحب کی زندگی کا جزو تھی۔ گویا فطرت نے انھیں اسی سانچے میں ڈھالا تھا، ان کا احسان اردو زبان پر تا قیامت رہےگا اور ان کے کلام کا لطف کسی زمانے میں کم نہ ہوگا کیوں کہ اس میں وہ عالمگیر حسن ہے جو کسی خاص وقت یا مقام سے مخصوص نہیں۔جانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہرگزتا حشر جہاں میں مرا دیوان رہے گامیرؔ صاحب جیسا کہ خود انھوں نے اپنے تذکرے ’’نکات الشعراء‘‘ میں لکھا ہے، ’’متوطن اکبر آباد است بہ سبب گردش لیل و نہار از چندے در شاہ جہاں آباد است۔‘‘علی ابراہیم کے تذکرہ ’’گلزار ابراہیم‘‘ میں جس کا ترجمہ میرزا علی لطفؔ نے ’’گلشن ہند‘‘ کے نام سے مسٹر جان گل کرسٹ کی فرمائش سے ۱۸۰۱ء۔ ۱۲۲۵ھ اردو میں کیا، یہ لکھا ہے کہ، ’’میرؔ تخلص، نام نامی اس نگین خاتم سخن آفرینی کا میر محمد تقی ہے۔ متوطن اکبرآباد کے سراج الدین علی خاں آرزو تخلص، آپ کے کچھ رشتہ داروں میں دور کے تھے۔ ابتدائے سن شعور سے پرورش انھوں نے دار الخلافہ شاہ جہاں آباد پائی ہے اور خان مذکور کی صحبت سے نظم ریختہ کی کیفیت، باریکیوں کے ساتھ اٹھائی ہے۔‘‘غرض یہ کہ اگرچہ میرؔ صاحب اکبر آباد میں پیدا ہوئے اور ان کے بچپن کا زمانہ بھی وہیں گذرا لیکن بعد میں وہ دلی چلے آئے اور دلی ہی کو اپنا وطن بنا لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو دلی سے نہیں، بلکہ دلی کو ان کے توطن سے فخر ہے۔ پھر دلی ہی کے ہوگئے اور دلی ہی کے کہلائے اور ان کی زبان بھی جو اس زمانے میں مایۂ افتخار اور شرافت کی ایک علامت سمجھی جاتی تھی، دلی ہی کی تھی۔میرؔ صاحب کے بزرگ اپنے قبیلے کے ساتھ حجاز سے سرحد دکن میں پہنچے اور وہاں سے احمد آباد گجرات میں وارد ہوئے مگر ان کے جد کلاں نے اکبرآباد میں توطن اختیار کیا۔ میرؔ صاحب کے والد میر علی متقی ایک متوکل گوشہ نشین درویش تھے اور ادنیٰ، اعلیٰ سب ان کی بڑی عزت کرتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے دو شادیاں کی تھیں۔ پہلی بیوی سراج الدین علی خان آرزو کی بہن تھیں، دوسری بیوی کے بطن سے میر صاحب (میر تقی) تھے۔ اولاد دونوں بیویوں سے ہوئی۔ اس رشتہ سے سراج الدین علی خاں آرزو میرؔ صاحب کے ماموں ہوئے۔ اگرچہ تذکرہ ’’گلزار ابراہیم‘‘ (گلشن ہند) نیز دوسرے تذکروں میں اور خود میرؔ صاحب نے اپنے ’تذکرۂ شعرائے اردو‘ میں خان آرزو کو اپنا استاد اور پیر و مرشد لکھا ہے لیکن حقیقت حال ’’ذکر میر‘‘ سے معلوم ہوتی ہے جو یہ ہے،میرؔ صاحب والد کی وفات کے بعد ہی کوئی گیارہ سال کے سن میں دلی آ گئے تھے اور نواب صمصام الدولہ امیر الدولہ نے جو ان کے والد سے ارادت رکھتے تھے، میرؔ صاحب کا اپنی سرکار سے ایک روپیہ روزانہ مقرر کر دیا۔ نواب صاحب نادر شاہ کی جنگ ۱۱۵۱ھ میں مارے گئے اور میرؔ صاحب کا روزینہ بند ہو گیا۔ اس وجہ سے انھیں پھر دلی آنا پڑا۔ اس وقت ان کی عمر کوئی پندرہ برس ہوگی۔ لکھتے ہیں کہ،’’جو لوگ درویش (والد) کی زندگی میں میری خاک پا کو سرمہ سمجھ کر آنکھوں میں لگاتے تھے، اب انھوں نے یک بارگی آنکھیں چرالیں، ناچار پھر دلی گیا اور اپنے بڑے بھائی کے ماموں سراج الدین علی خاں آرزو کا منت پذیر ہوا یعنی کچھ دن ان کے پاس رہا اور شہر کے بعض صاحبوں سے چند کتابیں پڑھیں۔ جب میں کسی قابل ہوا تو بھائی صاحب کا خط پہنچا کہ میرؔ تقی فتنۂ روزگاہے۔ ہرگز ان کی تربیت میں سعی نہ کی جائے۔ وہ عزیز (سراج الدین علی خاں) واقعی دنیادار شخص تھا۔ اپنے بھانجے کے لکھنے پر میرے درپے ہوگیا۔ جب کبھی ملاقات ہوتی، بلا وجہ برا بھلا کہنا شروع کر دیتے اور طرح طرح کی تکلیف پہنچانے کی کوشش کرتے۔ میرے ساتھ ان کا سلوک ایسا تھا جیسا کسی دشمن سے ہوتا ہے۔‘‘ فرماتے ہیں، ’’اگر ان کی دشمنی کی تفصیل لکھوں تو ایک دفتر ہو جائے۔‘‘غرض اس سے میرؔ صاحب کو اس قدر رنج اور تکلیف ہوئی کہ وہ دروازہ بند کئے ہوئے پڑے رہتے تھے اور اس رنج وغم میں ان کی حالت جنون کی سی ہوگئی تھی۔اس بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ میرؔ صاحب اور خان آرزو کے تعلقات بے حد ناگوار اور تلخ تھے۔ ان کی تربیت اور شاگردی کی روایت فسانے سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نکات الشعرا، ذکر میرؔ سے بہت بعد لکھی گئی ہے۔ ’’ذکر میرؔ‘‘ لکھتے وقت وہ تمام حالات تازہ تھے۔ دل پر صدمہ اور عالم پریشانی کا تھا۔ جو کچھ گذرا تھا، من و عن سب لکھ ڈالا۔ بعد میں جب ایک مدت گذر گئی، پریشان حالی بھی رفع ہو گئی تو اس صدمے کا اثر بھی خود بخود کم ہوگیا۔ ایسی حالت میں ان ناگوار واقعات کا دہرانا مناسب نہ سمجھا اور خوش اسلوبی سے ان پر پردہ ڈال دیا۔ میرؔ صاحب اپنی تعلیم اور شعر گوئی کی ابتداء کے متعلق خود بخود فرماتے ہیں،’’میر جعفر نامی ایک صاحب سے اتفاقاً ملاقات ہو گئی اور انھوں نے بڑی عنایت اور دل سوزی سے مجھے پڑھانا شروع کیا۔ اچانک ایک روز ان کے وطن عظیم آباد سے خط آیا اور وہ ادھر چلے گئے۔ کچھ دنوں بعد سعادت علی سے جو امروہہ کے سید تھے، ملاقات ہو گئی۔ انھوں نے مجھے ریختے میں شعر موزوں کرنے کی ترغیب دی۔ میں نے جان توڑ کے محنت کی اور ایسی مشق بہم پہونچائی کہ میں شہر کے موزوں گویوں میں مستند سمجھا جانے لگا اور میرے شعر سارے شہر میں مشہور ہوگئے اور چھوٹے بڑے سب شوق سے پڑھتے تھے۔‘‘ممکن ہے کہ میرؔ صاحب نے خان آرزو کی صحبت سے بھی کچھ فیض پایا ہو مگر ان کے اور خان آرزو کے ذوق میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ میرؔ صاحب فطری طورپر شاعر واقع ہوئے تھے اور ذوق شعر ان کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ وہ کسی کی صحبت یا شاگردی سے بالکل مستغنی معلوم ہوتے ہیں۔ میرؔ صاحب اس زمانے میں بہت پریشان رہے۔ کچھ دن رعایت خان، عظیم اللہ خاں کے بیٹے اور اعتماد الدولہ قمر الدین خاں کے نواسے کی مصاحبت اور رفاقت میں گزرے۔ اس کے بعد نواب بہادر کی سرکار سے تعلق ہو گیا۔نواب بہادر محمد شاہ بادشاہ کا خواجہ سرا تھا اور بادشاہ کی وفات کے بعد احمد شاہ کے زمانے میں سلطنت میں اسے بڑا دخل ہوگیاتھا۔ جب نواب بہادر دغا سے قتل کردیے گئے تو میرؔ صاحب بھی بے کار ہو گئے۔ اس کے بعد وزیر کے دیوان مہانرائن نے بڑے اشتیاق سے بلا بھیجا اور اس وقت سے ان کی سرکار کے متوسل ہو گئے مگر چند ہی ماہ میں یہاں کا رنگ بدل گیا۔ چند روز گوشہ نشین رہنا پڑا۔دو تین ماہ بعد راجہ جگل کشور جو محمد شاہ کے عہد میں دیوان بنگالہ تھے، میرؔ صاحب کو گھر سے اٹھا کر لے گئے۔ جب راجہ مذکور بھی زمانے کے ہاتھوں ناچار ہوگئے تو انھوں نے اپنی عنایت سے میرؔ صاحب کی تقریب راجہ ناگرمل سے کرادی جو اس وقت نائب وزیر اور عمدۃ الملک اور مہاراجہ کے خطاب سے ممتاز تھے۔ یہ تمام امراء میرؔ صاحب سے بڑی مہربانی اور عنایت سے پیش آتے تھے اور ان کی بڑی عزت وحرمت کرتے تھے۔ راجہ ناگرمل کی رفاقت میں میرؔ صاحب بہت دنوں تک رہے۔ اکثر مقامات میں راجہ صاحب کے ساتھ جانا پڑا اور بعض معرکے بھی دیکھے اور راجہ کی بدولت دربار اکبر آباد کی زیارت بھی نصیب ہوئی لیکن ایک ایسا واقعہ پیش آ گیا کہ میرؔ صاحب کو راجہ کی رفاقت چھوڑنی پڑی۔جس زمانے میں جاٹوں نے فساد مچا رکھا تھا، راجہ بھی پریشان تھے۔ اس نے میرؔ صاحب کو شاہی کیمپ میں جو اس وقت فرخ آباد میں سایہ فگن تھا، حسام الدین کے پاس بھیجا جسے بادشاہ کے مزاج میں بڑا دخل تھا۔ میرؔ صاحب گئے اور تمام عہد وپیمان کیے لیکن یہاں راجہ کا چھوٹا بیٹا میرؔ صاحب سے خوش نہ تھا، اس لیے کہ ان سے راجہ کے بڑے بیٹے سے بہت ربط ضبط تھا۔ اس نے برخلاف باپ کو یہ سمجھایا کہ دکھنیوں کے پاس جانا بہتر ہے، چنانچہ راجہ بادشاہ کے لشکر میں نہ گئے اور شہر کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس میں میرؔ صاحب کی بہت سبکی ہوئی اور وہ دلی پہونچ کر راجہ سے علیحدہ ہو گئے۔ اس کے بعد ہی کا زمانہ ہے کہ میرؔ صاحب لکھتے ہیں،’’فقیر ان ایام میں خانہ نشین تھا۔ بادشاہ اکثر طلب فرماتے تھے مگر میں کبھی نہیں گیا۔ ابوالقاسم خاں پسر ابوالبرکات خاں صوبہ دار کشمیر اور عبد الاحد خان (جو اس وقت بادشاہ کی ناک کا بال تھا) بھائی میرے ساتھ بہت سلوک کرتا تھا، میں کبھی کبھی اس کی ملاقات کو جاتا تھا اور بادشاہ بھی کبھی کبھی کچھ بھیج دیتے تھے۔‘‘میرؔ صاحب کی زندگی مصائب وآلام کا ایک سلسلہ تھی، جس کا تار بچپن سے لے کر لکھنؤ جانے تک کبھی نہ ٹوٹا۔ لڑکپن ہی میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ سید امان اللہ جو ان کے والد کے نہایت عزیز مرید تھے اور میرؔ صاحب انھیں اپنی کتاب کا ہر جگہ عم بزرگوار لکھتے ہیں اور جو انھیں باپ سے کم عزیز نہ تھے، وہ پہلے ہی دنیا سے کوچ کر گئے تھے۔ باپ کے مرنے پر بھائی اور عزیز و اقارب نے بہت بے مروتی کی۔ دس گیارہ سال کے سن میں بسراوقات کی فکر دامن گیر ہوئی۔ اس سے ظاہر ہے کہ اس وقت ان کے دل ودماغ کی کیا کیفیت ہوگی۔ جب آگرہ اور اس کے گرد ونواح میں کوئی صورت نہ نکلی تو ناچار دلی پہونچے۔اس وقت کی دلی تاریخ میں خاص حیثیت رکھتی ہے۔ وہ ہندوستان کی جان اور سلطنت مغلیہ کی راجدھانی تھی مگر ہرطرف سے آفات کا نشانہ تھی۔ اس کی حالت اس عورت کی سی تھی جو بیوہ تو نہیں پر بیواؤں سے کہیں زیادہ دکھیاری ہے۔ اولو العزم تیمور اور بابر کی اولاد ان کے مشہور آفاق تخت پر بے جان تصویر کی طرح دھری تھی۔ اقبال جواب دے چکا ہے۔ ادبار و انحطاط کے سامان ہو چکے تھے اور سیاہ رو زوال گرد و پیش منڈلا رہا تھا۔ بادشاہ دست نگر اور امیر امرا مضمحل و پریشان تھے۔سب سے اول نادر شاہ کا حملہ ہوا۔ حملہ کیا تھا خدا کا قہر تھا۔ نادر کی بے پناہ تلوار اور اس کے سپاہیوں کی ہوس ناک غارت نگری نے دلی کو نوچ کھسوٹ کر ویران و برباد کردیا۔ ابھی یہ کچھ سنبھلنے ہی پائی تھی کہ چند سال بعد احمد شاہ درانی کی چڑھائی ہوئی پھر مرہٹوں، جاٹوں اور روہیلوں نے وہ اودھم مچائی کہ رہی سہی بات بھی جاتی رہی۔ غرض ہر طرف خود غرضی، خانہ جنگی، طوائف الملوکی اور ابتری کا منظر آتا تھا۔ یہ حالات میرؔ صاحب نے اپنی آنکھوں دیکھے اور دیکھے ہی نہیں ان کے چرکے بھی سہے اور ان انقلابات کی بدولت ناکام شاعر کی قسمت کی طرح ٹھوکریں کھاتے پھرے۔ یہ دلی کے اقبال کی شام تھی جس کی سحر اب تک طلوع نہیں ہوئی۔ایسے وقت میں جب کہ پے در پے آفتیں نازل ہو رہی تھیں، شاعر بیچارے تو کس گنتی میں ہیں، بڑے بڑے وضعداروں اور متوکلوں کے اوسان بجا نہیں رہتے۔ اب تک جو باکمال دلی میں پڑے وضع داری نباہ رہے تھے، ان حادثوں کے بعد وہ بھی نہ ٹک سکے، سوائے ایک خواجہ میرؔ درد کے کہ ان کے پائے استقامت میں کبھی لغزش نہ ہوئی۔دلی کے اجڑنے کے بعد لکھنؤ آباد نظر آتا تھا۔ آصف الدولہ سالکھ لٹ نواب تھا۔ اہل کمال کی قدر ہونے لگی۔ پھر جو اٹھا وہیں کا ہو رہا۔ سب سے پہلے نادر شاہ کی تباہی کے بعد سراج الدین علی خاں آرزوؔ نے ادھر کا رخ کیا۔ ابھی ان کے لیے کوئی صورت نہ نکلی تھی کہ انتقال کر گئے۔ اس کے بعد مرزا محمد رفیع سوداؔ تشریف لے گئے۔ سوداؔ کے انتقال کے میرؔ صاحب نے نواب آصف الدولہ کے یاد کرنے پر ۱۱۹۷ھ۔ ۱۷۸۴ء میں دلی سے لکھنؤ کوچ فرمایا۔ میرؔ صاحب کے جاتے ہی دلی سونی ہوگئی۔ اور میر حسن، میر سوز، جرأت سب لکھنؤ میں جا بسے اور دلی کی رونق لکھنؤ میں آ گئی۔ میرؔ صاحب نے اپنے لکھنؤ جانے کا حال اس طرح لکھا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جبکہ دلی میں خانہ جنگی اور ابتری بپا ہے۔’’فقیر خانہ نشین تھا اور چاہتا تھا کہ شہر سے نکل جائے لیکن بے سروسامانی کی وجہ سے معذور تھا۔ میری عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے نواب وزیر الممالک آصف ا لدولہ بہادر آصف الملک کے دل میں خیال آیا کہ میرؔ میرے پاس چلا آئے تو اچھا ہو، میری طلبی کے لیے نواب سالار جنگ پسر اسحاق خاں، موئمن الدولہ اور نواب اسحٰق خاں کے چھوٹے بھائی نجم الدولہ نے جو وزیر اعظم کے خالو ہوتے تھے، ان قدیم تعلقات کی وجہ سے جو میرے ماموں سے تھے کہا کہ اگر نواب صاحب از راہ عنایت کچھ زاد راہ عنایت فرمائیں تو البتہ میرؔ صاحب آ سکتے ہیں۔ نواب صاحب نے اجازت دی اور انھوں نے سرکار سے زاد راہ لے کر مجھے لکھا کہ نواب والا جناب آپ کو یاد فرماتے ہیں، جس طرح ہو سکے آپ یہاں آ جائیے۔میں پہلے ہی سے دل برداشتہ بیٹھا تھا۔ خط آتے ہی لکھنؤ روانہ ہو گیا۔ چونکہ خدا کا یہی منشا تھا، میں بے یار و مددگار، بغیر قافلے اور رہبر کے فرخ آباد کے رستے سے گزرا۔ وہاں کے رئیس مظفر جنگ تھے۔ انھوں نے ہر چند چاہا کہ کچھ روز وہاں ٹھہر جاؤں مگر میرے دل نے قبول نہ کیا۔ دو ایک روز کے بعد روانہ ہو کر منزل مقصود پر پہنچ گیا۔ اول سالار جنگ کے یہاں گیا۔ خدا انھیں سلامت رکھے۔ بڑی عزت و توقیر سے پیش آئے اور جو کچھ مناسب تھا، بندگان عالی کی جناب میں کہلا کے بھیجا۔چار پانچ روز بعد اتفاقاً نواب عالی جناب مرغوں کی لڑائی کے لیے تشریف لائے، میں بھی وہاں تھا، ملازمت حاصل کی، محض فراست سے دریافت فرمایا کہ میر تقی ہو؟ اور نہایت لطف و عنایت سے بغل گیر ہوئے اور اپنے ساتھ نشست کے مقام پر لے گئے، اپنے شعر مجھے مخاطب کرکے سنائے۔ سبحان اللہ ’’کلام الملوک ملوک الکلام۔‘‘ اس کے بعد فرط مہربانی سے مجھ سے فرمائش کی۔ اس روز میں نے اپنی غزل کے صرف چند شعر عرض کئے۔ رخصت کے وقت نواب سالار جنگ نے کہا کہ میرؔ صاحب حسب طلب حاضر ہوگئے ہیں۔ بندگان عالی مختار میں انھیں کوئی جگہ عنایت فرمادی جائے۔ جب مرضی مبارک ہو یاد فرمائیں، فرمایا کہ میں کچھ مقرر کرکے آپ کو اطلاع کردوں گا۔ دو تین روز بعد یاد فرمایا، حاضر ہوا اور جو قصیدہ میں نے مدح میں کہا تھا پڑھا۔ سماعت فرمایا اور کمال لطف کے ساتھ اپنے ملازموں کے سلسلے میں داخل فرمایا اور ہمیشہ میرے حال پر عنایت و مہربانی فرماتے رہے۔‘‘اب میرؔ صاحب کی دلی کی بود و باش کا خاتمہ ہوتا ہے اور لکھنؤ کی نئی زندگی شروع ہوتی ہے۔ از روئے صاحب گلزار ابراہیم میرؔ صاحب لکھنؤ ۱۱۹۷ھ میں پہونچے۔ اس وقت ان کی عمر ساٹھ برس کی تھی۔ باقی عمر تا دم آخر ۱۴۲۵ھ تک لکھنؤ ہی میں بسر ہوئی۔ لکھنؤ آنے سے پہلے میرؔ صاحب کی شہرت یہاں پہونچ چکی تھی، چنانچہ جب آپ یہاں پہونچے تو لوگوں نے ان کے لیے آنکھیں بچھا دیں۔ امیر سے لے کر غریب تک اور بادشاہ سے لے کر فقیر تک نے اعزاز و قدردانی میں سبقت کی۔ گویا میرؔ صاحب کے آنے سے لکھنؤ کو بھاگ لگ گئے۔ شعر و سخن میں جان پڑ گئی اور مشاعروں کی رونق بڑھ گئی۔ میرؔ صاحب مرجع کمال بن گئے، دور دور سے لوگ اس شوق میں آتے تھے کہ میرؔ صاحب کی زبان مبارک سے ان کا کلام سنیں اور اپنے اپنے شہروں کو ان کے اشعار بطور سوغات کے لے جائیں۔ یہ مقبولیت اردو کے کسی دوسرے شاعر کو نصیب نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت سے اب تک میرؔ صاحب کے کمال کا سکہ لوگوں کے دلوں پر بیٹھا ہوا ہے اوربڑے بڑے شاعروں نے انھیں استاد مانا ہے۔ چنانچہ مرزا غالبؔ فرماتے ہیں،ریختے کے تمھیں استاد نہیں ہو غالبؔکہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھاایک دوسری جگہ فرماتے ہیں،غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخؔآپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیںذوقؔ کا ایک شعر ہے،نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیبذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارامیرؔ صاحب اپنے کمال سے خود واقف تھے اور انھیں اس پر ناز تھا اور اس کا اظہار انھوں نے جابجا اس طرح سے کیا ہے کہ دوسرے کی مجال نہیں، چنانچہ چند اشعار اس مضمون کے یہاں نقل کیے جاتے ہیں۔ریختہ خوب ہی کہتا ہے جو انصاف کروچاہئے اہل سخن میرؔ کو استاد کریںریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہےمعتقد کون نہیں میر کی استادی کاکیا جانوں دل کو کھینچے ہیں کیوں شعر میرؔ کےکچھ ایسی طرز بھی نہیں ایہام بھی نہیںجہاں سے دیکھئے یک شعر شور انگیز نکلے ہےقیامت کا سا ہنگامہ ہے ہر جا میرے دیواں میںجانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہرگزتا حشر جہاں میں مرا دیوان رہے گااس فن میں کوئی بے تہہ کیا ہوا مرا معارضاول تو میں سند ہوں، پھر یہ مری زباں ہےاگرچہ گوشہ نشین ہوں میں شاعروں میں میرؔپہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیاباتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گاپڑھتے کسی کو سنئے گا تو دیر تلک سردھنیے گابرسوں لگی ہوئی ہیں جب مہر و مہ کی آنکھیںتب کوئی ہم سا صاحب، صاحب نظر بنے ہےسارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوامستند ہے میرا فرمایا ہوااس آخری شعر میں تعلی کی انتہا ہو گئی ہے۔ کسی دوسرے شخص کی کیا مجال ہے کہ وہ ’’فرمانے کا لفظ‘‘ اپنے لیے اس طور سے لکھے۔ یہ میر صاحب ہی کو زیبا تھا۔میرؔ صاحب کی شاعری اپنی بعض خصوصیتوں کی وجہ سے اردو زبان میں نہ صرف ممتاز حیثیت رکھتی ہے بلکہ اپنی نظیر نہیں رکھتی۔ الفاظ کا صحیح استعمال اور ان کی خاص تربیت و ترکیب زبان میں موسیقی پیدا کر دیتی ہے۔ اس کے ساتھ اگر سادگی اور پیرایہ بیان بھی عمدہ ہو تو شعر کا رتبہ بہت بلند ہو جاتا ہے۔ میرؔ صاحب کے کلام میں یہ سب خوبیاں موجود ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان کا کلام ایسا درد بھرا ہوا ہے کہ اس کے پڑھنے سے دل پر چوٹ سی لگتی ہے جو لطف سے خالی نہیں ہوتی۔ ان کی زبان کی فصاحت اور سادگی، سوز و گداز، مضامین کی جدت اور تاثیر میں ایسی خوبیاں ہیں جو اردو کے کسی دوسرے شاعر میں نہیں پائی جاتیں۔ان کی شاعری عاشقانہ ہے لیکن کہیں کہیں وہ اخلاقی اور حکیمانہ مضامین کو اپنے رنگ میں ایسی سادگی، صفائی اور خوبی سے ادا کر جاتے ہیں جس پر ہزار بلند پروازیاں اور نازک خیالیاں قربان ہیں۔ یہ خاص انداز میرؔ صاحب کا ہے مگر ان کا کلام حسرت و ناکامی، حرمان و مایوسی سے بھرا ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ میرصاحب بہت بڑے درویش کے بیٹے تھے۔ ان کے بچپن کا تمام زمانہ درویشوں ہی کی صحبت میں گزرا۔ سید امان اللہ جنھیں میرؔ صاحب چچا کہتے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ انہیں کی آغوش شفقت میں پرورش اور تربیت پائی۔ جب کبھی کسی درویش سے ملنے جاتے تو میرؔ صاحب کو ساتھ لے جاتے اور یہ ان کی ملاقاتوں اور صحبتوں میں حاضر رہتے۔ ان کے والد کی خدمت میں بھی اکثر درویش اور دوسرے لوگ حاضر ہوتے۔ یہ چپکے چپکے سب کچھ دیکھتے اور سنتے رہتے تھے۔ خود والد نے سید امان اللہ یا میرؔ صاحب کو تلقین کی وہ بھی درویشانہ اور صوفیانہ اور خاص کر عشق اختیار کرنے کی تاکید فرماتے تھے۔’’بیٹا عشق اختیار کرو کہ عشق ہی کا اس کارخانے پر تسلط ہے۔ اگر عشق نہ ہوتا تو یہ تمام نظام درہم برہم ہو جاتا۔ بے عشق کے زندگانی و بال ہے اور عشق میں دل کھونا اصل کمال ہے۔ عشق بسازد وعشق بسوزد، عالم میں جو کچھ ہے، وہ عشق ہی کا ظہور ہے۔ بیٹا زمانہ سیّال ہے یعنی بہت کم فرصت، یعنی اپنی تربیت سے غافل نہ رہو۔ اس رستے میں بہت نشیب و فراز ہیں۔ دیکھ کر چلو ایسے پھول کا بلبل بنو جو سدا بہار ہو۔۔۔ فرصت کو غنیمت سمجھو اور اپنے تئیں پہچاننے کی کوشش کرو۔‘‘جب دن رات یہی صدائیں کان میں پڑتی رہیں تو وہ بچہ بڑا ہوکر درویش نہیں تو درویش منش ضرور ہوکر رہےگا۔ وہ اپنے والد کے متعلق کھتے ہیں،’’جوان صالح اور عاشق پیشہ تھے، دل میں گرمی اور سوز رکھتے تھے۔ اخلاق سنجیدہ اور اوصاف حمیدہ رکھتے۔ استقامت ایسی تھی کہ شاید کسی میں ہو۔ طبعش مشکل پسند، جانش دردمند، مژگان نم، حال درہم۔‘‘یہی اوصاف وراثتاً میرؔ صاحب کو بھی ملے، اس پر لڑکپن میں یتیم ہو گئے۔ ایک تو یتیمی کا صدمہ دوسرے عزیز و اقارب کی طوطا چشمی، زمانے کی بے مروتی، بے سروسامانی یہ ایسی حالتیں نہ تھیں کہ ان کے دل پر اثر نہ کرتیں۔ پھر وہ ایسے زمانے میں پیدا ہوئے جبکہ مسلمانوں کے اقبال کا ستارہ گہنا رہا تھا اور ہرطرف مایوسی اور ناکامی نظر آتی تھی اور ان حیرت انگیز اور زہر ہ گداز واقعات اور انقلابات کو دیکھا اور برتا جو چند خاندانوں اور شہروں نہیں ملکوں اور قوموں کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ ممکن نہ تھا کہ میرؔ صاحب کی سی اثر قبول طبیعت ان حالات سے متاثر نہ ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ ان کے کلام کی فصاحت و شستگی سے خاص لطف حاصل ہوتا ہے مگر پڑھنے والے کے دل پر مایوسانہ اثر پیدا کئے بغیر نہیں رہتا۔ شگفتگی اور زندہ دلی میرؔ صاحب کی تقدیر میں نہیں تھی۔ وہ سراپا یاس وحرماں تھے اور یہی حال ان کے کلام کا ہے۔ گویا ان کا کلام ان کی طبیعت و سیرت کی ہوبہو تصویر ہے اور غالباً یہی وجہ ہے کہ وہ اصلیت اور حقیقت سے خالی نہیں۔یہ رائے قیاسی یا فرضی نہیں۔ ’’ذکر میر‘‘ پڑھنے کے بعد اس بات کا یقین ہو جاتا ہے کہ ان کاہر شعر ان کے درد دل کی تصویر ہے۔ غزلوں سے صرف ان کی طبیعت کا رنگ معلوم ہوتا ہے۔ یہ معلوم ہونا دشوار ہے کہ کون سی غزل کس وقت اور کس حالت میں لکھی ہے۔ لیکن بعض واقعات جو ضمناً آ گئے ہیں، ان کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ میرؔ صاحب کی شاعری کا بہت سا حصہ آپ بیتی اور اپنے دل کی کیفیت ہے۔ مثلاً آرزوؔ کی بے مروتی اور دل آزار سلوک اور اپنی بے نوائی اور بے کسی کا ان کے قلب پر بڑا صدمہ تھا اور وہ بہت ہی شکستہ دل اور دل گرفتہ رہتے تھے۔ اسی غم وغصے میں ان پر جنون کی سی حالت طاری ہو گئی اور انھیں چاند میں ایک عجیب صورت نظر آنے لگی۔ جس سے ان کی وحشت اور دیوانگی اور بڑھ گئی۔ اس حالت کو ہم انھیں کے الفاظ میں نقل کرتے ہیں،’’در شب ماہ پیکرے خوش صورت باکمال خوبی از جرم قمراند از طرف من می کرد و موجب بے خودی می شد بہرطرف کہ چشمم می افتاد بر آں رشک پری می افتاد، بہرجا کہ نگاہ می کردم تماشئے آن غیرت حور می کردم۔ در و بام و صحن خانۂ ورق تصویر شدہ بود۔ یعنی از حیرت افزائی از شش جہت رومی نمود۔ گاہے چوں ماہ چہارد، مقابل گاہے سیر گاہ او منزل دل اگر نظر ہر گل مہتاب می افتاد آتشے در جان بیتاب می افتاد، ہر شب بہ او صحبت ہر صبح بے او وحشت دمے کہ سفیدۂ صبح می رمید از دل گرم آہ سرد می کشید یعنی آہ می کرد و انداز ماہ می کرد تمام روز جنون می کردم، دل دریا داد خون می کردم، کف بر لب چوں دیوانہ و مست، پارہ ہائے سنگ در دست من افتاں وخیزاں مردم از من گریزاں۔ تا چار ماہ آن گل شب افروز رنگ تازہ می ریخت و از فتنہ خرامی ہا قیامت می انگیخت، ناگاہ موسم گل رسید، داغ سودا سیاہ گردید یعنی چوں پریدار شدم مطلق از کار شدم صورت آن شکل و ہمیں در نظر خیال مشگنیش در سر۔ شائستہ کنارہ گیر شدم زندگانی و رنجیری شدم۔‘‘اب اس کے بعد میرؔ صاحب کی مثنوی ’’خواب و خیال‘‘ پڑھئے، اس قلبی واردات کی تصویر اور اس خواب کی تعبیر صاف نظر آتی ہے۔ یہ محض خواب وخیال ہی نہیں بلکہ ایک واقعہ تھا جو ان کے مایوس اور حزیں دل پر گذرا تھا۔یا جب جاٹوں کی سرکرشی اور فتنہ پردازی سے تنگ آکر راجہ ناگر مل بیس ہزار گھروں سمیت جن میں زیادہ تر انھیں سے وابستہ تھے، اپنا عزیز مقام چھوڑ کر کاماں جاتے ہیں (میرؔ صاحب بھی اس سفر میں راجہ صاحب کے ہمراہ تھے) تو میرؔ صاحب نے ایک مخمس لکھا ہے جس میں اپنی پریشان حالی اور برے وقت کا رونا رویا ہے۔ اسی قسم کی اور نظمیں بھی ہیں (مثلاً اپنے گھر کا حال وغیرہ) جن میں اپنی بپتا بیان کی ہے۔ اگرچہ یہ وقتی حالات اور ایک شخص واحد کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں لیکن سچا شاعر ان کو اس انداز اور خوبی سے بیان کر جاتا ہے کہ ہر شخص لطف حاصل کر سکتا ہے۔ وہ مر جاتا ہے مگر چھوٹے چھوٹے بے حقیقت واقعات اس کے لطف بیان کی بدولت ہمیشہ کے لیے زندہ رہ جاتے ہیں۔ان کا کلام دور از کار استعارات، بعید از قیاس مبالغے اور خلاف عادت امور سے پاک ہے۔ بھونڈے اور بے جا تکلف و تصنع اور فضول لفاظی کا نام نہیں۔ وہ قلبی واردات اور کیفیات کو نہایت سادہ، شستہ اور صاف زبان میں ایسے دلکش اسلوب سے بیان کرتے ہیں کہ جو بات وہ کہنی چاہتے ہیں وہ دل میں اتر جاتی ہے۔ غرض یہ کہ ان کا کلام بہ لحاظ فصاحت و روانی سہل ممتنع ہے اور سہل ممتنع کلام کا تجزیہ کر کے الگ الگ اس کی خوبی کا گنوانا ناممکن ہے کیونکہ اس سے کلام کی خوبی کا اندازہ تو ہوتا نہیں البتہ اس کی نسبت غلط فہمی پیدا کردینے کا اندیشہ ضرور ہوتا ہے۔شاعر کے کلام کا ایک بڑا معیار اس کے کلام کی تاثیر ہے۔ اگر اس معیار پر میرؔ صاحب کے کلام کو جانچا جائے تو ان کا مرتبہ شعراء میں سب سے اعلیٰ پایا جاتا ہے۔ ان کے اشعار سوز و گداز اور درد کی تصویریں ہیں۔ زبان سے نکلتے ہی دل میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں۔ میرؔ صاحب کی عمر کوئی نوے برس کی تھی اور ان کو وفات پائے بھی سوبرس سے زیادہ ہوتے ہیں لیکن اب تک یہ حال ہے کہ لوگ ان کے کلام کو پڑھ پڑھ کر مزے لیتے اور سردھنتے ہیں۔\n\nمیری یہ رائے میرؔ صاحب کے منتخب کلام کی نسبت ہے۔ ورنہ ان کی ضخیم کلیات میں رطب ویابس سب کچھ بھرا پڑا ہے۔ مولانا آزردہ نے ان کے کلام کی نسبت اپنے تذکرے میں صحیح لکھا ہے کہ ’’پستش بغایت پست، بلندش بغایت بلند است۔‘‘ اس پر مولانا حالیؔ کی عام رائے کا نقل کر دینا جو انھوں نے شعراء کی نسبت لکھی ہے، لطف سے خالی نہ ہوگا،’’یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دنیا میں جتنے شاعر استاد مانے گئے ہیں یا جن کو استاد ماننا چاہئے ان میں ایک بھی ایسا نہ نکلے گا جس کا تمام کلام اول سے آخر تک حسن و لطافت کے اعلیٰ درجے پر واقع ہوا ہو کیونکہ یہ خاصیت صرف خدا ہی کے کلام میں ہو سکتی ہے۔ شاعر کی معراج کمال یہ ہے کہ اس کا عام کلام ہموار اور اصول کے موافق ہو اور کہیں کہیں اس میں ایسا حیرت انگیز جلوہ نظر آئے جس سے شاعر کا کمال خاص وعام کے دلوں پر نقش ہو جائے، البتہ اتنی بات ہے کہ اس کے عام اشعار بھی خاص خاص اشخاص کے دل پر خاص خاص حالتوں میں تقریباً ویسا ہی اثر کریں جیسا کہ اس کا خاص کلام ہر شخص کے دل پر ہر حالت میں اثر کرتا ہے اوریہ بات اسی شاعر میں پائی جا سکتی ہے جس کا کلام سادہ اور نیچرل ہو۔‘‘میرؔ صاحب کے کلام میں ایسے حیرت انگیز جلوے نظر آتے ہیں جس طرح بعض اوقات سمندر کی سطح دیکھنے میں معمولی اور بے شور و شر نظر آتی ہے لیکن اس کے نیچے ہزاروں لہریں موجزن ہوتی اور ایک کھلبلی مچائے رکھتی ہیں، اسی طرح اگرچہ میرؔ صاحب کے اشعار کے الفاظ ملائم، دھیمے، سلیس اور سادہ ہوتے ہیں لیکن ان کی تہہ میں غضب کا جوش یا درد چھپا ہوتا ہے۔ الفاظ کی سلاست اور ترتیب کی سادگی لوگوں کو اکثر دھوکا دیتی ہے۔ وہ ان پر سے بے خبر گذر جاتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ شاعر نے ان سلیس الفاظ اور معمولی ترتیب میں کیا کیا کمال بھر رکھے ہیں۔ میرؔ صاحب کا کلام اس بارے میں اپنا جواب نہیں رکھتا اور غور سے پڑھنے کے قابل ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ پڑھنے والے قدیم الفاظ یا محاورہ یا متروک ترکیب کو دیکھ کر شعر چھوڑ دیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ اسی لفظ یا ترکیب نے جسے وہ متروک سمجھتے ہیں خاص لطف پیدا کر دیا ہے یا کم سے کم شعر کے حسن میں حارج نہیں۔میں یہاں چند شعر مثال کے طور پر نقل کرتا ہوں جس سے ان کے کلام کی حسن و خوبی اور ان کے خاص انداز کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ہمارے آگے ترا جب کسی نے نام لیادل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیامرے سلیقے سے میری نبھی محبت میںتمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیاہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہراس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھایاد اس کی اتنی خوب نہیں میر باز آنادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گاجو اس شور سے میر روتا رہے گاتو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گاالٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیماریٔ دل نے آخر کام تمام کیاعہد جوانی رو رو کاٹا، پیری میں لیں آنکھیں موندیعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیاناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کیچاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیایاں کے سفید وسیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہےرات کو رو رو صبح کیا اور دن کو جوں توں شام کیاگل کی جفا بھی دیکھی، دیکھی وفائے بلبلاک مشت پر پڑے تھے گلشن میں جائے بلبلکیوں کر گلی سے اس کی اٹھ کر میں چلا جاتایاں خاک میں ملنا تھا لو ہو میں نہانا تھاکہتا تھا کسو سے کچھ تکتا تھا کسو کا منہکل میرؔ کھڑا تھا یاں سچ ہے کہ دوانا تھاجفائیں دیکھ لیاں، بے وفائیاں دیکھیںبرا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیںہوگا کسی دیوار کے سائے کے تلے میرؔکیا کام محبت سے اس آرام طلب کواک شخص مجھی سا تھا کہ تھا تجھ سے پہ عاشقوہ اس کی وفا پیشگی، وہ اس کی جوانییہ کہہ کے میں رویا تو لگا کہنے نہ کہہ میرؔسنتا نہیں میں ظلم رسیدوں کی کہانیجب کوندتی ہے بجلی تب جانب گلستاںرکھتی ہے چھپڑ میرے خاشاک آشیاں سےخاموشی ہی میں ہم نے دیکھی ہے مصلحت ابہر اک سے حال دل کا مدت کہا زباں سےجب نام ترا لیجے تب چشم بھر آوےاس طرح سے جینے کو کہاں سے جگر آوےمستقل روتے ہی رہئے تو بجھے آتش دلایک دو آنسو تو اور آگ لگا جاتے ہیںشام سے کچھ بجھا سا رہتا ہےدل ہوا ہے چراغ مفلس کاعشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گیا آرام گیادل کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیاجی ہی دینے کا نہیں کڑھنا فقطاس کے در سے جانے کی حسرت بھی ہےاب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہےدامن کے چاک اور گریباں کے چاک میںاس آخری شعر پر مولانا حالیؔ نے اپنے مقدمہ دیوان میں ایک بہت ہی پر لطف لطیفہ لکھا ہے جس میں نہ صرف اس شعر کی خوبی بلکہ میرؔ صاحب کے کلام کی خصوصیت کا پورا اندازہ ہوتا ہے، مولانا فرماتے ہیں، ’’مولانا آزردہ کے مکان پر ان کے چند احباب جن میں مومنؔ اور شیفتہؔ بھی تھے، ایک روز جمع تھے۔ میرؔ کا یہ شعر پڑھا گیا۔ شعر کی بے انتہا تعریف ہوئی اور یہ سب کو خیال ہوا کہ اس قافیے کو ہرشخص اپنے اپنے سلیقہ اور فکر کے موافق باندھ کر دکھائے، سب قلم دوات اور کاغذ لے کر الگ الگ بیٹھ گئے اور فکر کرنے لگے۔ اسی وقت ایک اور دوست وارد ہوئے۔ مولانا سے پوچھا کہ حضرت کس فکر میں بیٹھے ہیں؟ مولانا نے کہا، قل ہو اللہ کا جواب لکھ رہا ہوں۔‘‘مولانا حالیؔ نے اسی شعر کے متعلق یہ رائے ظاہر کی ہے، ’’ظاہر ہے کہ جوش جنوں میں گربیان یا دامن یا دونوں کا چاک کرنا نہایت مبتذل اور پامال مضمون ہے جس کو قدیم زمانے سے لوگ برابر باندھتے چلے آئے ہیں۔ ایسے چیتھڑے ہوئے مضمون کو میرؔ نے باوجود غایت درجے کی سادگی کے ایک اچھوتے، نرالے اور دلکش اسلوب میں بیان کیا ہے کہ اس سے بہتر اسلوب تصور میں نہیں آ سکتا۔ اس اسلوب میں بڑی خوبی یہی ہے کہ سیدھا سادا ہے، نیچرل ہے اور باوجود اس کے بالکل انوکھا ہے۔‘‘یہی خوبی میرؔ کے تمام منتخب کلام میں پائی جاتی ہے، چنانچہ چند اشعار جو نمونے کے طورپر اوپر لکھے گئے ہیں، ان کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ زبان کی سلاست و فصاحت کے ساتھ پیرایۂ بیان کس قدر دل کش، نرالا اور پرتاثیر ہے۔یوں تو میرؔ صاحب کے تمام نامور ہم عصروں کے کلام میں سادگی، صفائی اور روز مرہ کی پابندی پائی جاتی ہے لیکن محض سلاست اور زبان کی فصاحت کام نہیں آسکتی۔ جب تک بیان میں تازگی، ادائے مطلب میں شگفتگی اور خیال میں بلندی وجدّت نہ ہو، میرؔ صاحب کے کلام میں یہ سب خو بیاں ایک جا جمع ہیں اور پھر اس پر درد اور تاثیر خداداد معلوم ہوتی ہے، اسی وجہ سے وہ اپنے تمام ہم عصروں میں ممتاز اور اردو شاعروں میں خاص درجہ رکھتے ہیں اور ان کی اس ممتاز خصوصیت کو اب تک کوئی نہیں پہونچا ہے۔البتہ خواجہ میر دردؔ ایک ایسے شاعر ہیں جنھوں نے سلاست و فصاحت زبان کے ساتھ اخلاقی مضامین اور صوفیانہ خیالات کی چاشنی دی ہے اور کلام میں درد پیدا کیا ہے۔ بیان میں جدت اور تازگی بھی پائی جاتی ہے۔ جس سے وہ میرؔ صاحب کے لگ بھگ پہنچ جاتے ہیں لیکن بیان میں گھلاوٹ نہیں ہے جو میرؔ صاحب کے ہاں ہے اور نہ غایت درجہ کی سلاست و سادگی کے ساتھ وہ سوز و گداز ہے اور نہ تخیل کی وہ شان ہے جو شاعری کی جان ہے، خصوصاً بیان کا وہ انوکھا انداز جس میں ایک خاص نزاکت ہوتی ہے، نظر نہیں آتا۔ میرؔ صاحب کا بڑا کمال اسی میں ہے۔ میر انیسؔ بھی جن کا فصاحت میں بہت بلند درجہ ہے اور جو سوز و غم کے بیان میں اپنی نظیر نہیں رکھتے، میرؔ صاحب کو نہیں پہنچتے، میر انیسؔ میں پھر بھی تکلف اور تصنع آجاتا ہے۔ میر اس سے بالکل بری ہے وہ خود سوز و غم کا پتلا ہے اور اس کا شعر سوز و غم کی صحیح اور سچی تصویر ہے جس میں تکلف کا نام نہیں۔میر انیسؔ کے ہاں خیال کے مقابلے میں الفاظ کی بہتات ہے اور خیال سے پہلے لفظ پر نظر پڑتی ہے۔ لیکن میرؔ کے اشعار میں الفاظ خیال کے ساتھ اس طرح لپٹے ہوئے ہیں کہ پڑھنے والا محو ہو جاتا ہے اور اسے لفظ خیال سے الگ نظر نہیں آتا۔ میر انیس کے ہاں دھوم دھام اور بلند آہنگی ہے۔ میر کے ہاں سکون اور خاموشی ہے اور اس کے شعر چپکے چپکے خود بخود دل پر اثر کرتے چلے جاتے ہیں جس کی مثال اس نشتر کی سی ہے جس کی دھار نہایت باریک اور تیز ہے اور اس کا اثر اسی وقت معلوم ہوتا ہے جب وہ دل پر کھٹکتا ہے۔ میر انیس رلاتے ہیں، میر خود روتا ہے۔ یہ آپ بیتی ہے اور وہ جگ بیتی۔میرؔ کے کلام کی جن خصوصیتوں کا ذکر ہواہے وہ مثال سے پوری طرح واضح ہوجائیں گی۔ جو اشعار نمونے کے طورپر اوپر لکھے گئے ہیں، ان میں کا ایک شعر یہ ہے،ہوگا کسی دیوار کے سائے کے تلے میرؔکیا کام محبت سے اس آرام طلب کواس شعر کا حسن شرح و بیان سے باہر ہے۔ آرام طلب کا لفظ اس کی جان ہے، اس لفظ کو نظر میں رکھئے اور پھر اس شعر کو غور سے ملاحظہ کیجئے تو شعر کا اصلی لطف سمجھ میں آجائے گا۔ ایک شخص جو محبت کے کارن عیش و آرام پر لات مار کے اور گھر بار چھوڑ کر بے یارو بے خانماں، آوارہ و سرگرداں محبوب کی دیوار کے نیچے پڑا ہے، اسے طعنہ دیا جاتا ہے کہ آرام طلب ہے اور ایسے آرام طلب کو محبت سے کیا کام، جب یہ آرام طلبی ہے تو قیاس کرنا چاہئے کہ محت کی مصیبت کیا ہوگی اور شاعر عاشق سے کیا توقع رکھتا ہے۔ ایک دوسری مثال لیجئے۔اک شخص مجھی سا تھا کہ تھا تجھ سے پہ عاشقوہ اس کی وفا پیشگی، وہ اس کی جوانییہ کہہ کے میں رویا تو لگا کہنے نہ کہہ میرؔسنتا نہیں میں ظلم رسیدوں کی کہانیاس میں کوئی اعلی درجہ کا مضمون یا کوئی مباحثہ یا استعارہ و تشبیہ یا کسی قسم کی صنعت نہیں مگر اظہار مطلب کے لیے کیسا خوبصورت پیرایہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس قسم کے اظہار حال میں سخت مشکل پیش آتی ہے اور انسان ہزاروں کوشش کرے اور کیسا ہی پہلو کیوں نہ اختیار کرے، پھوہڑ پنے سے بچ نہیں سکتا۔ شاعر نے اس بدتمیزی سے بچنے کے لیے پردے ہی پردے میں نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ درد دل کا اظہار کیا ہے اور اس پیرائے سے جو اثر پیدا ہوسکتا ہے وہ کبھی صاف صاف اپنے حال کے بیان کرنے سے نہیں ہو سکتا، اور پھر لطف یہ ہے کہ اس میں کہیں معشوق کی جفایا بیوفائی کا ذکر نہیں، صرف عاشق کی جوانی اور حال زار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہ کہہ کے اس کا رونے لگنا، اس کے درد دل کو آشکارا کر دیتا ہے اور یہاں پردہ خود بخود اٹھ جاتا ہے۔ یہ پیرایہ غضب کا درد انگیز ہے اور پھر معشوق کے جواب نے اس درد میں ہزاروں ٹیسیں پیدا کردی ہیں۔ یہ میرؔ صاحب کا خاص کمال ہے اور یہی چیز ہے جو ان کی شاعری کو ہمیشہ زندہ رکھے گی۔سرہانے میرؔ کے آہستہ بولو ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہےیہ شعر کس قدر سادہ ہے، اس سے زیادہ آسان، عام اور معمولی الفاظ اور کیا ہوں گے لیکن انداز بیان درد سے لبریز ہے اور لفظ لفظ سے حسرت و یاس ٹپکتی ہے۔ اردو کیا مشکل سے کسی زبان میں اس پائے کا اور ایسا درد انگیز شعر ملےگا۔ ایک دوسری بات اس شعر میں قابل غور یہ ہے کہ جو شخص دوسروں کو غل نہ کرنے اور آہستہ بولنے کی ہدایت کر رہا ہے، وہ بھی بیمار کے پاس بیٹھا ہے، اور اس پر لازم ہے کہ یہ بات آہستہ سے کہے۔ اس کے لئے یہ ضرور ہے کہ لفظ ایسے چھوٹے، دھیمے اور سلیس ہوں کہ دھیمی آواز میں ادا ہو سکیں۔ اب اس شعر کو دیکھئے کہ لفظ تو کیا ایک حرف بھی ایسا نہیں جو کرخت ہو یا ہونٹوں کے ذرا سے اشارے سے بھی ادا نہ ہو سکتا ہو۔جو اس شور سے میرؔ روتا رہےگاتو ہمسایہ کا ہے کو سوتا رہےگااس میں کوئی خاص مضمون یا بات نہیں، مگر شعر کس قدر پردرد ہے، دوسرے مصرعے نے اسے نہایت درد انگیز بنا دیا ہے۔ یہ سلاست اور یہ انداز بیان اور اس میں یہ درد میرؔ صاحب کا حصہ ہے، ان اشعار کے سامنے صنائع و بدائع، تکلف و مضمون آفرینی، فارسی، عربی ترکیبیں کچھ حقیقت نہیں رکھتی ہیں۔مقدور بھر تو ضبط کروں ہوں پہ کیا کروںمنہ سے نکل ہی جاتی ہے اک بات پیار کییہ شعر میرؔ کے اعلیٰ یا منتخب اشعار میں سے نہیں ہے۔ ایک معمولی شعر ہے لیکن دل کی ایک فطری کیفیت کو کس خوبی سے بیان کیا ہے اور جیسا یہ خیال فطری اور سادہ ہے ویسے ہی الفاظ بھی سادہ اور بندش اور ترکیب بھی صاف اور ستھری ہے مگر انداز بیان کا حسن یہاں بھی وہی ہے۔ ایسے اشعار میرؔ کے کلام میں سیکڑوں ملیں گے۔ اس لئے یہاں اور اشعار کا مثال کے طور پر لکھنا مضمون کو طول دینا ہے۔میرؔ صاحب کے کلام میں اخلاقی اور حکیمانہ اشعار کی بھی کچھ کمی نہیں لیکن اخلاق ہو یا حکمت، اندرونی کیفیت ہو یا بیرونی حالت، انداز بیان وہی ہے، نہایت معمولی اور سادہ الفاظ میں بڑے بڑے نکات اور بلند مضامین اس بے تکلفی سے بیان کر جاتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات سرسری طورپر پڑھنے سے خیال نہیں گزرتا کہ ان سادہ اور سلیس ترکیبوں کے پردے میں ایسے ایسے خیالات پنہاں ہیں۔ مثال کے طورپر یہاں چند شعر لکھے جاتے ہیں،سرسری تم جہاں سے گذرےورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا(کس قدر بلند اور اعلیٰ مضمون ہے، مگر کس خوبی سے ادا کیا گیا ہے۔)کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آ گیایکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھاکہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبرمیں بھی کبھو کسی کا سر پُرغرور تھاوصل و ہجراں سے جو دو منزل ہیں راہ عشق کیدل غریب دن میں خدا جانے کہاں مارا گیاہم نہ کہتے تھے کہ مت دیر و حرم کی راہ چلاب یہ دعویٰ حشر تک شیخ و برہمن میں رہایہ بھی طُرفہ ماجرا ہے کہ اسی کو چاہتا ہوںمجھے چاہئے ہے جس سے بہت احتراز کرنااوپر کے ان تین شعروں میں انسان کی حالت کا کس قدر سچا نقشہ کھینچا ہے۔بارے دنیا میں رہو، غم زدہ یا شاد رہوایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہوکہا میں نے کتنا ہے گل کا ثباتکلی نے یہ سن کر تبسم کیابیان کی یہ نزاکت قابل غور ہے،ہر دم قدم کو اپنے رکھ احتیاط سے یاںیہ کارگاہ ساری دوکانِ شیشہ گر ہےاڑنے کی یک ہوس ہے ہم کو قفس ہے ورنہشائستہ پر ید بازو میں پر کہاں ہےملک کی موجودہ سیاسی حالت پر یہ شعر کس قدر صادق آتا ہے،اب پست و بلند ایک ہے جوں نقش قدم یاںپامال ہوا خوب تو ہموار ہوا میںالٰہی کیسے ہوتے ہیں جنھیں ہے بندگی خواہشہمیں تو شرم دامن گیر ہوتی ہے خدا ہوتےمیرؔ صاحب کا کلام عاشقانہ ہے لیکن ان میں اکثر اشعار ایسے ملیں گے جن میں کوئی اخلاقی یا حکیمانہ نکتہ خوش اسلوبی سے بیان کیا گیا ہے۔ انسان کی طبیعت کے دو رنگ ہیں۔ لطف ومسرت یا اندوہ عالم۔ میرصاحب کے اشعار عاشقانہ ہوں یا حکیمانہ، ان میں مایوسی کی جھلک پائی جاتی ہے۔ یہ ان کی طبیعت کی افتاد ہے۔ وہ کسی حال میں ہوں کوئی کیفیت ان پر طاری ہو، ان کے دل سے جب کوئی بات نکلی، وہ یاس و ناکامی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ظرافت کی چاشنی میرؔ صاحب کے کلام میں مطلق نہیں مگر نہ معلوم کیا اتفاق ہوتا تھا اور وہ کیسی شبھ گھڑی ہوتی تھی کہ جب ان کے افسردہ اور حرماں نصیب دل کی کلی کھلتی اور وہ ایک آدھ شعر اس قسم کا کہہ جاتے۔ ان کے کلام میں چند ظریفانہ اشعار بھی پائے جاتے ہیں لیکن یا تو وہ مبتذل قسم کے ہیں کہ ان سے بدمذاقی پائی جاتی ہے یاوہی حسرت ویاس جو ان کے دم کے ساتھ تھی۔ حیرت ہے کہ ظرافت کے وقت بھی یہ رنگ نہ گیا۔ چنانچہ فرماتے ہیں،تھا میرؔ بھی دیوانہ پر ساتھ ظرافت کےہم سلسلہ داروں کی زنجیر ملا جاتامیرؔ صاحب نے چند قصیدے بھی لکھے لیکن بے مزہ اور پھیکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس گوں کے نہیں تھے اور قصیدہ لکھنا ان کی طبیعت کی افتاد کے خلاف تھا جس کی وجہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے قصیدے دوچار سے زیادہ نہیں۔البتہ مثنویاں قابل ذکر ہیں۔ یوں تو چودہ پندرہ مثنویاں ہیں لیکن بعض ان میں ایسی ہیں کہ اب بھی ان کا پڑھنا لطف سے خالی نہیں۔ مثلاً دو مثنویاں جو اپنے گھر کی خرابی اور برسات کی شکایت میں لکھی ہیں خوب ہیں۔ برسات میں اس مصیبت کا حال بہت ہی دردناک ہے۔ صحیح اور سچی واردات جو ایسی حالت میں واقع ہوتی ہے اس طرح لکھی ہے کہ آنکھوں کے سامنے بے سروسامانی کا نقشہ کھینچ جاتا ہے اور غرباء پر جو اس موسم میں گزرتی ہے اس کی حقیقی تصویر اس سے بہتر کہیں نہیں ملتی۔ اس سے میرؔ صاحب کی قوت مشاہدہ اور بیان واقعہ کی قدرت ظاہر ہوتی ہے۔ عشقیہ مثنویوں میں قصے اور بیان کے لحاظ سے سب سے بہتر ’’شعلہ عشق‘‘ ہے۔ ایک سادہ اور مختصر سا قصہ ہے لیکن جس طرح انھوں نے اسے اٹھایا ہے اور آخر تک نبھایا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ یہ پرس رام کی بیوی کی دردناک کہانی ہے۔ سارے قصے پر یاس و الم کا سایہ سا پڑا ہوا نظر آتا ہے۔ اول ابتدا ہی پر درد انجام کا پتہ دیتی ہے۔ جن اشخاص کا ان میں ذکر آیا ہے ان کی ساری حالت حقیقی رنگ میں دکھائی دیتی ہے۔قصے کی دل چسپی اس میں نہیں کہ کس کس نے کیا کیا کیا بلکہ اسی راز میں ہے کہ ہوئی ان ہوئی نہیں ہو سکتی۔ مثنوی میں ہر چیز انسانی زندگی سے کامل طور پر مطابق ہے سوائے انجام کے، جسے تخیل کی پرواز حقیقی سے خیالی زندگی میں اڑالے گئی ہے۔ دوسری عشقیہ مثنوی ’’دریائے عشق‘‘ ہے۔ یہ بھی ایک معمولی قصہ ہے۔ ان دونوں مثنویوں میں بیان سادہ اور بے تکلف اور مسلسل ہے۔ کہیں کہیں فارسی ترکیبیں آجاتی ہیں، ورنہ زبان بہت صاف ستھری ہے اور میرؔ صاحب کا اصلی رنگ صاف نظرآتا ہے۔سب سے بڑی مثنوی ’’شکارنامہ‘‘ کی ہے جس میں نواب آصف الدولہ کے شکار کا حال ہے۔ اس میں جابجا غزلیں آتی ہیں جن کے متعلق کچھ کہنے کی حاجت نہیں۔ ان میں میرؔ صاحب کو خاص کمال ہے لیکن صفائی زبان و بیان میں یہ ادھر کی دو مثنویوں کو نہیں پہونچتی۔ اس میں فارسیت کارنگ غالب ہے۔ مثنوی ’’جوش عشق‘‘ اور ’’خواب و خیال‘‘ بھی پڑھنے کے قابل ہیں۔ اگرچہ بظاہر یہ محض خیال ہیں اور عالم خیال میں بڑے لطف کے ساتھ تخیل کی جولانی دکھائی ہے لیکن خیال کی وسیع فضا میں ایسے واقعات کی کمی نہیں جو خود ان پر گذرے ہیں، اسی طرح جھوٹ کی مذمت، مناجات عاشقاں، عشق خانماں آباد کی مثنویاں بھی اپنی اپنی جگہ پر بہت پر لطف ہیں۔مثنویوں میں بھی میرؔ صاحب کا انداز بیان بہت سادہ اور دل گداز ہے۔ اس سے پہلے اردو میں مثنوی کا یہ انداز کہیں نہیں پایا جاتا۔ مثنوی اصناف نظم میں بہت مشکل ہے۔ میرؔ صاحب نے اسے خوب نبھایا ہے۔ اردو زبان میں میر صاحب کی مثنویاں سب سے پہلا اور عمدہ نمونہ ہیں۔ مثنوی کو انھیں کی بدولت ترقی ہوئی اور میر حسنؔ اور شوق وغیرہ سب انھیں کے مقلد ہیں البتہ خواجہ میرؔ درد کے چھوٹے بھائی میر اثرؔ کی مثنوی ’’خواب وخیال‘‘ ایک ایسی لمبی نظم ہے جو روز مرہ کی صفائی اور زبان کی خوبی کے لحاظ سے کہیں بڑھی ہوئی ہے لیکن وہ ہجر و وصل، راز و نیاز، تغافل معشوقانہ اور سراپا کی داستان ہے جس میں قصے کا کوئی تسلسل نہیں اور اس لیے میرؔ صاحب کی مثنوی ’’شعلۂ عشق‘‘ کو کسی طرح نہیں پہنچتی بلکہ اس سے مقابلہ کرنا ہی فضول ہے۔ میرؔ کی مثنویوں کے متعلق مولانا حالیؔ کی رائے سچی اور جچی تلی ہے۔’’اب تک اردو میں جتنی عشقیہ مثنویاں ہماری نظر سے گزری ہیں، ان میں سے صرف تین شخصوں کی مثنوی ایسی ہے جس میں شاعری کے فرائض کم و بیش ادا ہوئے ہیں۔ اول میرؔ تقی جنھوں نے غالباً سب سے اول چند عشقیہ قصے اردو مثنوی میں بیان کیے ہیں۔ جس زمانے میں میرؔ نے یہ مثنویاں لکھی ہیں اس وقت اردو زبان میں فارسیت بہت غالب تھی اور مثنوی کا کوئی نمونہ اردو زبان میں غالباً موجود نہ تھا اور اگر ایک نمونہ موجود بھی ہو تو اس سے چنداں مدد نہیں مل سکتی۔ اس کے سو اگرچہ غزل کی زبان بہت منجھ گئی تھی مگر مثنوی کا راستہ صاف ہونے تک ابھی بہت زمانہ درکار تھا۔ اس لیے میرؔ کی مثنویوں میں فارسی ترکیبیں، فارسی محاوردوں کے ترجمے اور ایسے فارسی الفاظ جن کی اب اردو زبان متحمل نہیں ہو سکتی، اس انداز سے جو آج کل فصیح اردو کا معیار ہے بلاشبہ کسی قدر زیادہ پائے جاتے ہیں، نیز اردو زبان کے بہت سے الفاظ و محاورات جواب متروک ہو گئے، میرؔ کی مثنوی میں موجود ہیں۔اگرچہ یہ تمام باتیں میرؔ کی غزل میں کم وبیش پائی جاتی ہیں مگر غزل میں ان کی کھپت ہوسکتی ہے کیونکہ غزل میں اگر ایک شعر بھی صاف اور عمدہ نکل آئے تو ساری غزل کو شان لگ جاتی ہے۔ وہ عمدہ شعر لوگوں کی زبان پر چڑھ جاتا ہے اور باقی پُرکن اشعار سے کوئی سروکار نہیں رہتا لیکن مثنوی میں جستہ جستہ اشعار کے صاف اور عمدہ ہونے سے کام نہیں چلتا۔ زنجیر کی ایک کڑی بھی ناہموار اور بے میل ہو جاتی ہے تو ساری زنجیر آنکھوں میں کھٹکتی ہے، بس ان اسباب سے شاید میرؔ کی مثنوی آج کل کے لوگوں کی نگاہ میں نہ جچے مگر اس سے میر کی شاعری میں کچھ فرق نہیں آتا، جس وقت میرؔ نے یہ مثنوی لکھی ہے اس وقت اس سے بہتر زبان میں مثنوی لکھنی امکان سے خارج تھی۔ بایں ہمہ میرکی مثنوی اکثر اعتبارات سے امتیاز رکھتی ہے باوجود یہ کہ میرؔ صاحب کی عمر غزل گوئی میں گزری ہے۔مثنوی میں بھی بیان کے انتظام اور تسلسل کو انھوں نے کہیں ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور مطالب کو بہت خوبی سے ادا کیا ہے جیسا کہ ایک مشاق اور استاد کر سکتا ہے، اس کے سوا صاف اور عمدہ شعر بھی میرؔ کی مثنوی میں بہ مقابلہ ان اشعار کے جن میں پُرانے محاورے یا فارسیت غالب ہے، کچھ کم نہیں ہیں۔ صدہا اشعار میرؔ کی مثنویوں کے آج تک لوگوں کے زبان زد چلے آتے ہیں۔اگرچہ میرؔ کی مثنویوں میں قصہ پن بہت کم پایا جاتا ہے، انھوں نے چند صحیح یا صحیح نما واقعات بطور حکایات کے سیدھے سادے طور پر بیان کیے ہیں، نہ ان میں کسی شادی یا تقریب یا وقت اور موسم کا بیان کیا گیا ہے، نہ کسی باغ یا جنگل یا پہاڑ کی فضا یا اور کوئی ٹھاٹھ دکھایا گیا ہے مگر جتنی میرؔ کی عشقیہ مثنویاں ہم نے دیکھی ہیں، وہ سب نتیجہ خیز اور عام مثنویوں کے برخلاف بے شرمی اور بے حیائی کی باتوں سے مبرّا ہیں۔‘‘اس میں شک نہیں کہ میرؔ کے کلام میں فارسیت کا رنگ زیادہ ہے مگر اس پر بھی صاف اور ستھرے اشعار کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ فصاحت اور سلاست متاخرین کے کلام سے کہیں زیادہ ہے۔ اگرچہ میرؔ اور ان کے ہم عصر شعراء کے کلام میں فارسیت غالب ہے لیکن اس میں عربیت کا جو رنگ غالب ہوتا جاتا ہے وہ اس سے کم نہیں ہے۔ ان بزرگوں نے تو پھر بھی یہ کیا کہ جہاں کثرت سے فارسی الفاظ اور محاورے اور فارسی ترکیبیں داخل ہیں، وہاں بہت سے الفاظ کو اپنا کر لیا اور اپنی صرف و نحو کے خراد پرچڑھا کر اردو بنا لیا لیکن آج کل یہ کوشش کی جاتی ہے کہ عربی الفاظ اور ترکیبوں کو جوں کا توں رکھا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ مقدس الفاظ اردو صرف ونحو کے چھو جانے سے نجس ہو جائیں۔ ان بزرگوں نے زبان کو بنانے اور وسیع کرنے کی کوشش کی اور بہت بڑا احسان کیا مگر آج کل ان کی تقلید کو ننگ سمجھتے اور ان کی کوششوں کو’’غلط العام‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں، حالانکہ وہ صحیح اصول پر چل رہے تھے اور ہم باوجود ہمہ دانی کے زبان کی اصل ترقی و نشو و نما کے گُر سے ناواقف ہیں۔ایک دوسرا فریق جو فارسی عربی کے مقبول الفاظ نکال کر ان کی جگہ غیرمانوس اور ثقیل سنسکرت کے الفاظ ٹھونسنا چاہتا ہے، اسی نافہمی میں مبتلا ہے۔ ہماری رائے میں یہ دونوں زبان کے دشمن ہیں۔ اس رجحان کے خاص اسباب ہیں جن پر ہم اس وقت بحث کرنی نہیں چاہتے اور کسی دوسرے وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں لیکن اس قدر ضرور جتا دینا چاہتے ہیں کہ اگر ہمیں زبان سے محبت ہے اور در حقیقت ہم اس کی ترقی کے خواہاں ہیں تو ہمیں پھر اسی اصول کو اختیار کرنا چاہئے جو ہمارے اسلاف نے اختیار کیا تھا۔خود میرؔ صاحب نے فارسی الفاظ و تراکیب کے استعمال کے متعلق اپنے تذکرۂ شعرائے اردو یعنی ’’نکات الشعراء‘‘ میں جو رائے ظاہر کی ہے وہ بہت ہی مناسب اور خوب ہے اور اب بھی قابل عمل ہے۔ وہ لکھتے ہیں، ’’سیوم آں کہ حرف وفعل پارسی بکار برندد ایں قبیح است، چہارم آن کہ ترکیبات فارسی می آرند، اکثر ترکیب کہ مناسب زبان ریختہ می افتد آن جائز است و ایں غیر شاعری داند دترکیبے کہ نامانوس می باشد آن معیوب است و دانستن ایں نیز موقوف سلیقۂ شاعری است ومختار فقیر ہمیں است اگر ترکیب فارسی موافق گفتگوئے ریختہ بود مضائقہ ندارد۔‘‘بہرحال میرؔ کی مثنویوں میں بیسیوں شعر جو اب تک زبانوں پر چڑھے ہوئے ہیں، اس سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانے میں بہت مقبول تھیں اور اب بھی تاریخی لحاظ سے نیز اپنی بعض خوبیوں کی وجہ سے پڑھنے کے قابل ہیں۔ یہاں بطور نمونے کے چند اشعار نقل کئے جاتے ہیں جو اس وقت بھی زبان زد خاص وعام ہیں۔ضبط کروں میں کب تک آہ ابچل اے خامے بسم اللہ ابنے کعبے نے دیر کے قابلمذہب ان کا ہے سیر کے قابلمیرؔ جی اس طرح سے آتے ہیںجیسے کنجر کہیں کو جاتے ہیںسنو اے عزیزان ذی ہوش و عقلکہ اس کارواں گہ سے کرنا ہے نقلپیمبر ہے، شہ ہے کہ درویش ہےسبھوں کو یہی راہ درپیش ہےنہ یک بوئے خوش ہی ہوا ہو گئیوہ رنگینی باغ کیا ہو گئیجس کسو سے یہ پیار رکھتا ہےعاقبت اس کو مار رکھتا ہےکہتے ہیں ڈوبتے اچھلتے ہیںڈوبے ایسے کوئی نکلتے ہیںرفتہ رفتہ ہوا ہوں سودائیدور پہونچی ہے میری رسوائیآہ جو ہمدمی سی کرتی ہےاب تو وہ بھی کمی سی کرتی ہےہوش جاتا رہا نگاہ کے ساتھصبر رخصت ہوا اک آہ کے ساتھمیرؔ صاحب کی رباعیاں بھی کچھ کم پرلطف نہیں اور بعض تو بہت اچھی ہیں۔ ان کے علاوہ متفرق مخمس، مستزاد اور فرد وغیرہ ہیں لیکن میرؔ کا اصل رنگ غزل اور مثنوی میں پایا جاتا ہے اور اس میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ وہ غزل کے بادشاہ ہیں اور ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے جو اہل ذوق خود پڑھ کر اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔شاعر نہیں جو دیکھا تو تو ہے کوئی ساحردو چار شعر پڑھ کر سب کو رجھا گیا ہےبعض بعض جگہ میرؔ صاحب نے فارسی اشعار کا اردو میں اس خوبی سے ترجمہ کردیا ہے کہ اصل سے بڑھ گیا ہے۔ سعدی کا ایک شعر ہے،دوستاں منع کنندم کہ چرا دل تبودارمباید اول تبو گفتن کہ چنیں خوب چرائیمیرؔ صاحب فرماتے ہیں،پیار کرنے کا جو خوباں ہم پہ رکھتے ہیں گناہان سے بھی تو پوچھئے تم اتنے پیارے کیوں ہوئےاس شعر میں پیارے کے لفظ نے جو حسن پیدا کر دیا ہے وہ اہل ذوق سے پوشیدہ نہیں، سعدی کا ایک اور شعر ہے،گفتہ بودم چوبیائی غم دل باتو بگویم!چہ بگویم کہ غم از دل برود چوں تو بیائیمیرؔ صاحب نے اسی مضمون کو کس خوبی سے ادا کیا ہے،کہتے تو ہو یوں کہتے یوں کہتے جو وہ آتاسب کہنے کی باتیں ہیں کچھ بھی نہ کہا جاتاایک فارسی کا شعر ہے،عنقا سرد برگیم مپرس از فقرا، ہیچعالم ہمہ افسانۂ ما دارد و ما ہیچمیرؔ نے اس مضمون کو کس خوبی سے اپنے خاص انداز میں بیان کیا ہے،مشہور ہیں عالم میں تو کیا ہیں بھی کہیں ہمالقصہ نہ در پے ہو ہمارے کہ نہیں ہمکہتے ہیں کہ انسان کا طرز بیان اس کی سیرت کا پرتو ہوتا ہے، یہ مقصود شاعر کے کلام پر اور بھی صادق آتا ہے لیکن غالباً کسی شاعر کے کلام پر اس کی طبیعت اور سیرت کا اس قدر اثر نہ پڑا ہوگا جتنا میرؔ کے کلام میں نظر آتاہے۔ جو شخص میرؔ کے حالات اور ان کے اخلاق وسیرت سے واقف نہ ہو وہ ان کے کلام کو پڑھ کر بغیر کسی تذکرے کی مدد کے خود بخود ان کے انداز، ان کی طبیعت کی افتاد اورمزاج کو تاڑ جائے گا۔ ان اشعار کو پڑھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ایک ایک لفظ، طرز بیان، ترتیب وبندش میں ان کے قلبی واردات و احساسات کا نقشہ کھنچا ہوا ہے۔ وہ شعر میں اپنا دل نکال کے رکھ دیتے ہیں اور ان کی جدت بیان میں صاف ان کے تیور نظر آتے ہیں۔میرؔ صاحب کی سیرت ان کے کلام سے کچھ کم قابل قدر نہیں بلکہ میری رائے میں زیادہ قابل وقعت ہے۔ کلام میں تو صرف یہی ہے کہ اسے پڑھ کر ایک خاص قسم کی لذت حاصل ہوتی ہے یا اس کے اثر سے متاثر ہوکر لطف ملتاہے لیکن سیرت کی خوبی دوسروں کی اصلاح کرتی اور ان کو بناتی ہے۔ کلام کا لطف تو ممکن ہے کسی کو نہ آئے لیکن سیرت کے اثر سے بہت کم ہیں کہ متاثر نہ ہوں۔ اس میں ایک زبردست اخلاقی قوت ہے جو اصلاح کا بڑا ذریعہ ہے اور کلام وسیرت میں وہی فرق ہے جو قول و فعل میں ہوتا ہے۔میرؔ کی وضع داری نے کمال کی لاج رکھ لی۔ انھوں نے شاعری کو ذریعہ عزت یا وسیلہ معاش نہیں بنایا۔ ان کا صبر و استقلال، ان کی قناعت و بے نیازی اور ان کی غیرت اور وضعداری وہ خوبیاں ہیں جو انسانیت کو کمال انسانیت پر پہونچاتی اور فرشتوں سے بڑھا دیتی ہیں۔ رنج والم سہے مگر کبھی اف تک نہ کی، فاقے سے رہے مگر کیا مجال کہ بھول کر بھی زبان پر حرف شکایت آیا ہو اور یہی نہیں بلکہ کسی دوسرے کی بھی یہ مجال نہ تھی کہ ان سے معمولی طریقہ پر سلوک کرنے کی جرأت کر سکے یا ایسا خیال بھی دل میں لاسکے۔ محتاج رہے مگر ممکن نہ تھا کہ کسی کے سامنے دست سوال پھیلائیں۔ ان کے مذہب میں یہ کفر تھا۔ وہ اپنے کمال میں مگن تھے اور خود اپنے تئیں اقلیم سخن کا شہنشاہ سمجھتے تھے۔ وہ دنیا کے مال ودولت کو کبھی خاطر میں نہ لائے۔ شاہوں کی شان و شوکت اور امیروں کی جاہ و ثروت ان کے سامنے ہیچ تھیں۔ کسی کے سامنے سر جھکانا یا کسی سے اظہار مدعا کرنا ان کے ہاں سب سے بڑی معصیت تھی۔سر کسو سے فرو نہیں ہوتاحیف بندے ہوئے خدا نہ ہوئےان سے یہ توقع رکھنی کہ وہ کسی کی مدح میں قصیدہ لکھیں بالکل عبث ہے۔ ان کی غیرت یہ کب گوارا کر سکتی تھی کہ کسی نا اہل کی بھٹئی کریں، یہ ان کی فطرت کے خلاف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دوتین قصیدے جو انھوں نے عمر بھر میں لکھے، وہ ان کے دوسرے کلام کے سامنے بے مزہ، پھیکے اور بے لطف ہیں کہ خود فرماتے ہیں،مجھ کو دماغ وصف گل دیا سمن نہیںمیں جوں نسیم باد فروش چمن نہیںاس میں شک نہیں کہ میرؔ کے کلام کی قدر خود انھیں کے زمانے میں ایسی ہوئی کہ کم کسی کو نصیب ہوئی ہوگی لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ قدر زیادہ تر ان کے زبردست کریکٹر یعنی سیرت کی وجہ سے ہوئی ورنہ کمال کی قدر جیسی کچھ ہوتی ہے وہ معلوم ہے۔ یہ ان کے صبر و استقلال اور استقامت و قناعت کی قوت تھی کہ ان کے سامنے اچھے اچھوں نے سر جھکائے اور زانوئے ادب تہہ کئے۔ یہاں تک کہ نواب آصف الدولہ اور نواب سعادت علی خاں بھی ان کا بڑا ادب و احترام کرتے اور بڑی عزت کے ساتھ پیش آتے تھے لیکن ان کی نازک مزاجی اور بددماغی کی کیفیت ان والیان ملک سے بھی وہی تھی جو اوروں کے ساتھ تھی اور صبر وقناعت اور غیرت وخود داری نے اس کے لے اور بڑھا دی تھی حتی کہ بعض وقت وہ لوگ بھی جو ان کے دل سے قدر داں تھے اور ان کی نازبرداری کو اپنا فخر سمجھتے تھے، ان کی بددماغی سے عاجز آجاتے تھے، وہ اپنے کمال کے سامنے کسی کی کوئی حقیقت نہیں سمجھتے تھے اور جا وبے جا بددماغی کر بیٹھتے تھے اور معلوم ہوتا تھا کہ وہ خود بھی اس سے واقف تھے، چنانچہ کہتے ہیں،حالت تو یہ کہ مجھ کو غموں سے نہیں فراغدل شورش درونی سے جلتا ہے جوں چراغسینہ تمام چاک ہے سارا جگر ہے داغہے نام مجلسوں میں مرا میرؔ بے دماغاز بس کہ کم دماغی نے پایا ہے اشتہارایک اور جگہ فرماتے ہیں،تری چال ٹیڑھی، تری بات روکھیتجھے میرؔ سمجھا ہے یاں کم کسو نےاس نازک مزاجی اور خود داری کے ہاتھوں وہ زندگی سے بے زار رہے اور ہمیشہ دکھ درد سہتے اور خون جگر کھاتے رہے اور اسی خون جگر سے انھوں نے زمین شعر کو سینچا جو اب تک تر و تازہ ہے۔مجھ کو شاعر نہ کہو میرؔ کہ صاحب میں نےدرد و غم کتنے کئے جمع تو دیوان کیاافسوس کہ آرام و راحت، زندہ دلی اور مسرت ان کی قسمت میں نہ تھی اور انھوں نے اپنی زندگی اس دنیا میں ایک حرماں نصیب قیدی کی طرح کاٹی۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ غم و الم کا ایک ابر سیاہ ہمیشہ ان پر چھایا ہوا ہے جس میں خوشی کی ایک کرن بھی چھن کر ان پر نہیں گرتی اور یہی رنگ ان کے اشعار سے ٹپکتا ہے۔ گویا وہ اور ان کا کلام ایک ہو گئے ہیں اور انتہائے کمال شاعری ہے۔ وہ اپنی اس کیفیت کو خود بیان کرتے ہیں،یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذریکیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کاقید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کیگلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کاایک دوسری غزل کے چند اشعار ہیں،یہ میرؔ ستم کشتہ کسو وقت جواں تھاانداز سخن کا سبب شور و فغاں تھاجادو کی پُڑی پرچۂ ابیات تھا اس کامنہ تکے غزل پڑھتے عجب سحر بیاں تھاجس راہ سے وہ دل زدہ دلی میں نکلتاساتھ اس کے قیامت کا سا ہنگامہ رواں تھاافسردہ نہ تھا ایسا کہ جوں آب زدہ خاکآندھی تھا بلا تھا، کوئی آشوب جہاں تھاغافل تھے ہم احوال دل خستہ سے اپنےوہ گنج اسی کنج خرابہ میں نہاں تھاباوجود ان حالات کے انہوں نے خود داری کو کبھی ہاتھ سے نہیں دیا اور اضطراب میں بھی کوئی فعل ان سے ایسا سرزد نہیں ہوا جو ان کی شان اور وضع داری کے خلاف ہوتا۔ آج ہم ان کی نازک مزاجی اور خودداری کے واقعات اور لطیفے شوق سے پڑھتے اور ان پر فخر کرتے ہیں اور ان سے وہی لطف حاصل ہوتا ہے جو ان کے کلام سے ہوسکتا ہے بلکہ اثر میں ان کے حالات ان کے کلام سے کہیں زیادہ ہیں، خوب کہا ہے،باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیےگاپڑھتے کسی کو سنئے گا تو دیر تلک سردھنئےگایہ وہ لوگ ہیں کہ باوجود مصائب و آلام کے ان کے پائے ثبات کو لغزش نہ ہوئی۔ انہوں نے اپنے کلام کی عزت قائم رکھی اور اپنے افعال سے اس کو ذلیل نہیں کیا۔ کمال کی وجہ سے ان کی عزت نہیں ہوئی بلکہ ان کی وجہ سے ان کے کلام کا رتبہ دو چند بڑھ گیا۔ اسی وجہ سے میرؔ کی زندگی سبق آموز اور عبرت خیز ہے۔ سبق ان کے لیے جو کسب کمال کی راہ میں گامزن ہیں اور ان کے گرد و بیش موافقات اور سامنے ترغیبات کا جال بچھا ہوا ہے، یہی ان کا امتحان ہے۔ ان پر لازم ہے کہ وہ راہ راست پر ثابت قدم رہیں اور اپنے قدم میں لغزش نہ آنے دیں۔عبرت ان کے لیے جو اپنے کمال کو اپنی ہوس کے پورا کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں اور اسے ایک دوکان داری سمجھتے ہیں اور اپنی بے حرمتی سے اپنے کمال کو بٹّا لگاتے ہیں۔ اگر کسی میں ہزاروں کمال ہوں لیکن اس میں میرؔ کی سی خود داری و صبر و استقلال، غیرت، وضع داری نہ ہو تو ایسے شخص کا وجود دنیا کے لیے بیکار ہے اور خود اس کے کمال کے لیے باعث ننگ و عار ہے۔ ان بے تہوں کو جنھیں اتفاق سے ہلدی کی گرہ ہاتھ لگ جاتی ہے اور پنساری بن بیٹھتے ہیں، میرؔ کی زندگی کا مطالعہ غور سے کرنا چاہتے ہیں، تب انہیں معلوم ہوگا کہ ایک صاحب کمال کے تیور ہی اور ہوتے ہیں۔میرؔ کا کلام اور ان کی سیرت دونوں قابل مطالعہ ہیں اور دونوں نے مل کر میرؔ کا رتبہ اردو شعراء میں نہایت بلند کردیا ہے، ایسے باکمال اور صاحب سیرت لوگ کہیں مدتوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کا نقش ایسا مستقل اور گہرا ہوتا ہے کہ زمانہ مٹاہی نہیں سکتا، خوب کہا ہے،مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوںتب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیںمیرؔ صاحب کو دربارداری اور امراء کی ملاقات سے طبعاً نفرت تھی۔ صاحب ’’آب حیات‘‘ لکھتے ہیں کہ، ’’گورنر جنرل اور اکثر صاحبان عالی شان جب لکھنؤ جاتے، اپنی قدر دانی سے یا اس سبب سے کہ ان کے میر منشی اپنے علوم حوصلہ سے ایک صاحب کمال کی تقریب واجب سمجھتے تھے، میرؔ صاحب کو ملاقات کے لیے بلاتے مگر یہ پہلو تہی کرتے اور کہتے کہ مجھ سے جو کوئی ملتا ہے یا مجھ فقیر کے خاندان کے خیال سے یا میرے کلام کے سبب سے ملتا ہے، صاحب کو خاندان سے غرض نہیں، میرا کلام سمجھتے نہیں البتہ کچھ انعام دیں گے، ایسی ملاقات سے ذلت کے سوا کیا حاصل۔‘‘اس سے زیادہ قابل لحاظ ایک واقعہ صاحب ’’گلشن ہند‘‘ نے لکھا ہے جس کا یہاں نقل کرنا ضروری سمجھتا ہوں، ’’جن ایام میں کہ درخواست صاحب عالیشان کی زبان دانان ریختہ کے مقدمے میں کلکتے سے لکھنؤ گئی تو کرنیل اسکاٹ صاحب کے روبرو تقریب میرؔ کی ہوئی لیکن علت پیری سے یہ بیچارے مجہول سے محمول ہوئے اور نوجوان نو مشق مربی گری سے قوت بدنی کے مقبول ہوئے۔ زمانہ خوش طبعوں سے نہیں خالی ہے اکثر اہل لکھنؤ پکارتے تھے کہ کلکتے میں شاعری کی جا درخواست حمالی ہے کس واسطے کہ یہ جانتے سب اہل تمیز ہیں کہ آج بھی بوڑھے کے سامنے نوجوان عور لے میں مویز ہیں۔ اب بھی جو بوجھ تمکنت معنی کا جر ثقیل طبع سے ترازو کرکے وہ دکھاتا ہے جوان اگر کوہ بوقبیس ہے تو تحمل سے اس کے کمر چراتا ہے۔‘‘غالباً اس جگہ کے لیے میر شیر علی افسوس کا انتخاب ہوا۔ یہ اردو زبان کی بدنصیبی تھی کہ میرؔ صاحب کا انتخاب نہ ہوسکا، چونکہ ان کی نظم میں غایت درجہ فصاحت و شیرینی اور سلالت و گھلاوٹ پائی جاتی ہے اس لیے ممکن تھا کہ وہ فورٹ ولیم کالج میں جاکر نثر میں کوئی ایسی یادگار چھوڑ جاتے کہ اہل زبان ان کی نظم کی طرح اسے سر آنکھوں پر رکھتے اور میر امن کے چہار درویش کی طرح اردو ادب میں اس کا نام بھی روشن ہوتا۔اب ایک سوال یہ باقی ہے کہ میرؔ کی شاعری کا اثر ان کے ہم عصروں اور مابعد کے شاعروں پر کیا پڑا، اگرچہ میرؔ صاحب کی شاعری کی خود ان کے زمانے میں بے انتہا قدر ہوئی اور اب تک لوگ ان کی استادی کا لوہا مانتے ہیں لیکن حیرت ہے کہ ان کے آخر زمانے میں نیز مابعد کی شاعری پر میرؔ کا مطلق اثر نہیں ہوا۔ لکھنؤ کی شاعری کا رنگ بالکل جدا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل لکھنؤ جس کلام کی اس قدر دل سے داد دیتے تھے اور جسے پڑھ پڑھ کر جھومتے اور سر دھنتے تھے، اس سے وہ مطلق متاثر نہ ہوئے اور اس نے ایک جداگانہ روش اختیار کی جسے میرؔ کے انداز سے کچھ نسبت نہیں۔ مولانا حالیؔ نے اپنے ’’مقدمۂ شعر و شاعری‘‘ میں اس کی وجہ بتائی ہے جسے یہاں بجنسہ نقل کیا جاتا ہے۔’’شجاع الدولہ کے زمانہ سے سعادت علی خاں کے وقت تک اردو کے تمام نامور شعراء کا جمگھٹا لکھنؤ ہی میں رہا۔ یہاں تک کہ میرؔ، سودا، سوز، جرأت، مصحفی اور انشاء وغیرہ آخر دم تک وہیں رہے اور وہیں مرے مگر متاخرین کی غزل میں ان کے طرز بیان کا اثر بہت کم پایا جاتا ہے۔ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب دلی بگڑ چکی اور لکھنؤ سے زمانہ موافق ہوا اور دلی کے اکثر شریف خاندان اور ایک آدھ کے سوا تمام نامور شعراء لکھنؤ ہی میں جارہے اور دولت و ثروت کے ساتھ علوم قدیمہ نے بھی ایک حد تک ترقی کی تو اس وقت نیچرل طور پر اہل لکھنؤ کو ضرور یہ خیال پیدا ہوا ہوگا کہ جس طرح دولت اور منطق وفلسفہ وغیرہ میں ہم کو فوقیت حاصل ہے، اسی طرح زبان اور لب و لہجہ میں بھی ہم دلی سے فائق رہیں لیکن زبان میں فوقیت ثابت کرنے کے لیے ضرور تھا کہ اپنی اور دلی کی زبان میں کوئی امر مابہ الامتیاز پیدا کرتے۔ چونکہ منطق وفلسفہ وطب وعلم کلام وغیرہ کی ممارست زیادہ تھی، خود بخود طبیعتیں اس بات کی مقتضی ہوئیں کہ بول چال میں ہندی الفاظ رفتہ رفتہ ترک اور ان کی جگہ عربی الفاظ کثرت سے داخل ہونے لگے۔ یہاں تک کہ سیدھی سادی اردو امراء اور اہل علم کی سوسائٹی میں متروک ہی نہیں ہو گئی، جگہ جیساکہ ثقات سے سناگیا ہے معیوب اور بازاریوں کی گفتگو سمجھی جانے لگی اور یہی رنگ رفتہ رفتہ نظم و نثر پر غالب آ گیا۔‘‘اصل بات یہ ہے کہ ملک کی شاعری اس کے تمدن کے تابع ہوتی ہے۔ جو سوسائٹی جس رنگ میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے، اسی کی جھلک اس کی نظم ونثر میں آجاتی ہے۔ اگر ہم اس زمانے کے لکھنؤ کو دیکھیں اور اس کے تمدن پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ اہل لکھنؤ کے کھانے پینے، رہنے سہنے، لباس، آداب و اطوار غرض تمام طرز معاشرت میں سراسر تصنع اور تکلف پایا جاتا تھا۔ انہیں سوچ سمجھ کر کسی خاص امتیاز کے پیدا کرنے کی ضرورت نہ تھی بلکہ جو عام روش زندگی کے ہرشعبہ میں نظر آتی تھی اسی میں ان کا علم وادب بھی رنگا ہوا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ منطق و فلسفہ اور علم کلام کی ممارست نے ان کے علم وادب پر اثر ڈالا لیکن اس سے قبل دلی میں بھی ان علوم کا چرچا تھا اور دور دور سے طالب علم ان علوم کی تحصیل کے لیے وہاں آتے تھے لیکن وہاں کی بول چال اور نظم ونثر پر کبھی ایسابرا اثر نہیں پڑا مگر اس زمانے کے لکھنؤ کی ممتاز خصوصیت، تصنع اور تکلف تھی اور یہ ان کے تمدن کے ہر پہلو اور ہر شعبے میں صاف نظر آتی ہے۔ وہ نئی تراش خراش اور جدت پر مٹے ہوئے تھے اور عوام و خواص میں اس کی بڑی قدر ہوتی تھی۔ اس کے لیے سب کے سب ادھر ہی ڈھل گئے اور ساری ہمت تکلفات میں صرف کر دی۔ سادگی کی جگہ بناوٹ نے اور فطرت کی جگہ صنعت نے لے لی۔ میرؔ اور ان کے ہمعصروں کا اثر زائل ہو گیا اور ان کے بجائے دوسرے استاد پیدا ہوئے جو اس سوسائٹی کے سپوت اور اس تمدن کے پروردہ تھے۔ حضرت ناسخؔ اور ان کے بعد کے خواجہ وزیرؔ، صبا، رشکؔ اور امانت وغیرہ کے کلام میں سوائے ضلع جگت، لفظی مناسبت اور تلازمہ اور دیگر تکلفات کے کچھ بھی نہیں، نثر میں اس کا سب سے عمدہ نمونہ مرزا رجب علی بیگ سرور کا ’فسانہ عجائب‘ ہے۔اس دور کا اثر ایک مدت تک رہا اور شاید اب بھی لکھنؤ کی سرزمین میں کہیں کہیں باقی ہو، لیکن یہ چلنے والی چیز نہ تھی۔ آخر اس کا زور ٹوٹا جس میں بیرونی اثر کو بھی دخل ہے۔ میر مجروحؔ اور مولانا حالیؔ کے کلام میں کچھ کچھ میرؔ کا رنگ نظر آتا ہے۔ نثر میں فورٹ ولیم کالج، مرزا غالب، سرسید احمد خاں، مولانا حالیؔ، مولوی محمد حسین آزاد وغیرہ نے ایک نئی روح پھونکی، انجمن پنجاب نے بھی اردو نظم ونثر کی اصلاح میں مدد دی۔ یہ نثر زیادہ تر مغربی رنگ نے پیدا کیا۔آج کل اردو پھر ایک تذبذب کی حالت میں ہے۔ ہندومسلمان کے اختلاف نے اردو پر بہت برا اثر ڈالا ہے۔ ایک فریق عربی پر تلا ہوا ہے اور دوسرا فریق سنسکرت پر، دونوں غلطی پر ہیں۔ زمانے کے اقتضا سے زبان بچ نہیں سکتی اور یہ اسی کا اثر ہے لیکن جو اسباب اس کے باعث ہوئے ہیں، وہ سب عارضی ہیں اور قائم رہنے والے نہیں۔ جب لوگ اردو زبان کی تاریخ، اس کی ابتدا اور اس کے نشو ونما پر غور کریں گے اور زبان کے عمدہ نمونے ان کے پیش نظر ہوں گے تو اس بے راہ روی سے خود بخود باز آجائیں گے جس میں سب سے بڑی تقویت مغربی تعلیم، وہاں کے عمدہ نمونوں اور صحیح تنقیدی اصولوں سے ملے گی اور گو میرؔکا حقیقی اور اصلی رنگ واپس نہ آئے مگر اس کا کلام پھر بھی اسی شوق وذوق سے پڑھا جائے گا اور جس حسن وسادگی کو ہم بھولے ہوئے ہیں، اس کی یاد کو تازہ کرتا رہے گا اور ہمیں بھٹکنے سے روکتا رہے گا، یہ کیا کم احسان ہے؟سہل ہے میرؔ کا سمجھنا کیاہر سخن اس کا اک مقام سے ہے\n\nحاشیے\n\n(1) ناسخ نے میرؔ صاحب کا سنہ وفات اس مصرع سے نکالا ہے۔ ’’واویلا مُرد شہ شاعراں‘‘\n\n(2) مقدمہ شعر و شاعری از مولانا حالیؔ ص۔۔۔ طبع دہلی۔\n\n(3) بے تہ خاص میرؔ صاحب کا لفظ ہے انھوں نے اسے کم مایہ کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ آج کل سطحی لفظ کا استعمال ہوتا ہے جو ایک انگریزی لفظ کا ترجمہ ہے اور بے تہہ کے مقابلہ میں بہت بھونڈا اور ثقیل ہے۔ یہ لفظ استعمال کرنے اور رواج دینے کے قابل ہیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%AE%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%D8%B1"} {"title": "مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا\nجوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کا\n\nپردے کو تعین کے در دل سے اٹھا دے\nکھلتا ہے ابھی پل میں طلسمات جہاں کا\n\nٹک دیکھ صنم خانۂ عشق آن کے اے شیخ\nجوں شمع حرم رنگ جھلکتا ہے بتاں کا\n\nاس گلشن ہستی میں عجب دید ہے لیکن\nجب چشم کھلی گل کی تو موسم ہے خزاں کا\n\nدکھلائیے لے جا کے تجھے مصر کا بازار\nلیکن نہیں خواہاں کوئی واں جنس گراں کا\n\nہستی سے عدم تک نفس چند کی ہے راہ\nدنیا سے گزرنا سفر ایسا ہے کہاں کا\n\nسوداؔ جو کبھو گوش سے ہمت کے سنے تو\nمضمون یہی ہے جرس دل کی فغاں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "مقدور کیا مجھے کہ کہوں واں کہ یاں رہے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مقدور کیا مجھے کہ کہوں واں کہ یاں رہے\nہیں چشم و دل گھر اس کے جہاں چاہے واں رہے\n\nمثل نگاہ گھر سے نہ باہر رکھا قدم\nپھر آئے ہر طرف یہ جہاں کے تہاں رہے\n\nنے بت کدہ سے کام نہ مطلب حرم سے تھا\nمحو خیال یار رہے ہم جہاں رہے\n\nجس کے کہ ہو نقاب سے باہر شعاع حسن\nوہ روئے آفتاب خجل کب نہاں رہے\n\nآئے تو ہو پہ دل کو تسلی ہو تب مرے\nاتنا کہو کہ آج نہ جاویں گے ہاں رہے\n\nہستی ہی میں ہے سیر عدم اس کو یاں جسے\nفکر میان یار و خیال دہاں رہے\n\nغیبت ہی میں ہے اس کی ہمارا ظہور یاں\nوہ جلوہ گر جب آگے ہوا ہم کہاں رہے\n\nبیدارؔ زلف کھینچے ادھر چشم یار ادھر\nحیراں ہے دل کہاں نہ رہے کس کے ہاں رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "مقرر کچھ نہ کچھ اس میں رقیبوں کی بھی سازش ہے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مقرر کچھ نہ کچھ اس میں رقیبوں کی بھی سازش ہے\nوہ بے پروا الٰہی مجھ پہ کیوں گرم نوازش ہے\n\nپے مشق تغافل آپ نے مخصوص ٹھہرایا\nہمیں یہ بات بھی منجملۂ اسباب نازش ہے\n\nمٹا دے خود ہمیں گر شکوۂ غم مٹ نہیں سکتا\nجفائے یار سے یہ آخری اپنی گزارش ہے\n\nکہاں ممکن کسی کو باریابی ان کی محفل میں\nنہ اطمینان کوشش ہے نہ امید سفارش ہے\n\nنہاں ہے دل پذیری جس کے ہر ہر لفظ شیریں میں\nیہ کس جان وفا کے ہاتھ کی رنگیں نگارش ہے\n\nکیا تھا ایک دن دل نے جو دعوئے شکیبائی\nسو اب تک ان کے ناز دلبری کو ہم سے کاوش ہے\n\nہجوم یاس نے بیدل کیا ایسا کہ حسرتؔ کو\nترے آنے کی اب امید باقی ہے نہ خواہش ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%82%D8%B1%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D8%B2%D8%B4_%DB%81%DB%92"} {"title": "مقصد حاصل نہیں ہو یا ہو", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مقصد حاصل نہیں ہو یا ہو\nجو ہونا ہے جلد اے خدا ہو\n\nالفت ہے پاس وضع کا نام\nمرتے مر جاؤ پر نباہو\n\nدل میں نہیں خوب میل رکھنا\nجو شکوہ گلہ ہو برملا ہو\n\nکیا ہوتا ہے فرش بوریا سے\nلازم ہے کہ قلب بے ریا ہو\n\nاک جام ہی تو پلا دے للہ\nاے پیر مغاں تیرا بھلا ہو\n\nدرکار اسے مدد ہے کس کی\nجس کو اللہ کا آسرا ہو\n\nاس دل کی جلن جو دیکھ پائے\nشمع سوزاں چراغ پا ہو\n\nکیا اور بھلا کہوں میں تم کو\nتم حضرت عشق بد بلا ہو\n\nکہنے کو تو کہہ گئے ہو سب کچھ\nاب کوئی جواب دے تو کیا ہو\n\nدل زیست سے سرد ہو گیا ہے\nاے سوز جگر ترا برا ہو\n\nبے عیب کوئی نہیں ہے کیفیؔ\nگر ہو تو وہ ذات کبریا ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%82%D8%B5%D8%AF_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "مقصد حیات", "poet_page": "مصنف:حاجی لق لق", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "زندگی اپنی نمائش گاہ مصنوعات ہے\nچار دن بجلی کے لیمپ اور پھر اندھیری رات ہے\n\nآئے ہیں دنیا میں کوئی کام کرنے کے لیے\nکچھ خدا سے اور کچھ بیوی سے ڈرنے کے لیے\n\nہے جوانوں کے لیے سنما میں جانا زندگی\nجیب میں پائی نہ ہو ٹائی لگانا زندگی\n\nمہ وشوں سے باغ میں آنکھیں لڑانا زندگی\nغسل خانے میں اکیلے گنگانا زندگی\n\nعشق بازی اور موسیقی نہیں تو کچھ نہیں\nاور کچھ کچھ مے سے دلچسپی نہیں تو کچھ نہیں\n\nشعر کہنا بھی بنا جاتا ہے جزو زندگی\nنام چھپ جانا رسالے میں ہے حد شاعری\n\nنثر میں اشعار کہہ لینا ہے اک صنعت نئی\nاور اگر یہ بھی نہیں خالی تخلص ہی سہی\n\nنام کے ساتھ ایک دو الفاظ کی دم چاہیئے\nشعر پھیکا ہی سہی لیکن ترنم چاہیئے\n\nزندگی کا ایک مقصد لیڈری کرنا بھی ہے\nچندہ کھا کر قوم کی الفت کا دم بھرنا بھی ہے\n\nملک پر جاں دینا لفظی طور پر مرنا بھی ہے\nاس پہ مردہ باد کے نعروں سے کچھ ڈرنا بھی ہے\n\nبن کے لیڈر سو رہے تو زندگی کس کام کی\nامن قائم ہو گیا تو لیڈری کس کام کی\n\nمقصد حجام ہے عورت بنانا مرد سے\nمقصد اپنا ہے ڈرانا بت کو آہ سرد سے\n\nزندگی کے اور مقصد بھی ہیں انساں کے لیے\nکوئی ایواں کے لیے ہے کوئی زنداں کے لیے\n\nکوئی گلشن کے لیے کوئی بیاباں کے لیے\nاور یہ لق لقؔ ہے تو افکار پریشاں کے لیے\n\nرات دن اس کا قلم مصروف لقلقیات ہے\nچار دن کی چاندنی ہے پھر اندھیری رات ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%82%D8%B5%D8%AF_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA"} {"title": "مقصود", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "(سپنوِزا)\nنظر حیات پہ رکھتا ہے مردِ دانش مند\nحیات کیا ہے، حضور و سُرور و نُور و وجود\n\n(فلاطُوں)\nنگاہ موت پہ رکھتا ہے مردِ دانش مند\nحیات ہے شبِ تاریک میں شرر کی نمود\n\nحیات و موت نہیں التفات کے لائق\nفقط خودی ہے خودی کی نگاہ کا مقصود", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%AF"} {"title": "مقصود الفت", "poet_page": "مصنف:غلام بھیک نیرنگ", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کیا مرے حسن دل آویز پہ تو مرتا ہے\nشعلہ روئی پہ مری جان فدا کرتا ہے\nیہ اگر سچ ہے تو جا مجھ سے محبت مت کر\nنگہ عشق رخ مہر جہاں تاب پہ ڈال\nحسن بے مثل کو جس کے نہ اجل ہے نہ زوال\nکم سنی پر مری مائل ہے طبیعت تیری\nحسن نوخیز سے وابستہ ہے الفت تیری\nیہ اگر سچ ہے تو جا مجھ سے محبت مت کر\nتیری الفت کے ہے قابل رخ زیبائے بہار\nجس کے انمول جواہر کا نہیں کوئی شمار\nچاہتا ہے مجھے تو کیا مری حشمت کے لیے\nدل ہے بے کل ترا میرے زر و دولت کے لیے\nیہ اگر سچ ہے تو جا مجھ سے محبت مت کر\nچاہیئے تجھ کو کرے بحر گہر خیز سے پیار\nجس کے انمول جواہر کا نہیں کوئی شمار\nپیار مجھ سے ہے تجھے کیا مری الفت کے لیے\nدل ہے پروانہ ترا شمع محبت کے لیے\nیہ اگر سچ ہے تو کر مجھ سے محبت پیارے\nبہتر از مہر و بہار دل شیدا میرا\nبحر میں بھی نہیں ایسا گہر مہر و وفا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%AF_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA"} {"title": "مقصود ہے قید جستجو سے باہر", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مقصود ہے قید جستجو سے باہر\nوہ گل ہے دلیل رنگ و بو سے باہر\nاندر باہر کا سب تعین ہے غلط\nمطلب ہے کلام و گفتگو سے باہر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1"} {"title": "مل بیٹھنے یہ دے ہے فلک ایک دم کہاں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مل بیٹھنے یہ دے ہے فلک ایک دم کہاں\nکیا جانے تم کہاں ہو کوئی دم کو ہم کہاں\n\nکوچے سے تیرے اٹھ کے بھلا جائیں ہم کہاں\nجز نقش پا ہے رہبر ملک عدم کہاں\n\nدامن کشاں پھرے ہے مری خاک سے ہنوز\nرکھتا ہے آہ وہ سر مرقد قدم کہاں\n\nاس کے صف مژہ سے لڑاوے نشان آہ\nاے فوج اشک جائے ہے لے کر علم کہاں\n\nمیرا ہی لخت دل ہے کہ ہمراہ اشک ہے\nورنہ رہے ہے آب سے آتش بہم کہاں\n\nسب سے جدا ترے خط ریحاں کی شان ہے\nاس خط کو لکھ سکے ہے زمرد رقم کہاں\n\nمنہ دیکھوں جو کرے ید قدرت سے ہم سری\nایسی صفائی ہاتھ کی اور یہ قلم کہاں\n\nکیوں کر نہ سقف چرخ کہن تھم رہے نصیرؔ\nمیرے ستون آہ چھٹ اس میں ہے تھم کہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D9%86%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%85_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "مل جائیں ازدحام میں ہم ہی یہ ہم سے دور", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مل جائیں ازدحام میں ہم ہی یہ ہم سے دور\nاک گھر جدا بنائیں گے دیر و حرم سے دور\n\nجتنے قدم زیادہ ہوں اتنا زیادہ اجر\nگھر برہمن کا چاہیے بیت الصنم سے دور\n\nشداد شکر کر کہ گئی در پہ تیری جان\nجب تھا مقام شکوہ کہ مرتا ارم سے دور\n\nپیرو ہوں گرچہ پاس ادب بھی ضرور ہے\nرکھتا ہوں پاؤں خضر کے نقش قدم سے دور\n\nچاہوں کہ حال وحشت دل کچھ رقم کروں\nبھاگیں حروف وقت نگارش قلم سے دور\n\nدیکھا ہے دام و دانہ کا دستور یاں نیا\nخال ذقن ہی طرۂ پر پیچ و خم سے دور\n\nدم بھر میں جا پہنچتے ہیں یاں کے مقیم واں\nیہ مرحلہ نہیں ہے سواد‌ عدم سے دور\n\nہیں کھیل سب منافیٔ شوکت کہ اہل جاہ\nرہ جاتے ہیں شکار میں خیل و حشم سے دور\n\nناظمؔ یہ تار بجلی کے نکلے ہے راہ خوب\nباتیں کریں گے یار ہو کتنا ہی ہم سے دور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B2%D8%AF%D8%AD%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1"} {"title": "مل خون جگر میرا ہاتھوں سے حنا سمجھے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "مل خون جگر میرا ہاتھوں سے حنا سمجھے\nمیں اور تو کیا کوسوں پر تم سے خدا سمجھے\n\nسمجھانے کی جو باتیں کیں میں نے دلا تجھ سے\nاے عقل کی دشمن سو تیری تو بلا سمجھے\n\nدل میں مرے چٹکی لی ایسی ہے کہ درد اٹھا\nمعقول چے خوش اے واہ آپ اس کو ادا سمجھے\n\nاے بو لہب نخوت سیدھے ہیں اگر سچ مچ\nتو آج سے صاحب کو ہم اپنا چچا سمجھے\n\nصاحب نے نہ کی یاری وحشت سے پری سے تو\nاے شیخ جنوں تم کو ہم خواجہ سرا سمجھے\n\nہنگامۂ محشر بھی گر سامنے آیا تو\nاس کو بھی تماشائی ایک سانگ نیا سمجھے\n\nوہ دشت محبت میں رکھے قدم اے انشاؔ\nسر اپنے کو آگے ہی جو تن سے جدا سمجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84_%D8%AE%D9%88%D9%86_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D9%86%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "مل مجھ سے اے پری تجھے قرآن کی قسم", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "مل مجھ سے اے پری تجھے قرآن کی قسم\nدیتا ہوں تجھ کو تخت سلیمان کی قسم\n\nکر و بیوں کی تجھ کو قسم اور عرش کی\nجبریل کی قسم تجھے رضوان کی قسم\n\nطوبیٰ کی سلسبیل کی کوثر کے جام کی\nحور و قصور و جنت و غلمان کی قسم\n\nروح القدس کی تجھ کو قسم اور مسیح کی\nمریم کے تجھ کو عفت دامان کی قسم\n\nتوریت کی قسم قسم انجیل کی تجھے\nتجھ کو قسم زبور کی فرقان کی قسم\n\nتجھ کو محمد عربی کی قسم ہے اور\nمولا علی کی شاہ خراسان کی قسم\n\nملت میں جس کی تو ہوئی اس کی قسم تجھے\nاور اپنے دین مذہب و ایمان کی قسم\n\nداماں کو میری ہاتھ سے اس رات مت جھٹک\nتجھ کو سحر کے چاک گریبان کی قسم\n\nمدت سے تیری چاہ ذقن میں غریق ہوں\nباللہ مجھ کو یوسف کنعان کی قسم\n\nقیدی ہوں میں ترا بخدا وندی‌ٔ خدا\nاور اس عزیز مصر کے زندان کی قسم\n\nموسیٰ کی ہے قسم تجھے اور کوہ طور کی\nنور و فروغ جلوۂ لمعان کی قسم\n\nنرگس کی آنکھ کی قسم اور گل کے کان کی\nتجھ کو سر عزیز گلستاں کی قسم\n\nتجھ کو قسم ہے غنچۂ زنبق کے ناک کی\nاور شور‌ عندلیب غزلخوان کی قسم\n\nسونے کی گائے کی قسم اور رود نیل کی\nلیلیٰ کی ہے تجھے صف مژگان کی قسم\n\nایسی بڑی قسم بھی نہ مانے تو ہے تجھے\nتجھ کو اسی کے شوکت‌ ذیشان کی قسم\n\nدیو‌ سفید کی قسم اور کوہ قاف کی\nباغ ارم کی اور پرستان کی قسم\n\nلونا چماری کی قسم اور کلو عبیر کی\nکالی بلا کی غول بیابان کی قسم\n\nقسمیں تو ساری ہو چکیں باقی رہی ہے اب\nپیپل تلے کے بھتنے کی شیطان کی قسم\n\nہاں پھر تو کہیو ہائے وہ کس طرح ہوئے غضب\nانشاؔ نہ چھیڑ مجھ کو مری جان کی قسم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85"} {"title": "مل کر صنم سے اپنے ہنگام دل کشائی", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مل کر صنم سے اپنے ہنگام دل کشائی\nہنس کر کہا یہ ہم نے اے جاں بسنت آئی\n\nسنتے ہی اس پری نے گل گل شگفتہ ہو کر\nپوشاک زر فشانی اپنی وہیں رنگائی\n\nجب رنگ کے آئی اس کے پوشاک پر نزاکت\nسرسوں کی شاخ پر کل پھر جلد اک منگائی\n\nاک پنکھڑی اٹھا کر نازک سے انگلیوں میں\nرنگت کو اس کی اپنی پوشاک سے ملائی\n\nجس دم کیا مقابل کسوت سے اپنی اس کو\nدیکھا تو اس کی رنگت اس پر ہوئی سوائی\n\nپھر تو بصد مسرت اور سو نزاکتوں سے\nنازک بدن پہ اپنے پوشاک وہ کھپائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%85_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B4%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "مل گئے اپنے یار سے اب کی", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مل گئے اپنے یار سے اب کی\nحظ اٹھایا بہار سے اب کی\n\nلخت دل برگ دل کی طرز جھڑے\nمژہ کی شاخسار سے اب کی\n\nجس طرح آگے پھر گئے تھے کہیں\nپھر نہ پھریو قرار سے اب کی\n\nدیکھیں کیا کیا شگوفے پھولیں گے\nاس دل داغدار سے اب کی\n\nگر وہ آوے تو اتنا کہیو حسنؔ\nمر گیا انتظار سے اب کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "مل گئے پر حجاب باقی ہے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "مل گئے پر حجاب باقی ہے\nفکر ناز و عتاب باقی ہے\n\nبات سب ٹھیک ٹھاک ہے پہ ابھی\nکچھ سوال و جواب باقی ہے\n\nگرچہ معجون کھا چکے لیکن\nدور جام شراب باقی ہے\n\nجھوٹے وعدے سے ان کے یاں اب تک\nشکوۂ بے حساب باقی ہے\n\nگاہ کہتے ہیں شام ہوئی ابھی\nذرۂ آفتاب باقی ہے\n\nپھر کبھی یہ کہ ابر میں کچھ کچھ\nپرتو ماہتاب باقی ہے\n\nہے کبھی یہ کہ تجھ پہ چھڑکیں گے\nجو لگن میں شہاب باقی ہے\n\nاور بھڑکے ہے اشتیاق کی آگ\nاب کسے صبر و تاب باقی ہے\n\nاڑ گئی نیند آنکھ سے کس کی\nلذت خورد و خواب باقی ہے\n\nہے خوشی سب طرح کی، ناحق کا\nخطرۂ انقلاب باقی ہے\n\nہے وہ دل کی دھڑک سو جوں کی توں\nجی پر اس کا عذاب باقی ہے\n\nجو بھرا شیشہ تھا ہوا خالی\nپر وہ بوئے گلاب باقی ہے\n\nاپنی امید تھی سو بر آئی\nیاس شکل سراب باقی ہے\n\nہے یہی ڈول جب تک آنکھوں میں\nدم بسان حباب باقی ہے\n\nمثل فرمودۂ حضور انشاؔ\nپھر وہی اضطراب باقی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "مل گیا دل نکل گیا مطلب", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مل گیا دل نکل گیا مطلب\nآپ کو اب کسی سے کیا مطلب\n\nحسن کا رعب ضبط کی گرمی\nدل میں گھٹ گھٹ کے رہ گیا مطلب\n\nنہ سہی عشق دکھ سہی ناصح\nتجھ کو کیا کام تجھ کو کیا مطلب\n\nمژدہ اے دل کہ نیم جاں ہوں میں\nاب تو پورا ہوا ترا مطلب\n\nاپنے مطلب کے آشنا ہو تم\nسچ ہے تم کو کسی سے کیا مطلب\n\nآتش شوق اور بھڑکی ہے\nمنہ چھپانے کا کھل گیا مطلب\n\nکچھ ہے مطلب تو دل سے مطلب ہے\nمطلب دل سے ان کو کیا مطلب\n\nان کی باتیں ہیں کتنی پہلو دار\nسب سمجھ لیں جدا جدا مطلب\n\nاس کو گھر سے نکال کر خوش ہو\nکیا حسنؔ تھا رقیب کا مطلب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8"} {"title": "مل گیا شرع سے شراب کا رنگ", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مل گیا شرع سے شراب کا رنگ\nخوب بدلا غرض جناب کا رنگ\n\nچل دیئے شیخ صبح سے پہلے\nاڑ چلا تھا ذرا خضاب کا رنگ\n\nپائی ہے تم نے چاند سی صورت\nآسمانی رہے نقاب کا رنگ\n\nصبح کو آپ ہیں گلاب کا پھول\nدوپہر کو ہے آفتاب کا رنگ\n\nلاکھ جانیں نثار ہیں اس پر\nدیدنی ہے ترے شباب کا رنگ\n\nٹکٹکی بندھ گئی ہے بوڑھوں کی\nدیدنی ہے ترے شباب کا رنگ\n\nجوش آتا ہے ہوش جاتا ہے\nدیدنی ہے ترے شباب کا رنگ\n\nرند عالی مقام ہے اکبرؔ\nبو ہے تقویٰ کی اور شراب کا رنگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D8%B1%D8%B9_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D9%86%DA%AF"} {"title": "ملا بھی یہ تو اسے پھر خدا نہیں ملتا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملا بھی یہ تو اسے پھر خدا نہیں ملتا\nنہیں نہیں دل بے مدعا نہیں ملتا\n\nوہ کہہ رہے ہیں کہ ان کو خدا نہیں ملتا\nکوئی ہمارے سوا دوسرا نہیں ملتا\n\nمٹے ہوؤں کا الٰہی پتا نہیں ملتا\nرہ عدم میں کہیں نقش پا نہیں ملتا\n\nحنا سے خون کسی غیر کا ملا ہوگا\nہمارے خون سے رنگ حنا نہیں ملتا\n\nزمین پر کبھی ان کے قدم نہیں پڑتے\nکہ سجدہ کرنے کو بھی نقش پا نہیں ملتا\n\nنکل کے دیکھتے کیا ہے ہوا زمانے کی\nدر قفس کبھی ہم کو کھلا نہیں ملتا\n\nلحد سے اٹھ کے کہاں جائیے قیامت ہے\nوہ بھیڑ ہے کہ کہیں راستہ نہیں ملتا\n\nاچھوتے جام ہیں منت کے کچھ الگ رکھے\nکسے پلائیں کوئی پارسا نہیں ملتا\n\nیہ آس لائی ہے ساقی کے آستانے پر\nدر کریم سے سائل کو کیا نہیں ملتا\n\nبری طرح لب شیریں کسی نے چوسے ہیں\nکہ گالیوں میں تری اب مزا نہیں ملتا\n\nبجا کے دیکھے ہیں ناقوس ہم نے وقت اذاں\nریاضؔ آپ کا ان سے گلا نہیں ملتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ملا دئے خاک میں خدا نے پلک کے لگتے ہی شاہ لاکھوں", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملا دئے خاک میں خدا نے پلک کے لگتے ہی شاہ لاکھوں\nجنہوں کے ادنیٰ غلام رکھتے تھے اپنے چاکر سپاہ لاکھوں\n\nنماز و روزے زکوٰۃ و حج پر نہیں ہے موقوف کچھ اے زاہد\nجدھر کو جاوے اُدھر کو ہیں گے خدا کے ملنے کے راہ لاکھوں\n\nسنا ہے میں نے کہ تو نے میرا کیا ہے شکوہ کسی سے ظالم\nترے ستم اور مری وفا کے جہاں میں ہیں گے گواہ لاکھوں\n\nعجب تماشا ہے کس سے کہیے اثر نہیں سنگ دل کے دل میں\nکروں ہوں یارو میں ایک دم میں ہزاروں نالے و آہ لاکھوں\n\nکرے ہے فریاد ایک عالم گلی میں اس کی ہے شور محشر\nجو ایک ہوئے تو کیجے انصاف اس کے ہیں داد خواہ لاکھوں\n\nکروڑ باری میں سو طرح سے کہا کہ کھا اور کھلا نہ مانا\nکوئی تو لیوے گا چھین تجھ سے تو جوڑ خست پناہ لاکھوں\n\nیہ مصرع سوز سن کے حاتمؔ کہے ہے ناصح سے اے عزیزو\nامید بخشش ہے جب سے ہم کو کیے ہیں ہم نے گناہ لاکھوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D8%A7_%D8%AF%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%92_%D9%BE%D9%84%DA%A9_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA"} {"title": "ملا مجھ سے وہ آج چنچل چھبیلا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملا مجھ سے وہ آج چنچل چھبیلا\nہوا رنگ سن کر رقیبوں کا نیلا\n\nکیا مجھ سے جس نے عداوت کا پنجا\nسنلقی علیک قولا ثقیلا\n\nنکل اس کی زلفوں کے کوچے سے اے دل\nتو پڑھتا قم اللیل الا قلیلا\n\nکہستاں میں ماروں اگر آہ کا دم\nفکانت جبال کثیباً مہیلا\n\nنظیرؔ اس کے فضل و کرم پر نظر رکھ\nفقل حسبی اللہ نعم الوکیلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%A2%D8%AC_%DA%86%D9%86%DA%86%D9%84_%DA%86%DA%BE%D8%A8%DB%8C%D9%84%D8%A7"} {"title": "ملا کر خاک میں پھر خاک کو برباد کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملا کر خاک میں پھر خاک کو برباد کرتے ہیں\nغریبوں پر ستم کیا کیا ستم ایجاد کرتے ہیں\n\nہزاروں دل جلا کر غیر کا دل شاد کرتے ہیں\nمٹا کر سیکڑوں شہر ایک گھر آباد کرتے ہیں\n\nموذن کو بھی وہ سنتے نہیں ناقوس تو کیا ہے\nعبث شیخ و برہمن ہر طرف فریاد کرتے ہیں\n\nحسینوں کی محبت کا نہ کر کچھ اعتبار اے دل\nیہ ظالم کس کے ہوتے ہیں یہ کس کو یاد کرتے ہیں\n\nوہی شاگرد پھر ہو جاتے ہیں استاد اے جوہرؔ\nجو اپنے جان و دل سے خدمت استاد کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ملا ہوا کبھی سینے سے ان کے سینہ تھا", "poet_page": "مصنف:رنج حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > مخبر عشق (1895)", "year": "1895", "text_ur": "ملا ہوا کبھی سینے سے ان کے سینہ تھا\nعجب وہ روز تھے یا رب عجب مہینہ تھا\n\nعدم میں جا کے کہیں گے ہر ایک سے ہم بھی\nعبث فضول جہاں میں ہمارا جینا تھا\n\nدغا رقیب نے کی آپ سے تو کیا شکوہ\nزمانہ اس کو کہے گا کہ وہ کمینہ تھا\n\nیہ کیا کہ یوں ہی چلے میکدے سے حضرت شیخ\nتمہیں خدا کی قسم کوئی گھونٹ پینا تھا\n\nجو تم نے سینہ مرا چاک چاک کر ڈالا\nہر ایک زخم کو تار نگہ سے سینا تھا\n\nمہک رہا تھا مرا گھر تمام وصل کی شب\nوہ عطر بیز کسی کا بھی کیا پسینا تھا\n\nنہیں ہے دل جو ہمارا تو شب کو محفل میں\nذرا خیال کرو خود ہی کس نے چھینا تھا\n\nجو تم نے لیتے ہی جلدی سے اس کو توڑ دیا\nہمارا دل تھا کوئی یا یہ آبگینہ تھا\n\nوہ رند ہوں کہ زباں پر بھی وقت مرگ مری\nصراحی و خم و جام و ایاغ و مینا تھا\n\nیہاں رہی کہ وہاں پہونچی رنجؔ کی میت\nزباں پہ اس کی مگر رات دن مدینہ تھا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو\nعیاں جب ہر جگہ دیکھوں اسی کے ناز پنہاں کو\n\nتجھے اے شمع کیا دیکھیں زمانے کو دکھانا ہے\nہمیں جوں کاغذ آتش زدہ اور ہی چراغاں کو\n\nنہ تنہا کچھ یہی اطفال دشمن ہیں دوانوں کے\nبھرے ہے کوہ بھی دیکھا تو یاں پتھروں سے داماں کو\n\nجھمکتے ہیں ستاروں کی طرح سوراخ ہستی کے\nچھپایا گو کہ جوں خورشید میں داغ نمایاں کو\n\nنہ واجب ہی کہا جاوے نہ صادق ممتنع اس پر\nکیا تشخیص کچھ ہم نے نہ ہرگز شخص امکاں کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88"} {"title": "ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے\nمری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے\n\nکہیں ہے عید کی شادی کہیں ماتم ہے مقتل میں\nکوئی قاتل سے ملتا ہے کوئی بسمل سے ملتا ہے\n\nپس پردہ بھی لیلیٰ ہاتھ رکھ لیتی ہے آنکھوں پر\nغبار ناتوان قیس جب محمل سے ملتا ہے\n\nبھرے ہیں تجھ میں وہ لاکھوں ہنر اے مجمع خوبی\nملاقاتی ترا گویا بھری محفل سے ملتا ہے\n\nمجھے آتا ہے کیا کیا رشک وقت ذبح اس سے بھی\nگلا جس دم لپٹ کر خنجر قاتل سے ملتا ہے\n\nبظاہر با ادب یوں حضرت ناصح سے ملتا ہوں\nمرید خاص جیسے مرشد کامل سے ملتا ہے\n\nمثال گنج قاروں اہل حاجت سے نہیں چھپتا\nجو ہوتا ہے سخی خود ڈھونڈ کر سائل سے ملتا ہے\n\nجواب اس بات کا اس شوخ کو کیا دے سکے کوئی\nجو دل لے کر کہے کم بخت تو کس دل سے ملتا ہے\n\nچھپائے سے کوئی چھپتی ہے اپنے دل کی بیتابی\nکہ ہر تار نفس اپنا رگ بسمل سے ملتا ہے\n\nعدم کی جو حقیقت ہے وہ پوچھو اہل ہستی سے\nمسافر کو تو منزل کا پتا منزل سے ملتا ہے\n\nغضب ہے داغؔ کے دل سے تمہارا دل نہیں ملتا\nتمہارا چاند سا چہرہ مہ کامل سے ملتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ملاذ کشور و لشکر پناہ شہر و سپاہ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "ملاذ کشور و لشکر پناہ شہر و سپاہ\nجناب عالی ایلن بردن والا جاہ\nبلند رتبہ وہ حاکم وہ سرفراز امیر\nکہ باج تاج سے لیتا ہے جس کا طرف کلاہ\nوہ محض رحمت و رافت کہ بہر اہل جہاں\nنیابت دم عیسی کرے ہے جس کی نگاہ\nوہ عین عدل کہ دہشت سے جس کی پرسش کی\nبنے ہے شعلۂ آتش انیس پرۂ کاہ\nزمیں سے سودۂ گوہر اٹھے بجاے غبار\nجہاں ہو توسن حشمت کا اس کے جولاں گاہ\nوہ مہرباں ہو تو انجم کہیں الٰہی شکر\nوہ خشمگیں ہو تو گردوں کہے خدا کی پناہ\nیہ اس کے عدل سے اضداد کو ہے آمیزش\nکہ دشت و کوہ کے اطراف میں بہر سر راہ\nہزبز پنجے سے لیتا ہے کام شانے کا\nکبھی جو ہوتی ہے الجھی ہوئی دم روباہ\nنہ آفتاب ولے آفتاب کا ہم چشم\nنہ بادشاہ ولے مرتبے میں ہمسر شاہ\nخدا نے اس کو دیا ایک خوبرو فرزند\nستارہ جیسے چمکتا ہوا بہ پہلوے ماہ\nزہے ستارۂ روشن کہ جو اسے دیکھے\nشعاع مہر درخشاں ہو اس کا تار نگاہ\nخدا سے ہے یہ توقع کہ عہد طفلی میں\nبنے گا شرق سے تا غرب اس کا بازی گاہ\nجوان ہو کے کرے گا یہ وہ جہانبانی\nکہ تابع اس کے ہوں روز و شب سپید و سیاہ\nکہے گی خلق اسے داور سپہر شکوہ\nلکھیں گے لوگ اسے خسرو ستارہ سپاہ\nعطا کرے گا خداوند کارساز اسے\nروان روشن و خوے خوش و دل آگاہ\nملے گی اس کو وہ عقل نہفتہ داں کہ اسے\nپڑے نہ قطع خصومت میں احتیاج گواہ\nیہ ترکتاز سے برہم کرے گا کشور روس\nیہ لے گا بادشہ چیں سے چھین تخت و کلاہ\nسنین عیسوی اٹھارہ سو اور اٹھاون\nیہ چاہتے ہیں جہاں آفریں سے شام و پگاہ\nیہ جتنے سینکڑے ہیں سب ہزار ہو جاویں\nدراز اس کی ہو عمر اس قدر سخن کوتاہ\nامیدوار عنایات شیو ناراین\nکہ آپ کا ہے نمک خوار اور دولت خواہ\nیہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عز و جاہ کے ساتھ\nتمہیں اور اس کو سلامت رکھے سدا اللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%B0_%DA%A9%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D9%84%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%D9%BE%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D9%88_%D8%B3%D9%BE%D8%A7%DB%81"} {"title": "ملتا جو کوئی ٹکڑا اس چرخ زبرجد میں", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملتا جو کوئی ٹکڑا اس چرخ زبرجد میں\nپیوند لگا دیتا میں نفس مجرد میں\n\nبیداری فرقت میں تھا رمز قیامت کا\nجاگا ہوں کہ نیند آئے تاریکئ مرقد میں\n\nاس دفتر ہستی میں تعلیم بہت کم ہے\nدو حرف نظر آئے دیباچۂ ابجد میں\n\nگو خاک کا پتلا ہوں لیکن کوئی کیا سمجھے\nمیں بھی کوئی شے ہوں جو گردوں ہے مری کد میں\n\nہے ضبط کی فرمائش اس دل سے بہت بے جا\nیہ قلزم لا ساحل کس طرح رہے حد میں\n\nپہلو میں نہیں دل تو دل سوز ہی آ جاتا\nاک شمع تو جل جاتی تاریکی مرقد میں\n\nنالوں سے یہ کہتا ہوں ہمت سے نہ دل ہاریں\nتاروں نے جگہ کر لی اس لوح زمرد میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%B9%DA%A9%DA%91%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D8%B2%D8%A8%D8%B1%D8%AC%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں\nکافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں\n\nکب سے ہُوں کیا بتاؤں جہانِ خراب میں\nشب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں\n\nتا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر\nآنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں\n\nقاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں\nمیں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں\n\nمجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دورِ جام\nساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں\n\nجو منکرِ وفا ہو فریب اس پہ کیا چلے\nکیوں بد گماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں\n\nمیں مضطرب ہُوں وصل میں خوفِ رقیب سے\nڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں\n\nمیں اور حظِّ وصل خدا ساز بات ہے\nجاں نذر دینی بھول گیا اضطراب میں\n\nہے تیوری چڑھی ہوئی اندر نقاب کے\nہے اک شکن پڑی ہوئی طرفِ نقاب میں\n\nلاکھوں لگاؤ ایک چُرانا نگاہ کا\nلاکھوں بناؤ ایک بگڑنا عتاب میں\n\nوہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائے\nجس نالے سے شگاف پڑے آفتاب میں\n\nوہ سحر مدعا طلبی میں کام نہ آئے\nجس سِحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں\n\nغالبؔ چُھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی\nپیتا ہوں روزِ ابر و شبِ ماہتاب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%AA%DB%81%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ملتے نہیں ہو ہم سے یہ کیا ہوا وتیرا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملتے نہیں ہو ہم سے یہ کیا ہوا وتیرا\nملنے لگا ہے شاید اب تم سے کوئی خیرا\n\nآنکھوں ہی میں اڑایا نقد دل و جگر کو\nوہ شوخ دل ربا ہے کیسا اٹھائی گیرا\n\nالفت کا جرم بے شک سرزد ہوا ہے ہم سے\nاس کو صغیرہ سمجھو چاہے اسے کبیرا\n\nمیدان حشر تیرا کوچہ بنا ہے قاتل\nجاتا ہے اب جو کوئی آتا ہے قشعریرا\n\nگرویدہ کر لیا ہے نیرنگئ نظر نے\nکیسی ہوئی فسوں گر وہ شوخ چشم گیرا\n\nاس شوخ دل ربا پر کیوں کر نہ ہوں فدا ہم\nسج دھج ہوئی نرالی باندھا جو اس نے چیرا\n\nمنت پذیر اس کے آخر کو ہو گئے ہم\nجو مدعا تھا اپنا اس نے کیا پذیرا\n\nشاغل جو ہو گئے ہیں محمود عاقبت ہیں\nسلطانہ شغل شب ہے دن کا ہوا نصیرا\n\nتھے شیفتہ جو ساقیؔ اک مست نوش لب کے\nمیخانے ہی کے اندر اپنا بنا خطیرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%88%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "ملتے ہی بے باک تھی وہ آنکھ شرمائی ہوئی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملتے ہی بے باک تھی وہ آنکھ شرمائی ہوئی\nپھر گئی پچھتا کے پلکوں تک حیا آئی ہوئی\n\nہر ادا مستانہ سر سے پاؤں تک چھائی ہوئی\nاف تری کافر جوانی جوش پر آئی ہوئی\n\nمجھ کو یہ دعوی کوئی تیرے سوا دل میں نہیں\nاس کا یہ الزام اچھی قید تنہائی ہوئی\n\nبھولے بن کر ان کے منہ سے سن لیا حال رقیب\nعمر بھر میں ایک ہی تو ہم سے دانائی ہوئی\n\nبوسہ لے کر جان ڈالی غیر کی تصویر میں\nیہ نیا اعجاز یہ اچھی مسیحائی ہوئی\n\nدیکھ کر قاتل کی آمد داغؔ دل میں شاد شاد\nاور غم خواروں کے منہ پر مردنی چھائی ہوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DA%A9_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%B4%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ملتے ہیں ہاتھ، ہاتھ لگیں گے انار کب", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملتے ہیں ہاتھ، ہاتھ لگیں گے انار کب\nجوبن کا ان کے دیکھیے ہوگا ابھار کب\n\nعشاق منتظر ہیں قیامت کب آئے گی\nبے پردہ منہ دکھائے گا وہ پردہ دار کب\n\nاک روز اپنی جان پہ ہم کھیل جائیں گے\nتم پوچھتے رہوگے یوں ہی بار بار کب\n\nبیکس کو کون روئے غریبوں کا کون ہے\nمیری لحد پہ شمع ہوئی اشک بار کب\n\nکون آیا پڑھتے فاتحہ کس نے چڑھائے پھول\nمرنے کے بعد پوچھتا ہے کوئی یار کب\n\nامید ناامید کو ان سے نہیں رہی\nدشمن کے دوست ہیں وہ ہوئے میرے یار کب\n\nجو اونچے اونچے ہیں وہی جاتے ہیں بام پر\nمحفل میں ہم غریبوں کو ملتا ہے یار کب\n\nجب نقد مال تو نے دیا ہم نے نقد دل\nساقی ہمیں بتا دے کہ پی تھی ادھار کب\n\nملنا چھڑایا تم سے مرا رشک غیر نے\nکرتا ہے کوئی آپ سے جبر اختیار کب\n\nآغاؔ کو ذبح کرتے ہو اپنی گلی میں کیوں\nجائز ہے میری جان حرم میں شکار کب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D8%8C_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%84%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A8"} {"title": "ملمع کی انگوٹھی", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "چاندی کی انگوٹھی پہ جو سونے کا چڑھا جھول\nاوچھی تھی لگی بولنے اترا کے بڑا بول\nاے دیکھنے والو تمہی انصاف سے کہنا\nچاندی کی انگوٹھی بھی ہے کچھ گہنوں میں گہنا\nوہ اور ہے میں اور یہ ذلت نہ سہوں گی\nمیں قوم کی اونچی ہوں بڑا میرا گھرانا\nوہ ذات کی گھٹیا ہے نہیں اس کا ٹھکانا\nمیری سی کہاں چاشنی میرا سا کہاں رنگ\nوہ مول میں اور تول میں میرے نہیں پاسنگ\nمیری سی چمک اس میں نہ میری سی دمک ہے\nچاندی ہے کہ ہے رانگ مجھے اس میں بھی شک ہے\nیہ سنتے ہی چاندی کی انگوٹھی بھی گئی جل\nاللہ رے ملمع کی انگوٹھی تیرے چھل بل\nسونے کی ملمع پہ نہ اترا میری پیاری\nدو دن میں بھڑک اس کی اتر جائے گی ساری\nکچھ دیر حقیقت کو چھپایا بھی تو پھر کیا\nجھوٹوں نے جو سچوں کو چڑھایا بھی تو پھر کیا\nمت بھول کبھی اصل تو اپنی اری احمق\nجب تاؤ دیا جائے گا ہو جائے گا منہ فق\nسچے کی تو عزت ہی بڑھے گی جو کریں جانچ\nمشہور مثل ہے کہ نہیں سانچ کو کچھ آنچ\nکھونے کو کھرا بن کے نکھرنا نہیں اچھا\nچھوٹے کو بڑا بن کے ابھرنا نہیں اچھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D9%85%D8%B9_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%88%D9%B9%DA%BE%DB%8C"} {"title": "ملنا دلخواہ اب خیال اپنا ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ملنا دلخواہ اب خیال اپنا ہے\nجی تن میں رہا ہے سو وبال اپنا ہے\nآزار بہت کھینچے ہیں اس بن دل نے\nہجراں ہی شاید کہ وصال اپنا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ملنا کس کام کا اگر دل نہ ملے", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ملنا کس کام کا اگر دل نہ ملے\nچلنا بے کار ہے جو منزل نہ ملے\nوسط دریا میں غرق ہونا بہتر\nاس کہ نظر میں آ کے ساحل نہ ملے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%DB%92"} {"title": "ملنے کا نہیں رزق مقدر سے سوا اور", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملنے کا نہیں رزق مقدر سے سوا اور\nکیا گھر میں خدا اور ہے غربت میں خدا اور\n\nتم سامنے آتے ہو تو چھپتے ہو سوا اور\nپردے کی حیا اور ہے آنکھوں کی حیا اور\n\nکچھ آگ لگائے گا نئی شعلۂ رخسار\nکچھ رنگ دکھائے گا ترا رنگ حنا اور\n\nانسان وہ کیا جس کو نہ ہو پاس زباں کا\nیہ کوئی طریقہ ہے کہا اور کیا اور\n\nآ پہنچے ہیں منزل کی نواہی میں ظہیرؔ اب\nہاں پائے طلب ہاریو ہمت نہ ذرا اور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%B2%D9%82_%D9%85%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "ملنے کے نہیں نشاں ہمارے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملنے کے نہیں نشاں ہمارے\nکیا پوچھتے ہو مکاں ہمارے\n\nاحساں سے نہیں بدی بھی خالی\nدشمن ہیں مہرباں ہمارے\n\nپچھتاؤ گے جان لے کے دیکھو\nناحق ہیں یہ امتحاں ہمارے\n\nبے مثل ہیں لذت سخن میں\nسب اٹھ گئے ہم زباں ہمارے\n\nآزاد کی جستجو عبث ہے\nپاؤ گے پتے کہاں ہمارے\n\nاڑتی ہے خاک اس زمیں سے\nپڑتے ہیں قدم جہاں ہمارے\n\nناقہ لاتے ہیں اس طرف روز\nمحسن ہیں سارباں ہمارے\n\nہم سے بھی کچھ کہو عزیزو\nکیا ذکر تھے شب وہاں ہمارے\n\nظاہر ہے جو گزر رہی ہے\nکچھ حال نہیں نہاں ہمارے\n\nبہہ گئے نسیمؔ رنگ کیا کیا\nیہ دیدۂ خوں فشاں ہمارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "ملک میں تاریخ کا معلم اول", "poet_page": "مصنف:مہدی افادی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "یورپ کے علمی قلم رو میں ایک زندہ دل طبقہ ایسا بھی ہے جو انسان کی دماغی پیداوار یعنی کتابوں کو ’’علمی حرم‘‘ کی حیثیت سے دیکھتا ہے اور ان کا دلدادہ ہے۔ اس کے خیال میں کسی کتب خانہ کا ایک گوشہ جہاں اس کی منظور نظر ’’نازنینوں‘‘ کا جھرمٹ ہو اور جو ہمیشہ اس کی فرصت اور مرضی کی منتظر رہتی ہوں، اس شاہی محل سے کہیں بڑھ کر ہے جس کے لوازم عیش صرف دور سے دیکھنے کی چیز ہیں ۔\n\nبہرحال ایک ایسا گروہ موجود ہے جو علمی دنیا میں درجۂ استغراق رکھتا ہے اور زمانہ کے سرد و گرم سے قطعاً بے پروا ہے، اس کا دائرۂ مخصوص خود ایک دنیا ہے جہاں ایسے سامانوں کی کمی نہیں، جن سے قوت احساس ہر طرح کی لذت و انبساط حاصل کرتی رہتی ہے۔ اسی حلقہ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی نفسیات اس حد تک بڑھی ہوئی ہے کہ وہ معمولی مطبوعات کو پسند نہیں کرتے، خاص خاص تصنیفات کے قیمتی ایڈیشن شائع کئے جاتے ہیں ۔\n\nہندوستان میں اس قسم کے معزز شواہد بہ مشکل پیش کئے جا سکتے ہیں لیکن طبقہ اعلیٰ کے مصنفین میں علامہ شبلی کی تصنیفات کو یہ امتیاز حاصل ہے، جو حسن سیرت کے ساتھ صورت کی بھی اچھی ہوتی ہیں ۔ قاعدہ یہ ہے کہ لفافہ اچھا ہو تو ملفوف کو اس سے کہیں زیادہ اچھا ہونا چاہئے۔\n\nعلامہ شبلی اپنے موضوع سخن اور اس لحاظ سے کہ انھوں نے اپنے ملکۂ راسخہ یعنی فطری قوت تصنیف سے وہی کام لیا جو ان کے دل ودماغ کا اچھے سے اچھا مصرف ہو سکتا تھا۔ ملک کے مصنفین میں یہ سرفہرست تو تھے ہی، میں دیکھتا ہوں اب بہت آگے نکلے جاتے ہیں ۔ انھوں نے فلسفۂ تاریخ کو صرف اس لحاظ سے کہ وقت کی چیز ہے، اپنا خاص فن قرار دیا اور ترتیباً جس پیمانہ پر یہ اظہار خیال کرتے رہے وہ ایک منحرف بھی تسلیم کرے گا کہ ان کی قوتوں کا صحیح سے صحیح استعمال تھا، جو خیال میں آ سکتا ہے۔ ملک میں اچھے لکھنے والوں میں ’’قوت فیصلہ‘‘ کی ہمیشہ کمی رہی، یعنی دماغوں میں اقتضائے ے وقت کی رعایت نہیں ۔ وقت ہی آگے چل کر بتائےگا کہ ان کے نتائج فکر ایک طرح کی خود رو پیداوار ہیں، جن کی شادابی صرف ایک موسمی چیز ہے۔ لیکن علامہ شبلی سے ہم کو اس قسم کی شکایت نہیں، یہ بلا بارتہدید وفرمایش جو کچھ کرتے رہتے ہیں وہ ہمارے توقعات اور استحقاق سے کہیں زیادہ ہے۔\n\nحالتوں کا موازنہ آج کل کے عوائد رسمیہ (یعنی ایٹی کیٹ) کو دیکھنے کو خلاف شائستگی سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ تنقید کا ایک ضروری عنصر ہے، لیکن میں اس وقت ان کو ان کے دائرے کے دوسرے خلاقین سخن سے ٹکرانا نہیں چاہتا، صرف یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ جس طرح یہ اپنے حلقہ میں غالباً سب سے کم عمر مصنف ہیں، ادبی حیثیت سے نسبتاً اتنے ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ اس دماغی فوقیت کا راز صرف یہ ہے کہ خوش نصیب شبلی نے اپنی وہبی اور اکتسابی قوتوں کی رعایت سے جو وسیع موضوع بحث اختیار کیا وہ بلا استثناء اوروں کی دسترس سے باہر تھا۔ اس سے زیادہ موزونیت لائق رشک ہے جو قواماً ان کے حصۂ تصنیف کا ایک خاصہ ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ و لٹریچر، فلسفہ وعقائد سے متعلق جس قدر مواد یہ یکجا کرسکے، قدیم تاریخ کا گویا نچوڑ ہے۔\n\nتاریخ اسلامی کی نسبت ایک زمانہ میں یورپ نے جس قدر متعصبانہ رائے قائم کی تھی، اب رفتہ رفتہ ان سے دست بردار ہوتا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں جوہر قسم کی دماغی ترقیات کا دور ہے، واقعات کا ایک معیار صداقت قائم ہو گیا ہے۔ ہر واقعہ کی جانچ اجتماعی، اخلاقی اور فلسفیانہ حیثیت سے کی جاتی ہے۔ چنانچہ علمائے مستشرقین کی توجہ سے جدید سلسلۂ اکتشافات میں ایک نیا لٹریچر پیدا ہو گیا ہے، جس میں ہمدردانہ التفات کے ساتھ ایک طرح کی سنجیدگی اور بلند نظری پائی جاتی ہے لیکن باوصف اس حسن ظن کے جو جماعت مستشرقین کی طرف سے پیدا ہو چکا ہے، ان کے خیالات کا بیشتر حصہ نظر ثانی چاہتا ہے۔\n\nاس قسم کی مثالیں کم نہیں ہیں جن میں مغربی علماء کی اجتہادی لغزشیں اب بھی محسوس ہوتی ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے ہ کہ استخراج نتائج میں عمداً بے پروائی سے کام لیا گیا ہے۔ لیکن علامہ شبلی نے ہم کو غیروں سے قریب قریب بے نیاز کردیا ہے۔ یہ جس طرح قدیم تاریخ اور لٹریچر کے جامع ہیں، آج کل کے فلسفیانہ انتقادات اور نکتہ سنجیوں سے آشنا ہی نہیں بلکہ یہ مذاق ان میں اس قدر رچا ہوا ہے کہ ان کے طے کردہ مسائل جو دنیا کے سامنے پیش کئے گئے ہیں، اس حد تک کامل ہیں کہ زمانۂ آئندہ بلکہ ’’بعید آئندہ‘‘ میں بھی ان پر کوئی معتد بہ اضافہ نہ ہو سکےگا۔ اسی طرح ان کے اجتہادات کا جن کو تاریخی ’’الہامات‘‘ کہئے، بیشتر حصہ میرا خیال ہے کہ مدتوں متروک ہونے کے لائق نہیں ہوگا۔ اس سے زیادہ شبلی کے غیرفانی ہونے کا ثبوت کیا ہوگا۔\n\nاگر موجودہ نسل کے لئے دماغی اور عقلی ترقی کے ساتھ اخلاقی تکمیل کی بھی ضرورت ہے تو میں خیال کرتا ہوں کہ شبلی نے تاریخی سلسلہ میں جس قدر مذہبی لٹریچر پیدا کر دیا ہے وہ ہمارے لئے کافی سے زیادہ ہے۔ خاص کر اس جدت کے لحاظ سے فاضل شبلی نے ایک طرف تو ’’بڑے میاں‘‘ یعنی مذہب کی پگڑی نہیں اتاری اور ساتھ ہی یورپ کے نوخیز چلتے پرزوں یعنی فلسفہ اور سائنس کے سامنے تیرہ سو برس کے بوڑھے سے ہاتھ نہیں جڑوائے بلکہ دونوں میں مصافحہ کرادیا۔ یہ معتدل روش جو اس ’’ادبی نزاع‘‘ میں اختیار کی گئی ہے، لائق رشک شبلی ہی کا حصہ تھا جو ہمارے متفق علیہ پیشوائے علمی ہیں ۔\n\nان کی ثقاہت نے جہاں مذہب کی حق تلفی نہیں ہونے دی، سائنس و فلسفہ کی مغائرت بھی دور کر دی اور ان کو مذہب کا دست و بازو بنا دیا۔ آئندہ زمانہ میں جب ہماری عقلی ترقیات کا شباب ہوگا، شبلی کو اپنی مساعی جمیلہ کی پوری داد ملے گی، تاہم آج کل کا تعلیم یافتہ طبقہ جو عموماً مذہب سے بے پروا ہے، مذہب فطری یعنی حکیمانہ اسلام سے دست بردار نہ ہو سکےگا۔ منقول کی تطبیق کی غایت اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے جو شبلی کی درد سری کا بجائے خود ایک قیمتی صلہ ہے۔\n\nملک کے روشن خیال طبقہ میں کہیں کہیں ایک طرح کے حکیمانہ ’’تذبذب فی المذہب‘‘ (یعنی ایگنامٹک خیالات) کی جھلک پائی جاتی ہے۔ اس لئے شبلی کی ’’تنقیدات عالیہ‘‘ (ہائر کریٹی سزم) کو وہ حمایت مذہب میں چنداں وقیع نہیں سمجھتا۔ لیکن اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ کوئی نئی اپج نہیں ہے۔ شبلی سے اگر غلطی ہوئی تو صرف اس قدر کہ انھوں نے مذہب کو آج کل کی عقلیات سے ٹکرایا۔ یہ غلطی اس سے پہلے بھی جب مسلمانوں کے دن اچھے تھے، ہوچکی ہے اور علم کلام کو عباسی دور کی دماغی ترقیات کے لحاظ سے ’’یاد ایام‘‘ سمجھئے جو عقائد اسلام اور فلسفہ قدیم کے گزشتہ اختلاط کی ادبی تاریخ ہے، لیکن اس زمانہ میں اسلام کو صرف فلسفہ یعنی ایک حد تک محض اصول نظری سے سابقہ تھا۔ اس لئے جس طرح لحاف کی تیاری میں کچھ استر سے لیا، کچھ ابر ے سے اور دونوں کا جھول جھال لے کر برابر کردیا۔ دونوں حریف جو چھری کٹاری ہو رہے تھے، گلے ملوا دیے لیکن آج مذہب کو اپنے دشمن ازلی یعنی سائنس کا مقابلہ کرنا ہے جو قوی تر حریف ہے (اور) جو اپنے سوا دنیا میں کسی کو دیکھنا نہیں چاہتا۔\n\nمذہب کے اولیات کا انحصار کلیۃً امور غیر مادی یعنی ایسی چیزوں پر ہے جو مدرکات انسانی سے باہر ہیں یعنی ہمارے حواس فطری ان کے سمجھنے بوجھنے سے عاری ہیں اور سائنس صرف مادیت سے غرض نہیں رکھتا بلکہ اس کا دعویٰ ہے کہ ’’عالم غیر‘‘ کا خیر سے وجود ہی نہیں ہے جس پر ہم آپ اس قدر مٹے ہوئے ہیں ۔ بہرحال فلسفہ پھر بھی اتنا برا نہیں ہے۔ ’’سنی سنائی‘‘کبھی کبھی مان لیتا ہے لیکن سائنس اتنا کٹر ہے کہ جب تک ’’آنکھوں دیکھی‘‘ نہ ہو، ہزار کہئے، کتنے ہی بڑے بڑے جبہ ودستار پیش کیجئے، مذہب کی دہائی دیجئے، ایک نہیں سنتا۔ ظاہر ہے کہ اتنا بڑا کافر برخود غلط کسی ’’شریعت سہلہ‘‘ کی گرفت میں کہاں تک آ سکتا ہے، لیکن کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم مذاہب سے عموماً دست بردار ہو جائیں ؟ اس کا فیصلہ میں انسان کی اگلی پچھلی اخلاقی تاریخ پر چھوڑتا ہوں جس کی تکمیل کی نسبت خود فلسفہ کا یہ دعویٰ ہے کہ بغیر مذہب کے ہو ہی نہیں سکتی۔\n\nشبلی نے الکلام میں نفس موضوع کے لحاظ سے جس پیمانہ پر اظہار خیال کیا، اس کے سوا چارۂ کار ہی کیا تھا۔ آپ کسی کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہیں تو پہلے ضرورت ہے کہ بڑے میاں سے آپ کو حسن ظن بھی ہو، یہ نہیں کہ ایک دم سے پگڑی اتار لی اور دعویٰ یہ کہ ہم آپ کے سچے عقیدت کیش ہیں ۔ فرط خلوص سے لگی لپٹی نہیں رکھتے۔\n\nطبائع انسانی کے لئے اگر مذہب کی ضرورت ہے تو اس کے مسلمات اعتقاداً جسے ایک طرح کی مجبوری کہئے، تسلیم کرنے ہوں گے۔ رہی معقول و منقول کی تطبیق، جہاں تک مذہب میں استطاعت ہے، آپ دونوں کو ٹکرا سکتے ہیں ۔ علم کلام کا اتنا ہی فرض ہے۔ شبلی حکیمانہ خیالات کے ساتھ گہرا مذاق مذہبی رکھتے ہیں اور انھوں نے جو کچھ لکھا ہے، حکمائے اسلام کی طرح ’’متکلمانہ‘‘ لکھا ہے۔ اس پر بھی لکھنؤ کے ایک مشہور انشا پرداز فاضل عصر کی مذہبی تحریرات سے عام سو ظن پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ حضرت کو ’’اعتزال‘‘ کی فکر ہے جس میں پھر بھی ایک مذہبی رنگ ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ اس زمانہ میں، جو سائنس کے اکتشافات عالیہ کا دور ہے، سرے سے مذہب کی جان ہی کے لالے ہیں اور آج کسی مذہب آسمانی میں اتنی قوت نہیں کہ منحرف سائنس کو زیر کر سکے۔\n\nمیں رَو میں سلسلہ سے کسی قدر دور جا پڑا، کہنا یہ تھا کہ اردو لٹریچر کے پیدا کرنے والے تھوڑے ہیں، ان میں بھی تھوڑے ہی ایسے ہیں جو آج کل کے معیار قابلیت کے لحاظ سے اہل قلم کی صف اول میں شامل ہونے کے لائق ہوں ۔ شبلی بہ لحاظ فن میرا خیال ہے صرف ہندوستان نہیں بلکہ تمام اسلامی دنیا میں کسی سے دوسرے درجہ پر نہیں ہیں ۔ اس کو میری قاصر النظری پر نہ محمول کیجئے، فلسفۂ تاریخ جو آج کل تمام علوم میں سرفہرست ہے، ایک مستقل فن ہو گیا ہے اور اس قدر اہم ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے فاضل مورخانہ موشگافیوں کو بہترین مشغلہ ہستی سمجھتے ہیں ۔\n\nمصری اور ترکی لٹریچر میں تاریخی مذاق جس قدر موجود ہے، ہم اس سے ناواقف نہیں ہیں لیکن جن مضامین پر وہاں سرگرمی سے طبع آزمائیاں ہورہی ہیں، وہ شبلی کے ہاں فرسودہ اور مسائل ابتدائی ہیں جن کو فاضل مؤرخ کی سرسری جنبش قلم مدت ہوئی ایک سے زیادہ موقع پر طے کر چکی ہے۔ سچ یہ ہے کہ شبلی بہ لحاظ جامعیت اور وسیع النظری اور نیز مؤرخانہ تدقیق اور اکمال فن کی حیثیت سے آج یورپ کے بڑے سے بڑے مؤرخ سے پہلو بہ پہلو ہو سکتے ہیں ۔ یورپ کو شکایت ہے کہ مسلمانوں میں متقدین بلکہ متاخرین میں بھی کوئی شخص ایسا نہیں ہوا جسے صحیح معنوں میں اگر حفظ روایات سے قطع نظر کی جائے تو ’’مؤرخ‘‘ کہنا درست ہو، یعنی استقصائے روایات کے سلسلہ میں جہاں اصلی ماخذوں کی چھان بین کی گئی، غیرمرتب مواد سے کسی دور میں ایسے نتائج حاصل نہیں کیے گئے جن میں طبیعت انسانی کے اقتضا، زمانہ کے ماحول اور خصائص طبعی یا قرائن عقلی سے مدد لی گئی ہو۔\n\nابن خلدون کا نام بار بار لیا جاتا ہے جس نے تاریخ پر فلسفہ کا رنگ چڑھایا مگر خود اس کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے خیالات قوت سے فعل میں نہ آ سکے۔ یہ بالکل صحیح ہے لیکن آج ہم بیسویں صدی کے ایک فاضل مؤرخ کو پیش کرتے ہیں جس کا دائرۂ معلومات اس قدر وسیع ہے کہ وہ اپنے سلسلۂ تحقیقات کی فروگذاشت کی تلافی کرتا جاتاہے اور اگر وقت نے مہلت دی اور اس کا تخیل پورا ہو سکا تو تاریخ اسلامی کے مہمات مسائل ایک ایک کرکے طے کر دیے جائیں گے۔\n\nکہا جاتا ہے کہ دلی اور لکھنؤ کے گوشوں میں بہتیرے علماء پڑے ہیں، ممکن ہے۔ لیکن کسی شخص کا دماغ دوسروں کے علوم وفنون سے بھرا ہو، اور خود اس میں تحقیق واختراع کا مادہ نہ ہو تو ایک بیکار سی چیز ہے۔ اس لئے ایک فلسفی کے خیال کے مطابق اصلی قابلیت صرف وہ وسائل یعنی طریقۂ استعمال ہے جس سے مواد گزشتہ کارآمد بنایا جاسکے۔ یہی تصرفات ہیں جن کی بنا پر ایک ادیب یا مؤرخ کو لائق سے لائق شخص پر جو صرف ’’جامع اللغات‘‘ ہو ترجیح فائقہ حاصل ہے ورنہ ظاہر ہے کہ نرے الفاظ مؤخر الذکر کے ہاں کچھ زیادہ ہی ہوتے ہیں ۔\n\nانسانی احساسات و خیالات، تحقیقات و اختراعات کی مسلسل تاریخ ہمارے سامنے موجود ہے اور کار لائل کہتا ہے کہ جس شخص کو ’’چھپے ہوئے حرفوں‘‘ کا راز معلوم ہے وہ انھیں قوت آخذہ سے اپنا کر سکتا ہے۔ صرف صدائے اصلی کی تلاش کا ذوق صحیح ہونا چاہئے۔ ہاں شبلی، فاضل شبلی ’’نقوش حرفی‘‘ کے رازدار ہیں، انہوں نے اپنے ماخذوں کی چھان بین میں صرف صدائے اصلی سے غرض رکھی ہے اور اپنے وسیع سلسلۂ تحقیقات میں زبردست قوت استقرائی کے ساتھ اسباب ونتائج کی تصریحات فلسفیانہ سے آج کے ترقی یافتہ مذاق کے مطابق اس طرح کام لے سکے جس سے ان کی آواز بازگشت تمام ملک میں گونج اٹھی اور ہندوستان کے ادبی قلم رو میں ایک نیا تاریخی دور شروع ہو گیا۔ مختصر یہ کہ آج کل کے مصنفین میں علامہ شبلی کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے جو ان کے اور ہم عصروں کے حصہ میں نہیں آیا، ان کے سخت سے سخت حریف مقابل بھی ان کی تحقیقات کی گرد کو نہیں پہونچتے۔\n\nیہ جاننا بھی مزے کی بات ہے، اس لئے بعضوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئے گی لیکن ہندوستان کیا اور ممالک میں بھی دوچار سے زیادہ نہیں ہیں جو مذاق موجودہ کے مطابق مسائل قدیمہ کے طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ شبلی ہم میں پہلے شخص ہیں جنھوں نے تاریخ و فلسفہ میں ربط باہمی پیدا کیا اور ان جواہر عقلی کی تحلیل و ترکیب اس طرح کر سکے کہ لٹریچر میں ایک خاص امتزاج پیدا ہو گیا ہے جس کے آثار ان کے مستقل سرمایۂ تصنیفات کے سوا ان کے متفرق مضامین میں بھی ملتے ہیں جو مدتوں ان کے قلم کے سایہ میں مسلسل طور پر وقف عام ہوتے رہے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%A7%D9%88%D9%84"} {"title": "ملک کی محبت", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جسے ملک سے اپنے الفت نہیں ہے\nوہ دل قابل عفو و رحمت نہیں ہے\nبڑی چیز ہیں اتحاد و محبت\nبغیر ان کے دنیا میں عزت نہیں ہے\nخدایا وطن کی محبت عطا کر\nکہ اس کے سوا کوئی دولت نہیں ہے\nیہ آپس کی ناچاقیاں ختم کر دو\nکوئی اس سے بڑھ کر جہالت نہیں ہے\nجو تعلیم دیتا ہے جنگ و جدل کی\nکبھی مصلح ملک و ملت نہیں ہے\nجو رکھتا ہے آپس میں بغض و عداوت\nوہ ہرگز سزاوار عظمت نہیں ہے\nسکھاتا ہے جو خود سری و شرارت\nوطن کو اب اس کی ضرورت نہیں ہے\nالٰہی ان آنکھوں کو بے نور کر دے\nجن آنکھوں میں نور مروت نہیں ہے\nجو انسان ہے آدمیت سے خالی\nاسے جانور پر فضیلت نہیں ہے\nنہیں عزت قوم جس کی نظر میں\nجہاں میں کہیں اس کی عزت نہیں ہے\nحکومت وہ برباد ہو کر رہے گی\nرعایا کو جس کی ضرورت نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%DA%A9_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA"} {"title": "ملی نہ فرصت جہاں ہو غش سے اٹھی جو کچھ بھی نقاب عارض", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملی نہ فرصت جہاں ہو غش سے اٹھی جو کچھ بھی نقاب عارض\nمگر سمجھتے نہیں ابھی تک تم اپنا جلوہ حجاب عارض\n\nنہ دشت ایمن میں ذکر اس کا نہ طور ہی پر کبھی یہ چمکا\nنہ ہو نظر میں جو تیرا جلوہ تو مہر کو دوں خطاب عارض\n\nتصور ان کا ہے مجھ کو ہر دم نہ شب کو تسکیں نہ چین دن کو\nہوئی ہیں اوقات میرے بالکل تباہ کاکل خراب عارض\n\nخوشی کی کثرت اگر ہو ان کو تو بن کے آنکھوں میں آئیں آنسو\nزیادہ یاں تک ہیں اپنی حد سے نہ ٹھہرے عارض میں آب عارض\n\nیہ رنگ بزم عدو تو دیکھو کہ لاکھ پردے کیے ہیں حائل\nنقاب اٹھائے وہ گو ہیں بیٹھے مگر ہے غیرت حجاب عارض\n\nالٰہی میری جگر فگاری رقیب سن کر انہیں سنا دیں\nوہ مصلحت ہی سمجھ کے آئیں دکھانے کو ماہتاب عارض\n\nنظر فزا ہے جہاں ہے جلوہ تمہارا احسان سب پہ ہوگا\nاٹھاؤ عارض سے تم جو پردہ تو گھٹ نہ جائے گی تاب عارض\n\nیہ نام جس کا قمر رکھا ہے مجھی سے اک داغ لے گیا ہے\nسمجھ تو دیکھو سمجھ رہا ہے فلک اسی کو جواب عارض\n\nکہیں الٰہی شب جدائی تمام ہونے کو آ گئی ہے\nنمود صبح جزا ہو شاید کہ میں نے دیکھا ہے خواب عارض\n\nہوئی یہ حال زبوں کی شہرت کہ اس نے خجلت سے منہ چھپایا\nبنا ہے رنگ شکستہ میرا بہت دنوں میں نقاب عارض\n\nنہ پوچھو ہم سے کہ کیا سبب ہے سیاہ روزی کا اپنی سالکؔ\nچمک رہا ہے بہت دنوں سے عدو پہ وہ آفتاب عارض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%81%D8%B1%D8%B5%D8%AA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%BA%D8%B4_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D8%B6"} {"title": "ملی کیا خاک راحت کنج مرقد میں نہاں ہو کر", "poet_page": "مصنف:رفیع احمد عالی", "kind": "poetry", "section": "غزل > یادگار عالی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "ملی کیا خاک راحت کنج مرقد میں نہاں ہو کر\nزمین گور سر پر پھر رہی ہے آسماں ہو کر\n\nچھری گردن پہ قاتل پھیرتا ہے شادماں ہو کر\nنکلتا ہے مرا دم آرزوئے دشمناں ہو کر\n\nہمارے قتل کرنے کا نہ تھا اس شوخ کا منشا\nابھارا تیغ اور خنجر نے کیسا ہم زباں ہو کر\n\nاڑا لے چل ہوائے شوق آگے سب سے منزل پر\nرہا جاتا ہوں پیچھے میں تو گرد کارواں ہو کر\n\nفقیر مست وہ ہوں میں اگر کچھ موج آ جائے\nابھی مے خانہ سے کشتیٔ مے آئے رواں ہو کر\n\nعیاں آثار ہیں یہ آمد فصل بہاری کے\nگریباں آ رہا دامن میں میرے دھجیاں ہو کر", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%DA%A9%D9%86%D8%AC_%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ملیے اس شخص سے جو آدم ہووے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ملیے اس شخص سے جو آدم ہووے\nناز اس کو کمال پر بہت کم ہووے\nہو گرم سخن تو گرد آوے یک خلق\nخاموش رہے تو ایک عالم ہووے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D8%AE%D8%B5_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D8%AF%D9%85_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92"} {"title": "ملے بے نشاں کے نشاں کیسے کیسے", "poet_page": "مصنف:نسیم میسوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملے بے نشاں کے نشاں کیسے کیسے\nبنے لا مکاں کے مکاں کیسے کیسے\n\nہوئے خاک دور جہاں کیسے کیسے\nہوئے حادثے ہیں یہاں کیسے کیسے\n\nسنے وصل میں ہم بیاں کیسے کیسے\nبہانے کئے وہ عیاں کیسے کیسے\n\nقلق ہجر کے ہیں یہاں کیسے کیسے\nگماں کرتے ہیں وہ وہاں کیسے کیسے\n\nہے کس کا دہن وصف لب میں تمہارے\nسخنور ہوئے بے زباں کیسے کیسے\n\nنہ شیریں ہی ہے اور نہ لیلیٰ ہے افسوس\nجہاں سے گئے قدرداں کیسے کیسے\n\nکئی کھاتے ہیں غم کئی ہیں بلانوش\nہیں اس خوان پر میہماں کیسے کیسے\n\nگل داغ دل آہ سے کیوں نہ مرجھائے\nاجاڑے چمن یہ خزاں کیسے کیسے\n\nنصیبوں سے گھر بیٹھے آئے ہو اے جاں\nکوئی مانتا ہوں میں ہاں کیسے کیسے\n\nیہ چرخ کہن آہ چن چن کے مارا\nتہ خاک ہیں نوجواں کیسے کیسے\n\nقیامت کے مضمون ہیں لہراتے دل میں\nصدف میں ہیں بحر رواں کیسے کیسے\n\nمری ہم صفیری بھی ہے کھپر تیڑھی\nہیں غپ چپ ہی شیریں بیاں کیسے کیسے\n\nمہ و لالہ و شمع کے داغ دیکھو\nجلے عشق سے دود ماں کیسے کیسے\n\nہے کیوں وصف یوسف کے جو کارواں کا\nجہاں سے گئے کارواں کیسے کیسے\n\nالٰہی یہ کیا گردش آسماں ہے\nجلانے لگے مہرباں کیسے کیسے\n\nتصور سے بھی دیکھیے کیوں کمر کو\nحجاب آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے\n\nہر اک شام چلتے ہیں تیر نگہ یاں\nنکلتے ہیں ابرو کماں کیسے کیسے\n\nچھوا تھا کہ اک گھات انگئے کو ان کے\nہیں طوفاں اٹھے الاماں کیسے کیسے\n\nمیں قرباں خدائی کے وہ بت جو پوچھے\nہیں ارمان دل میں نہاں کیسے کیسے\n\nکروں مے سے توبہ میں استغفر اللہ\nلئے عہد و پیماں مغاں کیسے کیسے\n\nامینی ہے جبریل پر گرچہ قاصد\nہمیں ہو رہے ہیں گماں کیسے کیسے\n\nنسیمؔ ان کی بخشش بھی لا انتہا ہے\nہوئے جرم ہم سے عیاں کیسے کیسے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92"} {"title": "ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھی", "poet_page": "مصنف:سائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھی\nوفا دشمن جفا جو کا ستم یوں بھی ہے اور یوں بھی\n\nکہیں وامق کہیں مجنوں رقم یوں بھی ہے اور یوں بھی\nہمارے نام پر چلتا قلم یوں بھی ہے اور یوں بھی\n\nشب وعدہ وہ آ جائیں نہ آئیں مجھ کو بلوا لیں\nعنایت یوں بھی ہے اور یوں بھی کرم یوں بھی ہے اور یوں بھی\n\nعدو لکھے مجھے نامہ تمہاری مہر اس کا خط\nجفا یوں بھی ہے اور یوں بھی ستم یوں بھی ہے اور یوں بھی\n\nنہ خود آئیں نہ بلوائیں شکایت کیوں نہ لکھ بھیجوں\nعنایت کی نظر مجھ پر کرم یوں بھی ہے اور یوں بھی\n\nیہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے\nجناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی\n\nتجھے نواب بھی کہتے ہیں شاعر بھی سمجھتے ہیں\nزمانے میں ترا سائلؔ بھرم یوں بھی ہے اور یوں بھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%DB%92_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D8%BA%D9%85_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا\nبس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگا\n\nرہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہوگا\nکسی نے کچھ لکھا ہوگا کسی نے کچھ لکھا ہوگا\n\nبروز حشر حاکم قادر مطلق خدا ہوگا\nفرشتوں کے لکھے اور شیخ کی باتوں سے کیا ہوگا\n\nتری دنیا میں صبر و شکر سے ہم نے بسر کر لی\nتری دنیا سے بڑھ کر بھی ترے دوزخ میں کیا ہوگا\n\nسکون مستقل دل بے تمنا شیخ کی صحبت\nیہ جنت ہے تو اس جنت سے دوزخ کیا برا ہوگا\n\nمرے اشعار پر خاموش ہے جز بز نہیں ہوتا\nیہ واعظ واعظوں میں کچھ حقیقت آشنا ہوگا\n\nبھروسہ کس قدر ہے تجھ کو اخترؔ اس کی رحمت پر\nاگر وہ شیخ صاحب کا خدا نکلا تو کیا ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%84%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%86%D8%AA%D8%8C_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%B2%D8%AE_%D8%B9%D8%B7%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ممبری امپِیریَل کونسل کی کچھ مشکل نہیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ممبری امپِیریَل کونسل کی کچھ مشکل نہیں\nووٹ تو مِل جائیں گے، پیسے بھی دِلوائیں گے کیا؟\n\nمیرزا غالبؔ خُدا بخشے، بجا فرما گئے\n“ہم نے یہ ماناکہ دِلّی میں رہیں، کھائیں گے کیا؟”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%85%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D9%85%D9%BE%D9%90%DB%8C%D8%B1%DB%8C%D9%8E%D9%84_%DA%A9%D9%88%D9%86%D8%B3%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ممتحن کا پان", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "ریل کے سفر میں اگر کوئی ہم مذاق مل جائے تو تمام راہ مزے سے کٹ جاتی ہے۔ گو بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ انہیں کوئی بھی مل جائے تو وہ اس کے ساتھ وقت گزاری کرلیتے ہیں، مگر جناب میں غیر جنس سے بہت گھبراتا ہوں اور خصوصاً جب وہ پان کھاتا ہو۔ اب تو نہیں لیکن پہلے میرا یہ حال تھا کہ پان کھانے والے مسافر سے لڑائی تک لڑنے کو تیار ہو جاتا تھا۔ اگر جیت گیا تو خیر ورنہ شکست کی صورت میں خود وہاں سے ہٹ جاتا تھا۔\n\nمیں ایک بڑے ضروری کام سے دہلی سے آگرہ جا رہا تھا۔ خوش قسمتی سے ایک بہت دلچسپ ساتھی غازی آباد سے مل گئے۔ یہ ایک ہندو بیرسٹر کے لڑکے تھے اور ایم ایس سی میں پڑھتے تھے۔ خورجہ کے اسٹیشن پر ایک صاحب اور وارد ہوئے۔ یہ بھی ہم عمر ہونے کی وجہ سے ہماری ہی بنچ پر آئے اور بہت سے لوگ آگئے اور منجملہ ان لوگوں کے میں نے نہایت بے کلی سے دیکھا کہ ان میں ایک صاحب پان کھانے والے ہیں۔ ان حضرت نے ہماری ہی طرف رخ کیا، اور اِدھر میں گھبرایا۔ انہوں نے میری بنچ پر بیٹھنے کی نیت سے قلی سے اسباب میری طرف رکھوانا چاہا۔\n\n’’آپ اس طرف نہایت آرام سے بیٹھ سکتے ہیں۔‘‘ میں نے ایک کھچا کھچ اسباب اور مسافروں سے بھری ہوئی بنچ کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ انہوں نےشاید اس کو بدتمیزی خیال کر کے برا مانتے ہوئے کہا، ’’جناب خود تکلیف کریں۔‘‘\n\n’’یہ جگہ گھری ہوئی ہے۔‘‘ میں نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے کج خلقی سے کہا۔ مگر وہ اتنے میں اسباب رکھوا کر بیٹھ بھی چکے تھے۔ میری طرف انہوں نے غور سے دیکھا۔۔۔ میں ان کی طرف نفرت نہیں بلکہ غصہ سے دیکھ رہا تھا کیونکہ مجھے پان کھانے والے سے اتنی نفرت نہیں ہوتی جتنا کہ اس پر غصہ آتا تھا (اب بالکل نہیں آتا۔) یہ حضرت فاختی رنگ کی شیروانی پہنے ہوئے تھے۔ ترکی ٹوپی تھی۔ شاید چالیس یا پینتالیس برس کی عمر تھی۔ کپڑے صاف ستھرے اور پاکیزہ تھے۔ ریل چلی تو میں اس فکر میں تھا اب ضرور یہ اپنی ڈبیہ میں سے نکال کر پان کھائیں گے، کیونکہ ان کی منہ کی رفتار سےایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے پان اب ختم ہونے والا ہے۔ اتنے میں میری نظر ان کے ہینڈ بیگ پر پڑی، جس سے میں نے فوراً معلوم کر لیا کہ یہ حضرت کسی بیرسٹر صاحب کے منشی ہیں، کیونکہ اس پر لکھا تھا، ’’ٹی ایچ۔ بار ایٹ لاء۔‘‘\n\nمیں نہ اب بداخلاق یا کج خلق ہوں اور نہ پہلے کبھی تھا، مگر پان کھانے والے مسافروں سے مجھے چونکہ بغض تھا، لہٰذا میں اب سوچ رہا تھا کہ ان کو یہاں سے کس طرح ہٹاؤں، مگر تھوڑی ہی دیر میں اپنے دونوں ساتھیوں سے باتوں میں مشغول ہو گیا۔ زیادہ دیر باتیں کرتے نہ گزری تھی کہ کھٹکا ہوا۔ سگریٹ کیس کے کھٹکے اور پان کی ڈبیا کے کھٹکے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ حالانکہ ان کی طرف میری پشت تھی مگر میں جان گیا اور پان کی ڈبیا کا گیلا گیلا سرخ کپڑا میری نظر کے سامنے بغیر دیکھے ہی آگیا۔ مڑ کر دیکھا تو ان کے ہاتھ میں پان کا ایک ٹکڑا ہے۔ اخلاقاً انہوں نے میرے سامنے پیش کیا۔ یہ گویا تازیانہ ہوگیا۔ میں نے جل کر کہا، ’’مجھے اس حماقت سے معاف کیجیے۔‘‘\n\nمیں نے دیکھا کہ اس جملے نے کیا کام کیا مگر انہوں نے سوائے ایک سر کی جنبش کے زبان سے کچھ نہ کہا۔ نہ تو میں شرمندہ تھا اور نہ مجھ کو افسوس تھا۔ تھوڑی دیر بھی نہ گزری تھی کہ انہوں نے کھڑکی کے باہر سر ڈال کر تھوکا۔ میں نے مڑ کر برجستہ کہا، ’’قبلہ اگر یہ دھندا کرنا ہے تو براہ کرم دوسری جگہ تلاش کیجیے۔‘‘\n\n’’کیا فرمایا جناب نے؟‘‘\n\n’’میں نے یہ فرمایا کہ جناب یہ لال پچکاریاں کسی دوسری جگہ چھوڑیں۔‘‘ انہوں نے نہایت ضبط سے کام لیتے ہوئے کہا، ’’معاف کیجیے گا میں اس قسم کی گفتگو کا عادی نہیں۔‘‘\n\n’’اگر جناب ایسی گفتگو کے عادی نہیں تو میں بھی اس کا عادی نہیں کہ میرے پاس بیٹھ کر گندگی پھیلائیں۔۔۔‘‘\n\n’’جناب آپ ذرا۔۔۔‘‘\n\n’’لا حول و لا قوۃ۔‘‘ میں نے بھی بات کاٹتے ہوئے کہا، ’’ذرا غور تو کیجیے کہ بکری کی طرح پتے چبانا۔۔۔ قسم خدا کی۔‘‘ میں نے اپنے ساتھی کو مخاطب کرکے کہا، ’’یہ چھالیا بھی خوب ہے۔ گویا ایندھن یا لکڑی چبا رہے ہیں۔‘‘\n\nمارے غصہ کے ان حضرت کا منہ لال ہوگیا، مگر نہایت ہی تحمل سے انہوں نے بالکل خاموش ہوکر میری طرف سے منہ موڑ لیا اور سنی ان سنی ایک کردی۔\n’’آپ کو یہ نہیں (کہنا) چاہیے تھا۔‘‘ میرے ساتھی نے میری بداخلاقی کو دیکھتے ہوئے کہا۔\n\n’’میں نہیں کہہ سکتا کہ مجھ کو پان سے کتنی نفرت ہے۔‘‘\n\n(۲)\n\nہمارے نئے ساتھی جو غازی آباد سے بیٹھے تھے، عجب کہ کلاس فیلو نکلے۔ انہوں نے بھی ایل ایل بی، فائنل کا امتحان علی گڑھ سے دیا تھا اور میں نے بھی دیا تھا۔ ایک دوسرے کو قطعی نہ جانتے تھے کیونکہ جماعت میں پونے دو سو لڑکے تھے اور رات کو لیکچر ہوتے تھے۔ اتفاق کی بات نظر ایک دوسرے پر نہ پڑی تھی، یا اگر کبھی پڑی ہوگی تو خیال نہ رہا ہوگا۔ دوسرے صاحب کو اس پر تعجب ہوا۔ امتحان کا نتیجہ ابھی شائع نہ ہوا تھا، صرف پچیس دن امتحان کو گزرے تھے۔ لامحالہ امتحان کا ذکر ہونے لگا۔ ان کے سب پرچے اچھے ہوئے تھے اور میرے بھی سب پرچے اچھے ہوئے تھے۔ گزشتہ سال وہ سیکنڈ ڈویژن میں پاس ہوئے تھے اور میں فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوا تھا۔ اپنے پاس ہونےکا مجھ کو قطعی یقین تھا اور وہ حضرت کہنے لگے کہ ’’جناب! سیکنڈ ڈویژن تو آپ کی کہیں گئی ہی نہیں۔۔۔‘‘ یہ جملہ میرے لیے کس قدر خوشگوار تھا؟ دل سے خدا کا شکر ادا کر رہا تھا کہ تعلیم کی آخری منزل بھی ختم ہوئی کیونکہ مجھ کو اپنے پاس ہونے کا قطعی یقین تھا۔ اس میں شبے تک کی گنجائش ہی نہ تھی۔ تا وقتیکہ کوئی غیرمعمولی واقعہ رجسٹرار یونیورسٹی کے دفتر میں پیش نہ آجائے۔\n\nہر پرچے کا ذکر کیا گیا، اور ہر پرچے میں کتنے نمبر ملنے کی امید تھی اس کا اندازہ لگایا گیا اور کم از کم جو اندازہ لگایا وہ یہ تھا کہ سیکنڈ ڈویژن تو کہیں گئی نہیں ہے۔ کس جگہ وکالت شروع کی جائے گی، کچھ اس پر بحث ہوتی رہی، پھر وکالت نہ چلنے کے امکان پر گفتگو اس پہلو سے کی گئی کہ دونوں طرف سے اس کی خوب تردید ہوئی۔ علی گڑھ کا اسٹیشن آیا اور وہ صاحب جو خورجہ سے بیٹھے تھے، اتر گئے۔ اترتے وقت ہم نے ایک دوسرے کے رول نمبر مع نام و پتہ لکھ لیے اور خط و کتابت کا وعدہ بھی کیا۔۔۔ (ابھی تک نہ انہوں نے مجھے خط لکھا اور نہ میں نے انہیں۔)\n\nعلی گڑھ سے گاڑی چلی۔ ایک بات میں نے عجیب نوٹ کی۔ اب تک تو وہ پان کھانے والے حضرت کچھ رنجیدہ اور کبیدہ تھے مگر اب وہ میری طرف بڑی دیر سے دیکھ رہے تھے۔ ان کے چہرے سے تمام غصہ رفوچکر ہو چکا تھا۔ شاید وہ صاف دل تھے اور میری بداخلاقی کو بھول چکے تھے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا، ’’آپ نے امسال ایل ایل بی فائنل کا امتحان دیا ہے؟‘‘ یہ کہتے ہوئے ڈبیا کھولی، اور میں نے بمشکل ’’جی ہاں‘‘ کہا تھا کہ انہوں نے ایک پان مجھے پھر پیش کیا۔ مسکراتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’آپ کو پان سے نفرت ہے، مگر آپ اس کو کھا کر دیکھیں۔‘‘\n\nمیں نے ان کی طرف دیکھا۔۔۔ کیا یہ ممکن تھا کہ وہ تمام سنجیدگی کو رخصت کر کے مجھ کو چڑا رہے تھے، تاکہ بدلہ لیں۔۔۔ قطعی یہی ہے۔۔۔ یہ خیال کرتے ہی مجھ کو سخت غصہ آیا۔۔۔ ان کے چہرے سے واقعی یہ ظاہر ہوتا تھا کیونکہ ان کے چہرے پر ایک شرارت آمیز تبسم تھا۔ انہوں نے پان اور آگے بڑھایا اور میں نے اس کا جواب یہ بہتر سمجھا کہ تسلیم کرکے ان سے لے کر کھڑکی میں سے باہر پھینک دیا۔ مجھے یقین ہوا کہ میں کامیاب رہا۔ مگر وہ حضرت بجائے خفا ہونے کے اب شاید مجھے تختۂ مشق بنانے پر تلے ہوئے تھے۔ دوسرا پان پیش کرکے بولے، ’’اگر اب اس کو بھی آپ نے پھینک دیا تو عمر بھر پچھتانا پڑے گا۔‘‘\n\nمیں بدتمیز و بدگو یا زبان دراز نہیں، مگر منہ سے کچھ سخت جملہ نکلتے نکلتے رہ گیا۔ لیکن پھر بھی بجائے ان کے برا کہنے کے پان کی مذمت کرنے لگا اور بوجہ پان کے گندہ ہونے کے اس کے چھونے سے مجبوری ظاہر کی۔\n\n’’معاف کیجیے گا۔‘‘ انہوں نے پان کھا کر کہا، ’’آپ میں تہذیب نہیں ہے۔‘‘ یہ الفاظ انہوں نے رویہ بدل کر کچھ سنجیدگی سے کہے۔ میں نے کہا، ’’جی ہاں آپ صحیح فرماتے ہیں، لیکن مجھ کو اس پر فخر ہے کہ پان کھانے والوں کی بدتہذیبی کا جواب بدتہذیبی سے دوں۔‘‘\n\n’’ماشاء اللہ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھے اور اپنا سوٹ کیس کھولنے لگے۔ میں اپنے ساتھی سے جو غازی آباد سے میرے ساتھ بیٹھے تھے، باتیں کرنے لگا کہ اتنے میں انہوں نے میرا بازو پکڑ کر اپنی طرف متوجہ کرکے ایک کاپی میرے سامنے کر کے کہا، ’’آپ اس خط کو پہچانتے ہیں؟‘‘\n\nمیں کچھ سٹپٹا سا گیا، اور کچھ عقل نے کام نہ کیا۔ میں نے ان حضرت کے چہرے کی طرف دیکھا جو میرے سٹپٹا جانے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔ میں علاوہ گھبرانے کے سخت خفیف سا ہو رہا تھا۔۔۔ یہ واقعہ تھا کہ میرے سامنے محمڈن لاء (قانون محمدیؐ) کے امتحان کی کاپی تھی۔ اس پر سرخ رنگ کے نمبر اس طرح دیے ہوئے تھے ۱۰+۶۵ گویا میں نے سو نمبروں میں سے پچھتر نمبر پائے تھے۔ نمبروں کو دیکھ کر کچھ خوشی سی ہوئی تھی کہ وہ بولے، ’’آپ نے پرچہ بہت اچھا کیا تھا اور آپ نے ۶۵ نمبر حاصل کیے تھے لیکن چونکہ آپ نے قانون کے ان حوالے کے علاوہ تمام ان احادیث کا بھی حوالہ دیا تھا جن پر قانون کی دفعات اور سوالات اور جوابات کا دارومدار تھا لہٰذا میں نے آپ کو دس نمبر اور دیے تھے۔ لیکن اب مجھ کو معلوم ہوا کہ آپ اسلامی قانون تو بڑی چیز ہے، اسلامی تہذیب سے بھی ناواقف ہیں۔ لہٰذا میری دانست میں تو آپ کو کل ۱۰ نمبر سے زائد نہ ملنا چاہئیں۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے میرے اور میرے ساتھی کے سامنے سرخ پنسل جیب سے نکال کر ۶۵نمبر کو سرخی سے کاٹ دیا اور اپنے وہاں دستخط بھی کر دیے۔ اب مجھ کو ان حروف کے معنی بھی معلوم ہوگئے تھے جو میں نے ان کے ہینڈ بیگ پر لکھے تھے۔\n\nیہ حضرت میرے ممتحن تھے۔۔۔ میری حالت جو تھی وہ تھی، مگر میرے ساتھی جو خود طالب علم تھے سخت متعجب اور متاثر تھے۔ دراصل ہم دونوں ہی ہکا بکا تھے۔ میری کاپی وہ اطمینان سے اپنے سوٹ کیس میں رکھتے ہوئے بولے، ’’کم از کم تین سال تک تو آپ پاس ہونے کا خیال ہی ترک فرما دیں۔ کیونکہ میں ممتحن ضرور ہوں گا اور آپ کو فیل کروں گا، کیونکہ میرا خیال ہے کہ ایک بدتہذیب شخص اس سے کم عرصے میں تہذیب نہیں سیکھ سکتا۔‘‘\n\nمیں اس کا جواب سختی سے بھلا کیسے دیتا، میرے تو ہوش ہی بجا نہ تھے۔ وہ غیر متعلق ہوکر اپنا چہرہ اخبار سے چھپائے ہوئے دوسری بنچ پر جا بیٹھے۔ تھوڑی دیر بعد جب ذرا دل کی دھڑکن کم ہوئی تو میرے ساتھی نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر گفتگو کرنا شروع کی۔ خوشامد کا خیال ہی نہیں تھا، کہنے لگے کہ ’’میں گواہ ہوں آپ ان پر دعویٰ کر دیجیے گا۔‘‘ شاید انہوں نے یہ سن لیا، جو اخبار پھینک کر بولے، ’’شاید آپ دونوں صاحبوں سے قانون میں زیادہ جانتا ہوں، جناب من! اگر یہ ممکن ہوتا تو ہر ممتحن پر طالب علم ایک گواہ تلاش کر کے مقدمہ دائر کر دیتے۔ خواہ واقعہ ہو یا نہ ہو۔ میں آپ دونوں صاحبان کو یقین دلاتا ہوں کہ میرا فیصلہ اٹل ہے۔ آپ شوق سے دعویٰ کریں۔‘‘\n\nمیں تو چپ تھا مگر میرے ساتھی نے ان سے بحث کرنا شروع کی، مگر تھوڑی دیر میں مجبوراً مجھے ان کا منہ بند کرنا پڑا کیونکہ ممتحن صاحب غصہ ہوئے جاتے تھے۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد میرے ہمدرد ساتھی پھر ممتحن صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور نرمی کی تلقین کر رہے تھے۔ میں چپ بیٹھا دعا مانگ رہا تھا کہ خدا کرے یہ راضی ہو جائیں، مگر توبہ کیجیے۔ ’’میری جان مت کھائیے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اخبار پڑھنے میں مشغول ہوگئے۔\n\n(۳)\n\nہاتھرس کا اسٹیشن قریب آ رہا تھا اور میرے ساتھی اترنے والے تھے۔ ممتحن صاحب اپنی پان کی ڈبیا لینے اٹھے۔ انہوں نے ڈبیا کھول کر ایک پان نکالا اور میرے سامنے پیش کیا۔ میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ میں نے معصومیت سے رنجیدہ صورت بنائے ہوئے ان کی طرف دیکھا۔ میرا ہاتھ خود بڑھ گیا۔۔۔ آپ یقین کریں کہ میں پان کھا رہا تھا۔\n\n’’چھا لیا تو لیجیے!‘‘ ممتحن صاحب نے بٹوا سامنے کرتے ہوئے کہا۔ کیونکہ میں بغیر چھا لیا کے پان کھا رہا تھا اور وہ قریب الختم تھا، انکار کرتے ڈر لگا لہٰذا لے کر منہ میں ڈال لی۔ وہ اپنی جگہ پھر جا بیٹھے اور یہاں چھالیاں ایسی معلوم ہو رہی تھی جیسے منہ کو کوئی چھیل رہا ہے، حالانکہ ممتحن صاحب میری طرف دیکھ نہیں رہے تھے، مگر پھر بھی میں نے تھوکنا مناسب نہیں سمجھا کہ کہیں دیکھ نہ لیں۔ چونکہ قطعی عادت نہ تھی، مجھے چھا لیا مصیبت معلوم ہونے لگی۔ لیکن میں نے چبا چبا کر اس کو سرمہ کر ڈالا۔ پان کھانے کے قواعد کی رو سے اس منزل پر پہنچ کر پان کھانے والا تھوک سکتا ہے، مگر مجھ کو شاید معلوم نہ تھا۔ گو دیکھا تو تھا کہ لوگ اگال کو تھوک دیتے ہیں۔ تھوڑی دیر میں چھا لیا کا پھوک رہ گیا۔ چونکہ ضرورت سے زیادہ کھالی تھی لہٰذا اتنی مقدار نگل بھی نہ سکتا تھا، بڑی دیر تک منہ میں پھراتا رہا پھر تھوکنے کے لیے بیت الخلا کو بہتر سمجھا تاکہ ممتحن صاحب نہ دیکھ سکیں۔ وہاں جو چھالیا تھوک کر نکلا تو ممتحن کچھ تحکمانہ لہجہ میں بولے، ’’کیا آپ نے پان تھوک دیا؟‘‘ میں سن سا ہو گیا، اور جھوٹ بولا، ’’جی نہیں!‘‘ مگر نہایت ہی مردہ آواز سے کہا۔\n\nاس دوران میں میرے ساتھی، گو ایم ایس سی کے طالب علم تھے، مگر میرے چہرے کو فلسفیانہ انداز سے دیکھ رہے تھے۔ میرا چہرہ واقعی ہوگا بھی اس لائق کیونکہ خفت، حماقت، رنج، تکلیف وغیرہ وغیرہ علاوہ گھبراہٹ اور پریشانی کے ضرور میرے چہرہ سے عیاں ہو رہی ہوگی۔ ہاتھرس کا اسٹیشن آیا اور وہ اتر گئے۔\n\n(۴)\n\nمیرے ساتھی کے چلے جانے کے بعد اب میں نہ معلوم کن کن خیالات میں غرق تھا۔۔۔ خوشامد کرو۔۔۔ کبھی کی نہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ آتی ہی نہیں۔۔۔ مگر ہاتھ جوڑنے سے کام بن جائے گا۔ اگر نہ مانیں تو قدموں پر سر رکھ دینا چاہیے، پھر خیال آیا، لا حول و لا قوۃ، آئندہ ہی سال دیکھا جائے گا، ورنہ پھر نوکری کرلیں گے۔ ایسی خوشامد سے تو موت بہتر ہے۔\n\nٹونڈلہ کا اسٹیشن آیا، میں آگرہ جا رہا تھا، سخت ضروری کام تھا۔ میں چونک سا پڑا۔۔۔ اب کیا کروں؟ یہ سوال تھا، واللہ اعلم ممتحن صاحب کہاں جا رہے ہیں۔ خیر کم از کم کانپور کا تو ٹکٹ لے لینا چاہیے چنانچہ یہی کیا۔ ٹکٹ لے کر واپس آیا تو ممتحن صاحب بیٹھے ہوئے ایک صاحب سے باتیں کر رہے تھے۔ شاید ان کے ملاقاتی ہیں، میں نے دل میں کہا۔ میں بیٹھ گیا۔ ممتحن صاحب نے پان کی ڈبیہ نکالی۔۔۔ میں گھبرایا مگر مجبوری۔ انہوں نے پیش کیا اور مجھے خوش ہوکر کھانا پڑا۔\n\n’’کیوں جناب، پان بھی خوب چیز ہے۔‘‘ ممتحن صاحب نے اپنے دوست سے کہا۔\nانہوں نے جواب دیا، ’’جی ہاں، مجھے تو بغیر پان کے سفر دوبھر ہو جاتا ہے۔‘‘\n\n’’یہی میرا حال ہے۔‘‘ ممتحن صاحب بولے، اور پھر میری طرف مخاطب ہوکر پوچھا، ’’کیوں جناب آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘\n\nمیری حالت کا اندازہ لگانا آسان ہے، ممتحن صاحب کے چہرے سے فتح کی مسرت عیاں تھی، میں بت کی طرح شکست خوردہ تھا، گلا صاف کر کے کہا، ’’جی ہاں!‘‘\n\n’’اوہو آپ تو پان بڑی تیزی سے کھاتے ہیں۔ ختم ہوگیا، اور لیجیے۔‘‘ بیرسٹر صاحب نے کہا حالانکہ ختم نہ ہوا تھا، مگر کیسے کہتا کہ ختم نہیں ہوا اور دوسرا نہیں لوں گا، سو لیا اور کھا لیا۔ میں خاموش تھا اور ایک گونہ خوشی تھی کہ بیرسٹر صاحب اپنے دوست سے باتیں کرنے میں مشغول ہیں۔ تھوڑی دیر تک باتیں کرتے رہے، میں سنتا رہا، مجھے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اب مجھے کہاں جانا ہے۔ اتنے میں بیرسٹر صاحب نے شاید میری مصیبت کا اندازہ لگا لیا اور شش و پنج میں پاکر کہا، ’’اب تھوک دیجیے آپ تو چھا لیا کھا رہے ہیں۔‘‘ میں نے تھوک کر خلاصی پائی۔ شکر ہے کہ انہوں نے پھر پان نہیں دیا۔\n\n(۵)\n\nکانپور کے اسٹیشن پر میں نے بیرسٹر صاحب کی خدمت میں التجا کی۔ وہ کیا التجا تھی، میں خود نہیں کہہ سکتا کیونکہ نہ میں نے کچھ کہا اور نہ وہ سن سکے۔ مجبوراً انہوں نےکہا، ’’فرمائیے۔۔۔ کیا کہتے ہیں۔۔۔‘‘ بقول کسے یہاں صورت سوال تھی۔ بڑی مشکل سے میں نے کہا، ’’میری زندگی تباہ ہوجائے گی۔۔۔ میں کہیں کانہ رہوں گا۔۔۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ان باتوں کا مختصر جواب یہ تھا، ’’معاف کیجیے۔ میں ایک مرتبہ کوئی کام کر چکا ہوں تو مشکل سے رائے تبدیل کر سکتا ہوں‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے لکھنؤ والی گاڑی کا رخ کیا۔ میں نے بھی دل میں کہا کہ نہ چھوڑوں گا۔\n\nمیں نے بیرسٹر صاحب کو چھوڑنا تھا نہ چھوڑا۔ خدا کی پناہ، ضلع جونپور کے ایک غیر معروف گاؤں میں آنا تھا۔ راستہ میں نہ میں نے ایک لفظ بیرسٹر صاحب سے کہا اور نہ انہوں نے۔ میں بالکل بے تعلق دور بیٹھا تھا، نہ انہوں نے پان دیا اور نہ بات کی۔ اتنا ضرور تھا کہ وہ مجھے کبھی کبھی غور سے ضرور دیکھ لیتے تھے۔ ضلع جونپور کے ایک غیرمعروف ریلوے اسٹیشن پر شاید بیرسٹر صاحب اور میں یہ دو ہی اترنے والے تھے۔ بیرسٹر صاحب نے شاید مجھ کو عمداً دیکھا تک نہیں۔ ایک چھوٹی سی بیلوں کی گڑی پر ان کا مختصر اسباب رکھ دیا گیا، اور میں نے دیکھا کہ گرد و غبار میں بیل تیزی سے جا رہے ہیں۔ دن کے دس بجے ہوں گے۔ ناشتہ نہ میں نے کیا تھا اور نہ بھوک ہی تھی۔ گاڑی کو دیر تک کھڑا دیکھتا رہاکہ ایک دم سےچونک پڑا۔ میں نے یہ بھی نہ معلوم کیا تھا کہ وہ کون سا گاؤں ہے جہاں بیرسٹر صاحب گئے ہیں۔ مگر ایک دہقانی نے از راہِ عنایت مجھے یہ پتہ دے دیا کہ فلاں فلاں گاؤں کے زمیندار صاحب کی گاڑی تھی۔ میں نے مزدور تلاش کیا اور اس کے سر پر اسباب لدوا کر چل دیا۔\n\nشام کے چار بجے میں اس گاؤں میں پہنچا۔ زمیندار صاحب کا پتہ لگنا کیا مشکل تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں ان کے عالی شان قلعہ کےباہر کھڑا سوچ رہا تھا کہ اب کیا کروں۔ مزدور کے ساتھ اسباب باہر چھوڑا اور اندر داخل ہوگیا۔ سامنے چبوترے پر بیرسٹر صاحب پنکھے کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔ دو آدمی اور بھی کرسیوں پر لیٹے تھے۔ کچھ باتیں ہو رہی تھیں۔ کچھ ٹھٹکا مگر آگے بڑھا، اور جیسے نوارد پہنچا۔ بیرسٹر صاحب نے سلام کا جواب دیا۔ اٹھ کھڑے ہوئے۔ خندہ پیشانی سے ملے۔ دریافت کیا کہ اسباب کہاں ہے۔ نوکر سے اسباب منگایا۔ ایک کمرے کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ جا کر غسل کر لیجیے اور کپڑے اتاریے۔\n\nمیں بھی بے تکلفی سے سیدھا چلا گیا۔ نہا دھو کر نکلا تو کمرے ہی میں دودھ کا دیہاتی مقدار میں شربت موجود تھا۔ بیرسٹر صاحب نے صورت سے معلوم کر لیا ہوگا کہ بھوکا ہے۔ کمرے سے نکل کر باہر آبیٹھا۔ بیرسٹر صاحب نے پان پیش کیا جو کھانا پڑا میں بالکل ہی خاموش بیٹھا رہا حتی کہ دونوں آدمی اٹھ کر چلے گئے۔ مگر قبل اس کے وہ جائیں مجھ کو بیرسٹر صاحب چار پان کھلا چکے تھے۔ تھوڑی دیر بعد جب آپ سے کیا کہوں کہ پان کھاتے کھاتے میرا کیا حال ہوگیا۔ دو تین پانوں تک تو اس کا احساس بھی رہا کہ چونا منہ میں لگ رہا ہے، مگر شام تک تو منہ کی حالت ہی اور ہوگئی۔\n\nیہ بیرسٹر صاحب کی سسرال تھی، اور شام کو ان کے خسر صاحب نکلے۔ میرا تعارف کرایا گیا کہ میں ایک کرم فرما ہوں اور خوبیوں کا مجموعہ ہوں۔ رات کے آٹھ بجے تک داماد اور خسر اور کرم فرما بیٹھے باتیں کرتے رہے، مگر جو حال کرم فرما کا پان کھاتےکھاتے ہوگیا اس کو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ کھانا کھایا گیا تو میرا منہ نہ چلتا تھا کیونکہ پانوں نے سارا منہ اندر سے زخمی کر دیا تھا اور اس پر چھا لیا گویا نمک پاشی کرتی تھی۔\n\n’’پان بھی خوب چیز ہے۔‘‘ بیرسٹر صاحب نے کھانا کھانے کے بعد مجھے پان پیش کرتے ہوئے کہا۔\n\n’’جواب نہیں رکھتا۔‘‘ مجھے کہنا پڑا۔\n\n’’کھانے کو ہضم کرتا ہے، اور منہ کی گندگی کو دور کرتا ہےاور مفرح ہے۔‘‘ بیرسٹر صاحب نے کہا۔\n\n’’مفرح بھی ہے۔‘‘ میں نے از راہ تعجب کیا۔\n\n’’بہت عمدہ چیز ہے۔‘‘ خسر صاحب بولے، ’’لیکن اعتدال کے ساتھ۔‘‘\n\nصبح کو مجھے موقع ملا کہ خسر صاحب سے اپنی مصیبت کا حال بیان کروں۔ صرف میں اور وہ ہی تھے اور بہترین موقع تھا کیونکہ انہوں نے خود بخود بہ سلسلہ گفتگو میری آئندہ زندگی کے بارے میں سوالات کیے تھے۔ انہوں نے میری داستان تعجب سے سنی، لیکن ہنسے بھی اور مجھ سے وعدہ سفارش کیا۔ اتنے میں بیرسٹر صاحب بھی آگئے۔ میں نہیں بیان کرنا چاہتا کہ کیا گفتگو ہوئی اور کیا ہوا۔ قصہ مختصر یہ طے ہوا کہ چار دن اور ٹھہروں اور رات دن پان کھاؤں بمصداق۔۔۔ ایں ہم اندر عاشقی بالائے غم ہائے دگر۔\n\nان چار دنوں میں کیا بتاؤں کہ کتنے پان کھانے پڑے۔ منہ کا برا حال تھا مگر پان پر پان کھاتا تھا اور اُف نہ کرتا تھا۔ چلتے وقت بیرسٹر صاحب نے کہا کہ ’’میرا پان اب آپ کبھی نہ بھولیں گے‘‘ اور بے شک حالانکہ سال بھر سے زائد گزر گیا ہے مگر ہنوز یاد تازہ ہے، جو شاید کبھی نہ بھولے۔\n\nنتیجہ، اب خوب پان کھاتا ہوں!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%85%D8%AA%D8%AD%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D9%86"} {"title": "ممد بھائی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سرکنڈوں کے پیچھے", "year": "1955", "text_ur": "فارس روڈ سے آپ اس طرف گلی میں چلے جائیے جوسفید گلی کہلاتی ہے تو اس کے آخری سرے پر آپ کو چند ہوٹل ملیں گے۔ یوں تو بمبئی میں قدم قدم پر ہوٹل اور ریستوران ہوتے ہیں مگریہ ریستوران اس لحاظ سے بہت دلچسپ اور منفرد ہیں کہ یہ اس علاقے میں واقع ہیں جہاں بھانت بھانت کی لونڈیاں بستی ہیں۔\n\nایک زمانہ گزر چکا ہے۔ بس آپ یہی سمجھیے کہ بیس برس کے قریب، جب میں ان ریستورانوں میں چائے پیا کرتا تھا اور کھانا کھایا کرتا تھا۔ سفید گلی سے آگے نکل کر ’پلے ہاؤس‘ آتا ہے۔ ادھر دن بھر ہاؤ ہُو رہتی ہے۔ سینما کے شو دن بھر چلتے رہتے تھے۔ چمپیاں ہوتی تھیں۔ سینما گھر غالباً چار تھے۔ ان کے باہر گھنٹیاں بجا بجا کر بڑے سماعت پاش طریقے پر لوگوں کو مدعو کرتے، ’’آؤ آؤ۔۔۔ دو آنے میں۔۔۔ فسٹ کلاس کھیل۔۔۔ دو آنے میں!‘‘\n\nبعض اوقات یہ گھنٹیاں بجانے والے زبردستی لوگوں کو اندر ڈھکیل دیتے تھے۔ باہر کرسیوں پر چمپی کرانے والے بیٹھے ہوتے تھے جن کی کھوپڑیوں کی مرمت بڑے سائنٹیفک طریقے پر کی جاتی تھی۔ مالش اچھی چیز ہے، لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ بمبئی کے رہنے والے اس کے اتنے گرویدہ کیوں ہیں۔ دن کو اور رات کو، ہر وقت انھیں تیل مالش کی ضرورت محسوس ہوتی۔ آپ اگر چاہیں تو رات کے تین بجےبڑی آسانی سے تیل مالشیا بلاسکتے ہیں۔ یوں بھی ساری رات، آپ خواہ بمبئی کے کسی کونے میں ہوں، یہ آواز آپ یقیناً سنتے رہیں گے۔’پی۔۔۔ پی۔۔۔ پی۔۔۔‘ یہ ’پی‘ چمپی کا مخفف ہے۔\n\nفارس روڈ یوں تو ایک سڑک کا نام ہے لیکن دراصل یہ اس پورے علاقے سے منسوب ہے جہاں بیسوائیں بستی ہیں۔ یہ بہت بڑا علاقہ ہے۔ اس میں کئی گلیاں ہیں جن کے مختلف نام ہیں، لیکن سہولت کے طور پر اس کی ہر گلی کو فارس روڈ یا سفید گلی کہا جاتا ہے۔ اس میں سینکڑوں جنگلا لگی دکانیں ہیں جن میں مختلف رنگ و سن کی عورتیں بیٹھ کر اپنا جسم بیچتی ہیں۔ مختلف داموں پر، آٹھ آنے سے آٹھ روپے تک، آٹھ روپے سے سو روپے تک۔۔۔ ہر دام کی عورت آپ کو اس علاقے میں مل سکتی ہے۔\n\nیہودی، پنجابی، مرہٹی، کشمیری، گجراتی، بنگالی، اینگلوانڈین، فرانسیسی، چینی، جاپانی غرضیکہ ہر قسم کی عورت آپ کو یہاں سے دستیاب ہو سکتی ہے۔۔۔ یہ عورتیں کیسی ہو تی ہیں۔۔۔ معاف کیجیے گا، اس کے متعلق آپ مجھ سے کچھ نہ پوچھیے۔۔۔ بس عورتیں ہوتی ہیں۔۔۔ اور ان کو گاہک مل ہی جاتے ہیں۔\n\nاس علاقے میں بہت سے چینی بھی آباد ہیں۔ معلوم نہیں یہ کیا کاروبار کرتے ہیں، مگر رہتے اسی علاقے میں ہیں۔ بعض تو ریستوران چلاتے ہیں جن کے باہر بورڈوں پر اوپر نیچے کیڑے مکوڑوں کی شکل میں کچھ لکھا ہوتا ہے۔۔۔ معلوم نہیں کیا۔۔۔\n\nاس علاقے میں بزنس مین اور ہر قوم کے لوگ آباد ہیں۔ ایک گلی ہے جس کا نام عرب سین ہے۔ وہاں کے لوگ اسے عرب گلی کہتے ہیں۔ اس زمانے میں جس کی میں بات کررہا ہوں، اس گلی میں غالباً بیس پچیس عرب رہتے تھے جو خود کو موتیوں کے بیوپاری کہتے تھے۔ باقی آبادی پنجابیوں اور رام پوریوں پر مشتمل تھی۔\n\nاس گلی میں مجھے ایک کمرہ مل گیا تھا جس میں سورج کی روشنی کا داخلہ بند تھا، ہر وقت بجلی کا بلب روشن رہتا تھا۔ اس کا کرایہ ساڑھے نو روپے ماہوار تھا۔\n\nآپ کا اگر بمبئی میں قیام نہیں رہا تو شاید آپ مشکل سے یقین کریں کہ وہاں کسی کو کسی اور سے سروکار نہیں ہوتا۔ اگر آپ اپنی کھولی میں مررہے ہیں تو آپ کو کوئی نہیں پوچھے گا۔ آپ کے پڑوس میں قتل ہو جائے، مجال ہے جو آپ کو اس کی خبر ہو جائے۔ مگر وہاں عرب گلی میں صرف ایک شخص ایسا تھا جس کو اڑوس پڑوس کے ہر شخص سے دلچسپی تھی۔ اس کا نام ممد بھائی تھا۔ ممد بھائی رام پور کا رہنے والا تھا۔ اول درجے کا پھکیت، گتکے اور بنوٹ کے فن میں یکتا۔ میں جب عرب گلی میں آیا تو ہوٹلوں میں اس کا نام اکثر سننے میں آیا، لیکن ایک عرصے تک اس سے ملاقات نہ ہوسکی۔\n\nمیں صبح سویرے اپنی کھولی سے نکل جاتا تھا اور بہت رات گئے لوٹتا تھا۔ لیکن مجھے ممد بھائی سے ملنے کا بہت اشتیاق تھا۔ کیوں کہ اس کے متعلق عرب گلی میں بے شمار داستانیں مشہور تھیں کہ بیس پچیس آدمی اگر لاٹھیوں سے مسلح ہوکر اس پر ٹوٹ پڑیں تووہ اس کا بال تک بیکا نہیں کرسکتے۔ ایک منٹ کے اندر اندر وہ سب کو چت کردیتا ہے۔ اور یہ کہ اس جیسا چھری مار ساری بمبئی میں نہیں مل سکتا۔ ایسے چھری مارتا ہے کہ جس کے لگتی ہے اسے پتہ بھی نہیں چلتا۔ سو قدم بغیر احساس کے چلتا رہتا ہے اور آخر ایک دم ڈھیر ہو جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ اس کے ہاتھ کی صفائی ہے۔\n\nاس کے ہاتھ کی صفائی دیکھنے کا مجھے اشتیاق نہیں تھا لیکن یوں اس کے متعلق اور باتیں سن سن کر میرے دل میں یہ خواہش ضرور پیدا ہو چکی تھی کہ میں اسے دیکھوں۔ اس سے باتیں نہ کروں لیکن قریب سے دیکھ لوں کہ وہ کیسا ہے۔ اس تمام علاقے پر اس کی شخصیت چھائی ہوئی تھی۔ وہ بہت بڑا دادا یعنی بدمعاش تھا۔ لیکن اس کے باوجود لوگ کہتے تھے کہ اس نے کسی کی بہو بیٹی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ لنگوٹ کا بہت پکا ہے۔ غریبوں کے دکھ درد کا شریک ہے۔ عرب گلی۔۔۔ صرف عرب گلی ہی نہیں، آس پاس جتنی گلیاں تھیں، ان میں جتنی نادار عورتیں تھی، سب ممد بھائی کو جانتی تھیں کیوں کہ وہ اکثر ان کی مالی امداد کرتا رہتا تھا۔ لیکن وہ خود ان کے پاس کبھی نہیں جاتا تھا۔ اپنے کسی خورد سال شاگرد کو بھیج دیتا تھا اور ان کی خیریت دریافت کرلیا کرتا تھا۔\n\nمجھے معلوم نہیں اس کی آمدنی کے کیا ذرائع تھے۔ اچھا کھاتا تھا، اچھا پہنتا تھا۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا تانگہ تھا جس میں بڑا تندرست ٹٹو جُتا ہوتا تھا، اس کووہ خود چلاتا تھا۔ ساتھ دو یا تین شاگرد ہوتے تھے، بڑے باادب۔۔۔ بھنڈی بازار کا ایک چکر لگا یاکسی درگاہ میں ہو کر وہ اس تانگے میں واپس عرب گلی آجاتا تھا اور کسی ایرانی کے ہوٹل میں بیٹھ کر اپنے شاگردوں کے ساتھ گتکے اور بنوٹ کی باتوں میں مصروف ہو جاتا تھا۔\n\nمیری کھولی کے ساتھ ہی ایک اور کھولی تھی جس میں مارواڑ کا ایک مسلمان رقاص رہتا تھا۔ اس نے مجھے ممد بھائی کی سیکڑوں کہانیاں سنائیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ ممد بھائی ایک لاکھ روپے کا آدمی ہے۔ اس کو ایک مرتبہ ہیضہ ہوگیا تھا۔ ممد بھائی کو پتہ چلا تو اس نے فارس روڈ کے تمام ڈاکٹر اس کی کھولی میں اکٹھے کردیے اور ان سے کہا، ’’دیکھو، اگر عاشق حسین کو کچھ ہوگیا تو میں سب کا صفایا کردوں گا۔‘‘ عاشق حسین نے بڑے عقیدت مندانہ لہجے میں مجھ سے کہا، ’’منٹو صاحب! ممد بھائی فرشتہ ہے۔۔۔ فرشتہ۔۔۔ جب اس نے ڈا کٹروں کو دھمکی دی تو وہ سب کانپنے لگے۔ ایسا لگ کے علاج کیا کہ میں دو دن میں ٹھیک ٹھاک ہوگیا۔‘‘\n\nممد بھائی کے متعلق میں عرب گلی کے گندے اور واہیات ریستورانوں میں اور بھی بہت کچھ سن چکا تھا۔ ایک شخص نے جو غالباً اس کا شاگرد تھا اور خود کو بہت بڑا پھکیت سمجھتا تھا، مجھ سے یہ کہا تھا کہ ممد دادا اپنے نیفے میں ایک ایسا آبدار خنجر اڑس کے رکھتا ہے جو استرے کی طرح شیو بھی کرسکتا ہے اور یہ خنجر نیام میں نہیں ہوتا، کھلا رہتا ہے۔ بالکل ننگا، اور وہ بھی اس کے پیٹ کے ساتھ۔ اس کی نوک اتنی تیکھی ہے کہ اگر باتیں کرتے ہوئے، جھکتے ہوئے اس سے ذرا سی غلطی ہو جائے تو ممد بھائی کا ایک دم کام تمام ہو کے رہ جائے۔\n\nظاہر ہے کہ اس کو دیکھنے اور اس سے ملنے کا اشتیاق دن بدن میرے دل و دماغ میں بڑھتا گیا۔ معلوم نہیں میں نے اپنے تصور میں اس کی شکل و صورت کا کیا نقشہ تیار کیا تھا، بہر حال اتنی مدت کے بعد مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ میں ایک قوی ہیکل انسان کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتا تھا جس کا نام ممد بھائی تھا۔ اس قسم کا آدمی جوہر کولیس سائیکلوں پر اشتہار کے طور پر دیا جاتا ہے۔\n\nمیں صبح سویرے اپنے کام پر نکل جاتا تھا اوررات کو دس بجے کے قریب کھانے وانے سے فارغ ہوکر واپس آکر فوراً سو جاتا تھا۔ اس دوران میں ممد بھائی سے کیسے ملاقات ہو سکتی تھی۔ میں نے کئی مرتبہ سوچا کہ کام پر نہ جاؤں اور سارا دن عرب گلی میں گزار کرممد بھائی کو دیکھنے کی کوشش کروں، مگر افسوس کہ میں ایسا نہ کرسکا اس لیے کہ میری ملازمت ہی بڑی واہیات قسم کی تھی۔\n\nممد بھائی سے ملاقات کرنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک انفلوئنزا نے مجھ پر زبردست حملہ کیا۔ ایسا حملہ کہ میں بوکھلا گیا۔ خطرہ تھا کہ یہ بگڑ کر نمونیا میں تبدیل ہو جائے گا، کیوں کہ عرب گلی کے ایک ڈاکٹر نے یہی کہا تھا۔ میں بالکل تن تنہا تھا۔ میرے ساتھ جو ایک آدمی رہتا تھا، اس کو پونہ میں نوکری مل گئی تھی، اس لیے اس کی رفاقت بھی نصیب نہیں تھی۔ میں بخار میں پھنکا جارہا تھا۔ اس قدر پیاس تھی کہ جو پانی کھولی میں رکھا تھا، وہ میرے لیے ناکافی تھا۔ اور دوست یار کوئی پاس نہیں تھا جو میری دیکھ بھال کرتا۔\n\nمیں بہت سخت جان ہوں، دیکھ بھال کی مجھے عموماً ضرورت محسوس نہیں ہوا کرتی۔مگر معلوم نہیں کہ وہ کس قسم کا بخار تھا۔ انفلوئنزا تھا، ملیریاتھا یا کیا تھا۔ لیکن اس نے میری ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔ میں بلبلانے لگا۔ میرے دل میں پہلی مرتبہ خواہش پیدا ہوئی کہ میرے پاس کوئی ہو جو مجھے دلاسہ دے۔ دلاسہ نہ دے تو کم از کم ایک سیکنڈ کے لیے اپنی شکل دکھا کے چلا جائے تاکہ مجھے یہ خوشگوار احساس ہو کہ مجھے پوچھنے والا بھی کوئی ہے۔\n\nدو دن تک میں بستر میں پڑا تکلیف بھری کروٹیں لیتا رہا، مگر کوئی نہ آیا۔۔۔ آنا بھی کسے تھا۔۔۔ میری جان پہچان کے آدمی ہی کتنے تھے۔۔۔ دو تین یا چار۔۔۔ اور وہ اتنی دور رہتے تھے کہ ان کو میری موت کا علم بھی نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔ اور پھروہاں بمبئی میں کون کس کو پوچھتا ہے۔۔۔ کوئی مرے یا جیے۔۔۔ ان کی بلا سے۔۔۔\n\nمیری بہت بری حالت تھی۔ عاشق حسین ڈانسر کی بیوی بیمار تھی اس لیے وہ اپنے وطن جا چکا تھا۔ یہ مجھے ہوٹل کے چھوکرے نے بتایا تھا۔ اب میں کس کو بلاتا۔۔۔ بڑی نڈھال حالت میں تھا اور سوچ رہا تھا کہ خود نیچے اتروں اور کسی ڈاکٹر کے پاس جاؤں کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے خیال کیا کہ ہوٹل کا چھوکرا جسے بمبئی کی زبان میں ’باہر والا‘ کہتے ہیں، ہوگا۔بڑی مریل آواز میں کہا، ’’آجاؤ!‘‘ دروازہ کھلا اور ایک چھریرے بدن کا آدمی، جس کی مونچھیں مجھے سب سے پہلے دکھائی دیں، اندر داخل ہوا۔\n\nاس کی مونچھیں ہی سب کچھ تھیں۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کی مونچھیں نہ ہوتیں تو بہت ممکن ہے کہ وہ کچھ بھی نہ ہوتا۔ اس کی مونچھوں ہی نے ایسا معلوم ہوتا تھاکہ اس کے سارے وجود کو زندگی بخش رکھی ہے۔\n\nوہ اندر آیا اور اپنی قیصر ولیم جیسی مونچھوں کو ایک انگلی سے ٹھیک کرتے ہوئے میری کھاٹ کے قریب آیا۔ اس کے پیچھے پیچھے تین چار آدمی تھے، عجیب و غریب وضع قطع کے۔ میں بہت حیران تھا کہ یہ کون ہیں اور میرے پاس کیوں آئے ہیں۔\n\nقیصر ولیم جیسی مونچھوں اور چھریرے بدن والے نے مجھ سے بڑی نرم و نازک آواز میں کہا، ’’ومٹو صاحب! آپ نے حد کردی۔ سالا مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟‘‘ منٹو کا ومٹو بن جانا میرے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اس کے علاوہ میں اس موڈ میں بھی نہیں تھا کہ میں اس کی اصلاح کرتا۔ میں نے اپنی نحیف آواز میں اس کی مونچھوں سے صرف اتنا کہا، ’’آپ کون ہیں؟‘‘ اس نے مختصر سا جواب دیا۔ ’’ممد بھائی!‘‘ میں اٹھ کر بیٹھ گیا، ’’ممد بھائی۔۔۔تو۔۔۔توآپ ممد بھائی ہیں۔۔۔مشہور دادا!‘‘\n\nمیں نے یہ کہہ تو دیا۔ لیکن فوراً مجھے اپنے بینڈے پن کا احساس ہوا اور رک گیا۔ممد بھائی نے چھوٹی انگلی سے اپنی مونچھوں کے کرخت بال ذرا اوپر کیے اور مسکرایا، ’’ہاں ومٹو بھائی۔۔۔ میں ممد ہوں۔۔۔ یہاں کا مشہوردادا۔۔۔ مجھے باہر والے سے معلوم ہوا کہ تم بیمار ہو۔۔۔ سالا یہ بھی کوئی بات ہے کہ تم نے مجھے خبر نہ کی۔ ممد بھائی کا مستک پھر جاتا ہے، جب کوئی ایسی بات ہوتی ہے۔‘‘\n\nمیں جواب میں کچھ کہنے والا تھا کہ اس نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک سے مخاطب ہو کر کہا، ’ارے۔۔۔ کیا نام ہے تیرا۔۔۔ جا بھاگ کے جا، اور کیا نام ہے اس ڈاکٹر کا۔۔۔ سمجھ گئے نا اس سے کہہ کہ ممد بھائی تجھے بلاتا ہے۔۔۔\n\nایک دم جلدی آ۔۔۔ ایک دم سب کام چھوڑ دے اور جلدی آ۔۔۔ اور دیکھ سالے سے کہنا، سب دوائیں لیتا آئے۔‘‘\n\nممد بھائی نے جس کو حکم دیا تھا، وہ ایک دم چلا گیا۔ میں سوچ رہا تھا۔ میں اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ تمام داستانیں میرے بخار آلود دماغ میں چل پھر رہی تھیں جو میں اس کے متعلق لوگوں سے سن چکا تھا۔۔۔ لیکن گڈ مڈ صورت میں۔ کیوں کہ بار بار اس کو دیکھنے کی وجہ سے اس کی مونچھیں سب پر چھا جاتی تھیں۔ بڑی خوفناک، مگر بڑی خوبصورت مونچھیں تھیں۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس چہرے کو جس کے خدوخال بڑے ملائم اور نرم ونازک ہیں، صرف خوفناک بنانے کے لیے یہ مونچھیں رکھی گئی ہیں۔ میں نے اپنے بخار آلود دماغ میں یہ سوچا کہ یہ شخص درحقیقت اتنا خوفناک نہیں جتنا اس نے خود کو ظاہر کر رکھا ہے۔\n\n’’کھولی میں کرسی نہیں‘‘ میں نے ممد بھائی سے کہا وہ میری چارپائی پر بیٹھ جائے۔ مگر اس نے انکار کردیا اور بڑے روکھے سے لہجے میں کہا، ’’ٹھیک ہے۔۔۔ ہم کھڑے رہیں گے۔‘‘\n\nپھر اس نے ٹہلتے ہوئے۔۔۔ حالانکہ اس کھولی میں اس عیاشی کی کوئی گنجائش نہیں تھی، کرتے کا دامن اٹھا کر پاجامے کے نیفے سے ایک خنجر نکالا۔۔۔ میں سمجھا چاندی کا ہے۔ اس قدر چمک رہا تھا کہ میں آپ سے کیا کہوں۔ یہ خنجر نکال کر پہلے اس نے اپنی کلائی پر پھیرا۔ جو بال اس کی زد میں آئے، سب صاف ہوگئے۔ اس نے اس پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا اور ناخن تراشنے لگا۔\n\nاس کی آمد ہی سے میرا بخار کئی درجے نیچے اتر گیا تھا۔ میں نے اب کسی قدر ہوش مند حالت میں اس سے کہا، ’’ممد بھائی۔۔۔ یہ چھری تم اس طرح اپنے۔۔۔ نیفے میں۔۔۔ یعنی بالکل اپنے پیٹ کے ساتھ رکھتے ہو اتنی تیز ہے، کیا تمہیں خوف محسوس نہیں ہوتا؟‘‘\n\nممد نے خنجرسے اپنے ناخن کی ایک قاش بڑی صفائی سے اڑاتے ہوئے جواب دیا، ’’ومٹو بھائی۔۔۔ یہ چھری دوسروں کے لیے ہے۔ یہ اچھی طرح جانتی ہے۔ سالی، اپنی چیزہے، مجھے نقصان کیسے پہنچائے گی؟‘‘\n\nچھری سے جو رشتہ اس نے قائم کیا تھا وہ کچھ ایسا ہی تھا جیسے کوئی ماں یا باپ کہے کہ یہ میرا بیٹا ہے، یا بیٹی ہے۔ اس کا ہاتھ مجھ پر کیسے اٹھ سکتا ہے۔\n\nڈاکٹر آگیا۔۔۔ اس کا نام پنٹو تھا اور میں ومٹو۔۔۔ اس نے ممد بھائی کو اپنے کرسچئن انداز میں سلام کیا اورپوچھا کہ معاملہ کیا ہے۔ جو معاملہ تھا، وہ ممد بھائی نے بیان کردیا۔ مختصر، لیکن کڑے الفاظ میں، جن میں تحکم تھا کہ دیکھو اگر تم نے ومٹو بھائی کا علاج اچھی طرح نہ کیا تو تمہاری خیر نہیں۔\n\nڈاکٹر پنٹو نے فرمانبردار لڑکے کی طرح اپنا کام کیا۔ میری نبض دیکھی۔۔۔ سٹیتھو سکوپ لگا کر میرے سینے اور پیٹھ کا معائنہ کیا۔ بلڈ پریشر دیکھا۔ مجھ سے میری بیماری کی تمام تفصیل پوچھی۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے نہیں، ممد بھائی سے کہا، ’’کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔۔۔ ملیریا ہے۔۔۔ میں انجکشن لگا دیتا ہوں۔‘‘\n\nممد بھائی مجھ سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔ اس نے ڈاکٹر پنٹو کی بات سنی اور خنجر سے اپنی کلائی کے بال اڑاتے ہوئے کہا، ’’میں کچھ نہیں جانتا۔ انجکشن دینا ہے تو دے، لیکن اگر اسے کچھ ہوگیا تو۔۔۔‘‘\n\nڈاکٹر پنٹو کانپ گیا، ’’نہیں ممد بھائی۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘\n\nممد بھائی نے خنجر اپنے نیفے میں اڑس لیا،’’تو ٹھیک ہے۔‘‘\n\n’’تو میں انجکشن لگاتا ہوں،‘‘ ڈاکٹر نے اپنا بیگ کھولا اور سرنج نکالی۔\n\n’’ٹھہرو۔۔۔ ٹھہرو۔۔۔‘‘\n\nممد بھائی گھبرا گیا تھا۔ ڈاکٹر نے سرنج فوراً بیگ میں واپس رکھی دی اور ممیاتے ہوئے ممد بھائی سے مخاطب ہوا،’’کیوں؟‘‘\n\n’’بس۔۔۔ میں کسی کے سوئی لگتے نہیں دیکھ سکتا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کھولی سے باہر چلا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے ساتھی بھی چلے گئے۔\n\nڈاکٹر پنٹو نے میرے کونین کا انجکشن لگایا، بڑے سلیقے سے۔ ورنہ ملیریا کا یہ انجکشن بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ جب وہ فارغ ہوا تو میں نے اس سے فیس پوچھی۔ اس نے کہا، ’’دس روپے!‘‘ میں تکیے کے نیچے سے اپنا بٹوہ نکال رہا تھا کہ ممد بھائی اندر آگیا۔ اس وقت میں دس روپے کا نوٹ ڈاکٹر پنٹو کو دے رہا تھا۔\n\nممد بھائی نے غضب آلود نگاہوں سے مجھے اور ڈاکٹر کو دیکھا اور گرج کر کہا، ’’یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘ میں نے کہا، ’’فیس دے رہا ہوں۔‘‘ ممد بھائی ڈاکٹر پنٹو سے مخاطب ہوا، ’’سالے یہ فیس کیسی لے رہے ہو؟‘‘ ڈاکٹر پنٹو بوکھلا گیا، ’’میں کب لے رہا ہوں۔۔۔ یہ دے رہے تھے!‘‘\n\n’’سالا۔۔۔ ہم سے فیس لیتے ہو۔۔۔ واپس کرو یہ نوٹ!‘‘ ممد بھائی کے لہجے میں اس کے خنجر ایسی تیزی تھی۔ ڈاکٹر پنٹو نے مجھے نوٹ واپس کر دیا اور بیگ بند کرکے ممد بھائی سے معذرت طلب کرتے ہوئے چلا گیا۔\n\nممد بھائی نے ایک انگلی سے اپنی کانٹوں ایسی مونچھوں کو تاؤ دیا اور مسکرایا، ’’ومٹو بھائی۔۔۔ یہ بھی کوئی بات ہے کہ اس علاقے کا ڈاکٹر تم سے فیس لے۔۔۔ تمہاری قسم، اپنی مونچھیں منڈوا دیتا اگر اس سالے نے فیس لی ہوتی۔۔۔ یہاں سب تمہارے غلام ہیں۔‘‘\n\nتھوڑے سے توقف کے بعد میں نے اس سے پوچھا، ’’ممد بھائی! تم مجھے کیسے جانتے ہو؟‘‘ ممد بھائی کی مونچھیں تھرتھرائیں۔’’ممد بھائی کسے نہیں جانتا۔۔۔ ہم یہاں کے بادشاہ ہیں پیارے۔۔۔ اپنی رعایا کا خیال رکھتے ہیں۔ ہماری سی آئی ڈی ہے۔ وہ ہمیں بتاتی رہتی ہے۔۔۔ کون آیا ہے، کون گیا ہے، کون اچھی حالت میں ہے، کون بری حالت میں۔۔۔ تمہارے متعلق ہم سب کچھ جانتے ہیں۔‘‘\n\nمیں نے ازراہ تفنن پوچھا، ’’کیا جانتے ہیں آپ؟‘‘\n\n’’سالا۔۔۔ ہم کیا نہیں جانتے۔۔۔ تم امرتسر کا رہنے والا ہے۔۔۔ کشمیری ہے۔۔۔ یہاں اخباروں میں کام کرتا ہے۔۔۔ تم نے بسم اللہ ہوٹل کے دس روپے دینے ہیں، اسی لیے تم ادھر سے نہیں گزرتے۔ بھنڈی بازار میں ایک پان والا تمہاری جان کو روتا ہے۔ اس سے تم بیس روپے دس آنے کے سگریٹ لے کر پھونک چکے ہو۔‘‘\n\nمیں پانی پانی ہوگیا۔\n\nممد بھائی نے اپنی کرخت مونچھوں پر ایک انگلی پھیری اور مسکرا کر کہا’’ومٹو بھائی! کچھ فکر نہ کرو۔ تمہارے سب قرض چکا دیے گئے ہیں۔ اب تم نئے سرے سے معاملہ شروع کرسکتے ہو۔ میں نے ان سالوں سے کہہ دیا ہے کہ خبردار! اگر ومٹو بھائی کو تم نے تنگ کیا۔۔۔ اور ممد بھائی تم سے کہتا ہے کہ انشاء اللہ کوئی تمہیں تنگ نہیں کرے گا۔‘‘\n\nمیری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس سے کیا کہوں۔ بیمار تھا، کونین کا ٹیکہ لگ چکا تھا۔ جس کے باعث کانوں میں شائیں شائیں ہورہی تھی۔ اس کے علاوہ میں اس کے خلوص کے نیچے اتنا دب چکا تھا کہ اگر مجھے کوئی نکالنے کی کوشش کرتا تو اسے بہت محنت کرنی پڑتی۔۔۔ میں صرف اتنا کہہ سکا، ’’ممد بھائی! خدا تمہیں زندہ رکھے۔۔۔ تم خوش رہو۔‘‘\n\nممد بھائی نے اپنی مونچھوں کے بال ذرا اوپر کیے اور کچھ کہے بغیر چلا گیا۔\n\nڈاکٹر پنٹو ہر روز صبح شام آتا رہا۔ میں نے اس سے کئی مرتبہ فیس کا ذکر کیا مگر اس نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا، ’’نہیں، مسٹر منٹو! ممد بھائی کا معاملہ ہے میں ایک ڈیڑھیا بھی نہیں لے سکتا۔‘‘\n\nمیں نے سوچا یہ ممد بھائی کوئی بہت بڑا آدمی ہے۔ یعنی خوفناک قسم کا جس سے ڈاکٹر پنٹو جو بڑا خسیس قسم کا آدمی ہے، ڈرتا ہے اور مجھ سے فیس لینے کی جرات نہیں کرتا۔ حالانکہ وہ اپنی جیب سے انجکشنوں پر خرچ کررہا ہے۔\n\nبیماری کے دوران میں ممد بھائی بھی بلاناغہ آتا رہا۔ کبھی صبح آتا، کبھی شام کو، اپنے چھ سات شاگردوں کے ساتھ۔ اور مجھے ہر ممکن طریقے سے ڈھارس دیتا تھا کہ معمولی ملیریا ہے، تم ڈاکٹر پنٹو کے علاج سے انشاء اللہ بہت جلد ٹھیک ہو جاؤ گے۔\nپندرہ روز کے بعد میں ٹھیک ٹھاک ہوگیا۔ اس دوران میں ممد بھائی کے ہر خدوخال کو اچھی طرح دیکھ چکا تھا۔\n\nجیسا کہ میں اس سے پیشتر کہہ چکا ہوں، وہ چھریرے بدن کا آدمی تھا۔ عمر یہی پچیس تیس کے درمیان ہوگی۔ پتلی پتلی بانہیں، ٹانگیں بھی ایسی ہی تھیں۔ ہاتھ بلا کے پھرتیلے تھے۔ ان سے جب وہ چھوٹا تیز دھار چاقو کسی دشمن پر پھینکتا تھا تو وہ سیدھا اس کے دل میں کُھبتا تھا۔ یہ مجھے عرب کی گلی نے بتایا تھا۔\n\nاس کے متعلق بے شمار باتیں مشہور تھیں، اس نے کسی کو قتل کیا تھا، میں اس کے متعلق وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ چھری مار وہ اول درجے کا تھا۔ بنوٹ اور گتکے کا ماہر۔ یوں سب کہتے تھے کہ وہ سینکڑوں قتل کر چکا ہے، مگر میں یہ اب بھی ماننے کو تیار نہیں۔\n\nلیکن جب میں اس کے خنجر کے متعلق سوچتا ہوں تو میرے تن بدن پر جھرجھری سی طاری ہو جاتی ہے۔ یہ خوفناک ہتھیار وہ کیوں ہر وقت اپنی شلوار کے نیفے میں اڑسے رہتا ہے۔\n\nمیں جب اچھا ہوگیا تو ایک دن عرب گلی کے ایک تھرڈ کلاس چینی ریستوران میں اس سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ اپنا وہی خوفناک خنجر نکال کر اپنے ناخن کاٹ رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا، ’’ممد بھائی۔۔۔ آج کل بندوق پستول کا زمانہ ہے۔۔۔ تم یہ خنجر کیوں لیے پھرتے ہو؟‘‘\n\nممد بھائی نے اپنی کرخت مونچھوں پر ایک انگلی پھیری اور کہا، ’’ومٹو بھائی! بندوق پستول میں کوئی مزا نہیں۔ انھیں کوئی بچہ بھی چلا سکتا۔ گھوڑا دبایا اور ٹھاہ۔۔۔ اس میں کیا مزا ہے۔۔۔ یہ چیز۔۔۔ یہ خنجر۔۔۔ یہ چھری۔۔۔ یہ چاقو۔۔۔ مزا آتا ہے نا، خدا کی قسم۔۔۔۔ یہ وہ ہے۔۔۔ تم کیا کہا کرتے ہو۔۔۔ ہاں۔۔۔ آرٹ۔۔۔ اس میں آرٹ ہوتا ہے میری جان۔۔۔ جس کو چاقو یا چھری چلانے کا آرٹ نہ آتا ہو وہ ایک دم کنڈم ہے۔ پستول کیا ہے۔۔۔ کھلونا ہے۔۔۔ جو نقصان پہنچا سکتا ہے۔۔۔ پر اس میں کیا لطف آتا ہے۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔ تم یہ خنجر دیکھو۔۔۔ اس کی تیز دھار دیکھو۔ ‘‘یہ کہتے ہوئے اس نے انگوٹھے پر لب لگایا اور اس کی دھار پر پھیرا۔ ’’اس سے کوئی دھماکہ نہیں ہوتا۔۔۔ بس، یوں پیٹ کے اندر داخل کردو۔۔۔ اس صفائی سے کہ اس سالے کو معلوم تک نہ ہو۔۔۔ بندوق، پستول سب بکواس ہے۔‘‘\n\nممد بھائی سے اب ہر روز کسی نہ کسی وقت ملاقات ہو جاتی تھی۔ میں اس کا ممنون احسان تھا۔۔۔ لیکن جب میں اس کا ذکر کیا کرتا تو وہ ناراض ہو جاتا۔ کہتا تھا کہ میں نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا، یہ تو میرا فرض تھا۔\n\nجب میں نے کچھ تفتیش کی تو مجھے معلوم ہوا کہ فارس روڈ کے علاقے کا وہ ایک قسم کا حاکم ہے۔ ایسا حاکم جو ہر شخص کی خبر گیری کرتا تھا۔ کوئی بیمار ہو، کسی کے کوئی تکلیف ہو، ممد بھائی اس کے پاس پہنچ جاتا تھا اور یہ اس کی سی آئی ڈی کا کام تھاجو اس کو ہر چیز سے باخبر رکھتی تھی۔\n\nوہ دادا تھا یعنی ایک خطرناک غنڈہ۔ لیکن میری سمجھ میں اب بھی نہیں آتا کہ وہ کس لحاظ سے غنڈہ تھا۔ خدا واحد شاہد ہے کہ میں نے اس میں کوئی غنڈہ پن نہیں دیکھا۔ ایک صرف اس کی مونچھیں تھیں جو اس کو ہیبت ناک بنائے رکھتی تھیں۔ لیکن اس کو ان سے پیار تھا۔ وہ ان کی اس طرح پرورش کرتا تھا جس طرح کوئی اپنے بچے کی کرے۔\n\nاس کی مونچھوں کا ایک ایک بال کھڑا تھا، جیسے خارپشت کا۔۔۔ مجھے کسی نے بتایا کہ ممد بھائی ہرروز اپنی مونچھوں کو بالائی کھلاتا ہے۔ جب کھانا کھاتا ہے تو سالن بھری انگلیوں سے اپنی مونچھیں ضرور مروڑتا ہے کہ بزرگوں کے کہنے کے مطابق یوں بالوں میں طاقت آتی ہے۔\n\nمیں اس سے پیشتر غالباً کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ اس کی مونچھیں بڑی خوفناک تھیں۔ دراصل مونچھوں کا نام ہی ممد بھائی تھا۔۔۔ یا اس خنجر کا جو اس کی تنگ گھیرے کی شلوار کے نیفے میں ہر وقت موجود رہتا تھا۔ مجھے ان دونوں چیزوں سے ڈر لگتا تھا، نہ معلوم کیوں۔۔۔\n\nممد بھائی یوں تو اس علاقے کا بہت بڑا دادا تھا، لیکن وہ سب کا ہمدرد تھا۔ معلوم نہیں اس کی آمدنی کے کیا ذرائع تھے، پر وہ ہر حاجت مند کی بروقت مدد کرتاتھا۔ اس علاقے کی تمام رنڈیاں اس کو اپنا پیر مانتی تھی۔ چونکہ وہ ایک مانا ہوا غنڈہ تھا، اس لیے لازم تھا کہ اس کا تعلق وہاں کی کسی طوائف سے ہوتا، مگر مجھے معلوم ہوا کہ اس قسم کے سلسلے سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں رہا تھا۔\n\nمیری اس کی بڑی دوستی ہوگئی تھی۔ ان پڑھ تھا، لیکن جانے کیوں وہ میری اتنی عزت کرتا تھا کہ عرب گلی کے تمام آدمی رشک کرتے تھے۔ ایک دن صبح سویرے، دفتر جاتے وقت میں نے چینی کے ہوٹل میں کسی سے سنا کہ ممد بھائی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ مجھے بہت تعجب ہوا، اس لیے کہ تمام تھانے والے اس کے دوست تھے۔ کیا وجہ ہوسکتی تھی۔۔۔ میں نے اس کے آدمی سے پوچھا کہ کیا بات ہوئی جو ممد بھائی گرفتار ہوگیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ اسی عرب گلی میں ایک عورت رہتی ہے، جس کا نام شیریں بائی ہے۔ اس کی ایک جوان لڑکی ہے، اس کو کل ایک آدمی نے خراب کردیا۔ یعنی اس کی عصمت دری کردی۔ شیریں بائی روتی ہوئی ممد بھائی کے پاس آئی اور اس سے کہا، ’’تم یہاں کے دادا ہو۔ میری بیٹی سے فلاں آدمی نے یہ برا کیا ہے۔۔۔ لعنت ہے تم پر کہ تم گھر میں بیٹھے ہو۔‘‘ ممد بھائی نے یہ موٹی گالی اس بڑھیا کو دی اور کہا۔ ’’تم چاہتی کیا ہو؟‘‘ اس نے کہا، ’’میں چاہتی ہوں کہ تم اس حرامزادے کا پیٹ چاک کردو۔‘‘\n\nممد بھائی اس وقت ہوٹل میں سیس پاؤ کے ساتھ قیمہ کھا رہا تھا۔ یہ سن کر اس نے اپنے نیفے میں سے خنجر نکالا۔ اس پر انگوٹھا پھیر کر اس کی دھار دیکھی اور بڑھیا سے کہا، ’’جا۔۔۔ تیرا کام ہو جائے گا۔‘‘\n\nاور اس کا کام ہوگیا۔۔۔ دوسرے معنوں میں جس آدمی نے اس بڑھیا کی لڑکی کی عصمت دری کی تھی، آدھ گھنٹے کے اندر اندر اس کا کام تمام ہوگیا۔\n\nممد بھائی گرفتار تو ہوگیا تھا، مگر اس نے کام اتنی ہوشیاری اور چابک دستی سے کیا تھا کہ اس کے خلاف کوئی شہادت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ اگر کوئی عینی شاہد موجود بھی ہوتا تو وہ کبھی عدالت میں بیان نہ دیتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔\n\nدو دن حوالات میں رہا تھا، مگر اس کو وہاں کوئی تکلیف نہ تھی۔ پولیس کے سپاہی،انسپکٹر، سب انسپکٹر سب اس کو جانتے تھے۔ لیکن جب وہ ضمانت پر رہا ہو کر باہر آیا تو میں نے محسوس کیا کہ اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ اس کی مونچھیں جو خوفناک طور پر اوپرکو اٹھی ہوتی تھیں اب کسی قدر جھکی ہوئی تھیں۔\n\nچینی کے ہوٹل میں اس سے میری ملاقات ہوئی۔ اس کے کپڑے جو ہمیشہ اجلے ہوتے تھے، میلے تھے۔ میں نے اس سے قتل کے متعلق کوئی بات نہ کی لیکن اس نے خود کہا، ’’ومٹو صاحب! مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ سالا دیر سے مرا۔۔۔ چھری مارنے میں مجھ سے غلطی ہوگئی، ہاتھ ٹیڑھا پڑا۔۔۔ لیکن وہ بھی اس سالے کا قصور تھا۔۔۔ ایک دم مڑ گیا اور اس وجہ سے سارا معاملہ کنڈم ہوگیا۔۔۔ لیکن مر گیا۔۔۔ ذرا تکلیف کے ساتھ، جس کا مجھے افسوس ہے۔‘‘\n\nآپ خود سوچ سکتے ہیں کہ میرا رد عمل کیا ہوگا۔ یعنی اس کو افسوس تھا کہ وہ اسے بطریق احسن قتل نہ کرسکا، اور یہ کہ مرنے میں اسے ذرا تکلیف ہوئی ہے۔\n\nمقدمہ چلنا تھا۔۔۔ اور ممد بھائی اس سے بہت گھبراتا تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں عدالت کی شکل کبھی نہیں دیکھی تھی۔ معلوم نہیں اس نے اس سے پہلے بھی قتل کیے تھے کہ نہیں لیکن جہاں تک میری معلومات کا تعلق تھا وہ مجسٹریٹ، وکیل اور گواہ کے متعلق کچھ نہیں جانتا تھا، اس لیے کہ اس کا سابقہ ان لوگوں سے کبھی پڑا نہیں تھا۔\n\nوہ بہت فکر مند تھا۔ پولیس نے جب کیس پیش کرنا چاہا اور تاریخ مقرر ہوگئی تو ممد بھائی بہت پریشان ہوگیا۔ عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے کیسے حاضر ہوا جاتا ہے، اس کے متعلق اس کو قطعاً معلوم نہیں تھا۔ بار بار وہ اپنی کرخت مونچھوں پر انگلیاں پھیرتا اور مجھ سے کہتا تھا، ’’ومٹو صاحب! میں مر جاؤں گا پرکورٹ نہیں جاؤں گا۔۔۔ سالی، معلوم نہیں کیسی جگہ ہے۔‘‘\n\nعرب گلی میں اس کے کئی دوست تھے۔ انھوں نے اس کو ڈھارس دی کہ معاملہ سنگین نہیں ہے۔ کوئی گواہ موجود نہیں، ایک صرف اس کی مونچھیں ہیں جو مجسٹریٹ کے دل میں اس کے خلاف یقینی طور پر کوئی مخالف جذبہ پیدا کرسکتی ہیں۔\nجیسا کہ میں اس سے پیشتر کہہ چکا ہوں کہ اس کی صرف مونچھیں ہی تھیں جو اس کو خوفناک بناتی تھیں۔۔۔ اگر یہ نہ ہوتیں تو وہ ہرگز ہرگز’’دادا‘‘ دکھائی نہ دیتا۔\n\nاس نے بہت غور کیا۔ اس کی ضمانت تھانے ہی میں ہو گئی تھی۔ اب اسے عدالت میں پیش ہونا تھا۔ مجسٹریٹ سے وہ بہت گھبراتا تھا۔ ایرانی کے ہوٹل میں جب میری ملاقات ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ وہ بہت پریشان ہے۔ اس کو اپنی مونچھوں کے متعلق بڑی فکر تھی۔ وہ سوچتا تھا کہ ان کے ساتھ اگر وہ عدالت میں پیش ہوا تو بہت ممکن ہے اس کو سزا ہو جائے۔\n\nآپ سمجھتے ہیں کہ یہ کہانی ہے، مگر یہ واقعہ ہے کہ وہ بہت پریشان تھا۔ اس کے تمام شاگرد حیران تھے، اس لیے کہ وہ کبھی حیران و پریشان نہیں ہوا تھا۔ اس کو مونچھوں کی فکر تھی کیوں کہ اس کے بعض قریبی دوستوں نے اس سے کہا تھا، ’’ممد بھائی۔۔۔ کورٹ میں جانا ہے تو ان مونچھوں کے ساتھ کبھی نہ جانا۔۔۔ مجسٹریٹ تم کو اندر کردے گا۔‘‘\n\nاور وہ سوچتا تھا۔۔۔ ہر وقت سوچتا تھا کہ اس کی مونچھوں نے اس آدمی کوقتل کیا ہے یا اس نے۔۔۔ لیکن کسی نتیجے پر پہنچ نہیں سکتا تھا۔ اس نے اپنا خنجر معلوم نہیں جو پہلی مرتبہ خون آشناہوا تھا یا اس سے پہلے کئی مرتبہ ہو چکا تھا، اپنے نیفے سے نکالا اور ہوٹل کے باہر گلی میں پھینک دیا۔ میں نے حیرت بھرے لہجے میں اس سے پوچھا، ’’ممد بھائی۔۔۔ یہ کیا؟‘‘\n\n’’کچھ نہیں ومٹو بھائی۔ بہت گھوٹالا ہوگیا ہے۔ کورٹ میں جانا ہے۔۔۔ یار دوست کہتے ہیں کہ تمہاری مونچھیں دیکھ کر وہ ضرور تم کو سزا دے گا۔۔۔ اب بولو، میں کیا کروں؟‘‘\n\nمیں کیا بول سکتا تھا۔ میں نے اس کی مونچھوں کی طرف دیکھا جو واقعی بڑی خوفناک تھیں۔ میں نے اس سے صرف اتنا کہا، ’’ممد بھائی! بات تو ٹھیک ہے۔۔۔ تمہاری مونچھیں مجسٹریٹ کے فیصلے پر ضرور اثر انداز ہوں گی۔۔۔ سچ پوچھو تو جو کچھ ہوگا، تمہارے خلاف نہیں۔۔۔ مونچھوں کے خلاف ہوگا۔‘‘\n\n’’تو میں منڈوا دوں؟‘‘ ممد بھائی نے اپنی چہیتی مونچھوں پر بڑے پیار سے انگلی پھیری۔\n\nمیں نے اس سے پوچھا، ’’تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘\n\n’’میرا خیال جو کچھ بھی ہو، وہ تم نہ پوچھو۔۔۔ لیکن یہاں ہرشخص کا یہی خیال ہے کہ میں انھیں منڈوا دوں تاکہ وہ سالا مجسٹریٹ مہربان ہو جائے۔ تو منڈوادوں ومٹو بھائی؟‘‘\n\nمیں نے کچھ توقف کے بعد اس سے کہا، ’’ہاں، اگر تم مناسب سمجھتے ہو تو منڈوادو۔۔۔ عدالت کا سوال ہے اور تمہاری مونچھیں واقعی بڑی خوفناک ہیں۔‘‘\n\nدوسرے دن ممد بھائی نے اپنی مونچھیں۔۔۔ اپنی جان سے عزیز مونچھیں منڈوا ڈالیں۔ کیوں کہ اس کی عزت خطرے میں تھی۔۔۔ لیکن صرف دوسرے کے مشورے پر۔۔۔\n\nمسٹر ایف، ایچ، ٹیگ کی عدالت میں اس کا مقدمہ پیش ہوا۔ مونچھوں کے بغیر ممد بھائی پیش ہوا۔ میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے خلاف کوئی شہادت موجود نہیں تھی، لیکن مجسٹریٹ صاحب نے اس کو خطرناک غنڈہ قرار دیتے ہوئے تڑی پار یعنی صوبہ بدر کردیا۔ اس کو صرف ایک دن ملا تھا جس میں اسے اپنا تمام حساب کتاب طے کرکے بمبئی چھوڑ دینا تھا۔\n\nعدالت سے باہر نکل کر اس نے مجھ سے کوئی بات نہ کی۔ اس کی چھوٹی بڑی انگلیاں بار بار بالائی ہونٹ کی طرف بڑھتی تھیں۔۔۔ مگر وہاں کوئی بال ہی نہیں تھا۔\n\nشام کو جب اسے بمبئی چھوڑ کر کہیں اور جانا تھا، میری اس کی ملاقات ایرانی کے ہوٹل میں ہوئی۔ اس کے دس بیس شاگرد آس پاس کرسیوں پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ جب میں اس سے ملا تواس نے مجھ سے کوئی بات نہ کی۔۔۔ مونچھوں کے بغیر وہ بہت شریف آدمی دکھائی دے رہا تھا۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ وہ بہت مغموم ہے۔\n\nاس کے پاس کرسی پر بیٹھ کر میں نے اس سے کہا، ’’کیا بات ہے ممد بھائی؟‘‘\n\nاس نے جواب میں ایک بہت بڑی گالی خدا معلوم کس کو دی اور کہا، ’’سالا، اب ممد بھائی ہی نہیں رہا۔‘‘\n\nمجھے معلوم تھا کہ وہ صوبہ بدر کیا چکا ہے۔’’کوئی بات نہیں ممد بھائی!۔۔۔ یہاں نہیں تو کسی اور جگہ سہی!‘‘\n\nاس نے تمام جگہوں کو بے شمار گالیاں دیں۔’’سالا۔۔۔ اپن کو یہ غم نہیں۔۔۔ یہاں رہیں یا کسی اور جگہ رہیں۔۔۔ یہ سالا مونچھیں کیوں منڈوائیں؟‘‘\n\nپھر اس نے ان لوگوں کو جنہوں نے اس کو مونچھیں منڈوانے کا مشورہ دیا تھا، ایک کروڑ گالیاں دیں اور کہا۔ ’’سالا اگر مجھے تڑی پار ہی ہونا تھا تو مونچھوں کے ساتھ کیوں نہ ہوا۔۔۔‘‘\n\nمجھے ہنسی آگئی۔ وہ آگ بگولا ہوگیا۔ ’’سالا تم کیسا آدمی ہے، ومٹو۔۔۔ ہم سچ کہتا ہے، خدا کی قسم۔۔۔ ہمیں پھانسی لگا دیتے۔۔۔ پر۔۔۔ یہ بے وقوفی تو ہم نے خود کی۔۔۔ آج تک کسی سے نہ ڈرا تھا۔۔۔ سالا اپنی مونچھوں سے ڈر گیا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے دوہتر اپنے منہ پرمارا۔ ’’ممد بھائی لعنت ہے تجھ پر۔۔۔ سالا۔۔۔ اپنی مونچھوں سے ڈر گیا۔۔۔ اب جا اپنی ماں کے۔۔۔‘‘\n\nاور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے جو اس کے مونچھوں بغیر چہرے پر کچھ عجیب سے دکھائی دیتے تھے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%85%D8%AF_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ممنوں ہی رہا اس بت کافر کی جفا کا", "poet_page": "مصنف:راسخ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ممنوں ہی رہا اس بت کافر کی جفا کا\nشکوہ نہ کیا دل نے کبھو شکر خدا کا\n\nاعضا کے تناسب کا نہ وارفتہ ہو اتنا\nآنکھیں ہیں تو رہ حیرتی انداز و ادا کا\n\nہر دم ہے ہدف ناوک بیداد کا تیری\nپتھر کا کلیجا ہے مگر اہل وفا کا\n\nتابوت ہی دیکھا نہ مرا آنکھ اٹھا کر\nکیا شرم ہے کشتہ ہوں میں اس شرم و حیا کا\n\nپاس اس کے بنا دیجو مری آنکھ بھی نقاش\nگر کھینچے ہے تو نقش رخ اس حور لقا کا\n\nکس طرح میں اب سر پہ بھلا خاک نہ ڈالوں\nدیکھوں ہوں نشاں در پہ تری صد کف پا کا\n\nکس بیکسی کی مرگ ہے راسخؔ کا بھی مرنا\nنعش اس کی پہ کوئی نہ ہوا محو عزا کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%85%D9%86%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ممکن مجھے جو ہو بے ریا ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "ممکن مجھے جو ہو بے ریا ہو\nمسند ہو کہ اس میں بوریا ہو\n\nجب قابل دید دل ربا ہو\nاللہ کرے کہ با وفا ہو\n\nبھیجا نہیں خط شوق کب سے\nمعلوم ہوا کہ تم خفا ہو\n\nبے تابئ دل اگر دکھاؤں\nکوئی نہ کسی کا مبتلا ہو\n\nمرتا ہے زر پہ اہل دنیا\nنامرد کو کب خواہش طلا ہو\n\nمٹی کر دے جو آپ کو تو\nنظروں میں خاک کیمیا ہو\n\nآئی ہے فصل گل چمن میں\nاے ہوش و خرد چلو ہوا ہو\n\nکیا مجھے در بدر پھرایا\nاے خواہش دل ترا برا ہو\n\nدکھلائی تو نے یار کی شکل\nاے جذبۂ دل ترا بھلا ہو\n\nلپٹو مجھے آ کے ہجر کی شب\nاے گیسوئے یار اگر بلا ہو\n\nاے منتہیؔ بزم یار کا حال\nکیا جانئے بعد میرے کیا ہو", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%85%DA%A9%D9%86_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "ممکن نہیں اندیشۂ فردا کم ہو", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ممکن نہیں اندیشۂ فردا کم ہو\nہاں تشنۂ غفلت ہو تو ایذا کم ہو\nٹلنے کی نہیں قیامت اچھا نہ ٹلے\nمنہ پھیر لو اپنا کہ یہ دھڑکا کم ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%85%DA%A9%D9%86_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%B4%DB%82_%D9%81%D8%B1%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D9%85_%DB%81%D9%88"} {"title": "ممکن نہیں دوا ہے اس آزار کے لیے", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ممکن نہیں دوا ہے اس آزار کے لیے\nبہتر ہے موت عاشق بیمار کے لیے\n\nمر کر ہوا ہوں خاک در یار کے لیے\nسایہ بنا ہوں میں تری دیوار کے لیے\n\nدام بلائے ہستیٔ موہوم میں پھنسا\nبہتر یہی سزا تھی گناہ گار کے لیے\n\nکیوں کر رقیب آئیں نہ محفل میں آپ کی\nہے خار گل کے واسطے گل خار کے لیے\n\nپا بوسیوں کے شوق میں اپنا یہ لوح دل\nاک خال بن گیا قدم یار کے لیے\n\nجلوہ دکھا دے خواب میں بہر خدا مجھے\nآنکھیں ترس گئیں ترے دیدار کے لیے\n\nبچوں کی طرح ہم نے اس آغوش ناز میں\nپالا تھا دل کو تجھ سے دل آزار کے لیے\n\nاب شیخ و برہمن مرے دامن کے تار کو\nآتے ہیں لینے سبحہ و زنار کے لیے\n\nمونس جو ایک دل تھا وہ گھل کر فراق سے\nآنسو بنا ہے چشم گہر بار کے لیے\n\nاس رخ کو دیکھتے ہی دل زار نے کہا\nزیبا ہے غازہ ایسا ہی رخسار کے لیے\n\nکیا حال دل سناؤں جمیلہؔ کہ ضعف سے\nقوت زباں میں چاہیے اظہار کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%85%DA%A9%D9%86_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "ممکن نہیں کہ تیری محبت کی بو نہ ہو", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ممکن نہیں کہ تیری محبت کی بو نہ ہو\nکافر اگر ہزار برس دل میں تو نہ ہو\n\nکیا لطف انتظار جو تو حیلہ جو نہ ہو\nکس کام کا وصال اگر آرزو نہ ہو\n\nمحشر میں اور ان سے مری دو بہ دو نہ ہو\nکہنے کی بات ہے جو کوئی گفتگو نہ ہو\n\nقاتل اگر نہ شوخ ہو خنجر اگر نہ تیز\nرگ رگ میں بے قرار ہمارا لہو نہ ہو\n\nخلوت میں تجھ کو چین نہیں کس کا خوف ہے\nاندیشہ کچھ نہ ہو جو نظر چار سو نہ ہو\n\nسرخی ہے تیغ پر نہ حنا تیرے ہاتھ میں\nقاتل کہیں سفید عدو کا لہو نہ ہو\n\nوہ آدمی کہاں ہے وہ انسان ہے کہاں\nجو دوست کا ہو دوست عدو کا عدو نہ ہو\n\nدل کو مسل مسل کے ذرا ہاتھ سونگھئے\nممکن نہیں کہ خون تمنا کی بو نہ ہو\n\nزاہد مزا تو جب ہے عذاب و ثواب کا\nدوزخ میں بادہ کش نہ ہوں جنت میں تو نہ ہو\n\nمعشوق ہجر اس سے زیادہ کوئی نہیں\nکیا دل لگی رہے جو تری آرزو نہ ہو\n\nایسے کہاں نصیب کہ وہ بت ہو ہم کلام\nہم طور پر بھی جائیں تو کچھ گفتگو نہ ہو\n\nدست دعا کو ملتی ہے تاثیر عرش سے\nجو ہاتھ سے ہو پاؤں سے وہ جستجو نہ ہو\n\nغش آ نہ جائے دیکھ کے قاتل کو موج خوں\nنازک مزاج کا کہیں ہلکا لہو نہ ہو\n\nہے لاگ کا مزا دل بے مدعا کے ساتھ\nتم کیا کرو کسی کو اگر آرزو نہ ہو\n\nیہ ٹوٹ کر کبھی نہ بنے گا کسی طرح\nزاہد شکست توبہ شکست سبو نہ ہو\n\nاے داغؔ آ کے پھر گئے وہ اس کو کیا کریں\nپوری جو نامراد تری آرزو نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%85%DA%A9%D9%86_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%88_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "مناجات بیوہ", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "(۱)\n\nاے سب سے اول اور آخر\nجہاں تہاں، حاضر اور ناظر\nاے سب داناؤں سے دانا\nسارے تواناؤں سے توانا\nاے بالا، ہر بالاتر سے\nچاند سے سورج سے امبر سے\nاے سمجھے بوجھے بن سوجھے\nجانے پہچانے بن بوجھے\nسب سے انوکھے سب سے نرالے\nآنکھ سے اوجھل دل کے اجالے\nاے اندھوں کی آنکھ کے تارے\nاے لنگڑے لولوں کے سہارے\nناتیوں سے چھوٹوں کے ناتی\nساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھی\nناؤ جہاں کی کھینے والے\nدکھ میں تسلی دینے والے\nجب اب تب تجھ سا نہیں کوئی\nتجھ سے ہیں سب تجھ سا نہیں کوئی\nجوت ہے تیری جل اور تھل میں\nباس ہے تیری پھول اور پھل میں\nہر دل میں ہے تیرا بسیرا\nتو پاس اور گھر دور ہے تیرا\nراہ تری دشوار اور سکڑی\nنام ترا رہ گیر کی لکڑی\nتو ہے ٹھکانا مسکینوں کا\nتو ہے سہارا غمگینوں کا\nتو ہے اکیلوں کا رکھوالا\nتو ہے اندھیرے گھر کا اجالا\nلاگو اچھے اور برے کا\nخواہاں کھوٹے اور کھرے کا\nبید نراسے بیماروں کا\nگاہک مندے بازاروں کا\nسوچ میں دل بہلانے والے\nبپتا میں یاد آنے والے\n\n(۲)\n\nاے بے وارث گھروں کے وارث\nبے بازو بے پروں کے وارث\nبے آسوں کی آس ہے تو ہی\nجاگتے سوتے پاس ہے تو ہی\nبس والے ہیں یا بے بس ہیں\nتو نہیں جن کا وہ بے کس ہیں\nساتھی جن کا دھیان ہے تیرا\nدسرایت کی وہاں نہیں پروا\nدل میں ہے جن کے تیری بڑائی\nگنتے ہیں وہ پربت کو رائی\nبیکس کا غم خوار ہے تو ہی\nبری بنی کا یار ہے تو ہی\nدکھیا دکھی یتیم اور بیوہ\nتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیوا\nتو ہی مرض دے تو ہی دوا دے\nتو ہی دوا دارو میں شفا دے\nتو ہی پلائے زہر کے پیالے\nتو ہی پھر امرت زہر میں ڈالے\nتو ہی دلوں میں آگ لگائے\nتو ہی دلوں کی لگی بجھائے\nچمکارے چمکار کے مارے\nمارے مار کے پھر چمکارے\nپیار کا تیرے پوچھنا کیا ہے\nمار میں بھی اک تیری مزا ہے\n\n(۳)\n\nاے رحمت اور ہیبت والے\nشفقت اور دباغت والے\nاے اٹکل اور دھیان سے باہر\nجان سے اور پہچان سے باہر\nعقل سے کوئی پا نہیں سکتا\nبھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیا\nایک کو تو نے شاد کیا ہے\nایک کے دل کو داغ دیا ہے\nاس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسا\nاس سے نہ تو بیزار کچھ ایسا\nہر دم تیری آن نئی ہے\nجب دیکھو تب شان نئی ہے\nیہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہے\nگھر گھر تیرا حکم نیا ہے\nپھول کہیں کملائے ہوئے ہیں\nاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیں\nکھیتی ایک کی ہے لہراتی\nایک کا ہر دم خون سکھاتی\nایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئے\nایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئے\nایک نے جب سے ہوش سنبھالا\nرنج سے اس کو پڑا نہ پالا\nایک نے اس جنجال میں آ کر\nچین نہ دیکھا آنکھ اٹھا کر\nمینہ کہیں دولت کا ہے برستا\nہے کوئی پانی تک کو ترستا\nایک کو مرنے تک نہیں دیتے\nایک اکتا گیا لیتے لیتے\nحال غرض دنیا کا یہی ہے\nغم پہلے اور بعد خوشی ہے\nرنج کا ہے دنیا کے گلا کیا\nتحفہ یہی لے دے کے ہے یاں کا\nیہاں نہیں بنتی رنج سہے بن\nرنج نہیں سب ایک سے لیکن\nایک سے یہاں رنج ایک ہے بالا\nایک سے ہے درد ایک نرالا\nگھاؤ ہے گو ناسور کی صورت\nپر اسے کیا ناسور سے نسبت\nتپ وہی دق کی شکل ہے لیکن\nدق نہیں رہتی جان لیے بن\nدق ہو وہ یا ناسور ہو کچھ ہو\nدے نہ جو اب امید کسی کو\nروز کا غم کیوں کر سہے کوئی\nآس نہ جب باقی رہے کوئی\nتو ہی کر انصاف اے مرے مولا\nکون ہے جو بے آس ہے جیتا\nگو کہ بہت بندے ہیں پر ارماں\nکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یاں\nخواہ دکھی ہے خواہ سکھی ہے\nجو ہے اک امید اس کو بندھی ہے\nکھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھی\nآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کی\nگھٹا جن کی اساڑی میں ہے\nساونی کی امید نہیں ہے\nڈوب چکی ہے ان کی اگیتی\nدیتی ہے ڈھارس ان کو پچھیتی\nایک ہے اس امید پہ جیتا\nاب ہوئی بیٹی اب ہوا بیٹا\nایک کو جو اولاد ملی ہے\nاس کو امنگ شادیوں کی ہے\nرنج ہے یا قسمت میں خوشی ہے\nکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہے\nغم نہیں ان کو غمگیں ہیں\nجو دل ناامید نہیں ہیں\nکال میں کچھ سختی نہیں ایسی\nکال میں ہے جب آس سمیں کی\nسہل ہے موجوں سے چھٹکارا\nجب کہ نظر آتا ہے کنارا\nپر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبت\nآئے گی جس کے بعد نہ راحت\nشاد ہو اس رہ گیر کا کیا دل؟\nمر کے کٹے گی جس کی منزل\nان اجڑوں کو کل پڑے کیوں کر\nگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھر\nان بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکانا؟\nجن کو نہ ملنے دے گا زمانہ\nاب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالی\nمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالی\nآئیں بہت دنیا میں بہاریں\nعیش کی گھر گھر پڑیں پکاریں\nپڑے بہت باغوں میں جھولے\nڈھاک بہت جنگل میں پھولے\nگئیں اور آئیں چاندنی راتیں\nبرسیں کھلیں بہت برساتیں\nپر نہ کھلی ہرگز نہ کھلے گی\nوہ جو کلی مرجھائی تھی دل کی\nآس ہی کا بس نام ہے دنیا\nجب نہ رہی یہی تو رہا کیا؟\nایسے بدیسی کا نہیں غم کچھ\nجس کو نہ ہو ملنے کی قسم کچھ\nرونا ان بن باسیوں کا ہے\nدیس نکالا جن کو ملا ہے\nحکم سے تیرے پر نہیں چارہ\nکڑوی میٹھی سب ہے گوارا\nزور ہے کیا پتے کا ہوا پر\nچاہے جدھر لے جائے اڑا کر\nتنکا اک اور سات سمندر\nجائے کہاں موجوں سے نکل کر\nقسمت ہی میں جب تھی جدائی\nپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی؟\nآج کی بگڑی ہو تو بنے بھی\nازل کی بگڑی خاک بنے گی\nتو جو چاہے وہ نہیں ٹلتا\nبندے کا یاں بس نہیں چلتا\nمارے اور نہ دے تو رونے\nتھپکے اور نہ دے تو سونے\nٹھہرے بن آتی ہے نہ بھاگے\nتیری زبردستی کے آگے\nتجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیں\nبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیں\nتو مارے اور خواہ نوازے\nپڑی ہوئی ہوں میں تیرے دروازے\nتجھ کو اپنا جانتی ہوں میں\nتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میں\nماں ہی سدا بچہ کو مارے\nاور بچہ ماں ماں ہی پکارے\n\n(۴)\n\nاے مرے زور اور قدرت والے\nحکمت اور حکومت والے\nمیں لونڈی تیری دکھیارے\nدروازے کی تیری بھکاری\nموت کی خواہاں جان کی دشمن\nجان اپنی ہے آپ اجیرن\nاپنے پرائے کی دھتکاری\nمیکے اور سسرال پہ بھاری\nسہہ کے بہت آزار چلی ہوں\nدنیا سے بیزار چلی ہوں\nدل پر میرے داغ ہیں جتنے\nمنہ میں بول نہیں ہیں اتنے\nدکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتی\nاس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتی\nتجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کا\nتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیا\nبیاہ کے دم پائی تھی نہ لینے\nلینے کے یاں پڑ گئے دینے\nخوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیا\nغم کے سوا کچھ ہات نہ آیا\nایک خوشی نے غم یہ دکھائے\nایک ہنسی نے گل ہی کھلائے\nکیسا تھا یہ بیاہ نناواں\nجوں ہی پڑا اس کا پرچھاواں\nچین سے رہنے دیا نہ جی کو\nکر دیا ملیامیٹ خوشی کو\nرو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تک\nاور روؤں تو روؤں کہاں تک\nہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کر\nاوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کر\nایک کا کچھ جینا نہیں ہوتا\nایک نہ ہنستا بھلا نہ روتا\nلیٹے گر سونے کے بہانے\nپائنتی کل ہے اور نہ سرہانے\nجاگیے تو بھی بن نہیں پڑتی\nجاگنے کی آخر کوئی حد بھی\nاب کل ہم کو پڑے گی مر کر\nگور ہے سونی سیج سے بہتر\nبات سے نفرت کام سے وحشت\nٹوٹی آس اور بجھی طبیعت\nآبادی جنگل کا نمونہ\nدنیا سونی اور گھر سونا\nدن ہے بھیانک اور رات ڈرانی\nیوں گزری ساری یہ جوانی\nبہنیں اور بہنیلیاں میری\nساتھ کی جو تھیں کھیلیاں میری\nمل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سے\nخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سے\nجب آئیں رو دھو کے گئیں وہ\nجب گئیں بے کل ہو کے گئیں وہ\nکوئی نہیں دل کا بہلاوا\nآ نہیں چکتا میرا بلاوا\nآٹھ پہر کا ہے یہ جلاپا\nکاٹوں گی کس طرح رنڈاپا\nتھک گئی دکھ سہتے سہتے\nتھم گئے آنسو بہتے بہتے\nآگ کھلی دل کی نہ کسی پر\nگھل گئی جان اندر ہی اندر\nدیکھ کے چپ جانا نہ کسی نے\nجان کو پھونکا دل کی لگی نے\nدبی تھی بھوبھل میں چنگاری\nلی نہ کسی نے خبر ہماری\nقوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کی\nشہر میں وہ دھوئیں ساہوں کی\nتہواروں کا آئے دن آنا\nاور سب کا تہوار منانا\nوہ چیت اور پھاگن کی ہوائیں\nوہ ساون بھادوں کی گھٹائیں\nوہ گرمی کی چاندنی راتیں\nوہ ارمان بھری برساتیں\nکس سے کہوں کس طور سے کاٹیں\nخیر کٹیں جس طور سے کاٹیں\nچاؤ کے اور خوشیوں کے سمے سب\nآتے ہیں خوش کل جان کو ہو جب\nرنج میں ہیں سامان خوشی کے\nاور جلانے والے ہی کے\nگھر برکھا اور پیا بدیسی\nآئیو برکھا کہیں نہ ایسی\nدن یہ جوانی کے کٹے ایسے\nباغ میں پنچھی قید ہو جیسے\nرت گئی ساری سر ٹکراتے\nاڑ نہ سکے پر ہوتے سارے\nکسی نے ہوگی کچھ کل پائی\nمجھے تو شادی راس نہ آئی\nآس بندھی لیکن نہ ملا کچھ\nپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھ\nرہ گیا دے کر چاند دکھائی\nچاند ہوا پر عید نہ آئی\nپھل کی خاطر برچھی کھائی\nپھل نہ ملا اور جان گنوائی\nریت میں ذرے دیکھ چمکتے\nدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کے\nچاروں کھونٹ نظر دوڑائی\nپر پانی کی بوند نہ پائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%DB%8C%D9%88%DB%81"} {"title": "مناصب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہُوا ہے بندۂ مومن فسونیِ افرنگ\nاسی سبب سے قلندر کی آنکھ ہے نم ناک\nترے بلند مناصب کی خیر ہو یا رب\nکہ ان کے واسطے تُو نے کِیا خودی کو ہلاک\nمگر یہ بات چھُپائے سے چھُپ نہیں سکتی\nسمجھ گئی ہے اسے ہر طبیعتِ چالاک\nشریکِ حُکم غلاموں کو کر نہیں سکتے\nخریدتے ہیں فقط اُن کا جوہرِ ادراک!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%A8"} {"title": "منتظر اس کے دلا تا بہ کجا بیٹھنا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منتظر اس کے دلا تا بہ کجا بیٹھنا\nشام ہوئی اب چلو صبح پھر آ بیٹھنا\n\nہوش رہا نے قرار دین رہا اور نہ دل رہا\nپاس بتوں کے ہمیں خوب نہ تھا بیٹھنا\n\nلطف سے اے دل تجھے اس کے جو ابرو بٹھائے\nبیٹھیو لیکن بہت پاس نہ جا بیٹھنا\n\nدل کی ہماری غرض باندھے ہے کیا بند بند\nشوخ کا وہ کھول کر بند قبا بیٹھنا\n\nکوچے میں اس شوخ کے جاتے تو ہو اے نظیر\nجل میں کہیں اپنی چاہ تم نہ جتا بیٹھنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84%D8%A7_%D8%AA%D8%A7_%D8%A8%DB%81_%DA%A9%D8%AC%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "منتظر تھا وہ تو جست و جو میں یہ آوارہ تھا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منتظر تھا وہ تو جست و جو میں یہ آوارہ تھا\nشیفتہ تیرا ہی تھا جو ثابت و سیارہ تھا\n\nہے جو حسرت تو سراپا چشم ہونے کی ہمیں\nحاصل اس آئینہ خانہ میں فقط نظارہ تھا\n\nجب شب مہ میں چکور اڑتا ہے مر جاتے ہیں ہم\nپتلیوں کا اپنی بھی تارہ کوئی رخسارہ تھا\n\nکھول کر دل جب میں روتا تھا فراق یار میں\nچشم تر منبع تھی ہر موئے مژہ فوارہ تھا\n\nسیل گریہ نے یہ کس کے دی سمندر کو شکست\nجو حباب آیا نظر اک واژگوں نقارا تھا\n\nایک شب تو وصل جاناں کی تواضع اے فلک\nچار دن مہمان تیرے گھر میں میں بے چارہ تھا\n\nروز و شب کے حال کا لکھتا تھا پرچہ روز و شب\nکاتب اعمال میری ڈیوڑھی کا ہرکارہ تھا\n\nپیٹنا سر اپنے ماتم میں عزیزو یار کا\nقلعۂ کنج لحد کی فتح کا نقارا تھا\n\nعہد طفلی سے جنون عشق کامل ہے شفیق\nشاخ نخل بید مجنوں سے مرا گہوارہ تھا\n\nجان شیریں مزد جوئے شیر میں تیشہ کو دی\nحوصلہ سے اپنے باہر کوہ کن بے چارا تھا\n\nحالت دل کو بیاں کرتا کسی سے میں تو کیا\nعشق میں اک مصحف رخسار کے سیپارہ تھا\n\nیہ ہوا ظاہر انا لیلیٔ مجنوں سے ہمیں\nاپنا دیوانہ تھا اپنے واسطے آوارہ تھا\n\nحال اپنا اے صنم اپنی جدائی میں نہ پوچھ\nسینہ و سر تھا ہمارا اور سنگ خارا تھا\n\nکوچۂ قاتل میں جب شوق شہادت لے گیا\nسر نہ تھا گردن پر اپنے بار صد پشتارہ تھا\n\nلوٹتا تھا اس میں بد خوئی سے میں مانند اشک\nشوخیٔ طفلان سے جنباں مرا گہوارہ تھا\n\nشان عشق اولیٰ ہے مجنوں دودمان عشق سے\nنا خلف نا قابل و نا لائق و ناکارا تھا\n\nاہل عالم سے ہمیشہ آتشؔ ایذائیں ہوئیں\nمردم دنیا نمک تھے میں دل صد پارہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D8%B3%D8%AA_%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "منتوں سے بھی نہ وہ حور شمائل آیا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منتوں سے بھی نہ وہ حور شمائل آیا\nکس جگہ آنکھ لڑی ہائے کہاں دل آیا\n\nہم نہ کہتے تھے نہ کر عشق پشیماں ہوگا\nجو کیا تو نے وہ آگے ترے اے دل آیا\n\nقہقہے قلقل مینا نے لگائے کیا کیا\nمجھ کو مستی میں جو رونا سر محفل آیا\n\nقتل کی سن کے خبر عید منائی میں نے\nآج جس سے مجھے ملنا تھا گلے مل آیا\n\nتا دم مرگ نہ ہو وہ مرے دشمن کو نصیب\nجو مزا مجھ کو الٰہی دم بسمل آیا\n\nمرقد قیس پر اب تک بھی تو خار صحرا\nانگلیوں سے یہ بتاتے ہیں وہ محمل آیا\n\nگنج قاروں کے سوا بھی ہے عدم میں سب کچھ\nہائے دنیا میں نہ اس ملک کا حاصل آیا\n\nجس نے کچھ ہوش سنبھالا وہ جواں قتل ہوا\nعہد پیری نہ ترے عہد میں قاتل آیا\n\nدین و دنیا سے گیا تو یہ سمجھ لے اے داغؔ\nغضب آیا اگر اس بت پہ ترا دل آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AD%D9%88%D8%B1_%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ\nیار لائے مری بالیں پہ اسے پر کس وقت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%AF_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%94"} {"title": "منزل دراز و دور ہے اور ہم میں دم نہیں", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منزل دراز و دور ہے اور ہم میں دم نہیں\nہوں ریل پر سوار تو دام و درم نہیں\n\nمیدان زندگی میں کریں دوڑ دھوپ کیا\nہم ایسے ناتواں ہیں کہ اٹھتا قدم نہیں\n\nکیا خوب ہاتھ پاؤں خدا نے عطا کئے\nچلتے رہیں تو حاجت خیل و خدم نہیں\n\nاغیار کیوں دخیل ہیں بزم سرور میں\nمانا کہ یار کم ہیں پر اتنے تو کم نہیں\n\nجب تک ہے عشق و عاشق و معشوق میں تمیز\nکھلتا کسی پہ راز حدوث و قدم نہیں\n\nآدم پہ معترض ہوں فرشتے تو کیا عجب\nچکھی ہنوز چاشنئ زہر غم نہیں\n\nاظہار حال کا بھی ذریعہ نہیں رہا\nدل اتنا جل گیا ہے کہ آنکھوں میں نم نہیں\n\nتو ہی نہیں ہے رمز محبت سے آشنا\nورنہ دیار حسن میں رسم ستم نہیں\n\nارشاد طبع کی نہ اگر پیروی کرے\nنقاشئ خیال مجال قلم نہیں\n\nسر ہی کے بل گئے ہیں سدا رہروان عشق\nحیرت زدہ نہ بن کہ نشان قدم نہیں\n\nکیسی طلب کہاں کی طلب کس لئے طلب\nہم ہیں تو وہ نہیں ہے جو وہ ہے تو ہم نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%D8%AF%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D9%88_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "منزل سفر عشق کی زنہار نہ ٹوٹے", "poet_page": "مصنف:کرامت علی شہیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منزل سفر عشق کی زنہار نہ ٹوٹے\nجب تک کمر قافلہ سالار نہ ٹوٹے\n\nاس پند سے دل ناصح دیں دار نہ ٹوٹے\nبت توڑنے میں کعبے کی دیوار نہ ٹوٹے\n\nبے فکر رہے بندہ نقاب رخ جاناں\nہم سے کبھی قفل در گلزار نہ ٹوٹے\n\nجب تک نہ گوارہ ہو تجھے نزع کی تلخی\nپرہیز ترا اے دل بیمار نہ ٹوٹے\n\nہر روز ہو جب سیکڑوں عشاق کا چورنگ\nاے شوخ کہاں تک تری تلوار نہ ٹوٹے\n\nسر پٹکوں جو دیوار سے کہتا ہے وہ ظالم\nبس بس مرے گھر کی کہیں دیوار نہ ٹوٹے\n\nبے جا ہے تری گرمئ بازار کا شکوہ\nکیوں جنس نئی پا کے خریدار نہ ٹوٹے\n\nقسمت میں ہو گو منزل مقصد کا پہنچنا\nپر آبلۂ پا میں سر خار نہ ٹوٹے\n\nآساں ہے شہیدیؔ کی اگر دل شکنی ہو\nپر شرط یہ ہے خاطر اغیار نہ ٹوٹے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D9%B9%D9%88%D9%B9%DB%92"} {"title": "منزل کا پتا ہے نہ ٹھکانہ معلوم", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "منزل کا پتا ہے نہ ٹھکانہ معلوم\nجب تک نہ ہو گمراہ نہ آنا معلوم\nکھو لیتا ہے انسان تو کچھ پاتا ہے\nکھویا ہی نہیں تو نے تو پانا معلوم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%B9%DA%BE%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85"} {"title": "منصور پیتے ہی مئے الفت بہک گیا", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "منصور پیتے ہی مئے الفت بہک گیا\nجام مئے الست بھرا تھا چھلک گیا\n\nپیری ہوئی شباب سے اترا جھٹک گیا\nشاعر ہوں میرا مصر ثانی لٹک گیا\n\nمجھ رند پاک کا کبھی چلو نہ بھر دیا\nساقی ترے کرم سے ہر اک یار چھک گیا\n\nمیں لوٹ ہو گیا ہوں خط سبز رنگ پر\nخار چمن سے دامن دل پہ اٹک گیا\n\nپیری میں دل دیا بت بے رحم یار کو\nمنزل قریب تھی کہ مسافر بہک گیا\n\nبھڑکایا دل کو تذکرۂ حسن یار نے\nایک ڈھیر آگ کا تھا ہوا سے دہک گیا\n\nپردہ شراب عشق کا منصور سے کھلا\nنداف تھا کہ پنبۂ بینا دھنک گیا\n\nبلبل ہے چپ نسیم سحر بھی خموش ہے\nشاید چمن میں برگ خرابی کھڑک گیا\n\nجام بلور مے کا بھرا یار نے دیا\nشب کو ہمارا اختر طالع چمک گیا\n\nتو وہ حسیں ہوا کہ ہوئے تجھ پہ سب فدا\nایسا ہی گل کھلا کہ زمانا مہک گیا\n\nرتبہ ترے کرم سے ہوا خاکسار کا\nخورشید کی طرح سے یہ ذرہ چمک گیا\n\nسودے سے جو بھرا وہ ہوا سر وبال دوش\nبار شجر ہوا وہ ثمر جو کہ پک گیا\n\nلگتا بہار گل میں گریباں کا کیا پتا\nدامن کے پھاڑنے میں کہو ہاتھ تھک گیا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%A8%DB%81%DA%A9_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منظور تھی یہ شکل تجلّی کو نور کی\nقسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی\n\nاِک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں\nپڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی\n\nواعظ! نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو\nکیا بات ہے تمہاری شرابِ طہور کی!\n\nلڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل، کہ کیوں اٹھا؟\nگویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی\n\nآمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج\nاڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی\n\nگو واں نہیں، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں\nکعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے د ور کی\n\nکیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب\nآؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی\n\nگرمی سہی کلام میں، لیکن نہ اس قدر\nکی جس سے بات اُس نے شکایت ضرور کی\n\nغالبؔ گر اِس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں\nحج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "منظور نظر ہے دل غم خوار تمہارا", "poet_page": "مصنف:جگرؔ بسوانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منظور نظر ہے دل غم خوار تمہارا\nجو یار ہمارا ہے وہی یار تمہارا\n\nدم حسرت دیدار نے آنکھوں سے نکالا\nاب تم کو مبارک رہے دیدار تمہارا\n\nتربت میں جگرؔ زیر کفن ہاتھ ہے دل پر\nاچھا نہ ہوا مر کے بھی آزار تمہارا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%BA%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "منظور ہے ناپنا کمر کا", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منظور ہے ناپنا کمر کا\nپیمانہ بنائیے نظر کا\n\nتھا شام سے دغدغہ سحر کا\nدھڑکا ہی لگا رہا گجر کا\n\nسینے میں سے کچھ آئی آواز\nپھوٹا کوئی آبلہ جگر کا\n\nآنسو پونچھیں گے کب تک احباب\nٹپکا نہ رکے گا چشم تر کا\n\nدل ہی تو ہے کیا عجب بہل جائے\nکچھ ذکر کرو ادھر ادھر کا\n\nکیوں زلف دراز کھولتے ہو\nکیا خوف تمہیں نہیں کمر کا\n\nکچھ بے ادبی ہوئی مقرر\nسینہ بیدھا گیا گھر کا\n\nتنہا نہیں گوشۂ قفس بھی\nجھگڑا ہے ساتھ بال و پر کا\n\nمحتاج کفن نہیں ہے بلبل\nپردہ کافی ہے بال و پر کا\n\nرہتے نہیں ایک دم کسی جا\nبتلائیں نشان خاک گھر کا\n\nکیا کیا ہم نے نہ خاک اڑائی\nپایا نہ غبار تیرے در کا\n\nہو آپ کے کان تک رسائی\nاللہ یہ مرتبہ گھر کا\n\nاے دل کنج مزار دیکھا\nپہلا یہ مقام ہے سفر کا\n\nیاقوت کہاں مرے دھن میں\nٹکڑا ہوگا کوئی جگر کا\n\nرخصت رخصت جو کہہ رہے ہو\nاے جان خیال ہے کدھر کا\n\nجب تک ہے کچھ حیات باقی\nرستہ دیکھیں گے نامہ بر کا\n\nآنکھوں میں خیال اور ہی ہے\nجلوہ کیا دیکھیے قمر کا\n\nآرام کہاں نصیب ہم کو\nکھٹکا درپیش ہے سفر کا\n\nپہنچے مرے ہاتھ تک تو فصاد\nمنہ لال کروں گا نیشتر کا\n\nدوڑے لینے قدم اجل کے\nدھوکا ہوا یار کی خبر کا\n\nٹھہرو لاشہ اٹھے تو جانا\nجھگڑا ہے اور دو پہر کا\n\nکیوں آئے نسیمؔ نیند ہم کو\nسر رکھ کے زمیں پہ یار سرکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "منظور ہے گزارش احوال واقعی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "منظور ہے گزارش احوال واقعی\nاپنا بیان حسن طبیعت نہیں مجھے\nسو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری\nکچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے\nآزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل\nہر گز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے\nکیا کم ہے یہ شرف کہ ظفر کا غلام ہوں\nمانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے\nاستاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیال\nیہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے\nجام جہاں نما ہے شہنشاہ کا ضمیر\nسوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے\nمیں کون اور ریختہ ہاں اس سے مدعا\nجز انبساط خاطر حضرت نہیں مجھے\nسہرا لکھا گیا زرہ امتثال امر\nدیکھا کہ چارہ غیر اطاعت نہیں مجھے\nمقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات\nمقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے\nروے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ\nسودا نہیں جنوں نہیں وحشت نہیں مجھے\nقسمت بری سہی پہ طبیعت بری نہیں\nہے شکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے\nصادق ہوں اپنے قول میں غالب خدا گواہ\nکہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D8%B4_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84_%D9%88%D8%A7%D9%82%D8%B9%DB%8C"} {"title": "منکر بت ہے یہ جاہل تو نہیں", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منکر بت ہے یہ جاہل تو نہیں\nگھر سے واعظ کہیں فاضل تو نہیں\n\nتم نہ آسان کو آساں سمجھو\nورنہ مشکل مری مشکل تو نہیں\n\nکیا سنبھالے میرے دل کا لنگر\nزلف ہے کچھ وہ سلاسل تو نہیں\n\nآج میں دل کو جدا کرتا ہوں\nدیکھیے آپ کے قابل تو نہیں\n\nزلزلہ میں جو زمیں آتی ہے\nیہ بھی اس شوخ پہ بسمل تو نہیں\n\nدرد کو گردہ تڑپنے کو جگر\nہجر میں سب ہیں مگر دل تو نہیں\n\nہڈیاں کھانے کو کھاتا ہے ہما\nسگ جاناں کے مقابل تو نہیں\n\nبولا وہ گل جو سنی آہ سخیؔ\nایسی آواز عنادل تو نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%D8%AA_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "منکر ہوتے ہیں ہنر والے", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منکر ہوتے ہیں ہنر والے\nنخل جھک جاتے ہیں ثمر والے\n\nہم نے گھورا تو ہنس کے فرمایا\nاچھے آئے بری نظر والے\n\nمنہدی مل کر وہ شوخ کہتا ہے\nسینک لیں آنکھیں چشم تر والے\n\nہے سلامت جو سنگ در ان کا\nسیکڑوں مجھ سے درد سر والے\n\nقدرؔ کیا اپنے پاس دل کے سوا\nاڑیں پر والے پھولیں زر والے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%86%D8%B1_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "منہ اپنا خشک ہے اور چشم تر ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ اپنا خشک ہے اور چشم تر ہے\nترے غم میں یہ سیر بحر و بر ہے\n\nخبر لے دل کی اس سے جس کا گھر ہے\nکسی کے گھر کی ہم کو کیا خبر ہے\n\nوہ اب کیوں کر نہ کھینچے آپ کو دور\nہمارے چاہنے کا یہ اثر ہے\n\nہمیں کچھ وہ نہیں ہیں آہ ورنہ\nوہی ہے شام اور وہ ہی سحر ہے\n\nہمیں دیکھو نہ دیکھو تم ہمیں تو\nتمہارا دیکھنا مد نظر ہے\n\nسنا لے مرتے مرتے گل کو بلبل\nکوئی نالہ ترے دل میں اگر ہے\n\nاٹھاتا ہے جو روز اٹھ درد و غم کو\nکسے طاقت ہے میرا ہی جگر ہے\n\nکبھی بستا تھا اک عالم یہاں بھی\nیہ دل جو اب کہ اجڑا سا نگر ہے\n\nکہا چاہے ہے کچھ کہتا ہے کچھ اور\nحسنؔ دھیان ان دنوں تیرا کدھر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AE%D8%B4%DA%A9_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "منہ بنائے ہوئے پھرتا ہے وہ کل سے ہم سے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ بنائے ہوئے پھرتا ہے وہ کل سے ہم سے\nکوئی آج اس کو ملا دے کسی کل سے ہم سے\n\nنالہ و آہ و فغاں کیوں نہ ہوں ہم دم اپنے\nدوستی عشق کو ہے روز ازل سے ہم سے\n\nنالہ خاموش پھر آزردہ نہ ہو جائے کہیں\nآج بولا ہے وہ کس رد و بدل سے ہم سے\n\nخوف رکھتے ہیں تری کم نگہی کا ورنہ\nیار ڈرتے ہیں کوئی تیغ اجل سے ہم سے\n\nؔجوشش اس عربدہ جو ترک ستمگار نے آج\nآشتی کی ہے بڑی جنگ و جدل سے ہم سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%DA%A9%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "منہ بولا بول جگت کا ہے جو من میں رہے سو اپنا ہے", "poet_page": "مصنف:فرحت کانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ بولا بول جگت کا ہے جو من میں رہے سو اپنا ہے\nیہ دل کا میٹھا میٹھا درد بھی گونگے کا سا سپنا ہے\n\nیا رخ کو ہوا کے پھیر دے تو یا رخ پہ ہوا کے بہتا چل\nسنسار کھپا لے اپنے میں سنسار میں ورنہ کھپنا ہے\n\nمرنا ہی نہیں یہ جینا ہے یہ پریم کی جوالا ہے جس میں\nچاندی کی طرح سے گلنا ہے سونے کی طرح سے تپنا ہے\n\nاس مایا جال سے بچ کر چل ہر ایک قدم پر پھندا ہے\nسنسار کی مایا دھوکا ہے سنسار کی مایا سپنا ہے\n\nاب دل کی تڑپ میں جیون ہے جیون میں تڑپ ہے بجلی کی\nاب دل کو سدا ہی دھڑکنا ہے فرحتؔ کو سدا ہی تڑپنا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%A7_%D8%A8%D9%88%D9%84_%D8%AC%DA%AF%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا\nحیرتی ہے یہ آئینہ کس کا\n\nشام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں\nدل ہوا ہے چراغ مفلس کا\n\nتھے برے مغبچوں کے تیور لیک\nشیخ مے خانے سے بھلا کھسکا\n\nداغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب\nہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا\n\nبحر کم ظرف ہے بسان حباب\nکاسہ لیس اب ہوا ہے تو جس کا\n\nفیض اے ابر چشم تر سے اٹھا\nآج دامن وسیع ہے اس کا\n\nتاب کس کو جو حال میرؔ سنے\nحال ہی اور کچھ ہے مجلس کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%D8%AA%D8%B3_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "منہ جو فرقت میں زرد رہتا ہے", "poet_page": "مصنف:تعشق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ جو فرقت میں زرد رہتا ہے\nکچھ کلیجہ میں درد رہتا ہے\n\nتھی کبھی رشک مہر کے عاشق\nدھوپ کا رنگ زرد رہتا ہے\n\nکس کے سنتے ہو رات کو نالے\nکہتے ہو سر میں درد رہتا ہے\n\nکبھی پوچھا نہ میرے کوچہ میں\nکون صحرا نورد رہتا ہے\n\nشور ہے زرد آئی ہے آندھی\nکیا مرا رنگ زرد رہتا ہے\n\nیاد آتی ہیں گرمیاں تیری\nدل ہمارا بھی سرد رہتا ہے\n\nکہتے ہو تجھ کو دیکھتے ہیں ہم\nبندہ صحرا نورد رہتا ہے\n\nجس طرف بیٹھتے تھے وصل میں آپ\nاسی پہلو میں درد رہتا ہے\n\nکہتے ہیں دل کی چوٹ کا ہے فساد\nمنہ تعشقؔ جو زرد رہتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%B1%D8%AF_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "منہ دکھا کر منہ چھپانا کچھ نہیں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ دکھا کر منہ چھپانا کچھ نہیں\nکچھ نہیں یہ منہ دکھانا کچھ نہیں\n\nتھا جو کیا کچھ بات کہتے کچھ نہ تھا\nآدمی کا بھی ٹھکانا کچھ نہیں\n\nگل ہیں معشوقوں کے دامن کے لئے\nقبر عاشق پر چڑھانا کچھ نہیں\n\nہے ستانے کا بھی لطف اک وقت پر\nہر گھڑی ان کو ستانا کچھ نہیں\n\nبے منائے من گئے ہم آپ سے\nایسے روٹھے کو منانا کچھ نہیں\n\nہاتھ سے گلچیں کے جھٹکے کون کھائے\nشاخ گل پر آشیانا کچھ نہیں\n\nیہ حسیں ہیں پیار کر لینے کی چیز\nان حسینوں کو ستانا کچھ نہیں\n\nاے حباب اپنی ذرا ہستی تو دیکھ\nاس پر اتنا سر اٹھانا کچھ نہیں\n\nتو نے توبہ کی تو ہے لیکن ریاضؔ\nبات کا تیری ٹھکانا کچھ نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "منہ زیر تاک کھولا واعظ بہت ہی چوکا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ زیر تاک کھولا واعظ بہت ہی چوکا\nبیلوں نے داڑھی پکڑی خوشوں نے منہ میں تھوکا\n\nکہتا ہے کیوں انا الحق جو قطرہ ہے لہو کا\nمنہ کھل گیا ہے شاید میری رگ گلو کا\n\nشوخی جو برق کی ہے گرمی شرار کی ہے\nکچھ کہہ رہا ہے موسیٰ انداز گفتگو کا\n\nدھونا ہے وقت آخر منہ کی مجھے سیاہی\nاے اشک شرم اب بھی موقع ہے شست و شو کا\n\nکیوں طفل اشک لپٹے اے دل نہ آستیں سے\nپروردہ ہے یہ میرے دامان آرزو کا\n\nساقی بہار در کف پھول آئے میکدے سے\nطوفان اٹھ رہا ہے گلشن میں رنگ و بو کا\n\nواعظ تجھے خبر ہے مے خانہ کس کا گھر ہے\nخم اس کی پشت پر ہے کھلوا نہ منہ سبو کا\n\nمیرے بدن کے روئیں آواز دیں گے ہو کی\nصحرا میں گھر ہے میرا گھر ہے مقام ہو کا\n\nیکساں ہے خوں چکانی یکساں ہے خوں فشانی\nہیں ایک دیدہ و دل یہ جوش ہے لہو کا\n\nسمجھے ہیں خضر جس کو صحرا نورد الفت\nنقش فنا وہ اک ہے وہ پائے جستجو کا\n\nگردوں حباب اس میں غرق آفتاب اس میں\nدل کی بساط کیا ہے ایک قطرہ ہے لہو کا\n\nکیوں اتنے اونچے جائیں کیوں الٹی منہ کی کھائیں\nآتا ہے اپنے منہ پر جب آسماں کا تھوکا\n\nدونوں بہت ہیں نازک ان نازنیں بتوں سے\nاللہ ہے نگہباں ایمان و آبرو کا\n\nانگور ہی میں اترا قسمت کا آب و دانہ\nمیں تھا اسی کا پیاسا میں تھا اسی کا بھوکا\n\nمیں اے ریاضؔ خوش ہوں اک بوریا ہی میں ہوں\nپہلے جو ظرف مے تھا اب ظرف ہے وضو کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%A7_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%DA%86%D9%88%DA%A9%D8%A7"} {"title": "منہ سے پردہ نہ اٹھے صاحب من یاد رہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ سے پردہ نہ اٹھے صاحب من یاد رہے\nپھر قیامت ہی عیاں ہے یہ سخن یاد رہے\n\nچھوڑو اتنی نہ زباں غنچہ دہن یاد رہے\nپھر ہمارے بھی دہن ہے یہ سخن یاد رہے\n\nکوچہ گردوں میں نہیں ہم جو یہ کوچہ چھوڑیں\nخاک کرنا ہے ہمیں یاں ہے بدن یاد رہے\n\nعہد آنے کا کیا ہے تو گرہ بند میں دے\nاس سے شاید تجھے اے عہد شکن یاد رہے\n\nآپ کے کوچے کو ہم کعبۂ مقصود سمجھ\nبھول بیٹھے ہیں سب آرام وطن یاد رہے\n\nحرف اٹھ جانے کا کہہ بیٹھے ہو اب تو لیکن\nپھر نہ کہیے گا کبھی قبلۂ من یاد رہے\n\nسو چمن ایک فقط مکھڑے میں اس کے ہیں نظیرؔ\nجب یہ صورت ہو تو پھر کس کو چمن یاد رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%D9%85%D9%86_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "منہ مرا ایک ایک تکتا تھا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ مرا ایک ایک تکتا تھا\nاس کی محفل میں میں تماشا تھا\n\nہم جو تجھ سے پھریں خدا سے پھریں\nیاد ہے کچھ یہ قول کس کا تھا\n\nوصل میں بھی رہا فراق کا غم\nشام ہی سے سحر کا کھٹکا تھا\n\nاپنی آنکھوں کا کچھ قصور نہیں\nحسن ہی دل فریب اس کا تھا\n\nفاتحہ پڑھ رہے تھے وہ جب تک\nمیری تربت پر ایک میلا تھا\n\nنامہ بر نامہ جب دیا تو نے\nکچھ زبانی بھی اس نے پوچھا تھا\n\nاب کچھ اس کا بھی اعتبار نہیں\nپہلے دل پر بڑا بھروسا تھا\n\nوہ جو رک رک کے پوچھتے تھے حال\nدل میں رہ رہ کے درد اٹھتا تھا\n\nجوٹھا وعدہ بھی اے حفیظؔ ان کا\nزندگی کا مری سہارا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AA%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "منہ میں جس کے تو شب وصل زباں دیتا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ میں جس کے تو شب وصل زباں دیتا ہے\nصبح تک مارے مزے ہی کے وہ جاں دیتا ہے\n\nبوسہ دینے کو تو کہتا ہے وہ مجھ سے لیکن\nمیں جو چاہوں کہ ابھی دے سو کہاں دیتا ہے\n\nناقہ گر گم نہ کرے راہ تو خود ریگ رواں\nاستخواں ریزۂ مجنوں کا نشاں دیتا ہے\n\nصبح خیزوں کو بھی موت آ گئی کیا ہجر کی شب\nمرغ بولے ہے نہ ملا ہی اذاں دیتا ہے\n\nکچھ تو جگہ ہے مری دل میں بھی اس کے ورنہ\nغیروں کو یوں کوئی پہلو میں مکاں دیتا ہے\n\nدل و جاں مجھ سے وہ مانگے ہے بہائے بوسہ\nہے تو سودا بہت اچھا پہ گراں دیتا ہے\n\nیہ دم سرد ہے کس کا کہ ہر اک نخل بہ باغ\nیاد بے برگی ایام خزاں دیتا ہے\n\nپھول جھڑتے ہیں منہ اس کے سے ہزاروں مجھ کو\nگالیاں گر کبھی وہ غنچہ دہاں دیتا ہے\n\nجان دروازے پر اس کے ہی میں جا کر دوں گا\nاضطراب دل اگر مجھ کو اماں دیتا ہے\n\nمصحفیؔ میں ہدف ناز ہوں اور واں غمزہ\nدم بدم دست تغافل میں کماں دیتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی\nدیکھ لی اے حور طلعت دیکھ لی\n\nشکل بدلی اور صورت ہو گئی\nاک نظر جس نے وہ صورت دیکھ لی\n\nایک بت سجدہ نہیں کرتا تجھے\nبس خدایا تیری قدرت دیکھ لی\n\nہے عیاں حال سگ اصحاب کہف\nجانور کی آدمیت دیکھ لی\n\nچار دن بھی تو نہ تم سے نبھ سکی\nآپ کی صاحب سلامت دیکھ لی\n\nجانتے تھے ہم نہ ایذا ہجر کی\nوہ بھی صاحب کی بدولت دیکھ لی\n\nگھورتے ہیں اب نگاہ قہر سے\nچار دن چشم عنایت دیکھ لی\n\nکیوں اجل اب زہر پسواتا ہوں میں\nراہ تیری ایک مدت دیکھ لی\n\nکھل گئی بندے پہ قدر و منزلت\nتھی جو صاحب کی حقیقت دیکھ لی\n\nجا کے گھر جھوٹوں نہ پوچھی بات تک\nبس تری جھوٹی محبت دیکھ لی\n\nاس سے کہہ عادت سے جو واقف نہ ہو\nدیکھ لی خو تیری خصلت دیکھ لی\n\nبحر ہستی میں فقط مثل حباب\nہے مجھے اک دم کی مہلت دیکھ لی\n\nآپ حیراں ہوگا اپنے حسن کا\nآئینہ میں گر وہ صورت دیکھ لی\n\nچاندنی راتوں میں چلاتا پھرا\nچاند سی جس نے وہ صورت دیکھ لی\n\nپھر وہی ہے بوریا اور اپنا فقر\nچار دن کی جاہ و حشمت دیکھ لی\n\nکیوں چراتا ہے وہ کافر مجھ سے آنکھ\nکیا نگاہ چشم حسرت دیکھ لی\n\nیاد آیا رندؔ وہ پیماں شکن\nگر کہیں باہم محبت دیکھ لی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%86%DB%81_%DA%88%DA%BE%D8%A7%D9%86%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C"} {"title": "منہ پھول سے رنگیں تھا و ساری تھی اس ہری", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ پھول سے رنگیں تھا و ساری تھی اس ہری\nکھترانی ایک دیکھی میں پنگھٹ پہ جوں پری\n\nچیری ہیں اس کی اربسی رمبھا و رادھکا\nپربھو نے پھر بنائی نہیں ویسی دوسری\n\nمیں نے کہا کہ گھر چلے گی میرے ساتھ آج\nکہنے لگی کہ ہم سوں نہ کر بات تو بری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DB%81%D8%B1%DB%8C"} {"title": "منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے\nاس شرم اس لحاظ کے قربان جائیے\n\nبھولے نہیں ہیں ہم وہ مدارات رات کی\nجی چاہتا ہے پھر کہیں مہمان جائیے\n\nبولے وہ مسکرا کے بہت التجا کے بعد\nجی تو یہ چاہتا ہے تری مان جائیے\n\nآگے ہے گھر رقیب کا بس ساتھ ہو چکا\nاب آپ کا خدا ہے نگہبان جائیے\n\nالفت جتا کے دوست کو دشمن بنا لیا\nبیخودؔ تمہاری عقل کے قربان جائیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B3_%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "منہ پہ کھاتا ہے یہ اس طرح سے تلوار کہ بس", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ پہ کھاتا ہے یہ اس طرح سے تلوار کہ بس\nدل مرا عشق میں ایسا ہے جگر دار کہ بس\n\nنزع میں دیکھ مجھے یار جھجک کر بولا\nکیا بری طرح سے مرتا ہے یہ بیمار کہ بس\n\nآپ کو بیچ کے یوسف نے زلیخا کو لیا\nکیا خریدار نے پایا ہے خریدار کہ بس\n\nاس جھڑی سیتی کہیں گر نہ پڑے بام فلک\nاس طرح روتے ہیں تجھ بن در و دیوار کہ بس\n\nعشق کے دار شفا میں مجھے لے چل تو یقیںؔ\nکہ طبیبوں نے دیا اس قدر آزار کہ بس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%D8%B3"} {"title": "منہ چھپاؤ نہ تم نقاب میں جان", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ چھپاؤ نہ تم نقاب میں جان\nیوں ہی عاشق کی ہے عذاب میں جان\n\nجوں سی چٹکی میں لے کے مل ڈالی\nہم سے عاشق کی ہے عذاب میں جان\n\nخوبیٔ حسن نے تری نہ رکھی\nباقی اک ذرہ شیخ و شاب میں جان\n\nکس کی زلفوں کے پیچ و تاب سے ہے\nرات دن میری پیچ و تاب میں جان\n\nسخت مشتاق ہے تمہارا دل\nمنہ دکھاؤ کبھی تو خواب میں جان\n\nایک دن تم نے کی نہ بات کبھو\nمر گئے ہم تو اس حجاب میں جان\n\nنت ترے انتظار غسل سے ہے\nبحر کے دیدۂ حباب میں جان\n\nمہ نے اے شہسوار عرصۂ حسن\nعاقبت دی تری رکاب میں جان\n\nاس نے بھر کر نگاہ دیکھا تھا\nنہیں اس دن سے آفتاب میں جان\n\nسر آتش جو اشک ریزاں تھا\nکسی عاشق کی تھی کباب میں جان\n\nمصحفیؔ تھا ز بسکہ عاشق شعر\nمرتے مرتے رہی کتاب میں جان", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D8%A4_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%85_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86"} {"title": "منہ ڈھانپ کے میں جو رو رہا ہوں", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ ڈھانپ کے میں جو رو رہا ہوں\nاک پردہ نشیں کا مبتلا ہوں\n\nکیا ہجر میں ناتواں ہوا ہوں\nتنکا نہ اٹھے وہ کہربا ہوں\n\nتیری سی نہ بو کسی میں پائی\nسارے پھولوں کو سونگھتا ہوں\n\nبلبل ہے چمن میں ایک ہم درد\nمیں بھی کسی گل کا مبتلا ہوں\n\nآئینہ ہے جسم صاف اس کا\nکیونکر نہ کہے میں خود نما ہوں\n\nکہتا ہے یہ مشتری فلک پر\nیوسف ترے ہاتھ میں بکا ہوں\n\nرخسار وہ رکھ کے سو گیا تھا\nگل تکیوں کو روز سونگھتا ہوں\n\nخط لکھ کے جو ہے تلاش قاصد\nمانند قلم میں پھر رہا ہوں\n\nمر جان کہی دیکھ دیکھ وہ ہاتھ\nمہندی کی طرح میں پس گیا ہوں\n\nاتنی تو جفائیں کر نہ اے بت\nآخر میں بندۂ خدا ہوں\n\nاب تو مجھے غیب داں کہیں سب\nمیں تیری کمر کو دیکھتا ہوں\n\nگویاؔ ہوں وقت کا سلیماں\nپریوں پر حکم کر رہا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%88%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%BE_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "منہ کہاں یہ کہ کہوں جائیے اور سو رہئے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "منہ کہاں یہ کہ کہوں جائیے اور سو رہئے\nخوب گر نیند ہے تو آئیے اور سو رہئے\n\nتکیہ زانو کا مرے کیجیے بے خوف و خطر\nآپ تشریف ادھر لائیے اور سو رہئے\n\nآج کی چاندنی وہ ہے کہ کسی شوخ کے ساتھ\nکھول آغوش لپٹ جائیے اور سو رہئے\n\nیوں تو ہرگز نہیں آنے کی تمہیں نیند مگر\nمجھ سے قصہ مرا کہوائیے اور سو رہئے\nغم رہا تھا مری باتوں کا تمہیں کس کس دن\nمنہ مرا آپ نہ کھلوایئے اور سو رہئے\n\nگر رہیں ہم بھی کہیں پائنتی اب جائیں کہاں\nآپ اتنا ہمیں فرمائیے اور سو رہئے\n\nبخت جاگے ہیں شب ماہ میں جو یار ہے پاس\nچاندنی تخت پہ بچھوائیے اور سو رہئے\n\nاس ادا کا ہوں میں دیوانہ کہ انگڑائی لے\nمجھ سے کہتا ہے کہیں جائیے اور سو رہئے\n\nڈر خدا کا ہے نہیں اور صنم کو لے کر\nایک جا پر تجھے دکھلائیے اور سو رہئے\n\nتپش عشق کی گرمی سے جلے جاتے ہیں\nچھاؤں ٹھنڈی کہیں ٹک پائیے اور سو رہئے\n\nیہ بلا فکر سے کچھ نید ہوئی ہے حسنؔ\nجی میں آتا ہے کہ کچھ کھائیے اور سو رہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "منہ گیسوئے پر خم سے نہ موڑوں کب تک", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "منہ گیسوئے پر خم سے نہ موڑوں کب تک\nاس سلسلۂ‌ پا کو نہ توڑوں کب تک\nتو مجھ سے عدو تجھ سے غرض سب ہی چھٹے\nآخر تری امید نہ چھوڑوں کب تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%AE%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%88%DA%91%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "موت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "لحد میں بھی یہی غیب و حضور رہتا ہے\nاگر ہو زندہ تو دِل ناصُبور رہتا ہے\nمہ و ستارہ، مثالِ شرارہ یک دو نفَس\nمیٔ خودی کا اَبد تک سُرور رہتا ہے\nفرشتہ موت کا چھُوتا ہے گو بدن تیرا\nترے وجود کے مرکز سے دُور رہتا ہے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AA"} {"title": "موت آئی آنے دیجیے پروا نہ کیجیے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موت آئی آنے دیجیے پروا نہ کیجیے\nمنزل ہے ختم سجدۂ شکرانہ کیجیے\n\nزنہار ترک لذت ایذا نہ کیجیے\nہرگز گناہ عشق سے توبہ نہ کیجیے\n\nنا آشنائے حسن کو کیا اعتبار عشق\nاندھوں کے آگے بیٹھ کے رویا نہ کیجیے\n\nتاکہ خبر بھی لائیے ساحل کے شوق میں\nکوشش بقدر ہمت مردانہ کیجیے\n\nوہ دن گئے کہ دل کو ہوس تھی گناہ کی\nیادش بخیر ذکر اب اس کا نہ کیجیے\n\nساون میں خاک اڑتی ہے دل ہے رندھا ہوا\nجی چاہتا ہے گریۂ مستانہ کیجیے\n\nدیوانہ وار دوڑ کے کوئی لپٹ نہ جائے\nآنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھا نہ کیجیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AC%DB%8C%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%8C%DB%92"} {"title": "موت آتی نہیں قرینے کی", "poet_page": "مصنف:شیخ عبداللطیف تپش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موت آتی نہیں قرینے کی\nیہ سزا مل رہی ہے جینے کی\n\nمے سے پرہیز شیخ توبہ کرو\nاک یہی چیز تو ہے پینے کی\n\nتمہیں کہتا ہے آئنہ خودبیں\nباتیں سنتے ہو اس کمینے کی\n\nہو گیا جب سے بے نقاب کوئی\nشمع روشن نہ پھر کسی نے کی\n\nچشم تر آبرو تو پیدا کر\nیوں نہیں بجھتی آگ سینے کی\n\nاہل دنیا سے کیا بدی کا گلا\nاے تپشؔ تو نے کس سے کی نیکی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D8%B1%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "موت اپنی جان اے دل گردش افلاک کو", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موت اپنی جان اے دل گردش افلاک کو\nڈوبنے کا خوف ہے گرداب میں تیراک کو\n\nخود خجل ہو جس کو روشن دل سے ہو ناحق غبار\nمنہ پہ پڑتی ہے جو منہ پر پھینکتے ہیں خاک کو\n\nمر گئے پر بھی تہ و بالا رہا اپنا غبار\nشیشۂ ساعت میں رکھتے ہیں ہماری خاک کو\n\nبستۂ فتراک ہوتے ہیں ہزاروں بلبلیں\nجان کر باب گلستاں حلقۂ فتراک کو\n\nکیا عجب گر استخواں روشن ہوں داغ عشق سے\nاک شرر شعلہ بناتا ہے خس و خاشاک کو\n\nخوب سا جی کھول کر آوارہ کر اے عشق یار\nخوف رسوائی نہیں اصلاً دل بیباک کو\n\nہجر میں پیتا ہوں خون دل مئے گلگوں کی رنگ\nدور ساغر جانتا ہوں گردش افلاک کو\n\nکیا نہیں تعزیر ملتی ہے گناہ عشق کی\nآتش فرقت جہنم ہے دل غم ناک کو\n\nکیجئے نالے برنگ بلبل اے دل گر کبھی\nٹکڑے ٹکڑے مثل گل کر لے تیری پوشاک کو\n\nروند ڈالا ہے زمین شعر سے تا چرخ فکر\nروک لے عرشؔ اب عنان توسن چالاک کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%D8%A7%D9%81%D9%84%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%D9%88"} {"title": "موت مانگوں تو رہے آرزو خواب مجھے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موت مانگوں تو رہے آرزوئے خواب مجھے\nڈوبنے جاؤں تو دریا ملے پایاب مجھے\n\nمیری ایذا کے لئے مردے میں جان آتی ہے\nکاٹنے دوڑتی ہے ماہیٔ بے آب مجھے\n\nدہن گرگ سے جیتا جو بچوں صحرا میں\nذبح کرنے کے لیے مول لے قصاب مجھے\n\nہوں تصور میں صفائے بدن یار کے غرق\nحلقۂ ناف ہوا حلقۂ گرداب مجھے\n\nمردم دیدۂ قربانی ہوں میں دیوانہ\nآئے دروازہ کھلے بن نہ کبھی خواب مجھے\n\nاے فلک رہنے دے عریاں ہی پس از مرگ بھی تو\nسونپتا کیا ہے کفن دزد کا اسباب مجھے\n\nنہیں رکھتے ہیں امیری کی ہوس مرد فقیر\nشیر کی کھال ہی ہے قاقم و سنجاب مجھے\n\nجوش سے اشکوں کے پھر جائے گا سر پر پانی\nکھینچ لے جائے گا دریا میں یہ سیلاب مجھے\n\nدیر و کعبہ میں ان آنکھوں سے نہیں حلقۂ در\nکوئی ابرو سے دکھاتا نہیں محراب مجھے\n\nفرقت یار میں کرتی ہے قیامت برپا\nروز محشر سے نہیں کم شب مہتاب مجھے\n\nمرض عشق سے بچ جاؤں جو تم دلوا دو\nصدقہ اپنے لب جاں بخش کا عناب مجھے\n\nچین لینے نہ دیا درد جدائی نے کبھی\nکب میں سویا کہ جگایا نہیں بد خواب مجھے\n\nنہیں بھولا ہے جنوں میں وہ حواس اڑ جانا\nیاد ہے برہمیٔ صحبت احباب مجھے\n\nنام کو میرے بھی احباب میں اپنے لکھے\nذرہ سمجھا رہے وہ مہر جہاں تاب مجھے\n\nدل غنی چاہئے گو ہوں میں فقیر اے آتشؔ\nشیر کی کھال ہی ہے قاقم و سنجاب مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AA_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "موت مانگوں تو رہے آرزوئے خواب مجھے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موت مانگوں تو رہے آرزوئے خواب مجھے\nڈوبنے جاؤں تو دریا ملے پایاب مجھے\n\nمیری ایذا کے لئے مردے میں جان آتی ہے\nکاٹنے دوڑتی ہے ماہیٔ بے آب مجھے\n\nدہن گرگ سے جیتا جو بچوں صحرا میں\nذبح کرنے کے لیے مول لے قصاب مجھے\n\nہوں تصور میں صفائے بدن یار کے غرق\nحلقۂ ناف ہوا حلقۂ گرداب مجھے\n\nمردم دیدۂ قربانی ہوں میں دیوانہ\nآئے دروازہ کھلے بن نہ کبھی خواب مجھے\n\nاے فلک رہنے دے عریاں ہی پس از مرگ بھی تو\nسونپتا کیا ہے کفن دزد کا اسباب مجھے\n\nنہیں رکھتے ہیں امیری کی ہوس مرد فقیر\nشیر کی کھال ہی ہے قاقم و سنجاب مجھے\n\nجوش سے اشکوں کے پھر جائے گا سر پر پانی\nکھینچ لے جائے گا دریا میں یہ سیلاب مجھے\n\nدیر و کعبہ میں ان آنکھوں سے نہیں حلقۂ در\nکوئی ابرو سے دکھاتا نہیں محراب مجھے\n\nفرقت یار میں کرتی ہے قیامت برپا\nروز محشر سے نہیں کم شب مہتاب مجھے\n\nمرض عشق سے بچ جاؤں جو تم دلوا دو\nصدقہ اپنے لب جاں بخش کا عناب مجھے\n\nچین لینے نہ دیا درد جدائی نے کبھی\nکب میں سویا کہ جگایا نہیں بد خواب مجھے\n\nنہیں بھولا ہے جنوں میں وہ حواس اڑ جانا\nیاد ہے برہمیٔ صحبت احباب مجھے\n\nنام کو میرے بھی احباب میں اپنے لکھے\nذرہ سمجھا رہے وہ مہر جہاں تاب مجھے\n\nدل غنی چاہئے گو ہوں میں فقیر اے آتشؔ\nشیر کی کھال ہی ہے قاقم و سنجاب مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AA_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "موت و حیات", "poet_page": "مصنف:عظیم الدین احمد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ایک دھوکا ہے سمجھتے ہو جسے موت و حیات\nغور سے دیکھو نہ جیتا ہے نہ مرتا کوئی\nآہ کچھ کھیل نہیں عالم امکاں کا وجود\nذرہ ذرہ میں چمکتا ہے خود آرا کوئی\nپردۂ عالم تکویں میں چھپا کر خود کو\nانجمن بند ہوا ہے چمن آرا کوئی\nآپ ہر رنگ میں کرتا ہے تماشا اپنا\nیاں نہ گلشن ہے نہ دریا ہے نہ صحرا کوئی\nموت وہ کھیل ہے جس میں نہیں چھینا جھپٹی\nنہ خوشی سے مگر اس کھیل کو کھیلا کوئی\nزندگی کھیل کے پردے کا وہ رخ ہے جس سے\nجھانک کر اپنا تماشا ہے دکھاتا کوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AA_%D9%88_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA"} {"title": "موت کو زیست ترستی ہے یہاں", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موت کو زیست ترستی ہے یہاں\nموت ہی کون سی سستی ہے یہاں\n\nدم کی مشکل نہیں آساں کرتے\nکس قدر عقدہ پرستی ہے یہاں\n\nسب خرابے ہیں تمناؤں کے\nکون بستی ہے جو بستی ہے یہاں\n\nچھوڑو بے صرفہ ہیں ساون بھادوں\nدیکھو ہر آنکھ برستی ہے یہاں\n\nاب تو ہر اوج کا تارا ڈوبا\nاوج کا نام ہی پستی ہے یہاں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%D8%AA%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "موت ہی چارہ ساز فرقت ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا رحیم الدین حیا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موت ہی چارہ ساز فرقت ہے\nرنج مرنے کا مجھ کو راحت ہے\n\nہو چکا وصل وقت رخصت ہے\nاے اجل جلد آ کہ فرصت ہے\n\nروز کی داد کون دیوے گا\nظلم کرنا تمہاری عادت ہے\n\nکارواں عمر کا ہے رخت بدوش\nہر نفس بانگ کوس رحلت ہے\n\nسانس اک پھانس سی کھٹکتی ہے\nدم نکلتا نہیں مصیبت ہے\n\nتم بھی اپنے حیاؔ کو دیکھ آؤ\nآج اس کی کچھ اور حالت ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام\nمکر و فنِ خواجگی کاش سمجھتا غلام!\nشرعِ مُلوکانہ میں جدّتِ احکام دیکھ\nصُور کا غوغا حلال، حشر کی لذّت حرام!\nاے کہ غلامی سے ہے رُوح تری مُضمحل\nسینۂ بے سوز میں ڈھُونڈ خودی کا مقام!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D8%B3%D8%AE%D8%AA_%D8%AA%D8%B1_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85"} {"title": "موتری", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سڑک کے کنارے", "year": "1953", "text_ur": "کانگرس ہاؤس اور جناح ہال سےتھوڑے ہی فاصلے پر ایک پیشاب گاہ ہے جسےبمبئی میں’’موتری‘‘ کہتے ہیں۔ آس پاس کےمحلوں کی ساری غلاظت اس تعفن بھری کوٹھری کے باہر ڈھیریوں کی صورت میں پڑی رہتی ہے۔ اس قدر بدبو ہوتی ہے کہ آدمیوں کو ناک پر رومال رکھ کر بازار سے گزرنا پڑتا ہے۔\n\nاس موتری میں اس دفعہ اسے مجبوراً جانا پڑا۔۔۔ پیشاب کرنے کے لیے ناک پررومال رکھ کر، سانس بند کرکے، وہ بدبوؤں کے اس مسکن میں داخل ہوا۔فرش پر غلاظت بلبلے بن کر پھٹ رہی تھی۔۔۔ دیواروں پر اعضائے تناسل کی مہیب تصویریں بنی تھیں۔۔۔ سامنے کوئلے کے ساتھ کسی نے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے،’’مسلمانوں کی بہن کا پاکستان مارا۔‘‘ان الفاظ نے بدبو کی شدت اور بھی زیادہ کردی۔ وہ جلدی جلدی باہر نکل آیا۔\n\nجناح ہال اور کانگرس ہاؤس دونوں پر گورنمنٹ کا قبضہ ہے۔ لیکن تھوڑے ہی فاصلے پر جو موتری ہے، اسی طرح آزاد ہے۔اپنی غلاظتیں اور عفونتیں پھیلانے کے لیے۔۔۔ آس پاس کے محلوں کا کوڑا کرکٹ اب کچھ زیادہ ہی ڈھیریوں کی صورت میں باہر پڑا دکھائی دیتا ہے۔\n\nایک بار پھر اسے مجبوراً اس موتری میں جانا پڑا۔ ظاہر ہے کہ پیشاب کرنے کے لیے۔ ناک پر رومال رکھ کر اور سانس بند کرکے وہ بدبوؤں کے اس گھر میں داخل ہوا۔۔۔ فرش پر پتلے پاخانے کی پپڑیاں جم رہی تھیں۔ دیواروں پر انسان کے اولاد پیدا کرنے والے اعضا کی تعداد میں اضافہ ہوگیا تھا۔\n\n’’مسلمان کی بہن کا پاکستان مارا‘‘ کے نیچے کسی نے موٹی پنسل سے یہ گھناؤنے الفاظ تحریر کیے ہوئے تھے،’’ہندوؤں کی ماں کا اکھنڈ ہندوستان مارا۔‘‘اس تحریر نے موتری کی بدبو میں ایک تیزابی کیفیت پیدا کردی۔۔۔ وہ جلدی جلدی باہر نکل آیا۔مہاتما گاندھی کی غیرمشروط رہائی ہوئی۔ جناح کو پنجاب میں شکست ہوئی۔ جناح ہال اور کانگرس ہاؤس دونوں کو شکست ہوئی نہ رہائی۔ ان پر گورنمنٹ کا اور اس کے تھوڑے ہی فاصلے پر جو موتری ہے اس پر بدبو کا قبضہ جاری رہا۔۔۔ آس پاس کے محلوں کا کوڑا کرکٹ اب ایک ڈھیر کی صورت میں باہر پڑا رہتا ہے۔\n\nتیسری بار پھر اسے اس موتری میں جانا پڑا۔۔۔ پیشاب کرنے کے لیے نہیں۔۔۔ ناک پر رومال رکھ کر اور سانس بند کرکے وہ غلاظتوں کی اس کوٹھری میں داخل ہوا۔۔۔ فرش پر کیڑے چل رہے تھے۔ دیواروں پر انسان کے شرمناک حصوں کی نقاشی کرنے کے لیے اب کوئی جگہ باقی نہیں رہی تھی۔۔۔’’مسلمانوں کی بہن کا پاکستان مارا‘‘ اور’’ہندوؤں کی ماں کا اکھنڈ ہندوستان مارا‘‘ کے الفاظ مدھم پڑ گئے تھے۔ مگر ان کے نیچے سفید چاک سے لکھے ہوئے یہ الفاظ ابھر رہے تھے۔\n\n’’دونوں کی ماں کا ہندوستان مارا۔‘‘\n\nان الفاظ نے ایک لحظے کے لیے موتری کی بدبو غائب کردی۔۔۔ وہ جب آہستہ آہستہ باہر نکلا تو اسے یوں لگا کہ اسے بدبوؤں کے اس گھر میں ایک بے نام سی مہک آئی تھی۔ صرف ایک لحظے کے لیے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AA%D8%B1%DB%8C"} {"title": "موج دریا", "poet_page": "مصنف:تصدق حسین خالد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے حسیں ساحل مگر سوتا ہے تو\nتیرے حسن بے خبر پر میری بیداری نثار\nمیرے قطروں کی جبیں\nمضطرب سجدوں کی دنیائے نیاز\nآستاں ناز پر ذوق عبادت کا ہجوم\nدیکھ لرزاں سانس\nتیری دید کو آتی ہوں میں\nگاتی ہوئی روتی ہوئی\nاور تو\nاضطرار فطرت سیماب کا رنگ ادا\nتیری اس شان تغافل پر فدا\nسوتا ہے تو\nدرد الفت کی اسیر\nتیری ریتوں کو اگر میں بوسہ دوں\nہے یہی اک آرزو\nایک جنبش اک نگاہ\nاک سرسراہٹ ایک آہ\nاے میرے دل کی دیوتا\nمیرے آئینے سے مسحور جمال\nتمتما اٹھتے ہیں تارے\nغم سے ہو جاتے ہیں دم بھر کے لیے\nمنعکس ہے میرے دامن میں فروغ ماہتاب\nخوشۂ پرویں کہ ہے شاداب خون آفتاب\nپانیوں میں لہلہاتا ہے عجب انداز سے\nحسن ایمن کی بہار\nیاد ہے چشم کلیم\nمیرے دل کے دیوتا\nسونے کو ہوں\nایک جنبش اک نگاہ\nاک سرسراہٹ ایک آہ\nاے میرے دل کے دیوتا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AC_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7"} {"title": "موج دین", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "برقعے", "year": "1955", "text_ur": "رات کی تاریکی میں سنٹرل جیل کے دو وارڈن بندوق لیے چار قیدیوں کو دریا کی طرف لیے جارہے تھے جن کے ہاتھ میں کدالیں اور بیلچے تھے۔ پل پرپہنچ کر انہوں نے گارڈکے سپاہی سے ڈبیا لے کر لالٹین جلائی اور تیز تیز قدم بڑھاتے دریا کی طرف چل دیے۔\n\nکنارے پر پہنچ کر انہوں نے بارہ دری کی بغل میں کدالیں اور بیلچے پھینکے اور لالٹین کی مدھم روشنی میں اس طرح تلاش شروع کی جیسے وہ کسی مدفون خزانے کی کھوج میں آئے ہیں۔ ایک قیدی نے لالٹین تھامے وارڈن کو داروغہ جی کے نام سے مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’داروغہ جی! یہ جگہ مجھے بہت پسند ہے اگر حکم ہو تو کھدائی شروع کردیں۔‘‘\n\n’’دیکھنا، زمین نیچے سے پتھریلی نہ ہو، ورنہ ساری رات کھدائی میں گزر جائے گی۔ کم بخت کو مرنا بھی رات ہی کو تھا۔‘‘ وارڈن نے تحکمانہ اور بیزاری کے لہجے میں کہا۔قیدیوں نے کدالیں اور بیلچے اٹھائے اور کھودنا شروع کیا۔ وارڈن بیزاری کے موڈ میں بیٹھے سگریٹ پی رہے تھے۔ قیدی زمین کھودنے میں ہمہ تن مصروف تھے۔ رفتہ رفتہ زمین پر کھدی ہوئی مٹی کا ڈھیر لگ گیا اور وارڈن نے قریب آکر قبر کا معائنہ کیا۔ زمین چونکہ پتھریلی نہیں تھی، اس لیے وہ بڑے اطمینان کے ساتھ قریب ہی ایک پتھر پر بیٹھا سگریٹ پینے لگا۔ جسےسلگانے کے لیے اس نے لالٹین منگائی۔\n\nکھدائی قریب قریب ختم ہوچکی تھی۔ وارڈن دو قیدیوں کو لیے جیل کی جانب چلا گیا اور بیس منٹ کے وقفے کے بعد کمبل میں لپٹی ہوئی قیدی کی لاش لے کر واپس آیا۔ دوسرا وارڈن جب تک سلیں جمع کر کے لایا تھا۔ایک قیدی نے جو قتل کے جرم کی پاداش میں سزا کاٹ رہا تھا، کدالیں اور بیلچے اٹھائے اور قبر کے سرہانے چند قدم ہٹ کر کھڑا ہوگیا۔ وارڈن نے بہت ہی برہم لہجے میں اس کی طرف دیکھ کر کہا، ’’او ،الو کے پٹھے اپنے ابا کو لحد میں اتارنے میں ان کی مدد کر۔‘‘ قیدی نے ملتجیانہ لہجے میں کہا، ’’داروغہ جی! لالٹین پکڑتا ہوں۔۔۔ میں نہیں چاہتا کہ اس معصوم اور بے گناہ کو ایک قاتل کے ہاتھ چھو جائیں۔‘‘\n\nوارڈن یہ سن کرگرجا، ’’بے گناہ کے بچے۔۔۔ جاسوس کو معصوم کہتا ہے۔‘‘ قاتل نے کہا، ’’داروغہ جی! میں قاتل ہوں۔۔۔ یہی احساس مجھے اس قیدی کی لاش چھونے سے روکتا ہے۔‘‘\n\n’’جاسوس‘‘ دفنایا جا چکا تھا۔۔۔ قیدی اور وارڈن جا چکے تھے۔ صبح آٹھ بجے پولیس کی معیت میں ڈپٹی کمشنر قبر پر آیا۔ جیل کے حکام کے بیانات لیے گئے اور ڈپٹی کمشنر صاحب عدالت تشریف لے گئے۔پیشی کی پہلی مسل جو اٹھائی گئی، اس پر سرکار بنام موج دین لکھا تھا۔اردلی نے تین مرتبہ کمرہ عدالت سے باہر نکل کر بلند آواز میں تین بار پکارا۔ بلکہ یوں کہیے کہ للکارا ’’سرکار بنام موج دین۔۔۔۔ موج دین۔۔۔ موج دین ہے؟‘‘ لیکن یہ آواز بدقسمتی سے اس جا سوس قیدی کی قبرتک نہ پہنچ سکی۔۔۔ یا اگر پہنچی بھی ہو تو وہ تعمیل کے لیے نہ آیا۔ شاید یہ سمجھ کر کہ وہ اب ڈپٹی کمشنر کے قانون کی زد سے بہت دور جا چکا ہے۔ اس جگہ جہاں کوئی اور قانون چلتا ہے۔ جہاں ڈپٹی کمشنر کے سمن کی بھی تعمیل نہیں ہوسکتی۔\n\nملزم چونکہ غیرحاضر تھا، اس لیے ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر نے عدم حاضری ملزم کارروائی یک طرفہ کے لیے مِسل اٹھائی اورریڈر سے جرم کی نوعیت دریافت کی، ’’جاسوسی‘‘ منشی نے نمبر 1 کی کارروائی لکھتے ہوئے کہا۔\n\n’’ملزم رات کو سنٹرل جیل میں فوت ہو چکا ہے۔ مِسل داخلِ دفتر کردی جائے۔‘‘ ڈپٹی کمشنر نے حکم دیا۔\n\n’’جاسوس‘‘ کی سنٹرل جیل میں موت کی خبر شہر بھر میں اس لیے مشہور ہوگئی کہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے افسروں نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ آزاد کشمیر حکومت کے نیک سیرت افسروں کی ہر طرف سے داد و تحسین دی جارہی تھی۔ مجھے جب اس واقعہ کا علم ہوا تو مجھے ایک مہینہ پہلے کی ایک شام یاد آئی جب کہ میں دارالحکومت کے ایک ہوٹل میں بیٹھا ڈاک گاڑی کا انتظار کررہا تھا۔ جس کے ذریعے سے میرے مرمت شدہ جوتے راولپنڈی سے آنے والے تھے۔ گاڑی آنے میں خلافِ معمول دیر ہوئی۔ میں قریب قریب اٹھنے ہی والا تھا کہ ایک گہرے سانولے رنگ کے آدمی نے جس کی عمر تیس برس کے لگ بھگ تھی۔ مجھے اپنی طرف متوجہ کیا،’’ آپ بُوت ٹَیم سے بیٹھا کسی کا انتظار کرتا ہے؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا۔\n’’بھئی عجیب مصیبت ہے۔ جوتا پھٹ جائے مظفر آباد میں تو مرمت کے لیے راولپنڈی بھیجنا پڑتا ہے۔ یا اگر کوئی ڈرائیور مہربان ہو تو اسی کے ہاتھ بھیج دیتے ہیں۔ آج میں اپنے مرمت شدہ جوتوں کے انتظار میں تین گھنٹے سے بیٹھا ہوں اور کم بخت ڈاک گاڑی بھی آج ہی لیٹ ہوئی ہے۔ خیر کل سہی۔‘‘میں یہ کہہ کر اٹھنے لگا تو اس نے مجھے چند منٹ مزید انتظار کرنے کے لیے کہا۔ میں اس اجنبی صورت کو دیکھتا رہا، جس کی آنکھوں میں اضطراب تھا۔ جس کے ہونٹ کچھ کہنے کے لیے بے تاب تھے۔ وہ بیڑی پر بیڑی پیے جارہا تھا اور میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھا باربار باہر خلا میں دیکھتا تھا۔ میں ڈاک گاڑی کے انتظار میں ہر ایک ہارن پر کان دھرتا۔ وقت گزارنے کے لیے میں نے اس سے پوچھا، ’’آپ یہاں کیا کررہے ہیں؟‘‘\n\n’’ہم بیٹھا ہے‘‘ اس نے انتہائی سادگی سے جواب دیا۔\n\n’’ نہیں، میرا مطلب ہے یہاں آپ کا کیا کاروبار ہے؟‘‘\n\n’’کاروبار کچھ نہیں کرتا، کشمیر دیکھنے کا شوق تھا، چلا آیا۔‘‘\n\n’’ آپ کہاں سے آئے ہیں؟‘‘\n\n’’لاہور سے۔ لیکن میں مشرقی پاکستان کا ہوں، لاہور میں دینیات کی تعلیم پڑھتا ہوں۔‘‘\n\nمجھے گفتگو کے دوران میں اس نے بتایا کہ وہ جس ادارے میں زیرِ تعلیم ہے،خیراتی ادارہ ہے، جہاں کے اربابِ اعلیٰ رسید بک چھاپ کر زیرِ تعلیم کم عمر بچوں کو چندے کی فراہمی کے لیے دوسرے شہروں میں بھیج دیتے ہیں۔ وہ چونکہ کم عمر بچہ نہ تھا۔ اس لیے اس کو بڑی مشکلوں کے بعد ’’سفیر‘‘ بن کر آزاد کشمیر میں چندہ جمع کرنے کی اجازت مل گئی۔ اس کی باتوں میں سادگی تھی۔ محض کشمیر دیکھنے کے شوق میں اس نے ’’سفارت‘‘ حاصل کی تھی۔ اس نے یہ بھی بتا دیا کہ یتیم خانوں کے نام پر ’’بھک منگوں‘‘ کا نام اداروں نے سفیر رکھا ہے۔ جمع شدہ چندہ ان کی جیبوں میں جاتا ہے اور ’’سفیر‘‘ کا گزارہ چڑھاوے کی دیگوں یا محلے والے کی خیرات پر ہوتا ہے۔ دینیات کی تعلیم مساجد میں دی جاتی ہے۔\n\nمجھے اس کی باتیں سن کربہت دکھ ہوا۔ واقعی وہ ہمدردی کے قابل تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ اس شہر میں نیا ہے اور کسی مسجد کا پتا بھی نہیں جانتا جہاں وہ رات بسر کرسکے۔ میں نے مسجد کا پتا دیا اور اس کے لیے روٹی منگوائی۔ وہ چونکہ بھوکا تھا، اس نے بِلا تکلف بجائے روٹی کے سادہ چا ول کے لیے بیرے سے کہا، ’’ہم لاہور کی مسجد میں بھی لوگوں کا دیا کھاتے ہیں، اس لیے ادھر بھی ہم نے انکار نہیں کیا۔‘‘ اس نے انتہائی سادگی سے کہا۔\n\nوہ کھانا کھا چکا تھا۔ مجھ سے اجازت لے کر اس نے جیب سے لکھنے کے لیے پنسل اور کاغذ نکالا۔ اوراپنے گھروالوں کو بنگلہ زبان میں خط لکھنے لگا۔ میں جب تک فرمائشی گانے سنتا رہا۔ خط لکھنے کے بعد اس نے مجھ سے معافی مانگی اور کہا کہ ’’میں نے گھر والوں کو لکھا کہ میں آزاد کشمیر آیا ہوں۔ اب یہیں رہوں گا۔ اگر پاکستان نے ہندوستان کے خلاف جہاد شروع کیا تو میں بھی اس میں حصّہ لوں گا اور کشمیر کو آزاد کراؤں گا۔‘‘\n\nمیں نے جواب میں ہندی مقبوضہ کشمیر کی خوبصورتی کا ذکر کیا۔ کشمیری مسلمانوں پربھارتی ظلم و استبداد بیان کیا، جس سے وہ اور زیادہ متاثر ہوا، ’’پھر ہم لاہور واپس نہیں جائے گا۔ کل ان کو بھی خط لکھے گا۔ جہاد شروع ہونے تک ادھر ہی پان بیڑی کی چھابڑی لگائے گا۔‘‘ اس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔\n\nاتنی دیر میں ڈاک گاڑی آئی اور میں وہاں سے اٹھ کر لاریوں کے اڈے کی طرف گیا، اور وہ میرے بتائے ہوئے راستے سے مسجد کی طرف گیا۔ اپنے جوتے ڈرائیور سے لے کر جب میں گھر کی طرف جارہا تھا تو راستے میں سی آئی ڈی کے ہیڈ کانسٹیبل نے مجھے آواز دی جو میرا واقف کار تھا۔ میں نے رسمی طورپر اس کی خیریت پوچھی۔ وہ مشکوک نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔\n\nرسمی باتوں کے بعد اس نے مجھے اس ’’کالے آدمی‘‘ کے متعلق پوچھا کہ وہ کون ہے جو آپ کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھا تھا۔ میں نے مختصراً کہا۔ بھئی بنگالی ہے، آزاد کشمیر دیکھنے کا شوق تھا۔ چلا آیا۔ نام موج دین ہے اور آج رات جامع مسجد میں گزارنے کے لیے گیا ہے۔\n\n’’لیکن وہ تو ہوٹل میں بیٹھا کچھ عجیب و غریب زبان میں خط لکھ رہا تھا۔ مجھے اس پر کچھ شبہ بھی ہوا۔‘‘ ہیڈ کانسٹیبل نے رازدارانہ لہجہ میں کہا۔\n\n’’وہ عجیب و غریب زبان نہیں۔ اس کی مادری زبان بنگلہ ہے۔ ہاں تمہارے لیے اجنبی ہے۔‘‘اتنے میں میرا مکان قریب آیا اور میں خدا حافظ کہہ کر گھرچلا گیا۔ مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ سی آئی ڈی والوں کو دن کی کارگزاری کی رپورٹ دوسرے روز صبح سویرے دفتر میں دینی پڑتی ہے اور اگر رپورٹ نہ دی گئی تو جواب طلبی ہوتی ہے۔\nہیڈ کانسٹیبل صاحب بھی دن کی کار گزاری میں کچھ نہ کچھ دکھانا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے گھر جا کرحکومت کے ’’صدر مقام‘‘ میں ایک غیر ملکی ’’جاسوس‘‘ کی آمد کی رپورٹ اس طرح دی کہ دوسرے روز موج دین، پان فروشی کے لیے چونا کتھا خریدتا ہوا گرفتار کیا گیا۔ پان، چونا، کتھا وغیرہ بھی اس کی جاسوسی کی ایک کڑی بن گئی۔ اور سی آئی ڈی والوں نے مزید رپورٹ دے دی کہ ’’جاسوس‘‘ چونکہ پان کھانے کا عادی ہے، اس لیے یہ اسٹاک خرید کر ہماری فوجوں کی پکٹوں کی پوزیشن دیکھنے پہاڑی علاقوں میں جارہا ہے۔\n\nموج دین کا چالان ہوا۔ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر نے الزامات کی سنگینی کے تحت ’’جاسوس‘‘ کو پندرہ دن کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ جہاں سے وہ اسپیشل سٹاف میں منتقل ہوا۔ پندرہ دن کی میعاد گزر جانے پر ڈپٹی کمشنر صاحب نے مزید ایک ہفتے کے ریمانڈ پر اس کو جوڈیشل (سنٹرل جیل) بھیج دیا۔ وہ ہفتہ بھی گزر گیا اور ’’جاسوس‘‘ ہتھکڑیاں پہنے ڈپٹی کمشنر صاحب کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جہاں وہ زار وقطار رویا، گڑگڑایا، منت سماجت کی، لیکن ڈپٹی کمشنر صاحب نے مزید ایک ہفتے کا ریمانڈ دے کر سنٹرل جیل بھیج دیا۔\n\nسنٹرل جیل میں اس کی آخری رات تھی جب کہ وہ ایک ستون سے بندھا رو رہا تھا، وہی قاتل قیدی جس نے اس کو دفناتے وقت چھونے سے انکارکردیا، اس کے قریب آیا اور پوچھا، ’’جاسوس! تم ہر روز کیوں روتے ہو۔ یہ جگہ باہروالوں کی بہ نسبت بہت اچھی ہے۔ یہاں جھوٹ نہیں، مکر نہیں، بے ایمانی نہیں، روٹی ملتی ہے۔ اس کے مقابلے میں باہر دیکھو، کون لوگ ہیں جنہوں نے تم ایسے بے گناہ کو بھی یہاں بھیجا، جو اقتدار کے لیے ایک کا نہیں، ہزاروں کا خون بہاتے ہیں جو دن دہاڑے ڈاکے ڈالتے ہیں، جو اپنی ذات کے لیے وہ کام بھی کرتے ہیں جو شیطان بھی کرنے سےگریز کرتا ہے۔ مجھے دیکھو ،میں نے قتل کیا ہے محض ایک بے بس عورت کے ناموس کے تحفظ کے لیے۔ بہر حال مجھے تم سے ہمدردی ہے۔ اگر تم باہر جا کر خوش ہو تو خدا تمہیں آزاد کرائے گا۔‘‘\n\nموج دین نے قیدی کی باتیں سنیں اور بالکل خاموش بیٹھا رہا۔\n\n’’سنا ہے بنگالی جادو جانتے ہیں۔ تم بھی جادو کے زور سے باہر جاؤ‘‘ قیدی نے موج دین کو بہلانے کے لیے ازراہِ مذاق کہا۔\n\n’’ہاں، میں اس قید سے رہائی کا جادو جانتا ہوں۔ میں آج ہی یہاں سے بھاگ جاؤں گا، بہت دور، جہاں سے دنیا کی کوئی طاقت مجھے واپس نہیں لاسکتی۔‘‘ اتنے میں کھانے کی گھنٹی بجی۔ قیدی اپنی تھالی لیے دال روٹی لینے گیا۔ آدھ گھنٹے کے بعد اچانک جیل کی گھنٹی بجنی شروع ہوئی اور متواتر بجتی رہی۔۔۔ داروغہ جیل کئی وارڈنوں کے ساتھ جیل کے احاطہ میں داخل ہوا اور’’جاسوس‘‘کے گلے سے رسی کا پھندا کھولا جو اس نے خود کشی کے لیے استعمال کیا تھا۔ ’’جاسوس‘‘ بھاگ چکا تھا، اس کو رہائی مل گئی تھی۔ ’’بنگال کا جادو‘‘ کام آیا تھا۔\n\nموج دین کی لاش کے اردگرد قیدیوں کا ہجوم تھا۔ داروغہ جیل نے چند ایک قیدیوں کو وہاں ٹھہرنے کا حکم دے دیا اور باقی سارے قیدی بارکوں میں چلے گئے۔ موج دین کے چہرے پر اب بھی مسکراہٹ تھی۔ وہ اس قانون پر مسکرا رہا تھا جس نے اس کو جاسوس بنا کر محبوس کیا تھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AC_%D8%AF%DB%8C%D9%86"} {"title": "موج صبا رواں ہوئی رقص جنوں بھی چاہئے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موج صبا رواں ہوئی رقص جنوں بھی چاہئے\nخیمۂ گل کے پاس ہی دجلۂ خوں بھی چاہئے\n\nکشمکش حیات ہے سادہ دلوں کی بات ہے\nخواہش مرگ بھی نہیں زہر سکوں بھی چاہئے\n\nضرب خیال سے کہاں ٹوٹ سکیں گی بیڑیاں\nفکر چمن کے ہم رکاب جوش جنوں بھی چاہئے\n\nنغمۂ شوق خوب تھا ایک کمی ہے مطربہ\nشعلۂ لب کی خیر ہو سوز دروں بھی چاہئے\n\nاتنا کرم تو کیجیے بجھتا کنول نہ دیجیے\nزخم جگر کے ساتھ ہی درد فزوں بھی چاہئے\n\nدیکھیے ہم کو غور سے پوچھئے اہل جور سے\nروح جمیل کے لیے حال زبوں بھی چاہئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AC_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%D9%82%D8%B5_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "موج غم اس لیے شاید نہیں گزری سر سے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موج غم اس لیے شاید نہیں گزری سر سے\nمیں جو ڈوبا تو نہ ابھروں گا کبھی ساگر سے\n\nاور دنیا سے بھلائی کا صلہ کیا ملتا\nآئنہ میں نے دکھایا تھا کہ پتھر برسے\n\nکتنی گم سم مرے آنگن سے صبا گزری ہے\nاک شرر بھی نہ اڑا روح کی خاکستر سے\n\nپیار کی جوت سے گھر گھر ہے چراغاں ورنہ\nایک بھی شمع نہ روشن ہو ہوا کے ڈر سے\n\nاڑتے بادل کے تعاقب میں پھرو گے کب تک\nدرد کی دھوپ میں نکلا نہیں کرتے گھر سے\n\nکتنی رعنائیاں آباد ہیں میرے دل میں\nاک خرابہ نظر آتا ہے مگر باہر سے\n\nوادیٔ خواب میں اس گل کا گزر کیوں نہ ہوا\nرات بھر آتی رہی جس کی مہک بستر سے\n\nطعن اغیار سنیں آپ خموشی سے شکیبؔ\nخود پلٹ جاتی ہے ٹکرا کے صدا پتھر سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AC_%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "موج نکہت کی صبا دیکھ سواری تیار", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موج نکہت کی صبا دیکھ سواری تیار\nخار سے کی ہے گل تر نے کٹاری تیار\n\nکہہ دو مجنوں سے کرے اپنی سواری تیار\nآج یاں ہوتی ہے لیلیٰ کی سواری تیار\n\nہاتھ دونوں کف افسوس کی صورت لکھے\nکی جو نقاش نے تصویر ہماری تیار\n\nتیغ کو سان پہ رکھا تھا تبھی قاتل نے\nگردن اپنی نہ ہوئی تھی ابھی ساری تیار\n\nلب جاں بخش کی تیرے جو صفا کو دیکھے\nآب حیواں ہو پئے آئینہ داری تیار\n\nکس مسی زیب کا گلشن سے سنا ہے جانا\nبرگ سوسن نے جو پھر کی ہے کٹاری تیار\n\nہم سبک روح اسیروں کے لیے لازم ہے\nقفس گل کو کرے باد بہاری تیار\n\nہار کیوں اس کے گلے کا میں نہ ہوں زر گر نے\nکی ہے زنجیر گلے کی ترے بھاری تیار\n\nاے اجل زیست کا کیا ان سے تو مانگے ہے حساب\nجو ہیں ہر دم پئے انفاس شماری تیار\n\nسرخ نیفے سے پئے صید دل بو الہوساں\nکمر اس کی ہوئی جوں یوز شکاری تیار\n\nجوں جوں بڑھتے ہیں مرے دست جنوں کے ناخن\nووں ووں ہوتے ہیں پئے سینہ فگاری تیار\n\nپتلیاں جائے ستاروں کی ٹکی ہیں اس میں\nدیدہ ریزی سے ہوئی کفش تمہاری تیار\n\nہو خجل کیونکہ نہ نعماں کہ گلابی لالہ\nمے سے کرتی ہے تری چشم خماری تیار\n\nاز برائے کمر نازک رشک رگ گل\nباغباں کیجو تو پھولوں کی کٹاری تیار\n\nلکھ بہ تبدیل قوافی غزل اک مصحفیؔ اور\nنافۂ نقطہ سے کر مشک تتاری تیار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AC_%D9%86%DA%A9%DB%81%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1"} {"title": "موجد شاعری شاہ شمس ولی اللہ", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "یہ مضمون بھی رسالہ انجمن شمارہ اگست ۱۸۶۷ء سے نقل کیا گیا ہے۔ اسے مولوی صاحب نے اپنے قلم سے دوبارہ درست کیا ہے۔ جن الفاظ کا بعدمیں اضافہ ہوا ہے انہیں خطوط وجدانی میں لکھ دیا ہے۔ ذرا آب حیات کھول کر ولی کا حال نکالئے اور اس تقریر کااس کے ساتھ مقابلہ کیجئے۔ معلوم ہو جائےگا کہ مشق اور تقاضائے وقت سے مولوی صاحب نے کیا کیا تبدیلیاں کیں تھیں۔ اس مضمون کا آخری فقرہ پہلے یہ تھا۔ ’’بعضے اشعاراس کے جو زبان مروجہ حال کے مطابق ہیں لکھے جاتے ہیں، جس سے تصدیق میرے کلام کی ہوتی ہے کہ باوجود یکہ زبان اس وقت کی کس قدر خراب تھی مگر اس نے اپنے محاورہ کو کتنا صاف کیا تھا۔ دیوان اس کا پارس (پیرس) دارالخلافہ فرانس میں اور ولایت لندن میں بھی چھپا ہے۔‘‘ نظرثانی میں یہ فقرہ فقط اتنا رہ گیا۔ ’’بعض غزلیں لکھی جاتی ہیں۔ زبان اس وقت کی کیا تھی اور اس نے اپنے محاورہ کو کتنا صاف کیا تھا۔‘‘زمان سابق میں شاعری اردو کی کبت اور دوہرے وغیرہ میں ختم ہو جاتی تھی۔ جلسہ گزشتہ میں ذکر ہوا ہے کہ امیرخسرو نے اول زبان ہندی کو بحورمختصہ فارسی میں داخل کیا ورنہ مسلمان ہندوستانی بھی اپنی موزونی طبع کو دوہرہ وغیرہ میں صرف کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ملک محمد جائسی کے دوہرے اور کبت ہندی میں بہت مشہور ہیں اور کچھ کچھ زبان اردومیں بھی اشعار لکھے ہیں۔ ڈاکٹر گلکرسٹ صاحب اپنی تصنیفات میں ان کا ذکر بہت لاتے ہیں۔ ایک پدماوت بھی اس نے لکھی ہے۔ پدماوت راجہ لنکا کی بیٹی تھی۔ اس کی شادی رتن سنگھ چتوڑ کے راجہ سے ہوئی تھی۔ جب سلطان علاء الدین ۱۳۰۳ء میں اس شہر میں فتح یاب ہوا تو وہ زنِ مردانہ خیال تیرہ ہزار عورتوں کے ساتھ آگ میں جل کر خاک سیاہ ہو گئی کہ دشمن کے ہاتھ پڑنے سے مرنا (بہتر ہے۔)(ایک) جلد اس کتاب کی باتصویر دہلی کے کتب خانہ میں موجود تھی۔ پارس دارالخلافت (فرانس) میں بھی پہنچی ہے اور اب چند سال گزرے کہ زبان اردو میں بھی منظوم ہوئی ہے۔ مگر یاد رہے کہ جس (چتوڑ) کو اکبر بادشاہ نے ۱۵۰۹ء میں فتح کیا وہ اور چتوڑ ہے۔ ملک محمد مذکور نے اکثر چیزیں راگ میں بھی تصنیف کی ہیں۔ اس کے علاوہ نواز نام شاعر بھی مسلمان تھا۔ جس نے برج بھاشا میں سکنتلا کا ترجمہ فرخ سیر بادشاہ کے حکم سے کیا تھا۔ سیوا ایک مصنف ہے جس نے زبان دکھنی میں روضۃ الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت میں لکھی ہے اور مرثیہ اس کے وہاں کے امام باڑوں میں اب تک پڑھے جاتے ہیں۔ احمد گجراتی جسے علی ابن ابراہیم اپنے تذکرہ میں لکھتا ہے کہ یہ شخص برج بھاشا اور سنسکرت میں خوب واقف تھا اور بموجب رواج عہد کے ریختہ بھی کہتا تھا، تین شعر اس کے جلسہ گزشتہ میں پڑھے گئے۔با یزید انصاری جو فقرائے جلالی کا فرقہ کا بانی ہے، دبستان مذاہب میں لکھا ہے کہ ۱۵۲۴ء میں جالندھر میں گزارا ہے۔ اس کی تصنیفات عربی و فارسی و پشتو و بھاشا وغیرہ میں ہیں۔ خیر البیان ایک کتاب ایسی لکھی ہے کہ معتقد اسے کتاب آسمانی سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر لیڈن صاحب وغیرہ مصنفین انگلش اور فرانس نے بھی اس کے احوالات عجیب اپنی تصنیفات میں لکھے ہیں۔سعدی جو ولی سے پہلے گزارا ہے چند شعر اس کے جلسہ سابق میں پڑھے گئے۔ بعضے تذکروں میں سعدی پر شیخ سعدی شیرازی کا دھوکہ کھایا ہے اور اشعار اس کے بنام شیخ ممدوح لکھے ہیں۔ مگر یہ غلط ہے وہ ایسا برخود غلط تھا کہ کہتا تھا جو مرتبہ مجھے اپنی زبان میں حاصل ہے شیخ سعدی کو فارسی میں نہ تھا۔ اس کے عہد کو قریب چارسو برس کے گزرے ہیں۔ چنانچہ اشعار حامد باری کے اوراس کے بھی جلسہ گزشتہ میں پڑھے گئے۔ اگرچہ اس زمانہ میں شعراء اردو شعر بھی کہتے تھے مگر ولی 1 کے سوائے کوئی صاحب دیوان نہیں گزرا۔ اس شخص کا وطن گجرات دکھن تھا۔ شاہ وجیہہ الدین گجراتی کے خاندان مشہور سے تھا۔ ابوالمعالی کے ساتھ دہلی میں آیا۔ شاہ سعداللہ گلشن سے ملاقات کرکے مرید ہوا اور انہیں کی فرمائش سے اپنی نظم کی ترتیب وتدوین کی۔ کہتے ہیں اس کا شاگرد بھی ہے۔ تخمیناً تین سوبرس اس کے زمانہ کو گزرے۔ عالمگیر کا دور بھی اس نے پایا ہے۔ اس کے کلام سے اس وقت کی زبان کا بڑا پختہ سراغ ملتا ہے۔سون اور سین بجائے سے اور منے بجائے میں اور الفاظ جمع ہندی باقاعدہ فارسی مثل بھواں وپدکاں اور پی اور پیتم اور پریجن بمعنی معشوق اس کا روزمرہ ہے۔ چونکہ اصل دکنی تھا اس واسطے الفاظ دکنی ہی اس کے کلام میں پائے جاتے ہیں۔ دیوان اس کا تمام وکمال موجود ہے۔ اور پیرس دارالخلافہ فرانس اور خاص لندن میں چھپ گیا ہے۔ غزل رباعی قطعہ وغیرہ بعض قسم کے کلام اور مضامین اس کے دیوان میں جمع ہیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ قصیدہ کے دستور نے اس وقت تک رواج نہ پایا تھا یا۔ وہ خواجہ درد کی طرح کہ آزادانہ مزاج رکھتا تھا اور خوشامد کو پسند نہ کرتا تھا کیونکہ قصائد وغیرہ تعریف سلاطین اور امراء میں جیسا کہ بعض شعراء زمانہ کا دستور ہے، اس کے دیوان میں نہیں۔ ایک مثنوی شہر سورت کی تعریف میں بزبان سلیس لکھی ہے۔ مضامین بہت عالی نہیں لیتا۔آج کی زبان سے قطع نظر کرکے اور زمانہ کے حالات کا تصور کرکے جب دیکھا جاتا ہے تو اس کا کلام نہایت حیرت انگیز ہے اور اس میں شک نہیں کہ وہ تمام ہندوستانی شاعروں کا ہادی اور رہنما تھا۔ افسوس ہے کہ ہماری زبان کے تذکروں میں اس سے زیادہ اس کا نشان نہیں دے سکتے تاکہ سن ولادت و وفات سیاحی یا گوشہ نشینی یا اور عادات واطوار اس کے لکھے جاتے۔ لاچار اسی پر قناعت کی گئی۔ بعض غزلیں لکھی جاتی ہیں۔ زبان اس وقت کی کیا تھی اوراس نے اپنے محاورے کو کتنا صاف کیا تھا۔تجھ حسن عالم تاب کا جو عاشق و شیدا ہواہر خوبرو کے حسن کے جلوہ سے بے پروا ہواوہ صنم جب سے بسادیدہ حیران میں آآتش عشق پڑی عقل کے سامان میں آطاقت نہیں کسی کو کہ ایک حرف سن سکےاحوال گر کہوں میں دل بے قرار کاآئے ولی ہماری طرف تیغ ناز سےاس شوخ کو خیال اگر ہے شکارکامسند گل منزل شبنم ہوئیدیکھ رتبہ دیدہ بیدار کاجنون عشق ہوا اس قدر زمیں کو محیطکہ پارسا کو ہوئی موج بو ریا زنجیردورنگی سے تری اے سرو رعناکبھی راضی کبھی بیزار ہیں ہمخط کے آنے نے خبردار کیا گلرو کونشہ ہوش ہے اس بادہ ریحانی میںایک دل نہیں آرزو سے خالیہر جا ہے محال اگر خلا ہےمرا دل مجھ سے کرکے بیوفائیپسندِ خاطرِ خویاں ہوا ہےترک کر اے رقیب فرعونیآہ میری عصائے موسیٰ ہےاے ولی گلبدن کو باغ میں دیکھولیِ صد پارہ باغ باغ ہوااے ولی سر و قد کو دیکھوں گاوقت آیا ہے سرفرازی کاحاشیہ(۱) ۸ شعر کی غزل اور غزل کو ردیف سے انہوں نے آراستہ کیا۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AC%D8%AF_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%B4%D9%85%D8%B3_%D9%88%D9%84%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "موجود تھے ابھی ابھی روپوش ہو گئے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موجود تھے ابھی ابھی روپوش ہو گئے\nاے مست ناز تم تو مرے ہوش ہو گئے\n\nسوتے میں وہ جو مجھ سے ہم آغوش ہو گئے\nجتنے گلے تھے خواب فراموش ہو گئے\n\nوعدے کی رات آئی قضا اس ادا کے ساتھ\nدھوکے میں تیرے اس سے ہم آغوش ہو گئے\n\nبرسوں ہوئے نہ تم نے کیا بھول کر بھی یاد\nوعدے کی طرح ہم بھی فراموش ہو گئے\n\nآنکھوں میں بھی جو آئے تو اللہ رے حجاب\nبن کر نظر نظر سے وہ روپوش ہو گئے\n\nکیا کیا زباں دراز چراغ انجمن میں تھے\nدامن کشاں تم آئے تو خاموش ہو گئے\n\nیاران رفتہ بات کا دیتے نہیں جواب\nکیا کہہ دیا فضا نے کہ خاموش ہو گئے\n\nآئی شب وصال تو نیند آ گئی انہیں\nہم ہوش میں جو آئے وہ مدہوش ہو گئے\n\nمر کر تمام سر سے ٹلیں آفتیں جلیلؔ\nہم جان دے کے سب سے سبک دوش ہو گئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D9%BE%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "موجودہ ترقی کا انجام", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پوچھا جو کل انجام ترقیٔ بشر\nیاروں سے کہا پیر مغاں نے ہنس کر\nباقی نہ رہے گا کوئی انسان میں عیب\nہو جائیں گے چھل چھلا کے سب عیب و ہنر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%81_%D8%AA%D8%B1%D9%82%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85"} {"title": "موجوں سے لپٹ کے پار اترنے والے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "موجوں سے لپٹ کے پار اترنے والے\nطوفان بلا سے نہیں ڈرنے والے\nکچھ بس نہ چلا تو جان پر کھیل گئے\nکیا چال چلے ہیں ڈوب مرنے والے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%84%D9%BE%D9%B9_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%AA%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میں", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میں\nیا خون اچھل رہا ہے رگ ماہتاب میں\n\nوہ موت کہ کہتے ہیں جس کو سکون سب\nوہ عین زندگی ہے جو ہے اضطراب میں\n\nدوزخ بھی ایک جلوۂ فردوس حسن ہے\nجو اس سے بے خبر ہے وہی ہے عذاب میں\n\nاس دن بھی میری روح تھی محو نشاط دید\nموسیٰ الجھ گئے تھے سوال و جواب میں\n\nمیں اضطراب شوق کہوں یا جمال دوست\nاک برق ہے جو کوندھ رہی ہے نقاب میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%B7_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "موجِ دریا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "مضطرب رکھتا ہے میرا دلِ بے تاب مجھے\nعینِ ہستی ہے تڑپ صورتِ سیماب مجھے\nموج ہے نام مرا، بحر ہے پایاب مجھے\nہو نہ زنجیر کبھی حلقۂ گِرداب مجھے\nآب میں مثلِ ہوا جاتا ہے توسَن میرا\nخارِ ماہی سے نہ اٹکا کبھی دامن میرا\n\nمیں اچھلتی ہوں کبھی جذبِ مہِ کامل سے\nجوش میں سر کو پٹکتی ہوں کبھی ساحل سے\nہوں وہ رہرو کہ محبت ہے مجھے منزل سے\nکیوں تڑپتی ہوں، یہ پُوچھے کوئی میرے دل سے\nزحمتِ تنگیِ دریا سے گریزاں ہوں میں\nوسعتِ بحر کی فُرقت میں پریشاں ہوں مَیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%90_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7"} {"title": "موذیل", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سڑک کے کنارے", "year": "1953", "text_ur": "ترلوچن نے پہلی مرتبہ۔۔۔ چار برسوں میں پہلی مرتبہ رات کو آسمان دیکھا تھا اور وہ بھی اس لیے کہ اس کی طبیعت سخت گھبرائی ہوئی تھی اور وہ محض کھلی ہوا میں کچھ دیر سوچنے کے لیے اڈوانی چیمبرزکے ٹیرس پر چلا آیا تھا۔\n\nآسمان بالکل صاف تھا۔ بادلوں سے بے نیاز، بہت بڑے خاکستری تنبو کی طرح ساری بمبئی پر تنا ہوا تھا۔ حدِ نظر تک جگہ جگہ بتیاں روشن تھیں۔ ترلوچن نے ایسا محسوس کیا تھا کہ آسمان سے بہت سارے ستارے جھڑ کر بلڈنگوں سے جو رات کے اندھیرے میں بڑے بڑے درخت معلوم ہوتی تھیں ، اٹک گیے ہیں اور جگنوؤں کی طرح ٹمٹما رہے ہیں۔\n\nترلوچن کے لیے یہ بالکل ایک نیا تجربہ، ایک نئی کیفیت تھی۔۔۔ رات کو کھلے آسمان کے نیچے ہونا۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ چار برس تک اپنے فلیٹ میں قید رہا اور قدرت کی ایک بہت بڑی نعمت سے محروم۔ قریب قریب تین بجے تھے۔ ہوا بے حد ہلکی پھلکی تھی۔ ترلوچن پنکھے کی مکانکی ہوا کا عادی تھا جو اس کے سارے وجود کو بوجھل کردیتی تھی۔ صبح اٹھ کر وہ ہمیشہ یوں محسوس کرتا تھا، رات بھر اس کو مارا پیٹا گیا ہے۔ پر اب صبح کی قدرتی ہوا میں اس کے جسم کا رواں رواں ، تر و تازگی چوس کر خوش ہورہا تھا۔ جب وہ اوپر آیا تھا تو اس کا دل و دماغ سخت مضطرب اور ہیجان زدہ تھا۔ لیکن آدھے گھنٹے ہی میں وہ اضطراب اور ہیجان جو اس کو بہت تنگ کررہا تھا، کسی حد تک ٹھنڈا ہوگیا تھا وہ اب صاف طورپر سوچ سکتا تھا۔\n\nکرپال کور اور اس کا سارا خاندان محلے میں تھا،جو کٹرمسلمانوں کا مرکز تھا۔ یہاں کئی مکانوں کو آگ لگ چکی تھی، کئی جانیں تلف ہو چکی تھیں۔ ترلوچن ان سب کو لے آیا ہوتا مگر مصیبت یہ تھی کہ کرفیو نافذ ہوگیا تھا اور وہ بھی نہ جانے کتنے گھنٹوں کا۔۔۔ غالباً اڑتالیس گھنٹوں کا۔۔۔ اور ترلوچن لازماً مغلوب تھا، آس پاس سب مسلمان تھے ، بڑے خوفناک قسم کے مسلمان۔ اور پنجاب سے دھڑا دھڑ خبریں آرہی تھیں کہ وہاں سکھ مسلمانوں پر بہت ظلم ڈھا رہے ہیں۔ کوئی بھی ہاتھ۔۔۔ مسلمان ہاتھ بڑی آسانی سے نرم و نازک کرپال کور کی کلائی پکڑ کر موت کے کنوئیں کی طرف لے جاسکتا تھا۔\n\nکرپال کی ماں اندھی تھی، باپ مفلوج۔ بھائی تھا، وہ کچھ عرصے سے دیو لالی میں تھا کہ اسے وہاں اپنے تازہ تازہ لیے ہوئے ٹھیکے کی دیکھ بھال کرنا تھی۔ ترلوچن کو کرپال کے بھائی نرنجن پر بہت غصہ آتا تھا۔ اس نے جو کہ ہر روز اخبار پڑھتا تھا، فسادات کی تیزی و تندی کے متعلق ہفتہ بھر پہلے آگاہ کردیا تھا اور صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا۔ نرنجن، یہ ٹھیکے ویکے ابھی رہنے دو۔ ہم ایک بہت ہی نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ تمہارا اگرچہ رہنا بہت ضروری ہے۔ اول تو یہاں سے اٹھ جاؤ، اور میرے یہاں چلے آؤ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جگہ کم ہے لیکن مصیبت کے دنوں میں آدمی کسی نہ کسی طرح گزارا کرلیا کرتا ہے۔۔۔ مگر وہ نہ مانا۔ اس کا اتنا بڑا لیکچر سن کر صرف اپنی گھنی مونچھوں میں مسکرادیا، ’’تم خواہ مخواہ فکر کرتے ہو۔۔۔ میں نے یہاں ایسے کئی فساد دیکھے ہیں۔ یہ امرتسر یا لاہور نہیں بمبئی ہے ،بمبئی۔ تمہیں یہاں آئے صرف چار برس ہوئے ہیں اور میں بارہ برس سے یہاں رہ رہا ہوں۔۔۔ بارہ برس سے۔‘‘\n\nجانے نرنجن بمبئی کو کیا سمجھتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ یہ ایسا شہر ہے ،اگر فساد برپا بھی ہوں تو ان کا اثر خود زائل ہو جاتا ہے جیسے اس کے پاس چھومنتر ہے۔۔۔ ا وہ کہانیوں کا کوئی ایسا قلعہ ہے جس پر کوئی آفت نہیں آسکتی۔ مگر ترلوچن صبح کی ٹھنڈی ہوا میں صاف دیکھ رہا تھا کہ۔۔۔ محلہ بالکل محفوظ نہیں۔ وہ تو صبح کے ا خباروں میں یہ بھی پڑھنے کے لیے تیار تھا کہ کرپال کور اور اس کے ماں باپ قتل ہوچکے ہیں۔\n\nاس کو کرپال کور کے مفلوج باپ اور اس کی اندھی ماں کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ وہ مر جاتے اور کرپال کور بچ جاتی تو ترلوچن کے لیے اچھا تھا۔۔۔ وہاں دیولالی میں اس کا بھائی نرنجن بھی مارا جاتا تو وہ بھی اچھا تھا کہ ترلوچن کے لیے میدان صاف ہو جاتا۔ خاص طور پر نرنجن اس کے راستے میں ایک روڑا ہی نہیں ، بہت بڑا کھنگر تھا۔ چنانچہ جب کبھی کرپال کور سے اس کی بات ہوتی تووہ اسے نرنجن سنگھ کے بجائے کھنگر سنگھ کہتا۔\n\nصبح کی ہوا دھیرے دھیرے بہہ رہی تھی۔۔۔ ترلوچن کا کیسوں سے بے نیاز سر بڑی خوشگوار ٹھنڈک محسوس کررہا تھا مگر اس کے اندر بے شمار اندیشے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا رہے تھے۔۔۔ کرپال کور نئی نئی اس کی زندگی میں داخل ہوئی تھی۔ وہ یوں تو ہٹے کٹے کنگھر سنگھ کی بہن تھی،مگر بہت ہی نرم و نازک لچکیلی تھی۔ اس نے دیہات میں پرورش پائی تھی۔ وہاں کی کئی گرمیاں سردیاں دیکھی تھیں مگر اس میں وہ سختی، وہ گٹھاؤ، وہ مردانہ پن نہیں تھا جو دیہات کی عام سِکھ لڑکیوں میں ہوتا ہے جنھیں کڑی سے کڑی مشقت کرنی پڑتی ہے۔\n\nاس کے نقش پتلے پتلے تھے ، جیسے ابھی نامکمل ہیں۔ چھوٹی چھوٹی چھاتیاں تھیں جن پر بالائیوں کی چند اور تہیں چڑھنے کی ضرورت تھی۔ عام سکھ دیہاتی لڑکیوں کے مقابلے میں اس کا رنگ گورا تھا مگر کورے لٹھے کی طرح، اور بدن چکنا تھا جس طرح مرسی رائزڈ کپڑے کی سطح ہوتی ہے۔ بے حد شرمیلی تھی۔\n\nترلوچن اسی کے گاؤں کا تھا مگر زیادہ دیر وہاں رہا نہیں تھا۔ پرائمری سے نکل کر جب وہ شہر کے ہائی اسکول میں گیا تو بس پھروہیں کا ہو کے رہ گیا۔ اسکول سے فارغ ہوا تو کالج کی تعلیم شروع ہوگئی۔ اس دوران میں وہ کئی مرتبہ۔۔۔ لاتعداد مرتبہ اپنے گاؤں گیا، مگر اس نے کرپال کور کے نام کی کسی لڑکی کا نام تک نہ سنا، شاید اس لیے کہ وہ ہر بار اس افراتفری میں رہتا تھا کہ جلد از جلد واپس شہر پہنچے۔\n\nکالج کا زمانہ بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ اڈوانی چیمبرز کے ٹیریس اور کالج کی عمارت میں غالباً دس برس کا فاصلہ تھا اور یہ فاصلہ ترلوچن کی زندگی کے عجیب و غریب واقعات سے پر تھا۔ برما، سنگاپور، ہانگ کانگ۔۔۔ پھر بمبئی، جہاں وہ چار برس سے مقیم تھا۔ ان چار برسوں میں اس نے پہلی مرتبہ رات کو آسمان کی شکل دیکھی تھی جو بری نہیں تھی۔۔۔ خاکستری رنگ کے تنبو کی چھت میں ہزار ہا دیے روشن تھے اور ہوا ٹھنڈی اور ہلکی پھلکی تھی۔\n\nکرپال کور کا سوچتے سوچتے وہ موذیل کے متعلق سوچنے لگا۔ اس یہودی لڑکی کے بارے میں جو اڈوانی چیمبرز میں رہتی تھی۔ اس سے ترلوچن کو، گوڈے گوڈے عشق ہوگیا تھا۔ ایسا عشق جو اس نے اپنی پینتیس برس کی زندگی میں کبھی نہیں کیا تھا۔\n\nجس دن اس نے اڈوانی چیمبرز میں اپنے ایک عیسائی دوست کی معرفت دوسرے مالے پر فلیٹ لیا، اسی دن اس کی مڈبھیڑ موذیل سے ہوئی جو پہلی نظر دیکھنے پر اسے خوفناک طور پر دیوانی معلوم ہوئی تھی۔ کٹے ہوئے بھورے بال اس کے سر پر پریشان تھے۔ بے حد پریشان۔ ہونٹوں پر لپ اسٹک یوں جمی تھی جیسے گاڑھا خون اور وہ بھی جگہ جگہ سے چٹخی ہوئی تھی۔ ڈھیلا ڈھالا لمباسفید چغہ پہنے تھے جس کے کھلے گریبان سے اس کی نیل پڑی بڑی بڑی چھاتیاں تین چوتھائی کے قریب نظر آرہی تھیں۔ بانھیں جو کہ ننگی تھیں ، مہین مہین بالوں سے اٹی ہوئی تھیں جیسے وہ ابھی ابھی کسی سیلون سے بال کٹوا کے آئی ہے اور ان کی ننھی ننھی ہوائیاں ان پر جم گئی ہیں۔\n\nہونٹ اتنے موٹے نہیں تھے مگر گہرے عنابی رنگ کی لپ اسٹک کچھ اس انداز سے لگائی تھی کہ وہ موٹے اور بھینسے کے گوشت کے ٹکڑے معلوم ہوتے تھے۔\n\nترلوچن کا فلیٹ اس کے فلیٹ کے بالکل سامنے تھا۔ بیچ میں ایک تنگ گلی تھی۔۔۔ بہت ہی تنگ۔ جب ترلوچن اپنے فلیٹ میں داخل ہونے کے لیے آگے بڑھا تو موذیل باہر نکلی۔ کھڑاؤں پہنے تھی۔ ترلوچن ان کی آواز سن کر رک گیا۔ موذیل نے اپنے پریشان بالوں کی چقوں میں سے بڑی بڑی آنکھوں سے ترلوچن کی طرف دیکھا اور ہنسی۔۔۔ ترلوچن بوکھلا گیا۔ جیب سے چابی نکال کر وہ جلدی سے دروازے کی جانب بڑھا۔ موذیل کی ایک کھڑاؤں سیمنٹ کے چکنے فرش پر پھسلی اور اس کے اوپر آرہی۔\n\nجب ترلوچن سنبھلا تو موذیل اس کے اوپر تھی، کچھ اس طرح کہ اس کا لمبا چغہ اوپر چڑھ گیا تھا اور اس کی دو ننگی۔۔۔ بڑی تگڑی ٹانگیں اس کے ادھر ادھر تھیں اور۔۔۔ جب ترلوچن نے اٹھنے کی کوشش کی تو وہ بوکھلاہٹ میں کچھ اس طرح موذیل۔۔۔ ساری موذیل سے الجھا جیسے وہ صابن کی طرح اس کے سارے بدن پر پھر گیا ہے۔\n\nترلوچن نے ہانپتے ہوئے مناسب و موزوں الفاظ میں سے اس معافی مانگی۔ موذیل نے اپنا لبادہ ٹھیک کیا اور مسکرا دی، ’’یہ کھڑاؤں ایک دم کنڈم چیز ہے۔‘‘ اور وہ اتری ہوئی کھڑاؤں میں اپنا انگوٹھا اور اس کی ساتھ والی انگلی پھنساتی کوری ڈور سے باہر چلی گئی۔\n\nترلوچن کا خیال تھا کہ موذیل سے دوستی پیدا کرنا شاید مشکل ہو لیکن وہ بہت ہی تھوڑے عرصے میں اس سے گھل مل گئی۔ لیکن ایک بات تھی کہ وہ بہت خود سر تھی۔ وہ ترلوچن کو کبھی خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ اس سے کھاتی تھی، اس سے پیتی تھی، اس کے ساتھ سینما جاتی تھی۔ سارا سارا دن اس کے ساتھ جوہو پر نہاتی تھی لیکن جب وہ بانھوں اور ہونٹوں سے کچھ اور آگے بڑھنا چاہتا تو وہ اسے ڈانٹ دیتی۔ کچھ اس طور پر اسے گھڑکتی کہ اس کے سارے ولولے اس کی داڑھی اور مونچھوں میں چکر کاٹتے رہ جاتے۔\n\nترلوچن کو پہلے کسی کے ساتھ محبت نہیں ہوئی تھی۔ لاہور میں ، برما میں ، سنگاپور میں وہ لڑکیاں کچھ عرصے کے لیے خرید لیا کرتا تھا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ بمبئی پہنچتے ہی وہ ایک نہایت الھڑ قسم کی یہودی لڑکی کے عشق میں ’’گوڈے گوڈے‘‘ دھنس جائے گا۔ وہ اس سے کچھ عجیب قسم کی بے اعتنائی اور بے التفاتی برتتی تھی۔ اس کے کہنے پر فوراً سج بن کر سینما جانے پر تیار ہو جاتی تھی مگر جب وہ اپنی سیٹ پر بیٹھتے تو ادھر ادھر نگاہیں دوڑانا شروع کردیتی۔ کوئی اس کا شناسا نکل آتا تو زور سے ہاتھ ہلاتی اور ترلوچن سے اجازت لیے بغیر اس کے پہلو میں جا بیٹھتی۔\n\nہوٹل میں بیٹھے ہیں۔ ترلوچن نے خاص طور پر موذیل کے لیے پرتکلف کھانے منگوائے ہیں ، مگراس کو کوئی اپنا پرانا دوست نظر آگیا ہے اور وہ نوالہ چھوڑ کر اس کے پاس جا بیٹھی ہے اور ترلوچن کے سینے پر مونگ دل رہی ہے۔\n\nترلوچن بعض اوقات بھنا جاتا تھاکیونکہ وہ اسے قطعی طور پر چھوڑ کر اپنے ان پرانے دوستوں اور شناساؤں کے ساتھ چلی جاتی تھی اور کئی کئی دن اس سے ملاقات نہ کرتی تھی۔ کبھی سر درد کا بہانہ، کبھی پیٹ کی خرابی کا جس کے متعلق ترلوچن کو اچھی طرح معلوم تھا کہ فولاد کی طرح سخت ہے اور کبھی خراب نہیں ہوسکتا۔\n\nجب اس سے ملاقات ہوتی تو وہ اس سے کہتی، ’’تم سکھ ہو۔۔۔ یہ نازک باتیں تمہاری سمجھ میں نہیں آسکتیں۔‘‘\n\nترلوچن جل بھن جاتا اور پوچھتا، ’’کون سی نازک باتیں۔۔۔ تمہارے پرانے یاروں کی؟‘‘\n\nموذیل دونوں ہاتھ اپنے چوڑے چکلے کولہوں پر لٹکا کر اپنی تگڑی ٹانگیں چوڑی کردیتی اور کہتی، ’’یہ تم مجھے ان کے طعنے کیا دیتے ہو۔۔۔ ہاں وہ میرے یار ہیں۔۔۔ اور مجھے اچھے لگتے ہیں۔ تم جلتے ہو تو جلتے رہو۔‘‘\n\nترلوچن بڑے وکیلانہ انداز میں پوچھتا، ’’اس طرح تمہاری میری کس طرح نبھے گی؟‘‘\n\nموذیل زور کا قہقہہ لگاتی، ’’تم سچ مچ سِکھ ہو۔۔۔ ایڈیٹ، تم سے کس نے کہا ہے کہ میرے ساتھ نبھاؤ۔۔۔ اگر نبھانے کی بات ہے تو جاؤ اپنے وطن میں کسی سکھنی سے شادی کرلو۔۔۔ میرے ساتھ تو اسی طرح چلے گا۔‘‘\n\nترلوچن نرم ہو جاتا۔ دراصل موذیل اس کی زبردست کمزوری بن گئی تھی۔ وہ ہر حالت میں اس کی قربت کا خواہش مند تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موذیل کی وجہ سے اس کی اکثر توہین ہوتی تھی۔ معمولی معمولی کرسٹان لونڈوں کے سامنے جن کی کوئی حقیقت ہی نہیں تھی، اسے خفیف ہونا پڑتا تھا۔ مگر دل سے مجبور ہو کر اس نے یہ سب کچھ برداشت کرنے کا تہیہ کرلیا تھا۔\n\nعام طور پر توہین اور ہتک کا رد عمل انتقام ہوتا ہے مگر ترلوچن کے معاملے میں ایسا نہیں تھا۔ اس نے اپنے دل و دماغ کی بہت سی آنکھیں میچ لی تھیں اور کئی کانوں میں روئی ٹھونس لی تھی۔ ا س کو موذیل پسند تھی۔۔۔ پسند ہی نہیں جیسا کہ وہ اکثر اپنے دوستوں سے کہا کرتا تھا، ’’گوڈے گوڈے‘‘ اس کے عشق میں دھنس گیا تھا۔ اب اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا، اس کے جسم کا جتنا حصہ باقی رہ گیا ہے وہ بھی اس عشق کی دلدل میں چلا جائے اور قصہ ختم ہو۔\n\nدو برس تک وہ اسی طرح خوار ہوتا رہا لیکن ثابت قدم رہا۔ آخر ایک روز جب کہ موذیل موج میں تھی،اپنے بازوؤں میں سمیٹ کر پوچھا، ’’موذیل۔۔۔ کیا تم مجھ سے محبت نہیں کرتی ہو۔‘‘ موذیل اس کے بازوؤں سے جدا ہوگئی اور کرسی پر بیٹھ کر اپنے فراک کا گھیرا دیکھنے لگی۔ پھر اس نے اپنی موٹی موٹی یہودی آنکھیں اٹھائیں اور گھنی پلکیں جھپکا کر کہا، ’’میں سکھ سے محبت نہیں کرسکتی۔‘‘\n\nترلوچن نے ایسا محسوس کیا کہ پگڑی کے نیچے اس کے کیسوں میں کسی نے دہکتی ہوئی چنگاریاں رکھ دی ہیں۔ اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی، ’’موذیل! تم ہمیشہ میرا مذاق اڑاتی ہو۔۔۔ یہ میرا مذاق نہیں ، میری محبت کا مذاق ہے۔‘‘\n\nموذیل اٹھی اور اس نے اپنے بھورے ترشے ہوئے بالوں کو ایک دلفریب جھٹکا دیا، ’’تم شیو کرالو اور اپنے سر کے بال کھلے چھوڑ دو۔۔۔ تو میں شرط لگاتی ہوں کئی لونڈے تمہیں آنکھ ماریں گے۔۔۔ تم خوبصورت ہو۔‘‘\n\nترلوچن کے کیسوں میں مزید چنگاریاں پڑ گئیں۔ اس نے آگے بڑھ کر زور سے موذیل کو اپنی طرف گھسیٹا اور اس کے عنابی ہونٹوں میں اپنے مونچھوں بھرے ہونٹ پیوست کردیے۔ موذیل نے ایک دم’’پھوں پھوں‘‘ کی اور اس کی گرفت سے علیحدہ ہوگئی۔\n\n’’میں صبح اپنے دانتوں پر برش کر چکی ہوں۔۔۔ تم تکلیف نہ کرو۔‘‘\n\nترلوچن چلایا، ’’موذیل۔‘‘\n\nموذیل وینٹی بیگ سے ننھا سا آئینہ نکال کر اپنے ہونٹ دیکھنے لگی جس پر لگی ہوئی گاڑھی لپ اسٹک پر خراشیں آگئی تھیں۔ ’’خدا کی قسم۔۔۔ تم اپنی داڑھی اور مونچھوں کا صحیح استعمال نہیں کرتے۔۔۔ ان کے بال ایسے اچھے ہیں کہ میرا نیوی بلوسکرٹ بہت اچھی طرح صاف کرسکتے ہیں۔۔۔ بس تھوڑا سا پٹرول لگانے کی ضرورت ہوگی۔‘‘\n\nترلوچن غصے کی اس انتہا تک پہنچ چکا تھا جہاں وہ بالکل ٹھنڈا ہوگیا تھا۔ آرام سے صوفے پر بیٹھ گیا۔ موذیل بھی آگئی اور اس نے ترلوچن کی داڑھی کھولنی شروع کردی۔۔۔ اس میں جو پنیں لگی تھیں ، وہ اس نے ایک ایک کرکے اپنے دانتوں تلے دبا لیں۔\n\nترلوچن خوبصورت تھا۔ جب اس کے داڑھی مونچھ نہیں اگی تھی تو واقعی لوگ اس کو کھلے کیسوں کے ساتھ دیکھ کر دھوکا کھا جاتے تھے کہ وہ کوئی کم عمر خوبصورت لڑکی ہے۔ مگر بالوں کے اس انبار نے اب اس کے تمام خدوخال جھاڑیوں کے مانند اندر چھپا لیے تھے۔ اس کو اس کا احساس تھا۔ مگر وہ ایک اطاعت شعار اورفرماں بردار لڑکا تھا۔ اس کے دل میں مذہب کا احترام تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ان چیزوں کو اپنے وجود سے الگ کردے جن سے اس کے مذہب کی ظاہری تکمیل ہوتی تھی۔\n\nجب داڑھی پوری کھل گئی اور اس کے سینے پر لٹکنے لگی تو اس نے موذیل سے پوچھا، ’’یہ تم کیا کررہی ہو؟‘‘\n\nدانتوں میں پنیں دبائے وہ مسکرائی، ’’ تمہارے بال بہت ملائم ہیں۔۔۔ میرا اندازہ غلط تھا کہ ان سے میرا نیوی بلوسکرٹ صاف ہوسکے گا۔ ترلوچن تم یہ مجھے دے دو۔ میں انھیں گوندھ کر اپنے لیے ایک فسٹ کلاس بٹوا بناؤں گی۔‘‘\n\nاب ترلوچن کی داڑھی میں چنگاریاں بھڑکنے لگی۔ وہ بڑی سنجیدگی سے موذیل سے مخاطب ہوا، ’’میں نے آج تک تمہارے مذہب کا مذاق نہیں اڑایا۔۔۔ تم کیوں اڑاتی ہو۔۔۔ دیکھو کسی کے مذہبی جذبات سے کھیلنا اچھا نہیں ہوتا۔۔۔ میں یہ کبھی برداشت نہ کرتا۔ مگر صرف اس لیے کرتا رہا ہوں کہ مجھے تم سے بے پناہ محبت ہے۔۔۔ کیا تمہیں اس کا پتہ نہیں۔‘‘ موذیل نے ترلوچن کی داڑھی سے کھیلنا بند کردیا، ’’مجھے معلوم ہے۔‘‘\n\n’’پھر۔‘‘ ترلوچن نے اپنی داڑھی کے بال بڑی صفائی سے تہ کیے اور موذیل کے دانتوں سے پنیں نکال لیں، ’’تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میری محبت بکواس نہیں۔۔۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘\n\n’’مجھے معلوم ہے۔‘‘ بالوں کو ایک خفیف سا جھٹکا دے کر وہ اٹھی اور دیوار سے لٹکی ہوئی تصویر کی طرف دیکھنے لگی، ’’میں بھی قریب قریب یہی فیصلہ کر چکی ہوں کہ تم سے شادی کروں گی۔‘‘\n\nترلوچن اچھل پڑا، ’’سچ!‘‘\n\nموذیل کے عنابی ہونٹ بڑی موٹی مسکراہٹ کے ساتھ کھلے اور اس کے سفید مضبوط دانت ایک لحظے کے لیے چمکے۔ ’’ہاں!‘‘ ترلوچن نے اپنی نصف لپٹی ہوئی داڑھی ہی سے اس کو اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔ ’’تو۔۔۔ تو کب؟‘‘ موذیل الگ ہٹ گئی۔ ’’جب۔۔۔ تم اپنے یہ بال کٹوا دو گے!‘‘ ترلوچن اس وقت’جو ہو سو ہو‘ بنا تھا۔ اس نے کچھ نہ سوچا اور کہہ دیا، ’’میں کل ہی کٹوا دوں گا۔‘‘ موذیل فرش پر ٹیپ ڈانس کرنے لگی۔ ’’تم بکواس کرتے ہوئے ترلوچن۔۔۔ تم میں اتنی ہمت نہیں ہے۔‘‘ اس نے ترلوچن کے دل و دماغ سے مذہب کے رہے سہے خیال کو نکال باہر پھینکا۔\n\n’’تم دیکھ لوگی۔‘‘\n\n’’دیکھ لوں گی۔‘‘ اور وہ تیزی سے آگے بڑھی۔ ترلوچن کی مونچھوں کو چوما اور ’’پھوں پھوں‘‘ کرتی باہر نکل گئی۔\n\nترلوچن نے رات بھر کیا سوچا۔۔۔ وہ کن کن اذیتوں سے گزرا، اس کا تذکرہ فضول ہے ، اس لیے کہ دوسرے روز اس نے فورٹ میں اپنے کیس کٹوا دیے اور داڑھی بھی منڈوادی۔۔۔ یہ سب کچھ ہوتا رہا اور وہ آنکھیں میچے رہا۔ جب سارا معاملہ صاف ہوگیا تو اس نے آنکھیں کھولیں اور دیر تک اپنی شکل آئینے میں دیکھتا رہاجس پر بمبئی کی حسین سے حسین لڑکی بھی کچھ دیر کے لیے غور کرنے پر مجبور ہوجاتی۔\n\nترلوچن وہی عجیب و غریب ٹھنڈک محسوس کرنے لگا تھا جو سیلون سے باہر نکل کر اس کو لگی تھی۔ اس نے ٹیریس پر تیز تیز چلنا شروع کردیا۔ جہاں ٹینکوں اور نلوں کا ایک ہجوم تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس داستان کا بقایا حصہ اس کے دماغ میں نہ آئے۔ مگر وہ آئے بن نہ رہا۔\n\nبال کٹوا کر وہ پہلے دن گھر سے باہر نہیں نکلا تھا۔ اس نے اپنے نوکر کے ہاتھ دوسرے روز چٹ موذیل کو بھیجی کہ اس کی طبیعت ناساز ہے ، تھوڑی دیر کے لیے آجائے۔ موذیل آئی۔ ترلوچن کو بالوں کے بغیر دیکھ کر پہلے وہ ایک لحظے کے لیے ٹھٹکی۔ پھر’’مائی ڈارلنگ ترلوچن‘‘ کہہ کر اس کے ساتھ لپٹ گئی اور اس کا سارا چہرہ عنابی کردیا۔\n\nاس نے ترلوچن کے صاف اور ملائم گالوں پر ہاتھ پھیرا۔ اس کے چھوٹے انگریزی وضع کے کٹے ہوئے بالوں میں اپنی کنگھی کی اور عربی زبان میں نعرے مارتی رہی۔ اس نے اس قدر شور مچایا کہ اس کی ناک سے پانی بہنے لگا۔۔۔ موذیل نے جب اسے محسوس کیا تو اپنی سکرٹ کا گھیرا اٹھایا اور اسے پونچھنا شروع کردیا۔۔۔ ترلوچن شرما گیا۔ اس نے سکرٹ نیچی کی اور سرزنش کے طور پر اس سے کہا، ’’نیچے کچھ پہن تو لیا کرو۔‘‘\n\nموذیل پر اس کا کچھ اثر نہ ہوا۔ باسی اور جگہ جگہ سے اکھڑی ہوئی لپ اسٹک لگے ہونٹوں سے مسکرا کر اس نے صرف اتنا ہی کہا، ’’مجھے بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے۔۔۔ ایسے ہی چلتا ہے۔‘‘\n\nترلوچن کو وہ پہلا دن یاد آگیا۔ جب وہ اور موذیل دونوں ٹکرا گیے تھے اور آپس میں کچھ عجیب طرح گڈ مڈ ہوگیے تھے۔ مسکرا کر اس نے موذیل کو اپنے سینے کے ساتھ لگایا، ’’شادی کل ہوگی!‘‘\n\n’’ضرور۔‘‘ موذیل نے ترلوچن کی ملائم ٹھوڑی پر اپنے ہاتھ کی پشت پھیری۔\n\nطے یہ ہوا کہ شادی پونے میں ہو۔ چونکہ سول میرج تھی اس لیے ان کو دس پندرہ دن کا نوٹس دینا تھا۔ عدالتی کارروائی تھی۔ اس لیے مناسب یہی خیال کیا گیا کہ پونا بہتر ہے۔ پاس ہے اور ترلوچن کے وہاں کئی دوست بھی ہیں۔ دوسرے روز انھیں پروگرام کے مطابق پونا روانہ ہو جانا تھا۔\n\nموذیل، فورٹ کے ایک اسٹور میں سیلز گرل تھی۔ اس سے کچھ فاصلے پر ٹیکسی اسٹینڈ تھا۔ بس یہیں موذیل نے اس کو انتظار کرنے کے لیے کہا تھا۔۔۔ ترلوچن وقت مقررہ پر وہاں پہنچا۔ ڈیڑھ گھٹنہ انتظار کرتا رہا مگر وہ نہ آئی۔ دوسرے روز اسے معلوم ہوا کہ وہ اپنے ایک پرانے دوست کے ساتھ جس نے تازہ تازہ موٹر خریدی ہے ، دیولالی چلی گئی ہے اور ایک غیر معین عرصے کے لیے وہیں رہے گی۔\n\nترلوچن پرکیا گزری۔۔۔؟ یہ ایک بڑی لمبی کہانی ہے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ اس نے جی کڑا کیا اور اس کو بھول گیا۔۔۔ اتنے میں اس کی ملاقات کرپال کور سے ہوگئی اور وہ اس سے محبت کرنے لگا اور تھوڑے ہی عرصے میں اس نے محسوس کیا کہ موذیل بہت واہیات لڑکی تھی جس کے دل کے ساتھ پتھر لگے ہوئے تھے اور جوچڑوں کے مانند ایک جگہ سے دوسری جگہ پھدکتا رہتا تھا۔ اس احساس سے اس کو ایک گونہ تسکین ہوئی تھی کہ وہ موذیل سے شادی کرنے کی غلطی نہ کر بیٹھا تھا۔\n\nلیکن اس کے باوجود کبھی کبھی موذیل کی یاد ایک چٹکی کے مانند اس کے دل کو پکڑ لیتی تھی اور پھر چھوڑ کر کدکڑے لگاتی غائب ہو جاتی تھی۔۔۔ وہ بے حیا تھی۔۔۔ بے مروت تھی، اس کو کسی کے جذبات کا پاس نہیں تھا، پھر بھی وہ ترلوچن کو پسند تھی۔ اس لیے کبھی کبھی وہ اس کے متعلق سوچنے پر مجبور ہو جاتا تھا کہ وہ دیو لالی میں اتنے عرصے سے کیا کررہی ہے۔ اسی آدمی کے ساتھ ہے جس نے نئی نئی کار خریدی تھی یا اسے چھوڑ کر کسی اور کے پاس چلی گئی ہے۔ اس کو اس خیال سے سخت کوفت ہوتی تھی کہ وہ اس کے سوا کسی اور کے پاس ہوگی۔ حالانکہ اس کو موذیل کے کردار کا بخوبی علم تھا۔\n\nوہ اس پر سیکڑوں نہیں ہزاروں روپے خرچ کر چکا تھا، لیکن اپنی مرضی سے۔ ورنہ موذیل مہنگی نہیں تھی۔ اس کو بہت سستی قسم کی چیزیں پسند آتی تھیں۔ ایک مرتبہ ترلوچن نے اسے سونے کے ٹوپس دینے کا ارادہ کیا جو اسے بہت پسند تھے ، مگر اسی دکان میں موذیل جھوٹے اور بھڑکیلے اور بہت سستے آویزوں پر مرمٹی اور سونے کے ٹوپس چھوڑ کر ترلوچن سے منتیں کرنے لگی کہ وہ انھیں خرید دے۔\n\nترلوچن اب تک نہ سمجھ سکا کہ موذیل کس قماش کی لڑکی ہے۔ کس آب و گل سے بنی ہے۔ وہ گھنٹوں اس کے ساتھ لیٹی رہتی تھی۔ اس کو چومنے کی اجازت دیتی تھی۔ وہ سارا کا سارا صابن کی مانند اس کے جسم پر پھر جاتا تھا۔ مگر وہ اس کو اس سے آگے ایک انچ بڑھنے نہیں دیتی تھی۔ اس کو چڑانے کی خاطر اتنا کہہ دیتی تھی، ’’تم سکھ ہو۔۔۔ مجھے تم سے نفرت ہے!‘‘\n\nترلوچن اچھی طرح محسوس کرتا تھا کہ موذیل کو اس سے نفرت نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ اس سے کبھی نہ ملتی۔ برداشت کا مادہ اس میں رتی بھر بھی نہیں تھا۔ وہ کبھی دو برس تک اس کی صحبت میں نہ گزارتی۔ دوٹوک فیصلہ کردیتی۔ انڈر ویئر اس کو ناپسند تھے۔ اس لیے کہ ان سے اس کو الجھن ہوتی تھی۔ ترلوچن نے کئی بار اس کو ان کی اشد ضرورت سے آگاہ کیا۔ اس کو شرم و حیا کا واسطہ دیا، مگر اس نے یہ چیز کبھی نہ پہنی۔\n\nترلوچن جب اس سے حیا کی بات کرتا تھا وہ چڑ جاتی تھی، ’’یہ حیا ویا کیا بکواس ہے۔۔۔ اگر تمہیں اس کا کچھ خیال ہے تو آنکھیں بند کرلیا کرو۔۔۔ تم مجھے یہ بتاؤ کون سا لباس ہے جس میں آدمی ننگا نہیں ہوسکتا۔۔۔ یا جس میں سے تمہاری نگاہیں پار نہیں ہوسکتیں۔۔۔ مجھ سے ایسی بکواس نہ کیا کرو۔۔۔ تم سکھ ہو۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ تم پتلون کے نیچے ایک سلکی سا انڈر ویئر پہنتے ہو جو نیکر سے ملتا جلتا ہے۔۔۔ یہ بھی تمہاری داڑھی اور سر کے بالوں کی طرح مذہب میں شامل ہے۔۔۔ شرم آنی چاہیے تمہیں۔ اتنے بڑے ہوگیے ہو اور ابھی تک یہی سمجھتے ہو کہ تمہارا مذہب انڈر ویئر میں چھپا بیٹھا ہے!‘‘\n\nترلوچن کو شروع شروع میں ایسی باتیں سن کر غصہ آیا تھا۔ مگر بعد میں غور و فکر کرنے پر وہ کبھی کبھی لڑھک جاتا تھا اور سوچتا تھا کہ موذیل کی باتیں شاید نادرست نہیں اور جب اس نے اپنے کیسوں اور داڑھی کا صفایا کرادیا تو اسے قطعی طور پر ایسا محسوس ہوا کہ وہ بیکار اتنے دن بالوں کا اتنا بوجھ اٹھائے اٹھائے پھرا جس کا کچھ مطلب ہی نہیں تھا۔\n\nپانی کی ٹنکی کے پاس پہنچ کر ترلوچن رک گیا۔ موذیل کو ایک بڑی موٹی گالی دے کر اس نے اس کے متعلق سوچنا بند کردیا۔۔۔ کرپال کور۔۔۔ ایک پاکیزہ لڑکی، جس سے اس کو محبت ہوئی تھی، خطرے میں تھی۔ وہ ایسے محلے میں تھی جس میں کٹر قسم کے مسلمان رہتے تھے اور وہاں دو تین واردات بھی ہو چکی تھیں۔۔۔ لیکن مصیبت یہ تھی کہ اس محلے میں اڑتالیس گھنٹے کا کرفیو تھا۔ مگر کرفیو کی کون پروا کرتا ہے۔ اس چالی کے مسلمان ہی اگر چاہتے تو اندر ہی اندر کرپال کور، اس کی ماں اور اس کے باپ کا بڑی آسانی کے ساتھ صفایا کرسکتے تھے۔\n\nترلوچن سوچتا سوچتا پانی کے موٹے نل پر بیٹھ گیا۔ اس کے سر کے بال اب کافی لمبے ہوگیے تھے۔ اس کو یقین تھا کہ ایک برس کے اندر اندر یہ پورے کیسوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ اس کی داڑھی تیزی سے بڑھی تھی مگر وہ اسے بڑھانا نہیں چاہتا تھا۔ فورٹ میں ایک باربر تھا، وہ اس صفائی سے اسے تراشتا تھا کہ ترشی ہوئی دکھائی نہیں دیتی تھی۔\n\nاس نے اپنے لمبے اور ملائم بالوں میں انگلیاں پھیریں اور ایک سرد آہ بھری۔۔۔ اٹھنے کا ارادہ ہی کررہا تھا کہ اسے کھڑاؤں کی کرخت آواز سنائی دی، اس نے سوچا کون ہوسکتا ہے۔۔۔؟بلڈنگ میں کئی یہودی عورتیں تھیں جو سب کی سب گھر میں کھڑاؤں پہنتی تھیں۔۔۔ آواز قریب آتی گئی۔ یکلخت اس نے دوسری ٹنکی کے پاس موذیل کو دیکھا، جو یہودیوں کی خاص قطع کا ڈھیلا ڈھالا لمبا کرتا پہنے بڑے زور کی انگڑائی لے رہی تھی۔۔۔ اس زور کی کہ ترلوچن کو محسوس ہوا اس کے آس پاس کی ہوا چٹخ جائے گی۔\n\nترلوچن، پانی کے نل پر سے اٹھا۔ اس نے سوچا، ’’یہ ایکا ایکی کہاں سے نمودا رہو گئی۔۔۔ اور اس وقت ٹیرس پر کیا کرنے آئی ہے؟‘‘ موذیل نے ایک اور انگڑائی لی۔۔۔ اب ترلوچن کی ہڈیاں چٹخنے لگیں۔\n\nڈھیلے ڈھالے کرتے میں اس کی مضبوط چھاتیاں دھڑکیں۔۔۔ ترلوچن کی آنکھوں کے سامنے کئی گول گول اور چپٹے چپٹے نیل ابھر آئے۔ وہ زور سے کھانسا۔ موذیل نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کا رد عمل بالکل خفیف تھا۔ کھڑاؤں گھسٹتی وہ اس کے پاس آئی اور اس کی ننھی منی داڑھی دیکھنے لگی، ’’تم پھر سکھ بن گئے ترلوچن؟‘‘\n\nداڑھی کے بال ترلوچن کو چبھنے لگے۔\n\nموذیل نے آگے بڑھ کر اس کی ٹھوڑی کے ساتھ اپنے ہاتھ کی پشت رگڑی اور مسکرا کر کہا، ’’اب یہ برش اس قابل ہے کہ میری نیو بلوسکرٹ صاف کرسکے۔۔۔ مگر وہ تو وہیں دیو لالی میں رہ گئی ہے۔‘‘\n\nترلوچن خاموش رہا۔ موذیل نے اس کے بازو کی چٹکی لی، ’’بولتے کیوں نہیں سردار صاحب؟‘‘\n\nترلوچن اپنی پچھلی بیوقوفیوں کا اعادہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ تاہم اس نے صبح کے ملگجے اندھیرے میں موذیل کے چہرے کو غور سے دیکھا۔۔۔ کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی۔ ایک صرف وہ پہلے سے کچھ کمزور نظر آتی تھی۔ ترلوچن نے اس سے پوچھا، ’’بیمار رہی ہو؟‘‘\n\n’’نہیں۔‘‘ موذیل نے اپنے ترشے ہوئے بالوں کو ایک خفیف سا جھٹکا دیا۔\n\n’’پہلے سے کمزور دکھائی دیتی ہو؟‘‘\n\n’’میں ڈائٹنگ کررہی ہوں۔‘‘ موذیل پانی کے موٹے نل پر بیٹھ گئی اور کھڑاؤں فرش کے ساتھ بجانے لگی۔ ’’تم گویا کہ۔۔۔ اب پھر۔۔۔ نئے سرے سے سکھ بن رہے ہو۔‘‘\n\nترلوچن نے کسی قدر ڈھٹائی کے ساتھ کہا، ’’ہاں!‘‘\n\n’’مبارک ہو۔‘‘ موذیل نے ایک کھڑاؤں پیر سے اتار لی اور پانی کے نل پر بجانے لگی۔ ’’کسی اور لڑکی سے محبت کرنی شروع کی؟‘‘\n\nترلوچن نے آہستہ سے کہا، ’’ہاں!‘‘\n\n’’مبارک ہو۔۔۔ اسی بلڈنگ کی ہے کوئی؟‘‘\n\n’’نہیں۔۔۔‘‘\n\n’’یہ بہت بری بات ہے۔‘‘ موذیل کھڑاؤں اپنی انگلیوں میں اڑس کر اٹھی، ’’ہمیشہ آدمی کو اپنے ہمسایوں کا خیال رکھنا چاہیے۔‘‘\n\nترلوچن خاموش رہا۔ موذیل نے اٹھ کر اس کی د اڑھی کو اپنی پانچوں انگلیوں سے چھیڑا، ’’کیا اسی لڑکی نے تمہیں یہ بال بڑھانے کا مشورہ دیا ہے؟‘‘\n\n’’نہیں۔‘‘\n\nترلوچن بڑی الجھن محسوس کررہا تھا جیسے کنگھا کرتے کرتے اس کی داڑھی کے بال آپس میں الجھ گیے ہیں۔ جب اس نے ’’نہیں‘‘ کہا تو اس کے لہجے میں تیکھا پن تھا۔\n\nموذیل کے ہونٹوں پر لپ اسٹک باسی گوشت کی طرح معلوم ہوتی تھی۔ وہ مسکرائی تو ترلوچن نے ایسا محسوس کیا کہ اس کے گاؤں میں جھٹکے کی دکان پر قصائی نے چھری سے موٹی رگ کے گوشت کے دو ٹکڑے کردیے ہیں۔ مسکرانے کے بعد وہ ہنسی، ’’تم اب یہ داڑھی منڈا ڈالو تو کسی کی بھی قسم لے لو، میں تم سے شادی کرلوں گی۔‘‘\n\nترلوچن کے جی میں آئی کہ اس سے کہے کہ وہ ایک بڑی شریف، با عصمت اور پاک طینت کنواری لڑکی سے محبت کررہا ہے اور اسی سے شادی کرے گا۔۔۔ موذیل اس کے مقابلے میں فاحشہ ہے ، بدصورت ہے ، بے وفا ہے ، بے مروت ہے مگر وہ اس قسم کا گھٹیا آدمی نہیں تھا۔ اس نے موذیل سے صرف اتنا کہا، ’’موذیل! میں اپنی شادی کا فیصلہ کر چکا ہوں۔ میرے گاؤں کی ایک سیدھی سادی لڑکی ہے۔۔۔ جو مذہب کی پابند ہے۔ اسی کے لیے میں نے بال بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔‘‘\n\nموذیل سوچ بچار کی عادی نہیں تھی، لیکن اس نے کچھ دیر سوچا اور کھڑاؤں پر نصف دائرے میں گھوم کر ترلوچن سے کہا، ’’وہ مذہب کی پابند ہے تو تمہیں کیسے قبول کرے گی؟ کیا اسے معلوم نہیں کہ تم ایک دفعہ اپنے بال کٹوا چکے ہو؟‘‘\n\n’’اس کو ابھی تک معلوم نہیں۔۔۔ داڑھی میں نے تمہارے دیو لالی جانے کے بعد ہی بڑھانی شروع کردی تھی۔۔۔ محض انتقامی طور پر۔۔۔ اس کے بعد میری کرپال کور سے ملاقات ہوئی۔ مگر میں پگڑی اس طریقے سے باندھتا ہوں کہ سو میں سے ایک ہی آدمی مشکل سے جان سکتا ہے کہ میرے کیس کٹے ہوئے ہیں۔۔۔ مگر اب یہ بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘ ترلوچن نے اپنے لمبے ملائم بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرنا شروع کی۔\n\nموذیل نے لمبا کرتہ اٹھاکر اپنی گوری دبیز ران کھجلانی شروع کی، ’’یہ بہت اچھا ہے۔۔۔ مگر یہ کم بخت مچھر یہاں بھی موجود ہے۔۔۔ دیکھو، کس زور سے کاٹا ہے۔‘‘\n\nترلوچن نے دوسری طرف دیکھنا شروع کردیا۔ موذیل نے اس جگہ جہاں مچھر نے کاٹا تھا، انگلی سے لب لگائی اور کرتہ چھوڑ کر سیدھی کھڑی ہوگئی۔ ’’کب ہورہی ہے تمہاری شادی؟‘‘\n\n’’ابھی کچھ پتہ نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر ترلوچن سخت متفکر ہوگیا۔\n\nچند لمحات تک خاموشی رہی۔ اس کے بعد موذیل نے اس کے تفکرکا اندازہ لگا کر اس سے بڑے سنجیدہ انداز میں پوچھا، ’’ترلوچن!تم کیا سوچ رہے ہو؟‘‘\n\nترلوچن کو اس وقت کسی ہمدرد کی ضرورت تھی۔ خواہ وہ موذیل ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ اس نے اس کو سارا ماجرا سنا دیا۔ موذیل ہنسی، ’’تم اول درجے کے ایڈیٹ ہو۔۔۔ جاؤ اس کو لے آؤ۔ ایسی کیا مشکل ہے؟‘‘\n\n’’مشکل!موذیل، تم اس معاملے کی نزاکت کو کبھی نہیں سمجھ سکتیں۔۔۔ کسی بھی معاملے کی نزاکت۔۔۔ تم ایک لا ابالی قسم کی لڑکی ہو۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ تمہارے اور میرے تعلقات قائم نہیں رہ سکے ، جس کا مجھے ساری عمر افسوس رہے گا۔‘‘\n\nموذیل نے زور سے اپنی کھڑاؤں پانی کے نل کے ساتھ ماری۔ ’’افسوس بی ڈیمڈ۔۔۔ سلی ایڈیٹ۔۔۔ تم یہ سوچو کہ تمہاری اس۔۔۔ کیا نام ہے اس کا۔۔۔ اس محلے سے بچا کر لانا کیسے ہے۔۔۔ تم بیٹھ گیے ہو تعلقات کا رونا رونے۔۔۔ تمہارے میرے تعلقات کبھی قائم نہیں رہ سکتے تھے۔۔۔ تم ایک سِلی قسم کے آدمی ہو۔۔۔ اور بہت ڈرپوک۔ مجھے نڈر مرد چاہیے۔۔۔ لیکن چھوڑو ان باتوں کو۔۔۔ چلو آؤ، تمہاری اس کور کو لے آئیں!‘‘\n\nاس نے ترلوچن کا بازو پکڑ لیا۔۔۔ ترلوچن نے گھبراہٹ میں اس سے پوچھا، ’’کہاں سے؟‘‘\n\n’’وہیں سے ، جہاں وہ ہے۔۔۔ میں اس محلے کی ایک ایک اینٹ کو جانتی ہوں۔۔۔ چلو آؤ میرے ساتھ۔‘‘\n\n’’مگر سنو تو۔۔۔ کرفیو ہے۔‘‘\n\n’’موذیل کے لیے نہیں۔۔۔ چلو آؤ۔‘‘\n\nوہ ترلوچن کو بازو سے پکڑ کر کھینچتی اس دروازے تک لے گئی تھی جو نیچے سیڑھیوں کی طرح کھلتا تھا۔ دروازہ کھول کر وہ اترنے والی تھی کہ رک گئی اور ترلوچن کی داڑھی کی طرف دیکھنے لگی۔\n\nترلوچن نے پوچھا، ’’کیا بات ہے؟‘‘\n\nموذیل نے کہا، ’’یہ تمہاری داڑھی۔۔۔ لیکن خیر ٹھیک ہے۔ اتنی بڑی نہیں ہے۔۔۔ ننگے سر چلو گے تو کوئی نہیں سمجھے گا کہ تم سکھ ہو۔‘‘\n\n’’ننگے سر!‘‘ ترلوچن نے کسی قدر بوکھلا کر کہا، ’’میں ننگے سر نہیں جاؤں گا۔‘‘\n\nموذیل نے بڑے معصوم انداز میں پوچھا، ’’کیوں؟‘‘\n\nترلوچن نے اپنے بالوں کی ایک لٹ ٹھیک کی۔ ’’تم سمجھتی نہیں ہو۔ میرا وہاں پگڑی کے بغیر جانا ٹھیک نہیں۔‘‘\n\n’’کیوں ٹھیک نہیں۔‘‘\n\n’’تم سمجھتی کیوں نہیں ہو کہ اس نے مجھے ابھی تک ننگے سر نہیں دیکھا۔۔۔ وہ یہی سمجھتی ہے کہ میرے کیس ہیں۔ میں اس پر یہ راز افشا نہیں کرنا چاہتا۔‘‘\n\nموذیل نے زور سے اپنی کھڑاؤں دروازے کی دہلیز پر ماری، ’’تم واقعی اول درجے کے ایڈیٹ ہو۔۔۔ گدھے کہیں کے۔۔۔ اس کی جان کا سوال ہے۔۔۔ کیا نام ہے ، تمہاری اس کور کا، جس سے تم محبت کرتے ہو۔‘‘\n\nترلوچن نے اسے سمجھانے کی کوشش کی، ’’موذیل، وہ بڑی مذہبی قسم کی لڑکی ہے۔۔۔ اگر اس نے مجھے ننگے سر دیکھ لیا تو مجھ سے نفرت کرنے لگے گی۔‘‘\n\nموذیل چڑ گئی، ’’اوہ، تمہاری محبت بی ڈیمڈ۔۔۔ میں پوچھتی ہوں۔ کیا سارے سکھ تمہارے طرح کے بے وقوف ہوتے ہیں۔۔۔ اس کی جان کو خطرہ ہے اور تم کہتے ہو کہ پگڑی ضرور پہنو گے۔۔۔ اور شاید وہ اپنا انڈرویئر بھی جو نیکر سے ملتا جلتا ہے۔‘‘\n\nترلوچن نے کہا، ’’وہ تو میں ہر وقت پہنے ہوتا ہوں۔‘‘\n\n’’بہت اچھا کرتے ہو۔۔۔ مگر اب تم یہ سوچو کہ معاملہ اس محلے کا ہے جہاں میاں بھائی ہی میاں بھائی رہتے ہیں اور وہ بھی بڑے بڑے دادا اور بڑے بڑے موالی۔۔۔ تم پگڑی پہن کر گیے تو وہیں ذبح کردیے جاؤ گے۔‘‘\n\nترلوچن نے مختصر سا جواب دیا، ’’مجھے اس کی پروا نہیں۔۔۔ اگر میں تمہارے ساتھ وہاں جاؤں گا تو پگڑی پہن کر جاؤں گا۔۔۔ میں اپنی محبت خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا!‘‘\n\nموذیل جھنجھلا گئی۔ اس زور سے اس نے پیچ و تاپ کھائے کہ اس کی چھاتیاں آپس میں بھڑ بھڑ گئیں۔ ’’گدھے۔۔۔ تمہاری محبت ہی کہاں رہے گی۔ جب تم نہ ہو گے۔۔۔ تمہاری وہ۔۔۔ کیا نام ہے اس بھڑوی کا۔۔۔ جب وہ بھی نہ رہے گی۔ اس کا خاندان تک نہ رہے گا۔۔۔ تم سکھ۔۔۔ خدا کی قسم تم سکھ ہو اور بڑے ایڈیٹ سکھ ہو!‘‘\n\nترلوچن بھنا گیا، ’’بکواس نہ کرو!‘‘\n\nموذیل زور سے ہنسی۔ مہین مہین بالوں کے غبار سے اٹی ہوئی بانھیں اس نے ترلوچن کے گلے میں ڈال دیں اور تھوڑا سا جھول کر کہا، ’’ڈارلنگ چلو، جیسے تمہاری مرضی۔۔۔ جاؤ پگڑی پہن آؤ۔ میں نیچے بازار میں کھڑی ہوں۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ نیچے جانے لگی۔ ترلوچن نے اسے روکا، ’’تم کپڑے نہیں پہنو گی!‘‘\n\nموذیل نے اپنے سر کو جھٹکا دیا، ’’نہیں۔۔۔ چلے گا اسی طرح۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ کھٹ کھٹ کرتی نیچے اتر گئی۔ ترلوچن نچلی منزل کی سیڑھیوں پر بھی اس کی کھڑاؤں کی چوبی آواز سنتا رہا۔ پھر اس نے اپنے لمبے بال انگلیوں سے پیچھے کی طرف سمیٹے اور نیچے اتر کر اپنے فلیٹ میں چلا گیا۔ جلدی جلدی اس نے کپڑے تبدیل کیے۔ پگڑی بندھی بندھائی رکھی تھی۔ اسے اچھی طرح سر پر جمایا اور فلیٹ کا دروازہ مقفل کرکے نیچے اتر گیا۔\n\nباہر فٹ پاتھ پر موذیل اپنی تگڑی ٹانگیں چوڑی کیے سگرٹ پی رہی تھی۔ بالکل مردانہ انداز میں۔ جب ترلوچن اس کے نزدیک پہنچا تو اس نے شرارت کے طور پر منہ بھر کے دھواں اس کے چہرے پر دے مارا۔ ترلوچن نے غصے میں کہا، ’’تم بہت ذلیل ہو۔‘‘\n\nموذیل مسکرائی، ’’یہ تم نے کوئی نئی بات نہیں کہی۔۔۔ اس سے پہلے اور کئی مجھے ذلیل کہہ چکے ہیں۔‘‘ پھر اس نے ترلوچن کی پگڑی کی طرف دیکھا، ’’یہ پگڑی تم نے واقعی بہت اچھی طرح باندھی ہے۔۔۔ ایسا معلوم ہوتا ہے تمہارے کیس ہیں۔‘‘\n\nبازار بالکل سنسان تھا۔ ایک صرف ہوا چل رہی تھی اور وہ بھی بہت دھیرے دھیرے۔ جیسے کرفیو سے خوف زدہ ہے۔ بتیاں روشن تھیں مگر ان کی روشنی بیمار سی معلوم ہوتی تھی۔ عام طور پر اس وقت ٹریمیں چلنی شروع ہوجاتی تھیں اور لوگوں کی آمدورفت بھی جاری ہوجاتی تھی۔ اچھی خاصی گہما گہمی ہوتی تھی۔ پر اب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سڑک پر کوئی انسان گزرا ہے نہ گزرے گا۔\n\nموذیل آگے آگے تھی۔ فٹ پاتھ کے پتھروں پر اس کی کھڑاؤں کھٹ کھٹ کررہی تھی۔ یہ آواز، اس خاموش فضا میں ایک بہت بڑا شور تھی۔ ترلوچن دل ہی دل میں موذیل کو برا بھلا کہہ رہا تھا کہ دو منٹ میں اور کچھ نہیں تو اپنی واہیات کھڑاؤں ہی اتار کر کوئی دوسری چیز پہن سکتی تھی۔ اس نے چاہا کہ موذیل سے کہے کھڑاؤں اتار دو اور ننگے پاؤں چلو۔ مگر اس کو یقین تھا کہ وہ کبھی نہیں مانے گی۔ اس لیے خاموش رہا۔\n\nترلوچن سخت خوف زدہ تھا۔ کوئی پتا کھڑکتا تو اس کا دل دھک سے رہ جاتا تھا۔ مگر موذیل بالکل بے خوف چلی جارہی تھی۔ سگرٹ کا دھواں اڑاتی جیسے وہ بڑی بے فکری سے چہل قدمی کررہا ہے۔\n\nچوک میں پہنچے تو پولیس مین کی آواز گرجی، ’’اے۔۔۔ کدھر جارہا ہے۔‘‘\n\nترلوچن سہم گیا۔ موذیل آگے بڑھی اور پولیس مین کے پاس پہنچ گئی اور بالوں کو ایک خفیف سا جھٹکا دے کر کہا، ’’اوہ، تم۔۔۔ ہم کو پہچانا نہیں تم نے۔۔۔ موذیل۔۔۔‘‘ پھر اس نے ایک گلی کی طرف اشارہ کیا، ’’ادھر اس باجو۔۔۔ ہمارا بہن رہتا ہے۔ اس کی طبیعت خراب ہے۔۔۔ ڈاکٹر لے کر جارہا ہے۔۔۔‘‘\n\nسپاہی اسے پہچاننے کی کوشش کررہا تھا کہ اس نے خدا معلوم کہاں سے سگریٹ کی ڈبیا نکالی اور ایک سگرٹ نکال کر اس کو دیا، ’’لو پیو۔‘‘\n\nسپاہی نے سگرٹ لے لیا۔ موذیل نے اپنے منہ سے سلگا ہوا سگرٹ نکالا اور اس سے کہا، ’’ہیر از لائٹ!‘‘\n\nسپاہی نے سگرٹ کا کش لیا۔ موذیل نے داہنی آنکھ اس کو اور بائیں آنکھ ترلوچن کو ماری اور کھٹ کھٹ کرتی اس گلی کی طرف چل دی۔۔۔ جس میں سے گزر کر انھیں۔۔۔ محلے جانا تھا۔\n\nترلوچن خاموش تھا، مگر وہ محسوس کررہا تھا کہ موذیل کرفیو کی خلاف ورزی کرکے ایک عجیب و غریب قسم کی مسرت محسوس کررہی ہے۔۔۔ خطروں سے کھیلنا اسے پسند تھا۔ جب جوہو پر اس کے ساتھ جاتی تھی تو اس کے لیے ایک مصیبت بن جاتی تھی۔ سمندر کی پیل تن لہروں سے ٹکراتی، بھڑتی وہ دور تک نکل جاتی تھی اور اس کو ہمیشہ اس بات کا دھڑکا رہتا تھا کہ وہ کہیں ڈوب نہ جائے۔ جب واپس آتی تو اس کا جسم سیپوں اور زخموں سے بھرا ہوتا تھا مگر اسے ان کی کوئی پروا نہیں ہوتی تھی۔\n\nموذیل آگے آگے تھی۔ ترلوچن اس کے پیچھے پیچھے۔ ڈر ڈر کے ادھر ادھر دیکھتا رہتا تھا کہ اس کی بغل سے کوئی چھری مار نمودار نہ ہو جائے۔ موذیل رک گئی۔ جب ترلوچن پاس آیا تو اس نے سمجھانے کے انداز میں اس سے کہا، ’’ترلوچن ڈیئر۔۔۔ اس طرح ڈرنا اچھا نہیں۔۔۔ تم ڈرو گے تو ضرور کچھ نہ کچھ ہو کے رہے گا۔۔۔ سچ کہتی ہوں ، یہ میری آزمائی ہوئی بات ہے۔‘‘\n\nترلوچن خاموش رہا۔\n\nجب وہ گلی طے کرکے دوسری گلی میں پہنچے جو اس محلے کی طرف نکلتی تھی، جس میں کرپال کور رہتی تھی توموذیل چلتے چلتے ایک دم رک گئی۔۔۔ کچھ فاصلے پر بڑے اطمینان سے ایک مار واڑی کی دکان لوٹی جارہی تھی۔ ایک لحظے کے لیے اس نے معاملے کا جائزہ لیا اور ترلوچن سے کہا، ’’کوئی بات نہیں۔۔۔ چلو آؤ۔‘‘\n\nدونوں چلنے لگے۔۔۔ ایک آدمی جو سر پر بہت بڑی پرات اٹھائے چلا آرہا تھا،ترلوچن سے ٹکرا گیا۔ پرات گر گئی۔ اس آدمی نے غور سے ترلوچن کی طرف دیکھا۔ صاف معلوم ہوتا تھا کہ وہ سکھ ہے۔ اس آدمی نے جلدی سے اپنے نیفے میں ہاتھ ڈالا۔۔۔ کہ موذیل آگئی۔ لڑکھڑاتی ہوئی جیسے نشے میں چور ہے اس نے زور سے اس کو آدمی کو دھکا دیا اور مخمور لہجے میں کہا، ’’اے کیا کرتا ہے۔۔۔ اپنے بھائی کو مارتا ہے۔۔۔ ہم اس سے شادی بنانے کو مانگتا ہے۔‘‘ پھر وہ ترلوچن سے مخاطب ہوئی، ’’کریم۔۔۔ اٹھاؤ، یہ پرات اور رکھ دو اس کے سر پر۔‘‘\n\nاس آدمی نے نیفے میں سے ہاتھ نکال لیا اور شہوانی آنکھوں سے موذیل کی طرف دیکھا، پھر آگے بڑھ کر اپنی کہنی سے اس کی چھاتیوں میں ایک ٹہوکا دیا، ’’عیش کر سالی۔۔۔ عیش کر‘‘ پھر اس نے پرات اٹھائی اور یہ جا، وہ جا۔\n\nترلوچن بڑبڑایا، ’’کیسی ذلیل حرکت کی ہے حرام زادے نے!‘‘\n\nموذیل نے اپنی چھاتیوں پر ہاتھ پھیرا، ’’کوئی ذلیل حرکت نہیں۔۔۔ سب چلتا ہے۔۔۔ آؤ۔‘‘\n\nاور وہ تیز تیز چلنے لگی۔۔۔ ترلوچن نے بھی قدم تیز کردیے۔ یہ گلی طے کرکے دونوں اس محلے میں پہنچ گیے جہاں کرپال کور رہتی تھی۔ موذیل نے پوچھا، ’’کس گلی میں جانا ہے؟‘‘\n\nترلوچن نے آہستہ سے کہا، ’’تیسری گلی میں۔۔۔ نکڑ والی بلڈنگ!‘‘\n\nموذیل نے اس طرف چلنا شروع کردیا۔ یہ راستہ بالکل خاموش تھا۔ آس پاس اتنی گنجان آبادی تھی مگر کسی بچے تک کے رونے کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔\n\nجب وہ اس گلی کے قریب پہنچے تو کچھ گڑ بڑ دکھائی دی۔۔۔ ایک آدمی اس کنارے والی بلڈنگ سے نکلا اور دوسرے کنارے والی بلڈنگ میں گھس گیا۔ اس بلڈنگ سے تھوڑی دیر کے بعد تین آدمی نکلے۔ فٹ پاتھ پر انھوں نے ادھر ادھر دیکھا اور بڑی پھرتی سے دوسری بلڈنگ میں چلے گئی۔ موذیل ٹھٹک گئی تھی۔ اس نے ترلوچن کو اشارہ کیا کہ اندھیرے میں ہو جائے۔ پھر اس نے ہولے سے کہا، ’’ترلوچن ڈیئر۔۔۔ یہ پگڑی اتار دو!‘‘\n\nترلوچن نے جواب دیا، ’’میں یہ کسی صورت میں بھی نہیں اتار سکتا!‘‘\n\nموذیل جھنجھلا گئی، ’’تمہاری مرضی۔۔۔ لیکن تم دیکھتے نہیں ، سامنے کیا ہو رہا ہے۔‘‘\n\nسامنے جو کچھ ہورہا تھا دونوں کی آنکھوں کے سامنے تھا۔۔۔ صاف گڑ بڑ ہورہی تھی اور بڑی پراسرار قسم کی۔ دائیں ہاتھ کی بلڈنگ سے جب دو آدمی اپنی پیٹھ پر بوریاں اٹھائے نکلے تو موذیل ساری کی ساری کانپ گئی۔ ان میں سے کچھ گاڑھی گاڑھی سیال سی چیز ٹپک رہی تھی۔ موذیل اپنے ہونٹ کاٹنے لگی۔ غالباً وہ سوچ رہی تھی۔ جب یہ دونوں آدمی گلی کے دوسرے سرے پر پہنچ کر غائب ہوگیے تو اس نے ترلوچن سے کہا، ’’دیکھو، ایسا کرو۔۔۔ میں بھاگ کر نکڑ والی بلڈنگ میں جاتی ہوں۔۔۔ تم میرے پیچھے آنا۔۔۔ بڑی تیزی سے ، جیسے تم میرا پیچھا کررہے ہو۔۔۔ سمجھے۔۔۔ مگر یہ سب ایک دم جلدی جلدی میں ہو۔‘‘\n\nموذیل نے ترلوچن کے جواب کا انتظار نہ کیا اور نکڑ والی بلڈنگ کی طرف کھڑاؤں کھٹکھٹاتی بڑی تیزی سے بھاگی۔ ترلوچن بھی اس کے پیچھے دوڑا۔ چند لمحوں میں وہ بلڈنگ کے اندر تھے۔۔۔ سیڑھیوں کے پاس۔ ترلوچن ہانپ رہا تھا۔ مگر موذیل بالکل ٹھیک ٹھاک تھی۔ اس نے ترلوچن سے پوچھا، ’’کون سا مالا؟‘‘\n\nترلوچن نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری، ’’دوسرا۔‘‘\n\n’’چلو۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ کھٹ کھٹ سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ ترلوچن اس کے پیچھے ہولیا۔ زینوں پر خون کے بڑے بڑے دھبے پڑے تھے۔ ان کو دیکھ دیکھ کر اس کا خون خشک ہورہا تھا۔ دوسرے مالے پر پہنچے تو کوری ڈور میں کچھ دور جا کر ترلوچن نے ہولے سے ایک دروازے پر دستک دی۔ موذیل دور سیڑھیوں کے پاس کھڑی رہی۔ ترلوچن نے ایک بار پھر دستک دی اور دروازے کے ساتھ منہ لگا کر آواز دی۔\n\n’’مہنگا سنگھ جی۔۔۔ مہنگا سنگھ جی!‘‘\n\nاندر سے مہین آواز آئی، ’’کون؟‘‘\n\n’’ترلوچن!‘‘\n\nدروازہ دھیرے سے کھلا۔۔۔ ترلوچن نے موذیل کو اشارہ کیا۔ وہ لپک کر آئی دونوں اندر داخل ہوئے۔۔۔ موذیل نے اپنی بغل میں ایک دبلی پتلی لڑکی کو دیکھا۔۔۔ جو بے حد سہمی ہوئی تھی۔ موذیل نے اس کو ایک لحظے کے لیے غور سے دیکھا۔ پتلے پتلے نقش تھے۔ ناک بہت ہی پیاری تھی مگر زکام میں مبتلا۔ موذیل نے اس کو اپنے چوڑے چکلے سینے کے ساتھ لگا لیا اور اپنے ڈھیلے ڈھالے کرتے کا دامن اٹھا کر اس کی ناک پونچھی۔ ترلوچن سرخ ہوگیا۔ موذیل نے کرپال کور سے بڑے پیار کے ساتھ کہا، ’’ڈرو نہیں ، ترلوچن تمہیں لینے آیا ہے۔‘‘\n\nکرپال کور نے ترلوچن کی طرف اپنی سہمی ہوئی آنکھوں سے دیکھا اور موذیل سے الگ ہوگئی۔ ترلوچن نے اس سے کہا، ’’سردار صاحب سے کہو کہ جلدی تیار ہو جائیں۔۔۔ اور اپنی ماتا جی سے بھی۔۔۔ لیکن جلدی کرو۔‘‘ اتنے میں اوپر کی منزل پر بلند آوازیں آنے لگیں جیسے کوئی چیخ چلا رہا ہے اور دھینگا مشتی ہورہی ہے۔ کرپال کور کے حلق سے دبی دبی چیخ بلند ہوئی، ’’اسے پکڑ لیا انھوں نے!‘‘\n\nترلوچن نے پوچھا، ’’کسے؟‘‘\n\nکرپال کور جواب دینے ہی والی تھی کہ موذیل نے اس کو بازو سے پکڑ اور گھسیٹ کر ایک کونے میں لے گئی۔ ’’پکڑ لیا تو اچھا ہوا۔۔۔ تم یہ کپڑے اتارو۔‘‘\n\nکرپال کور ابھی کچھ سوچنے بھی نہ پائی تھی کہ موذیل نے آنا فانا اس کی قمیص اتار کر ایک طرف رکھ دی۔ کرپال کور نے اپنی بانھوں میں اپنے ننگے جسم کو چھپا لیا اور سخت وحشت زدہ ہوگئی۔ ترلوچن نے منہ دوسری طرف منہ موڑ لیا۔ موذیل نے اپنا ڈھیلا ڈھالا کرتا اتارا اور اس کو پہنا دیا۔ خود وہ ننگ دھڑنگ تھی۔ جلدی جلدی اس نے کرپال کور کا ازار بند ڈھیلا کیا اور اس کی شلوار اتار کر، ترلوچن سے کہنے لگی، ’’جاؤ، اسے لے جاؤ۔۔۔ لیکن ٹھہرو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے کرپال کور کے بال کھول دیے اور اس سے کہا، ’’جاؤ۔۔۔ جلدی نکل جاؤ۔‘‘\n\nترلوچن نے اس سے کہا، ’’آؤ۔‘‘ مگر فوراً ہی رک گیا۔ پلٹ کر اس نے موذیل کی طرف دیکھا جو دھوئے دیدے کی طرح ننگی کھڑی تھی۔ اس کی بانھوں پر مہین مہین بال سردی کے باعث جاگے ہوئے تھے۔\n\n’’تم جاتے کیوں نہیں ہو؟‘‘ موذیل کے لہجے میں چڑچڑاپن تھا۔\n\nترلوچن نے آہستہ سے کہا، ’’اس کے ماں باپ بھی تو ہیں۔‘‘\n\n’’جہنم میں جائیں وہ۔۔۔ تم اسے لے جاؤ۔‘‘\n\n’’اور تم؟‘‘\n\n’’میں آجاؤں گی۔‘‘\n\nایک دم اوپر کی منزل سے کئی آدمی دھڑا دھڑ نیچے اترنے لگے۔ دروازے کے پاس آکر انھوں نے اسے کوٹنا شروع کردیا جیسے وہ اسے توڑ ہی ڈالیں گے۔ کرپال کور کی اندھی ماں اور اس کا مفلوج باپ دوسرے کمرے میں پڑے کراہ رہے تھے۔ موذیل نے کچھ سوچا اور بالوں کو خفیف سا جھٹکا دے کر اس نے ترلوچن سے کہا، ’’سنو۔ اب صرف ایک ہی ترکیب سمجھ میں آتی ہے۔۔۔ میں دروازہ کھولتی ہوں۔۔۔‘‘\n\nکرپال کور کے خشک حلق سے چیخ نکلتی نکلتی دب گئی، ’’دروازہ۔‘‘\n\nموذیل، ترلوچن سے مخاطب رہی، ’’میں دروازہ کھول کر باہر نکلتی ہوں ، تم میرے پیچھے بھاگنا۔ میں اوپر چڑھ جاؤں گی۔ تم بھی اوپر چلے آنا۔ یہ جو لوگ جو دروازہ توڑ رہے ہیں ، سب کچھ بھول جائیں گے اور ہمارے پیچھے چلے آئیں گے۔۔۔‘‘\n\nترلوچن نے پھر پوچھا، ’’پھر؟‘‘\n\nموذیل نے کہا، ’’یہ تمہاری۔۔۔ کیا نام ہے اس کا۔۔۔ موقعہ پا کر نکل جائے۔۔۔ اس لباس میں اسے کوئی کچھ نہ کہے گا۔‘‘\n\nترلوچن نے جلدی جلدی کرپال کور کو ساری بات سمجھا دی۔ موذیل زور سے چلائی۔ دروازہ کھولا اور دھڑام سے باہر کے لوگوں پر گری۔۔۔ سب بوکھلا گیے۔ اٹھ کر اس نے اوپر کی سیڑھیوں کا رخ کیا۔ ترلوچن اس کے پیچھے بھاگا۔ سب ایک طرف ہٹ گیے۔\n\nموذیل اندھا دھند سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں۔۔۔ کھڑاؤں اس کے پیروں میں تھی۔۔۔ وہ جو لوگ جو دروازہ توڑنے کی کوشش کررہے تھے سنبھل کر ان کے تعاقب میں دوڑے۔ موذیل کا پاؤں پھسلا۔۔۔ اوپر کے زینے سے وہ کچھ اس طرح لڑھکی کہ ہر پتھریلے زینے کے ساتھ ٹکراتی، لوہے کے جنگلے کے ساتھ الجھتی وہ نیچے آرہی۔۔۔ پتھریلے فرش پر۔\n\nترلوچن ایک دم نیچے اترا۔ جھک کر اس نے دیکھا تو اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ کانوں کے رستہ بھی خون نکل رہا تھا۔ وہ جو دروازہ توڑنے آئے تھے اردگرد جمع ہوگیے۔۔۔ کسی نے بھی نہ پوچھا کیا ہوا ہے۔ سب خاموش تھے اور موذیل کے ننگے اور گورے جسم کو دیکھ رہے تھے۔ جس پر جا بجا خراشیں پڑی تھیں۔\n\nترلوحن نے اس کا بازو ہلایا اور آواز دی، ’’موذیل۔۔۔ موذیل۔‘‘\n\nموذیل نے اپنی بڑی بڑی یہودی آنکھیں کھولیں جو لال بوٹی ہورہی تھیں اور مسکرائی۔ ترلوچن نے اپنی پگڑی اتاری اور کھول کر اس کا ننگا جسم ڈھک دیا۔ موذیل پھرمسکرائی اور آنکھ مار کر اس نے ترلوچن سے منہ میں خون کے بلبلے اڑاتے ہوئے کہا، ’’جاؤ، دیکھو۔۔۔ میرا انڈر ویئر وہاں ہے کہ نہیں۔۔۔ میرا مطلب ہے وہ۔۔۔‘‘\n\nترلوچن اس کا مطلب سمجھ گیا مگر اس نے اٹھنا نہ چاہا۔ اس پر موذیل نے غصے میں کہا، ’’تم سچ مچ سکھ ہو۔۔۔ جاؤ دیکھ کر آؤ۔‘‘\n\nترلوچن اٹھ کر کرپال کور کے فلیٹ کی طرف چلا گیا۔ موذیل نے اپنی دھندلی آنکھوں سے آس پاس کھڑے مردوں کی طرف دیکھا اور کہا، ’’یہ میاں بھائی ہے۔۔۔ لیکن بہت دادا قسم کا۔۔۔ میں اسے سکھ کہا کرتی ہوں۔‘‘\n\nترلوچن واپس آگیا۔ اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں موذیل کو بتا دیاکہ کرپال کور جا چکی ہے۔۔۔ موذیل نے اطمینان کا سانس لیا۔۔۔ لیکن ایسا کرنے سے بہت سا خون اس کے منہ سے بہہ نکلا، ’’اوہ ڈیم اٹ۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنی مہین مہین بالوں سے اٹی ہوئی کلائی سے اپنا منہ پونچھا اور ترلوچن سے مخاطب ہوئی، ’’آل رائٹ ڈارلنگ۔۔۔ بائی بائی۔‘‘\n\nترلوچن نے کچھ کہنا چاہا، مگر لفظ اس کے حلق میں اٹک گیے۔ موذیل نے اپنے بدن پر سے ترلوچن کی پگڑی ہٹائی۔\n\n’’لے جاؤ اس کو۔۔۔ اپنے اس مذہب کو۔‘‘ اور اس کا بازو اس کی مضبوط چھاتیوں پر بے حس ہو کر گر پڑا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%B0%DB%8C%D9%84"} {"title": "مورنامہ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "دشت سے بستی میں آیا ایک مور\nزور تھا واں حسن کا رانی کے شور\nاڑ کے گھر راجا کے پہنچا بے قرار\nدیکھ اس کو ہوگیا حیران کار\nجاذبہ تھا حسن کا اس کے کمال\nجانور بھی ہوگیا محو جمال\nتھی نگہ رخسار پر حیرت کے ساتھ\nچشم تھی رفتار پر الفت کے ساتھ\nگر خرام ناز سے جی لے گئی\nخوش نگاہی جان تازہ دے گئی\nخستۂ انداز اس کا ہر بشر\nرفتہ اس کے ناز کا ہر جانور\nدیکھتا تھا سیر میں جلوہ گری\nجا نشینہ میں جو بیٹھی وہ پری\nروبرو جاکر ہوا وہ بھی کھڑا\nٹک ٹھہر کر مضطرب ہو گر پڑا\nاضطراب عشق نے تاثیر کی\nدل دہی کرنے اٹھی دل گیر کی\nپیار سے کہنے لگی مت ہو اداس\nپاس رہ میرے کروں گی میں بھی پاس\nتو ہے وحشی اس قدر مانوس ہے\nانس انساں کو نہ ہو افسوس ہے\nہے مزاج اپنے پرائے سے نفور\nبھاگوں ہوں مانند وحشی سب سے دور\nپاس رہنے سے ترے ہے دل خوشی\nہے بلا اس بال و پر میں دلکشی\nاس کشش کی تھی نہ مجھ کو کچھ خبر\nہوش اڑا کر لے گئی یہ مشت پر\nاب تو دل بھی لگ گیا ہے تیرے ساتھ\nیک بیک سب سے اٹھایا میں نے ہاتھ\nپاس رہ کر پاس ظاہر ہے ضرور\nآوے راجا گھر میں تو پھر دور دور\nوہ مبادا ربط سے ہو بدگماں\nدوستی ہو جاوے تیری خصم جاں\nرنگ رنگ اس عشق کے ہیں گے سلوک\nرنگ ہردم بدلے ہے کین ملوک\nرنگ صحبت دیکھ کر رنگ اور لائے\nاس کو چسپاں اختلاطی خوش نہ آئے\nدل ہی راجا کا جو بدبر ہو تو پھر\nترک ہی کرنا پڑے دونوں کو سر\nدل بلاے بد ہے جو چاہے کرے\nکچھ نہیں پروا اسے کوئی مرے\nدل نہ ہوتا تو نہ جاتی دل کی تاب\nدل بدن میں ایک ہے خانہ خراب\nدل سے کیسے کیسے گھر ویراں ہوئے\nلوگ کیا کیا بے سر و ساماں ہوئے\nدل اچٹے شہ فقیری کر گئے\nجنگلوں میں شہر سے جا مر گئے\nمرغ گلشن دل لگی آئے بگیر\nبے کلی سے اس کے ظاہر ہیں اسیر\nدل نہ ہوتا کاشکے اجسام میں\nکرنی تھی ایسی عطا اجرام میں\nکرتے تا معلوم قدر عافیت\nہوتی اس عالم کی بھی ایسی ہی گت\nمختلط رہنے سے بعد ازچند روز\nشور بدنامی اٹھا اک سینہ سوز\nکھل گئی غماز لوگوں کی زباں\nسب پہ ظاہر ہوگیا راز نہاں\nکان راجا کے بھرے دشمن ہوا\nبدگمان و بدبر و بدظن ہوا\nکار ظن بد کھنچا اک طول کو\nسمجھا نامعقول وہ معقول کو\nاب یوں ہی کرتا ہے ظاہرداریاں\nورنہ ہیں کینہ کی باتیں ساریاں\nدھوم رسوائی کی ہوئی اقران میں\nکسر شاں اس کی ہوئی اعیان میں\nآنا جانا گھر میں کا اب ہوچکا\nپاس ربط و رابطہ سب ہوچکا\nبدگمانی سے ہوا ہے کینہ ورز\nہے نمودار آنکھ سے خصمی کی طرز\nگھر میں لاتے ہیں کبھو تو گھیر کر\nبات کہتا ہے تو منھ کو پھیر کر\nراہ میں ہے یا کبھو پھر جائے ہے\nپھر گیا تو دیر میں پھر آئے ہے\nچار سو چھوٹے ہوئے جاسوس ہیں\nہم دگر کے درپئے ناموس ہیں\nمصلحت ہے دور رہ ٹک آج کل\nاس میں شاید مٹ بھی جاوے کل مکل\nسر پہ لایا ہے بلا آفت کا ربط\nجی بچے ہیں شوق کا گر ہووے ضبط\nدل لگی تو اک خدا کا ہے غضب\nاس سے پھر یارب ہے لب پر روز و شب\nدل گرفتہ دل شکستہ دل زدہ\nان نے مارے مرد کیا کارآمدہ\nبے دلاں بے دل رہے تو خوب ہے\nتن بدن میں ایسے اک آشوب ہے\nدل کے جائے ہی ملے ہے امتیاز\nاہل دل کہتے ہیں جو ہو دل گداز\nدل بلاے جاں ہے اے طاؤس ہائے\nاس کے پہلو سے ہے لب پر ہائے وائے\nہے گی یہ دل بستگی خانہ خراب\nدربدر پھرنے کا کر دیوے ہے باب\nخانہ ویرانی نہیں میری ہی اب\nہے خرابی جہاں کا دل سبب\nاپنے تو گھر بار کا ہے ہی فسوس\nگھر ترا بھی ویسے ہے بار خروس\nکیا اڑایا ہے تجھے اے مشت پر\nخاک سے لے کر گیا افلاک پر\nواں سے پٹکے دیکھیے کیونکر تجھے\nساتھ آوارہ کرے کیدھر مجھے\nسن کھڑا طاؤس سب سنتا رہا\nدرد و غم سے دیر سر دھنتا رہا\nبے زبانی تھی نہ کچھ کہنا بنا\nچپکے ہی آزردہ دل رہنا بنا\nحزن کے ساتھ اک حزیں آواز کی\nگرتے پڑتے دوقدم پرواز کی\nدیر سر دیوار سے مارا کیا\nصبر سے ناچار پھر چارہ کیا\nپاس سے کچھ دور ہی رہنے لگا\nجور ہجر یار کے سہنے لگا\nبے دل و آزردہ گاہے ہے کھڑا\nسر جھکائے گاہ یک سو ہے پڑا\nمضطرب ہو شور کرتا ہے گہے\nدل پہ رکھ دیتا ہے سر تا ٹک رہے\nدور دور اس سے پھرے الفت کے ساتھ\nپھر کے دیکھے اس طرف حسرت کے ساتھ\nآوے راجا یا نہ آوے یہ گیا\nصبر کرنا اس کو اس بن ہے بنا\nنوشکیبی دل لگی پر ہے عذاب\nجی ملے ڈالے ہیں غم کے پیچ و تاب\nعشق و بے صبری بہت مشکل ہے کام\nمرگ عاشق کا ہے یہ بھی ایک نام\nجی کے گھبرائے ہوا تھا پرفشاں\nطاقت پرواز اس میں تھی کہاں\nفرط دل تنگی سے ہوکر دل گرا\nاک پرافشانی میں سر کے بل گرا\nپاؤں میں نے زور تھا نے سر میں شور\nناتواں طاؤس تھا مانند مور\nدوڑی محبوبہ یہ اس کا حال دیکھ\nرہ سکی نہ عاشقانہ چال دیکھ\nاشک ریزاں سر پہ اس کے رو رکھا\nخوف طعن خلق کا یک سو رکھا\nہو تسلی جاتے بارے رہ گیا\nجان کا بھی ڈر کنارے رہ گیا\nچشم وا ہونے لگی اس زار سے\nکی نظر رانی کے منھ پر پیار سے\nسب لگے کہنے کہ اب تو یہ جیا\nجان رفتہ نے منھ ایدھر پھر کیا\nہوگئی چتون بھی اس کی اب درست\nپانی چھڑکو تاکہ ہووے گرم و چست\nچھرچھراوے پانی چھڑکے بال و پر\nاڑچلا رانی کا کہنا یاد کر\nکی نظر جاتے ادھر الفت بھری\nالفت ایسی جوکہ ہو حسرت بھری\nاس نظر سے رانی نے بھی رو دیا\nہوش سر سے صبر دل سے کھو دیا\nروتے روتے خواب گہ میں جا گری\nپھر نہ اس گھر میں کوئی دن آ پھری\nیہ گیا ہو پرفشاں دیوار پر\nبیٹھا لیکن منھ ادھر سے پھیر کر\nلوگ تا جانیں کہ یہ بھی ہے اداس\nپھر نہ آوے شاید اب رانی کے پاس\nواں سے اڑ کر ایک کوٹھے پر گیا\nگم ہوا واں ایسا جیسے مر گیا\nیاں کھلی نمام لوگوں کی زباں\nکہتے تھے راجا سے جا کیا کیا نہاں\nاختلاط ان دونوں کا ظاہر کیا\nاس حقیقت کا اسے ماہر کیا\nوہ تو کافر آگے ہی تھا سنگ دل\nاور ان کے کہنے سے ہو تنگ دل\nکہہ اٹھا میں فکر میں ہوں آج کل\nصاف دیتا ہوں مٹا سارا خلل\nجان سے ماروں گا میں اس مور کو\nپھر نہ سنیے گا کبھی اس شور کو\nہے یہی ہنگامہ آرا جانور\nقطع کے شایاں تھے اس کے بال و پر\nتا نہ آتا شہر میں یہ دشت سے\nباز رہتا ایسے سیر و گشت سے\nیوز کاش اس کو کوئی کرتا شکار\nشیربچہ اس کو رکھتا کوئی مار\nچشم سے ہردم پڑا ٹپکے ہے زہر\nاس کی چتون ہے بلاے شہر و دہر\nکج خرامی کا ہے فتنہ پیش خیز\nچلنا اس کا جوں چلے شمشیر تیز\nمت اسے حیوان صاحب جانیو\nبدبلا اس کو کہیں تو مانیو\nرقص سے ہنگامہ پردازی کرے\nپرفشاں ہو تو بداندازی کرے\nبولے تو آواز اس کی دل خراش\nکرم خوار و مار خوار و بدمعاش\nرانی تھی ناقص جو خود مائل ہوئی\nمفت لعن و طعن کی قائل ہوئی\nبن ملے اس کے رہے ہے وہ اداس\nمیں کھڑا رہنے نہ دوں اپنے تو پاس\nگھر میں آکر ان نے جو کی بود و باش\nتھی اسے خانہ خرابی کی تلاش\nرانی نے جو منھ لگایا سر چڑھا\nقدر سے مقدار سے آگے بڑھا\nپاؤں پھیلا گھر کا مالک ہوگیا\nاس روش سے اپنا ہالک ہوگیا\nاب نہ کریے اس کے تیں جب تک ہلاک\nگھر نہیں ہوتا نظر آتا ہے پاک\nاس میں گو رانی بھی جاوے جان سے\nوہ بھی خوش ہو میری کسر شان سے\nفکر میں طاؤس کی راجا رہا\nمنھ پہ رانی کے نہ ہرگز کچھ کہا\nکی تسلی اور تا کھاکر فریب\nہو شکیبا کوئی دن یہ ناشکیب\nقصہ کوتہ اڑ گیا یاں سے جو مور\nمنھ چھپا ایسا گیا جیسے کہ چور\nکس طرف جاتا رہا ہو پرفشاں\nکچھ نہ پیدا پھر ہوا اس کا نشاں\nکچھ خبر اس کی نہیں کیدھر گیا\nیاں کہیں جیتا ہے وہ یا مر گیا\nیہ تاسف رانی کا جی کھا گیا\nدل جو اس کا گل تھا سو مرجھا گیا\nکس سے پوچھے کس کنے جاکر کہے\nجوں خزاں کا پھول مرجھائی رہے\nکیا بہار عشق کے دیکھے ہے رنگ\nزرد اس کا ہے گل تر دل ہے تنگ\nآنکھیں اس کی دو گل عنبر عجب\nسو خبر کی راہ پر وا روز و شب\nآوے جو کوئی منھ اس کا تک رہے\nدیکھیں حیرانی اسے کب تک رہے\nوہ تو گم گشتہ کہیں پیدا نہیں\nیاں تسلی یہ دل شیدا نہیں\nبے کلی اس گل کو رہتی ہے کمال\nرنگ اڑے ہے مور کا کرتے خیال\nہوش سر سے جائے ہے پرواز کر\nہوتی ہے بے خود حزیں آواز کر\nغش پڑی رہتی ہے اس اوسیر میں\nپھر بحال آتی ہے ٹک تو دیر میں\nدل کی حالت ہے وہی اندوہ میں\nوہم لے جاتا ہے دشت و کوہ میں\nکہتی رہتی تھی کہ اے باد سحر\nلا کبھو طاؤس کی مجھ کو خبر\nجی اسے ڈھونڈے ہے پر پاتی نہیں\nاڑتی سی بھی یاں خبر آتی نہیں\nدل انھیں دو طرحوں میں ٹھہرے صبا\nیا اسے لا یا مجھے واں لے کے جا\nناقبول عشق ہوں میں تو ملول\nاس طرف آتی ہے گر باد قبول\nسن کے میرا حال ہوجاتی ہے سن\nگرم رفتن ہوتی ہے پھر سر کو دھن\nکام اس سے بھی نکلتا کچھ نہیں\nمجھ کو وہ ناکام چھوڑے ہے یہیں\nآئے ہے جو اس طرف باد دبور\nکچھ کچھ اس سے بھی کہا ہے بالضرور\nان غموں کا کچھ نہ دے کر وہ جواب\nسر جھکائے یاں سے نکلے ہے شتاب\nباد صرصر سے بھی درد دل کہا\nسرسری سا ان نے بھی کچھ سن لیا\nجھکڑ آیا اس سے بھی تھی گفتگو\nپھر نہ ایدھر رو کیا ان نے کبھو\nلگ چلے ہے مجھ سے گر رنگ ہوا\nگرم ہوکر اس سے میں کیا کیا کہا\nکہتے کہتے میں ہوئی یوں ہی سبک\nکی نہ ان باؤں نے تسکیں دل کی ٹک\nبے قراری دل کی میرے ہے وہی\nدرہمی ہے حال کی سو ہے یہی\nصبر ہوسکتا نہیں میں کیا کروں\nکب تلک بے طاقتی سے دن بھروں\nجی تو ٹک آتے ہی آتے رک گیا\nتن بدن آتش سے غم کی پھک گیا\nبے قراری سے کہوں کیا اے صبا\nجو نہ کہنا تھا سو تجھ سے میں کہا\nصبح کو جو آنکلتی ہے نسیم\nاس سے بھی ہے درمیاں حال سقیم\nوہ بھی کچھ کرتی نہیں دل کی دوا\nسن کے سب ہوجاتی ہے ووہیں ہوا\nجذب عشق اس جانور کا ہے بلا\nمجھ کو برگ خشک سا دے ہے اڑا\nجی کھنچا جاتا ہے میرا اس طرف\nکر رہے گا جاذبہ اس کا تلف\nآپ کو کھویا گیا پر مجھ کو بھی\nکر گیا کھویا گیا سا چلتے ہی\nرات دن آرام اب مجھ کو نہیں\nخواب و خور سے کام اب مجھ کو نہیں\nچت چڑھے گلہاے بال و پر ہیں اب\nچپ کہ بلبل میں ہوں نالاں روز و شب\nدرہمی حال طاؤس اب سنو\nعشق ہے تم کو بھی تو ٹک سر دھنو\nیاں سے وہ واسوختہ اڑتا گیا\nدیر اس کا منھ ادھر مڑتا گیا\nپھر نہ ظاہر کچھ ہوا کیدھر گیا\nوادی آبادی کہیں جا مر گیا\nالغرض اک بن میں جا پنہاں رہا\nدل جو آگے ہی گیا تھا یاں رہا\nآب و دانے کی نہ کرتا تھا تلاش\nدل ہی کے غم سے کیا کرتا معاش\nسرنگوں افتادہ رہتا دیر دیر\nغم سے محبوبہ کے ہی ہوتا تھا سیر\nحیرتی عشق واں رہتا رہے\nآتی جاتی باؤ سے کہتا رہے\nجائے تو رانی سے کہیو واشگاف\nپھیکے خط کے حرف سا مٹتا ہوں صاف\nکیا لکھوں میں تو نہیں دست و قلم\nپھر نہیں ہے محرم آلام و غم\nاب تلک جیتا تو ہوں پر زندگی\nدور تجھ سے ہوگئی شرمندگی\nآنکھیں رہتی ہیں لگی تیری ہی اور\nکرتا ہوں اندھا سا میں فریاد و شور\nشور و فریاد آہ دونوں بے اثر\nتجھ تلک پہنچیں تو دے مجھ کو خبر\nصبر ٹک کرتا نہیں میں ناصبور\nاب کھنچا ہے کام بیتابی کا دور\nباؤ اودھر کی جو آتی ہے کبھو\nمنھ ادھر کرتی نہیں بیگانہ خو\nیاں سے جز صرصر کوئی جاتا نہیں\nسرسری بھی پھر ادھر آتا نہیں\nاڑ کے پہنچوں کس طرح تیرے کنے\nسست بال و پر دل و جاں انمنے\nشوق ہردم کھینچے ہے اودھر مجھے\nہے نصیبوں میں تو دیکھوں گا تجھے\nکوئی جھکڑ آنکلتا ہے کبھو\nدیر اس سے رہتی ہے یہ گفتگو\nکہیو جو ہو اس طرف تیرا گذر\nمور اک جنگل میں کرتا تھا بسر\nسر میں اس کے عشق کا سا شور ہے\nمضطرب دن رات نالاں زور ہے\nزارنالی سے طیور اس دشت کے\nترک کرنے پر ہیں سیر و گشت کے\nشور سے ہوتا ہے جب وہ نالہ کش\nطائر اس جنگل کے کر جاتے ہیں غش\nاب کوئی اس راہ سے جاتا نہیں\nجانکلتا ہے تو پھر آتا نہیں\nصبح اس کے نالوں سے ہے دھوم دھام\nطائروں کا شام تک ہے ازدحام\nشور کرتے کرتے پھاٹا ہے گلا\nاب جو نالے کرتا ہے سو تلملا\nپاؤں پر پھیلاکے جب کھینچے ہے دم\nآہوان دشت کر جاتے ہیں رم\nروکے درندہ کسو کے کب رکے\nخاک کے نیچے گزندہ جا چھپے\nشور الحاصل ہے اس کا چار سو\nشہر و دہ میں اب یہی ہے گفتگو\nراو راجا سب کے ہاں مذکور ہے\nمور کا سررفتہ پر مشہور ہے\nرفتہ رفتہ یہ خبر یاں آگئی\nرانی بھی سن گن کہیں سے پا گئی\nآئی دل میں فکر جاں طاؤس کی\nکشتہ مردہ ہوگئی افسوس کی\nکین راجا کا خیال آیا اسے\nکیا کہوں کیا کیا ملال آیا اسے\nگر پڑی غش کر گئی مرجھا گئی\nناگہاں مانند گل کمھلا گئی\nکیا خبر آئی کہ وہ تھی بے خبر\nچوٹ کیسی پڑگئی تھی جان پر\nبات منھ سے کچھ نکلتی ہی نہ تھی\nدیر گذری تھی سنبھلتی ہی نہ تھی\nکھل گئیں آنکھیں جو دل پر تھا بہت\nکیا کرے ہاتھوں تلے رکھا بہت\nہر طرف کی حسرت آلودہ نگاہ\nلب پہ آئی ناتواں سینے سے آہ\nآہ کر پوچھا کہ راجا ہیں کہاں\nان کے کینے سے مجھے ہے خوف جاں\nیہ خبر ان کو نہ پہنچی ہووے کاش\nوے تو جی ماریں گے اس کا کر تلاش\nبدگمانی کا کھنچا ہے دور کام\nمور کا لیتا نہیں کینے سے نام\nمجھ پہ بھی اس جرم سے آیا غضب\nکشت و خوں کے سب ہیں درپے اس سبب\nیہ لگائی لاگ سے لوگوں نے آگ\nگھر جلاتی رہتی ہے آگے سے لاگ\nدیکھیے کیا درمیاں آوے سلوک\nآگ ہے بھڑکی ہوئی کین ملوک\nلوگوں کی پھر اشتعالک دم بدم\nقہر ہے بیداد ہے ظلم و ستم\nآج کل سے یہ تو آئی ہے خبر\nجب نہ تب ہیں گوش راجا کے ادھر\nکلول ایسے جان پر سے کیا ٹلے\nکیا عجب آنکھیں ملے پاؤں تلے\nہم کو پاتا ہے چھری پاتا نہیں\nکب پئے خوں ریز یاں آتا نہیں\nدشمنی کی بات ہی کچھ اور ہے\nنے ترحم ہے نہ مطلق غور ہے\nجانور کا انس کچھ ثابت نہیں\nانس انساں کی سی یہ تہمت نہیں\nغیرت اپنی بھی نہیں ہے مقتضی\nجیتی رہتی عشق کی ہو تہمتی\nزندگانی کیا ہے جب غیرت گئی\nمفت ذلت ہوگئی عزت گئی\nجب تلک آئی نہیں جیتے ہیں ہم\nلوہو اپنا ہر زماں پیتے ہیں ہم\nجو مخاطب تھا کہا ان نے کہ ہاں\nاس خبر کا اب نہیں اودھم کہاں\nسن کے راجا نے کہا یہ اس کی دھوم\nدامداروں کو بلا کاے قوم شوم\nلو خبر ہے کس طرف وہ خارزار\nآپ جاؤں گا ادھر بہر شکار\nگوکہ ہو وہ بادیہ پر شر و شور\nراہ چلتے ہوں عصا سے مار و مور\nہر طرف راجا کے پہنچے دامدار\nہو تلاشی تا کدھر ہے دشت خار\nصیدپیشہ وے گئے ہر چار اور\nدیکھیں کس جنگل میں ہے وہ مورشور\nکس بیاباں میں ہے اس کی بود و باش\nکون سے ہے دشت و بر میں بدمعاش\nراہ میں ان سب کو یہ آئی خبر\nجس بیاباں میں ہے وہ تفتہ جگر\nخار کا جنگل نہیں ہے دشت مار\nروز روشن میں بھی ہے تیرہ و تار\nدم کش اژدر نکلے ہے گر سیر کو\nدور سے کھینچے ہے وحش و طیر کو\nجلتے ہیں آتش زبانی سے بہت\nپتلے ہوجاتے ہیں پانی سے بہت\nیعنی دم سے طیر ہوتے ہیں گداز\nہے زبانہ آگ کا اس کی دراز\nایسے ایسے سو پھریں ہیں واں سدا\nجن کی وحش و طیر ہے اکثر غذا\nاور بھی رہتے ہیں واں اقسام مار\nگھر انھوں کے ہیں اسی جنگل کے غار\nہے عجب ماروں میں مور آکر رہے\nمار بھی پھر کیسے اژدر اژدہے\nمرغ کر جاتے ہیں مرغ انداز دس\nکیا کریں اک مور کے کھانے سے بس\nمار کھاجا مور کا ہے یاں کے مار\nمور دس دس کھا گئے ہیں ایک بار\nگرد ہے اس دشت کے کوہ گراں\nاس سے اژدر جھانکے ہے پیدا نہاں\nجانور اڑتے جو ڈھب پر آگئے\nچار چار ایک ایک ان کو کھا گئے\nہے زمانے سے بھی دھیمی ان کی چال\nجن کے ہیں کیڑے مکوڑے پائمال\nجیب کو اپنی گزوں تک دیں ہیں طول\nخشت و سنگ و خاک تک کھاویں اکول\nان کے چاٹے دشت میں کم ہیں درخت\nچٹ کیے ہیں کوہ تک کے سنگ سخت\nماریے پتھرچٹے مشہور ہیں\nریزہ دنداں ان کے پتھر چور ہیں\nقدرت حق سے رہا ہے ان میں مور\nپھر قیامت کا سا اس کے سر میں شور\nمور کیا چوری چھپے آیا ہے یاں\nعشق کا اعجاز اسے لایا ہے یاں\nفتنہ در سر عشق کے یہ کام ہیں\nمور اژدر رانی راجا نام ہیں\nعشق ہے ہنگامہ ساز شور و شر\nقصے قضیے عشق سے ہیں مختصر\nدشت ماراں خاک ہوگا جل جلا\nاژدہے مر جائیں گے سب تلملا\nبھیڑ لے کر ساتھ راجا آئے گا\nکل مکل میں مور مارا جائے گا\nخاک میں مل جائے گا کوہ گراں\nخاک سی اڑ جائے گی آخر کو واں\nرانی ہوگی فرط غیرت سے ستی\nجانور کے عشق کی ہے تہمتی\nطعن مردم سے ہوئی ہے بسکہ تنگ\nزندگی کو جانتی ہے اپنا ننگ\nرفتہ رفتہ راجا کا گھر جائے گا\nعشق کام ان پردوں میں کر جائے گا\nلے گئے القصہ جاسوساں خبر\nجیتے مرتے پہنچے کچھ راجا کے گھر\nکی حقیقت اس جگہ کی تب بیاں\nحال واں کا ہوگیا سب پر عیاں\nراہ کی مشکل گذاری سب کہی\nسننے والے لوگوں کو حیرت رہی\nجنگلوں میں خارزاری نقل کی\nراہ واں نکلی نہ ہرگز عقل کی\nدشت ہر یک خارزار لق و دق\nپاؤں چلتے چلتے جاسوسوں کے شق\nسختی سنگستاں کی بیش از بیش تھی\nسالکوں کی واں کف پا ریش تھی\nغنچہ غنچہ اک بیاباں میں تھے خار\nغیر گل خار وھاں برگ اور نہ بار\nپاؤں ریگستاں میں تا زانو جلے\nراہ سر کے بھل کوئی کیوں کر چلے\nگرم تر اک دشت میں تھا آفتاب\nسایہ واں پیدا نہ تھا نے قطرہ آب\nتشنگی سے کیا عجب ہے غش بھی ہو\nآب تو واں تھا نہ جو لب چش بھی ہو\nشہری اس کے شور سے یکسر تھے داغ\nنکلے تھے دس بیس ہم بہر سراغ\nپھرتے پھرتے جنگلوں میں تھک گئے\nکتنوں کے تیں شیر و اژدر بھک گئے\nچلتے چلتے دور تک آئے نکل\nپڑ گئے تھے آبلے تلووں میں چل\nاور ابھی جنگل بڑے درپیش ہیں\nپاؤں دونوں شل ہیں تلوے ریش ہیں\nدیکھیے ہوتا ہے واں کیونکر نباہ\nہے بہت مشکل گذر کانٹوں سے راہ\nہر قدم خطرہ کہ ہیں شیر و پلنگ\nاس پہ سر ماریں کہ رہ پرخار و سنگ\nپھر تراکم چار سو اشجار کا\nپھر ہراس اس میں گڑھے کا غار کا\nہاتھی ارنے خوک کی واں باش و بود\nکرگدن کی دھوم سے اکثر نمود\nہیں بیاباں مہلکی یہ تو سبھی\nزندگی کیونکر کرے واں آدمی\nقافلہ جاسوسوں کا اودھر چلا\nآدھا پر واں سو گیا گذرا کھپا\nزندگی سے جمع یہ مایوس ہے\nہر خطرگہ خانۂ جاسوس ہے\nکیا کرے جو رزق یوں مقسوم ہے\nواں ملے مرنا جہاں معلوم ہے\nکچھ ہو دشت مار تک جانا ہمیں\nمور کی واں سے خبر لانا ہمیں\nآب و دانہ لے چلا ہے اب تو واں\nآب و دانہ کچھ نہیں ملتا جہاں\nدیکھیے جانا ہو کیونکر اتفاق\nبھوکوں مرنا راہ چلنے میں ہے شاق\nسوچ کر آپس میں وے آگے گئے\nدن گئے تھے رات بھی جاگے گئے\nراہ میں دو چار فاقے بھی کیے\nکتنے ان میں سے موئے کتنے جیے\nطے ہوئے وے دشت جوں ہی ہولناک\nدشت ماراں پہنچے کچھ بے خوف و باک\nدیکھی اس کے ناحیہ میں ایک دھوم\nتھا چرندوں کا درندوں کا ہجوم\nجمع رہتے تھے طیور دشت بھی\nصبح سے تھی ترک سیر و گشت بھی\nشور بیتابی سے بعضے تھے دہم\nسن کے نالے بعضے کر جاتے تھے رم\nحزن سے ہوتا ہے جس دم نالہ کش\nپاس ہی کچھ جانور کرتے ہیں غش\nدیکھ وا منقار اس کی رحم کر\nکچھ نہ کچھ رکھ دیتے منھ میں جانور\nکوئی دانہ بوند پانی گھاس پات\nکاٹتا تھا اس طرح دن اور رات\nیا رکا تو سست سی پرواز کی\nاس بیاباں میں حزیں آواز کی\nکچھ اڑا بیتاب کچھ رکنے لگا\nسنگریزے کنکری چکنے لگا\nگر کہیں دوچار دانے پا گیا\nشکر کر اپنی زباں میں کھا گیا\nجو کسو تالاب سے پانی پیا\nآسماں کی اور منھ اپنا کیا\nتو نہ دے تو یعنی مجھ کو کون دے\nپرشکستہ کی خبر یوں کون لے\nسن کے راجا یہ خبر شاداں ہوا\nخشمگیں تر خانہ آباداں ہوا\nحکم کش لوگوں سے اپنے یہ کہا\nدیر اس موذی کے غم میں میں رہا\nاب یہ مژدہ لائے ہیں جاسوس جا\nان بنوں میں ایک بن میں وہ بھی تھا\nمجھ کو جانا اس طرف کا ہے اہم\nکھا گیا ہے جان اس دشمن کا غم\nلوگ میرے گرچہ ہیں حاضریراق\nپھر رکھو کچھ اور بھی بہر یساق\nجنگ حیوانات سے ہے بیشتر\nہیں طرف اژدر نمر شیراں شتر\nیہ لڑائی طول کو گر کھنچ گئی\nہمت مردانہ سنیو ہچ گئی\nہے لڑائی سخت کوہستان کی\nپھر بہم حیوان اور انسان کی\nمنھ پسارے اژدہے ہیں گرم جنگ\nکھینچ کر نگلے ہیں دم سے خشت و سنگ\nآئے ہاتھی بھی اتر گر کوہ سے\nہوسکے گا پھر نہ کچھ انبوہ سے\nہوگیا باراہ سد راہ گر\nلیویں گے جاکر نفر راہ دگر\nہو اگر جاموش دشتی سے مصاف\nتو کوئی دم ہی کو ہے میدان صاف\nکرگدن آکر اگر ہوگا طرف\nتو الٹ دیوے گا کوئی صف کی صف\nمنھ چڑھیں گے اس کے مردم کم بہت\nاک طرف ہو جاوے گا عالم بہت\nہوگئی گر خرس سے استادگی\nدرمیاں آجائے گی افتادگی\nمنھ اگر گرگ بغل زن آگیا\nدیکھیو پیٹھ اک جہاں دکھلا گیا\nیوز و گرگ و شیر اگر آجائیں گے\nبددلوں کی فوج کو کھا جائیں گے\nمست ہاتھی ہوگئے چہرہ اگر\nمنھ چھپا لیں گے سپاہی بیشتر\nسامنے ہوگا اگر مار سیاہ\nسامنے اس کے نہ ہووے گی سپاہ\nگرم کیں اژدر کوئی گر آگیا\nکھا گیا چٹ کر گیا جیتا گیا\nلوگ رکھو الغرض صاحب جگر\nپہنچیں سر پر مدعی کے بیشتر\nجدول ان کی تیغ کی جاری رہے\nان کی تردستی سے وہ عاری رہے\nساتھ راجا کے گیا جم غفیر\nہم صغیر و ہم جوان و ہم کبیر\nراوراجا ساتھ جب سارے گئے\nکچھ نہ بولے شرم کے مارے گئے\nمنزلیں طے ہوکے آئے دشت و در\nاترے واں جا لوگ لشکر سربسر\nبھڑکی آتش عشق کی جنگل جلے\nدوں لگا وہ طائر و اژدر چلے\nآگ پھیلی ان بنوں میں دور تک\nجل گئے حیواں کئی لنگور تک\nمار و اژدر اژدہے بھلسے گئے\nشیر و گرگ و کرگدن جھلسے گئے\nجل گیا طاؤس بھی اس آگ میں\nجی گئے بہتیرے دل کی لاگ میں\nمور کا مردہ گیا راجا کے پاس\nاور جھلسے بھلسے طائر بے حواس\nپھر پڑی جو آگ سب لشکر جلا\nاور راجا کا بھی اودھر گھر جلا\nیعنی رانی نے سنی جو یہ خبر\nآتش غم سے جلا اس کا جگر\nکھینچ آہ سرد یہ کہنے لگی\nعشق کی بھی آگ کیا بہنے لگی\nبن جلا کر بستیوں میں آلگی\nپھیل کر یاں دل جگر کو جالگی\nجمع کر خاشاک و خار و خس شتاب\nجل گئی دے آگ وہ بھی بس شتاب\nکیا لگی تھی دل کو رانی جل گئی\nخاک ہوکر خاک ہی میں رل گئی\nعشق ہی کی ہیں یہ تازہ کاریاں\nعشق نے پردے میں جانیں ماریاں\nمور کے بدلے جلایا دشت مار\nمار و اژدر جل گئے چندیں ہزار\nجل کے لشکر ہوگیا تھا بے چراغ\nیہ خبر سن ہوگیا راجا بھی داغ\nعشق سے کیا میرؔ اتنی گفت و گو\nخاک اڑا دی عشق نے ہر چار سو\nدرمیاں نے کوہ نے انبوہ ہے\nرانی کا راجا کا اب اندوہ ہے\nطائر و طاؤس و حیواں اژدہے\nسب کھپے کیا عشق کی کوئی کہے\nیہ فسانہ رہ گیا عالم کے بیچ\nبازماندہ ان کے ہیں سب غم کے بیچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81"} {"title": "موسم برسات کی صبح", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آج جس وقت مجھے تم نے جگایا اماں\nاپنے اور نیند کے پہلو سے اٹھایا اماں\nآسماں کملی تھا اوڑھے ہوئے کالی کالی\nتازگی اور سفیدی سے فضا تھی خالی\nنہ اندھیرا ہی تھا شب کا نہ اجالا دن کا\nرات کے گرد نظر آتا تھا ہالا دن کا\nایک بلندی کی کڑک پستی کو دھندلاتی تھی\nدل ہلاتی ہوئی آواز سنی جاتی تھی\nصبح ہر چار طرف روتی ہوئی پھرتی تھی\nاپنا منہ آنسوؤں سے دھوتی ہوئی پھرتی تھی\nجیسے ننہا سا میں بیٹا ہوں تمہارا اماں\nایسے ہی صبح کا اک لال ہے پیارا اماں\nجیسے میں کھیلنے جاتا ہوں بہت دور کہیں\nایسے ہی شرق میں ہے آج وہ مستور کہیں\n\nکھو گیا ہے نظر آتا نہیں بچہ اس کا\nڈھونڈھتی لاکھ ہے پاتا نہیں بچہ اس کا\nدیکھو تو صبح کا دل سرد ہے بے نور ہے آنکھ\nاپنے بچہ کے تصور ہی سے معمور ہے آنکھ\nمجھ کو جانے دو کہ میں ڈھونڈ کے لاؤں اس کو\nغم زدہ صبح کے پہلو میں بٹھاؤں اس کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D8%A8%D8%AD"} {"title": "موسم کی شرارت", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "شام کو سیر کے لیے نکلا اور ٹہلتا ٹہلتا اس سڑک پر ہو لیا جو کشمیر کی طرف جاتی ہے۔ سڑک کے چاروں طرف چیڑ اور دیودار کے درخت، اونچی اونچی پہاڑیوں کے دامن پر کالے فیتے کی طرح پھیلے ہوئے تھے۔ کبھی کبھی ہوا کے جھونکے اس فیتے میں ایک کپکپاہٹ سی پیدا کر دیتے۔\n\nمیرے دائیں ہاتھ کو ایک اونچا ٹیلہ تھا جس کے ڈھلوانوں میں گندم کے ہرے پودے نہایت ہی مدھم سرسراہٹ پیدا کر رہے تھے یہ سرسراہٹ کانوں کو بہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔ آنکھیں بند کر لو تو یوں معلوم ہوتا کہ تصور کے گدگدے قالینوں پر کئی کنواریاں، ریشمی ساڑی پہنے چل رہی ہیں۔ ان ڈھلوانوں کے بہت اوپر، چیڑ کے اونچے درختوں کا ایک ہجوم تھا۔ بائیں طرف سڑک کے بہت نیچے ایک چھوٹا سا مکان تھا جس کو جھاڑیوں نے گھیر رکھا تھا اس سے کچھ فاصلے پر پست قد جھونپڑے تھے،جیسے کسی حسین چہرے پر تل۔\n\nہوا گیلی اور پہاڑی گھاس کی بھینی بھینی باس سے لدی ہوئی تھی۔ مجھے اس سیر میں ایک ناقابلِ بیان لذت محسوس ہو رہی تھی۔\n\nسامنے ٹیلے پر دو بکریاں بڑے پیار سے ایک دوسری کو اپنے ننھے ننھے سینگوں سے ریل رہی تھیں۔ ان سے کچھ فاصلے پر کتے کا ایک پلا جو کہ جسامت میں میرے بوٹ کے برابر تھا، ایک بھاری بھرکم بھینس کی ٹانگ سے لپٹ لپٹ کر اسے ڈرانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ شاید بھونکتا بھی تھا۔ کیونکہ اس کا منہ بار بار کھلتا تھا۔ مگر اس کی آواز میرے کانوں تک نہیں پہنچتی تھی۔\n\nمیں یہ تماشا دیکھنے کے لیے ٹھہر گیا۔ کتے کا پلا دیر تک بھینس کی ٹانگوں پر اپنے پنجے مارتا رہا مگر اس کی ان دھمکیوں کا اثر نہ ہوا۔ جواب میں بھینس نے دو تین مرتبہ اپنی دم ہلا دی اور بس۔۔۔! لیکن ایکا ایکی جب کہ پلاحملے کے لیے آگے بڑھ رہا تھا، بھینس نے زور سے اپنی دم ہلائی۔ کسی سیاہ سی چیز کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ اس انداز سے اچھلا کہ مجھے بے اختیار ہنسی آ گئی۔میں ان کو چھوڑ کر آگے بڑھا۔\n\nآسمان پر بادل کے سفید ٹکڑے،پھیلے ہوئے بادبان معلوم ہوتے تھے جن کو ہوا ادھر سے ادھر دھکیل رہی تھی۔ سامنے پہاڑ کی چوٹی پر ایک قد آور درخت سنتری کی طرح اکڑا ہوا تھا،اس کے پیچھے بادل کا ایک ٹکڑا جھوم رہا تھا۔ بادل، یہ دراز قد درخت اور پہاڑی۔۔۔ تینوں مل کر بہت بڑے جہاز کا منظر پیش کر رہے تھے۔\n\nمیں نیچر کی اس تصویر کشی کو دم بخود ہو کر دیکھ رہا تھا کہ دفعتاً لاری کے ہارن نے مجھے چونکا دیا۔ خیالوں کی دنیا سے اتر کر میں آوازوں کی دنیا میں آ گیا، من کی آنکھیں بند ہو گئیں، مساموں کے سارے کان کھل گئے، میں فوراً سڑک کے ایک طرف ہٹ گیا۔\n\nلاری، پر کار کی طرح، بڑی تیزی سے موڑ کے نصف دائرے پرگھومی اور ہانپتی ہوئی میرے پاس سے گزر گئی۔ایک اور لاری گزرنے پر موڑ کے عقب میں پانچ چھ گائیں نمودار ہوئیں، جو سر لٹکائے ہولے ہولے چل رہی تھیں، میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا۔ جب یہ میرے آگے سے گزر گئیں تو میں نے قدم اٹھایا اور موڑ کی جانب بڑھا۔چند گزوں کا فاصلہ طے کرنے پر جب میں سڑک کے بائیں ہاتھ والے ٹیلے کے ایک بہت بڑے پتھر کے آگے سے نکل گیا جو موڑ پر سنگین پردے کا کام دے کر، سڑک کے دوسرے حصّے کو بالکل اوجھل کیے ہوئے تھا تو دفعتاً میری نظریں ایک خود رو پودے سے دو چار ہوئیں۔\n\nوہ جوان تھی، اس گائے کی طرح جوان، جس کے پٹھے جوانی کے جوش سے پھڑک رہے تھے اور جو اس کے پاس سے اپنے اندر ہزاروں کپکپاہٹیں لیے گزر رہی تھی۔۔۔ میں ٹھہر گیا۔وہ ایک ننھے سے بچھڑے کو ہانک رہی تھی۔ دو تین قدم چل کر بچھڑا ٹھہر گیا اور اپنی جگہ پر ایسا جما کہ ہلنے کا نام نہ لیا۔ لڑکی نے بہتیرے زور لگایا، لاکھ جتن کیے، وہ ایک قدم آگے نہ بڑھا اور کان سمیٹ کر ایسا خاموش ہواگویا وہ کسی کی آواز ہی نہیں سنتا۔ یہ تیور دیکھ کرلڑکی نے اپنی چھڑی سے کام لینا چاہامگر چیڑ کی پتلی سی ٹہنی کار آمد ثابت نہ ہوئی۔ تھک ہار کر اس نے بڑی مایوسی اور انتہائی غصّے کی ملی جلی حالت میں اپنے دونوں پاؤں زمین پر زور سے مارے اور کاندھوں کو جنبش دے کر اس انداز سے کھڑی ہو گئی گویا اس حیوان سے کہنا چاہتی ہے:لو اب ہم یہاں سے ایک انچ نہ ہلیں گے۔\n\nمیں ابھی لڑکی کی اس پیاری حرکت کو، مزا لینے کی خاطر ذہن میں دہرانے ہی والا تھا کہ دفعتاً بچھڑا خود بخود اٹھ بھاگا۔ وہ اس تیزی کے ساتھ دوڑ رہا تھا کہ اس کی کمزور ٹانگیں میز کے ڈھیلے پایوں کی طرح لڑکھڑا رہی تھیں۔ لڑکی بچھڑے کی اس شرارت پر بہت متحیر اور خشمناک ہوئی۔ نہ جانے میں کیوں خوش ہوا۔ اسی اثنا میں اس نے میری طرف دیکھا اور میں نے اس کی طرف۔ ہم دونوں بیک وقت ہنس پڑے۔ فضا پر تاروں کا چھڑکاؤ سا ہو گیا۔\n\nیہ سب کچھ ایک لمحے کے اندر اندر ہوا۔ اس نے پھر میری طرف دیکھامگر اس دفعہ سوال کرنے والی لاج بھری آنکھوں سے۔۔۔ شاید اس کو اب اس بات کا احساس ہوا تھا کہ اس کی مسکراہٹ کسی غیر مرد کے تبسم سے جا ٹکرائی ہے۔وہ گہرے سبز رنگ کا دوپٹا اوڑھے ہوئے تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ آس پاس کی ہریاول نے اپنی سبزی اسی سے مستعار لی ہے۔ اس کی شلوار بھی اسی رنگ کی تھی۔ اگر وہ کرتہ بھی اسی رنگ کا پہنے ہوتی تو دور سے دیکھنے والے یہی سمجھتے کہ سڑک کے درمیان ایک چھوٹا سا درخت اگ رہا ہے۔\n\nہوا کے ملائم جھونکے اس کے سبز دوپٹے میں بڑی پیاری لہریں پیدا کر رہے تھے۔ خود کو بےکار کھڑی دیکھ کر اور مجھ کو اپنی طرف گھورتے پا کر وہ بے چین سی ہو گئی اور ادھر ادھر یوں ہی دیکھا کی، جیسے کسی کا انتظار کر رہی ہے۔ پھر اپنے دوپٹے کو سنوار کر اس نے اس طرف کا رُخ کیاجدھر گائیں آہستہ آہستہ جا رہی تھیں۔\n\nمیں اس سے کچھ فاصلے پر بائیں ہاتھ ان پتھروں کے پاس کھڑا تھا جو سڑک کے کنارے کنارے دیوار کی شکل میں چنے ہوئے تھے۔جب وہ میرے قریب آئی۔تو غیر ارادی طور پر اس نے میری طرف نگاہیں اٹھائیں لیکن فوراً سر کو جھٹک کر نیچے جھکا لیں۔ کولھے مٹکاتی اور چھڑی ہلاتی میرے پاس سے یوں گزری جیسے کبھی کبھی میرا اپنا خیال میرے ذہن سے اپنا کاندھا رگڑ کر گزر جایا کرتا ہے۔\n\nاس کے سلیپر جو غالباً اس کے پاؤں میں کھلے تھے، سڑک پر گھسٹنے سے شور پیدا کر رہے تھے۔ تھوڑی دور جا کر اس نے اپنے قدم تیز کیے اور پھر دوڑنا شروع کر دیا۔ بیس پچیس گز کے فاصلے پر وہ پتھروں سے چنی ہوئی دیوار پر پھرتی سے چڑھی اور مجھے ایک نظر دیکھ کر دوسری طرف کود گئی۔ پھر دوڑ کر ایک جھونپڑے پر چڑھ کر، منڈیر پر بیٹھ گئی۔\n\nاس کی یہ حرکات۔۔۔ یعنی۔۔۔ یعنی۔۔۔ میری طرف اس کا تین بار دیکھنا۔۔۔ کیا اس کی مسکراہٹ کے ساتھ میرے تبسّم کے کچھ ذرے تو نہیں چمٹ گئے تھے۔۔۔ اس خیال نے میری نبض کی دھڑکن تیز کر دی۔ تھوڑی دیر کے بعد مجھے تھکاوٹ سی محسوس ہونے لگی۔ میرے پیچھے جھاڑیوں میں جنگل کے پنچھی گیت برسا رہے تھے۔ ہوا میں گھلی ہوئی موسیقی مجھے کس قدر پیاری معلوم ہوئی۔ نہ جانے میں کتنے گھونٹ اس راگ ملی ہوئی ہوا کے، غٹاغٹ پی گیا۔\n\nجھونپڑے سے کچھ دور جھاڑیوں کے پاس لڑکی کی گائیں گھاس چر رہی تھیں۔ ان سے پرے پتھریلی پگڈنڈی پر ایک کشمیری مزدور گھاس کا گٹھا کمر پر لادے اوپر چڑھ رہا تھا۔ دور۔۔۔ بہت دور ایک ٹیلے سے دھواں بل کھاتا ہوا آسمان کی نیلاہٹ میں گھل مِل رہا تھا۔ میرے گردوپیش پہاڑیوں کی بلندیوں پر ہرے ہرے چیڑوں اور سانولے پتھروں کے چوڑے چکلے سینوں پر: ڈوبتے سورج کی زریں کرنیں، سیاہ اور سنہرے رنگ کے مخلوط سائے بکھیر رہی تھیں۔ کتنا سندر اور سہانا سماں تھا۔میں نے اپنے آپ کو عظیم الشان محبت میں گھرا ہوا پایا۔\n\nوہ جوان تھی۔ اس کی ناک اس پنسل کی طرح سیدھی اور ستواں تھی جس سے میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، اس کی آنکھیں۔۔۔ میں نے اس جیسی آنکھیں بہت کم دیکھی ہیں اس پہاڑی علاقے کی ساری گہرائیاں ان میں سمٹ کر رہ گئی تھیں۔ پلکیں گھنی اور لمبی تھیں۔ جب وہ میرے پاس سے گزری تھی تو دھوپ کی ایک لرزاں شعاع اس کی پلکوں میں الجھ گئی تھی۔ اس کا سینہ مضبوط اور کشادہ تھا۔ اس میں جوانی سانس لیتی تھی۔ کاندھے چوڑے، باہیں گول اور گدراہٹ سے بھرپور، کانوں میں چاندی کے لمبے لمبے بُندے تھے،ال دیہاتیوں کی طرح سیدھی مانگ نکال کر گندھے ہوئے تھے جس سے اس کے چہرے پر وقار پیدا ہو گیا تھا۔\n\nوہ جھونپڑے کی مٹیالی چھت پر بیٹھی اپنی چھڑی سے منڈیر کوٹ رہی تھی اور میں سڑک پر کھڑا تھا۔\n\n’’کس قدر بیوقوف ہوں۔‘‘ دفعتاً میں نے ہوش سنبھالا اور اپنے دل میں کہا، \"اگر کوئی مجھے اس طرح اُس کو گھورتا ہوا دیکھ لے تو کیا کہے۔۔۔ اس کے علاوہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے۔‘‘\n\n’’یہ کیونکر ہو سکتا ہے؟‘‘جب میں نے ان الفاظ پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ میں کسی اور ہی خیال میں تھا۔ اس احساس پر مجھے ہنسی آ گئی اور یونہی ایک بار اس کو اور دیکھ کر سیر کے قصد سے آگے بڑھا۔ دو ہی قدم چل کر مجھے خیال آیا کہ یہاں بٹوت میں صرف چند روز قیام کرنا ہے کیوں نہ رخصت ہوتے وقت اس کو سلام کر لوں۔ اس میں ہرج ہی کیا ہے شاید میرے سلام کا ایک آدھ ذرہّ اس کے حافظے پر ہمیشہ کے لیے جم جائے۔\n\nمیں ٹھہر گیا اور کچھ دیر منتظر رہنے کے بعد، میں نے سچ مچ اس کو سلام کرنے کے لیے اپنا ہاتھ ماتھے کی طرف بڑھایا مگر فوراً اس احمقانہ حرکت سے باخبر ہو کر ہاتھ کو یوں ہی ہوا میں ہلا دیا اور سیٹی بجاتے ہوئے قدم تیز کر دئیے۔\n\nمئی کا گرم دن شام کی خنکی میں آہستہ آہستہ گھل رہا تھا۔سامنے پہاڑیوں پر ہلکا سا دھواں چھا گیا تھا، جیسے خوشی کے آنسو آنکھوں کے آگے ایک چادر سی تان دیتے ہیں۔ اس دھندلکے میں چیڑ کے درخت تحتِ شعور میں چھپے ہوئے خیالات معلوم ہوئے، یہ ایک ہی قطار میں پھیلتے چلے گئے تھے۔\n\nمیرے پاس ہی ایک موٹا ساکو ا اپنے سیاہ اور چمکیلے پر پھیلائے سستا رہا تھا۔ ہوا کا ہر جھونکا میرے جسم کے ان حصوں کے ساتھ چھو کر جو کپڑوں سے آزاد تھے ایک ایسی محبت کا پیغام دے رہا تھا جس سے میرا دل اس سے قبل بالکل نا آشنا تھا۔ میں نے آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائیں، اور مجھے ایسا محسوس ہوا کہ وہ میری طرف حیرت سے دیکھ کریہ کہنا چاہتا ہے: سوچتے کیا ہو۔۔۔ جاؤ محبت کرو!\n\nمیں سڑک کے کنارے پتھروں کی دیوار پربیٹھ گیا اور اس۔۔۔ اس کی طرف ڈرتے ڈرتے دیکھا کہ مبادا کوئی رہ گزار سارا معاملہ تاڑ جائے۔ وہ اسی طرح سر جھکائے اپنی جگہ پربیٹھی تھی۔ اسے کھیل میں کیا لطف آتا ہے۔۔۔؟ وہ ابھی تھکی نہیں؟ کیا اس نے واقعی دوبارہ میری طرف مڑ کر دیکھا؟ کیا وہ جانتی ہے کہ میں اس کی محبت میں گرفتار ہوں۔۔۔؟ آخری سوال کس قدر مضحکہ خیز تھا۔۔۔ میں جھینپ گیا۔ لیکن۔۔۔ لیکن اس کے باوجود اس کو دیکھنے سے خود کو باز نہ رکھ سکا۔\n\nایک مرتبہ جب میں نے اس کو دیکھنے کے لیے اپنی گردن موڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کا منہ میری طرف ہے اور وہ مجھے دیکھ رہی ہے۔۔۔ میں مخمور ہوگیا۔ میرے اور اس کے درمیان گو فاصلہ کافی تھا مگر میری آنکھیں جن میں میرے دل کی بصارت بھی چلی آئی تھی، محسوس کررہی تھیں کہ وہ سپنوں کا گھونگٹ کاڑھے میری طرف دیکھ رہی ہے۔ میری طرف۔۔۔ میری طرف!\n\nمیرے سینے سے بے اختیار آہ نکل گئی۔۔۔ عجیب بات ہے کہ سکھ اور چین کا ہاتھ بھی درد بھرے تاروں پر ہی پڑتا ہے۔ اس آہ میں کتنی راحت تھی۔۔۔ کتنا سکون تھا۔ اس لڑکی نے جو میرے سامنے جھونپڑے کی چھت پر بیٹھی تھی، میرے شباب کے ہر رنگ کو شوخ کردیا تھا۔ میرے روئیں روئیں سے محبت پھوٹ رہی تھی۔ شعریت جو میرے سینے کے کسی نامعلوم کونے میں سوئی پڑی تھی، اب بیدار ہو چکی تھی کہ دو شیزگی اور شعریت، تو ام بہنیں ہیں؟\n\nاگر اس وقت وہ مجھ سے ہم کلام ہوتی تو میں ایک لفظ تک اپنی زبان سے نہ نکالتا۔ خاموشی میری ترجمان ہوتی۔۔۔ میری گونگی زبان کتنی باتیں اس تک پہنچا دیتی۔ میں اس کو اپنی خاموشی میں لپیٹ لیتا۔۔۔ وہ ضرور متحیر ہوتی اور اس حالت میں بڑی پیاری معلوم ہوتی۔ اس خیال سے کہ راستے میں یوں بے کار کھڑے رہنا ٹھیک نہیں، میں دیوار پرسے اٹھا۔۔۔ میرے سامنے ٹیلے پر جانے کے لیے ایک پگڈنڈی تھی۔ اوپر ٹیلے کے کسی پتھر پر بیٹھ کر میں اس کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ چنانچہ درختوں کی جڑوں اور جھاڑیوں کا سہارا لےکر میں نے اوپر چڑھنا شروع کیا۔ راستے میں دوتین بار میرا پاؤں پھسلا اور نوکیلے پتھروں پرگرتے گرتے بچا۔\n\nٹیلے پر جہاں پتھر نہیں تھے، کہیں کہیں زمین کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں آلو بوئے ہوئے تھے۔ اسی قسم کے ایک ننھے سے کھیت کو طے کرکے میں ایک پتھر پربیٹھ گیا اور ٹوپی اتار کر ایک طرف رکھ دی۔ میرے دائیں ہاتھ کو زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تھا جس میں گندم اگ رہی تھی۔\n\nچڑھائی کی وجہ سے میرا دم پھول گیا مگر شام کی ٹھنڈی ہوا نے یہ تکان فوراً ہی دور کر دی۔ اور میں جس کام کے لیے آیا تھا، اس میں مشغول ہو گیا۔\n\nاب وہ جھونپڑے کی چھت پر کھڑی تھی اور خدا معلوم وہ کیسی کیسی انوکھی آوازیں نکال رہی تھی۔ میرا خیال ہے کہ وہ ان دونوں بکریوں کو سڑک پر چڑھنے سے روک رہی تھی، جو گھاس چرتی ہوئی آہستہ آہستہ اوپر کارخ کررہی تھیں۔ ہوا تیز تھی، گندم کے پکے ہوئے خوشے خُر خُر کرتی ہُوئی بلی کی مونچھوں کی طرح تھرتھرارہے تھے۔ جھاڑیوں میں ہوا کی سیٹیاں شام کی خاموش فضا میں ارتعاش پیدا کررہی تھیں۔\n\nمٹی کے ڈھیلوں کے ساتھ کھیلتا ہوا میں اس کی طرف بہت دیر تک دیکھتا رہا۔ وہ اب جھونپڑے پر بڑے عجیب انداز سے ٹہل رہی تھی۔ ایک مرتبہ اس نے اپنے سر کو جنبش دی تو میں سمجھا کہ وہ میری موجودگی سے باخبر۔۔۔ مجھے دیکھ رہی ہے۔۔۔ میری ہستی کے سارے دروازے کھل گئے۔\n\nجانے کتنی دیرمیں وہاں بیٹھا رہا۔۔۔ ایکا ایکی بدلیاں گھر آئیں اور بارش شروع ہوگئی۔میرے کپڑے بھیگ رہے تھے لیکن میں وہاں سے کیونکر جاسکتا تھا جبکہ وہ۔۔۔ وہیں چھت پر کھڑی تھی۔ اس خیال سے مجھے بڑی مسرت حاصل ہوئی کہ وہ صرف میری خاطر بارش میں بھیگ رہی ہے۔\n\nیکا یک بارش تیز ہوگئی۔ وہ اٹھی اور میری طرف دیکھے بغیر۔۔۔ ہاں، میری طرف نگاہ اٹھائے بغیر چھت پر سے نیچے اتری اور دوسرے جھونپڑے میں داخل ہوگئی۔۔۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ بارش کی بوندیں میری ہڈیوں تک پہنچ گئی ہیں۔پانی سے بچاؤ کرنے کے لیے میں نے ادھر ادھر نگاہیں دوڑائیں مگر پتھر اور جھاڑیاں پناہ کا کام نہیں دے سکتی تھیں۔\n\nڈاک بنگلے تک پہنچتے پہنچتے میرے کپڑے اور خیالات سب بھیگ گئے۔۔۔ جب وہاں سے سیرکو نکلا تھا تو ایک خشک آدمی تھا، راستے میں موسم نے شاعر بنا دیا۔ واپس آیا تو بھیگا ہوا آدمی تھا۔۔۔ صرف بھیگا ہوا۔۔۔ بارش ساری شاعری بہا لے گئی تھی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%B1%D8%AA"} {"title": "موسم گل آیا ہے یارو کچھ میری تدبیر کرو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موسم گل آیا ہے یارو کچھ میری تدبیر کرو\nیعنی سایۂ سر و گل میں اب مجھ کو زنجیر کرو\n\nپیش سعایت کیا جائے ہے حق ہے میری طرف سو ہے\nمیں تو چپ بیٹھا ہوں یکسو گر کوئی تقریر کرو\n\nکان لگا رہتا ہے غیر اس شوخ کماں ابرو کے بہت\nاس تو گناہ عظیم پہ یارو ناک میں اس کی تیر کرو\n\nپھیر دئیے ہیں دل لوگوں کے مالک نے کچھ میری طرف\nتم بھی ٹک اے آہ و نالہ قلبوں میں تاثیر کرو\n\nآگے ہی آزردہ ہیں ہم دل ہیں شکستہ ہمارے سب\nحرف رنجش بیچ میں لا کر اور نہ اب دلگیر کرو\n\nشعر کیے موزوں تو ایسے جن سے خوش ہیں صاحب دل\nروویں کڑھیں جو یاد کریں اب ایسا تم کچھ میرؔ کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85_%DA%AF%D9%84_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "موسم گل ترے انعام ابھی باقی ہیں", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موسم گل ترے انعام ابھی باقی ہیں\nشہر میں اور گل اندام ابھی باقی ہیں\n\nاور کھل جا کہ معارف کی گزر گاہوں میں\nپیچ اے زلف سیہ فام ابھی باقی ہیں\n\nاک سبو اور کہ لوح دل مے نوشاں پر\nکچھ نقوش سحر و شام ابھی باقی ہیں\n\nٹھہر اے باد سحر اس گل نورستہ کے نام\nاور بھی شوق کے پیغام ابھی باقی ہیں\n\nاٹھو اے شب کے غزالو کہ سحر سے پہلے\nچند لمحات خوش انجام ابھی باقی ہیں\n\nانتظار اے دل و دیدہ کہ ہزاروں اسرار\nسائے کی طرح تہہ جام ابھی باقی ہیں\n\nکھول کر کیجئے تشریح سر مصرع زلف\nاس نوشتے میں کچھ ابہام ابھی باقی ہیں\n\nاے سہی قد تری نسبت سے سب اونچی قدریں\nباوجود روش عام ابھی باقی ہیں\n\nہم میں کل کے نہ سہی حافظؔ و خیامؔ ظفرؔ\nآج کے حافظؔ و خیامؔ ابھی باقی ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85_%DA%AF%D9%84_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%B9%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "موسم گل میں جو گھر گھر کے گھٹائیں آئیں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موسم گل میں جو گھر گھر کے گھٹائیں آئیں\nہوش اڑ جاتے ہیں جن سے وہ ہوائیں آئیں\n\nچل بسے سوئے عدم تم نے بلایا جن کو\nیاد آئی تو غریبوں کی قضائیں آئیں\n\nروح تازی ہوئی تربت میں وہ ٹھنڈی ٹھنڈی\nباغ فردوس کی ہر سو سے ہوائیں آئیں\n\nمیں وہ دیوانہ تھا جس کے لیے بزم غم میں\nجا بجا بچھنے کو پریوں کی ردائیں آئیں\n\nمنکر ظلم جو جلاد ہوئے محشر میں\nخود گواہی کے لیے سب کی جفائیں آئیں\n\nمجرموں ہی کو نہیں ظلم کا فرمان آیا\nبے گناہوں کو بھی لکھ لکھ کے سزائیں آئیں\n\nاس کا دیوانہ ہوں سمجھاتی ہیں پریاں مجھ کو\nسر پھرانے کو کہاں سے یہ بلائیں آئیں\n\nترے بندے ہوے کی جن سے لگاوٹ تو نے\nاے پری رو تجھے کیوں کر یہ ادائیں آئیں\n\nحشر موقوف کیا جوش میں رحمت آئی\nزار نالے کی جو ہر سو سے صدائیں آئیں\n\nلشکر گل جو گلستاں میں خزاں پر امڈا\nساتھ دینے کو پہاڑوں سے گھٹائیں آئیں\n\nمیری تربت پہ کبھی دھوپ نہ آنے پائے\nشام تک صبح سے گھر گھر کے گھٹائیں آئیں\n\nمنہ چھپانے لگے معشوق جواں ہو ہو کر\nنیک و بد کی سمجھ آئی تو حیائیں آئیں\n\nخاک اڑانے جو صبا آئی مری تربت پر\nسر پٹکتی ہوئی رونے کو گھٹائیں آئیں\n\nبخش دی اس نے مرے بعد جو پوشاک مری\nقیس و فرہاد کے حصوں میں قبائیں آئیں\n\nراحتیں سمجھے حسینوں نے جو ایذائیں دیں\nپیار آیا تو پسند ان کی جفائیں آئیں\n\nآ گیا رحم اسے دیں سب کی مرادیں اس نے\nعاجزوں کی جو سفارش کو دعائیں آئیں\n\nمیرے صحرا کی زیارت کو ہزاروں پریاں\nروز لے لے کے سلیمان کو رضائیں آئیں\n\nاے شرفؔ حسن پرستوں کو بلا کے لوٹا\nان حسینوں کے دلوں میں جو دغائیں آئیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85_%DA%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "موسم گل میں نہیں عزت و شان واعظ", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موسم گل میں نہیں عزت و شان واعظ\nکون اس فصل میں سنتا ہے بیان واعظ\n\nدختر رز کی مذمت کا ارادہ تو کرے\nکھینچ لونگا ابھی گدی سے زبان واعظ\n\nآج رندان قدح نوش کو اچھی سوجھی\nمے کشی کے لیے تاکا ہے مکان واعظ\n\nموسم گل میں جو سنتا ہوں تو میں کہتا ہوں\nہے صدائے سگ دیوانہ بیان واعظ\n\nغول صحرائے شریعت اسے بتلا دیں گے\nہم سے پوچھے تو کوئی نام و نشان واعظ\n\nدور رندوں کا ہے چلتی ہے شب و روز شراب\nعہد قاضی ہے نہ باقی نہ زبان واعظ\n\nقتل کر ڈالیے ہر دم یہ خیال آتا ہے\nجوش کھاتا ہے لہو سن کے بیان واعظ\n\nکبک کی طرح یہ لوٹے ابھی انگاروں پر\nبھٹیاں مے کی جو ہوں زہر مکان واعظ\n\nشکر ہے موسم گل کا اثر اتنا تو ہوا\nمے کدہ اب نظر آتا ہے مکان واعظ\n\nبدلے دنبے کے کریں رند اسی کو قربان\nعید قرباں میں جو سن پائیں بیان واعظ\n\nعرشؔ اس فصل جنوں میں مرے سودے کی طرح\nاور بڑھ جائے الٰہی خفقان واعظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85_%DA%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%B2%D8%AA_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D9%86_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "موسم گل میں ہیں دیوانوں کے بازار کئی", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موسم گل میں ہیں دیوانوں کے بازار کئی\nشور بلبل کئی زنجیر کی جھنکار کئی\n\nسب گئی بوئے مروت کی کل اس باغ سے حیف\nبارے دامن کش دل رہ گئے ہیں خار کئی\n\nکب لگ احباب کا غم مجھ کو دکھاوے گا فلک\nخاک ہو گئے بہت اور ہیں سو چلن ہار کئی\n\nاے سیہ چشمو نہیں کچھ مجھے گل زار سے کام\nداغ لالہ ہی سے رکھتا ہوں سروکار کئی\n\nسخت یاروں کی کدورت سے ہوا ہوں بے دل\nکھا گئے آئینۂ دل مرا زنگار کئی\n\nموسم گل میں مرے چاک گریباں کو دیکھ\nپھاڑ گئے پیرہن صبر رفو کار کئی\n\nدن پڑے شعلہ رخوں بن مجھے جوں دود چراغ\nمیری دل سوزی سے جلتے ہیں شب تار کئی\n\nجلدی اول کی ہے پر آبلہ پاؤں میں مرے\nاور وہ گل رو کی رہے راہ میں اب خار کئی\n\nسرد مہری تری خوں گرم ہے از بس مجھ سات\nہیں رگ لعل جگر نالۂ خوں بار کئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85_%DA%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A6%DB%8C"} {"title": "موسِیقی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "وہ نغمہ سردیِ خُونِ غزل سرا کی دلیل\nکہ جس کو سُن کے ترا چہرہ تاب ناک نہیں\nنَوا کو کرتا ہے موجِ نفَس سے زہر آلُود\nوہ نَے نواز کہ جس کا ضمیر پاک نہیں\nپھِرا میں مشرق و مغرب کے لالہ زاروں میں\nکسی چمن میں گریبانِ لالہ چاک نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%90%DB%8C%D9%82%DB%8C"} {"title": "موسیٰ ہیں ہمیں جلوۂ دیدار ہمیں ہیں", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موسیٰ ہیں ہمیں جلوۂ دیدار ہمیں ہیں\nہیں طور ہمیں نور ہمیں نار ہمیں ہیں\n\nمنصور ہمیں ہیں سخن یار ہمیں ہیں\nقاضی ہیں ہمیں شرع ہمیں دار ہمیں ہیں\n\nکافر جسے کہتے ہیں ہمیں سے ہے اشارہ\nمومن ہے غرض جس سے وہ دیدا ہمیں ہیں\n\nفردوس اگر ہے تو ہمارے ہی لئے ہے\nدوزخ کے اگر ہیں تو سزاوار ہمیں ہیں\n\nہیں داد و ستد دونوں یہ بندے ہی کی شانیں\nبایع ہیں ہمیں اور خریدار ہمیں ہیں\n\nمر جانے سے جو ہجر میں خوش ہے وہ ہمیں ہیں\nجینے سے جو فرقت میں ہے بیزار ہمیں ہیں\n\nقاصد ہیں ہمیں اور ہمیں کاتب نامہ\nدل دار ہمیں نامۂ دل دار ہمیں ہیں\n\nناسوت جو مسکن ہے تو لاہوت گھر اپنا\nخلوت میں ہمیں برسر بازار ہمیں ہیں\n\nمشاطہ ہمیں اور ہمیں شانہ و گیسو\nآئینہ ہمیں عکس رخ یار ہمیں ہیں\n\nکہتے ہیں جسے کفر وہ اک شان ہے اپنی\nاسلام جسے کہتے ہیں ابرار ہمیں ہیں\n\nناقوس کی آواز ہماری ہی صدا ہے\nتکبیر کے الفاظ میں ہر بار ہمیں ہیں\n\nدریا میں ہمیں اور ہمیں موج و صدف ہیں\nقطرہ ہیں ہمیں گوہر شہوار ہمیں ہیں\n\nاکبرؔ جو ہے مسجود دو عالم وہ وہی ہے\nسجدے کے اگر ہیں تو سزاوار ہمیں ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%B0_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مولویوں کا شغل تکفیر", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اک مولوی صاحب سے کہا میں نے کہ کیا آپ\nکچھ حالت یورپ سے خبردار نہیں ہیں\nآمادۂ اسلام ہیں لندن میں ہزاروں\nہر چند ابھی مائل اظہار نہیں ہیں\nتقلید کے پھندوں سے ہوئے جاتے ہیں آزاد\nوہ لوگ بھی جو داخل اصرار نہیں ہیں\nجو نام سے اسلام کے ہو جاتے ہیں برہم\nان میں بھی تعصب کے وہ آثار نہیں ہیں\nافسوس مگر یہ ہے کہ واعظ نہیں پیدا\nیا ہیں تو بقول آپ کے دیں دار نہیں ہیں\nکیا آپ کے زمرے میں کسی کو نہیں یہ درد\nکیا آپ بھی اس کے لئے تیار نہیں ہیں\nجھلا کے کہا یہ کہ یہ کیا سوئے ادب ہے\nکہتے ہو وہ باتیں جو سزاوار نہیں ہیں\nکرتے ہیں شب و روز مسلمانوں کی تکفیر\nبیٹھے ہوئے کچھ ہم بھی تو بے کار نہیں ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D9%84%D9%88%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%D8%BA%D9%84_%D8%AA%DA%A9%D9%81%DB%8C%D8%B1"} {"title": "موم بتی کے آنسو", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "غلیظ طاق پر جو شکستہ دیوار میں بنا تھا، موم بتی ساری رات روتی رہی تھی۔موم پگھل پگھل کر کمرے کے گیلے فرش پر اوس کے ٹھٹھرے ہوئے دھندلے قطروں کے مانند بکھر رہا تھا۔ ننھی لاجو موتیوں کا ہار لینے پر ضد کرنے اور رونے لگی تو اس کی ماں نے موم بتی کے ان جمے ہوئے آنسوؤں کو ایک کچے دھاگے میں پرو کر اس کا ہار بنا دیا۔ ننھی لاجو اس ہار کو پہن کر خوش ہوگئی، اور تالیاں بجاتی ہوئی باہر چلی گئی۔\n\nرات آئی۔۔۔ میل بھرے طاقچے میں نئی موم بتی روشن ہوئی اور اس کی کانی کانی آنکھ اس کمرے کی تاریکی دیکھ کر ایک لمحے کے لیے حیرت کے باعث چمک اٹھی۔ مگر تھوڑی دیر کے بعد جب وہ اس ماحول کی عادی ہو گئی تو اس نے خاموشی سے ٹکٹکی باندھ کر اپنے گردوپیش کو دیکھنا شروع کردیا۔\n\nننھی لاجو ایک چھوٹی سی کھٹیا پر پڑی سو رہی تھی،اور خواب میں اپنی سہیلی بندوسے لڑ رہی تھی کہ وہ اپنی گڑیا کا بیاہ اس کے گڈے سے کبھی نہیں کرے گی۔ اس لیے کہ وہ بدصورت ہے۔\n\nلاجو کی ماں کھڑکی کے ساتھ لگی، خاموش اور نیم روشن سڑک پر پھیلی ہوئی کیچڑ کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی، سامنے بھٹیارے کی بند دکان کے باہر چبوترے پر انگیٹھی میں سے کوئلوں کی چنگاریاں ضدی بچوں کی طرح مچل مچل کر نیچے گر رہی تھیں۔\n\nگھنٹہ گھر نے غنودگی میں بارہ بجائے، بارہ کی آخری پکار دسمبر کی سرد رات میں تھوڑی دیر تک کانپتی رہی اور پھر خاموشی کا لحاف اوڑھ کر سو گئی۔۔۔ لاجو کی ماں کے کانوں میں نیند کا بڑا سہانا پیغام گنگنایا مگر اس کی انتڑیاں اس کے دماغ تک کوئی اور بات پہنچا چکی تھیں۔\n\nدفعتاً سرد ہوا کے جھونکے سے گھنگھرؤں کی مدھم جھنجھناہٹ اس کے کانوں تک پہنچی۔ اس نے یہ آواز اچھی طرح سننے کے لیے کانوں میں اپنی سماعت کی طاقت بھرنی شروع کردی۔\n\nگھنگھرو رات کی خاموشی میں مرتے ہوتے آدمی کے حلق میں اٹکے ہوئے سانس کی طرح بجنا شروع ہوگئے، لاجو کی ماں اطمینان سے بیٹھ گئی۔ گھوڑے کی تھکی ہوئی ہنہناہٹ نے رات کی خاموشی میں ارتعاش پیدا کردیا اور ایک تانگہ لالٹین کے کھمبے کی بغل میں آکھڑا ہوا۔ تانگہ والا نیچے اترا۔ گھوڑے کی پیٹھ پر تھپکی دے کر اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔ جس کی چِق اٹھی ہوئی تھی اور تخت پر ایک دھندلا سایہ بھی پھیلا تھا۔\n\nاپنے کھردرے کمبل کو جسم کے گرد اچھی طرح لپیٹ کر تانگے والے نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ ساڑھے تین روپے کا کریانہ تھا۔ اس میں سے اس نے ایک روپیہ چار آنے اپنے پاس رکھ لیے۔ اور باقی پیسے تانگے کی اگلی نشست کا گدا اٹھا کر اس کے نیچے چھپا دیے ۔یہ کام کرنے کے بعد وہ کوٹھے کی سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔\n\nلاجو کی ماں چندو سنیاری اٹھی اور دروازہ کھول دیا۔ مادھو تانگے والا اندر داخل ہوا اور دروازے کی زنجیر چڑھا کر اس نے چندو سنیاری کو اپنے ساتھ لپٹا لیا، ’’بھگوان جانتا ہے، مجھے تجھ سے کتنا پریم ہے۔۔۔ اگر جوانی میں ملاقات ہوتی تو یاروں کا تانگہ گھوڑا ضرور بکتا!‘‘ یہ کہہ کر اس نے ایک روپیہ اس کی ہتھیلی میں دبا دیا۔\n\nچندو سنیاری نے پوچھا، ’’بس؟‘‘\n\n’’یہ لے۔۔۔اور‘‘ مادھو نے چاندی کی چونی اس کی دوسری ہتھیلی پر جما دی، ’’تیری جان کی قسم! بس یہی کچھ تھا میرے پاس!‘‘\n\nرات کی سردی میں گھوڑا بازار میں کھڑا ہنہناتا رہا۔ لالٹین کا کھمبا ویسے ہی اونگھتا رہا۔\n\nسامنے ٹوٹے ہوئے پلنگ پر مادھو بیہوش لیٹا تھا۔ اس کی بغل میں چندو سنیاری آنکھیں کھولے پڑی تھی اور پگھلتے ہوئے موم کے ان قطروں کو دیکھ رہی تھی جو گیلے فرش پرگر کر چھوٹے چھوٹے دانوں کی صورت میں جم رہے تھے۔ وہ ایکا ایکی دیوانہ وار اٹھی اور لاجو کی کھٹیا کے پاس بیٹھ گئی۔ ننھی لاجو کے سینے پر موم کے دانے دھڑک رہے تھے۔ چندو سنیاری کی دھندلی آنکھوں کو ایسا معلوم ہوا کہ موم بتی کے ان جمے ہوئے قطروں میں اس کی ننھی لاجو کی جوانی کے آنسو چھپ کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس کا کانپتا ہوا ہاتھ بڑھا اور لاجو کے گلے سے وہ ہار جدا ہوگیا۔\n\nپگھلے ہوئے موم پر سے موم بتی کا جلتا ہوا دھاگا پھسل کر نیچے فرش پرگرا اور اس کی آغوش میں سو گیا۔۔۔ کمرے میں خاموشی کے علاوہ اندھیرا بھی چھا گیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D9%85_%D8%A8%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88"} {"title": "مومن", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "(دُنیا میں)\nہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم\nرزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن\nافلاک سے ہے اس کی حریفانہ کشاکش\nخاکی ہے مگر خاک سے آزاد ہے مومن\nجچتے نہیں کنجشک و حمام اس کی نظر میں\nجِبریل و سرافیل کا صیّاد ہے مومن\n\n(جنّت میں)\nکہتے ہیں فرشتے کہ دِل آویز ہے مومن\nحُوروں کو شکایت ہے کم آمیز ہے مومن", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86"} {"title": "مومن یہ اثر سیاہ مستی کا نہ ہو", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مومن یہ اثر سیاہ مستی کا نہ ہو\nاندیشہ کبھی بلند و پستی کا نہ ہو\nتوحید وجودی میں جو ہے کیفیت\nڈرتا ہوں کہ حیلہ خود پرستی کا نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81_%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑ", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑ\nدوزخ میں ڈال خلد کو کوئے بتاں نہ چھوڑ\n\nعاشق تو جانتے ہیں وہ اے دل یہی سہی\nہر چند بے اثر ہے پر آہ و فغاں نہ چھوڑ\n\nاس طبع نازنیں کو کہاں تاب انفعال\nجاسوس میرے واسطے اے بد گماں نہ چھوڑ\n\nناچار دیں گے اور کسی خوب رو کو دل\nاچھا تو اپنی خوئے بد اے بد زباں نہ چھوڑ\n\nزخمی کیا عدو کو تو مرنا محال ہے\nقربان جاؤں تیرے مجھے نیم جاں نہ چھوڑ\n\nکچھ کچھ درست ضد سے تری ہو چلے ہیں وہ\nیک چند اور کج روی اے آسماں نہ چھوڑ\n\nجس کوچہ میں گزار صبا کا نہ ہو سکے\nاے عندلیب اس کے لیے گلستاں نہ چھوڑ\n\nگر پھر بھی اشک آئیں تو جانوں کہ عشق ہے\nحقہ کا منہ سے غیر کی جانب دھواں نہ چھوڑ\n\nہوتا ہے اس جحیم میں حاصل وصال جور\nمومنؔ عجب بہشت ہے دیر مغاں نہ چھوڑ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86%D8%94_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91"} {"title": "موٹر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "کیسی پتے کی بات جُگندر نے کل کہی\nموٹر ہے ذوالفقار علی خاں کا کیا خموش\n\nہنگامہ آفریں نہیں اس کا خرامِ ناز\nمانندِ برق تیز، مثالِ ہوا خموش\n\nمیں نے کہا، نہیں ہے یہ موٹر پہ منحصر\nہے جادۂ حیات میں ہر تیزپا خموش\n\nہے پا شکستہ شیوۂ فریاد سے جرَس\nنکہت کا کارواں ہے مثالِ صبا خموش\n\nمِینا مدام شورشِ قُلقُل سے پا بَہ گل\nلیکن مزاجِ جامِ خرام آشنا خموش\n\nشاعر کے فکر کو پرِ پرواز خامشی\nسرمایہ دارِ گرمیِ آواز خامشی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%D9%B9%D8%B1"} {"title": "موہ میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موہ میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا\nاس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا\n\nجنوں میں اب کے مجھے اپنے دل کا غم ہے پہ حیف\nخبر لی جب کہ نہ جامے میں ایک تار رہا\n\nبشر ہے وہ پہ کھلا جب سے اس کا دام زلف\nسر رہ اس کے فرشتے ہی کا شکار رہا\n\nکبھو نہ آنکھوں میں آیا وہ شوخ خواب کی طرح\nتمام عمر ہمیں اس کا انتظار رہا\n\nشراب عیش میسر ہوئی جسے اک شب\nپھر اس کو روز قیامت تلک خمار رہا\n\nبتاں کے عشق نے بے اختیار کر ڈالا\nوہ دل کہ جس کا خدائی میں اختیار رہا\n\nوہ دل کہ شام و سحر جیسے پکا پھوڑا تھا\nوہ دل کہ جس سے ہمیشہ جگر فگار رہا\n\nتمام عمر گئی اس پہ ہاتھ رکھتے ہمیں\nوہ دردناک علی الرغم بے قرار رہا\n\nستم میں غم میں سرانجام اس کا کیا کہیے\nہزاروں حسرتیں تھیں تس پہ جی کو مار رہا\n\nبہا تو خون ہو آنکھوں کی راہ بہہ نکلا\nرہا جو سینۂ سوزاں میں داغ دار رہا\n\nسو اس کو ہم سے فراموش کاریوں لے گئے\nکہ اس سے قطرۂ خوں بھی نہ یادگار رہا\n\nگلی میں اس کی گیا سو گیا نہ بولا پھر\nمیں میرؔ میرؔ کر اس کو بہت پکار رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "موہنی بلی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "ایک بلی موہنی تھا اس کا نام\nان نے میرے گھر کیا آکر قیام\nایک دو سے ہوگئی الفت گزیں\nکم بہت جانے لگی اٹھ کر کہیں\nربط پھر پیدا کیا میرے بھی ساتھ\nدیکھتی رہنے لگی میرا ہی ہاتھ\nآئے ہے مجھ پاس یہ اٹھ کر سویر\nگربۂ زرد فلک نکلے ہے دیر\nیعنی وقت گرگ و میش آئے ہے پاس\nپھر مرا پہروں کیا ہے ان نے پاس\nچھیچھڑا ٹکڑا جو کچھ پایا کرے\nفقر میرا دیکھ کر کھایا کرے\nبختوں سے ٹوٹا ہے چھینکا بھی اگر\nان نے اودھر کی نہیں مطلق نظر\nدخل کیا ہے جھانکے یہ چھینکے کی اور\nٹکڑے کو دیکھے نہ گو بھوکی ہو زور\nاس مروت پیشہ سے کیا ہے گلہ\nخوف سے آپھی گہے چوہا ملا\nایک بلی کچھ گئی تھی آکے چکھ\nیہ لڑی تو منھ پہ پنجہ اپنے رکھ\nبرسوں یاد آوے گی یہ پاکیزہ خو\nآگے آئی ہی نہیں چلتے کبھو\nلانگھی ہو جو گھر سے جاتے تد رہوں\nچلتے چھینکا ہو کبھو تو کچھ کہوں\nتھی جو ظاہر جوں کڑاہی تیرہ رنگ\nپر تماشا کردنی تھے اس کے ڈھنگ\nشوق میں ہمسائیاں اس کے رہیں\nجو گئی بھی ٹک تو مانگے سے کہیں\nپھرنے کو تو پھرتی کیا دلی نہ تھی\nپر جلے پاؤں کی یہ بلی نہ تھی\nرفتہ رفتہ کوٹھوں پر جانے لگی\nپہروں پہروں میں یہ پھر آنے لگی\nحاملہ ہوکر کئی بچے دیے\nایک دو بھی سو نہ ان میں سے جیے\nمتصل ایسا ہوا جو اتفاق\nمرگ ان بچوں کی گذری سب پہ شاق\nحفظ اس کی کوکھ کا لازم ہوا\nجھاڑے پھونکے کا ہر اک عازم ہوا\nنذریں مانیں نقش لائے ڈھونڈھ کر\nنیل کے ڈوروں میں باندھے پیٹ پر\nچھیچھڑوں میں بعضوں نے افسوں لکھے\nبعضوں نے تعویذ لے کر خوں لکھے\nبی بلائی سے بہت کی التجا\nگربۂ محراب سے چاہی دعا\nگوشت کی چیلوں کو پھینکیں بوٹیاں\nماش کی موٹی پکائیں روٹیاں\nلڑکیاں بٹھلائیاں کھاٹوں تلے\nاس طرح جوں دبکی بلی کم ہلے\nدیتے ٹکڑا منھ کو ہر اک کھولتے\nاور بولی بلیوں کی بولتے\nصدقے اترے چھیچھڑے جو ڈھیر ڈھیر\nگربۂ لاوہ نے کھائے ہو کے سیر\nکیں مناجاتیں دل شب لاتعد\nگربۂ زاہد سے بھی چاہی مدد\nبوہریرہ کے تئیں مانا بہت\nبلیوں کو بھی دیا کھانا بہت\nمدح جس بلی کی کرتا تھا عبید\nتھی دعاگوئی میں وہ بے مکر و شید\nخواجہ عصمت کرتے تھے طاعت جہاں\nایک بلی بیٹھی تھی آکر وہاں\nصبح دم ہوتی وہی گرم سجود\nگہ قیام اس کے تئیں تھا گہ قعود\nچاہی ہمت اس سے اٹھ کر ہر سحر\nکچھ تو باطن نے کیا اس کے اثر\nپانچ بچے اس نے اس نوبت دیے\nبارے سب وے قدرت حق سے جیے\nکیوں نہ ایسی ہووے امداد سترگ\nبی بلائی بوہریرہ سب بزرگ\nاک توجہ رکھے تھے ظاہر کی اور\nآرزو بر لائے یہ باطن کی زور\nاپنی ماں کے رات دن سینے لگے\nپانچوں بچے دودھ کچھ پینے لگے\nدودھ کتنا جو کہ بس ہو سب کے تیں\nمیں بھی منگوانے لگا کچھ شب کے تیں\nدودھ پی کر گائے بکری کا چلے\nروز و شب لوگوں کی آنکھوں کے تلے\nدیر میں میں نے جو یہ ٹک غور کی\nبلیاں پانچوں ہیں یہ اک طور کی\nدو مہینے تک بہت تھی احتیاط\nکتے بلی سب سے موقوف اختلاط\nکوئی کتا آگیا ایدھر اگر\nلوگ دوڑے شیر سے منھ پھاڑ کر\nدر سے نکلیں سب ہوئے بازی کے گرم\nزرد زرد ان کی دمیں منھ نرم نرم\nلچھے ریشم کے سے چندیں رنگ خال\nکچھ سفید و کچھ سیہ کچھ زرد و لال\nآ نکلتی تھیں جدھر یہ پانچ چار\nوہ طرف ہوجاتی تھی باغ و بہار\nایک عالم عاشق و بے تاب تھا\nان کی خاطر بے خور و بے خواب تھا\nلے گئے ایک ایک کر سب تین تو\nمنی مانی رہ گئیں مجھ پاس دو\nمنی کی پھر ایک صاحب نے پسند\nتھی بھی نازک ایسی ہی طالع بلند\nمانی کچھ بھاری تھی نکلی بردبار\nرہ گئی یاں فقر کو کر اختیار\nبوریے پر میرے اس کی خواب گاہ\nدل سے میرے خاص اس کو ایک راہ\nمیں نہ ہوں تو راہ دیکھے کچھ نہ کھائے\nجان پاوے سن مری آواز پاے\nسب سے آگے آن پہنچے در تلک\nدیکھے میرے پاؤں سے لے سر تلک\nآنکھ سے معلوم ہو مشتاق ہے\nبلی یا اعجوبۂ آفاق ہے\nبلیاں ہوتی ہیں اچھی ہر کہیں\nیہ تماشا سا ہے بلی تو نہیں\nگردرو باندھے تو چہرہ حور کا\nچاندنی میں ہو تو بکا نور کا\nگرم شوخی ہو اگر یہ مثل برق\nبجلی میں اس میں نہ کچھ کرسکیے فرق\nیا پری اس پردے میں ہے جلوہ گر\nاٹھتی اودھر سے نہیں ہرگز نظر\nکیسی ہی بلی ولایت کی ہو زور\nخوب دیکھو تو ہے اس کے صدقے حور\nربط ہے اپنے بھی جی کو اس کے ساتھ\nبیٹھے ہے تو پیٹھ پر میرا ہے ہاتھ\nایک دن جاکر کہیں ٹک سو گئی\nمانی مانی سارے گھر میں ہوگئی\nبلی کا ہوتا نہیں اسلوب یہ\nہے کبودی چشم یک محبوب یہ\nدیکھے جس دم یک ذرا کوئی اس کو گھور\nچشم شور آفتاب اس دم ہو کور\nحسن کیا کیا مانی کے کریے بیاں\nسو جہاں جب تک یہ ہووے درمیاں\nخوبی منی کی نہ کوئی کہہ سکے\nدیکھے اس کو تو نہ اس بن رہ سکے\nداغ گلزاری سے اس کے تازہ باغ\nاس زمان تیرہ کی چشم و چراغ\nکیا دماغ اعلیٰ طبیعت کیا نفیس\nکیا مصاحب بے بدل کیسی جلیس\nیہ نفاست یہ لطافت یہ تمیز\nآنکھ دوڑے ہی نہ ہو کیسی ہی چیز\nاس کو گر کعبے میں یہ ہو شوخ و چست\nہے کبوتر مارنا واں کا درست\nچوہا چڑیاں ان نے کچھ کھایا نہیں\nحج کو جانا اس کے تیں آیا نہیں\nحب ہرہ جوکہ ہے ایمان میں\nہے اسی بلی کی شاید شان میں\nتھا بہت منی کا جننا آرزو\nسو جنی دو بلیاں ہیں ماہ رو\nخال ہیں ان پر بھی ماں کے سے عیاں\nپر وہ خوبی اور محبوبی کہاں\nموہنی اور سوہنی ہے ان کا نام\nپھرتی ہیں پھندنا سی دونوں صبح و شام\nنیلے دھاگے گردنوں میں ہیں پڑے\nلوگ آنکھوں میں ہی رہتے ہیں کھڑے\nحفظ ابھی بلوں سے ان کا ہے ضرور\nرہیو ان دونوں سے چشم شور دور\nدیکھے ان کی اور جو ٹک کرکے خشم\nکاڑھ کر دیں بلیوں کو اس کی چشم\nقصہ کوتہ موہنی آگے موئی\nیک قیامت جان پر اس بن ہوئی\nصبر بن چارہ نہ تھا آخر کیا\nبلی ماروں میں اسے گڑوا دیا\nشاد وہ جس کے رہیں قائم مقام\nوائے اس پر جس کسو کا لیں نہ نام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%DB%81%D9%86%DB%8C_%D8%A8%D9%84%DB%8C"} {"title": "موے سہتے سہتے جفا کاریاں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "موے سہتے سہتے جفا کاریاں\nکوئی ہم سے سیکھے وفاداریاں\n\nہماری تو گزری اسی طور عمر\nیہی نالہ کرنا یہی زاریاں\n\nفرشتہ جہاں کام کرتا نہ تھا\nمری آہ نے برچھیاں ماریاں\n\nگیا جان سے اک جہاں لے کے شوخ\nنہ تجھ سے گئیں یہ دل آزاریاں\n\nکہاں تک یہ تکلیف ما لا یطاق\nہوئیں مدتوں ناز برداریاں\n\nخط و کاکل و زلف و انداز و ناز\nہوئیں دام رہ صد گرفتاریاں\n\nکیا درد و غم نے مجھے ناامید\nکہ مجنوں کو یہ ہی تھیں بیماریاں\n\nتری آشنائی سے ہی حد ہوئی\nبہت کی تھیں دنیا میں ہم یاریاں\n\nنہ بھائی ہماری تو قدرت نہیں\nکھنچیں میرؔ تجھ سے ہی یہ خواریاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%88%DB%92_%D8%B3%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%B3%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "مَدنِیَّتِ اسلام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "بتاؤں تُجھ کو مسلماں کی زندگی کیا ہے\nیہ ہے نہایتِ اندیشہ و کمالِ جُنوں\nطلوع ہے صفَتِ آفتاب اس کا غروب\nیگانہ اور مثالِ زمانہ گُونا گُوں!\nنہ اس میں عصرِ رواں کی حیا سے بیزاری\nنہ اس میں عہدِ کُہن کے فسانہ و افسوں\nحقائقِ اَبدی پر اساس ہے اس کی\nیہ زندگی ہے، نہیں ہے طلسمِ افلاطوں!\nعناصر اس کے ہیں رُوح القُدُس کا ذوقِ جمال\nعجَم کا حُسنِ طبیعت، عَرب کا سوزِ دُروں!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%8E%D8%AF%D9%86%D9%90%DB%8C%D9%8E%D9%91%D8%AA%D9%90_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "مَسجدِقُرطُبہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "سِلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات\nسِلسلۂ روز و شب، اصلِ حیات و ممات\nسِلسلۂ روز و شب، تارِ حریرِ دو رنگ\nجس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات\nسِلسلۂ روز و شب، سازِ ازل کی فغاں\nجس سے دِکھاتی ہے ذات زِیروبمِ ممکنات\nتجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ\nسِلسلۂ روز و شب، صَیرفیِ کائنات\nتُو ہو اگر کم عیار، مَیں ہُوں اگر کم عیار\nموت ہے تیری برات، موت ہے میری برات\nتیرے شب وروز کی اور حقیقت ہے کیا\nایک زمانے کی رَو جس میں نہ دن ہے نہ رات\nآنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہُنر\nکارِ جہاں بے ثبات، کارِ جہاں بے ثبات!\nاوّل و آخر فنا، باطن و ظاہر فنا\nنقشِ کُہن ہو کہ نَو، منزِل آخر فنا\n\nہے مگر اس نقش میں رنگِ ثباتِ دوام\nجس کو کِیا ہو کسی مردِ خدا نے تمام\nمردِ خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ\nعشق ہے اصلِ حیات، موت ہے اس پر حرام\nتُند و سبک سَیر ہے گرچہ زمانے کی رَو\nعشق خود اک سَیل ہے، سَیل کو لیتاہے تھام\nعشق کی تقویم میں عصرِرواں کے سوا\nاور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام\nعشق دمِ جبرئیل، عشق دلِ مصطفیؐ\nعشق خدا کا رُسول، عشق خدا کا کلام\nعشق کی مستی سے ہے پیکرِ گِل تابناک\nعشق ہے صہبائے خام، عشق ہے کاسُ الکِرام\nعشق فقیہِ حرم، عشق امیرِ جُنود\nعشق ہے ابن السّبیل، اس کے ہزاروں مقام\nعشق کے مِضراب سے نغمۂ تارِ حیات\nعشق سے نُورِ حیات، عشق سے نارِ حیات\n\nاے حَرمِ قُرطُبہ! عشق سے تیرا وجود\nعشق سراپا دوام، جس میں نہیں رفت و بود\nرنگ ہو یا خِشت و سنگ، چِنگ ہو یا حرف و صوت\nمعجزۂ فن کی ہے خُونِ جگر سے نمود\nقطرۂ خُونِ جگر، سِل کو بناتا ہے دل\nخُونِ جگر سے صدا سوز و سُرور و سرود\nتیری فضا دل فروز، میری نوا سینہ سوز\nتجھ سے دِلوں کا حضور، مجھ سے دِلوں کی کشود\nعرشِ معلّیٰ سے کم سینۂ آدم نہیں\nگرچہ کفِ خاک کی حد ہے سِپہرِ کبُود\nپیکرِ نُوری کو ہے سجدہ میّسر تو کیا\nاس کو میّسر نہیں سوز و گدازِ سجود\nکافرِ ہندی ہُوں مَیں، دیکھ مرا ذوق و شوق\nدل میں صلٰوۃ و دُرود، لب پہ صلوٰۃ و دُرود\nشوق مری لَے میں ہے، شوق مری نَے میں ہے\nنغمۂ ’اَﷲ ھُو‘ میرے رَگ و پَے میں ہے\n\nتیرا جلال و جمال، مردِ خدا کی دلیل\nوہ بھی جلیل و جمیل، تُو بھی جلیل و جمیل\nتیری بِنا پائدار، تیرے سُتوں بے شمار\nشام کے صحرا میں ہو جیسے ہُجومِ نخیل\nتیرے در و بام پر وادیِ اَیمن کا نور\nتیرا منارِ بلند جلوہ گہِ جبرئیل\nمِٹ نہیں سکتا کبھی مردِ مسلماں کہ ہے\nاس کی اذانوں سے فاش سرِّ کلیمؑ و خلیلؑ\nاس کی زمیں بے حدود، اس کا اُفُق بے ثُغور\nاس کے سمندر کی موج، دجلہ و دنیوب و نیل\nاس کے زمانے عجیب، اس کے فسانے غریب\nعہدِ کُہن کو دیا اس نے پیامِ رحیل\nساقیِ اربابِ ذوق، فارسِ میدانِ شوق\nبادہ ہے اس کا رحیق، تیغ ہے اس کی اصیل\nمردِ سپاہی ہے وہ اس کی زِرہ ’لَا اِلہ‘\nسایۂ شمشیر میں اس کہ پنہ ’لَا اِلہ‘\n\nتجھ سے ہُوا آشکار بندۂ مومن کا راز\nاس کے دنوں کی تپِش، اس کی شبوں کا گداز\nاس کا مقامِ بلند، اس کا خیالِ عظیم\nاس کا سُرور اس کا شوق، اس کا نیاز اس کا ناز\nہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ\nغالب و کار آفریں، کارکُشا، کارساز\nخاکی و نوری نہاد، بندۂ مولا صفات\nہر دو جہاں سے غنی اس کا دلِ بے نیاز\nاس کی اُمیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل\nاس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز\nنرم دمِ گُفتگو، گرم دمِ جُستجو\nرزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز\nنُقطۂ پرکارِ حق، مردِ خدا کا یقیں\nاور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجاز\nعقل کی منزل ہے وہ، عشق کا حاصل ہے وہ\nحلقۂ آفاق میں گرمیِ محفل ہے وہ\n\nکعبۂ اربابِ فن! سطوَتِ دینِ مبیں\nتجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیں\nہے تہِ گردُوں اگر حُسن میں تیری نظیر\nقلبِ مسلماں میں ہے، اَور نہیں ہے کہیں\nآہ وہ مردانِ حق! وہ عَربی شہسوار\nحاملِ ’ خُلقِ عظِیم‘، صاحبِ صدق و یقیں\nجن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمزِ غریب\nسلطنتِ اہلِ دل فقر ہے، شاہی نہیں\nجن کی نگاہوں نے کی تربیَتِ شرق و غرب\nظُلمتِ یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیں\nجن کے لہُو کی طفیل آج بھی ہیں اندلسی\nخوش دل و گرم اختلاط، سادہ و روشن جبیں\nآج بھی اس دیس میں عام ہے چشمِ غزال\nاور نگاہوں کے تِیر آج بھی ہیں دل نشیں\nبُوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہے\nرنگِ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہے\n\nدیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں، آسماں\nآہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاں\nکون سی وادی میں ہے، کون سی منزل میں ہے\nعشقِ بلا خیز کا قافلۂ سخت جاں!\nدیکھ چُکا المنی، شورشِ اصلاحِ دیں\nجس نے نہ چھوڑے کہیں نقشِ کُہن کے نشاں\nحرفِ غَلط بن گئی عِصمتِ پیرِ کُنِشت\nاور ہُوئی فکر کی کشتیِ نازک رواں\nچشمِ فرانسیس بھی دیکھ چُکی انقلاب\nجس سے دِگرگُوں ہُوا مغربیوں کا جہاں\nملّتِ رومی نژاد کُہنہ پرستی سے پیر\nلذّتِ تجدید سے وہ بھی ہوئی پھر جواں\nرُوحِ مسلماں میں ہے آج وہی اضطراب\nرازِ خدائی ہے یہ، کہہ نہیں سکتی زباں\nدیکھیے اس بحر کی تہ سے اُچھلتا ہے کیا\nگُنبدِ نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا!\nوادیِ کُہسار میں غرقِ شفَق ہے سحاب\nلعلِ بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب\nسادہ و پُرسوز ہے دُخترِ دہقاں کا گیت\nکشتیِ دل کے لیے سَیل ہے عہدِ شباب\nآبِ روانِ کبیر! تیرے کنارے کوئی\nدیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب\nعالمِ نَو ہے ابھی پردۂ تقدیر میں\nمیری نگاہوں میں ہے اس کی سحَر بے حجاب\nپردہ اُٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سے\nلا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تاب\nجس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی\nرُوحِ اُمم کی حیات کشمکشِ انقلاب\nصُورت شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم\nکرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب\nنقش ہیں سب ناتمام خُونِ جگر کے بغیر\nنغمہ ہے سودائے خام خُونِ جگر کے بغیر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%8E%D8%B3%D8%AC%D8%AF%D9%90%D9%82%D9%8F%D8%B1%D8%B7%D9%8F%D8%A8%DB%81"} {"title": "مُحاصرۂ ادَرنہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "یورپ میں جس گھڑی حق و باطل کی چھِڑ گئی\nحق خنجر آزمائی پہ مجبور ہو گیا\n\nگَردِ صلیب، گِردِ قمر حلقہ زن ہوئی\nشکری حصارِ دَرنہ میں محصور ہو گیا\n\nمُسلم سپاہیوں کے ذخیرے ہوئے تمام\nرُوئے اُمید آنکھ سے مستور ہو گیا\n\nآخر امیرِ عسکرِ تُرکی کے حکم سے\nآئینِ جنگ شہر کا دستور ہوگیا\n\nہر شے ہوئی ذخیرۂ لشکر میں منتقل\nشاہیں گدائے دانۂ عُصفور ہو گیا\n\nلیکن فقیہِ شہر نے جس دم سُنی یہ بات\nگرما کے مثلِ صاعقۂ طُور ہو گیا\n\n’ذِمّی کا مال لشکرِ مسلم پہ ہے حرام‘\nفتویٰ تمام شہر میں مشہور ہو گیا\n\nچھُوتی نہ تھی یہود و نصاریٰ کا مال فوج\nمسلم، خدا کے حکم سے مجبور ہوگیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%8F%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D8%B1%DB%82_%D8%A7%D8%AF%D9%8E%D8%B1%D9%86%DB%81"} {"title": "مُصلحینِ مشرق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "میں ہُوں نومِید تیرے ساقیانِ سامری فن سے\nکہ بزمِ خاوراں میں لے کے آئے ساتگیں خالی\nنئی بجلی کہاں ان بادلوں کے جیب و دامن میں\nپرانی بجلیوں سے بھی ہے جن کی آستیں خالی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%8F%D8%B5%D9%84%D8%AD%DB%8C%D9%86%D9%90_%D9%85%D8%B4%D8%B1%D9%82"} {"title": "مُصّور", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "کس درجہ یہاں عام ہُوئی مرگِ تخیّل\nہِندی بھی فرنگی کا مقلّد، عجمی بھی!\nمجھ کو تو یہی غم ہے کہ اس دَور کے بہزاد\nکھو بیٹھے ہیں مشرق کا سُرورِ اَزلی بھی\nمعلوم ہیں اے مردِ ہُنَر تیرے کمالات\nصنعت تجھے آتی ہے پُرانی بھی، نئی بھی\nفطرت کو دِکھایا بھی ہے، دیکھا بھی ہے تُو نے\nآئینۂ فطرت میں دِکھا اپنی خودی بھی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%8F%D8%B5%D9%91%D9%88%D8%B1"} {"title": "مُلّا اور بہشت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "مَیں بھی حاضر تھا وہاں، ضبطِ سخن کر نہ سکا\nحق سے جب حضرتِ مُلّا کو مِلا حکمِ بہشت\nعرض کی مَیں نے، الٰہی! مری تقصیر معاف\nخوش نہ آئیں گے اسے حُور و شراب و لبِ کشت\nنہیں فردوس مقامِ جَدل و قال و اقول\nبحث و تکرار اس اللہ کے بندے کی سرشت\nہے بد آموزیِ اقوام و مِلل کام اس کا\nاور جنّت میں نہ مسجد، نہ کلیسا، نہ کُنِشت!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%8F%D9%84%D9%91%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%B4%D8%AA"} {"title": "مُلّائے حَرم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "عجَب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو\nتری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام\nتری نماز میں باقی جلال ہے، نہ جمال\nتری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%8F%D9%84%D9%91%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AD%D9%8E%D8%B1%D9%85"} {"title": "مِرزا بیدلؔ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہے حقیقت یا مری چشمِ غلَط بیں کا فساد\nیہ زمیں، یہ دشت، یہ کُہسار، یہ چرخِ کبود\nکوئی کہتا ہے نہیں ہے، کوئی کہتاہے کہ ہے\nکیا خبر، ہے یا نہیں ہے تیری دنیا کا وجود!\nمیرزا بیدلؔ نے کس خوبی سے کھولی یہ گرہ\nاہلِ حکمت پر بہت مشکل رہی جس کی کشود!\n“دل اگر میداشت وسعت بے نشاں بود ایں چمن\nرنگ مے بیروں نشست از بسکہ مینا تنگ بود”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%90%D8%B1%D8%B2%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D9%84%D8%94"} {"title": "مِری نوا سے ہُوئے زندہ عارف و عامی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "مِری نوا سے ہُوئے زندہ عارف و عامی\nدیا ہے مَیں نے انھیں ذوقِ آتش آشامی\n\nحرم کے پاس کوئی اعجمی ہے زمزمہ سنج\nکہ تار تار ہُوئے جامہ ہائے احرامی\n\nحقیقتِ اَبدی ہے مقامِ شبیّری\nبدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی\n\nمجھے یہ ڈر ہے مُقامِر ہیں پُختہ کار بہت\nنہ رنگ لائے کہیں تیرے ہاتھ کی خامی\n\nعجب نہیں کہ مسلماں کو پھر عطا کر دیں\nشکوہِ سنجر و فقرِ جنیدؒ و بسطامیؒ\n\nقبائے علم و ہُنر لُطفِ خاص ہے، ورنہ\nتری نگاہ میں تھی میری ناخوش اندامی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%90%D8%B1%DB%8C_%D9%86%D9%88%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%8F%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81_%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D9%85%DB%8C"} {"title": "مِعراج", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "دے ولولۂ شوق جسے لذّتِ پرواز\nکر سکتا ہے وہ ذرّہ مہ و مہر کو تاراج\nمشکل نہیں یارانِ چمن! معرکۂ باز\nپُر سوز اگر ہو نفَسِ سینۂ دُرّاج\nناوک ہے مسلماں، ہدَف اس کا ہے ثُریّا\nہے سِرِّ سرا پردۂ جاں نکتۂ معراج\nتُو معنیِ وَالنّجم، نہ سمجھا تو عجب کیا\nہے تیرا مَد و جزْر ابھی چاند کا محتاج", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%90%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%AC"} {"title": "مِٹا دیا مرے ساقی نے عالمِ من و تو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "مِٹا دیا مرے ساقی نے عالمِ من و تو\nپِلا کے مجھ کو مئے ’لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ھُو‘\n\nنہ مے، نہ شعر، نہ ساقی، نہ شورِ چنگ و رباب\nسکُوتِ کوہ و لبِ جُوے و لالۂ خودرُو!\n\nگدائے مےکدہ کی شانِ بے نیازی دیکھ\nپہنچ کے چشمۂ حیواں پہ توڑتا ہے سبو!\n\nمرا سبوچہ غنیمت ہے اس زمانے میں\nکہ خانقاہ میں خالی ہیں صوفیوں کے کدُو\n\nمیں نَو نیاز ہوں، مجھ سے حجاب ہی اَولیٰ\nکہ دل سے بڑھ کے ہے میری نگاہ بے قابو\n\nاگرچہ بحر کی موجوں میں ہے مقام اس کا\nصفائے پاکیِ طینت سے ہے گُہَر کا وضو\n\nجمیل تر ہیں گُل و لالہ فیض سے اس کے\nنگاہِ شاعرِ رنگیں نوا میں ہے جادو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%90%D9%B9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%90_%D9%85%D9%86_%D9%88_%D8%AA%D9%88"} {"title": "مٹی کا دیا", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جھٹپٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیا\nایک بڑھیا نے سر رہ لا کے روشن کر دیا\nتاکہ رہگیر اور پردیسی کہیں ٹھوکر نہ کھائیں\nراہ سے آساں گزر جائے ہر ایک چھوٹا بڑا\nیہ دیا بہتر ہے ان جھاڑوں سے اور اس لیمپ سے\nروشنی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سدا\nگر نکل کر اک ذرا محلوں سے باہر دیکھیے\nہے اندھیرا گھپ در و دیوار پر چھایا ہوا\nسرخ رو آفاق میں وہ رہنما مینار ہیں\nروشنی سے جن کی ملاحوں کے بیڑے پار ہیں\n\nہم نے ان عالی بناؤں سے کیا اکثر سوال\nآشکارا جن سے ان کے بانیوں کا ہے جلال\nشان و شوکت کی تمہاری دھوم ہے آفاق میں\nدور سے آ آ کے تم کو دیکھتے ہیں با کمال\nقوم کو اس شان و شوکت سے تمہاری کیا ملا\nدو جواب اس کا اگر رکھتی ہو یارائے مقال\nسرنگوں ہو کر وہ سب بولیں زبان حال سے\nہو سکا ہم سے نہ کچھ الانفعال الانفعال\nبانیوں نے تھا بنایا اس لیے گویا ہمیں\nہم کو جب دیکھیں خلف اسلاف کو رویا کریں\n\nشوق سے اس نے بنایا مقبرہ اک شاندار\nاور چھوڑا اس نے اک ایوان عالی یادگار\nایک نے دنیا کے پودے باغ میں اپنے لگائے\nایک نے چھوڑے دفینے سیم و زر کے بے شمار\nاک محب قوم نے اپنے مبارک ہاتھ سے\nقوم کی تعلیم کی بنیاد ڈالی استوار\nہوگی عالم میں کہو سرسبز یہ پچھلی مراد\nیا وہ اگلوں کی امیدیں لائیں گی کچھ برگ و بار\nچشمۂ سر جیوں ہے جو بہتا رہے گا یاں وہی\nسب اتر جائیں گی چڑھ چڑھ ندیاں برسات کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%B9%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مٹی کا دیا (امین حزیں سیالکوٹی)", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دیکھو بچو میں ہوں مٹی کا دیا\nبے حقیقت ہوں مگر ہوں کام کا\nگیس بتی شمع برقی قمقمے\nجتنے بھی ہیں سب ہیں میری نسل کے\nخامشی سے رات بھر جلتا ہوں میں\nپر زباں سے اف نہیں کرتا ہوں میں\nخود جلا کرتا ہوں اوروں کے لئے\nدکھ سہا کرتا ہوں غیروں کے لئے\nمجھ سے ہے روشن اندھیری رات ہے\nمیری فطرت میں یہ کیسی بات ہے\nجھونپڑی میں بھی ہے محفل میں گزر\nمہرباں یکساں ہوں میں ہر ایک پر\nفائدہ پہنچاتا ہوں ہر ایک کو\nہندو ہو مسلم ہو یا عیسائی ہو\nمیں سمجھتا ہی نہیں ہوں ذات پات\nمیری نظروں میں ہے انساں ایک ذات\nروشنی پہنچانا میرا کام ہے\nآپ کی خدمت مرا انعام ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%B9%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%28%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%AD%D8%B2%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D9%84%DA%A9%D9%88%D9%B9%DB%8C%29"} {"title": "مٹیا برج کے حالات", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "کلکتے سے تین چار میل کی مسافت پر جنوب کی طرف دریائے بھاگیرتی (ہگلی) کے کنارے ’’گارڈن پچ‘‘ کے نام ایک خاموش محلہ ہے اور چونکہ وہاں ایک مٹی کا تودہ تھا، اس لیے عام لوگ اسے مٹیا برج کہتے تھے۔ یہاں کئی عالیشان کوٹھیاں تھیں جن کی زمین دریا کے کنارے کنارے تقریباً ڈھائی میل تک چلی گئی ہے۔ جب واجد علی شاہ کلکتے میں پہنچے تو گورنمنٹ آف انڈیا نے یہ کوٹھیاں انہیں دیں۔ دو خاص بادشاہ کے لئے، ایک نواب خاص محل کے واسطے اور ایک علی نقی خان کی سکونت کے لئے جو بادشاہ کے ساتھ تھے۔ ان کے گرد زمین کا ایک بڑا قطعہ جو عرض میں دریا کے کنارے سے تقریباً ڈیڑھ میل تک چلا گیا تھا اور اس کا حلقہ چھ سات میل سے کم نہ ہوگا، بادشاہ کو اپنے اور اپنے ملازمین کے قیام کے لئے دیا گیا۔\n\nمیونسپلٹی کی سڑک اس رقبہ کو طولاً قطع کرتی تھی۔ وہ دو کوٹھیاں جو بادشاہ کو دی گئی تھیں، ان کے نام بادشاہ نے سلطان خانہ اور اسد منزل قرار دیے اور نواب خاص محل کی کوٹھی پر بھی جب بادشاہ نے قبضہ کر لیا تو اس کا نام مرصع منزل رکھا اور ان کے بعد ان کی اولاد خصوصاً نواب اختر محل کے قبضہ میں رہی جو علی نقی خان کی بیٹی اور بادشاہ کی ممتاز بی بی بلکہ ان کے دوسرے ولی عہد مرزا خوش بخت بہادر کی ماں تھیں۔\n\nغدر کے زمانہ میں انگریزی فوج کے باغی افسروں نے ارادہ کیا کہ اگر بادشاہ ان کے حکمراں بنیں تو کلکتہ میں بھی غدر کردیں مگر بادشاہ نے گورنمنٹ آف انڈیا کے معاملہ میں یہ روش نہ تخت و تاج سے جدا ہوتے وقت اختیار کی تھی اورنہ اب پسند کی بلکہ لاٹ صاحب کو ان لوگوں کے ارادے کی اطلاع کر دی۔ اس پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا مگر دو ہی چار روز بعدمناسب سمجھا گیا کہ بادشاہ کو قلعہ فورٹ ولیم میں رکھا جائے تاکہ پھر کبھی باغیوں تک ان کی رسائی نہ ہو سکے۔ لندن میں ان کی جانب سے جو مقدمہ تھا، وہ اس بنا پر ملتوی کر دیا گیا کہ جس ملک کے لئے یہ دعویٰ ہے، وہ اب ہمارے قبضے ہی میں نہیں۔ جب اس پر پھر دولت برطانیہ کا قبضہ ہو لےگا، تب دیکھا جائےگا۔\n\nبادشاہ اس حراست ہی میں تھے کہ لکھنؤ کا غدر فرو ہو گیا اور مسیح الدین خان نے جو لندن میں مختار عام تھے، پھر اپنا دعویٰ پیش کیا۔ انہیں بادی النظر میں کامیابی اور استرداد سلطنت کی پوری امید تھی مگر بدقسمتی سے ان لوگوں میں جو قلعے میں بادشاہ کے مشیر اور مصاحب تھے، خواہ کسی بیرونی تحریک سے یا خود اپنے نفع کے خیال سے ایک سازش ہوئی۔ ان لوگوں نے خیال کیا کہ اگر مسیح الدین خان مقدمہ جیت گئے تو ہمارا بازار سرد پڑ جائےگا اور وہیں وہ رہ جائیں گے، لہٰذا سب نے بادشاہ کو سمجھانا شروع کیا کہ جہاں پناہ بھلا کبھی کسی نے ملک لے کے دیا ہے؟ مسیح الدین خان نے حضور کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ ہونا ہو انا کچھ نہیں ہے اور جہاں پناہ مفت میں تکلیف اٹھا رہے ہیں۔ ڈیڑھ دو سال سے تنخواہ نہیں لی ہے، ہر بات کی تنگی ہے اور ہم ملازمان دولت بھی پیسے پیسے کو محتاج ہیں۔ مناسب یہ ہے کہ حضور گورنمنٹ انگریزی کی تجویزوں کو قبول کر لیں اور تنخواہ وصول کر کے اطمینان اور فارغ البالی سے اپنے محلات عالیات اور آستان بوسان دولت کے ساتھ بسر فرمائیں۔\n\nبادشاہ کو خرچ کی تنگی تھی اور بادشاہ سے زیادہ ان کے رفقاء پریشان تھے۔ مصاحبوں نے جب بارہا یہ تجویز پیش کی تو بلا تکلف حضور وائسرائے کی خدمت میں لکھ بھیجا، ’’مجھے سرکار انگریزی کی مجوزہ ماہوار لینا منظور ہے، لہٰذا میری اس وقت تک کی تنخواہ دی جائے اور مقدمہ جو لندن میں دائر ہے، خارج کیا جائے۔‘‘ جواب ملا، ’’اب آپ کو اول تو گزشتہ ایام کی ماہواری نہ دی جائے گی، صرف اسی وقت سے جاری ہوگی۔ دوسرے فقط بارہ لاکھ روپیہ سالانہ دیے جائیں گے اور جو تین لاکھ روپیہ سالانہ آپ کے ملازمین کے لئے تجویز کیے گئے تھے، اب ان کے دینے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔‘‘\n\nبظن غالب بادشاہ اس نقصان کو برداشت نہ کرتے، مگر مصاحبوں نے اس پر راضی کر دیا اور گورنمنٹ آف انڈیا نے انگلستان میں اطلاع دی کہ واجد علی شاہ نے گورنمنٹ کی تجویز منظور کر لیا، لہٰذا ان کا مقدمہ خارج کر دیا جائے۔ یہ واقعات میں نے خود اپنے نانا منشی قمر الدین صاحب کی زبان سے سنے ہیں جو جناب عالیہ کے ہم راہی دفتر کے میر منشی اور مولوی مسیح الدین خان کے نائب خاص تھے اور کل کارروائیاں انہیں کے ہاتھ سے عمل میں آتی تھیں۔ بادشاہ کے ماہوار پر راضی ہو جانے کی خبر جیسے ہی لندن میں پہنچی، مسیح الدین خاں کے حواس جاتے رہے۔ بادشاہ کی ماں، ان کے بھائی اور ولی عہد نے سرپیٹ لیا اور حیران تھے کہ یہ کیا غضب ہوگیا۔ افسوس اس وقت تک کا کیا دھرا سب خاک میں ملا جاتا ہے۔ آخر مسیح الدین خاں نے سوچتے سوچتے ایک بات پیدا کی اور پارلیمنٹ میں یہ عذر پیش کیا کہ ’’بادشاہ فی الحال گورنمنٹ آف انڈیا کی حراست میں ہیں۔ ان کی کوئی تحریر پایہ اعتبار کو نہیں پہنچ سکتی۔ عذر معقول تھا، تسلیم کیا گیا اور گورنمنٹ آف انڈیا کو بادشاہ کے مختار کی عذر داری سے مطلع کیا گیا۔ ساتھ میں مسیح الدین خاں اور تمام ارکان خاندان شاہی نے بادشاہ کو لکھا کہ ’’یہ آپ کیا غضب کر رہے ہیں۔ ہمیں ملک اودھ کے واپس ملنے کی پوری امید ہے۔‘‘\n\nاب غدر فرو ہو چکا تھا۔ گورنمنٹ نے بادشاہ کو چھوڑ دیا اور وہ خوشی خوشی قلعے سے نکل مٹیا برج میں آئے اور آزادی حاصل ہوئی ہی تھی کہ مصاحبوں نے عرض کیا، ’’حضور مسیح الدین خاں لندن میں کہہ رہے ہیں کہ جہاں پناہ نے تنخواہ لینے کو صرف قید ہونے کی وجہ سے منظور کر لیا ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی بادشاہ نے برافروختہ ہوکے اسی وقت لکھ بھیجا کہ ’’ہم نے آزادی سے بہ رضا و رغبت گورنمنٹ کی تجویز منظور کیا ہے اور مسیح الدین خان کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ ہم نے قید میں ہونے یا کسی جبروا کراہ کی وجہ سے منظوری دی ہے، لہٰذا آئندہ کے لئے ہم اس مختار نامے ہی کو منسوخ کیے دیتے ہیں جس کی رو سے وہ ہمارے مختار عام بنائے گئے ہیں۔‘‘\n\nاب کیا تھا؟ ساری کارروائی ختم ہو گئی۔ بادشاہ مٹیا برج میں رنگ رلیاں منانے لگے۔ مصاحبوں کے گھر میں ہن برسنے لگا اور شاہی خاندان کا شکستہ حال قافلہ جو انگلستان میں پڑا ہوا تھا، قریب قریب وہیں تباہ ہو گیا۔ اکثر ہم راہیوں نے ساتھ چھوڑ دیا۔ بادشاہ کی جناب عالیہ اس صدمہ سے بیمار ہو گئیں اور اسی بیماری میں چلیں کہ ملک فرانس سے ہوتی ہوئی مقامات متبرکہ میں جائیں اور ان کی زیارت سے شرف یاب ہوکے کلکتے پہنچیں مگر موت نے پیرس سے آگے قدم نہ بڑھانے دیا۔ وہیں انتقال کیا اور عثمانی سفارت خانہ، فرانس کی مسجد کے متصل مسلمانوں کا ایک قبرستان ہے، اسی میں دفن ہوئیں۔ مرزا سکندر حشمت کو ماں کے مرنے کا اس قدر صدمہ ہوا کہ ماں کے مرتے ہی خود بھی بیمار پڑ گئے اور ان کے چودہ پندرہ روز بعد وہ بھی ماں کے برابر یوم جزا کا انتظار کرنے کے لئے لٹا دیے گئے۔ اکیلے مرزا ولی عہد بہادر کلکتہ واپس آکر ماں باپ سے ملے۔\n\nکہتے ہیں کہ ابتداءً مٹیا برج میں بھی بادشاہ کی زندگی نہایت ہی بیدار مغزی اور ہوشیاری کی تھی۔ یہ حالت دیکھ کر گرد و پیش کے لوگوں نے چند آلات موسیقی فراہم کر دیے۔ فوراً سرود بمستان یاد دیائیدن کا پورا پورا مضمون صادق آ گیا اور ارباب نشاط کا گروہ وہاں بھی جمع ہونے لگا۔ ہندوستان کے اچھے اچھے گوئیے آکے ملازم ہوئے اور مٹیا برج میں موسیقی دانوں کا ایسا مجمع ہو گیا تھا کہ اور کسی جگہ نہ تھا۔\n\nتیسرا شوق انہیں عمارت کا تھا۔ سلطان خانہ کے گرد بیسیوں محل سرائیں تعمیر ہو گئیں اوربہت سی نئی کوٹھیاں اور ان میں محل سرائیں تھیں۔ گورنمنٹ سے صرف سلطان خانہ، اسد منزل اور مرصع منزل ملی تھیں مگر بادشاہ کے شوق نے چند ہی روز میں بیسیوں کوٹھیاں تعمیر کرا دیں جن کے گرد نہایت ہی پر فضا باغ اور فرحت بخش چمن تھے۔ جس وقت میں نے دیکھا ہے، بادشاہ کے قبضے میں مندرجہ ذیل عالیشان کوٹھیاں تھیں جو جنوب سے شمال تک ترتیب وار چلی گئی تھیں۔ (1) سلطان خانہ، (2) قصر البیضا، (3) گوشۂ سلطانی، (4) شہنشاہ منزل، (5) مرصع منزل، (6) اسد منزل، (7) شاہ منزل، (8) نور منزل، (9) تفریح بخش، (10) بادامی، (11) آسمانی، (12) تہنیت منزل، (13) حد سلطانی، (14) سد سلطانی اور (15) عدالت منزل۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی کوٹھیاں تھیں جن کے نام مجھے یاد نہیں رہے۔\n\nان کے ماسوا باغو ں کے اندر تالا بوں کے کنارے بہت سے کمرے، بنگلے اور چھوٹی چھوٹی کوشکیں تھیں۔ ان تمام کوٹھیوں، متفرق کمروں، بنگلوں اور کوشکوں میں صاف ستھرا پرتکلف فرش بچھا رہتا تھا۔ چاندی کے پلنگ، بچھونوں اور تکیوں سے مکمل لگے رہتے۔ تصویریں اور طرح طرح کا فرنیچر آراستہ ہوتا اور محض پرورش کے خیال سے ضرورت سے زیادہ مکان دار مقرر تھے جو روز جھاڑتے اور ہر چیز کو صفائی اور قرینے سے آراستہ رکھتے۔ غرض ہر کوٹھی بجائے خود اس قدر آراستہ و پیراستہ نظر آتی کہ انسان عش عش کر جاتا۔ کوٹھیوں کے گرد کے باغ اور چمن ایسی ہند سی ترتیبوں اور اقلیدس کی شکلوں کے مطابق بنائے گئے تھے کہ دیکھنے والوں کو بادشاہ کی مناسبت طبعی پر تعجب تھا۔\n\nلکھنؤ میں تو باشاہ نے صرف قیصر باغ اور اس کے پاس کی چند عمارتیں یا اپنے والد مرحوم کا امام باڑہ اور مقبرہ ہی تعمیر کیا تھا مگر مٹیا برج میں نفیس او ر اعلیٰ عمارتوں کا ایک خوبصورت شہر بسا دیا تھا۔ دریا کے اس پار مٹیا برج کے مقابل کلکتہ کا مشہور بوٹینکل گارڈن ہے مگر وہ مٹیا برج کی دنیوی جنت اور اس کے دلکش عجائبات کے سامنے مٹ گیا تھا۔ ان تمام عمارتوں، چمنوں، کنجوں اور وسیع و نزہت بخش مرغزاروں کے گرد بلند دیواروں کا احاطہ تھا مگرمیونسپلٹی کی شاہراہ عام کے کنارے کنارے تقریباً ایک میل تک شاندار دکانیں تھیں اور ان میں وہی ادنیٰ درجے کے ملازمین رہنے پاتے تھے جن کو اپنے فرائض کے لحاظ سے رہنے کی ضرورت تھی مگر اندر جانے کا راستہ سوائے پھاٹکوں کے جن پر پہرہ رہتا، کھلی دکان میں سے نہیں رکھا گیا تھا۔ خاص سلطان خانہ کے پھاٹک پر نہایت عالیشان نوبت خانہ تھا۔ نقارچی نوبت بجاتے اور پرانے پہروں اور گھڑیوں ہی کے حساب سے شب و روز گھڑیال بجا کرتا تھا۔\n\nدنیا میں عمارت کے شوقین ہزاروں بادشاہ گزرے ہیں مگر غالباً اپنی ذات سے کسی تاجدار نے اتنی عمارتیں اور اتنے باغ نہ بنائے ہوں گے جتنے کہ واجد علی شاہ نے اپنی ناکام زندگی اور برائے نام شاہی کے مختصر زمانے میں بنائے۔ شاہجہاں کے بعد اس بارہ خاص میں اگر کسی کا نام لیا جاسکتا ہے تو وہ اسی ستم زدہ شاہ اودھ کا نام ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی خاص عمارت سینکڑوں ہزاروں سال تک باقی رہی اور کسی کی صدہا عمارتیں زمانے نے چند ہی روز میں مٹاکے رکھ دیں۔\n\nعمارت کے علاوہ بادشاہ کو جانوروں کا شوق تھا اور اس شوق کو بھی انہوں نے اس درجہ تک پہنچا دیا کہ دنیا اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے اور شاید کوئی شخصی کوشش آج تک اس کے نصف درجہ کو بھی نہ پہنچ سکی ہوگی۔ نور منزل کے سامنے خوشنما آہنی کٹہروں سے گھیر کے ایک وسیع رمنہ بنایا گیا تھا جس میں صدہا چیتل، ہرن اور وحشی چوپائے چھوٹے چھوٹے پھرتے تھے۔ اسی کے درمیان سنگ مرمر کا ایک پختہ تالاب تھا جو ہر وقت ملبب رہتا اور اس میں شتر مرغ، کشوری، فیل مرغ، سارس، قازیں، بگلے، قرقرے، ہنس، مور، چکور اور صدہا قسم کے طیور اور کچھوے چھوڑ دیے گئے تھے۔ صفائی کا اس قدر اہتمام تھا کہ مجال کیا کہ جو کہیں بیٹ یا کسی جانور کا پر بھی نظر آ جائے۔ ایک طرف تالاب کے کنارے کٹہروں میں شیر تھے اور اس رمنے کے پاس ہی سے لکڑی کی سلاخوں دار بڑے بڑے خانوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس میں بیسوں طرح کے اور خدا جانے کہاں کہاں کے بندر لا کے جمع کیے گئے تھے جو عجیب عجیب حرکتیں کرتے اور انسان کو بغیر اپنا تماشہ دکھائے آگے نہ بڑھنے دیتے۔\n\nمختلف جگہ حوضوں میں مچھلیاں پالی گئی تھیں جو اشارے پر جمع ہوجاتیں اور کوئی کھانے کی چیز ڈالیے تو اپنی اچھل کود سے خوب بہار دکھاتیں۔ سب پر طرہ یہ کہ شہنشاہ منزل کے سامنے ایک بڑا سا لمبا اور گہرا حوض قائم کر کے اور اس کے کنارو ں کو چاروں طرف سے خوب چکنا کر کے اور آگے کی طرف جھکا کے اس کے بیچ میں ایک مصنوعی پہاڑ بنایا گیا تھا جس کے اندر سیکڑوں نالیاں دوڑائی گئی تھیں اور اوپر سے دو ایک جگہ کاٹ کے پانی کا چشمہ بھی بہا دیا گیا تھا۔ اس پہاڑ میں ہزاروں بڑے بڑے دو دو، تین تین گز کے لمبے سانپ چھوڑ دیے گئے تھے جو برابر دوڑتے اور رینگتے پھرتے۔ پہاڑ کی چوٹی تک چڑھ جاتے اور پھر نیچے اتر آتے۔ مینڈکیاں چھوڑی جاتیں، انہیں دوڑ دوڑ کر کے پکڑتے۔ پہاڑ کے گردا گرد نہر کی شان سے ایک نالی تھی، اس میں سانپ لہرا لہرا کے دوڑتے اور مینڈکوں کا تعاقب کرتے اور لوگ بلا کسی خوف کے پاس کھڑے سیر دیکھا کرتے۔ اس پہاڑ کے نیچے بھی دو کٹہرے تھے، جن میں دو بڑی بڑی چیتنیں رکھی گئی تھیں۔ یوں تو خاموش پڑی رہتیں، لیکن جس وقت مرغ لاکے چھوڑا جاتا، اسے جھپٹ کر پکڑتیں اور مسلم نگل جاتیں۔ سانپوں کے رکھنے کا انتظام اس سے پہلے شاید کہیں نہ کیا گیا ہوگا اور یہ خاص واجد علی شاہ کی ایجاد تھی جس کو یورپ کے سیاح حیرت سے دیکھتے اور اس کی تصویریں اور مشرح کیفیت قلمبند کرتے جاتے تھے۔\n\nمذکورہ جانوروں کے علاوہ ہزارہا طیور کے چمکتے ہوئے برنجی پنجرے خاص سلطان خانے کے اندر تھے۔ بیسیوں بڑے بڑے ہال تھے جو لوہے کے جال سے محفوظ کر لیے گئے تھے اور گنج کہلاتے تھے۔ ان میں قسم قسم کے طیور کثرت سے لاکے چھوڑ دیے گئے تھے۔ ان کے رہنے اور نشوونما پانے کا پورا سامان فراہم کیا گیا تھا۔ بادشاہ کی کوشش تھی کہ چرند و پرند میں سے جتنی قسم کے جانور دستیاب ہو سکیں، سب جمع کرلیے جائیں اور واقعی ایسا مکمل اور زندہ عجائب خانہ شاید روئے زمین پر کہیں موجود نہ ہوگا۔ ان جانوروں کی فراہمی میں بے روک روپیہ صرف کیا جاتا اور کوئی شخص کوئی نیا جانور لاتا تو منہ مانگے دام پاتا۔ کہتے ہیں کہ بادشاہ نے ریشم پرے کبوتروں کا جوڑا چوبیس ہزار روپے کو اور سفید مور کا جوڑا گیارہ ہزار روپے کو لیا تھا۔ زرافہ جوافریقہ کا بہت بڑا اور عجیب جانور ہے، اس کا بھی ایک جوڑا موجود تھا۔ دو کوہان کے بغدادی اونٹ ہندوستان میں کہیں نہیں نظر آتے اور بادشاہ کے وہاں تھے۔ کلکتے میں ہاتھی مطلق نہیں ہیں، مگر بادشاہ کے اس زندہ نیچرل ہسٹری میوزیم میں ایک ہاتھی بھی تھا۔ محض اس خیال سے کہ کوئی جانور رہ نہ جائے، دو گدھے بھی رمنے میں لاکے چھوڑ دیے گئے تھے۔ درندوں میں سے شیرببر، دیسی شیر، چیتے، تیندوے، ریچھ، سیاہ گوش، چرخ، بھیڑیے کٹہروں میں بند تھے اوربڑی خاطر دشت سے رکھے جاتے۔\n\nکبوتروں کا انتظام دیگر جانوروں سے الگ تھا۔ بادشاہ کی مختلف کوٹھیوں میں سب ملائے چوبیس پچیس ہزار کبوتر تھے جن کے اڑانے میں کبوتر بازوں نے بڑے بڑے کمالات دکھائے تھے۔ جانوروں پر جو صرف ہو رہا تھا، اس کا ناقص اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ آٹھ سو سے زیادہ جانور باز تھے۔ تین سو کے قریب کبوتر باز تھے۔ اسی کے قریب ماہی پرور تھے اور تیس چالیس کے قریب مار پرور تھے جن کو دس روپیہ ماہوار سے لے کر چھ روپیہ ماہوار تک تنخواہیں ملتی تھیں۔ افسروں کی تنخواہیں تیس سے بیس روپیہ تک تھیں اور کبوتروں، سانپوں اور مچھلیوں کے علاوہ دیگر جانوروں کی خوراک میں کچھ کم نو ہزار روپے ماہوار صرف ہوتے تھے۔\n\nعمارت کا کام زیادہ تر مونس الدولہ اورایمان الدولہ کے سپر درہا۔ ان کو عمارت کی مد میں تقریباً پچیس ہزار ماہوار ملا کرتے تھے۔ ہزار کے قریب پہرے کے سپاہی تھے جن کی تنخواہیں عموماً چھ روپیہ ماہوار تھیں۔ بعض بعض آٹھ یا دس روپے بھی پاتے۔ یہی تنخواہ مکان داروں کی تھی جن کا شمار پانچ سو سے زیادہ تھا۔ مالیوں کی بھی یہی تنخواہ تھی اور ان کا شمار بھی پانچ سوسے زیادہ تھا۔ تقریباً اسی اہل قلم یعنی محرر تھے جو تیس سے دس روپیہ ماہوار تک تنخواہ پاتے تھے۔ معزز مصاحبوں اور اعلیٰ عہدیداروں کا شمار چالیس پچاس سے کم نہ ہوگا جو اٹھارہ روپیہ ماہوار پاتے تھے۔ سو سے زیادہ کہار تھے۔ ان کے علاوہ بیسیوں چھوٹے چھوٹے محکمے تھے۔ باورچی خانہ، آبدار خانہ، بھنڈی خانہ، خس خانہ اور خدا جانے کیا کیا تھا۔ پھر ایک مدلواحق بیگمات یعنی ممتوعات کے رشتہ داروں اوربھائی بندوں کی تھی، جنہیں حسب حیثیت تنخواہیں ملتی تھیں۔\n\nان سب لوگوں نے کوٹھیوں کے رقبے سے باہر زیادہ تر اسی زمین پر جو بادشاہ کو دی گئی تھی اور بہتوں نے پاس کی دوسری زمینوں پر مکان بنالیے تھے اور ایک شہر بس گیا تھا جس کی مردم شماری چالیس ہزار سے زیادہ تھی۔ ان سب کی زندگی بادشاہ کی تنخواہ کے ایک لاکھ روپے ماہوار سے وابستہ تھی اور کسی کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اتنی خلقت عظیم اس تھوڑی رقم میں کیونکر زندگی بسر کر لیتی تھی۔ بنگالہ عوام میں یہ مشہور تھا کہ بادشاہ کے پاس پارس پتھر ہے، جب ضرورت ہوتی ہے، لوہے یا تانبے کو اس میں رگڑ کر سونا بنا لیا کرتے ہیں۔\n\nحقیقت حال یہ ہے کہ بادشاہ کے قیام سے کلکتہ کے پڑوس میں ایک دوسرا لکھنؤ آباد ہو گیا تھا۔ اصلی لکھنؤ مٹ گیا تھا اور اس کی منتخب صحبت مٹیا برج میں چلی گئی تھی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان دنوں لکھنؤ، لکھنؤ نہیں رہا تھا، مٹیا برج لکھنؤ تھا۔ یہی چہل پہل تھی۔ یہی زبان تھی، یہی شاعری تھی، یہی صحبتیں اوربذلہ سنجیاں تھیں اور یہیں کے علماء اور اتقیاء تھے۔ یہیں کے علماء او رروساء تھے اور یہیں کے عوام تھے۔ کسی کو نظر ہی نہ آتا تھا کہ ہم بنگالہ میں ہیں۔ یہی پتنگ بازیاں تھیں، یہی مرغ بازیاں تھیں، یہی بٹیر بازیاں تھیں، یہی افیونی تھے، یہی داستان گوئی تھی، یہی تعزیہ داری تھی، یہی مرثیہ خوانی و نوحہ خوانی تھی، یہی امام باڑے تھے اور یہی کربلا تھی بلکہ جس جلوس اور شان و شوکت سے بادشاہ کی ضریح اٹھتی تھی، لکھنؤ میں عہد شاہی میں شاید ہی اٹھ سکی ہو۔ غدر کے بعد تو کبھی کوئی تعزیہ نہ اٹھ سکا۔ کلکتے کی ہزارہا خلقت اور انگریز تک زیارت کو مٹیا برج میں آجاتے تھے۔\n\nمٹیا برج کے دکان دار اور مہاجن تک لکھنؤ کے تھے اور لکھنؤ کی کوئی چیز نہ تھی جو مکمل ترین صورت میں وہاں موجود نہ ہو۔ جدھر گزریے ایک عجیب رونق اور چہل پہل نظر آتی تھی اور اس لطف میں لوگ اس قدر محو اور مست و از خود رفتہ ہورہے تھے کہ کسی کو انجام کی خبر ہی نہ تھی۔ عمارت شاہی اور رمنہ وغیرہ کے اندر جانے کی اہل لکھنؤ، جملہ ملازمین بلکہ ساکنین مٹیا برج کو عام آزادی حاصل تھی۔ باغوں میں پھریے تواس سے زیادہ پر فضا مقام کہیں نصیب نہ ہو سکتا۔ دریا کے کنارے کھڑے ہوجائیے تو عجیب لطف نظر آتا۔ کلکتے کو آنے جانے والے جہاز سامنے سے ہوکے گزرتے جو فورٹ ولیم کی سلامی کے لئے یہیں سے اپنی جھنڈیاں اتارنا شروع کردیتے اور لوگ سمجھتے کہ بادشاہ کی سلامی لے رہے ہیں۔ محلات کی ڈیوڑھیوں اور محل سراؤں کے دروازوں پر کھڑے ہو جائیے تو عجیب لطف کی دھوم دھام میں کبھی کبھی ایسی صورتیں نظر آ جاتیں اورا یسی فصیح و دلکش زبان اور ایسی مزے مزے کی پیاری باتیں سننے میں آ جاتیں کہ انسان مدتوں بلکہ زندگی بھر مزہ لیا کرتا۔\n\nآہ! یہ خوبصورت اور دل فریب نقش تو مٹنے کے قابل نہ تھا! مگر ہائے زمانے نے مٹا ہی دیا اور ایسا مٹایا کہ گویا تھا ہی نہیں۔ 1316ھ (1887) میں یکایک بادشاہ کی آنکھ بند ہوئی اور ایسا معلوم ہوا کہ، خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا۔ سب باتیں خواب و خیال تھیں۔ ایک طلسم تھا کہ یکایک ٹوٹ گیا اور وہ خوبصورت بقعہ جس کی زیارت کی تمنا یورپ کے سلاطین اور ہندوستان کے والیان ملک کو رہا کرتی تھی، آج ایک وحشتستان فنا اور عبرت کدہ ہے جہاں کچھ بھی نہیں۔ جس نے اگلے رنگ کو کبھی دیکھا تھا، اب وہاں کے سناٹے کو دیکھ کے سوا اس کے کمال حسرت و اندوہ کے ساتھ ایک ٹھنڈی سانس بھر کے کہے، ’’رہے نام اللہ کا۔‘‘ اور کیا کر سکتا ہے؟", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%D9%B9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%B1%D8%AC_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA"} {"title": "مچلتی ہے مرے سینے میں تیری آرزو کیا کیا", "poet_page": "مصنف:فروغ حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مچلتی ہے مرے سینے میں تیری آرزو کیا کیا\nلیے پھرتی ہے تیری چاہ مجھ کو کو بہ کو کیا کیا\n\nرہی ہے بعد مردن بھی تمہاری جستجو کیا کیا\nغبار خاک مرقد اڑ رہا ہے چار سو کیا کیا\n\nکبھی عاشق کو سمجھایا کبھی غیروں کو بہلایا\nفریب آمیز ہیں چالیں تری او حیلہ جو کیا کیا\n\nرہائی دی مجھے قید علائق سے عنایت کی\nکسی کی تیغ کا ممنون ہے میرا گلو کیا کیا\n\nبہاریں لوٹتا ہوں آپ کے تشریف لانے میں\nپھلا پھولا ہے میرا آج نخل آرزو کیا کیا\n\nتمہیں بھی یاد ہیں کچھ قول و اقرار و قسم اپنے\nہوئی تھی درمیاں میرے تمہارے گفتگو کیا کیا\n\nخیال ہجر سے حالت تغیر ہوتی جاتی ہے\nاڑا جاتا ہے میرے دل سے رنگ آرزو کیا کیا\n\nتمہارے واسطے سن لیتے ہیں ہر ایک کی باتیں\nہمیں کہہ جاتے ہیں باتوں ہی باتوں میں عدو کیا کیا\n\nعدو کی منتیں کی ہیں قدم چومے ہیں درباں کے\nفروغؔ بے سر و ساماں ہوا بے آبرو کیا کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مچھر اور مچھرانیاں", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ٹوٹی پھوٹی موری میں اک مچھر صاحب رہتے ہیں\nشاید وہ گھر میں بھی اپنے مچھر ہی کہلاتے ہیں\nبیویاں ان کی چار عدد ہیں مچھرانی کہلاتی ہیں\nموری والے گھر میں ہی جی چاروں سے بہلاتے ہیں\nاک دن وہ گھر سے نکلے تو واپس آنا بھول گئے\nمیں تو جانوں اسی طرح سے روز کہیں اڑ جاتے ہیں\nبیویاں ان کی چپ بیٹھی تھیں لیکن فکر تھی سب کو ہی\nچاروں آپس میں کہتی تھیں اب آتے اب آتے ہیں\nپہلی بولی سچ کہتی ہوں میں عادت سے واقف ہوں\nآڑے ترچھے اڑتے وہ اب بین بجاتے آتے ہیں\nدوسری بولی سچ کہتی ہوں میں عادت سے واقف ہوں\nلال کھٹولا ہرے بھرے تکیے ان پر لوٹ لگاتے ہیں\nتیسری بولی سچ کہتی ہوں میں عادت سے واقف ہوں\nکوڑا گھر کے خمیر کے اوپر رہ رہ کر منڈلاتے ہیں\nچوتھی بولی سچ کہتی ہوں میں عادت سے واقف ہوں\nباسی باسی پھلوں کے رس میں خوش ہو ہو کے نہاتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%86%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DA%86%DA%BE%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے\nدام خالی قفس مرغ گرفتار کے پاس\n\nجگر تشنۂ آزار تسلی نہ ہوا\nجوئے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس\n\nمند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہے ہے\nخوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس\n\nمیں بھی رک رک کے نہ مرتا جو زباں کے بدلے\nدشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس\n\nدہن شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل\nنہ کھڑے ہو جیے خوبان دل آزار کے پاس\n\nدیکھ کر تجھ کو چمن بسکہ نمو کرتا ہے\nخود بہ خود پہنچے ہے گل گوشۂ دستار کے پاس\n\nمر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہے\nبیٹھنا اس کا وہ آ کر تری دیوار کے پاس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%98%D8%AF%DB%81_%D8%A7%DB%92_%D8%B0%D9%88%D9%82_%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مژدہ اے رہروان راہ سخن", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "مژدہ اے رہروان راہ سخن\nپایہ سنجان دست گاہ سخن\nطے کرو راہ شوق زودا زود\nآن پہنچی ہے منزل مقصود\nپاس ہے اب سواد اعظم نثر\nدیکھیے چل کے نظم عالم نثر\nسب کو اس کا سواد ارزانی\nچشم بینش ہو جس سے نورانی\nیہ تو دیکھو کہ کیا نظر آیا\nجلوۂ مدعا نظر آیا\nہاں یہی شاہراہ دہلی ہے\nمطبع بادشاہ دہلی ہے\nمنطبع ہو رہی ہے پنج آہنگ\nگل و ریحان و لالہ رنگا رنگ\nہے یہ وہ گلشن ہمیشہ بہار\nبار ور جس کا سرو گل بے خار\nنہیں اس کا جواب عالم میں\nنہیں ایسی کتاب عالم میں\nاس سے انداز شوکت تحریر\nاخذ کرتا ہے آسماں کا دبیر\nمرحبا طرز نغز گفتاری\nحبذا رسم و راہ نثاری\nنثر مدحت سراے ابراہیم\nہے مقرر جو اب پئے تعلیم\nاس کے فقروں میں کون آتا ہے\nکیا کہیں کیا وہ راگ گاتا ہے\nتین نثروں سے کام کیا نکلے\nان کے پڑھنے سے نام کیا نکلے\nورزش قصہ کہن کب تک\nداستان شہ دکن کب تک\nتا کجا درس نثر ہاے کہن\nتازہ کرتا ہے دل کو تازہ سخن\nتھے ظہوری و عرفی و طالب\nاپنے اپنے زمانے میں غالب\nنہ ظہوری ہے اور نہ طالب ہے\nاسد اللہ خاں غالب ہے\nقول حافظ کا ہے بجا اے دوست\nہر کر اپنج روز نوبت اوست\nکل وہ سرگرم خودنمائی تھے\nشمع بزم سخن سرائی تھے\nآج یہ قدر دان معنی ہے\nبادشاہ جہان معنی ہے\nنثر اس کی ہے کارنامۂ راز\nنظم اس کی نگار نامۂ راز\nدیکھو اس دفتر معانی کو\nسیکھو آئین نکتہ دانی کو\nاس سے جو کوئی بہرہ ور ہو گا\nسینہ گنجینۂ گہر ہو گا\nہو سخن کی جسے طلب گاری\nکرے اس نسخے کی خریداری\nآج جو دیدہ ور کرے درخواست\nتین بھیجے رپے وہ بے کم و کاست\nمنطبع جب کہ ہو چکے گی کتاب\nزر قیمت کا ہو گا اور حساب\nچار سے پھر نہ ہو گی کم قیمت\nاس سے لیویں گے کم نہ ہم قیمت\nجس کو منظور ہو کہ زر بھیجے\nاحسن اللہ خاں کے گھر بھیجے\nوہ بہار ریاض مہر و وفا\nجس کو کہتے ہیں عمدۃ الحکما\nمیں جو ہوں در پے حصول شرف\nنام عاصی کا ہے غلام نجف\nہے یہ القصہ حاصل تحریر\nکہ نہ ارسال زر میں ہو تاخیر\nچشمۂ انطباع جاری ہے\nابتداے ورق شماری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%98%D8%AF%DB%81_%D8%A7%DB%92_%D8%B1%DB%81%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%B3%D8%AE%D9%86"} {"title": "مژدہ یہ صبا اس بت بے باک کو پہنچا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مژدہ یہ صبا اس بت بے باک کو پہنچا\nیہ دود دل سوختہ افلاک کو پہنچا\n\nپیغام زبانی تو نصیبوں میں کہاں تھا\nنامہ بھی نہ تیرا ترے غم ناک کو پہنچا\n\nصد چاک کیا پیرہن گل کو صبا نے\nجب وہ نہ تری خوبیٔ پوشاک کو پہنچا\n\nصحرا میں ہوسؔ خار مغیلاں کی مدد سے\nبارے مرا خوں ہر خس و خاشاک کو پہنچا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%98%D8%AF%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7"} {"title": "مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں\nجو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں\n\nکھینچے ہے دور آپ کو میری فروتنی\nافتادہ ہوں پہ سایۂ قد کشیدہ ہوں\n\nہر شام مثل شام ہوں میں تیرہ روزگار\nہر صبح مثل صبح گریباں دریدہ ہوں\n\nکرتی ہے بوئے گل تو مرے ساتھ اختلاط\nپر آہ میں تو موج نسیم دزیدہ ہوں\n\nتو چاہتی ہے تو تپش دل کہ بعد مرگ\nکنج مزار میں بھی نہ میں آرمیدہ ہوں\n\nاے دردؔ جا چکا ہے مرا کام ضبط سے\nمیں غم زدہ تو قطرۂ اشک چکیدہ ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%DA%AF_%D8%AA%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "مژگاں وہ جھپکتا ہے اب تیر ہے اور میں ہوں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مژگاں وہ جھپکتا ہے اب تیر ہے اور میں ہوں\nسر پاؤں سے چھدنے کی تصویر ہے اور میں ہوں\n\nکہتا ہے وہ کل تیرے پرزے میں اڑاؤں گا\nاب صبح کو قاتل کی شمشیر ہے اور میں ہوں\n\nبے جرم و خطا جس کا خوں ہووے روا یارو\nاس خوبیٔ قسمت کا نخچیر ہے اور میں ہوں\n\nہے قتل کی دھن اس کو اور میری نظر حق پر\nتدبیر ہے اور وہ ہے تقدیر ہے اور میں ہوں\n\nدل ٹوٹا نظیرؔ اب تو دو چار برس رو کر\nاس قصر شکستہ کی تعمیر ہے اور میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%AC%DA%BE%D9%BE%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "مژگاں ہیں غضب ابروے خم دار کے آگے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مژگاں ہیں غضب ابروے خم دار کے آگے\nیہ تیر برس پڑتے ہیں تلوار کے آگے\n\nخیر اس میں ہے واعظ کہ کبھی مے کی مذمت\nکرنا نہ کسی رند خوش اطوار کے آگے\n\nکہنا مری بالیں پہ کہ آثار برے ہیں\nکرتا ہے یہ باتیں کوئی بیمار کے آگے\n\nشکوے تھے بہت ان سے شکایت تھی بہت کچھ\nسب بھول گئے وصل کی شب پیار کے آگے\n\nخلوت میں جو پوچھو تو کہوں دل کی حقیقت\nمجھ سے نہ مرا حال سنو چار کے آگے\n\nآئینہ ابھی دیکھ کے خودبیں تو وہ ہو لیں\nخود آئیں گے پھر طالب دیدار کے آگے\n\nقاروں کا خزانہ ہو کہ حاتم کی سخاوت\nسب کچھ ہے مگر کچھ نہیں مے خوار کے آگے\n\nکیا مجھ کو ڈرائیں گی تری تیز نگاہیں\nیہ آنکھ جھپکتی نہیں تلوار کے آگے\n\nدیوانوں میں دیوانے حفیظؔ آپ ہیں ورنہ\nہشیار سے ہشیار ہیں ہشیار کے آگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88%DB%92_%D8%AE%D9%85_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92"} {"title": "مکان دیکھے مکیں دیکھے لا مکاں دیکھا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مکان دیکھے مکیں دیکھے لا مکاں دیکھا\nکہاں کہاں تجھے ڈھونڈا کہاں کہاں دیکھا\n\nذرا جو ہم نے انہیں آج مہرباں دیکھا\nنہ ہم سے پوچھئے کیا رنگ آسماں دیکھا\n\nنہ پہنچے بام قفس تک کبھی مرے نالے\nوہ برق ہوگی جسے گرد آشیاں دیکھا\n\nجھکا جھکا ہے تو ہاں گر پڑے مرے سر پر\nیہی نہ یاس سے تھا سوئے آسماں دیکھا\n\nبہت سے رند بھی دیکھے بہت سے زاہد بھی\nانہیں تو پیر ہمیشہ انہیں جواں دیکھا\n\nاب آرزوئیں بر آئیں کہ خاک میں مل جائیں\nخدا نے دن یہ دکھایا انہیں جواں دیکھا\n\nیہ جانتے ہیں کہ دل خاک ہو گیا جل کر\nنہ آگ دیکھی نہ اٹھتے ہوئے دھواں دیکھا\n\nبہت ہی روئے گلے مل کے ایک ایک سے ہم\nلٹا ہوا جو کوئی ہم نے کارواں دیکھا\n\nقفس میں روکے ستم تیرے دیکھ لیں صیاد\nچمن میں رہ کے بہت لطف باغباں دیکھا\n\nریاضؔ خاک در مے کدہ تھا جیتے جی\nفنا کے بعد اسے خلد آشیاں دیکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D9%85%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D9%84%D8%A7_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "مکان ملتے ہیں کیا لا مکاں نہیں ملتا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مکان ملتے ہیں کیا لا مکاں نہیں ملتا\nنشان لاکھ ہیں لیکن نشاں نہیں ملتا\n\nکہیں بھی جائیں کہاں آسماں نہیں ملتا\nلحد ہی ایک جگہ ہے جہاں نہیں ملتا\n\nہوئی ہے روشن اسی سے ہماری پیشانی\nجبین عرش کو جو آستاں نہیں ملتا\n\nسنی ہے میں نے بھی رنگیں نوائی ناقوس\nگلے سے میرے یہ وقت اذاں نہیں ملتا\n\nیہ چاہتا ہوں کہ بے منہ کے آبلوں سے نبھے\nکہیں بھی خار کوئی بے زباں نہیں ملتا\n\nبہار آتے ہی پھولوں نے چھاؤنی چھائی\nکہ ڈھونڈھتا ہوں مجھے آشیاں نہیں ملتا\n\nیہ کہہ رہا ہے ترنم ہوا کی موجوں کا\nخموش پھولوں کا حسن بیاں نہیں ملتا\n\nیہ شب گزار حرم ہے ضرور اے ساقی\nکسی سے رات کو پیر مغاں نہیں ملتا\n\nچلے نہ کام بھرے خم اگر نہ ساتھ چلیں\nحرم کی راہ میں کوسوں کنواں نہیں ملتا\n\nشفق کھلی نہ سر قبر پائے رنگیں سے\nزمیں سے جھک کے کبھی آسماں نہیں ملتا\n\nخدا کے واسطے پہنچا دے کوئی منزل تک\nبچھڑ گیا ہوں مجھے کارواں نہیں ملتا\n\nزبان حال میں ان کی عجب لطافت ہے\nکسی سے پھولوں کا حسن بیاں نہیں ملتا\n\nچلے نہ ہاتھ گلے پر تو خود ہی چل جائے\nانہیں گلا ہے کہ خنجر رواں نہیں ملتا\n\nریاضؔ چھانٹ لیا اس نے مجھ سے بوڑھے کو\nکوئی بھی دختر رز کو جواں نہیں ملتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86_%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%84%D8%A7_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "مکانی ہُوں کہ آزادِ مکاں ہُوں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "مکانی ہُوں کہ آزادِ مکاں ہُوں\nجہاں‌بِیں ہُوں کہ خود سارا جہاں ہُوں\nوہ اپنی لامکانی میں رہیں مست\nمجھے اتنا بتا دیں مَیں کہاں ہُوں!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%8F%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%D9%90_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%8F%D9%88%DA%BA"} {"title": "مکتب میں تجھے دیکھ کسے ہوش سبق ہے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مکتب میں تجھے دیکھ کسے ہوش سبق ہے\nہر طفل کے یاں اشک سے آلودہ ورق ہے\n\nہوں منتظر اس مہر کے آنے ہی کا ورنہ\nشبنم کی طرح آنکھوں میں دم کوئی رمق ہے\n\nدیکھ اے چمن حسن تجھے باغ میں خنداں\nشبنم نہیں یہ گل پہ خجالت سے عرق ہے\n\nوہ چاند سا منہ سرخ دوپٹہ میں ہے رخشاں\nیا مہر کہوں جلوہ نما زیر شفق ہے\n\nنرگس کی زر و گل پہ بھی وا چشم طمع ہے\nاس پر کہ زر و سیم کا اس پاس طبق ہے\n\nدل اس بت بے مہر کو دے مفت ہی کھویا\nکہتے ہیں جو کچھ یار مجھے واقعی حق ہے\n\nجز تیرے نہیں غیر کو رہ دل کے نگر میں\nجب سے کہ ترے عشق کا یاں نظم و نسق ہے\n\nمذکور ہوا یاں مگر اس گل کے دہن کا\nجو رشک سے ہر غنچہ کا دل باغ میں شق ہے\n\nکر مصقلۂ ذکر سے دل صاف تو اپنا\nبیدارؔ یہ آئینہ تجلی گہۂ حق ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%A9%D8%AA%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D8%B3%D8%A8%D9%82_%DB%81%DB%92"} {"title": "مکتب کی عاشقی بھی تاریخ زندگی تھی", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مکتب کی عاشقی بھی تاریخ زندگی تھی\nفاضل تھا گھر سے مجنوں لیلیٰ پڑھی لکھی تھی\n\nفرہاد جان دے گا شیریں تباہ ہوگی\nیہ تو خدا کے گھر سے گویا کہی بدی تھی\n\nقدرت کے دائرے میں اس وقت بت بنے تھے\nجب نعمت تکلم تقسیم ہو چکی تھی\n\nکعبے میں ہم نے جا کے کچھ اور حال دیکھا\nجب بت کدہ میں پہنچے صورت ہی دوسری تھی\n\nماتم میں میرے مضطرؔ وہ کس ادا سے آیا\nآنکھوں میں کچھ نمی تھی ہونٹوں پہ کچھ ہنسی تھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%A9%D8%AA%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "مکتبوں میں کہیں رعنائیِ افکار بھی ہے؟", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "مکتبوں میں کہیں رعنائیِ افکار بھی ہے؟\nخانقاہوں میں کہیں لذّتِ اسرار بھی ہے؟\n\nمنزلِ راہرواں دُور بھی، دشوار بھی ہے\nکوئی اس قافلے میں قافلہ سالار بھی ہے؟\n\nبڑھ کے خیبر سے ہے یہ معرکۂ دین و وطن\nاس زمانے میں کوئی حیدرِؓ کرّار بھی ہے؟\n\nعِلم کی حد سے پرے، بندۂ مومن کے لیے\nلذّتِ شوق بھی ہے، نعمتِ دیدار بھی ہے\n\nپیرِ میخانہ یہ کہتا ہے کہ ایوانِ فرنگ\nسُست بنیاد بھی ہے، آئنہ دیوار بھی ہے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%A9%D8%AA%D8%A8%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%B9%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%90_%D8%A7%D9%81%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92%D8%9F"} {"title": "مکر و ریا", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "حالیؔ رہ راست جو کہ چلتے ہیں سدا\nخطرہ انہیں گرگ کا نہ ڈر شیروں کا\nلیکن ان بھیڑیوں سے واجب ہے حذر\nبھیڑوں کے لباس میں ہیں جو جلوہ نما", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%A9%D8%B1_%D9%88_%D8%B1%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مکشوف ہوا کہ دید حیرانی ہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مکشوف ہوا کہ دید حیرانی ہے\nمعلوم ہوا کہ علم نادانی ہے\nڈالا ہے تلاش قرب نے دوری میں\nمشکل ہے بڑی یہی کہ آسانی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%A9%D8%B4%D9%88%D9%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "مکّہ اور جنیوا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اس دَور میں اقوام کی صُحبت بھی ہُوئی عام\nپوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدتِ آدم\nتفریقِ مِلل حکمتِ افرنگ کا مقصود\nاسلام کا مقصود فقط ملّتِ آدم\nمکّے نے دیا خاکِ جنیوا کو یہ پیغام\nجمعیّتِ اقوام کہ جمعیّت آدم!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%A9%D9%91%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D9%86%DB%8C%D9%88%D8%A7"} {"title": "مکھ پھاٹ منہ پہ کھائیں گے تلوار ہو سو ہو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مکھ پھاٹ منہ پہ کھائیں گے تلوار ہو سو ہو\nدبنے کے بھی تو اس سے نہیں یار ہو سو ہو\n\nجانا مجھے بھی اب طرف یار ہو سو ہو\nیا بولے یا بتائے وہ دھتکار ہو سو ہو\n\nصیاد کو تو خواب تغافل سے کام ہے\nاحوال طائران گرفتار ہو سو ہو\n\nسودائی بن کے اس پہ مجھے ہاتھ ڈالنا\nہنگامہ اس میں جو سر بازار ہو سو ہو\n\nجی پر یہی ٹھنی ہے تو آج اس کو چھیڑ کر\nکھانی مجھے بھی گالیاں دو چار ہو سو ہو\n\nگو اس میں ہاتھا پائی بھی ہو جاوے ڈر نہیں\nلوں گا میں اس کا بوسۂ رخسار ہو سو ہو\n\nمجھ کو بھی کاٹنی قفس اپنے کی تیلیاں\nیا ٹوٹے یا بچے مری منقار ہو سو ہو\n\nشکوہ کبھی نہ یار کا لاویں گے منہ پہ ہم\nہم پر جفائے چرخ ستم گار ہو سو ہو\n\nاپنی شفا کو اپنے خدا پر تو چھوڑ دے\nآخر تو موت ہے دل بیمار ہو سو ہو\n\nمانی شبیہ یار پہ مت آپ کو مٹا\nلوں گا بنا میں تجھ سے جو تیار ہو سو ہو\n\nاے دل! تو سادہ رویوں کی بھپکی میں آ نہ جا\nاک دن لپٹ کے چھین لے تلوار ہو سو ہو\n\nسر پھوڑ کر کے جائیں گے اس کی گلی میں ہم\nرنگیں گے خون سے در و دیوار ہو سو ہو\n\nصنعاں کی طرح اک بت کافر کے عشق میں\nکافر ہو باندھنا ہمیں زنار ہو سو ہو\n\nلینی متاع حسن ہمیں اس میں تاجرو!\nنقصان جان و مال دل زار ہو سو ہو\n\nشوخی ہے تیری طبع میں شدت سے مصحفیؔ\nلے بھاگ سر سے شیخ کے دستار ہو سو ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%A9%DA%BE_%D9%BE%DA%BE%D8%A7%D9%B9_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%88"} {"title": "مکھڑا وہ بت جدھر کرے گا", "poet_page": "مصنف:غمگین دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مکھڑا وہ بت جدھر کرے گا\nبندہ سجدہ ادھر کرے گا\n\nکرنا ہو جسے کہ خانہ ویراں\nدل میں ترے وہ گھر کرے گا\n\nوہ لطف اٹھائے گا سفر کا\nآپ اپنے میں جو سفر کرے گا\n\nواعظ یہ سخن ترا کبھی آہ\nہم میں بھی کچھ اثر کرے گا\n\nاے شیخ تجھے بتوں سے انکار\nواللہ بہت ضرر کرے گا\n\nہو جس کو تمام شب سر شام\nکیا وصل میں وہ سحر کرے گا\n\nغمگیںؔ جو بیٹھے اس کے در پر\nوہ اس کو نہ در بدر کرے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%A9%DA%BE%DA%91%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D8%AC%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "مکھڑے کو جو اس کے ہم نے جا کر دیکھا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مکھڑے کو جو اس کے ہم نے جا کر دیکھا\nسنکھ تو نہیں یہ چھپ چھپا کر دیکھا\nوہ حسن نظر پڑا کہ جس کا ہم نے\nجب رات ہوئی تو مہ کو چاکر دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا\nجیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آ گیا\n\nدیکھا ہو کچھ اس آمد و شد میں تو میں کہوں\nخود گم ہوا ہوں بات کی تہہ اب جو پا گیا\n\nکپڑے گلے کے میرے نہ ہوں آب دیدہ کیوں\nمانند ابر دیدۂ تر اب تو چھا گیا\n\nجاں سوز آہ و نالہ سمجھتا نہیں ہوں میں\nیک شعلہ میرے دل سے اٹھا تھا جلا گیا\n\nوہ مجھ سے بھاگتا ہی پھرا کبر و ناز سے\nجوں جوں نیاز کر کے میں اس سے لگا گیا\n\nجور سپہر دوں سے برا حال تھا بہت\nمیں شرم ناکسی سے زمیں میں سما گیا\n\nدیکھا جو راہ جاتے تبختر کے ساتھ اسے\nپھر مجھ شکستہ پا سے نہ اک دم رہا گیا\n\nبیٹھا تو بوریے کے تئیں سر پہ رکھ کے میرؔ\nصف کس ادب سے ہم فقرا کی اٹھا گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%A9%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے\nالٹتی ہیں صفیں گردش میں جب پیمانہ آتا ہے\n\nنہایت دل کو ہے مرغوب بوسہ خال مشکیں کا\nدہن تک اپنے کب تک دیکھیے یہ دانہ آتا ہے\n\nخوشی سے اپنی رسوائی گوارا ہو نہیں سکتی\nگریباں پھاڑتا ہے تنگ جب دیوانہ آتا ہے\n\nفراق یار میں دل پر نہیں معلوم کیا گزری\nجو اشک آنکھوں میں آتا ہے سو بیتابانہ آتا ہے\n\nبگولے کی طرح کس کس خوشی سے خاک اڑاتا ہوں\nتلاش گنج میں جو سامنے ویرانہ آتا ہے\n\nسمجھتے ہیں مرے دل کی وہ کیا نافہم و ناداں ہیں\nحضور شمع بے مطلب نہیں پروانہ آتا ہے\n\nطلب دنیا کو کر کے زن مریدی ہو نہیں سکتی\nخیال آبروئے ہمت مردانہ آتا ہے\n\nہمیشہ فکر سے یاں عاشقانہ شعر ڈھلتے ہیں\nزباں کو اپنی بس اک حسن کا افسانہ آتا ہے\n\nتماشا گاہ ہستی میں عدم کا دھیان ہے کس کو\nکسے اس انجمن میں یاد خلوت خانہ آتا ہے\n\nصبا کی طرح ہر اک غیرت گل سے ہیں لگ چلتے\nمحبت ہے سرشت اپنی ہمیں یارانہ آتا ہے\n\nزیارت ہوگی کعبہ کی یہی تعبیر ہے اس کی\nکئی شب سے ہمارے خواب میں بت خانہ آتا ہے\n\nخیال آیا ہے آئینہ کا منہ اس میں وہ دیکھیں گے\nاب الجھے بال سکھانے کی خاطر شانہ آتا ہے\n\nپھنسا دیتا ہے مرغ دل کو دام زلف پیچاں میں\nتمہارے خال رخ کو بھی فریب دانہ آتا ہے\n\nعتاب و لطف جو فرماؤ ہر صورت سے راضی ہیں\nشکایت سے نہیں واقف ہمیں شکرانہ آتا ہے\n\nخدا کا گھر ہے بت خانہ ہمارا دل نہیں آتشؔ\nمقام آشنا ہے یاں نہیں بیگانہ آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D9%86%D8%B1%DA%AF%D8%B3_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مگر تم سیں ہوا ہے آشنا دل", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مگر تم سیں ہوا ہے آشنا دل\nکہ ہم سیں ہو گیا ہے بے وفا دل\n\nچمن میں اوس کے قطروں کی مانند\nپڑے ہیں تجھ گلی میں جا بہ جا دل\n\nجو غم گزرا ہے مجھ پر عاشقی میں\nسو میں ہی جانتا ہوں یا مرا دل\n\nہمارا بھی کہاتا تھا کبھی یہ\nسجن تم جان لو یہ ہے مرا دل\n\nکہو اب کیا کروں دانا کہ جب یوں\nبرہ کے بھاڑ میں جا کر پڑا دل\n\nکہاں خاطر میں لاوے آبروؔ کوں\nہوا اس میرزا کا آشنا دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84"} {"title": "مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کے\nکہ بو کچھ اور میں پائی دماغ میں گل کے\n\nعدو بھی ہو سبب زندگی جو حق چاہے\nنسیم صبح ہے روغن چراغ میں گل کے\n\nچمن کھلیں ہیں پہنچ بادہ لے کے اے ساقی\nگرفتہ دل مجھے مت کر فراغ میں گل کے\n\nنہیں ہے جائے ترنم یہ بوستاں کہ نہیں\nسوائے خون جگر مے ایاغ میں گل کے\n\nعلی کا نقش قدم ڈھونڈھتا ہے یوں سوداؔ\nپھرے ہے باد سحر جوں سراغ میں گل کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92"} {"title": "مہ رخاں کی جو مہربانی ہے", "poet_page": "مصنف:ناجی شاکر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مہ رخاں کی جو مہربانی ہے\nیہ مدد مجھ پہ آسمانی ہے\n\nرشک سیں اس کے صاف چہرہ کے\nچشم پر آئنہ کی پانی ہے\n\nدام میں بو الہوس کے آیا نئیں\nکیوں کہ یہ باز آشیانی ہے\n\nچرب ہے شمع پر جمال اس کا\nشمع کی روشنی زبانی ہے\n\nاس کے رخسار دیکھ جیتا ہوں\nعارضی میری زندگانی ہے\n\nصرف صورت کا بند نئیں ناجیؔ\nعاشق صاحب معانی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81_%D8%B1%D8%AE%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "مہ رو نہ ہو اور چاندنی وہ رات ہے کس کام کی", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مہ رو نہ ہو اور چاندنی وہ رات ہے کس کام کی\nہو وہ بھی پر خلوت نہ ہو یہ بات ہے کس کام کی\n\nدو بوسے یا لگ لو گلے تب گالیاں میٹھی لگیں\nگر وہ نہیں اور یہ نہیں صلوات ہے کس کام کی\n\nجب یار سے ہووے جدا ایک یار جانی دوستو\nباغ و بہار و جام و مل برسات ہے کس کام کی\n\nہے نسب میں عالی اگر رکھتا نہ ہو علم و ہنر\nاک ڈھیر سے بھی ہے بتر وہ ذات ہے کس کام کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81_%D8%B1%D9%88_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%86%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "مہ ہے اگر جوئے شیر تم بھی زری پوش ہو", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مہ ہے اگر جوئے شیر تم بھی زری پوش ہو\nدودھ چھٹی کا اسے یاد دلانے چلو\n\nآئینۂ ماہ کو لعل لب اپنے دکھا\nچشمۂ کافور میں آگ لگانے چلو\n\nتم ہو مہ چار دہ چار قدم رکھ کے آج\nبدر فلک قدر کی قدر گھٹانے چلو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B2%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88"} {"title": "مہادیو جی کا بیاہ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "پہلے ناؤں گنیش کا، لیجئے سیس نوائے\nجا سے کارج سدھ ہوں، سدا مہورت لائے\nبول بچن آنند کے، پریم، پیت اور چاہ\nسن لو یارو، دھیان دھر، مہادیو کا بیاہ\nجوگی جنگم سے سنا، وہ بھی کیا بیان\nاور کتھا میں جو سنا، اس کا بھی پرمان\nسننے والے بھی رہیں ہنسی خوشی دن رین\nاور پڑھیں جو یاد کر، ان کو بھی سکھ چین\nاور جس نے اس بیاہ کی، مہما کہی بنائے\nاس کے بھی ہر حال میں، شیو جی رہیں سہائے\nخوشی رہے دن رات وہ، کبھی نہ ہو دلگیر\nمہما اس کی بھی رہے جس کا نام نظیرؔ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D9%88_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DB%81"} {"title": "مہارانی کا خواب", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "میری عمر جب دو برس کی تھی تو کئی جگہ سے میری شادی کے پیغام آئے۔ منجملہ ان کے صرف ایک ایسا تھا جو ہم پلہ والی ریاست کے یہاں سے تھا لیکن لڑکی بہت بڑی تھی۔ در اصل اس کی عمر پندرہ سولہ برس کی تھی اور میں صرف دو برس کا بچہ۔ چونکہ یہ پیغام ایک ہم پلہ مہاراجہ کی راجکماری کا تھا اس لیے پتا جی مہاراجہ نے انکار تو نہیں کیا لیکن خاموش ہوگئے۔\n\nجب میری عمر پانچ برس کی ہوئی تو اسی ریاست کے پاٹھوی کنور یعنی ولی عہد کی لڑکی کے لئے پتاجی مہاراجہ نے سلسلہ جنبانی کی۔ انہوں نے تو اپنی لڑکی کا پیغام دیا تھا اور یہاں سے ان کی پوتی کے لیے پیغام گیا۔ بہت گفت و شنید کے بعد انہوں نے اس شرط پر رضامندی ظاہر کی کہ پہلے لڑکی سے شادی کر لو، جب پوتی جوان ہو جائے گی تب اس کو بھی بیاہ دیں گے۔ گویا پوتی سے شادی کرنے کی شرط ہی یہ ٹھہری۔ چونکہ پتاجی مہاراجہ پوتی سے شادی ضروری خیال کرتے تھے، لہٰذا انہوں نےاس کو منظور کر لیا اور میری نسبت لڑکی اور پوتی یعنی پھوپی اور بھتیجی دونوں سے پختہ کر لی، کیونکہ یہ امر راجپوتوں میں کوئی معیوب نہیں۔\n\nمیری شادی سے پہلے ہی پتاجی مہاراجہ سورگباش ہوگئے۔ ان کی برسی کے بعد جب میں آٹھ برس کا تھا تو میری شادی ہوئی۔ میں اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ نہ میری کوئی بہن تھی اور نہ بھائی۔ باپ کی موت کے بعد گدی کا مالک ہوا۔ میں چونکہ نابالغ تھا، ریاست کا انتظام کونسل اور ایجنٹ کے ہاتھ میں تھا۔ میری شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔ دونوں ریاستوں کی طرف سے دل کھول کر روپیہ خرچ کیا گیا اور میں مہارانی کو بیاہ لایا۔ اس وقت میری عمر آٹھ برس کی تھی اور میری مہارانی کی عمر کوئی اکیس یا بائیس برس کی ہوگی۔\n\nمیں اودے رنگ کی بنارسی اچکن پہنے تھا اور شربتی رنگ کی کمخواب کا پاجامہ۔ پیازی رنگ کا صافہ تھا جس پر ہیروں کی کلغی لگی ہوئی تھی اور چاروں طرف بیش قیمت جواہرات ٹکے تھے۔ جوڑ جوڑ پر میرے ہیرے اور جواہرات کے زیور تھے اور گلے میں پچھتر لاکھ کی قیمت کا وہ مشہور سچے موتیوں کا ست لڑہ ہار تھا جو شہنشاہ جہانگیر نے میرے پردادا کو دیا تھا۔ یہ ہار میرے گھٹنے تک آتا تھا اور آج کل کے زمانے میں اس کی قیمت کا اندازہ لگانا ناممکن تھا۔\n\nمیں مہارانی کے سامنے کرسی پر بیٹھا تھا۔ مہارانی گلابی رنگ کے کپڑے پہنے تھیں اور گلابی ہی شال اوڑھے ہوئے تھیں۔ بجلی کی روشنی میں سارا کمرہ جگمگا رہا تھا۔ جتنے جھاڑ فانوس تھے سب روشن تھے اور دن سا ہو رہا تھا۔ میں چپکا بیٹھا اپنے بائیں ہاتھ سے داہنے ہاتھ کی انگلی کرید رہا تھا۔ کبھی کبھی نظر اٹھا کر مہارانی کی طرف دیکھ لیتا تھا جو گلابی کپڑوں میں اس طرح لپٹی بیٹھی تھیں کہ سوائے ان کے ہاتھ کی انگلیوں کے کچھ بھی نہ دکھائی دیتا تھا۔ چاروں طرف سناٹا تھا۔ صرف کمرے کی گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز آرہی تھی۔ مجھ کو نیند سی معلوم ہو رہی تھی کہ گھڑی نے بارہ بجائے۔ مہارانی جیسے کچھ چونک سی پڑیں۔ میں نے بھی گھڑی کی طرف دیکھا اور پھر مہارانی کی طرف۔ انہوں نے اپنا دوشالہ اتار کر علیحدہ رکھ دیا۔ اپنا گھونگھٹ ذرا اوپر کو سرکایا۔ میں نے ایک جھلک ہی ان کے خوبصورت چہرہ کی دیکھی کہ وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ میرے پاؤں چھوکر اپنا ہاتھ تین مرتبہ ماتھے پر لگایا اور محبت سے ہاتھ پکڑ کر مسہری پر بٹھایا۔\n\nصراحی سے شراب کا جام انڈیل کر میرے سامنے پیش کیا۔ میں نےان کی طرف دیکھا پھر جام کی طرف۔ میں چپ تھا۔ ’’پی لو۔‘‘ انہوں نے آہستہ سے کہا، ’’پی لو یہ رسم ہے، تم کو پینا ہے۔‘‘ یہ کہہ کرمیرے پاس آکر ہاتھ سے شراب کا جام میرے منہ سےلگا دیا۔ دو ایک گھونٹ پئے۔ مجھ کو شراب سے بے حد نفرت تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ میں نہیں پیتا تو پھر کہا، ’’پی لو۔‘‘ میں پی گیا تو انہوں نے کہا، ’’اب ایک جام مجھے دو۔‘‘ خود بھر کر انہوں نے میرے ہاتھ میں دیا اور کہا، ’’یہ مجھے دو۔‘‘ میں نے ان کی طرف دیکھا وہ مسکرا رہی تھیں، اور میں الو، کاٹھ کا الو بنا بیٹھا تھا۔ میں نے ہاتھ میں لے کر ان کی طرف بڑھایا تک نہیں۔ انہوں نے میرے پیر چھوکر خود ہاتھ سے لے لیا اور پی کر میرے پیر چھوئے اور جام رکھ دیا۔ میں نے نظر اٹھا کر پھر ان کو دیکھا۔ اب وہ بے حد گستاخی سے مسکرا رہی تھیں۔ مجھے دیکھ رہی تھیں اور میں شرما رہا تھا۔ اس وجہ سے وہ میرے اوپر ہنس رہی تھیں۔\n\n’’تم چپ کیوں ہو؟‘‘ مہارانی نے ہنس کر کہا، ’’میں تمہاری کون ہوں؟ تم جانتے ہو؟‘‘ انہوں نے اسی طرح ہنستے ہوئے کہا، ’’بولو چپ کیوں ہو؟ جانتے ہو میں کون ہوں؟‘‘ جب انہوں نے بہت مجھے ہلایا تو میں نے سر کے اشارے سے کہا، ’’ہاں جانتا ہوں۔‘‘\n\n’’پھر منہ سے بولو۔ بتاؤ کون ہوں۔۔۔ تمہاری مہارانی ہوں۔ کہو۔‘‘\n\n’’مہارانی۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔ اب ان سے ضبط نہ ہو سکا اور ہنس پڑیں۔ میرے گلے میں ہاتھ ڈال کر کہا، ’’تمہیں نیند آ رہی ہے۔ سو رہو۔‘‘ یہ کہہ کرمیرے زیورات ایک ایک کر کے اتارے اور اچکن وغیرہ اتار کر مجھ کو مسہری پر لٹا دیا۔ میں مسہری پر لیٹا تو مجھے چت لٹا کر ہاتھ پکڑ کر کہنے لگیں، ’’تم شرماتے کیوں ہو۔ میں تم کو گدگداتی ہوں۔۔۔‘‘ گدگدی سےمجھے ہنسنا پڑا۔ میری شرم انہوں نے اس طرح رخصت کردی، اور پھر ہم دونوں دو بجے تک باتیں کرتے رہے۔\n\n’’کیا پڑھتے ہو؟ کس سے پڑھتے ہو؟ کیا کھیلتے ہو اور کس کے ساتھ کھیلتے ہو؟ کھانا کس وقت کھاتے ہو۔‘‘ وغیرہ وغیرہ اور پھر نصیحتیں شروع ہوئیں کہ کیا کرنا چاہیے۔ پھر میں نے قصہ سنایا کہ کس طرح شادی سے کچھ ہی روز پہلے میں نے اپنی ہوائی بندوق سے ایک فاختہ ماری، اور پھر میں نے اپنے ولایتی کھلونوں کا ذکر کیا اور اگر وہ منع نہ کر دیتیں تو میں ان کو ساتھ لے جاکر اپنی بندوق اور دوسری تمام چیزیں اسی وقت دکھا دیتا۔ انہوں نے کہا صبح دیکھیں گے۔\n\n(۲)\n\nبہت جلد مہارانی سے بے تکلفی اور انتہائی دوستی ہوگئی۔ وہ میرے تمام کھیلوں میں شریک ہوتیں۔ رئیسوں اور جاگیرداروں کے ہم عمر لڑکوں کی فوج کی فوج تھی اور مہارانی کے ساتھ عورتوں اور لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ قلعہ میں دن رات آنکھ مچولی کھیلی جاتی۔ خوب خوب سوانگ بھرے جاتے اور خوب کھیل تماشے ہوتے۔ مہارانی راجہ بنتی اور میں مہارانی بنتا، قلعے کے اندر ہی اندر تیر کمان کی جھوٹی لڑائیاں ہوتیں، فوج کشی ہوتی، قلعے فتح ہوتے۔ غرض مہارانی میرے تمام بچپنے کے کھیلوں میں وہ دلچسپی لیتیں کہ اب میں جو غور کرتا ہوں تو عقل کام نہیں کرتی کہ کس طرح ان لغویات میں ان کا جی لگتا ہوگا۔\n\nمجھ کو مہارانی سے بہت جلد محبت ہوگئی۔ میں دوڑا دوڑا آتا تو ان پر پھاند پڑتا اور وہ مجھے گود میں اٹھا کر گھما کر چکر دے دیتیں، اور میں چلاتا کہ چھوڑ دو۔ وہ چھوڑ کر گداگدا کر مجھ کو بے حال کردیتیں۔ غرض میں بیان نہیں کر سکتا کہ اس زمانے میں میرے ساتھ ان کے کیسے دلچسپ تعلقات تھے۔ بہت جلد قلعے سے باہر عالی شان محلوں میں وہ لے گئیں اور ہم دونوں تمام خاندان سے الگ رہنے لگے۔ اگر مجھ کو کوئی ضرورت ہوتی تو مہارانی سے کہتا۔ اگر کوئی شکایت یا تکلیف ہوتی تو مہارانی سے کہتا۔ ریاست کے منتظموں کو وہ بلا کر میرے بارے میں خاص ہدایت کرتیں، اور تمام میرے ذاتی معاملات کے بارے میں دخل دے کر احکام نافذ کرتیں۔\n\nقصہ مختصر وہ میری مہارانی اور میری گارجین یعنی نگہبان دونوں تھیں۔ مجھ کو بے حد چاہتی تھیں اور میرے دل میں بھی ان کی محبت ایسی بیٹھ گئی کہ بیان نہیں کر سکتا کہ کس طرح وہ میرا ہر دم خیال کرتی تھیں۔ جب میں باہر سے آتا تو وہ چونک سی پڑتیں۔ مارے خوشی کے ان کا خوبصورت چہرہ دمک اٹھتا اور پھول کی طرح کھل جاتیں۔ اگر ذرا دیر کے لیے بھی باہر جا کر واپس آؤں تو مہارانی کو اپنے لیے بے قرار اور بے چین پاتا تھا۔ بڑی خندہ پیشانی سے جب وہ کنول کے پھول کی طرح شگفتہ ہو کر میرے استقبال کو بڑھتیں تو اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں وہ ایسی معلوم ہوتیں کہ جیسے چاند ہے اور اس کے ارد گرد تارے چمک رہے ہیں۔ مجھ سے ان کا قد اونچا تھا۔ عورتوں میں وہ کشیدہ قامت بلکہ قدرے بلند قامت تھیں، ان کے اعضا، ہاتھ پیر نہایت متناسب تھے۔ نزاکت کے بجائے ان میں تمام زنانہ حسن کے ساتھ قوت اور طاقت تھی۔ کیونکہ اونچے قد کے ساتھ خدا نے جہاں ان کو حسن دیا تھا وہاں مضبوط اور متناسب اعضا بھی دیے تھے۔\n\nغرض راجپوتی حسن و تندرستی کا وہ بہترین نمونہ تھیں۔ ان کا صاف و شفاف اور حسین چہرہ چاند کی مانند ہمیشہ پرنور رہتا تھا۔ ان کا رنگ و روپ نہایت ہی گورا چٹا اور بے داغ تھا۔ ان کے بالوں پر ہمیشہ افشاں چھڑکی رہتی تھی۔ جو اکثر گر گر کر ان کے چہرے پر آجاتی اور غازہ کے ساتھ مل کر دھوپ میں ان کے سرخ و سپید چہرے پر آگ سی لگادیتی اور وہ شعلہ حسن معلوم دیتیں۔ جوں جوں میری عمر بڑھتی گئی میری اور ان کی دوستی اور محبت زیادہ دلچسپ اور زیادہ دل پذیر ہوتی گئی۔ ان کا حسن زیادہ دلکش ہو گیا۔ میرے لیے ان کی جوانی زیادہ پرکیف ہوگئی۔ ان کی مقناطیسی کشش مجھ کو اپنی طرف زیادہ قوت سے کھینچنے لگی۔ ان کی آنکھوں کی چمک جو میرے لیے پہلے معمولی بات تھی، اب کچھ اور ہی چیز تھی۔ میں ان کو دیکھ کر مخمور سا ہو جاتا۔ وہ گویا مجھ میں سما جاتیں اور اس کیف و سرور کے عالم میں میں ایک طلسم ہوش ربا کے لاینحل مرحلوں میں الجھ کر رہ جاتا۔ جس کی لوح مجھ کو ڈھونڈے نہ ملتی۔\n\nمیری عمر پندرہ سولہ برس اور مہارانی کی عمر تیس سال کے قریب تھی اور یہ وہ زمانہ تھا کہ میں مہارانی کے عشق اور محبت میں دیوانہ ہو رہا تھا۔ اگر کوئی میری تمام دولت و حشمت اور ریاست مانگتا تو میں دے دیتا اور فقیر ہونا پسند کرتا، مگر مہارانی کا دل دکھانا پسند نہ کرتا۔ میری زندگی کا واحد مقصد اور مقصود وہی تھیں۔ میں ان کے ساتھ جس عیش و عشرت سے زندگی گزار رہا تھا، اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ دن رات عیش سے گزرتے تھے۔ مہارانی کا گانا خدا کی پناہ، میرا کیا حال ہو جاتا تھا۔ مہارانی گانے میں اپنا ثانی نہ رکھتی تھیں۔ چاندنی رات جھیل کے کنارے سنگ مرمر کے عالی شان چوترے پر گانے بجانے کی محفلیں ہوتیں۔ مہارانی خوب خوب گاتیں۔ وہ گاتے گاتے جھومنے لگتیں اور میں بے تاب ہو جاتا، تڑپنے لگتا اور خواصیں بھر بھر کر جام پیش کرتیں اور مہارانی مجھے اپنے ہاتھ سے جام پہ جام پلاتیں۔ تازہ دم ہوکر وہ پھر نئے سرے سے کوئی نیا راگ گاتیں۔ ان کی پاٹ دار آواز جھیل کے آس پاس کی پہاڑیوں میں گنگناتی اور گونجتی چلی جاتی۔\n\nرات کے بارہ بجے پھر سجی ہوئی کشتیوں میں بیٹھتے۔ کشتیاں چاندنی رات میں پانی کی سطح پر گانے اور ساز کے ساتھ ہلکورے لیتی ہوتیں اور مہارانی کی راگنی اور ان کی بلند اور سریلی آواز پانی کے ساتھ جھن جھناتی معلوم دیتی اور چشم زدن میں ساری جھیل کو نغموں سے معمور کر کے متلاطم کر دیتی۔ ایک تونشہ جوانی اور پھر سرپر عشق اور پھر دو آتشہ۔ یہ راگ اور یہ سماں اور پھر دل لگا ہوا میرا مہارانی سے اور مہارانی کا مجھ سے۔ بار بار میں چونک پڑتا کہ میں کہاں ہوں، اور میرے گرد و پیش کیا ہو رہا ہے۔ کیا جنت اسی کو نہیں کہتے۔ خوش گوار زندگی ایک عالم خواب معلوم ہوتی تھی۔\n\nمیری اور مہارانی دونوں کی محبت اور عشق کا زمانہ شباب پر تھا۔ فکر و رنج تو بڑی چیزیں ہیں۔ ان کا خیال تک نہ تھا کہ مہارانی کی بھتیجی سے میری شادی کا زمانہ قریب آگیا۔ اتنا قریب کہ ہم دونوں چونک پڑے، جیسے کوئی ایک دم خواب سے چونک پڑتا ہے۔ دنیا کو دیکھیے کہ سب کو یہی معلوم ہوتا تھا کہ اس شادی کا موقع اس سے بہتر کوئی نہیں۔ حالانکہ غور سے دیکھا جائے تو اس سے زیادہ بے موقع بات ہی ہونا ناممکن تھی اور پھر اگر سسرال والے یہ سوچتے اور کہتے تب بھی غنیمت تھا، مگر وہاں تو ریذیڈنٹ سے لے کر ریاست کے ادنی خدمت گار تک سبھی کی زبان پر تھا کہ ماشاء اللہ مہاراجہ صاحب بہادر جوان ہوگئے اور جونیئر مہارانی کو جلد بیاہ لانا چاہیے۔\n\nجب شادی کا زمانہ قریب آیا تو اس کے ناگوار تذکرے سے بھی کان آشنا ہونے لگے۔ مہارانی سے میرے عشق کا یہ عالم تھا کہ بس ایک جان دو قالب تھے۔ اس شادی کا نام ہی دل میں خلش پیدا کرتا تھا۔ مہارانی کا ایک ہی بھائی تھا، اور ایک ہی اس کی یہ لڑکی تھی۔ کسی نے کہا ہے پھوپی بھتیجی ایک ذات۔ چنانچہ مہارانی کو بھی اپنی بھتیجی سے بے حد محبت تھی۔ وہ خود اس ناگوار تذکرے کو چھیڑ کر میرے پہلو میں ایک خنجر سا بھونک دیتی تھیں۔\n\n(۳)\n\nایک روز کا ذکر ہے کہ جھیل کے کنارے گانے بجانے کا پر لطف جلسہ ہو رہا تھا۔ خواصیں زریں ٹوپیاں پہنے گھومر کا ناچ ناچ رہی تھیں۔ مہارانی تال دیتی جاتی تھیں اور مسکرا مسکرا کر تالی کے ساتھ میری طرف دیکھتی جاتی تھیں۔ کبھی کبھی ناچ کے جھماکے کے ساتھ میری نظر گھومر کے ناچ کی طرف اٹھ جاتی تھی۔ ورنہ میں تو کہیں اس سے بہتر ناچ دیکھنے میں مشغول تھا۔ میں مہارانی کی آنکھوں کا رقص دیکھ رہا تھا، یا پھر اس محبت کا جوان کے چہرے پر رقص کر رہی تھی اور جس سے ان کے لبوں پر اس اس طرح لرزش پیدا ہوتی تھی کہ معلوم ہوتا تھا کہ مسکراہٹ ان کے سارے چہرے پر رقص کر رہی ہے۔ گانے میں ناچ کے جھماکے کے ساتھ میں خود بھی تال دینے لگتا تھا۔ غرض ایک عجیب ہی رنگین عالم تھا۔ طبیعت پرکیف و پرسرور تھی کہ اس وجد کے عالم میں میری شادی کا تذکرہ چھڑ گیا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ محفل اس طرح درہم و برہم ہو جائے گی۔ اس بے محل تذکرے کی شروعات ایک سہرے سے ہوئی جو گایا جا رہا تھا۔ فوراً ہی سہرے کا ایک مصرع مجھ پر چسپاں کیا جانے لگا۔ نوبت بات چیت تک پہنچی۔\n\n’’تم کیا چاہتی ہو؟‘‘ میں نے کہا۔\n\n’’میں کیا چاہتی ہوں! میں یہ چاہتی ہوں کہ میری بھتیجی کو تم جلد بیاہ لاؤ۔‘‘ مہارانی نے نے بڑی خوشی سے کہا۔ میں ان کے چہرے کی طرف دیکھ کر ان کے دل کو ٹٹولنے کی کوشش کرنے لگا۔ ناچ برابر ہو رہا تھا اور خواصیں تیتریوں کی طرح نشہ میں مست اسی طرح پھرپھرا رہی تھیں اور ہم دونوں یہ باتیں کر رہے تھے۔ مجھ کو یہ شبہ ہوا کہ مہارانی کہیں میری محبت کا امتحان تو نہیں لے رہی ہیں۔ میں نےان کے چہرے اور بشرے سے ان کے دل کے حالات معلوم کرنے کی بیکار کوشش کرنے کے بعد کہا، ’’میں تو اب تمہارا ہوچکا اور تمہاری بھتیجی یہاں آکر مجھ سے خوش نہیں رہے گی۔‘‘\n\nمہارانی نے کہا، ’’یہ تمہارا خیال ہے۔ وہ تمہاری ہم عمر ہے، مجھ سے زیادہ، مجھ سے کہیں زیادہ حسین اور خوبصورت ہے۔ تمہارا اس کا جوڑ۔۔۔ بس یہی معلوم ہوتا ہے کہ تم دونوں کو خدا نے ایک دوسرے کے لیے پیدا کیا ہے۔ در اصل میرا تمہارا جوڑ نہیں۔ دنیا یہی کہتی ہے اور ٹھیک بھی کہتی ہے کیوں کہ تم مجھ سے عمر میں بہت۔۔۔ بہت چھوٹے ہو۔‘‘ میں پھر مہارانی کو گھورنے لگا کہ کہیں اپنے ان قدرتی جذبات کو جوان کی بھتیجی کے خلاف ان کے دل میں ہیں یا ہونا چاہئیں ان الفاظ میں چھپانے کی کوشش تو نہیں کر رہی ہیں۔ مجھے کچھ شبہ سا ہوا کہ میں نے چور پکڑ لیا، کیونکہ ایک جھپکی کی طرح ان کے روشن اور منور چہرے پر چشم زون کے لیے ایک سایہ سا آیا اور چلا گیا۔ جیسے کہ شاید غم کی بدلی کا سایہ تھا کہ ان کے دمکتے ہوئے چہرے پر جھپکی سی دے گیا۔ میں نے ایک لمبی سانس لے کر مہارنی سے کہا، ’’میرے دل میں کسی اور کے لیے قطعی جگہ نہیں، مجھ کو تم سے بے حد۔۔۔‘‘\n\n’’میں جانتی ہوں۔‘‘ مہارانی نے بات کاٹ کر کہا، ’’میں جانتی ہوں کہ تمہیں مجھ سے بے حد محبت ہے۔ اور مجھ کو تم سے بے حد محبت ہے۔ مگر مجھ میں اور تم میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ میرے دل میں بس ایک جگہ ہے اور وہ پر ہے لیکن تمہارے دل میں کئی کے لئے جگہ ہے۔ میں سینئر مہارانی ہوں اور تم مہاراجہ ہو اور تم کو دوسری شادی تو کرنا ہی ہے۔ لیکن اس کے علاوہ اور بھی جتنی چاہو کر سکتے ہو۔‘‘\n\n’’میں نہیں کروں گا۔‘‘ میں نے تیز ہو کر کہا، ’’فرض کرو میں تمہاری بھتیجی سے شادی کرنے سے انکار کر دوں۔‘‘\n\nناچتی کودتی خواصیں ناچتی ناچتی دوسری ناؤ پر پہنچی تھیں۔ انہوں نے شاید دیکھ لیا تھا کہ تخلیے کی ضرورت ہے، کیونکہ ساز والیاں پیشتر ہی سے اشارہ کرکے اٹھ چکی تھیں، ہم دونوں اب اکیلے تھے۔ پوری راجپوتی آن بان سے مہارانی نے تن کر ذرا چیں بہ جبیں ہو کر کہا، ’’تم راجپوت ہو، تم خود مختار والی ریاست ہو، تم راجپوت ہو، تم۔۔۔ تم ایسا نہیں کر سکتے اور پھر۔۔۔ اور پھر وہ بھی ایسی صورت میں کہ میں تمہارے گھر میں ہوں۔ میں تمہاری چہیتی مہارانی ہوں، تم ایسا نہیں کر سکتے۔‘‘\n\n’’مجھ کو سوائے تمہارے کسی سے محبت نہیں ہو سکتی۔‘‘ میں نے کہا۔\n\nمہارانی نے میرے پیر چھو کر پیشانی میں ہاتھ لگاتے ہوئے گویا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’’تو کیا مضائقہ ہے۔ راجپوت مہاراجوں کی راجکماریاں ریاست کے تخت و تاج کا زیور ہوتی ہیں۔ ایک والی ریاست کی بیٹی یا ایک مہاراجہ کی بیٹی کو مہاراجہ ہی کے گھر جانا چاہیے۔ مہاراجہ گنے چنے ہیں اور راجکماریاں بہت زیادہ ہیں۔ میرے بھائی کی بیٹی کسی ایسے ویسے کو نہیں جا سکتی۔ محبت اور چیز ہے اور شادی اور چیز۔ تم کو اگر میری بھتیجی سے محبت نہیں تو نہ ہو، مجھ سے تو ہے۔ بس یہی محبت اس کی ضامن ہے کہ تم شادی ضرور کروگے۔ تم کو کرنا پڑے گی۔ تم قول ہارے ہو، تم غضب کرتے ہو! بھلا غور تو کرو کہ میری بھتیجی، ایک والی ریاست کی پوتی اور ایک والی ریاست کی لڑکی ایک والی ریاست کو نہ بیاہی جائے اور وہ بھی میری وجہ سے۔ ناممکن۔‘‘\n\nمیں نے اس لیکچر کو سنا اور سن کر مہارانی کو سر سے پیر تک دیکھ کر کہا، ’’تو کیا واقعی تم دل سے چاہتی ہو کہ میں تمہارے اوپر تمہاری بھتیجی کو سوت بنا کر لے آؤں؟ کیا واقعی تم یہ دل سے چاہتی ہو؟‘‘ مہارانی نے کچھ عجیب ہی پیرائے میں کہا، ’’بے شک میں دل سے چاہتی ہوں اور کیوں نہ چاہوں، میرے ایک ہی بھائی ہے اور ایک ہی بھتیجی ہے۔‘‘\n\n’’مگر مجھ کو ذرہ بھر اس سے محبت نہ ہوگی۔‘‘\n\nمسکرا کر مہارانی بولیں، ’’تم ابھی بچہ ہو۔ بچوں کی سی باتیں کرتے ہو۔ جب دو دل ملیں گے تو آخر کیوں نہ محبت ہوگی۔ خدا نخواستہ تم عورت تھوڑی ہو۔‘‘ میں نے برامان کر جھنجھلا کر کہا، ’’تم میری محبت کو ٹھکراتی ہو، کیا میں جھوٹا ہوں؟ کیا میں تم سے نقلی محبت کرتا ہوں؟‘‘\n\nمہارانی نے دو مرتبہ میرے پیر چھوکر ہاتھ اپنی آنکھوں اور ماتھے پر لگایا، اور دانتوں تلے زبان داب کر کہا، ’’ہرگز نہیں، ہرگز نہیں، تم در اصل سمجھتے نہیں۔ تمہاری محبت مجھ سے لڑکپن کی محبت ہے، تم نے تو مجھ سے محبت کا سبق سیکھا ہے۔ در اصل واقعہ یہ ہے کہ ایک عورت کو ایک نوعمر لڑکے کے ساتھ تو اول و آخر محبت ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایک لڑکے کا بھی یہی حال ہو اور پھر وہ بھی والی ریاست مہاراجہ جو ویسے بھی ایک دل نہیں رکھتے، ان کے دلوں میں؟‘‘\n\nمہارانی نے عجیب انداز سے مسکراتے ہوئے کہا، ’’ان کے دلوں میں تو کبوتر کی کابک کے سے خانے ہوتے ہیں۔‘‘ مہارانی نے تو یہ مسکرا کر کہا اور ادھر میں تمام قصے چھوڑ کر ان کے حسین چہرے پر غازہ اور افشاں کی بھڑک کو دیکھ رہا تھا۔ ان کی مسکراہٹ نہ معلوم میرے لیے کیا تھی! ان کے چہرے کی دمک اور پھر ان کی آنکھوں کی غیر معمولی چمک ان کی بڑی بڑی پلکوں سے گویا چمک کے شرارے نکل رہے تھے۔ یہ سب سحر آفرینی! اور پھر یہ باتیں! میں بے تاب سا ہو گیا اور میں نے ان کا خوبصورت ہاتھ اٹھا کر بے ساختہ چوم لیا اور اس کو اپنے دل پر رکھ کر شکایت کے لہجے میں کہا، ’’اس دل میں تو بس ایک خانہ ہے اور اس میں صرف تم ہو۔‘‘\n\n’’صرف میں؟‘‘ دبی ہوئی آواز سے مہارانی نے پلکیں جھپکا کر کہا\n\n’’تم۔۔۔ تم۔۔۔‘‘ آہستہ سےمیں نے لمبی لمبی سانسیں لیتے ہوئے کہا، ’’میری مہارانی۔۔۔ میرے دل۔۔۔ دل کی ملکہ۔۔۔ دل کی مہارانی۔‘‘ وہ آہستہ آہستہ میری طرف بے بس ہوکر جھکی چلی آئیں۔ نشۂ محبت میں ہم دونوں چور تھے۔ ان کو مجھ سے اور مجھ کو ان سے عشق تھا۔ میں نے ان کے خوبصورت بالوں کو انگلی سے چھیڑا کہ سنہری افشاں کی ان کے چہرے پر بارش سی ہوگئی، وہ مسکرا رہی تھیں۔ میں نے کہا کہ ایک جلسہ اور ہو، پھر سوئیں۔ مہارانی کی ایک ہنسی کی آواز سے ایک زندگی سی پیدا ہوگئی۔ چھما چھم اور جھنا جھن کی آواز ان کی تالی بجتے ہی ہونے لگی اور خواصوں کا گھومر کا ناچ پھر شروع ہو گیا۔\n\nبہت جلد ناچ ختم کرکے مہارانی نے تنہا گانا شروع کیا۔ پہلی ہی لے پر مجھے ایک پھر یری سی آئی، پھر جو انہوں نے تان کھینچی اور عشقیہ گیت جو گائے تو مجھے ایسا معلوم ہونے لگا کہ جیسے ان کی پاٹ دار آواز ایک بڑا لکڑی چیرنے کا آرا ہے جو میرے دل کو چیرے ڈال رہا ہے۔ ان کی آواز میں ایک عجیب سوز اور ایک عجیب درد تھا۔ میں پھریری پر پھریری لے رہا تھا اور میری اس کیفیت کو دیکھ کر ان کی آواز کا جھناٹا اور بھی زیادہ رقت آمیز ہوتا جا رہا تھا۔ وہ ایسا گیت گا رہی تھیں جو دل پگھلائے دیتا تھا۔\n\nایک عورت اپنے شوہر کے ہجر میں بے کل تھی۔ میں خاموش ہو گیا اور سر پکڑ کر آنکھیں بند کر کے سننے لگا۔ ان کی آواز اور بھی رقت آمیز ہوگئی اور میرا دل نہ معلوم کیوں ایسا گھبرایا اور ایسی وحشت طاری ہوئی کہ ایک دم سے گھبرا کر میں نے ہاتھ سے ساز کو روک دیا۔ مہارانی بھی رک گئیں۔ میں نے اشارہ کیا اور تمام خواصیں سایہ کی طرح غائب ہو گئیں۔ میں نے مہارانی کی طرف دیکھا۔ ان کی پلکوں میں دو آنسو تھے۔ میرا دل مسل گیا اور میں نے کہا، ’’یہ کیا؟‘‘\n\n’’کچھ نہیں۔‘‘ مہارانی نے کہا، ’’کچھ گیت ہی ایسا تھا۔‘‘\n\n’’ہاں!‘‘ میں نے کہا، ’’میں بھی پریشان ہو گیا، اور میرا دل گھبرا گیا۔ اب آرام کرو۔‘‘ میں نے انگڑائی لے کر چاروں طرف جھیل کے نظر ڈالی۔ چاندنی چھٹکی ہوئی تھی۔ دور تک ہیبت ناک پہاڑیوں کا سلسلہ چلا گیا تھا۔ ایک عجیب سناٹے کا عالم تھا۔ مجھ کو کچھ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے ساری جھیل اور پہاڑ گویا سارا سماں رونے کی آوازں سے معمور تھا جو ابھی ابھی خاموش ہوئی تھیں۔ میں نے دل میں تعجب کیا کہ گانا بھی عجیب جادو ہے۔ درد انگیز اور رقت آمیز گیت نے سارے سماں کو متاثر کر دیا۔\n\n(۴)\n\nمہارانی بڑی گرما گرمی سے اپنی بھتیجی کی شادی کی تیاریاں کر رہی تھیں۔ تمام انتظامات اور تمام احکام ان ہی کی مرضی کے مطابق جاری ہو رہے تھے۔ لاکھوں روپے کے زیورات اور کپڑے خریدے گئے اور لاکھوں روپے کا دوسرا سامان خریدا گیا، اور محل کا ایک خاص حصہ سجایا گیا۔ انہیں انتظامات کے سلسلہ میں مہارانی اپنے بھائی کے ہاں بھی گئیں اور ادھر کے انتظامات میں بھی دخیل ہوئیں۔ غرض وہ اپنی بھتیجی کی شادی میں اس طرح منہمک تھیں کہ جیسے ایک پھوپی کو ہونا چاہیے تھا۔ میں ان انتظامات کو دیکھ کر رنجیدہ سا ہو جاتا۔ ان کے اس انہماک سےمیرے دل پر چوٹ سی لگتی تھی۔ میں دراصل ان کی بھتیجی کی طرف سے اپنے دل میں مخالفت پاتا تھا، کیونکہ یہ مجھے گوارا نہ تھا کہ مہارانی کی محبت کا حصہ کسی دوسرے کو بھی ملے۔ میں یہ چاہتا تھا کہ مہارانی کسی سے دنیا میں سوائے میرے محبت ہی نہ کریں۔ میں چاہتا تھا کہ وہ میری محبت کی وجہ سے اپنی بھتیجی سے جلنے لگیں۔ کس قدر یہ احمقانہ خیال تھا، مگر اپنے دل کو کیا کروں۔ ان کا اس درجہ شادی میں حصہ لینا میرے لیے مصیبت تھا۔ میں ان سےکہتا تھا کہ ’’اگر تم کو بھی مجھ سے میری ہی سی محبت ہے تو تم کو اپنی بھتیجی سے جلنا چاہیے۔‘‘\n\nوہ اس پر مسکراتیں اور کہتیں، ’’سچ کہتے ہو، تمہاری سی محبت مجھے نہیں، کیونکہ جتنا تم مجھ سے محبت کرتے ہو، اس سے میں زیادہ کرتی ہوں۔‘‘ اور پھر وہ عجیب اندراز سے مجھ کو دیکھتیں کہ جیسے ان کو میرے حال پر رحم آ رہا ہے اور وہ میرے ساتھ ہمدردی رکھتی ہوں۔ وہ ہنس کر کہہ دیتیں کہ ’’ابھی تم ناسمجھ ہو، تم کو اگر مجھ سے محبت ہے، تو آخر میری بھتیجی سے کیوں ڈرتے ہو؟‘‘\n\nایک روز کا ذکر ہے کہ رات کو کسی غیرمعمولی سرسراہٹ سے میری آنکھ کھل گئی۔ ایسا معلوم ہوا کہ جیسے ایک سایہ تھا جو جاگنے کے بعد مگر آنکھ کھلنے سے پیشتر آنکھوں کے سامنے آیا اور چلا گیا۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو کچھ نہ تھا۔ مہارانی غافل سو رہی تھیں۔ دوسرے روز بھی ایسا ہی ہوا اور تیسرے روز بھی ایسا ہی ہوا۔ غرض اکثر ایسا ہوتا اور پھر گھڑی پر نظر پڑتی تو وقت بھی پچھلے پہر کا ہوتا۔ جب کئی بار ایسا ہوا تو میں نے مہارانی سے کہا، مگر انہوں نے ٹال دیا کہ یونہی وہم ہو گیا ہے۔ میں سوچ میں تھا کہ آخر یہ معما از خود حل ہو گیا۔ رات کو ایک روز ایسا ہی ہوا، اور میرے چہرے پر گرم گرم دو آنسو گرے۔ کیونکہ مہارانی میرے چہرے کو بڑے غور سے سر جھکائے دیکھ رہی تھیں۔ وہ کچھ گھبراسی گئیں اور میری طرف سے منہ موڑ لیا اور اپنی مسہری پر لیٹ گئیں۔ میں نے فوراً ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا، ’’کیوں؟‘‘ میں نے ان کو گھسیٹ کر اپنے پاس بٹھا لیا کیونکہ میری طرف منہ کرنے سے گریز کر رہی تھیں۔ میں نے ان کا روتا چہرہ دیکھا۔ میرا دل کٹ گیا اور بے تاب ہو کر میں نے کہا، ’’میری جان۔‘‘\n\nمیں نے ان کو سینے سے لگا کر پوچھا، ’’کیوں روتی ہو؟ کیا ہوا؟‘‘ مگر وہ کچھ نہ بولیں اور رونے لگیں۔ میں حیران ہوگیا اور جوں جوں ان سے وجہ دریافت کرتا، وہ اور بھی بے قابو ہوئی جاتیں۔ حتی کہ ان کی ہچکی بندھ گئی اور مجھے ان کا سنبھالنا دشوار ہوگیا۔ میں ان سے بے حد اور بے انتہا محبت کرتا تھا اور میں ان کو کبھی روتے نہ دیکھ سکتا تھا۔ ان کی حالت زار کو دیکھ کر خود ضبط نہ کر سکا اور ان کو کلیجے سے لگا کر خود اس طرح رویا کہ بے حال ہوگیا۔ جب دونوں نے خوب آنسو بہالیے تو کم از کم مجھے تو معلوم ہی ہوگیا کہ ہم دونوں کیوں روئے ہیں، یعنی شادی کی وجہ سے۔ میں اب رو دھو کر خوش تھا کہ ان کو بھی میری طرح رنج ہے، مگر جب میں نے ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے تعجب سے کہا کہ’’تمہارا خیال غلط ہے۔ کیا میں نہیں کہہ چکی کہ میری خوشی اسی میں ہے کہ میری بھتیجی کی شادی تم سے ہو جائے۔‘‘\n\nمیں سخت چکرایا اور پھر میں نے رونے کا سبب دریافت کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ ان کا رونا کسی خواب کی وجہ سے ہے۔ جب میں نے اصرار کیا تو انہوں نے بتایا کہ میں روزانہ ایک وحشت انگیز اور پھر اسرار خواب دیکھتی ہوں۔ اس کے بعد تمہارے چہرے کو دیر تک دیکھتی ہوں، جس سے کچھ اطمینان سا ہو جاتا ہے۔ یہ خواب جو آج کل وہ دیکھ رہی تھیں، پہلی مرتبہ انہوں نے جب دیکھا تھا جب میں پانچ برس کا تھا اور میرے ساتھ ان کی شادی کی نسبت ہوئی تھی۔ اس کے بعد پھر سال میں دو تین مرتبہ یہی خواب دیکھا۔ پھر ہر مہینہ دکھائی دینے لگا اور پھر رفتہ رفتہ اب یہ نوبت پہنچی تھی کہ ہفتہ میں پانچ دن یا تو پورا کا پورا خواب، ورنہ اس کا کچھ حصہ ضرور دیکھنے میں آتا تھا۔\n\nجب میں نے کہا کہ آخر وہ خواب کیا ہے، مجھے بتاؤ تو انہوں نے کہا، ’’بس اس کو نہ پوچھو تو بہتر ہے۔ میں اپنی زبان سے اس کو نہیں دہرا سکتی۔‘‘ انہوں نے ایک پھریری لے کر کہا، ’’جو میں اس خواب میں دیکھتی ہوں وہ بیان کرنے کا نہیں، اور میری زبان سے نہیں نکل سکتا۔‘‘ مگر جب میں نے بے حد اصرار کیا اور ان کو اپنی جان کی اور اپنی محبت کی قسم دلائی تو انہوں نےکہا، ’’اچھا بتاتی ہوں۔‘‘ مگر پھر یہی کہا کہ’’دیکھو نہ پوچھو۔ بہتری اسی میں ہے کہ مت پوچھو۔‘‘ مگر میں نہ مانا اور ان کو بے حد مجبور کیا تو انہوں نے اس طرح بیان کیا،\n\n’’میں خواب میں یہ دیکھتی ہوں کہ جیسے کوئی تہوار کا دن ہے، اور میں درباری لباس پہنے بڑے تزک و احتشام سے زنانہ دربار والے کمرے میں بیٹھی ہوں۔ تمام زیورات سے لدی ہوئی ہوں۔ خواصیں اور باندیاں جواہر نگار کرسی کے ارد گرد کھڑی مورچھل جھل رہی یں۔ مجھ کو اپنے سنگار کا خاص خیال ہے، اور مشاطہ آئینہ لیے کرسی کی بغل میں کھڑی ہے۔ اگر کہیں ایک بال بھی ادھر سے اُدھر ہوجاتا ہے تو فوراً مشاطہ آئینہ دکھاتی ہے، اگر کپڑے کا اندز ذرا بدلتا ہے تو مشاطہ درست کردیتی ہے۔ میں بہت خوش ہوں اور تمہارے خیال میں دل ڈوبا ہوا ہے۔ ہر لمحہ تمہارا انتظار ہے اور تم آنے والے ہو رہے ہو۔ اگر کسی کے آنے کی آہٹ ہوتی ہے تو تمہارا شبہ ہو کر مارے خوشی کے دل بلیوں اچھلنے لگتا ہے۔ ایسے موقع پر کہ میں تمہارے لیے سراپا شوق اور انتظار بنی ہوں، ایک عجیب ہنگامہ برپا ہوتا ہے۔‘‘\n\nمہارانی اتنا کہہ کر کچھ رک گئیں۔ ان کے چہرے پرکچھ وحشت سی تھی۔ وہ ایک پراسرار طریقہ اور ایک نہایت ہی معصومانہ انداز سے مجھےدیکھنے لگیں۔ میری طرف اور سرک آئیں۔ میں نے کہا، ’’پھر کیا ہوا؟‘‘ انہوں نے انے لبوں کو اپنی زبان سے تر کیا۔ وہ متوحش سی تھیں اور ان کے ہونٹ خشک ہو رہے تھے۔ ’’عین اس انتظار میں۔۔۔‘‘ مہارانی نے کہا، ’’عین اس انتظار میں کہ ایک خادمہ کے دور سے چیخنے چلانے کی آوازیں آتی ہیں، ایسی کہ بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ قبل اس کے کہ میں دریافت کروں کہ یہ کیا معاملہ ہے، ایک دم سے وہ ملازمہ چیختی چلاتی حواس باختہ دوڑی آتی ہے۔ اس کے گلے کی رگیں تنی ہوئی ہیں، ننگے سر، بال پریشان، چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ آنکھیں مارے خوف کے نکلی پڑتی ہیں۔ اس طرح بدحواس ہو کر وہ کمرے میں چیختی چلاتی آتی ہے کہ میں ایک دم سے پریشان ہو جاتی ہوں۔\n\nکمرے میں اس کی آمد ایک ہلچل مچا دیتی ہے۔ وہ ایک دم سے میرے سامنے آکر گھٹنے ٹیک کر گڑگڑاتی ہے۔ کچھ کہنا چاہتی ہے، مگر مارے ڈر کے کانپ رہی ہے اور اس کی زبان سے کچھ الفاظ نہیں نکلتے۔ بڑی مشکل سے اس نے جدھر سے وہ آ رہی تھی، اُدھر منہ موڑ کر کہا، ’’وہ۔۔۔ و۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ و۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ آ رہی ہے۔۔۔ وہ۔۔۔ ووو۔۔۔‘‘ میں پریشان ہوکر اس سے پوچھتی ہوں، ’’اری کم بخت وہ کون!‘‘ مگر اس کی زبان سے سوائے وہ۔۔۔ وہ وہ کے کچھ نکلتا نہیں۔ رہ رہ کر وہ جدھر سے آئی ہے دیکھتی ہے۔ اور ’’وہ وہ‘‘ سے زیادہ کہہ ہی نہیں سکتی۔ قبل اس کے کہ میں اس سے پوچھ سکوں، باہر سے چیخوں کی آوازیں آتی ہیں کہ مارے خوف کے سب دہل جاتے ہیں۔ ایک شور عظیم برپا ہوتا ہے، چیختے چلانے رونے پیٹنے اور دوڑنے بھاگنے کی آواز سے سارا محل گونج اٹھتا ہے۔\n\nایک چشم زدن میں قیامت کے سیلاب کی طرح چیختی چلاتی روتی پیٹتی سارے محل کی عورتیں، باندیاں، خواصیں، وغیرہ پریشان حال بھگدڑ کی طرح اس طرح بے محابا ایک کے اوپر ایک گرتی پڑتی اس کمرہ میں داخل ہوتی ہیں کہ ایک دم سے اندھیرا سا ہو جاتا ہے۔ سارا اجلاس برہم ہوکر کمرے میں ابتری پھیل جاتی ہے۔ میں بدحواس ہوکر کھڑی ہو جاتی ہوں اور چیختی ہوں کہ تمہیں کوئی خبر کرے اور فوج بلوائی جائے۔ کیونکہ صاف ظاہر ہے کہ کوئی بلا اس کمرے کی طرف چلی آ رہی ہے۔ کیونکہ اس شور و شغب کا بھی یہی مفہوم ہے کہ ’’وہ آرہی ہے۔‘‘ اس شور و پکار میں کوئی میری نہیں سنتا کیونکہ سب کے حواس زائل ہیں کہ اسی دوران میں ایک خوفناک۔۔۔‘‘\n\nمہارانی اتنا کہہ کر کچھ سہم سی گئیں۔ ان کا چہرہ جو ہمیشہ پرنور رہتا تھا، مٹی کے سے رنگ کا ہوگیا۔ وہ مجھ سے اور زیادہ قریب ہو گئیں۔ میں نے ان کو اور اپنے قریب کر کے کہا، ’’گھبراؤ نہیں، گھبراؤ نہیں۔‘‘ انہوں نے پھر کچھ دم لے کر اپنا سلسلہ کلام جاری کیا، ’’اسی دوران میں ایک خوفناک، نہایت ہی خوفناک، مگر مکر وہ قہقہے کی دل ہلادینے والی نفرت انگیز آواز اس زور سے گونجتی ہوئی آئی کہ سب اپنی اپنی جگہ سمٹ کر رہ گئے۔ مجھے خود کو ایسا معلوم ہوا کہ جیسے میرا خون میرے جسم میں ایک دم سے جم گیا۔ جو ابھی ابھی اس ہنگامے کے جوش و خروش کی وجہ سے گرم گرم سیسے کی طرح میری رگوں میں اس طرح دوڑ رہا تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ رگوں کو توڑ کر کسی طرف سے نکل جائے گا۔\n\nخوف۔۔۔ انتہائی خوف کی وجہ سے لرزے کے ساتھ ایک پھریری سی آئی۔ آنے والی بلا قریب تھی! آہٹ سن کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ کہاں تو سارا کمرہ شور و غل سے اڑا جا رہا تھا۔ کہاں یہ حال ہوا کہ ایک ناقابل بیان سناٹا چھا گیا۔ ایسی خاموشی کہ اگر سوئی بھی گرتی تو اس کی آواز بھی سنائی دے جاتی، اب یہ حال تھا کہ نہ دروازے کی طرف دیکھا جاتا تھا کہ جدھر سے یہ بلا آ رہی تھی، اور نہ اُدھر سے نظر ہٹاتے بنتی تھی۔ اتنے میں ایک پھنکار سی آئی اور دروازے پر سیاہی چھا گئی۔۔۔ وہ۔۔۔ بلا آگئی، میرے سامنے آگئی۔‘‘\n\nمہارانی کا چہرہ خوف سے زرد پڑ گیا۔ حلق میں کانٹا سا پڑ گیا اور وہ میری طرف اس طرح متوحش ہوکر گھسیں کہ میں گھبرا گیا، میں نے انہیں کلیجے سے لگا لیا۔ ’’ڈرو نہیں، ڈرو نہیں، تم کیوں ڈرتی ہو؟‘‘ مہارانی آنکھیں بند کیے میری گود میں پڑی کانپ رہی تھیں۔ میں نے دلاسا دیا اور پھر پوچھا، ’’آخر وہ کیسی بلا تھی، مجھے بھی تو بتاؤ۔ کیا تھی، کیسی شکل تھی؟‘‘\n\nمہارانی نے وحشت زدہ لہجہ میں کہا، ’’نہیں! نہیں! مجھ سے بیان نہیں کیا جاتا۔۔۔ مجھے بچاؤ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مارے خوف کے ایک دم سے مجھ سے لپٹ گئیں۔ میں نے تکیے کے نیچے سے ریوالور نکال کر کہا، ’’ڈرو نہیں، ڈرو نہیں، تمہارے دشمن کے لیے ایک گولی ہی کافی ہے۔ کیا فوج بلا لوں، ٹیلی فون کر کے توپ خانہ بلوا لوں۔‘‘\n\n’’نہیں، نہیں۔۔۔ میں صبح کہوں گی۔‘‘\n\nمیں نے گھڑی دیکھ کر کہا، ’’اب صبح میں دیر کیا ہے۔‘‘ میرے کہتے ہی کسی دور کی مسجد سے صبح کی اذان کی آواز آئی، ’’لو صبح ہوگئی!‘‘ میں نے کہا، ’’دیکھو اذان ہو رہی ہے، صبح ہے۔‘‘ یہ کہہ کر میں نے گھنٹی کا بٹن دبا دیا جو مسہری کے سرہانے لگا تھا۔ فوراً ایک ملازمہ دوڑی آئی اور میں نے کہا کہ ’’دیکھو کسی سوار کو جلدی دوڑاؤ کہ اس شخص کو جو اذان دے رہا ہے آج دس بجے دن کے ہمارے سامنے حاضر کرے۔‘‘\n\n’’اس کو کیوں بلاتے ہو؟‘‘ مہارانی نے مجھ سے پوچھا۔\n\n’’در اصل اس آواز سے میں عرصے سے آشنا تھا، خوب اس آواز کو پہچانتا تھا۔ نہ معلوم کیوں، اکثر خیال ہوتا تھا کہ اس آواز سے اتنا پرانا تعلق ہے۔ لاؤ اس آدمی کو تو دیکھوں، کئی مرتبہ ارادہ کر چکا تھا مگر رہ جاتا تھا۔ مہارانی سے میں نے وجہ بیان کی اور کہا کہ تم اپنا خواب بیان کرو۔‘‘\n\nمہارانی کا ڈر جاتا رہا تھا، انہوں نے قدرے اطمینان سے سلسلہ کلام جاری کیا، ’’اس کی شکل۔۔۔ اس بلا کی شکل بہت خراب، خوفناک اور گھناؤنی تھی۔ اس کا چہرہ بالکل سیاہ تھا، اور سارے منہ پر پھنسیاں اور مہاسے تھے۔ یہ مہاسے نہایت ہی گندے اور گھناؤنے تھے۔ کوئی ان میں سے سرخ تھا اور کوئی زرد، بہت ہی قوی الجثہ مگر ایک ٹھگنی عورت تھی۔ ایک مختصر سی دھوتی باندھے تھی۔ اس کے شانوں پر بال بکھرے ہوئے تھے۔ بلا مبالغہ ببر شیرنی کی طرح اس کی گردن تھی، اور ویسا ہی اس کا سر تھا مگر اس کا سارا چہرہ بے حد غلیظ، بے حد بھیانک، بے حد قابل نفرت۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں نارنگی کی طرح گول گول تھیں جو نکلی پڑتی تھیں اور ان میں بجائے سفیدی یا سیاہی کے زردی تھی، جن میں سے زرد شعاعیں نکلتی معلوم ہوتی تھیں۔ نہایت ہی منحوس اور بھیانک منہ تھا، اور بڑی بدصورت ناک، اور ناک اور منہ دونوں سے گندگی بہہ رہی تھی۔\n\nاس کی ٹھوڑی اس طرح متحرک تھی کہ جیسے جانور جگالی کرتا ہے۔ اس کے گلے کے موٹی موٹی رگیں اس کے چہرے کو اور بھی خوفناک کیے دیتی تھیں۔ اس نے کمرے میں داخل ہوتے ہی ایک پھنکار سی ماری۔ یہ اس کی تمسخر آمیز مسکراہٹ تھی اور میں نے دیکھا کہ اس کا جبڑا جیسے اس کے کانوں تک پھیل گیا۔ اس کے خوفناک دانت جوبڑے بڑے تھے، مع گندی اور غلیظ ڈاڑھوں کے دکھائی دے رہے تھے۔ اس نے داخل ہوتے ہی اپنی لکڑی زمین پر زور سے پٹک کر کہا، ’’مہارانی راماوتی کہاں ہے؟‘‘ میری طرف یہ کہہ کر دیکھا اور پھر تمسخرانہ انداز سے کہا، ’’راماوتی راماوتی۔‘‘ مہارانی رک کر میری طرف دیکھنے لگیں۔\n\nمیں نے کہا، ’’کیوں، کیا ہوا؟ کہو۔۔۔‘‘\n\n’’میں نہیں کہہ سکتی۔‘‘\n\n’’کیوں کہتی کیوں نہیں۔ کہو کوئی مضائقہ نہیں۔ آخر ایسی کون سی بات ہے، جو تم نہیں کہتیں۔‘‘ میں سمجھ گیا اور بڑے اصرار سے میں نے کہا، ’’یہی تو خواب ہے تم کہو، ضرور کہو۔‘‘\n\nمہارانی نے رک رک کر کہا، ’’اس نے کہا مہارانی تو۔۔۔‘‘\n\nمہارانی پھر رکیں تو میں نے پھر کہا، ’’کہو۔‘‘\n\n’’تو رانڈ ہوگئی۔‘‘ مہارانی نے کہا، ’’اس نے مجھ سے کہا۔‘‘\n\n’’چتا میں بیٹھ تو رانڈ ہوگئی!‘‘ یہ سنتے ہی میرا کلیجہ دھک سے ہو گیا اور چہرہ فق ہو گیا۔ اس نے پھر میری طرف اسی اندز سے دیکھ کر یہی منحوس الفاظ دہرائے اور اب میں نے دیکھا کہ اس کے گندے ہاتھ پنجہ کی طرح تھے۔ اس کے ناخن چیل کے پنجوں کی طرح تیز تھے۔‘‘\n\n’’اتنے میں تم کو میں نے دور سے آتے دیکھا۔ تم وہ کپڑے پہنے ہوئے ہو جو پہن کر تم نے ابھی حال میں اپنی بڑی رنگین تصویر بنوائی ہے اور۔۔۔‘‘\n\nمیں نے بات کاٹ کر کہا، ’’یہ خواب تو تم میرے ان کپڑوں کے تیار ہونے سے پہلے سےدیکھ رہی ہو۔ کیا ہمیشہ سے وہی کپڑے دیکھ رہی ہو؟‘‘\n\nمہارانی نے کہا، ’’ہاں رنگ وہی دیکھتی ہوں۔ سنہری بوٹے بھی ہیں اور زیور اور ہیرے جواہرات بھی وہی۔ غرض سب وہی۔ زیادہ سے زیادہ یہ ممکن ہے کہ اچکن کے پھول اور بوٹے مجھے یاد نہ رہے ہوں، اور میں نے غور نہ کیا ہو مگر جہاں تک میرا خیال ہے بوٹے بھی مجھ کو یاد ہیں اور پھر جب سے تصویر بن کر آئی ہے اور وہ کپڑے دیکھ لیے ہیں تب سے تو بالکل وہی دیکھتی ہوں۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’اچھا تم اپنا قصہ پورا کرو۔‘‘ مہارانی نے سلسلہ شروع کیا، ’’تم مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔ تم بے حد خوب صورت معلوم ہو رہے تھے۔ تمہیں دیکھتے ہی میری ڈھارس بندھ گئی لیکن میرے تعجب کی کوئی انتہا نہ رہی، جب میں نے دیکھا کہ تم اس منحوس بلا سے بجائے لڑنے جھگڑنے کے اس سے باتیں کرنے لگے۔ وہ سر اور ٹھوڑی ہلا ہلا کر تم سے چپکے چپکے باتیں کر کے سر ہلا ہلا کر مسکرا رہی تھی۔ تم نے میری طرف دیکھا اور پھر اس کی طرف دیکھ کر مسکرا کر مجھ سے کہنے لگے، ’’تو بیوہ ہوگئی۔۔۔ تو رانڈ ہوگئی اور اب تجھ کو ستی ہونا چاہیے۔‘‘\n\nمیں تمہاری طرف متوجہ ہو کر جواب دیکھتی ہوں تو وہ بلا غائب! مگر تم نے پھر مجھ سے کہا کہ ’’تو بیوہ ہو گئی اور جلدی ستی ہوجا۔‘‘ اب میری حالت بھی عجیب ہے۔ بجائے اس کے کہ یوں کہو کہ تم میرے سرپر موجود ہو اور خدا تم کو ہزاری عمر دے، میں سہاگن ہوں، ستی کیوں ہوں۔ میں کچھ نہیں کہتی بلکہ تمہارے کہنے پر یقین کر لیتی ہوں۔ تم مجھ کو جلدی کی تاکید کرکے کمرے سے چلے جاتے ہو۔ اس طرح اس بدترین خواب کا پہلا سین ختم ہو جاتا ہے، جو کبھی تو مجھ کو پورا کا پورا دکھائی دیتا ہے اور کبھی مع بقیہ حصے کے اور کبھی کبھی اس کا کوئی خاص ٹکڑا۔‘‘\n\n’’دوسرا حصہ بھی اس خواب کا بتاؤ۔‘‘ میں نے مہارانی سے کہا، ’’تمہارا خواب بھی عجیب ہے۔‘‘\n\nمہارانی نے پھر اپنے خواب کا سلسلہ جاری کیا، ’’اس کے بعد میں کیا دیکھتی ہوں کہ ایک جنازہ تیار ہے۔ میں کپڑا ہٹا کر جو دیکھتی ہوں تو سر پیٹ لیتی ہوں، کیونکہ واقعی۔۔۔ واقعی میرے منہ میں خاک، تمہاری ہی لاش ہے! تم وہی کپڑے پہنے ہو۔ میں اس کو ڈھک دیتی ہوں کہ اتنے میں تم آ جاتے ہو۔ تعجب تو اس بات کا ہے کہ تم کو دیکھتی ہوں اور پھر نہیں کہتی کہ یہ معما کیا ہے۔ تم خود اس لاشے پر سے کپڑا ہٹا کر دیکھتے ہو۔ میں لاش کو دیکھتی ہوں اور پھر تم کو اور ذرہ بھر فرق نہیں پاتی۔ وہی صورت، وہی شکل، وہی زیورات، وہی ہیرے اور وہی موتی! ہو بہو وہی۔ ذرہ بھر فرق نہیں۔ تم پھر جنازہ ڈھک دیتے ہو۔ اس طرح دوسرا سین ختم ہو جاتا ہے۔‘‘\n\n’’پھر تیسرا اور آخری سین اس منحوس خواب کا عجیب طرح شروع ہوتا ہے۔ ساون بھادوں والے بڑے کمرے میں، جس کی چھت اس طرح کھلی ہوئی ہے کہ روشنی اور ہوا تو آتی ہے مگر پانی نہیں آتا، وہی بڑا کمرہ جو بارہ دری کے طرز پر بنا ہے، اس کمرے میں لکڑیوں کی ایک چھوٹی سی چتا بنی ہوئی ہے اور اس پر میں اسی طرح سنگار کئے بیٹھی ہوں۔ لاشہ میری گود میں ہے۔ تعجب یہ کہ میرے سامنے کھڑے مجھے اس حال میں دیکھ رہے ہو اور مسکرا رہے ہو۔ تمہاری نظریں اور تمہارا بانکپن میرے کلیجے کو چھلنی کئے دیتا ہے۔ میں اس لاشے کو سینے سے لگائے تمہاری طرف اس محبت سے دیکھ رہی ہوں کہ ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ جیسےفنا ہو جاؤں گی۔ دیکھتے دیکھتے تم کو اپنی محبت کے جذبے سے بے قابو سی ہو جاتی ہوں۔ طبیعت میں ایک دم سے عجیب انتشاری کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ تمام جذبات سمٹ کر سینے میں ایک مرکز پر آجاتے ہیں، اور میں محسوس کرتی ہوں کہ مجھ میں اب ضبط کی طاقت نہیں اور میرا سینہ جوش محبت اور جذبات کی ہیجانی کیفیت کے تلاطم سے پھٹا جاتا ہے کہ ایک دم سے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے میرا دل پھٹ گیا۔\n\nایک چمک کے ساتھ میرے ’’ست‘‘ کے زور سے میرے سینے سے ایک آگ کا شعلہ خود بخود بھڑک کر اس زور سے نکلتا ہے کہ جس کی چمک مجھے خواب سے ایک دم بیدار کر دیتی ہے۔ اپنے کو بے دم پاتی ہوں اور تن بدن پسینے میں شرابور۔ اس وقت انتہائی درجے کی تھکن محسوس ہوتی ہے۔ دیر تک پڑی رہتی ہوں اور تمہاری محبت کا خیال دل پگھلائے دیتا ہے اور آہستہ سے اٹھتی ہوں کہ کہیں تم جاگ نہ اٹھو اور تمہارے خوبصورت چہرے کو دیکھتی ہوں اور دیکھتے ہی دیکھتے جب تم کلبلاتے ہو، جھٹ سے اپنے پلنگ پر اس طرح لیٹ جاتی ہوں کہ آہٹ تک نہیں ہوتی۔ آج تمہاری صورت دیکھتے دیکھتے بے اختیاری کے عالم میں دو آنسو تمہارے رخسار پر ٹپک پڑے اور تم جاگ اٹھے۔‘‘\n\nمیں اس خواب سے متاثر ہوا مگر میں نے ہنس کر مہارانی سے کہا، ’’تم بھی وہی ہو۔ ایسے ایسے نہ معلوم کتنے خواب آتے ہیں اور جاتے ہیں۔ بڑی توہم پرست ہو۔‘‘\n\n’’مگر ایک ہی خواب! اور وہ بھی برابر اسی طرح دکھائی دے تو طبیعت کیسے پریشان نہ ہو اور ایک بات سنو۔ آخر یہ کیا وجہ کہ تم جب کبھی بھی دکھائی دیے یعنی شادی سے پیشتر جب کہ تم بچہ تھے، جب بھی اسی لباس میں دکھائی دیے۔ شکل کا تو اچھی طرح خیال نہیں مگر ہاں عمر تمہاری ہمیشہ اتنی ہی دکھائی دی۔ اس خواب میں ضرور کوئی بھید ہے۔۔۔‘‘ مہارانی نے متفکر ہو کر یہ الفاظ کہے۔\n\nمیں نے کہا، ’’تو دیوانی ہوئی ہے۔ لا میں تیرے خواب کی تعبیر کروں۔‘‘\n\nمہارانی نے کہا، ’’بتاؤ!‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’یہ کہ تم خوب ہنسوگی۔‘‘\n\n’’تم ہر بات میں مذاق کو دخل دیتے ہو۔‘‘\n\n’’میں سچ کہتا ہوں کہ اس کی تعبیر یہی ہے کہ تم ہنسو گی، میں سچا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر جو میں نے مہارانی کو پکڑ کر گدگدانا شروع کیا تو چونکہ ان کو گدگدی بہت محسوس ہوتی تھی، وہ مچھلی کی طرح تڑپنے لگیں اور میں نے ان کو ہنساتے ہنساتے بے حال کر دیا۔\n\nدن کے دس بجے مؤذن حاضر کیا گیا۔ غریب آدمی تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ ایک اذان رات کے دو بجے دے دیا کرے، میں تنخواہ دوں گا مگر اس نے انکار کر دیا۔ اس پر میں نے کہا کہ اول وقت جس قدر جلدی ممکن ہو اذان دیا کرو۔ وہ کہنے لگا کہ میں تو اول وقت ہی دیتا ہوں۔ میں نےاس کو وقت دیکھنے کے لیے ایک گھڑی دی اور پچاس روپیہ انعام دے کر رخصت کیا۔ در اصل اذان صبح کا پیغام ہوتا ہے اور اس اذان سے مہارانی کے دل کو آج عجیب تقویت سی پہنچی تھی۔ اس وجہ سے میں نے کہا کہ اذان جلدی ہو جائے تو بہتر ہے۔\n\nمؤذن چلا گیا اور اس کا خیال بھی نہ رہا۔ سوائے اس روز کے جس روز کے مہارانی خواب دیکھتیں تو سختی سے ان کو اور مجھ کو اذان کا اتنظار ہوتا۔ مہارانی کوئی چار مرتبہ یہ خواب ایک ماہ کے عرصے میں اور دیکھ چکی تھیں کہ ایک روز رات کو خواب کے وقت گھبرا کر اٹھیں اور مجھے ایک دم سے جگا کر کہا، ’’یہ تم نے کیا غضب کیا!‘‘\n\nمیں نے ان کے متوحش چہرہ کو دیکھا، اور مسکرا کر کہا، ’’پاگل ہوگئی ہو، کیا غضب کیا اور کیسا غضب؟‘‘\n\n’’تم نے مؤذن کو مروا ڈالا!‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’نہ معلوم تم کیا بکتی ہو۔ آخر بتاؤ تو سہی آج کیا تماشا دیکھا۔‘‘ اس پر انہوں نے آج نرالا خواب سنایا۔ وہ یہ کہ ’’اسی خواب والی بلا نے مؤذن کی مجھ سے شکایت کی اور میں نے اس موذی بلا سے کہا کہ اچھا ابھی جا کر اس کو مار ڈالو۔‘‘\n\nمیں نے ایک قہقہہ لگایا اور کہا رانی سے کہا کہ ’’آخر تم کو یہ کیا ہوگیا ہے۔‘‘ اس پر انہوں نے عجیب انداز سے کہا کہ ’’میں جھوٹ نہیں کہتی۔ یہ سب خواب۔۔۔ میں سچ کہتی ہوں یہ خواب ضرور سچا ہے۔ تم دیکھ لینا آج اذان کی آواز نہ آئے گی۔‘‘\n\nصبح تک مجھ کو اور مہارانی کو اذان کی آواز کا انتظار رہا۔ جوں جوں وقت گزرتا جاتا تھا مہارانی کی پریشانی بڑھتی جاتی تھی۔ میرے تعجب کی انتہا نہ رہی۔ جب دن نکل آیا اور اذان ندارد! میں نے دن نکلتے ہی سوار دوڑایا کہ معلوم کرے کیوں آج مؤذن نے اذان نہ دی۔ معلوم ہوا کہ وہ رات کو مر گیا۔ اس کی موت اسی وقت واقع ہوئی جب مہارانی نے مجھ سے کہا تھا۔ معلوم ہوا کہ وہ پریشان ہوکر اٹھا۔ اپنی بیوی کو بلایا اور بہت جلد کسی نامعلوم تکلیف کی وجہ سے مر گیا۔ اب میں عجیب چکر میں تھا اور میں نے فوراً سول سرجن کو بلا کر حکم دیا کہ اس کی لاش کا معائنہ کرکے بتائے کہ موت کیسے واقع ہوئی۔ سول سرجن نے رپورٹ دی کہ موت دل کی حرکت بند ہو جانے سے واقع ہوئی۔ سو روپے میں نے اس کفن دفن کے لیے دیے۔\n\nمیری متفکر اور پریشان صورت دیکھ کر مہارانی کا چہرہ اور بھی فق ہو گیا، اور وہ جان گئیں کہ واقعی مؤذن مرگیا۔ بھرائی ہوئی آواز میں انہوں نے کہا، ’’میں نہ کہتی تھی کہ میرا خواب سچا ہے۔ تم نےاسے مرواڈالا۔‘‘ میں نے یہ الفاظ سنے اور بت کی طرح کھڑا مہارانی کو دیکھتا رہا۔ مجھ کو ایسا معلوم ہو رہا تھا گویا میں نے مؤذن کو واقعی مروا ڈالا۔ اس کے گھر آدمی بھیج کر اطلاع کروا دی کہ اس کی بیوہ کو دس روپے ماہوار تا حیات ملے گا اور بچے جب بڑے ہوں گے تو ان کو پڑھنے کے لیے وظیفہ علیحدہ۔\n\nاب بجائے مہارانی کے ہم دونوں پریشان تھے۔ مہارانی نے بہت سی خیرات کی۔ اپنے میکے سے کئی پنڈت اور مولوی بلوائے اور دوسری جگہ سے بھی بلوائے اور ان سے عمل، تعویذ اور گنڈے لیے۔ میں خود ان ڈھکوسلوں کا قائل نہ ہوں اور نہ تھا، مگر اس وقت کی کیفیت ہی اور تھی۔ علاوہ اس کے یہ انتظام کیا گیا کہ بجائے گیارہ بارہ بجے یا ایک بجے سونے کے سرشام ہی سے سونے کی کوشش کرتے اور ایک بجے اٹھ کر راگ کی محفلیں کرتے۔ سب سے زیادہ فائدہ اس تدبیر سے ہوا۔ مگر جان لیوا خواب ایسا تھا کہ کسی نہ کسی وقت تھوڑا بہت کبھی کبھی ضرور ہی دکھائی دے جاتا۔ غرص رات کے بدلے دن کو سوتے۔ خواب میں بہت کمی ہوگئی تھی اور پھر چونکہ میری شادی قریب آگئی تھی، لہٰذا مہارانی کی توجہ کچھ اس طرح اس طرف مبذول ہوگئی کہ اگر خواب دیکھتی بھی تھیں تو اس کو کچھ زیادہ اہمیت نہ دیتی تھیں۔\n\n(۵)\n\nجونیئر مہارانی کو آخر بیاہ کر لانا ہی پڑا۔ بیاہ کی رسوم میں، میں نے نہ تو ان کو دیکھا تھا اور نہ دیکھنا تھا اور نہ دیکھنا چاہتا تھا۔ سینئر مہارانی نے اپنی بھتیجی کے لیے محل کا ایک خاص حصہ سجایا تھا کہ جس میں لا کر جونیئر مہارانی اتاری گئی۔ میں شروع ہی سے اس محل کے حصے سے قصداً کتراکر نکل جاتا کیونکہ اس میں وہ لڑکی آنے والی تھی جو میرے اور مہارانی کی محبت میں مخل ہونے والی تھی۔ مجھ کو اس خیال سے ہی منافرت تھی۔\n\nرات گئے جب سینئر مہارانی نے تمام رسوم سے فراغت حاصل کرکے جونیئر مہارانی کو ان کی خواب گاہ بھجوایا تو میری تلاش کی فکر ہوئی، معلوم ہواکہ باہر ہوں۔ وہاں دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اندر ہوں، لحاف اور بچھونے ٹٹولے گئے۔ میں وہاں کہاں ملتا۔ میں سینئر مہارانی کی خواب گاہ میں پڑا بے خبر سو رہا تھا۔ سوتے میں میری گردن میں سینئر مہارانی نے ایک بوسہ لے کر مجھ کو ہوشیار کیا۔ میں نےآنکھیں کھولیں اور دیکھا کہ مہارانی کے خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ رقص کر رہی ہے۔ ہنس کر انہوں نے کہا، ’’یہاں کہاں؟‘‘ میں نے ان کو گلے سےلگا کر کہا، ’’میں وہاں جہاں مجھ کو ہونا چاہیے، یعنی اپنی جان کے پاس، اپنی پیاری مہارانی کے پاس۔‘‘ انہوں نے ہاتھ پکڑ کر گھسیٹ کر اٹھایا، اس کے بعد ہی ایک حجت اور بحث کا باب کھل گیا۔\n\nمیری طرف سے ضد تھی کہ میں ہرگز جونیئر مہارانی کے پاس نہ جاؤں گا، اور ان کی ضد تھی کہ جانا پڑے گا۔ دونوں کی ضد نے طرح طرح کے پہلو اختیار کیے جس کی شروعات ایک دلچسپ مذاق سے ہوئی، اور اختتام اس پر کہ دونوں خوب روئے، مگر اس کے بعد بھی ’’تریاہٹ‘‘ قائم تھی۔ دھکے دے کر گویا میں اس خواب گاہ سے جبراً نکالا گیا۔ میں روتا جاتا تھا اور مہارانی مجھے بہلاتی، پھسلاتی جاتی تھیں۔ طرح طرح کی باتیں کرکے چمکارتی جاتی تھیں۔ مجھے بہلاتی، پھسلاتی، کھینچتی، گھسیٹتی وہ جونیئر مہارانی کی خواب گاہ تک مجھ کو لے گئیں۔ یہاں پہنچ کر میں اڑگیا۔ مجھ کو دروازے پر چھوڑ کر وہ اپنی بھتیجی کو کچھ سکھانے پڑھانے خواب گاہ میں داخل ہوئیں۔ ادھر میں بھاگا اور پھر اپنے گھونسلے میں یعنی اسی جگہ جہاں سے کشاں کشاں لایا گیا تھا مگر یہ سب کچھ بیکار تھا۔ میرے حال زار پر ان کو کچھ رحم نہ آیا اور وہ مجھ کو پھر تھوڑی دیر بعد پکڑ لائیں اور زبردستی خواب گاہ میں دھکادے کر باہر سے دروازہ بند کردیا۔\n\nمیں نےاس کمرے کو جیسا کہ کہہ چکا ہوں بالکل نہ دیکھا تھا۔ میں نےاس کو اب دیکھا۔ سارے کمرے میں بجلی کی سبز روشنی ہو رہی تھی، طرح طرح کے جھاڑ فانوس اور بجلی کی سبز قندیلیں روشن تھیں۔ کمرے کی چھت سبز بانات کی تھی جس پر طرح طرح کے زریں کام بنے ہوئے تھے۔ ہرچیز مجھ کو سبز نظر آ رہی تھی، حتی کہ قالین بالکل سبز رنگ کا تھا، تمام دیواریں سبز تھیں۔ دیواروں کو سبز رنگ کے ولایتی کاغذ سے منڈھ دیا گیا تھا اور اس سبز کاغذ پر طرح طرح کے رنگین نقش و نگار بنےہوئے تھے۔ کمرے میں ہر طرح کا سامان آرائش سجا ہوا تھا، مگر سب سبز رنگ کا تھا۔ کمرے کے بیچوں بیچ میں خالص سونے کی دوسبز مسہریاں لگی ہوئی تھیں اور ان کے ارد گرد دیوار کی طرح ایک آب رواں کا سبز ریشمی پردہ اس طرح آویزاں تھا کہ چھت سے لے کرزمین تک ایک دیوار سی چاروں طرف قائم تھی۔\n\nیہ پردہ اس قدر باریک اور اس قدر نفیس تھا کہ اس کی چار تہوں میں سے بھی آرپار دکھائی دے سکتا تھا۔ اس پردہ میں طرح طرح کے سبز رنگ اور زمرد کےآویزے اور موتی لٹک رہے تھے جو سبز رنگ کی روشنی میں ناچتے معلوم ہوتے تھے۔ ان میں سے ایک مسہری پر جونیئر مہارانی یعنی راجکماری لیلا وتی بیٹھی تھیں، جیسے کہ ایک سبز رنگ کی گٹھری رکھی ہوئی ہے۔ یہ سب کچھ میں نے ایک نظر بھر کر دیکھا۔ پھر فوراً ہی سینئر مہارانی کی محبت کا خیال کر کے رونے لگا۔ جونیئر مہارانی کی طرف میں نے پشت کرلی اور مخمل کے سبز پردے میں منہ لپیٹ کر چپکے چپکے خوب رویا اور خوب دل کی بھڑاس نکالی۔ خوب رونے سے ذرا طبیعت ہلکی ہو گئی۔ اگر اور طرح طرح کی خوشبوؤں سے کمرہ ویسے ہی مہک رہا تھا کہ ایک دم سے شماممۃ العنبر کی تیز اور مست کر دینے والی خوشبو کا ایک بھبکا میرے دماغ میں اس طرح پہنچا کہ میں نے گھبرا کر منہ کھول دیا۔\n\nمڑکر جو دیکھتا ہوں تو جونیئر مہارانی ہیں جو عطر میں بسی ہوئی تھیں۔ سبز رنگ کا رومی قالین تھا جس پر اتنا بڑا بڑا رواں تھا کہ ٹخنوں ٹخنوں پیر اس میں گھس جاتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے آنے کی ذرہ بھر آہٹ نہ ہوئی۔ میرے دیکھتے ہی انہوں نے جھک کر میرے قدم لیے۔ میرے پیر چوم کر انہوں نےکھڑے ہوکر دونوں ہاتھ جوڑ کر جھک کر ماتھے پر رکھے اور ذرا ہٹ کر اسی طرح ہاتھ جوڑے نظر نیچے کرکے کھڑی ہوگئیں۔ میں نے اس شعلہ حسن کو گویا اب پہلی مرتبہ سر سے پیر تک دیکھا۔ کامنی صورت، نازک بدن، میدہ اور شہاب کا سا رنگ تھا۔ چہرہ صاف بلور کی مانند سبز روشنی میں گویا جگمگا رہا تھا۔ جس پر سنہری افشاں چمک رہی تھی۔ صرف تھوڑی سی پیشانی رسمی گھونگھٹ سے چھپی ہوئی تھی۔ ناک نقشہ اس قدر سبک اور موزوں اور حسین کہ میری نظر سے کبھی نہ گزرا تھا۔ میں نے ایک نظر دیکھا اور پھر دیکھا۔ میں ساکت تھا اور وہ اسی طرح ہاتھ جوڑے کھڑی تھیں اور میں پردہ پکڑے کھڑا تھا۔\n\nانہوں نے آگے بڑھ کر دو زانو ہو کر پھر سے میرے پیر چھوئے اور پھر اسی طرح الگ ہٹ کر کھڑی ہو گئیں۔ میں ویسے ہی کھڑا اس قواعد کو دیکھتا رہا کہ وہ پھر تیسری مرتبہ جھکیں۔ انہوں نے میرے پیر اسی طرح چھوکر اپنے لبوں اور آنکھوں اور پیشانی سے لگائے، مگر اس مرتبہ بجائے اٹھ کر الگ جاکر کھڑے ہونے کے انہوں نےمنہ اوپر کر کے میری طرف دیکھا۔ مجھ کو دل میں کہنا پڑا، ’’خدا نے تجھ کو غضب کا حسن عطا کیا ہے! مگر۔۔۔‘‘ وہ میری طرف دیکھ رہی تھیں، اور دونوں ہاتھ جوڑے ہوئے تھیں۔ ان کے لبوں پر کچھ حرکت سی تھی، جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہیں کہ انہوں نے آہستہ سے اپنا داہنا ہاتھ میرے بائیں ہاتھ کی طرف بڑھایا۔ ان کا سبز رنگ کاشمیری شال ان کے سر اور کاندھے پر سے سرک کر گر گیا، مگر انہیں شاید خبر بھی نہ ہوئی۔\n\nہاتھ بڑھا کر جیسے ڈرتے ڈرتے انہوں نے میرا بایاں ہاتھ کلائی پر سے پکڑ لیا اور دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اس کو آنکھوں سے لگایا اور پھر لرزتی ہوئی آواز سے کہا، ’’پتی مہاراجہ!‘‘ میری طرف انہوں نے لجاجت آمیز نگاہیں ڈالیں۔ جیسے کہ وہ مجھ سے رحم یا عفو تقصیر کی طالب تھیں۔ آہستہ آہستہ اٹھیں اور قبل اس کے کہ مجھے خبر ہو کہ کیا ہوا انہوں نے مجھے مسہری پر لا بٹھایا اور سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہوگئیں۔ ساری مسہری عطر میں بالکل بسی ہوئی تھی۔ میں اس پر بیٹھا ہوا جونیئر مہارانی کو دیکھ رہا تھا، جو سبز رنگ کی آب رواں (جارجیٹ) کی ساڑھی باندھے ہوئے میرے سامنے کھڑی ہوئی میری پرستش کر رہی تھیں، دسمبر کا سخت جاڑا تھا، مگر کمرے کے اندر نہایت ہی خوش گوار موسم تھا۔ کیونکہ جگہ جگہ بجلی کی انگیٹھیاں دہک رہی تھیں۔\n\nمیں نے ان سے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ میرے پیر چھو کر بیٹھ گئیں۔ فوراً انہوں نے ایک سبز رنگ کی صراحی سے دو آتشہ کا جام بھر کر مجھے دیا جو میں نے پی لیا اور ایک جام ان کو دے کر اس رسم کو پورا کیا۔ بہت جلد دو چار باتیں ہوئیں کہ سلسلہ کلام چھڑ گیا اور جونیئر مہارانی نے اپنی سحر کاریوں کے جال میرے اوپر پھینکنا شروع کیے۔ اپنی طبیعت کو کیا کروں۔ میں جھلا سا گیا اور ان کو شاید برا معلوم دیا۔ جب سینئر مہارانی کا مجھ کو خیال آیا اور میں نے بات کاٹ کر کہا، ’’سو جاؤ۔‘‘ اور یہ کہہ کر اپنی مسہری پر دراز ہوکر جو سویا تو صبح کی خبر لایا۔ ساڑھے آٹھ بجے ہوں گے جب سینئر مہارانی نے مجھے اٹھایا اور فوراً لڑائی شروع کردی۔ میں خوب خوب رویا اور وہ بھی خوب خوب روئیں۔ میں بھی مجبور تھا اور وہ بھی مجبور تھیں۔ دراصل بھتیجی نے میری سرد مہری کی شکایت کی تھی اور پھوھی اپنی بھتیجی کی طرف سے وکیل ہوکر مشترکہ شوہر سے لڑنے آئی تھیں۔ غرض خوب سینئر مہارانی سے لڑائی ہوئی۔\n\nکسی نے کہا ہے اور ٹھیک کہا ہے، ’’ممکن نہیں کہ آگ لگے اور دھواں نہ ہو۔‘‘ جونیئر مہارانی کا حسن لاثانی اور پھر پھوپی بھیجتی دونوں کی کوشش۔ خواہ مخواہ میں جونیئر مہارانی سے گھل مل گیا۔ لیکن مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ گھلنا ملنا کچھ سےکچھ کردے گا اور وہ بھی اس قدر جلد۔ پھوپھی تو جیسا گاتی تھی گاتی تھی ہی لیکن بھتیجی نے تو گانے میں ستم کی مہارت بہم پہنچائی تھی۔ اتنی حسین اور دلچسپ لڑکی، نئی نئی جوانی اور پھر نئی شادی، میرا اس کی طرف کھنچاؤ اور اس کا میری طرف رجحان بڑھتا گیا۔ مجھ سے مل کر وہ عشق مجسم اور محبت کی پتلی بن گئیں۔ ایک عجیب عالم میں تھیں، اور پھر مجھے بھی اپنے ساتھ کھینچے لیے جا رہی تھیں۔ ان کا بس نہ تھا کہ مجھے اپنے دل میں چھپا لیتیں۔ یہی جذبات آخر سینئر مہارانی میں بھی تھے اور عورتوں میں ہوتے ہی ہیں، مگر جونیئر مہارانی میں نہ تو اتنی سمجھ کہ یہ جذبات کیا ہیں اور نہ عقل۔ وہ مجھے دیکھتیں، تو ان کی آنکھیں غمازی کرتیں۔ ان کی حرکات و سکنات، اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، پھرنا، کھانا، پینا، ہنسنا، گانا، ملنا، جلنا، غرض ان کے تمام افعال سب کے سب ایک جذبہ کے تحت میں تھے اور ہر قدم پر دل کے چور کار از افشا کرتے تھے۔\n\nبس گویا جونیئر مہارانی کیا تھیں کہ سیماب برآتش تھیں۔ بلکہ یوں کہیے کہ ایک دہکتا ہوا آگ کا انگارہ! بہت جلد انہوں نے میری ہستی کو کچھ سے کچھ کر دیا۔ وہ خود بھی مٹ گئیں اور مجھ کو بھی مٹا دیا۔ بالفاظ دیگر خود وارفتہ ہوکر مجھ کو بھی دیوانہ کر دیا۔ یہ سب باتیں اور ذرا غور تو کیجیے کہ سینئر مہارانی اپنی بھتیجی کی زندہ دلی کو دیکھتیں اور باغ باغ ہوتیں اور جہاں تک ممکن ہوتا اپنی بھتیجی کے عیش میں مخل نہ ہوتیں۔\n\nوہی ناچ رنگ کی محفلیں اور وہی رنگ رلیاں! جونیئر مہارانی اور سینئر مہارانی دونوں میرے ساتھ ہوتیں۔ پھوپھی اور بھتیجی دونوں مل کر خوب گاتیں، جشن میں دونوں شریک، طرح طرح کے ڈرامے کیے جاتے، سو انگ بنائے جاتے، سینئر مہارانی راجہ بنتیں، جونیئر مہارانی راجکمار بنتیں، میں راجکماری بنایا جاتا۔ میرے ساتھ شادی ہوتی۔ خوب خوب الٹی گنگا بہائی جاتی، مگر یہ حال سینئر مہارانی کا زیادہ عرصہ تک نہیں رہا۔ ویسے بھی وہ اپنی بھتیجی پر اپنا عیش قدم قدم پر خود قربان کرتی تھیں، لیکن بہت جلد انہوں نےاز خود ان جلسوں سے کنارہ کشی سی کرنی شروع کی۔ کبھی درد سر کا بہانہ، کبھی طبیعت کی کسلمندی، کبھی نیند کی خواہش، کبھی دلچسپی کا فقدان۔ غرض کوئی نہ کوئی بہانہ ان کو محفل سے بہت جلد اٹھا لے جاتا۔ رفتہ رفتہ انہوں نےناغہ کرنا شروع کیا۔ در اصل ان کی طبیعت کا رجحان کچھ پوجا پاٹ کی طرف زیادہ ہوگیا تھا۔ میں نے سمجھا کہ شاید اس کی وجہ ہو۔ ظاہر ہے کہ ان سب باتوں کا نتیجہ کیا ہوگا۔ دفتر بے معنی ہوکر میں جونیئر مہارانی میں ڈوب کر رہ گیا۔ اب مجھے معلوم ہوا کہ سینئر مہارانی نے سچ کہا تھا کہ جونیئر مہارانی میرے جوڑ کی ہیں۔\n\nمیری عمر سولہ اور سترہ سال کے درمیان تھی اور جونیئر مہارانی کی عمر پندرہ اور چودہ کے درمیان تھی۔ بہت جلد مجھ کو بجائے سینئر مہارانی کے جونئیر مہارانی کا جنون شروع ہوگیا۔ ہر دم وہی تصویر سامنے رہی، اندر ہوں خواہ باہر، سوتے جاگتے ان ہی کی یاد رہتی۔ رفتہ رفتہ وہ عبرت ناک حالت آپہنچی کہ سینئر مہارانی کی موجودگی اور غیر موجودگی یکساں ہو گئی۔ اور پھر اس پر بھی بس نہیں، بلکہ ایک قدم اور آگے بڑھا۔ اور سینئر مہارانی کی موجودگی غیر دلچسپ معلوم ہو کر کچھ کچھ شاق گزرنے لگی، ایسا معلوم ہونے لگا کہ یہ تو کوئی بزرگ ہیں۔ وہ خود کھینچی کھینچی دیدہ و دانستہ رہتیں۔ تھوڑے ہی دنوں میں ناچ رنگ کی رونق صرف جونیئر مہارانی رہ گئیں۔\n\nوہی جھیل کا کنارہ، وہی مرمریں چبوترہ، وہی پرسکون چاندنی اور وہی عیش و طرب! لیکن پرانا محبوب اب مجلسوں سے غیر حاضر رہتا۔ میرے صنم کدہ میں اب دوسرا بت تھا جس کی جدائی نے وحدانیت کا ڈنکا بجوا دیا۔ کبھی کبھی میرا دل میرے اوپر ملامت کرتا اور سینئر مہارانی کا خیال تکلیف دیتا مگر اس میں میری خطا ذرہ برابر نہ تھی۔ اگر سینئر مہارانی کے یہاں اس نیت سے جاؤں کہ رات کو ان کے یہاں ہی رہوں، اور وہیں جلسہ ہو، تو اول تو وہ مجھے ٹکنے نہ دیتیں اور ہنس ہنس کر لڑتیں، اور دھکے دے کر نکال دیتیں اور جب بڑی مشکل سے راضی بھی ہوتیں تو بہت جلد کہتیں کہ ’’لیلاوتی کو بلا لو۔‘‘ جونیئر مہارانی فوراً آ جاتیں۔ دراصل ان کی مجال نہ تھی کہ انکار کریں۔ ان کے آتے ہی خود ان کے سر میں درد ہونے لگتا اور نتیجہ یہ ہوتا کہ سینئر مہارانی کے محل میں خود ان کی غیر موجودگی ہو جاتی اور جونیئر مہارانی رہ جاتیں۔\n\nمگر جونیئر مہارانی کے جنون کے ہوتے ہوئے بھی مجھ کو ایسا معلوم ہوتا کہ سینئر مہارانی کی محبت ایک لازوال شے ہے۔ میرےدل میں ان کی بے حد محبت اب بھی تھی، مگر اس کی صورت بھی ایک عجیب ہوکر رہ گئی تھی۔ جب کبھی ان کو سینے سے لگاتا یا ان کی پیشانی چومتا تو ان کے آنسو نکل پڑتے اور بہت جلد حالت بگڑ جاتی اور ہچکیاں بندھ جاتیں گویا ایک طرح میرے لئے انہوں نے اظہار محبت کرنا ہی ناممکن سا کر دیا، کیونکہ ان کی حالت ایسی بگڑ جاتی کہ سنبھالنا دشوار ہو جاتا۔ ان سے اگر کبھی اس پریشان خواب کا حال پوچھتا تو وہ بڑے اطمینان کا اظہار کرتیں۔ کبھی کبھی نہیں، بلکہ اکثر دکھائی دیتا تھا مگر اب وہ خود مجھ سے کہتی تھیں کہ محض وہم ہے، دوسری باتیں کرو۔ میں رہ رہ کر یہ بھی سوچتا کہ آخر یہ محبت کی کون سی قسم ہے جو مجھ کو سینئر مہارانی سے ہے۔ کیونکہ جونیئر مہارانی کی محبت اگر ایک طرف وبال جان تھی تو دوسری طرف سینئر مہارانی کے لیے دل پاش پاش ہوتا تھا، اور ان کی بھولی بھولی نظریں تیر کی طرح دل میں ترازو ہوکر رہ جاتی تھیں۔ در اصل میرا جی چاہتا تھا کہ سینئر مہارانی پر اپنی جان چھڑکتا رہوں!\n\nرفتہ رفتہ بتدریج سینئر مہارانی کی حالت میں ایک انقلاب عظیم پیدا ہو رہاتھا، وہ زیادہ تر ساکت رہتی تھیں۔ معلوم ہوا کہ راتوں کو اٹھ کر ٹہلتی ہیں۔ ان کے چہرے کی وہ غیر معمولی دمک اب معدوم تھی، مگر چہرے پر ایک ناقابل بیان نور مسلط رہتا تھا۔ اب ان کے بالوں میں وہ افشاں بھی نہ ہوتی تھی جس کی بارش ان کے حسین چہرے پر ہوتی رہتی تھی۔ ان کی تندرستی انحطاط پذیر ہو رہی تھی، اور وہ دبلی ہوگئی تھیں۔\n\n(۶)\n\nدر اصل انصان عیش کا بندہ ہے، خواہ غریب ہو یا امیر، پھر عیش و عشرت کی بھی کوئی حد نہیں، ہم سب لوگ خواہ کتنا ہی عیش کیوں نہ کریں یہی سمجھتے ہیں کہ کافی نہیں۔ میری اور جونیئر مہارانی کی پرسرور، پر کیف زندگی کے دن لمحوں کی طرح گزرتے معلوم ہوتے تھے۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ ہم دونوں ایک خوشگوار ہوا میں دنیا کی رنگینی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کسی اس سے بھی اچھے مقام پر جا رہے ہیں۔ دوسرا سال میری شادی کو شروع ہو چکا تھا۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جونیئر مہارانی گویا کل ہی آئی ہیں۔ جوں جوں جوانی آتی جاتی تھی، نشہ عشق و محبت اور بھی بڑھتا جاتا تھا۔ در اصل میں ایک عجیب نشےمیں چور تھا، اور یہی حالت جونیئر مہارانی کی تھی۔\n\nبرسات کا زمانہ آیا۔ کالے کالے بادل اور دل خوش کن ہوائیں، جھیل کا منظر اور مے نوشی اور اس پر عشق و محبت کی گزک! دن رات کھیل تماشے میں گزرتے تھے اور دن رات طرح طرح کے ناچ، کھیل اور رنگ رلیاں طرح طرح سے منائی جاتی تھیں، نت نئی تجویز اور اس کی تکمیل۔ بس مقصد حیات ہی یہی تھا۔ جونیئر مہارانی نےتجویز کیا کہ جھیل کے بیچوں بیچ میں کشتیاں جوڑ کر کسی دوسری طرح کا ایک جزیرہ بنایا جائے اور اس پر ایک بارہ دری قائم ہو اور وہاں، ہفتہ بھر برابر جلسہ رہے۔ دن رات وہیں رہیں، تجویز واقعی بہت دلچسپ تھی۔ حکم کی دیر تھی کہ سیکڑوں آدمی لگ گئے، دن رات کام ہونے لگا اور پندرہ بیس روز کے بعد یہ عارضی محل بن کر تیار ہوگیا۔ پہلے ہی جلسے کے روز چاروں طرف جھیل کے جھما جھم پانی برس رہا تھا اور یہاں مہارانی کا یہ حال تھا کہ اپنی مست کردینے والی آواز سے جھوم جھوم کر روم جھوم گا رہی تھیں۔\n\nخوب مال پوئے کھائے اور شرابیں طرح طرح کی لنڈھائیں۔ دن کو سوتے اور رات بھر رنگ رلیاں مچائی جاتیں۔ طرح طرح کےناچ ہوتے اور طرح طرح کے ڈرامے کیے جاتے، پھر کبھی مینھ میں نہاتے اور کبھی جھیل میں۔ غرض خوب دھما چوکڑی رہتی۔ اس عیش و طرب کے جلسے میں باوجود ہر طرح کے اصرار کے سینئر مہارانی نہیں آئیں۔ ’’تم جاؤ!‘‘ انہوں نےکہا، ’’لیلاوتی ہے تو!‘‘ اس کے جواب میں، میں نے انہیں سینے سے لگالیا، اور کہا، ’’نہیں تم کو ضرور لے چلوں گا۔‘‘ بس یہ کہنا تھا کہ گویا بکھر گئیں۔ خوب روئیں اور مجھ کو بھی رلایا۔ مجبوراً چلا آیا۔ اب اس جلسے میں ان کی موجودگی کا خیال تک نہ تھا۔ دراصل فرصت ہی کہاں تھی۔\n\nناچ کود سے بھی چار چھ روز میں تنگ سے آگئے کہ آخری دن آیا کہ بس آج کا جلسہ اور ہو کل ختم۔ حسن اتفاق کہ بادل بھی وہ جھوم کر امنڈ آیا کہ آسمان اور پہاڑ ایک ہوگیا اور پھر بارش بھی خوب خوب ہوئی۔ بجلی کی طرح طرح کی روشنی سے دن ہو رہا تھا۔ پرکیف اور روح پرور ہواؤں کے جھونکے آ رہے تھے اور گھومر کا دل پسند ناچ عجیب انداز سے ہو رہا تھا۔ خوبصورت اور چلبلی خواصیں نشہ کی ترنگ میں بدمست ہوکر اپنی سریلی آواز ملا کر پھولوں کے ہار پہنےاور ہاتھوں میں مور پنکھڑی کی سبز شاخیں لیے بل کھا کھا کر ساز کی تھاپ پر جھماکے کے ساتھ قدم ملا ملا کر ناچ رہی تھیں۔ جونیئر مہارانی تال پر تال دے رہی تھیں۔ خدا نے انہیں بلا کا حسن دیا ہے۔ ان کے زرنگار کپڑے اور اس پر مرصع کلغی دار ٹوپی جو ہیروں سے جگمگا رہی تھی، میرا دل چھینے لیتی تھی۔\n\nخوشی اور مسرت سےاس کا حسین چہرہ چمک رہاتھا اور اس پر وہ لمبی لمبی دل کھینچنے والی تانیں اور پھر روم جھوم کے گیت پر ان کا خود جھومنا اور پھر گھومر کے ناچ کا نپا تلا جھماکا، جس کے ساتھ ساتھ ان کے سر کے جھٹکے سے ان کے حسین چہرے پر افشاں کی بارش ہوتی تھی۔ آج آخری رات کا جلسہ تھا اور کنٹر کے کنٹر شراب کے خالی ہو رہے تھے۔ ’’اور پیو! اور پیو!‘‘ گانےوالیاں، بجانے والیاں اور خواصیں سب دو آتشہ میں چور تھیں۔ جام پہ جام خالی ہو رہا تھا۔ اور لاؤ کم نہ ہوتی تھی۔ میں بھی اسی سیلاب میں بہا چلا جا رہا تھا۔ قصہ مختصر یہ کہ ہر کسی نے اتنی پی کہ عقل و ہوش رخصت، بہت جلد محفل کی ترتیب درہم برہم ہوگئی۔ کسی نےکسی کی چوٹی پکڑی، کسی نےکسی کو گھسیٹا۔ میں نے خود انتہائی کوشش کی کہ سنبھلوں اور جلسے کی برہمی کو سنبھالوں، مگر وہاں تو ہر خواص اپنےکو مہارانی سمجھ رہی تھی۔ کوئی اِدھر گرا، کوئی اُدھر گرا۔ رات کے دو ویسے ہی بج چکے تھے۔ ہفتہ بھر کی کود پھاند اور پھر نشہ اور اس پر جوانی کی نیند۔ تھوڑی ی دیر میں مرگی پھیل گئی۔ جو جہاں تھا وہیں غیں ہو کر رہ گیا۔ نشہ اور نیند نے ایسا دابا کہ سب غافل ہوگئے۔\n\nنیند اور نشہ کے عالم میں میں نے ایک خواب دیکھا، وہی خواب جو سینئر مہارانی کو دکھائی دیا کرتا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میں دربار والے کمرے کی طرف جا رہا ہوں، وہاں پہنچا تو سین حرف بحرف سامنے موجود تھا۔ وہی مہارانی اور وہی کمرہ۔ غرض جو کچھ بھی انہوں نے دیکھا، سب وہی۔ وہ بنی سجی بیٹھی ہوئی تھیں۔ صرف فرق اتنا تھا کہ وہاں وہ بلا نہیں تھی جس کو مہارانی نے دیکھا بلکہ وہاں تو میری پیاری جونیئر مہارانی تھی جو تمسخرانہ لہجے میں سینئر مہارانی سے کہہ رہی تھی کہ ’’بیوہ ہوگئی چتا میں بیٹھ۔‘‘ کہ اتنے میں، میں پہنچا۔ میں نے جونیئر مہارانی سے پوچھا کہ بات کیا ہے؟ اس نے مجھ سے مسکرا کر کہا کہ ’’سینئر مہارانی بیوہ ہوگئیں۔‘‘ میں نے جونیئر مہارانی کو دیکھا اور سینئر مہارانی کو دیکھا اور کہا کہ ’’تو بیوہ ہوگئی اب ستی ہوجا۔‘‘ اتنے میں دیکھتا ہوں کہ جونیئر مہارانی غائب، پھر خواب کا دوسرا سین دیکھا کہ سینئر مہارانی میرا جنازہ دیکھ رہی ہیں، اور میں بھی دیکھ رہا ہوں۔ میں نےجنازے پر سے کپڑا ہٹا کر خود اپنی لاش کو دیکھا اور ذرہ بھرتعجب نہ کیا۔ غرض خواب کا دوسرا سین بھی لفظ بہ لفظ اور حرف بہ حرف وہی تھا۔\n\nپھر اس کے بعد تیسرا سین دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ساون بھادوں والے محل کے بڑے کمرے میں کھڑا ہوں۔ سامنے سینئر مہارانی میری لاش کو گود میں لیے ساتوں سنگار کئے ہوئے ستی ہونے کو تیار بیٹھی ہیں۔ وہ میری طرف دیکھ رہی تھیں، اور میں ان کی طرف۔ وہ محبت سے مجھ کو اپنی طرف گویا نظروں ہی نظروں میں کھینچے لے رہی تھیں اور میرے دل میں ڈوبی جا رہی تھیں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ محبت کےانتہائی جذبات ان کے سینے میں گھٹ رہے ہیں۔ اسی طرح دیکھتے دیکھتے ان کی حالت انتہائی جذبات کی وجہ سے بے قابو ہوگئی اور میرےدیکھتے ہی دیکھتے ان کے ’’ست‘‘ کے زور سے ان کے سینے سے ایک زبردست شعلہ بھڑک کر اس زور سے نکلا کہ ساری چتا کو مع مہارانی کے اس نےلپیٹ لیا۔ میری آنکھیں چندھیا گئیں اور چشم زدن میں اس زور سے کڑکا ہوا کہ بادل کی گرج کے ساتھ ساتھ میں بھی گرنے کو ہوا کہ میرے پہلو سے چیخ کی آواز آئی اور جونیئر مہارانی مجھ سے آکر چپٹ گئیں۔ ہم دونوں بادل کی گرج کے ساتھ گرے۔\n\n’’تم یہاں کہاں؟‘‘ جونیئر مہارانی نے مجھ سے پوچھا۔\n\n’’کہاں؟‘‘ میں نے گھبرا کر چاروں طرف آنکھیں مل کر کہا۔\n\n’’ارے!‘‘ یہ کہہ کر مہارانی نے ایک چیخ ماری اور ساتھ ہی میں نے اپنے ہوش و حواس میں دیکھا کہ میرا خواب بالکل سچا ہے۔ سینئر مہارانی سامنے بے جان پڑی تھیں۔ ان پر بجلی گری تھی اور ان کے سینے اور بالوں پر شعلے کا جھلسا موجود تھا۔ ان کی گود میں میری وہی رنگین تصویر بھی تھی۔ جونیئر مہارانی بے ہوش ہوکر گر گئی تھیں اور میں نے دیکھا بھی نہ تھا۔\n\nملاح کہتا ہے کہ رات کو وہ میرے حکم سے مجھ کو جھیل کے عارضی جزیرے پر سے چبوترے تک لایا۔ تو شہ خانے والا کہتا ہے کہ حضور نے اپنے درباری کپڑے مجھ سے رات کو طلب کیے اور میں نےتمام درباری کپڑے اور زیورات خود پہنائے۔ پھر دوسرے ملازم کہتے ہیں کہ آپ نے اپنے حکم سے ہم سے لکڑی کی چتا بنوائی۔ سب یہی کہتے ہیں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ میں کب آیا اور کس طرح آیا۔\n\nمہارانی راماوتی ایک شیریں خواب تھی اور آنکھ جو کھلی تو کچھ نہ تھا۔ یا پھر یوں کہیے کہ ایک رنگین حباب جس کی مختصر زندگی ایک ہلکورے سےختم ہوگئی۔ ایک پروانہ تھی جو تھوڑی دیر شمع سے کھیلنے کے بعد اس پر نثار ہوگئی۔\n\nتھوڑے دن تو سر پیٹتا اور خاک اڑاتا رہا اور جونیئر مہارانی کا بھی اپنی پھوپھی کے غم میں یہی حال رہا۔ راتوں کو مجھے خواب میں دکھائی دیتیں اور ہائے راماوتی کہہ کر میں چیخ اٹھتا، مگر زمانہ گزرنے لگا اور گزرتا گیا۔ وہی محل اور وہی جھیل اور وہی جونیئر مہارانی اور وہی رنگ رلیاں ہیں اور سینئر مہارانی کی یاد ایک قصہ ماضی ہوگئی ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8"} {"title": "مہدی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "قوموں کی حیات ان کے تخیّل پہ ہے موقوف\nیہ ذوق سِکھاتا ہے ادب مُرغِ چمن کو\nمجذوبِ فرنگی نے بہ اندازِ فرنگی\nمہدی کے تخیّل سے کِیا زندہ وطن کو\nاے وہ کہ تو مہدی کے تخیّل سے ہے بیزار\nنومید نہ کر آہُوئے مُشکیں سے خُتن کو\nہو زندہ کفن پوش تو مَیّت اُسے سمجھیں\nیا چاک کریں مَردکِ ناداں کے کفن کو؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D8%AF%DB%8C"} {"title": "مہدیِ برحق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوس\nخاور کے ثوابِت ہوں کہ افرنگ کے سیاّر\nپیرانِ کلیسا ہوں کہ شیخانِ حرم ہوں\nنے جدّتِ گُفتار ہے، نے جدّتِ کردار\nہیں اہلِ سیاست کے وہی کُہنہ خم و پیچ\nشاعر اسی افلاسِ تخیّل میں گرفتار\nدُنیا کو ہے اُس مہدیِ برحق کی ضرورت\nہو جس کی نِگہ زلزلۂ عالمِ افکار", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D8%AF%DB%8C%D9%90_%D8%A8%D8%B1%D8%AD%D9%82"} {"title": "مہذب قوموں کی پیروی", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "چھوٹا بچہ اپنے سے بڑے لڑکے کی باتوں کی پیروی کرتا ہے اور کم سمجھ والا اس کی جس کو وہ اپنے سے زیادہ سمجھدار سمجھتا ہے اور ناواقف اس کی جس کو وہ اپنے سے زیادہ واقف کار جانتا ہے۔ اسی طرح نا مہذب قوم کو تہذیب یاٖفتہ قوم کی پیروی کرنی ضرور پڑتی ہے، مگر بعضی دفعہ یہ پیروی ایسی اندھا دھندی سے ہوتی ہے جس سے بجائے اس کے کہ اس پیروی سے فائدہ اٹھا ویں، الٹا نقصان حاصل ہوتا ہے اور جس قدر ہم نا مہذب ہوتے ہیں اس سے اور زیادہ نا شائستہ ہوتے جاتے ہیں۔\n\nنا مہذب آدمی جب تربیت یافتہ قوم کی صحبت میں جاتا ہے تو ان لوگوں کو بہت عمدہ پاتا ہے اور ہر بات میں ان کو کامل سمجھتا ہے، ہر جگہ ان کی تعریف سنتا ہے مگر ان میں جو خراب عادتیں ہیں ان کو بھی دیکھتا ہے۔ مثلا ً شراب پینا، جوا کھیلنا وغیرہ۔ پس یہ شخص ان باتوں کو بھی ان کے کمالوں ہی میں تصور کر لیتا ہے۔ ان میں جو خوبیاں اور کمالات در حقیقت ہیں ان کو تو وہ حاصل نہیں کرتا اور نہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر جو بری باتیں ان میں ہیں ان کو بہت جلد سیکھ لیتا ہے۔\n\nایسا کرنا در حقیقت اس آدمی کی غلطی ہے کہ اس نے ان کے نقصوں کو ان کا کمال سمجھا ہے۔ وہ لوگ بسبب کسی دوسرے کمال و لیاقت اور خوبی کے جو ان میں ہے اور بسبب دوسری عمدہ خصلتوں کے جو انہوں نے حاصل کی ہیں، مہذب و شائستہ کہلاتے ہیں، نہ بسبب ان باتوں کے جن کو اس نے سیکھا ہے۔ بلا شبہ مہذب آدمیوں کی برائیاں ان کی بہت سی خوبیوں اور کمالوں کے سبب چھپ جاتی ہیں اور لوگ ان پر بہت کم خیال کرتے ہیں، تا ہم وہ برائیاں کچھ ہنر نہیں ہو جاتیں، بلکہ جو برائی ہے وہ برائی ہی رہتی ہے، گو کہ ایک مہذب قوم ہی میں کیوں نہ ہو۔\n\nہم کو یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی قوم گو وہ کیسی ہی عمدہ اور مہذب ہو، مگر جو برائیاں اس میں ہیں وہ اس کے وصف نہیں ہیں، بلکہ ان کے کمال کی کمی ہے جس کی پیروی ہم کو کرنی نہیں چاہیے۔ اگر ایک خوب صورت آدمی کے منہ پر ایک مسا ہو توہم کو خوب صورت بننے کے لیے ویسا ہی مسا اپنے منہ پر نہ بنا نا چاہیے کیونکہ وہ مسا اس کی خوب صورتی کا نقصان ہے۔ ایسی حالت میں ہم کو یہ خیال کرنا مناسب ہے کہ اگر یہ مسا بھی اس کے منہ پر نہ ہوتا تو کتنا اور خوب صورت ہو جاتا۔\n\nہم بلاشبہ اپنی قوم کو اپنے ہم وطنوں کو سولیزڈ قوم کی پیروی کی ترغیب کرتے ہیں، مگر ان سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان میں جو خوبیاں ہین اور جن کے سبب و ہ معزز اور قابل ادب سمجھی جاتی ہیں اور سولیزڈ شمار کی ہوتی ہیں ان کی پیروی کریں، نہ ان کی ان باتوں کی جو ان کے کمال میں نقص کا باعث ہیں۔ اسی سبب سے جب کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری قوم نے کسی سولیزڈ قوم کی عمدہ خصلتوں او ر عادتوں میں پیروی کی تو ہم کو بہت خوشی ہوتی ہے اور جب یہ سنتے ہیں کہ اس نے ان کی برائیوں کی پیروی کی اور شراب پینی شروع کی اور پکا متوالا ہوگیا اور جوا کھیلنا سیکھا اور بے قید ہو گیا تو ہم کو نہایت افسوس ہوتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری قوم عمدہ باتوں کی سیکھےگی اور بری باتوں کو ہمیشہ برا سمجھےگی۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D8%B0%D8%A8_%D9%82%D9%88%D9%85%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D9%88%DB%8C"} {"title": "مہر خوباں خانہ افروز دل افسردہ ہے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مہر خوباں خانہ افروز دل افسردہ ہے\nشعلہ آب زندگانیٔ چراغ مردہ ہے\n\nمرغ دل تیری نگہ کا ہو چکا اب تو شکار\nجا کہاں سکتا ہے یاں سے صید ناوک خوردہ ہے\n\nہے بہار رنگ و بوۓ تازہ روۓ خصم جاں\nسالم آفات حوادث سے گل پژمردہ ہے\n\nجان و ایماں دین و دل جو تھا بساط اپنا دیا\nاور کیا چاہے ہے تو مجھ سے جو اب آزردہ ہے\n\nاے شہ اقلیم خوبی تا سر دروازہ آ\nنذر کو بیدارؔ تیری جاں بکف آوردہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "مہر و الفت سے مآل تہذیب", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "مہر و الفت سے مآل تہذیب\nخاکساری ہے کمال تہذیب\n\nہے وہ آرائش حسن باطن\nجس کو کہتے ہیں جمال تہذیب\n\nکم نہیں مردمک چشم سے کچھ\nرخ انسان پہ خال تہذیب\n\nآج کل ہم میں اگر سچ پوچھو\nشکل عنقا ہے مثال تہذیب\n\nکبھی ہوتا نہیں بد وضع کا خوف\nہے عجب جاہ و جلال تہذیب\n\nرخ پہ کرتا ہے متانت پیدا\nدل میں آتے ہی خیال تہذیب\n\nاپنے مطلب کا جہاں کچھ ہو لگاؤ\nنہیں رہتا ہے خیال تہذیب\n\nقوم کا اپنے نہ گھٹتا وہ عروج\nہو نہ جاتا جو زوال تہذیب\n\nجام جم سے ہے کہیں پر تمکیں\nبزم خلت میں سفال تہذیب\n\nاس کا خوں کرتے ہیں جو ناحق کوش\nان کی گردن پہ وبال تہذیب\n\nمردہ قوموں کے لئے آب حیات\nبنتا جاتا ہے زلال تہذیب\n\nبدر بن جائے گا چندے میں حبیبؔ\nحق نے چاہا تو ہلال تہذیب", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D8%B1_%D9%88_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%A2%D9%84_%D8%AA%DB%81%D8%B0%DB%8C%D8%A8"} {"title": "مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا\nموم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا\n\nداغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتاب\nکس کی تسکیں کے لیے گھر سے تو باہر نکلا\n\nجیتے جی آہ ترے کوچے سے کوئی نہ پھرا\nجو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کر نکلا\n\nدل کی آبادی کی اس حد ہے خرابی کہ نہ پوچھ\nجانا جاتا ہے کہ اس راہ سے لشکر نکلا\n\nاشک تر قطرۂ خوں لخت جگر پارۂ دل\nایک سے ایک عدد آنکھ سے بہہ کر نکلا\n\nکنج کاوی جو کی سینے کی غم ہجراں نے\nاس دفینے میں سے اقسام جواہر نکلا\n\nہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میرؔ\nپر ترا نامہ تو اک شوق کا دفتر نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88%D9%82%D8%B9_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "مہربانی بھی ہے عتاب بھی ہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مہربانی بھی ہے عتاب بھی ہے\nکچھ تسلی کچھ اضطراب بھی ہے\n\nہے تو اغیار سے خطاب مگر\nمیری ہر بات کا جواب بھی ہے\n\nواں برابر ہے خلوت و جلوت\nاس کی بے پردگی حجاب بھی ہے\n\nہو قناعت تو ہے جہاں دریا\nحرص غالب ہو تو سراب بھی ہے\n\nوہ تخبتر کہاں تپاک کہاں\nگرم و روشن تو آفتاب بھی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "مہربانی ہے عیادت کو جو آتے ہیں مگر", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مہربانی ہے عیادت کو جو آتے ہیں مگر\nکس طرح ان سے ہمارا حال دیکھا جائے گا\n\nدفتر دنیا الٹ جائے گا باطل یک قلم\nذرہ ذرہ سب کا اصلی حال دیکھا جائے گا\n\nآفیشل اعمال نامہ کی نہ ہوگی کچھ سند\nحشر میں تو نامۂ اعمال دیکھا جائے گا\n\nبچ رہے طاعون سے تو اہل غفلت بول اٹھے\nاب تو مہلت ہے پھر اگلے سال دیکھا جائے گا\n\nتہ کرو صاحب نسب نامی وہ وقت آیا ہے اب\nبے اثر ہوگی شرافت مال دیکھا جائے گا\n\nرکھ قدم ثابت نہ چھوڑ اکبرؔ صراط مستقیم\nخیر چل جانے دے ان کی چال دیکھا جائے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AF%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DA%AF%D8%B1"} {"title": "مہرباں مجھ پہ دم نزع وہ گلفام ہوا", "poet_page": "مصنف:منشی ٹھاکر پرساد طالب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان طالب مانکپوری (1933)", "year": "1933", "text_ur": "مہرباں مجھ پہ دم نزع وہ گلفام ہوا\nبارے آغاز سے بہتر مرا انجام ہوا\n\nکبھی آتا نہیں یاں حرف شکایت لب تک\nکیا زباں پر بھی مسلط دل ناکام ہوا\n\nقید ہستی سے رہا ہوں گا نہ بے موت آئے\nمجھ سے وحشی کے لئے تار نفس دام ہوا\n\nشانہ کہتا ہے مرے دل سے مخاطب ہو کر\nجو پھنسا زلف میں وہ مورد آلام ہوا\n\nدہن یار کے مضموں جو غزل میں دیکھے\nلوگ کہنے لگے شاعر کو یہ الہام ہوا\n\nحرف رخصت تو زباں پر ترے آیا بھی نہ تھا\nمضطرب پہلے ہی کیوں یہ دل ناکام ہوا\n\nاپنے ساقی کی شکایت نہیں کرتا لیکن\nدور کیسا ہے کہ مملو نہ مرا جام ہوا\n\nرنگ فق ماہ منور کا ہوا گردوں پر\nجلوہ فرما وہ پری رو جو لب بام ہوا\n\nاس زمانے میں وہ جادو ہے خوشامد کا کلام\nجس نے طالبؔ سنا وہ بندۂ بے دام ہوا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D8%AF%D9%85_%D9%86%D8%B2%D8%B9_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D9%84%D9%81%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "مہرباں مجھ پہ ہو اے رشک قمر آج کی رات", "poet_page": "مصنف:نسیم میسوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مہرباں مجھ پہ ہو اے رشک قمر آج کی رات\nآ مرے چاند کے ٹکڑے مرے گھر آج کی رات\n\nراہ بھول آیا ہے اک چاند ادھر آج کی رات\nکیسی گھر بیٹھی ہے دولت مرے گھر آج کی رات\n\nیار آیا نہیں کیوں کر ہو بسر آج کی رات\nتا قیامت نہیں ہونے کی سحر آج کی رات\n\nآپ سے آپ وہ آئے مرے گھر آج کی رات\nدین و دنیا کی نہیں مجھ کو خبر آج کی رات\n\nکیوں خفا مجھ سے ہے وہ رشک قمر آج کی رات\nبدلی بدلی نظر آتی ہے نظر آج کی رات\n\nاے صنم بہر خدا آپ ہی لائیں تشریف\nپتلیوں کا ہے تماشا مرے گھر آج کی رات\n\nسادگی ہے تری پریوں کی بناوٹ سے سوا\nصبح ہو جائے گی اتنا نہ نکھر آج کی رات\n\nزلف سلجھاتے ہوئے پیار سے وہ دیکھتے ہیں\nکیا میں ہو جاؤں گا منظور نظر آج کی رات\n\nمیری گستاخی نہ یاد آئے الٰہی ہرگز\nان کو بیکل نہ کرے فکر کمر آج کی رات\n\nمانگ موتی سے بھری ہے نہ چڑھو کوٹھے پر\nتم کو لگ جائے گی تاروں کی نظر آج کی رات\n\nلیلۃ القدر ہے یہ یا شب معراج ہے یہ\nیار کے زانو پہ اپنا جو ہے سر آج کی رات\n\nوصل اک پردہ نشیں سے ہے نہ ہو غیر کا دخل\nشمع تک آئے نہ پروانہ کا پر آج کی رات\n\nمیہماں آپ بس اتنا ہی رہیں میرے گھر\nکل کا روز آج کا دن چار پہر آج کی رات\n\nکل نہ دوں گا تجھے تکلیف کچھ ایسی واللہ\nکھول دے بند قبا شرم نہ کر آج کی رات\n\nجلوہ کیا خوب ہے مہتابی کا مہتابی پر\nلطف مے نوشی ہے اے رشک قمر آج کی رات\n\nباغ و مے چاندنی اور وصل پری ہے مجھ کو\nپیتے ہیں میرے عدو خون جگر آج کی رات\n\nگل بدن پہنے ہیں وہ محرم کمخواب نہیں\nنیند آنے کا مرے دل میں ہے ڈر آج کی رات\n\nکس زباں سے ہو بیاں آؤ گلے لگ جاؤ\nدل سے دل ہی سنے کچھ درد جگر آج کی رات\n\nبخت بیدار سے وہ چاند مرے ہاتھ آیا\nآسماں تک ہیں مرے دست نگر آج کی رات\n\nہاتھ سے زلف وہ سلجھائیں تو ہو جاؤں نہال\nدیکھ لوں نخل تمنا کے ثمر آج کی رات\n\nعاشق ابرو کو کیا قتل کرو گے ناداں\nننھی تلوار جو ہے زیب کمر آج کی رات\n\nیار کی زلف زر افشاں مجھے یاد آتی ہے\nکیا ہی سینے سے نکلتے ہیں شرر آج کی رات\n\nبشکن و بشکن مینا کی صدا کو سن کر\nآنے پائے نہ کہیں میم بسر آج کی رات\n\nگورے گالوں سے نہ سرکاؤ سیہ زلفوں کو\nخوف ہے مجھ کو نہ ہو جائے سحر آج کی رات\n\nعاشق زلف کو دو بوسۂ خط و ابرو\nمصحف رخ پہ لکھوں زیر و زبر آج کی رات\n\nرقص اس زہرہ جبیں کا ہے عدو کے گھر میں\nمہر میزاں میں ہے عقرب میں قمر آج کی رات\n\nہاتھ وہ جوڑتے ہیں سر ہے مرا قدموں پر\nہو نہ سمجھانے منانے میں سحر آج کی رات\n\nخفتہ بختی سے الٰہی یہ کہیں سو جائیں\nتوپچی زاہد و مرغان سحر آج کی رات\n\nگل شبو ہے لجا لو گل سودی ہے گلاب\nشرم و غصہ ہے عرق میں وہ ہیں تر آج کی رات\n\nآسماں پر ہے دماغ اب نہیں ملنے کے نسیمؔ\nمہرباں ان پہ ہے اک رشک قمر آج کی رات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%82%D9%85%D8%B1_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "مہرباں پاتے نہیں تیرے تئیں یک آن ہم", "poet_page": "مصنف:شیر محمد خاں ایمان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مہرباں پاتے نہیں تیرے تئیں یک آن ہم\nپھر بھلا دل کے نکالیں کس طرح ارمان ہم\n\nہر قدم پر جس کے اعجاز مسیحائی فدا\nاس ادا اس ناز اس رفتار کے قربان ہم\n\nعمر بھر ساقی نہ چھوڑی مے کدہ کی بندگی\nایک ہی پیمانے پر کرتے ہیں یہ پیمان ہم\n\nکوئی تو دعوت بتا دو اس طرح کی شیخ جی\nایک شب تو اپنے گھر اس کو رکھیں مہمان ہم\n\nہاں مگر صلوات پڑھنا دیکھ تجھ کو دم بدم\nاور کیا رکھتے ہیں تیری شان کے شایان ہم\n\nجی میں ہم برپا کریں زنجیر کا غل اے جنوں\nوادی مجنوں کو دیکھیں کس طرح سنسان ہم\n\nرات دن صحبت ہے جن کو بے تکلف آپ سے\nپوچھنا کیا وہ تو بہتر ہیں بھلا اے جان ہم\n\nتو نے دزدیدہ نگاہیں جب لڑائیں غیر سے\nہو گئے ناچار پیارے جان کر انجان ہم\n\nہم نشیں سرکار کے ہی جا بجا غماز ہیں\nکیجئے تحقیق اسے کرتے نہیں بہتان ہم\n\nسیر کو آتا ہے وہ ایمانؔ جا کر باغ میں\nکھول دیویں چار دن آگے ہی گل کے کان ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DA%A9_%D8%A2%D9%86_%DB%81%D9%85"} {"title": "مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مہرباں ہو کے بلا لو مجھے، چاہو جس وقت\nمیں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں\n\nضعف میں طعنۂ اغیار کا شکوہ کیا ہے\nبات کچھ سَر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں\n\nزہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستمگر، ورنہ\nکیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D9%84%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%86%D8%A7%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%B3_%D9%88%D9%82%D8%AA"} {"title": "مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپ", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپ\nجو نہ ملتے تھے سب ملیں گے آپ\n\nدم رخصت یہ چھیڑ تو دیکھو\nمجھ سے کہتے ہیں کب ملیں گے آپ\n\nآپ کیوں خاک میں ملاتے ہیں\nہم مصیبت طلب ملیں گے آپ\n\nکارواں کی تلاش کیا اے دل\nآ کے منزل پہ سب ملیں گے آپ\n\nایک تو وعدہ اور اس پہ قسم\nیہ یقیں ہے کہ اب ملیں گے آپ\n\nداغؔ اک آدمی ہے گرما گرم\nخوش بہت ہوں گے جب ملیں گے آپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "مہمان", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آج کی رات اور باقی ہے\n\nکل تو جانا ہی ہے سفر پہ مجھے\nزندگی منتظر ہے منہ پھاڑے\nزندگی خاک و خون میں لتھڑی\nآنکھ میں شعلہ ہائے تند لیے\n\nدو گھڑی خود کو شادماں کر لیں\nآج کی رات اور باقی ہے\n\nچلنے ہی کو ہے اک سموم ابھی\nرقص فرما ہے روح بربادی\nبربریت کے کاروانوں سے\nزلزلے میں ہے سینۂ گیتی\n\nذوق پنہاں کو کامراں کر لیں\nآج کی رات اور باقی ہے\n\nایک پیمانہ مے سر جوش\nلطف گفتار گرمئی آغوش\nبوسے اس درجہ آتشیں بوسے\nپھونک ڈالیں جو میری کشت ہوش\n\nروح یخ بستہ ہے تپاں کر لیں\nآج کی رات اور باقی ہے\n\nایک دو اور ساغر سرشار\nپھر تو ہونا ہی ہے مجھے ہشیار\nچھیڑنا ہی ہے ساز زیست مجھے\nآگ برسائیں گے لب گفتار\n\nکچھ طبیعت تو ہم رواں کر لیں\nآج کی رات اور باقی ہے\n\nپھر کہاں یہ حسیں سہانی رات\nیہ فراغت یہ کیف کے لمحات\nکچھ تو آسودگی ذوق نہاں\nکچھ تو تسکین شورش جذبات\n\nآج کی رات جاوداں کر لیں\nآج کی رات اور آج کی رات", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D9%85%D8%A7%D9%86"} {"title": "مہمانداری", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "پھیلی ہے فضاؤں میں خوشی میری نظر کی\nہنستی نظر آتی ہیں فضائیں مرے گھر کی\nدل شاد مرے اہل و عیال آج بہت ہیں\nمصروف ہیں وہ بھی نہیں مصروف فقط میں\nرکھی ہے سلیقے سے ہر اک کام کی چیز آج\nمہمان مرے گھر میں ہیں کچھ میرے عزیز آج\nشادی کا مکاں گھر مرا معلوم نہ ہو کیوں\nمجمع ہو جب اتنا تو بھلا دھوم نہ ہو کیوں\nبھائی بھی ہیں بہنوئی بھی بھاوج بھی بہن بھی\nبیٹھا ہے بھتیجا بھی بھتیجے کی دلہن بھی\nبچی ادھر اک بیٹھ کے تکتی ہے دلہن کو\nکچھ طفل ستاتے ہیں ادھر اپنی بہن کو\nبچوں پہ جھلک خاص ہے تنویر سحر کی\nاٹھ بیٹھے ہیں سب سنتے ہی آواز گجر کی\nدل کش یہ فضا صبح کی یہ نور کا تڑکا\nبلبل کی طرح بول رہا ہے کوئی لڑکا\nبے وجہ کوئی رونے پہ آمادہ ہوا ہے\nحیرت سے نئے گر کو کوئی دیکھ رہا ہے\nبیٹھا ہے یہ چپ دوڑ رہا ہے وہ خوشی سے\nکھانے کے لیے ضد کوئی کرتا ہے ابھی سے\nکرنا ہے جو سامان ضیافت کو فراہم\nآ آ کے مرے کان میں کچھ کہتی ہیں بیگم\nہونا ہے جو خوبی سے ضیافت کا سرانجام\nلڑکی کے ذریعے سے بھی پہنچاتی ہیں پیغام\nآتی بھی ہیں جاتی بھی ہیں بیگم سوئے مطبخ\nماماؤں میں بے وقت جہاں ہوتی ہے چخ چخ\nراحت نہ ملے کیوں انہیں ہلکی تگ و دو میں\nسائے کی طرح ساتھ ہے لڑکی بھی جلو میں\nننھی ابھی اٹھی نہیں پہلو سے پھپھی کے\nلیتی ہیں وہ رہ رہ کے مزے اس کی ہنسی کے\nلڑکے مرے خوش ہو کے ادھر دیکھ رہے ہیں\nاخلاص و محبت سے مخاطب ہوں جدھر میں\nمجمع یہ عزیزوں کا محبت کی یہ باتیں\nان پیار کی باتوں میں نہ چوٹیں ہیں نہ گھاتیں\nانوار تبسم کے تکلم سے ہیں پیدا\nضو صبح کی اس منظر دل کش پہ ہے شیدا\nباتوں کا ابھی تھا طربی سلسلہ جاری\nنرگس نے کہا آ کے ہے تیار نہاری", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "مہمانِ عزیز", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "پرُ ہے افکار سے ان مَدرسے والوں کا ضمیر\nخُوب و ناخُوب کی اس دَور میں ہے کس کو تمیز!\nچاہیے خانۂ دل کی کوئی منزل خالی\nشاید آجائے کہیں سے کوئی مہمانِ عزیز", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2"} {"title": "مہندی پاؤں میں کیا لگانا تھا", "poet_page": "مصنف:سید ہمایوں میرزا حقیر", "kind": "poetry", "section": "غزل > چمنستان فصاحت (1940)", "year": "1940", "text_ur": "مہندی پاؤں میں کیا لگانا تھا\nیہ نہ آنے کا اک بہانا تھا\n\nذکر گل آپ کی کہانی تھی\nحال بلبل مرا فسانہ تھا\n\nمر کے جنت میں میرا جی نہ لگا\nاس کا کوچہ بہت سہانا تھا\n\nجس طرف میں گیا یہی دیکھا\nمیرا قصہ مرا فسانہ تھا\n\nنزع کے وقت میرے پاس انہیں\nدو گھڑی کے لئے تو آنا تھا\n\nپھر کر آیا گیا نہ ایک سے بھی\nکوچۂ یار کیا سہانا تھا\n\nآدمی بھیج کر بلاتے تھے\nکہئے وہ کون سا زمانہ تھا\n\nخود میں آیا تو آپ کہتے ہیں\nبے بلائے تمہیں نہ آنا تھا\n\nشام تک تو حقیرؔ اچھے تھے\nموت کاہے کو تھی بہانا تھا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "مہینے کی پہلی تاریخ", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اکثر بھلے آدمیوں کے حالات پر غور کرنے کے بعد میری یہ رائے قائم ہوئی ہے کہ میاں بیوی میں سب سے بڑا جھگڑے کا جھوپڑا تنخواہ کا حساب ہے۔ یقین مانئے کہ اگر گورنمنٹ اپنے ملازموں کے ہاتھ میں تنخواہ نہ دے کر خود ہی اپنے کسی اہل کار کے ذریعے سے مہینہ بھر کا غلہ بھروا دے، قصائی کا حساب کرا دے، ترکاری والے کا چکتا کرا دے اور گھر کی تمام ضروریات خود ہی فراہم کرا دے، تو جن گھروں میں آئے دن دانتا کلکل رہتی ہے وہ یک قلم موقوف ہو جائے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جو اہل کار صاحب مہینہ کا حساب کرنے آئیں، ان کو دفتر جانے کی بجائے شاید اسپتال جانا پڑے۔دنیا میں میاں دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ساری کی ساری تنخواہ چپکے سے لا کر بیوی کے ہاتھ میں دھر دیتے ہیں۔ دوسرے وہ جو خود حساب کرتے ہیں اور حساب سے زیادہ ایک کوڑی بیوی کو نہیں دیتے۔ اور لطف یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں بیوی کو میاں سے شکایت ہوتی ہے اور میاں کو بیوی سے۔ دنوں جھگڑے چلتے ہیں۔ یہاں تک کہ پندرہ تاریخ آ کر ان جھگڑوں کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ اور دوسری تنخواہ کا انتظار اس لڑائی کی آگ پر کونڈا ڈھک دیتا ہے۔آپ کہیں گے کہ جب میاں پوری تنخواہ بیوی کو دے دیتے ہیں تو پھر جھگڑے کی کون سی صورت رہی۔ جناب عالی وجہ یہ ہوتی ہے کہ میاں اس طرح جیب خالی کر کھک ہو جاتے ہیں۔ آخر وہ بھی آدمی ہیں۔ سیکڑوں شوق ہیں۔ ہزاروں ضرورتیں ہیں۔ لاکھوں کام ہیں۔ آخر ان کو بھی روپے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اب جو یہ بیوی سے کچھ مانگتے ہیں تو ٹکا سا جواب مل جاتا ہے۔ آپ خود ہی غور کیجئے کہ جو شخص پورے مہینہ بھر محنت کر کے آنکھوں کا تیل نکال کر افسروں کی خفگیاں اٹھا کر گھر میں تنخواہ لائے تو اس کا تنخواہ میں کوئی حق ہے یا نہیں۔میں نے مانا بیوی بڑی چیز ہے۔ مگر صاحب میاں کو بڑی چیز نے نہ سمجھو تو کم سے کم چھوٹی چیز تو سمجھو۔ یہ کیا بیوی تو ساری تنخواہ اٹھانے کی حق دار ہوں اور میاں کو اس میں سے ایک حبہ نہ ملے۔ بس انہی باتوں پر میاں کو غصہ آتا ہے اور جب میاں کو غصہ آئے تو پھر بیوی کو کیوں نہ آئے۔ گھر بار کی مالک ہے تو وہ ہے۔ روپیہ پیسہ ہے تو اس کے ہاتھ میں ہے۔ کھانے پکانے کا انتظام ہے تو اس کے قبضے میں ہے۔ اگر میاں کی حکومت دفتر میں ہے تو اس کی حکومت مکان میں ہے۔ یہاں برابر کی ٹکر ہے۔ دو کہوگے تو چار سنوگے۔ غرض لڑائی ہوتی ہے اور خوب ہوتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ شریفوں میں ذرا کھسر پسر کی صورت میں ہوتی ہے۔ معمولی لوگوں میں ذرا اونچی آواز میں ہوتی ہے اور رذیلوں میں دھواں دھوں ہوتی ہے۔ مگر ہوتی ہے سب میں۔ ہاں نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ میاں کے پلے کوڑی نہیں پڑتی۔ میاں ہارتے ہیں اور بیوی جیتتی ہیں۔اب دوسری صورت لیجئے کہ پہلی تاریخ ہوئی۔ میاں تنخواہ لائے اور حساب کرنے بیٹھے۔ بیوی سامنے آ کر بیٹھ گئیں۔ کاغذ آیا۔ میاں نے فونٹین پن نکالا اور لکھائی شروع ہوئی۔میاں ہاں صاحب تو اب حساب بولئے۔بیوی میں کیا بولوں آخر پچھلے مہینے کا پرچہ کیا ہوا۔ جہاں مہینہ ہوا، اور تم نے کہا ہاں صاحب اب بولو حساب۔ آخر پرچہ سنبھال کر کیوں نہیں رکھتے۔ خدا نے صندوقچہ دیا ہے، میز دی ہے، الماری دی ہے، اللہ کے فضل سے سب چیز رہ جاتی ہےاور نہیں رہتا تو موا یہ چار انگل کا پرچہ۔ دس برس سے حساب کر رہے ہو۔ اور اب تک یہ نہیں معلوم کہ گھر میں کیا خرچ ہوتا ہے۔ بتاؤں تو میں بتاؤں، نہیں توآپ ایک حرف نہ لکھیں۔ اچھا لکھئے نیاز کا ایک روپیہ۔میاں نیاز کا ایک روپیہ، میں نے لکھ تو لیا۔ مگر یہ بتائیے کہ آخر یہ روپیہ ہوتا کیا ہے۔ ہم نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ تم نے کسی کو ہاتھ اٹھا کر ایک پیسہ دیا ہو۔ یا کبھی نیاز کے لئے مٹھائی آئی ہو۔ کہیں ایسا نہ کرنا کہ روپیہ لو تو نیاز کے لیے اور کسی اور کام میں اٹھا بیٹھو۔ خدا کی قسم نیاز کے پیسے میں سے خود اپنے پر کچھ خرچ کرنا بڑا گناہ ہے۔ خیر مجھے اس سے کیا۔ تم جانو اور تمہارے اللہ میاں جانیں۔ ان کے روپے میں سے حصہ بٹایا تو خود جہنم میں جاؤ گی۔بیوی بس جی بس۔ ایسی باتیں نہ کیا کرو۔ میں کیوں جہنم میں جانے لگی۔ جائیں گے میرے برا چاہنے والے۔ ایسا ہی ہے تو اٹھاؤ اپنی تنخواہ۔ خود ہی حساب کرو۔ خود ہی تقسیم کرو۔ کوڑی کوڑی کا حساب کر کے تو روپیہ کھسکاتے ہو اور اوپر سے ایسی الٹی سیدھی باتیں کرتے ہو۔میاں واہ بی واہ۔ تم تو خفا ہی ہو گئیں۔ خدا معلوم تمہاری کیا حالت ہو گئی ہے کہ ذرا مذاق کیا اور تم بگڑ گئیں۔ اچھا آگے چلو۔بیوی مکان کا کرایہ بائیس روپے۔\n\nمیاں اف فوہ، خدا غارت کرے اس مکان دار کو۔ ظالم کرایہ تو پہلی تاریخ کو آ کر وصول کر لیتا ہے اور مرمت کو کہو تو جواب تک نہیں دیتا۔ سامنے کی دیوار کو دیکھو، ادہر کھڑی ہے۔ اب کی برسات میں نہ آ پڑے تو میرا ذمہ۔ خدا معلوم کون کون اس کے نیچے دب کر مرنے والا ہے۔ چھتیں ہیں تو ان کی یہ حالت ہے کہ دن کو اس میں تارے دکھائی دیتے ہیں۔ غسل خانہ ہےتو ماشاء اللہ اور ڈیوڑھی ہے تو سبحان اللہ۔ کہو جی اگر یہ مکان چھوڑ دیں تو کیا۔ دفتر کی قربت کی وجہ سے اس کھنڈرمیں پڑے ہیں۔ ورنہ خدا کی قسم بائیس روپے میں ایسے چار مکان مل سکتے ہیں۔ بھئی اس مکان دار سے ہم تو تنگ آگئے۔ یہ غضب تو دیکھو کہ مکان کی تو یہ حالت اور پچھلے مہینے سے بیس کے بائیس کر دیے۔ تو ہاں مکان کے بائیس روپے۔ آگے چلو۔بیوی امیرن کو نو روپے۔\nمیاں یہ امیرن کون بلا ہیں؟بیوی تم امیرن کو نہیں جانتے۔ اور آخر تمہیں روز روٹیاں ٹھونک کر کون دیتا ہے۔ تم تو دن بدن ننھے بچے بنتے چلے جاتے ہو۔ سال بھر سے پکانے والی نوکر ہے، اس کا حساب کرتے ہو اور پھر پوچھتے ہو کہ امیرن کون ہے۔میاں بیوی تم نے بھی کس سڑیل ماما کو رکھ چھوڑ اہے۔ نکالو چڑیل کو۔ مجھے تو اس کی صورت دیکھے سے گھن آتی ہے۔بیوی تو میں کب منع کرتی ہوں۔ نکال دو، اور ڈھونڈ ڈھانڈ کر وضع دار، طرح دار، خوبصورت ماما کو لے آؤ پھر دیکھو کہ وہ کھانا پکاتی ہے یا اپنی کنگھی چوٹی میں گرفتار رہتی ہے۔ جہا ں بیری ہوتی ہے وہاں پتھر آتے ہیں۔ تھوڑے دن میں کھلے گا آپ کی ڈیوڑھی اس کے رشتے داروں کی بیٹھک ہو جاتی ہے یا نہیں۔ کوئی بھائی بن کرآئے گا تو کوئی ماموں بن کرآئے گا۔میاں خیر جلی کٹی باتیں چھوڑو۔ ہاں یہ بتاؤ کہ یہ بی امیرن جو آٹھ روز گھر میں جا کر بیٹھ رہی تھیں اس کی تنخواہ ان کو کیوں دی جائے۔ ہم ایک دن دفتر نہ جائیں تو تنخواہ کٹ جائے اور یہ آٹھ آٹھ روز اپنے گھر سے نہ آئیں اور پوری تنخواہ رکھوا لیں۔بیوی اچھا! کاٹ لو آٹھ دن کی تنخواہ۔ دیکھ لو کل اپنے گھر چلی جاتی ہے یا نہیں۔ یہ تو بڑا غضب ہے کہ کوئی بیمار پڑے اور اپنے گھر نہ جائے۔ کسی کے ہاں شادی غمی ہو اور گھر نہ جائے۔ نوکری کیا ہوئی عذاب جان ہو گئی۔ کوئی اس نے نو روپے میں اپنے کو بیچ دیا ہے کہ مرتے مرجائے اورآ پ کی دہلیز سے باہر قدم نہ رکھے۔میاں امیرن کے آٹھ روپے۔ اور فرمائیے۔بیوی آٹھ نہیں نو۔ کلو کے چار روپے۔میاں کلو کے چار روپے۔بیوی کیوں اس کی تنخواہ پر کچھ نہیں کہا۔ میاں کا چاہیتا نوکر ہے نا۔ جب دیکھو، ڈیوڑھی خالی پڑی ہے۔ کچھ لانے بھیجو تو صبح کا گیا شام کا آئے۔ سودا لائے تو پیسے میں سے پون پیسہ کھا جائے۔ جب آواز دو غائب اور نواب صاحب ہیں کہ گھر سے دور درخت کے نیچے بیٹھے یار لوگوں سے تاش کھیل رہے ہیں۔ جوا کھیتا ہے موا پکڑا جائے تو میرے دل میں ٹھنڈک پڑے۔میاں تم تو خواہ مخواہ جس کے چاہتی ہو پیچھے پڑ جاتی ہو۔ آج کل کے زمانے میں چار روپے پر کہیں نوکر ملتا ہے۔بیوی چار روپے تم اس بھروسے پر نہ رہنا، وہ اس گھر سے خاصے دس پندہ روپے اور پیدا کر لیتا ہے۔ ذرا دیکھو تو سہی کیا بنا ٹھنا پھرتا ہے۔ گویا دنیا جہان کی دولت اس کے ہاں آ گئی ہے۔ عید میں جو اس نے شیروانی بنوائی ہے وہ تو ذرا جا کر دیکھو۔ دس روپے گز کا کپڑا ہے۔ ایسی شیروانی تم نے ساری عمر بھی نہ پہنی ہوگی۔ میں خفا ہوتی ہوں، تم اس کی پچ کرتے ہو۔ میں نے بھی سمجھ لیا کہ جب گھر والے ہی گھر لٹوانا چاہتے ہیں تو لٹوانے دو۔ میں بیچ میں بول کر کیوں بری بنوں۔ چار روپے کیا تم اس کے دس کروڑ دو میری بلا سے۔میاں اجی چھوڑو۔ ان جھگڑوں کو۔ اچھا آگے چلو۔بیوی قصائی کے سات روپے۔میاں اس کو تو میں ایک پیسہ نہیں دوں گا۔ بد معاش نے سارے مہینے کتوں کا راتب کھلایا ہے۔ ذرا تم ہی ایمان سے کہنا ایک دن بھی گوشت گلا۔ روپے کا دو سیر گوشت دیتا ہے اور اٹھا کر دیکھو تو نرے چھیچھڑے ہوتے ہیں۔بیوی نہ دو میرا کیا جاتا ہے۔ وہ جانے اور تم جانو۔ تمہارے میاں کلو جانیں۔میاں قصائی کے سات روپے اور۔۔۔بیوی ترکاری والی کے پانچ روپے۔میاں ترکاری والی کے پانچ روپے۔بیوی بنیئے کے پچھتر روپے۔میاں پچھتر روپے۔ غضب خدا کا۔ ہم دو میاں بیوی اور یہ دو بچے، مہینہ بھر میں پچھتر روپے کا اناج کھا گئے۔ آدمی کیا ہوئے پیٹھا رتھو ہو گئے۔بیوی کھا گئے یا نہیں کھا گئے، یہ تو میں جانتی نہیں۔ لویہ بنیئے کا پرچہ ہے۔ خود دیکھ لو۔ پچھتر روپے ہوتے ہیں یا نہیں۔میاں (پرچہ دیکھ کر) گیہوں ایک من دس سیر۔ دس روپے کے۔ کیا بھاؤ ہوئے۔ روپے کے پان سیر ہیں۔ تمام دنیا میں غل مچ رہا ہے کہ غلہ سستا ہو گیا۔ غلہ سستا ہو گیا۔ اور ہمارے ہاں وہی پرانا بھاؤ چلا جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ کسی ایک دوکان سے حساب رکھنے میں یہی مصیبتیں پیش آتی ہیں۔ آئندہ مہینے میں ہم خود بازار سے جا کر غلہ لائیں گے۔ گھی سوا دس روپے کا۔ گھی کیا اسی کو گھی کہتے ہیں جو اس بد معاش کی دوکان سے آتا ہے۔ سارا بنا ہوا گھی ہوتا ہے بس شہر کے رہنے میں یہی آفت ہے۔ نہ گھی اچھا ملے نہ غلہ اچھا ملے۔ نہ گوشت اچھا ملے۔ نہ ترکاری اچھی ملے۔ مٹھیاں بھر بھر کے روپیہ جائے اور سامان آئے تو اس شکل کا۔ میں تو اپنا تبادلہ کہیں باہر کرا لیتا ہوں۔ کم سے کم ایسا گھی تو ملے گا جس سے کچھ طاقت آئے۔ یہاں کیا ہے دس سوا دس روپے مہینے کا گھی کھاؤ، منہ پر پانی پھرنا تو کیسا الٹا معدہ خراب ہو جائے۔بیوی اچھا آگے چلو۔میاں آگے چلوں کیا خاک۔ لو اٹھاؤ اپنا حساب پچھتر روپے لکھے لیتا ہوں۔ ہے یہ کہ تمہیں گھر داری کرنی نہیں آتی۔ جو چیز آتی ہے چپکے سے رکھ لیتی ہو۔ یہ نہیں ہوتا کہ لانے والے کے منہ پر مارو کہ جاؤ ہم ایسا مال نہیں لیتے۔ یہاں محنت کرتے کرتے ہم موئے جاتے ہیں اور بیوی صاحبہ ہیں کہ مال مفت دل بے رحم سمجھ کر اندھا دھند لٹائے چلی جاتی ہیں۔بیوی یہ بھی اچھی کہی کہ میں آپ کا روپیہ لٹا رہی ہوں۔ کبھی حساب سے ایک پیسہ زیادہ بھی مجھے دیا ہے جو یہ طوفان اٹھائے جا رہے ہیں۔ مجھے آپ ایسے کون سے نوے ٹکے تھمائے دیتے ہیں جو ساری کمائی اٹھانے کا الزام مجھ پر لگایا جا رہا ہے۔ اٹھاؤ اپنے روپے، خود ہی کماؤ اور خود ہی اٹھاؤ۔ میں بیچ میں پڑ کر مفت میں بری بنوں۔ اپنی نہیں کہتے۔ یہ دوست آئے لاؤ چائے، وہ دوست آئے لاؤ کھانا۔ آج تھیٹر چلے جا رہے ہیں کل سنیما چلے جا رہے ہیں۔ آپ ہی نہیں جاتے دو تین دستوں کو سمیٹ کر لے جاتے ہیں۔ پیسہ خرچ نہ ہوگا تو کیا ہوگا۔ کیا کسی نفاختے کو یہ بھی نصیب ہوا ہے کہ لو بھئی روز یہ ہم کو تماشا میں لے جاتے ہیں۔ آج ہم ان کو لے چلیں۔ خود ہی تو تمہاری ہمیانی کھلی پڑتی ہے۔ مجھے کیا کہتے ہو۔ پہلے اپنے کو دیکھو کہ تم روپیہ لٹا رہے ہو یامیں۔میاں سارے دن محنت کر کے تفریح کے لیےشام کو تماشے میں بھی نہ جاؤں تو کیا مر جاؤں۔ تم کوتو میرا ہر کام برا معلوم ہوتا ہے۔ اور تم ہی کہو جب دو ایک دوست ساتھ ہوں تو یہ کیسے کروں کی خود ٹکٹ لوں اور ان سے کہہ دوں کہ میاں تم اپنے ٹکٹ خود خریدو۔ مجھ سے تو یہ بے حیائی نہیں ہو سکتی۔ بیوی تو میں یہ کب کہتی ہوں کہ تم بے حیا بنو۔ میرا تو یہ کہنا ہے کہ جب تم خود روپیہ خرچ کرتے ہو تو اس کا الزام مجھ پر کیوں رکھتے ہو۔ تمہارا روپیہ ہے جس طرح چاہو رکھو۔ جس طرح چاہو اٹھاؤ، اگر میں کچھ کہوں تو جو چور کا حال وہ میرا حال۔میاں اچھا آگے چلو۔ بیوی دھوبی کے تین روپے۔میاں قسم خدا کی دھوبی سے تو میری جان بے زار ہوگئی۔ میری حکومت ہوتی تو سب سے پہلے اس کو پھانسی پر لٹکا دیتا۔ اب یہی دیکھو کہ میں جو کرتا پہنے بیٹھا ہوں اس کاکیا حال ہے۔ دو دھوپ میں نامعقول نے دھجیاں کر دیا ہے۔ یہ جو کپڑے پھاڑتا ہے آخر تم اس کی تنخواہ میں سے کاٹ کیوں نہیں لیتیں۔ میں پھر وہی کہتا ہوں کہ تم میں مساواتی حد درجہ کی ہے۔ دو دفعہ تنخواہ کاٹ لو، تو بیٹا ٹھیک ہو جاتے ہیں۔بیوی لکڑیاں چھ روپے کی۔میاں کیا کہا۔ لکڑیاں چھ روپے کی۔ ایک مہینہ میں اکٹھی چھ روے کی لکڑیاں جلا ڈالیں۔ روپے کی چار من تو لکڑیاں آتی ہیں، اور ماشاء اللہ آپ کے ہاں چھے روپے کی جل جاتی ہیں۔بیوی روپے کی چار من لکڑیاں آپ کے گھر میں آتی ہوں گی۔ بڑی مشکل سے پونے دو من کی ملتی ہیں۔ اور آپ جانیں نہ بوجھیں چٹ اعتراض کر بیٹھتے ہیں۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے صبح کے چار بجے سے جو چولہا سلگتا ہے تو کہیں رات کو بارہ بجے جا کر ٹھنڈا ہوتا ہے۔ آپ ہیں کہ منہ دھوئیں تو گرم پانی سے۔ وضو کریں تو گرم پانی سے، نہائیں تو گرم پانی سے۔ دن میں کچھ نہیں کچھ نہیں تو بیس پچیس چلمیں ضرور بھری جاتی ہیں۔ جب سارے دن چولہا دھر دھر جلے گا تو لکڑی نہ اٹھے گی تو کیا ہوگا۔میاں اچھا صاحب تم سچی اور ہم جھوٹے۔ لو لکھے لیتے ہیں، لکڑیاں چھے روپے کی۔بیوی مہتر کا ایک روپیہ؟میاں مہتر کا ایک روپیہ۔ مگر ہاں اب یہ دو وقتی کو نہیں آتا۔ ذرا اس سے کہہ دینا کہ اب کی ایسا کیا تو آٹھ آنے کاٹ لوں گا۔ غرض یو ں ہی حساب کا سلسلہ چلتا رہا۔ اور تان یوں ٹوٹی کہبیوی قرضے کے اٹھارہ روپے۔میاں خدا کے لئے بیوی تم سب کچھ کرو۔ مگر للہ قرضہ نہ کرو۔ قرضے کے نام سے میرا دم نکلتا ہے۔ آخر میں بھی تو سنوں ک یہ قرضہ ہوا کاہے میں۔بیوی تم بہت دن سے کہہ رہے تھے کہ مجھے چکن کے کرتے بنا دو۔ پرسوں رام لال بزاز آیا تھا اس سے دو کرتوں کی چکن لے لی کہو تو واپس کر دوں۔میاں تو کیا دو کرتوں کی چکن اٹھارہ روپے کی ہوگی۔ زیادہ سے زیادہ ہوگی کوئی روپے سوا روپے کی۔بیوی روپیہ سوا روپیہ کیوں کہتے ہو تین چار آنے کہو۔ پورے ساڑھے سات روپے کی ہے۔ ساڑھے سات روپے کی۔میاں اچھا ساڑھے سات سہی اور باقی؟بیوی باقی کا میں نے پیجاموں کا کپڑا لیا۔میاں کیوں پچھلے پیجامے کیا ہوئے، دو ہی مہینے تو ہوئے کہ چھے پیجاموں کا کپڑا لا کر دیا تھا تمہیں۔ تو ہوکا گیا ہے۔ نہ یہ دیکھتی ہو کہ ضرورت ہے۔ نہ یہ دیکھتی ہو کہ گھر میں پیسہ ہے۔ جہاں کوئی چیز دیکھی اور لوٹ گئیں۔ ضرورت ہو یا نہ ہو۔ تم کو خرید لینا ضرور ہے۔ میں نے کلو سے کہہ دیا تھا کہ ان بد معاش گھٹے والوں کو دروازے میں نہ گھسنے دیا کر۔ مگر جب گھر کی بیوی ہی روپیہ لٹانے پر آمادہ ہوں تو وہ بچارا کیا کرے۔ بیگم صاحب تم کو معلوم بھی ہے کہ یہ پھیری پھرنے والے کیا کرتے ہیں۔ بڑی بڑی دوکانوں پر جو پرانا دھرانا، سڑا بسا مال ہوتا ہے وہ لے آتے ہیں اور تم جیسی گھر والیوں سے پیسے کے دو پیسے کھرے کر لیتے ہیں۔ اور فرمائیے۔ کیا اس کے علاوہ اور بھی کسی کو کچھ دینا ہے۔بیوی ہاں رامو کی کے چالیس روپے ہیں۔ دس روپے اس مہینے میں دے دو باقی پھر تھوڑے تھوڑے کر کے دے دینا۔میاں رامو کون ہے۔ وہی سوئی پوتھ والی 1 دیکھو بیوی کان کھول کر سن لو۔ مجھے اس عورت کا گھر میں آنا برا معلوم ہوتا ہے۔ اس سے سے الٹی سیدھی چیزیں خرید کر تمہیں قرضہ لینے کی عادت پڑی ہے۔ ذرا میں بھی تو دیکھوں کہ اس سے آپ نے ایسی کون سی چیز خریدی ہے جو میرے کام آئی ہے۔ یا آپ کے کام آئی ہو۔ خیر اب تک تو میں نے نہیں کہا تھا۔ ہاں اب کہتا ہوں کہ تم نے اپنے جہیز کا سارا گوٹا کناری ادھیڑ ادھیڑ کر اسی کے نذر کر دیاہے اور اس کے بدلے میں لیا کیا ہے کہ بارہ آنے درجن کی چینی کی رکابیاں، جھوٹے موتیوں کی لڑیاں، جاپان کی بنی ہوئی ٹرمہی، گڑیاں غرض ایسی اہی الا بلا خرید کر سارا جہیز نیگ لگا دیا۔ اور اس پر بھی بی رامو کے چالیس روپے باقی ہیں۔ہے یہ کہ تم نے گھر کا خوب گھرواہا کیا ہے۔ میاں کو تنخواہ تو ہے سوا دو سو اور بیوی مہینہ بھر میں اٹھائیں پونے تین سو۔ آخر یہ گھر چلے گا تو کیسے چلے گا۔ کوئی میرے باپ دادا جاگیر تو چھوڑ نہیں گئے ہیں کہ قرضہ ہوتا ہے تو ہونے دو۔ فصل پر روپیہ آئے گا تو اتار دیں گے۔ یہاں تو اسی سوا دو سو میں مرنا جینا سب کچھ ہونا ہے۔ اور تم ہو کہ ہر مہینے کچھ نہ کچھ قرضہ ضرور کر بیٹھتی ہو۔بیوی تو میں نے کب کہا کہ خدا کے لئے یہ گھر داری میرے سپرد کرو۔ ایسا ہی ہے تو خود ہی تنخواہ لاؤ، خود ہی اٹھاؤ غضب خدا کا کہ گھر کے خرچ تو خود بڑھائیں اور بیوی پر آنکھیں نکالیں۔ جاؤ میں تمہارا روپیہ دو روپیہ نہیں لیتی۔ تم جانو اور تمہارا گھر جانے۔لیجئے چلی گئی۔ مگر جناب آپ سمجھے بھی کہ آخر اس گڑبڑ کی وجہ کیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ میاں ہوں یا بیوی بے ضرورت اخراجات بڑھا لیتے ہیں۔ تنخواہ آنے پر جب جمع و خرچ پر نظر ڈالی جاتی ہے۔ اس وقت خیال آتا ہے کہ ہیں یہ قرضہ کیسے ادا ہوگا۔ میاں کو بیوی پر اور بیوی کو میاں پر غصہ آتا ہے۔ ایک طرف سے حساب پر جاو و بے جا اعتراض ہوتے ہیں۔ دوسری طرف سے جلے کٹے جواب دیے جاتے ہیں۔ بات بڑھ جاتی ہے۔ شرافت پھر بیچ میں پڑ کر صفائی کرا دیتی ہے۔دوسرے مہینے پھر یہی مصیبت پیش آتی ہے۔ مگر کوئی اللہ کا بندہ خیال نہیں کرتا کہ لاؤ کچھ اس طرح خرچ کریں کہ تنخواہ میں پوری پڑ جائے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر ہم لوگ ’’جتنی چادر دیکھو اتنے پاؤں پھیلاؤ‘‘ پر عمل کریں اور بے ضرورت خرچ سے ہاتھ روکیں تو تنخواہ میں پوری پڑنی کیسی انشاء اللہ کچھ بچت ہی ہو کر یہ جو آئے دن کے جھگڑے ہیں خود بخود رفع ہو جائیں۔ مگر بھئی ہماری سنتا کون ہے۔ خیر ہم تو اپنی سی کہے دیتے ہیں۔ آئندہ تم جانو اور تمہارا کام جانے۔من آنچه شرف بلاغ است با تو میگویم تو خواہ از سخنم پند گیر خواہ ملالحاشیے اللہ کے فضل سے یہ ہر بھلے آدمی کے گھر کا نقشہ ہے۔ پڑھ کر ہر شخص دل میں قائم ہوگا۔ لیکن انشاء اللہ اصلاح حال کی ایک بھی کوشش نہ کرے گا۔ (مصنف)\n\n(1) حیدرآباد کی یہ گھٹے والیاں ہیں۔ ہر قسم کا سامان خدا جانے کہاں کہاں سے خرید کر لاتی ہیں اور من مانے داموں پر گھروں پر بیچ جاتی ہیں۔ ان کے قرضے کا وہ پھیر ہے کہ مرتے دم تک اس سے پیچھا چھوٹنا مشکل ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%81%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"} {"title": "میان سے تیرا اگر خنجر نکل کر رہ گیا", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میان سے تیرا اگر خنجر نکل کر رہ گیا\nمیرے بھی دل میں بڑا ارماں ستم گر رہ گیا\n\nکیا فقط کوچہ میں تیرے میرا بستر رہ گیا\nبلکہ مجھ سے چھوٹ کر دل ہی کہیں پر رہ گیا\n\nمیکشوں کے دور میں بیٹھے تھے ہم بھی با نصیب\nاب تو خالی ہاتھ میں ساقی کے ساغر رہ گیا\n\nمیرے کس ارماں نے میرے قتل سے روکا تجھے\nجو کمر سے تیرے یوں خنجر نکل کر رہ گیا\n\nدر تک اس کے میں پہنچ جاؤں گا یہ کہتا ہوا\nتیرے کوچے میں مرا بھولے سے بستر رہ گیا\n\nموت آئی ہے مجھے لینے کو یہ کہہ دے کوئی\nرہنے والا مر گیا اجڑا ہوا گھر رہ گیا\n\nوائے ناکامی کہ اڑنے بھی نہ پایا تھا ابھی\nباندھتے ہی نامہ بازوئے کبوتر رہ گیا\n\nدل کی مایوسی نہ پوچھو جب وہ پہلو سے اٹھے\nکر ہی کیا سکتا تھا تڑپا اور تڑپ کر رہ گیا\n\nسب کو لوح قبر میرا بھی یوں ہی دے گی نشاں\nآئنے سے جس طرح نام سکندر رہ گیا\n\nعشق اس کے گیسوؤں کا کیا ہوا عالمؔ مجھے\nسارے عالم کا جو سودا تھا مرے سر رہ گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AE%D9%86%D8%AC%D8%B1_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "میاں دل تجھے لے چلے حسن والے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میاں دل تجھے لے چلے حسن والے\nکہو اور کیا جا خدا کے حوالے\n\nادھر آ ذرا تجھ سے مل کر میں رو لوں\nتو مجھ سے ذرا مل کے آنسو بہا لے\n\nچلا اب تو ساتھ ان کے تو بے بسی سے\nلگا میرے پہلو میں فرقت کے بھالے\n\nخبردار ان کے سوا زلف و رخ کے\nکہیں مت نکلنا اندھیرے اجالے\n\nترے اور بھی ہیں طلب گار کتنے\nمبادا کوئی تجھ کو واں سے اڑا لے\n\nکہیں قہر ایسا نہ کیجو کہ مجھ کو\nبلانے پڑیں فال تعویذ والے\n\nکسی کا تو کچھ بھی نہ جاوے گا لیکن\nپڑیں گے مجھے اپنے جینے کے لالے\n\nتری کچھ سفارش میں ان سے بھی کر دوں\nکرے گا تو کیا یاد مجھ کو بھلا لے\n\nسنو دلبرو گل رخو مہ جبینو\nمیں تم پاس آیا ہوں اک التجا لے\n\nخدا کی رضا یا محبت سے اپنی\nپڑا اب تو آ کر تمہارے یہ پالے\n\nتم اپنے ہی قدموں تلے اس کو رکھیو\nتسلی دلاسے میں ہر دم سنبھالے\n\nکوئی اس کو تکلیف ایسی نہ دیجو\nکہ جس میں یہ رو کر کرے آہ نالے\n\nتمہارے یہ سب ناز اٹھاوے گا لیکن\nوہی بوجھ رکھیو جسے یہ اٹھا لے\n\nاگر دسترس ہو تو کیجے منادی\nکہ پھر کوئی سینے میں دل کو نہ پالے\n\nنظیرؔ آہ دل کی جدائی بری ہے\nبہیں کیوں نہ آنکھوں سے آنسو کے نالے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%84%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "میاں صبر آزمائی ہو چکی بس", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میاں صبر آزمائی ہو چکی بس\nملو اب بے وفائی ہو چکی بس\n\nبہار خود نمائی ہو چکی بس\nجہاں چھوٹی ہوائی ہو چکی بس\n\nیہی ہے اس کی گر بیگانہ وضعی\nتو ہم سے آشنائی ہو چکی بس\n\nبھروسا کیا ہمارا اشک کی بوند\nجہاں مژگاں پر آئی ہو چکی بس\n\nپھنسے صیاد کے پھندے میں بے طرح\nہماری اب رہائی ہو چکی بس\n\nنہ مل حجام رخسار اس کے ہر دم\nمنڈایا خط صفائی ہو چکی بس\n\nادا میں واں ادا نکلیں ہیں لاکھوں\nمیں سمجھا بے ادائی ہو چکی بس\n\nدلا مت دیدۂ خوں بار کو پونچھ\nہر اک انگلی حنائی ہو چکی بس\n\nیہی درباں پہ ہے قدغن تو یارو\nصبا کی واں رسائی ہو چکی بس\n\nغزل اے مصحفیؔ یہ میرؔ کی ہے\nتمہاری میرزائی ہو چکی بس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D8%B2%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%B3"} {"title": "میاں چشم جادو پہ اتنا گھمنڈ", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "میاں چشم جادو پہ اتنا گھمنڈ\nخط و خال و گیسو پہ اتنا گھمنڈ\n\nاجی سر اٹھا کر ادھر دیکھنا\nاسی چشم و ابرو پہ اتنا گھمنڈ\n\nنسیم گل اس زلف میں ہو تو آ\nنہ کر اپنی خوشبو پہ اتنا گھمنڈ\n\nشب مہ میں کہتا ہے وہ ماہ سے\nرکابی سے اس رو پہ اتنا گھمنڈ\n\nبس اے شمع کر فکر اپنی ذرا\nانہی چار آنسو پہ اتنا گھمنڈ\n\nاکڑتا ہے کیا دیکھ دیکھ آئنہ\nحسیں گرچہ ہے تو پہ اتنا گھمنڈ\n\nوہ کر پنجا انشاؔ سے بولے کہ واہ\nاسی زور بازو پہ اتنا گھمنڈ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AC%D8%A7%D8%AF%D9%88_%D9%BE%DB%81_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D9%85%D9%86%DA%88"} {"title": "میاں کیا ہو گر ابروئے خم دار کو دیکھا", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میاں کیا ہو گر ابروئے خم دار کو دیکھا\nکیوں میری طرف دیکھ کے تلوار کو دیکھا\n\nآنکھیں مری پھوٹیں تری آنکھوں کے بغیر آہ\nگر میں نے کبھی نرگس بیمار کو دیکھا\n\nدیکھے نہ مرے اشک مسلسل کبھی تم نے\nاپنی ہی سدا موتیوں کے ہار کو دیکھا\n\nاتوار کو آنا ترا معلوم کہ اک عمر\nبے پیر ترے ہم نے ہی اطوار کو دیکھا\n\nدیکھا نہ کبھو کوچۂ دل دار کو رنگیں\nبس ہم نے بھی اس دیدۂ خوں بار کو دیکھا\n\nاس میں بھی در اندازوں نے سو رخنے نکالے\nاحساںؔ نے جو اس رخنۂ دیوار کو دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%85_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "میر انیس اور مرزا دبیر کا موازنہ", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(مندرجہ ذیل تحریر علامہ شبلی کی کتاب ’’موازنۂ انیس و دبیر‘‘ سے ماخود ہے)\n\nاردو علمِ ادب کی جو تاریخ لکھی جائے گی، اس کا سب سے عجیب تر واقعہ یہ ہوگا کہ مرزا دبیر کو ملک نے میرانیس کا مقابل بنایا اور اس کا فیصلہ نہ ہوسکا کہ ان دونوں حریفوں میں ترجیح کا تاج کس کے سر پر رکھا جائے۔ شاعری کس چیز کا نام ہے؟ کسی چیز کا، کسی واقعہ کا، کسی حالت کا، کسی کیفیت کا اس طرح بیان کیا جائے کہ اس کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جائے۔ دریا کی روانی، جنگل کی ویرانی، باغ کی شادابی، سبزے کی لہک، پھولوں کی مہک، خوشبو کی لپٹ، نسیم کے جھونکے، دھوپ کی سختی، گرمی کی تپش، جاڑوں کی ٹھنڈ، صبح کی شگفتگی، شام کی دل آویزی، یا رنج وغم، غیظ وغضب، جوش ومحبت، افسوس و حسرت، عیش و طرب، استعجاب و حیرت، ان چیزوں کا اس طرح بیان کرنا کہ وہی کیفیت دلوں پر چھا جائے، اسی کا نام شاعری ہے۔ اس کے ساتھ الفاظ میں فصاحت، سلاست، روانی، بندش میں چستی اور چستی کے ساتھ بے تکلفی، دل آویزی اوربرجستگی، لطیف اور نازک تشبیہات اور استعارات، اصول بلاغت کے مراعات، ان تمام اوصاف میں سے کون سی چیز مرزا دبیر میں پائی جاتی ہے؟ فصاحت ان کے کلام کو چھو بھی نہیں گئی۔ بندش میں تعقید اور اغلاق، تشبیہات اور استعارات اکثر دور اذکار، بلاغت نام کو نہیں، کسی چیز یا کسی کیفیت یا حالت کی تصویر کھینچنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ خیال آفرینی اورمضمون بندی البتہ ہے لیکن اکثرجگہ اس کو سنبھال نہیں سکتے۔ ہماری یہ غرض نہیں کہ ان کے کلام میں سرے سے یہ باتیں پائی ہی نہیں جاتیں۔ وہ نہایت پرگو تھے، ان کے اشعار کا شمار ہزاروں کیا لاکھوں تک ہے، اخیر اخیر میں وہ میر انیس کی تقلید بھی کرنے لگے تھے، اس بنا پر ان کے کلام میں جا بہ جا شاعری کے لوازم اور خاصے پائے جاتے ہیں، لیکن گفتگو قلت اورکثرت میں ہے۔ میر انیس کے بہت سے اشعار میں فصاحت و بلاغت کا حصہ بہت کم ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ دونوں میں سے نسبتاً کس کا کلام شاعری کے معیار پر پورا اترتا ہے۔ میرانیس کا عیب و ہنر تم دیکھ چکے، اب مرزا صاحب کے متعلق ہم ایک ایک چیز بہ تفصیل لکھتے ہیں، فصاحت یہ امر بدیہی ہے کہ مرزا دبیر کے کلام میں وہ فصاحت اور شستگی نہیں جو میر انیس کے کلام میں ہے اور اس کے مختلف اسباب ہیں، (۱) مرزا صاحب اکثر ثقیل اورغریب الفاظ استعمال کرتے ہیں، مثلاً، مستدعی شق القمر آکر ہوئے گم راہ ہرکوہ کی آواز انا الطور انا الطور النشر کا ہنگامہ ہے اس وقت حشر میں لبیک و سعد یک تھا ورد ِملک و حور المنتہی یہ ربط یہ ضبط اس دغا میں تھے خاص الخلاصہ بنی آدم، کمال میں یارو! سنا مدائح نوشاہ کا بیاں رخ بینہ صدق کرامات پیمبر مستجمع ِجمیع فضائل، ملک سیر مستغرق روح اس نے کیا تب عسل و شیر لے کر رطب دلو دوم کہنے لگا شاہ میدانی و نقیب و عصاء دار و چوب دار عرشی فلکی بڑھ کے نقیبانہ پکارے اس قسم کے سیکڑوں الفاظ ہیں، ہم نے صرف دو تین مرثیوں سے سرسری انتخاب کیا ہے، ورنہ سیکڑوں ہزاروں تک نوبت پہنچتی۔ یہ الفاظ اگرچہ صحیح ہیں، عربی اور فارسی میں مستعمل ہیں، لیکن اردو نظم کی سلاست اور روانی ان کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ (۲) بعض الفاظ بہ جائے خود ایسے ثقیل اور گراں نہیں، لیکن مرزا صاحب جن ترکیبوں کے ساتھ ان کو استعمال کرتے ہیں، ان سے نہایت ثقل اور بھدا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ امران مثالوں میں صاف واضح ہو جاتا ہے، جہاں ایک ہی لفظ یا الفاظ کو میر مرزا دونوں نے استعمال کیا ہے۔ ھل اتی (لافتی) انما، قل کفی، یہ چاروں لفظ حضرت علی کے فضائل کی تلمیحات (الیوژن) ہیں، ان تلمیحات کو ایک ایک بند میں دونوں نے باندھا ہے۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں، اہل عطا میں تاج سرہل اتی ہیں یہ اغیار لاف زن ہیں، شہ لافتی ہیں یہ خورشید ِانورِ فلک انما ہیں یہ کافی ہے یہ شرف کہ شہ قل کفی ہیں یہ ممتاز گوخلیلؑ رسولان دیں میں ہیں کاشف ہے لو کشف، یہ زیادہ یقیں میں ہیں میر انیس کہتے ہیں، حق نے کیا عطا پہ عطا ہل آتی کسے حاصل ہوا ہے مرتبہ لافتی کسے کونین میں ملا شرف انما کسے کہتی ہے خلق بادشہ قل کفی کسے دنیا میں کون منتظم کائنات ہے کس کو کہا خدا نے کہ یہ میرا ہات ہے مرزا صاحب کے کلام میں اس قسم کی ناموزونی نہایت کثرت سے ہے، ہم صرف چند مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں، اک شخص کمرشہ کی لگا باندھنے خورسند اک دلو بھروپانی سے اورایک رطب لو نو بت زن نُہ بام عروج فلک پیر ملبوس قلم کار نہ دوں ہے نہ پرانا سرکو عوض پارہ مدحت میں دھروں گا شرح کہن ناطقہ منسوخ کروں گا یہ صورت پیغمبر قوسین مکاں ہے ہے طلعت جلد و نفس سینہ یہ محسوس وہ برق شفق میں، تو یہ پروانہ بہ فانوس ناگاہ کھلا دشت میں بازار زد و کشت تیغیں کھنچیں یک دست، تلے گرز بھی یک مشت نہ چشم جراحت، نہ رہ فوت کو دیکھا کہتے ہیں جسے عاشق و شیدا ملک و ناس خیاط عہد طفلی شاہ انام تھے اس کی ثنا مشقت مالا یطاق ہے نانا نے تو قلم کیے جبریل کے سہ پر کفار بڑطے طیش سے ہونٹوں کو دبا کے دانتوں کے تلے بال محاسن کے دبا کے آمد ہے امام سوم ہر دوسرا کی اس سر پہ دھرے ہاتھ بہ قسمیہ اجل ہے بس ہدیہ اللہ کے قابل یہی پھل ہے بندش کی سستی اور ناہمواری میرانیس اور مرزا دبیر میں اصلی جو چیز مابہ الامتیاز ہے، وہ الفاظ کی ترکیب، نشست اوربندش کا فرق ہے۔ میرانیس کا کلام تم پڑھ چکے ہو، ان کا اصلی جوہر بندش کی چستی، ترکیب کی دل آویزی، الفاظ کا تناسب اوربرجستگی وسلاست ہے۔ یہ چیزیں مرزاصاحب کے ہاں بہت کم ہیں، ایک ہی مصرع میں ایک لفظ نہایت بلند اور شان دار ہے، دوسرا مبتذل اور پست ہے۔ بند کا ایک شعر اس زورور کا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ بادل گرجتا آ رہا ہے، دوسرا بالکل پھیکا اور کم وزن ہے۔ دو تین بند صاف اورسلیس نکل جاتے ہیں، پھرتعقید اور بے ربطی شروع ہوتی ہے۔ اکثرجگہ الفاظ بڑے دھوم دھام کے ہیں، لیکن حاصل کچھ نہیں۔ یہ باتیں اگرچہ عام طورپر ان کے تمام مرثیوں میں پائی جاتی ہیں، لیکن نمونے کے طورپر ہم چند بندان مرثیوں کے نقل کرتے ہیں جوبڑے زور کے مرثیے خیال کیے جاتے ہیں اورجن میں بعض میرانیس کے جواب میں لکھے گئے ہیں، اے دبدبہ نظم! دوعالم کو ہلا دے اے طنطہ طبع! جزو کل کو ملا دے اے معجزہ فکر! فصاحت کو جلا دے اے زمزہ نطق! بلاغت کا صلا دے اے باے بیاں! معنی تسخیر کو حل کر اے سین سخن! قاف سے تا قاف عمل کر یہ مرثیہ میرانیس کے جواب میں ہے، کس قدر زور شور کی اٹھان ہے، کیسے پر رعب الفاظ ہیں، لیکن معانی میں بہت کم ربط ہے۔ طنطنے کو جز و کل کے ملا دینے سے کیا نسبت ہے؟ زمزمہ نطق سے بلاغت کا صلہ مانگنے کے کیا معنی؟ بیان کی بے کو، تسخیرسے کیا خاص تعلق ہے؟ اسی طرح سخن کے سین کو قاف سے قاف تک عمل کرنے کے لئے کیا خصوصیت ہے؟ بولا علم خامہ فلک پر میں گڑوں گا سکے نے ندادی، زر انجم پہ پڑوں گا معنی نے کہا بیت میں آئینہ جڑوں گا مضمون پکارا میں کسی سے نہ لڑوں گا بندش یہ کھلی، دم میں فصاحت کا بھروں گی چلائی طبیعت کہ میں اصلاح کروں گی پہلے دومصرع کس قدر دھوم دھام کے ہیں۔ تیسرے میں تنزل شروع ہوا، چوتھا بالکل گر گیا، کیونکہ اوپر کے مصرعوں کی مناسبت کے لحاظ سے موقع یہ تھا کہ اس میں بھی کوئی ایجابی دعویٰ کیا جاتا۔ مضمون کا نہ لڑنا اگرچہ معنیً تعریف کی بات ہے، لیکن یہاں لڑائی سے گریز کرنے کا موقع نہیں۔ اخیر کا شعر اور خصوصاً اس کا دوسرا مصرع کس قدر پھس پھسا اورمبتذل ہے۔ طبیعت کے چلانے کا یہ کیا موقع ہے اورطبیعت کے لیے چلانا کتنا موزوں لفظ ہے۔ میں کون ہوں صاحب علم کلک جہاں گیر نوبت زن نہ بام عروج فلک پیر تاج سر لفظ وسخن و معنی و تحریر خاک قدم محتشم و مقبل شبیر سن کرنہ کرے ہاں تو شکایت بھی نہیں ہے انصاف تو کہتا ہے، خداوند یوں ہی ہے پہلے تین مصرعوں کا جو انداز ہے، چوتھا مصرع اس سے کس قدر بے گانہ ہے۔ مضمون میں نئے کرتا ہوں ایجاد ہمیشہ کہتا ہے سخن، حضرت استاد ہمیشہ کہنے میں ہے تاثیر خدا داد ہمیشہ بھولے سے بتادوں تو رہے یاد ہمیشہ بے لطف خدا، یہ ہمہ دانی نہیں آتی پرشمع صفت چرب زبانی نہیں آتی جوچیز خداداد ہے، اس کے لئے ہمیشہ کی قید حشو محض ہے۔ چوتھا مصرع، تیسرے مصرع سے بالکل بے تعلق ہے، استادی کا ذکر دوسرے مصرع میں ہے اور اس کے ساتھ اس مصرع کو ربط ہوسکتا ہے۔ ٹیپ کے دومصرع بھی باہم بالکل بے تعلق ہیں۔ تین چار بند کے بعد فرماتے ہیں، مضمون تر و تازہ ہے چستی میں یگانا ملبوس قلمکار، نہ دوں ہے نہ پرانا اس دھیان کے آنے سے کرم شاہ کا جانا خدام ولا بولے کہ ہاں ہاتھ بڑھانا لے ہدیہ تائید قدیر ازلی ہے لے خلعت تحسین حسین ابن علی ہے پہلےاوردوسرے شعر کی ترکیب اور اندازمیں باہم کس قدر تفاوت ہے۔ دوسرا شعر پہلے شعر سے بالکل الگ ہوگیا ہے۔ دوسرے شعرکی بندش ایسی ہے کہ مطلب بھی آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا، اس دھیان کا مشار الیہ کون ہے؟ حامی جو سلیمان دوعالم نظر آئے مضمون جو عنقا تھے، وہ پر جوڑ کرآئے طاؤس تصور کی طرح دل میں در آئے شیشے میں پری زاد معانی اتر آئے یاقوت بدخشاں سے، دُر آتے ہیں عدن سے لعل اگلوں گا میں طائر سدرہ کے دہن سے حضرت سلیمان کوعنقا سے کیا تعلق ہے؟ تصورکی تشبیہ طاؤس سے کس بنا پر ہے، اور پھر اس کے کیا معنی کہ عنقائے مضمون دل میں اس طرح اتر آئے جس طرح طاؤس ہونے کی بنا پر ہے تو مضمون کا عنقا خود دل میں اترسکتا ہے، طاؤس کی مشابہت کی کیا ضرورت ہے؟ ٹیپ میں عجب بے ربطی ہے، شاعر لعل اگلے گا لیکن طائر سدرہ کے دہن سے اگلے گا، اس کے کیا معنی؟ شاید اگلنے کو، اگلوانے کے معنی میں لیا ہے، یا اپنے آپ کو طائر سدرہ قرار دیا ہے۔ کب شعلہ خس، نور کی قندیل کو پہنچے اڑ کر نہ مگس، طنطنہ فیل کو پہنچے پشے کانہ غل، صور سرافیل کو پہنچے بلبل، نہ لب وہ لہجہ جبریل کو پہنچے ارباب سخن پر جو سخن ور ہے ہمارا القاب، سخن سنج، سخن ور ہے ہمارا کس قدر بھدے الفاظ اور بھدی ترکیبیں ہیں۔ اس کے علاوہ بے ربطی کو دیکھو، شعلے کا مقابلہ قندیل سے نہیں بلکہ قندیل کی روشنی سے ہو سکتا ہے۔ پرواز کو طنطنے سے کیا نسبت ہے؟ بلبل کوجبریل سے کیا مناسبت ہے؟ لقب کے بجائے القاب باندھا ہے۔ سرکار ہے ہر مجلس شبیر ہماری مضموں کی طرح بیت ہے جاگیر ہماری آئینہ سکندر پہ ہے تسخیر ہماری ہے مہر سلیمان کی تحریر ہماری تنہا مہ و ماہی پہ نہیں سکہ پڑاہے سورج کا نگینہ بھی انگوٹھی پہ جڑا ہے بیت کا درجہ مضمون سے کم ہے، کیونکہ بیت کی جو خوبی ہے، مضمون ہی کی وجہ سے ہے، اس بنا پریہ تشبیہ کہ مضمون کی طرح بیت ہماری جاگیر ہے، بے معنی ہے۔ جب مضمون جاگیر ہوچکا تو بیت خود ہی جاگیر ہوگئی۔ ٹیپ کا اخیرمصرع بالکل بے معنی ہے۔ پہلے انگوٹھی سے کسی چیز کا استعارہ کرنا تھا، پھر سورج کا نگینہ جڑنا تھا، ورنہ ظاہر ہے کہ ہاتھ میں پہننے کی انگوٹھی پرسورج کا نگینہ جڑنا، کس قدر لغو بات ہے۔ قابل میں سخن کے ہوں، سخن ہے مرے قابل لیکن سخنِ شہرہ فگن ہے مرے قابل رضوان کو جنت یہ چمن ہے مرے قابل موتی کوصدف اوریہ عدن ہے مرے قابل شہرہ ہے یہ تائید شہ جن و ملک سے مضمون مرا گھر پوچھتے آتے ہیں فلک سے ’’سخن شہرہ فگن‘‘ نئی ترکیب ہے۔ رضوان کو جنت، یہ چمن ہے مرے قابل۔ناموزوں ترکیب ہے۔ یا تو یوں ہونا چاہئے تھا کہ رضوان کو جنت چاہئے اورمجھ کو یہ چمن۔ یایوں کہنا تھا کہ رضوان کے قابل جنت ہے اورمیرے قابل چمن۔ چوتھے مصرع کی ترکیب کا بھی یہی حال ہے۔ ٹیپ کے دونوں مصرعے قریباً باہم متناقص ہیں۔ شہرہ بھی انتہا کا ہے، اور مضمون کو گھر پوچھنے کی بھی ضرورت ہے۔ شاید یہ مراد ہو کہ صرف نام مشہور ہو چکا ہے لیکن چونکہ مضامین کو کبھی مرزا صاحب سے روشناسی نہیں ہوئی اورآستانہ مبارک تک پہنچنے کی نوبت نہیں آئی، اس لئے گھر کا پتہ پوچھنا پڑا۔ ہیں وقف ہمیشہ مرے الفاظ ومعانی ہاں قلزم شیریں کا سبھی پیتے ہیں پانی ہر بحر میں ہے بحر طبیعت کی روانی ہے زور سخن، شور پہ، موجوں کی زبانی قطرے سے مگر بحث میں میں صرف نہیں ہوں دریا ہوں سخن کا، میں تنک ظرف نہیں ہوں تیسرے مصرع کا مطلب مشکل سے سمجھ میں آ سکتا ہے، مقصد یہ ہے کہ زور سخن شور پر ہے، لیکن اس بات کو میں نہیں کہتا بلکہ موج کی زبان کہتی ہے۔ ’’بحث میں صرف ہونا‘‘ کون سا محاورہ ہے۔ ٹیپ کے دوسرے مصرع میں ’’میں‘‘ کا لفظ محض فضول ہے، پہلے مصرع میں ’’میں‘‘ کا لفظ آ چکا ہے۔ خامہ ہے فروتن مرا افراط ادب سے جھک کر شرفا اور نجبا ملتے ہیں سب سے نخوت کے معانی ہیں الگ لفظوں کے لب سے جس طرح سے بد اصل جدا نیک نسب سے دشمن سے بھی ہم قطع نہیں کرتے حیا کو مانندِ غبار اٹھتے ہیں تعظیم ِ ہوا کو پہلے مصرع میں خاکساری اور انکساری کے بجائے ادب کہا ہے، حالانکہ دونوں میں بہت فرق ہے۔ تیسرے مصرع کی ترکیب اور لفظ کے لب کا استعارہ سابق و لاحق کی سادگی وصفائی سے نہایت بے گانہ ہے۔ شیریں سخنی کا ہنر اکبر سے لیا ہے اس ذرے میں سب، مہر حسینی کی ضیا ہے بے مہری فلاک سے گو خاک بہ سر ہوں ہاں عیب بڑا یہ ہے کہ میں اہل ہنر ہوں ’’گو خاک بہ سر ہوں‘‘ کا جواب، ’’ہاں عیب بڑا یہ ہے‘‘ کس قدر بے جوڑ ہے؟ ’’میں‘‘ کا لفظ بالکل حشو ہے۔ مرزا صاحب کا ایک اور نہایت مشہور مرثیہ ہے، کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے رن ایک طرف چرخ کہن کانپ رہاہے رستم کا جگرزیر کفن کانپ رہا ہے خود عرش خداوند زمن کانپ رہاہے شمشیر بہ کف دیکھ کے حیدر کے پسر کو جبریل لرزتے ہیں سمیٹے ہوئے پر کو ہیبت سے ہیں نہ قلعہ افلاک کے دربند جلاد فلک بھی نظر آتا ہے نظربند داہے کمر چرخ سے جوزا کاکمربند سیارے ہیں غلطاں صفت طائر پربند انگشت عطارد سے قلم چھوٹ پڑا ہے خورشید کے پنجے سے علم چھوٹ پڑا ہے یہ دونوں بند اپنے اندازمیں پورے ہیں۔ اب تیسرا بند ملاحظہ ہو، خود فتنہ و شر پڑھ رہے ہیں فاتحہ خیر کہتے ہیں ’’انا العبد‘‘ لرز کر صنم ودیر جاں غیر، بدن غیر، مکیں غیر، مکاں غیر نے چرخ کا ہے چرخ، نہ سیارے کی ہے سیر سکتے میں فلک خوف سے مانند زمیں ہے جز بخت یزید، اب کوئی گردش میں نہیں ہے ’’انا العبد‘‘ کس قدر سلاست کے خلاف ہے؟ یہ مصرع۔۔۔ جاں غیر، بدن غیر، مکیں غیر، مکاں غیر۔۔۔ اس بند میں کس قدر بے گانہ واقع ہوا ہے؟ بے ہوش ہے بجلی پہ سمند ان کا ہے ہشیار خوابیدہ ہیں سب طالع عباس ہے بیدار پوشیدہ ہے خورشید، علم ان کا نمودار بے نور ہے منہ چاند کا، رخ ان کا ضیا بار سب جزو ہیں، کل رتبے میں کہلاتے ہیں عباس کونین پیادہ ہے، سوار آتے ہیں عباس یہ بند اوپر کے بند سے دفعتاً اس قدر بے تعلق ہو گیا ہے کہ مطلب سمجھنا مشکل ہے۔ ’’ان کا‘‘ مشارالیہ حضرت عباس ہیں، لیکن چونکہ حضرت عباس کا ذکر صرف پہلے بندوں میں آیا تھا، جس سے تین بندوں کا فاصلہ ہے، اس لئے ذہن اس طرف جلدی منتقل نہیں ہوتا۔ مضمون کی بے ربطی کی یہ کیفیت ہے کہ ایک طرف توہل چل کی وجہ سے بجلی کوبے ہوش قرار دیا ہے، دوسری طرف فرماتے ہیں کہ سب خوابیدہ ہیں۔ ٹیپ کی بندش کی سستی خود ظاہر ہے۔ چمکا کہ مہ و خور، زر و نقرہ کے عصا کو سر کاتے ہیں پیر فلک پشت دو تا کو عدل آگے بڑھا، حکم یہ دیتا ہے قضا کو ہاں باندھ لے ظلم وستم و جور و جفا کو گھر لوٹ کے بغض و حسد و کذب و ریا کا سرکاٹ لے حرص و طمع و مکر و دغا کا ان استعارات میں جو لطافت ہے، وہ ظاہر ہے۔ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ ایک مشہور اور معرکے کے مرثیے کے متعدد بند اس موقع پرنقل کریں، جس سے مرزاصاحب کی طرز بندش کے تمام محاسن و معائب کا پورا اندازہ ہو سکے۔ یہ مرثیہ وہ ہے جس کو مرزا صاحب کے نام ور معتقدین اکثر مجالس میں بڑے فخر کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ پرچم ہے کس علم کا شعاع آفتاب کی؟ پانی ہے کس پھر ہرے سے ہمت سحاب کی؟ یہ شان ہے نشان رسالت مآب کی چوب علم کلید ہے جنت کے باب کی نقشہ علم کے پنجے میں اللہ کا ملا بندوں کو اس نشاں سے نشان خدا ملا صبح جہاد شاہ ثریا جناب ہے فوج حسین بن کے ظفر ہم رکاب ہے مشرق سے واں علم، علم آفتاب ہے یاں نور کا نشاں، علم بوتراب ہے روشن علم سے آئینہ مشرقین ہے مشرق میں شمس، عکس نشان حسین ہے طوبا کی شاخ تیشہ قدرت نے کی قلم اور نور نخل طور بھرا اس میں یک قلم کی صادقوں کی راستیِ قول اس میں ضم بے پردہ ہو کے عفو بنی پوشش علم جب باندھ کر پھرہرے کوسیدھا علم کیا صانع نے پردے میں ید طولا علم کیا دامن ہے کبریا کا سر ا پردہ جلال ماہی مراتب اس سے ہے شاہوں کا پایمال بپھرا ہوا ہے شیر پھرہرے کا بے جدال شیر فلک کو دیکھ کے ہوتا ہے لال لال تسخیر غرب و شرق اسے کیا محال ہے پنجہ ہے آفتاب، تو ناخن ہلال ہے نور خدا سے قالب خیرالامم بنا سایہ نبی کا ہوکے مجسم علم بنا واں ابر چترفرق نبی بر قدم بنا یاں پوشش علم وہ سحاب کرم بنا سب کام بند ہوں، جو پھرہرا نہ وا رہے سچ ہے خدا کے فیض کا چشمہ کھلا رہے اب رایت زبان سے مضمون علم کروں اورمعنی بلند کالشکر بہم کروں مجلس میں ذکر شقہ حال علم کروں رایت میں سلک نظم کے پرچم کوضم کروں مشاقوں کو زیارت رایت ضرور ہے اس رایت نبی کی درایت ضرور ہے جب شاہ انبیا کو ہوئی خواہش علم آئی ندا فلک سے ابھی بھیجتے ہیں ہم جاری ہوا یہ حکم خداوند محترم ہاں قدسیو! علم کی درستی کرو بہم تیار مرے دوست کی خاطر نشاں کرو یعنی علم کی فکر سے خاطر نشاں کرو تعقید مرزا صاحب کے کلام کی ایک خصوصیات تعقید بھی ہے۔ وہ جہاں معنی آفرینی اور دقت پسندی پر زیادہ توجہ کرتے ہیں، کلام میں پیچیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ نہایت دقیق اور بلند مضامین پیدا کرتے ہیں، لیکن مناسب الفاظ ہاتھ نہیں آتے، اس لئے مضمون ایک گورکھ دھندا ہو کر رہ جاتا ہے۔ تلوار کی تعریف مد نگہ چشم نیام اوج بر آیا اور صاف ہر اک فرد بشر کو نظر آیا خط کھینچنے کو کلک دوات ظفر آیا یا دوڑ کے ظلمت کی گلی سے خضر آیا واں شور تھا پیدا مہ نو سے مہ نو ہے یاں غل تھا جدا شمع سے یہ شمع کی لو ہے آمد کی دھوم خود ابر ِفلک گرد سواری میں گھرے ہیں دریا میں عدو ڈوب کے دوزح میں ترے ہیں یوں کانپ کے سرداروں کے منہ رن سے پھرے ہیں بت حرص کے طاقِ دلَ اعدا سے گرے ہیں رعشہ ہے فقط، ہاتھ نہیں پاؤں نہیں ہے دہشت کے سبب دھوپ نہیں چھاؤں نہیں ہے سراپا معراج پیمبر کی تو روشن ہے حقیقت یاں دیکھو تہ عرش جبیں چشم کی زینت اترا ہے نبی کے لئے یہ کاسہ رحمت ہم صحبت و ہم کاسہ ہیں معبود سے حضرت اس کاسے میں رتبہ ہے یہ پلکوں کی ثنا کا اک ہاتھ نبی کا ہے اور اک ہاتھ خدا کا اب مومنوں کوعالم بالا کی خبر دوں حل عقدہ مدح سر ا قدس کو بھی کردوں گردوں کومیں نسبت سر پرنور سے گردوں یہ عرش ہو اور عرش بنے رشک سے گردوں اک قامت احمدؐ ہے اسے فوق جہاں پر خورشید سے اک نیزہ سوا ہوگا سناں پر گوغنچہ ہے گوشِ پسرسید خوش خو قربِ ختن زلف سے پر نافے کی ہے بو اور حلقہ گیسو کہ ہے اک نافہ آہو ہے کان کی نکہت سے رگ غنچہ ہراک مو نافے کا شرف غنچے کو کاکل نے دیا ہے اور گوش کے نافے کو یہاں غنچہ کیا ہے خطِ حسن کی خاطر ہے خزاں کا خط فرماں یاں حلقہ خطِ حسن کو ہے چشمِ نگہ باں صرصر سے ہے ایمن یہ چراغ رخ تاباں عارض کو کیا خط نے چراغ تہ داماں گلشن ہے غلط اورغلط ابر بہاری رخ باغ بہاری ہے یہ خط ابر بہاری ایک اورمرثیے میں فرماتے ہیں، نامِ جبیں ہے مشرقِ خورشیدِ ہر امید یاں پھول سرو کو ملیں پھل ہو نصیبِ بید ہے صبح صادق اس کی گواہی سے روسپید مہرقبول کے اثرِ سجدہ سے نوید اکبر نشان سجدہ جبیں پردکھاتے ہیں یاسرنوشت نیر اکبر دکھاتے ہیں کیا شاہ بیت ابروے اکبر کی ہو ثنا یکتا مطالعے میں ہے یہ مطلعِ رسا بیت القصیدہ ہے خم ابروے مصطفا کیا بیت بحثی ان سے کرے ماہِ نو بھلا پیش نگہ یہ بیت ہے اٹھارہ سال سے آتی ہے بوے شیر دہان ہلال سے تشبیہات و استعارات مرزا صاحب کے کلام کا خاص جوہر تشبیہات اور استعارات ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ وہ اپنی دقت آفرینی سے ایسی عجیب اورنادر تشبیہات اور استعارات پیدا کرتے ہیں، جن کی طرف کبھی کسی کا خیال منتقل نہیں ہوا ہوگا لیکن اس زورمیں وہ اکثر اس قدربلند اڑتے ہیں کہ بالکل غائب ہو جاتے ہیں مثلاً، شمشیر نے جل تھل جو بھرے قاف سے تا قاف پریاں ہوئیں مرغابیاں، گرداب بنا قاف چھپنے کے لئے خوف سے اس درجہ گھٹا قاف جو بیچ میں سیمرغ کی منقار کے تھا قاف کیا جانے کدھر لے کے خزانہ وہ بہا تھا قاروں کو عذاب ابدی ڈھونڈھ رہا تھا تیغ عباس جو دامان زرہ میں تھی نہاں یا شبستاں میں وہ خوابیدہ تھا مار دو زباں چمکا وہ ہلال ابروے یوسف کا کنویں سے یا برق جدا ہوگئی بادل کے دھویں سے مد نگہ چشم نیام اوج پر آیا اور صاف ہر اک فرد بشر کو نظرآیا خط کھینچنے کو کلک دوات ظفر آیا یا دوڑ کے ظلمت کی گلی سے خضر آیا گرمی پہ شرر تیغ شر ردم کے جو آئے جوہر نے کنویں قعر جہنم کے جھنکائے تھے مرغ نگہ پردوں میں، پر اس نے جلائے عنقائے تصور کے کباب اس نے لگائے ظلمات میں یہ فتح پہ قبضہ کیے پھری یونس کو جیسے بطن میں مچھلی لیے پھری چہرے سے بینیِ صفِ لشکر بھی دورکی بت خانے سے شباہتِ ممبر بھی دور کی کاف شگاف بن کے درون جگر گئی مانند میم مرگ میان کمر گئی لفظ شکم میں دینے کو زیر و زبر گئی مانند پیش ہر جز و کل سے گزر گئی رن کی صفوں کا خوف سے ستھراؤ ہوگیا پانی ہوئے یہ زہرے کے چھڑکاؤ ہوگیا بینی جبین و لب سے حسینؑ و خلیلؑ ہے سر پر ہے عرش زیر قدم سلسبیل ہے نبضیں چھٹیں شرر کی سقر کانپنے لگے شعلے زباں نکال کے خود ہانپنے لگے نہیبِ تیغ سے خالی سبھوں کے قالب تھے پیالہ ہائے فلک روحوں سے لبالب تھے گیا جو فوق سے تحت الثری کو آب حسام بنا خزانہ قاروں خرابہ حمام فلک نے تختہ یوناں رکھا زمیں کا نام ہوا رطوبت اطراف سے زمیں کو زکام دماغ خاک پہ نزلہ بہ صد وفور گرا کیا جوعطسہ تو قاروں نکل کے دور گرا جوہر میں طرفہ ہیبتِ تیغِ دلیر ہے مچھلی کے جال میں یہ مگر کوئی شیر ہے بادل کی طرح جوہر شمشیر جو چھائے سایے نے تڑپ کر دہل رعد بجائے چار آئینے نے اور ہی صورت دکھائی ہے پر آئینہ نہیں ہے سند ہم نے پائی ہے زائل زرہ کی آنکھوں سے جو روشنائی ہے آنکھوں نے چار چشمے کی عینک لگائی ہے ڈر ڈر کے آبِ تیغ سے سب کوچ کر گئے غصے سے ہوکے چیں بہ جبیں کچھ ٹھہرگئے پُل بن گئے وہ چین جبیں سر اُتر گئے اک وار میں فرات سے پار ان کے سر گئے پر ذوالجناح صاف دھویں سے نکل گیا باروت تھا کہ اڑ کے کنویں سے نکل گیا تھا طوطیِ خط پشتِ لب لعل پہ گویا دیکھو کہ دھواں آتشِ یاقوت سے نکلا تھا چاہ ذقن میں چہ نخشب کا تجلا اس چاہ کی کشتی نے تو پانی بھی نہ مانگا جلوے لب و دنداں کے عجب پیش نظر تھے دروازے پہ یاقوت تھے اور گھر میں گہر تھے حاشا نہیں تجلی ماہ آسمان پر مچھلی اچھالتی ہے کلاہ آسمان پر چشم ِضیا فشاں سے نمود چراغ ہے پلکیں نہ سمجھو ہالہ دودِ چراغ ہے پیدا کمر سے کہنہ جناب الہ ہے یہ بال چشم ِناف کا تارِ نگاہ ہے پتلی ہے کوہ طور تجلی کبریا سنتے تھے تل کی اوٹ پہاڑ اب نظر پڑا جب تک یہ پلکیں دست نگہ میں نہ دیں عصا موسی کی بھی نگہ نہ ہو اس چشم تک رسا اک جلوہ دے یہ چشم جسے اپنے نور کا وہ خاک کے بھی مول نہ لے سر مہ طور کا سجنے لگا سلاحِ دغا پھر وہ پُر دغا کی خود نے (؟) خودنمائی سے زیب سر جفا یا ماہ آفتاب کو گویا گہن لگا یا دارِ قد پہ کفر کا بخت سیر جڑا اسلام میں جو ڈالے ہیں رخنے یزید نے ان رخنوں کو کیا زرہ تن پلید نے پاؤں میں پہنے موزہ گم راہی جہاں کج فہمی معاویہ کی اس نے لی کماں اور تیغ ہند ہند جگر خوارہ کی زباں فرد ِسپر تھی نامہ اعمالِ شامیاں چار آئینہ وہ رنگ بھرا اس پلید کا دل شمروشیت و ابن زاد و یزید کا مضمون بندی و خیال آفرینی میر انیس اور مرزا دبیر میں اصلی مابہ الامتیاز جو چیز ہے وہ خیال بندی اوردقت پسندی ہے اور یہی چیز مرزا صاحب کے تاج کمال کا طرہ ہے۔ اس میں کچھ شبہ نہیں کہ مرزا کی قوت متخیلہ نہایت زبردست ہے۔ وہ اس قدر دور کے استعارات اور تشبیہات ڈھونڈھ کر پیدا کرتے ہیں کہ وہاں تک ان کے حریفوں کا طائر وہم پرواز نہیں کر سکتا۔ راست نما اور دل فریب (لیکن غلط) استدلال جو شاعری کا ایک جزو اعظم ہے، ان کے ہاں نہایت کثرت سے پایا جاتا ہے۔ وہ قوت متخیلہ کے زور سے نئے نئے اورعجیب دعوے کرتے ہیں اور خیالی استدلال سے ثابت کرتے ہیں۔ مبالغے کے مضامین جو پہلے شعرا باندھ چکے تھے اور بہ ظاہر نظر آتا تھا کہ اب اس کی حدہوچکی، ان کووہ اس قدر ترقی دیتے ہیں کہ پہلے مبالغے ان کے مقابلے میں ہیچ ہو جاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ خیال آفرینی، دقت پسندی، جدت استعارات، اختراع تشبیہات، شاعرانہ استدلال، شدت مبالغہ میں ان کا جواب نہیں، لیکن اس زور کو وہ سنبھال نہیں سکتے، اس وجہ سے کہیں خامی پیدا ہوجاتی ہے، کہیں تعقید اور اغلاق ہو جاتا ہے۔ تشبیہات کہیں پھبتیاں بن جاتی ہیں اور کہیں محض فرضی خیال رہ جاتی ہیں۔ تاہم اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ جہاں ان کا کلام فصاحت و بلاغت کے معیار پر بھی پورا اتر جاتا ہے، نہایت بلند رتبہ ہوجاتا ہے۔ اس موقع پرہم ان کی ہرقسم کی عمدہ مضمون آفرینی کی متعدد مثالیں نقل کرتے ہیں، جب 1 سرنگوں ہوا علم کہکشان شب خورشید کے نشاں نے مٹایا نشان شب تیر شہاب سے ہوئی خالی کمان شب تانی نہ پھر شعاع قمر نے سنان شب آئی جو صبح زیور جنگی سنوار کے شب نے زرہ ستاروں کی رکھ دی اتار کے شمشیر مشرقی جو چڑھی چرخ پر شتاب پھر تیغ مغربی نے دکھائی نہ آب و تاب تھا بس کہ گرم خنجرِ بیضائے آفتاب باقی رہا نہ چشمہ نیلو فری میں آب محتاج ماہ تاب ہوا آب وتاب کا باغ جہاں میں پھول کھلا آفتاب کا تھی جوش خوں کے عارضے میں مبتلا شفق فُصادِ صبح آیا لیے نشتر و طبق کھولی شفق کی صبح تو رنگ افق تھا فق گل رنگ تھا صحیفہ گردوں ورق ورق خون شفق میں سرخ قضا نے قلم کیا اور خط و خال روز شہادت رقم کیا (ایضاً) پیدا شعاع مہر کی مقراض جب ہوئی پنہاں درازیِ پرِ طاؤسِ شب ہوئی اورقطع زلفِ لیلی زہرہ لقب ہوئی مجنوں صفت قبائے سحر چاک سب ہوئی فکر رفو تھی چرخ ہنر مند کے لیے دن چار ٹکڑے ہوگیا پیوند کے لیے یوسف غریقِ چاہِ سیہ ناگہاں ہوا یعنی غروب ماہ تجلی نشاں ہوا یونس دہان ِماہی شب سے عیاں ہوا یعنی طلوع نیر مشرق ستاں ہوا فرعون شب سے معرکہ آرا تھا آفتاب دن تھا کلیم اور ید بیضا تھا آفتاب تھی صبح یا کہ چرخ کا جیب دریدہ تھا یا چہرہ مسیح کا رنگِ پریدہ تھا خورشید تھا کہ عرش کا اشک چکیدہ تھا یا فاطمہ کا نالہ گردوں رسیدہ تھا کہیے نہ مہر، صبح کے سینے پہ داغ تھا امید اہل بیت کا گھر بے چراغ تھا نکلا افق سے عابد روشن ضمیر صبح محرابِ آسماں ہوئی جلوہ پذیر صبح کھولا سپیدی نے جو مصلائے پیر صبح ہر سجدہ گاہ بن گیا مہرمنیر صبح کرتی تھی شب غروب کا سجدہ ر دود کو سیارے ہفت عضو بنے تھے سجود کو ظلمت جہاں جہاں تھی وہاں نور ہوگیا پھر مشک شب جہان سے کافور ہوگیا گویا کہ زنگ آئینے سے دور ہوگیا باطل رسالہ شب دیجور ہوگیا کیا پختہ روشنائی تھی قدرت کے خامے میں مضمون تھا آفتاب کا ذروں کے نامے میں (ایضاً) گلگونہ شفق جو ملا حور صبح نے اسپند مشک شب کو کیا نور صبح نے گرمی دکھائی روشنی طور صبح نے ٹھنڈے چراغ کردیے کافور صبح نے لیلاے شب کی رات کو دولت جو لٹ گئی افشاں جبیں سے مہر درخشاں کی چھٹ گئی پیدا ہوا سپیدہ طلعت نشان صبح سلطان صبح نے کیا قصد اذان صبح باندھا عمامہ نور کا پہنا کتان صبح چرخ چہار میں پہ گیا خطبہ خوان صبح منہ سب کے سوئے قبلہ امید ہوگئے سرگرم سجدہ عیسی و خورشید ہوگئے آیا جو تیغ روز لیے شاہ نیم روز ماہی شکار شیر سوار و جہاں فروز باندھے کمر میں خنجر بیضائے کینہ سوز پھر دیو ہفت سر ہوا صید عقاب روز مہتاب لشکرِ شہ خاورمیں گھر گیا ارہ شعاع کا سر انجم پہ پھر گیا بڑھ کر نقیب نور پکارا سحر سحر ذروں میں نور مہر در آیا قمر قمر فرمان نور بدر کو پہنچا بدر بدر لوٹا سحر نے معدن شبنم گہر گہر برقع جو اٹھ گیا تھا رخ آفتاب کا پردہ تھا فاش صبح ملمع نقاب کا تلوار شاخ نیام سے ہوا اس طرح پھل جدا پیروں کے قد سے جیسے جوانی کا بل جدا ہستی جدا زمین پہ تڑپی اجل جدا خنجر جدا فلک پہ گرا اور زحل جدا غل تھا کہ اب مصالحہ جسم و جاں نہیں لو تیغ برق دم کا قدم درمیاں نہیں ڈوبی سپر میں گر کے نئی چال ڈھال سے پاکھر کے بیچ میں یہ بڑھی سیدھی چال سے اٹھ کرزرہ میں آئی شکوہ و جلال سے اک جال میں تڑپ کے گئی ایک جال سے گزری جو چار آئینے سے منہ کو موڑ کے غل تھا پری نکل گئی شیشے کو توڑ کے کاٹا پلک میں آنکھ کو پتلی میں نور کو پاؤں میں کج روی کو سروں میں غرور کو سینے میں بغض و کینہ کو دل میں فتور کو نیت میں معصیت کو طبیعت میں زور کو ذات اک طرف مٹا دیا بالکل صفات کو کیسی زباں، زباں میں یہ کاٹ آئی بات کو سب کے گلوں سے ملتی تھی لیکن رکی ہوئی جوہر یہ تھا کہ بوجھ سے خود تھی جھکی ہوئی ولہ ظرف تنک میں تھی نہ جگہ اس کی آب کی بندھتی تھی اورکھلتی تھی مٹھی حباب کی دریائے خوں تھا تیغ سبک رو کی ناؤ پر پر، یوں رواں تھی جیسے کہ کشتی بہاؤ پر ولہ اللہ ری شناور شمشیر آب دار دکھلا دیے صفائی کے سب ہاتھ ایک بار تیرا وہ جوئے زخم میں گہ وار گاہ پار جوہر کا ایک بال بھی ڈوبا نہ زینہار اک وجد حر کو بھی یہ صفا دیکھ کرہوا ہاتھ اک طرف نہ تیغ کا ناخن بھی تر ہوا جس مورچے میں لیلیِ تیغ دوسر گئی چنگے بھلوں کو سایے سے دیوانہ کرگئی ہر صف نے خاک اڑائی ادھر سے ادھرگئی پھریہ نہانہا کے لہو میں نکھر گئی عالم نہ پوچھو قطرہ فشانی کے حسن کا جو بن ٹپک رہا تھا جوانی کے حسن کا آگے کبھی بڑھی کبھی پیچھے کو پھر پڑی سرپر جو لڑکھڑائی تو شانے پہ گر پڑی ولہ اٹھی گری بلند ہوئی پست ہوگئی پی پی کے مے کشوں کا لہو مست ہوگئی ولہ نیزے تنے تواس نے کہا دیکھے بھالے ہیں بحثی نہ خنجروں سے کہ گودی کے پالے ہیں برسے جو تیر سمجھی کمانوں کے نالے ہیں چمکے جو گرز بولی یہ منہ کے نوالے ہیں ننگ اپنا جان کرنہ کسی سے بگڑتی تھی ہر پھر کے آپ اپنی طبیعت سے لڑتی تھی بے جرم معرکے میں وہ خار اشگاف تھی لشکر کا خوں کیا تھا مگر پاک وصاف تھی ولہ قبضہ تو رہا دست جناب شہ دیں میں پھل جاکے لگا شاخ سرِ گادِ زمیں میں ولہ اس قہر مجسم پہ اجل نے جو نظر کی مجرا تو فقط کر لیا اور پیچھے کو سر کی غصے سے چڑھی بھوں جو ادھر تیغ دو سر کی پھرنے لگی پتلی سپر فوج عمر کی باقی تھا نہ دم خوف سے تیغیں یہ گھٹی تھیں تیغیں نہ کہو نبضیں نیاموں کی چھٹی تھیں ولہ خود رفتہ تھا ہر تیر پہ رفتار نئی تھی انگڑائی کا لینا بھی کمال بھول گئی تھی ولہ تھی راست گو وہ تیغ یہ روشن جہاں پہ تھا جتنا لہو پیا تھا وہ جاری زباں پہ تھا ولہ کٹتے تھے سر نہ تیغ امام عراق سے بت گر رہے تھے خاک پہ کعبے کے طاق سے ولہ سر کونہ وصلِ تیغ سے اصلا ًدریغ تھا کیا سب کی سرنوشت میں مصراعِ تیغ تھا ولہ رک رک کے قدم رکھتی تھی ہر سر پہ ادب سے جھک جھک کے مثال شرفا ملتی تھی سب سے ولہ جوہر کے نگہ بانوں کو بیدار جو پایا زخموں نے بھی اس تیغ کا پانی نہ چرایا ولہ ہوتی تھیں صفیں آب دم تیغ سے بے دم پانی جو کھڑے ہوکے پیو ہوتا ہے سن کم حل کرتی تھی ہر مسئلہ تیغ شہ عالم ہے خون نجس اس میں بہ آلودہ تھی ہر دم پر اس پہ نجاست کا گماں ہو نہیں سکتا یعنی کہ نجس آب رواں ہو نہیں سکتا اللہ رے دماغ اس کا کسی سر پہ نہ بیٹھی سر ایک طرف گنبد مغفر پہ نہ بیٹھی (کذا) بالائے سپر پھولوں کے بستر پہ نہ بیٹھی یہ بیٹھنا کب تھا ادھر آئی ادھر آئی جس سر پہ رکھا پاؤں زمیں پر اتر آئی اسی طرح گھوڑے کی سرعت، فوج کی ہل چل، آمد کی دھوم وغیرہ وغیرہ مضامین میں سیکڑوں، ہزاروں نئی تشبیہیں، استعارات اور باریکیاں پیدا کی ہیں۔ ہم نے اس خیال سے صرف نمونے پراکتفا کیا کہ جو شخص ایک تلوار کے متعلق اس قدر بے شمارمضامین کا مینہ برسا سکتا ہے اس کی قوت متخیلہ کی کیا حد ہوسکتی ہے۔ بلاغت یہ وہ چیز ہے جہاں انیس اور دبیر کی شاعری کی سرحدی بالکل الگ ہو جاتی ہیں۔ مرزا صاحب کی شاعری میں بالفرض گو اور تمام اوصاف پائے جاتے ہوں، لیکن بلاغت کا تو شائبہ بھی نہیں پایا جاتا۔ تم اوپر پڑھ آئے ہوکہ ہر چیزکی بلاغت الگ ہے۔ مضمون کی الگ، قصے کی الگ، قصیدے کی الگ، شعر کی الگ، لیکن مرزاصاحب کے کسی قسم کے کلام میں یہ وصف پایا نہیں جاتا۔ وہ اگر کسی واقعے کا خاکہ تیار کرتے ہیں تو اس قسم کی باتیں بیان کرتے ہیں جو خود شہادت دیتی ہیں کہ واقعہ وجود میں نہیں آسکتا تھا۔ نوحہ و غم، فخر و ادعا، طنز وتشنیع، ہجو و بدگوئی، سوال وجواب، گلہ وشکایت، غرض کسی مضمون کو وہ متقضائے حال کے موافق نہیں لکھ سکتے۔ ہم چند مثالیں نمونے کے طور پر لکھتے ہیں۔ مثال (۱) ایک مرثیے میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہات پر حضرت شہربانو کا جو نوحہ لکھا ہےاس میں لکھتے ہیں، تم جانو جہاں سے شہ عالی کو لے آؤ اکبر سے میں گزری مرے والی کو لے آؤ ’’تم جانو جہاں سے۔‘‘ اس محاورے کے ابتذال سے قطع نظر کر کے یہ امر کس قدر خلاف متقضائے حال کے ہے کہ کوئی شریف عورت یہ کہے کہ میں اپنے بیٹے سے درگزری، میرے شوہر کو جہاں سے ممکن ہو پیدا کرو۔ مثال (۲) ناگہاں بالی سکینہ نے مچل کر یہ کہا میرے کرتے کا گریباں بھی کرو چاک چچا خوب ملبوس یہ ہے پہنیں گے ہم بھی ایسا روٹھ جاؤں گی نہ مانوگے جو میرا کہنا آپ جب خیمے میں آئیں گے تو چھپ جاؤں گی پھر مجھے گود میں لوگے تو نہ میں آؤں گی روئے نادان کی تقریر پہ عباس کمال اور کہا دل سے کہ اس کا بھی کرو رد نہ سوال بے پدر ہوگی کوئی آن میں یہ نیک خصال چاک اس کا بھی گریباں کیا با حزن و ملال پیار جو آگیا بنت شہ دیں کے اوپر بو سے دے دے کے ملی خاک جبیں کے اوپر واقعہ یہ باندھا ہے کہ حضرت عباس جب میدان میں جانے لگے تو اپنے بیٹے کا گریبان چاک کر دیا کہ یتیمی کی علامت ہے۔ یہ دیکھ کر سکینہ (حضرت امام حسین علیہ السلام کی صاحب زادی) نے کہا کہ میرے کرتے کا گریبان بھی چاک کر دو، مجھ کوبھی یہ وضع اچھی معلوم ہوتی ہے۔ حضرت عباس نے اس خیال سے کہ آخر حضرت امام حسین بھی کچھ دیر میں شہید ہوں گے اورحضرت سکینہ بھی یتیم ہوجائیں گی، اس لئے ان کا گربیان بھی چاک کردیا۔ حضرت عباس کو امام علیہ السلام سے جوعشقیہ محبت تھی اور جس کا اظہار ہرجگہ مرزا صاحب نے بھی کیا ہے، اس کے لحاظ سے یہ امر نہایت خلاف عقل اور خلاف عادت ہے کہ وہ حضرت امام حسین کو قبل از وقت شہید فرض کرلیں اور اس بنا پر ان کے بچے کو یتیم فرض کر کے اس کا گریبان چاک کردیں۔ مثال (۳) یہ کہتی تھی کہ آئی قریں بنت مرتضا تسلیم کر کے بانو نے سر کوجھکا لیا زینب پکاری بیٹھو ادب میرا ہوچکا جس کی نہ بات پوچھیے تعظیم اس کی کیا سب جانتے ہیں بنت جناب امیر ہوں گھرمیں تمہارے رہتی ہوں اس سے حقیر ہوں حضرت زینب کو اس بات کی شکایت ہے کہ علی اکبر کو شہربانو نے میری بغیر اطلاع کے لڑائی میں جانے کی کیوں اجاز ت دی۔ اس بنا پر وہ حضرت شہربانو سے کہتی ہیں کہ جب میری بات نہیں پوچھی جاتی تو تعظیم سے کیا فائدہ۔ لیکن اس مقصد کے اظہار کے لئے مرزا صاحب نے جوطریقہ اختیار کیا وہ کس قدرسفیہانہ اورعامیانہ ہے۔ یہ خیال کہ چونکہ میں اپنا گھر چھوڑکر تمہارے گھر میں رہتی ہوں، اس لئے تم لوگ مجھ کوحقیر سمجھتے ہو، نہایت پست اورمبتذل خیال ہے جو ہرگز حضرت زینب کی متانت اور وقار کے شایاں نہیں۔ مثال (۴) محبوب ہوں خداے ذوی الاحترام کا نانا ہوں میں حسین علیہ السلام کا یہ شعر جناب رسول خدا کی زبان سے ادا کیا ہے، لیکن مرزا صاحب کو یہ خیال نہیں رہا کہ کیا آں حضرت بھی امام حسین علیہ السلام کا نام، علیہ السلام کہہ کر لیتے تھے! مثال (۵) یہ بات سن کے بنڑی نے گھونگھٹ الٹ دیا عباس کو حسین کو اکبر کو دی صدا صدقے میں تم پہ، یاں سے سرک جاؤ ذرا تم سب کے آگے روتے ہوئے آئے گی حیا ماتم کا ہے ہجوم دل پاش پاش پر جی بھر کے رو لے یہ بنے قاسم کی لاش پر سر کے وہاں سے اکبر وعباس و شاہ دیں لاشے کے گرد پھرنے لگی وہ دلہن حزیں زینب سے پوچھنے یہ لگی پھر وہ مہ جبیں اب اختیار دل پہ مرے مطلقاً نہیں نوشاہ ایک رات کے جوقتل ہوتے ہیں بتلاؤ اے پھوپھی! انہیں کیا کہہ کے روتے ہیں یہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ مرزا صاحب اور دیگر تمام مرثیہ گویوں نے اہل حرم کی عادات اور مراسم، ہندوستان کے شرفا کی مستورات کے مطابق فرض کیے ہیں۔ چنانچہ عروسی، شادی اورمیت کے متعلق جس قسم کے مراسم وعادات یہاں ہیں وہی تمام مرثیوں میں مذکورہیں۔ اس بنا پر حضرت کبری کا اپنے باپ، چچا اور بھائی سے یہ کہنا کہ تم لوگ یہاں سے سرک جاؤ، میں اپنے شوہر پرنوحہ کرنا چاہتی ہوں، کس قدر بے حجابی اور بے شرمی ہے۔ طرہ یہ کہ یہ بھی کہتی ہیں کہ تم سب کے آگے روتے ہوئے شرم آئے گی، لیکن یہ کہتے ہوئے شرم نہ آئی۔ مرزا صاحب نے اسی واقعے کو ایک اورمرثیے میں لکھا ہے اور وہاں تو حد کردی ہے، فرماتے ہیں، ناگاہ شہ نے لاش اٹھائی بہ صد بکا کبری نے ہاتھ باندھ کے تب شاہ سےکہا ہم کچھ کہیں جو مانیے اے شاہ کربلا احسان ہوگا لاش کو رکھ دیجئے ذرا بالیں پہ پلٹیں سر پہ ذرا خاک ڈال لیں ہم بھی کچھ اپنے دل کی تمنا نکال لیں میرانیس نے اسی واقعہ کو کس خوبی سے ادا کیا ہے، رو کر بہن سے کہنے لگے شاہ بحر و بر اس بے نصیب رانڈ کو لے آؤ لاش پر بیٹی لٹے گی یوں ہمیں اس کی نہ تھی خبر اب شرم کیا ہے دیکھ لے دولہا کو اک نظر زخمی بھی ہے شہید بھی ہے بے پدر بھی ہے دولہا ہے نام کو بھی چچا کا پسر بھی ہےاس بلاغت کو دیکھو کہ چونکہ حضرت امام حسین کا بھی یہ کہنا کہ اب شرم کیا ہے، دولہا کو دیکھ لے، ایک گونہ رسمی حیا کے خلاف تھا، اس لئے ان کی زبان سے یہ الفاظ ادا کیے کہ وہ برائے نام دولہا ہے ورنہ چچا کا بیٹا اور بھائی ہے۔ حضرت یہ کہہ کے ہٹ گئے با چشم اشک بار پیٹی یہ سر کہ غش ہوئی بانوے دل فگار چادرسپید اڑھا کے دلہن کوبہ حال زار گودی میں لائی زینب غمگین و سوگوار چلائی ماں یہ گر کے تن پاش پاش پر قاسم بنے اٹھو، دلہن آئی ہے لاش پر ہے ہے بنے قاسم کا ہوا شور جو در پر بانو نے کہا، لٹ گئی لوگو مری دختر فرزند کے لاشے سے لپٹنے لگی مادر سر پیٹتی دوڑی شہ مظلوم کی خواہر پھر کون رہے بنت علی جب نکل آئے خیمے میں دلہن رہ گئی اور سب نکل آئے مثال (۶) کہا سجاد سے کبری نے یہ اس دم رو رو بھائی صاحب! مرے دولہا کو ابھی دفن کرو تا مجاورمیں بنوں کھول کے اپنے سر کو کہا کبری سے یہ سجاد حزیں نے کہ چلو ٹکڑے لاشوں کے بہم بادل غمناک کریں قاسم ابن حسن کو بھی تہ خاک کریں ایک رات کی بیاہی ہوئی عورت کا اپنے بھائی سے یہ کہنا کہ میرے دولہا کوابھی دفن کرو، کس قدر خلاف عادت ہے۔ مثال (۷) حضرت سکینہ کو قید خانے میں غش آگیا ہے۔ ان کی ماں حضرت شہربانو کوخیال ہوا کہ مرگئیں، انہوں نے نوحہ شروع کیا۔ حضرت زینب ان کوسمجھاتی ہیں، اس واقعہ کو مرزا صاحب اس طرح ادا کرتے ہیں، زینب نے روکے بانو ے مغموم سے کہا بے آس ہو نہ بھابھی، غش میں یہ مہ لقا اورمرگئی تو خیر جو اللہ کی رضا اب اس کے رفع غش کی یہ اس وقت ہے دوا ہے عاشق حسین یہ پیاری حسین کی اب غل کرو کہ آئی سواری حسین کی تسکین اور تسلی دینے میں یہ کہنا کہ ’’خیر مرگئی تو کیا کروگی، جو اللہ کی رضا۔‘‘ کس قدر ناموزوں ہے اور خلاف آدمیت ہے۔ یہاں ہم نے اجمالاً صرف چند مثالیں لکھ دیں۔ اس کے بعد متحد المضمون مرثیوں کا جوعنوان ہے، اس سے تفصیلاً معلوم ہوگا کہ مرزا صاحب بلاغت کی راہوں سے کس قدر نا آشنا ہیں۔ میر انیس اور مرزا دبیر کے متحد المضمون مرثیے میر انیس اورمرزا دبیر کے موازنے کا صحیح تر اورآسان طریقہ یہ ہے کہ دونوں صاحبوں کے ہم مضمون مرثیوں کا مقابلہ کیا جائے۔ چونکہ مرثیے کا موضوع صرف چند معین واقعات ہیں، اس لئے اگرچہ دونوں صاحبوں کا انداز شاعری بالکل الگ الگ ہے، تاہم واقعات اور مضامین میں ہر جگہ اشتراک پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی نظر آتا ہے کہ دونوں حریفوں نے اکثر مرثیے اور بند اور متفرق اشعار ایک دوسرے کے مقابلے میں لکھے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض بعض بندوں میں مضمون، ردیف اور قافیے تک مشترک ہیں۔ افسوس ہے کہ ان موقعوں پر یہ پتا نہ چل سکا کہ ابتدا کس نے کی اور جواب کس نے لکھا، تاہم بعض بعض قرائن سے (جیسا کہ ہم دیباچے میں لکھ آئے ہیں) ثابت ہوتا ہے کہ مرزا دبیر صاحب زیادہ تر مقابلے کا قصد کرتے تھے۔ مثلا ًایک مرثیے میں میر انیس نے فخریہ کے ساتھ زمانے کی ناقدری کی شکایت کی تھی، اس کے ایک بند کی ٹیپ یہ ہے، عالم ہے مکدر کوئی دل صاف نہیں ہے اس عہد میں سب کچھ ہے پر انصاف نہیں ہے اسی بحر میں مرزا صاحب کا بھی مرثیہ ہے، اس میں بھی فخریہ ہے اور ایک بند کی ٹیپ یہ ہے، دل صاف ہو کس طرح کہ انصاف نہیں ہے انصاف ہو کس طرح کہ دل صاف نہیں ہے دونوں شعروں کو دیکھ کر ہر شخص فیصلہ کر سکتا ہے کہ کس نے کس کا جواب لکھا ہے۔ میرانیس اکثرشعروں میں مرزا دبیر پر سرقے اورخوشہ چینی کی چوٹ کرتے ہیں، مثلاً، لگا رہا ہوں مضامین نو کے پھر انبار خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو پیاسو! سبیل ہے نذر حسین کی ممکن نہیں دزدان معانی سے نجات سچ ہے کہ مگس سے کب شکر بچتی ہے بھلا تردد بے جا سے اس میں کیا حاصل اٹھا چکے ہیں زمیں دار جن زمینوں کو نوا سنجیوں نے تری اے انیس ہر اک زاغ کو خوش بیاں کردیا مضمون انیس کا نہ چربا اترا لیکن مرزا دبیر نے میر انیس پر کہیں سرقے کی تعریض نہیں کی ہے، بلکہ صرف اپنی برائت ظاہر کی ہے، مثلاً، واللہ بری ہوں سرقہ مضمون غیرسے ہے استفادہ مجھ کو احادیث و سیرسے شکر خدا کے سرقے کی حد سے بعید ہوں ہر مرثیے میں موجد طرز جدید ہوں بہرحال، کم سے کم ہم کو یہ فرض کر کے دونوں میں سے کوئی سرقے کا مجرم نہیں، صرف یہ دیکھنا چاہئے کہ اس مضمون کو کس نے خوبی سے ادا کیا ہے۔ چنانچہ ہم دونوں کے متحد المضمون مرثیے اور اشعار ذیل میں درج کرتے ہیں، پردے کا اہتمام\nانیس،بیت الشرف خاص سے نکلے شہ ابرار روتے ہوئے ڈیوڑھی پہ گئے عترت اطہار فراشوں کوعباس پکارے یہ بہ تکرار پردے کی قناتوں سے خبردار خبردار! باہر حرم آتے ہیں رسول دوسرا کے شقہ کوئی جھک جائے نہ جھونکوں سے ہوا کے لڑکا بھی جو کوٹھے پہ چڑھا ہو وہ اتر جائے آتا ہو ادھر جو وہ اسی جا پہ ٹھہر جائے ناقے پہ بھی کوئی نہ برابر سے گزر جائے دیتے رہو آواز جہاں تک نظر جائے مریم سے سوا حق نے شرف ان کو دیے ہیں افلاک پہ آنکھوں کو ملک بند کیے ہیں\nدرباں عصا اٹھا کے بڑھے جانب یسار دہنی طرف نقیب گئے باندھ کر قطار آ آکے در پہ لونڈیاں چلائیں بار بار آئے ادھر نہ اب نہ کوئی جائے ہوشیار! آواز غیرسن کے وہ اندیشہ کرتی ہے آہستہ بولو دختر زہرا اترتی ہے عفت کے جتنے مرتبے خیر النسا نے پائے وہ ماں کے بعد دختر مشکل کشا نے پائے ہاں ہاں مسافرو نہ کوئی غل مچانے پائے ناقے پہ بیٹھ کر نہ ادھر کوئی آنے پائے حسن ادب یہی ہے کہ حق کو پسند ہو وہ بیٹھ جائے جس کا کہ قامت بلند ہو دونوں بزرگوں نے عورتوں کے پردے کے اہتمام کا سماں باندھا ہے لیکن میر صاحب نے اس مضمون کو اس فصاحت و بلاغت سے ادا کیا ہے اور اس طرح واقعے کی تصویر کھینچ دی ہے کہ اس کے سامنے مرزا صاحب کے اشعار کا پیش کرنا بھی، میر صاحب کی نا قدردانی ہے۔ روانی، شستگی، خوبی محاورہ، چستی بندش کے علاوہ بلاغت کے نکتوں پرلحاظ کرو، میرصاحب نے پردے کے اہتمام اور لوگوں کے ہٹانے اور روکنے کوحضرت عباس کی طرف منسوب کیا ہے جس سے حضرت زینب کی عظمت و شان کے اظہار کے علاوہ اصلی واقعے کی مطابقت ہوتی ہے، کیونکہ تمام معزز خاندانوں میں پردے کا اہتمام، خود خاندان کے ممبر کیا کرتے ہیں۔ بہ خلاف اس کے مرزا صاحب نے یہ کام بالکل دربانوں، نقیبوں اور لونڈیوں کے سپرد کر دیا ہے، جس سے بہ ظاہر مفہوم ہوتا ہے کہ یا تو گھر میں کوئی مرد تھا ہی نہیں، یا تھا تو اس کوعورتوں کی چنداں پروا نہ تھی۔ پردے کے اہتمام میں نقیبوں کا کیا کام ہے؟ لونڈیوں کے غل مچانے سے ثابت ہوتا ہے کہ ادب و شائستگی نہیں پائی جاتی۔ ذیل کےیہ دونوں مصرعے بالکل ہم مضمون ہیں، لیکن دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے، انیس، ناقے پہ بھی کوئی نہ برابر سے گزرجائے دبیر، ناقے پہ بیٹھ کر نہ ادھر کوئی آنے پائے صغری کی آزردگی\nدبیر، صغری نے کہا صاحبو! کیا کرتے ہو گفتار اک بات پکڑ لی کہ یہ بیمار ہے بیمار شاید کہ سفر ہی میں شفا دے مجھے غفار یاں کون خبر لے گا مری یہ در و دیوار! اتنی بھی توطاقت نہیں جو اٹھ کے کھڑی ہوں اے لوگو! میں کیا آپ سے بیمار پڑی ہوں واقعہ یہ ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام تمام اہل حرم کوساتھ لیے جاتے ہیں لیکن حضرت صغری کو بیمار ہونے کی وجہ سے چھوڑے جاتے ہیں، اس پر وہ گریہ و زاری کرتی ہیں۔ حضرت امام حسین اور گھر کی عورتیں سمجھاتی ہیں کہ تم بیمار ہو، سفر کے مصائب برداشت نہیں کر سکتی ہو۔ صغری جواب دیتی ہیں۔ اسی مضمون کو میر انیس صاحب ادا کرتے ہیں، کیا خلق میں لوگو! کوئی ہوتا نہیں بیمار ہے کون سی تقصیر کہ سب ہوگئے بے زار زندہ ہوں پہ مردے کی طرح ہوگئی دشوار کیوں بھاگتے ہیں سب مجھے ہے کون سا آزار حیرت میں ہوں باعث مجھے کھلتا نہیں اس کا وہ آنکھ چرا لیتا ہے منہ تکتی ہوں جس کا مرزا صاحب نے بھی عمدگی سے اس واقعہ کو ادا کیا ہے، لیکن میر صاحب کے طرز بیان میں جو حسرت، رنج اور بے کسی ہے وہ مرزا صاحب کے ہاں نہیں۔ ’’اک بات پکڑ لی‘‘ عامیانہ اور سوقیانہ طرز گفتگو ہے۔ ٹیپ کے دونوں مصرعوں میں کوئی ربط نہیں، اور یہ کہنا کہ مجھ کواٹھنے کی بھی طاقت نہیں، صغری کی خواہش پر ناکامی کا اثر پیدا کرتا ہے، کیونکہ جب اٹھنے کی طاقت نہیں تووہ سفر کیوں کر کر سکتی ہیں۔ اسی بنا پر میر انیس نے جہاں یہ واقعہ باندھا ہے، صغری کی زبان سے یہ کہا ہے، قربان گئی اب تو بہت کم ہے نقاہت تپ کی بھی ہے شدت میں کئی روز سے خفت بستر سے میں خود اٹھ کے ٹہلتی بھی ہوں حضرت! پانی کی بھی خواہش ہے غذا کی بھی ہے رغبت حضرت کی دعا سے مجھے صحت کا یقیں ہے اب تو مرے منہ کا بھی مزہ تلخ نہیں ہے دیکھو حضرت صغری کس کس طرح سے بیماری کی تخفیف اور قریب الصحت ہونے کو ثابت کرتی ہیں۔ اصغرسے خطاب\nدبیر، پردے کو اٹھا کر یہ کہا بانو نے رو رو صدقے گئی فال ایسی تومنہ سے نہ نکالو سب جیتے ہیں بے کس نہ ابھی آپ کو سمجھو شبیر ہو دنیا ہو ترا کنبہ ہو تو ہو کب میں نے کہا یہ، نہیں اصغر ہے تمہارا لو شوق سے دیکھو، یہ برادر ہے تمہارا پھر ہاتھوں پہ اصغر کو رکھا، کر کے یہ زاری لٹکا دیے ہاتھ اس نے ہمک کر کئی باری ماں نے کہا لو گود میں یہ آتے ہیں داری اصغر کی طرف ہاتھ اٹھا کر وہ پکاری پھرجیتی ملوں یا نہ ملوں تجھ سے بلا لوں آ چھوٹے مسافر، تجھے چھاتی سے لگا لوں صغرا کا رخصت کے وقت علی اور اصغر کو حسرت اورپیار سے دیکھنا نہایت دردانگیز سماں ہے اور اکثر مرثیوں میں یہ سماں نہایت مؤثر طریقے سے دکھایا جاتا ہے لیکن مرزا صاحب ایسے درد انگیز واقعے کو بھی تاثیر کا رنگ نہ دے سکے۔ دیکھو میرصاحب اسی بات کو کس لہجے سے ادا کرتے ہیں۔ ماں بولی یہ کیا کہتی ہے صغرا! ترے قرباں گھبرا کے نہ اب تن سے نکل جائے مری جاں بے کس مری بچی! ترا اللہ نگہ باں صحت ہو تجھے، میری دعا ہے یہی ہرآں کیا بھائی جدا بہنوں سے ہوتے نہیں بیٹا! کنبے کے لیے جان کوکھوتے نہیں بیٹا! میں صدقے گئی بس نہ کرو گریہ و زاری اصغر مرا روتا ہے صدا سن کے تمہاری وہ کانپتے ہاتھوں کو اٹھا کر یہ پکاری آ آمرے ننھے سے مسافر! ترے واری چھٹتی ہے یہ بیمار بہن، جان گئے تم اصغر! مری آواز کو پہچان گئے تم تم جاتے ہو اور ساتھ بہن جا نہیں سکتی تپ ہے تمہیں چھاتی سے بھی لپٹا نہیں سکتی جو دل میں ہے لب پر وہ سخن لا نہیں سکتی رکھ لوں تمہیں اماں کو بھی سمجھا نہیں سکتی بے کس ہوں مرا کوئی مددگارنہیں ہے تم ہو سو تمہیں طاقت گفتار نہیں ہے اس واقعے کا نہایت درد انگیز پہلو، صغری کا خود اصغر سے مخاطب ہونا اور جوش محبت میں چھے مہینے کے بچے سے اپنا درد دل کہنا تھا۔ مرزا صاحب صرف یہ کہہ کر رہ گئے، آ چھوٹے مسافر! تجھے چھاتی سے لگا لوں۔ میر صاحب نے پورا درد دل کہا اورکس مؤثر طریقے سے کہا۔ مرزا صاحب کا یہ مصرع، اصغر کی طرف ہاتھ اٹھا کر وہ پکاری دبیر صاحب کے اس مصرع کے جواب میں ہے، وہ کانپتے ہاتھوں کو اٹھا کر یہ پکاری۔ لیکن دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔ میرصاحب کے ہاں ہاتھ کے ساتھ کانپنے کی قید نے کس قدر بلاغت پیدا کردی ہے۔ ذیل کے ان دونوں مصرعوں میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے، آ آمرے ننھے سے مسافر! ترے واری آچھوٹے مسافر! تجھے چھاتی سے لگالوں ’’چھوٹا مسافر‘‘ مرزا صاحب کا ایجاد ہے۔ اعلیٰ و ادنی کا مقابلہ کچھ خار مغیلاں گل تر ہو نہیں جاتا قلعی سے کچھ آئینہ قمر ہو نہیں جاتا ہر قطرہ ناچیز گہر ہو نہیں جاتا مس پر جو ملمع ہو تو زر ہو نہیں جاتا جس پاس عصا ہو، اسے موسی نہیں کہتے ہر ہاتھ کو عاقل ید بیضا نہیں کہتے میر انیس کا یہ مشہور بند ہے۔ مرزا صاحب نے اس کے جواب میں بڑی کوشش کی، مختلف بحریں اختیارکیں۔ بہت سی نئی نئی تشبیہیں ڈھونڈھیں، لیکن وہ بات پیدا نہ ہوسکی۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں، احکام یزید اور ہیں اور اپنے امور اور باطل کا نمود اورہے اورحق کا ظہور اور نمرود کی آگ اور ہے اور آتش طور اور زنبور کا غل اور ہے الحان زبور اور سمجھو توسہی تم کہ بشر کیا ہے ملک کیا بت کیا ہے، خدا کیا ہے، زمیں کیا ہے، فلک کیا ساماں سے کوئی صاحب ایماں نہیں ہوتا ہر اہل عصا موسی عمراں نہیں ہوتا پہنے جو انگوٹھی وہ سلیماں نہیں ہوتا آئینہ گر اسکندر دوراں نہیں ہوتا لاکھ اوج ہو پشے کا ہما ہو نہیں جاتا بت سجدہ کافر سے خدا ہو نہیں جاتا یہ تشبیہات کافی نہ ہوئیں توایک اورمرثیے میں بہت سی تشبیہیں جمع کیں، ہر سبز پوش خضر نہیں عز و جاہ میں سر سبز حیدری ہیں جناب الہ میں یوسف نہ ہوگا لاکھ گرے کوئی چاہ میں دن رات کا ہے فرق سفید و سیاہ میں کوئی یتیم فاطمہ سا خوش گہر نہیں ہر اک یتیم در یتیم اے عمر نہیں چاہے زرہ بنا کے جو داؤد کا وقار واللہ جعل ساز ہے کیا اس کا اعتبار ہربخیہ گر نہ ہو کبھی ادریس نام دار ہر ناخدا کو نوح کہے گا نہ ہوشیار کیا جاہلوں کے عیش کا سامان ہوگیا بیٹھا جو تخت پر وہ سلیمان ہوگیا حر کا واقعہ حر پہلے یزید کی طرف تھا، لیکن خدا نے ہدایت دی اور معرکہ جنگ شروع ہونے سے پہلے، وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی فوج میں چلا آیا۔ اس کا آنا، معانی کا خواستگار ہونا، لڑنے کی اجازت طلب کرنا، زخمی ہو کر گرنا، امام علیہ السلام کا اس کے پاس جانا، اس کا انتقال کرنا، یہ واقعات اکثرمرثیوں میں دونوں نے لکھے ہیں، لیکن ایک مرثیے میں بحر اور قافیے تک مشترک ہیں۔ ان دونوں مرثیوں کے مقابلہ کرنے سے دونوں حریفوں کے مدارج کا پورا اندازہ ہو جاتا ہے۔ مرزا دبیر، کہہ کہ یہ گھوڑوں پہ غازی ہوئے دونوں سوار پہنچے نزدیک شہ دیں تو پکارا احرار اور چلے شاہ کی جانب کو بڑھا کر رہوار بخش دے جرم شہنشاہ نجف کے دل دار روئے الطاف کو ہم سے نہ پھرانا آقا! نہیں اس در کے سوا کوئی ٹھکانا آقا! میرانیس، ذکر یہ تھا کہ صدا دور سے آئی اک بار مجرم ایسا ہوں کہ عصیاں کا نہیں جس کے شمار الغیاث اے جگر و جان رسول مختار عفو کر عفو کر، اے چشمہ فیض غفار پار دریائے خطا سے مری کشتی ہو جائے دوزخی بھی ترے صدقے میں بہشتی ہو جائے مرزا دبیر، واسطہ احمد و زہرا و حسن کا اے شاہ! بخش دو، عفو کرو، بندہ عاصی کا گناہ نذر سر لایا ہوں مقبول ہو اے عرش پناہ اور بتاؤ مرے بیٹے کوبھی فردوس کی راہ حر عوض آپ کے مقتول جفا ہوئے گا اوراکبر پہ مرا لال فدا ہوئے گا میرانیس، کئی روزوں سے تلاطم میں ہوں اے شاہنشاہ! مدد اے نوح غریباں میرا بیڑا ہے تباہ دست و پا گم ہیں کچھ ایسے کہ نہیں سوجھتی راہ شور کرتا ہوں کہ بتلائے کوئی جائے پناہ ’’ابر رحمت کی طرف جا‘‘ یہ صدا دیتے ہیں سب ترے دامن دولت کا پتا دیتے ہیں مرزا دبیر، پیشوائی کو چلے حر کی شہنشاہ زمن ہاتھ کھولے پسر عقدہ کشا نے فوراً کانپ کر پائے مبارک پہ جھکا سر افگن سر اٹھا کر کیا سرور نے یہ بھائی سے سخن گو سر حرپہ ہے خالق کے کرم کا سایہ آن کر تم بھی کرو اس پہ علم کا سایہ انیس، استغاثہ یہ کیا حر نے جو بادیدہ نم جوش میں آ گیا اللہ کا دریائے کرم خود بڑھے ہاتھوں کو پھیلا کے شہنشاہ امم حر کو یہ ہاتف غیبی نے صدا دی اس دم شکر کر سبط رسول الثقلین آتے ہیں اے برادر! ترے لینے کو حسین آتے ہیں حر نے دیکھا کہ چلے آتے ہیں پیدل شبیر دوڑ کر چوم لیے پائے شہ عرش سر یر شہ نے چھاتی سے لگاکر کہا اے با توقیر میں نے بخشی مرے اللہ نے بخشی تقصیر میں رضامند ہوں کس واسطے مضطر ہے تو مجھ کو عباس دلاور کے برابر ہے تو دبیر، حر نے فرزند پیمبر سے یہ اس وقت کہا سایہ دامن رایت تو ہے ظل طوبا آپ کی بندہ نوازی پہ فدا اے آقا رخ کیا جب سے ادھر کا یہ ہے الطاف خدا مرحبا فاطمہ زہرا مجھے فرماتی ہیں سایہ چادر کا مرے سر پہ کیے آتی ہیں انیس، حر پکارا ’’بابی انت و امی‘‘ یا شاہ قابل عفو نہ تھے بندہ آثم کے گناہ مجھ سے گم راہ کو اک آن میں مل جائے یہ راہ! سب ہے صدقہ انہی قدموں کا خدا ہے آگاہ مہر ذرے پہ جوہو نیر تاباں ہو جائے آپ جس مور کو چاہیں وہ سلیماں ہو جائے دبیر، عرض کی پھر شہ والا سے بہ جوش رقت کرتے ہیں دشمن دیں جنگ پہ اس دم سبقت عفو تقصیر ہوئی اب ہو عنایت رخصت دیکھنے کی نہیں بندے میں ذرا اب طاقت گر رضا پائے تو سر اپنا کٹائے فدوی زخم شمشیر و سناں سینے پہ کھائے فدوی انیس، لائے اس عزت و حرمت سے جو مہماں کو امام بولے عباس کمر کھول اب اے نیک انجام شہ نے فرمایا، مناسب ہے کوئی دم آرام عرض کی حر نے کمر خلد میں کھولے گا غلام فاتحہ پڑھ کے یہ شمشیر و سپر باندھی ہے آج اس عزم پہ خادم نے کمر باندھی ہے ہے بہت شمر و عمر سے مجھے لڑنے کی امنگ ایک ہی وار میں دونوں کو کروں گا چورنگ لشکر شام سے پیہم چلےآتے ہیں خدنگ شاہ زادوں کی سپر ہوں کہ عبادت ہے یہ جنگ کہیں ایسا نہ ہو بچہ کوئی بے جاں ہو جائے پہلے یہ تازہ غلام آپ پہ قرباں ہوجائے دبیر، پسر حر کے معرف علی اکبر تھے کہ واہ! حر کو دیتے تھے صدا شاہ کہ سبحان اللہ! دونوں تسلیم کناں صرف وفا تھے ذی جاہ مژدہ گلشن جنت انہیں پہنچا ناگاہ دونوں یک مرتبہ بے زار ہوئے جینے سے نیزہ ظلم و ستم پار ہوئے سینے سے انیس، بڑھ کے فرماتے تھے عباس زہے عزت وجاہ! بارک اللہ کی دیتا تھا صدا دل برشاہ! کہتے تھے ابن حسن واہ حر غازی واہ! شاہ ہر ضرب پہ فرماتے تھے سبحان اللہ اپنی جاں بازی کا غازی جو صلہ پاتا تھا مسکراتا ہوا تسلیم کو جھک جاتا تھا دبیر، اس گھڑی فاطمہ کے لال سے حر نے یہ کہا آپ کے صدقے سے یہ رتبہ ہوا خادم کا شبیر حق میرے سرہانے ہیں کھڑے اے مولا! جام کوثر لیے کہتے بہ صد لطف وعطا لے اسے پی کہ بہت تشنہ دہن ہے اے حر! جلد آ دیکھ یہ جنت کا چمن ہے اے حر! ان سے میں عرض کرتا ہوں کہ اے شاہ زماں پسر فاطمہ پیاسا ہے مجھے پیاس کہاں صبح سے جھولے میں بے ہوش ہے اصغر ناداں تشنہ لب ہے کئی دن سے علی اکبر ساجواں پیاسا ہوں اس پہ بھی پانی نہ پیوں گا مولا! جام کوثر نہ بن آقا کے پیوں گا مولا! انیس، نیم وا چشم سے حر نے رخ مولا دیکھا زیر سر زانو ے شبیر کا تکیا دیکھا مسکرا کر طرف عالم بالا دیکھا شہ نے فرمایا کہ اے حر جری! کیا دیکھا عر ض کی حسن رخ حور نظر آتا ہے فرش سے عرش تلک نور نظر آتا ہے مجھ کو لینے چلے آتے ہیں فرشتے یا شاہ! ملک الموت بھی کرتا ہے محبت کی نگاہ خلد سے شیر خدا نکلے ہیں اللہ اللہ! لو برآمد ہوئے شبر بھی پدر کے ہم راہ ننگے سر احمد مختار کی پیاری آئی دیکھیے آپ کے نانا کی سواری آئی دبیر، مڑ کے عباس دلاور کو پکارے سرور روک لو تم کہ سکینہ چلی آتی ہے ادھر گئے عباس ادھر یاں ہوا برپا محشر حر بھی فرزند بھی حر کا ہوا گویا رو کر غش پہ غش تشنہ دہانی کے سبب آتے ہیں الفراق! اب چمن خلد کو ہم جاتے ہیں انیس، قبلہ رو کیجے لاشہ مرا اے قبلہ دیں پڑھیے یٰسین کہ اب ہے یہ دم باز پسیں کوچ نزدیک ہے اے بادشہ عرش نشیں لیجے تن سے نکلتی ہے مری جان حزیں بات بھی اب تو زباں سے نہیں کی جاتی ہے کچھ اڑھا دیجے مولا مجھے نیند آتی ہے کہہ کہ یہ گود میں شبیر کی لی انگرائی آیا ماتھے پہ عرق چہرے پہ زردی چھائی شہ نے فرمایا ہمیں چھوڑچلے کیوں بھائی! چل بسے حر جری، پھر نہ کچھ آواز آئی طائر روح نے پرواز کی طوبا کی طرف پتلیاں رہ گئیں پھر کرشہ والا کی طرف میر انیس کے اشعار میں بلاغت کی جو باریکیاں اور دقائق ہیں، ان سے ہم اس موقع پربحث نہیں کرتے، یہاں صرف یہ دکھانا ہے کہ حسن بندش سے کلام میں کس قدر صفائی، برجستگی اور زور پیدا ہو جاتا ہے۔ قیدخانے کے واقعات قیدخانے کا حال اور ہند کے آنے کا واقعہ دونوں نے لکھا ہے، اورایک بحر میں لکھا ہے۔ میر انیس کا مطلع ہے، جب قیدیوں کو خانہ زنداں میں شب ہوئی۔ اور مرزا صاحب کا مطلع ہے، جب قیدیوں کو راہ میں ماہ صفر ہوا۔ میرانیس نے تفصیلی حالات نہایت مؤثر پیرایے میں لکھے ہیں۔ مرزا صاحب کے ہاں صرف ۳۶ بند ہیں، لیکن بعض مضامین مشتر ک ہیں، وہ ملاحظہ ہوں، دبیر، راوی نے حال خانہ زنداں ہے یوں لکھا وحشت میں مثل قبر اور آفت میں کربلا آئی جو شب اسیروں کو صدمہ بڑا ہوا نہ فرش تھا نہ سایہ تھا نہ پانی نہ غذا شمعوں کی روشنی نہ چراغوں کی روشنی بس ماتم حسین کے داغوں کی روشنی انیس، کیجے شکستگی خرابہ کا کیا بیاں ثابت نہ جس میں سقف نہ در اور نہ سائباں وحشت کا گھر ہراس کی جا خوف کا مکاں وہ شب کہ الحذر وہ اندھیرا کہ الاماں! ظلمت سرائے گور تھی زنداں کا گھرنہ تھا حجرے یہ تنگ تھے کہ ہوا کا گزر نہ تھا دبیر، ناگاہ مشعلوں کی ہوئی روشنی نمود اورغل ہوا کہ ہند کا زنداں میں ہے ورود زینب کے دل پہ صدمہ سبھوں سے ہوا فزود غربت سے کانپنے لگی وہ خاصہ ودود سر زانوؤں کے بیچ میں شرما کے دھرلیا اوربیڑیوں کو خاک میں پوشیدہ کرلیا بچوں سے پھر یہ بولی وہ آفت کی مبتلا اب نام لیجیو نہ مرا تم پہ میں فدا ناگاہ آئی قیدیوں میں ہند با وفا زنجیر پہنے دیکھ کے عابد کو دی ندا بیداد اہل ظلم سے یا رب دہائی ہے! اس ناتواں کو آہ یہ بیڑی پنہائی ہے! انیس، نکلی محل سرا سے یہ کہہ کر وہ خوش سیر تھیں ساتھ ساتھ چند خواصیں بھی نوحہ گر پہنچی جناب حضرت زینب کو یہ خبر رنگ اڑ گیا یہ کہنے لگیں سر کو پیٹ کر اپنا نہیں خیال بزرگوں کا پاس ہے ہے ہے کہاں چھپوں وہ مری روشناس ہے ہے شرم کی جگہ کہ میں ہوں خواہر امام غمگین و سوگوار و پریشان و تشنہ کام ہم ہیں فقیر ہم میں امیروں کا کیا ہے کام لوگو بتا نہ دیجو کہیں اس کو میرا نام پوچھے جو وہ کسی سے کہ زینب کدھر گئی کہہ دیجیو کہ بھائی کے ہم راہ مرگئی دبیر، زینب کو بھی سکوت کا یارانہ پھر رہا بولی نہ ان سے پوچھ یہ زینب کا ماجرا کیا جانیے کہ بعد حسین اس پہ کیا ہوا قدموں پہ ہند گر پڑی پہچان کر صدا رو کر کہا قسم مجھے رب قدیر کی زینب تمہی ہو بیٹی جناب امیر کی انیس، یہ سن کے ہند رونے لگی تب بہ اشک و آہ پھر مڑ کے روے حضرت زینب پہ کی نگاہ منہ سے ہٹائے بال تو حالت ہوئی تباہ بے ساختہ کہا کہ زہے قدرت الہ! ہرگز غلط نہیں جو مجھے اشتباہ ہے زینب تمہیں ہو، خالق اکبر گواہ ہے میر انیس اور مرزا دبیر کے موازنہ میں عموماً میر انیس کی ترجیح ثابت ہوگی، لیکن ہر کلیے میں مستثنیٰ ہوتا ہے۔ بعض مو قعوں پر مرزا دبیر صاحب نے جس بلاغت سے مضمون کو ادا کیا ہے، میر انیس سے نہیں ہوسکا۔ چنانچہ ذیل کی مثال سے اس کی تصدیق ہوگی۔ حضرت علی اصغر کے لئے پانی مانگنا واقعات کربلا میں یہ واقعہ نہایت درد انگیز ہے کہ تمام اعزہ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے شش ماہہ بچے (علی اصغر) کو دشمنوں کے سامنے لے جا کر اس بات کے ملتجی ہوئے کہ یہ بچہ پیاس سے مرتا ہے، اس کے گلے میں پانی کی ایک بوند ٹپکا دو۔اس واقعہ کو میر ضمیر سے لے کر آج تک نئے نئے مؤثر پیرایوں میں ادا کیا جاتا ہے۔ میر انیس صاحب نے مختلف مرثیوں میں یہ واقعہ لکھا ہے اور ہر جگہ نیا پہلو اختیار کیا ہے۔ ایک مرثیے میں جو سب سے بہتر ہے، فرماتے ہیں، بولے دکھا کے بچے کو شاہ فلک سریر مرتا ہے پیاس سے یہ مرا کودک صغیر پانی ملا ہے کل سے، نہ ممکن ہوا ہے شیر للہ اس غریب پہ کر رحم اے امیر! مہماں ہے کوئی آن کا ہونٹوں پہ جان ہے اس کا قصور کیا ہے یہ بے زبان ہے برپا ہے اہل بیت محمدؐ میں شور وشین در پر پھپھی بلکتی ہے ماں کر رہی بین آنکھیں پھرائے دیتا ہے اب تویہ نور عین لایا ہے اس عطش میں ترے پاس اب حسین تجھ کو قسم ہے روح رسالت مآب کی ٹپکا دے اس کے حلق میں اک بوند آب کی لیکن مرزا دبیر نے اس واقعے کے بیان میں جو بلاغت صرف کی ہے اور جو درد انگیز سماں دکھایا ہے، کسی سے آج تک نہ ہو سکا، فرماتے ہیں، دبیر،ہر اک قدم پہ سوچتے تھے سبط مصطفا لے تو چلا ہوں فوج عمر سے کہوں گا کیا نہ مانگنا ہی آتا ہے مجھ کو نہ التجا منت بھی گر کروں گا توکیا دیں گے وہ بھلا پانی کے واسطے نہ سنیں گے عدو مری پیاسے کی جان جائے گی اور آبرو مری پہنچے قریب فوج تو گھبرا کے رہ گئے چاہا کریں سوال پہ شرما کے رہ گئے غیرت سے رنگ فق ہوا تھرا کے رہ گئے چادر پسر کے چہرے سے سرکا کے رہ گئے آنکھیں جھکا کے بولے کہ یہ ہم کو لائے ہیں اصغرتمہارے پاس غرض لے کے آئے ہیں گر میں بہ قول عمر و شمر ہوں گناہگار یہ تو نہیں کسی کے بھی آگے قصور وار شش ماہہ بے زبان نبی زادہ شیرخوار ہفتم سے سب کے ساتھ پیاسا ہے بے قرار سن ہے جو کم تو پیاس کا صدمہ زیادہ ہے مظلوم خود ہے اور یہ مظلوم زادہ ہے یہ کون بے زباں ہے تمہیں کچھ خیال ہے درنجف ہے بانوے بے کس کا لال ہے لو مان لو تمہیں قسم ذوالجلال ہے یثرب کے شاہ زادے کا پہلا سوال ہے پوتا علی کا تم سے طلب گار آب ہے دے دو کہ اس میں نام وری ہے ثواب ہے پھر ہونٹ بے زبان کے چومے جھکا کے سر رو کر کہا، جو کہنا تھا وہ کہہ چکا پدر باقی رہی نہ بات کوئی اے مرے پسر سوکھی زبان تم بھی دکھا دو نکال کر پھیری زباں لبوں پہ جو اس نورعین نے تھرا کے آسمان کو دیکھا حسین نے اسلوب بیان کی بلاغت کو دیکھو، امام علیہ السلام اصغر کو لے کر پانی مانگنے کو نکلے تو سہی، لیکن غیرت کے اقتضا سے ہر قدم پر ٹھہر جاتے ہیں کہ سوال کیوں کر کروں، اور کروں بھی تو نتیجہ کیا ہوگا۔ پھر فوج کے قریب پہنچ کر سوال کرتے ہوئے شرمانا، تھرا کے رہ جانا اور سب سے بڑھ کر بچے کے چہرے سے چادر سرکا کے رہ جانا، کس قدر قیامت انگیز سماں ہے۔ پھر سوال بھی کرتے ہیں تو علی اصغر پررکھ کر، اصغر تمہارے پاس غرض لے کے آئے ہیں۔ واجب الرحم ہونے کی وجہیں کس قدر لاجواب ہیں اور سب ایک ہی مصرع میں ادا ہوگئی ہیں، یعنی شش ماہہ ہے، بے زبان ہے، نبی زادہ ہے، شیرخوار ہے۔ ان سب پر قیامت یہ کہہ کر جب سب کچھ کہہ چکے تو بچہ کی زبان حال سے بھی کہلوایا اور بچے نے کہہ بھی دیا۔ کیونکہ بچہ پیاس کی شدت سے لبوں پر زبان پھیرا کرتا تھا، اب بھی اس نے ایسا ہی کیا تو یہ زبان حال سے کہنا تھا۔ متحد المضمون اشعار اس قسم کے اشعاربعض تو بالکل ہم مضمون ہیں، بعض اس قسم کے ہیں کہ ایک نے ایک خیال کو ادا کیا تھا، دوسرے نے اس کو ترقی دینا چاہا۔ بعض ایسے ہیں کہ صرف اصل واقعہ مشترک ہے اور دونوں کی طرز ادا الگ الگ ہے۔ چنانچہ ہم ہرقسم کی متعدد مثالیں نقل کرتے ہیں۔ دبیر، مثل تنور گرم تھا پانی میں ہر حباب ہوتی تھیں سیخ موج پہ مرغابیاں کباب انیس، پانی تھا آگ گرمی روز حساب تھی ماہی جو سیخ موج تک آئی کباب تھی یہ مضمون دونوں کے ہاں مشترک ہے کہ گرمی کی شدت یہ تھی کہ موج، سیخ بن گئی تھی اور جب کوئی جانور اس کے پاس جاتا تھا تو جل کر کباب ہو جاتا تھا۔ بندش اور الفاظ کی نشست میں جو فرق ہے وہ خود ظاہر ہے۔ لیکن معنوی حیثیت سے بھی میر انیس کا شعر بڑھا ہوا ہے۔ میر انیس صاحب کے ہاں گرمی کا مبالغہ، جو شعر کی جان ہے، زیادہ پایا جاتا ہے۔ یعنی یہ کہ مچھلی سیخ موج تک آنے کے ساتھ فورا ًکباب ہوجاتی تھی۔ مرزا صاحب کے ہاں یہ بات نہیں پائی جاتی۔ وہ کہتے ہیں کہ موج کی سیخ پر مرغابیوں کا کباب لگایا جاتا تھا، اس سے فوراً کباب ہو جانے کا خیال نہیں پیدا ہوتا۔ دبیر، چاہوں توبیٹھے بیٹھے اک انگلی سے زین پر گردوں کی ڈھال چیر کے رکھ دوں زمین پر انیس، طاقت اگر دکھاؤں رسالت مآبؐ کی رکھ دوں زمیں پہ چیر کے ڈھال آفتاب کی مرزا صاحب کے شعر کا پہلا مصرع نہایت بد ترکیب ہے، اس کے علاوہ ایک انگلی سے چیرنا نہیں ہوتا بلکہ کھونچا دینا ہوتا ہے۔ ڈھال کی تشبیہ آفتاب سے بہ نسبت آسمان کے زیادہ موزوں ہے۔ دبیر، دہشت سے جواں بھاگتے تھے تیر کی مانند تھا نیزوں کو رعشہ قدم پیر کی مانند انیس، چلنے میں نیزے کانپتے تھے مثل پائے پیر میرصاحب کا مصرع زیادہ فصیح اور صاف ہے۔ ان الفاظ سے ’’کانپتے تھے‘‘ جو تصویر خیال میں کھنچ جاتی ہے، وہ رعشے کے لفظ سے پیدا نہیں ہوتی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جب تک چلنے کی قید نہ مذکور ہو، پوری تشبیہ نہیں ہوتی۔ کیونکہ بوڑھے آدمی کے پاؤں چلنے ہی کی حالت میں کانپتے ہیں۔ اس کے ساتھ چونکہ چلنے کا اطلاق پاؤں اورنیزہ دونوں پر ہوتا ہے، اس لئے یہ لفظ اس موقع پر نہایت موزوں ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ کہ نیزہ چلانے کی حالت میں نیزے کو لچک ہوتی ہے، اس لئے اس کو کانپنے سے تعبیر کر سکتے ہیں اوراس لحاظ سے یہ کہنا کہ نیزہ چلنے کی حالت میں خوف سے کانپتا تھا، نہایت لطیف حسن التعلیل ہے۔ بہ خلاف اس کے مرزا صاحب نے چونکہ نیزے کی جنبش اور حرکت کا ذکرنہیں کیا، اس لئے رعشے کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ دبیر، چلائے ہاتھ مل کے جلاجل کہ الاماں انیس، ہوگیا جوڑ کے ہاتھوں کو جلاجل خاموش۔ جلاجل کے دونوں حصے جو بجانے میں مل جاتے ہیں، اس کی تعبیر دونوں بزرگوں نے دوطرح پر کی ہے۔ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ جلاجل چلا کر الامان کہتا تھا اور ہاتھ ملتا تھا۔ لیکن چلانے کو ہاتھ ملنے سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے گو تشبیہ صحیح ہے لیکن ہاتھ ملنے کی کوئی توجیہہ نہیں ہوسکتی۔ میرصاحب کہتے ہیں کہ حضرت امام حسین کا رعب اس قدر غالب ہوا کہ جلاجل ہاتھ جوڑکے چپ ہوگیا۔ رعب اور خوف کی حالت میں ہاتھ جوڑنا اکثر ہوتا ہے اور چونکہ جلاجل کے دونوں حصے جب مل جاتے ہیں توپھرجب تک جدا نہ ہوں، آواز نہیں دے سکتے، اس لئے یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ وہ ہاتھ جوڑ کر چپ ہوگیا۔ دبیر، یوں جسم رعشہ دار سے جانیں ہوئیں رواں جیسے مکاں سے زلزلے میں صاحب مکاں انیس، یوں روح کے طائر تن و سر چھوڑ کے بھاگے جیسے کوئی بھونچال میں گھر چھوڑ کے بھاگے اصل مضمون یہ ہے کہ روحیں جسم سے اس طرح بھاگ گئیں جس طرح بھونچال میں کوئی گھر چھوڑ کے بھاگ جاتا ہے۔ لیکن بندش کی صفائی اور برجستگی نے میر انیس صاحب کے مضمون کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ اس کے علاوہ صاحب مکاں کی تخصیص بالکل بے کار ہے۔ زلزلہ جب آتا ہے تو صاحب مکاں کی کوئی تخصیص نہیں، ہر شخص مکان چھوڑ کے بھاگ جاتا ہے۔ جسم رعشہ دار کی ترکیب نامانوس ہے اور اس قید سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ صرف ان لوگوں کی روحیں نکلیں جن کے جسم رعشہ دار تھے۔ میر صاحب کا پہلا مصرع بھی کچھ اچھا نہیں، سرکار لفظ بالکل حشو بلکہ موقع کے لحاظ سے غلط ہے، روح سر میں نہیں رہتی اور نہ سر سے اس کو کوئی خصوصیت ہے۔ دبیر، وہ رخش پہ یا دیو تھا سوار پری پر غل رن میں اٹھا کوہ چڑھا کبک دری پر کس قدر بے ہودہ تشبیہ ہے۔ دشمن کو کوہ اور گھوڑے کو کبک دری کہنا، مضائقہ نہیں، لیکن کوہ کا کبک دری پرچڑھنا کس قدر مہمل ہے۔ میر انیس صاحب نے بھی یہی مضمون یعنی دشمن کا گھوڑے پر سوار ہونا متعدد موقعوں پر باندھا ہے اور کس خوبی سے باندھا ہے، ع، گھوڑے پہ تھا شقی کہ پہاڑی پہ دیو تھا ع، گھوڑے پہ تھا شقی کہ ہوا پر پہاڑ تھا دبیر، رن میں جو گھرا ابر غلیظ اہل سقر کا بجلی سا کڑکنے لگا کڑکیت عمر کا (ایضاً) گرد عباس کے کثرت تھی ستم گاروں کی منہ تو تیروں کا تھا اور برق تھی تلواروں کی پہلے شعر کا یہ مطلب ہے کہ دشمن جواہل سقر تھے ان کی صفوں کا دل ابر غلیظ تھا، اوراس ابر میں کڑکیت کا کڑکنا،بجلی کا کام دیتا تھا۔ دوسرے شعر کا مطلب ظاہر ہے۔ اسی مضمون کو میر انیس صاحب نے باندھا ہے، اک گھٹا چھا گئی ڈھالوں سے ستم گاروں کی برق ہرصف میں چمکنے لگی تلواروں کی مرزا صاحب کا پہلا شعر تو بالکل بھدا اور بدترکیب ہے۔ دوسرا ذرا صاف ہے لیکن میر انیس صاحب کے شعر سے اس کو بھی کچھ نسبت نہیں ہے۔ صفائی اور برجستگی کے علاوہ ’’چمکنے لگی‘‘ کے جملہ فعلیہ نے جو حالت پیدا کی وہ ’’برق تھی‘‘ سے کہاں پیدا ہو سکتی ہے۔ انیس، عالم ہے کہ مکدر، کوئی دل صاف نہیں ہے اس عہد میں سب کچھ ہے پر انصاف نہیں ہے دبیر، دل صاف ہو کس طرح کہ انصاف نہیں ہے انصاف ہو کس طرح کہ دل صاف نہیں ہے انصاف سے دیکھو، مرزا صاحب نے، میر صاحب ہی کے لفظوں کو الٹ پلٹ کیا ہے، لیکن کس بری طرح سے کہ محض لفظی گورکھ دھندہ رہ گیا ہے۔ دبیر، کس نے نہ دی انگوٹھی رکوع و سجود میں انیس، سائل کو کس نے دی ہے انگوٹھی نماز میں دونوں مصرعوں کی شستگی، برجستگی اور صفائی میں جو فرق ہے وہ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے۔ دبیر، کس آب و تاب سے یہ سر فوج پر گئی پانی کا گھونٹ بن کے گلے سے اتر گئی انیس، سب نشہ غرور جوانی اتر گیا تلوار تھی کہ حلق سے پانی اتر گیا ان دونوں شعروں کا فرق بھی ظاہر ہے۔ دبیر، یوں متصل رسن سے بندھے تھے وہ دل فگار رشتے میں جیسے دانہ تسبیح آب دار اہل حرم جو ایک ہی رسی میں قید کیے گئے ان کو تسبیح کے دانے اور رشتہ تسبیح سے تشبیہ دی ہے اوریہ تشبیہ بجائے خود بری نہیں لیکن میرصاحب کی تشبیہ دیکھو، گردنیں بارہ اسیروں کی ہیں اور ایک رسن جس طرح رشتہ گل دستہ میں گل ہائے چمن تشبیہ کی لطافت اور نزاکت کے علاوہ اصل تشبیہ میں کس قدر فرق ہے، وہ ظاہر ہے۔ اس کے علاوہ مرزا صاحب کے ہاں ’’آبدار‘‘ کا لفظ محض بے کار ہے۔ دبیر، بے جرم معرکے میں وہ خارا شگاف تھی لشکر کا خوں کیا تھا مگر پاک صاف تھی مرزا صاحب نے اس مضمون کو نہایت خوبی اور صفائی سے ادا کیا ہے۔ میر انیس صاحب نے اس مضمون کو کئی طرح سے پلٹا، لیکن انصاف یہ ہے کہ وہ بات نصیب نہ ہوئی، میر صاحب کہتے ہیں، انیس، اب سب کے بعدمنہ کو جو دیکھا تو صاف تھا۔ ایضاً، جو چاہے دیکھ لے مرا منہ پاک صاف ہے انیس، دم میں نہ وہ غرور، نہ وہ خود سری رہی مجرم وہی رہا، یہ خطا سے بری رہی مرزا دبیر، روکش خدا کی فوج سے چھوٹے بڑے ہوئے سجادے سے امام زمن اٹھ کھڑے ہوئے میر انیس، تیار جان دینے پہ چھوٹے بڑے ہوئے تلواریں ٹیک ٹیک کے سب اٹھ کھڑے ہوئے دبیر، روشن پدر کا زور ہے دنیا و دین پر ششدر تھے جبرئیل کٹے جب کہ تین پر انیس، خیبرمیں کیا گزر گئی روح الامین پر کاٹے ہیں کس کی تیغ دو پیکر نے تین پر دبیر، بندھتی تھی اور کھلتی تھی مٹھی حباب کی انیس، کھلتی تھیں اور جھپکتی تھیں آنکھیں حباب کیحاشیہ (۱) اس کے مقابلے میں میر انیس کی صبح دیکھو۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%B3_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B1%D8%B2%D8%A7_%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%88%D8%A7%D8%B2%D9%86%DB%81"} {"title": "میر مجلس رنداں آج وہ شرابی ہے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میر مجلس رنداں آج وہ شرابی ہے\nخون دل جسے میرا بادۂ گلابی ہے\n\nدل کو سخت بیتابی چشم کو بے خوابی ہے\nہجر میں ترے ظالم یہ یہ کچھ خرابی ہے\n\nعیش چاہئے جو کچھ سو تو آج ہے موجود\nجام و مے ہے ساقی ہے سیر ماہتابی ہے\n\nصبح ہونے دے ٹک تو رات ہے ابھی باقی\nتجھ کو گھر کے جانے کی ایسی کیا شتابی ہے\n\nہم ہیں اور تم ہو یاں غیر تو نہیں کوئی\nآ گلے سے لگ جاؤ وقت بے حجابی ہے\n\nتیرے اے پری پیکر سینے پر نہیں پستاں\nطاق حسن پر گویا شیشۂ حبابی ہے\n\nکیوں نہ بزم میں بیدارؔ ہووے قابل تحسیں\nہر یک اس غزل کے بیچ شعر انتخابی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3_%D8%B1%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D8%AC_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئے\nشمع تاباں نہ سہی جلتا ہوا دل تو ہوئے\n\nنہ سہی خاک کے پتلوں میں صفات ملکی\nبارے اس بار وفا کے متحمل تو ہوئے\n\nحوصلے دل کے محبت میں جو پستے ہی رہے\nکر کے ہمت ترے غمزوں کے مقابل تو ہوئے\n\nپرشس غم زدگاں بہر تفنن ہی سہی\nخیر سے آپ بھی اس بزم میں شامل تو ہوئے\n\nبے اثر آہ سے بھی اتنی تسلی ہے ضرور\nمنہ تکا کرتے تھے جو وہ کسی قابل تو ہوئے\n\nآن رکھ لی تری شمشیر ادا کی یوں بھی\nجن کو مرنا نہیں آتا تھا وہ بسمل تو ہوئے\n\nسند صبر سہی پاک دلوں کے ناسور\nایسے مقتول بھی اک طرح کے قاتل تو ہوئے\n\nرشک دشمن کی تلافی کو یہ پہلو نہیں کم\nغم جانکاہ محبت کے وہ قاتل تو ہوئے\n\nخود سے دکھ مول لیں یہ کام کچھ آسان نہ تھا\nکھا کے اک چوٹ مزے درد کے حاصل تو ہوئے\n\nخود کشی میں تو خلل آرزوؔ آیا لیکن\nہاتھ ان کے مری گردن میں حمائل تو ہوئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D9%85%D8%A6_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "میر کی شاعری", "poet_page": "مصنف:وحید الدین سلیم", "kind": "poetry", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "میں وہ پژمردہ سبزہ ہوں کہ ہوکر خاک سے سرزد\nیکایک آ گیا اس آسماں کی پائمالی میں\n\nیاروئے یار لایا، اپنی تو یوں ہی گزری\nکیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا\n\nمرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں\nتمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا\n\nہماری تو گزری اسی طور عمر\nیہی نالہ کرنا یہی زاریاں\n\nحاصل کوئی امید ہوئی ہو تو میں کہوں\nخون ہی ہوا کیے ہیں میرے دل میں سارے چاہ\n\nکیسا چمن کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے\nچاک قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا\n\nمت رنجہ کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد\nدل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا\n\nمعیشت ہم فقیروں جیسی اخوان زماں سے کر\nکوئی گالی بھی دے تو کہہ بھلا بھائی بھلا ہوگا\n\nبسانِ خاک ہو پامال راہ خلق اے میر\nرکھے ہے دل میں اگر قصد سرفرازی کا\n\nواں جہاں خاک کے برابر ہے\nقدر ہفت آسمانِ ظلم شعار\n\nیہی درخواست پاس دل کی ہے\nنہیں روزہ نمازواں درکار\n\nدرمسجد پہ حلقہ زن ہو تم\nکہ رہو بیٹھ خانہ خمار\n\nجی میں آوے سو کیجیو پیارے\nایک ہو جو نہ درپے آزار\n\nعرش پر بیٹھتا ہے کہتے ہیں\nگر اٹھے ہے غبار خاطر مور\n\nبارے دنیا میں رہو غم زدہ یاشادر ہو\nایسا کچھ کرکے چلو تم کہ بہت یاد رہو\n\nہر دم قدم کو اپنے رکھ احتیاط سے یاں\nیہ کارگاہ سازی دکان شیشہ گر ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C"} {"title": "میرؔ", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "شاہد بزم سخن ناظورۂ معنی طراز\nاے خدائے ریختہ پیغمبر سوز و گداز\nیوسف ملک معانی پیر کنعان سخن\nہے تری ہر بیت اہل درد کو بیت الحزن\nاے شہید جلوۂ معنی فقیر بے نیاز\nاس طرح کس نے کہی ہے داستان سوز و ساز\nہے ادب اردو کا نازاں جس پہ وہ ہے تیری ذات\nسر زمین شعر پر اے چشمۂ آب حیات\nتفتہ دل آشفتہ سر آتش نوا بے خویشتن\nآہ تیری سینہ سوز اور نالہ تیرا دل شکن\nختم تجھ پر ہو گیا لطف بیان عاشقی\nمرحبا اے واقف راز نہان عاشقی\nسر زمین شعر کعبہ اور تو اس کا خلیل\nشاخ طوبائے سخن پر ہمنوائے جبرئیل\nجوش استغنا ترا تیرے لیے وجہ نشاط\nشان خودداری تری آئینہ دار احتیاط\nبزم سے گزرا کمال فقر دکھلاتا ہوا\nتاج شاہی پائے استغنا سے ٹھکراتا ہوا\nتھا دماغ و دل میں صہبائے قناعت کا سرور\nتھی جواب سطوت شاہی تری طبع غیور\nموجۂ بحر قناعت تیری ابرو کی شکن\nتخت شاہی پر حصیر فقر تیرا خندہ زن\nتھا یہ جوہر تیری فطری شاعری کے رتبہ داں\nعزت فن تھی تری نازک مزاجی میں نہاں\nملتفت کرتا تجھے کیا اغنیا کا کر و فر\nتھا تری رگ رگ میں درویشوں کی صحبت کا اثر\nدل ترا زخموں سے بزم عاشقی میں چور ہے\nجس سخن کو دیکھیے رستا ہوا ناسور ہے\nبزم گاہ حسن میں اک پرتو فیض جمال\nصید گاہ عشق میں ہے ایک صید خستہ حال\nدیکھنا ہو گر تجھے دیکھے ترے افکار میں\nہے تری تصویر تیرے خونچکاں اشعار میں\nسیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا\nجس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا\nآسمان شعر پر چمکے ہیں سیارے بہت\nاپنی اپنی روشنی دکھلا گئے تارے بہت\nعہد گل ہے اور وہی رنگینیٔ گل زار ہے\nخاک ہند اب تک اگر دیکھو تجلی زار ہے\nاور بھی ہیں معرکے میں شہسوار یکہ تاز\nاور بھی ہیں میکدے میں ساقیان دل نواز\nہیں تو پیمانے وہی لیکن وہ مے ملتی نہیں\nنغمہ سنجوں میں کسی سے تیری لے ملتی نہیں\nصاحبان ذوق کے سینوں میں تھی جس کی کھٹک\nتیرتے ہیں دل میں وہ سر تیز نشتر آج تک\nکاروان رفتہ کو تھا تیری یکتائی پہ ناز\nعصر موجودہ نے بھی مانا ہے تیرا امتیاز\nہو گئے ہیں آج تجھ کو ایک سو بائیس سال\nتو نہیں زندہ ہے دنیا میں مگر تیرا کمال\nحق ہے ہم پر یاد کر کے تجھ کو رونا چاہئے\nماتم اپنی نا شناسی کا بھی ہونا چاہئے\nڈھونڈتے ہیں قبر کا بھی اب نشاں ملتا نہیں\nاے زمیں تجھ میں ہمارا آسماں ملتا نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94"} {"title": "میرؔ اس سے ملے کہ جو ملا بھی نہ کبھو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "میرؔ اس سے ملے کہ جو ملا بھی نہ کبھو\nجی یوں ہی گیا وہ آ پھرا بھی نہ کبھو\nچپ جس کے لیے لگ گئی ایسی ان کو\nان نے کچھ زیر لب کہا بھی نہ کبھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D9%84%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88"} {"title": "میرؔ اس کے ہوئے تھے ہم جو یار خاطر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "میرؔ اس کے ہوئے تھے ہم جو یار خاطر\nسو یاری بخت سے ہیں بار خاطر\nووں خاک میں آپ کو ملاکر اول\nآخر کو ہوئے ہیں یوں غبار خاطر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1"} {"title": "میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی\nاللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی\n\nخاطر بادیہ سے دیر میں جاوے گی کہیں\nخاک مانند بگولے کے اڑانی اس کی\n\nایک ہے عہد میں اپنے وہ پراگندہ مزاج\nاپنی آنکھوں میں نہ آیا کوئی ثانی اس کی\n\nمینہ تو بوچھار کا دیکھا ہے برستے تم نے\nاسی انداز سے تھی اشک فشانی اس کی\n\nبات کی طرز کو دیکھو تو کوئی جادو تھا\nپر ملی خاک میں کیا سحر بیانی اس کی\n\nکر کے تعویذ رکھیں اس کو بہت بھاتی ہے\nوہ نظر پاؤں پہ وہ بات دوانی اس کی\n\nاس کا وہ عجز تمہارا یہ غرور خوبی\nمنتیں ان نے بہت کیں پہ نہ مانی اس کی\n\nکچھ لکھا ہے تجھے ہر برگ پہ اے رشک بہار\nرقعہ واریں ہیں یہ اوراق خزانی اس کی\n\nسرگزشت اپنی کس اندوہ سے شب کہتا تھا\nسو گئے تم نہ سنی آہ کہانی اس کی\n\nمرثیے دل کے کئی کہہ کے دیئے لوگوں کو\nشہر دلی میں ہے سب پاس نشانی اس کی\n\nمیان سے نکلی ہی پڑتی تھی تمہاری تلوار\nکیا عوض چاہ کا تھا خصمی جانی اس کی\n\nآبلے کی سی طرح ٹھیس لگی پھوٹ بہے\nدردمندی میں گئی ساری جوانی اس کی\n\nاب گئے اس کے جز افسوس نہیں کچھ حاصل\nحیف صد حیف کہ کچھ قدر نہ جانی اس کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%86%DB%92_%D8%B4%D8%B9%D8%B1_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "میرؔ کو ضعف میں میں دیکھ کہا کچھ کہئے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "میرؔ کو ضعف میں میں دیکھ کہا کچھ کہئے\nہے تجھے کوئی گھڑی قوت گفتار ہنوز\nابھی اک دم میں زباں چلنے سے رہ جاتی ہے\nدرد دل کیوں نہیں کرتا ہے تو اظہار ہنوز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%DA%A9%D9%88_%D8%B6%D8%B9%D9%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "میرؔ کیا چیز ہے سوداؔ کیا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرؔ کیا چیز ہے سوداؔ کیا ہے\nمجھ کو ان لوگوں کی پروا کیا ہے\n\nیہ اگر عرصے میں آئے زیں پیش\nدیکھ تو میرا بھی شہرہ کیا ہے\n\nاے صبا شمع سحر کو نہ ستا\nاب بجھی جائے ہے عرصہ کیا ہے\n\nگر کیا قتل کسی کو تو کیا\nچلو اس بات کا چرچا کیا ہے\n\nایک دن اس کے میں در تک جو گیا\nیہ سمجھ دیکھوں تو ہوتا کیا ہے\n\nتھے کئی شخص بہم حرف زناں\nمیں کہا ان سے یہ غوغا کیا ہے\n\nسن کے واں سے جو نکل آیا ایک\nوہ مجھے دیکھ کے کہتا کیا ہے\n\nآپ جو دیر سے اس جا ہیں کھڑے\nیہ کہیں آپ نے بیچا کیا ہے\n\nمل گئے خاک میں ہم اب تو کہہ\nمصحفیؔ تیری تمنا کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%DB%8C%D8%B2_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%94_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "میرا ایک سفر", "poet_page": "مصنف:رشید جہاں", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "شکنتلا۔۔۔ تم لڑکیاں بھی کتنی بد مذاق ہو، میری گھڑی پیچھے کردی، اگر ریل چھوٹ جاتی تو؟\n\nکل کالج سے اتنی دیر کر کے چلی کہ اسٹیشن پر پہنچی تو گاڑی گھڑی تو تھی، لیکن گارڈ سیٹی پر سیٹی بجا رہا تھا۔ جس مصیبت سے میں نے اسے پکڑا بس میں ہی جانتی ہوں۔ اپنی ساڑی اونچی اٹھا میں نے پل پر سے بھاگنا شروع کیا۔ یقین مانو! اگر تم ساتھ ہوتیں تو یہ ریل کبھی نہ ملتی۔ ریلوے کے ملازم تھے کہ حیرت سے منہ پھاڑے میری طرف دیکھ رہے تھے اور میں تھی کہ نہ آگے دیکھوں نہ پیچھے۔ بس بھاگے جارہی تھی۔ پل پر سے اتر رہی تھی کہ گاڑی نے آہستہ آہستہ کھسکنا شروع کیا۔ میں نے بھی اپنی چال تیز کی۔ دو دو تین تین سیڑھیاں پھلانگنے لگی۔ گارڈ کوئی نیک سا جوان تھا۔ میری طرف دیکھ کر مسکرایا اور پھر ایک دفعہ سیٹی بجائی۔ میری حالت ہی یہ تھی کہ جو دیکھتا ضرور ہنستا۔ بال اڑتے ہوئے۔ تم کہو گی یہ تو کوئی نئی بات نہیں۔ ہمیشہ ہی اڑا کرتے ہیں لیکن کل تو بری حالت تھی۔ کلپ سب گر گئے تھے۔ لٹیں تھیں کہ منہ پر لہرا رہی تھیں۔ سیڑھیاں دکھائی تک نہ دیتی تھیں۔ ساڑھی تھی کہ پیچھے پیچھے چلی آ رہی تھی۔ سانس تھا کہ لوہار کی دھونکنی بنا ہوا تھا اور میں تھی کہ بس قدم آگے تھا۔ آخری دو سیڑھیاں جو اور جلدی میں کودنی چاہیں توساڑھی میں الجھ کر چاروں خانے چت گری۔\n\nہر کوئی میرے اٹھانے کو بڑھا۔ لیکن میں خود ہی جلدی سے اٹھ بیٹھی اور بالوں میں سے لال منہ نکال کر ہانپتی ہوئی چیخی، ’’گاڑی!‘‘ گارڈ نے ہنس کر کہا۔ (میرے اس طرح گرنے پر سب ہی ہنس رہے تھے۔ قہقہے تک مجھے سنائی دیئے۔ تو گارڈ بچارا کیوں نہ ہنستا) خیر اس نے بڑی مشکل سے اتنا کہا، ’’گاڑی ٹہرکا دی ہے۔ (ہنسی) جلدی کیجئے ویسے ہی پانچ منٹ لیٹ ہے۔‘‘\n\nبس میں پھر دوڑی اور سامنے کے درجے میں گھس گئی۔ درجہ مردانہ تھا۔ وہاں میں مسکراہٹوں اور ہنسی کے درمیان ریل کے باہر جھانکتی رہی۔ جب سانس ٹھیک ہوا تو غسل خانے میں جا کر بال درست کئے اور دوسرے اسٹیشن کا انتظار کرنے لگی۔ وہاں اتر کر میں نے ٹکٹ خریدا اور زنانے ڈبے میں چلی گئی۔\n\nتیسرا کلاس کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ چھوٹا درجہ عورتیں بچے اور اسباب مل کر اتنی جگہ تھی کہ کوئی آرام سے کھڑا بھی ہو سکے۔ پاخانے کے پاس والی کھڑکی میں سے منہ نکال کر جھانکنے لگی۔ جب درجہ تیسرا ہو اور اس طرح بھرا ہوا ہو تو میری جگہ پر جو جو خوشبوئیں آ رہی ہوں گی اس کا اندازہ تم فرسٹ، سیکنڈ کلاس میں سفر کرنے والی کم لگا سکتی ہو۔ میں ناک میں رومال ٹھونسے کھڑی تھی کہ ایک ہندو عورت نے ذرا سی جگہ نکال کر کہا، ’’بہن جی یہاں بیٹھ جایئے۔‘‘ میں بیٹھ گئی۔ چار بنچ تھے۔ دو پر ہندو اور ان کے بچے بیٹھے تھے۔ اور دو پر مسلمان اور ان کی اولاد۔ میرے ماتھے پر جو لال بندی لگی تھی اس کی وجہ تھی کہ انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا تھا، میں نے شکریہ کیا کہ یہ بندی جسے دیکھ کردادی اماں اتنی ناراض ہوں، مجھ پر تو خیر۔ میرے ماں باپ کو بھی ہزاروں سنا دیں اس وقت خوب کام آئی۔\n\n’’بہن جی۔ ابھی گھنٹے بھر میں ہم تین جنی اتر جائیں گی تو تم آرام سے بیٹھ جانا۔‘‘\n\nجی میں بھی گھنٹہ بھر میں اتر جاؤں گی۔‘‘میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے جواب دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ’’آپ پڑھتی ہیں؟‘‘\n\n’’جی‘‘\n\n’’آپ کی شادی ہو گئی ہے۔‘‘\n\n’’جی نہیں۔‘‘ میری ’جی نہیں ‘ سے وہ اتنی ناراض ہوئیں کہ آنکھیں بھویں سیکڑ منہ دوسری طرف کرلیا۔\n\n’’آ پ کون ذات ہیں؟‘‘ ایک اور بولیں۔\n\n’’چمار‘‘ میں نے زور سے ہنس کر جواب دیا۔\n\nمیں ریل پکڑنے سے اتنی خوش تھی کہ دل چاہ رہا تھا کہ آپ ہی آپ قہقہے لگاؤں، چیخوں اور کودنے لگوں۔ بمشکل ضبط کئے بیٹھی تھی۔ اب ان کے سوالوں نے پھر سے گدگدی شروع کر دی اور میں زور سے ہنس پڑی۔ جنہوں نے یہ سوال کیا تھا بگڑ گئیں۔\n\n’’آپ چمار ہیں، پڑھی لکھی ہو کر ایسا دوسروں کو الو سمجھتی ہیں۔‘‘\n\nہاں، دوسری بچواں پر جو مسلمان عورتیں بیٹھی ہوئی پان پر پان کھا رہی تھیں سب کی سب ان پڑھ تھیں اور دیکھنے میں بھی ایک ہی برادری کی معلوم ہوتی تھیں اور یہ ہندو عورتیں بھی زیادہ تر بے پڑھی لکھی بینیاں، کھترانیاں، برہمن قسم کی تھیں۔ ویسے ہی سفر میں ہر کوئی برہمن ہو جاتا ہے اور ٹھاکر سے نیچی ذات کو تو ہم نے آج تک سفر کرتے دیکھا ہی نہیں۔\n\nایک اور مسلمان عورت کالے تنگ پاجامے گلابی دوپٹہ چاندی کے زیور سے لدی ہوئی اٹھی، بلاق اس کا اتنا بڑا تھا کہ اس کا پان سے بھرا ہوا منہ اور مسی سے کالے دانت سب اس بلاق کے پیچھے چھپ گئے تھے۔ بلاق کیا تھا ایک ٹٹی تھا کہ سامنے لٹک رہا تھا۔ میرا خیال ہے کہ پرانے زمانے میں عورت کی چڑچڑ سے تھک کر کسی مرد نے بلاق نکالا ہوگا تاکہ عورت کی آواز منہ میں پھنس جائے۔ لیکن عورتیں بھی کیا ہی بے وقوف ہیں کہ اس کو رواج بنا لیا۔ جبھی تو ہر مذہب یہی سکھاتا ہے کہ عورت ناقص العقل ہے۔\n\nاچھا سنو! وہ مسلمان اٹھیں۔ اب لوٹا لئے پاخانے کی طرف چلیں۔ ہندو عورتیں جلدی سے سمٹیں۔ ایک بچاری جو اسباب پر بیٹھی ہوئی تھی مع جوتیوں کے صندوق پر چڑھ گئی۔ یہ مسلمان صاحبہ بغیر ادھر ادھر دیکھے اپنا دوپٹہ سایۂ رحمت کی طرح اسباب والی اور ایک اوپرجوان کے قریب ہی بیٹھی تھی لٹکاتی ہوئی نکل گئیں۔\n\nوہ دونوں غصہ سے تلملا گئیں۔ ’’دیکھا کیسی بیڈھنگی ہے کپڑے چھواتی چلی گئی۔‘‘\n\n’’تو پاخانے کہاں سے جائے! راستہ میں کیوں بیٹھی ہو؟‘‘ ایک ادھیڑ عمر کی مسلمان عورت دوسری طرف سے بولیں۔\n\n’’جانے کو کس نے بند کیا ہے؟ اپنا کپڑا اٹھا کر توچلے۔ کیوں دوسروں کو چھواتی ہوئی جاتی ہے۔‘‘ میری ہمسائی تڑخ کر چیخیں۔ یہ ایک ہندی اخبار ہاتھ میں لئے ہوئے تھیں۔\n\n’’راستہ میں بیٹھو گی تو یہی ہوگا۔‘‘ ایک اور مسلمان نے لاپرواہی سے جواب دیا۔\n\n’’راستہ میں نہ بیٹھیں تو کیا تمہارے سر پر بیٹھیں۔ ٹانگ پھیلا پھیلا کر تو تم بیٹھو ہم یہاں تکلیف سے بیٹھتے ہیں تو بھی تمہیں کھٹکتا ہے، جیسے ریل تمہارے باپ کی ہے اور ٹکٹ تمہیں اکیلی نے تو خریدا ہے۔‘‘ دوسری ہندو صاحبہ نے پیچھے مڑکر اور ہاتھ پھیلا کر مسلمانوں کو جواب دیا۔\n\n’’ہاں ریل ہمارے باپ کی ہے۔ ہم تو یوں ہی ٹانگیں پھیلا پھیلا کر بیٹھیں گے۔ تم سے جو بنے بنا لو اور جو زیادہ بک بک تم سب نے کی تو ٹھیک نہ ہوگا۔‘‘ ادھیڑ مسلمان نے پیک ریل کے اندر تھوک کر ہندؤوں کو ڈانٹا۔\n\n’’ٹھیک نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟ تم کوئی کلٹر ہو کہ توپ دم کروا دوگی؟‘‘\n\nپھر اپنی پارٹی کی طرف مڑکر ’’سن رہی ہو بہن جی! جب سے یہ مسلمانیاں گھسی ہیں یہ آفت اٹھا رکھی ہے۔‘‘\n\nاب میں سمجھی کہ یہ دو کیمپ کیوں اس طرح الگ الگ بیٹھے تھے۔ یہاں بھی ہندو اور مسلمان کی لڑائی ہو رہی تھی۔ ان غریب گھر کی بیٹھنے والیوں کو سڑکوں پر تو موقع ملتا نہیں۔ اب خوش قسمتی سے تیسرے کلاس کا ڈبہ میسر آیا۔ وہیں دشمنی نکالنے لگیں۔\n\nمیں سنبھل کر بیٹھ گئی اور غور سے سننے لگی۔ ایک جوان مسلمان عورت نے زور سے ہندؤں کو سنا کر کہا، ’’اے چچی تم بھی کن کمینوں کے منہ لگتی ہو۔ بھلا جوتوں کا بھوت باتوں سے اترتا ہے۔‘‘\n\n’’کیا کہا تم نے؟ جوتوں کا بھوت؟ کمین؟ ذرا اپنی زبان سنبھال کر بولو۔ کیا خون خرابہ کرنے کی تمہاری منشا ہے۔‘‘\n\nشریمتی جو میرے قریب تیج پڑھ رہی تھیں، اکڑ کر بولیں، ’’جانتی ہو میں کون ہوں؟ جو زیادہ چیڑ پھنس کی تو سسریو یہیں سب کو اتروا دوں گی۔‘‘\n\nمسلمان لڑکیوں نے قہقہہ لگایا، ’’اے لو! کچھ اور بھی سنا، وہ بیٹھی ہیں لاٹ صاحب کی جورو!‘‘\n\nیہ مجھے زور سے ہٹاتی ہوئی جوش میں آکر کھڑی ہو گئیں۔ اتنے میں غسل خانے کا دروازہ کھلا اور بلاق والی نکلیں۔ یہ ابھی کھڑی ہی تھیں کہ اسباب پر سے ہندو بولیں، ’’دیکھو جی اپنے کپڑے سنبھالتی ہوئی چلو۔‘‘\n\n’’ہم تو ایسے ہی جائیں گے۔‘‘ کہہ کر وہی اپنی پرانی شان سے آنچل لٹکاتی ہوئی نکلیں، ان کا دوپٹہ پھر اسباب والی سے چھوا، اس دفعہ تو انہوں نے دانت کچکچا کر دوپٹہ گھسیٹ ہی لیا۔ بلاق والی اوندھی گریں اور لوٹا چھوٹ کر وہ گیا۔ سارا پانی دو ہندو عورتوں پر گرا اور چھینٹیں تو کئی پر پڑیں۔ سب کی سب چلا پڑیں، ’’رام رام۔‘‘ دوپتہ گھسیٹنے والی دوپٹہ چھوڑ اپنی دھوتی دیکھنے لگیں۔ بلاق والی بھی سنبھل کر کھڑی ہوئیں۔ یہ واقعہ اتنی جلدی اور اچانک ہوا تھا کہ ان کی ساتھ والیاں ابھی اٹھ ہی رہی تھیں کہ یہ اپنا دو پٹہ چھوڑ تن کر کھڑی ہو گئیں۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ ایک طمانچہ چٹ سے اپنے دشمن کے جھکے ہوئے سر پر مارا۔\n\n’’حرامزادی، سمجھتی کیا ہے اپنے کو۔‘‘\n\nاب درجہ میں ایک عجب طیش اور غصہ کی قضا تھی۔ ہر عورت آنکھیں نکالے دوسری پارٹی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اور میں جھک جھک کر باہر جھانک رہی تھی کہ کوئی اسٹیشن بھی آ جائے تو ان کا دھیان بٹ جائے لیکن یہ تو ایکسپریس تھی۔ سب چھوٹے موٹے اسٹیشن چھوڑ رہی تھی اور اس کے ٹھہرنے میں تو ابھی بہت وقت تھا۔\n\nطمانچہ کھا کر اور بھیگ کر کس طرح ممکن تھا کہ وہ خاموش رہتیں۔ ان کی ساتھی جو بھیگی بیٹھی تھیں، اکیلی ہی لڑنے مرنے کو تیار تھیں۔ دونوں ایک ساتھ ہی بلا قن سے گتھ گئیں۔ ادھر سے بھی مدد آگئی اور اب ذرا سی جگہ میں چار پانچ عورتیں ایک دوسرے سے بھڑی ہوئی تھیں۔ کسی کے بال دوسری کے ہاتھ میں تھے تو اس کے خود کے بالی پتے کھنچ رہے تھے۔ اسباب پر لدالد گر رہی تھیں۔ پھر اٹھتی تھیں۔ جو ہندؤوں نے بالیوں اور بلاقوں پر ہاتھ مارا تو مسلمانوں نے بال کھینچے۔ جہاں جس کا منہ پڑا وہیں کے وہیں اپنی دشمن کا گوشت دانتوں میں دبا لیا۔ اگر کسی کا وار پڑ گیا تو وہیں دو ہتڑہی دو ہتڑ لگانے لگی۔ غرضیکہ یہ سب مارپیٹ، نوچ کھسوٹ کی زندہ تصویریں اسباب اور ریل کے فرش پر لوٹ رہی تھیں۔\n\nمیرے پاس جو شریمتی کھڑی تھیں، اسباب ہٹاتی ہوئی میدان جنگ میں پہونچنا چاہتی تھیں۔ لیکن جگہ ہی نہیں ملتی تھی۔ جوش قومی سے پاگل ہو رہی تھیں۔ جب ادھر جانے راستہ نہ ملا تو بنچ پر سے جھک کر ایک آٹھ دس سال کی مسلمان لڑکی کے دھول جمائی۔ اب دو تین مسلمان عورتیں جو لڑائی میں صرف زبانی حصہ لے رہی تھیں۔ بے قابو ہو کر کودیں اور دشمن کے ملک میں گھس آئیں۔ ادھر بھی جو ہندو لڑائی میں شریک نہ تھیں، کھڑی ہو گئیں۔ اب بجائے ایک جگہ کے دو طرف گتھم گتھا ہونے لگی۔ میں اپنی جگہ پر اور سکڑ گئی۔ ہمسائی نے میری اس مردہ دلی کو دیکھ کر مجھے جنگ میں شرکت کی دعوت دی، ’’بہن جی! بیٹھی کیا دیکھ رہی ہو آخر کیا ان ملیچھنوں کی مار کھاؤ گی۔‘‘\n\nادھیڑ مسلمان نے غضب کی آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ میں جلدی سے باہر دیکھنے لگی تاکہ اس کو یقین ہو جائے کہ میں اس مار پیٹ میں شریک ہونا نہیں چاہتی۔ میں نے دیکھا کہ چند بچے ڈرے سہمے ہوئے بیٹھے تھے۔ یہ سین دیکھ رہے تھے اور باقی گلا پھاڑ کر رو رہے تھے۔ لیکن مائیں تھیں کہ اس جوش قومی کے سامنے بچوں کو بھی بھول چکی تھیں اگر کمی تھی تو بس ’’اللہ اکبر اور سری کرشن مہاراج کی جے‘‘ کی تھی۔ یہاں تو ان بولوں کے بدلے رنڈی، لچی، سوت، رانٹ، حرامزادی، الو کی پٹھی کے اور جو جو لفظ سنائی دے رہے تھے ان کو لکھنے کی میری تو ہمت نہیں۔ تم خود ہی سمجھ جانا۔\n\nایک مسلمان بڑھیا نے جو کونے میں بیٹھی سر ہلا رہی تھی۔ اب ایک اور چال چلی۔ شاید ارادہ نیک ہو، لیکن انجام تو بہت ہی برا ہوا۔ اس نے اپنے کھانے کو پوٹلیا کھولی۔ کھانا نکالا اور گوشت کی بوٹیوں اور قیمہ کی بوچھاڑ ہمارے طرف کردی۔ ہندو عورتیں ایک لمحہ تو رکیں اور پھر سنبھل کر ایک نے گرے ہوئے لوٹے کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ مسلمان اب ان کے اسباب کی طرف لپکیں اور ذرا سی دیر میں سب کی سب ایک دوسرے کے اسباب پر چپٹ گئیں۔ اگر ایک پارٹی چھین رہی ہے تو دوسری بچا رہی ہے۔ اسباب کی چھینا جھپٹی بڑھتی جا رہی تھی۔ دونوں طرف کی دو چار چھوٹی موٹی چیزیں کھیتوں کی نذر بھی ہو چکی تھیں اور میرا ڈر کے مارے برا حال تھا کہ کہیں اسباب اور اسباب کے بعد بچوں کی باری نہ آ جائے۔\n\nعورت جب غصہ سے پاگل ہوتی ہے تو بگڑے ہوئے بجا رسے بد تر اس کی حالت ہوتی ہے اور یہاں تو اتنی عورتیں تھیں اور سب کی سب غضبناک۔ میں اپنی خوشی وشی سب بھول چکی تھی اور اس سوچ میں تھی کہ کیا کروں اور کس طرح ان عورتوں کو منع کروں کہ میری ہمسائی شریمتی کشتی میں ہار کر میرے اوپر گریں اور ادھیڑ مسلمان کا اندھا ہاتھ میرے کٹے ہوئے بالوں پر پڑا۔ بس میں چکرا ہی تو گئی۔ آنکھوں کے نیچے اندھیرا آ گیا۔ میں شریمتی کو دھکا دے کر کھڑی ہو گئی۔ اپنا سیدھا ہاتھ جو میں نے گھما کر مارا تو ادھیڑ اور ان کی ساتھی دونوں کے سر جا کر بنچ پر ٹکرائے اور میں لپک کر زنجیر کی طرف بڑھی۔\n\nشکنتلا کاش تم بھی ہوتیں! لڑائیاں میں نے عورتوں کی بہت دیکھی ہیں اور خاص کر ریل میں، جگہ پر، مذہب پر، بچوں پر، گندگی پر، غرضیکہ ہر بات پر ہوتی ہیں لیکن ایسی انوکھی ہاتھا پائی میں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ کسی کے کان سے خون بہہ رہا ہے تو کسی کے ناک میں سے کسی کے کپڑے چیتھڑے ہو گئے ہیں تو کسی کے بالوں کی لٹیں دوسری کے ہاتھ میں ہیں۔ ایک بے چاری کی دھوتی بھی اسی کشتم کشتا میں کھل گئی لیکن اس کو کہاں ہوش تھا وہ تو یوں ہی جتی ہوئی تھی۔ تو میں لکچر دینے لگی لیکن کاش تم وہاں ہوتیں تو سنتیں کہ زبیدہ بھی بول سکتی ہے۔\n\nمیں نے زنجیر تھا می اور گلا پھاڑ کر چلائی، ’’آپ لوگ لڑنا بند کریں گی یا نہیں یا میں زنجیر کھینچ کر پولیس کو بلاؤں؟‘‘\n\nلڑنے والیاں رکیں میری طرف دیکھا اور میرا ہاتھ زنجیر پر دیکھ کر کچھ ہوش میں آئیں۔ ان کے ہاتھ تھوڑے ڈھیلے پڑے۔ میں موقع کو غنیمت سمجھ کر پھر اسی آواز میں گرجی۔\n\n’’ذرا اپنی حالت تو دیکھو، کوئی ننگی پڑی ہے۔‘‘ فوراً اس عورت نے اپنی دھوتی گھسیٹی۔ اس کو پہلی دفعہ اپنی برہنگی کا احساس ہوا تھا۔ ’’کسی کا کان کھینچا ہوا ہے۔‘‘ بہت سے ہاتھ اپنے کانوں کی طرف اٹھے۔ ’’کسی کا کرتہ پھٹ پھٹا کر دھجی ہو گیا ہے۔ آخر بتاؤ کہ تم عورتیں ہو کہ جانور؟‘‘\n\nمیرا ہاتھ برابر زنجیر پر تھا اور میں نے محسوس کیا کہ اس وقت اگر میں نے بولنا بند کیا تو یہ کہیں پھر آپس میں نہ جت جائیں۔ نہ معلوم کیا کیا کہتی رہی۔ ہزاروں باتیں سب کو سنائیں اور آج آواز ہے کہ نکلتی ہی نہیں!\n\nمیں نے اپنی ہمسائی کی طرف مڑ کر کہا۔\n\n’’شریمتی جی یہ کوئی مہا سبھا کا اکھاڑا ہے کہ آپ داؤ پیچ دکھانے لگیں۔ مانا کہ آپ اسٹیشن ماسٹر کی بیوی ہیں اور شاید کسی کنیا پاٹ شالہ کی تعلیم یافتہ بھی ہوں لیکن آپ کو شرم نہیں آتی کہ ایک بے قصور چھوٹی بچی پر آپ نے ہاتھ اٹھایا۔‘‘\n\nانہوں نے جواب دینے کو منہ کھولا ہی تھا کہ میں پھر زور سے چیخی۔\n\n’’خاموش! اگر تم میں شرم ہو تو ڈوب مرو۔‘‘\n\nاس کے بعد بڑھیا کی طرف مخاطب ہوئی اور دانت پیس کر کہا۔\n\n’’بڑی بی! افسوس ہے کہ نہ ہوئیں تم میری اماں ورنہ میں تمہارا گلا اپنے ہاتھ سے گھونٹ دیتی۔ تمہاری جیسیوں کو تو زندہ دفن کردینا چاہئے۔ یہ گوشت اس طرح پھینکنے کے کیا معنی تھے؟ کیا کوئی ہولی تھی کہ تم رنگ اچھالنے لگیں؟‘‘\n\nبڑی بی اپنے سلوٹوں سے بھرے ہوئے سوکھے منہ اور چندھی آنکھوں کو ایک عورت کی طرف موڑ کر بولیں۔\n\n’’کیا کہہ رہی ہے؟‘‘\n\nمیں جل کر چیخی، ’’کم بخت، بہری بھینڈ، تجھے اس بڑھاپے میں جہاد کی کیا سوجھی؟‘‘\n\nدیکھنے کے قابل سین تھا۔ ہر عورت اسی طرح بال بکھیرے جیسی کی تیسی وہیں بیٹھی تھی اور اب میدان میرے ہاتھ میں تھا۔ ہر ایک کی آنکھ میری طرف تھی اور میں تھی کہ ایک خوفناک ہاتھی کی طرح چنگھاڑے جاتی تھی۔ ’’تم کو کیا ضرورت تھی کہ چلتی عورت کا دوپٹہ کھینچ لیا۔ چھو گیا تھا! تم کہاں کی ایسی اچھوت ہو؟ کھدر کی دھوتی پہن کر گاندھی جی کی چیلی بنی ہیں۔‘‘\n\nمیں نے محسوس کیا کہ اب میں بھی انہیں عورتوں کی زبان میں بات کر رہی تھی۔ نہ معلوم کیا کیا لفظ تھے جو میری زبان سے اس وقت نکل رہے تھے میں خود اپنی فصاحت پر حیران تھی۔\n\n’’آخر تم کیوں اس طرح چلتی ہو! کیا ریل تمہاری ہے۔ اگر دوسرے لوگ تمہیں چھونا پسند نہیں کرتے تو تم بھی ان کو نہ چھوؤ۔ لیکن دوسروں پر زبردستی کے کیا معنی؟‘‘\n\nرفتہ رفتہ میرا غصہ بھی دھیما ہو رہا تھا اور عورتیں بھی ہوش میں آ رہی تھیں۔ اب میں اور چال چلی۔\n\n’’آنے دو اسٹیشن کو میں ضرور پولیس میں رپورٹ لکھواؤں گی، جب بندھی بندھی پھروگی تب مزہ آئے گا۔‘‘\n\nایک ہمت کر کے بولیں، ’’رہنے بھی دو مس صاحب جی۔ آپس میں لڑائی جھگڑاہو ہی جاتا ہے۔ پولیس میں نہ لکھوانا ورنہ بڑی آفت آئے گی۔\n\nمیں تو ضرور لکھواؤں گی۔ خود لڑیں تو لڑیں آخر میرے اوپر کیوں گریں اور انہوں نے میرے بال کیوں نوچے۔ ایسی آسانی سے نہ چھوٹو گی۔‘‘\n\n’’مس صاحب! بہو بیٹیوں کی عزت تمہارے ہاتھ ہے۔ اب جو غلطی ہو گئی اس کو جانے دو۔‘‘ ادھیڑ مسلمان نے میری خوشامد شروع کی۔\n\n’’کیوں جانے دوں۔ یہ سب کیا دھرا تمہارا ہے۔ تم اتنی دیر سے اپنی لڑکیوں کو اکسا رہی تھیں۔ جو تم ڈانٹ دیتیں تو یہ نوبت ہی کیوں آتی۔ بیڈھنگی، بددماغ، لڑاکی۔ تم نے میرے بال نوچے میں تمہیں اس آسانی سے نہ چھوڑوں گی۔‘‘\n\nشریمتی یہ سن کر زور سے ہنسیں اور جھک کر ایک ہندو سے کچھ کہنا چاہتی تھیں کہ میں بیچ میں بول پڑی۔\n\n’’آپ کون سی بہتر ہیں۔ آپ نے مجھے لڑائی میں شریک ہونے کو ابھارا، جو میں نہیں اٹھی تو جان کر میرے اوپر گریں۔ تاکہ میں ضرور شریک ہوں۔ آپ بھی اتنی دیر سے ہندؤوں کو اکسا رہی تھیں۔ لیڈری کا شوق ہے تو بازار میں جا کر کیجئے۔ یہ آپ کے تیج میں لکھا ہے کہ جہاں مسلمان دیکھو گتھ جاؤ۔ اب آپ اسٹیشن ماسٹر کی بیوی ہوں یا کوئی اور میں آپ کا نام بھی ضرور لکھواؤں گی۔‘‘\n\nمیں گھڑی گھڑی اپنے سر کو پکڑتی تھی اور جان کر ہائے وائے بھی کرتی جاتی تھی۔ اب میں بیٹھ گئی تھی۔ ہندو مسلمان کیمپ اور کچھ برابر میری خوشامد کرر ہی تھیں کہ اب زیادہ نہ بگڑوں اور پولیس سے کچھ نہ کہوں۔\n\nمیں نے اخیر میں یہ فیصلہ کیا کہ ادھیڑ مسلمان، شریمتی، بلاقن اور ہندو لڑکی جس پر پانی گرا تھا ایک دوسرے سے معافی مانگیں اور توبہ کریں اور ہاں بڑھیا کھڑی ہو کر اور ہاتھ جوڑ کر ہندؤوں سے معافی مانگے۔\n\nادھیڑ عورت گاؤں کی رہنے والی جس نے اپنی ساری عمر میں کبھی معافی کا لفظ نہ سنا تھا۔ بہت سٹ پٹائی اور چپکے بیٹھی رہی۔ میں نے ڈرایا۔\n\n’’تمہاری مرضی، نہ مانگو۔ تم جانتی ہو کہ میں کیا کروں گی۔ بار بار کہنے سے کیا فائدہ؟‘‘\n\nاس نے اپنی ہمت بڑھانے کی خاطر اپنی مسلمان بہنوں کی طرف دیکھا۔ منظر بدل گیا تھا۔ سب اپنی اپنی چوٹیں بھول کر اس نئے طرز کو دیکھنے کی خواہش مند تھیں۔ اور میں تھی\n\nکہ بغیر مسکرائے موت کی طرح زبردست تھی۔ دو ایک لڑکیوں نے ہمت دلانے کو سر ہلا دیئے۔ یہ عورت کھڑی ہو گئی۔ جیسے ایک بچہ جب سبق بھول جاتا ہے تو کچھ جھینپی اور کچھ ڈری ادا سے واپس اپنی جگہ پر بیٹھ جاتا ہے۔ اسی طرح یہ چاروں طرف دیکھ کر بیٹھ گئی۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو پھر جلدی سے کھڑی ہو گئی۔\n\n’’معافی دو۔ معافی دو۔ معافی دو!‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’ٹھہرو۔ کیا آپ سب نے معاف کر دیا؟‘‘\n\n’’ہاں جی، جی ہاں۔‘‘ کی آوازیں آئیں۔\n\n’’شریمتی جی اب آپ کی باری ہے۔‘‘\n\n’’کیوں؟ کوئی آپ گورنامنٹ ہیں؟‘‘ انہوں نے علم بغاوت پھر بلند کیا۔\n\n’’جی افسوس ہے کہ میں گورنمنٹ نہیں ہوں، آپ اپنے کئے پر شرمندہ نہیں ہیں تو خیر، آپ کے شوہر ریل میں نوکر ہیں۔ آپ کی رپورٹ ہوگی تو ان کی خبر لی جائے گی۔‘‘\n\nپتہ کی سن کر کچھ راضی سی ہوئیں اور ساتھ ہی ایک ہندو بہن کی آواز۔\n\n’’بہن جی کھڑی بھی ہو جاؤ۔‘‘\n\nسنکر کھڑی ہو گئیں اور نیم مردہ آواز میں بولیں۔\n\n’’سب بہنیں میری خطا معاف کریں۔‘‘ اور جلدی سے بیٹھ گئیں۔\n\nاب میری نگاہ بلاقن پرپڑی۔ اس کی ناک سے خون نکل رہا تھا اور وہ پہلے ہی سے کھڑی تھی۔ اپنا ہاتھ بڑھا کر بولی، ’’بہن دو منٹ کا سفر ہے۔ لڑائی دنگے سے کیا فائدہ؟ میرے دو پتہ سے جب اتنا چھوت ہے۔ تو میرے ہاتھ کو تم کب چھوؤ گی۔ خیر مجھے معاف کرو۔ میری ہی غلطی تھی۔‘‘ ایک ایسی بات ہوئی جس کی مجھے بالکل امید نہ تھی۔ وہ ہندو عورت جو گاڑھے کی ساڑھی میں تھی، اس سے لپٹ گئی اور رونے لگی!\n\nعورتیں بھی کیا ہیں۔ ذرا میں کچھ اور ذرا میں کچھ۔ ابھی تو دوپٹہ کے آنچل چھوجانے پر لڑائی تھی اور اب گلے مل کر رو رہی تھیں۔\n\nاسٹیشن آنے گلا تھا۔ سب اپنے اپنے اسباب کو جو لڑائی میں تتر بتر ہو گیا تھا جمع کرنے لگیں۔ لیکن یہ دونوں لڑکیاں گلے میں ہاتھ ڈال کر دیر تک روتی رہیں اور ان دونوں کے ملاپ میں ہم ایسے محو ہوئے کہ اس خرانٹ بڑھیا کو بالکل بھول گئے۔\n\nذرا دیکھنا خط لکھنے بیٹھی تھی کہ سارا ریل کا قصہ لکھ گئی۔ خیر اب تو جو کچھ کہنا ہے آگر ہی کہوں گی۔ لکھنا تو بہت تھا لیکن اب تو یہ کافی ہے کہ کالج میں دھیان ہے۔ خاص کر باسکٹ بال کے میچ میں۔\n\nمکرر۔ ہاں یہ ضرور لکھنا اور جلدی کہ تم سب کے لئے کیا لاؤں؟\n\nتمہاری زبیدہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B3%D9%81%D8%B1"} {"title": "میرا دل ناشاد جو ناشاد رہے گا", "poet_page": "مصنف:فرحت کانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرا دل ناشاد جو ناشاد رہے گا\nعالم دل برباد کا برباد رہے گا\n\nتا دیر جو ہنگامۂ فریاد رہے گا\nشک ہے کہ کہیں عالم ایجاد رہے گا\n\nپابندئ اقدار میں آزاد رہے گا\nلیکن یہ ترا جور و ستم یاد رہے گا\n\nدل اپنے ہی ہاتھوں سے جو برباد رہے گا\nافسانۂ ناکامئ فریاد رہے گا\n\nدل سست تو لب تشنۂ فریاد رہے گا\nاب فرحت ناشاد تو ناشاد رہے گا\n\nدل محو چمن ہے تو نگاہوں میں چمن ہے\nپابند قفس ہو کے بھی آزاد رہے گا\n\nغیروں کا کرم راس نہ آئے گا نہ آیا\nعالم دل برباد کا برباد رہے گا\n\nفرحتؔ ترے نغموں کی وہ شہرت ہے جہاں میں\nواللہ ترا رنگ سخن یاد رہے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D8%AC%D9%88_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "میرا شاہد وہ ہمیں عیار آتا ہے نظر", "poet_page": "مصنف:مسکین شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "میرا شاہد وہ ہمیں عیار آتا ہے نظر\nہم کو ہم پاتے نہیں جب یار آتا ہے نظر\n\nکثرت شوق محبت میں مجھے ہر طرح سے\nجس طرف دیکھوں رخ دل دار آتا ہے نظر\n\nجان کا دھوکا ہمیں ہوتا ہے راہ عشق میں\nمرگ کا ہر ایک دم آثار آتا ہے نظر\n\nداغ ہجراں کے سوا لایا نہ کوئے یار سے\nجو کوئی اس راہ کا بیمار آتا ہے نظر\n\nپا برہنہ سینہ بریاں ہے تن عریاں وہی\nجو کہ اس کا عاشق سرشار آتا ہے نظر\n\nراہ سے دیر و حرم کی ہے جو کوئے یار میں\nہے وہی دیں دار گر کفار آتا ہے نظر\n\nبعد مدت گردش تسبیح سے مسکیںؔ ہمیں\nدانۂ تسبیح میں زنار آتا ہے نظر", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%B8%D8%B1"} {"title": "میرا شکوہ تری محفل میں عدو کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرا شکوہ تری محفل میں عدو کرتے ہیں\nاس پہ بھی صبر ہم اے عربدہ جو کرتے ہیں\n\nمشق بیداد و ستم کرتے ہیں گر وہ تو یہاں\nہم بھی بیداد و ستم سہنے کی خو کرتے ہیں\n\nجاں ہوئی ہے نگہ نام پہ ان کی عاشق\nچاک دل تار نظر سے جو رفو کرتے ہیں\n\nبے ثباتی چمن دہر کی ہے جن پہ کھلی\nہوس رنگ نہ وہ خواہش بو کرتے ہیں\n\nآج شمشیر بکف نکلے ہیں وہ دیکھیے تر\nآب شمشیر سے کس کس کے گلو کرتے ہیں\n\nہے رچی جن کے دماغوں میں تری زلف کی بو\nعنبر و مشک کی کب بو کو وہ بو کرتے ہیں\n\nمشک و عنبر کا انہیں نام بھی لینا ہے ننگ\nیار کی زلف معنبر کو جو بو کرتے ہیں\n\nچاک کرتے ہیں گریباں کو وحشت میں کبھی\nچاک دل میں کبھو ناخن کو فرو کرتے ہیں\n\nدیکھ سودا زدۂ الفت خوباں اے عیشؔ\nوادی عشق میں کیا کیا تگ و پو کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "میرا نام رادھا ہے", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "چغد", "year": "1948", "text_ur": "یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب اس جنگ کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ غالباً آٹھ نو برس پہلے کی بات ہے۔ جب زندگی میں ہنگامے بڑے سلیقے سے آتے تھے ؛ آج کی کل طرح نہیں۔ بے ہنگم طریقے پر پے در پے حادثے برپا ہورہے ہیں، کسی ٹھوس وجہ کے بغیر۔\n\nاس وقت میں چالیس روپے ماہوار پر ایک فلم کمپنی میں ملازم تھا اور میری زندگی بڑے ہموارطریقے پر افتاں و خیزاں گزر رہی تھی؛ یعنی صبح دس بجے اسٹوڈیو گئے، نیاز محمد ولن کی بلیوں کو دو پیسے کا دودھ پلایا، چالو فلم کے لیے چالو قسم کے مکالمے لکھے، بنگالی ایکٹرس سے جو اس زمانے میں بلبلِ بنگال کہلاتی تھی، تھوڑی دیر مذاق کیا اور دادا گورے کی جو اس عہد کا سب سے بڑا فلم ڈائریکٹر تھا، تھوڑی سی خوشامد کی اور گھر چلے آئے۔\n\nجیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، زندگی بڑے ہموار طریقے پر افتاں و خیزاں گزر رہی تھی۔ اسٹوڈیو کا مالک ’ہر مزجی فرام جی‘ جو موٹے موٹے لال گالوں والا موجی قسم کا ایرانی تھا، ایک ادھیڑ عمر کی خوجہ ایکٹرس کی محبت میں گرفتار تھا؛ ہر نو وارد لڑکی کے پستان ٹٹول کر دیکھنا اس کا شغل تھا۔ کلکتہ کے بازار کی ایک مسلمان رنڈی تھی جو اپنے ڈائریکٹر، ساونڈ ریکارڈسٹ اور اسٹوری رائٹر تینوں سے بیک وقت عشق لڑا رہی تھی؛اس عشق کا مطلب یہ تھا کہ ان تینوں کا التفات اس کے لیے خاص طور پر محفوظ رہے۔\n\n’’بن کی سندری‘‘ کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ نیاز محمد ولن کی جنگلی بلیوں کو جو اس نے خدا معلوم اسٹوڈیو کے لوگوں پرکیا اثر پیدا کرنے کے لیے پال رکھی تھیں، دو پیسے کا دودھ پلا کر میں ہر روز اس ’’بن کی سندری‘‘ کے لیے ایک غیر مانوس زبان میں مکالمے لکھا کرتا تھا۔ اس فلم کی کہانی کیا تھی، پلاٹ کیسا تھا، اس کا علم جیسا کہ ظاہر ہے، مجھے بالکل نہیں تھا کیونکہ میں اس زمانے میں ایک منشی تھا جس کا کام صرف حکم ملنے پر جو کچھ کہا جائے، غلط سلط اردو میں، جو ڈ ائریکٹر صاحب کی سمجھ میں آجائے، پنسل سے ایک کاغذ پر لکھ کر دینا ہوتا تھا۔ خیر’’بن کی سندری‘‘ کی شوٹنگ چل رہی تھی اور یہ افواہ گرم تھی کہ دیمپ کا پارٹ ادا کرنے کے لیے ایک نیا چہرہ سیٹھ ہرمزجی فرام جی کہیں سے لارہے ہیں۔ ہیرو کا پارٹ راج کشور کو دیا گیا تھا۔\n\nراج کشور راولپنڈی کا ایک خوش شکل اور صحت مند نوجوان تھا۔ اس کے جسم کے متعلق لوگوں کا یہ خیال تھا کہ بہت مردانہ اور سڈول ہے۔ میں نے کئی مرتبہ اس کے متعلق غور کیا مگر مجھے اس کے جسم میں جو یقیناً کسرتی اور متناسب تھا، کوئی کشش نظر نہ آئی۔۔۔ مگر اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ میں بہت ہی دبلا اور مریل قسم کا انسان ہوں اور اپنے ہم جنسوں کے متعلق اتنا زیادہ غور کرنے کا عادی نہیں جتنا ان کے دل و دماغ اور روح کے متعلق سوچنے کا عادی ہوں۔\n\nمجھے راج کشور سے نفرت نہیں تھی، اس لیے کہ میں نے اپنی عمر میں شاذونادر ہی کسی انسان سے نفرت کی ہے، مگر وہ مجھے کچھ زیادہ پسند نہیں تھا۔ اس کی وجہ میں آہستہ آہستہ آپ سے بیان کروں گا۔\n\nراج کشور کی زبان، اس کا لب و لہجہ جو ٹھیٹ راولپنڈی کا تھا، مجھے بے حد پسند تھا۔ میرا خیال ہے کہ پنجابی زبان میں اگر کہیں خوبصورت قسم کی شیرینی ملتی ہے تو راولپنڈی کی زبان ہی میں آپ کو مل سکتی ہے۔ اس شہر کی زبان میں ایک عجیب قسم کی مردانہ نسائیت ہے جس میں بیک وقت مٹھاس اور گھلاوٹ ہے۔ اگر راولپنڈی کی کوئی عورت آپ سے بات کرے تو ایسا لگتا ہے کہ لذیذ آم کا رس آپ کے منہ میں چوایا جارہاہے۔۔۔ مگر میں آموں کی نہیں راج کشور کی بات کررہا تھاجو مجھے آم سے بہت کم عزیز تھا۔\n\nراج کشور جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، ایک خوش شکل اور صحت مند نوجوان تھا۔ یہاں تک بات ختم ہو جاتی تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا مگر مصیبت یہ ہے کہ اسے یعنی کشور کو خود اپنی صحت اور اپنے خوش شکل ہونے کا احساس تھا۔ ایسا احساس جو کم از کم میرے لیے ناقابلِ قبول تھا۔\n\nصحت مند ہونا بڑی اچھی چیز ہے مگر دوسروں پر اپنی صحت کو بیماری بنا کر عائد کرنا بالکل دوسری چیز ہے۔ راج کشور کو یہی مرض لاحق تھا کہ وہ اپنی صحت، اپنی تندرستی، اپنے متناسب اور سڈول اعضا کی غیر ضروری نمائش کے ذریعے ہمیشہ دوسرے لوگوں کو جواس سے کم صحت مند تھے، مرعوب کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا تھا۔\n\nاس میں کوئی شک نہیں کہ میں دائمی مریض ہوں، کمزور ہوں، میرے ایک پھیپھڑے میں ہوا کھینچنے کی طاقت بہت کم ہے مگر خدا واحد شاہد ہے کہ میں نے آج تک اس کمزوری کا کبھی پروپیگنڈا نہیں کیا، حالانکہ مجھے اس کا پوری طرح علم ہے کہ انسان اپنی کمزوریوں سے اسی طرح فائدہ اٹھا سکتا ہے جس طرح کہ اپنی طاقتوں سے اٹھا سکتا ہے مگر میراایمان ہے کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔\n\nخوبصورتی، میرے نزدیک، وہ خوبصورتی ہے جس کی دوسرے بلند آواز میں نہیں بلکہ دل ہی دل میں تعریف کریں۔ میں اس صحت کو بیماری سمجھتا ہوں جو نگاہوں کے ساتھ پتھر بن کر ٹکراتی رہے۔\n\nراج کشور میں وہ تمام خوبصورتیاں موجود تھیں جو ایک نوجوان مرد میں ہونی چاہئیں۔ مگر افسوس ہے کہ اسے ان خوبصورتیوں کا نہایت ہی بھونڈا مظاہرہ کرنے کی عادت تھی: آپ سے بات کررہا ہے اور اپنے ایک بازو کے پٹھے اکڑا رہا ہے، اور خود ہی داد دے رہا ہے ؛ نہایت ہی اہم گفتگو ہورہی ہے یعنی سوراج کا مسئلہ چھڑا ہے اور وہ اپنے کھادی کے کرتے کے بٹن کھول کر اپنے سینے کی چوڑائی کا اندازہ کررہا ہے۔\n\nمیں نے کھادی کے کرتے کا ذکر کیا تو مجھے یاد آیا کہ راج کشور پکا کانگریسی تھا، ہو سکتا ہے وہ اسی وجہ سے کھادی کے کپڑے پہنتا ہو، مگر میرے دل میں ہمیشہ اس بات کی کھٹک رہی ہے کہ اسے اپنے وطن سے اتنا پیار نہیں تھا جتنا کہ اسے اپنی ذات سے تھا۔\n\nبہت لوگوں کا خیال تھا کہ راج کشور کے متعلق جو میں نے رائے قائم کی ہے، سراسر غلط ہے۔ اس لیے کہ اسٹوڈیو اور اسٹوڈیو کے باہر ہر شخص اس کا مداح تھا: اس کے جسم کا، اس کے خیالات کا، اس کی سادگی کا، اس کی زبان کا جو خاص راولپنڈی کی تھی اور مجھے بھی پسند تھی۔ دوسرے ایکٹروں کی طرح وہ الگ تھلگ رہنے کا عادی نہیں تھا۔ کانگریس پارٹی کا کوئی جلسہ ہو تو راج کشور کو آپ وہاں ضرور پائیں گے۔۔۔ کوئی ادبی میٹنگ ہورہی ہے تو راج کشور وہاں ضرور پہنچے گا اپنی مصروف زندگی میں سے وہ اپنے ہمسایوں اور معمولی جان پہچان کے لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونے کے لیے بھی وقت نکال لیا کرتا تھا۔\n\nسب فلم پروڈیوسر اس کی عزت کرتے تھے کیونکہ اس کے کیریکٹر کی پاکیزگی کا بہت شہرہ تھا۔ فلم پروڈیوسروں کو چھوڑیئے، پبلک کو بھی اس بات کا اچھی طرح علم تھاکہ راج کشور ایک بہت بلند کردار کا مالک ہے۔\n\nفلمی دنیا میں رہ کر کسی شخص کا گناہ کے دھبوں سے پاک رہنا، بہت بڑی بات ہے۔ یوں تو راج کشور ایک کامیاب ہیرو تھا مگر اس کی خوبی نے اسے ایک بہت ہی اونچے رتبے پر پہنچا دیا تھا۔ ناگ پاڑے میں جب میں شام کو پان والے کی دکان پر بیٹھتا تھا تو اکثر ایکٹر ایکٹرسوں کی باتیں ہوا کرتی تھیں۔ قریب قریب ہر ایکٹر اور ایکٹرس کے متعلق کوئی نہ کوئی اسکینڈل مشہور تھا مگر راج کشور کا جب بھی ذکر آتا، شام لال پنواڑی بڑے فخریہ لہجے میں کہا کرتا، ’’منٹو صاحب! راج بھائی ہی ایسا ایکٹر ہے جو لنگوٹ کا پکا ہے۔‘‘\n\nمعلوم نہیں شام لال اسے راج بھائی کیسے کہنے لگا تھا۔ اس کے متعلق مجھے اتنی زیادہ حیرت نہیں تھی، اس لیے کہ راج بھائی کی معمولی سے معمولی بات بھی ایک کارنامہ بن کر لوگوں تک پہنچ جاتی تھی۔ مثلاً، باہر کے لوگوں کو اس کی آمدن کا پورا حساب معلوم تھا۔ اپنے والد کو ماہوار خرچ کیا دیتا ہے، یتیم خانوں کے لیے کتنا چندہ دیتا ہے، اس کا اپنا جیب خرچ کیا ہے ؛یہ سب باتیں لوگوں کو اس طرح معلوم تھیں جیسے انھیں ازبریاد کرائی گئی ہیں۔\n\nشام لال نے ایک روز مجھے بتایا کہ راج بھائی کا اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک ہے۔ اس زمانے میں جب آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، باپ اور اس کی نئی بیوی اسے طرح طرح کے دکھ دیتے تھے۔ مگر مرحبا ہے راج بھائی کا کہ اس نے اپنا فرض پورا کیا اور ان کو سر آنکھوں پر جگہ دی۔ اب دونوں چھپر کھٹوں پر بیٹھے راج کرتے ہیں، ہر روز صبح سویرے راج اپنی سوتیلی ماں کے پاس جاتا ہے اور اس کے چرن چھوتا ہے۔ باپ کے سامنے ہاتھ جوڑ کے کھڑا ہو جاتا ہے اور جو حکم ملے، فوراً بجا لاتا ہے۔\n\nآپ برا نہ مانیے گا، مجھے راج کشور کی تعریف و توصیف سن کر ہمیشہ الجھن سی ہوتی ہے، خدا جانے کیوں۔؟\n\nمیں جیسا کہ پہلے عرض کرچکا ہوں، مجھے اس سے، حاشا و کلاّ، نفرت نہیں تھی۔ اس نے مجھے کبھی ایسا موقع نہیں دیا تھا، اور پھر اس زمانے میں جب منشیوں کی کوئی عزت و وقعت ہی نہیں تھی وہ میرے ساتھ گھنٹوں باتیں کیا کرتا تھا۔ میں نہیں کہہ سکتا کیا وجہ تھی، لیکن ایمان کی بات ہے کہ میرے دل و دماغ کے کسی اندھیرے کونے میں یہ شک بجلی کی طرح کوند جاتا کہ راج بن رہا ہے۔۔۔ راج کی زندگی بالکل مصنوعی ہے۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ میرا کوئی ہم خیال نہیں تھا۔ لوگ دیو تاؤں کی طرح اس کی پوجا کرتے تھے اور میں دل ہی دل میں اس سے کڑھتا رہتا تھا۔\n\nراج کی بیوی تھی، راج کے چار بچے تھے، وہ اچھا خاوند اور اچھا باپ تھا۔ اس کی زندگی پر سے چادر کا کوئی کونا بھی اگر ہٹا کر دیکھا جاتا تو آپ کو کوئی تاریک چیز نظر نہ آتی۔ یہ سب کچھ تھا، مگر اس کے ہوتے ہوئے بھی میرے دل میں شک کی گدگدی ہوتی ہی رہتی تھی۔\n\nخدا کی قسم میں نے کئی دفعہ اپنے آپ کو لعنت ملامت کی کہ تم بڑے ہی واہیات ہو کہ ایسے اچھے انسان کو جسے ساری دنیا اچھا کہتی ہے اور جس کے متعلق تمہیں کوئی شکایت بھی نہیں، کیوں بے کار شک کی نظروں سے دیکھتے ہو۔ اگر ایک آدمی اپنا سڈول بدن بار بار دیکھتا ہے تو یہ کون سی بری بات ہے۔ تمہارا بدن بھی اگر ایسا ہی خوبصورت ہوتا تو بہت ممکن ہے کہ تم بھی یہی حرکت کرتے۔\n\nکچھ بھی ہو، مگر میں اپنے دل و دماغ کو کبھی آمادہ نہ کرسکا کہ وہ راج کشور کو اسی نظر سے دیکھے جس سے دوسرے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں دورانِ گفتگو میں اکثر اس سے الجھ جایا کرتا تھا۔ میرے مزاج کے خلاف کوئی بات کی اور میں ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ گیا لیکن ایسی چپقلشوں کے بعد ہمیشہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور میرے حلق میں ایک ناقابل بیان تلخی رہی، مجھے اس سے اور بھی زیادہ الجھن ہوتی تھی۔\n\nاس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی زندگی میں کوئی اسکینڈل نہیں تھا۔ اپنی بیوی کے سوا کسی دوسری عورت کا میلا یا اجلا دامن اس سے وابستہ نہیں تھا۔ میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ وہ سب ایکٹرسوں کو بہن کہہ کر پکارتا تھا اور وہ بھی اسے جواب میں بھائی کہتی تھیں۔ مگر میرے دل نے ہمیشہ میرے دماغ سے یہی سوال کیا کہ یہ رشتہ قائم کرنے کی ایسی اشد ضرورت ہی کیا ہے؟\n\nبہن بھائی کا رشتہ کچھ اور ہے مگر کسی عورت کو اپنی بہن کہنا، اس انداز سے جیسے یہ بورڈ لگایا جارہا ہے کہ ’’سڑک بند ہے‘‘ یا ’’یہاں پیشاب کرنا منع ہے‘‘ بالکل دوسری بات ہے۔ اگر تم کسی عورت سے جنسی رشتہ قائم نہیں کرنا چاہتے تو اس کا اعلان کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اگر تمہارے دل میں تمہاری بیوی کے سوا اور کسی عورت کا خیال داخل نہیں ہو سکتا تو اس کا اشتہار دینے کی کیا ضرورت ہے۔ یہی اور اسی قسم کی دوسری باتیں چونکہ میری سمجھ میں نہیں آتی تھیں، اس لیے مجھے عجیب قسم کی الجھن ہوتی تھی۔\n\nخیر!\n\n’’بن کی سندری‘‘ کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ اسٹوڈیو میں خاصی چہل پہل تھی، ہر روز ایکسٹرا لڑکیاں آتی تھیں، جن کے ساتھ ہمارا دن ہنسی مذاق میں گزر جاتا تھا۔ ایک روز نیاز محمد ولن کے کمرے میں میک اپ ماسٹر، جسے ہم استاد کہتے تھے، یہ خبر لے کر آیا کہ ویمپ کے رول کے لیے جو نئی لڑکی آنے والی تھی، آگئی ہے اور بہت جلد اس کا کام شروع ہو جائے گا۔ اس وقت چائے کا دور چل رہا تھا، کچھ اس کی حرارت تھی، کچھ اس خبر نے ہم کو گرما دیا۔ اسٹوڈیو میں ایک نئی لڑکی کا داخلہ ہمیشہ ایک خوش گوار حادثہ ہوا کرتا ہے، چنانچہ ہم سب نیاز محمد ولن کے کمرے سے نکل کر باہر چلے آئے تاکہ اس کا دیدار کیا جائے۔\n\nشام کے وقت جب سیٹھ ہرمزجی فرام جی، آفس سے نکل کر عیسیٰ طبلچی کی چاندی کی ڈبیا سے دو خوشبودار تمباکو والے پان اپنے چوڑے کلے میں دبا کر، بلیرڈ کھیلنے کے کمرے کا رخ کررہے تھے کہ ہمیں وہ لڑکی نظر آئی۔ سانولے رنگ کی تھی، بس میں صرف اتنا ہی دیکھ سکا کیونکہ وہ جلدی جلدی سیٹھ کے ساتھ ہاتھ ملا کر اسٹوڈیو کی موٹر میں بیٹھ کر چلی گئی۔۔۔ کچھ دیر کے بعد مجھے نیاز محمد نے بتایا کہ اس عورت کے ہونٹ موٹے تھے۔ وہ غالباً صرف ہونٹ ہی دیکھ سکا تھا۔ استاد، جس نے شاید اتنی جھلک بھی نہ دیکھی تھی، سر ہلا کر بولا، ’’ہونہہ۔۔۔ کنڈم۔۔۔‘‘ یعنی بکواس ہے۔\n\nچار پانچ روز گزر گئے مگر یہ نئی لڑکی اسٹوڈیو میں نہ آئی۔ پانچویں یا چھٹے روز جب میں گلاب کے ہوٹل سے چائے پی کر نکل رہا تھا، اچانک میری اور اس کی مڈبھیڑ ہوگئی۔ میں ہمیشہ عورتوں کو چور آنکھ سے دیکھنے کا عادی ہوں۔ اگر کوئی عورت ایک دم میرے سامنے آجائے تو مجھے اس کا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ چونکہ غیر متوقع طور پر میری اس کی مڈبھیڑ ہوئی تھی، اس لیے میں اس کی شکل و شباہت کے متعلق کوئی اندازہ نہ کرسکا، البتہ پاؤں میں نے ضرور دیکھے جن میں نئی وضع کے سلیپر تھے۔\n\nلیبوریٹری سے اسٹوڈیو تک جو روش جاتی ہے، اس پر مالکوں نے بجری بچھا رکھی ہے۔ اس بجری میں بے شمار گول گول بٹیاں ہیں جن پر سے جوتا بار بار پھسلتا ہے۔ چونکہ اس کے پاؤں میں کھلے سلیپر تھے، اس لیے چلنے میں اسے کچھ زیادہ تکلیف محسوس ہورہی تھی۔\n\nاس ملاقات کے بعد آہستہ آہستہ مس نیلم سے میری دوستی ہوگئی۔ اسٹوڈیو کے لوگوں کو تو خیر اس کا علم نہیں تھا مگر اس کے ساتھ میرے تعلقات بہت ہی بے تکلف تھے۔ اس کا اصلی نام رادھا تھا۔ میں نے جب ایک بار اس سے پوچھا کہ تم نے اتنا پیارا نام کیوں چھوڑ دیا تو اس نے جواب دیا، ’’یونہی۔‘‘ مگر پھر کچھ دیر کے بعد کہا، ’’یہ نام اتنا پیارا ہے کہ فلم میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔‘‘\n\nآپ شاید خیال کریں کہ رادھا مذہبی خیال کی عورت تھی۔ جی نہیں، اسے مذہب اور اس کے توہمات سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ لیکن جس طرح میں ہر نئی تحریر شروع کرنے سے پہلے کاغذ پر ’بسم اللہ‘ کے اعداد ضرور لکھتا ہوں، اسی طرح شاید اسے بھی غیر ارادی طور پر رادھا کے نام سے بے حد پیار تھا۔ چونکہ وہ چاہتی تھی کہ اسے رادھا نہ کہا جائے۔ اس لیے میں آگے چل کر اسے نیلم ہی کہوں گا۔\n\nنیلم بنارس کی ایک طوائف زادی تھی۔ وہیں کا لب و لہجہ جو کانوں کو بہت بھلا معلوم ہوتا تھا۔ میرا نام سعادت ہے مگر وہ مجھے ہمیشہ صادق ہی کہا کرتی تھی۔ ایک دن میں نے اس سے کہا، ’’نیلم! میں جانتا ہوں تم مجھے سعادت کہہ سکتی ہو، پھر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تم اپنی اصلاح کیوں نہیں کرتیں۔‘‘ یہ سن کر اس کے سانولے ہونٹوں پر جو بہت ہی پتلے تھے، ایک خفیف سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے جواب دیا، ’’جو غلطی مجھ سے ایک بار ہو جائے، میں اسے ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔‘‘\n\nمیرا خیال ہے کہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ عورت جسے اسٹوڈیو کے تمام لوگ ایک معمولی ایکٹرس سمجھتے تھے، عجیب و غریب قسم کی انفرادیت کی مالک تھی۔ اس میں دوسری ایکٹرسوں کا سا اوچھا پن بالکل نہیں تھا۔ اس کی سنجیدگی جسے اسٹوڈیو کا ہر شخص اپنی عینک سے غلط رنگ میں دیکھتا تھا، بہت پیاری چیز تھی۔ اس کے سانولے چہرے پر جس کی جلد بہت ہی صاف اور ہموار تھی؛ یہ سنجیدگی، یہ ملیح متانت موزوں و مناسب غازہ بن گئی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے اس کی آنکھوں میں، اس کے پتلے ہونٹوں کے کونوں میں، غم کی بے معلوم تلخیاں گھل گئی تھیں مگر یہ واقعہ ہے کہ اس چیز نے اسے دوسری عورتوں سے بالکل مختلف کردیا تھا۔\n\nمیں اس وقت بھی حیران تھا اور اب بھی ویسا ہی حیران ہوں کہ نیلم کو ’’بن کی سندری‘‘ میں ویمپ کے رول کے لیے کیوں منتخب کیا گیا؟اس لیے کہ اس میں تیزی و طراری نام کو بھی نہیں تھی۔ جب وہ پہلی مرتبہ اپنا واہیات پارٹ ادا کرنے کے لیے تنگ چولی پہن کر سیٹ پر آئی تو میری نگاہوں کو بہت صدمہ پہنچا۔ وہ دوسروں کا ردِّ عمل فوراً تاڑ جاتی تھی۔ چنانچہ مجھے دیکھتے ہی اس نے کہا، ’’ڈائریکٹر صاحب کہہ رہے تھے کہ تمہارا پارٹ چونکہ شریف عورت کا نہیں ہے، اس لیے تمہیں اس قسم کا لباس دیا گیا ہے۔ میں نے ان سے کہا اگر یہ لباس ہے تو میں آپ کے ساتھ ننگی چلنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘\n\nمیں نے اس سے پوچھا، ’’ڈائریکٹر صاحب نے یہ سن کر کیا کہا؟‘‘\n\nنیلم کے پتلے ہونٹوں پر ایک خفیف سی پراسرار مسکراہٹ نمودار ہوئی، ’’انھوں نے تصور میں مجھے ننگی دیکھنا شروع کر دیا۔۔۔ یہ لوگ بھی کتنے احمق ہیں۔ یعنی اس لباس میں مجھے دیکھ کر، بے چارے تصور پر زور ڈالنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟‘‘\nذہین قاری کے لیے نیلم کا اتنا تعارف ہی کافی ہے۔ اب میں ان واقعات کی طرف آتا ہوں جن کی مدد سے میں یہ کہانی مکمل کرنا چاہتا ہوں۔\n\nبمبئی میں جون کے مہینے سے بارش شروع ہو جاتی ہے اور ستمبر کے وسط تک جاری رہتی ہے۔ پہلے دو ڈھائی مہینوں میں اس قدر پانی برستا ہے کہ اسٹوڈیو میں کام نہیں ہوسکتا۔ ’’بن کی سندری‘‘ کی شوٹنگ اپریل کے اواخر میں شروع ہوئی تھی۔ جب پہلی بارش ہوئی تو ہم اپنا تیسرا سیٹ مکمل کررہے تھے۔ ایک چھوٹا سا سین باقی رہ گیا تھا جس میں کوئی مکالمہ نہیں تھا، اس لیے بارش میں بھی ہم نے اپنا کام جاری رکھا۔ مگر جب یہ کام ختم ہوگیا تو ہم ایک عرصے کے لیے بے کار ہوگئے۔\n\nاس دوران میں اسٹوڈیو کے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھنے کا بہت موقع ملتا ہے۔ میں تقریباً سارا دن گلاب کے ہوٹل میں بیٹھا چائے پیتا رہتا تھا۔ جو آدمی بھی اندر آتا تھا، یا تو سارے کا سارا بھیگا ہوتا تھا یا آدھا۔۔۔ باہر کی سب مکھیاں پناہ لینے کے لیے اندر جمع ہوگئی تھیں۔ اس قدر غلیظ فضا تھی کہ الاماں۔ ایک کرسی پر چائے نچوڑنے کا کپڑا پڑا ہے، دوسری پر پیاز کاٹنے کی بدبودار چھری پڑی جھک مار رہی ہے۔ گلاب صاحب پاس کھڑے ہیں اور اپنے گوشت خورہ لگے دانتوں تلے بمبئی کی اردو چبا رہے ہیں، ’’تم ادھر جانے کو نہیں سکتا۔۔۔ ہم ادھر سے جاکے آتا۔۔۔ بہت لفڑا ہوگا۔۔۔ ہاں۔۔۔ بڑا واندہ ہو جائیں گا۔۔۔‘‘\n\nاس ہوٹل میں جس کی چھت کو روگیٹیڈ اسٹیل کی تھی، سیٹھ ہرمزجی فرام جی، ان کے سالے ایڈل جی اور ہیروئنوں کے سوا سب لوگ آتے تھے۔ نیاز محمد کو تو دن میں کئی مرتبہ یہاں آنا پڑتا تھا کیونکہ وہ چنی منی نام کی دو بلیاں پال رہا تھا۔\n\nراج کشور دن میں ایک چکر لگا تا تھا۔ جونہی وہ اپنے لمبے قد اور کسرتی بدن کے ساتھ دہلیز پر نمودار ہوتا، میرے سوا ہوٹل میں بیٹھے ہوئے تمام لوگوں کی آنکھیں تمتما اٹھتیں۔ اکسٹرا لڑکے اٹھ اٹھ کر راج بھائی کو کرسی پیش کرتے اور جب وہ ان میں سے کسی کی پیش کی ہوئی کرسی پر بیٹھ جاتا تو سارے پروانوں کی مانند اس کے گرد جمع ہو جاتے۔ اس کے بعد دو قسم کی باتیں سننے میں آتیں، اکسٹرا لڑکوں کی زبان پر پرانی فلموں میں راج بھائی کے کام کی تعریف کی، اور خود راج کشور کی زبان پر اس کے اسکول چھوڑ کر کالج اور کالج چھوڑ کر فلمی دنیا میں داخل ہونے کی تاریخ۔۔۔ چونکہ مجھے یہ سب باتیں زبانی یاد ہو چکی تھیں اس لیے جونہی راج کشور ہوٹل میں داخل ہوتا میں اس سے علیک سلیک کرنے کے بعد باہر نکل جاتا۔\n\nایک روز جب بارش تھمی ہوئی تھی اور ہرمزجی فرام جی کا ایلسیشین کتا، نیاز محمد کی دو بلیوں سے ڈر کر، گلاب کے ہوٹل کی طرف دم دبائے بھاگا آرہا تھا، میں نے مولسری کے درخت کے نیچے بنے ہوئے گول چبوترے پر نیلم اور راج کشور کو باتیں کرتے ہوئے دیکھا۔ راج کشور کھڑا حسبِ عادت ہولے ہولے جھول رہا تھا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنے خیال کے مطابق نہایت ہی دلچسپ باتیں کررہا ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ نیلم سے راج کشور کا تعارف کب اور کس طرح ہوا تھا، مگر نیلم تو اسے فلمی دنیا میں داخل ہونے سے پہلے ہی اچھی طرح جانتی تھی اور شاید ایک دو مرتبہ اس نے مجھ سے برسبیل تذکرہ اس کے متناسب اور خوبصورت جسم کی تعریف بھی کی تھی۔\n\nمیں گلاب کے ہوٹل سے نکل کر ریکاڈنگ روم کے چھجے تک پہنچا تو راج کشور نے اپنے چوڑے کاندھے پر سے کھادی کا تھیلہ ایک جھٹکے کے ساتھ اتارا اور اسے کھول کر ایک موٹی کاپی باہر نکالی۔ میں سمجھ گیا۔۔۔ یہ راج کشور کی ڈائری تھی۔\n\nہر روز تمام کاموں سے فارغ ہو کر، اپنی سوتیلی ماں کا آشیرواد لے کر، راج کشور سونے سے پہلے ڈائری لکھنے کا عادی ہے۔ یوں تو اسے پنجابی زبان بہت عزیز ہے مگر یہ روزنامچہ انگریزی میں لکھتا ہے جس میں کہیں ٹیگور کے نازک اسٹائل کی اور کہیں گاندھی کے سیاسی طرز کی جھلک نظر آتی ہے۔۔۔ اس کی تحریر پر شیکسپیئر کے ڈراموں کا اثر بھی کافی ہے۔ مگر مجھے اس مرکب میں لکھنے والے کا خلوص کبھی نظر نہیں آیا۔ اگر یہ ڈائری آپ کوکبھی مل جائے تو آپ کو راج کشور کی زندگی کے دس پندرہ برسوں کا حال معلوم ہو سکتا ہے ؛ اس نے کتنے روپے چندے میں دیے، کتنے غریبوں کو کھانا کھلایا، کتنے جلسوں میں شرکت کی، کیا پہنا، کیا اتارا۔۔۔ اور اگر میرا قیافہ درست ہے تو آپ کو اس ڈائری کے کسی ورق پر میرے نام کے ساتھ پینتیس روپے بھی لکھے نظر آجائیں گے جو میں نے اس سے ایک بار قرض لیے تھے اور اس خیال سے ابھی تک واپس نہیں کیے کہ وہ اپنی ڈائری میں ان کی واپسی کا ذکر کبھی نہیں کرے گا۔\n\nخیر۔۔۔ نیلم کو وہ اس ڈائری کے چند اوراق پڑھ کر سنا رہا تھا۔ میں نے دور ہی سے اس کے خوبصورت ہونٹوں کی جنبش سے معلوم کرلیا کہ وہ شیکسپیئرین انداز میں پربھو کی حمد بیان کررہا ہے۔ نیلم، مولسری کے درخت کے نیچے گول سیمنٹ لگے چبوترے پر، خاموش بیٹھی تھی۔ اس کے چہرے کی ملیح متانت پر راج کشور کے الفاظ کوئی اثر پیدا نہیں کررہے تھے۔ وہ راج کشور کی ابھری ہوئی چھاتی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کے کرتے کے بٹن کھلے تھے، اور سفید بدن پر اس کی چھاتی کے کالے بال بہت ہی خوبصورت معلوم ہوتے تھے۔\n\nاسٹوڈیو میں چاروں طرف ہر چیز دھلی ہوئی تھی۔ نیاز محمد کی دو بلیاں بھی جوعام طور پر غلیظ رہا کرتی تھیں، اس روز بہت صاف ستھری دکھائی دے رہی تھیں۔ دونوں سامنے بنچ پر لیٹی نرم نرم پنجوں سے اپنا منہ دھو رہی تھیں۔ نیلم جارجٹ کی بے داغ سفید ساڑھی میں ملبوس تھی، بلاؤز سفید لنین کا تھا جو اس کی سانولی اور سڈول بانھوں کے ساتھ ایک نہایت ہی خوشگوار اور مدھم سا تضاد پیدا کررہا تھا۔\n’’نیلم اتنی مختلف کیوں دکھائی دے رہی ہے؟‘‘\n\nایک لحظے کے لیے یہ سوال میرے دماغ میں پیدا ہوا اور ایک دم اس کی اور میری آنکھیں چار ہوئیں تو مجھے اس کی نگاہ کے اضطراب میں اپنے سوال کا جواب مل گیا۔ نیلم محبت میں گرفتار ہو چکی تھی۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے بلایا۔ تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں۔ جب راج کشور چلا گیا تو اس نے مجھ سے کہا، ’’آج آپ میرے ساتھ چلیے گا!‘‘\n\nشام کو چھ بجے میں نیلم کے مکان پر تھا۔ جونہی ہم اندر داخل ہوئے اس نے اپنا بیگ صوفے پر پھینکا اور مجھ سے نظر ملائے بغیر کہا، ’’آپ نے جو کچھ سوچا ہے غلط ہے۔‘‘میں اس کا مطلب سمجھ گیاتھا۔ چنانچہ میں نے جواب دیا، ’’تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ میں نے کیا سوچا تھا؟‘‘\n\nاس کے پتلے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ پیدا ہوئی۔\n\n’’اس لیے ہم دونوں نے ایک ہی بات سوچی تھی۔۔۔ آپ نے شاید بعد میں غور نہیں کیا۔ مگر میں بہت سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ہم دونوں غلط تھے۔‘‘\n\n’’اگر میں کہوں کہ ہم دونوں صحیح تھے۔‘‘\n\nاس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا، ’’تو ہم دونوں بیوقوف ہیں۔‘‘\n\nیہ کہہ کر فوراً ہی اس کے چہرے کی سنجیدگی اور زیادہ سنولا گئی، ’’صادق یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ میں بچی ہوں جو مجھے اپنے دل کا حال معلوم نہیں۔۔۔ تمہارے خیال کے مطابق میری عمر کیا ہوگی؟‘‘\n\n’’بائیس برس۔‘‘\n\n’’بالکل درست۔۔۔ لیکن تم نہیں جانتے کہ دس برس کی عمر میں مجھے محبت کے معنی معلوم تھے۔۔۔ معنی کیا ہوئے جی۔۔۔ خدا کی قسم میں محبت کرتی تھی۔ دس سے لے کر سولہ برس تک میں ایک خطرناک محبت میں گرفتار رہی ہوں۔ میرے دل میں اب کیا خاک کسی کی محبت پیدا ہوگی۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے میرے منجمد چہرے کی طرف دیکھا اور مضطرب ہو کر کہا، ’’تم کبھی نہیں مانو گے، میں تمہارے سامنے اپنا دل نکال کر رکھ دوں، پھر بھی تم یقین نہیں کرو گے، میں تمہیں اچھی طرح جانتی ہوں۔۔۔ بھئی خدا کی قسم، وہ مر جائے جو تم سے جھوٹ بولے۔۔۔ میرے دل میں اب کسی کی محبت پیدا نہیں ہوسکتی، لیکن اتنا ضرور ہے کہ۔۔۔‘‘ یہ کہتے کہتے وہ ایک دم رک گئی۔\n\nمیں نے اس سے کچھ نہ کہا کیونکہ وہ گہرے فکر میں غرق ہوگئی تھی۔ شاید وہ سوچ رہی تھی کہ ’’اتنا ضرور‘‘ کیا ہے؟\n\nتھوڑی دیر کے بعد اس کے پتلے ہونٹوں پر وہی خفیف پراسرار مسکراہٹ نمودار ہوئی جس سے اس کے چہرے کی سنجیدگی میں تھوڑی سی عالمانہ شرارت پیدا ہو جاتی تھی۔ صوفے پر سے ایک جھٹکے کے ساتھ اٹھ کر اس نے کہنا شروع کیا، ’’میں اتنا ضرور کہہ سکتی ہوں کہ یہ محبت نہیں ہے اور کوئی بلا ہو تو میں کہہ نہیں سکتی۔۔۔ صادق میں تمہیں یقین دلاتی ہوں۔‘‘\n\nمیں نے فوراً ہی کہا، ’’یعنی تم اپنے آپ کو یقین دلاتی ہو۔‘‘\n\nوہ جل گئی، ’’تم بہت کمینے ہو۔۔۔ کہنے کا ایک ڈھنگ ہوتا ہے۔ آخر تمہیں یقین دلانے کی مجھے ضرورت ہی کیا پڑی ہے۔۔۔ میں اپنے آپ کو یقین دلا رہی ہوں، مگر مصیبت یہ ہے کہ آنہیں رہا۔۔۔ کیا تم میری مدد نہیں کرسکتے۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ میرے پاس بیٹھ گئی اور اپنے داہنے ہاتھ کی چھنگلیا پکڑ کر مجھ سے پوچھنے لگی، ’’راج کشور کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے۔۔۔ میرا مطلب ہے تمہارے خیال کے مطابق راج کشور میں وہ کون سی چیز ہے جو مجھے پسند آئی ہے۔‘‘ چھنگلیا چھوڑ کر اس نے ایک ایک کرکے دوسری انگلیاں پکڑنی شروع کیں۔\n\n’’مجھے اس کی باتیں پسند نہیں۔۔۔ مجھے اس کی ایکٹنگ پسند نہیں۔۔۔ مجھے اس کی ڈائری پسند نہیں، جانے کیا خرافات سنا رہا تھا۔‘‘\n\nخود ہی تنگ آکر وہ اٹھ کھڑی ہوئی، ’’سمجھ میں نہیں آتا مجھے کیا ہوگیا ہے۔۔۔ بس صرف یہ جی چاہتا ہے کہ ایک ہنگامہ ہو۔۔۔ بلیوں کی لڑائی کی طرح شور مچے، دھول اڑے۔۔۔ اور میں پسینہ پسینہ ہو جاؤں۔۔۔‘‘ پھر ایک دم وہ میری طرف پلٹی، ’’صادق۔۔۔ تمہارا کیا خیال ہے۔۔۔ میں کیسی عورت ہوں؟‘‘\n\nمیں نے مسکرا کر جواب دیا، ’’بلیاں اور عورتیں میری سمجھ سے ہمیشہ بالاتر رہی ہیں۔‘‘\n\nاس نے ایک دم پوچھا، ’’کیوں؟‘‘\n\nمیں نے تھوڑی دیر سوچ کر جواب دیا، ’’ہمارے گھر میں ایک بلی رہتی تھی، سال میں ایک مرتبہ اس پر رونے کے دورے پڑتے تھے۔۔۔ اس کا رونا دھونا سن کر کہیں سے ایک بلا آجایا کرتا تھا۔ پھر ان دونوں میں اس قدر لڑائی اور خون خرابہ ہوتا کہ الاماں۔۔۔ مگر اس کے بعد وہ خالہ بلی چار بچوں کی ماں بن جایا کرتی تھی۔‘‘\n\nنیلم کا جیسے منہ کا ذائقہ خراب ہوگیا، ’’تھو۔۔۔ تم کتنے گندے ہو۔‘‘ پھر تھوڑی دیر بعد الائچی سے منہ کا ذائقہ درست کرنے کے بعد اس نے کہا، ’’مجھے اولاد سے نفرت ہے۔ خیر ہٹاؤ جی اس قصے کو۔‘‘یہ کہہ کر نیلم نے پاندان کھول کر اپنی پتلی پتلی انگلیوں سے میرے لیے پان لگانا شروع کردیا۔ چاندی کی چھوٹی چھوٹی کلھیوں سے اس نے بڑی نفاست سے چمچی کے ساتھ چونا اور کتھا نکال کر رگیں نکالے ہوئے پان پر پھیلایا اور گلوری بنا کر مجھے دی، ’’صادق!تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ خالی الذہن ہوگئی۔\n\nمیں نے پوچھا، ’’کس بارے میں؟‘‘\n\nاس نے سروتے سے بھنی ہوئی چھالیا کاٹتے ہوئے کہا، ’’اس بکواس کے بارے میں جو خواہ مخواہ شروع ہوگئی ہے۔۔۔ یہ بکواس نہیں تو کیا ہے، یعنی میری سمجھ میں کچھ آتا ہی نہیں۔۔۔ خود ہی پھاڑتی ہوں، خود ہی رفو کرتی ہوں۔ اگر یہ بکواس اسی طرح جاری رہے تو جانے کیا ہوگا۔۔۔ تم جانتے ہو، میں بہت زبردست عورت ہوں۔‘‘\n\n’’زبردست سے تمہاری کیا مراد ہے؟‘‘\n\nنیلم کے پتلے ہونٹوں پر وہی خفیف پر اسرار مسکراہٹ پیدا ہوئی، ’’تم بڑے بے شرم ہو۔ سب کچھ سمجھتے ہو مگر مہین مہین چٹکیاں لے کر مجھے اکساؤ گے ضرور۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں کی سفیدی گلابی رنگت اختیار کرگئی۔\n\n’’تم سمجھتے کیوں نہیں کہ میں بہت گرم مزاج کی عورت ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی، ’’اب تم جاؤ۔ میں نہانا چاہتی ہوں۔‘‘\n\nمیں چلا گیا۔\n\nاس کے بعد نیلم نے بہت دنوں تک راج کشور کے بارے میں مجھ سے کچھ نہ کہا۔ مگر اس دوران میں ہم دونوں ایک دوسرے کے خیالات سے واقف تھے۔ جو کچھ وہ سوچتی تھی، مجھے معلوم ہو جاتا تھا اور جو کچھ میں سوچتا تھا اسے معلوم ہو جاتا تھا۔ کئی روز تک یہی خاموش تبادلہ جاری رہا۔\n\nایک دن ڈائریکٹر کرپلانی جو ’’بن کی سندری‘‘ بنا رہا تھا، ہیروئن کی ریہرسل سن رہا تھا۔ ہم سب میوزک روم میں جمع تھے۔ نیلم ایک کرسی پر بیٹھی اپنے پاؤں کی جنبش سے ہولے ہولے تال دے رہی تھی۔ ایک بازاری قسم کا گانا مگر دھن اچھی تھی۔ جب ریہرسل ختم ہوئی تو راج کشور کاندھے پر کھادی کا تھیلا رکھے کمرے میں داخل ہوا۔ ڈائریکٹر کرپلانی، میوزک ڈائریکٹر گھوش، ساؤنڈ ریکارڈسٹ پی اے این موگھا۔۔۔ ان سب کو فرداً فرداً اس نے انگریزی میں آداب کیا۔ ہیروئن مس عیدن بائی کو ہاتھ جوڑ کر نمسکار کیا اور کہا، ’’عیدن بہن!کل میں نے آپ کو کرافرڈ مارکیٹ میں دیکھا۔ میں آپ کی بھابھی کے لیے موسمبیاں خرید رہا تھا کہ آپ کی موٹر نظر آئی۔۔۔‘‘ جھولتے جھولتے اس کی نظر نیلم پر پڑی جو پیانو کے پاس ایک پست قد کی کرسی میں دھنسی ہوئی تھی۔ ایک دم اس کے ہاتھ نمسکار کے لیے، اٹھے یہ دیکھتے ہی نیلم اٹھ کھڑی ہوئی، ’’راج صاحب! مجھے بہن نہ کہیے گا۔‘‘\n\nنیلم نے یہ بات کچھ اس انداز سے کہی کہ میوزک روم میں بیٹھے ہوئے سب آدمی ایک لحظے کے لیے مبہوت ہوگئے۔ راج کشور کھسیانا سا ہوگیا اور صرف اس قدر کہہ سکا، ’’کیوں؟‘‘\n\nنیلم جواب دیے بغیر باہر نکل گئی۔\n\nتیسرے روز، میں ناگ پاڑے میں سہ پہر کے وقت شام لال پنواڑی کی دکان پر گیا تو وہاں اسی واقعے کے متعلق چہ میگوئیاں ہورہی تھیں۔۔۔ شام لال بڑے فخریہ لہجے میں کہہ رہا تھا، ’’سالی کا اپنا من میلا ہوگا۔۔۔ ورنہ راج بھائی کسی کو بہن کہے، اور وہ برا مانے۔۔۔ کچھ بھی ہو، اس کی مراد کبھی پوری نہیں ہوگی۔ راج بھائی لنگوٹ کابہت پکا ہے۔‘‘ راج بھائی کے لنگوٹ سے میں بہت تنگ آگیا تھا۔ مگر میں نے شام لال سے کچھ نہ کہا اور خاموش بیٹھا اس کی اور اس کے دوست گاہکوں کی باتیں سنتا رہا جن میں مبالغہ زیادہ اور اصلیت کم تھی۔\n\nاسٹوڈیو میں ہر شخص کو میوزک روم کے اس حادثے کا علم تھا، اور تین روز سے گفتگو کا موضوع بس یہی چیز تھی کہ راج کشور کو مس نیلم نے کیوں ایک دم بہن کہنے سے منع کیا۔ میں نے راج کشور کی زبانی اس بارے میں کچھ نہ سنا مگر اس کے ایک دوست سے معلوم ہوا کہ اس نے اپنی ڈائری میں اس پر نہایت پر دلچسپ تبصرہ لکھا ہے اور پرارتھنا کی ہے کہ مس نیلم کا دل و دماغ پاک و صاف ہو جائے۔ اس حادثے کے بعد کئی دن گزر گئے مگر کوئی قابل ذکر بات وقوع پذیر نہ ہوئی۔\n\nنیلم پہلے سے کچھ زیادہ سنجیدہ ہوگئی تھی اور راج کشور کے کرتے کے بٹن اب ہر وقت کھلے رہتے تھے، جس میں سے اس کی سفید اور ابھری ہوئی چھاتی کے کالے بال باہر جھانکتے رہتے تھے۔ چونکہ ایک دو روز سے بارش تھمی ہوئی تھی اور’’بن کی سندری‘‘ کے چوتھے سیٹ کا رنگ خشک ہوگیا تھا، اس لیے ڈائریکٹر نے نوٹس بورڈ پر شوٹنگ کا اعلان چسپاں کردیا۔ یہ سین جو اب لیا جانے والا تھا، نیلم اور راج کشور کے درمیان تھا۔ چونکہ میں نے ہی اس کے مکالمے لکھے تھے، اس لیے مجھے معلوم تھاکہ راج کشور باتیں کرتے کرتے نیلم کا ہاتھ چومے گا۔ اس سین میں چومنے کی بالکل گنجائش نہ تھی۔ مگر چونکہ عوام کے جذبات کو اکسانے کے لیے عام طور پر فلموں میں عورتوں کو ایسے لباس پہنائے جاتے ہیں جو لوگوں کو ستائیں، اس لیے ڈائریکٹر کرپلانی نے، پرانے نسخے کے مطابق، دست بوسی کا یہ ٹچ رکھ دیا تھا۔\n\nجب شوٹنگ شروع ہوئی تو میں دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ سیٹ پر موجود تھا۔ راج کشور اور نیلم، دونوں کا ردِّ عمل کیا ہوگا، اس کے تصور ہی سے میرے جسم میں سنسنی کی ایک لہر دوڑ جاتی تھی۔ مگر سارا سین مکمل ہوگیا، اور کچھ نہ ہوا۔ ہر مکالمے کے بعد ایک تھکا دینے والی آہنگی کے ساتھ برقی لیمپ روشن اور گل ہو جاتے۔ اسٹارٹ اور کٹ کی آوازیں بلند ہوتیں اور شام کو جب سین کے کلائمیکس کا وقت آیا تو راج کشور نے بڑے رومانی انداز میں نیلم کا ہاتھ پکڑا مگر کیمرے کی طرف پیٹھ کرکے اپنا ہاتھ چوم کر، الگ کرہو گیا۔\n\nمیرا خیال تھا کہ نیلم اپنا ہاتھ کھینچ کر راج کشور کے منہ پر ایک ایسا چانٹا جڑے گی کہ ریکارڈنگ روم میں پی این موگھا کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔ مگر اس کے برعکس مجھے نیلم کے پتلے ہونٹوں پر ایک تحلیل شدہ مسکراہٹ دکھائی دی۔ جس میں عورت کے مجروح جذبات کا شائبہ تک موجود نہ تھا۔ مجھے سخت ناامیدی ہوئی تھی۔ میں نے اس کا ذکر نیلم سے نہ کیا۔ دو تین روز گزر گئے اور جب نے اس نے بھی مجھ سے اس بارے میں کچھ نہ کہا۔۔۔ تو میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسے اس ہاتھ چومنے والی بات کی اہمیت کا علم ہی نہیں تھا، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اس کے ذکی الحس دماغ میں اس کا خیال تک بھی نہ آیا تھا اور اس کی وجہ صرف یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اس وقت راج کشور کی زبان سے جو عورت کو بہن کہنے کا عادی تھا، عاشقانہ الفاظ سن رہی تھی۔\n\nنیلم کا ہاتھ چومنے کی بجائے راج کشور نے اپنا ہاتھ کیوں چوما تھا۔۔۔ کیا اس نے انتقام لیا تھا۔۔۔ کیا اس نے اس عورت کو ذلیل کرنے کی کوشش کی تھی، ایسے کئی سوال میرے دماغ میں پیدا ہوئے مگر کوئی جواب نہ ملا۔\n\nچوتھے روز، جب میں حسبِ معمول ناگ پاڑے میں شام لال کی دکان پر گیا تو اس نے مجھ سے شکایت بھرے لہجے میں، ’’منٹو صاحب! آپ تو ہمیں اپنی کمپنی کی کوئی بات سناتے ہی نہیں۔۔۔ آپ بتانا نہیں چاہتے یا پھر آپ کو کچھ معلوم ہی نہیں ہوتا؟ پتا ہے آپ کو، راج بھائی نے کیا کیا؟‘‘ اس کے بعد اس نے اپنے انداز میں یہ کہانی شروع کی کہ ’’بن کی سندری‘‘ میں ایک سین تھا جس میں ڈائریکٹر صاحب نے راج بھائی کو مس نیلم کا منہ چومنے کا آرڈر دیا لیکن صاحب، کہاں راج بھائی اور کہاں وہ سالی ٹکہائی۔ راج بھائی نے فوراً کہہ دیا، ’’نا صاحب میں ایسا کام کبھی نہیں کروں گا۔ میری اپنی پتنی ہے، اس گندی عورت کا منہ چوم کر کیا میں اس کے پوتر ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ملا سکتا ہوں۔۔۔‘‘ بس صاحب فوراً ڈائریکٹرصاحب کو سین بدلنا پڑا اور راج بھائی سے کہا گیا کہ اچھا بھئی تم منہ نہ چومو ہاتھ چوم لو، مگر راج صاحب نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں۔ جب وقت آیا تو اس نے اس صفائی سے اپنا ہاتھ چوما کہ دیکھنے والوں کو یہی معلوم ہوا کہ اس نے اس سالی کا ہاتھ چوما ہے۔‘‘\n\nمیں نے اس گفتگو کا ذکر نیلم سے نہ کیا، اس لیے کہ جب وہ اس سارے قصّے ہی سے بے خبر تھی، تواسے خواہ مخواہ رنجیدہ کرنے سے کیا فائدہ۔\n\nبمبئی میں ملیریا عام ہے۔ معلوم نہیں، کون سا مہینہ تھا اور کون سی تاریخ تھی۔ صرف اتنا یاد ہے کہ ’’بن کی سندری‘‘ کا پانچواں سیٹ لگ رہا تھا اور بارش بڑے زوروں پر تھی کہ نیلم اچانک بہت تیز بخار میں مبتلا ہوگئی۔ چونکہ مجھے ا سٹوڈیو میں کوئی کام نہیں تھا، اس لیے میں گھنٹوں اس کے پاس بیٹھا اس کی تیمار داری کرتا رہتا۔ ملیریا نے اس کے چہرے کی سنولاہٹ میں ایک عجیب قسم کی درد انگیز زردی پیدا کردی تھی۔۔۔ اس کی آنکھوں اور اس کے پتلے ہونٹوں کے کونوں میں جو ناقابل بیان تلخیاں گھلی رہتی تھیں، اب ان میں ایک بے معلوم بے بسی کی جھلک بھی دکھائی دیتی تھی۔ کونین کے ٹیکوں سے اس کی سماعت کسی قدر کمزور ہوگئی تھی۔ چنانچہ اسے اپنی نحیف آواز اونچی کرنا پڑتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ شاید میرے کان بھی خراب ہوگئے ہیں۔\n\nایک دن جب اس کا بخار بالکل دور ہوگیا تھا، اور وہ بستر پر لیٹی نقاہت بھرے لہجے میں عیدن بائی کی بیمارپرسی کا شکریہ ادا کررہی تھی؛ نیچے سے موٹر کے ہارن کی آواز آئی۔ میں نے دیکھا کہ یہ آواز سن کر نیلم کے بدن پر ایک سرد جھرجھری سی دوڑ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد کمرے کا دبیز ساگوانی دروازہ کھلا اورراج کشور کھادی کے سفید کرتے اور تنگ پائجامے میں اپنی پرانی وضع کی بیوی کے ہم راہ اندر داخل ہوا۔\n\nعیدن بائی کو عیدن بہن کہہ کر سلام کیا۔ میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور اپنی بیوی کو جو تیکھے تیکھے نقشوں والی گھریلو قسم کی عورت تھی، ہم سب سے متعارف کرا کے وہ نیلم کے پلنگ پر بیٹھ گیا۔ چند لمحات وہ ایسے ہی خلا میں مسکراتا رہا۔ پھر اس نے بیمار نیلم کی طرف دیکھا اور میں نے پہلی مرتبہ اس کی دھلی ہوئی آنکھوں میں ایک گرد آلود جذبہ تیرتا ہوا پایا۔\n\nمیں ابھی پورح طرح متحیر بھی نہ ہونے پایا تھا کہ اس نے کھلنڈرے آواز میں کہنا شروع کیا’’بہت دنوں سے ارادہ کررہا تھاکہ آپ کی بیمار پرسی کے لیے آؤں، مگر اس کم بخت موٹر کا انجن کچھ ایسا خراب ہوا کہ دس دن کارخانے میں پڑی رہی۔ آج آئی تو میں نے (اپنی بیوی کی طرف اشارہ کرکے) شانتی سے کہا کہ بھئی چلو اسی وقت اٹھو۔۔۔ رسوئی کا کام کوئی اور کرے گا، آج اتفاق سے رکھشا بندھن کا تہوار بھی ہے۔۔۔ نیلم بہن کی خیر و عافیت بھی پوچھ آئیں گے اور ان سے رکھشا بھی بندھوائیں گے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے کھادی کے کرتے سے ایک ریشمی پھندنے والا گجرا نکالا۔ نیلم کے چہرے کی زردی اور زیادہ درد انگیز ہوگئی۔\n\nراج کشور جان بوجھ کر نیلم کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا، چنانچہ اس نے عیدن بائی سے کہا۔ مگر ایسے نہیں۔ خوشی کا موقع ہے، بہن بیمار بن کر رکھشا نہیں باندھے گی۔ شانتی، چلو اٹھو، ان کو لپ اسٹک وغیرہ لگاؤ۔‘‘\n\n’’میک اپ بکس کہاں ہے؟‘‘\n\nسامنے مینٹل پیس پر نیلم کا میک اپ بکس پڑا تھا۔ راج کشور نے چند لمبے لمبے قدم اُٹھائے اور اسے لے آیا۔ نیلم خاموش تھی۔۔۔ اس کے پتلے ہونٹ بھینچ گئے تھے جیسے وہ چیخیں بڑی مشکل سے روک رہی ہے۔ جب شانتی نے پتی ورتا استری کی طرح اٹھ کر نیلم کا میک اپ کرنا چاہا تو اس نے کوئی مزاحمت پیش نہ کی۔ عیدن بائی نے ایک بے جان لاش کو سہارا دے کر اٹھایا اور جب شانتی نے نہایت ہی غیر صناعانہ طریق پر اس کے ہونٹوں پر لپ اسٹک لگانا شروع کی تو وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائی۔۔۔ نیلم کی یہ مسکراہٹ ایک خاموش چیخ تھی۔\n\nمیرا خیال تھا۔۔۔ نہیں، مجھے یقین تھا کہ ایک دم کچھ ہوگا۔۔۔ نیلم کے بھنچے ہُوئے ہونٹ ایک دھماکے کے ساتھ واہوں گے اور جس طرح برسات میں پہاڑی نالے بڑے بڑے مضبوط بند توڑ کر دیوانہ وار آگے نکل جاتے ہیں، اسی طرح نیلم اپنے رکے ہوئے جذبات کے طوفانی بہاؤ میں ہم سب کے قدم اکھیڑ کر خدا معلوم کن گہرائیوں میں دھکیل لے جائے گی۔ مگر تعجب ہے کہ وہ بالکل خاموش رہی۔ اس کے چہرے کی درد انگیز زردی غازے اور سرخی کے غبار میں چھپتی رہی اور وہ پتھر کے بت کی طرح بے حس بنی رہی۔ آخر میں جب میک اپ مکمل ہوگیا تو اس نے راج کشور سے حیرت انگیز طور پر مضبوط لہجے میں کہا، ’’لائیے! اب میں رکھشا باندھ دوں۔‘‘\n\nریشمی پھندنوں والا گجرا تھوڑی دیر میں راج کشور کی کلائی میں تھا اور نیلم جس کے ہاتھ کانپنے چاہئیں تھے، بڑے سنگین سکون کے ساتھ اس کا تکمہ بند کررہی تھی۔ اس عمل کے دوران میں ایک مرتبہ پھر مجھے راج کشور کی دھلی ہوئی آنکھ میں ایک گرد آلود جذبے کی جھلک نظر آئی جو فوراً ہی اس کی ہنسی میں تحلیل ہوگئی۔\n\nراج کشور نے ایک لفافے میں رسم کے مطابق نیلم کو کچھ ر وپے دیے جو اس نے شکریہ ادا کرکے اپنے تکیے کے نیچے رکھ لیے۔۔۔ جب وہ لوگ چلے گئے، میں اور نیلم اکیلے رہ گئے تو اس نے مجھ پر ایک اجڑی ہوئی نگاہ ڈالی اور تکیے پر سر رکھ کر خاموش لیٹ گئی۔ پلنگ پرراج کشور اپنا تھیلا بھول گیا تھا۔ جب نیلم نے اسے دیکھا تو پاؤں سے ایک طرف کردیا۔ میں تقریباً دو گھنٹے اس کے پاس بیٹھا اخبار پڑھتا رہا۔ جب اس نے کوئی بات نہ کی تو میں رخصت لیے بغیر چلا آیا۔\n\nاس واقعہ کے تین روز بعد میں ناگ پاڑے میں اپنی نو روپے ماہوار کی کھولی کے اندر بیٹھا شیو کررہا تھا اور دوسری کھولی سے اپنی ہمسائی مسز فرنینڈیز کی گالیاں سن رہا تھا کہ ایک دم کوئی اندر داخل ہوا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا، نیلم تھی۔ ایک لحظے کے لیے میں نے خیال کیا کہ نہیں، کوئی اور ہے۔۔۔ اس کے ہونٹوں پر گہرے سرخ رنگ کی لپ اسٹک کچھ اس طرح پھیلی ہوئی تھی جیسے منہ سے خون نکل نکل کر بہتا رہا اور پونچھا نہیں گیا۔۔۔ سر کا ایک بال بھی صحیح حالت میں نہیں تھا۔ سفید ساڑی کی بوٹیاں اڑی ہوئی تھیں۔ بلاوز کے تین چار ہک کھلے تھے اوراس کی سانولی چھاتیوں پر خراشیں نظر آرہی تھیں۔ نیلم کو اس حالت میں دیکھ کر مجھ سے پوچھا ہی نہ گیا کہ تمہیں کیا ہوا، اور میری کھولی کا پتہ لگا کر تم کیسے پہنچی ہو۔\n\nپہلا کام میں نے یہ کیا کہ دروازہ بند کردیا۔ جب میں کرسی کھینچ کر اس کے پاس بیٹھا تو اس نے اپنے لپ اسٹک سے لتھڑے ہوئے ہونٹ کھولے اور کہا، ’’میں سیدھی یہاں آرہی ہوں۔‘‘\n\nمیں نے آہستہ سے پوچھا، ’’کہاں سے؟‘‘\n\n’’اپنے مکان سے۔۔۔ اور میں تم سے یہ کہنے آئی ہوں کہ اب وہ بکواس جو شروع ہوئی تھی، ختم ہوگئی ہے۔‘‘\n\n’’کیسے؟‘‘\n\n’’مجھے معلوم تھا کہ وہ پھر میرے مکان پر آئے گا، اس وقت جب اور کوئی نہیں ہوگا! چنانچہ وہ آیا۔۔۔ اپنا تھیلا لینے کے لیے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کے پتلے ہونٹوں پر جو لپ اسٹک نے بالکل بے شکل کردیے تھے، وہی خفیف سی پراسرار مسکراہٹ نمودار ہوئی، ’’وہ اپنا تھیلا لینے آیا تھا۔۔۔ میں نے کہا، چلیے، دوسرے کمرے میں پڑا ہے۔ میرا لہجہ شاید بدلا ہوا تھا کیونکہ وہ کچھ گھبرا سا گیا۔۔۔ میں نے کہا گھبرائیے نہیں۔۔۔ جب ہم دوسرے کمرے میں داخل ہوئے تو میں تھیلا دینے کی بجائے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ گئی اور میک اپ کرنا شروع کردیا۔‘‘\n\nیہاں تک بول کر وہ خاموش ہوگئی۔۔۔ سامنے، میرے ٹوٹے ہوئے میز پر، شیشے کے گلاس میں پانی پڑا تھا۔ اسے اٹھا کر نیلم غٹا غٹ پی گئی۔۔۔ اور ساڑی کے پلو سے ہونٹ پونچھ کر اس نے پھر اپنا سلسلہ کلام جاری کیا، ’’میں ایک گھنٹے تک میک اپ کرتی رہی۔ جتنی لپ اسٹک ہونٹوں پر تھپ سکتی تھی، میں نے تھوپی، جتنی سرخی میرے گالوں پر چڑھ سکتی تھی، میں نے چڑھائی۔ وہ خاموش ایک کونے میں کھڑا آئینے میں میری شکل دیکھتا رہا۔ جب میں بالکل چڑیل بن گئی تو مضبوط قدموں کے ساتھ چل کر میں نے دروازہ بند کردیا۔‘‘\n\n’’پھر کیا ہوا؟‘‘\n\nمیں نے جب اپنے سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے نیلم کی طرف دیکھا تو وہ مجھے بالکل مختلف نظر آئی۔ ساڑی سے ہونٹ پونچھنے کے بعد اس کے ہونٹوں کی رنگت کچھ عجیب سی ہو گئی تھی۔ اس کے علاوہ اس کا لہجہ اتنا ہی تپاہوا تھا جتنا سرخ گرم کیے ہوئے لوہے کا، جسے ہتھوڑے سے کوٹا جارہا ہو۔ اس وقت تو وہ چڑیل نظر نہیں آرہی تھی، لیکن جب اس نے میک اپ کیا ہوگا تو ضرور چڑیل دکھائی دیتی ہوگی۔\n\nمیرے سوال کا جواب اس نے فوراً ہی نہ دیا۔۔۔ ٹاٹ کی چارپائی سے اٹھ کر وہ میرے میز پر بیٹھ گئی اور کہنے لگی، ’’میں نے اس کو جھنجوڑ دیا۔۔۔ جنگلی بلی کی طرح میں اس کے ساتھ چمٹ گئی۔ اس نے میرا منہ نوچا، میں نے اس کا۔۔۔ بہت دیر تک ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کشتی لڑتے رہے۔ اوہ۔۔۔ اس میں بلا کی طاقت تھی۔۔۔ لیکن۔۔۔ لیکن۔۔۔ جیسا کہ میں تم سے ایک بار کہہ چکی ہوں۔۔۔ میں بہت زبردست عورت ہوں۔۔۔ میری کمزوری۔۔۔ وہ کمزوری جو ملیریا نے پیدا کی تھی، مجھے بالکل محسوس نہ ہوئی۔ میرا بدن تپ رہا تھا۔ میری آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں۔۔۔ میری ہڈیاں سخت ہورہی تھیں۔ میں نے اسے پکڑ لیا۔ میں نے اس سے بلیوں کی طرح لڑنا شروع کیا۔۔۔ مجھے معلوم نہیں کیوں۔۔۔ مجھے پتا نہیں کس لیے۔۔۔ بے سوچے سمجھے میں اس سے بھڑ گئی۔۔۔ ہم دونوں نے کوئی بھی ایسی بات زبان سے نہ نکالی جس کا مطلب کوئی دوسرا سمجھ سکے۔۔۔ میں چیختی رہی۔۔۔ وہ صرف ہوں ہوں کرتا رہا۔۔۔ اس کے سفید کھادی کے کرتے کی کئی بوٹیاں میں نے ان انگلیوں سے نوچیں۔۔۔ اس نے میرے بال، میری کئی لٹیں جڑ سے نکال ڈالیں۔۔۔ اس نے اپنی ساری طاقت صرف کردی۔ مگر میں نے تہیّہ کرلیا تھا کہ فتح میری ہوگی۔۔۔ چنانچہ وہ قالین پر مردے کی طرح لیٹا تھا۔۔۔ اور میں اس قدر ہانپ رہی تھی کہ ایسا لگتا تھا کہ میرا سانس ایک دم رک جائے گا۔۔۔ اتنا ہانپتے ہوئے بھی میں نے اس کے کرتے کو چندی چندی کردیا۔ اس وقت میں نے اس کا چوڑا چکلا سینہ دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ بکواس کیا تھی۔۔۔ وہی بکواس جس کے متعلق ہم دونوں سوچتے تھے اور کچھ سمجھ نہیں سکتے تھے۔۔۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنے بکھرے ہوئے بالوں کو سر کی جنبش سے ایک طرف ہٹاتے ہوئے کہنے لگی، ’’صادق۔۔۔ کم بخت کا جسم واقعی خوبصورت ہے۔۔۔ جانے مجھے کیا ہوا۔ ایک دم میں اس پر جھکی اور اسے کاٹنا شروع کردیا۔۔۔ وہ سی سی کرتا رہا۔۔۔ لیکن جب میں نے اس کے ہونٹوں سے اپنے لہو بھرے ہونٹ پیوست کیے اور اسے ایک خطرناک جلتا ہوا بوسہ دیا تو وہ انجام رسیدہ عورت کی طرح ٹھنڈا ہوگیا۔ میں اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ مجھے اس سے ایک دم نفرت پیدا ہوگئی۔۔۔ میں نے پورے غور سے اس کی طرف نیچے دیکھا۔۔۔ اس کے خوبصورت بدن پر میرے لہو اور لپ اسٹک کی سرخی نے بہت ہی بدنما بیل بوٹے بنا دیے تھے۔۔۔ میں نے اپنے کمرے کی طرف", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%B1%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "میرا ہم سفر", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "دھواں", "year": "1941", "text_ur": "پلیٹ فارم پر شہاب، سعید اور عباس نے ایک شور مچا رکھا تھا۔ یہ سب دوست مجھے اسٹیشن پر چھوڑنے کے لیے آئے تھے، گاڑی پلیٹ فارم کو چھوڑ کر آہستہ آہستہ چل رہی تھی کہ شہاب نے بڑھ کر پائدان پر چڑھتے ہوئے مجھ سے کہا:\n\n’’عباس کہتا ہے کہ گھر جا کر اپنی ’’ان‘‘ کی خدمت میں سلام ضرور کہنا۔‘‘\n\n’’وہ تو پاگل ہے۔۔۔ اچھا خدا حافظ۔‘‘ میں نے ان علیگی دوستوں سے پیچھا چھڑاتے ہوئے یہ الفاظ جلدی میں ادا کیے اور شہاب سے ہاتھ ملا کردروازہ بند کرنے کے بعد اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔\n\nعلی گڑھ اور اس کی حسین علمی فضا، جس میں مَیں اس سے کچھ عرصہ پہلے سانس لے رہا تھا، اب مجھ سے ایک طویل عرصہ کے لیے دورہورہی تھی۔ میرا دل سخت مغموم تھا۔ شہاب اگرچہ کالج میں بہت تنٓگ کرتا تھا مگر اس سے جدا ہونے کا مجھے اب احساس ہوا، جب میں نے دفعتاً خیال کیا کہ امرتسر میں مجھے اس ایسا دلچسپ دوست میسر نہ آسکے گا۔ اسی خیال کے غم افزا اثر کے تحت میں نے سر کو جنبش دیتے ہوئے اور اس عمل سے گویا اپنے ذہن سے اس تاریکی کو جھٹکتے ہوئے جیب میں سے سگریٹ کی ڈبیا نکالی اور اس میں سے ایک سگریٹ نکال کر اس کو سلگایا اور اطمینان سے نشست پر ٹھکانے سے بیٹھ کر اپنے سامان کا جائزہ لیا اور پھر اپنے ساتھی کی طرف جو سیٹ کے آخری حصے پر بیٹھا تھا، پیٹھ کرکے سگریٹ سے دھوئیں کے چھلے بنانے کی بے سود کوشش میں مصروف ہوگیا۔\n\nمیں بالکل خالی الذہن تھا۔ معلوم نہیں کیوں؟ سگریٹ کا دھواں جس کو میں اپنے منہ سے چھلوں کی صورت میں نکالنے کی کوشش کرتا تھا،ہوا کے تند جھونکوں کی تاب نہ لا کر کھڑکی کے راستے کسی تھرکتی ہوئی رقاصہ کی طرح تڑپ کر باہر نکل رہا تھا۔ میں بہت عرصہ تک سگریٹ کے اس لرزاں دھوئیں کو بڑے غور سے دیکھتا رہا۔۔۔ یہ رقص کی ایک تکمیل تھی۔\n\n’’رقص کی تکمیل۔‘‘ یہ الفاظ دفعتاًمیرے دماغ میں پیدا ہوئے اور میں اپنے اس اچھوتے خیال پربہت مسرور ہوا۔\n\n’’کیا میں پاگل ہوں؟‘‘\n\nگاڑی پلیٹ فارم کو چھوڑ کر کھلے میدانوں میں دوڑ رہی تھی۔ آہنی پٹریوں کا بچھا ہوا جال بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ پتھریلی روش کے آس پاس اگے ہوئے درخت ایک دوسرے کا تعاقب کرتے معلوم ہوتے تھے۔میں ’’رقص کی تکمیل‘‘ اور ان درختوں کی بھاگ دوڑ کا مشاہدہ کررہا تھا کہ ان حیران کن الفاظ نے مجھے چونکا دیا جو غالباً میرے اس ہم سفر نے ادا کیے تھے جو سیٹ کے آخری حصے پر کونے میں بیٹھا تھا۔ اس نے یقیناً یہ عجیب سوال مجھ سے ہی پوچھا تھا۔\n\n’’ کیا آپ مجھ سے دریافت فرما رہے ہیں؟‘‘\n\n’’ جی ہاں، کیا میں پاگل ہوں؟‘‘ اس نے ایک بار پھر مجھ سے دریافت کیا۔\n\nٹرین کی روانگی پر جب میں نے شہاب سے یہ کہا تھا، ’’وہ تو پاگل ہے۔ اچھا خدا حافظ۔‘‘ تو شاید اس شریف آدمی نے یہ خیال کرلیا تھا کہ میں نے اسی کو پاگل کہا ہے۔۔۔ میں کھل کھلا کر ہنس پڑا اور نہایت مؤدبانہ لہجہ میں کہا:\n\n’’ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے حضرت، گاڑی چلتے وقت شاید میں نے اپنے کسی دوست کو پاگل کے نام سے پکارا تھا۔۔۔ وہ تو ہے ہی پاگل۔ میں معافی چاہتا ہوں کہ آپ کو خواہ مخواہ تکلیف ہوئی۔‘‘\n\nیہ معقول دلیل سن کر میرا ہم سفر جو غالباً کچھ اور کہنے کے لیے ذرا آگے سرک رہا تھا، خاموش ہوگیا۔ یہ دیکھ کر مجھے ایک گونہ اطمینان ہوا کہ معاملہ نہیں بڑھا۔اتفاق سے میری طبیعت کچھ اس قسم کی واقع ہوئی ہے کہ عموماً نکمی سے نکمی باتوں پر طیش آجایا کرتا ہے۔ چونکہ اس سے قبل کئی مرتبہ دورانِ سفر میں میرا مسافروں سے جھگڑا ہو چکا تھا،اور میں اس کے تلخ نتائج سے اچھی طرح واقف تھا، اس لیے لازمی طور پر میں اس معاملہ کو اتنی جلدی بخیر و خوبی انجام پاتے دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ چنانچہ میں نے اس مسافر سے خوشگوار تعلقات پیدا کرنے کے لیے اس سے ایسے ہی گفتگو شروع کی۔۔۔ رسمی گفتگو جو عام طور پر گاڑیوں میں مسافروں کے ساتھ کی جاتی ہے۔\n\n’’ آپ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟‘‘ میں نے اس سے دریافت کیا۔\n\n’’میں۔۔۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ کونے سے سرکتا ہوا اٹھ کر میرے مقابلہ والی سیٹ پر بیٹھ گیا، ’’میں دہلی جارہا ہوں۔۔۔ آپ کہاں اتریں گے؟‘‘\n\n’’ مجھے کافی طویل سفر کرنا ہے۔۔۔ امرتسر جارہا ہوں۔‘‘\n\n’’امرتسر۔۔۔‘‘\n\n’’ جی ہاں۔‘‘\n\n’’مجھے یہ شہر دیکھنے کا کئی مرتبہ اتفاق ہوا ہے۔ اچھی بارونق جگہ ہے۔ کپڑے کی تجارت کا مرکز ہے۔ کیا آپ وہاں کالج میں پڑھتے ہیں؟‘‘\n\n’’جی ہاں۔‘‘میں نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔ کیونکہ اس کا سوال میرے نزدیک بہت غیر دلچسپ تھا، اس کے علاوہ مجھے اندیشہ تھا کہ اگر میں نے اپنے ہم سفر سے یہ کہا ہوتا کہ میں علی گڑھ کی یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں تو وہ کالج کی دلچسپیوں، اس کی عمارت اور اس کے خدا معلوم کن کن حصوں اور شعبوں کے متعلق مجھ پر سوالات کی بوچھار شروع کردیتا۔ اس سے قبل میرے ساتھ اس قسم کا واقعہ پیش آچکا تھا۔ جب میرے ایک رفیق سفر نے سوال پوچھتے پوچھتے رات کی نیند مجھ پر حرام کردی تھی۔\n\n’’کون سے کالج میں۔۔۔ میرے خیال میں وہاں کئی کالج ہیں۔‘‘ اس نے مجھ سے دریافت کیا۔\n\nمیں نے جھٹ سے جواب دیا، ’’خالصہ کالج میں۔‘‘\n\n’’ اچھا، وہی جو اینڈرسن نے تعمیر کرایا ہے۔‘‘\n\n’’ اینڈرسنٰ نے، مگر وہ سکھوں کا کالج ہے حضرت۔‘‘ میں نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔\n\n’’ مجھے معلوم ہے مسٹر، یہ اینڈرسن سِکھ ہوگیا تھا نا۔۔۔ آپ نے غالباً سکھ ہسٹری کا مطالعہ نہیں کیا۔‘‘\n\n’’شاید۔‘‘\n\nیہ کہہ کر میں نے گفتگو کو دلچسپ نہ پاتے ہوئے منہ موڑ لیا اور کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھنا شروع کردیا۔ گاڑی اب یو۔ پی کے وسیع میدانوں میں دندناتی ہوئی چلی جارہی تھی۔ لوہے کے پہیوں کی وزنی جھنکار اور چوبی شہتیروں کی کھٹ کھٹ فضا میں ایک عجیب یک آہنگ شوربرپا کررہی تھی۔ اس شور کی صدائے بازگشت نے آس پاس کے دوڑتے ہوئے کھمبوں اور درختوں سے ٹکرا کر شام کی خنک ہوا میں ایک ارتعاش پیدا کردیا تھا۔ میں نے ایسے ہی کھڑکی میں سے اپنا بازو باہر نکالا۔ منہ زور گاڑی کی تیز رفتار کی وجہ سے ہوا کے زبردست دھکے نے میرے بازو کو ریلا دےکر پیچھے دبا دیا۔۔۔ میں نے ٹھنڈی ہوا کے اس دباؤ کو بہت پیارا محسوس کیا۔ چنانچہ میں کھیل میں مصروف ہوگیا اور اپنے ہم سفر اور اس کی گفتگو کو بالکل بھول گیا۔ ہواکے دباؤ کی دلنوازی بہت مسرور کن تھی۔\n\nتھوی دیر کے بعد میں اپنے اس کھیل سے اکتا گیا۔ دراصل بار بار ہوا کو چیرنے سے میرا بازو تھک گیا تھا۔ اب میں نے مڑ کر میدانوں کی وسعت کا نظارہ کرنا شروع کردیا۔ ڈوبتے ہوئے سورج کی سرخ۔۔۔ آتشیں سرخ کرنیں میدان کے گڑھوں میں بارش کے جمع شدہ پانیوں پر زرنگاری کا کام کررہی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خاکستری زمین کے سینے پر کسی نے بڑے بڑے آئینے آویزاں کردیے ہیں۔ بجلی کے تاروں اور کھمبوں پر نیل کنٹھ اور ابابیلیں پھدک رہی تھیں۔ یہ منظر بہت سہانا تھا۔\n\n’’ کیا میں پاگل ہوں؟‘‘\n\nان الفاظ نے ایک بار پھران رنگوں کو منتشر کردیا جو میرے دل و دماغ پر ایک نہایت ہی پیاری تصویر کھینچ رہے تھے۔ میں چونک پڑا۔ میرے اسی ہم سفر نے مجھ سے یہ سوال دریافت کیا تھا۔ میں مڑا۔ وہ میری طرف مستفسرانہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ شاید میرے کانوں کو دھوکا ہوا ہے، میں نے اس سے کہا:\n\n’’ کیا ارشاد فرمایا آپ نے؟‘‘\n\nوہ ایک لمحہ خاموش رہا اور پھر اپنے سرکو جھٹکتے ہوئے کہا، ’’کچھ بھی نہیں، شاید آپ نہ بتا سکیں گے!‘‘\n\nاب میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی عمر غالباً بیس بائیس برس کے قریب ہوگی۔ داڑھی کمال صفائی سے مونڈی ہوئی تھی۔ اس کے گال گوشت سے بھرے ہوئے تھے، ان کی موٹائی میں بہت خفیف سا فرق تھا، جو صرف مجھ ایسا باریک بیں ہی دیکھ سکتا ہے۔ بال جن میں سے کسی اچھے اور بڑھیا تیل کی خوشبو آرہی تھی، پیچھے کی طرف کنگھی کیے گئے تھے جس سے اس کی پیشانی بہت کشادہ ہوگئی تھی۔ وہ معمولی قسم کے کشمیرے کا کوٹ پہنے ہوئے تھا۔ کلف شدہ کالر قمیص کے ساتھ لگا ہوا تھا مگر ٹائی موجود نہ تھی۔۔۔ یہ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔\n\nمیں ابھی کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہ پھر بولا، ’’آپ سے کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں؟‘‘\n\nمیں اس کے راز دارانہ لہجہ سے بہت متحیر ہوا۔ آخر وہ مجھ سے کیا دریافت کرنا چاہتا ہے؟ یہ خیال کرتے ہوئے میں نے جھک کر گویا اس کے سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہو کرکہا، ’’بصد شوق۔۔۔ فرمائیے۔‘‘\n\n’’کیا میں پاگل ہوں؟‘‘\n\nمیری حیرت اور بھی بڑھ گئی۔ میں سمجھ نہ سکا کہ جواب کیا دوں۔ آپ ہی فرمائیے میں اس شخص کو کیا جواب دے سکتا تھا جو بظاہر نہایت ہی ہوش مند انسان معلوم ہوتا تھا۔۔۔ بالکل میری اور آپ کی طرح۔\n\n’’آپ۔۔۔؟آپ۔۔۔؟‘‘ میں نے تتلاتے ہوئے کہا۔\n\n’’ہاں، ہاں میں۔ آپ فرمائیے نا۔‘‘ اس نے بڑی سنجیدگی سے مجھ سے دریافت کیا۔\n\n’’ مگر کیوں؟ آپ بڑے ہوش مند انسان ہیں۔۔۔!‘‘\n\n’’آپ اپنی رائے مرتب کرنے میں جلدی سے کام نہ لیجیے، پھر غور فرما کر جواب دیجیے، کیا میں واقعی پاگل ہوں۔‘‘\n\nاس میں غور کرنے کی بات ہی کوئی نہ تھی۔ لیکن پھر بھی میں نے اپنے ہم سفر کے چہرے کی طرف غور سے دیکھنا شروع کیا۔ دراصل میں دو چیزیں معلوم کرنا چاہتا تھا۔ اولاً یہ کہ کہیں وہ مجھ سے مذاق تو نہیں کررہا۔ ثانیاً یہ کہ شاید اس کے چہرے کا اتار چڑھاؤ ظاہر کردے کہ وہ سچ مچ پاگل ہی ہے۔ میں نے اپنے ایک دوست سے سنا تھا کہ عام طور پر پاگلوں کی آنکھوں میں سرخ ڈورے ابھرے ہوتے ہیں،مگر وہ آنکھیں جو میری طرف دیکھ رہی تھیں، غیر معمولی طور پر سفید تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ سفید چینی کی بنی ہوئی ہیں۔ میں کچھ معلوم نہ کرسکا۔\n\n’’آپ کو کسی نے بہت غلط طور پر شک میں ڈال دیا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے میں نے خیال کیا کہ شاید کسی ڈاکٹر نے اس کو وہم میں ڈال دیا ہے۔ کیونکہ مجھے اچھی طرح معلوم تھاکہ آج کل کے سستے اور جاہل ڈاکٹر بغیر سوچے سمجھے نبض پر ہاتھ رکھ کر کسی کو دیوانہ کسی کو مدقوق اور کسی کو ضعفِ اعصاب کا مریض ٹھہرا دیتے ہیں۔\n\n’’ میرا بھی یہی خیال ہے۔۔۔ مگر آپ کو قطعی طور پر یقین ہے کہ میں واقعی پاگل نہیں ہوں۔‘‘ اس نے کہا۔\n\n’’ قطعی طور پر۔۔۔ جس شخص نے آپ کو اس وہم میں مبتلا کیا ہے۔ میرے خیال میں وہ خود پاگل ہے۔‘‘\n\n’’ خیر وہ تو پاگل نہیں، اچھا بھلا ہے۔‘‘\n\n’’ وہ کون بزرگ ہیں؟‘‘\n\n’’ میرا اپنا باپ۔‘‘\n\n’’ آپ کا باپ؟‘‘\n\n’’جی ہاں۔۔۔ وہ کہتا ہے کہ میں پاگل ہوں، حالانکہ میں خود اس قسم کی کوئی علامت نہیں پاتا۔ آج سے ایک سال قبل اس کی نظروں میں میں پاگل نہ تھا۔ لیکن جونہی میری شادی ہوئی میرے باپ نے یہ کہنا شروع کردیا کہ موہن دیوانہ ہے۔ چنانچہ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ سسرال والوں نے ڈر کے مارے اپنی لڑکی کو گھر بلوا لیا۔ اب وہ اس کو میرے حوالے نہیں کرتے۔ یہ کس قدر رنج افزا بات ہے کہ مجھے اپنی بیوی کے ساتھ دس پندرہ دن بھی بسر کرنے میسر نہیں ہوئے۔‘‘\n\nیہ کہتے ہوئے اس کے چہرے سے معلوم ہوتا تھاکہ واقعتاً وہ بہت مغموم ہے۔ میں بھی بہت متاثر ہوالیکن مجھے یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اس کے باپ نے اسے خواہ مخواہ پاگل بنا کر اس کی زندگی کیوں تلخ کردی ہے۔\n\n’’ مگر آپ کے والد صاحب نے یہ حرکت کیوں کی؟‘‘ میں نے اس کی داستان میں گہر ی دلچسپی لیتے ہوئے کہا۔\n\n’’مسٹر، وہ یہودی ہے۔۔۔ پکا یہودی۔ اس کو صرف اپنے طلائی سکوں سے غرض ہے اور بس۔ میں اس کے خون کا ایک حصّہ ہوں مگر یہ چیز اس کے دل پر اثر نہیں کرسکتی ہے۔ اگر اس نے مجھے پاگل بنایا ہے تو اس میں بھی کوئی بڑا راز مضمر ہے۔ وہ اس قدر نفس پرست ہے کہ مرنے کے بعد بھی وہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کی جائیداد اس کے اپنے لڑکے کے ہاتھوں میں چلی جائے۔ دیکھیے، میں نے تین سال ہوئے بی۔ اے پاس کیا ہے، یہ علیحدہ بات ہے کہ میں کوئی نوکری حاصل نہیں کرسکا ہوں مگر میرے باپ کو یہ تو چاہیے کہ وہ مجھے اچھا خرچ دے۔‘‘\n\n’’یقینا‘‘میں نے پرزور تائید کی۔\n\n’’لیکن وہ مجھے صرف پانچ روپے ماہوار دیتا ہے۔۔۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس نے میرے شباب کی تمام رنگینیوں پر اپنی ہوس پرستیوں کی سیاہی الٹ دی ہے۔ میں آگرہ میں پڑا ہوں، میری بیوی دہلی میں ہے۔ میرے اس یہودی باپ نے میرے اور اس کے درمیان ایک خلیج حائل کردی ہے۔ میں اس سے بے حد محبت کرتا ہوں۔ وہ خوبصورت اور پڑھی لکھی ہے، مگر وہ مجبور ہے۔۔۔ ہوسکتا ہے کہ وہ بھی مجھے پاگل سمجھتی ہو۔ اب میں اس کا فیصلہ کردینا چاہتا ہوں، میں نے اپنی تین پتلونیں اور تین کوٹ بیچ دیے ہیں۔ اب میں دہلی جارہا ہوں۔ دیکھا جائے گا جو ہوگا۔‘‘\n\n’’آپ اپنی بیوی کے پاس جارہے ہیں؟‘‘ میں نے اس سے دریافت کیا۔\n\n’’ جی ہاں۔ میں گھر میں بغیر اجازت لیے داخل ہو جاؤں گا اور وہاں سے اپنی بیوی کو لیے بغیر ہرگزہرگز نہ ٹلوں گا۔ اگرمیں پاگل ہوں، تو ہوں۔۔۔ مگر مجھے یقین ہے کہ سوشیلا (یہ کہتے ہوئے ذرا سا جھینپ گیا) میرے ساتھ چلنے کو تیار ہوگی۔ میں نے اس کے لیے نمائش میں سے ایک اونی سوئٹر خریدا ہے۔ وہ اس کو یقیناً پسند کرے گی۔ کیا آپ سے دیکھنا پسند فرمائیں گے؟‘‘\n\n’’اگر آپ کو ٹرنک وغیرہ کھولنے کی زحمت نہ اٹھانا پڑے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔\n\n’’نہیں صاحب، یہ تو میں نے قمیص کے اندر خود پہن رکھا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھا اور کوٹ اتار دیا۔ پھر قمیص کو پتلون کی گرفت سے آزاد کرکے اس نے اسے بھی اتار دیا۔۔۔ وہ واقعی ایک رنگ برنگی فیتوں والا زنانہ سوئٹر پہنے ہوئے تھا۔\n\n’’ کیا آپ کو پسند ہے۔۔۔؟ یہ میں نے اس لیے پہن رکھا ہے کہ اگر سوشیلا نے اس کو لینے سے انکارکردیا تو میں اسے پہنے ہی رہوں گا۔‘‘\n\nاس زنانہ سوئٹر میں وہ کس قدر عجیب معلوم ہوتا تھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D8%B3%D9%81%D8%B1"} {"title": "میرِ سپاہ ناسزا، لشکریاں شکستہ صف", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "میرِ سپاہ ناسزا، لشکریاں شکستہ صف\nآہ! وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف\n\nتیرے محیط میں کہیں گوہرِ زندگی نہیں\nڈھُونڈ چُکا میں موج موج، دیکھ چُکا صدف صدف\n\nعشقِ بُتاں سے ہاتھ اُٹھا، اپنی خودی میں ڈوب جا\nنقش و نگارِ دَیر میں خُونِ جگر نہ کر تلَف\n\nکھول کے کیا بیاں کروں سِرِّ مقامِ مرگ و عشق\nعشق ہے مرگِ با شرف، مرگ حیاتِ بے شرف\n\nصحبتِ پیرِ روم سے مجھ پہ ہُوا یہ راز فاش\nلاکھ حکیم سربجیب، ایک کلیم سربکف\n\nمثلِ کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی\nاب بھی درختِ طُور سے آتی ہے بانگِ’ لاَ تَخَفْ‘\n\nخِیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ\nسُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%90_%D8%B3%D9%BE%D8%A7%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%B3%D8%B2%D8%A7%D8%8C_%D9%84%D8%B4%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B4%DA%A9%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%B5%D9%81"} {"title": "میری آنکھوں میں نیند چبھتی ہے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "میری آنکھوں میں نیند چبھتی ہے\nمیرے سینے میں جاگتے ہیں الاؤ\nدیوتاؤ مری کہانی کو\nتم سمجھ لو تو آدمی بن جاؤ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%AF_%DA%86%D8%A8%DA%BE%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "میری اس پیاری جھب سے آنکھ لگی", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میری اس پیاری جھب سے آنکھ لگی\nاس سراپا عجب سے آنکھ لگی\n\nعشق میں خواب کا خیال کسے\nنہ لگی آنکھ جب سے آنکھ لگی\n\nخواب میں بھی نہ دیکھا ہم نے لطف\nکس سراپا غضب سے آنکھ لگی\n\nجتنے خوش چشم ہیں زمانے میں\nرہتی ہے میری سب سے آنکھ لگی\n\nرات ہمسایوں کی نہ صبح تلک\nمیری افغان شب سے آنکھ لگی\n\nیار آتا نظر نہیں آتا\nہے ادھر میری کب سے آنکھ لگی\n\nرہتی ہے اس نگاہ کافر کی\nرنجش بے سبب سے آنکھ لگی\n\nمجھ کو مت دیکھ ہے بلا حسرتؔ\nیار عاشق طلب سے آنکھ لگی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%DA%BE%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DA%AF%DB%8C"} {"title": "میری ایذا میں خوشی جب آپ کی پاتے ہیں لوگ", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میری ایذا میں خوشی جب آپ کی پاتے ہیں لوگ\nتو مجھے کس کس طرح سے آ کے دھمکاتے ہیں لوگ\n\nہاتھ کیا آتا ہے ان کے کچھ نہیں معلوم کیوں\nمجھ کو تم سے اور تم کو مجھ سے چھڑوانے ہیں لوگ\n\nایک تو کچھ جی ہی جی میں رک رہے ہیں مجھ سے وہ\nدوسرے جا جا کے ان کو اور بھڑکاتے ہیں لوگ\n\nمیرے ان کے صلح از بس خلق کو ہے ناگوار\nوہ تو ہیں کچھ سرد لیکن ان کو گرماتے ہیں لوگ\n\nرات اور دن سوچ رہتا یہی رنگیںؔ مجھے\nمیں تو سب سے راست ہوں کیوں مجھ سے بل کھاتے ہیں لوگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%D8%B0%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D8%AC%D8%A8_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D9%88%DA%AF"} {"title": "میری تربت پر چڑھانے ڈھونڈتا ہے کس کے پھول", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میری تربت پر چڑھانے ڈھونڈتا ہے کس کے پھول\nتیری آنکھوں کا ہوں کشتہ رکھ دے دو نرگس کے پھول\n\nایک دن ہو جاؤں گا تیرے گلے کا ہار میں\nسونگھنے کو مت لیا کر ہاتھ میں جس تس کے پھول\n\nبستر گل پر جو تو نے کروٹیں لیں رات کو\nعطر آگیں ہو گئے اے گل بدن سب پس کے پھول\n\nوصل مہوش کا دلا مژدہ ہمیں دے ہے چراغ\nجھڑتے ہیں ہر دم شب ہجراں میں منہ سے اس کے پھول\n\nکچھ خبر بھی ہے تجھے چل فاتحہ کے واسطے\nآج ہیں اے شوخ تیرے عاشق مفلس کے پھول\n\nاور ہی کچھ رنگ ہے سینے کے داغوں کا مرے\nاس روش کے ہیں کہاں تیرے سپر پر مس کے پھول\n\nتو ہے وہ جو مہر و مہ شام و سحر تجھ پر سے وار\nسیم و زر کے پھینکتے ہیں بیچ میں مجلس کے پھول\n\nکیا نوا سنجی کریں اے ہم صفیران چمن\nآ گئی فصل خزاں گلشن سے سارے کھسکے پھول\n\nہیں مہ و خورشید جو شام و سحر تجھ پر سے وار\nسیم و زر کے پھینکتے ہیں بیچ میں مجلس کے پھول\n\nکس نے سکھلائی ہے تجھ کو یہ روش رفتار کی\nمٹ گئے قالیں کے جو تیرے قدم سے گھس کے پھول\n\nپھلجھڑی سے کم نہیں مژگان اشک افشاں تری\nموتیا کے دیکھنا جھڑتے ہیں منہ سے اس کے پھول\n\nرنگ خوب و زشت میں کیوں فرق سمجھے ہے نصیرؔ\nخار بھی تو ہے اسی کا ہیں بنائے جس کے پھول", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D8%A8%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%DA%86%DA%91%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84"} {"title": "میری تقدیر موافق نہ تھی تدبیر کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میری تقدیر موافق نہ تھی تدبیر کے ساتھ\nکھل گئی آنکھ نگہباں کی بھی زنجیر کے ساتھ\n\nکھل گیا مصحف رخسار بتان مغرب\nہو گئے شیخ بھی حاضر نئی تفسیر کے ساتھ\n\nناتوانی مری دیکھی تو مصور نے کہا\nڈر ہے تم بھی کہیں کھنچ آؤ نہ تصویر کے ساتھ\n\nہو گیا طائر دل صید نگاہ بے قصد\nسعی بازو کی یہاں شرط نہ تھی تیر کے ساتھ\n\nلحظہ لحظہ ہے ترقی پہ ترا حسن و جمال\nجس کو شک ہو تجھے دیکھے تری تصویر کے ساتھ\n\nبعد سید کے میں کالج کا کروں کیا درشن\nاب محبت نہ رہی اس بت بے پیر کے ساتھ\n\nمیں ہوں کیا چیز جو اس طرز پہ جاؤں اکبرؔ\nناسخؔ و ذوقؔ بھی جب چل نہ سکے میرؔ کے ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D9%88%D8%A7%D9%81%D9%82_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "میری تو بساط چشم تر ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "ترکیب بند", "year": null, "text_ur": "میری تو بساط چشم تر ہے\nسو نذر ہے اس پہ گر نظر ہے\nاس دشت میں زندہ ہوں میں جس میں\nہر گام پہ جان کا خطر ہے\nگرمی تو کر اے صنم کہ آخر\nپتھر کے جگر میں بھی شرر ہے\nپیری میں بھی بوجھ ٹک نہ پکڑا\nزاہد تو تو ہنوز خر ہے\nمرتا ہوں جو میں تو عیب مت کر\nعاشق میں تو ایک پھر ہنر ہے\nکیا ہوتا ہے قتل گہ میں دیکھیں\nتیری شمشیر میرا سر ہے\nکہہ تو ہی کہاں تلک کریں صبر\nہم ہیں دشنہ ہے اور جگر ہے\nآنے سے ڈرو نہ دل میں میرے\nخوباں یہ تو تمھارا گھر ہے\nلبریز گلہ ہوں گرچہ لیکن\nہونٹھوں پہ نہ حرف کا اثر ہے\nچپ ہوں گویا ہوں بے زباں میں\nرکھتا ہوں عجب لب و دہاں میں\n\nتقصیر ہے بوالہوس کی اور مفت\nمارا جاتا ہوں درمیاں میں\nاکسا بھی نہ تیغ کھا کے بارے\nفارغ ہوا دے کے امتحاں میں\nاے طفل کہے گا بعد میرے\nمارا کاہے کو یہ جواں میں\nہوں میں تو چراغ اخیر شب کا\nکوئی دم کا ہوں میہماں میں\nدل سوزی مری کر اے صبا ٹک\nہونے تئیں صبح کے کہاں میں\nرونے ہی کو روتا ہے گا ناصح\nپھرتا ہوں ڈبائے خانماں میں\nکوئی نہیں شہر غم میں میرا\nبے چارہ غریب ہوں گا یاں میں\nغم کہہ کے رلاتا ہوں میں سب کو\nتجھ غم میں ہوا ہوں روضہ خواں میں\nپائی نہ وفا کسی میں دیکھا\nغربال تمام کر جہاں میں\nبارے میں یہ سب دیار دیکھا\nہر کوچے کو بار بار دیکھا\n\nشب ہی عالم میں ہوگئی تھی\nاپنے دل کا غبار دیکھا\nآنکھیں گئیں روتے روتے لیکن\nتونے نہ ادھر کو یار دیکھا\nاب وعدہ نہ کر زیادہ بس ہم\nجاناں ترا اعتبار دیکھا\nکہتے تھے یہ ہم نہ کر تمنا\nاے جان امیدوار دیکھا\nدامن میں گرا ہو ٹکڑے ٹکڑے\nہم نے جی کو فگار دیکھا\nآنکھوں سے اٹھایا آبلوں کے\nصحرا میں جدھر کو خار دیکھا\nپوچھا نہ ہمارے بعد ہم کو\nیارو یہ جہاں کا پیار دیکھا\nمدت تئیں دید کر جہاں کا\nطرز و وضع و شعار دیکھا\nدیکھا تو ملا نہ کوئی ہم فن\nدیکھے یہاں شیخ اور برہمن\n\nعقل اول کو اک سنا تھا\nنکلا سو معارضے میں کودن\nآنکھوں میں ٹھہر رہے ہیں آنسو\nہونٹھوں پہ دھرا رہے ہے شیون\nشیوہ ہے ہمارا نالہ کرنا\nیاں سے کچھ سیکھ مرغ گلشن\nتجھ بن نہیں سانس اور کچھ ہے\nچبھتا ہے جگر میں ہو کے سوزن\nاے برق ادھر نہ آ ہمارے\nہر خوشے میں شعلوں کے ہیں خرمن\nہم وے ہیں کہ باغ کر دکھائیں\nاشک گل گوں سے طرف دامن\nسختی ایام کی جو کہیے\nہوویں ابھی موم سنگ و آہن\nکیا تجھ سے سپہ گری جتاویں\nگر خود و زرہ نہ ہو نہ جوشن\nمجروح یہ ہیں گے ہم جو اڑ جائیں\nبھاگے ابھی جان لے تہمتن\nایسے تو ہیں پر وفا میں ویسے\nخوباں تم ہو جفا میں جیسے\n\nپھر جاتے ہیں غیر اس سے ملنے\nآتے نہیں باز ایسے تیسے\nہم رستم عشق ہیں گے کیونکر\nمنھ موڑیں ہزار پانسے سے\nسرکش نہ ہو زیر چرخ ان نے\nپامال کیے ہیں کیسے کیسے\nہے بندہ نواز ظلم مجھ پر\nہم نالہ نہ کر تو مجھ کو نے سے\nگو موسم دے خنک ہو مجھ سے\nدل گرمی ہے مجھ کو زور مے سے\nٹک دیکھ فلک نے شاہ خوباں\nکیا کچھ کیا خاندان کے سے\nسر بیچے سو عشق میں رکھے پا\nواقف نہیں دل تو یاں کی رے سے\nہاتھوں میں مرے ہیں داغ خوباں\nکہتے ہیں کہ اس کنے ہیں پیسے\nکیا تجھ سے کہوں معاش اپنی\nبارے گذرے ہے جیسے تیسے\nرہتا ہے غرض ہمیشہ سودا\nکوچہ کوچہ ہوا ہوں رسوا\n\nوہ تشنہ دہن ہوں دل جلا ہوں\nلب چش جس کا نہ ہووے دریا\nکہتے ہو جسے فلک ہوا ہے\nمیرے ہی غبار دل سے پیدا\nکھلتا تو سہی کبھی بلا سے\nدل میرا ہی کاش غنچہ ہوتا\nاب جان سے جانا آرہا ہے\nموقوف اشارۂ تقاضا\nہو جس کی خراب عاقبت بھی\nوہ میں ہوں کہ دین ہے نہ دنیا\nمیں ہوں کہ سرآمد جنوں ہوں\nمجنوں کو خلیفہ میں کیا تھا\nوہ خستہ ہوں میں ہی جس کو کہیے\nرونق افزاے کوہ و صحرا\nیہ کچھ جو کہہ گیا بتاں میں\nخاطر میں تمھاری بھی کچھ آیا\nیا یوں ہی بکا میں کچھ تو بولو\nخواہاں ہو تو خامشی ہے یہ کیا\nسودا نہیں کچھ وگرنہ مجھ کو\nکرتا ہے کوئی زیان جی کا\nگر اتنے پہ دل برا ہے میرا\nموقوف کرو خدا ہے میرا\n\nتم کو تو ہے کیا مرے ملے سے\nپر اس میں بتاں بھلا ہے میرا\nمرنے سے ڈرا نہ مجھ کو قاتل\nجی دینا تو مدعا ہے میرا\nزنہار حنا کہ اس کے پا پر\nمدت سے یہ سر لگا ہے میرا\nسودا بہ رضا ہے مل ہر اک سے\nلگتا صنم اس میں کیا ہے میرا\nیک نیم نگہ سے مول لے چک\nٹک دیکھ کہ یہ بہا ہے میرا\nمیں ہوں کہ ہلاہل الم سے\nکٹ کٹ کے جگر گرا ہے میرا\nجاؤ کہ رہو یہ جی جفا سے\nکچھ ہو شیوہ وفا ہے میرا\nکاکل کو نہ کھول الجھنے کو\nدل زور ہی منچلا ہے میرا\nجوں توں کرکے طپش سے شب کو\nمژگاں پہ جگر رہا ہے میرا\nکل تک تو مرا یہ دل بجا تھا\nاپنا دلخواہ مدعا تھا\n\nتھے جن و ملک جلو میں میری\nاقبال مرا کوئی بلا تھا\nتھا روے زمیں پہ شاد و خرم\nکیا جانوں فلک کے جی میں کیا تھا\nایسا ہی نہ تھا بتو میں آگے\nآخر کوئی میرا بھی خدا تھا\nہوتے جو شہید یک تمنا\nسو سو طرفوں سے خوں بہا تھا\nاک روز چنانچہ ہول دل سے\nاندوہ تنک مجھے ہوا تھا\nلوہو دیا اپنا دوستوں نے\nجس جاگہ مرا عرق گرا تھا\nہوں اب جو بلا میں مبتلا میں\nبیگانہ ہے جوکہ آشنا تھا\nیہ رنج و بلا و درد و محنت\nاے واے حواس و صبر و طاقت\n\nایدھر بھی کبھو ٹک ایک چشمک\nہم سے بھی ضرور ہے مروت\nمت فرصت وقت سے ہو غافل\nآخر کو نہ کھینچے تا خجالت\nہر آن میں اپنی تربیت کر\nدیتا ہے زمانہ کس کو فرصت\nغیروں کے رہوگے دیر تک تم\nہم کو تو سویرے کرکے رخصت\nکیا تم سے کہیں سلوک ہجراں\nدل میں نہ رکھی ہمارے حسرت\nقطرہ تو ہے پر نہ ہاتھ اٹھاؤ\nدریا کو کرے ہے یہ کفایت\nخالی دل پر کو ہم بھی کرتے\nافسوس نہ دی اجل نے فرصت\nبس میرا ہو تو کروں منادی\nکوئی نہ کرے کہیں محبت\nگردن ماریں شتابی اس کو\nرکھے جو کسی سے میرؔ الفت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D8%B3%D8%A7%D8%B7_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "میری جاں وہ بادہ خواری یاد ہے", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میری جاں وہ بادہ خواری یاد ہے\nوقت مستی گریہ زاری یاد ہے\n\nموتیا کا ہار و چمپا کی چھڑی\nجوڑۂ دامن کناری یاد ہے\n\nسب ابھوکن تیرے تن پر خوشنما\nخوبیٔ انگیا و ساری یاد ہے\n\nابر کا سایہ و سبزہ راہ کا\nجان من رتھ کی سواری یاد ہے\n\nکویلاں کے نالے امرائی کے بیچ\nاس سمے کی بے قراری یاد ہے\n\nمینہ بی تو ٹپکتا تھا بوند بوند\nفائزؔ اس دن کی سواری یاد ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%92"} {"title": "میری داستان", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "یعنی\n\nچونتیس برس کی قید با مشقت کے کچھ حالات و واقعاتہر قدم پر ہوتی ہے سیل حوادث پائے بوسیہ ہماری زندگی ہے جس پہ یہ کچھ ناز ہےتمہیدجب سے یہ دنیا قائم ہوئی ہے سب ہی کہتے آئے ہیں کہ یہ ایک جیل خانہ ہے۔ اور کہتے بھی سچ ہیں۔ پہلے ہر آنے والا ماں کے پیٹ میں قید رہتا ہے۔ پھر بڑے بوڑھوں کی قید میں رہتا ہے۔ اس کے بعد مدرسے کی قید میں رہتا ہے۔ بعد ازاں نوکری کی قید میں رہتا ہے اور آخر چل چلا کر ہمیشہ کے لئے قبر میں قید ہو جاتا ہے۔ میں بھی سوائے اس آخری قید کے بقیہ ساری قیدیں بھگت چکا ہوں اور اب اللہ کےفضل سے اس آخری قید کا زمانہ بھی قریب آ گیا ہے۔ اس سے پہلے کہ اس آخری قید کی معیاد شروع ہو جائے، میں چاہتا ہوں کہ اپنی ’’جنم ٹائم‘‘ کے کچھ حالات لکھ دوں تاکہ’’داشتہ آید بکار’‘ ہو سکیں۔ سبھوں کی طرح میرا پہلا جیل خانہ ماں کا پیٹ تھا۔ جہاں تک میرا علم ہے اس جیل خانے کی قید کا حال بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ڈاکٹروں، حکیموں اور ویدوں نے اس کے متعلق کچھ اٹکل پیچو غیر مقلد باتیں ضرور کی ہیں۔ لیکن اس ’’کال کوٹھری’‘ میں قید تنہائی کے کس طرح نو مہینے گزرتے ہیں، اس کا حال کچھ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ایسی صورت میں جھوٹی سچی باتیں بنانے کے بجائے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ ممکن ہے آئندہ زمانے میں انسانی ترقی اس جیل خانہ کے حالات کو بھی منظر عام پر لا سکے، اور وہاں کے قیدیوں کے افعال کو بجلی کی روشنی میں دکھایا جا سکے۔ پیدا ہونے کے بعد بڑے بوڑھوں کی قید میں بچوں کی جس طرح گزرتی ہے وہ ناقابل اظہار ہے۔ یہ بزرگ سمجھتے ہیں کہ بچے ہمارے دست نگر اور بجز ہماری مدد کے جی نہیں سکتے۔ اس لئے ہم کو حق حاصل ہے کہ جس طرح چاہیں ان کو چلائیں اور جس طرح چاہیں ان کو ستائیں۔ جس کام سے چاہیں ان کو روکیں، اور جس کام کو چاہیں انہیں کرنے دیں۔ یہ اختیارات استعمال ہو رہے ہیں یا نہیں اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو۔ فرض کیجئے کہ ایک بچہ ہے۔ وہ ماں کے گھڑ کنے پر خفا ہو کر بھاگتا ہے، اور کوئی ایسا کام کرنا چاہتا ہے جس کو اس کے بزرگ پسند نہیں کرتے۔ وہ اس کو اپنی طاقت کے زور پر اس کو یہ کام کرنے سے روک دیتے ہیں۔ اب آپ خود ہی ارشاد فرمائیے کہ کیا اس بچے کی آزادی پر جبر نہیں ہے۔ اور کیا یہ اس کی آزادی خیال اور آزادی افعال کے گرد ایک گھیرا نہیں ہے۔ ہے اور ضرور ہے۔ یہ کیوں ہوتا ہے۔ یہ اس لئے ہوتا ہے کہ یہ بزرگ ایک طرح اپنے آپ کو خالق اور بچے کو مخلوق سمجھتے ہیں۔ مگر سچی بات منہ سے نہیں نکالتے۔ بلکہ اس کے بجائے یہ کہتے ہیں کہ کیا کریں ہم کو بچوں سے محبت ہے۔ ممکن ہے کہ ہو، مگر بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ محبت نہیں، ضرورت ہے اور آپ جانتے ہیں کہ جہاں محبت کے ساتھ غرض کا دم چھلہ لگ جاتا ہے، تو وہ محبت نہیں رہتی ضرورت ہو جاتی ہے۔ آپ اس مسئلے کو ایک مثال سے سمجھ لیجئے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی شخص بطور تفنن طبع چوری کرتا ہے، ہرگز نہیں۔ چنانچہ اس اصول کو نظیر اکبر آبادی نے یوں بیان کیا ہے،نٹ کھٹ، اچکے، چور، دغا باز، راہ مارعیار، جیب کترے، نظر باز، ہوشیارسب اپنے اپنے پیٹ کے کرتے ہیں کاروبارکوئی خداکے واسطے کرتا نہیں شکاربلی بھی مارتی ہے چو ہا پیٹ کے لئےجس طرح بلی اپنے پیٹ کے لئے چوہا مارتی ہے اسی طرح ہمارے بزرگ اپنا دل خوش کرنے کے لئے بچوں سے محبت کرتے ہیں۔ ’’اور کوئی خدا کےواسطے نہیں کرتا پیار۔’‘ خیر یہ تو فلسفہ کا ایک بڑا گہرا مسئلہ ہے۔ اس کو چھوڑیئے اور اصل مطلب پر آئیے۔ یعنی یہ کہ پیدا ہونے کے بعد ہر بچہ کسی نہ کسی طرح بزرگ کی قید میں رہتا ہے لیکن مزا تو یہ ہے کہ بعدمیں کوئی بھی ان بزرگوں کے خلاف کچھ نہیں لکھتا اور شاید اس لئے نہیں لکھتا کہ ایک دن اس کو خود بڑا بننا اور اس خطرناک مقولہ کی تائید کرنا ہے کہ،خطائے بزرگاں گرفتن خطا است! میں نے اپنے اس بچپن کی قید اور مدرسے کی قید کے بہت سے واقعات اپنے ایک مضمون ’’یاد ایام عشرت فانی‘‘ میں لکھے ہیں۔ اب ان کا یہاں دہرانا بے ضرورت اور بے موقع ہے۔ چوتھی قید یعنی ملازمت کے حالات لکھنے کو بہت جی چاہتا تھا کیونکہ یہ ہی وہ قید با مشقت ہے جو سب سے زیادہ سخت اور سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے اور جس میں ’’دم نہ مارو، شکر گزارو‘‘ کا وظیفہ پڑھتے پڑھتے عمر کا سب سے بڑا اور سب سے اچھا حصہ بیت جاتاہے مگر مشکل یہ تھی اور رہ رہ کر یہ خیال آتا تھا کہ اول تو میری باتوں پر شاید سو میں سے دو چار صاحب ہی اعتبار کریں گے۔ دوسرے یہ کہ سچی بات سننا اور سہنا بقول شخصے کہ ’’کارے دارد۔‘‘ آخر خدا خدا کر کے اس قید کا زمانہ ختم ہوا۔ کچھ کچھ آزادی کی ہوا لگی اور اس وقت خیال آیا کہ میاں جو کچھ لکھنا ہے وہ جلدی لکھ لکھا کر ختم کرو۔ سب سے لمبی قید کا زمانہ سامنے آ لگا ہے۔ بہتر ہے کہ اس قید کی معیاد شروع ہونے سے پہلے کچھ لکھ کر چھوڑ جاؤ تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ہر قوم اور ہر ملت کو اپنی’’روایات و حکایات‘‘ جمع کرنے کا شوق ہے اور رہا ہے کیونکہ یہی چیزیں ان کی تاریخ ہیں۔ لیکن افسوس تو اس کا ہے کوئی اللہ کا بندہ اپنے افسروں اور بالا دستوں کے کارنامے اور ان کے سچے حالات اور واقعات خوش مذاقی کی چاشنی دے کر نہیں لکھتا۔ کیوں کہ بے چارہ ڈرتا ہے کہ اگر لکھ بیٹھا تو نوکری جائے گی اور نوکری گئی تو پھر ’’انا للہ‘‘ ہو جانے میں کیا کوئی کسر رہ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک ہمارے کسی مضمون نگار صاحب نے اس ’’قید سخت و با مشقت‘‘ کےمتعلق کچھ لکھنے پر قلم نہیں اٹھایا ہے اور یہ ’’روایات و حکایات‘‘ سینہ بہ سینہ اور ’’زبان در زبان‘‘ باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے پر منتقل ہوتی چلی جاتی ہے۔ کیونکہ ہر شخص ڈرتا اور دعا کرتا ہے کہ ،’’یا اللہ بچا مجھ کو اس مصیبت سے جو فوج داری عدالتوں میں شریفوں پر نازل ہوتی ہیں۔‘‘ میں ہمت کر کے یہ مضمون لکھ تو رہا ہوں مگر تعزیرات کی دفعہ425 ہر وقت پیش نظر ہے۔ پھر بھی مجھے یقین کامل ہے کہ ایک عرصے تک فوج داری میں کام کرنے کی وجہ سے میری تحریر کا ہر لفظ ’’دفعہ محولا بالا‘‘ کے مستثنیٰ اول میں داخل ہو سکے گا یا داخل کیا جا سکے گا۔ اب رہا یہ امر کہ میری اس تحریر پر اعتبار کیا جائے گا یا نہیں تو اس کے متعلق میں صرف یہ عرض کرنا کافی سمجھتا ہوں کہ میرے تمام دوست اور احباب اس وقت تک مجھے ایک بڑا سچا آدمی سمجھتے چلے آئے ہیں۔ اب آپ ان شریفوں کی بات کا یقین نہ فرمائیں تو اس کا میرے پاس کوئی علاج نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں یہ ضرور کہے دیتا ہوں کہ جو حالات او رواقعات میں نے دوسروں کی زبانی کہے ہیں، ان کے سچے یا جھوٹے ہونے کا میں کسی طرح ذمے دار نہیں ہوں۔ براہ کرم دروغ برگردن راوی کی مثل مجھ سے متعلق نہ کی جائے۔ البتہ جو کچھ اپنی آنکھوں دیکھا میں نے لکھا ہے اس کے متعلق یقین مانئے کہ اس کا ایک ایک حرف صحیح ہے اور اللہ میاں کے سامنے بھی ان واقعات کی حد تک اس مضمون کو سنانے کے لئے میں بالکل تیار ہوں۔ اور ’’میں باور کرانے کی وجہ رکھتا ہوں‘‘کہ اگر میرے کراماً کاتبین کی تحریر بھی میرے جیسی ہے تو یقیناً ان حالات سے متعلق میری اس تحریر اور میرے نامہ اعمال کی تحریر میں رتی برابر فرق نہ ہوگا تو پھر ’’چل رے خامہ بسم اللہ۔‘‘ تلاش روزگارتعلیم کے جرم کی تکمیل کرنے کے بعد فکر ہوتی ہے کسی بڑے جیل خانہ کی تلاش کی جائے تاکہ وہاں سزا کی معیاد پوری کی جا سکے۔ اس کے لئے سب سے پہلے تحریراً اقبال جرم کیا جاتا ہے اور بتایا جاتاہے کہ ہم نے تعلیم پانے کا جرم کتنا، کہاں کس طرح اور کس خوبی سےکیاہے۔ اس تحریر کو عرف عام میں ’’درخواست ملازمت‘‘ کہتے ہیں اور اس کے ساتھ محکمہ تعلیمات کے مجسٹریٹوں کے فیصلے بغرض تصدیق شامل کئے جاتے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ اکثر و بیشتر یہ ساری کارروائی اکارت جاتی ہے اور ہر جگہ سے یہی جواب ملتا ہے کہ اس جیل خانے میں گنجائش اتنی نہیں ہے کہ آپ کے لئے کوئی کونہ نکل سکے۔ کسی دوسرے جیل خانے کی تلاش کی جائے۔ آخرملک خدا تنگ نیستپائے گدالنگ نیستکا خیال کر کے دوسری جگہ اپنی قسمت کا رونا رویا جاتا ہے اور وہاں سے بھی دھکے کھا کر واپس ہونا پڑتا ہے۔ وہ جو مثل ہے کہ خدا شکر خورے کو شکر دیتا ہے۔ آخر کسی نہ کسی جگہ تقدیر لڑ ہی جاتی ہے او ر حکم ہو جاتاہے کہ اس شخص کو کم سے کم پچیس برس کےلیے اس جیل خانے میں پابہ زنجیر قید با مشقت میں رکھا جائے۔ اس حکم کے ہوتے ہی سمجھ لیا جاتا ہے کہ چلو مشکل آسان ہوئی۔ اب سوائے اپنے عہدے دار کے دین اور دنیا میں کہیں بھی کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ہمارے رزق کا تعلق اللہ میاں سے منقطع ہو کر ’’جیل کے داروغہ صاحب بالقا بہم‘‘ سے ہو گیا ہے۔ رام پور کا سفرہے، یہ کہ ملازمت کی یہ قید بھی ایک عجیب قید ہے۔ نہ یہاں اقبال جرم کام دیتا ہے اور نہ مجسٹریٹ تعلیم کا کوئی فیصلہ، اور اکثر و بیشتر اس وقت تک کوئی جیل خانے میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ مالکان اور قابضان جیل خانہ کے پاس کسی زبردست شخص کی سفارش نہ پہنچے۔ ہم کو بھی یہی مصیبت پیش آئی، اور سفارش کے لئے کسی بڑے آدمی کی تلاش کرنی پڑتی۔ پھرتے پھراتے ہماری نظر ہز ہائینس سر امیر الدین خاں نواب لوہارو پر پڑی۔ خدا مغفرت کرے۔ یہ نواب صاحب درجے میں تو بڑے تھے مگر ’’دماغ داری’‘ میں بڑے نہیں تھے۔ ہمارے رشتے دار تھے، اور گورنمنٹ میں با اثر بھی۔ اس لئے 1314 ف، م (1905ء) میں بی اے اور شروع 1906 میں ایم اے میں پڑھنے کے بعد ہم لفٹننٹ گورنر الہ آباد کے نام سفارشی خط لینے کے لئے ان کے پاس گئے۔ انہوں نے دو خط دیے۔ ایک لفٹننٹ گورنر کے نام اور دوسرا ہز ہائنس نواب صاحب رام پور کے نام۔ لفٹننٹ گورنر اس زمانے میں نینی تال میں تھے اور نواب صاحب اپنے دارالحکومت رام پور میں۔ خیال آیا کہ چلو پہلے نواب صاحب ہی سے مل لیں۔ ان کا ممالک متحدہ کی گورنمنٹ میں بہت اثر ہے۔ ضرور کام نکل جائے گا۔ اسباب وسباب باندھ، رام پور پہنچے۔ پہلے سیدھے نواب عبد الصمد خاں صاحب کے پاس گئے، جو نواب صاحب لوہارو کے عزیز اور نواب صاحب رام پور کے وزیر تھے۔ یہ بہت مہربانی سے پیش آئے۔ مگر مشکل یہ آ پڑی کہ نواب صاحب اس زمانے میں رام گنگا کے اس پار مقیم تھے۔ دریا چڑھاؤ پر تھا۔ اس لئے کشتی میں پار ہونے کا موقع نہ تھا۔ کئی روز تک رام پور میں ٹھہرے مگر دریا کو ہم سے کچھ ایسی مخالفت ہو گئی تھی، نہ اس کو اترنا تھا اور نہ اترا۔ انتظار کرتے کرتے تھک گئے۔ چوں کہ کالج سے نئے نئے نکلے تھے اور دنیا کے اس رنگ سے ناواقف تھے اس لئے سب سے بگڑ بیٹھے۔ نواب عبد الصمد خاں صاحب نے کہا بھی کہ خط مجھ کو دے دو، میں سفارشی چٹھی منگوا دیتا ہوں لیکن ہم نے صاف انکار کر دیا۔ اور اس لئے انکار کر دیا کہ وہاں کے بعض لوگوں نے کہا کہ دریا کے چڑھاؤ کا بہانہ ہے۔ در اصل تم کو پیشی میں بھیجنے سے پہلو تہی کی جا رہی ہے۔ بھلا کوئی تعلیم یافتہ آدمی ایسی بات سنے اور اس کو تاؤ نہ آ جائے۔ ہم کو بھی تاؤ آ گیا۔ اور ہم ایک دن بغیر کچھ کہے سنے’’مہمان خانے‘‘ سے بھاگ کر سیدھے اسٹیشن پہنچے دہلی تشریف لے آئے۔ نواب صاحب لوہارو سے ملے۔ انہوں نے واقعات دریافت کئے۔ ان کے پاس نواب عبد الصمد خاں صاحب کا خط آ گیا تھا اور اس میں ہماری فراری کے واقعات کی اطلاع دی گئی تھی۔ نواب صاحب لوہارو نے ہمارا بڑا مذاق اڑایا اور کہا کہ، ’’تم دو چار روز اور ٹھہر جاتے یا نواب صاحب رام پور کو میرا خط بھجوا دیتے تو سفارشی چٹھی مل جاتی۔ تم نے یہ کیا غضب کیا کہ اطلاع ہونے کے بعد بغیر ملے چلے آئے۔ اب پھر جاؤ اور جب تک ملنا نہ ہو، رام پور ہی میں ٹھہرے رہو۔ تم نے کیا نواب صاحب رام پور کو بھی نواب صاحب لوہارو سمجھ لیا ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’معاف فرمائیے! میں مر بھی جاؤں گا تو رام پور نہ جاؤں گا۔ خدا کی قسم وہاں بعض وقت تو خود کشی کرنے کو جی چاہتا تھا۔‘‘ کہنے لگے، ’’یہ کیوں؟‘‘ میں نے کہا، ’’یہ اس لئے کہ کئی کمرے ٹھہرنے کو مجھے ملے تھے لیکن نوکروں کی یہ حالت تھی کہ ہم نے گھنٹی بجائی، کوئی نوکر آیا، اس سے کام کو کہا، اس نے وہ کام پورا کیا اور چلا گیا۔ جانتا تھا کہ نواب صاحب لوہارو کے عزیز ہیں۔ ان سے بات کرنا خالی از خطرہ نہیں ہے۔ اس کے بعد لیجئے پھر ہم ہیں اور وہی خالی کمرے۔ اتنے دنوں تک کوئی ایک آدمی بھی تو بات کرنے کو نہیں ملا۔ نواب عبد الصمد خاں صاحب کی یہ حالت تھی کہ ان کو کام سے فرصت نہیں تھی۔ ان کی نئی کوٹھی بن رہی تھی، اس کے دیکھنے کو دن میں ایک دفعہ آتے تھے۔ اس وقت کچھ بات ہو جاتی تھی۔ ورنہ ہم تھے اور قید تنہائی۔ بعض وقت تو یہ جی چاہتا تھا کہ دو ایک آدمیوں کا گلا گھونٹ کر خود چھت پر سے کود پڑوں۔ اب آپ فرمائیں یا اور کوئی کہے۔ میں تو رام پور جانے کا نہیں۔ آپ کا خط لے کر لاٹ صاحب کے پاس جاتا ہوں۔ نوکری ملی تو ملی نہیں تو جائے جہنم میں۔‘‘ نواب صاحب بہت ہنسے اور کہنے لگے، ’’میاں فرحت! ابھی تم نے دنیا کی ٹھوکریں نہیں کھائی ہیں۔ دماغ میں نوابی کے خیالات بھرے ہیں۔ میاں یہ دنیا ہے۔ یہاں وہی ابھرتا ہے جو پس کر خاک ہو جاتا ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’آگے جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ ابھی تو میں اپنی خود داری کھونے کو آمادہ نہیں ہوں۔‘‘ غرض اس گفتگو کے بعد یہ تصفیہ ہوا کہ سر جیمس لائرشن لفٹننٹ گورنر ممالک متحدہ سے مل لیا جائے، آگے یا قسمت یا نصیب۔ لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقاتاس تصفیے کے بعد پھر اسباب باندھا اور سفر وسیلہ ظفر پر عمل ہونے لگا۔ ہماری اس بھاگ دوڑ میں لفٹیننٹ گورنر بہادر کے دورے کا زمانہ شروع ہو گیا۔ اب آگے آگے وہ ہیں اور پیچھے پیچھے ہم۔ جہاں جاتے ہیں وہاں یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں سے کیمپ اٹھ گیا۔ لکھنؤ میں تو ان سے ٹکر ہوتے ہوتے رہ گئی۔ آخر خدا خدا کر کے الہ آباد میں ہماری اور ان کی سواری ایک ساتھ اتری۔ وہ گورنمنٹ ہاوس میں گئے اور ہم اپنے بھائی میاں رحمت اللہ بیگ کے ساتھ، ان کے خالو عبد المجید خاں کے ہاں گئے جو فوج میں ہیڈ کلرک تھے۔ ان کا مکان کنٹونمنٹ میں گنگا کے کنارے پر قلعہ الہ آباد کے قریب تھا۔ جاتے ہی لفٹیننٹ گورنر صاحب کے سکریٹری کو اپنی تشریف آوری کی اطلاع دی، اور یہ بھی لکھا کہ ہم نواب صاحب لوہارو کا خط لائے ہیں۔ ملاقات کا وقت مقرر کر دیا جائے تو ہم خود آ کر یہ خط پیش کریں گے۔ جواب آنے میں کئی دن لگے لیکن الہ آباد میں دل نہیں گھبرایا اور کیوں گھبراتا۔ میاں رحمت موجود تھے۔ ان کے خالو کے بچے موجود تھے۔ اور سب سے زیادہ یہ کہ گنگا مائی موجود تھیں۔ صبح اٹھے ناشتہ کیا۔ گنگا کے کنارے گئے۔ کشتی میں بیٹھے۔ اس پار پہنچے وہاں مٹر گشت کیا۔ گیارہ بجے واپس آئے۔ کھانا کھایا۔ کچھ دیر سو رہے۔ تیسرے پہر کو اٹھے شہر چلے گئے۔ رات کو آئے کھانا کھایا سو رہے۔ شہر میں میرے ایک بڑے پکے دوست اعجاز حسین بھی رہتے تھے۔ ان کی صحبت میں وقت معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ کب گزر گیا اور کیسے گزرا۔ غرض اس طرح وہاں رہتے رہتے کوئی ایک ہفتہ ہو گیا۔ ایک روز جو شہر کے چکر سے واپس آئے تو یہ بڑی لال مہر کا ایک خط ملا۔ لکھا تھا کہ آپ کل صبح آٹھ بج کر پینتالیس منٹ پر آ سکتے ہیں۔ یہ کارڈ ساتھ لایا جائے۔ چلو یہ مشکل بھی آسان ہو گئی۔ دوسرے دن صبح ہی اٹھ، ہاتھ منہ دھو، کپڑے بدل، سبز پھول دار اطلس کی شیروانی اور سرخ رنگ کی ترکی ٹوپی پہن ہم گورنمنٹ ہاوس پہنچے۔ میاں رحمت ساتھ تھے۔ وہاں جا کر کیا دیکھتے ہیں کہ برآمدے میں اس سرے سے اس سرے تک آدمی ہی آدمی بیٹھے ہیں۔ ایک صاحب نے ہمارا کارڈ دیکھا۔ ایک اور کرسی پر ہم کو متمکن کرایا۔ ظاہر ہے کہ جب آدمی کسی نئی جگہ جا کر بیٹھتا ہے تو ادھر ادھر نظریں ضرور دوڑاتا ہے۔ ہم نے بھی یہی کیا۔ جو صاحب ہمارے برابر بیٹھے تھے وہ گھڑی گھڑی اپنا کارڈ نکالتے تھے۔ پڑھتے تھے، کچھ مسکراتے تھے اور پھر جیب میں رکھ لیتے تھے۔ مجھے بڑی فکر ہوئی کہ یا اللہ! یا اللہ کارڈ تو ان کا بھی ایسا ہی ہے جیسا میرا ہے۔ پھر آخر یہ پڑھتے کیا ہیں اور مسکراتے کیوں ہیں۔ آخر نہ رہا گیا ور جب انہوں نے کوئی بیسویں دفعہ اپنا کارڈ نکالا تو میں نے ان سے کہا کہ، ’’کیا میں آپ کا کارڈ دیکھ سکتا ہوں؟’‘ انہوں نے لکھنوانہ انداز سے کہا، ’’جی ہاں! شوق سے۔‘‘ میں نے کارڈ لے کر دیکھا۔ اس کی عبارت وہی تھی جو میرے کارڈ کی تھی۔ ہاں وقت ملاقات بجائے 8.45 کے 8.50 لکھا تھا۔ یہ دیکھ کر مجھے بڑی الجھن ہوئی۔ گویا اس کے یہ معنی ہوئے کہ ہماری ملاقات کا وقت صرف پانچ منٹ ہے۔ بھلا اس پانچ منٹ میں کیا بات ہو سکے گی۔ میں نے ان صاحب سے کہا کہ ’’ذرا اپنے برابر والے صاحب کے کارڈ تو دیکھئے۔ ان کے ہاں وقت ملاقات کیا لکھا ہے۔‘‘ کارڈ دیکھا گیا تو وقت ملاقات 8.55 نکلا۔ اب کیا تھا سب بیٹھنے والوں نے اپنے اپنے کارڈ نکال کر وقت ملانا شروع کیا۔ معلوم ہوا کہ کسی کو بھی پانچ منٹ سے زیادہ ملنے کا وقت نہیں دیا گیا ہے۔ میرے برابر جو صاحب بیٹھے تھے کہنے لگے، ’’اے غضب! غضب خدا کا، ملنے کا وقت اور منٹ، آپ کی جان کی قسم، پانچ منٹ میں تو مزاج پرسی ہی نہ ہو سکے گی۔‘‘ میں نے کہا، ’’آپ مزاج پرسی کیوں کرتے ہیں؟ جاتے ہی مطلب کی باتیں شروع کر دیجئے۔‘‘ کہنے لگے، ’’اے جناب! آپ کیسا فرماتے ہیں۔ لیفٹننٹ گورنر صاحب بہادر سے ملنے جاؤں اور ان کی اور ان کے بال بچوں کی خیریت بھی نہ پوچھوں۔ ہم پرانے زمانے کے لوگ ہیں۔ اپنے پرانے ادب آداب کے طریقے کو کہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ کام ہو نہ ہو۔ صاحب کی خیریت تو معلوم ہو جائے گی۔‘‘ ابھی ہم دونوں میں یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک چوبدار نے آ کر آواز لگائی، ’’مرزا فرحت اللہ بیگ!‘‘ ہم اٹھے، ذرا شیروانی درست کی اور نہایت ٹھاٹھ سے کمرے میں داخل ہوئے۔ ہمارا کمرے میں داخل ہونا تھا کہ سامنے سے ایک بڑے لمبے تڑنگے صاحب بہادر فسٹ کلاس سوٹ پہنے ہوئے آئے۔ بہت مسکرا کر مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور کہا، ’’آپ ہی مرزا فرحت اللہ بیگ ہیں۔‘‘ میں سمجھا لاٹ صاحب یہی ہیں۔ نہایت فیشن سے انگریزی طریقے پر گردن کو جھکا کر کہا، ’’یور آنر! میں ہی فرحت اللہ بیگ ہوں۔‘‘ میرے اس کہنے پر ان صاحب نے کہا، ’’معاف فرمائیے گا، آپ کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں لفٹیننٹ گورنر نہیں ہوں، ان کا سکریٹری ہوں۔‘‘ اس کے بعد آپ سمجھ لیجئے کہ مجھے کتنا پسینہ آیا ہوگا۔ وقت کم تھا اس لئے سکریٹری صاحب نے بھی اس غلط فہمی کو طول دینا مناسب نہ سمجھا۔ مڑے، آگے بڑھے، سامنے والا دروازہ کھولا اور کہا، ’’مرزا فرحت اللہ بیگ۔‘‘ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑی سی میز کے سامنے ایک فرنچ فیشن کی داڑھی والے ایک بڑے میاں بیٹھے ہوئے ہیں، پہلو میں ایک چھوٹی سی میز ہے۔ اس پر ایک چوکھٹا رکھا ہے اور چوکھٹے کے اندر جو کاغذ ہے اس پر نہایت خوبصورت حرفوں میں سر جے، جے ڈی لائرش لفٹیننٹ گورنر لکھا ہوا ہے۔ یہ معاملہ ٹھیک تھا اور یہاں کسی غلط فہمی کا اندیشہ نہیں تھا۔ اس لئے بے لگام ہم آگے بڑھے، لاٹ صاحب بھی کرسی سے اٹھے، میز کے پہلو میں جو کرسی بچھی ہوئی تھی اس پر بیٹھنے کا انہوں نے اشارہ کیا۔ ہم بیٹھ گئے۔ انہوں نے نواب صاحب کی خیریت پوچھی اور کہا، ’’کیا آپ ان کا کوئی خط لائے ہیں؟‘‘ میں نے کہا، ’’جی ہاں!‘‘ کہنے لگے، ’’بہتر ہوتا کہ آ پ یہ خط پہلے سے میرے سکریٹری کے پاس بھیج دیتے۔ کیونکہ سرکاری طریقہ یہی ہے۔‘‘ میں نے بہت متانت سے جواب دیا، ’’اور جو یہ خط آپ کے سکریٹری صاحب کہیں کھو دیتے تو۔‘‘ یہ سن کر وہ مسکرائے اور خط لینے کو ہاتھ بڑھایا۔ میں نے خط دیا۔ انہوں نے خط لیا اور پڑھنا شروع کیا۔ معلوم نہیں نواب صاحب لوہارو نے اس خط میں کون سی امیر حمزہ کی داستان لکھی تھی کہ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو کوئی نو صفحے ہو گئے تھے۔ لاٹ صاحب خط پڑھتے رہے اور ہم سامنے والی گھڑی کی طرف دیکھتے رہے 5 (پانچ) منٹ ہوتے ہی کیا ہیں؟ انہوں نے خط ابھی ختم ہی نہیں کیا تھا کہ میں اٹھ کھڑ ا ہوا اور کہا کہ، ’’اب میں اجازت چاہتا ہوں۔‘‘ کہنے لگے، ’’کیوں؟‘‘ میں نے کہا، ’’اس لئے کہ 8.50 سے ایک دوسرے صاحب کو ملاقات کا وقت دیا گیا ہے۔‘‘ یہ سن کر وہ بے اختیار ہنس پڑے اور کہنے لگے، ’’وہ کون صاحب ہیں؟‘‘ میں نے کہا میں ان کا نام تو نہیں جانتا لیکن وہ فرما رہے تھے کہ مجھے کہنا تو بہت کچھ ہے مگر ملاقات کے پانچ منٹ شاید لاٹ صاحب کے خاندان کی خیریت معلوم کرنے میں گزر جائیں اور پھر کسی اور دن ملاقات کے لئے آنا پڑے۔‘‘ کہنے لگے، ’’تمہاری طبیعت میں مذاق بہت ہے۔‘‘ ’’اس میں مذاق کی کون سی بات ہے۔ آپ 8.50 والے صاحب کو بلوا کر پوچھ لیجئے کہ وہ آپ کے سارے خاندان کی خیریت دریافت کرنا ضروری سمجھتے ہیں یا مطلب کی بات کرنا۔‘‘، کہنے لگے، ’’ تم بیٹھے رہو۔ یہ جتنے لوگ آئے ہیں، سب اسی قسم کے ہیں۔ ہر ہفتے ملنے چلے آتے ہیں۔ اور میرا اور اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔’‘ غرض ہم اطمینان سے بیٹھ گئے۔ اب ہر پانچ منٹ کے بعد سکریٹری صاحب گھنٹی بجاتے، یہاں سے جواب نہیں ملتا اور ہر پانچ منٹ پر ایک صاحب بلا ملے رخصت کر دیے جاتے۔ لاٹ صاحب سے ہماری جو باتیں ہوئیں، وہ بس سننے کے قابل تھیں۔ انگریز پروفیسروں اور خاص کر ریورنڈسی۔ ایف اینڈ روز کی صحبت میں رہتے رہتے دل کھل گیا تھا اور سمجھنے لگے تھے کہ ہم بھی کوئی چیز ہیں۔ طبیعت میں مذاق تھا۔ اس لئے اگر کوئی دلچسپ بات دل میں آتی تھی تو اس کے صاف صاف کہنے میں باک نہیں تھا اور یہ خیال تک نہیں رہتا تھا کہ ہم کیا کہہ رہے تھے اور کہاں کہہ رہے ہیں۔ ادھر یہ حال تھا اور ادھر ایک جہاں دیدہ، خوش خلق، ہنس مکھ، بڑے میاں تھے۔ سمجھتے ہوں گے کہ اس بے وقوف کی باتیں ہی سن لو۔ اب میری اور ان کی جو گفتگو ہوئی وہ ذرا غور سے سنیئے۔ لاٹ صاحب، تو آپ اس علاقے میں بہ حیثیت ڈپٹی کلکٹر منتخب ہونا چاہتے ہیں۔ میں، جی ہاں! اگر یہ نہ ہوتا تو میں اتنی دور آتا ہی کیوں۔ لاٹ صاحب، مرزا صاحب آپ کو یہاں کا قانون معلوم ہے؟ میں، جی نہیں۔ لاٹ صاحب، قانون یہ ہے کہ جب تک اس علاقے میں کوئی چھے سال تک نہ رہا ہو۔ اس وقت تک اس کا انتخاب نہیں ہو سکتا۔ کیا آپ یہاں چھے سال تک رہے ہیں؟ میں، جی نہیں۔ لاٹ صاحب، تو پھر میں مجبور ہوں۔ قانون تو قانون ہی ہے۔میں، کیا میں آپ سے ایک سوال کر سکتا ہوں؟ لاٹ صاحب، ضرور۔ میں، جناب والا! آپ کے علاقے میں میرے خاندانی حقوق بھی ہیں۔ جائیداد بھی مگر میں خود یہاں چھ سال نہیں رہا ہوں۔ اس لئے مجھے آپ کے علاقے میں نوکری نہیں مل سکتی۔ علاقہ پنجاب میں میری سکونت رہی ہے۔ مگر وہاں نہ میرے خاندانی حقوق ہیں اور نہ جائیداد۔ اس لئے وہاں میرا انتخاب کسی خدمت پر نہیں ہو سکتا۔ اب رہے ہندوستان کے دوسرے احاطے اور علاقے تو نہ وہاں میں کبھی رہا ہوں، نہ وہاں میری کوئی جائیداد ہے اور نہ وہاں میرے خاندانی حقوق۔ اس لئے وہاں بھی مجھے کوئی جگہ نہیں مل سکتی۔ تو گویا میں سمجھ لوں کہ مجھ پر سارے ہندوستان میں ملازمت کا دروازہ بند ہے۔ (یہ سن کر لاٹ صاحب نے بڑے ذور کا قہقہہ مارا اور کہا،) لاٹ صاحب، ویل مائی بوائے! یو آر اے پرفکٹWell my boy you are a perfect(میاں صاحب زادے، تم تو بڑے دلچسپ ہو) دیکھو میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں۔ تم کہتے ہو کہ اس علاقے میں تمہاری جائیداد بھی ہے اور تمہارے کچھ عزیز بھی ہیں۔ تم کبھی کبھی اپنی جائیداد دیکھنے یا عزیزوں سے ملنے تو ضرور یہاں آتے ہوگے۔ کیا یہ سب مدت مل ملا کر چھے سال نہیں ہو گئی ہوگی۔ میں، میں نے اس کا کوئی حساب تو رکھا نہیں۔ ممکن ہے کہ ہو گئی ہو۔ ممکن ہے کہ نہ ہوئی ہو۔ لاٹ صاحب، نہیں بھی ہوئی تو تکمیل ضابطہ کے لئے تم کہہ دو کہ ہو گئی ہے۔ میں، یہ میری زندگی میں پہلا موقع ہے کہ ایک اتنا بڑا آدمی مجھے جھوٹ بولنے کی تلقین کر رہا ہے۔ خیر آپ کی خاطر کہے دیتا ہوں کہ چھ برس ہو چکے ہیں۔ (یہ سن کر انہوں نے میری درخواست پر کچھ لکھا اور کہا) لاٹ صاحب، مشکل یہ آن پڑی ہے کہ میں اب عنقریب پنشن پر جا رہا ہوں۔ اس سال کے انتخاب ہو چکے ہیں۔ اس لئے فی الوقت تو میں کچھ کر نہیں سکتا۔ ہاں تمہاری درخواست کے جو مشکل مرحلے ہیں، طے کئے دیتا ہوں اورمجھے امید ہے کہ آئندہ سال اس درخواست کی منظوری میں کوئی دقت پیش نہ آئے گی۔ مگر میں پوچھتا ہوں کہ تم نینی تال میں آ کر مجھ سے کیوں نہیں ملے۔ نواب صاحب کا جو خط تم لائے ہو، وہ کہی مہینے پہلے کا ہے۔ اگر اسی زمانے میں میرے پاس آ گئے ہوتے تو جب ہی انتخاب ہو جاتا۔ میں نے اس پر رامپور کے سارے واقعات بیان کر دیے اور یہ بھی کہا کہ آپ کے دورے کی وجہ سے مجھے خدا معلوم کہاں کہاں بھاگنا پڑا ہے۔ یہ سن کر وہ بہت ہنسے اور کہنے لگے،لاٹ صاحب، میں پنشن پر تو ہٹ رہا ہوں مگر میرا خیال ہے کہ اپنے جانشین کے ساتھ مجھے کچھ دنوں اور اس لئے کام کرنا ہوگا کہ امیر کابل آ رہے ہیں اور شاید ہم دونوں کو بھی ان کی خدمت میں رہنا پڑے۔ میں جنوری 1907 م (اسفندار1316ف) میں آگرہ میں ہوں گا۔ میرے جانشین سر جان ہیوٹ بھی وہیں ہوں گے اور نواب صاحب لوہارو بھی وہیں ہوں گے۔ ممکن ہے کہ وہیں تمہارے انتخاب کا تصفیہ ہو جائے۔ غرض اس قسم کی گفتگو میں کوئی پون گھنٹہ لگ گیا۔ یہ سوچ کر کہ اس وقت تک لاٹ صاحب سے ملنے والے نو دس آدمی رخصت ہو چکے ہوں گے اور خدا معلوم مجھے دل میں کیا کچھ برا بھلا کہہ گئے ہوں گے اور جو بیٹھے ہیں وہ کیا کچھ برا بھلا کہہ رہے ہوں گے۔ میں نے اجازت طلب کی۔ لاٹ صاحب نے اٹھ کر ہاتھ ملایا۔ گھنٹی بجائی، سکریٹری صاحب نے دروازہ کھولا۔ ہم سلام کر کے مسکراتے ہوئے باہر نکلے۔ سکریٹری صاحب نے پہلے سے کہیں زیادہ ہماری آؤ بھگت کی۔ ہم بر آمدے میں آئے۔۔۔ ایک دوسرے پانچ منٹ والے صاحب اندر گئے۔ ہم اور میاں رحمت تانگے میں بیٹھے اور گھر واپس آئے۔ گھر پر آ کر سارا قصہ اپنے میزبان عبد المجید خاں کے سامنے دہرایا۔ وہ بہت ہنسے اور کہنے لگے کہ ایسی گفتگو لاٹ صاحب سے شاید ہی کسی نے کی ہو، تو کی ہو، وہ تو کہو کہ بڑا شریف انگریز ہے ہنس ہنس کر تمہاری یہ مسخرے پن کی باتیں سنا کیا۔ کوئی سر پھرا انگریز ہوتا تو ٹھوکر سے خبر لیتا۔ میں نے کہا، ’’جی ہاں! ٹھوکر سے خبر لیتا۔ مجھے تو کوئی ایسا بڑے باپ کا بیٹا نظر نہیں آتا جو ایک مارے اور دو نہ کھائے۔‘‘ کہنے لگے، ’’مرزا صاحب! کیوں خفا ہوتے ہو۔ ابھی تم نے دنیا نہیں دیکھی ہے جو ایسی باتیں کر رہے ہو۔ کچھ دن نوکری میں گزارو، اس کے بعد پوچھیں گے کہ اب کیا ارشاد ہوتا ہے۔‘‘ لاٹ صاحب کی ملاقات کے بعد ہم دو تین روز الہ آباد میں رہے اور پھر دہلی آ گئے۔ نواب صاحب لوہارو دہلی ہی میں تھے۔ ان سے ملے۔ تمام واقعات بے کم و کاست بیان کر دیے۔ وہ بڑے جہاندیدہ شخص تھے اور زمانے کی چالوں کو خوب سمجھتے تھے۔ کہنے لگے، ’’میری رائے میں تمہارا مسخرہ پن میرے خط سے کہیں زیادہ کام کر گیا ہے۔‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا، ’’جناب والا میں نے کون سا مسخرہ پن کیا، جو سچی بات تھی وہ صاف صاف کر دی۔‘‘ کہنے لگے، ’’تم نہیں جانتے۔ ایسے بڑے لوگوں کےسامنے اس طرح کوئی صاف صاف باتیں نہیں کرتا۔ اور خاص کر ایسی کوئی بات زبان سے نہیں نکالتا جس سے ان کا مذاق اڑتا ہو اور اگر کوئی ایسی باتیں کرتا ہے تو وہ دیوانہ سمجھا جاتا ہے یا مسخرا۔‘‘ جیل خانے کی تعلیم کا یہ پہلا سبق تھا جو ہم کو اس روز ملا۔ کچھ دنوں کے بعد لاٹ صاحب کا خط نواب صاحب کے پاس آیا۔ وہ انہوں نے میرے پاس بھجوا دیا۔ خط دیکھ کر دل خوش ہو گیا اور معلوم ہوا کہ واقعی شریف آدمی اس کو کہتے ہیں۔ خط میں وہ تمام واقعات مختصراً لکھے تھے جو اس عجیب رنگ کی ملاقات میں گزرے تھے۔ میری زندہ دلی اور صاف گوئی کی بہت تعریف کی تھی۔ میرے انتخاب کے متعلق اپنی تحریک کا ذکر کیا تھا۔ اور آخر میں اشارتاً یہ بھی لکھ دیا تھا کہ اپنے بھانجے صاحب کو یہ ضرور سمجھا دیجئے کہ صاف گوئی اچھی ہے بشرطیکہ موقع و محل سے ہو۔ اور خوش مذاقی خدا کی ایک دین ہے بشرطیکہ اس کا استعمال مناسب موقع پر کیا جائے۔‘‘ نواب صاحب نے یہ خط مجھے بطور سرٹیفکیٹ رکھنے کو بھیجا تھا۔ میں سمجھا کہ شاید دیکھنے کو بھیجا ہے۔ پڑھ کر واپس کر دیا۔ دو چار روز کے بعد جا کر پوچھا تو پتا نہیں چلا کہ کہاں کھو گیا۔ شروع 1907ء م (1316ف) میں ہم آگرہ پہنچے۔ وہاں امیر حبیب اللہ خاں شاہ کابل بھی آئے۔ سر جان ہیوٹ بھی آئے۔ نواب صاحب لوہارو بھی آئے۔ نہیں آئے تو سر جیمس لاؤش۔ معلوم ہوا کہ طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ اس لئے ولایت چلے گئے۔ یہاں نواب صاحب نے لاٹ صاحب کے سکریٹری سے ہماری درخواست کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا‘ ’’لاؤش صاحب ا س درخواست پر ایسا نوٹ لکھ گئے ہیں کہ اس کو منظور ہی سمجھئے۔ اس سال ڈپٹی کلکٹر کا جو انتخاب ہوگا اس میں مرزا فرحت اللہ بیگ کا نام ضرور آ جائے گا۔‘‘ ظاہر ہے کہ اس کے بعد کسی فکر کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ اس لئے امیر کابل کے کیمپ کو اپنا گھر بنایا۔ اور وہاں دعوتوں اور تماشائیوں کا لطف اٹھایا اور خوب اٹھایا۔ حیدر آباد جانے کا شوق اور لوہارو کا سفر! دیکھا جائے تو انسان کی قسمت بھی ایک تماشا ہے، کہیں جڑتی ہے تو کہیں ٹوٹتی ہے اور کبھی ٹوٹتی ہے تو کبھی جڑتی ہے۔ ہماری شادی عبد المجید خواجہ کی بہن سے ٹھہری تھی۔ وہ بیچاری ایک دفعہ ہی چل بسی۔ اب دوسری جگہ کی تلاش ہوئی اور آخر میں ہماری نسبت اپنے ایک چچا، مرزا ساجد بیگ صاحب کی بڑی لڑکی سے ٹھہر گئی۔ میں یہاں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارا سارا خاندان حیدر آباد میں تھا اور یہ سب کے سب اچھی خدمتوں پر تھے۔ میرے والد صاحب بھی حیدر آباد میں رہتے تھے۔ البتہ میں دلی میں اس وجہ سے رہتا تھا کہ میری پھوپھی صاحبہ نے مجھ کو بیٹا بنا لیا تھا، کیونکہ میری والدہ کا انتقال اس زمانے میں ہو گیا تھا جب میں نو دس دن کا تھا۔ مرزا ساجد بیگ صاحب حیدر آباد میں ناظم ضلع (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ) تھے۔ اپنی منگیتر کو میں نے دیکھا ضرور تھا مگر یہ دیکھنا نہ دیکھنے کے برابر تھا۔ کیونکہ اس وقت تک اس لڑکی کی عمر 4 سال کی اور میری نو سال کی۔ نسبت ٹھہرنے کے بعد یہ وحشت ہوئی کہ کسی طرح حیدر آباد چلو اور اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھو۔ ایک روز میں اور میرے عزیز دوست میاں دانی سہ پہر کے وقت پریڈ میدان میں سے ہو کر کالج گراؤنڈ جا رہے تھے کہ یہی ذکر نکلا۔ انہوں نے کہا کہ، ’’میرا دل بھی حیدر آباد دیکھنے کو بہت چاہتا ہے۔ تم یہ کہہ کر وہاں جاؤ کہ نوکری کی تلاش میں جاتا ہوں۔ میں بھی کسی نہ کسی ترکیب سے وہاں آ جاؤں گا۔‘‘ صلاح بہت اچھی تھی۔ دل کو لگ گئی۔ بجائے کالج جانے کے ہم گھر واپس آئے۔ پھوپھی صاحبہ کو الٹا سیدھا بہت کچھ سمجھایا۔ وہ بے چاری ان چکروں کو کیا سمجھ سکتی تھی، راضی ہو گئی۔ دوسرے ہی دن میں اور میرے ماموں زاد بھائی مرزا سلیم بیگ ریل سے روانہ ہو کر بہوانی پہنچے۔ بہوانی سے لوہارو کوئی (15) کوس ہے۔ پہلے سے اپنے آنے کی اطلاع نہیں دی تھی۔ اس لئے ریاست سے سواری کا کوئی انتظام نہیں ہوا تھا۔ جتنا راستہ تھا سب کا سب ریتیلا تھا۔ بھوانی سے دو اونٹ کرایہ پر لیا اور چل دیے۔ رستے میں بڑے زور کا مینہ برسا مگر مزا تو یہ تھا کہ ہم دونوں کا صرف ایک ہی پہلو بھیگا اور دوسرا بالکل خشک رہا۔ ممکن ہے اونٹ کی بلندی کی وجہ سے ایسا ہوا ہو۔ مگر یہ امر واقع ہے کہ جب ہم دونوں جوٹی پہنچے تو ایک طرف سے بھیگ کر چوڑا ہو گئے تھے اور دوسری طرف پانی کی ایک چھینٹ بھی نہیں پڑی تھی۔ رات جوٹی میں گزاری۔ وہاں کے مچھروں اور کھٹملوں نے ہماری جس طرح خبر لی اس کی شکایت اب لا حاصل ہے۔ غرض صبح آٹھ بجے پھر اونٹ پر سوار ہوئے اور لوہارو پہنچ گئے۔ نواب صاحب سے ملے اور کہا کہ سفارشی خط لکھ دیجئے۔ یہ سن کر وہ ذرا خفا ہوئے اور کہا کہ ’’ملازمت کا جب ایک جگہ انتظام ہو گیا ہے تو اب بے ضرورت حیدر آباد کیوں جاتے ہو۔‘‘ لیکن جب ہم نے حیدر آباد جانے کی اصلی غرض کا اظہار کیا تو وہ مسکرائے اور دو خط لکھ دیے۔ ایک بیلی صاحب ریزیڈنٹ حیدر آباد کے نام تھا اور دوسرا سرگپسن واکر معین الہام فینانس کے نام۔ یہ دونوں خط لینے کے بعد ہم کئی دن تک لوہارو میں رہے اور بڑے مزے سے رہے۔ ماموں علیم بیگ (مرحوم) نے پستے بادام کھلا کھلا کرمعدہ خراب کر دیا اور ماموں لئیق بیگ (مرحوم) نے شاہنامہ سنا سنا کر دماغ پریشان کر دیا۔ آخر لوہارو سے نکلے اور بڑے ٹھاٹھ سے نکلے۔ کئی سانڈنیاں ساتھ تھیں۔ ایک پر میں اور سلیم بیگ تھے۔ دوسرے پر شاہ رخ مرزا فرزند نواب صاحب لوہارو اور ان کے ایک دوست تھے۔ تیسری پر ان کے دو مصاحب اور چوتھی پر پولیس کے دو جوان تھے۔ رات کے کوئی دس بجے ہوں گے کہ ہم نے لوہارو چھوڑا۔ ریت میں قدم رکھتے ہی سانڈنیاں ریل ہو گئیں۔ گردن لمبی کر کے جو قدم بڑھانے شروع کئے تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ دریا میں کشتی بہی جا رہی ہے۔ کوئی دس بجے ہوں گے کہ ایک طرف سے دو اور سانڈنیاں آتی ہوئی دکھائی دیں۔ شاہ رخ مرزا نے آواز دے کر ان کو روکا۔ ان دونوں سانڈنیوں پر دو ٹھاکر اور ان کے دو نوکر سوار تھے پوچھا:’’کہاں جاتے ہو؟’‘ جواب ملا:’’شکار کے لئے۔’‘ بعد میں معلوم ہوا کہ شکار کو جانے کے معنی ہیں ڈاکہ ڈالنے کے لیے اور ان کا یہ کمال بھی معلوم ہوا کہ یہ لوگ اپنی سانڈنیوں پر پچاس ساٹھ میل جاتے ہیں۔ ڈاکہ ڈالتے ہیں اور صبح سے پہلے گھر واپس آ جاتے ہیں۔ غرض وہ تو شکار کے لئے چلے گئے اور ہم آگے بڑھے۔ چاندنی خوب کھلی ہوئی تھی۔ شاہرخ مرزا نے اپنی سانڈنی بڑھائی۔ ان کے ہمراہیوں نے ان کا ساتھ دیا۔ اور رہ گئے کون؟ ہم اور مرزا سلیم بیگ۔ ہم بھلا ان کا کیا ساتھ دے سکتے تھے۔ تھوڑی دیر میں وہ نظروں سے غائب ہو گئے۔ اب ہماری حالت زار کا نقشا ملاحظہ ہو۔ جنگل بیابان، کف دست میدان ہے۔ راستہ کا نام و نشان نہیں۔ کچھ اونٹوں کے پاؤں کے نشان ہیں۔ مگر ان نشانوں نے ایک دوسرے کو اس طرح کاٹا ہے کہ خاصہ بھول بھلیوں کا نا قابل حل نقشا بن گیا ہے۔ ہم دو عدد شخص ہیں۔ اور اونٹ کی پیٹھ ہے۔ نیچے ریت ہے اوپر چاندنی۔ اور آسمان کے اوپر اللہ میاں۔ جب سانڈنی کو بھگاتے بھگاتے تھک گئے اور ’’نشان یار‘‘ نہ ملا تو لاچار ٹھہر گئے۔ مشورے ہوئے۔ غور کیا گیا اور اللہ کا نام لے کر سانڈنی کی ڈوری ڈھیلی کر کے اس کو اجازت دے دی گئی کہ تیرا جہاں جی چاہے لے چل۔ سانڈنی نے فراٹے بھرنے اور ہم نے اس کے اوپر جھٹکے کھانے شروع کئے۔ رات کے کوئی دو بجے ہوں گے کہ دور سے چاندنی میں دو اونٹ کھڑے نظر آئے۔ ڈر ہوا کہ کہیں یہ وہ ’’شکاری‘‘ ہی نہ ہوں لیکن کیا کیا جاتا۔ سانڈنی رکنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ آخر ان اونٹوں کے پاس پہنچ گئے۔ اس وقت معلوم ہوا کہ شاہ رخ مرزا اور ان کے ساتھی آرام فرما رہے ہیں۔ وہاں ہم بھی اترے۔ تھوڑی دیر آرام کیا اور چل کھڑے ہوئے۔ جوٹی کے پاس تھوڑا سا پہاڑی حصہ اور خاصہ اچھا اتار ہے۔ اس جگہ ہماری سانڈنی نے ٹھوکر کھائی۔ میاں سلیم بیگ نے ڈوری زور سے گھسیٹی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ڈوری چٹ سے ٹوٹ گئی۔ وہ تو کہو کہ سانڈنی اس گھسیٹم گھساٹ سے سنبھل چکی تھی، جو سیدھی کھڑی ہو گئی۔ ورنہ ہم دونوں کو ختم ہو جانے میں کوئی کسر نہیں رہی تھی۔ چلتے وقت سگریٹ کے ایک بڑے ڈبے میں کوئی ڈیڑھ سو پان لے کر چلے تھے۔ یہ ڈبہ میرے پاس تھا۔ میں نے راستہ میں ’’شغل تنہائی‘‘ اس تیزی سے کیا کہ جوٹی پہنچتے پہنچتے یہ’’دیسی خاصدان‘‘ سخی کے دل کی طرح صاف ہو گیا۔ سانڈنی کے سنبھلنے کے بعد میاں سلیم بیگ نے پان مانگا بھلا اب پان کہاں دھرا تھا۔ یہ سن کر انہیں بہت تاؤ آیا۔ مگر یہ سمجھ کر کہ اونٹ پر بیٹھ کر غصہ کرنا یا ہاتھ پاؤں ہلانا خالی از خطرہ نہیں ہے، چپ ہو گئے صبح ہم بھوانی پہنچے اور چار بجے’’داخل دلی‘‘ ہو گئے۔ حیدر آباداب کیا تھا حیدر آباد جانے کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ اور ہم نے تیسرے ہی روز دہلی چھوڑدی۔ یہ جلدی اس لئے کی گئی تھی کہ کہیں حیدر آباد جانے کی اصلی وجہ نہ کھل جائے اور ساری کی کرائی محنت برباد ہو جائے۔ 15 اگست 1907م ؍ 11؍ مہر 1316ف کو صبح کے 8 بجے پنجاب میل سے روانہ ہوئے۔ دوسرے دن 12 بجے کے قریب منماڑ پہنچے۔ 10 بجے چھوٹی لائن سے منماڑ چھوڑا۔ اس زمانے میں لاسور کے اسٹیشن پر قرنطینہ تھا۔ اس سے ڈر لگتا تھا کیونکہ سنا تھا کہ مسافروں کو زبردستی یہاں اتار کر کئی روز تک رکھتے ہیں۔ لیکن ہماری تو یہاں صرف نبض دیکھی گئی۔ اورایک حکم نامہ دے دیا گیا کہ افضل گنج اسپتال میں جا کر روزانہ 8 دن تک معائنہ کرایا کرو۔ بے چارے درجہ سوم کے مسافروں پر مصیبت آئی۔ سب کے سب اتار لئے گئے اور ساری گاڑی خالی ہو گئی۔ اورنگ آباد کے اسٹیشن پر بھائی حیدر جیون بیگ ملے، جو یہاں ناظم ضلع (ڈسٹرکٹ جج) تھے۔ یہاں سے نکل کر جو گاڑی نے جوں کی چال چلنی شروع کی تو طبیعت بے زار ہو گئی۔ دوسرے دن شام کے 5 بجے حیدر آباد پہنچے، منماڑ سے تار دے دیا تھا۔ اس لئے اسٹیشن پر والد صاحب قبلہ اور بھائی مرزا حسین احمد بیگ اور مرزا رفیق بیگ موجود تھے۔ ان کے ساتھ عابد کی دوکان سے ہوتے ہوئے اور ریزیڈنس کے پہلوسے گزرتے ہوئے چنچل گوڑہ پہنچے اور بھائی خواجہ امیر الدین (مرحوم) کے ہاں جا اترے۔ لیجئے ایک مشکل آسان ہو گئی۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"} {"title": "میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیں", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیں\nتو ابھی انسان کی عظمت کا عرفانی نہیں\n\nاور یہ کیا ہے ضبط جو سوز پنہانی نہیں\nآگ روشن دل میں ہے چہرے پہ تابانی نہیں\n\nپھول کے پتے بکھر کر اک فسانہ کہہ گئے\nجس کی ہو ترتیب ممکن وہ پریشانی نہیں\n\nمجھ پر اک الزام ہے قید قفس وہ بھی غلط\nجس کی نیت میں ہو آزادی وہ زندانی نہیں\n\nجوش گریہ اس پر آہوں کی یہ سیلابی ہوا\nکون سی ہے موج اشک ایسی جو طوفانی نہیں\n\nراز یہ مجھ پر شکست غنچہ و گل سے کھلا\nحسن بھی تو بے نیاز چاک دامانی نہیں\n\nخواہشوں کے ساتھ اپنے نفس کو بھی کر فنا\nزندگی میں اس سے بہتر کوئی قربانی نہیں\n\nاتفاقات محبت نے یہ ثابت کر دیا\nوہ بھی پیشانی میں ہے شاید جو پیش آنی نہیں\n\nدولت کونین سے بھی ہے گراں تر اک سکوں\nدل ہو مستغنی تو پروائے جہاں بانی نہیں\n\nجاودانی ہوں میں اے دنیا پرستش کر مری\nیہ مسلم ہے کہ تو فانی ہے میں فانی نہیں\n\nحوصلوں کے ساتھ طے کر راہ دشوار حیات\nحل تو ہوں گی مشکلیں لیکن بہ آسانی نہیں\n\nدیکھ اے ساقی قناعت کی طرب افشانیاں\nآب کوثر ہے کٹورے میں مرے پانی نہیں\n\nہے مری نظروں میں انجام بہار گلستاں\nاب مرے سر میں ہوائے گل بدامانی نہیں\n\nبہہ چکا ہے خون پانی کی طرح انسان کا\nمعتدل پھر بھی مزاج عالم فانی نہیں\n\nکر نہ اے کنج لحد زحمت مرے آرام کی\nمیں مجاہد ہوں مجھے خوئے تن آسانی نہیں\n\nکر رہا ہوں نظم اے سیمابؔ قرآن مجید\nاور یہ کیا ہے اگر تائید یزدانی نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D9%81%D8%B9%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "میری سی تو نے گل سے نہ گر اے صبا کہی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میری سی تو نے گل سے نہ گر اے صبا کہی\nمیں بھی لگا دوں آگ گلستاں کو تو سہی\n\nگو صبح دور ہے شب ہجراں کی لیک تو\nاپنی طرف سے تو نہ کر اے نالہ گو تہی\n\nظالم پھرا مزاج نہ تیرا غرور سے\nانصاف کر تو میں تری کیا کیا جفا سہی\n\nلطموں سے بحر حسن کے ہے زلف کا یہ رنگ\nلہروں میں جیسے پھرتی ہو ناگن بہی بہی\n\nاللہ رے رعب حسن کہ اس بت کے سامنے\nآئی جو بات دل سے زباں پر وہیں رہی\n\nہم اس فریق میں نہیں وہ اور لوگ ہیں\nدنیا کے نیک و بد سے جو رکھتے ہیں آگہی\n\nصد آفریں کہ بحر میں سوداؔ کی مصحفیؔ\nاک تو نے آب دار غزل اور بھی کہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C"} {"title": "میری شادی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "میں نے کبھی لکھا تھا کہ میری زندگی میں تین بڑے حادثے ہیں، پہلا میری پیدائش کا جس کی تفصیلات کا مجھے کوئی علم نہیں، دوسرا میری شادی کا، تیسرا میرا افسانہ نگار بن جانے کا۔ آخری حادثہ چونکہ ابھی تک چلا جا رہا ہے، اس لئے اس کے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ وہ لوگ جو میری زندگی کے اندر جھانک کر دیکھنا چاہتے ہیں، ان کی خاطر میں اپنی شادی کی داستان بیان کرتا ہوں۔ یہ من و عن نہیں ہوگی، کیونکہ بعض واقعات مجھے مصلحتاً گول کرنے پڑیں گے۔\n\nمیں پہلے اس حادثے کا عقبی منظر پیش کرتا ہوں تاکہ اس کی تفصیلات ابھر آئیں۔ سن مجھے یاد نہیں۔ غالباً بارہ تیرہ برس پہلے جب علی گڑھ یونیورسٹی سے مجھے اس لئےباہر نکال دیا گیا تھا کہ مجھے دق کا عارضہ لاحق ہے، میں اپنی بہن سے کچھ روپیہ لے کر صحت درست کرنے کی خاطر بٹوت، (جموں اور کشمیر کے درمیان ایک گاؤں) چلا گیا۔ یہاں تین مہینے قیام کرنے کے بعد میں واپس اپنے شہر امرتسر میں آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میری بہن کا لڑکا فوت ہو گیا ہے۔ (وہ بمبئی میں بیاہی ہوئی تھی۔ چند روز امرتسر رہ کر واپس بمبئی چلی گئی تھی۔ ) یہاں پر میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں والد کے سائے سے محروم تھا۔ بہن کی شادی پر جو جمع پونجی موجود تھی وہ میری سادہ لوح اور نیک دل ماں نے میرے بہنوئی کے حوالے کر دی تھی۔ اب یہ حالت ہو گئی تھی کہ ہم دوسروں کے محتاج تھے۔ میرے دو بڑے بھائی ہمیں چالیس روپیہ ماہوار دیا کرتے تھے۔\n\nامرتسر آتے ہی میرا دل و دماغ سخت مضطرب ہو گیا۔ جی چاہتا تھا کہیں بھاگ جاؤں، یا خودکشی کر لوں۔ مضبوط ارادے کا مالک ہوتا تو یقیناً میں نے خود کو ہلاک کر لیا ہوتا۔ اسی لئے جب بمبئی سے ہفتہ وار مصور کے مالک مسٹر نذیر نے مجھے خط لکھا کہ میں بمبئی آ کر ان کے پرچے کی ادارت سنبھال لوں تو میں نے فوراً بوریا بستر باندھا اور بمبئی چل دیا۔ میں نے یہ بھی نہ سوچا کہ والدہ امرتسر میں اکیلی رہ جائیں گی۔ مسٹر نذیر نے مجھے چالیس روپے ماہوار پر نوکر رکھ لیا۔ جب میں ان کے دفتر میں سونے لگا تو انہوں نے کرائے کے طور پر دو روپے تنخواہ میں سے کاٹنا شروع کر دیے۔ اس کے بعد جب انہوں نے مجھے امپریل فلم کمپنی میں بحیثیت منشی یعنی مکالمہ نگار چالیس روپیہ ماہوار پر ملازم کرا دیا تو میری تنخواہ آدھی یعنی بیس روپے کر دی، جس میں سے دو روپے دفتر کو رہائش کے لئے استعمال کرنے کے سلسلے میں کاٹے جاتے رہے۔\n\nیہ وہ زمانہ تھا جب انتہائی عروج کے بعد امپریل فلم کمپنی روبہ تنزل تھی۔ اس کے مالک سیٹھ آرڈیشر ایرانی جو ایک باہمت آدمی تھے سرتوڑ کوششوں میں مصروف تھے کہ ان کی کمپنی کی حالت سنبھل جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسی ڈگمگ حالت میں ملازموں کو تنخواہیں وقت پر نہیں ملتی تھیں۔ سیٹھ آرڈیشر نے ایک اور ظلم کیا کہ ہندوستان کا پہلا رنگین فلم بنانے کا فخر حاصل کرنے کے لئے باہر سے ’’سنے کلر پروسس‘‘ کی مشینیں منگوا لیں۔ وہ اس سے پیشتر ہندوستان کا سب سے پہلا ناطق فلم ’’عالم آراء‘‘ پیش کرنے کا فخر حاصل کر چکے تھے۔ کمپنی پر جب یہ رنگین بوجھ پڑا تو اس کی مالی حالت اور بھی کمزور ہو گئی، مگر جوں توں کام چلتا رہا۔ کچھ نہ کچھ ایڈوانس کے طور پر مل جایا کرتا تھا، باقی حساب میں جمع رہتا تھا۔\n\nاتفاق ایسا ہوا کہ اس رنگین فلم کی ڈائریکشن مسٹر موتی، بی، گڈوانی کے سپرد ہوئی جو تعلیم یافتہ تھے اور مجھے پسند کرتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہانی لکھنے کے لئے کہا، جو میں نے لکھ دی اور انہوں نے پسند کی، مگر ایک پیچ آن پڑا کہ وہ سیٹھ سے کیسے کہیں کہ پہلی رنگین فلم کی کہانی کا مصنف ایک معمولی منشی ہے، بہت سوچ بچار کے بعد یہ طے ہوا کہ اچھے دام وصول کرنے کی خاطر کہانی پر کسی شخصیت کا نام دیا جائے۔ ایسی کوئی شخصیت، میرے دائرہ احباب میں نہیں تھی، لیکن جب میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی تو مجھے بہت دور شانتی نکیتن میں پروفیسر ضیاء الدین (مرحوم) دکھائی دیے جو ٹیگور کی یونیورسٹی میں طلبا کو فارسی پڑھاتے تھے۔ میں نے ان کو خط لکھا، چونکہ وہ مجھ سے پیار کرتے تھے، اس لئے وہ ہمارے اس فراڈ میں شریک ہو گئے۔\n\nکہانی چنانچہ انہی کے نام سے پیش ہوئی اور بہت بری طرح ناکام رہی۔ کمپنی کی حالت اور بھی ابتر ہو گئی۔ اس دوران میں مسٹر نذیر کی سفارش سے مجھے سو روپے ماہوار پر’ فلم سٹی‘ میں ملازمت مل گئی۔ کاردار صاحب کلکتے سے بمبے آئے تو ’فلم سٹی‘ نے ایک فلم کے لئے ان سے معاہدہ کیا۔ کہانیاں طلب کی گئیں۔ ان میں ایک میری بھی تھی جو میاں کاردار نے پسند کی اور اس پر کام بھی شروع کر دیا، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ سیٹھ آرڈیشر کو پتہ چل گیا کہ میں ’فلم سٹی‘ میں ہوں، گو ان کی وہ پہلی سی ساکھ نہیں تھی، لیکن اپنے تمام ہم عمر پروڈیوسروں پر ان کا رعب اور دبدبا ویسے کا ویسا قائم تھا۔ ’فلم سٹی‘ کے مالکوں کو انہوں نے کچھ ایسی ڈانٹ پلائی کہ مجھے کان سے پکڑ کر واپس امپریل فلم کمپنی میں بھیج دیا گیا اور ساتھ ہی میری کہانی بھی۔\n\nاب میری تنخواہ چالیس کے بجائے اسی کر دی گئی اور وعدہ کیا گیا کہ مجھے میری کہانی کا معاوضہ علیحدہ ملے گا۔ اس کہانی کی ڈائریکشن حافظ جی (رتن بائی والے) کے سپرد کی گئی۔ جب میں ’فلم سٹی‘ میں ملازم ہوا تھا تو میں نے ’مصور‘ کے دفتر میں رہائش چھوڑ کر پاس ہی ایک نہایت ہی غلیظ چالی (بلڈنگ) میں ایک کھولی (کمرہ) نو روپے ماہوار پر لے لی تھی۔ اس میں اس قدر کھٹمل تھے کہ چھت پر سے بارش کے قطروں کی طرح گرتے تھے۔ اس دوران میں میری والدہ بمبے آ گئی تھیں اور اپنی لڑکی کے پاس قیام پذیر تھیں۔ جب پہلی مرتبہ وہ مجھ سے ملنے کے لئے اس غلیظ کھولی میں آئیں تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میرے اور میرے بہنوئی کے تعلقات کشیدہ تھے۔ اب اسے خدا بخشے مگر اس کا کردار بہت ہی خراب تھا۔ میں چونکہ نکتہ چینی کرتا تھا، اس لئے اس نے اپنے گھر میں میرا داخلہ بند کر دیا تھا اور میری بہن پر یہ پابندی عائد کر دی گئی تھی کہ وہ مجھ سے نہیں مل سکتی۔\n\nمیں اپنی ماں کے آنسوؤں کا ذکر کر رہا تھا جو اس لئے ان کی آنکھوں سے نکلے تھے کہ ان کا بیٹا جو ناز و نعم میں پلا تھا، اب زمانے کی گردش سے ایسی غلیظ جگہ میں رہتا ہے۔ اس کے پاس کپڑے نہیں۔ رات مٹی کے تیل کا لیمپ جلا کر کام کرتا ہے۔ ہوٹل میں روٹی کھاتا ہے۔ وہ جب تک روتی رہی، میں شدید قسم کی دماغی اور روحانی اذیت میں مبتلا رہا۔ جو دن گزر چکے ہیں، ان کی یاد میرے نزدیک ہمیشہ فضول رہی ہے اور پھر رونے دھونے کا کیا مطلب ہے۔ مجھے ہمیشہ ’’آج‘‘ سے غرض رہی ہے۔ گزری ہوئی کل یا آنے والی کل کے متعلق میں نے کبھی نہیں سوچا۔ جو ہونا تھا ہو گیا، جو ہونے والا ہے ہو جائے گا۔\n\nرونے سے فارغ ہو کر میری والدہ نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا، ’’سعادت تم زیادہ کیوں نہیں کماتے؟‘‘ میں نے جواب دیا، ’’بی بی جان، زیادہ کما کر کیا کروں گا۔ جو کچھ کما رہا ہوں میرے لئے کافی ہے۔‘‘ انہوں نے مجھے طعنہ دیا، ’’نہیں، بات اصل میں یہ ہے کہ تم زیادہ کما نہیں سکتے۔۔۔ زیادہ پڑھے لکھے ہوتے تو الگ بات تھی۔‘‘ بات درست تھی، لیکن میرا پڑھنے میں جی ہی نہیں لگتا تھا۔ تین بار انٹرنس میں فیل ہونے کے بعد جب کالج میں داخل ہوا تو میری آوارگی اور بھی بڑھ گئی اور ایف اے کے امتحان میں دو مرتبہ ناکام رہا۔ علی گڑھ گیا تو وہاں سے اس بناء پر نکالا گیا کہ مجھے دق کا عارضہ لاحق ہے۔\n\nان تلخ حقائق کو محسوس کرنے کے باوجود میں نے بات کو ہنسی مذاق میں ٹالنے کی کوشش کی، ’’بی بی جان، میں جو کچھ کماتا ہوں، میری ذات کے لئے کافی ہے۔۔۔ گھر میں بیوی ہوتی تو پھر آپ دیکھتیں، میں کیسے کماتا ہوں۔ کمانا کوئی مشکل کام نہیں۔ آدمی اعلیٰ تعلیم کے بغیر بھی ڈھیروں روپیہ حاصل کر سکتا ہے۔‘‘ یہ سن کر والدہ نے اچانک مجھ سے یہ سوال کیا، ’’ شادی کرو گے؟‘‘ میں نے ایسے ہی کہہ دیا، ’’ہاں۔۔۔ کیوں نہیں!‘‘\n\n’’تو اس اتوار کو تم، ماہم آؤ، فٹ پاتھ پر کھڑے رہنا۔ میں تمہیں دیکھ کر نیچے آ جاؤں گی۔‘‘ والدہ نے یہ کہہ کر میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔\n\n’’تمہاری شادی کا بندوبست ہو جائے گا۔۔۔ انشاء اللہ۔۔۔ لیکن دیکھو، اپنے بال کٹوا کے آنا۔۔۔‘‘\n\nمیں نے بال نہ کٹوائے۔ رات کو میں نے اپنے کینوس شو پر پالش کر دیا تھا۔ ڈبل ریٹ پر دھلوائی ہوئی سفید پتلون پہن کر میں اتوار کی صبح کو ’ماہم‘ میں ’’ایننک لیٹومینشنز‘‘ کے پاس فٹ پاتھ پر کھڑا تھا۔ والدہ تیسری منزل کے فلیٹ کی بالکنی پر میری منتظر تھیں۔ انہوں نے مجھے دیکھا تو نیچے آئیں اور مجھے ساتھ چلنے کو کہا۔ بیس پچیس گز کے فاصلے پر ایک بلڈنگ تھی ’جعفر ہاؤس۔ ‘ والدہ نے اس کی دوسری منزل کے ایک فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جو نوکرانی نے کھولا۔ ہم اندر داخل ہوئے۔ والدہ زنانے میں چلی گئیں۔ میرا استقبال ایک گورے چٹے ادھیڑ عمر کے آدمی نے کیا۔ مردانے میں بڑی محبت اور بڑے خلوص کے ساتھ بٹھایا اور فوراً بے تکلف ہو گئے۔ آپ نے مجھ سے اور میں نے ان سے ایک دوسرے کے مشاغل کے متعلق معلومات حاصل کیں۔\n\nوہ گورنمنٹ کے ملازم تھے۔ پولیس کے محکمے میں ’’فنگر پرنٹ اسپیشلسٹ۔‘‘ تنخواہ واجبی تھی۔ کئی بچوں کے باپ تھے۔ ریس اورفلش کے رسیا، کراس ورڈ پزلز بڑی باقاعدگی سے حل کرتے تھے، مگر کوئی انعام حاصل نہیں کر سکے تھے۔ میں نے ان کو اپنے سارے حالات بتا دیے۔ یہ بھی کہہ دیا کہ ایسی فلم کمپنی میں ملازم ہوں جہاں تنخواہ نہیں ملتی، صرف سانس کی آمدورفت جاری رکھنے کے لئے کبھی کبھی ایڈوانس کے طور کچھ مل جاتا ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ میں نے جب ان کو یہ بتایا کہ ایسی پتلی حالت میں بھی ہر شام کو بیئر کی ایک بوتل ضرور پیتا ہوں تو انہوں نے برا نہ مانا۔ میری ہر بات کو انہوں نے بڑے غور سے سنا۔ جب میں جانے کے لئے اٹھا تو ملک حسن صاحب، میری کتاب زندگی کے تمام ضروری اوراق کا مطالعہ کر چکے تھے۔\n\nجب ہم وہاں سے نکلے تو والدہ نے مجھے بتایا کہ یہ لوگ افریقہ سے آئے ہیں، تمہارے بھائیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں (انہوں نے دس بارہ برس مشرقی افریقہ میں بیرسٹری کی تھی) ان کے ہاں ایک لڑکی ہے، جس کا بیاہ کرنا چاہتے ہیں۔ کئی رشتے آ چکے ہیں، مگر ان کو پسند نہیں آئے۔ اصل میں کوئی کشمیری گھرانہ چاہتے ہیں۔۔۔ میں نے ان سے تمہاری بات کی ہے۔۔۔ اور کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھی۔ رہی سہی جو کسر رہ گئی تھی وہ والدہ نے پوری کر دی تھی، لیکن میں سوچنے لگا کہ یہ سلسلہ کیا ہے۔۔۔ اگر وہ لوگ مان گئے (حالانکہ مجھے اس کا یقین نہیں تھا، اس لئے کہ مجھ میں ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ وہ مجھے اپنی لڑکی دیتے) تو کیا سچ مچ مجھے شادی کرنا پڑے گی اور۔۔۔ اور پھر ڈھیروں روپے بھی کمانا پڑیں گے؟\n\nملک صاحب نے مجھے دوسرے اتوار کو کھانے پر مدعو کیا تھا۔ میں حسب وعدہ وہاں پہنچا تو انہوں نے میری بڑی آؤ بھگت کی۔ کھانا آیا۔ مرغ تھا، کوفتے تھے، ساگ کا سالن بھی تھا اور دھنیے، پودینے اور انار دانے کی چٹنی، ہر چیز لذیذ تھی، لیکن گرم مصالحہ اور مرچیں اس قدر کہ الامان۔ میرے پسینے چھوٹ گئے، لیکن رفتہ رفتہ میں عادی ہو گیا۔ دو تین اتواروں کے بعد میں جب ان لوگوں میں گھل مل گیا تو میری والدہ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے میرا رشتہ قبول کر لیا ہے۔ جب میں نے یہ سنا تو چکرا گیا۔ میں تو شادی کے اس قصے کو صرف ایک مذاق سمجھ رہا تھا۔ اس کے علاوہ مجھے قطعاً یقین نہیں تھا کہ مجھے کوئی ہوش مند انسان اپنی لڑکی دے گا۔ میرے پاس تھا ہی کیا۔ انٹرنس پاس، وہ بھی تھرڈ ڈویژن میں۔ ملازمت ایسی جگہ جہاں تنخواہ کے بجائے ایڈوانس ملتا تھا۔۔۔ اور پیشہ فلم اور اخبار نویسی۔ ایسے لوگوں کو شریف آدمی کب منہ لگاتے تھے۔ ایک غلیظ کھولی حاصل کرنے کے لئے مجھے کتنے جتن کرنے پڑے تھے۔ مالک مکان کو معلوم ہو گیا تھا کہ فلم کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ بڑی سفارشوں کے بعد وہ انجام کار راضی ہوا تھا۔\n\nمیں سخت پریشان ہوا۔ میں یہ خبر سننے کے لئے بالکل تیار نہیں تھا۔ میرا دماغی توازن اس وقت اور بھی زیادہ بگڑ گیا، جب والدہ نے کہا کہ انہوں نے بات پکی کر دی ہے۔ میں نے ان سے کچھ نہ کہا اور دن رات اٹھتے بیٹھتے اس سوچ میں غرق رہنے لگا کہ یہ مصیبت جو میں نے خود مول لی ہے، اس سے نجات کیسے ہوگی۔ بہت سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اب سوچ بچار بالکل فضول ہے۔ ہرچہ بادا باد کہہ کر مجھے اپنی کشتی اس منجدھار میں ڈال دینی چاہیئے۔ میں نے یہ فیصلہ تو کر لیا، مگر نکاح کی رسم کے لئے روپیہ کہاں سے آئے؟ یہ سوال بہت ہی پریشان کرنے والا تھا۔ کمپنی سے اب ایڈوانس ملنا بھی بند ہو گیا تھا۔ ادھر والدہ نے تاریخ مقرر کر دی تھی۔ میں نے کئی مرتبہ سوچا کہ بمبے سے بھاگ جاؤں، لیکن کسی غیر مرئی طاقت نے میرے پاؤں جکڑ رکھے تھے۔ ایک ہی صورت تھی کہ میں سیٹھ آرڈیشر سے ملوں اور ان سے اپنے نکاح کے اخراجات کے لئے کچھ روپے مانگوں۔ کمپنی کی طرف میرے قریب قریب ڈیڑھ ہزار روپے نکلتے تھے، اگر یہ مل جاتے تو سمجھئے میرا سب تردّد دور ہو جاتا۔۔۔ بلکہ عیش ہو جاتے۔\n\nمیں آرڈیشر صاحب سے ملا۔ ان کو اتنی فرصت نہیں تھی کہ میری داستان غور سے سنتے۔ ٹہلتے ٹہلتے، جو کچھ میں نے کہا، بدرجہ مجبوری سنا۔ آخر میں مجھ سے کہا، ’’دیکھو، کمپنی کی جو حالت ہے، وہ تم جانتا ہے۔۔۔ اگر حالت اچھی ہوتی تو ہم تمہاری شادی خود کر دیتے۔‘‘ یہ صحیح ہے کہ جب کمپنی کی حالت اچھی تھی تو وہ اپنے ملازموں کی بے دریغ مالی امداد کیا کرتے تھے۔ بڑے مخیر تھے، مگر اب ان کا ہاتھ اس قدر تنگ تھا کہ انہیں اس احساس سے بڑی الجھن ہوتی تھی کہ وہ کسی سائل کی مدد نہیں کر سکتے۔ میری مایوسی کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں۔ میں چلنے لگا تو انہوں نے مجھے آواز دی اور پاس بلا کر کہا، ’’میں صرف اتنا کر سکتا ہوں کہ تمہیں ضروری چیزیں لے دوں۔۔۔ جاؤ حافظ جی کو بلا لاؤ۔‘‘\n\nمیں حافظ جی کو ان کے پاس لے کر گیا تو انہوں نے دوکانوں کا پتہ ان کو بتایا۔ ایک چٹ پر لکھ کر دیا اور کہا، ’’منشی منٹو کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔۔۔ اور جو کچھ اسے چا ہیئے لے دو۔‘‘ میں حافظ جی کے ساتھ ہو لیا۔ ہم موٹر میں ایک بزاز کی دکان پر پہنچے وہاں سے دو ساڑھیاں لیں، سیٹھ آرڈیشر کے ذاتی اکاؤنٹ میں۔ دوسری دکان جوہری کی تھی۔ وہاں سے ایک آدمی میرے ساتھ کر دیا گیا، کیونکہ میں چاہتا تھا کہ لڑکی خود اپنے لئے زیور پسند کر ے۔\n\nمیں اور جوہری کا آدمی دونوں ’جعفر ہاؤس‘ پہنچے۔ لڑکی کی والدہ کو جن کو میں خالہ جان کہتا تھا، جوہری کے آدمی نے کچھ زیورات دکھائے۔ انہوں نے صرف ایک ہیرے کی انگوٹھی، موتیوں کی ’بوٹیاں‘ (کانوں کا زیور) ایک پنڈنٹ، دو طلائی چوڑیاں پسند کیں۔ میں نے خالہ جان پر بہت زور دیا کہ وہ چند اور زیورات بھی رکھ لیں، مگر وہ مجھ پر زیادہ بوجھ ڈالنا نہیں چاہتے تھے۔ کاش میں نے ان سے کہہ دیا ہوتا کہ خالہ جان ایسا موقع مجھے پھر کبھی نہیں ملے گا۔ مجھے کمپنی سے ڈیڑھ ہزار روپیہ لینا ہے۔۔۔ جاتے چور کی لنگوٹی نہ چھوڑیئے، مگر افسوس کہ اس رقم سے مجھے صرف چار پانچ سو روپے ہی وصول ہوئے، کیونکہ کمپنی میرے نکاح ہونے کے فوراً بعد مرحوم ہو گئی۔\n\nاب نذیر صاحب نے میری ماہوار تنخواہ پھر چالیس روپے کر دی، جس سے کچھ ڈھارس ہوئی کہ شام کو بیئر کی بوتل کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ’نکاح‘ میرے لئے ظاہر ہے کہ بہت ’مہلک‘ ثابت ہوا۔ کمپنی سے جو روپیہ لینا تھا وہ الگ غرق ہوا اور گھٹنا الگ زخمی ہوا۔ اس کی داستان بھی سن لیجئے۔۔۔ بمبے میں کوئی دوست تھا نہ عزیز، بہن تھی، لیکن وہاں میرا حقہ پانی بند تھا۔ مجھے سارے کام خود ہی کرنا تھے۔ چند آدمیوں کو اطلاع دینا تھی کہ میرا نکاح ہو رہا ہے۔ چھوہارے اور الائچی دانے خریدنا تھے۔ بال کٹوانے تھے اور بس پر سوار ہو کر محاذ پر جانا تھا۔ شاہجہاں محل ہوٹل کے مالک سید فضل شاہ کو رسم نکاح میں شرکت کرنے کی دعوت دے کر جب لوٹ رہا تھا تو پتھریلے فرش پر میرا پاؤں پھسلا، اس زور سے گرا کہ بے ہوش ہو گیا۔ میں زندگی میں صرف تین مرتبہ بے ہوش ہوا ہوں۔ سب سے پہلے اپنے نکاح پر سید فضل شاہ (مرحوم) کو دعوت شرکت دینے پر، دوسری مرتبہ اپنی والدہ کی اچانک موت پر، پھر اپنے لڑکے کی وفات پر۔\n\nیہ گر کے بے ہوش ہو جانا بھی اچھا شگون تھا۔ چوٹ اس قدر شدید تھی کہ جب مجھے ہوش آیا اور میں سیڑھیاں اترنے لگا تو میری مضروب ٹانگ نے چلنے سے انکار کردیا۔ بڑی مشکل سے مارکٹ تک پہنچا۔ درد اس قدر تھا کہ ہر قدم پر بلبلا اٹھتا۔ خیر، چھوہارے اور الائچی دانے لئے اور ماہم پہنچا۔ جعفر ہاؤس کی سیڑھیاں افتاں و خیزاں طے کیں اور نکاح کی محفل میں جا پہنچا۔ پندرہ بیس اشخاص موجود تھے۔ میں گاؤتکیے کا سہارا لے کر بیٹھ گیا۔ زخمی ٹانگ دوہری نہیں ہوتی تھی۔ اس لئے اسے الگ لیٹے رہنے دیا، گو یہ بڑی بدتمیزی تھی، مگر جب قاضی مرگھے (عجیب و غریب نام ہے) نے مجھے دو زانو بیٹھنے کے لئے کہا تو جی کڑا کر کے اور درد کی ساری ٹیسیں پی کر ان کا حکم ماننا ہی پڑا۔\n\nایجاب و قبول کی رسم ختم ہوئی تو میری جان میں جان آئی۔ ٹانگ سیدھی کی، درد کے کئی اور گھونٹ پئے۔ مبارکبادیں وصول کیں اور لنگڑاتا لنگڑاتا اپنے گھر پہنچا۔ مٹی کے تیل کا لیمپ روشن کیا اور کھٹملوں بھری کھاٹ پر دراز ہو کر سوچنے لگا کہ آیا سچ مچ میرا نکاح ہو گیا ہے۔۔۔ میں آپ سے سچ عرض کرتا ہوں کہ جیب میں چھوہارے اور الائچی دانے ہونے اور گھٹنے کی چوٹ کے باوجود مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ میری زندگی کا اتنا بڑا حادثہ وقوع پذیر ہو چکا ہے۔\n\nمیں قریب قریب شادی شدہ تھا۔ فرق بس صرف اتنا تھا کہ میری بیوی میری نو روپے ماہوار کی کھولی میں موجود نہیں تھی۔ قانون کی رو سے میں جب بھی چاہتا، اسے اپنے ساتھ چلنے کو کہہ سکتا تھا، لیکن اتنی ہمت کہاں تھی۔ اسے کھلاتا کہاں سے، سامنے وا لے ایرانی کے ہوٹل سے اور وہ بھی ادھار۔ رکھتا کہاں؟ کھولی میں تو ایک سے زائد کرسی کے لئے بھی جگہ نہیں تھی۔ ظاہر ہے کہ بیویاں نہاتی بھی ہیں، مگر وہاں تو کوئی غسل خانہ ہی نہیں تھا۔ دو منزلہ بلڈنگ تھی جس میں چالیس کھولیاں تھیں۔ ان سب کے ساکنوں کے باہم استعمال کے لئے صرف دو غسل خانے تھے، جن کے دروازے معلوم نہیں کب کے غائب ہو چکے تھے۔ مجھے اس احساس سے بڑی الجھن ہوتی تھی کہ میرا نکاح ہو گیا ہے اور ایک لڑکی کے ساتھ آج نہیں تو کل مجھے شوہر کی حیثیت سے زندگی گزارنا ہوگی۔ اس سے قبل میں نے ایسا کوئی تجربہ نہیں کیا تھا۔ مجھے قطعاً معلوم نہیں تھا کہ بیوی کیا ہوتی ہے اور شوہر کیا ہوتا ہے۔\n\nمیری زندگی میں دو تین لڑکیاں ضرور آئی تھیں، مگر وہ نوکرانیاں تھیں۔ ان سے میرا تصادم ایسے ہی ہوا تھا جیسے سڑک پر دوراہ چلتے اندھے ایک دوسرے سے ٹکرائیں اور چٹکیوں میں اس تصادم سے فراغت حاصل کر کے اپنی اپنی راہ لیں۔ میں بڑی ایمانداری سے محسوس کر رہا تھا کہ میں اور سب کچھ بن سکتا ہوں، لیکن شوہر نہیں بن سکتا۔ یہ مضمون نویسی اور افسانہ نگاری والا معاملہ نہیں تھا۔\n\nوقت گزرتا گیا۔۔۔ میں نے کوشش کی اور سروج مووی ٹون، نامی فلمی کمپنی میں ایک سو روپیہ ماہوار پر ملازم ہو گیا۔ یہ کمپنی تو شاید میری آمد کی منتظر تھی۔ ابھی دو ماہ نہ گزرے ہوں گے کہ اس کا دیوالہ پٹ گیا۔ اب تو مجھے یقین ہو گیا کہ میرا نکاح میرے لئے بہت منحوس ثابت ہوا ہے۔ لیکن سورگ باشی سروج مووی ٹون کے چلتے پرزے مالک سیٹھ نانو بھائی ڈسائی نے کچھ ایسی تگڑم لڑائی کہ ایک مالدار مار واڑی کو پھانس لیا اور ’’سروج مودی ٹون‘‘ کا نام ہٹا کر ’’ہندوستان سنے ٹون‘‘ کے نام سے نئی فلم کمپنی کھڑی کر دی۔ اس کے لئے میں نے اپنی دوسری فلمی کہانی ’’کیچڑ‘‘ کے عنوان سے لکھی جوبعد میں ’’اپنی نگریا‘‘ جیسے بے ڈھنگ اور بے تکے نام سے پیش ہوئی اور کامیاب رہی۔\n\nیہ فلم ابھی نصف بھی تیار نہیں ہوا تھا کہ مارواڑی سیٹھ چاندی کے سٹے میں اپنی ساری دولت گنوا بیٹھے، حتیٰ کہ اپنی شاندار موٹر بھی جس کا رنگ بے داغ سفید تھا۔ میں نے اس کا رشتہ بھی اپنے نکاح سے جوڑا۔ مجھے یقین تھا کہ چند دنوں ہی میں اس نئی کمپنی کا دیوالہ ضرور پٹے گا، لیکن نانو بھائی ڈسائی نے کسی نہ کسی طرح، ادھر ادھر سے قرض لے کر فلم مکمل کر ہی لیا۔\n\nمیرا نکاح ہوئے قریب قریب دس مہینے ہو چلے تھے کہ مجھے ایک نہایت شرمناک حادثے سے دوچار ہونا پڑا۔ میرا ایک بے وقوف دوست عاشق تھا۔ ان پڑھ، جاہل، خوشامدی۔۔۔ لیکن رقص کے فن کا ماہر، مجھے خوش کرنے کے لئے ایک شام اس نے مجھے بیئر پلائی، تھوڑی سی خود بھی پی اور چہکنے لگا۔ چہکتے چہکتے وہ مجھے اپنے ایک دوست کی موٹر میں بٹھا کر ایک لڑکی کے پاس لے گیا جو بقول اس کے اس کی شاگرد تھی۔ جب اس نے دروازے پر دستک دی تو اندر سے کسی نسوانی آواز نے پوچھا، ’’کون ہے؟‘‘ عاشق نے کہا، ’’عاشق!‘‘ اندر سے ایک موٹی گالی باہر نکلی، ’’عاشق کی۔۔۔‘‘ عاشق کو جو غصہ آیا تو وہ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گیا۔ میں اس کے پیچھے گیا۔ وہ ایک نوکر کو بری طرح پیٹ رہا تھا۔\n\nمیں قصہ مختصر کرتا ہوں۔ دوسرے روز جب عاشق گرفتار ہوا تو اس نے پولیس والوں سے کہا، ’’میرے ساتھ ایک اور آدمی تھا۔‘‘ چنانچہ مجھے بھی گرفتار کر لیا گیا، ماہم میں میرے سسرال کو فوراً اس کا پتہ چل گیا۔ میں بہت پریشان ہوا کہ اب کس منہ سے ان لوگوں کے پاس جاؤں۔ میری منکوحہ نے میرے متعلق یقیناً بہت بری رائے قائم کی ہوگی۔۔۔ وہ ضرور روتی ہوگی کہ کس بدمعاش سے میرا پلہ باندھ دیا گیا ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا بھی ممکن نہیں۔ میں نے بہت دیر تک بڑی ایمانداری سے خود کو اپنی منکوحہ کی پوزیشن میں رکھ کر غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ میں خالہ جان سے صاف صاف کہہ دوں کہ اگر اس واقعے کے بعد جو واقعی بہت شرمناک ہے، آپ مجھے اپنی بیٹی دینا مناسب خیال نہ کریں تو میں طلاق دینے کے لئے تیار ہوں، مگر جب میں نے ان سے اپنے ان خیالات کا اظہار کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا، ’’تم پاگل ہو جو ایسی باتیں سوچتے ہو، ہمیں تمہاری بے گناہی کا یقین ہے۔‘‘\n\nمیرے سینے کا بوجھ ہلکا تو ہو گیا مگر میرے اس وہم میں اور اضافہ ہوا کہ نکاح میرے لئے نحوست ہی نحوست لے کر آیا ہے۔ کمپنی کی حالت بہت پتلی ہو گئی تھی۔ اب تنخواہوں کے بدلے ایڈوانس ملنا شروع ہو گیا تھا۔ میری کہانی کا حق الخدمت واجب الادا تھا، مگر کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی کہ یہ مجھے ملے گا۔ ادھر والدہ نے میرے سسرال کے اصرار پر رخصتی کی تاریخ مقرر کر دی، ایک برس کے قریب ہو گیا تھا، نکاح ہوئے۔ وہ لوگ انتظار کرتے کرتے تنگ آ گئے تھے۔ مجھے کوئی جلدی نہیں تھی، بلکہ یوں کہئے کہ میری دلی خواہش تھی کہ رخصتی کی نوبت ہی نہ آئے۔ میں خائف تھا کہ مجھ سے گھر بار نہیں چلایا جا سکے گا اور ایک شریف لڑکی کی ساری عمر بغیر کسی قصور کے عذاب میں کٹے گی۔۔۔ مگر دن مقرر ہو چکا تھا جو میرے لئے روز قیامت تھا۔\n\nہفتہ وار مصور، کی حالت بہت اچھی ہو گئی تھی۔ اب اس کا دفتر بہتر جگہ پر منتقل ہو چکا تھا۔ ٹیلی فون موجو دتھا۔ مسٹر نذیر کے پاس ایک چھوٹی سی کار تھی جس میں وہ ادھر ادھر گھوم کر اشتہار فراہم کرتے تھے۔ ہم دونوں کی رہائش اب اس دفتر میں تھی۔ میں ہر اتوار ماہم جاتا، کبھی کبھی دروازے کی درزوں میں سے اپنی بیوی کی ایک آدھ جھلک دیکھ لیتا اور رات کا کھانا کھا کر جب واپس گھر جاتا تو سوتے وقت اپنے آپ پر لعنت بھیجتا کہ میں نے کیوں شادی کا یہ کھیل کھیلاجبکہ مجھے اس میں اس قدر پھسڈی نکلنا تھا، مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والا معاملہ تھا۔ رخصتی کی تاریخ میں جب صرف دس دن باقی رہ گئے تو میں چونکا۔ ایک دم اٹھا اور دفتر کے پاس ہی یعنی اسی بلڈنگ میں ایک فلیٹ پینتیس روپے ماہوار پر لے لیا۔ چالیس مجھے مسٹر نذیر سے ملتے تھے۔ میں نے ان سے کہہ دیا کہ ہر ماہ کرایہ ادا کر دیا کریں۔ اب گویا مجھے پانچ روپے ماہوار پر اپنا اور اپنی بیوی کا پیٹ پالنا تھا۔\n\nمیں نے فلیٹ کو اچھی طرح صاف کیا۔ اس کا چوبی فرش اور دروازے جو بے حد غلیظ تھے سوڈا کاسٹک سے صاف کئے اور تالا لگا کر سینے میں ایک موہوم امید لئے نانو بھائی ڈسائی کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی کہانی کے معاوضے اور اپنی تنخواہوں کے بقایا کا تقاضا کیا۔۔۔ سیٹھ صاحب نے مجھے صاف جواب دیا ہے کہ وہ مجھے ایک ڈیڑھیا (پیسہ) بھی نہیں دے سکتے۔ میں نے جب یہ ٹکا سا جواب سنا تو میں بھنا گیا۔ غصے میں آ کر میں نے سیٹھ کو گالیاں تک دیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے باہر نکال دیا گیا۔۔۔ میں نے فوراً بابو راؤ پٹیل (ایڈیٹر فلم انڈیا) کو ٹیلی فون کیا۔ سارا ماجرا سنا کر میں نے ان سے کہا کہ اگر نانو بھائی نے میرا حساب نہ چکایا تو میں بھوک ہڑتال کر دوں گا۔ میرا یہ فیصلہ اٹل تھا۔\n\nبابو راؤ جو میری ہٹ سے واقف تھا، بہت مضطرب ہوا۔ اس نے فوراً نانو بھائی کو ٹیلی فون کیا اور اس سے کہا کہ اگر منٹو نے بھوک ہڑتال شروع کی تو سارا پریس اس کا ساتھ دے گا۔ اس لئے اسے چاہیئے کہ فوراً اس کے ساتھ سمجھوتہ کر لے۔ ٹیلی فون پر تو کوئی فیصلہ نہ ہوا، لیکن جب بابو راؤ، نانو بھائی سے اس کے دفتر میں ملا تو مجھے بلایا گیا۔ نانو بھائی نے مجھ سے معافی مانگی، میرا اس سے آخر فیصلہ یہ ہوا کہ میں آدھی رقم پر راضی ہو جاؤں اس لئے کہ کمپنی کی حالت نازک ہے۔ مجھے نو سو روپے کا ایک پوسٹ ڈیٹڈ چیک دیا گیا، چند روز گزرنے کے بعد جب میں نے نانو بھائی ڈسائی کو ٹیلی فون کیا کہ تاریخ آ گئی ہے اور میں چیک کیش کرانے جا رہا ہوں تو اس نے کہا، پہلے مجھ سے مل لو۔ میں اس سے ملا تو اس نے مجھے بڑے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ بینک میں روپیہ نہیں ہے۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں پانچ سو روپے نقد پر راضی ہو جاؤں۔ میں فوراً راضی ہو گیا، حالانکہ میری حق حلال کی کمائی کے اٹھارہ سو روپوں میں سے پہلے نو سو ہوئے اور اب پانچ سو، لیکن میں مجبور تھا۔ رخصتی میں اب صرف چار دن باقی تھے۔\n\nمیں نے کمپنی کی موٹر لی، مگر اس میں صرف پٹرول پمپ تک جانے کے لئے پٹرول تھا۔ میں نے اپنی گرہ سے پٹرول ڈلوایا اور ڈرائیور سے کہا، سیدھے مارکیٹ چلو۔ پانچ سو روپے جیب میں تھے۔ میں نے ان سے اپنی دولہن کے لئے ساڑھیاں وغیرہ خریدیں۔۔۔ جب گھر پہنچا تو جیب قریب قریب خالی تھی اور گھر تو بالکل خالی تھا۔ ٹوٹی ہوئی کرسی تک نہ تھی۔\n\nمیرے وہاں ایک بزرگ دوست تھے۔ حکیم محمد ابو طالب اشک عظیم آبادی، بڑے مرنجاں مرنج آدمی تھے۔ میں نے جب ان سے ذکر کیا کہ دولہن لا رہا ہوں مگر گھر خالی ہے تو وہ مجھے فرنیچر کی ایک دکان پر لے گئے۔ اس کا مالک ان کو اچھی طرح جانتا تھا، چنانچہ مجھے آسان قسطوں پر کچھ سامان مل گیا۔ مثال کے طور پر لوہے کی اسپرنگوں والی دو چارپائیاں، برتن وغیرہ رکھنے کی ایک الماری، ایک سنگار میز (یہ سیکنڈ ہینڈ تھی) ایک لکھنے والا میز اپنے لئے، ایک کرسی وغیرہ وغیرہ۔ جب میں نے یہ سامان فلیٹ میں سجانے کی کوشش کی تو مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔ دو جہازی سائز کے کمرے تھے۔ ان میں یہ فرنیچر دکھائی ہی نہیں دیتا تھا، چنانچہ میں نے دو مونڈھے خریدے اور وہ بھی ایک کونے میں جما دیے جو دوسرے فرنیچر کی طرح گم ہو گئے۔ ادھر ادھر سے مجھے جو چیز ملی، میں نے کہیں نہ کہیں ٹکا دی۔ ہر چیز ٹکانے کے بعد میں کمرے پر نظر ڈالتا اور خود کو یہ فریب دینے کی کوشش کرتا کہ اب فلیٹ بھرا بھرا نظر آتا ہے۔\n\nروز محشر آخر آ پہنچا۔ صبح مصور کے دفتر میں بیٹھا تھا۔۔۔ والدہ اب میرے پاس آ گئی تھیں۔ ان سے میں یہ کہہ کر آیا تھا کہ برات کا بندوبست کرنے جا رہا ہوں۔ مسٹر نذیر نے مختلف لوگوں کے نام رقعے بھیج دیے تھے جن میں سے اکثر فلم لائن سے وابستہ تھے۔ میری برات گویا ایک فلمی برات تھی۔ میاں کاردار، ڈائریکٹر گنجالی اس زمانے کے مشہور ایکٹر، ای بلی موریا اور ڈی بلی موریا، نور محمد چاولی اور مرزا مشرف، بابو راؤ پٹیل اور پہلی رنگین فلم کی ہیروئن پدما دیوی، یہ سب شریک ہو رہے تھے۔ بابو راؤ پٹیل کو جب معلوم ہوا تھا کہ منٹو کے گھر میں صرف اس کی ماں ہے جسے اکیلی مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا پڑے گی تو اس نے پدما دیوی کو ہمارے ہاں بھیج دیا تھا کہ وہ میری والدہ کا ہاتھ بٹائے۔ میں نے کرائے پر کرسیاں منگوا لی تھیں اور پاس والے ایرانی رستوران سے ومٹو کی بوتلیں۔ اس پر جو خرچ اٹھتا وہ میں اطمینان سے ادا کر سکتا تھا، اس لئے مجھے اس طرف سے کوئی تردد لاحق نہیں تھا، لیکن میں اس تکلیف دہ سوچ میں غرق تھا کہ گھر بار چلے گا کیسے۔\n\nمیں دفتر میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ ’ماہم‘ سے میری بہن کا ٹیلی فون آیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا، کہو کیا حال ہے۔۔۔ میں نے جواب میں آغا حشر کا مشہور فقرہ دہرایا، ’’شیر لوہے کے جال میں ہے۔ عجب مخمصے میں گرفتار ہوں۔ برات کی تیاریاں کر رہا ہوں، لیکن جیب میں صرف ساڑھے چار آنے ہیں۔ چار آنے میں سگریٹ کی ڈبیا آ جائے گی۔ دو پیسے کی ماچس۔۔۔ چلو قصہ پاک۔۔۔!‘‘\n\nمیری بہن بے چاری میری مدد کرنے سے مجبور تھی، اس کے شوہر نے تو اس کو اتنی اجازت بھی نہیں دی تھی کہ وہ رخصتی کی رسم میں شریک ہوتی اور اپنے بھائی کو دولہا بنا ہوا دیکھتی، پھر بھی اس نے مجھ سے کہا، ’’سعادت، میں تمہارے واری جاؤں۔ ذرا کی ذرا اپنی موٹر میرے گھر کے سامنے روکنا۔۔۔ میں تمہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘ میں نے اور زیادہ گفتگو نہ کی، کیونکہ وہ بہت زیادہ جذباتی ہو رہی تھی۔ ٹیلی فون کا سلسلہ منقطع کرنے کے بعد میں اٹھا اور پڑوس کے سیلون سے بال کٹوائے۔۔۔ حمام میں غسل کیا۔۔۔ یہ سب ادھار۔ شام تک میں نے سگریٹ کی ساری ڈبیا پھونک ڈالی۔ اب میری جیب میں صرف ایک ماچس تھی، وہ بھی آدھی۔ کپڑے تبدیل کر کے میں نے وہ سوٹ پہنا جو مجھے سسرال سے ملا تھا۔ ٹائی باندھی۔ آئینے میں جب میں نے اپنی شکل دیکھی تو ایک کارٹون سا نظر آیا۔ میں خوب ہنسا۔ بتیاں جلنے سے پہلے پہلے سارے براتی جمع ہوئے۔ پدما دیوی اور میری والدہ نے سب کی خاطر تواضع کی۔ اس کے بعد یہ قافلہ جو دس پندرہ موٹروں پر شامل تھا، ماہم کی طرف روانہ ہوا۔\n\nمیں مانو بھائی ڈسائی کی موٹر میں تھا۔ بغیر سہرے کے۔ سر سے ننگا، بالوں کی لمبائی معقول تھی۔ جب ہم جعفر ہاؤس کے قریب پہنچے تو میں نے ڈرائیور سے کہا تھوڑی دور آگے لے جائے۔ باہر فٹ پاتھ پر میری بہن کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ جب اس نے میرے سر پر محبت کا ہاتھ پھیرا، دعائیں اور مبارکباد دی تو میں جلدی سے واپس موٹر میں بیٹھ گیا اور ڈرائیور سے کہا کہ بیک کرے۔ خالہ جان نے اوپر کھلے ٹیرس پر دعوت کا انتظام کیا تھا جو بہت اچھا تھا۔ رفیق غزنوی، ڈائریکٹر نندا اور آغا خلش کاشمیری کے درمیان بڑی پرلطف نوک جھونک ہوتی رہی۔ سب نے ڈٹ کر کھایا، کیونکہ کھانا بہت عمدہ اور لذیذ تھا، کشمیریوں کی روایت کے عین مطابق۔ کھانا کھانے کے بعد خوش گپیاں شروع ہوئیں۔ آغا خلش صاحب نے ایک پرمزاح نظم پڑھی جو انہوں نے فی البدیہہ کہی تھی۔ یہ سلسلہ ختم ہوا تو مجھے نیچے بلایا گیا اور دولہن کو میرے سپرد کر دیا گیا۔\n\nیہ سب مجھے ایک خواب سا معلوم ہوتا ہے۔ دماغ میں جانے کتنے خیالات تلے اوپر آ رہے تھے۔ دولہن میرے ساتھ تھی۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور لرزاں آواز میں کہا، ’’چلو بھئی۔‘‘ ہم نیچے اترے۔ بلی موریا نے اپنی کار پیش کی۔ والدہ میرے ساتھ تھیں۔ پہلے انہوں نے دولہن کو بٹھایا، اس کے بعد آپ بیٹھیں، پھر مجھے اندر آنے کو کہا۔۔۔ وہ میرے اور دولہن کے درمیان تھیں۔ گھٹنوں پر مخملیں جزدان میں لپٹا ہوا قرآن تھا۔ میری اور دولہن کی گردن ہاروں سے لدی پھدی تھی۔ موٹر اسٹارٹ ہوئی تو والدہ نے زیرلب کوئی آیت پڑھنا شروع کر دی۔۔۔ میں اب کسی قدر سنبھل چکا تھا، میرا جی چاہتا تھا کہ دولہن سے ذرا چھیڑ خانی کروں مگر۔۔۔ والدہ بیج میں بیٹھی تھیں اور پھر کلام پاک پڑھ رہی تھیں۔۔۔ میری یہ شریر خواہش وہیں کی وہیں سرد ہو گئی۔\n\nمجھے معلوم نہیں راستہ کیسے اور کتنے عرصے میں کٹا۔ بس ایک دم گھر آ گیا۔ وہ بلڈنگ جو بہت پرانی وضع کی تھی، جس کی ساخت میں لکڑی زیادہ اور اینٹیں کم استعمال ہوئی تھیں، اس کے متعلق مشہور تھا کہ کسی زمانے میں یہ بمبئی کا بڑا عالی شان ہوٹل ہوا کرتا تھی، اسے ہزہائی نس سر آغا خان نے ایک دوست سے شرط میں جیتا تھا۔ والدہ دولہن کے ساتھ اوپر فلیٹ میں چلی گئیں۔ میں نے اپنے دوستوں کا شکریہ ادا کیا۔ اتنے میں مرزا مشرف اس ٹرک میں آن پہنچا جس میں دولہن کا جہیز تھا۔ کھانے کا میز، کرسیاں، اسپرنگوں والا پلنگ، تپائیاں، صوفہ سیٹ اور صندوق وغیرہ۔ یہ اسباب اتروایا تو مرزا مشرف کا ٹرک والے سے کرائے پر جھگڑا ہو گیا جو کافی دیر تک جاری رہا۔ مرزا مشرف نے اپنے مسخرے پن کا جی بھر کے مظاہرہ کیا۔ آخر جب یہ جھگڑا نپٹا اور سارا سامان فلیٹ میں پہنچ گیا اور عارضی طور پر ادھر ادھر ٹکا دیا گیا تو مرزا مشرف نے جاتے ہوئے میرے کان میں کہا، ’’منے، دیکھو، ہماری ناک نہ کٹ جائے کہیں!‘‘\n\nمیں تھک کر چور چور تھا۔ حلق سوکھ کے لکڑی ہو رہا تھا،اس لئے مسخرے مرزا کے اس مذاق کا کوئی جواب نہ دے سکا۔۔۔ دوسرے دن میں نے محسوس کیا کہ میرے وجود کا ایک چوتھائی حصہ شوہر میں تبدیل ہو چکا ہے، اس احساس سے مجھے بہت اطمینان حاصل ہوا۔۔۔ مجھے باہر بالکنی میں ایک رسی تنی نظر آنے لگی جس پر پوتڑے اور کلوٹ ٹنگے ہوئے تھے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C"} {"title": "میری شمع انجمن میں گل ہے گل میں خاک ہے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میری شمع انجمن میں گل ہے گل میں خاک ہے\nداغ سینہ کے چمن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nداغ دل کو خاکساروں کے لگایا تو نے منہ\nغنچۂ تنگ دہن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nبعد ہر دن داغ ہے تیری کدورت کا مجھے\nصحن داماں کفن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nیا مکدر ہو کے ڈوبا ہے مرا دل اے پری\nیا تیری چاہ ذقن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nگرد غربت سے بھری ہے میرے مسکن کی بہار\nدامن صبح وطن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nداغداروں نے کدورت سے بنا ان کا پلنگ\nسنبل موج رسن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nوحشیٔ گیسو نے داغا ہاتھ اڑائے گرد غم\nشاخ آہوئے ختن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nداغ چھلے کا سراپے میں کدورت زا ہوا\nگل رخوں نخل بدن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nبن گیا ہے شیشۂ ساعت مگر فانوس شمع\nعکس شعلہ کا لگن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nساگروں کی پھول پینے سے ہوئی مٹی خراب\nجام مے باغ سخن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nگرد ظلمت ڈالی لالے پر خزاں نے اے فلک\nچاند کے بدلے گہن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nبالوں میں چھپ کر کرن پھول ان کا مٹی ہو گیا\nافعئ گیسو کے پھن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nداغ دے کر ملتے ہیں یہ شمع رو مٹی کا عطر\nرخت اہل انجمن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nعنصر خاکی ہوا برباد اہل داغ کا\nان دنوں وحشت کے بن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nزخم سر پر ڈالتا ہوں ان بتوں کی گرد راہ\nاب کلاہ برہمن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nپھول پی پی کر مکدر ہو رہا ہے وہ صبیح\nدیکھ لو نخل سمن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nہے مکدر نور مہر اس رشک گل کے ہجر میں\nگلشن چرخ کہن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nمیرے دل میں داغ ہے ہر داغ میں ہے گرد غم\nعندلیبو اس چمن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nپردہ میں ہے پھول سا منہ اور منہ پہ گرد خط\nاس سحر کے پیرہن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nماتھے پر ہے داغ سجدہ داغ میں گرد سجود\nخط قسمت کی شکن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nگرد کلفت لائے ہے فصل بہاری اپنے ساتھ\nشاخ ہر نخل چمن میں گل ہے گل میں خاک ہے\n\nکیا کہوں اس مصرعہ فرمائشی میں اے منیرؔ\nہے ہرن گل میں ہرن میں گل ہے گل میں خاک ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DB%81%DB%92"} {"title": "میری صورت کو دیکھو کچھ نہ پوچھو ماجرا میرا", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میری صورت کو دیکھو کچھ نہ پوچھو ماجرا میرا\nکہ جو گزری ہے مجھ پر خوب واقف ہے خدا میرا\n\nنشان پا سے چلتا ہے پتا تلووں کے چھالوں کا\nجما ہے دشت میں بھی دور تک نقش وفا میرا\n\nقفس میں ایک بیمار محبت جان دیتا ہے\nچمن والوں سے یہ پیغام کہہ دینا صبا میرا\n\nمیری ناکامیٔ امید بھی ہے رحم کے قابل\nمیں وہ مایوس ہوں اٹھتا نہیں دست دعا میرا\n\nمجھی پر آج پڑتی ہیں نگاہیں اہل محفل کی\nتمہاری بزم میں ایسا جما رنگ وفا میرا\n\nدل بیتاب سینے میں تڑپ کر ان سے کہتا ہے\nتمہاری حسرتیں روکے ہوئے ہیں راستہ میرا\n\nبلا سے پھر نہ آنہ آج کہہ دو کل ہم آئیں گے\nاسی میں خیریت ہے تم نہ توڑو آسرا میرا\n\nدم آخر جو آئے ہیں تو مرنے بھی نہیں دیتے\nمجھے وہ یاد دلواتے ہیں پیمان وفا میرا\n\nاسے کہنا خدا سے کچھ نہ کچھ کہنا حسینوں سے\nمزے کی چیز ہے صفدرؔ دل بے مدعا میرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%D9%85%D8%A7%D8%AC%D8%B1%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "میری طرف سے کچھ تو ترے دل میں چور ہے", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "ریختی", "year": null, "text_ur": "میری طرف سے کچھ تو ترے دل میں چور ہے\nمیں نے سمجھ لیا تو دوگانا گھنور ہے\n\nاتنا بڑا ہے منہ اک آتوں کی ناک پر\nجتنی بڑی ددا مری انگلی کی پور ہے\n\nروئے ذرا جو دادا تو دائی ہو بے قرار\nدائی ہے مورنی تو مرا دادا مور ہے\n\nمنہ ڈھانپ کر نہ رو یہ چھلوری نہیں موئی\nاے کوکا تیری انگلی کی پکی یہ پور ہے\n\nایسی گلے میں جالی کی کرتی ہے دائی کے\nجیسی بری پڑی مری میانی کی طور ہے\n\nہے میرا چلنا پھرنا دوگانا کے اختیار\nیہ جان لو کہ میں ہوں چکئی وہ ڈور ہے\n\nصدقے زناخی میرے میں قربان اس کی ہوں\nہم میں چکئی ایک ہے اور ایک ڈور ہے\n\nشاید کہ ہو گیا ترا میٹھا برس شروع\nکوکا کچھ ان دنوں تری چاہت کا شور ہے\n\nتیری قسم گنواری اسے جانتی ہوں میں\nلونڈی کو رنگیںؔ جو کوئی کہتی بندور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "میری عزت بڑھ گئی اک پان میں", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "میری عزت بڑھ گئی اک پان میں\nفرق کیا آیا تمہاری شان میں\n\nان کو دیکھا تو کہا یوں کان میں\nکیوں خلل ڈالا مرے ایمان میں\n\nعاشقی ہے بحر ناپیداکنار\nکشتئ دل آ گئی طوفان میں\n\nہے یہی پہچان بالی عمر کی\nبالیاں وہ دو فقط ہیں کان میں\n\nتیرے صدقے کے لئے حاضر ہیں سب\nدر سمندر میں جواہر کان میں\n\nدے کے دل اس بت کو اپنا کر لیا\nاس تجارت میں نہیں نقصان میں\n\nکیا مے گلگوں سے رونق گھٹ گئی\nرنگ بلکہ آ گیا ایمان میں\n\nاس بت کافر کو سجدہ کر لیا\nاس سے کیا آیا خلل ایمان میں\n\nتم پری کا فخر ہو حوروں کا ناز\nکاش ہوتے فرقۂ انسان میں\n\nاس کے رخساروں پہ ہے خط کی نمود\nحاشیہ یہ ہے نیا قرآن میں\n\nگیسوئے پیچاں ترے رخسار پر\nسورۂ واللیل ہے قرآن میں\n\nعارض تاباں پہ ہے خط کی نمود\nحبشیوں کی فوج یا ایران میں\n\nکہہ دو پیش آیا کرے اچھی طرح\nچل نہ جائے مجھ میں اور دربان میں\n\nوہ کریں ظلم اور تم لب پر نہ لاؤ\nورنہ گستاخی ہے ان کی شان میں\n\nسنتے سنتے واعظوں سے ہجو مے\nضعف سا کچھ آ گیا ایمان میں\n\nیوں کہوں گا ووں کہوں گا تھا خیال\nروبرو کچھ بھی نہ آیا دھیان میں\n\nاس کی قدرت سے نہیں پرویںؔ بعید\nرائی کو پربت بنا دے آن میں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B9%D8%B2%D8%AA_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DA%A9_%D9%BE%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "میری نوائے شوق سے شورِ حریمِ ذات میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "میری نوائے شوق سے شورِ حریمِ ذات میں\nغلغلہ ہائے الاماں بُت کدہ صفات میں\n\nحور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں\nمیری نگاہ سے خلل تیری تجلّیات میں\n\nگرچہ ہے میری جستجو دَیر و حرم کی نقش بند\nمیری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات میں\n\nگاہ مری نگاہِ تیز چیر گئی دلِ وجود\nگاہ اُلجھ کے رہ گئی میرے توہّمات میں\n\nتُو نے یہ کیا غضب کیا، مجھ کو بھی فاش کر دیا\nمیں ہی تو ایک راز تھا، سینۂ کائنات میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D9%88%D8%B1%D9%90_%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D9%85%D9%90_%D8%B0%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "میری وحشت کا جو افسانہ بنایا ہوتا", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میری وحشت کا جو افسانہ بنایا ہوتا\nسننے والوں کو بھی دیوانہ بنایا ہوتا\n\nان کے لانے کی نہ سوجھی تجھے قاصد تدبیر\nجھوٹ سچ کوئی تو افسانہ بنایا ہوتا\n\nدیکھتے تم کہ سنور جاتے نہ گیسو کیسے\nمیری پلکوں کا اگر شانہ بنایا ہوتا\n\nمر کے بھی روح نہ پینے کو ترستی ساقی\nمیری مٹی سے جو پیمانہ بنایا ہوتا\n\nتم نے زلفوں کو بنا کر ہمیں دیوانہ کیا\nکیا بگڑتا تھا تمہارا نہ بنایا ہوتا\n\nدل جو واعظ کا بنایا تھا الٰہی پتھر\nکاش سنگ در مے خانہ بنایا ہوتا\n\nدل وحشی جو چھٹا مجھ سے بہت خوب ہوا\nورنہ اب تک مجھے دیوانہ بنایا ہوتا\n\nوسعت دل جو کوئی پیر مغاں دکھلایا\nایک اک جام کو مے خانہ بنایا ہوتا\n\nمنہ سے آنچل جو ہٹاتا وہ سر بزم جلیلؔ\nبہ خدا شمع کو پروانہ بنایا ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "میری ہولی", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کاش حاصل ہو حقیقی زندگی کا ایک دن\nسر خوشی کا ایک لمحہ یا خوشی کا ایک دن\nکر دیا ہے شورش عالم نے دیوانہ مجھے\nہے بساط دہر وحشت ناک ویرانہ مجھے\n\nاک نئی دنیا کی خلقت ہے مری تخئیل میں\nجو معاون ہو سکے انسان کی تکمیل میں\nاہتمام زندگی جس میں بطور خاص ہو\nآسماں جس کا محبت ہو زمیں اخلاص ہو\n\nکرشن کی آج یاد رفتہ محفل زندہ کرو\nبرج و گوکل کی بجھی شمعوں کو تابندہ کرو\nخشکیٔ گنگ و جمن کی آبیاری کے لئے\nدعوتیں دو گوپیوں کو رنگ باری کے لئے\n\nاز سر نو پھر مرتب ہو جہان رنگ و بو\nخار و خس سے پھر ہو پیدا کارخانے رنگ و بو\nپریم رس سے لاؤ بھر کر خوش نما پچکاریاں\nہوں نئی دامان ہستی پر لطافت باریاں\n\nروح کی آواز ہم آئیں گے ساز و چنگ ہو\nجو پڑے انساں پہ وہ انسانیت کا رنگ ہو\nچاہتا ہوں یوں ہو رنگیں پیرہن اور ساریاں\nشست و شو سے بھی نہ زائل ہو سکیں گل کاریاں\n\nجسم کی صورت رہے دل بھی مسرت میں شریک\nروح آزادی بھی ہو جائے حقیقت میں شریک\nچاہتا ہوں گلشن کہنہ پر آ جائے شباب\nتنکا تنکا پھول ہو اور پتا پتا آفتاب\n\nتازگی وجہ شگفت خاطر عالم رہے\nمیری دنیا میں ہمیشہ ایک ہی موسم رہے\nشاعر و صناع ہو فکر و خلش سے بے نیاز\nخواجہ و مزدور میں باقی نہ ہو کچھ امتیاز\n\nارتقا کے رنگ سے لبریز جھولی ہو میری\nانقلاب ایسا کوئی ہو لے تو ہولی ہو میری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C"} {"title": "میرے آگے تذکرہ معشوق و عاشق کا برا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے آگے تذکرہ معشوق و عاشق کا برا\nاگلی باتیں مجھ کو یاد آتی ہیں یہ چرچا برا\n\nناگہانی تھی جو میں عاشق ہوا رسوا ہوا\nچاہتا ہے کوئی دنیا میں بھلا اپنا برا\n\nہے یہی صورت تو ہم سے راز پوشی ہو چکی\nچشم تر لب خشک چہرہ زرد یہ نقشہ برا\n\nہم غریبوں سے نہ پوچھو نعمت دنیا کا حال\nشکر کر کے کھا لیا جو کچھ ملا اچھا برا\n\nایک بوسے پر بھی میرا دل نہ صاحب نے لیا\nاتنی قیمت پر تو اچھا تھا نہ اتنا تھا برا\n\nکر گزریے میرے حق میں آپ جو منظور ہو\nآئے دن کا معرکہ ہر روز کا جھگڑا برا\n\nآدمی ہوتا ہے سرگرداں بگولے کی طرح\nآندھیاں اچھی ہوا و حرص کا جھونکا برا\n\nآئے جب وعدے کے شب مہندی لگا بیٹھا وہ شوخ\nدوسری رات استخارہ آنے کو آیا برا\n\nبن کے اڑ ناگن موذن کو ڈسے زلف صنم\nوصل کی شب کو اذان صبح کا کھٹکا برا\n\nآنکھ سے دیکھو گی وہ کچھ آبرو کو رؤو گی\nجھانک تاک اچھی نہیں اے بحرؔ یہ لپکا برا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%D8%AA%D8%B0%DA%A9%D8%B1%DB%81_%D9%85%D8%B9%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%B1%D8%A7"} {"title": "میرے احوال کا افسانہ بنایا ہوتا", "poet_page": "مصنف:نسیم میسوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے احوال کا افسانہ بنایا ہوتا\nہر پری زاد کو دیوانہ بنایا ہوتا\n\nتو جو روشن مرا کاشانہ بنایا ہوتا\nمنہ ہر اک شمع سے پروانہ بنایا ہوتا\n\nہار تو اس کے گلے کے نہ بنے اشک مرے\nدل کو بالے ہی کا دردانہ بنایا ہوتا\n\nدیکھی مسجد کی بنا میں نے یہ دل میں سوچا\nکاش اس جا کوئی مے خانہ بنایا ہوتا\n\nدیکھتے شوق سے چھاتی کو لگا بھی لیتے\nدل کو جو آئینہ خانہ نہ بنایا ہوتا\n\nحسرت بوسۂ لب کس لئے جاناں رہتی\nخاک سے میرے جو پیمانہ بنایا ہوتا\n\nسر کو بازو پہ مرے آپ جو رکھ کر سوتے\nزلف کا پلکوں ہی سے شانہ بنایا ہوتا\n\nچمن کوچۂ جاناں میں جو ہوتا میں نسیمؔ\nغیر کو سبزۂ بیگانہ بنایا ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "میرے ارماں وہ سدھارے یوں کے یونہیں رہ گئے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے ارماں وہ سدھارے یوں کے یونہیں رہ گئے\nحوصلے سارے کے سارے یوں کے یونہیں رہ گئے\n\nجو دعا مانگی وہ پھر واپس نہ آئی ہجر میں\nہاتھ ہم اپنے پسارے یوں کے یونہیں رہ گئے\n\nجان لینے کا تو وعدہ آج پورا ہو گیا\nاور سب وعدے تمہارے یوں کے یونہیں رہ گئے\n\nوقت زینت سن کے وہ میری پریشانی کا حال\nاپنے گیسو بے سنوارے یوں کے یونہیں رہ گئے\n\nدے کے دل ان کو نہ دیکھا اور کو مضطرؔ کبھی\nسب حسیں جوبن ابھارے یوں کے یونہیں رہ گئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%AF%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "میرے اشکوں کی گئی تھی ریل ویرانے پہ کیا گزرا", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے اشکوں کی گئی تھی ریل ویرانے پہ کیا گزرا\nخبر نیں حضرت مجنوں کے کاشانے پہ کیا گزرا\n\nان آنکھوں کو دیا تھا دل وہ دیوانے پہ کیا گزرا\nپڑا تھا بات بد مستوں کے پیمانے پہ کیا گزرا\n\nمیں اور زنار ہے تسبیح صد دانے پہ کیا گزرا\nمرے کافر ہوئے سیتی خدا جانے پہ کیا گزرا\n\nدیا دل وصل لینے کو بگاڑا غیر نے سودا\nبکا اس غم کے ہاتھوں میں کہ بیگانے پہ کیا گزرا\n\nوہ زلفیں بس رقیبوں کے دلوں کی سخت گرہیں تھیں\nکہو میرے دل صد چاک کے شانے پہ کیا گزرا\n\nنہ پوچھا بھول کر بھی فصل گل میں شیشہ‌ خو تو نے\nکہ اس پتھراؤ میں طفلوں کے دیوانے پہ کیا گزرا\n\nپھرے آتے ہیں مستاں در‌ گہ پیر مغاں سیتی\nکیا تھا خانہ ویراں شیخ میخانے پہ کیا گزرا\n\nڈھکی تھی آتش گل تا سر دیوار باغ اب کے\nخبر عزلتؔ کو نیں بلبل کے خس خانہ پہ کیا گزرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B4%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%DB%8C%D9%84_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7"} {"title": "میرے بعد", "poet_page": "مصنف:صغرا ہمایوں مرزا", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کوئی بھی آئے گا تربت پہ بھلا میرے بعد\nخاک آ آ کے اڑائے گی صبا میرے بعد\n\nجیتے جی قدر کسی نے بھی نہ جانی افسوس\nیاد میں روئے گا پھر کون بھلا میرے بعد\n\nسب یہ منہ دیکھے کی باتیں ہیں کہاں کی الفت\nیاد کرنے کے نہیں اہل جفا میرے بعد\n\nقوم نے قدر نہ کی رہ گئی حسرت دل میں\nمیری تربت سے یہ آئے گی صدا میرے بعد\n\nفاتحہ پڑھنے کو آیا تو بہت رو رو کر\nبخش دے اس کو خدا اس نے کہا میرے بعد\n\nزندگی میں تو صلہ میں نے نہ پایا ہرگز\nکام سب میرے ہوں مقبول خدا میرے بعد\n\nیہ وصیت ہے کہ جس کو ہے محبت مجھ سے\nپھول تربت پہ چڑھا جائے ذرا میرے بعد\n\nپوچھتی تم سے حیا ہے یہ بتا دو مجھ کو\nاب نہیں آتے ہو پھر آؤ گے کیا میرے بعد", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "میرے تڑپنے نے تماشا کیا", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے تڑپنے نے تماشا کیا\nوہ نگہ شوق سے دیکھا کیا\n\nاشک نے کیں عشق کی غمازیاں\nراز دروں آنکھ نے افشا کیا\n\nبل بے خلش خنجر بیداد کی\nسینہ کو لبریز تمنا کیا\n\nجو نہ ہوا آپ سے بہتر ہوا\nجو نہ کیا آپ نے اچھا کیا\n\nوعدۂ جانبازئ الفت نسیمؔ\nتو نے یہ دیوانے ستم کیا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AA%DA%91%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "میرے جانب سے اسے جا جا کے سمجھاتے ہیں لوگ", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "میرے جانب سے اسے جا جا کے سمجھاتے ہیں لوگ\nوہ نہیں سننے کا ضد بیکار دلواتے ہیں لوگ\n\nشعلہ خو میرا سنے مجھ دل جلے کا حال کیوں\nآگ میں آگ اور بھی ناحق لگا آتے ہیں لوگ\n\nمیرے مرنے پر انہیں کیوں رشک سے پوچھو کوئی\nکیوں سر بالیں مرے بیکار چلاتے ہیں لوگ\n\nکوئی کہتا ہے تجھے جلاد کوئی سنگ دل\nتیری جانب سے مجھے آ آ کے دھمکاتے ہیں لوگ\n\nمیں نہ جیتا ہوں نہ مرتا ہوں سسکتا ہوں پڑا\nجھوٹ سچ قسمیں تمہارے سامنے کھاتے ہیں لوگ\n\nدوستی کے پردے میں کرتے ہیں مجھ سے دشمنی\nتم کو پھر اگلی جفائیں یاد دلواتے ہیں لوگ\n\nتیری محفل میں مرا آنا جو ان کو بار ہے\nچھیڑ کر تجھ کو مجھے باتیں ہی سنواتے ہیں لوگ\n\nتم سے اور وعدہ وفا ہو یہ ہمیں باور نہیں\nقسمیں دے کر تم کو ناحق جھوٹ بلواتے ہیں لوگ\n\nباز آیا آسماں ان کی ہوا خواہی سے میں\nآگ دل کی اور بھی آ آ کے بھڑکاتے ہیں لوگ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D9%88%DA%AF"} {"title": "میرے جگر کے درد کا چارا کب آئے گا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے جگر کے درد کا چارا کب آئے گا\nیک بار ہو گیا ہے دوبارا کب آئے گا\n\nپتلیاں مرے نین کے جھروکے میں بیٹھ کر\nبیکل ہو جھانکتی ہے پیارا کب آئے گا\n\nاس مشتری جبیں کا مجھے غم ہوا زحل\nطالع مرے کا نیک ستارا کب آئے گا\n\nمرجھا رہی ہے دل کی کلی غم کی دھوپ میں\nگل زار دلبری کا ہزارا کب آئے گا\n\nہے شاد اپنے پھول سیں ہر بلبل اے سراجؔ\nوو یار نو بہار ہمارا کب آئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%DA%86%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%A8_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "میرے جینے کا طور کچھ بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے جینے کا طور کچھ بھی نہیں\nسانس چلتی ہے اور کچھ بھی نہیں\n\nدل لگا کر پھنسے ہم آفت میں\nبات اتنی ہے اور کچھ بھی نہیں\n\nآپ ہیں آپ آپ سب کچھ ہیں\nاور میں اور اور کچھ بھی نہیں\n\nہم اگر ہیں تو جھیل ڈالیں گے\nدل اگر ہے تو جور کچھ بھی نہیں\n\nشعر لکھتے ہیں شعر پڑھتے ہیں\nنوحؔ میں وصف اور کچھ بھی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%B7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشر", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشر\nمجنوں کا نام ہو گیا قسمت کی بات ہے\n\nدل جس کے ہاتھ میں ہو نہ ہو اس پہ دسترس\nبے شک یہ اہل دل پہ مصیبت کی بات ہے\n\nپروانہ رینگتا رہے اور شمع جل بجھے\nاس سے زیادہ کون سی ذلت کی بات ہے\n\nمطلق نہیں محال عجب موت دہر میں\nمجھ کو تو یہ حیات ہی حیرت کی بات ہے\n\nترچھی نظر سے آپ مجھے دیکھتے ہیں کیوں\nدل کو یہ چھیڑنا ہی شرارت کی بات ہے\n\nراضی تو ہو گئے ہیں وہ تاثیر عشق سے\nموقع نکالنا سو یہ حکمت کی بات ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AD%D9%88%D8%A7%D8%B3_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%86%D8%AA%D8%B4%D8%B1"} {"title": "میرے دل میں تو ہر زماں ہو تم", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے دل میں تو ہر زماں ہو تم\nچشم ظاہر سے کیوں نہاں ہو تم\n\nبے وفائیں کا عیب کیسا ہے\nیہ تو سچ ہے کہ میری جاں ہو تم\n\nجب چلو ٹیٹر ہی کی چلتے ہو\nمیرے حق میں تو آسماں ہو تم\n\nدل و دیں دونوں نذر کرتا ہوں\nایسی چیزوں کے قدرداں ہو تم\n\nدیکھ غمگیں مجھے بگڑتے ہو\nپر لے درجے کے بد گماں ہو تم\n\nعرش پیمائی خیال عبث\nکون پہنچا وہاں جہاں ہو تم\n\nبات میں دل کو کھینچ لیتے ہو\nکس قیامت کے خوش بیاں ہو تم\n\nہے سوال اور اور جواب ہے اور\nسچ کہو اس گھڑی کہاں ہو تم\n\nبچئے اغیار کی نظر نہ لگے\nچشم بد دور نوجواں ہو تم\n\nدشمنی ہم کریں تو کس کس سے\nایک عالم پہ مہرباں ہو تم\n\nزلف کے بار سے کمر لچکے\nکس قدر نازک اے میاں ہو تم\n\nدیکھنے کی مجال ہے کس کو\nمثل خورشید گو عیاں ہو تم\n\nہے وہی ٹھیک جو کہو مجروحؔ\nکیوں نہ ہو صاحب زباں ہو تم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D8%B1_%D8%B2%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85"} {"title": "میرے دل کو بٹھا دیا کس نے", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے دل کو بٹھا دیا کس نے\nآ کے کعبے کو ڈھا دیا کس نے\n\nپوچھو اپنے ہی غمزے سے کہ مجھے\nخاک میں ہی ملا دیا کس نے\n\nکیا تماشا ہے پوچھتے ہیں وہی\nتیرے گھر کو لٹا دیا کس نے\n\nشب فرقت میں کیا نہ ہم کھاتے\nہم کو پر زہر لا دیا کس نے\n\nوہ جلا دیتے ہیں جو خط میرا\nان کو عارفؔ پڑھا دیا کس نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B3_%D9%86%DB%92"} {"title": "میرے رونے پر جو رویا آدمی فہمیدہ ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے رونے پر جو رویا آدمی فہمیدہ ہے\nناصح عاقل پرانا گرگ باراں دیدہ ہے\n\nمیں بھی تو دیکھوں نکلتا ہے یہ تنکا کس طرح\nچارہ گر کی آنکھ میں میرا تن کاہیدہ ہے\n\nتو نے رکھا ہے رقیب ترش رو کے دل پہ ہاتھ\nآج کیوں پھیکا ترا دست حنا مالیدہ ہے\n\nخاک میں اس نے ملایا مجھ کو یا میں نے اسے\nآج میں ہوں اور یہ میرا دل تفتیدہ ہے\n\nزہر کھا کر مل گئے ہیں خاک میں عاشق بہت\nانگلیاں ہیں دیکھ تو یا سبزۂ روئیدہ ہے\n\nخوب آتا ہے لگا لینا نگاہ یار کو\nایک سے ان بن ہوئی تو دوسرا گرویدہ ہے\n\nبہر نظارہ چلا ہے کوچۂ قاتل میں داغؔ\nکس بلی کا ہے کلیجہ کس غضب کا دیدہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C_%D9%81%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "میرے رونے پر کسی کی چشم گریاں ہائے ہائے", "poet_page": "مصنف:باسط بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے رونے پر کسی کی چشم گریاں ہائے ہائے\nوہ گل تر وہ فضائے شبنمستاں ہائے ہائے\n\nوہ کسی کی یاد پیہم شام ہجراں ہائے ہائے\nہر نفس وقف نوا ہائے پریشاں ہائے ہائے\n\nدل پہ درد عشق کا ایک ایک احساں ہائے ہائے\nجان کی صورت میں کوئی دشمن جاں ہائے ہائے\n\nصبح ہجراں بد تر از شبہائے ہجراں ہائے ہائے\nزندگی اک مستقل خواب پریشاں ہائے ہائے\n\nدل کی راحت کے لئے ان کی محبت کے لئے\nکوشش بے سود پھرتا حد امکاں ہائے ہائے\n\nمیری خاطر اور وہ مجبوریوں کا اعتراف\nان کے نازک دل کو بھی احساس ہجراں ہائے ہائے\n\nکیفیات سجدۂ ذوق محبت الاماں\nکعبۂ دل بے نیاز کفر و ایماں ہائے ہائے\n\nوہ مرا کیف نظر وہ بے خودی وہ سر خوشی\nفرصت نظارہ ہائے حسن جاناں ہائے ہائے\n\nان کی محفل میں بھی ہوں دامن کش وحشت بہ دل\nہر جگہ اک عالم آداب زنداں ہائے ہائے\n\nیاس کی موجوں میں ہر منظر کا آخر ڈوبنا\nدل سے وہ اٹھتا ہوا طوفان حرماں ہائے ہائے\n\nجو نہ سمجھیں درد کیا ہے درد کا احساس کیا\nکب تک ان کے واسطے باسطؔ غزل خواں ہائے ہائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D8%B4%D9%85_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "میرے رونے پر ہنسی اچھی نہیں", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے رونے پر ہنسی اچھی نہیں\nبس جی بس یہ دل لگی اچھی نہیں\n\nدل لگی کا بھی نہ رونا ہو کہیں\nہر گھڑی کی یہ ہنسی اچھی نہیں\n\nنازکی کا عذر رہنے دیجیے\nبات اے جاں بس یہی اچھی نہیں\n\nآ کے بیٹھا اور جانے کی پڑی\nبس یہی تو خو تری اچھی نہیں\n\nکون سی کیفیؔ بری ہے مجھ میں بات\nہاں یہ اک قسمت مری اچھی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%8C_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسی", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسی\nاے ستم گر یہ دل لگی کیسی\n\nکھل گئی پھر کوئی رگ دل کیا\nدیدۂ خشک ہیں نمی کیسی\n\nہوش ہے تجھ کو خاک کے پتلے\nیہ تمرد یہ سرکشی کیسی\n\nتھا یہ اک امتحاں طبیعت کا\nورنہ ناصح سے دوستی کیسی\n\nرو رہا ہوں اسی تصور میں\nدی تھی یہ مجھ کو زندگی کیسی\n\nاب تو اس در تک آ گئے ہو عزیزؔ\nسنبھلو سنبھلو یہ بے خودی کیسی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%81_%DB%8C%DB%81_%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C"} {"title": "میرے سر سے کیا غرض سرکار کو", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے سر سے کیا غرض سرکار کو\nدیکھیے اپنے در و دیوار کو\n\nیہ گھٹا ایسی گھٹا اتنی گھٹا\nمے حلال ایسے میں ہے مے خوار کو\n\nدھمکیاں دیتے ہو کیا تلوار کی\nہم لگاتے ہیں گلے تلوار کو\n\nاپنی اپنی سب دکھاتے ہیں بہار\nگل بھی گلشن سے چلے بازار کو\n\nطاق سے مینا اتار آئی بہار\nطاق پر رکھ شیخ استغفار کو\n\nڈھونڈھتا پھرتا ہے کوئے غیر میں\nدل مبارکؔ کو مبارکؔ یار کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88"} {"title": "میرے سر میں جو رات چکر تھا", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے سر میں جو رات چکر تھا\nاس کے زانو پہ غیر کا سر تھا\n\nاپنے گھر ان کو کیا بلاتے ہم\nبوریا بھی نہیں میسر تھا\n\nضبط دل پر بھی اس کی محفل میں\nاپنا رومال اشک سے تر تھا\n\nجان دینے میں سوچ کیا کرتے\nمفلسی پر بھی دل تونگر تھا\n\nخوب و زشت جہاں کا فرق نہ پوچھ\nموت جب آئی سب برابر تھا\n\nآپ جب تک نہ لے چکے تھے دل\nکچھ مزاج اور بندہ پرور تھا\n\nہجر لاحق ہوا وصال کے بعد\nکیا ہی الٹا مرا مقدر تھا\n\nجور اعدا کی تاب کیا لاتا\nدل کم بخت ناز پرور تھا\n\nصحبت حور سے ہوئی نفرت\nمیں جو تیری ادا کا خوگر تھا\n\nہے اثرؔ یا نہیں خدا جانے\nسنتے ہیں اس کا حال ابتر تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%86%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "میرے سنگ مزار پر فرہاد", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے سنگ مزار پر فرہاد\nرکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد\n\nہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملال\nجان کے ساتھ ہے دل ناشاد\n\nموند آنکھیں سفر عدم کا کر\nبس ہے دیکھا نہ عالم ایجاد\n\nفکر تعمیر میں نہ رہ منعم\nزندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد\n\nخاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیں\nکس خرابے میں ہم ہوئے آباد\n\nسنتے ہو ٹک سنو کہ پھر مجھ بعد\nنہ سنوگے یہ نالہ و فریاد\n\nلگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیم\nخاک کس دل جلے کی برباد\n\nبھولا جائے ہے غم بتاں میں جی\nغرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد\n\nتیرے قید قفس کا کیا شکوہ\nنالے اپنے سے اپنے سے فریاد\n\nہر طرف ہیں اسیر ہم آواز\nباغ ہے گھر ترا تو اے صیاد\n\nہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں کہیں\nاپنی قید حیات سے آزاد\n\nایسا وہ شوخ ہے کہ اٹھتے صبح\nجانا سو جائے اس کی ہے معتاد\n\nنہیں صورت پذیر نقش اس کا\nیوں ہی تصدیق کھینچے ہے بہزاد\n\nخوب ہے خاک سے بزرگوں کی\nچاہنا تو مرے تئیں امداد\n\nپر مروت کہاں کی ہے اے میرؔ\nتو ہی مجھ دل جلے کو کر ارشاد\n\nنامرادی ہو جس پہ پروانہ\nوہ جلاتا پھرے چراغ مراد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D9%81%D8%B1%DB%81%D8%A7%D8%AF"} {"title": "میرے لب پر کبھی تو بن کے دعا بھی آئی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے لب پر کبھی تو بن کے دعا بھی آئی\nتجھے اے آہ مری بات بنا بھی آئی\n\nان سے کچھ یہ شفق شام لگا بھی آئی\nکہ شب وعدہ جو آئی تو حنا بھی آئی\n\nاتنے دن آئے ہوئے مجھ کو قفس میں گزرے\nجھانکنے کو کبھی گلشن سے ہوا بھی آئی\n\nتو ہمیشہ رہی قاتل کے کمر میں اے تیغ\nتیرے صدقے تجھے قاتل کی ادا بھی آئی\n\nدرد فرقت کی اذیت کا نہ پوچھو کچھ حال\nآج گھبرا کے کئی بار قضا بھی آئی\n\nبھولتا ہی نہیں کہنا یہ کسی کافر کا\nتجھے بھولے سے کبھی یاد خدا بھی آئی\n\nاٹھ رہی تھیں اسی دن کے لئے نیچی نظریں\nچٹکیاں قبر میں لینے کو حیا بھی آئی\n\nحشر کے دن بھی رہی بات وہی آنکھ وہی\nجھوٹے وعدوں سے تجھے شرم ذرا بھی آئی\n\nشمع کے واسطے تھی جنبش دامن کافی\nان کے دامن سے لگی باد صبا بھی آئی\n\nآ گیا شکر زباں پر جو کیا خم خالی\nپیٹ اپنا جو بھرا یاد خدا بھی آئی\n\nآئے میخانے میں جب مسجد جامع سے ریاضؔ\nساتھ ہی آپ کے قبلے سے گھٹا بھی آئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "میرے لب پر کوئی دعا ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے لب پر کوئی دعا ہی نہیں\nاس کرم کی کچھ انتہا ہی نہیں\n\nکشتئ اعتبار توڑ کے دیکھ\nکہ خدا بھی ہے نا خدا ہی نہیں\n\nمیری ہستی گواہ ہے کہ مجھے\nتو کسی وقت بھولتا ہی نہیں\n\nاب اسے ناامید کیوں کہیے\nدل کو توفیق مدعا ہی نہیں\n\nغم میں لذت کہاں کہ دل نہ رہا\nہائے وہ حسرت آشنا ہی نہیں\n\nوہی تو ہے وہی تری محفل\nایک فانیؔ مبتلا ہی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "میرے لیے ہزار کرے اہتمام حرص", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "میرے لیے ہزار کرے اہتمام حرص\nمیں وہ ہوں مجھ پہ ڈال سکے گی نہ دام حرص\n\nہے کچھ نہ کچھ ہر آدمی کو لا کلام حرص\nلیکن نہ اس قدر کہ بنا لے غلام حرص\n\nاے زلف پھیل پھیل کے رخسار کو نہ ڈھانک\nکر نیم روز کی نہ شہ ملک شام حرص\n\nواعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے\nہے سر سے پاؤں تک یہ ستمگر تمام حرص\n\nدل چھین عاشقوں کے مگر ہوشیار رہ\nایسا نہ ہو کہ دل کو بنا لے غلام حرص\n\nناقص رہیں گے سارے تلون سے کاروبار\nکرنے نہ دے گی تجھ کو یہاں کوئی کام حرص\n\nقبضہ اٹھائے گی نہ دل روزگار سے\nجب تک نہ زندگی کا کرے اختتام حرص\n\nمدت سے اشتیاق ہے بوس و کنار کا\nگر حکم ہو شروع کرے اپنا کام حرص\n\nپرویںؔ لگی ہوئی ہے خدا سے مجھے امید\nدل کو مرے بنائے نہ اپنا غلام حرص", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%D8%A7%DB%81%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%AD%D8%B1%D8%B5"} {"title": "میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دل ربا تم ہو", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دل ربا تم ہو\nیہ سب کچھ ہو مگر میں کہہ نہیں سکتا کہ کیا تم ہو\n\nتمہارے نام سے سب لوگ مجھ کو جان جاتے ہیں\nمیں وہ کھوئی ہوئی اک چیز ہوں جس کا پتا تم ہو\n\nمحبت کو ہماری اک زمانہ ہو گیا لیکن\nنہ تم سمجھے کہ کیا میں ہوں نہ میں سمجھا کہ کیا تم ہو\n\nہمارے دل کو بحر غم کی کیا طاقت جو لے بیٹھے\nوہ کشتی ڈوب کب سکتی ہے جس کے نا خدا تم ہو\n\nبچھڑنا بھی تمہارا جیتے جی کی موت ہے گویا\nاسے کیا خاک لطف زندگی جس سے جدا تم ہو\n\nمصیبت کا تعلق ہم سے کچھ بھی ہو تو راحت ہے\nمرے دل کو خدا وہ درد دے جس کی دوا تم ہو\n\nکہیں اس پھوٹے منہ سے بے وفا کا لفظ نکلا تھا\nبس اب طعنوں پہ طعنے ہیں کہ بے شک با وفا تم ہو\n\nقیامت آئے گی یا آ گئی اس کی شکایت کیا\nقیامت کیوں نہ ہو جب فتنۂ روز جزا تم ہو\n\nالجھ پڑنے میں کاکل ہو بگڑنے میں مقدر ہو\nپلٹنے میں زمانہ ہو بدلنے میں ہوا تم ہو\n\nوہ کہتے ہیں یہ ساری بے وفائی ہے محبت کی\nنہ مضطرؔ بے وفا میں ہوں نہ مضطرؔ بے وفا تم ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%88"} {"title": "میرے مرشد ہو پیشوا ہو تم", "poet_page": "مصنف:مردان صفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مردان صفی (1914)", "year": "1914", "text_ur": "میرے مرشد ہو پیشوا ہو تم\nمیری صورت میں مدعا ہو تم\n\nڈھونڈھے پاتا نہیں تمہیں ہر شخص\nپر سبھوں میں خلا ملا ہو تم\n\nمعنیٔ مصطفیٰ تمہیں تو ہو\nکاشف سر لا مکاں ہو تم\n\nجاں بھی ہو دل ہو جنبش اعضا\nبود ہو کل مری بقا ہو تم\n\nجب تمہیں تم ہو ہر ادا میری\nپھر بھلا مجھ سے کب جدا ہو تم\n\nہر جگہ جب تمہیں ہو غیر نہیں\nدونوں عالم میں برملا ہو تم\n\nشاہ مردان صفیؔ سے سن لو صاف\nجس کو تھے ڈھونڈتے دلا ہو تم", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%B4%D8%AF_%DB%81%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%B4%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85"} {"title": "میرے نالوں سے تہہ و بالا ہوئی اکثر زمیں", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے نالوں سے تہہ و بالا ہوئی اکثر زمیں\nزیر پا آیا فلک اور بارہا سر پر زمیں\n\nہے دیار ماہرو کا بس یہی قاصد نشاں\nآسماں تجھ کو نظر آئے گی واں کی سر زمیں\n\nکس طرف جاؤں کہ ہو ان دو بلاؤں سے نجات\nآسماں گھر گھر یہی ہے اور یہی گھر گھر زمیں\n\nباری باری یہ مجھے پیسیں برنگ آسیا\nآسماں دن بھر رہے گردش میں تو شب بھر زمیں\n\nمثل خورشید آسماں جلتا ہے آہ گرم سے\nکانپتی ہے ٹھنڈی سانسوں سے مری تھر تھر زمیں\n\nجس جگہ ہیں دفن قاتل تیری مژگاں کے شہید\nواں عوض سبزی کے پیدا کرتی ہے نشتر زمیں\n\nسیکڑوں اس میں گئے محبوب جائے رشک ہے\nرکھتی ہے آغوش میں کیا کیا پری پیکر زمیں\n\nآتش فرقت سے عالم کورۂ آتش ہوا\nآسماں ہے دود ہم اخگر میں اور مجمر زمیں\n\nعشق خال یار نے ایسا کیا زار و نحیف\nبیٹھے رہنے کو مرے کافی ہے اب تل بھر زمیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DB%81%DB%81_%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "میرے پہلو میں ہمیشہ رہی صورت اچھی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے پہلو میں ہمیشہ رہی صورت اچھی\nمیں بھی اچھا مری قسمت بھی نہایت اچھی\n\nآپ کی شکل بھلی آپ کی صورت اچھی\nآپ کے طور برے آپ سے نفرت اچھی\n\nحشر کے دن ہمیں سوجھی یہ شرارت اچھی\nلے چلے خلد میں ہم دیکھ کے صورت اچھی\n\nتجھ سے کہتا تھا کوئی یا تری تصویر سے آج\nآنکھیں اچھی تری آنکھوں کی مروت اچھی\n\nہم نے سو بار شب وصل ملا کر دیکھا\nاے فلک چاند سے وہ چاند سے صورت اچھی\n\nنہ بنے کام تو کس کام کی نازک شکلیں\nنازک اچھے نہ حسینوں کی نزاکت اچھی\n\nاس سے کوئی نہیں اچھا جو تجھے پیار کرے\nمیں بھی اچھا ترے صدقے مری قسمت اچھی\n\nتیری مدفن سے جو اٹھے وہ بری اے واعظ\nان کے ٹھوکر سے جو اٹھے وہ قیامت اچھی\n\nجور تیرے بہت اچھے ستم گردوں سے\nاور ان سے تری آنکھوں کی ندامت اچھی\n\nمنہ میں جب بات رکی چوم لیا پیار سے منہ\nدم تقریر کسی شوخ کی لکنت اچھی\n\nدیکھتے ہی کسی کافر کو بگڑ جاتی ہے\nمیں جو چاہوں بھی تو رہتی نہیں نیت اچھی\n\nحسن صورت کی طرح حسن سخن ہے کم یاب\nایک ہوتی ہے ہزاروں میں طبیعت اچھی\n\nتجھ سے جلتا ہے جو وہ اور جلاتے ہیں اسے\nمرے حق میں مرے دشمن کی عداوت اچھی\n\nآتے جاتے نظر آتی ہے جھلک چلمن سے\nپردے پردے میں نکل آئی یہ صورت اچھی\n\nخوگر غم کے لیے کچھ بھی نہیں عیش کا خواب\nایسی راحت سے ہمیشہ کی مصیبت اچھی\n\nدے کے وہ بوسۂ لب شوق سے لیں دل میرا\nعذر کیا ہے جو ملے مال کی قیمت اچھی\n\nسن کے اشعار مرے سب یہی کہتے ہیں ریاضؔ\nاس کی قسمت ہے بری اور طبیعت اچھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C"} {"title": "میرے کُہستاں! تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "میرے کُہستاں! تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں\nتیری چٹانوں میں ہے میرے اَب و جدَ کی خاک\nروزِ ازل سے ہے تو منزلِ شاہین و چرغ\nلالہ و گُل سے تہی، نغمۂ بُلبل سے پاک\nتیرے خَم و پیچ میں میری بہشتِ بریں\nخاک تِری عنبریں، آب ترا تاب ناک\nباز نہ ہوگا کبھی بندۂ کبک و حمام\nحِفظِ بدن کے لیے رُوح کو کردوں ہلاک!\nاے مرے فقرِ غیور! فیصلہ تیرا ہے کیا\nخِلعتِ انگریز یا پیرہنِ چاک چاک!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%8F%DB%81%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA%21_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "میرے گل کا جو کوئی لطف و کرم دیکھا ہے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے گل کا جو کوئی لطف و کرم دیکھا ہے\nحسن اور خلق کے تئیں اس نے بہم دیکھا ہے\n\nتیرے ابرو کے مقابل تو ہلال آسا ہے\nہر کماں ابرو کی قامت کو بھی خم دیکھا ہے\n\nچشم الطاف سے اس مست نین کی ہے کماں\nکہ کسی وقت مرے دیدۂ نم دیکھا ہے\n\nکہتے ہیں دار محن ہے یہ جہان فانی\nکون وہ شخص ہے جن نے کہ نہ غم دیکھا ہے\n\nاشک اور آہ سے ہے عشقؔ کا روشن اعجاز\nآب و آتش کو کسو نے بھی بہم دیکھا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "میرے گلے سے آن کے پیارا جو پھر لگے", "poet_page": "مصنف:آفتاب شاہ عالم ثانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے گلے سے آن کے پیارا جو پھر لگے\nیہ ابر یہ بہار مجھے خوب تر لگے\n\nبن دیکھے اس پیارے کے آنکھوں نے اپنا حال\nایسا کیا ہے جیسے کہ باراں کا جھڑ لگے\n\nمت اس ادا و ناز سے گلشن میں کر گزر\nڈرتا ہوں میں مبادا کسی کی نظر لگے\n\nہو چار چشم کون سکے ایسے یار سے\nآنکھوں کے دیکھتے ہی پیا کی خطر لگے\n\nہر لیل و ہر نہار تری ذات پاک سے\nکہتا ہے آفتابؔ دعائے سحر لگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D9%84%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "میرے گھر میں زناخی آئی کب", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "ریختی", "year": null, "text_ur": "میرے گھر میں زناخی آئی کب\nمیں نگوڑی بھلا نہائی کب\n\nصبر میرا سمیٹتی ہے وہ\nشب کو بولی تھی چارپائی کب\n\nکل زناخی تھی میرے پاس کدھر\nاوڑھ بیٹھی تھی میں رضائی کب\n\nلڑ کے مدت سے وہ گئی ہے روٹھ\nمیری اس کی ہوئی صفائی کب\n\nوہ نبختی تو اپنے گھر میں نہ تھی\nپاس اس کے گئی تھی دائی کب\n\nدوڑی لینے کو میں اسے کس دم\nپانوں میں میرے موچ آئی کب\n\nکھانا کھایا تھا میں نے اس نے کہاں\nاور منگوائی تھی ملائی کب\n\nکی تھی شب میں نے کس جگہ کنگھی\nآرسی اس نے تھی دکھائی کب\n\nہرگز آتی نہیں ہے سانچ کو آنچ\nپیش جاوے گی یہ بڑائی کب\n\nگوندھ کر ہاتھ پانوں میں رنگیںؔ\nاس نے مہندی مرے لگائی کب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%86%D8%A7%D8%AE%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A8"} {"title": "میرے ہمراہ مرے گھر پہ بھی آفت آئی", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے ہمراہ مرے گھر پہ بھی آفت آئی\nآسماں ٹوٹ پڑا برق گری چھت آئی\n\nشرم آئی بھی جو اس شوخ کی آنکھوں میں کبھی\nشوخیاں کرتی ہوئی ساتھ شرارت آئی\n\nہجر میں جان ہے دوبھر یہ لکھا تھا ان کو\nخط میں لکھی ہوئی مرنے کی اجازت آئی\n\nسوچتا جاتا ہوں رستے میں کہ یہ دوں گا جواب\nگفتگو ان سے اگر غیر کی بابت آئی\n\nپھر ہر اک شعر میں کچھ درد کا پاتا ہوں اثر\nپھر کہیں حضرت بیخودؔ کی طبیعت آئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "میرے ہی دل کے ستانے کو غم آیا سیدھا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے ہی دل کے ستانے کو غم آیا سیدھا\nراستہ دیکھ لیا ہے مرے گھر کا سیدھا\n\nایک صورت کبھی طالع کی نہ دیکھی ہم نے\nخط تقدیر لکھا ہے عجب الٹا سیدھا\n\nسیدھی سیدھی ہمیں ہر وقت سنا بیٹھتے ہو\nنام سن پایا ہے صاحب نے ہمارا سیدھا\n\nٹیڑھی بانکے ہوئے اس شوخ کے آگے سیدھے\nکیا ہی کج فہم ہے وہ جو اسے سمجھا سیدھا\n\nعشق پیچاں کو کیا ہم نے جو آڑا ترچھا\nسرو کو یار نے گلشن میں بنایا سیدھا\n\nخط کے آنے پہ بھی ٹیڑھا ہی رہا وہ ہم سے\nخضر نے بھی ہمیں رستہ نہ بتایا سیدھا\n\nمہرؔ واللہ میں قاتل ہوں تری باتوں کا\nخوب انداز سخن ہے ترا سیدھا سیدھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%8C%D8%AF%DA%BE%D8%A7"} {"title": "میرے ہی دم سے مہر و وفا کا نشاں ہے اب", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میرے ہی دم سے مہر و وفا کا نشاں ہے اب\nتجھ سا اگر نہیں ہے تو مجھ سا کہاں ہے اب\n\nاس حال کو پہنچ گئیں دل کی خرابیاں\nتیرا مکاں ہے اب نہ خدا کا مکاں ہے اب\n\nجاتی ہے آدھی رات مگر اس کا کیا جواب\nگھبرا کے وہ یہ کہتے ہیں وقت اذاں ہے اب\n\nسینے سے میرے دست تسلی اٹھائیے\nیہ بھی دل نحیف کو بار گراں ہے اب\n\nدیکھو ذرا سی شرم نے سب کچھ مٹا دیا\nوہ آنکھ وہ نگاہ وہ چتون کہاں ہے اب\n\nکیا لطف دوستی کہ نہیں لطف دشمنی\nدشمن کو بھی جو دیکھیے پورا کہاں ہے اب\n\nتم کو یقیں نہیں تو نہ ہو اس کا کیا علاج\nکم بخت داغؔ تم سے بہت بد گماں ہے اب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D9%88_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8"} {"title": "میلہ ہردوار کا بیان", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "چونکہ یہ ایک بڑا میلہ ہندوستان میں ہوتا ہے اس واسطے اس کا کچھ ذکر کرنا مناسب سمجھا۔ واضح ہو کہ ہردوار ایک چھوٹا سا شہر کنارے پر واقع ہے۔ یہ مقام درمیان لق و دق جنگل اور دریائے گنگ کے واقع ہے اور جنگل مذکور مشرق میں اس کے ہے۔ چونکہ ہندو گنگا کو بہت پاک سمجھتے ہیں، اس واسطے جوق در جوق ہنود ہر ضلع ہندوستان سے وہاں ماہ اپریل میں نہانے جاتے ہیں۔ اگرچہ بعض اوقات اس میلے میں دس لاکھ آدمیوں سے بھی زیادہ ہوتے ہیں لیکن اکثر تین لاکھ آدمیوں سے زیادہ جمع نہیں ہوتے۔ جس میں سے ایک تھوڑا حصہ زائرین کا ہوتا ہے اور سب تماشہ بین اور سوداگر لوگ ہوتے ہیں۔ اس موقع پر صاحبان انگریز بھی قریب تین سو کے جاتے ہیں، جن میں بعض تو صاحبان واسطے انتظام کے تشریف لاتے ہیں اور بعض بحکم سرکار گھوڑے خریدنے آتے ہیں، باقی صرف بطور سیاح جاتے ہیں۔ بہتیرے دولت مند مسلمان بھی واسطے سیر کے جاتے ہیں اور اکثر واسطے خرید و فروخت اشیاء کے، جو کہ دور دور سے آتی ہیں، جاتے ہیں۔\n\nشہر کسکل جو تین میل کے فاصلے پر ہردوار سے ہے، نہایت خوبصورت اور قلیل سیر کے جگہ ہے۔ وہاں مکانات پتھر کے کنارے دریا پر بنے ہوئے ہیں اور امیر لوگ ان کو جا کر بطور کرایہ لیتے ہیں یا بعض شخص خرید لیتے ہیں۔ بہتیرے لوگ ڈیرے ساتھ لے جاتے ہیں اور ان میں رہتے ہیں اور باقی لوگ چھپروں اور سائے بانوں اور درخت کے سایہ کے نیچے اترتے ہیں۔ صاحبان انگریز کے ڈیرے دو طرفہ سڑک پر مشکل سے کھڑے کئے جاتے ہیں اور بہت خوبصورت معلوم ہوتے ہیں اور مسلمان لوگوں کے بھی ڈیرے بہت آراستگی کے ساتھ ہوتے ہیں اور ہرطرف گھوڑے اور ہاتھی اور نوکروں وغیرہ کا بھی ان کے ساتھ ہجوم ہوتا ہے جس سے کہ آرائش میلہ کی اور بھی زیادہ معلوم ہوتی ہے۔\n\nجبکہ ہردوار کے نزدیک پہنچتے ہیں تو سڑک پر عجب سیر آنے والوں کی ہوتی ہے۔ ہزارہا موٹے موٹے برہمن اور سادہ لوگ چارپائیوں پر چلے آتے ہیں اور لوگ ڈولیوں اور پالکیوں اور شتروں اور گاڑیوں اور چھکڑوں اور بیلوں پر آتے ہیں۔ قریب ہردوار کے جہاں سے کہ سڑک نیچے کو جھکتی ہے، وہاں سے شہر ہردوار اور میلہ دکھائی دینے لگتا ہے اور عجیب گڈمڈ ہجوم اور طرح طرح کی چیزیں معلوم ہوتی ہیں کہ آدمی کی نگاہ ایک جگہ قائم نہیں رہ سکتی۔ امیر کبیر، ہندو عورتوں وغیرہ کے واسطے الگ گھاٹ نہانے کے مقرر ہو جاتے ہیں اور دریا کے اندر بھی وہ نہایت عمدہ ڈولوں میں بیٹھ کے جاتی ہیں اور باقی عورتیں اس وقت کچھ پردہ نہیں کرتیں جبکہ نہان کا وقت آتا ہے۔ اس وقت گھنٹے بجتے ہیں اور ایک دفعہ ہی لاکھوں آدمی ڈیروں اور جھونپڑیوں میں سے نہانے کے واسطے جاتے ہیں اور اس ہجوم میں ایک دفعہ تین سو آدمی مر گئے تھے۔\n\nاس وقت عجب تماشہ ہوتا ہے کہ ہر ایک آدمی اپنے اپنے کام میں مشغول ہوتا ہے۔ برہمن لوگ بڑی گرم جوشی سے اپنا خراج زائرین سے جمع کرتے ہیں اور دیکھتے رہتے ہیں کہ کوئی شخص بغیر ادا کرنے کے نہا کر نہ چلا جاوے اور ہر طرح کے فقیر اپنی معاش کے حاصل کرنے میں مشغول ہوتے ہیں اور تماشہ بین ادھر ادھر پیدل اور سواریوں پر دیکھتے پھرتے ہیں۔ باوجودیکہ لاکھوں آدمیوں کا وہاں غل ہوتا ہے لیکن اس پر بھی صدہا گھنٹے اور نفریں بجتی ہیں۔\n\nاس موقعے پر ہر ملک کا شخص مثلاً پہاڑی اور اوزبک اور تاتار اور اہل عرب اور افغان اور سکھ اور کشمیری اور اہل تبت اور چین جمع ہوتے ہیں اور مختلف اشیاء واسطے فروخت کے لاتے ہیں۔ اور گھوڑے اور ہاتھی اور اونٹ نہایت کثرت سے بکنے کو آتے ہیں۔ اس میلہ میں ہر طرح کے دوکاندار اور سوداگر نہایت آراستگی اور شان کے ساتھ دوکانیں لگاتے ہیں۔ انواع انواع کے جواہرات اور دوشالہ اور کھلونا اور انگریزی اسباب بکنے کو آتا ہے۔ صدہا خوانچے والے اور پھیری والے بساطی ہر ایک قماش کی چیزیں لئے غل کرتے پھرتے ہیں اور کسی طرف ہزارہا من اناج کے ڈھیر اور کسی طرف میوے کے تھیلے لگے ہوتے ہیں اور چونکہ اس میلہ پر شیرینی کا بہت خرچ ہوتا ہے تو ہزارہا من مٹھائی ہر طرح کے حلوائیوں کی دوکانوں پر پائی جاتی ہے۔\n\nشام کے وقت امیروں کے گھر پر ناچ ہوتے ہیں اور راستے میں بھانمتی اور مداری اور نٹ اپنا اپنا تماشہ دکھاتے ہیں۔ رات کو روشنی کی نہایت عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ گنگا پرلوگ چراغ رکھتے ہیں اور چراغ رکھ رکھ کر دریا میں چھوڑتے ہیں اور تمام سطح پانی کی روشن چراغوں سے سرخ معلوم ہوتی ہے اور جب آدھی رات سے زیادہ گزر جاتی ہے اور غل کم ہوتا ہے اور روشنی میں بھی کمی ہوتی ہے اس وقت چور اور قزاق اور بڑے بڑے اس فن کے جاننے والے نکلتے ہیں اور جو کچھ ان کا قابو ہوتا ہے، لے جاتے ہیں۔ اکثر ہندوستانیوں کا قاعدہ ہے کہ وہ اپنا روپیہ اشرفی تکیوں میں رکھ کر اپنے سرہانے دھر کر سویا کرتے ہیں تو چور لوگ اس میں عجب چالاکی کرتے ہیں۔ جب جانا کہ سب سوتے ہیں تب ایک تنکا لے کر ناک کے اندر یا کان میں ہلکے سے کرتے ہیں اور جب اس کو گدگدی معلوم ہوتی ہے، وہ کروٹ لیتا ہے اور چور تکیہ نکال کر بھاگ جاتے ہیں۔\n\nقبل اس کے کہ صاحبان انگریز کی عملداری وہاں نہیں تھی، میلہ میں بڑی جنگ وجدل ہوا کرتی تھی اور خوب خونریزی ہوتی تھی۔ اب ضلع کا مجسٹریٹ جاتا ہے اور پولیس قائم ہوتا ہے اور پلٹن انگریزی بھی آتی ہے اور بخوبی انتطام ہوتا ہے اور یہ چوری اور خونریزی نہیں ہوتی اور شراب وہاں بکنے نہیں پاتی جو کہ مخزن خرابیوں کی ہے۔ کوئی آدمی مسلح نہیں میلےمیں داخل ہونے پاتا۔ ہر شخص کے ہتھیار ایک خاص مقام پر حکم سرکار سے چھین کر جمع کرتے ہیں اور اس کو ایک ٹکٹ ملتا ہے اور بر وقت مراجعت میلہ کے، مالک کو اس کا ہتھیار مل جاتا ہے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ساٹھ لاکھ تلواریں جمع ہوئی تھیں۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D9%84%DB%81_%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86"} {"title": "مینار سکوت", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وقت کو صحرا کہوں یا بحر بے ساحل کہوں\nرات ہے ریگ رواں کی لہر یا کہ موج آب زندگی\nتارے جگنو ہیں کہ موتی پھول ہیں یا سیپیاں\nکہکشاں ہے دھول تاروں کی کہ موج پر خروش و در فشاں\n\nسوچ کی چنگاریاں اڑتی ہیں یوں\nجیسے دل پر چوٹ پڑتی ہو کسی احساس کی\nجیسے میں تنہا نہیں\nوقت کے صحرا میں جیسے ان گنت سائے ابھر کر میری جانب\nدوڑتے آتے ہوں\n\nسائے\nبیتی صدیاں جیسے پر پھیلائے اٹھیں گول گول\nاپنی لاشیں چھوڑ کر میری طرف آئیں\nکہ جیسے نوچ کھائیں گی مجھے\nاور پھر مردہ لاشیں یک بیک وحشی بگولوں کی طرح\nرقص کرتی چار سو\nڈھول تاشوں اور نقاروں کی ہیبت ناک آوازوں پہ رقص\nکھڑکھڑاتی ہڈیاں خود شعلے بن کر ناچتی ہیں چار سو\nاور اک زرتشت سجدہ ریز ہو کر\nان کی ہیبت ان کی عظمت ان کی بے رحمی کو کرتا ہو سلام\nاور وہ\nاس کو اپنی گل فشاں آغوش میں لے کر اٹھیں\nجیسے ماں\nاپنے بچے کو اٹھائے\nاور میں\nوقت کے بے رحم ہاتھوں میں ہوں جیسے گدھ کے چنگل میں کوئی زندہ پرند\nبیتی صدیاں شب کے سناٹے میں شب خوں مار کر\nاس طرح یلغار کرتی ہیں کہ جیسے میں نہتا ہوں\nمرے ترکش کے تیر\nمیرے ہی سینے میں ہیں پیوست\nمیں زندہ نہیں\nزندہ نہیں\n\nدیکھ اے چشم خیال\nسار کے تاروں پہ اٹھلاتی ہوئی وہ جوئے نغمہ بوئے گل\nوہ عروس آرزو وہ چاندنی کے پیرہن میں حسن رقصاں موج مے\nوہ بہاروں کا تبسم وہ جوانی کا غرور\nتتلیوں کی خامشی گنگناتی راگنی\nآ رہی ہے میری جانب ہاتھ پھیلائے ہوئے\nحسن جس کے لوچ سے ہے سنگ مرمر میں گداز\nحسن جس کے روپ سے آہن ہوا آئینہ ساز\nحسن انگڑائی میں جس کی سیکڑوں قوموں کا راز\nحسن جس کے ابروؤں کا جلوہ محراب نماز\nحسن جس کا رس بھرا سینہ ہزاروں گنبدوں پر سرفراز\nکیا ہوا وہ حسن وہ دوشیزہ وہ میرے\nخیالوں کی دلہن\nکھو گئی اپنی نمو کے پردۂ رنگیں کے پیچھے کھو گئی\nوقت کے صحرا میں ایوانوں کی عظمت سنگ سازوں کی تراش\nحجلۂ سیمیں کی رعنائی کا افسوں ہو گئی\nحسن پتھر بن گیا فن کی رگوں کا گرم خوں\nمردہ صدیوں کے شبستانوں میں اپنی آرزو سے جی اٹھا\nاور سورج کی طرح روشن ہوا\n\nدن ڈھلے تک میری آنکھوں میں رہا بیتی ہوئی صدیوں کا نور\nمیرا سرمایہ تھا سورج کی محبت کا فسوں\nمیرے ہونٹوں پر ترانے تھے کہ میرے ذہن میں\nگیت بن بن کر ابھرتا تھا فضاؤں کا سکوت\nیادیں پھولوں کی طرح\nدل کے ہر گوشے کو مہکاتی تھیں اور میرے خیال\nشام تک\nآج کی شب کی تمنا میں رہے\nنیم شب کی سرد تاریکی میں یہ ماضی کے بھوت\nناچتے ہیں ہر طرف\nجیسے یہ اک اور دنیا سے در آتے ہیں یہاں\nجیسے میں ان دشمنوں میں گھر گیا ہوں جن کی بھوک\nمیرے خوں سے بجھ گئی تو بجھ گئی\n\nخشک ہیں لب دم نکلتا جا ہے دم بدم\nبے حسی چھائے چلی جاتی ہے اب میں کیا کروں\nکیا کروں\nوقت کے صحرا کا اک ذرہ ہوں میں\nبیتی صدیوں نے جسے پالا مگر\nآج میں ہوں ان کی آنکھوں وہ خار\nجس کو اس صحرا پہ کوئی حق نہیں\nکاش وقت\nوسعت صحرا میں لائے بحر جولاں کا خروش\nاور میں اپنے ماضی کی مراد\nٹوٹ کر اک اور ہی صحرا کا ماضی بن سکوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DA%A9%D9%88%D8%AA"} {"title": "میٹھا معشوق", "poet_page": "مصنف:چودھری محمد علی ردولوی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "اللہ بخشے مرزا صاحب کا دماغ بذلہ سنجیوں کا ذخیرہ تھا، زبان چٹکلوں کی پوٹ تھی۔ پھر عمر بھی اتنی پائی کہ دوسرے کے پاس اتنا سامان ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کے علاوہ انداز بیان کچھ ایسا تھا کہ سیدھی سیدھی بات روزمرہ کے واقعات جب کہنے لگتے تھے تو داستان گو کی داستانیں مات تھیں۔\n\nنہ معلوم کس طرح کا الٹ پھیر لفظوں کا ہوتا تھا کہ جملوں میں نئے نئے معنوں کی جھلک پیدا ہوجاتی تھی۔ فقروں میں اصلی معنی کے ساتھ ساتھ دوسرے پہلوؤں کی پرچھائیاں دکھائی دیتی تھیں جیسے نگینے کی چھوٹ پڑتی ہے۔ اختصار کے بادشاہ تھے۔ ایک دن ایک شاعر صاحب کہنے لگے میں تو بہت کم کہتا ہوں۔ مرزا صاحب بولے خیرغنیمت ہے۔ ان کا طول بھی ایسا ہی دل آویز ہوتا تھا۔ کسی نے مزاج شریف پوچھا، کہنے لگے اگر شکر نہیں بھی ہے تو شکایت کی مجال کس کو ہے۔\n\nایک قصہ خود اپنے خاندان کا بیان کرتے تھے، مگر وہ زبان کہاں سے لاؤں گا، فرمانے لگے کہ غدر کے بعد ہمارے ایک دادھیالی عزیز تھے۔ لکھنؤ سے فاصلہ پر رہتے تھے۔ ان کا مقدمہ فائنانشلی میں تھا۔ ریل اس وقت تک نکلی نہیں تھی۔ لوگ شکرم اور اونٹ گاڑیوں پر سفر کرتےتھے۔ امراء کہاروں کی ڈاک بٹھاکر چلتے تھے۔ متوسط حال لوگ اپنے گھر کی رتھ بہلیوں پر معہ نوکروں چاکروں کے آہستہ خرام بلکہ مخرام کی چال چلتے تھے۔ انھیں حضرات میں مرزا صاحب کے چچا بھی تھے، خود بہلی پر، اور مصاحبت میں مختصر ریاست کے دیوان منشی بخت بلی کائستھ جن کے چھوٹی بڑی ریاست کا ہونا ویسا ہی ممکن تھا جیسے ان کی ماش کی دال بے ہینگ کے ہو۔ جلو میں کارکن صاحب جن کو نائب کہہ لیجیے، ٹٹو پر ایک لٹھ بند سپاہی اور دونفر ہمراہی، جن میں ایک بڑے مرزا صاحب کا خدمت گار اور دوسرانائب صاحب کا نیم سائیس اور نیم خدمت گار اور وقت ضرورت باورچی بھی۔ میری گستاخی کی جسارت معاف ہو۔ اس جگہ میں اپنے پڑھنے والوں کا امتحان لینا چاہتا ہوں، بھلا بتائیے تو اس کہانی کا ہیرو کون ہے۔ ’’اتنے کے بیچ موری بندیا ہرانی۔‘‘ ہے، انھیں لوگوں میں مگر تنکے اوٹ پہاڑ اگرآپ بوجھ گیے تو ہم بھی قائل ہیں۔\n\nبہلی کے سازوسامان میں بچھونے، لالہ کی لٹیا، مرزا صاحب کالوٹا، جانماز، مختصر سامان مطبخ، ایک عدد توا اور ایک دو پتیلیاں، کچھ دال مسالے کی پوٹلی بہلی کے پیچھے جال میں، مسل مقدمہ کی دیوان جی کی بغل میں،مگر لالہ صاحب اور بڑے مرزا صاحب کے درمیان میں اور گاڑی بان کے پیچھے یہ کون چیز رکھی ہے۔ حضرت اس کو نہ پوچھیے، یہی تو قصے کی جان ہے۔ اگر یہ نہ ہوتی تو کہاں ہم کہاں آپ، یہ کہانی، بڑے مرزا صاحب کے ایسے ہزاروں سفر کرگیے، ہزاروں سفر کر رہے ہیں اور لاکھوں سفر کریں گے، مگر ہرمسافر کی کہانی تھوڑے ہی لکھی جاسکتی ہے۔ داستان گو اور قدردانوں کو جمع کرنے والی وہی ہے جو بہلی کے بیچوں بیچ میں بڑی حفاظت سے رکھی ہے۔ یہ مٹھائی کی ایک ٹوکری ہے جس میں کم سے کم دس بارہ سیر مٹھائی ہوگی۔ اس پر ایک پرانی چادر سلی ہوئی ہے اور انداز سے سوغات معلوم ہوتی ہے۔\n\nتین دن دو راتوں کاسفر ہے، خدا خدا کرکے پہلا دن کٹا، سرا کی صورت دکھائی دی۔ کمریں کھلیں، اسباب اتارا گیا۔ لالہ نے عرض کی کہ ان کے ایک عزیز کا گھر سرائے سے تھوڑی ہی دور پر ہے۔ اگر بڑے مرزا صاحب اجازت دیں تو یہ وہیں سورہیں۔ ضروری سامان مثل حقہ، بچھونے کے، کوٹھری میں اتارا گیا۔ باقی بھٹیاری کی سپردگی میں دیا گیا۔ اتنے میں بھٹیاری پان کھائے منہ لال کیے مسکراتی سامنے آن کھڑی ہوئی۔ میاں مٹھائی میرے یہاں نہ رکھتے تو اچھا ہوتا۔ میرے لڑکے بہت شریر ہیں، کھانے پینے کی چیز رکھنے والا میرا گھر نہیں۔ اگر نقصان ہوگیا تو میں کہاں سے پورا کروں گی۔ بڑے مرزا صاحب پریشان ہوگیے، بے ساختہ اپنے خدمت گار پر نگاہ جمائی اور پھر کارکن صاحب کی طرف بے بسی سے دیکھا اور زبان حال سے بولے کہ بتاؤ اب کیا کیا جائے۔جب کوئی کچھ نہ بولا تو فرمانے لگے کہ مٹھائی اس کوٹھری میں نہیں رہ سکتی۔ اپنے خدمت گار کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے کہ جب تک یہ مردود یہاں ہے مٹھائی کی ٹوکری اس کوٹھری میں نہیں رہ سکتی۔\n\nملازم: (نہایت بے باکی سے جس میں گزشتہ اور موجودہ جھوٹے سچے الزامات کی شکایت بھی پائی جاتی تھی) ہم آپ کی کوٹھری کے پاس نہ جائیں گے۔ ایسی ایسی مٹھائی کی طرف ہم پھر کے بھی نہ دیکھیں گے۔ راستے میں چھوڑ کر چلے جانا نمک حرامی ہے، مگر گھر پہنچ کر میاں ہمارا حساب ہوجائے۔ پیچ پی ہزار نعمت کھائی۔ اب ہم نوکری نہ کریں گے۔ چار آدمیوں کے بیچ میں جب دیکھو آپ ہم کو چوری لگاتے ہیں، ہاتھ بیچا ہے کوئی ذات نہیں بیچی ہے، جب آبرو ہی نہ رہی تو نوکری کس کام کی۔ اپنے گھر کے سوکھے ٹکڑے ہم کو بہت ہیں، جہاں کام کریں گے وہیں پیٹ پل جائے گا۔\n\nبڑے مرزا صاحب (نائب صاحب کی طرف اس طرح مخاطب ہوئے گویا انھوں نے ملازم کی باتیں سنی ہی نہیں) شیخ جی یہ مٹھائی کہاں رکھوائی جائے۔\n\nشیخ جی: آپ کو اگر ایسا ہی خیال ہے تو منشی بخت بلی کے ساتھ کردیجیے، صبح کو لیتے آئیں گے۔ ہاں ہاں ٹھیک ہے۔ لالہ تم یہ ٹوکری لیتے جاؤ، اسی طرح یہ بچ سکتی ہے، نہیں تو یہ مزدور ضرور کھاجائے گا۔\n\nناظرین! ایسے بدتمیز، بدنیت نوکر کو رکھنا مرزا صاحب ہی کا کام تھا۔ کیونکہ بجائے ہمارے آپ کے مرزا صاحب ہی کا ہاتھ پتھر کے نیچے دبا تھا۔ گھر میں ایک نوجوان لڑکی رہتی تھی۔ اس سے اور بڑے مرزا صاحب سے کچھ لگا سگا ہوگیا، بے چارے بھاری بھرکم، مہذب، شائستہ، ذی عزت آدمی تھے، مگر دل کے ہاتھو ں مجبور ہوگیے تھے اور اس مقام پر پہنچ چکے تھے جہاں رذیل شریف سب میں مساوات ہوتی ہے۔\n\nبندۂ عشق شدی ترک نسب کن جامی\nکاندریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست\n\nچیز اچھی تھی، جیسے گھورے کا گلاب، نہ پگڑی میں لگاتے بنے نہ توڑکر پھینکتے بنے۔ اس لیے یہی ٹھہری تھی کہ ایک ٹٹی کی آڑ ضرور ہونی چاہیے اور یہ ملازم صاحب وہی ٹٹی تھے، جن کی آڑ میں شکار ہوتا تھا۔ چونکہ ان واقعات سے تینوں فریق واقف تھے۔ اس وجہ سے آپ ہی کہیے کہ اس تثلیث میں تفریق کیوں کر ہوسکتی تھی۔ رات کو لوگوں نے آرام کیا اور صبح اندھیرے منھ چلنے کا پاتراب ہوا۔ مگر منشی جی کو آنے میں کچھ دیر ہوئی۔ مرزا صاحب کا ملازم دوڑا گیا۔ منشی جی آئے تو مگر بہت پریشان اور شرمندہ۔\n\nمنشی جی: حضور ایک بڑی غلطی ہوگئی ہے، جو سزا دیجیے کم ہے، مجھ سے ایک چوک ہوگئی۔\n\nمرزا صاحب: کیا چوک ہوگئی ہے؟\n\nمنشی جی: چوک حضور یہ ہوگئی ہے کہ جب آپ کا خدمت گار پہنچا تو میں نے اپنے عزیز سے کہا کہ مٹھائی اندر سے منگواؤ اور میں بیٹھ کر داتون کرنے لگا، اتنے میں ٹوکری میں کتے نے منھ ڈال دیا۔\n\nبڑے مرزا صاحب: ایں یہ کیسے ہوا (خدمت گار کی طرف اشارہ کرکے) اور یہ کہاں تھا؟\n\nمنشی جی: یہ بھی وہیں تھے۔ انھوں نے ہی دوت دوت کہامگر وہ منھ ڈال چکا تھا۔\n\nبڑے مرزاصاحب: اجی بالکل غلط، کتّا وتّا کچھ نہیں، یہ اسی بے ایمان کی حرکت ہے۔ تم منشی جی اس کو کیا جانو یہ بڑا حرام زادہ ہے۔ حرام خور نمک حرام آدمی ہے۔\n\nملازم: آپ ہم ہی کو کہتے ہیں، دیکھیے کپڑا دانت سے پھٹا ہے کہ نہیں، اگر میں دوت دوت نہ کرتا تو سب کھا جاتا۔\n\nبڑے مرزا صاحب: کچھ نہیں، ایک ہی طرف تو خراب ہوئی ہے۔ اس نے کپڑا دانت سے پھاڑ ڈالا ہوگا اور پھر دوت دوت چلایا ہوگا۔ اجی میں اس کے ہتھکنڈوں سے خوب واقف ہوں۔ بھٹیاری سے کہو کہ جلدی سے اس کو سی دے، یہ مٹھائی خراب وراب نہیں ہے۔\n\nلیجیے صاحب دوسرے دن کا سفر شروع ہوا اور شام کو بجائے سرائے میں سونے کے میدان میں پڑاؤ ڈالنے کی ٹھہری، چاندنی آدھی رات کے پہلے پہلے کھیت کر آئے گی۔ چپقلش سے یہ کھلے میدان کی ہوا کہیں خوشگوار ہے۔ بہلی ایک طرف کھڑی کی گئی اور بیل اور گھوڑا درختوں سے باندھے گیے۔ گاڑی بان اور سائیس جانوروں کی حفاظت کے لیے نکل گیے۔ باقی لوگ مٹھائی کی رکھوالی کرنے لگے۔ بیچ میں مٹھائی کی ٹوکری اور اس کے ایک طرف بہ نفس نفیس خود مرزا صاحب کا بستر لگا۔ دوسری طرف نائب صاحب، تیسری طرف منشی جی کا اور چوتھی جانب سپاہی تعینات ہوا۔ یہ دیکھ کر خدمت گار نے اپنا مختصر بچھونا بہت دور ہٹ کر لگایا۔ رات کو دوکا عمل رہا ہوگا کہ دور سے آواز آئی، دوت دوت۔مرزا صاحب اٹھ بیٹھے اور نائب صاحب سے کہنے لگے، شیخ جی دیکھتے ہیں آپ، کتااسی سالے کو دکھائی دیا اور کسی کو نہیں۔\n\nخدمت گار: میاں آپ گالی دے رہے ہیں۔ وہ دیکھیے کالا کالا جارہا ہے۔ خیر رات کو بھاگتا ہوا کتا کسی کو کیا دکھائی دیا ہوگا۔ مگر ٹوکری کا کپڑا پھر اسی طرح پھٹا ہوا پایا گیا اور کچھ مٹھائی بھی ادھر ادھر پڑی دیکھی گئی۔ کتے اور آدمی کا مسئلہ دوبارہ تازہ ہوا۔ آج بھٹیاری تو تھی نہیں، لیکن سوئی دھاگہ سپاہی کے بٹوے میں نکل آیا اور مرزا صاحب نے خود گانٹھ گانٹھ کر ٹوکری کو درست کیا اور شامو شام بخیر و خوبی لکھنؤ پہنچ گیے۔\n\nلکھنؤ سے دوچار کوس پہلے جب بڑے مرزا صاحب ایک خاص ضرورت سے اَرہر کے کھیت کی طرف تشریف لے گیے تھے اور خدمت گار لوٹا لے کر ساتھ گیا تھا، اس وقت منشی جی اور سپاہی میں مٹھائی کی باتیں چھڑیں تھیں۔ ان دونوں آدمیوں کو مٹھائی سے کوئی واسطہ نہیں ہوسکتا تھا، اس لیے یہ لوگ بہتر رائے قائم کرسکتے تھے۔ منشی جی کا خیال تھا کہ مرزا صاحب اتنے شوق سے مٹھائی کی سوغات لے کر چلے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ کتے والی بات ثابت ہوجائے کیونکہ پھر تو مٹھائی پھینک ہی دینا پڑے گی۔ سپاہی اس کے خلاف تھا، مگر اس کی بھی رائے بدل چکی تھی کہ نائب صاحب کا ملازم آگیا اور اس نے آہستہ سے کہا کہ خدمت گار نے مٹھائی کی دو ڈلیاں مجھ کو بھی دی ہیں۔ اب معاملہ صاف ہوگیا۔ مرزا صاحب سے کسی نے نہیں کہا۔ بہرحال لکھنؤ پہنچ کر مٹھائی رات کو سرائے کی کوٹھری کے اندر قفل میں رکھی گئی اور رات ہی سے صبح کو کچہری کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ منشی جی کسی اور کام سے بھیجے گئے اور خود مرزا صاحب مع نائب صاحب کے عدالت کو چلے۔ احتیاطاً خدمت گار علیہ ماعلیہ کو ساتھ لے لیا کہ مٹھائی اس کے دست برد سے بچی رہے۔\n\nعدالت کے دروازے پر خدمت گار سے بستہ مانگا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ کوٹھری ہی میں رکھا ہے۔ مٹھائی کی تباہی اور نیز لذت تینوں آدمیوں کی نگاہوں میں پھر گئی، مگرمرتا کیا نہ کرتا، وہی خدمت گار واپس بھیجا گیا، اور سخت حکم دیا گیا کہ الٹے پاؤں واپس آئے، مٹھائی کا خیال بار بار آیا، مگرمجبوری تھی۔ اب مرزا صاحب کی الجھن نہ پوچھیے، بے چارے پریشان حال سراسیمہ ادھر ادھر ٹہل رہے ہیں۔کیوں شیخ جی اگر پکار ہوگئی تو کیا ہوگا۔ مقدمہ تو خاک میں مل ہی چکا۔ غضب تو یہ ہے کہ جو کوئی سنے گا کیا کہے گا کہ گیےتھے مقدمہ لڑنے اور مسل گھر ہی چھوڑ آئے۔ ہمارے مدمقابل وطن پہنچ کر کیا کیا ہنسی اڑائیں گے۔ قصے کو کیسا کیسا مشہور کریں گے، نمک حرامی کی انتہا کردی۔\n\nاب گھر پہنچتے ہی اس مردود بے ایمان، مربی کش محسن سوز مارآستین کو نکال ہی دیں گے اور بری طرح نکالیں گے۔ بھلا میں کہتا ہوں کہ دوسرے فریق سے مل تو نہیں گیا ہے اور جو مسل سرا میں بھی نہ ہوئی تو۔ یہ بڑا بے وقوف ہے اس کا اعتبار تو شاید دشمن بھی نہ کریں۔\n\nشیخ جی: جی نہیں، اتنے دنوں کا رہا سہا ہے، ایسا تو کیا کرے گا، دیکھیے معلوم ہوا جاتا ہے۔ اگر پیشی کے وقت تک نہ آیا تو کوئی نہ کوئی ترکیب نکال ہی لی جائے گی ۔آپ پریشان نہ ہوں۔\n\nبڑے مرزا صاحب: پریشان کیسے نہ ہوں، سب کی کرائی محنت غارت غول ہوئی جارہی ہے۔ نقصان مایہ اور شماتت ہمسایہ اوپر سے۔ خدا کرے ابھی پکار نہ ہو۔مرزا صاحب یہ دعائیں مانگ ہی رہے تھے کہ قیامت کا صور پھنک گیا، مرجا فلاں بنام فلاں کوئی حاجر ہے۔ چہرے پر ہوائیاں چھوٹنے لگیں۔ کلیجہ بلیوں اچھلنے لگا، ہاتھ پاؤں برف ہوگیے، حواس یہ جا وہ جا۔ خدمت گار سے جاملے۔\n\nبڑے مرزا صاحب: اب کیا ہوگا شیخ جی۔\n\nشیخ جی: چلیے تو عدالت سے عذر کریں گے۔\n\nخدا نے خیر کی کہ وہاں پہنچتے ہی معلوم ہوا کہ تاریخ بڑھ گئی۔ جان میں جان آئی۔ باہر نکلے، کچھ خوش کچھ غصہ لمبے لمبے قدم رکھتے چلے کہ مسل کی خبرلیں۔ سرا کے پھاٹک پر نائب صاحب کا نوکر دکھائی دیا۔\n\nبڑے مرزا صاحب: اور وہ کیوں نہیں آیا۔\n\nنوکر: اس نے کہا کہ میرے پاؤں میں موچ آگئی ہے۔ تم لے کر جاؤ۔\n\nبڑے مرزا صاحب: شیخ جی مٹھائی کی خیر نہیں معلوم ہوتی۔\n\nدور ہی سے کوٹھری کی کنڈی اتری ہوئی اور دروازہ بھڑا ہوا دکھائی دیا۔ مرزا صاحب نے چال بدل دی اور دبے پاؤں چلنے لگے۔ دراڑ سے بھڑ کر ملاحظہ کیا۔ دیکھتے کیا ہیں کہ پلنگ پر رنگ برنگ کی مٹھائی کا چورا اور ٹکڑے بکھرے ہوئے بہار دکھا رہے ہیں۔ ٹوکری کا گریبان پہلے ہی سے تار تار ہوچکا ہے اور رقیب رو سیاہ کا منھ اور جیبیں پھولی ہوئی ہیں اور وہ پانچوں انگلیاں زمین پر رگڑ رگڑ کر صاف چادر پر موقع موقع سے کتے کے پاؤں بنارہا ہے۔ دروازہ کھلا دھڑ سے۔ چٹاخ چٹاخ، چٹ پٹ، دھم پٹ تڑ، بھلا بے اندھی رانڈ کے جنے، آج پکڑا گیا نا۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D8%B9%D8%B4%D9%88%D9%82"} {"title": "میٹھی ہے ایسی بات اس کی", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "میٹھی ہے ایسی بات اس کی\nلونڈی ہے اک نبات اس کی\n\nسمجھا نہ میں ایک بات اس کی\nمجھ پر کیا کائنات اس کی\n\nعالم ہے بے ثبات اے دل\nاک ذات کو ہے ثبات اس کی\n\nمہ اس کا ہے آفتاب اس کا\nدن اس کا ہے اور رات اس کی\n\nکس منہ سے کروں میں وصف اس کا\nہے عقل سے دور ذات اس کی\n\nممبر پہ جو بک رہا ہے واعظ\nکب سنتا ہوں خیر بات اس کی\n\nہے دولت حسن پاس تیرے\nدیتا نہیں کیوں زکوٰۃ اس کی\n\nہے جو کہ شہید تیغ تسلیم\nہے مثل خضر حیات اس کی\n\nدم دے کے نہ نقد دل کو لے لے\nچل جائے کہیں نہ گھات اس کی\n\nجو دل کہ ہے غرق بہر دنیا\nکیوں کر ہوگی نجات اس کی\n\nدل جاتا ہے سوئے کوئے قاتل\nخالق رکھے حیات اس کی\n\nدم دے کے لے آیا یار کو دل\nکیا رہ گئی آج بات اس کی\n\nتنہا نہیں منتہیؔ کسی جا\nتقدیر ہے اس کے ساتھ اس کی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "میٹھے چشموں سے خنک چھاؤں سے دور", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میٹھے چشموں سے خنک چھاؤں سے دور\nزخم کھلتے ہیں ترے گاؤں سے دور\n\nسنگ منزل نے لہو اگلا ہے\nدور ہم بادیہ پیماؤں سے دور\n\nکتنی شمعیں ہیں اسیر فانوس\nکتنے یوسف ہیں زلیخاؤں سے دور\n\nکشت امید سلگتی ہی رہی\nابر برسا بھی تو صحراؤں سے دور\n\nجور حالات بھلا ہو تیرا\nچین ملتا ہے شناساؤں سے دور\n\nجنت فکر بلاتی ہے چلو\nدیر و کعبہ سے کلیساؤں سے دور\n\nرقص آشفتہ سراں دیکھیں گے\nدور ان انجمن آراؤں سے دور\n\nجستجو ہے در یکتا کی شکیبؔ\nسیپیاں چنتے ہیں دریاؤں سے دور", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DA%86%D8%B4%D9%85%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%86%DA%A9_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1"} {"title": "میڈیکل ٹیسٹ", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "دو ملازم ایک کالا اور گورا دوسرا\nدوسرا پیدل مگر پہلا سوار راہ وار\n\nتھے سول سرجن کی کوٹھی کی طرف دونوں رواں\nکیونکہ بیماری کی رخصت کے تھے دونوں خواست گار\n\nراہ میں دونوں کے باہم ہو گئی کچھ ہشت مشت\nکوکھ میں کالے کی اک مکا دیا گورے نے مار\n\nصدمہ پہنچا جس سے تلی کو بہت مسکین کی\nآ کے گھوڑے سے لیا سائیس نے اس کو اتار\n\nٹھوک کر کالے کو گورے نے تو اپنی راہ لی\nچوٹ کے صدمے سے غش کالے کو آیا چند بار\n\nآخرش کوٹھی پہ پہنچے جا کے دونوں پیش و پس\nضارب اپنے پاؤں اور مضروب ڈولی میں سوار\n\nڈاکٹر نے آ کے دونوں کی سنی جب سرگزشت\nتہ کو جا پہنچا سخن کی سن کے قصہ ایک بار\n\nدی سند گورے کو لکھ کر جس میں تھی تصدیق مرض\nاور یہ لکھا تھا مسائل ہیں بہت زار و نزار\n\nیعنی اک کالا نہ جس گورے کے مکے سے مرے\nکر نہیں سکتا حکومت ہند پر وہ زینہار\n\nاور کہا کالے سے تم کو مل نہیں سکتی سند\nکیونکہ تم معلوم ہوتے ہو بظاہر جان دار\n\nایک کالا پٹ کے جو گورے سے فوراً مر نہ جائے\nآئے بابا اس کی بیماری کا کیونکر اعتبار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%88%DB%8C%DA%A9%D9%84_%D9%B9%DB%8C%D8%B3%D9%B9"} {"title": "میکدہ چھوڑ کے میں تیری طرف آیا ہوں", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "میکدہ چھوڑ کے میں تیری طرف آیا ہوں\nسرفروشوں سے میں باندھے ہوئے صف آیا ہوں\nلاکھ ہوں مے کش آوارہ و آشفتہ مزاج\nکم سے کم آج تو شمشیر بکف آیا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%A9%D8%AF%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "میکدے میں بیٹھ کر ایمان کی پروا نہ کر", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میکدے میں بیٹھ کر ایمان کی پروا نہ کر\nیا اسے بھی ایک دو چلو پلا دیوانہ کر\n\nمسکرا دے قصۂ امید کر دے مختصر\nیا بڑھا لے چل ذرا سی بات کو افسانہ کر\n\nخوش مذاقی شرط ہو جس کے نظارے کے لئے\nاس گل خود رو کو یا رب زینت ویرانہ کر\n\nحادثہ ہے لیکن ایسا غیر معمولی نہیں\nشمع پر پروانہ جلنے دے کوئی پروانہ کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%A9%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!\nتو ہی بتا دے ناز سے ایمان آرزو!\n\nآنسو نکل رہے ہیں تصور میں بن کے پھول\nشاداب ہو رہا ہے گلستان آرزو!\n\nایمان و جاں نثار تری اک نگاہ پر\nتو جان آرزو ہے تو ایمان آرزو!\n\nہونے کو ہے طلوع صباح شب وصال\nبجھنے کو ہے چراغ شبستان آرزو!\n\nاک وہ کہ آرزؤں پہ جیتے ہیں عمر بھر\nاک ہم کہ ہیں ابھی سے پشیمان آرزو!\n\nآنکھوں سے جوئے خوں ہے رواں دل ہے داغ داغ\nدیکھے کوئی بہار گلستان آرزو!\n\nدل میں نشاط رفتہ کی دھندلی سی یاد ہے\nیا شمع وصل ہے تہ دامان آرزو!\n\nاخترؔ کو زندگی کا بھروسہ نہیں رہا\nجب سے لٹا چکے سر و سامان آرزو!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88%21"} {"title": "میں اس بت کا وصل اے خدا چاہتا ہوں", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں اس بت کا وصل اے خدا چاہتا ہوں\nمرض عشق کا ہے دوا چاہتا ہوں\n\nبیان ملاحت کیا چاہتا ہوں\nسخن میں نمک کا مزا چاہتا ہوں\n\nنہ دیکھوں میں اس گل کے پہلو میں کانٹا\nاڑے غیر ایسی ہوا چاہتا ہوں\n\nمجھے تسمہ بندی ہو اے زلف پیچاں\nفقیر آج کل میں ہوا چاہتا ہوں\n\nلگی بے طرح ہے خدا ہی بچائے\nسلگتا ہے دل میں جلا چاہتا ہوں\n\nبہت کروٹیں لیں نہیں نیند آتی\nبغل میں کوئی دل ربا چاہتا ہوں\n\nمحبت میں یہ عقل زائل ہوئی ہے\nکہ اہل دغا سے وفا چاہتا ہوں\n\nکھلے حال بیمار چشم سخن گو\nاشاروں میں باتیں کیا چاہتا ہوں\n\nبرا مان جاؤ گے منہ پھیر لو گے\nنہ پوچھو قسم دے کے کیا چاہتا ہوں\n\nنگاہیں الجھتی ہیں زلفوں میں بے ڈھب\nان آنکھوں کے ہاتھوں پھنسا چاہتا ہوں\n\nمہ نو کے مصرع میں مصرع لگاؤں\nمیں اتنی طبیعت رسا چاہتا ہوں\n\nہوئے چارہ جو کب مریض محبت\nخدا موت دے جو شفا چاہتا ہوں\n\nوہی دشمن جاں ہے اے بحرؔ میرا\nجسے جان سے میں سوا چاہتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%A7%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "میں افسانہ کیسے لکھتا ہوں؟", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "میں افسانہ ایسے لکھتا ہوں کہ غالباً آپ یقین نہ کریں گے۔ ایک ذرا سی بات ہے جس پر غور کریں تو میری افسانہ نویسی کی حقیقت آشکار ہو جائے گی۔ میں افسانہ عموماً اس طرح لکھتا ہوں کہ کوئی دلچسپ بات کسی سے سنی، کوئی مزے دار واقعہ یا حادثہ کسی پر گزرا، یا خود دیکھا یا کسی دوست پر گزرا تو اس کو دل میں رکھ لیا اور دوچار احباب کو سنایا کہ بھئی ایک مزہ دار بات سنو۔ اگر دوست احباب اور سننے والوں نے اس قابل سمجھا کہ سنیں تو سنا دیا، ورنہ وہیں کا وہیں ختم کیا۔\n\nجب میں اس طرح کوئی مزیدار واقعہ دوست احباب کو سناتا ہوں تو بعض اوقات تو من و عن سناتا ہوں اور بعض اوقات موقعہ محل کو دیکھتے ہوئے اس میں اس طرح رد و بدل یا نمک مرچ ملا دیتا ہوں کہ لطف دوبالا ہو جائے۔ جب اس واقعے کو دس پانچ مرتبہ دوست احباب کے مجمع میں سنا لیتا ہوں تو میں عموماً دیکھتا ہوں کہ قصہ نئی ترتیب اختیار کر رہا ہے۔ قصہ وہی رہتا ہے مگر ہر نئی دفعہ اس میں کوئی مزید رد و بدل ہو جاتا ہے، حتی کہ قصہ تیار ہو جاتا ہے۔ اٹھاکر ایک دم سے لکھ دیا۔ چلیے افسانہ تیار ہوگیا۔ آپ خود خیال کیجیے کہ اس طرح تیار شدہ قصہ لکھنے میں دیر ہی کیا لگ سکتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ بغیر کسی خاص محنت کے میں نے دو سال میں اتنے زیادہ افسانے لکھ دیے جتنے شاید ہی کسی نے لکھے ہوں۔\n\nبعض اوقات لکھنے میں مجھے عجیب و غریب انہماک ہوتا ہے، ایسا کہ دیکھ رہا ہوں کہ غلط لکھ رہا ہوں مگر اس کو صحیح کرنےکے لیے ٹھہرنا ظلم معلوم ہوتا ہے۔ حد ہو گئی کہ صفحات پر نمبر ڈالنا مصیبت معلوم ہوتا ہے، جس کے سبب وہ دشواریاں پڑتی ہیں کہ اوراق ایسے گھل مل جاتے ہیں کہ بسا اوقات دو دو تین تین گھنٹے سلجھانے میں لگ جاتے ہیں، مگر لطف یہ کہ اب بھی صفحوں کے نمبر دینا ناممکن ہے۔\n\nمجھے سخت حیرت ہوتی ہے کہ افسانہ نویس خود پلاٹ کی تلاش میں حیران رہتے ہیں۔ ایک صاحب بے حد حیران تھے اور اسی میں خود انہوں نے مجھے ایک واقعہ اپنے دوست کا ایسا دلچسپ سنایا جس سے میں نے ایک عمدہ افسانہ تیار کر لیا۔ میں نے ان سے کہا بھی کہ اس پر لکھو مگر ان کی سمجھ ہی میں نہ آیا اور جب میں نے لکھ کر دکھایا تو کہنے لگے جھوٹ۔ ایسا ہوا ہی نہیں۔ وہ موجود ہیں پوچھ لو۔\n\nمیں ممکن الوقوع اور غیر ممکن الوقوع واقعات کے چکر ہی میں نہیں پڑتا۔ میرے افسانے کے واقعہ کے لیے شرط ہے کہ ممکن الوقوع ہو یا نہ ہو، وقوع پذیر ہو چکا ہے اور اگر نہیں تو میرے نزدیک چھوڑ دینے کے قابل ہے۔ لازمی ہے کہ جو واقعہ میں لکھوں وہ وقوع پذیر ہو چکا ہے۔ یعنی کم از کم مجھے یقین آ جائے کہ ایسا ہوا، چنانچہ اسی بنا پر میرا اصول ہے کہ ’’جو دیکھو وہ لکھو اور جو دکھائی دے وہ لکھو۔‘‘ ورنہ مت لکھو۔ یہی وجہ ہے کہ میرے تمام افسانوں کے ہیرو بفضلہٖ بقید حیات ہیں اور قریب قریب سب خفا ہیں اور میں نے کسی کو نہیں چھوڑا ہے، نہ چھوٹوں کو نہ بڑوں کو۔ میری سمجھ میں آج تک نہ آیا کہ افسانہ لکھنے میں مشکل ہی کیا پڑتی ہے۔ یہی حال کم و بیش ناولوں کا ہے اور آج مجھے پیٹ کا دھندا نہ ہوتا اور کوئی شارٹ ہینڈ لکھنے والا مل جائے تو روز دو یا کم از کم ایک ناول لے لیجیے۔ ثبوت اس کا یہ کہ آئیے سامنے میں فی البدیہ افسانہ بولتا ہوں۔ ہمت ہو تو لکھئے۔\n\nچنانچہ سوائے دو ایک تخلیقی افسانوں کو چھوڑ کر جیسا کہ میرا افسانہ ’’سوانہ کی روحیں‘‘ ہے، بقیہ ہر ایک افسانے کے بارے میں عرض ہے کہ مجھ سے پوچھ لیجیے کہ ہیرو اور خاص کیریکٹر کون ہیں اور کہاں کا واقعہ ہے۔ لفظ ’’ہرایک‘‘ پر غور کیجیے گا۔ یہ دعویٰ خیالی نہیں ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ بعض کا جواب تحریری نہیں دے سکتا، زبانی دوں گا مگر جن کا تحریری نہیں دے سکتا ان کا دوسرا ناقابل تردید ثبوت موجود ہے۔\n\nمیں افسانہ لکھتا ہوں تو اس میں اتنی کاٹ پھانس ہوتی ہے کہ کاتب ہی خوب جانتے ہیں۔ سطریں اور بعض اوقات آدھے صفحے مقدم و مؤخر کرنے کے سبب جگہ جگہ چپکانے پڑتے ہیں اور میری دانست میں میری افسانہ نگاری کا دار و مدار واقعات کے رد و بدل اور تسلسل میں ہے اور میری دانست میں افسانہ بعض واقعات کے تسلسل میں تقدم و تاخر کی ترکیب سے بنتا ہے، میرے افسانوں میں سارا کھیل اسی کا ہوتا ہے۔\n\nاب ظاہر ہے کہ جب حقیقت یہ ٹھہری تو نہ تو میرے اوپر الہامی حالت طاری ہوتی ہے اور نہ دل کش منظر اثر رکھتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لیجیے کہ چیف کورٹ کے کمرے میں بیٹھے، اردگرد وکیل جمع ہیں، روبرو چیف جسٹس کسی مقدمے میں منہمک ہیں، اور بے کار بیٹھے یہاں کسی مسل مقدمہ کے خالی ورق پر کسی افسانے کے پلاٹ کی پچی کاری ہو رہی ہے۔ یا پلاٹ قلم بند ہو رہا ہے۔ اردو پڑھنے والا کوئی آیا تو چھپا لیا۔ ورنہ یہی سمجھتے ہیں کہ یہ کچھ اپنا کام کرتا ہوگا۔ ایک مرتبہ ایک اپیل کے کاغذ پر افسانے کا پلاٹ لکھ گیا۔ دوسری طرف عذرات اپیل تھے۔ اپیل مع افسانہ پیش ہوگئی۔ بہت تلاش کیا نہ ملا۔ عرصے بعد ایک دفعہ اسی مسل کا معائنہ کرنا پڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اپیل کی پشت پر افسانہ موجود ہے۔\n\nیہ ہے میری افسانہ نویسی کی حقیقت کہ جو سنا اور دیکھا اس میں جوڑ توڑ کر کے رد و بدل کر کے لکھ دیا اور غالباً یہی وجہ میری نام نہاد کامیابی کا باعث ہوئی۔ ذرا غور کیجئے کہ نہ میں نے کبھی افسانے پڑھے تھے، نہ شوق تھا۔ ایک صاحب افسانے پڑھنے لگے، میں نے منع کیا کہ کیا فضولیات پڑھا کرتے ہو۔ واہیات ہے۔ انہوں نے زبردستی سنایا اور تعریف کی، میں نے کہا لا حول و لا قوۃ۔ ہم ایسے خود دس لکھ دیں۔ بحث ہوئی اور یہ طے ہوا لکھو۔ منٹوں میں ایک لکھ دیا۔ پہلے انہوں نے کہا خراب ہے مگر بعض نے کہا اچھا ہے۔ پھر کہا کہیں پڑھا اور یاد ہوگا۔ لہٰذا دو اور لکھ دیے اور ان دو میں سے دوسرا افسانہ وہ ہے جو ’’انگوٹھی کی مصیبت‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔\n\nشائع ہونے کو جو بھیجے تو معلوم ہوا کہ عموماً بیشتر سنائے ہوئے جو افسانے لکھتا ہوں تو کوئی بھی (خواہ وہ قابل ہو خواہ ناقابل) برا بتادے تو پھاڑ کر پھینک دیتا ہوں۔ کوئی ایڈیٹر افسانہ واپس کردے تو بہت شکریہ ادا کرتا ہوں اور پھاڑ ڈالتا ہوں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی دلچسپ واقعہ ہم سنائیں اور لوگ پسند نہ کریں۔ لہٰذا صاف ثابت ہے کہ ضرور یہ خراب افسانہ ہے۔ افسانہ لکھ کر تو بہت جلد تیار ہو جاتا ہے لیکن بعد تیاری، رد و بدل اور تقدم و تاخر اور کاٹ پھانس اور عبارت کی تصحیح اور الفاظ کی اور جملوں کی درستی کالا متناہی سلسلہ ایسا شروع ہوتا ہے کہ اگر افسانہ پڑا رہے تو مہینوں اس میں پچی کاری ہوتی رہے گی لیکن میری بہترین چیز عموماً اس پچی کاری کی محتاج کم رہی ہے۔\n\nافسانہ لکھتے وقت میں اکثر رک کر مکالمے کو خود بولنے لگتا ہوں۔ یہ تنہائی میں ہوتا ہے۔ اور کوئی صاحب دیکھ پاتے ہیں تو ہنستے ہیں۔ عموماً افسانے آپ بیتی کے طرز پر لکھتا ہوں۔ یہ بھی خیال رکھتا ہوں کہ حتی الوسع افسانے میں نام نہ آئیں، خواہ وہ اشخاص ہوں خواہ مقامات۔ اس کا بھی خیال رکھتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے ’’افراد افسانہ‘‘ یعنی وہ شخص جن کا میں افسانوں میں ذکر کروں بہت کم ہوں۔ یہی سبب ہے کہ میرے ناولوں میں اکثر اوقات صرف ایک یا دو نام ملیں گے۔ اردو ادب کی خدمت کا جذبہ ضرور رکھتا ہوں۔ زبان کی صحت یا عدم صحت کی طرف دنیا کی کوئی قوت توجہ نہیں دلا سکتی۔ بعد میں درستی کر کے زبان ٹھیک ہوسکتی ہے مگر جو افسانہ دیر تک قبضے میں نہیں رہتا اس میں زبان کی غلطیاں رہ جاتی ہیں۔ کبھی یہ خیال نہیں رکھتا کہ افسانے سے کوئی نصیحت یا نتیجہ برآمد کروں۔ حتی الوسع مولویوں اور قوم کے لیڈروں کا ہاتھ بٹانے سے گریز کرتا ہوں اور اصلاح قوم یا اصلاح مذہب کے لیے افسانہ لکھنا گناہ کبیرہ سمجھتا ہوں۔\n\nافسانہ لکھتے وقت تمام تر توجہ اس پر رکھتا ہوں کہ افسانہ خواہ مفید ہو یا نہ ہو، دلچسپ ضرور ہو۔ لکھتے وقت لیلیٰ و مجنوں اور شیریں و فرہاد کے واقعات پیش نظر رکھتا ہوں تا کہ ان سے افسانہ بچا رہے۔ حتی الوسع عشق اور محض عشق پر اپنے معاشرتی افسانہ کی بنیاد نہیں رکھتا۔ چونکہ جو دیکھتا ہوں وہی لکھتا ہوں۔ اس وجہ سے شادی سے پیشتر والا عشق میرے افسانوں میں کمزور اور مفقود ہے کیونکہ کم از کم میں نے نہیں دیکھا ہے اور سنا ہوا لکھنے سے رہا۔ عشق بعد از شادی خوب دیکھا ہے لہٰذا مجبوراً جہاں اور لوگ ناول ختم کرتے ہیں وہاں سے میں شروع کرتا ہوں یعنی شادی کے بعد۔ افسانہ میں چاشنی ہی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ لکھنے میں اس کا خیال رکھتا ہوں کہ پڑھنے والا ہیرو ہیروئن کی جھلک سے زیادہ نہ دیکھنے پائے۔ لہٰذا صورت اور شکل کی تفصیل نہیں دیتا۔\n\nمعاشرتی افسانوں میں حتی الوسع واقعات اپنے گرد و پیش ہی سے لیتا ہوں اور افسانے کی صورت میں رد و بدل کے سبب نوبت یہ پہنچی کہ بعض نے مستقل طور پر مجھ سے کنارہ کشی کرلی کہ میں نے ان پر ’’الزام‘‘ دیئے۔ یعنی افسانہ جو لکھا تو اس میں کہیں فرضی خط بڑھانا پڑا، کہیں زبان سے کچھ کہلوانا پڑا اور حضرات ہیں کہ برہم ہیں، اکثر حضرات افسانے کو کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر چوٹ کی ہے۔\n\nیورپین مصنفین کے افسانے یا ناول میں نے کبھی نہیں پڑھے۔ مختصر افسانے دوچار جو ترجمہ ہوکر رسالوں میں چھپے ہیں وہ البتہ پڑھے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی جب میں نے دیکھا کہ چیخوف کے ایک افسانے کا پلاٹ ہو بہو میرے افسانے کے پلاٹ سے لڑ گیا۔ در حالیکہ میرا افسانہ نہیں بلکہ آپ بیتی کا واقعہ تھا کہ ایک یکے والے لونڈے کو خوب راستے میں ڈرایا۔ سڑک پر راستے میں اترے جو سہی اور ذرا آگے گئے تو وہ تمام بستر اور ضروری سامان لے کر بھاگ گیا اور بیس میل پیدل چل کر گھر واپس آنا پڑا۔ روسی قصے میں اسی طرح ڈر کر گاڑی بان جنگل میں گاڑی چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔ کسی یورپین قصے یا افسانے کا پلاٹ لے کر میں کبھی نہیں لکھتا اور نہ کوئی لکھ سکتا ہے کیونکہ اس میں محنت اور زیادہ قابلیت کی ضرورت ہے۔\n\nاڈیٹر کی رائے میں ضرورت سے زیادہ وقعت کرتا ہوں اور ان کے فیصلے کو عموماً اٹل سمجھتا ہوں۔ میں یہ کبھی نہیں کرتا کہ اس ایڈیٹر کی ناپسند چیز اس اڈیٹر کو بھیج دی۔ عموماً اسے پھاڑ ڈالتا ہوں۔ ردی اور زٹیل افسانے اکثر لکھتا ہوں کہ جو کہیں آپ دیکھ پائیں تو اپنا اور میرا سر لڑا دیں۔ بہت سے ان میں سے شائع ہوگئے اور بہت سے شائع ہونے سے بال بال بچے۔ لہٰذامیں تو یہ کہتا ہوں کہ افسانہ نگاری نہیں، میں تو وقائع نگاری کرتا ہوں، یہ زمانہ غپ شپ اور قصہ کہانیوں کا نہیں ہے۔ شاعری کرنا ہے تو افسانوں کو چھوڑیے اور افسانہ نویسی مت کیجیے۔ نقاشی مت کیجیے بلکہ فوٹو گرافی کیجیے ورنہ آپ کی نقاشی کے ایک سے ایک بڑھ کر نمونے اور بیل بوٹے فوٹو گرافر کی ایک کھنڈر کی تصویر سے قربان کر دیے جائیں گے۔\n\nیورپ کی افسانہ نگاری کا عروج اسی میں ملتا ہے اور اگر آج نئی پود اپنی افسانہ نویسی میں سے گل و بلبل نکال پھینکے اور سیدھے وقائع نگاری پر آ جائے تو ناممکن ہے کہ ہم یورپین افسانہ نگاروں سے نہ بڑھ جائیں کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ دلچسپ واقعات روس میں تو ہوتے ہوں مگر ہندوستان میں نہیں ہوتے۔ بلکہ میں کہتا ہوں کہ چونکہ ہندوستان میں سیکڑوں مذہب، رسمیں، قومیں، زبانیں، روس اور فرانس سے کہیں زیادہ اقسام کی ذہنیتیں موجود ہیں، قدم قدم پر طرح طرح کے قانون ہیں، لہٰذا بہ نسبت روس اور فرانس کے ہندوستان کی معاشرت ایسے ایسے تماشے کے واقعات پیش کرتی ہے کہ جن کے عجیب و غریب پلاٹ دوسری جگہ مرتب ہونا ممکن ہی نہیں۔\n\nذرا غور فرمائیے کہ ایک بڑے گہرے دوست کے سالے صاحب کسی گاؤں سے ہفتہ وار اخبار نکالتے ہیں تو یہ لکھتے ہیں کہ زیادہ نہیں صرف مہینے میں آٹھ افسانے لکھنا پڑیں گے مگر مزاحیہ ہوں۔ یعنی دو افسانے ہر اشاعت میں ہوں گے۔ ایک دوسرے عزیز لکھتے ہیں کہ لیجیے۔۔۔ رسالہ جاری ہو گیا (اس کے جاری ہوتے ہی مجھے شادئی مرگ نہیں ہوئی) ویسے تو میں آپ کو خط نہ لکھتا، پر اب لکھتا ہوں۔ نتیجہ ظاہر ہے اگر خطوط کے جواب دئیے جائیں تو فوراً پکڑے جائیں۔\n\nمندرجہ بالا تحریر سے میری دانست میں معلوم ہو گیا ہوگا کہ میں افسانہ کیسے لکھتا ہوں۔ اپنے مشاغل اور مجبوریوں کا میں نے اس وجہ سے ذکر کیا تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ باتیں کس طرح میری تحریروں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ زمانۂ بے کاری کے وہ افسانے جو شروع چھ مہینے میں لکھے گئے ان سے بہتر میں کبھی نہ لکھ سکا۔ گویا افسانہ نگاری کے لیے میں بے کاری ضروری سمجھتا ہوں۔ اپنی دانست میں افسانہ لکھنے سے متعلق میں نے کوئی بات اس مضمون میں نہیں چھوڑی ہے اور خوب واضح کر دیا ہے کہ میں افسانہ کیسے لکھتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ اس مضمون کو پڑھ کر ایک مبتدی شاید کچھ فائدہ حاصل کر سکے۔ اسی کے ضمن میں اپنے کچھ خیالات عرض کرتا ہوں۔\n\n(۱) میں افسانے کو ختم کرنے کی الجھن میں کبھی نہیں پڑتا۔ بعض واقعے صرف آدھے دیکھنے میں آتے ہیں اور بقیہ اپنی طرف سے جوڑنے کی مہلت نہیں۔ لہٰذا جوں کا توں لیجیے اور ختم کے بارے میں جیسا میں مخمصے میں پھنسا رہ گیا آپ بھی پھنسے رہیے۔\n\n(۲) بغیر بیان کیے جو افسانہ لکھتا ہوں تو درجنوں صفحوں پر دیکھ لیجئے کہ شروع کیا مگر نہ ہوا۔ تھوڑا لکھا اور چھوٹ گیا۔ اور بسا اوقات کھو گیا۔\n\n(۳) میں اپنے افسانے میں ’’پھر کیا ہوا؟‘‘ کا جواب بند کرنے کی کبھی کوشش نہیں کرتا۔ قصہ اس موقع پر لا کر چھوڑ دیتا ہوں کہ نتیجہ خود پڑھنے والا سمجھ لے کہ کیا ہوا۔ لوگ اس حرکت پر خفا ہوتے ہیں، تو بعض جگہ تعمیلِ حکم کی صورت میں نتیجہ موجود ہے۔\n\n(۴) افسانے میں بائرن کا مقررانہ جوش لانا پسند کرتا ہوں اور کیٹس کی حسن و عشق کی گرمی واقعات سے پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ آغا حشر کے تھیٹریکل رنگ سے دور رہتا ہوں مگر آغا حشر کی ڈرامائی کیفیت، وہ بھی خفیف سی، افسانے میں پیدا کرنا پسند کرتا ہوں۔\n\n(۵) افسانے میں مزاحیہ نگاری واقعات سے پیدا کرنے سے لطف آتا ہے، مگر زبردستی نہیں کرتا۔ کرتا ہوں تو ناکام ہوتا ہوں اور چیز کمزور اور خراب ہو جاتی ہے۔\n\n(۶) پریم چند کو پہلا فوٹو گرافر سمجھتا ہوں کہ جہاں تک موجودہ دور کی افسانہ نگاری کا تعلق ہے۔ ورنہ کیمرے کو پہلا اٹھانے والا سوائے ڈاکٹر نذیر احمد کے کوئی نہیں۔\n\n(۷) شرر کے تضییع اوقات سے مجھے ہمیشہ ہمدردی رہی، مگر بڑے برے فوٹو گرافر اور بہت اچھے افسانہ نویس۔ ادب میں استاد۔\n\n(۸) جاسوسی ناولوں کے پڑھنے اور لکھنے سے دم الٹتا ہے اور وہ بھی ایسا کہ ایک طویل قصہ لکھا ہے جو پڑا سڑ رہا ہے۔\n\n(۹) معاشرت کی تمام خرابیوں کا ذمہ دار مولویوں کو خیال کرتا ہوں۔ افسانے کی ہر برائی کی جڑ آخر میں ان ہی سے ملاتا ہوں۔ مولوی سے مراد حضرات علمائے کرام سے نہیں، بلکہ جاہل مولوی۔\n\n(۱۰) میرے افسانوں میں کوئی باغ، مکان یا دوکان یا چھت یا جنگل، جو بھی ہے وہ خود میری آنکھوں سے دیکھا ہوا ہے۔ کوئی شے خیالی نہیں۔\n\n(۱۱) افسانوں میں عشق و محبت کی گرمی اور جذبات خود میرے اپنے مشاہدے اور تجربے میں آئے ہوئے ہوتے ہیں۔ حسن وہ ہے جو میں نے دیکھا ہے اور محبت وہ ہے جو خود میں نے دیکھی اور سمجھی ہے اور عورت وہ ہے جسے میں نے خود دیکھا اور سمجھا ہے۔ اپنے افسانوں میں حسن دیکھتا ہوں، دکھاتا نہیں ہوں۔\n\n(۱۲) مکالمہ وہ ہے جو خود میں نے کیا ہے۔ حتی کہ بعض مواقع پر لکھنے سے قبل خود بول کر اور جواب لے کر دیکھ لیا ہے کہ ایسے مواقع پر کیا لفظ میرے منہ سے نکلے، نکل سکنے کا سوال نہیں، واقعی کیا نکلے اور نکلا کرتے ہیں۔ ممکن الوقوع باتوں ہی نے افسانہ نویسی کو بگاڑا ہے۔ یہاں تو شرط ہے کہ وقوع پذیر ہو چکا ہو اور میرے علم میں ہو۔\n\n(۱۳) سینما عمر میں صرف تین مرتبہ دیکھا ہے۔ بغدادی چور اور کنگ کانگ اور ایک مرتبہ ایامِ جہالت میں کوئی مزاحیہ تماشہ دیکھا ہے۔ بغدادی چور کانپور میں ایک دوست نے پکڑ لیا تب دیکھا اور پھر اسی کو دوبارہ کالج میں نمائش کے موقع پر دیکھا، جب سب لڑکے بلوہ کر کے مفت دیکھنے گھس پڑے۔ ہم بھی مفت کی کھیر سمجھ کر گھس پڑے مگر آدھا دیکھ کر بھاگنے لگے کہ معلوم ہوا کہ نرم اور گرم دل بھی یہیں ہے۔ لہٰذا پھر دیکھا۔ کنگ کانگ اب دیکھا۔ بولتا ہوا سینما، یعنی ٹاکی، صرف دو دفعہ دیکھا ہے۔ تھیٹر عمر میں ایک دفعہ دیکھا اور ایسی نفرت ہوئی کہ وہی نفرت سینما سے بھی روکے ہوئے ہے۔ تھیٹر میں آغا حشر کا ’’اسیر حرص‘‘ دیکھا تھا۔\n\n(۱۴) عشاق سے للٰہی بغض ہے۔\n\n(۱۵) اپنے افسانے کی عورتوں کو حتی الوسع معمولی عورتوں سے بڑھنے یا گرنے نہیں دیتا۔ اگر بڑھی یا گھٹی ہوئی دیکھنے میں آئے تو حتی الوسع اس کا قصہ چھوڑ دوں گا کیونکہ ایسی صورت میں افسانہ طویل ہو جاتا ہے۔\n\n(۱۶) حتی الوسع قصے کو اپنی مرضی پر نہیں لے جاتا۔ امکانات اور ممکن الوقوع باتوں سے دور اور خائف سا رہتا ہوں۔\n\n(۱۷) میرا تجربہ ہے کہ کسی واقعہ پر اگر افسانہ لکھا جائے اور قاعدے سے لکھا جائے تو ضرورت ہے کہ لکھنے کے بعد اسے دس دفعہ الٹے پلٹے۔ دس دفعہ زبانی اور ویسے سنایا جائے۔ زبانی اور تحریری سنانے میں فرق جو نکلے تو زائد الا بلا تحریر میں سے پھر چھانٹ کر پھینک دے۔ اس طرح کرنے سے وہی پلاٹ اور وہی قصہ عجیب و غریب طریقے پر مٹی سے سونا ہو جاتا ہے۔ اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس نے مجھے ایسا کرتے دیکھا یا خود اپنے افسانے کے ساتھ کر کے دیکھ لے۔ دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ صرف کہیں سطریں اِدھر کی اُدھر، کہیں سے کچھ غائب تو کہیں کچھ زائد۔\n\n(۱۸) معاشرتی افسانہ لکھنے کے لیے اور تحریر میں پاکیزگی کے لیے میری دانست میں افسانہ نویس کا کوئی صحیح مرکز عشق و محبت بھی ہونا چاہیے تاکہ اس کی عشقیہ تحریروں میں اور محبت کی داستانوں میں عشق بازاری نہ نظر آئے اور شریف مکانوں میں چکلے کی معاشرت نہ پیدا ہو جائے۔\n\n(۱۹) بعض لوگ، میری طرح، جو دیکھتے ہیں وہ لکھتے ہیں۔ جہاں تک لکھنے کا تعلق ہے، صحیح لکھتے ہیں مگر دشواری یہ کہ گھر انہوں نے دیکھے نہیں اور چکلہ بار بار دیکھا ہے۔\n\n(۲۰) ایک بدچلن افسانہ نویس جس کے حسن و عشق کا کوئی صحیح مرکز ہی نہیں، میری دانست میں، جہاں تک افسانہ نگاری اور معاشرتی افسانوں کا تعلق ہے، سوائے بیہودگی کے کچھ نہ لکھ سکے گا۔\n\n(۲۱) پڑھے لکھے سورما نقادوں سے زیادہ قابل اعتبار اور بھروسے کا نقاد ان کاروباری دوست احباب کو سمجھتا ہوں جس کو زبانی قصہ سناؤں اور اس پر وہ تنقید کریں۔ میں نے اپنے افسانوں کو تنقید و تنقیص کے لیے ہمیشہ ان ہی کو کام کا آدمی پایا۔ لہٰذا میں کبھی کسی کی تنقید سے اچھا یا برا اثر نہیں لیتا۔ بس دوستوں سے تبادلہ خیال کرتا ہوں اور اسی کو بہترین تنقید سمجھتا ہوں۔\n\nمندرجہ بالا باتوں میں سے ممکن ہے کہ کچھ یا سب غلط ہوں اور میں جہالت میں مبتلا ہوں۔ یہاں یہ مسئلہ زیربحث نہیں ہے۔ یہاں تو مندرجہ بالا خیالات و رجحانات، صحیح یا غلط اس لیے بتائے ہیں کہ آپ معلوم کر سکیں کہ میں افسانہ کیسے لکھتا ہوں کیونکہ یہ تمام باتیں ہی ایسی ہیں جو اپنے طریقے پر افسانے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں کہ ایک ہی پلاٹ پر میں لکھوں گا تو اور چیز بن جائے گی اور آپ لکھیں گے تو دوسری چیز بن جائے گی۔ انہیں خیالات و رجحانات سے میرے افسانے کی ترتیب و تعمیر ہوتی ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA%D8%9F"} {"title": "میں افسانہ کیونکر لکھتا ہوں", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "معزز خواتین و حضرات!\n\nمجھ سے کہا گیا ہے کہ میں یہ بتاؤں کہ میں افسانہ کیونکر لکھتا ہوں۔ یہ ’کیونکر‘ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ ’کیونکر‘ کے معانی لغت میں تو یہ ملتے ہیں۔ کیسے اور کس طرح؟ اب آپ کو کیا بتاؤں کہ میں افسانہ کیونکر لکھتا ہوں۔ یہ بڑی الجھن کی بات ہے، اگر میں ’کس طرح‘ کو پیش نظر رکھوں تو یہ جواب دے سکتا ہوں کہ اپنے کمرے میں صوفے پر بیٹھ جاتا ہوں کاغذ قلم پکڑتا ہوں اور بسم اللہ کر کے افسانہ لکھنا شروع کر دیتا ہوں۔ میری تین بچیاں شور مچا رہی ہوتی ہیں۔ میں ان سے باتیں بھی کرتا ہوں، ان کی باہم لڑائیوں کا فیصلہ بھی کرتا ہوں، اپنے لئے ’سلاد‘ بھی تیار کرتا ہوں، کوئی ملنے والا آ جائے تو اس کی خاطر داری بھی کرتا ہوں، مگر افسانے لکھے جاتا ہوں۔ اب ’کیسے‘ کا سوال آئے تو میں یہ کہوں گا کہ میں ویسے ہی افسانہ لکھتا ہوں جس طرح کھانا کھاتا ہوں،غسل کرتا ہوں، سگریٹ پیتا ہوں اور جھک مارتا ہوں۔ اگر یہ پوچھا جائے کہ میں افسانہ کیوں لکھتا ہوں، تو اس کا جواب حاضر ہے۔۔۔\n\nمیں افسانہ اول تو اس لئے لکھتا ہوں کہ مجھے افسانہ نگاری کی شراب کی طرح لت پڑ گئی ہے۔ میں افسانہ نہ لکھوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں نے کپڑے نہیں پہنے، یا میں نے غسل نہیں کیا، یا میں نے شراب نہیں پی۔ میں افسانہ نہیں لکھتا۔ حقیقت یہ ہے کہ افسانہ مجھے لکھتا ہے۔ میں بہت کم پڑھا لکھا آدمی ہوں۔ یوں تو میں نے بیس سے اوپر کتابیں لکھی ہیں، لیکن مجھے بعض اوقات حیرت ہوتی ہے کہ یہ کون ہے جس نے اس قدر اچھے افسانے لکھے ہیں، جن پر آئے دن مقدمے چلتے رہتے ہیں۔ جب قلم میرے ہاتھ میں نہ ہو تو میں صرف سعادت حسن ہوتا ہوں، جسے اردو آتی ہے نہ فارسی، انگریزی نہ فرانسیسی۔ افسانہ میرے دماغ میں نہیں، جیب میں ہوتا ہے، جس کی مجھے کوئی خبر نہیں ہوتی۔ میں اپنے دماغ پر زور دیتا ہوں کہ کوئی افسانہ نکل آئے، افسانہ نگار بننے کی بھی بہت کوشش کرتا ہوں۔ سگریٹ پہ سگریٹ پھونکتا ہوں مگر افسانہ دماغ سے باہر نہیں نکلتا۔ آخر تھک ہار کر بانجھ عورت کی طرح لیٹ جاتا ہوں۔\n\nان لکھے افسانے کے دام پیشگی وصول کر چکا ہوتا ہوں، اس لئے بڑی کوفت ہوتی ہے۔ کروٹیں بدلتا ہوں۔ اٹھ کر اپنی چڑیوں کو دانے ڈالتا ہوں۔ بچیوں کو جھولا جھلاتا ہوں۔ گھر کا کوڑا کرکٹ صاف کرتا ہوں۔ جوننھے منے جوتے گھر میں جابجا بکھرے ہوتے ہیں اٹھا کر ایک جگہ رکھتا ہوں۔۔۔ مگر کمبخت افسانہ جو میری جیب میں پڑا ہوتا ہے، میرے ذہن میں نہیں اترتا۔۔۔ اور میں تلملاتا رہتا ہوں۔ جب بہت زیادہ کوفت ہوتی ہے تو باتھ روم میں چلا جاتا ہوں، مگر وہاں سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ سنا ہوا ہے کہ ہر بڑا آدمی غسل خانے میں سوچتا ہے، لیکن مجھے تجربے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ میں بڑا آدمی نہیں، اس لئے کہ میں غسل خانے تک میں نہیں سوچ سکتا۔۔۔ لیکن حیرت ہے کہ پھر بھی میں پاکستان اور ہندوستان کا بہت بڑا افسانہ نگار ہوں۔ میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ یا تو میرے نقادوں کی خوشی فہمی ہے، یا میں ان کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہوں۔ ان پر کوئی جادو کر رہا ہوں۔\n\nمعاف کیجئے گا، میں غسل خانے میں چلا گیا۔۔۔ قصہ یہ ہے کہ میں خدا کو حاضر ناظر رکھ کے کہتا ہوں کہ مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ میں افسانہ کیونکر لکھتا ہوں اور کیسے لکھتا ہوں۔ اکثر اوقات ایسا ہوا ہے کہ جب میں زچ بچ ہو گیا ہوں، تو میری بیوی نے مجھ سے یہ کہا ہے، ’’آپ سوچئے نہیں، قلم اٹھایئے اور لکھنا شروع کر دیجئے۔‘‘ میں اس کے کہنے پر قلم یا پنسل اٹھاتا ہوں اور لکھنا شروع کر دیتا ہوں۔۔۔ دماغ بالکل خالی ہوتا ہے، لیکن جیب بھری ہوتی ہے۔ خود بخود کوئی افسانہ اچھل کے باہر آ جاتا ہے۔ میں خود کو اس لحاظ سے افسانہ نگار نہیں، جیب کترا سمجھتا ہوں، جو اپنی جیب خود ہی کاٹتا ہے اور آپ کے حوالے کر دیتا ہے۔۔۔ مجھ ایسا بھی بے وقوف دنیا میں کوئی اور ہوگا؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں\nچل نکلتے جو مے پیے ہوتے\n\nقہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہو\nکاش کے تم مرے لیے ہوتے\n\nمیری قسمت میں غم گر اتنا تھا\nدل بھی یارب کئی دیے ہوتے\n\nآ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔ\nکوئی دن اور بھی جیے ہوتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں\nگر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا؟\n\nہے ایک تیر جس میں دونوں چھِدے پڑے ہیں\nوہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا\n\nدرماندگی میں غالبؔ کچھ بن پڑے تو جانوں\nجب رشتہ بے گرہ تھا، ناخن گرہ کشا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%B4%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A4%DA%BA"} {"title": "میں اور توُ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "مذاقِ دید سے ناآشنا نظر ہے مری\nتری نگاہ ہے فطرت کی راز داں، پھر کیا\n\nرہینِ شکوۂ ایّام ہے زبان مری\nتری مراد پہ ہے دَورِ آسماں، پھر کیا\n\nرکھا مجھے چمن آوارہ مثلِ موجِ نسیم\nعطا فلک نے کِیا تجھ کو آشیاں، پھر کیا\n\nفزوں ہے سُود سے سرمایۂ حیات ترا\nمرے نصیب میں ہے کاوشِ زیاں، پھر کیا\n\nہوا میں تیرتے پھرتے ہیں تیرے طیّارے\nمرا جہاز ہے محرومِ بادباں، پھر کیا\n\nقوی شدیم چہ شد، ناتواں شدیم چہ شد\nچنیں شدیم چہ شد یا چناں شدیم چہ شد\n\nبہیچ گونہ دریں گلستاں قرارے نیست\nتوگر بہار شدی، ما خزاں شدیم، چہ شد", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D9%88%D9%8F"} {"title": "میں اور ہم آغوش ہوں اس رشک پری سے", "poet_page": "مصنف:رنجور عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں اور ہم آغوش ہوں اس رشک پری سے\nکب اس کی توقع مجھے بے بال و پری سے\n\nجاگیں گے نصیب اپنے نہ آہ سحری سے\nآگاہ ہیں اس آہ کی ہم بے اثری سے\n\nہے وصل کی خواہش تجھے اس رشک پری سے\nحیراں ہوں میں اے دل تری بیہودہ سری سے\n\nایمان میں زاہد کے بھی آ جائے تزلزل\nدیکھے جو مرا بت اسے کافر نظری سے\n\nان آنکھوں کے رستے سے مرے دل میں چلے آئے\nاس طرح غرض پہنچے وہ خشکی میں تری سے\n\nقاصد سے نہ برداشت ہوئے ان کے مظالم\nباز آیا وہ آخر مری پیغامبری سے\n\nآنچل کی ہوا دے کوئی اس غنچۂ دل کو\nوا ہو نہیں سکتا یہ نسیم سحری سے\n\nیہ شیشۂ دل دیں تو ہم اے طفل پری رو\nپر اس میں نہ بال آئے تری بے ہنری سے\n\nہوش اڑ گئے جاتا رہا قابو سے دل اپنا\nآنکھیں جو مری چار ہوئیں ایک پری سے\n\nکب ہاتھ اٹھا کر میں دعا وصل کی مانگوں\nفرصت ہے جنوں میں کب انہیں جامہ زری سے\n\nبازو بھی ہلائے بہت اور پاؤں بھی پٹکے\nپر اڑ نہ سکی چال تری کبک دری سے\n\nرنجورؔ نہ ہوگا مرض عشق سے جاں بر\nاے چارہ گر اب ہاتھ اٹھا چارہ گری سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%BA%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92"} {"title": "میں اورتُو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "نہ سلیقہ مجھ میں کلیِم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا\nمیں ہلاکِ جادوئے سامری، تُو قتیلِ شیوۂ آزری\n\nمیں نوائے سوختہ در گُلو، تو پریدہ رنگ، رمیدہ بُو\nمیں حکایتِ غمِ آرزو، تُو حدیثِ ماتمِ دلبری\n\nمرا عیش غم، مرا شہد سم، مری بود ہم نفَسِ عدم\nترا دل حرم، گِرَوِ عجم، ترا دیں خریدۂ کافری\n\nدمِ زندگی رمِ زندگی، غمِ زندگی سمِ زندگی\nغمِ رم نہ کر، سمِ غم نہ کھا کہ یہی ہے شانِ قلندری\n\nتری خاک میں ہے اگر شرر تو خیالِ فقر و غنا نہ کر\nکہ جہاں میں نانِ شعیر پر ہے مدارِ قوّتِ حیدری\n\nکوئی ایسی طرزِ طواف تُو مجھے اے چراغِ حرم بتا!\nکہ ترے پتنگ کو پھر عطا ہو وہی سرشتِ سمندری\n\nگِلۂ جفائے وفا نما کہ حرم کو اہلِ حرم سے ہے\nکسی بُت کدے میں بیاں کروں تو کہے صنم بھی ’ہَری ہَری‘\n\nنہ ستیزہ گاہِ جہاں نئی نہ حریفِ پنجہ فگن نئے\nوہی فطرتِ اسَداللّہی، وہی مرحبی، وہی عنتری\n\nکرم اے شہِؐ عَرب و عجم کہ کھڑے ہیں منتظرِ کرم\nوہ گدا کہ تُو نے عطا کِیا ہے جنھیں دماغِ سکندری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%AA%D9%8F%D9%88"} {"title": "میں اٹھا رکھوں نہ کچھ ان کے لیے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں اٹھا رکھوں نہ کچھ ان کے لیے\nیہ حسیں مل جائیں دو دن کے لئے\n\nوعدۂ فردا کے سچے مل گئے\nاب اٹھا رکھوں میں کس دن کے لئے\n\nکل کے وعدے پر نہ دے وہ مے فروش\nجس نے توڑے ہم سے گن گن کے لئے\n\nقورمہ مرغ سحر کا وصل میں\nبھیج دیتا ہوں موذن کے لئے\n\nیہ نہ کہنے کو ہو بے گنتی دیئے\nمیں نے بوسے ان کے گن گن کے لیے\n\nمنہ جھلسنے کو خزاں کا عندلیب\nآشیاں میں بیٹھے ہیں تنکے لئے\n\nمے کشو واعظ مرے سر ہو گیا\nکوئی تدبیر اس پڑھے جن کے لیے\n\nیہ ریاضؔ ان کے بہت تھے منہ لگے\nاٹھ رہا کیا آج کچھ دن کے لیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "میں اپنے دست پر شب خواب میں دیکھا کہ اخگر تھا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں اپنے دست پر شب خواب میں دیکھا کہ اخگر تھا\nسحر کو کھل گئی جب آنکھ میرا ہاتھ دل پر تھا\n\nنہ تھی تا صبح کچھ حاجت چراغ و شمع و مشعل کی\nہماری بزم میں شب جلوہ گر وہ ماہ پیکر تھا\n\nتری اک جنبش ابرو سے عالم ہو گیا ضائع\nنظر کر جس طرف دیکھا تو جو دھڑ تھا سو بے سر تھا\n\nتو اس رفتار و قد سے جس طرف گزرا مرے صاحب\nترے فیض قدم سے ہر قدم سرو و صنوبر تھا\n\nنہ تھی پرواز کی طاقت سر دیوار گلشن تک\nکہ جو طائر تھا سو صیاد کے ہاتھوں سے بے پر تھا\n\nچلا جاتا تھا حاتمؔ آج کچھ واہی تباہی سا\nجو دیکھا ہاتھ میں اس کے ترے شکوے کا دفتر تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%B4%D8%A8_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%AE%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "میں اپنے کفن کا سینے والا نکلا", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "میں اپنے کفن کا سینے والا نکلا\nہر سانس میں مر کے جینے والا نکلا\nمائلؔ کیا ہوش کی یہی باتیں ہیں\nصوفی سمجھا تو پینے والا نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%81%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے\nپر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے\n\nباندھو اب چارہ گرو چلے کہ وہ بھی شاید\nوصل دشمن کے لیے سوئے مزار آ جائے\n\nکر ذرا اور بھی اے جوش جنوں جنوں خوار و ذلیل\nمجھ سے ایسا ہو کہ ناصح کو بھی عار آ جائے\n\nنام بدبختی عشاق خزاں ہے بلبل\nتو اگر نکلے چمن سے تو بہار آ جائے\n\nجیتے جی غیر کو ہو آتش دوزخ کا عذاب\nگر مری نعش پہ وہ شعلہ عذار آ جائے\n\nکلفت ہجر کو کیا روؤں ترے سامنے میں\nدل جو خالی ہو تو آنکھوں میں غبار آ جائے\n\nمحو دل دار ہوں کس طرح نہ ہوں دشمن جاں\nمجھ پہ جب ناصح بیدرد کو پیار آ جائے\n\nٹھہر جا جوش تپش ہے تو تڑپنا لیکن\nچارہ سازوں میں ذرا دم دل زار آ جائے\n\nحسن انجام کا مومنؔ مرے بارے ہے خیال\nیعنی کہتا ہے وہ کافر کہ تو مارا جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A2%D9%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "میں اگر رونے لگوں رتبۂ والا بڑھ جائے", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں اگر رونے لگوں رتبۂ والا بڑھ جائے\nپانی دینے سے نہال قد بالا بڑھ جائے\n\nجوش وحشت یہی کہتا ہے نہایت کم ہے\nدو جہاں سے بھی اگر وسعت صحرا بڑھ جائے\n\nقمریاں دیکھ کے گلزار میں دھوکہ کھائیں\nطوق منت کا جو اے سرو تمنا بڑھ جائے\n\nہاتھ پر ہاتھ اگر مار کے دوڑوں باہم\nراہ الفت میں قدم قیس سے میرا بڑھ جائے\n\nداغ پر داغ سے اے برقؔ مجھے راحت ہے\nدرد کم ہو تو شب ہجر میں ایذا بڑھ جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%82_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "میں اگر وہ ہوں جو ہونا چاہئے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں اگر وہ ہوں جو ہونا چاہئے\nمیں ہی میں ہوں پھر مجھے کیا چاہئے\n\nغرق خم ہونا میسر ہو تو بس\nچاہئے ساغر نہ مینا چاہئے\n\nمنحصر مرنے پہ ہے فتح و شکست\nکھیل مردانہ ہے کھیلا چاہئے\n\nبے تکلف پھر تو کھیوا پار ہے\nموجزن قطرہ میں دریا چاہئے\n\nتیز غیروں پر نہ کر تیغ و تبر\nآپ اپنے سے مبرا چاہئے\n\nہو دم عرض تجلی پاش پاش\nسینہ مثل طور سینا چاہئے\n\nحسن کی کیا ابتدا کیا انتہا\nشیفتہ بھی بے سر و پا چاہئے\n\nپارسا بن گر نہیں رندوں میں بار\nکچھ تو بیکاری میں کرنا چاہئے\n\nکفر ہے ساقی پہ خست کا گماں\nتشنہ سرگرم تقاضا چاہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "میں برا ہی سہی بھلا نہ سہی", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں برا ہی سہی بھلا نہ سہی\nپر تری کون سی جفا نہ سہی\n\nدرد دل ہم تو ان سے کہہ گزرے\nگر انہوں نے نہیں سنا نہ سہی\n\nشب غم میں بلا سے شغل تو ہے\nنالۂ دل مرا رسا نہ سہی\n\nدل بھی اپنا نہیں رہا نہ رہے\nیہ بھی اے چرخ فتنہ زا نہ سہی\n\nدیکھ تو لیں گے وہ اگر آئے\nطاقت عرض مدعا نہ سہی\n\nکچھ تو عاشق سے چھیڑ چھاڑ رہی\nکج ادائی سہی ادا نہ سہی\n\nکیوں برا مانتے ہو شکوہ مرا\nچلو بے جا سہی بجا نہ سہی\n\nعقدۂ دل ہمارا یا قسمت\nنہ کھلا تجھ سے اے صبا نہ سہی\n\nواعظو بندۂ خدا تو ہے عیشؔ\nہم نے مانا وہ پارسا نہ سہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%81%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "میں بوسہ لوں گا بہانے بتائیے نہ مجھے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں بوسہ لوں گا بہانے بتائیے نہ مجھے\nجو دل لیا ہے تو قیمت دلائیے نہ مجھے\n\nدلوں میں ٹالتے ہو دم نکل ہی جاوے گا\nمیں ناتواں ہوں بہت آزمائیے نہ مجھے\n\nبہت دنوں سے مسیحائی کا ہو دم بھرتے\nمرا ہوا ہوں تمہیں پر جلائیے نہ مجھے\n\nخط آپ بھیجیں گے مجھ کو پتنگ پر لکھ کر\nیہ ڈورے جاتے ہوئے ہیں اڑائیے نہ مجھے\n\nکھلایا چاہیے ہو گل رقیب کے آگے\nیہ گرمی اور سے کیجے جلائیے نہ مجھے\n\nتمہیں رقیب کی خاطر ہے لو میں جاتا ہوں\nاٹھائیے نہ حیا کو بٹھائیے نہ مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%81_%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "میں بھی دنیا میں ہوں اک نالہ پریشاں یک جا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں بھی دنیا میں ہوں اک نالہ پریشاں یک جا\nدل کے سو ٹکڑے مرے پر سبھی نالاں یک جا\n\nپند گویوں نے بہت سینے کی تدبیریں لیں\nآہ ثابت بھی نہ نکلا یہ گریباں یک جا\n\nتیرا کوچہ ہے ستم گار وہ کافر جاگہ\nکہ جہاں مارے گئے کتنے مسلماں یک جا\n\nسر سے باندھا ہے کفن عشق میں تیرے یعنی\nجمع ہم نے بھی کیا ہے سر و ساماں یک جا\n\nکیونکے پڑتے ہیں ترے پاؤں نسیم سحری\nاس کے کوچے میں ہے صد گنج شہیداں یک جا\n\nتو بھی رونے کو ملا دل ہے ہمارا بھی بھرا\nہوجے اے ابر بیابان میں گریاں یک جا\n\nبیٹھ کر میرؔ جہاں خوب نہ رویا ہووے\nایسی کوچے میں نہیں ہے ترے جاناں یک جا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "میں بے نوا اڑا تھا بوسے کو ان لبوں کے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "میں بے نوا اڑا تھا بوسے کو ان لبوں کے\nہر دم صدا یہی تھی دے گزرو ٹال کیا ہے\nپر چپ ہی لگ گئی جب ان نے کہا کہ کوئی\nپوچھو تو شاہ جی سے ان کا سوال کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%A7_%D8%A7%DA%91%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%86_%D9%84%D8%A8%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92"} {"title": "میں تجھے واہ کیا تماشا ہے", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں تجھے واہ کیا تماشا ہے\nذہن میں آشنا تراشا ہے\n\nہاتھ میں رکھیو تو سنبھالے ہوئے\nدل تو میرا یہ سیشا باشا ہے\n\nتو جو تولے ہے میرے من کی چاہ\nکچھ ترے ہاں بھی تولہ ماشہ ہے\n\nکیا کہوں تیری کاوش مژہ نے\nکس طرح سے جگر خراشا ہے\n\nخیر گزرے اثرؔ تو ہے بے باک\nاور وہ شوخ بے تحاشا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%88%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "میں تردد سے کبھی خالی نہیں", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں تردد سے کبھی خالی نہیں\nعاشقی میں فارغ البالی نہیں\n\nکہہ رہی ہے یہ تری تصویر بھی\nمیں کسی سے بولنے والی نہیں\n\nلوٹتا ہے دل تڑپتا ہے جگر\nکوئی اپنے کام سے خالی نہیں\n\nنوحؔ کو طوفان غم سے خوف کیا\nاس کی کشتی ڈوبنے والی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا\nگرد غم دل سے دھو نہیں سکتا\n\nاشک یوں تھم رہے ہیں مژگاں پر\nکوئی موتی پرو نہیں سکتا\n\nشب مرا شور گریہ سن کے کہا\nمیں تو اس غل میں سو نہیں سکتا\n\nمصلحت ترک عشق ہے ناصح\nلیک یہ ہم سے ہو نہیں سکتا\n\nکچھ بیاںؔ تخم دوستی کے سوا\nمزرع دل میں بو نہیں سکتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "میں تو سو بار ترے ملنے کو آیا تنہا", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں تو سو بار ترے ملنے کو آیا تنہا\nلیکن افسوس کبھی تجھ کو نہ پایا تنہا\n\nشرک سے خالی کسی کا نہ نظر آیا دل\nوہ بڑے ظرف ہیں جن میں تو سمایا تنہا\n\nکس کو دعویٰ نہیں الفت کا تری عالم میں\nعاشقوں میں ترے میں ہی نہ کہایا تنہا\n\nبند کاکل میں ترے جی بھی ہمارا ہے اسیر\nدام میں زلف کے دل ہی نہ پھنسایا تنہا\n\nکل جہاں دارؔ ہم اور یار تھے ٹک مل بیٹھے\nبخت ناساز نے پھر آج بٹھایا تنہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7"} {"title": "میں تو عاجز ہوں تمہیں پوچھو دل ناکام سے", "poet_page": "مصنف:ناصری لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نذر احباب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "میں تو عاجز ہوں تمہیں پوچھو دل ناکام سے\nکیوں تڑپ جاتا ہے سینے میں تمہارے نام سے\n\nسب پئیں ساقی رہیں محروم ہم اک جام سے\nہو گئی برگشتہ قسمت گردش ایام سے\n\nہجر کی زحمت سے آغاز جوانی میں مرے\nتھک گئے تھے ہم کچھ ایسی نیند آئی شام سے\n\nغیر کی تشنیع کا ہم دے نہیں سکتے جواب\nخون کی بوندیں ٹپکتی ہیں دل ناکام سے\n\nصرف بیداری ہے اپنی عمر اے سودائے عشق\nنیند آئے قبر میں شاید ہمیں آرام سے\n\nجانتے ہیں خوب اس پیماں شکن کو ناصریؔ\nدل بہل جاتا ہے لیکن نامہ و پیغام سے", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D8%AC%D8%B2_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں\nاک قیامت ہے ترے ہاتھ میں تلوار نہیں\n\nکچھ پتا منزل مقصود کا پایا ہم نے\nجب یہ جانا کہ ہمیں طاقت رفتار نہیں\n\nچشم بد دور بہت پھرتے ہیں اغیار کے ساتھ\nغیرت عشق سے اب تک وہ خبردار نہیں\n\nہو چکا ناز اٹھانے میں ہے گو کام تمام\nللہ الحمد کہ باہم کوئی تکرار نہیں\n\nمدتوں رشک نے اغیار سے ملنے نہ دیا\nدل نے آخر یہ دیا حکم کہ کچھ عار نہیں\n\nاصل مقصود کا ہر چیز میں ملتا ہے پتا\nورنہ ہم اور کسی شے کے طلب گار نہیں\n\nبات جو دل میں چھپاتے نہیں بنتی حالیؔ\nسخت مشکل ہے کہ وہ قابل اظہار نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B1%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "میں تو کچھ کہتی نہیں شوق سے سو باری چیخ", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "ریختی", "year": null, "text_ur": "میں تو کچھ کہتی نہیں شوق سے سو باری چیخ\nنام لے کر مری دائی کا ددا ماری چیخ\n\nاڑ گئے مغز کے کیڑے تو ادھر کیوں ہے کھڑی\nمیری چندیا پہ کھڑی ہو کے ادھر آ ری چیخ\n\nلے میں کہتی ہوں کہ سر پیٹ کے چونڈے کو کھسوٹ\nنوچ نوچ اپنا تو منہ شوق سے کر زاری چیخ\n\nلوگ یاں چونک اٹھے اپنے پرائے سارے\nمر مٹی تو نے غضب ایسی ہی اک ماری چیخ\n\nتس پہ مکراتی ہے مردار اری شابش ری\nتیرے منہ سے ابھی نکلی ہی نہیں ساری چیخ\n\nہے یہ قحبہ اسے رنگیںؔ کے حوالے کر دے\nمیری انا کو دوگانا میں ترے واری چیخ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%86%DB%8C%D8%AE"} {"title": "میں جنسی کھیل کو صرف اک تن آسانی سمجھتا ہوں", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میں جنسی کھیل کو صرف اک تن آسانی سمجھتا ہوں\nذریعہ اور ہے معبود سے ملنے کا دنیا میں\n\nتخیل کا بڑا ساگر تصور کے حسیں جھونکے\nلیے آتے ہیں بارش میں تمنائیں عبادت کی\nمگر پوری نہیں ہوتی تمنا دل کی چاہت کی\n\nکسی عورت کا پیراہن کسی خلوت کی خوشبوئیں\nکسی اک لفظ بے معنی کی میٹھی میٹھی سرگوشی\nیہی چیزیں مرے غمگیں خیالوں پر ہمیشہ چھائی رہتی ہیں\n\nعبادت کا طریقہ حرکتیں ہیں تشنہ و مبہم\nکبھی روح صنم بیدار خواب مرگ مہمل سے\nکسی اندر سبھا کی لاکھ پریاں آ کے بہلائیں\n\nلبھاتے ناچ ناچیں اور رسیلے راگ بھی گائیں\nمگر یہ مردہ دل عادی ہے بس غمگیں خیالوں کا\nگھٹا آتی نہیں خوشیوں کی بارش لا نہیں سکتی\nمری روح حزیں محکوم ہے اپنے تأثر کی\n\nذریعہ اور ہے معبود سے ملنے کا دنیا میں\nمیں جنسی کھیل کو کیوں اک تن آسانی سمجھتا ہوں\n\nکبھی انساں کی عمر مختصر پر غور کرتا ہوں\nکبھی فانی تمناؤں کی جھیلوں میں یوں ہی کھویا سا پھرتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%86%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DA%A9_%D8%AA%D9%86_%D8%A2%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "میں جو حاصل ترے کوچے کی گدائی کرتا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں جو حاصل ترے کوچے کی گدائی کرتا\nبندگی کہتے ہیں کس شے کو خدائی کرتا\n\nذرے ذرے کو ترے کوچے میں تھا مجھ سے غبار\nمیں جو کرتا بھی تو کس کس سے صفائی کرتا\n\nمعتکف جو ترے کوچے کے تھے اٹھتے نہ کبھی\nکعبہ خود آ کے اگر ناصیہ سائی کرتا\n\nسوچ ناحق ہے اسیران قفس کے دل کو\nکیا پڑی تھی جو کوئی فکر رہائی کرتا\n\nکانپتے ہاتھوں سے کھلتا نہ قفس اے صیاد\nکاش منظور بھی تو میری رہائی کرتا\n\nشادؔ دشمن کی شکایت کا وظیفہ بیکار\nکیا غرض تھی کہ مرے ساتھ بھلائی کرتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7"} {"title": "میں جو مر جاؤں عجب عالم رہے", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں جو مر جاؤں عجب عالم رہے\nغم کو بھی مرنے کا میرے غم رہے\n\nآرزوئے وصل میں کیا دم رہے\nخون دل آ کر لبوں پر جم رہے\n\nچوڑیوں کی ہائے وہ دل کش صدا\nحشر تک یا رب مرا ماتم رہے\n\nبے خودی ہے خود فراموشی نہیں\nہم نہیں ہیں آپ میں گر ہم رہے\n\nجب کسی کی بے کسی یاد آ گئی\nقتل میں دست ستم گر تھم رہے\n\nسامنے سے ہٹ نہ او آئینہ رو\nجب تک ان آنکھوں میں کچھ کچھ دم رہے\n\nاف نہ کر صفدرؔ تہ تیغ ستم\nگردن تسلیم واں بھی خم رہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "میں جو یہ آشیاں بناتا ہوں", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں جو یہ آشیاں بناتا ہوں\nبرق کو میہماں بناتا ہوں\n\nعشق کی شرح آج تک نہ ہوئی\nروز اک داستاں بناتا ہوں\n\nکوئی مرکز تو ہو بلاؤں کا\nاس لئے آشیاں بناتا ہوں\n\nتا وہ ہو بے خودی میں جلوہ نما\nلا مکاں کو مکاں بناتا ہوں\n\nمشق شعر و سخن سے میں ناطقؔ\nان کے قابل زباں بناتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "میں خاک تھا آدمی بنایا تو نے", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "میں خاک تھا آدمی بنایا تو نے\nاور عیب معاصی کو چھپایا تو نے\nکیا شکر ادا کروں کرم کا تیرے\nاس کاہ کو کوہ کر دکھایا تو نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92"} {"title": "میں خوب اہل جہاں دیکھے اور جہاں دیکھا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں خوب اہل جہاں دیکھے اور جہاں دیکھا\nپر آشنا کوئی دیکھا نہ مہرباں دیکھا\n\nہمیشہ منع تو کرتا تھا باغ سے ہم کو\nکچھ حال اب گل و گلشن کا باغباں دیکھا\n\nطلب کمال کی کوئی نہ کیجیو زنہار\nکہ میں یہ کر کے فضولی بہت زیاں دیکھا\n\nنہ جانے کون سی ساعت چمن سے بچھڑے تھے\nکہ آنکھ بھر کے نہ پھر سوئے گلستاں دیکھا\n\nسنے کو دیکھے پہ ہم کس طرح سے دیں ترجیح\nخدا تو ہم نے سنا ہے تمہیں بتاں دیکھا\n\nبرنگ غنچہ بہار اس چمن کی سنتے تھے\nپہ جوں ہی آنکھ کھلی موسم خزاں دیکھا\n\nنہ کہتے تھے تجھے قائمؔ کہ دل کسی کو نہ دے\nمزا کچھ اس کا بھلا تو نے اے میاں دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "میں خودی میں مبتلا خود کو مٹانے کے لیے", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں خودی میں مبتلا خود کو مٹانے کے لیے\nتو نے تو ہر ذرے کو ضو دی جگمگانے کے لیے\n\nایک ادنیٰ سے پتنگے نے بنا دی جان پر\nشمع نے کوشش تو کی تھی دل جلانے کے لیے\n\nبرق خرمن سوزاب رکھنا ذرا چشم کرم\nچار تنکے پھر جڑے ہیں آشیانے کے لیے\n\nمنہ نہیں ہر ایک کا جو سختی گردوں سہے\nکچھ کلیجہ چاہیے وہ زخم کھانے کے لیے\n\nخوب بلبل کو سکھایا نالۂ مستانہ وار\nخوب غنچے کو سمجھ دی مسکرانے کے لیے\n\nاس قدر ارزاں ہوئی ہے آج کل جنس کمال\nجھوٹے سکے ڈھل رہے ہیں ہر خزانے کے لیے\n\nخواب میں بھی اب نہیں شاعرؔ وہ گرمی کلام\nشمع سی اک رہ گئی ہے جھلملانے کے لیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%B9%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "میں دریائے قناعت آشنا ہوں", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں دریائے قناعت آشنا ہوں\nمیں موج نشان بوریا ہوں\n\nمیں عاشق چشم سرمہ سا ہوں\nگر خاک بھی ہوں تو توتیا ہوں\n\nطفلی ہی سے وحشت آشنا ہوں\nمیں اس دامن دشت میں پلا ہوں\n\nدیکھے جو مجھے جہاں کو دیکھے\nمیں آئنۂ جہاں نما ہوں\n\nچل سکتے نہیں جو باغ تک بھی\nطاؤس صفت عدوئے پا ہوں\n\nدیوانہ جو ہوں تو ہوں میں خاموش\nزنجیر جو ہوں تو بے صدا ہوں\n\nتا گور بھی صفت سے نہ پہنچوں\nبالفرض اگر ہزار پا ہوں\n\nصحبت ہو برآر کس طرح یار\nتو شاہ ہے اور میں گدا ہوں\n\nہر شعر میں زلف کی ہے تعریف\nاس بحر میں موج آشنا ہوں\n\nسنتا نہیں ایک بت مرا حال\nفریادی تجھ سے اے خدا ہوں\n\nکہتی ہے زبان حال سے موت\nمیں درد فراق کی دوا ہوں\n\nکہتی ہے یہ روح تن سے ہر دم\nتو خاک جو ہو تو میں دوا ہوں\n\nیہ توسن عمر گرم رفتار\nکہتا ہے میں اب چراغ پا ہوں\n\nاے عرشؔ زیارت اب کروں گا\nمیں رہرو دشت کربلا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%82%D9%86%D8%A7%D8%B9%D8%AA_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "میں ذات کا اس کی آشنا ہوں", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں ذات کا اس کی آشنا ہوں\nاور اس کی صفات پر فدا ہوں\n\nافسوس کہ آپ کو میں اب تک\nمعلوم نہیں کیا کہ کیا ہوں\n\nہے عین زوال میں ترقی\nمجھ کو کہ گل دوپہریا ہوں\n\nحیرت ہے مجھے یہی کہ اس بن\nکس طرح سے اب تلک جیا ہوں\n\nکرتا نہیں میں خوشامد خلق\nحاتمؔ ہوں ازل سے بے ریا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B0%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "میں رو رہا ہوں جو دل کو تو بیکسی کے لئے", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں رو رہا ہوں جو دل کو تو بیکسی کے لئے\nوگر نہ موت تو دنیا میں ہے سبھی کے لئے\n\nشب فراق کی روزانہ آفتیں توبہ\nیہ امتحان تو ہوتا کبھی کبھی کے لئے\n\nبہت سی عمر مٹا کر جسے بنایا تھا\nمکاں وہ جل گیا تھوڑی سی روشنی کے لئے\n\nوسیع بزم جہاں ہے تو ہو مجھے کیا کام\nجگہ ملی نہ مری حسرت دلی کے لئے\n\nیہ اور دامن قاتل ہے چھوٹ جائے گا\nلہو میں جوش تو برسوں سے تھا اسی کے لئے\n\nنہ آنکھ بند کروں میں تو کیا کروں یا رب\nوہ آ رہے ہیں تماشائے جانکنی کے لئے\n\nبلا کے مجھ کو نکالا ہے اپنی محفل سے\nوہ نیکیاں نہیں اچھی ہیں جو ہو بدی کے لئے\n\nقفس میں آج تماشائے‌‌ غم ہے قابل دید\nتڑپ رہا ہوں میں صیاد کی خوشی کے لئے\n\nتمام ہو گئے ہم اک نگاہ قاتل سے\nرگیں گلے کی تڑپتی رہیں چھری کے لئے\n\nفروغ حسن بڑھا دل کی بے نوائی سے\nفقیر ہو گیا شان تونگری کے لئے\n\nقفس میں چپ نہ ہوں تو کیا کروں کہ یہ قیدی\nنہ دوستی کے لئے ہے نہ دشمنی کے لئے\n\nتمام بزم میں چھایا ہوا ہے سناٹا\nچھڑا تھا قصۂ دل ان کی دل لگی کے لئے\n\nشکایت‌ چمن دہر کیا کروں ثاقبؔ\nہوا خلاف ہے لیکن کسی کسی کے لئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%8C%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92"} {"title": "میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے\nزمیں رہے نہ رہے آسماں رہے نہ رہے\n\nرہے وہ جان جہاں یہ جہاں رہے نہ رہے\nمکیں کی خیر ہو یا رب مکاں رہے نہ رہے\n\nابھی مزار پر احباب فاتحہ پڑھ لیں\nپھر اس قدر بھی ہمارا نشاں رہے نہ رہے\n\nخدا کے واسطے کلمہ بتوں کا پڑھ زاہد\nپھر اختیار میں غافل زباں رہے نہ رہے\n\nخزاں تو خیر سے گزری چمن میں بلبل کی\nبہار آئی ہے اب آشیاں رہے نہ رہے\n\nچلا تو ہوں پئے اظہار درد دل دیکھوں\nحضور یار مجال بیاں رہے نہ رہے\n\nامیرؔ جمع ہیں احباب درد دل کہہ لے\nپھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "میں روتا ہوں آہ رسا بند ہے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں روتا ہوں آہ رسا بند ہے\nبرستا ہے پانی ہوا بند ہے\n\nنہیں مرغ جان جسم صد چاک میں\nہمارے قفس میں ہما بند ہے\n\nکہاں قافلہ تک رسائی مجھے\nمیں ہوں لنگ شور درا بند ہے\n\nدل وحشی اپنا چھٹے کس طرح\nکہ زنجیر گیسو کا پابند ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A2%DB%81_%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%DB%81%DB%92"} {"title": "میں سر پہ گناہوں کا لئے بار آیا", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "میں سر پہ گناہوں کا لئے بار آیا\nمیں حشر میں پی کے مست و سرشار آیا\nدیکھا جو مجھے جھومتے اور آگ لگی\nدوزخ یہ پکارا وہ گنہ گار آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%84%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "میں سراپا مظہر اسم خدا واللہ ہوں", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں سراپا مظہر اسم خدا واللہ ہوں\nہم صفیرو اس چمن میں مرغ بسم اللہ ہوں\n\nکس طرف جاؤں دکھا دو یا محمد راہ حق\nیاں ہر اک گمراہ کہتا ہے میں خضر راہ ہوں\n\nاے مسیحا تیری زلفوں کی درازی دیکھ کر\nکہتی ہی عمر خضر میں گیسوۓ کوتاہ ہوں\n\nآسماں پر بھی سیہ بختی میں ہے میرا دماغ\nخال روۓ مہر ہوں داغ جبین ماہ ہوں\n\nکہہ رہی ہے آسماں سے یار کے گھر کی زمیں\nطور ہوں صحرائے ایمن ہوں تجلی گاہ ہوں\n\nبیٹھنا کیسا ادھر آیا ادھر راہی ہوا\nدن جو ہوں تو مختصر ہوں شب جو ہوں کوتاہ ہوں\n\nاللہ اللہ کیا ہے ان کے پاؤں کی ٹھوکر کا لطف\nہے ہر اک بت کی تمنا کاش سنگ راہ ہوں\n\nروز محشر سے وزیرؔ افزوں ہے اس کافر کا طول\nاب بھی کہتی ہے شب فرقت بہت کوتاہ ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%BE%D8%A7_%D9%85%D8%B8%DB%81%D8%B1_%D8%A7%D8%B3%D9%85_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "میں سمجھا جب جھلکتا سامنے جام شراب آیا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں سمجھا جب جھلکتا سامنے جام شراب آیا\nمرا منہ چومنے شاید مرا مست شباب آیا\n\nترے نازک سے چہرے پر جہاں رنگ عتاب آیا\nصباحت رخ کی بول اٹھی کہ رخ زیر نقاب آیا\n\nقیامت اٹھتی رہتی ہے یہاں یہ ہے گلی اس کی\nکہاں پامال ہونے تو دل خانہ خراب آیا\n\nسر تربت بھی گھوڑے پر ہوا کے وہ سوار آئے\nقیامت ہم عناں آئی نہ دشمن ہم رکاب آیا\n\nہوئے ہنگامہ ہائے حشر کتنے گوشۂ دل میں\nوہ میرے سامنے کچھ اس ادا سے بے نقاب آیا\n\nوہ آئے سیر دریا کے لئے تو بجھ گئیں موجیں\nقدم سے ان کے اپنی آنکھ ملنے ہر حباب آیا\n\nبہت بوسے لیے ہیں میں نے ان کافر حسینوں کے\nمزا آئے گا مجھ کو بھی اگر روز حساب آیا\n\nتکلف بر طرف اے شیخ صحبت سے یہ آپس کی\nمرے آگے شراب آئی ترے آگے کباب آیا\n\nاسی کوشش میں کٹتی ہجر کی راتیں ہوئیں آخر\nنہ ان کے گیسوؤں کا میرے دل میں پیچ و تاب آیا\n\nخیال یار کے صدقے خیال یار ہی ہوگا\nتسلی مجھ کو دینے کوئی وقت اضطراب آیا\n\nتری نوک قلم نے دل میں گہرے زخم ڈالے ہیں\nہزاروں دشنہ و نشتر لیے خط کا جواب آیا\n\nوہ تصویر آج تک محفوظ ہے چشم تصور میں\nترے بچپن سے جب اٹکھیلیاں کرتا شباب آیا\n\nنہیں موجیں ہیں یہ سیل حوادث کے طمانچے ہیں\nاسے کھانا پڑی منہ کی ابھر کر جب حباب آیا\n\nبرابر میری تربت کے کیا ہے دفن دشمن کو\nیہ اچھا میرے حصے میں جہنم کا عذاب آیا\n\nکہیں دعوت میں کل ہم اور واعظ پاس بیٹھے تھے\nکوئی لے کر شراب آیا کوئی لے کر کباب آیا\n\nلحد پر میری بھیجا ہے عدو کو فاتحہ پڑھنے\nجو پہنچانے ثواب آیا وہی بن کر عذاب آیا\n\nجو آئے بھی تو گھوڑے پر ہوا کے وہ سوار آئے\nعدو بھی ساتھ سائے کی طرح تھامے رکاب آیا\n\nہوا بنت عنب سے عقد اس پیرانہ سالی میں\nمبارک ہو مجھے ساقی بڑھاپے میں شباب آیا\n\nنرالے ہیں یہی دنیا میں توبہ توڑنے والے\nادھر ساقی ریاضؔ آئے ادھر جام شراب آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%AC%DA%BE%D9%84%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "میں سیہ رو اپنے خالق سے جو نعمت مانگتا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں سیہ رو اپنے خالق سے جو نعمت مانگتا\nاپنا منہ دھونے کو پہلے آب خجلت مانگتا\n\nمیرے روکھے سوکھے ٹکڑے مجھ کو کر دیتے ہیں سیر\nخاک بھر دیتا فلک منہ میں جو نعمت مانگتا\n\nخلق پر ہوتی جو آداب شہادت آشکار\nمرغ بسمل بھی تڑپنے کی اجازت مانگتا\n\nرحم ہم آفت‌ رسیدوں پر جو کرتا آسمان\nسانس لینے کی ہجوم غم میں مہلت مانگتا\n\nرولتا موتی جو کرتا کشتکاری خیر کی\nہن برستا میں اگر باران رحمت مانگتا\n\nپست بختی نے مجھے محفوظ رکھا شکر ہے\nٹوٹ پڑتا آسماں سر پر جو رفعت مانگتا\n\nقدر میرے گوہر دل کی کچھ اس بت نے نہ کی\nبت کدہ لیلام ہوتا میں جو قیمت مانگتا\n\nایک بوسہ مانگنے پر یار کا رخ پھر گیا\nجان میں دیتا اگر وہ بے مروت مانگتا\n\nمیں اگر آزادگی میں سرو کو کرتا مرید\nتیرا گلدستہ سا قد طوبیٰ سے بیعت مانگتا\n\nدیکھ پاتا کشتگان‌ عشق کا رتبہ اگر\nپانی پی پی کر خضر جام شہادت مانگتا\n\nدل میں پڑتے زخم اگر گلزار کی کرتا ہوس\nمیں لہو روتا اگر باران رحمت مانگتا\n\nکب رہا سیماب جب سیماب چاندی ہو گیا\nقلب ماہیت مری ہوتی جو دولت مانگتا\n\nکیا خبر تھی صبح ہو جائے گی تیرے نور سے\nشام سے میرا چراغ خانہ رخصت مانگتا\n\nآنکھ جھک جاتی نظر آتا اگر تو خواب میں\nتیرے خال رخ سے یوسف داغ حسرت مانگتا\n\nکھائیے کیوں کر نوالے موتیوں کے اے ہوس\nطائر دل ہنس کی اے کاش قسمت مانگتا\n\nجوش وحشت لے چلا اتنی نہ مہلت دے مجھے\nکوہ و صحرا کے عزیزوں سے تو رخصت مانگتا\n\nدشمنی رکھتا ہے ارباب منش سے آسماں\nہاتھ ملتا عمر بھر دم بھر جو راحت مانگتا\n\nبے دیے ممکن نہیں دنیا میں ہو اجرائے‌ کار\nعاملوں سے اسم اعظم بھی ہے دعوت مانگتا\n\nخون عاشق پر کمر باندھے ہوئے ہیں خوبرو\nتیغ مصری حلق پر ہوتی جو شربت مانگتا\n\nکیا خبر تھی عاصیوں کی بھی دعا مقبول ہے\nبحرؔ دنیا کے بکھیڑے سے فراغت مانگتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%D8%B1%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%84%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%AA%D8%A7"} {"title": "میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں\nمرجھا کے آ گرا ہوں مگر سرد گھاس میں\n\nسوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح\nدیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں\n\nصحرا کی بود و باش ہے اچھی نہ کیوں لگے\nسوکھی ہوئی گلاب کی ٹہنی گلاس میں\n\nچمکے نہیں نظر میں ابھی نقش دور کے\nمصروف ہوں ابھی عمل انعکاس میں\n\nدھوکے سے اس حسیں کو اگر چوم بھی لیا\nپاؤ گے دل کا زہر لبوں کی مٹھاس میں\n\nتارہ کوئی ردائے شب ابر میں نہ تھا\nبیٹھا تھا میں اداس بیابان یاس میں\n\nجوئے روان دشت ابھی سوکھنا نہیں\nساون ہے دور اور وہی شدت ہے پیاس میں\n\nرہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہوا\nپڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں\n\nکانٹوں کی باڑ پھاند گیا تھا مگر شکیبؔ\nرستہ نہ مل سکا مجھے پھولوں کی باس میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A7%D8%AE_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DA%91%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "میں شادؔ تنہا اک طرف اور دنیا کی دنیا اک طرف", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں شادؔ تنہا اک طرف اور دنیا کی دنیا اک طرف\nسارا سمندر اک طرف آنسو کا قطرہ اک طرف\n\nاس آفت جاں کو بھی چہرہ تو دکھانا ہی نہ تھا\nاک سمت عیسیٰ دم بخود غش میں ہے موسیٰ اک طرف\n\nاپنے سمند ناز کو اے شہسوار آ چھیڑ کر\nصف بستہ حاضر کب سے ہیں محو تماشا اک طرف\n\nساقی بغیر احوال یہ پہنچا ہے مے خانہ کا اب\nجام اک طرف ہے سرنگوں خالی ہے مینا اک طرف\n\nفرقت میں سب اچھے رہے دل کا مگر یہ حال ہے\nزخم اک طرف بڑھتا گیا داغ سویدا اک طرف\n\nدیدار جاناں کا بھلا کیوں کر تحمل ہو سکے\nترچھی نگاہیں ایک سو زلف چلیپا اک طرف\n\nوہ تیغ لے کے کہتے ہیں دیکھوں تو حق پر کون ہے\nمیں اک طرف شادؔ اک طرف سارا زمانہ اک طرف", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D8%94_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "میں شمع بزم عالم امکاں کیا گیا", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں شمع بزم عالم امکاں کیا گیا\nانسانیت کو دیکھ کے انساں کیا گیا\n\nاب میرے امتحان کا ساماں کیا گیا\nیعنی سپرد عالم امکاں کیا گیا\n\nمحفوظ میں نے رکھے جنوں کے تبرکات\nدامن اگر پھٹا تو گریباں کیا گیا\n\nطے کر کے ارتقا کے منازل کو شوق سے\nپہنچا جب اپنے حد پہ تو انساں کیا گیا\n\nسچ پوچھئے تو کیا تھا فقط ایک خار زار\nمیرے لئے جہاں کو گلستاں کیا گیا\n\nدریا تو اور بھی تھے زمانے میں بے شمار\nآب حیات چشمۂ حیواں کیا گیا\n\nکچھ اور روشنی کا بڑھا حسن یا نہیں\nفانوس میں جو شعلے کو پنہاں کیا گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "میں ضعف سے جوں نقش قدم اٹھ نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں ضعف سے جوں نقش قدم اٹھ نہیں سکتا\nبیٹھا ہوں سر خاک پہ جم اٹھ نہیں سکتا\n\nاے اشک رواں ساتھ لے اب آہ جگر کو\nعاشق کہیں بے فوج و علم اٹھ نہیں سکتا\n\nسقف فلک کہنہ میں کیا خاک لگاؤں\nاے ضعف دل اس آہ کا تھم اٹھ نہیں سکتا\n\nسر معرکۂ عشق میں آساں نہیں دینا\nگاڑے ہے جہاں شمع قدم اٹھ نہیں سکتا\n\nہے جنبش مژگاں کا کسی کے جو تصور\nدل سے خلش خار الم اٹھ نہیں سکتا\n\nدل پر ہے مرے خیمہ ہر آبلہ اسناد\nکیا کیجئے کہ یہ لشکر غم اٹھ نہیں سکتا\n\nہر جا متجلیٰ ہے وہ بر پردۂ غفلت\nاے معتکف دیر و حرم اٹھ نہیں سکتا\n\nیوں اشک زمیں پر ہیں کہ منزل کو پہنچ کر\nجوں قافلۂ ملک عدم اٹھ نہیں سکتا\n\nرو رو کے لکھا خط جو اسے میں نے تو بولا\nاک حرف سر کاغذ نم اٹھ نہیں سکتا\n\nہر دم لب فوارہ سے جاری یہ سخن ہے\nپانی نہ ذرا جس میں ہو دم اٹھ نہیں سکتا\n\nمیں اٹھ کے کدھر جاؤں ٹھکانا نہیں کوئی\nمیرا ترے کوچے سے قدم اٹھ نہیں سکتا\n\nمہندی تو سراسر نہیں پاؤں میں لگی ہے\nتو بہر عیادت جو صنم اٹھ نہیں سکتا\n\nبیمار ترا صورت تصویر نہالی\nبستر سے ترے سر کی قسم اٹھ نہیں سکتا\n\nمیں شاہ سوار آج ہوں میدان سخن میں\nرستم کا مرے آگے قدم اٹھ نہیں سکتا\n\nکیا نیزہ ہلاوے گا کوئی اب کہ کسی سے\nیاں توسن رہوار قلم اٹھ نہیں سکتا\n\nجوں غنچہ نصیرؔ اس بت گل رو کی جو ہے یاد\nیاں سر ہو گریباں سے بہم اٹھ نہیں سکتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B6%D8%B9%D9%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%82%D8%AF%D9%85_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "میں عاشق ہوں مجھے مقتل میں اپنا نام کرنا ہے", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں عاشق ہوں مجھے مقتل میں اپنا نام کرنا ہے\nڈرے گا خنجر قاتل سے کیا وہ جس کو مرنا ہے\n\nمدد کر عشق صادق جذب کامل مجھ سے محزوں کی\nشب غم نالہ کرنا ہے اور اس جی سے گزرنا ہے\n\nنہ پھینکو سنگ خارا پر حفاظت چاہئے اس کی\nکہ رکھ کر مرأت دل روبرو تم کو سنورنا ہے\n\nیہ جام دیدۂ حسرت بھروں گا اشک خونی سے\nمئے گلگوں تجھے پیر مغاں ساغر میں بھرنا ہے\n\nٹھہر جا بلبل غمگیں کہاں تک زاری و شیون\nکہ مرغ بوستان عشق کو بھی نالہ کرنا ہے\n\nسرشک چشم پر نم کی روانی سے پریشاں ہوں\nجنوں کیا دیدۂ حسرت ہمارا کوئی جھرنا ہے\n\nجمیلہؔ صفحۂ مہتاب پر لہرا گئے کالے\nستم ان گیسوؤں کا دوش پر ان کے بکھرنا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%D9%82%D8%AA%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "میں عاشقی میں تب سوں افسانہ ہو رہا ہوں", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں عاشقی میں تب سوں افسانہ ہو رہا ہوں\nتیری نگہ کا جب سوں دیوانہ ہو رہا ہوں\n\nاے آشنا کرم سوں یک بار آ درس دے\nتجھ باج سب جہاں سوں بیگانہ ہو رہا ہوں\n\nباتاں لگن کی مت پوچھ اے شمع بزم خوبی\nمدت سے تجھ جھلک کا پروانہ ہو رہا ہوں\n\nشاید وو گنج خوبی آوے کسی طرف سوں\nاس واسطے سراپا ویرانہ ہو رہا ہوں\n\nسودائے زلف خوباں رکھتا ہوں دل میں دائم\nزنجیر عاشقی کا دیوانہ ہو رہا ہوں\n\nبرجا ہے گر سنوں نئیں ناصح تری نصیحت\nمیں جام عشق پی کر مستانہ ہو رہا ہوں\n\nکس سوں ولیؔ اپس کا احوال جا کہوں میں\nسر تا قدم میں غم سوں غم خانہ ہو رہا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%A8_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "میں غش میں ہوں مجھے اتنا نہیں ہوش", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں غش میں ہوں مجھے اتنا نہیں ہوش\nتصور ہے ترا یا تو ہم آغوش\n\nجو نالوں کی کبھی وحشت نے ٹھانی\nپکارا ضبط بس خاموش خاموش\n\nکسے ہو امتیاز جلوۂ یار\nہمیں تو آپ ہی اپنا نہیں ہوش\n\nاٹھا رکھا ہے اک طوفان تو نے\nارے قطرے ترا اللہ رے جوش\n\nمیں ایسی یاد کے قربان جاؤں\nکیا جس نے دوعالم کو فراموش\n\nہے بیگانوں سے خالی خلوت راز\nچلے جائیں نہ اب آئیں مرے ہوش\n\nکرو رندو گناہ مے پرستی\nکہ ساقی ہے عطا پاش و خطا پوش\n\nترے جلوے کو موسیٰ دیکھتے کیا\nنقاب اٹھنے سے پہلے اڑ گئے ہوش\n\nکرم بھی اس کا مجھ پر ہے ستم بھی\nکہ پہلو میں ہے ظالم اور روپوش\n\nپیو تو خم کے خم پی جاؤ بیدمؔ\nارے مے نوش ہو تم یا بلانوش", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%B4"} {"title": "میں لپٹتا رہا ہوں خاروں سے", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں لپٹتا رہا ہوں خاروں سے\nتم نے پوچھا نہیں بہاروں سے\n\nچاندنی سے سحاب پاروں سے\nجی بہلتا ہے یاد گاروں سے\n\nآ مرے چاند رات سونی ہے\nبات بنتی نہیں ستاروں سے\n\nمنزل زندگی ہے کتنی دور\nپوچھ لیتا ہوں رہ گزاروں سے\n\nبات جب بھی چھڑی محبت کی\nخامشی بول اٹھی مزاروں سے\n\nایک بھی آفتاب بن نہ سکا\nلاکھ ٹوٹے ہوئے ستاروں سے\n\nشام غم بھی گزر گئی ہے ظفرؔ\nکھیلتے کھیلتے غباروں سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D9%BE%D9%B9%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "میں نفس پرستی سے سدا خوار رہا", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "میں نفس پرستی سے سدا خوار رہا\nظلمت کدۂ غم میں گرفتار رہا\nغفلت سے نہ دم بھر کو مری آنکھ کھلی\nبے ہوش رہا کبھی نہ ہشیار رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%81%D8%B3_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%AF%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "میں نقش ما و من ہوتا کہ نقش ماسوا ہوتا", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں نقش ما و من ہوتا کہ نقش ماسوا ہوتا\nجو پہلے سے خبر ہوتی کہ کیا ہوتا تو کیا ہوتا\n\nمری ہستی کا نقطہ گر نہ نقش ماسوا ہوتا\nازل کی ابتدا ہوتا ابد کی انتہا ہوتا\n\nسمجھ لے راہ الفت میں کچھ ایسی ہی پڑی ورنہ\nنہ دل مجھ سے جدا ہوتا نہ میں دل سے جدا ہوتا\n\nبنی جو کچھ بنی ہم پر مگر پھر بھی یہ حسرت ہے\nکہ پہلو دل میں ہوتا اور دل میں مدعا ہوتا\n\nیہ عالم تھا کبھی دل کا مرے جوش تخیل سے\nجو نقشہ آنکھ میں پھرتا وہی میرا خدا ہوتا\n\nفضا کے ذرے ذرے میں تموج ہے تلاطم ہے\nاثر درد آفریں دل کی صدا میں اور کیا ہوتا\n\nخیال ہستیٔ موہوم آفت ہے قیامت ہے\nکہ ہونے پر برا ٹھہرا نہ ہوتا تو برا ہوتا\n\nنہ اگلی سی خلش ہے اب نہ وہ پچھلی سی کاوش ہے\nالوہی قلب میں خار تمنا رہ گیا ہوتا\n\nیہ منظر مجمع محشر کا اور محروم ہے بیخودؔ\nخدایا پردۂ جوش تمنا اٹھ گیا ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%85%D8%A7_%D9%88_%D9%85%D9%86_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%85%D8%A7%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "میں نہ جانا تھا کہ تو یوں بے وفا ہو جائے گا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں نہ جانا تھا کہ تو یوں بے وفا ہو جائے گا\nآشنا ہو اس قدر نا آشنا ہو جائے گا\n\nخوب لگتی ہے اگر بد نامی عاشق تجھے\nآہ کرتا ہوں کہ شہرہ جا بجا ہو جائے گا\n\nگر تمہاری دل خوشی ہے ذبح کرنے میں مرے\nخوب جی جاوے تو جاوے اور کیا ہو جائے گا\n\nمیں سنا ہوں تجھ لبوں کا نام ہی حاجت روا\nیک تبسم کر کہ میرا مدعا ہو جائے گا\n\nکیا عجب گر میں ہوا دیوانۂ زلف بتاں\nگر فرشتہ ہووے تو ان کا مبتلا ہو جائے گا\n\nمیں تمہارے آستانے سیں جدا ہونے کا نہیں\nسر اگر شمشیر سیں کٹ کر جدا ہو جائے گا\n\nجیوں سراجؔ اس شمع رو پر دل کوں ہے ملنے کا شوق\nفرض عین عاشقی سیں اب ادا ہو جائے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "میں نہ سمجھا بلبل بے بال و پر نے کیا کہا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں نہ سمجھا بلبل بے بال و پر نے کیا کہا\nگوش گل میں قاصد باد سحر نے کیا کہا\n\nنزع کے دم بھی زبس لیلیٰ کو مانع تھا حجاب\nچپکے چپکے روئی اور اس نوحہ گر نے کیا کہا\n\nتیرے وحشی سے عبث تجھ کو خفا کرتے ہیں لوگ\nسب یہ باتیں جھوٹھ تھیں اس بے خبر نے کیا کہا\n\nسینکڑوں رنگینیاں پیدا کیں اس نے وقت قصد\nخوں‌ مجنوں سے زباں شیر نے کیا کہا\n\nنامہ بر کو گالیاں دیں اس نے سن کر میرا نام\nمنہ کو تکتا رہ گیا اور نامہ بر نے کیا کہا\n\nہو گیا اس کو پہن کر اور بھی مغرور وہ\nکان میں اس شوخ کے سلک گہر نے کیا کہا\n\nجوڑنا ان کا نہایت اے ہوسؔ دشوار تھا\nدل کے ٹکڑے دیکھ میرے شیشہ گر نے کیا کہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%84_%D9%88_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7"} {"title": "میں نہ منت کش انگور ہوا خوب ہوا", "poet_page": "مصنف:نسیم میسوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں نہ منت کش انگور ہوا خوب ہوا\nچشم مخمور سے مخمور ہوا خوب ہوا\n\nشعلۂ آہ مرا نور ہوا خوب ہوا\nان کا گیسو شب دیجور ہوا خوب ہوا\n\nنکہت زلف سے مسرور ہوا خوب ہوا\nسانپ کے زہر سے مخمور ہوا خوب ہوا\n\nسر جو قدموں پہ رکھا ہاتھ سے سرکا نہ دیا\nعجز پر میرے وہ مغرور ہوا خوب ہوا\n\nآئے پریوں کے پرے وصف کمر کھلوانے\nمثل عنقا کے میں مشہور ہوا خوب ہوا\n\nاس جہاں کے نظر آتے ہیں تماشے مجھ کو\nدوربیں دیدۂ ناسور ہوا خوب ہوا\n\nاب انا الحق کے کہے پر نہیں مارے جاتے\nاس زمانے میں جو منصور ہوا خوب ہوا\n\nپھنس گیا ہے کسی گیسو میں دل خانہ خراب\nدشمن جانی سے میں دور ہوا خوب ہوا\n\nمیرے درماں ہیں بدل مردم بادام فروش\nچشم بیمار سے رنجور ہوا خوب ہوا\n\nاشک سے چشم کے ہم زخم جگر دھوتے ہیں\nخون دل بادۂ انگور ہوا خوب ہوا\n\nہم نے دنیا ہی میں جنت کا مزا لوٹ لیا\nمہرباں ہم پہ جو وہ حور ہوا خوب ہوا\n\nبے حجابانہ گلے لگتے ہیں دور اور چلے\nچشم بد دور وہ مخمور ہوا خوب ہوا\n\nزانوئے زہرہ جبیناں پہ دھرا رہتا ہے\nسر مرا کاسۂ طنبور ہوا خوب ہوا\n\nوعدہ شب کا تھا مجھے دن کو وہ دیکھا تو کہا\nنام زنگی اجی کافور ہوا خوب ہوا\n\nکیا ہی خوش گو ہے نسیمؔ اہل سخن کہتے ہیں\nباغ ہند آپ سے میسور ہوا خوب ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%86%D8%AA_%DA%A9%D8%B4_%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "میں نہ وہ ہوں کہ تنک غصہ میں ٹل جاؤں گا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں نہ وہ ہوں کہ تنک غصہ میں ٹل جاؤں گا\nہنس کے تم بات کرو گے میں بہل جاؤں گا\n\nہم نشیں کیجیو تقریب تو شب باشی کی\nآج کر نشہ کا حیلہ میں مچل جاؤں گا\n\nدل مرے ضعف پہ کیا رحم تو کھاتا ہے کہ میں\nجان سے اب کی بچا ہوں تو سنبھل جاؤں گا\n\nسیر اس کوچہ کی کرتا ہوں کہ جبریل جہاں\nجا کے بولا کہ بس اب آگے میں جل جاؤں گا\n\nتنگ ہوں میں بھی اب اس جینے سے اے جی نہ رکا\nجا نکل جا جو تو کہتا ہے نکل جاؤں گا\n\nشور محشر سے ہے پروا مجھے کیا اے واعظ\nجب کہ ہمراہ لیے دل سا خلل جاؤں گا\n\nشوخی سے پہنچئے جوں ہند میں طوطی قائمؔ\nآگے سوداؔ کے میں لے کر یہ غزل جاؤں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%86%DA%A9_%D8%BA%D8%B5%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%B9%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "میں نہ ہوں گا کبھی تجھ سے بت عیار جدا", "poet_page": "مصنف:منشی ٹھاکر پرساد طالب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان طالب مانکپوری (1933)", "year": "1933", "text_ur": "میں نہ ہوں گا کبھی تجھ سے بت عیار جدا\nآگ پتھر سے نہیں ہونے کی زنہار جدا\n\nحشر تک ہوں گے نہ کفار سے دین دار جدا\nکہیں تسبیح سے ہوتی نہیں زنار جدا\n\nفرق ظاہر ہے جو کچھ طائر و انسان میں ہے\nہو نہ پھر کبک سے کیوں یار کی رفتار جدا\n\nکس لئے شیخ کو ہے طرح پر پیچ پہ ناز\nسر سے مینا کے بھی ہوتی نہیں دستار جدا\n\nنیند میں دولت دیدار ہوئی مجھ کو نصیب\nخواب کے ہوتے ہیں کیا دیدۂ بے دار جدا\n\nکوئی نسبت نہیں یوسف کو مرے دلبر سے\nاس کا بازار جدا اس کے خریدار جدا\n\nفیصلہ کیا ہو دو عملے میں پھنسے ہیں آ کر\nہے خفا موت جدا یار ہے بیزار جدا\n\nواسطہ بت سے نہ ہم کو نہ خدا سے مطلب\nمذہب رند جدا ملت دیں دار جدا\n\nقتل کو میرے پری رو مژہ و ابرو کی\nبرچھی رکھتے ہیں الگ ہوتی ہے تلوار جدا\n\nتفرقہ ہو جسد و روح میں پرواہ نہیں\nہو نہ عاشق سے یہ معشوق طرحدار جدا\n\nان حسینوں پہ مرے خلق نہ کیوں کر طالبؔ\nسحر گفتار جدا اور طرحدار جدا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%AF%D8%A7"} {"title": "میں نہیں کہتا کہ دنیا کو بدل کر راہ چل", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں نہیں کہتا کہ دنیا کو بدل کر راہ چل\nخار ہیں پیراہن گل میں سنبھل کر راہ چل\n\nدور ہے ملک عدم اور تجھ میں دم باقی نہیں\nہو سکے تو بس یوں ہی کروٹ بدل کر راہ چل\n\nطالب منزل ہے پھر عزلت نشینی کس لیے\nرہروؤں کو دیکھ لے گھر سے نکل کر راہ چل\n\nکوئے جاناں میں زمانہ ہو گیا روتے ہوئے\nتا کجا دل کا تأسف ہاتھ مل کر راہ چل\n\nیوں رسائی تا سحر ممکن نہیں اے دل مگر\nشمع کی صورت شب غم میں پگھل کر راہ چل", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%DA%86%D9%84"} {"title": "میں نے اب سمجھا ہے راز کائنات", "poet_page": "مصنف:ہوش بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں نے اب سمجھا ہے راز کائنات\nکر رہا ہوں غم سے تعمیر حیات\n\nکس توقع پر بناؤں آشیاں\nزندگی ہے اور برق حادثات\n\nمنزل غم اس قدر آساں نہ تھی\nرہ گئے منہ دیکھ کر صبر و ثبات\n\nجو محبت سے رہا ناآشنا\nہو کے رہ جاتا ہے ننگ کائنات\n\nچھا رہی ہیں ہر طرف حیرانیاں\nعقل ہے بیگانۂ راز حیات\n\nمیرے رخ پر تو نہ تھے غم کے نشاں\nتم سمجھ لیتے ہو شاید دل کی بات\n\nہوشؔ کیا کیجے حدیث غم بیاں\nکون کہہ سکتا ہے دل کی واردات", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%A7%D8%AA"} {"title": "میں نے ان سے جو کہا دھیان مرا کچھ بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں نے ان سے جو کہا دھیان مرا کچھ بھی نہیں\nہائے کس ناز سے ہنس ہنس کے کہا کچھ بھی نہیں\n\nعرض کی کچھ دل عاشق کی خبر ہے تو کہا\nہاں نہیں کچھ نہیں بس کہہ تو دیا کچھ بھی نہیں\n\nتو نہ آیا شب وعدہ تو گیا کیا تیرا\nمر مٹے ہم ترے نزدیک ہوا کچھ بھی نہیں\n\nکیا ہے انجام محبت کوئی پوچھے ہم سے\nجیتے جی خاک میں ملنے کے سوا کچھ بھی نہیں\n\nکس کی مہر اور وفا اب ہے جفا سے بھی گریز\nکیوں نہ جل کر کہیں الفت میں مزا کچھ بھی نہیں\n\nآنکھوں ہی آنکھوں میں دل لے گیا سینہ سے نکال\nہاتھ سے ہم نے دیا اس نے لیا کچھ بھی نہیں\n\nمرے اللہ یہ پتھر کہ بتوں کا دل ہے\nرحم رسوائی کا ڈر خوف خدا کچھ بھی نہیں\n\nکون سا درد ہے جس کا نہیں دنیا میں علاج\nلیکن اس درد محبت کی دوا کچھ بھی نہیں\n\nدیکھا کیفیؔ کو تو بے ساختہ یوں بول اٹھے\nاب تو بیمار محبت میں رہا کچھ بھی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "میں نے بٹھلا کے جو پاس اس کو کھلایا بیڑا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں نے بٹھلا کے جو پاس اس کو کھلایا بیڑا\nقتل پر میرے رقیبوں نے اٹھایا بیڑا\n\nمشتعل تا بہ فلک آتش پر دود ہوئی\nمل کے جس وقت مسی تم نے چبایا بیڑا\n\nسرخ رو ہو کے یہ کس منہ سے تو اب بولے ہے\nمیں نے کس روز ترے ہاتھ سے پایا بیڑا\n\nمیری اور آپ کی مجلس میں بگڑ جائے گی\nتم نے دینے کو کسی کے جو بنایا بیڑا\n\nسبز بختی کہوں کیا اپنی کہ وہ جان گیا\nپڑھ کے افسوں میں کھلانے کو جو لایا بیڑا\n\nلال کر دوں گا ابھی بزم میں منہ کتنوں کے\nہاتھ سے تو نے کسی کو جو کھلایا بیڑا\n\nاے نصیرؔ اس کے گلے کا ہوں نہ میں کیوں کر ہار\nآج گل رو نے مجھے دیکھ چبایا بیڑا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D9%B9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%DA%91%D8%A7"} {"title": "میں نے جو بے کسانہ مجلس میں جان کھوئی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں نے جو بے کسانہ مجلس میں جان کھوئی\nسر پر مرے کھڑی ہو شب شمع زور روی\n\nآتی ہے شمع شب کو آگے ترے یہ کہہ کر\nمنہ کی گئی جو لوئی تو کیا کرے گا کوئی\n\nبے طاقتی سے آگے کچھ پوچھتا بھی تھا سو\nرونے نے ہر گھڑی کے وہ بات ہی ڈبوئی\n\nبلبل کی بیکلی نے شب بے دماغ رکھا\nسونے دیا نہ ہم کو ظالم نہ آپ سوئی\n\nاس ظلم پیشہ کی یہ رسم قدیم ہے گی\nغیروں پہ مہربانی یاروں سے کینہःجوئی\n\nنوبت جو ہم سے گاہے آتی ہے گفتگو کی\nمنہ میں زباں نہیں ہے اس بد زباں کے گوئی\n\nاس مہ کے جلوے سے کچھ تا میرؔ یاد دیوے\nاب کے گھروں میں ہم نے سب چاندنی ہے بوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "میں نے عریاں تجھے اے رشک قمر دیکھ لیا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں نے عریاں تجھے اے رشک قمر دیکھ لیا\nدیدہ و دل کو جو تھا مد نظر دیکھ لیا\n\nنزع میں یار نے صورت نہ دکھائی مجھ کو\nدشمن و دوست کو ہنگام سفر دیکھ لیا\n\nلے گئی وحشت دل گور غریباں کی طف\nہم نے یاران گزشتہ کا بھی گھر دیکھ لیا\n\nخوں کیا غیر کے دل کو مری جاں بازی نے\nیاد نے چیر کے پہلو کو جگر دیکھ لیا\n\nدہن یار سے اک شعر کسی دن نہ سننا\nہم نھے اس اپنی زباں کا بھی اثر دیکھ لیا\n\nبھر گیا دامن نظارہ گل نرگس سے\nآنکھ اٹھا کر جو کبھی تو نے ادھر دیکھ لیا\n\nروبرو رہنے لگا آئینہ آتش شب و روز\nیاد کو غیر سے بھی شیر و شکر دیکھ لیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%82%D9%85%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "میں نے مانا کام ہے نالہ دل ناشاد کا", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں نے مانا کام ہے نالہ دل ناشاد کا\nہے تغافل شیوہ آخر کس ستم ایجاد کا\n\nہائے وہ دل جو ہدف تھا ناوک بیداد کا\nدرد سہتا ہے وہی اب غفلت صیاد کا\n\nنرگس مستانہ میں کیفیت جام شراب\nقامت رعنا پہ عالم مصرعۂ استاد کا\n\nمانع فریاد ہے کچھ طبع کی افسردگی\nکچھ سکوت آموز ہے پاس ادب صیاد کا\n\nاس قدر دل کش رہا تیرا اگر انداز جور\nزخم دل منہ چوم لے گا خنجر بیداد کا\n\nمجلس ماتم بنی آنے سے ان کے بزم عیش\nپڑ گیا پھولوں میں میرے غل مبارک باد کا\n\nتو نہ کر ترک ستم ظالم ستم ہو جائے گا\nجاں سے جائے گا خوگر لذت بیداد کا\n\nدرد ناکام ہجوم آرزو کا ہے مآل\nتلخئ حسرت نتیجہ شوق الفت زاد کا\n\nحسرت افزا ہے بہت میرے دل ویراں کا جال\nکون ہے فرماں روا اس ملک غیر آباد کا\n\nلطف ہی آتا رہا ہے سعی باطل میں مجھے\nہے یہاں افسوس کس کو محنت برباد کا\n\nکھینچ کر لے چل مجھے شوق اسیری سوئے دام\nکام ایسا کر کہ جس سے جی بڑھے صیاد کا\n\nکس کو شکوہ ہجر کا اور کس کو حسرت وصل کی\nلطف پروردہ ہے میرا دل کسی کی یاد کا\n\nیہ ادائے دلربایانہ یہ انداز حیا\nکس طرح پھر کام کرتی ہے نظر جلاد کا\n\nوحشتؔ اس بت نے تغافل جب کیا اپنا شعار\nکام خاموشی سے میں نے بھی لیا فریاد کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "میں نے کہا کہ تجزیۂ جسم و جاں کرو", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں نے کہا کہ تجزیۂ جسم و جاں کرو\nاس نے کہا یہ بات سپرد بتاں کرو\n\nمیں نے کہا کہ بہار ابد کا کوئی سراغ\nاس نے کہا تعاقب لالہ رخاں کرو\n\nمیں نے کہا کہ صرف دل رائیگاں ہے کیا\nاس نے کہا آرزوئے رائیگاں کرو\n\nمیں نے کہا کہ عشق میں بھی اب مزا نہیں\nاس نے کہا کہ از سر نو امتحاں کرو\n\nمیں نے کہا کہ اور کوئی پند خوش گوار\nاس نے کہا کہ خدمت پیر مغاں کرو\n\nمیں نے کہا ہم سے زمانہ ہے سر گراں\nاس نے کہا کہ اور اسے سر گراں کرو\n\nمیں نے کہا کہ زہد سراسر فریب ہے\nاس نے کہا یہ بات یہاں کم بیاں کرو\n\nمیں نے کہا کہ حد ادب میں نہیں ظفرؔ\nاس نے کہا نہ بند کسی کی زباں کرو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D8%AC%D8%B2%DB%8C%DB%82_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "میں نے کہا کہ دعوی‌ٔ الفت مگر غلط", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں نے کہا کہ دعوی‌ٔ الفت مگر غلط\nکہنے لگے کہ ہاں غلط اور کس قدر غلط\n\nتاثیر آہ و زاریٔ شب ہائے تار جھوٹ\nآوازۂ قبول دعائے سحر غلط\n\nسوز جگر سے ہونٹ پہ تبخالہ‌ افترا\nشور فغاں سے جنبش دیوار و در غلط\n\nہاں سینے سے نمائش داغ دروں دروغ\nہاں آنکھ سے تراوش خون جگر غلط\n\nآ جائے کوئی دم میں تو کیا کچھ نہ کیجئے\nعشق مجاز و چشم حقیقت نگر غلط\n\nبوس و کنار کے لئے یہ سب فریب ہیں\nاظہار پاک‌ بازی و ذوق نظر غلط\n\nلو صاحب آفتاب کہاں اور ہم کہاں\nاحمق بنیں ہم اس کو نہ سمجھیں اگر غلط\n\nسینے میں اپنے جانتے ہو تم کہ دل نہیں\nہم کو سمجھتے ہو کہ ہے ان کی کمر غلط\n\nکہنا ادا کو تیغ خوشامد کی بات ہے\nسینے کو اپنی اس کی سمجھنا سپر غلط\n\nمٹی میں کیا دھری تھی کہ چپکے سے سونپ دی\nجان عزیز پیشکش نامہ بر غلط\n\nپوچھو تو کوئی مر کے بھی کرتا ہے کچھ کلام\nکہتے ہو جان دی ہے سر رہ گزر غلط\n\nہم پوچھتے پھریں کہ جنازہ کدھر گیا\nمرنے کی اپنی روز اڑانی خبر غلط\n\nآیت نہیں حدیث نہیں جس کو مانئے\nہے نظم و نثر اہل سخن سربسر غلط\n\nیہ کچھ سنا جواب میں ناظمؔ ستم کیا\nکیوں یہ کہا کہ دعویٔ الفت مگر غلط", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D8%B9%D9%88%DB%8C%E2%80%8C%D9%94_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D8%BA%D9%84%D8%B7"} {"title": "میں نے کہا کیوں لاش پہ آقا کی ہے مرتا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "میں نے کہا کیوں لاش پہ آقا کی ہے مرتا\nہوٹل کی طرف جا کہ غذا بھی ہے کوئی چیز\nکتے نے کہا ہو یہ جہالت کہ تعصب\nلیکن مرے نزدیک وفا بھی ہے کوئی چیز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%84%D8%A7%D8%B4_%D9%BE%DB%81_%D8%A2%D9%82%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A7"} {"title": "میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑا", "poet_page": "مصنف:غمگین دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑا\nپر تصور میں مرے اس نے نہ آنا چھوڑا\n\nاس نے کہنے سے رقیبوں کے مجھے چھوڑ دیا\nجس کی الفت میں دلا تو نے زمانا چھوڑا\n\nاٹھ گیا پردۂ ناموس مرے عشق کا آہ\nاس نے کھڑکی میں جو چلمن کا لگانا چھوڑا\n\nہاتھ سے میرے وہ پیتا نہیں مدت سے شراب\nیارو کیا اپنی خوشی میں نے پلانا چھوڑا\n\nتیرے غمگیںؔ کو پریشانی ہے اس روز سے یار\nتو نے جس روز سے زلفوں کا بنانا چھوڑا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7"} {"title": "میں وصل میں بھی شیفتہ حسرت طلب رہا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں وصل میں بھی شیفتہ حسرت طلب رہا\nگستاخیوں میں بھی مجھے پاسِ ادب رہا\n\nتغییر وضع کی ہے اشارہ وداع کا\nیعنی جفا پہ خو گرِ الطاف کب رہا\n\nمیں رشک سے چلا تو کہا بے سبب چلا\nاس پر جو رہ گیا تو کہا، بے سبب رہا\n\nدم بھر بھی غیر پر نگہِ لطف کیوں ہے اب\nاک عمر میں ستم کشِ چشمِ غضب رہا\n\nتھا شب تو آہ میں بھی اثر، جذبِ دل میں بھی\nکیوں کر نہ آئے شیفتہ مجھ کو عجب رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B4%DB%8C%D9%81%D8%AA%DB%81_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "میں وہ آتش‌ نفس ہوں آگ ابھی", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں وہ آتش‌ نفس ہوں آگ ابھی\nخرمن‌ برق میں لگا دوں گا\n\nروٹھو مجھ سے نہ وہ بلا ہوں میں\nرونی صورت کو بھی ہنسا دوں گا\n\nتو اٹھائے جو خنجر پر خم\nگردن اپنی وہیں جھکا دوں گا\n\nآہ سے عرش کو ہلا دوں گا\nکنگر چرخ کو جھکا دوں گا\n\nنہ چلو مجھ سے تم رقیبوں چال\nانگلیوں پر تمہیں نچا دوں گا\n\nوقت رونے کے آہ سوزاں سے\nدامن ابر کو جلا دوں گا\n\nآگے میرے نہ شیخی مار اے شیخ\nرات کا ماجرا سنا دوں گا\n\nآہ کو میری بے اثر نہ کہو\nمیں تماشا ابھی دکھا دوں گا\n\nتم جو ہر روز کہتے ہو مر مر\nایک دن مر کے بھی دکھا دوں گا\n\nدوسرے کو جو دو گے دل میں بھی\nدل کے نقش وفا مٹا دوں گا\n\nشیخ چل تو شراب خانے میں\nمیں تجھے آدمی بنا دوں گا\n\nمشرقیؔ دے اگر وہ جام شراب\nدل سے غم میں ابھی مٹا دوں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A2%D8%AA%D8%B4%E2%80%8C_%D9%86%D9%81%D8%B3_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A2%DA%AF_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "میں وہ بے چارہ ہوں جس سے بے کسی مانوس ہے", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں وہ بے چارہ ہوں جس سے بے کسی مانوس ہے\nجو ہتھیلی ہاتھ میں ہے اک کف افسوس ہے\n\nاس قدر رنج سیہ بختی سے ہوں زار و نحیف\nدو قدم چلنا بھی جس کو ایک کالے کوس ہے\n\nآسماں نان جویں بھی دے تو نعمت جانیے\nپاؤ روٹی بھی جو ہاتھ آئے سمجھے توس ہے\n\nغیر کے خاطر دھرا جاتا ہوں میں مفت خدا\nکوئی ملزم ہو وہ بت دیتا مجھی کو دوس ہے\n\nشادؔ آسا ہے اسے بھی بوسۂ لب کی ہوس\nبوالہوس بھی اے شکر لب ایک ہی لہلوس ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%92_%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B3_%DB%81%DB%92"} {"title": "میں وہ مجنوں ہوں کہ آباد نہ اجڑا سمجھوں", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں وہ مجنوں ہوں کہ آباد نہ اجڑا سمجھوں\nمشت خاک اپنی اڑا کر اسے صحرا سمجھوں\n\nاس قدر محو ہوں ان شعلہ رخوں کا جوں شمع\nکہ نہ جلنے کو پہچانوں نہ تماشا سمجھوں\n\nچشمک یار ہیں مجھ شمع کے حق میں گل گیر\nدم یہ قینچی کے میں انفاس مسیحا سمجھوں\n\nگردش چشم سجن لے گیا خاطر سے غبار\nاس کو دشت دل عزلتؔ کا بگولا سمجھوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AC%DA%91%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%88%DA%BA"} {"title": "میں وہ ہوں جس کا زمانے نے سبق یاد کیا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں وہ ہوں جس کا زمانے نے سبق یاد کیا\nغم نے شاگرد کیا پھر مجھے استاد کیا\n\nحسن جاں سوز نے وحدت میں مجھے یاد کیا\nمیں یہ سمجھا کہ مجھے عشق نے برباد کیا\n\nنہیں معلوم وہ میں ہوں کہ کوئی اور اسیر\nسن رہا ہوں کہ گرفتار کو آزاد کیا\n\nجس جگہ کھائی تھی ٹھوکر وہیں تربت تھی مری\nبھولنے والے نے مشکل سے مجھے یاد کیا\n\nمیری آہوں کی ہواؤں میں نہ آ جانا تم\nیہ وہی ہیں کہ جنہوں نے مجھے برباد کیا\n\nخانۂ قبر عجب چیز ہے لیکن میں نے\nاتنے ٹکڑے کو بھی اک عمر میں آباد کیا\n\nیاس و امید کے مابین ہوئی ختم حیات\nایک نے شاد کیا ایک نے ناشاد کیا\n\nتجھ کو سب دیتے ہیں آواز وہ اپنے ہوں کہ غیر\nاس طرف میں نے موذن نے ادھر یاد کیا\n\nمیں تھا اک خاک کی چٹکی تو اڑا جاتا ہوں\nخاک کا وہ بھی ہے ذرہ جسے صیاد کیا\n\nکس سے لوں داد وفا کس کو دکھاؤں یہ جفا\nوہ تو پردے میں ہے جس نے مجھے ایجاد کیا\n\nعشق میں اپنے ہی ہاتھوں سے ہوا دو ٹکڑے\nدل ناکام نے کار سر فرہاد کیا\n\nناتوانی میں گرے تھے جو لہو کے قطرے\nمیں تو بھولا ہوا تھا دل نے بہت یاد کیا\n\nاشک آنکھوں سے گرے خون رگوں میں جو نہ تھا\nمیں نے آخر ادب نشتر فصاد کیا\n\nذرے ذرے سے مری خاک یہ دیتی ہے صدا\nرہے آباد وہ جس نے مجھے برباد کیا\n\nایک سناٹا سا عالم میں تھا لیکن میں نے\nفتح باب اثر نالہ و فریاد کیا\n\nجتنے شکوے ہیں تجھی سے ہیں کہ اس عالم میں\nمجھ کو بلبل کیا صیاد کو صیاد کیا\n\nراستہ چلنے کے قابل نہ رہا اے ہمدم\nمیں نے منزل پہ نیا مرحلہ ایجاد کیا\n\nمیں تو چیونٹی کے کچلنے سے حذر رکھتا تھا\nپھر مجھے کس نے تہہ زانوئے جلاد کیا\n\nاتنا زندہ رہے ہم جس سے کھلیں معنیٔ موت\nصبح ایجاد میں قصد عدم آباد کیا\n\nبو نکلنے لگی غنچوں سے تو پھر ڈر کس کا\nیہ خبر سچ ہے تو صیاد نے آزاد کیا\n\nقبل از وقت پھنسا دام میں اور پھنستے ہی\nجو تمنا یہاں لائی تھی اسے یاد کیا\n\nعالم حسن ہے وہ نقش معانی ثاقبؔ\nجو مری طبع خدا داد نے ایجاد کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D8%A8%D9%82_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "میں پا شکستہ کہاں طفل نے سوار کہاں", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "میں پا شکستہ کہاں طفل نے سوار کہاں\nپھر اس کی گرد کہاں اور مرا غبار کہاں\n\nتمہارے وصل سے ٹھہرے گا یہ دل بے تاب\nبغیر آئنہ سیماب کو قرار کہاں\n\nبہت دنوں سے ہوں آمد کا اپنی چشم براہ\nتمہارا لے گیا اے یار انتظار کہاں\n\nجو سرد مہری سے ٹھنڈا ہو اس کے اے مہ رو\nرگوں میں خون کہاں نبض میں بخار کہاں\n\nنکل کے سینہ سے جا پہنچے طور سینا پر\nگئی چمکنے مری آہ پر شرار کہاں\n\nجو سمجھیں تیرے دم تیغ کو طریق اپنا\nبتا دے دہر میں ہیں ایسے سر گزار کہاں\n\nفلک کی صلح کو سمجھے رہو وقارؔ جدال\nبنے بھی دوست جو دشمن تو اعتبار کہاں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%A7_%D8%B4%DA%A9%D8%B3%D8%AA%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B7%D9%81%D9%84_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "میں پریشاں گرد اور محفل نشیں تو کب نہ تھا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں پریشاں گرد اور محفل نشیں تو کب نہ تھا\nہر کہیں کس دن نہ تھا میں، ہر کہیں تو کب نہ تھا\n\nیاں سبک حرفِ ملامت، واں گراں عرضِ نیاز\nسخت جاں میں کب نہ تھا اور نازنیں تو کب نہ تھا\n\nناصح و واعظ کے مطعوں اے صنم ہم کب نہ تھے\nآفتِ جان و بلائے عقل و دیں تو کب نہ تھا\n\nانتہا کی بات ہے یاں ابتدائے عشق ہے\nہم نہ تھے کب عجز گستر، خشم گیں تو کب نہ تھا\n\nجستجو میں سرمۂ تسخیر کی ہم کب نہ تھے\nچشمِ افسوں ساز سے سحر آفریں تو کب نہ تھا\n\nتجھ کو شک الفت میں اپنی، ہم کو وہمِ ربطِ غیر\nبدگماں ہم کب نہ تھے اور بے یقیں تو کب نہ تھا\n\nنا شکیبا، مضطرب، وقفِ ستم، ہم کب نہ تھے\nبے مروت، بے وفا، مصروفِ کیں تو کب نہ تھا\n\nتیری ان باتوں پہ ہم طعنے اٹھاتے کب نہ تھے\nاے ستم گر شیفتہ کا ہم نشیں تو کب نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "میں پہروں گھر میں پڑا دل سے بات کرتا ہوں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں پہروں گھر میں پڑا دل سے بات کرتا ہوں\nجب اس کے شکل و شمائل سے بات کرتا ہوں\n\nبہ وقت ذبح بھی ہلتے رہیں ہیں لب میرے\nز بسکہ خنجر قاتل سے بات کرتا ہوں\n\nمری زباں کو مرا ہم نوا ہی سمجھے ہے\nمیں نیم ذبح ہوں بسمل سے بات کرتا ہوں\n\nنہ ناقہ اور نہ محمل رہا میں سودائی\nہنوز ناقہ و محمل سے بات کرتا ہوں\n\nہے ان دنوں مری آواز میں یہاں تک ضعف\nکہ اپنے ساتھ بھی مشکل سے بات کرتا ہوں\n\nسمجھ نہ موج مرے منہ میں ہیں ہزاروں زباں\nمیں بحر ہوں لب ساحل سے بات کرتا ہوں\n\nمزہ ملے ہے مجھے اس کی ہم کلامی کا\nمیں اس کے در کے جو سائل سے بات کرتا ہوں\n\nبہ وقت آئینہ دیدن بلاؤں میں تو کہے\nمیں اپنے عاشق مائل سے بات کرتا ہوں\n\nجو مصحفیؔ کی سفارش کریں تو بولے وہ شوخ\nمیں ایسے ننگ قبائل سے بات کرتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%81%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "میں چپ رہوں تو گویا رنج و غم نہاں ہوں", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "میں چپ رہوں تو گویا رنج و غم نہاں ہوں\nبولوں تو سر سے پا تک حسرت کی داستاں ہوں\n\nمسرور ہو تو مجھ سے میں تجھ سے شادماں ہوں\nتو میرا میہماں ہو میں تیرا میزباں ہوں\n\nکہتی ہے ان کی مستی ہوش آئے تو میں پوچھوں\nاے بے خودی بتا دے اس وقت میں کہاں ہوں\n\nارشاد پر نظر ہے خاموش ہوں کہ گویا\nچاہو تو بے زباں ہوں چاہو تو با زباں ہوں\n\nجاں گھل چکی ہے غم میں اک تن ہے وہ بھی مہمل\nمعنی نہیں ہیں بالکل مجھ میں اگر بیاں ہوں\n\nمیں ہوں جنوں کے ہاتھوں مخلوق کا تماشہ\nنا مہرباں ہوں خود پر دنیا پہ مہرباں ہوں\n\nاللہ رے اس کی چوکھٹ ہے بوسہ گاہ عالم\nکہتا ہے سنگ اسود میں سنگ آستاں ہوں\n\nکہتا ہے میرا نالہ لب تک میں آتے آتے\nسو جا تھما ہوں رہ میں اس درجہ ناتواں ہوں\n\nنفرت ہو جس کو مجھ سے ملنے کا اس سے حاصل\nنظروں میں کیوں سبک ہوں خاطر پہ کیوں گراں ہوں\n\nمدت میں تم ملے ہو کیوں ذکر غیر آئے\nمیں اپنے سائے سے بھی خلوت میں بد گماں ہوں\n\nچپ رہ گیا پیامی لیکن یہ خیر گزری\nخط نے کہا کہ سنیے پرویںؔ کی میں زباں ہوں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D9%BE_%D8%B1%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "میں چپ کم رہا اور رویا زیادہ", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "میں چپ کم رہا اور رویا زیادہ\nیقیناً زمیں کم ہے دریا زیادہ\n\nشب وصل مرغ سحر یاد رکھنا\nزباں کاٹ لوں گا جو رویا زیادہ\n\nمیں نازک مزاجی سے واقف ہوں قاصد\nاسی وجہ خط میں نہ لکھا زیادہ\n\nدو بوسے لئے اس نے دو گالیاں دیں\nنہ لینا زیادہ نہ دینا زیادہ\n\nوہ سیر چمن کے لئے آ رہا ہے\nاکڑنا نہ شمشاد اتنا زیادہ\n\nوہ اتنا ہی بنتا ہے حرص مجسم\nخدا جس کو دیتا ہے جتنا زیادہ\n\nعمل پر مجھے اعتماد اپنے کم ہے\nخدا کے کرم پر بھروسہ زیادہ\n\nجو آنکھیں ترے خاک در سے ہیں روشن\nملایا ہے شاید ممیرا زیادہ\n\nمجھے الفت زلف جب سے ہے پرویںؔ\nبتاتے ہیں وہ جوش سودا زیادہ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D9%BE_%DA%A9%D9%85_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7_%D8%B2%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DB%81"} {"title": "میں کسی شوخ کی گلی میں نہیں", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں کسی شوخ کی گلی میں نہیں\nزندگی میری زندگی میں نہیں\n\nہم وفا کی امید کیا رکھیں\nکس میں ہوگی جو آپ ہی میں نہیں\n\nکوئی کیسا ہے کوئی کیسا ہے\nآدمیت ہر آدمی میں نہیں\n\nتذکرہ ہی وفا کا سنتا ہوں\nیہ کسی میں ہے یا کسی میں نہیں\n\nاس کا ملنا ہے اپنے کھونے پر\nفی الحقیقت خدا خودی میں نہیں\n\nکس سے پوچھوں کہ رات کیا گزری\nاہل بزم اپنے ہوش ہی میں نہیں\n\nوہ گھٹا آسمان پر اٹھی\nعذر اب مجھ کو مے کشی میں نہیں\n\nگفتگو ان کی دوستی میں ہے\nشک ہمیں ان کی دشمنی میں نہیں\n\nہے خودی اور بے خودی کچھ اور\nبے خودی کا مزہ خودی میں نہیں\n\nکوئی چلمن اٹھائے بیٹھا ہے\nکوئی اپنے حواس ہی میں نہیں\n\nغور سے دیکھیے تو سب کچھ ہے\nکون سی بات آدمی میں نہیں\n\nیہ بھی ہو وہ بھی ہو تو لطف آئے\nکچھ نہیں لاگ اگر لگی میں نہیں\n\nکون سا وصف کون سی خوبی\nحضرت نوح نارویؔ میں نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوں\nاک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں\n\nلایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر\nمیں ورنہ وہی خلوتیٔ راز نہاں ہوں\n\nجلوہ ہے مجھی سے لب دریاے سخن پر\nصد رنگ مری موج ہے میں طبع رواں ہوں\n\nپنجہ ہے مرا پنجۂ خورشید میں ہر صبح\nمیں شانہ صفت سایۂ رو زلف بتاں ہوں\n\nدیکھا ہے مجھے جن نے سو دیوانہ ہے میرا\nمیں باعث آشفتگیٔ طبع جہال ہوں\n\nتکلیف نہ کر آہ مجھے جنبش لب کی\nمیں صد سخن آغشتہ بہ خوں زیر زباں ہوں\n\nہوں زرد غم تازہ نہالان چمن سے\nاس باغ خزاں دیدہ میں میں برگ خزاں ہوں\n\nرکھتی ہے مجھے خواہش دل بسکہ پریشاں\nدرپئے نہ ہو اس وقت خدا جانے کہاں ہوں\n\nاک وہم نہیں بیش مری ہستئ موہوم\nاس پر بھی تری خاطر نازک پہ گراں ہوں\n\nخوش باشی و تنزیہ و تقدس تھے مجھے میرؔ\nاسباب پڑے یوں کہ کئی روز سے یاں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%D9%81%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%AE%D8%AA%DB%81_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "میں کہا ایک ادا کر تو لگا کہنے اوں ہوں", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں کہا ایک ادا کر تو لگا کہنے اوں ہوں\nدیکھ ٹک آنکھ چرا کر تو لگا کہنے اوں ہوں\n\nسب سے ہنستا تھا وہ کل، رو کے جو میں بول اٹھا\nہم سے بھی ٹک تو ہنسا کر تو لگا کہنے اوں ہوں\n\nمیں کہا دل کو میں لے جاؤں تو بولا وہ کہ ہوں\nلے چلا جب میں اٹھا کر تو لگا کہنے اوں ہوں\n\nمیں کہا صبر و دل و دیں نے وفا ہم سے نہ کی\nبے وفا تو تو وفا کر تو لگا کہنے اوں ہوں\n\nمیں کہا جام مے پیتے ہو تو بولا وہ کہ ہوں\nجب کہا لاؤں چھپا کر تو لگا کہنے اوں ہوں\n\nمیں کہا صحبت اغیار بری ہے پیارے\nان سے اتنا نہ ملا کر تو لگا کہنے اوں ہوں\n\nمیں کہا عشق کو اظہار کروں بولا ہوں\nجب کہا کہتا ہوں جا کر تو لگا کہنے اوں ہوں\n\nمیں کہا سمجھے ہے آزار مرا بولا ہوں\nجب کہا کچھ تو دوا کر تو لگا کہنے اوں ہوں\n\nمیں کہا اب تری دوری سے ہے جرأتؔ بے تاب\nکچھ تو کہہ پاس بلا کر تو لگا کہنے اوں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "میں کہا بولنا شب غیر سے تھا تم کو کیا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں کہا بولنا شب غیر سے تھا تم کو کیا\nمسکرا کہنے لگا شوق مرا تم کو کیا\n\nجو کہا میں کہ برے طور نکالے تم نے\nپھیر کر منہ کو لگا کہنے بھلا تم کو کیا\n\nشکوہ اس بت کے جفا کا جو کیا میں تو کہا\nتم تو دنیا میں ہو اک اہل وفا تم کو کیا\n\nدرد سر دشمنوں کے ان کے ہوا رات سو میں\nجوں ہی گھبرا کے یہ پوچھا تو کہا تم کو کیا\n\nتان کر منہ پہ دوپٹہ بہ دم سرد کہا\nتم لگے پوچھنے کیوں حال مرا تم کو کیا\n\nہر گھڑی تم جو ملامت مجھے کرتے ہو ہوسؔ\nآپ میں دام محبت میں پھنسا تم کو کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%A8%D9%88%D9%84%D9%86%D8%A7_%D8%B4%D8%A8_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "میں کہا تھا کبھی سے یہ کچھ ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں کہا تھا کبھی سے یہ کچھ ہے\nجس کا عالم ابھی سے یہ کچھ ہے\n\nجائے شکوہ نہیں سلوک اس کا\nدیکھتا ہوں سبھی سے یہ کچھ ہے\n\nجب سے دیکھا ہے تجھ کو اب تو کیا\nحالت دل تبھی سے یہ کچھ ہے\n\nہم نے جانا سخن کی شیرینی\nاس کی شکر لبی ہی سے یہ کچھ ہے\n\nدن کو تو خیر تھی حسنؔ پر کچھ\nبے قراری شب ہی سے یہ کچھ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%DB%92"} {"title": "میں کہا خلق تمہاری جو کمر کہتی ہے", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "میں کہا خلق تمہاری جو کمر کہتی ہے\nتم بھی اس کا کہیں کچھ ذکر و بیاں سنتے ہو\nہنس کے یوں کہنے لگا خیر اگر ہے یہ بات\nہووے گی ویسی ہی جیسی کہ وہاں سنتے ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%AE%D9%84%D9%82_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "میں کیا کہوں کہ حال ہے کیا ہجر یار میں", "poet_page": "مصنف:نشتر چھپروی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نشتر (1930)", "year": "1930", "text_ur": "میں کیا کہوں کہ حال ہے کیا ہجر یار میں\nدل اختیار میں نہ جگر اختیار میں\n\nدشمن کو دیکھتے ہیں کنکھیوں سے بزم میں\nکچھ شوخیاں بھی ہیں نگۂ شرمسار میں\n\nرضواں کو بھی تو ہے تری محفل کی آرزو\nمیرا ہے کیا حساب میں ہوں کس شمار میں\n\nجانے نہ دوں گا پھر دل ناداں کو ہاتھ سے\nآ جائے اب کی گر وہ مرے اختیار میں\n\nان کا مسل مسل کے مرے دل کو پوچھنا\nکیوں درد ہو رہا ہے دل بے قرار میں\n\nسرمہ لگا رہے ہیں وہ میرے غبار کا\nمٹ کر سما گیا ہوں غرض چشم یار میں\n\nواعظ کی بہکی باتوں میں آؤں خدا کی شان\nمیں اور مے سے توبہ کروں اور بہار میں\n\nنشترؔ وہ دن کہاں ہیں وہ راتیں کدھر گئیں\nقابو میں تھا وہ شوخ تو دل اختیار میں", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "میں کیا ہوں کون ہوں یہ بھی خبر نہیں مجھ کو", "poet_page": "مصنف:ہادی مچھلی شہری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں کیا ہوں کون ہوں یہ بھی خبر نہیں مجھ کو\nوہ اس طرح مری ہستی پہ چھائے جاتے ہیں\n\nخیال ہی ابھی آیا تھا کوئے جاناں کا\nیہ حال ہے کہ قدم ڈگمگائے جاتے ہیں\n\nوہ پوچھتے ہیں دل مبتلا کا حال اور ہم\nجواب میں فقط آنسو بہائے جاتے ہیں\n\nکہاں ہے شوق بتا غیرت کشش تیری\nوہ میری خاک سے دامن بچائے جاتے ہیں\n\nمٹا رہے ہیں وہ کیوں داغہائے دل ہادیؔ\nچراغ کیوں یہ جلا کر بجھائے جاتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "میں گلا تم سے کروں اے یار کس کس بات کا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں گلا تم سے کروں اے یار کس کس بات کا\nیہ کہانی دن کی ہو جائے نہ قصہ رات کا\n\nترک کی مجھ سے ملاقات آپ نے اچھا کیا\nغم مٹا ہر وقت کا جھگڑا گیا دن رات کا\n\nبے تمیزوں سے طبیعت آشنا ہوتی نہیں\nچاہنے والا ہوں میں محبوب خوش اور رات کا\n\nمیں تو کچھ کہتا ہوں تم سے تم سمجھتے ہو کچھ اور\nجبکہ باتوں میں کلام آیا مزا کیا بات کا\n\nتیرے آنے کی دعا مانگا کبھی جاگا کیے\nرات بھر عالم رہا اے بت خدائی رات کا\n\nواہ کیا نام خدا سج دھج ہے کیا انداز ہے\nآدمی دیکھا نہیں اس قد کا اور اس کات کا\n\nسامنے یوں آئے بوتل جیسے آتی ہے گھٹا\nجام یوں جھلکے کہ میں دیکھوں سماں برسات کا\n\nعشق وہ غارت گر ایماں ہے یہ چاہے اگر\nواعظوں کو کلمہ پڑھوائے منات و لات کا\n\nایسے جھوٹے ہو اگر سچ بھی کبھی ہو بولتے\nاعتبار آتا نہیں صاحب تمہاری بات کا\n\nیار تم کو دل نہیں دینے کا بے‌ بوسہ لیے\nتم جو اپنی گونگے ہو میں بھی ہوں اپنی گھات کا\n\nاہل دنیا خوش ہوں یا نا خوش ہوں کچھ پروا نہیں\nآسرا رکھتا ہے یہ بندہ خدا کی ذات کا\n\nجب تمہاری کان کی بجلی چمک کر رہ گئی\nمیری آنکھوں نے سماں دکھلا دیا برسات کا\n\nقامت جاناں ہے میل منزل اول مجھے\nکاکل شب گوں ہے جادہ وادیٔ آفات کا\n\nتاش کا موباف چوٹی میں مقرر چاہئے\nچاندنی سے اور ہی ہوتا ہے جوبن رات کا\n\nبحرؔ اپنی اپنی قسمت ہے بہ شکل مہر و ماہ\nزر اسے بخشا اسے کاسہ دیا خیرات کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%B3_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "میں گلہ کر رہا ہوں قسمت کا", "poet_page": "مصنف:سید امیر حسن بدر", "kind": "poetry", "section": "غزل > خمخانۂ بدر (1928)", "year": "1928", "text_ur": "میں گلہ کر رہا ہوں قسمت کا\nکون موقع ہے یہ شکایت کا\n\nتھا اثر دل میں کچھ محبت کا\nپوچھتے تھے نشان تربت کا\n\nبدرؔ وارفتہ ہو کے حضرت کا\nکس سے ہے ادعا رقابت کا\n\nڈر نہ تھا دل میں کچھ قیامت کا\nتھا بھروسا تری شفاعت کا\n\nجل اٹھا دل میں داغ حسرت کا\nبجھ گیا جب چراغ تربت کا\n\nسن کے واعظ کی پی گئے مے کش\nمقتضا تھا یہی شرافت کا\n\nعرق آلودہ رخ کا وصف لکھا\nعطر کھینچا گل لطافت کا\n\nشب فرقت تھی رات تربت کی\nروز فرقت تھا دن قیامت کا\n\nنہیں ملتا ادا شناسوں کو\nتولا ماشہ مزاج حضرت کا\n\nزندگی کا بھی ٹھیکا لیتے ہو\nوعدہ کرتے تو ہو قیامت کا\n\nواہ رے حسن تیری رعنائی\nرنگ بدلا حیا طبیعت کا\n\nنہ تو مے ہے نہ جام و ساقی ہے\nرنگ پھیکا ہے آج صحبت کا\n\nشب گیسو سے بھی دراز ہے یہ\nطول کیا کہئے روز فرقت کا\n\nرتی سیم قمر کی چمکی ہے\nاوج دیکھو تو اہل دولت کا\n\nپست سے پست زینہ ہے کرسی\nآپ کے بام عرش رفعت کا\n\nکس غضب کی ہے سانولی صورت\nشور عالم میں ہے ملاحت کا\n\nبے حقیقت یہ خاک کا پتلا\nاک نمونہ ہے تیری صنعت کا\n\nآج کیا ہوں ازل سے پروانہ\nمیں تری شمع بزم قربت کا\n\nدشت غربت میں میرے سر پر تھا\nسائباں تیری نیلگوں چھت کا\n\nبدرؔ تم بھی تو ہو بنی ہاشم\nفخر بے جا نہیں سیادت کا\n\nبدرؔ مرحوم کو خدا بخشے\nآدمی تھا بڑی مروت کا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویا", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویا\nراتوں کے تئیں کر کے فریاد بہت رویا\n\nحسرت میں دیا جی کو محنت کی نہ ہوئی راحت\nمیں حال ترا سن کر فرہاد بہت رویا\n\nگلشن سے وہ جوں لایا بلبل نے دیا جی کو\nقسمت کے اوپر اپنی صیاد بہت رویا\n\nنشتر تو لگاتا تھا پر خوں نہ نکلتا تھا\nکر فصد مری آخر فصاد بہت رویا\n\nکر قتل مجھے ان نے عالم میں بہت ڈھونڈا\nجب مجھ سا نہ کوئی پایا جلاد بہت رویا\n\nجب یار مرا بگڑا خط آئے سے اے تاباںؔ\nتب حسن کو میں اس کے کر یاد بہت رویا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7"} {"title": "میں ہوا زینت مکان قفس", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں ہوا زینت مکان قفس\nدود افغاں ہے سائبان قفس\n\nلو اسیرو کرو بیان چمن\nاور مجھ سے سنو بیان قفس\n\nضعف سے میں نظر نہیں آتا\nجانے صیاد مجھ کو جان قفس\n\nتو سمجھتا نہیں مری صیاد\nمیں سمجھتا نہیں زبان قفس\n\nآ گئی لب تک آہ آتش بار\nاب خدا ہے نگاہ بان قفس\n\nنہیں آتی خبر رہائی کی\nطالع بد ہے پاسبان قفس\n\nکس کی فریاد نے ہلائی زمیں\nکس پہ ٹوٹا ہے آسمان قفس\n\nسالکؔ آنے سے موت کے ہوگا\nفائدہ اپنا اور زیان قفس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B2%DB%8C%D9%86%D8%AA_%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86_%D9%82%D9%81%D8%B3"} {"title": "میں ہوں تیرے لیے بے نام و نشاں آوارہ", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں ہوں تیرے لیے بے نام و نشاں آوارہ\nزندگی میرے لیے تو ہے کہاں آوارہ\n\nتجھ سے کٹ کر کوئی دیکھے تو کہاں پہنچا ہوں\nجیسے ندی میں کوئی سنگ رواں آوارہ\n\nتجھ کو دیکھا ہے کہیں تجھ کو کہاں دیکھا ہے\nوہم ہے سر بہ گریباں و گماں آوارہ\n\nدیر و کعبہ کی روایات سے انکار نہیں\nآؤ دو دن تو پھریں نعرہ زناں آوارہ\n\nتیرے دامن کی طرح دامن شب رخشندہ\nمیرے اشکوں کی طرح کون و مکاں آوارہ\n\nجلتے بجھتے ہیں ہر اک گام پہ تابندہ نجوم\nکوئی ہے آج سر کاہکشاں آوارہ\n\nبھیگی راتوں میں ظفرؔ پھرتا ہے تنہا تنہا\nآہ وہ سوختہ دل سوختہ جاں آوارہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%81"} {"title": "میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں\nتیرا بندہ ہوں اے خدا کچھ ہوں\n\nجزو و کل کو نہیں سمجھتا میں\nدل میں تھوڑا سا جانتا کچھ ہوں\n\nتجھ سے الفت نباہتا ہوں میں\nباوفا ہوں کہ بے وفا کچھ ہوں\n\nجب سے ناآشنا ہوں میں سب سے\nتب کہیں اس سے آشنا کچھ ہوں\n\nنشۂ عشق لے اڑا ہے مجھے\nاب مزے میں اڑا رہا کچھ ہوں\n\nخواب میرا ہے عین بیداری\nمیں تو اس میں بھی دیکھتا کچھ ہوں\n\nگرچہ کچھ بھی نہیں ہوں میں لیکن\nاس پہ بھی کچھ نہ پوچھو کیا کچھ ہوں\n\nسمجھے وہ اپنا خاکسار مجھے\nخاک رہ ہوں کہ خاک پا کچھ ہوں\n\nچشم الطاف فخر دیں سے ہوں\nاے ظفرؔ کچھ سے ہو گیا کچھ ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B9%D8%A7%D8%B5%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D8%AE%D8%B7%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث\nآج سے تیری جستجو ہے عبث\n\nسادگی میں ہے لاکھ لاکھ بناؤ\nآئنہ تیرے روبرو ہے عبث\n\nمجھ کو دونوں سے کچھ مزا نہ ملا\nدل عبث دل کی آرزو ہے عبث\n\nباد آب آگ خاک گرد روح\nزشت‌ رویوں میں خوبرو ہے عبث\n\nطور‌ و موسیٰ ہیں ذرہ ذرہ میں\nکب ترا جلوہ چار سو ہے عبث\n\nلپٹے ہیں خواب میں وہ دشمن سے\nہاتھ یاں زینت گلو ہے عبث\n\nواہ مائلؔ خودی میں ذکر انا\nچپ رہو تم یہ گفتگو ہے عبث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%B7%D9%84%D9%88%D8%A8_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%A8%D8%AB"} {"title": "میں یار کا جلوا ہوں", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں یار کا جلوا ہوں\nیا دیدۂ موسیٰ ہوں\n\nقطرہ ہوں نہ دریا ہوں\nبستی ہوں نہ صحرا ہوں\n\nجینا مرا مرنا ہے\nمرنے کو ترستا ہوں\n\nاپنی ہی امیدوں کا\nبگڑا ہوا نقشا ہوں\n\nارمانوں کا گہوارا\nحسرت کا جنازا ہوں\n\nاس عالم ہستی میں\nیوں ہوں کہ میں گویا ہوں\n\nزندہ ہوں مگر بیدمؔ\nاک طرفہ تماشا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "میں یاں بیٹھا تو تم واں اٹھ گئے اے یار کیا باعث", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "میں یاں بیٹھا تو تم واں اٹھ گئے اے یار کیا باعث\nہوئے بے دل ہی اپنے آپ کیوں بیزار کیا باعث\n\nعنایت کی نہیں اگلی سے اب آثار کیا باعث\nکئے ہیں بند تم نے رخنۂ دیوار کیا باعث\n\nکہا میں نے مرے گھر بھی کبھو آؤ گے یہ بولے\nمیں کیوں آؤں مجھے کیا واسطہ کیا کار کیا باعث\n\nنڈر لا تقنطو پڑھ کر گناہوں سے تھا میں اپنے\nیہ واعظ کیوں ڈراتے ہیں مجھے غفار کیا باعث\n\nتمہاری خاطر واطر میں اے گل رو یہ کیا آیا سو\nمجھے کیوں دیکھ کر ہنستے ہو تم ہر بار کیا باعث\n\nفقط اک دید کو نادیدہ دل اور دیدہ ہے اپنا\nتو اے بے دید دکھلاتا نہیں دیدار کیا باعث\n\nپس مردن مری بالیں پہ رو کر یہ لگے کہنے\nتو کیوں چپکا پڑا ہے عاشق بیمار کیا باعث\n\nسخی سے سوم بہتر ہے جواب صاف جو دیوے\nکبھی انکار کیا موجب کبھی اقرار کیا باعث\n\nبگاڑ اس آئنہ رو سے نہیں گر آپ کا احساںؔ\nبنی حیرت سے کیوں تم صورت دیوار کیا باعث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B9%D8%AB"} {"title": "مے بے رنگ کا سو رنگ سے رسوا ہونا", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مے بے رنگ کا سو رنگ سے رسوا ہونا\nکبھی میکش کبھی ساقی کبھی مینا ہونا\n\nاز ازل تا بہ ابد محو تماشا ہونا\nمیں وہ ہوں جس کو نہ مرنا ہے نہ پیدا ہونا\n\nسارے عالم میں ہے بیتابی و شورش برپا\nہائے اس شوخ کا ہم شکل تمنا ہونا\n\nفصل گل کیا ہے یہ معراج ہے آب و گل کی\nمیری رگ رگ کو مبارک رگ سودا ہونا\n\nکہہ کے کچھ لالہ و گل رکھ لیا پردہ میں نے\nمجھ سے دیکھا نہ گیا حسن کا رسوا ہونا\n\nجلوۂ حسن کو ہے چشم تحیر کی طلب\nکس کی قسمت میں ہے محروم تماشا ہونا\n\nدہر ہی سے وہ نمایاں بھی ہے پنہاں بھی ہے\nجیسے صہبا کے لیے پردۂ مینا ہونا\n\nتیری شوخی تیری نیرنگ ادائی کے نثار\nاک نئی جان ہے تجدید تمنا ہونا\n\nحسن کے ساتھ ہے بیگانہ نگاہی کا مزہ\nقہر ہے قہر مگر عرض تمنا ہونا\n\nاس سے بڑھ کر کوئی بے راہروی کیا ہوگی\nگام پر شوق کا منزل سے شناسا ہونا\n\nمائل شعر و غزل پھر ہے طبیعت اصغرؔ\nابھی کچھ اور مقدر میں ہے رسوا ہونا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "مے خانہ بہ دوش ہیں گھٹائیں ساقی", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "مے خانہ بہ دوش ہیں گھٹائیں ساقی\nپیمانہ فروش ہیں فضائیں ساقی\nاک جام پلا کے مست کر دے مجھ کو\nغارت گر ہوش ہیں ہوائیں ساقی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%81_%D8%AF%D9%88%D8%B4_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "مے خانۂ کوثر کا شرابی ہوں میں", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "مے خانۂ کوثر کا شرابی ہوں میں\nکیا قبر کا خوف بو ترابی ہوں میں\nکہتی ہے یہ چشم خوش رکھو نہ مجھے\nاے اہل نظر مردم آبی ہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%82_%DA%A9%D9%88%D8%AB%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "مے رہے مینا رہے گردش میں پیمانہ رہے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مے رہے مینا رہے گردش میں پیمانہ رہے\nمیرے ساقی تو رہے آباد مے خانہ رہے\n\nحشر بھی تو ہو چکا رخ سے نہیں مٹتی نقاب\nحد بھی آخر کچھ ہے کب تک کوئی دیوانہ رہے\n\nکچھ نہیں ہم دل جلوں کی بے قراری کچھ نہیں\nتیری محفل وہ ہے جس میں شمع پروانہ رہے\n\nگورے ہاتھوں میں بنے چوڑی خط ساغر کا عکس\nتیرے دست ناز میں نازک سا پیمانہ رہے\n\nکم سے کم اتنا اثر ہو جو سنے آ جائے نیند\nبیکسوں کی موت کا ہونٹھوں پر افسانہ رہے\n\nرات جو جا بیٹھتے ہیں روز ہم مجنوں کے پاس\nپہلے ان بن رہ چکی ہے اب تو یارانہ رہے\n\nحشر ہو تم شرم کے پتلے نہ بننا حشر میں\nچال اٹھلائی ہوئی انداز مستانہ رہے\n\nتاب اس کی لا نہیں سکتے کبھی نازک دماغ\nبار سر ہے دور سر سے تاج شاہانہ رہے\n\nان کے کہنے سے کبھی یوں کہہ لیے دو چار شعر\nرات دن فکر سخن میں کوئی دیوانہ رہے\n\nان بتوں کے چلتے ہم نے دل کو پتھر کر لیا\nبت رہے کوئی نہ یا رب کوئی بت خانہ رہے\n\nطور پر آ میں نہ میرے سامنے یوں ہی سہی\nہاں ذرا طرز تکلم بے حجابانہ رہے\n\nزندگی کا لطف ہے اڑتی رہے ہر دم ریاضؔ\nہم ہوں شیشے کی پری ہو گھر پری خانہ رہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "مے سے روشن رہے ایاغ اپنا", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مے سے روشن رہے ایاغ اپنا\nگل نہ ہو ساقیا چراغ اپنا\n\nہجر میں تر ہو کیا دماغ اپنا\nخشک لب آپ ہے ایاغ اپنا\n\nنکہت زلف جب سے آئی ہے\nنہیں ملتا ہمیں دماغ اپنا\n\nکس کی ہم جستجو میں نکلے تھے\nنہیں پاتے کہیں سراغ اپنا\n\nکیا ہے مذکور مرہم کافور\nجب نمک سودا ہو نہ داغ اپنا\n\nہے شب ہجر وادئ وحشت\nدیدۂ غول ہے چراغ اپنا\n\nرات دن گل رخوں سے صحبت تھی\nیاد آتا ہے خانہ باغ اپنا\n\nسو رہا جو لپٹ کے وہ گل تر\nدل ہوا آج باغ باغ اپنا\n\nبرگ گل صاف بن گیا پھاہا\nکیا معطر ہوا دماغ اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D8%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "مے و ساقی ہیں سب یکجا اَہاہاہا اَہاہاہا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مے و ساقی ہیں سب یکجا اَہاہاہا اَہاہاہا\nعجب عالم ہے مستی کا اَہاہاہا اَہاہاہا\n\nبہار آئی تڑانے پھر لگے زنجیر دیوانے\nہوا شور جنوں برپا اَہاہاہا اَہاہاہا\n\nجن آنکھوں نے نہ دیکھا تھا کبھی یک اشک کا قطرہ\nچلے ہیں اس سے اب دریا اَہاہاہا اَہاہاہا\n\nمرے گھر اس ہوا میں ساقی و مطرب اگر ہوتے\nتو کیسے مے کشی کرتا اَہاہاہا اَہاہاہا\n\nکیا بیدارؔ سے عاشق کو تو نے قتل اے ظالم\nکوئی کرتا ہے کام ایسا اَہاہاہا اَہاہاہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%92_%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8_%DB%8C%DA%A9%D8%AC%D8%A7_%D8%A7%D9%8E%DB%81%D8%A7%DB%81%D8%A7%DB%81%D8%A7_%D8%A7%D9%8E%DB%81%D8%A7%DB%81%D8%A7%DB%81%D8%A7"} {"title": "مے پئے مست ہے سرشار کہاں جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "بیدارؔ کروں کس سے میں اظہار محبت\nبس دل ہے مرا محرم اسرار محبت\n\nہر بو الہوس اس جنس کا ہوتا ہے گا خواہاں\nجاں باختہ خواں ہوویں خریدار محبت\n\nاے شیخ قدم رکھیو نہ اس راہ میں زنہار\nہے سبحہ شکن رشتۂ زنار محبت\n\nکرتے ہیں عبث مجھ دل بیمار کا درماں\nوابستہ مری جاں سے ہیں آزار محبت\n\nبچ جاؤں اس آزار سے بیدارؔ گر اب کی\nہوں گا نہ کبھی پھر میں گرفتار محبت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%92_%D9%BE%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D8%B4%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "مے کا یہ احترام ارے توبہ", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مے کا یہ احترام ارے توبہ\nاور پھر وہ حرام ارے توبہ\n\nدل کو سرمست کر ہی دیتی ہے\nیاد ساقی و جام ارے توبہ\n\nاللہ اللہ کر ارے زاہد\nجام مے صبح و شام ارے توبہ\n\nبت پرستی میں جس کی عمر کٹی\nایسے کافر کا نام ارے توبہ\n\nایک بے جاں کے قتل کرنے کو\nاس قدر اہتمام ارے توبہ\n\nغم زدوں کی یہ خامشی ہے غضب\nصبر کا انتقام ارے توبہ\n\nآج بھولے سے لے لیا کس نے\nشوقؔ رسوا کا نام ارے توبہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81"} {"title": "مے کدے میں جو ترے حسن کا مذکور ہوا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مے کدے میں جو ترے حسن کا مذکور ہوا\nسنگ غیرت سے مرا شیشۂ دل چور ہوا\n\nایک تو آگے ہی تھا حسن پر اپنے نازاں\nآئینہ دیکھ کے وہ اور بھی مغرور ہوا\n\nصبح ہوتے ہی ہوا مجھ سے جدا وہ مہ رو\nروز گویا مرے حق میں شب دیجور ہوا\n\nتیغ مت کھینچ کہ ایک جنبش ابرو بس ہے\nگر مرا قتل ہی ظالم تجھے منظور ہوا\n\nاز پئے داغ دل بادہ پرستاں بیدارؔ\nپنبۂ شیشۂ مے مرہم کافور ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%92_%DA%A9%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B0%DA%A9%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "مے کشی صبح و شام کرتا ہوں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "مے کشی صبح و شام کرتا ہوں\nفاقہ مستی مدام کرتا ہوں\nکوئی ناکام یوں رہے کب تک\nمیں بھی اب ایک کام کرتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%92_%DA%A9%D8%B4%DB%8C_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "مے ہو ابر و ہوا نہیں تو نہ ہو", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مے ہو ابر و ہوا نہیں تو نہ ہو\nدرد ہو گر دوا نہیں تو نہ ہو\n\nہم تو ہیں آشنا ترے ظالم\nتو اگر آشنا نہیں تو نہ ہو\n\nدل ہے وابستہ تیرے دامن سے\nدست میرا رسا نہیں تو نہ ہو\n\nہم تو تیری جفا کے بندے ہیں\nتجھ میں رسم وفا نہیں تو نہ ہو\n\nآستاں پر تو گر رہے ہیں اگر\nتیری مجلس میں جا نہیں تو نہ ہو\n\nہم تو ہیں صاف، بد گماں میرے\nتیرے دل میں صفا نہیں تو نہ ہو\n\nدل کو اکسیر ہے گی تیری نگاہ\nہوس کیمیا نہیں تو نہ ہو\n\nہم تو حاشا نہیں کسی سے برے\nکوئی ہم سے بھلا نہیں تو نہ ہو\n\nطالب وصل کب تلک رہیے\nہو تو ہو جائے یا نہیں تو نہ ہو\n\nحاتمؔ اب کس کی مجھ کو پروا ہے\nکوئی مرا جز خدا نہیں تو نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "مے ہو ساغر میں کہ خوں رات گزر جائے گی", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "مے ہو ساغر میں کہ خوں رات گزر جائے گی\nدل کو غم ہو کہ سکوں رات گزر جائے گی\n\nدیکھنا یہ ہے کہ انداز سحر کیا ہوں گے\nیوں تو ارباب جنوں رات گزر جائے گی\n\nنہ رکا ہے نہ رکے قافلۂ لیل و نہار\nرات کم ہو کہ فزوں رات گزر جائے گی\n\nمیں ترا محرم اسرار ہوں اے صبح بہار\nجا کے پھولوں سے کہوں رات گزر جائے گی\n\nمژدۂ صبح مبارک تمہیں اے دیدہ ورو\nمیں جیوں یا نہ جیوں رات گزر جائے گی\n\nرات بھر میں نے سجائے سر مژگاں تارے\nمجھ کو تھا وہم کہ یوں رات گزر جائے گی\n\nصبح اٹھ کر تجھے رہ رو سے لپٹنا ہوگا\nرہبر تیرہ دروں رات گزر جائے گی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%85%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "نئی تہذیب", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہ موجودہ طریقے راہیٔ ملک عدم ہوں گے\nنئی تہذیب ہوگی اور نئے ساماں بہم ہوں گے\n\nنئے عنوان سے زینت دکھائیں گے حسیں اپنی\nنہ ایسا پیچ زلفوں میں نہ گیسو میں یہ خم ہوں گے\n\nنہ خاتونوں میں رہ جائے گی پردے کی یہ پابندی\nنہ گھونگھٹ اس طرح سے حاجب روئے صنم ہوں گے\n\nبدل جائے گا انداز طبائع دور گردوں سے\nنئی صورت کی خوشیاں اور نئے اسباب غم ہوں گے\n\nنہ پیدا ہوگی خط نسخ سے شان ادب آگیں\nنہ نستعلیق حرف اس طور سے زیب رقم ہوں گے\n\nخبر دیتی ہے تحریک ہوا تبدیل موسم کی\nکھلیں گے اور ہی گل زمزمے بلبل کے کم ہوں گے\n\nعقائد پر قیامت آئے گی ترمیم ملت سے\nنیا کعبہ بنے گا مغربی پتلے صنم ہوں گے\n\nبہت ہوں گے مغنی نغمۂ تقلید یورپ کے\nمگر بے جوڑ ہوں گے اس لیے بے تال و سم ہوں گے\n\nہماری اصطلاحوں سے زباں نا آشنا ہوگی\nلغات مغربی بازار کی بھاشا سے ضم ہوں گے\n\nبدل جائے گا معیار شرافت چشم دنیا میں\nزیادہ تھے جو اپنے زعم میں وہ سب سے کم ہوں گے\n\nگزشتہ عظمتوں کے تذکرے بھی رہ نہ جائیں گے\nکتابوں ہی میں دفن افسانۂ جاہ و حشم ہوں گے\n\nکسی کو اس تغیر کا نہ حس ہوگا نہ غم ہوگا\nہوئے جس ساز سے پیدا اسی کے زیر و بم ہوں گے\n\nتمہیں اس انقلاب دہر کا کیا غم ہے اے اکبرؔ\nبہت نزدیک ہیں وہ دن کہ تم ہوگے نہ ہم ہوں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%DB%81%D8%B0%DB%8C%D8%A8"} {"title": "نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرم جوشی کی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرم جوشی کی\nکہ آخر مسلموں میں روح پھونکی بادہ نوشی کی\n\nتمہاری پالسی کا حال کچھ کھلتا نہیں صاحب\nہماری پالسی تو صاف ہے ایماں فروشی کی\n\nچھپانے کے عوض چھپوا رہے ہیں خود وہ عیب اپنے\nنصیحت کیا کروں میں قوم کو اب عیب پوشی کی\n\nپہننے کو تو کپڑے ہی نہ تھے کیا بزم میں جاتے\nخوشی گھر بیٹھے کر لی ہم نے جشن تاج پوشی کی\n\nشکست رنگ مذہب کا اثر دیکھیں نئے مرشد\nمسلمانوں میں کثرت ہو رہی ہے بادہ نوشی کی\n\nرعایا کو مناسب ہے کہ باہم دوستی رکھیں\nحماقت حاکموں سے ہے توقع گرم جوشی کی\n\nہمارے قافیے تو ہو گئے سب ختم اے اکبرؔ\nلقب اپنا جو دے دیں مہربانی ہے یہ جوشی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%DB%81%D8%B0%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D8%AC%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "نئی تہذیب میں بھی مذہبی تعلیم شامل ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "نئی تہذیب میں بھی مذہبی تعلیم شامل ہے\nمگر یوں ہی کہ گویا آب زمزم مے میں داخل ہے\nکہاں تک داد دوں تیری بلاغت کی میں اے اکبرؔ\nیہ تیرا ایک مطلع لاکھ مضمونوں کا حاصل ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%DB%81%D8%B0%DB%8C%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D8%B0%DB%81%D8%A8%DB%8C_%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85_%D8%B4%D8%A7%D9%85%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "نئی حد بندیاں ہونے کو ہیں آئین گلشن میں", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "نئی حد بندیاں ہونے کو ہیں آئین گلشن میں\nکہو بلبل سے اب انڈے نہ رکھے آشیانے میں\n\nپچہتر لاکھ اک بیکار مد میں صرف کر دیں گے\nرعایا کے لئے کوڑی نہیں جن کے خزانے میں\n\nجو ارزاں ہے تو ہے ان کی متاع آبرو ورنہ\nذرا سی چیز بھی بے حد گراں ہے اس زمانے میں\n\nجفا و ظلم نصب العین ہوگا جس حکومت کا\nیقیناً خاک ہو جائے گی وہ تھوڑے زمانے میں\n\nوہ اک روٹی جو ہم کو برہمن مشکل سے دیتا ہے\nہزاروں بت ہوا کرتے ہیں اس کے دانے دانے میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%AD%D8%AF_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نئی دہلی", "poet_page": "مصنف:چندر بھان کیفی دہلوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کیا رنگ مرے شہر کا گنگا جمنی ہے\nدہلی نئی اجڑی ہوئی دہلی میں بنی ہے\n\nقبروں کا پتہ ہے نہ مزاروں کا ٹھکانا\nیہ شہر کی تعمیر ہے یا گورکنی ہے\n\nارباب مشاہیر کا لینے کے لئے نام\nکچھ دور گذشتہ کی بھی تاریخ چھنی ہے\n\nارونؔ کا کہیں بت تو کلاؤ کی کہیں سٹریٹ\nمیدان میں سبزے سے بہار چمنی ہے\n\nرہتے ہیں یہاں شاہی دفاتر کے ملازم\nجن کو نہ کچھ احساس غریب الوطنی ہے\n\nآئنۂ خورشید کو بھی کاٹ کر رکھ دے\nجو خاک کا ذرہ ہے وہ ہیرے کی کنی ہے\n\nکیا کہتے ہیں وہ بیکس و ناچار کہ جن کو\nاس شہر کے بسنے سے غم بے وطنی ہے\n\nکھیتی جو نہیں بھیک پہ ہے ان کا گزارا\nہاتھوں میں ہی کشکول گلے میں کفنی ہے\n\nیہ رنگ بھی کچھ دن میں بدل جائے گا کیفیؔ\nکیوں یہ نئی دہلی سبب دل شکنی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C"} {"title": "نئی دہلی (مرزا فرحت اللہ بیگ)", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "واحدی صاحب کے ہاں دعوت کھائی۔ خواجہ حسن نظامی صاحب نے دہلی کے اہل قلم سے ملاقات کرائی۔ ہر چیز دیکھتا اور خوش ہوتا تھا۔ ہر شخص سے ملتا اور لطف اٹھاتا تھا۔ دل باغ باغ تھا کہ دلی پھر نئے سرے سے دلی ہو رہی ہے، مگر چلنے سے ایک دن پہلے مرزا قمرو سے جو باتیں جامع مسجد کی سیڑھیوں پر ہوئیں، اس نے سارا جوش ٹھنڈا کر دیا۔ دل بیٹھ گیا اور اس وقت سمجھ میں آیا کہ دلی کیا تھی اور کیا ہو گئی۔مرزا قمرو کو مرزا قمرو کہوں تو دلی والا تو کوئی نہ سمجھے۔ ہاں مرزا چھکڑا کہوں تو سب سمجھ جائیں۔ ان کو بھی پرانی دہلی کا ایک کھنڈر سمجھو۔ چند روز کی ہوا کھا رہے ہیں۔ زمانے کا ایک آدھ تھپیڑا پڑا اور ان کا خاتمہ ہے۔ پہلے اچھے کھاتے پیتے لوگوں میں رہتے تھے۔ 60-70 ہزار کی جائیداد تو دو تمسکوں میں برابر ہو گئی۔ کچھ بچی کھچی رہ گئی تھی، وہ ٹوٹ پھوٹ کر ٹھیکرا ہو گئی ہے۔ انہوں نے اپنے خرچ کم نہیں کئے، زمانے نے سوائے ان کی جائداد کے ہر چیز کی قیمت بڑھا دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس جائیداد کو بھی گروی رکھنا پڑا۔ نالش ہوئی ہے کوئی دن میں وہ بھی جاتی ہے۔ اس سے پہلے ہی یہ مر جائیں تو اچھا ہے۔نام تو ان کا مرزا قمر الدین ہے، مگر ان کی وضع قطع، ان کے بھاری بھرکم جسم اور ان کی ٹھمک چال کی وجہ سے ساری دلی ان کو مرزا چھکڑا کہتی ہے۔ پڑھے لکھے خاک نہیں پھر بھی خود کو شاعر سمجھتے ہیں اور ایک چھوڑ 2، 2 تخلص، خیال اور دل، رکھ لئے ہیں۔ ان دونوں میں سے کوئی استعمال تو آتا نہیں ہاں یوں ہی شوق میں ایک نام کے تین کر لئے ہیں۔ خیر یہ جتنے نام چاہے رکھ لیں دلی والے تو انہیں مرزا چھکڑا کہتے ہیں اور یہی کہیں گے۔ تمام دلی کی وضع بدل گئی اور نہ بدلی تو ان کی، اور بدلنے کیوں لگی، دلی کے جو چھکڑے پہلے تھے وہ اب بھی ہیں، رتی برابر فرق نہیں ہوا، جب وہ نہ بدلے تو یہ کیوں بدلنے لگے۔ پرانی وضع پر جان دیتے ہیں، نئی وضع پرلعنت بھیجتے ہیں۔ آج کل کی کسی بات کی تعریف سنی اور پیچھے پڑ گئے۔ لوگوں کو مذاق ہاتھ آ گیا ہے۔ایک آیا، لاٹ صاحب کی کوٹھی کی تعریف کر گیا۔ انہوں نے مذمت شروع کی۔ ابھی یہ بات ختم نہ ہوئی تھی کہ دوسرے نے آ کر کسی چیز کی تعریف کر دی۔ یہ پہلا سلسلہ چھوڑ، دوسرے کے پیچھے پڑ گئے۔ لو بچارے کو بہت ستانے لگے ہیں۔ میں نے دس برس پہلے بھی ان کو دیکھا تھا۔ اس وقت یہ حالت نہ تھی، اب توکچھ باولے سے ہو گئے ہیں۔ اسی سال کی عمر ہے، آخر دماغ کہاں تک کام دے۔ یہ دوسروں پر بگڑتے ہیں، دماغ ان پر بگڑ بیٹھا ہے۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ نئی دہلی کے ایسے دشمن ہیں۔ اگر معلوم ہوتا تو بچارے کو ناحق پریشان کیوں کرتا۔چلنے سے ایک دن پہلے شام کو کوئی ساڑھے پانچ بجے گھر سے ٹہلنے نکلا۔ جامع مسجد قریب ہی ہے، خود بخود پاؤں ادھر ہی اٹھے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ شربت والے کی دکان کے قریب رومال بچھائے، جامع مسجد کی سیڑھیوں پر مرزا صاحب بیٹھے ہیں۔ میں نے جا کر سلام کیا، پہلے تو آنکھوں کو چندھیا کر ذرا شست لگائی۔ جب یوں کام نہ چلا تو آنکھوں کے سامنے کا چھجا بنا کر غور سے دیکھا اور ایک دفعہ ہی گھبرا کر کھڑے ہو گئے، ’’اوہو! میاں فرحت ہیں، کہو بیٹا! یہاں کہاں، ہم تو سمجھے تھے کہ حیدرآباد ہی کے ہو لئے۔ آخر آئے مگر بھئی بہت دنوں میں آئے۔‘‘میں نے کہا، ’’مرزا صاحب! کیوں نہ آتا، دلی کہیں ہم سے چھوٹ سکتی ہے۔‘‘کہنے لگے، ’’دلی، بیٹا دلی تو بہت دن ہوئے جنت کو سدھاری۔ اب دلی تھوڑی ہے، یہ تو لاہور کی اماں ہے۔ جاؤ، جائداد بیچ کر کہیں اور جا بسو۔ اب یہ تمہاری دہلی نہیں رہی، یہ تو دوسروں کی دلی ہو گئی ہے۔‘‘ مجھے کیا معلوم تھا کہ نئی دلی کی تعریف سن کر ان کے آگ لگ جاتی ہے۔ میرے منہ سے نکل گیا، ’’واہ مرزا صاحب واہ! دلی تو اب دلہن بن گئی ہے۔ اور ابھی کیا ہے، تھوڑے دنوں میں دیکھنا کیا سے کیا ہو جاتی ہے۔ کبھی رائے سینا بھی گئے ہو یا یوں ہی جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھے بیٹھے نئی دلی کو صلواتیں سناتے ہو۔‘‘میرا اتنا کہنا تھا کہ بپھر گئے، ہاتھ پکڑ کر جھٹکا دیا۔ کہا، ’’آ بیٹھ! میں تجھے تیری دلی کی تعریف سناؤں۔ تجھے معلوم بھی ہے کہ دلی کا دل کیا تھا؟‘‘میں نے کہا چاندنی چوک۔ کہنے لگے، ہٹ تیرے جھوٹے کی، شرماتا کیوں ہے؟ چاوڑی کیوں نہیں کہتا۔ کہیں بڑی جگہ نوکر ہے جو چاوڑی کو چھوڑ کر چاندنی چوک کی تعریف پر اتر آیا ہے۔ بیٹا! دلی کا دل چاوڑی ہے۔ اب تو چاوڑی کو دیکھ کیا رنگ ہے۔ جب دل ہی بگڑ گیا تو شہر کیا رہا۔ اب جامع مسجد سے لگا کر اجمیری دروازے تک چلا جا، وہ وہ شکلیں نظر آئیں گی کہ خدا کی پناہ۔ نہ وہ اللہ دی غازی آباد والی رہی، نہ نور جہاں، نہ وہ حشمت ہے، نہ وہ میرٹھ والی زیبن، زیبن تو تجھے یاد ہوگی؟ اب اس کے قاضی کے حوض والے کوٹھے کو جا کر دیکھ، ایک پہلوان بیٹھے ہیں، تھوبڑا سا منہ، بیل کے سے دیدے، یہ موٹی ناک، ڈھیلا ڈھالا نچنیوں کا سا لباس، منہ کے سامنے بجلی کا لیمپ رکھا ہے۔ لیجئے یہ ہیں ’’بی صاحبہ‘‘ اور کس جگہ آ کر بیٹھی ہیں کہ بی زیبن کی جگہ۔اوپر جائیے تو نہ سلام، نہ مزاج پرسی، نہ پان ہے نہ چھا لیا۔ جاتے ہی مطلب کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں اور ماشاء اللہ گفتگو ایسی شستہ زبان میں کی کہ منہ سے پھول چھڑنے لگے۔ گالی بغیر تو بات ہی نہیں ہوتی۔ بھلا ان کے ہاں پان کہاں، یہ نہ پان کھائیں نہ پان بنانا جانیں۔ کسی نے بے حیا بن کرپان مانگا تو دو پیسے نکال پھینک دیے۔ نیچے پنواڑی کے ہاں سے پان آ گئے۔ ہاں حقہ بہت ہی پیتی ہیں۔ حقہ آیا تو وہ آیا کہ گنوار بھی اس کو منہ لگاتے ذرا گھبرائیں۔ خدا جھوٹ نہ بلوا وے تو سارے کا سارا مل کر کوئی دس سیر کا ہوگا۔ نیچے پر بان لپٹا ہوا، نے اتنی موٹی جیسے پھکنی، چلم ایسی کہ سوا پاؤ تمباکو آئے، لیجئے حقہ حاضر ہے۔حقے کا پانی ٹپکتا چلا آ رہا ہے۔ یہ بھی کوئی نہیں دیکھتا کہ چاندنی پر رکھا گیا تو دھبا پڑ جائے گا۔ اب ہے کوئی ہمت والا جو اس حقے کا ایک دم بھی لگائے، کھانستے دم نہ نکل جائے تو میرا ذمہ۔ اب فرما رہی ہیں، ’’پیجئے پیجئے۔ امبر سر کا تمباکو ہے، کل ہی سردار صاحب نے لا کر دیا ہے۔ بھلا کسی کی شامت آئی ہے جو اس حقے کا دم لگا کر مفت میں اپنی جان کو مصیبت میں ڈالے اور خود بھی جان نے جو دم لگایا تو حقہ بھی چیخ اٹھا۔ منہ اوپر کر کے جو دھواں چھوڑا تو معلوم ہوا کہ قطب کی لاٹھ کمرے میں آ کر کھڑی ہو گئی۔ یہ میں نے اس رنڈی کا ذکر کیا ہے جو اس وقت چاوڑی کی ناک کہی جاتی ہے، دوسروں کی کچھ نہ پوچھو، ان کے تو دروازے ہی پر قدم رکھنا مشکل ہے۔پہلے زمانے کی چاوڑی تو تجھے یاد ہوگی۔ گرمی کا موسم ہے اور ادھر شام ہوئی، ادھر سب کمرے روشن ہو گئے۔ یہاں گانا ہو رہا ہے وہاں گانا ہو رہا ے۔ شوقین بیٹھے سن رہے ہیں۔ شریف لوگ سفید براق کپڑے پہنے، موتیا کے گجرے گلے میں ڈالے مولسری کی لڑیاں ہاتھوں میں لپیٹے سڑک پر ٹہل رہے ہیں۔ چہل قدمی ہو رہی ہے، گانے کا لطف بھی آ رہا ہے۔ بارہ ایک بجے تک یہی گہما گہمی رہی، اس کے بعد سب اپنے اپنے گھروں کو جا آرام سے سو رہے۔ اب چاوڑی میں رات کو جائیے تو دوسرا ہی رنگ نظر آتا ہے۔ بر آمدوں میں کھمبوں سے لگی رنڈیا کسی انتظار میں بیٹھی ہیں۔ ایک آدھ کوٹھے پر روں روں بھی ہو رہی ہے۔ مگر گانا کیا ہے، بس یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بی جان اپنی اماں کو یاد کر کے رو رہی ہیں۔ سنتا ہوں اب سب کی سب چاوڑی سے نکالی جانے والی ہیں، اچھا ہوگا۔ ’’خس کم جہاں پاک۔‘‘میں نے کہا، ’’مرزا صاحب بھلا رنڈیوں سے دلی کے اچھے برے ہونے سے کیا واسطہ؟‘‘۔ کہنے لگے، ’’واہ بیٹا، واہ خوب سمجھے اور ننھے بن جاؤ۔ یار عزیز انہیں سے تو دلی دلی تھی، نہیں تو دلی میں رکھا ہی کیا تھا۔ ذرا حکیموں کے مطب میں جا کر دیکھتے تو معلوم ہوتا کہ دلی کی زبان کا سنبھالنے والا کون ہے۔ کبھی کسی کوٹھے پر گئے ہوتے تو پتا چلتا کہ آداب مجلس کس کو کہتے ہیں۔ ذرا ان کے بننے سنورنے کو دیکھتے تو پتا چلتا کہ لباس کس کو کہتے ہیں۔ ذرا ان کے کمروں کو دیکھا ہوتا تو سمجھتے کہ سلیقہ کس کو کہتے ہیں۔ میاں رنڈیاں دلی کی تہذیب کا نمونہ تھیں۔ لاکھ عورتوں میں سے الگ نکال لوں کہ یہ دلی کی رنڈی ہے۔ اب جیسی روح ویسے فرشتے، خیر بڑے متقی پرہیزگار سہی، رنڈیوں کو چھوڑو ان شہر والوں کو لو۔ لعنت ہے، ان کی شکل پر، یہ دلی والے ہیں؟ خدا کے لئے سچ کہنا، کیا ان کو کوئی دلی والا کہے گا۔ بال دیکھو تو جھاڑ جھنکاڑ، منہ دیکھو تو ہیجڑوں کا سا، لباس دیکھو تو سبحان اللہ، نیچے قمیض ہے اور اوپر کرسٹانوں جیسا چھوٹا کوٹ، ٹانگوں میں دو تھیلے چڑھائے گٹ پٹ گٹ پٹ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ لیجئے یہ ہیں آپ کے دلی والے۔ اور تو اور، کم بخت عورتوں نے بھی اپنی عجیب وضع بنا لی ہے، انگیا، کرتی، اور ڈھیلے ڈھالے پائجامے تو غدر کے ساتھ گئے۔ چوڑی دار تنگ پائجامے اور کرتے دربار کے ساتھ رخصت ہو گئے۔ اب لباس کیا ہے بس سمجھ لو کہ کہیں اینٹ اور کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا۔سلیقے کا حال یہ ہے کہ بچوں کی مالک آیا، باورچی خانے کی مالک ماما، سینے پر ونے کا ذمہ دار درزی، درزی نہیں، ٹیلر ماسٹر۔ اب ان کو گھر والیاں کون کہے گا۔ شام ہوئی اور بیگم صاحبہ ہوا خوری کو نکلیں۔ صاحب ایک طرف گئے، میم صاحب دوسری طرف گئیں۔ اب نہ ان کوان کی خبر اور نہ ان کو ان کی۔ لیجئے یہ آپ کی دلی کی شرم و حیا رہ گئی ہے۔ کچھ بچے کھچے گھرانے اپنی پرانی چال پر چل رہے ہیں، لیکن کب تک۔ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ بدلتا ہے۔ وہ بھی یا تو اسی بھیڑ چال کو اختیار کریں گے یا نکو بن جائیں گے۔‘‘میں نے کہا، ’’مرزا صاحب! یہ تو نہ کہو، پردہ تو دلی میں اب بھی خاصا ہے۔‘‘ کہنے لگے، ’’اوہو! تو ماشاء اللہ آپ کے حیدرآباد کا کچھ اس سے بھی زیادہ تیز رنگ ہے۔ بندۂ خدا، یہ کوئی پردہ ہے، پہلے باہر والیاں بھی نکلتی تھیں تو اوڑھے لپیٹے تھیں، برقع اوڑھتی تھیں تو اس طرح کہ صرف ایک آنکھ باہر رہے، نہ اس طرح کہ جیسے اب پھرتی ہیں۔ برقع تو اب بھی ان کے سر پر ہے لیکن پلو ہیں کہ ادھر ادھر اڑ رہے ہیں، خود ہیں کہ برقعے سے دو قدم آگے مرد میدان بنی چلی جا رہی ہیں۔ اب برقعے کو برقع سمجھ کر تھوڑے ہی پہنا جاتا ہے، صرف یہ بتانا ہوتا ہے کہ مسلمان ہیں، رسم چلی آتی ہے اس کو پورا کر رہے ہیں۔ جب اپنے ہی برے ہوگئے تو دوسرے قوم والوں کو کیا کہوں۔بس یہ سمجھ لو کہ پہلے جن کی انگلی نہیں دکھائی دیتی تھی ان کی پنڈلیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ارے بھئی، یہ تو جو کچھ تھا سو تھا، اب دل بھی تو صاف نہیں رہے، ایک دوسرے کو کھاے جاتے ہیں، ہندو مسلمانوں سے بیزار ہیں اور مسلمان ہندوؤں سے بیزار۔ بات بات پر کٹے مرتے ہیں۔ ذرا کلو نے ملو کو گالی دی یا ملو نے کلو کو مارا تو سمجھ لو قیامت آگئی، یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ میاں معاملہ کیا ہے؟ آخر لڑنے کا سبب کیا تھا؟ مسلمانوں سے پوچھو تو کہتے ہیں ہم نہیں جانتے، مسلمان کو ہندو نے کیوں مارا، ہندو سے پوچھو تو کہتے ہیں میاں پرے ہٹو، ہم کو اس سے غرض نہیں کہ کیا ہوا ہندو کو مسلمان نے کیوں گالی دی۔جو ہے آپے سے باہر ہوا جاتا ہے۔ جس کو دیکھو بھوکے شیر کی طرح بپھر رہا ہے۔ آج اس کا سر پھوٹا کل اس کا خاتمہ ہوا، ہسپتال بھرے چلے جا رہے ہیں، ولایت سے دواؤں پر دوائیں چلی آ رہی ہیں، ڈاکٹروں کی فیس بھرتے بھرتے دوالا نکلا چلا جاتا ہے، اور ہے کیا کہ کلو نے ملو کو مارا ہے، خاکیوں اور گوروں سے بھری موٹریں ادھر سے ادھر پوں پوں کرتی چلی جا رہی ہیں، توپیں کھڑ کھڑ کرتی ادھر سے ادھر دوڑ رہی ہیں، ہوائی جہاز چیلوں کی طرح سروں پر منڈلا رہے ہیں، تلاشیاں ہو رہی ہیں، لوگ پکڑے جا رہے ہیں، جیل خانے بھر رہے ہیں، اور یہ سب کس لیے کہ ملو نے کلو کو گالی دی تھی لیجیے یہ آپ کی دلی ہے، اور یہ آپ کے دلی والے ہیں۔کل ہی کا قصہ ہے کہ میں بلیوں کے کٹرے سے قاضی کے حوض آ رہا تھا، کیا دیکھتا ہوں کہ پنڈت کے کوچے کے قریب دو بجار لڑ رہے ہیں، سب راستے ہیں کہ بند ہیں، موٹریں گاڑیاں، ٹرام، تانگے، پیدل غرض سارے راستے کا راستہ کھڑا ہے، اور کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ آگے بڑھ کر اور دو لٹھ مار کر انھیں علیحدہ کر دے، آخر جب لڑتے لڑتے خود ہی تھک گئے، اس وقت ایک بھاگا، دوسرا اس کے پیچھے بھاگا، دو تین آدمی جھپٹ میں آ گیے جب کہیں جا کر راستہ کھلا۔میں نے کہا، ’’مرزا صاحب آخر مار کر بھگا دینے میں کیا حرج تھا۔‘‘ کہنے لگے، ارے بھائی خون خرابے ہو جاتے وہ کیا لفظ ہے تصادم ہو جاتا، ’’بین الاقوامی تصادم ہو جاتا۔‘‘میں نے کہا، ’’ہیں، یہ بین الاقوامی تصادم؟ یہ بھی آپ نے خوب کہی۔‘‘ کہنے لگے، ’’ہاں میاں! تم پڑھے لکھے آدمی ہو۔ ہماری زبان میں مین میخ نکالتے ہو، ہم تو اب یہی سنتے ہیں کہ جب دو قومیں لڑتی ہیں تو اخبار والے اس کو بین الاقوامی تصادم کہتے ہیں۔ اب جانے ہماری بلا، وہ صحیح کہتے ہیں کہ غلط، انہی سے جا کر پوچھو کہ اس کے کیا معنی ہیں۔ ہمارے زمانے میں تو بڑے بڑے واقعات ہو جاتے تھے جب بھی بین الاقوامی تصادم نہیں ہوتا تھا۔’’کوئی پچیس تیس برس کی بات ہے کہ ہم پھول والوں کی سیر کو جار رہے تھے۔ تم کو یاد ہوگا سیدھی سڑک قطب کو جاتی تھی۔ اب بھی کبھی ادھر گئے ہو؟ خدا نہ لے جائے۔ قطب جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چاروں طرف سڑکیں ہی سڑکیں ہیں، بے لکھا پڑھا آدمی صبح کو چلے تو کہیں شام کو جا کے قطب پہنچے۔ اب ادھر چلو، اب ادھر گھومو، اب ادھر جاؤ۔ ہر موڑ پر تختی لگی ہوئی ہے، پڑھنے والے پڑھ لیتے ہوں گے ہماری تو خاک سمجھ میں نہیں آتا۔ جہاں دیکھو تختی پر ہاتھ بنا ہے، ایک انگلی آگے کو نکلی ہے یعنی ادھر جاؤ آخر ادھر جاؤ تو کہاں جاؤ؟ یہ تو ہم بھی جانتے ہیں کہ ادھر بھی سڑک ہے، کہیں جاتی ہی ہوگی لیکن جاتی کہاں ہے کیوں کر معلوم ہو؟ اگر ہاتھ کی جگہ قطب کی لاٹھ بننا دیتے تو سب سمجھ جاتے کہ یہ سڑک قطب کی لاٹھ کو جاتی ہے۔ مقبرہ بنا دیتے تو جان جاتے کہ یہ سڑک مدرسے 1 کو جاتی ہے۔سڑکیں کیا ہیں، خاصی بھول بھلیاں ہیں۔ سڑک پر یہاں وہاں، جہاں دیکھو سپاہی کھڑے تھرک رہے ہیں کہ کبھی یہ ہاتھ اونچا کرتے ہیں کبھی وہ۔ کبھی ادھر پھر جاتے ہیں کبھی ادھر، غرض کیا کہوں دلی کی سڑکیں بھی تماشا ہو گئی ہیں۔ ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ ایک دفعہ ہم قطب جا رہے تھے کہ منصور کے مقبرے کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک اونٹ گاڑی چلی آ رہی ہے، اندر بیسیوں آدمی ٹھسا ٹھس بھرے ہیں۔ چھت پر بوریاں لدی ہیں، ان کے بیچ میں پانچ چھے گنوار دبکے دبکائے بیٹھے ہیں۔ میاں میواتی اونٹ کی نکیل تھامے سامنے کے تختے پر بیٹحے اونگھ رہے ہیں۔خدا کی قدرت دیکھو۔ دوسری طرف سے ایک یکہ آ رہا تھا، یکے میں تین ہندو سیلانی، ایک بیچ یں دو ادھر ادھر۔ ایک ہاتھ سے چھتری کے ڈنڈے پکڑے، دوسرا ہاتھ ٹوپی سنبھالنے کے لئے سر پر دھرے، صاف ستھرے کپڑے پہنے چلے آ رہے ہیں، یکے والے نے ہری ہری گھاس چھتری کے اندر باندھ رکھی تھی کہ قطب میں کام آئے گی۔ یکہ جو اونٹ گاڑی کے پاس سے گزرا تو میاں اونٹ کی نظر گھاس پر پڑی۔ انہوں نے بڑے اطمینان سےاپنی گردن بڑھا، چھتری میں داخل کر دی۔ سیلانیوں نے ہشت ہشت کی۔ اونٹ نے جو گھبرا کر گردن سیدھی کی تو یکہ گردن میں لٹک گیا، بھئی مزہ آ گیا۔اونٹ کے گلے میں بلی تو سنی تھی۔ یہ اونٹ کے گلے میں یکہ اسی دن دیکھا۔ خیر، ادھر ٹٹوانی نے ہاتھ پاؤں مارے، ادھر یکے والے نے غل مچایا۔کچھ راہ گیروں نے گڑ بڑ کی۔ اونٹ نے جو گردن کو جھٹکا دیا تو یکہ اور سیلانی وہ جا کر گے۔ چوٹیں بھی آئیں کپڑے بھی خاک میں ملے، نقصان بھی ہوا۔ مگر نہ کچھ جھگڑا ہوا نہ ٹنٹا۔ یکے الے نے کچھ گڑ بڑ شروع کی تھی۔ ا س کو لوگوں نے ڈانٹ دیا کہ چل بے، یہ ہوتا ہی ہے۔ نہ چھتری میں گھاس باندھ کر لاتا نہ اونٹ گردن ڈالتا، نہ یہ تماشا ہوتا۔ لیجئے معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ خدا نخواستہ اگر آج کل یہ واقعہ پیش آ جاتا تو بات کہیں کہ کہیں پہنچتی، خوب کٹم کٹا ہوتی، لکڑی چلتی، نالشا نالشی ہوتی اور کیوں نہ ہوتی۔ کسی مسلمان کے اونٹ کا کسی ہندو کے ٹٹو کو زخمی کرنا کوئی معمولی بات ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’تو مرزا صاحب! آپ دلی کی عورتوں سے تو خفا تھے ہی، مردوں سے بھی صاف نہیں۔‘‘کہنے لگے، ’’مرد عورت تو کیا، میں تو دلی کی ہر بات سے خفا ہوں۔ اب اس گدڑی ہی کو دیکھ لو، اب گدڑی تھوڑی رہی ہے خاسا بزازا ہو گیا ہے۔ جو مال شہر میں نہ ملے، یہاں سے لے لو۔ سودے والے ہیں، وہ نئی نئی آوازیں نکالتے ہیں۔ اب جو یہ ’’قی ای، قی ای‘‘ پکار رہا ہے، جانتے ہو کیا بیچ رہا ہے؟ میاں کھیر بیچ رہا ہے۔ بھلا اس آواز پر کوئی کیا آئے گا۔ کاچھی سب گونگے ہو گئے یا کسی زمانے میں گرمی کا موسم ہے تو آوازیں آ رہی ہیں، ’’کالے اودے لگا دیے ہیں شربت کو، سانولے سلونے لگادیے ہیں شربت کو۔‘‘ جاڑا ہے تو آوازیں آ رہی ہیں، ’’گھونگٹ والی نے توڑے ہی بیر، لاڈو پیاری نے توڑے ہیں بیر۔ اب کاچھی تو دلی سے ناپیدا ہو گئے، ہا ں فتح پوری کے نیچے کچھ میوے والے بیٹھے ہیں، وہ ٹھہرے کابلی، اردو بھی کچھ یوں ہی سی جانتے ہیں۔آوازیں کیا لگائیں گے اور لگائیں گے بھی تو لوگ ڈر کر بھاگ جائیں۔ پہلے چاندنی چوک میں یہاں سے وہاں تک میوے والوں کی دکانیں تھیں۔ نیچے نہر، اوپر درختوں کا سایہ، جا بجا فالودے والوں کی دکانیں، دکانوں کے سامنے کہیں بنچ بچھے ہیں، کہیں مونڈھے پڑے ہیں۔ لوگ آئے بیٹھے، ادھر ادھر کی باتیں کیں پیسے دو پیسے کا شربت پیا، اٹھے، چلے گئے۔ اب نہ پٹڑی ہے نہ درخت۔ فتح پوری سے لگا، قلعے تک صفا چٹ میدان ہے۔ گرمی میں یہاں سے وہاں جاؤ تو فشار ہو جائے یا وہ زمانہ تھا کہ دوپہر کو بھی اس سڑک پر بہار ہوتی تھی۔ گھر میں وہ آرام نہ ملتا تھا جو یہاں ملتا تھا۔ اور اس چاندنی چوک کو تو دیکھو کیا کالی بھٹ ہو ئی ہے۔ ایک چکر لگا کر جاؤ تو معلوم ہو کہ ابھی کوئلہ بیچ کر آ رہے ہو اور گرم ایسی کی تندور (تنور) بھی کیا ہوگا، دوپہر کو روٹیاں پکالو۔ کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ قیمتی سڑک یہی ہوتی ہے۔ ہاں بھائی ہوگی۔ ولایت کا مال لگا ہے قیمتی کیوں نہ ہوگی۔’’ایک دن رام لیلا دیکھنے نکلا تھا،۔ رات کے بارہ بجے تک تو یہ سڑک ٹھنڈی ہوئی نہ تھی۔ اور ہاں میاں فرحت! کبھی رام لیلا کے زمانے میں بھی دلی آئے ہو؟‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’جی نہیں۔‘‘کہنے لگے، ’’ارے بھئی کیا کہوں! اس میلے کے ٹوٹنے کا جتنا رنج کیا جائے کم ہے۔ پہلے جو سواری نکلتی تھی تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ کسی بڑے بادشاہ کا جلوس جا رہا ہے۔ ہندو مسلمان، امیر و غریب، شریف رذیل سب کے سب کھانا وانا کھا، سفید کپڑے پہن، چاوڑی میں شام ہی سے نکل آتے۔ کوٹھے ہیں کہ روشنی سے پڑے جگمگ جگمگ کر رہے ہیں۔ رنڈیاں ہیں کہ بنی سنوری گاؤ تکیوں سے لگی بر آمدوں میں بیٹھی ہیں۔ نیچے سے کچھ بات ہوتی ہے، اوپر سے جواب ملتا ہے۔ ادھر پان آ رہے ہیں، ادھر سے روپے جا رہے ہیں۔ بھیڑ کا یہ عالم کہ کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔ روشنی کا یہ عالم کہ جیسے دن نکلا ہو۔ سواری اس شان سے آتی کہ کیا کہوں۔ہنسی خوشی چار پانچ گھنٹے گزار گھروں میں جا پڑے اور اب کی سواری دیکھو تو واہ واہ۔ آگے توپ ہے، پیچھے توپ ہے،۔ سامنے فوج ہے، پیچھے فوج ہے، سپاہی ہیں کہ ڈنڈے بجا رہے ہیں۔ ایک غل مچ رہا ہے کہ بڑھے چلو، بڑھے چلو، کوٹھے بند ہیں اور ان کا بند ہونا ہی اچھا ہے۔ بھلا آج کل کی کوٹھے والیوں سے میلے کی کیا شان بڑھ سکتی ہے۔ کوٹھے کی چھتوں پر پولس والے چڑھے ہوئے ہیں۔ جہاں چار آدمی جمع ہوئے اور سپاہی نے ڈانٹا کہ آگے بڑھو۔ ذر اہچر مچر کی تو پکڑ تھانے میں لے گئے۔ بھلا اس مصیبت میں کون پڑے۔ بھلے آدمیوں نے تو جانا ہی چھوڑ دیا۔ ایک مذہبی رسم رہ گئی وہ پوری ہو جاتی ہے۔ اس میں بھی کبھی کبھی مار کٹائی کی نوبت آ جاتی ہے اور ہم سے پوچھو تو نہ اب وہ رام لیلا ہے اور نہ رام لیلا کا مزا۔اس سے بدتر حال پھول والوں کی سیر کا ہے۔ بس یہی دو میلے ایسے تھے کہ سارے جہان میں لا جواب تھے، اب نہ رام لیلا وہ رام لیلا ہے اور نہ پھول والوں کی سیر، وہ پھول والوں کی سیر ہے۔ پہلے بھادوں آیا، سیر کی تاریخ مقرر ہوئی۔ نفیری بج گئی۔ مہرولی آباد ہونی شروع ہوئی۔ مکانوں میں سفیدی ہو رہی ہے کمرے سجائے جا رہے ہیں۔ کرائے کا یہ حال ہے کہ پہلے جو کمرا دو روپے مہینے کو ملے وہ سو روپے روز کو ملنا مشکل ہے۔ رنڈیاں رتھوں میں بیٹھی جا رہی ہیں۔ امیر فٹنس اڑائے چلے جاتے ہیں۔ غریب غربا مٹکے سروں پر اوندھائے، لنگوٹ کسے، چیخیں اڑاتے، گاتے بجاتے چلے جا رہے ہیں۔ قطب کی لاٹ تک آدمی ہی آدمی ہوتا تھا۔ بڑے لوگ تو اپنے کمروں میں جا، نہا، دھو کپڑے بدل نکل آئے۔ غریبوں نے جھرنے پر جا، دو تین غوطے مارے، مٹکے میں سے تحفہ کپڑے نکالے، کار چوبی ٹوپی، ٹاٹ بافی جوتا، شربتی کل کا کرتا، انگرکھا، نٹ مار لٹھے کا پائجامہ پہن۔ ایسے نکلے جیسے چاند گہن سے نکلتا ہے۔ بھلا دیکھ کر کوئی کہہ تو دے کہ یہ میاں قادر سقے ہیں اور یہ نتھو کہار۔مہرولی میں اس سرے تک دکانیں لگی ہیں۔ لوگ بیٹھے ہیں، کھا رہے ہیں، باتیں ہو رہی ہیں۔ ادھر گانا ہو رہا ہے، ادھر دف بج رہا ہے، باریک باریک پھوار پڑ رہی ہے۔ ایک دفعہ ہی نفریری کی آواز آئی۔ لیجئے جگ مایا جی کا پنکھا آ گیا۔ سب کے سب اس میں جا شریک ہوئے۔ عبد الوہاب کٹورا بجا رہا ہے، نفیری کے کمال دکھائے جا رہے ہیں، بیلیں مل رہی ہیں، کوئی روپیہ دیتا ہے کوئی دو شالہ۔ رات کے ایک دو بجے تک یہی چہل پہل رہی۔ دوسرے دن درگاہ شریف میں پنکھا چڑھا۔ وہاں اس سے زیادہ دھوم رہی۔ چار پانچ روز آنکھ بند کرتے گزر گئے۔ ہنسی خوشی گھر آئے، قطب کے پراٹھے لائے۔ چاندی کے چھلے لائے، اب گھر گھر پراٹھے اور چھلے بٹ رہے ہیں۔اور اب کی پھول والوں کی سیر؟ خدا نہ دکھائے شریف لوگ تو وہاں کیوں جانے لگے۔ جاتے ڈرتے ہیں کہ کہیں بین الاقوامی تصادم نہ ہو جائے۔ میں نے کہا، ’’مرزا صاحب بین الاقوامی تصادم نہیں فرقہ واری جنگ۔‘‘کہنے لگے، ’’چل ہٹ، جو بین الاقوامی تصادم، وہی فرقہ واری جنگ، نہ اس کے کچھ معنی، نہ اس کے کچھ معنی۔ خواہ مخواہ اخبار والوں نے نئے نئے لفظ گھڑ لئے ہیں اور تونے یہاں کی زبان بھی سنی؟ سبحان للہ! کیا زبان ہے اور اسی پر مرے جاتے ہیں کہ اردو ہماری زبان ہے۔ لکھنؤ کا حال تو مجھے معلوم نہیں، ہاں دلی کی زبان تو اب کچھ نئی ہو گئی ہے۔ وہ وہ لفظ سننے میں آتے ہیں کہ کیا کہوں اور ان پڑھے لکھے لوگوں نے تو زبان کو اور بھی غارت کر دیا ہے۔ ایک لفظ اردو کا بولیں گے تو دو انگریزی کے۔ بھئی مجھے تو یہاں کی زبان سے بھی نفرت ہو گئ ہے۔ پرسوں ہی جمعہ کو جامع مسجد میں ایک مولوی صاحب وعظ کر رہے تھے۔ ماشاء اللہ کیوں نہ ہو مولوی تھے۔ چھانٹ چھانٹ کر وہ وہ لفظ حلق سےنکالے کہ سبحان اللہ۔ میری تو خاک سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر یہ کیا کہہ رہے ہیں۔’’یہ تو رہے مسلمان۔‘‘اب ہندوؤں کی گفتگو سنو تو وہ اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم ہندی بولتے ہیں۔ جو وہ بولتے ہیں اگر اسی کا نام ہندی ہے تو میاں ہم مرتے مر جائیں گے مگر یہ زبان نہ آئے گی۔ اچھا بھئی، ہم عربی بولیں، تم ہندی بولو، مگر اس طرح کہ جو لفظ ہماری تمہاری اردو میں نہیں ہے اس کے لئے مولوی صاحب عربی کا لفظ استعمال کریں، پنڈت جی سنسکرت کا لفظ بولیں۔ یہ کیا ہے کہ اردو میں لفظ موجود ہے ایک صاحب سنسکرت کا یہ موٹا لفظ لائیں اور دوسرے صاحب عربی کا یہ بڑا لفظ، قاموس میں سے نکال کر استعمال کریں۔ ارے بھئی، یہ سنتا ہوں تمہارے ہاں بھی تو اردو کا کوئی بڑا مدرسہ کھلا ہے، سب علم اردو ہی میں پڑھایا جاتا ہے؟‘‘میں نے کہا، ’’جی ہاں، کلیہ جامعہ عثمانیہ۔‘‘مرزا صاحب بڑے زور سے قہقہہ مار کر کہنے لگے، ’’اوہو، یہ نام اور اردو کا مدرسہ، معلوم ہوتا ہے وہاں بھی مولویوں کا زور ہے۔ خیر جامعہ تو یہ جیسے جامع مسجد عثمانیہ تمہارے بادشاہ کا نام ہو اور میاں یہ کلیا کیا بلا ہوئی؟‘‘ میں نے کہا، ’’آپ اس بحث کو چھوڑیئے۔ دلی کی کچھ اور سنائیے جب دلی کی ہر چیز اسے آپ کو نفرت ہے توکیسے گزرتی ہوگی‘‘۔کہنے لگے، ’’میاں، بیت گئی، تھوڑی رہی ہے۔ صبح ہی اٹھتا ہوں۔ نماز پڑھ کر کبھی منہدیوں میں چلا جاتا ہوں، کبھی کلو کے تکیئے۔ 2\n\nپرانی دلی والے وہاں آرام کر رہے ہیں۔ انکی قبروں پر جا بیٹھتا ہوں۔ ان کی اور ان کی دلی کو یاد کر کےد و آنسو بہا لیتا ہوں۔ جی ہلکا ہو جاتا ہے۔ شام کو جامع مسجد کی سیڑھیوں پر آ بیٹھتا ہوں اور خدا کی قدرت کا تماشا دیکھتا ہوں کہ پہلے دلی کیا تھی اور اب کیا ہو گئی۔‘‘اتنے میں مغرب کی اذان ہوئی۔ مرزا صاحب رومال جھاڑ، اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے، ’’میاں فرحت، یہاں بس اسی لئے آتا ہوں، اگر دلی میں کچھ لطف رہ گیا ہے تو جامع مسجد میں مغرب اور عشا کی نماز میں رہ گیا یہ بھی نہ ہوتا تو کچھ کھا کر سو رہتا۔‘‘دوسرے دن میں حیدر آباد چلا آیا۔ سارے راستے مرزا صاحب کی باتوں کا خیال رہا جو خوشی دلی جا کر ہوئی تھی، وہ مرزا صاحب کی باتوں نے خاک میں ملا دی۔ یہ تو میں بھی کہوں گا کہ دلی مجھ کو بھی کچھ نئی معلوم ہونے لگی ہے اور شاید اسی وجہ سے اس کا نام نئی دلی رکھا گیا۔ جو دلی ہمارے زمانے میں تھی وہ تو اب نہیں رہی۔ اب چاہے دلی والے اس کو مانیں یا نہ مانیں۔\n\nحاشیے\n\n(1) دہلی میں ان بیلوں کو بجار کہتے ہیں جو کسی دیوتا کے نام پر چھوڑ دیئے جاتے ہیں، ان کو سانڈ بھی کہتے ہیں۔ مگر ب، ج، ا، ر کا لفظ زیادہ مستعمل ہے۔\n\n(2) ہمایوں اور منصور کے مقبروں کو مدرسہ ہی کہتے ہیں۔\n\n(3) منہدیا اور کلو کا تکیہ، دلی کے دو بڑے قبرستان ہیں۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C_%28%D9%85%D8%B1%D8%B2%D8%A7_%D9%81%D8%B1%D8%AD%D8%AA_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%29"} {"title": "نئی طرزوں سے میخانے میں رنگ مے جھلکتا تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نئی طرزوں سے میخانے میں رنگ مے جھلکتا تھا\nگلابی روتی تھی واں جام ہنس ہنس کر چھلکتا تھا\n\nترے اس خاک اڑانے کی دھمک سے اے مری وحشت\nکلیجا ریگ صحرا کا بھی دس دس گز تھلکتا تھا\n\nگئی تسبیح اس کی نزع میں کب میرؔ کے دل سے\nاسی کے نام کی سمرن تھی جب منکا ڈھلکتا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%B2%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%85%DB%92_%D8%AC%DA%BE%D9%84%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "نئے جھگڑے نرالی کاوشیں ایجاد کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نئے جھگڑے نرالی کاوشیں ایجاد کرتے ہیں\nوطن کی آبرو اہل وطن برباد کرتے ہیں\n\nہوا میں اڑ کے سیر عالم ایجاد کرتے ہیں\nفرشتے دنگ ہیں وہ کام آدم زاد کرتے ہیں\n\nنیا مسلک نیا رنگ سخن ایجاد کرتے ہیں\nعروس شعر کو ہم قید سے آزاد کرتے ہیں\n\nمتاع پاس غیرت بوالہوس برباد کرتے ہیں\nلب خاموش کو شرمندۂ فریاد کرتے ہیں\n\nہوائے تازہ پا کر بوستاں کو یاد کرتے ہیں\nاسیران قفس وقت سحر فریاد کرتے ہیں\n\nذرا اے کنج مرقد یاد رکھنا اس حمیت کو\nکہ گھر ویران کر کے ہم تجھے آباد کرتے ہیں\n\nہر اک خشت کہن افسانۂ دیرینہ کہتی ہے\nزبان حال سے ٹوٹے کھنڈر فریاد کرتے ہیں\n\nبلائے جاں ہیں یہ تسبیح اور زنار کے پھندے\nدل حق بیں کو ہم اس قید سے آزاد کرتے ہیں\n\nاذاں دیتے ہیں بت خانے میں جا کر شان مومن سے\nحرم کے نعرۂ ناقوس ہم ایجاد کرتے ہیں\n\nنکل کر اپنے قالب سے نیا قالب بسائے گی\nاسیری کے لئے ہم روح کو آزاد کرتے ہیں\n\nمحبت کے چمن میں مجمع احباب رہتا ہے\nنئی جنت اسی دنیا میں ہم آباد کرتے ہیں\n\nنہیں گھٹتی مری آنکھوں میں تاریکی شب غم کی\nیہ تارے روشنی اپنی عبث برباد کرتے ہیں\n\nتھکے ماندے مسافر ظلمت شام غریباں میں\nبہار جلوۂ صبح وطن کو یاد کرتے ہیں\n\nدل ناشاد روتا ہے زباں اف کر نہیں سکتی\nکوئی سنتا نہیں یوں بے نوا فریاد کرتے ہیں\n\nجناب شیخ کو یہ مشق ہے یاد الٰہی کی\nخبر ہوتی نہیں دل کو زباں سے یاد کرتے ہیں\n\nنظر آتی ہے دنیا اک عبادت گاہ نورانی\nسحر کا وقت ہے بندے خدا کو یاد کرتے ہیں\n\nسبق عمر رواں کا دل نشیں ہونے نہیں پاتا\nہمیشہ بھولتے جاتے ہیں جو کچھ یاد کرتے ہیں\n\nزمانہ کا معلم امتحاں ان کا نہیں کرتا\nجو آنکھیں کھول کر یہ درس ہستی یاد کرتے ہیں\n\nادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا\nوہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں\n\nنہ جانی قدر تیری عمر رفتہ ہم نے کالج میں\nنکل آتے ہیں آنسو اب تجھے جب یاد کرتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A6%DB%92_%D8%AC%DA%BE%DA%AF%DA%91%DB%92_%D9%86%D8%B1%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%88%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں\nدن بہ دن حسن کے اعجاز نظر آتے ہیں\n\nوہ شہید نگہ ناز نظر آتے ہیں\nآج کل اور ہی انداز نظر آتے ہیں\n\nسر جھکائے ہوئے چلتا ہوں ترے کوچہ میں\nکیونکہ سر باز ہی سر باز نظر آتے ہیں\n\nبہت اونچے نہ اڑے ہیں نہ اڑیں گے گیسو\nیہ کبوتر تو گرہ باز نظر آتے ہیں\n\nجھوٹ خود بولنا الٹا مجھے جھوٹا کہنا\nسچ ہے دم بازوں کو دم باز نظر آتے ہیں\n\nبھیج تو دی ہے غزل دیکھیے خوش ہوں کہ نہ ہوں\nکچھ کھٹکتے ہوئے الفاظ نظر آتے ہیں\n\nغمزہ و ناز و ادا مہر و وفا جور و جفا\nسب کے سب خانہ بر انداز نظر آتے ہیں\n\nلطف آئے جو شب وصل موذن سو جائے\nکیونکہ وہ گوش بر آواز نظر آتے ہیں\n\nعمر گزری ہمیں سرکار پہ مرتے مرتے\nجان دیتے ہیں تو جاں باز نظر آتے ہیں\n\nبلبلوں سے نہیں گل زار زمانہ خالی\nشکر ہے یاں بھی ہم آواز نظر آتے ہیں\n\nبد گمانی بھی محبت کا نشاں ہے پرویںؔ\nغلطی ہو تو ہو ناراض نظر آتے ہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A6%DB%92_%D8%BA%D9%85%D8%B2%DB%92_%D9%86%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نئے نیرنگ دکھلاتا ہے یہ چرخ کہن کیا کیا", "poet_page": "مصنف:خوشی محمد ناظر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نئے نیرنگ دکھلاتا ہے یہ چرخ کہن کیا کیا\nجہاں میں گل کھلائے گی ابھی خاک چمن کیا کیا\n\nجہاں کی سر بلندی کا مآل کار پستی ہے\nنشاط و عیش منعم پر ہے مفلس خندہ زن کیا کیا\n\nاسی حسن ازل کی لوح عالم پر ہیں تحریریں\nوہی اک عشق کا مضموں ہے انداز سخن کیا کیا\n\nابھی سے رہ نورد عشق ہمت ہار بیٹھے ہیں\nگزرنی ہیں ابھی تو گھاٹیاں ان کو کٹھن کیا کیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%8C%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%DB%81%D9%86_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نئے ڈھب کا کچھ جوش سودا ہوا ہے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نئے ڈھب کا کچھ جوش سودا ہوا ہے\nخدا جانے اب کے مجھے کیا ہوا ہے\n\nتعلق ان آنکھوں سے پیدا ہوا ہے\nبہت دن کا یہ خواب دیکھا ہوا ہے\n\nنہ عالم میں تجھ سا نہ مجھ سا جہاں میں\nنہ ایسا ہوا ہے نہ ویسا ہوا ہے\n\nنہ لے قیس آگے مرے نام وحشت\nابھی کل کی ہے بات پیدا ہوا ہے\n\nپھر اٹھتا ہے دود محبت جگر سے\nوہی حال اگلا سا میرا ہوا ہے\n\nیہ گھر بار ہے دیدۂ اشک زا سے\nمرا دامن آغوش دریا ہوا ہے\n\nوہ وادیٔ ایمن پہ موقوف کیا ہے\nہمارا ہر اک دشت دیکھا ہوا ہے\n\nذرا دم تو لینے دے اے چشم جادو\nبڑی مدتوں میں دل اچھا ہوا ہے\n\nکہا میں نے تنہائی ہے بات سن لو\nکہا ہنس کے تم کو تو سودا ہوا ہے\n\nترقی پہ ہے نوجوانی تمہاری\nابھی کیا ہوا ہے ابھی کیا ہوا ہے\n\nحجاب نظر سے کھلے بھید دل کے\nعبث ہم سے ظاہر میں پردا ہوا ہے\n\nہماری تمہاری تو ہیں دل کی باتیں\nنہ مانو اگر اس کا چرچا ہوا ہے\n\nنہ گھبراؤ جانا اجی ہم بھی سمجھے\nکہیں اور بھی آج وعدہ ہوا ہے\n\nنہ مانیں گے ہم آج تو لے چلیں گے\nبہت روز امروز فردا ہوا ہے\n\nاگر تم بھی دیکھو تو رونے لگو گے\nمری جان یہ حال اپنا ہوا ہے\n\nنسیمؔ اب کہاں قدردان سخن ہیں\nکہے شعر یہ بھی جو چرچا ہوا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A6%DB%92_%DA%88%DA%BE%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نا خوش دکھا کے جس کو ناز و عتاب کیجے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نا خوش دکھا کے جس کو ناز و عتاب کیجے\nاے مہرباں پھر اس کو خوش بھی شتاب کیجے\n\nجو اپنے مبتلا ہوں اور دل سے چاہتے ہوں\nلازم نہیں پھر ان سے رکئے حجاب کیجے\n\nبیٹھے جو شام تک ہم بولا وہ مہرباں ہو\nجو خواہشیں ہیں ان کا کچھ انتخاب کیجے\n\nہم نے نظیرؔ ہنس کر اس شوخ سے کہا یوں\nہیں خواہشیں تو اتنی کیا کیا حساب کیجے\n\nموقع کی اب تو یہ ہے جو وقت شب ہے اے جاں\nہم بیٹھے پاؤں دابیں اور آپ خواب کیجے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D9%88_%D8%B9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92"} {"title": "نا فہمی اپنی پردہ ہے دیدار کے لیے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نا فہمی اپنی پردہ ہے دیدار کے لیے\nورنہ کوئی نقاب نہیں یار کے لیے\n\nنور تجلی ہے ترے رخسار کے لیے\nآنکھیں مری کلیم ہیں دیدار کے لیے\n\nفدیے بہت اس ابروئے خم دار کے لیے\nچو رنگ کی کمی نہیں تلوار کے لیے\n\nقول اپنا ہے یہ سبحہ و زنار کے لیے\nدو پھندے ہیں یہ کافر و دیں دار کے لیے\n\nلطف چمن ہے بلبل گل زار کے لیے\nکیفیت شراب ہے مے خوار کے لیے\n\nسیری نہ ہوگی تشنۂ دیدار کے لیے\nپانی نہیں چہ ذقن یار کے لیے\n\nاتنی ہی ہے نمود میری یار کے لیے\nشہرہ ہے جس قدر مرے اشعار کے لیے\n\nدشت عدم سے آتے ہیں باغ جہاں میں ہم\nبے داغ لالہ و گل بے خار کے لیے\n\nشمشاد اپنے ترے کو بیچے تو لیجئے\nاس لالہ رو کی لپٹتی دستار کے لیے\n\nدو آنکھیں چہرے پر نہیں تیرے فقیر کے\nدو ٹھیکرے ہیں بھیک کے دیدار کے لیے\n\nسرمہ لگایا کیجیے آنکھوں میں مہرباں\nاکسیر یہ سفوف ہے بیمار کے لیے\n\nحلقہ میں زلف یار کی موتی پروئیے\nدنداں ضرور ہیں دہن مار کے لیے\n\nگفت و شنید میں ہوں بسر دن بہار کے\nگل کے لیے ہے گوش زباں خار کے لیے\n\nبے یار سر پٹکنے سے ہلتا ہے گھر مرا\nرہتا ہے زلزلہ در و دیوار کے لیے\n\nبیٹھا جو اس کے سایہ میں دیوانہ ہو گیا\nسایہ پری کا ہے تری دیوار کے لیے\n\nبلبل ہی کو بہار کے جانے کا غم نہیں\nہر برگ ہاتھ ملتا ہے گل زار کے لیے\n\nاے شاہ حسن زلف و رخ و گوش چشم و لب\nکیا کیا علاقے ہیں تری سرکار کے لیے\n\nچال ابر کی چلا جو گلستاں میں جھوم کر\nطاؤس نے قدم ترے رہوار کے لیے\n\nآیا جو دیکھنے ترے حسن و جمال کو\nپکڑا گیا وہ عشق کے بیگار کے لیے\n\nحاجت نہیں بناؤ کی اے نازنیں تجھے\nزیور ہے سادگی ترے رخسار کے لیے\n\nبیمار تندرست ہو دیکھے جو روئے یار\nکیا چاشنی ہے شربت دیدار کے لیے\n\nاس بادشاہ حسن کی منزل میں چاہئے\nبال ہما کی پر چھتی دیوار کے لیے\n\nسودائے زلف یار میں کافر ہوا ہوں میں\nسنبل کے تار چاہئیں زنار کے لیے\n\nزنجیر و طوق جو کہ ہے بازار دہر میں\nسودا ہے اس پری کے خریدار کے لیے\n\nچونا بنیں گے بعد فنا اپنے استخواں\nدولت سرائے یار کی دیوار کے لیے\n\nمعشوق کی زبان سے ہے دشنام دل پذیر\nشیرینی زہر ہے تری گفتار کے لیے\n\nجان سے عزیز تر ہے مرے دل کو داغ عشق\nمہتاب لحد کی شب تار کے لیے\n\nوہ مست خواب چشم ہے کوئی بلائے بد\nکیا مرتبہ ہے فتنۂ بیدار کے لیے\n\nخلوت سے انجمن کا کہاں یار کو دماغ\nوہ جنس بے بہا نہیں بازار کے لیے\n\nپہنا ہے جب سے تو نے شب ماہ میں اسے\nکیا کیا شگوفے پھولتے ہیں ہار کے لیے\n\nچھکڑا ہوے ہیں سوچ کے راہ وفا میں پاؤں\nپہیے لگائیے انہیں رفتار کے لیے\n\nجو مشتری ہے بندہ ہے اس خوش جمال کا\nیوسف بنے غلام خریدار کے لیے\n\nسونے کے پتے ہوویں ہر اک گل کے کان میں\nمقدور ہو جو بلبل گل زار کے لیے\n\nگل ہائے زخم سے ہوں شہادت طلب نہال\nتوفیق خیر ہو تری تلوار کے لیے\n\nاندھیر ہے جو دم کی نہ اس کے ہو روشنی\nیوسف مرا چراغ ہے بازار کے لیے\n\nاحساں جو ابتدا سے ہے آتش وہی ہے آج\nکچھ انتہا نہیں کرم یار کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7_%D9%81%DB%81%D9%85%DB%8C_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "نا لۂ فراق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "جا بسا مغرب میں آخر اے مکاں تیرا مکیں\nآہ! مشرق کی پسند آئی نہ اس کو سر زمیں\nآگیا آج اس صداقت کا مرے دل کو یقیں\nظُلمتِ شب سے ضیائے روزِ فرقت کم نہیں\n“تا ز آغوشِ وداعش داغِ حیرت چیدہ است\nہمچو شمعِ کُشتہ در چشمم نگہ خوابیدہ است”\n\nکُشتۂ عُزلت ہوں، آبادی میں گھبراتا ہوں میں\nشہر سے سودا کی شدّت میں نکل جاتا ہوں میں\nیادِ ایّامِ سلَف سے دل کو تڑپاتا ہوں میں\nبہرِ تسکیں تیری جانب دوڑتا آتا ہوں میں\nآنکھ گو مانوس ہے تیرے در و دیوار سے\nاجنبیّت ہے مگر پیدا مری رفتار سے\n\nذرّہ میرے دل کا خورشید آشنا ہونے کو تھا\nآئنہ ٹُوٹا ہُوا عالم نما ہونے کو تھا\nنخل میری آرزوؤں کا ہرا ہونے کو تھا\nآہ! کیا جانے کوئی میں کیا سے کیا ہونے کو تھا\nابرِ رحمت دامن از گُلزارِ من برچید و رفت\nاندکے بر غنچہ ہائے آرزُو بارید و رفت\n\nتُو کہاں ہے اے کلیمِ ذروۂ سینائے علم\nتھی تری موجِ نفَس بادِ نشاط افزائے علم\nاب کہاں وہ شوقِ رہ پیمائیِ صحرائے علم\nتیرے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سودائے علم\n“شورِ لیلیٰ کو کہ باز آرایشِ سودا کند\nخاکِ مجنوں را غبارِ خاطرِ صحرا کند”\n\nکھول دے گا دشتِ وحشت عقدۂ تقدیر کو\nتوڑ کر پہنچوں گا مَیں پنجاب کی زنجیر کو\nدیکھتا ہے دیدۂ حیراں تری تصویر کو\nکیا تسلّی ہو مگر گرویدۂ تقریر کو\n“تابِ گویائی نہیں رکھتا دہَن تصویر کا\nخامشی کہتے ہیں جس کو، ہے سخن تصویر کا”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7_%D9%84%DB%82_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82"} {"title": "نا مناسب ہے خفا نالوں کو سن کر ہونا", "poet_page": "مصنف:راغب بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نا مناسب ہے خفا نالوں کو سن کر ہونا\nابھی آیا ہی نہیں تم کو ستم گر ہونا\n\nہے ستم کا یہ کرم آہ نہیں کرتے ہم\nورنہ آسان نہ تھا صبر کا خوگر ہونا\n\nنہیں رہتی کوئی روک اہل جنوں کے آگے\nکوئی دیوار ہو شق ہو کے اسے در ہونا\n\nرو پڑا میں بھی پسیجا جو وہ بت نالوں پر\nقابل رحم ہے انسان کا پتھر ہونا\n\nآ کے سمجھائے وہ تسکین کا پہلو ہم کو\nمان لیں گے دل بیتاب کا پتھر ہونا\n\nگور میں دفن کیا جب نہ رکے زنداں میں\nکس طرح دیکھتے دیوانوں کا بے گھر ہونا\n\nقصۂ طور و کلیم آپ سناتے ہیں فضول\nنہیں ممکن جو تجلی کا مکرر ہونا\n\nچھوڑ کر دائرۂ حق کو نہ جائے راغبؔ\nکفر ہے سلسلۂ شیخ سے باہر ہونا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7_%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%B3%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "نا کسی سے پاس میرے یار کا آنا گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نا کسی سے پاس میرے یار کا آنا گیا\nبس گیا میں جان سے اب اس سے یہ جانا گیا\n\nکچھ نہ دیکھا پھر بجز یک شعلۂ پر پیچ و تاب\nشمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا\n\nایک ہی چشمک تھی فرصت صحبت احباب کی\nدیدۂ تر ساتھ لے مجلس سے پیمانہ گیا\n\nگل کھلے صد رنگ تو کیا بے پری سے اے نسیم\nمدتیں گزریں کہ وہ گلزار کا جانا گیا\n\nدور تجھ سے میرؔ نے ایسا تعب کھینچا کہ شوخ\nکل جو میں دیکھا اسے مطلق نہ پہچانا گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D9%86%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نابینا بیوی", "poet_page": "مصنف:سلطان حیدر جوش", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "میرے گھر کے برابر دیوار بیچ، ایک قاضی صاحب کا مکان تھا۔ بیچارے ایک زمانے میں بڑے متمول آدمی تھے مگر ریاست کی زندگی خصوصاً ملازمت انقلاب کی تصویر ہوا کرتی ہے۔ ذرا راجہ صاحب کے کان بھرے اور بے قصور پر آفت برپا ہوگئی۔ اسی طرح ان شریف قاضی صاحب کے تمول نے افلاس کا پہلو بدلا، اور فقط پچاس ساٹھ روپیہ ماہوار کی قلیل رقم بہ ہزار دقت بچ بچا کر رہ گئی۔ اسی پر صبر شکر کے ساتھ قانع تھے اور اپنا اور اپنی بیوی کا پیٹ پالتے تھے۔ عربی اور فارسی کی قابلیت کے لحاظ سے دور دور تک ان کا شہرہ تھا، اور باہر سے اکثر اشخاص مشکل سے مشکل مسئلے حل کرانے آتے تھے۔\n\nقاضی صاحب کی صاحب زادی کی شادی کی تقریب جب ہوئی تو نکاح میں مجھے بھی مدعو کیا گیا مگر چند دو چند ضروریات کی وجہ سے میں شامل نہ ہو سکا۔ مگر ہمسایہ تھا، واقعات کی خبر برابر مل گئی۔ معلوم ہوا کہ دولہا کو پہلے سے اس لڑکی کی نسبت جس سے اب اس کی قسمت وابستہ ہونے والی تھی کچھ بھی معلوم نہ تھا، او ر عین نکاح کے وقت نہ معلوم کس بات کے علم پر اس نئی روشنی کے شیدا نے شادی سے قطعی انکار کر دیا۔ طرفین کی بڑی بدنامی ہوئی۔ اور آخرکار برات واپس آگئی۔ اس کے بعد خود دولہا سے میری راہ ورسم ہو گئی اور اس کی وجہ اس نے غریب لڑکی کی بدچلنی بیان کی۔ یہ سن کر میرے خیالات بھی قاضی صاحب کی طرف سے خراب ہونے لگے، اور میں نے ان سے ملنا جلنا کم کر دیا۔ راستہ میں بھی ان سے کترا کر نکل جاتا۔ وہ دراصل مجھ سے محبت کرتے اور میرے والد بزرگوار کے بڑے سچے دوست تھے۔\n\nاسی طرح چھ مہینے گزر گئے، اب گرمی کا موسم آ پہنچا۔ میری والدہ ضعیفہ تو صحن میں سویا کرتی تھیں۔ مگر میں اکیلا چھت پر لیٹا کرتا تھا۔ ایک دفعہ مجھے خوب یاد ہے جمعہ کا دن تھا۔ چلچلاتی گرمی تھی۔ پہر بھر دن سے ہوا بند تھی دونوں وقت ملتے ہی مارا مارا کرکے میں نے کھانا کھایا اور سیدھا کوٹھے پر جاپڑا۔ چاروں طرف اجلی چاندنی چھٹکی ہوئی تھی اور تارے اکا دکا نظر آتے تھے۔ دو تین گھنٹے یوں ہی کروٹیں بدلتے اور ہاتھ پاؤں مارتے کٹے۔ خداخدا کر کے۱۱بجے ہوا ذرا سرسرائی اور کچھ جان میں جان آئی۔ نیند کی غنودگی میں یکایک مجھے یہ معلوم ہوا کہ کوئی میرے سرہانے بول رہا ہے۔ میں فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھا۔ مگر آدمی تو آدمی پرچھائیں تک دکھائی نہ دی۔ اتنے میں ہوا کے جھونکے کے ساتھ ایک درد بھری آواز قاضی صاحب کی چھت سے آئی۔ ’’خدا جانے کیونکر بدنامی ہوتی ہے۔ مگر خیر رب العالمین خوب جانتا ہے، مجھے کسی سے غرض ہی کیا! پاک پروردگار!! میں نہیں چاہتی کہ میری شادی ہو۔ مجھ دکھیاری اندھی کو کون قبول کرے گا؟ مگر ہاں یہ ضرور ہے کہ میں پاک ہوں اورباعصمت ہوں۔ آپ سے میں یہ چاہتی ہوں کہ میری بدنامی نہ ہو، اور برا کہنے والوں کا منہ تو بند کردے‘‘۔ ان درد بھرے جملوں کے بعد پھر کوئی آواز قطعی نہ آئی۔ یہ الفاظ میرے چوٹ کھائے ہوئے دل کے ساتھ نمک کا کام کررہے تھے، اور میری ساری رات آنکھوں میں کٹی۔ صبح ہوتے ہی میں جناب والد صاحب کی اجازت پر ایک دوست کے ذریعے سے پیغام بھیجا اور قاضی صاحب کی غلامی میں اپنے آپ کو دینا چاہا۔ مگر ان سچے اور پاک باز انسان نے اس کے جواب میں آبدیدہ ہو کر کہا کہ ’’ان سے کہہ دینا، ابھی صاحب زادہ ہو، نا تجربہ کار ہو۔ کیوں اپنی زندگی تلخ کرتے ہو۔ وہ بدنصیب لڑکی اندھی ہے۔ میں تمہارے والد کا نیاز مند ہوں۔ قیامت کے دن انہیں کیا منہ دکھاؤں گا؟‘‘\n\nبمشکل تما م میں نے قاضی صاحب کو کئی دنوں میں مجبور کر لیا، او ر اس مصیبت زدہ نابینالڑکی سے چپ چپاتے شادی کرلی۔ اب وہ میرے گھر میں آئی اور میری بیوی بن کر رہنے لگی۔ اس کی خصائل کی نسبت میں بلا مبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ صبر ، قناعت، سچائی، ہمدردی، محبت اور پاکبازی کی مجسم تصویر تھی۔ اکثر اوقات پچھلی رات کبھی میری آنکھ کھل جاتی۔ تومیں ایک عجیب موثر نظارہ دیکھتا وہ پلنگ پر لیٹے لیٹے نہایت عاجزی کے ساتھ دعا میں مشغول ہوتی اور ہزار ہزار طرح سے پہروں میری ترقی، آرام اور آسائش کے لیے دعائیں مانگتی حتی الامکان میں اس کی خوشی کا خیال از حد رکھتا۔ جب تک میری والدہ ضعیفہ زندہ تھیں۔ میری نابینا بیوی کو میرے حاضر وغائب میں کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچی۔ مگر انہوں نے بھی ایک دن اس دار فانی کو الوداع کہا او ران کے صدمے نے میری ہمت پست کردی۔ اب گھر میں صرف ایک خادمہ تھی اور ڈیوڑھی پر ایک نوکر۔ والدہ صاحبہ کی آنکھیں بندہوتے ہی خادمہ نے اسے تکلیف پہنچانی شروع کی۔ مگرمیں سچ عرض کرتاہوں، کبھی بھول کر بھی اس نے خادمہ کی شکایت مجھ سے نہیں کی، اور مجھے قطعی اس بات کی اطلاع نہیں ہوئی۔\n\nایک روز اتفاقیہ خلاف معمول دوپہر کو گھر میں واپس آیا۔ جبکہ میری بیوی کھانا کھارہی تھی اور خادمہ دستر خوان کے پاس بیٹھی تھی۔ سالن وغیرہ دیکھ کر میری آنکھوں میں خون اتر آیا، اور اس ماما کو برا بھلا کہنے لگا کیونکہ پورے خرچ پر بھی کھانا بہت خراب تھا، اور ایسا معلوم ہوتا تھاکہ وہ مجھے اچھا کھلاتی تھی اور میری غریب نابینا بیوی کے سامنے روکھی سوکھی روٹیاں اور بچا کھچا سالن رکھ دیتی تھی اور باقی سب اچھا اچھا تیر کر جاتی تھی۔ اسی دن سے میں صبح کو جب تک میری قابل رحم بیوی ضروریات اور نماز سے فارغ نہ ہو لیتی تھی، باہر نہ جاتا، اور دوپہر سے پہلے واپس آکر کھانا اسی کے ساتھ کھاتا۔ پھر شام سے ہی گھرمیں آپڑتا اور تمام رات کہیں نہ نکلتا۔ اس کی سچی محبت اور راست بازی نے اس قدر میرے دل میں گھرکر لیا تھا کہ اکثرماما کے نہ ہونے پر میں خود کام کرتا۔اس کے لیے وضو وغیرہ کے لیے پانی لانے میں مجھے عار نہ تھا۔ اس طرح گھر میں گھسے رہنے کی وجہ دوست احباب مجھ پر فقرے کسنے لگے اور میرے ہم عمر میرا مذاق اڑانے لگے۔ مگر میں نے پروا نہ کی اور میرے معمول میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا۔\n\nاسی اثنا میں ان نئی روشنی کے نوجوان کی جس نے میری نابینا بیوی پر جھوٹا الزام لگایا تھا بڑی دھوم دھام سے شادی ایک متمول لڑکی سے ہو گئی۔ مشکل سے ایک برس گزارا ہوگا کہ شکر رنجی ہوئی اور بڑھتے بڑھتے خانہ جنگیوں کی نوبت آئی۔ تما م شہر میں افواہ پھیل گئی کہ ان کی بیوی آوارہ ہے۔ انہوں نے اس کو نکال دیا۔ اس نے میکے پہنچتے ہی نان نفقہ او ر مہر کی نالش ٹھونک دی، اور نئی روشنی کے نوجوان کو چھٹی کا کھایا ہوا یاد آگیا۔ غرض خوب عرضی پرچہ ہوتا رہا۔ ان پر بیوی کی ڈگری ہوگئی۔ اب انہوں نے خاندان کے بزرگوں کے سامنے منت سماجت کی اور صلح ہو گئی۔ ان کی بیوی گھر میں آگئی۔ مگر تھوڑے عرصے کے بعد پھر وہی تکا فضیحتی شروع ہوگئی۔ بہرحال ڈگری کے خوف سے وہ غصہ دباتے اور بیوی کی جوتیاں کھاتے رہتے۔\n\nاس دار ناپا ئیدار کے قانون کے موافق مجھ بدنصیب پر ایک اور مصیبت آئی۔ میر ی نابینا بیوی کو بخار آنے لگا میں نے ڈاکٹر، حکیم، ملا، سیانے، دوا، ٹھنڈائی، گنڈا غرض کچھ نہ چھوڑا۔ مگر بخار میں کمی نہ ہونی تھی نہ ہوئی۔ میں نے بالکل ہر جگہ کا آناجانا چھوڑ دیا۔ وہ برابر چھ مہینے تک بیمار رہی۔ میں نے ہر قسم کی خدمت کی۔ یہاں تک کہ چوکی پر لے جانا۔ دوائی پلانا وغیرہ میرا روزانہ معمول تھا۔ کئی بار میرے اگالدان اٹھاتے ہی ابکائی آئی، او ر جونہی میں نے اگالدان سامنے کیا اس نے ڈالنا شروع کیا جس سے میرے ہاتھ بھی بھر گئے۔ اگرچہ میں شہر میں نازک مزاج مشہور ہوں۔ لیکن بخدا کبھی مجھے ایسی کراہت نہیں آئی کہ محبت پر غالب آتی۔\n\nایک دن اس نے متواتر بارہ گھنٹے آنکھ نہ کھولی اور مجھے از حد تشویش ہوئی۔ رات کے تقریباً نو بجے جبکہ اس کا سر میرے زانو پر تھا۔ اسے ہوش آیا۔ اس نے چھوٹتے ہی کہا۔ ’’تم اس قدر کیوں تکلیف اٹھاتے اور مجھے شرمندہ کئے جاتے ہو؟ میں اس شرمندگی سے مرجاؤں تو اچھا ہے۔ تمہیں ماما پر اعتبار نہ ہو تو اپنی شادی کسی سے کرلو۔ وہ گھر کا انتظام خود کرے گی، اور تمہیں اس قدر درد سری نہیں کرنی پڑے گی۔ یہ نہ سمجھنا کہ مجھے سوکن کا خیال ہوگا۔ تمہارا یہی ایک احسان کہ تم نے میرا سرتاج بننا منظور کیا، ایسا ہے جس کا میں کسی طرح بدلہ نہیں دے سکتی۔ تم نے میرے ساتھ شادی کر کے واقعی اپنے اوپر بڑا ظلم کیا۔\n\nکچھ نہ پوچھئے کہ ان الفاظ نے میرے ساتھ کیا کیا۔ میرے خون میں چکر آیا۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے کلیجہ تھام لیا۔ حالت روز بروز خراب ہوتی گئی۔ قاضی صاحب دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اس لیے اس نے اپنی والدہ کو بلایا اور درد بھرے الفاظ کے ساتھ مہر معاف کردیا، اور میں روتے روتے بے ہوش ہوگیا۔ اسی دن سے ہچکی لگ گئی۔ اس کے آخری الفاظ یہ تھے ’’اگر تم کو تکلیف ہوئی تو میری روح کو صدمہ ہوگا‘‘۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%A8%DB%8C%D9%86%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%88%DB%8C"} {"title": "ناتوانی میں پلک کو بھی ہلایا نہ گیا", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناتوانی میں پلک کو بھی ہلایا نہ گیا\nدیکھ کے ان کو اشارے سے بلایا نہ گیا\n\nسخت تر سنگ سے بھی دل ہے انہوں کا شاید\nنقش جس پر کسی عنوان بٹھایا نہ گیا\n\nگلشن خلد میں ہر چند کہ دل بہلایا\nکوچۂ یار مگر دل سے بھلایا نہ گیا\n\nشکن زلف سے دل صاف نظر آتا ہے\nاس اندھیرے میں تعجب ہے چھپایا نہ گیا\n\nدیکھ کر کل وہ مرا حال پریشاں عارفؔ\nایسا گھبرائے کہ آنکھوں کو چرایا نہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D9%84%DA%A9_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ناتوانی کے سبب یاں کس سے اٹھا جائے ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناتوانی کے سبب یاں کس سے اٹھا جائے ہے\nآہ اٹھنے کی کہیں کیا دم ہی بیٹھا جائے ہے\n\nنزع میں ہرچند ہم چاہیں ہیں دو باتیں کریں\nکیا کریں مقدور کب ہے کس سے بولا جائے ہے\n\nآمد و رفت ان کی یاں ساعت بہ ساعت ہے وہی\nکب طبیبوں کا ہمارے سر سے بلوا جائے ہے\n\nجائے رقت ہے مری حالت تو اب اے ہم نشیں\nپاؤں کیا سیدھے کروں میں دم ہی الٹا جائے ہے\n\nتیغ ابرو تیر مژگاں سب رکھے ہیں سان پر\nان دنوں اس کی طرف کب ہم سے دیکھا جائے ہے\n\nزخم دل سے مجھ کو اک آتی ہے بوئے انس سی\nاس کے کوچے کی طرف شاید یہ رستا جائے ہے\n\nمصحفیؔ تو عشق کی وادی میں آخر لٹ گیا\nاس بیاباں میں کوئی نادان تنہا جائے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A8%D8%A8_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "ناتواں عشق نے آخر کیا ایسا ہم کو", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناتواں عشق نے آخر کیا ایسا ہم کو\nغم اٹھانے کا بھی باقی نہیں یارا ہم کو\n\nدرد فرقت سے ترے ضعف ہے ایسا ہم کو\nخواب میں بھی ترے دشوار ہے آنا ہم کو\n\nجوش وحشت میں ہو کیا ہم کو بھلا شکر لباس\nبس کفایت ہے جنوں دامن صحرا ہم کو\n\nرہبری کی دہن یار کی جانب خط نے\nخضر نے چشمۂ حیوان یہ دکھایا ہم کو\n\nدل گرا اس کے زنخداں میں فریب خط سے\nچاہ خس پوش تھا اے وائے نہ سوجھا ہم کو\n\nواہ کاہیدگیٔ جسم بھی کیا کام آئی\nبزم میں تھے پہ رقیبوں نے نہ دیکھا ہم کو\n\nقالب جسم میں جاں آ گئی گویا شبلیؔ\nمعجزہ فکر نے اپنی یہ دکھایا ہم کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%92_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "ناتواں وہ ہوں نگاہوں میں سما ہی نہ سکوں", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناتواں وہ ہوں نگاہوں میں سما ہی نہ سکوں\nبھروں آنکھوں میں نظر سا نظر آ ہی نہ سکوں\n\nدل جلانا ہے تو اے مہر جلا مثل کباب\nداغ کچھ مہر نہیں ہے جو اٹھا ہی نہ سکوں\n\nتہ شمشیر دو دم خوش ہوں یہ شیشے کی طرح\nایک دم سنگ دلوں سے میں بنا ہی نہ سکوں\n\nہم نشیں یار ہو کیا یہ ہے نصیبوں میں فراق\nجوڑ اعضا کے بھی اکھڑیں تو بٹھا ہی نہ سکوں\n\nخود فراموش ہوں ایسا کہ دل بے خود سے\nیاد اس بت کی بھلاؤں تو بھلا ہی نہ سکوں\n\nخامہ سا ہے ازلی سینہ فگاری میری\nزخم دل لاکھ سلاؤں پہ سلا ہی نہ سکوں\n\nدسترس کاکل خم دار یہ ہونا ہی محال\nیہ وہ ناگن ہے جو ہاتھوں پہ کھلا ہی نہ سکوں\n\nنازنیں یہ ہے کہ اے شادؔ نظر بازوں کو\nکمر اس کی جو دکھاؤں تو دکھا ہی نہ سکوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D9%88%DA%BA"} {"title": "ناحق تھا قلقؔ مجھے غرور اسلام", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ناحق تھا قلقؔ مجھے غرور اسلام\nمردود ہوا کرتی ہے نظر اصنام\nمحراب ہے مسجد میں مرا افسانہ\nتوبہ ہے ہوا ہوں میں بھی کیا ہی بدنام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%AD%D9%82_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%82%D9%84%D9%82%D8%94_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "ناحق شکایت غم دنیا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناحق شکایت غم دنیا کرے کوئی\nغم ہے بڑی خوشی جو گوارا کرے کوئی\n\nرگ رگ میں دل کی جذب ہے محشر امید\nاندازۂ ہجوم تمنا کرے کوئی\n\nہے ان کے آستاں پہ ہجوم غرور و ناز\nگنجائش جبیں ہو تو سجدا کرے کوئی\n\nیوسف غیور فطرت یوسف غیور تر\nکیا اعتبار خواب زلیخا کرے کوئی\n\nہر شخص ہے خراب تمنا بقدر ذوق\nسیمابؔ کس سے عرض تمنا کرے کوئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%AD%D9%82_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ناحق و حق کا انہیں خوف و خطر کچھ بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناحق و حق کا انہیں خوف و خطر کچھ بھی نہیں\nبے خبر ہیں وہ زمانے کی خبر کچھ بھی نہیں\n\nدھوم ہی دھوم تھی مدفن کی مگر کچھ بھی نہیں\nخاک اس گھر میں بسر ہوگی یہ گھر کچھ بھی نہیں\n\nہائے افسوس ہوئی کون سی صحبت برخاست\nشب کو معراج میں تھے وقت سحر کچھ بھی نہیں\n\nکہہ رہی ہے یہ مرے دل سے محبت اس کی\nہوں تو اکسیر مگر مجھ میں اثر کچھ بھی نہیں\n\nآ رہی ہے یہ صدا گور کے سناٹے سے\nمیں وہ عالم ہوں جہاں شام و سحر کچھ بھی نہیں\n\nاس نزاکت سے تو میں کاہے کو بسمل ہوں گا\nتم چھری پھیرتے ہو مجھ کو خبر کچھ بھی نہیں\n\nہاتف عشق تو کہتا ہے ادھر سب کچھ ہے\nعالم یاس یہ کہتا ہے ادھر کچھ بھی نہیں\n\nآنکھ پھر جاتی ہے معشوقوں کی مایوسوں سے\nغمزدہ کچھ نہیں حسرت کی نظر کچھ بھی نہیں\n\nتربت قیس سے کہتی ہے لپٹ کر لیلیٰ\nہم تڑپتے ہیں پڑے تم کو خبر کچھ بھی نہیں\n\nمنزل گور میں کیا جانیے کیا گزرے گی\nتازہ وارد ہیں ابھی ہم کو خبر کچھ بھی نہیں\n\nلن ترانی کی جو تاکید ہے اے دل یہ کھلا\nباب دیدار میں منظور نظر کچھ بھی نہیں\n\nخواب دیکھا تھا کہ تھا وصل کی شب کا سامان\nجشن تھا رات کو ہنگام سحر کچھ بھی نہیں\n\nاس کو گہری اسے یہ اوچھی چھری واہ اے یار\nزخم دل گھاؤ ہوا زخم جگر کچھ بھی نہیں\n\nرشتۂ جاں سے بھی نازک ہے وہ باریکی میں\nگل کی رگ پھر ہے گداز اس کی کمر کچھ بھی نہیں\n\nقبر میں حوروں کے آنے کا اٹھائیں کیا لطف\nدیدہ و جسم و دل و جان و جگر کچھ بھی نہیں\n\nراس آ جائے گی جس کو وہ اسے چاہیں گے\nپھر محبت میں سبھی کچھ ہے اگر کچھ بھی نہیں\n\nمطمئن ہوں رہ عصیاں میں تری رحمت سے\nوہ مسافر ہوں کہ تشویش سفر کچھ بھی نہیں\n\nاے شرفؔ ہے گل مقصود کے ہر سو بوچھار\nواہ اے خوبیٔ قسمت کہ ادھر کچھ بھی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%AD%D9%82_%D9%88_%D8%AD%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D9%81_%D9%88_%D8%AE%D8%B7%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ناخوش جو ہو گل بدن کسی کا", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناخوش جو ہو گل بدن کسی کا\nکیا بھائے اسے سخن کسی کا\n\nگل کی مجھے کیوں کلی دکھائی\nیاد آ گیا پھر دہن کسی کا\n\nہر سنگ کی کوہ پر صدا ہے\nیاں دفن ہے کوہ کن کسی کا\n\nکرتے ہو پسند وحشت دل\nلے جاؤ گے کیا ہرن کسی کا\n\nبھولی ہے صبا قبائے گل پر\nدیکھا نہیں پیرہن کسی کا\n\nعاشق ہی کے جب نہ کام آیا\nکس کام کا بانکپن کسی کا\n\nآ جائے کسی کی موت مجھ کو\nمل جائے مجھے کفن کسی کا\n\nسینہ سے ہمارا دل نہ لے جاؤ\nچھڑواتے ہو کیوں وطن کسی کا\n\nگاتے ہیں سخیؔ ہی کی غزل وہ\nبھاتا ہی نہیں سخن کسی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D9%84_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ناداں تھے اس قدر کہ نہ جانی عرب کی قدر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ناداں تھے اس قدر کہ نہ جانی عرب کی قدر\nحاصل ہوا یہی، نہ بچے مار پِیٹ سے\n\nمغرب میں ہے جہازِ بیاباں شُتَر کا نام\nتُرکوں نے کام کچھ نہ لیا اس فلیِٹ سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B9%D8%B1%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%AF%D8%B1"} {"title": "ناداں کہاں طرب کا سرانجام اور عشق", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "ناداں کہاں طرب کا سرانجام اور عشق\nکچھ بھی تجھے شعور ہے آرام اور عشق\n\nلینے نہ دیویں گے مجھے ٹک چین جیتے جی\nدشمن یہ دونو گردش ایام اور عشق\n\nیاں غش ہیں شوق طوف ہیں یاران کعبہ کو\nاے نامہ بر تو کہیو یہ پیغام اور عشق\n\nکیا نام لے کے اس کا پکارا کروں کہ یاں\nرکھتا ہے ہر زبان میں اک نام اور عشق\n\nپوچھا کسی نے قیس سے تو ہے محمدی\nبولا وہ بھر کے آہ کہ اسلام اور عشق\n\nاسباب کائنات سے بس ہو کے بے نوا\nانشاؔ نے انتخاب کیا جام اور عشق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B7%D8%B1%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "نادِر شاہ افغان", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "حضورِ حق سے چلا لے کے لُولوئے لالا\nوہ ابر جس سے رگِ گُل ہے مثلِ تارِ نفَس\nبہشت راہ میں دیکھا تو ہو گیا بیتاب\nعجب مقام ہے، جی چاہتا ہے جاؤں برس\nصدا بہشت سے آئی کہ منتظر ہے ترا\nہرات و کابل و غزنی کا سبزۂ نورس\nسرشکِ دیدۂ نادر بہ داغِ لالہ فشاں\nچناں کہ آتشِ او را دگر فرونہ نشاں!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%AF%D9%90%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86"} {"title": "نارسائی", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "رات اندھیری بن ہے سونا کوئی نہیں ہے ساتھ\nپون جھکولے پیڑ ہلائیں تھر تھر کانپیں پات\nدل میں ڈر کا تیر چبھا ہے سینے پر ہے ہاتھ\nرہ رہ کر سوچوں یوں کیسے پوری ہوگی رات\n\nبرکھا رت ہے اور جوانی لہروں کا طوفان\nپیتم ہے نادان مرا دل رسموں سے انجان\nکوئی نہیں جو بات سجھائے کیسے ہوں سامان\nبھگون مجھ کو راہ دکھا دے مجھ کو دے دے گیان\n\nچپو ٹوٹے ناؤ پرانی دور ہے کھیون ہار\nبیری ہیں ندی کی موجیں اور پیتم اس پار\nسن لے سن کے دکھ میں پکارے اک پریمی بچارا\nکیسے جاؤں کیسے پہنچوں کیسے جتاؤں پیار\n\nکیسے اپنے دل سے مٹاؤں برہ اگن کا روگ\nکیسے سجھاؤں پریم پہیلی کیسے کروں سنجوگ\nبات کی گھڑیاں بیت نہ جایں دور ہے اس کا دیس\nدور دیس ہے پیتم کا اور میں بدلے ہوں بھیس", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ناروا کہئے ناسزا کہئے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناروا کہئے ناسزا کہئے\nکہئے کہئے مجھے برا کہئے\n\nتجھ کو بد عہد و بے وفا کہئے\nایسے جھوٹے کو اور کیا کہئے\n\nدرد دل کا نہ کہئے یا کہئے\nجب وہ پوچھے مزاج کیا کہئے\n\nپھر نہ رکئے جو مدعا کہئے\nایک کے بعد دوسرا کہئے\n\nآپ اب میرا منہ نہ کھلوائیں\nیہ نہ کہئے کہ مدعا کہئے\n\nوہ مجھے قتل کر کے کہتے ہیں\nمانتا ہی نہ تھا یہ کیا کہئے\n\nدل میں رکھنے کی بات ہے غم عشق\nاس کو ہرگز نہ برملا کہئے\n\nتجھ کو اچھا کہا ہے کس کس نے\nکہنے والوں کو اور کیا کہئے\n\nوہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھی\nحال دل سب سے جا بجا کہئے\n\nمجھ کو کہئے برا نہ غیر کے ساتھ\nجو ہو کہنا جدا جدا کہئے\n\nانتہا عشق کی خدا جانے\nدم آخر کو ابتدا کہئے\n\nمیرے مطلب سے کیا غرض مطلب\nآپ اپنا تو مدعا کہئے\n\nایسی کشتی کا ڈوبنا اچھا\nکہ جو دشمن کو ناخدا کہئے\n\nصبر فرقت میں آ ہی جاتا ہے\nپر اسے دیر آشنا کہئے\n\nآ گئی آپ کو مسیحائی\nمرنے والوں کو مرحبا کہئے\n\nآپ کا خیر خواہ میرے سوا\nہے کوئی اور دوسرا کہئے\n\nہاتھ رکھ کر وہ اپنے کانوں پر\nمجھ سے کہتے ہیں ماجرا کہئے\n\nہوش جاتے رہے رقیبوں کے\nداغؔ کو اور باوفا کہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A6%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B3%D8%B2%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "ناروا کہیے ناسزا کہیے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناروا کہیے ناسزا کہیے\nکہیے کہیے مجھے برا کہیے\n\nپھر نہ رکئے جو مدعا کہیے\nایک کے بعد دوسرا کہیے\n\nآپ اب میرا منہ نہ کھلوائیں\nیہ نہ کہیے کہ مدعا کہیے\n\nوہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھی\nحال دل سب سے جا بجا کہیے\n\nمجھ کو کہیے برا نہ غیر کے ساتھ\nجو ہو کہنا جدا جدا کہیے\n\nہاتھ رکھ کر وہ اپنے کانوں پر\nمجھ سے کہتے ہیں ماجرا کہیے\n\nہوش جاتے رہے رقیبوں کے\nداغؔ کو اور با وفا کہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B3%D8%B2%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "ناز بت مہوش پر قربان دل و جاں ہے", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "ناز بت مہوش پر قربان دل و جاں ہے\nیہ شان خدا شاہد غارت گر ایماں ہے\n\nجو بات بھی ہے پیاری جو چال بھی ہے اچھی\nآن اس کی نہیں مخفی شان اس کی نمایاں ہے\n\nہم راہ چلوں اس کے کچھ بات کروں اس سے\nمدت سے یہ حسرت ہے مدت سے یہ ارماں ہے\n\nوہ مجھ کو دکھاتے ہیں ہر آن نیا جلوہ\nمیرے لیے ہر جلوہ سرمایۂ احساں ہے\n\nگرداب حوادث میں خوش ہوں کہ مری کشتی\nنا دیدۂ ساحل ہے پروردۂ طوفاں ہے\n\nہنستا ہوا آیا ہے ہنس ہنس کے رلائے گا\nوہ عہد شکن پھر اب آمادۂ پیماں ہے\n\nمنظورؔ اسے دل دینا دل دے کے خلش لینا\nیہ بھی کوئی حسرت ہے یہ بھی کوئی ارماں ہے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%81%D9%88%D8%B4_%D9%BE%D8%B1_%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ناز و ادا ہے تجھ سے دل آرام کے لیے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناز و ادا ہے تجھ سے دل آرام کے لیے\nیہ جامہ قطع ہے ترے اندام کے لیے\n\nوحشت میں کعبے کو جو گیا کوئے یار سے\nلتے جنوں نے جامۂ احرام کے لیے\n\nعاشق ہوں ہر طرح سے گنہ گار ہوں ترا\nحاجت قصور کی نہیں الزام کے لیے\n\nکیا کیا جپے گی کیسا رٹے گی زباں اسے\nتسبیح ہم نے لی ہے ترے نام کے لیے\n\nطفلی کے گریہ کا یہ کھلا حال وقت مرگ\nآغاز ہی میں روتے تھے انجام کے لیے\n\nاچھا نہیں مقابلہ اس چشم شوخ سے\nاک دن شکست فاش ہے بادام کے لیے\n\nوہ نونہال آئے الٰہی مراد پر\nحاصل ہو پختگی ثمر خام کے لیے\n\nہر چند اپنا نامۂ عصیاں سیاہ ہو\nہوگا سفید صبح ہے ہر شام کے لیے\n\nنامرد اور مرد میں اتنا ہی فرق ہے\nوہ نان کے لیے مرے یہ نام کے لیے\n\nمثل کمند اپنی رسائی ہوئی اگر\nاے قصر یار بوسے لب بام کے لیے\n\nکیا چشم مست یار سے تشبیہ دیجئے\nکیفیت نگاہ نہیں جام کے لیے\n\nرکھوا کے زلفیں یار نے لاکھوں ہی مرغ دل\nپیدا کئے ہیں کشمکش دام کے لیے\n\nدل میں سوائے یار جگہ ہو نہ غیر کی\nخلوت سرائے خاص نہیں عام کے لیے\n\nجاتا ہے بہر غسل جو اے خوش دماغ تو\nجلتا ہے عود گرمیٔ حمام کے لیے\n\nآتشؔ جو چاہے پائے توکل کے محکمے\nجو صبح کو ملے نہ رہے شام کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D9%88_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "ناز چمن وہی ہے بلبل سے گو خزاں ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناز چمن وہی ہے بلبل سے گو خزاں ہے\nٹہنی جو زرد بھی ہے سو شاخ زعفراں ہے\n\nگر اس چمن میں وہ بھی اک ہی لب و دہاں ہے\nلیکن سخن کا تجھ سے غنچے کو منہ کہاں ہے\n\nہنگام جلوہ اس کے مشکل ہے ٹھہرے رہنا\nچتون ہے دل کی آفت چشمک بلائے جاں ہے\n\nپتھر سے توڑنے کے قابل ہے آرسی تو\nپر کیا کریں کہ پیارے منہ تیرا درمیاں ہے\n\nباغ و بہار ہے وہ میں کشت زعفراں ہوں\nجو لطف اک ادھر ہے تو یاں بھی اک سماں ہے\n\nہر چند ضبط کریے چھپتا ہے عشق کوئی\nگزرے ہے دل پہ جو کچھ چہرے ہی سے عیاں ہے\n\nاس فن میں کوئی بے تہہ کیا ہو مرا معارض\nاول تو میں سند ہوں پھر یہ مری زباں ہے\n\nعالم میں آب و گل کا ٹھہراؤ کس طرح ہو\nگر خاک ہے اڑے ہے ور آب ہے رواں ہے\n\nچرچا رہے گا اس کا تا حشر مے کشاں میں\nخوں ریزی کی ہماری رنگین داستاں ہے\n\nاز خویش رفتہ اس بن رہتا ہے میرؔ اکثر\nرہتے ہو بات کس سے وہ آپ میں کہاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%88%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%88_%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ناز کرتا ہے جو تو حسن میں یکتا ہو کر", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناز کرتا ہے جو تو حسن میں یکتا ہو کر\nمیں بھی نازاں ہوں ترا عاشق شیدا ہو کر\n\nمیں نہ سمجھا تھا کہ اشکوں سے اٹھے گا طوفاں\nچند قطروں نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر\n\nچشم بیمار جو پہلے تھی وہی اب بھی ہے\nکچھ بنائے نہ بنی تم سے مسیحا ہو کر\n\nکس کے رخسار دم سیر چمن یاد آئے\nپھول آنکھوں میں کھٹکنے لگے کانٹا ہو کر\n\nدرد تھا دل میں تو جینے کا مزہ ملتا تھا\nاب تو بیمار سے بدتر ہوں میں اچھا ہو کر\n\nدام سے چھوٹ کے بھی میری اسیری نہ گئی\nزلف صیاد گلے پڑ گئی پھندا ہو کر\n\nچھپ کے رہنا ہے جو سب سے تو یہ مشکل کیا ہے\nتم مرے دل میں رہو دل کی تمنا ہو کر\n\nکیا ستم ہے شب وعدہ وہ حنا ملتے ہیں\nرنگ لائے نہ کہیں خون تمنا ہو کر\n\nدہن یار کی تعریف جو کی میں نے جلیلؔ\nاڑ گیا طائر مضموں مرا عنقا ہو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ناز ہے مشق جفا پر اس ستم ایجاد کو", "poet_page": "مصنف:ابراہیم عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاجز (1934)", "year": "1934", "text_ur": "ناز ہے مشق جفا پر اس ستم ایجاد کو\nکب کرے گا شاد میری خاطر ناشاد کو\n\nکس طرح کا سم قاتل ہے یہ شربت عشق کا\nجان شیریں زہر آخر ہو گئی فرہاد کو\n\nرحم جب کرتا نہیں نالوں سے پھر کیا فائدہ\nدرد مندی بلبل نالاں سے کیا صیاد کو\n\nکیسے وہ خوش فہم ہیں پتھر پڑے اس فہم پر\nجو جہان آباد سمجھے اس خراب آباد کو\n\nاک تعلق سے ہزاروں رنج ہوتے ہیں نصیب\nفکر کرتے کس نے دیکھا ہے کسی آزاد کو\n\nجانتے ہیں جزو ہے ایمان کا حب وطن\nبے طرح بھولے وطن ہیں کیا ہوا استاد کو\n\nنالہ و زاری میں اے عاجزؔ تو کیوں مصروف ہے\nکون سنتا ہے ارے ناداں تری فریاد کو", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B4%D9%82_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D9%88"} {"title": "نازنینان جہاں شعبدہ گر پکے ہیں", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نازنینان جہاں شعبدہ گر پکے ہیں\nدیکھنے کو تو یہ بھولے ہیں مگر پکے ہیں\n\nہم لٹا دیں گے محبت میں متاع ہستی\nہم دکھا دیں گے ارادے کے اگر پکے ہیں\n\nپختہ کاری کی خبر دیتی ہے خامی ان کی\nکان کے کچے ہیں مطلب کے مگر پکے ہیں\n\nیہ تو فرمائیے قسموں کی ضرورت کیا تھی\nآپ اقرار کے وعدے کے اگر پکے ہیں\n\nخوف طوفان حوادث کا نہیں مجھ کو عزیزؔ\nجن کی بنیاد ہے مضبوط وہ گھر پکے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B2%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%A7%D9%86_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D8%AF%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D9%BE%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نازنیں جب خرام کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نازنیں جب خرام کرتے ہیں\nتب قیامت کا کام کرتے ہیں\n\nگل پہ جوں اوس یوں ترے مکھ پر\nٹوٹ دل اژدحام کرتے ہیں\n\nتم نظر کیوں چرائے جاتے ہو\nجب تمہیں ہم سلام کرتے ہیں\n\nکیا تماشا ہے جب کہ دو معشوق\nمل کے باہم کلام کرتے ہیں\n\nمومنوں کے دلوں کو یہ بد کیش\nکافری کر کے رام کرتے ہیں\n\nعشق کی صف منیں نمازی سب\nآبروؔ کو امام کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B2%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نازنیں جن کے کچھ نیاز نہیں", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نازنیں جن کے کچھ نیاز نہیں\nان حسینوں سے دل کو ساز نہیں\n\nغیر کا بھید کیوں نہ کھل جائے\nآپ کے دل کا تو وہ راز نہیں\n\nاک تری ذات کے سوا زاہد\nکوئی دنیا میں پاکباز نہیں\n\nاس میں پاتا ہوں کچھ تری خوبی\nمجھ کو بے وجہ دل پہ ناز نہیں\n\nجتنے ہیں اہل درد ہیں ہمدرد\nدل وہ پتھر ہے جو گداز نہیں\n\nکہہ رہی ہے یہ سادگی کی ادا\nنیک و بد میں کچھ امتیاز نہیں\n\nجبہ سائی بتوں کے در کی حفیظؔ\nزاہد خشک کی نماز نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B2%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%86_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%B2_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نازک ایسا نہیں کسی کا پیٹ", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نازک ایسا نہیں کسی کا پیٹ\nمخمل رنگ گل ہے گویا پیٹ\n\nنظر آتا ہے عکس کرتی کا\nآئنے سے بھی ہے مصفا پیٹ\n\nدرد سر کھو دیا صبیحوں کا\nصندل صبح کا ہے تختہ پیٹ\n\nیہ صباحت یہ حسن یہ جلوہ\nورق سیم مہ ہے سارا پیٹ\n\nناف ہے ساغر مراد اے گل\nبادۂ حسن کا ہے مینا پیٹ\n\nڈر یہی ہے نہ چھلکے ساغر عمر\nہے مئے ناب کا قرابا پیٹ\n\nجام خالی نہیں ہے چہرہ سے کم\nآج ساقی نے مفت کاٹا پیٹ\n\nتم نے دم دے کے جب ملایا پھول\nخوب مثل حباب پھولا پیٹ\n\nسیکڑوں نگلے آدمی اس نے\nنہ بھرا اژدر زمیں کا پیٹ\n\nسرخ کرتی سے ہو گیا معلوم\nآفتاب سحر ہے ان کا پیٹ\n\nدم نہیں سینہ میں سماتا ہے\nیاد آتا ہے ان کا گورا پیٹ\n\nدیکھنے والے کیوں نہ ہوں مجنوں\nرنگ میں ہے عذار لیلیٰ پیٹ\n\nچھاتیاں ہیں ترنج زر گویا\nلوح سیمیں ہے اس پری کا پیٹ\n\nلال نیفا دکھا کے گردوں کو\nہالۂ مہ کا رنگ لایا پیٹ\n\nشاد ہوتے ہیں دیکھ کر عاشق\nسحر عید کا ہے نقشہ پیٹ\n\nموئے مژگاں ہیں بال سیلی کے\nآنکھوں کے سامنے ہے تیرا پیٹ\n\nبات مستی کی ہضم ہو نہ سکی\nشیشۂ بادہ کا ہے ہلکا پیٹ\n\nجان و دل سے منیرؔ صدقہ ہے\nنہیں دیکھا ہے اب تک ایسا پیٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B2%DA%A9_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D9%B9"} {"title": "ناصح تپاں ہے، شیفتۂ نیم جاں کی طرح", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناصح تپاں ہے، شیفتۂ نیم جاں کی طرح\nکیا دل میں چبھ گئی نگہِ جاں ستاں کی طرح؟\n\nبہتر ہے آپ غیر سے دل کھول کر ملیں\nآخر تو یہ بھی میرے ہی ہے امتحاں کی طرح\n\nاُس شمع رُو کی بزم میں مانع نہ تھا کوئی\nہوتی سبک جو نالۂ آتش فشاں کی طرح\n\nکیوں ہر نفس ہے شہدِ خموشی سے بند لب\nبھائی ہے دل کو کون سے شیریں بیاں کی طرح\n\nلڑنے میں آشتی نہ تغافل میں التفات\nیہ جور کی نکالی ہے تم نے کہاں کی طرح\n\nخمیازہ بند بند گسل ہے خمار سے\nبدمست کر گئی یہ کس ابرو کماں کی طرح\n\nہر ہر قدم پہ رشک سے جلتی ہے شمعِ فند\nچلتا ہے وہ بھی شیفتہ میری زباں کی طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD_%D8%AA%D9%BE%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92%D8%8C_%D8%B4%DB%8C%D9%81%D8%AA%DB%82_%D9%86%DB%8C%D9%85_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "ناصح مشفق یہ مشق تازہ فرمانے لگے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناصح مشفق یہ مشق تازہ فرمانے لگے\nدن تو تھا اب رات کو بھی آ کے سمجھانے لگے\n\nحضرت واعظ کہیں دولت سرا کو جائیے\nآتے ہی سامان محشر آپ دکھلانے لگے\n\nآ گئے جب یاد کچھ اس ربط باہم کے مزے\nدل بھر آیا دیدۂ تر اشک برسانے لگے\n\nپھر سبو انڈلے بھرے شیشے ہوئے لبریز جام\nلغزش پا اپنی اپنی مست دکھلانے لگے\n\nباغباں ہشیار ہو مشتاق رخصت ہے بہار\nرنگ بدلا گلستاں کا پھول مرجھانے لگے\n\nجلوہ ہائے حسن چمکے اٹھ گئے منہ سے نقاب\nطرۂ گیسو کے باہم سانپ لہرانے لگے\n\nہاتھ اٹھا اے چارہ گر درمان بے تاثیر سے\nجائے اشک آنکھوں سے اب لخت جگر آنے لگے\n\nخوب روئے دیکھ کر ہم زیور دیوانگی\nجب احبا پاؤں میں زنجیر پہنانے لگے\n\nبھٹیاں روشن ہوئیں چمکی دوکان مے فروش\nرخصت توبہ ہوئی زہاد گھبرانے لگے\n\nفصل گل آئی بڑھے جوش جنوں کے ولولے\nدی صدا زنجیر نے پھر پاؤں کھجلانے لگے\n\nمانع مطلب ہوئی وہ شرم باہم اے نسیمؔ\nوہ رکے اپنی طرف ہم آپ شرمانے لگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD_%D9%85%D8%B4%D9%81%D9%82_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%B4%D9%82_%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "ناصح نہ سنا سخن مجھے جس تس کے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ناصح نہ سنا سخن مجھے جس تس کے\nجو تو نے کہا یہ آوے جی میں کس کے\nکیوں کر نہ ملوں بھلا جی میں اس سے آہ\nدل رہ نہ سکے بغیر دیکھے جس کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%D8%AA%D8%B3_%DA%A9%DB%92"} {"title": "ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو\nدل یار سے پھٹے تو کسی سے رفو نہ ہو\n\nاس دل کو دے کے لوں دو جہاں یہ کبھو نہ ہو\nسودا تو ہووے تب یہ کہ جب اس میں تو نہ ہو\n\nآئینۂ وجود عدم میں اگر ترا\nوہ درمیاں نہ ہو تو کہیں ہم کو رو نہ ہو\n\nجھگڑا تو حسن و عشق کا چکتا ہے پل کے بیچ\nگر محکمے میں قاضی کے تو روبرو نہ ہو\n\nقطرہ کی کھل گئی ہے گرہ ورنہ اے نسیم\nشور دماغ مرغ چمن گل کی بو نہ ہو\n\nگزرے سو گزرے اہل زمیں اوپر اے فلک\nآئندہ یاں تلک تو کوئی خوب رو نہ ہو\n\nدل لے کے تجھ سے برق کے شعلے کو دیجیے\nپر ہے یہ ڈر کہ اس کی بھی ایسی ہی خو نہ ہو\n\nگل کی نہ تخم مرغ چمن کر سکے تلاش\nہم خام فطرتوں سے تری جستجو نہ ہو\n\nسوداؔ بدل کے قافیہ تو اس غزل کو کہہ\nاے بے ادب تو درد سے بس دوبدو نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D8%B1%D8%B5%D8%AA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "ناصح کی شکایت وہی زخم جاں ہے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ناصح کی شکایت وہی زخم جاں ہے\nساقی و شراب ہی کا نوحہ خواں ہے\nدیکھوں تو اسے یاد ہیں کیا کیا باتیں\nاللہ رے ترا حافظہ کیا شیطاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ناصحا آیا نصیحت ہے سنانے کے لیے", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناصحا آیا نصیحت ہے سنانے کے لیے\nیا کہ آیا ہے یہاں تیرے ستانے کے لیے\n\nآ کے لاشہ پہ مرے وہ آب دیدہ گر ہوا\nیہ بہانا آنسوؤں کا ہے بہانے کے لیے\n\nتم جو کہتے ہو کہ کیا وہ ایسی جلدی مر گیا\nکیا ہیں برسوں چاہئیں اک جان جانے کے لیے\n\nکیا ہوا گر موت آئی ہے وہ آنے کے لیے\nکیا ہوا گر جاں گئی ہے وہ بھی جانے کے لیے\n\nہے فقط پرہیز یہ کہہ دو مریض عشق سے\nپینے کو خون جگر ہے غم ہے کھانے کے لیے\n\nمنہ میں زاہد کے بھی ہیں دو دانت ہاتھی کی طرح\nاک دکھانے کے لیے ہے ایک کھانے کے لیے\n\nکون ہے زیر فلک پھرتا ہے جو اپنی خوشی\nپھر رہے ہیں سب جہاں میں آب و دانے کے لیے\n\nپیٹ کے غم نے کیا ہے سب جہاں کو منتشر\nباپ سے بیٹا جدا ہے آب و دانے کے لیے\n\nجلوہ بخشا وہ مجھے تیرے رخ پر نور نے\nطور پر موسیٰ گیا تھا جس کے پانے کے لیے\n\nدیکھ کر آیا ہے ناصح کیا جہنم کا عذاب\nہیں فقط یہ جاہلوں کا دل ڈرانے کے لیے\n\nرہ گیا اپنا کلیجہ تھام جلاد فک\nجب اٹھایا اس نے خنجر خوں بہانے کے لیے\n\nآب تو دیتے ہو خنجر کو مگر یہ سوچ لو\nخون میرا چاہئے اس کو بجھانے کے لیے\n\nوعدہ عاشق سے نہ ہو سچا تو جھوٹا ہی سہی\nچاہئے کچھ تو تسلی دل بڑھانے کے لیے\n\nمنہ نہ دیکھا عیش کا تدبیر ہم نے لاکھ کی\nغم گھٹانے کے لیے فرحت بڑھانے کے لیے\n\nجب کہا میں نے کہ کیوں باتیں بناتے ہو بہت\nہنس کے بولے باتیں ہوتی ہیں بنانے کے لیے\n\nاے دل ناداں نہیں دولت دبانے کے لیے\nخرچ کر اس کو وہ ہے کھانے کھلانے کے لیے\n\nجب کہا میرا فقط ہے ایک بوسہ کا سوال\nبولے دولت حسن کی کیا ہے لٹانے کے لیے\n\nہے بلایا مشرقیؔ کو تم نے جو پیش رقیب\nکیا نکالا تھا یہ نسخہ دل دکھانے کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD%D8%A7_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%AD%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "ناصحا فائدہ کیا ہے تجھے بہکانے سے", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "ناصحا فائدہ کیا ہے تجھے بہکانے سے\nکار ہشیار کہیں بھی ہوا دیوانے سے\n\nنہ غرض کعبے سے مطلب ہے نہ بت خانے سے\nہے فقط ذوق مجھے یار کے گھر جانے سے\n\nوہ اٹھا کیا کہ ابر کرم پہلو سے\nچشم سے چشم بہے شوخ کے اٹھ جانے سے\n\nسوزش دل نہ یقیں ہو تو جگر چیر کے دیکھ\nآبلے لاکھوں پڑے تیرے ہی غم کھانے سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD%D8%A7_%D9%81%D8%A7%D8%A6%D8%AF%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A8%DB%81%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ناصحا کر نہ اسے سی کے پشیماں مجھ کو", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناصحا کر نہ اسے سی کے پشیماں مجھ کو\nکتنے ہی چاک ابھی کرنے ہیں گریباں مجھ کو\n\nوحشت دل کوئی شہروں میں سما سکتی ہے\nکاش لے جائے جنوں سوئے بیاباں مجھ کو\n\nاہل مسجد نے جو کافر مجھے سمجھا تو کیا\nساکن دیر تو جانے ہیں مسلماں مجھ کو\n\nمیں سر مو نہیں جوں زلف کسی سے شاکی\nبادہ دستی نے کیا میری پریشاں مجھ کو\n\nسچ کہو کس سے ہے یہ نین کھلانے کا شوق\nبھیجتے ہو جو پئے سرمہ صفاہاں مجھ کو\n\nیاں تلک خوش ہوں امارد سے کہ اے رب کریم\nکاش دے حور کے بدلے بھی تو غلماں مجھ کو\n\nمفت تک تو کوئی قائمؔ نہیں لینے کا یہ جنس\nکہہ فلک سے کرے کچھ اور بھی ارزاں مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B4%DB%8C%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "ناصحو دل کس کنے ہے کس کو سمجھاتے ہو تم", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناصحو دل کس کنے ہے کس کو سمجھاتے ہو تم\nکیوں دوانے ہو گئے ہو جان کیوں کھاتے ہو تم\n\nمجھ سے کہتے ہو کہ میں ہرگز نہیں پیتا شراب\nمیں تمہارا دوست یا دشمن کہ شرماتے ہو تم\n\nاور جو بیٹھے رہیں تو ان سے تم محظوظ ہو\nجب ہمیں آتے ہیں تو گھبرا کے اٹھ جاتے ہو تم\n\nلو جی اب آرام سے بیٹھے رہو جاتے ہیں ہم\nپھر نہ آویں گے کبھی کاہے کو جھنجھلاتے ہو تم\n\nرات کو تم جس جگہ تھے ہم کو سب معلوم ہے\nجھوٹ کیوں بکتے ہو کاہے کو قسم کھاتے ہو تم\n\nمنہ بنا میری طرف آئینے کا بوسہ لیا\nواہ وا اچھی طرح سے روز ڈہکاتے ہو تم\n\nایک تو میں آپ ہوں بے زار اپنی جان سے\nدوسرے بک بک کے میرے جی کو گھبراتے ہو تم\n\nاے کبوتر اے صبا اے نالہ اے فریاد آج\nکہیو دلبر سے اگر کوچے تلک جاتے ہو تم\n\nسوزؔ کا دل خوش تو ہو جاتا ہے وعدوں سے میاں\nپر غضب یہ ہے کہ وقت ہی پر مکر جاتے ہو تم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85"} {"title": "ناظرین سے (ضربِ کلیم)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو نظر\nتیرا زُجاج ہو نہ سکے گا حریفِ سنگ\nیہ زورِ دست و ضربتِ کاری کا ہے مقام\nمیدانِ جنگ میں نہ طلب کر نوائے چنگ\nخُونِ دل و جگر سے ہے سرمایۂ حیات\nفطرت، لہُو ترنگ، ہے غافل! نہ، جل ترنگ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B8%D8%B1%DB%8C%D9%86_%D8%B3%DB%92_%28%D8%B6%D8%B1%D8%A8%D9%90_%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%29"} {"title": "ناظمؔ اسے خط میں کہتے ہو کیا لکھیے", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ناظمؔ اسے خط میں کہتے ہو کیا لکھیے\nہم کیا کہیں حال زار اپنا لکھیے\nہو جائے گا خط بال کبوتر پہ گراں\nکیوں سنگ دلی کا شکوہ اتنا لکھیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B8%D9%85%D8%94_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%B7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%84%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92"} {"title": "نالاں نہیں کچھ ترے ستم پر", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالاں نہیں کچھ ترے ستم پر\nایسی ہی بنی ہے اپنے دم پر\n\nہر داغ پر ایک زخم آیا\nقاتل کا یہ سکہ ہے درم پر\n\nلو اہل جہاں نوید فرحت\nمائل ہے دل اپنا اخذ غم پر\n\nکیسی ہی صدا مہیب آ جائے\nنالے کا گماں کریں وہ ہم پر\n\nسالکؔ سے لیا ہے تم نے دل مفت\nیاں اور بھی بیچتے ہیں کم پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "نالاں ہوا ہے جل کر سینے میں من ہمارا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالاں ہوا ہے جل کر سینے میں من ہمارا\nپنجرے میں بولتا ہے گرم آج اگن ہمارا\n\nپیری کمان کی جوں مانع نہیں اکڑ کوں\nہے ضعف بیچ دونا اب بانکپن ہمارا\n\nچلتا ہے جیو جس پر جاتے ہیں اس کے پیچھے\nسودے میں عشق کے ہے اب یہ چلن ہمارا\n\nملنے کی حکمتیں سب آتی ہیں ہم کو اک اک\nگو بوعلی ہو لونڈا کھاتا ہے فن ہمارا\n\nمجلس میں عاشقوں کی اور ہی بہار ہو جا\nآوے جبھی رنگیلا گل پیرہن ہمارا\n\nاس وقت جان پیارے ہم پاوتے ہیں جی سا\nلگتا ہے جب بدن سے تیرے بدن ہمارا\n\nیہ مسکراؤنا ہے تو کس طرح جیوں گا\nتم کو تو یہ ہنسی ہے پر ہے مرن ہمارا\n\nعزت ہے جوہری کی جو قیمتی ہو گوہر\nہے آبروؔ ہمن کوں جگ میں سخن ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%86_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہے\nخود ہی اثر نالہ سے دل تھام لیا ہے\n\nآزادئ اندوہ فزا سے ہے رہائی\nاب میں نے کچھ آرام تہ دام لیا ہے\n\nاٹھتی تھیں امنگیں انہیں بڑھنے نہ دیا پھر\nمیں نے دل ناکام سے اک کام لیا ہے\n\nجز مشغلۂ نالہ و فریاد نہ تھا کچھ\nجو کام کہ دل سے سحر و شام لیا ہے\n\nخود پوچھ لو تم اپنی نگاہوں سے وہ کیا تھا\nجو تم نے دیا میں نے وہ پیغام لیا ہے\n\nتھا تیرا اشارا کہ نہ تھا میں نے دیا دل\nاور اپنے ہی سر جرم کا الزام لیا ہے\n\nغم کیسے غلط کرتے جدائی میں تری ہم\nڈھونڈا ہے تجھے ہاتھ میں جب جام لیا ہے\n\nآرام کے اب نام سے میں ڈرنے لگا ہوں\nتکلیف اٹھائی ہے جب آرام لیا ہے\n\nمعلوم نہیں خوب ہے جو واقف فن ہیں\nوحشتؔ نے محاکات سے کیا کام لیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نالوں سے میرے کب تہ و بالا جہاں نہیں (I)", "poet_page": "مصنف:مفتی صدر الدین خان آزردہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالوں سے میرے کب تہ و بالا جہاں نہیں\nکب آسماں زمین و زمیں آسماں نہیں\n\nآنکھوں سے دیکھ کر تجھے سب ماننا پڑا\nکہتے تھے جو ہمیشہ چنیں ہے چناں نہیں\n\nاس بزم میں نہیں کوئی آگاہ درد کب\nواں خندہ زیر لب ادھر اشک نہاں نہیں\n\nافسردہ دل نہ ہو در رحمت نہیں ہے بند\nکس دن کھلا ہوا در پیر مغاں نہیں\n\nلب بند ہوں تو روزن سینہ کو کیا کروں\nتھمتا تو مجھ سے نالۂ آتش عناں نہیں\n\nملنا ترا یہ غیر سے ہو بہر مصلحت\nہم کو تو سادگی سے تری یہ گماں نہیں\n\nاے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں\nاک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں\n\nبے وقت آئے دیر میں کیا شورشیں کریں\nہم پیر و پیر میکدہ بھی نوجواں نہیں\n\nکٹتی کسی طرح سے نہیں یہ شب فراق\nشاید کہ گردش آج تجھے آسماں نہیں\n\nآزردہؔ ہونٹ تک نہ ہلے اس کے روبرو\nمانا کہ آپ سا کوئی جادو بیاں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DB%81_%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%28I%29"} {"title": "نالوں سے میرے کب تہ و بالا جہاں نہیں (II)", "poet_page": "مصنف:مفتی صدر الدین خان آزردہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالوں سے میرے کب تہ و بالا جہاں نہیں\nکب آسماں زمین و زمیں آسماں نہیں\n\nقاتل کی چشم تر نہ ہو یہ ضبط آہ دیکھ\nجوں شمع سر کٹے پہ اٹھا یاں دھواں نہیں\n\nاے بلبلان شعلہ دم اک نالہ اور بھی\nگم کردہ راہ باغ ہوں یاد آشیاں نہیں\n\nاس بزم میں نہیں کوئی آگاہ ورنہ کب\nواں خندہ زیر لب ادھر اشک نہاں نہیں\n\nاے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں\nاک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں\n\nناز و نگہ روش سبھی لاگو ہیں جان کے\nہے کون ادا وہ تیری کہ جو جاں ستاں نہیں\n\nملنا ترا یہ غیر سے ہو بہر مصلحت\nہم کو تو سادگی سے تری یہ گماں نہیں\n\nآزردہ تک بھی کچھ نہ ہے اس کے روبرو\nمانا کہ آپ سا کوئی جادو بیاں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DB%81_%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%28II%29"} {"title": "نالوں کی کشاکش سہہ نہ سکا خود تار نفس بھی ٹوٹ گیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالوں کی کشاکش سہہ نہ سکا خود تار نفس بھی ٹوٹ گیا\nاک عمر سے تھی تکلیف جسے کل شب کو وہ قیدی چھوٹ گیا\n\nتھی تیری تمنا کاہش جاں اس درد سے میں دیوانہ تھا\nچھالا تھا دل اپنے سینے میں اے وا اسفا وہ پھوٹ گیا\n\nسب اپنی ہی اپنی دھن میں پھنسے تیرا تو نہ نکلا کام کوئی\nجو آیا ترے دروازے پر وہ اپنا ہی ماتھا کوٹ گیا\n\nتابوت پہ میرے آئے جو مٹی میں ملایا یوں کہہ کر\nپھیلا دیے دست و پا اپنے اتنے ہی میں بس جی چھوٹ گیا\n\nآیا تھا یہی دل میں میرے رندوں ہی پہ کلی بھی پھینکوں\nساقی کا اشارہ پاتے ہی میں زہر ستم کو گھوٹ گیا\n\nہو ہندوئے خال لب تیرا یا ترک نگہہ ہو اے قاتل\nدہلی تھا ہمارا دل شاید جو آیا وہ اس کو لوٹ گیا\n\nنازک تھا بہت کچھ دل میرا اے شادؔ تحمل ہو نہ سکا\nاک ٹھیس لگی تھی یوں ہی سی کیا جلد یہ شیشہ ٹوٹ گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%B4%D8%A7%DA%A9%D8%B4_%D8%B3%DB%81%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D9%81%D8%B3_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%B9%D9%88%D9%B9_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نالہ اس شور سے کیوں میرا دہائی دیتا", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالہ اس شور سے کیوں میرا دہائی دیتا\nاے فلک گر تجھے اونچا نہ سنائی دیتا\n\nدیکھ چھوٹوں کو ہے اللہ بڑائی دیتا\nآسماں آنکھ کے تل میں ہے دکھائی دیتا\n\nلاکھ دیتا فلک آزار گوارہ تھے مگر\nایک تیرا نہ مجھے درد جدائی دیتا\n\nدے دعا وادی پر خار جنوں کو ہر گام\nداد یہ تیری ہے اے آبلہ پائی دیتا\n\nروش اشک گرا دیں گے نظر سے اک دن\nہے ان آنکھوں سے یہی مجھ کو دکھائی دیتا\n\nمنہ سے بس کرتے کبھی یہ نہ خدا کے بندے\nگر حریصوں کو خدا ساری خدائی دیتا\n\nپنجۂ مہر کو بھی خون شفق میں ہر روز\nغوطے کیا کیا ہے ترا دست حنائی دیتا\n\nکون گھر آئینے کے آتا اگر وہ گھر میں\nخاکساری سے نہ جاروب صفائی دیتا\n\nمیں ہوں وہ صید کہ پھر دام میں پھنستا جا کر\nگر قفس سے مجھے صیاد رہائی دیتا\n\nخوگر ناز ہوں کس کس کا کہ مجھے ساغر مے\nبوسۂ لب نہیں بے چشم نمائی دیتا\n\nدیکھ گر دیکھنا ہے ذوقؔ کہ وہ پردہ نشیں\nدیدۂ روزن دل سے ہے دکھائی دیتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7"} {"title": "نالہ تیرا ناز سے بالا ہے", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "نالہ تیرا ناز سے بالا ہے\nیہ راز افشائے راز سے بالا ہے\nانساں معذور فکر انساں معذور\nنغمۂ آواز ساز سے بالا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نالہ جدھر میرا گزر کر گیا", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالہ جدھر میرا گزر کر گیا\nتیر سا ہر دل میں اثر کر گیا\n\nدل نہ رہا آپ میں اور میں بہ خود\nمیری طرف جب وہ نظر کر گیا\n\nکھول کے زلفوں کے تئیں چہرہ پر\nیار بہم شام و سحر کر گیا\n\nاہل ہوس رات گلی میں تری\nجانے سے اے شوخ حذر کر گیا\n\nاور جو مجھ سا تھا کوئی جاں فشاں\nدر پہ ترے جی سے گزر کر گیا\n\nدیکھیو ثابت قدمی قیس کی\nعشق میں کیا عمر بسر کر گیا\n\nراہ خطرناک محبت کو طے\nبا قدم دیدۂ تر کر گیا\n\nکوئی تھا کوچے میں صنم کے جو آج\nگریۂ خوں تا بہ کمر کر گیا\n\nعقل پہ نازاں ہوں جہاں دارؔ کی\nدل نہ دیا اس کو ہنر کر گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%AC%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نالہ جز حسن طلب اے ستم ایجاد نہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیں\nہے تقاضائے جفا، شکوۂ بیداد نہیں\n\nعشق و مزدوریِ عشرت گہِ خسرو، کیا خُوب!\nہم کو تسلیم نکو نامیِ فرہاد نہیں\n\nکم نہیں وہ بھی خرابی میں، پہ وسعت معلوم\nدشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں\n\nاہلِ بینش کو ہے طوفانِ حوادث مکتب\nلطمۂ موج کم از سیلیِ استاد نہیں\n\nوائے مظلومیِ تسلیم! و بداحالِ وفا!\nجانتا ہے کہ ہمیں طاقتِ فریاد نہیں\n\nرنگِ تمکینِ گُل و لالہ پریشاں کیوں ہے؟\nگر چراغانِ سرِ راہ گُزرِ باد نہیں\n\nسَبَدِ گُل کے تلے بند کرے ہے گلچیں!\nمژدہ اے مرغ! کہ گلزار میں صیّاد نہیں\n\nنفی سے کرتی ہے اثبات طراوش گویا\nدی ہی جائے دہن اس کو دمِ ایجاد “نہیں”\n\nکم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشت\nیہی نقشہ ہے ولے، اس قدر آباد نہیں\n\nکرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبؔ\nتم کو بے مہریِ یارانِ وطن یاد نہیں؟", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%AC%D8%B2_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نالہ رکتا ہے تو سر گرم جفا ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد ہادی رسوا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالہ رکتا ہے تو سر گرم جفا ہوتا ہے\nدرد تھمتا ہے تو بے درد خفا ہوتا ہے\n\nپھر نظر جھینپتی ہے آنکھ جھکی جاتی ہے\nدیکھیے دیکھیے پھر تیر خطا ہوتا ہے\n\nعشق میں حسرت دل کا تو نکلنا کیسا\nدم نکلنے میں بھی کم بخت مزا ہوتا ہے\n\nحال دل ان سے نہ کہتا تھا ہمیں چوک گئے\nاب کوئی بات بنائیں بھی تو کیا ہوتا ہے\n\nآہ میں کچھ بھی اثر ہو تو شرر بار کہوں\nورنہ شعلہ بھی حقیقت میں ہوا ہوتا ہے\n\nہجر میں نالہ و فریاد سے باز آ رسواؔ\nایسی باتوں سے وہ بے درد خفا ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%B1%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D8%B1_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نالہ شب فراق جو کوئی نکل گیا", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالہ شب فراق جو کوئی نکل گیا\nجوش جنوں سے چیر کے چرخ و زحل گیا\n\nپوچھا مزاج اس کا جو رشک مسیح نے\nلے کر مریض عشق سنبھالا سنبھل گیا\n\nنکلی زبان شمع سے کیا بات رات کو\nسنتے ہی جس کو بزم میں پروانہ جل گیا\n\nعہد شباب چشم زدن میں ہوا تمام\nجھونکا تھا اک نسیم کا آ کر نکل گیا\n\nدار فنا میں کون ہے جس کو قیام ہے\nکوئی یہاں سے آج گیا کوئی کل گیا\n\nکیسا ہی کوئی کیوں نہ ہو کوئی چالاک شہسوار\nگزرا جو راہ عشق میں وہ سر کے بل گیا\n\nاب آئی رات دیکھیں گزرتی ہے کس طرح\nبندہ نواز دن تو بہانوں میں ٹل گیا\n\nیہ طائر نفس بھی تو واپس نہ آئے گا\nجب چھوڑ کر بدن کے قفس سے نکل گیا\n\nلطف‌‌ کلام‌ مشرقیؔ اس کو رہا بھی یاد\nسن کر مشاعرہ میں جو میری غزل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%B4%D8%A8_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نالہ کرنا کہ آہ کرنا", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالہ کرنا کہ آہ کرنا\nدل میں اثرؔ اس کے راہ کرنا\n\nکچھ خوب نہیں یہ تیری باتیں\nہر چند مجھے نباہ کرنا\n\nتیرا وہ جور یہ مرا صبر\nانصاف سے ٹک نگاہ کرنا\n\nکیا لطف ہے لے کے دل مکرنا\nاور الٹے مجھے گواہ کرنا\n\nرحمت کے حضور بے گناہی\nمت شیخ کو رو سیاہ کرنا\n\nجی اب کے بچا خدا خدا کر\nپھر اور بتوں کی چاہ کرنا\n\nکیا کہئے اثرؔ تو آپ ٹک دیکھ\nیوں حال اپنا تباہ کرنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7"} {"title": "نالہ ہے بُلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "نالہ ہے بُلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی\nاپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی\n\nپُختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل\nعشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی\n\nبے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق\nعقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی\n\nعشق فرمودۂ قاصد سے سبک گامِ عمل\nعقل سمجھی ہی نہیں معنیِ پیغام ابھی\n\nشیوۂ عشق ہے آزادی و دہر آشوبی\nتو ہے زُنّاریِ بُت خانۂ ایّام ابھی\n\nعُذرِ پرہیز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقی\nہے ترے دل میں وہی کاوشِ انجام ابھی\n\nسعیِ پیہم ہے ترازُوئے کم و کیفِ حیات\nتیری میزاں ہے شمارِ سحَر و شام ابھی\n\nابرِ نیساں! یہ تنک بخشیِ شبنم کب تک\nمرے کُہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی\n\nبادہ گردانِ عجَم وہ، عَربی میری شراب\nمرے ساغر سے جھجکتے ہیں مے آشام ابھی\n\nخبر اقبالؔ کی لائی ہے گلستاں سے نسیم\nنَو گرفتار پھڑکتا ہے تہِ دام ابھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%8F%D9%84%D8%A8%D9%84%D9%90_%D8%B4%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "نالۂ جان خستہ جاں عرش بریں پہ جائے کیوں", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالہ جان خستہ جاں عرش بریں پہ جائے کیوں\nمیرے لئے زمین پر صاحب عرش آئے کیوں\n\nنور زمین و آسماں دیدۂ دل میں آئے کیوں\nمیرے سیاہ خانے میں کوئی دیا جلائے کیوں\n\nزخم کو گھاؤ کیوں بناؤ درد کو اور کیوں بڑھاؤ\nنسبت ہو کو توڑ کر کیجئے ہائے ہائے کیوں\n\nبخشنے والا جب مرا عفو پہ ہے تلا ہوا\nمجھ سا گناہ گار پھر جرم سے باز آئے کیوں\n\nامجدؔ خستہ حال کی پوری ہو کیوں کر آرزو\nدل ہی نہیں جب اس کے پاس مطلب دل بر آئے کیوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AE%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%B9%D8%B1%D8%B4_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA"} {"title": "نالۂ دل کمال کا نکلا", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالۂ دل کمال کا نکلا\nان سے پہلو وصال کا نکلا\n\nدل کی چوری کی فال کھولی تھی\nنام اس مہ جمال کا نکلا\n\nدے گئے وہ جواب صاف مجھے\nیہ نتیجہ سوال کا نکلا\n\nوہ خفا تھے یوں ہی کہ اے قاصد\nکچھ سبب بھی ملال کا نکلا\n\nدل لیا تیرا اے نسیمؔ اس نے\nگاہک اچھے ہی مال کا نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "نالۂ دل کی تو کوتاہی نہیں", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالۂ دل کی تو کوتاہی نہیں\nپر اثر کچھ اس کو ہوتا ہی نہیں\n\nکتنا وہ قاتل ہے بے خوف و خطر\nتیغ خوں آلودہ دھوتا ہی نہیں\n\nاس گلی میں جس طرح روتا ہوں میں\nاس طرح تو کوئی روتا ہی نہیں\n\nخار زار عشق کو کیا ہو گیا\nپاؤں میں کانٹے چبھوتا ہی نہیں\n\nترک کی لذت سے واقف کون ہیں\nگر نہ ہوتا جان کھوتا ہی نہیں\n\nجانتا گر دل ہے مزرع یاس کا\nتخم امید اس میں بوتا ہی نہیں\n\nجوں سخن آتا ہے سلک نظم میں\nیوں کوئی موتی پروتا ہی نہیں\n\nخواب میں ؔجوشش وہ آئے کس طرح\nعاشق بے تاب سوتا ہی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%AA%D8%A7%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نالۂ دل کی صدا دیوار میں ہے در میں ہے", "poet_page": "مصنف:ندرت میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالۂ دل کی صدا دیوار میں ہے در میں ہے\nصور یا محشر میں ہوگا یا ہمارے گھر میں ہے\n\nیوں تو مرنے کو مروں گا میں مگر مٹی مری\nیا فلک کے ہاتھ میں یا آپ کی ٹھوکر میں ہے\n\nمیں پریشاں ہو کے نکلوں گا تو ان کی بزم سے\nمیری بربادی کا ساماں ہے تو ان کے گھر میں ہے\n\nوہ اگر دیکھیں تو اب حالت سنبھلتی ہے مری\nوہ اگر پوچھیں تو اب مجھ کو شفا دم بھر میں ہے\n\nیہ نہیں موقعہ ہنسی کا تم نظر بدلے رہو\nاب قضا میری اسی بگڑے ہوئے تیور میں ہے\n\nدے دے چلو میں اکٹھی کر کے اے ساقی مجھے\nکچھ ابھی تو خم میں ہے شیشے میں ہے ساغر میں ہے\n\nنقد جاں لینے کو مقتل میں قضا ندرت مری\nبن کے دلہن رونما آئینۂ خنجر میں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D8%AF%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "نالۂ عجز نقص الفت ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالۂ عجز نقص الفت ہے\nرنج و محنت کمال راحت ہے\n\nعشق ہی گریۂ ندامت ہے\nورنہ عاشق کو چشم خفت ہے\n\nتا دم مرگ غم خوشی کا نہیں\nدل آزردہ گر سلامت ہے\n\nدل میں ناسور پھر جدھر چاہے\nہر طرف کوچۂ جراحت ہے\n\nرونا آتا ہے دم بدم شاید\nکسو حسرت کی دل سے رخصت ہے\n\nفتنے رہتے ہیں اس کے سائے میں\nقد و قامت ترا قیامت ہے\n\nنہ تجھے رحم نے اسے ٹک صبر\nدل پہ میرے عجب مصیبت ہے\n\nتو تو نادان ہے نپٹ ناصح\nکب مؤثر تری نصیحت ہے\n\nدل پہ جب میرے آ کے یہ ٹھہرا\nکہ مجھے خوش دلی اذیت ہے\n\nرنج و محنت سے باز کیونکے رہوں\nوقت جاتا رہے تو حسرت ہے\n\nکیا ہے پھر کوئی دم کو کیا جانو\nدم غنیمت میاں جو فرصت ہے\n\nتیرا شکوہ مجھے نہ میرا تجھے\nچاہیے یوں جو فی الحقیقت ہے\n\nتجھ کو مسجد ہے مجھ کو مے خانہ\nواعظا اپنی اپنی قسمت ہے\n\nایسے ہنس مکھ کو شمع سے تشبیہ\nشمع مجلس کی رونی صورت ہے\n\nباطل السحر دیکھ باطل تھے\nتیری آنکھوں کا سحر آفت ہے\n\nابر تر کے حضور پھوٹ بہا\nدیدۂ تر کو میرے رحمت ہے\n\nگاہ نالاں تپاں گہے بے دم\nدل کی میرے عجب ہی حالت ہے\n\nکیا ہوا گر غزل قصیدہ ہوئی\nعاقبت قصۂ محبت ہے\n\nتربت میرؔ پر ہیں اہل سخن\nہر طرف حرف ہے حکایت ہے\n\nتو بھی تقریب فاتحہ سے چل\nبخدا واجب الزیارت ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%B9%D8%AC%D8%B2_%D9%86%D9%82%D8%B5_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "نالۂ موزوں سے مصرع آہ کا چسپاں ہوا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالۂ موزوں سے مصرع آہ کا چسپاں ہوا\nزور یہ پر درد اپنا مطلع دیواں ہوا\n\nجس نے دیکھا آ کے یہ آئینہ خانہ دہر کا\nفی الحقیقت بس وہ اپنا آپ ہی حیراں ہوا\n\nسب پہ ظاہر ہو گئی بیتابیٔ دل شکل برق\nوہ بھبھوکا اپنی نظروں سے جو ٹک پنہاں ہوا\n\nاس کے جانے سے یہ دل میں آئے ہے رہ رہ کے ہائے\nسب جہاں بستا ہے اک اپنا ہی گھر ویراں ہوا\n\nکاش دل سے چشم تک آنے نہ پاتا طفل اشک\nرفتہ رفتہ اب تو یہ لڑکا کوئی طوفاں ہوا\n\nگر ہوئے وا اس کے لب تو دیکھیے کیا گل کھلے\nہو خفا جب بے طرح وہ رونق بستاں ہوا\n\nآئے جو مرقد پہ میرے سو مکدر ہو گئے\nخاک ہو کر بھی غبار خاطر یاراں ہوا\n\nروز و شب رہنے لگے اس گھر میں یہ کافر صنم\nکعبۂ دل صاف اپنا اب تو کفرستاں ہوا\n\nجوش وحشت دیکھیو کوئی کہ ہر اک خار کے\nدھجیاں ہو کر گلے کا ہار یہ داماں ہوا\n\nاشک رنگیں نے جو اپنے کر دیا یاں فرش گل\nرشک صد گلشن ہمیں یہ گوشۂ زنداں ہوا\n\nبندھ گیا تیرا تصور جس کی آنکھوں کے حضور\nاس کو بس عالم وصال و ہجر کا یکساں ہوا\n\nیک بہ یک تو نے یہ کیسا رنگ بدلا اے فلک\nتیری گردش سے کہیں کیا سخت جی ہلکاں ہوا\n\nکل تلک جو گھر گھر اپنا تھا سو اس کے در پہ آج\nنیلا پیلا دیکھ کر کیا کیا ہمیں درباں ہوا\n\nگرچہ ہر قالب میں جرأتؔ صورتیں ڈھلتی رہیں\nپر بنا جو درد کا پتلا وہ ہی انساں ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D9%85%D9%88%D8%B2%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B5%D8%B1%D8%B9_%D8%A2%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%DA%86%D8%B3%D9%BE%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "نالۂ گرم کے اور دم سرد بھرے کیا جئیں ہم تو مرے", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالۂ گرم کے اور دم سرد بھرے کیا جئیں ہم تو مرے\nہم صفیران چمن را کہ رساند خبرے از من نوحہ گرے\n\nفصل گل آئی یہ اور میں ہوں گرفتار قفس کچھ بھی چلتا نہیں بس\nہم صفیران چمن را کہ رساند خبرے از من نوحہ گرے\n\nپھنس گئے دام میں صیاد کے شاید بلبل روز سنتا ہوں یہ غل\nہم صفیران چمن را کہ رساند خبرے از من‌ نوحہ گرے\n\nمیں ہوں صیاد ہے اور شور و فغان و فریاد کوئی دیتا نہیں داد\nہم صفیران چمن را کہ رساند خبرے از من نوحہ گرے\n\nبھول کر کنج قفس تک کبھی آئے نہ صبا نہ سنانا نالہ میرا\nہم صفیران چمن را کہ رساند خبرے از من نوحہ گرے\n\nکوئی قاتل میں رہی مہرؔ سے کتنی ہی شہید میں ہوں اور قید شدید\nہم صفیران چمن را کہ رساند خبرے از من نوحہ گرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%D8%B3%D8%B1%D8%AF_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%92"} {"title": "نالے دم لیتے نہیں یارب فغاں رکتی نہیں", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالے دم لیتے نہیں یارب فغاں رکتی نہیں\nگو قفس میں بند ہوں لیکن زباں رکتی نہیں\n\nڈر رہا ہوں ٹوٹ جائیں گی قفس کی تیلیاں\nکیا مصیبت ہے ہوائے بوستاں رکتی نہیں\n\nدیدنی ہیں ملزم ہستی کی طوفاں خیزیاں\nڈوبنے سے کشتئ عمر رواں رکتی نہیں\n\nاڑ کے ہم پہنچیں گے منزل پر ہوائے شوق میں\nکارواں رک جائے گرد کارواں رکتی نہیں\n\nدقتیں حائل ہیں فن شعر میں لیکن عزیزؔ\nایک آندھی ہے مری طبع رواں رکتی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%92_%D8%AF%D9%85_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%D8%AA%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والے\nہیں یہ سوتا ہوا انصاف جگانے والے\n\nحد سے ٹکراتی ہے جو شے وہ پلٹتی ہے ضرور\nخود بھی روئیں گے غریبوں کو رلانے والے\n\nچپ ہے پروانہ تو کیا شمع کو خود ہے اقرار\nآپ ہی جلتے ہیں اوروں کو جلانے والے\n\nآرزوؔ ذکر زبانوں پہ ہے عبرت کے لئے\nمٹنے والے ہیں نہ باقی ہیں مٹانے والے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%92_%D9%85%D8%AC%D8%A8%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "نالے میں کبھی اثر نہ آیا", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالے میں کبھی اثر نہ آیا\nاس نخل میں کچھ ثمر نہ آیا\n\nاللہ ری میری بے قراری\nچین ان کو بھی رات بھر نہ آیا\n\nکہتا ہوں کہ آ ہی جائے گا صبر\nیہ فکر بھی ہے اگر نہ آیا\n\nغفلت کے پڑے ہوئے تھے پردے\nوہ پاس رہا نظر نہ آیا\n\nآنکھوں سے ہوا جو کوئی اوجھل\nبیخودؔ مجھے کچھ نظر نہ آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گزر ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گزر ہے\nٹک گوش رکھیو ایدھر ساتھ اس کے کچھ خبر ہے\n\nاے حب جاہ والو جو آج تاجور ہے\nکل اس کو دیکھیو تم نے تاج ہے نہ سر ہے\n\nاب کی ہوائے گل میں سیرابی ہے نہایت\nجوے چمن پہ سبزہ مژگان چشم تر ہے\n\nاے ہم صفیر بے گل کس کو دماغ نالہ\nمدت ہوئی ہماری منقار زیر پر ہے\n\nشمع اخیر شب ہوں سن سر گذشت میری\nپھر صبح ہوتے تک تو قصہ ہی مختصر ہے\n\nاب رحم پر اسی کے موقوف ہے کہ یاں تو\nنے اشک میں سرایت نے آہ میں اثر ہے\n\nتو ہی زمام اپنی ناکے تڑا کہ مجنوں\nمدت سے نقش پا کے مانند راہ پر ہے\n\nہم مست عشق واعظ بے ہیچ بھی نہیں ہیں\nغافل جو بے خبر ہیں کچھ ان کو بھی خبر ہے\n\nاب پھر ہمارا اس کا محشر میں ماجرا ہے\nدیکھیں تو اس جگہ کیا انصاف داد گر ہے\n\nآفت رسیدہ ہم کیا سر کھینچیں اس چمن میں\nجوں نخل خشک ہم کو نے سایہ نے ثمر ہے\n\nکر میرؔ اس زمیں میں اور اک غزل تو موزوں\nہے حرف زن قلم بھی اب طبع بھی ادھر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%AC_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%84%D8%A8_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "نام بدنام ہے ناحق شب تنہائی کا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نام بدنام ہے ناحق شب تنہائی کا\nوہ بھی اک رخ ہے تری انجمن آرائی کا\n\nآ چلا ہے مجھے کچھ وعدۂ فردا کا یقیں\nدل پہ الزام نہ آ جائے شکیبائی کا\n\nاب نہ کانٹوں ہی سے کچھ لاگ نہ پھولوں سے لگاؤ\nہم نے دیکھا ہے تماشا تری رعنائی کا\n\nدونوں عالم سے گزر کر بھی زمانہ گزرا\nکچھ ٹھکانا بھی ہے اس بادیہ پیمائی کا\n\nخود ہی بیتاب تجلی ہے ازل سے کوئی\nدیکھنے کے لیے پردہ ہے تمنائی کا\n\nلگ گئی بھیڑ یہ دیوانہ جدھر سے گزرا\nایک عالم کو ہے سودا ترے سودائی کا\n\nپھر اسی کافر بے مہر کے در پر فانیؔ\nلے چلا شوق مجھے ناصیہ فرسائی کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D8%AF%D9%86%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%AD%D9%82_%D8%B4%D8%A8_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نام سے تیرے جو روشن مطلع دیواں ہوا", "poet_page": "مصنف:رادھے شیام رستوگی احقر", "kind": "poetry", "section": "غزل > نقشہاے رنگ رنگ (1929)", "year": "1929", "text_ur": "نام سے تیرے جو روشن مطلع دیواں ہوا\nہر ورق خورشید کے مانند نور افشاں ہوا\n\nتیری ہی قدرت سے پیدا ہے زمین و آسماں\nخاک کا پتلا تجلی سے تری انساں ہوا\n\nتیرے ابر فیض سے تازہ ہے باغ کائنات\nکیا گل عالم نسیم فضل سے خنداں ہوا\n\nقدر رکھتا ہے سلیماں سے زیادہ مور بھی\nجو گدا دروازے کا تیرے ہوا سلطاں ہوا\n\nیاد سے تیری دل ناشاد اپنا شاد ہے\nذکر تیرا میرے درد فکر کا درماں ہوا\n\nسر بلندی میں بھی مجھ کو فخر کی دولت ملی\nاللہ اللہ کس قدر مجھ پر ترا احساں ہوا\n\nحلقۂ صاحب دلاں میں تیرا احقرؔ نام ہے\nیہ سمجھ لے چاک تیرا نامۂ عصیاں ہوا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%B9_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "نام لو گے جو یاں سے جانے کا", "poet_page": "مصنف:میر تسکینؔ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نام لو گے جو یاں سے جانے کا\nآپ میں پھر نہیں میں آنے کا\n\nہم کو طوف حرم میں یاد آیا\nلڑکھڑانا شراب خانے کا\n\nدم لے اے چشم تر کہ دیکھوں میں\nعالم اس گل کے مسکرانے کا\n\nدیکھ سکتے نہیں وہ میرا حال\nکیا سبب کہئے مسکرانے کا\n\nدل صد چاک کی بنا صورت\nزلف پر دل گیا ہے شانے کا\n\nجلوہ اس ضد سے وہ دکھا دیں گے\nہم کو دعویٰ ہے تاب لانے کا\n\nسن کے وہ حال کہتے ہے تسکیںؔ\nنام بھی کچھ ہے اس فسانے کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%84%D9%88_%DA%AF%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نام پر حرف نہ آنے دیجے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نام پر حرف نہ آنے دیجے\nجان اگر جائے تو جانے دیجے\n\nیاس کی آس نہ ٹوٹے جس میں\nآس کو پاس نہ آنے دیجے\n\nپارۂ دل نہ تھما مردم چشم\nبیٹھیے مجھ کو اوٹھانے دیجے\n\nغصہ کیا اب تو گیا یاں سے نسیمؔ\nآئیے بیٹھیے جانے دیجے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%AD%D8%B1%D9%81_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AC%DB%92"} {"title": "نامکمل تحریر", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "کالی شلوار", "year": "1941", "text_ur": "میں جب کبھی ذیل کا واقعہ یاد کرتا ہوں، میرے ہونٹوں میں سوئیاں سی چبھنے لگتی ہیں۔\n\nساری رات بارش ہوتی رہی تھی، جس کے باعث موسم خنک ہوگیا تھا۔ جب میں صبح سویرے غسل کے لیے ہوٹل سے باہر نکلا تو دھلی ہوئی پہاڑیوں اور نہائے ہوئے ہرے بھرے چیڑوں کی تازگی دیکھ کر طبیعت پر وہی کیفیت پیدا ہوئی جو خوبصورت کنواریوں کے جھرمٹ میں بیٹھنے سے پیدا ہوتی ہے۔\n\nبارش بند تھی البتہ ننھی ننھی پھوار پڑ رہی تھی۔ پہاڑیوں کے اونچے اونچے درختوں پر آوارہ بدلیاں اونگھ رہی تھیں گویا رات بھر برسنے کے بعد تھک کر چور چور ہوگئی ہیں۔\n\nمیں چشمے کی طرف روانہ ہوا۔ کاندھے پر تولیہ تھا۔ ایک ہاتھ میں صابن دانی تھی، دوسرے میں نیکر۔ جب سڑک کا موڑ طے کرنے لگا تو آنکھوں کے سامنے دھند ہی دھند نظر آئی۔ بادل کا ایک بھولا بھٹکا ٹکڑا تھا جو شاید آسمانی فضا سے اکتا کر ادھر آ نکلا تھا۔ اس بادل نے سڑک کے دوسرے حصے کو آنکھوں سے بالکل اوجھل کردیا تھا۔ میں نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔ وہاں بھی سپیدی ہی سپیدی نظر آئی اور ایسا معلوم ہوا کہ اوپر سے کوئی دھنکی ہوئی روئی بکھیر رہا ہے۔\n\nاتنے میں ہوا کے تیز جھونکوں نے اس سپیدی میں ارتعاش پیدا کیا اور اس دھند میں سے دود مثال بخارات علیحدہ ہونے لگے اور میری ننگی باہوں سےمس ہوئے۔ برف سے اٹھتے ہوئے دھوئیں کی سردی کے احساس سے وہی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو ان بخارات نے پیدا کی۔\n\nاس بادل میں سے گزرتے وقت سانس کے ذریعے سے یہ سپید سپید بخارات میرے اندر داخل ہوگئے جس سے پھیپھڑوں کو بڑی راحت محسوس ہوئی۔ میں نے جی بھر کے اس سے لطف اٹھایا۔ جب بادل کے اس ٹکڑے کو طے کرکے میں باہر آیا تو آنکھوں کو کچھ سجھائی نہ دیا۔ میرے چشمے کے شیشے کاغذ کے مانند سفید ہوگئے تھے۔ پھر ایکا ایکی مجھے سردی محسوس ہونے لگی اور جب میں نے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا تو وہ شبنم آلود تکیے کی طرح گیلے ہورہے تھے۔\n\nمیں غسل خانے کے معاملے میں بے حد سست ہوں اور سردیوں کے موسم میں تو روزانہ غسل کا میں بالکل قائل نہیں۔ دراصل نہانے دھونے کا فلسفہ میری سمجھ سے ہمیشہ بالاتر رہا ہے۔ غسل کا مطلب یہ ہے کہ غلاظت دور کی جائے اور روز نہانے کا یہ مطلب ہوا کہ آدمی رات میں غلیظ اور گندہ ہو جاتا ہے۔ ہاتھ منہ دھو لیا جائے، پیرصاف کرلیے جائیں، سر کے بال دھو لیے جائیں اس لیے کہ یہ سب چیزیں جلدی میلی ہو سکتی ہیں، مگر ہر روز بدن کیوں صاف کیا جائے جب کہ یہ بہت دیر کے بعد میلا ہوتا ہے۔\n\nگرمیوں میں تو خیر میں نہانے کا مطلب سمجھ سکتا ہوں مگر سردیوں میں اس کا کوئی مصرف مجھے نظر نہیں آتا۔ آخر کیا مصیبت پڑی ہے کہ ہر روز صبح سویرے انسان غسل خانے میں جائے۔ سردی کے مارے پورے دو گھنٹوں تک دانت بجتے رہیں، انگلیاں سن ہو جائیں، ناک برف کی ڈلی بن جائے۔۔۔ غسل نہ ہوا، اچھی خاصی مصیبت ہوئی۔\n\nغسل کے بارے میں اب بھی میرا یہی خیال ہے، لیکن جس پہاڑی گاؤں کا میں ذکر کررہا ہوں،وہاں کی فضا ہی کچھ اس قسم کی تھی کہ جو چیزیں مجھے اب مہمل نظر آتی ہیں یا اس سے پہلے نظر آیا کرتی تھیں وہاں با معنی دکھائی دیتی تھیں۔۔۔ اس غسل ہی کو لیجئے۔ اس پہاڑی گاؤں میں جتنا عرصہ میں رہا ہر روز میرا پہلا کام یہ ہوتا تھا کہ نہاؤں اور دیر تک نہاتا رہوں۔\n\nچشمے پر پہنچ کر میں نے کپڑے اتارے۔ نیکر پہنی اور جب پانی کی اس گرتی ہوئی دھار کے پاس گیا جو پتھروں پر گر کر ننھے ننھے چھینٹے اڑا رہی تھی تو پانی کی ایک سرد بوند میری پیٹھ پر آپڑی۔ میں تڑپ کر ایک طرف ہٹ گیا۔ جہاں بوند گری تھی اس جگہ گدگدی پرکار کی نوک کی طرح چبھی اور سارے جسم پر پھیل گئی۔ میں سمٹا، کانپا اور سوچنے لگا۔ مجھے واقعی نہانا چاہیے یا کہ نہیں۔ قریب تھا کہ میں باغی ہو جاؤں لیکن آس پاس نگاہ دوڑائی تو ہر شے نہائی ہوئی نظر آئی چنانچہ جو باغیانہ خیال میرے دماغ میں اس شریر بوند نے پیدا کیے تھے ٹھنڈے ہوگئے۔\n\nسرد پانی کی گدگدیاں شروع شروع میں تو مجھے بہت ناگوار گزریں مگر جب میں جی کڑاکر کے دھارکے نیچے بیٹھ گیا تو وہ لطف آیا کہ بیان نہیں کرسکتا۔ دونوں ہاتھوں کے ساتھ زور زور سے پانی کے چھینٹے اڑانے سے سردی کی شدت کم ہو جاتی تھی، چنانچہ جب میں نے یہ گر معلوم کرلیا تو پھر اس لطف میں اور بھی اضافہ ہوگیا۔\n\nسر پر پانی کی موٹی دھار نے عجب کیفت پیدا کردی۔ پھر جب پانی کے دباؤ سے بال پیشانی پر سے نیچے لٹک آئے اور انھوں نے آنکھوں اور منہ میں گھسنا شروع کردیا تو زور زور سے پھونکیں مار کر ان کو ہٹانے کی ناکام سعی نے مزا اور بھی دوبالا کردیا۔ کبھی کبھی ڈوب کر ابھرتے ہوئے آدمی کا احساس بھی مجھے ہوا اور میں نے سوچا کہ جو لوگ ڈوب کر مر جاتے ہیں ان کو ایسی موت میں بے حد لطف آتا ہوگا۔ چشمے کا پانی آنسوؤں کی طرح شفاف تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ میرے اردگرد بلبلوں اور پانی کے چھینٹوں کا مشاعرہ ہورہا ہے۔\n\nغسل سے فارغ ہوکر میں نے تولیے سے بدن پونچھا اور سردی کا احساس کم کرنے کے لیے دھیمے دھیمے سروں میں ایک گیت گنگنانا شروع کردیا۔ کبھی کبھی یہ سریلی گنگناہٹ ہوا کے جھونکوں سے مرتعش ہو جاتی اور میں یہ سمجھتا کہ میرے بجائے کوئی اور آدمی بہت دور گا رہا ہے، اس پر میں تولیے کو زیادہ زور کے ساتھ بدن پر ملنے لگتا۔\n\nبدن خشک ہوگیا تو میں نے کپڑے پہنے۔ اس اثنا میں بوندا باندی شروع ہوگئی۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ میرے عین اوپر بادل کا ایک اسفنج نما ٹکڑا چھتری کی طرح پھیلا ہوا تھا۔ میں نے جلدی جلدی پہاڑی پر سے نیچے اترنا شروع کیا اور فوراً ہی کودتا پھاندتا سڑک میں اتر آیا۔ متوقع بارش سے بچنے کے لیے میں نے قدم تیز کردیے۔ لیکن ابھی سڑک پر بمشکل ایک جریب کا فاصلہ طے کرنے پایا تھا کہ، ’’اے بکری بکری‘‘ کی آواز بلند ہوئی پھر اس کے ساتھ ہی دور پہاڑیوں نے اس آواز کو دبوچ کر دوبارہ ہوا میں اچھال دیا۔ میرے جی میں آئی کہ میں بھی اس آواز کو گیند کی طرح دبوچ لوں اور ہمیشہ کے لیے اپنی جیب میں ڈال لوں۔\n\nمیں ٹھہر گیا۔ وہی مانوس دل نواز صدا تھی جو اس سے قبل میں کئی مرتبہ سن چکا تھا۔ بظاہر ’’اے بکری بکری‘‘ تین معمولی لفظ ہیں اور کاغذ پر یہ کوئی ایسا تصور پیش نہیں کرتے جو انوکھا اور حسین ہو مگر واقعہ ہے کہ میرے لیے ان میں وہ سب کچھ تھا جو روح کو مسرور کرسکتا ہے ۔جونہی یہ آواز میری سماعت سے مس ہوتی مجھے یہ معلوم ہوتا کہ پہاڑ کی چھاتی میں سے صدیوں کی رکی ہوئی آواز نکلی ہے اور سیدھی آسمان تک پہنچ گئی ہے۔\n\n’’اے‘‘ بالکل دھیمی آواز میں اور ’’بکری بکری‘‘ بلند اور فلک رس سروں میں۔ ایک لمحہ کے لیے یہ نعرہ شباب پہاڑیوں کی سنگین دیواروں میں گونجتا، ڈوبتا، ابھرتا، تھرتھراتا اور رباب کے تاروں کی آخری لرزش کی طرح کانپتا فضا میں گُھل مل جاتا۔\n\nکالی کالی بدلیاں چھا رہی تھیں۔ فضا نم آلود تھی۔ ہوا کے جھونکوں میں اس نمی نے غنودگی کی سی کیفیت پیدا کردی تھی ۔میں نے اوپر پہاڑی پر اگی ہوئی ہری ہری جھاڑیوں کی طرف دیکھا اور ان کے عقب میں مجھے دو تین سفید بکریاں نظر آئیں۔۔۔ میں نے اوپر چڑھنا شروع کردیا۔ ایک منہ زور بکری وزیر کو گھسیٹے لیے جارہی تھی اور وہ اس کو ڈانٹ بتانے کے لیے ’’اے، بکری بکری‘‘ پکار رہی تھی۔\n\nاس کا منہ غصہ اور زور لگانے کے باعث پگھلے ہوئے تانبے کی رنگت اختیار کرگیا تھا۔ بکری کے گلے میں بندھی ہوئی رسی کو پوری طاقت سے کھینچنے میں اس کا سینہ غیر معمولی طور پر عریاں ہوگیا تھا۔ سر پیچھے جھکا تھا۔ دونوں ہاتھ آگے بڑھے ہوئے تھے، سر پرسے دوپٹہ اتر کر باہوں میں چلا آیا تھا۔ پیشانی پر سیاہ بالوں کی لٹیں بل کھاتی ہوئی سنپولیاں معلوم ہورہی تھیں۔\n\nایک سبز جھاڑی کے پاس پہنچ کر بکری دفعتاً ٹھہر گئی اور اس کے نرم نرم پتوں کو اپنی تھوتھنی سے سونگھنا شروع کردیا۔ یہ دیکھ کروزیر نے اطمینان کا سانس لیا اور اپنا اترا ہوا دوپٹہ ایک بڑے سے پتھر پررکھ کر اس نے پاس والے درخت کے تنے سے بکری کے گلے میں بندھی ہوئی رسی باندھی اور دوسرے پیڑ کی جھکی ہوئی ٹہنی پکڑ کر جھولا جھولنے لگی۔\n\nمیں جھاڑیوں کے پیچھے کھڑا تھا۔ بازو اوپر اُٹھانے کے باعث اس کی کھلی آستین نیچے ڈھلک آئی۔ کپڑے کے یہ چھلکے سے جب اترے تو اس کے بازو کندھوں تک عریاں ہوگئے۔ بڑی خوبصورت باہیں تھیں۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ ہاتھی کے دو بڑے دانت اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں۔ بے داغ، ہموار اور زندگی سے بھرپور۔\n\nوہ جھولا جھول رہی تھی اور اس کے دونوں بازو کچھ اس انداز سے اوپر کی جانب اٹھے ہوئے تھے کہ مجھے یہ اندیشہ لاحق ہو ا کہ وہ آسمان کی طرف پرواز کر جائے گی۔ جھاڑیوں کے عقب سے نکل کر میں اس کے سامنے آ گیا۔ دفعتاً اس نے میری طرف نگاہیں اٹھائی۔ سٹ پٹائی، ٹہنی کو اپنے ہاتھوں کی گرفت سے آزاد کردیا۔ گری، سنبھلی اور حلق میں سے ایک مدھم چیخ نکالتی دوڑ کر دوپٹہ لینے کے لیے پتھر کی طرف بڑھی۔۔۔ مگر دوپٹہ میری بغل میں تھا۔\n\nاس نے دوپٹہ کی تلاش میں یہ جانتے بوجھتے کہ وہ میری بغل میں ہے، ادھر ادھر دیکھا اور مسکرا دی۔ اس کی آنکھوں میں حیا کے گلابی ڈورے ابھر آئے۔گال اور سرخ ہوگئےاور وہ سمٹنے کی کوشش کرنے لگی۔ دونوں بازوؤں کی مدد سے اس نے اپنے سینے کی شوخیوں کو چھپا لیا اور انھیں اور زیادہ چھپانے کی کوشش کرتی وہ پتھر پر بیٹھ گئی۔ اس پر بھی جب اسے اطمینان نہ ہوا تو اس نے گھٹنے اوپر کرلیے اور بگڑ کر مجھے سے کہنے لگی۔\n\n’’یہ آپ کیا کررہے ہیں۔ میرا دوپٹہ لائیے۔‘‘\n\nمیں بڑھا اور بغل میں سے دوپٹہ نکال کر اس کے گھٹنے پر رکھ دیا۔ مجھے اس کے بیٹھنے کا انداز بہت پسند آیا۔ چنانچہ میں بھی اسی طرح اس کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کی طرف غور سے دیکھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ وزیر جوان آوازوں کا ایک بہت بڑا انبار ہے اور میں۔۔۔ اور میں خدا معلوم کیا ہوں۔ اس کو ہاتھ لگاؤں گا تو وہ باجے کی طرح بجنا شروع ہو جائے گی۔ ایسے سر اس میں سے نکلیں گے جو مجھے اوپر بہت اوپر لے جائیں گے اور زمین اور آسمان کے درمیان کسی ایسی جگہ معلق کردیں گے جہاں میں کوئی آواز سن نہ سکوں گا۔\n\nوزیر نے مجھے جنگلی بلی کی طرح گھور کر دیکھا گویا کہنا چاہتی ہے۔ ارے جاؤ یہاں دھرنا دے کر کیوں بیٹھ گئے ہو۔ میں نے اس کے اس خاموش حکم کی کوئی پروانہ کی اور کہا:\n\n’’چشمے سے واپس آرہا تھا کہ تمہاری آواز سنی، بے اختیار کھنچا چلا آیا۔ وزیر۔۔۔ تمہاری یہ آواز مجھے یقیناً پاگل بنا دے گی۔۔۔ جانتی ہو پاگل آدمی بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔‘‘\n\nمیری یہ بات سن کر اس کو حیرت ہوئی،’’یہ کیا پاگل پن ہے۔۔۔ میری آواز کسی کو کیوں پاگل بنانے لگی۔‘‘\n\nمیں نے کہا،’’جیسے کچھ جانتی ہی نہیں ہو۔۔۔ دنیا میں یہ راگ راگنیاں کہاں سے آئی ہیں۔۔۔ لیکن چھوڑو اس قصے کو۔ یہ بتاؤ، میری ایک بات مانو گی؟‘‘\n\n’’مان لوں گی، پر آپ یہ تو کہیئے بات کیا ہے؟‘‘\n\n’’ایک دفعہ میری خاطر،اے، بکری بکری، کا نعرہ بلند کردو۔‘‘\n\nمجھے ہاتھ سے دھکا دے کر اس نے تیز لہجہ میں کہا، ’’یہ کیا پاگل پن ہے، بنانے کے لیے صرف ایک میں ہی رہ گئی ہوں۔‘‘\n\n’’وزیر، بخدا میں تمہیں بنا نہیں رہا۔ مجھے تمہاری یہ آواز پسند ہے۔۔۔ جھوٹ کہوں تو۔۔۔ لے اب مان بھی جاؤ۔ ایک بار!‘‘\n\n’’جی نہیں۔‘‘\n\n’’میں تم سے التجا کرتا ہوں۔‘‘\n\n’’میں نے یہ آواز نہ کبھی نکالی ہے اور نہ اب نکالوں گی۔‘‘\n\n’’میں ایک بار پھر درخواست کرتا ہوں۔‘‘\n\n’’یااللہ۔۔۔ یہ کیا مصیبت ہے۔‘‘ وزیر نے اپنا بدن سکیڑ لیا، ’’اور اگر نہ مانوں تو۔۔۔ یعنی یہ بھی کیا ضروری ہے کہ میں اسی وقت آپ کے کہنے پر بیکار چلانا شروع کردوں۔۔۔ آپ تو خواہ مخواہ چھیڑ خانی کررہے ہیں اورمیں نگوڑی جانے کیا سمجھ رہی ہوں۔۔۔ بھئی ہوگا، ہمیں یہ مذاق اچھا نہیں لگتا۔‘‘\n\n’’وزیر!‘‘ میں نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ کہا، ’’میری طرف دیکھو۔۔۔ میرے چہرے سے تم اس بات کا اطمینان کرسکتی ہو کہ میں ہنسی مذاق نہیں کررہا۔‘‘\n\nاس نے میرے چہرے کی طرف مصنوعی غور سے دیکھا اور میری ناک پر انگلی رکھ کر کہا، ’’آپ کی ناک پر یہ ننھا سا تِل کتنا بھلا دکھائی دیتا ہے۔‘‘\n\nاس وقت میرے جی میں آئی کہ اس پتھر پر جس پر وہ بیٹھی ہوئی ہے میں ناک گھسنا شروع کردوں تاکہ وہ ننھا سا تل ہمیشہ کے لیے مٹ جائے۔ وزیر نے میری طرف دیکھا تو وہ یہ سمجھی کہ میں روٹھنے کا ارادہ کررہا ہوں، چنانچہ اس نے فوراً اپنی بکریوں کی طرف دیکھا اور مجھ سے کہا، ’’بابا، آپ خفا نہ ہوجایئے۔۔۔‘‘\n\nقریب تھا کہ وہ اپنی مخصوص آواز بلند کرے کہ ایکا ایکی جھجک اس پر غالب آگئی۔ بہت زیادہ شرما کر اس نے اپنی گردن جھکا لی، ’’پر میں پوچھتی ہوں اس میں خاص بات ہی کیا ہے؟‘‘\n\nمیں نے بگڑ کر کہا، ’’وزیر، تم اب باتیں نہ بناؤ۔‘‘\n\nدوسری طرف منہ کرکے اس نے ایکا ایکی بلند آواز میں ’’اے بکری بکری‘‘ پکارا۔ اس کے بعد شرمیلی ہنسی کا ایک فوارہ سا اس کے منہ سے چھوٹ پڑا۔ میں بلندیوں میں پرواز کرگیا۔۔۔ کتنی صاف اور شفاف آوازتھی۔دھلی فضا میں اس کی گونج دیر تک دور، نظر سے اوجھل ہو جانے والے پرندوں کے پروں کی طرح چمکتی رہی۔ پھر جذب ہوگئی۔\n\nوزیر کی طرف میں نے دیکھا۔ اب وہ خاموش تھی۔ اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر صاف تھا۔ آنکھیں نہاتی ہوئی چڑیوں کی طرح بے قرار تھیں۔ ہنسنے کے باعث ان میں آنسو بھر آئے تھے۔ ہونٹ اس انداز سے کھلے ہوئے تھے کہ میرے ہونٹوں میں سرسراہٹ پیدا ہوگئی۔۔۔ خدا معلوم کیا ہوا میں نے وزیر کو اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ اس کا سر میری گودی میں ڈول آیا۔۔۔ لیکن ایکا ایکی زور سے وہ اپنا بازو میرے جھکے ہوئے سر اور اپنے متحیر چہرے کے درمیان لے آئی اور دھڑکتے ہوئے لہجہ میں کہنےلگی، ’’آہ،ہٹائیے، ہٹائیے ان ہونٹوں کو!‘‘\n\nمیری گود سے نکل کر وہ بھاگ گئی اور میرے ہونٹوں کی تحریر نامکمل رہ گئی۔\n\nاس واقعہ کو ایک زمانہ گزر چکا ہے، مگر جب کبھی میں اس کو یاد کرتا ہوں، میرے ہونٹوں میں سوئیاں سی چبھنے لگتی ہیں۔۔۔ یہ نامکمل بوسہ ہمیشہ میرے ہونٹوں پر اٹکا رہے گا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%85%DA%A9%D9%85%D9%84_%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1"} {"title": "نامہ بر کبوتر!", "poet_page": "مصنف:ابو الکلام آزاد", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "عہد قدیم کی تار برقی اور طیارات! مشاطۂ عالم نے ہمیں کچھ اس طرح اپنی نئی نئی سحر ادائیوں اور دل فریبیوں میں محو کر لیا ہے کہ اس کے عہد گزشتہ کے بہت سے دلچسپ افسانے بالکل خواب و خیال ہو گئے ہیں، حتی کہ نئی دلچسپیوں کی مشغولیت میں کبھی ان کا خیال بھی ہمارے دماغوں میں نہیں گزرتا۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو ٹائٹینک اور امپریس کی غرقابی کا حادثہ سن کر ان چھوٹی چھوٹی کشتیوں کو بھی یاد کر لیتے ہوں گے، جنہیں کبھی بحر خزر اور قلزم کی موجوں میں ان کے باہمت اسلاف کی بحری اوالو العزمیاں بے خوف و خطر ڈال دیتی تھیں؟ یا ان بادبانی جہازوں کی پرانی تصویروں پر ایک نظر ڈال لیتے ہوں گے جو عہد قدیم کی تمدنی ترقیات کے انتہائی سر و سامان تھے اور جن کے ذریعہ بالکل اسی طرح آرام جو اور حیات پسند انسان بڑے بڑے قہار سمندروں کو طے کرتا تھا، جس طرح آج یورپ اور امریکہ کےعیش دوست سیاح انطلانطیک کے طوفانوں پر سے تاش کھیلتے ہوئے اور اس کے ایوان رقص میں سرود و نشاط کی سرگرمیوں کے مزے لوٹتے ہوئے گزرا کرتے ہیں؟ جب کہ ہم میکسم توپوں کے عظیم الشان کارخانوں کا حال پڑھتے ہیں تو ہمیں بہت کم یاد آتا ہے کہ رومیوں نے بیت المقدس کی دیواروں پر منجنیقوں سے پتھر برسائے تھے اور شاید ہم میں صرف تاریخ قدیم کی ورق گردانی کرنے والے اور آثار قدیمہ کے عجائب خانوں کے علماء و مصنفین ہی کو یہ یاد رہا ہوگا کہ کسی زمانے میں انسانوں نے ان فوائد کو حاصل کرنے کے لیے، جو آج پریس کی مشینوں سے حاصل کئے جاتے ہیں، لکڑی کے حروف بنائے تھے اور ان کے ذریعہ ایک تحریر کی متعدد نقلیں بغیر دوبارہ لکھنے کے حاصل کر لیتے تھے! اصل یہ ہے کہ انسان ماضی کو کسی مقدس دیوتے کی طرح پوجتا تو ضرور ہے مگر اس کے افسانوں کو یاد رکھنے کی بہت کم پروا کرتا ہے۔ اس کی اصلی مشغولیت زمانہ حال میں ہوتی ہے۔ وہ صرف موجود اور حاصل ہی کا متلاشی رہتا ہے۔ البتہ مستقبل بھی اس کے لئے دلکش ہے۔ کیونکہ انسان کی دلفریب امیدیں اور سرمست آرزوئیں مستقبل کے ہاتھ میں ہیں، اور اس مخلوق غفلت و فراموشی کے لئے امیدوں کا وجود اس قدر دلچسپ ہوتا ہے کہ بسا اوقات زمانۂ حال کی موجود و حاصل مشغولیتوں کو بھی بھلا کر صرف مستقبل ہی کی حسرتوں میں اپنی پوری عمریں بسر کر دیتا ہے! لیکن انسان کی سب سے بڑی غلطی یہی ہے۔ مستقبل پر اسے اختیار نہیں، اور حال ہی ماضی کا جانشین اور اس کے تر کے کا وارث ہے۔ پس اس کے لئے جو کچھ سرمایۂ فلاح و مراد ہے، وہ صرف ماضی ہی کی یاد اور اس کے نتائج و عبرت کے درس و بصیرت میں رکھا گیا ہے۔ اسی لئے نوع انسان کی سب سے بڑی کتاب ہدایت نے بار بار واقعات گزشتہ، تاریخ حوادث، اور سوانح ماضیہ کے یاد رکھنے اور سوچنے اور سمجھنے کی وصیت کی۔ قل سیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبل (۳۰۔ ۳۱) خدا کی زمین پر پھرو اور سیر کرو اور دیکھو کہ جو آبادیاں اور اقوام تم سے پہلی تھیں، ان کا نتیجہ کیا ہوا؟ او لم یسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبہ الذین من قبلہم، و کانوا اشد منہم قوۃ (۳۵۔ ۴۳) کیا لوگ زمین پر سیاحت نہیں کرتے اور نہیں دیکھتے کہ جو قومیں ان سے پہلے تھیں ان کا کیا نتیجہ ہوا؟ حالانکہ وہ ان سے قوت و عظمت میں کہیں بڑھی ہوئی تھیں! پھر جابجا واقعات ماضیہ کی طرف اشارہ کر کے تاریخ گزشتگان پر توجہ دلائی اور کہا کہ فاقصص القصص لعلہم یتفکرون (۷، ۱۷۵) لقد کان فی قصصہم عبرۃ الاولی الباب(۱۱۱، ۱۳) ان فی ذالک لایات لقوم یسمعون (۶۷، ۱۰) دنیا نے ہمیشہ اپنے کاموں اور ضرورتوں کو پورا کیا ہے۔ جب کہ عجیب و غریب آلات و وسائل کار نہ تھے جو آج ہم اپنے چاروں طرف دیکھ رہے ہیں، جب بھی دنیا اسی طرح آباد تھی جیسی کہ اب آباد ہے اور جب بھی بالکل اسی طرح اس کی تمام ضرورتیں پوری ہوتی تھیں جس طرح کہ اب پوری ہو رہی ہیں۔ موجودہ عہد میں جب کہ سفر کے لئے برق رفتار ریل اور اسٹیمر، خبر رسانی کے لئے تار برقی اور لاسلکی، اشاعت علوم و فنون کے لئے پریس اور مطبوعات اور اسی طرح ہر انسانی احتیاج کے لئے انتہائی وسائل و ذرائع موجود ہیں اور جب کہ ہم ان تمام نئے وسائل و اسباب کے اپنی زندگی میں کچھ اس طرح عادی ہو گئے ہیں کہ اگر ایک دن کے لئے بھی یہ ہم سے واپس لے لئے جائیں تو ہم نقل و حرکت اور کاروبار زندگی سے بالکل معذور ہو جائیں تو بسا اوقات یہ خیال کر کے ہمیں تعجب ہوتا ہے کہ جس زمانے میں یہ چیزیں دنیا والوں کے پاس نہ تھیں اس وقت کیونکر ان کی زندگی بسر ہوتی تھی؟ کیوں کر وہ سفر کرتے تھے، کیوں کر ضروری خبروں کو حاصل کرتے تھے؟ یہ کیسے ممکن تھا کہ بغیر پریس کے اور بغیر چھپی ہوئی کتابوں کی بڑی بڑی دکانوں کے وہ علم حاصل کرتے تھے اور اپنے عہد سے پہلوں کی اور اپنے معاصروں کی تصنیفات مطالعہ کے لیے مہیا ہو جاتی تھیں؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس وقت دنیا میں اسباب و وسائل میں سے کچھ بھی نہ تھا، اس وقت بھی دنیا اور دنیا والوں کی ضرورتیں پوری ہوتی تھیں۔ جب کہ چند ابتدائی وسائل پیدا ہوئے، جب بھی اسی طرح دنیا نے امن اور چین سے زندگی کاٹی اور پھر جب کہ یہ سب کچھ موجود نہ تھا جس کی ہماری زندگی اس قدر عادی ہو گئی ہے تو اس وقت بھی دنیا اپنے کاموں کو اسی طرح بغیر بھاپ اور بجلی کے انجام دے لیتی تھی، جس طرح آج قدم قدم پر ان عظیم الشان طاقتوں سے ہم مدد لیتے ہیں اور ان پر مغرور ہیں۔ یہ کیسی عجیب مگر دلچسپ بات ہے کہ جو کام آج انسان بجلی اور بھاپ کی حیرت انگیز قوتوں سے لینے پر نازاں ہے وہ کسی زمانے میں ایک نہایت معمولی اور حقیر جانور سے لیا جاتا تھا اور جب کہ ریل کی گاڑیاں ڈاک کے تھیلے لے کر نہیں جاتی تھیں اور تار کے سلسلوں نے دور دراز ملکوں میں باہم خبر رسانی کو اس طرح آسان نہیں کر دیا تھا، تو نامہ بر کبوتروں کے غول تھے، جو اپنی نازک نازک گردنوں میں خطوط کی امانت لے کر اور بڑے بڑے میدانوں اور دریاؤں پر سے گزر کے مکتوب الیہ تک پہنچتے تھے، اور جس طرح آج تار برقی کے ہر جگہ اسٹیشن ہیں، بالکل اس طرح ان بے زبان پیام بروں کے اڑنے اور اترنے کے لیے بلندیوں پر اسٹیشن بنائے جاتے تھے۔ نامہ بر کبوتروں کا وجود عہد قدیم کی ایک نہایت مشہور اور بڑی ہی دلچسپ کہانی ہے۔ اس کا سلسلہ نصف صدی پیشتر تک بڑی بڑی آبادیوں میں جاری تھا۔ اب بھی دنیا سے بالکل مفقود نہیں ہوا ہے۔ بڑی بڑی لڑائیوں اور جنگی حصاروں کے زمانے میں ان سے کام لینا پڑتا ہے، جب نئی دنیا کی بڑی بڑی قیمتی اور مغرورانہ ایجادیں کام دینے سے بالکل عاجز ہو جاتی ہیں۔ حکومت فرانس نے تو اب تک ان کے باقاعدہ اہتمام اور پرورش کے کام کو باقی و جاری رکھا ہے۔ ان امانت دار پیامبروں نے دنیا میں خبر رسانی کی عجیب عجیب خدمتیں انجام دی ہیں اور احسان فراموش انسان کو بڑی بڑی ہلاکتوں سے بچایا ہے۔ جہاں انسان کی قوتیں کام نہ دے سکیں، وہاں ان کی حقیر ہستی کام آ گئی۔ ہمارے عالم حسن و عشق کے راز دارانہ پیغاموں کے لیے اکثر انہیں سفیروں سے کام لیا گیا ہے۔ عشاق بے صبر کو ان کا انتظار قاصد بے مہر کے انتظار سے کچھ کم شاق نہیں ہوتا۔ شعراء کی کائنات خیال میں بھی خبر رسانی و پیامبری صرف انہی کے سپرد کر دی گئی ہے اور فارسی شاعری میں تو ’’عظیم الشان‘‘ بلبل کے بعد اگر کسی دوسرے وجود کو جگہ ملی ہے تو وہ یہی مسکین کبوتر ہے۔ مسلمانوں نے بھی اپنے عہد تمدن میں ان پیامبروں سے بڑے بڑے کام لیے تھے۔ حتیٰ کہ نامہ بر کبوتروں کے اقسام و تربیت کا کام ایک مستقل فن بن گیا تھا جس میں متعدد کتابیں بھی تصنیف کی گئیں۔ ان کا ذکر تاریخوں میں موجود ہے۔ حال میں رسالہ ’’سائنٹفک امریکن‘‘ کے ایک مضمون نگار نے نامہ بر کبوتروں کے متعلق ایک نہایت دلچسپ مضمون لکھا ہے اور بہت سی تصویریں بھی دی ہیں۔ اسے دیکھ کر مسلمانوں کے عہد گزشتہ کی وہ ترقیات یادا ٓگئیں جن کا تفصیلی تذکرہ سیرطی اور مقریزی وغیرہ نے مصر کی تاریخوں میں کیا ہے۔ ہم سب سے پہلے اس مضمون کا ترجمہ ہدیہ قارئین کرام کرتے ہیں۔ اس کے بعد دوسرے نمبر میں مسلمانوں کے عہد کی ترقیات تفصیلی طور پر درج کریں گے، اور ان واقعات کا بھی حال لکھیں گے جن میں مسلمانوں نے نامہ بر کبوتروں سے بڑے بڑے کام لیے تھے اور ان کی پرورش و تربیت کو ایک قاعدہ فن بنا دیا تھا۔ فرانس میں نامہ بر کبوتروں کی درس گاہسائنٹفک امریکن کا مقالہ نگار لکھتا ہے، ’’یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ عہد علمی میں جب کہ تار برقی اور ہوائی طیارات کی ایجادات نے دنیا کے تمام گوشوں کو ایک کر دیا ہے، ان تیز رو اور وفادار پیغامبروں کی کچھ ضرورت نہ رہی، جنہوں نےجنگ جرمنی و فرانس میں بڑی بڑی گراں قدر خدمات انجام دی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کا یہی خیال ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نئی ایجادات نے حالت بدل دی ہے اور اب نامہ بر کبوتر صرف چند بوڑھے شکاریوں ہی کے کام کے رہ گئے ہیں۔ مگر ایسا خیال کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی۔ جو توجہ کہ اس وقت یورپ کی حکومتیں خصوصاً حکومت فرانس ان پرندوں پر کر رہی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک وہ خدمت فراموش نہیں ہوئی ہے جو ان مسکین پرندوں نے حملہ ٔجرمنی کے زمانے میں محصورین پیرس کی انجام دی تھی۔ اس وقت فرانس کے یہاں ۸۲ فوجی کبوتر خانے ہیں جو اس کے تمام قلعوں میں علی الخصوص ان قلعوں میں جو مشرقی سرحد میں واقع ہیں، پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ کبوتر خانے جو انجینئرنگ کور کے زیر انتظام ہیں، افزائش نسل اور تربیت کے لیے وقف کر دیے گئے ہیں۔ مجھے ان فوجی کبوتر خانوں میں جانے کے لیے اور خاص اجازت حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی جو پیرس کے قلعوں کے قریب مقام Vagirard میں واقع ہیں۔ یہاں کے حکمراں افسرنے مجھے اس عجیب جانورکی افزائش اور تربیت کا نظام سمجھا دیا۔ قارئین کرام کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ ان پرندوں پر اس قدر روپیہ صرف کیا جا رہا ہے۔ سپاہی ان ننھے ننھے جانوروں کو بہت چاہتے ہیں اور ان کی تعلیمی ترقی کو سرگرم دلچسپی کے ساتھ دیکھتے رہتے رہیں۔ مقام ویجیر رڈ اور اسی طرح دوسرے مقامات میں کبوتروں کی ڈھابلیاں مکان کی چھت پر ہوتی ہیں۔ ہر یک ڈھابلی ایک روش کے ذریعہ دو حصوں میں منقسم ہوتی ہے۔ فرش پر پلاسٹر اور اس پر خشک اور متوسط درجہ کی خوشنما چٹائیوں کی ایک تہہ ہوتی ہے تاکہ ان کے پنجے نجاست میں آلودہ نہ ہوں۔ پانی کے برتن چھوٹے بنائے گئے ہیں تاکہ کبوتر نہانے میں زیادہ پانی نہ پھینک سکیں۔ لیکن جب کبھی ان ڈھابلیوں کی چھت پر بہتے ہوئے پانی کا سامان ہو جاتا ہے تو بڑے برتن رکھ دیے جاتے ہیں تاکہ وہ ان میں آزادی سے نہا دھوسکیں اور اس طرح مہلک جراثیم سے محفوظ ہو جائیں۔ ہر خانے میں ہوا کی آمد و رفت کا عمدہ انتظام کیا گیا ہے۔ ہر کبوتر کے جوان جوڑے کو ۳۵ فٹ مکعب اور ہر بچہ کو ۹ فٹ مکعب جگہ دی گئی ہے۔ اس خیال سے کہ ہوا کی گردش میں سہولت ہو، پہاڑی یا سرد ملکوں کے علاوہ اور کہیں ڈھابلیوں کی چھتوں پر استر کاری نہیں کی جاتی۔ ان ڈھابلیوں کا مشرق رو ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔ تقریباً تمام فرانسیسی ڈھابلیوں کا رخ شمال اور شمال و مشرق نیز طوفان آب کے تمام رخوں کے بالکل مخالف ہوتا۔ اس کا خیال رکھا جاتا ہے کہ یہ ڈھابلیاں ٹیلی گراف یا ٹیلی فون کے دفتر کے پاس نہ بنائی جائیں جن کے تار اڑنے میں ٹکرا کے انہیں زخمی کر سکتے ہیں۔ بڑے بڑے درخت اور اونچی اونچی عمارتیں بھی قابل اعتراض سمجھی جاتی ہیں۔ کیوں کہ ان کی وجہ سے ان کبوتروں کو بآسانی بیٹھنے کے مواقع مل جاتے ہیں اور اڑنے سے جی چرانے لگتے ہیں۔ کترنے والے جانوروں مثلاً Ordents کی روک کے لیے شیشہ دار پنجرے چوکھٹوں میں رکھے جاتے ہیں۔ پاس کی چمنی پر لوہے کا جال تنا رہتا ہے تاکہ چمنی میں بچے نہ گر سکیں۔ تمام کبوتر خانوں اور انجینئرنگ کور کے دفتروں میں ٹلی فون لگا ہوا ہے۔ یہ قاعدہ ہے کہ ہر کبوترخانے میں ۱۰۰ کبوتر ایسے ہوتے ہیں جو فراہمی فوج میں شرکت کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ اس مفید طاقت کے قائم رکھنے کے لیے دو کمرے ایک سو تیس جوان کبوتروں کے، ایک کمرہ دو سو بچوں کا جو اسی سال پیدا ہوئے ہوں، ایک جنوب رو شفاخانہ (infirmary) اور ایک دار التجربہ (Laboratory) درکار ہوتا ہے۔ ان خانوں میں رکھنے کے لیے کبوتر ان بچوں میں سے انتخاب کیے جاتے ہیں جن کی عمر ابھی ۴ ہفتہ ہی کی ہوتی ہے اور جو ابھی تک اپنے ان پیدائشی خانوں سے نہیں نکلے ہوتے جن میں وہ پیدا ہوئے ہیں۔ صحت اور غذا کی نگرانی کے خیال سے پہلے ۴ یا ۵ دن تک ان کی دیکھ بھال رہتی ہے۔ اس کے بعد خانے سے نکلنے اور ادھر ادھر اڑتے پھرنے میں اس طرح حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ بغیر ڈرائے ہوئے (تاکہ وہ اپنے داخلے کا دروازہ پہچان سکیں) نکل بھاگنے کا انہیں موقع دیا جاتا ہے۔ یہ تربیت روز تین بجے دن کو کی جاتی ہے۔ جب اس نوآبادی میں جوان کبوتر ملا دیے جاتے ہیں تو یہ مشق بہت دیر تک جاری رہتی ہے۔ تازہ وارد کبوتر پہلے تو ایک معتدبہ زمانے تک علیحدہ بند رہتے ہیں۔ اس کے بعد پرانے رہنے والوں کے ساتھ ملا دیے جاتے ہیں۔ آخر میں ان کی اگلی پانچ پانچ یا چار چار کلیاں دو دو انچ کے قریب کتر دی جاتی ہیں تاکہ موسم بھر اڑ نہ سکیں۔ جب جھاڑنے کا زمانہ آتا ہے تو ان کتری ہوئی کلیوں کی جگہ پوری پوری نئی کلیاں نکل آتی ہیں۔ قابل خدمت ٹکڑیوں میں (ٹکڑیاں فوجی اصطلاح میں کور Corps کہلاتی ہیں) ماہ مئی کے قریب دو برس سے لے کر آٹھ برس تک کے ۱۰۰ کبوتر ہوتے ہیں۔ ان میں اکتوبر تک ۶ محفوظ کبوتر اور ۱۸ مہینے کے ایسے ۲۳ پٹھے نوجوان بڑھا دیے جاتے ہیں جو تعلیمی معرکوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ کھانے کے لیے سیم، مٹر اور مسور کا اکرا دیا جاتا ہے جو برابر سال بھر تک جمع ہوتا رہتا ہے۔ اکرے کی مقدار فی کبوتر تقریباً ڈیڑھ اونس ہوتی ہے جو تین وقتوں میں یعنی صبح، دوپہر اور ۳ بجے دن کو دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مٹی، چونا، دریا کی عمدہ بالو، انڈے کے چھلکے اور گھونگے بھی ہم وزن پسے ہوئے ملتے ہیں۔ یہ مرکب جسے نمک آمیز زمین (Salted Earth) کہتے ہیں، ہمیشہ ان کے پنجروں میں پڑا رہتا ہے۔ بہار کے زمانے میں اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ دو ہلکے یا دو بہت ہلکے رنگ کے کبوتروں میں یا نہایت ہی قریبی رشتہ دار کبوتروں میں، یا ایک دوسرے سے بے حد ملتے ہوئے کبوتروں میں جوڑا نہ لگنے پائے۔ جوڑا صرف انہی کبوتروں میں قائم کرنا چاہیے جن کی آنکھوں اور پروں کے رنگ مختلف ہوں۔ چھوٹے بڑے، جوان بوڑھے، باہم مانوس اور غیر مانوس کبوتروں میں اوٹ ضرور بنا دینی چاہیے۔ جب چند دنوں تک ایک ساتھ علیحدہ بند رہنے سے جوڑا لگ جائے تو پھر انہیں کمرہ میں آزادی سے پھرنے دینا چاہیے۔ جوڑا لگنے کے بعد سے۴۰ دن کے اندر مادہ انڈے دیتی ہے اور اس کے بعد ۱۷ دن تک سیکتی ہے۔ جب بچے ۴ یا ۵ ہفتے کے ہو جاتے ہیں اور دانہ چگنے لگتے ہیں تو ماں باپ سے علیحدہ کر کے ایک ایسے جنوب رویہ کمرہ میں رکھ دیے جاتے ہیں جس میں زائد سے زائد دھوپ آتی ہو۔ کسی دوسری جھولی کے یا موسم خزاں کے انڈے نہیں رکھے جاتے۔ کیونکہ ان کے بچے موٹے ہوتے ہیں اور بے قاعدہ پر جھاڑنے لگتے ہیں۔\n\n(۲)\n\nعہد قدیم کی تار برقی اور طیارات! نامہ بر کبوتروں کی فوجی تربیت کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ پہلے انہیں کبوترخانوں کے گرد و پیش کا وے دیے جاتے ہیں۔ ہر کبوتر سے یہ چاہا جاتا ہے کہ وہ ہر روز ۵ گھنٹے دن بھر میں دوبار اڑیں۔ ان آزمائشی لڑائیوں کی نگرانی نہایت توجہ سے کی جاتی ہے۔ پنجروں کی کھڑکیاں جب کھولی جاتی ہے تو سپاہی مستعد رہتے ہیں اور ان کبوتروں کو ڈھابلیوں کی چھت پر بیٹھنے نہیں دیتے۔ جو چندکبوتر پاس کی چھتوں پر بیٹھ کے اپنے رفقا کے سامنے نافرمانی کی بری مثال پیش کرتے ہیں، انہیں بلا تکلف فوراً گولی سے مار دیا جاتا ہے۔ اعلیٰ درجہ کے تربیت یافتہ کبوتر غول باندھ کے اڑتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ کبھی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے پاتے۔ کورے پٹھے پہلے چند منٹ اڑتے ہیں، پھر بتدریح بڑھتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ تین مہینہ کی عمر میں گھنٹے گھنٹے بھر تک اڑنے لگتے ہیں۔ ایک طرح کی نقل و حرکت کے لیے ہمیشہ ایک ہی قسم کے اشارے کیے جاتے ہیں تاکہ کبوتر سمجھ سکیں کہ ان سے کیا کہا جا رہا ہے؟ کبوتروں کو پنجروں سے نکالنے کے لیے چیخیں، تالیاں اور کمروں کی درمیانی اوٹیں کھڑکھڑائی جاتی ہیں۔ واپس بلانے کے لیے کونڈوں میں پانی بھرنے اور زمین پردانہ ڈالنے کے بعد سیٹی بجائی جاتی ہے۔ نامہ بری کی مشق پرواز کے ساتھ ساتھ نامہ بری کی مشق بھی شروع کرا دی جاتی ہے۔ مسافت کی مقدار بتدریج بڑھتی رہتی ہے۔ فراہمی افواج کی حالت میں کبوتر کسی ایسے مقام پر رکھے جاتے ہیں جس میں اور فوج میں حملے کے وقت سلسلہ نامہ و پیام ضرور رہنا چاہیے۔ جو مقامات ایسے ہیں کہ بعض ذرائع مراسلت کی بربادی کے بعد کبوتروں کو وہاں رکھا جا سکتا ہے، ان کے متعلق سلسلۂ تعلیم کا جاری رکھنا ایک منطقی نتیجہ ہے، مگر اس کی قسمت میں پابندی نہیں۔ کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ کبوتر ڈھابلیوں کے ہر طرف آزمائے جاتے ہیں۔ بارش، کہر اور برف کے زمانے میں اڑانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ جاڑے کے زمانے کو بالکل غیر مناسب سمجھا جتا ہے۔ فروری، مارچ اور اپریل کے مہینے پٹھوں کی نگرانی و برداخت کے لیے وقف ہوتے ہیں۔ عمر کے لحاظ سے کبوتروں کے دو درجے ہوتے ہیں۔ پہلے درجے کے کبوتر یا تمام افواج کی کور جس کی عمر ۱۸ مہینے سے لے کر ۸ برس تک ہوتی ہے، روزانہ اپنی ڈھابلی سے اڑ کے وہاں تک جاتے ہیں، جہاں وہ جنگ کے زمانے میں رکھے جائیں گے۔ یہ یا تو چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں اڑتے ہیں یا کبھی ایک دم سے چھوڑ دیے جاتے ہیں، مگر بہر صورت ان میں سے ہر ایک کے کاوں کا خیال رکھا جاتا ہے تاکہ ہر کبوتر کی مشق اچھی طرح ہو جائے۔ بعض کبوتر عرصہ تک فوجوں کی اجتماع گاہوں میں بند رہتے ہیں۔ نیز ایک زمانے تک کسی خاص راہ پر باقاعدہ ہر روز اڑائے جاتے ہیں۔ مسافت کی مقدار پہلے دن ۲۰ کلو میٹر (ساڑھے بارہ میل) ہوتی ہے۔ تیسرے دن ۳۰ کلو میٹر، چھڈے دن۵۰ کلو میٹر۔ بیسویں دن ۱۳۰ کلومیٹر، ستائیسویں دن ۲۱۰ کلو میٹر اور چونتیسویں دن ۳۰۰ کلو میٹر کر دی جاتی ہے۔ ایک سال کی عمر کے پٹھوں کو بھی چھ ہفتے میں قریباً یہی مشق کرائی جاتی ہے۔ ڈھابلی کے آس پاس چند ابتدائی کاؤں کے بعد اولاً۱۰ کلو میٹر تک جاتے ہیں، اس کے بعد مسافت بتدریج بڑھتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ چھٹے ہفتہ کے آخر میں۲۰۰ کلو میٹر پورے ہو جاتے ہیں۔ پرواز کی مشق خشکی یا دریا میں جس پر کبوتر خانوں کی مقامی حالت اجازت دے، کرائی جاتی ہے۔ دھوپ کی گرمی کے خیال سے کبوتر بہت ہی تڑکے چھوڑے جاتے ہیں۔ موسم سرما میں شرح پرواز۸۰ سے لے کے۹۰ میٹر (ڈیڑھ میل) فی منٹ ہوتی ہے۔ ان مشقوں کے نتائج، گم شدہ کبوتر، دیگر سانحات، یہ سب چیزیں قلم بند ہوتی ہیں۔ چونکہ ان مشقوں کا مقصد کبوتروں کو باقاعدہ نامہ بری کی تعلیم دینا ہے اس لیے ان کے ساتھ ایسے خطوط بھی کر دیے جاتے ہیں جو خاص طور پر اسی غرض سے ہلکے اور محفوظ بنائے جاتے ہیں تاکہ بحفاظت و سہولت جا سکیں۔ مراسلات مراسلات یا تو تحریری ہوتی ہیں یا عکسی۔ اول الذکر نہایت باریک کاغذ پر ہوتے ہیں جوتین سے ساڑھے چار انچ تک ہوتا ہے۔ کاغذ کو بیچ سے موڑ کے پٹی کی طرح لپیٹ دیتے ہیں۔ لپٹنے کے بعد اس کی ضخامت کوئی ڈیڑھ انچ ہوتی ہے اور ایک سرے کی طرف گاؤ دم ہوتی چلی جاتی ہے۔\n\nعکسی مراسلات ۱۴x۱۱انچ کی قلمی تحریروں سے۲؍۱x۲ کی جھلی پر لے لی جاتی ہیں۔ عکسی مراسلات جب پہنچتی ہیں تو اس جھلی کو ایک شیشہ کی پلیٹ پر منڈھ کے خوردبین (Magnifying Glass) سے یا طلسمی لالٹین کے ذریعہ اس کا پرتو ڈال کے پڑھتے ہیں۔ مشقی مراسلات میں یہ فرمائش ہوتی ہے کہ اس کبوتر کے پکڑنے کی اطلاع فوجی حکام کو دے دی جائے۔ اس کے علاوہ اس کبوتر کی منزل مقصود، جتنے کبوتر چھوڑے گئے ہیں ان کی تعداد، ان کے سلسلہ وار نمبر، نیز علم البحر کے متعلق چند علمی نوٹ درج کیے جاتے ہیں۔ مراسلات دو قسم کے چونگوں میں بھیجے جاتے ہیں۔ ایک قسم کا چونگا قاز کے پروں کا ہوتا ہے جس کا طول ڈیڑھ انچ اور قطر آدھا انچ ہوتا ہے۔ مراسلات روانہ کرنے والا اپنے بائیں ہاتھ سے کبوتر کو پکڑ کے اس کے سینے کو اپنے سینے سے لگا دیتا ہے اور اس کی دم کے درمیانی پروں میں ایک کو علیحدہ کر کے اس میں قاز کا پر ڈال دیتا ہے اور بقیہ پر کے دونوں طرف کے ریشوں کو اس طرح دبا دیتا ہے کہ جب مراسلت نکال لی جاتی ہے تو پھر اپنی اصلی حالت میں آجاتے ہیں۔ اس کے بعد اس پر کی ڈنڈی کے اندر جو خول ہوتا ہے اس میں مراسلت ڈال کے دیا سلائی کے تنکے سے بند کر دی جاتی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ الیومینیم کا ایک چونگا کبوتر کی ٹانگ میں باندھ دیتے ہیں اور مراسلات ایک دوسرے چھوٹے چونگے میں رکھ کے اس بڑے چونگے کے اندر ڈال دیتے ہیں۔ ہر فوجی نامہ بر کبوتر پر بعض خاص نشانات ہوتے ہیں جن سے وہ فوراً پہچان لیا جاتا ہے۔ بائیں پیر میں الیومینیم کا ایک حلقہ ہوتا ہے، جس پر تاریخ، کبوتر خانے کا پتہ، اور نمبر شمار منقش ہوتا ہے۔ یہی نقوش مع حرف ’’ن‘‘ یا ’’م‘‘ کے بغرض اظہار جنس اس کے بازو پر بھی چھپے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اجتماع گاہ افواج اور کبوتر کی جنس کا علم اس رنگین مصنوعی ہاتھی دانت (Celluloid) کے حلقہ سے بھی ہو جاتا ہے، جو کبوتر کے داہنے پیر میں ہوتا ہے۔ یہ حلقے بٹی رسی کی طرح بنائے جاتے ہیں اور کئی تاروں کے ان میں بل دیے جاتے ہیں۔ ڈھائی بل نر کی اور ڈیڑھ بل مادہ کی علامت قرار دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سیاہ، سفید، نیلا، سرخ، زرد، سبز، بنفشی کے سات طرح کے رنگ لگے ہوتے ہیں، جن سے مختلف اطراف کی علامتوں کا کام لیا جاتا ہے۔ اساب و وسائل طریق تربیت کے اس مختصر خاکے کی تکمیل کے لیے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان مادی سامانوں کو بھی بیان کردیا جائے جو فرانس کے فوجی کبوتروں کی تربیت میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس میں نامہ بری کا سامان مع گاہکوں کے سامان کے شامل ہے۔ چونکہ کبوتروں کو صرف چند مقررہ گھنٹوں ہی میں خانوں سے نکالا جاتا ہے۔ اس لیے ہر حصہ (کمپارٹمنٹ) کے دروازے پر خاص داخلہ کے پنجرے رکھے رہتےہیں۔ یہ پنجرے اس طرح کے بنے ہوتے ہیں کہ کبوتر اندر جا تو آسانی سے سکتا ہے مگر نکل نہیں سکتا۔ پنجرے عموما ۲ انچ اونچے، ۲۳ انچ لمبے، ۲۸ انچ گہرے ہوتے ہیں۔ ان کے پہلو آہنی تیلیوں کے ہوتے ہیں جن میں ڈیڑھ ڈیڑھ انچ باہم فصل ہوتا ہے۔ اوپر آہنی جال ہوتا ہے جس کا ہر حلقہ ۵۔۴ انچ کا ہوتا ہے۔ یہ گنجائش ایسی ہے کہ اندر جانے کے لیے تو کافی ہے مگر باہر نکلنے کے لیے بالکل ناکافی ہے۔ سامنے کا بالائی حصہ بالکل دونوں پہلوؤں کی طرح ہوتا ہے مگر زیریں حصہ بدنما تاروں کے ایک متحرک چوکھٹے سے بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ چوکٹھا ایک قلابہ میں جھولتا رہتا ہے جواس چوکٹھے کی بالائی سلاخ میں جڑا ہوتا ہے اور زیریں سلاخ اس طرح بنی ہوتی ہے کہ اس بدنما تاروں کے چوکٹھے کو اندر جانے دیتی ہے مگر باہر آنے نہیں دیتی۔ جب کبوتر واپس آتے ہیں تو پنجرے کے سامنے والے تختے پر بیٹھ کے اس چوکٹھے کو دھکیلتے ہوئے اندرچلے جاتے ہیں۔ جب نکلنا ہوتا ہے تو دور سے کھڑکی اٹھا دیتے ہیں۔ وہ تختہ جس پر کبوتر آکے بیٹھتے ہیں، اس لیے لمبا بنایا گیا ہے تاکہ بچوں کو اپنے خانے کا راستہ ملنے میں سہولت ہو۔ وہ آشیانے جن میں بیٹھ کے مادہ انڈے سیتی ہے، بالائی خانوں میں بنائے جاتے ہیں۔ ہر خانے میں دو آشیانے ہوتے ہیں کیونکہ پہلی جھول کے بچوں کے نکلنے کے بعد سے تین ہفتے کے اندر (یعنی قبل اس کہ بچے خود دانا چننے کے قابل ہو جائیں) جوڑے دوسرے جھول کے انڈے دیتے ہیں۔ ان خانوں کا بالائی حصہ اس طرح بنایا جاتا ہے کہ کبوتروں کے لیے ایک روش سی نکل آتی ہے۔ سامنے کا حصہ لڑی کی ہلکی جالی سے بند ہوتا ہے جو آشیانے کی صفائی کے وقت بہ آسانی ہٹا لی جاتی ہے۔ کبوتروں کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر موٹی موٹی سلاخوں کے پنجروں میں لے جاتے ہیں۔ جب اڑنے کے لیے چھوڑنا ہوتا ہے تو اس چور دروازے کو کھول دیتے ہیں جو پنجرے کے اوپر ہوتا ہے۔ یہ پنجرے تین مختلف پیمانوں کے ہوتے ہیں۔ جن میں علی الترتیب ۲۵ سے۳۰، ۱۲سے ۱۵ اور ۴ سے۶ کبوتر تک آ سکتے ہیں۔ پنجرے یا تو ریل گاڑیوں میں جاتے ہیں یا خچر پر رکھ کر لے جاتے ہیں۔ فوجی حکام جہاں تک ہوسکتا ہے، نامہ بر کبوتروں کی پرورش کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں۔ فرانس کے ملکی (سول) افسروں میں بہت سے لوگوں کے پاس کبوترخانے ہیں جن میں بہت سے تربیت یافتہ نامہ بر کبوتر ہیں، اور جو براہ راست صیغۂ جنگ کی نگرانی میں داخل ہیں۔ فرانس کے نامہ بر کبوتروں کو سرکاری طور پر تعلیم دینے کی تاریخ سنہ ۱۸۷۰ء کی جنگ جرمنی و فرانس سے شروع ہوتی ہے۔ گو اس وقت ان مسکین پرندوں کی تربیت بہت ہی معمولی ہوئی تھی، مگر انہوں نے ایسے عجیب و غریب کام انجام دیے کہ اب آئندہ جنگ میں ان کی اعانت پر پورا پورا اعتماد کیا جاتا ہے۔ نامہ بر کبوتر اور طیاراتغالباً عنقریب کبوتر ایروپلین یعنی ہوائی جہازوں پر بھی جایا کریں گے۔ اگرچہ طیارچیوں کو ان سے طبیعی نفرت ہے کیونکہ وہ کبوتروں کو اپنا ایک خطرناک دشمن سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایک تیز رو ایروپلین کو پھڑپھڑانے والے کبوتروں سے سخت صدمہ پہنچتا ہے اور پرندے جہاز کے پروپلر Propeller) ہوائی جہاز کے سامنے کا ایک آلہ) کو مس کرنا تو اور بھی خطرناک ہوگا۔ ان امور کے انسداد کے لیے یہ تجویز کیا گیا ہے کہ کبوتروں کو چھوڑتے وقت ان کا سر نیچے کی طرف کرکے کسی اتنی لمبی نالی میں سے چھوڑا جائے کہ جب تک یہ حیرت زدہ پرندہ سنبھل کر اڑنا شروع کرے اس وقت تک طیارہ ان سے بہت دور ہو جائے۔ اس تجویز کا آئندہ موسم سرما میں تجربہ کیا جائےگا۔ یہاں تک سائنٹفک امریکن کے مقالہ نگار کے مضمون کا ترجمہ تھا۔ بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہوگی کہ اس وقت تک یورپ کی ایک بڑی حکومت نامہ بر کبوتروں کی تعلیم و تربیت کا ایک ایسا باقاعدہ جنگی صیغہ رکھتی ہے اور جو فرانس اس عہد دخان و برق میں اپنے ہوائی طیارات سے شہرت حاصل کر چکا ہے۔ وہ ان قدرتی اڑنے والے نامہ بروں کی طرف سے بھی غافل نہیں ہے اور بہتر سے بہتر ہوائی جہاز بھی اسے کبوتروں سے بے نیاز نہ کر سکے ہیں۔ اس کے بعد ہم نامہ بر کبوتروں کی تاریخ گزشتہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور علی الخصوص اسلامی عہد کی ترقیات و انتظامات کو تذکرہ کریں گے، کیونکہ یہ فن بھی مسلمانوں کے عہد عروج کا کچھ کم ممنون نہیں ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81_%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%A8%D9%88%D8%AA%D8%B1%21"} {"title": "نامہ بر کہتا ہے اب لاتا ہوں دل بر کا جواب", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نامہ بر کہتا ہے اب لاتا ہوں دل بر کا جواب\nسن چکا میں چار دن آگے مقدر کا جواب\n\nشیخ ہو حق کر رہا ہے رات دن مستوں کے ساتھ\nآج کل ہے مے کدہ اللہ کے گھر کا جواب\n\nخلق کے اعمال نامے چھین لوں گا شہر میں\nگم ہوا ہے ہاتھ سے قاصد کے دلبر کا جواب\n\nغیر کی تعریف لکھی سارے خط میں اور مجھے\nیہ بھی لکھتے ہیں کہ لکھو میرے دفتر کا جواب\n\nلوگ کہتے ہیں بنا دلی بگڑ کر لکھنو\nپر کہاں اے داغؔ اس اجڑے ہوئے گھر کا جواب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81_%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D9%84%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8"} {"title": "نامۂ درد کو مرے لے کر", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "نامۂ درد کو مرے لے کر\nپاس جب یار کے گیا قاصد\nپڑھ کے کہنے لگا وہ سرنامہ\nکون سا یار ہے بتا قاصد\nجس نے بھیجا ہے تیرے ہاتھ یہ خط\nمیں نہیں اس سے آشنا قاصد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%82_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "نامۂ یار جو سحر پہونچا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نامۂ یار جو سحر پہونچا\nخوش رقم خوب وقت پر پہونچا\n\nتھا لکھا یوں کہ اے نظیرؔ اب تک\nکس سبب تو نہیں ادھر پہونچا\n\nمیں نے اس کو کہا کہ اے محبوب\nاس لیے میں نہیں ادھر پہونچا\n\nیوں سنا تھا تم آپی آتے ہو\nاس میں نامہ یہ پر گہر پہونچا\n\nمجھ کو پہونچا ہی جانو اپنے پاس\nآج کل شام یا سحر پہونچا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%82_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D9%BE%DB%81%D9%88%D9%86%DA%86%D8%A7"} {"title": "نامی پریس کانپورکی لٹریری خدمات", "poet_page": "مصنف:مہدی افادی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "پھر جگر کھودنے لگا ناخن\nسینہ جویائے زخم کاری ہے\n\nآج کل دو کتابیں سرعت کے ساتھ ’’نامی پریس‘‘ میں چھپ رہی ہیں، ایک تو یادش بخیر اس کی جدید تالیف جو آج ادبی حیثیت سے ہزارہا تربیت یافتہ دماغوں کا حکمران ہے، یعنی ’’مسلم شبلی‘‘ کی تقریظ مثنوی، دوسری ان کے خلیفۂ وقت، یعنی ’’مؤلف البرامکہ‘‘ کا نقش ثانی ہے، یعنی تذکرۂ نظام الملک طوسی جو سلسلۂ وزرائے اسلام کی دوسری جلد ہے۔\n\nمتعلق ان کتابوں پر تفصیلی نظر اس سلسلۂ مضامین کا موضوع خاص ہوگا جو آئندہ تالیفات جدیدہ کے عنوان سے البشیرمیں ملک کے ’’شریف تر لٹریچر‘‘ سے متعلق مستقلاً قائم کیا جائےگا، یہاں بالتحقیق یہ دکھلانا ہے کہ جس زمانہ سے سرسید نے لکھنے پڑھنے کو رواج دیا، یعنی ایک خاص طرح کا لٹریچر عالم وجود میں آیا، ساتھ ہی مرحوم کا یہ بھی خیال تھا کہ لٹریچر کی ترقی کے لیے ٹائپ کا رواج لازم سا ہے، یعنی وہ ملک میں روز افزوں دماغی ضروریات کے لحاظ سے پتھر کی گھس گھس کوپسندنہیں کرتے تھے، چنانچہ مطبوعات ’’سائٹفک سوسائٹی‘‘ وغیرہ کا بیشتر حصہ اور تہذیب الاخلاق کے پرچے ہمیشہ ٹائپ میں چھپے۔ رفتہ رفتہ علی گڑھ کی صدائے اصلی اور آواز ہائے بازگشت کا ایک اچھا خاصا مجموعہ تیار ہونے لگا۔ سال کے سال کانفرنس نے بھی لٹریچر میں مستقل اضافے شروع کیے، ان کے لیے کسی اضافی مگر خوش حیثیت پریس کی ضرورت تھی، اس تقریب سے مفید عام آگرہ منظر عام پر آیا اور لٹریری دنیا روشناس ہوئی۔\n\nعلی گڑھ لٹریچر کا زیادہ تر حصہ مفید عام نے شائع کیا ہے اور جن صاحبوں نے ابتدائی پاکیزہ مطبوعات اور آخر آخر میں تمدن عرب کے کے ٹھاٹھ دیکھے ہیں وہ اسے تسلیم کریں گے کہ اس ’’صوفیانہ پریس‘‘ نے شریف تر لٹریچر کی اشاعت میں جس قدر حصہ لیا ہے اس کے نتائج وسیع تاریخی حیثیت رکھتے ہیں، وہ نقوش جو ظاہراً پتھر سے کاغذ پر منتقل ہوتے رہے، آج اس لطیف دماغی سطح پر ہیں جو ہمیشہ ’’معلمان غیر ذی روح‘‘ کا تختۂ مشق رہی ہے، جس کے آثار اگر خصائص قومی، کوئی چیز ہیں تو رہتی دنیا تک مٹنے والے نہیں ۔\n\nمختصر یہ کہ سرسید اور ان کے لٹریری دائرہ نے کبھی اسے پسند نہیں کیا کہ ان کی تصنیفات کسی عامیانہ پریس کو دی جائیں، اس لیے صرف ’’مفید عام‘‘ سے واسطہ رکھا گیا، جس نے اپنے فرائض خود داری کے ساتھ ادا کئے، ورنہ ملک میں دوئم درجہ کے مطابع، آڑے ترچھے حاشیوں کے ساتھ ’’نسخۂ لاجواب مفید ہر شیخ و شاب‘‘ کے شائع کرنے والے کم نہیں ہیں، جہاں نری ’’مولویانہ تصنیفات‘‘ آئے دن ’’سیاہ وسفید‘‘ قالب اختیار کرتی رہتی ہیں۔\n\nایک حکیم کے خیال میں شائستگی کا خلاصہ یہ ہے کہ زندگی کے جتنے صیغے ہیں عملاً ان میں متناسب موزونیت ہو، یعنی شائستگی کا کوئی رکن کسی حیثیت سے چھوٹنے نہ پائے، یہ نہیں ہو سکتا کہ جہاں کوئی صاحب مغربی تہذیب اور لباس سے آراستہ پیراستہ ہیں، کبھی ایسا بھی ہواکہ ہوتے ساتے صرف ’’لنگوٹی‘‘ پر قناعت کی گئی ہو (میری غرض اس لفظ کے صرف اصطلاحی مفہوم سے ہے) شاید یہ ایک طرح کا بے ساختہ پن ہو، تاہم اس کے مکروہ ہونے میں تو شک نہیں لیکن ہم میں بڑے سے بڑاسفید پوش بھی اکثر ان اوصاف سے معرّا دیکھا جاتا ہے اور بے تمیزی ایک طرح کی سادگی سمجھی جاتی ہے۔\n\nبہر حال جس خاص موزونیت کی طرف میں آپ کو لے جانا چاہتا ہوں، اس کا اقتضائے طبعی یہ ہے کہ زندگی کی ہر شاخ میں متوازی اور مساوی ترقی کے آثار پائے جائیں یعنی بے تکاپن نہ ہو، اگر میں غلطی نہیں کرتا تو سرسید کے تمام افعال ارادی اور اضطراری میں اس اصول کی رعایت ملحوظ ہوتی تھی۔ جس طرح وسیع نظامات پر انہوں اپنے عظیم الشان تخیل کی بنیاد قائم کی تھی جس کے مادّی شواہد آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ یہی اہتمام وہ چھوٹی سے چھوٹی بات کے لیے کرتے تھے جو کالج یا اس کے متعلقات کا ایک جزو ہو سکتی تھی۔\n\nیہ ظاہر ہے کہ مرحوم کے بعد علی گڑھ لٹریچر میں بلحاظ وصف یا مقدار چنداں اضافہ نہیں ہوا، یہ اور بات ہے کہ کبھی ضرورت ہوئی تو پڑھے ہوئے سبق دہرا لئے گئے، تاہم اس نہیں نہیں پر بھی کچھ نہ کچھ مواد جمع ہوتا رہتا ہے، مگر یہ کس قدرافسوس کی بات ہے کہ وہ عموماً غیر وقیع مطابع کو دیا جاتا ہے جو آج کل ہر گلی کوچے میں حشرات الارض کی طرح نکل پڑے ہیں۔\n\nپچھلے چند سالوں کی کانفرنس کی رپورٹوں کو دیکھئے کتنی بُری چھپی ہیں جنہیں دیکھ کر نفرت ہوتی ہے ۔ خود سرسید کی ایک لائق قدر تصنیف ایک بازاری پریس سے ہوکر نکلی، یہ ’’لنگوٹی‘‘ نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ امور کتنے ہی رکیک ہوں تاہم ایسے خاصان قوم کے اصلی مذاق کی ایک حد تک غمازی تو ہوتی ہے۔ مجھے اصرار ہے کہ ’’علی گڑھ لٹریچر‘‘ کو بلا استثناء اول درجہ کے پریس میں چھپنا چاہیے، موجودہ پالیسی لائق اصلاح ہے اور شاید اسی کا اثر ہے کہ ’’مفید عام‘‘ کی لطافت اور صفائی میں بھی ایک طرح کا انحطاط شروع ہوگیا ہے، یعنی وہ پہلی سی بات نہیں، قاعدہ ہے بازار میں زیادہ تر وہی چیز آتی ہے جس کی عموماً مانگ ہوتی ہے۔\n\nلیکن میں نہایت خوش ہوں کہ آج کل ایک ’’شریف پریس‘‘ ملک کے ’’شریف تر لٹریچر‘‘ کے لیے وقف خاص ہو رہا ہے اور اپنے طرز عمل سے ثابت کرتا جاتا ہے کہ بیسویں صدی کے اختراعات کے ساتھ ہی ’’لیتھوگراف‘‘ کے صنعتی تصرفات ایسے نہیں ہیں جن سے ایک منٹ کے لیے بھی دست بردار ہونا ممکن ہے، مضطرب یورپ کی عاجلانہ ضرورتیں صرف ٹائپ کی سرعت رفتار سے پوری ہو سکتی ہیں، لیکن وہاں بھی تزئین و آرائش کے موقعوں پر لیتھوگراف کی ضرورت ہوتی ہے، گوطریقہ کارروائی کسی قدر مختلف ہو، ہم کو نامی پریس کا ممنون ہونا چاہیے کہ وہ ایسے زمانہ میں جب کسی چیز کی اچھائی کا اندازہ اس کے اوصاف سے نہیں بلکہ سستے داموں سے کیا جاتا ہے، قیمتی لٹریچر کے اجزائے زرّیں غیر معمولی نفاست و پاکیزگی سے پیش کرتا رہتا ہے، اور غالباً وہ اس حثییت سے تمام مشرق میں منفرد ہے ۔\n\nملک میں آج پانوں کے ولایتی جوڑوں پر معمولاً ایک اشرفی صرف کرنے والے تو بہیترے ہیں، لیکن اس وضع دار جماعت میں کتنے ایسے ہیں جو بالالتزام نامی پریس کی شائع کردہ ’’جلد ہائے خاصہ‘‘ کی خریداری کو حفظ مرتبت کا ایک ضروری جزو سمجھتے ہوں، بہرحال سچی وقعت کی کمی سے لٹریچرکی کتنی ہی کساد بازاری ہو، تا ہم نامی پریس اصولاً جرمنی نہیں، بلکہ انگلش ہے، یعنی اس کی پیداوار آخور کی بھرتی نہیں ہوتی بلکہ جو چیز ہے ٹکسالی اور آپ اپنی نظیر ہے۔\n\nاس وقت تک اس پریس سے جتنی لائق ذکر تصنیفات نکل چکی ہیں، ان کی تفصیل غالباً یہ ہے۔ (۱)الفاروق (۲) البرامکہ (۳) حیات جاوید (۴) رباعیات حالی (۵) الغزالی (۶) الکلام (۷) دیوان شبلی\n\nبعض جزئیات کی تصریح خاص لٹریری مقاصد کے لحاظ سے ناگزیر سی ہے، اس لیے میں بتانا چاہتا ہوں کہ ’’الغزالی‘‘ کی جلد خاصہ کے لیے جو کاغذ استعمال کیا گیا ہے، غالباً اس سے پہلے ملک کی کسی تصنیف کو اتنا قیمتی کاغذ نصیب نہیں ہوا، کم وبیش یہی حال اور کتابوں کا بھی ہے۔ خطّاطی اور چھپائی ایک سے ایک بڑھ کر، بس یہ معلوم ہوتا ہے سنگ مرمر پر سنگ اسود کی پچی کاری کی گئی ہے۔ یورپ میں ’’بیسکرول‘‘ بہترین ساخت کا کاغذ سمجھا جاتا ہے جس کی کتابی تقطیع کے ایک کوائر یعنی۱۲۰ تختوں کی قیمت گیارہ روپے ہوتی ہے، لیکن نامی پریس نے حال میں ایک کاغذ منگوایا ہے جو ’’بیسکرول‘‘ کی طرح برف سا سفید اور نہایت چکنا او ر لطائف میں اس سے بڑھا ہوا ہے، یعنی ہلکا ہے اور لاگت میں تو نسبتاً کچھ نہیں۔ ’’الکلام‘‘ اور ’’دیوان شبلی‘‘ قسم اول میں یہی کاغذ لگایا گیا ہے، اور اسی پر تالیفات موعودکی جن کا ذکر شروع میں آ چکا ہے، جلد خاصہ چھپ رہی ہے۔ ناظرین قبل از وقت درخواستیں بھیج کر ایک ایک جلد اپنے لیے محفوظ کرا سکتے ہیں۔\n\nتالیفات متذکرہ کے علاوہ دوکتابیں اور ہیں جو منشی رحمت اللہ رعدؔ نے خاص اہتمام سے اپنی ایڈیٹری میں شائع کی ہیں ۔\n\nیعنی ’’دیوان حافظ‘‘ اور ’’آثار الصنادید‘‘ اور یہ ایک ایسی مفید جدت ہے جس کی طرف ملک کے اور لائق اصحاب کو بھی متوجہ ہونا چاہیے، آج جو لوگ مستقل تصنیفات کے مالک ہیں، ان میں وقیع تراجم کا بالکل رواج نہیں ہے، اور اس کا تو خیال بھی کسی کو نہیں آتا کہ کوئی قدیم تصنیف محققانہ نوٹ و حواشی کے ساتھ شائع کی جائے، اور گو یورپ کی مستشرقیت کا اعتراف نہایت فیاضانہ الفاظ میں کیا جاتاہے، لیکن وہاں کے نمونوں کی پیروی کا خیال، تفکر بالقوہ سے آگے نہیں بڑھتا۔ یہ بھی لٹریچر کی حق تلفی کا ایک پیرایہ ہے جو ناقدردان سخن کے ہاتھوں ہوتی رہتی ہے، بہرحال ہم رعدؔ کے ممنوع ہیں کہ انہوں نے ایک جدید پیش قدمی کی۔\n\nابھی مجھے یہ دکھانا باقی ہے کہ عموماً کتابوں کی لوح یعنی ’’سرورق‘‘ کے آرائشی تکلفات رعدؔ کی نازک خیالی اور ایجاد پسند طبیعت کا بہترین مرقع ہوتے ہیں۔ ’’آرٹ‘‘ کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ اپنے تصرفات کے سلسلہ میں نیچر سے قریب ومتماثل ہوتا جائے۔ رعدؔ اس نکتہ کو خوب سمجھتے ہیں، اور سچ یہ ہے کہ فنون لطیفہ کی جس شاخ کو انہوں نے اپنی جدت اختراع اور صنعت آرائیوں سے چمکایا ہے، وہ ان کو من حیث الفن، اختصاصی (اسپشلسٹ) ثابت کرتی ہے اور یہ خود ایک کمال ہے۔\n\nبعضوں کا خیال ہے کہ مسلمانوں میں کسی حد تک ارتقاء عقلی شروع ہو گیا ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو تھوڑی دیر کے لیے ہم دل خوش کرنے کو مانے لیتے ہیں کہ موجودہ دور (جس میں ’’تقریظ مثنوی‘‘ اور ’’نظام الملک طوسی‘‘ کی لائف عنقریب عالم محسوسات میں قدم رکھنے والی ہیں ) دماغی حیثیت سے اس وقت کے گئے گزرے مسلمانوں کا ’’نشاۃ الشانیہ‘‘ ہے، اس خیال کے ساتھ ہی وہ ’’ادب العالیہ‘‘ یعنی’’کلاسیکی‘‘ مجموعۂ زریں پیش نظر ہو گیا جسے ’’نامی پریس‘‘ نے وقتاً فوقتاً شائع کیا ہے۔ ان مکلف اور خوبصورت جلدوں کو ایک جگہ رکھ کر دیکھئے کیا یہ کسی مٹی ہوئی قوم کے عقلی آثار ہیں؟ ہرگز نہیں ! یہ صحائف زرنگا ر تو کچھ اور کہہ رہے ہیں، ان کی ایک ایک جلد مطبع سے براہ راست ’’برٹش میوزیم‘‘ انڈیا آفس پیرس کے کتب خانۂ عامہ اور اردو لٹریچر کے پروفیسر ’’گارسن ڈی ٹاسی کے پاس ہدیۃ بھیجنی تھیں، یعنی دنیا کے اور فائق تر لٹریچر کے دائرہ میں ان کو داخل کرنا تھا، فضل وکمال کے ساتھ صنعت کے عمدہ ترین نمونے تھے، جو یورپ میں علمی نمائش کی حیثیت سے پیش کئے جا سکتے تھے۔\n\nہاں ایک بات اور یاد آئی۔ آرٹسٹ رعدؔ کے دست صنعت کی موشگافیاں اس وقت تک طلائی اور نقرئی مینا کاری اور مختلف قسم کی نازک رنگ آمیزیوں سے آگے نہیں بڑھیں، اس میں بھی کسی حاشیہ کی بیل کے لیے وہ نمونہ کا م میں نہیں لایا گیا، جسے اصطلاح میں ’’کلید یونانی‘‘ کہتے ہیں، اور جو قدامت کے لحاظ سے ایک کلاسیکل چیز ہے۔\n\nمیری خواہش تھی کسی موقع پر صرف سادگی سے آرائش کا کام لیا جائے۔ ایک جدید طریقہ یہ ہے کہ حاشیہ کی درمیانی سطح یعنی پلیٹ کو دبا کر حروف ابھارے جاتے ہیں، جس کے لیے کسی رنگ کی ضرورت نہیں، سطح کا نشیب وفراز اور کوئی خاص خیال جو نقوش میں ظاہر کیا گیا ہو، بجائے خود ایک لطیف صنعت ہے۔ اس کے لیے وہ طریقہ اختیار کرنا ہوگا جو ریلیف اور ہاف ٹاؤن پروسس میں برتا جاتا ہے، یہ خیال کافی طور پر الفاظ ادا نہیں ہو سکتا، مغربی نمونے رہبری کریں گے۔\n\nدیوانِ شبلی کی لوح نے ترکوں کی معاشرت کی جدت کو دبایا، لیکن رعدؔ اس بڑھاپے میں ابھار کہاں سے لاتے، نتیجہ یہ ہوا کہ حروف سپاٹ رہے۔\n\nآخر میں حضرت رعدؔ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ موجودہ بے چین زندگی کے حوائج کو دیکھتے ’’دیر آید درست آید‘‘ ایک بے معنی سا فقرہ ہے۔ اکسپریس میں اڑنے والے (چھکڑے تو مدت ہوئی متروک ہو چکے ہیں) مسافر گاڑیوں میں سفر کرنا بھی بلا ئے جان سمجھتے ہیں، آپ کی ’’کل‘‘ خیام کی ’’فردائے دیروز‘‘ یعنی آج سے بدل جاتی تو اچھا تھا، آخر انتظار کی کوئی حد بھی ہے، مولانا روم اور نظام الملک طوسی سے جلد ملائیے تو احسان ہوگا۔\n\nیہ بسیط اظہار خیال ایک مستقل عنوان کے تحت میں غالباً بعض صاحبوں کی رائے میں ایک بے جوڑ سی بات ہوگی، لیکن دنیا میں آج ذرّے بھی سالمات ہو رہے ہیں، اور کوئی ایسی چیز موجود فی الخارج نہیں ہے جس سے نظام کائنات کو کچھ نہ کچھ مدد نہ ملتی ہو، نامی پریس چونکہ بواسطہ ملک کی دماغی ترقی کا کفیل ہے، ضرورت تھی کہ لٹریری گروہ کی طرف سے قومی اخبار میں اس کے مساعی جمیلہ کا کوئی اعتراف نہ سہی، ایک مرتبہ ذکر تو آ جائے۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B3_%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%BE%D9%88%D8%B1%DA%A9%DB%8C_%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AE%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%AA"} {"title": "نامی ہوئے بے نشان ہونے کے لیے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "نامی ہوئے بے نشان ہونے کے لیے\nافسانہ ہوئے بیان ہونے کے لیے\nکی موت قبول خواہش جنت میں\nہم پیر ہوئے جوان ہونے کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "نانک", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "قوم نے پیغامِ گوتم کی ذرا پروا نہ کی\nقدر پہچانی نہ اپنے گوہرِ یک دانہ کی\n\nآہ! بد قسمت رہے آوازِ حق سے بے خبر\nغافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجر\n\nآشکار اُس نے کِیا جو زندگی کا راز تھا\nہند کو لیکن خیالی فلسفے پر ناز تھا\n\nشمعِ حق سے جو منّور ہو یہ وہ محفل نہ تھی\nبارشِ رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھی\n\nآہ! شُودر کے لیے ہندوستاں غم خانہ ہے\nدردِ انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے\n\nبرہَمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میں\nشمعِ گوتم جل رہی ہے محفلِ اغیار میں\n\nبُت کدہ پھر بعد مُدّت کے مگر روشن ہُوا\nنُورِ ابراہیمؑ سے آزر کا گھر روشن ہُوا\n\nپھر اُٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے\nہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%86%DA%A9"} {"title": "ناوک کہیں سناں کہیں تلوار کیا کہیں", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ناوک کہیں سناں کہیں تلوار کیا کہیں\nتو ہی بتا تجھے نگۂ یار کیا کہیں\n\nشکوہ نہ دام کا ہے نہ صیاد کا گلہ\nہم آپ ہو گئے ہیں گرفتار کیا کہیں\n\nاظہار حال زار کا ایسوں سے فائدہ\nآزار دل کا تجھ سے دل آزار کیا کہیں\n\nکرتے ہیں واعظ آپ مذمت شراب کی\nکہتے ہیں کیا جناب کو مے خوار کیا کہیں\n\nایسوں سے ترک مے کا مبارکؔ سوال کیا\nتوبہ کی تجھ سے رند قدح خوار کیا کہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D9%88%DA%A9_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخسار", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخسار\nدین و دل و ہوش لے گئے وہ یکبار\nآئے نہ دوبارہ کیوں کر آئیں کیوں آئیں\nسچ ہے کہ تجلی کو نہیں ہے تکرار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1"} {"title": "نایاب ہے سکون دل بے قرار میں", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نایاب ہے سکون دل بے قرار میں\nبسمل کی ہے تڑپ مرے کنج مزار میں\n\nگلزار دہر میں چمن بے خزاں ہوں میں\nلالے کا رنگ ہے جگر داغ دار میں\n\nکانٹا ملا ہے گونج کا زلفوں کا جال ہے\nبالی کی مچھلی ہاتھ لگی ہے شکار میں\n\nنو لاکھ کی جبھی ہوئی قیمت اسے نصیب\nموتی تھے میرے آبلوں کے ان کے ہار میں\n\nایام عیش میں رخ دولت سے ہے الگ\nافسوس پر ہمارے کٹے ہیں بہار میں\n\nجب سے اڑی ہے خاک الم رشک ماہتاب\nاک آسمان اور ہے میرے غبار میں\n\nدھوئی ہوئی ہے دودھ سے تیری زبان صاف\nاخترؔ تو ہی ہے شاعروں کے اعتبار میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%B3%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا\nادھر سے کیا نہ ہوا پر ادھر سے کچھ نہ ہوا\n\nجواب صاف تو لاتا اگر نہ لاتا خط\nلکھا نصیب کا جو نامہ بر سے کچھ نہ ہوا\n\nہمیشہ فتنے ہی برپا کیے مرے سر پر\nہوا یہ اور تو اس فتنہ گر سے کچھ نہ ہوا\n\nبلا سے گریۂ شب تو ہی کچھ اثر کرتا\nاگرچہ عشق میں آہ سحر سے کچھ نہ ہوا\n\nجلا جلا کے کیا شمع ساں تمام مجھے\nبس اور تو مجھے سوز جگر سے کچھ نہ ہوا\n\nرہیں عدو سے وہی گرم جوشیاں اس کی\nاس آہ سرد اور اس چشم تر سے کچھ نہ ہوا\n\nاٹھایا عشق میں کیا کیا نہ درد سر میں نے\nحصول پر مجھے اس درد سر سے کچھ نہ ہوا\n\nشب وصال میں بھی میری جان کو آرام\nعزیزو درد جدائی کے ڈر سے کچھ نہ ہوا\n\nنہ دوں گا دل اسے میں یہ ہمیشہ کہتا تھا\nوہ آج لے ہی گیا اور ظفرؔ سے کچھ نہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%A8%D8%A7%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%AD%DB%8C%D9%84%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "نت جی ہی جی میں عشق کے صدمے اٹھائیو", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نت جی ہی جی میں عشق کے صدمے اٹھائیو\nشکوے کی بات منہ پہ ہوسؔ تم نہ لائیو\n\nشوق ان دنوں ہوا ہے اسے داستان کا\nیارو کوئی مری بھی کہانی سنائیو\n\nرہنے دے میری خاک تو اس در پہ اے صبا\nمشت غبار خستہ‌ دلاں مت اٹھائیو\n\nجی کو یقیں ہے حشر میں ڈھونڈوں‌ گا میں تجھے\nظالم وہاں تو مجھ سے نہ مکھڑا چھپائیو\n\nاس میں زیاں ہے جان کا سنتا ہے اے ہوسؔ\nزنہار بار عشق نہ سر پر اٹھائیو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%AA_%D8%AC%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%B5%D8%AF%D9%85%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%88"} {"title": "نتیجہ کیوں کر اچھا ہو نہ ہو جب تک عمل اچھا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نتیجہ کیوں کر اچھا ہو نہ ہو جب تک عمل اچھا\nنہیں بویا ہے تخم اچھا تو کب پاؤ گے پھل اچھا\n\nکرو مت آج کل حضرت برائی کو ابھی چھوڑو\nنہیں جو کام اچھا وہ نہ آج اچھا نہ کل اچھا\n\nبرے کو تگ بھی کرنے اور توقع نیک نامی کی\nدماغ اپنا سنوارو تم نہیں ہے یہ خلل اچھا\n\nجو ہو جائے خطا کوئی کہ آخر آدمی ہو تم\nتو جتنا جلد ممکن ہو کرو اس کا بدل اچھا\n\nکرے جو پاؤں بد راہی تو سونا اس کا بہتر ہے\nنہ ہو جس ہاتھ سے نیکی تو ایسا ہاتھ شل اچھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%AA%DB%8C%D8%AC%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%B9%D9%85%D9%84_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7"} {"title": "نثار اس پر نہ ہونے سے نہ تنگ آیا نہ عار آئی", "poet_page": "مصنف:کیفی حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نثار اس پر نہ ہونے سے نہ تنگ آیا نہ عار آئی\nمرے کس کام آخر زندگئ مستعار آئی\n\nیہیں دیکھا کہ غلبہ ایک کو ہوتا ہے لاکھوں پر\nطبیعت ایک بار آئی ندامت لاکھ بار آئی\n\nترے دل سے ترے لب تک تری آنکھوں سے مژگاں تک\nمحبت بے قرار آئی مروت شرمسار آئی\n\nشراب عشق سے کرنے کو تھا توبہ کہ یار آیا\nمرے آڑے یہ نیکی کب کی اے پروردگار آئی\n\nدل محزوں کی آہیں مست کرتی ہیں مجھے کیفیؔ\nکہ جب لی سانس میں نے مجھ کو بوئے زلف یار آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "نثار شمع ہونے بزم میں پروانہ آ پہنچا", "poet_page": "مصنف:پیارے لال رونق دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نثار شمع ہونے بزم میں پروانہ آ پہنچا\nقریب منزل دیوانگی دیوانہ آ پہنچا\n\nترانے حمد کے گلشن میں برگ گل سے سنتا ہوں\nزبان غنچہ پہ کیوں کر ترا افسانہ آ پہنچا\n\nاسے کہتے ہیں مل کر خاک میں اکسیر ہو جانا\nہوا سر سبز وہ زیر زمیں جو دانہ آ پہنچا\n\nسفر اس بزم سے کرنے کو پھر رجعت کی ٹھانی ہے\nگلے پھر آج ملنے شمع سے پروانہ آ پہنچا\n\nرقم ہے داستان عشق بلبل پتے پتے پر\nگلوں تک کس طرح گلشن میں یہ افسانہ آ پہنچا\n\nکھنچی تھی کیا تری تصویر ترکیب عناصر سے\nکہ مشت خاک میں انداز معشوقانہ آ پہنچا\n\nپرستار صنم ہو کر جو ڈھونڈی راہ کعبہ کی\nقدم بہکا ہوا اپنا سر مے خانہ آ پہنچا\n\nبنیں گے آج پھر سرمست صہبائے سخن رونقؔ\nقدم پھر اپنا قرب محفل رندانہ آ پہنچا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A2_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7"} {"title": "نخل امید میں ثمر آیا", "poet_page": "مصنف:منشی شیو پرشاد وہبی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وہبی (1870)", "year": "1870", "text_ur": "نخل امید میں ثمر آیا\nحسن ان کا مراد پر آیا\n\nقصد کعبہ تھا دیر میں پہونچا\nکس طرف دھیان تھا کدھر آیا\n\nرویا میں یاد یار میں جب جب\nسیل اشکوں کا تا کمر آیا\n\nواسطہ گو دیا پیمبر کا\nنہ مرا پھر کے نامہ بر آیا\n\nکر دیا کشتہ چرخ نے لیکن\nنہ بغل میں وہ سیم بر آیا\n\nخوب دیکھا مگر سوا تیرے\nنہ کوئی دوسرا نظر آیا\n\nجان دی ہم نے درد فرقت سے\nنہ خبر کو وہ بے خبر آیا\n\nصبح کی ہم نے تارے گن گن کر\nپر وہ مہ رو نہ رات بھر آیا\n\nکٹ گئی باتوں ہی میں وصل کی رات\nمدعا دل کا کچھ نہ بر آیا\n\nجب دیا اس نے بھر کے غیر کو جام\nخون آنکھوں میں میری بھر آیا\n\nہو گئی شرم مانع وصلت\nرحم بھی ان کو مجھ پہ گر آیا\n\nنظر چرخ سے گرا خورشید\nمہوش اپنا جو بام پر آیا\n\nاپنے دل میں یہ سوچ لو وہبیؔ\nجان جائے گی دل اگر آیا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%AE%D9%84_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AB%D9%85%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نخل لالے جا جب زمیں سے اٹھا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نخل لالے جا جب زمیں سے اٹھا\nشعلہ اک دو وجب زمیں سے اٹھا\n\nتو جو کل خاک کشتگاں سے گیا\nشور اس دم عجب زمیں سے اٹھا\n\nبیٹھے بیٹھے جو ہو گیا وہ کھڑا\nاک ستارہ سا شب زمیں سے اٹھا\n\nقد وہ بوٹا سا دیکھ کہتی ہے خلق\nیہ تو پودا عجب زمیں سے اٹھا\n\nتشنہ صہبائے وصل کا تیری\nحشر کو خشک لب زمیں سے اٹھا\n\nبیٹھ کر اٹھ گیا جہاں وہ شوخ\nفتنہ واں جب نہ تب زمیں سے اٹھا\n\nسوچتا کیا ہے دیکھ دیکھ اسے\nبن اٹھائے وہ کب زمیں سے اٹھا\n\nتھی قضا یوں ہی تیرے کشتے کی\nلاش کو اس کی اب زمیں سے اٹھا\n\nگل نہیں مصحفیؔ کا دل ہے یہ\nاس کو اے بے ادب زمیں سے اٹھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%AE%D9%84_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "نخوت حسن پسند آئی ہے دیوانے کو", "poet_page": "مصنف:وحید الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نخوت حسن پسند آئی ہے دیوانے کو\nسرکشی شمع کی منظور ہے پروانے کو\n\nدیکھیے کون سی جا یار کا ملتا ہے پتہ\nکوئی کعبے کو چلا ہے کوئی بت خانے کو\n\nتیری فرقت میں تصور ہے یہ بے دردی کا\nخواب ہم جانتے ہیں نیند کے آ جانے کو\n\nکام آ جاتی ہے ہم بزمی بھی روشن دل کی\nشمع ہم رنگ بنا لیتی ہے پروانے کو\n\nگل پہ بلبل تھا کہیں شمع پہ پروانہ تھا\nہم نے ہر رنگ میں دیکھا ترے دیوانے کو\n\nوا شد دل نہ ہوئی غنچۂ خاطر نہ کھلا\nکون سے باغ میں آئے تھے ہوا کھانے کو\n\nمیں نے جب وادئ غربت میں قدم رکھا تھا\nدور تک یاد وطن آئی تھی سمجھانے کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%AE%D9%88%D8%AA_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88"} {"title": "ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کو", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کو\nملا ہمدم یہاں کوئی نہ کوئی ہم زباں مجھ کو\n\nدکھائے جا روانی توسن عمر رواں مجھ کو\nہلال برق سے رکھ ہم رکاب و ہم عناں مجھ کو\n\nبنایا ناتوانی نے سلیمان زماں مجھ کو\nاڑا کر لے چلے موج نسیم بوستاں مجھ کو\n\nدم صبح ازل سے میں نوا سنجوں میں ہوں تیرے\nبتایا بلبل سدرہ نے انداز فغاں مجھ کو\n\nمری باتوں میں کیا معلوم کب سوئے وہ کب جاگے\nسرے سے اس لیے کہنی پڑی پھر داستاں مجھ کو\n\nبہا کر قافلہ سے دور جسم زار کو پھینکا\nکہ موج سیل تھی بانگ درائے کارواں مجھ کو\n\nیہ دل کی بے قراری خاک ہو کر بھی نہ جائے گی\nسناتی ہے لب ساحل سے یہ ریگ رواں مجھ کو\n\nاڑائی خاک جس صحرا میں تیرے واسطے میں نے\nتھکا ماندہ ملا ان منزلوں میں آسماں مجھ کو\n\nتصور شمع کا جس کو جلا دے ہوں وہ پروانہ\nلگ اٹھی آگ دل میں جب نظر آیا دھواں مجھ کو\n\nوہ جس عالم میں جا پہنچا وہاں میں کس طرح جاؤں\nہوا دل آپ سے باہر پنہا کر بیڑیاں مجھ کو\n\nغبار راہ سے اے نظمؔ یہ آواز آتی ہے\nگئی اے عمر رفتہ تو کدھر پھینکا کہاں مجھ کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "ندی کے اس پار کھڑا اک پیڑ اکیلا", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ندی کے اس پار کھڑا اک پیڑ اکیلا\nدیکھ رہا ہے ان جانے لوگوں کا ریلا\n\nیوں تیری انجان جوانی راہ میں آئی\nجیسے تو بچپن سے میرے ساتھ نہ کھیلا\n\nجنگل کے سناٹے سے کچھ نسبت تو ہے\nشہر کے ہنگامے میں پھرتا کون اکیلا\n\nپہلی آگ ابھی تک ہے رگ رگ میں باقیؔ\nسنتے ہیں کل پھر گاؤں میں ہوگا میلہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%DA%91%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D9%BE%DB%8C%DA%91_%D8%A7%DA%A9%DB%8C%D9%84%D8%A7"} {"title": "ندیم باغ میں جوش نمو کی بات نہ کر", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ندیم باغ میں جوش نمو کی بات نہ کر\nبہار آ تو گئی رنگ و بو کی بات نہ کر\n\nعجیب بھول بھلیاں ہے شاہراہ حیات\nبھٹکنے والے یہاں جستجو کی بات نہ کر\n\nتباہ کر نہ مذاق جنوں کی خودداری\nدل تباہ کسی تند خو کی بات نہ کر\n\nخود اپنے طرز عمل کو سنوار اور سنوار\nمرے رفیق طریق عدو کی بات نہ کر\n\nگریز حسن کو انداز حسن کہتے ہیں\nنظر سے دیکھ مگر خوبرو کی بات نہ کر\n\nیہ برق حسن جلاتی تو ہے مگر ناصح\nوہ اور شے ہے مرے شعلہ خو کی بات نہ کر\n\nیہ میکدے کی فضا کہہ رہی ہے اے اخترؔ\nکہ تشنگی میں بھی جام و سبو کی بات نہ کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%AF%DB%8C%D9%85_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%86%D9%85%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "نذر خالدہ", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دل مسرت کی فراوانی سے دیوانہ ہے آج\nدیکھنا یہ کون آخر زیب کاشانہ ہے آج\n\nکیف صہبائے ترب میں غرق میخانہ ہے آج\nہر شجر ساقی مے ہر پھول پیمانہ ہے آج\n\nغنچہ و گل تھے یہی لیکن یہ رعنائی نہ تھی\nاس گلستاں میں بہار اس دھوم سے آئی نہ تھی\n\nنرگس مخمور ہے لذت کش خواب نشاط\nپھوٹ نکلا ہے گل نسریں سے سیلاب نشاط\n\nاہل محفل کے لئے مشکل ہے اب تاب نشاط\nآج پیمانوں سے چھلکے گی مے ناب نشاط\n\nپرفشاں ہے جذب پنہاں ابھرنے کے لئے\nمضطرب ہے ذرہ ذرہ رقص کرنے کے لئے\n\nپھر ادھر آئے نہ آئے یہ شمیم جاں فزا\nپھر میسر ہو نہ ہو ایسا سماں ایسی ہوا\n\nچھیڑ اس انداز سے اے مطرب رنگیں نوا\nٹوٹ جائے آج اک اک تار تیرے ساز کا\n\nذکر جس کا زہرہ و پروین کے کاشانے میں ہے\nوہ صنم بھی آج اپنے ہی صنم خانے میں ہے\n\nخالدہ تو ہے بہشت ترکمانی کی بہار\nتیری پیشانی پہ نور حریت آئینہ کار\n\nتیرے رخ سے پرتو معصوم مریم آشکار\nتیرے جلوؤں کی صباحت سے فرشتے شرمسار\n\nگل پشیماں قلب بلبل رشک سے دو نیم ہے\nتیری باتوں میں خمار کوثر و تسنیم ہیں\n\nیوں تو ہم ہر شمع علم و فن کے پروانے رہے\nیہ حقیقت ہے کہ ہم تیرے بھی دیوانے رہے\n\nمدتوں اپنی زباں پر تیرے افسانے رہے\nتو رہی بیگانہ لیکن ہم نہ بیگانے رہے\n\nیاد تیری اک زمانے سے ہماری دل میں تھی\nتو یہاں آنے سے پہلے بھی اسی محفل میں تھی\n\nشوق کی شورش جمال و نور کا سیلاب ہے\nہر کلی ساز طرب ہے ہر نظر مضراب ہے\n\nآنکھ حیراں روح ارباب-وفا بیتاب ہے\nیہ ہمارے خواب کی تعبیر ہے یہ خواب ہے\n\nلالہ و گل کیا چمن بھی تیرے قدموں پر نثار\nیہ گہر ہائے سخن بھی تیرے قدموں پر نثار\n\nاے مقدس حور اے پروردہ موج نسیم\nروح عشرت گاہ ساحل جان طوفان عظیم\n\nتو نے ترکوں کو دکھائی ہے صراط مستقیم\nپھونک ڈالے ہیں تعصب کے حجابات قدیم\n\nضعف دکھلائی ہے جب بھی فطرت احرار نے\nآگ برسا دی ہے تیرے نطق گوہر بار نے\n\nرہ چکی ہے ہاتھ میں تیرے وہ تیغ بے نیام\nجس کی جنبش نے بدل ڈالا حکومت کا نظام\n\nترک افتادہ کو تو نے ہی دیا اذن خرام\nتیرے ہی ہاتھوں نے چھلکائے ہیں آزادی کے جام\n\nتو نے جو احساں کیا ہیں ملت احرار پر\nنقش ہیں اب تک سنورنا کے در و دیوار پر\n\nہاں بتا دے ہم کو بھی اے روح ارباب نیاز\nکس طرح مٹتا ہے آخر رنگ و خوں کا امتیاز\n\nدل پہ کیوں کر فاش ہو جاتے ہیں آزادی کے راز\nچھیڑتے ہیں کس طرح محفل میں بیداری کا ساز\n\nتیری آنکھوں میں سرور عشرت جمہور ہے\nآہ یہ جوہر ہماری دسترس سے دور ہے\n\nمحرم درد و مسرت راز دار صبح و شام\nمحفل فطرت کی خموشی ہے تجھ سے ہم کلام\n\nتیری ہستی آسمان ترک کا ماہ تمام\nتو محبت ہر نفس تیرا محبت کا پیام\n\nگلشن محفل میں مانند سدا آئی ہے تو\nصبح روشن کا پیام جاں فزا لائی ہے تو\n\nقربت گل کس قدر جاں بخش ہے خاروں سے پوچھ\nچاند کی تنویر میں کیا لطف ہے تاروں سے پوچھ\n\nنشۂ صہبا میں کیا لذت ہے مے خاروں سے پوچھ\nچارہ سازی میں مزہ کیا کیا ہے بیماروں سے پوچھ\n\nروح و دل کو جگمگا دے جلوہ آرائی تری\nکم سے کم اتنا تو کر جائے مسیحائی تری\n\nکوئی دم میں اس گلستاں سے نکلنا ہے ہمیں\nفرش گل سے دور انگاروں پے چلنا ہے ہمیں\n\nخار زار غم کو پیروں سے کچلنا ہے ہمیں\nجادۂ منزل میں گرنا ہے سنبھلنا ہے ہمیں\n\nدرس ایسا دے کے دل آزردۂ منزل نہ ہو\nفکر لا حاصل نہ ہو اندیشۂ باطل نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B0%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%81"} {"title": "نذر دل", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اپنے دل کو دونوں عالم سے اٹھا سکتا ہوں میں\nکیا سمجھتی ہو کہ تم کو بھی بھلا سکتا ہوں میں\n\nکون تم سے چھین سکتا ہے مجھے کیا وہم ہے\nخود زلیخا سے بھی تو دامن بچا سکتا ہوں میں\n\nدل میں تم پیدا کرو پہلے مری سی جرأتیں\nاور پھر دیکھو کہ تم کو کیا بنا سکتا ہوں میں\n\nدفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو\nاور تم چاہو تو افسانہ بنا سکتا ہوں میں\n\nمیں قسم کھاتا ہوں اپنے نطق کے اعجاز کی\nتم کو بزم ماہ و انجم میں بٹھا سکتا ہوں میں\n\nسر پہ رکھ سکتا ہوں تاج کشور نورانیاں\nمحفل خورشید کو نیچا دکھا سکتا ہوں میں\n\nمیں بہت سرکش ہوں لیکن اک تمہارے واسطے\nدل بجھا سکتا ہوں میں آنکھیں بچا سکتا ہوں میں\n\nتم اگر روٹھو تو اک تم کو منانے کے لئے\nگیت گا سکتا ہوں میں آنسو بہا سکتا ہوں میں\n\nجذب ہے دل میں مرے دونوں جہاں کا سوز و ساز\nبربط فطرت کا ہر نغمہ سنا سکتا ہوں میں\n\nتم سمجھتی ہو کہ ہیں پردے بہت سے درمیاں\nمیں یہ کہتا ہوں کہ ہر پردہ اٹھا سکتا ہوں میں\n\nتم کہ بن سکتی ہو ہر محفل میں فردوس نظر\nمجھ کو یہ دعویٰ کہ ہر محفل پہ چھا سکتا ہوں میں\n\nآؤ مل کر انقلاب تازہ تر پیدا کریں\nدہر پر اس طرح چھا جائیں کہ سب دیکھا کریں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B0%D8%B1_%D8%AF%D9%84"} {"title": "نذر دیں نفس کش کو دنیا دار", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "نذر دیں نفس کش کو دنیا دار\nواہ کیا تیری کارسازی ہے\nسچ کہا ہے کسی نے یہ اے ذوقؔ\nمال موذی نصیب غازی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B0%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%81%D8%B3_%DA%A9%D8%B4_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D8%B1"} {"title": "نذر علی گڑھ", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سرشار نگاہ نرگس ہوں پا بستۂ گیسوئے سنبل ہوں\nیہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوں\nہر آن یہاں صہبائے کہن اک ساغر نو میں ڈھلتی ہے\nکلیوں سے حسن ٹپکتا ہے پھولوں سے جوانی ابلتی ہے\nجو طاق حرم میں روشن ہے وہ شمع یہاں بھی جلتی ہے\nاس دشت کے گوشے گوشے سے اک جوئے حیات ابلتی ہے\nاسلام کے اس بت خانے میں اصنام بھی ہیں اور آذر بھی\nتہذیب کے اس مے خانے میں شمشیر بھی ہے اور ساغر بھی\nیاں حسن کی برق چمکتی ہے یاں نور کی بارش ہوتی ہے\nہر آہ یہاں اک نغمہ ہے ہر اشک یہاں اک موتی ہے\nہر شام ہے شام مصر یہاں ہر شب ہے شب شیراز یہاں\nہے سارے جہاں کا سوز یہاں اور سارے جہاں کا ساز یہاں\nیہ دشت جنوں دیوانوں کا یہ بزم وفا پروانوں کی\nیہ شہر طرب رومانوں کا یہ خلد بریں ارمانوں کی\nفطرت نے سکھائی ہے ہم کو افتاد یہاں پرواز یہاں\nگائے ہیں وفا کے گیت یہاں چھیڑا ہے جنوں کا ساز یہاں\nاس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیں\nناہید سے کی ہے سرگوشی پروین سے رشتے جوڑے ہیں\nاس بزم میں تیغیں کھینچی ہیں اس بزم میں ساغر توڑے ہیں\nاس بزم میں آنکھ بچھائی ہے اس بزم میں دل تک جوڑے ہیں\nاس بزم میں نیزے پھینکے ہیں اس بزم میں خنجر چومے ہیں\nاس بزم میں گر کر تڑپے ہیں اس بزم میں پی کر جھومے ہیں\nآ آ کے ہزاروں بار یہاں خود آگ بھی ہم نے لگائی ہے\nپھر سارے جہاں نے دیکھا ہے یہ آگ ہمیں نے بجھائی ہے\nیاں ہم نے کمندیں ڈالی ہیں یاں ہم نے شب خوں مارے ہیں\nیاں ہم نے قبائیں نوچی ہیں یاں ہم نے تاج اتارے ہیں\nہر آہ ہے خود تاثیر یہاں ہر خواب ہے خود تعبیر یہاں\nتدبیر کے پائے سنگیں پر جھک جاتی ہے تقدیر یہاں\nذرات کا بوسہ لینے کو سو بار جھکا آکاش یہاں\nخود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہے باطل کی شکست فاش یہاں\nاس گل کدۂ پارینہ میں پھر آگ بھڑکنے والی ہے\nپھر ابر گرجنے والے ہیں پھر برق کڑکنے والی ہے\nجو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گا\nہر جوئے رواں پر برسے گا ہر کوہ گراں پر برسے گا\nہر سرو و سمن پر برسے گا ہر دشت و دمن پر برسے گا\nخود اپنے چمن پر برسے گا غیروں کے چمن پر برسے گا\nہر شہر طرب پر گرجے گا ہر قصر طرب پر کڑکے گا\nیہ ابر ہمیشہ برسا ہے یہ ابر ہمیشہ برسے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B0%D8%B1_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%DA%AF%DA%91%DA%BE"} {"title": "نذر وطن", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "نذر وطن پھر اے دل دیوانہ چاہئے\nپھر ہر قدم پہ سجدۂ شکرانہ چاہئے\n\nپھر سر زمیں وطن کی ہے نظروں کے سامنے\nپھر لب پہ ایک نعرۂ مستانہ چاہئے\n\nبچپن کی یاد لیتی ہے پھر دل میں چٹکیاں\nپھر بے خودی بہ حجت طفلانہ چاہئے\n\nبرسوں کے بعد آئے ہیں باغ وطن میں ہم\nپھر ہر کلی کو سجدۂ مستانہ چاہئے\n\nکہسار سبز پوش نظر آئے دور سے\nپھر لب پہ چار بیت کا افسانہ چاہئے\n\nجس کوچے میں ہوئیں کبھی رسوائیاں نصیب\nاس کا طواف با دل دیوانہ چاہئے\n\nبخشا تھا جس نے پہلے پہل دل کو درد عشق\nپھر اس کے در پہ سجدۂ شکرانہ چاہئے\n\nپھر دل کو ہو یقیں نہ کسی کے وصال کا\nپھر واقعہ بہ صورت افسانہ چاہئے\n\nپھر شوق سے ملیں گے کسی گلعذار سے\nپھر لب پہ شور بلبل مستانہ چاہئے\n\nجھولا جھلائیں‌ گے کسی مست شباب کو\nرقصاں فضا میں پھر مئے‌ و مے خانہ چاہئے\n\nپائے طلب کو وادئ پرویں ہے نیم گام\nپھر آرزو کو منزل جانانہ چاہئے\n\nپھر خرمن سکوں کو ہیں درکار بجلیاں\nپھر بے حجاب جلوۂ جانانہ چاہئے\n\nپھر ذوق مے کشی کو ہے معراج کی طلب\nکوثر کا بادہ چاند کا پیمانہ چاہئے\n\nپھر شوق بن کے دل میں دھڑکتی ہے زندگی\nپھر جنبش تبسم جانانہ چاہئے\n\nپھر سینۂ امید میں رقصاں ہے برق طور\nپھر پرسش مذاق کلیمانہ چاہئے\n\nبالائے کوہ سایۂ ابر بہار میں\nپروین و ماہتاب کا کاشانہ چاہئے\n\nپھر اس حریم نور کے آغوش ناز میں\nاک گل کدہ برنگ پری خانہ چاہئے\n\nپھر ابر و باغ و نکہت و گل کے ہجوم میں\nشمع و سرو و بادہ و پیمانہ چاہئے\n\nپھر اس کی چشم مست پہ گیسو ہوں پر فشاں\nپھر ابر شام گوں سر مے خانہ چاہئے\n\nپھر چاندنی میں دامن دریا یہ اے ندیم\nرقص شراب و گردش پیمانہ چاہئے\n\nجوش‌ طرب نے حشر سا دل میں کیا بپا\nپھر بے خودی کو گریۂ مستانہ چاہئے\n\nاخترؔ وطن میں آ کے کھلا ہے یہ حسن راز\nاس مختصر سی عمر میں کیا کیا نہ چاہئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B0%D8%B1_%D9%88%D8%B7%D9%86"} {"title": "نرمیٔ بالش پر ہم کو نہیں بھاتی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نرمیٔ بالش پر ہم کو نہیں بھاتی ہے\nدم شمشیر پہ سر رکھیں تو نیند آتی ہے\n\nکیا بری خو ہے مری بھی کہ بہ ایں دعویٔ عقل\nمیں بھی جاتا ہوں وہاں جان جہاں جاتی ہے\n\nناقبول اتنا ہوں مردے کو مرے بعد از مرگ\nگور میں رکھیں تو مٹی بھی نہیں کھاتی ہے\n\nحسن دیکھا ہے مگر ہند کی تصویریں کا\nلیلیٰ بازار میں شکل اپنی جو بدلاتی ہے\n\nنہ بچے گا کوئی ہرگز جو ہے رخ کی یہ صفا\nنہ جئے گا کوئی مطلق جو یہ خوش گاتی ہے\n\nخیر سلا سے نسیم سحری گھر جاوے\nکر کے ذکر رخ گل کیوں مجھے پٹواتی ہے\n\nستم باد خزاں سے جو کوئی گل کی کلی\nشاخ پر خشک ہو رہ جاتی ہے مرجھاتی ہے\n\nبے کسی اپنی کا عالم مجھے آ جائے ہے یاد\nکہ گریباں میں مرا سر یوں ہی جھکواتی ہے\n\nمصحفیؔ کی کوئی امید تو بر لا یارب!\nمدتوں سے یہ ترے در کا مناجاتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B1%D9%85%DB%8C%D9%94_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%B4_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "نرگس مستانہ", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اپنا ہی سا اے نرگس مستانہ بنا دے\nمیں جب تجھے جانوں مجھے دیوانہ بنا دے\n\nہر قید سے ہر رسم سے بیگانہ بنا دے\nدیوانہ بنا دے مجھے دیوانہ بنا دے\n\nاک برق ادا خرمن ہستی پہ گرا کر\nنظروں کو مری طور کا افسانہ بنا دے\n\nہر دل ہے تری بزم میں لبریز مئے عشق\nاک اور بھی پیمانہ سے پیمانہ بنا دے\n\nتو ساقی مے خانہ بھی تو نشہ و مے بھی\nمیں تشنۂ ہستی مجھے مستانہ بنا دے\n\nاللہ نے تجھ کو مے و مے خانہ بنایا\nتو ساری فضا کو مے و مے خانہ بنا دے\n\nتو ساقئ مے خانہ ہے میں رند بلا نوش\nمیرے لئے مے خانہ کو پیمانہ بنا دے\n\nیا دیدہ و دل میں مرے تو آپ سما جا\nیا پھر دل و دیدہ ہی کو ویرانہ بنا دے\n\nقطرے میں وہ دریا ہے جو عالم کو ڈبو دے\nذرے میں وہ صحرا ہے کہ دیوانہ بنا دے\n\nلیکن مجھے ہر قید تعین سے بچا کر\nجو چاہے وہ اے نرگس مستانہ بنا دے\n\nعالم تو ہے دیوانہ جگر! حسن کی خاطر\nتو اپنے لئے حسن کو دیوانہ بنا دے\n\nکب تک نگہ یار نہ ہوگی متبسم\nتو اپنا ہر انداز حریفانہ بنا دے\n\nمنکر تو نہ بن حسن کے اعجاز نظر کا\nکہنے کے لئے اپنے کو بیگانہ بنا دے\n\nجب تک کرم خاص کا دریا نہ امنڈ آئے\nتو اور بھی حال اپنا سفیہانہ بنا دے\n\nبت خانے آ نکلے تو کعبہ کی بنا ڈال\nکعبے میں پہنچ جائے تو بت خانہ بنا دے\n\nجو موج اٹھے دل سے ترے جوش طلب میں\nسر رکھ کے وہیں سجدۂ شکرانہ بنا دے\n\nجب مائل الطاف نظر آئے وہ خودبیں\nتو ہر نگہ شوق کو افسانہ بنا دے\n\nکونین بھی مل جائے تو دامن کو نہ پھیلا\nکونین کو بھولا ہوا افسانہ بنا دے\n\nپھر عرض کر اس طرح جگرؔ شوق و ادب سے\nبے باک اگر جرأت رندانہ بنا دے\n\nتجھ کو نگہ یار! قسم میرے جنوں کی\nناصح کو بھی میرا ہی سا دیوانہ بنا دے\n\nمیں ہوں ترے قدموں میں مجھے کچھ نہیں کہنا\nاب جو بھی ترا لطف کریمانہ بنا دے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B1%DA%AF%D8%B3_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "نرگس نظر کی مصیبت", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "شہزادی نرگس نظر میرزا شاہ رخ ابن بہادر شاہ کی بیٹی تھیں۔ غدر ۱۸۵۷ء میں ان کی عمر سترہ سال کی تھی۔ موجودہ لال قلعہ دہلی میں دیوان خاص اور موتی مسجد کے غرب میں اور گورا بارگ کے شرق میں ایک سنگین تالاب ہے، جس کے وسط میں ایک محل بنا ہوا ہے اور اس کے شمال سے نہر آتی ہے۔ سنگ مر مر کی جھلملیاں اور چراغ دان بنے ہوئے ہیں۔ ان پر سے نہر کا پانی گذرتا ہوا اس تالاب میں آتا تھا۔ میرزا شاہ رخ بہادر اسی جل محل میں رہتے تھے۔ ان کی بیوی کا انتقال ہو گیا تھا، اس لیے میرزا صاحب کو اپنی بیٹی نرگس نظر سے بہت ہی محبت تھی۔ جل محل کو کشمیری شالوں اور رومی قالینوں اور بنارسی کپڑوں سے خوب ہی آراستہ کیا گیا تھا۔ نرگس نظر کی طبیعت میں نفاست و نزاکت و سلیقہ مندی بہت زیادہ تھی۔ ان کا محل سارے قلعہ میں سب حویلیوں اور محلات سے زیادہ خوبصورت اور آراستہ سمجھا جاتا تھا۔ نرگس نظر کا نظام اوقات یہ تھا کہ وہ صبح سورج نکلنے کے بعد بیدار ہوتی تھیں۔ گرمی کے موسم میں ان کا چھپر کھٹ صحن میں بچھا یا جاتا تھا، جہاں سنگ مرمر کا فرش تھا۔ چھپر کھٹ کے پائے اور ڈنڈے سونے کے تھے۔ اندر ریشمی تکیے رکھے رہتے تھے۔ چار نازک نازک نرم نرم تکیے سرہانے ہوتے تھے اور سرہانے کے تکیوں کے پاس دو چھوٹے چھوٹے گول گول اور تکیے ہوتے تھے جن کو گال (گل) تکیہ کہا جاتا تھا۔ یہ تکیے رخسار کی ٹیک کے لیے تھے کہ اگر شہزادی کا سرتکیوں سے نیچے آجائے تو گل تکیے ان کے رخسار کو تکلیف سے بچالیں۔ دو تکیے ذرا بڑے بڑے دونوں پہلوؤں میں ہوتے تھے کہ ان سے شہزادی صاحبہ اپنے گھٹنے کو سہارا دے سکیں۔ رات کو جب نرگس نظر مسہری کے اندر جاتی تھیں تومولسری اور جوہی اور چمپا کے پھول ان کے گل تکیوں کے پاس رکھے جاتے تھے کہ رات کو ان کی خوشبو شہزادی کو مسرور کرتی رہے۔ جوں ہی نرگس نظر مسہری میں گئیں، چار ناچنے والی چھوکریاں آ جاتی تھیں اور ہلکے سروں میں گاتی تھیں، جب شہزادی کو نیند آتی تھی۔ صبح کو بھی سو رج نکلنے سے پہلے یہ ناچنے گانے والی لڑکیاں مسہری کے قریب آکر گاتی تھیں اور ان کی سریلی آوازوں کو سن کر شہزادی صاحبہ بیدار ہوتی تھیں۔ شہزادی بیدار ہونے کے بعد مسہری کے اندر بیٹھ جاتیں اور دیر تک جمائیاں لیتیں، انگڑائیاں لیتیں اور گانے والی لڑکیاں ان سے ہنسی کی باتیں کرتیں۔ ایک کہتی، اے حضورجمائی آتی ہے رومال حاضرکروں، منہ کو ڈھک لیجئے۔ دوسری کہتی، سرکار کی انگڑائی دیکھنے کو مچھلیاں بیتاب ہو ہو کر پانی کے چہرے پر چلی آرہی ہیں۔ نرگس نظر آنکھیں مل کر اور مسکرا کر کہتیں چل دور موئی، مردار کیسی جھوٹی باتیں بناتی ہے، تو چھوکری کہتی، میں جھوٹ کہتی ہوں یا سچ، آئینے سے پوچھ لیجئے۔ وہ بھی سامنے آپ کو دیکھ رہا ہے۔ اس کے اندر بھی تو بال بکھر رہے ہیں۔ وہ بھی تو مہندی لگی لال لال انگلیاں اونچی کرکے سرکار کی انگڑائی کی تعریف کر رہا ہے۔ وہاں بھی تو ایک مستی کا عالم نظرآہا ہے۔ تیسری کہتی، آفتاب کی کرنیں لال لال بادلوں سے ایسی نکلیں جیسے سرکار کے لال لال ہونٹوں سے سفید سفید دانت، اور یہ رخسار تو صبح صادق کا نور ہیں۔ بال بکھر کر جو چہرے پر آئے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے، چودہویں رات کے چاند پر کالے بادل چھائے ہوئے چلے آتے ہیں، مگر چاندنی سے مات ہو کر ان کا کلیجہ شق ہو گیا ہے اور چاند کے چاروں طرف اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو بکھیر دیا ہے۔ نرگس نظر یہ سن کر مسکراتی ہوئی مسہری کے باہر آتیں۔ طشت چوکی پر جاتیں، پھر باہر آکر کھلی اور بیسن سے منہ ہاتھ دھوتیں۔ پھر جوڑا بدلا جاتا۔ ناشتہ کیا جاتا۔ اس کے بعد گھر کی آرائش کو خود جاکر دیکھتیں اور نئی نئی ایجاد یں چیزوں کے سنوارنے میں ہوتیں۔ دوپہر کا کھانا کھا کر گانا ہوتا۔ شام کو چمن مین گلگشت کا معمول پورا کیا جاتا۔ رات کے کھانے میں بڑی بہار ہوتی۔ باجے بج رہے ہیں، گانے ہو رہے ہیں اور مصاحب لڑکیوں کے ساتھ کھانا کھایا جا رہا ہے۔ قلعہ کی آخری راتجس رات بہادر شاہ بادشاہ لال قلعہ سے نکل کر ہمایوں کے مقبرے میں گئے اور یقین ہوگیا کہ صبح انگریز دہلی کو مفتوح کر لیں گے تو نرگس نظر چپ چاپ جل محل کے کنارے پر کھڑی چاندنی کو دیکھ رہی تھیں۔ ان کا عکس تالاب میں پڑ رہا تھا اور ان پر اپنی دید کا ایک عجیب عالم محویت طاری تھا۔ یکایک ان کے باپ میرزا شاہ رخ اندر آئے اور انہوں نے کہا، ’’نرگس بیٹا! میں ابا حضرت (بہادر شاہ) کے ہمراہ جانا چاہتا ہوں۔ تم ابھی چلوگی یا سواری کا بندوبست کروں، صبح آجانا۔‘‘ نرگس نظر نے کہا، ’’ابا جان! آپ بھی ابھی نہ جائیے۔ پچھلی رات میرے ساتھ چلیے گا۔ میں دادا حضرت کے ساتھ جانا مناسب نہیں سمجھتی۔ انگریزی فوج انہی کی تلاش کرے گی اور جو لوگ ان کے ساتھ ہوں گے، وہ سب مجرم سمجھے جائیں گے۔ اس لیے ہمایوں کے مقبرے میں دادا حضرت کے ساتھ جانا ٹھیک نہیں ہے۔ غازی نگر(غازی آباد) میں چلیے۔ وہاں میری انا کا گھر ہے اور سنا ہے بہت اچھی محفوظ جگہ ہے۔ گمنامی اختیار کرکے چلنا چاہئے۔ جب یہ بلا دور ہو جائے گی پھر یہاں آجائیں گے۔‘‘ میرزا نے کہا، ’’اچھا جیسی تمہاری رائے ہو۔ غازی نگر جانے کے لیے رتھوں کا بندوبست کرتا ہوں، تمہارے ساتھ کون کون جائے گا۔‘‘ نرگس نظر نے جواب دیا، ’’کوئی نہیں، صرف میں اکیلی چلوں گی، کیونکہ نوکروں کا ساتھ رکھنا بھی نا مناسب ہے اور نوکر ساتھ جانے کے لیے تیار بھی نہیں معلوم ہوتے۔‘‘ میرزا یہ سن کر باہر چلے گئے اور نرگس نظر پھر ماہتاب اور عالم آب کو دیکھنے لگیں۔ کچھ دیر کے بعد نرگس نظر نے نوکر عورتوں کو آواز دی مگر کسی نے جواب نہ دیا۔ معلوم ہواسب بھاگ گئے اور نرگس نظر سارے جل محل میں اکیلی ہیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ نرگس نظر نے حاکمانہ آواز دی اور جواب میں کوئی بھی نہ بولا۔ نرگس نظر گھبرا کر محل کے اندر گئیں۔ شمعیں روشن تھیں، مگر کوئی آدمی موجود نہ تھا۔ نرگس نظر کو اندرڈر لگا اور وہ پھر صحن میں آ گئیں۔ قلعہ میں جگہ جگہ سے لوگوں کے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ چاروں طرف سےگھروں کے رہنے والے نکل نکل کر جا رہے ہیں۔ نرگس نظر نے بہت دیر باپ کی راہ دیکھی مگر وہ نہ آئے اور نرگس نظر گھبرا کر ر ونے لگیں۔ رات کے دو بجے ایک خواجہ سرا محل میں آیا اور اس نے کہا، ’’صاحب عالم نے فرمایا ہے کہ انگریزی جاسوس میری تلاش میں قلعہ کے اندر اور باہر چاروں طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ میں تمہارے ساتھ غازی نگر نہیں جا سکتا۔ سواری کا انتظام کر دیا ہے۔ تم خواجہ سر ا کے ساتھ چلی جاؤ اور میں بھیس بدل کر کہیں اور چلا جاتا ہوں۔‘‘ نرگس نظر نے گھبرا کر کہا، ’’آخر کہاں جانے کا ارادہ ہے؟‘‘ خواجہ سر ا بولا، ’’مجھے معلوم نہیں۔‘‘ نرگس نظر نے حاکمانہ لہجے میں کہا، ’’جایہ معلوم کر کے آ کہ ابا حضرت کہاں جانے والے ہیں۔ وہ لباس بدل کر میرے ساتھ غازی نگر کیوں نہیں چلتے؟‘‘خواجہ سرا فوراً واپس گیا اور نرگس نظر صحن میں ٹہلتی رہی۔ کچھ دیر کے بعد خواجہ سرا واپس آیا اور اس نے کہا، ’’ابا حضرت سائیس کے کپڑے پہن کر قلعہ کے باہر چلے گئے اورکوئی نہیں جانتا کہ کہاں چلے گئے۔ آپ کی سواری کے لیے رتھ تیار ہے۔‘‘ نرگس نظر کو رونا آ گیا اور ان کی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ انہوں نے نہایت بے کسی اور بے بسی کی حالت میں ہچکیاں لے کر آنسو بہائے۔ انہوں نے جواہرات اور زیورات کا صندوقچہ اور چند ضروری کپڑے ساتھ لیے جن کو خواجہ سرا نے اٹھا لیا اور جل محل سے نکلیں اور سوار ہونے سے پہلے مڑکر جل محل اور اس کی آرائش کو بہت دیر تک کھڑے ہوکر دیکھا۔ پھر کہا، ’’خبر نہیں تجھ کو پھر دیکھنا نصیب ہوگا یا آج تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے جدا ہو رہا ہے۔‘‘ رات کے تین بج چکے تھے۔ نرگس نظر رتھ میں بیٹھی غازی نگر(غازی آبادی) کی طرف جارہی تھیں۔ صبح آٹھ بجے غازی آباد پہنچ گئیں۔ راستے مین ان کو بہت لوگ آتے جاتے ملے، مگر کسی نے ان کے رتھ کی مزاحمت نہیں کی۔ غازی آباد میں نرگس نظر کی انا کا گھر مشہور تھا۔ جوں ہی نرگس نظر انا کے گھر کے سامنے رتھ سے اتریں، انا دوڑتی ہوئی گھر کے باہر آگئی اور اس نے دونوں ہاتھوں سے شہزادی کی بلائیں لیں اور اندر لے جاکر بٹھایا اور اپنی حیثیت سے زیادہ خاطر مدارات کی۔ مصیبتنرگس نظر دو تین روز انا کے گھر میں آرام سے رہیں۔ یکایک خبر مشہور ہوئی کہ باد شاہ گرفتار ہوگئے اور کئی شہزادے قتل کر دیے گئے اور فوج غازی آبا د کو لوٹنے آرہی ہے۔ نرگس نظر نے جواہرات کا صندوقچہ انا سے کہہ کر زمین میں دفن کرا دیا اور مصیبت کی گھڑی کا انتظار کرنے لگیں۔ تھوڑی دیر میں سکھ فوج غازی آباد میں داخل ہوئی اور اس نے باغیوں کی تلاش شروع کی۔ مخبروں نے کہا، ’’بادشاہ کی پوتی اپنی انا کے گھر میں موجود ہے۔‘‘ دو سکھ سردار چار سپاہیوں کے ساتھ انا کے گھر میں آئے اور انہوں نے انا کو اور سب گھر والوں کو پکڑ لیا۔ نرگس نظر کوٹھری میں چھپ گئی تھیں۔ ان کو بھی کو اڑ توڑ کر باہر نکالا گیا اور بے پردہ سامنے کھڑا کیا گیا۔ سردار نے پوچھا، ’’کیا تم بہادر شاہ کی پوتی ہو؟‘‘ نرگس نظر نے کہا، ’’میں ایک آدمی کی بیٹی ہوں۔ بادشاہ کی اولاد ہوتی تو اس غربت گھر میں کیوں آتی۔ اگر خدا نے بادشاہ کی پوتی بنایا ہوتا تو تم اس طرح بے پردہ مجھ کوسامنے کھڑا نہ کرتے۔ تم ہندوستانی ہو، تم کو شرم نہیں آتی کہ اپنے ملک کی عورتوں پر ظلم کرتے ہو۔ سردار نے کہا، ’’ہم نے کیا ظلم کیا؟ ہم تو یہ دریافت کرتے ہیں کہ تم کون ہو؟ ہم نے سنا ہے کہ تم بہادر شاہ کی پوتی ہو اور تمہارے باپ نے بہت سے انگریزوں اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قلعہ کے اندر قتل کیا تھا۔‘‘ نرگس نظر نے کہا، ’’جو کرتا ہے وہی بھرتا ہے۔ اگر میرے باپ نے ایسا کیا ہوگا تو ان سےپوچھو۔ میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ میں نے کسی کو نہیں مارا۔‘‘ یہ سن کر دوسرا نوجوان سکھ سردار بولا، ’’ہاں تم تو آنکھوں سے قتل کرتی ہو۔ تم کو تلواروں اور ہتھیاروں سے مارنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘نرگس نظر نے نہایت جرأت کے ساتھ جواب دیا، حالانکہ اس کی زندگی میں غیر مردوں سے بات کرنے کا یہ پہلا موقع تھا، ’’خاموش رہو۔ بادشاہوں سے ایسی بے تمیزی کے ساتھ بات نہیں کرتے۔ تمہاری زبان گدی کے پیچھے سے نکال لی جائے گی۔‘‘ نوجوان یہ سن کر بگڑا اور اس نے آگے بڑھ کر نرگس نظر کے بال پکڑ لیے اوران کو روز سے جھٹکا دیا۔ بوڑھے سکھ سردار نے نوجوان سردار کو روکا اور کہا، ’’عورت کےساتھ ایسی زیادتی کرنا مناسب نہیں ہے۔‘‘ نوجوان سردار نے یہ بات سن کر بال چھوڑ دیے۔ کرایہ کی بیل گاڑی منگوائی گئی اور اس میں نرگس نظر کو سوار کیا گیا۔ انا اور اس کے گھر والے بھی سب قید ہوکر پیدل ساتھ چلے۔ نرگس نظر سے پوچھا گیا، ’’تمہارا زیور اور روپیہ پیسہ کہاں ہے؟‘‘ انہوں نے کہا، ’’میں خود ہی زیور ہوں اور خود ہی سمجھنے والوں کے لیے جواہر اور دولت ہوں، میرے پاس اور کچھ نہیں ہے۔‘‘ یہ سن کر دونوں سردار خاموش ہوگئے اور بہلی کو دہلی کی طرف لے چلے۔ ہینڈن ندی کے پاس گاؤں کے جاٹوں اور گوجروں نے سکھ فوج والو ں پر بندوقیں چلائیں اور دیر تک ان کی آپس میں لڑائی ہوتی رہی۔ سکھ تھوڑے تھے اور گاؤں والے زیادہ تھے۔ سکھ سب مارے گئے اور گاؤں والے قیدیوں کو اپنے ساتھ گاؤں میں لے گئے۔ گنواروں نے نرگس نظر کے جسم پر جودو چار قیمتی زیور تھے، ان کو اتار لیا اور قیمتی کپڑے بھی اتروا لیے اور کسی چماری کا پھٹا ہوا لہنگا اور پھٹا ہوا کرتہ اور میلا دوپٹہ پہننے کو دے دیا۔ نرگس نظر نے رورو کر اپنا برا حال کر لیا اور مجبوراً تن ڈھانپنے کو یہ کپڑے پہنے۔ تھوڑی دیر میں پاس کے گاؤں کے چند مسلمان گنوا ر آئے اور ان کے نمبر دار نے نرگس نظر کو گوجروں سے خرید لیا اور اپنے گاؤں میں لے گیا۔ یہ لوگ ذات کے رانگھڑ تھے اور کچھ لوگ تگا قوم کے مسلمان تھے۔ نمبر دار نے اپنے لڑکے کا پیغام دیا کہ تیری شادی اس کے ساتھ کردیں۔ یہ بڈھا آدمی تھا۔ اس کا لڑکا اگر چہ گنوار تھا، لیکن صورت شکل کا اچھا تھا۔ نرگس نظر نے ہاں کر لی اور گاؤں کے قاضی نے اس کا نکاح پڑھا دیا اور نرگس نظر تین چار مہینے نمبر دار کے گھر میں نئی دلہن بنی آرام سے بسر اوقات کرتی رہیں۔ دوسری مصیبتانگریزوں کا قبضہ پوری طرح ہوگیا تھا اور ان کے جاسوس جگہ جگہ خبریں لیتے ہوئے پھر رہے تھے۔ کسی جاسوس نے دہلی کے حاکم کو خبر دی کہ میرزا باغی دستیاب نہیں ہوئے، مگر ان کی بیٹی فلاں گاؤں میں نمبردار کے گھر میں موجود ہے۔ انگریز حاکم نے اس گاؤں میں پولیس کو بھیجا۔ میرٹھ کی پولیس نے آکر گاؤں کا محاصرہ کر لیا اور نرگس نظر اور ان کے خاوند اورسسر ے کو گرفتار کر کے دہلی میں لایا گیا۔ حاکم نے نرگس نظرسے میرزا کے متعلق بہت سوالات کیے، مگر جب کوئی مفید مطلب جواب نہ ملا تو حکم دیا کہ نمبر داراور اس کا بیٹا باغی معلوم ہوتے ہیں اور ان دونوں نے ایک باغی کی بیٹی کو پناہ دی ہے۔ اس واسطے ان دونوں کو جیل بھیج دیا جائے اوریہ عورت دہلی میں کسی مسلمان کے حوالے کر دی جائے۔ چنانچہ نمبردار اور اس کا بیٹا دس دس سال کےلیے جیل بھیج دیے گئے اور نرگس نظر سے پوچھا گیا کہ وہ کس کے ہاں رہنا چاہتی ہے۔ شہزادی نے جواب دیا اگر میرے خاندان کے آدمی دہلی میں ہوں تو ان کے پاس بھیج دیا جائے۔ معلوم ہوا تیموریہ خاندان کے لوگ ابھی تک یا تو رو پوش ہیں یا جنگلوں اور دیہات میں مقیم ہیں۔ دہلی شہر میں ابھی کوئی نہیں آیا۔ اس واسطے نرگس نظر ایک فوجی مسلمان سپاہی کے حوالے کر دی گئیں جو ان کو اپنے گھر میں لے گیا۔ اس سپاہی کی بیوی موجود تھی۔ اس نے دیکھا کہ ایک قبول صورت جوان عورت گھر میں آئی ہے تو اس نے ایک دو ہتٹر اپنے خاوند کے مارا اور نرگس نظر کو بھی دھکا دے کر گھر سے باہر نکال دیا اوریہ پہلاموقع تھا کہ نرگس نظر کو کسی نے دھکا دیا۔ سپاہی گھر کے باہر آیا اور نرگس نظر کو ساتھ لے کر اپنے ایک دوست کے ہاں لے گیا۔ وہ بڑی عمر کے ایک مسلمان تھے اور گھر میں اکیلے رہتے تھے۔ انہوں نے شہزادی کا حال سنا تو رونے لگے اور بہت محبت کے ساتھ اپنے گھر میں جگہ دی اور نرگس نظر ایک رات آرام سے اس گھر میں رہیں۔ دوسری رات کو نرگس نظر سوتی تھیں کہ چند آدمیوں نے ان کا منہ اپنے ہاتھوں سے بند کیا اور اٹھا کر کہیں لے گئے۔ نرگس نظر نے ہر چند ہاتھ پاؤں مارے، مگر انہوں نے ایسا مضبوط پکڑا تھا کہ یہ جنبش نہ کر سکیں۔ وہ لوگ اسی گاؤں کے رہنے والے تھے جہاں کے نمبردار کے بیٹے سے نرگس نظر کا نکاح ہوا تھا، مگر وہ دہلی کے قریب ایک گاؤں میں لے گئے اور وہاں ایک چھپر میں ٹھہرایا اور ایک چار پائی سونے کے لیے دے دی۔ یہ گاؤں بھی تگا مسلمانوں کا تھا۔ نرگس نظر جس گھر میں رہتی تھیں، وہ نمبر دار کا گھر تھا اور نمبردار بہت نیک چلن آدمی تھا۔ تین چار سال تک نرگس نظر اس گھر میں رہیں۔ وہ سارے گھر کا کام کرتی تھیں، لیکن گوبر تھا پنا اور دودھ دو ہنا ان کو نہ آتا تھا۔ چار سال کے بعد ان کا خاوند رہا ہو گیا اور وقت سے پہلے گورنمنٹ نے اس کو رہائی دے دی اور وہ نرگس نظرکو اس گاؤں سے اپنے گھر لے گیا، جہاں ساری عمرا نہوں نے گذار دی اور ان کے کئی بچے ہوئے اور۱۹۱۱ء میں نرگس نظر کا انتقال ہوگیا۔ مصیبت کی ایک راتنرگس نظر کہتی تھیں کہ جب میں دہلی کے قریب تگا نمبر دار کے گھر میں رہتی تھی، اس زمانے کا ذکر ہے۔ برسات کا موسم تھا اور مجھے بہت تیز بخار چڑھا ہوا تھا۔ رات کے وقت بادل گرج رہا تھا، بجلی چمک رہی تھی اور میں اکیلی اپنے چھپر میں گاڑھے کی ایک میلی چادر اوڑھے کھری چارپائی پر لیٹی تھی۔ خواب میں دیکھا گویا جل محل میں سونے کے جڑاؤ چھپر کھٹ کے اندر لیٹی ہوں۔ جوہی اور چمپا اور مولسری کے پھول اور ریشمی تکیے میرے پاس ہیں اور گانے والی لڑکیاں دھیمے سروں میں گارہی ہیں اور مجھے عجب لطف آرہا ہے۔ اسی خواب کی حالت میں، میں نے ایک گانے والی کو آواز دی کہ مسہری کا پردہ اٹھا اور مجھ کو سہارا دے کر بٹھا۔ میں نے دیکھا کہ دوڑی ہوئی آئی اور اس نے مجھے گود میں لے کر اٹھایا اور اٹھانے میں شوخی سے ذرا مجھ کو دبا بھی دیا۔ میں نے اس کے اک طمانچہ مارا اور وہ قہقہہ لگا کر ہنسی۔ میری آنکھ کھل گئی۔ اندھیرا بہت زیادہ تھا۔ مجھ کو اس خواب نے اور جل محل کی یاد نے بے قرار کر دیا اور میں چھپر کے دروازے پر گاڑھے کی چادر اوڑھے ہوئے آکر کھڑی ہوگئی۔ مینہ بہت زور سے برس رہا تھا۔ بجلی چمکتی تھی تو صحن کا پانی دکھائی دیتا تھا اور مجھ کو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے جل محل کے صحن کے کھڑی ہوئی ماہتاب اور عالم آب کا تماشہ دیکھ رہی ہوں۔ جب سے مصیبت کے دن آئے تھے، میں کبھی نہیں گھبرائی اور میں نے کبھی اچھے دنوں کو یاد نہیں کیا تھا، لیکن ا ٓج خبر نہیں کیا بات تھی کہ میں جل محل کو یاد کرتی تھی اور یہ بھی خیال آتا تھا کہ میں شہنشاہ ہند کی پوتی ہوں اور یہ بھی خیال آتا تھا کہ میں اپنے باپ کی لاڈلی ہوں اور یہ بھی خیال آتا تھا کہ میں سترہ برس کی عمر تک شہزادی تھی اور آج ایک مفلس نادار نوکرانی ہوں۔ میرے ہاں سارے قلعہ سے اچھے اور نفیس کپڑے تھے اور ہر چیز نہایت صفائی اور ستھرائی سے رکھی جاتی تھی اور یہی میرا رات دن کا مشغلہ تھا، مگر آج برعکس ہے۔ انا کےگھر میں جوزیور اور جواہرات دفن کرائے تھے، بعد میں اس کو خفیہ طور سے کھود کر دیکھا توسب کچھ غائب تھا۔ خبر نہیں کون لے گیا۔ گویا پچھلے زمانے کی کوئی چیز بھی باقی نہیں رہی۔ صرف میں باقی ہوں اور وہ بھی بدلی ہوئی اور ہر بات میں مٹی ہوئی۔ ان خیالات کا مجھ پر اتنا زیادہ اثر ہوا کہ مجھے غش آگیا اور میں وہیں بیہوش ہو کر گر پڑی اور صبح تک بیہوش پڑی رہی۔ صبح ہوئی تو وہی میں تھی جس کو نگو کہہ کر سب پکارتے تھے اور وہی چولہا تھا جہاں میں روٹی پکاتی تھی اور وہی سب گھر کے کام تھے جو مجھے رات دن لونڈیوں سے بڑھ کر محنت کرنے پڑتے تھے اور میں کہتی تھی ، خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B1%DA%AF%D8%B3_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA"} {"title": "نرگسیں آنکھ بھی ہے ابروئے خم دار کے پاس", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "نرگسیں آنکھ بھی ہے ابروئے خم دار کے پاس\nدوسری اور بھی تلوار ہے تلوار کے پاس\n\nدشمنوں کا مری قسمت سے ہے قابو مجھ پر\nیار کے پاس ہے دل یار ہے اغیار کے پاس\n\nیاد رکھنا جو ہوئی وعدہ خلافی ان کی\nبسترہ آن جمے گا تری دیوار کے پاس\n\nقیدیٔ زلف کی قسمت میں ہے رخسار کی سیر\nشکر ہے باغ بھی ہے مرغ گرفتار کے پاس\n\nچہرہ بھی برق بھی دل لینے میں گیسو بھی بلا\nایک سا معجزہ ہے کافر و دیں دار کے پاس\n\nغیر بے جرم ہیں اور میں ہوں وفا کا مجرم\nکون آتا بھلا مجھ سے گنہ گار کے پاس\n\nقبر میں سوئیں گے آرام سے اب بعد فنا\nآئے گا خواب عدم دیدۂ بے دار کے پاس\n\nاس کی کیا وجہ مرے ہوتے وہاں کیوں نہ رہیں\nکیوں رہے زلف سیہ آپ کے رخسار کے پاس\n\nہوشیاری سے ہو پرویںؔ چمن حسن کی سیر\nدام اور دانہ ہیں دونوں رخ دل دار کے پاس", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B1%DA%AF%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%85_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3"} {"title": "نزدیک سی شے سایۂ حائل سے بہت دور", "poet_page": "مصنف:م حسن لطیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نزدیک سی شے سایۂ حائل سے بہت دور\nمنزل ہے شناسائی منزل سے بہت دور\n\nدشوار سہی دور نہیں نکتہ رسی سے\nلیکن ہے غلط رسمیٔ راحل سے بہت دور\n\nیہ عین خودی عشق کے آثار میں ہے غم\nپہلو سے ہے کم دور مقابل سے بہت دور\n\nہر سہل طلب سے تو ہے برگشتہ بدیہہ\nہر سائل کامل کے بھی حاصل سے بہت دور\n\nقربانیاں کچھ رکھ دے گرو ایسی اٹھے گونج\nگر پڑ کے جو پہنچے کوئی مشکل سے بہت دور\n\nطاری اثر صدمہ کبھی نشۂ تندی\nخود سنجیٔ حق سیرت زائل سے بہت دور\n\nمشاطگیٔ شانہ بہت سلسلۂ جنباں\nتہہ داریٔ صد زلف اوائل سے بہت دور\n\nاک سلسلۂ موجۂ زنجیر شکن سا\nگھستے ہوئے زنداں سے سلاسل سے بہت دور\n\nغلطیدہ و پیچیدہ و آشفتہ سی اک موج\nساحل کو لیے زد میں ہے ساحل سے بہت دور\n\nصد زاویہ محراب تغیر کم و افزوں\nادراک کے بازوئے حمائل سے بہت دور\n\nیوں جیسے کہ ہر عصر رواں کے متوازی\nموسم کی ہر اک شق کے مماثل سے بہت دور\n\nپنہاں ابھی کم پوش بھی مبہم ابھی ہر بار\nپایابیٔ مضراب رگ دل سے بہت دور\n\nلاہوت کی اک لہر سوئے کرب دل خاک\nلایا کوئی جذبہ کسی محفل سے بہت دور\n\nآشوب قدح جستہ سوئے گشت پیادہ\nواماندگیٔ تشنہ و سر جوشیٔ بادہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B2%D8%AF%DB%8C%DA%A9_%D8%B3%DB%8C_%D8%B4%DB%92_%D8%B3%D8%A7%DB%8C%DB%82_%D8%AD%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%AF%D9%88%D8%B1"} {"title": "نزع میں گر مری بالیں پہ تو آیا ہوتا", "poet_page": "مصنف:میر مستحسن خلیق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نزع میں گر مری بالیں پہ تو آیا ہوتا\nاس طرح اشک میں آنکھوں میں نہ لایا ہوتا\n\nمیرے خورشید نہ ہوتا یہ مرا روز سیاہ\nتو نے گر زلف میں مکھڑا نہ چھپایا ہوتا\n\nباغ جنت میں بھی کیا خوب گزرتی میری\nواں بھی سر پر جو تری زلف کا سایا ہوتا\n\nناصحا چاک گریباں کے سلانے سے حصول\nچاک آنکھوں کا مری تو نے سلایا ہوتا\n\nپھول پڑتا نہ خلیقؔ آتش گل سے اس پر\nآشیاں ہم نے ٹک اونچا جو بنایا ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B2%D8%B9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "نزول وحی", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "قدم چالیسویں منزل میں اس یوسف نے جب رکھا\nتو پہنچا کاروان وحی آواز جرس ہو کر\nکہ دل تو جاگ اٹھا آنکھوں میں غفلت نیند کی چھائی\nہوا سینہ میں اس سے موجزن اک لجّہ عرفاں\nکہ تاب اس جزر و مد کی فطرت انساں نہیں لائی\nبڑھا جوش اس کا بڑھ کر ساحل افلاک تک پہونچا\nاٹھی موج اس سے اٹھ کر عرش کی زنجیر کھڑکائی\nجھروکا عرش کا روح القدس نے کھول کر دیکھا\nتو نکلا مدتوں کا ربط برسوں کی شناسائی\nہوئیں جاری زباں پر آیتیں وہ نور کی جس پر\nفدا ہو لحن داؤدی و انفاس مسیحائی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B2%D9%88%D9%84_%D9%88%D8%AD%DB%8C"} {"title": "نسبت وہی ماہ آسماں سے", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نسبت وہی ماہ آسماں سے\nلائیں تشبیہ رخ کہاں سے\n\nمسی کی صفت بیاں نہ ہوگی\nسوسن بھی کہے جو سو زباں سے\n\nتشبیہ جو مانگ کی نہ ہاتھ آئے\nلاؤں میں مانگ کہکشاں سے\n\nسودا ہے جو بلبلوں کو گل کا\nتنکے چن لائیں آشیاں سے\n\nیہ حارج شب وہ مانع روز\nدرباں سے لڑوں کہ پاسباں سے\n\nجیتیں گے نہ ہم سے بازیٔ عشق\nاغیار کے پٹ پڑیں گے پانسے\n\nہے قدر سخن سخیؔ کو حاصل\nیاں کے ہر پیر اور جواں سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B3%D8%A8%D8%AA_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "نسیم صبح چمن سے ادھر نہیں آتی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نسیم صبح چمن سے ادھر نہیں آتی\nہزار حیف کہ گل کی خبر نہیں آتی\n\nرکھے ہے آئینہ کیا منہ پہ میرے اے ہم دم\nکہ زندگی مجھے اپنی نظر نہیں آتی\n\nبھٹکتی پھرتی ہے لیلیٰ سوار ناقے پر\nجدھر ہے وادئ مجنوں ادھر نہیں آتی\n\nکمر ہی کو تری پروا نہیں ہے کچھ اس کی\nوگرنہ جعد تو کب تا کمر نہیں آتی\n\nتری شبیہ مرے سامنے کھڑی ہے میاں\nحیا کے مارے ولے پیشتر نہیں آتی\n\nہوا ہوں آہ میں جس پر غرور پر عاشق\nکنیز اس کی کبھی میرے گھر نہیں آتی\n\nقلق سے ہوتی ہے کچھ دل کی میرے یہ حالت\nکہ نیند رات کو دو دو پہر نہیں آتی\n\nشب وصال کب آتی ہے میرے گھر اے چرخ\nکہ اس کے پیچھے سے دوڑی سحر نہیں آتی\n\nگیا ہے غم مرے نامے کو لے کے کچھ ایسا\nکہ آج تک خبر نامہ بر نہیں آتی\n\nخرام فتنۂ روز جزا بہ ایں شوخی\nترے خرام کے عہدے سے بر نہیں آتی\n\nمیں ترک عشق کو کہتا ہوں مصحفیؔ تجھ سے\nیہ بات دھیان میں تیرے مگر نہیں آتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C"} {"title": "نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی\nکسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگی\n\nتجھے دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوں\nنظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہوگی\n\nمزہ آ جائے گا محشر میں کچھ سننے سنانے کا\nزباں ہوگی ہماری اور کہانی آپ کی ہوگی\n\nیہی عالم رہا پردہ نشینی کا تو ظاہر ہے\nخدائی آپ سے ہوگی نہ ہم سے بندگی ہوگی\n\nتعجب کیا لگی جو آگ اے سیمابؔ سینے میں\nہزاروں دل میں انگارے بھرے تھے لگ گئی ہوگی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C"} {"title": "نسیم غم سے ہے آتش بجاں امام حسین", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "نسیم غم سے ہے آتش بجاں امام حسین\nدم ایک اور ہے اب میہماں امام حسین\nچراغ آخر شب ہے گا یاں امام حسین\nسحر نمود ہوئی پر کہاں امام حسین\n\nفلک نکالی نئی گردش اب کے اے خوں خوار\nکہ قتل ہوتے ہیں ابن علی کے خویش و تبار\nہوئی ہے اول مہ میں کچھ اور لیل و نہار\nگھٹے ہے بدر نمط ہر زماں امام حسین\n\nسفر مدینے سے گویا کہ تھا بلا کا سرا\nقدم جو راہ میں رکھا تو ہائے پھر نہ پھرا\nملا نہ قطرۂ آب اور لوہو اس کا گرا\nہوا تھا کس گھڑی واں سے رواں امام حسین\n\nنبیؐ نے برسوں تئیں جس کا ناز اٹھایا تھا\nعلیؓ نے آنکھوں پہ مدت جسے بٹھایا تھا\nجسے کہ مہد میں جبریل نے جھلایا تھا\nوہ خاک و خون میں اب ہے طپاں امام حسین\n\nمصیبت اس کے تئیں طرفہ پیش آئی ہے\nاکیلا دشت میں ہے پیاس ہے لڑائی ہے\nنہ کوئی یار ہے نے خویش ہے نہ بھائی ہے\nرہا ہے بیکس و بے مہرباں امام حسین\n\nتمام شکل نبیؐ ہی کا تھا علی اکبر\nاسی کو دیکھتے مشتاق روے پیغمبرؐ\nہوا برابر خاک سیہ وہ گوہر تر\nدیا ہے ہاتھ سے کیسا جواں امام حسین\n\nفرات خاک سر اس کے کہ جس کا ایسا آب\nکہ جس سے موجیں اٹھیں با ہزار پیچ و تاب\nتمام بادیہ کے وحش و طیر ہوں سیراب\nدکھاوے تشنہ لبی سے زباں امام حسین\n\nبھتیجا یوسف ثانی تھا جس کو کھو بیٹھا\nبغل میں اصغر ناداں کو لا کے رو بیٹھا\nحشم خدم سبھی سے ناامید ہو بیٹھا\nمحل رحم تھا بے خانماں امام حسین\n\nپیاس حد سے زیادہ تھی ہائے دم نہ لیا\nتمام آب کا خنجر کی ایک گھونٹ کیا\nرضا میں مر ہی گیا آنکھ موند کر نہ جیا\nشہید تیغ ستم پیشگاں امام حسین\n\nکوئی نہ دادگر و دادرس جو دیوے داد\nستم اس ایک پہ واں ہورہا تھا حد سے زیاد\nبلند چاروں طرف سے ہوئی تھی تیغ عناد\nتلف دریغ ہوا درمیاں امام حسین\n\nہوا جو قتل شہ کم سپاہ دیں مہجور\nپڑا تھا خاک کے اوپر نپٹ ہی بے دستور\nجگر کے ٹکڑے پڑے لعل پارہ سے تھے حضور\nگیا ہے دیکھ کے کیسا سماں امام حسین\n\nکہوں سو شام کے لوگوں کی کیا مروت کو\nپھر ان کے آنکھ چھپانے کو یا قساوت کو\nچلے ہیں قبلہ کو رو کرکے سب عبادت کو\nہوا ہے ذبح ابھی ناتواں امام حسین\n\nعجب عبادت حق پر تھے مستعد ناساز\nشتاب قتل نبی زادہ بیچ کر غماز\nنماز کرنے کو دوڑے تھے سب یہ کیسی نماز\nپڑا تھا خاک میں خوں میں عیاں امام حسین\n\nسر آفتاب کا دیں کے کیا روانۂ شام\nکفن بغیر رکھی خاک و خوں میں لاش امام\nپھرا کی مضطرب الحال روح خیرانام\nپڑا تھا بے سر و ساماں جہاں امام حسین\n\nجھڑے کٹے یہ گل و بوٹے سارے دل افروز\nپسر برادر و قاسم دلوں میں جن کے سوز\nگیا تو جان سے پر خوب سیر کی دس روز\nچمن میں اپنے بہار خزاں امام حسین\n\nکہیں تھے عترت احمد کے دل جلے رو رو\nچراغ اب نہ رہا گھر میں عابدیں بن سو\nوہ قیدی شام کو جاتا ہے دیکھیے کیا ہو\nگیا ہے ہم سے تو دامن فشاں امام حسین\n\nہوا جو لاشۂ مظلوم پر سے ہوکے گذار\nقیامت ایک ہوئی عترت نبی سے دوچار\nپکارا دیکھتے ہی رو کے عابد بیمار\nرہا تھا ایک میں تیرا نشاں امام حسین\n\nعناں ہے ابلق ایام کی فلک کے ہاتھ\nکہوں سو کیا کہوں بنتی نہیں ہے کوئی بات\nیہ کاش جان سبک کھوئی ہوتی تیرے ساتھ\nگلے میں طوق ہے میرے گراں امام حسین\n\nمژہ میں لخت جگر اپنے میں پروتا ہوں\nکباب آتش غیرت کے بیچ ہوتا ہوں\nحرم کے لوگوں کو میں دیکھ دیکھ روتا ہوں\nپھر اس پہ ان کی یہ آہ و فغاں امام حسین\n\nپڑا جلے ہے ترا لاشہ دھوپ میں مظلوم\nاسیر کرکے مجھے لے چلی ہے قوم شوم\nکفن کی فکر جو کرجاؤں تیری سو معلوم\nہو آفتاب ترا سایہ باں امام حسین\n\nخدا کو سونپ کے اس بے کفن کو وہ بے دل\nگیا یہ کہہ کے کہ بابا ہے سخت یہ مشکل\nجرس کے طرز میں نالاں ہوں ساتھ تا منزل\nگیا ہے چھوڑ کے تو کارواں امام حسین\n\nفلک نے کی نہ مدد اب بھی ان غریبوں کی\nخراب ہوتی نہ مٹی جو بے نصیبوں کی\nتسلی ہوتی رہی باقی ناشکیبوں کی\nہوا نہ زیر زمیں بھی نہاں امام حسین\n\nخبر بھی ہے تجھے کس کا لہو پیا ہے تیں\nچراغ خانۂ حیدر بجھا دیا ہے تیں\nکرے گا نفع نہ محشر کو جو کیا ہے تیں\nگیا ہے کھینچ کے جی کا زیاں امام حسین\n\nقیامت ایک نمودار ہوگی محشر کو\nسخن میں لاویں گے جب اس جوان بے سر کو\nعجب نہیں ہے جو بے تابی آوے داور کو\nکرے گا گر یہ مصیبت بیاں امام حسین\n\nتمھارے لطف سے خاطر میں میرؔ کے ہے نہاں\nکہ روز حشر کو ہووے رکاب ہی میں رواں\nصف نعال جوانان کربلا ہو جہاں\nملے اسے بھی اسی جا مکاں امام حسین", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D8%A8%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86"} {"title": "نسیم و شبنم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "نسیم\nانجم کی فضا تک نہ ہُوئی میری رسائی\nکرتی رہی مَیں پیرہنِ لالہ و گُل چاک\nمجبور ہوئی جاتی ہوں مَیں ترکِ وطن پر\nبے ذوق ہیں بُلبل کی نوا ہائے طرب ناک\nدونوں سے کِیا ہے تجھے تقدیر نے محرم\nخاکِ چمن اچھّی کہ سرا پردۂ افلاک!\n\nشبنم\nکھینچیں نہ اگر تجھ کو چمن کے خس و خاشاک\nگُلشن بھی ہے اک سِرِّ سرا پردۂ افلاک", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D9%88_%D8%B4%D8%A8%D9%86%D9%85"} {"title": "نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے\nہماری خاک سے دیکھو تو کچھ رہا بھی ہے\n\nترا غرور مرا عجز تا کجا ظالم\nہر ایک بات کی آخر کچھ انتہا بھی ہے\n\nجلے ہے شمع سے پروانہ اور میں تجھ سے\nکہیں ہے مہر بھی جگ میں کہیں وفا بھی ہے\n\nخیال اپنے میں گو ہوں ترانہ سنجاں مست\nکراہنے کے دلوں کو کبھی سنا بھی ہے\n\nزبان شکوہ سوا اب زمانہ میں ہیہات\nکوئی کسو سے بہم دیگر آشنا بھی ہے\n\nستم روا ہے اسیروں پہ اس قدر صیاد\nچمن چمن کہیں بلبل کی اب نوا بھی ہے\n\nسمجھ کے رکھیو قدم خار دشت پر مجنوں\nکہ اس نواح میں سوداؔ برہنہ پا بھی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "نشاط امید", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے مری امید میری جاں نواز\nاے مری دل سوز میری کارساز\nمیری سپر اور مرے دل کی پناہ\nدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہ\nعیش میں اور رنج میں میری شفیق\nکوہ میں اور دشت میں میری رفیق\nکاٹنے والی غم ایام کی\nتھامنے والی دل ناکام کی\nدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھ\nتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھ\nتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھ\nتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھ\nجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنج\nکھول دیے تو نے قناعت کے گنج\nتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراس\nتجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آس\nخاطر رنجور کا درماں ہے تو\nعاشق مہجور کا ایماں ہے تو\nنوح کی کشتی کا سہارا تھی تو\nچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تو\nرام کے ہمراہ چڑھی رن میں تو\nپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں تو\nتو نے سدا قیس کا بہلایا دل\nتھام لیا جب کبھی گھبرایا دل\nہو گیا فرہاد کا قصہ تمام\nپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدام\nتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آس\nہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاس\nہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جب\nمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سب\nہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہات\nسات سمندر سے گزرنا ہے بات\nساتھ ملا جس کو ترا دو قدم\nکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجم\nگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگ\nسامنے ہے تیرے گیا اور پراگ\nعزم کو جب دیتی ہے تو میل جست\nگنبد گردوں نظر آتا ہے پست\nتو نے دیا آ کے ابھارا جہاں\nسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاں\nذرے کو خورشید میں دے کھپا\nبندے کو اللہ سے دے تو ملا\nدونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑ\nدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑ\nنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساس\nتو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاس\nدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہو\nتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہو\nخشک تھا بن تیرے درخت عمل\nتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھل\nدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حور\nگاہ دکھاتی ہے شراب طہور\nنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ ترا\nروز نرالا ہے تماشا ترا\nکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیل\nجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیل\nروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگ\nہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگ\nچھوٹ گئے سارے قریب اور بعید\nایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امید\nتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سخت\nتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تخت\nخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلند\nتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بند\nتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاں\nتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاں\nکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاش\nہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاش\nاک تمنا میں ہے اولاد کی\nایک کو دل دار کی ہے لو لگی\nایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئے\nدھوم سے اولاد کی شادی رچائے\nایک کو کچھ آج اگر مل گیا\nکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیا\nقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایک\nجن میں ہو ان کے لیے انجام نیک\nایک کو ہے تشنگیٔ قرب حق\nجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شق\nجو ہے غرض اس کی نئی جستجو\nلاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزو\nتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغ\nگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغ\nسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مراد\nکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مراد\nوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغ\nتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغ\nوعدے وفا کرتی ہے گو چند تو\nرکھتی ہے ہر ایک کو خورسند تو\nبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعل\nتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کل\nتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرے\nبزم عزا کو طرب آگیں کرے\nآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاس\nرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاس\nیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤ\nسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤ\nآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراس\nٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آس\nجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹی\nخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کی\nچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤ\nبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤ\nپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوق\nگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوق\nفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے باب\nدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خواب\nتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریب\nدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیب\nتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیا\nپھونک دیا کان میں کیا جانے کیا\nدل سے بھلایا زن و فرزند کو\nلگ گیا گھن نخل برومند کو\nکھانے سے پینے سے ہوا سرد جی\nایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگی\nدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کام\nدھن ہے یہی رات دن اور صبح شام\nدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکنا\nشہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گدا\nپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤ\nپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤ\nکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کر\nرہ گئی اک آنچ کی باقی کسر\nہے اسی دھند میں وہ آسودہ حال\nتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈال\nتول کر گر دیکھیے اس کی خوشی\nکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھی\nپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بخت\nجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تخت\nآج جو برتن ہیں تو کل گھر کرو\nملتی ہے مشکل سے انہیں نان جو\nتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاس\nساری خدائی میں ہے لے دے کے آس\nپھولے سماتے نہیں اس آس پر\nصاحب عالم انہیں کہیے اگر\nکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیب\nجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیب\nہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجوم\nآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوم\nلگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنے\nحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنے\nہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگ\nعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگ\nجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیے\nپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیے\nبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرح\nیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرح\nہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کا\nاڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کا\nٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھی\nہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھی\nجاتا ہے قابو سے آخر دل نکل\nکرتا ہے ان مشکلوں کو تو ہی حل\nکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیں\nرخت سفر یاس نے باندھا وہیں\nساتھ گئی یاس کے پژمردگی\nہو گئی کافور سب افسردگی\nتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھید\nچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B4%D8%A7%D8%B7_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF"} {"title": "نشاں علم و ادب کا اب بھی ہے اجڑے دیاروں میں", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نشاں علم و ادب کا اب بھی ہے اجڑے دیاروں میں\nکہ سالمؔ اور مضطرؔ ہیں پرانی یاد گاروں میں\n\nغرض کیفیؔ و شاعرؔ سائلؔ و بیخودؔ حسنؔ شیداؔ\nعلم ہیں عرصۂ علم و ادب کے شہسواروں میں\n\nنسیمؔ و برقؔ و رونقؔ غوثؔ و کیفیؔ عزمیؔ و ماہرؔ\nشررؔ اور زارؔ و معجزؔ نامور ہیں سحر کاروں میں\n\nمبیںؔ یکتاؔ قمرؔ اخلاقؔ شوقؔ اور شاکرؔ و غافلؔ\nمنیرؔ و شمسؔ سب ہیں علم و فن کے دوستداروں میں\n\nقریشیؔ واحدیؔ آصفؔ بقائی اور حسنؔ خواجہ\nہیں عہد حاضرہ میں سب ادب کے پختہ کاروں میں\n\nسعیدؔ و یاسؔ و وحشیؔ امنؔ اور محمودؔ اور اکبرؔ\nنہیں گو دہلی والے دہلوی ہیں استعاروں میں\n\nمنورؔ منتظرؔ برکتؔ جریؔ فانیؔ ادیبؔ عاشقؔ\nنہالؔ اور فکرؔ آتے ہیں اسی مد کے شماروں میں\n\nہماری درس گاہوں میں ادب کے ناظمؔ و ناشرؔ\nخدا رکھے نظر آتے ہیں اکثر ہونہاروں میں\n\nعلیؔ و طالبؔ و شیداؔ و تاباںؔ ساقیؔ و مائلؔ\nہوا تاراج گلشن جب خزاں آئی بہاروں میں\n\nفراقؔ اور میرؔ ناصرؔ اور سری رامؔ اب کہاں ساحرؔ\nکہ تھے علم و ادب کے بہتریں خدمت گزاروں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%B9%D9%84%D9%85_%D9%88_%D8%A7%D8%AF%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%AC%DA%91%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا\nکہ صُبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں\nکمالِ صدق و مروّت ہے زندگی ان کی\nمعاف کرتی ہے فطرت بھی ان کی تقصیریں\nقلندرانہ ادائیں، سکندرانہ جلال\nیہ اُمّتیں ہیں جہاں میں برہنہ شمشیریں\nخودی سے مردِ خود آگاہ کا جمال و جلال\nکہ یہ کتاب ہے، باقی تمام تفسیریں\nشکوہِ عید کا منکر نہیں ہوں مَیں، لیکن\nقبولِ حق ہیں فقط مردِ حُر کی تکبیریں\nحکیم میری نواؤں کا راز کیا جانے\nورائے عقل ہیں اہلِ جُنوں کی تدبیریں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%81_%D9%82%D9%88%D9%85%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نشتر کی نوک دل میں اتارے چلے گئے", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نشتر کی نوک دل میں اتارے چلے گئے\nہم یوں عروس غم کو سنوارے چلے گئے\n\nآیا نہ ہاتھ گوشۂ دامان التفات\nلیکن فقیر ہاتھ پسارے چلے گئے\n\nقائم رہیں بوصف کرم بھی حدود ناز\nدریا کے ساتھ ساتھ کنارے چلے گئے\n\nدل کو تمہیں نے ہاتھ میں لے کر مسل دیا\nہم سادہ دل تمہیں کو پکارے چلے گئے\n\nچلنا رہ حیات پہ دشوار تھا مگر\nتیرے متاع غم کے سہارے چلے گئے\n\nآیا ترا خیال مٹے نقش ماسوا\nابھرا افق سے چاند ستارے چلے گئے\n\nمحفل کو ناگوار تھی عرض شکست دل\nمحفل سے اٹھ کے درد کے مارے چلے گئے\n\nہاں اے زمین گور غریباں جواب دے\nکیوں مجھ سے روٹھ کر مرے پیارے چلے گئے\n\nعابدؔ زمانہ ہم کو مٹاتا چلا گیا\nہم نقش زندگی کو ابھارے چلے گئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B4%D8%AA%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D9%88%DA%A9_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "نشہ میں جی چاہتا ہے بوسہ بازی کیجئے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نشہ میں جی چاہتا ہے بوسہ بازی کیجئے\nاتنی رخصت دیجئے بندہ نوازی کیجئے\n\nچاہئے جو کچھ سو ہو پہلے ہی سجدہ میں حصول\nآپ کو گر کعبۂ دل کا نمازی کیجئے\n\nجس نے اک جلوہ کو دیکھا جی دیا پروانہ وار\nاس قدر اے شمع رویاں حسن سازی کیجئے\n\nنردباں کہتے ہیں ہے بام حقیقت کا مجاز\nچند روز اس واسطے عشق مجازی کیجئے\n\nخواہش روشن دلی گر ہووے شب سے تا سحر\nشمع ساں بیدارؔ رو رو جاں گدازی کیجئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B4%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "نشہ میں سہواً کر لی توبہ", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نشہ میں سہواً کر لی توبہ\nایسی بھولی الٰہی توبہ\n\nحج میں جب یاد آئیں وو آنکھیں\nطاق حرم پر رکھ دی توبہ\n\nواعظوں سے رندوں میں آئی\nپھرتی ہے بہکی بہکی توبہ\n\nقسمیں کھا کر پھر سے پینا\nمنہ کا نوالہ ٹھہری توبہ\n\nدام میں پھانسا موجۂ مے نے\nاک جھٹکے میں ٹوٹی توبہ\n\nبحر گنہ سے پار اتارا\nکشتیٔ رحمت ٹھہری توبہ\n\nپی کے منیرؔ اب بادۂ کوثر\nمست ہوئی ہے میری توبہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B4%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%81%D9%88%D8%A7%D9%8B_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81"} {"title": "نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب\nشیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے\n\nہم نشیں مت کہہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست\nواں تو میرے نالے کو بھی اعتبار نغمہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B4%DB%81_%DB%81%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A8_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D8%A7_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D8%B7%D8%B1%D8%A8"} {"title": "نشے کی پہلی ترنگ", "poet_page": "مصنف:سجاد حیدر یلدرم", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "جوان! بیس سال کا جوان ہے۔ وہ گردبادِحیات ، تاثراتِ روحانیہ، مرأتِ وجدان کن کو کہتے ہیں، اس سے بالکل بے خبرہے۔ حظوظات نفسانیہ میں شدت سے منہمک اور ہوا و ہوس سے مغلوب! جہاں بزم عیش دیکھی ادھر ہی کو دوڑنا، کہیں آہنگ طرب سنا، اسی میں شریک ہونا، جہاں معلوم ہوا کہ کوئی مجلس مستانہ ہے، وہیں کے ہو لیے مگر شراب نہیں پیتا اور اسے آب زہر ناک تصور کرتا ہے۔ صرف سوسائٹی اور یاران جلسہ میں رہنے کا بہت شوق ہے اور کھانے کا تو دشمن ہے۔ رکابی میں کسی چیز کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ہر دلعزیز ہونے کی بہت خواہش ہے اور ہر شخص کے ساتھ ملاطفت سے پیش آنا چاہتا ہے۔ غرض کہ بزم آراء شوق افزا ہے۔\n\nناتجربہ کاری اور بے فکری کے خیالات رات دن اس کی خدمت میں فخر کے ساتھ حاضر رہتے ہیں۔ اس میں تعجب کیا ہے؟ جوانوں کے لیے دل لگی چاہیے! وہ بھی اپنا دل بہلاتا ہے۔ وہ بھی روایت پرور افکار کا محکوم ہے۔ کچہری ہفتہ میں دو تین دن جاتا ہے باقی تمام وقت لایعنی اشغال میں صرف کرتا ہے۔ دن بھر میں سو سو محلوں کے چکر لگاتا ہے اور ہر جگہ ایک محبوبہ سودا انتمار رکھتا ہے۔\n\nخوش ہے! حیات کے مسائل مہمہ میں سے ایک بھی اسے اپنی طرف نہیں کھینچتا۔ اندیشہ و اضطراب کے اسباب مہلکہ سے بری ہے، مستقبل زمانہ کا ذرا بھی خیال نہیں کرتا۔ حال میں اپنی عمر کو ایک آہنگ ِ عاشقانہ کے ساتھ گزارتا ہے، کھاتا ہے ، پیتا ہے اور پہنتا ہے، معیشت نے اس آوارہ مزاج پر اپنا دست تغلب نہیں ڈالا۔ اپنے خیال میں وہ گویا اس سوچ میں ہے کہ حیات مسعودانہ کب اور کس طرح منتظم کرے!\n\nمحاکمات فکریہ اور مناقشات وجدانیہ کو محکوم تعب اور آرام سوز سمجھ کر ان سے کلیتہً مجتنب ہے۔ ہفتے یکے بعد دیگرے گزر جاتے ہیں اور وہ گھر میں نہیں آتا۔ گھروالے اس غیر حاضری پر کس اندیشہ و خلجان میں مبتلاہوں گے، اس سے اپنے دماغ کو تکلیف نہیں دیتا۔ اگر وہ پریشان ہیں تو میں کیا کروں؟ میں بچہ نہیں ہوں۔ اگر غیر حاضر رہتا ہوں رہنے دیں۔\n\nوہ شفقت پناہ عورت جسے ماں کہتے ہیں آنکھوں میں آنسو بھر کے اس کی خوشامد کرتی ہے وہ تین چار منٹ کے لیے متاثر ہو کر اپنی حالت پر افسوس کرتاہے، مگر پرانی ہوائے محبت اس نقش کو بہت جلد زائل کر دیتی ہے، وہی فکر، وہی شرب اپنی فرمانروائی پھر شروع کر دیتے ہیں۔ جو شخص کہ چند ساعت پہلے اپنی والدہ کے حضور میں محجوبیت اور ندامت کے ساتھ حاضر تھا، اب وہی اپنے پرانے شبانہ اشغال میں شریک ہونے کے لیے موجود ہے۔ شام کو دستر خوان کے گرد جمع شدہ خاندان میں ایک شخص کی عدم موجودگی۔۔۔۔ اپنے جگر پاروں کو دیکھتی ہے۔ بڑے بھائی کی غیر حاضری کی وجہ سے دلگیر ہو کر چھوٹے بچے تہالک ِ معصومانہ سے کہتے ہیں:\n\n’’اماں! ہم کھائیں؟ بھائی تو آئے نہیں؟‘‘\n\nبغیر کسی لطف اور لذت کے پیٹ میں کھانا ڈال کر علیحدہ ہو جاتے ہیں۔\n\nسب پڑوسی نوجوان کے انجام سے ڈرتے ہیں، اس کی اصلاح کے متعلق اس کی ماں سے سوال کرتے ہیں، مگر افسوس! ماں بے چاری کیا کرے۔ وہ نصیحت سنتا ہی نہیں۔ ہم کہہ نہیں چکے ہیں کہ وہ ہوا و ہوس سے مغلوب ہے، اس کو اس کے مشاغل سے بازرکھنا سخت مشکل ہے۔ ہوس نے اپنا سکہ جما رکھا ہے، برائیاں حکمرانی کررہی ہیں اور طالع مساعد ہے اور موفقیت زیادہ! جوان کو ماں نے ایک تقریب سے دوسرے شہر میں بھیج دیا ہے کہ شاید اسی ذریعے سے اس کی آشفتہ مزاجی میں کمی ہو۔\n\nوہ چلا گیا ، مگر کیا اس کی حرکات مجنونانہ میں کوئی کمی ہوئی؟ غلط، غلط، تخفیف نہیں ہوئی بلکہ صرف ایک عارضی سکون نے اس کے دماغ کو فعالیت شہوانیہ سے سکتے میں ڈال دیا اور ’’امور معیشت کیا چیز ہیں اور حیات ساعیانہ کسے کہتے ہیں‘‘ یہ اسے بتانا شروع کیا۔ اس کی خواہشیں زائل نہیں ہوئیں۔ صرف ذرائع مفقود تھے۔\n\nحیات ماضی اس کے تخیل سے وابستہ تھی۔ہاں ، کبھی کبھی یہ بھی خیال دل میں جاگزیں ہو جاتا تھا کہ سئیات کس قدر آرام سوز اور طاقت فرسا ہیں۔ ان خیالات سے اس کی پریشانی اور بھی بڑھ جاتی تھی۔ مسائل مہمہ حیات پر غور کرنے سے اس کی حالت بحران تک پہنچ جاتی تھی اور اس زمانے میں بلاکسی کے پاس بھیجنے کے ارادے کے وہ عجیب خط لکھتا تھا، جن میں لذت اشتغال، محظوظیتِ خدمت، نشوئہ آرام سے بحث ہوا کرتی تھی۔\n\nانسانی طبیعت کا مختلف زمانے میں مختلف حالتوں میں ہونا، کیا کیا تبدلات پیدا کرتا ہے آج جو غضب و تکدر اور اندیشوں میں ڈوبا ہوا ہے، وہی کل نشوہ رخندہ و بہجبت سے ہم آغوش ہے، جوشخص ابھی ابھی حیات سفلیانہ سے متنفر ہے، تھوڑی دیر بعد سفالیت کے درجے سے بھی نیچے پڑا ہوتا ہے۔ ابھی جو اصلاح نفس سے بحث کررہا ہے، کچھ تعجب نہیں جو کچھ عرصے کے بعد وہی تعر معاصی میں گرا ہوا ملے، یہ محقق ہے۔\n\nجوان کا بھی یہی حال ہوا۔ اس کی الجھن رفع کرنے کے لیے اس کے چند دوست نما دشمنوں نے صلاح دی کہ شراب پیو۔ نوجوان اس کی جرأت نہ کر سکتا تھا۔ سرخوش لوگوں کے احوال رذیلانہ دیکھ کر اسے شراب سے نفرت ہو گئی تھی۔ اب کس طرح پی سکتا ہے، یہ ہرگز نہ ہوگا۔۔۔\n\nافسوس اس ارادے پر ثابت قدم نہ رہااور ان دوستوں کے اصرار کو رد نہ کر سکا۔ ان کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا اور یہ سب لوگ سپتجی قہوہ خانے کے سامنے والے مَے خانے میں گئے۔ پہنچتے ہی اس کے دماغ میں ایک کریہہ بو داخل ہوئی۔ یہ مے خانہ نہ تھا بلکہ مزبلہ گاہ معلوم ہوتا تھا۔ چھت بغیر چمنی کے لیمپ کے دھوئیں سے بالکل کالی ہو گئی تھی، ہر کونے میں مکڑی کا ایک بڑا جالا بناہوا تھا۔زمین ایک بالشت گہری کیچڑ میں دبی ہوئی تھی۔ میز کی جگہ پر ایک پرانا مستعمل مٹی کے تیل کاصندوق رکھا ہوا تھاجو تختہ کہ کوچ کا کام دے رہا تھا، اس پر ایک متعفن کریہہ المنظر ٹاٹ (جس نے نہ معلوم کس وقت سے پانی کا منہ نہ دیکھا تھا) پڑا تھا۔ شیشے، برتن، پیالے میل کی وجہ سے نظر نہ آتے تھے۔ تین چار عیاش ایک میز کے گرد احاطہ کئے ہوئے پی رہے تھے۔ یہ بھی اس زمرئہ بدمستی میں شامل ہو گئے اور جا کر بیٹھ گئے۔\n\nجوان نے ایک مدید اور اسرار انگیز نظر سے چاروں طرف دیکھا۔ پھر ایک معنی وار نظر اپنے ساتھیوں پر ڈالی اور کانپ کر پوچھا:\n\nیہاں کیا ہوگا؟\n\nجواب ملا : ’’ عیش و طرب‘‘\n\nجوان نے ایک قہقہہ لگایا اور اس کی آنکھوں میں ایک برق تہور چمکی۔ اس نے پوچھا:\n\n’’پھر؟‘‘\n\nجواب دیا گیا۔ ’’پیئں گے‘‘\n\n’’یہاں؟‘‘\n\n’’ہاں‘‘۔\n\nکانپ اٹھا، محتشم، مکلف عشرت جگہوں میں جب ایک قطرہ منہ میں نہیں ڈالا تو اس مردار و نفرت انگیز مقام میں کیوں کر پی سکے گا۔ اس آبِ زہر ناک کو جو گہری کائی میں دبے ہوئے پیپے سے نکل رہی تھی کیونکر اپنے معدے میں اتار سکتا تھا۔ غرض کہ جوان کی حالت ایسی ہو گئی کہ گویا وہ ہرگز نہ پئے گا لیکن۔۔۔۔ لیکن بات دے چکا تھا، اب کیا ہو سکتا تھا؟ اپنی بات کی سچائی پر اس نے کبھی تکرار کی تھی؟ اب اس کے خلاف اس کے امکان سے خارج تھا۔ خیر، خیر نہ پئے گا۔ اس آب پر اصظرار کو منہ میں نہ ڈالے گا۔\n\nخدمت گار نے اپنے ناپاک ہاتھوں سے ان کے بیچ میں قدح اور شیشے رکھنے شروع کئے۔ اس بیت القوۃ، اس دارالخباثت میں پینے سے مزہ کیونکر آسکتا تھا؟ جوان نے پھر سب کی طرف دیکھا، اتنے میں ایک تیز آواز نے کہا:\n\n’’پانی لائو‘‘۔\n\nیہاں پانی کہاں؟ یہاں پانی سے مراد لوازم نوشا نوش ہیں، جوان کسی طرح اپنے رفیقوں میں شریک نہ ہو سکتا تھا اور وہ ’’آپ کی صحت، آپ کا شرف‘‘ کہہ کہہ کر اصرار کررہے تھے۔ مگر وہ پیالہ ہاتھ میں نہ لیتا تھا۔ چہرے پر تموجات عصبیہ، او ر حسیات ِ نفرت ظاہر ہوتے تھے، مگر افسوس سے نہ کہتا تھا۔\n\nتردہ و خلجان و پریشانی کے ساتھ ہاتھ میں پیالہ لیا گیا۔ ایک لرزش خفی تمام جسم میں دوڑ گئی، جیسے بڑی سردی معلوم ہورہی ہو۔ اس طرح کہ اس کے دانت بجنے لگے۔ بڑھا ہوا ہاتھ بے اختیار پیچھے ہٹ گیا۔ اصرار اور رجا نے اس دست متردد کو پھر بڑھایا، مگر منہ تک لے جانے کی حالت میں یکایک پھر ٹھہر گیا۔ اختلاجات و جدانیہ کی تاب نہ لاسکا اور کہا:\n\n’’نہ پی سکوں گا‘‘۔ مگر ابھی پیالہ ہاتھ میں ہے۔\n\n’’کیا جانیے کیاہو؟‘‘ دو معنی دار نظروں نے اسے گھورکے دیکھا اور پیالہ خالی کر دیا گیا۔ اس کے جسم میں ایک حرارت آئی اور اسے اپنے پر اختیار نہ رہا۔ دوسرے پیالے نے حرارت میں تخفیف کی، شیشہ خالی کیا گیا، اور اب اسے نشوئہ بدمستی کا احساس ہوا۔\n\nکیا تم یقین کرو گے؟ متاسف ہے، آیا پینے سے ؟ شاید، اور شاید اس وجہ سے کہ اچھی جگہوں میں نہ پی اور پی تو یہاں۔\n\nنشوئہ خمار نے فریفتہ کر دیا۔ میدان پا کر پینا شروع کر دیا۔ یہی ہوتاہے۔۔۔بات ، پہلے ہی مرتبہ کے نہ پینے میں ہے۔۔۔ اس کے بعد کچھ نہیں ہوتا!\n\nجوان اس وقت سے اپنی زندگی زہریلی کررہا ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B4%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D9%86%DA%AF"} {"title": "نصرت الملک بہادر مجھے بتلا کہ مجھے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "نصرت الملک بہادر مجھے بتلا کہ مجھے\nتجھ سے جو اتنی ارادت ہے تو کس بات سے ہے\nگرچہ تو وہ ہے کہ ہنگامہ اگر گرم کرے\nرونق بزم مہ مہر تری ذات سے ہے\nاور میں وہ ہوں کہ گر جی میں کبھی غور کروں\nغیر کیا خود مجھے نفرت مری اوقات سے ہے\nخستگی کا ہو بھلا جس کے سبب سے سر دست\nنسبت اک گونہ مرے دل کو ترے ہات سے ہے\nہاتھ میں تیرے رہے تو سن دولت کی عناں\nیہ دعا شام و سحر قاضی حاجات سے ہے\nتو سکندر ہے مرا فخر ہے ملنا تیرا\nگو شرف خضر کی بھی مجھ کو ملاقات سے ہے\nاس پہ گزرے نہ گماں ریوو ریا کا زنہار\nغالبؔ خاک نشیں اہل خرابات سے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B5%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%84%DA%A9_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "نصیبوں سے کوئی گر مل گیا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نصیبوں سے کوئی گر مل گیا ہے\nتو پہلے اس پہ اپنا دل گیا ہے\n\nکرے گا یاد کیا قاتل کو اپنے\nتڑپتا یاں سے جو بسمل گیا ہے\n\nلگے ہیں زخم کس کی تیغ کے یہ\nکہ جیسے پھوٹ سینہ کھل گیا ہے\n\nخدا کے واسطے اس کو نہ لاؤ\nابھی تو یاں سے وہ قاتل گیا ہے\n\nکوئی مجنوں سے ٹک جھوٹے ہی کہہ دے\nکہ لیلیٰ کا ابھی محمل گیا ہے\n\nاگر ٹک کی ہے ہم نے جنبش اس کو\nپہاڑ اپنی جگہ سے ہل گیا ہے\n\nکوئی اے مصحفیؔ اس سے یہ کہہ دے\nدعا دیتا تجھے سائل گیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نصیحت", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کرے دشمنی کوئی تم سے اگر\nجہاں تک بنے تم کرو درگزر\nکرو تم نہ حاسد کی باتوں پہ غور\nجلے جو کوئی اس کو جلنے دو اور\nاگر تم سے ہو جائے سرزد قصور\nتو اقرار و توبہ کرو بالضرور\nبدی کی ہو جس نے تمہارے خلاف\nجو چاہے معافی تو کر دو معاف\nنہیں، بلکہ تم اور احساں کرو\nبھلائی سے اس کو پشیماں کرو\nہے شرمندگی اس کے دل کا علاج\nسزا اور ملامت کی کیا احتیاج\nبھلائی کرو تو کرو بے غرض\nغرض کی بھلائی تو ہے اک مرض\nجو محتاج مانگے تو دو تم ادھار\nرہو واپسی کے نہ امیدوار\nجو تم کو خدا نے دیا ہے تو دو\nنہ خست کرو اس میں جو ہو سو ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%AD%D8%AA"} {"title": "نصیحت (اک لُردِ فرنگی نے کہا اپنے پسَر سے)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اک لُردِ فرنگی نے کہا اپنے پسَر سے\nمنظر وہ طلب کر کہ تری آنکھ نہ ہو سیر\nبیچارے کے حق میں ہے یہی سب سے بڑا ظلم\nبَرّے پہ اگر فاش کریں قاعدۂ شیر\nسِینے میں رہے رازِ ملُوکانہ تو بہتر\nکرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیر\nتعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو\nہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیر\nتاثیر میں اِکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب\nسونے کا ہمالہ ہو تو مٹّی کا ہے اک ڈھیر!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%AD%D8%AA_%28%D8%A7%DA%A9_%D9%84%D9%8F%D8%B1%D8%AF%D9%90_%D9%81%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%B3%D9%8E%D8%B1_%D8%B3%DB%92%29"} {"title": "نصیحت (بچۂ شاہیں سے کہتا تھا عقابِ سالخورد)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "بچۂ شاہیں سے کہتا تھا عقابِ سالخورد\nاے ترے شہپر پہ آساں رفعتِ چرخِ بریں\nہے شباب اپنے لہُو کی آگ میں جلنے کا نام\nسخت کوشی سے ہے تلخِ زندگانی انگبیں\nجو کبوتر پر جھپٹنے میں مزا ہے اے پِسَر!\nوہ مزا شاید کبوتر کے لہُو میں بھی نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%AD%D8%AA_%28%D8%A8%DA%86%DB%82_%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B9%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%90_%D8%B3%D8%A7%D9%84%D8%AE%D9%88%D8%B1%D8%AF%29"} {"title": "نصیحت (ماسٹر رام چندر)", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "چند سطور جو آگے بیان ہوتی ہیں، توقع کرتا ہوں کہ ناظرین اس پرچے کے بغور و تامل ملاحظہ فرمائیں گے۔ ہفتہ گذشتہ میں بندہ کو ایک مہربان کی ملاقات کے واسطے ان کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں جب وارد ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ مکان پر تشریف نہیں رکھتے ہیں۔ میں نے خیال کیا کہ اگر بے ملے ان سے چلا جاؤں گا تو بباعث موانع امورات دنیوی کے خدا جانے پھر کب اتفاق ان کی ملاقات کا ہو۔ اس لحاظ سے ارادہ کیا کہ جب تک وہ تشریف لائیں ان کا انتظار کرو مگر باعث تنہائی کے ان کے دیوان خانے میں میری طبیعت لگی نہیں۔ ان کے باغیچے میں پھرنے لگا۔ اشجار پر ثمر اور گلہائے نو بہار کی سیر کرتا ہوا ایک ایسے تختہ پر پہنچا جہاں جھاڑ گلاب کے تھے۔\n\nوہاں دیکھتا کیا ہوں کہ ایک لڑکا بغور ایک پھول گلاب کی طرف دیکھ رہا ہے۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ تم اتنے فکر و تامل سے اس گل کو کیوں دیکھ رہے ہو، اس لڑکے نے جواب دیا کہ جناب عالی یہ دو درخت جو آپ ملاحظہ کرتے ہیں، میرے والد نے مجھ کو عطا فرمائے تھے اور ارشاد کیا تھا کہ تم سے جس قدر ان کی خبرداری ہو سکے، قصور نہ کرنا، ان کی حالت دیکھ کر ہم دریافت کر لیں گے کہ تم اس سے بے خبر تو نہیں ہو، سو جناب اس روز سے میں ان کی خبرداری کرتا تھا اور یہ خیال تھا کہ اول پھول جو کھلے ہیں ان کی نذر کروں گا، سو کل یہ اتفاق ہوا تھا کہ ایک غنچہ اس درخت میں (میرے تئیں اپنے پاس بلا کر دکھایا) لگایا تھا، اور میں نے اسے آکر دیکھا۔ مجھے کمال خوشی ہوئی کہ اب میں ان کو دوں گا اور یہ شوق ہوا کہ کسی طرح سے یہ جلد کھل جاوے تو میں ان کے پاس لے جاؤں اور یہ خیال کیا کہ اگر چھوٹی چھوٹی پتیاں جو اس غنچہ کے گرد ہیں انہیں ہاتھ سے ادھر ادھرکردوں تو یہ پھول بباعث حرارت آفتاب اور لگنے ہوا کے جلد کھل جائے گا۔\n\nیہ سوچ کر اسی طرح کیا اور تھوڑی دیر کے واسطے چلا گیا۔ چونکہ شوق کمال تھا، زیادہ نہ ٹھہر سکا۔ پھر آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پتیاں پھول کے برعکس میری آرزو کی کملا گئی ہیں اور چند قریب خشک ہوگئیں۔ مجھے اس وقت کمال ناامیدی ہوئی اور خیال کیا کہ میں نے غنچہ کو زیادہ کھول دیا۔ اب کی اگر کوئی پھول آوے گا تو ہوشیاری کام میں لاؤں گا۔ چنانچہ آج صبح پھر دیکھا تو ایک اور غنچہ اسی درخت میں پایا۔ ویسا ہی شوق پھر دامن گیر ہوا لیکن کل کا حال جو مجھے یاد تھا، غنچے کو زیادہ نہ کھولا اور اسے کھلنے کی فرصت دی اور بعد ایک پہر کے اب آیا تھا اور قطعی خیال تھا کہ جاتے ہی اس پھول کو جو اب کھل گیا ہوگا لاکر اپنے والد کی نذر کروں گا سو کل کی سی ناامیدی آج پھر ہے۔\n\nآپ ملاحظہ کیجئے کہ اس کی کیا حالت ہے۔ میں نے جو دیکھا تو فی الحقیقت کملا گیا تھا۔ پھر کہنے لگا کہ اب میں یہ سوچ رہا تھا کہ آج میں نے اسے بہت ہوشیاری سے کھولا تھا۔ اب یہ کیوں مرجھا گیا۔ یہ تمام اس کی سرگذشت سن کر میں نے جواب دیا، صاحب زادے جو چیزیں قدرت سے تعلق رکھتی ہیں، اس میں انسان موافق اپنی طبیعت کے اپنی حکمت سے کم وبیشی نہیں کرسکتا ہے۔ اگر اس پھول کی سبز پتیاں ادھر ادھر سے نہ اٹھاتے اور منتظر اس کے خود کھلنے کے رہتے تو یہ موافق تمھاری طبیعت کے کھلتا۔ اتنی بات اس لڑکے سے کہتے ہی مجھے خیال آیا کہ یہ ہی حال اکثر مربیان بچوں کا ہے۔ جو تدبیر وہ اپنی رائے میں مناسب جانتے ہیں، بدون خیال کرنے حالت یا مزاج، بچہ کے عمل میں لاتے ہیں اور اس کا نتیجہ برعکس ان کے مطلب کے ظہور میں آتا ہے۔\n\nاب اکثروں کو دیکھتا ہوں تو وہ واسطے حفظ تندرستی اپنے بچے کے اس کو اشیا مقوی کھلاتے ہیں۔ اس نظر سے کہ بباعث ہونے طاقت کے بیماری اس پر اثر نہیں کرے گی۔ لیکن یہ نہیں خیال کرتے کہ وہ چیزیں وہ بچہ ہضم بھی کر سکے گا اور اوروں کو یہ دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو اکثر اشیاء کے کھانے سے باز رکھتے ہیں۔ اس نظر سے کہ وہ بیمار نہ ہو جائیں۔ یہ نہیں خیال کرتے کہ اگر ان بچوں کے مزاج سے وہ اشیاء موافق آویں تو کس قدر کثیر فائدہ بخشیں۔ الغرض حاصل کلام یہ ہے کہ مربیوں کو چاہئے کہ کھانا پینا اشیاء خوردنی و نوشیدنی کا بچوں کی طبیعت پر چھوڑ دیں مگر نگران حال رہیں۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%AD%D8%AA_%28%D9%85%D8%A7%D8%B3%D9%B9%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%86%D9%86%D8%AF%D8%B1%29"} {"title": "نصیحت (میں نے اقبالؔ سے از راہِ نصیحت یہ کہا)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "میں نے اقبالؔ سے از راہِ نصیحت یہ کہا\nعاملِ روزہ ہے تُو اور نہ پابند نماز\n\nتُو بھی ہے شیوۂ اربابِ ریا میں کامل\nدل میں لندن کی ہوَس، لب پہ ترے ذکرِ حجاز\n\nجھُوٹ بھی مصلحت آمیز ترا ہوتا ہے\nتیرا اندازِ تملُّق بھی سراپا اعجاز\n\nختم تقریر تری مدحتِ سرکار پہ ہے\nفکرِ روشن ہے ترا مُوجدِ آئینِ نیاز\n\nدرِ حکّام بھی ہے تجھ کو مقامِ محمود\nپالِسی بھی تری پیچیدہ تر از زلفِ ایاز\n\nاور لوگوں کی طرح تُو بھی چھُپا سکتا ہے\nپردۂ خدمتِ دیں میں ہوَسِ جاہ کا راز\n\nنظر آجاتا ہے مسجد میں بھی تُو عید کے دن\nاثرِ وعظ سے ہوتی ہے طبیعت بھی گداز\n\nدست پرورد ترے مُلک کے اخبار بھی ہیں\nچھیڑنا فرض ہے جن پر تری تشہیر کا ساز\n\nاس پہ طُرّہ ہے کہ تُو شعر بھی کہہ سکتا ہے\nتیری مِینائے سخن میں ہے شرابِ شیراز\n\nجتنے اوصاف ہیں لیڈر کے، وہ ہیں تجھ میں سبھی\nتجھ کو لازم ہے کہ ہو اُٹھ کے شریکِ تگ و تاز\n\nغمِ صیّاد نہیں، اور پر و بال بھی ہیں\nپھر سبب کیا ہے، نہیں تجھ کو دماغِ پرواز\n\n“عاقبت منزلِ ما وادیِ خاموشان است\nحالیا غُلغلہ در گنبدِ افلاک انداز”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%AD%D8%AA_%28%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%94_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B2_%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%90_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%AD%D8%AA_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%29"} {"title": "نصیحت گرو دل لگایا تو ہوتا", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نصیحت گرو دل لگایا تو ہوتا\nکبھی خنجر عشق کھایا تو ہوتا\n\nنہ آتا کہ آتا شکایت نہ رہتی\nمجھے انجمن میں بلایا تو ہوتا\n\nنہ مانوں گا ناصح کہ دل پر ہے قابو\nلگا کر کسی سے دکھایا تو ہوتا\n\nیہ مانا عدو پر ہے میلان خاطر\nکوئی روز اس کو ستایا تو ہوتا\n\nنہ آتے تو خنجر ہی وہ بھیج دیتے\nکہ ہم نے گلے سے لگایا تو ہوتا\n\nمری سخت جانی کے شکوے بجا تھے\nکبھی دست نازک اٹھایا تو ہوتا\n\nظہیرؔ آج دعویٰ ہے جن کو زباں کا\nسخن اپنا ان کو سنایا تو ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%AD%D8%AA_%DA%AF%D8%B1%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "نطفہ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سڑک کے کنارے", "year": "1953", "text_ur": "معلوم نہیں بابو گوپی ناتھ کی شخصیت درحقیقت ایسی ہی تھی جیسی آپ نے افسانے میں پیش کی ہے، یا محض آپ کے دماغ کی پیداوار ہے، پر میں اتنا جانتا ہوں کہ ایسے عجیب وغریب آدمی عام ملتے ہیں۔\n\nمیں نے جب آپ کا افسانہ پڑھا تو میرا دماغ فوراً ہی اپنے ایک دوست کی طرف منتقل ہوگیا۔۔۔ صادقے کی طرف۔۔۔ آپ کے بابو گوپی ناتھ اور اس میں بظاہر کوئی مماثلت نہیں ہے۔۔۔ لیکن میں ایسا محسوس کرتا ہوں کہ ان دونوں کا خمیر ایک ہی مٹی سے اٹھا ہے۔۔۔ آپ کے بابو گوپی ناتھ کو دولت وراثت میں ملی ہے۔ میرے صادقے کو اپنی محنت و مشقت اور ذہانت کے صلے میں۔ دونوں شاہ خرچ تھے۔ آپ کا بابو گوپی ناتھ بظاہر بدھو تھا لیکن دراصل بہت ہوشیار اور باخبر آدمی تھا۔ میرا صادق اندر باہر سے بالکل ایک جیسا تھا۔ وہ بدھو تھا ،نہ چالاک۔۔۔ درمیانے درجے کی عقل و فہم کا آدمی تھا۔ اپنے کاموں میں آٹھوں گانٹھ ہوشیار۔ حساب کا پکا، لین دین کے معاملے میں بڑا با اصول۔\n\nآپ کے بابو گوپی ناتھ کو لٹ جانے میں مزا آتا ہے، اسے دوسروں کو لوٹنے میں۔ بابو صاحب کو پیروں فقیروں کے تکیوں اور رنڈیوں کے کوٹھوں سے رغبت تھی۔ صادق کو ان سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔۔ مگر ان تمام تفاوتوں کے باوجود میں جب بھی بابو گوپی ناتھ کو صادق کے ساتھ کھڑا کرتا ہوں تو مجھے ان کے خدوخال ایک جیسے نظر آتے ہیں، جیسے وہ جڑواں ہیں۔\n\nمیں تجزیہ نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ ہو سکتا ہے آپ، جب صادق کا حال مجھ سے سنیں تو اس کو انسانوں کی کسی اور ہی صف میں کھڑا کردیں۔ جس میں بابو گوپی ناتھ کی مونچھ کا ایک بال بھی نہ آسکا ہو، لیکن میں سمجھوں گا کہ آپ کے تجزیے میں غلطی ہوئی ہے اورمیں آپ سے درخواست کروں گا کہ اسے اس صف سے نکال کر اس صف میں شامل کردیجیے جس میں آپ کا بابو گوپی ناتھ موجود ہے۔\n\nمیں افسانہ نگار نہیں۔۔۔ معلوم نہیں بابو گوپی ناتھ کے حالات آپ نے من و عن بیان کیے ہیں یا ان میں کچھ رد و بدل کیا ہے۔۔۔بہر حال جو کچھ بھی ہے بہت خوب ہے۔ اورجو کچھ اس افسانے میں ہےاگر اس کے مطابق بابو گوپی ناتھ نہیں چلا تو لعنت ہے اس پر۔۔۔ اور اگر وہ ایسا ہی تھا جیسا کہ افسانے میں ہے تو اس پر خدا کی رحمت ہو۔۔۔ یقین مانیے ایسے لوگ پرستش کے قابل ہوتے ہیں۔۔۔ اور صادق کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔\n\nاس سے میری ملاقات دلی میں ہوئی۔ جنگ کا زمانہ تھا۔ ٹھیکیداریاں بڑے زوروں پر تھیں۔ صادقے کی پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں اور سر محاورے کے مطابق کڑاہے میں۔ میل ملاپ اور اثر رسوخ کافی تھا اور شاہ خرچ تھا ہی۔ دس بیس پرتکلف دعوتیں کرتا اور ایک کنٹریکٹ اپنی جیب میں ڈال لیتا۔\n\nایک بات ہے۔۔۔ بے شک اس نے بہت کمایا۔۔۔ دونوں ہاتھوں سے گورنمنٹ کا مال لوٹا۔لیکن اس میں اس نے ان لوگوں کو برابر کا حصہ دیا جن کے ذریعے سے اس کو اس لوٹ کے مواقع بہم پہنچے تھے۔۔۔ اسی دوران میں اس کا گزر ان وادیوں میں ہوا جن کا بابو گوپی ناتھ ایک بہت بڑا زائر تھا۔ لیکن وہ ان میں بھٹکا نہیں۔ دوسروں کے ساتھ محض رواداری کی خاطر جاتا رہا اور واپس گھر آکر اپنے جوتوں کی گرد جھاڑ کر بیٹھ جاتا رہا۔ اس نے بوتل سے بھی تعارف حاصل کیا مگر معانقے کی نوبت نہ آنے دی۔ ایک دو گھونٹ پی، صرف دوسروں کا ساتھ دینے کے لیے۔\n\nان کوٹھوں پر جہاں آپ کے بابو گوپی ناتھ کے قول کے مطابق دھوکا ہی دھوکا ہوتا ہے۔۔۔۔ صادقے نے خود کو دھوکا دینے کی کبھی کوشش نہ کی۔ ایک دو بار اسے اپنے ساتھیوں کی خوشی کے لیے رنڈیوں کا منہ چومنا پڑا تھا اور چند واہیات حرکتیں بھی کرنا پڑی تھیں، مگر اس نے ان سے کوئی لطف حاصل نہیں کیا تھا۔\n\nوہ رنڈی کے متعلق کبھی سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔ لیکن اگر ملٹری کے نوجوانوں کے لیے رنڈیاں فراہم کرنے کا ٹھیکہ اسے مل جاتا تو وہ یقیناً ان کے متعلق بڑے غور و فکر سے سوچنا شروع کردیتا۔۔۔ وہ کاروباری آدمی تھا۔لیکن ایک دم حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ صادق وہ صادق ہی نہ رہا۔ جنگ ختم ہوئی تو ٹھیکے بھی ختم ہوگئے۔ پھر مقدموں کا کچھ ایسا تانتا بندھا کہ صادق کچہریوں کے چکر میں پھنس گیا۔ جو دولت پیدا کی تھی، سب مقدموں کی نذر ہوگئی موٹر کے بجائے اب صادق ٹانگے پر ہوتا تھا یا سائیکل پر۔ پہلے نئے سا نیا سوٹ اس کے بدن پر ہوتا تھا، اب اسے کپڑوں سے کوئی دلچسپی ہی نہیں رہتی تھی۔ پہلے اس کے خوشامدی دوست اسے نواب صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔ اب وہ صرف ’’صادقا۔۔۔اوئے صادقا‘‘ رہ گیا تھا۔ مگر ان کی اس تبدیلی تخاطب کو صادق نے قطعاً محسوس نہیں کیا تھا۔ اس کو اپنے مقدموں کی اتنی فکر تھی کہ وہ ایسی فروعات کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔\n\nکچہریوں کے اس چکر میں اس نے اپنی مرضی سے بوتل کی طرف ہاتھ بڑھایا اور تھوڑے ہی عرصے میں بڑے دھڑلے کا شرابی بن گیا۔۔۔ اسی دوران میں اس کی ملاقات سرحد کے ایک خان سے ہوئی جس کو وہاں کی حکومت نے صوبہ بدر کر رکھا تھا۔ یہ ملاقات رنڈی کے ایک کوٹھے پر ہوئی۔ زندگی میں صادق پہلی مرتبہ کسی انسان کے خلوص سے متاثر ہوا۔\n\nیہ خان اپنے علاقے کا بہت بڑا رئیس تھا۔ بالکل ان پڑھ مگر جاہل نہیں تھا۔ اس کا دل و دماغ قوم کی فلاح و بہبود کے لیے پوری طرح روشن تھا۔ وہ ایک بہت بڑا انقلاب چاہتا تھا جو ظلم و ستم کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے۔ وہ چاہتا تھا کہ سرمائے کی لعنت سے دنیا آزاد ہو جائے۔۔۔دنیا آزاد نہ ہو تو کم از کم اس کا صوبہ آزاد ہو جائے۔۔۔ ان خیالات کی پاداش میں وہ اپنے وطن سے باہر نکال دیا گیا۔\n\nمیں آپ کی طرح افسانہ نگار نہیں ہوں۔ مجھ سے حاشیہ آرائی نہیں ہوتی۔۔۔خان کا کیریکٹر بھی کم دلچسپ نہیں۔ کسی زمانے میں وہ بڑا پرجوش سرخ پوش تھا۔ اس تحریک سے وابستہ ہو کر اس نے کئی مرتبہ جیل دیکھی۔ اپنی جائیداد میں سے ہزاروں روپے خرچ کیے۔۔۔ جب بٹوارہ ہوا تو وہ مسلم لیگی بن گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح سے اس کو والہانہ عشق ہوگیا۔ مسلم لیگ کی تنظیم کے لیے اس نے قابل قدر خدمات سرانجام دیں، لیکن پھر کچھ ایسے حالات ہوئے کہ وہ جو تعلیم یافتہ تھے، اس سے آگے بڑھ گئے اور بڑے بڑے منصبوں پر جا بیٹھے۔۔ خان جھنجھلا گیا۔ اس جھنجھلاہٹ میں اس نے اپنے غیض و غضب کا بڑا خام مظاہرہ کیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا گیا۔\n\nجس زمانے میں صادق کی ان سے ملاقات ہوئی، آپ کی حالت بالکل بچوں کی سی تھی۔ ان بچوں کی سی جن کو معمولی سی شرارت پر سخت گیر ماسٹر نے بنچ پر کھڑا کردیا ہویا مرغا بنا کر کلاس کے ایک کونے میں کان پکڑنے کا حکم دے دیا ہو۔۔۔ صادق جب بھی مجھ سے ان کی بات کرتا تو کہتا، ’’بڑا بیبا آدمی ہے۔۔۔‘‘\n\nکچھ میں بھی اس خان کے متعلق جانتا ہوں۔ یہ واقعہ ہے کہ صرف ’’بیبا‘‘ ہی ایک ایسا لفظ ہے جو اس کی شخصیت کو پورے طور پر اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔۔۔ وطن سے دور تھا،سیکڑوں میل دور۔۔۔ مگر وطن کی یاد اسے کبھی نہیں ستاتی تھی۔۔۔ اپنے گاؤں میں ایک چھوڑ دو بیویاں تھیں، مگر ان کے متعلق اس نے کبھی تردو کا اظہار نہیں کیا تھا۔ اس لیے کہ اس کو اس طرف سے کامل یقین تھا کہ زمینداری سے جو کچھ وصول ہوتا ہے، ان کے اخراجات کے لیے کافی سے زیادہ ہے۔ سات آٹھ سو روپیہ ماہوار اس کا منیجر وہاں سے روانہ کردیتا تھا جواس کی واکسہال موٹر کے پٹرول اور اس کی شراب پر اٹھ جاتا تھا۔\n\nگھر اس کا ہیرا منڈی کے ایک کوٹھے پر تھا۔ صوبہ بدر ہونے کے بعد اس نے کچھ دیر اس منڈی کے مختلف کوٹھوں پر جھک ماری۔ آخر کار ایک کوٹھا منتخب کرکے وہاں مستقل طور پر اپنے ڈیرے جما دیے۔ ڈیڑھ دو مہینے کے بعد خان صاحب کو محسوس ہوا کہ آپ کو اس کوٹھے کی رنڈی سے عشق ہوگیا ہے۔ آپ نے صادق کو اس راز سے بڑے بیبے پن کے ساتھ آگاہ کیا، ’’صادق۔۔۔ وہ رنڈی جس کے کوٹھے پر تم سے پہلی ملاقات ہوئی تھی، ہمارے دل کے اندر گھس گئی ہے۔۔۔ اس کو بدر کرنے کی کوئی ترکیب تمہارے دماغ کے اندر آتی ہو تو ہم کو بتاؤ۔‘‘\n\nصادق نے اس کو بہت سی ترکیبیں بتائیں۔ جن پر خان صاحب نے عمل بھی کیا مگر وہ اپنے دل کے اندر سے اس رنڈی کو ’’شہر بدر‘‘ نہ کرسکے۔ آخر کار انھوں نے ایک بار پھر اسی بیبے پن کے ساتھ صادق سے کہا،’’صادق۔۔۔ وہ رنڈی ہم پر سوار ہوگئی ہے۔۔۔ ہم اس کو اپنی بیوی بنالے گا۔‘‘\n\nصادق نے ان کو بہت سمجھایا بجھایا مگر خان صاحب عشق کے ہاتھوں مجبور تھے۔ رنڈی کو بھی وہ پسند آگئے تھے۔ چنانچہ ایک دن وہ میاں بیوی بن گئے۔ رنڈی کے گھر والوں کو یہ رشتہ بالکل پسند نہ آیا۔ بڑی گڑ بڑ ہوئی۔ آخر سمجھوتہ ہوگیا۔۔۔ رنڈی وہیں کوٹھے پر رہی اور خان صاحب اس کے شوہر کی حیثیت سے اس کے ساتھ رہنے لگے۔\n\nصادق نے مجھ سے کہا، ’’خان عجیب و غریب آدمی ہے۔۔۔ اتنے اونچے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اخباری اور سیاسی دنیا میں نام رکھتا ہے، لیکن اسے کبھی اتنا خیال نہیں آتا کہ وہ ایک بدنام محلے میں رہتا ہے۔ ایک رنڈی جس کے ہزاروں گاہک تھے، اس کی بیوی ہے۔۔۔ مجھے بعض اوقات حیرت ہوتی ہے کہ پٹھان ہو کر اس کی غیرت کہاں سو رہی ہے۔۔۔ سرحد میں دو بیویاں پڑی ہیں۔ اولاد موجود ہے مگر وہ کس اطمینان سے ہیرا منڈی کے کوٹھے میں ایک چچوڑی ہوئی ہڈی چوستا رہتا ہے۔۔۔ اس سے اس بارے میں کچھ کہتا ہوں تو اس کے بے ریا چہرے پر بیبی سی مسکراہٹ پیدا ہوتی ہے اور وہ مجھ سے کہتا ہے۔۔۔ صادق۔۔۔ وہ لوگ ادھر راضی خوشی ہے۔۔۔ ہمیں کوئی تردد نہیں۔۔۔ اور یہ رنڈی بہت اچھا ہے۔۔۔ ہم سے محبت کرتا ہے۔۔۔ جو عورت ادھر ہوتا ہے نا، محبت کرنا نہیں جانتا۔۔۔ناز نخرہ نہیں جانتا۔۔۔ اور مجھے یقین آجاتا ہے۔۔۔ مجھے اس کی ہر بات کا یقین آجاتا ہے۔‘‘\n\nاور یہ واقعہ ہے کہ صادق جس کو پہلے کسی بات کا یقین نہیں آتا تھا، اب اس خان کے کہنے پر چلتا تھا۔۔۔ جب وہ مقدموں سے فارغ ہوا تو اس کے کہنے پر اس نے ملٹری کی چھوڑی ہوئی بارکیں ڈھانے اور ان کا ملبہ اٹھوانے کا ٹھیکہ لے لیا۔ اس کام سے اسے نفرت تھی، مگر خان صاحب کے مشورے کو وہ کیسے ٹال سکتا تھا، چنانچہ ایک برس تک وہ کمہاروں اور ان کے گدھوں اور ملبے کے دھول غبارمیں پھنسا رہا۔ لیکن اس میں اس نے کافی کمایا۔ خوشامدی دوست یار، پھر اس کے گرد جمع ہو گئے۔ میرا خیال تھا کہ وہ انھیں منہ نہیں لگائے گا، لیکن اس نے ان کو دھتکارنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ پہلے صرف دستر خوان پر ان کی شمولیت ہوتی تھی۔ اب بوتل میں بھی وہ اس کے شریک ہونے لگے۔\n\nخان نے اس کو بتایا تھا کہ شراب بہت اچھی چیز ہے خصوصاً اس آدمی کے لیے جوصوبہ بدر کردیا گیا ہو۔ بوتل سے منہ لگاتے ہی ایک نیا صوبہ اس کے دل و دماغ میں آباد ہو جاتا ہے۔ جس میں وہ ایک کونے سے دوسرے کونے تک جہاں چاہے اسٹول پر کھڑا ہو کے باغیانہ سے باغیانہ تقریر کرسکتا ہے۔ سرمائے کی تمام لعنتوں سے اس کو پاک کرسکتا ہے۔۔۔ اور پھر رنڈی کا کوٹھا۔۔۔ اس سے بہترین گھر تو اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ بیوی گھریلو اور سگی قسم کی ہو تو آدمی اسے گالی نہیں دے سکتا۔ اگر رنڈی ہو تو گندی سے گندی گالی بھی اسے دی جاسکتی ہے۔۔۔ اس کی ماں کے سامنے۔۔۔ اس کی پھوپھی کے سامنے۔ ۔۔اس کی چچی کے سامنے۔۔۔ اور اگر اس کا کوئی باپ موجود ہو تو اس کے بھی سامنے۔۔۔ پھر وہ اسے اپنے مخصوص خام اور بیبے انداز میں روزمرہ زندگی میں گالی کی اہمیت بیان کرنے لگتا اور اسے بتاتا کہ یہ بہت ضروری چیز ہے۔۔۔ اگر آدمی اسے وقتاً فوقتاً اپنے اندر سے باہر نہ نکالے تو تعفن پیدا ہو جاتا ہے جو بالآخر دل و دماغ پر بہت برا اثر کرتا ہے۔۔۔ رنڈی کا کوٹھا۔۔۔ اور گھریلو گھر۔۔۔ زمین و آسمان کا فرق ہے۔۔۔ وہاں سو بکھیڑے ہوتے ہیں۔ اتنا سازو سامان اور اتنے رشتے ہوتے ہیں کہ آدمی ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہے تو پوری زندگی اسی کوشش میں بسر ہو جائے مگریہاں رنڈی کے کوٹھے پر ایسی کوئی مشکل نہیں۔۔۔ اپنا ہولڈال اورٹرنک اٹھاؤ، اچکن کاندھے پر ڈالو اور کسی ہوٹل میں جا کر بڑے اطمینان سے طلاق کا کاغذ لکھ کر روانہ کردو۔\n\nایک بات اور بھی ہے۔۔۔ رنڈی کو سمجھنے میں اگر دقت محسوس ہو تو اس کو استعمال کرنے والے ایسے کئی آدمی موجود ہوں گے جن کے تجربوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔۔۔ پھر گانا بجانا مفت۔۔۔ عیاشی کی عیاشی، شادی کی شادی۔۔۔ جی اکتایا تو چھوڑ کے چلتے بنے۔۔۔ کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔ کوئی برا نہیں کہے گا۔۔۔ بلکہ وہ جو شریف ہیں مرحبا کہیں گے کہ صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آیا۔۔۔ رنڈی کو لعنتی کہیں گے جو چمٹ گئی تھی اور خدا وند کریم کا شکر بجا لائیں گے کہ اس نے اس سے نجات دلائی۔۔۔ اور رنڈی کی زندگی میں بھی کوئی زلزلہ نہیں آتا۔۔۔ اس کے لگے بندھے گاہک موجود ہوتے ہیں۔۔۔ تمہاری ٹھیکے داری ختم ہوتی ہے تو وہ اطمینان کا سانس لیتے ہیں کہ چلو ہمارا راستہ کھلا۔‘‘\n\nصادق کو خان رنڈی سے شادی کے فوائد اکثربتاتا رہتا تھا۔۔۔ بوتل سے بڑے خلوص کے ساتھ منہ لگا کر اب اس نے رنڈیوں کے کوٹھوں پربھی آنا جانا شروع کردیا تھا۔۔۔ مگر اس نے ان میں وہ بات ابھی تک نہیں دیکھی تھی کے جن کے متعلق وہ اکثر اپنے پٹھان دوست سے سنا کرتا تھا۔\n\nخان کو صادق کے دل کا حال اچھی طرح معلوم تھا۔ اس کو پتا چل گیا تھا کہ وہ ہیرا منڈی سے اکتا گیا ہے۔ کاروبار اچھا ہے۔ آمدن کی معقول صورت پیدا ہوگئی ہے، اس لیے وہ اب اپنا گھر بنانا چاہتا ہے جس میں اس کی ایک عدد بیوی ہو۔ دس عدد بچے ہوں۔۔۔ کلوٹ ہوں، پوتڑے ہوں، چولھا ہو، چمٹا ہو، توا ہو۔۔۔ وہ پھل خریدے تو سیدھا گھر پہنچے۔ شراب کی بوتلوں کے بجائے، دودھ کی بوتلیں خریدے۔ میراثیوں اور بھڑووں کے بجائے شریف شریف لوگوں سے ملے۔ شروع شروع میں تو خان اپنے مخصوص انداز میں اسے ایسے واہیات اقدام سے روکنے کی نرم و نازک کوشش کرتا رہا۔ لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ اس نے اپنے محلے میں کسی سے کوئی مناسب و موزوں رشتہ ڈھونڈنے کے لیے کہا ہے تو اس کو بہت کوفت ہوئی۔\n\n’’صادق۔۔۔ یہ تم کیا حماقت کرنے والا ہے۔۔۔ شادی وادی ہرگز مت کرنا۔۔۔ یہ دنیا ایسی ہے جہاں کسی وقت بھی تم کو صوبہ بدر یا شہر بدر کردیا جاسکتا ہے۔۔۔ میں اتنے برس کانگریس میں رہا ہوں۔۔۔ سرخ پوش تحریک چلانے میں اتنا کام میں نے کیا ہے کہ تم کو اس کا اندازہ ہی نہیں ہوسکتا۔۔۔ میں نے اپنی پولیٹیکل لائف میں صرف یہ سیکھا ہے کہ زندگی میں تم جس کو بھی شریک بناؤ، اٹیچی کیس کی طرح ہونی چاہیےجس کو تم ہاتھ میں اٹھا کر چلتے بنو۔۔۔ یا اسے وہیں چھوڑ دو۔۔۔ وہ زیادہ قیمتی نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ قیمتی چیزوں کو چھوڑ دینے کا بڑا غم رہتا ہے۔۔۔ سو برادر، تم شادی نہ کرو۔۔۔باز آؤ اس خیال سے۔۔۔وہ رنڈی جس کے پاس تم جاتے ہو، کیا بری ہے۔۔۔ اس سے عشق کرنا شروع کردو۔۔۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں۔۔۔ تھوڑی سی پریکٹس کرلو توسب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘\n\nصادق نے گھریلو قسم کی عورت سے شادی کے حق میں اپنے دلائل پیش کیے مگر خان کے سامنے ان کی کوئی پیش نہ چلی۔\n\n’’صادق، تم الو ہے۔۔۔ خدا کی قسم الو ہے۔۔۔ تم ہماری بات نہیں مانتا، جس کے پاس دو بیویاں ہیں اپنے قبیلے کی۔۔۔ تم ہماری بات مانو۔۔۔ ہم تمہارا دوست ہے۔ پٹھان ہے۔ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ ہم جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔ یہ دنیا جس میں ہم جیسے مخلص آدمی کو صوبہ بدر کرنے والے حاکم موجود ہیں، اس میں رنڈی کے کوٹھے ہی کو اپنا گھر بنانا چاہیے۔۔۔ ہم کو تو یہاں بہت آرام ہے۔۔۔ تم بھی ہیرا منڈی میں اپنا گھر بنا لو اور آرام کرو۔‘‘\n\nصادق عجیب مخمصے میں گرفتار تھا۔ مجھ سے مل کر وہ گھنٹوں باتیں کرتا رہتا۔ وہ ہیرا منڈی کے سخت خلاف تھا مگر تھوڑی دیر کے بعد میں نے محسوس کیا کہ وہ اس کا قائل ہوتا جارہا ہے، کیونکہ اب وہ خان کی کہی ہوئی باتیں یوں سناتا تھا جیسے اس کے دل کو لگ چکی ہیں۔ چنانچہ ایک روز اس نے مجھ سے کہا:\n\n’’میں نے ساری عمر ٹھیکے داری کی ہے۔۔۔ اور ٹھیکے داری سے بڑھ کے بے ایمانی کا اور کوئی کاروبار نہیں ہوسکتا۔ اس کا اول کھوٹ، اس کا آخر کھوٹ۔۔۔ یہ ایسا بازار ہے جس میں کوئی کھرا سکہ نہیں چل سکتا۔۔۔ سنا ہے ولایت میں ایسی مشینیں بنی ہیں جن میں اگر کھوٹے سکے ڈالے جائیں تو وہ باہر نکال دیتی ہیں۔۔۔ لیکن ٹھیکے داری ایسی مشین ہے جس میں اگرکھرے سکے ڈالے جائیں تو قبول نہیں کرے گی۔۔۔ فوراً باہر نکال دے گی۔۔۔ مجھے ساری عمر یہی کاروبار کرنا ہے کہ مجھے صرف یہاں آتاہے۔۔۔ توکیوں نہ میں ہیرا منڈی میں ہی اپنا گھر بناؤں۔۔۔ وہاں کھرے سکے چلتے ہیں لیکن ان کے عوض جومال ملتا ہے اس میں صرف کھوٹ ہی کھوٹ ہوتا ہے۔۔۔ میں سمجھتا ہوں، میری روحانی تسکین کے لیے وہاں کی فضا اچھی رہے گی۔‘‘\n\nپھر ایک روز اس نے مجھے بتایا، ’’خان بہت خوش ہے۔۔۔ اس کی دونوں بیویاں وہاں سرحد میں اس کے گھر میں خوش ہیں۔ اس کی اولاد بھی خوش ہے۔۔۔ان کی خیر خیریت اس کو اپنے منیجر کے ذریعے سے معلوم ہوتی رہتی ہے۔۔۔ یہاں ہیرا منڈی میں اس کی رنڈی بھی خوش ہے۔۔۔ اس کی ماں بھی خوش ہے۔ ۔۔اس کی پھوپھی بھی خوش ہے۔۔۔ اس کے میراثی بھی خوش ہیں۔۔۔۔ اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ خان خوش ہے۔ کبھی کبھی ان حاکموں کے خلاف ایک بیان اخباروں میں شائع کردیتا ہے جس نے اس کو صوبہ بدر کیا تھا اور اپنی رنڈی کو سنا دیتا ہے، وہ بھی خوش ہو جاتی ہے۔۔۔ اس رات گانے بجانے کی محفل گرم ہوتی ہے اور خان مسند پر گاؤ تکیے کا سہارا لے کریوں بیٹھتا ہے جس طرح ایک تماش بین۔۔۔ استاد صاحب اور میراثیوں سے اس طرح باتیں کرتا ہے جیسے اس نے نئی نئی تماش بینی شروع کی ہے۔۔۔ اس کی رنڈی مجرا کرتی ہے اور وہ جیب میں ہاتھ ڈال کر اس کو دس روپے کا نوٹ دیتا ہے، پھر پانچ کا، پھر دو کا، پھر ایک روپے والا۔۔۔ اس کے بعد وہ محفل برخواست کردیتا ہے اور اس رنڈی کے ساتھ سو جاتا ہے اور اس منکوحہ عورت کے ساتھ ایسی رات بسر کرتا ہے جو گناہ آلود ہو۔۔۔ میں تو سمجھتا ہوں، یہ بڑے مزے کی چیز ہے۔۔۔‘‘\nلیکن جب اس رنڈی سے شادی کا سوال پیدا ہوا،یعنی خان صاحب نے سب معاملہ تیارکردیا اور صرف ایجاب و قبول کی رسم باقی رہ گئی تو صادق پیچھے ہٹ گیا۔ خان آگ بگولا ہوگیا۔ میرے سامنے اس نے صادقے کو بہت لعن طعن کی۔\n\n’’تمہاری سمجھ پرپتھر پڑ گئے ہیں صادق۔۔۔ تم الو کے پٹھے ہو۔ شریف عورت سے شادی کرکے خدا کی قسم تم پچھتاؤ گئے۔۔۔ یہ دنیا ایسی نہیں ہےپروردگار کی قسم،جس میں شرافت سے شادی کی جائے۔۔۔ اس میں رنڈی اچھی رہتی ہے۔۔۔ تم شریف مت بنو۔ یاد رکھو اگر تم شریف بن گئے تو صوبہ بدر کردیے جاؤ گے۔۔۔ تم ہیرا منڈی میں رہو۔ یہاں صرف ایک صوبہ ہے جس میں سے تم بدر نہیں کیے جاسکتے اس لیے کہ اس کے ساتھ کوئی حاکم اپنا رشتہ قائم نہیں کرے گا۔۔۔ تم گدھے ہو۔۔۔ اپنا گھر یہیں بناؤ۔۔۔ اس سے بہتر جگہ تمہیں اور کوئی نہیں مل سکتی۔‘‘\n\nصادق نے اپنے محلے میں ایک جگہ بات پکی کرلی تھی۔ جب خان نے اس کو سمجھایا بجھایا تو اس نے اپنا ارادہ ترک کردیا لیکن وہ رنڈی سے شادی کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ اس نے مجھ سے کہا، ’’میں نے اب شادی کا خیال ہی چھوڑ دیا ہے۔۔۔ میں خان کا کہنا ضرور مان لیتا مگر میرا دل نہیں مانتا۔۔۔ میں اب عیش کروں گا۔۔۔ ایک رنڈی کے پاس نہیں کئی رنڈیوں کے پاس جایا کروں گا۔‘‘\n\nاور اس نے متعدد رنڈیوں کے ہاں جانا شروع کردیا۔ اسے اب کئی ٹھیکے مل گئے تھے۔۔۔ اس کے پاس دولت کی فراوانی تھی۔ ہیرا منڈی سے جب وہ موٹر میں گزرتا تو چاروں طرف کوٹھوں پر رنگین مسکراہٹیں تیتریوں کی طرح اڑنے لگتیں۔۔۔ اب وہ پھر نواب صاحب تھا۔۔۔ ہیرا منڈی کا نواب صاحب۔\n\nپورے تین برس تک وہ کھل کھیلتا رہا، میرال خیال ہے، یہ غالباً خان کی اس کوشش کا رد عمل تھا جو اس نے صادق کو اپنے قالب میں ڈھالنے کے لیے کی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنے تجربات کا نچوڑ اس کے حلق میں ڈال کر اس کو اپنے جیسا بنا لے، مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صادق ادھر کا رہا نہ ادھر کا۔ وہ پورا اوباش بن گیا۔۔۔ جس راستے سے اس کو نفرت تھی، وہ اسی کا انتھک مسافر بن گیا۔\n\nمیں نے اس کو بارہا سمجھایا کہ دیکھو صادق باز آؤ۔ اپنی جوانی، اپنی صحت اور اپنی دولت یوں برباد نہ کرولیکن وہ نہ مانا۔ میری باتیں سنتا اور مسکرا دیتا، ’’میری دنیا، کھوٹ کی دنیا ہے۔ اس میں ایک بٹا سو حصہ سیمنٹ ہوتا ہے۔ باقی سب ریت۔۔۔ اور وہ بھی جس میں آدھی مٹی ہوتی ہے۔۔۔ میری ٹھیکہ داری میں جو عمارت بنتی ہے اس کی عمر اگر کاغذ پر پچاس سال ہے تو زمین پر دس سال ہوتی ہے۔۔۔ میں اپنے لیے پختہ گھر کیسے تعمیر کرسکتا ہوں۔۔۔ رنڈیاں ٹھیک ہیں۔۔۔ میں نے سوسائٹی کے اس ملبے کا بھی ٹھیکہ لے رکھا ہے۔۔۔ ہر روز ایک نہ ایک بوری ڈھوکر ٹھکانے لگا دیتا ہوں۔‘‘\n\nوہ بوریاں ڈھو ڈھو کر اپنی دانست میں ٹھکانے لگاتا رہا۔۔۔ میں نے اس سے ملنا جلنا بند کردیا۔ وہ بہت بدنام ہو چکا تھا۔۔۔ اس کو معلوم تھا کہ میں اس سے ناراض ہوں لیکن اس نے مجھے منانے کی کوشش نہ کی۔\n\nڈیڑھ برس کے بعدایک دن اچانک وہ میرے پاس آیا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ بہت ضروری بات کہنا چاہتا ہے مگر نہیں کہہ سکتا۔ میں نے اس سے پوچھا، ’’کچھ کہنے آئے ہو۔‘‘\n\nاس نے جواب دیا، ’’ہاں۔۔۔ میں شادی کررہا ہوں۔‘‘\n\n’’کس سے؟‘‘\n\n’’ایک رنڈی سے۔‘‘\n\nمجھے بہت غصہ آیا، ’’بکو نہیں۔‘‘\n\nاس نے بڑی سنجیدگی سے کہا، ’’میں مجبورہوگیا ہوں۔‘‘\n\nمیں چڑ گیا، ’’مجبوری کیسی؟‘‘\n\nصادق نے سر جھکا کر کہا، ’’اس کے نطفہ ٹھہر گیا ہے۔‘‘\n\nیہ سن کر میں خاموش ہوگیا۔ اس سے کیا کہوں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ صادقے نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا اور کہنا شروع کیا، ’’میں مجبور ہوگیا ہوں۔۔۔شادی کے سوا اب اور کوئی چارہ نہیں۔‘‘\n\nصادق نے اس رنڈی سے شادی کرلی۔۔۔ مگر اس کے کوٹھے کو اس نے اپنا گھر نہ بنایا۔۔۔ ان لوگوں نے، یہ رنڈی جن کی روزی کا ٹھیکرہ تھی، بہت دنگا فساد کیا۔ مگر اس نے کوئی پروا نہ کی۔ ہزاروں روپے پانی کی طرح بہا دیے اور آخر کامیاب ہوگیا۔۔۔ اس رنڈی کے بطن سے ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ اس کی پیدائش کے چھ مہینے بعد صادق کے دل میں جانے کیا آئی کہ اس نے رنڈی کو طلاق دے دی اور اس سے کہا،’’تمہارا اصل مقام یہ گھر نہیں۔۔۔ ہیرا منڈی ہے۔۔۔جاؤ اس لڑکی کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ۔۔۔ اس کو شریف بنا کر میں تم لوگوں کے کاروبار کے ساتھ ظلم کرنا نہیں چاہتا۔۔۔ میں خود کاروباری آدمی ہوں۔۔۔ یہ نکتے اچھی طرح سمجھتا ہوں۔۔۔ جاؤ، خدا میرے اس نطفے کے بھاگ اچھے کرے۔۔۔ لیکن دیکھو اسے نصیحت دیتی رہنا کہ کسی سے شادی کی غلطی کبھی نہ کرے۔۔۔ یہ غلط چیز ہے۔‘‘\n\nمعلوم نہیں، جو کچھ میں نے بیان کیا ہے، صادقے کے متعلق زیادہ ہے یا خان کے متعلق۔۔۔ بہرحال مجھے یہ دونوں اسی صف کے آدمی معلوم ہوتے ہیں جس میں آپ کا بابو گوپی ناتھ موجود ہے۔۔۔ اور اس دنیا میں جہاں صوبہ بدر اورشہر بدر کیا جاسکتا ہو، ایسے آدمی ضرور موجود ہونے چاہئیں جن کو سوسائٹی اپنے اور اپنے بنائے ہوئے قوانین کے منہ پر طمانچے کے طور پر کبھی کبھی مار سکے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B7%D9%81%DB%81"} {"title": "نظارہ جو ہوتا ہے لب بام تمہارا", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظارہ جو ہوتا ہے لب بام تمہارا\nدنیا میں اچھلتا ہے بہت نام تمہارا\n\nدرباں ہے نہ ہے غیر بد انجام تمہارا\nکام آئے گا آخر یہی ناکام تمہارا\n\nدشنام سنو دے کے دل اے حسن پرستوں\nیہ کام تمہارا ہے وہ انعام تمہارا\n\nآغاز محبت ہے ہو خوش حضرت دل کیا\nاچھا نظر آتا نہیں انجام تمہارا\n\nاحسنؔ کی طبیعت سے ابھی تم نہیں واقف\nہے دل سے دعا گو سحر و شام تمہارا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D8%A8%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "نظارۂ رخ ساقی سے مجھ کو مستی ہے", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظارۂ رخ ساقی سے مجھ کو مستی ہے\nیہ آفتاب پرستی بھی مے پرستی ہے\n\nخدا کو بھول گیا محو خود پرستی ہے\nتو اور کام میں ہے موت تجھ پہ ہستی ہے\n\nنہ گل ہیں اب نہ وہ ساقی نہ مے پرستی ہے\nچمن میں مینہ کے عوض بے کسی برستی ہے\n\nیہ ملک حسن بھی جاناں عجیب بستی ہے\nکہ دل سی چیز یہاں کوڑیوں سے سستی ہے\n\nمہ صیام میں گو منع مے پرستی ہے\nمگر ہوں مست کہ ہر روز فاقہ مستی ہے\n\nیہ بے ثبات بہار ریاض ہستی ہے\nکلی جو چٹکی تو ہستی پر اپنی ہنستی ہے\n\nبس ایک رات کا مہمان چراغ ہستی ہے\nسرہانے روئے گی اب شمع گور ہنستی ہے\n\nدلا یہ گور غریباں بھی زور بستی ہے\nبجائے ابر یہاں بے کسی برستی ہے\n\nگیا جو یاں سے تہ خاک وہ کبھی نہ پھرا\nزمین کے نیچے بھی دلچسپ کوئی بستی ہے\n\nنہا کے بال نچوڑے تو یار کہنے لگا\nگھٹا سیاہ اسی طرح سے برستی ہے\n\nبس ایک ہاتھ میں دو ٹکڑے کر دیا ہم کو\nہمارے یار کی اک یہ بھی تیز دستی ہے\n\nکیا ہے چاک گریبان صبح محشر تک\nیہ اپنے جوش جنوں کی دراز دستی ہے\n\nہمیں تو قتل کیا بس اسی نزاکت نے\nکہ وہ اٹھاتی ہیں تیغ اور نہیں اکستی ہے\n\nدکھا کے پھول سے چہرے کو دل لیا خوش ہو\nجو بدلے گل کے ملے عندلیب سستی ہے\n\nاب ایک توبہ پہ آتی ہے مغفرت ترے ہاتھ\nخرید کر کہ نہایت یہ جنس سستی ہے\n\nدکھائے جس نے یہ صورت ہمیں دم آخر\nاسی کو دیکھنے کو روح اب ترستی ہے\n\nنہ ٹوٹی شیشۂ مے میری سنگ مرقد سے\nپس از فنا بھی مجھے پاس مے پرستی ہے\n\nاسیر کر کے ہمیں خوش نہ ہوئیو صیاد\nکہ تو بھی یاں تو گرفتار دام ہستی ہے\n\nعجب نہیں دم عیسیٰ سے بھی جو گل ہو جاتے\nکہ شمع صبح ہمارا چراغ ہستی ہے\n\nوہ مانگتا ہے مری جان رونمائی میں\nیہی جو مول ہے تو جنس حسن سستی ہے\n\nکیا ہے اس نے تو یوسف کا چاک دامن پاک\nنہ پوچھو عشق کی جو کچھ دراز دستی ہے\n\nکہوں میں وہی ہے ساقی وہی سبو وہی جام\nمدام بادۂ وحدت کی مجھ کو مستی ہے\n\nعلم ہے تیغ دو دم تیرے سر جھکائے ہوں میں\nتری گلی میں بھی ظالم بلندی پستی ہے\n\nجو چاہے رحمت حق عجز کر شعار اپنا\nرواں ادھر کو ہے پانی جدھر کو پستی ہے\n\nسفید ہو گئی موئے سیاہ غفلت چھوڑ\nہوئی ہے صبح کوئی دم چراغ ہستی ہے\n\nہر اک جوان کا قد خم ہوا ہے پیری سے\nمآل کار بلندی جہاں میں پستی ہے\n\nوہ اپنی جنبش ابرو دکھا کے کہتا ہے\nیہ وہ ہے تیغ اشاروں ہی سے جو کستی ہے\n\nچہ خوش بود کہ بر آید بیک کرشمہ دو کار\nصنم بغل میں ہے دل محو حق پرستی ہے\n\nہے خوب پہلے سے گویاؔ کروں میں ترک سخن\nکہ ایک دم میں یہ خاموش شمع ہستی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D8%B1%DB%82_%D8%B1%D8%AE_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "نظارۂ پیہم کا صلا میرے لیے ہے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظارۂ پیہم کا صلا میرے لیے ہے\nہر سمت وہ رخ جلوہ نما میرے لیے ہے\n\nاس چہرۂ انور کی ضیا میرے لیے ہے\nوہ زلف سیہ تاب دوتا میرے لیے ہے\n\nزنہار اگر اہل ہوس تجھ پہ فدا ہوں\nیہ مرتبۂ صدق و صفا میرے لیے ہے\n\nبن کر میں رضاکار مہیائے فنا ہوں\nآوازۂ حق بانگ درا میرے لیے ہے\n\nخوشنودۂ فجار کے پیرو ہیں یزیدی\nتقلید شہ کرب و بلا میرے لیے ہے\n\nمحروم ہوں مجبور ہوں بے تاب و تواں ہوں\nمخصوص ترے غم کا مزا میرے لیے ہے\n\nسرمایۂ راحت ہے فنا کی مجھے تلخی\nاس زہر میں سامان بقا میرے لیے ہے\n\nجنت کی ہوس ہو تو میں کافر، کہ پریشاں\nاس شوخ کی خوشبوئے قبا میرے لیے ہے\n\nپہلے بھی کچھ امید نہ تھی چارہ گروں کو\nاور اب تو دوا ہے نہ دعا میرے لیے ہے\n\nمر جاؤں گا مے خانے سے نکلا جو کبھی میں\nنظارۂ مے روح فزا میرے لیے ہے\n\nتشخیص طبیباں پہ ہنسی آتی ہے حسرتؔ\nیہ درد جگر ہے کہ دوا میرے لیے ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D8%B1%DB%82_%D9%BE%DB%8C%DB%81%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%B5%D9%84%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "نظارے ہوئے ہیں اشارے ہوئے ہیں", "poet_page": "مصنف:عزیز الحسن غوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظارے ہوئے ہیں اشارے ہوئے ہیں\nہم ان کے ہوئے وہ ہمارے ہوئے ہیں\n\nہمیں تو بھلے لگتے ہیں اور بھی اب\nوہ زیور کو اپنے اتارے ہوئے ہیں\n\nنہیں پاس کچھ ایک دل ہے سو وہ بھی\nقمار محبت میں ہارے ہوئے ہیں\n\nمزے وصل میں جو اٹھائے تھے اے دل\nجدائی میں اب وہ ہی آرے ہوئے ہیں\n\nہمیں ہوش ہے اب کہاں تن بدن کا\nکہ مجذوبؔ ان کے پکارے ہوئے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نظام طبیعت سے گھبرا گیا دل", "poet_page": "مصنف:ہادی مچھلی شہری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظام طبیعت سے گھبرا گیا دل\nطبیعت کی اب برہمی چاہتا ہوں\n\nمری بیقراری سے خوش ہونے والے\nنہ خوش کہ میں بھی یہی چاہتا ہوں\n\nجفا کو بھی تیری جو شرمندہ کر دے\nوہ مظلوم میں زندگی چاہتا ہوں\n\nغضب ہے یہ احساس وارستگی کا\nکہ تجھ سے بھی خود کو بری چاہتا ہوں\n\nسر دار منصور کو تھی جو حاصل\nمیں ہادیؔ وہی زندگی چاہتا ہوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84"} {"title": "نظر آئے کیا مجھ سے فانی کی صورت", "poet_page": "مصنف:انور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظر آئے کیا مجھ سے فانی کی صورت\nکہ پنہاں ہوں درد نہانی کی صورت\n\nبنا ہوں وہ میں ناتوانی کی صورت\nغضب ہی کھچی بے نشانی کی صورت\n\nخموشی جو ہے اقتضائے طبیعت\nتو ان کو ملی بے دہانی کی صورت\n\nنظر آئے کیا جلوۂ حسن باقی\nکہ پردہ ہے دنیائے فانی کی صورت\n\nتم اور ذکر اغیار پر چپ رہو گے\nکہے دیتی ہے بے دہانی کی صورت\n\nہمارے گلے پر تو چلتی دکھاؤ\nکہاں تیغ میں ہے روانی کی صورت\n\nقیام اپنا اس کوچہ میں پا بگل ہے\nملے خاک میں ہم تو پانی کی صورت\n\nگداز دل تشنہ کا ماں غضب ہے\nوہ خنجر نہ بہہ جائے پانی کی صورت\n\nبرابر ہے یہاں بود و نابود اپنی\nنشاں ہے مرا بے نشانی کی صورت\n\nعرق شرم سے خاکساری میں ہوں میں\nہوا خاک بھی میں تو پانی کی صورت\n\nجو پوچھو تو اس چشم کا دیکھنا ہے\nوہ ہے گردش آسمانی کی صورت\n\nڈبویا مجھے آب میں شرم سے وہ\nکھڑے ہیں مرے سر پہ پانی کی صورت\n\nنمود اپنی واقع میں کچھ بھی نہیں ہے\nیہاں خواب ہے زندگانی کی صورت\n\nوہ دل رونمائی میں لیتے ہیں پہلے\nدکھاتے ہیں جب جاں ستانی کی صورت\n\nمجھے کشتہ دیکھا تو قاتل نے پوچھا\nیقیں ہے یہاں بد گمانی کی صورت\n\nپڑے مر کے مٹنے کو ہم ٹھوکروں میں\nمگر کٹ گئی زندگانی کی صورت\n\nزباں پر ہے قاصد کی اپنی رسائی\nہوا ہوں پیام زبانی کی صورت\n\nمجسم ہی موہوم آنے میں ان کے\nنظر آتی ہے زندگانی کی صورت\n\nترے وعدے پر زیست ہے مرگ اپنی\nبہت ہی بڑھی ناتوانی کی صورت\n\nوہ اس شکل سے میری بالیں پہ آئے\nکہ اک آفت آسمانی کی صورت\n\nنظر بن کے پھرتی ہے آنکھوں میں اپنی\nکسی عالم نوجوانی کی صورت\n\nنہ ہو رشک تو کیجیے وہاں مدح‌ دشمن\nکہ ہے یار کی راز دانی کی صورت\n\nمجھے دیکھو اور اس کے وعدے پہ جینا\nیہ ہے زندۂ جاودانی کی صورت\n\nوہاں بد گمانی کی تعریف کیا ہو\nیقیں ہو جہاں بد گمانی کی صورت\n\nنظر سوز وہ رخ وہ انکار بے حد\nمگر ہیں وہ اک لن ترانی کی صورت\n\nدکھاتے ہیں وہ رخ سے یوں ناز پنہاں\nکہ الفاظ جیسے معانی کی صورت\n\nیہاں کیا سمائی دم تیغ قاتل\nکہ نظروں میں ہے سخت جانی کی صورت\n\nجو نقش فنا ہوں تو وہ دل پہ انورؔ\nکھنچی اور اک بد گمانی کی صورت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "نظر آتی ہے دور کی صورت", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظر آتی ہے دور کی صورت\nآنکھ میں ہے حضور کی صورت\n\nایک یہ بھی ہے نور کی صورت\nدیکھ لی شمع طور کی صورت\n\nکیوں نہ ہو جان کا عذاب یہ جسم\nتنگ زنداں قبور کی صورت\n\nسر تربت کوئی ہے فتنۂ حشر\nہوئی پیدا فتور کی صورت\n\nخانقہ میں پری تھی شیشے کی\nبن کے آئی جو حور کی صورت\n\nآ گیا کیا سوئے قفس صیاد\nہو گئی کیا طیور کی صورت\n\nپھرتی ہے آنکھ میں بہ صد حسرت\nاب دل ناصبور کی صورت\n\nایک ہے ایک کبریائی میں\nاف وہ اس کے غرور کی صورت\n\nحشر زا اف وہ صور کی آواز\nوہ سرافیل و صور کی صورت\n\nباڑھ تلوار کی صراط کا پل\nاور مشکل عبور کی صورت\n\nشعلہ زار ایک لالہ زار ہے ایک\nسامنے نار و نور کی صورت\n\nمضطرب اپنے حال پر ہر ایک\nہائے ہر ناصبور کی صورت\n\nفرد عصیاں نوشتۂ تقدیر\nہائے ہر بے قصور کی صورت\n\nآس اس کے کرم کی قہر کا ڈر\nجو ہو رب غفور کی صورت\n\nاے میں قربان شان رحمت کے\nنظر آئی حضور کی صورت\n\nکس کو پروائے کوثر و تسنیم\nہوئی پیدا سرور کی صورت\n\nصدقے کیا جلد حشر میں بدلی\nمجھ سراپا قصور کی صورت\n\nہو مبارک سیاہ کار ریاضؔ\nنور کی شکل نور کی صورت", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوں", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوں\nہے نہ پینے کا یہ مطلب کہ پیے بیٹھا ہوں\n\nرخنہ اندازئ اندوہ سے غافل نہیں میں\nہے جگر چاک تو کیا ہونٹ سیے بیٹھا ہوں\n\nکیا کروں دل کو جو لینے نہیں دیتا ہے قرار\nجو مقدر نے دیا ہے وہ لیے بیٹھا ہوں\n\nالتفات اے نگہ ہوشربا اب کیوں ہے\nپاس جو کچھ تھا وہ پہلے سے دیے بیٹھا ہوں\n\nدل پر کیف سلامت کہ اکیلے میں بھی\nایک بوتل سے بغل گرم کیے بیٹھا ہوں\n\nآرزوؔ جلتے ہوئے دل کے شرارے ہیں یہ اشک\nآگ پانی کے کٹوروں میں لیے بیٹھا ہوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%BE%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "نظر تج پہ ہے کیا تماشا کا حاجت", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظر تج پہ ہے کیا تماشا کا حاجت\nنہیں سبز خط آگے چمپا کا حاجت\n\nطبیباں کریں منج کوں بالی سوں دارو\nکہ بالی ہیں موہن ہے بالا کا حاجت\n\nہمیں نیشکر نمنے ہلجے ہیں بند میں\nنہیں ہور ہمنا کوں جالا کا حاجت\n\nخماری نین تھے کھلے پھول جیو میں\nنہیں مو کو دونا و بالا کا حاجت\n\nمرا دل ہے زر بفت کا کارخانہ\nنہیں منج کوں بازار والا کا حاجت\n\nتو کہنیاں کتاباں کے جیو میں لکھیا ہوں\nمعما ہے نیں کھول کہنا کا حاجت\n\nانگوٹھی سلیماں کی تج ہات میں ہے\nسکندر کے درپن اجالا کا حاجت\n\nمرا دل کندن حسن کا کھان ہے تو\nنہیں ہے سناری تقاضا کا حاجت\n\nہمن مدعا مدعی نا بجھے کچ\nنکو بحث کرنیں ہے اعدا کا حاجت\n\nمعانیؔ ترا زرگری کوئی نہ بوجھیں\nکہ اس علم میں نیں ہے دانا کا حاجت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%AA%D8%AC_%D9%BE%DB%81_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D8%AC%D8%AA"} {"title": "نظر سے جب اکستا ہے مرا دل", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظر سے جب اکستا ہے مرا دل\nتو جا کاکل میں بستا ہے مرا دل\n\nمیں اس کی چشم سے ایسا گرا ہوں\nمرے رونے پہ ہنستا ہے مرا دل\n\nگیا ہے جب سے وہ میری بغل سے\nاسی کی بو میں بستا ہے مرا دل\n\nخریدار اس کے بہتیرے ہیں تم سے\nنہ جانو یہ کہ سستا ہے مرا دل\n\nیہاں تک غرق ہوں رونے میں حاتمؔ\nکہ ہنسنے کو ترستا ہے مرا دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84"} {"title": "نظر سے صفحۂ عالم پہ خونیں داستاں لکھیے", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظر سے صفحۂ عالم پہ خونیں داستاں لکھیے\nقلم سے کیا حکایات زمین و آسماں لکھیے\n\nمٹا دے جو فضا کی تیرگی ماحول کی پستی\nکوئی ایسا بھی شعر اے شاعران خوش بیاں لکھیے\n\nبپا ہیں ہر جہت میں آتش و آہن کے ہنگامے\nکہاں اس دور میں جور و جفائے مہوشاں لکھیے\n\nخطر ہائے رہ مجنوں کا قصہ کیوں بیاں کیجیے\nنظر کو ناقۂ لیلیٰ خرد کو سارباں لکھیے\n\nیہی ہیں یادگار غنچہ و گل اس زمانے میں\nانہیں سوکھے ہوئے کانٹوں سے ذکر گلستاں لکھیے\n\nبیاں کرنے کو ہے طرز تپاک دوستاں کافی\nاب اس دنیا میں کیا رنگ غرور دشمناں لکھیے\n\nروایات کہن میں دل کشی باقی نہیں اخترؔ\nنئے انداز سے تاریخ شہر گل رخاں لکھیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%BE%DB%81_%D8%AE%D9%88%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92"} {"title": "نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا\nنظر ہٹی تھی کہ پھر مسکرا کے لوٹ لیا\n\nشکست حسن کا جلوہ دکھا کے لوٹ لیا\nنگاہ نیچی کئے سر جھکا کے لوٹ لیا\n\nدہائی ہے مرے اللہ کی دہائی ہے\nکسی نے مجھ سے بھی مجھ کو چھپا کے لوٹ لیا\n\nسلام اس پہ کہ جس نے اٹھا کے پردۂ دل\nمجھی میں رہ کے مجھی میں سما کے لوٹ لیا\n\nانہیں کے دل سے کوئی اس کی عظمتیں پوچھے\nوہ ایک دل جسے سب کچھ لٹا کے لوٹ لیا\n\nیہاں تو خود تری ہستی ہے عشق کو درکار\nوہ اور ہوں گے جنہیں مسکرا کے لوٹ لیا\n\nخوشا وہ جان جسے دی گئی امانت عشق\nرہے وہ دل جسے اپنا بنا کے لوٹ لیا\n\nنگاہ ڈال دی جس پر حسین آنکھوں نے\nاسے بھی حسن مجسم بنا کے لوٹ لیا\n\nبڑے وہ آئے دل و جاں کے لوٹنے والے\nنظر سے چھیڑ دیا گدگدا کے لوٹ لیا\n\nرہا خراب محبت ہی وہ جسے تو نے\nخود اپنا درد محبت دکھا کے لوٹ لیا\n\nکوئی یہ لوٹ تو دیکھے کہ اس نے جب چاہا\nتمام ہستی دل کو جگا کے لوٹ لیا\n\nکرشما سازی حسن ازل ارے توبہ\nمرا ہی آئینہ مجھ کو دکھا کے لوٹ لیا\n\nنہ لٹتے ہم مگر ان مست انکھڑیوں نے جگرؔ\nنظر بچاتے ہوئے ڈبڈبا کے لوٹ لیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%D9%84%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D9%88%D9%B9_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نظر میں آ گئی جب سے جناب کی صورت", "poet_page": "مصنف:قمر ہلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل > بیاض عاشقان (1916)", "year": "1916", "text_ur": "نظر میں آ گئی جب سے جناب کی صورت\nبدل گئی دل خانہ خراب کی صورت\n\nبھرا ہوا ہے خم دل مئے محبت سے\nتمہاری آنکھ ہے جام شراب کی صورت\n\nہمیشہ ایک ہی حالت نہیں زمانہ کی\nہماری زیست یہاں ہے حباب کی صورت\n\nلگی ہے آگ یہاں تک کسی کی الفت میں\nبنے ہیں قلب و جگر بھی کباب کی صورت\n\nنہ جا تو زاہد نادان سوئے مے خانہ\nبگڑ نہ جائے کسی دن جناب کی صورت\n\nہمارے اشک نے رنگ حنا کو مات کیا\nبہے ہیں آنکھ سے آنسو شہاب کی صورت\n\nجلا دیا دل مے کش کو میرے ساقی نے\nجگر کباب لہو سے شراب کی صورت\n\nبوقت نزع قمرؔ اور لحد کے اندر بھی\nہو میرے پیش نظر بو تراب کی صورت", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "نظر پڑا اک بت پری وش نرالی سج دھج نئی ادا کا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظر پڑا اک بت پری وش نرالی سج دھج نئی ادا کا\nجو عمر دیکھو تو دس برس کی پہ قہر و آفت غضب خدا کا\n\nجو گھر سے نکلے تو یہ قیامت کہ چلتے چلتے قدم قدم پر\nکسی کو ٹھوکر کسی کو چھکڑ کسی کو گالی نپٹ لڑاکا\n\nگلے لپٹنے میں یوں شتابی کہ مثل بجلی کے اضطرابی\nکہیں جو چمکا چمک چمک کر کہیں جو لپکا تو پھر جھپاکا\n\nیہ چنچلاہٹ یہ چلبلاہٹ خبر نہ سر کی نہ تن کی سدھ بدھ\nجو چیرا بکھرا بلا سے بکھرا نہ بند باندھا کبھو قبا کا\n\nلڑا دے آنکھیں وہ بے حجابی کہ پھر پلک سے پلک نہ مارے\nنظر جو نیچی کرے تو گویا کھلا سراپا چمن حیا کا\n\nیہ راہ چلنے میں چنچلاہٹ کہ دل کہیں ہے نظر کہیں ہے\nکہاں کا اونچا کہاں کا نیچا خیال کس کو قدم کی جا کا\n\nیہ رم یہ نفرت یہ دور کھنچنا یہ ننگ عاشق کے دیکھنے سے\nجو پتا کھٹکے ہوا سے لگ کر تو سمجھے کھٹکا نگہ کے پا کا\n\nجتاوے الفت چڑھاوے ابرو ادھر لگاوٹ ادھر تغافل\nکرے تبسم جھڑک دے ہر دم روش ہٹیلی چلن دغا کا\n\nنہ وہ سنبھالے کسی کے سنبھلے نہ وہ منائے منے کسی سے\nجو قتل عاشق پہ آ کے مچلے تو غیر کا پھر نہ آشنا کا\n\nجو شکل دیکھو تو بھولی بھولی جو باتیں سنئے تو میٹھی میٹھی\nدل ایسا پتھر کہ سر اڑا دے جو نام لیجے کسی وفا کا\n\nنظیرؔ ہٹ جا پرے سرک جا بدل لے صورت چھپا لے منہ کو\nجو دیکھ لیوے گا وہ ستم گر تو یار ہوگا ابھی جھڑاکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D9%88%D8%B4_%D9%86%D8%B1%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%B3%D8%AC_%D8%AF%DA%BE%D8%AC_%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا\nمحبت کا یہ بھی ہے کوئی قرینا\n\nوہ کیا قدر جانیں دلِ عاشقاں کی\nنہ عالم، نہ فاضل، نہ دانا، نہ بینا\n\nوہیں سے یہ آنسو رواں ہیں، جو دل میں\nتمنا کا پوشیدہ ہے اک خزینا\n\nیہ کیا قہر ہے ہم پہ یارب کہ بے مے\nگزر جائے ساون کا یوں ہی مہینا\n\nبہار آئی سب شادماں ہیں مگر ہم\nیہ دن کیسے کاٹیں گے بے جام و مینا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%DA%86%DA%BE%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "نظر کر تیز ہے تقدیر مٹی کی کہ پتھر کی", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظر کر تیز ہے تقدیر مٹی کی کہ پتھر کی\nبتوں کو دیکھ ہیں تصویر مٹی کی کہ پتھر کی\n\nکیا تو نے بتوں کو سجدہ آدم کو فرشتوں نے\nبرہمن ہے سوا توقیر مٹی کی کہ پتھر کی\n\nمیں پتلا سخت جانی کا ہوں یا گرد کدورت کا\nنہیں معلوم ہوں تصویر مٹی کی کہ پتھر کی\n\nغموں پر خاک ڈالوں میں کہ روکوں جوش وحشت کو\nتردد ہے کروں تدبیر مٹی کی کہ پتھر کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%DB%8C%D8%B2_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D9%B9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "نظر کرو وحدت و کثرت بہم شامل ہیں شیشہ میں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظر کرو وحدت و کثرت بہم شامل ہیں شیشہ میں\nاگر شیشہ ہے محفل میں تو یہ محفل ہے شیشہ میں\n\nدل نازک میں عاشق کے نہیں ہے سخت جانی یہ\nفسون فکر سے اتری ہوئی اک سل ہے شیشہ میں\n\nنہ جا تو جام پر جمشید کے آ دیکھ مینا کو\nیہاں کیفیت ہر دو جہاں حاصل ہے شیشہ میں\n\nلکھا ہے اپنے دل میں نام تیرا میں نے صنعت سے\nوگرنہ حرف کا لکھنا بہت مشکل ہے شیشہ میں\n\nنہیں ہے داغ یہ دل میں کہ جس سے سینہ روشن ہے\nجو دیکھا خوب تو عکس مہ کامل ہے شیشہ میں\n\nپری رو شیشۂ دل میں تو ہے پر کیونکہ دیکھوں میں\nکہ جب دیکھوں تو اپنا عکس ہی حائل ہے شیشہ میں\n\nحسنؔ گر پارسا ہوں میں تو ناچاری سے ہوں ورنہ\nنظر ہے جام پر میری سدا اور دل ہے شیشہ میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%88_%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA_%D9%88_%DA%A9%D8%AB%D8%B1%D8%AA_%D8%A8%DB%81%D9%85_%D8%B4%D8%A7%D9%85%D9%84_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نظر کسی کو وہ موئے کمر نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظر کسی کو وہ موئے کمر نہیں آتا\nبرنگ تار نظر ہے نظر نہیں آتا\n\nزمانۂ غم فرقت بسر نہیں آتا\nاجل بھی آتی نہیں یار اگر نہیں آتا\n\nہمیشہ ہوں بھی میں روتا برنگ شبنم و ابر\nگلی سے کون ترے چشم تر نہیں آتا\n\nیہ ہے نگاہ سے در پردہ تیغ زن قاتل\nکہ التیام یہ زخم جگر نہیں آتا\n\nغم فراق میں مر مر کے روز جیتا ہوں\nوہ کون شب ہے جو منہ تک جگر نہیں آتا\n\nفقط نہ نام سے چلتا ہے کام دنیا میں\nکہ زیر سکہ کبھی گل کا زر نہیں آتا\n\nوہ لڑ کے ملتے نہیں مل کے ہم پکڑتے نہیں\nوہ صلح کرتے نہیں ہم کو شر نہیں آتا\n\nفراق زلف میں روز اٹھ کے شب کو روتا ہوں\nکہ سر سے گیسوئے شب تا کمر نہیں آتا\n\nوہ شاہ حسن خفا ہوئے عرشؔ کہتا ہے\nگرا جو پاؤں پر کیوں اس کا سر نہیں آتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D9%85%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "نظر کیا آئے ذات حق کسی کو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظر کیا آئے ذات حق کسی کو\nخیال اس کا نہیں مطلق کسی کو\n\nنہ تھا عاشق کے خوں میں رنگ گل زار\nکوئی تو دے گیا رونق کسی کو\n\nمقید میں مقید ہے وہ مطلق\nنہ سوجھا اتنا بھی مطلق کسی کو\n\nنہ کر اتنی بھی ناصح ہرزہ گوئی\nخوش آتی کب ہے یہ بق بق کسی کو\n\nفریب مدعی کھاتے ہیں کب ہم\nمگر سمجھا ہے وہ احمق کسی کو\n\nجگر ہے چاک چاک آستیں سے\nدکھائی تو نے کیا مرفق کسی کو\n\nریاض وصل سے وقت سقیمی\nنہ ہاتھ آئی کبھی سرمق کسی کو\n\nتصور میں ترے اے شعلۂ حسن\nنہیں آرام چوں زیبق کسی کو\n\nبھروسا کیا ہے دل کا بحر غم میں\nڈبو دیوے نہ یہ زورق کسی کو\n\nنکلنے آپ سے دیتا نہیں آہ\nطلسم گنبد ارزق کسی کو\n\nدکھا دے چاندنی میں اپنا مکھڑا\nصنم مل کر ذرا ابرق کسی کو\n\nوحیدؔ دہر ہے اے مصحفیؔ تو\nنہ اپنے ساتھ کر ملحق کسی کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%B0%D8%A7%D8%AA_%D8%AD%D9%82_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88"} {"title": "نظروں سے گلوں کی نونہالو", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظروں سے گلوں کی نونہالو\nشبنم کی طرح گرا سنبھالو\n\nمانو رہ سرکشی نکالو\nپگڑی مہ و مہر کی اچھالو\n\nصیاد خفا ہے بلبل و کبک\nخاموش رہو نہ بولو چالو\n\nاصنام میں شان حق عیاں ہے\nآنکھیں ہیں تو ان کو دیکھو بھالو\n\nٹھہرو کوئی دم کے مہمان ہیں\nچلتے تو ہیں ہم بھی چلنے والو\n\nمشتاق لقا ہے اک خدائی\nاب وعدہ حشر پر نہ ٹالو\n\nجھوٹے وہ تم اے گلو ہو برسوں\nبے دودھ جو طفل غنچہ پا لو\n\nچھلنی یوں ہی دل ہے نیش غم سے\nمژگاں کی نہ برچھیاں سنبھالوں\n\nہولی نئے قمقموں سے کھیلو\nپر خون دل عاشقاں اچھالو\n\nمارا ہی جو شادؔ کو حسینو\nخاطر سے غبار تو نکالو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D9%88%D9%86%DB%81%D8%A7%D9%84%D9%88"} {"title": "نظم", "poet_page": "مصنف:رتن ناتھ سرشار", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جھلکا جھلکا سپیدۂ صبح\nجھلکا جھلکا سپیدۂ صبح\n\nتارے چھپتے ہیں جھلملا کر\nہے نور سا جلوہ گر فلک پر\n\nبھینی بھینی مہک گلوں کی\nاور نغمہ زنی وہ بلبلوں کی\n\nوقت صحرا اور تنگ ہوا ہے\nبے مے سب کرکرا مزا ہے\n\nاک چلو کے دینے میں یہ تکرار\nاٹھو جاگو سحر ہوئی یار\n\nدریا کی طرف چلے نہانے\nغٹ پریوں کے زنان خانے\n\nمرغان چمن یہ نکتہ رانی\nچوں برہمنان یہ بید خوانی\n\nنوبت رنگت جمنا رہی ہے\nشہنشائے مزہ دکھا رہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D9%85"} {"title": "نظم اتحاد", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "فصل بہار آئی مگر ہم ہیں اور غم\nہر سمت سے ہیں گھیرے ہوئے صدمہ و الم\nآئی نہ اف زباں پہ ستم پر ہوئے ستم\nکیا امتحاں کے واسطے ٹھہرے ہیں صرف ہم\nجب اپنی قوتوں پہ بھروسا نہیں رہا\nبہتر ہے پھر جہاں سے اٹھا لے ہمیں خدا\nاس عمر چند روزہ میں کی لاکھ جستجو\nچھانی ہے ہم نے خاک زمانے میں کو بہ کو\nشکوہ عدو کا کیا ہے جب احباب ہیں عدو\nجینے کی اک سیکنڈ نہیں اب تو آرزو\nہم نے سمجھ لیا کہ جہاں سے گزر گئے\nجب دل ہی مر گیا تو سب ارمان مر گئے\nہم پر گرائیں چرخ نے اس حد پہ بجلیاں\nدم بھر میں جل کے خاک ہوئیں ساری استخواں\nچلتی رہیں ہوائے مخالف کی آندھیاں\nآتا نہیں سمجھ میں کہ جا کر چھپیں کہاں\nزیر زمیں بھی چین کی امید اب نہیں\nپھر کیا ہے یہ بتا دے کوئی گر غضب نہیں\nمکر و فریب سے جو کریں زندگی بسر\nسو جاں ہزار دل سے ہو قربان ہر بشر\nدن رات ہم ہوں اور ہوں احباب خیرہ سر\nایمان داریوں میں کٹی زندگی اگر\nہر ایک کی نگاہ میں بس خار ہو گئے\nبے سونچے سمجھے مستحق دار ہو گئے\nدعویٰ تو یہ ہے ہم بھی مسلمان ہیں ضرور\nکلمہ جو پوچھیے تو نہیں یاد ہے حضور\nکیا غم اگر شکستہ عزیزوں کے ہیں قبور\nتیرا یہ اس پہ حد سے زیادہ ہے کچھ غرور\nمیلوں کے واسطے جو طلب ہو تو خوب دیں\nقومی جو کوئی کام ہو تو نام بھی نہ لیں\nپوچھا اگر عبادت خالق ہے کوئی چیز\nفرمایا دل میں یہ تو نہایت ہے بد تمیز\nعیاشیاں جو کیجیئے تو آپ ہیں عزیز\nاے قوم کاہلی ہے تری گھر کی اب کنیز\nاچھی بری کا جب تو نہیں امتیاز ہے\nبے مائیگی پر اپنی فقط تجھ کو ناز ہے\nہشیار کوئی لاکھ کرے تو ہے بے خبر\nاس درجہ بے حیا کہ نہیں دل پہ کچھ اثر\nنازاں ہیں صرف باپ کے دادا کے نام پر\nقرضے میں ہو رہی ہے مگر زندگی بسر\nدیکھو تو غیر ہنستے ہیں ہشیار ہو ذرا\nللہ اب تو خواب سے بیدار ہو ذرا\nپھولو پھلو الٰہی رہو شاد سر بسر\nہو نخل اتحاد ہمیشہ یہ بارور\nوہ دن خدا دکھائے کہ لے آئے یہ ثمر\nآنا ہے تم کو منزل مقصود تک اگر\nڈالی ہے اتحاد کی تم نے جو داغ بیل\nہمت نہ ہارو جان کے بچوں کا ایک کھیل\nدیکھو تو اور قوموں میں کیا اتحاد ہے\nدولت سے اور علم سے ہر ایک شاد ہے\nتم میں بھی آج ایسا کوئی خوش نہاد ہے\nمحمود کا یہ قول ہمیں اب تو یاد ہے\nدو دن رہے جو آ کے جہاں میں تو کھل گئے\nآخر کو مثل خار چمن سے نکل گئے\nاے ساکنان موضع جگور السلام\nدنیا ہے آج تم کو ہر اک بات کا پیام\nاب تو نکالو اپنی دلوں سے خیال خام\nاچھا نہیں جو غیر کے بن جاؤ تم غلام\nاچھی نصیحتوں پہ عمل پھر ضرور ہے\nکوئی نہ یہ کہے کہ سراسر قصور ہے\nاپنے امور میں نہ کرو غیر کو شریک\nشر کو نہ ڈھونڈھو اور کرو خیر کو شریک\nاچھے نہیں سفر جو کریں سیر کو شریک\nکعبہ کے ذکر میں نہ کرو دیر کو شریک\nتم خود رہے ہو صاحب اقبال دہر میں\nکیوں ڈھونڈتے ہو ذائقہ شہد زہر میں\nاخلاق کا چراغ بجھانا نہ چاہئے\nظلمت کدہ میں غیر کے جانا نہ چاہئے\nسچی نصیحتوں کو بھلانا نہ چاہئے\nتم کو کسی فریب میں آنا نہ چاہئے\nاللہ کے بھروسہ پہ ہر کام تم کرو\nدشمن بھی جس کو مان لیں وہ نام تم کرو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D9%85_%D8%A7%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D8%AF"} {"title": "نظیر جس کی مل سکے وہ اپنا ماجرا نہ تھا", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نظیر جس کی مل سکے وہ اپنا ماجرا نہ تھا\nلکھا نہ تھا پڑھا نہ تھا سنا نہ تھا ہوا نہ تھا\n\nزمانہ میں جو حادثہ مرے لئے نیا نہ تھا\nکسی نے بھی سنا نہ تھا کہیں بھی وہ ہوا نہ تھا\n\nجو اس گلی میں رہ گئے خوشی کو اپنی دخل کیا\nقسم کسی کی ناصحا قدم ہی اٹھ سکا نہ تھا\n\nغضب میں جان پڑ گئی نہ پوچھ راحت عدم\nکسی کو کچھ غرض نہ تھی کسی سے مدعا نہ تھا\n\nجو دفتر زمانہ پر نگاہ اپنی پڑ گئی\nجواب ہی نہ جس کا ہو وہ کوئی ماجرا نہ تھا\n\nخیال آرزو ہی تھا کہ یاس نے یہ دی خبر\nوہ کعبہ تیرا ڈھ گیا ابھی جو بن چکا نہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D9%84_%D8%B3%DA%A9%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D8%AC%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "نعت", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "زہاد کو تو نے محو تمجید کیا\nعشاق کو مست لذت دید کیا\nطاعت میں رہا نہ حق کی ساجھی کوئی\nتوحید کو تو نے آ کے توحید کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B9%D8%AA"} {"title": "نعت حضرت رسالت علیہ السلام", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "ہوا جب کفر ثابت ہے وہ تمغاے مسلمانی\nنہ ٹوٹی شیخ سے زنار تسبیح سلیمانی\nہنر پیدا کر اول ترک کیجو تب لباس اپنا\nنہ ہو جوں تیغ بے جوہر وگرنہ ننگ عریانی\nفراہم زر کا کرنا باعث اندوہ دل ہووے\nنہیں کچھ جمع سے غنچے کو حاصل حز پریشانی\nخوشامد کب کریں عالی طبیعت اہل دولت کی\nنہ جھاڑے آستین کہکشاں شاہوں کی پیشانی\nعروج دست ہمت کو نہیں کچھ قدر بیش و کم\nسدا خورشید کی جگ پر مساوی ہے زرا فشانی\nکرے ہے کلفت ایام ضائع قدر مردوں کی\nہوئی جب تیغ زنگ آلود کم جاتی ہے پہچانی\nاکیلا ہو کے رہ دنیا میں گر جینا بہت چاہے\nہوئی ہے فیض تنہائی سے عمر خضر طولانی\nاذیت وصل میں دونی جدائی سے ہے عاشق کو\nبہت رہتا ہے نالاں فصل گل میں مرغ بستانی\nموقر جان ارباب ہنر کو بے لباسی میں\nکہ ہو جو تیغ با جوہر اسے عزت ہے عریانی\nبہ رنگ کوہ رہ خاموش حرف نا سزا سن کر\nکہ تابدگو صداے غیب سے کھینچے پشیمانی\nنہیں غیر از ہوا کوئی ترقی بخش آتش کا\nنفس جب تک ہے داغ دل سے فرصت کیوں کے ہو پانی\nیہ روشن ہے بہ رنگ شمع ربط یاد و آتش سے\nموافق گر نہ ہو وے دوست ہے وہ دشمن جانی\nکرے ہے دہر زینت ظالموں پر تیرہ روزی کو\nکہ زیب ترک چشم یار سرمہ ہے صفا ہائی\nطلوع مہر ہو پامال حیرت آسماں اوپر\nلکھوں بہر غزل گر اس زمیں میں مطلع ثانی\n\nمطلع ثانی\n\nعجب ناداں ہیں وہ جن کو ہے عجب تاج سلطانی\nفلک بال ہما کو پل میں سونپے ہے مگس رانی\nنہیں معلوم ان نے خاک میں کیا کیا ملا دیکھا\nکہ چشم نقش پا سے تا عدم نکلی نہ حیرانی\nہماری آہ تیرا دل نہ نرماوے تو یا قسمت\nوگرنہ دیکھ آئینے کو پتھر ہوگئے پانی\nتری زلفوں سے اپنی روسیا ہی کہ نہیں سکتا\nکہ ہے جمعیت خاطر مجھے ان کی پریشانی\nزمانے میں نہیں کھلتا ہے کار بستہ حیراں ہوں\nگرہ غنچوں کی کھولے ہے صبا کیوں کر بہ آسانی\nجنوں کے ہاتھ سے سرتا قدم کاہیدہ اتنا ہوں\nکہ اعضا دیدۂ زنجیر کی کرتے ہیں مژگانی\nنہ رکھا جگ میں رسم دوستی اندوہ روزی نے\nمگر زانو سے اب باقی رہا ہے ربط پیشانی\nسیہ بختی میں اے سوداؔ نہیں طول سخن لازم\nنمط خامے کے سر کٹوائے گی ایسی زباں دانی\nسمجھ اے تا قباحت فہم کب تک یہ بیاں ہوگا\nاداے چین پیشانی و لطف زلف طولانی\nنہیں ہے ان سے ہرگز فائدہ غیر از پشیمانی\nنظر رکھنے سے حاصل ان کی چشم و زلف کے اوپر\nمگر بیمار ہووے ضعف یا کھینچے پریشانی\nنکال اس کفر کو دل سے کہ اب وہ وقت آیا ہے\nبرہمن کو صنم کرتا ہے تکلیف مسلمانی\nزہے دین محدم پیروی میں اس کی جو ہوویں\nرہے خاک قدم سے ان کی چشم عرش نورانی\nملک سجدہ نہ کرتے آدم خاکی کو گر اس کی\nامانت دار نور احمدیؐ ہوتی نہ پیشانی\nاسی کو آدم و حوا کی خلقت سے کیا پیدا\nمراد الفاظ سے معنی ہے تا آیات قرآنی\nخیال خلق گر اس کا شفیع کافراں ہووے\nرکھیں بخشش کے سر منت یہودی اور نصرانی\nزباں پر اس کی گزرے حرف جس جا گہہ شفاعت کا\nکرے واں ناز آمرزش پہ ہریک فاسق و زانی\nرکھا جب سے قدم مسند پہ آ ان نے شریعت کی\nکرے ہے موج بحر معدلت تب سے یہ طغیانی\nاگر نقصان پر خس کے شرر کا ٹک ارادہ ہو\nکرے کو آگ کے دو ہیں کرے غرق آن کر پانی\nموافق گر نہ کرتا عدل اس کا آب و آتش کو\nتو کوئی سنگ سے بندھتی تھی شکل لعل رمانی\nیہ کیا انصاف ہے یارب کہ طیر و وحش تک جگ میں\nاس امن و عیش سے اپنی بسر اوقات لے جانی\nپلے ہے آشیاں میں باز کے بچہ کبوتر کا\nشباں نے گرگ کو گلے کی سونپی ہے نگہ بانی\nہما آسا ہے پرداز ملخ اوج سعادت پر\nکرے ہے مور چڑھ کر سینہ دد پر سلیمانی\nکھلے ہیں غنچہ گل باغ میں خاطر سے بلبل کی\nجو اب اوراق جمعیت کو ہوتی ہے پریشانی\nجہاں انصاف سے ہر گاہ اب معمور ہے اتنا\nتو اس کے آگے ہوگی عدل کی کیا کچھ فراوانی\nہزار افسوس اے دل ہم نہ تھے اس وقت دنیا میں\nوگرنہ کرتے یہ آنکھیں جمال اس کے سے نورانی\nنہ ہونے سے جدا سایے کے اس قامت سے پیدا ہے\nقیامت ہوئے گا دلچسپ وہ محبوب سبحانی\nجسے یہ صورت و سیرت کرامت حق نے کی ہووے\nبجا ہے کہیے ایسے کو اگر اب یوسف ثانی\nمعاذ اللہ یہ کیا لفظ بے موقع ہوا سرزد\nجو اس کو پھر کہوں تو ہوؤں مردود مسلمانی\nکدھر اب فہم ناقص لے گیا مجھ کو نہ یہ سمجھا\nکہ وہ مہر الوہیت ہے یہ ہے ماہ کنعانی\nجو صورت اس کی ہے لاریب ہے وہ صورت ایزد\nجو معنی اس میں ہیں بے شک وہ ہیں معنی ربانی\nحدیث من رآنی دال ہے اس گفتگو اوپر\nکہ دیکھا جن نے اس کو ان نے دیکھی شکل یزدانی\nغرض مشکل ہمیں ہوتی کہ پیدا کرکے ایسے کو\nخدا گریہ نہ فرماتا نہیں کوئی مرا ثانی\nبس آگے مت چل اے سوداؔ میں دیکھا فہم کو تیرے\nکر استغفار اب اس منہ سے ویسے کی ثنا خوانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "نعرہ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "اسے یوں محسوس ہوا کہ اس سنگین عمارت کی ساتوں منزلیں اس کے کاندھوں پر دھر دی گئی ہیں۔وہ ساتویں منزل سے ایک ایک سیڑھی کرکے نیچے اترا اور تمام منزلوں کا بوجھ اس کے چوڑے مگر دبلے کاندھے پر سوار ہوتا گیا۔\n\nجب وہ مکان کے مالک سے ملنے کے لیے اوپر چڑھ رہا تھا تو اسے محسوس ہوا تھا کہ اس کا کچھ بوجھ ہلکا ہو گیا ہے اور کچھ ہلکا ہو جائے گا۔ اس لیے کہ اس نے اپنے دل میں سوچا تھا، مالک مکان جسے سب سیٹھ کے نام سے پکارتے ہیں اس کی بپتا ضرور سنے گا۔ اور کرایہ چکانے کے لیے اسے ایک مہینے کی اور مہلت بخش دے گا۔۔۔ بخش دے گا۔۔۔! یہ سوچتے ہوئے اس کے غرور کو ٹھیس لگی تھی لیکن فوراً ہی اس کو اصلیت بھی معلوم ہو گئی تھی۔۔۔ وہ بھیک مانگنے ہی تو جا رہا تھا۔ اور بھیک ہاتھ پھیلا کر، آنکھوں میں آنسو بھر کے، اپنے دکھ درد سنا کر اور اپنے گھاؤ دکھا کر ہی مانگی جاتی ہے۔\n\nاس نے یہی کچھ کیا۔ جب وہ اس سنگین عمارت کے بڑے دروازے میں داخل ہونے لگا، تو اس نے اپنے غرور کو، اس چیز کو جو بھیک مانگنے میں عام طور پر رکاوٹ پیدا کرتی ہے،نکال کر فٹ پاتھ پر ڈال دیا تھا۔\n\nوہ اپنا دیا بجھا کر اور اپنے آپ کو اندھیرے میں لپیٹ کر مالک مکان کے اس روشن کمرے میں داخل ہوا، جہاں وہ اپنی دو بلڈنگوں کا کرایہ وصول کیا کرتا تھااور ہاتھ جوڑ کر ایک طرف کھڑا ہو گیا۔ سیٹھ کے تلک لگے ماتھے پر کئی سلوٹیں پڑ گئیں۔ اس کا بالوں بھرا ہاتھ ایک موٹی سی کاپی کی طرف بڑھا۔ دو بڑی بڑی آنکھوں نے اس کاپی پر کچھ حروف پڑھے اور ایک بھدی سی آواز گونجی، ’’کیشو لال۔۔۔ کھولی پانچویں، دوسرا مالا۔۔۔ دو مہینوں کا کرایہ۔۔۔ لے آئے ہو کیا؟‘‘\n\nیہ سن کر اس نے اپنا دل جس کے سارے پرانے اور نئے گھاؤ وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے کرید کرید کر گہرے کر چکا تھا، سیٹھ کو دکھانا چاہا۔ اسے پورا پورا یقین تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے دل میں ضرور ہمدردی پیدا ہو جائے گی۔ پر۔۔۔ سیٹھ جی نے کچھ سننا نہ چاہااور اس کے سینے میں ایک ہلڑ سا مچ گیا۔\n\nسیٹھ کے دل میں ہمدردی پیدا کرنے کے لیے اس نے اپنے وہ تمام دکھ ،جو بیت چکے تھے، گزرے دنوں کی گہری کھائی سے نکال کر اپنے دل میں بھر لیے تھے اور ان تمام زخموں کی جلن جو مدت ہوئی مٹ چکے تھے،اس نے بڑی مشکل سے اکٹھی اپنی چھاتی میں جمع کی تھی۔ اب اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اتنی چیزوں کو کیسے سنبھالے؟\n\nاس کے گھر میں بن بلائے مہمان آ گئے ہوتے ،وہ ان سے بڑے روکھے پن کے ساتھ کہہ سکتا تھا، جاؤ بھئی میرے پاس اتنی جگہ نہیں ہے کہ تمہیں بٹھا سکوں اور نہ میرے پاس روپیہ ہے کہ تم سب کی خاطر مدارات کر سکوں۔ لیکن یہاں تو قصّہ ہی دوسرا تھا۔ اس نے تو اپنے بھولے بھٹکے دکھوں کو ادھر ادھر سے پکڑ کر اپنے آپ سینے میں جمع کیا تھا۔ اب بھلا وہ باہر نکل سکتے تھے؟\n\nافراتفری میں اسے کچھ پتہ نہ چلا تھا کہ اس کے سینے میں کتنی چیزیں بھر گئی ہیں۔ پر جیسے جیسے اس نے سوچنا شروع کیا، وہ پہچاننے لگا کہ فلاں دکھ فلاں وقت کا ہے اور فلاں درد اسے فلاں وقت پر ہوا تھا اور جب یہ سوچ بچار ہوئی تو حافظے نے بڑھ کر وہ دھند ہٹا دی جو ان پر لپٹی ہوئی تھی۔ اور کل کے تمام دکھ درد آج کی تکلیفیں بن گئے اور اس نے اپنی زندگی کی باسی روٹیاں پھر انگاروں پر سینکنا شروع کر دیں۔\n\nاس نے سوچا، تھوڑے سے وقت میں اس نے بہت کچھ سوچا۔ اس کے گھر کا اندھا لیمپ کئی بار بجلی کے اس بلب سے ٹکرایا جو مالک مکان کے گنجے سر کے اوپر مسکرا رہا تھا۔ کئی بار اس کے پیوندلگے کپڑے ان کھونٹیوں پر لٹک کر پھر اس کے میلے بدن سے چمٹ گئے،جو دیوار میں گڑی چمک رہی تھیں۔ کئی بار اسے ان داتا بھگوان کا خیال آیا جو بہت دور نہ جانے کہاں بیٹھا اپنے بندوں کا خیال رکھتا ہے۔ مگر اپنے سامنے سیٹھ کو کرسی پر بیٹھا دیکھ کر جس کے قلم کی جنبش کچھ کا کچھ کر سکتی تھی، وہ اس بارے میں کچھ بھی نہ سوچ سکا۔ کئی بار اسےخیال آیا۔ اور وہ سوچنے لگا کہ اسے کیا خیال آیا تھا۔ مگر وہ اس کے پیچھے بھاگ دوڑ نہ کر سکا۔ وہ سخت گھبرا گیا تھا۔ اس نے آج تک اپنے سینے میں اتنی کھلبلی نہیں دیکھی تھی۔\n\nوہ اس کھلبلی پر ابھی تعجب ہی کر رہا تھاکہ مالک مکان نے غصّے میں آکر اسے گالی دی۔۔۔ گالی۔۔۔ یوں سمجھیے کہ کانوں کے راستے پگھلا ہوا سیسہ شائیں شائیں کرتا اس کے دل میں اتر گیا، اور اس کے سینے کے اندر جو ہلڑ مچ گیا، اس کا تو کچھ ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ جس طرح کسی گرما گرم جلسے میں کسی شرارت سے بھگدڑ مچ جایا کرتی ہے، ٹھیک اسی طرح اس کے دل میں ہلچل پیدا ہو گئی۔ اس نے بہت جتن کیے کہ اس کے وہ دکھ درد جو اس نے سیٹھ کو دکھانے کے لیے اکٹھے کیے تھے، چپ چاپ رہیں۔ پر کچھ نہ ہو سکا۔ گالی کا سیٹھ کے منہ سے نکلنا تھا کہ تمام دکھ بے چین ہو گئے۔ اور اندھا دھند ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے۔ اب تو وہ یہ نئی تکلیف بالکل نہ سہ سکا، اور اس کی آنکھوں میں جو پہلے ہی تپ رہی تھیں، آنسو آ گئے۔ جس سے ان کی گرمی اور بھی بڑھ گئی اور ان سے دھواں نکلنے لگا۔\n\nاس کے جی میں آئی کہ اس گالی کو جسے وہ بڑی حد تک نگل چکا تھا، سیٹھ کے جھریوں پڑے چہرے پر قے کر دے مگر وہ اس خیال سے باز آگیا کہ اس کا غرور تو فٹ پاتھ پر پڑا ہے۔ اپولوبندر پر نمک لگی مونگ پھلی بیچنے والے کا غرور۔۔۔ اس کی آنکھیں ہنس رہی تھیں اور ان کے سامنے نمک لگی مونگ پھلی کے وہ تمام دانے جو اس کے گھر میں ایک تھیلے کے اندر برکھا کے باعث گیلے ہو رہے تھے، ناچنے لگے۔\n\nاس کی آنکھیں ہنسیں، اس کا دل بھی ہنسا، یہ سب کچھ ہوا پر وہ کڑواہٹ دور نہ ہوئی جو اس کے گلے میں سیٹھ کی گالی نے پیدا کر دی تھی۔ یہ کڑواہٹ اگر صرف زبان پر ہوتی تو وہ اسے تھوک دیتا مگر وہ تو بہت بری طرح اس کے گلے میں اٹک گئی تھی۔ اور نکالے نہ نکلتی تھی اور پھر ایک عجیب قسم کا دکھ جو اس گالی نے پیدا کر دیا تھا، اس کی گھبراہٹ کو اور بھی بڑھا رہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس کی آنکھیں جو سیٹھ کے سامنے رونا فضول سمجھتی تھیں، اس کے سینے کے اندر اتر کر آنسو بہا رہی ہیں۔ جہاں ہر چیز پہلے ہی سے سوگ میں تھی۔\n\nسیٹھ نے اسے پھر گالی دی۔ اتنی ہی موٹی جتنی اس کی چربی بھری گردن تھی،اور اسے یوں لگا کہ کسی نے اوپر سے اس پر کوڑا کرکٹ پھینک دیا ہے۔ چنانچہ اس کا ایک ہاتھ اپنے آپ چہرے کی حفاظت کے لیے بڑھا پر اس گالی کی ساری گرد اس پر پھیل چکی تھی۔۔۔ اب اس نے وہاں ٹھہرنا اچھا نہ سمجھا۔ کیونکہ کیا خبر تھی۔۔۔کیا خبر تھی۔۔۔ اسے کچھ خبر نہ تھی۔۔۔ وہ صرف اتنا جانتا تھا کہ ایسی حالتوں میں کسی بات کی سدھ بدھ نہیں رہا کرتی۔\n\nوہ جب نیچے اترا تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس سنگین عمارت کی ساتوں منزلیں اس کے کندھوں پر دھر دی گئی ہیں۔ایک نہیں، دو گالیاں۔۔۔ بار بار یہ دو گالیاں جو سیٹھ نے بالکل پان کی پیک کے مانند اپنے منہ سے اگل دی تھیں جو اس کے کانوں کے پاس زہریلی بھڑوں کی طرح بھنبھنانا شروع کر دیتی تھیں اور وہ سخت بے چین ہو جاتا تھا۔ وہ کیسے اس۔۔۔ اس۔۔۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس گڑ بڑ کا نام کیا رکھے، جو اس کے دل میں اور دماغ میں ان گالیوں نے مچا رکھی تھی۔ وہ کیسے اس تپ کو دور کر سکتا تھا جس میں وہ پھنکا جا رہا تھا۔ کیسے۔۔۔؟ پر وہ سوچ بچار کے قابل بھی تو نہیں رہا تھا۔ اس کا دماغ تو اس وقت ایک ایسا اکھاڑہ بنا ہوا تھا جس میں بہت سے پہلوان کشتی لڑ رہے ہوں۔ جو خیال بھی وہاں پیدا ہوتا،کسی دوسرے خیال سے ،جو پہلے ہی سے وہاں موجود ہوتا بھڑ جاتا اور وہ کچھ سوچ نہ سکتا۔\n\nچلتے چلتے جب ایکا ایکی اس کے دکھ قےَ کی صورت میں باہر نکلنے کو تھے، اس کے جی میں آئی۔ جی میں کیا آئی، مجبوری کی حالت میں وہ اس آدمی کو روک کر جو لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کے پاس سے گزر رہا تھا۔ یہ کہنے ہی والا تھا، ’’بھیّا میں روگی ہوں‘‘ مگر جب اس نے اس راہ چلتے آدمی کی شکل دیکھی تو بجلی کا وہ کھمبا جو اس کے پاس ہی زمین میں گڑا تھا، اسے اس آدمی سے کہیں زیادہ حساس دکھائی دیا۔ اور جو کچھ وہ اپنے اندر سے باہر نکالنے والا تھا، ایک ایک گھونٹ کرکے پھر نگل گیا۔\n\nفٹ پاتھ پر چوکور پتھر ایک ترتیب کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ وہ ان پتھروں پر چل رہا تھا۔ آج تک کبھی اس نے ان کی سختی محسوس نہ کی تھی۔ مگر آج ان کی سختی اس کے دل تک پہنچ رہی تھی۔ فٹ پاتھ کا ہر ایک پتھر جس پر اس کے قدم پڑ رہے تھے، اس کے دل کے ساتھ ٹکرا رہا تھا۔۔۔ سیٹھ کے پتھر کے مکان سے نکل کر ابھی وہ تھوڑی دور ہی گیا ہو گا کہ اس کا بند بند ڈھیلا ہو گیا۔\n\nچلتے چلتے اس کی ایک لڑکے سے ٹکر ہوئی اور اسے یوں محسوس ہواکہ وہ ٹوٹ گیا ہے۔ چنانچہ اس نے جھٹ اس آدمی کی طرح جس کی جھولی سے بیر گر رہے ہوں،ادھر ادھر ہاتھ پھیلائے اور اپنے آپ کو اکٹھا کر کے ہولے ہولے چلنا شروع کیا۔\n\nاس کا دماغ اس کی ٹانگوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی کے ساتھ چل رہا تھا، چنانچہ کبھی کبھی چلتے چلتے اسے یہ محسوس ہوتا تھا کہ اس کا نچلا دھڑ سارے کا سارابہت پیچھے رہ گیا ہے اور دماغ بہت آگے نکل گیا ہے۔ کئی بار اسے اس خیال سے ٹھہرنا پڑا کہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہو جائیں۔\n\nوہ فٹ پاتھ پر چل رہا تھا جس کے اس طرف سڑک پر پوں پوں کرتی موٹروں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ گھوڑے گاڑیاں، ٹرامیں، بھاری بھرکم ٹرک، لاریاں یہ سب سڑک کی کالی چھاتی پر دندناتی ہوئی چل رہی تھیں۔ ایک شور مچا ہواتھا۔ پر اس کے کانوں کو کچھ سنائی نہ دیتا تھا۔ وہ تو پہلے ہی سے شائیں شائیں کر رہے تھے،جیسے ریل گاڑی کا انجن زائد بھاپ باہر نکال رہا ہے۔\n\nچلتے چلتے ایک لنگڑے کتے سے اس کی ٹکر ہوئی۔ کتے نے اس خیال سے کہ شاید اس کا پیر کچل دیا گیا ہے،’’چاؤں‘‘ کیا اور پرے ہٹ گیا۔ اور وہ سمجھا کہ سیٹھ نے اسے پھر گالی دی ہے۔۔۔ گالی۔۔۔ گالی ٹھیک اسی طرح اس سے الجھ کر رہ گئی تھی جیسے بیری کے کانٹوں میں کوئی کپڑا۔ وہ جتنی کوشش اپنے آپ کو چھڑانے کی کرتا تھا، اتنی ہی زیادہ اس کی روح زخمی ہوتی جا رہی تھی۔\n\nاسے اس نمک لگی مونگ پھلی کا خیال نہیں تھا جو اس کے گھر میں برکھا کے باعث گیلی ہو رہی تھی اور نہ اسے روٹی کپڑے کا خیال تھا۔ اس کی عمر تیس برس کے قریب تھی،اور ان تیس برسوں میں جن کے پرماتما جانے کتنے دن ہوتے ہیں،وہ کبھی بھوکا نہ سویا تھا اور نہ کبھی ننگا ہی پھرا تھا۔ اسے صرف اس بات کا دکھ تھا کہ اسے ہر مہینے کرایہ دینا پڑتا تھا۔ وہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرے۔ اس بکرے جیسی داڑھی والے حکیم کی دوائیوں کے دام دے۔ شام کو تاڑی کی ایک بوتل کے لیے دونی پیدا کر لے، یا اس گنجے سیٹھ کے مکان کے ایک کمرے کا کرایہ ادا کرے۔\n\nمکانوں اور کرایوں کا فلسفہ اس کی سمجھ سے سدا اونچا رہا تھا۔ وہ جب بھی دس روپے گن کر سیٹھ یا اس کے منیم کی ہتھیلی پر رکھتا تو سمجھتا تھا کہ زبردستی اس سے یہ رقم چھین لی گئی ہے، اور اب اگر وہ پانچ برس تک برابر کرایہ دیتے رہنے کے بعد صرف دو مہینے کا حساب چکتا نہ کر سکا تو کیا سیٹھ کو اس بات کا اختیار ہو گیا کہ وہ اسے گالی دے؟ سب سے بڑی بات تو یہ تھی جو اسے کھائے جا رہی تھی، اسے ان بیس روپوں کی پروا نہ تھی جو اسے آج نہیں کل ادا کر دینے تھے۔ وہ ان دو گالیوں کی بابت سوچ رہا تھا، جو ان بیس روپوں کے بیچ میں سے نکلتی تھیں۔ نہ وہ بیس روپے کا مقروض ہوتا اور نہ سیٹھ کے کٹھالی جیسے منہ سے یہ گندگی باہر نکلتی۔\n\nمان لیا وہ دھن وان تھا۔ اس کے پاس دو بلڈنگیں تھیں۔ جن کے ایک سو چوبیس کمروں کا کرایہ اس کے پاس آتا تھا۔ پر ان ایک سو چوبیس کمروں میں جتنے لوگ رہتے ہیں، اس کے غلام تو نہیں اور اگر غلام بھی ہیں تو وہ انھیں گالی کیسے دے سکتا ہے؟‘‘\n\n’’ٹھیک ہے اسے کرایہ چاہیے۔ پر میں کہاں سے لاؤں؟ پانچ برس تک اس کو دیتا ہی رہا ہوں۔ جب ہو گا، دے دوں گا۔ پچھلے برس برسات کا سارا پانی ہم پر ٹپکتا رہا،پر میں نے اسے کبھی گالی نہ دی، حالانکہ مجھے اس سے کہیں زیادہ ہولناک گالیاں یاد ہیں۔ پر میں نے سیٹھ سے بار ہا کہاکہ سیڑھی کا ڈنڈا ٹوٹ گیا ہے،اسے بنوا دیجیے، پر میری ایک نہ سنی گئی۔ میری پھول سی بچی گری۔ اس کا داہنا ہاتھ ہمیشہ کے لیے بیکار ہو گیا۔ میں گالیوں کے بجائے اسے بددعائیں دے سکتا تھا، پر مجھے اس کا دھیان ہی نہیں آیا۔۔۔ دو مہینے کا کرایہ نہ چکانے پر میں گالیوں کے قابل ہو گیا۔ اس کو یہ خیال تک نہ آیا کہ اس کے بچے اپولوبندر پرمیرے تھیلے سے مٹھیاں بھر بھر کے مونگ پھلی کھاتے ہیں۔‘‘\n\nاس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے پاس اتنی دولت نہیں تھی جتنی کہ اس دو بلڈنگوں والے سیٹھ کے پاس تھی۔ اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کے پاس اس سے بھی زیادہ دولت ہو گی، پر وہ غریب کیسے ہو گیا۔۔۔ اسے غریب سمجھ کر ہی تو گالی دی گئی تھی۔ ورنہ اس گنجے سیٹھ کی کیا مجال تھی کہ کرسی پر بڑے اطمینان سے بیٹھ کر اسے دو گالیاں سنا دیتا۔ گویا کسی کے پاس دھن دولت کا نہ ہونا بہت بری بات ہے۔ اب یہ اس کا قصور نہیں تھا کہ اس کے پاس دولت کی کمی تھی۔\n\nسچ پوچھیے تو اس نے کبھی دھن دولت کے خواب دیکھے ہی نہ تھے۔ وہ اپنے حال میں مست تھا۔ اس کی زندگی بڑے مزے میں گزر رہی تھی۔ پر پچھلے مہینے ایکا ایکی اس کی بیوی بیمار پڑ گئی اور اس کے دوا دارو پر وہ تمام روپے خرچ ہو گئے جو کرایے میں جانے والے تھے۔ اگر وہ خود بیمار ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ دواؤں پر روپیہ خرچ نہ کرتا لیکن یہاں تو اس کے ہونے والے بچے کی بات تھی جو ابھی اپنی ماں کے پیٹ ہی میں تھا۔ اس کو اولاد بہت پیاری تھی جو پیدا ہو چکی تھی اور جو پیدا ہونے والی تھی۔ سب کی سب اسے عزیز تھی ۔وہ کیسے اپنی بیوی کا علاج نہ کراتا۔۔۔؟ کیا وہ اس بچے کا باپ نہ تھا۔۔۔؟ باپ پِتا۔۔۔ وہ تو صرف دو مہینے کے کرائے کی بات تھی۔ اگر اسے اپنے بچے کے لیے چوری بھی کرنا پڑتی تو وہ کبھی نہ چوکتا۔\n\nچوری۔۔۔ نہیں نہیں وہ چوری کبھی نہ کرتا۔۔۔ یوں سمجھیے کہ وہ اپنے بچے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی کرنے کے لیے تیار تھامگر وہ چور کبھی نہ بنتا۔۔۔ وہ اپنی چھنی ہوئی چیز واپس لینے کے لیے لڑ مرنے کو تیار تھا پر وہ چوری نہیں کر سکتا تھا۔\n\nاگر وہ چاہتا تو اس وقت جب سیٹھ نے اسے گالی دی تھی، آگے بڑھ کر اس کا ٹینٹوا دبا دیتا اور اس کی تجوری میں سے وہ تمام نیلے اور سبز نوٹ نکال کر بھاگ جاتا،جن کو وہ آج تک لاجونتی کے پتّے سمجھا کرتا تھا۔۔۔ نہیں نہیں وہ ایسا کبھی نہ کرتا۔ لیکن پھر سیٹھ نے اسے گالی کیوں دی۔۔۔؟ پچھلے برس چوپاٹی پر ایک گاہک نے اسے گالی دی تھی۔ اس لیے کہ دو پیسے کی مونگ پھلی میں چار دانے کڑوے چلے گئے تھے اور اس کے جواب میں اس کی گردن پر ایسی دھول جمائی تھی کہ دور بنچ پر بیٹھے آدمیوں نے بھی اس کی آواز سن لی تھی۔\n\nمگر سیٹھ نے اسے دو گالیاں دیں اور وہ چپ رہا۔۔۔ کیشو لال کھاری سینگ والا، جس کی بابت یہ مشہور تھا کہ وہ ناک پر مکھی بھی نہیں بیٹھنے دیتا۔۔۔ سیٹھ نے ایک گالی دی اور وہ کچھ نہ بولا۔۔۔ دوسری گالی دی تو بھی خاموش رہا جیسے وہ مٹی کا پتلا ہے۔۔۔ پر مٹی کا پتلا کیسے ہوا۔ اس نے ان دو گالیوں کو سیٹھ کے تھوک بھرے منہ سے نکلتے دیکھا جیسے دو بڑے بڑے چوہے موریوں سے باہر نکلتے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر خاموش رہا۔ اس لیے کہ وہ اپنا غرور نیچے چھوڑ آیا تھا۔۔۔ مگر اس نے اپنا غرور اپنے سے الگ کیوں کیا؟ سیٹھ سے گالیاں لینے کے لیے؟\n\nیہ سوچتے ہوئے اسے ایکا ایکی خیال آیا کہ شاید سیٹھ نے اسے نہیں کسی اور کو گالیاں دی تھیں۔۔۔ نہیں، نہیں، گالیاں اسے ہی دی گئی تھیں۔ اس لیے کہ دو مہینے کا کرایہ اسی کی طرف نکلتا تھا۔ اگر اسے گالیاں نہ دی گئی ہوتیں تو اس سوچ بچار کی ضرورت ہی کیا تھی، اور یہ جو اس کے سینے میں ہلڑ سا مچ رہا تھا، کیا بغیر کسی وجہ کے اسے دکھ دے رہا تھا؟ اسی کو دو گالیاں دی گئی تھیں۔\n\nجب اس کے سامنے ایک موٹر نے اپنے ماتھے کی بتیاں روشن کیں، تو اسے معلوم ہوا کہ وہ دو گالیاں پگھل کر اس کی آنکھوں میں دھنس گئی ہیں۔۔۔ گالیاں۔۔۔ گالیاں ۔۔۔ وہ جھنجھلا گیا۔۔۔ وہ جتنی کوشش کرتا تھا کہ ان گالیوں کی بابت نہ سوچے اتنی ہی شدت سے اسے ان کے متعلق سوچنا پڑتا تھا اور یہ مجبوری اسے بہت چڑچڑا بنا رہی تھی۔ چنانچہ اسی چڑچڑے پن میں اس نے خواہ مخواہ دو تین آدمیوں کو جو اس کے پاس سے گزر رہے تھے، دل ہی دل میں گالیاں دیں۔ ’’یوں اکڑ کے چل رہے ہیں جیسے ان کے باوا کا راج ہے!‘‘\n\nاگر اس کا راج ہوتا تو وہ سیٹھ کو مزا چکھا دیتا جو اسے اوپر تلے دو گالیاں سنا کر اپنے گھر میں یوں آرام سے بیٹھا تھا جیسے اس نے اپنی گدے دار کرسی میں سے دوکھٹمل نکال کر باہر پھینک دیے ہیں۔۔۔ سچ مچ اگر اس کا اپنا راج ہوتا تو چوک میں بہت سے لوگوں کو اکٹھا کرکے سیٹھ کو بیچ میں کھڑا کر دیتا۔ اور اس کی گنجی چندیا پر اس زور سے دھپا مارتا کہ بلبلا اٹھتا، پھر وہ سب لوگوں سے کہتا کہ ہنسو، جی بھر کر ہنسو اور خود اتنا ہنستا کہ ہنستے ہنستےاس کا پیٹ دکھنے لگتا پر اس وقت اسے بالکل ہنسی نہیں آتی تھی۔۔۔ کیوں۔۔۔؟ وہ اپنے راج کے بغیر بھی تو سیٹھ کے گنجے سر پر دھپا مار سکتا تھا۔ اسے کس بات کی رکاوٹ تھی۔۔۔؟ رکاوٹ تھی۔۔۔ رکاوٹ تھی تو وہ گالیاں سن کر خاموش ہو رہا۔\n\nاس کے قدم رک گئے۔ اس کا دماغ بھی ایک دو پل کے لیے سستایا اور اس نے سوچا کہ چلو ابھی اس جھنجھٹ کا فیصلہ ہی کر دوں۔۔۔ بھاگا ہوا جاؤں اور ایک ہی جھٹکے میں سیٹھ کی گردن مروڑ کر اس تجوری پر رکھ دوں جس کا ڈھکنا مگر مچھ کے منہ کی طرح کھلتا ہے۔۔۔ لیکن وہ کھمبے کی طرح زمین میں کیوں گڑ گیا تھا؟ سیٹھ کے گھر کی طرف پلٹا کیوں نہیں تھا۔۔۔؟ کیا اس میں جرأت نہ تھی؟\n\nاس میں جرأت نہ تھی۔۔۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ اس کی ساری طاقت سرد پڑ گئی تھی۔۔۔ یہ گالیاں۔۔۔ وہ ان گالیوں کو کیا کہتا۔۔۔ ان گالیوں نے اس کی چوڑی چھاتی پر رولر سا پھیر دیا تھا۔۔۔ صرف دو گالیوں نے۔۔۔ حالانکہ پچھلے ہندو مسلم فساد میں ایک ہندو نے اسے مسلمان سمجھ کر لاٹھیوں سے بہت پیٹا تھا اور ادھ موا کر دیا تھا اور اسے اتنی کمزوری محسوس نہ ہوئی تھی جتنی کہ اب ہو رہی تھی۔۔۔ کیشولال کھاری سینگ والا جو دوستوں سے بڑے فخر کے ساتھ کہا کرتا تھا کہ وہ کبھی بیمار نہیں پڑا۔ آج یوں چل رہا تھا جیسے برسوں کا روگی ہے۔۔۔ اور یہ روگ کس نے پیدا کیا تھا۔۔۔؟ دو گالیوں نے!\n\nگالیاں۔۔۔ گالیاں۔۔۔ کہاں تھیں وہ دو گالیاں۔۔۔؟ اس کے جی میں آئی کہ اپنے سینے کے اندر ہاتھ ڈال کر وہ ان دو پتھروں کو جو کسی حیلے گلتے ہی نہ تھے،باہر نکال لے اور جو کوئی بھی اس کے سامنے آئے اس کے سر پر دے مارے، پر یہ کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔ اس کا سینہ مربے کا مرتبان تھوڑی تھا۔\n\nٹھیک ہے۔ لیکن پھر کوئی اور ترکیب بھی تو سمجھ میں آئے جس سے یہ گالیاں دور دفان ہوں۔۔۔ کیوں نہیں کوئی شخص بڑھ کر اسے دکھ سے نجات دلانے کی کوشش کرتا؟ کیا وہ ہمدردی کے قابل نہ تھا۔۔۔؟ہو گا۔۔۔ پر کسی کو اس کے دل کے حال کا کیا پتہ تھا۔ وہ کھلی کتاب تھوڑی تھا،اور نہ اس نے اپنا دل باہر لٹکا رکھاتھا۔ اندر کی بات کسی کو کیا معلوم؟\n\nنہ معلوم ہو۔۔۔! پر ماتما کرے کسی کو معلوم نہ ہو۔۔۔ اگر کسی کو اندر کی بات کا پتہ چل گیا تو کیشولال کھاری سینگ والے کے لیے ڈوب مرنے کی بات تھی۔۔۔ گالیاں سن کر خاموش رہنا معمولی بات تھی کیا؟\n\nمعمولی بات نہیں بہت بڑی بات ہے۔۔۔ ہمالیہ پہاڑ جتنی بڑی بات ہے۔ اس سے بھی بڑی بات ہے۔ اس کا غرور مٹی میں مل گیا ہے۔ اس کی ذلت ہوئی ہے۔ اس کی ناک کٹ گئی ہے۔۔۔ اس کا سب کچھ لٹ گیا ہے ،چلو بھئی چھٹی ہوئی۔ اب تو یہ گالیاں اس کا پیچھا چھوڑ دیں۔۔۔ وہ کمینہ تھا۔ رذیل تھا۔نیچ تھا۔ گندگی صاف کرنے والا بھنگی تھا، کتا تھا۔۔۔ اس کو گالیاں ملنا ہی چاہیے تھیں۔ نہیں نہیں، کسی کی کیا مجال تھی کہ اسے گالیاں دے اور پھر بغیر کسی قصور کے، وہ اسے کچا نہ چبا جاتا۔۔۔اماں ہٹاؤ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔۔۔ تم نے تو سیٹھ سے یوں گالیاں سنیں جیسے میٹھی میٹھی بولیاں تھیں۔\n\nمیٹھی میٹھی بولیاں تھیں، بڑے مزے دار گھونٹ تھے، چلو یہی سہی۔۔۔ اب تو میرا پیچھا چھوڑ دو ورنہ سچ کہتا ہوں،دیوانہ ہو جاؤں گا۔۔۔ یہ لوگ جو بڑے آرام سے ادھر ادھر چل پھر رہے ہیں،میں ان میں سے ہر ایک کا سر پھوڑ دوں گا ۔بھگوان کی قسم مجھے اب زیادہ تاب نہیں رہی۔ میں ضرور دیوانے کتے کی طرح سب کو کاٹنا شروع کر دوں گا۔ لوگ مجھے پاگل خانے میں بند کر دیں گے۔ اور میں دیواروں کے ساتھ اپنا سر ٹکرا ٹکرا کر مر جاؤں گا۔۔۔مر جاؤں گا۔ سچ کہتا ہوں، مر جاؤں گا۔۔۔مر جاؤں گا۔ سچ کہتا ہوں، مر جاؤں گا۔ اور میری رادھا ودھوا اور میرے بچے اناتھ ہو جائیں گے۔\n\nیہ سب کچھ اس لیے ہو گا کہ میں نے سیٹھ سے دو گالیاں سنیں اور خاموش رہاجیسے میرے منہ پر تالا لگا ہوا تھا۔ میں لولا، لنگڑا، اپاہج تھا۔۔۔ پر ماتما کرے میری ٹانگیں اس موٹر کے نیچے آکر ٹوٹ جائیں، میرے ہاتھ کٹ جائیں۔۔۔ میں مر جاؤں تاکہ یہ بک بک تو ختم ہو۔۔۔ توبہ۔۔۔ کوئی ٹھکانہ ہے اس دکھ کا۔۔۔ کپڑے پھاڑ کر ننگا ناچنا شروع کر دوں۔۔۔ اس ٹرام کے نیچے سر دے دوں، زور زور سے چلانا شروع کر دوں۔۔۔ کیا کروں کیا نہ کروں؟‘‘\n\nیہ سوچتے ہوئے اسے ایکا ایکی خیال آیا کہ بازار کے بیچ کھڑا ہو جائے، اور سب ٹریفک کو روک کر جو اس کی زبان پر آئے بکتا چلا جائے۔ حتیٰ کہ اس کا سینہ سارے کا سارا خالی ہو جائے۔ یا پھر اس کے جی میں آئی کہ کھڑے کھڑے یہیں سے چلانا شروع کر دے،’’مجھے بچاؤ۔۔۔ مجھے بچاؤ!‘‘\n\nاتنے میں ایک آگ بجھانے والا انجن سڑک پر ٹن ٹن کرتا آیا اور ادھر اس موڑ میں گُم ہو گیا۔ اس کو دیکھ کر وہ اونچی آواز میں کہنے ہی والا تھا، ’’ٹھہرو۔۔۔ میری آگ بجھاتے جاؤ۔‘‘ مگر نہ جانے کیوں رک گیا۔\n\nایکا ایکی اس نے اپنے قدم تیز کر دیے۔ اسے ایسا محسوس ہوا تھا کہ اس کی سانس رکنے لگی ہے اور اگر وہ تیز نہ چلے گا تو بہت ممکن ہے کہ وہ پھٹ جائےلیکن جونہی اس کی رفتار بڑھی۔ اس کا دماغ آگ کا ایک چکر سا بن گیا۔ اس چکر میں اس کے سارے پرانے اور نئے خیال ایک ہار کی صورت میں گندھ گئے۔۔۔ دو مہینے کا کرایہ، اس کا پتھر کی بلڈنگ میں درخواست لے کر جانا۔۔۔ سات منزلوں کے ایک سوبارہ زینے، سیٹھ کی بھدّی آواز، اس کے گنجے سر پر مسکراتا ہوا بجلی کا لیمپ اور۔۔۔ یہ موٹی گالی۔۔۔ پھر دوسری۔۔۔ اور اس کی خاموشی۔۔۔ یہاں پہنچ کر آگ کے اس چکر میں تڑ تڑ گولیاں سی نکلنا شروع ہو جاتیں اور اسے ایسا محسوس ہوتا کہ اس کا سینہ چھلنی ہو گیا ہے۔\n\nاس نے اپنے قدم اور تیز کیے اور آگ کا یہ چکر اتنی تیزی سے گھومنا شروع ہوا کہ شعلوں کی ایک بہت بڑی گیند سی بن گئی، جو اس کے آگے آگے زمین پر اچھلنے کودنے لگی۔وہ اب دوڑنے لگا۔ لیکن فوراً ہی خیالوں کی بھیڑ بھاڑ میں ایک نیا خیال بلند آواز میں چلایا، ’’تم کیوں بھاگ رہے ہو؟ کس سے بھاگ رہے ہو؟ تم بزدل ہو!‘‘\n\nاس کے قدم آہستہ آہستہ اٹھنے لگے۔ بریک سی لگ گئی، اور وہ ہولے ہولے چلنے لگا۔۔۔ وہ سچ مچ بزدل تھا۔۔۔ بھاگ کیوں رہا تھا۔۔۔؟ اسے تو انتقام لینا تھا۔۔۔ انتقام۔۔۔ یہ سوچتے ہوئے اسے اپنی زبان پر لہو کا نمکین ذائقہ محسوس ہوا۔ اور اس کے بدن میں ایک جھرجھری سی پیدا ہوئی۔ لہو۔۔۔ اسے آسمان زمین سب لہو ہی میں رنگے ہوئے نظر آنے لگے۔۔۔ لہو۔۔۔ اس وقت اس میں اتنی قوت تھی کہ پتھر کی رگوں میں سے بھی لہو نچوڑ سکتا تھا۔\n\nاس کی آنکھوں میں لال ڈورے ابھر آئے۔ مٹھیاں بھنچ گئیں اور قدموں میں مضبوطی پیدا ہو گئی۔۔۔ اب وہ انتقام پر تل گیا تھا! وہ بڑھا۔آنے جانے والے لوگوں میں سے تیر کے مانند اپنا راستہ بناتا آگے بڑھتا رہا۔۔۔ آگے۔۔۔ آگے!جس طرح تیز چلنے والی ریل گاڑی چھوٹے چھوٹے اسٹیشنوں کو چھوڑ جایا کرتی ہے،اسی طرح وہ بجلی کے کھمبوں، دوکانوں اور لمبے لمبے بازاروں کو اپنے پیچھے چھوڑتا آگے بڑھ رہا تھا۔ آگے۔۔۔ آگے۔۔۔ بہت آگے!\n\nراستے میں ایک سینما کی رنگین بلڈنگ آئی۔ اس نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ اور اس کے پاس سے بے پروا ، ہَوا کے مانند بڑھ گیا۔۔۔ وہ بڑھتا گیا۔\n\nاندر ہی اندر اس نے اپنے ہر ذرے کو ایک بم بنا لیا تھا۔ تاکہ وقت پر کام آئے۔ مختلف بازاروں سے زہریلے سانپ کے مانند پھنکارتا ہوا وہ اپولوبندر پہنچا۔۔۔ اپولوبندر۔۔۔گیٹ وے آف انڈیا کے سامنے بے شمار موٹریں قطار اندر قطار کھڑی تھیں۔ ان کو دیکھ کر اس نے یہ سمجھا کہ بہت سے گدھ ’پر‘ جوڑے کسی کی لاش کے ارد گرد بیٹھے ہیں۔ جب اس نے خاموش سمندر کی طرف دیکھاتو اسے یہ ایک لمبی چوڑی لاش معلوم ہوئی۔۔۔ اس سمندر کے اس طرف ایک کونے میں لال لال روشنی کی لکیریں ہولے ہولے بل کھا رہی تھیں۔ یہ ایک عالی شان ہوٹل کی پیشانی کا برقی نام تھا۔ جس کی لال روشنی سمندر کے پانی میں گدگدی پیدا کر رہی تھی۔\n\nکیشولال کھاری سینگ والا اس عالی شان ہوٹل کے نیچے کھڑا ہو گیا۔\n\nاس برقی بورڈ کے عین نیچے قدم گاڑ کر اس نے اوپر دیکھا۔۔۔ سنگین عمارت کی طرف ۔۔جس کے روشن کمرے چمک رہے تھے اور۔۔۔ اس کے حلق سے ایک نعرہ۔۔۔ کان کے پردے پھاڑ دینے والا نعرہ۔۔۔ پگھلے ہوئے گرم گرم لاوے کے مانند نکلا، ’’ہت تیری! ‘‘\n\nجتنے کبوتر ہوٹل کی منڈیروں پر اونگھ رہے تھے ،ڈر گئے اور پھڑپھڑانے لگے۔\n\nنعرہ مار کر جب اس نے اپنے قدم زمین سے بڑی مشکل کے ساتھ علیحدہ کیے اور واپس مڑا تو اسے اس بات کا پورا یقین تھا کہ ہوٹل کی سنگین عمارت اڑا اڑا دھم نیچے گر گئی ہے۔\n\nاور یہ نعرہ سن کر ایک شخص نے اپنی بیوی سے جو یہ شور سن کر ڈر گئی تھی، کہا، ’’پگلا ہے!‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B9%D8%B1%DB%81"} {"title": "نعرۂ تکبیر بھی زاہد نثار نغمہ ہے", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نعرۂ تکبیر بھی زاہد نثار نغمہ ہے\nکس قدر اللہ اکبر اعتبار نغمہ ہے\n\nکیا سریلی تھی صدائے حرف کن روز ازل\nاب تک رگ رگ ہماری بے قرار نغمہ ہے\n\nعندلیب خوش نوا پر آنکھ ہے صیاد کی\nنرگس شہلا سراپا انتظار نغمہ ہے\n\nتفرقہ ہو اس طرح تو کیا جمے عشرت کا رنگ\nدل ضعیف و ناتواں لب زیر بار نغمہ ہے\n\nشعر دو ہیں حضرت غالبؔ کے دیواں میں عزیزؔ\nیہ غزل میری اسی مے کا خمار نغمہ ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B9%D8%B1%DB%82_%D8%AA%DA%A9%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D8%BA%D9%85%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "نعرۂ حق", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جفا شعار ستم کیش حریت دشمن\nڈرا رہا ہے تو آنکھیں یہ کیا دکھا کے مجھے\nمرے قدم کو ہو جنبش یہ غیر ممکن ہے\nپیام شوق سے دے درد و ابتلا کے مجھے\nکوئی مجھے رہ حق سے ہٹا نہیں سکتا\nاگر یقین نہ ہو دیکھ لے ہٹا کے مجھے\nزباں پہ کلمۂ حق کے سوا جو حرف آ جائے\nتو پھونک دے مری غیرت ابھی جلا کے مجھے\nہے آشنا مرے کام و دہن سے تلخئ غم\nیہ زہر دیکھ لے سو مرتبہ پلا کے مجھے\nہے میرے واسطے معراج روح تختۂ دار\nتو خوش اگر ہے تو ہو دار پر چڑھا کے مجھے\nفنا ہے میرے لئے مژدۂ بقائے دوام\nسنا رہا ہے تو احکام کیا قضا کے مجھے\nسوا خدا کے کسی سے میں دب نہیں سکتا\nنہ رکھ سکے گا تو ہرگز کبھی دبا کے مجھے\nترے خیال میں گر ہوں میں قابل تسخیر\nتو دیکھ لے غم و آلام میں پھنسا کے مجھے\nمری طرف سے اجازت ہے تجھ کو عام اس کی\nکہ دے سکے تو غم و رنج انتہا کے مجھے\nخوشی کے ساتھ ہوں راضی ہر ابتلا کے لئے\nتو منتخب مجھے کر تو سہی جفا کے لئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B9%D8%B1%DB%82_%D8%AD%D9%82"} {"title": "نعش اس عاشق ناشاد کی اٹھوانے دو", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نعش اس عاشق ناشاد کی اٹھوانے دو\nاب اسے زیر زمیں چین سے سو جانے دو\n\nدل بہل جائے تو تنہائی کی کلفت بھی مٹے\nشب فرقت کی بلاؤں کو تو آ جانے دو\n\nسینکڑوں گوہر نایاب تو پیدا ہوں گے\nچند جھالے مری آنکھوں سے برس جانے دو\n\nبے کفن پھینک ہی دینا مرے لاشہ کو مگر\nکوچۂ پاک میں محبوب کے مر جانے دو\n\nلیے بیٹھا ہوں بیابان میں پہلو خالی\nکیا ملائے ہیں جنوں تو نے یہ ویرانے دو\n\nمے کی حاجت نہ کبھی مجھ کو رہی اے ساقی\nخوں سے لبریز ہیں ان آنکھوں کے پیمانے دو\n\nشمع رو جاں بھی ہوئی دل بھی ہوا تجھ پہ فدا\nجل گئے عشق کے ہاتھوں سے یہ پروانے دو\n\nساتھ میرے دل ناشاد ہے تنہا میں نہیں\nآئے ہیں در پہ شہہ دیں ترے دیوانے دو\n\nساتھ اس زلف کے الجھے نہ ہماری قسمت\nاب اسے تم دل صد چاک سے سلجھانے دو\n\nہوگا پر نور سیہ خانہ ہمارے دل کا\nاس میں تم غوث خدا کو ذرا آ جانے دو\n\nرہ چکا دیر و کلیسا میں بہت مدت تک\nاے جنوں سوئے حرم اب تو مجھے جانے دو\n\nان کے فقروں میں نہ آئیں گے یہ سچے عاشق\nواعظ آئے ہیں جو سمجھانے تو سمجھانے دو\n\nفخر ہے ناز ہے اس پر تو جمیلہؔ مجھ کو\nتم سگ کوئے جمالی مجھے کہلانے دو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%B9%D8%B4_%D8%A7%D8%B3_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%88"} {"title": "نغمہ ایسا بھی مرے سینۂ صد چاک میں ہے", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نغمہ ایسا بھی مرے سینۂ صد چاک میں ہے\nخوف سے حشر بپا گنبد افلاک میں ہے\n\nاے جنوں چل خم گیسو کی طرف دل تو ابھی\nعالم خواب میں آداب کے پیچاک میں ہے\n\nوہ قفس ہو کہ نشیمن کہ پنہ گاہ نہیں\nطائرو نغمہ گرو برق بلا تاک میں ہے\n\nتیرے خوش پوش فقیروں سے وہ ملتے تو سہی\nجو یہ کہتے ہیں وفا پیرہن چاک میں ہے\n\nیہ تصور ہے ابھی عرش ابھی فرش پہ تھا\nرنگ و نیرنگ اسی توسن چالاک میں ہے\n\nکیا بنے صورت اظہار معنی کہ خیال\nابھی الجھا ہوا الفاظ کے پیچاک میں ہے\n\nدر اخلاص کی دہلیز پہ خم ہوں عابدؔ\nایک جینے کا سلیقہ دل بے باک میں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%BA%D9%85%DB%81_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%82_%D8%B5%D8%AF_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "نغمہ و عشق سے ہیں سبحہ و زنار ملے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نغمہ و عشق سے ہیں سبحہ و زنار ملے\nایک آواز پہ دو ساز کے ہیں تار ملے\n\nمیں تو آشفتۂ دل اور دل آشفتۂ زلف\nخوب ہم دونوں گرفتار گرفتار ملے\n\nمصلحت ہے کہ تری چشم کو ہے دل سے حجاب\nرنج ہو اور جو بیمار سے بیمار ملے\n\nدن توقع ہی توقع میں کہاں تک گزریں\nمر گئے ہجر میں بس اب تو کہیں یار ملے\n\nاپنی ہی وضع پہ لاویں گے خدا خیر کرے\nبے طرح رہتے ہیں اس شوخ سے عیار ملے\n\nدرد و رنج الم و حسرت و داغ و غم و رشک\nمجھ کو کیا کیا نہ ترے عشق میں آزار ملے\n\nکیا بڑی عمر ہے دل میں ابھی گزرا تھا مرے\nکہ مزا ہووے جو ایسے میں وہ دل دار ملے\n\nبارے تو آن ہی پہنچا مرا جی شاد ہوا\nمیں نے اب جانا کہ ہیں دونوں کے اسرار ملے\n\nموند لے جب تو ان آنکھوں کو جہاں سے تو حسنؔ\nدل کی آنکھوں سے تجھے یار کا دیدار ملے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%BA%D9%85%DB%81_%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8%D8%AD%DB%81_%D9%88_%D8%B2%D9%86%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D9%84%DB%92"} {"title": "نغمۂ دل سوز", "poet_page": "مصنف:راج بہادر سکسینہ اوجؔ", "kind": "poetry", "section": "نظم > تصویر خیال (1933)", "year": "1933", "text_ur": "ہے مزاج اس وقت کچھ بگڑا ہوا صیاد کا\nاے اسیران قفس موقع نہیں فریاد کا\n\nکتنا درد آمیز تھا نغمہ دل ناشاد کا\nتیر ترکش میں تڑپ اٹھا ستم ایجاد کا\n\nداستان‌ عالم فرقت کسی سے کیا کہیں\nہو گیا برباد ہر ذرہ دل ناشاد کا\n\nآپ کو ملنا نہیں منظور لو مرتا ہوں میں\nمنتظر بیٹھا ہوا تھا آپ کے ارشاد کا\n\nاے دل ناشاد مجھ کو تیری وحشت دیکھ کر\nیاد آ جاتا ہے قصہ قیس اور فرہاد کا\n\nآئے وہ بہر عیادت ڈال کر رخ پر نقاب\nرہ گیا ارمان دل میں عاشق ناشاد کا\n\nآپ فرماتے ہیں تو نے رات کو نالے کئے\nبندہ پرور اوجؔ تو عادی نہیں فریاد کا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D8%BA%D9%85%DB%82_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D9%88%D8%B2"} {"title": "نفرت ہے حرف وصل سے اچھا یوہیں سہی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نفرت ہے حرف وصل سے اچھا یوہیں سہی\nلو آؤ اور بات سنو وہ نہیں سہی\n\nچھوڑوں گا میں نہ ہاتھ چلے آؤ ساتھ ساتھ\nنازک کلائی دکھتی ہے تو آستیں سہی\n\nمشق جفا کے واسطے کس کی تلاش ہے\nکوئی اگر نہیں ہے تو یہ کمتریں سہی\n\nاقرار کر کے گھورتے ہو کیوں مری طرف\nباور سہی یقین سہی دل نشیں سہی\n\nبیداد کر کے چاہتے ہو پھر جفا کی داد\nبہتر بجا درست صحیح آفریں سہی\n\nسجدے ہی کرتے جائیں گے ہم تیری راہ میں\nہے نقش پا سے عار تو نقش جبیں سہی\n\nبے دل لگی بھی داغؔ گزرنی محال ہے\nوہ دل نہیں سہی وہ تمنا نہیں سہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B1%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AD%D8%B1%D9%81_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%8C%D9%88%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "نفس سرکش کو قتل کر اے دل", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نفس سرکش کو قتل کر اے دل\nمستعد ہو جہاد پر اے دل\n\nنہ پھلے گی تجارت دنیا\nہے یہاں نفع میں ضرر اے دل\n\nتیرے کردار پر ہیں شاہد حال\nخشک لب اور چشم تر اے دل\n\nنہ رو الفت نہ ہاتھ سے جائے\nکھیل جا اپنی جان پر اے دل\n\nچاہیے بے محل نہ ٹپکے اشک\nابروؤں پر رہے نظر اے دل\n\nبے خودی میں نکل چلا ہے کدھر\nبھول جانا نہ اپنا گھر اے دل\n\nکوئے جاناں ہے مقتل عشاق\nلے چلا ہے مجھے کدھر اے دل\n\nجان جانی ہے تجھ کو ہوش نہیں\nتو بھی کتنا ہے بے خبر اے دل\n\nعشق بازی ہے آبرو ریزی\nاپنے فعلوں سے درگزر اے دل\n\nکیوں نکل کر ذلیل ہوتی ہے\nتیری فریاد بے اثر اے دل\n\nدھیان آٹھوں پہر اسی کا ہے\nکبھی اپنی بھی لی خبر اے دل\n\nعشق کے معرکے میں مار قدم\nفتح ہے تیرے نام پر اے دل\n\nاشک ہو کر بہا کہ خون ہوا\nکیا ہوئی حالت جگر اے دل\n\nغم عالم ہے تیرے حصے میں\nتو بھی کیا ہے نصیب ور اے دل\n\nتو اگر آگ ہے وہ پانی ہے\nبحرؔ کے شر سے خوف کر اے دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3_%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%B4_%DA%A9%D9%88_%D9%82%D8%AA%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84"} {"title": "نفس سگ پلید کو گر اپنے ماریے", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "نفس سگ پلید کو گر اپنے ماریے\nمانند شیر دشت جہاں میں ڈکاریے\n\nاس گل کو جوش گل میں یہ کہہ کر ابھاریے\nگلشن میں عندلیب کو چل کر پکاریے\n\nپھر مرغ دل کو پھانسیے پھر جال ماریے\nپھر ہو سکے تو آپ سے گیسو سنواریے\n\nپیری میں کیف عشق سے توبہ تو کیجیے\nمنزل رہی ہے تھوڑی سی ہمت نہ ہاریے\n\nگرداب بحر عشق کے چکر ہیں رات دن\nکون آشنائے حال ہے کس کو پکاریے\n\nدل دے کے جور و ظلم کا شکوہ نہ کیجیے\nدو دن کی زندگی کسی ڈھب سے گزاریے\n\nاہل ہوس کی دہر میں مٹی خراب ہے\nگلیوں میں خاک چھان رہی ہیں نیاریے\n\nمانند زلف غیر کو کیوں سر چڑھائیے\nآنکھوں سے شکل اشک کے اس کو اتارئیے\n\nپیدا کریں اثر جو در اشک ناصحو\nان موتیوں پہ ہنس کو سو بار واریے\n\nجز میرے دال آپ کی گلتی نہیں کہیں\nیوں منہ سے جتنی چاہئے شیخی بگھاریے\n\nنالہ جو زیر تیغ کیا میں نے جس گھڑی\nبولے کہ ایک دم کے لئے دم نہ ماریے\n\nتوبہ شراب عشق سے کس طرح کیجیے\nکیوں کر یہ جن چڑھا ہوا سر سے اتاریے\n\nکیا کیا نہ دوست اپنے میان عدم گئے\nکس کو تلاش کیجیے کس کو پکاریے\n\nاس بت کے بحر حسن میں دل کو ڈبویے\nاس کشتیٔ حیات کو یوں پار اتاریے\n\nمنظور ہو جو راحت کونین منتہیؔ\nہاتھوں کو کھیچ لیجئے پاؤں پساریے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3_%D8%B3%DA%AF_%D9%BE%D9%84%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DB%92"} {"title": "نفس نمرود ہے کیا ہونا ہے", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نفس نمرود ہے کیا ہونا ہے\nشرک موجود ہے کیا ہونا ہے\n\nکشف مقصود ہے کیا ہونا ہے\nحال مفقود ہے کیا ہونا ہے\n\nسجدے ہوتے ہیں کسے او غافل\nکون معبود ہے کیا ہونا ہے\n\nچھوڑ دنیائے دنی کا پیچھا\nاس سے کیا سود ہے کیا ہونا ہے\n\nہست و بود تن خاکی اک دن\nنیست نابود ہے کیا ہونا ہے\n\nصاف ہوتا کہ ہو از خود رفتہ\nراہ مسدود ہے کیا ہونا ہے\n\nدیکھیے حشر کو کیسے گزرے\nروز معہود ہے کیا ہونا ہے\n\nچاہئے مسجد اقصیٰ میں نماز\nدیر مسجود ہے کیا ہونا ہے\n\nمن و سلوا جسے ہم سمجھے ہیں\nزہر آلود ہی کیا ہونا ہے\n\nگرمئ عشق و نہال ہستی\nآتش و عود ہے کیا ہونا ہے\n\nجوہر روح تن خاکی میں\nکیا گل اندود ہے کیا ہونا ہے\n\nجو کہ منصور کے پیش آیا تھا\nوہی موجود ہے کیا ہونا ہے\n\nخود پرستی کی بری ہے صورت\nعبد معبود ہے کیا ہونا ہے\n\nاے صباؔ دیکھیے وہ پردہ نشیں\nکس سے خوشنود ہے کیا ہونا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3_%D9%86%D9%85%D8%B1%D9%88%D8%AF_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نفس نہ انجمن آرزو سے باہر کھینچ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ\nاگر شراب نہیں انتظارِ ساغر کھینچ\n\n“کمالِ گرمیِ سعیِ تلاشِ دید” نہ پوچھ\nبہ رنگِ خار مرے آئینہ سے جوہر کھینچ\n\nتجھے بہانۂ راحت ہے انتظار اے دل!\nکیا ہے کس نے اشارہ کہ نازِ بستر کھینچ\n\nتری طرف ہے بہ حسرت نظارۂ نرگس\nبہ کوریِ دل و چشمِ رقیب ساغر کھینچ\n\nبہ نیم غمزہ ادا کر حقِ ودیعتِ ناز\nنیامِ پردۂ زخمِ جگر سے خنجر کھینچ\n\nمرے قدح میں ہے صہبائے آتشِ پنہاں\nبروئے سُفرہ کبابِ دلِ سمندر کھینچ\n\nنہ کہہ کہ طاقتِ رسوائیِ وصال نہیں\nاگر یہی عَرَقِ فتنہ ہے، مکرّر کھینچ\n\nجنونِ آئینہ مشتاقِ یک تماشا ہے\nہمارے صفحے پہ بالِ پری سے مسطر کھینچ\n\nخمارِ مِنّتِ ساقی اگر یہی ہے اسدؔ\nدل گداختہ کے مے کدے میں ساغر کھینچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86"} {"title": "نفسیات شناس", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "رتی، ماشہ، تولہ", "year": "1956", "text_ur": "آج میں آپ کو اپنی ایک پر لطف حماقت کا قصّہ سناتا ہوں۔\n\nکرفیوکے دن تھے۔ یعنی اس زمانے میں جب بمبئی میں فرقہ وارانہ فساد شروع ہو چکے تھے۔ ہر روز صبح سویرے جب اخبار آتا تو معلوم ہوتا کہ متعدد ہندوؤں اور مسلمانوں کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔میری بیوی اپنی بہن کی شادی کے سلسلے میں لاہور جا چکی تھی۔ گھر بالکل سونا سونا تھا، اسے گھر تو نہیں کہنا چاہیے کیونکہ صرف دو کمرے تھے، ایک غسل خانہ، جس میں سفید چمکیلی ٹائلیں لگی تھیں۔ اس سے کچھ دور ہٹ کر ایک اندھیرا سا باورچی خانہ اور بس۔\n\nجب میری بیوی گھر میں تھی تو دونوکر تھے۔ دونوں بھائی کم عمر تھے۔ ان میں سے جو چھوٹا تھا وہ مجھے قطعاً پسند نہیں تھا اس لیے کہ وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ چالاک اور مکار تھا چنانچہ میں نے موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے نکال باہر کیا اور اس کی جگہ ایک اور لڑکا ملازم رکھ لیا جس کا نام افتخار تھا۔\n\nرکھنے کو تو میں نے اسے رکھ لیا لیکن بعد میں بڑا افسوس ہوا کہ وہ ضرورت سے زیادہ پھرتیلا تھا۔ میں کرسی پر بیٹھا ہوں اور کوئی افسانہ سوچ رہا ہوں کہ وہ باورچی خانہ سے بھاگا آیا اور مجھ سے مخاطب ہوا، ’’صاحب آپ نے بلایا مجھے؟ ‘‘\nمیں حیران کہ اس خرذات کو میں نے کب بلایا تھا۔ چنانچہ میں نے شروع شروع میں تو اپنی حیرت کا اظہار کیا اور اس سے کہا، ’’افتخار! تمہارے کان بجتے ہیں میں جب آواز دیا کروں اسی وقت آیا کرو۔‘‘ افتخار نے مجھ سے کہا، ’’لیکن صاحب آپ کی آواز مجھے سنائی دی تھی۔‘‘ میں نے اس سے بڑے نرم لہجے میں کہا، ’’نہیں ،میں نے تمھیں نہیں بلایا تھا جاؤ اپنا کام کرو۔‘‘\n\nوہ چلا گیا لیکن جب ہر روز چھ چھ مرتبہ آ کر یہی پوچھتا صاحب آپ نے بلایا ہے۔۔۔ مجھے تو تنگ آکر اس سے کہنا پڑتا۔۔۔ تم بکواس کرتے ہو، تم ضرورت سے زیادہ چالاک ہو بھاگ جاؤ یہاں سے۔۔۔ اور وہ بھاگ جاتا۔\n\nگھر میں چونکہ اور کوئی نہیں تھا اس لیے میرا دوست راجہ مہدی علی خان میرے ساتھ ہی رہتا تھا، اس کو افتخار کی مستعدی بہت پسند تھی۔ وہ اس سے بہت متاثر تھا۔ اس نے کئی بار مجھ سے کہا، ’’منٹو! تمہارا یہ ملازم کتنا اچھا ہے۔ ہر کام کتنی مستعدی سے کرتا ہے۔‘‘ میں نے اس سے ہر بار یہی کہا، ’’راجہ میری جان تم مجھ پر بہت بڑا احسان کرو گے۔ اگر اسےاپنے یہاں لے جاؤ ،مجھے ایسے مستعد نوکر کی ضرورت نہیں ۔معلوم نہیں کہ راجہ کو افتخار پسند تھا تو اس نے اسے ملازم کیوں نہ رکھ لیا۔ میں نے راجہ سے کہا،’’ دیکھو بھائی، یہ لڑکا بڑا خطرناک ہے، مجھے یقین ہے کہ چور ہے کبھی نہ کبھی میرے چونا ضرور لگائے گا۔‘‘\n\nراجہ میرا تمسخر اڑاتا، ’’تم فرائڈ بن رہے ہو، ایسا نوکر زندگی میں مشکل سے ملتا ہے تم نے اسے سمجھا ہی نہیں۔‘‘\n\n’’میں سوچ میں پڑ جاتا کہ میرا قیافہ یا اندازہ کہیں غلط تو نہیں۔ شاید راجہ ٹھیک ہی کہہ رہا ہو۔ ہوسکتا ہے افتخار ایماندار ہو اور جو میں نے اس کی ضرورت سے زیادہ پھرتی اور چالاکی کے متعلق فیصلہ کیا ہے، بہت ممکن ہے غلط ہو۔۔۔مگر سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچتا کہ میں نے جو فیصلہ کیا ہے وہی درست ہے ۔مجھے اپنے متعلق یہ حسن ظن ہے کہ انسانی نفسیات کا ماہر ہوں۔ آپ یقین مانیے افتخار کے متعلق جو رائے میں نے قائم کی تھی درست نکلی۔۔۔لیکن۔۔۔‘‘\n\n’’ یہ۔۔۔ لیکن ہی سارا قصہ ہے۔۔۔‘‘\n\nاور قصّہ یوں ہے کہ میں جب بمبئی ٹاکیز سے واپس آیا کرتا تھا تو عادتاً ریل گاڑی کا ماہانہ ٹکٹ جو ایک کارڈ کی صورت میں ہوتا تھا جو سلو لائیڈ کے کور میں بند رہتا تھا، اپنے میز کے ٹرے میں رکھا کرتا تھا ۔ جتنے روپے پیسے اور آنے جیب میں ہوتے وہ بھی اس ٹرے میں رکھ دیتا۔ اگر کچھ نوٹ ہوں تو میں وہ ٹکٹ کے سلو لائیڈ کے کور میں اڑس دیا کرتا۔\n\nایک دن جب میں بمبئی ٹاکیز سے واپس آیا تو میری جیب میں ساٹھ روپے کی مالیت کے چھ نوٹ دس دس کے تھے، میں نے حسبِ عادت جیب میں سے ٹرین کا پاس نکالا اور سلولائڈ کور میں چھ نوٹ اڑسے اور برانڈی پینے لگا۔ کھانا کھانے کے بعد میں سوگیا۔\n\nصبح جلد بیدار ہوتا ہوں یعنی یہی کوئی ۵ بجے۔ ساڑھے پانچ کے قریب اخبار آ جاتے تھے ان کا جلدی جلدی مطالعہ کرتے کرتے چھ بجے میں اٹھ کر غسل کرتا اس کے بعد پھر برانڈی پیتا اور کھانا کھا کر سو جاتا۔ اس شام بھی ایسا ہی ہوا ۔افتخار نے بڑی پھرتی سے میز پر کھانا لگایا جب میں کھا کر فارغ ہوا تو اس نے بڑی پھرتی سے برتن اٹھائے۔ میز صاف کی اور مجھ سے کہا، ’’صاحب آپ کو سگریٹ چاہئیں۔‘‘\n\nمیں اس سے کباب تھا،چنانچہ میں نے اس سے بڑے درشت لہجے میں کہا کہ، ’’سگریٹ تو مجھے چاہئیں۔ لیکن تم لاؤ گے کہاں سے؟ جانتے نہیں ہو آج کرفیو ہے۔ نو بجے سے صبح چھ بجے تک۔‘‘\n\nافتخار خاموش ہوگیا۔\n\nمیں حسبِ معمول صبح پانچ بجے اٹھا لیکن سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کروں، نوکر سو رہے تھے۔ کرفیو کا وقت چھ بجے تک تھا۔ اس وقت کوئی اخبار نہیں آیا تھا۔ صوفے پر بیٹھا اونگھتا رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد اکتا کر میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو بازار سنسان تھا وہ بازار جو صبح تین بجے ہی ٹرالوں کی کھڑ کھڑاہٹ اور مل میں کام کرنے والی عورتوں اور مردوں کی تیز رفتاری سے زندہ ہوجاتا تھا۔\n\nکھڑکی ایک ہی تھی۔ اس کے پاس ہی میری میز پر جو ٹرے پڑی تھی میری نظر اتفاقیہ اس پر پڑی۔ شام کو ہر روز میں اس میں اپنا ریل کا پاس اور روپے پیسے رکھا کرتا تھا اس لیے کہ یہ معاملہ عادت بن کر طبیعت بن گیا تھا۔ جب میں نے ٹرے کو اتفاقیہ دیکھا تو مجھے وہ پاس نظر نہ آیا جس کے کور میں میں نے دس دس کے چھ کرنسی نوٹ رکھے تھے۔ پہلے تو میں نے سمجھا کہ شاید میں نے کاغذوں کے نیچے رکھ دیا ہوگا لیکن جب کاغذ اٹھائے تو کچھ بھی نہ تھا۔\n\nبڑی حیرت ہوئی۔ ایک ایک کاغذ الٹ پلٹ کیا مگر وہ پاس نہ ملا۔ دونوں نوکر باورچی خانے میں سو رہے تھے۔ میں بڑا متحیر تھا کہ یہ قصہ کیا ہے۔ میں نے اگر گھر آنے سے پہلے شراب پی ہوتی تو میں سمجھتا کہ میرا حافظہ جواب دے گیا ہے یا جیب سے رومال نکالتے وقت مجھ سے وہ چھ نوٹ کہیں گر گئے۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس تھا۔ میں نے بمبئی ٹاکیز سے واپس گھر آتے ہوئے راستے میں ایک قطرہ بھی نہیں پیا تھا اس لیے کہ گھر میں برانڈی کی پوری بوتل موجود تھی۔ میں نے ادھر ادھر تلاش شروع کی تو دیکھا میرا ریلوے پاس دس دس کے چھ نوٹوں سمیت میز کے نچلے درازمیں فائلوں کے نیچے پڑا ہے۔ میں دیر تک سوچتا رہا لیکن کچھ سمجھ میں نہ آیا اس لیے کہ میں نے اسے چھپا کر نہیں رکھا تھا۔\n\nمیں نے سوچا کہ یہ افتخار کی حرکت ہے۔ جبکہ میں سو رہا تھا باورچی خانے کے کام سے فارغ ہو کر ٹرے میں وہ پاس دیکھا اور اس کو میز کے نیچے والی دراز میں فائلوں کے اندر چھپا دیا۔ رات کرفیو تھا اس لیے وہ باہر نہیں جاسکتا تھا۔ اس کی غالباً یہ اسکیم تھی کہ جب صبح کرفیو اٹھے تو وہ پاس نوٹوں سمیت لے کر چمپت ہو جائے ،مگر میں بھی ایک کائیاں تھا ۔میں نے پاس فائلوں کے نیچے سے اٹھایا اور پھر ٹرے میں رکھ دیا تاکہ میں افتخار کی پریشانی دیکھ سکوں۔\n\nمجھے مقررہ وقت پر بمبئی ٹاکیز جانا تھا، چنانچہ حسبِ معمول میں نے کرتہ اور پاجامہ نکالا۔ پاجامہ میں ازار بند ڈالا اور تولیہ لے کر غسل خانے میں چلا گیا لیکن میرے دل و دماغ میں صرف ایک ہی خیال تھا،اور وہ افتخار کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ میری میز کے نچلے دراز میں چھپایا ہوا پاس بڑے وثوق سے نکالے گا پھر جب اسے نہیں ملے گا تو وہ ادھر ادھر دیکھے گا۔ جب اسے ناکامی ہوگی تو وہ اٹھے گا۔ اس کی نظر ٹرے پر پڑے گی وہ کس قدر حیران ہوگا لیکن وہ پاس کو اٹھائے گا اور اپنے نیفے میں اڑس کر چلتا بنے گا۔\n\nمیں نے اپنے دماغ میں اسکیم بنائی تھی کہ غسل خانے کا دروازہ تھوڑا سا کھلا رکھوں گا۔ غسل خانہ میرے کمرے کے بالکل سامنے تھا ذرا سا دروازہ کھلا رہتا اور میں تاک میں رہتا تو افتخار کو رنگے ہاتھوں پکڑ لینے میں کوئی شبہ ہی نہیں ہوسکتا۔ میں جب غسل خانے میں داخل ہوا تو بہت مسرور تھا۔ بزعمِ خود نفسیاتی ماہرہونے کی وجہ سے اور بھی زیادہ خوش تھا کہ آج میری قابلیت مسلم ہو جائے گی۔\n\nافتخار کو پکڑ کر میں راجہ کے سامنے پیش کرنا چاہتا تھا۔ میرا یہ ارادہ نہیں تھا کہ اسے پولیس کے حوالے کروں مجھے صرف اپنا دلی اور ذہنی اطمینان ہی تو مطلوب تھا۔ چنانچہ میں نے غسل خانے میں داخل ہو کر جب اپنے کپڑے اتارے تو دروازہ ذرا سا کھلا رکھا۔ پانی کے دو ڈونگے اپنے بدن پر ڈال کر میں نے صابن ملنا شروع کیا اس کے بعد کئی مرتبہ میں نےجھانک کر کمرے کی طرف دیکھا مگر افتخار پاس لینے نہ آیا۔ لیکن مجھے یقین واثق تھا کہ وہ ضرور آئے گا اس لیے کہ اس وقت کرفیو اٹھ چکا تھا۔\n\nمیں فوارے کے نیچے بیٹھا اور اس کی تیز اور ٹھنڈی پھوار میں اپنا کام بھول گیا اور سوچنے لگا، افسانہ نگار ہونا بھی بہت بڑی لعنت ہے۔ میں نے اسکیم کو افسانے کی شکل دینا شروع کر دی، ساتھ ساتھ نہاتا بھی رہا اتنا مزا آیا کہ افسانے اور پانی میں غرق ہوگیا۔ میں نے پورا افسانہ صابن اور پانی سے دھو دھا کر اپنے دماغ میں صاف کر لیا۔ بہت خوش تھا۔ اس لیے کہ اس افسانے کا انجام یہ تھا کہ میں نے اپنے نوکر کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے اور میری نفسیات شناسی کی چاروں طرف دھوم مچ گئی ہے۔\n\nمیں بہت خوش تھا، چنانچہ میں خلافِ معمول اپنے بدن پر ضرورت سے زیادہ صابن ملا۔ ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کیا لیکن ایک بات تھی کہ افسانہ میرے دماغ میں اور زیادہ صاف اور زیادہ اجلا ہوتا گیا۔ جب نہا کر باہر نکلاتو میں اور بھی زیادہ خوش تھا،اس لیے کہ پورا افسانہ میں نے صابن اور پانی کے ساتھاپنے دماغ میں لکھ لیا تھا، اب صرف یہ کرنا تھا کہ یہ قلم اٹھاؤں اور یہ افسانہ لکھ کر کسی پرچے کو بھیج دوں۔\n\nمیں خوش تھا کہ چلو ایک افسانہ ہوگیا۔ کپڑے تبدیل کرنے کے لیے دوسرے کمرے میں گیا ۔میرے فلیٹ میں صرف دو کمرے تھے۔ ایک کمرے میں تو وہ معاملہ پڑا تھا۔ یعنی میرا ریلوے کا پاس جس میں دس دس کے چھ نوٹ ملفوف تھے۔ میں دوسرے کمرے میں کپڑے پہن رہا تھا۔ کپڑے پہن کر جب باہر نکلا تو یوں سمجھیے جیسے افسانوں کی دنیا سے باہر آیا۔ فوراً مجھے خیال آیا کہ میری اسکیم کیا تھی۔لپک کر میں اپنی میز کے پاس پہنچا،ٹرے کو دیکھا تو میری ساری افسانہ نگاری ختم ہو گئی۔\n\nمیرا ریلوے پاس دس دس کے چھ نوٹوں سمیت غائب تھا۔\n\nمیں نے فوراً اپنے شریف نوکر کو طلب کیا اور اس سے پوچھا، ’’کریم، افتخار کہاں ہے؟‘‘\n\nاس نے جواب دیا، ’’صاحب وہ کوئلے لینے گیا ہے۔‘‘\n\nمیں نے صرف اتنا کہا، ’’تو اس نے اپنا منہ کالا کر لیا ہے۔‘‘\n\nکریم نے اس کی تلاش کی مگر وہ نہ ملا۔ میں غسل خانے میں انسانی نفسیات کو صابن اور پانی سے دھوتا اور صاف کرتا رہا۔ مگر افتخار مجھے صاف کر گیا۔ اس لیے کہ اسی صبح جب میں بمبئی ٹاکیز کی برقی ٹرین میں روانہ ہوا تو میرے پاس، پاس نہیں تھا ٹکٹ چیکر آیا تو میں پکڑا گیا ۔۔۔ مجھے کافی جرمانہ ادا کرنا پڑا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%B3"} {"title": "نفسیاتِ حاکمی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "یہ مِہر ہے بے مہریِ صّیاد کا پردہ\nآئی نہ مرے کام مری تازہ صفیری\nرکھنے لگا مُرجھائے ہوئے پھُول قفَس میں\nشاید کہ اسیروں کو گوارا ہو اسیری!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA%D9%90_%D8%AD%D8%A7%DA%A9%D9%85%DB%8C"} {"title": "نفسیاتِ غلامی (سخت باریک ہیں اَمراضِ اُمَم کے اسباب)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "سخت باریک ہیں اَمراضِ اُمَم کے اسباب\nکھول کر کہیے تو کرتا ہے بیاں کوتاہی\nدینِ شیری میں غلاموں کے امام اور شیوخ\nدیکھتے ہیں فقط اک فلسفۂ رُوباہی\nہو اگر قُوّتِ فرعون کی در پردہ مُرید\nقوم کے حق میں ہے لعنت وہ کِلیم اللّٰہی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA%D9%90_%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%28%D8%B3%D8%AE%D8%AA_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DA%A9_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%8E%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%B6%D9%90_%D8%A7%D9%8F%D9%85%D9%8E%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29"} {"title": "نفسیاتِ غلامی (شاعر بھی ہیں پیدا، عُلما بھی، حُکما بھی)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "شاعر بھی ہیں پیدا، عُلما بھی، حُکما بھی\nخالی نہیں قوموں کی غلامی کا زمانہ\nمقصد ہے ان اللہ کے بندوں کا مگر ایک\nہر ایک ہے گو شرحِ معانی میں یگانہ\nبہتر ہے کہ شیروں کو سِکھا دیں رمِ آہُو\nباقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ،\nکرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند\nتاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA%D9%90_%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%28%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%8C_%D8%B9%D9%8F%D9%84%D9%85%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%8C_%D8%AD%D9%8F%DA%A9%D9%85%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%29"} {"title": "نفسیاتی مطالعہ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سڑک کے کنارے", "year": "1953", "text_ur": "مجھے چائے کے لیے کہہ کر، وہ اوران کے دوست پھر اپنی باتوں میں غرق ہوگئے۔\nگفتگو کا موضوع، ترقی پسند ادب اور ترقی پسند ادیب تھا۔ شروع شروع میں تو یہ لوگ اردو کے افسانوی ادب پر طائرانہ نظر دوڑاتے رہے۔ لیکن بعد میں یہ نظر گہرائی اختیار کرگئی اور جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے، گفتگو گرما گرم بحث میں تبدیل ہوگئی۔\n\nمیرے شوہر، ترقی پسند ہیں نہ رجعت پسند، لیکن بحث پسند ضرور ہیں، چنانچہ اپنے دوستوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ گرم جوش وہی نظر آتے تھے۔ وہ اس اندیشے کے یکسر خلاف تھے کہ پاکستان میں ترقی پسند ادب کا مستقبل تاریک ہے۔\n\nبحث کے دوران میں ایک مرتبہ انھوں نے بالکل ’’تم آج شام کو ساڑی پہنوگی‘‘ کے سے فیصلہ کن انداز میں اپنے دوست حبیب سے کہا، ’’تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان میں ترقی پسند ادب کی تحریک زندہ رہے گی۔‘‘\n\nحبیب صاحب فوراً سر تسلیم خم کردینے والے نہیں تھے، چنانچہ بحث جاری رہی، اور جب میں چائے تیار کرنے کے لیے اٹھی تو حفیظ اللہ صاحب جن کو سب اُلاّ کہہ کر پکارتے تھے، پچیسواں سگریٹ پھونکتے ہوئے ترقی پسند ادب پر کریملن کے اشتمالی اثر کو غلط ثابت کرنے کی کوشش شروع کرنے والے تھے۔\n\nمیں اٹھ کر باورچی خانے میں آئی تو نوکر غائب تھا اور چائے کا پانی چولہے پر دھرا بالکل غارت ہو چکا تھا۔ میں نے کیتلی کا پانی تبدیل کیا اور باہر نکل کر نوکر کو آواز دی۔ وہ جب آیا تو اس کے ہاتھ میں ’’اداکار‘‘ کا پرچہ تھا جس کے سرورق پرمنورما کی نیم برہنہ تصویر چھپی ہوئی تھی۔ میں نے جھڑک کر پرچہ اس کے ہاتھ سے لیا، ’’جب دیکھو واہیات پرچے پڑھ رہا ہے۔۔۔ چائے کا پانی ابل ابل کر تیل بن چکا ہے اس کا کچھ خیال ہی نہیں۔۔۔ جاؤ، پیسٹری لے کر آؤ۔۔۔ منٹا منٹی میں آنا۔‘‘\n\nمیں نے پرس میں سے ایک پانچ کا نوٹ اس کو دیا اور باورچی خانے میں لوہے کی کرسی پر بیٹھ کر ’’اداکار‘‘ کی تصویریں دیکھنا شروع کردیں۔ تصویریں دیکھ چکنے کے بعد میں سوال جواب پڑھ رہی تھی کہ پیسٹری آگئی۔ ’’اداکار‘‘ کا پرچہ میز پر رکھ کر میں نے سب دانے الگ الگ طشتریوں میں چنے اور نوکر سے یہ کہہ کر ،وہ دودھ گرم کرکے جلدی چائے لے آئے، واپس بڑے کمرے میں چلی آئی۔\n\nجب اندر داخل ہوئی تو وہ اور ان کے دوست قریب قریب خاموش تھے۔ میں سمجھی، شاید ان کی گفتگو ختم ہو چکی ہے لیکن اُلاّ صاحب نے اپنے موٹے موٹے شیشوں والی عینک اتار کر رومال سے آنکھیں صاف کرکے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’بھابی جان سے پوچھنا چاہیے۔۔۔ شاید وہ اس پر کچھ روشنی ڈال سکیں؟‘‘\n\nمیں کرسی پر بیٹھنے والی تھی۔ یہ سن کر قدرے رک گئی۔ اب حبیب صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے، ’’تشریف رکھیے!‘‘میں بیٹھ گئی۔ میرے شوہر اپنی جگہ سے اٹھے اور بالکل ’’اس کو سینا پرونا نہیں آتا‘‘ کے سے انداز میں اپنے دوست اُلاّ سے کہا، ’’یہ اس معاملے پر کوئی روشنی نہیں ڈال سکتی۔‘‘\n\n’’پوچھنا مجھے تھا۔‘‘ حبیب صاحب نے ان سے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘\n\nحسب عادت میرے شوہر گول کر گئے۔ ’’بس۔۔۔!‘‘ پھر مجھ سے مخاطب ہوئے، ’’چائے کب آئے گی؟‘‘ میں نے مسکرا کر جواب دیا، ’’جب آپ مجھ سے روشنی ڈالنے کے لیے کہیں گے۔‘‘\n\nاُلاّ صاحب نے چشمہ ناک پر جمایا اور تھوڑا سا مسکرائے، ’’بات یہ ہے بھابی جان کہ۔۔۔وہ ہیں نا آپ کی۔۔۔میرا مطلب ہے۔۔۔‘‘ حبیب صاحب نے ان کی بات کاٹ دی، ’’اُلے، خدا کی قسم تمہیں اپنا مطلب سمجھانے کا سلیقہ کبھی نہیں آئے گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مجھ سے مخاطب ہوئے، ’’آپ یہ فرمائیے کہ آپ کا اپنی سہیلی بلقیس جہاں کے متعلق کیا خیال ہے؟‘‘ سوال بڑا اوندھا سا تھا۔ میں جواب سوچنے لگی، ’’میں آپ کا مطلب نہیں سمجھی۔‘‘\n\nاُلاّ صاحب نے حبیب صاحب کی پسلیوں میں اپنی کہنی سے ایک ٹھونکا دیا، ’’بھئی واللہ، اپنا مطلب واضح طور پر سمجھانے کا سلیقہ ایک فقط تمہیں ہی آتا ہے۔‘‘\n\n’’ٹھہرو یار‘‘ حبیب جھنجھلا گئے۔ انھوں نے ٹائی کی گرہ ٹھیک کی اور جھنجھلاہٹ دور کرتے ہوئے مجھ سے کہا، ’’ابھی ابھی بلقیس کی باتیں ہورہی تھیں۔ اردو کے موجودہ ادب میں اس خاتون کا جو رتبہ ہے۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ ان کا ایک خاص مقام ہے۔ افسانہ نگاری میں اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں وہ بہت آگے ہیں۔ جہاں تک نفسیات کے مطالعے کا تعلق ہے۔۔۔‘‘\n\nحبیب صاحب جیسے یہ کہنے کے لیے بےتاب تھے، ’’ان کا مطالعہ بہت گہرا ہے۔‘‘\n’’خاص طور پر مردوں کی جنسی نفسیات کا۔‘‘ میرے شوہر نے اپنے مخصوص انداز میں کہا اور میری طرف معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔حبیب نے مجھ سے مخاطب ہو کر میرے شوہر کے الفاظ دہرائے، ’’جی ہاں خاص طور پر مردوں کی جنسی نفسیات کا۔‘‘ اور یہ کہتے ہوئے دو دفعتاً محجوب سے ہوگئے اور آنکھیں نیچی کرلیں۔ مجھے ان پر کچھ ترس آیا چنانچہ میں نے ذرا بےباکی سے کہا، ’’آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟‘‘\n\nاُلاّ صاحب خاموش رہے۔ ان کی جگہ حبیب بولے، ’’چونکہ آپ بلقیس صاحبہ کی سہیلی ہیں، اس لیے ظاہر ہے کہ آپ ان کو بہت اچھی طرح جانتی ہیں۔‘‘ میں نے صرف اتنا کہا، ’’ایک حد تک!‘‘ میرے شوہر نے کسی قدر بے چین ہو کہا، ’’بےکار ہے۔۔۔ بالکل بےکار ہے۔۔۔ عورتیں راز کی باتیں نہیں بتایا کرتیں، خاص طور پر جب وہ خود ان کی اپنی صنف سے متعلق ہوں۔‘‘ پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوئے، ’’کیوں محترمہ، کیا میں جھوٹ کہتا ہوں؟‘‘\n\nمیرا خیال ہے ایک حد تک درست کہہ رہے تھے، لیکن میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اتنے میں چائے آگئی اور گفتگو تھوڑے عرصے کے لیے’’چائے کتنی۔۔۔ دودھ کتنا۔۔۔ شکر کتنے چمچ ‘‘میں تبدیل ہوگئی۔اُلاّ صاحب پانچویں کریم رول کی کریم اپنے ہونٹوں پر سے چوستے ہوئے پھر بلقیس جہاں کی طرف لوٹے اور بلند آواز میں کہا، ’’کچھ بھی ہو، یہ طے ہے کہ یہ محترمہ ہم مردوں کی جنسی نفسیات کو خوب سمجھتی ہیں۔‘‘\n\nان کا روئے سخن ہم سب کی طرف کم اور ساری دنیا کی طرف زیادہ تھا۔ میں ان کا یہ فیصلہ سن کر دل ہی دل میں مسکرائی۔ کیونکہ کم بخت بلقیس، اُلاّ صاحب کی جنسی نفسیات خوب سمجھتی تھی۔ اس نے ایک مرتبہ مجھ سے کہاتھا، ’’بھپو، اگر یہ اُلاّ صاحب تمہارے شوہر نیک اختر کے دوست نہ ہوتے تو خدا کی قسم میں انھیں ایسے چکر دیتی کہ ساری عمر یاد رکھتے۔۔۔ اول درجے کے ریشہ خطمی انسان ہیں۔۔۔اسٹریم لائنڈ عاشق۔‘‘\n\nمجھے معلوم نہیں بلقیس نے اُلاّ صاحب کے متعلق یہ رائے کیسے قائم کی تھی۔ میں نے ان کی طرف غور سے دیکھا۔ عینک کے دبیز شیشوں کے پیچھے ان کی آنکھیں گڈمڈ سی ہورہی تھیں۔۔۔ اسٹریم لائنڈ عاشق کا کوئی خط مجھے ان کے چہرے پر نظر نہ آیا۔ میں نے سوچا ایسے معاملے جانچنے کے لیے ایک خاص قسم کی نگاہ کی ضرورت ہوتی ہے جو قدرت نے صرف بلی ہی کو عطا کی تھی۔\n\nاُلاّ صاحب نے جب مجھے گھورتے دیکھا تو سٹپٹا سے گئے۔ چھٹے کریم رول کی کریم بہت بری طرح ان کے ہونٹوں سے لتھڑ گئی، ’’معاف کیجیے گا۔‘‘ یہ کہہ کر رومال سے اپنا منہ پونچھا، ’’کیا آپ کی سہیلی بلقیس کے بارے میں میرا خیال غلط ہے۔‘‘ میں نے اپنے لیے دوسرا کپ بنانا شروع کردیا، ’’میں اس بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔‘‘\n\nمیرے شوہر ایک دم اٹھ کھڑے ہوئے اور بالکل ’’شلجم بن جلائے تم کبھی نہیں پکا سکتیں‘‘ کے سے انداز میں کہا، ’’یہ اس بارے میں کبھی کچھ کہہ نہیں سکیں گی۔‘‘\n\nمیں نے غیر ارادی طور پر ان کی طرف دیکھا۔ بلی کی ان کے بارے میں یہ رائے تھی کہ بنتے بنتے بننے کے فن میں بڑی مہارت حاصل کرگئے ہیں۔۔۔ بے حد خشک ہیں اور یہ خشکی انھوں نے اپنے وجود میں ادھر ادھر سے ملبہ ڈال ڈال کر پیدا کی ہے۔ بظاہر کسی عورت میں دلچسپی ظاہر نہیں کریں گے مگر ہر عورت کو ایک بار چور نظر سے ضرور دیکھیں گے۔۔۔ دفعتًا انھوں نے میری طرف چور نظر سے دیکھا۔ میں جھینپ گئی۔\nاُلاّ صاحب اپنے ہونٹ تسلی بخش طور پر صاف کر چکے تھے۔ ایک پیٹس اٹھا کر وہ میرے شوہر سے مخاطب ہوئے، ’’یار تمہاری بیگم صاحبہ نے تو ہمیں بہت بری طرح ڈس اپائنٹ کیا ہے۔‘‘ حبیب صاحب چائے کا آخری گھونٹ پی کر بولے، ’’درست ہے۔۔۔ لیکن اس معاملے میں بیوی کے بجائے خاوند کسی حد تک رہبری کرسکتا ہے۔‘‘ اُلاّ صاحب نے پوچھا، ’’تمہارا مطلب ہے، بلقیس صاحبہ کے بارے میں؟‘‘\n\n’’جی ہاں۔‘‘ یہ کہہ کر حبیب صاحب اٹھے، میرے شوہر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے، ’’اپنی بیگم صاحبہ کے ذریعے سے آپ کو بلقیس کی عجیب و غریب شخصیت کے بارے میں کچھ نہ کچھ تو ضرور معلوم ہوا ہوگا۔‘‘ میرے شوہر نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا، ’’صرف اسی قدر کہ اس کا مطالعہ کتابی نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر انھوں نے مجھ سے پوچھا، ’’کیوں سعیدہ؟‘‘ میں نے ذرا توقف کے بعد کہا، ’’جی ہاں۔۔۔ اسے کتابوں کے مطالعے کا اتنا شوق نہیں!‘‘ میرے شوہر نے ایک دم سوال کیا، ’’تم اس کی وجہ بتا سکتی ہو؟‘‘\n\nمجھے اس کی وجہ معلوم نہیں تھی، اس لیے میں نے اپنی معذوری ظاہر کردی لیکن میں سوچنے لگی کہ جب بلقیس کا کام ہی لکھنا ہے، پھر اسے پڑھنے سے لگاؤ کیوں نہیں۔۔۔ مجھے یاد ہے، ایک مرتبہ نمائش میں گھومتے ہو ئے اس نے مجھ سے کہا تھا، ’’بھپو، یہ نمائش نہیں ایک لائبریری ہے۔۔۔ زندہ اور متحرک کتابوں سے بھری ہوئی۔۔۔غور تو کرو کتنے دلچسپ کردار چل پھر رہے ہیں۔‘‘\n\nسوچتے سوچتے مجھے اس کی اور بہت سی باتیں یاد آگئیں۔ عورتوں کے مقابلے میں وہ مردوں سے کہیں زیادہ تپاک سے ملتی اور باتیں کرتی تھی۔ لیکن گفتگو کاموضوع ادب، شاذو نادر ہی ہوتا تھا، میرا خیال ہے کہ ادبی ذوق رکھنے والے مرد اس سے مل کر یقینی طور پر اس نتیجے پر پہنچتے ہوں گے کہ بہت غیر ادبی قسم کی عورت ہے، کیونکہ عام طور پر وہ گفتگو کا رخ لٹریچر کی طرف آنے ہی نہیں دیتی تھی، لیکن اس کے باوجود اس سے ملاقات کرنے والے بہت خوش خوش جاتے تھے کہ انھوں نے اتنی بڑی ادبی شخصیت کے ایک بالکل نئے اور نرالے پہلو کی جھلک دیکھ لی ہے۔\n\nجہاں تک میں سمجھتی ہوں، بلی اپنی شخصیت کے اس بظاہر بالکل نئے اور نرالے پہلو کی جھلک خود دکھاتی تھی، بقدر ضرورت اور وہ بھی صرف اپنے ملاقاتیوں کے کردار کی صحیح جھلک دیکھنے کے لیے۔ میرے ساتھ اس کو اپنا یہ محبوب اور مجرب نسخہ استعمال کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی تھی کیونکہ بقول اس کے ’’میں نے ایک نظر ہی میں تاڑ لیا تھا کہ تم بے حد سادہ اور چغد قسم کی لڑکی ہو۔‘‘\n\nمیں بے حد سادہ اور چغد قسم کی لڑکی تو نہیں ہوں۔ لیکن شاید بلی نے یہ رائے اس لیے قائم کی تھی کہ میں نے اس کی بحث پسند، ضدی اور اڑیل طبیعت کے پیش نظر اس سے راہ و رسم بڑھانے سے پہلے ہی اپنے دل میں فیصلہ کرلیا تھا کہ میں اس کی طبیعت کے خلاف بالکل نہ چلوں گی۔ یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس کے بعض افسانے جو بڑے ٹھیٹ قسم کے جنسیاتی یا نفسیاتی ہوتے تھے، میری سمجھ سے عام طور پر اونچے ہی رہتے تھے۔ وہ اکثر ایسے افسانوں کے متعلق پوچھا کرتی تھی، ’’کہو بھپو، تم نے میرا فلاں افسانہ پڑھا۔‘‘ اور پھر خود ہی کہا کرتی تھی، ’’پڑھا تو ضرور ہوگا، مگر سمجھ میں کیا آیا ہوگا۔۔۔خاک۔۔۔خدا کی قسم تم بے حد سادہ اور چغد قسم کی لڑکی ہو!‘‘\n\nمیں یہ افسانے سمجھنے کی کوشش ضرور کرتی، مگر مجھے اس بات سے بڑی الجھن ہوتی کہ بلی عورت ہوکر ایسی گہرائیوں میں کود جاتی ہے، جن میں اترنے سے مرد بھی گھبرائیں۔ میں نے کئی دفعہ اس سے کہا، ’’تم کیوں ایسی باتیں لکھتی ہو کہ مرد بیٹھ کر تمہارے متعلق طرح طرح کی افواہیں اڑاتے ہیں۔‘‘ مگر اس نے ہر بار جواب کچھ اسی قسم کا دیا، ’’اڑانے دو۔۔۔ میں ان کیڑوں کی کیا پروا کرتی ہوں۔۔۔ ایسی درگت بناؤں گی کہ یاد رکھیں گے!‘‘\n\nوہ کتنے مردوں کی درگت بنا چکی تھی، اس کا مجھے کوئی علم نہیں، لیکن میرٹھ کے ایک ادھیڑ عمر کے شاعر جو دو سال تک اسے عشقیہ خط لکھتے رہے تھے اور جسے دو سال تک یہ شہہ دیتی رہی تھی، انجام کار سب کچھ بھول کر ایک بہت ہی خفیہ خط میں اس کو اپنی بیٹی بنانے پر مجبور ہوگئے تھے۔بلکہ یوں کہئے کہ مجبور کر دیے گئے تھے۔۔۔ اس نے مجھے ان کا آخری خط دکھایا تھا۔۔۔ خدا کی قسم مجھے بہت ترس آیا تھا بیچارے پر۔\n\nاُلاّ صاحب دوسرا پیٹس ختم کر چکے تھے۔۔۔ حبیب صاحب تفریحاً خالی پیالی میں چمچ ہلا رہے تھے۔ میں اٹھ کر چائے کے برتن جمع کرنے لگی تو اُلاّ صاحب نے رسمیہ طور پر کہا، ’’اتنی نفیس چائے کا بہت بہت شکریہ۔۔۔ مگر یہ گلہ آپ سے ضرور ر ہے گا کہ آپ نے بلقیس جہاں صاحبہ کی جنسیات نگاری پر کوئی روشنی نہ ڈالی۔۔۔ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ بڑے بڑے ماہر جنسیات بھی حیران ہیں کہ ایک عورت میں اتنی گہری نگاہ کہاں سے آگئی۔‘‘\n\nمیں کچھ کہنے ہی والی تھی کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی، میرے شوہر نے ریسیور اٹھایا، ’’ہلو۔۔۔ ہلو۔۔۔ جی۔۔۔؟جی جی۔۔۔ آداب عرض۔۔۔ جی ہاں ہے۔‘‘ یہ کہہ کر انھوں نے مجھ سے کہا، ’’تمہارا فون ہے۔‘‘ پھر جیسے دفعتاً یاد آیا ہو، ’’بلی ہے!‘‘\nاُلاّ صاحب، حبیب اور میں بیک وقت بولے، ’’بلقیس!‘‘\n\nمیں نے بڑھ کر ریسیور لیا۔ گو بلقیس آنکھ سے اوجھل تھی، مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ وہ جانتی ہے کہ اس کے متعلق یہاں باتیں ہورہی تھیں۔۔۔ اس احساس کے باعث میں بوکھلا گئی۔ جلدی جلدی میں اس سے چند باتیں کیں اور ریسیور رکھ دیا۔۔۔ اس نے مجھے اپنے یہاں بلایا تھا۔\n\nمحفل جمی رہی۔۔۔ میں گھر کے کام کاج سے جلدی جلدی فارغ ہو کر بلی کے ہاں روانہ ہوگئی۔ کوٹھی کے باہر بے شمار اسباب افراتفری کے عالم میں پڑا تھا، اس لیے کہ سفیدی ہورہی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں تھی، مگر اس کا سامان بھی درہم برہم تھا۔ میں ایک کرسی صاف کرکے اس پر بیٹھ گئی، بلی نے ادھر ادھر دیکھا اور مجھ سے کہا،’’میں ابھی آئی۔‘‘چند منٹ کے بعد ہی وہ واپس آگئی اور مجھ سے کچھ دور اسٹول پر بیٹھ گئی۔ میں نے اس سے کہا، ’’آج تمہارے متعلق بہت باتیں ہورہی تھیں۔‘‘\n\n’’اوہ!‘‘ اس نے کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی۔\n\n’’اُلاّ صاحب بھی تھے۔‘‘\n\n’’اچھا!‘‘\n\n’’میں نے انھیں بہت غور سے دیکھا، مگر مجھے ان میں اسٹریم لائنڈ عاشق کے کوئی آثار نظر نہ آئے۔‘‘\n\nبلی نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی، پھر سنجیدگی کے ساتھ کہا، ’’مجھے تم سے ایک بات کرنا تھی۔‘‘\n’’کیا؟‘‘\n\n’’ کوئی ایسی خاص نہیں۔‘‘\n\nلیکن اس کے لہجے نے چغلی کھائی کہ بات بہت خاص قسم کی ہے، چنانچہ میں نے فوراً سوچا کہ اس کے لیے خاص بات صرف ایک ہی ہوسکتی ہے۔۔۔ کسی مرد کے عشق میں گرفتار ہو جانا۔\n\n’’آنکھ لڑ گئی ہے کسی سے؟‘‘\n\nبلقیس نے میرے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔۔۔ میں نے جب اس کی طرف غور سے دیکھا تو وہ مجھے بہت ہی متردد نظر آئی۔\n\n’’بات کیا ہے۔۔۔ آج تم میں وہ شگفتگی نہیں۔‘‘\n\nاس نے پھر مسکرانے کی ناکام کوشش کی، ’’شگفتگی۔۔۔؟ نہیں تو سفیدی ہورہی ہے نا۔ ساری پریشانی اسی کی ہے!‘‘ یہ کہہ کر وہ دانتوں سے اپنے ناخن کاٹنے لگی۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت تعجب ہوا کیونکہ وہ اس کو بہت ہی مکروہ سمجھتی تھی۔\n\nچند لمحات خاموشی میں گزرگئے۔۔۔ میں بے چین ہورہی تھی کہ وہ جلدی بات کرے، لیکن وہ خدا معلوم کن خیالات میں غرق تھی۔ بالآخر میں نے تنگ آکر اس سے کہا، ’’کیا تم میرا نفسیاتی مطالعہ تو نہیں کررہی ہو۔۔۔ آخر کچھ کہو گی یا نہیں؟‘‘ وہ بڑبڑائی، ’’نفسیاتی مطالعہ۔۔۔‘‘ اور اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔میں ابھی اپنے تعجب کا اظہار بھی نہ کرنے پائی تھی کہ وہ اٹھ کر تیزی سے غسل خانے میں چلی گئی۔\n\nبلی کی سدا تمسخر اڑانے والی آنکھیں اور آنسو۔۔۔؟ مجھے یقین نہیں آتا تھا مگر اس کا رونا نہایت کرب آلود تھا۔ اور تو کچھ میری سمجھ میں نہ آیا، سینے کے ساتھ لگاکر اس کوڈھارس دی اور کہا، ’’کیا بات ہے میری جان؟‘‘ اس کے آنسو اور تیزی سے بہنے لگے، لیکن تھوڑی دیر بعد ایک دم آنسو رک گئے۔ مجھ سے دور ہٹ کر وہ دریچے کے باہر دیکھنے لگی، ’’میں جانتی تھی کہ یہ کھیل خطرناک ہے، لیکن میں نے کوئی پروا نہ کی۔۔۔ کیا دلچسپ اور مزیدار کھیل تھا!‘‘\n\nوہ دیوانوں کی طرح ہنسی، ’’بہت ہی مزیدار کھیل۔۔۔ ان کی فطری کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا، چند روز بے وقوف بنایا اور ایک افسانہ لکھ دیا۔۔۔ کس کا افسانہ۔۔۔ بلقیس جہاں کا۔۔۔ جنسی نفسیات کی ماہر کا۔۔۔‘‘ اس نے پھر رونا شروع کردیا اور مجھ سے لپٹ کر کہنے لگی، ’’بھپو۔۔۔میری حالت قابل رحم!‘‘\n\n’’کیا ہوا میری جان؟‘‘\n\nمجھ سے دور ہٹ کر وہ پھر دریچے کے باہر دیکھنے لگی، ’’بلقیس جہاں کا خاتمہ۔۔۔کل اسی کمرے میں اس کا وجود ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔‘‘\n\n’’کیسے؟‘‘\n\n’’یہ مجھ سے نہ پوچھو بھپو۔‘‘یہ کہہ کر وہ مجھ سے لپٹ گئی، ’’لیکن نہیں۔۔۔ میں تم سے نہیں چھپا سکتی۔۔۔لو سنو۔۔۔چند دنوں سے میں سفیدی کرنے والے مزدور کا مطالعہ کررہی تھی۔۔۔ کل شام اسی وحشی نے اچانک۔۔۔‘‘\n\nبلقیس نے دھکا دے کر مجھے باہر نکال دیا اور غسل خانے کا دروازہ بند کردیا۔\n\nجب میں گھر پہنچی تو اُلاّ صاحب اور حبیب صاحب کے علاوہ ایک اور صاحب بھی موجود تھے۔۔۔ بلقیس جہاں کی حیرت انگیز جنسی نفسیات نگاری گفتگو کا موضوع تھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%D9%85%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%B9%DB%81"} {"title": "نقاب حسن دوعالم اٹھائی جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نقاب حسن دوعالم اٹھائی جاتی ہے\nمجھی کو میری تجلی دکھائی جاتی ہے\n\nقدم قدم مری ہمت بڑھائی جاتی ہے\nنفس نفس تری آہٹ سی پائی جاتی ہے\n\nوہ اک نظر جو بمشکل اٹھائی جاتی ہے\nوہی نظر رگ و پے میں سمائی جاتی ہے\n\nسکوں ہے موت یہاں ذوق جستجو کے لیے\nیہ تشنگی وہ نہیں جو بجھائی جاتی ہے\n\nخدا وہ درد محبت ہر ایک کو بخشے\nکہ جس میں روح کی تسکین بھی پائی جاتی ہے\n\nوہ مے کدہ ہے تری انجمن خدا رکھے\nجہاں خیال سے پہلے پلائی جاتی ہے\n\nترے حضور یہ کیا واردات قلب ہے آج\nکہ جیسے چاند پہ بدلی سی چھائی جاتی ہے\n\nتجھے خبر ہو تو اتنی نہ فرصت غم دے\nکہ تیری یاد بھی اکثر ستائی جاتی ہے\n\nوہ چیز کہتے ہیں فردوس گم شدہ جس کو\nکبھی کبھی تری آنکھوں میں پائی جاتی ہے\n\nقریب منزل آخر ہے الفراق جگرؔ\nسفر تمام ہوا نیند آئی جاتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AF%D9%88%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "نقاب رخ اٹھایا جا رہا ہے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نقاب رخ اٹھایا جا رہا ہے\nگھٹا میں چاند آیا جا رہا ہے\n\nزمانے کی نگاہوں میں سمو کر\nمجھے دل سے بھلایا جا رہا ہے\n\nکہاں کا جام جب یاں ذوق مستی\nنگاہوں سے پلایا جا رہا ہے\n\nابھی ارمان کچھ باقی ہیں دل میں\nمجھے پھر آزمایا جا رہا ہے\n\nپلا کر پھر شراب حسن و جلوہ\nمجھے بے خود بنایا جا رہا ہے\n\nسلامت آپ کا جور مسلسل\nمرے دل کو دکھایا جا رہا ہے\n\nشکیبؔ اب وہ تصور میں نہ آئیں\nکلیجہ منہ کو آیا جا رہا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%B1%D8%AE_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نقاب چہرہ سے وہ شعلہ رو اٹھا لیتا", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نقاب چہرہ سے وہ شعلہ رو اٹھا لیتا\nتو چشم بد کو میں آنکھوں کا تل جلا لیتا\n\nجو اس کے خاک کف پا بھی ملتے ہم چشمو\nتو راہ پر اسے میں سرمہ سا لگا لیتا\n\nجو ان لبوں سے نہ ہوتا مشابہ آب حیات\nخضر نہ چھوڑ سکندر کو راستہ لیتا\n\nہوئے نہ تھے جو ابھی صاف پیچ زلفوں کی\nبلا سے پنجۂ مژگاں ہی وہ لڑا لیتا\n\nجو مجھ سے ہوتے وہ بے پردہ بد نظر کے لیے\nنظر کی طرح سے آنکھوں میں میں چھپا لیتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81_%D8%B1%D9%88_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D8%AA%D8%A7"} {"title": "نقاد پر غیرستایشی جنبش لب", "poet_page": "مصنف:مہدی افادی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اردو میں لائق قدر رسالے اس قدر کم ہیں کہ کوئی مفید اضافہ دراصل لٹریچر کی خدمت ہے، جس کا اعتراف نہ کرنا خود انشا پردازی کی حق تلفی ہے، حضرت دلگیر نے نقاد سے آگرہ کی لٹریری تاریخ میں ایک ضروری صفحہ بڑھایا ہے، جس کی واقعی کمی تھی، کسی زمانہ میں یہاں سے ’’تیرہویں صدی‘‘، ’’زمانہ‘‘ اور ’’فسانۂ ایام‘‘ اچھے اچھے پرچے نکلے، آج ان میں سے ایک بھی نہیں، صرف یاد ایام رہ گئی۔کائنات میں کوئی چیز تلف نہیں ہوتی، صرف بدلتی رہتی ہے۔ ہم نقاد کو بھی گذشتہ رسائل کا خلف ارتقائی سمجھتے ہیں، یہ بھی اسی مٹی سے اپنا خمیر لے کر اٹھا ہے جہاں اس کے بڑوں کی ہڈیاں دبی پڑی ہیں، اس لئے ضرور ہے کہ رگوں میں، رگوں کے دوڑتے ہوئے خون میں جوہر شرافت بھی ہو جو وراثتاً دلگیر کے لٹریری بچے کا حق ہے، جس کی نسبت میں صرف حوصلہ افزا خیالات رکھتا ہوں۔دلگیر صوفی صافی ہیں اور وسیع دائرۂ احباب رکھتے ہیں۔ اس لئے خیال تھا ان کے ادبی مقاصد سے ہمدردی رکھنے والوں کی تعداد خاصی ہوگی اور میں خوش ہوں کہ یہ خیال غیر صحیح نہیں نکلا، لیکن الناظر میں احسن صاحب مارہروی کے خیالات دیکھ کر مجھے نقاد کی کامیابی کی طرف سے ایک طرح کا اطمینان ہو گیا ہے۔ کل کے بچہ کی بساط ہی کیا؟ لیکن حاسدانہ نگاہیں پڑنے لگیں اور وہ بھی اس اہتمام کے ساتھ کہ کوئی برائی نہیں جو ’نقاد‘ کے سر نہ لگائی گئی ہو۔میرا خیال ہے دوم درجہ کی خلقت عموماً قابل نفرت ہوتی ہے اور زیادہ تر اس کا جہل مرکب جس میں تنگ نظری اور تنقیص بے جا کے سوا منصفانہ تنقید یعنی شائستگی کا کوئی عنصر نہیں ہوتا۔ حضر ت مارہروی نے ’فلسفہ حسن وعشق‘ کا بھی خاکہ اڑایا ہے اور اسی پر سارا زور ہے۔ ان کا علوم مشرقی ومغربی دونوں سے ’’امی محض‘‘ ہونا ان کی کافی سفارش تھی کہ میں ان کے مقابلہ تضییع اوقات پسند نہ کرتا، لیکن چونکہ لٹریچر کی حق تلفی کی گئی ہے اس لئے ان کے کانوں تک مجھے دست شوق نہ سہی اپنی آواز تو پہونچانی ہی پڑےگی۔فلسفۂ حسن کے خیالات کا زیادہ تر حصہ، حضرت کو یہ سن کر مایوسی ہوگی کہ ذینو فن کے ’’مقالات غیرفانی‘‘ سے ماخود ہے جو سقراط کا شاگرد رشید تھا۔ یونانیوں میں مذاق حسن اس قدر رچا ہوا تھا کہ وہ عورت اور حسن کو مترادف سمجھتے تھے، ان کے جذبات کی نفاست کے اندازے سے آج ہم بھی قاصر ہیں، عورت اور اس کے لطیف متعلقات کی نسبت ان کی نازک خیالیاں اتنی اچھوتی اور دنیا سے نرالی تھیں کہ ہم اپنی زبان میں ادائے خیال کے لئے الفاظ نہیں پاتے، یہی جذبات و خیالات بتدریج ترقی کرکے ان کی زندگی کے تمام صیغوں میں سرایت کر گئے جن سے رفتہ رفتہ ان فنون نفیسہ کی بنیاد پڑی جو آج مہذب سے مہذب ملک کے لئے سرمایۂ فخر ہیں۔ نواب عماد الملک سید حسین بلگرامی نے اپنے فصیح ایڈریس میں جو علی گڑھ ایجوکیشن کانفرنس میں دیاگیاتھا، نہایت صحیح فرمایا تھا کہ مسلمانوں نے اہل یونان کے مذاق حسن پرستی اور جذبات نفیسہ سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور جو کچھ اخذ کر سکے وہ یونانیوں کے خوان نعمت کی گویا چچوڑی ہوئی ہڈیاں تھیں۔یورپ نے جو جذباتی حیثیت سے یونانیوں کا شاگرد رشید ہے، ’’حسن پرستی‘‘ کو اتنی ترقی دی کہ اب اس کے استاد اس کی گرد کو بھی نہیں پہونچتے۔ مثلاً ’زہرہ‘ کو لیجئے جوحسن کی دیوی ہے، جس کی پرستش کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ بڑے بڑے فلسفی اس کے حلقۂ اثر سے بے نیاز نہیں ہیں۔ ’زہرہ‘ نہایت خوبصورت ہے، لیکن سر سے پاؤں تک ننگی! اودی اودی رگوں کے پیچ و خم جانے کہاں سے کہاں تک پہونچے ہوئے، کھلے ہوئے لمبے بالوں سے خوش آب موتیوں کے سے قطرات آب ٹپکتے ہوئے، گویا نہاد ھوکر سمندر کے کف سے پری نکلی ہے! پیکر خیالی جب اس انداز سے مجسم ہوکر لباس عریانی میں جلوہ گر ہو تو تخیل کے لئے کیا باقی رہا؟ اسی طرح مختلف جذبات کی تصویریں ہیں لیکن سب کی سب عریاں! اٹلی میں مرمری مجسمے دیکھئے، پیرس سیلنؔ کی سیر کیجئے، حسن وجذبات کی پریاں آپ کو بالکل جداگانہ عالم میں نظر آئیں گی۔ بڑے بڑے فلاسفر، شاعر، حکمائے ادب، اپنا اپنا سرمایۂ خیال ان سے اخذ کرتے ہیں، جن سے لٹریچر میں طرح طرح کی نزاکتیں پیدا ہوتی ہیں۔لیکن ہندوستان اپنی مفروضہ دماغی ترقیات کے ساتھ بھی ان باریکیوں کو سمجھ نہیں سکتا۔ یہاں چار دن ہوئے، قابلیت کا معیار یہ تھا کہ چند کتابیں پرانے سلسلۂ درس کی پڑھیں اور تیلی کے بیل کی طرح جہاں تھے وہیں رہے۔ بہت ہوا تو دوچار دیوان دیکھ ڈالے، پہلے کوئی مصرع بے غایت خود رو طریق پر موزوں کیا، پھر تک سے تک ملانے کے لئے ایک مصرع ابتدائی کی پیوند کی سوجھی، چلئے شعر ہو گیا! کچھ دنوں کے بعد اس ہیر پھیر میں اچھے خاصے شاعر ہوگئے، کچھ اور ترقی کی تو کسی اگلے پچھلے شاعر کے خواہ مخواہ جانشیں بن بیٹھے۔ جس کا یہ مَبلَغ ہو وہ ’’فلسفۂ حسن‘‘ پر جس حد تک ’’نقادی‘‘ کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے میں اہل نظر کے ذوق سلیم پر چھوڑتا ہوں۔حضرت مارہروی کو یہ بھی خلش ہے کہ دوپٹہ، آنچل، مَحرم اور چوڑیاں، صاحب فلسفہ کے اختراعات ہیں، یونانیوں میں یہ چیزیں کہاں؟ ان کی سمجھ پر کسی کو رونا آئے تو میری خطانہیں۔ لیکن میں اپنے امی دوست کو بتانا چاہتا ہوں کہ مہوشان یونان ایک طرح کا ’’سینہ بند‘‘ استعمال کرتی تھیں جو ’’غیر تقسیمی‘‘ ہوتا تھا، تاہم وہ دستانے کی طرح جسم میں چبھ جاتاتھا، بندش کے بھی مدارج تھے، کبھی چست اور کبھی چست تر، اسی طرح لمبے اسکارف سر پر ڈالے جاتے تھے، جنھیں آپ دوپٹہ کہئے جس کے دونوں سرے سامنے پڑے ہوتے تھے۔ ایلسی بایڈیز کا قصہ پڑھئے جو یونان میں سب سے زیادہ سجیلا جوان تھا، نازنینان ایتھنس اس پر جان دیتی تھیں اور چاہتی تھیں ’’نذر شباب‘‘ ہوکر رہیں، کیونکہ ان کے خیال میں ایلسی بایڈینر کے حسن کا یہ ادنی ٹیکس تھا۔وہ جس حلقہ میں ہوتا تھا، اسکارف کو ہوا میں جنبش دی جاتی تھی، غایت یہ تھی کہ، ’’حُبابے خاستہ از بحر کافور‘‘ پر اسے نظر جمانے کا موقع ملے، اسی طرح کھلے ہوئے بال اور سیہ چوڑی بدست آں نگارے بہ شاخ صندلی پیچیدہ مارے کا بھی رواج تھا۔ صاحب فلسفہ کی یہ جدت اختراعیہ تھی کہ وہ مضمون کو اپنی زبان کی خصوصیات کے ساتھ ادا کر سکے۔ مجھ کو اصرار ہے کہ عورت کے ذکر کے ساتھ اس کے لطیف متعلقات کی تصریخ ناگزیر ہے، محرم کی جگہ ’قبا‘ کفر ہی نہیں زبانوں کا خون کرنا ہے۔ مجھ کو معلوم ہے ایشیائی شاعری اپنے جذبات میں ’مخنث‘ ہوتی ہے، لیکن جس زبان کی شاعری ’بند قبا‘ کو جائز رکھتی ہو، جس کے لائق فخر شعراء کسی ’معشوقہ‘ پر نہیں ’معشوق سبز ہ آغاز‘ (یعنی داڑھی مونچھ والے) پر فرضی اور غیرطبعی اظہار عشق کے عادی ہوں، جہاں عورت کے لئے اس کی خصوصیات کے اظہار کے ساتھ بھی فعل مذکر کے استعمال کا رواج ہو، اس زبان کے پھوہڑپن کا کیا ٹھکانا ہے؟ اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ اس ’خچریت‘ کا نام ’سنجیدگی‘ ہے۔لیکن اس معیار لطافت سے علیحدہ ہوکر اگر مغربی رنگ میں داد سخن دی جائے تو بے سمجھے بوجھے کوے کی کائیں کائیں صرف ثقل مذاق کا ثبوت ہے۔ ہمارے دوست اگر مغربی لٹریچر اور فلسفہ سے بیگانہ ہیں، اگر وہ نہیں جانتے کہ فلسفہ حسن کا ماخذ اصلی کیا ہے؟ اگر ان کے دماغ میں یہ مناسبت نہیں ہے کہ وہ ان نازک مسائل کو جذب کر سکے، اگر وہ لطائف ادبی اور غیرسنجیدہ خیالات کی حدود میں تمیز نہیں کرسکتے، مختصر یہ کہ اگر وہ نہیں جانتے کہ مغربی نزاکت خیال کیا چیز ہے؟ تو ہم ان کو ایک کافی حد تک معذور سمجھنے کے لئے تیار تھے، لیکن افسوس یہ ہے کہ وہ اپنے چھچورے اور ذلیل اظہار خیال اور بے باکانہ اظہار رائے سے، جس کو خیر سے آپ تنقید سمجھتے ہیں، صرف اپنا جہل مرکب ثابت کر سکے۔ عورت سے متعلق نازک خیالی اگر ’فحش بیانی‘ ہے تو فلسفہ کی یہ ڈانٹ سن رکھئے کہ خود عورت فحش ہے اور اس سے زیادہ وہ ترکیب فحش ہے جو انسان کے عالم وجود میں آنے کا سبب ہوئی، جسے اخلاقاً میں صرف ’سنجیدگی‘ کہوں گا۔سچ یہ ہے کہ جن صاحبوں کی ابتدائی تربیت ’’چوکہ کے کوٹھوں‘‘ پرہوئی وہ ان نکتوں کو کیا سمجھ سکتے ہیں جو فلسفۂ حسن کا مایۂ خمیر ہیں، جس کی غایت ’بہار عشق‘ کی طرح نثر میں (بہائم صفت لوگوں کو شدید خواہشات کی اطفائے حرارت کے لئے برانگیختہ کرنا نہیں ہے) بلکہ شریف تر انسانوں کے سامنے جنس لطیف کو مرقع جذبات بناکر پیش کرناہے، جس میں اس کی لائق رشک مادیت کے ساتھ ہر طرح کی اخلاقی اور جذباتی صفات آنکھوں کے سامنے آجائیں، آپ فرط سنجیدگی سے اسے ’گھونگھٹ کی پردہ دری‘ کہتے ہیں، لیکن غریب کو معلوم نہیں کہ ’عالم فطرت کی سب سے خوبصورت حکمران‘ یعنی عورت کی شان اس سے بہت ارفع واعلیٰ ہے۔ عورت مادی کیفیات کے ساتھ ایک ایسا مظہر پاکیزہ ہے، جس پر خود فطرت سی لطیف چیز کو ہمیشہ ناز رہے گا۔ صرف فضائے عالم میں نکل کر دیکھئے، حجروں کی تاریکی میں اگر آپ ’شپرانہ‘ کچھ دیکھ بھی سکے تو آپ کی قاصر النظری، رازہائے سربستۂ فطرت کو پھر بھی آپ کے لئے سربہ مہر رکھےگی۔جناب مارہروی کی اس فریب کاری کو دیکھئے کہ جہاں عورت کی مادیت پر آپ جامہ سے باہر ہو گئے، اس کی اخلاقی اور جذباتی کیفیات سے جو فلسفہ کی جان ہیں، دانستہ آنکھیں پھوڑ لی ہیں۔ آپ نے اپنی پاک طینتی کا ثبوت اقتباسات پیش کردہ میں بھی دیا ہے، جو میرے خیال میں ایک طرح کی تحریف ہے، کیونکہ یہ اجزاء مختلف موقعوں سے لئے گئے ہیں اور ایک سانس میں نمایاں کرکے پیش کئے گئے ہیں اور گو فلسفہ میں ایک حرف غیرسنجیدہ نہیں، تاہم آپ کا فتویٰ یہ ہے کہ بعض حصے ’تہذیب شکن‘ ہیں۔ میں صرف ایک آدھ مثال پر قناعت کروں گا، مثلاً سینہ کی تعریف میں،’’فطرت کی شوخی دیکھئےگا! فتنۂ قیامت زا کے لئے گنجایش نکالی بھی تو کہاں؟‘‘ یہ نازک خیالی آپ کی سمجھ میں نہیں آئےگی۔ ’شکسپیر‘ زندہ ہوتا تو بتا سکتا کہ اس کے خیال کا قالب کس خوبصورتی سے بدلا گیا ہے۔ اسی طرح ’مقیاس الشباب‘ کی ترکیب پر یاد رکھئے اردو لٹریچر کو ہمیشہ ناز رہےگا۔ صاحب فلسفہ نے ایک جگہ لکھا ہے،’’آہ عورت! تو فسانۂ زندگی ہے! تو جس طرح اپنی صاف شفاف ہستی سے ایک جھونپڑے کو شیش محل بناسکتی ہے، بڑے سے بڑے ایوان عیش کی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تیری موجودگی کے آثار اس میں نہ پائے جائیں، اس کے لیے چھڑوں کی جھنکار ضروری نہیں، محض تیرا پس پردہ ہونا، کہیں ہو، کسی کے لئے ہو کافی ہے۔‘‘ غور سے پڑھئے، یہ جذباتی اور اخلاقی لٹریچر کی بہتر سے بہتر مثال ہے جو اردو لٹریچر کی طرف سے پیش کی جاسکتی ہے، لیکن ہمارے دوست اسے ’فحش‘فرماتے ہیں۔ غالباً ’چھڑوں کی جھنکار‘ پر کان کھڑے کئے ہوں گے۔ ’جہل مرکب‘ اتنا تو ہو۔جناب مارہروی نے ’فلسفۂ حسن‘ کے لئے ایک نیا نام پیش کیا ہے، جو ان کے ناقابل التفات خیالات ومقالات کی گندگی کا ایک جامع ثبوت ہے، جس سے ان کے اصلی خصائل اور مذاق طبع کی پوری غمازی ہوتی ہے جس کے بعد اب مجھے درد سری کی ضرورت نہیں، لیکن وہ چوکے، جس آلہ سے وہ فلسفہ پر وار کرنا چاہتے ہیں ان کو یاد نہیں رہا، وہ ان کا ’عنوان زندگی‘ اور اس حیثیت سے ان کے لئے لائق ادب ہے کہ وہ ان کا ’مصنف ہستی‘ ہے۔ شرم! شر! اسی سلسلہ میں مختصراً ایڈیٹر صاحب ’الناظر‘ کی روانی قلم کی بھی داد دینا چاہتا ہوں۔ آپ کا ’تنقیدی نوٹ‘ تمام تر جناب مارہروی کے ’جہل مرکب‘ کا کورانہ تتبع ہے یا یوں سمجھئے کہ حضرت مارہروی کے دل کی سیاہی جو ان کے قلم سے ٹپکی تھی، حضرت نے اسی کو لے کر پھیلایا ہے، جس سے کئی صفحے رنگ گئے، آپ کا غیرضروری اظہار خیال بے معنی فصاحت کا ایک دھوکا ہے، یعنی کثرت الفاظ کے مقابلہ میں مفہوم کچھ نہیں۔ جس کی غایت صرف یہ معلوم ہوتی ہے کہ ’الناظر‘ کے ہوتے دنیا میں کسی پرچے کی ضرورت نہیں۔بہت پھیر پھار اور حشو و زوائد کا ماحصل صرف اتنا ہی ہے جو میں نے عرض کیا، اسی میں ’خادم الملک‘ (یہ اپنے منھ میاں مٹھو، ظفر الملک کا قافیہ ہے) حضرت دلگیر کا ’نقاد‘ بھی آ گیا، جس کا وجود اس کے دشمنوں کی چھاتی کا پتھر ہورہا ہے، اس کے بعد آپ ’فلسفۂ حسن‘ کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اورانشا پردازی کا دریا بہایا گیا ہے، لیکن مجتہدانہ ایک حرف نہیں، اندھے کی لاٹھی! جناب مارہروی کے ساتھ کبھی غار میں کبھی دلدل میں۔بڑی نرمی سے فرماتے ہیں ، ’’جنس لطیف کے عضو عضو کی تشریح اور اس پر سرجری کا عمل کیا گیا ہے۔‘‘ فقرہ تو اچھا ہے لیکن دیکھئے پھر وہی بے معنی فصاحت کا دھوکا! ’فلسفۂ حسن‘ میں اگر میں غلطی نہیں کرتا تو صرف ’بہترین عطیۂ فطرت‘ یعنی عورت کے سینہ کے متعلق مغربی خیالات کا چربہ اتارا گیا تھا اور ادائے خیال کے مختلف پہلو دکھائے گئے تھے، جس کی نزاکت کو آپ سمجھ بھی نہیں سکے، تاہم لائق شرم غلط بیانی سے آپ نہیں چوکے اور جناب مارہروی کے ساتھ مجبوراً مجھے آپ کی بھی خبر لینی پڑی۔لیکن میں آپ کو یقین دلانا چاہتاہوں کہ مفروضہ نقائص کے ساتھ بھی ’نقاد‘ کا معیاراخلاق ’الناظر‘ سے گھٹا ہوا نہیں ہے۔ حضرت کو یاد ہوگا! الناظر میں کبھی ایک مضمون نکلا تھا، جس میں عورت کی نسبت یہ دکھایا گیا تھاکہ وہ عصمت فروش اور بے وفا ہی نہیں بلکہ بدترین مخلوقات ارضی ہے۔ جس وسعت کے ساتھ اس شرمناک موضوع پر قلم فرسائی کی گئی تھی، وہ آپ کی اور جناب مارہروی کی متفقہ ہزلیات سے بھی کچھ بڑھی ہوئی تھی۔لکھنؤ میں بیٹھ کر ’ڈولی میں سارا شہر‘ صرف الناظر کاحصہ تھا۔ برخلاف اس کے نقاد آگرہ ’جنس لطیف‘ کو اپنے مختص النوع خصائص کے ساتھ اس طرح پیش کرسکا کہ وہ اس عالم کی چیز نہیں معلوم ہوتی، اس نے جذبات کے جتنے پہلو دکھائے ہیں، وہ بجائے خود فلسفۂ ادب کی جان ہیں جس کا ایک حرف بھی میرے خیال میں چھوڑنے کے لائق نہیں تھا۔آخر میں مجھے حضرت دلگیر سے یہ کہنا ہے کہ جہاں ادبیات کا سرے سے مذاق نہ ہو، وہاں اتنے نازک خیالات کا پیش کرنا صاحب فلسفہ سے زیادہ دلگیر کی غلطی تھی، غلطی پر غلطی یہ ہوئی کہ یہ مضمون آب و تاب کے ساتھ ایڈیٹر کی طرف سے پیش کیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کم بین طبائع ضبط نہ کرسکیں اور مجھ کو بھی ان کا توڑ کرنے کے لئے لٹریچر کی طرف سے قلم ہاتھ میں لینا پڑا، جس کا مجھے افسوس ہے۔میری رائے ہے کہ ’دویم درجہ‘ کے اظہار خیال کی بہترین داد یہ ہے کہ وہ ایک دم سے نظرانداز کیا جائے، لیکن اس قسم کا استغناء شاید یورپ میں جائز ہو جہاں وسیع النظر اور خوش ظرف اہل قلم تنقیدات عالیہ (یعنی ہائر کریٹی سزم) کا صحیح مذاق رکھتے ہیں، لیکن تنگ خیال اور بے درد مارہروی اور ان کے یاران طریقت کے تحت نتائج فکر جو ننگ انشا پردازی ہیں، بھٹیاریوں کی ’’تو تو میں میں‘‘ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے، اور گو میں ان کی تمام مزخرفات کا استقصا نہ کرسکا، تاہم سلسلۂ تحریر میں جس قدر حصہ ان کے خیالات کا جلوہ گر کیا گیا ہے، وہ بتائےگا کہ ان پر ایک کافی حد تک توجہ کی ضرورت تھی۔حاشیہ(1) دنیا کی متمدن اقوام کی عورتوں میں ہمیشہ بالائی حصہ جسم کے لئے پوشش خاص کا رواج رہا ہے، آج بھی مہوشان فرنگ میں طرح طرح کے لباس ہیں جو جسم سے متصل پہنے جاتے ہیں، یہ آرائش جوانی کے سوا صحت نسوانی کے لئے بھی ضروری ہیں، اختلاف خوش وضعی کے ساتھ ان کے مختلف نام ہیں اور ان ناموں کی تصریح سوسائٹی کے طبقات اعلیٰ میں بھی غیرسنجیدہ نہیں سمجھی جاتی۔\n\nدراصل ’’محرم‘‘ بھی اتنا شایستہ اور مہذب لفظ ہے کہ دنیا کی کوئی زبان اس سے زیادہ بہتر اور سنجیدہ تر لفظ پیش نہیں کرسکتی، ہاں ایک قابل نے اس کا ترجمہ کرکے صرف اپنی نفرت انگیز ’’سوقیت‘‘ کا اظہار کیا تھا!", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%AF_%D9%BE%D8%B1_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DB%8C%D8%B4%DB%8C_%D8%AC%D9%86%D8%A8%D8%B4_%D9%84%D8%A8"} {"title": "نقاش دیکھ تو میں کیا نقش یار کھینچا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نقاش دیکھ تو میں کیا نقش یار کھینچا\nاس شوخ کم نما کا نت انتظار کھینچا\n\nرسم قلمرو عشق مت پوچھ کچھ کہ ناحق\nایکوں کی کھال کھینچی ایکوں کو دار کھینچا\n\nتھا بد شراب ساقی کتنا کہ رات مے سے\nمیں نے جو ہاتھ کھینچا ان نے کٹار کھینچا\n\nمستی میں شکل ساری نقاش سے کھنچی پر\nآنکھوں کو دیکھ اس کی آخر خمار کھینچا\n\nجی کھنچ رہے ہیں اودھر عالم کا ہوگا بلوہ\nگر شانے تو نے اس کی زلفوں کا تار کھینچا\n\nتھا شب کسے کسائے تیغ کشیدہ کف میں\nپر میں نے بھی بغل بغل بے اختیار کھینچا\n\nپھرتا ہے میرؔ تو جو پھاڑے ہوئے گریباں\nکس کس ستم زدے نے داماں یار کھینچا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%B4_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D9%82%D8%B4_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%D8%A7"} {"title": "نقاش سے ممکن ہے کہ ہو نقش خلاف", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "نقاش سے ممکن ہے کہ ہو نقش خلاف\nہیں نقش میں جلوہ گر اسی کے اوصاف\nہر شے میں عیاں ہے آفتاب وحدت\nگر وہم دوئی نہ ہو تو ہے مطلع صاف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%B4_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%85%DA%A9%D9%86_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%88_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%81"} {"title": "نقش بر آب نام ہے سیل فنا مقام", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نقش بر آب نام ہے سیل فنا مقام\nاس خانماں خراب کا کیا نام کیا مقام\n\nہر روز تازہ منزل و ہر شب نیا مقام\nمہلت نہیں قیام کی دنیا ہے کیا مقام\n\nجا مل گئی جسے تری دیوار کے تلے\nہے اس کو گور تنگ بھی اک دل کشا مقام\n\nڈرتے ہیں ہم تو نام بھی لیتے ہوئے ترا\nتو ہی بتا کہ پوچھیے کیوں کر ترا مقام\n\nانسان کی سرشت میں ہے عذر لنگ ضعف\nثابت ہوا کہ دور ہے مجھ سے مرا مقام\n\nاندازہ ہی غلط تھا مگر امتیاز کا\nیعنی محل غیر ہی تھا آپ کا مقام\n\nکھلتا نہیں کبھی نہ کبھی صاف ہی رہے\nکس طرح ہو ثبوت کہ دل ہے ترا مقام\n\nواعظ منازعت کا سبب مجھ میں تجھ میں کیا\nمسجد ترا محل ہے مرا مے کدہ مقام\n\nیاں واں ادھر ادھر یوں ہی گر پڑ کے کی بسر\nمثل غبار راہ رہا جا بہ جا مقام\n\nاے اہل دیر ذکر حرم تم سے یا کریں\nپوچھو بتوں ہی سے کبھی کعبہ بھی تھا مقام\n\nکیا کیا بیاں جہاں کے کریں امن و چین کو\nاس کے بھی در پہ اپنا تو مدت رہا مقام\n\nکیا جانیے قلقؔ کہ ارادہ ہے اپنا کیا\nمطلب سے کچھ سفر نہ سر مدعا مقام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%82%D8%B4_%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D8%A8_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D9%84_%D9%81%D9%86%D8%A7_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85"} {"title": "نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا\nننگ ہے نام رہائی تری صیادی کا\n\nداد دے ورنہ ابھی جان پہ کھیلوں ہوں میں\nدل جلانا نہیں دیکھا کسی فریادی کا\n\nتو نے تلوار رکھی سر رکھا میں بندہ ہوں\nاپنی تسلیم کا بھی اور تری جلادی کا\n\nشہر کی سی رہی رونق اسی کے جیتے جی\nمر گیا قیس جو تھا خانہ خدا وادی کا\n\nشیخ کیا صورتیں رہتی تھیں بھلا جب تھا دیر\nرو بہ ویرانی ہو اس کعبے کی آبادی کا\n\nریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے\nمعتقد کون نہیں میرؔ کی استادی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%82%D8%B4_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B4_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نقش دل ہے ستم جدائی کا", "poet_page": "مصنف:عبد الغفور نساخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نقش دل ہے ستم جدائی کا\nشوق پھر کس کو آشنائی کا\n\nچکھتے ہیں اب مزا جدائی کا\nیہ نتیجہ ہے آشنائی کا\n\nان کے دل کی کدورت اور بڑھی\nذکر کیجیے اگر صفائی کا\n\nدیکھ تو سنگ آستاں پہ ترے\nہے نشاں کس کی جبہہ سائی کا\n\nتیرے در کا گدا جو ہے اے دوست\nعیش کرتا ہے بادشائی کا\n\nدختر رز نے کر دیا باطل\nمجھ کو دعویٰ تھا پارسائی کا\n\nکرتے ہیں اہل آسماں چرچا\nمیرے نالوں کی نارسائی کا\n\nکاٹ ڈالو اگر زباں پہ مرے\nحرف آیا ہو آشنائی کا\n\nکر کے صدقے نہ چھوڑ دیں نساخؔ\nدل کو دھڑکا ہے کیوں رہائی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%82%D8%B4_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نقش طلسم وہم ہے دنیا کہیں جسے", "poet_page": "مصنف:سید واجد علی فرخ بنارسی", "kind": "poetry", "section": "غزل > تجلیات فرخ (1930)", "year": "1930", "text_ur": "نقش طلسم وہم ہے دنیا کہیں جسے\nنیرنگئی نظر ہے تماشا کہیں جسے\n\nوہ سامنے ہیں اور نہیں طاقت نگاہ\nبے پردگی بھی وہ ہے کہ پردا کہیں جسے\n\nشرح حقیقت طلب ناتمام ہے\nاک دفتر شکایت بے جا کہیں جسے\n\nاس جلوہ گاہ ناز کی اللہ رے دل کشی\nحیرانیٔ نظر ہے تماشا کہیں جسے\n\nموقوف ہے خیال پہ احساس کائنات\nہے اک نظارہ خواب کا دنیا کہیں جسے\n\nآئینہ وار وسعت ذوق جنوں کا ہے\nہر ذرہ میری خاک کا صحرا کہیں جسے\n\nدل ہے جبین شوق کے پردے میں سجدہ ریز\nاک نقش بندگی ہے سویدا کہیں جسے\n\nشکوؤں میں رنگ شوخیٔ حسن طلب رہے\nیوں ہو گلا ستم کا تقاضا کہیں جسے\n\nتاراج شوخیٔ نگہ ناز ہو گیا\nوہ دل کہ درد عشق کی دنیا کہیں جسے\n\nہوتا ہے جزو کل کی حقیقت کا آئنہ\nقطروں کا اجتماع ہے دریا کہیں جسے\n\nفرخؔ ملال ہی سے صفائی کا لطف ہے\nاک خاص ادا ہے رنجش بے جا کہیں جسے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%82%D8%B4_%D8%B7%D9%84%D8%B3%D9%85_%D9%88%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%DB%92"} {"title": "نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا\nکاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا\n\nشوخیِ نیرنگ، صیدِ وحشتِ طاؤس ہے\nدام، سبزے میں ہے پروازِ چمن تسخیر کا\n\nلذّتِ ایجادِ ناز، افسونِ عرضِ ذوقِ قتل\nنعل آتش میں ہے، تیغِ یار سے نخچیر کا\n\nکاؤکاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ\nصبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا\n\nجذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے\nسینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا\n\nآگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے\nمدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا\n\nخشت پشتِ دستِ عجز و قالب آغوشِ وداع\nپُر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا\n\nوحشتِ خوابِ عدم شورِ تماشا ہے اسدؔ\nجو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا\n\nبس کہ ہوں غالبؔ، اسیری میں بھی آتش زیِر پا\nموئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D9%88%D8%AE%DB%8C_%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نقش قدم ہوا ہوں محبت کی راہ کا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نقش قدم ہوا ہوں محبت کی راہ کا\nکیا دل کشا مکاں ہے مری سجدہ گاہ کا\n\nگرمی سیں آفتاب قیامت کی کیوں دروں\nسایہ ہے مجھ کوں سرو قیامت پناہ کا\n\nناسور ہو کہ روز قیامت تلک بہے\nجس کے جگر میں تیر لگے تجھ نگاہ کا\n\nپیو کا جمال دیکھ ہوا چاک چاک دل\nجیوں کہ کتاں پہ عکس پڑے نور ماہ کا\n\nڈورے نہیں ہیں سرخ تری چشم مست میں\nشاید چڑھا ہے خون کسی بے گناہ کا\n\nدل تجھ برہ کی آگ سیں کیونکر نکل سکے\nشعلہ سیں کیا چلے گا کہو برگ کاہ کا\n\nسنبل ہے جیوں کہ جلوہ نما جوئبار پر\nآنکھوں میں میری عکس دو زلف سیاہ کا\n\nمہتاب رو کے رخ پہ سیہ خط نہیں سراجؔ\nجا کر کھلا ہوا ہے مرے دود آہ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%82%D8%AF%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نقش ناز بت طناز بہ آغوش رقیب", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نقشِ نازِ بتِ طنّاز بہ آغوشِ رقیب\nپائے طاؤس پئے خامۂ مانی مانگے\n\nتو وہ بد خو کہ تحیّر کو تماشا جانے\nغم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے\n\nوہ تبِ عشق تمنّا ہے کہ پھر صورتِ شمع\nشعلہ تا نبضِ جگر ریشہ دوانی مانگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%A8%D8%AA_%D8%B7%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%A8%DB%81_%D8%A2%D8%BA%D9%88%D8%B4_%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8"} {"title": "نقش پائے یار کو چوموں تو آخر کس طرح", "poet_page": "مصنف:حاجی لق لق", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "نقش پائے یار کو چوموں تو آخر کس طرح\nہو برا پتلون کا مجھ سے نہ بیٹھا جائے ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D9%88%D9%85%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "نقشہ لیل و نہار کا کھینچا ہے", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "نقشہ لیل و نہار کا کھینچا ہے\nموسم کا خط جدا جدا کھینچا ہے\nسورج نقطۂ زمین کی گردش پرکار\nیہ دائرہ فلسفی نے کیا کھینچا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%82%D8%B4%DB%81_%D9%84%DB%8C%D9%84_%D9%88_%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نم اشک آنکھوں سے ڈھلنے لگا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نم اشک آنکھوں سے ڈھلنے لگا ہے\nکہ فوارہ خوں کا اچھلنے لگا ہے\n\nڈبا دل کا گھر آنکھ تک آن پہنچا\nاب آنسو کا نالا ابلنے لگا ہے\n\nیہ سیب آنب شفتالو نارنگی کمرکھہ\nترے باغ کا میوہ پلنے لگا ہے\n\nتمہاری میاں دیکھ یہ پھل پھلاری\nمرا طفل دل تو مچلنے لگا ہے\n\nکھجوریں سموسے تلے کچھ دلا دو\nاجی! جی مرا ان پہ چلنے لگا ہے\n\nابھی آئے کہتے ہو جاتا ہوں لو جی\nیہ سنتے مرا جی دہلنے لگا ہے\n\nمری جان جلد اظفریؔ پاس آ جا\nکہ جی اس کا تجھ بن نکلنے لگا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%85_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%88%DA%BE%D9%84%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نمائش میں", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وہ کچھ دوشیزگان ناز پرور\nکھڑی ہیں اک بساطی کی دکاں پر\n\nنظر کے سامنے ہے ایک محشر\nاور اک محشر ہے میرے دل کے اندر\n\nسنہرا کام رنگیں ساریوں پر\nبساط آسماں پر ماہ و اختر\n\nجمال و حسن کے پر رعب تیور\nنمایاں چاند سی پیشانیوں پر\n\nوہ رخساروں پہ ہلکی ہلکی سرخی\nلبوں میں پر فشاں روح گل تر\n\nسیہ زلفوں میں روح سنبلستاں\nنظر سر چشمۂ تسنیم و کوثر\n\nادائے ناز غرق کیف صہبا\nسیہ مژگاں شراب آلودہ نشتر\n\nچمک تاروں کی چشم سرمگیں میں\nجھلک چاندی کی جسم مرمریں میں\n\nوہ خوشبو آ رہی ہے پیرہن سے\nفضا ہے دور تک جس سے معطر\n\nتبسم اور ہنسی کے نرم طوفاں\nفضاؤں میں مسلسل بارش زر\n\nنشاط رنگ و بو سے چور آنکھیں\nشراب ناب سے لبریز ساغر\n\nوہ محرابیں سی سینوں پر نمایاں\nفضائے نور میں کیوپڈ کے شہ پر\n\nنفس کے آمد و شد سے تلاطم\nشب مہتاب میں جیسے سمندر\n\nستاروں کی نگاہیں جھک گئی ہیں\nزمیں پھر خندہ زن ہے آسماں پر\n\nکوئی آئینہ دار حسن فارس\nکسی میں حسن یونانی کے جوہر\n\nکسی میں عکس معصوم کلیسا\nکسی میں پرتو اصنام آذر\n\nیہ شیریں ہے وہ نوشابہ ہے شاید\nنہیں یاں فرق فرہاد و سکندر\n\nیہ اپنے حسن میں عذرائے وامق\nوہ اپنے ناز میں سلمائے اخترؔ\n\nیہ تابانی میں خورشید درخشاں\nوہ رعنائی میں اس سے بھی فزوں تر\n\nہنسی اس کی طلوع صبح خنداں\nنوا اس کی سرود کیف آور\n\nیہ شعلہ آفریں وہ برق افگن\nیہ آئینہ جبیں وہ ماہ پیکر\n\nوہ جنبش سی ہوئی کچھ آنچلوں کو\nوہ لہریں سی اٹھیں کچھ ساریوں پر\n\nخرام ناز سے نغمے جگاتی\nوہ چل دیں ایک جانب مسکرا کر\n\nکسی کی حسرتیں پامال کرتی\nکسی کی حسرتیں ہمراہ لے کر\n\nکبھی آنکھیں دکانوں پر جمی ہیں\nکبھی خود اپنی ہی برنائیوں پر\n\nادھر ہم نے اک آہ سرد کھینچی\nہنسی پھر آ گئی اپنے کئے پر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نماز", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں\nاگرچہ پِیر ہے آدم، جواں ہیں لات و منات\nیہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے\nہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2"} {"title": "نماز کیسی کہاں کا روزہ ابھی میں شغل شراب میں ہوں", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نماز کیسی کہاں کا روزہ ابھی میں شغل شراب میں ہوں\nخدا کی یاد آئے کس طرح سے بتوں کے قہر و عتاب میں ہوں\n\nشراب کا شغل ہو رہا ہے بغل میں پاتا ہوں میں کسی کو\nمیں جاگتا ہوں کہ سو رہا ہوں خیال میں ہوں کہ خواب میں ہوں\n\nنہ چھیڑ اس وقت مجھ کو زاہد نہیں یہ موقع ہے گفتگو کا\nسوار جاتا ہے وہ شرابی میں حاضر اس کی رکاب میں ہوں\n\nکبھی شرابی کبھی نمازی کبھی ہوں میں رند گاہ زاہد\nخدا کا ڈر ہے بتوں کا کھٹکا عجب طرح کے عذاب میں ہوں\n\nقیامت آنے کا خوف کیسا تردد و فکر کیوں ہے آغاؔ\nحساب کیا کوئی مجھ سے لے گا بتا تو میں کس حساب میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D8%B2%DB%81_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%BA%D9%84_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "نمود رنگ و بو نے مار ڈالا", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نمود رنگ و بو نے مار ڈالا\nاسی کی آرزو نے مار ڈالا\n\nنہ دنیا ہی کا رکھا اور نہ دیں کا\nدل مدہوش تو نے مار ڈالا\n\nتکلم کا فسوں اللہ اکبر\nکسی کی گفتگو نے مار ڈالا\n\nنہ روداد حباب زندگی پوچھ\nخرام آب جو نے مار ڈالا\n\nخدا واعظ سے سمجھے حشر کے دن\nہمیں اس بے وضو نے مار ڈالا\n\nزمانہ کے امیںؔ منہ کون آتا\nخیال آبرو نے مار ڈالا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%85%D9%88%D8%AF_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%88_%D8%A8%D9%88_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DA%88%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "نمود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نمود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہیں\nوہ جاگتے ہیں جو دنیا کو خواب سمجھے ہیں\n\nکبھی برا نہیں جانا کسی کو اپنے سوا\nہر ایک ذرے کو ہم آفتاب سمجھے ہیں\n\nعجب نہیں ہے جو شیشوں میں بھر کے لے جائیں\nان آنسوؤں کو فرشتے گلاب سمجھے ہیں\n\nزمانہ ایک طرح پر کبھی نہیں رہتا\nاسی کو اہل جہاں انقلاب سمجھے ہیں\n\nانہیں کو دار بقا کی ہے پختگی کا خیال\nجو بے ثباتی دہر خراب سمجھے ہیں\n\nشباب کھو کے بھی غفلت وہی ہے پیروں کو\nسحر کی نیند کو بھی شب کا خواب سمجھے ہیں\n\nلحد میں آئیں نکیرین آئیں بسم اللہ\nہر اک سوال کا ہم بھی جواب سمجھے ہیں\n\nاگر غرور ہے اعدا کو اپنی کثرت پر\nتو اس حیات کو ہم بھی حباب سمجھے ہیں\n\nنہ کچھ خبر ہے حدیثوں کی ان سفیہوں کو\nنہ یہ معانی ام الکتاب سمجھے ہیں\n\nکبھی شقی متمتع نہ ہوں گے دنیا سے\nجسے یہ آب اسے ہم سراب سمجھے ہیں\n\nمزیل عقل ہے دنیا کی دولت اے منعم\nاسی کے نشے کو صوفی شراب سمجھے ہیں\n\nحرارتیں ہیں مآل حلاوت دنیا\nوہ زہر ہے جسے ہم شہد ناب سمجھے ہیں\n\nانیسؔ مخمل و دیبا سے کیا فقیروں کو\nاسی زمین کو ہم فرش خواب سمجھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%85%D9%88%D8%AF_%D9%88_%D8%A8%D9%88%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D9%82%D9%84_%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نمودِ صبح", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ہو رہی ہے زیرِ دامانِ اُفُق سے آشکار\nصبح یعنی دخترِ دوشیزۂ لیل و نہار\n\nپا چُکا فرصت درُودِ فصلِ انجم سے سپہر\nکشتِ خاور میں ہُوا ہے آفتاب آئینہ کار\n\nآسماں نے آمدِ خورشید کی پا کر خبر\nمحملِ پروازِ شب باندھا سرِ دوشِ غبار\n\nشعلۂ خورشید گویا حاصل اس کھیتی کا ہے\nبوئے تھے دہقانِ گردُوں نے جو تاروں کے شرار\n\nہے رواں نجمِ سحَر، جیسے عبادت خانے سے\nسب سے پیچھے جائے کوئی عابدِ شب زندہ دار\n\nکیا سماں ہے جس طرح آہستہ آہستہ کوئی\nکھینچتا ہو میان کی ظلمت سے تیغِ آب دار\n\nمطلعِ خورشید میں مُضمر ہے یوں مضمونِ صبح\nجیسے خلوت گاہِ مینا میں شرابِ خوش گوار\n\nہے تہِ دامانِ بادِ اختلاط انگیزِ صبح\nشورشِ ناقوس، آوازِ اذاں سے ہمکنار\n\nجاگے کوئل کی اذاں سے طائرانِ نغمہ سنج\nہے ترنّم ریز قانونِ سحَر کا تار تار", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%85%D9%88%D8%AF%D9%90_%D8%B5%D8%A8%D8%AD"} {"title": "نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری\nناطقے بند ہیں سن سن کے بلاغت میری\nرنگ اڑتے ہیں وہ رنگیں ہے عبارت میری\nشور جس کا ہے وہ دریا ہے طبیعت میری\nعمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں\nپانچویں پشت ہے شبیرؔ کی مداحی میں\n\nایک قطرے کو جو دوں بسط تو قلزم کردوں\nبحر مواج فصاحت کا تلاطم کر دوں\nماہ کو مہر کروں ذروں کو انجم کردوں\nگنگ کو، ماہر انداز تکلم کر دوں\nدرد سر ہوتا ہے بے رنگ نہ فریاد کریں\nبلبلیں مجھ سے گلستاں کا سبق یاد کریں\n\nاس ثنا خواں کے بزرگوں میں ہیں کیا کیا مداح\nجدّ اعلیٰ سے نہ ہوگا کوئی اعلیٰ مداح\nباپ مداح کا مداح ہے دادا مداح\nعم ذی قدر ثنا خوانوں میں یکتا مداح\nجو عنایات الٰہی سے ہوا نیک ہوا\nنام بڑھتا گیا جب ایک کے بعد ایک ہوا\n\nطبع ہر ایک کی موزوں قد زیبا موزوں\nصورت سرو ازل سے ہیں سراپا موزوں\nنثربے سجع نہیں، نظم معلیٰ موزوں\nکہیں سکتہ نہیں آ سکتا، کجا ناموزوں\nتول لے عقل کی میزاں میں جو فہمیدہ ہے\nبات جو منہ سے نکلتی ہے وہ سنجیدہ ہے\n\nخلق میں مثل خلیق اور تھا خوش گو کوئی کب\nنام لے دھو لے زباں کوثر و تسنیم سے جب\nبلبل گلشن زہرا و علی عاشق رب\nمتبع مرثیہ گوئی میں ہوئے جس کے سبب\nہو اگر ذہن میں جودت ہے کہ موزونی ہے\nاس احاطے سے جو باہر ہے وہ بیرونی ہے\n\nبھائی خوش فکرت و خوش لہجہ و پاکیزہ خصال\nجن کا سینہ گہر علم سے ہے مالا مال\nیہ فصاحت، یہ بلاغت، یہ سلاست یہ کمال\nمعجزہ گر نہ اسے کہیے تو ہے سحر حلال\nاپنے موقع پہ جسے دیکھیے لاثانی ہے\nلطف حضرت کا یہ ہے رحمت یزدانی ہے\n\nکیوں نہ ہو بندۂ موروثیٔ مولا ہوں میں\nقلزم رحمت معبود کا قطرہ ہوں میں\nجس میں لاکھوں در و مرجاں ہیں وہ دریا ہوں میں\nمدح خوانِ پسرِ حضرتِ زہرا ہوں میں\nوصف جوہر کا کروں یا صفت ذات کروں\nاپنے رتبے پہ نہ کیوں آپ مباہات کروں\n\nمبتدی ہوں مجھے توقیر عطا کر یارب\nشوقِ مداحیِٔ شپیر عطا کر یارب\nسنگ ہو موم وہ تقریر عطا کر یارب\nنظم میں رونے کی تاثیر عطاکر یا رب\nجد و آبا کے سوا اور کوئی تقلید نہ ہو\nلفظ مغلق نہ ہوں گنجلک نہ ہوں تعقید نہ وہ\n\nوہ مرقع ہو کہ دیکھیں اسے گر اہل شعور\nہر ورق میں کہیں سایہ نظر آئے کہیں نور\nغل ہو یہ ہے کششِ مو قلم طرۂ حور\nصاف ہر رنگ سے ہو صنعت صانع کا ظہور\nکوئی ناظر جو یہ نایاب نظیریں سمجھے\nنقشِ ارژنگ کو کاواک لکیریں سمجھے\n\nقلمِ فکر سے کھینچوں جو کسی بزم کا رنگ\nشمعِ تصویر پہ گرنے لگیں آ آ کے پتنگ\nصاف حیرت زدہ مانیؔ ہو تو بہزادؔ ہو دنگ\nخوں برستا نظر آئے جو دکھاؤں صفِ جنگ\nرزم ایسی ہو کہ دل سب کے پھڑک جائیں ابھی\nبجلیاں تیغوں کی آنکھوں میں چمک جائیں ابھی\n\nروزمرہ شرفا کا ہو سلامت ہو وہی\nلب و لہجہ وہی سارا ہو متانت ہو وہی\nسامعیں جلد سمجھ لیں جسے، صنعت ہو وہی\nیعنی موقع ہو جہاں جس کا عبارت ہو وہی\nلفظ بھی چست ہوں مضمون بھی عالی ہووے\nمرثیہ درد کی باتوں سے نہ خالی ہووے\n\nہے کجی عیب مگر حسن ہے ابرو کے لیے\nتیرگی بد ہے مگر نیک ہے گیسو کے لیے\nسرمہ زیبا ہے فقط نرگسِ جادو کے لیے\nزیب ہے خالِ سیۂ چہرۂ گلرو کے لیے\nداند آنکس کہ فصاحت بہ کلامے دارد\nہر سخن موقع و ہر نکتہ مقامے دارد\n\nبزم کا رنگ جدا، رزم کا میداں ہے جدا\nیہ چمن اور ہے زخموں کا گلستاں ہے جدا\nفہم کامل ہو، تو ہر نامے کا عنواں ہے جدا\nمختصر پڑھ کے رلا دینے کا ساماں ہے جدا\nدبدبہ بھی ہو، مصائب بھی ہوں، توصیف بھی ہو\nدل بھی محفوظ ہوں، رقت بھی ہو تعریف بھی ہو\n\nماجرا صبحِ شہادت کا بیان کرتا ہوں\nرنج و اندوہ و مصیبت کا بیاں کرتا ہوں\nتشنہ کاموں کی عبادت کا بیاں کرتا ہوں\nجاں نثاروں کی اطاعت کا بیاں کرتا ہوں\nجن کا ہمتا نہیں، ایک ایک مصاحب ایسا\nایسے بندے نہ کبھی ہوں گے ، نہ صاحب ایسا\n\nصبح صادق کا ہوا چرخ پہ جس وقت ظہور\nزمزمے کرنے لگے یادِ الٰہی میں طیور\nمثلِ خورشید برآمد ہوئے خیمے سے حضور\nیک بیک پھیل گیا چار طرف دشت میں نور\nشش جہت میں رخِ مولا سے ظہور حق تھا\nصبح کا ذکر ہے کیا، چاند کا چہرہ فق تھا\n\nٹھنڈی ٹھنڈی وہ ہوائیں وہ بیاباں وہ سحر\nدم بدم جھومتے تھے وجد کے عالم میں شجر\nاوس نے فرشِ زمرد پہ بچھائے تھے گہر\nلوٹی جاتی تھی لہکتے ہوئے سبزے پہ نظر\nدشت سے جھوم کے جب بادِ صبا آتی تھی\nصاف غنچوں کے چٹکنے کی صدا آتی تھی\n\nبلبلوں کی وہ صدائیں، وہ گلوں کی خوشبو\nدل کو الجھاتے تھے، سنبل کے وہ پر خم گیسو\nقمریاں کہتی تھیں شمشاد پہ یاہو یاہو\nفاختہ کی یہ صدا سرو پہ تھی ، کو کو کو\nوقت تسبیح کا تھا عشق کا دم بھرتے تھے\nاپنے معبود کی سب، حمد و ثنا کرتے تھے\n\nآئے سجادۂ طاعت پہ امامِ دو جہاں\nاس طرف طبل بجا یاں ہوئی لشکر میں اذاں\nوہ مصلی کہ زباں جن کی حدیث و قرآں\nوہ نمازی کہ جو ایماں کے تنِ پاک کی جاں\nزاہد ایسے تھے کہ ممتاز تھے، ابراروں میں\nعابد ایسے تھے کہ سجدے کیے تلواروں میں\n\nعرشِ اعظم کو ہلاتی تھیں دعائیں ان کی\nوجد کرتے تھے ملک، سن کے صدائیں ان کی\nوہ عمامے، وہ قبائیں، وہ عبائیں ان کی\nحوریں لیتی تھیں بصد شوق بلائیں ان کی\nذکرِ خالق میں لب ان کے جو ہلے جاتے تھے\nغنچے فردوس کے شادی سے کھلے جاتے تھے\n\nکیا جوانانِ خوش اطوار تھے، سبحان اللہ\nکیا رفیقانِ وفادار تھے، سبحان اللہ\nصفدر و غازی و جرار تھے، سبحان اللہ\nزاہد و عابد و ابرار تھے، سبحان اللہ\nزن و فرزند سے فرقت ہوئی، مسکن چھوڑا\nمگر احمد کے نواسے کا نہ دامن چھوڑا\n\nاللہ اللہ عجب فوج عجب غازی تھے\nعجب اسوار تھے بے مثل، عجب تازی تھے\nلائقِ مدح و سزاوارِ سر افرازی تھے\nگو بہت کم تھے، پہ آمادۂِ جاں بازی تھے\nپیاس ایسی تھی کہ آ آ گئی جاں ہونٹوں پر\nصابر ایسے تھے کہ پھیری نہ زباں ہونٹوں پر\n\nزہد میں حضرت سلماںؔ کے برابر کوئی\nدولتِ فقر و قناعت میں ابوذرؔ کوئی\nصدقِ گفتار میں عمارؔ کا ہمسر کوئی\nحمزۂؔ عصر کوئی مالکِ اشترؔ کوئی\nہوں گے ایسے ہی محمدؔ کے جو شیدا ہوں گے\nپھر جہاد ایسا نہ ہوگا، نہ وہ پیدا ہوں گے\n\nگو مصیبت میں تلاطم میں، تباہی میں رہے\nسرکٹے پاؤں مگر راہِ الٰہی میں رہے\nیوں سرافراز، وہ سب لشکرِ شاہی میں رہے\nجس طرح تیغِ دو دم دستِ سپاہی میں رہے\nاس مصیبت میں نہ پایا کبھی شاکی ان کو\nآبرو ساقیِٔ کوثر نے عطا کی ان کو\n\nوہ تخشع، وہ تضرع، وہ قیام اور وہ قعود\nوہ تذلل وہ دعائیں وہ رکوع اور وہ سجود\nیادِ حق دل میں، تو سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ درود\nیہ دعا خالقِ اکبر سے کہ اے ربِ ودود\nیوں لٹیں ہم کہ، نہ آل اور نہ اولاد رہے\nمگر احمدؔ کے نواسے کا گھر آباد رہے\n\nموم فولاد ہو آوازوں میں وہ سوز و گداز\nاپنے معبود سے سجدوں میں عجب راز و نیاز\nسر تو سجادوں پہ تھے عرش معلی پہ نماز\nشیر دل منتخبِ دہر وحید و ممتاز\nچاند شرمندہ ہو، چہرے متجلی ایسے\nنہ امام ایسا ہوا پھر نہ مصلی ایسے\n\nجب فریضے کو ادا کر چکے وہ خوش کردار\nکس کے کمروں کو بصد شوق لگائے ہتھیار\nجلوہ فرما ہوئے گھوڑے پہ شۂ عرش وقار\nعلمِ فوج کو عباس نے کھولا اک بار\nدشت میں نکہتِ فردوس بریں آنے لگی\nعرش تک اس کے پھریرے کی ہوا جانے لگی\n\nلہر وہ سبز پھریرے کی، وہ پنجے کی چمک\nشرم سے ابر میں چھپ جاتا تھا خورشید فلک\nکہتے تھے صلِ علیٰ چرخ پہ اٹھ اٹھ کے ملک\nدنگ تھے سب وہ سماں سے تھا سماں تا بہ فلک\nکہیے پستی اسے جو اوج ہما نے دیکھا\nوہ سماں پھر نہ کبھی ارض و سما نے دیکھا\n\nاس طرح جب علمِ دلبرِ زہرا جائے\nکس سے پھر معرکۂ رزم میں ٹھہرا جائے\nسانپ دشمن کی نہ کیوں چھاتی پہ لہرا جائے\nلہر میں تا بہ فلک جس کا پھریرا جائے\nرفع شر کو، علم خیر بشر آیا تھا\nسورۂ نصر پئے فتح و ظفر آیا تھا\n\nوہ علم دار کہ جو شیرِ الٰہی کا خلف\nگوہر بحرِ وفا، نیرِ دیں درِ نجف\nفخرحمزہؔ سے نمودار کا جعفرؔ کا شرف\nکس طرح چاند کہوں، چاند میں ہے عیب کلف\nکس نے پایا وہ جو تھا جاہ و حشم ان کے لیے\nیہ علم کے لیے تھے اور علم ان کے لیے\n\nسرو شرمائے، قد اس طرح کا، قامت ایسی\nاسد اللہ کی تصویر تھے، صورت ایسی\nشیر نعروں سے دہل جاتے تھے ، صولت ایسی\nجا کے پانی نہ پیا نہر پہ ہمت ایسی\nجان جب تک تھی اطاعت میں رہے بھائی کی\nتھے علم دار، مگر بچوں کی سقائی کی\n\nوہ بہشتی نے کیا، جس کو وفا کہتے ہیں\nہم انہیں عاشقِ شاہِ شہدا کہتے ہیں\nان کو قبلہ تو انہیں قبلہ نما کہتے ہیں\nجو بہادر ہیں، وہ شمشیرِ خدا کہتے ہیں\nعشقِ سردار و علمدار کا افسانہ ہے\nوہ چراغِ رہِ دیں ہے تو یہ پروانہ ہے\n\nاک طرف اکبرِ مہرو سا جوانِ نایاب\nکچھ جو بچپن تھا تو کچھ آمدِ ایام شباب\nروشنی چہرے پہ ایسی کہ خجل ہو مہتاب\nآنکھیں ایسی کہ رہا، نرگسِ شہلا کو حجاب\nجس نے ان گیسوؤں میں رخ کی ضیا کو دیکھا\nشبِ معراج میں، محبوبِ خدا کو دیکھا\n\nؔاے خوشا حسنِ رخِ یوسفِ کنعانِ حسن\nؔراحتِ روحِ حسین، ابن علی، جانِ حسن\nؔجسم میں زورِ علی، طبع میں احسانِ حسن\nؔہمہ تن خلقِ حسن، حسنِ حسن، شانِ حسن\nتن پہ کرتی تھی نزاکت سے گرانی پوشاک\nکیا بھلی لگتی تھی بچپن میں سہانی پوشاک\n\nاللہ اللہ اسدِ حق کے نواسوں کا جلال\nچاند سے چہروں پہ بل کھائے ہوئے زلفوں کے بال\nنیمچے کاندھوں پہ رکھے ہوئے، مانندِ ہلال\nگرچہ بچپن تھا، پہ رستم کو سمجھتے تھے وہ زال\nصف سے گھوڑوں کو بڑھا کر جو پلٹ جاتے تھے\nمورچے لشکرِ کفار کے ہٹ جاتے تھے\n\nآستینوں کو چڑھائے ہوئے آمادۂ جنگ\nوہی سارا اسد اللہ کا نقشہ، وہی ڈھنگ\nسرخ چہرے تھے کہ شیروں کا یہی ہوتا ہے رنگ\nولولہ صف کے الٹنے کا، لڑائی کی امنگ\nجسم پر تیر چلیں، نیزۂ خونخوار چلے\nشوق اس کا تھا کہ جلدی کہیں تلوار چلے\n\nیک بیک طبل بجا فوج میں گرجے بادل\nکوہ تھراے، زمیں ہل گئی گونجا جنگل\nپھول ڈھالوں کے چمکنے لگے تلواروں کے پھل\nمرنے والوں کو نظر آنے لگی شکلِ اجل\nواں کے چاؤش بڑھانے لگے دل لشکر کا\nفوجِ اسلام میں نعرہ ہوا یا حیدر کا\n\nشور میدانیوں میں تھا، کہ دلیرو نکلو!\nنیزہ بازی کرو، رہواروں کو پھیرو نکلو!\nنہر قابو میں ہے، اب پیاسوں کو گھیرو نکلو!\nغازیو! صف سے بڑھو غول سے شیرو نکلو!\nرستمو! دادِ وغا دو، کہ یہ دن داد کا ہے\nسامنا حیدر کرار کی اولاد کا ہے\n\nشور سادات میں تھا، یا شۂ مرداں مددے\nکعبۂ دیں مددے، قبلۂ ایماں مددے\nقوتِ بازوئے پیغمبرِ ذی شاں مددے\nدم تائید ہے، اے فخرِ سلیماں مددے\nتیسرا فاقہ ہے، طاقت میں کمی ہے مولا!\nطلب قوتِ ثابت قدمی ہے مولا!\n\nپیاس میں حرف نہ شکوے کا زباں پر لائیں\nدم بدم سینوں پہ فاقوں میں سنانیں کھائیں\nدل نہ تڑپے، جو دمِ نزع نہ پانی پائیں\nتیرے فرزند کی تائید کریں، مرجائیں\nلاشے مقتل میں ہوں لاشِ شہ دلگیر کے پاس\nسر ہوں نیزے پہ سرِ حضرتِ شبیر کے پاس\n\nسامنے بڑھ کے یکایک صفِ کفار آئی\nجھوم کر تیرہ گھٹا، تاروں پہ اک بار آئی\nروزِ روشن کے چھپانے کو شبِ تار آئی\nتشنہ کاموں کی طرف، تیروں کی بوچھار آئی\nہنس کے منہ بھائی کا شاہِ شہدا نے دیکھا\nاپنے آقا کو بہ حسرت رفقا نے دیکھا\n\nعرض عباسؔ نے کی جوش ہے جراروں کو\nتیر سب کھاتے ہیں، تولے ہوئے تلواروں کو\nمیہمانوں کا نہیں پاس، ستمگاروں کو\nمصلحت ہو تو رضا دیجیے، غمخواروں کو\nرو سیاہوں کو مٹا دیں کہ بڑھے آتے ہیں\nہم جو خاموش ہیں وہ منہ پہ چڑھے آتے ہیں\n\nیہی ہنگامہ رہا صبح سے، تا وقتِ زوال\nلاش پر لاش گری، بھر گیا میدانِ قتال\nسرخرو خلق سے اٹھے، اسد اللہ کے لال\nمورچے سب تہہ و بالا تھے، پرے سب پامال\nکھیت ایسے بھی کسی جنگ میں کم پڑتے ہیں\nجو لڑا سب یہی سمجھے کہ علی لڑتے ہیں\n\nقاسم و اکبر و عباس کا اللہ رے جہاد\nغل ہر اک ضرب پہ تھا اب ، ہوئی دنیا برباد\nالاماں کا تھا کہیں شور کہیں تھی فریاد\nدے گئے خلق میں مردانگیٔ حرب کی داد\nگو وہ دنیا میں نہیں، عرش مقام ان کا ہے\nآج تک عالمِ ایجاد میں نام ان کا ہے\n\nدوپہر میں وہ چمن بادِ خزاں نے لوٹا\nپتا پتا ہوا تاراج تو بوٹا بوٹا\nباپ بیٹے سے چھٹا، بھائی سے بھائی چھوٹا\nابنِ زہراؔ کی کمر جھک گئی بازو ٹوٹا\nپھر سے نہ یاور، نہ وہ جاں باز نہ وہ شیدا تھے\nظہر کے وقت حسینؔ ابنِ علی تنہا تھے\n\nساتھ جو جو کہ بہادر تھے، وطن سے آئے\nسامنے سوتے تھے ریتی پہ سنائیں کھائے\nدھوپ میں پیاس سے مثلِ گلِ تر مرجھائے\nمرگئے پر نہ غریبوں نے کفن تک پائے\nدھوپ پڑتی تھی یہ دن چرخ نے دکھلایا تھا\nنہ تو چادرتھی کسی لاش پہ نے سایا تھا\n\nصاحبِ فوج پہ طاری تھا عجب رنج و ملال\nزرد تھا رنگ، تو آنکھیں تھیں لہو رونے سے لال\nکبھی بھائی کا الم تھا، کبھی بیٹے کا خیال\nکبھی دھڑکا تھا کہ لاشیں نہ کہیں ہوں پامال\nکبھی بڑھتے تھے وغا کو، کبھی رک جاتے تھے\nسیدھے ہوتے تھے کبھی، اور کبھی جھک جاتے تھے\n\nبڑھ کے چلاتے تھے بے درد کہ اب آپ آئیں\nجوہر تیغِ شہنشاہِ نجف دکھلائیں\nمرنے والے نہیں جیتے جو سنائیں کھائیں\nکاٹ لیں آپ کا سر تن سے تو فرصت پائیں\nپسرِ سعد سے وعدہ ہے، صلا لینے کا\nحکم ہے خیمۂ اقدس کے جلا دینے کا\n\nشہ نے فرمایا، مجھے خود ہے شہادت منظور\nنہ لڑائی کی ہوس ہے، نہ شجاعت کا غرور\nجنگ منظور نہ تھی ان سے پہ اب ہوں مجبور\nخیر، لڑ لو کہ ستاتے ہیں یہ بے جرم و قصور\nذبح کرنے کے لیے لشکرِ ناری آئے\nکہیں جلدی مرے سر دینے کی باری آئے\n\nحکم پانا تھا کہ شیروں نے اڑائے تازی\nمثل شہباز گیا ایک کے بعد اک غازی\nواہ ری حرب، خوشا ضرب، زہے جانبازی\nاڑ گیا ہاتھ بڑھا جو پئے دست اندازی\nلوٹتے رن میں سر و جسم نظر آتے تھے\nایک حملے میں قدم فوج کے جم جاتے تھے\n\nجس پہ غصہ میں گئے صید پہ شہباز گرا\nیہ کماں کٹ کے گری، وہ قدر انداز گرا\nجب گرا خاک پہ گھوڑے سے، تو ممتاز گرا\nنہ اٹھا پھر کبھی، جو تفرقہ پرداز گرا\nہاتھ منہ کٹ گئے، سر اڑ گئے جی چھوٹ گئے\nمورچے ہو گئے پامال، پرے ٹوٹ گئے\n\nبعد غیروں کے عزیزوں نے کیا عزمِ نبرد\nسر کو نہیوڑا کے بھرا سبطِ نبیؐ نے دم سرد\nہوک اٹھی کبھی سینے میں، تو دل میں کبھی درد\nسرخ ہوتا تھا کبھی چاند سا چہرہ کبھی زرد\nکوئی گل رو تو کوئی سرو سہی بالا تھا\nوہ بچھڑنے لگے، گودی میں جنہیں پالا تھا\n\nزلفوں والا تھا کوئی، کوئی مرادوں والا\nکوئی بھائی کا پسر، کوئی بہن کا پالا\nچاند سا منہ جو کسی کا تھا تو گیسو ہالا\nکوئی قامت میں بہت کم کوئی قد میں بالا\nنوجواں کون سا خوش رو و خوش انداز نہ تھا\nکتنے ایسے تھے کہ سبزہ ابھی آغاز نہ تھا\n\nہاتھ وہ بچوں کا، اور چھوٹی سی وہ تلواریں\nموم کردیتی تھیں فولاد کہ جن کی دھاریں\nآب ہو شیر کا زہرہ ہے، جسے وہ للکاریں\nبجلیاں کوند رہی ہیں کسے نیزہ ماریں\nکس بشاشت سے ہزاروں یہ، دلیر آتے ہیں\nبچے آتے ہیں کہ بپھرے ہوئے شیر آتے ہیں\n\nشہ نے فرمایا کہ سر کاٹ لو، حاضر ہوں میں\nنہ تو لڑنے میں، نہ مرجانے میں قاصر ہوں میں\nفوج بھی اب نہیں بے یاور و ناصر ہوں میں\nشہر و صحرا بھی تمہارا ہے، مسافر ہوں میں\nلوٹ لو پھونک دو، تاراج کرو بہتر ہے\nکلمہ گویو! یہ تمہارے ہی نبی کا گھر ہے\n\nکئی سیدانیاں خیمے میں ہیں پردے والی\nجن کا رتبہ ہے زمانے میں ہر اک پر حالی\nاب نہ وارث کوئی سر پر ہے، نہ کوی والی\nان کو دیجو! کوئی رہ جائے جو خیمہ خالی\nیہ نبی زادیاں بے پردہ نہ ہوئیں جس میں\nایک گوشہ ہو کہ سب بیٹھ کے روئیں جس میں\n\nسن کے ان باتوں کا اعدا نے دیا جو کہ جواب\nگر لکھوں اس کو تو ہو جائے جگر سنگ کا آب\nقلب تھرا گیا ہر گز نہ رہی ضبط کی تاب\nدیکھ کر رہ گئے گردوں کو، شۂ عرش جناب\nاشک خالی اسے کرتے ہیں جو دل بھر آئے\nآپ رونے کے لیے خیمے کے در پر آئے\n\nتھم کے چلائے کہ اے زینبؑ و ام کلثوم\nتم سے رخصت کو پھر آیا ہے حسینِ مظلوم\nآ مرے قتل کے درپے ہے یہ سب لشکرِ شوم\nہاں جگادو اسے غش ہو جو سکینہ معصوم\nنہیں ملتا جو زمانے سے گزر جاتا ہے\nکہہ دو عابدؔ سے کہ مرنے کو پدر جاتا ہے\n\nیہ صدا سن کے حرم خیمے سے، مضطر دوڑے\nشہ کی آواز پہ سب بے کس و بے پر دوڑے\nگر پڑیں سر سے ردائیں تو کھلے سر دوڑے\nبچے روتے ہوئے ماؤں کے برابر دوڑے\nرو کے چلائی سکینہ شہ والا آؤ!\nمیں تمہیں ڈھونڈتی تھی، دیر سے بابا آؤ!\n\nآؤ اچھے مرے بابا، میں تمہاری واری\nدیکھو تم بن ہیں گلے تک مرے آنسو جاری\nآج یہ کیا ہے کہ بھولے مرے خاطر داری\nہاتھ پھیلا کے کہو! آ مری بیٹی پیاری\nمنہ چھپانے کی ہے کیا وجہ نہ شرماؤ تم\nاب میں پانی بھی نہ مانگوں گی، چلے آؤ تم\n\nدیکھ کر پردہ سے یہ کہنے لگی، زینبِؑ زار\nابنِ زہراؔ تری مظلومی و غربت کے نثار\nآؤ چادر سے کروں پاک، میں چہرے کا غبار\nشہ نے فرمایا، بہن مر گئے سب مونس و یار\nتم نے پالا تھا جسے، ہم اسے رو آئے ہیں\nعلی اکبرؑ سے جگر بند کو کھو آئے ہیں\n\nمنہ دکھائیں کسے، سب سے ہے ندامت زینبؔ\nگھر میں آنے کی نہیں، بھائی کو مہلت زینبؔ\nکھینچ لائی ہے سکینہ کی محبت زینبؔ\nبھائی جاتا ہے، دکھا دو ہمیں صورت زینبؔ\nنہ تو سر کھولو، نہ منہ پیٹو، نہ فریاد کرو\nبھول جاؤ ہمیں، اللہ کو اب یاد کرو\n\nصبر سے خوش ہے خدا، اے مری غم خوار بہن\nسہل ہوجاتا ہے، جو امر ہو دشوار بہن\nاپنی ماں کا ہے طریقہ، تمہیں درکار بہن\nپھر میں کہتا ہوں سکینہ سے خبردار بہن\nناز پرور ہے مرے بعد الم اس پہ نہ ہو\nبُندے کانوں سے اتارو کہ ستم اس پہ نہ ہو\n\nکہیو عابد سے یہ پیغام مرا بعد سلام\nغش تھے تم پھر گئے دروازے تلک آ کے امام\nقید میں پھنس کے نہ گھبرائیو اے گل اندام\nکاٹیو صبر و رضا سے، سفرِ کوفہ و شام\nناؤ منجدھار میں ہے شور طلاطم جانو!\nنا خدا جاتا ہے، گھر جانے اور اب تم جانو!\n\nکہہ کے یہ باگ پھرآئی طرفِ لشکرِ شام\nپڑ گیا خیمۂ ناموس نبی میں کہرام\nرن میں گھوڑے کو اڑاتے ہوئے آئے جو امام\nرعب سے فوج کے دل ہل گئے کانپے اندام\nسر جھکے ان کے جو کامل تھے زباں دانی میں\nاڑ گئے ہوش فصیحوں کے رجز خوانی میں\n\nتھا یہ نعرہ کہ محمد کا نواسا ہوں میں\nمجھ کو پہچانو! کہ خالق کا شناسا ہوں میں\nزخمی ہونے سے نہ مرنے سے ہراسا ہوں میں\nتیسرا دن ہے یہ گرمی میں کہ پیاسا ہوں میں\nچین کیا چیز ہے، آرام کسے کہتے ہیں؟\nاس پہ شکوہ نہیں کچھ، صبر اسے کہتے ہیں\n\nاس کا پیارا ہوں جو ہے ساقیِٔ حوضِ کوثر\nاس کا بیٹا ہوں، جو ہے فاتحِ بابِ خیبر\nاس کا فرزند ہوں کی جس نے مہم بدر کی سر\nاس کا دلبر ہوں میں، دی جس کو نبی نے دختر\nصاحبِ تخت ہوئے، تیغ ملی، تاج ملا\nدوش احمدؔ پہ انہیں رتبۂ معراج ملا\n\nبے وطن ہوں نہ مسافر کو ستاؤ اللہ\nقتل کیوں کرتے ہو تم، کون سا میرا ہے گناہ\nاب نہ یاور ہے کوئی ساتھ نہ لشکر نہ سپاہ\nتم کو لازم ہے غریبوں پہ ترحم کی نگاہ\nہاتھ آئے گا نہ انعام، نہ زر پاؤگے\nیاد رکھو! مرا سر کاٹ کے پچھتاؤگے\n\nنہ بھی ختم ہوئی تھی یہ مسلسل تقریر\nحجت اللہ کے فرزند پہ چلنے لگے تیر\nچوم کر تیغ کے قبضے کو پکارے شبیر\nلو خبردار! چمکتی ہے علیؔ کی شمشیر\nپسرِ فاتحِ صفین و حنین آتا ہے\nلو صفیں باندھ کے روکو تو حسینؔ آتا ہے\n\nلو کھنچو تیغِ دوسر، فوج پہ آفت آئی\nلو ہلا، قائمۂ عرش، قیامت آئی\nفتح تسلیم کو، آداب کو نصرت آئی\nفخر سے غاشیہ برداری کو شوکت آئی\nچوم لوں پاؤں، جلال اس تگ و دو میں آیا\nہاتھ جوڑے ہوئے اقبال جلو میں آیا\n\nآپ سیدھے جو ہوئے رخش نے بدلے تیور\nدونوں آنکھیں ابل آئیں کہ ڈرے بانیِٔ شر\nتھوتھنی مل گئی سینے سے کیا، دُم کو چنور\nمثلِ طاؤس اڑا، گاہ اِدھر، گاہ اُدھر\nدم بدم گرد نسیمِ سحری پھرتی تھی\nجھوم کر پھرتا تھا، گویا کہ پری پھرتی تھی\n\nابر ڈھالوں کا اٹھا تیغِ دو پیکر چمکی\nبرق چھپتی ہے، یہ چمکی تو برابر چمکی\nسوئے پستی کبھی کوندی، کبھی سر پر چمکی\nکبھی انبوہ کے اندر، کبھی باہر چمکی\nجس طرف آئی وہ ناگن اسے ڈستے دیکھا\nمینہ سروں کا صفِ دشمن میں برستے دیکھا\n\nدھار ایسی کی رواں ہوتا ہے دھارا جیسے\nگھاٹ وہ گھاٹ کہ دریا کا کنارا جیسے\nچمک ایسی کہ حسینوں کا اشارا جیسے\nروشنی وہ کہ گرے ٹوٹ کے تارا جیسے\nکوندنا برق کا شمشیر کی ضو میں دیکھا\nکبھی ایسا نہیں دم خم مہ نو میں دیکھا\n\nاک اشارے میں، برابر کوئی دو تھا کوئی چار\nنہ پیادہ کوئی بچتا تھا سلامت نہ سوار\nبرق گرتی تھی کہ چلتی تھی صفوں پر تلوار\nغضب اللہ علیہم کے عیاں تھے آثار\nموت ہر غول کو برباد کیے جاتی تھی\nآگ گھیرے ہوئے دوزخ میں لیے جاتی تھی\n\nتیغیں آری ہوئی ڈھالوں کے اڑے پرکالے\nبند سب بھول گئے خوف سے نیزوں والے\nجو بڑھے ہاتھ سرِ دست قلم کر ڈالے\nتیغ کہتی تھی، یہ سب ہیں مرے دیکھے بھالے\nصف بہ صف باندھ کے نیزوں کو عبث تولے ہیں\nایسے عقدے مرے ناخن نے بہت کھولے ہیں\n\nجب کبھی جائزۂِ فوج ستم لیتی ہوں\nموت سے رحم نہ کرنے کی قسم لیتی ہوں\nدو زبانوں سے سدا کارِ قلم لیتی ہوں\nچہرے کٹ چکتے ہیں، لشکر کے تو دم لیتی ہوں\nہر طرف ہو کے، عدم کے سفری ہوتے ہیں\nطبقلیں کٹتی ہیں، چہرے نظری ہوتے ہیں\n\nوہ برش وہ چمک اس کی وہ صفائی اس کی\nکسی تلوار نے تیزی نہیں پائی اس کی\nاس کا بازو جو اڑایا، تو کلائی اس کی\nمل گئی جس کے گلے سے اجل آئی اس کی\nصورتِ مرگ کسی نے بھی نہ آتے دیکھا\nسر پہ چمکی تو کمر سے اسے جاتے دیکھا\n\nکبھی ڈھالوں پہ گری اور کبھی تلواروں پر\nپیدلوں پر کبھی آئی کبھی اسواروں پر\nکبھی ترکش پہ رکھا منہ، کبھی سوفاروں پر\nکبھی سر کاٹ کے آ پہنچی کمانداروں پر\nگر کے اس غول سے اٹھی تو اس انبوہ میں تھی\nکبھی دریا میں، کبھی بر میں، کبھی کوہ میں تھی\n\nکبھی چہرہ کبھی شانہ، کبھی پیکر کاٹا\nکبھی در آئی جگر میں، تو کبھی سر کاٹا\nکبھی مغفر، کبھی جوشن، کبھی بکتر کاٹا\nطول میں راکب و مرکب کا برابر کاٹا\nبرشِ تیغ کا غسل، قاف سے تا قاف رہا\nپی گئی خون ہزاروں کا، پہ منہ صاف رہا\n\nنہ رکی خود پہ وہ، اور نہ سر پر ٹھہری\nنہ کسی تیغ پہ دم بھر، نہ سپر پر ٹھہری\nنہ جبیں پر نہ گلے پر، نہ جگر پر ٹھہری\nکاٹ کر زین کو، گھوڑے کی کمر پر ٹھہری\nجان گھبرا کے تنِ دشمنِ دیں سے نکلی\nہاتھ بھر ڈوب کے تلوار، زمیں سے نکلی\n\nکٹ گئی، تیغ تلے جب صفِ دشمن آئی\nیک بیک فصلِ فراقِ سر و گردن آئی\nبگڑی اس طرح لڑائی کہ نہ کچھ بن آئی\nتیغ کیا آئی کہ اڑتی ہوئی ناگن آئی\nغل تھا بھاگو کہ یہ ہنگام ٹھہرنے کا نہیں\nزہر اس کا جو چڑھے گا تو اترنے کا نہیں\n\nوہ چمک اس کی، سروں کا وہ برسنا، ہرسو\nگھاٹ سے تیغ کے، اک حشر بپا تھا لبِ جو\nآب میں صورت آتش تھی، جلا دینے کی خو\nاور دم بڑھتا تھا، پیتی تھی جو اعدا کا لہو\nکبھی جوشن، تو کبھی صدرِ کشادہ کاٹا\nجب چلی ضربتِ سابق سے زیادہ کاٹا\n\nتنِ تنہا شۂ دیں لاکھ سواروں سے لڑے\nبے سپر برچھیوں والوں کی قطاروں سے لڑے\nصورتِ شیر خدا، ظلم شعاروں سے لڑے\nدو سے اک لڑ نہیں سکتا، یہ ہزاروں سے لڑے\nگر ہو غالب، تو ہزاروں پہ وہی غالب ہو\nجو دل و جانِ علیؔ ابن ابی طالبؔ ہو\n\nتیسرے فاقے میں یہ جنگ، یہ حملے یہ جدال\nپیاس وہ پیاس کہ نیلم تھے سراسرلب لعل\nدھوپ وہ دھوپ کہ سوکھے ہوئے تھے تازہ نہال\nلُو وہ لُو جس کی حرارت سے پگھلتے تھے جبال\nسنگ ریزوں میں، تب و تاب تھی انگاروں کی\nسر پہ یا دھوپ تھی، یا چھاؤں تھی تلواروں کی\n\nشیر سے تھے کبھی جنگل میں، ترائی میں کبھی\nڈھال کو چہرے پہ روکا نہ لڑائی میں کبھی\nتیغ حیدر نے کمی کی نہ صفائی میں کبھی\nفرق آیا نہ سر و تن کی جدائی میں کبھی\nکبھی ابرو کا بھی ایسا نہ اشارا دیکھا\nجس پہ اک وار کیا اس کو دوبارا دیکھا\n\nآنکھ وہ آنکھ کہ شیروں کی جلالت جس میں\nرخش وہ رخش، کہ سب برق کی سرعت جس میں\nتیغ وہ تیغ، عیاں موت کی صورت جس میں\nہاتھ وہ ہاتھ، ید اللہ کی طاقت جس میں\nروک لے دار، جگر کیا کسی بے پیر کا ہے\nزور وہ، جس میں اثر فاطمہؔ کے شیر کا ہے\n\nجنگ میں پیاس کا صدمہ شۂ دیں سے پوچھو\nتنِ تنہا کی وغا، لشکرِ کیں سے پوچھا\nزلزلہ دشت پر آفت کا، زمیں سے پوچھو\nضربِ شمشیر دو سر، روحِ امیں سے پوچھو\nباپ اس فوج میں تنہا، پسر اس لشکر میں\nکربلا میں یہ تلاطم ہوا، یا خیبر میں\n\nاسد اللہ کے صدقے، شہ والا کے نثار\nوہی حملے تھے، وہی زور، وہی تھی تلوار\nفتحِ حیدر نے کیا جنگ میں خیبر کا حصار\nمورچے فوج کے، حضرت نے بھی توڑے کئی بار\nکیوں نہ ہو احمدِ مرسل کے نواسے تھے حسینؔ\nفرق اتنا تھا کہ دو روز کے پیاسے تھے حسینؔ\n\nہر طرف فوج میں غل تھا کہ دہای مولا!\nہم نے دیکھی ترے ہاتھوں کی صفائی مولا!\nالاماں خوب سزا جنگ کی پائی مولا!\nآپ کرتے ہیں بروں سے بھی بھلائی مولا!\nہاتھ ہم باندھتے ہیں پھینک کے شمشیروں کو\nبخشیے امتِ نا اہل کی تقصیروں کو\n\nآتی ہاتف کی یہ آواز کہ اے عرشِ مقام\nیہ وغا تیسرے فاقے میں، بشر کا نہیں کام\nاے محمدؔ کے جگر بند، امام ابنِ امام\nلوحِ محفوظ پہ مرقوم ہے، صابر ترا نام\nاب نہیں حکم لعینوں سے وغا کرنے کا\nہاں! یہی وقت ہے وعدے کے وفا کرنے کا\n\nآج ہے آٹھوں بہشتوں کی نئی تیاری\nنخل سرسبز ہیں فردوس میں نہریں جاری\nشب سے حوریں ہیں مکلل بجواہر ساری\nخانۂ دوست میں ہے، دوست کی مہانداری\nپیشوائی کو رسول الثقلین آتے ہیں\nعرش تک شور یہی ہے کہ حسینؔ آتے ہیں\n\nتھم گئے سن کے یہ آواز شۂ جن و بشر\nروک کر تیغ کو فرمایا کہ حاضر ہے یہ سر\nعید ہو جلد اگر ذبح کریں بانیِ شر\nشمرِؔ اظلم ہے کدھر؟ کھینچ کے آئے خنجر\nہے وہ عاشق جو فدا ہونے کو موجود رہے\nبس مری فتح یہی ہے کہ وہ خوشنود رہے\n\nکہہ کے یہ میان میں مولا نے رکھی تیغِ دو دم\nہاتھ اٹھا کر یہ اشارہ کیا گھوڑے کو کہ تھم\nرہ گیا سر کو جھکا کر فرسِ تیز قدم\nچار جانب سے مسافر پہ چلے تیرِ ستم\nنیزے یوں گرد تھے جسے گلِ تر خاروں میں\nگھر گئے سبطِ نبی، ظلم کی تلواروں میں\n\nپہلے تیروں سے کمانداروں نے چھاتی چھانی\nنیزے پہلو پہ لگاتے تھے ستم کے بانی\nسر پہ تلواریں چلیں، زخمی ہوئی پیشانی\nخوں سے تر ہو گیا حضرت کا رخِ نورانی\nجسم سب چور تھا، پرزے تھے زرہ جامے کے\nپیچ کٹ کٹ کے کھلے جاتے تھے عمامے کے\n\nبرچھیاں مارتے تھے، گھاٹ پہ جو تھے پہرے\nکس طرف جائے، کہاں تیغوں میں بیکس ٹھہرے\nایک ہزار اور کوئی سو زخم تھے تن پر گہرے\nدیکھنے والوں کے ہو جاتے تھے، پانی زہرے\nخوں میں ڈوبا ہوا وہ مصحفِ رخ سارا تھا\nجزو ہر اک تن شبیر کا سی پارا تھا\n\nہاتھ سے باگ جدا تھی، تو رکابوں سے قدم\nغش میں سیدھے کبھی ہوتے تھے فرس پر کبھی خم\nبہتے تھے پہلوؤں سے، خوں کے دڑیڑے پیہم\nکوئی بیکس کا مددگار نہ تھا ہائے ستم\nمارے تلواروں کے مہلت تھی نہ دم لینے کی\nکوششیں ہوتی تھیں کعبے کے گرادینے کی\n\nدشت سے آتی تھی زہراؔ کی صدا ہائے حسینؔ\nمیرے بیکس، میرے بے بس، مرے دکھ پائے حسینؔ\nدر سے چلاتی تھی زینبؔ مرے ماں جائے حسینؔ\nکون تیغوں سے بچا کر تجھے لے آئے حسینؔ\nفاطمہؔ رو رہی ہیں، ہاتھوں سے پہلو تھامے\nحکم گر ہو تو بہن دوڑ کے بازو تھامے\n\nہائے سیدا ترا تن اور ستم کے بھالے\nکس کو چلاؤں کہ جیتے نہیں مرنے والے\nاس پہ یہ ظلم دکھوں سے جسے زہراؔ پالے\nکون سر سے ترے تلواروں کی آفت ٹالے\nکون فریاد سنے بے سر و سامانوں کی\nیاں تو بستی بھی نہیں کوئی مسلمانوں کی\n\nنہ رہا جب کہ ٹھہرنے کا فرس پر یارا\nگرپڑا خاک پہ، وہ عرش خدا کا تارا\nغش سے کچھ دیر میں چونکا جو علیؔ کا پیارا\nنیزہ سینے پہ، سناں ابنِ انس نے مارا\nواں تو نیزے کی انی پشت سے باہر نکلی\nیاں بہن خیمے کی ڈیوڑھی سے کھلے سر نکلی\n\nکھینچ کر سینے سے نیزہ جو ہٹا دشمنِ دیں\nجھک کے حضرت نے رکھی خاک پہ سجدے میں جبیں\nتیز کرتا ہوا خنجر کو بڑھا شمر لعیں\nآسماں ہل گئے تھرا گئی مقتل کی زمیں\nکیا کہوں تیغ کو کس طرح گلے پر رکھا\nپاؤں قرآں پہ رکھا، حلق پہ خنجر رکھا\n\nڈھانپ کر ہاتھوں سے منہ بنتِ علی چلائی\nذبح ہوتے ہو مرے سامنے ہے ہے بھائی\nضربِ اول تھی کہ تکبیر کی آواز آئی\nگر پڑی خاک پہ غش کھا کے علی کی جائی\nآنکھ کھولی تھی کہ ہنگامۂ محشر دیکھا\nسر اٹھایا تو سرِ شہ کو سناں پر دیکھا\n\nرو کے چلائی کہ ہے ہے ہمرے مظلوم حسینؔ\nفوجِ اعدا میں، ترے قتل کی ہے دھوم حسینؔ\nکچھ مجھے آنکھوں سے ہوتا نہیں معلوم حسینؔ\nہائے میں رہ گئی دیدار سے محروم حسینؔ\nمڑ کے دیکھو کہ مصیبت میں پڑی ہوں بھائی\nننگے سر بلوۂ اعدا میں کھڑی ہوں بھائی\n\nبس انیسؔ آگے نہ لکھ زینبِ ناشاد کے بین\nقتل ہو جانے پہ بھی دھوپ میں تھی لاشِ حسینؔ\nقبر میں بھی نہ ملا احمدِؔ مختار کو چین\nگھر جلا، قید ہوئی، آلِ رسول الثقلین\nکتنے گھر شاہ کے مر جانے سے برباد ہوئے\nلٹ گئے یوں کہ نہ سادات پھر آباد ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%85%DA%A9_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D9%86_%D8%AA%DA%A9%D9%84%D9%85_%DB%81%DB%92%D8%8C_%D9%81%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "نمکیں حرف ہے مرا یہ فصیح", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نمکیں حرف ہے مرا یہ فصیح\nکل شئ من الملیح ملیح\n\nو قنا ربنا عذاب النار\nشمع کی ہے ہمیشہ یہ تسبیح\n\nلمن الماء کل شئ حی\nشرب مے سے ہوا ہے مجھ کو صحیح\n\nمثلہ لیس واحد غرا\nماہ کنعاں بھی تھا اگرچہ فصیح\n\nجی میں آوے سو کہہ تو تاباںؔ کو\nلیس من فیک شتمنا بقبیح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%85%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B1%D9%81_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D9%81%D8%B5%DB%8C%D8%AD"} {"title": "نندیا پور", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دور بہت ہی دور یہاں سے\nاور اس سے بھی دور\nندی اک نکلی ہے جہاں سے\nاور اس سے بھی دور\nدلدل ہے گہری سی جہاں پر\nدلدل سے بھی دور\nجنگل میں ہے بڑھیا کا گھر\nجنگل سے بھی دور\nیاد ہے اس کو ایک کہانی\nہے اس میں اک حور\nخود یہ ہے اک ملک کی رانی\nملک ہے نندیا پور\nاس جنگل کو دیکھوں گا میں\nجنگل سے بھی دور\nحور کے ملک میں جاؤں گا میں\nیعنی نندیا پور", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D9%88%D8%B1"} {"title": "ننگ نہیں مجھ کو تڑپنے سے سنبھل جانے کا", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ننگ نہیں مجھ کو تڑپنے سے سنبھل جانے کا\nڈر ہے اس خنجر مژگاں کے پھسل جانے کا\n\nنبض زنجیر کے ہلنے سے چھٹے ہے عاشق\nبو الہوس کہوے ہوا شوق نکل جانے کا\n\nگرچہ وہ رشک چمن مجھ سے ہے باغی لیکن\nآتش گل سے ہے خوف اس کے کمہل جانے کا\n\nتلخ لگتا ہے اسے شہر کی بستی کا سواد\nذوق ہے جس کو بیاباں کے نکل جانے کا\n\nجوں صبا خانقہوں میں جو کبھو جاتا ہوں\nقصد ہے غنچہ عماموں کے کچل جانے کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%86%DA%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%DA%91%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%86%D8%A8%DA%BE%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ننگی آوازیں", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "خالی بوتلیں، خالی ڈبے", "year": "1950", "text_ur": "بھولو اور گاما دو بھائی تھے۔ بے حد محنتی۔ بھولو قلعی گرتھا۔ صبح دھونکنی سر پر رکھ کر نکلتا اور دن بھر شہر کی گلیوں میں ’’بھانڈے قلعی کرالو‘‘ کی صدائیں لگاتا رہتا۔ شام کوگھر لوٹتا تو اس کے تہہ بند کی ڈب میں تین چار روپے کا کریانہ ضرور ہوتا۔\n\nگاما خوانچہ فروش تھا۔ اس کو بھی دن بھر چھابڑی سر پر اٹھائے گھومنا پڑتا تھا۔ تین چار روپے یہ بھی کما لیتا تھا۔ مگر اس کو شراب کی لت تھی۔ شام کو دِینے کے بھٹیار خانے سے کھانا کھانے سے پہلے ایک پاؤ شراب اسے ضرور چاہیے تھی۔ پینے کے بعد وہ خوب چہکتا۔ دینے کے بھٹیار خانے میں رونق لگ جاتی۔ سب کو معلوم تھا کہ وہ پیتا ہے اور اسی کے سہارے جیتا ہے۔\n\nبھولو نے گاما کو، جو کہ اس سے دو سال بڑا تھا بہت سمجھایا کہ دیکھو یہ شراب کی لت بہت بری ہے۔ شادی شدہ ہو، بیکار پیسہ برباد کرتے ہو۔ یہی جو تم ہر روز ایک پاؤ شراب پر خرچ کرتے ہو بچا کر رکھو تو بھابھی ٹھاٹ سے رہا کرے۔ ننگی بُچی اچھی لگتی ہے تمہیں اپنی گھر والی۔ گاما نے اس کان سنا اس کان سے نکال دیا۔ بھولو جب تھک ہار گیا تو اس نے کہنا سننا ہی چھوڑ دیا۔\n\nدونوں مہاجر تھے۔ ایک بڑی بلڈنگ کے ساتھ سرونٹ کوارٹر تھے۔ ان پر جہاں اوروں نے قبضہ جما رکھا تھا، وہاں ان دونوں بھائیوں نے بھی ایک کوارٹر کو جو کہ دوسری منزل پر تھا اپنی رہائش کے لیے محفوظ کرلیا تھا۔ سردیاں آرام سے گزر گئیں۔ گرمیاں آئیں تو گاما کو بہت تکلیف ہوئی۔ بھولو تو اوپر کوٹھے پر کھاٹ بچھا کر سو جاتا تھا۔ گاما کیا کرتا۔ بیوی تھی اور اوپر پردے کا کوئی بندوبست ہی نہیں تھا۔ ایک گاما ہی کو یہ تکلیف نہیں تھی۔ کوارٹروں میں جو بھی شادی شدہ تھا اسی مصیبت میں گرفتار تھا۔\n\nکلّن کو ایک بات سوجھی۔ اس نے کوٹھے پر کونے میں اپنی اور اپنی بیوی کی چارپائی کے اردگرد ٹاٹ تان دیا۔ اس طرح پردے کا انتظام ہوگیا۔ کلّن کی دیکھا دیکھی دوسروں نے بھی اس ترکیب سے کام لیا۔ بھولو نے بھائی کی مدد کی اور چند دنوں ہی میں بانس وغیرہ گاڑ کر ٹاٹ اور کمبل جوڑ کر پردے کا انتظام کردیا۔ یوں ہوا تو رک جاتی تھی مگر نیچے کوارٹر کے دوزخ سے ہر حالت میں یہ جگہ بہتر تھی۔\n\nاوپر کوٹھے پر سونے سے بھولو کی طبیعت میں ایک عجیب انقلاب پیداہوگیا۔ وہ شادی بیاہ کا بالکل قائل نہیں تھا۔ اس نے دل میں عہد کر رکھا تھا کہ یہ جنجال کبھی نہیں پالے گا۔ جب گاما کبھی اس کے بیاہ کی بات چھیڑتا تو وہ کہا کرتا: نا بھائی، میں اپنے نِروئے پنڈے پر جونکیں نہیں لگوانا چاہتا۔ لیکن جب گرمیاں آئیں اور اس نے اوپر کھاٹ بچھا کر سونا شروع کیا تو دس پندرہ دن ہی میں اس کے خیالات بدل گئے۔ ایک شام کو دِینے کے بھٹیار خانے میں اس نے اپنے بھائی سے کہا،’’میری شادی کردو، نہیں تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔‘‘\n\nگاما نے جب یہ سنا تو اس نے کہا،’’یہ کیا مذاق سو جھا ہے تمہیں؟‘‘\n\nبھولو بہت سنجیدہ ہوگیا، ’’تمہیں نہیں معلوم۔۔۔ پندرہ راتیں ہوگئی ہیں مجھے جاگتے ہوئے۔‘‘\n\nگاما نے پوچھا، ’’کیوں کیاہوا؟‘‘\n\n’’کچھ نہیں یار۔۔۔ دائیں بائیں جدھر نظر ڈالو کچھ نہ کچھ ہورہا ہوتا ہے۔۔۔ عجیب عجیب آوازیں آتی ہیں۔ نیند کیا آئے گی خاک!‘‘\n\nگاما زور سے اپنی گھنی مونچھوں میں ہنسا۔ بھولو شرما گیا، ’’وہ جو کلن ہے، اس نے تو حد ہی کردی ہے۔۔۔ سالا رات بھر بکواس کرتا رہتا ہے۔ اس کی بیوی سالی کی زبان بھی تالو سے نہیں لگتی۔۔۔ بچے پڑے رو رہے ہیں مگر وہ۔۔۔‘‘\n\nگاما حسبِ معمول نشے میں تھا۔ بھولو گیا تو اس نے دینے کے بھٹیار خانے میں اپنے سب واقف کاروں کو خوب چہک چہک کر بتایا کہ اس کے بھائی کو آج کل نیند نہیں آتی۔ اس کا باعث جب اس نے اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا تو سننے والوں کے پیٹ میں ہنس ہنس کر بل پڑ گئے۔ جب یہ لوگ بھولو سے ملے تو اس کا خوب مذاق اڑایا۔ کوئی اس سے پوچھتا، ’’ہاں بھئی، کلن اپنی بیوی سے کیا باتیں کرتا ہے۔‘‘ کوئی کہتا، ’’میاں مفت میں مزے لیتے ہو۔۔۔ ساری رات فلمیں دیکھتے رہتے ہو۔۔۔ سو فیصدی گالی بولتی۔‘‘\n\nبعضوں نے گندے گندے مذاق کیے۔ بھولو چڑ گیا۔ گاما صوفی حالت میں تھا تو اس نے اس سے کہا، ’’ تم نے تو یار میرا مذاق بنا دیا ہے۔۔۔ دیکھو جو کچھ میں نے تم سے کہا یہ جھوٹ نہیں۔ میں انسان ہوں۔ خدا کی قسم مجھے نیند نہیں آتی۔ آج بیس دن ہوگئے ہیں جاگتے ہوئے۔۔۔ تم میری شادی کا بندوبست کردو، ورنہ قسم پنچ تن پاک کی میرا خانہ خراب ہو جائے گا۔۔۔ بھابھی کے پاس میرا پانسو روپیہ جمع ہے۔۔۔ جلدی کردو بندوبست!‘‘ گاما نے مونچھ مروڑ کر پہلے کچھ سوچا پھر کہا،’’اچھا ہو جائے گا بندوبست۔ تمہاری بھابھی سے آج ہی بات کرتا ہوں کہ وہ اپنی ملنے والیوں سے پوچھ گچھ کرے۔‘‘\n\nڈیڑھ مہینے کے اندر اندر بات پکی ہوگئی۔ صمد قلعی گرکی لڑکی عائشہ گاما کی بیوی کو بہت پسند آئی۔ خوبصورت تھی۔ گھر کا کام کاج جانتی تھی۔ ویسے صمد بھی شریف تھا۔ محلے والے اس کی عزت کرتے تھے۔ بھولو محنتی تھی۔ تندرست تھا۔ جون کے وسطے میں شادی کی تاریخ مقرر ہوگئی۔ صمد نے بہت کہا کہ وہ لڑکی اتنی گرمیوں میں نہیں بیاہے گا مگر بھولو نے جب زور دیا تو وہ مان گیا۔\n\nشادی سے چار دن پہلے بھولو نے اپنی دہن کے لیے اوپر کوٹھے پر ٹاٹ کے پردے کا بندوبست کیا۔ بانس بڑی مضبوطی سے فرش میں گاڑے۔ ٹاٹ خوب کر کس کر لگایا۔ چارپائیوں پر نئے کھیس بچھائے۔ نئی صراحی منڈیر پر رکھی،شیشے کا گلاس بازار سے خریدا۔ سب کام اس نے بڑے اہتمام سے کیے۔\n\nرات کو جب وہ ٹاٹ کے پردے میں گھر کر سویا تو اس کو عجیب سا لگا وہ کھلی ہوا میں سونے کا عادی تھا مگر اب اس کو عادت ڈالنی تھی۔ یہی وجہ ہےکہ شادی سے چار دن پہلے ہی اس نے یوں سونا شروع کردیا۔ پہلی رات جب وہ لیٹا اور اس نے اپنی بیوی کے بارے میں سوچا تو وہ پسینے میں تربتر ہوگیا۔ اس کے کانوں میں وہ آوازیں گونجنے لگیں جو اسے سونے نہیں دیتی تھیں اور اس کے دماغ میں طرح طرح کے پریشان خیالات دوڑاتی تھیں۔کیا وہ بھی ایسی ہی آوازیں پیدا کرے گا۔۔۔؟ کیا آس پاس کے لوگ یہ آوازیں سنیں گے۔ کیا وہ بھی اسی کے مانند راتیں جاگ جاگ کر کاٹیں گے۔ کسی نے اگر جھانک کر دیکھ لیا تو کیا ہوگا؟\n\nبھولو پہلے سے بھی زیادہ پریشان ہوگیا۔ ہر وقت اس کو یہی بات ستاتی رہتی کہ ٹاٹ کا پردہ بھی کوئی پردہ ہے، پھر چاروں طرف لوگ بکھرے پڑے ہیں۔ رات کی خاموشی میں ہلکی سی سرگوشی بھی دوسرے کانوں تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔ لوگ کیسے یہ ننگی زندگی بسر کرتے ہیں۔۔۔ ایک کوٹھا ہے۔ اس چارپائی پر بیوی لیٹی ہے۔ اس چارپائی پر خاوند پڑا ہے۔ سیکڑوں آنکھیں، سیکڑوں کان آس پاس کھلے ہیں۔ نظر نہ آنے پر بھی آدمی سب کچھ دیکھ لیتا ہے۔ ہلکی سی آہٹ پوری تصویر بن کر سامنے آجاتی ہے۔۔۔ یہ ٹاٹ کا پردہ کیا ہے، سورج نکلتا ہے تو اس کی روشنی ساری چیزیں بے نقاب کردیتی ہے۔ وہ سامنے کلّن اپنی بیوی کی چھاتیاں دبا رہا ہے،وہ کونے میں اس کا بھائی گاما لیٹا ہے، تہہ بند کھل کر ایک طرف پڑا ہے۔ ادھر عیدو حلوائی کی کنواری بیٹی شاداں کا پیٹ چھدرے ٹاٹ سے جھانک جھانک کردیکھ رہا ہے۔\n\nشادی کا دن آیا تو بھولو کا جی چاہا کہ وہ کہیں بھاگ جائے مگر کہاں جاتا۔ اب تو وہ جکڑا جا چکا تھا۔ غائب ہو جاتا تو صمد ضرور خود کشی کرلیتا۔ اس کی لڑکی پر جانے کیا گزرتی۔ جو طوفان مچتا وہ الگ۔\n\n’’اچھا جو ہوتا ہے ہونے دو۔۔۔ میرے ساتھی اور بھی تو ہیں۔ آہستہ آہستہ عادت ہو جائے گی۔ مجھے بھی۔۔۔‘‘بھولو نے خود کو ڈھارس دی اور اپنی نئی نویلی دلہن کی ڈولی گھر لے آیا۔\n\nکوارٹروں میں چہل پہل پیداہوگئی۔ لوگوں نے بھولو اور گاما کو خوب مبارک بادیں دیں۔ بھولو کے جو خاص دوست تھے، انھوں نے اس کو چھیڑا اور پہلی رات کے لیے کئی کامیاب گر بتائے۔ بھولو خاموشی سے سنتا رہا۔ اس کی بھابھی نے اوپر کوٹھے پر ٹاٹ کے پردوں کے پیچھے بستر کا بندوبست کردیا۔ گاما نے چار موتیے کے بڑے بڑے ہار تکیے کے پاس رکھ دیے۔ ایک دوست اس کے لیے جلیبیوں والا دودھ لے آیا۔\n\nدیر تک وہ نیچے کوارٹر میں اپنی دلہن کے پاس بیٹھا رہا۔ وہ بے چاری شرم کی ماری، سر نیوڑھائے،گھونگٹ کاڑھے، سمٹی ہوئی تھی۔ سخت گرمی تھی۔ بھولو کا نیا کرتا اس کے جسم کے ساتھ چپکا ہوا تھا۔ پنکھا جھل رہا تھا مگر ہوا جیسے بالکل غائب ہی ہو گئی تھی۔ بھولو نے پہلے سوچا تھا کہ وہ اوپر کوٹھے پر نہیں جائے گا۔ نیچے کوارٹر ہی میں رات کاٹے گا مگر جب گرمی انتہا کو پہنچ گئی تو وہ اٹھا اور دلہن سے چلنے کو کہا۔\n\nرات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ تمام کوارٹر خاموشی میں لپٹے ہوئے تھے۔ بھولو کو اس بات کی تسکین تھی کہ سب سو رہے ہوں گے۔ کوئی اس کو نہیں دیکھے گا۔ چپ چاپ دبے قدموں سے وہ اپنے ٹاٹ کے پردے کے پیچھے اپنی دلہن سمیت داخل ہو جائےگا اور صبح منہ ادھیرے نیچے اتر جائے گا۔\n\nجب وہ کوٹھے پر پہنچا تو بالکل خاموش تھی۔ دلہن نے شرمائے ہوئے قدم اٹھائے تو پازیب کے نقرئی گھنگھرو بجنے لگے۔ ایک دم بھولو نے محسوس کیا کہ چاروں طرف جو نیند بکھری ہوئی تھی چونک کر جاگ پڑی ہے۔ چارپائیوں پر لوگ کروٹیں بدلنے لگے، کھانسنے، کھنکارنے کی آوازیں اِدھر اُدھر ابھریں۔ دبی دبی سرگوشیاں اس تپی ہوئی فضا میں تیرنے لگیں۔ بھولو نے گھبرا کر اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا اور تیزی سے ٹاٹ کی اوٹ میں چلا گیا۔ دبی دبی ہنسی کی آواز اس کے کانوں کے ساتھ ٹکرائی۔ اس کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوگیا۔ بیوی سے بات کی تو پاس ہی کُھسر پھسر شروع ہوگئی۔\n\nدور کونے میں جہاں کلن کی جگہ تھی،وہاں چارپائی کی چرچوں چرچوں ہونے لگی، یہ دھیمی پڑی تو گاما کی لوہے کی چارپائی بولنے لگی۔۔۔ عیدد حلوائی کی کنواری لڑکی شاداں نے دو تین بار اٹھ کرپانی پیا۔ گھڑے کے ساتھ اس کا گلاس ٹکراتا تو ایک چھنا کا سا پیدا ہوتا۔ خیرے قصائی کے لڑکے کی چارپائی سے بار بار ماچس جلانے کی آواز آتی تھی۔\n\nبھولو اپنی دلہن سے کوئی بات نہ کرسکا۔ اسے ڈر تھا کہ آس پاس کے کھلے ہوئے کان فوراً اس کی بات نگل جائیں گے۔ اور ساری چارپائیاں چرچوں چرچوں کرنے لگیں گی۔ دم سادھے وہ خاموش لیٹا رہا۔ کبھی کبھی سہمی ہوئی نگاہ سے اپنی بیوی کی طرف دیکھ لیتا جو گٹھری سی بنی دوسری چارپائی پر لیٹی تھی۔ کچھ دیر جاگتی رہی، پھر سو گئی۔بھولو نے چاہا کہ وہ بھی سو جائے مگر اس کو نیند نہ آئی۔ تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد اس کے کانوں میں آوازیں آتی تھیں۔۔۔ آوازیں جو فوراً تصویر بن کر اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتی تھیں۔\n\nاس کے دل میں بڑے ولولے تھے، بڑا جوش تھا۔ جب اس نے شادی کا ارادہ کیا تھا تو وہ تمام لذتیں جن سے وہ نا آشنا تھا اس کے دل و دماغ میں چکر لگاتی رہتی تھیں۔ اس کو گرمی محسوس ہوتی تھی، بڑی راحت بخش گرمی۔مگر اب جیسے پہلی رات سے کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی۔ اس نے رات میں کئی بار یہ دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کی مگر آوازیں۔۔۔ وہ تصویریں کھینچنے والی آوازیں سب کچھ درہم برہم کردیتیں۔ وہ خود کو ننگا محسوس کرتا، الف ننگا، جس کو چاروں طرف سے لوگ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے ہیں اور ہنس رہے ہیں۔\n\nصبح چار بجے کے قریب وہ اٹھا، باہر نکل کر اس نے ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس پیا، کچھ سوچا،وہ جھجک جو اس کے دل میں بیٹھ گئی تھی اس کو کسی قدر دور کیا۔ اب ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی جو کافی تیز تھی۔۔۔ بھولو کی نگاہیں کونے کی طرف مڑیں۔کلّن کا گھسا ہوا ٹاٹ ہل رہا تھا۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ بالکل ننگ دھڑنگ لیٹا تھا۔ بھولو کو بڑی گھن آئی،ساتھ ہی غصہ بھی آیا کہ ہوا ایسے کوٹھوں پر کیوں چلتی ہے ؟چلتی ہے تو ٹاٹوں کو کیوں چھیڑتی ہے؟اس کے جی میں آئی کہ کوٹھے پر جتنے ٹاٹ ہیں، سب نوچ ڈالے اور ننگا ہو کے ناچنے لگے۔\n\nبھولو نیچے اتر گیا۔ جب کام پر نکلا تو کئی دوست ملے۔ سب نے اس سے پہلی رات کی سرگزشت پوچھی۔پھوجے درزی نے اس کو دور ہی سے آواز دی، ’’کیوں استاد بھولو، کیسے رہے، کہیں ہمارے نام پر بٹہ تو نہیں لگا دیا تم نے؟‘‘ چھاگے ٹین ساز نے اس سے بڑے راز دارانہ لہجے میں کہا،’’دیکھو اگر کوئی گڑ بڑ ہے تو بتا دو۔ ایک بڑا اچھا نسخہ میرے پاس موجود ہے۔‘‘ بالے نے اس کے کاندھے پر زور سے دھپا مارا،’’کیوں پہلوان، کیسا رہا دنگل؟‘‘\n\nبھولو خاموش رہا۔\n\nصبح اس کی بیوی میکے چلی گئی۔ پانچ چھ روز کے بعد واپس آئی تو بھولو کو پھر اسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا۔ کوٹھے پر سونے والے جیسے اس کی بیوی کی آمد کے منتظر تھے۔ چند راتیں خاموش رہی تھی لیکن جب وہ اوپر سوئے تو وہی کھسر پھسر وہی چرچوں چرچوں، وہی کھانسنا کھنکارنا۔۔۔ وہی گھڑے کے ساتھ گلاس کے ٹکرانے کے چھناکے۔۔۔ کروٹوں پر کروٹیں، دبی دبی ہنسی۔۔۔ بھولو ساری رات اپنی چارپائی پر لیٹا آسمان کی طرف دیکھتا رہا۔ کبھی کبھی ایک ٹھنڈی آہ بھر کر اپنی دلہن کو دیکھ لیتا اور دل میں کڑھتا، ’’مجھے کیا ہوگیا ہے۔۔۔ یہ مجھے کیا ہوگیا ہے۔۔۔ یہ مجھے کیا ہوگیاہے۔‘‘سات راتوں تک یہی ہوتا رہا، آخر تنگ آکر بھولو نے اپنی دلہن کو میکے بھیج دیا۔بیس پچیس دن گزر گئے تو گاما نے بھولو سے کہا، ’’یار تم بڑے عجیب و غریب آدمی ہو نئی نئی شادی اور بیوی کو میکے بھیج دیا۔ اتنے دن ہوگئے ہیں اسے گئے ہوئے، تم اکیلے سوتے کیسے ہو؟‘‘\n\nبھولو نے صرف اتنا کہا، ’’ٹھیک ہے۔‘‘\n\nگاما نے پوچھا، ’’ٹھیک کیا ہے۔۔۔ جو بات ہے بتاؤ۔ کیا تمہیں پسند نہیں آئی عائشہ؟‘‘\n\n’’یہ بات نہیں ہے۔‘‘\n\n’’یہ بات نہیں ہے تو اور کیا ہے؟‘‘\n\nبھولو بات گول کرگیا۔ تھوڑے ہی دنوں کے بعد اس کے بھائی نے پھر بات چھیڑی۔ بھولو اٹھ کر کوارٹر کے باہر چلا گیا۔ چارپائی پڑی تھی اس پر بیٹھ گیا۔ اندر سے اس کو اپنی بھابھی کی آواز سنائی دی۔ وہ گاما سے کہہ رہی تھی،’’تم جو کہتے ہو نا کہ بھولو کو عائشہ پسند نہیں، یہ غلط ہے۔‘‘\n\nگاما کی آواز آئی،’’ تو اور کیا بات ہے۔۔۔ بھولو کو اس سے کوئی دلچسپی ہی نہیں۔‘‘\n\n’’ دلچسپی کیا ہو۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\nگاما کی بیوی کا جواب بھولو نہ سن سکا مگر اس کے باوجود اس کو ایسا محسوس ہواکہ اس کی ساری ہستی کسی نے ہاون میں ڈال کر کوٹ دی ہے۔ ایک دم گاما اونچی آواز میں بولا، ’’نہیں نہیں۔۔۔ یہ تم سے کس نے کہا؟‘‘\n\nگاما کی بیوی بولی، ’’عائشہ نے اپنی کسی سہیلی سے ذکر کیا۔۔۔ بات اڑتی اڑتی مجھ تک پہنچ گئی۔‘‘\n\nبڑی صدمہ زدہ آواز میں گاما نے کہا، ’’یہ تو بہت برا ہوا!‘‘\n\nبھولو کے دل میں چھری سی پیوست ہوگئی۔ اس کا دماغی توازن بگڑ گیا۔ اٹھا اور کوٹھے پرچڑھ کر جتنے ٹاٹ گئے تھے اکھیڑنے شروع کردیے۔ کھٹ کھٹ پھٹ پھٹ سن کر لوگ جمع ہوگئے۔ انھوں نے اس کو روکنے کی کوشش کی تو وہ لڑنے لگا۔ بات بڑھ گئی۔ کلن نے بانس اٹھا کر اس کے سر پر دے مارا۔ بھولو چکرا کرگرا اور بے ہوش ہوگیا۔ جب ہوش آیا تو اس کا دماغ چل چکا تھا۔\n\nاب وہ الف ننگا، بازاروں میں گھومتا پھرتا ہے؛ کہیں ٹاٹ لٹکا دیکھتا ہے تو اس کو اتار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%86%DA%AF%DB%8C_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ننھا غاصب", "poet_page": "مصنف:عظمت اللہ خاں", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مرے گھر کی دیوی کے بالائے سینہ\nکھلا ہے محبت کا تازہ کنول\n\nدرخشندہ جیسے سر شام زہرہ\nافق پر سمندر کے آئے نکل\n\nوہ ہاتھوں پہ اپنے کھلاتی ہے اس کو\nوہ پیروں پہ اپنے جھلاتی ہے اس کو\n\nوہ رکھتی ہے آنکھوں میں پتلی بنا کے\nوہ سوتے میں روتا جو اٹھ بیٹھتا ہے\n\nتو بوسوں سے موتی سے آنسو وہ پونچھے\nوہ سو جان سے ہر ادا پر فدا ہے\n\nوہ ہے لال دونوں جہاں جس پہ صدقے\nیہ ننھی سی جاں اور غاصب کے دعوے\n\nمرا تخت زریں ہے تیرے حوالے\nترے دست و بازو فرشتوں کے دستے\nتو ہے وہ زبردست جیتے پہ جیتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%86%DA%BE%D8%A7_%D8%BA%D8%A7%D8%B5%D8%A8"} {"title": "ننھا قاصد", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ترا ننھا سا قاصد جو ترے خط لے کر آتا تھا\nنہ تھا معلوم اسے کس طرح کے پیغام لاتا تھا\n\nسمجھ سکتا نہ تھا وہ خط میں کیسے راز پنہاں ہیں\nحروف سادہ میں کس حشر کے انداز پنہاں ہیں\n\nاسے کیا علم ان رنگیں لفافوں میں چھپا کیا ہے\nکسی مہوش کا ان کے بھیجنے سے مدعا کیا ہے\n\nمگر مجھ کو خیال آتا تھا اکثر اس زمانے میں\nکہ اس کی حیرت طفلی ہے کیوں گم اس فسانے میں\n\nوہ با ایں کم سنی کیا یہ نہ دل میں سوچتا ہوگا\nکہ باجی نے ہماری اپنے خط میں کیا لکھا ہوگا\n\nاور آخر وہ اسی کو نامہ لکھ کر بھیجتی کیوں ہیں\nکبھی بھیجا تو بھیجا لیکن اکثر بھیجتی کیوں ہیں\n\nوہ پہلے سے زیادہ بھائی کو کیوں پیار کرتی ہیں\nلفافہ دے کے لطف خاص کا اظہار کرتی ہیں\n\nپھر ایسے اجنبی پر اس کی باجی مہرباں کیوں ہیں\nاگر ہیں بھی تو گھر والوں سے یہ باتیں نہاں کیوں ہیں\n\nاور اس کے شبہے کی اس سے بھی تو تائید ہوتی ہے\nچھپا کر خط کو لے جانے کی کیوں تاکید ہوتی ہے؟\n\nیہ نوخیز اجنبی جانے کہاں سے اکثر آتا ہے\nجب آتا ہے تو باجی کی طرح خط لکھ کے لاتا ہے\n\nعزیزوں کی طرح یہ کیوں مکاں میں آ نہیں سکتا\nجب اس سے پوچھتا ہے وہ اسے سمجھا نہیں سکتا\n\nکھلونے دے کر اس کو مسکرا دیتا ہے وہ اکثر\nاور اک ہلکا سا تھپڑ بھی لگا دیتا ہے وہ اکثر\n\nترے قاصد کے یہ افکار دل کو گدگداتے تھے\nاور اپنے بھولپن سے میرے جذبوں کو ہنساتے تھے\n\nنہیں موقوف انہی ایام پر جب بھی خیال آیا\nتصور تیرے بعد اس کا بھی نقشہ سامنے لایا\n\nمگر آج اس طرح دیکھا ہے وہ نقش حسیں میں نے\nکہ رکھ دی خاک حیرت پر محبت کی جبیں میں نے\n\nوہی ننھا سا قاصد نوجواں ہو کر ملا مجھ کو\nزمانے کے تغیر نے پریشاں کر دیا مجھ کو\n\nجنون ابتدائے عشق نے کروٹ سی لی دل میں\nپس از مدت یہ لے کے آ گئی پھر اپنے محمل میں\n\nترے قاصد سے ملتے وقت مجھ کو شرم آتی تھی\nمگر اس کی نگاہوں میں شرارت مسکراتی تھی\n\nشرارت کا یہ نظارہ مری حیرت کا ساماں تھا\nکہ اس پردہ کے اندر تیرا راز عشق عریاں تھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%86%DA%BE%D8%A7_%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF"} {"title": "ننھی پجارن", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اک ننھی منی سی پجارن\nپتلی بانہیں پتلی گردن\nبھور بھئے مندر آئی ہے\nآئی نہیں ہے ماں لائی ہے\nوقت سے پہلے جاگ اٹھی ہے\nنیند ابھی آنکھوں میں بھری ہے\nٹھوڑی تک لٹ آئی ہوئی ہے\nیوں ہی سی لہرائی ہوئی ہے\nآنکھوں میں تاروں کی چمک ہے\nمکھڑے پہ چاندی کی جھلک ہے\nکیسی سندر ہے کیا کہیے\nننھی سی اک سیتا کہیے\nدھوپ چڑھے تارا چمکا ہے\nپتھر پر اک پھول کھلا ہے\nچاند کا ٹکڑا پھول کی ڈالی\nکمسن سیدھی بھولی بھالی\nہاتھ میں پیتل کی تھالی ہے\nکان میں چاندی کی بالی ہے\nدل میں لیکن دھیان نہیں ہے\nپوجا کا کچھ گیان نہیں ہے\nکیسی بھولی چھت دیکھ رہی ہے\nماں بڑھ کر چٹکی لیتی ہے\nچپکے چپکے ہنس دیتی ہے\nہنسنا رونا اس کا مذہب\nاس کو پوجا سے کیا مطلب\nخود تو آئی ہے مندر میں\nمن اس کا ہے گڑیا گھر میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%86%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%D8%AC%D8%A7%D8%B1%D9%86"} {"title": "نو گرفتار قفس ہوں مجھے کچھ یاد نہیں", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نو گرفتار قفس ہوں مجھے کچھ یاد نہیں\nلب پہ شیون نہیں نالہ نہیں فریاد نہیں\n\nنازنیں کوئی نئی بات تو پیدا ہو کبھی\nظلم میں لطف ہی کیا ہے اگر ایجاد نہیں\n\nمیں بشر ہوں مرے ملنے میں برائی کیا ہے\nآپ کچھ حور نہیں آپ پری زاد نہیں\n\nوائے تقدیر کہ جب خوگر آزار ہوئے\nوہ یہ فرماتے ہیں ہم مائل بیداد نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88_%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%82%D9%81%D8%B3_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نو گرفتار محبت کبھی آزاد نہ ہو", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نو گرفتار محبت کبھی آزاد نہ ہو\nقید میں قید رہے قید کی میعاد نہ ہو\n\nمیں تو خاموش رہوں ہجر میں ڈر ہے لیکن\nدرد اٹھ کر کہیں آمادۂ فریاد نہ ہو\n\nتم میں پنہاں ہیں محبت کے ہزاروں جلوے\nاے مری خاک کے ذرو کہیں برباد نہ ہو\n\nکچھ ہیں بکھرے ہوئے پر کنج قفس کے باہر\nخوف ہے اور بھی رسوا کہیں صیاد نہ ہو\n\nپھوٹ کر کس کے یہ رونے کی صدا آتی ہے\nدرد الفت کہیں میرا دل ناشاد نہ ہو\n\nدل کی ایذا طلبی پوچھ لوں کیا کہتی ہے\nٹھہرو ٹھہرو ابھی دم بھر کوئی بیداد نہ ہو\n\nشوقؔ کر دوں جو بیاں کاوش غم کی حالت\nاپنا قصہ بھی کم از قصۂ فرہاد نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88_%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "نو یدِ صبح", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "آتی ہے مشرق سے جب ہنگامہ در دامن سحَر\nمنزلِ ہستی سے کر جاتی ہے خاموشی سفر\nمحفلِ قُدرت کا آخر ٹُوٹ جاتا ہے سکُوت\nدیتی ہے ہر چیز اپنی زندگانی کا ثبوت\nچہچہاتے ہیں پرندے پا کے پیغامِ حیات\nباندھتے ہیں پھُول بھی گُلشن میں احرامِ حیات\nمسلمِ خوابیدہ اُٹھ، ہنگامہ آرا تُو بھی ہو\nوہ چمک اُٹھّا اُفُق، گرمِ تقاضا تُو بھی ہو\n\nوسعتِ عالم میں رہ پیما ہو مثلِ آفتاب\nدامنِ گردُوں سے ناپیدا ہوں یہ داغِ سحاب\nکھینچ کر خنجر کرن کا، پھر ہو سرگرمِ ستیز\nپھر سِکھا تاریکیِ باطل کو آدابِ گریز\nتُو سراپا نور ہے، خوشتر ہے عُریانی تُجھے\nاور عُریاں ہو کے لازم ہے خود افشانی تجھے\nہاں، نمایاں ہو کے برقِ دیدۂ خفّاش ہو\nاے دلِ کون ومکاں کے رازِ مضمر! فاش ہو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88_%DB%8C%D8%AF%D9%90_%D8%B5%D8%A8%D8%AD"} {"title": "نوائے غم", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "زندگانی ہے مری مثلِ ربابِ خاموش\nجس کی ہر رنگ کے نغموں سے ہے لبریز آغوش\nبربطِ کون و مکاں جس کی خموشی پہ نثار\nجس کے ہر تار میں ہیں سینکڑوں نغموں کے مزار\nمحشرستانِ نوا کا ہے امیں جس کا سکُوت\nاور منّت کشِ ہنگامہ نہیں جس کا سکُوت\nآہ! اُمیّد محبت کی بر آئی نہ کبھی\nچوٹ مضراب کی اس ساز نے کھائی نہ کبھی\n\nمگر آتی ہے نسیمِ چمنِ طُور کبھی\nسمتِ گردُوں سے ہوائے نفَسِ حُور کبھی\nچھیڑ آہستہ سے دیتی ہے مرا تارِ حیات\nجس سے ہوتی ہے رِہا رُوحِ گرفتارِ حیات\nنغمۂ یاس کی دھیمی سی صدا اُٹھتی ہے\nاشک کے قافلے کو بانگِ درا اُٹھتی ہے\nجس طرح رفعتِ شبنم ہے مذاقِ رم سے\nمیری فطرت کی بلندی ہے نوائے غم سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%BA%D9%85"} {"title": "نواب عاقل خاں پنج ہزاری", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "نواب عاقل خاں صاحب مرحوم کی نسبت عوام الناس نے طرفہ بہتان باندھ رکھے ہیں۔ اور اگر ان سے پوچھئے کہ عاقل خاں ان کا نام تھا یا خطاب، اگر خطاب تھا تو ان کا نام کیا تھا، تو بس یہ کہہ کر چپکے ہوجائیں گے کہ اورنگ زیب کے عہد میں گزرے ہیں۔ اور ہمیں کچھ حال معلوم نہیں۔ جب ان حضرات کی معلومات اتنی سی ہو تو ان کا کہنا بالکل فضول اور لغو سمجھا جائےگا۔ فقیر فراق ان کی مختصر سوانح عمری تواریخ سے لکھتا ہے۔تذکرہ مرات الخیال میں لکھا ہے کہ یہ خواف کے رہنے والے ہیں۔ قوم کے کھرے سید میر عسکری نام ہے اور رازی تخلص ہے۔ اورنگ زیب عالمگیر کی ولی عہدی سے ان کے راز دار اور ان کے مصاحب تھے۔ جملہ علوم و فنون میں انہیں دستگاہ تھی۔ اور اسی فضیلت کی وجہ سے انہیں اورنگ زیب نے پسند کر کے اپنی رفاقت میں لے لیا تھا۔ بظاہر وہ ایک امیر اور پنج ہزاری منصب رکھتے تھے اور یہ رتبہ شاہنشاہ نے انہیں سمجھ کر دیا تھا۔ صاحب تذکرہ لکھتے ہیں کہ حضور والا کو مہم دکن پر گئے ہوئے بارہ سال ہوئے ہیں۔ مگر شاہجہاں آباد کی صوبہ داری انہیں سے تعلق رکھتی ہے۔ اور اس بارہ سال کی مدت میں ان کے انتظام کی خوبی سے دہلی اور نواح دہلی میں کیل کا کھٹکا بھی نہ ہوا۔ خاص و عام سب ان سے خوش ہیں۔ رعایا مگن ہے، اور ان کا دم بھرتی ہے۔شاعری میں یہ استاد زمانہ تھے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ ’’گویند اورنگ زیب در ایام شاہزادگی یکے از پرستارانِ خاص کہ از شیوۂ دلبری و نغمہ سنجی بہ سماع مبارک می رسانید رحلت نمودہ مفارقتش بر خاطر آن حضرت نہایت دشوار گردید۔‘‘ یعنی مؤلف تذکرہ لکھتے ہیں کہ شاہزادگی کے زمانہ میں اورنگ زیب کامیلان ایک پرستار کی طرف تھا، جو شیوۂ دلبری کے علاوہ حضرت کو اپنے گانے سے بھی خوش کرتی تھی۔ قضائے آسمانی سے وہ فوت ہوگئی۔ اورنگ زیب کو اس کی جدائی کابڑاصدمہ ہوا۔ ا س کی وفات کے دوسرے روز حضور والا شکار کو تشریف لے گئے اورنواب عاقل خاں کو بھی ہم رکاب کر لیا۔حضور والا جب آبادی سے کئی میل دور جنگل میں پہنچ گئے اور ساتھی ادھر ادھر ہوگئے تو عاقل خاں نے تنہائی پاکر حضور والا کی خدمت میں دست بستہ عرض کی کہ اس پریشانی اور رنج و ملال میں حضور والا نے شکار کی تکلیف کس حکمت سے گوارا کی۔ حضور والا نے اس سوال کے جواب میں یہ شعر پڑھا،نالہائے خانگی دل را تسلی بخش نیستدر بیاباں می تواں فریاد خاطر خواہ کردعاقل خاں نے عرض کی، بجا ارشاد ہوا، اور یہ شعر پڑھا،عشق چہ آساں نمود آہ چہ دشوار بودہر چہ دشوار بود یارچہ آساں گرفتاس شعر کو سن کر حضور والا کا دل بھر آیا، اور آپ کو دیر تک رقت ہوتی رہی۔ جب جی ٹھہر گیا تو پوچھا یہ کس کا شعر ہے؟ کہنے والے نے معاملہ باندھ دیا ہے اور خوب کہا ہے۔ عاقل خاں نے ہاتھ جوڑ کر کہا، جس شخص کا یہ شعر ہے اس کی یہ تاب و طاقت نہیں ہے کہ وہ اپنے تئیں حضور والا کے روبرو شاعر کہے اور اپنا نام ظاہر کرے۔ حضور والا کو معلوم ہوگیا کہ یہ شعر انہیں کا ہے تو انہیں بہت داد دی، اور کئی بار پڑھواکر سنا۔ اور اسے یاد کرلیا۔ اور اسی روز سے نظر التفات بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ پنج ہزاری کا مرتبہ عنایت فرمایا اور شاہجہاں آباد کا صوبہ دار بنایا۔ میں یہاں عاقل خاں صاحب کی ایک غزل نقل کرتا ہوں تاکہ آپ اسے پڑھ کر معلوم فرمائیں کہ عاقل خاں کس رتبہ کے شاعر ہیں،غزلابتدا عشق و انتہا عشق استدرمیان نیز خود نما عشق استجز خدا ہیچ کس نمی داندیا خدا عشق یا خدا عشق استدر رہ عشق راہ از عشق ستراہ زن عشق و رہنما عشق استگفتگوئیست عاشق و معشوقہمہ عشق ست عشق را عشق استعقل گوید کہ دلربا حسن ستحسن گوید کہ دلربا عشق استمی نماید فثم وجہ اللہعشق بیجا و جا بجا عشق استلیس فی الدار غیراو د­یارہم درین ہم دران سرا عشق ستخون منصور بعد قتل نوشتزندہ و مردہ کار با عشق سترازی از راز عشق گوئے چونےنغمہ پرواز این نوا عشق استاس غزل کے رنگ سے کھلتا ہے کہ نواب صاحب صوفی صافی ہیں اور وحدت الوجود میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ مگر تذکروں سے یہ نہیں کھلتا کہ کس کامل کے مرید تھے اور کس سلسلہ میں۔ قرینہ کہتا ہے کہ خواجگان چشت اہل بہشت سے واسطہ رکھتے ہیں۔ میرے مکرم نواب خواجہ مصلح الدین خاں صاحب ہمدانی دہلوی نے مجھے ان کی ایک تصنیف دکھائی، جس کا نام نغمات الرازی ہے۔ یہ تصوف میں فارسی زبان کی ایک کتاب ہے جو عرفان اور ایقان سے لبریز ہے۔ انداز تحریر مولانا نخشبی کے سلک السلوک سے ملتا جلتا ہے۔ عبارت اور عبارت میں مضامین بہت دلکش اور دل پسند ہیں۔ ہر مضمون کی سرخی کو نغمہ نغمہ کر کے لکھتے ہیں اور نغمہ کو ذوق و شوق کے پردوں سے اوراسرار کے تاروں سے روح پرور کرتے ہیں، جن کے پڑھنے سے وجد ہونے لگتا ہے۔ جو کتاب کی اصل عبارت مزدہ دیتی ہے، اس کی لطافت ترجمہ میں باقی نہیں رہتی ہے۔ تاہم دوستوں کی ضیافت طبع کے لئے نغمات الرازی میں سے ایک ترجمہ پیش کرتا ہوں،نغمہ وجدیہاے عاشق اہتزار سماع لذت استماع سے ہے اور مسموع سے استماع ہے، یعنی جب مطرب عشق ساقی بنتا ہے اور بادۂ بے رنگ و بو خم خانہ معانی سے نکلتا ہے اور مینائے حرف و صوت میں ڈالتا ہے اورکانوں کے پیالہ سے دل میں پہنچاتا ہے اور سننے والوں کو مست بناتا ہے اور انہیں زمین آسمان جھنکاتا ہے اور وجد میں لاتا ہے۔ یہ لوگ اگر امید قرب کی بشارت پاتے ہیں تو خوشی کے کے مارے ان کی پیشوائی کے لئے اپنے سے گزر جاتے ہیں اور اگر دوری کا اشارہ پاتے ہیں تو ڈر جاتے ہیں اور اگر وصال کا مژدہ سنتے ہیں تو شراب ناب کی طرح جوش مارتے ہیں۔ اگر جدائی کا راگ ہے تو سوکھ جاتے ہیں اورنے کی طرح نیستان کی یاد میں شور کرتے ہیں اور اگر بلاوہ کی خبر پاتے ہیں تو مستوں کی طرح ہاتھوں ہاتھ جاتے ہیں۔اگر نکال لینے کا حکم سنتے ہیں تو مخموروں کی طرح فرش زمین ہوجاتے ہیں۔ اگر قبض ہوتا ہے تو غنچہ ساں خون جگر کھاتے ہیں اور گریبان چاک کرتے ہیں اور اگر بسط ہوتا ہے تو پھول کے رنگ میں کھل جاتے ہیں۔ اور اگر وعید کا ترانہ ہے تو دل کی آگ سے سلگ اٹھتے ہیں اورجان دے دیتے ہیں، اگر وعدہ ہے تو انتطار کرتے ہیں اوراپنے تئیں تسکین دیتے ہیں۔ اور شرارۂ محبت چونکہ عاشق کی دل کی بھٹی میں دبا رہتا ہے اور قوال کی نغمہ سرائی سے وہ روشن ہوجاتا ہے، اس لیے کہ اضطراب اور حرکت شعلہ کی صفت لازمی ہے۔ سماع کی حالت میں تسکین محال ہے۔ اے صوفی جب سماع کی تاثیر سے تیرے ضمیر کی آگ بھڑک اٹھے اور نہ بجھے تو اس وقت تیرے لیے یہی علاج ہے کہ تجرید اور تفرید کے دونوں قدم تو زمین پر رکھے اور دل کو اندیشہ اور وسوسہ سے خلع نعلین کی طرح سے خالی کرے اور عرصۂ سماع میں روح مجرد بن کر آئے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے۔ فاخلع نعلیک بالوادی مقدس طویٰ۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%B9%D8%A7%D9%82%D9%84_%D8%AE%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D9%86%D8%AC_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "نوبت اپنی تو جان تک پہنچی", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نوبت اپنی تو جان تک پہنچی\nحیف اس کے نہ کان تک پہنچی\n\nدل کے ٹکڑے ہیں یہ ستارے نہ ہوں\nآہ لے آسمان تک پہنچی\n\nہے وہ آزردہ بات شکوے کی\nکیا کسی مہربان تک پہنچی\n\nمفت فرسودہ ہوئی یہ پیشانی\nنہ ترے آستان تک پہنچی\n\nدشمنی مجھ سے تیری تیغ نے کی\nدوستی امتحان تک پہنچی\n\nآتش عشق نے جو سر کھینچا\nحسن کے دودمان تک پہنچی\n\nبار غم جب کسی سے اٹھ نہ سکا\nنوبت اس ناتوان تک پہنچی\n\nتیرے مقتول کا ہے کام تمام\nکارواں استخوان تک پہنچی\n\nآتش گل سے جلتی مثل شرر\nعندلیب آشیان تک پہنچی\n\nکوئی سرگشتہ یاد آ ہی گیا\nتیغ اس کی جو سان تک پہنچی\n\nدیکھتے اس کو محو تھے ؔجوشش\nکب شکایت زبان تک پہنچی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88%D8%A8%D8%AA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AA%DA%A9_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%8C"} {"title": "نوبت گریہ و بے تابی و زاری آئی", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نوبت گریہ و بے تابی و زاری آئی\nبڑے ہنگامے سے کل یاد تمہاری آئی\n\nنزع میں بھی وہ یہاں تک نہیں آنے دیتا\nاے خدا غیر کو آ جائے ہماری آئی\n\nان کو تشبیہ مسیحا سے جو دی وہ بولے\nآج معلوم ہوا موت تمہاری آئی\n\nکس طرف آئے کدھر بھول پڑے خیر تو ہے\nآج کیا تھا جو تمہیں یاد ہماری آئی\n\nنالۂ بلبل شیدا تو سنا ہنس ہنس کر\nاب جگر تھام کے بیٹھو مری باری آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88%D8%A8%D8%AA_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%81_%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%D9%88_%D8%B2%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "نوجوان خاتون سے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "حجاب فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا\nخود اپنے حسن کو پردا بنا لیتی تو اچھا تھا\n\nتری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہے\nتو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھا\n\nتری چین جبیں خود اک سزا قانون فطرت میں\nاسی شمشیر سے کار سزا لیتی تو اچھا تھا\n\nیہ تیرا زرد رخ یہ خشک لب یہ وہم یہ وحشت\nتو اپنے سر سے یہ بادل ہٹا لیتی تو اچھا تھا\n\nدل مجروح کو مجروح تر کرنے سے کیا حاصل\nتو آنسو پونچھ کر اب مسکرا لیتی تو اچھا تھا\n\nترے زیر نگیں گھر ہو محل ہو قصر ہو کچھ ہو\nمیں یہ کہتا ہوں تو ارض و سما لیتی تو اچھا تھا\n\nاگر خلوت میں تو نے سر اٹھایا بھی تو کیا حاصل\nبھری محفل میں آکر سر جھکا لیتی تو اچھا تھا\n\nترے ماتھے کا ٹیکا مرد کی قسمت کا تارا ہے\nاگر تو ساز بے داری اٹھا لیتی تو اچھا تھا\n\nعیاں ہیں دشمنوں کے خنجروں پر خون کے دھبے\nانہیں تو رنگ عارض سے ملا لیتی تو اچھا تھا\n\nسنانیں کھینچ لی ہیں سرپھرے باغی جوانوں نے\nتو سامان جراحت اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا\n\nترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن\nتو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86_%D8%AE%D8%A7%D8%AA%D9%88%D9%86_%D8%B3%DB%92"} {"title": "نوجوان سے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر\nاجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر\n\nترے خرام میں ہے زلزلوں کا راز نہاں\nہر ایک گام پر اک انقلاب پیدا کر\n\nصدائے تیشۂ مزدور ہے ترا نغمہ\nتو سنگ و خشت سے چنگ و رباب پیدا کر\n\nبہت لطیف ہے اے دوست تیغ کا بوسہ\nیہی ہے جان جہاں اس میں آب پیدا کر\n\nترے قدم پہ نظر آئے محفل انجم\nوہ بانکپن وہ اچھوتا شباب پیدا کر\n\nترا شباب امانت ہے ساری دنیا کی\nتو خار زار جہاں میں گلاب پیدا کر\n\nسکون خواب ہے بے دست و پا ضعیفی کا\nتو اضطراب ہے خود اضطراب پیدا کر\n\nنہ دیکھ زہد کی تو عصمت گنہ آلود\nگنہ میں فطرت عصمت مآب پیدا کر\n\nترے جلو میں نئی جنتیں نئے دوزخ\nنئی جزائیں انوکھے عذاب پیدا کر\n\nشراب کھینچی ہے سب نے غریب کے خوں سے\nتو اب امیر کے خوں سے شراب پیدا کر\n\nگرا دے قصر تمدن کہ اک فریب ہے یہ\nاٹھا دے رسم محبت عذاب پیدا کر\n\nجو ہو سکے ہمیں پامال کر کے آگے بڑھ\nجو ہو سکے تو ہمارا جواب پیدا کر\n\nبہے زمیں پہ جو میرا لہو تو غم مت کر\nاسی زمیں سے مہکتے گلاب پیدا کر\n\nتو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر\nجو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92"} {"title": "نوجوانی کی دید کر لیجے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نوجوانی کی دید کر لیجے\nاپنے موسم کی عید کر لیجے\n\nکون کہتا ہے کون سنتا ہے\nاپنی گفت و شنید کر لیجے\n\nاب کے بچھڑے ملوگے پھر کہ نہیں\nکچھ تو وعدہ وعید کر لیجے\n\nاپنے گیسو دراز کے مجھ کو\nسلسلے میں مرید کر لیجے\n\nہے مثل ایک ناہ صد آسان\nیاس ہی کو امید کر لیجے\n\nہاں عدم میں کہاں ہے عشق بتاں\nاس کو یاں سے خرید کر لیجے\n\nوصل تب ہو ادھر جب ایدھر سے\nپہلے قطع و برید کر لیجے\n\nقتل کیا بے گنہ کا مشکل ہے\nچاہیئے جب شہید کر لیجے\n\nاس کی الفت میں روتے روتے حسنؔ\nیہ سیہ کو سپید کر لیجے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%DB%8C%D8%AC%DB%92"} {"title": "نوح کا طوفان اک آنسو سے برپا کیجئے", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نوح کا طوفان اک آنسو سے برپا کیجئے\nجی میں آتا ہے کہ اب قطرہ کو دریا کیجئے\n\nبے خبر بن جائیے یا عہد پورا کیجئے\nجس طرح سے آپ کا جی چاہے اچھا کیجئے\n\nعیسی دوراں سہی لیکن کوئی شاہد بھی ہو\nہم ابھی تو جی اٹھیں گے آپ اشارا کیجئے\n\nہو چکا ہونا تھا جو کچھ جائیے بس جائیے\nمرنے والے کو نہ اب للہ رسوا کیجئے\n\nپھر ذرا جھلکی دکھا کر اک ذرا چھپ جائیے\nدل کے ہر ذرے میں آباد ایک دنیا کیجئے\n\nدل ہمارا ہے ہم اس کے ہیں ازل سے راز دار\nآپ خود آ کر سر بازار رسوا کیجئے\n\nکون کہتا ہے کہ ان قصوں کو پھر دہرائیے\nدل کی آبادی مٹا کر ذکر صحرا کیجئے\n\nرازداری عشق میں عالمؔ نہیں چھوٹی سی بات\nدل ہی دل میں سوچتا رہتا ہوں اب کیا کیجئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88%D8%AD_%DA%A9%D8%A7_%D8%B7%D9%88%D9%81%D8%A7%D9%86_%D8%A7%DA%A9_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D9%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "نور ایماں سرمۂ چشم دل و جاں کیجئے", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نور ایماں سرمۂ چشم دل و جاں کیجئے\nپردہ‌ دار حسن یکتا چشم حیراں کیجئے\n\nمشکلات راہ کو ہمت سے آساں کیجئے\nطے فنا کی منزلیں افتان‌‌ و خیزاں کیجئے\n\nبے حجابانہ خود آرائی کے ساماں کیجئے\nمظہر شان تجلی بزم امکاں کیجئے\n\nہیں من و تو جلوہ ہائے حسن وحدت کا حجاب\nشمع بزم خود شناسی نور عرفاں کیجئے\n\nجلوہ ہائے‌‌ طور کی تکرار یا تجدید ہو\nلن ترانی سے مساوی کفر و ایماں کیجئے\n\nشرک گر منظور ہے اور ہے انا الحق ناقبول\nدار پر منصور کو کھچوائیے ہاں کیجئے\n\nخود نمائی ناز ہے انداز خود آرائیاں\nجلوۂ جاں سے منور قلب انساں کیجئے\n\nکیف مستی میں کہ عرفان جنوں میں الغرض\nوا ہر اک بند‌ نقاب روئے جاناں کیجئے\n\nکر دیا رحمت نے نورانی مرا ظلمت کدہ\nنوش جاں جام صفا سے آب حیواں کیجئے\n\nرہروان جادۂ عشق و فنا منصور ہیں\nآرزو ہائے دو عالم ان پہ قرباں کیجئے\n\nہم ہیں ہندی اور ہمارا ملک ہے ہندوستاں\nہند میں پیدا تصوف کے زباں داں کیجئے\n\nمستیاں ساحرؔ کی ہیں جام مئے توحید سے\nہو سکے تو ایسے کافر کو مسلماں کیجئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%B1%D9%85%DB%82_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "نور حق بے حجاب عشق اللہ", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "نور حق بے حجاب عشق اللہ\nیاد دلبر شراب عشق اللہ\n\nمی محبت کے آسماں پہ ظہور\nپرتو آفتاب عشق اللہ\n\nجب دکھاتا ہے رب جمال اپنا\nدیکھ لے بے نقاب عشق اللہ\n\nعشق میں دل ربا کے اے زاہد\nسرنگوں شیخ و شاب عشق اللہ\n\nبزم لاہوت میں سن اے درویش\nہے صدائے رباب عش اللہ\n\nجو سنا ہے صدائے سر نگوں\nوو چہ پایا شتاب عشق اللہ\n\nعشق کا جوش دل کے دریا میں\nبولتا ہر حباب عشق اللہ\n\nفیض مرشد سوں مستفیض ہوا\nدل سوں پایا جناب عشق اللہ\n\nبول اس کا جواب علیم اللہ\nجو کہا ہے تراب عشق اللہ", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%AD%D9%82_%D8%A8%DB%92_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "نور سحر کہاں ہے اگر شام غم گئی", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نور سحر کہاں ہے اگر شام غم گئی\nکب التفات تھا کہ جو خوئے ستم گئی\n\nپھیرا بہار کا تو برس دو برس میں ہے\nیہ چال ہے خزاں کی جو رک رک کے تھم گئی\n\nشاید کوئی اسیر ابھی تک قفس میں ہے\nپھر موج گل چمن سے جو با چشم نم گئی\n\nقبضہ میں جوش گل نہ خزاں دسترس میں ہے\nراحت بھی کب ملی ہے اگر وجہ غم گئی\n\nہاں طرح آشیاں بھی انہیں خار و خس میں ہے\nبجلی جہاں پہ خاص بہ رنگ کرم گئی\n\nہاں شائبہ گریز کا بھی پیش و پس میں ہے\nوہ بے رخی کہ ناز کا تھی جو بھرم گئی\n\nاب کائنات اور خداؤں کے بس میں ہے\nاب رہبری میں قدرت دیر و حرم گئی\n\nجادو غزل کا جذب تمنا کے رس میں ہے\nیعنی وہ دل کی بات دلوں میں جو دم گئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D8%BA%D9%85_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "نور مہ کو شب تہ ابر تنک کیا لاف تھا", "poet_page": "مصنف:ممنونؔ نظام الدین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نور مہ کو شب تہ ابر تنک کیا لاف تھا\nبال اس مکھڑے سے اٹھ جاتے تو مطلع صاف تھا\n\nصافی دلغزند کی کیا تھی دم بوس و کنار\nبوسہ کو مشکل ٹھہرنا سینہ سے تا ناف تھا\n\nاک نگہ کا دور سے بھی آج کل محروم ہے\nدل کہ تیرا مدتوں خوکردۂ الطاف تھا\n\nہو در مے خانہ پر بے دخت رز بیٹھے ہوئے\nحضرت ممنوںؔ یہی کیا شیوۂ اشراف تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%D8%A8_%D8%AA%DB%81_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%D9%86%DA%A9_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%84%D8%A7%D9%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "نورا", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وہ نوخیز نورا وہ اک بنت مریم\nوہ مخمور آنکھیں وہ گیسوئے پر خم\n\nوہ ارض کلیسا کی اک ماہ پارہ\nوہ دیر و حرم کے لیے اک شرارہ\n\nوہ فردوس مریم کا اک غنچۂ تر\nوہ تثلیث کی دختر نیک اختر\n\nوہ اک نرس تھی چارہ گر جس کو کہیے\nمداوائے درد جگر جس کو کہیے\n\nجوانی سے طفلی گلے مل رہی تھی\nہوا چل رہی تھی کلی کھل رہی تھی\n\nوہ پر رعب تیور وہ شاداب چہرہ\nمتاع جوانی پہ فطرت کا پہرہ\n\nمری حکمرانی ہے اہل زمیں پر\nیہ تحریر تھا صاف اس کی جبیں پر\n\nسفید اور شفاف کپڑے پہن کر\nمرے پاس آتی تھی اک حور بن کر\n\nوہ اک آسمانی فرشتہ تھی گویا\nکہ انداز تھا اس میں جبریل کا سا\n\nوہ اک مرمریں حور خلد بریں کی\nوہ تعبیر آذر کے خواب حسیں کی\n\nوہ تسکین دل تھی سکون نظر تھی\nنگار شفق تھی جمال نظر تھی\n\nوہ شعلہ وہ بجلی وہ جلوہ وہ پرتو\nسلیماں کی وہ اک کنیز سبک رو\n\nکبھی اس کی شوخی میں سنجیدگی تھی\nکبھی اس کی سنجیدگی میں بھی شوخی\n\nگھڑی چپ گھڑی کرنے لگتی تھی باتیں\nسرہانے مرے کاٹ دیتی تھی راتیں\n\nعجب چیز تھی وہ عجب راز تھی وہ\nکبھی سوز تھی وہ کبھی ساز تھی وہ\n\nنقاہت کے عالم میں جب آنکھ اٹھتی\nنظر مجھ کو آتی محبت کی دیوی\n\nوہ اس وقت اک پیکر نور ہوتی\nتخیل کی پرواز سے دور ہوتی\n\nہنساتی تھی مجھ کو سلاتی تھی مجھ کو\n\nدوا اپنے ہاتھوں سے مجھ کو پلاتی\nاب اچھے ہو ہر روز مژدہ سناتی\n\nسرہانے مرے ایک دن سر جھکائے\nوہ بیٹھی تھی تکیے پہ کہنی ٹکائے\n\nخیالات پیہم میں کھوئی ہوئی سی\nنہ جاگی ہوئی سی نہ سوئی ہوئی سی\n\nجھپکتی ہوئی بار بار اس کی پلکیں\nجبیں پر شکن بے قرار اس کی پلکیں\n\nوہ آنکھوں کے ساغر چھلکتے ہوئے سے\nوہ عارض کے شعلے بھڑکتے ہوئے سے\n\nلبوں میں تھا لعل و گہر کا خزانہ\nنظر عارفانہ ادا راہبانہ\n\nمہک گیسوؤں سے چلی آ رہی تھی\nمرے ہر نفس میں بسی جا رہی تھی\n\nمجھے لیٹے لیٹے شرارت کی سوجھی\nجو سوجھی بھی تو کس قیامت کی سوجھی\n\nذرا بڑھ کے کچھ اور گردن جھکا لی\nلب لعل افشاں سے اک شے چرا لی\n\nوہ شے جس کو اب کیا کہوں کیا سمجھیے\nبہشت جوانی کا تحفہ سمجھیے\n\nشراب محبت کا اک جام رنگیں\nسبو زار فطرت کا اک جام رنگیں\n\nمیں سمجھا تھا شاید بگڑ جائے گی وہ\nہواؤں سے لڑتی ہے لڑ جائے گی وہ\n\nمیں دیکھوں گا اس کے بپھرنے کا عالم\nجوانی کا غصہ بکھرنے کا عالم\n\nادھر دل میں اک شور محشر بپا تھا\nمگر اس طرف رنگ ہی دوسرا تھا\n\nہنسی اور ہنسی اس طرح کھلکھلا کر\nکہ شمع حیا رہ گئی جھلملا کر\n\nنہیں جانتی ہے مرا نام تک وہ\nمگر بھیج دیتی ہے پیغام تک وہ\n\nیہ پیغام آتے ہی رہتے ہیں اکثر\nکہ کس روز آؤ گے بیمار ہو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88%D8%B1%D8%A7"} {"title": "نورجہاں", "poet_page": "مصنف:چندر بھان کیفی دہلوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہر جلوہ جہانگیر تھا جس وقت جواں تھی\nکہتے ہیں جسے نورجہاں نور جہاں تھی\n\nتھا حور کا ٹکڑا بت طناز کا مکھڑا\nاک شمع تھی فانوس میں جو نور فشاں تھی\n\nانداز میں شوخی میں کرشمہ میں ادا میں\nتلوار تھی برچھی تھی کٹاری تھی سناں تھی\n\nرخسار جہاں تاب کی پڑتی تھیں شعاعیں\nیا حسن کے دریا سے کوئی موج رواں تھی\n\nبجلی تھی چمکتی ہوئی دامان شفق میں\nیا موج تبسم تھی لبوں میں جو نہاں تھی\n\nگلزار معانی کی چہکتی ہوئی بلبل\nشاعر تھی سخن سنج تھی اعجاز بیاں تھی\n\nبیتاب ہوا جاتا ہے دل ذکر سے اس کے\nکیا پوچھتے ہو کون تھی وہ اور کہاں تھی\n\nدنیائے تدبر میں تھی یکتائے زمانہ\nہاتھ اس کے تھے اور ان میں حکومت کی عناں تھی\n\nدستور عدالت کے لئے اس کا قلم تھا\nفرمان رعایا کے لئے اس کی زباں تھی\n\nوہ شمع شب افروز تھی پروانہ جہانگیر\nیہ بات بھی دونوں کی محبت سے عیاں تھی\n\nلاہور میں دیکھا اسے مدفوں تہ مرقد\nگرد کف پا جس کی کبھی کاہکشاں تھی\n\nپیوند زمیں ہو گئے اب کون بتائے\nکیفیؔ یہ جہانگیر تھا وہ نورجہاں تھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88%D8%B1%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لیے\nرہی نہ طرزِ ستم کوئی آسماں کے لیے\n\nبلا سے! گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہے\nرکھوں کچھ اپنی ہی مژگان خوں فشاں کے لیے\n\nوہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناسِ خلق اے خضر\nنہ تم کہ چور بنے عمرِ جاوداں کے لیے\n\nرہا بلا میں بھی، میں مبتلائے آفتِ رشک\nبلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لیے\n\nفلک نہ دور رکھ اُس سے مجھے، کہ میں ہی نہیں\nدراز دستیِ قاتل کے امتحاں کے لیے\n\nمثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغِ اسیر\nکرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے\n\nگدا سمجھ کے وہ چپ تھا، مری جو شامت آئے\nاٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے\n\nبہ قدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگنائے غزل\nکچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے\n\nدیا ہے خلق کو بھی، تا اسے نظر نہ لگے\nبنا ہے عیش تجمُّل حسین خاں کے لیے\n\nزباں پہ بارِ خدایا! یہ کس کا نام آیا\nکہ میرے نطق نے بوسے مر ی زباں کے لیے\n\nنصیرِ دولت و دیں اور معینِ ملّت و ملک\nبنا ہے چرخِ بریں جس کے آستاں کے لیے\n\nزمانہ عہد میں اُس کے ہے محوِ آرائش\nبنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے\n\nورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے\nسفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے\n\nادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا\nصلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D9%85%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "نُبوّت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مَیں نہ عارِف، نہ مُجدِّد، نہ محدث،نہ فقیہ\nمجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوّت کا مقام\nہاں، مگر عالمِ اسلام پہ رکھتا ہوں نظر\nفاش ہے مجھ پہ ضمیرِ فَلکِ نیلی فام\nعصرِ حاضر کی شبِ تار میں دیکھی مَیں نے\nیہ حقیقت کہ ہے روشن صفَتِ ماہِ تمام\n“وہ نبوّت ہے مسلماں کے لیے برگِ حِشیش\nجس نبوّت میں نہیں قُوّت و شوکت کا پیام”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%8F%D8%A8%D9%88%D9%91%D8%AA"} {"title": "نِگہ اُلجھی ہوئی ہے رنگ و بُو میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "نِگہ اُلجھی ہوئی ہے رنگ و بُو میں\nخرد کھوئی گئی ہے چار سُو میں\nنہ چھوڑ اے دِل فغانِ صُبح گاہی\nاماں شاید مِلے، ’اللہ ھُو‘ میں!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%90%DA%AF%DB%81_%D8%A7%D9%8F%D9%84%D8%AC%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%88_%D8%A8%D9%8F%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نپولین کے مزار پر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "راز ہے، راز ہے تقدیرِ جہانِ تگ و تاز\nجوشِ کردار سے کھُل جاتے ہیں تقدیر کے راز\nجوشِ کردار سے شمشیرِ سکندر کا طلوع\nکوہِ الونَد ہوا جس کی حرارت سے گداز\nجوش کردار سے تیمور کا سَیلِ ہمہ گیر\nسَیل کے سامنے کیا شے ہے نشیب اور فراز\nصفِ جنگاہ میں مردانِ خدا کی تکبیر\nجوشِ کردار سے بنتی ہے خدا کی آواز\nہے مگر فرصتِ کردار نفَس یا دو نفَس\nعوَضِ یک دو نفَس قبر کی شب ہائے دراز!\n“عاقبت منزلِ ما وادیِ خاموشان است\nحالیا غلغلہ در گُنبدِ افلاکِ انداز”!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%BE%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "نپٹ یہ ماجرا یارو کڑا ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نپٹ یہ ماجرا یارو کڑا ہے\nمسافر دشمنوں میں آ پڑا ہے\n\nرقیب اپنے اوپر ہوتے ہیں مغرور\nغلط جاناں ہے حق سب سیں بڑا ہے\n\nجو وہ بولے سوئی وہ بولتا ہے\nرقیب اب بھوت ہو کر سر چڑھا ہے\n\nخدا حافظ ہے میرے دل کا یارو\nپتھر سیں جا کے یہ شیشہ لڑا ہے\n\nبرنگ ماہیٔ بے آب نس دن\nسجن نیں دل ہمارا تڑپھڑا ہے\n\nرقیباں کی نہیں فوجاں کا وسواس\nادھر سیں عاشقاں کا بھی دھڑا ہے\n\nکرے کیا آبروؔ کیوں کر ملن ہو\nرقیباں کے صنم بس میں پڑا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%D9%BE%D9%B9_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%A7%D8%AC%D8%B1%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DA%91%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نکاح ثانی", "poet_page": "مصنف:سجاد حیدر یلدرم", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "گھڑی، گھر رر، گھر رر کرکے بجی، دونوں نے ایک ساتھ نظریں اٹھائیں۔ نوجوان عورت انگیٹھی کے سامنے بیٹھی ایک خط پڑھ رہی تھی چھوٹی لڑکی، گڑیا کو بائیں ہاتھ میں لیے اور دائیں ہاتھ کی انگلی اردو کی پہلی کتاب کی ایک سطر پر رکھے، گڑیا کو وہ سبق جو خود اس نے آج پڑھا تھا۔ پڑھا رہی تھی، ’’کتا بھونکتا ہے۔۔۔ بلی میاؤں میاؤں کرتی ہے۔۔۔ اونٹ بلبلاتا ہے۔۔۔‘‘ دونوں کی آنکھیں ایک دم اٹھیں اور گھڑی پر پڑیں۔ نوجواب عورت نے اپنے دل میں کہا، ’’ لو، نو بج گئے۔‘‘ لڑکی نے گھڑی پر سے ماں کے چہرے پر نظر ڈالی اور بات کے لیے بہانہ ڈھونڈھ کے کہنے لگی، ’’اماں جان، گھڑی نو دفعہ بجی نا؟‘‘\n\nماں نے منہ سے کچھ نہ کہہ کے، مگر ذرا سر ہلاکے، گویا ’’ہاں‘‘ کہا، بچی نے تھوڑے تردد کے بعد پھر پوچھا، ’’ابا جان کا انتظار کب تک کریں گے؟‘‘ مان نے اس کا جواب بھی کچھ نہ دیا۔\n\nہاں انتظار کریں گے، یوں ہی انتظار کریں گے۔ عورت نے کاغذ کو پھر اٹھایا۔ آہ! اگر اب بھی آئے اور نگاہ محبت سے اسے دیکھے تو وہ، اس گمنام بے دستخط کے کاغذ کو پھاڑ ڈالے گی، ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گی اور بالکل ضائع کردینے کے لیے انگیٹھی میں ڈال کے راکھ کردے گی، اس پر یقین نہ کرے گی، اپنے شوہر کی بے وفائی کی اطلاع دینے والے کاغذ پر ذرا سا بھی یقین نہ کرے گی۔\n\n’’یا اللہ! کیا یہ ممکن ہے؟ تو یوں کہیے، یہ جو ہر دوسرے تیسرے رات رات بھر غائب ہوجایا کرتے ہیں، یہ سب بے وفائی کا نتیجہ ہے یہ سب کسی بیسوا کو دل دینے کا باعث ہے۔ یہ جو کہا جایا کرتا تھا کہ آج کچہری کے فلاں دوست کے ہاں دعوت ہے شاید رات کو نہ آسکوں، آج کمپنی باغ میں بینڈ سنتا رہا، اس لیے دیر ہوگئی۔ آج فلاں جگہ جلسہ تھا، اس لیے جلد نہ آسکا، یہ سب عذر جنھیں وہ یقین تو کیا کرتی تھی، مگر دھڑکتے ہوئے دل سے کہیں جھوٹ نہ ہوں، یہ سب عذر جھوٹ ہی تھے اور صر ف یہ کاغذ یہ ناپاک عبارت جو اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی ہنسی اڑاتی معلوم ہوتی ہے، صحیح ہے۔‘‘\n\nیہ کاغذ! وہ تو اس کا نام، اس کا کوٹھا اور تمام تفصیلات تک بتاتا ہے۔ کہتا ہے، ’’اگر چاہو تحقیق کرلو‘‘ یعنی بالکل صحیح ہے؟ انکار کی مجال نہیں، اس کےجھوٹ ہونے کا احتمال نہیں؟ یہ خیال اسے گویا شکنجہ میں دبا دبا کر پیسے ڈالتا ہے۔\n\nاور اس وقت، ایک منٹ میں گزشتہ واقعات۔ ماضی کے شیریں پردے کو ہٹاکے ایک دم اس کے سامنے آکھڑے ہوئے۔ وہ باتیں، وہ عذر جو اس نے اپنے شوہر کی زبان سے سنے تھے اور مان لیے تھے، وہ گراں واقعات جنھیں اس نے تحمل کیا تھا اور بھول گئی تھی، وہ لڑائیاں جو نہ معلوم کیوں اس میں ہوئی تھیں، باوجود یکہ خود اس نے کبھی اپنے شوہر سے لڑنے کا ارادہ نہیں کیا تھا، وہ تحقیریں اور چھوٹی چھوٹی اہانتیں جو اس کی کی جاتی تھیں اور جنھیں وہ معاف کرچکی تھی اور بھول چکی تھی، یہ سب پردہ ماضی سے نکل کر قطار در قطار سامنے آکھڑی ہوئیں، اور اپنے اصلی رنگ میں اس رنگ میں جن میں انھیں بھولنا، معاف کردینا، برداشت کرنا ممکن نہ تھا اپنے تئیں ظاہر کرنے لگیں۔\n\nاور اس وقت وہ ان کے عذاب سے تنگ آکر اور اس کے جگر میں اختلاج پیدا ہورہا تھا، اس سے مغلوب ہوکر اپنے ہاتھوں کو مل رہی ہے، جسم تھرا رہا ہے۔ اپنی انگلیوں کو اس طرح اینٹھ رہی ہے گویا توڑ ڈالے گی، ہاتھوں کو اس طرح بڑھاتی ہے، گویا اپنے کندھوں سے اکھاڑ دینا چاہتی ہے۔\n\nچلانے کے لیے، رونے کے لیے اس کو بہت بڑی ضرورت محسوس ہوتی تھی، لیکن اس کاغذ پر یقین کرنا نہیں چاہتی تھی، یقین نہ کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ اب اس نے اپنی نگاہیں اس کاغذ پر سے اٹھاکر، دیوار پر ڈالیں، جہاں کچھ اونچے پرسایہ میں شوہر کی تصویر لگی ہوئی تھی، گویا اس چہرے میں اس اہانت، اس بے وفائی کے جھوٹ ہونے کی علامتیں دیکھنا چاہتی تھی۔ اور اس وقت چند منٹ میں اپنی بیاہی زندگی کو پھر دوبارہ بسر کرگئی۔ اس کی بیاہی زندگی کے مرقعے اس طرح گزر گئے جس طرح کسی منبع سے مختلف رنگ کی روشنیاں کسی چیز پر یکے بعد دیگرے پڑیں۔ ان مرقعوں میں وہ چہرہ جو اس کے مقابل تصویر میں ہنس رہا تھا ہمیشہ ہوتا تھا۔\n\nوہ پہلی رات، وہ اس رات تو اسے چاہتا تھا، وہ رات جب کہ وہ تمام حسیات قلبی کے ساتھ اس سے کانپ کانپ کر باتیں کررہا تھا اور وہ مارے شرم کے پریشان و لرزاں تھی اور اس کے چہرے کو نہ دیکھتی تھی۔ اس رات بلا شبہ وہ اسے چاہتا تھا، ہاں صرف اسے چاہتا تھا۔\n\nیہ بیچاری لڑکی، اس رات، اسے کنکھیوں سے دیکھ دیکھ کے اس کی باتیں سن سن کے تہ دل سے یقین کررہی تھی کہ یہ منور و مسعود رات شب عشق ہوکر، لیل وصال بن کر ہمیشہ قائم رہے گی، تا ابد ختم نہ ہوگی۔\n\nاس کے بعد مرقع کا ایک اور صفحہ پیش نظر ہوا، ایک دن صبح کا وقت تھا وہ سوتے سوتے یکایک جاگی۔ کیا دیکھتی ہے کہ وہ خواب سے بیدار ہے، اس کے قریب بیٹھا ہے اور ایک الفت پاش مفتونیت سے آنکھیں اس کے چہرے پر گاڑے ہوئے ہے۔ وہ سونے میں اس طرح دیکھے جانے سے لجائی۔ اور اپنی گھبراہٹ اور شرم کو چھپا نہ سکی کہ اتنے میں اس نے اس کے منہ کو جو حیرت سے کھل گیا تھا، ایک لمبے بوسے سے بند کردیا۔ آہ یہ بوسے! لیکن اس وقت تو زندگی بوسوں ہی میں گزرتی تھی۔ اس زمانے میں تو وہ یہ خیال کرتی تھی کہ زندگی، ایک دائمی بوسہ عشق ہے۔ یہاں تک کہ ایک دن ان بوسوں کے درمیان اس نے زہر کا ایک گھونٹ چکھا، کوئی سبب نہ تھا، کوئی وجہ بظاہر معلوم نہیں ہوتی تھی، کہ ایک دن اسے ان عشق کے بوسوں میں چھپی ہوئی ایک کھٹک محسوس ہوئی، جس نے اس کے قلب، اس کی روح تک جاکر ایک ضرب لگائی۔\n\nبس اس وقت، اس سیکنڈ سے اسے ایک مبہم، غیر معنی ڈرنے ستانا شروع کردیا، لیکن اگریہ غیر معنی خوف، غیر معنی ہی رہتا تو وہ ایک پر لطف خواب کی بے معنی گھبراہٹ پر حمل کرکے اپنے دل کو دھوکا دے دے کر خوش رہتی، مگر یہ بھی نہ ہوا۔\n\nایک دن، اتوار کا دن تھا، وہ گھر سے نکلتے وقت اس کی طرف نہ دیکھ کے یہ کہتا ہوا کہ’’شاید میں آج دیر سے آؤں‘‘ جانا چاہتا تھا اس وقت بھی اس کی نظروں میں وہ وقت اور موقع پھر رہا ہے، جب اس نے پوچھا ’’کیوں؟‘‘ اور اس کی آنکھوں سے آنکھیں ملانا چاہیں تو اس نے جھوٹ بولنے والوں کی مخصوص پریشانی کے ساتھ اپنی چھتری کو لپیٹنے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا۔ ’’آج اتوار کا دن ہے شاید دوستوں کے ساتھ سیر وغیرہ میں دیر ہوجائے۔‘‘ پہلا جھوٹ! اس پہلے جھوٹ پر یقین نہ کرنے کے لیے اس نے تمام رات کوشش کی تھی، تمام رات اپنی طبیعت کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتی رہی تھی کہ یہ عذر جھوٹ نہ تھا اور اس کوشش میں اس کی واپسی کے وقت تک آنکھ بھی نہیں چھپکائی تھی۔ آخر وہ واپس آیا، اس واپسی کے وقت وہ اس کی زبان سے ایک کلمہ تسلی، ایک حروف اعتذار سننے کی امید رکھتی تھی۔\n\n’’تم اب تک سوئی نہیں؟‘‘\n\n’’نہیں، تمھارا انتظار کررہی تھی۔‘‘\n\nاس جواب پر اگر وہ ایک حرف ہی کہتا، ایک حرف محبت۔ تو اپنے اضطرابات کو وہ فوراً بھول جاتی، مگر اس نے کچھ بھی نہ کہا، رات کے کپڑے جلد جلد پہن کے، پلنگ پر لیٹتے وقت اس نے اس کا بوسہ لیا تو مگر اس بوسہ میں ایک اجتناب، ایک رکاوٹ ملی ہوئی تھی۔ پلنگ پر اس طرح گر پڑا گویا تھکن کے مارے اس کا تمام جسم ٹوٹ گیا اور یہ کہہ کے ’’آؤ سو رہیں’’ فوراً آنکھیں بند کرلیں اور سونے لگا۔ اس رات، رضائی میں منہ چھپاکے کہ کہیں وہ نہ سن لے، وہ رات بھر چپکے چپکے رویا کی رویا کی۔\n\nاس کے بعد وہ بات بات پر اس کا دل بھر آیا کرتا تھا اور اس کا خاوند بھی اسے روتا دیکھتا تھا اور اس کے رونے پر اپنی وحشت اور گھبراہٹ ظاہر کرتا تھا۔ اتنے اخلاق کا بھی استعمال نہ کرتا تھا کہ اس وحشت کو چھپانے کی کوشش کرتا۔ کبھی بلی کی طرح جو اپنے جسم کو آکر اپنے مالک سے سہلاتی ہے، لیکن ذرا سی تکلیف پر پنجہ مارنے کے لیے تیار رہتی ہے، وہ اس سے کہتا۔ ’’دیکھو روؤو مت، میری جان پہلے کی طرح مجھے چاہتی ہونا؟ آنکھیں پونچھ ڈالو، ذرا آنکھوں سے آنکھیں تو ملاؤ، جان ذرا ہنس تو دو‘‘ پھر ذرا سی دیر میں بلی کی طرح نرم پنجوں میں سے تیز ناخون نکالتا، یعنی کہتا۔ ’’بس بس رونا بہت ہوگیا، اس بسورنے کو بند کرو، گھر کیا ہے امام باڑہ ہے، تم مجھے بالکل گھر سے نکال دو گی۔‘‘ یہ باتیں کب سنتی تھی، جب کوارپن، بالپن کو پیچھے چھوڑے ہوئے صرف چھ ہی مہینے ہوئے تھے، چھ مہینے میں اس بیچاری عورت جوان عورت کو رونے کے لیے کس قدر کافی وقت مل گیا تھا، نہ صرف یہ بلکہ شوہر کو اس سے سیر ہونے اور ان کلمات کے کہنے کا بھی وقت مل گیا تھا۔\n\nہائے وہ امیدیں! وہ کس طرح منقطع ہوگئیں۔ رہا سہا رشتہ قلب اس کے اس آخری فقرے نے ’’تم بالکل گھر سے نکال دوگی۔‘‘ توڑ دیا، تو گویا وہ پہلے ہی اپنے تئیں گھر سے نکلا ہوا سمجھتا ہے، کہ یہ رونا ’’بالکل‘‘ گھر سے نکال دیگا۔ اس کے بعد اس نے اس کے سامنے طبیعت کو روکنا شروع کیا، کبھی کبھی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آتے لیکن وہ نہایت کوشش کرکے پلکوں کو دباکے ان آنسوؤں کو نکلنے نہ دیتی، ایک دن وہ اس کے سامنے بھی طبیعت کو نہ روک سکی، وہ، وہ دن تھا کہ اس نے اسے خبر دی تھی کہ وہ اس سب سے اعلیٰ ہدیہ کو جو عورت اپنے خاوند کو پیش کرسکتی ہے، اٹھائے ہوئے ہے اور کچھ دنوں میں پیش کرے گی۔ اس خبر کو دیتے وقت وہ سمجھتی تھی کہ مارے خوشی کے اچھل پڑے گا، اس کے گلے سے لپٹ جائیگا مگر وہ پتھر کی مورت کی طرح وہیں کا وہیں رہ گیا، متحیر آنکھوں سے یوں دیکھنے لگا، گویا سمجھا نہیں، پھر کہنے لگا۔ ’’مگر بہت جلد‘‘ باپ بننے کی خوشی بختی کی خبر پر پہلا کلمہ جو اس کی زبان سے نکلا وہ یہ تھا۔ حالانکہ قلباً اس کا خاوند برا آدمی نہ تھا، اس کا دل گواہی دیتا تھا کہ وہ برا آدمی نہیں ہے، سخت دل نہیں ہے، پھر اس قسم کے فقرے کیوں کہے جاتے ہیں؟ کیوں اسے رلایا جاتا ہے، کیا ان کے درمیان کوئی راز ہے، کوئی غلط فہمی ہے؟\n\n’’بہت جلد!‘‘ اس طعن پر وہ اپنی طبیعت کو نہ روک سکی اور رو پڑی، اس خیال سے معذب ہوکر رو پڑی کہ لو اب تک میں اپنے تئیں اس سے نہ چہوا سکی۔ لیکن اس رات وہ اس رونے پر غصہ نہ ہوا، بلکہ اپنے فقرے کے اثر کو گھٹانے کی کوشش کرتا رہا۔\n\n’’میں تو مذاق کرتا تھا، تم اسے سچ ہی سمجھ گئیں، کہیں مذاق سے بھی انسان اس قدر متاثر ہوا کرتا ہے، واہ وا واہ! علاوہ ازیں میں نے جو کہا، تمھارا ہی خیال کرکے کہا، ذرا سوچو تو، اگر لڑکی پیدا ہوئی تو دس پندرہ برس کے بعد تم اور وہ دو بہنیں معلوم ہونگی؟ اور یہ کہہ کہہ کے اور اس کی انگلیوں میں انگلیاں ڈال کے اور بالوں کو چوم چوم کے وہ گویا اس سے معافی مانگتا تھا، اس نے اسے معاف کردیا، وہ ہمیشہ ہی معاف کردیا کرتی تھی۔ ہمیشہ ان شکر رنجیوں کو جو اس غیر معنی شے، اس راز اس غلط فہمی سے پیدا ہوا کرتی تھیں، وہ معاف کردیا کرتی تھی۔\n\nلڑکی پیدا ہوئی اور اس واقعہ نے ایک بڑی تبدیلی کردی اس نے اپنے خاوند کو زچگی کے پلنگ کے سرہانے روتا ہوا دیکھا یہ اپنی پھچلی حرکات پر ندامت کا رونا تھا۔ یہ پہلی دفعہ تھی کہ اس نے خاوند کو روتے ہوئے دیکھا، یہ آنسو گویا اس بیچاری کےسال بھر کے اضطراب کو دھو رہے تھے، مٹا رہے تھے۔\n\nاس کے بعد اس کے خیال میں اچھی گزری یا شاید یہ ہو کہ سال بھر تک جن باتوں کی وہ عادی نہ ہوئی تھی، اب ان کی عادت پڑگئی تھی اور اس لیے اب دوستوں کی دعوتیں، سیر میں بہت دیر ہوجانا، اس کی توجہ کو اپنی طرف مائل نہ کرتے تھے، یہاں تک کہ دعوتوں اور تاخیر سیر میں آہستہ آہستہ تو اتر پیدا ہونے لگا، پھر بھی اس کے دل میں کچھ شبہ پیدا نہ ہوا۔\n\nاف! آخر کار وہ عظیم واقعہ! جس کا خیال اس کی آنکھوں کے سامنے، اس کے غضب ناک چہرے اور آتش فشاں اور جگر سوز نظروں کی تصویر لاکے کھڑا کردیتا ہے اور یہ غضب اور یہ آتش فشانی کس لیے ہوئی تھی؟ محض ایک چھوٹی سی بات پر، مگر لڑائی کے لیے ایک بہانہ تھا، اور اس وقت وہ پاگلوں کی طرح ہذیان بکنے لگا تھا۔\n\nجوان عورت، اس واقعہ کو یاد کرتے وقت خیال میں بھی پورا نہیں کرتی، اس کا غرور نسوانی، اس واقعہ کا خیال آتے ہی اسے پر قہر کردیتا ہے اور اس لیے کہ وہ مارے غصے کےکانپنے نہ لگے وہ اس واقعہ کو یاد کو یوں ہی ادھوڑا چھوڑ دیتی ہے۔\n\nیہ وہ واقعہ تھا کہ اس پر اس نے بھی کھلم کھلا اپنے خاوند سے اعلان جنگ کردیا تھا اور اس کی ناسزا باتوں کا نا سزا باتوں سے جواب دیا تھا۔ یہ لڑائی برسوں رہی۔\n\nاس زمانے میں ایسے ایسے دن بھی آتے تھے کہ کئی کئی دن تک گھر نہ آتا تھا، ایسی راتیں بھی آئی تھیں کہ وہ دونوں ایک بستر میں آرام کرتے تھے۔ مگر دو دشمنوں کی صفت سے لیٹے ہوتے تھے۔ دونوں منہ پھلائے ہوئے۔ دونوں ایک دوسرے سے منہ پھیرے ہوئے، دونوں میں بات چیت بند۔ غرض کہ اس زمانے میں دونوں دشمن تھے، لیکن پھر بھی نوجوان عورت اسے اچھی طرح جانتی تھی کہ جس زمانے میں وہ اس کی سخت دشمن تھی اسی زمانے میں اس کی محبت دل میں بیٹھی ہوئی تھی اور اس سے بھی واقف تھی کہ گووہ اس زمانے میں اس کی تحقیر کرتا تھا اسے ستاتا تھا تاہم وہ اسے چاہتا تھا، اس کی اسیر محبت تھا۔۔۔\n\nجب کیفیت یہ تھی تو یہ زبون زندگی کیوں، کیوں دونوں کس طرح خوش خوش زندگی بسر نہ کرسکتے تھے؟ کیوں ان میں یہ کشش، یہ لڑائی رہتی تھی؟ وہ اس سے نفرت کرنے کی کوشش کرتی اس کوشش کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ بالعکس وہ اپنے تئیں اس کی طرف مائل پاتی تھی۔ اگر وہ یہ مان لیتی کہ یہ آدمی برا ہے تو غالباً وہ اس سے نفرت کرسکتی، اگر وہ حقیقتاً برے دل کا آدمی تھا تو ہر لڑائی ہر شکر رنجی کے بعد ندامت کے ساتھ آنا اور اپنے ہاتھوں میں اس کا منہ لے کے چومنا اور بغل کو گدگداکے ہنسانے کی کوشش کرنا اور ہر طریقے سے صلح کرنے کی ترکیبیں کرنا کیا معنی رکھتا تھا۔\n\nاس بڑی لڑائی کے بعد جو اتنی مدت تک رہی، لڑکی کے چیچک نکلنے پر بھی یہ ہی ہوا تھا نا؟ بچی کے بخار اترنے اور دانے جھڑنے پر جو گھر میں ایک بڑے اندیشہ سے نجات پانے پر خوشی پھیلی ہوئی تھی، اس خوشی نے شوہر کو آخر کار اپنی بیوی کے آغوش میں گر کر معافی مانگنے پر مجبور نہ کیا تھا؟\n\nاگر وہ اچھا آدمی نہ ہوتا تو بھلا یہ ہوسکتا تھا؟ اس کی یگانہ تسلی اس کے شوہر کی یہ صفت تھی، چھ برس سے برے دنوں کو، لڑائی کے دنوں کو، بھلا دینے والی صرف یہ صفت تھی۔ وہ کبھی یہ گمان نہ کرتی تھی کہ ان واقعات کے ساتھ ان واقعات کے باوجود بھی بے وفائی ہوسکتی ہے۔\n\nہاں اس نے کبھی اسے سوچا بھی نہ تھا، یا یہ کہنا چاہیے کہ سوچنا چاہا بھی نہ تھا، اسے بے وفائی سے پاک، معرا دیکھنے کی آرزو اس قدر شدید تھی کہ بے وفائی کے شبہ دلانے والی چیزوں کو بھی خاص کوشش کرکے ذہن سے نکال دیا کرتی تھی۔\n\nاب نوجوان عورت غور سے دیکھنے کے لیے آنکھوں کو کھول کے دیوار پر سایہ میں لٹکی ہوئی تصویر کو دیکھتی ہے اور ایک نا امیدی کے لہجے میں کہتی ہے، آہ! یہ امید بھی جھوٹی امید نکلی۔\n\nاس کی پریشان آنکھیں تصویر کو دیکھ دیکھ کر اس پر مواخذہ سوال کو ’’تو تو بے وفا ہے؟‘‘ کہہ رہی تھیں، کاغذ گھٹنوں پر سے فرش پر گر پڑا تھا۔\n\nبچی نے اس سے مطمئن ہوکر کہ گڑیا نے خوب اچھی طرح سبق یاد کرلیا، اپنے ننھے بازو پر سر رکھ کے، گویا بڑے فرض سے فارغ ہوکر آرام سے سونا شروع کردیا، گھڑی پھر ایک بڑی گھر گھراہٹ کے ساتھ بجی۔ دس بجے۔\n\nاب بھی نہیں آئیگا؟ مگر اب، ہاں اس دفعہ، وہ نہ آنے کا سبب جانتی تھی۔ راتوں کو جو بیٹھ کے گھڑیوں انتظار کیا کرتی تھی اور دوستوں کی صحبت میں دیر ہوجانے کا خیال کرکے اپنے دل کو دھوکا دیا کرتی تھی، آج کی رات اپنے دل کو اس دھوکا دینے، اس طرح تسلی دینے کا موقع نہیں۔ اس جھوٹی تسلی کو بھی، ایک کاغذ کے ٹکڑے نے آکر اس سے چھین لیا۔\n\nسڑک پر سے اک گاڑی کے گزرنے نے گھر کی کھڑکیوں کو ہلا دیا۔ بیچاری عورت نے بڑی امید سے جھلملی میں سے سڑک پر نظر ڈالی، شاید اس گاڑی میں وہ ہو مگر کوچوان نے گھوڑوں کو قمچی ماری اور گاڑی تیزی کے ساتھ گزری چلی گئی۔\n\nاس وقت عورت نا امیدی اور عصبی غصے سے کانپنے لگی۔ کاغذ کو زمین سے اٹھاکر جیب میں رکھ لیا اور سوتی بچی کی کلائی پکڑ کر کہنا شروع کیا۔ ’’نہیں آئیں گے، تمھارے ابا جان اب بھی نہیں آئیں گے۔‘‘ لڑکی نے آنکھ کھول کر حیرت سے ماں کا منہ تکنا شروع کیا، دیکھا کہ چہرہ اس قدر پریشان ہے، آنکھیں اس قدر جل رہی ہیں کہ وہ ڈر گئی۔ ادھر کلائی کے دبنے سے، اور اس کے چھڑانے کی کوشش کرنے سے اس کے ہونٹ بگڑ گئے۔ آخر اپنی ماں کی حالت اور کلائی کے دبنے کی تکلیف سے وحشت زدہ ہوکر، اس نے رونا شروع کردیا۔ اس وقت، نوجوان عورت بھی ان آنسوؤں کو جنھیں وہ گھنٹوں سے روکے ہوئے تھی نہ روک سکی اور بچی کو گود میں لے کر ااور اپنے سینے سے بھینچ کر اس سے بھی سیل اشک جاری کردیا، اور اس طرح ماں اور بیٹی مل مل کر، ماں سب جانے ہوئے، بیٹی نہ جانے ہوئے، اپنے شوہر اور باپ کی غیبوبیت پر رو رہی تھیں۔\n\nیہ پہلی رات نہ تھی کہ وہ اکیلی تھی۔ لیکن اور راتوں کو ایک فراغت نفس کے ساتھ اس تنہائی کو کاٹ دیتی تھی کیوں کہ اپنے دل کو اس خیال سے تسلی دیا کرتی تھی کہ باوجود چڑچڑے مزاج ہونے کے وہ میرا مفتون، میرا دلبند ہے اور اب بھی آئے گا تو میرا مفتون، میرا عاشق ہوکر واپس آئیگا، لیکن آج وہ تسلی کہاں۔ آج اس تسلی کو اس کاغذ کے ٹکڑے نے کس بے رحمی کے ساتھ پاؤں تلے روند دیا۔ لڑکی کی ہچکی بند ھ گئی، تو اسے ہوش آیا اور اس نے اپنی طبیعت کو یکسو کرکے، لڑکی کو تھپکا تھپکا کے سلانا چاہا، لڑکی سوگئی اور اس کے دماغ میں اس کاغذ کے واقعات نے پھر آکر جمع ہونا شروع کردیا۔ اب ایک عزم متین کے ساتھ وہ ایک کام کرنا چاہتی تھی، اس خوفناک حقیقت کے کھلنے کے بعد فوق البشر کوشش سے وہ ایک علاج ڈھونڈھنا چاہتی تھی جو اس قسم کی زندگی سے جسے بسر کرنا ممکن نہ تھا، اسے رہائی دے اور پھر اس کی پہلی پر لطف، پر محبت زندگی واپس دے دے اور یہ کام اس ضعف نسوانی کے ذریعے سے کرنا چاہتی تھی جو اب تک ہمیشہ زبون اب تک ہمیشہ مغلوب ہی رہا تھا۔\n\nاس بات کا اسے پورا یقین تھا کہ اس کے دل میں اک مایہ بخابت ہے۔ وہ اسے بھی جانتی تھی کہ کل ماضی مع اس خوف ناک حقیقت کے ایک دھبہ ہے جو دھل سکتا ہے، محو ہوسکتا ہے اور بیچاری دھوکے کے کھائی ہوئی عورت چاہتی تھی کہ اس خوفناک واقعہ کو بھی عفو کردے، جیسا وہ اور واقعوں کو عفو کرچکی تھی، لیکن اسے بھول جانے کے لیے یہ ضرور تھا کہ شوہر تماماً اس کا صرف اس کا ہوجائے۔\n\nاس لڑکی کو تھپکاتے وقت کہہ رہی تھی۔ ’’آہ! وہ عورت، تو یوں کہنا چاہیے کہ میرا خاوند مجھ سے زیادہ اس سے متعلق ہے‘‘ اس کا حوصلہ اسے قبول نہ کرتا تھا، وہ گزشتہ چھ برس کی زندگی، جو باوجود اپنی تمام مصیبتوں کے آج کی رات کے مقابلہ میں گویا پرراحت زندگی تھی۔ اس کل زندگی میں وہ عورت شریک تھی۔ اس زندگی کا ایک حصہ، شاید بہتر حصہ، یقیناً بہتر حصہ، ایک بیسوا کے نصیب ہوا۔\n\nوہ پیار جو اس کے لیے ہونا چاہیے تھا، مگر نہیں ہوا، وہ بوسے جو اسے ملنے چاہیے تھے مگر نہیں ملے، وہ اس دوسری کو دیے گئے۔ ہاں ہاں وہ جو ایک دن ان بوسوں میں، ان بوسوں کےدرمیان، اس نے ایک زہر کا گھونٹ چکھا تھا وہ اس بیسوا کے ناپاک منہ کا بچا ہوا ایک قطرہ تھا۔ یہ خیال کرتے وقت اسے ایسا معلوم ہوتا تھا گویا خود بھی ناپاک ہوگئی اور خود اپنے سے اسے نفرت ہونے لگی۔ اس آدمی نے اس شوہر نے کیا کیا نہ کیا؟ اس کے بستر سے نکل کے اس کے بستر میں آنا، ان ہونٹوں سے جو اس کے منہ چومنے سے تراور ناپاک تھے اس کا ایک بوسہ لے کر، گویا ایک بوسہ صدقہ کرکے، اس کا منہ ناپاک کرنا، اس کی رائحہ حیات سے مست اور مدہوش ہوکر اس کے پاس آنا اور اس کے بالوں میں سر ڈال کے مشام خیال سے اسی کو سونگھنا اور اس کے بازو پر سر رکھ کے سوتے وقت، خواب میں اس کے ساتھ ایک نا تمام رہے ہوئے جلسہ عاشقانہ کو دیکھنا۔ آہ! اس آدمی نے اس صاف و پاک نوجوان عورت کو ایک بیسوا کا شریک بستر کرکے ملوث کردیا تھا۔\n\nیا اللہ! کیوں وہ ایسا کرتا تھا؟ اگر حقیقت میں اسے چاہتا تھا تو پھر یہ بے توجہی، یہ اغفال کیوں؟ یہ ایک خطائے موقت ایک قضائے غفلت بھی نہ تھی، اسے اس طرح برسوں سے دھوکا دے رہا ہے، برسوں سے یہ بے وفائی، یہ خیانت کررہا ہے، اور یہ بچی؟ س بیسوا کے عشق پر صرف وہی نہیں، بلکہ یہ چھوٹا ننھا، فرشتہ بھی قربان کیا جارہا ہے۔\n\nیہ بچی بھی روز اپنے ابا کے آنے کا انتظار کرتی ہے اور نہ آنے کا سبب نہیں جانتی، وہ پیار جو اس معصوم کا حصہ تھا وہ اسے نہیں ملتا، ایک معصوم کا حق بھی غضب ہورہا ہے۔ اس غضب پر کیوں اس نے کمر باندھ رکھی ہے۔\n\nنہیں نہیں یہ حالت نہ رہنا چاہیے، نہ رہنے دی جائیگی، نہ رہے گی، ایک علاج ایک تدبیر جوان تمام باتوں کو مٹادے، ان تمام باتوں کو ایک بری خواب کی یاد کی طرح چھوڑ جائے، آہ! کوئی تدبیر سوجھے، کوئی ایسی تدبیر کہ کارگر ہو۔\n\nاس کے بعد پھر اس کے بدن سے، یاس اور عجز کی وجہ سے طوفان اختلاج اٹھا اور سیل اشک بہانے لگا۔ اب اسے اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ اپنی لڑکی پر نظر ڈالے، رومال میں منہ چھپاکے آہستہ آہستہ رونے لگی۔\n\nدوسرے دن صبح اٹھی اور تدبیر کو سوچے ہوئے اٹھی اور اس تدبیر کو عمل میں لانے کا پورا ارادہ کیے ہوئے اٹھی۔ گو آج تک کسی با عصمت عورت نے یہ نہیں کیا مگر وہ کرے گی، اس خارق العادت کام کو کرے گی یعنی جاکر اس بیسوا کی منت کریگی اور اس کا خاوند اسے واپس دے دینے کی التجا کرے گی۔ اس کاغذ میں پتہ مفصل تحریرتھا، ’’چوک کی بڑی سڑک میں داہنے طرف حلوائی کی دوکان کی بازو سے جو گلی پھٹتی ہے، اس میں چوتھا مکان پیتل کے پتروں والے کواڑ کا دروازہ۔۔۔‘‘ اس بڑی مصیبت میں اس کے ساتھ ہمدردی کرنے والی ما ما تحقیق کر آئی تھی۔\n\nوہ آج صبح ابھی پوری بیدار بھی نہ ہوئی تھی۔ آنکھوں میں رات بھر دیر تک جاگنے سے مخموری چھائی ہوئی تھی، وہ خلقت جو اس زمرہ کی متوسلین میں سے ہے، اپنے اپنے گھر چلی گئی تھی۔ یا زیادہ صحیح یہ کہ ابھی گھر سے واپس نہیں آئی تھی، اس کی گرگ باراں دیدہ ماں بھی کسی کام سے باہر تھی، صرف ایک خدمت گارنی گھر میں موجود تھی۔\n\nخدمت گارنی نے اوپر جاکر سونے کے کمرے کا کواڑ آدھا کھول کر کہا۔ ’’ایک بی بی برقع اوڑھے آئی ہیں اور آپ سے ملنے کے لیے اصرار کررہی ہیں۔‘‘ اس خبر پر اسے بہت حیرت ہوئی اس نے آہستہ سے (کہ کہیں وہ جو پہلو میں سورہا تھا جاگ نہ اٹھے) کہا۔ ’’برقع والی بی بی! مجھ سے ملنا چاہتی ہے؟‘‘\n\nاسے یقین نہ آتا تھا، برقع والیاں بھی اس سے ملنے آنے لگیں! اب تک کوئی برقع والی اس کے ہاں آئی نہ تھی۔ پریشان بالوں کو جلد جلد سنوارتے ہوئے، آنکھوں کو ملتے ہوئے رومال سے منہ پونچھتے ہوئے۔ کیونکہ منہ دھونے کا وقت نہ تھا۔ ملگجے دوپٹے کو پھینک کر ایک نیا تہ کیا ہوا دوپٹہ اوڑھتے وقت اس نے پھر خدمت گارنی پر ایک شبہ کی نظر (ایک نظر جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اب تک یقین نہیں کرتی کہ حقیقتاً کوئی گھر والی بی بی اس کے پاس آئی ہے) ڈالی۔ کمرے میں سے پنجوں کے بل چل کر وہ بیٹھک کے کمرے میں، جس نے برقع والی بی بی اب تک نہ دیکھی تھی، آئی۔ دیکھا حقیقتاً ایک برقع والی بیٹھی تھی۔ بیٹھی تھی، غلط قلم سے نکل گیا، اس گھر میں بیٹھ کر وہ اپنے کو ناپاک نہ کرنا چاہتی تھی، گو محبت اسے اس گھر کی گلا گھونٹنے والی ہوا میں سانس لینے پر مجبور کررہی تھی، تاہم پاؤں کے سوا اور کوئی عضو یہاں کی چیزوں کو نہ چھوئے گا۔\n\nاس نے اس کی پذیرائی کے لیے بالوں کو ذرا سنوارنے دوپٹے کو الہڑ پنےسے نہیں بلکہ باقاعدہ اوڑھنے کی ضرورت محسوس کی۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ کمرے میں داخل ہوئی۔ نوجوان عورت نے جو ایک ہیکل مہیب عدالت بنی کھڑی تھی اس وقت برقع اٹھایا اور آسمان سے اترنے والی ایک نگاہ عصمت سے اس بیسوا کو جس نے اس کی زندگی کی خوشی کو برباد کردیا تھا دیکھا۔\n\nیہ باوقار عورت جس کی ہر سانس ہر نظر ہر حرکت با عصمت بی بی اور ماں ہونے کی قدسی اور علوی صفت ظاہر ہورہی تھی اس بیسوا کے مقابلہ میں کھڑی ہوکر اس کی زندگی کی مذلت کو اور بڑھا رہی تھی۔ وہ اس سے متاثر ہوکر پوچھنے لگی۔\n\n’’آپ مجھے چاہتی تھیں، بیگم صاحب؟‘‘\n\nاس نے آنکھوں سے شرارے برسا کے بلا تردد جواب دیا۔\n\n’’ہاں تمھارے، نہیں توبہ، برسوں سے مجھ سے چھینے ہوئے خاوند کے لیے آئی ہوں۔‘‘ اس آواز میں ایک عزم آہنیں کی قوت، ایک حکم عدالت کی مہابت موجود تھی۔ ادھر والی فوراً سمجھ گئی اور اپنے دل میں کہنے لگی۔ ’’اوہو، یہ ان کی بیوی ہے، لیکن حسین ہے، ہر گز بری نہیں‘‘ اب یہ دونوں عورتیں۔ جو ہر چیز سے پہلے عورتیں تھیں۔ تیز نگاہوں سے ایک دوسرے کا معائنہ کررہی تھیں۔\n\nادھر والی نے ایک نگاہ میں دیکھ لیا کہ اس عورت میں جو اپنا خاوند مانگنے آئی ہے ایک حسن تھا جو اس صنف میں نہیں نظر آتا جس سے کہ وہ خود منسوب تھی، ایک علوی حسن تھا جو صرف عصمت دار عورتوں کے ساتھ مخصوص ہے۔\n\nایسی آواز سے جس سے ایک ادائے استہزا ظاہر ہوتی تھی اس نے جواب دیا۔ ’’اپنے شوہر کو مجھ سے چاہتی ہو مگر بی بی جان! آپ غلطی پر ہیں، میں نے کسی کے شوہر کو ضبط نہیں کرلیا۔‘‘\n\nوہ اس جواب کی پہلے ہی متوقع تھی، اس کے سنتے ہی اس نے تار باندھ دیا۔ ’’آخر اس کی کیا ضرورت ہے؟ جھوٹ بولنے کی کوئی حاجت نہیں۔ میں تم سے یہاں لڑائی لڑنے نہیں آئی ہوں یقین مانو تم سے بیر رکھنے کا بھی میں اپنے میں کوئی حق نہیں دیکھتی۔ میں جو آئی ہوں تو اس لیے کہ اب بھی شاید تمھارے دل میں وہ چیز باقی ہو جو ہم سب کا حصہ ہے۔ میں تمھیں تریاہٹ کا نہیں، تریا پریم کا واسطہ دیتی ہوں۔ سمجھتی ہو میں کیا کہنا چاہتی ہوں؟ میں تم سے اپنا خاوند چھیننے نہیں آئی کیونکہ اپنے میں اس کی نہ قابلیت، نہ طاقت پاتی ہوں میں اسے مانگنے آئی ہوں۔ تمھاری ہتھیلی میں اس وقت ایک بہت بڑی چیز ہے۔ ایک گھر کا چین، ایک خاندان کا آرام، تمھاری ہتھیلی میں ہے۔ اسےچاہے مسل دو، چاہے چھوڑ دو۔ ان آنکھوں کو جو برسوں کے رونے سے تر ہورہی ہیں تم سکھا سکتی ہو۔ اس سے تمھارا علاقہ کیا ہے۔ کس طرح شروع ہوا، اب کس رنگ میں ہے۔ میں اس کا کھوج نہیں لگانا چاہتی۔ یہ جانتی ہوں کہ وہ اس وقت مجھ سے زیادہ تمھارا ہے۔ مجھ سے بھاگ کے تمھارے پاس آتا ہے۔ حالانکہ وہ میرا شوہر ہے اسے صرف میرا ہوکے رہنا چاہیے۔ میرے سوا اس پر کسی کا حق نہیں، میرے سوا وہ کسی کی ملکیت نہیں، کسی کی امانت نہیں۔ تم عورت کے دل کی باتیں شاید سمجھ سکتی ہوگی؟ سمجھتی ہو نا؟ ہائے کہیں سمجھو۔ تم نے میرا شوہر لے کر مجھ سے کیا کیا لے لیا۔ گھر بھر کا امن، گھر بھر کا چین لے لیا۔ وہ کل رات اور بہت سی راتوں کی طرح یہاں تھا، اس نے ساری رات شاید کیا یقیناً تمھارے ہاں گزاری، شاید تم جو مجھ سے ملنے اس کمرے میں آئیں تو اس کے پہلو سے اٹھ کے آئیں۔ لیکن جانتی ہو کہ اس کی بیوی نے یہ رات کیوں کر کاٹی یہی رات نہیں، اسی طرح کی اور سیکڑوں راتیں کس طرح کاٹیں، جہنم میں انگاروں پر لوٹ لوٹ کر کاٹیں، میری پانچ برس کی۔ ہاں سنتی ہو، میرے پاس پانچ برس کی ایک ننھی بھولی جان بھی ہے۔ وہ بھی رو روکے بابا کا انتظار کرکے سوئی ہے۔ البتہ تمھیں خبر نہیں کہ گھر میں یہ کیفیت کیسی مصیبت کی کیفیت ہے اگر تم جانتی ہوتیں تو تم ضرور اس سے کہتیں،\n\n’’جاؤ میرے پاس سے جاؤ تمھارے گھر میں جو عورت تمھارا انتظار کررہی ہے، جو بچی تمھارا انتظار کررہی ہے اس کے پاس جاؤ، میں ان کے بلکنے کا سبب نہیں ہونا چاہتی۔۔۔‘‘ جواب نہ دو، تمھاری آنکھوں کا نیچا ہونا ہی کافی جواب ہے۔ تم جس زندگی کاٹنے پر مجبور ہو، شاید اس زندگی نے بھی تمھاری طبیعت کو بالکل مسخ نہ کردیا ہوگا کیونکہ تم عورت ہو اور عورت سے عورت پن کب جاسکتا ہے۔ ہر عورت کی طبیعت بیوی بننے، ماں بننے کے لیے پیدا ہوئی ہے۔ مجھے یہاں تک لانے والی تمھاری خوشامد کرانے والی چیز یعنی بچے کی محبت، شاید تم میں بھی ہو۔‘‘\n\nیہ کہتے ہوئے اس پر رقت طاری ہونے لگی اور وہ یہ بھول گئی کہ وہ ایک فاحشہ کے مقابلہ میں ہے اور طبیعت پر قابو میں ذرا سی کمی آنے لگی آواز میں باوجود بے انتہا ضبط کے کچھ بھر بھراہٹ پیدا ہوگئی، فقرے دل میں چشمے کی طرح ابل رہے تھے، وہ کم کہنا چاہتی تھی مگر زیادہ کہہ رہی تھی۔ ادھر والی اس پر جوش پر خروش دلی تقریر کے سامنے چپ کھڑی تھی اور نہیں جانتی تھی کہ کیا جواب دے، کبھی کبھی ’’لیکن میں‘‘ ’’مگر وہ‘‘ سے کچھ فقرہ شروع کرنا چاہتی مگر اس بدبخت بیوی کے مقابلہ میں جو اس کے سامنے اپنے تمام عذاب زندگی کے ساتھ فریاد قلب کررہی تھی کچھ نہ کہہ سکتی تھی۔\n\nایک دم، یہ مغلوبیت اس کے نفس پر گراں گزری۔ اس عورت کے سامنے اپنے تئیں مقابلہ سے عاجز دیکھ کر اس عصمت کے حضور میں اپنی ذلت فحش کو بداہتاً محسوس کرکے اس کے دل میں ایک طغیان غرور اٹھا اور اس قلب میں جس میں ذرا کی ذرا کو عورت پن کی حسیات مرحمت اور رقت پیدا ہوئی تھیں، یکایک تمام حیات فاحشہ جاگ اٹھی اور اس نے اس حس سے مغلوب ہوکر، اس عورت کو جو اس آدمی کی اس قدر فریفتہ معلوم ہوتی تھی۔ حقارت آمیز جواب دینے کا ارادہ کرلیا اور کہا۔\n\nسبحان اللہ آپ کی بھی نرالی باتیں ہیں۔ مجھ سے آکر اپنا خاند مانگتی ہو، اگر ایسی ہی ضرورت ہے تو اسے پکڑ کے رکھنے، اپنا کرکے رکھنے کی تدبیر کیوں نہیں سوچتیں۔‘‘\n\nنوجوان عورت نے دیکھا کہ سامنے والی اب وہ عورت نہیں جس میں حسن نسوانی پیدا ہو رہا تھا بلکہ اب وہ ایک عورت ہے جو ایک فاحشہ کی صفت سے متصف ہوکر لڑائی لڑنا چاہتی ہے۔ اس نے ذرا اونچی آواز سے جواب دیا۔\n\n’’مجھ سے پہلے تم نے اسے اپنا کرلیا، اپنے ساتھ باندھ لیا تھا؟ پھر کیوں پوری محافظت نہ کی۔ کیوں اسے اجازت دی کہ وہ جاکر ایک جواب لڑکی کی زندگی تباہ کردے۔ تمھیں اسے پکڑ کے رکھنا چاہیے تھا۔ نہ اسے پکڑ کے رکھتی ہو، نہ چھوڑ دیتی ہو۔ میں اپنے میں اتنی قوت نہیں پاتی، وہ چلّتر نہیں جانتی کہ اسے تمھارے پنجوں سے چھڑا لوں۔‘‘\n\nادھر والی، اب کونے میں ایک مونڈھا کھینچ کر اس پر بیٹھ گئی اور پاؤں پر پاؤں رکھ کے انہیں ہلانا شروع کیا اور ایک مستہزی اور بے اماں نظر سے نوجوان عورت کو دیکھنے لگی۔ ایک دو منٹ تک خاموشی طاری رہی، دونوں سوچ رہی تھیں کہ ان باتوں کا انجام کیا ہوگا کہ اتنے میں مونڈھے والی نے پوچھا۔\n\nتو اب میں کیا کروں؟ہر شام بیگم صاحب کے گھر، ان کے شوہر کو ہاتھ پکڑکے پہنچا آیا کروں؟‘‘\n\nاس نے اس طعنہ، اس تحقیر پر بھی صبر کیا، ایک مرتبہ پھر اس کی نیکی طبیعت (اگر اس میں نیکی طبیعت رہ جانے کا احتمال باقی ہو) سے اپیل کرنے کا ارادہ کیا۔\n\n’’کیوں یوں مجھ پر فقرے کستی ہو میں نے شروع ہی میں کہدیا تھا کہ تم سے لڑنے نہیں آئی ہوں۔ میں جو تم سے مانگتی ہوں، جو تم سے امید رکھتی ہوں وہ ایک سادی سی بات ہے تم اس آدمی کو چاہتی نہیں۔ یا کیسے کہوں، وہ بھی تمھارے لیے اور بہت سے آدمیوں کی طرح ایک آدمی ہے۔ وہ بھی ان میں سے ایک ہے جس سے تمھارے گھر کا خرچ نکلتا ہے اور بس۔‘‘\n\nاس پر یکایک وہ غصہ میں آگئی اور کہنے لگی۔ ’’میرے گھر میں آکر مجھ کو ایسی باتیں سناتی ہو، میری ہتک کرتی ہو، ایں‘‘\n\nفاحشہ تو غصہ کے لیے ایک بہانہ ڈھونڈھ رہی تھی، ’’باتیں سناتی ہو، میری ہتک کرتی ہو‘‘ پر ہی اس نے بس نہیں کیا بلکہ اور بھی بہت کچھ کہہ ڈالا، نوجوان عورت اب تک اپنی متانت قائم رکھے تھی لیکن اب وہ ہاتھ سے چھوٹی جاتی تھی اور وہ بھی دلی غصہ سے کانپ رہی تھی اور اس کا دل چاہتا تھا (مگر دل کو روکتی تھی) کہ اس بےحیا عورت پر جو اپنی عادت دیرینہ کے موافق، بغیر سوچے سمجھے اپنے سینے سے دوپٹہ ہٹاتے ہوئے۔ اول فول بک رہی تھی، حملہ کرکے مونڈھے پر سے گرادے لیکن طبیعت پر جبر کیے ہوئے خاموش کھڑی سن رہی تھی۔ اتنے میں دیکھا کہ خود وہ اٹھی اور اس سے ہاتھا پائی کرنی چاہتی ہے، اس کو دیکھ کر اس کا عزم صبر بالکل جاتا رہا، اور اس نے اونچی آواز سے کہا۔\n\n’’ہاں ہاں میں تمھیں تمھارے گھر میں ایسی باتیں سناتی ہوں، تمھاری ہتک کرتی ہوں، جانتی ہو تم پر عصمت والی بیبیوں، محبت والی ماؤں کی لعنتیں، بددعائیں پڑتی ہیں۔ تم جو گھروں کے چین بیبیوں کے آرام کی دشمن ہو تم جو ہمارے خاوندوں کو ہم سے چرا لیتی ہو۔۔۔‘‘ یہ کہتی ہوئی کانپ رہی ہے اور اپنی خلل زندگی کا انتقام اس فاحشہ کی تحقیر کرنے، اسے سخت سخت باتیں سنانے سے لینا چاہتی ہے۔ اب ادھر والی بھی مارے غصہ کے پاگل سی ہوگئی۔ دو پٹہ بدن سے اتار کر پھینک دیا، اور اس پر حملہ کرنے کے لیے ایک قدم آگے ڈالا، مگر صرف ایک قدم۔ دوسرا قدم ڈالنا چاہتی ہی تھی کہ پیچھے سے فولادی ہاتھوں نے اس کے کندھوں کو پکڑ لیا، اس وقت ان دونوں عورتوں نے اسے دیکھا۔\n\nوہ تھوڑی دیر سے وہاں کواڑ کے پیچھے کھڑا سن رہا تھا۔ اس بیس منٹ کے زمانہ نے اس پر تزکیہ نفس و تصفیہ حیات کے لیے برسوں کی ریاضت کا کام دیا اور اس نے اپنی نوجوان بیوی کو، اس بیوی کو جس کے آنسوؤں کے نشان اب تک اس کے رخساروں پر تھے، جس کا صرف غمگین چہرہ کھلا ہوا تھا، باقی لمبا متناسب الاعضاء لطیف اور شرمیلا جسم برقع میں چھپا ہوا تھا، دیکھا۔ پھر فوراً نظر اس دوسری پر پڑی جو بالوں کو بکھیرے، باسی منہ اور مخمور مگر پھٹی آنکھیں لیے ملگی کرتی جو اوپر کو چڑھ گئی تھی پہنے اس جسم کو ظاہر کررہی تھی جس کی رگ رگ سے حسیات ملوث افشاء ہورہے تھے اور جس کی تمام ہیئت کذائی سے گویا بوئے فحش کے بھپکنے نکل رہے تھے۔ ان دونوں کو مقابل دیکھ کر ان دونوں کا فرق اس کی آنکھوں میں چبھ گیا۔ ایک پاک و لطیف دوسری کثیف و ملوث، ہم جسماً ہم اخلاقاً ملوث۔\n\nپھر اپنی بیوی کی آواز کی رقت میں وہ ایک ادائے استرا حام پاتا تھا جو دل کو مسلے ڈالتی تھی، اس دوسری کی آواز میں بے انصافی استہزا، گستاخی، جرات چھپی ہوئی تھی جس کو سن کے وجدان نفرت کرتا تھا اور اسے ایسا جوش آیا کہ اسے تھپڑ مارکے گرادے اور اس کے قدموں پر گر پڑے۔ اللہ کی پناہ! اس عورت، اس مقدس اور محترم فرشتہ سعادت کو کس پر قربان کررہا تھا، کس کے لیے ستا رہا تھا؟ ایک فرسودہ ملوث مخلوق کے لیے جو سیکڑوں آغوش میں جاکر، متاع عشق اور جنس حسن بیچتی تھی۔‘‘\n\nایک منٹ میں وہ آنسوؤں کے دریا جو اس کی وجہ سے بہے اس کی نظروں کے سامنے سے گزر گئے۔ وہ تمام بے انصافیاں جو اس نے اپنی بیاہتا کے ساتھ کی تھیں۔ اس کی ضمیر پر برچھی کی طرح آکر لگیں۔ اب قلباً اپنے تئیں اس سے کس قدر مربوط اور اس سے کس قدر دور پارہا ہے۔ جب یہ بات ہے، تو اب تک کونسی چیز مانع ہے، بس انشاء اللہ ایک پھلانگ میں اپنے تئیں اس قعر مذلت سے نکال کر اپنی زندگی اپنی بیوی بچوں کے لیے وقف کردے گا اور اس کے پاؤں پر سر رکھ دیگا۔\n\nیہ سوچ ہی رہا تھا کہ دیکھا کہ فاحشہ اس کی بیوی پر ہاتھ چھوڑنا چاہتی تھی۔ یہ دیکھتی ہی دنیا، اس کی آنکھوں میں تاریک ہوگئی۔ وہ بجلی کی تیزی کے ساتھ کواڑ کھول کے کمرے میں در آیا اور اپنے آہنیں پنجوں سے اس کے کندھوں کو پکڑ جھنجھوڑ دیا۔\n\nاور پھر ایک ذرا سا جھٹکا دے کے اسے اور اس کے ساتھ اس کی محبت کو اپنے سے دور پھینک دیا اور پھر اپنی بیوی کے پاس جاکر اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے اور ایک نگاہ استر حام کے ساتھ جس میں آج کے دن تک کے تمام قصوروں کے لیے طلب عفو آکر جمع ہوگئی تھی، اس نے بھرائی ہوئی آواز سے کہا۔\n\n’’میری خطاؤں کو معاف کردو، میں صر ف تمھیں چاہتا ہوں، میں صرف تمھارا ہوں اور تمھارا ہوکے رہوں گا۔‘‘\n\nاور پھر اس کے چہرے کو جس پر دو آنسوؤں کے قطرے دو قطرہ سعادت ڈھلک رہے تھے، اپنی طرف کھینچ کے، اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔\n\nاور جب کہ وہ فاحشہ اپنے غصہ اور حسد کو ایک کھسیانی ہنسی سے چھپانے کی کوشش کررہی تھی، اس بیاہے جوڑے نے جن کے درمیان اب تک ایک سرد مہری کی دیوار حائل تھی جسے وہ ہٹا نہ سکتے تھے۔ پاک، صاف، محبت بھرا بوسہ لے کر گویا دوسری مرتبہ نکاح کیا اور وہ پیمان وفا باندھا جو اب عمر بھر تک نہ ٹوٹے گا۔ یہ بوسہ اس پیمان وفا کی مہر تھا۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%AD_%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "نکالی جائے کس ترکیب سے تقریر کی صورت", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "نکالی جائے کس ترکیب سے تقریر کی صورت\nوہ آئینہ کی صورت اور میں تصویر کی صورت\n\nگرفتار محبت کر لیا باتوں ہی باتوں میں\nتسلسل سے نمایاں ہو گئی زنجیر کی صورت\n\nزیادہ آئینہ سے ہے منور مصحف عارض\nاور اس پر خال مشکیں آیۂ تطہیر کی صورت\n\nترے تیور بدلتے ہی زمانہ ہو گیا دشمن\nہلال عید بھی ظاہر ہوا شمشیر کی صورت\n\nستم ہو جائے گا گر بال بھی بیکا ہوا اس کا\nنکل کر آہ سینہ سے گئی ہے تیر کی صورت\n\nکبھی میٹھی نگاہیں ہیں کبھی تیور بدلتے ہیں\nنہ مرتا ہوں نہ جیتا ہوں یہ ہے تعزیر کی صورت\n\nمزہ کیا اس بت بے پیر سے دل کے لگانے کا\nجو خلوت میں ہو بت محفل میں ہو تصویر کی صورت\n\nخفا ہوتے ہی کچھ کا کچھ بھوؤں کا ہو گیا نقشہ\nکبھی خنجر کی صورت اور کبھی شمشیر کی صورت\n\nجسے مل جائے خاک پاک دشت کربلا پرویںؔ\nپلٹ کر بھی نہ دیکھے وہ کبھی اکسیر کی صورت", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%AA%D8%B1%DA%A9%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نکتہ چیں ہے، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنے\nکیا بنے بات، جہاں بات بنائے نہ بنے\n\nمیں بُلاتا تو ہوں اُس کو، مگر اے جذبۂ دل\nاُس پہ بن جائے کُچھ ایسی کہ بِن آئے نہ بنے\n\nکھیل سمجھا ہے، کہیں چھوڑ نہ دے، بھول نہ جائے\nکاش! یُوں بھی ہو کہ بِن میرے ستائے نہ بنے\n\nغیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ، اگر\nکوئی پُوچھے کہ یہ کیا ہے، تو چُھپائے نہ بنے\n\nاِس نزاکت کا بُرا ہو، وہ بھلے ہیں، تو کیا\nہاتھ آویں، تو اُنھیں ہاتھ لگائے نہ بنے\n\nکہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے\nپردہ چھوڑا ہے وہ اُس نے کہ اُٹھائے نہ بنے\n\nموت کی راہ نہ دیکھوں؟ کہ بِن آئے نہ رہے\nتم کو چاہوں؟ کہ نہ آؤ، تو بُلائے نہ بنے\n\nبوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اُٹھائے نہ اُٹھے\nکام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے\n\nعشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش غالبؔ!\nکہ لگائے نہ لگے، اور بُجھائے نہ بنے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D8%AA%DB%81_%DA%86%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%DB%92"} {"title": "نکتۂ توحید", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "بیاں میں نکتۂ توحید آ تو سکتا ہے\nترے دماغ میں بُت خانہ ہو تو کیا کہیے\nوہ رمزِ شوق کہ پوشیدہ لااِلہٰ میں ہے\nطریقِ شیخ فقیہانہ ہو تو کیا کہیے\nسُرور جو حق و باطل کی کارزار میں ہے\nتُو حرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیے\nجہاں میں بندۂ حُر کے مشاہدات ہیں کیا\nتِری نگاہ غلامانہ ہو تو کیا کہیے\nمقامِ فقر ہے کتنا بلند شاہی سے\nروِش کسی کی گدایانہ ہو تو کیا کہیے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D8%AA%DB%82_%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF"} {"title": "نکل آیا وہ گھبرا کر دل اس کا اس قدر دھڑکا", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نکل آیا وہ گھبرا کر دل اس کا اس قدر دھڑکا\nصدا بجلی کی دی نالے نے جب منہ سے مرے کڑکا\n\nٹھہر کچھ دن میں دست اندازیوں کا وقت آئے گا\nنہال نو دمیدہ ہوں بھروسہ کیا مری جڑ کا\n\nہمیشہ خاک و خوں میں مجھ کو بیتابی بٹھایا کی\nبہ شکل مرغ بسمل کون سے پہلو نہیں پھڑکا\n\nخیال عارض روشن میں صبح و شام یکساں ہے\nیہاں آٹھوں پہر پیش نظر ہے نور کا تڑکا\n\nیہ سچ ہے وقت پر بے رونقی بھی کام آتی ہے\nنہال خشک کو کھٹکا نہیں ہوتا ہے پت جھڑ کا\n\nنہ کیوں پنہاں رکھوں دامن میں اس کو کم نگاہوں سے\nسمجھتا ہوں میں اپنا اشک گلگوں لعل گودڑ کا\n\nگزرتا ہے سلامت واقف انجام مطلب سے\nنہیں رستہ کھٹکتا آنکھ میں دہقاں کی بیہڑ کا\n\nلیے ہیں گل کے بوسے آج کس چوری سے بلبل نے\nپڑا سویا کیا گلچیں کوئی پتا نہیں کھڑکا\n\nچھپایا پردۂ فانوس بن کر جسم عریاں نے\nدرون استخواں سے جس گھڑی شعلہ کوئی بھڑکا\n\nبجز ایما کلام عشق مطلب سے معرا ہے\nکسی پر راز کھل سکتا نہیں مجذوب کی بڑ کا\n\nفصاحت کے خلاف آئے نظر سب قافیے ہم کو\nنسیمؔ ایسی زمیں پر کیجیے اطلاق بیہڑ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D9%84_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%88%DB%81_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%AF%DA%BE%DA%91%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نکل جائے یوں ہی فرقت میں دم کیا", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نکل جائے یوں ہی فرقت میں دم کیا\nنہ ہوگا آپ کا مجھ پر کرم کیا\n\nہنسے بھی روئے بھی لیکن نہ سمجھے\nخوشی کیا چیز ہے دنیا میں غم کیا\n\nمبارک ظالموں کو ظلم ہم پر\nجو اپنا ہی کیا ہے اس کا غم کیا\n\nمٹا جب امتیاز کفر و ایماں\nمکان کعبہ کیا بیت الصنم کیا\n\nنہیں جب قوت احساس دل میں\nغم دنیا سرور جام جم کیا\n\nگزر ہی جائیں گے غربت کے دن بھی\nکریں دو دن کو اب اخلاق کم کیا\n\nمری بگڑی ہوئی تقدیر بھی ہے\nتمہارے طرۂ گیسو کا خم کیا\n\nمری تقدیر میں لکھا ہے تو نے\nبتا اے مالک لوح و قلم کیا\n\nبھلا دے گی ہمیں دو دن میں دنیا\nہماری شاعری کیا اور ہم کیا\n\nہر اک مشکل کو حل کرتی ہے جب موت\nکروں آگے کسی کے سر کو خم کیا\n\nرواںؔ کے درد کا عالم نہ پوچھو\nکوئی یوں ہوگا مست جام جم کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیّری", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیّری\nکہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری\nترے دِین و ادب سے آ رہی ہے بوئے رُہبانی\nیہی ہے مرنے والی اُمّتوں کا عالَمِ پیری\nشیاطین مُلوکیّت کی آنکھوں میں ہے وہ جادو\nکہ خود نخچیر کے دل میں ہو پیدا ذوقِ نخچیری\nچہ بے پروا گذشتند از نواے صبحگاہِ من\nکہ بُرد آں شور و مستی از سیہ چشمانِ کشمیری!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%D8%B3%D9%85%D9%90_%D8%B4%D8%A8%DB%8C%D9%91%D8%B1%DB%8C"} {"title": "نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا\nلاشہ ہے آفتاب میں اس کا پڑا ہوا\nعابد اسیر ہو کے چلا ہے بندھا ہوا\nناموس ساتھ قافلہ جیسے لٹا ہوا\n\nبیمار و زار پاؤں میں طاقت تنک نہیں\nمرگ پدر کے غم سے فراغت تنک نہیں\nپھر جور اہل شام سے فرصت تنک نہیں\nجاتا ہے جی قدم قدم اوپر چلا ہوا\n\nناموس کو جو دیکھے ہے حال خراب سے\nآنکھیں نہیں کسو سے ملاتا حجاب سے\nجس وقت گر پڑے ہے کہیں اضطراب سے\nرہ جا ہے دیر دیر تلک پھر گرا ہوا\n\nجاتا ہے سوے شام دن اپنا سیاہ کر\nگرتا ہے گام گام پر اک دل سے آہ کر\nمانند آفتاب قیامت نگاہ کر\nسر کو پدر کے راہ میں نیزے چڑھا ہوا\n\nاس لشکر شکستہ و خستہ کا ایک بار\nمیداں میں کارزار کے ہوکر ہوا گذار\nدیکھا جو خاک و خوں میں کٹا سر وہ تاجدار\nکہنے لگا ہر ایک کہ اے شہ یہ کیا ہوا\n\nکل تک تو بزم ناز کا مسندنشیں تھا تو\nاسلامیوں کی رونق ایمان و دیں تھا تو\nمسجود خلق و قبلۂ اہل یقیں تھا تو\nہنگامہ تیرے سر پہ یہ کیسا بپا ہوا\n\nامت نے کیوں نبیؐ کی کیا تجھ کو یوں ہلاک\nتھا کیا سبب کہ بستر راحت ہوئی ہے خاک\nکچھ وجہ بھی کہ دھوپ میں جلتا ہے جسم پاک\nرویت علیؓ کی جاتی رہی کیا بلا ہوا\n\nاکبر جو تھا شبیہ محمدؐ سو ووں گیا\nاصغر تڑپ کے تشنہ دہانی سے یوں گیا\nجانے کو اپنے آپ تو جانے ہے جوں گیا\nگھر کا ترے گئے پہ عجب ماجرا ہوا\n\nخیموں پہ تیرے دوڑ پڑے ناگہاں کئی\nاسباب میں ردا نہ ہمارے کنے رہی\nبے پردہ ہوکے ہم نے ہر اک کی جفا سہی\nعابد ضعیف در تئیں آیا کھنچا ہوا\n\nارمان کیسے کیسے گئے ساتھ لے جواں\nہر لحظہ ایک ماتم تازہ رہا ہے یاں\nشادی اگر رچی تھی تو اس طرح اپنے ہاں\nقاسم شہید آن کے جوں کدخدا ہوا\n\nاعوان یوں تلف ہوئے کٹتی ہے جیسے گھاس\nانصار اس طرح کٹے وحشی ہوں جوں اداس\nاسباب ظاہری نہ رہا کچھ کسو کے پاس\nوابستہ تھا جو کوئی ترا سو گدا ہوا\n\nکیوں غرق خون ہوکے ہمیں تو ڈبو گیا\nکیوں ہم سے بے علاقہ و فارغ سا ہوگیا\nمیداں میں کارزار کے کیا آکے سوگیا\nآیا نہ پھر جو گھر کی طرف تو گیا ہوا\n\nآتے بھی ہیں جو اٹھتے ہیں اپنے مکان سے\nدل تنگ ہوکے جاتے بھی ہیں پر نہ جان سے\nتو اٹھ کے جو گیا سو گیا پھر جہان سے\nکیا جانے تو کہ گھر پہ ترے پیچھے کیا ہوا\n\nفرزند و زن اسیر ہوئے ٹک تو آنکھ کھول\nخیمے گرے پڑے ہیں کھڑے غول کے ہیں غول\nحیرت سے ہم تو چپ ہیں بھلا تو تنک تو بول\nاک شور ہے جو منھ مندے تو ہے پڑا ہوا\n\nغارت علی العموم تھی تھا حکم قتل عام\nمارے گئے چنانچہ ترے اقربا تمام\nواماندگاں چلے ہیں اسیرانہ سوے شام\nہے اک چراغ خانہ سو جاوے بجھا ہوا\n\nیعنی وہ سخت سست ہے بیمار عابدیں\nتس پر بندھا ہے جیسے گنہگار عابدیں\nناموس کو جو دیکھے ہے یوں خوار عابدیں\nگریاں برنگ ابر ہے آگے کھڑا ہوا\n\nروتی ہے جب سکینہ تو روتا ہے زار زار\nآخر کو گر پڑے ہے وہ بے تاب ڈاڑھ مار\nجاتی ہے چھوٹ ہاتھ سے اونٹوں کی گر مہار\nکیا کیا سنے ہے غیروں سے چھاتی جلا ہوا\n\nکیا کہیے تیرے غم سے جگر ہو گیا گداز\nتجھ پیشوا کی لاش کو ہے خاک و خوں سے ساز\nکر ذبح تجھ کو دوڑے ہیں شامی پئے نماز\nخوب ان سے تیرا حق امامت ادا ہوا\n\nسینے تمام داغ ہیں دل میں ہیں آبلے\nہرگز نہ اس چمن میں گل آرزو کھلے\nجی چاہتا تھا مسند عزت تجھے ملے\nسو ہم نے تجھ کو خاک میں دیکھا ملا ہوا\n\nبیگانگی نہ طبع میں تھی تیرے اس قدر\nسو بار تجھ سے ہوتے تھے آپس میں حرف سر\nکیا ہوگیا کہ تجھ کو ادھر اب نہیں نظر\nیا وہ تپاک تھا کہ یہ ناآشنا ہوا\n\nآزردہ ہم میں کس سے ہے تو کیا ملال ہے\nوہ کون تیرا باعث رنج و نکال ہے\nرنجش ہی کا دماغ میں اب تک خیال ہے\nجاتا ہے ہم سبھوں سے ترا سر جدا ہوا\n\nکچھ گرم رو نہیں ہے سناں پر ترا ہی سر\nہم پر بھی تیرے پیچھے ہے درپیش اک سفر\nکیا بے مروتی ہے بھلا منھ تو کر ادھر\nیہ قافلہ بھی سر سے ہے تیرے لگا ہوا\n\nاس واقعے کے بعد بھی تھا دل میں یہ خیال\nماتم رکھیں گے دیر بہت کھینچیں گے ملال\nگاڑیں گے تیری لاش بصد عزت و جلال\nسو خاک میں بھی تجھ کو نہ دیکھا چھپا ہوا\n\nچاہا ترے محبوں کا ہرگز ہوا نہ آہ\nبے آب یہ جہاز ہوا دشت میں تباہ\nدریا بہے لہو کے جہاں تک گئی نگاہ\nدشمن کے حسب خواہش دل مدعا ہوا\n\nکیا نقل کریے حالت دشوار بعد جنگ\nدم بھی لیا گیا نہ ہوا کام ایسا تنگ\nالقصہ زندگانی ہوئی ہم سبھوں کو ننگ\nتو کوئی دم جو آگے گیا تھا بھلا ہوا\n\nخیمے جلے اسیر ہوئے دیر تک گھرے\nلوٹے گئے ردائیں گئیں مضطرب پھرے\nکیا کیا نہ پیش آیا ہمیں جاتے ہی ترے\nپوشیدہ کیا ہے یہ جو ستم برملا ہوا\n\nبرباد اس طرح سے نہیں جاتے گھر کہیں\nملتے نہیں ہیں خاک میں یوں در تر کہیں\nچلتی نہیں ہے تیغ جفا اس قدر کہیں\nجو تن نظر پڑے ہے تو ہے سر کٹا ہوا\n\nکیا ظلم ہے کہ ابن علی تشنہ لب مرے\nاور اس کی لاش کو نہ کوئی قبر میں دھرے\nآب حیات پانی جنھوں کا بھرا کرے\nسو نام اس گروہ کا وارث موا ہوا\n\nعمر دراز جان کی اپنی ہوئی وبال\nاتنا نہ جیتے ہم تو نہ یہ کھینچتے ملال\nدیکھا علی کے بیٹے کو اس طرح پائمال\nجس کا نہ نام لیں وہ سنا بادشا ہوا\n\nکہتے تھے ہم حسین کو دیکھیں گے بادشاہ\nگرد اس کی رہ کی جائے گی تا چرخ رو سیاہ\nسو اس کو خاک و خون میں دیکھا طپیدہ آہ\nتڑپے بہت ولے نہ ہمارا کہا ہوا\n\nتھے لاش سے یہ حرف جگرسوز درمیاں\nجو مانع درنگ ہوئے جورپیشگاں\nناچار واں سے گریہ کناں سب ہوئے رواں\nاس کارواں کا عابد نالاں درا ہوا\n\nہرچند شاعری میں نہیں ہے تری نظیر\nاس فن کے پہلوانوں نے مانا تجھی کو میرؔ\nپر ان دنوں ہوا ہے بہت تو ضعیف و پیر\nکہنے لگا جو مرثیہ اکثر بجا ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D9%85%DB%81_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "نکلنا ہو دل سے دشوار کیوں", "poet_page": "مصنف:مفتی صدر الدین خان آزردہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نکلنا ہو دل سے دشوار کیوں\nیہ اک آہ ہے اس کا پیکاں نہیں\n\nیہ ہاتھ اس کے دامن تلک پہنچے کب\nرسائی جسے تاگریباں نہیں\n\nفلک نے بھی سیکھے ہیں تیرے سے طور\nکہ اپنے کیے سے پشیماں نہیں\n\nمرا نامۂ شوق تلووں تلے\nنہ ملیے یہ خون شہیداں نہیں\n\nاسی کی سی کہنے لگے اہل حشر\nکہیں پرسش داد خواہاں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D9%84%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%B4%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA"} {"title": "نکلنے کو ہے دم میرا مگر ہے آرزو باقی", "poet_page": "مصنف:قمر ہلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل > بیاض عاشقان (1916)", "year": "1916", "text_ur": "نکلنے کو ہے دم میرا مگر ہے آرزو باقی\nملیں گے خاک میں لیکن رہے گی جستجو باقی\n\nمیں اپنا راز کہنے کو بلایا تھا تجھے ہمدم\nمگر افسوس میں ہی رہ سکا اور ہے نہ تو باقی\n\nیہ دنیا مٹنے والی ہے تو پھر اس پر بھروسہ کیا\nفنا ہو جائیں گے سارے رہے گا تو ہی تو باقی\n\nکراماً کاتبیں جا کر یہ عزرائیل سے کہنا\nٹھہر جاؤ ابھی کچھ یار سے ہے گفتگو باقی\n\nوضو زاہد کا آب جو سے اور میرا ہے آنسو سے\nوضو بہہ جائے گا اس کا رہے میرا وضو باقی\n\nطہارت جسم کی گو ہو گئی ہے غسل ظاہر سے\nصفائی کے لئے دل کی ابھی ہے شست و شو باقی\n\nجلا کر آتش فرقت نے دل کی خاک اڑائی ہے\nنہیں سینہ میں کچھ باقی مگر ہے ایک ہو باقی\n\nہلالی کر دیا تو نے قمرؔ کو ایک چلو میں\nرہے محشر تلک ساقی ترا جام و سبو باقی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%85_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "نکلی جو روح جسم سے پھر ہے بدن میں کیا", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نکلی جو روح جسم سے پھر ہے بدن میں کیا\nجب شمع بجھ گئی تو رہا انجمن میں کیا\n\nوہ شعر کیا کہ دل میں جو نشتر چبھا نہ دے\nہو جس میں بو نہ درد کی ہے اس سخن میں کیا\n\nٹیڑھا جواب دیتے ہو تم سیدھی بات کا\nیاد اک ادا یہی ہے تمہیں بانکپن میں کیا\n\nحل کر دیا تبسم لب نے یہ مسئلہ\nاب عذر آپ کو ہے ثبوت دہن میں کیا\n\nآ ہم دکھائیں داغ جگر کی تجھے بہار\nاے عندلیب سیر ہے تیرے چمن میں کیا\n\nکیوں چومتے ہیں اس کو نکیرین بار بار\nنام اس کا ہے لکھا ہوا میرے کفن میں کیا\n\nسو عہد اس نے توڑے مگر پھر یقین ہے\nہے معجزہ یہی لب پیماں شکن میں کیا\n\nاے اہل عقل اس کا مزا یوں نہ آئے گا\nدیوانہ بن کے دیکھو ہے دیوانہ پن میں کیا\n\nجو نافہ ہے وہ کاکل مشکیں کی ہے گرہ\nصد رنگ کیا ہے اور ہے رنگ سمن میں کیا\n\nتم مال دار ہو نہ ہنر ور نہ با کمال\nاکبرؔ تمہاری قدر ہو ملک دکن میں کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%AD_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نکلی جو روح ہو گئے اجزائے‌ تن خراب", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نکلی جو روح ہو گئے اجزائے‌ تن خراب\nاک شمع بجھ گئی تو ہوئی انجمن خراب\n\nکیوں ڈالتا ہے خاک کہ ہوگا کفن خراب\nمیں ہوں سفید پوش نہ کر پیرہن خراب\n\nجی میں یہ ہے کہ دل ہی کو سجدے کیا کروں\nدیر و حرم میں لوگ ہیں اے جان من خراب\n\nنازک دلوں کا حسن ہے رنگ شکستگی\nپھٹنے سے کب گلوں کا ہوا پیرہن خراب\n\nدنیا نے منہ پہ ڈالا ہے پردہ سراب کا\nہوتے ہیں دوڑ دوڑ کے تشنہ دہن خراب\n\nابلیس سے یہ کہتا ہے لعنت کا طوق روز\nآدم خراب یا صفت ما و من خراب\n\nکیا خوش نما ہو خضر بڑھے گر لباس عمر\nقد سے جو ہو دراز تو ہو پیرہن خراب\n\nمیرا سلام عشق علیہ السلام کو\nخسرو ادھر خراب ادھر کوہ کن خراب\n\nیوسف کے حسن نے یہ زلیخا کو دی صدا\nلو انگلیاں کٹیں وہ ہوئے طعنہ زن خراب\n\nگر بس چلے تو آپ پھروں اپنے گرد میں\nکعبے کو جا کے کون ہو اے جان من خراب\n\nزخمی ہوا ہے نام کو در پردہ حسن بھی\nیوسف کا خون گرگ سے ہے پیرہن خراب\n\nوعدہ کیا ہے غیر سے اور وہ بھی وصل کا\nکلی کرو حضور ہوا ہے دہن خراب\n\nاے خاک گور دیکھ نہ دھبا لگے کہیں\nرکھ دوں ابھی اتار کے گر ہو کفن خراب\n\nکیسی بھی ہو زمین عجب ہل ہے طبع تیز\nمائلؔ جو بوئیں ہم نہ ہو تخم سخن خراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%AD_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%AC%D8%B2%D8%A7%D8%A6%DB%92%E2%80%8C_%D8%AA%D9%86_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "نکلے چلے آتے ہیں تہ خاک سے کھانے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نکلے چلے آتے ہیں تہ خاک سے کھانے\nیہ خوان کرم کس نے بچھایا ہے خدا نے\n\nجو دل میں ہے منہ پھوڑ کے برور نہیں کہتے\nمارا مجھے یاروں کی درست اور بجا نے\n\nغفلت میں ہیں سر مست بدلتے نہیں کروٹ\nگو سر پہ اٹھا لی ہے زمیں شور درا نے\n\nاسراف نے ارباب تمول کو ڈبویا\nعالم کو تفاخر نے تو زاہد کو ریا نے\n\nمرد اس کو سمجھتے نہ کیا ہو جسے بدمست\nایام جوانی کی مے ہوش ربا نے\n\nبا‌ ایں ہمہ درماندگی انساں کے یہ دعوے\nکیا ذات شریف ان کو بنایا ہے خدا نے\n\nجلوت کا بھروسہ ہے نہ خلوت کی توقع\nسب وہم تھا یاروں نے جو تاکے تھے ٹھکانے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%81_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "نکلے ہو کس بہار سے تم زرد پوش ہو", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نکلے ہو کس بہار سے تم زرد پوش ہو\nجس کی نوید پہنچی ہے رنگ بسنت کو\n\nدی بر میں اب لباس بسنتی کو جیسے جا\nایسے ہی تم ہمارے بھی سینہ سے آ لگو\n\nگر ہم نشہ میں بوسہ کہیں دو تو لطف سے\nتم پاس منہ کو لا کے یہ ہنس کر کہو کہ لو\n\nبیٹھو چمن میں نرگس و صد برگ کی طرف\nنظارہ کر کے عیش و مسرت کی داد دو\n\nسن کر بسنت مطرب زرین لباس سے\nبھر بھر کے جام پھر مئے گل رنگ کے پیو\n\nکچھ قمریوں کے نغمہ کو دو سامعہ میں راہ\nکچھ بلبلوں کا زمزمۂ دل کشا سنو\n\nمطلب ہے یہ نظیرؔ کا یوں دیکھ کر بسنت\nہو تم بھی شاد دل کو ہمارے بھی خوش کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B3_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%85_%D8%B2%D8%B1%D8%AF_%D9%BE%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88"} {"title": "نکلے ہے جنس حسن کسی کارواں میں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نکلے ہے جنس حسن کسی کارواں میں\nیہ وہ نہیں متاع کہ ہو ہر دکان میں\n\nجاتا ہے اک ہجوم غم عشق جی کے ساتھ\nہنگامہ لے چلے ہیں ہم اس بھی جہان میں\n\nیا رب کوئی تو واسطہ سرگشتگی کا ہے\nیک عشق بھر رہا ہے تمام آسمان میں\n\nہم اس سے آہ سوز دل اپنا نہ کہہ سکے\nتھے آتش دروں سے پھپھولے زبان میں\n\nغم کھینچنے کو کچھ تو توانائی چاہیے\nسویاں نہ دل میں تاب نہ طاقت ہے جان میں\n\nغافل نہ رہیو ہم سے کہ ہم وے نہیں رہے\nہوتا ہے اب تو حال عجب ایک آن میں\n\nوے دن گئے کہ آتش غم دل میں تھی نہاں\nسوزش رہے ہے اب تو ہر اک استخوان میں\n\nدل نذر و دیدہ پیشکش اے باعث حیات\nسچ کہہ کہ جی لگے ہے ترا کس مکان میں\n\nکھینچا نہ کر تو تیغ کہ اک دن نہیں ہیں ہم\nظالم قباحتیں ہیں بہت امتحان میں\n\nپھاڑا ہزار جا سے گریبان صبر میرؔ\nکیا کہہ گئی نسیم سحر گل کے کان میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%86%D8%B3_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا\nیاد وہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا\n\nلطف اگر یہ ہے بتاں صندل پیشانی کا\nحسن کیا صبح کے پھر چہرۂ نورانی کا\n\nکفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے\nحسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا\n\nدرہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میں\nسیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا\n\nجان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں کیا کیا\nتنگ احوال ہے اس یوسف زندانی کا\n\nکھیل لڑکوں کا سمجھتے تھے محبت کے تئیں\nہے بڑا حیف ہمیں اپنی بھی نادانی کا\n\nوہ بھی جانے کہ لہو رو کے لکھا ہے مکتوب\nہم نے سر نامہ کیا کاغذ افشانی کا\n\nاس کا منہ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں\nنقش کا سا ہے سماں میری بھی حیرانی کا\n\nبت پرستی کو تو اسلام نہیں کہتے ہیں\nمعتقد کون ہے میرؔ ایسی مسلمانی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%92_%DA%86%D8%B4%D9%85%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%B2%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نکو نصیحت کرو عزیزاں نگا ہے ہمنا مہن سوں میتا", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "نکو نصیحت کرو عزیزاں نگا ہے ہمنا مہن سوں میتا\nتجا ہوں میں ریت سب جہاں کی جدھاں پیا سوں پریت کیتا\n\nصنم کی الفت میں دل اپس کا رکھا تھا کر چاک چاک جوں گل\nکہو رفو گر جہاں میں ایسا کہاں جو دل کا یہ چاک سیتا\n\nجہاں کے صیاد کے شکاراں تمام مر کر شکار ہوتے\nجو دام الفت میں آ گرا سو موا نہیں ہے ہوا ہے جیتا\n\nعبث ہے یہ فکر اے عزیزاں لگے ہو روزوں کی تم فکر میں\nیہ زندگانی ہے دو دنن کی اڑے ہے سر پر اجل کا چیتا\n\nکریم تیرا یہ دید مجھ کو سدا ہوا ہے غذا یہ روح کا\nعلیمؔ کے تئیں تو زندگی سے نہیں ہے پروا چرن کا ہیتا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D9%88_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%AD%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%88_%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DA%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%D9%86%D8%A7_%D9%85%DB%81%D9%86_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%AA%D8%A7"} {"title": "نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی\nمبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی\n\nرگِ لیلیٰ کو خاکِ دشتِ مجنوں ریشگی بخشے\nاگر بو دے بجائے دانہ دہقاں نوک نشتر کی\n\nپرِ پروانہ شاید بادبانِ کشتیِ مے تھا\nہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دَورِ ساغر کی\n\nکروں بیدادِ ذوقِ پَر فشانی عرض کیا قدرت\nکہ طاقت اُڑ گئی، اڑنے سے پہلے، میرے شہپر کی\n\nکہاں تک روؤں اُس کے خیمے کے پیچھے، قیامت ہے!\nمری قسمت میں یا رب کیا نہ تھی دیوار پتھّر کی؟", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%D9%88%DB%81%D8%B4_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%B2%D8%A7_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "نکھر آئی نکھار آئی سنور آئی سنوار آئی", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نکھر آئی نکھار آئی سنور آئی سنوار آئی\nگلوں کی زندگی لے کر گلستاں میں بہار آئی\n\nمشیت کو نہیں منظور دو دن پارسا رکھنا\nادھر کی میں نے توبہ اور ادھر فوراً بہار آئی\n\nاسیران قفس کو واسطہ کیا ان جھمیلوں سے\nچمن میں کب خزاں آئی چمن میں کب بہار آئی\n\nمجھے گلشن سے اے جوش جنوں صحرا کو اب لے چل\nیہاں اس کے سوا کیا ہے خزاں آئی بہار آئی\n\nہمیشہ بادہ خواروں پر خدا کو مہرباں دیکھا\nجہاں بیٹھے گھٹا اٹھی جہاں پہنچے بہار آئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر\nمیری جاگی ہوئی راتوں کو سلا دے آ کر\n\nفکر فردا و غم دوش بھلا دے آ کر\nپھر اسی ناز سے دیوانہ بنا دے آ کر\n\nعشق کو نغمۂ امید سنا دے آ کر\nدل کی سوئی ہوئی قسمت کو جگا دے آ کر\n\nکس قدر تیرہ و تاریک ہے دنیائے حیات\nجلوۂ حسن سے اک شمع جلا دے آ کر\n\nعشق کی چاندنی راتیں مجھے یاد آتی ہیں\nعمر رفتہ کو مری مجھ سے ملا دے آ کر\n\nزندگی بن کے مرے دل میں سما جا سلمیٰ\nموت اک پردہ ہے یہ پردہ اٹھا دے آ کر\n\nآگ سی دل میں لگا جاتا ہے تیرا ہر خط\nآ مرے خرمن ہستی کو جلا دے آ کر\n\nتیری فرقت میں مرے شعر ہیں کتنے غمگیں\nمسکراتی ہوئی نظروں سے ہنسا دے آ کر\n\nپھر وہی ہم ہوں وہی دن ہوں وہی راتیں ہوں\nعہد رفتہ کو پھر آئینہ دکھا دے آ کر\n\nشوق نادیدہ میں لذت ہے مگر ناز نہیں\nآ مرے عشق کو مغرور بنا دے آ کر\n\nشب فرقت پہ مری ہنستے ہیں اے خندۂ نور\nمیرے قدموں پہ ستاروں کو گرا دے آ کر\n\nتشنۂ حسن ہوں اے ساقی مے خانۂ حسن\nاپنے ہونٹوں سے پھر اک جام پلا دے آ کر\n\nکب تلک رونق شام اودھ اے ماہ رواں\nشام لاہور کو بھی صبح بنا دے آ کر\n\nہو چکی سیر بہاراں کدۂ قیصر باغ\nباغ لارنس میں بھی پھول کھلا دے آ کر\n\nگومتی دیکھ چکی جلوۂ عارض کی بہار\nسطح راوی کو بھی آئینہ بنا دے آ کر\n\nتیرا رومان نیا خواب ہے اخترؔ کے لیے\nآ اور اس خواب کی تعبیر بتا دے آ کر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%DB%81%D8%AA_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%B3%D8%A7_%D8%AF%DB%92_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "نکہت طرۂ مشکیں جو صبا لائی ہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نکہت طرۂ مشکیں جو صبا لائی ہے\nکوئی آوارہ ہوا ہے کوئی سودائی ہے\n\nبے خودی سے ہے یہاں بے خبری کا عالم\nخود نمائی کو وہاں شغل خود آرائی ہے\n\nاپنی ہی جلوہ گری ہے یہ کوئی اور نہیں\nغور سے دیکھ اگر آنکھ میں بینائی ہے\n\nہے مجھے کشمکش سعی و طلب سے نفرت\nدل مرا ترک تمنا کا تمنائی ہے\n\nجز دل پاک نہ پایا حرم خاص کہیں\nدیر و کعبہ میں عبث ناصیہ فرسائی ہے\n\nناز کی جلوہ گری کے لئے منظر ہے نیاز\nناتوانی مری ہم رنگ توانائی ہے\n\nجب طبیعت ہی نہ حاضر ہو تو بے سود ہے فکر\nشعر گوئی تو کہاں قافیہ پیمائی ہے\n\nمنہ پہ لاؤں تو یہ کم ظرف بہک جائیں ابھی\nبات جو پیر خرابات نے سمجھائی ہے\n\nخود منادی و منادیٰ ہوں نہ غیبت نہ حضور\nعالم غیب سے یوں دل میں ندا آئی ہے\n\nدل یہ کہتا ہے کہ حاصل کی ہے تحصیل عبث\nنہ تمنا کوئی شے ہے نہ تمنائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%DB%81%D8%AA_%D8%B7%D8%B1%DB%82_%D9%85%D8%B4%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "نکہت گل ہیں یا صبا ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نکہت گل ہیں یا صبا ہیں ہم\nنہیں معلوم کچھ کہ کیا ہیں ہم\n\nروشناسی ہے ہم کو آئینہ ساں\nایک عالم سے آشنا ہیں ہم\n\nخاکساری سے بزم عالم میں\nصفحۂ نقش بوریا ہیں ہم\n\nہے ہمیں سے وہ شاہد معنی\nحرف مطلب کے مدعا ہیں ہم\n\nجام مے ساقیا شتابی دے\nکون کہتا ہے پارسا ہیں ہم\n\nشمع ساں ہے دراز رشتۂ عمر\nکہ فنا ہونے سے بقا ہیں ہم\n\nتیرے کوچہ تلک کی طاقت ہے\nنہیں اتنے شکستہ پا ہیں ہم\n\nبانگ سنکھ اور نالۂ ناقوس\nکہے ہمدم جو کم نما ہیں ہم\n\nچشم کیا کیجے وا برنگ حباب\nطرفۃ العین میں ہوا ہیں ہم\n\nنرگسی چشم تھا وہ کافر آہ\nجس کے بیمار و مبتلا ہیں ہم\n\nنازنینان دہر کے ہر دم\nکشتۂ غمزہ و ادا ہیں ہم\n\nاے وفا تو کدھر ہے ہو دم ساز\nکشتۂ خنجر جفا ہیں ہم\n\nچشم بد دور کیا غزل ہے نصیرؔ\nخوب اس فن میں مرحبا ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%DB%81%D8%AA_%DA%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "نکی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "یزید", "year": "1951", "text_ur": "طلاق لینے کے بعد وہ بالکل نچنت ہوگئی تھی۔ اب وہ ہر روز کی دنتا کِل کِل اور مار کٹائی نہیں تھی۔ نِکی بڑے آرام و اطمینان سے اپنا گزر اوقات کررہی تھی۔\n\nیہ طلاق پورے دس برس کے بعد ہوئی تھی۔ نِکی کا شوہر بہت ظالم تھا۔ پرلے درجے کا نکھٹو اور شرابی کبابی۔ بھنگ چرس کی بھی لت تھی۔ کئی کئی دن بھنگڑ خانوں میں اور تکیوں میں پڑا رہتا تھا۔ ایک لڑکا ہوا تھا۔ وہ پیدا ہوتے ہی مر گیا۔ برس کے بعد ایک لڑکی ہوئی جو زندہ تھی اور اب نو برس کی تھی۔\n\nنِکی سے اس کے شوہر گام کو اگرکوئی دلچسپی تھی تو صرف اتنی کہ وہ اس کو مار پیٹ سکتا تھا۔ جی بھر کے گالیاں دے سکتا تھا۔ طبیعت میں آئے تو کچھ عرصے کے لیے گھر سے نکال دیتا تھا۔ اس کے علاوہ نِکی سے اس کو اور کوئی سروکار نہیں تھا۔ محنت مزدوری کی جب تھوڑی سی رقم نِکی کے پاس جمع ہوتی تھی تو وہ اس سے زبردستی چھین لیتا تھا۔\n\nطلاق بہت پہلے ہو چکی ہوتی،اس لیے کہ میاں بیوی کے نباہ کی کوئی صورت ہی نہیں تھی۔ یہ صرف گام کی ضد تھی کہ معاملہ اتنی دیر لٹکا رہا۔ اس کے علاوہ ایک بات یہ تھی کہ نِکی کے آگے پیچھے کوئی بھی نہ تھا۔ماں باپ نے اس کو ڈولی میں ڈال کر گام کے سپرد کیا اور دو مہینے کے اندر اندر راہی ملک بقا ہوئے جیسے انھوں نے صرف اسی غرض کے لیے موت کو روک رکھا تھا۔ انھیں اپنی بیٹی کو ایک لمبی موت کے لیے گام کے حوالے کرنا تھا۔ بہت دور کے دو ایک رشتہ دار ہوں گے مگر نِکی سے ان کا کوئی واسطہ نہیں تھا۔ انھوں نے خود کو اور زیادہ دور کرلیا تھا۔\n\nگام کیسا ہے، یہ نِکی کے ماں باپ اچھی طرح جانتے تھے۔ ان کی بیٹی ساری عمر روتی رہے گی، یہ بھی ان کو اچھی طرح معلوم تھا۔ مگر انھیں تو اپنی زندگی میں ایک فرض سے سبکدوش ہونا تھا، اور ایسے سبکدوش ہوئے کہ سارا بوجھ نِکی کے ناتواں کاندھوں پر ڈال گئے۔\n\nطلاق لینے سے نِکی کا یہ مطلب نہیں تھا کہ کسی شریف سے نکاح کرنا چاہتی تھی۔ دوسری شادی کا اس کو کبھی خیال تک بھی نہ آیا تھا۔ طلاق ہونے کے بعد وہ کیا کرے گی، کیا نہیں کرے گی، اس کے متعلق بھی نِکی نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ اصل میں وہ ہر روز کی بک بک اور جھک جھک سے صرف ایک اطمینان کا سانس لینا چاہتی تھی۔ اس کے بعد جو ہونے والا تھا اس کو نِکی بخوشی برداشت کرنے کے لیے تیار تھی۔\n\nلڑائی جھگڑے کا آغاز تو پہلے روز ہی سے ہو گیا تھا جب نِکی دولہن بن کر گام کے گھرگئی تھی۔ لیکن طلاق کا سوال اس وقت پیدا ہوا تھا جب وہ گام کے سدھار کے لیے دعائیں مانگ مانگ کر عاجز آگئی تھی اور اس کے ہاتھ اپنی یا اس کی موت کے لیے اٹھنے لگے تھے۔ جب یہ حیلہ بھی بے اثر ثابت ہوا تو اس نے اپنے شوہر کی منت سماجت شروع کی کہ وہ اسے بخش دے اور علیحدہ کردے، مگرقدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ دس برس کے بعد تکیے میں ایک ادھیڑ عمر کی میراثن سے گام کی آنکھ لڑی اور ایک دن اس کے کہنے پر اس نے نِکی کو طلاق دے دی اور بیٹی پر بھی اپنا کوئی حق نہ جتایا۔ حالانکہ نِکی کو اس بات کا ہمیشہ د ھڑکا رہتا تھا کہ اگر اس کا شوہر طلاق پر راضی بھی ہوگیا تو وہ بیٹی کبھی اس کے حوالے نہیں کرے گا۔۔۔ بہرحال نِکی نچنت ہوگئی۔ اور ایک چھوٹی سی کوٹھری کرائے پر لے کر چین کے دن گزارنے لگی۔\n\nاس کے دس برس اداس خاموشی میں گزرے تھے۔ دل میں ہر روز اس کے بڑے بڑے طوفان جمع ہوتے تھے مگر وہ خاوند کے سامنے اف تک نہیں کرسکتی تھی۔ اس لیے کہ اسے بچپن ہی سے یہ تعلیم ملی تھی کہ شوہر کے سامنے بولنا ایسا گناہ ہے جو کبھی بخشا ہی نہیں جاتا۔ اب وہ آزاد تھی اس لیے و ہ چاہتی تھی کہ اپنے دس برس کی بھڑاس کسی نہ کسی طرح نکالے۔ چنانچہ ہمسایوں سے اس کی اکثر لڑائی بھڑائی ہونے لگی۔ معمولی تو تو میں میں ہوتی جو گالیوں کی جنگ میں تبدیل ہو جاتی۔ نِکی پہلے جس قدر خاموش تھی، اب اسی قدر اس کی زبان چلتی تھی۔ منٹا منٹی میں وہ اپنے مدمقابل کی ساتوں پیڑھیاں پُن کر رکھ دیتی۔ ایسی ایسی گالیاں اور سٹھنیاں دیتی کہ حریف کے چھکے چھوٹ جاتے۔\n\nآہستہ آہستہ سارے محلے پر نِکی کی دھاک بیٹھ گئی۔ یہاں کاروباری قسم کے مرد رہتے تھےجو صبح سویرے اٹھ کر کام پر نکل جاتے اور رات دیر سے گھر لوٹتے۔ سارے دن میں عورتوں میں جو لڑائی جھگڑا ہوتا، اس سے وہ مرد بالکل الگ تھلگ رہتے تھے۔ ان میں سے شاید کسی کو پتا بھی نہیں تھا کہ نِکی کون ہے اور محلے کی ساری عورتیں اس سے کیوں دبتی ہیں۔\n\nچرخہ کات کر، بچوں کے لیے گڈے گڑیاں بنا کر اور اسی طرح کے چھوٹے موٹے کام کرکے وہ گزر اوقات کے لیے کچھ نہ کچھ پیدا کرلیتی تھی۔ طلاق لیے اسے قریب قریب ایک برس ہو چلا تھا۔ اس کی بیٹی بھولی اب گیارہ کے لگ بھگ تھی اور بڑی سرعت سے جوان ہورہی تھی، نِکی کو اس کی شادی بیاہ کی بہت فکر تھی۔ اس کے اپنے زیور تھے جو ایک ایک کرکے گام نے چٹ کرلیے تھے۔ ایک صرف ناک کی کیل باقی رہ گئی تھی، وہ بھی گھس گھسا کر آدھی رہ گئی تھی۔\n\nاسے بھولی کا پورا جہیز بنانا تھا اور اس کے لیے کافی روپیہ درکار تھا۔ تعلیم تھی، وہ اس نے اپنی طرف سے ٹھیک دی تھی۔ قرآن ختم کرادیا تھا۔ معمولی حرف شناسی کرلیتی تھی۔ کھانا پکانا خوب آتا تھا۔ گھر کے دوسرے کام کاج بھی اچھی طرح جانتی تھی۔ چونکہ نِکی کو اپنی زندگی میں بہت تلخ تجربہ ہوا تھا اس لیے اس نے بھولی کو خاوند کا اطاعت گزارہونے کے لیے کبھی اشارتاً بھی نہیں کہا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کی بیٹی سسرال میں چھپرکھٹ پربیٹھی راج کرے۔\n\nماں کے ساتھ جو کچھ بیتا تھا اس بپتا کا سارا حال بھولی کو معلوم تھا مگر ہمسایوں کے ساتھ جب نِکی کی لڑائی ہوتی تھی تو وہ پانی پی پی کر اسے کوستی تھیں اور یہ طعنہ دیتی تھیں کہ وہ مطلقہ ہے جس کو خاوند نے صرف اس لیے علیحدہ کیا تھا کہ اس غریب کا ناکس میں دم کر رکھا تھا۔ اور بہت سی باتیں اپنی ماں کے کردار و اطوار کے متعلق اس کی سماعت میں آتی تھیں مگر وہ خاموش رہتی تھی۔ بڑے بڑے معرکے کی لڑائیاں ہوتیں مگر وہ کان سمیٹے اپنے کام میں لگی رہتی۔\n\nجب سارے محلے پر نِکی کی دھاک بیٹھ گئی تو کئی عورتوں نے مرعوب ہو کر اس کے پاس آنا جانا شروع کردیا۔ کئی اس کی سہیلیاں بن گئیں۔ جب ان کی اپنی کسی پڑوسن سے لڑائی ہوتی تو نِکی ساتھ دیتی اور ہر ممکن مدد کرتی۔ اس کے بدلے میں اس کو کبھی قمیص کے لیے کپڑا مل جاتا تھا، کبھی پھل، کبھی مٹھائی اور کبھی کبھی کوئی بھولی کے لیے سوٹ بھی سلوا دیتا تھا۔\n\nلیکن جب نِکی نے دیکھا کہ ہر دوسرے تیسرے دن اسے محلے کی کسی نہ کسی عورت کی لڑائی میں شریک ہونا پڑتا ہے اور اس کے کام کاج کا ہرج ہوتا ہے تو اس نے پہلے دبی زبان سے پھر کھلے لفظوں میں اپنا معاوضہ مانگنا شروع کردیااور آہستہ آہستہ اپنی فیس بھی مقرر کرلی۔ معرکے کی جنگ ہو تو پچیس روپے، دن زیادہ لگیں تو چالیس۔ معمولی چخ کے صرف چار روپے اور دو وقت کا کھانا۔ درمیانے درجے کی لڑائی کے پندرہ روپے۔۔۔ کسی کی سفارش ہو تو وہ کچھ رعایت بھی کردیتی تھی۔\n\nاب چونکہ اس نے دوسروں کی طرف سے لڑنا اپنا پیشہ بنا لیا تھا، اس لیے اسے محلے کی تمام عورتوں اور ان کی بہو بیٹیوں کے تمام فضیحتے یاد رکھنے پڑتے تھے۔ ان کا تمام حسب و نسب معلوم کرکے اپنی یادداشت میں محفوظ کرنا پڑتا تھا۔ مثال کے طور پر اس کو معلوم تھا کہ اونچی حویلی والی سوداگر کی بیوی جو اپنی ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتی، ایک موچی کی بیٹی ہے، اس کا باپ شہرمیں لوگوں کے جوتے گانٹھتا پھرتا تھا اور اس کا خاوند جو جناب شیخ صاحب کہلاتا ہے معمولی قصائی تھا۔ اس کے باپ پر ایک رنڈی مہربان ہوگئی تھی، وہ اسی کے بطن سے تھا اور یہ اونچی حویلی اس طوائف نے اپنے یار کو بنوا کر دی تھی۔\n\nکس لڑکی کا کس کے ساتھ معاشقہ ہے، کون کس کے ساتھ بھاگ گئی تھی،کون کتنے حمل گرا چکی ہے،اس کا حساب سب نِکی کو معلوم تھا۔ یہ تمام معلومات حاصل کرنے میں وہ کافی محنت کرتی تھی۔ کچھ مسالہ اس کو اپنے موکلوں سے مل جاتا تھا۔ اسے اپنی معلومات کے ساتھ ملا کر وہ ایسے ایسے بم بناتی کہ مد مقابل کے چھکے چھوٹ جاتے تھے۔ ہوشیار وکیلوں کی طرح وہ سب سے وزنی ضرب صرف اسی وقت استعمال کرتی تھی جب لوہا پوری طرح سرخ ہوتا، چنانچہ یہ ضرب سولہ آنے فیصلہ کن ثابت ہوتی تھی۔\n\nجب وہ اپنے موکل کے ساتھ کسی محاذ پر جاتی تھی تو گھر سے پوری طرح کیل کانٹے سے لیس ہو کے جاتی تھی، طعنے مہنوں اور گالیوں اور سٹھنیوں کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف اشیابھی استعمال کرتی تھی۔ مثال کے طور پر گھسا ہوا جوتا،پھٹی ہوئی قمیص، چمٹا، پھکنی وغیرہ وغیرہ۔ کوئی خاص تشبیہ دینی ہو یا کوئی خاص الخاص اشارہ یا کنا یہ مطلوب ہو تو وہ اس غرض کے لیے کار آمد شے گھر ہی سے لے کر چلتی تھی۔\n\nبعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ آج وہ جنتے کے لیے خیراں سے لڑی ہے، تو دو ڈھائی مہینے کے بعد اسی خیراں سے ڈبل فیس لے کر اسے جنتے سے لڑنا پڑتا تھا۔ ایسے موقعوں پر وہ گھبراتی نہیں تھی۔ اسے اپنے فن میں اس قدر مہارت ہوگئی تھی اور اس کی پریکٹس میں وہ اتنی مخلص تھی کہ اگر کوئی فیس دیتا تووہ اپنی بھی دھجیاں بکھیر دیتی۔\n\nنِکی اب فارغ البال تھی۔ ہر مہینے اسے اب اتنی آمدن ہونے لگی تھی کہ اس نے پس انداز کرکے اپنی بیٹی بھولی کا جہیز بنانا شروع کردیا تھا۔ تھوڑے ہی عرصے میں اتنے گہنے پاتے اور کپڑے لتے ہوئے گئے تھے کہ وہ کسی بھی وقت اپنی بیٹی کو ڈولی میں ڈال سکتی تھی۔\n\nاپنے ملنے والیوں سے وہ بھولی کے لیے کوئی اچھا سا بر تلاش کرنے کی بات کئی مرتبہ کر چکی تھی۔ شروع شروع میں تو اس کو کوئی اتنی جلدی نہیں تھی، مگر بھولی سولہ برس کی ہوگئی۔ لوٹھا کی لوٹھا۔ قد کاٹھ کی چونکہ اچھی تھی، اس لیے چودھویں برس ہی میں پوری جوان عورت بن گئی تھی۔ سترھویں میں تو ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کی چھوٹی بہن ہے،چنانچہ اب نِکی کو دن رات اس کے بیاہ کی فکر ستانے لگی۔\n\nنِکی نے بڑی دوڑ دھوپ کی۔ کوئی صاف انکار تو نہیں کرتا تھا مگر دل سے ہامی بھی نہیں بھرتا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ ہو نہ ہو لوگ اس سے ڈرتے ہیں۔ اس کی یہ صفت کہ لڑنے کے فن میں اپنا جواب نہیں رکھتی تھی، دراصل اس کے آڑے آرہی تھی۔ بعض گھروں میں تو وہ خود ہی سلسلہ جنبانی نہ کرتی کہ اس کی کسی عورت کا اس نے کبھی ناطقہ بند کیا تھا۔ دن پر دن چڑھتے جارہے تھےاور گھر میں پہاڑ سی جوان بیٹی کنواری بیٹھی تھی۔\n\nنِکی کو اپنے پیشے سے اب گھن آنے لگی، اس نے سوچا کہ ایسا ذلیل کام کیوں اس نے اختیار کیا۔ مگر وہ کیا کرتی، محلے میں آرام چین کی جگہ پیدا کرنے کے لیے اسے پڑوسنوں کا مقابلہ کرنا ہی تھا۔ اگر وہ نہ کرتی تو اسے دب کے رہنا پڑتا۔ پہلے خاوند کے جوتے کھاتی تھی، پھر ان کی پیزار کی غلامی کرنی پڑتی۔ یہ عجیب بات تھی کہ برسوں دبیل رہنے کے بعد جب اس نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا اور مخالف قوتوں کا مقابلہ کرکے ان کو شکست دی، یہ قوتیں جھک کر اس کی امداد کی طالب ہوئیں کہ دوسری قوتوں کو شکست دیں اور اس کو اس امداد پر کچھ اس طرح راغب کیا گیا کہ اس کوچسکا ہی پڑ گیا۔\n\nاس کے متعلق وہ سوچتی تو اس کا دل نہ مانتا تھا۔،کیوں کہ اس نے صرف بھولی کی خاطر اس پیشے کوجسے اب لوگ ذلیل سمجھنے لگے تھے اختیار کیا تھا۔ یہ بھی کم عجیب چیز نہیں تھی۔ نِکی کو روپے دے کر کسی عورت پر انگلی رکھ دی جاتی تھی، اور اس سے کہا جاتا تھا کہ وہ اس کی ساتوں پیڑھیاں پن ڈالے۔۔۔ اس کے آباؤ اجداد کی ساری کمزوریاں ماضی کے ملبے سے کرید کرید کر نکالے اور اس کے وجود پر چھید کردے۔ نِکی یہ کام بڑی ایمان داری سے کرتی، وہ گالیاں جو ان کے منہ میں ٹھیک نہیں بیٹھی تھیں اپنے منہ میں بٹھاتی، ان کی بہو بیٹیوں کے عیوب پر پردے ڈال کر وہ دوسروں کی بہو بیٹیوں میں کیڑے ڈالتی۔ غلیظ سے غلیظ گالیاں اپنے ان موکلوں کی خاطر خود بھی کھاتی۔۔۔ پر اب کہ اس کی بیٹی کے بیاہ کا سوال آیا تھا ،وہ کمینی نیچ اور رذیل بن گئی تھی۔\n\nایک دو مرتبہ تو اس کے جی میں آئی کہ محلے کی ان تمام عورتوں کو جنہوں نے اس کی بیٹی کو رشتہ دینے سے انکار کردیا تھا، بیچ چوراہے میں جمع کرے اور ایسی گالیاں دے کہ ان کے دل کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں مگر وہ سوچتی کہ اگر اس نے یہ غلطی کردی تو غریب بھولی کا مستقبل بالکل تیرہ و تار ہو جائے گا۔\n\nجب چاروں طرف سے مایوسی ہوئی تو نِکی نے شہر چھوڑنے کا ارادہ کرلیا۔ ایک صرف یہی راستہ تھا جس سے بھولی کی شادی کا کٹھن مرحلہ طے ہو سکتاتھا۔ چنانچہ اس نے ایک روز بھولی سے کہا، ’’بیٹا، میں نے سوچا ہے کہ اب کسی اور شہر میں جا رہیں۔‘‘\n\nبھولی نے چونک کر پوچھا، ’’کیوں ماں؟‘‘\n\n’’بس اب یہاں رہنے کو جی نہیں چاہتا۔‘‘ نِکی نے اس کی طرف ممتا بھری نظروں سے دیکھا اور کہا، ’’تیرے بیاہ کی فکر میں گُھلی جارہی ہوں۔ یہاں بیل منڈھے نہیں چڑھے گی۔تیری ماں کو سب رذیل سمجھتے ہیں۔‘‘\n\nبھولی کافی سیانی تھی، فوراً نِکی کا مطلب سمجھ گئی، اس نے صرف اتنا کہا، ’’ہاں ماں!‘‘\n\nنِکی کو ان دو لفظوں سے سخت صدمہ پہنچا۔ بڑے دکھی لہجے میں اس نے بھولی سے سوال کیا،’’کیا تو بھی مجھے رذیل سمجھتی ہے؟‘‘\n\nبھولی نے جواب نہ دیا اور آٹا گوندھنے میں مصروف ہوگئی۔\n\nاس دن نِکی نے عجیب عجیب باتیں سوچیں۔ اس کے سوال کرنے پر بھولی خاموش کیوں ہوگئی تھی، کیا وہ اسے واقعی رذیل سمجھتی ہے، کیا وہ اتنا بھی نہ کہہ سکتی تھی کہ ’’نہیں ماں۔‘‘ کیا یہ باپ کے خون کا اثر تھا؟ بات میں سے بات نکل آتی اور وہ بہت بری طرح ان میں الجھ جاتی۔ اسے بیتے ہوئے دس برس یاد آتے۔ بیاہی زندگی کے دس برس جس کا ایک ایک دن مار پیٹ اور گالی گلوچ سے بھرا تھا۔ پھر وہ اپنی نظروں کے سامنے مطلقہ زندگی کے دن لاتی۔۔۔ ان میں بھی گالیاں ہی گالیاں تھیں جو وہ پیسے کی خاطر دوسروں کو دیتی رہی تھی۔ تھک ہار کر وہ بعض اوقات کوئی سہارا ٹٹولنے لگتی اور سوچتی، کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ طلاق نہ لیتی۔۔۔ آج بیٹی کا بوجھ گام کے کندھوں پر ہوتا۔ نکھٹو تھا، پرلے درجے کا ظالم تھا، عیبی تھا مگر بیٹی کے لیے ضرور کچھ نہ کچھ کرتا۔ یہ اس کے عجز کی انتہا تھی۔\n\nپرانی ماریں اور ان کے دبے ہوئے درد اب آہستہ آہستہ نِکی کے جوڑوں میں ابھرنے لگے۔ پہلے اس نے کبھی اُف تک نہیں کی تھی۔ بر اب اٹھتے بیٹھتے ہائے ہائے کرنے لگی۔ اس کے کانوں میں ہر وقت ایک شور سا برپا ہونے لگا،جیسے ان کے پردوں پر وہ تمام گالیاں اور سٹھنیاں ٹکرا رہی ہیں جو ان گنت لڑائیوں میں اس نے استعمال کی تھیں۔\n\nعمر اس کی زیادہ نہیں تھی۔ چالیس کے لگ بھگ تھی۔ مگر اب نِکی کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ بوڑھی ہوگئی ہے، اس کی کمر جواب دے چکی ہے، اس کی زبان جو قینچی کی طرح چلتی تھی، اب کند ہوگئی ہے۔ بھولی سے گھر کے کام کاج کے متعلق معمولی سی بات کرتے ہوئے اس کو مشقت کرنی پڑتی تھی۔\n\nنِکی بیمار پڑ گئی اور چارپائی کے ساتھ لگ گئی۔ شروع شروع میں تووہ اس بیماری کا مقابلہ کرتی رہی۔ بھولی کو بھی اس نے خبر نہ ہونے دی کہ اندر ہی اندر کون سی دیمک اسے چاٹ رہی ہے۔ لیکن ایک دم وہ ایسی نڈھال ہوئی کہ اس سے اٹھا تک نہ گیا۔ بھولی کو بہت تشویش ہوئی۔ اس نے حکیم کو بلایا جس نے نبض دیکھ کر بتایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں، پرانا بخار ہے، علاج سے دور ہو جائےگا۔\n\nعلاج باقاعدہ ہوتا رہا۔ بھولی سعادت مند بیٹیوں کی طرح ماں کی ہر ممکن خدمت بجا لا رہی تھی۔ اس سے نِکی کے دکھی دل کو کافی تسکین ہوتی تھی مگر مرض دور نہ ہوا۔ بخار پہلے سے تیز ہوگیا اور آہستہ آہستہ نِکی کی بھوک غائب ہوگئی جس کے باعث وہ بہت ہی لاغر اور نحیف ہوگئی۔\n\nعورتوں میں ایک خداداد وصف ہوتا ہے کہ مریض کی شکل دیکھ کرہی پہچان لیتی ہیں کہ وہ کتنے دن کا مہمان ہے۔ ایک دو عورتیں جب بیمار پرسی کے لیے نِکی کے پاس آئیں تو انھوں نے اندازہ لگایا کہ وہ بمشکل دس روز نکالے گی چنانچہ یہ بات سارے محلے کو معلوم ہوگئی۔\n\nکوئی بیمارہو، مرنے کے قریب ہو تو عورتوں کے لیے ایک اچھی خاصی تفریح کا بہانہ نکل آتا ہے۔ گھر سے بن سنور کر نکلتی ہیں اور مریض کے سرہانے بیٹھ کر اپنے تمام مرحوم عزیزوں کو یاد کرتی ہیں، ان کی بیماریوں کا ذکر ہوتا ہے، وہ تمام علاج بیان کیے جاتے ہیں جو لاعلاج ثابت ہوئے تھے۔ گفتگو کا رخ پلٹ کر قمیصوں کے نئے ڈیزائنوں کی طرف آجاتا ہے۔\n\nنِکی ایسی باتوں سے بہت گھبراتی تھی لیکن وہ خود چونکہ مریضوں کے سرہانے ایسی ہی باتیں کرتی رہی تھی اس لیے مجبوراً اسے یہ خرافات سننی پڑتی تھی۔۔۔ ایک روز جب محلے کی بہت سی عورتیں اس کے گھر میں جمع ہوگئیں تو اس احساس نے اس کو بہت مضطرب کیا کہ اب اس کا وقت آچکا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے چہرے پر یہ فیصلہ مرقوم تھا کہ نِکی کے دروازے پر موت دستک دے رہی ہے۔ جو عورت آتی، اپنے ساتھ یہ کھٹ کھٹ لاتی۔ تنگ آکر کئی دفعہ نِکی کے جی میں آئی کہ کنڈی کھول دے اور دستک دینے والے فرشتے کو اندر بلالے۔\n\nان بیمار پرس عورتوں کو سب سے بڑا افسوس بھولی کا تھا۔ نِکی سے وہ بار بار اس کا ذکر کرتیں کہ ہائے اس بیچاری کا کیا ہوگا۔ دنیا میں غریب کی صرف ایک ماں ہے۔ وہ بھی چلی گئی تو اس کا کیا ہوگا۔ پھر وہ اللہ میاں سے دعا کرتیں کہ وہ نِکی کی زندگی میں چند دنوں کا اضافہ کردے تا کہ وہ بھولی کی طرف سے مطمئن ہوکر مرے۔\n\nنِکی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ دعا بالکل جھوٹی ہے۔ انھیں بھولی کا اتنا خیال ہوتا تو وہ اس کے رشتے سے انکار کیوں کرتیں۔ صاف انکار نہیں کیا تھا،اس لیے کہ یہ دنیا داری کے اصول کے خلاف تھا مگر کسی نے ہامی نہیں بھری تھی۔\n\nوہ چھوٹا سا کمرہ جس میں نِکی چارپائی پر پڑی تھی، بیمار پرس عورتوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔ بھولی نے ان کے بیٹھنے کا انتظام، ایسا معلوم ہوتا ہے پہلے ہی سے کر رکھا تھا۔ پیڑھیاں کم تھیں،اس لیے اس نے کھجور کے پتوں کی چٹائی بچھا دی تھی۔ بھولی کے اس اہتمام و انتظام سے نِکی کو بڑا صدمہ پہنچا تھا گویا وہ بھی دوسری عورتوں کی طرح اس کی موت کے استقبال کے لیے تیار تھی۔\n\nبخار تیز تھا، دماغ تپا ہوا تھا۔ نِکی نے اوپر تلے بہت سی تکلیف دہ باتیں سوچیں تو بخار اور زیادہ تیز ہوگیا اور اس پر ہذیانی کیفیت طاری ہوگئی۔ جلدی جلدی بے جوڑ باتیں کرنے لگی۔ بیمار پرس عورتوں نے معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ وہ جو اٹھ کر جانے والی تھیں ،نِکی کا وقت قریب دیکھ کر بیٹھ گئیں۔\n\nنِکی بکے جارہی تھی۔ ایسا معلوم تھا کہ وہ کسی سے لڑ رہی ہے، ’’میں تیری ہشت پشت کو اچھی طرح جانتی ہوں۔۔۔ جو کچھ تو نے میرے ساتھ کیا ہے، وہ کوئی دشمن کے ساتھ بھی نہیں کرتا۔ میں نے اپنے خاوند کی دس برس غلامی کی۔ اس نے مار مار کر میری کھال ادھیڑ دی، پر میں نے اف تک نہ کی۔۔۔اب تو نے۔۔۔ اب تو نے مجھ پر یہ ظلم شروع کیے ہیں۔۔۔‘‘\n\nپھر وہ کمرے میں جمع شدہ عورتوں کو پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھتی، ’’تم۔۔۔تم یہاں کیا کرنے آئی ہو۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ میں کسی فیس پر بھی لڑنے کے لیے تیار نہیں۔۔۔ تم میں سے ہر ایک کے عیب وہی ہیں۔۔۔پرانے۔۔۔صدیوں کے پرانے، جو کیڑے۔۔۔ جو کیڑے پھاماں میں ہیں وہی تم سب میں ہیں۔۔۔تم میں سے قریب قریب ہر ایک کا خصم رنڈی باز ہے۔۔۔ جو بری بیماری پھاتو کے خاوند کو لگی ہے۔ وہی جنتے کے گھر والے کو چمٹی ہوئی ہے۔۔۔ تم سب کوڑھی ہو۔۔۔ اور یہ کوڑھ تم نے مجھے بھی دے دیا ہے۔۔۔ لعنت ہو تم سب پر خدا کی۔۔۔ خدا کی۔۔۔خدا۔۔۔‘‘ اور وہ ہنسنے لگتی۔\n\n’’میں اس خدا کو بھی جانتی ہوں۔۔۔ اس کی ہشت پشت کو اچھی طرح جانتی ہوں۔۔۔ یہ کیا دنیا بنائی ہے تو نے۔۔۔ یہ دنیا جس میں گام ہیں، جس میں پھاماں ہے جو اپنے خاوند کو چھوڑ کر دوسروں کے بستر گرم کرتی ہے۔۔۔ اور مجھے فیس دیتی ہے۔۔۔ بیس روپے گن کر میرے ہاتھ پر رکھتی ہے کہ میں نورفشاں کے پرانے یاروں کا پول کھولوں۔۔۔ اور فشاں میرے پاس آتی ہے کہ نکی یہ پانچ زیادہ لو اور جاؤ امینہ سے لڑو۔ وہ مجھے ستاتی ہے۔۔۔ یہ کیا چکر چلایا ہوا ہے تو نے اپنی دنیا میں۔۔۔ میرے سامنے آ۔۔۔ ذرا میرے سامنے آ۔۔۔‘‘\n\nآواز نِکی کے حلق میں رکنے لگی۔ تھوڑی دیر کے بعد گھنگرو بجنے لگا۔ تشنج سے وہ پیچ وہ تاب کھا رہی تھی اور ہذیانی کیفیت میں چلا رہی تھی،’’گام مجھے نہ مار۔۔۔ اوگام۔۔۔ او خدا مجھے نہ مار۔۔۔ او خدا۔۔۔ اوگام۔‘‘\n\nاو خدا او گام بڑبڑاتی آخر نِکی بیمار پرس عورتوں کے اندازے کے عین مطابق مر گئی۔ بھولی جو ان عورتوں کی خاطر داری میں مصروف تھی۔ پانی کا گلاس ہاتھ سے گرا کر دھڑا دھڑ اپنا سر پیٹنے لگی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%A9%DB%8C"} {"title": "نگاہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "بہار و قافلۂ لالہ ہائے صحرائی\nشباب و مستی و ذوق و سُرور و رعنائی!\nاندھیری رات میں یہ چشمکیں ستاروں کی\nیہ بحر، یہ فَلکِ نیلگوں کی پہنائی!\nسفر عروسِ قمر کا عماریِ شب میں\nطلوعِ مِہر و سکُوتِ سپہرِ مینائی!\nنِگاہ ہو تو بہائے نظارہ کچھ بھی نہیں\nکہ بیچتی نہیں فطرت جمال و زیبائی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81"} {"title": "نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں\nوہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں\n\nگنہ گنہ نہ رہا اتنی بادہ نوشی کی\nاب ایک شغل ہے کچھ لذت شراب نہیں\n\nہمیں تو دور سے آنکھیں دکھائی جاتی ہیں\nنقاب لپٹی ہے اس پر کوئی عتاب نہیں\n\nپیے بغیر چڑھی رہتی ہے حسینوں کو\nوہاں شباب ہے کیا کم اگر شراب نہیں\n\nبہار دیتا ہے چھن چھن کے نور چہرے کا\nسر نقاب ہے جو کچھ تہ نقاب نہیں\n\nوہ اپنے عکس کو آواز دے کے کہتے ہیں\nترا جواب تو میں ہوں مرا جواب نہیں\n\nاسے بھی آپ کے ہونٹوں کا پڑ گیا چسکا\nہزار چھوڑیئے چھٹنے کی اب شراب نہیں\n\nبتوں سے پردہ اٹھانے کی بحث ہے بے کار\nکھلی دلیل ہے کعبہ بھی بے نقاب نہیں\n\nجلیلؔ ختم نہ ہو دور جام مینائی\nکہ اس شراب سے بڑھ کر کوئی شراب نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%81_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نگاہ شوخ جب اس سے لڑی ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگاہ شوخ جب اس سے لڑی ہے\nتو بجلی تھرتھرا کر گر پڑی ہے\n\nاسے بھی مجھ کو بھی ضد آ پڑی ہے\nخرابی بیچ والوں کی بڑی ہے\n\nقیامت میں قیامت کر گیا کون\nکہ دل تھامے صف محشر کھڑی ہے\n\nکریں کیا رند توبہ مے سے زاہد\nکہ یہ تو ان کی گھٹی میں پڑی ہے\n\nقدم جمتا نہیں تیری گلی میں\nکسی بیتاب کی میت گڑی ہے\n\nعدو بھی تنگ ہے ان کے ستم سے\nاسے اپنی مجھے اپنی پڑی ہے\n\nابھی میں نے کیا تھا یاد اس کو\nوہ آیا عمر قاصد کی بڑی ہے\n\nبنا ہے مدعی پیغام بر بھی\nجڑی ہے جب مری کھوٹی جڑی ہے\n\nکیا ہے میں نے ضبط آہ جس دم\nانی برچھی کی سینے میں گڑی ہے\n\nگل بستر ستارے بن گئے ہیں\nترے ماتھے سے جب افشاں جھڑی ہے\n\nیہ کہتا ہے مرا شوق شہادت\nتری تلوار پھولوں کی چھڑی ہے\n\nوہ روٹھیں غیر سے تو ہم منائیں\nپرائی آفت اپنے سر پڑی ہے\n\nتجھے دیتا ہوں اپنی جان بھی میں\nمرے دل سے مری ہمت بڑی ہے\n\nٹلیں وہ کب جو دل لینے پہ اڑ جائیں\nیہ کیا کچھ کھیل چوسر کی اڑی ہے\n\nالٰہی کب سحر ہوگی شب ہجر\nقیامت کی گھڑی ہے جو گھڑی ہے\n\nبگڑ کر ہم نے سو الزام پائے\nاب ان کی ہر طرح سے بن پڑی ہے\n\nغزل اک اور بھی اے داغؔ لکھو\nطبیعت اس زمیں میں کچھ لڑی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%84%DA%91%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "نگاہ لطف مت اٹھ خوگر آلام رہنے دے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگاہ لطف مت اٹھ خوگر آلام رہنے دے\nہمیں ناکام رہنا ہے ہمیں ناکام رہنے دے\n\nکسی معصوم پر بیداد کا الزام کیا معنی\nیہ وحشت خیز باتیں عشق بد انجام رہنے دے\n\nابھی رہنے دے دل میں شوق شوریدہ کے ہنگامے\nابھی سر میں محبت کا جنون خام رہنے دے\n\nابھی رہنے دے کچھ دن لطف نغمہ مستیٔ صہبا\nابھی یہ ساز رہنے دے ابھی یہ جام رہنے دے\n\nکہاں تک حسن بھی آخر کرے پاس روا داری\nاگر یہ عشق خود ہی فرق خاص و عام رہنے دے\n\nبہ ایں رندی مجازؔ اک شاعر مزدور و دہقاں ہے\nاگر شہروں میں وہ بد نام ہے بد نام رہنے دے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D9%85%D8%AA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%D8%AE%D9%88%DA%AF%D8%B1_%D8%A2%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%92"} {"title": "نگاہ لطف کبھی گر وہ مست ناز کرے", "poet_page": "مصنف:خوشی محمد ناظر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگاہ لطف کبھی گر وہ مست ناز کرے\nنیاز مند کو عالم سے بے نیاز کرے\n\nوہ سرنوشت جبیں پر بجا ہے ناز کرے\nجو آستاں پہ ترے سجدۂ نیاز کرے\n\nنہ تیرے چاہنے والوں میں ہو یہ جنگ و جدل\nاشارہ گر نہ تری چشم فتنہ ساز کرے\n\nبجھائیں پیاس کہاں جا کے تیرے مستانے\nجو ساقیا در مے خانہ تو نہ باز کرے\n\nجہاں میں شور ہے اور وہ نگار پردے میں\nعجب ہو سیر جو وہ رخ سے پردہ باز کرے\n\nنہیں وہ لذت آزار عشق سے آگاہ\nستم میں اور کرم میں جو امتیاز کرے\n\nجو چاہے گرمیٔ ہنگامہ بزم دوراں میں\nصدا بلند کرے اور زباں دراز کرے\n\nجو بزم انس میں چاہے کہ شمع محفل ہو\nتو دل میں عشق سے پیدا ذرا گداز کرے\n\nانہیں کے حسن سے ہے گرم عشق کا بازار\nدعا خدا سے ہے عمر بتاں دراز کرے\n\nفسانہ گو سے کہو مختصر ہو قصۂ جم\nحدیث گیسوئے جاناں ذرا دراز کرے\n\nیہ سلسلہ غم دوراں کا ہے ابد پیوند\nسکون دل کا جو چاہے وہ ترک آز کرے\n\nخدا کا نام بھی لو بازوؤں سے کام بھی لو\nتو فکر کار خداوند کارساز کرے\n\nہوا و حرص سے ناظرؔ رہے جو پاک نظر\nتو ہمسری نہ حقیقت کی کیوں مجاز کرے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%84%D8%B7%D9%81_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "نگاہ لطف کے امیدوار ہم بھی ہیں", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں\nلیے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں\n\nہمارے دستِ تمنا کی لاج بھی رکھنا\nترے فقیروں میں اے شہر یار ہم بھی ہیں\n\nاِدھر بھی توسنِ اقدس کے دو قدم جلوے\nتمہاری راہ میں مُشتِ غبار ہم بھی ہیں\n\nکھلا دو غنچۂ دل صدقہ باد دامن کا\nاُمیدوارِ نسیمِ بہار ہم بھی ہیں\n\nتمہاری ایک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے\nپڑئے ہوئے تو سرِ رہ گزار ہم بھی ہیں\n\nجو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعلِ پاکِ حضور\nتو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں\n\nیہ کس شہنشہِ والا کا صدقہ بٹتا ہے\nکہ خسروؤں میں پڑی ہے پکار ہم بھی ہیں\n\nہماری بگڑی بنی اُن کے اختیار میں ہے\nسپرد اُنھیں کے ہیں سب کاروبار ہم بھی ہیں\n\nحسنؔ ہے جن کی سخاوت کی دھُوم عالم میں\nاُنھیں کے تم بھی ہو اک ریزہ خوار، ہم بھی ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%84%D8%B7%D9%81_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نگاہ ناز میں حیا بھی ہے", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگاہ ناز میں حیا بھی ہے\nاس بناوٹ کی انتہا بھی ہے\n\nبے سر و پا نہیں ہے یہ دنیا\nابتدا بھی ہے انتہا بھی ہے\n\nشب فرقت میں کیا کرے کوئی\nکچھ اندھیرے میں سوجھتا بھی ہے\n\nمیری اک مشت خاک کے پیچھے\nباد صرصر بھی ہے صبا بھی ہے\n\nبزم رنداں میں رند بھی ہے عزیزؔ\nپارساؤں میں پارسا بھی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "نگاہ وہ نہیں جو سُرخ و زرد پہچانے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "نگاہ وہ نہیں جو سُرخ و زرد پہچانے\nنگاہ وہ ہے کہ محتاجِ مہر و ماہ نہیں\nفرنگ سے بہت آگے ہے منزلِ مومن\nقدم اُٹھا! یہ مقام انتہائے راہ نہیں\nکھُلے ہیں سب کے لیے غَربیوں کے میخانے\nعُلومِ تازہ کی سرمستیاں گُناہ نہیں\nاسی سُرور میں پوشیدہ موت بھی ہے تری\nترے بدن میں اگر سوزِ ’لاالٰہ‘ نہیں\nسُنیں گے میری صداخانزادگانِ کبیر؟\nگِلیم پوش ہوں مَیں صاحبِ کُلاہ نہیں!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D9%8F%D8%B1%D8%AE_%D9%88_%D8%B2%D8%B1%D8%AF_%D9%BE%DB%81%DA%86%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے\nوہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے\n\nدلوں کو فکر دوعالم سے کر دیا آزاد\nترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے\n\nخرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد\nجو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے\n\nترے ستم سے میں خوش ہوں کہ غالباً یوں بھی\nمجھے وہ شامل ارباب امتیاز کرے\n\nغم جہاں سے جسے ہو فراغ کی خواہش\nوہ ان کے درد محبت سے ساز باز کرے\n\nامیدوار ہیں ہر سمت عاشقوں کے گروہ\nتری نگاہ کو اللہ دل نواز کرے\n\nترے کرم کا سزاوار تو نہیں حسرتؔ\nاب آگے تیری خوشی ہے جو سرفراز کرے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "نگاہ یار سوں حاصل ہے مجھ کوں مے نوشی", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگاہ یار سوں حاصل ہے مجھ کوں مے نوشی\nلب خموش نے بخشا ہے اس کے خاموشی\n\nبجا ہے گر کرے عاشق کوں ایک دور میں مست\nہے جام چشم صنم میں شراب بے ہوشی\n\nکیا ہے شوخ نے بر میں قبائے نافرماں\nعدول کیوں نہ کرے وعدۂ ہم آغوشی\n\nسجن کے ناوک مژگاں کے دل میں ہیبت رکھ\nکیا ہے میں نے یہ دریا منے زرہ پوشی\n\nکیا نہیں ہوں رقم خط میں اس سبب داؤدؔ\nمیں نامہ بر سوں کہا ہوں کہ راز ہے گوشی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%B4%DB%8C"} {"title": "نگاہوں سے نگاہیں سامنے ہوتے ہی جب لڑیاں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگاہوں سے نگاہیں سامنے ہوتے ہی جب لڑیاں\nیکایک کھل گئیں دونوں طرف سے دل کی کلجھڑیاں\n\nیہ اب کی شب برات اے یار تجھ بن ہم پہ یوں گزری\nہوائی تو ہماری آہ تھی اور اشک پھلجھڑیاں\n\nہماری آہ جیسے لخت دل سے گتھ کے نکلے ہے\nکہیں دیکھی ہیں تیں اس لطف سے پھولوں کی بھی چھڑیاں\n\nموا مجنوں تو اک مدت ہوئی پر اب تک اس غم میں\nکریں ہیں نالہ مل کر ہم دگر زنجیر کی کڑیاں\n\nزمیں سے یہ لگو نہیں گل بھلا کس طرح نکلے ہیں\nجو لاکھوں صورتیں دل کش نہیں اس خاک میں گڑیاں\n\nکبھو ٹوٹا نہ مژگاں سے مری آنسو کا زنجیرا\nنہ جانے اشک کے قطرے تھے یا موتی کی یہ لڑیاں\n\nبھرے آتے ہیں قائمؔ پے بہ پے اس طرح آنسو سے\nکہے تو چشم کو میری کہ ہیں یہ رہٹ کی گھڑیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D8%A8_%D9%84%DA%91%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "نگاہوں میں اقرار سارے ہوئے ہیں", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگاہوں میں اقرار سارے ہوئے ہیں\nہم ان کے ہوئے وہ ہمارے ہوئے ہیں\n\nجن آنکھوں میں آنسو چکارے ہوئے ہیں\nہم ان کی نگاہوں کے مارے ہوئے ہیں\n\nنہ کھٹکیں کہو کس طرح تیر مژگاں\nجگر پر ہمارے اتارے ہوئے ہیں\n\nجھڑے جو تری کفش زریں کے ذرے\nفلک پر وہ جا کر سیارے ہوئے ہیں\n\nعبث جان دیتی ہے بلبل گلوں پر\nیہ اس رخ کے صدقے اتارے ہوئے ہیں\n\nکس انداز سے بند محرم کسے ہیں\nکہ جوبن کو ان کے ابھارے ہوئے ہیں\n\nیقیں ہے بلا ہو کوئی آج نازل\nوہ بالوں کو اپنے سنوارے ہوئے ہیں\n\nخبردار ہاتھوں سے جانے نہ پائیں\nیہ دزد حنا مال مارے ہوئے ہیں\n\nکہے دیتی ہیں صاف آنکھیں تمہاری\nکسی غیر سے کچھ اشارے ہوئے ہیں\n\nمیں منجدھار میں ڈوبتا ہوں الٰہی\nوہ دل لے کے میرا کنارے ہوئے ہیں\n\nہمیشہ جو بھرتے تھے دم دوستی کا\nوہی دشمن جاں ہمارے ہوئے ہیں\n\nنظر کر دعا پر خداوند عالم\nکہ ہم ہاتھ اپنے پسارے ہوئے ہیں\n\nبھلا غیر کی اس میں ہے کیا شکایت\nوہی دشمن جاں ہمارے ہوئے ہیں\n\nانہیں ہم نے نہلا دیا دے کے چھینٹیں\nعجب لطف دریا کنارے ہوئے ہیں\n\nخبر آمد گل کی شاید ہے آغاؔ\nچمن سارے جھاڑے بہارے ہوئے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نگاہوں کا مرکز بنا جا رہا ہوں", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگاہوں کا مرکز بنا جا رہا ہوں\nمحبت کے ہاتھوں لٹا جا رہا ہوں\n\nمیں قطرہ ہوں لیکن بہ آغوش دریا\nازل سے ابد تک بہا جا رہا ہوں\n\nمبارک مبارک مری یہ فنائیں\nدوعالم پہ چھایا چلا جا رہا ہوں\n\nوہی حسن جس کے ہیں یہ سب مظاہر\nاسی حسن میں حل ہوا جا رہا ہوں\n\nیہ کس کی طرف سے یہ کس کی طرف کو\nمیں ہم دوش موج فنا جا رہا ہوں\n\nنہ جانے کہاں سے نہ جانے کدھر کو\nبس اک اپنی دھن میں اڑا جا رہا ہوں\n\nمجھے روک سکتا ہو کوئی تو روکے\nکہ چھپ کر نہیں برملا جا رہا ہوں\n\nمیرے پاس آؤ یہ کیا سامنے ہوں\nمری سمت دیکھو یہ کیا جا رہا ہوں\n\nنگاہوں میں منزل مری پھر رہی ہے\nیوں ہی گرتا پڑتا چلا جا رہا ہوں\n\nتری مست نظریں غضب ڈھا رہی ہیں\nیہ عالم ہے جیسے اڑا جا رہا ہوں\n\nکدھر ہے تو اے غیرت حسن خود میں\nمحبت کے ہاتھوں بکا جا رہا ہوں\n\nنہ اوراک ہستی نہ احساس مستی\nجدھر چل پڑا ہوں چلا جا رہا ہوں\n\nنہ صورت نہ معنی نہ پیدا نہ پنہاں\nیہ کس حسن میں گم ہوا جا رہا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DA%A9%D8%B2_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "نگاہِ شوق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "یہ کائنات چھُپاتی نہیں ضمیر اپنا\nکہ ذرّے ذرّے میں ہے ذوقِ آشکارائی\nکچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبارِ جہاں\nنگاہِ شوق اگر ہو شریکِ بینائی\nاسی نگاہ سے محکُوم قوم کے فرزند\nہوئے جہاں میں سزاوارِ کار فرمائی\nاسی نگاہ میں ہے قاہری و جبّاری\nاسی نگاہ میں ہے دِلبری و رعنائی\nاسی نگاہ سے ہر ذرّے کو، جُنوں میرا\nسِکھا رہا ہے رہ و رسمِ دشت پیمائی\nنگاہِ شوق میَسّر نہیں اگر تجھ کو\nترا وجود ہے قلب و نظر کی رُسوائی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%D9%90_%D8%B4%D9%88%D9%82"} {"title": "نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے\nخراج کی جو گدا ہو، وہ قیصری کیا ہے!\n\nبتوں سے تجھ کو اُمیدیں، خدا سے نومیدی\nمجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!\n\nفلَک نے اُن کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیں\nخبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے\n\nفقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا\nنہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے\n\nاِسی خطا سے عتابِ مُلُوک ہے مجھ پر\nکہ جانتا ہُوں مآلِ سکندری کیا ہے\n\nکسے نہیں ہے تمنّائے سَروری، لیکن\nخودی کی موت ہو جس میں وہ سَروری کیا ہے!\n\nخوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میری\nوگرنہ شعر مرا کیا ہے، شاعری کیا ہے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%D9%90_%D9%81%D9%82%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%B3%DA%A9%D9%86%D8%AF%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نگر نگر میلے کو گئے کون سنے گا تیری پکار", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگر نگر میلے کو گئے کون سنے گا تیری پکار\nاے دل اے دیوانے دل! دیواروں سے سر دے مار\n\nروح کے اس ویرانے میں تیری یاد ہی سب کچھ تھی\nآج تو وہ بھی یوں گزری جیسے غریبوں کا تیوہار\n\nاس کے وار پہ شاید آج تجھ کو یاد آئے ہوں وہ دن\nاے نادان خلوص کہ جب وہ غافل تھا ہم ہشیار\n\nپل پل صدیاں بیت گئیں جانے کس دن بدلے گی\nایک تری آہستہ روی ایک زمانے کی رفتار\n\nپچھلی فصل میں جتنے بھی اہل جنوں تھے کام آئے\nکون سجائے گا تیری مشق کا ساماں اب کی بار؟\n\nصبح کے نکلے دیوانے اب کیا لوٹ کے آئیں گے\nڈوب چلا ہے شہر میں دن پھیل چلا ہے سایۂ دار", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D9%84%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%D9%86%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%DA%A9%D8%A7%D8%B1"} {"title": "نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا\nکیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا\n\nکیا بھولا کیسے بھولا کیوں پوچھتے ہو بس یوں سمجھو\nکارن دوش نہیں ہے کوئی بھولا بھالا بھول گیا\n\nکیسے دن تھے کیسی راتیں کیسی باتیں گھاتیں تھیں\nمن بالک ہے پہلے پیار کا سندر سپنا بھول گیا\n\nاندھیارے سے ایک کرن نے جھانک کے دیکھا شرمائی\nدھندلی چھب تو یاد رہی کیسا تھا چہرہ بھول گیا\n\nیاد کے پھیر میں آ کر دل پر ایسی کاری چوٹ لگی\nدکھ میں سکھ ہے سکھ میں دکھ ہے بھید یہ نیارا بھول گیا\n\nایک نظر کی ایک ہی پل کی بات ہے ڈوری سانسوں کی\nایک نظر کا نور مٹا جب اک پل بیتا بھول گیا\n\nسوجھ بوجھ کی بات نہیں ہے من موجی ہے مستانہ\nلہر لہر سے جا سر پٹکا ساگر گہرا بھول گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نگہ تیری کا اک زخمی نہ تنہا دل ہمارا ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگہ تیری کا اک زخمی نہ تنہا دل ہمارا ہے\nجگت سارا تری ان شوخ دو انکھیوں کا مارا ہے\n\nہوئے ہیں عاشقاں کی فوج میں ہم صاحب نوبت\nبجایا آہ کے ڈنکے سیتی دل کا نقارا ہے\n\nہمارا دین و مذہب اے سجن تیری اطاعت ہے\nخدا کا کیوں نہ ہو بندا کہ جن تجھ کوں سنوارا ہے\n\nبجھا اے بے وفا پانی سوں اپنی مہربانی کے\nدہکتا دل منیں میرے ترے غم کا انگارا ہے\n\nخجل ہو کر مری انجھواں کی جھڑ سیں ابر پانی ہو\nتڑپنا دیکھ کر دل کا ہمارا برق ہارا ہے\n\nہمیں تو رات دن دل سیں تمہاری یاد ہے پیارے\nتمن نیں اس قدر پیارے ہمن کوں کیوں بسارا ہے\n\nنظر کرنا کرم سیں آبروؔ پے تم کوں لازم ہے\nکسی لائق نہیں تو کیا ہوا آخر تمہارا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%B2%D8%AE%D9%85%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نگہ سے چشم سے ناز و ادا سے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگہ سے چشم سے ناز و ادا سے\nخدا محفوظ رکھے ہر بلا سے\n\nکسی کی بے وفائی سے مجھے کیا\nمیں اپنے کام رکھتا ہوں وفا سے\n\nبہت مانگیں دعائیں ہاتھ اٹھا کر\nنہ نکلا کام کچھ آخر دعا سے\n\nمجھے ڈر ہے کہیں رسوا نہ ہو تو\nجو میں رسوا ہوا تیری بلا سے\n\nحسنؔ دیتا ہے تو کیوں جی بتوں پر\nملا دیں گے تجھے کیا یہ خدا سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%DB%81_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D9%88_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92"} {"title": "نگہ لڑانے کہ آگے اس کی ہے ناز کرتی پڑی لگاوٹ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگہ لڑانے کہ آگے اس کی ہے ناز کرتی پڑی لگاوٹ\nحنا دکھانے کہ سامنے بھی ہے دست بستہ کھڑی لگاوٹ\n\nدکھا کہ چیں کو جبیں کہ اوپر اسے تُو کچھ حُسن ہے دکھاتا\nجُو سادہ دِل ہو تُو سمجھے خفگی اُور اس کی ہے وہ بڑی لگاوٹ\n\nچھڑی اٹھاتا ہے جب وُہ گُل کی تُو ہے کچھ اِس میں بھی گل کھلاتا\nلگا دے تن پر وُہ جس کہ ہنس کر تُو وُہ چھڑی ہے چھڑی لگاوٹ\n\nخفا ہو جس سے تُو وُہ یہ جانے کے مُجھ سے روٹھا بس اب وُہ لیکن\nپھنسا وُہ پھندے میں مدتوں کو جہاں تک اس کی لڑی لگاوٹ\n\nنظیرؔ دِل کو بچاوے یارو کب اس صنم سے کے جس میں ہووے\nگھڑی مچلنا گھڑی چہکنا گھڑی جھجکنا گھڑی لگاوٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%DB%81_%D9%84%DA%91%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%D9%BE%DA%91%DB%8C_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%88%D9%B9"} {"title": "نگہ کا وار تھا دل پر پھڑکنے جان لگی", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگہ کا وار تھا دل پر پھڑکنے جان لگی\nچلی تھی برچھی کسی پر کسی کے آن لگی\n\nترا زباں سے ملانا زباں جو یاد آیا\nنہ ہائے ہائے میں تالو سے پھر زبان لگی\n\nکسی کے دل کا سنو حال دل لگا کر تم\nجو ہووے دل کو تمہارے بھی مہربان لگی\n\nتو وہ ہے ماہ جبیں مثل دیدۂ انجم\nرہے ہے تیری طرف چشم یک جہان لگی\n\nخدا کرے کہے تجھ سے یہ کچھ خدا لگتی\nکہ زلف اے بت بدکیشں تیرے کان لگی\n\nاڑائی حرص نے آ کر جہاں میں سب کی خاک\nنہیں ہے کس کو ہوا زیر آسمان لگی\n\nکسی کی کاوش مژگاں سے آج ساری رات\nنہیں پلک سے پلک میری ایک آن لگی\n\nتباہ بحر جہاں میں تھی اپنی کشتی عمر\nسو ٹوٹ پھوٹ کے بارے کنارے آن لگی\n\nتمہارے ہاتھ سے سینے میں دل سے تابہ جگر\nسنان و خنجر و پیکاں کی ہے دکان لگی\n\nخدنگ یار مرے دل سے کس طرح نکلے\nکہ اس کے ساتھ ہے اے ذوقؔ میری جان لگی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%DA%91%DA%A9%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%84%DA%AF%DB%8C"} {"title": "نگہ کیا اور مژہ کیا اے صنم اس کو بھی اس کو بھی", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "نگہ کیا اور مژہ کیا اے صنم اس کو بھی اس کو بھی\nسمجھتے ہیں قضا کا تیر ہم اس کو بھی اس کو بھی\n\nپڑے تھے دل کے پیچھے اس کو تو غارت کیا تم نے\nرہا اب دین و ایماں لو صنم اس کو بھی اس کو بھی\n\nاگر لے مول اک بوسے پہ میرا دین و ایمان تو\nمیں دے دوں گا ترے سر کی قسم اس کو بھی اس کو بھی\n\nحقیقت میں تفاوت کچھ نہیں شیخ و برہمن میں\nسنا ہے ہم نے بھرتے تیرا دم اس کو بھی اس کو بھی\n\nگرا دیتا ہے آنکھوں سے مری سنبل ہو یا ناگن\nتمہاری کاکل پیچاں کا خم اس کو بھی اس کو بھی\n\nکبھی تیوری چڑھانا اور کبھی منہ پھیر کر ہنسنا\nترا عاشق سمجھتا ہے ستم اس کو بھی اس کو بھی\n\nہماری آبرو کیا اور دل پر حوصلہ کیسا\nڈبو دینا اری او چشم نم اس کو بھی اس کو بھی\n\nکیا اقرار بوسہ دینے کا دیں گالیاں تم نے\nفقیر عشق ہوں سمجھا کرم اس کو بھی اس کو بھی\n\nخط محبوب و پائے نامہ بر قسمت سے ہاتھ آئے\nلگا آنکھوں سے انجمؔ دم بہ دم اس کو بھی اس کو بھی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DA%98%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "نگہ کے سامنے اس کا جوں ہی جمال ہوا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نگہ کے سامنے اس کا جوں ہی جمال ہوا\nوہ دل ہی جانے ہے اس دم جو دل کا حال ہوا\n\nاگر کہوں میں کہ چمکا وہ برق کی مانند\nتو کب مثل ہے یہ اس کی جو بے مثال ہوا\n\nقرار و ہوش کا جانا تو کس شمار میں ہے\nغرض پھر آپ میں آنا مجھے محال ہوا\n\nادھر سے بھر دیا مے نے نگاہ کا ساغر\nادھر سے زلف کا حلقہ گلے کا جال ہوا\n\nبہار حسن وہ آئے نظر جو اس کی نظیرؔ\nتو دل وہیں چمن عشق میں نہال ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DA%AF%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "نہ آ جائے کسی پر دل کسی کا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ آ جائے کسی پر دل کسی کا\nنہ ہو یا رب کوئی مائل کسی کا\n\nلگا اک ہاتھ بھی کیا دیکھتا ہے\nکہیں کرتے ہیں ڈر قاتل کسی کا\n\nادا سے اس نے دو باتیں بنا کر\nکسی کی جان لے لی دل کسی کا\n\nاٹھا جب درد پہلو دل پکارا\nنہیں کوئی دم مشکل کسی کا\n\nابھی جینا پڑا کچھ دن ہمیں اور\nٹلا پھر وعدۂ باطل کسی کا\n\nبہت آہستہ چلمن کو اٹھانا\nملیں آنکھیں کہ بیٹھا دل کسی کا\n\nحفیظؔ اس طرح بھرتے ہو جو آہیں\nدکھاؤ گے مگر تم دل کسی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نہ آئینہ ہی اس صورت کے آگے ہکا بکا ہے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ آئینہ ہی اس صورت کے آگے ہکا بکا ہے\nسیاہی دیکھ اس کے خط کے مد کی دل میں لکا ہے\n\nہوا انساں نمایاں نور ذات پاک وحدت سے\nکہ جیوں خورشید کے پرتو سے ذرے میں جھمکا ہے\n\nہوا اخبار سے ثابت ثواب حج اکبر ہے\nزیارت کر لے اے غافل دل آگاہ مکہ ہے\n\nبچا نیں کوئی اس ظالم کے جور چشم و مژگاں سے\nوہاں آئینہ بھی شان عسل کا سا شبکا ہے\n\nجھکا کر ایک میں سر نام اپنا کر دیا روشن\nفنون عشق میں کم کوئی پروانہ سا پکا ہے\n\nموالیٔ علی کا ہے بخیر انجام بوجھ اے عشقؔ\nخدا حافظ ترا دوزخ بھی اک شرعیٔ دکا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%DB%81%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتا\nمجھے تو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا\n\nبلا اسے بھی تو کہتے ہیں لوگ عالم میں\nعجب ہے کس لیے وہ میرے گھر نہیں آتا\n\nوہ میرے سامنے طوبیٰ کو قد سے ماپ چکے\nانہوں کے نام خدا تا کمر نہیں آتا\n\nنہ بے خطر رہو مجھ سے کہ درد مندوں کے\nلبوں پہ نالہ کوئی بے خطر نہیں آتا\n\nڈرا دیا ہے کسی نے اسے مگر عارفؔ\nمرے خرابے کی جانب خضر نہیں آتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "نہ آتے، ہمیں اس میں تکرار کیا تھی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "نہ آتے، ہمیں اس میں تکرار کیا تھی\nمگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی\n\nتمھارے پیامی نے سب راز کھولا\nخطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی\n\nبھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا\nتری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی!\n\nتامّل تو تھا اُن کو آنے میں قاصد\nمگر یہ بتا طرزِ انکار کیا تھی\n\nکھِنچے خود بخود جانبِ طُور موسیٰؑ\nکشش تیری اے شوقِ دیدار کیا تھی!\n\nکہیں ذکر رہتا ہے اقبالؔ تیرا\nفسوں تھا کوئی، تیری گُفتار کیا تھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%AA%DB%92%D8%8C_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "نہ آسمان ہے ساکت نہ دل ٹھہرتا ہے", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ آسمان ہے ساکت نہ دل ٹھہرتا ہے\nزمانہ نام گزرنے کا ہے گزرتا ہے\n\nوہ میری جان کا دشمن سہی مگر صیاد\nمری کہی ہوئی باتوں پہ کان دھرتا ہے\n\nہمیں ہیں وہ جو امید فنا پہ جیتے ہیں\nزمانہ زندگیٔ بے بقا پہ مرتا ہے\n\nابھی ابھی در زنداں پہ کون کہتا تھا\nادھر سے ہٹ کے چلو کوئی نالے کرتا ہے\n\nوہی سکوت سے اک عمر کاٹنے والا\nجو سننے والا ہو کوئی تو کہہ گزرتا ہے\n\nحریف بزم میں چھیڑا کریں مگر ثاقبؔ\nوہ دل جو بیٹھ گیا ہو کہیں ابھرتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A7%DA%A9%D8%AA_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ آیا آج بھی سب کھیل اپنا مٹی ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ آیا آج بھی سب کھیل اپنا مٹی ہے\nتمام رات یہ سر اور پلنگ کی پٹی ہے\n\nجبیں پہ قہر نہ تنہا سیاہ پٹی ہے\nبھوؤں کی تیغ بھی کافر بڑی ہی کٹی ہے\n\nپھنکی نکلتی ہیں اشکوں کی شیشیاں یارو\nہمارے سینے میں کس شیشہ گر کی بھٹی ہے\n\nگلے لگائیے منہ چومئے سلا رکھئے\nہمارے دل میں بھی کیا کیا ہوس اکھٹی ہے\n\nکوئی حجاب نہیں تجھ میں اور صنم میں نظیرؔ\nمگر تو آپ ہی پردہ اور آپی ٹٹی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%D8%AC_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%85%D9%B9%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ آیا وہ تو کیا ہم نیم جاں بھی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "نہ آیا وہ تو کیا ہم نیم جاں بھی\nبغیر اس کے ملے دنیا سے جاویں\nچلی ہے تو تو اے جان المناک\nٹک اک رہ جا کہ ہم رخصت ہو آویں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%8C%D9%85_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھا", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھا\nکسی کے بس میں تھا مجبور تھا لاچار تھا کیا تھا\n\nبرا ہو بد گمانی کا وہ نامہ غیر کا سمجھا\nہمارے ہاتھ میں تو پرچۂ اخبار تھا کیا تھا\n\nصدا سنتے ہی گویا مردنی سی چھا گئی مجھ پر\nیہ شور صور تھا یا وصل کا انکار تھا کیا تھا\n\nخدا کا دوست ہے تعمیر دل جو شخص کرتا ہو\nخلیل اللہ بھی کعبہ کا اک معمار تھا کیا تھا\n\nنہ آئے تم نہ آؤ میں نے کیا کچھ منتیں کی تھیں\nتمہیں نے خود کیا تھا عہد یہ اقرار تھا کیا تھا\n\nہوا میں جب اڑا پردہ تو اک بجلی سی کوندی تھی\nخدا جانے تمہارا پرتو رخسار تھا کیا تھا\n\nملا تو ہم سے محفل میں جو شب کو غیر کیوں بگڑا\nترا حاکم تھا ٹھیکا دار تھا مختار تھا کیا تھا\n\nمری میت پہ ماتم کرتے ہو اللہ رے چالاکی\nخبر ہے خود تمہیں مدت سے میں بیمار تھا کیا تھا\n\nہزاروں حسرتیں بیتاب تھیں باہر نکلنے کو\nوہ سوتے میں بھی پرویںؔ فتنۂ بیدار تھا کیا تھا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "نہ آیا ہمیں عشق کرنا نہ آیا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ آیا ہمیں عشق کرنا نہ آیا\nمرے عمر بھر اور مرنا نہ آیا\n\nیہ دل کی تڑپ کیا لحد کو ہلاتی\nتمہیں قبر پر پاؤں دھرنا نہ آیا\n\nنمکداں کئے تم نے گو لاکھ خالی\nنمک تم کو زخموں میں بھرنا نہ آیا\n\nیہی دن تھے سو سو طرح تم سنورتے\nجوانی تو آئی سنورنا نہ آیا\n\nدباتا تھا کافر حسینوں کا جوبن\nمرے داغ دل کو ابھرنا نہ آیا\n\nتری تیغ کیا کیا نہائی لہو میں\nتری طرح لیکن نکھرنا نہ آیا\n\nسنا کر وہ کہتے ہیں کس بھولے پن سے\nہمیں وعدہ کر کے مکرنا نہ آیا\n\nبنے پنکھڑی نقش پا کب لحد پر\nتجھے اے صبا گل کترنا نہ آیا\n\nریاضؔ اپنی قسمت کو اب کیا کہوں میں\nبگڑنا تو آیا سنورنا نہ آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم\nرہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلوم\n\nدعا تو خیر دعا سے امید خیر بھی ہے\nیہ مدعا ہے تو انجام مدعا معلوم\n\nہوا نہ راز رضا فاش وہ تو یہ کہیے\nمرے نصیب میں تھی ورنہ سعیٔ نا معلوم\n\nمری وفا کے سوا غایت جفا کیوں ہو\nتری جفا کے سوا حاصل وفا معلوم\n\nکچھ ان کے رحم پہ تھی یوں ہی زندگی موقوف\nکہ ان کو راز محبت بھی ہو گیا معلوم\n\nترے خیال کے اسرار بے خودی میں کھلے\nہمیں چھپا نہ سکے ورنہ دل کو کیا معلوم\n\nفریب امن میں کچھ مصلحت تو ہے ورنہ\nسکون کشتی و توفیق ناخدا معلوم\n\nوہ التفات کہ تھا اس کی انتہا بھی ہے\nخدا کی مار کہ دل کو یہی نہ تھا معلوم\n\nیہ زندگی کی ہے روداد مختصر فانیؔ\nوجود درد مسلم علاج نا معلوم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85"} {"title": "نہ ابتدا ہوں کسی کی نہ انتہا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ابتدا ہوں کسی کی نہ انتہا ہوں میں\nتعینات کی حد سے گزر گیا ہوں میں\n\nجو نا مراد ازل ہے وہ التجا ہوں میں\nاثر سے دور جو رہتی ہے وہ دعا ہوں میں\n\nترے جمال کا آئینہ بن گیا ہوں میں\nہزار پردوں میں چھپ کر چمک رہا ہوں میں\n\nالٰہی کس کی نگاہوں سے گر گیا ہوں میں\nہر ایک آنکھ کو حسرت سے تک رہا ہوں میں\n\nترا کرم تو خدا جانے کیا ستم ہوگا\nکہ جب ستم پہ ترے جان دے رہا ہوں میں\n\nنہ باغ سے مجھے مطلب نہ باغ والوں سے\nبھٹک کے دشت سے گلشن میں آ گیا ہوں میں\n\nتجھے خبر بھی ہے او مڑ کے دیکھنے والے\nتری نگاہ پہ کیا کیا لٹا رہا ہوں میں\n\nمری نظر سے ٹپکتی ہے آرزو دل کی\nصدائے‌ قلب ہوں خاموش التجا ہوں میں\n\nمدد کا وقت ہے اے ناخدائے کشتئ دل\nتجلیات کی موجوں میں گھر گیا ہوں میں\n\nہر ایک آنکھ مجھے تک رہی ہے حیرت سے\nمنیرؔ کس کی نگاہوں کا آئنہ ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ اتنا چاہئے اے پر شکم خواب", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ اتنا چاہئے اے پر شکم خواب\nکہ تیرے حق میں ہے ظالم ستم خواب\n\nخیال ماہ رو میں تا دم صبح\nنہ آیا رات مجھ کو ایک دم خواب\n\nکہو تو کس طرح آوے وہاں نیند\nجہاں خورشید رو ہو آ کے ہم خواب\n\nپلک لگتے نہیں کیا اڑ گیا ہے\nنصیبوں کا ترے اے چشم نم خواب\n\nہمیں بہتر ہے سونا جاگنے سے\nبھلاتا ہے ہمارا درد و غم خواب\n\nکہے تھا رات کو حاتمؔ سے مضموںؔ\nمجھے مخمل اوپر آتا ہے کم خواب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%B4%DA%A9%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8"} {"title": "نہ اتنا کیجے طلب گار کون آپ کا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا علی لطف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ اتنا کیجے طلب گار کون آپ کا ہے\nیہ غیر ہے تو یہاں یار کون آپ کا ہے\n\nنہ ناز کیجئے وارستہ خاطروں کے ساتھ\nکدھر ہیں آپ خریدار کون آپ کا ہے\n\nمسیحا اپنا ہے اک اور ہی لب جاں بخش\nخدا کے فضل سے بیمار کون آپ کا ہے\n\nہم اپنی بے گنہی کو گناہ کہتے تھے\nبگڑ گئے یہ گناہ گار کون آپ کا ہے\n\nتصور اور ہی بدمست کا ہے لطفؔ کو اب\nنہ آپ بہکیے سرشار کون آپ کا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ ادا مجھ سے ہوا اس ستم ایجاد کا حق", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ادا مجھ سے ہوا اس ستم ایجاد کا حق\nمیری گردن پہ رہا خنجر بیداد کا حق\n\nناصحو گر نہ سنوں میں مری قسمت کا قصور\nتم نے ارشاد کیا جو کہ ہے ارشاد کا حق\n\nیاد تو حق کی تجھے یاد ہی پر یاد رہی\nیار دشوار ہے وہ یاد جو ہے یاد کا حق\n\nاپنی تصویر پہ صدقے ترے صدقے کر اسے\nاسی صورت سے ادا ہووے گا بہزاد کا حق\n\nحق کو باطل کوئی کس طرح سے کہہ دے اے بت\nکہیں ثانی نہیں اس حسن خداداد کا حق\n\nجاں کنی پیشہ ہو جس کا وہ لحق ہے تیرا\nتجھ پہ شیریں ہے نہ خسرو کا نہ فرہاد کا حق\n\nبار احساں سے نہیں سر بھی اٹھا سکتا ہوں\nمیرے سر پر ہی رہا اس مرے جلاد کا حق\n\nسن کے کہتا ہے یہاں کون ہے سنتا مت سن\nسننے والا ہی سنا اس مری فریاد کا حق\n\nوہی انسان ہے احساںؔ کہ جسے علم ہے کچھ\nحق یہ ہے باپ سے افزوں رہے استاد کا حق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D9%82"} {"title": "نہ ارماں بن کے آتے ہیں نہ حسرت بن کے آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ارماں بن کے آتے ہیں نہ حسرت بن کے آتے ہیں\nشب وعدہ وہ دل میں درد فرقت بن کے آتے ہیں\n\nپریشاں زلف منہ اترا ہوا محجوب سی آنکھیں\nوہ بزم غیر سے عاشق کی صورت بن کے آتے ہیں\n\nبنے ہیں شیخ صاحب نقل مجلس بزم رنداں میں\nجہاں تشریف لے جاتے ہیں حضرت بن کے آتے ہیں\n\nنہ رکھنا ہم سے کچھ مطلب یہ پہلی شرط ہے ان کی\nوہ جس کے پاس آتے ہیں امانت بن کے آتے ہیں\n\nستم کی خواہشیں بیخودؔ غضب کی آرزوئیں ہیں\nجوانی کے یہ دن شاید مصیبت بن کے آتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ اس زمانے میں چرچا ہے دانش و دیں کا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ اس زمانے میں چرچا ہے دانش و دیں کا\nنہ شوقِ شعرِ تر و بذلہ ہائے رنگیں کا\n\nشمیمِ زلف یہی ہے تو وحشتِ دل نے\nکب انتظار کیا موسمِ ریاحیں کا\n\nبناتِ نعش نے کس واسطے بٹھا رکھیں\nنہیں ستارہ گہر خاندانِ پرویں کا\n\nازل کو دیکھتے ہی ہم سخن کو سمجھے تھے\nکہ مشتری نہیں اس گوہرِ نو آئیں کا\n\nنما نما ہے نہایت خلافِ شیوۂ عشق\nغلط ہے شوق ہمیں گریہ ہائے رنگیں کا\n\nوہ طرفہ حال کہ جس سے جماد رقص کرے\nنہ رنگ بھی متغیر ہو اہلِ تمکیں کا\n\nہزار مرتبہ فرہاد جانِ شیریں دے\nوہی ہے حقِ نمک عشوہ ہائے شیریں کا\n\nعجیب حال میں ہے شیفتہ معاف کرو\nجو کچھ قصور بھی ہو اس غلامِ دیریں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D8%B1%DA%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B4_%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا\nخدا آگاہ ہے دل کی خبرداری سے ہاتھ آیا\n\nنہ ہوں جن کے ٹھکانے ہوش وہ منزل کو کیا پہنچے\nکہ رستہ ہاتھ آیا جس کی ہشیاری سے ہاتھ آیا\n\nہوا حق میں ہمارے کیوں ستم گر آسماں اتنا\nکوئی پوچھے کہ ظالم کیا ستم گاری سے ہاتھ آیا\n\nاگرچہ مال دنیا ہاتھ بھی آیا حریصوں کے\nتو دیکھا ہم نے کس کس ذلت و خواری سے ہاتھ آیا\n\nنہ کر ظالم دل آزاری جو یہ دل منظور ہے لینا\nکسی کا دل جو ہاتھ آیا تو دل داری سے ہاتھ آیا\n\nاگرچہ خاکساری کیمیا کا سہل نسخہ ہے\nولیکن ہاتھ آیا جس کے دشواری سے ہاتھ آیا\n\nہوئی ہرگز نہ تیرے چشم کے بیمار کو صحت\nنہ جب تک زہر تیرے خط زنگاری سے ہاتھ آیا\n\nکوئی یہ وحشیٔ رم دیدہ تیرے ہاتھ آیا تھا\nپر اے صیادوش دل کی گرفتاری سے ہاتھ آیا\n\nظفرؔ جو دو جہاں میں گوہر مقصود تھا اپنا\nجناب فخر دیں کی وہ مددگاری سے ہاتھ آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AF_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نہ اس کے نام سے واقف نہ اس کی جا معلوم", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ اس کے نام سے واقف نہ اس کی جا معلوم\nملے گا دیکھیے کیوں کر وہ بت خدا معلوم\n\nجواب دیکھیے دل لے کے یہ کہا چپکے\nنہ ہو یہ اور کسی کو ترے سوا معلوم\n\nلگا کے زخم جگر پر جو پھر نمک چھڑکا\nتو اس میں ہم کو ہوا اور ہی مزا معلوم\n\nبدن پری کا ترے تن سے گو کہ گورا ہے\nولے وہ چاہے کہ ایسا ہو گدگدا معلوم\n\nہم اس پہ مرتے ہیں مدت سے اور وہ کہتا ہے\nقسم خدا کی ہمیں تو یہ اب ہوا معلوم\n\nکیا تھا عہد نہ وعدہ نہ قول نے اقرار\nجو آ گیا وہ مرے پاس شب کو نا معلوم\n\nجو مجھ سے ہنس کے کہا جس لیے ہم آئے ہیں\nنظیرؔ تم نے بھی سچ کہیو کیا کیا معلوم\n\nکہا یہ میں نے مجھے کیا خبر تمہیں جانو\nکسی کے دل کی بھلا جی کسی کو کیا معلوم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%82%D9%81_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A7_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85"} {"title": "نہ ان کا ذہن صاف ہے نہ میرا قلب صاف ہے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "نہ ان کا ذہن صاف ہے نہ میرا قلب صاف ہے\nتو کیوں دلوں میں جا گزیں وہ بنت صد عفاف ہے\nمجازؔ آہ کیا کرے وہ دوست بھی حریف بھی\nفلک تو اب بھی نرم ہے زمین ہی خلاف ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%B0%DB%81%D9%86_%D8%B5%D8%A7%D9%81_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%82%D9%84%D8%A8_%D8%B5%D8%A7%D9%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ انتظار میں یاں آنکھ ایک آن لگی", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ انتظار میں یاں آنکھ ایک آن لگی\nنہ ہائے ہائے میں تالو سے شب زبان لگی\n\nجلا جگر تپ غم سے پھڑکنے جان لگی\nالٰہی خیر کہ اب آگ پاس آن لگی\n\nگلی میں اس کی نہ پھر آتے ہم تو کیا کرتے\nطبیعت اپنی نہ جنت کے درمیان لگی\n\nجفائے غیر کا شکوہ تھا تیرا تھا کیا ذکر\nعبث یہ بات بری تجھ کو بد گمان لگی\n\nہنسو نہ تم تو مرے حال پر میں ہوں وہ ذلیل\nکہ جس کی ذلت و خواری سے تم کو شان لگی\n\nکہاں وہ آہ و فغاں دم بھی لے نہیں سکتے\nہمیں یہ تیری دعائے بد آسمان لگی\n\nمیں اور اس کو بلاؤں گا روز وصل میں لو\nاجل بھی کرنے محبت کا امتحان لگی\n\nبرنگ صورت بلبل نہیں نوا سنجی\nیہ کیا ہوا کہ چپ اے گلستاں بیان لگی\n\nسدا تمہاری طرف جی لگا ہی رہتا ہے\nتمہارے واسطے ہے دل کو مہربان لگی\n\nوہ کینہ توز تھا مومنؔ تو دل لگایا کیوں\nکہو تو کیا تمہیں ایسی بھلی وہ آن لگی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A2%D9%86_%D9%84%DA%AF%DB%8C"} {"title": "نہ انگیا نہ کرتی ہے جانی تمہاری", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ انگیا نہ کرتی ہے جانی تمہاری\nنہیں پاس کوئی نشانی تمہاری\n\nہوئی رندؔ تو زندگانی تمہاری\nیہی ہے اگر ناتوانی تمہاری\n\nزیادہ ہوئی یاد جانی تمہاری\nغرض قہر ہے مہربانی تمہاری\n\nنہ بھولوں گا ہرگز نہ بھولا ہوں اب تک\nعنایت کرم مہربانی تمہاری\n\nشبیہ آپ کی کھینچ دے گا یہ مانا\nادا کس طرح کھینچے مانی تمہاری\n\nتباہ و خراب اک جہاں کو کیا ہے\nخدا کا غضب ہے جوانی تمہاری\n\nوہی کہہ رہا ہوں جو فرماتے ہو تم\nمری گفتگو ہے زبانی تمہاری\n\nبرابر سمجھتے ہو غیروں کے مجھ کو\nرہے مہرباں قدردانی تمہاری\n\nدل و دیدہ لپکا ہے پھنسنے کا تم کو\nکہاں تک کروں پاسبانی تمہاری\n\nبس اب شکل دکھلاؤ بے جا ہے غمزہ\nبہت سن چکے لن ترانی تمہاری\n\nعدم کو چلا لے کے داغ محبت\nدکھاؤں گا سب کو نشانی تمہاری\n\nکیا امتحاں میرا سو معرکوں میں\nوہی ہے مگر بد گمانی تمہاری\n\nجگا کر دل زار نے ہجر کی شب\nسحر تک کہی ہے کہانی تمہاری\n\nبرا گر نہ مانو تو سچ سچ میں کہہ دوں\nتم اچھے بری بد زبانی تمہاری\n\nکرم کیجیے آئیے حضرت عشق\nہے خون جگر میہمانی تمہاری\n\nعبث بے سبب بے جہت روٹھتے ہو\nیہی تو بری خو ہے جانی تمہاری\n\nبھلا تم ہی منصف ہو للہ بولو\nوہ کیا بات تھی جو نہ مانی تمہاری\n\nوہ پیری میں بھی رندؔ دیکھے اب آ کر\nجسے یاد ہووے جوانی تمہاری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "نہ اپنا باقی یہ تن رہے گا نہ تن میں تاب و تواں رہے گی", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ اپنا باقی یہ تن رہے گا نہ تن میں تاب و تواں رہے گی\nاگر جدائی میں جاں رہے گی تمہیں بتاؤ کہاں رہے گی\n\nمژہ کے تیروں سے چھان دل کو جو چھاننی ہو نگہ کو گہری\nکھنچی ہوئی دل سے کب تلک یوں تری بھنؤں کی کماں رہے گی\n\nخدا نے منہ میں زبان دی ہے تو شکر یہ ہے کہ منہ سے بولو\nکہ کچھ دنوں میں نہ منہ رہے گا نہ منہ میں چلتی زباں رہے گی\n\nبہار کے تخت و تاج پر بھی گلوں کو روتے ہی ہم نے دیکھا\nکہ گاڑ کر خار و خس کا جھنڈا چمن میں اک دن خزاں رہے گی\n\nدکھائے گا اپنا جب وہ قامت مچے گی یاں طرفہ اک قیامت\nنہ واعظوں میں یہ ذکر ہوگا نہ مسجدوں میں اذاں رہے گی\n\nبجے گا کوچوں میں یونہی گھنٹہ اذاں یونہی ہوگی مسجدوں میں\nنہ جب تلک ان کو تو ملے گا تمام آہ و فغاں رہے گی\n\nنہ دیں گے جب تک نگہ کو دل ہم قرار حاصل نہ ہوگا دل کو\nکبھی نہ ہم سانس لے سکیں گے اڑی ہوئی اک سناں رہے گی\n\nزباں پہ شہبازؔ کی ہیں جاری مدام شیریں لبوں کی باتیں\nخدا نے چاہا تو نوک خامہ ہمیشہ رطب اللساں رہے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D9%86_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%88_%D8%AA%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "نہ اپنے بس میں ہے رونا نہ ہائے ہنس دینا", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ اپنے بس میں ہے رونا نہ ہائے ہنس دینا\nکوئی رلائے تو رونا ہنسائے ہنس دینا\n\nوہ باتوں باتوں میں بھر آنا اپنی آنکھوں کا\nوہ اس کا دیکھ کے صورت کو ہائے ہنس دینا\n\nکسی کے ظلم ہیں کچھ ایسے بے محل ہم پر\nکہ جی میں آتا ہے رونے کی جائے ہنس دینا\n\nوہ خود ہنسائے تو کم بخت دل ضدیلے دل\nیہ وضع داری ہے کیوں ہائے ہائے ہنس دینا\n\nعدول حکمئ درد جگر کہ اب اے چشم\nجو لاکھ بار وہ اٹھ کر رلائے ہنس دینا\n\nکوئی جو تجھ پہ ہنسے برق پاش عالم سوز\nتو پھر ہر ایک پہ تو بھول جائے ہنس دینا\n\nوہ ہم سے پوچھتے ہیں تم ہمارے عاشق ہو\nجواب کیا ہے اب اس کے سوائے ہنس دینا\n\nصفیؔ کہاں کی شکایت کہاں کا غم غصہ\nکسی کا عین لڑائی میں ہائے ہنس دینا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%88%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%86%D8%B3_%D8%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "نہ اک یعقوب رویا اس الم میں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ اک یعقوب رویا اس الم میں\nکنواں اندھا ہوا یوسف کے غم میں\n\nکہوں کب تک دم آنکھوں میں ہے میری\nنظر آوے ہی گا اب کوئی دم میں\n\nدیا عاشق نے جی تو عیب کیا ہے\nیہی میرؔ اک ہنر ہوتا ہے ہم میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%DA%A9_%DB%8C%D8%B9%D9%82%D9%88%D8%A8_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ اے دل صورت شیخ حرم دیوانہ بن جانا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ اے دل صورت شیخ حرم دیوانہ بن جانا\nکہیں آنا نہ جانا زائر بت خانہ بن جانا\n\nتمہاری دیدۂ مخمور کو یہ خوب آتا ہے\nکبھی شیشہ کبھی ساغر کبھی پیمانہ بن جانا\n\nعجب عالم ہے مدہوشوں کا تیری جوش مستی میں\nکبھی دیوانہ بن جانا کبھی مستانہ بن جانا\n\nدل سوزاں دکھانا جلوہ حسن و عشق دونوں کا\nکہیں شمع شبستاں اور کہیں پروانہ بن جانا\n\nیہ تھی تلقین ساقی وقت رخصت اپنی مستوں کو\nکہیں دیوانہ بن جانا کہیں فرزانہ بن جانا\n\nاسی میں کچھ مفر اپنا نظر آیا حسینوں کو\nکہ جا کر دیر میں چپکے بت بت خانہ بن جانا\n\nکرشمے ہیں یہ سارے جلوۂ حسن حقیقی کے\nکہیں عاشق کہیں انداز معشوقانہ بن جانا\n\nنوائے راز ساز عشق بے خود کیوں نہ کر ڈالے\nکہ ہر پردے سے آتی ہے صدا دیوانہ بن جانا\n\nیہی عبرت سرائے دہر کا ہر روز نقشہ ہے\nکہیں کاشانہ ہو جانا کہیں ویرانہ بن جانا\n\nخبر کس کو تھی یوں عالم میں رسوائی مری ہوگی\nکہ عنوان محبت کو بھی تھا افسانہ نہ بن جانا\n\nیہ عالم بیخودی عشق کا اے شوقؔ کیا کہئے\nتصور میں کسی کے آپ سے بیگانہ بن جانا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "نہ باغ سے غرض ہے نہ گل زار سے غرض", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ باغ سے غرض ہے نہ گل زار سے غرض\nہے بھی جو کچھ غرض تو ہمیں یار سے غرض\n\nپھرتے ہیں ہم تو دید کو تیرے ہی در پہ کچھ\nرستے سے ہے نہ کام نہ بازار سے غرض\n\nکہنے سے کیا کسی کے کوئی کچھ کہا کرے\nہم کو تو ایک اس کی ہے گفتار سے غرض\n\nجی ان دنوں میں آپ سے بھی ہے خفا ولیک\nبیزار جو نہیں ہے تو دل دار سے غرض\n\nپھر پھر کے آج پوچھتے ہو دل کا حال کیوں\nہے خیر تم کو کیا دل بیمار سے غرض\n\nآنے کا وعدہ کر کہ نہ کر ہم کو اب ترے\nاقرار سے نہ کام نہ انکار سے غرض\n\nہم کو بھی دشمنی سے ترے کام کچھ نہیں\nتجھ کو اگر ہمارے نہیں پیار سے غرض\n\nسر رشتہ جس کے ہاتھ لگا عشق کا اسے\nتسبیح سے نہ شوق نہ زنار سے غرض\n\nدیں دار جو رکھے نہ حسنؔ مجھ سے کام تو\nکافر ہوں میں بھی رکھوں جو دیں دار سے غرض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%B1%D8%B6"} {"title": "نہ بدلنا تھا نہ بدلا دل شیدا اپنا", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ بدلنا تھا نہ بدلا دل شیدا اپنا\nرنگ ہر وقت بدلتی رہی دنیا اپنا\n\nصورت آتش خاموش جلا کرتا ہوں\nدیکھتا ہوں شب غم آپ تماشا اپنا\n\nزخم نے داد نہ دی درد نے فریاد نہ کی\nرہ گیا تھام کے قاتل بھی کلیجہ اپنا\n\nحسن ہے داد خدا عشق ہے امداد خدا\nغیر کا دخل نہیں بخت ہے اپنا اپنا\n\nوہ سنیں یا نہ سنیں نالہ و فریاد عزیزؔ\nآپ ہرگز نہ کریں ترک تقاضا اپنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%AF%D9%84%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%AF%D9%84%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "نہ برق نہ شعلہ نے شرر ہوں", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ برق نہ شعلہ نے شرر ہوں\nجو کہئے سو قصہ مختصر ہوں\n\nجوں عکس میرا کہاں ٹھکانا\nتیرے جلوے سے جلوہ گر ہوں\n\nاے نقش قدم رہ فنا میں\nمیں تجھ سے ٹک ایک پیشتر ہوں\n\nیہ خیر ہے خیر محض ہے تو\nبندہ گندہ جو میں بشر ہوں\n\nمعلوم ہوئی نہ کچھ حقیقت\nمیں کیا ہوں کون ہوں کدھر ہوں\n\nاے عمر بہ باد رفتہ لے چل\nمیں بھی تیرے ہی ہم سفر ہوں\n\nجوں شعلہ میان بے قراری\nقائم اپنے قرار پر ہوں\n\nہوں نالۂ نارسا ولیکن\nاپنے حق میں تو کارگر ہوں\n\nآتے ہیں نظر سبھی ہنر مند\nمیں ہی ایک صاف بے ہنر ہوں\n\nہوں تیر بلا کا میں نشانا\nشمشیر جفا کا میں سپر ہوں\n\nلینا مری خیر خبر تو خیر دلا\nغافل ہوں نپٹ ہی بے خبر ہوں\n\nبھولے بھی کبھو نہ یاد کرنا\nبار خاطر میں اس قدر ہوں\n\nہوں لغو میں آپ اپنی ذاتوں\nاوروں کا نفع نے ضرر ہوں\n\nتیرے دامن سے لگ رہا ہوں\nاپنی تر دامنی سے تر ہوں\n\nدرد کی ذات پاک کا ہے\nگو عین نہیں ولے اثرؔ ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D9%86%DB%81_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81_%D9%86%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "نہ برگ ہوں میں گل کا نہ لالے کا شجر ہوں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ برگ ہوں میں گل کا نہ لالے کا شجر ہوں\nمیں لخت دل ریش ہوں اور داغ جگر ہوں\n\nہوں دیر میں نہ کعبے میں نہ دل ہی میں اپنے\nکیا جانوں تجسس میں تری آہ کدھر ہوں\n\nپیدا ہوئے اور جاتے رہے سیکڑوں مجھ سے\nآتش کدہ دہر میں اک میں بھی شرر ہوں\n\nنہ زیست کا حظ ہے نہ مجھے موت کا آرام\nہوں نزع میں جیسے کہ ادھر ہوں نہ ادھر ہوں\n\nواں دھیان کبھی تجھ کو گزرتا نہیں میرا\nمیں ہوں کہ تری یاد میں یاں آٹھ پہر ہوں\n\nنہ دود ہوں مجمر کا نہ میں شمع کا شعلہ\nمیں نالۂ شبگیر ہوں اور آہ سحر ہوں\n\nخالی نہیں مجھ سے حرم و دیر و دل و چشم\nمیں مظہر حق ہوں کہ جدھر دیکھو تدھر ہوں\n\nپاتا ہی نہیں راہ کسی دل میں الٰہی\nمیں کس دل ناکام کی آہوں کا اثر ہوں\n\nنہ شیشۂ مے ہوں نہ حسنؔ ساغر لبریز\nمیں اک دل پر درد ہوں اور دیدۂ تر ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%B1%DA%AF_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%D8%AC%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "نہ بلبل میں نہ پروانے میں دیکھا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ بلبل میں نہ پروانے میں دیکھا\nجو سودا اپنے دیوانے میں دیکھا\n\nبرابر اوس کی زلفوں کے سیہ بخت\nمیں اپنے بخت کو شانے میں دیکھا\n\nکسی ہندو مسلماں نے خدا کو\nنہ کعبے میں نہ بت خانے میں دیکھا\n\nنہ کوہستاں میں دیکھا کوہ کن نے\nنہ کچھ مجنوں نے ویرانے میں دیکھا\n\nنہ اسکندر نے دیکھا آئینہ میں\nنہ جم نے اپنے پیمانے میں دیکھا\n\nپر اس کی کنہ کو کوئی نہ پہنچا\nجسے دیکھا سو افسانے میں دیکھا\n\nفقیروں سے سنا ہے ہم نے حاتمؔ\nمزا جینے کا مر جانے میں دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "نہ بلوایا نہ آئے روز وعدہ کر کے دن کاٹے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ بلوایا نہ آئے روز وعدہ کر کے دن کاٹے\nبڑے وہ ہو کہ تم نے اچھا اچھا کر کے دن کاٹے\n\nاکیلے کیا تمہیں نے سختیاں جھیلیں جدائی کی\nنہیں ہم نے بھی پتھر کا کلیجا کر کے دن کاٹے\n\nبتا مجھ کو طریقہ اے شب غم سال کٹنے کا\nکوئی بارہ مہینے تیس دن کیا کر کے دن کاٹے\n\nجسے اپنا سمجھتے تھے وہی دل ہو گیا ان کا\nکوئی دنیا میں اب کس کا بھروسا کر کے دن کاٹے\n\nقضا بھی آ گئی لیکن نہ آنا تھا نہ آئے وہ\nیہ میں نے عمر بھر کس کی تمنا کر کے دن کاٹے\n\nتمہارا کیا کھلے بندوں رہے چاہے جسے دیکھا\nکمال اس نے کیا مضطرؔ کہ پردا کر کے دن کاٹے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%84%D9%88%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%D8%A7%D9%B9%DB%92"} {"title": "نہ بچپن میں کہو ہم کو کڑی بات", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ بچپن میں کہو ہم کو کڑی بات\nنہ کھلواؤ کہ چھوٹا منہ بڑی بات\n\nسنو تو گوہر دنداں کی تعریف\nابھی ہو جائے موتی کی لڑی بات\n\nبڑے اندھیر کی تزئین ہے آج\nنہ ہونے دے گی مسی کی دھڑی بات\n\nجہاں اغیار ان کے پاس بیٹھے\nوہیں بس ہو گئی کوئی گھڑی بات\n\nپیام وصل پر وہ ہو گئے ترش\nغضب آیا کھٹائی میں پڑی بات\n\nہم ان سے آج کا شکوہ کریں گے\nاکھاڑیں گے وہ برسوں کی گڑی بات\n\nطبیعت ان کی ہے کچھ اکھڑی اکھڑی\nکسی نے پھر وہاں میری جڑی بات\n\nیہ کس مژگاں کی برچھی کا تھا مذکور\nانی ہو کر کلیجہ میں اڑی بات\n\nسخیؔ وہ یوں تو بولیں گے نہ ہم سے\nکبھی ہو جائے گی دھوکھے دھڑی بات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%86%D9%BE%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D9%88_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DA%91%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "نہ بکھرایا کرو تم بیٹھے بیٹھے زلف پیچاں کو", "poet_page": "مصنف:نشتر چھپروی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نشتر (1930)", "year": "1930", "text_ur": "نہ بکھرایا کرو تم بیٹھے بیٹھے زلف پیچاں کو\nخدا کے واسطے دیکھو مرے حال پریشاں کو\n\nعجب انداز سے پس پس کے ہونٹوں سے نکلتی ہے\nکروں قربان تیری اک نہیں پر سینکڑوں ہاں کو\n\nخدا جانے مزا آتا ہے کیا اس میں کہ ہنس ہنس کر\nوہ پہروں دیکھتے رہتے ہیں میرے زخم خنداں کو\n\nانہیں پھر اس نے بھڑکایا ہوئے گرم جفا پھر وہ\nالٰہی آگ لگ جائے ہماری چشم گریاں کو\n\nقیامت کا سماں پھرنے لگا ہے میری آنکھوں میں\nکہ جب سے میں نے دیکھا ہے کسی کی چشم فتاں کو\n\nبڑھی دیوانگی میری کچھ ایسی عشق گیسو میں\nکہ میرے نام سے ہوتی ہے وحشت اب بیاباں کو\n\nگئے وہ دن مناتے تھے کسی کے ساتھ ہم ساون\nکہ اب تو دیکھتے رہتے ہیں اپنی چشم گریاں کو\n\nابھی تو ہے شروع فصل گل جوش جنوں تازہ\nرفو کیوں لوگ کرتے ہیں مرے چاک گریباں کو\n\nترے آتے ہی جھاڑو پھر گئی کس کس کو روئیں ہم\nالم کو یاس کو حسرت کو بیتابی کو ارماں کو\n\nمرے شیون سے تو آزردہ تھے پھر رو دئیے آخر\nنظر آیا جو میں جاتا ہوا شہر خموشاں کو\n\nبڑھے پھر ناخن وحشت کہ ایام بہار آئے\nذرا ہشیار رہنا اے ہمارے زخم کے ٹانکو\n\nمری آنکھیں ہی دشمن ہو گئیں حق میں مرے آخر\nاسی رستے اتارا اس نے دل میں تیر مژگاں کو\n\nبلا سے گر ہماری جان مضطر پر گرے بجلی\nاسی انداز سے اک بار پھر غرفے سے تم جھانکو\n\nہوئی جاتی ہے کیا کیا لوٹ اس پر رحمت باری\nکوئی دیکھے تو محشر میں ہماری شرم عصیاں کو\n\nنہ رکھا جانے کے قابل مجھے بیتابیٔ دل نے\nکیا تھا میں نے کس مشکل سے راضی اس کے درباں کو\n\nمجھے سر پھوڑنے کی آرزو تھی یوں ہوئی پوری\nگرایا سر پہ سیل اشک نے دیوار زنداں کو\n\nمرے گریہ کی طغیانی ہے گویا نوح کا طوفاں\nگرایا سر پہ سیل اشک نے دیوار زنداں کو\n\nکسی یوسف لقا کی یاد میں رویا ہوں میں اتنا\nگرایا سر پہ سیل اشک نے دیوار زنداں کو\n\nمرا بے خانماں ہونا مری قسمت میں لکھا تھا\nگرایا سر پہ سیل اشک نے دیوار زنداں کو\n\nمری جانب سے ہے دل میں غبار اس بے مروت کے\nنکالے گا وہ پھر کیا خاک میرے دل کے ارماں کو\n\nخلش کا ذائقہ مد نظر ہے مجھ کو اے ہمدم\nجگہ کیوں کر نہ دوں دل میں کسی کی نوک مژگاں کو\n\nوہ آئے تو مٹے جاتے ہیں کیوں یہ ماجرا کیا ہے\nالٰہی ہو گیا یہ کیا مری حسرت کو ارماں کو\n\nپھڑکتی ہے رگ گردن مری کیوں آج پھر نشترؔ\nچڑھایا سان پر قاتل نے شاید تیغ براں کو", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%A9%DA%BE%D8%B1%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%BE%DB%8C%DA%86%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88"} {"title": "نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتے\nچمن کے پھول اگر تیری آرزو کرتے\n\nجناب شیخ پہنچ جاتے حوض کوثر تک\nاگر شراب سے مے خانے میں وضو کرتے\n\nمسرت آہ تو بستی ہے کن ستاروں میں\nزمیں پہ عمر ہوئی تیری جستجو کرتے\n\nایاغ بادہ میں آ کر وہ خود چھلک پڑتا\nگر اس کے مست ذرا اور ہاؤ ہو کرتے\n\nانہیں مفر نہ تھا اقرار عشق سے لیکن\nحیا کو ضد تھی کہ وہ پاس آبرو کرتے\n\nپکار اٹھتا وہ آ کر دلوں کی دھڑکن میں\nہم اپنے سینے میں گر اس کی جستجو کرتے\n\nغم زمانہ نے مجبور کر دیا ورنہ\nیہ آرزو تھی کہ بس تیری آرزو کرتے\n\nگراں تھا ساقی دوراں پہ ایک ساغر بھی\nتو کس امید پہ ہم خواہش سبو کرتے\n\nجنون عشق کی تاثیر تو یہ تھی اخترؔ\nکہ ہم نہیں وہ خود اظہار آرزو کرتے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%88_%D8%A8%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "نہ بھولنا مجھے دل سے مری خبر لینا", "poet_page": "مصنف:رنج حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > مخبر عشق (1895)", "year": "1895", "text_ur": "نہ بھولنا مجھے دل سے مری خبر لینا\nجو یاد آؤں کبھی میں تو یاد کر لینا\n\nہوئے ہیں خبط میں کیا مبتلا ترے عاشق\nضرور کیا ہے کہ دل دے کے درد سر لینا\n\nوہ سب سے کہنے لگے تاک کر مرے دل کو\nکسی طرح بھی ہے لینا اسے مگر لینا\n\nشب وصال کی وہ شرم یاد آتی ہے\nحیا سے منہ پہ دوپٹے کو اپنے دھر لینا\n\nانہیں منا کے خوشامد سے التجاؤں سے\nکسی طرح سے جواب اے پیامبر لینا\n\nوہ آ کے لیٹے جو پہلو میں میرے وصل کی شب\nکہا یہ دل نے مرے خواب رات بھر لینا\n\nہمارے دل کے خریدار اور بھی ہیں بہت\nنہ دیر کیجئے منظور ہے اگر لینا\n\nجسے وہ چاہیں بڑھائیں جسے وہ چاہیں گھٹائیں\nیہ ان کا کھیل ہے دشمن کو دوست کر لینا\n\nدکھا دکھا کے نہ تم اور مجھ کو ترساؤ\nمیں مر گیا تو مرے بعد بن سنور لینا\n\nملا کے خاک میں دل کو وہ میرے کہتے ہیں\nیہ جس قدر ہوا نقصان ہم سے بھر لینا\n\nجو تم میں ہے یہ کمال اور کو نصیب کہاں\nدکھا کے جلوہ ہر اک کو غلام کر لینا\n\nہوا جو قطع تعلق تو کیا غرض اس سے\nنہ آپ رنجؔ کا اب نام عمر بھر لینا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%84%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "نہ بھولے گا خیال و رنگ رخ کا نامہ بر ہونا", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ بھولے گا خیال و رنگ رخ کا نامہ بر ہونا\nحدیث شوق سے حرف و زباں کا بے خبر ہونا\n\nمحیط دہر کی ہر موج ہے اک لہر بجلی کی\nمبارک آہ مضطر کو تری برق نظر ہونا\n\nشکایت سنج قدرت کیوں نہ ہو مجبوریٔ بلبل\nقفس ہی میں تھا کیا جوش نمو سے بال و پر ہونا\n\nمری آہوں کی ہلچل ہے نظام دہر برہم ہے\nندائیں آ رہی ہیں آج مشکل ہے سحر ہونا\n\nکھلے ہیں دل کے ہاتھوں آہ اسرار جنوں کیا کیا\nقیامت کر گیا اس راز داں کا پردہ در ہونا\n\nیہ بڑھتے ولولے یہ جوش گل یہ اپنی مجبوری\nقفس سے چھوٹ کر قسمت میں تھا بے بال و پر ہونا\n\nرہ وحشت کی اٹھتی آندھیوں کا حال کہتا ہے\nسراپا کاروان شوق کا گرد سفر ہونا\n\nقفس میں فصل گل کی کیا خبر ہاں کچھ تو کہتا ہے\nفقط اک وقت میں جوش نموئے بال و پر ہونا\n\nزمانہ محو حیرت اور وہ مجبور تبسم ہے\nطلسم راز ہے بیخودؔ مری مژگاں کا تر ہونا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D9%88_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81_%D8%A8%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے\nصدف میں رہتے یہ موتی تو بے بہا ہوتے\n\nمجھ ایسے رند سے رکھتے ضرور ہی الفت\nجناب شیخ اگر عاشق خدا ہوتے\n\nگناہ گاروں نے دیکھا جمال رحمت کو\nکہاں نصیب یہ ہوتا جو بے خطا ہوتے\n\nجناب حضرت ناصح کا واہ کیا کہنا\nجو ایک بات نہ ہوتی تو اولیا ہوتے\n\nمذاق عشق نہیں شیخ میں یہ ہے افسوس\nیہ چاشنی بھی جو ہوتی تو کیا سے کیا ہوتے\n\nمحل شکر ہیں اکبرؔ یہ درفشاں نظمیں\nہر اک زباں کو یہ موتی نہیں عطا ہوتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%AA%D9%88_%D8%AA%D8%A7%D8%AB%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92"} {"title": "نہ بیم غم ہے نے شادی کی ہم امید کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ بیم غم ہے نے شادی کی ہم امید کرتے ہیں\nقلندر ہیں جو پیش آ جائے سب کچھ دید کرتے ہیں\n\nکہاں کا غرۂ شوال کیسا عشرہ ذی حجہ\nہمیں ہاتھ آئے مے جس دن ہم اس دن عید کرتے ہیں\n\nمزاج خس ہے اہل عشق کا جلنے کے عالم میں\nجلاتا ہے جو ان کو اس کی یہ تائید کرتے ہیں\n\nارادہ تو نہ تھا اپنا بھی جانے کا ترے گھر سے\nپہ کیا کیجے کہ بخت واژگوں تاکید کرتے ہیں\n\nیہ کاسہ سر تلے رکھے جو مے خانوں میں سوتے ہیں\nجسے چاہیں اسے اک جام میں جمشید کرتے ہیں\n\nجنہیں کچھ سلسلے میں عشق کے تحقیق حاصل ہے\nوہ کب مجنوں سے ہر گمراہ کی تقلید کرتے ہیں\n\nنہ جانے کہئے کس قالب میں قائمؔ درد دل اس سے\nنہیں بنتی زباں سے دل میں جو تمہید کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D9%85_%D8%BA%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%92_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ بے وفائی کا ڈر تھا نہ غم جدائی کا", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ بے وفائی کا ڈر تھا نہ غم جدائی کا\nمزا میں کیا کہوں آغاز آشنائی کا\n\nکہاں نہیں ہے تماشا تری خدائی کا\nمگر جو دیکھنے دے رعب کبریائی کا\n\nوہ ناتواں ہوں اگر نبض کو ہوئی جنبش\nتو صاف جوڑ جدا ہو گیا کلائی کا\n\nشب وصال بہت کم ہے آسماں سے کہو\nکہ جوڑ دے کوئی ٹکڑا شب جدائی کا\n\nیہ جوش حسن سے تنگ آئی ہے قبا ان کی\nکہ بند بند ہے خواہاں گرہ کشائی کا\n\nکمان ہاتھ سے رکھ صید گاہ عرفاں میں\nکہ تیر صید ہے یاں دام نارسائی کا\n\nوہ بد نصیب ہوں یار آئے میرے گھر تو بنے\nسمٹ کے وصل کی شب تل رخ جدائی کا\n\nہزاروں کافر و مومن پڑے ہیں سجدے میں\nبتوں کے گھر میں بھی سامان ہے خدائی کا\n\nتمام ہو گئے ہم پہلے ہی نگاہ میں حیف\nنہ رات وصل کی دیکھی نہ دن جدائی کا\n\nنہیں ہے مہر لفافہ پہ خط کے اے قاصد\nیہ داغ ہے مری قسمت کی نارسائی کا\n\nنقاب ڈال کے اے آفتاب حشر نکل\nخدا سے ڈر یہ کہیں دن ہے خود نمائی کا\n\nنہیں قرار گھڑی بھر کسی کے پہلو میں\nیہ ذوق ہے ترے ناوک کو دل ربائی کا\n\nمری طرف سے کوئی جا کے کوہ کن سے کہے\nنہیں نہیں یہ محل زور آزمائی کا\n\nکہا جو میں نے کہ میں خاک راہ ہوں تیرا\nتو بولے ہے ابھی پندار خود نمائی کا\n\nجنوں جو میری طرف ہو وہ جست و خیز کروں\nکہ دل ہو ٹوٹ کے ٹکڑے شکستہ پائی کا\n\nامیرؔ روئیے اپنے نصیب کو ایسا\nکہ ہو سپید سیہ ابر نارسائی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DA%88%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%BA%D9%85_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نہ تارے افشاں نہ کہکشاں ہے نمونہ ہنستی ہوئی جبیں کا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ تارے افشاں نہ کہکشاں ہے نمونہ ہنستی ہوئی جبیں کا\nکھلا ہے پرچم گڑا ہے جھنڈا فلک پر اس آہ آتشیں کا\n\nرہے ہیں گھل مل کے کیسے دونوں یہ ایک ہیں دل کے کیسے دونوں\nچھٹا جو ہم سے کسی کا دامن تو ساتھ ہے اشک و آستیں کا\n\nجو ایک ہو تو ہم اس کو روئیں ہوئے ہیں دشمن بدن کے روئیں\nہمیں تو ہر تار آستیں پر گمان ہے مار آستیں کا\n\nجو رنگ ان کا بدل چلا ہے تو شوق اب ہے نہ ولولہ ہے\nبہت ہی نازک معاملہ ہے وصال معشوق نازنیں کا\n\nچڑھی ہے کچے گھڑے کی ایسی بندھی ہے یہ دھن ہمیں بھی ساقی\nچکھائیں واعظ کو آج ہم بھی ذرا مزا شہد و انگبیں کا\n\nتمہارے انکار نے چبھوئے ہمارے دل میں ہزاروں نشتر\nتم ایسے نازک کہ نقش بن کر رہا لبوں پر نشاں نہیں کا\n\nجو چھینٹیں اڑ کر پڑیں خدایا وہ اور محشر کریں گی برپا\nہے میری گردن پر اور الٹا یہ خون قاتل کی آستیں کا\n\nکلی نہ دامن کی مسکرائے نہ آستیں تیری گل کھلائے\nمیں صدقے قاتل نہ رنگ لائے یہ خون دامن کا آستیں کا\n\nریاضؔ معشوق ماہ پیکر کوئی نہ کوئی ہے جلوہ گستر\nکہ شام آئی ہے جو مرے گھر وہ چاند لائی ہے چودھویں کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D9%81%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%DA%A9%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%86%D9%85%D9%88%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%86%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نہ تخت و تاج میں نَے لشکر و سپاہ میں ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "نہ تخت و تاج میں نَے لشکر و سپاہ میں ہے\nجو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے\n\nصنَم‌کدہ ہے جہاں اور مردِ حق ہے خلیل\nیہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لااِلٰہ میں ہے\n\nوہی جہاں ہے تِرا جس کو تُو کرے پیدا\nیہ سنگ و خِشت نہیں، جو تری نگاہ میں ہے\n\nمہ و ستارہ سے آگے مقام ہے جس کا\nوہ مُشتِ خاک ابھی آوارگانِ راہ میں ہے\n\nخبر مِلی ہے خدایانِ بحر و بَر سے مجھے\nفرنگ رہ گزرِ سیلِ بے پناہ میں ہے\n\nتلاش اس کی فضاؤں میں کر نصیب اپنا\nجہانِ تازہ مری آہِ صُبح گاہ میں ہے\n\nمِرے کدو کو غنیمت سمجھ کہ بادۂ ناب\nنہ مَدرسے میں ہے باقی نہ خانقاہ میں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%AE%D8%AA_%D9%88_%D8%AA%D8%A7%D8%AC_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%8E%DB%92_%D9%84%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%D9%88_%D8%B3%D9%BE%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ ترا اے نگار بہتر ہے", "poet_page": "مصنف:قربی ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ترا اے نگار بہتر ہے\nرخ پہ لہو کا نکھار بہتر ہے\n\nکیا حقیقی و کیا مجازی ہوئے\nعشق کا کاروبار بہتر ہے\n\nخرمن عقل کے جلانے کوں\nعشق کا یک شرار بہتر ہے\n\nدشمن بد گہر سے لڑنے کوں\nلطف حق کا حصار بہتر ہے\n\nسرنسک یار کی جدائی کوں\nموت کا انتظار بہتر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا\nنہ وہ تم رہے نہ وہ ہم رہے جو رہا تو غم کا سماں رہا\n\nنہ وہ باغ ہیں نہ گھٹائیں ہیں نہ وہ پھول ہیں نہ فضائیں ہیں\nنہ وہ نکہتیں نہ ہوائیں ہیں نہ وہ بے خودی کا سماں رہا\n\nنہ وہ دل ہے اب نہ جوانیاں نہ وہ عاشقی کی کہانیاں\nنہ وہ غم نہ اشک فشانیاں نہ وہ درد دل کا نشاں رہا\n\nنہ چمن ہے وہ نہ بہار ہے نہ وہ بلبلیں نہ ہزار ہے\nیہی چار سمت پکار ہے نہ وہ رت ہے اب نہ سماں رہا\n\nنہ وہ عمر ہے نہ مسرتیں نہ وہ عیش ہے نہ وہ عشرتیں\nنہ وہ آرزوئیں نہ حسرتیں نہ خوشی کا نام و نشاں رہا\n\nنہ نشاں ہے ساقی و جام کا نہ وہ بادہ ہائے چمن ادا\nنہ مغنیہ رہی محو ساز نہ ساز مست فغاں رہا\n\nیہ بہار گلشن آب و گل ہے فنا اثر تو ہوں کیوں خجل\nوہ گل فسردہ ہے میرا دل کہ ہمیشہ نذر خزاں رہا\n\nنہیں صبر ساقیا لا بھی دے قدح بہار اٹھا بھی دے\nابھی سن ہے لا کے پلا بھی دے کہ ہمیشہ کون جواں رہا\n\nکہوں کیا کہ رنج رسیدہ ہوں میں برنگ ابر رمیدہ ہوں\nنفس شمیم پریدہ ہوں کہ رہا تباہ جہاں رہا\n\nاثر بہار خزاں اثر ہے کہ ہے فسردہ مری نظر\nنہ ہوائے عشرت بال و پر نہ جنون باغ جناں رہا\n\nمیں گل رمیدۂ رنگ و بو تو بہار مے کدۂ نمو\nمیں ہمیشہ خستۂ آرزو تو ہمیشہ عیش جواں رہا\n\nنہ سکون دل نہ قرار جاں نہ قیام صبر کوئی زماں\nیہ سرشک غم کا ہے کارواں کہ یوں ہی ہمیشہ رواں رہا\n\nتو متاع گل کدۂ نظر گل نو بہار بہشت اثر\nمیں وہ عندلیب شکستہ پر کہ ہمیشہ محو فغاں رہا\n\nنہ وہ سوز و ساز دروں ہے اب نہ وہ چشم گل کدۂ گوں ہے اب\nنہ وہ سر ہے اب نہ جنوں ہے اب نہ وہ ذوق شعلہ چکاں رہا\n\nہے فلک کی بدلی ہوئی نظر کہیں کسی سے اخترؔ نالہ گر\nکہ میں اس کے جور الم اثر سے ہمیشہ محو فغاں رہا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "نہ تن میں استخوان نے رگ رہی ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ تن میں استخوان نے رگ رہی ہے\nلبوں پر کیونکہ جان اب لگ رہی ہے\n\nہمیں پوچھو تو ہستی سے عدم تک\nمسافت کیا ہے ہاں یک ڈگ رہی ہے\n\nتمہاری یاد میں اے شعلہ خوباں\nزبان شمع پر لو لگ رہی ہے\n\nہمیں یک عمر سے کوچے میں اس کے\nتلاش پائے بوس سگ رہی ہے\n\nنہ جا اس کی طرف تو آج حاتمؔ\nوہاں شمشیر ابرو بگ رہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%AE%D9%88%D8%A7%D9%86_%D9%86%DB%92_%D8%B1%DA%AF_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ تنہا میں ہی دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا", "poet_page": "مصنف:ابراہیم عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاجز (1934)", "year": "1934", "text_ur": "نہ تنہا میں ہی دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا\nجہاں میں شور ہے اے شوخ تیری دلربائی کا\n\nجبین مہر و مہ میں کیا سبب اتنی صفائی کا\nانہیں بھی شغل ہے کیا تیرے در پر جبہ سائی کا\n\nلہو کی ندیاں ایام فرقت میں بہاتا ہوں\nخیال آتا ہے جب مجھ کو ترے دست حنائی کا\n\nوفا کی ہو کسی کو تجھ سے کیا امید او ظالم\nکہ اک عالم ہے کشتہ تیری طرز بے وفائی کا\n\nیہی رہ رہ کے آتا ہے ہمارے دل میں اے عاجزؔ\nحسینوں کے دروں پر کیجئے پیشہ گدائی کا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نہ تو اپنے گھر میں قرار ہے نہ تری گلی میں قیام ہے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ تو اپنے گھر میں قرار ہے نہ تری گلی میں قیام ہے\nتری زلف و رخ کا فریفتہ کہیں صبح ہے کہیں شام ہے\n\nترے اک نہ ہونے سے ساقیا نہ وہ مے نہ شیشہ و جام ہے\nنہ وہ صبح اب مری صبح ہے نہ وہ شام اب مری شام ہے\n\nنہ تو چکھنا جس کا عذاب ہے نہ تو پینا جس کا حرام ہے\nسر بزم ساقی نے دی وہ مے کہ سرور جس کا مدام ہے\n\nمیں دعائیں دوں تو وہ گالیاں کریں بات بات پر بھبتیاں\nیہ عجیب طور و طریق ہیں یہ عجیب طرز کلام ہے\n\nوہ ستم سے باز نہ آئیں گے یوں ہی ظلم کرتے ہی جائیں گے\nانہیں کیا مرے کہ جئے کوئی انہیں اپنے کام سے کام ہے\n\nمرا دل دہلنے لگا ابھی دو گھڑی تو دور ہے ہم نشیں\nخبر وصال نہیں سنی یہ مری قضا کا پیام ہے\n\nبچے کس طرح سے مریض غم نہ تم آ سکو نہ بلا سکو\nیہی حالتیں ہیں تو دیکھنا کوئی دم میں قصہ تمام ہے\n\nپسے دل ہزاروں تڑپ گئے جو سسک رہے تھے وہ مر گئے\nاٹھے فتنے حشر بپا ہوا یہ عجیب طرز خرام ہے\n\nعجب عاشقوں کی نماز ہے نیا بیدمؔ ان کا نیاز ہے\nکہ قیام ہے نہ قعود ہے نہ تو سجدہ ہے نہ سلام ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ تو ملنے کے اب قابل رہا ہے", "poet_page": "مصنف:مظہر جان جاناں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ تو ملنے کے اب قابل رہا ہے\nنہ مج کو وہ دماغ و دل رہا ہے\n\nیہ دل کب عشق کے قابل رہا ہے\nکہاں اس کو دماغ و دل رہا ہے\n\nخدا کے واسطے اس کو نہ ٹوکو\nیہی اک شہر میں قاتل رہا ہے\n\nنہیں آتا اسے تکیہ پہ آرام\nیہ سر پاؤں سے تیرے ہل رہا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ تو میں حور کا مفتوں نہ پری کا عاشق", "poet_page": "مصنف:پیر شیر محمد عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > کرشمۂ عشق (1922)", "year": "1922", "text_ur": "نہ تو میں حور کا مفتوں نہ پری کا عاشق\nخاک کے پتلے کا ہے خاک کا پتلا عاشق\n\nسخت جانی سے فقط میں ہی رہا ہوں زندہ\nمر گئے ورنہ غم ہجر سے کیا کیا عاشق\n\nسرو و قمری گل و بلبل ہیں اسی کے جلوے\nآپ معشوق ہے وہ آپ ہے اپنا عاشق\n\nعشق کامل میں تو حاجت عمل حب کی نہیں\nقیس معشوق بنا ہو گئی لیلا عاشق\n\nبند آنکھیں تھیں ابھی مجھ کو جو لایا صیاد\nنہ تو ہوں سرو کا وارفتہ نہ گل کا عاشق\n\nپہلے ہی کاتب تقدیر نے لکھا تھا ہمیں\nتیرا بندہ ترا فدوی ترا رسوا عاشق\n\nآرزو ہے مری میت پہ وہ روئے کہہ کر\nہے یہ عاجزؔ مرا شیدا مرا پیارا عاشق", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%81%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82"} {"title": "نہ تو کام رکھیے شکار سے نہ تو دل لگائیے سیر سے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "نہ تو کام رکھیے شکار سے نہ تو دل لگائیے سیر سے\nبس اب آگے حضرت عشق جی چلے جائیے گھر ہی کو خیر سے\n\nوہ جو گٹکا پارے کا منہ میں لے پڑے اڑتے پھرتے ہیں جوگی جی\nسو تو بھرت پور سے اداس ہو چلے آئے قلعۂ دیر سے\n\nنہیں ہوتے عام کے روبرو ہمیں قبلہ خاص ہے آرزو\nکہ خدا کرے پڑے گفتگو کسی پیر و مرشددیر سے\n\nکہو کس وسیلے سے شیخ کے شک و شبہ ہووے کمال میں\nکہ جو نعمت آپ کو پہنچی ہے سو میاں غلام زبیر سے\n\nجو خفا ہوئے تو ہوئے اجی جو لڑی بھڑی تو لڑے سہی\nگلہ ہے سو یار عزیز سے نہ کہ شکوہ صورت غیر سے\n\nمجھے اک حیات دوبارہ دے اسی قدرت اپنی سے اے خدا\nکہ خطاب فقرۂ کم لبثت کیا تھا جن نے عزیر سے\n\nوہ جو ہے علی ولی وصی ہے محمد عربی اخی\nسو تو عبد خاص کریم ہے اسے دشمنی ہے نصیر سے\n\nیہی چال اپنی ہے انشاؔ اب کبھی تو درختوں سے خلطے ہیں\nکبھی ہے صبا سے خطاب کچھ کبھی وحش سے کبھی طیر سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "نہ تُو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "نہ تُو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے\nجہاں ہے تیرے لیے، تُو نہیں جہاں کے لیے\n\nیہ عقل و دِل ہیں شرر شُعلۂ محبّت کے\nوہ خار و خَس کے لیے ہے، یہ نیستاں کے لیے\n\nمقامِ پروَرشِ آہ و نالہ ہے یہ چمن\nنہ سیرِ گُل کے لیے ہے نہ آشیاں کے لیے\n\nرہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تک\nترا سفینہ کہ ہے بحرِ بے کراں کے لیے!\n\nنشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو\nترس گئے ہیں کسی مردِ راہ‌داں کے لیے\n\nنِگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوز\nیہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے\n\nذرا سی بات تھی، اندیشۂ عجم نے اسے\nبڑھا دیا ہے فقط زیبِ داستاں کے لیے\n\nمِرے گُلو میں ہے اک نغمہ جبرئیل آشوب\nسنبھال کر جسے رکھّا ہے لامکاں کے لیے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%8F%D9%88_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "نہ تھا دل ہمارا کبھی غم سے واقف", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "نہ تھا دل ہمارا کبھی غم سے واقف\nمگر اب ہوا آپ کے دم سے واقف\n\nیہ بتلاؤ ہم کو بھی پہچانتے ہو\nہمیں کیا جو ہو سارے عالم سے واقف\n\nعبث آتی ہے روز گھر گھر کے بدلی\nنہیں کیا مرے دیدۂ نم سے واقف\n\nانہیں حال دل کس طرح لکھ کے بھیجیں\nنہ ہم ان سے واقف نہ وہ ہم سے واقف\n\nدکھایا اثر آہ نے اپنی انجمؔ\nکہ ہوتے چلے ہیں وہ اب ہم سے واقف", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%82%D9%81"} {"title": "نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا\nڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا\n\nہُوا جب غم سے یوں بے حِس تو غم کیا سر کے کٹنے کا\nنہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا\n\nہوئی مدت کہ غالبؔ مرگیا، پر یاد آتا ہے\nوہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "نہ جانوں میرؔ کیوں ایسا ہے چپکا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "نہ جانوں میرؔ کیوں ایسا ہے چپکا\nنمونہ ہے یہ آشوب و بلا کا\nکرو دن ہی سے رخصت ورنہ شب کو\nنہ سونے دے گا شور اس بے نوا کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%86%D9%BE%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نہ جانے قافلے پوشیدہ کس غبار میں ہیں", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ جانے قافلے پوشیدہ کس غبار میں ہیں\nکہ منزلوں کے چراغ اب تک انتظار میں ہیں\n\nبچا بچا کے گزرنا ہے دامن ہستی\nشریک خار بھی کچھ جشن نو بہار میں ہیں\n\nکسی جدید تلاطم کا انتظار نہ ہو\nسنا تو ہے کہ سفینے ابھی قرار میں ہیں\n\nپکارتے ہیں کہ دوڑو گزر نہ جائے یہ دور\nچراغ بجھتے ہوئے سے جو رہ گزار میں ہیں\n\nابھی تو دور ہے منزل یہ قافلوں کے ہجوم\nابھی تو مرحلۂ جبر و اختیار میں ہیں\n\nابھی بہار نے سیکھی کہاں ہے دل جوئی\nہزار داغ ابھی قلب لالہ زار میں ہیں\n\nنکھر نکھر کے جو مسموم کر رہے ہیں فضا\nکچھ ایسے پھول بھی اخترؔ نئی بہار میں ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%82%D8%A7%D9%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%D8%BA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا\nخدا جانے کہاں مرتا تھا میں جب تو اکیلا تھا\n\nگھروندا یوں کھڑا تو کر لیا ہے آرزوؤں کا\nتماشا ہے جو وہ کہہ دیں کہ میں اک کھیل کھیلا تھا\n\nبہت سستے چھٹے اے موت بازار محبت میں\nیہ سودا وہ ہے جس میں کیا کہیں کیا کیا جھمیلا تھا\n\nاگر تقدیر میں ہوتا تو اک دن پار بھی لگتا\nیہ دریا جھیلنے کو یوں تو اے دل خوب جھیلا تھا\n\nہمیشہ حسرت دیدار پہ دل نے قناعت کی\nبڑے در کا مجاور تھا بڑے مرشد کا چیلا تھا\n\nکہاں دل اور فسون عشق کی گھاتیں کہاں یا رب\nنہ پڑتا تھا بلاؤں میں ابھی کم بخت انیلا تھا\n\nجہاں چاہے لگے جس دل کو چاہے چور کر ڈالے\nزباں سے پھینک مارا بات تھی ناصح کہ ڈھیلا تھا\n\nتماشا گاہ دنیا میں بتاؤں کیا امیدوں کی\nتن تنہا تھا میں اے شادؔ اور ریلوں پہ ریلا تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AC%D9%85%D8%B9_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D9%82%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "نہ جس میں آرزو ہوتی نہ جس میں مدعا ہوتا", "poet_page": "مصنف:نشتر چھپروی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نشتر (1930)", "year": "1930", "text_ur": "نہ جس میں آرزو ہوتی نہ جس میں مدعا ہوتا\nمجھے بھی ایک دل یا رب کوئی ایسا دیا ہوتا\n\nشب وعدہ وہ آتا بھی تو کیا اس کے سوا ہوتا\nجو میں صرف وفا ہوتا تو وہ گرم جفا ہوتا\n\nشب فرقت اگر نالہ مرے دل کا رسا ہوتا\nفلک کیا چیز ہے عرش معلیٰ ہل گیا ہوتا\n\nدکھا دیتا اگر میں داغہائے دل کبھی ان کو\nمرا ذمہ جو پھر مشق ستم کا حوصلہ ہوتا\n\nدیا تھا دل تو دیتا عشق بھی اپنا اسے یا رب\nملا تھا سر تو سودا بھی ترا ہی یا خدا ہوتا\n\nخطا کیا یار کی اس میں جو قبل از وقت موت آئی\nوفا کرتی جو میری عمر تو وعدہ وفا ہوتا\n\nنہ آتا تھا انہیں کیا مجھ کو مٹی میں ملا دینا\nمگر ڈر تھا کہ ہوتا خاک بھی تو کیمیا ہوتا\n\nعدو کے دستخط سے خط مجھے بھیجا ہے کافر نے\nمقدر کا جو لکھا تھا نہ کیوں کر وہ ادا ہوتا\n\nتری کوتاہ‌‌ بینی نے تجھے کھویا ہے اے واعظ\nخدا کو جان جاتا گر بتوں سے آشنا ہوتا\n\nسر و تن کا چلا آتا ہے جھگڑا ایک مدت سے\nمدد کرتی تری تلوار تو کچھ فیصلہ ہوتا\n\nترے صدقے نگاہ ناز کیوں اغماض کرتی ہے\nہماری بات بن جاتی ترا نقصان کیا ہوتا\n\nکہیں پر لطف ہے یہ قصۂ فرہاد و مجنوں سے\nہمارے دل کا دکھڑا بھی کبھی صاحب سنا ہوتا\n\nنہ آئے تم نہ آتے بھیجتے تصویر ہی اپنی\nمرے دل کو بہلنے کا کوئی تو مشغلا ہوتا\n\nغم جاناں نہ دیتا ساتھ میرا تو بھی فرقت میں\nاسی کی طرح ظالم کاش تو بھی بے وفا ہوتا\n\nمرے دل سے وہ رہ رہ کر کسی کا ناز سے کہنا\nعجب اک چیز تو ہوتا اگر بے مدعا ہوتا\n\nسناتا قصۂ غم تجھ میں غم خواری اگر ہوتی\nدکھاتا درد دل تجھ کو جو تو درد آشنا ہوتا\n\nدل وحشی نہ کہتا تھا کہ باز آ عشق گیسو سے\nمری سنتا تو کیوں کافر گرفتار بلا ہوتا\n\nجناب خضر دیں گے ساتھ کیا صحرائے الفت میں\nدل آفت طلب تو ہی ہمارا رہنما ہوتا\n\nیہ کیا سودائے حوران خیالی تجھ کو ہے زاہد\nکسی کافر ادا پر تو فدا مرد خدا ہوتا\n\nبڑے ناز و نعم سے ہم نے اے دل تجھ کو پالا تھا\nخدائی ہم سے پھر جاتی نہ لیکن تو جدا ہوتا\n\nکھنچے جاتے تھے وہ خنجر کی صورت وصل میں نشترؔ\nنکلتی خاک حسرت خاک پورا حوصلہ ہوتا", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "نہ جنوں جائے گا کبھی میرا", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ جنوں جائے گا کبھی میرا\nیار ہے غیرت پری میرا\n\nدل نہ لے اے صنم برائے خدا\nکچھ بہلتا ہے اس سے جی میرا\n\nاس کا حیران ہوں جو کہتا ہے\nدیکھ لے منہ نہ آرسی میرا\n\nاب نہیں دل کو تاب فرقت کی\nدم نکلتا ہے اے پری میرا\n\nلذت قتل کیا کہوں قاتل\nچاٹتی ہے لہو چھری میرا\n\nجان جاں ذکر کر نہ جانے کا\nدم نکل جائے گا ابھی میرا\n\nغنچۂ گل تو ہنس کے کہتا ہے\nمنہ چڑھانے لگی کلی میرا\n\nاب کی فرقت میں گر رہا جیتا\nدیکھئے گا نہ منہ کبھی میرا\n\nبے نشاں ہوں مثال عنقا کی\nنام اے عرشؔ تو سہی میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا\nنہ نکلا کبھی تم سے کچھ کام دل کا\n\nمحبت کا نشہ رہے کیوں نہ ہر دم\nبھرا ہے مئے عشق سے جام دل کا\n\nپھنسایا تو آنکھوں نے دام بلا میں\nمگر عشق میں ہو گیا نام دل کا\n\nہوا خواب رسوا یہ عشق بتاں میں\nخدا ہی ہے اب میرے بدنام دل کا\n\nیہ بانکی ادائیں یہ ترچھی نگاہیں\nیہی لے گئیں صبر و آرام دل کا\n\nدھواں پہلے اٹھتا تھا آغاز تھا وہ\nہوا خاک اب یہ ہے انجام دل کا\n\nجب آغاز الفت ہی میں جل رہا ہے\nتو کیا خاک بتلاؤں انجام دل کا\n\nخدا کے لئے پھیر دو مجھ کو صاحب\nجو سرکار میں کچھ نہ ہو کام دل کا\n\nپس مرگ ان پر کھلا حال الفت\nگئی لے کے روح اپنی پیغام دل کا\n\nتڑپتا ہوا یوں نہ پایا ہمیشہ\nکہوں کیا میں آغاز و انجام دل کا\n\nدل اس بے وفا کو جو دیتے ہو اکبرؔ\nتو کچھ سوچ لو پہلے انجام دل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D9%88_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے\nیار جس حال میں رکھے وہی حال اچھا ہے\n\nدل بیتاب کو پہلو میں مچلتے کیا دیر\nسن لے اتنا کسی کافر کا جمال اچھا ہے\n\nبات الٹی وہ سمجھتے ہیں جو کچھ کہتا ہوں\nاب کے پوچھا تو یہ کہہ دوں گا کہ حال اچھا ہے\n\nصحبت آئینے سے بچپن میں خدا خیر کرے\nوہ ابھی سے کہیں سمجھیں نہ جمال اچھا ہے\n\nمشتری دل کا یہ کہہ کہہ کے بنایا ان کو\nچیز انوکھی ہے نئی جنس ہے مال اچھا ہے\n\nچشم و دل جس کے ہوں مشتاق وہ صورت اچھی\nجس کی تعریف ہو گھر گھر وہ جمال اچھا ہے\n\nیار تک روز پہنچتی ہے برائی میری\nرشک ہوتا ہے کہ مجھ سے مرا حال اچھا ہے\n\nاپنی آنکھیں نظر آتی ہیں جو اچھی ان کو\nجانتے ہیں مرے بیمار کا حال اچھا ہے\n\nباتوں باتوں میں لگا لائے حسینوں کو جلیلؔ\nتم کو بھی سحر بیانی میں کمال اچھا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے\nتبدل یاں ہے ہر ساعت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے\n\nگریباں چاک ہوں گاہے اڑاتا خاک ہوں گاہے\nلیے پھرتی مجھے وحشت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے\n\nابھی ہیں وہ مرے ہم دم ابھی ہو جائیں گے دشمن\nنہیں اک وضع پر صحبت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے\n\nجو شکل شیشہ گریاں ہوں تو مثل جام خنداں ہوں\nیہی ہے یاں کی کیفیت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے\n\nکسی وقت اشک ہیں جاری کسی وقت آہ اور زاری\nغرض حال غم فرقت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے\n\nکوئی دن ہے بہار گل پھر آخر ہے خزاں بالکل\nچمن ہے منزل عبرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے\n\nظفرؔ اک بات پر دائم وہ ہووے کس طرح قائم\nجو اپنی پھیرتا نیت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D8%A6%D9%85_%D8%BA%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%88%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا\nمجھے تو ہوش دے اتنا رہوں میں تجھ پہ دیوانا\n\nکتابوں میں دھرا ہے کیا بہت لکھ لکھ کے دھو ڈالیں\nہمارے دل پہ نقش کالجحر ہے تیرا فرمانا\n\nغنیمت جان جو دم گزرے کیفیت سے گلشن میں\nدئیے جا ساقی پیماں شکن بھر بھر کے پیمانا\n\nنہ دیکھا وہ کہیں جلوہ جو دیکھا خانۂ دل میں\nبہت مسجد میں سر مارا بہت سا ڈھونڈا بت خانا\n\nکچھ ایسا ہو کہ جس سے منزل مقصود کو پہنچوں\nطریق پارسائی ہووے یا ہو راہ رندانا\n\nیہ ساری آمد و شد ہے نفس کی آمد و شد پر\nاسی تک آنا جانا ہے نہ پھر جانا نہ پھر آنا\n\nظفرؔ وہ زاہد بے درد کی ہو حق سے بہتر ہے\nکرے گر رند درد دل سے ہاو ہوئے مستانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AF%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%B4%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%B1%D9%82%DB%81_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%A7%D8%AC_%D8%B4%D8%A7%DB%81%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "نہ دل اپنا نہ غم اپنا نہ کوئی غم گسار اپنا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ دل اپنا نہ غم اپنا نہ کوئی غم گسار اپنا\nہم اپنا جانتے ہر چیز کو ہوتا جو یار اپنا\n\nجمے کس طرح اس حیرت کدے میں اعتبار اپنا\nنہ دل اپنا نہ جان اپنی نہ ہم اپنے نہ یار اپنا\n\nحقیقت میں ہمیں کو جب نہیں خود اعتبار اپنا\nغلط سمجھی اگر سمجھی ہے تن کو جان زار اپنا\n\nکہیں ہے دام ارماں کا کہیں دانے امیدوں کے\nاجل کرتی ہے کس کس گھات سے ہم کو شکار اپنا\n\nالٰہی خیر ہو اب کے بہار باغ نے پھر بھی\nجمایا بے طرح بلبل کے دل پر اعتبار اپنا\n\nجو مے کو ڈھال بھی لیں ہم تو ساقی کے اشارے پر\nنہیں اس کے علاوہ مے کدے میں اختیار اپنا\n\nاگر قاصد حقیقت میں پیام وصل لایا ہے\nتو کیوں آنسو بھرے منہ دیکھتا ہے غم گسار اپنا\n\nضرورت کیا کسی کو اس طرف ہو کر گزرنے کی\nالگ اے بیکسی بستی سے ہے کوسوں مزار اپنا\n\nمعاذ اللہ فرقت کی ہیں راتیں قبر کی راتیں\nابھی سے یاں ہوا جاتا ہے سن سن کر فشار اپنا\n\nگلوں کی سرخ رنگت جسم میں لوکے لگاتی ہے\nدکھاتی ہے تماشا کس کی آنکھوں کو بہار اپنا\n\nخطر کیا کشتئ مے کو بھلا موج حوادث کا\nنہ بیڑا پار ہو کیونکر کہ خود ساقی ہے یار اپنا\n\nچھپا لے گا کسی دن عرش تک کو اپنے دامن میں\nدکھا دے گا تماشا پھیل کر مشت غبار اپنا\n\nخبر کیا غیب کی غم خوار کو اور یاں یہ عالم ہے\nکہا جاتا نہیں اپنی زباں سے حال زار اپنا\n\nنہیں کرتا گوارا راہ رو کے دل پہ میل آنا\nاڑا کرتا ہے رستہ سے الگ ہٹ کر غبار اپنا\n\nدم آیا ناک میں فریادیوں کے شور و غوغا سے\nقیامت میں عبث کیوں کھینچ لایا انتشار اپنا\n\nہم اک مہماں ہیں ہم سے دوستی کرنے کا حاصل کیا\nنہیں کچھ اس جہاں میں اے شب غم اعتبار اپنا\n\nکچھ ایسا کر کہ خلد آباد تک اے شادؔ جا پہنچیں\nابھی تک راہ میں وہ کر رہے ہیں انتظار اپنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%BA%D9%85_%DA%AF%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "نہ دل بھرا ہے نہ اب نم رہا ہے آنکھوں میں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ دل بھرا ہے نہ اب نم رہا ہے آنکھوں میں\nکبھو جو روئے تھے خوں جم رہا ہے آنکھوں میں\n\nمیں مر چکا ہوں پہ تیرے ہی دیکھنے کے لیے\nحباب وار تنک دم رہا ہے آنکھوں میں\n\nموافقت کی بہت شہریوں سے میں لیکن\nوہی غزال ابھی رم رہا ہے آنکھوں میں\n\nوہ محو ہوں کہ مثال حباب آئینہ\nجگر سے اشک نکل تھم رہا ہے آنکھوں میں\n\nبسان اشک ہے قائمؔ تو جب سے آوارہ\nوقار تب سے ترا کم رہا ہے آنکھوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D9%86%D9%85_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ دل میں صبر نہ اب دیدۂ پر آب میں خواب", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ دل میں صبر نہ اب دیدۂ پر آب میں خواب\nشتاب آ کہ ہمیں آوے اس عذاب میں خواب\n\nجہاں بھی خواب ہے اور ہم بھی خواب ہیں اے دل\nعجب بہار کا دیکھا یہ ہم نے خواب میں خواب\n\nہماری چشم کا اے شہسوار توسن ناز\nجو غور کی تو کیا ہے تری رکاب میں خواب\n\nہر اک مکاں میں گزر گاہ خواب ہے لیکن\nاگر نہیں تو نہیں عشق کے جناب میں خواب\n\nہجوم اشک میں لگتی ہے چشم تر اس طور\nکہ جیسے ماہی کو آتا ہے اپنے آب میں خواب\n\nروا روی میں لگے آنکھ کس طرح سے نظیرؔ\nمسافروں کو کہاں ایسے اضطراب میں خواب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8"} {"title": "نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصل", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصل\nتمہیں دینا ہی ہوگا بوسہ خم روئی سے کیا حاصل\n\nدل آزاری نے تیری کر دیا بالکل مجھے بیدل\nنہ کر اب میری دل جوئی کہ دل جوئی سے کیا حاصل\n\nنہ جب تک چاک ہو دل پھانس کب دل کی نکلتی ہے\nجہاں ہو کام خنجر کا وہاں سوئی سے کیا حاصل\n\nبرائی یا بھلائی گو ہے اپنے واسطے لیکن\nکسی کو کیوں کہیں ہم بد کہ بدگوئی سے کیا حاصل\n\nنہ کر فکر خضاب اے شیخ تو پیری میں جانے دے\nجواں ہونا نہیں ممکن سیہ روئی سے کیا حاصل\n\nچڑھائے آستیں خنجر بکف وہ یوں جو پھرتا ہے\nاسے کیا جانے ہے اس عربدہ جوئی سے کیا حاصل\n\nعبث پنبہ نہ رکھ داغ دل سوزاں پہ تو میرے\nکہ انگارے پہ ہوگا چارہ گر روئی سے کیا حاصل\n\nشمیم زلف ہو اس کی تو ہو فرحت مرے دل کو\nصبا ہووے گا مشک چیں کی خوشبوئی سے کیا حاصل\n\nنہ ہووے جب تلک انساں کو دل سے میل یک جانب\nظفرؔ لوگوں کے دکھلانے کو یکسوئی سے کیا حاصل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%88_%D8%AF%D8%B4%D9%86%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%8C_%D8%A8%D8%AF_%D8%AE%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84"} {"title": "نہ دِن کو چین نہ راتوں کو خواب آنکھوں میں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ دِن کو چین نہ راتوں کو خواب آنکھوں میں\nبھر آ رہا ہے تیرے غم سے آب آنکھوں میں\n\nجدھر وُہ دیکھے ادھر صف کی صف الٹ دے ہے\nبھری ہے شوخ کہ ایسی شراب آنکھوں میں\n\nتھما نہ اشک نہ نیند آئی نہ پلک جھپکی\nبسا ہے جب سے وُہ خانہ خراب آنکھوں میں\n\nتمہارے ہم تُو قدیمی غلام بندے ہیں\nتمہیں نہ چاہئے ہم سے حجاب آنکھوں میں\n\nقسم ہے چشم گلابی کی تری اے گُل رو\nکے یاں کھنچے ہے پڑا نت گلاب آنکھوں میں\n\nخُدا کی شان جنہیں بات بھی نہ آتی تھی\nوُہ اب کرے ہیں سوال و جواب آنکھوں میں\n\nشتابی آن کہ محبوبو پگڑیاں رنگ لو\nنظیرؔ لایا ہے بھر کر شہاب آنکھوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%90%D9%86_%DA%A9%D9%88_%DA%86%DB%8C%D9%86_%D9%86%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ دکھائیو ہجر کا درد و الم تجھے دیتا ہوں چرخ خدا کی قسم", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ دکھائیو ہجر کا درد و الم تجھے دیتا ہوں چرخ خدا کی قسم\nمرے یار کو مجھ سے نہ کیجو جدا تجھے سرور ہر دوسرا کی قسم\n\nوہ صنم کئی دن سے ہے مجھ سے خفا نہیں آتا ادھر کو خدا کی قسم\nدل مشفق من اسے کھینچ تو لا تجھے جذبۂ کاہ ربا کی قسم\n\nیہی چاہے ہے جی کہ گلے سے لگو ذرا میرے دہن سے دہن تو ملو\nنہیں غرفے سے آن کے جھانک تو لو تمہیں اپنی ہے شرم و حیا کی قسم\n\nکبھی شب کو اکیلا جو پاؤں تجھے تو گلے سے پھر اپنے لگاؤں تجھے\nکبھی چھاتی پہ اپنی سلاؤں تجھے مجھے عشق کے جور و جفا کی قسم\n\nترے اٹھتے ہی پہلو میں درد اٹھا ترے جاتے ہی دم یہ عدم کو چلا\nمجھے چھوڑ کے آہ تو گھر کو نہ جا تجھے اپنے ہی فندق پا کی قسم\n\nمجھے بہر خدا کہیں اس سے چھڑا ترے ہجر کی شب ہے یہ کالی بلا\nنہیں جھوٹ میں کہتا کچھ اس میں ذرا مجھے تیری ہی زلف دوتا کی قسم\n\nاجی دیکھو تو کیسی اٹھی ہے گھٹا یہی عیش کا دن ہے اڑا لے مزا\nکرو بادہ کشی مرے ماہ لقا تمہیں دیتا ہوں ابر و ہوا کی قسم\n\nاجی جاتی ہے آج تو وصل کی شب نہیں کیوں ہے ملایا لبوں سے یہ لب\nمجھے اب تو اڑانے دے عیش تو اب تجھے اپنے ہے مہر و وفا کی قسم\n\nلگے تیری بلا مجھے آفت جاں کبھو پھر بھی یہ کہہ کے کھلائے گا پاں\nمرے سر کی قسم مری جاں کی قسم مرے غمزہ و ناز و ادا کی قسم\n\nمریں غیر پہ آپ میں تم پہ مروں مجھے کیا ہے غرض کہو کیوں میں جلوں\nیہی جی میں ہے تم سے نہ بات کروں مجھے اپنی اس آہ رسا کی قسم\n\nکسے دیکھوں کہو لگوں کس کے گلے شب وصل میں مجھ سے جو تو یہ کہے\nکہ یہ بادۂ سرخ تو پی لے تجھے مرے ہاتھوں کے رنگ حنا کی قسم\n\nکہاں جاتا ہے منہ کو چھپائے ہوئے ترے ہجر میں جاتے ہیں ہم تو مرے\nکبھی مڑ کے ادھر کو بھی دیکھ تو لے تجھے حضرت شیر خدا کی قسم\n\nسنو سیری نہ ہو مجھے کھاؤ اجی مجھے پیٹو جو مجھ کو گراؤ اجی\nمرے گھر سے نہ آج تو جاؤ اجی تمہیں میری ہی شب کی بکا کی قسم\n\nمرے بچھڑے کو مجھ سے ملاؤ کوئی مرے روٹھے کو لا کے مناؤ کوئی\nارے یارو تم اس کو بلاؤ کوئی تمہیں خالق ارض و سما کی قسم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%88_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%88_%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85"} {"title": "نہ دیا اس کوں یا دیا قاصد", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ دیا اس کوں یا دیا قاصد\nسچ بتا نامہ کیا کیا قاصد\n\nنہ پھرا آہ کوئی لے کے جواب\nجو گیا واں سو گم ہوا قاصد\n\nآج آوے گا یا نہ آوے گا\nمیرے گھر میں وہ دل ربا قاصد\n\nدل کو ہے سخت انتظار جواب\nکہہ شتابی سے کیا کہا قاصد\n\nکوچۂ یار میں مرے زنہار\nجائیو مت برہنہ پا قاصد\n\nخار مژگان کشتگان وفا\nواں ہیں افتادہ جا بہ جا قاصد\n\nنامۂ شوق کو مرے لے کر\nیار کے پاس جب گیا قاصد\n\nمہر کو خط کی دیکھ کہنے لگا\nکون بیدارؔ ہے بتا قاصد\n\nجس نے بھیجا ہے تیرے ہاتھ یہ خط\nمیں نہیں اس سے آشنا قاصد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF"} {"title": "نہ دیا بوسۂ لب کھا کے قسم بھول گئے", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ دیا بوسۂ لب کھا کے قسم بھول گئے\nدے کے ایسی مجھے اعجاز کا دم بھول گئے\n\nچشم و ابرو کو ترے دیکھ کے آتا ہے خیال\nطاق کسریٰ پہ یہاں ساغر جم بھول گئے\n\nاے شہ حسن یہ قلمیں نہیں عارض پہ ترے\nکاتبان خط رخسار قلم بھول گئے\n\nوہ بھی کیا دن تھے کہ عاشق تھے تمہارے ہم بھی\nاب تو فریاد و فغاں درد و الم بھول گئے\n\nہائے قسمت کا لکھا آئے تو قاصد یہ کہے\nخط تمہارے لیے وہ کر کے رقم بھول گئے\n\nتیرا گلزار ہے کس باغ کی مولی بلبل\nکوئے جاناں میں تو ہم باغ ارم بھول گئے\n\nچشم بد دور وہ آنکھیں ہیں تمہاری صاحب\nدیکھ کر چوکڑی آہو حرم بھول گئے\n\nآپ کا دوست ہے یہ اپنی بغل کا دشمن\nیاد دلوائے وہیں دل نے جو ہم بھول گئے\n\nذائقہ موت کا بس یاد دلا دیتا ہے\nکیا قیامت ہے یہ کہنا ترا ہم بھول گئے\n\nمرزا مہر محبت تمہیں پھر یاد آئی\nدل پہ گزری تھی جو کچھ رنج و الم بھول گئے\n\nرہ گیا یاد تمہیں جور و جفا ظلم و ستم\nلطف و الطاف و عنایات و کرم بھول گئے\n\nکعبۂ دل میں بس اب رہتی ہے اللہ کی یاد\nراستہ دیر کا ہم شکل صنم بھول گئے\n\nیاد رہتی ہے فقط ہم کو ترے کوچہ کی\nواعظوں سے سنا حال ارم بھول گئے\n\nیاد رکھنے کی یہ باتیں ہیں بجا ہے سچ ہے\nآپ بھولے نہ ہمیں آپ کو ہم بھول گئے\n\nدل سے دل کو ہے اگر راہ تو ہے یاد سے یاد\nتم ہمیں بھول گئے تم کو بھی ہم بھول گئے\n\nبس ہمارے ہی لیے آپ کو نسیاں بھی ہے\nکبھی غیروں کو نہ صاحب کوئی دم بھول گئے\n\nکوچۂ زلف میں یا حلقۂ گیسو میں ترے\nیاد آتا ہے یہیں دل کہیں ہم بھول گئے\n\nشعر ہندی جو سنے مہرؔ جگر تفتہ کے\nاپنا انداز فصیحان عجم بھول گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%82_%D9%84%D8%A8_%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%B3%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "نہ دیکھا رخ بے نقاب محبت", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ دیکھا رخ بے نقاب محبت\nمحبت ہے شاید حجاب محبت\n\nبرستا ہے کیف شباب محبت\nہر آنسو ہے جام شراب محبت\n\nعجب جوش پر ہے شباب محبت\nمحبت ہے مست شراب محبت\n\nزہے خواب و تعبیر خواب محبت\nمحبت ہی نکلی جواب محبت\n\nمجھے کیا پڑی ہے ترے در سے اٹھوں\nٹھہرنے جو دے اضطراب محبت\n\nدل ذرہ ذرہ ہے طور تجلی\nزہے جلوۂ آفتاب محبت\n\nسبھی اٹھ گئے دیدہ و دل سے پردے\nنہ اٹھا مگر اک حجاب محبت\n\nنہ رکھو غرض ہم سے اتنا ہی کہہ دو\nہلاک تبسم خراب محبت\n\nلہو کی ہر اک بوند دل بن گئی ہے\nخوشا لذت کامیاب محبت\n\nحدود محبت سے بھی بڑھ گئے ہم\nسلامت رہے اضطراب محبت", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%B1%D8%AE_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA"} {"title": "نہ دیکھوں گا حسینوں کو ارے توبہ نہ دیکھوں گا", "poet_page": "مصنف:عزیز الحسن غوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ دیکھوں گا حسینوں کو ارے توبہ نہ دیکھوں گا\nتقاضا لاکھ تو کر اے دل شیدا نہ دیکھوں گا\n\nکروں ناصح میں کیونکر ہائے یہ وعدہ نہ دیکھوں گا\nنظر پڑ جائے گی خود ہی جو دانستہ نہ دیکھوں گا\n\nنگاہ ناز کو تیری میں شرمندہ نہ دیکھوں گا\nہٹائے لیتا ہوں اپنی نظر اچھا نہ دیکھوں گا\n\nوہ کہتے ہیں نہ سمجھوں گا تجھے مجذوبؔ میں عاشق\nکہ جب تک کوچہ و بازار میں رسوا نہ دیکھوں گا\n\nبلا سے میں اگر رو رو کے بینائی بھی کھو بیٹھوں\nکروں گا کیا ان آنکھوں کو جو وہ جلوہ نہ دیکھوں گا\n\nبلا سے میرے دل پر میری جاں کچھ ہی گزر جائے\nمیں تیری خاطر نازک کو آزردہ نہ دیکھوں گا\n\nاٹھاؤں گا نہ زانو سے میں ہرگز اپنا سر ہمدم\nارے میں اپنی آنکھوں سے انہیں جاتا نہ دیکھوں گا\n\nحسینوں سے وہی پھر حضرت دل دیدہ بازی ہے\nابھی تو کر رہے تھے آپ یہ دعویٰ نہ دیکھوں گا\n\nذرا اے ناصح فرزانہ چل کر سن تو دو باتیں\nنہ ہوگا پھر بھی تو مجذوبؔ کا دیوانہ دیکھوں گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "نہ ذکر آشنا نے قصۂ بیگانہ رکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ذکر آشنا نے قصۂ بیگانہ رکھتے ہیں\nحدیث یار رکھتے ہیں یہی افسانہ رکھتے ہیں\n\nچمن میں سرو قد گر جلوۂ مستانہ رکھتے ہیں\nبرنگ طوق قمری ہم خط پیمانہ رکھتے ہیں\n\nخیال آنکھوں کا تیری جبکہ اے جانانہ رکھتے ہیں\nتو جوں نرگس ہر اک انگشت بر پیمانہ رکھتے ہیں\n\nنمایاں زلف کے حلقے میں کر ٹک خال عارض کو\nکہ ہیں صیاد جتنے دام میں وہ دانہ رکھتے ہیں\n\nبجز آئینہ معشوقوں کی کب ہو زلف پردازی\nکہ عکس پنجۂ مژگاں سے دست شانہ رکھتے ہیں\n\nبجائے حلقۂ کاکل ہیں خال روئے صید افگن\nبہ چشم دام جائے مردمک یاں دانہ رکھتے ہیں\n\nبسان چوب و نقارا ہیں خار و آبلہ پائی\nبہ وادیٔ جنوں انگیز نوبت خانہ رکھتے ہیں\n\nنہیں اشک مسلسل یہ گریباں گیر اے ساقی\nگلے میں اپنے عاشق سبحۂ صد دانہ رکھتے ہیں\n\nصدائے آشنائی مثل ہمدم ہو سو وہ جانے\nکہ مثل بانسری انگشت بر ہر خانہ رکھتے ہیں\n\nنہ الجھو اس قدر بے وجہ سلجھانے میں زلفوں کے\nدل صد چاک تو ہم بھی برنگ شانہ رکھتے ہیں\n\nدل اپنا کیوں نہ ہو بحر جہاں میں جوں گہر کالا\nتلاش آب ہے ہم کو نہ فکر دانہ رکھتے ہیں\n\nنہ کیوں کر بزم میں روشن ہو اپنی شب یہ دل سوزی\nکہ الفت شمع رو سے ہم بھی جوں پروانہ رکھتے ہیں\n\nبہار آئی ہے اب تو اے جنوں ہو سلسلہ جنباں\nکہ ہم مدت سے قصد رفتن ویرانہ رکھتے ہیں\n\nنگہ ٹک ابرو و چشم بتاں پر کیجیو زاہد\nکہ یہ محراب مسجد کے تلے مے خانہ رکھتے ہیں\n\nبٹھائیں سرو و شمشاد اپنے سر پر کیوں نہ قمری کو\nترے قد کے ہیں بندے وضع آزادانہ رکھتے ہیں\n\nٹھکانا کچھ نہ پوچھو ہم سے تم خانہ بدوشوں کا\nجہاں جوں بوئے گل ٹھہرے وہیں کاشانہ رکھتے ہیں\n\nہمیں مت چھیڑ کر دیکھو رلاؤ اور جلاؤ تم\nکہ طوفاں چشم میں سینے میں آتش خانہ رکھتے ہیں\n\nکریں گے بیعت دست سبو پیر مغاں تجھ سے\nکہ شوق شرب مے ہے مشرب رندانہ رکھتے ہیں\n\nنصیرؔ اب ہم کو کیا ہے قصۂ کونین سے مطلب\nکہ چشم پر فسون یار کا افسانہ رکھتے ہیں\n\nنصیرؔ اس شوخ سے کہنا کہ پیش چشم حیرت میں\nتصور روز و شب تیرا ہم اے جانانہ رکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%92_%D9%82%D8%B5%DB%82_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ را ابتدا سمجھو نہ راز انتہا سمجھو", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ را ابتدا سمجھو نہ راز انتہا سمجھو\nنظر والوں تمہیں کرنا ہے اب دنیا میں کیا سمجھو\n\nطلب میں صدق ہے تو ایک دن منزل پہ پہنچو گے\nقدم آگے بڑھاؤ خود کو اپنا رہنما سمجھو\n\nیہ کیا انداز ہے اتنا گریز اہل تمنا سے\nخدا توفیق دے تو اہل دل کا مدعا سمجھو\n\nتمہارے ہر اشارے پر سر تسلیم خم لیکن\nگزارش ہے کہ جذبات محبت کو ذرا سمجھو\n\nہو کوئی موج طوفاں یا ہوائے تند کا جھونکا\nجو پہنچا دے لب ساحل اسی کو ناخدا سمجھو\n\nجسے دیکھو وہی بدمست ہی مغرور ہے ہمدم\nکوئی بندہ نہیں دنیا میں کس کس کو خدا سمجھو\n\nیہاں رہبر کے پردے میں بہت رہزن ہیں اے اخترؔ\nرہو دور اس سے تم جس کو وفا نا آشنا سمجھو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%88"} {"title": "نہ راس آئی ہم کو جوانی ہماری", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ راس آئی ہم کو جوانی ہماری\nکٹے کیا برس زندگانی ہماری\n\nعدو کی شب وصل سو بار صدقے\nشب غم ہے کتنی سہانی ہماری\n\nدغا دے رہے ہیں دم نزع تم کو\nیہ ہے وقت رخصت نشانی ہماری\n\nکیے میں نے شکوے تو وہ ہنس کے بولے\nعدو پر بھی ہے مہربانی ہماری\n\nانہیں نے تو دیوانہ ہم کو بنایا\nوہی اب کریں پاسبانی ہماری\n\nیہ ساقی نے ساغر میں کیا چیز دے دی\nکہ توبہ ہوئی پانی پانی ہماری\n\nستاتے ہیں ہم بھی حسینوں کو کیا کیا\nستاتی ہے ہم کو جوانی ہماری\n\nلگی تھی جو مے منہ سے بھر توبہ کیوں کی\nہوئی تلخ کیا زندگانی ہماری\n\nکیا جھوٹ وعدہ کریں ہم جو تجھ سے\nترے کام آئے جوانی ہماری\n\nبہت بے اثر تم اسے جانتے تھے\nزبانوں پر اب ہے کہانی ہماری\n\nقفس دست صیاد میں ہم قفس میں\nیہ کام آئی ہے خوش بیانی ہماری\n\nریاضؔ آپ ہم قدرداں اپنے نکلے\nکسی نے نہ کی قدردانی ہماری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%B3_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "نہ روتا زار زار ایسا نہ کرتا شور و شر اتنا", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ روتا زار زار ایسا نہ کرتا شور و شر اتنا\nالٰہی کیا کروں درد جگر اتنا جگر اتنا\n\nبلانے کے طریقے سے بلایا کیجیے ہم کو\nرہے ملحوظ خاطر کم سے کم بار دگر اتنا\n\nوہ جتنا مجھ سے ملتے ہیں اسی ملنے میں خوبی ہے\nکسی سے بھی ملے تو بس ملے ہر اک بشر اتنا\n\nترے ساتھ آج کیسے کیسے ظالم یاد آئے ہیں\nنہ روئے تھے نہ روئیں گے کبھی ہم عمر بھر اتنا\n\nوہی لوگ آپ کے نزدیک سچے عاشقوں میں ہیں\nکہ جن کی آنکھ میں آنسو نہیں ہے شور و شر اتنا\n\nبڑے بھولے ہیں کیا دنیا میں بھولے ایسے ہوتے ہیں\nانہیں میں کیا سمجھتا ہوں نہ سمجھے عمر بھر اتنا\n\nنہیں معشوق تو پھر کیا بلا ہیں کوئی آفت ہیں\nنیا غصہ ہے ان کا آج اتنی بات پر اتنا\n\nوہ مجھ سے کس لئے ملتے ہیں کیا معلوم لوگوں کو\nسمجھتے ہوں گے سب ان پر بھی ہے اس کا اثر اتنا\n\nترے عاشق کی صورت اب تو پہچانی نہیں جاتی\nستاتے ہیں بھلا اس طرح ایسا اس قدر اتنا\n\nکسی صورت یہ شان دلبری دیکھی نہیں جاتی\nمری آنکھیں بھی لے جا اور اک احسان کر اتنا\n\nکسی کو اپنی بربادی کا باعث کیا بتائیں ہم\nمحبت ہے بری شے جانتا ہے ہر بشر اتنا\n\nلٹیروں کی بن آئے مجھ کو شادی مرگ ہو جائے\nکہا تھا کس نے اے داتا مرے دامن کو بھر اتنا\n\nذرا بہر خدا انصاف کر اور بھولنے والے\nتغافل شیوۂ معشوق ہوتا ہے مگر اتنا\n\nنہیں ہے بے خودی ہی کی تمنا ہم کو اے ساقی\nترے مستوں کا صدقہ کچھ ذرا سا گھونٹ بھر اتنا\n\nعدو ہم سے تمہارے ظلم کا شکوہ نہیں کرتے\nدکھاتے ہیں کہ دیکھو ہم بھی رکھتے ہیں جگر اتنا\n\nمجھے جینے سے تم مایوس ناامید ہی رکھو\nتسلی دو مگر اتنی دلاسا دو مگر اتنا\n\nدیا خط ان کو لیکن کب دیا جب تھے وہ غصے میں\nنہ سمجھا تھا پیامی کی سمجھ اتنی ہے سر اتنا\n\nصفیؔ کیوں قدر کا طالب ہوا ہے اس زمانے میں\nارے کم بخت تیرے پاس کب ہے مال و زر اتنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B1%D9%88%D8%AA%D8%A7_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%B4%D8%B1_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7"} {"title": "نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی\nزمیں ہماری بدل گئی ہے اگرچہ ہے آسمان باقی\n\nشب گزشتہ کے ساز و ساماں کے اب کہاں ہیں نشان باقی\nزبان شمع سحر پہ حسرت کی رہ گئی داستان باقی\n\nجو ذکر آتا ہے آخرت کا تو آپ ہوتے ہیں صاف منکر\nخدا کی نسبت بھی دیکھتا ہوں یقین رخصت گمان باقی\n\nفضول ہے ان کی بد دماغی کہاں ہے فریاد اب لبوں پر\nیہ وار پر وار اب عبث ہیں کہاں بدن میں ہے جان باقی\n\nمیں اپنے مٹنے کے غم میں نالاں ادھر زمانہ ہے شاد و خنداں\nاشارہ کرتی ہے چشم دوراں جو آن باقی جہان باقی\n\nاسی لیے رہ گئی ہیں آنکھیں کہ میرے مٹنے کا رنگ دیکھیں\nسنوں وہ باتیں جو ہوش اڑائیں اسی لیے ہیں یہ کان باقی\n\nتعجب آتا ہے طفل دل پر کہ ہو گیا مست نظم اکبرؔ\nابھی مڈل پاس تک نہیں ہے بہت سے ہیں امتحان باقی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B1%D9%88%D8%AD_%D9%85%D8%B0%DB%81%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D9%82%D9%84%D8%A8_%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81_%D9%86%DB%81_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "نہ رکھے جب کہ وہ بے باک لحاظ", "poet_page": "مصنف:مرزا رحیم الدین حیا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ رکھے جب کہ وہ بے باک لحاظ\nکہئے عاشق کو رہے خاک لحاظ\n\nتابکے شکوۂ گردش نہ کریں\nکب تک اے گردش افلاک لحاظ\n\nروبرو غیر کے رونا کیا ہے\nچاہیے دیدۂ نمناک لحاظ\n\nاب کے اک شور نمک پر ہوگا\nنہ رکھیں گے یہ جگر چاک لحاظ\n\nآنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا دم قتل\nدیکھ اپنا بت سفاک لحاظ\n\nکیوں نہ پامال ہوں ہم جب کہ ترا\nنہ کرے توسن چالاک لحاظ\n\nچشم مخمور پہ ہر دم ہے نگاہ\nکیا رہے پی کے مے تاک لحاظ\n\nاے حیاؔ اب نہ کہوں کیونکر حال\nجاں لبوں پر ہے کروں خاک لحاظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DA%A9_%D9%84%D8%AD%D8%A7%D8%B8"} {"title": "نہ رہا ذوق رنگ و بو مجھ کو", "poet_page": "مصنف:اقبال سہیل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ رہا ذوق رنگ و بو مجھ کو\nاب نہ چھیڑ اے بہار تو مجھ کو\n\nاب اگر ہیں کہیں تو دیں آواز\nکیوں پھراتے ہیں کو بہ کو مجھ کو\n\nاب کسی اور کی تلاش نہیں\nہے خود اپنی ہی جستجو مجھ کو\n\nنہ رہا کوئی تار دامن میں\nاب نہیں حاجت رفو مجھ کو\n\nہائے اس وقت حال دل پوچھا\nجب نہ تھی تاب گفتگو مجھ کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%B0%D9%88%D9%82_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%88_%D8%A8%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "نہ رہا شکوۂ جفا نہ رہا", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ رہا شکوۂ جفا نہ رہا\nہو کے دشمن بھی آشنا نہ رہا\n\nبے وفا جان و مال بے صرفہ\nکیا رہا جب کہ دل ربا نہ رہا\n\nسبھی اغیار ہیں سبھی عاشق\nاعتماد اس کا ایک جا نہ رہا\n\nخاک تھا جس چمن کی رنگ ارم\nپتے پتے کا واں پتا نہ رہا\n\nوصل میں کیا وصال مشکل تھا\nیاد پر روز ہجر کا نہ رہا\n\nخط مرا واں گیا گیا نہ گیا\nسر قاصد رہا رہا نہ رہا\n\nدل میں رہتا ہے کون غم کے سوا\nکوئی اس گھر میں دوسرا نہ رہا\n\nغیر اور شکوۂ جفا تم سے\nہائے میں قابل وفا نہ رہا\n\nکیا ہوا کیوں قلقؔ کو روتے ہو\nکوئی اس دہر میں سدا نہ رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%82_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "نہ رہا گل نہ خار ہی آخر", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ رہا گل نہ خار ہی آخر\nاک رہا حسن یار ہی آخر\n\nاب جو چھوٹے بھی ہم قفس سے تو کیا\nہو چکی واں بہار ہی آخر\n\nآتش دل پہ آب لے دوڑا\nدیدۂ اشک بار ہی آخر\n\nضد سے ناصح کی میں نے کر ڈالا\nجیب کو تار تار ہی آخر\n\nکیوں نہ ہوں تیرے در پہ ہونا ہے\nایک دن تو غبار ہی آخر\n\nکام آیا نہ جائے شمع مزار\nیہ دل داغدار ہی آخر\n\nشمع رو پر مثال پروانہ\nہو گئے ہم نثار ہی آخر\n\nوہ نہ آیا ادھر حسنؔ افسوس\nرہ گیا انتظار ہی آخر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DA%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%D8%A2%D8%AE%D8%B1"} {"title": "نہ رہے نامہ و پیغام کے لانے والے", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ رہے نامہ و پیغام کے لانے والے\nخاک کے نیچے گئے عرش کے جانے والے\n\nکشور عشق کی رسمیں عجب الٹی دیکھیں\nسلطنت کرتے ہیں سب دل کے چرانے والے\n\nمنعمو عالم دنیا ہے سرائے عبرت\nجائیں گے سوئے عدم خلق میں آنے والے\n\nبوریا ساتھ نہ جائے گا نہ تخت سلطاں\nسب برابر ہیں بشر خلق سے جانے والے\n\nکوئی باقی نہ رہا ہے نہ رہے گا کوئی\nبے نشاں ہو گئے سب شان دکھانے والے\n\nنہ سکندر ہے نہ دارا ہے نہ قیصر ہے نہ جم\nبے محل خاک میں ہیں قصر بنانے والے\n\nاپنے اشعار کا اے برقؔ نہ کیوں شہرہ ہو\nساتھ ہیں طائر مضموں کے اڑانے والے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81_%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "نہ زندہ نہ مردہ نہ دنیا نہ دیں کا", "poet_page": "مصنف:میر محمد سلطان عاقل", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاقل (1902)", "year": "1902", "text_ur": "نہ زندہ نہ مردہ نہ دنیا نہ دیں کا\nمجھے تو نے ظالم نہ رکھا کہیں کا\n\nعبث امتحاں میں لگاتے ہو وقفہ\nبھروسا ہے کیا میری جان حزیں کا\n\nمجھے گھر میں گردش ہے پتلی کی صورت\nیہ اعجاز ہے چشم سحر آفریں کا\n\nپرانا نہ فتنہ ترے گھر سے اٹھا\nنیا آسماں ہے مگر اس زمیں کا\n\nکبھی میرے تن میں کبھی اس کے گھر میں\nیہی شغل ہے میری جان حزیں کا\n\nغضب ہے مری اس سے تکرار وعدہ\nستم ہے جو موقع ملا اب نہیں کا\n\nسنا تو نے عاقلؔ عجب رات گزری\nمحبت کا مذکور نکلا کہیں کا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نہ ساز و مطرب نہ جام و ساقی نہ وہ بہار چمن ہے باقی", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ساز و مطرب نہ جام و ساقی نہ وہ بہار چمن ہے باقی\nنگاہ شمع سحر کے پردے یہ نقشۂ انجمن ہے باقی\n\nزمانہ گزرا وہ یاسمن بو جدا ہوئی ہمکنار ہو کر\nمگر ابھی تک ہمارے پہلو میں نکہت یاسمن ہے باقی\n\nبھلا چکی دل سے شام غربت ہر ایک نقشہ ہر ایک صورت\nہماری آنکھوں میں لیکن اب تک فروغ صبح وطن ہے باقی\n\nزمانہ بدلا مٹی جوانی نہ وہ محبت نہ زندگانی\nبس ایک بھولی سی یاد ہے جو برنگ داغ کہن ہے باقی\n\nمٹا دئے بے ستون چرخ کہن نے شیریں لقا ہزاروں\nمگر محبت کے لب پر اب بھی ترانۂ کوہکن ہے باقی\n\nحباب آسا محیط ہستی میں جو ہے مٹنے کو بن رہا ہے\nہے انقلاب اک نمود ایسی جو زیر چرخ کہن ہے باقی\n\nغم زمانہ کی سختیوں سے ہوئی ہے پامال طبع اخترؔ\nنہ وہ نشاط کہن ہے باقی نہ وہ مذاق سخن ہے باقی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D9%88_%D9%85%D8%B7%D8%B1%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%86%D9%85%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "نہ ساقی ہے نہ مینا ہے نہ بر میں یار جانی ہے", "poet_page": "مصنف:میر شیر علی افسوس", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ساقی ہے نہ مینا ہے نہ بر میں یار جانی ہے\nحقیقت میں نہیں جیتے بہ صورت زندگانی ہے\n\nنوازش پر مزاج آیا جہاں دیں گالیاں لاکھوں\nکرم ہے آپ کا طرفہ عجائب مہربانی ہے\n\nسنو ٹک گوش دل سے قصۂ جاں سوز کو میرے\nکہ جگ بیتی نہیں ہے آپ بیتی یہ کہانی ہے\n\nعبث ہے سوچ تجھ کو نامہ بر دے شوق سے مجھ کو\nکوئی جھڑکی کوئی گالی اگر اس کی زبانی ہے\n\nتو اپنے ہاتھ کا چھلا جو ہر اک سے چھپاتا ہے\nبتا افسوسؔ کس پردہ نشیں کی یہ نشانی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ سرخی غنچۂ گل میں ترے دہن کی سی", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ سرخی غنچۂ گل میں ترے دہن کی سی\nنہ یاسمن میں صفائی ترے بدن کی سی\n\nمیں کیوں نہ پھولوں کہ اس گل بدن کے آنے سے\nبہار آج مرے گھر میں ہے چمن کی سی\n\nیہ برق ابر میں دیکھے سے یاد آتی ہے\nجھلک کسی کے دوپٹے میں نورتن کی سی\n\nگلوں کے رنگ کو کیا دیکھتے ہو اے خوباں\nیہ رنگتیں ہیں تمہارے ہی پیرہن کی سی\n\nجو دل تھا وصل میں آباد تیرے ہجر میں آہ\nبنی ہے شکل اب اس کی اجاڑ بن کی سی\n\nتو اپنے تن کو نہ دے نسترن سے اب تشبیہ\nبھلا تو دیکھ یہ نرمی ہے تیرے تن کی سی\n\nترا جو پاؤں کا تلوا ہے بزم مخمل سا\nصفائی اس میں ہے کہیے تو نسترن کی سی\n\nنظیرؔ ایک غزل اس زمیں میں اور بھی لکھ\nکہ اب تو کم ہے روانی ترے سخن کی سی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B3%D8%B1%D8%AE%DB%8C_%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%82_%DA%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%DB%81%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C"} {"title": "نہ سمجھا گیا ابر کیا دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "نہ سمجھا گیا ابر کیا دیکھ کر\nہوا تھا مری چشم تر کی طرف\nٹپکتا ہے پلکوں سے خوں متصل\nنہیں دیکھتے ہم جگر کی طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "نہ سمجھے دل فریب آرزو کو", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ سمجھے دل فریب آرزو کو\nنہ ہم چھوڑیں تمہاری جستجو کو\n\nتری تلوار سے اے شاہ خوباں\nمحبت ہو گئی ہے ہر گلو کو\n\nوہ منکر ہو نہیں سکتا فسوں کا\nسنا ہو جس نے تیری گفتگو کو\n\nتغافل اس کو کہتے ہیں کہ اس نے\nمجھے دیکھا نہ محفل میں عدو کو\n\nنہیں پانی تو مے خانے میں اے شیخ\nجو کچھ موجود ہے لاؤں وضو کو\n\nسمجھتا ہی نہیں ہے کچھ وہ بد خو\nنہ خود مجھ کو نہ میری آرزو کو\n\nنہ بھولا گھر کے اعدا میں بھی حسرتؔ\nترے فرمودۂ لاتقنطو کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DA%A9%D9%88"} {"title": "نہ سنو میرے نالے ہیں درد بھرے دار و اثرے آہ سحرے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ سنو میرے نالے ہیں درد بھرے دار و اثرے آہ سحرے\nتمہیں کیا جو کوئی مرتا ہے مرے اے دشمن جاں بیداد گرے\n\nتری سرمگیں آنکھوں کے صدقے انہیں چھیڑ نہ پنجۂ مژگاں سے\nابھی زخم جگر ہیں تمام ہرے اے محو تغافل بے خبرے\n\nلیا عشق میں جوگ بھکاری بنے ترے نقش قدم کے پجاری بنے\nکبھی سجدے کئے کبھی گرد پھرے بت سیم برے زریں کمرے\n\nجو تو نے ہزاروں وعدے کئے لیکن وہ کبھی ایفا نہ ہوئے\nدل ہی ہیں رہے ارمان مرے اے وعدہ شکن بت حیلہ گرے\n\nبیدمؔ کہیں کیا کس طرح رہے مر مر کے جیے جی جی کے مرے\nدر منزل عشقش دربدرے مجنون شوریدہ سرے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%86%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%88_%D8%A7%D8%AB%D8%B1%DB%92_%D8%A2%DB%81_%D8%B3%D8%AD%D8%B1%DB%92"} {"title": "نہ سہی آپ ہمارے جو مقدر میں نہیں", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ سہی آپ ہمارے جو مقدر میں نہیں\nاب وہ پہلی سی تڑپ بھی دل مضطر میں نہیں\n\nآپ کی بات کی وقعت نہیں اصلاً دل میں\nآپ دم بھر میں تو ہاں کرتے ہیں دم بھر میں نہیں\n\nمجھ کو باور تو جب آئے کہ کچھ امید بھی ہو\nلکھ دیا خط میں وہ اس نے جو مقدر میں نہیں\n\nمیں نے پوچھا تھا کہو اور ستاؤ گے مجھے\nمنہ سے نکلی ہے ستم گر کے گھڑی بھر میں نہیں\n\nآپ کیوں ذکر سے بیخودؔ کے خجل ہوتے ہیں\nیہ تو وہ نام ہے جو آپ کے دفتر میں نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%81%DB%8C_%D8%A2%D9%BE_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ سہی گر انہیں خیال نہیں", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ سہی گر انہیں خیال نہیں\nکہ ہمارا بھی اب وہ حال نہیں\n\nیاد انہیں وعدۂ وصال نہیں\nکب کیا تھا یہی خیال نہیں\n\nایسے بگڑے وہ سن کے شوق کی بات\nآج تک ہم سے بول چال نہیں\n\nمجھ کو اب غم یہ ہے کہ بعد مرے\nخاطر یار بے ملال نہیں\n\nعفو حق کا ہے میکشوں پہ نزول\nریزش ابر برشگال نہیں\n\nہم پہ کیوں عرض حال دل پہ عتاب\nایلچی کو کہیں زوال نہیں\n\nسن کے مجھ سے وہ خواہش پابوس\nہنس کے کہنے لگے مجال نہیں\n\nدل کو ہے یاد شوق کا وہ ہنر\nجس سے بڑھ کر کوئی کمال نہیں\n\nآپ نادم نہ ہوں کہ حسرتؔ سے\nشکوۂ غم کا احتمال نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%81%DB%8C_%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ شبستاں ہے نہ اب شمع شبستاں کوئی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ شبستاں ہے نہ اب شمع شبستاں کوئی\nگھر کا یہ حال ہے جیسے ہو بیاباں کوئی\n\nبن کے پیکاں رہے ایسا نہیں ارماں کوئی\nبن کے ارماں رہے ایسا نہیں پیکاں کوئی\n\nہے شب وصل کہاں ہائے یہ کافر انداز\nہو رہا ہے مری چھیڑوں سے پریشاں کوئی\n\nجان پڑ جائے مری آرزوئے مردہ میں\nجھوٹا سچا لب جاں بخش سے پیماں کوئی\n\nنہ اٹھوں دل میں لیے یاد ستم حشر کے دن\nاس ادا سے سر تربت ہے پشیماں کوئی\n\nکہہ گئے نیند گئی رات کا آرام گیا\nاس کی تقدیر جو ہو آپ کا مہماں کوئی\n\nشرر سنگ سے اچھی ہے پری شیشے کی\nان بتوں کا نہ بنے بندۂ احساں کوئی\n\nکسی جنگل میں بسے جا کے گلی سے تیری\nنظر آتا نہیں اب چاک گریباں کوئی\n\nجھانکنے کو ادھر آئی نہ کبھی باد بہار\nجب سے ہم آئے نہ آیا سوئے زنداں کوئی\n\nچھو گئی گوشۂ دامن سے تو چھا جائے گی\nخاک سے میری بچائے ہوئے داماں کوئی\n\nغیر کے سر کی قسم ہنس کے دم وعدۂ وصل\nاے میں صدقے ترے کیا یہ بھی ہے آساں کوئی\n\nگل کتر جائے کوئی پائے حنائی سے ذرا\nمیرے مدفن کو بنا جائے گلستاں کوئی\n\nرہیں سونے میں لٹیں زلفوں کی یوں ہی رخ پر\nنہ ہٹائے نہ چھوئے زلف پریشاں کوئی\n\nبات رہ جائے مری اس کے گنہ گاروں میں\nنہ بچے نامۂ اعمال سے عصیاں کوئی\n\nدخت رز کو نہ زیاں دی نہ کبھی توبہ کی\nعہد ناصح سے نہ پیمانے سے پیماں کوئی\n\nلے جبیں کے کوئی بوسے نہ کہیں سوتے میں\nچن نہ لے ہونٹھوں سے سب آپ کے افشاں کوئی\n\nابھرے جوبن کے لئے آپ کو آخر نہ ملا\nخم گردن کے سوا اور نگہباں کوئی\n\nجو جلاتا ہے مجھے اس سے عوض لینے کو\nدے دے اک چاند کا ٹکڑا شب ہجراں کوئی\n\nگھر کا کیا ذکر ہے ہم دل میں اٹھا کر رکھ لیں\nہم کو مل جائے جو چھوٹا سا بیاباں کوئی\n\nآرسی آئنہ اب دونوں نظر سے اترے\nدل حیراں ہے کوئی دیدۂ حیراں کوئی\n\nدور سے کیا نگہ شوق نے چھیڑا ہے انہیں\nاپنی زلفوں کی طرح کیوں ہے پریشاں کوئی\n\nحشر کے روز رہے لطف شب وصل ریاضؔ\nعاقبت کے لئے اب چاہیے ساماں کوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B4%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%B4%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "نہ شوخیوں سے کرے ہیں وہ چشم گلگوں رقص", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ شوخیوں سے کرے ہیں وہ چشم گلگوں رقص\nکہ ان کے پینے سے کرتا ہے واں مرا خوں رقص\n\nنہ پیچ و تاب ہوا سے ہے آب میں گرداب\nکہ میرے اشک کے آگے کرے ہے جیجوں رقص\n\nطواف سوختۂ عشق دیکھ لے اے شمع\nکرے ہے جلنے سے آگے پتنگ مفتوں رقص\n\nکرے ہے شعلۂ شمع سحر سا لب پہ مرے\nاے آفتاب لقا خوش ہو جان محزوں رقص\n\nمثال قبلہ نما فخر فکر عزلتؔ سے\nکرے ہے مصرع روشن کے بیچ مضموں رقص", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%AE%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%DA%86%D8%B4%D9%85_%DA%AF%D9%84%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D8%B1%D9%82%D8%B5"} {"title": "نہ صورت کہیں شادمانی کی دیکھی", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ صورت کہیں شادمانی کی دیکھی\nبہت سیر دنیائے فانی کی دیکھی\n\nمری چشم خوں بار میں خوب رہ کر\nبہار آپ نے گل فشانی کی دیکھی\n\nتمنا نے اس روئے زیبا کو دیکھا\nکہ تصویر حسن جوانی کی دیکھی\n\nعجب شوق سے دست ساقی میں ہم نے\nصراحی مئے ارغوانی کی دیکھی\n\nزہے رعب حسن ان کے در پر کسی نے\nضرورت نہ کچھ پاسبانی کی دیکھی\n\nنہ تم سا خوش اخلاق پایا نہ ہم نے\nکہیں شان یہ دل ستانی کی دیکھی\n\nمجھے کر کے مایوس بولے وہ حسرتؔ\nمسرت غم جاودانی کی دیکھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C"} {"title": "نہ غرض ننگ سے رکھتے ہیں نہ کچھ نام سے کام", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ غرض ننگ سے رکھتے ہیں نہ کچھ نام سے کام\nخواریٔ عشق میں اپنی ہے ہمیں کام سے کام\n\nگل و گلزار کی ہم کو تو ہوا بھی نہ لگی\nتھا سروکار قفس سے ہمیں اور دام سے کام\n\nمت ہلاک اتنا کرو مجھ کو ملامت کر کر\nنیک نامو تمہیں کیا مجھ سے ہے بد نام سے کام\n\nمحو ہوں اس کے قد و چشم کی کیفیت سے\nمست کو جیسے رہے شیشے سے اور جام سے کام\n\nدور میں سیم تنی کے تری اے آفت جاں\nپختہ مغزوں کو رہے ہے ہوس خام سے کام\n\nصرف اوقات کا ہے شغل مجھے عشق بتاں\nغم آغاز نہیں مجھ کو نہ انجام سے کام\n\nواہ وا اپنی خوشی سے جو مجھے دے دل دار\nطالب بوسہ نہیں میں پہ ہے دشنام سے کام\n\nجہاں پاؤں اسے دیکھوں نہیں کچھ مجھ کو لحاظ\nمیں ہوں سائل مجھے کیا وقت سے ہنگام سے کام\n\nلطف خاص اس کے کا مخصوص جو ہو سو جانے\nخاص کر ہے مجھے حسرتؔ کرم عام سے کام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%D9%86%D9%86%DA%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85"} {"title": "نہ غم دل نہ فکر جاں ہے یاد", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ غم دل نہ فکر جاں ہے یاد\nایک تیری ہی بر زباں ہے یاد\n\nتھا جو کچھ وعدۂ وفا ہم سے\nکچھ بھی وہ تم کو مہرباں ہے یاد\n\nاگلے ملنے کی طرح بھول گئے\nکیا بتاؤں تمہیں کہاں ہے یاد\n\nہوں میں پابند الفت صیاد\nکب مجھے باغ و بوستاں ہے یاد\n\nمحو تیرے ہی رو و زلف کے ہیں\nنہ ہمیں وہ نہ یہ جہاں ہے یاد\n\nدیدہ و دل میں تو ہی بستا ہے\nتجھ سوا کس کی اور یاں ہے یاد\n\nاور کچھ آرزو نہیں بیدارؔ\nایک اس کی ہی جاوداں ہے یاد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "نہ فقط یار بن شراب ہے تلخ", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ فقط یار بن شراب ہے تلخ\nعیش و آرام و خورد و خواب ہے تلخ\n\nمیٹھی باتیں کدھر گئیں پیارے\nاب تو ہر بات کا جواب ہے تلخ\n\nساتھ دینا یہ بوسہ و دشنام\nقند شیریں ہے اور گلاب ہے تلخ\n\nدل ہی سمجھے ہے اس حلاوت کو\nگو بہ ظاہر ترا عتاب ہے تلخ\n\nدل سے مستوں کے کوئی پوچھے بیاں\nزاہدوں کو شراب ناب ہے تلخ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%81%D9%82%D8%B7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D9%86_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%84%D8%AE"} {"title": "نہ فلک ہوگا نہ یہ کوچۂ قاتل ہوگا", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ فلک ہوگا نہ یہ کوچۂ قاتل ہوگا\nمرے کہنے میں کسی دن جو مرا دل ہوگا\n\nجب نمایاں وہ سوار رہ منزل ہوگا\nنہ تو میں آپ میں ہوں گا نہ مرا دل ہوگا\n\nآدھی رات آ گئی بس بس دل بے تاب سنبھل\nہم سمجھتے ہیں جو اس کرب کا حاصل ہوگا\n\nرخصت اے وحشت تنہائی و غربت رخصت\nخوف ہی کیا ہے جو ہم راہ مرے دل ہوگا\n\nرات کا خواب نہیں جس کی ہر اک دے تعبیر\nیہ وہ ارمان ہے پورا جو بہ مشکل ہوگا\n\nتیرا کیا ذکر ہے زنداں کی ہلے گی دیوار\nنالہ کش جب کوئی پابند سلاسل ہوگا\n\nٹال دیں میں نے یہ کہہ کہہ کے ضدیں بچپن کی\nآئنہ بھی کوئی شے ہے جو مقابل ہوگا\n\nڈوبنے جائے گا شاید کوئی مایوس وصال\nمجمع عام سنا ہے لب ساحل ہوگا\n\nچودھواں سال اسے دیتا ہے مژدہ عالمؔ\nلے مبارک ہو کہ اب تو مہ کامل ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%81%D9%84%DA%A9_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%82_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "نہ قطرہ کم ہے نہ کافی تمام مے خانہ", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ قطرہ کم ہے نہ کافی تمام مے خانہ\nجو ظرف جس کا ہے اس کا وہی ہے پیمانہ\n\nاثر ہے سب پہ مئے عشق کا جداگانہ\nکسی کو نشہ نہیں ہے کوئی ہے دیوانہ\n\nتجلیوں میں ہو تقسیم خاک دل کیوں کر\nہزار شمع فروزاں اور ایک پروانہ\n\nبیان زخم جگر پر وہ مسکراتے ہیں\nہنسی ہنسی میں بدلتے ہیں رنگ افسانہ\n\nکسی کے زخم سے ملتا نہیں کسی کا زخم\nتری نظر کے ہیں رخ کس قدر جداگانہ\n\nہر ایک ذرہ شرابی ہر ایک قطرہ شرابی\nتمام عالم امکاں ہے ایک مے خانہ\n\nجہاں نما تو ہے ساقی نما نہیں ناطقؔ\nبدل کے لے گیا جمشید میرا پیمانہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%82%D8%B7%D8%B1%DB%81_%DA%A9%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%81%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "نہ قید شرع باقی ہے نہ آزادی کی ہے کچھ حد", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "مخمس", "year": null, "text_ur": "نہ قید شرع باقی ہے نہ آزادی کی ہے کچھ حد\nنہیں کچھ گفتگو اس باب میں یہ نیک ہے یا بد\nبزرگوں کا بھی فتویٰ ہے کہ پڑھ قانون سر سید\nبہ می سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید\nکہ سالک بے خبر نہ بود ز راہ و رسم منزلہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D8%B4%D8%B1%D8%B9_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AD%D8%AF"} {"title": "نہ لائے تاب دید اوسان والے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ لائے تاب دید اوسان والے\nترے جلوے بھی ہیں کیا شان والے\n\nہزاروں مے کدے سر پر لیے ہیں\nیہ بادل ہیں بڑے سامان والے\n\nمیں ان سے اپنے ارماں کہہ رہا ہوں\nوہ کہتے ہیں بڑے ارمان والے\n\nتری کافر ادا نے کس کو چھوڑا\nکہیں ایمان سے ایمان والے\n\nحسینوں سے مبارکؔ دب کے ملنا\nکہ ہیں وہ آن والے شان والے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D9%88%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "نہ لذتیں ہیں وہ ہنسنے میں اور نہ رونے میں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ لذتیں ہیں وہ ہنسنے میں اور نہ رونے میں\nجو کچھ مزا ہے ترے ساتھ مل کے سونے میں\n\nپلنگ پہ سیج بچھاتا ہوں مدتوں سے جان\nکبھی تو آن کے سو جا مرے بچھونے میں\n\nمسک گئی ہے وہ انگیا جو تنگ بندھنے سے\nتو کیا بہار ہے کافر کے چاک ہونے میں\n\nکہا میں اس سے کہ اک بات مجھ کو کہنی ہے\nکہوں میں جب کہ چلو میرے ساتھ کونے میں\n\nیہ بات سنتے ہی جی میں سمجھ گئی کافر\nکہ تیرا دل ہے کچھ اب اور بات ہونے میں\n\nیہ سن کے بولی کہ ہے ہے یہ کیا کہا تو نے\nپڑا ہے کیوں مجھے دنیا سے اب تو کھونے میں\n\nتو بوڑھا مردوا اور بارہواں برس مجھ کو\nمیں کس طرح سے چلوں تیرے ساتھ کونے میں\n\nنظیرؔ ایک وہ عیار سرتی ہے کافر\nکبھی نہ آوے گی وہ تیرے جادو ٹونے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%84%D8%B0%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%86%D8%B3%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ لگا لے گئے جہاں دل کو", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ لگا لے گئے جہاں دل کو\nآہ لے جائیے کہاں دل کو\n\nمجھ سے لے تو چلے ہو دیکھو پر\nتوڑیو مت کہیں میاں دل کو\n\nآزما اور جس میں چاہے تو\nصبر میں کر نہ امتحاں دل کو\n\nیوں تو کیا بات ہے تری لیکن\nوہ نہ نکلا جو تھا گماں دل کو\n\nرکھ نہ تو اب دریغ نیم نگاہ\nمار مت دیکھ نیم جاں دل کو\n\nآہ کیا کیجے یاں بنایا ہے\nدل گرفتہ ہی غنچہ ساں دل کو\n\nمر گیا پس گیا نہ کی پر آہ\nآفریں ایسے بے زباں دل کو\n\nدشمنی تو ہی اس سے کرتا ہے\nدوست رکھتا ہے اک جہاں دل کو\n\nمہربانی تو کی نہ ظاہر میں\nرکھئے بارے تو مہرباں دل کو\n\nلیجئے گا نہ لیجئے گا پھر\nدیکھیے تو سہی بتاں دل کو\n\nآزمانا کہیں نہ سختی سے\nدیکھیو میرے ناتواں دل کو\n\nتو بھی جی میں اسے جگہ دیجو\nمنزلت تھی اثرؔ کے ہاں دل کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88"} {"title": "نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے\nلگائے خانۂ آئینہ میں روئے نگار آتش\n\nفروغ حسن سے ہوتی ہے حل مشکل عاشق\nنہ نکلے شمع کے پا سے نکالے گر نہ خار آتش\n\nشرر ہے رنگ بعد اظہار تاب جلوۂ تمکیں\nکرے ہے سنگ پر خورشید آب روئے کار آتش\n\nپناوے بے گداز موم ربط پیکر آرائی\nنکالے کیا نہال شمع بے تخم شرار آتش\n\nخیال دود تھا سر جوش سودائے غلط فہمی\nاگر رکھتی نہ خاکستر نشینی کا غبار آتش\n\nہوائے پر فشانی برق خرمن ہائے خاطر ہے\nببال شعلۂ بیتاب ہے پروانہ زار آتش\n\nنہیں برق و شرر جز وحشت ضبط تپیدن ہا\nبلا گردان بے پروا خرامی ہائے یار آتش\n\nدھوئیں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا\nاسدؔ حیدر پرستوں سے اگر ہووے دو چار آتش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%84%DB%8C%D9%88%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%D8%AE%D8%B3_%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D9%88%D8%AA_%D8%B3%D8%A8%D8%B2%DB%82_%D8%AE%D8%B7_%D8%B3%DB%92"} {"title": "نہ مانا میرا کہنا دل گیا کیوں داد خواہی کو", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ مانا میرا کہنا دل گیا کیوں داد خواہی کو\nسزا دیتے ہیں واں مجرم بنا کر بے گناہی کو\n\nہماری بے کسی نے چھان ڈالا ہے جہاں سارا\nسوا تیرے ٹھکانا ہی نہیں ہے بے پناہی کو\n\nقیامت میں وہ مجھ کو دیکھ کر کہتے ہیں غیروں سے\nخدا کی شان ہے عاشق چلے ہیں داد خواہی کو\n\nاڑائی خاک اس کی خوب جا کر کوہ و صحرا میں\nدل وحشی نے کیا الٹے دیے چکر تباہی کو\n\nاجڑ جائے گا جس دن کارخانہ بادہ خواروں کا\nبہت روئے گا ساقی کشتیٔ مے کی تباہی کو\n\nبرا ہو رشک کا رہبر سمجھ کر دل سے جو پوچھا\nعدم کا راستہ بتلا دیا گم گشتہ راہی کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D9%88"} {"title": "نہ مانی اس نے ایک بھی دل کی", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ مانی اس نے ایک بھی دل کی\nدل ہی میں بات رہ گئی دل کی\n\nگیسوئے یار میں یہ بات کہاں\nاور ہی شے ہے برہمی دل کی\n\nکھینچتے ہیں وہ تیر پہلو سے\nکھوئے دیتے ہیں دل لگی دل کی\n\nیوں وہ نکلے تڑپ کے پہلو سے\nشکل آنکھوں میں پھر گئی دل کی\n\nگھٹتی جاتی ہے ان کی مہر و وفا\nبڑھتی جاتی ہے بے خودی دل کی\n\nچھوڑ دو ان سے رسم و راہ نسیمؔ\nچاہتے ہو جو بہتری دل کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "نہ محتسب سے یہ مجھ کو غرض نہ مست سے کام", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ محتسب سے یہ مجھ کو غرض نہ مست سے کام\nمجھے تو لینا ہے ساقی کے آج دست سے کام\n\nصنم تو میری پرستش کی قدر تب جانے\nکہ جب پڑے تجھے کافر خدا پرست سے کام\n\nمیں گوشہ گیر ہوا سیر کر نشیب و فراز\nرہا نہ میرے قدم کو بلند و پست سے کام\n\nرکھے ہے شیشہ مرا سنگ ساتھ ربط قدیم\nکہ آٹھ پہر مرے دل کو ہے شکست سے کام\n\nجسے مساوی ہے ماضی و حال و مستقبل\nاسے رہا نہیں آئندہ بود و ہست سے کام\n\nمیں کفر و دیں سے گزر کر ہوا ہوں لا مذہب\nخدا پرست سے مطلب نہ بت پرست سے کام\n\nکسو کو قید کرے ہے کسو کو باندھے ہے\nوہ لے ہے اپنے عمل بیچ بند و بست سے کام\n\nدل اس کی زلف کے پیچوں میں حاتمؔ الجھا ہے\nرکھے نہیں ہے مرا صید دام و شست سے کام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%AA%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85"} {"title": "نہ محتسب کی نہ حور و جناں کی بات کرو", "poet_page": "مصنف:عبد المجید سالک", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ محتسب کی نہ حور و جناں کی بات کرو\nمئے کہن کی نگار جواں کی بات کرو\n\nکسی کی تابش رخسار کا کہو قصہ\nکسی کے گیسوئے عنبر فشاں کی بات کرو\n\nضیا ہے شاہد و شمع و شراب سے اس کی\nفروغ محفل روحانیاں کی بات کرو\n\nجو مدعا ہو کسی قبلۂ مراد کا ذکر\nتو آستانۂ پیر مغاں کی بات کرو\n\nنہیں ہوا جو طلوع آفتاب تو فی الحال\nقمر کی بات کرو کہکشاں کی بات کرو\n\nرہے گا مشغلۂ یاد رفتگاں کب تک\nگزر رہا ہے جو اس کارواں کی بات کرو\n\nیہ قید و صید کے اندیشہ ہائے بے جا کیا\nچمن کی فکر کرو آشیاں کی بات کرو\n\nیہی جہان ہے ہنگامہ زار سود و زیاں\nاسی کے سود اسی کے زیاں کی بات کرو\n\nاب اس چمن میں نہ صیاد ہے نہ گلچیں ہے\nکرو تو اب ستم باغباں کی بات کرو\n\nخدا کے ذکر کا موقعہ نہیں یہاں سالکؔ\nدیار ہند میں حسن بتاں کی بات کرو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%AA%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AD%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%AC%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "نہ محراب حرم سمجھے نہ جانے طاق بت خانہ", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ محراب حرم سمجھے نہ جانے طاق بت خانہ\nجہاں دیکھی تجلی ہو گیا قربان پروانہ\n\nدل آزاد کو وحشت نے بخشا ہے وہ کاشانہ\nکہ اک در جانب کعبہ ہے اک در سوئے بت خانہ\n\nبنائے میکدہ ڈالی جو تو نے پیر مے خانہ\nتو کعبہ ہی رہا کعبہ نہ پھر بت خانہ بت خانہ\n\nکہاں کا طور مشتاق لقا وہ آنکھ پیدا کر\nکہ ذرہ ذرہ ہے نظارہ گاہ حسن جانانہ\n\nخدا پوری کرے یہ حسرت دیدار کی حسرت\nکہ دیکھوں اور ترے جلووں کو دیکھوں بے حجابانہ\n\nشکست توبہ کی تقریب میں جھک جھک کے ملتی ہیں\nکبھی پیمانہ شیشہ سے کبھی شیشے سے پیمانہ\n\nسجا کر لخت دل سے کشتیٔ چشم تمنا کو\nچلا ہوں بارگاہ عشق میں لے کر یہ نذرانہ\n\nکبھی جو پردۂ بے صورتی میں جلوہ فرما تھے\nانہیں کو عالم صورت میں دیکھا بے حجابانہ\n\nمری دنیا بدل دی جنبش ابروئے جاناں نے\nکہ اپنا ہی رہا اپنا نہ اب بیگانہ نہ بیگانہ\n\nجلا کر شمع پروانے کو ساری عمر روتی ہے\nاور اپنی جان دے کر چین سے سوتا ہے پروانہ\n\nکسی کی محفل عشرت میں پیہم دور چلتے ہیں\nکسی کی عمر کا لبریز ہونے کو ہے پیمانہ\n\nہماری زندگی تو مختصر سی اک کہانی تھی\nبھلا ہو موت کا جس نے بنا رکھا ہے افسانہ\n\nیہ لفظ سالک و مجذوب کی ہے شرح اے بیدمؔ\nکہ اک ہشیار ختم المرسلیں اور ایک دیوانہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B7%D8%A7%D9%82_%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "نہ مرے پاس عزت رمضاں", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ مرے پاس عزت رمضاں\nنہ کبھو کی عبادت رمضاں\n\nدشمن عیش کا میں دشمن ہوں\nگو کہ تھے فرض حرمت رمضاں\n\nمجھ کو مسجد سے کام نہیں الا\nسننے جاتا ہوں رخصت رمضاں\n\nشیخ روتا ہے اپنی روزی کو\nکہ نہ از بہر فرقت رمضاں\n\nکچھ نہ حاصل ہوا کسی کے تئیں\nغیر فاقہ بدولت رمضاں\n\nزاہد خشک کے تئیں دیکھے\nیاد آتی ہے صورت رمضاں\n\nمیرے ہم مشربوں میں آ تاباںؔ\nریجھتے ہوں گے حضرت رمضاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%B9%D8%B2%D8%AA_%D8%B1%D9%85%D8%B6%D8%A7%DA%BA"} {"title": "نہ ملا وہ نفاق کے مارے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ملا وہ نفاق کے مارے\nکیا کریں ہم وفاق کے مارے\n\nجب تک آوے ہے آوے تو ہم تو\nمر چکے اشتیاق کے مارے\n\nمت خفا ہو کہ آن نکلے ہیں\nہم بھی یاں اتفاق کے مارے\n\nمل گئے خاک میں ہزاروں ہی\nچرخ کہنہ رواق کے مارے\n\nہو چکا حشر بھی حسنؔ لیکن\nنہ جیے ہم فراق کے مارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D9%86%D9%81%D8%A7%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "نہ ملا ہوں نہ مفتی ہوں نہ واعظ ہوں نہ قاضی ہوں", "poet_page": "مصنف:ماتم فضل محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ملا ہوں نہ مفتی ہوں نہ واعظ ہوں نہ قاضی ہوں\nگنہ گار و خطا کار و رضائے حق پہ راضی ہوں\n\nجہاں سے ہوں یہاں آیا وہاں جاؤں گا آخر کو\nمرا یہ حال ہے یارو نہ مستقبل نہ ماضی ہوں\n\nمیں ہوں نادان دور افتادہ دانائی کے دیواں سے\nنہ ثانی ہوں سحابی کا نہ ہم بزم بیاضی ہوں\n\nپریشاں دل ہوں میں تنہائی سے ماتمؔ زمانے میں\nنہ ہم دوران فیضی ہوں نہ ہم عصر فیاضی ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%81%D8%AA%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%82%D8%A7%D8%B6%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "نہ مومن ہے نہ مومن کی امیری", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "نہ مومن ہے نہ مومن کی امیری\nرہا صُوفی، گئی روشن ضمیری\nخدا سے پھر وہی قلب و نظر مانگ\nنہیں ممکن امیری بے فقیری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "نہ مہ نے کوند بجلی کی نہ شعلے کا اجالا ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ مہ نے کوند بجلی کی نہ شعلے کا اجالا ہے\nکچھ اس گورے سے مکھڑے کا جھمکڑا ہی نرالا ہے\n\nوہ مکھڑا گل سا اور اس پر جو نارنجی دوشالہ ہے\nرخ خورشید نے گویا شفق سے سر نکالا ہے\n\nکن انکھیوں کی نگہ گپتی اشارت قہر چتون کے\nجو ووں دیکھا تو برچھی ہے جو یوں دیکھا تو بھالا ہے\n\nکہیں خورشید بھی چھپتا ہے جی باریک پردے میں\nاٹھا دو منہ سے پردے کو بڑا پردہ نکالا ہے\n\nکھلے بالوں سے منہ کی روشنی پھوٹی نکلتی ہے\nتمہارا حسن تو صاحب اندھیرے کا اجالا ہے\n\nنہ جھمکیں کس طرح کانوں میں اس کے حسن کے جھمکے\nادھر بندا ادھر جھمکا ادھر بجلی کا بالا ہے\n\nنظیرؔ اس سنگ دل قاتل پہ دعویٰ خون کا مت کر\nمیاں جا تجھ سے یاں کتنوں کو اس نے مار ڈالا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%81_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88%D9%86%D8%AF_%D8%A8%D8%AC%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ میرے دل نہ جگر پر نہ دیدۂ تر پر", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ میرے دل نہ جگر پر نہ دیدۂ تر پر\nکرم کرے وہ نشان قدم تو پتھر پر\n\nتمہارے حسن کی تصویر کوئی کیا کھینچے\nنظر ٹھہرتی نہیں عارض منور پر\n\nکسی نے لی رہ کعبہ کوئی گیا سوئے دیر\nپڑے رہے ترے بندے مگر ترے در پر\n\nگناہ گار ہوں میں واعظو تمہیں کیا فکر\nمرا معاملہ چھوڑو شفیع محشر پر\n\nان ابروؤں سے کہو کشتنی میں جان بھی ہے\nاسی کے واسطے خنجر کھنچا ہے خنجر پر\n\nپلا دے آج کہ مرتے ہیں رند اے ساقی\nضرور کیا کہ یہ جلسہ ہو حوض کوثر پر\n\nصلاحیت بھی تو پیدا کر اے دل مضطر\nپڑا ہے نقش کف پائے یار پتھر پر\n\nوفور جوش ضیا اور ان کے دانتوں کا\nحباب گنبد گردوں ہے آب گوہر پر\n\nاخیر وقت ہے آسیؔ چلو مدینے کو\nنثار ہو کے مرو تربت پیمبر پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%AA%D8%B1_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "نہ میں دل کو اب ہر مکاں بیچتا ہوں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ میں دل کو اب ہر مکاں بیچتا ہوں\nکوئی خوب رو لے تو ہاں بیچتا ہوں\n\nوہ مے جس کو سب بیچتے ہیں چھپا کر\nمیں اس مے کو یارو عیاں بیچتا ہوں\n\nیہ دل جس کو کہتے ہیں عرش الٰہی\nسو اس دل کو یارو میں یاں بیچتا ہوں\n\nذرا میری ہمت تو دیکھو عزیزو\nکہاں کی ہے جنس اور کہاں بیچتا ہوں\n\nلیے ہاتھ پر دل کو پھرتا ہوں یارو\nکوئی مول لیوے تو ہاں بیچتا ہوں\n\nوہ کہتا ہے جی کوئی بیچے تو ہم لیں\nتو کہتا ہوں لو ہاں میاں بیچتا ہوں\n\nمیں ایک اپنے یوسف کی خاطر عزیزو\nیہ ہستی کا سب کارواں بیچتا ہوں\n\nجو پورا خریدار پاؤں تو یارو\nمیں یہ سب زمین و زماں بیچتا ہوں\n\nزمیں آسماں عرش و کرسی بھی کیا ہے\nکوئی لے تو میں لا مکاں بیچتا ہوں\n\nجسے مول لینا ہو لے لے خوشی سے\nمیں اس وقت دونوں جہاں بیچتا ہوں\n\nبکی جنس خالی دکاں رہ گئی ہے\nسو اب اس دکاں کو بھی ہاں بیچتا ہوں\n\nمحبت کے بازار میں اے نظیرؔ اب\nمیں عاجز غریب اپنی جاں بیچتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D8%B1_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%DA%86%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے", "poet_page": "مصنف:انور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے\nپسینہ پوچھیے اپنی جبیں سے\n\nٹپکتا ہے پسینہ اس جبیں سے\nستارے جھڑتے ہیں ماہ مبیں سے\n\nچلی آتی ہے ہونٹوں پر شکایت\nندامت ٹپکی پڑتی ہے جبیں سے\n\nمیں اس برہم مزاجی کے تصدق\nالجھتے ہیں وہ زلف عنبریں سے\n\nبصر کرتا رہا ہوں زندگانی\nتا تیغ اس نگاہ شرمگیں سے\n\nیہ کس نقش قدم پر جبہ سا ہوں\nکہ سر اٹھتا نہیں اپنا زمیں سے\n\nتمہیں ہم خواب دشمن دیکھتا ہوں\nاٹھا پردہ یہ چاک آستیں سے\n\nجہاں مدفون ہیں تیرے کشتہ ناز\nیقیں ہے حشر اٹھے گا وہیں سے\n\nنہیں کوئے عدو میں نقش پا تک\nمگر وہ اڑ کے چلتے ہیں زمیں سے\n\nجنوں میں اس غضب کی خاک اڑائی\nبنایا آسماں ہم نے زمیں سے\n\nگریباں گیر ہے یہاں شوق مردن\nوہ خنجر تو نکالیں آستیں سے\n\nکہاں کی دل لگی کیسی محبت\nمجھے اک لاگ ہے جان حزیں سے\n\nدو رنگی ایک جا ان سے نہ چھوٹی\nمجھے مارا ادائے مہر و کیں سے\n\nالٹ دے گا جہاں بسمل تڑپ کر\nسنبھالو دست و پائے نازنیں سے\n\nبجائے شمع جلتے ہیں سراپا\nتمہاری بزم روشن ہے ہمیں سے\n\nغضب ہی بے جگر تھا بسمل شوق\nکہ جا لپٹا ترے فتراک زیں سے\n\nوہ کچھ بے تابیاں بگڑے سے تیور\nلڑائی میں مزا ہے اس حسیں سے\n\nادھر مارا ادھر مجھ کو جلایا\nلب جاں بخش و چشم خشمگیں سے\n\nنہ نکلی اس کے منہ سے آہ تک بھی\nجسے مارا نگاہ شرمگیں سے\n\nنہ دل قابو میں اور دل میں نہ اب صبر\nکھینچیں کس بل پہ ہم اس خشمگیں سے\n\nاٹھانے ایک قیامت بیٹھے ہیں وہ\nغضب فتنے لگا لائے کمیں سے\n\nکمی کی دست قاتل نے تو بسمل\nبڑھائے دست و پائے نازنیں سے\n\nادھر لاؤ ذرا دست حنائی\nپکڑ دیں چور دل کا ہم یہیں سے\n\nاگر سچ ہے حسینوں میں تلوں\nتو ہے امید وصل ان کی نہیں سے\n\nبرنگ بو نکلتے ہیں کرشمے\nتمہاری نرگس سحر آفریں سے\n\nجہنم ہے مجھے گلزار جنت\nجدا ہوں ایک ازار آتشیں سے\n\nیہ پردے ہیں با شوق دیدار\nیہ ساری لن ترانی ہے ہمیں سے\n\nجہاں کو جلوہ گاہ یار دیکھیں\nجو نظارہ کریں چشم یقیں سے\n\nمجھے کیا غم کہ بار الفت غیر\nنہ اٹھے گا کبھی اس نازنیں سے\n\nسنانیں چل رہی ہیں جان و دل پر\nنگاہیں لڑ رہی ہیں اک حسیں سے\n\nوہاں عاشق کشی ہے عین ایماں\nانہیں کیا بحث انورؔ کفر و دیں سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D9%BE_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "نہ مے کے نہ جام کے لئے مرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "نہ مے کے نہ جام کے لئے مرتے ہیں\nنہ دہر میں نام کے لئے مرتے ہیں\nشاید کبھی بعد مرگ پوچھے وہ ہمیں\nبس ہم اسی کام کے لئے مرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ نکلا منہ سے کچھ نکلی نہ کچھ بھی قلب مضطر کی", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ نکلا منہ سے کچھ نکلی نہ کچھ بھی قلب مضطر کی\nکسی کے سامنے میں بن گیا تصویر پتھر کی\n\nخدا سے کیوں نہ مانگوں واہ میں بندوں سے کیا مانگوں\nمجھے مل جائے گی جو چیز ہے میرے مقدر کی\n\nتصور چاہئے اے شیخ سب کا ایک ایما ہے\nصدا ہے پردۂ ناقوس میں اللہ اکبر کی\n\nدل راحت طلب کو قبر میں کیا بے قراری ہے\nمجھے گھبرائے دیتی ہے اداسی اس نئے گھر کی\n\nکلیجے میں ہزاروں داغ، دل میں حسرتیں لاکھوں\nکمائی لے چلا ہوں ساتھ اپنے زندگی بھر کی\n\nسنبھل کر دیکھنا آرائشوں کے بعد آئینہ\nیہ آئینہ نہیں ہے اب یہ ٹکڑے ہے برابر کی\n\nمرے اشعار شاعرؔ داغ و آصف جاہ سے پوچھو\nکہ شاہ و جوہری ہی جانتے ہیں قدر گوہر کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%82%D9%84%D8%A8_%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہی", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہی\nرہی تو میری کہانی ہی یادگار رہی\n\nوہی نظر ہے نظر جو بایں ہمہ پستی\nستارہ گیر رہی کہکشاں شکار رہی\n\nشب بہار میں تاروں سے کھیلنے والے\nکسی کی آنکھ بھی شب بھر ستارہ بار رہی\n\nتمام عمر رہا گرچہ میں تہی پہلو\nبسی ہوئی مرے پہلو میں بوئے یار رہی\n\nکوئی عزیز نہ ٹھہرا ہمارے دفن کے بعد\nرہی جو پاس تو شمع سر مزار رہی\n\nوہ پھول ہوں جو کھلا ہو خزاں کے موسم میں\nتمام عمر مجھے حسرت بہار رہی\n\nکبھی نہ بھولیں گی اس شب کی لذتیں اخترؔ\nکہ میرے سینے پہ وہ زلف مشکبار رہی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%8C"} {"title": "نہ وہ فریاد کا مطلب نہ منشائے فغاں سمجھے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ وہ فریاد کا مطلب نہ منشائے فغاں سمجھے\nہم آج اپنی شب غم کی غلط سامانیاں سمجھے\n\nبڑی مشکل سے ان کا راز الفت ہو سکا پنہاں\nبڑی مدت میں جا کر ہم مزاج راز داں سمجھے\n\nاب آیا ہے تو بیٹھے چارہ گر خاموش بالیں پر\nمری بے چینیاں دیکھے مری بے تابیاں سمجھے\n\nپیام شادمانی کیا سمجھ کر دے کوئی اس کو\nجو تیرے غم کو تکمیل نشاط دو جہاں سمجھے\n\nمیں اس دنیا میں اے سیمابؔ اک راز حقیقت تھا\nسمجھنے کی طرح اہل جہاں مجھ کو کہاں سمجھے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%86%D8%B4%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "نہ وہ نالوں کی شورش ہے نہ غل ہے آہ و زاری کا", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ وہ نالوں کی شورش ہے نہ غل ہے آہ و زاری کا\nوہ اب پہلا سا ہنگامہ نہیں ہے بے قراری کا\n\nطلب کیسی بلانا کیا وہاں خود جا پہنچتے ہیں\nاگر عالم یہی چندے رہا بے اختیاری کا\n\nوہاں وہ ناز و عشوے سے قدم گن گن کے رکھتے ہیں\nیہاں اس منتظر کا وقت پہنچا دم شماری کا\n\nکبھی چشم خمار آلود کی مستی نہیں دیکھی\nبجا ہے حضرت ناصح کو دعویٰ ہوشیاری کا\n\nبھلا کیا ایسی روتی شکل پاس آ کر کوئی بیٹھے\nاٹھے آخر وہ جھنجھلا کر برا ہو اشک باری کا\n\nعجب کیا ہے کہ قاصد بھول جائے اس کا لے جانا\nلکھوں جس نامے میں شکوہ تری غفلت شعاری کا\n\nمثال نخل دیکھا ہے اسی کو پھولتے پھلتے\nکیا جس شخص نے حاصل طریقہ خاکساری کا\n\nہر اک شے کا ہے اندازہ مگر پایاں نہیں ہرگز\nتری غفلت شعاری کا مری امیدواری کا\n\nز بس آنکھوں میں رنگت چھا رہی ہے لالہ و گل کی\nخزاں میں لطف آتا ہے ہمیں فصل بہاری کا\n\nکبھی سر پاؤں پر رکھنا کبھی قربان کہہ اٹھنا\nہمیں تھوڑا سا ڈھب آتا تو ہے مطلب براری کا\n\nچھپا کل گوشۂ مے خانہ میں مجروحؔ نے دیکھا\nیونہی شہرہ سنا تھا شیخ کی پرہیزگاری کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D9%88%D8%B1%D8%B4_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%BA%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A2%DB%81_%D9%88_%D8%B2%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نہ وہ وعدۂ سر راہ ہے نہ وہ دوستی نہ نباہ ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ وہ وعدۂ سر راہ ہے نہ وہ دوستی نہ نباہ ہے\nنہ وہ دل فریبی کے ہیں چلن نہ وہ پیاری پیاری نگاہ ہے\n\nترے ہجر میں مہ سیم بر کوئی غور سے جو کرے نظر\nمری صبح شام سے ہے بتر مرا روز شب سے سیاہ ہے\n\nہے ہر ایک بات میں اب کجی کہ چلن نکالے ہیں اور ہی\nنہ وہ ربط ہے نہ وہ دوستی نہ وہ رسم ہے نہ وہ راہ ہے\n\nکوئی زہر غم پیے تا بہ کے ہوئی صرف ساغر غیر مے\nنہ وہ جوشش سر شام ہے نہ وہ وعدۂ شب ماہ ہے\n\nبنے کیونکے پھر مری اس کی اب کہ یہ تفرقہ ہے بڑا غضب\nمجھے اس سے اچھے کی ہے طلب اسے مجھ سے اچھے کی چاہ ہے\n\nکبھی سامنے سے جو وہ جائے ہے کبھی پھیر منہ کو دکھائے ہے\nمجھے درد رشک ستائے ہے کہ یہی وہ غیرت ماہ ہے\n\nتھی نگاہ پہلے تو اس کی ووں کہیں دوستی میں ہوا ہے یوں\nدیا اس نے دل کہیں اور کیوں یہی مصحفیؔ کا گناہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%82_%D8%B3%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%86%D8%A8%D8%A7%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ ٹوکو دوستو اس کی بہار نام خدا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ٹوکو دوستو اس کی بہار نام خدا\nیہی اب ایک ہے یاں گلعذار نام خدا\n\nیہ وہ صنم ہے پری رو کہ جس پہ ہوتی تھیں\nہزار جان سے پریاں نثار نام خدا\n\nاسی صنم کی نگاہوں کی برچھیاں یارو\nہوئی ہیں میرے کلیجے کے پار نام خدا\n\nاسی کے نشتر مژگاں میں اب وہ تیزی ہے\nکہ جس سے ہوتے ہیں ہم دل فگار نام خدا\n\nاسی صنم کے رخ و زلف کے تصور میں\nہماری گزرے ہے لیل و نہار نام خدا\n\nگلی میں کوچہ و بازار میں ہم اب دن رات\nاسی کے واسطے پھرتے ہیں خوار نام خدا\n\nاسی کے سر کی قسم ہے کہ ہم تو مر جاتے\nاگر نہ ہوتا یہ گل رو نگار نام خدا\n\nبنے ہیں یاں جو کئی دیر اور صنم خانے\nادھر جو جو ہوتا ہے اس کا گزار نام خدا\n\nاٹھا کے سینہ جھٹک بازو اور بنا کر دھج\nچلے ہے جس گھڑی ٹھوکر کو مار نام خدا\n\nقدم قدم پہ برہمن کہیں ہیں بسم اللہ\nصنم بھی کہتے ہیں سب بار بار نام خدا\n\nغرض جدھر کو نکلتا ہے یہ تو ہر اک کے\nزباں سے نکلے ہے بے اختیار نام خدا\n\nنظیرؔ ایک غزل اور کہہ کہ تیرے سخن\nہیں اب تو سب گہر آب دار نام خدا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%B9%D9%88%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%AE%D8%AF%D8%A7"} {"title": "نہ ٹھیری جب کوئی تسکین دل کی شکل یاروں میں", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ٹھیری جب کوئی تسکین دل کی شکل یاروں میں\nتو آ نکلے تڑپ کر ہم تمہارے بے قراروں میں\n\nکسی کے عشق میں درد جگر سے دل یہ کہتا ہے\nادھر بھی آ نکلنا ہم بھی ہیں امیدواروں میں\n\nوہ ماتم بزم شادی ہے تمہاری جس میں شرکت ہو\nوہ مرنا زندگی ہے تم جہاں ہو سوگواروں میں\n\nتعلی سے یہ نفرت ہے کہ بعد مرگ خاک اپنی\nاگر اٹھتی بھی ہے جا بیٹھتی ہے خاکساروں میں\n\nہمارے دل نے ہم سے بے وفائی کر کے کیا پایا\nوہاں بھی جا کے ٹھہرایا گیا بے اعتباروں میں\n\nوہ کھینچوں گا جلالؔ آہیں کہ اس کی خاک اڑا دیں گی\nفلک نے پیس ڈالا ہے سمجھ کر خاکساروں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%B9%DA%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%B3%DA%A9%DB%8C%D9%86_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ پاوے چال تیرے کی پیارے یہ ڈھلک دریا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ پاوے چال تیرے کی پیارے یہ ڈھلک دریا\nچلا جاوے اگرچہ رووتا محشر تلک دریا\n\nکہاں ایسا مبکی ہو کہ جاوے تا فلک دریا\nنہیں ہم چشم میرے اشک کا مارے ہے جھک دریا\n\nہوا ہے چشم حیرت دیکھ تیری آب رفتاری\nکنارے نہیں رہا ہے کھول ان دونوں پلک دریا\n\nبھر آوے آب حسرت اس کے منہ میں جب لہر آوے\nاگر دیکھے ترے ان نرم گالوں کے تھلک دریا\n\nنہیں ہیں یہ حباب آتے ہیں جو نظروں میں مردم کی\nجلن مجھ اشک کی سیں دل میں رکھتا ہے پھلک دریا\n\nاگر ہو کوہ تو ریلے سیں اس لشکر کے چل جاوے\nکہاں سکتا ہے مجھ انجھواں کی فوجاں سیں اٹک دریا\n\nاثر کرنے کا نہیں سنگیں دلاں میں روونا ہرگز\nکرارے سخت ہیں بے جا رہا ہے سر پٹک دریا\n\nیقیں آیا کیا جب اس کے تئیں پانی سیں بھی پتلا\nہمارے اشک کی گرمی میں کچھ رکھتا تھا شک دریا\n\nنہیں ممکن ہمارے دل کی آتش کا بجھا سکنا\nکرے گر ابر طوفاں خیز کوں آ کر کمک دریا\n\nنہ ہووے آبروؔ خانہ خرابی کیوں کہ مردم کی\nکیا انجھواں میں میرے اب سما سیں تا سمک دریا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D9%88%DB%92_%DA%86%D8%A7%D9%84_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%88%DA%BE%D9%84%DA%A9_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نہ پایا کھوج برسوں نقش پائے رفتگاں ڈھونڈھے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ پایا کھوج برسوں نقش پائے رفتگاں ڈھونڈھے\nنہ ہو ممکن پتا جن کا انہیں کوئی کہاں ڈھونڈھے\n\nتلاش اس طرح بزم عیش میں ہے بے نشانوں کی\nکوئی کپڑے میں جیسے زخم سوزن کا نشاں ڈھونڈھے\n\nہم اس کے ذکر ہی سے خوش کیا کرتے ہیں دل اپنا\nسہارا جیسے تنکے کا غریق نیم جاں ڈھونڈھے\n\nکدھر کو روٹھ کر جاتا رہا عہد شباب اپنا\nنہ پایا اس مسافر کو ہزاروں کارواں ڈھونڈھے\n\nاٹھانا ہو سبک آدم پہ جب بار امانت کا\nکہاں سے پھر کوئی اس کے لیے بار گراں ڈھونڈھے\n\nگرہ سانسوں میں ڈالی ہے ہوسؔ افراط گریہ نے\nنہ آہ ناتواں آنے کو لب تک نردباں ڈھونڈھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%AC_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D9%81%D8%AA%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%DA%BE%DB%92"} {"title": "نہ پردہ کھولیو اے عشق غم میں تو میرا", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ پردہ کھولیو اے عشق غم میں تو میرا\nکہیں نہ سامنے ان کے ہو زرد رو میرا\n\nتم اپنی زلف سے پوچھو مری پریشانی\nکہ حال اس کو ہے معلوم ہو بہو میرا\n\nاگرچہ لاکھ رفو گر نے دل کیا بہتر\nیہ جب بھی ہو نہ سکا زخم دل رفو میرا\n\nفقط وہ اس لیے آتے ہیں جانب زنداں\nکہ پھنس کے گھٹنے لگے طوق میں گلو میرا\n\nنشانہ تیر نگہ کا بہ دل کروں عارفؔ\nلڑائے آنکھ اگر مجھ سے جنگجو میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "نہ پوچھ اس کی حقیقت حضور والا نے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "نہ پوچھ اس کی حقیقت حضور والا نے\nمجھے جو بھیجی ہے بیسن کی روغنی روٹی\nجو کھاتے گیہوں نکلتے نہ خلد سے باہر\nجو کھاتے حضرت آدم یہ بیسنی روٹی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%92"} {"title": "نہ پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیا\nکہ کارواں کا کنعاں کے جی نکال لیا\n\nرہ طلب میں گرے ہوتے سر کے بل ہم بھی\nشکستہ پائی نے اپنی ہمیں سنبھال لیا\n\nرہوں ہوں برسوں سے ہم دوش پر کبھو ان نے\nگلے میں ہاتھ مرا پیار سے نہ ڈال لیا\n\nبتاں کی میرؔ ستم وہ نگاہ ہے جس نے\nخدا کے واسطے بھی خلق کا وبال لیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%B2%D9%84%DB%8C%D8%AE%D8%A7_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نہ پوچھ عشق کے صدمے اٹھائے ہیں کیا کیا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ پوچھ عشق کے صدمے اٹھائے ہیں کیا کیا\nشب فراق میں ہم تلملائے ہیں کیا کیا\n\nذرا تو دیکھ تو صناع دست قدرت نے\nطلسم خاک سے نقشے اٹھائے ہیں کیا کیا\n\nمیں اس کے حسن کے عالم کی کیا کروں تعریف\nنہ پوچھ مجھ سے کہ عالم دکھائے ہیں کیا کیا\n\nذرا تو دیکھ تو گھر سے نکل کے اے بے مہر\nکہ دیکھنے کو ترے لوگ آئے ہیں کیا کیا\n\nکوئی پٹکتا ہے سر کوئی جان کھوتا ہے\nترے خرام نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا\n\nذرا تو آن کے آب رواں کی سیر تو کر\nہماری چشم نے چشمے بہائے ہیں کیا کیا\n\nنگاہ غور سے ٹک مصحفیؔ کی جانب دیکھ\nجگر پہ اس نے ترے زخم کھائے ہیں کیا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%B5%D8%AF%D9%85%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحت دل کا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحت دل کا\nکہ اس میں ریزۂ الماس جزو اعظم ہے\n\nبہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی\nوہ اک نگہ کہ بہ ظاہر نگاہ سے کم ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE_%D9%86%D8%B3%D8%AE%DB%82_%D9%85%D8%B1%DB%81%D9%85_%D8%AC%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نہ پوچھ گریۂ خوں کا ترے ہے کیا باعث", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ پوچھ گریۂ خوں کا ترے ہے کیا باعث\nسبب تو اور نہیں کچھ مگر ترا باعث\n\nاگرچہ شیخ ہے پینا شراب فعل شنیع\nپہ کیا کروں کہ کئی دن سے تھی ہوا باعث\n\nدو چند گریہ کی تبرید سے ہوئی تب عشق\nزیادتی کا مرض کی ہے یاں دوا باعث\n\nنہ جرم اس کا ہے ثابت نہ کچھ مری تقصیر\nخدا ہی جانے کہ رنجش کا کیا ہوا باعث\n\nرہا میں اس سے گرفتہ اک عمر تک لیکن\nکیا جو خوب تأمل تو کچھ نہ تھا باعث\n\nطرح اس آب کی جو پیرنے سے ہو درہم\nہوئے ہیں میرے تشتت کے آشنا باعث\n\nکبھو کھلا نہ دم سرد سے یہ دل قائمؔ\nاگرچہ کھلنے کا غنچہ کے ہے صبا باعث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%82_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B9%D8%AB"} {"title": "نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے", "poet_page": "مصنف:غمگین دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے\nامید وصل ہی پر ان دنوں گزارا ہے\n\nنہ دیکھوں تجھ کو تو آتا نہیں کچھ آہ نظر\nتو میری پتلی کا آنکھوں کی یار تارا ہے\n\nمجھے جو بام پہ شب کو بلائے ہے وہ ماہ\nمگر عروج پہ کیا ان دنوں ستارا ہے\n\nیقین جان تو واعظ کہ دین و دنیا میں\nبس اس کی صرف مجھے ذات کا سہارا ہے\n\nعجب طرح سے نظر پڑ گیا مرے ہمدم\nقیامت آہ وہ مکھڑا بھی پیارا پیارا ہے\n\nمجھے جو دوستی ہے اس کو دشمنی مجھ سے\nنہ اختیار ہے اس کا نہ میرا چارا ہے\n\nکہا جو میں نے پلاتے ہو بزم میں سب کو\nمگر ہمیں ہی نہیں کیا گنہ ہمارا ہے\n\nتو بولے وہ کہ جسے چاہیں ہم پلائیں شراب\nخوشی ہماری ترا اس میں کیا اجارا ہے\n\nگیا وہ پردہ نشیں جب سے اپنے گھر غمگیںؔ\nتمام خلق سے دل کو مرے کنارا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ پوچھو تم کو اور دشمن کو دل میں کیا سمجھتا ہوں", "poet_page": "مصنف:بوم میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ پوچھو تم کو اور دشمن کو دل میں کیا سمجھتا ہوں\nاسے الو تمہیں الو کا میں پٹھا سمجھتا ہوں\n\nڈروں کیوں وصل کی شب دھول دھپا ہاتھا پائی سے\nاسے تو میں نیاز و ناز کا رگڑا سمجھتا ہوں\n\nگیا بچپن شباب آیا بڑھاپا آنے والا ہے\nمگر میں تو ابھی تک آپ کو بچہ سمجھتا ہوں\n\nلیے جاتا ہے مجھ کو ساتھ کیوں دشمن کی محفل میں\nابے الو کے پٹھے اس میں کچھ دھوکا سمجھتا ہوں\n\nبلاتی ہے مجھے گھر پر جو تم گھر پر نہیں ہوتے\nتمہاری ماں کو تم سے ہر طرح اچھا سمجھتا ہوں\n\nعدو کے گھر سے الٹا پائجامہ پہن کر آئے\nاندھیری رات ہے کچھ دال میں کالا سمجھتا ہوں\n\nیہ تم نے کیا کہا کیوں دل لگی کی میری اماں سے\nاجی توبہ کرو میں تو اسے خالہ سمجھتا ہوں\n\nجو پوچھا مجھ سے مشت خاک کو تم کیا سمجھتے ہو\nتو فرمایا کہ استجنے کا میں ڈھیلا سمجھتا ہوں\n\nشب وعدہ تیری لوٹ و پلٹ سے ناک میں دم ہے\nکبھی الٹا سمجھتا ہوں کبھی سیدھا سمجھتا ہوں\n\nکسی نے ان سے پوچھا بومؔ کو تم کیا سمجھتے ہو\nتو بولے مسکرا کر الو کا پٹھا سمجھتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "نہ پوچھو شب وصل کیا ہو رہا ہے", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "نہ پوچھو شب وصل کیا ہو رہا ہے\nگلے میں ہیں بانہیں گلا ہو رہا ہے\n\nوہ اٹھلا کے میری طرف آ رہے ہیں\nقیامت کا وعدہ وفا ہو رہا ہے\n\nگلے پر جو رک رک کے چلتا ہے خنجر\nیہ پورا مرا مدعا ہو رہا ہے\n\nمری بے خودی پر نظر کیا ہو اس کو\nوہ خود محو ناز و ادا ہو رہا ہے\n\nوہ ہمراہ لے کر گئے ہیں عدو کو\nذرا ہم بھی دیکھ آئیں کیا ہو رہا ہے\n\nتجاہل نے ان کے ہمیں مار ڈالا\nجب آتے ہیں کہتے ہیں کیا ہو رہا ہے\n\nشرفؔ تم نے بدنام اسے کر کے چھوڑا\nیہی ذکر اب جا بجا ہو رہا ہے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ پوچھو کون ہیں کیوں راہ میں ناچار بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:آزاد انصاری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ پوچھو کون ہیں کیوں راہ میں ناچار بیٹھے ہیں\nمسافر ہیں سفر کرنے کی ہمت ہار بیٹھے ہیں\n\nادھر پہلو سے وہ اٹھے ادھر دنیا سے ہم اٹھے\nچلو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی بیکار بیٹھے ہیں\n\nکسے فرصت کہ فرض خدمت الفت بجا لائے\nنہ تم بیکار بیٹھے ہو نہ ہم بیکار بیٹھے ہیں\n\nجو اٹھے ہیں تو گرم جستجوئے دوست اٹھے ہیں\nجو بیٹھے ہیں تو محو آرزوئے یار بیٹھے ہیں\n\nمقام دستگیری ہے کہ تیرے رہرو الفت\nہزاروں جستجوئیں کر کے ہمت ہار بیٹھے ہیں\n\nنہ پوچھو کون ہیں کیا مدعا ہے کچھ نہیں بابا\nگدا ہیں اور زیر سایۂ دیوار بیٹھے ہیں\n\nیہ ہو سکتا نہیں آزادؔ سے مے خانہ خالی ہو\nوہ دیکھو کون بیٹھا ہے وہی سرکار بیٹھے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ پوچھو کہ قائمؔ کا کیا حال ہے", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ پوچھو کہ قائمؔ کا کیا حال ہے\nکچھ اک ڈھیر ہڈیوں کا یا کھال ہے\n\nجو بیٹھے تو ہے روئے قالیں کا نقش\nکھڑا ہو تو کاغذ کی تمثال ہے\n\nکھٹکتا ہے پہلو میں یوں ہم نشیں\nکہے تو یہ دل تیر کی بھال ہے\n\nگرفتار ہے جو تری زلف کا\nوہ ہر قید سے فارغ البال ہے\n\nاٹھا روند ڈالے اک عالم کے دل\nبھلا شوخ یہ بھی کوئی چال ہے\n\nالجھتا ہے جی شیخ کی ریش دیکھ\nوہ سچ ہے مثل بال جنجال ہے\n\nدھڑکنے کا دل پر ہے گاہے ہجوم\nگہے چشم گریہ کی پامال ہے\n\nیہ گویا در دولت عشق پر\nدل و دیدہ سامان گھڑیال ہے\n\nخوش آئی ہے قائمؔ یہی گر زمیں\nتو پھر کہہ نہ مضموں کا کیا کال ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%85%D8%94_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ پھر رکھیں گے تیری رہ میں پا ہم", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ پھر رکھیں گے تیری رہ میں پا ہم\nگئے گزرے ہیں آخر ایسے کیا ہم\n\nکھنچے گی کب وہ تیغ ناز یا رب\nرہے ہیں دیر سے سر کو جھکا ہم\n\nنہ جانا یہ کہ کہتے ہیں کسے پیار\nرہیں بے لطفیاں ہی یاں تو باہم\n\nبنے کیا خال و زلف و خط سے دیکھیں\nہوئے ہیں کتنے یہ کافر فراہم\n\nمرض ہی عشق کا بے ڈول ہے کچھ\nبہت کرتے ہیں اپنی سی دوا ہم\n\nکہیں پیوند ہوں یا رب زمیں کے\nپھریں گے اس سے یوں کب تک جدا ہم\n\nہوس تھی عشق کرنے میں ولیکن\nبہت نادم ہوئے دل کو لگا ہم\n\nکب آگے کوئی مرتا تھا کسی پر\nجہاں میں کر گئے رسم وفا ہم\n\nتعارف کیا رہا اہل چمن سے\nہوئے اک عمر کے پیچھے رہا ہم\n\nموا جس کے لئے اس کو نہ دیکھا\nنہ سمجھے میرؔ کا کچھ مدعا ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%A7_%DB%81%D9%85"} {"title": "نہ پہنچا ساتھ یارانۂ سفر کی ناتوانی سے", "poet_page": "مصنف:طالب علی خان عیشی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ پہنچا ساتھ یارانۂ سفر کی ناتوانی سے\nمیں سر پٹکا کیا اک عمر سگ سخت جانی سے\n\nادا فہمان شوق وصل ہو طور تجلی پر\nمزہ دیدار کا ملتا ہے بانگ لن ترانی سے\n\nمرید مرشد ہمت ہوں میں میری طریقت میں\nکفن بھی ساتھ لانا ننگ ہے دنیائے فانی سے\n\nوہ سرگرم بیان سوزش داغ محبت ہوں\nحضر کرتا ہے شعلہ بھی مری آتش بیانی سے\n\nہمارے غنچۂ دل کو تبسم کی نہ دی فرصت\nرہا ہم کو یہ شکوہ لطمۂ باد خزانی سے\n\nشراب عشق کا ساغر دیا ہے مجھ کو ساقی نے\nنہ اٹھوں گا میں محشر کو بھی اپنی سرگرانی سے\n\nہمیں وہ راہ بتلائی ہے خضر عشق نے عیشیؔ\nنشان رفتگاں پیدا ہے جس میں بے نشانی سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B3%DB%92"} {"title": "نہ پہنچے ہاتھ جس کا ضعف سے تا زیست دامن تک", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ پہنچے ہاتھ جس کا ضعف سے تا زیست دامن تک\nسراغ خوں اب اس کا مر کے جائے خاک گردن تک\n\nسر و ساماں سے ہیں یہ بے سر و سامانیاں اپنی\nکہ ہے جوش جنوں میرا گریباں گیر دامن تک\n\nنہ کی غفلت سے قدر دل عبث الزام دل بر پر\nمتاع خفتہ کے جانے کے سو رستے ہیں رہزن تک\n\nیہ حیلہ بھی نہیں کم موت کے آنے کو گر آئے\nنہ آئے جو کہ بالیں پر وہ کیا جائے گا مدفن تک\n\nکچھ ایسا اختلاط آپس سے اٹھا اس زمانے میں\nنہ قاتل آئے ہے مجھ تک نہ جائے موت دشمن تک\n\nمری محنت کا ضائع ہونا ہی تو اک قیامت ہے\nکہ باد و برق آفت میں رہیں گے میرے خرمن تک\n\nوفا کی نذر ہے میری ہی جان حسرت آلودہ\nاثر کی قدر ہے میری ہی آہ قافلہ زن تک\n\nغبار دل کسی ڈھب سے نہ قاتل کا ہوا ثابت\nکہ صاف اس کی ہوا کی تیغ مجھ سے میرے کشتن تک\n\nمیں اپنے حوصلے سے اور وہ اپنے جامے سے باہر\nنہ خنجر کا اسے کھٹکا نہ یاں صرفہ ہے گردن تک\n\nنہیں ہوتا رفو چاک گریبان فنا ہرگز\nمنگائیں چرخ چارم سے اگر عیسیٰ کی سوزن تک\n\nگراں جانی چمن میں بھی نشانہ ہو گئی آخر\nکہ بار دوش گلبن ہے مری شاخ نشیمن تک\n\nقلقؔ مرتا ہے اور ہوتا ہے ماتم کا یہ ہنگامہ\nمگر رونا ہے اس کا تو نہ آیا بزم شیون تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%B6%D8%B9%D9%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%A7_%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "نہ پیارے اوپر اوپر مال ہر صبح مسا چکھو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ پیارے اوپر اوپر مال ہر صبح مسا چکھو\nہمارے پاس بھی اک رات تو سو کر مزا چکھو\n\nملا دو دل کو اپنے دل سے میرے ایک ہو جاؤ\nبدن کو وصل کر دو لذت مہر و وفا چکھو\n\nکباب لخت دل میرے نمک سود محبت ہیں\nتمہارے واسطے لایا ہوں سینے پر ذرا چکھو\n\nرکھو نوک زباں پر بھر کے انگلی خون سے میرے\nیہ میٹھا ہے کہ کڑوا ٹک تو اس کا ذائقہ چکھو\n\nسحر خورشید لاوے گر تمہارے سامنے گردہ\nسمجھ کر مصحفیؔ تم اس کو اپنا ناشتہ چکھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D9%88%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D9%BE%D8%B1_%D9%85%D8%A7%D9%84_%DB%81%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%85%D8%B3%D8%A7_%DA%86%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "نہ چھوڑا دل خستہ جاں چلتے چلتے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ چھوڑا دل خستہ جاں چلتے چلتے\nغضب کر چلے مہرباں چلتے چلتے\n\nکہیں گے کچھ اے باغباں چلتے چلتے\nاگر دے گی یارا زباں چلتے چلتے\n\nگرے ہم پس کارواں چلتے چلتے\nتھکے پاؤں اپنے کہاں چلتے چلتے\n\nتری چال باد خزاں نے اڑائی\nاجاڑا مرا آشیاں چلتے چلتے\n\nکرو آنکھیں جھپکا کے ترچھی نگاہیں\nسنانیں چلیں برچھیاں چلتے چلتے\n\nبھریں سرد آہیں جو گرم آہ بھر کے\nنسیم آئی باد خزاں چلتے چلتے\n\nنہ گھبرا ذرا دامن روز محشر\nکروں گا تری دھجیاں چلتے چلتے\n\nعدم کو چلے قید زلف صنم میں\nرہیں پاؤں میں بیڑیاں چلتے چلتے\n\nدم نزع سر پر گرے کوہ الفت\nاٹھائیں بڑی سختیاں چلتے چلتے\n\nمری لاش کو پاؤں سے خوب روندا\nتھمے صورت آسماں چلتے چلتے\n\nبس اب تو عدم میں ملاقات ہوگی\nیہ کہتے گئے رفتگاں چلتے چلتے\n\nنہ قاتل نے تیغ نگہ تک لگائی\nنہ کرتا گیا امتحاں چلتے چلتے\n\nجہاں سے گئے حشر تک خوب سوئے\nلیا ساتھ خواب گراں چلتے چلتے\n\nرہے عمر بھر تیری وحدت کے قائل\nنہ لیں ہم نے دو ہچکیاں چلتے چلتے\n\nرشیدؔ حزیں لاکھ روکا کیے ہم\nوہ لیتے گئے نقد جاں چلتے چلتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%AE%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%92_%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%92"} {"title": "نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوست", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوست\nنہ چھوڑا پیچھے جیتا کوئی اے دوست\nرہیں نالاں نہ کیونکر مثل نے دوست\nستم گذرا غضب ہے دوست ہے دوست\n\nکہاں آیا تو اپنے پاؤں چل کر\nجہاں سر یوں دیا آخر کو جل کر\nکہیں سو کیا کہیں اب ہاتھ مل کر\nیہی کہتے ہیں سب ہے دوست ہے دوست\n\nہوئے درپے سبھی ناموس و جاں کے\nتھے اسلامی ترے دشمن کہاں کے\nبکھر جاتے ہیں جی پیر و جواں کے\nکہیں ہیں لڑکے جب ہے دوست ہے دوست\n\nفلک کی چال کینے کی نہ سمجھا\nہوا پامال تو نقش قدم سا\nگیا سر کیوں کبھو تونے تو اس جا\nنہ رکھا پا کڈھب ہے دوست ہے دوست\n\nوطن سب کا عرب مدت کا باسا\nامام دیں محمدؐ کا نواسا\nموا آنکھوں کے آگے سب کے پیاسا\nعجب بل صد عجب ہے دوست ہے دوست\n\nجنھوں سے تھی امید مہربانی\nدریغ ان سب نے رکھا تجھ سے پانی\nہوئی دریا پہ مشکل زندگانی\nموا تو تشنہ لب ہے دوست ہے دوست\n\nہوئی نانا کی امت دشمن جاں\nرہا تو دیر خاک و خوں میں غلطاں\nرہی دیں داری و اسلام و ایماں\nنہ عزت نے ادب ہے دوست ہے دوست\n\nسبب ہو تو کہے کوئی موالی\nکہاں کی دشمنی تجھ سے نکالی\nنہیں مرنا ترا حسرت سے خالی\nگیا جی بے سبب ہے دوست ہے دوست\n\nبھتیجے بھائی بیٹے تیرے پیارے\nگئے ناچار ہوکر جی سے مارے\nترے حصے میں کیا آئے تھے سارے\nغم و رنج و تعب ہے دوست ہے دوست\n\nاٹھائے تونے کیا کیا رنج و محنت\nگیا لے یاں سے کیسی کیسی حسرت\nیہ گر ایام پر پڑتی مصیبت\nتو دن ہوجاتے شب ہے دوست ہے دوست\n\nوطن سے ہائے کر کر رہ گرائی\nمصیبت دیکھی یا ایذا اٹھائی\nگیا جی سے ولے تونے نہ پائی\nزمیں بھی یک وجب ہے دوست ہے دوست\n\nسنی ہے مرگ ایسی بھی بہت کم\nرکے جاتے ہیں جی ہر لحظہ ہر دم\nکہیں کیا با ہزار افسوس و غم ہم\nکہا کرتے ہیں اب ہے دوست ہے دوست\n\nغیور ایسا نہ کوئی ہم نے پایا\nجگر حسرت نے پانی کر دکھایا\nموا لب خشک پر لب پر نہ لایا\nکبھو حرف طلب ہے دوست ہے دوست\n\nترے اندوہ کہنے میں نہ آئے\nکڑوڑوں لاکھوں غم جی میں سمائے\nیہی افسوس کر سب کہنے پائے\nعجم سے تا عرب ہے دوست ہے دوست\n\nترے ماتم کے جب پڑتے ہیں اسباب\nنہیں رہتی جیوں میں مطلقاً تاب\nجگر پھٹتے ہیں کس حسرت سے احباب\nکہیں ہیں زیر لب ہے دوست ہے دوست\n\nکہوں یہ واقعہ آگے تو غم ہو\nدلوں کو میرؔ صدگونہ الم ہو\nموا جس طرح وہ ثابت قدم ہو\nمرے یوں کوئی کب ہے دوست ہے دوست", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%8C_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA"} {"title": "نہ چھوڑی غم نے مرے اک جگر میں خون کی بوند", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ چھوڑی غم نے مرے اک جگر میں خون کی بوند\nکہاں سے اشک کا ہو کہیے چشم تر میں اثر\n\nہو اس کے ساتھ یہ بے التفاتی گل کیوں\nجو عندلیب کے ہو نالۂ سحر میں اثر\n\nکسی کا قول ہے سچ سنگ کو کرے ہے موم\nرکھا ہے خاص خدا نے یہ سیم و زر میں اثر\n\nجو آہ نے فلک پیر کو ہلا ڈالا\nتو آپ ہی کہیے کہ ہے گا یہ کس اثر میں اثر\n\nجو دیکھ لے تو جہنم کی پھیرے بندھ جائے\nہے میری آہ کے وہ ایک اک شرر میں اثر\n\nبگاڑیں چرخ سے ہم عیشؔ کس بھروسے پر\nنہ آہ میں ہے نہ سوز دل و جگر میں اثر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%8C_%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%88%D9%86%D8%AF"} {"title": "نہ چھٹا ہاتھ سے یک لحظہ گریباں میرا", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ چھٹا ہاتھ سے یک لحظہ گریباں میرا\nچشم تر ہی پہ رہا گوشۂ داماں میرا\n\nجس طرف گزرے کرے روئے زمیں کو گل زار\nسیر گلشن سے پھرے جب گل خنداں میرا\n\nکھیلیں آپس میں پری چہرہ جہاں زلفیں کھول\nکون پوچھے ہے وہاں حال پریشاں میرا\n\nبخت ہیں شور یہ اپنے ہی کہ وہ نوشیں لب\nاوروں کا چشمۂ حیواں ہے نمکداں میرا\n\nاوروں کی آنکھوں کو دیکھوں ہوں میں دیدار نصیب\nبنا رونے کو یہی دیدۂ گریاں میرا\n\nدور اس لب سے جو گزرے ہے دل پر خوں پر\nجانے میرا ہی جگر اور یہ دنداں میرا\n\nبے اجل مرتا رہا عشق میں اس کے عمر بھر\nکہوں کس منہ پہ میں حسرتؔ وہ ہے جاناں میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DA%A9_%D9%84%D8%AD%D8%B8%DB%81_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے\nشراب پینے دے خانہ خراب پینے دے\n\nابھی سے اپنی نصیحت کا زہر دے نہ مجھے\nابھی تو پینے دے اور بے حساب پینے دے\n\nمیں جانتا ہوں چھلکتا ہوا گناہ ہے یہ\nتو اس گناہ کو بے احتساب پینے دے\n\nپھر ایسا وقت کہاں ہم کہاں شراب کہاں\nطلسم دہر ہے نقش بر آب پینے دے\n\nمرے دماغ کی دنیا کا آفتاب ہے یہ\nملا کے برف میں یہ آفتاب پینے دے\n\nکسی حسینہ کے بوسوں کے قابل اب نہ رہے\nتو ان لبوں سے ہمیشہ شراب پینے دے\n\nسمجھ کے اس کو غفور‌‌ الرحیم پیتا ہوں\nنہ چھیڑ ذکر عذاب و ثواب پینے دے\n\nجو روح ہو چکی اک بار داغدار مری\nتو اور ہونے دے لیکن شراب پینے دے\n\nشراب خانے میں یہ شور کیوں مچایا ہے\nخموش اخترؔ خانہ خراب پینے دے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91_%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D9%86%D8%A7%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%BE%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%92"} {"title": "نہ ڈرے برق سے دل کی ہے کڑی میری آنکھ", "poet_page": "مصنف:تعشق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ڈرے برق سے دل کی ہے کڑی میری آنکھ\nاس کی زنجیر طلائی سے لڑی میری آنکھ\n\nاپنے بیمار کو رکھتی ہے چھپا کر تہ خاک\nکہتے ہیں صاحب غیرت ہے بڑی میری آنکھ\n\nخاک میں مل کے عیاں ہوں گل نرگس بن کر\nدیکھ لے گر تری پھولوں کی چھڑی میری آنکھ\n\nاس طرح ذبح کیا تیغ نگہ سے مجھ کو\nخود وہ کہتے ہیں کہ ظالم ہے بڑی میری آنکھ\n\nدل میں ہے کچھ اثر جوش محبت اب تک\nتر ہوئی دیکھ کے ساون کی جھڑی میری آنکھ\n\nحسرت دید میں پتھرا کے بنی سنگ در\nنہ ہٹی پھر ترے در پر جو اڑی میری آنکھ\n\nرات بھر اشک کے دانوں پہ گنا کرتی ہے\nفرقت یار میں ایک ایک گھڑی میری آنکھ\n\nدل کے ٹکڑے مری پلکوں میں جو دیکھا تو کہا\nجانتی تھی انہیں پھولوں کی چھڑی میری آنکھ\n\nرکھ لیے پیش حباب لب جو منہ پر ہاتھ\nنظر آئی انہیں دریا میں پڑی میری آنکھ\n\nدوڑ کر مجھ سے گلے مل گئے ملتے ہی نظر\nدل کی تقدیر لڑی یا کہ لڑی میری آنکھ\n\nاے شب وصل نہ معلوم یہ کیا کر گئی تو\nبند ہوتی نہیں اب کوئی گھڑی میری آنکھ\n\nکہتے ہیں آنکھ لڑاتے ہی تو پتھر بن جائے\nہے ترا دل تو بہت نرم کڑی میری آنکھ\n\nیاد خال رخ جاناں کی مدد سے ناصح\nشب فرقت کے ستاروں سے لڑی میری آنکھ\n\nہو گئی فرط نزاکت سے حیا کی شہرت\nآ گیا ان کو پسینہ جو لڑی میری آنکھ\n\nہے جو اشکوں میں اداہٹ تو نہ گھبرا اے دل\nروئی ہے دیکھ کے مسی کی دھڑی میری آنکھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%88%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DA%91%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE"} {"title": "نہ کام فکر سے نکلا نہ چل سکی تدبیر", "poet_page": "مصنف:ہوش بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کام فکر سے نکلا نہ چل سکی تدبیر\nکسی طرح سے نہ بدلی پھری ہوئی تقدیر\n\nضمیر دہر سے اندیشۂ خزاں نہ گیا\nبہار میں بھی زمانہ ہے درد کی تصویر\n\nتعینات میں الجھی ہوئی ہے فکر حیات\nمرے زوال کی تمہید ہے مری تعمیر\n\nاب اعتراف خطا پر نہ اس نگاہ سے دیکھ\nکہ ہو نہ جائے کہیں مجھ سے پھر کوئی تقصیر\n\nزبان عام میں کہتے ہیں کائنات جسے\nحقیقت غم دل کی ہے مختصر تفسیر\n\nنہیں خدا کی زمیں تنگ اے چمن والو\nکریں گے اور کہیں ہم اب آشیاں تعمیر\n\nزمانہ ہوشؔ بدلنے کو ہے نئی کروٹ\nبجھے پڑے ہیں بہت دن سے قلب و روح و ضمیر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%86%D9%84_%D8%B3%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1"} {"title": "نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا\nجو اپنے بس کا نہیں اس کا آسرا نہ لگا\n\nحیات لذت آزار کا ہے دوسرا نام\nنمک چھڑک تو چھڑک زخم پر دوا نہ لگا\n\nمرے خیال کی دنیا میں اس جہاں سے دور\nیہ بیٹھے بیٹھے ہوا گم کہ پھر پتا نہ لگا\n\nخوشی یہ دل کی ہے اس میں نہیں ہے عقل کو دخل\nبرا وہ کہتے رہے اور کچھ برا نہ لگا\n\nچمک سے برق کی کم تر ہے وقفۂ دیدار\nنظر ہٹی کہ اسے ہاتھ اک بہانہ لگا\n\nمری تلاش تھی تشویش دیدۂ بے نور\nوہ ملتے کیا مجھے اپنا ہی جب پتا نہ لگا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B4_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%84%DA%AF%D8%A7"} {"title": "نہ کر ذکرِ فراق و آشنائی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "نہ کر ذکرِ فراق و آشنائی\nکہ اصلِ زندگی ہے خود نُمائی\nنہ دریا کا زیاں ہے، نے گُہر کا\nدلِ دریا سے گوہر کی جُدائی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%90_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%D9%88_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "نہ کر فاش رازِ گلستاں عبث", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کر فاش رازِ گلستاں عبث\nنہ ہو بلبلِ زار نالاں عبث\n\nکفایت تھی مجھ کو تو چینِ جبیں\nکیا قتل کا اور ساماں عبث\n\nمقدم ہے ترکِ عدو کی قسم\nوگرنہ یہ سب عہد و پیماں عبث\n\nجو آیا ہے وادی میں تو صبر کر\nشکایاتِ خارِ مغیلاں عبث\n\nتکبر گدائے خرابات ہے\nنہ اے خواجہ کھو جان و ایماں عبث\n\nوہاں صوتِ مینا و آوازِ ساز\nخوش آہنگیِ مرغِ شب خواں عبث\n\nوہاں دس بجے دن کو ہوتی ہے صبح\nسحر خیزیِ عندلیباں عبث\n\nدمِ خضر ہے چشمۂ زندگی\nسکندر سرِ آبِ حیواں عبث\n\nپری کا وہاں مجھ کو سایہ ہوا\nنہیں اشتیاقِ دبستاں عبث\n\nطلب گارِ راحت ہیں نا دردمند\nاگر درد ہے فکرِ درماں عبث\n\nیہ نازک مزاجوں کا دستور ہے\nخشونت سے اندوہِ حرماں عبث\n\nشکایت کو اس نے سنا بھی نہیں\nکھلا غیر پر رازِ پنہاں عبث\n\nمرے غم میں گیسوئے مشکیں نہ کھول\nنہ ہو خلق کا دشمنِ جاں عبث\n\nمحبت جتاتا ہوں ہر طور سے\nاثر کی نظر سوئے افغاں عبث\n\nنہ سمجھا کسی نے مجھے گل نہ صبح\nہوا ٹکڑے ٹکڑے گریباں عبث\n\nمجھے یوں بٹھاتے وہ کب بزم میں\nاٹھائے رقیبوں نے طوفاں عبث\n\nیہ اندازِ دل کش کہاں شیفتہ\nجگر کاویِ مرغِ بستاں عبث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D9%81%D8%A7%D8%B4_%D8%B1%D8%A7%D8%B2%D9%90_%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%B9%D8%A8%D8%AB"} {"title": "نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتا", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتا\nکہ نیچے آسماں کے اور پیدا آسماں ہوتا\n\nکہے ہے مرغ دل اے کاش میں زاغ کماں ہوتا\nکہ تا شاخ کماں پر اس کی میرا آشیاں ہوتا\n\nابھی کیا سرد قاتل یہ شہید تفتہ جاں ہوتا\nکوئی دم شمع مردہ میں بھی ہے باقی دھواں ہوتا\n\nنہ ہوتی دل میں کاوش گر کسی کی نوک مژگاں کی\nتو کیوں حق میں مرے ہر موئے تن مثل سناں ہوتا\n\nعزا داری میں ہے کس کی یہ چرخ ماتمی جامہ\nکہ حبیب چاک کی صورت ہے خط کہکشاں ہوتا\n\nبگولا گر نہ ہوتا وادئ وحشت میں اے مجنوں\nتو گنبد ہم سے سرگشتوں کی تربت پر کہاں ہوتا\n\nجو روتا کھول کر دل تنگ نائے دہر میں عاشق\nتو جوئے کہکشاں میں بھی فلک پر خوں رواں ہوتا\n\nنہ رکھتا گر نہ رکھتا منہ پہ یہ دانا مریض غم\nمگر تیرا میسر بوسۂ خال دہاں ہوتا\n\nترے خونیں جگر کی خاک پر ہوتا اگر سبزہ\nتو مژگاں کی طرح اس سے بھی پیہم خوں رواں ہوتا\n\nرکاوٹ دل کی اس کافر کے وقت ذبح ظاہر ہے\nکہ خنجر میری گردن پر ہے رک رک کر رواں ہوتا\n\nنہ کرتا ضبط میں گریہ تو اے ذوقؔ اک گھڑی بھر میں\nکٹورے کی طرح گھڑیال کے غرق آسماں ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%D8%B6%D8%A8%D8%B7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں\nکسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں\n\nنہ دوائے درد جگر ہوں میں نہ کسی کی میٹھی نظر ہوں میں\nنہ ادھر ہوں میں نہ ادھر ہوں میں نہ شکیب ہوں نہ قرار ہوں\n\nمرا وقت مجھ سے بچھڑ گیا مرا رنگ روپ بگڑ گیا\nجو خزاں سے باغ اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں\n\nپئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوں\nکوئی آ کے شمع جلائے کیوں میں وہ بیکسی کا مزار ہوں\n\nنہ میں لاگ ہوں نہ لگاؤ ہوں نہ سہاگ ہوں نہ سبھاؤ ہوں\nجو بگڑ گیا وہ بناؤ ہوں جو نہیں رہا وہ سنگار ہوں\n\nمیں نہیں ہوں نغمۂ جاں فزا مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا\nمیں بڑے بروگ کی ہوں صدا میں بڑے دکھی کی پکار ہوں\n\nنہ میں مضطرؔ ان کا حبیب ہوں نہ میں مضطرؔ ان کا رقیب ہوں\nجو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "نہ کنشت و کلیسا سے کام ہمیں در دیر نہ بیت حرم سے غرض", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کنشت و کلیسا سے کام ہمیں در دیر نہ بیت حرم سے غرض\nکہ ازل سے ہمارے سجدوں کو رہی تیرے ہی نقش قدم سے غرض\n\nجو تو مہر ہے تو ذرہ ہم ہیں تو بحر ہے تو قطرہ ہم ہیں\nتو صورت ہے ہم آئینہ ہمیں تجھ سے غرض تجھے ہم سے غرض\n\nنہ نشاط وصال نہ ہجر کا غم نہ خیال بہار نہ خوف خزاں\nنہ سقر کا خطر ہے نہ شوق ارم نہ ستم سے حذر نہ کرم سے غرض\n\nرکھا کوچۂ عشق میں جس نے قدم ہوا حضرت عشق کا جس پہ کرم\nاسے آپ سے بھی سروکار نہیں جو غرض ہے تو اپنے صنم سے غرض\n\nتری یاد ہو اور دل بیدمؔ ہو ترا درد ہو اور دل بیدمؔ ہو\nبیدمؔ کو رہے ترے غم سے غرض ترے غم کو رہے بیدمؔ سے غرض", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%86%D8%B4%D8%AA_%D9%88_%DA%A9%D9%84%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D8%AA_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%B1%D8%B6"} {"title": "نہ کوئی ان کے سوا اور جان جاں دیکھا", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کوئی ان کے سوا اور جان جاں دیکھا\nوہی وہی نظر آئے گا جہاں جہاں دیکھا\n\nبہشت میں بھی اسی حور کو رواں دیکھا\nیہاں جو دیکھ چکے تھے وہی وہاں دیکھا\n\nخزان عمر کجا و کجا بہار شباب\nفلک کو رشک ہوا کوئی جب جواں دیکھا\n\nگئے جہان سے جو لوگ دو جہاں سے گئے\nکسی نے پھر نہ کبھی اپنا کارواں دیکھا\n\nجلایا بزم میں ہر روز شمع کے مانند\nہزاروں باتیں سنائیں جو بے زباں دیکھا\n\nقیامت آئی یہ تڑپا فراق میں اے برقؔ\nنہ پھر زمین کو پایا نہ آسماں دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا\nنہ کوئی حسن تھا نہ کوئی عشق تھا نہ یہی نام تھا نہ وہی نام تھا\n\nنہ کوئی تھا مکیں نہ کوئی تھا مکاں نہ کوئی تھی زمیں نہ کوئی تھا زماں\nنہ کوئی شرق تھا نہ کوئی غرب تھا نہ دم صبح تھا نہ سر شام تھا\n\nازل لایزل ابد بے بدل جو بنے آج کل افق صد عمل\nنہ کہیں تھے خفی نہ کہیں تھے جلی نہ کوئی تھا نشاں نہ کوئی نام تھا\n\nطلب مدعا ہوس ناروا جو کبھی کچھ کہا وہ ہوئے بے مزہ\nوہ بجائے جزا سخن ناسترا شجر حرص کا ثمر خام تھا\n\nجو لگے آگ بھی تو نہ ہو ضو فشاں جو بجھے شعلہ بھی تو نہ اٹھے دھواں\nنہ گلہ ہجر کا نہ صلہ عشق کا یہ وہی حکم تھا جو مرے نام تھا\n\nجو بجھی شمع دل تو بڑھی روشنی جو پیا زہر غم تو بڑھی زندگی\nیہ تو ہی اب بتا ذرا منصفی یہ ترا کام تھا کہ مرا کام تھا\n\nسخن آرزوؔ چمن آرزو ختن آرزو عدن آرزو\nیہ در بے صدف قمر با شرف نہ تہ خانہ تھا نہ سر بام تھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D9%84%D9%88%D8%AA%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%AA%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%D8%B5_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B9%D8%A7%D9%85_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "نہ کوئی دوست دشمن ہو شریک درد و غم میرا", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کوئی دوست دشمن ہو شریک درد و غم میرا\nسلامت میری گردن پر رہے بار الم میرا\n\nلکھا یہ داور محشر نے میری فرد عصیاں پر\nیہ وہ بندہ ہے جس پر ناز کرتا ہے کرم میرا\n\nکہا غنچہ نے ہنس کر واہ کیا نیرنگ عالم ہے\nوجود گل جسے سمجھے ہیں سب ہے وہ عدم میرا\n\nکشاکش ہے امید و یاس کی یہ زندگی کیا ہے\nالٰہی ایسی ہستی سے تو اچھا تھا عدم میرا\n\nدل احباب میں گھر ہے شگفتہ رہتی ہے خاطر\nیہی جنت ہے میری اور یہی باغ ارم میرا\n\nمجھے احباب کی پرسش کی غیرت مار ڈالے گی\nقیامت ہے اگر افشا ہوا راز الم میرا\n\nکھڑی تھیں راستہ روکے ہوئے لاکھوں تمنائیں\nشہید یاس ہوں نکلا ہے کس مشکل سے دم میرا\n\nخدا نے علم بخشا ہے ادب احباب کرتے ہیں\nیہی دولت ہے میری اور یہی جاہ و حشم میرا\n\nزبان حال سے یہ لکھنؤ کی خاک کہتی ہے\nمٹایا گردش افلاک نے جاہ و حشم میرا\n\nکیا ہے فاش پردہ کفر و دیں کا اس قدر میں نے\nکہ دشمن ہے برہمن اور عدو شیخ حرم میرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%DB%81%D9%88_%D8%B4%D8%B1%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "نہ کچھ تکرار تم کو ہے نہ کچھ شکوہ ہمارا ہے", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کچھ تکرار تم کو ہے نہ کچھ شکوہ ہمارا ہے\nیہ دل کیا چیز ہے اب جان تک دینا گوارا ہے\n\nدم رفتار اٹھا فتنے قیامت کا اشارہ ہے\nترا منہ دیکھنا خورشید محشر کو نظارا ہے\n\nوہ مہ رو اے فلک پھرتا ہے ہر شب میری آنکھوں میں\nتصور نے مرے غم خانے میں اک چاند تارا ہے\n\nسر بالیں نہ پایا تجھ کو اے عیسیٰ تو گھبرا کر\nشب فرقت میں عزرائیل کو ہم نے پکارا ہے\n\nفلک قاتل ہے تیغ ماہ نو کے زخم ہیں تن پر\nشفق ہے خوں ہمارا چاندنی نے ہم کو مارا ہے\n\nبجا ہے تجھ سے اے بت خلق کو دعویٰ محبت کا\nخدا واحد ہے پر ہر شخص کہتا ہے ہمارا ہے\n\nمیں ہوں اے ہم صفیر بلبل زار اس گلستاں کا\nجو ٹھیکے میں ہے صیادوں کے گلچیں کا اجارا ہے\n\nنہ پوچھو حال کچھ دل کی لگی کا مجھ جلے تن کی\nجہنم جس کو کہتے ہیں وہ اس کا اک شرارا ہے\n\nسیہ کاری ہی میں نے عمر بھر کی تیرہ بختی سے\nترا حال سیہ کیا میری قسمت کا ستارہ ہے\n\nمجھے بھی پار اترنا ہے ڈبو کر کشتیٔ تن کو\nکنارا گور کا گر بحر الفت کا کنارا ہے\n\nگرا ہوں کیا جدائی میں بہ زور ناتوانی سے\nنہ طاقت آہ کرنے کی نہ اف کرنے کا یارا ہے\n\nنکلتا ہے مرا دم مجمع یاراں ہے بالیں پر\nنہ منہ سے بات ہوتی ہے نہ آنکھوں سے اشارہ ہے\n\nفروغ خال روئے آتشیں پر ہو نہیں ممکن\nکہیں خورشید کے بھی سامنے چمکا ستارہ ہے\n\nبنایا دانۂ انگور کا کنٹھا ہے مستی میں\nچمن میں بہر مے خواری کیا جب استخارا ہے\n\nکسی صورت مری بخشش نہیں اے عرشؔ ہے ممکن\nپیمبر کا وسیلہ ابر رحمت کا سہارا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ کچھ ستم سے ترے آہ آہ کرتا ہوں", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کچھ ستم سے ترے آہ آہ کرتا ہوں\nمیں اپنے دل کی مدد گاہ گاہ کرتا ہوں\n\nنہ آفریں نہ دلاسا نہ دل دہی نہ نگاہ\nغرض میں ہی ہوں جو تجھ سے نباہ کرتا ہوں\n\nاسے کہیں ہیں سنا ہوگا شیخ خوف و رجا\nادھر تو توبہ ادھر میں گناہ کرتا ہوں\n\nتو اپنے دل کی سیاہی کرے ہے دھو کے سفید\nمیں اپنے نامہ عمل کا سیاہ کرتا ہوں\n\nتو روز سنگ سے مسجد کے سر پٹکتا ہے\nمیں اس کا نقش قدم سجدہ گاہ کرتا ہوں\n\nتجھے ہے اپنی عبادت اوپر نظر کیوں کر\nمیں اس کے فضل کے اوپر نگاہ کرتا ہوں\n\nمثال رشتۂ تسبیح روز و شب حاتمؔ\nچھپے چھپے میں کسی دل میں راہ کرتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A2%DB%81_%D8%A2%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "نہ کھلے عقد ہائے ناز و نیاز", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کھلے عقد ہائے ناز و نیاز\nحسن بھی راز اور عشق بھی راز\n\nراز کی جستجو میں مرتا ہوں\nاور میں خود ہوں ایک پردۂ راز\n\nبال و پر میں مگر کہاں پائیں\nبوئے گل یعنی ہمت پرواز\n\nساز دل کیا ہوا وہ ٹوٹا سا\nساری ہستی ہے گوش بر آواز\n\nلذت سجدۂ ہائے شوق نہ پوچھ\nہائے وہ اتصال ناز و نیاز\n\nدیکھ رعنائی حقیقت کو\nعشق نے بھر دیا ہے رنگ مجاز\n\nساز ہستی کا جائزہ کیسا\nتار کیا دیکھ تار کی آواز", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%92_%D8%B9%D9%82%D8%AF_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D9%88_%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%B2"} {"title": "نہ کھینچو عاشق تشنہ جگر کے تیر پہلو سے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کھینچو عاشق تشنہ جگر کے تیر پہلو سے\nنکالے پر ہے مثل ماہی تصویر پہلو سے\n\nنہ لے اے ناوک افگن دل کو میرے چیر پہلو سے\nکہ وہ تو جا چکا ساتھ آہ کے جوں تیر پہلو سے\n\nدل سیپارہ کو لے ٹانک تعویذوں میں ہیکل کے\nنہ سرکا یہ حمائل اے بت بے پیر پہلو سے\n\nوہ ہوں بے دست و پا بسمل رسائی جب نہ ہاتھ آئی\nکیا تا پائے قاتل از تہ شمشیر پہلو سے\n\nاسیر زلف دیوانے ہیں دیکھ اے پاسباں شب کو\nدبا کر بیٹھ ان کے پاؤں کی زنجیر پہلو سے\n\nمصور لیلیٰ و مجنوں کی ناکامی پہ حیراں ہیں\nکبھی بیٹھا نہ مل کر پہلوئے تصویر پہلو سے\n\nیہ دل لب تشنہ تیغ یار کا ہے رات بھر کرتا\nصدائے العطش جوں نالۂ شب گیر پہلو سے\n\nعجب حسرت کا عالم تھا کہ مجنوں کہتا تھا پیہم\nچھٹے پہلو مرے محمل کا یا تقدیر پہلو سے\n\nنہ کہنا استخواں ان کو یہ عالم لاغری کا ہے\nکہ ہے دکھلا رہا میرا دل دلگیر پہلو سے\n\nخیال ابروئے جاناں نہیں اب بھولتا اک دم\nسپاہی ہے جدا کرتا نہیں شمشیر پہلو سے\n\nتمام اہل سخن بزم سخن میں ذوقؔ حیراں ہیں\nملا جو قافیہ تو نے کیا تحریر پہلو سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%AA%D8%B4%D9%86%DB%81_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D8%B3%DB%92"} {"title": "نہ کہو اعتبار ہے کس کا", "poet_page": "مصنف:شیخ علی بخش بیمار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کہو اعتبار ہے کس کا\nبے وفائی شعار ہے کس کا\n\nاے اجل شام ہجر آ پہنچی\nاب تجھے انتظار ہے کس کا\n\nعشق سے میں خبر نہیں یا رب\nداغ دل یادگار ہے کس کا\n\nدل جو ظالم نہیں تری جاگیر\nتو یہ اجڑا دیار ہے کس کا\n\nمحتسب پوچھ مے پرستوں سے\nنام آمرزگار ہے کس کا\n\nبزم میں وہ نہیں اٹھاتے آنکھ\nدیکھنا ناگوار ہے کس کا\n\nپہنے پھرتا ہے ماتمی پوشاک\nآسماں سوگوار ہے کس کا\n\nچین سے سو رہو گلے لگ کر\nشوق بے اختیار ہے کس کا\n\nآپ سا سب کو وہ سمجھتے ہیں\nمعتبر انکسار ہے کس کا\n\nیار کے بس میں ہے امید وصال\nیار پر اختیار ہے کس کا\n\nآپ بیمارؔ ہم ہوئے رسوا\nسرنگوں رازدار ہے کس کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نہ کہہ حق میں بزرگوں کی کڑی بات", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کہہ حق میں بزرگوں کی کڑی بات\nکہیں گے لوگ چھوٹا منہ بڑی بات\n\nکہے اک بات پھولے سو شگوفے\nشریروں نے بنائی پھلجھڑی بات\n\nمتانت ہے بہت کم بولتی میں\nخموشی دوپہر ہو دو گھڑی بات\n\nمجھے بھاتا ہے ہلکانا تمہارا\nدہن گل کی کلی ہے گل جھڑی بات\n\nبندھے مضمون پر کھولو نہ منہ بحرؔ\nمزا دیتی نہیں کانوں پڑی بات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AD%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B2%D8%B1%DA%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DA%91%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "نہ کہہ کہ بے اثر انفاس سرد ہوتے ہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کہہ کہ بے اثر انفاس سرد ہوتے ہیں\nمجھی سے کیا کوئی سب اہل درد ہوتے ہیں\n\nہوس ہے عشق کی اہل ہوا کو ہم تو میاں\nسنے سے نام محبت کا زرد ہوتے ہیں\n\nمتاع قحبۂ دنیا پہ کر نہ چشم سیاہ\nکہ مال زن نہیں کھاتے جو مرد ہوتے ہیں\n\nیہ لت تجھی کو ہے پیارے وگرنہ کیا کوئی\nجو خوب رو ہیں وہ سب کوچہ گرد ہوتے ہیں\n\nمحیط وصل کو پہنچے ہیں وہ کوئی قائمؔ\nجو طرح سیل کے صحرا نورد ہوتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%B1%D8%AF_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ کیوں تیر نظر گزرے جگر سے", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کیوں تیر نظر گزرے جگر سے\nکہیں یہ وار رکتے ہیں سپر سے\n\nکسی سے عشق اپنا کیا چھپائیں\nمحبت ٹپکی پڑتی ہے نظر سے\n\nہوئی ہے ان کے مشتاقوں سے رہ بند\nوہ میرے گھر بھلا آئیں کدھر سے\n\nبھلا دل کا کہاں ملنا کہ ان کی\nنظر بھی تو نہیں ملتی نظر سے\n\nمجھے دیوار حیرت نے بنایا\nگیا ہے جھانک کر یہ کون در سے\n\nکبھی ٹوٹیں کبھی صیاد کاٹے\nغرض اڑنا نہیں ہے بال و پر سے\n\nکہاں کی پیروی جب قصد یہ ہو\nکہ آگے بڑھ کے چلیے راہ بر سے\n\nنہ کھولیں گے تو یہ ٹوٹے گا آخر\nکہ میں ٹکرا رہا ہوں سر کو در سے\n\nلڑائی کا نہ میں توڑوں گا پھر تار\nذرا سی چھیڑ ہو جائے ادھر سے\n\nاگر جاتی ہے جاں ملتا ہے جاناں\nہمیں تو نفع افزوں ہے ضرر سے\n\nرہا دل میں نہ ہرگز تیر اس کا\nہمیں کھٹکا یہی تھا پیشتر سے\n\nسوائے شر نہ کچھ دیکھا عدو سے\nخدا محفوظ رکھے اس بشر سے\n\nہوا گو پائمال غیر مجروحؔ\nنہ سرکا یار کے پر رہ گزر سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "نہ کیوں کر نذر دل ہوتا نہ کیوں کر دم مرا جاتا", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کیوں کر نذر دل ہوتا نہ کیوں کر دم مرا جاتا\nاکیلا بھیجتا اس کو وہ خالی ہاتھ کیا جاتا\n\nجنازہ پر بھی وہ آتے تو منہ کو ڈھانک کر آتے\nہماری جان لے کر بھی نہ انداز حیا جاتا\n\nتمہاری یاد میرا دل یہ دونوں چلتے پرزے ہیں\nجو ان میں سے کوئی مٹتا مجھے پہلے مٹا جاتا\n\nتیری چتون کے بل کو ہم نے قاتل تاک رکھا تھا\nکدھر مقتل میں بچ کر ہم سے یہ تیر قضا جاتا\n\nمزا جب تھا قیامت تک نہ آتا ہوش بیخودؔ کو\nپلائی تھی جو مے ساقی نے اتنی تو پلا جاتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%D8%B0%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کا\nطریق عشق میں جاری ہے سلسلہ دل کا\n\nدکھا کے دست حنائی نہ خوں بہا دل کا\nکہ اور رنگ سے لوں گا میں خوں بہا دل کا\n\nمیں طفل اشک کو مژگاں پہ دیکھ حیراں ہوں\nکہ نور دیدہ ہے یا ہے بالکا دل کا\n\nتو آئنے پہ نہ اپنے کر اے سکندر ناز\nکہ ہم بھی رکھتے ہیں جام جہاں نما دل کا\n\nبہشت پہنچے ہے زاہد! کب اس کی وسعت کو\nعجب روش کا ہے یہ باغ دل کشا دل کا\n\nبجا ہوں سر بہ گریباں کہ اس کے دامن تک\nنہ پہنچا آہ کبھی دست نارسا دل کا\n\nترے خدنگ مژہ سے ہے یک قلم مجروح\nنہ پوچھ اے بت بدکیشں! ماجرا دل کا\n\nلگائی کس بت مے نوش نے ہے تاک اس پر\nسبو بہ دوش ہے ساقی جو آبلہ دل کا\n\nہزار بین کہیں کیوں نہ اہل بینائی\nکہ صاف بو قلموں ہے یہ آئنا دل کا\n\nبہار تجھ کو دکھائیں گے ہم بھی اے گل رو\nکسی روش سے جو غنچہ کبھی کھلا دل کا\n\nظہور جلوۂ معبود ہے بہر صورت\nرکھا ہے نام بجا خانۂ خدا دل کا\n\nرواق چشم میں مت رہ کہ ہے مکان نزول\nترے تو واسطے یہ قصر ہے بنا دل کا\n\nقرار و طاقت و صبر و خرد ہوئے سب گم\nتمہاری زلف میں ابتر ہے حال کیا دل کا\n\nکہیں گے ہم یہ سراسر جو کوئی پوچھے گا\nسواد ہند میں لوٹا ہے قافلہ دل کا\n\nنہ کیونکہ آہ سے خاطر نشاں ہو اب میری\nکہ تیر یہ نہیں کرتا کبھی خطا دل کا\n\nہمارے داغ سے بھونرے کو کیا بھلا نسبت\nکہ وہ رفیق ہے گل کا یہ آشنا دل کا\n\nلگا نہ دل کو تو اپنے کسی سے دیکھ نصیرؔ\nبرا نہ مان کہ اس میں نہیں بھلا دل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D9%85%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نہ گرمی رکھے کوئی اس سے خدایا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ گرمی رکھے کوئی اس سے خدایا\nشرارت سے جی جس نے میرا جلایا\n\nنہ بے چین ہو کوئی اب اس کی خاطر\nمرا چاہنا جو نہ خاطر میں لایا\n\nبہم دیکھ دو شخص ہو وہ بھی مضطر\nاکیلا میں جس کے لیے تلملایا\n\nپھرے جستجو میں نہ اب کوئی اس کی\nمجھے جس نے گلیوں میں برسوں پھرایا\n\nنہ بھولے سے یاد اب کرے کوئی اس کو\nمرا یاد کرنا بھی جس نے بھلایا\n\nنہ خوش ہو اب اس پاس بیٹھے سے کوئی\nہمیں کر کے آزردہ جس نے اٹھایا\n\nخریدار پیدا نہ ہو کوئی اس کا\nکہ دل بیچ کر ہم نے دکھ جس سے پایا\n\nتحیر ہو دیکھ آئینہ اس کو جس نے\nہمیں کر کے حیراں نہ مکھڑا دکھایا\n\nلگے لاگ اس سے کسی کی نہ یارب\nہماری لگی کو نہ جس نے بجھایا\n\nکہوں داستاں میں گر اپنی اور اس کی\nتو حیران ہو سن کے اپنا پرایا\n\nکہ پہلے کی اظہار خود اس نے الفت\nنہ آیا تو سو بار گھر سے بلایا\n\nجتائیں وہ باتیں جنہیں سحر کہیے\nدکھایا وہ عالم کہ وحشی بنایا\n\nرکھی بے تکلف ملاقات چندے\nبہ منت مجھے پاس پہروں بٹھایا\n\nکسی کا نہ اک حرف خاطر میں گزرا\nاسے گرچہ لوگوں نے کیا کیا پڑھایا\n\nسو اب وہ جھلک تک دکھاتا نہیں ہے\nگیا میں جو گھر سے تو در تک نہ آیا\n\nلگاوٹ یہ کچھ کر کے پھر کیا غضب ہے\nمرا لگ گیا دل تو پردہ لگایا\n\nبہ تغییر بحر اور جرأتؔ غزل کہہ\nکہ یہ طرفہ مضمون تو نے سنایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نہ گل سے کام ہے ہم کو نہ کچھ گلزار سے مطلب", "poet_page": "مصنف:مردان صفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مردان صفی (1914)", "year": "1914", "text_ur": "نہ گل سے کام ہے ہم کو نہ کچھ گلزار سے مطلب\nبجاں رکھتے ہیں اک ہمدم بدل اک یار سے مطلب\n\nنہ کام عالم سے ہے ہم کو نہ حورالعین جنت سے\nہے اک مدہوش دانا تر بدل‌ ہوشیار سے مطلب\n\nنہ ملت ہے نہ مذہب ہے نہ ہے مطلب کوئی اپنا\nوصال یار مذہب ہے اور ہے دیدار سے مطلب\n\nتصور ہے نہ کام اپنا سوا مرشد کی نسبت کے\nتجھے ہے ان دنوں اے دل شہ کرار سے مطلب\n\nکہا مکر و مکر اللہ خیر الماکریں جس نے\nچھپا خود مجھ کو ظاہر کر ہے اس مکار سے مطلب\n\nمیں وہ واصل ہوں دلبر سے کہ دل اپنا ہے وہ دلبر\nرہا دل ہی سے کام اپنا اسی غم خوار سے مطلب\n\nنہ ہم یہ ہیں نہ ہم وہ ہیں نہ ہم ہرگز ہیں گوشے میں\nغلام قل ہو اللہ ہیں اسی اظہار سے مطلب\n\nنہ کافر ہیں نہ مومن ہیں نہ مسجد ہے نہ مے خانہ\nنہ تسبیح و مصلا ہے نہ ہے زنار سے مطلب\n\nنہ ہم آدم نہ حوا ہیں نہ ہم حور و ملک یارو\nنہ ہم گنجینہ پنہاں ہیں نہ ہے اظہار سے مطلب\n\nزوال جان و تن ہے یاں نہ حرص ما و من باقی\nحباب آب دریا ہیں نہ ہے افطار سے مطلب\n\nنسب ہو یا حسب دونوں مبارک ہوویں زاہد کو\nتجھے تو ہے فقط مرداںؔ شۂ ابرار سے مطلب", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%AF%D9%84%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8"} {"title": "نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب", "poet_page": "مصنف:ماہ لقا بائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب\nرکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلب\n\nیہ دل دام نگہ میں ترک کے بس جا ہی اٹکا ہے\nبر آوے کس طرح اللہ اب خوں خوار سے مطلب\n\nبجز حق کے نہیں ہے غیر سے ہرگز توقع کچھ\nمگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب\n\nنہ سمجھا ہم کو تو نے یار ایسی جاں فشانی پر\nبھلا پاویں گے اے ناداں کسی ہشیار سے مطلب\n\nنہ چنداؔ کو طمع جنت کی نے خوف جہنم ہے\nرہے ہے دو جہاں میں حیدر کرار سے مطلب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%84%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8"} {"title": "نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز\nمیں ہوں اپنی شکست کی آواز\n\nتو اور آرائشِ خمِ کاکل\nمیں اور اندیشہ ہائے دور دراز\n\nلاف تمکیں، فریبِ سادہ دلی\nہم ہیں، اور راز ہائے سینہ گداز\n\nہوں گرفتارِ الفتِ صیّاد\nورنہ باقی ہے طاقتِ پرواز\n\nوہ بھی دن ہو، کہ اس ستم گر سے\nناز کھینچوں، بجائے حسرتِ ناز\n\nنہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خون\nجس سے مژگاں ہوئی نہ ہو گلباز\n\nاے ترا غمزہ یک قلم انگیز\nاے ترا ظلم سر بسر انداز\n\nتو ہوا جلوہ گر، مبارک ہو!\nریزشِ سجدۂ جبینِ نیاز\n\nمجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوا\nمیں غریب اور تو غریب نواز\n\nاسدؔ اللہ خاں تمام ہوا\nاے دریغا وہ رندِ شاہد باز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%AF%D9%84_%D9%86%D8%BA%D9%85%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%82_%D8%B3%D8%A7%D8%B2"} {"title": "نہ گل نہ سرو میان بہار ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ گل نہ سرو میان بہار ہوتا ہے\nہماری خاک سے پیدا چنار ہوتا ہے\n\nکبھی جو جلوۂ رخسار یار ہوتا ہے\nچراغ طور چراغ مزار ہوتا ہے\n\nاٹھا جنازہ جو میرا قضا لگی کہنے\nکہ جو پیادہ ہے آخر سوار ہوتا ہے\n\nملا کے خاک میں تن کو گئی بہشت میں روح\nکسی کا کون زمانے میں یار ہوتا ہے\n\nبجا ہے تخت سلیماں پہ بھی جو ماری لات\nہر ایک مرغ یہاں تاجدار ہوتا ہے\n\nنہ اپنے گھر میں مجھے غیر سے ملا اے حور\nبہشت میں یہ عذاب فشار ہوتا ہے\n\nعروج عرشؔ جو منظور ہے جلا دل کو\nکہ آگ لگتی ہے جب سرد انار ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ گیا خیال زلف سیہ جفا شعاراں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ گیا خیال زلف سیہ جفا شعاراں\nنہ ہوا کہ صبح ہووے شب تیرہ روزگاراں\n\nنہ کہا تھا اے رفوگر ترے ٹانکے ہوں گے ڈھیلے\nنہ سیا گیا یہ آخر دل چاک بے قراراں\n\nہوئی عید سب نے پہنے طرب و خوشی کے جامے\nنہ ہوا کہ ہم بھی بدلیں یہ لباس سوگواراں\n\nخطر عظیم میں ہیں مری آہ و اشک سے سب\nکہ جہان رہ چکا پھر جو یہی ہے باد و باراں\n\nکہیں خاک کو کو اس کی تو صبا نہ دیجو جنبش\nکہ بھرے ہیں اس زمیں میں جگر جگر فگاراں\n\nرکھے تاج زر کو سر پر چمن زمانہ میں گل\nنہ شگفتہ ہو تو اتنا کہ خزاں ہے یہ بہاراں\n\nنہیں تجھ کو چشم عبرت یہ نمود میں ہے ورنہ\nکہ گئے ہیں خاک میں مل کئی تجھ سے تاجداراں\n\nتو جہاں سے دل اٹھا یاں نہیں رسم دردمندی\nکسی نے بھی یوں نہ پوچھا ہوئے خاک یاں ہزاراں\n\nیہ اجل سے جی چھپانا مرا آشکار ہے گا\nکہ خراب ہوگا مجھ بن غم عشق گل غداراں\n\nیہ سنا تھا میرؔ ہم نے کہ فسانہ خواب لا ہے\nتری سر گذشت سن کر گئے اور خواب یاراں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D8%A7%DA%BA"} {"title": "نہ ہم آہنگ مسیحا نہ حریف جبریل", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ہم آہنگ مسیحا نہ حریف جبریل\nتیرا شاعر کہ ہے زندانی گیسوئے جمیل\n\nکس کی آنکھوں میں یہ غلطاں ہے جوانی کی شراب\nکھول دی آہ یہ کس نے مے گلگوں کی سبیل\n\nکس طرف جائے کہاں جائے بتا دو کوئی\nزلف پر خم کا گرفتار نگاہوں کا قتیل\n\nعالم یاس میں کیا چیز ہے اک ساغر مے\nدشت ظلمات میں جس طرح خضر کی قندیل\n\nکتنی دشوار ہے پیران حرم کی منزل\nاس طرف فتنۂ ابلیس ادھر رب جلیل\n\nاف یہ طوفان نشاط اور مری طبع حزیں\nآہ یہ یورش ناز اور میں مجروح و علیل\n\nآہ وہ ہوش کا عالم وہ غموں کا طوفاں\nاف یہ مستی کہ ہے پھر ہوش میں آنے کی دلیل", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%A2%DB%81%D9%86%DA%AF_%D9%85%D8%B3%DB%8C%D8%AD%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D9%81_%D8%AC%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D9%84"} {"title": "نہ ہم دعا سے اب نہ وفا سے طلب کریں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ہم دعا سے اب نہ وفا سے طلب کریں\nعشق بتاں میں صبر خدا سے طلب کریں\n\nدل خاک ہو گیا ہے تری رہ گزار میں\nگر جا سکیں وہاں تو صبا سے طلب کریں\n\nآخر خوشی تو عشق سے حاصل نہ کچھ ہوئی\nہم اب غم و الم ہی بلا سے طلب کریں\n\nغمزے نے لے کے دل کو ادا کے کیا سپرد\nغمزے سے دل کو لیں کہ ادا سے طلب کریں\n\nدولت جو فقر کی ہے سو ہے اپنے دل کے پاس\nوہ چیز یہ نہیں کہ گدا سے طلب کریں\n\nدروازہ گو کھلا ہے اجابت کا پر حسنؔ\nہم کس کس آرزو کو خدا سے طلب کریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہ ہو آرزو کچھ یہی آرزو ہے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ہو آرزو کچھ یہی آرزو ہے\nفقط میں ہی میں ہوں تو پھر تو ہی تو ہے\n\nنہ یہ ہے نہ وہ ہے نہ میں ہوں نہ تو ہے\nہزاروں تصور اور اک آرزو ہے\n\nنہ امید جھوٹی نہ کچھ یاس سچی\nنہیں جو کہیں بھی وہی چار سو ہے\n\nکسے ڈھونڈھتے ہیں یہی ڈھونڈھتے ہیں\nیہی جستجو ہے اگر جستجو ہے\n\nجگائے گا کس طرح شور قیامت\nخموشی سے ناچار ہر گفتگو ہے\n\nخودی بھی ہماری خدائی سہی\nوہی ہم نشیں ہے وہی دو بہ دو ہے\n\nمگر دشنہ تھا سایۂ زلف ساقی\nکہ جو زخم ہے ساغر مشک بو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ ہو شباب تو کیفیت شراب کہاں", "poet_page": "مصنف:مرزا مائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ہو شباب تو کیفیت شراب کہاں\nنہ ہو شباب تو کیفیت شباب کہاں\n\nچلا ہوں کعبے کو لیکن چلا نہیں جاتا\nنہ ہو جو شوق ہی دل میں تو اضطراب کہاں\n\nعدو کی بزم میں دشمن ہزار بیٹھے ہیں\nملا بھی ہائے وہ کافر تو بے حجاب کہاں\n\nکسی طرح شب غم کی سحر نہیں ہوتی\nخدا ہی جانے کہ ڈوبا ہے آفتاب کہاں\n\nحرم میں بیٹھے ہو مائلؔ خدا خدا کیجے\nیہاں وہ ساقئ مہوش کہاں شراب کہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%81%DB%8C%D8%AA_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "نہ ہو طُغیانِ مشتاقی تو مَیں رہتا نہیں باقی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "نہ ہو طُغیانِ مشتاقی تو مَیں رہتا نہیں باقی\nکہ میری زندگی کیا ہے، یہی طُغیانِ مشتاقی\n\nمجھے فطرت نَوا پر پے بہ پے مجبور کرتی ہے\nابھی محفل میں ہے شاید کوئی درد آشنا باقی\n\nوہ آتش آج بھی تیرا نشیمن پھُونک سکتی ہے\nطلب صادق نہ ہو تیری تو پھر کیا شکوۂ ساقی!\n\nنہ کر افرنگ کا اندازہ اس کی تابناکی سے\nکہ بجلی کے چراغوں سے ہے اس جوہر کی برّاقی\n\nدلوں میں ولولے آفاق‌گیری کے نہیں اُٹھتے\nنگاہوں میں اگر پیدا نہ ہو اندازِ آفاقی\n\nخزاں میں بھی کب آ سکتا تھا میں صیّاد کی زد میں\nمری غمّاز تھی شاخِ نشیمن کی کم اوراقی\n\nاُلٹ جائیں گی تدبیریں، بدل جائیں گی تقدیریں\nحقیقت ہے، نہیں میرے تخّیل کی یہ خلّاقی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B7%D9%8F%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D9%86%D9%90_%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D9%8E%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "نہ ہو پہلو میں جب دل زندگی کیا", "poet_page": "مصنف:ابومحمد سید حسین سیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > منتخب دیوان سیفی (1934)", "year": "1934", "text_ur": "نہ ہو پہلو میں جب دل زندگی کیا\nارے ہم کیا ہماری دل لگی کیا\n\nخیال آبرو ہے نشہ میں بھی\nارے ہم کیا ہماری بے خودی کیا\n\nمدد کچھ کر نہیں سکتے کسی کی\nارے ہم کیا ہماری دوستی کیا\n\nکیا کرتے ہیں سجدے بے دلی سے\nارے ہم کیا ہماری بندگی کیا\n\nتردد میں گزرتا ہے ہر اک دن\nارے ہم کیا ہماری زندگی کیا\n\nسمجھتے ہیں عدو بھی دوست ہم کو\nارے ہم کیا ہماری دشمنی کیا\n\nنصیحت بھی ہے دل آزار سیفیؔ\nارے ہم کیا ہماری شاعری کیا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نہ ہوئی صاف طبیعت ہی تو ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "نہ ہوئی صاف طبیعت ہی تو ہے\nرہ گئی دل میں کدورت ہی تو ہے\n\nبھا گئیں دل کو ادائیں ان کی\nکھب گئی آنکھوں میں صورت ہی تو ہے\n\nمیری میت پہ نہ آئے نہ سہی\nنہ ہوئی آپ کو فرصت ہی تو ہے\n\nنہیں کرتا میں جفا کا شکوہ\nآپ کیا کیجئے عادت ہی تو ہے\n\nنہیں آتا کسی پہلو آرام\nنہیں کٹتی شب فرقت ہی تو ہے\n\nنکلی قاتل نہ ترے تیر کے ساتھ\nدل ہی میں رہ گئی حسرت ہی تو ہے\n\nمجھ سے عاصی پہ یہ بخشش یہ کرم\nبندہ پرور تری رحمت ہی تو ہے\n\nنہ ٹلی سر سے بلائے فرقت\nپڑ گئی جان پہ آفت ہی تو ہے\n\nہم نے پھیرا نہ دل اپنا تجھ سے\nجان دے بیٹھے مروت ہی تو ہے\n\nحشر برپا ہے تری قامت سے\nیہ بھی انداز قیامت ہی تو ہے\n\nنہ رہا ضبط کا یارا انجمؔ\nنہ چھپی ہم سے محبت ہی تو ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B5%D8%A7%D9%81_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہی\nامتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی\n\nخار خارِ المِ حسرتِ دیدار تو ہے\nشوق گلچینِ گلستانِ تسلّی نہ سہی\n\nمے پرستاں خمِ مے منہ سے لگائے ہی بنے\nایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی\n\nنفسِ قیس کہ ہے چشم و چراغِ صحرا\nگر نہیں شمعِ سیہ خانۂ لیلی نہ سہی\n\nایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق\nنوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی\n\nنہ ستائش کی تمنّا نہ صلے کی پروا\nگر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی؟ نہ سہی\n\nعشرتِ صحبتِ خوباں ہی غنیمت سمجھو\nنہ ہوئی غالبؔ اگر عمرِ طبیعی نہ سہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%B1%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B3%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "نہ ہوئی ہم سے شب بسر نہ ہوئی", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ہوئی ہم سے شب بسر نہ ہوئی\nکس سے پوچھیں کہ کیوں سحر نہ ہوئی\n\nوہ نظر شوخ و فتنہ زا ہی سہی\nکیوں مرے حال زار پر نہ ہوئی\n\nبزم میں یہ ادا ہمیں سمجھے\nسب کو دیکھا ادھر نظر نہ ہوئی\n\nاے مرا حال پوچھنے والے\nتجھ کو اب تک مری خبر نہ ہوئی\n\nہم اسی زندگی پہ مرتے ہیں\nجو یہاں چین سے بسر نہ ہوئی\n\nکیسے کیسے ستم ہوئے تجھ پر\nکیوں مرے دل تجھے خبر نہ ہوئی\n\nروح عالم میں پھونک دی تو کیا\nمیری جانب تو اک نظر نہ ہوئی\n\nاف مرے غم کدے کی تاریکی\nآپ آئے بھی تو سحر نہ ہوئی\n\nدل نے دنیا نئی بنا ڈالی\nاور ہمیں آج تک خبر نہ ہوئی\n\nمجھ سے رخصت ہوئی تھی جب دنیا\nتم کہاں تھے تمہیں خبر نہ ہوئی\n\nہجر کی رات کاٹنے والے\nکیا کرے گا اگر سحر نہ ہوئی\n\nخوش رہیں وہ یہ مدعا تھا عزیزؔ\nنہ ہوئی زندگی بسر نہ ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "نہ ہوا پر نہ ہوا وہ بت خود سر اپنا", "poet_page": "مصنف:عبد الہادی وفا", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وفا (1923)", "year": "1923", "text_ur": "نہ ہوا پر نہ ہوا وہ بت خود سر اپنا\nتجھ سے انصاف ہے اے داور محشر اپنا\n\nبے قراری نے لگایا ہے ٹھکانے مجھ کو\nپہلوے مہر قیامت میں ہے بستر اپنا\n\nکیا کھلے پھرتے ہو تم قاتل عالم ہو کر\nکیوں دکھاتے ہو تماشہ سر محشر اپنا\n\nہم نشیں محو تصور ہوں اٹھاؤں کیوں کر\nدے گیا ہے کسی زانو کے تلے سر اپنا\n\nمل گیا ایک نہ ملنے سے ترے کنج لحد\nبن گیا ایک بگڑنے سے ترے گھر اپنا\n\nمجھ سے کیا پوچھتے ہو دونوں جہاں پھونک بھی دو\nجلنے والے بھی ہیں اپنے رخ انور اپنا\n\nدل میں کیا سوچتے ہو تم جسے چاہو دیکھو\nآنکھ اپنی ہے نظر اپنی ہے منظر اپنا\n\nاس کی ترکیب خرابی سے ہے اللہ اللہ\nوہ بگڑتے ہیں تو بنتا ہے مقدر اپنا\n\nہائے وہ رنگ محبت کہ تبسم بن کر\nکسی آلودہ لب یار میں تھا گھر اپنا\n\nکچھ خبر ہے تمہیں برگشتگی مژگاں کی\nوہ نزاکت سے سنبھلتا نہیں نشتر اپنا\n\nچاہئے آئینۂ دل پہ فنا کی صیقل\nمٹتے ہی مٹتے چمک جائے گا جوہر اپنا\n\nتیرہ بختی نے وفا خوب چھپا رکھا تھا\nکھل گیا جلسۂ احباب پہ جوہر اپنا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%B3%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا\nحباب موجۂ رفتار ہے نقش قدم میرا\n\nمحبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے\nکہ موج بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا\n\nرہ خوابیدہ تھی گردن کش یک درس آگاہی\nزمیں کو سیلئ استاد ہے نقش قدم میرا\n\nسراغ آوارۂ عرض دو عالم شور محشر ہوں\nپرافشاں ہے غبار آں سوئے صحرائے عدم میرا\n\nہوائے صبح یک عالم گریباں چاکی گل ہے\nدہان زخم پیدا کر اگر کھاتا ہے غم میرا\n\nنہ ہو وحشت کش درس سراب سطر آگاہی\nمیں گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا\n\nاسدؔ وحشت پرست گوشۂ تنہائی دل ہے\nبرنگ موج مے خمیازۂ ساغر ہے رم میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7_%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B0%D9%88%D9%82_%DA%A9%D9%85_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "نہ یہ شیشہ نہ یہ ساغر نہ یہ پیمانہ بنے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ یہ شیشہ نہ یہ ساغر نہ یہ پیمانہ بنے\nجان مے خانہ تری نرگس مستانہ بنے\n\nپرتو رخ کے کرشمے تھے سر راہ گزر\nذرے جو خاک سے اٹھے وہ صنم خانہ بنے\n\nکار فرما ہے فقط حسن کا نیرنگ کمال\nچاہے وہ شمع بنے چاہے وہ پروانہ بنے\n\nاس کو مطلوب ہیں کچھ قلب و جگر کے ٹکڑے\nجیب و دامن نہ کوئی پھاڑ کے دیوانہ بنے\n\nرند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائے\nجس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D9%86%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%DB%92"} {"title": "نہیں آرام ایک جا دل کو", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں آرام ایک جا دل کو\nآہ کیا جانے کیا ہوا دل کو\n\nاے بتاں محترم رکھو اس کو\nکہتے ہیں خانۂ خدا دل کو\n\nلے تو جاتے ہو مہرباں لیکن\nکیجو مت آپ سے جدا دل کو\n\nمنہ نہ پھیرا کبھی جفا سے تری\nآفریں دل کو مرحبا دل کو\n\nیہ توقع نہ تھی ہمیں ہرگز\nکہ دکھاؤ گے یہ جفا دل کو\n\nہیں یہی ڈھنگ آپ کے تو خیر\nکیوں نہ پھر دیجئے گا آ دل کو\n\nآخر اس طفل شوخ نے دیکھا\nٹکڑے جوں شیشہ کر دیا دل کو\n\nآج لگتی ہے کچھ بغل خالی\nکون سینے سے لے گیا دل کو\n\nہم تو کہتے ہیں تجھ کو اے بیدارؔ\nکیجو مت اس سے آشنا دل کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88"} {"title": "نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانا", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانا\nبہت دشوار ہے چڑھتے ہوئے طوفاں کا تھم جانا\n\nخبر کیا تھی ستم کی پردہ داری یوں بھی ہوتی ہے\nبہت نادم ہوں جب سے مقصد جوش کرم جانا\n\nلحاظ وضع داری میں کبھی ممکن نہ ہو شاید\nتمہارا دو قدم آنا ہمارا دو قدم جانا\n\nہمیں انداز رندانہ کبھی گرنے نہیں دیتے\nجو ساغر سامنے آیا اسی کو جام جم جانا\n\nمرا ہر شعر اخترؔ اک پیام زندگی نکلا\nمجھے دنیا نے آخر مالک لوح قلم جانا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "نہیں بند قبا میں تن ہمارا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں بند قبا میں تن ہمارا\nہے عریانی ہی پیراہن ہمارا\n\nرکھیں اپنے تئیں ہم کس طرح دوست\nہو تجھ سا شخص جب دشمن ہمارا\n\nہیں یہ کاہیدہ ہم غم سے کہ جوں شمع\nہے ایک اب جیب اور دامن ہمارا\n\nنظر میں کعبہ کیا ٹھہرے کہ یاں دیر\nرہا ہے مدتوں مسکن ہمارا\n\nچمن میں گر ہے تو بلبل تو من بعد\nہیں ہم اور گوشۂ گلخن ہمارا\n\nبہار داغ تھی جب دل پہ قائمؔ\nعجب سرسبز تھا گلشن ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D9%82%D8%A8%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%86_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "نہیں تم مانتے میرا کہا جی", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں تم مانتے میرا کہا جی\nکبھی تو ہم بھی سمجھیں گے بھلا جی\n\nاچنبھا ہے مجھے بلبل کہ گل بن\nقفس میں کس طرح تیرا لگا جی\n\nتمہارے خط کے آنے کی خبر سن\nمیاں صاحب نپٹ میرا کڑھا جی\n\nزکوٰۃ حسن دے میں بے نوا ہوں\nیہی ہے تم سے اب میری صدا جی\n\nکسی کے جی کے تئیں لیتا ہے دشمن\nمرا تو لے گیا ہے آشنا جی\n\nتھکا میں سیر کر سارے جہاں کی\nمرا اب سب طرف سے مر گیا جی\n\nجلایا آ کے پھر تاباںؔ کو تو نے\nہماری جان اب تو بھی سدا جی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85_%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%AC%DB%8C"} {"title": "نہیں ثبات بلندی عز و شاں کے لیے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں ثبات بلندی عز و شاں کے لیے\nکہ ساتھ اوج کے پستی ہے آسماں کے لیے\n\nہزار لطف ہیں جو ہر ستم میں جاں کے لیے\nستم شریک ہوا کون آسماں کے لیے\n\nمزے یہ دل کے لیے تھے نہ تھے زباں کے لیے\nسو ہم نے دل میں مزے سوزش نہاں کے لیے\n\nفروغ عشق سے ہے روشنی جہاں کے لیے\nیہی چراغ ہے اس تیرہ خاکداں کے لیے\n\nصبا جو آئے خس و خار گلستاں کے لیے\nقفس میں کیونکہ نہ پھڑکے دل آشیاں کے لیے\n\nدم عروج ہے کیا فکر نردباں کے لیے\nکمند آہ تو ہے بام آسماں کے لیے\n\nسدا تپش پہ تپش ہے دل تپاں کے لیے\nہمیشہ غم پہ ہے غم جان ناتواں کے لیے\n\nوبال دوش ہے اس ناتواں کو سر لیکن\nلگا رکھا ہے ترے خنجر و سناں کے لیے\n\nبیان درد و محبت جو ہو تو کیونکر ہو\nزبان دل کے لیے ہے نہ دل زباں کے لیے\n\nمثال نے ہے مرے جب تلک کہ دم میں دم\nفغاں ہے میرے لیے اور میں فغاں کے لیے\n\nبلند ہووے اگر کوئی میرا شعلۂ آہ\nتو ایک اور ہو خورشید آسماں کے لیے\n\nچلے ہیں دیر کو مدت میں خانقاہ سے ہم\nشکست توبہ لیے ارمغاں مغاں کے لیے\n\nحجر کے چومنے ہی پر ہے حج کعبہ اگر\nتو بوسے ہم نے بھی اس سنگ آستاں کے لیے\n\nنہ چھوڑ تو کسی عالم میں راستی کہ یہ شے\nعصا ہے پیر کو اور سیف ہے جواں کے لیے\n\nجو پاس مہر و محبت کہیں یہاں بکتا\nتو مول لیتے ہم اک اپنے مہرباں کے لیے\n\nخلش سے عشق کی ہے خار پیرہن تن زار\nہمیشہ اس ترے مجنون ناتواں کے لیے\n\nتپش سے دل کی یہ احوال ہے مرا گویا\nبجائے مغز ہے سیماب استخواں کے لیے\n\nمرے مزار پہ کس وجہ سے نہ برسے نور\nکہ جان دی ترے روئے عرق فشاں کے لیے\n\nالٰہی کان میں کیا اس صنم نے پھونک دیا\nکہ ہاتھ دھرتے ہیں کانوں پہ سب اذاں کے لیے\n\nنہیں ہے خانہ بدوشوں کو حاجت ساماں\nاثاثہ چاہیئے کیا خانۂ کماں کے لیے\n\nنہ دل رہا نہ جگر دونوں جل کے خاک ہوئے\nرہا ہے سینے میں کیا چشم خوں فشاں کے لیے\n\nنہ لوح گور پہ مستوں کی ہو نہ ہو تعویذ\nجو ہو تو خشت خم مے کوئی نشاں کے لیے\n\nاگر امید نہ ہمسایہ ہو تو خانۂ یاس\nبہشت ہے ہمیں آرام جاوداں کے لیے\n\nوہ مول لیتے ہیں جس دم کوئی نئی تلوار\nلگاتے پہلے مجھی پر ہیں امتحاں کے لیے\n\nصریح چشم سخن گو تری کہے نہ کہے\nجواب صاف ہے پر طاقت و تواں کے لیے\n\nاشارہ چشم کا تیری یکایک اے قاتل\nہوا بہانہ مری مرگ ناگہاں کے لیے\n\nرہے ہے ہول کہ برہم نہ ہو مزاج کہیں\nبجا ہے ہول دل ان کے مزاج داں کے لیے\n\nبنایا آدمی کو ذوقؔ ایک جزو ضعیف\nاور اس ضعیف سے کل کام دو جہاں کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AB%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%D9%84%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D8%B9%D8%B2_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "نہیں سنتا نہیں آتا نہیں بس میرا چلتا ہے", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں سنتا نہیں آتا نہیں بس میرا چلتا ہے\nنکل اے جان تو ہی وہ نہیں گھر سے نکلتا ہے\n\nجلا ہوں آتش فرقت سے میں اے شعلہ رو یاں تک\nچراغ خانہ مجھ کو دیکھ کر ہر شام جلتا ہے\n\nنہیں یہ اشک و لخت دل تری الفت کی دولت سے\nمرا یہ دیدہ ہر دم لعل اور گوہر اگلتا ہے\n\nکسی کا ساتھ سونا یاد آتا ہے تو روتا ہوں\nمرے اشکوں کی شدت سے سدا گل تکیہ گلتا ہے\n\nملاتا ہوں اگر آنکھیں تو وہ دل کو چراتا ہے\nجو میں دل کو طلب کرتا ہوں وہ آنکھیں بدلتا ہے\n\nمرے پہلو و سینہ میں بتوں کے رہ گئے خنجر\nخدا کا فضل جس پر ہو تو وہ اس طرح بہلتا ہے\n\nصدا ہی میری قسمت جوں صدائے حلقۂ در ہے\nاگر میں گھر میں جاتا ہوں تو وہ باہر نکلتا ہے\n\nوہ بحر حسن شاید باغ میں آوے گا اے احساںؔ\nکہ فوارہ خوشی سے آج دو دو گز اچھلتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%86%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B3_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DA%86%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہیں سوجھتا کوئی چارا مجھے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں سوجھتا کوئی چارا مجھے\nتمہاری جدائی نے مارا مجھے\n\nادھر آنکھ لڑتی ہے اغیار سے\nادھر کرتے جانا اشارا مجھے\n\nتو اک بار سن لے مرا حال کچھ\nنہ کچھ کہنے دینا دوبارا مجھے\n\nیوں ہی روز آنے کو کہتے ہو تم\nنہیں اعتبار اب تمہارا مجھے\n\nکسی سے مجھے کچھ شکایت نہیں\nنظامؔ اپنے ہی دل نے مارا مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%AC%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%86%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا\nغم عشق تو اپنا رفیق رہا کوئی اور بلا سے رہا نہ رہا\n\nدیا اپنی خودی کو جو ہم نے اٹھا وہ جو پردہ سا بیچ میں تھا نہ رہا\nرہے پردے میں اب نہ وہ پردہ نشیں کوئی دوسرا اس کے سوا نہ رہا\n\nنہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر\nپڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا\n\nترے رخ کے خیال میں کون سے دن اٹھے مجھ پہ نہ فتنۂ روز جزا\nتری زلف کے دھیان میں کون سی شب مرے سر پہ ہجوم بلا نہ رہا\n\nہمیں ساغر بادہ کے دینے میں اب کرے دیر جو ساقی تو ہائے غضب\nکہ یہ عہد نشاط یہ دور طرب نہ رہے گا جہاں میں سدا نہ رہا\n\nکئی روز میں آج وہ مہر لقا ہوا میرے جو سامنے جلوہ نما\nمجھے صبر و قرار ذرا نہ رہا اسے پاس حجاب و حیا نہ رہا\n\nترے خنجر و تیغ کی آب رواں ہوئی جب کہ سبیل ستم زدگاں\nگئے کتنے ہی قافلے خشک زباں کوئی تشنۂ آب بقا نہ رہا\n\nمجھے صاف بتائے نگار اگر تو یہ پوچھوں میں رو رو کے خون جگر\nملے پاؤں سے کس کے ہیں دیدۂ تر کف پا پہ جو رنگ حنا نہ رہا\n\nاسے چاہا تھا میں نے کہ روک رکھوں مری جان بھی جائے تو جانے نہ دوں\nکئے لاکھ فریب کروڑ فسوں نہ رہا نہ رہا نہ رہا نہ رہا\n\nلگے یوں تو ہزاروں ہی تیر ستم کہ تڑپتے رہے پڑے خاک پہ ہم\nولے ناز و کرشمہ کی تیغ دو دم لگی ایسی کہ تسمہ لگا نہ رہا\n\nظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا\nجسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D9%88_%D8%B4%DA%A9%DB%8C%D8%A8_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "نہیں غم گر خفا سارا جہاں ہے", "poet_page": "مصنف:ہاجر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں غم گر خفا سارا جہاں ہے\nخدا کا شکر ہے وہ مہرباں ہے\n\nیہاں فریاد کی طاقت کہاں ہے\nوہ ناحق اپنے دل میں بد گماں ہے\n\nنہیں کچھ عشق محتاج بیاں ہے\nہمارا حال صورت سے عیاں ہے\n\nنیاز و ناز عشق و حسن دیکھو\nہمارا سر ہے ان کا آستاں ہے\n\nوفاداری میں گر بے مثل ہیں ہم\nستم میں وہ بھی یکتائے زماں ہے\n\nحقیقت میں ستم ایجاد تم ہو\nعبث کچھ جوش پر طبع رواں ہے\n\nوظیفہ ہے مجھے تو نام ان کا\nکہ ہر دم ہجر میں ورد زباں ہے\n\nہمیں تو حال کہنا موت ٹھہرا\nتمہارے واسطے اک داستاں ہے\n\nیہاں میں ہجر میں گھبرا رہا ہوں\nخدا معلوم وہ اس دم کہاں ہے\n\nحقیقت میں نگاہیں کہہ رہی ہیں\nنہاں جس کو سمجھتے ہو عیاں ہے\n\nنظر کے ساتھ تم بھی پھر گئے ہو\nوہ پہلی سی محبت اب کہاں ہے\n\nہمارے واسطے ہے کھیل مرنا\nانہیں گر قتل عاشق کا رواں ہے\n\nسکون دل کبھی حاصل نہ ہوگا\nہمارے سر پہ جب تک آسماں ہے\n\nعدو جھجکا تو وہ کہتے ہیں اس سے\nچلے آؤ تمہارا ہی مکاں ہے\n\nکوئی اترا نہ اس کے پار اب تک\nکہ دریائے محبت بے کراں ہے\n\nوہ کہتے ہیں مری تربت پر آ کر\nیہ میرے کشتۂ غم کا نشاں ہے\n\nقضا آئی ہے جو جاؤں وہاں پر\nملک الموت ان کا پاسباں ہے\n\nطبیعت ہے وہی اب بھی ہماری\nمگر وہ آپ کی الفت کہاں ہے\n\nنہ ہاجرؔ کو فقط دہلی کا سمجھو\nکہ اب وہ شاعر ہندوستاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "نہیں قول سے فعل تیرے مطابق", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں قول سے فعل تیرے مطابق\nکہوں کس طرح تجھ کو اے یار صادق\n\nنہ جنت کے قابل نہ دوزخ کے لائق\nمجھے کیوں کیا خلق اے میرے خالق\n\nہوئے ہجر میں وہ مرض مجھ کو لاحق\nرہے دنگ جس میں اطبائے حاذق\n\nبھروسا کرم پر ہے ہم عاصیوں کو\nغضب پر سمجھتے ہیں رحم اس کا فائق\n\nفقط کنہ ذات اس کی اب تک نہ سمجھے\nہوئے منکشف اور سارے دقائق\n\nجھگڑ لیں گے آپس میں شیخ و برہمن\nتجھے کیا بکھیڑوں سے او مرد عاشق\n\nجو یہ اس کی رحمت کی طغیانیاں ہیں\nکجا زہد زاہد کہاں فسق فاسق\n\nکیا نفس کو مجھ پہ کیوں تو نے غالب\nنہ تھا کیا تری بندگی کے میں لائق\n\nنہ رکھنا مجھے اپنی رحمت سے محروم\nتری ذات سے ہے یہ امید واثق\n\nنہ تاب آئے گی حسن کی تیرے اے دوست\nمیں موسیٰ نہیں ہوں جو جلوے کا شائق\n\nتجرد کا عالم تجھے کیا برا تھا\nہوا کس لیے پائے بند علائق\n\nشکایت کا فقرہ زباں تک نہ آیا\nبہرحال کرتا رہا شکر خالق\n\nسر و چشم سے میں بجا لاؤں صاحب\nجو خدمت کوئی ہووے بندے کے لائق\n\nبھلا کس سے بہلاؤں دل اس چمن میں\nنہ سنبل نہ نسریں نہ گل نہ شقائق\n\nرولاتے ہو عاشق کو بے وجہ و باعث\nہنسے گی مری جان تم پر خلائق\n\nکئے معجزے حسن نے دونوں یکجا\nشب تیرہ گیسو جبیں صبح صادق\n\nکہا سن کے افسانۂ قیس و لیلیٰ\nعبث کرتے ہو حال میں ذکر سابق\n\nگیا وہ زمانہ وہ لوگ اڑ گئے سب\nنہ معشوق ویسے رہے اب نہ عاشق\n\nشنیدیم نام و نشانش ندیدیم\nچو عنقاست معدوم یار موافق\n\nمری جان مدت سے مرتا ہوں تجھ پر\nترے چاند سے منہ کا عاشق ہوں عاشق\n\nہوا رشک لیلیٰ کی فرقت میں مجنوں\nمرا حال اور قیس کا ہے مطابق\n\nعبث فوق دیتا ہے تو خود کو ناداں\nکیا ایک کو ایک پر اس نے فائق\n\nوہ منشی بنے قدرت حق تو دیکھو\nجو مکتب میں پڑھتے تھے انشائے فائق\n\nدعا ہے یہی اور یہی ہے تمنا\nنجف میں مرے جا کے یہ رندؔ فاسق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D9%88%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D8%B9%D9%84_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%B7%D8%A7%D8%A8%D9%82"} {"title": "نہیں معتقد جو ترے دید کا", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں معتقد جو ترے دید کا\nمیں دیوانہ ہوں اس کی فہمید کا\n\nتعلق کسی سے نہیں غیر حق\nیہ عالم ہوا اپنی تجرید کا\n\nخیال دو عالم ہوا دل سے دور\nیہاں وقر کیا جام جمشید کا\n\nہم آغوش وہ مجھ سے ہو یا نہ ہو\nدوانا ہوں میں دید وا دید کا\n\nیہاں نا مرادی ہے عین مراد\nنہ ہو بارور نخل امید کا\n\nیہ کوچے میں لیلہ کے مجنوں نہ ہو\nارم میں ہے گویا شجر بید کا\n\nترا شعر ؔجوشش تجھے ہے پسند\nتو محتاج ہے کس کی تائید کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D8%AA%D9%82%D8%AF_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا\nہمارے توبہ کر لینے سے پیمانے پہ کیا گزرا\n\nبرہمن سر کو اپنے پیٹتا تھا دیر کے آگے\nخدا جانے تری صورت سے بت خانے پہ کیا گزرا\n\nمجھے زنجیر کر رکھا ہے ان شہری غزالوں نے\nنہیں معلوم میرے بعد ویرانے پہ کیا گزرا\n\nہوئے ہیں چور میرے استخواں پتھر سے ٹکرا کے\nنہ پوچھا یہ کبھی تو نے کہ دیوانہ پہ کیا گزرا\n\nیقیںؔ کب یار میرے سوز دل کی داد کو پہنچے\nکہاں ہے شمع کو پروا کہ پروانہ پہ کیا گزرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D9%84_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7"} {"title": "نہیں معلوم کیا واجب ہے کیا فرض", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں معلوم کیا واجب ہے کیا فرض\nمَرے مذہب میں ہے تیری رضا فرض\n\nشعورِ ہستیِ موہوم ہے کفر\nفنا بعدِ فنا بعدِ فنا فرض\n\nنہیں آگاہ مستِ بادۂ شوق\nکہاں سنّت کدھر واجب کُجا فرض\n\nرہِ تسلیم میں از روئے فتویٰ\nدعا واجب پہ ترکِ مدّعا فرض\n\nنہ چھوٹے کفر میں بھی وضعِ ایماں\nکہ ہر حالت میں ہے یادِ خدا فرض\n\nنہیں دیکھا کسی نے حُسنِ مستور\nبقدرِ فہم لیکن کر لیا فرض\n\nنہ مانوں گا نہ مانوں گا کبھی میں\nمُجھے کرتے ہیں کیوں اُس سے جدا فرض\n\nنہ کھولوں گا نہ کھولوں گا زباں کو\nکہ ہے اخفائے رازِ دلربا فرض\n\nبلا سے کوئی مانے یا نہ مانے\nچلو ہم کر چُکے اپنا ادا فرض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%81%D8%B1%D8%B6"} {"title": "نہیں مقام کی خُوگر طبیعتِ آزاد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "نہیں مقام کی خُوگر طبیعتِ آزاد\nہُوائے سیر مثالِ نسیم پیدا کر\n\nہزار چشمہ ترے سنگِ راہ سے پُھوٹے\nخودی میں ڈُوب کے ضربِ کلیم پیدا کر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%8F%D9%88%DA%AF%D8%B1_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA%D9%90_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF"} {"title": "نہیں ملتا دلا ہم کو نشاں تک", "poet_page": "مصنف:میاں داد خاں سیاح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں ملتا دلا ہم کو نشاں تک\nمکاں ڈھونڈ آئے اس کا لا مکاں تک\n\nبنا ہر موئے تن خار مغیلاں\nستایا جوش وحشت نے یہاں تک\n\nہماری جان کے پیچھے پڑا ہے\nدل ناداں کو سمجھائیں کہاں تک\n\nرواں شب کو ہوا کیا ناقۂ روح\nنظر آئی نہ گرد کارواں تک\n\nزمیں پہ زلزلہ آیا تو پہنچا\nمرے نالوں کا غوغا آسماں تک\n\nملے ہے دل کو ذوق بوسۂ لب\nمزا ہے ورنہ ہر شے کا زباں تک\n\nجو رکھتے تھے دماغ اپنا فلک پر\nزمیں پر اب نہیں ان کا نشاں تک\n\nجلایا شمع سا اس شعلہ رو نے\nگئے گھل سوز غم سے استخواں تک\n\nجہاں کی سیر کی سیاحؔ ہم نے\nنہ پہنچے پر سخن کے قدرداں تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7_%D8%AF%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلے\nجسے تم نے کیا خاموش اس سے کیا صدا نکلے\n\nقیامت اک بپا ہے سینۂ مجروح الفت میں\nنہ تیر دلنشیں نکلے نہ جان مبتلا نکلے\n\nتمہارے خوگر بیداد کو کیا لطف کی حاجت\nوفا ایسی نہ کرنا تم جو آخر کو جفا نکلے\n\nگماں تھا کام دل اغیار تم سے پاتے ہیں لیکن\nہماری طرح وہ بھی کشتۂ تیغ جفا نکلے\n\nزبردستی غزل کہنے پہ تم آمادہ ہو وحشتؔ\nطبیعت جب نہ ہو حاضر تو پھر مضمون کیا نکلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%85%DA%A9%D9%86_%D9%84%D8%A8_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D8%B1%D9%81_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوں", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوں\nاے صنم تابع فرمان مقدر میں ہوں\n\nدل تو حیران ہے کیوں ششدر و مضطر میں ہوں\nعشق کہتا ہے کہ اس پردہ کے اندر میں ہوں\n\nپیر و سلسلۂ زلف معنبر میں ہوں\nطوق سے عذر نہ زنجیر سے باہر میں ہوں\n\nآب روئے صدف و زینت گوش محبوب\nدر نایاب جو سنتے ہو وہ گوہر میں ہوں\n\nاب سبک دوش میں ہوں بوجھ گلے کا ٹل جائے\nتیغ قاتل سے الٰہی کہیں بے سر میں ہوں\n\nطائر قبلہ نما کا ہے اشارہ مجھ سے\nنامہ پہنچانے کو پردار کبوتر میں ہوں\n\nآئی پھر فصل بہاری مدد اے جوش جنوں\nدو قدم چل نہیں سکتا ہوں وہ لاغر میں ہوں\n\nنطق کہتا ہے کہ عیسیٰ مرا دم بھرتا ہے\nدہن یار کو دعویٰ ہے کہ کوثر میں ہوں\n\nجادو برحق ہے تو کافر ہے عیاں را چہ بیاں\nتیرا مارا ہوا اے چشم فسوں گر میں ہوں\n\nمحتسب کو بھی ہدایت کروں مے نوشی کی\nواعظا تیری جگہ گر سر منبر میں ہوں\n\nنہ انہیں میری شکایت نہ مجھے ان کا گلہ\nنہ کدورت انہیں مجھ سے نہ مکدر میں ہوں\n\nحیرت حسن سے اک سکتہ کا عالم دیکھا\nآئینہ منہ کو ترے تکتا ہے ششدر میں ہوں\n\nدور فرہاد گیا یہ ہے زمانہ میرا\nبے ستوں اب تو اٹھائے ہوئے سر پر میں ہوں\n\nآج کل حسن جوانی پہ جو ہے ان کو غرور\nناز کہتا ہے کہ انداز سے باہر میں ہوں\n\nبرق و سیماب کا آغاؔ نہ رہے نام و نشاں\nدل کی بیتابی سے اک بار جو مضطر میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%85%DA%A9%D9%86_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AD%DA%A9%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "نہیں منظور تپ ہجر کا رسوا ہونا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں منظور تپ ہجر کا رسوا ہونا\nتیرے بیمار کا اچھا نہیں اچھا ہونا\n\nناصحا وسعت کاشانہ جنوں خیز نہیں\nورنہ کیا فرض ہے آوارۂ صحرا ہونا\n\nبس اب اے ضبط زیادہ مجھے محجوب نہ کر\nہے مری آنکھ کی تقدیر میں دریا ہونا\n\nکس سے کھلتے ہیں تری زلف گرہ گیر کے بل\nکوئی آسان ہے یہ عقدۂ دل وا ہونا\n\nنگۂ ناز کو آساں دم خنجر بننا\nلب جاں بخش کو دشوار مسیحا ہونا\n\nہائے باتوں میں تری لغزش مستانۂ ناز\nہائے آنکھوں میں تری نشۂ صہبا ہونا\n\nہمہ تن داغ غم عشق بتاں ہوں فانیؔ\nدل سے بھاتا ہے مجھے نقش سویدا ہونا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D9%BE_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "نہیں وسواس جی گنوانے کے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں وسواس جی گنوانے کے\nہائے رے ذوق دل لگانے کے\n\nمیرے تغییر حال پر مت جا\nاتفاقات ہیں زمانے کے\n\nدم آخر ہی کیا نہ آنا تھا\nاور بھی وقت تھے بہانے کے\n\nاس کدورت کو ہم سمجھتے ہیں\nڈھب ہیں یہ خاک میں ملانے کے\n\nبس ہیں دو برگ گل قفس میں صبا\nنہیں بھوکے ہم آب و دانے کے\n\nمرنے پر بیٹھے ہیں سنو صاحب\nبندے ہیں اپنے جی چلانے کے\n\nاب گریباں کہاں کہ اے ناصح\nچڑھ گیا ہاتھ اس دوانے کے\n\nچشم نجم سپہر جھپکے ہے\nصدقے اس انکھڑیاں لڑانے کے\n\nدل و دیں ہوش و صبر سب ہی گئے\nآگے آگے تمہارے آنے کے\n\nکب تو سوتا تھا گھر مرے آ کر\nجاگے تالا غریب خانے کے\n\nمژہ ابرو نگہ سے اس کی میرؔ\nکشتہ ہیں اپنے دل لگانے کے\n\nتیر و تلوار و سیل یکجا ہیں\nسارے اسباب مار جانے کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B3_%D8%AC%DB%8C_%DA%AF%D9%86%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92"} {"title": "نہیں چھپتا ترے عتاب کا رنگ", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں چھپتا ترے عتاب کا رنگ\nکہ بدلنے لگا نقاب کا رنگ\n\nپھر گیا آنکھ میں شراب کا رنگ\nظالم اف رے ترے شباب کا رنگ\n\nاب تو لالے ہیں جان مضطر کے\nاور ہی کچھ ہے اضطراب کا رنگ\n\nتیرے آتے ہی ہو گئی پانی\nاڑ گیا محتسب شراب کا رنگ\n\nرنگ لائے گا دیدۂ پر آب\nدیکھنا دیدۂ پر آب کا رنگ\n\nداغ دامن نے بھی کیا پیدا\nحشر کے روز آفتاب کا رنگ\n\nشیخ جانا تجھے محبت میں\nدیکھتا جا مری شراب کا رنگ\n\nصدقے میں اپنی پارسائی کے\nکہ بڑھاپے میں ہے شباب کا رنگ\n\nخون سے جیسے واسطہ ہی نہیں\nصاف ہے خنجر پر آب کا رنگ\n\nریش واعظ سفید ہے کتنی\nنہیں چڑھتا کبھی خضاب کا رنگ\n\nرنگ کا اس کے پوچھنا کیا ہے\nجس کا سایہ بھی دے گلاب کا رنگ\n\nسچ ہے اے حضرت ریاضؔ یہ بات\nکہ جدا سب سے ہے جناب کا رنگ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D9%86%DA%AF"} {"title": "نہیں کام آتی محبت کسی کی", "poet_page": "مصنف:ابومحمد سید حسین سیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > منتخب دیوان سیفی (1934)", "year": "1934", "text_ur": "نہیں کام آتی محبت کسی کی\nنہ آئے کسی پر طبیعت کسی کی\n\nکوئی کیا کرے گردش آسماں کو\nہمیں کب گوارا ہے ذلت کسی کی\n\nبڑی یہ بلا ہے محبت خدایا\nنہ آئے کسی پر طبیعت کسی کی\n\nیہ کہتے نہ تھے تم سے پہلے ہی سیفیؔ\nنہیں کام آتی محبت کسی کی", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "نہیں کرتی اثر فریاد میری", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں کرتی اثر فریاد میری\nکوئی کس طرح دیوے داد میری\n\nفغان جاں گسل رکھتا ہوں لیکن\nنہیں سنتا مرا صیاد میری\n\nتو اے پیغام بر جھوٹی ہی کچھ کہہ\nکہ خوش ہو خاطر ناشاد میری\n\nمیں تجھ کو یاد کرتا ہوں الٰہی\nترے بھی دل میں ہوگی یاد میری\n\nنہیں ہوتا مقید میں کسی کا\nطبیعت ہے بہت آزاد میری\n\nادھر اے مصحفیؔ کیا دیکھتا ہے\nغزل سن آ مرے استاد میری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "نہیں کوئی دوست اپنا یار اپنا مہرباں اپنا", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہ کوئی دوست اپنا یار اپنا مہرباں اپنا\nسناؤں کس کو غم اپنا الم اپنا فغاں اپنا\n\nنہ طاقت ہے اشارے کی نہ کہنے کی نہ سننے کی\nکہوں کیا میں سنوں کیا میں بتاؤں کیا بیاں اپنا\n\nنپٹ رکھتا ہے جی میرا خفا ہوں ناک میں دم ہے\nنہ گھر بھاتا ہے نے صحرا کہاں کیجے مکاں اپنا\n\nہوا ہوں گم میں لشکر میں پری رویاں کے ہے ظالم\nکہاں ڈھونڈوں کسے پوچھوں نہیں پاتا نشاں اپنا\n\nبہت چاہا کہ آوے یار یا اس دل کو صبر آوے\nنہ یار آیا نہ صبر آیا دیا میں جی نداں اپنا\n\nقفس میں بند ہیں یہ عندلیبیں سخت بے بس ہیں\nنہ گلشن دیکھ سکتی ہیں نہ اب وے آشیاں اپنا\n\nمجھے آتا ہے رونا ایسی تنہائی پہ اے تاباںؔ\nنہ یار اپنا نہ دل اپنا نہ تن اپنا نہ جاں اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "نہیں کٹتا ہے یہ میدان بلا", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں کٹتا ہے یہ میدان بلا\nوادیٔ خضر بیابان بلا\n\nمستعد زلف مری رنج پہ ہے\nہے مہیا سر و سامان بلا\n\nمر گیا گیسو پرپیچ میں دل\nچھٹ گیا قیدیٔ زندان بلا\n\nہار پھولوں کی ہیں چوٹی میں عیاں\nکیا ہی پھولا ہے گلستان بلا\n\nبولے بکھرا کے وہ زلفیں اپنی\nہم ہوئے سلسلہ جنبان بلا\n\nاونچی چوٹی ہے غضب اے یم حسن\nکیا ہی اٹھا ہے یہ طوفان بلا\n\nکان کی لو تری زلفوں میں نہیں\nہے چراغ تہ دامان بلا\n\nگرمیٔ رخ سے عرق ریز ہے زلف\nہے گہر بار یہ نیسان بلا\n\nدل مرے سینے میں ہے محو مژہ\nہے یہی شیر نیستان بلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%B9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D9%84%D8%A7"} {"title": "نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے\nدل فسردہ لیے جاتا ہے چمن سے مجھے\n\nمثال شمع ہے رونا بھی اور جلنا بھی\nیہی تو فائدہ ہے تیری انجمن سے مجھے\n\nبڑھی ہے یاس سے کچھ ایسی وحشت خاطر\nنکال کر ہی رہے گی یہ اب وطن سے مجھے\n\nعزیز اگر نہیں رکھتا نہ رکھ ذلیل ہی رکھ\nمگر نکال نہ تو اپنی انجمن سے مجھے\n\nوطن سمجھنے لگا ہوں میں دشت غربت کو\nزمانہ ہو گیا نکلے ہوئے وطن سے مجھے\n\nمرے بھی داغ جگر مثل لالہ ہیں رنگیں\nہے چشمک اس گل خوبی کے بانکپن سے مجھے\n\nچھپا نہ گوشہ نشینی سے راز دل وحشتؔ\nکہ جانتا ہے زمانہ مرے سخن سے مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D9%88_%D8%B3%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں\nشبِ فراق سے روزِ جزا زیاد نہیں\n\nکوئی کہے کہ “شبِ مَہ میں کیا بُرائی ہے”\nبلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں\n\nجو آؤں سامنے اُن کے تو مرحبا نہ کہیں\nجو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیر باد نہیں\n\nکبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں، تو کہتے ہیں\nکہ “آج بزم میں کچھ فتنۂ و فساد نہیں”\n\nعلاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شراب\nگدائے کُوچۂ مے خانہ نامراد نہیں\n\nجہاں میں ہو غم و شادی بہم، ہمیں کیا کام؟\nدیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں\n\nتم اُن کے وعدے کا ذکر اُن سے کیوں کرو غالبؔ\nیہ کیا؟ کہ تم کہو، اور وہ کہیں کہ “یاد نہیں”", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D9%82%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہیں گھر میں فلک کے دل کشائی", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں گھر میں فلک کے دل کشائی\nکہاں ہوتی ہے یہاں میری سمائی\n\nکرے جو بندگی سو ہو گنہ گار\nنیاری ہے یہاں کی کچھ خدائی\n\nذبح کرنے کوں ناحق بے کسوں کے\nبتا تیری کمر یہ کن کسائی\n\nتم اپنی بات کے راجا ہو پیارے\nکہیں سیں ضد تمہیں ہو ہے سوائی\n\nچمن کوں جیت آئے ناز بو جب\nتمہارے سبزۂ خط نیں ہرائی\n\nسپیدی قند کی پھیکی لگی جب\nتمہارے رنگ کی دیکھی گرائی\n\nبہا خون جگر انکھیوں سیں پل پل\nسجن بن رات ہم کوں یوں بہائی\n\nنہیں ٹکنے کا پاؤں آبروؔ کا\nگلی کی راہ اس کے ہات آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D9%84%DA%A9_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B4%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سی", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سی\nلپٹ ہے یہ تو کسی زلف پر شکن کی سی\n\nمیں ہنس کے اس لیے منہ چومتا ہوں غنچہ کا\nکہ کچھ نشانی ہے اس میں ترے دہن کی سی\n\nخدا کے واسطے گل کو نہ میرے ہاتھ سے لو\nمجھے بو آتی ہے اس میں کسی بدن کی سی\n\nہزار تن کے چلیں بانکے خوب رو لیکن\nکسی میں آن نہیں تیرے بانکپن کی سی\n\nمجھے تو اس پہ نہایت ہی رشک آتا ہے\nکہ جس کے ہاتھ نے پوشاک تیرے تن کی سی\n\nکہا جو تم نے کہ منکا ڈھلا تو آؤں گا\nہے بات کچھ نہ کچھ اس میں بھی مکر و فن کی سی\n\nوگرنہ سچ ہے تو اے جان اتنی مدت میں\nیہی بس ایک کہی تم نے میرے من کی سی\n\nوہ دیکھ شیخ کو لاحول پڑھ کے کہتا ہے\n\"یہ آئے دیکھیے داڑھی لگائے سن کی سی\"\n\nکہاں تو اور کہاں اس پری کا وصل نظیرؔ\nمیاں تو چھوڑ یہ باتیں دوانے پن کی سی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D9%88_%D9%86%D8%A7%D9%81%DB%82_%D8%AE%D8%AA%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C"} {"title": "نہیں ہونے کا یہ خون جگر بند", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں ہونے کا یہ خون جگر بند\nنہ باندھی آستین آنکھوں پہ تر بند\n\nنہ پوچھو بے بسی اپنا ہے وہ حال\nاسیر رشتہ بر پا مرغ پر بند\n\nجدا ہوتا نہیں پہلو سے دم بھر\nیہ داغ دل ہے یا کوئی جگر بند\n\nکہیں ایسا نہ ہو وہ آ کے پھر جائے\nکسی شب بند ہوں آنکھیں نہ در بند\n\nیہی قاصد پتا ہے اس کے گھر کا\nادھر جا جس طرف ہے رہ گزر بند\n\nیہ چوسر عشق بازی کی ہے اے دل\nنہ چلنا چال وہ جس سے ہو گھر بند\n\nاجازت اک تڑپ کی دے جو صیاد\nقفس کو لے اڑیں ہم مرغ پر بند\n\nیہ حال ناتوانی ہے کہ آنکھیں\nکھلیں جو ایک دم تو دوپہر بند\n\nنہیں یہ پتلیاں او چشم فتاں\nترے گھر میں ہیں دو فتنے نظر بند\n\nمیں گھبراتا ہوں محرم سے تمہاری\nکھلے دل کی گرہ کھولو اگر بند\n\nدعا یہ مانگتا ہوں میں شب وصل\nقیامت تک رہی باب سحر بند\n\nخدا جانے کہاں ہوں اور کیا ہوں\nکھلے احوال کیا جب ہو خبر بند\n\nجو ہاتھ آئیں اسے یہ دانۂ اشک\nرہی مشت صدف مثل گہر بند\n\nلکھے گا حال دل اے بحرؔ کب تک\nبس اب ویفر لگا مکتوب کر بند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%AE%D9%88%D9%86_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%A8%D9%86%D8%AF"} {"title": "نہیں ہے اشک سے یہ خون ناب آنکھوں میں", "poet_page": "مصنف:باقر آگاہ ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں ہے اشک سے یہ خون ناب آنکھوں میں\nبھرا ہے رنگ سے تیرے شہاب آنکھوں میں\n\nکہاں نکل سکے آنسو نظر کو جائے نہیں\nرکھا ہوں شکل کو تیری میں داب آنکھوں میں\n\nالوہی کس کی تجلی سے ہو گیا ہوں دو چار\nجھمک رہا ہے سدا ماہتاب آنکھوں میں\n\nہوئے ہیں جب سے وہ کیف نگہ کے آئنہ دار\nبجائے اشک بھری ہے شراب آنکھوں میں\n\nعمل سے اپنی زباں کس طرح نہ ہو بیکار\nجہاں ہو رسم سوال و جواب آنکھوں میں\n\nہوا ہوں جب سے میں اطلاق اس کے سے آگاہ\nجہاں میں دیکھوں ہے واں بو تراب آنکھوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AE%D9%88%D9%86_%D9%86%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہیں ہے امن کا دنیا میں اب مقام کوئی", "poet_page": "مصنف:راغب بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں ہے امن کا دنیا میں اب مقام کوئی\nخدا خدا کہے کوئی کہ رام رام کوئی\n\nمرے بنائے تو بنتا نہیں ہے کام کوئی\nوہ کارساز کرے اس کا انتظام کوئی\n\nنہ ہوگا بزم کا باتوں سے انتظام کوئی\nخود اپنی بات پہ تجھ کو نہیں قیام کوئی\n\nتمہارے ہو کے جو ہم ذلتیں اٹھاتے ہیں\nذلیل ہوگا کسی کا نہ یوں غلام کوئی\n\nاٹھاؤ تیغ سزا دو رقیب مفسد کو\nنصیحتوں سے ہوا ہے کب انتظام کوئی\n\nچھری سے رحم کرے پہلے کس پر اب صیاد\nکوئی قفس میں تڑپتا ہے زیر دام کوئی\n\nیہ مجھ سے آنکھ ملاتا نہیں ہے کیوں ساقی\nمرے نصیب کا شاید نہیں ہے جام کوئی\n\nجو نام لیتے ہیں تیرا وہ قتل ہوتے ہیں\nنہیں مرے گا جو لے گا نہ تیرا نام کوئی\n\nکچھ اور کیجیے تدبیر کام کی راغبؔ\nکہ ہائے ہائے سے بنتا نہیں ہے کام کوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%85%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں\nہوا ہے تار اشک یاس رشتہ چشم سوزن میں\n\nہوئی ہے مانع ذوق تماشا خانہ ویرانی\nکف سیلاب باقی ہے بہ رنگ پنبہ روزن میں\n\nودیعت خانۂ بیداد کاوش‌ ہاۓ مژگاں ہوں\nنگین نام شاہد ہے مرے ہر قطرۂ خوں تن میں\n\nبیاں کس سے ہو ظلمت گستری میرے شبستاں کی\nشب مہ ہو جو رکھ دوں پنبہ دیواروں کے روزن میں\n\nنکوہش مانع بے ربطی شور جنوں آئی\nہوا ہے خندۂ احباب بخیہ جیب و دامن میں\n\nہوئے اس مہروش کے جلوۂ تمثال کے آگے\nپرافشاں جوہر آئینے میں مثل ذرہ روزن میں\n\nنہ جانوں نیک ہوں یا بد ہوں پر صحبت مخالف ہے\nجو گل ہوں تو ہوں گلخن میں جو خس ہوں تو ہوں گلشن میں\n\nہزاروں دل دیے جوش جنون عشق نے مجھ کو\nسیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرۂ خوں تن میں\n\nاسدؔ زندانی تاثیر الفت ‌ہاۓ خوباں ہوں\nخم دست نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں\n\nفزوں کی دوستوں نے حرص قاتل ذوق کشتن میں\nہوئے ہیں بخیہ ہائے زخم جوہر تیغ دشمن میں\n\nتماشا کردنی ہے لطف زخم انتظار اے دل\nسویدا داغ مرہم مردمک ہے چشم سوزن میں\n\nدل و دین و خرد تاراج ناز جلوہ پیرائی\nہوا ہے جوہر آئینہ خیل مور خرمن میں\n\nنکوہش مانع دیوانگی ہائے جنوں آئی\nلگایا خندۂ ناصح نے بخیہ جیب و دامن میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%AE%DB%8C%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نہیں ہے مجھ کو اے جمشید تیرے جام سے کام", "poet_page": "مصنف:مسکین شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "نہیں ہے مجھ کو اے جمشید تیرے جام سے کام\nجہاں نما ہے مجھے اپنے خوش خرام سے کام\n\nسبھی تو دین و دنیا کا کام کرتے ہیں\nمجھے نہ دین نہ دنیا کے انتظام سے کام\n\nحرم میں شیخ ہیں اور دیر میں برہمن ہیں\nہمیں نہیں ہے انہوں کے کوئی کلام سے کام\n\nکنشت دل میں ہے اک جوش بت پرستی کا\nمجھے بتوں کی ہے خدمت میں رام رام سے کام\n\nغرض نہ کفر سے کچھ ہے نہ دین سے مطلب\nنہ ہے حلال سے نا ہے ہمیں حرام سے کام\n\nصنم کے روبرو رہنا مجھے غنیمت ہے\nنہ شرم ننگ سے کچھ ہے مجھے نہ نام سے کام\n\nخفا بھی ہو کے جو دیکھے تو سر نثار کروں\nاگر نہ دیکھے تو پھر بھی ہے اک سلام سے کام\n\nسنا سنا کے جو کرتا ہے وعظ حسن بیاں\nپڑا ہے تجھ کو ہمیشہ یہ فہم خام سے کام\n\nتو اپنے بکنے سے مسکیںؔ نہ ہم سے دور ہوا\nتجھے تو بکنے سے مجھ کو ہے اپنے کام سے کام", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D9%85%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85"} {"title": "نہیں یاں بیٹھتے جو ایک دم تم", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں یاں بیٹھتے جو ایک دم تم\nتو کیا ڈرتے ہو ہم سے اے صنم تم\n\nہنسو بولو ملو بیٹھو بھلا جی\nنہیں کیا عاشق و معشوق ہم تم\n\nجو یاں آیا کبھی چاہو تو بے خوف\nادھر لایا کرو اپنا قدم تم\n\nنہایت سادہ دل ہیں ہم تو اے جاں\nنہ سمجھو ہم میں ہرگز پیچ و خم تم\n\nسنا جب یہ نظیرؔ اس نے تو ہنس کر\nکہا یہ تو ہمیں دیتے ہو دم تم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%85_%D8%AA%D9%85"} {"title": "نہیں یہ جلوہ ہائے راز عرفاں دیکھنے والے", "poet_page": "مصنف:باسط بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں یہ جلوہ ہائے راز عرفاں دیکھنے والے\nتمہیں کب دیکھتے ہیں کفر و ایماں دیکھنے والے\n\nخدا رکھے ترے غم کا بہت نازک زمانہ ہے\nسحر دیکھیں نہ دیکھیں شام ہجراں دیکھنے والے\n\nیہ کس نے لا کے رکھ دی سامنے تصویر محشر کی\nابھی چونکے ہی تھے خواب پریشاں دیکھنے والے\n\nکہاں تک آئینہ دار تجلیات خود بینی\nیہ پردہ بھی الٹ دے او دل و جاں دیکھنے والے\n\nیہ دیوانے سجود شوق کی عظمت کو کیا جانیں\nمجھے کیا پائیں فرق کفر و ایماں دیکھنے والے\n\nکبھی گرداب سے بھی کھیل موجوں سے بھی ٹکرا جا\nارے ساحل پہ رہ کر جوش طوفاں دیکھنے والے\n\nترے قربان باسطؔ اور باسطؔ کی ہر اک دنیا\nبہار وحشت آشفتہ حالاں دیکھنے والے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "نہیں یہ فکر کوئی رہبر کامل نہیں ملتا", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نہیں یہ فکر کوئی رہبر کامل نہیں ملتا\nکوئی دنیا میں مانوس مزاج دل نہیں ملتا\n\nکبھی ساحل پہ رہ کر شوق طوفانوں سے ٹکرائیں\nکبھی طوفاں میں رہ کر فکر ہے ساحل نہیں ملتا\n\nیہ آنا کوئی آنا ہے کہ بس رسماً چلے آئے\nیہ ملنا خاک ملنا ہے کہ دل سے دل نہیں ملتا\n\nشکستہ پا کو مژدہ خستگان راہ کو مژدہ\nکہ رہبر کو سراغ جادۂ منزل نہیں ملتا\n\nوہاں کتنوں کو تخت و تاج کا ارماں ہے کیا کہیے\nجہاں سائل کو اکثر کاسۂ سائل نہیں ملتا\n\nیہ قتل عام اور بے اذن قتل عام کیا کہئے\nیہ بسمل کیسے بسمل ہیں جنہیں قاتل نہیں ملتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "نیا آذر", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مری رفیق طرب گاہ تیری آمد پر\nنئے سروں میں نئے گیت گائے تھے میں نے\n\nنفس نفس میں جلا کر امید کے دیپک\nقدم قدم پہ ستارے بچھائے تھے میں نے\n\nہوا کے لوچ گلی سے نکھار مانگا تھا\nترے جمال کا چہرہ سنوارنے کے لئے\n\nکنول کنول سے خریدی تھی حسرت دیدار\nنظر نظر کو جگر میں اتارنے کے لئے\n\nبہت سے گیت چھلکتے رہے افق کے قریب\nبہت سے پھول برستے رہے فضاؤں میں\n\nالجھ الجھ گئی مجروح زیست کی گرہیں\nبکھر بکھر گئیں انگڑائیاں خلاؤں میں\n\nمیں پوچھتا ہوں کہ اے رنگ و نور کی دیوی\nعلاج تیرہ شبی کیا اسی کو کہتے ہیں\n\nبجھے بجھے سے یہ مفلس دیے نہ جانے کیا\nسلگ سلگ کے تری بے حسی کو کہتے ہیں\n\nیہ گیت سر بہ گریباں ہیں تیرے جانے سے\nیہ نو عروس ستارے بڑھا رہے ہیں سہاگ\n\nکلی کلی کو تری بے رخی کا شکوہ ہے\nنفس نفس سے نکلتی ہے ایک ایسی آگ\n\nجسے بجھاؤں تو دل زمہریر ہو جائے\nترا عظیم تصور حقیر ہو جائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%D8%B0%D8%B1"} {"title": "نیا سال", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "دھواں", "year": "1941", "text_ur": "کیلنڈر کا آخری پتا جس پر موٹے حروف میں31 دسمبر چھپا ہوا تھا، ایک لمحہ کے اندر اس کی پتلی انگلیوں کی گرفت میں تھا۔ اب کیلنڈر ایک ٹنڈ منڈ درخت سا نظر آنے لگا۔ جس کی ٹہنیوں پر سے سارے پتے خزاں کی پھونکوں نے اڑا دیے ہوں۔ دیوار پر آویزاں کلاک ٹِک ٹِک کررہاتھا۔ کیلنڈر کا آخری پتا جو ڈیڑھ مربع انچ کاغذ کا ایک ٹکڑا تھا، اس کی پتلی انگلیوں میں یوں کانپ رہا تھا گویا سزائے موت کا قیدی پھانسی کے سامنے کھڑا ہے۔\n\nکلاک نے بارہ بجائے، پہلی ضرب پر انگلیاں متحرک ہوئیں اور آخری ضرب پر کاغذ کا وہ ٹکڑا ایک ننھی سی گولی بنا دیا گیا۔ انگلیوں نے یہ کام بڑی بے رحمی سے کیا اور جس شخص کی یہ انگلیاں تھیں اور بھی زیادہ بے رحمی سے اس گولی کو نگل گیا۔ اس کے لبوں پر ایک تیزابی مسکراہٹ پیدا ہوئی اور اس نے خالی کیلنڈر کی طرف فاتحانہ نظروں سے دیکھا اور کہا،’’میں تمہیں کھا گیا ہوں۔۔۔ بغیر چبائے نگل گیا ہوں۔‘‘\n\nاس کے بعد ایک ایسے قہقہے کا شور بلند ہوا جس میں ان توپوں کی گونج دب گئی جو نئے سال کے آغاز پر کہیں دور داغی جارہی تھیں۔جب تک ان توپوں کا شور جاری رہا، اس کے سوکھے ہوئے حلق سے قہقہے آتشیں لاوے کی طرح نکلتے رہے، وہ بے حد خوش تھا، بے حد خوش، یہی وجہ تھی کہ اس پر دیوانگی کا عالم طاری تھا۔ اس کی مسرت آخری درجہ پر پہنچی ہوئی تھی، وہ سارے کا سارا ہنس رہا تھا۔ مگر اس کی آنکھیں رو رہی تھیں اور جب اس کی آنکھیں ہنستیں تو آپ اس کے سکڑے لبوں کو دیکھ کر یہی سمجھتے کہ اس کی روح کسی نہایت ہی سخت عذاب میں سے گزر رہی ہے۔\n\nبار بار وہ نعرہ بلند کرتا، ’’میں تمہیں کھا گیا ہوں۔۔۔ بغیر چبائے نگل گیا ہوں۔۔۔ ایک ایک کرکے تین سو چھیاسٹھ دنوں کو، لیپ دن سمیت!‘‘\n\nخالی کیلنڈر اس کے اس عجیب و غریب دعوے کی تصدیق کررہا تھا۔\n\nآج سے ٹھیک چار برس پہلے جب وہ اپنے کاندھوں پر مصیبتوں کا پہاڑ اٹھا کر اپنی روٹی آپ کمانے کے لیے میدان میں نکلا تو کتنے آدمیوں نے اس کا مضحکہ اڑایا تھا۔۔۔ کتنے لوگ اس کی ’’ہمت‘‘ پر زیرِ لب ہنستے تھے۔ مگر اس نے ان باتوں کی کوئی پروا نہ کی تھی اور اسے اب بھی کسی کی کیا پروا تھی، اس کو صرف اپنے آپ سے غرض تھی اور بس، دوسروں کی جنت پر وہ ہمیشہ اپنی دوزخ کو ترجیح دیتا رہا تھا اور اب بھی اسی چیز پرپابند تھا۔ وہ ان دنوں گدھوں کی سی مشقت کررہا تھا، کتوں سے بڑھ کر ذلیل زندگی بسر کررہا تھامگر یہ چیزیں اس کے راستے میں حائل نہ ہوتی تھیں۔\n\nکئی بار اسے ہاتھ پھیلانا پڑا۔۔۔ اس نے ہاتھ پھیلایا، لیکن ایک شان کے ساتھ۔ وہ کہا کرتا تھا، ’’یہ سب بھکاری جو سڑکوں پر جھولیاں پھیلائے اور کشکول بڑھائے پھرتے رہتے ہیں، گولی مار کر اڑا دینے چاہئیں۔ بھِیک لے کر یہ ذلیل کتے شکر گزار نظر آتے ہیں۔۔۔ حالانکہ انھیں شکریہ گالیوں سے ادا کرنا چاہیے۔۔۔ جو بھیک مانگتے ہیں وہ اتنے لعنتی نہیں جتنے کہ یہ لوگ جو دیتے ہیں۔ دان پُن کے طور پر۔۔۔ جنت میں ایک ٹھنڈی کوٹھری بک کرانے والے سوداگر!\n\nاس کو کئی مرتبہ روپے پیسے کی امداد حاصل کرنے کی خاطر شہر کے دھن وانوں کے پاس جانا پڑا۔۔۔ اس نے ان دولت مندوں سے امداد حاصل کی۔۔۔۔ ان کی کمزوریاں انھیں کے پاس بیچ کر۔۔۔ اور اس نے یہ سودا کبھی اناڑی دکاندار کی طرح نہیں کیا۔\n\nآپ شہر کی صحت کے محافظ مقرر کیے گئے ہیں۔ لیکن درحقیقت آپ بیماریاں فراہم کرنے کے ٹھیکےدار ہیں۔ حکومت کی کتابوں میں آپ کے نام کے سامنے ہیلتھ آفیسر لکھا جاتا ہے، مگر میری کتاب میں آپ کا نام امراض فروشوں کی فہرست میں درج ہے۔۔۔ پرسوں مارکیٹ میں آپ نے سنگتروں کے دو سو ٹوکرے پاس کرکے بھجوائے جو طبی اصول کے مطابق صحت عامہ کے لیے سخت مضر تھے۔ دس روز پہلے آپ نے قریباً دو ہزار کیلوں پر اپنی آنکھیں بند کرلیں جن میں سے ہر ایک ہیضہ کی پڑیا تھی۔۔۔ اور آج آپ نے اس بوسیدہ اور غلیظ عمارت کو بچا لیا جہاں بیماریاں پرورش پاتی ہیں اور۔۔۔\nاسے عام طور پر آگے کہنے کی ضرورت ہی نہ پیش آتی تھی۔۔۔ اس لیے کہ اس کا سودا بہت کم گفتگو ہی سے طے ہو جاتا تھا۔\n\nوہ ایک سستے اور بازاری قسم کے اخبار کا ایڈیٹر تھا۔ جس کی اشاعت دو سو سے زیادہ نہ تھی۔۔۔ دراصل وہ اشاعت کا قائل ہی نہ تھا۔۔۔ وہ کہا کرتا تھا، ’’جو لوگ اخبار پڑھتے ہیں بیوقوف ہیں اور جو لوگ اخبار پڑھ کر اس میں لکھی باتوں پر یقین کرتے ہیں، سب سے بڑے بیوقوف ہیں۔ جن لوگوں کی اپنی زندگی ہنگامے سے پر ہو، ان کو اِن چھپے ہوئے چیتھڑوں سے کیا مطلب؟‘‘\n\nوہ اخبار اس لیے نہیں نکالتا تھا کہ اسے مضامین لکھنے کا شوق تھا۔ یا وہ اخبار کے ذریعے سے شہرت حاصل کرنا چاہتا تھا۔۔۔ نہیں، بالکل نہیں۔۔۔ ایک دو گھنٹے کی مصروفیت کے سوا جو اس کے اخبار کی اشاعت کے لیے ضروری تھی وہ اپنا بقیہ وقت ان خوابوں کی تعبیر دیکھنے میں گزارا کرتا تھا جو ایک زمانہ سے اس کے ذہن میں موجود تھے۔ وہ اپنے لیے ایک ایسا مقام بنانا چاہتا تھا جہاں اسے کوئی نہ چھیڑ سکے۔۔۔ جہاں وہ اطمینان حاصل کرسکے۔۔۔ خواہ وہ دو سیکنڈ ہی کا کیوں نہ ہو۔\n\n’’جنگ کے میدان میں فتح، برلبِ گورہی نصیب ہو۔ مگر ہو ضرور۔۔۔ اور اگر شکست ہو جائے، پٹنا پڑے تو بھی کیا ہرج ہے۔۔۔ شکست کھائیں گے لیکن فتح حاصل کرنےکی کوشش کرتے ہوئے۔۔۔ موت ان کی ہے جو موت سے ڈرکر جان دیں، اور جو زندہ رہنے کی کوشش میں موت سے لپٹ جائیں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔۔۔ کم از کم اپنے لیے!‘‘\n\nدنیا اس کے خلاف تھی۔ جو شخص بھی اس سے ملتا تھا اس سے نفرت کرتا تھا۔ وہ خوش تھا۔ نفرت میں محبت سے زیادہ تیزی ہوتی ہے۔۔۔ اگر سب لوگ مجھ سے محبت کرنا شروع کردیں تو میں اس پہیے کے مانند ہو جاؤں جس میں اندر باہر، اوپر نیچے سب جگہ تیل دیا گیا ہو۔۔۔ میں کبھی اس گاڑی کو آگے نہ دھکیل سکوں گا جسے لوگ زندگی کہتے ہیں۔\n\nقریب قریب سب اس کے خلاف تھےاور وہ اپنے ان مخالفین کی طرف یوں دیکھا کرتا تھا گویا وہ موٹر کے انجن میں لگے ہوئے پرزوں کو دیکھ رہا ہے،’’یہ کبھی ٹھنڈے نہیں ہونے چاہئیں۔۔۔‘‘ اور اس نے اب تک ان کو ٹھنڈا نہ ہونے دیا تھا۔ وہ اس الاؤ کو جلائے رکھتا تھا جس پر وہ ہاتھ تاپ کر اپنا کام کیا کرتا تھا۔ جس روز وہ اپنے مخالفین میں کسی نئے آدمی کا اضافہ کرتا تو اپنے دل سے کہا کرتا تھا، ’’آج میں نے الاؤ میں ایک اور سوکھی لکڑی جھونک دی ہے جو دیر تک جلتی رہے گی۔‘‘\n\nاس کے ایک مخالف نے جلسے میں اس کے خلاف بہت زہر اگلا۔۔۔ اسے بہت برا بھلا کہا۔ حتیٰ کہ اسے ننگی گالیاں بھی دیں۔ اس کے مخالف کا خیال تھا کہ یہ سب کچھ سن کر اسے نیند نہ آئے گی مگر اس کے برعکس وہ تو اس روز معمول کے خلاف بہت آرام سے سویا اور اسے خود ساری رات آنکھوں میں کاٹنا پڑی۔ شب بھر اس کا ضمیر اسے ستاتا رہا۔ حتیٰ کہ صبح اٹھ کر وہ اس کے پاس آیا اور بہت بڑے ندامت بھرے لہجہ میں اس سے معذرت طلب کی۔\n\n’’مجھے بہت افسوس ہے کہ میں نے آپ جیسے بلند اخلاق انسان کو برا بھلا کہا۔گالیاں دیں۔۔۔ دراصل۔۔۔ دراصل میں نے یہ سب کچھ بہت جلد بازی میں کیا۔ سوچے سمجھے بغیر۔۔۔۔ مجھے اکسایا گیا تھا۔۔۔ میں اپنے کیے پر نادم ہوں۔ اور مجھے امید ہے کہ آپ مجھے معاف فرما دیں گے۔ مجھ سے سخت غلطی ہوئی! س‘‘\n\nبلند اخلاق۔۔۔! اسے ا س لفظ اخلاق سے بہت چڑ تھی۔۔۔ اخلاق رُخِ انسانیت کا غازہ۔۔۔ اخلاق۔۔۔ اخلاق، اخلاق۔۔۔ یعنی چہ۔۔؟ یہ نہ کرو، وہ نہ کرو کی بے معنی گردان۔۔۔ انسان کی آزادانہ سرگرمیوں پر بٹھایا ہوا سینسر!\n\nاس کو معلوم تھا کہ اس کے کمزور دل مخالف نے جھوٹ بولا۔ مگر نہ معلوم اس کے دل میں غصہ کیوں نہ پیدا ہوا۔۔۔ بخلاف اس کے اسے ایسا محسوس ہوا کہ جو شخص اس کے سامنے بیٹھا معافی مانگ رہا ہے اس کی کوئی نہایت ہی عزیز شے فنا ہوگئی ہے۔ وہ غایت درجہ بے رحم تصورکیا جاتا تھا اور اصل میں وہ تھا بھی بے رحم، نرم و نازک جذبات سے اس کا سینہ بالکل پاک تھا۔ مگر اس پتھر پر سے کوئی چیز رینگتی ہوئی نظر آئی۔ اسے اس شخص پر رحم آنے لگا۔\n\n’’آج تم روحانی طور پر مر گئے ہو۔۔۔ اور مجھے تمہاری اِس موت پر افسوس ہے!‘‘\n\nیہ سن کر اس کے مخالف کو پھر گالیاں دینا پڑیں مگر اس کے کانوں تک کوئی آواز نہ پہنچ سکی۔ مدت ہوئی وہ اس کو کسی دو دراز قبرستان میں دفن کر چکا تھا۔\n\nچار برس سے وہ اسی طرح جی رہا تھا، زبردستی، دنیا کی مرضی کے خلاف۔ بہت سی قوتیں اس کو پسپا کر دینے پرتلی رہتی تھیں۔ مگر وہ اپنے وجود کا ایک ذرہ بھی جنگ کے بغیر ان کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔۔۔ جنگ، جنگ، جنگ۔۔۔ ہر مخالف قوت کے خلاف جنگ۔ رحم و ترحم سے ناآشنائی، عشق و محبت سے پرہیز۔ امید، خوف اور استقبال سے بیگانگی۔۔۔ اور پھر جو ہو سو ہو!\n\nچار برس سے وہ زمانے کی تیز و تند ہوا میں ایک تناور اور مضبوط درخت کی طرح کھڑا تھا۔ موسموں کے تغیروتبدل نے ممکن ہے اس کے جسم پر اثر کیا ہو مگر اس کی روح پر ابھی تک کوئی چیز اثر انداز نہ ہو سکی تھی۔ وہ ابھی تک ویسی ہی تھی۔۔۔ جیسی کہ آج سے چار برس پہلے تھی، فولاد کی طرح سخت، یہ سختی قدرت کی طرف سے عطا نہیں کی گئی تھی بلکہ خود اس نے پیدا کی تھی۔\n\nوہ کہتا تھا، ’’نرم و نازک روح کو اپنے سینے میں دبا کر تم زمانے کی پتھریلی زمین پر نہیں چل سکو گے۔ جو پھول کی پتی سے ہیرے کا جِگر کاٹنا چاہے اسے پاگل خانے میں بند کردینا چاہیے۔۔۔‘‘ شاعرانہ خیالات کو اس نے انپے دماغ میں کبھی داخل نہ ہونے دیا تھا اور اگر کبھی کبھار غیر ارادی طور پر وہ اس کے دماغ میں پیداہو جاتے تھے تو وہ ان ’’حرامی بچوں‘‘ کا فوراً گلا گھونٹ دیا کرتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا، ’’میں ان بچوں کا باپ نہیں بننا چاہتا جو میرے کاندھوں کا بوجھ بن جائیں۔‘‘\n\nاس نے اپنے سازِ حیات سے ساری طربیں اتار دیں تھیں۔ اس نے اس میں سے وہ تمام تار نوچ کر باہر نکال دیے تھے جن میں سے نرم و نازک سُر نکلتے ہیں۔\n\n’’زندگی کا صرف ایک راگ ہے اور وہ رجزہے۔ جو آگے بڑھنے، حملہ کرنے، مرنے اور مارنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اس کے سوا باقی تمام راگنیاں فضول ہیں جو اعضا پر تھکارٹ طاری کرتی ہیں۔‘‘\n\nاس کا دل شباب کے باوجود عشق و محبت سے خالی تھا۔ اس کی نظروں کے سامنے سے ہزار ہا خوبصورت لڑکیاں اور عورتیں گزر چکی تھیں، مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی اس کے دل پر اثر نہ کیا تھا۔۔۔ وہ کہا کرتا تھا،’’اس پتھر میں عشق کی جونک نہیں لگ سکتی!‘‘\n\nوہ اکیلاتھا، بالکل اکیلا۔۔۔ کھجور کے اس درخت کے مانند جو کسی تپتے ہوئے ریگستان میں تنہا کھڑا ہو۔۔۔ مگروہ اس تنہائی سے کبھی نہ گھبرایا تھا۔ دراصل وہ کبھی تنہا رہتا ہی نہ تھا۔\n\n’’جب میں کام میں مشغول ہوتا ہوں تو وہی میرا ساتھی ہوتا ہے۔ اور جب میں اس سے فارغ ہو جاتا ہوں تو میرے دوسرے خیالات و افکار میرے گردوپیش جمع ہو جاتے ہیں۔۔۔ میں ہمیشہ اپنے دوستوں کے جمگٹھے میں رہتا ہوں۔‘‘\n\nوہ اپنے دن یوں بسر کرتا تھا جیسے آم کھا رہا ہے۔ شام کو جب وہ بستر پر دراز ہوتا تھا تو ایسا محسوس کیا کرتا تھا کہ اس نے دن کو، چوسی ہوئی گٹھلی کے مانند پھینک دیا ہے۔ اگر آپ اس کے کمرے کی ایک دیوار ہوتے تو کئی بار آپ کے ساتھ یہ الفاظ ٹکراتے جو کبھی کبھی سوتے وقت اس کی زبان سے نکلا کرتے تھے، ’’آج کا دن کتنا کھٹا تھا۔۔۔ اس برس کے ٹوکرے میں اگر بقایا دن بھی اسی قسم کے ہوئے تو مزا آجائے گا!‘‘\n\nاور راتیں۔۔۔ خواہ تاریک ہوں یا منور۔ اس کی نظر میں داشتائیں تھیں۔ جن کو وہ روز طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی بھول جاتا تھا۔\n\nچار برس سے وہ اسی طرح زندگی بسر کررہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایک اونچے چبوترے پربیٹھا ہے۔ ہاتھ میں ہتھوڑا لیے۔ زمانہ کا آہنی فیتہ اس کے سامنے سے گزر رہا ہے اور وہ اس فیتے پر ہتھوڑے کی ضربوں سے اپنا ٹھپہ لگائے جارہا ہے۔ ایک دن جب گزرنے لگتا ہے تو وہ فیتے کو تھوڑی دیر کے لیے تھام لیتا ہے۔ اور پھر اسے چھوڑ کر کہتا ہے،’’اب جاؤ، میں تمہیں اچھی طرح استعمال کرچکا ہوں۔‘‘\n\nبعض لوگوں کو افسوس ہوا کرتا ہے کہ ہم نے فلاں کام فلاں وقت پر کیوں نہیں کیا۔ اور یہ پچھتاوا وہ دیر تک محسوس کیا کرتے ہیں۔ مگر اسے آج تک اس قسم کا افسوس یا رنج نہیں ہوا۔۔۔ جو وقت سوچنے میں ضائع ہوتا ہے وہ اس سے بغیر سوچے سمجھے فائدہ اٹھانے کی کوشش کیا کرتا تھا۔۔۔ خواہ انجام کار اسے نقصان ہی کیوں نہ پہنچے۔ اگر سوچ سمجھ کرچلنے ہی میں فائدہ ہوتا تو ان پیغمبروں اور نیکوکاروں کی زندگی تکلیفوں اور ناکامیوں سے بھری ہوئی ہرگز نہ ہوتی، جو ہر کام بڑے غور و فکر سے کیا کرتے تھے۔ اگر سوچ بچار کے بعد بھی نقصان ہویا ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے تو کیا اس سے یہ بہتر نہیں کہ غور و فکر میں پڑنے کے بغیر ہی نتائج کا سامنا کر لیا جائے۔\n\nاسے ان چار برسوں میں ہزارہا ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ صرف منہ ہی نہیں بلکہ ان کو سر سے پیر تک دیکھنا پڑا تھا مگر وہ اپنے اصول پر اسی طرح قائم تھا جس طرح تند لہروں میں ٹھوس چٹان کھڑی رہتی ہے۔\n\nآج رات بارہ بجے کے بعد نیا سال اس کے سامنے آرہا تھا۔ اور پرانے سال کو وہ ہضم کرگیا تھا۔ بغیر ڈکار لیے۔\n\nنئے سال کی آمد پر وہ خوش تھا جس طرح اکھاڑے میں کوئی نامور پہلوان اپنے نئے مدِ مقابل کی طرف خم ٹھونک کر بڑھتا ہے۔ اسی طرح وہ نئے سال کے مقابلے میں اپنے ہتھیاروں سے لیس ہو کر کھڑا ہوگیا تھا۔ اب وہ بلند آواز میں کہہ رہا تھا،’’میں تم جیسے پہلوانوں کو پچھاڑ چکا ہوں۔ اب تمہیں بھی چاروں شانے چت گرادوں گا۔‘‘\n\nجی بھر کر خوشی منانے کے بعد وہ نئے کیلنڈر کی طرف بڑھا جو میلی دیوار پر اوپر کی طرف سمٹ رہا تھا۔ تاریخ نما سے اس نے اوپر کا کاغذ ایک جھٹکے سے علاحدہ کردیا اور کہا، ’’ذرا نقاب ہٹاؤ تو۔۔۔ دیکھو ں تمہاری شکل کیسی ہے۔ میں ہوں تمہارا آقا۔۔۔ تمہارا مالک۔۔۔ تمہارا سب کچھ!‘‘ یکم جنوری کی تاریخ کا پتا عریاں ہوگیا۔ ایک قہقہہ بلند ہوا اور اس نے کہا:\n\n’’کل رات تم فنا کردیے جاؤ گے!‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%84"} {"title": "نیا سال (امین حزیں سیالکوٹی)", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "نیا سال پھر آ گیا دوستو\nنئے سال کا خیر مقدم کریں\nپڑھائی کا ہم عزم محکم کریں\nبلند کامیابی کا پرچم کریں\nنیا سال پھر آ گیا دوستو\nنئے حوصلے ہوں نئے ولولے\nنئی کوششیں ہوں نئے سلسلے\nہے دنیا سبھی سکھ کے دامن تلے\nنیا سال پھر آ گیا دوستو\nخلائی مسافر کی باتیں کریں\nثمر کامیابی کے اپنے چنیں\nترقی کی راہوں پہ بڑھتے رہیں\nنیا سال پھر آ گیا دوستو\nفسردہ روایات کو چھوڑ کر\nمسائل نئے رکھ کے پیش نظر\nکریں گے چلو سعئ شام و سحر\nنیا سال پھر آ گیا دوستو\nاٹھو پرچم امن لے کر اٹھو\nجیو خود بھی اوروں کو بھی جینے دو\nچلو تو قدم سب ملا کر چلو\nنیا سال پھر آ گیا دوستو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%84_%28%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%AD%D8%B2%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D9%84%DA%A9%D9%88%D9%B9%DB%8C%29"} {"title": "نیا سودا نیا درد نہانی لے کے آیا ہوں", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نیا سودا نیا درد نہانی لے کے آیا ہوں\nنئی اس بزم سے میں زندگانی لے کے آیا ہوں\n\nکچھ اپنی ناتوانی کچھ ترا پاس نزاکت تھا\nنگاہوں میں محبت کی کہانی لے کے آیا ہوں\n\nترے جلوے کے نظارے کو خالی ہاتھ کیا آتا\nلٹانے کو بہار نوجوانی لے کے آیا ہوں\n\nلبوں پر مہر خاموشی ہے آنکھیں ڈبڈبائی ہیں\nاثر انداز اپنی بے زبانی لے کے آیا ہوں\n\nخدا معلوم قاصد کیا سنائے دل دھڑکتا ہے\nیہ کہتا ہے کہ پیغام زبانی لے کے آیا ہوں\n\nمژہ پر گرم گرم آنسو لبوں پر سرد سرد آہیں\nفسانہ درد کا غم کی کہانی لے کے آیا ہوں\n\nسرشک خوں دل پر داغ افسردہ تمنائیں\nازل سے یہ متاع زندگانی لے کے آیا ہوں\n\nمقام خضر تھا یا میکدہ تھا کیا کہوں کیا تھا\nجہاں سے میں حیات جاودانی لے کے آیا ہوں\n\nجلیلؔ ابر سیہ کیا جھومتا ہے سبزہ زاروں پر\nیہ کہتا ہے کہ آب زندگانی لے کے آیا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%86%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "نیا شوالا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "سچ کہہ دوں اے برہمن! گر تو بُرا نہ مانے\nتیرے صنم کدوں کے بُت ہو گئے پُرانے\nاپنوں سے بَیر رکھنا تو نے بُتوں سے سیکھا\nجنگ و جدَل سِکھایا واعظ کو بھی خدا نے\nتنگ آ کے میں نے آخر دَیر و حرم کو چھوڑا\nواعظ کا وعظ چھوڑا، چھوڑے ترے فسانے\nپتھّر کی مُورتوں میں سمجھا ہے تُو خدا ہے\nخاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرّہ دیوتا ہے\n\nآ، غیریت کے پردے اک بار پھر اُٹھا دیں\nبِچھڑوں کو پھر مِلا دیں نقشِ دُوئی مٹا دیں\nسُونی پڑی ہوئی ہے مدّت سے دل کی بستی\nآ، اک نیا شِوالا اس دیس میں بنا دیں\nدنیا کے تیرتھوں سے اونچا ہو اپنا تیرتھ\nدامانِ آسماں سے اس کا کلَس مِلا دیں\nہر صبح اُٹھ کے گائیں منتر وہ مٹیھے مٹیھے\nسارے پُجاریوں کو مے پِیت کی پلا دیں\nشکتی بھی، شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے\nدھرتی کے باسیوں کی مُکتی پریت میں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "نیا عالم نظر آتا جو میں محو فغاں ہوتا", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نیا عالم نظر آتا جو میں محو فغاں ہوتا\nزمیں زیر قدم ہوتی نہ سر پر آسماں ہوتا\n\nچمن میں برق بھی گرتی تو کیا اے باغباں ہوتا\nیہی ہوتا مری آنکھوں میں میرا آشیاں ہوتا\n\nتری تلوار کے منہ بوالہوس اغیار کیا آتے\nگلے وہ خود لگا لیتی جو میرا امتحاں ہوتا\n\nفلک اس کو مٹاتا کیا کوئی اس کو اٹھاتا کیا\nترے در تک جو آ جاتا وہ سنگ آستاں ہوتا\n\nشباب آنے سے پہلے جان دیتے اہل دل تم پر\nتمہارے دور میں کاہے کو پھر کوئی جواں ہوتا\n\nترے بیمار پر یہ رات بھاری کیوں نہ ہو جاتی\nستارہ جو شب فرقت میں گرتا آسماں ہوتا\n\nوہ جب تک سامنے تھا میں تڑپتا ہی رہا صفدرؔ\nاجل کو جان دے دیتا تو قاتل بد گماں ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D9%88_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "نیا قانون", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "منگو کوچوان اپنے اڈے میں بہت عقلمند آدمی سمجھا جاتا تھا۔ گو اس کی تعلیمی حیثیت صفر کے برابر تھی اور اس نے کبھی اسکول کا منہ بھی نہیں دیکھا تھا لیکن اس کے باوجود اسے دنیا بھر کی چیزوں کا علم تھا۔ اڈے کے وہ تمام کوچوان جن کو یہ جاننے کی خواہش ہوتی تھی کہ دنیا کے اندر کیا ہو رہا ہے، استاد منگو کی وسیع معلومات سے اچھی طرح واقف تھے۔\n\nپچھلے دنوں جب استاد منگو نے اپنی ایک سواری سے اسپین میں جنگ چھڑ جانے کی افواہ سنی تھی تو اس نے گاما چودھری کے چوڑے کاندھے پر تھپکی دے کر مدبرانہ انداز میں پیش گوئی کی تھی، ’’دیکھ لینا گاما چودھری، تھوڑے ہی دنوں میں اسپین کے اندر جنگ چھڑ جائے گی۔‘‘\n\nجب گاما چودھری نے اس سے یہ پوچھا تھاکہ اسپین کہاں واقع ہے تو استاد منگو نے بڑی متانت سے جواب دیا تھا، ’’ولایت میں اور کہاں؟‘‘\n\nاسپین کی جنگ چھڑی۔ اور جب ہرشخص کو پتہ چل گیا تو اسٹیشن کے اڈے میں جتنے کوچوان حقہ پی رہے تھےدل ہی دل میں استاد منگو کی بڑائی کا اعتراف کر رہے تھے۔ اور استاد منگو اس وقت مال روڈ کی چمکیلی سطح پر تانگہ چلاتے ہوئے کسی سواری سے تازہ ہندو مسلم فساد پر تبادلہ خیال کر رہا تھا۔\n\nاس روز شام کے قریب جب وہ اڈے میں آیا تو اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر تمتمایا ہوا تھا۔ حقے کا دور چلتے چلتے جب ہندو مسلم فساد کی بات چھڑی تو استاد منگو نےسر پر سے خاکی پگڑی اتاری اور بغل میں داب کر بڑے مفکرانہ لہجے میں کہا، ’’یہ کسی پیر کی بددعا کا نتیجہ ہے کہ آئے دن ہندوؤں اور مسلمانوں میں چاقو، چھریاں چلتی رہتی ہیں۔ اور میں نے اپنے بڑوں سے سناہے کہ اکبر بادشاہ نے کسی درویش کا دل دکھایا تھا۔ اور اس درویش نے جل کر یہ بددعا دی تھی، ’جا، تیرے ہندستان میں ہمیشہ فساد ہی ہوتے رہیں گے‘ اور دیکھ لو جب سے اکبر بادشاہ کا راج ختم ہوا ہے ہندستان میں فساد پر فساد ہوتے رہتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ٹھنڈی سانس بھری۔ اور پھر حقّے کا دم لگا کر اپنی بات شروع کی، ’’یہ کانگرسی ہندستان کو آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اگر یہ لوگ ہزار سال بھی سر پٹکتے رہیں تو کچھ نہ ہو گا۔ بڑی سے بڑی بات یہ ہو گی کہ انگریز چلا جائے گا اور کوئی اٹلی والا آجائے گا۔ یا وہ روس والا جس کی بابت میں نے سنا ہے کہ بہت تگڑا آدمی ہے۔ لیکن ہندستان سدا غلام رہے گا۔ ہاں میں یہ کہنا بھول ہی گیا کہ پیر نے یہ بددعا بھی دی تھی کہ ہندستان پر ہمیشہ باہر کے آدمی راج کرتے رہیں گے۔‘‘\n\nاستاد منگو کو انگریزوں سے بڑی نفرت تھی۔ اور اس نفرت کا سبب تو وہ یہ بتلایا کرتا تھا کہ وہ ہندستان پر اپنا سکہ چلاتے ہیں۔ اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے ہیں۔ مگر اس کے تنّفر کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ چھاؤنی کے گورے اسے بہت ستایا کرتے تھے۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتے تھے گویا وہ ایک ذلیل کتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے ان کا رنگ بھی بالکل پسند نہ تھا۔ جب کبھی وہ گورے کے سرخ وسپید چہرے کو دیکھتا تو اُسے متلی آ جاتی۔ نہ معلوم کیوں وہ کہا کرتا تھا کہ ان کے لال جھریوں بھرے چہرے دیکھ کر مجھے وہ لاش یاد آ جاتی ہے جس کے جسم پر سے اوپر کی جھلّی گل گل کر جھڑ رہی ہو۔\n\nجب کسی شرابی گورے سے اس کا جھگڑا ہو جاتا تو سارا دن اس کی طبیعت مکّدر رہتی۔ اور وہ شام کو اڈے میں آکر ہل مارکہ سگرٹ پیتے یا حُقے کے کش لگاتے ہوئے اس ’گورے‘ کو جی بھر کر سنایا کرتا۔ ’’۔۔۔‘‘ یہ موٹی گالی دینے کے بعد وہ اپنے سر کو ڈھیلی پگڑی سمیت جھٹکا دے کر کہا کرتا تھا، ’’آگ لینے آئے تھے۔ اب گھر کے مالک ہی بن گئے ہیں۔ ناک میں دم کر رکھا ہے ان بندروں کی اولاد نے۔ یوں رعب گانٹھتے ہیں گویا ہم ان کے باوا کے نوکر ہیں ۔‘‘\n\nاس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا تھا۔ جب تک اس کا کوئی ساتھی اس کے پاس بیٹھا رہتا وہ اپنے سینے کی آگ اگلتا رہتا، ’’شکل دیکھتے ہو نا تم اس کی۔۔۔ جیسے کوڑھ ہو رہا ہے۔۔۔ بالکل مردار، ایک دھپّے کی مار اور گٹ پٹ یوں بک رہا تھا جیسے مار ہی ڈالے گا۔ تیری جان کی قسم، پہلے پہل جی میں آئی کہ ملعون کی کھوپڑی کے پرزے اڑا دوں لیکن اس خیال سے ٹل گیا کہ اس مردود کو مارنا اپنی ہتک ہے۔۔۔‘‘ یہ کہتے کہتے وہ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو جاتا۔ اور ناک کو خاکی قمیص سے صاف کرنے کے بعد پھر بڑبڑانے لگ جاتا، ’’قسم ہے بھگوان کی ان لاٹ صاحبوں کے ناز اٹھاتے اٹھاتے تنگ آ گیا ہوں۔ جب کبھی ان کا منحوس چہرہ دیکھتا ہوں رگوں میں خون کھولنے لگ جاتا ہے۔ کوئی نیا قانون وانون بنے تو ان لوگوں سے نجات ملے۔ تیری قسم جان میں جان آ جائے۔‘‘\n\nاور جب ایک روز استاد منگو نے کچہری سے اپنے تانگے پر دو سواریاں لادیں اور ان کی گفتگو سے اسے پتہ چلا کہ ہندستان میں جدید آئین کا نفاذ ہونے والا ہے تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔\n\nدو مارواڑی جو کچہری میں اپنے دیوانی مقدمے کے سلسلے میں آئے تھے گھر جاتے ہوئے جدید آئین یعنی انڈیا ایکٹ کے متعلق آپس میں بات چیت کر رہے تھے، ’’سنا ہے کہ پہلی اپریل سے ہندوستان میں نیا قانون چلے گا۔۔۔ یا ہر چیز بدل جائے گی؟‘‘\n\n’’ہر چیز تو نہیں بدلے گی۔ مگر کہتے ہیں کہ بہت کچھ بدل جائے گا اور ہندستانیوں کو آزادی مل جائے گی؟‘‘\n\n’’کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہو گا؟‘‘\n\n’’یہ پوچھنے کی بات ہے کل کسی وکیل سے دریافت کریں گے۔‘‘ ان مارواڑیوں کی بات چیت استاد منگو کے دل میں ناقابلِ بیان خوشی پیدا کر رہی تھی۔ وہ اپنے گھوڑے کو ہمیشہ گالیاں دیتا تھا۔ اور چابک سے بہت بری طرح پیٹا کرتا تھا۔ مگر اس روز وہ بار بار پیچھے مڑ کر مارواڑیوں کی طرف دیکھتا۔ اور اپنی بڑھی ہوئی مونچھوں کے بال ایک انگلی سے بڑی صفائی کے ساتھ اونچے کرکے گھوڑے کی پیٹھ پر باگیں ڈھیلی کرتے ہوئے بڑے پیار سے کہتا، ’’چل بیٹا۔۔۔ ذرا ہوا سے باتیں کرکے دکھا دے۔‘‘\n\nمارواڑیوں کو ان کے ٹھکانے پہنچا کر اس نے انارکلی میں دینو حلوائی کی دکان پر آدھ سیر دہی کی لسّی پی کر ایک بڑی ڈکار لی۔اور مونچھوں کو منہ میں دبا کر ان کو چوستے ہوئے ایسے ہی بلند آواز میں کہا، ’’ہت تیری ایسی تیسی۔‘‘\n\nشام کو جب وہ اڈے کو لوٹا تو خلافِ معمول اسے وہاں اپنی جان پہچان کا کوئی آدمی نہ مل سکا۔ یہ دیکھ کر اس کے سینے میں ایک عجیب و غریب طوفان برپا ہو گیا۔ آج وہ ایک بڑی خبر اپنے دوستوں کو سنانے والا تھا۔۔۔ بہت بڑی خبر، اور اس خبر کو اپنے اندر سے نکالنے کے لیے وہ سخت مجبور ہو رہا تھا لیکن وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔\n\nآدھ گھنٹے تک وہ چابک بغل میں دبائے اسٹیشن کے اڈے کی آہنی چھت کے نیچے بیقراری کی حالت میں ٹہلتا رہا۔ اس کے دماغ میں بڑے اچھے اچھے خیالات آ رہے تھے۔ نئے قانون کے نفاذ کی خبر نے اس کو ایک نئی دنیا میں لاکر کھڑا کر دیا تھا۔ وہ اس نئے قانون کے متعلق جو پہلی اپریل کو ہندستان میں نافذ ہونے والا تھا اپنے دماغ کی تمام بتیاں روشن کرکے غورو فکر کر رہا تھا۔ اس کے کانوں میں مارواڑی کا یہ اندیشہ ’’کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہو گا؟‘‘ بار بار گونج رہا تھا۔ اور اس کے تمام جسم میں مسّرت کی ایک لہر دوڑا رہا تھا۔ کئی بار اپنی گھنی مونچھوں کے اندر ہنس کر اس نے مارواڑیوں کو گالی دی۔۔۔ ’’غریبوں کی کھٹیا میں گُھسے ہوئے کھٹمل۔۔۔ نیا قانون ان کے لیے کھولتا ہوا پانی ہو گا۔‘‘\n\nوہ بے حد مسرور تھا، خاص کر اس وقت اس کے دل کو بہت ٹھنڈک پہنچتی جب وہ خیال کرتا کہ گوروں۔۔۔ سفید چوہوں (وہ ان کو اسی نام سے یاد کیا کرتا تھا) کی تھوتھنیاں نئے قانون کے آتے ہی بلوں میں ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گی۔\n\nجب نتھو گنجا، پگڑی بغل میں دبائے، اڈے میں داخل ہوا تو استاد منگو بڑھ کر اس سے ملا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہنے لگا، ’’لا ہاتھ ادھر۔۔۔ ایسی خبر سناؤں کہ جی خوش ہو جائے۔۔۔ تیری اس گنجی کھوپری پر بال اگ آئیں۔‘‘ اور یہ کہہ کر منگو نے بڑےمزے لے لے کر نئے قانون کے متعلق اپنے دوست سے باتیں شروع کر دیں۔ دورانِ گفتگو میں اس نے کئی مرتبہ نتھو گنجے کے ہاتھ پر زور سے اپنا ہاتھ مار کر کہا، ’’تو دیکھتا رہ، کیا بنتا ہے، یہ روس والا بادشاہ کچھ نہ کچھ ضرور کرکے رہے گا۔‘‘\n\nاستاد منگو موجودہ سوویت نظام کی اشتراکی سرگرمیوں کے متعلق بہت کچھ سن چکا تھا۔ اور اسے وہاں کے نئے قانون اور دوسری نئی چیزیں بہت پسند تھیں۔ اسی لیے اس نے روس والے بادشاہ ’’کو انڈیا ایکٹ‘‘ یعنی جدید آئین کے ساتھ ملا دیا۔ اور پہلی اپریل کو پرانے نظام میں جو نئی تبدیلیاں ہونے والی تھیں۔ وہ انھیں ’’روس والے بادشاہ‘‘ کے اثر کا نتیجہ سمجھتا تھا۔\n\nکچھ عرصے سے پشاور اور دیگر شہروں میں سرخ پوشوں کی تحریک جا رہی تھی۔ منگو نے اس تحریک کو اپنے دماغ میں ’روس والے بادشاہ‘ اور پھر نئے قانون کے ساتھ خلط ملط کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ جب کبھی وہ کسی سے سنتاکہ فلاں شہر میں بم ساز پکڑے گئے ہیں۔ یا فلاں جگہ اتنے آدمیوں پر بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔ تو ان تمام واقعات کو نئے قانون کا پیش خیمہ سمجھتا اور دل ہی دل میں خوش ہوتا۔\n\nایک روز اس کے تانگے میں دو بیرسٹر بیٹھے نئے آئین پر بڑے زور سے تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ اور وہ خاموشی سے ان کی باتیں سن رہا تھا ان میں سے ایک، دوسرے سے کہہ رہا تھا، ’’جدید آئین کا دوسرا حصّہ فیڈریشن ہے جو میری سمجھ میں ابھی تک نہیں آسکا۔ فیڈریشن دنیا کی تاریخ میں آج تک نہ سنی نہ دیکھی گئی۔ سیاسی نظریہ سے بھی یہ فیڈریشن بالکل غلط ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ یہ کوئی فیڈریشن ہے ہی نہیں!‘‘\n\nان بیرسٹروں کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس میں بیشتر الفاظ انگریزی کے تھے۔ اس لیے استاد منگو صرف اوپر کے جملے ہی کو کسی قدر سمجھا اور اس نے کہا، ’’یہ لوگ ہندوستان میں نئے قانون کی آمد کو برا سمجھتے ہیں۔ اور نہیں چاہتے کہ ان کا وطن آزاد ہو۔‘‘ چنانچہ اس خیال کے زیر اثر اس نے کئی مرتبہ ان دو بیرسٹروں کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھ کر کہا، ’’ٹو ڈی بچے!‘‘\n\nجب کبھی وہ کسی کو دبی زبان میں ’’ٹوڈی بچہ‘‘ کہتا تو دل میں یہ محسوس کرکے بڑا خوش ہوتا کہ اس نے اس نام کو صحیح جگہ استعمال کیا ہے اور یہ کہ وہ شریف آدمی اور ’’ٹوڈی بچے‘‘ کی تمیز کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔\n\nاس واقعے کے تیسرے روز وہ گورنمنٹ کالج کے تین طلبا کو اپنے تانگے میں بٹھا کر مزنگ جا رہا تھا کہ اس نے ان تین لڑکوں کو آپس میں یہ باتیں کرتے سنا، ’’نئے آئین نے میری امیدیں بڑھا دی ہیں اگر۔۔۔ صاحب اسمبلی کے ممبر ہو گئے۔ تو کسی سرکاری دفتر میں ملازمت ضرور مل جائے گی۔‘‘\n\n’’ویسے بھی بہت سی جگہیں اور نکلیں گی۔ شاید اسی گڑبڑ میں ہمارے ہاتھ بھی کچھ آ جائے۔‘‘\n\n’’ہاں ہاں کیوں نہیں۔‘‘\n\n’’وہ بے کار گریجویٹ جو مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ان میں کچھ تو کمی ہو گی۔‘‘\nاس گفتگو نے استاد منگو کے دل میں جدید آئین کی اہمیت اور بھی بڑھا دی۔ وہ اس کو ایسی ’چیز‘ سمجھنے لگا جو بہت چمکتی ہو۔ ’نیا قانون۔۔۔!‘ وہ دن میں کئی بار سوچتا، یعنی کوئی ’نئی چیز!‘ اور ہر بار اس کی نظروں کے سامنے اپنے گھوڑے کا وہ ساز آ جاتا۔ جو اس نے دو برس ہوئے چودھری خدا بخش سے اچھی طرح ٹھونک بجا کر خریدا تھا۔ اس ساز پر جب وہ نیا تھا۔ جگہ جگہ لوہے کی نِکل چڑھی ہوئی کیلیں چمکتی تھیں اور جہاں جہاں پیتل کا کام تھا وہ تو سونے کی طرح دمکتا تھا۔ اس لحاظ سے بھی ’نئے قانون‘ کا درخشاں و تاباں ہونا ضروری تھا۔\n\nپہلی اپریل تک استاد منگو نے جدید آئین کے خلاف اور اس کے حق میں بہت کچھ سنا۔ مگر اس کے متعلق جو تصور وہ اپنے ذہن میں قائم کر چکا تھا۔ بدل نہ سکا۔ وہ سمجھتا تھا کہ پہلی اپریل کو نئے قانون کے آتے ہی سب معاملہ صاف ہو جائے گا۔ اور اس کو یقین تھا کہ اس کی آمد پر جو چیزیں نظر آئیں گی ان سے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچے گی۔\n\nآخر کار مارچ کے اکتیس دن ختم ہو گئے اور اپریل کے شروع ہونے میں رات کے چند خاموش گھنٹے باقی رہ گئے۔ موسم خلافِ معمول سرد تھا۔ اور ہوا میں تازگی تھی۔ پہلی اپریل کو صبح سویرے استاد منگو اٹھا اور اصطبل میں جاکر گھوڑے کو جوتا اور باہر نکل گیا۔ اس کی طبیعت آج غیر معمولی طور پر مسرور تھی۔۔۔ وہ نئے قانون کو دیکھنے والا تھا۔\n\nاس نے صبح کے سرد دھندلکے میں کئی تنگ اور کھلے بازاروں کا چکر لگایا۔ مگر اسے ہر چیز پرانی نظر آئی۔ آسمان کی طرح پرانی۔ اس کی نگاہیں آج خاص طور پر نیا رنگ دیکھنا چاہتی تھیں۔ مگر سوائے اس کلغی کے جو رنگ برنگ کے پروں سے بنی تھی۔ اور اس کے گھوڑے کے سر پر جمی ہوئی تھی۔ اور سب چیزیں پرانی نظر آتی تھیں۔ یہ نئی کلغی اس نے نئے قانون کی خوشی میں یکم مارچ کو چودھری خدا بخش سے ساڑھے چودہ آنہ میں خریدی تھی۔\n\nگھوڑے کی ٹاپوں کی آواز، کالی سڑک اور اس کے آس پاس تھوڑا تھوڑا فاصلہ چھوڑ کر لگائے ہوئے بجلی کے کھمبے، دکانوں کے بورڈ، اس کے گھوڑے کے گلے میں پڑے ہوئے گھنگھرو کی جھنجھناہٹ، بازار میں چلتے پھرتے آدمی۔۔۔ ان میں سے کون سی چیز نئی تھی؟ ظاہر ہے کہ کوئی بھی نہیں لیکن استاد منگو مایوس نہیں تھا۔\n\n’’ابھی بہت سویرا ہے دکانیں بھی تو سب کی سب بند ہیں۔‘‘ اس خیال سے اسے تسکین تھی۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی سوچتا تھا، ’’ہائی کورٹ میں نو بجے کے بعد ہی کام شروع ہوتا ہے۔ اب اس سے پہلے نئے قانون کا کیا نظر آئے گا؟‘‘\n\nجب اس کا تانگہ گورنمنٹ کالج کے دروازے کے قریب پہنچا۔ تو کالج کے گھڑیال نے بڑی رعونت سے نو بجائے۔ جو طلبا کالج کے بڑے دروازے سے باہر نکل رہے تھے۔ خوش پوش تھے۔ مگر استاد منگو کو نہ جانے ان کے کپڑے مَیلے مَیلے سے کیوں نظر آئے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی، کہ اس کی نگاہیں آج کسی خیرہ کن جلوے کا نظارہ کرنے والی تھیں۔\n\nتانگے کو دائیں ہاتھ موڑ کر وہ تھوڑی دیر کے بعد پھر انار کلی میں تھا۔ بازار کی آدھی دکانیں کھل چکی تھیں۔اور اب لوگوں کی آمدورفت بھی بڑھ گئی تھی۔ حلوائی کی دکانوں پر گاہکوں کی خوب بھیڑ تھی۔ منہاری والوں کی نمائشی چیزیں شیشے کی الماریوں میں لوگوں کو دعوتِ نظارہ دے رہی تھیں۔ اور بجلی کے تاروں پر کئی کبوتر آپس میں لڑ جھگڑ رہے تھے۔ مگر استاد منگو کے لیے ان تمام چیزوں میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔۔۔ وہ نئے قانون کو دیکھنا چاہتا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح وہ اپنے گھوڑے کو دیکھ رہا تھا۔\n\nجب استاد منگو کے گھر میں بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ تو اس نے چار پانچ مہینے بڑی بے قراری سے گزارے تھے۔ اس کو یقین تھا کہ بچہ کسی نہ کسی دن ضرور پیدا ہو گا مگر وہ نتظار کی گھڑیاں نہیں کاٹ سکتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنے بچے کو صرف ایک نظر دیکھ لے۔ اس کے بعد وہ پیدا ہوتا رہے۔ چنانچہ اسی غیر مغلوب خواہش کے زیرِ اثر اس نے کئی بار اپنی بیمار بیوی کے پیٹ کو دبا دبا کر اور اس کے اوپر کان رکھ کر اپنے بچے کے متعلق کچھ جاننا چاہا تھا مگر ناکام رہا تھا۔ ایک مرتبہ وہ انتظار کرتے کرتے اس قدر تنگ آگیا تھا کہ اپنی بیوی پر برس پڑا تھا، ’’تو ہر وقت مردے کی طرح پڑی رہتی ہے۔ اُٹھ ذرا چل پھر، تیرے انگ میں تھوڑی سی طاقت تو آئے۔ یوں تختہ بنے رہنے سے کچھ نہ ہو سکے گا۔ تو سمجھتی ہے کہ اس طرح لیٹے لیٹے بچّہ جن دے گی؟‘‘\n\nاستاد منگو طبعاً بہت جلد باز واقع ہوا تھا۔ وہ ہر سبب کی عملی تشکیل دیکھنے کا خواہش مند تھا بلکہ متجسّس تھا۔ اس کی بیوی گنگا دیوی اس کی اس قسم کی بے قراریوں کو دیکھ کر عام طور پر یہ کہا کرتی تھی، ’’ابھی کنواں کھودا نہیں گیا اور پیاس سے نڈھال ہو رہے ہو۔‘‘\n\nکچھ بھی ہو مگر استاد منگو نئے قانون کے انتظار میں اتنا بیقرار نہیں تھا۔ جتنا کہ اسے اپنی طبیعت کے لحاظ سے ہونا چاہیے تھا۔ وہ نئے قانون کو دیکھنے کے لیے گھر سے نکلا تھا، ٹھیک اسی طرح جیسے وہ گاندھی یا جواہر لال کے جلوس کا نظارہ کرنے کے لیے نکلا کرتا تھا۔\n\nلیڈروں کی عظمت کا اندازہ اُستاد منگو ہمیشہ ان کے جلوس کے ہنگاموں اور ان کے گلے میں ڈالے ہوئے پھولوں کے ہاروں سے کیا کرتا تھا اگر کوئی لیڈر گیندے کے پھولوں سے لدا ہوتو استاد منگو کے نزدیک، وہ بڑا آدمی تھا۔ اور اگر کسی لیڈر کے جلوس میں بھیڑ کے باعث دو تین فساد ہوتے ہوتے رہ جائیں۔ تو اس کی نگاہوں میں وہ اور بھی بڑا تھا۔ اب نئے قانون کو وہ اپنے ذہن کے اسی ترازو میں تولنا چاہتا تھا۔\n\nانار کلی سے نکل کر وہ مال روڈ کی چمکیلی سطح پر اپنے تانگے کو آہستہ آہستہ چلا رہا تھا کہ موٹروں کی دکان کے پاس اسے چھاؤنی کی ایک سواری مل گئی۔ کرایہ طے کرنے کے بعد اس نے اپنے گھوڑے کو چابک دکھایا۔ اور دل میں خیال کیا، ’’چلو یہ بھی اچھا ہوا۔۔۔ شاید چھاؤنی ہی سے نئے قانون کا کچھ پتہ چل جائے۔‘‘\n\nچھاؤنی پہنچ کر استاد منگو نے سواری کو اس کی منزل مقصود پر اتار دیا۔ اور جیب سے سگریٹ نکال کر بائیں ہاتھ کی آخری دو انگلیوں میں دبا کر سلگایا۔ اور پچھلی نشست کے گدّے پر بیٹھ گیا۔۔۔ جب استاد منگو کو کسی سواری کی تلاش نہیں ہوتی تھی۔ یا اسے کسی بیتے ہوئے واقعے پر غور کرنا ہوتا تھا۔ تو وہ عام طور پر اگلی نشست چھوڑ کر پچھلی نشست پر بڑے اطمینان سے بیٹھ کر اپنے گھوڑے کی باگیں دائیں ہاتھ کے گرد لپیٹ لیا کرتا تھا۔ ایسے موقعوں پر اس کا گھوڑا تھوڑا سا ہنہنانے کے بعد بڑی دھیمی چال چلنا شروع کر دیتا تھا۔ گویا اسے کچھ دیر کے لیے بھاگ دوڑ سے چھٹی مل گئی ہے۔\n\nگھوڑے کی چال اور استاد منگو کے دماغ میں خیالات کی آمد بہت سست تھی۔ جس طرح گھوڑا آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہا تھا۔ اسی طرح استاد منگو کے ذہن میں نئے قانون کے متعلق نئے قیاسات داخل ہو رہے تھے۔\n\nوہ نئے قانون کی موجودگی میں میونسپل کمیٹی سے تانگوں کے نمبر ملنے کے طریقے پر غور کر رہا تھا۔ وہ اس قابل غور بات کو آئینِ جدید کی روشنی میں دیکھنے کی سعی کر رہا تھا۔ وہ اس سوچ بچار میں غرق تھا۔ اسے یوں معلوم ہوا جیسے کسی سواری نے اسے بلایا ہے۔ پیچھے پلٹ کر دیکھنے سے اسے سڑک کے اس طرف دُور بجلی کے کھمبے کے پاس ایک ’’گورا‘‘ کھڑا نظر آیا۔ جو اسے ہاتھ سے بلا رہا تھا۔\n\nجیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے استاد منگو کو گوروں سے بیحد نفرت تھی۔ جب اس نے اپنے تازہ گاہک کو گورے کی شکل میں دیکھا تو اس کے دل میں نفرت کے جذبات بیدار ہو گئے۔ پہلے تو اس کے جی میں آئی کہ بالکل توجہ نہ دے اور اس کو چھوڑ کر چلا جائے مگر بعد میں اس کو خیال آیا ان کے پیسے چھوڑنا بھی بیوقوفی ہے۔ کلغی پر جو مفت میں ساڑھے چودہ آنے خرچ کر دئے ہیں، ان کی جیب ہی سے وصول کرنے چاہئیں۔ چلو چلتے ہیں۔\n\nخالی سڑک پر بڑی صفائی سے تانگا موڑ کر اس نے گھوڑے کو چابک دکھایا اور آنکھ جھپکنے میں وہ بجلی کے کھمبے کے پاس تھا۔ گھوڑے کی باگیں کھینچ کر اس نے تانگہ ٹھہرایا اور پچھلی نشست پر بیٹھے بیٹھے گورے سے پوچھا، ’’صاحب بہادر کہاں جانا مانگٹا ہے؟‘‘ اس سوال میں بلا کا طنزیہ انداز تھا، صاحب بہادر کہتے وقت اس کا اوپر کا مونچھوں بھرا ہونٹ نیچے کی طرف کھنچ گیا۔ اور پاس ہی گال کے اس طرف جو مدھم سی لکیر ناک کے نتھنے سے ٹھوڑی کے بالائی حصے تک چلی آ رہی تھی، ایک لرزش کے ساتھ گہری ہو گئی، گویا کسی نے نوکیلے چاقو سے شیشم کی سانولی لکڑی میں دھاری ڈال دی ہے۔ اس کا سارا چہرہ ہنس رہا تھا، اور اپنے اندر اس نے اس ’’گورے‘‘ کو سینے کی آگ میں جلا کر بھسم کر ڈالا تھا۔\n\nجب ’’گورے‘‘ نے جو بجلی کے کھمبے کی اوٹ میں ہوا کا رخ بچا کر سگرٹ سُلگا رہا تھا مڑ کر تانگے کے پائدان کی طرف قدم بڑھایا تو اچانک استاد منگو کی اور اس کی نگاہیں چار ہوئیں۔ اور ایسا معلوم ہوا کہ بیک وقت آمنے سامنے کی بندوقوں سے گولیاں خارج ہوئیں۔ اور آپس میں ٹکرا کر ایک آتشیں بگولا بن کر اوپر کو اڑ گئیں۔\n\nاستاد منگو جو اپنے دائیں ہاتھ سے باگ کے بل کھول کر تانگے پر سے نیچے اُترنے والا تھا۔ اپنے سامنے کھڑے ’گورے‘ کو یوں دیکھ رہا تھا گویا وہ اس کے وجود کے ذرّے ذرّے کو اپنی نگاہوں سے چبا رہا ہے۔ اور گورا کچھ اس طرح اپنی نیلی پتلون پر سے غیر مرئی چیزیں جھاڑ رہا ہے، گویا وہ استاد منگو کے اس حملے سے اپنے وجود کے کچھ حصے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔\n\nگورے نے سگریٹ کا دھواں نگلتے ہوئے کہا، ’’جانا مانگٹا یا پھر گڑبڑ کرے گا؟‘‘\n\n’’وہی ہے‘‘ یہ لفظ استاد منگو کے ذہن میں پیدا ہوئےاور اس کی چوڑی چھاتی کے اندر ناچنے لگے۔\n\n’’وہی ہے۔‘‘ اس نے یہ لفظ اپنے منہ کے اندر ہی اندر دہرائے اور ساتھ ہی اسے پورا یقین ہو گیا کہ وہ گورا جو اس کے سامنے کھڑا تھا وہی ہے جس سے پچھلے برس اس کی جھڑپ ہوئی تھی، اور اس خواہ مخواہ کے جھگڑے میں جس کا باعث گورے کے دماغ میں چڑھی ہوئی شراب تھی۔ اسے طوعا کرہاً بہت سی باتیں سہنا پڑی تھیں۔ استاد منگو نے گورے کا دماغ درست کر دیا ہوتا بلکہ اس کے پرزے اڑا دئیے ہوتے، مگر وہ کسی خاص مصلحت کی بنا پر خاموش ہو گیا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ اس قسم کے جھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور کوچوانوں ہی پر گرتا ہے۔\n\nاستاد منگو نے پچھلے برس کی لڑائی اور پہلی اپریل کے نئے قانون پر غور کرتے ہوئے گورے سے کہا، ’’کہاں جانا مانگٹا ہے؟‘‘ استاد منگو کے لہجے میں چابک ایسی تیزی تھی۔ گورے نے جواب دیا۔ ’’ہیرا منڈی۔‘‘\n\n’’کرایہ پانچ روپے ہو گا‘‘۔ استاد منگو کی مونچھیں تھرتھرائیں۔\n\nیہ سن کر گورا حیران ہو گیا۔ وہ چلاّیا۔ ’’پانچ روپے۔ کیا تم۔۔۔؟‘‘\n\n’’ہاں، ہاں، پانچ روپے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے استاد منگو کا داہنا بالوں بھرا ہاتھ بھنچ کر ایک وزنی گھونسے کی شکل اختیار کر گیا۔ ’’کیوں جاتے ہو یا بیکار باتیں بناؤ گے؟‘‘ استاد منگو کا لہجہ زیادہ سخت ہو گیا۔\n\nگورا پچھلے برس کے واقعے کو پیش نظر رکھ کر استاد منگو کے سینے کی چوڑائی نظر انداز کر چکا تھا۔ وہ خیال کر رہا تھا کہ اس کی کھوپڑی پھر کھجلا رہی ہے۔ اس حوصلہ افزا خیال کے زیر اثر وہ تانگے کی طرف اکڑ کر بڑھا اور اپنی چھڑی سے استاد منگو کو تانگے پر سے نیچے اُترنے کا اشارہ کیا۔ بید کی یہ پالش کی ہوئی پتلی چھڑی استاد منگو کی موٹی ران کے ساتھ دو تین مرتبہ چھوئی۔ اس نے کھڑے کھڑے اوپر سے پست قد گورے کو دیکھا گویا وہ اپنی نگاہوں کے وزن ہی سے اسے پیس ڈالنا چاہتا ہے۔ پھر اس کا گھونسہ کمان میں سے تیر کی طرح سے اوپر کو اٹھا اور چشم زدن میں گورے کی ٹھڈی کے نیچے جم گیا۔ دھکا دے کر اس نے گورے کو پرے ہٹھایا۔ اور نیچے اتر کر اسے دھڑا دھڑ پیٹنا شروع کر دیا۔\n\nششدر و متحیر گورے نے ادھر ادھر سمٹ کر استاد منگو کے وزنی گھونسوں سے بچنے کی کوشش کی۔ اور جب دیکھا کہ اس کے مخالف پر دیوانگی کی سی حالت طاری ہے۔ اور اس کی آنکھوں میں سے شرارے برس رہے ہیں۔ تو اس نے زور زور سے چلانا شروع کیا۔ اس کی چیخ پکار نے استاد منگو کی بانہوں کا کام اور بھی تیز کر دیا۔ وہ گورے کو جی بھر کے پیٹ رہا تھا۔ اور ساتھ ساتھ یہ کہتا جاتا تھا، ’’پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑفوں۔۔۔ اب ہمارا راج ہے بچہ!‘‘\n\nلوگ جمع ہو گئے۔ اور پولیس کے دو سپاہیوں نے بڑی مشکل سے گورے کو استاد منگو کی گرفت سے چھڑایا۔ استاد منگو ان دو سپاہیوں کے درمیان کھڑا تھا اس کی چوڑی چھاتی پھولی سانس کی وجہ سے اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ منہ سے جھاگ بہہ رہا تھا۔ اور اپنی مسکراتی ہوئی آنکھوں سے حیرت زدہ مجمع کی طرف دیکھ کر وہ ہانپتی ہوئی آواز میں کہہ رہا تھا۔‘‘\n\n’’وہ دن گزر گئے۔ جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔۔۔ اب نیا قانون ہے میاں۔۔۔ نیا قانون!‘‘\n\nاور بیچارا گورا اپنے بگڑے ہوئے چہرے کے ساتھ بے وقوفوں کے مانند کبھی استاد منگو کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی ہجوم کی طرف۔\n\nاستاد منگو کو پولیس کے سپاہی تھانے میں لے گئے۔ راستے میں اور تھانے کے اندر کمرے میں وہ ’’نیا قانون نیا قانون‘‘ چلاّتا رہا۔ مگر کسی نے ایک نہ سنی۔\n\n’’نیا قانون، نیا قانون۔ کیا بک رہے ہو۔۔۔ قانون وہی ہے پرانا!‘‘\n\nاور اس کو حوالات میں بند کر دیا گیا!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%82%D8%A7%D9%86%D9%88%D9%86"} {"title": "نیا کھلا ہے شگوفہ کوئی بہار میں کیا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نیا کھلا ہے شگوفہ کوئی بہار میں کیا\nگندھا ہوا ہے مرا دل کسی کے ہار میں کیا\n\nاڑانے پھول حسیں آئے ہیں بہار میں کیا\nلگی ہے آگ سی یہ آج لالہ زار میں کیا\n\nکسی سے کہنے یہ آئے ہیں وہ سحر ہوتے\nتمام رات کٹی میرے انتظار میں کیا\n\nتمہارے خال کا بوسہ نہیں ہے گنتی میں\nذرا سی چیز ہے آئے گی یہ شمار میں کیا\n\nاتار لی سر بازار جس نے رخ سے نقاب\nحجاب آئے اسے سو میں کیا ہزار میں کیا\n\nیہ سرمہ چشم عدو کے لئے اٹھا رکھیں\nوہ خاک ڈالتے ہیں چشم اعتبار میں کیا\n\nبنائیں گے دل پر داغ جمع کر کے انہیں\nچمکتے دیکھے ہیں ذرے مرے غبار میں کیا\n\nیہ میرے دوش سے ہوتے نہیں جدا دم نزع\nگڑیں گے میرے فرشتے مرے مزار میں کیا\n\nہے انتظار کہ مے نوش خم لئے پہنچیں\nگھری ہیں کل سے گھٹائیں یہ سبزہ زار میں کیا\n\nجو دیکھے سانپ کے کاٹے کی لہر اسے آئے\nبھرا ہے زہر اب ایسا بھی زلف یار میں کیا\n\nشراب سے بھی سوا خوش گوار ہے ہم کو\nبتائیں کیا کہ مزا پڑ گیا ادھار میں کیا\n\nکنار شوق میں آ کر حسیں نکل نہ سکے\nاثر خدا نے دیا ہے ہمارے پیار میں کیا\n\nریاضؔ توبہ کرو دن خزاں کے آئے ہیں\nتم آئے پینے کو جاتی ہوئی بہار میں کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B4%DA%AF%D9%88%D9%81%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں\nہم ان میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیں\n\nشروع راہ محبت ارے معاذ اللہ\nیہ حال ہے کہ قدم ڈگمگائے جاتے ہیں\n\nیہ ناز حسن تو دیکھو کہ دل کو تڑپا کر\nنظر ملاتے نہیں مسکرائے جاتے ہیں\n\nمرے جنون تمنا کا کچھ خیال نہیں\nلجائے جاتے ہیں دامن چھڑائے جاتے ہیں\n\nجو دل سے اٹھتے ہیں شعلے وہ رنگ بن بن کر\nتمام منظر فطرت پہ چھائے جاتے ہیں\n\nمیں اپنی آہ کے صدقے کہ میری آہ میں بھی\nتری نگاہ کے انداز پائے جاتے ہیں\n\nرواں دواں لیے جاتی ہے آرزوئے وصال\nکشاں کشاں ترے نزدیک آئے جاتے ہیں\n\nکہاں منازل ہستی کہاں ہم اہل فنا\nابھی کچھ اور یہ تہمت اٹھائے جاتے ہیں\n\nمری طلب بھی اسی کے کرم کا صدقہ ہے\nقدم یہ اٹھتے نہیں ہیں اٹھائے جاتے ہیں\n\nالٰہی ترک محبت بھی کیا محبت ہے\nبھلاتے ہیں انہیں وہ یاد آئے جاتے ہیں\n\nسنائے تھے لب نے سے کسی نے جو نغمے\nلب جگرؔ سے مکرر سنائے جاتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%B2_%D9%88_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%DA%BE%DA%AF%DA%91%DB%92_%D9%85%D9%B9%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نیست بے یار مجھ کو ہستی ہے", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نیست بے یار مجھ کو ہستی ہے\nشہر ویراں اجاڑ بستی ہے\n\nہے جہاں پر مرا قدم بھاری\nہر قدم پر زمین دھنستی ہے\n\nوہ پری ساتھ لے کے سوتا ہوں\nحور جس کا پلنگ کستی ہے\n\nہے حقیقت مجاز سے مطلوب\nبت پرستی خدا پرستی ہے\n\nاس کے کشتے ہیں زندۂ جاوید\nنیستی ان کی عین ہستی ہے\n\nایک بت نے دیا نہ ہم کو جواب\nبے زبانوں کی ہند بستی ہے\n\nخاکساروں کی ہے یہی معراج\nسربلندی ہماری پستی ہے\n\nہے کئی دن سے گھات میں صیاد\nعندلیب آج کل میں پھنستی ہے\n\nاس مرقع کی دیکھ تصویریں\nکوئی روتی ہے کوئی ہنستی ہے\n\nمنزل عشق کی ہے رہ ہموار\nنہ بلندی ہے یاں نہ پستی ہے\n\nحسن دکھلا رہا ہے قدرت حق\nبت کو بھی ذوق خود پرستی ہے\n\nجاں بھی دے کر ملے تو مفت سمجھ\nہر طرح جنس حسن سستی ہے\n\nزلف اس کی سیاہ ناگن ہے\nمار رکھتی ہے جس کو ڈستی ہے\n\nکھلیں گی آنکھیں نشہ اترے گا\nحسن تک اوپری یہ مستی ہے\n\nایسے جینے پہ رندؔ خاک پڑے\nموت اس زندگی پہ ہنستی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%D8%A8%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "نیم بسمل کی کیا ادا ہے یہ", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نیم بسمل کی کیا ادا ہے یہ\nعاشقو لوٹنے کی جا ہے یہ\n\nشب وصل صنم ولا ہے یہ\nبوسے ہونٹوں کی لے مزا ہے یہ\n\nدل کو کیوں پائمال کرتے ہو\nنہ تو سبزہ ہی نہ حنا ہے یہ\n\nکاٹ کر سر لگائیے ٹھوکر\nقتل عاشق کا خوں بہا ہے یہ\n\nدود دل کیوں نہ رشک سنبل ہو\nآتش حسن سے جلا ہے یہ\n\nزلف میں کیوں نہ دل رہے بیدار\nلیلۃ القدر سے سوا ہے یہ\n\nآنکھیں اس کی سیاہ ہیں از خود\nتوتیا کس کا توتیا ہے یہ\n\nکیا ہے نام خدا ہے میرا صنم\nبت جسے کہتے ہیں خدا ہے یہ\n\nزلف میں دل مدام رہتا ہے\nدیکھنا کس کے سر چڑھا ہے یہ\n\nدر پہ نالاں جو ہوں تو کہتا ہے\nپوچھو کیا چیز بیچتا ہے یہ\n\nچومتا ہوں میں اپنے دل کے قدم\nبوسۂ یار کا گدا ہے یہ\n\nدفن مسجد میں میرے دل کو کرو\nطاق ابرو پہ مر گیا ہے یہ\n\nطاق ابروئے یار کو دیکھوں\nعین کعبے میں التجا ہے یہ\n\nقد جاناں نہیں قیامت ہے\nزلف جاناں نہیں بلا ہے یہ\n\nگو صنم مردے زندے کرتا ہے\nکون کافر کہے خدا ہے یہ\n\nہو شہادت نصیب گویاؔ کو\nفدوی شاہ کربلا ہے یہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D9%85_%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81"} {"title": "نیم جاں ہوں زندگی دود چراغ کشتہ ہے", "poet_page": "مصنف:منشی خیراتی لال شگفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نیم جاں ہوں زندگی دود چراغ کشتہ ہے\nمیری ہستی صورت بود چراغ کشتہ ہے\n\nگو ہوں مفلس پر ہوں اپنی تیرہ بختی سے نمی\nمیرے گھر میں دولت سود چراغ کشتہ ہے\n\nہو نہیں سکتا سیہ کاری سے میں روشن ضمیر\nدل مرا اک ظرف معصود چراغ کشتہ ہے\n\nدیکھ کر پروانوں کے پر صبح کو ثابت ہوا\nیہ بہار گلشن جود چراغ کشتہ ہے\n\nاے شگفتہؔ مجھ کو پیری میں یہ مصرع یاد ہے\nبود اپنی وہم نابود چراغ کشتہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D9%85_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%AF%D9%88%D8%AF_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%DA%A9%D8%B4%D8%AA%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "نیم چا جلد میاں ہی نہ میاں کیجئے گا", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نیم چا جلد میاں ہی نہ میاں کیجئے گا\nنیم جانوں کا ابھی کام رواں کیجئے گا\n\nطاقت گرمیٔ خورشید قیامت ہے کسے\nتاب کی داغ جگر سے نہ فغاں کیجئے گا\n\nدل میں تم ہو نہ جلاؤ مرے دل کو دیکھو\nمیرا نقصان نہیں اپنا زیاں کیجئے گا\n\nکہہ دو بقال پسر سے کہ مرا دل لے کر\nقصد اخذ دل اغیار نہ ہاں کیجئے گا\n\nدل سے دل پاس ہیں تو بھی ہے دلوں کی خواہش\nکیا دلوں کی کہیں دلی میں دکاں کیجئے گا\n\nاور بھی سوز جگر بزم میں ہوگا روشن\nشمع ساں قطع اگر میری زباں کیجئے گا\n\nیار جب ساتھ سفر میں ہو کہاں کی روزی\nروز روزوں ہی میں عید رمضاں کیجئے گا\n\nکس سے یا رب کہوں احوال یہ کہتا ہے وہ بت\nاپنی یاں رام کہانی نہ بیاں کیجئے گا\n\nوہ دھواں دھار سی زلفیں ہیں نظر میں ہر شب\nورد اب سورۂ واللیل و دوخاں کیجئے گا\n\nشہر دل کی تمہیں آبادی کا کچھ بھی ہے خیال\nیا جہاں رہیے گا ویراں ہی وہاں کیجئے گا\n\nمیری جانب سے کہو محتسب شہر سے یہ\nسعیٔ ارزانیٔ مے از دل و جاں کیجئے گا\n\nپانی پی پی کے تمہیں دیویں گے دشنام یہ رند\nتم سبک ہو گے اگر بادہ گراں کیجئے گا\n\nجلد احساںؔ سے کہو وہ بت خودکام آیا\nاب تو للہ کہیں بند زباں کیجئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D9%85_%DA%86%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "نیمچہ یار نے جس وقت بغل میں مارا", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نیمچہ یار نے جس وقت بغل میں مارا\nجو چڑھا منہ اسے میدان اجل میں مارا\n\nمال جب اس نے بہت رد و بدل میں مارا\nہم نے دل اپنا اٹھا اپنی بغل میں مارا\n\nاس لب و چشم سے ہے زندگی و موت اپنی\nکہ کبھی پل میں جلایا کبھی پل میں مارا\n\nکھینچ کر عشق ستم پیشہ نے شمشیر جفا\nپہلے اک ہاتھ مجھی پر تھا ازل میں مارا\n\nچرخ بد بیں کی کبھی آنکھ نہ پھوٹی سو بار\nتیر نالے نے مرے چشم زحل میں مارا\n\nاجل آئی نہ شب ہجر میں اور ہم کو فلک\nبے اجل تو نے تمنائے اجل میں مارا\n\nعشق کے ہاتھ سے نے قیس نہ فرہاد بچا\nاس کو گر دشت میں تو اس کو جبل میں مارا\n\nدل کو اس کاکل پیچاں سے نہ بل کرنا تھا\nیہ سیہ بخت گیا اپنے ہی بل میں مارا\n\nکون فریاد سنے زلف میں دل کی تو نے\nہے مسلمان کو کافر کے عمل میں مارا\n\nعرس کی شب بھی مری گور پہ دو پھول نہ لائے\nپتھر اک گنبد تربت کے کنول میں مارا\n\nآنکھ سے آنکھ ہے لڑتی مجھے ڈر ہے دل کا\nکہیں یہ جائے نہ اس جنگ و جدل میں مارا\n\nہم نے جانا تھا جبھی عشق نے مارا اس کو\nتیشہ فرہاد نے جس وقت جبل میں مارا\n\nنہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب\nذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D9%85%DA%86%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%A8%D8%BA%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "نین میں خوں بھر آیا دل میں خار غم چھپا شاید", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نین میں خوں بھر آیا دل میں خار غم چھپا شاید\nہوا اس دم وہ تیغ ابرو کسی سے آشنا شاید\n\nگلے لگتا تھا ہر گرد ہوا اورد سے مجنوں\nکہ خاک کوچۂ لیلیٰ لے آئی ہو صبا شاید\n\nقیامت پا نمک ہے غل دوانوں کا گلستاں میں\nانہوں کے زخم دل پر شور بلبل جا گرا شاید\n\nہمارے ہاتھ اک مو گئی نئیں اور پیچ کھاتی ہے\nوہ دام زلف میں تازہ شکار دل پھنسا شاید\n\nبہت منہ پر وہ زلفیں آج بکھراتا ہے اے عزلتؔ\nوہ گالوں پر کسی کا زخم دنداں ہے لگا شاید", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%AF"} {"title": "نین کی پتلی میں اے سریجن ترا مبارک مقام دستا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نین کی پتلی میں اے سریجن ترا مبارک مقام دستا\nپلک کے پٹ کھول کر جو دیکھوں تو مجھ کوں ماہ تمام دستا\n\nپری کی مجلس میں تجھ کوں زاہد ہنوز پروانگی نہیں ہے\nمئے محبت کوں نوش کر توں کہ اب تلک مجھ کوں خام دستا\n\nسبھوں سیں مکھ موڑ کر مرا دل پرت کے فن میں ہوا اداسی\nنماز جی سیں نیاز کی پڑھ صف جنوں کا امام دستا\n\nاگرچہ ہر سرو راست قامت چمن میں مغرور سرکشی ہے\nمقابل اس قد خوش ادا کے مری نظر میں غلام دستا\n\nوو شکریں لب نے گوش دل سیں تمام سن کر یوں ریختہ کوں\nکہا وو میٹھے بچن سیں مجھ کوں سراجؔ شیریں کلام دستا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%D8%AA%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%B1%DB%8C%D8%AC%D9%86_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D8%AF%D8%B3%D8%AA%D8%A7"} {"title": "نیند آتی نہیں کم بخت دوانی آ جا", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "ریختی", "year": null, "text_ur": "نیند آتی نہیں کم بخت دوانی آ جا\nاپنی بیتی کوئی کہہ آج کہانی آ جا\n\nہاتھ پر تیرے موئے کس کے ہے چھلے کا داغ\nدی ہے یہ کس نے تجھے اپنی نشانی آ جا\n\nجب وہ روٹھا تھا تبھی تو نے ملا مجھ سے دیا\nمیں نے کچھ قدر تری ہائے نہ جانی آ جا\n\nسبز رنگ اب کے ہے نو روز کا اس سر کی قسم\nجوڑا لا کر تو پنہاوے مجھے دھانی آ جا\n\nبال ماتھے کے جو ڈورے سے سیئے ہیں تو نے\nشکل لگتی ہے تری آج ڈرانی آ جا\n\nغم ہے رنگیںؔ کو نہ میرا یوں ہی اس کے پیچھے\nمفت برباد ہوئی میری جوانی آ جا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%AF_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%85_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%D8%AF%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "نیند آتی ہی نہیں دھڑکے کی بس آواز سے", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نیند آتی ہی نہیں دھڑکے کی بس آواز سے\nتنگ آیا ہوں میں اس پرسوز دل کے ساز سے\n\nدل پسا جاتا ہے ان کی چال کے انداز سے\nہاتھ میں دامن لیے آتے ہیں وہ کس ناز سے\n\nسیکڑوں مردے جلائے ہو مسیحا ناز سے\nموت شرمندہ ہوئی کیا کیا ترے اعجاز سے\n\nباغباں کنج قفس میں مدتوں سے ہوں اسیر\nاب کھلے پر بھی تو میں واقف نہیں پرواز سے\n\nقبر میں راحت سے سوئے تھے نہ تھا محشر کا خوف\nبعض آئے اے مسیحا ہم ترے اعجاز سے\n\nوائے غفلت بھی نہیں ہوتی کہ دم بھر چین ہو\nچونک پڑتا ہوں شکست ہوش کی آواز سے\n\nناز معشوقانہ سے خالی نہیں ہے کوئی بات\nمیرے لاشے کو اٹھائے ہیں وہ کس انداز سے\n\nقبر میں سوئے ہیں محشر کا نہیں کھٹکا رساؔ\nچونکنے والے ہیں کب ہم صور کی آواز سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%AF_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%BE%DA%91%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%B3_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92"} {"title": "نیند مستوں کو کہاں اور کدھر کا تکیہ", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "نیند مستوں کو کہاں اور کدھر کا تکیہ\nخشت خم خانہ ہے یاں اپنے تو سر کا تکیہ\n\nلخت دل آ کے مسافر سے ٹھہرتے ہیں یہاں\nچشم ہے ہم سے گداؤں کی گزر کا تکیہ\n\nجس طرف آنکھ اٹھا دیکھیے ہو جائے اثر\nہم تو رکھتے ہیں فقط اپنی نظر کا تکیہ\n\nچین ہرگز نہیں مخمل کے اسے تکیے پر\nاس پری کے لیے ہو حور کے پر کا تکیہ\n\nہاتھ اپنے کے سوا اور تو کیا ہو ہیہات\nوالہ و در بہ در و خاک بسر کا تکیہ\n\nسر تو چاہے ہے مرا ہووے میسر تیرے\nہاتھ کا بازو کا زانو کا کمر کا تکیہ\n\nیہ تو حاصل ہے کہاں بھیج دے لیکن مجھ کو\nجس میں بالوں کی ہو بو تیرے ہو سر کا تکیہ\n\nتیکھے پن کے ترے قربان اکڑ کے صدقے\nکیا ہی بیٹھا ہے لگا کر کے سپر کا تکیہ\n\nگرچہ ہم سخت گنہ گار ہیں لیکن واللہ\nدل میں جو ڈر ہے ہمیں ہے اسی ڈر کا تکیہ\n\nگریہ و آہ و فغاں نالہ و یا رب فریاد\nسب کو ہے ہر شب و روز اپنے اثر کا تکیہ\n\nرند و آزاد ہوئے چھوڑ علاقہ سب کا\nڈھونڈھتے کب ہیں پدر اور پسر کا تکیہ\n\nگر بھروسا ہے ہمیں اب تو بھروسا تیرا\nاور تکیہ ہے اگر تیرے ہی در کا تکیہ\n\nشوق سے سوئیے سر رکھ کے مرے زانو پر\nاس کو مت سمجھئے کچھ خوف و خطر کا تکیہ\n\nجب تلک آپ نہ جاگیں گے رہے گا یوں ہی\nسرکے گا تب ہی کہ جب کہیے گا سرکا تکیہ\n\nلطف ایزدی ہی سے امید ہے انشا اللہ\nکچھ نہیں رکھتے ہیں ہم فضل و ہنر کا تکیہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%AF_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DA%A9%DB%8C%DB%81"} {"title": "نیچر", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اچھے لفظ بھی جب بری نیت سے استعمال کیے جاویں تو برے ہو جاتے ہیں۔ آپ بڑے عالم ہیں، کہنے والے کی نیت سے بڑے جاہل کے معنوں میں ہو جاتا ہے مگر ہم کیوں کسی کی نیت کو بد قرار دیں۔ ہم کو تعجب ہے کہ وہ لوگ جو ائمۂ اربعہ کے مذہب پر نہیں چلتے، غیر مقلد یا لامذہب کہنے کو گالی کیوں سمجھتے ہیں۔ 1 حالانکہ در حقیقت وہ ائمہ اربعہ کی تقلید نہیں کرتے اور ان کے مذہب پر نہیں چلتے۔ پھر سچ بات سے کیوں برا مانتے ہیں اور اوروں کی نیت کو کیوں برائی پر لے جاتے ہیں۔ وہی لوگ اور ان کے چھوٹے بڑے بھائی ہم کو ’’حضرات نیچریہ‘‘ کہتے ہیں۔ ہم تو نہ ان کے کہنے سے برا مانتے ہیں نہ ان کی نیت میں برائی لگاتے ہیں۔ بلکہ ان کا احسان مانتے ہیں کہ سچ بات کہتے ہیں اور جس مذہب کو خدا نے اپنامذہب بتایا ہے، نہایت نیک نیتی سے ہم کو اسی مذہب کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ خدا کہتا ہے، فأقم و جھک للدین حنیفاً فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ۔ ذلک الدین القیم ولکن أکثر الناس لا یعلمون۔ (سورۃ الروم۔) ’’سیدھا کر اپنا منہ خالص دین کے لیے جو نیچر خدا کا ہے جس پر لوگوں کو بنایا ہے، خدا کی پیدائش میں کچھ تبدیل نہیں ہے۔ یہی مستحکم دین ہے و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘شاہ ولی اللہ صاحب نے، صاحب تفسیر ابن عبا س نے ’’فطرۃ اللہ‘‘ کا ترجمہ دین خدا کا کیا ہے، پس جو ہمارے خدا کا مذہب ہے وہی ہمارا مذہب ہے۔ خدا نہ ہندو ہے، نہ عرفی مسلمان، نہ مقلد، نہ لا مذہب، نہ یہودی، نہ عیسائی۔ وہ تو پکا چھٹا ہوا نیچری ہے۔ وہ خود اپنے کو نیچری کہتا ہے۔ پھر اگر ہم بھی نیچری ہیں تو اس سے زیادہ ہم کو کیا فخر ہے۔ ’’لا تبدیل لخلق اللہ‘‘ کی تفسیر میں قاضی بیضاوی نے لکھا ہے ’’لا یقدراحد ان یغیرہ‘‘ یعنی کسی کا مقدور نہیں ہے کہ اس کو بدل دے۔ پس یہ خدا کا دین ضرور پھیلےگا۔ نہ میرے روکنے سے رکے نہ تمہارے روکنے سے۔ نہ نور الآفاق کی تحریریں اس کو مٹا سکتیں، نہ اشاعت السنہ کی تحریریں اس کو مٹا سکیں گی اور نہ تیرہویں صدی اس کو نقصان پہنچائے گی۔ نیچر خدا کا دین ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔مذہب اسلام ان بندشوں کو توڑنے کو آیا تھا جو فطرت یا نیچر پر لوگوں نے باندھی تھیں۔ وہ کوئی نئی بندش نیچر یا خدا کے دین پر باندھنے نہیں آیا۔ اس نے قیدیوں کی بیڑیوں کو توڑا ہے اور کوئی نئی بیڑی یا ہتھکڑی نہیں ڈالی ہے۔ اس نے پورا حق آزادی کا فطرت، نیچر کے مطابق لوگوں کو دیا ہے اور اسی کو ان کا دین بلکہ خدا کا دین بتا یا ہے۔ پس اوپر کی بندشوں کو توڑنے دو اور ٹھیٹ مذہب اسلام کو، نیچر کو، خدا کے دین کو، خدا کے مذہب کو چمکنے دو۔ وہ چمکےگا اور کسی کے چھپائے سے نہیں چھپنے کا۔کسی نے خدا کو اور کسی طرح نہیں جانا۔ اگر جانا تو نیچر ہی سے جانا۔ موسیٰ نے ربّ ارنی کے جواب میں کیا سنا۔ لن ترانی ولکن انظر الی الجبل، پہاڑ پر کیا تھا؟ وہی نیچر قانون قدرت کا نمونہ تھا۔ خود خدا بھی اپنے آپ کو کچھ نہیں بتلا سکا۔ اور جو بتلایا تو نیچر ہی کو بتلایا۔ بولا کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا اور آسمان کو ڈیرہ بنایا اور آسمان سے پانی برسایا۔ جس نے تمہارے کھانے کے لیے طرح طرح کے میووں کو اگایا، وہی خدا ہے۔ بولا کہ ’’سمجھداروں کے لیے آسمان و زمین کے پیدا کرنے، رات دن کے مختلف ہونے، کشتی کے دریا میں چلنے، آسمان سے پانی برسنے، زمین سے مر کر زندہ ہونے، اس پر چلنے والوں کے پھیلنے، ہواؤں کے ادھر ادھر ہونے، بادلوں کے آسمان وزمین میں ادھر ہونے ہی میں نشانیاں ہیں۔‘‘جب پوچھو کہ تو کون ہے؟ اس کا جواب کچھ نہ دے اور اپنے قانون قدرت کو بتادے اور بولے کہ وہ جو رات کو دن میں اور دن کو رات میں ادل بدل کر دیتا ہے۔ زندہ سے مردہ، مردہ سے زندہ نکالتا ہے۔ وہ، وہ ہے کہ جس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا، تمہارے لیے جوڑا بنایا، ان سے عورت مرد پھیلا دیے۔ خدا کون ہے؟ بیجوں اور گٹھلیوں کو پھوڑ کر اس میں سے بڑی ٹہنی اگانے والا، رات کو پھاڑ کر دن نکالنے والا، رات کو آرام سے سونے کے لیے بنانے والا، چاند سورج سے حساب کا اندازہ سکھانے والا، آسمان سے مینہ برسا کر ہر چیز کو اور ہری ہری گھانس کو اگانے والا، ان میں دانوں سے بھری ہوئی بالیں، کھجوروں میں لدے ہوئے زمین پر جھکے ہوئے خوشے پیدا کرنے والا، انگور، زیتون اور انار کے باغ لگانے والا کہ جب وہ پھلتے ہیں اور پکتے ہیں تو دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں، یہ خدا ہے جو آنکھوں سے دکھائی نہیں دے سکتا۔خدا وہی تو ہے جو مینہ سے پہلے ٹھنڈی ہوا لاتا ہے، جو مینہ آنے کی خوشخبری دیتی ہے۔ جب وہ بادلوں کے دَل کو ہنکا لاتی ہے تو مردہ زمین پر برساتی ہے جس میں ہر طرح کے میوے نکلتے ہیں۔ کیا آسمان وزمین میں اور ہر چیز میں جس کو خدا نے پیدا کیا، اس کی قدرت، بادشاہت، سطوت کو نہیں دیکھتے؟ پھر اس کے بعد کون سی بات ہے جس پر ایمان لاؤگے۔کون آسمان سے رزق پہنچاتا ہے؟ کون زمین سے رزق اگاتا ہے؟ کون کان اور آنکھ کا مالک ہے۔ کون مردہ میں سے زندہ اور زندہ میں سے مردہ نکالتا ہے؟ کون ان تمام کاموں کو سنوارے رکھتا ہے؟ تم بھی کہہ اٹھوگے کہ اللہ۔ بے شک وہی خدا ہے جس نے آسمانوں کو بغیر دکھائی دیتے ستونوں کے اونچا کر رکھا ہے، چاند سورج کو اپنا تابع دار کیا ہے، زمین کو پھیلایا ہے، پہاڑوں کو اس میں بنایا ہے، نہروں کو ا س میں بہایا ہے، ہر قسم کے میووں کو اس میں اگایا ہے، دن کو رات سے ڈھانکا ہے، ایک زمین میں طرح طرح کے ٹکڑوں کو بنایا ہے، کہیں انگور کے باغ ہیں، کہیں کھجوروں کے کھیت، کسی میں گھنی شاخیں ہیں کسی میں چھدری، کھانے میں ایک دوسرے سے مزیدار ہے۔ سمجھ داروں کے لیے خدا کے ہونے کی اسی میں تو نشانیاں ہیں۔وہی تو خدا ہے جو بجلی کی چمک سے ڈراتا ہے اور مینہ سے لالچ دلاتا ہے۔ بھاری بھاری بادل اٹھاتا ہے، رعد سے تسبیح پڑھواتا ہے، جس پر چاہتا ہے اس پر بجلی گرا تا ہے اور پھر خدا پر جھگڑا کرتے ہو۔ آسمان و زمین کو ٹھیک پیدا کیا، نطفہ سے آدمی بنایا، چوپاؤں کو تمہارے لیے پیدا کیا، ان سے فائدہ اٹھاتے ہو، ان کی پوستینیں پہنتے ہو، ان کا گوشت کھاتے ہو، جب صبح کو چرنے جاتے ہیں اور شام کو چر کر آتے ہیں تو ان سے تمہاری شا ن وشوکت معلوم ہوتی ہے، ایک شہر سے دوسرے شہر کو تمہارا اسباب پہنچاتے دیتے ہیں، گھوڑوں اور خچر اور گدھے تمہاری سواری کے لیے ہیں۔ آسمان سے پانی برساتا ہے جس کو تم پیتے ہو، درخت سینچے جاتے ہیں، کھیتی اور زیتون اور کھجور اور ہر قسم کے پھل پیدا ہوتے ہیں، چاند سورج ستارے سب تم کو کام دیتے ہیں، رنگ برنگ کی چیزیں زمین سے پیدا ہوتی ہیں۔وہی تو خدا ہے جس نے تمہارے لیے مچھلیوں کا مزے دار گوشت کھانے کو اور بے بہا موتی نکال کر زیور بنانے کو دریا پیدا کیا۔ تم دیکھتے ہو کہ کس طرح کشتیاں اس کا پانی چیرتی ہوئی چلتی ہیں۔ زمین کے مرکز ثقل پر تلے رہنے کو پہاڑ بنائے اور تمہارے چلنے کو نہریں اور راستے نکالے، نشان بنائے کہ ستاروں کو دیکھ کر دیکھ کر تم چلتے ہو۔ بھینسوں اور گایوں پر غور کرو، ان کے پیٹ میں خون اور گوبر کے سوا کیا ہے۔ مگر وہ کیا مزے دار دودھ پلاتی ہیں، کھجوروں اور انگوروں سے کس طرح پیٹ بھرتے ہو اور نشہ دار شرابیں بناتے ہو۔ خدا ہی نے مکھی کو سکھایا کہ پہاڑوں میں، درختوں میں، اونچے مکانوں میں اپنے گھر بنائے اور ہر قسم کے میووں کو چوسے اور پھر اپنے پیٹ میں سے رنگ برنگ کے شہد نکالے او ر خدا ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے پھر تم کو مار ڈالےگا۔ تم میں سے کسی کو نہایت بڈھا کر دیتا ہے۔خدا نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے پیدا کیا، کان دیے، آنکھیں دیں، دل دیا تاکہ تم شکر کرو۔ پرند جانوروں کو نہیں دیکھتے جو آکاش میں ادھر تھمے ہوئے ہیں کوئی ان کو نہیں تھامتا بجز خدا کے۔ اسی میں تو ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ خدا ہی نے تمہارے رہنے کے گھر اور جانوروں کی کھال کے ڈیرے، ان کی اون سے اور ان کے بالوں سے اسباب، گرمی سے بچنے، لڑائی میں زخموں سے محفوظ رہنے کا لباس بنایا ہے۔ اس پر بھی اگر وہ پھر جاویں تو اے پیغمبر الہٰی (یعنی نیچر کے) پیغاموں کا پہنچا دینا تیرا کام ہے۔خدا ہی حباب سے بادلوں کو ہنکاتا ہے، پھر ان کو اکٹھا کرتا ہے، پھر تہ بہ تہ جماتا ہے، پھر ان میں سے بوندیں گرتی ہیں، آسمانی کالے پہاڑوں میں سے سفید سفید اولے پڑتے ہیں، بجلی چمک کر آنکھوں میں چکا چوند کر دیتی ہے، خدا ہی رات کو دن کردیتا ہے، انہی باتوں میں عقل مندوں کے لیے نصیحت ہے۔خدا کی یہ نشانی ہے کہ تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر تم چلتے پھرتے آدمی ہو۔ خدا کی یہ نشانی ہے کہ تمہیں میں سے تمہارا جوڑا بنایا اور ان میں محبت ڈالی۔ خدا کی یہ نشانی ہے کہ آسمان پیدا کیے، تمہاری بولیاں اور تمہارے رنگ جدا جدا بنائے۔ خدا کی یہ نشانی ہے کہ رات کو تم سو رہتے ہو اور دن کو روزی ڈھونڈتے پھرتے ہو۔ خدا نے آسمان سے مینہ برسایا، پھر اس سے رنگ برنگ کے میوے پیدا کیے۔ پہاڑ میں سے سفید، سرخ، چتکبرے، کالے، بھنور، پتھر کے ٹکڑے نکالے، آدمیوں اور جانوروں کے بھی طرح طرح کے رنگ بنائے۔فرعون نے موسیٰ سے پوچھا کہ خدا کون ہے؟ موسیٰ نے نیچر ہی سے سمجھایا اور کہا کہ آسمانوں کا اور زمین کاا ور جو کچھ کہ ان میں ہے ان کا خدا۔ فرعون نے اپنے ہالی موالی سے کہا کہ تم سنتے ہو کہ کیا کہتا ہے۔ موسیٰ نے کہا کہ تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا خدا۔ فرعون بولا کہ یہ پیغمبر جس کو ہمارے پاس بھیجا ہے یہ تو کچھ دیوانہ ہے۔ موسیٰ پر کیا موقوف ہے۔ جتنے پیغمبر گزرے ہیں سب نیچری تھے۔ خدا خود نیچری ہے۔ جب لوگوں نے نیچرکے قوانین کو چھوڑا تب ہی اس نے پیغمبر بھیجا۔ جو پیغمبر آیا اس نے کیا کیا۔ پھر لوگوں کو نیچر کا رستہ بتایا اور جتنا بگاڑا تھا اتنے کو پھر سنوارا، جب موسیٰ سے نیچر لسٹ کو لوگوں نے مجنون کہا تو پھر ہم کس گنتی میں ہیں۔ ہم کو جو چاہیں کہیں۔خدا نے ہم کو، ہماری جان کو، ہماری سمجھ کو، ہمارے قیاس کو، ہمارے دل ودماغ کو، ہمارے روئیں روئیں کو نیچر سے جکڑ دیا ہے، ہمارے چاروں طرف نیچر ہی نیچر پھیلا دیا ہے، نیچر ہی کو ہم دیکھتے ہیں، نیچر ہی کو ہم سمجھتے ہیں، نیچر سے خدا کو پہچانتے ہیں، پھر نیچری نہ ہوں تو کون ہوں۔ کوئی کیسا ہی مسلمان ہو ہم تو بلاشبہ فطرتی مسلمان ہیں، ہمارے باپ دادا بھی کچھ کرشمہ و کرامات دیکھ کر ایمان نہیں لائے تھے، وہ بھی فطرتی مسلمان تھے۔ ہمارا ہی دادا جس کے دل میں فطرتی ایمان نے جب جوش کیا تو گھبرا گیا اور نیچر کو، فطرت کو، خدا کے دین کو ڈھونڈنے لگا۔ خدا ہی نے اس کو ’’ملکوت السموات الارض‘‘ دکھلا دی۔ وہ ملکوت کیا تھی۔ وہی نیچر، فطرت، خدا کا دین تھا۔رات کے اندھیرے میں ایک روشن ستارہ نیچر کا پرکالہ دیکھا، جانا کہ یہی خدا ہے، چاند کو نور کا ٹکڑا پایا اسی پر خدا ہونے کا دھوکہ کھایا، سورج کو سب سے زیادہ چمکیلا دیکھا اسی پر خدا ہونے کا گمان کیا۔ مگر جب دیکھا کہ یہ سب تو ڈوب جاتے ہیں تو بول اٹھا کہ میں اس پر ایمان لایا جس نے فطرت نیچر کو بنایا اور پکا فطرتی مسلمان ہوا۔ پس جب ہمارا دادا ابراہیم نیچری تھا تو ہم اس کی ناخلف اولاد نہیں ہیں جو نیچری نہ ہوں۔ نیچر ہمارے خدا کا، ہمارے باپ دادا کا تمغہ ہے، ہم نیچری، ہمارا خدا نیچری، ہمارے باپ دادا نیچری۔ اگر کوئی اس مقدس لفظ کو بری نیت سے استعمال کرتا ہے، وہ جانے اور اس کا دین ایمان۔ وہ صرف ہم ہی کو نہیں کہتا بلکہ خدا کو، پیغمبر کو، ابراہیم کو، سب کو کہتا ہے۔ پھر لوگوں کو جو وہ چاہیں کہنے دو۔ ہم کو ان کی نسبت بھی حسن ظن رکھنے دو۔ ان کو ان کی راہ پر، ہم کو اپنی راہ پر، اپنے خدا کی راہ پر، اپنے باپ دادا کی راہ پر، پیغمبروں کی راہ پر، رسولوں کی راہ پر، آزر کے بیٹے ابراہیم کی راہ پر چلنے دو۔بیتتو و طوبیٰ و ما و قامتِ یارفکرِ ہر کس بہ قدر ہمتِ اوستحاشیہ(۱) جناب محمد حسین صاحب (بٹالوی) نے رسالہ ’اشاعت السنہ‘ لکھا ہے کہ عالمین بالحدیث لفظ غیر مقلد یا لا مذہب کہنے کو گالی سمجھتے ہیں۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%DA%86%D8%B1"} {"title": "نیچی نظروں سے نہ دیکھو سر محشر دیکھو", "poet_page": "مصنف:رسا رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نیچی نظروں سے نہ دیکھو سر محشر دیکھو\nدادخواہوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھو\n\nہو کے شمشیر بکف سیر گھڑی بہر دیکھو\nمرنے والوں کی وفا تیغ کے جوہر دیکھو\n\nآہ کیسی کبھی شکوہ بھی تمہارا نہ کیا\nایسے ہم ضبط محبت کے ہیں خوگر دیکھو\n\nوعدۂ حشر ہے پردہ بھی زمانے بھر سے\nکوئی دامن نہ پکڑ لے سر محشر دیکھو\n\nان کو دشمن سے جو الفت ہے تو پروا نہ کرو\nاے رساؔ تم بھی کسی اور پہ مر کر دیکھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%DA%86%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%B3%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "نیچی نظروں کے وار آنے لگے", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نیچی نظروں کے وار آنے لگے\nلو بس اب جان و دل ٹھکانے لگے\n\nمیری نظروں نے کیا کہا یا رب\nکیوں وہ شرما کے مسکرانے لگے\n\nمصلحت ترک جور تھا چندے\nپھر اسی ہتھکنڈوں پہ آنے لگے\n\nجلوۂ یار نے کیا بے خود\nہم تو آتے ہی ان کے جانے لگے\n\nسب کا کعبہ ہے منزل مقصود\nہم تو آگے قدم بڑھانے لگے\n\nکیا کہیں آمد بہار ہوئی\nکیوں گریباں پہ ہاتھ جانے لگے\n\nگر حقیقت نگر ہو چشم تو وہ\nجلوہ ہر رنگ میں دکھانے لگے\n\nہم کو ربط گزشتہ یاد آئے\nوہ جو بن ٹھن کے گھر سے جانے لگے\n\nبس یہی غایت تصور ہے\nہجر میں لطف وصل آنے لگے\n\nاس سراپا بہار کے جلوے\nرنگ کچھ اور ہی نہ کھانے لگے\n\nکیوں کہ فرصت عدو سے تم کو ملی\nجو تصور میں میرے آنے لگے\n\nبے غذا کے تو رہ نہیں سکتے\nنہ ملا کچھ تو زہر کھانے لگے\n\nبات بنتی نظر نہیں آتی\nاب وہ باتیں بہت بنانے لگے\n\nآج مجروحؔ ضبط کر نہ سکا\nکیا کرے جب کہ جان جانے لگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%DA%86%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "نیچی نگہ کی ہم نے تو اس نے منہ کو چھپانا چھوڑ دیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نیچی نگہ کی ہم نے تو اس نے منہ کو چھپانا چھوڑ دیا\nکچھ جو ہوئی پھر اونچی تو رخ سے پردہ اٹھانا چھوڑ دیا\n\nزلف سے جکڑا پہلے تو دل پھر اس کا تماشہ دیکھنے کو\nنظروں کا اس پر سحر کیا اور کر کے دوانا چھوڑ دیا\n\nاس نے اٹھایا ہم پہ طمانچہ ہم نے ہٹایا منہ کو جو آہ\nشوخ نے ہم کو اس دن سے پھر ناز دکھانا چھوڑ دیا\n\nبیٹھ کے نزدیک اس کے جو اک دن پاؤں کو ہم نے چوم لیا\nاس نے ہمیں بے باک سمجھ کر لطف جتانا چھوڑ دیا\n\nپھر جو گئے ہم ملنے کو اس کو دیکھ کے اس نے ہم کو نظیرؔ\nیوں تو کہا ہاں آؤ جی لیکن پاس بٹھانا چھوڑ دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%DA%86%DB%8C_%D9%86%DA%AF%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "نیک و بد عشق میں جو ہے مری تقدیر میں ہے", "poet_page": "مصنف:محمود رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نیک و بد عشق میں جو ہے مری تقدیر میں ہے\nآپ وہ کیجئے جو آپ کی تدبیر میں ہے\n\nوصل کہتے ہیں اسے ربط اسے کہتے ہیں\nدیکھ لو تیر جگر میں ہے جگر تیر میں ہے\n\nشور محشر کی تو اک دھوم مچا رکھی ہے\nشور یہ ہے جو مرے بالوں کی زنجیر میں ہے\n\nکھل گیا آج مجھے وعدہ فراموشی سے\nکہ ترا وصل کسی اور کی تقدیر میں ہے\n\nوہ مرا حال جو پوچھیں تو یہ کہنا قاصد\nابھی جیتا ہے مگر مرنے کی تدبیر میں ہے\n\nکوئی کچھ جرم کرے نام وہ میرا لیں گے\nاک زمانے کی برائی مری تقدیر میں ہے\n\nوصف کچھ اس کا بیاں ہو نہیں سکتا محمودؔ\nلطف جو داغ کی تقریر میں تحریر میں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%DA%A9_%D9%88_%D8%A8%D8%AF_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "نیک و بد کی جسے خبر ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "نیک و بد کی جسے خبر ہی نہیں\nشر ہے کم بخت وہ بشر ہی نہیں\n\nوہ ہیں کس حال میں خبر ہی نہیں\nسر بھی نیچا ہے اک نظر ہی نہیں\n\nہاتھ خالی ہے مال و زر ہی نہیں\nکیا اڑیں جبکہ بال و پر ہی نہیں\n\nمے کی بابت خیال کر واعظ\nاس میں نفعے بھی ہیں ضرر ہی نہیں\n\nشرم سے تیرے روئے روشن کے\nشمس بھی زرد ہے قمر ہی نہیں\n\nجس کے باعث ہے زندگی بے لطف\nلطف یہ ہے اسے خبر ہی نہیں\n\nراہ ہر دل کو ہوتی ہے دل سے\nمیرے دل کی انہیں خبر ہی نہیں\n\nیار تو قتل عام کر ڈالے\nتیغ باندھے کہاں کمر ہی نہیں\n\nضبط کی نسبت آپ کا ہے خیال\nمیں ہوں عاشق مرے جگر ہی نہیں\n\nمیرے سینہ کو چیر کر دیکھو\nدل بھی روتا ہے چشم تر ہی نہیں\n\nآسماں لاکھ بار دشمن ہو\nکیا ہو برباد میرے گھر ہی نہیں\n\nکون کہتا ہے مجھ کو سودائی\nایک مدت سے میرے سر ہی نہیں\n\nہم قیامت سے بھی ہوئے بے فکر\nشب ہجراں کی جب سحر ہی نہیں\n\nپاؤں پھیلائے مست ہوتے ہیں\nفقرا کیونکہ مال و زر ہی نہیں\n\nوہ تو مجھ کو جلائے جائیں گے\nبعد مردن بھی عمر بھر ہی نہیں\n\nبعد مردن ہے حشر کا کھٹکا\nمیری جاں فکر سے مفر ہی نہیں\n\nمرغ بے وجہ چیخے جاتا ہے\nیہ نہ بولے تو جانور ہی نہیں\n\nظلم پر اب ہے آسماں نادم\nسر بھی نیچا ہے اک نظر ہی نہیں\n\nتوبہ توبہ ہزارہا شرطیں\nکیا بتاؤں اگر مگر ہی نہیں\n\nپھرتے ہو سیکڑوں ندیدوں میں\nتم کو خوف نظر گزر ہی نہیں\n\nآدمی آدمی ہے عزت سے\nآب جس میں نہ ہو گہر ہی نہیں\n\nکم ہے یہ زاد راہ اے پرویںؔ\nتم کو اندازۂ سفر ہی نہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%DA%A9_%D9%88_%D8%A8%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نیکی کرنا جرم ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "پہلے میں کہتا تھا کہ نیکی کرنا کوئی جرم نہیں لیکن اب کہتا ہوں کہ نیکی کرنا جرم ہے اور وہ بھی قابل دست اندازی پولیس۔ لوگ کہتے ہیں کہ تم احمق ہو اور میں کہتا ہوں کہ تم! لہٰذا اب میں اپنا قصہ سنا کر آپ کی عقل کا بھی امتحان لیتا ہوں۔\n\n(۱)\n\nایک روز کا ذکر ہے کہ میں اسکول سے واپس گھر آ رہا تھا۔ یہ جب کا ذکر ہے کہ میری عمر بارہ یا تیرہ سال کی ہوگی۔ ایک کنوئیں پر سے گزر ہوا۔ دو تین عورتیں پانی بھر رہی تھیں۔ آپس میں ہنس بول رہی تھیں۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا۔ ان میں سے ایک عورت پر نظر پڑی اور وہ گڑ کر رہ گئی۔ ایسی کہa رفتار آہستہ پڑ گئی۔ دیکھ تو رہا ہوں کنوئیں کی طرف اور چل آگے رہا ہوں۔ ایک دم سے رک گیا۔ کھڑا ہو کر دیکھنے لگا۔ عمر کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ اس سے پہلے کبھی کسی عورت میں مجھے دلچسپی نظر نہ آئی تھی اور میں حیرت زدہ کھڑا دیکھ رہا تھا۔ قد میں کتنی دلکشی تھی اور ہر جنبش سے ایک سرکشی عیاں تھی۔ سڈول بازو، پھنسی ہوئی نیم آستین سے بغاوت کر رہا تھا۔ اعضاء کی ہر جنبش میں رعنائی کی جلوہ گری اور ایک دلکش لچک تھی۔ رنگ اور روپ میں جوانی چمک رہی تھی۔\n\nمیں قریب آیا پانی پینے کے، لیے اور چپ کھڑا دیکھنے لگا۔ اب صرف ایک عورت اور تھی اور میں اور آگے بڑھا۔ میں نے پانی مانگا۔ دوسری عورت اپنا ڈول اٹھا چکی تھی، رسی کا لچھا بنا رہی تھی لہٰذا وہ کچھ نہ بولی اور اپنا گھڑا بھر کر چلتی ہوئی۔ اب میں کھڑا قریب سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنا ٹین کا ڈول بھرا۔ مجھ سے میری ذات پوچھی۔ میں غافل سا اس کے چہرے میں ڈوبا ہوا دلربا لرزشوں کو دیکھ رہا تھا۔ میں نے بتایا اور کہا، ’’کائستھ ہوں۔‘‘ میں نے چلو سے پانی پینا شروع کیا مگر نظر اس کے چہرے پر جو کہ قریب تھا۔ اس کے رخسار کے باریک روئیں روشنی میں سنہری رنگ کے ذرّوں کی طرح لرز رہے تھے۔ میں نے انکار نہیں کیا اور کل ڈول پانی کا خرچ ہو گیا۔ اور میں بدستور چلو بنائے اسے گھور رہا تھا حالانکہ چلو اور ڈول خالی! وہ برابر مجھے دیکھ رہی تھی اور پیاس بھر پانی پی کر مجھے انکار کر دینا چاہیے تھا۔ خواہ ہاتھ اٹھا کر خواہ سر سے۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ میں کل ڈول پی گیا۔ اس نے میری حماقت کو ناپسند کر کے سر کو صرف جنبش دی۔\n\nمیں کچھ بھی نہ بولا اور وہیں کا وہیں کھڑا دیکھتا رہا۔ مجھے ہٹ جانا چاہیے تھا۔ لہٰذا اس نے مجھ سے قدرے ترش روئی سے کہا، ’’ہوں! کیا دیکھتا ہے؟‘‘ میں بھلا کیا جواب دیتا۔ کیا کہہ دیتا کہ تیرے چہرے کو دیکھتا ہوں اور چہرے میں جوانی اور رعنائی کی جلوہ آرائی دیکھتا ہوں۔ میں ہٹ آیا تھا۔ بستہ بغل میں لیے کھڑا دیکھتا رہا تھا۔ وہ گھڑے بھر چکی تھی اور ڈول سنبھال کر رسی کا لچھا بنارہی تھی اور میں اس کی کلائی کی جنبش کو دیکھ رہا تھا۔ رسی کے ہر چکر پر ایک سی حرکت تھی۔ کس قدر دلچسپ کہ اس کلائی کی لچک سے بدن کو ہلکی سی جنبش ہوتی تھی۔ ایسی کہ معلوم ہو کہ دلکشی اور رعنائی کا چھلکتا ہوا جام ہے۔ جب وہ چلی تو مجھے گویا کھینچتی ہوئی۔ میں اس کے ساتھ پھر واپس اسکول کی طرف چلنے لگا۔ اس کے بائیں ہاتھ کی کلائی کے خم پر نظریں جمائےآہستہ آہستہ اس کے ساتھ چلا۔ وہ مجھے دیکھ رہی تھی اور میں اسے اور میں خاموش تھا۔\n\n’’تو کہاں جا رہا ہے؟‘‘ اس نے مجھ سے پوچھا، ’’کیا دیکھتا ہے؟‘‘ میں نے سادگی سے کہہ دیا، ’’تمہیں دیکھ رہا ہوں۔‘‘ وہ اپنے خوبصورت لبوں کو قدرے حیرت سے جنبش دے کر بولی، ’’مجھے۔۔۔! ہشت۔۔۔! بھاگ!‘‘\n\nمیں خاموش ہوگیا اور نظریں نیچی کر لیں اور قدرے پیچھے رہ گیا۔ مگر نہیں۔ میں تو ساتھ ہی چلوں گا۔ اس کے پیچھے پیچھے چلا۔ وہ مجھے مڑ مڑ کر دیکھتی ہوئی اور میں اس پر نظریں جمائے۔ وہ گھر میں اپنے داخل ہوئی تو میں فاصلہ پر رک گیا۔ وہ غائب ہوگئی اور میں چلنے کو ہوا کہ وہ دروازے پر آئی اور اس نے پھر مجھے کھڑے دیکھا۔ دیکھ کر وہ واپس چلی گئی اور میں تھوڑی دیر انتظار کر کے واپس چلا آیا۔ گھنٹوں اس کے دلربا چہرے کا نقش سامنے رہا۔ گھنٹوں اس کے بدن کی جنبش سینما کی فلم کی طرح پیش نظر رہی۔ اس کی عمر قریب بیس بائیس سال کی تھی۔\n\n(۲)\n\nاس دن سے میرا دستور ہوگیا کہ میں کنوئیں پر پانی ضرور پیتا۔ اسکول کا آخری گھنٹہ بڑی بے صبری سے کٹتا۔ کنوئیں پر وہ ضرور ملتی۔ اگر نہ ملتی تو میں کچھ دیر ٹھہر جاتا۔ اور بہت جلد میرے دل میں یہ احساس ہونے لگا کہ شاید میرے انتظار میں بیٹھی ہو۔ کبھی کبھار دو چار باتیں ہوئیں۔ یہ ایک اچھے گھرانے کی بیوہ برہمن تھی جو بہت چھوٹی عمر میں بیوہ ہوگئی۔ ایسی کہ کبھی شوہر کے گھر بھی جانا نہ ہوا۔ میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا اور نہ کبھی زیادہ بات چیت کی۔ مگر چپکے چپکے دل میں اس کا نقش برابر گہرا ہوتا چلا گیا۔ میرا معمول تھا کہ پانی پی کر کھڑا رہتا اور اس پیکر جمال کو دیکھتا رہتا۔ وہ جانتی تھی کہ میں اس کا مستقل طور پر ’’دیکھنے والا‘‘ ہوں۔ یہ بھی غالباً جانتی ہی ہوگی کہ دیکھنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔\n\nدس مہینے اسی طرح گزرے ہوں گے کہ رام جی کے مندر کے میلے پر گیا۔ عورتوں کا بے حد ہجوم تھا۔ شام کے وقت مجمع سے علیحدہ ہو کر میں ایک طرف ہو گیا۔ سامنے دور تک دھندلکے کا سماں تھا اور سورج ڈوب چکا تھا۔ تاریکی بڑھ رہی تھی۔ دراصل میں اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا تھا اور اس جگہ سے د یکھ رہا تھا کہ سارا میلہ نظر کے سامنے تھا، لیکن کوئی نظر نہ پڑا اور اب کوئی امید نہ تھی کہ ساتھی مل جائیں، لہٰذا میں اٹھا اور چلنے کو ہوا کہ بائیں طرف سے ایک آہٹ ہوئی اور کیا دیکھتا ہوں کہ محبوب سامنے تھا۔ دیکھتے ہی میرا عجیب حال ہوگیا۔ وہ خود رک گئی۔ میں کھڑا ہو گیا۔ دھندلکا تھا لہٰذا ذرا قریب بڑھا۔ وہ بھی قدرے قریب آئی۔ اس نے سر جھکا کر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عجیب تمسخر آمیز انداز سے مسکرا کر دیکھا اور کہا، ’’کیوں جی تم مجھے روز کیوں دیکھتے ہو؟‘‘\n\nمیں نے شرم سے نظریں نیچی کر لیں اور اس نے اور بھی مسکرا کر پھر وہی سوال کیا۔ میں نےنظر اٹھا کر دیکھا اور میلے کے شور و غل اور ڈوبتی ہوئی دھندلی سی روشنی میں اس کی چمکیلی آنکھیں اندھیرے میں ایک عجیب رنگینی کے ساتھ تیرتی معلوم ہوئیں۔ میں نے زور کا ایک سانس لے کر کہا، ’’بائی جی میں تم کو روز دیکھتا ہوں اور جب نہیں دیکھتا تو پریشان رہتا ہوں۔‘‘ میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں چمک بڑھ گئی۔ وہ مسکرا کر بولی، ’’کیوں؟‘‘ میں نے کہا، ’’تم سے ملنے کو جی چاہتا ہے۔ تم سے بات چیت کرنے کو، تم سے جی چاہتا ہے کہ روز ملوں۔۔۔‘‘\n\nاس نے خوش ہو کر کہا، ’’پھر تم کیوں نہیں ملتے، تم نے میرا گھر دیکھا ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’ہاں دیکھا ہے۔ کیا میں وہاں ملنے آ سکتا ہوں؟‘‘ اس نے کہا، ’’تم ضرور آنا۔‘‘ اس کے بعد ہم دونوں دور تک ساتھ ساتھ باتیں کرتے چلے گئے اور پھر وہ اپنی ساتھ والیوں کے پاس چلی گئی۔\n\nدوسرے روز سے میں زیادہ خوش تھا۔ میرا دل کہیں سے کہیں پہنچا۔ یہ معلوم ہوا کہ دل میں امنگ ہے۔ بڑی خوشی سے ہم دونوں ملتے۔ میں اس کے گھر جاتا اور گھنٹوں بیٹھا رہتا۔ پڑھنے لکھنے سے جی اچاٹ ہو چکا تھا۔ بائی جی کے مکان پر ایک ماں تھی اور بوڑھا ماموں اور ایک مجھ سے بھی کم عمر بھائی تھا۔\n\n(۳)\n\nدو مہینے کے اندر اندر ہم دونوں میں گہری محبت ہوگئی مگر ذات پات کے بندھنوں کے سبب زبان بند تھی۔ ایک دن جبکہ زچ آچکا تھا، میں نے دل کا مطلب کھول دیا۔ وہ جانتی ہی تھی۔ یہ ناممکن تھا لیکن میں نے ایک دن کہہ دیا کہ ’’بائی بغیر تیرے میری زندگی مشکل ہے۔‘‘ وہ جانتی تھی۔ مگر اول تو بیوہ اور پھر وہ برہمن اور میں کائستھ۔ مگر نہیں۔ عشق و محبت کے قوانین اور ہیں۔ میں نے تجویز کی کہ کیوں نہ ہم دونوں لاہور چلے چلیں اور وہاں سماج میں داخل ہو کر قاعدے اور قانون کی رو سے شادی کر لیں۔ یہ ممکن ہے اور جائز بھی ہے۔ مگر سوال یہ تھا کہ پھر اپنے شہر میں کیونکر آئیں گے۔ بھلا کیسے منہ دکھائیں گے۔ لیکن کچھ دن بعد ازخود یہ بھی سوال جاتا رہا۔ عشق و محبت کی ضروریات بھی کوئی چیز ہیں۔\n\nبائی نے اپنے گھر سے اور میں نے اپنے گھر سے روپیہ زیور جو ہاتھ لگا چرا لیا اور اصطلاح عام میں ہم دونوں ’’بھاگ گئے۔‘‘ اور پنجاب پہنچ کر ہم نے شادی کر لی۔ یہ شادی کیسی تھی۔ بس نہ پوچھیے۔ عرصے تک یہی معلوم ہوا کہ شراب محبت کے نشے میں چور ہم دونوں ہوا میں جھول رہے ہیں! لیکن افسوس کہ روپیہ ہمارا تھڑ رہا تھا اور تلاشِ معاش کا خلجان ایک خوفناک بھوت بن کر سامنے آ رہا تھا۔ تلاش معاش کے لیے بہت سرگرداں ہونا پڑا، لیکن پھر ایک مہاجن کے لڑکے کو انگریزی پڑھانے پر مجھے نوکری مل گئی اور شریمتی جی کھانا پکانے کا کام کرنے لگیں۔ ہم دونوں بہت خوش تھے اور کبھی بھول کر بھی گھر کا رخ نہ کیا۔\n\nلیکن بہت جلد دشواریوں کا سامنا ہوا۔ میری عمر ہی کیا تھی۔ نہ تجربہ تھا نہ عقل تھی اور اسی کشمکش میں تنگی ترشی سے دس سال گزر گئے۔ اب اس عرصے کی روئیداد بھی سن لیجیے۔ سال بھر کے اندر ہی شریمتی جی کا کچھ اور ہی رویہ ہوگیا۔ محبت بدستور تھی، مگر مجھے پہلے تو جھڑکنا شروع کیا اور پھر مارنا شروع کر دیا۔ ہاتھ کھلنے کی دیر تھی کہ بات بات پر میں پٹنے لگا اور بہت جلد میری حیثیت ایک غلام کی سی ہوگئی اور یہی دستور برابر جاری رہا۔\n\nپھر ستم تو یہ تھا کہ اس دوران میں روزگار بھی ٹھیک لگ گیا تھا۔ تین بچے بھی ہوگئے تھے اور ظلم یہ کہ بچوں کے سامنے میں پٹتا تھا۔ بچوں نے پہلے تو ڈرنا لیکن بعد میں ہنسنا شروع کیا۔\n\nظاہر ہے کہ صورت حال کس طرح میرے لیے تکلیف دہ ہوگئی۔ آپ کہیں گے کہ میں پٹ کیسے گیا۔ عرض ہے کہ کوئی راضی خوشی نہیں مار کھاتا۔ کمزور جوتیاں کھاتا ہے۔ دو ایک دفعہ میں نے زور آزمائی کی اور شکست کھائی۔ شریمتی جی کی نہ صرف تندرستی بہت اچھی تھی بلکہ قد اور ہاتھ پیر مجھ سے سوائے کیا ڈیوڑھے تھے۔ تین سال بعد میرا گھر آنا جانا بھی ہو گیا تھا مگر میں حتی الوسع منہ چھپاتا تھا۔ برادری باہر آدمی کو کون منہ لگاتا ہے۔\n\n(۴)\n\nجس وقت کا میں ذکر کر رہا ہوں، حالات ناگفتہ بہ ہو چکے تھے۔ روز کی مارپیٹ سے تنگ آگیا تھا کہ ایک دن محض ذرا دیر سے گھر آنے پر میں اتنا پٹا کہ پڑوسن نے آ کر بچایا۔ ہڈی پسلی میری ایک کردی گئی اور اس روز سے مجھے شریمتی جی سے نفرت ہوگئی اور میں سوچ رہا تھا کہ کیا تدبیر کروں۔ لیکن ابھی سوچنے بھی نہ پایا تھا کہ ایک دن صبح تڑکے مجھے لکڑی اور جوتیوں سے مارا اور بچے قہقہہ لگاتے رہے۔ انتہا ہو چکی تھی لہٰذا میں نے کچھ طے کرلیا۔ ایک خط اپنے بڑے بھائی کو لکھا کہ میرے بچوں کا خیال رکھنا اور میں اس دنیا سے رخصت ہوتا ہوں اور پھر یہ طے کیا کہ اس ظالم عورت کو قتل کر کے خود بھی اپنے آپ کو آج ہی ہلاک کر دوں گا۔ مگر واہ رے بھائی کہ جگہ سے جنبش تک نہ کی۔\n\nشام کا جھٹپٹا وقت تھا اور ہماری گائے کے رہنے کا باڑہ پچھواڑے تھا۔ گائے دوہنے کو شریمتی جی اکیلی جاتی تھی اور یہی موقع تھا۔ قتل کرنا اور پھر وہ بھی بیوی کو ذرا مشکل کام ہے اور ممکن ہے کہ عین موقع پر میں رک جاتا، مگر شریمتی جی نے گائے دوہنے جانے سے کچھ ہی قبل مجھے ذرا سی بات پر مار کر اور بھی اندھا کردیا۔ دیوار کے پاس کانٹوں کی ایک جھاڑی تھی۔ اس کی آڑ میں چھپ گیا اور جونہی شریمتی جی قریب سے گزری ہیں میں نے بے خبری میں پیچھے سے پشت پر داہنی طرف بھرپور چاقو کا ہاتھ دیا۔ یہ ایک بڑا سا چاقو تھا جو میں نے آج ہی گھر میں دیکھا تھا۔ ان کے منہ سے ایک دلدوز چیخ نکلی۔ برتن ہاتھ سے گر گیا، لیکن انہوں نے مڑ کر میرا مقابلہ کیا۔ میں نے دو وار اور کیے، مگر یہ انہوں نے ہاتھوں پر روکے، لیکن میں نے ان پر اس زور سے حملہ کیا کہ گرا دیا وار گراتے ہی سینے پر چڑھ کر سچ مچ شریمتی جی کو ذبح کرنے لگا اور وہ برابر اپنے دونوں ہاتھوں سے گلا بچا رہی تھیں کہ ان کی آواز سن کر ایک پڑوسی برہمن آ نکلا اور اس نے میرے اوپر حملہ کر کے شریمتی جی کو چھڑایا۔\n\nمیں نے دیکھا کہ اب معاملہ بگڑا۔ لہٰذا میں نے مہاراج پر حملہ کیا، مگر مہاراج طاقت میں مجھ سے چوگنے تھے۔ میرے چاقو کے دو وار انہوں نے بہادری سے ہاتھوں پر لیے اور تیسرے وار پر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ میں نے ناامید ہوکر دوسرے ہاتھ میں چاقو لے کر اپنا خاتمہ کرنا چاہا اور جب تک مجھے مہاراج پکڑیں، میں اپنے گلے کو پوری طرح زخمی کر چکا تھا۔ اتنے میں اور دوچار آدمی آوازیں سن کر دوڑے آئے۔ شریمتی جی پڑی دم توڑ رہی تھیں اور میرا بھی ایک دم سے سر چکرایا اور میں نے اپنے کو گرتے ہوئے محسوس کیا۔\n\n(۵)\n\nاس کے بعد جب میری آنکھ کھلی ہے تو میں نے اپنے کو ہسپتال میں پایا۔ پولیس والے سرہانے تھے اور بیان کے لیے مصر۔ میں نے بیان دینے سے قطعی انکار کر دیا۔ اسی ہسپتال کے زنانے وارڈ میں شریمتی جی موت اور زیست کے مراحل طے کر رہی تھیں۔ میں نے اپنے بیان بعد میں بھی نہ دیے، لیکن شریمتی جی نے تیسرے روز بالکل صحیح صحیح بیان دے دیے۔ میں تو مہینہ بھر کے اندر ہی اندر اچھا ہو کر پولیس کی حوالات میں پہنچا، لیکن شریمتی جی تین مہینے ہسپتال میں رہیں اور جب وہ اچھی ہو گئیں تو ہمارا مقدمہ عدالت میں آیا۔\n\nپہلی ہی پیشی پر شریمتی جی سے میری ملاقات ہوئی۔ بس اتنی کہ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ میں نے نظریں نیچی کرلیں۔ وہ گواہ اور مستغیث تھیں اور میں ملزم۔ ہتھکڑی بیڑی پہنے عدالت کے باہر بیٹھا تھا۔ میں جب کبھی بھی سر اٹھا کر دیکھتا، شریمتی جی کو اپنی طرف دیکھتا پاتا۔ دن بھر ہم بیٹھے رہے اور مقدمے کی پیشی دوسرے ضروری مقدمات کے سبب نہ ہوسکی۔ شریمتی جی کی آنکھوں سے نفرت اور انتقام کی چنگاریاں سی اڑتی معلوم ہوتی تھیں۔ دوسرے دن بھی پیشی نہ ہوئی اور شریمتی جی مجھے اسی طرح دیکھتی رہیں۔ آج ان کے ساتھ بڑا لڑکا بھی تھا۔ ماں بیٹے مجھے دور ہی سے بیٹھے دیکھتے رہے۔ میں وقتاً فوقتاً سر اٹھا کر دیکھ لیتا تھا، ورنہ سر جھکائے اپنی قسمت کے نوشتے کا منتظر تھا۔\n\nدو دن ہمارا مقدمہ ملتوی رہا اور تیسرے دن چالان پیش کر دیا گیا اور میرے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ کارروائی عدالت وکیل سرکار کی مختصر تقریر سے شروع ہوئی۔ پہلے گواہ مقدمے کے ہیرو دیوی لال مہاراج پڑوسی تھے۔ انہوں نے بیان دیا کہ کس طرح انہوں نے مجھے شریمتی جی کو قتل کرتے دیکھا۔ آلہ حرب شناخت کرکے بتایا کہ ان کا ہے، جو شریمتی جی ان کی بہن سے مانگ لائی تھیں۔ اسی سے ضربات پہنچائی گئیں اور چھڑوانے لگے تو میں نے ان کو زخمی کیا اور پھر خودکشی کی کوشش کی۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ جرح کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔ میں نے جرح کرنے سے انکار کر دیا۔\n\nدوسری گواہ خود شریمتی جی تھیں۔ عدالت میں وہ داخل ہوئیں تو انہوں نے میری طرف دیکھا۔ چہرے پر ضرورت سے زیادہ سنجیدگی تھی اور ضرورت سے زیادہ مغموم معلوم ہوتی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ چہرے سے ابھی ابھی آنسو پونچھے ہیں۔ وہ بالکل خاموش گواہی کے لیے بڑھیں اور ان کے بیان شروع ہوئے، ’’ملزم حاضر عدالت میرا میاں ہے۔ میری اس کی شادی ہوئی ہے۔ فلاں فلاں تاریخ کو میں زخمی ہوئی۔ حملہ آور میرا شوہر، حاضر عدالت نہیں تھا، بلکہ (دیوی لال کی طرف انگلی اٹھا کر) اس نےمجھے چاقو سے زخمی کیا۔۔۔‘‘\n\n’’ہیں! ہیں!‘‘ گھبرا کر وکیل سرکار نے کہا، ’’کیا کہا تم نے؟‘‘\n\nشریمتی جی نے سنجیدگی سے کہا، ’’میں نے یہ کہا کہ مجھے پنڈت دیوی لال نے قتل کرنے کی کوشش کی اور مجھے میرے شوہر ملزم حاضر عدالت نے بچانا چاہا تو دیوی لال نے اسے بھی زخمی کیا۔‘‘\n\nسب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ پنڈت دیوی لال جی خواہ مخواہ حواس باختہ ہوگئے اور بطور احتجاج بوکھلا کر لگے بکنے، مگر خاموش کردیے گئے۔ پھر جرح شروع ہوئی۔ اِدھر اُدھر کے سوالات پوچھ کر آخر میں مجسٹریٹ نے پوچھا۔\n\nمجسٹریٹ، ’’تم نے ہسپتال میں اپنے بیان میں جو یہ بات لکھائی کہ اپنے میاں کو مارتی تھیں، تو کیا یہ بھی غلط ہے؟‘‘\n\nشریمتی، ’’بچوں کو مارنے کو لکھایا ہوگا۔ قطعی غلط ہے۔‘‘\n\nمجسٹریٹ نے شریمتی جی کا بیان لے کر ایشری اور رام پال پڑوسیوں کے بیان لیے، دونوں نے اس کی تصدیق کی کہ جب ہم آئے تو ملزم اور اس کی بیوی بری طرح زخمی تھے اور چاقو دیوی لال کے ہاتھ میں تھا۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ پہلے ہی سے تھا یا انہوں نے ملزم کے ہاتھ سے چھینا تھا۔ مجسٹریٹ نے میرا بیان لیا۔ مجھے جھوٹ سے بھلا کیا تعلق۔ میں نے بھی شریمتی جی کے بیان کی تائید کر دی۔ اس کے بعد مجسٹریٹ نے پنڈت دیوی لال کی طرف خونی نظر ڈالی اور بیان مکرر کے لیے طلب کیا۔ پنڈت جی آنکھیں پھاڑے قسمیں کھاتے گواہ کے کٹہرے میں آئے اور مجسٹریٹ کے سوالات کا ان کو جواب دینا پڑا۔\n\n’’آلۂ ضرب یعنی چاقو میرا ہے جو ملزم کی بیوی میری بہن سے عاریتاً مانگ کر لائی تھی۔ میری بیوی مر چکی ہے، دوسری بیوی کی تلاش ہے۔ بیوی ملنے میں دو ہزار روپیہ خرچ کی ضرورت ہے، لڑکی والوں کو دینا پڑتا ہے اسی وجہ سے بغیر بیوی بیٹھا ہوں۔ ملزم کی بیوی جس ذات کی ہے، اس میں میری شادی ہو سکتی ہے۔ میں نے ملزم کی بیوی سے کبھی مذاق نہیں کیا اور کبھی اس سے یہ نہیں کہا کہ میری ہو جا۔ میں ذات کا برہمن ہوں۔ ملزم نے بھرپور میرے سینے پر چاقو کے وار کیے مگر ہاتھوں میں سوا معمولی خراش کے اور زخم نہیں آیا اور وہ وار میں نے روک لیے۔ ملزم نے اپنے الٹے ہاتھ سے خود کو زخمی کیا تو میں اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکا حالانکہ وہ میرے قابو میں تھا اور میں اس کا سیدھا ہاتھ پکڑے تھا۔ سیدھے ہاتھ سے الٹے ہاتھ میں چاقو لیتے وقت بھی میں ملزم سے نہ چھین سکا۔ جو وار اس نے اپنے اوپر کیے وہی وار ملزم میرے اوپر کر سکتا تھا، جن میں سے ایک وار ضرور میرے سینے پر پڑ سکتا تھا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔‘‘\n\nاس کے بعد ہی مجسٹریٹ نے میرا بیان لیا۔ میں نے شریمتی جی کے بیان کی تصدیق کی۔ مجسٹریٹ نے وکیل سرکار سے کہا کہ وجہ ظاہر کرو کہ کیوں نہ مقدمہ عدم ثبوت میں خارج ہو۔ وکیل سرکار نے بحث میں کہا کہ ملزم کی بیوی ملزم سے مل گئی ہے اور یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ اپنے میاں سے وقوعہ کی تاریخ سے اب تک مل بھی نہیں سکی ہے۔ مجسٹریٹ نے بحث سماعت کر کے کہا کہ باہر ٹھہریں۔ آدھ گھنٹے بعد مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔\n\n’’مقدمہ عدم ثبوت میں خارج اور ملزم رہا کیا جائے، پولیس کی تفتیشی کارروائی قابل رحم ہے۔ دیوی لال کا معاملہ مقدمہ ہذا میں تنقیح طلب نہیں لہٰذا اس کے بارے میں ہم کوئی ریمارک پاس نہیں کر سکتے۔ مگر اتنا کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ خود پولیس اور دیوی لال کی پوزیشن سخت مشکوک ہے اور پولیس کو واضح رہے کہ مقدمہ ہذا عدم وقوعہ میں خارج نہیں ہوا بلکہ عدم ثبوت میں خارج ہوتا ہے اور یہ سوال حل طلب رہ جاتا ہے کہ جرم کس نے کیا۔ دیوی لال کا ہمیں یقین نہیں وہ جھوٹا گواہ ہے اور معاملات سطح پر نہیں آئے۔ امن عامہ اور انصاف کی خاطر پولیس اگر چاہے تو دیوی لال کے مقدمے میں تفتیش کر سکتی ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ملزم کی مضروب بیوی کا دیدہ و دانستہ ہسپتال میں مجسٹریٹ کے روبرو بیان لینے کے عوض بلا کسی وجہ کے پولیس نے خود ہی بیان لینے پر اکتفا کیا اور دیوی لال دورانِ تفتیش پیش پیش رہا تو پولیس اور دیوی لال دونوں کی پوزیشن قابل رحم اور قابل تنقید ہو جاتی ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔‘‘\n\nمیں رہا ہوکر شریمتی جی کے بہت دیر بعد گھر پہنچا۔ شریمتی جی پر نظر پڑی، منہ پھلائے بیٹھی تھیں۔ مجھ سے کچھ نہ بولیں، مگر چشم زدن میں جھپٹ کر وہ میرے اوپر پل پڑیں اور قبل اس کے کہ کچھ کہیں، انہوں نے ایک اڑھائی درجن جوتے میری چاند پر گن دیے اور جوتا پھینک کر چارپائی پر بیٹھ کر اپنا منہ دوپٹے سے چھپا کر جو رونا شروع کیا ہے تو ہچکی بندھ گئی۔ میں نے ہاتھ جوڑے، پیر پکڑے، تب جا کر بڑی مشکل سے راضی ہوئیں۔\n\n(۶)\n\nپنڈت دیوی لال کا حال سنئے۔ پولیس نے ان کو وہیں عدالت میں دھر لیا اور ضمانت پر بھی نہ چھوڑا۔ اِدھر ہمارے گھر پر جو لعنت بھیجنے والوں کا ہجوم ہوا تو شریمتی جی نے دروازے بند کر لیے۔ نتیجہ یہ کہ آدھے محلہ کے آدمی پنڈت جی کو مجرم کہنے لگے اور ہم نے دروازہ کھول دیا۔\n\nپولیس نے چالان پیش کر دیا۔ پنڈت جی کے دشمنوں اور مخالفوں نےجو خود ان کی ہی برادری کے تھے، اب پوری چشم دید شہادت پیش کردی۔ دو تین آدمیوں نے کہا ہم سے خود شریمتی جی نے شکایت کی تھی کہ دیوی لال مجھے چھیڑتا ہے اور قتل کرنے کو کہتا ہے اور دو تین آدمیوں نے کہہ دیا ہم نے خود اپنی آنکھ سے دیوی لال کو شریمتی جی پر حملہ کرتے دیکھا۔ نتیجہ یہ کہ پنڈت جی کو سات سال قید سخت اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ کی سزا ہوئی، جو باوجود اپیل ہائی کورٹ تک بحال رہی۔ در اصل پنڈت جی نے کام ہی ایسا کیا تھا اور وہ تھے بھی اس کے مستحق۔\n\nمگر مصیبت تو دیکھیے۔ خطا پنڈت جی کریں اور بھگتیں ہم۔ شریمتی جی نے جو خبر سنی کہ پنڈت دیوی لال جی کو سزا ہوگئی تو ان کے اوپر بجلی سی گری۔ سکتے میں پڑ گئیں۔ چہرے پر مردنی چھا گئی اور خاموش چہرے پر دو موٹے موٹے آنسو ڈھلک آئے۔ اور یہ تھی پنڈت دیوی لال کی نیکی اور احسان کی اصل قیمت۔ اس دن شریمتی جی نے مارے رنج و غم کے کھانا نہیں کھایا۔ یہاں تک خیر غنیمت تھا، لیکن میرے ایک ذرا سے سوال پر جو بگڑیں تو مجھے مارا اور دیوی لال کا حوالہ دے کر خوب مارا۔ اتنا کہ جتنا نہیں چاہیے تھا۔ قصہ مختصر ساری بھڑاس مجھ پر نکال لی۔ اب رہ گئے دیوی لال جی تو انہوں نے اپنی نیکی کی سزا پائی۔ وہ تھے بھی اس لائق۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے۔\n\nنتیجہ، دیوی لال جی جیل میں ہیں۔ جرمانے میں گھر کا زیور اسباب نیلام ہو گیا۔ سنتے ہیں کہ جیل کاٹ کر آئیں گے تو برادری سے خارج کیے جائیں گے۔ ہمیں تو اس مقدمے کے اصل نتیجے سے بحث ہے اور وہ یہ کہ، ’’اب خوب پٹتے ہیں اور چوں نہیں کرتے۔‘‘ اور برملا کہتے ہیں کہ، ’’نیکی کرنا جرم ہے اور وہ بھی قابل دست اندازی پولیس۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%8C%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D8%B1%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "نے امیروں میں نے وزیروں میں", "poet_page": "مصنف:ماتم فضل محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نے امیروں میں نے وزیروں میں\nعشق کے ہم تو ہیں فقیروں میں\n\nکوئی آزاد ہو تو ہو یارو\nہم تو ہیں عشق کے اسیروں میں\n\nبندۂ عشق حق ہے اپنے یہاں\nتاج داروں میں تخت گیروں میں\n\nفرقت یار کی بھری ہے بو\nنالہ ہائے نے و نفیروں میں\n\nزن دنیا مرید کس کی نہیں\nہم بھی اس قحبہ کے تھے پیروں میں\n\nاب تو خاموش ہیں قفس میں کبھی\nنغمہ سنجاں تھے ہم صفیروں میں\n\nہم کو تو واجب الوجود ملا\nہم کبیروں میں ہم صغیروں میں\n\nکنج عزلت میں یار کو پایا\nنے قلیلوں میں نے کثیروں میں\n\nشکر حق کیجئے کہ ہے ماتمؔ\nاپنے دل دار دل پذیروں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "نے بت ہے نہ سجدہ ہے نے بادہ نہ مستی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نے بت ہے نہ سجدہ ہے نے بادہ نہ مستی ہے\nیاں شعر پرستی ہے یا حسن پرستی ہے\n\nساعد سے ترے شعلے یوں حسن کے اٹھتے ہیں\nہاتھوں میں ترے گویا مہتابئ دستی ہے\n\nبیماریٔ سل سے کم سمجھو نہ غم الفت\nیہ سل مرے سینے سے اب کوئی اکستی ہے\n\nمعمورۂ دل اپنا ویران رہا برسوں\nوہ کون سی بستی ہے کیا جانے جو بستی ہے\n\nمسی کی دھڑی اس کی نظروں سے جو ہے غائب\nیارب وہ سیہ بدلی کیدھر کو برستی ہے\n\nبلبل کو قفس سے کب صیاد تو چھوڑے گا\nنظارۂ گل کو یہ ہر سال ترستی ہے\n\nسر دے کے بھی ہاتھ آوے گر تیغ خم ابرو\nاے مصحفیؔ ہم تو بھی سمجھیں ہیں کہ سستی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "نے زخم خوں چکاں ہوں نہ حلق بریدہ ہوں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نے زخم خوں چکاں ہوں نہ حلق بریدہ ہوں\nعاشق ہوں میں کسی کا اور آفت رسیدہ ہوں\n\nہستی سے اپنی مجھ کو نہیں مطلق آگہی\nعمر گزشتہ یا کہ غزال رمیدہ ہوں\n\nنکلے ہے میری وضع سے اک شورش جنوں\nدریا نہیں میں سیل گریباں دریدہ ہوں\n\nمرغان باغ میں مرے نالے کا شور ہے\nہر چند میں ابھی نفس نا کشیدہ ہوں\n\nپہنچے سزا کو اپنی جو منہ پر مرے چڑھے\nمیں دست روزگار میں تیغ کشیدہ ہوں\n\nجاتا ہے جلد قافلۂ عمر کس قدر\nمہلت نہیں ہے اتنی کہ ٹک آرمیدہ ہوں\n\nکون اٹھ گیا ہے پاس سے میرے جو مصحفیؔ\nروتا ہوں زار زار پڑا آب دیدہ ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%92_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DA%86%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AD%D9%84%D9%82_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "نے شکوہ مند دل سے نہ از دست دیدہ ہوں", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نے شکوہ مند دل سے نہ از دست دیدہ ہوں\nاس بخت نارسا سے اذیت کشیدہ ہوں\n\nکو خندہ کو تبسم و کو فرصت سخن\nاس انجمن میں ہیں لب حسرت گزیدہ ہوں\n\nنے کام کا کسی کے نہ مجھ کو کسی سے کام\nحیراں ہوں کس لیے میں یہاں آفریدہ ہوں\n\nہستی کو نے ثبات نہ جینے کا اعتماد\nکس کی امید پر کوئی دم آرمیدہ ہوں\n\nمیرا تو کام ایک پلک میں تمام ہے\nمانند اشک بر سر مژگاں رسیدہ ہوں\n\nگلچیں عبث نگاہ رکھے ہے مری طرف\nمیں اس چمن میں جوں گل رنگ پریدہ ہوں\n\nسونپوں میں کیوں نہ اپنا گریباں اجل کے ہات\nاے عمر زندگی سے میں دامن کشیدہ ہوں\n\nاس واسطے تو قدر مری جانتا نہیں\nہاں ان ترے غلاموں میں بے زر خریدہ ہوں\n\nمیرا بھی دل شگفتہ کبھو ہو نسیم وصل\nبہتوں کا اس چمن میں میں اب خارویدہ ہوں\n\nپاس ادب سے اس کے قدم تک نہیں مجال\nورنہ نہ پا شکستہ نہ دست بریدہ ہوں\n\nدشمن سے بھی تواضع میں رکھتا نہیں دریغ\nتعظیم کو عدو کی میں تیغ خمیدہ ہوں\n\nرونے تلک تو کس کو ہے فرصت یہاں سحاب\nطوفاں ہوا بھی جو ٹک اک آب دیدہ ہوں\n\nیاراں دماغ کو جو کروں تم سے اختلاط\nاس دشت میں میں وحشیٔ از خود رمیدہ ہوں\n\nکیا پوچھتے ہو درد کو حاتمؔ کے دوستاں\nجو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%92_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%86%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "نے شہریوں میں ہیں نہ بیابانیوں میں ہم", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نے شہریوں میں ہیں نہ بیابانیوں میں ہم\nآزاد ہیں پہ ہیں ترے زندانیوں میں ہم\n\nجن کا نظیر دست قضا سے نہ بن سکا\nانصاف ہو تو ہیں انہی لا ثانیوں میں ہم\n\nدریا کی لہروں سے یہ عیاں ہے کہ جوں حباب\nرکھتے ہیں دل کو جمع پریشانیوں میں ہم\n\nرشکوک میرے اشک کے لے اس نے یوں کہا\nان موتیوں کو ڈالیں گے چودانیوں میں ہم\n\nاب طائران دشت کے ہیں ہم نشید درد\nکرتے تھے زمزمے کبھی بستانیوں میں ہم\n\nاے تیغ ناز تو نے یہ کیسا ستم کیا\nبے ذبح رہ گئے ترے قربانیوں میں ہم\n\nجس جا پڑے ہیں کشتے ترے ان کے جو نسیم\nبوسے ہی دیتے پھرتے ہیں پیشانیوں میں ہم\n\nسو عیدیں آئیں اور ہوا ہم کو حکم قتل\nکیا ناقبول ہیں ترے زندانیوں میں ہم\n\nاے شہسوار حسن عناں لے کہ پس گئے\nتیرے سمند ناز کی جولانیوں میں ہم\n\nمدرک ہیں جز و کل کے پہ رہتے ہیں رات دن\nاس کار گاہ صنع کی حیرانیوں میں ہم\n\nکشتی شکست خوردۂ دریائے عشق ہیں\nجاتے ہیں ترتے ڈوبتے طوفانیوں میں ہم\n\nمحتاج مرگ کاہے کو پھر ہوویں مصحفیؔ\nجیتے ہی جی جو بیٹھے ہوں روحانیوں میں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%92_%D8%B4%DB%81%D8%B1%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "نے غرض کفر سے رکھتے ہیں نہ اسلام سے کام", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نے غرض کفر سے رکھتے ہیں نہ اسلام سے کام\nمدعا ہم کو تو ساقی سے ہے اور جام سے کام\n\nدل نالاں کو مرے کس کے ہے آرام سے کام\nکوئی بے چین رہو اپنے اسے کام سے کام\n\nاس چمن میں نہ کسی چشم سے پونچھے کوئی اشک\nصبح تک ہم کو بھی شبنم یہی ہے شام سے کام\n\nکیوں نہ افعی چلے ہر ایک جگہ مکڑا کر\nنہ پڑا اس کو تری زلف سیہ فام سے کام\n\nگر اکیلا کہیں مل جائے ہمیں تو دل کا\nلیجے من مانتا اس شوخ گل اندام سے کام\n\nہوں اسیر اس کا جسے بعد گرفتاریٔ صید\nنہ گرفتار سے مطلب رہے نے دام سے کام\n\nہے مبرا یہ زباں کہنے سے اب رام و رحیم\nجن نے پایا ہے نشاں اس کو نہیں نام سے کام\n\nچشم خورشید کو غرفے سے ترے دن سروکار\nرات ہے دیدۂ شبنم کو لب بام سے کام\n\nجو میں آغاز ترے کام کا دیکھا سوداؔ\nوائے وہ دن کہ تجھے اس کے ہو انجام سے کام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%92_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%DA%A9%D9%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85"} {"title": "نے فقط تجھ حسن کی ہے ہند کی خوباں میں دھوم", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نے فقط تجھ حسن کی ہے ہند کی خوباں میں دھوم\nہے تری زلف چلیپا کی فرنگستاں میں دھوم\n\nکیا کریں پابستۂ کوئے بتاں ہیں ورنہ ہم\nکرتے جوں فرہاد و مجنوں دشت و کوہستاں میں دھوم\n\nدیکھ تیرے منہ کو کچھ آئینہ ہی حیراں نہیں\nتجھ رخ روشن کی ہے مہر و مہ تاباں میں دھوم\n\nاے بہار گلشن ناز و نزاکت ہر طرف\nتیرے آنے سے ہوئی ہے اور بھی بستاں میں دھوم\n\nشعر کہنا گرچہ چھوڑا تو نے اے بیدارؔ آج\nکہہ غزل ایسی کہ ہو بزم سخن سنجاں میں دھوم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%92_%D9%81%D9%82%D8%B7_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%85"} {"title": "نے فقہ نہ منطق نے حکمت کا رسالہ ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "نے فقہ نہ منطق نے حکمت کا رسالہ ہے\nاس فن محبت کا نسخہ ہی نرالا ہے\n\nخطرہ ہے مجھے اب تو چپ رہنے سے بھی اپنے\nکیا ہے کہ نہ سوزش ہے وہ آہ نہ نالہ ہے\n\nدل ہی نہ کھلے اپنا تو کیجیے کیا ورنہ\nسبزہ ہے گلستاں ہے گلزار ہے لالہ ہے\n\nکیوں کر نہ ثمر لاوے شاخ مژہ لخت دل\nسو خون جگر سے میں اس تیر کو پالا ہے\n\nہے دل میں تو وہ لیکن دکھلائی نہیں دیتا\nباہر تو اندھیرا ہے اور گھر میں اجالا ہے\n\nتعجیل نہ کر اے دل آنے تو لگا ہے وہ\nمل جائے گا بوسہ بھی کیا منہ کا نوالہ ہے\n\nکیفیت مے خانہ بس دیکھ لے اب کیا ہے\nساقی ہے نہ صہبا ہے شیشہ ہے نہ پیالہ ہے\n\nیہ چال اگر ہے تو رہنے کا نہیں اب دل\nبے طرح سے اس نے تو کچھ پاؤں نکالا ہے\n\nتو ہوتا تو کیا ہوتا کل نام ترا لیتے\nگلشن میں حسنؔ کو میں گرنے سے سنبھالا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%92_%D9%81%D9%82%DB%81_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%86%D8%B7%D9%82_%D9%86%DB%92_%D8%AD%DA%A9%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "نے مُہرہ باقی، نے مُہرہ بازی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "نے مُہرہ باقی، نے مُہرہ بازی\nجیتا ہے رومیؔ، ہارا ہے رازیؔ\n\nروشن ہے جامِ جمشید اب تک\nشاہی نہیں ہے بے شیشہ بازی\n\nدل ہے مسلماں میرا نہ تیرا\nتُو بھی نمازی، میں بھی نمازی!\n\nمیں جانتا ہوں انجام اُس کا\nجس معرکے میں مُلّا ہوں غازی\n\nتُرکی بھی شیریں، تازی بھی شیریں\nحرفِ محبّت تُرکی نہ تازی\n\nآزر کا پیشہ خارا تراشی\nکارِ خلیلاں خارا گدازی\n\nتُو زندگی ہے، پائندگی ہے\nباقی ہے جو کچھ، سب خاک‌بازی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%86%DB%92_%D9%85%D9%8F%DB%81%D8%B1%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C%D8%8C_%D9%86%DB%92_%D9%85%D9%8F%DB%81%D8%B1%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%DB%8C"} {"title": "وائے اس جینے پر اے مستی کہ دور چرخ میں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "وائے اس جینے پر اے مستی کہ دور چرخ میں\nجام مے پر گردش آوے اور مے خانہ خراب\nچوب حرفی بن الف بے میں نہیں پہچانتا\nہوں میں ابجد خواں شناسائی کو مجھ سے کیا حساب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وائے نادانی یہ حسرت تھی کہ ہوتا در کھلا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وائے نادانی یہ حسرت تھی کہ ہوتا در کھلا\nہم قفس راز اسیری کیا کہیں کیونکر کھلا\n\nفرصت رنج اسیری دی نہ ان دھڑکوں نے ہائے\nاب چھری صیاد نے لی اب قفس کا در کھلا\n\nاللہ اللہ اک دعائے مرگ کے دو دو اثر\nواں کھلا باب اجابت یاں قفس کا در کھلا\n\nاف اس آزادئ بے ہنگام کی مجبوریاں\nمیں قفس کے پاس یوں بیٹھا ہی رہتا پر کھلا\n\nعجلت پرواز جب ملنے بھی دے راہ گریز\nیوں تو کھلنے کو قفس کا در کھلا اکثر کھلا\n\nبند ہے باب قفس ہو سر تو پٹکے جائیے\nہم نے دیکھا ہے قفس کی تیلیوں میں در کھلا\n\nکم تو کیا صیاد بے تابی سوا ہو جائے گی\nتو نے ناحق تیلیوں میں رکھ دیا خنجر کھلا\n\nآسماں گرم تلافی چاہیئے کیسا قفس\nبجلیوں کے اک اشارے میں قفس کا در کھلا\n\nلکھ چکے ہم جا چکا خط گر یہی حالت رہی\nہاتھ میں آیا قلم اور شوق کا دفتر کھلا\n\nدل میں زخم اشکوں میں خوں صورت ببیں عالم مپرس\nوہ نگہ اف وہ مژہ ناوک چھپا نشتر کھلا\n\nدم بخود سکتے کا عالم مردنی چھائی ہوئی\nرنگ میری زندگی کا میری میت پر کھلا\n\nدل میں تیرا دھیان اک مدت رہا بیگانہ وار\nکھلتے ہی کھلتے کھلا اور کیا ہی شرما کر کھلا\n\nدیکھیے کیا گل کھلاتی ہے بہار اب کے برس\nخواب میں فانیؔ نے دیکھا ہے قفس کا در کھلا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7"} {"title": "واحد متکلم کا ہو جو منکر", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "واحد متکلم کا ہو جو منکر\nوہ صرف کی اصطلاح میں ہے کافر\nکی ہے تحقیق صرفیان حق نے\nحاضر غائب ہے اور غائب حاضر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF_%D9%85%D8%AA%DA%A9%D9%84%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D9%86%DA%A9%D8%B1"} {"title": "وادئ شوق میں وارفتۂ رفتار ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وادئ شوق میں وارفتۂ رفتار ہیں ہم\nبے خودی کچھ تو بتا کس کے طلب گار ہیں ہم\n\nہاں ابھی بے خبر لذت آزار ہیں ہم\nمژدہ اے مشق ستم تازہ گرفتار ہیں ہم\n\nہو غم ہستی جاوید گوارا کیونکر\nجان کیا دیں کہ بہت جان سے بے زار ہیں ہم\n\nمیں نے گویا صلۂ مہر و وفا بھر پایا\nکاش اتنا ہی وہ کہہ دیں کہ جفاکار ہیں ہم\n\nیوں تو کچھ غم سے سروکار نہ راحت کی تلاش\nغم کوئی دل کے عوض دے تو خریدار ہیں ہم\n\nوہ ہے مختار سزا دے کہ جزا دے فانیؔ\nدو گھڑی ہوش میں آنے کے گنہ گار ہیں ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%AF%D8%A6_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%81%D8%AA%DB%82_%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "وادی سندھ", "poet_page": "مصنف:شاہ دین ہمایوں", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سندھ کی وادی پہ ہے کالی گھٹا چھائی ہوئی\nبرقعہ اوڑھے اک دلہن بیٹھی ہے شرمائی ہوئی\nمنتظر بارش کے ہیں مکی کے اور شالی کے کھیت\nتشنگی سے خوشہ کی صورت ہے مرجھائی ہوئی\nآج گاندر بل ہوا ہے اس کا منظور نظر\nاس کے سر پر کیا گھٹا پھرتی ہے منڈلائی ہوئی\nسندھ کے نالے کی آہوں کا دھواں شاید اٹھا\nکیسی تاریکی ہے سطح آب پر چھائی ہوئی\nقاصد ابر آ رہا ہے لے کے ہاں پیغام فیض\nبارگاہ ایزدی میں کس کی شنوائی ہوئی\nسوئے مشرق ہے سر کہسار پر بارش کا زور\nرحمت باری ہے گویا جوش پر آئی ہوئی\nاے ہمایوںؔ فیض بارش سے کھلے ڈل کے کنول\nکیوں ترے دل کی کلی ہے آج مرجھائی ہوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D8%B3%D9%86%D8%AF%DA%BE"} {"title": "وادی نیل", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جمال مرگ آفریں! یہ شب میری زندگی ہے\nنچوڑ دے اس کے چند لمحوں کی عشرتوں میں\nوہ مے وہ نشہ کہ ساغر ماہ وصال میں ہے\nوہ مے کہ تیرے جمال میں ہے\nوصال میں ہے\nوصال! تیرا وصال وہ شعلہ اجل ہے\nکہ جس میں جل کر کئی پتنگے ابد کی منزل کو پا چکے ہیں\nابد کی منزل!\nسحر کی پہلی کرن وہ ناگن\nکہ میرے سینے سے آخری سانس بن کے پلٹے گی آ مری جاں!\nجمال مرگ آفریں! یہ شب میری زندگی ہے\n\nمیرے لبوں نے وہ لب بھی چومے ہیں جن میں مرگ گراں نہیں تھی\nوہ پھول سے لب کہ جن کی تہہ دار پتیوں میں\nتمازت بادہ وفا تھی\nمرے جواں سال بازوؤں نے\nدھڑکتے مرمر کی ان چٹانوں سے رس نچوڑا ہے زندگی کا\nجنہیں گماں تھا کہ میرے پہلو میں دم نکلنا ہی زندگی ہے\nمرے ہی سینے پہ جاگتی ہیں ابھی وہ راتیں\nکہ جن میں ابھرے ہیں آفتاب جمال میری مسرتوں کے\nوہ آفتاب جمال جو کل سحر کی پہلی کرن کے ڈسنے سے\nمیرے ہم راہ جل بجھیں گے\n\nترے تبسم کی لو ابھرتی ہی جا رہی ہے\nتجھے نظر آ رہی ہے شاید وہ زیست جو لاش بن کے تڑپے گی\nکل سحر کو\nمگر میں کچھ اور دیکھتا ہوں\nاگر میں یہ شب گزار دیتا گرسنہ شیروں کے جنگلوں میں\nجہاں ہر اک لحظہ موت منہ پھاڑ کر جھپٹتی ہے\nبے بسی پر\nاگر میں یہ شب گزار دیتا کسی سمندر کے سرد سینے کی دھونکنی پر\nجہاں ہر ایک لحظہ موت منہ پھاڑ کر جھپٹتی ہے\nبے بسی پر\nاگر میں یہ شب گزار دیتا کسی غم مرگ آفریں میں\nکہ جس کے چنگل میں لحظہ لحظہ لہو ٹپکتا ہے آرزو کا\nعجب نہ تھا آج شب اگر میرا کوئی دشمن\nمرے بدن سے یہ نوک خنجر نکال دیتا وہ خوں جو اب میری زندگی ہے\nجو اب ترے پیکر مسرت کی وادیوں میں\nمری حقیقت کا راز داں ہے\nقبول ہے مجھ کو آج کی شب سحر ہے جس کی ابد کی منزل\nجمال مرگ آفریں یہ شب میری زندگی ہے\n\nمرا مقدر کہ آج کی شب ہے مجھ کو حاصل یہ تیرا پیکر\nمرا مقدر کہ میں نے خود موت کو پکارا ہے تیری خاطر\nمرا مقدر کہ میں ہوں وہ موت کا مسافر\nجو اپنی منزل پہ آ گیا ہے ترے شبستاں میں خود ٹھہر کر\nترے لبوں سے حیات پا کر\nترے جمال حیات پرور سے لو لگا کر\nتری نگاہوں کی گہری جھیلوں میں تیر کر، مشعلیں جلا کر\nگداز پیکر کی ریشمی چلمنیں اٹھا کر\nدھڑکتے دل میں ترانے بو کر زمانے لا کر\nازل ابد کو سمیٹ کر، بے کراں بنا کر\nترے بدن کی لطافتوں میں مسرت زندگی ملا کر\nترے لہو میں شرارے بھر کر حرارت جاوداں بسا کر\nترے خمستان دلبری کو جہاں میں اک داستاں بنا کر\nتجھے اجل سے قریب لا کر\nحقیقت زندگی دکھا کر\nکہ میں ہوں وہ موت کا مسافر\nترے شبستاں کے چور دروازے سے گزر کر\nجو اپنی منزل پہ آ گیا ہے\n\nوہ لوگ جو رو رہے ہیں مجھ کو\nکہ میں نے خود موت کو پکارا ہے تیری خاطر\nوہ لوگ کیا جانیں زندگی کو\nانہیں خبر کیا کہ موت ہر لحظہ ان کی ہستی کو کھا رہی ہے\nانہیں خبر کیا کہ زندگی کیا ہے میں سمجھتا ہوں زندگی کو\nکہ آج کی شب یہ زندگی میری زندگی ہے\nیہ زندگی ہے مری جسے میں نے آج کی شب\nترے مسرت کدے میں لا کر\nابد سے ہم دوش کر دیا ہے\nاجل کو خاموش کر دیا ہے\n\nتھرک رہا ہے ترا بدن لذت طرب سے\nچمک رہی ہیں تری نگاہیں خمار شب سے\nاچک اچک کر سحر مجھے دیکھنے لگی ہے\nسحر کا تھا انتظار کب سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D9%86%DB%8C%D9%84"} {"title": "وار اور پھر وار کس کا آپ کی تلوار کا", "poet_page": "مصنف:فروغ حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وار اور پھر وار کس کا آپ کی تلوار کا\nاب رفو مشکل سے ہوگا زخم دامن دار کا\n\nخون رونا بے گناہی پر تری تلوار کا\nاور ہنس دینا ہمارے زخم دامن دار کا\n\nکس قدر لپکا ہے چشم شوق کو دیدار کا\nبن گیا تار نظر آخر تصور یار کا\n\nسیج پر گزری مگر گزری شب وصل اس طرح\nچٹکیاں لیتا رہا دھڑکا فراق یار کا\n\nرشک دشمن ہی سے بھڑکی آتش عشق حبیب\nپھول کی وقعت بڑھاتا ہے کھٹکنا خار کا\n\nجاؤ اپنی راہ لو قاتل یوں ہی ہوتے ہیں کیا\nآج تک تم کو نہ آیا باندھنا تلوار کا\n\nدل ہمارا آپ ہی بڑھ کر نشانہ ہو گیا\nتیر چلنے بھی نہ پایا تھا نگاہ یار کا\n\nقتل گہہ میں کام کر جاتا ہے تیرا بانکپن\nوار ہو جاتا ہے ہر انداز میں تلوار کا\n\nبڑھ گیا تیری کھچاوٹ کا یہاں تک تو اثر\nمجھ سے اب کھنچتا ہے سایہ بھی تری دیوار کا\n\nدرد الفت کو چھپایا راز الفت کی طرح\nواہ کیا کہنا ہمارے زخم دامن دار کا\n\nپاس تو آؤ تمہیں کیا کھائے جاتا ہے فروغؔ\nجان عاشق وہ تو بھوکا ہے فقط دیدار کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "وارد کوہ بیاباں جب میں دیوانہ ہوا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وارد کوہ بیاباں جب میں دیوانہ ہوا\nکوہ کن سے دوستی مجنوں سے یارانہ ہوا\n\nوحشت افزا کس قدر اپنا بھی افسانہ ہوا\nمیرا قصہ سنتے سنتے قیس دیوانہ ہوا\n\nخار صحرا پر خراماں جب میں دیوانہ ہوا\nخون پا سے رشک پائیں باغ ویرانہ ہوا\n\nآنکھ نرگس سے لڑا کر آشنا ہی عندلیب\nاے گل تر ایک میں اور سبزہ بیگانہ ہوا\n\nپہنئے کفنی قناعت ہے لباس فقیر میں\nکب تبدیل اس کو شکل رخت شاہانہ ہوا\n\nکل وہاں پر ہووے گا گور غریباں کا مقام\nآج جس جا پر بنا قصر امیرانہ ہوا\n\nبیعت‌ دست سبو کا پس پیالا پی لیا\nتاک کا شجرہ ملا مشرب بھی رندانہ ہوا\n\nشمع کوکل دیکھتے ہی انجمن میں پھٹک گیا\nاک جلے تن عاشقوں میں ہم سا پروانہ ہوا\n\nٹل گئی سر سے بلا اپنا مقدر کھل گیا\nموئے سر میں آج دست یار کا شانہ ہوا\n\nاب کہیں کوئی ٹھکانہ ہی نہیں جز کوئے یار\nمرتد کعبہ ہوا مردود بت خانہ ہوا\n\nجام کوثر ساقیٔ کوثر بھی دیں گے حشر میں\nدست ساقی سے عنایت مجھ کو پیمانہ ہوا\n\nکہر کی قطبیں ہیں اے مہ تری تسبیح میں\nکوکب سیارہ ساں روشن ہر اک دانہ ہوا\n\nکون ایسا ہے جو مجھ بیکس کی دل داری کرے\nدرپئے جاں دوست دشمن اپنا بیگانہ ہوا\n\nخوب ہی پکڑے یہ کافر بھی بلا کی سانپ تھے\nپنجہ افسون گر کا زلفوں میں تری شانہ ہوا\n\nتم بتا دو کس جگہ رکھے ہیں دل عشاق کے\nڈھونڈھ لوں گا آپ میرا دل ہی پہچانا ہوا\n\nسوزن‌ عیسیٰ نے اس کے پاؤں کے موزے سیے\nپنجۂ خورشید حاضر لے کے دستانہ ہوا\n\nچاہتا ہوں اپنی زنجیریں جنوں کے جوش میں\nرزق میرے واسطے زنجیر کا دانہ ہوا\n\nدر بہ در مارا پھرا میں جستجوئے یار میں\nزاہد کعبہ ہوا رہبان بت خانہ ہوا\n\nنام پر مجھ بادہ کش کے صاد چشم مست ہے\nنامۂ اعمال میرا خط پیمانہ ہوا\n\nمیرے گھر آیا ہے میرے شعر سننے کو وہ مہرؔ\nغیرت بیت الشرف اپنا بھی کاشانہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو\nکیجے ہمارے ساتھ، عداوت ہی کیوں نہ ہو\n\nچھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کا\nہے دل پہ بار، نقشِ محبّت ہی کیوں نہ ہو\n\nہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہ\nہر چند بر سبیلِ شکایت ہی کیوں نہ ہو\n\nپیدا ہوئی ہے، کہتے ہیں، ہر درد کی دوا\nیوں ہو تو چارۂ غمِ الفت ہی کیوں نہ ہو\n\nڈالا نہ بیکسی نے کسی سے معاملہ\nاپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو\n\nہے آدمی بجائے خود اک محشرِ خیال\nہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو\n\nہنگامۂ زبونیِ ہمّت ہے، انفعال\nحاصل نہ کیجے دہر سے، عبرت ہی کیوں نہ ہو\n\nوارستگی بہانۂ بیگانگی نہیں\nاپنے سے کر، نہ غیر سے، وحشت ہی کیوں نہ ہو\n\nمٹتا ہے فوتِ فرصتِ ہستی کا غم کوئی؟\nعمرِ عزیز صَرفِ عبادت ہی کیوں نہ ہو\n\nاس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔ\nاس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "وارفتگیٔ عشق نہ جائے تو کیا کریں", "poet_page": "مصنف:باسط بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وارفتگیٔ عشق نہ جائے تو کیا کریں\nتیرا بھی اب خیال نہ آئے تو کیا کریں\n\nخود شرم عشق دل کو مٹائے تو کیا کریں\nان تک نگاہ شوق نہ جائے تو کیا کریں\n\nمے خواریاں گناہ سہی ساقیٔ ازل\nجب ابر جھوم جھوم کے آئے تو کیا کریں\n\nیہ دیر وہ حرم یہ کلیسا وہ مے کدہ\nاپنی طرف ہر ایک بلائے تو کیا کریں\n\nممکن ہے ہر خیال کا دل سے نکالنا\nتیرا خیال آ کے نہ جائے تو کیا کریں\n\nمانا نگاہ شوق رہے احتیاط سے\nہر جلوہ خود نظر میں سمائے تو کیا کریں\n\nباسطؔ ستم پہ شکر ستم چاہئے مگر\nکوئی کرم سے ہم کو مٹائے تو کیا کریں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%81%D8%AA%DA%AF%DB%8C%D9%94_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "واشد کی دل کے اور کوئی راہ ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واشد کی دل کے اور کوئی راہ ہی نہیں\nجز یہ کہ آہ کیجئے سو آہ ہی نہیں\n\nتکلیف بزم اہل جہاں تاکجا کہ دل\nمطلق میں واں کے رنگ سے آگاہ ہی نہیں\n\nآ اے اثرؔ ملازم سرکار گریہ ہو\nیاں جز گہر خزانے میں تنخواہ ہی نہیں\n\nلازم تھے ہم بکارت دنیا کو اے فلک\nتیں دی یہ دخت ان کو جنہیں باہ ہی نہیں\n\nقائمؔ متاع دل کو عبث کیوں کرے ہے خوار\nاس جنس کی جہاں میں کوئی چاہ ہی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%B4%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "واعظ بتان دیر سے نفرت نہ کیجیئے", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واعظ بتان دیر سے نفرت نہ کیجیئے\nکج بحثیٔ مجاز و حقیقت نہ کیجیے\n\nاٹھیے نہ آپ بزم سے غصہ میں اس قدر\nجاتا ہوں میں حضور قیامت نہ کیجیئے\n\nیاد آ ہی جاتا ہے کبھی ناصح کا قول بھی\nسب کیجیئے جہاں میں محبت نہ کیجیئے\n\nبیداد اور اس پہ یہ تاکید الحذر\nآ جائے دم لبوں پہ شکایت نہ کیجیئے\n\nزندوں میں اب شمار نہیں حضرت عزیزؔ\nکہتے تھے آپ سے کہ محبت نہ کیجیئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D9%81%D8%B1%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%8C%D8%A6%DB%92"} {"title": "واعظ شہر خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واعظ شہر خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا\nیہی بندے کی خطا ہے مجھے معلوم نہ تھا\n\nغم دوراں کا مداوا نہ ہوا پر نہ ہوا\nہاتھ میں کس کے شفا ہے مجھے معلوم نہ تھا\n\nنغمۂ نے بھی نہ ہو بانگ بط مے بھی نہ ہو\nیہ بھی جینے کی ادا ہے مجھے معلوم نہ تھا\n\nمیں سمجھتا تھا جسے ہیکل و محراب و کنشت\nمیرا نقش کف پا ہے مجھے معلوم نہ تھا\n\nاپنے ہی ساز کی آواز پر حیراں تھا میں\nزخمۂ ساز نیا ہے مجھے معلوم نہ تھا\n\nجس کی ایما پہ کیا شیخ نے بندوں کو ہلاک\nوہی بندوں کا خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا\n\nخطبہ ترغیب ہلاکت کا روا ہے اے دوست\nشعر کہنے کی سزا ہے مجھے معلوم نہ تھا\n\nشب ہجراں کی درازی سے پریشان نہ تھا\nیہ تری زلف رسا ہے مجھے معلوم نہ تھا\n\nوہ مجھے مشورۂ ترک وفا دیتے تھے\nیہ محبت کی ادا ہے مجھے معلوم نہ تھا\n\nچہرہ کھولے نظر آتی تھی عروس گل نار\nمنہ پہ شبنم کی ردا ہے مجھے معلوم نہ تھا\n\nکفر و ایماں کی حدیں کس نے تعین کی تھیں\nاس پہ ہنگامہ بپا ہے مجھے معلوم نہ تھا\n\nیہی مار دو زباں میرا لہو چاٹ گیا\nرہنما ایک بلا ہے مجھے معلوم نہ تھا\n\nعجب انداز سے تھا کوئی غزل خواں کل رات\nعابدؔ شعلہ نوا ہے مجھے معلوم نہ تھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "واعظ ملے گی خلد میں کب اس قدر شراب", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واعظ ملے گی خلد میں کب اس قدر شراب\nپانی کے بدلے پیتے ہیں اے بے خبر شراب\n\nآمد میں اس کی مست ہوئے کچھ خبر نہیں\nساقی ہے کون جام کہاں اور کدھر شراب\n\nاس قلزم گناہ میں ڈوبا ہوا ہوں میں\nجس میں ہے ایک موجۂ دامان تر شراب\n\nمستی میں ان کو لگ گئی لو اور غیر کی\nدینی شب وصال نہ تھی اس قدر شراب\n\nاقرار وصل اور وہ مست غرور ناز\nآیا ہے پی کے تو کہیں اے نامہ بر شراب\n\nمیں ایک بار آنکھ چرا کر جو پی گیا\nلایا نہ زخم دھونے کو پھر چارہ گر شراب\n\nکرنا تھا مجھ کو حیلہ شکست خمار کا\nدینی تھی خوب قبل طلوع سحر شراب\n\nرخصت کا ہوش ان کو نہ رہتا شب وصال\nکچھ بولتے تو یہ کہ دھری ہے کدھر شراب\n\nسالکؔ ملے جو بزم میں اس کی تو لطف ہے\nورنہ پیا ہی کرتے ہیں ہم اپنے گھر شراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%D9%85%D9%84%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D8%AE%D9%84%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "واعظ پئے ہوئے ہوں خدا کے لئے نہ چھیڑ", "poet_page": "مصنف:مرزا مائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واعظ پئے ہوئے ہوں خدا کے لئے نہ چھیڑ\nدھڑکا مٹا ہوا ہے عذاب و ثواب کا\n\nیارب انہیں بہشت میں جانا نہ ہو نصیب\nجو لطف اٹھا چکے ہیں شب ماہتاب کا\n\nکیا کیا بگڑ رہے ہیں وہ بن بن کے بزم میں\nآشوب روزگار ہے عالم عتاب کا\n\nپھر چاہتا ہے دل کہ وہی تاک جھانک ہو\nپھڑ ڈھونڈھتا ہوں لطف سوال و جواب کا\n\nزاہد کو بادہ خواری کا چسکا لگا دیا\nیہ کام عمر بھر میں ہوا ہے ثواب کا\n\nشوخی تو یہ ہے بزم میں بیٹھے ہیں اس طرح\nگویا کھنچا ہوا ہے مرقع حجاب کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%D9%BE%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91"} {"title": "واعظ کو مناسب نہیں رندوں سے تنے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "واعظ کو مناسب نہیں رندوں سے تنے\nمنبر پہ لتاڑ دیں اگر دل میں ٹھنے\nاچھے ہیں یگانہؔ یا برے جیسے ہیں\nیاروں نے بنا دیا کہ خود ایسے بنے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%B3%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%86%DB%92"} {"title": "واعظ کی کڑوی باتوں کو کب دھیان میں اپنے لاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:انجم مانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واعظ کی کڑوی باتوں کو کب دھیان میں اپنے لاتے ہیں\nیہ رند بلا نوش ایسے ہیں سنتے ہیں اور پی جاتے ہیں\n\nہم آپ سے جو کچھ کہتے ہیں وہ بالکل جھوٹ غلط اک دم\nاور آپ جو کچھ فرماتے ہیں بے شبہ بجا فرماتے ہیں\n\nدیوانہ سمجھ کر چھیڑ کے وہ سنتے ہیں ہماری باتوں کو\nہم مطلب کی کہہ جاتے ہیں وہ سوچ کے کچھ رہ جاتے ہیں\n\nمجبور محبت کی حالت بیگانۂ الفت کیا جانے\nہم غیروں کے طعنے سنتے ہیں اور سن کر چپ رہ جاتے ہیں\n\nگردن ہے جھکی نظریں نیچی اور لب پہ ہے ان کے تبسم بھی\nہے قابل دید وہ شوخی بھی جس وقت کہ وہ شرماتے ہیں\n\nبے ہوش پڑے ہیں عشق میں اور سر ہے کسی کے زانو پر\nتدبیریں لاکھ کرے کوئی اب ہوش میں ہم کب آتے ہیں\n\nکام انجمؔ کا جو تمام کیا یہ آپ نے واقعی خوب کیا\nکم بخت اسی کے لائق تھا اب آپ عبث پچھتاتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DA%91%D9%88%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%A8_%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "واعظ کے میں ضرور ڈرانے سے ڈر گیا", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واعظ کے میں ضرور ڈرانے سے ڈر گیا\nجام شراب لائے بھی ساقی کدھر گیا\n\nبلبل کہاں بہار کہاں باغباں کہاں\nوہ دن گزر گئے وہ زمانہ گزر گیا\n\nایسی ہوا چلی مری آہوں کی رات کو\nسب آسماں پہ خرمن انجم بکھر گیا\n\nاچھا ہوا جو ہو گئے وحدت پرست ہم\nفتنہ گیا فساد گیا شور و شر گیا\n\nکعبے کی سمت سجدہ کیا دل کو چھوڑ کر\nتو کس طرف تھا دھیان ہمارا کدھر گیا\n\nپھر سیر لالہ زار کو ہم اے صباؔ چلے\nآئی بہار داغ جنوں پھر ابھر گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1_%DA%88%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%88%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "واعظ کے پاس جائیں گے ہم مے پیے ہوئے", "poet_page": "مصنف:میر محمد سلطان عاقل", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاقل (1902)", "year": "1902", "text_ur": "واعظ کے پاس جائیں گے ہم مے پیے ہوئے\nمدت ہوئی ہے توبہ سے توبہ کیے ہوئے\n\nمشق خرام گور غریباں میں کیا ضرور\nمحشر بپا کریں گے یہ مردے جئے ہوئے\n\nخاموش کیوں ہیں شہر خموشاں کی ساکنین\nگویا دہن ہیں تار نفس سے سئے ہوئے\n\nناآزمودہ کاریٔ حسن ان کی ہے غضب\nشرمائے پھرتے ہیں وہ مرا دل لئے ہوئے\n\nیہ دیدنی ہے مے کدہ میں جوش بے خودی\nآئے ہیں آج حضرت واعظ پئے ہوئے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%85%DB%92_%D9%BE%DB%8C%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "واقف نہیں ہم کہ کیا ہے بہتر", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واقف نہیں ہم کہ کیا ہے بہتر\nجز یہ کہ تری رضا ہے بہتر\n\nدیتا ہے وہی طبیب حاذق\nبیمار کو جو دوا ہے بہتر\n\nکس سے کہوں حال بد کہ وہ آپ\nکچھ مجھ سے بھی جانتا ہے بہتر\n\nآئینہ ہو یا تو آب لیکن\nہر شکل میں اک صفا ہے بہتر\n\nچرچے سے اگر ہو صحبت غم\nشادی سے ہزار جا ہے بہتر\n\nلے نالہ خبر کہ زخم دل کا\nپھر کہتے ہیں ہو چلا ہے بہتر\n\nہر عضو ہے دل فریب تیرا\nکہئے کسے کون سا ہے بہتر\n\nجاتی ہے نسیم اس گلی کو\nاٹھ سکیے تو قافلہ ہے بہتر\n\nقائمؔ جو کہیں ہیں فارسی یار\nاس سے تو یہ ریختہ ہے بہتر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D9%82%D9%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1"} {"title": "واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں\nاور پھر ہم ان کے یار ہیں ہم ایسے شخص ہیں\n\nدیوانے تیرے دشت میں رکھیں گے جب قدم\nمجنوں بھی لے گا ان کے قدم ایسے شخص ہیں\n\nجن پہ ہوں ایسے ظلم و ستم ہم نہیں وہ لوگ\nہوں روز بلکہ لطف و کرم ایسے شخص ہیں\n\nیوں تو بہت ہیں اور بھی خوبان دل فریب\nپر جیسے پرفن آپ ہیں کم ایسے شخص ہیں\n\nکیا کیا جفا کشوں پہ ہیں ان دلبروں کے ظلم\nایسوں کے سہتے ایسے ستم ایسے شخص ہیں\n\nدیں کیا ہے بلکہ دیجئے ایمان بھی انہیں\nزاہد یہ بت خدا کی قسم ایسے شخص ہیں\n\nآزردہ ہوں عدو کے جو کہنے پہ اے ظفرؔ\nنے ایسے شخص وہ ہیں نہ ہم ایسے شخص ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D9%82%D9%81_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%81_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%BA%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D8%AE%D8%B5_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "والدہ مرحومہ کی یاد میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ذرّہ ذرّہ دہر کا زندانیِ تقدیر ہے\nپردۂ مجبوری و بےچارگی تدبیر ہے\nآسماں مجبور ہے، شمس و قمر مجبور ہیں\nانجمِ سیماب پا رفتار پر مجبور ہیں\nہے شکست انجام غنچے کا سبُو گلزار میں\nسبزہ و گُل بھی ہیں مجبورِ نمُو گلزار میں\nنغمۂ بُلبل ہو یا آوازِ خاموشِ ضمیر\nہے اسی زنجیرِ عالم گیر میں ہر شے اسیر\n\nآنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سِرِّ مجبوری عیاں\nخشک ہو جاتا ہے دل میں اشک کا سیلِ رواں\nقلبِ انسانی میں رقصِ عیش و غم رہتا نہیں\nنغمہ رہ جاتا ہے، لُطفِ زیر و بم رہتا نہیں\nعلم و حِکمت رہزنِ سامانِ اشک و آہ ہے\nیعنی اک الماس کا ٹُکڑا دلِ آگاہ ہے\nگرچہ میرے باغ میں شبنم کی شادابی نہیں\nآنکھ میری مایہ‌دارِ اشکِ عُنّابی نہیں\nجانتا ہوں آہ، مَیں آلامِ انسانی کا راز\nہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا ساز\nمیرے لب پر قصّۂ نیرنگیِ دَوراں نہیں\nدل مرا حیراں نہیں، خنداں نہیں، گِریاں نہیں\nپر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہے\nآہ! یہ تردید میری حکمتِ مُحکم کی ہے\n\nگریۂ سرشار سے بنیادِ جاں پائندہ ہے\nدرد کے عرفاں سے عقلِ سنگدل شرمندہ ہے\nموجِ دُودِ آہ سے آئینہ ہے روشن مرا\nگنجِ آب آورد سے معمور ہے دامن مرا\nحیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کا\nرُخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کا\nرفتہ و حاضر کو گویا پا بپا اس نے کِیا\nعہدِ طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کِیا\nجب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جانِ ناتواں\nبات سے اچھّی طرح محرم نہ تھی جس کی زباں\nاور اب چرچے ہیں جس کی شوخیِ گُفتار کے\nبے بہا موتی ہیں جس کی چشمِ گوہربار کے\n\nعِلم کی سنجیدہ گُفتاری، بُڑھاپے کا شعور\nدُنیوی اعزاز کی شوکت، جوانی کا غرور\nزندگی کی اَوج‌گاہوں سے اُتر آتے ہیں ہم\nصُحبتِ مادر میں طفلِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم\nبے تکلّف خندہ زن ہیں، فکر سے آزاد ہیں\nپھر اُسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیں\n\nکس کو اب ہوگا وطن میں آہ! میرا انتظار\nکون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بےقرار\nخاکِ مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا\nاب دُعائے نیم شب میں کس کو مَیں یاد آؤں گا!\nتربیت سے تیری مَیں انجم کا ہم قسمت ہُوا\nگھر مِرے اجداد کا سرمایۂ عزّت ہُوا\nدفترِ ہستی میں تھی زرّیں ورق تیری حیات\nتھی سراپا دین و دُنیا کا سبق تیری حیات\nعمر بھر تیری محبّت میری خدمت گر رہی\nمَیں تری خدمت کے قابل جب ہُوا تُو چل بسی\nوہ جواں، قامت میں ہے جو صُورتِ سروِ بلند\nتیری خدمت سے ہُوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مند\nکاروبارِ زندگانی میں وہ ہم پہلو مرا\nوہ محبّت میں تری تصویر، وہ بازو مرا\nتجھ کو مثلِ طفلکِ بے دست و پا روتا ہے وہ\nصبر سے ناآشنا صبح و مسا روتا ہے وہ\nتُخم جس کا تُو ہماری کِشتِ جاں میں بو گئی\nشرکتِ غم سے وہ اُلفت اور محکم ہوگئی\n\nآہ! یہ دُنیا، یہ ماتم خانۂ برنا و پِیر\nآدمی ہے کس طلسمِ دوش و فردا میں اسِیر!\nکتنی مشکل زندگی ہے، کس قدر آساں ہے موت\nگُلشنِ ہستی میں مانندِ نسیم ارزاں ہے موت\nزلزلے ہیں، بجلیاں ہیں، قحط ہیں، آلام ہیں\nکیسی کیسی دُخترانِ مادرِ ایّام ہیں!\nکُلبۂ افلاس میں، دولت کے کاشانے میں موت\nدشت و در میں، شہر میں، گُلشن میں، ویرانے میں موت\nموت ہے ہنگامہ آرا قُلزُمِ خاموش میں\nڈُوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میں\nنَے مجالِ شکوَہ ہے، نَے طاقتِ گفتار ہے\nزندگانی کیا ہے، اک طوقِ گُلو افشار ہے!\nقافلے میں غیرِ فریادِ درا کچھ بھی نہیں\nاک متاعِ دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہیں\n\nختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دَور بھی\nہیں پسِ نُہ پردۂ گردُوں ابھی دَور اور بھی\nسینہ چاک اس گلستاں میں لالہ و گُل ہیں تو کیا\nنالہ و فریاد پر مجبور بُلبل ہیں تو کیا\nجھاڑیاں، جن کے قفَس میں قید ہے آہِ خزاں\nسبز کر دے گی اُنھیں بادِ بہارِ جاوِداں\nخُفتہ خاکِ پے سِپر میں ہے شرار اپنا تو کیا\nعارضی محمل ہے یہ مُشتِ غبار اپنا تو کیا\nزندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیں\nٹُوٹنا جس کا مقّدر ہو یہ وہ گوہر نہیں\n\nزندگی محبوب ایسی دیدۂ قُدرت میں ہے\nذوقِ حفظِ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہے\nموت کے ہاتھوں سے مِٹ سکتا اگر نقشِ حیات\nعام یوں اس کو نہ کر دیتا نظامِ کائنات\nہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیں\nجس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیں\nآہ غافل! موت کا رازِ نہاں کچھ اور ہے\nنقش کی ناپائداری سے عیاں کچھ اور ہے\nجنّتِ نظّارہ ہے نقشِ ہوا بالائے آب\nموجِ مُضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حباب\nموج کے دامن میں پھر اُس کو چھُپا دیتی ہے یہ\nکتنی بیدردی سے نقش اپنا مِٹا دیتی ہے یہ\nپھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پیدا ہوا\nتوڑنے میں اُس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوا\nاس روِش کا کیا اثر ہے ہیئتِ تعمیر پر\nیہ تو حُجّت ہے ہَوا کی قُوّتِ تعمیر پر\nفطرتِ ہستی شہیدِ آرزو رہتی نہ ہو\nخوب تر پیکر کی اس کو جُستجو رہتی نہ ہو\n\nآہ سیمابِ پریشاں، انجمِ گردُوں فروز\nشوخ یہ چنگاریاں، ممنونِ شب ہے جن کا سوز\nعقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدّت ان کی ہے\nسرگزشتِ نوعِ انساں ایک ساعت ان کی ہے\nپھر یہ انساں، آں سوئے افلاک ہے جس کی نظر\nقُدسیوں سے بھی مقاصد میں ہے جو پاکیزہ تر\nجو مثالِ شمع روشن محفلِ قُدرت میں ہے\nآسماں اک نقطہ جس کی وسعتِ فطرت میں ہے\nجس کی نادانی صداقت کے لیے بیتاب ہے\nجس کا ناخن سازِ ہستی کے لیے مِضراب ہے\nشُعلہ یہ کمتر ہے گردُوں کے شراروں سے بھی کیا\nکم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کیا\n\nتُخمِ گُل کی آنکھ زیرِ خاک بھی بے خواب ہے\nکس قدر نشوونَما کے واسطے بے تاب ہے\nزندگی کا شُعلہ اس دانے میں جو مستور ہے\nخود نُمائی، خودفزائی کے لیے مجبور ہے\nسردیِ مرقد سے بھی افسُردہ ہو سکتا نہیں\nخاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیں\nپھُول بن کر اپنی تُربت سے نِکل آتا ہے یہ\nموت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہ\nہے لحد اُس قُوّتِ آشُفتہ کی شیرازہ بند\nڈالتی ہے گردنِ گردُوں میں جو اپنی کمند\nموت، تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہے\nخواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے\nخُوگرِ پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیں\nموت اس گُلشن میں جُز سنجیدنِ پَر کچھ نہیں\n\nکہتے ہیں اہلِ جہاں دردِ اجل ہے لا دوا\nزخمِ فُرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفا\nدل مگر، غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہے\nحلقۂ زنجیرِ صبح و شام سے آزاد ہے\nوقت کے افسُوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہیں\nوقت زخمِ تیغِ فُرقت کا کوئی مرہم نہیں\nسر پہ آجاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاں\nاشکِ پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہیں رواں\nربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سے\nخُونِ دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سے\nآدمی تابِ شکیبائی سے گو محروم ہے\nاس کی فطرت میں یہ اک احساسِ نامعلوم ہے\n\nجوہرِ انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیں\nآنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیں\nرختِ ہستی خاک، غم کی شُعلہ افشانی سے ہے\nسرد یہ آگ اس لطیف احساس کے پانی سے ہے\nآہ، یہ ضبطِ فغاں غفلت کی خاموشی نہیں\nآگہی ہے یہ دل‌آسائی، فراموشی نہیں\n\nپردۂ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبح\nداغ شب کا دامنِ آفاق سے دھوتی ہے صبح\nلالۂ افسُردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہ\nبے زباں طائر کو سرمستِ نوا کرتی ہے یہ\nسینۂ بُلبل کے زِنداں سے سرود آزاد ہے\nسینکڑوں نغموں سے بادِ صج دم آباد ہے\nخُفتگانِ لالہ زار و کوہسار و رُود بار\nہوتے ہیں آخر عروسِ زندگی سے ہمکنار\nیہ اگر آئینِ ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبح\nمرقدِ انساں کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبح\n\nدامِ سیمینِ تخیّل ہے مرا آفاق گیر\nکر لیا ہے جس سے تیری یاد کو مَیں نے اسیر\nیاد سے تیری دلِ درد آشنا معمور ہے\nجیسے کعبے میں دُعاؤں سے فضا معمور ہے\nوہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیات\nجلوہ‌گاہیں اُس کی ہیں لاکھوں جہانِ بے ثبات\nمختلف ہر منزلِ ہستی کی رسم و راہ ہے\nآخرت بھی زندگی کی ایک جَولاں گاہ ہے\nہے وہاں بے حاصلی کِشتِ اجل کے واسطے\nسازگار آب و ہوا تُخمِ عمل کے واسطے\nنُورِ فطرت ظُلمتِ پیکر کا زِندانی نہیں\nتنگ ایسا حلقۂ افکارِ انسانی نہیں\nزندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر\nخوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر\nمثلِ ایوانِ سحَر مرقد فرُوزاں ہو ترا\nنُور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا\nآسماں تیری لحَد پر شبنم افشانی کرے\nسبزۂ نَورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%AD%D9%88%D9%85%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "واللہ یہ زندگی بھی ہے قابل دید", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "واللہ یہ زندگی بھی ہے قابل دید\nاک طرفہ طلسم دید جس کی نہ شنید\nمنزل کی دھن میں جھومتا جاتا ہوں\nپیچھے تو اجل ہے آگے آگے امید", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D8%AF"} {"title": "واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے\nاور یہاں کچھ آرزو بسمل کے دل میں اور ہے\n\nوصل کی ٹھہراوے ظالم تو کسی صورت سے آج\nورنہ ٹھہری کچھ ترے مائل کے دل میں اور ہے\n\nہے ہلال و بدر میں اک نور پر جو روشنی\nدل میں ناقص کے ہے وہ کامل کے دل میں اور ہے\n\nپہلے تو ملتا ہے دل داری سے کیا کیا دل ربا\nباندھتا منصوبے پھر وہ مل کے دل میں اور ہے\n\nہے مجھے بعد از سوال بوسہ خواہش وصل کی\nیہ تمنا ایک اس سائل کے دل میں اور ہے\n\nگو وہ محفل میں نہ بولا پا گئے چتون سے ہم\nآج کچھ اس رونق محفل کے دل میں اور ہے\n\nیوں تو ہے وہ ہی دل عالم کے دل میں اے ظفرؔ\nاس کا عالم مرد صاحب دل کے دل میں اور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D8%A2%D8%AC_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "واں اس کو ہول دل ہے تو یاں میں ہوں شرم سار", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واں اس کو ہول دل ہے تو یاں میں ہوں شرم سار\nیعنی یہ میری آہ کی تاثیر سے نہ ہو\n\nاپنے کو دیکھتا نہیں ذوق ستم کو دیکھ\nآئینہ تاکہ دیدۂ نخچیر سے نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%88%D9%84_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%D9%85_%D8%B3%D8%A7%D8%B1"} {"title": "واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیا", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیا\nمنہ اسے ہم جا کے یہ دکھلائیں کیا\n\nدل میں ہے باقی وہی حرص گناہ\nپھر کیے سے اپنے ہم پچھتائیں کیا\n\nآؤ لیں اس کو ہمیں جا کر منا\nاس کی بے پروائیوں پر جائیں کیا\n\nدل کو مسجد سے نہ مندر سے ہے انس\nایسے وحشی کو کہیں بہلائیں کیا\n\nجانتا دنیا کو ہے اک کھیل تو\nکھیل قدرت کے تجھے دکھلائیں کیا\n\nعمر کی منزل تو جوں توں کٹ گئی\nمرحلے اب دیکھیے پیش آئیں کیا\n\nدل کو سب باتوں کی ہے ناصح خبر\nسمجھے سمجھائے کو بس سمجھائیں کیا\n\nمان لیجے شیخ جو دعویٰ کرے\nاک بزرگ دیں کو ہم جھٹلائیں کیا\n\nہو چکے حالیؔ غزل خوانی کے دن\nراگنی بے وقت کی اب گائیں کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "واں تو ملنے کا ارادہ ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واں تو ملنے کا ارادہ ہی نہیں\nیاں وہ خواہش ہے کہ ہوتا ہی نہیں\n\nیوں ستانے کے تو لائق تھے نہ ہم\nآپ نے کچھ ہمیں سمجھا ہی نہیں\n\nجس سے تسکیں ہو مری اے قاصد\nایسی تو بات تو کہتا ہی نہیں\n\nاور بھی ایسی تو باتیں ہیں بہت\nگلۂ رنجش بے جا ہی نہیں\n\nلے گئیں نیچی نگاہیں دل کو\nآنکھ اٹھا کر ابھی دیکھا ہی نہیں\n\nرشک دشمن سے نصیحت ہوئی آپ\nدل وہاں جانے کو ہوتا ہی نہیں\n\nاور جو ظلم ہو منظور مجھے\nغیر سے ربط گوارا ہی نہیں\n\nیاں تو یہ منتظر وعدہ ہم\nاور واں یاد وہ وعدا ہی نہیں\n\nربط دشمن سے ہے انکار عبث\nہمیں اس بات کا شکوا ہی نہیں\n\nہم خدا سے بھی نہیں مانگتے کچھ\nیاں کوئی اپنی تمنا ہی نہیں\n\nنہ سہی کوئی برائی نہ سہی\nتم سے ملنا مجھے اچھا ہی نہیں\n\nاس کی ہر بات کو سچ سمجھے نظامؔ\nاس سا عیار تو پیدا ہی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے\nیہ جدائی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nہو ملاقات تو صفائی سے\nاور صفائی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nدل ربا کو ہے دل ربائی شرط\nدل ربائی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nگلہ ہوتا ہے آشنائی میں\nآشنائی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nاللہ اللہ رے ان بتوں کا غرور\nیہ خدائی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nموت آئی تو ٹل نہیں سکتی\nاور آئی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nمگس قاب اغنیا ہونا ہے\nبے حیائی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nبوسۂ لب دل شکستہ کو\nمومیائی نہیں تو پھر کیا ہے\n\nنہیں رونے میں گر ظفرؔ تاثیر\nجگ ہنسائی نہیں تو پھر کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "واں زیرکی پسند نہ ادراک چاہئے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واں زیرکی پسند نہ ادراک چاہئے\nعجز و نیاز دیدۂ نمناک چاہئے\n\nآئینہ بن کہ شاہد و مشہود ایک ہے\nاس روئے پاک کو نظر پاک چاہئے\n\nسیر و سلوک جاں نہیں بے جذبۂ نہاں\nاس راہ میں یہ توسن چالاک چاہئے\n\nگزرے امید و بیم سے یہ حوصلہ کسے\nرند خراب و عارف بے باک چاہئے\n\nہر چشمہ آئنہ ہے رخ آفتاب کا\nہاں سطح آب بے خس و خاشاک چاہئے\n\nنشو و نمائے سبزہ و گل میں نہیں درنگ\nابر کرم کو تشنگیٔ خاک چاہئے\n\nاصلاح حال عاشق دل خستہ ہے ضرور\nمعشوق جور پیشہ و سفاک چاہئے\n\nجو عین نائے نوش ہو اس بادہ نوش کو\nجام و سبو نہ خمکدہ و تاک چاہئے\n\nصیاد کے اثر پہ رواں ہو تو صید ہے\nوہ صید ہی نہیں جسے فتراک چاہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B2%DB%8C%D8%B1%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AF%D8%B1%D8%A7%DA%A9_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "واں سے گھر آ کے کہاں سونا تھا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واں سے گھر آ کے کہاں سونا تھا\nصبح تک یاد تھی اور رونا تھا\n\nجب ہوئی صبح تو بستر سے پھر اٹھ\nگریۂ خونی سے منہ دھونا تھا\n\nدھو چکے منہ کو تو کشت دل میں\nتخم غم کا ہمیں پھر بونا تھا\n\nبو چکے تخم تو پایا یہ ثمر\nکہ جگر کاوی تھی جی کھونا تھا\n\nجی کے کھونے کے ہو درپئے یہ کہا\nکہ نصیبوں میں یہی ہونا تھا\n\nہونا قسمت کا کہیں کیا تا شام\nہم تھے اور گھر کا بس اک کونا تھا\n\nکونے لگ بیٹھے تو جرأتؔ اے وائے!\nپھر وہی رات تھی اور رونا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "واں طبیعت دم تقریر بگڑ جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واں طبیعت دم تقریر بگڑ جاتی ہے\nبات کی بات میں توقیر بگڑ جاتی ہے\n\nچونک پڑتا ہوں خوشی سے جو وہ آ جاتے ہیں\nخواب میں خواب کی تعبیر بگڑ جاتی ہے\n\nکچھ وہ پڑھنے میں الجھتے ہیں مرا نامۂ شوق\nکچھ عبارت دم تحریر بگڑ جاتی ہے\n\nچارہ گر کیا مری وحشت سے جنوں بھی ہے بتنگ\nروز مجھ سے مری زنجیر بگڑ جاتی ہے\n\nداغ الفت وہ بری شے ہے کہ کہنے سے ظہیرؔ\nمہر و مہتاب کی تنویر بگڑ جاتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D8%AF%D9%85_%D8%AA%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%DA%AF%DA%91_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "واں نقاب اٹھی کہ صبح حشر کا منظر کھلا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واں نقاب اٹھی کہ صبح حشر کا منظر کھلا\nیا کسی کے حسن عالم تاب کا دفتر کھلا\n\nغیب سے پچھلے پہر آتی ہے کانوں میں صدا\nاٹھو اٹھو رحمت رب علا کا در کھلا\n\nآنکھ جھپکی تھی تصور بندھ چکا تھا یار کا\nچونکتے ہی حسرت دیدار کا دفتر کھلا\n\nکوئے جاناں کا سماں آنکھوں کے آگے پھر گیا\nصبح جنت کا جو اپنے سامنے منظر کھلا\n\nرنگ بدلا پھر ہوا کا مے کشوں کے دن پھرے\nپھر چلی باد صبا پھر مے کدے کا در کھلا\n\nآ رہی ہے صاف بوئے سنبل باغ جناں\nگیسوئے محبوب شاید میری میت پر کھلا\n\nچار دیوار عناصر پھاند کر پہنچے کہاں\nآج اپنا زور وحشت عرش اعظم پر کھلا\n\nچپ لگی مجھ کو گناہ عشق ثابت ہو گیا\nرنگ چہرے کا اڑا راز دل مضطر کھلا\n\nاشک خوں سے زرد چہرے پر ہے کیا طرفہ بہار\nدیکھیے رنگ جنوں کیسا مرے منہ پر کھلا\n\nخنجر قاتل سے جنت کی ہوا آنے لگی\nاور بہار زخم سے فردوس کا منظر کھلا\n\nنیم جاں چھوڑا تری تلوار نے اچھا کیا\nایڑیاں بسمل نے رگڑیں صبر کا جوہر کھلا\n\nصحبت واعظ میں بھی انگڑائیاں آنے لگیں\nراز اپنی مے کشی کا کیا کہیں کیونکر کھلا\n\nہاتھ الجھا ہے گریباں میں تو گھبراؤ نہ یاسؔ\nبیڑیاں کیونکر کٹیں زنداں کا در کیونکر کھلا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7"} {"title": "واں وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واں وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلا\nیاں شرم سے عرق میں ڈوب آفتاب نکلا\n\nآیا جو واقعے میں درپیش عالم مرگ\nیہ جاگنا ہمارا دیکھا تو خواب نکلا\n\nدیکھا جو اوس پڑتے گلشن میں ہم تو آخر\nگل کا وہ روئے خنداں چشم پر آب نکلا\n\nپردے ہی میں چلا جا خورشید تو ہے بہتر\nاک حشر ہے جو گھر سے وہ بے حجاب نکلا\n\nکچھ دیر ہی لگی نہ دل کو تو تیر لگتے\nاس صید ناتواں کا کیا جی شتاب نکلا\n\nہر حرف غم نے میرے مجلس کے تئیں رلایا\nگویا غبار دل کا پڑھتا کتاب نکلا\n\nروئے عرق فشاں کو بس پونچھ گرم مت ہو\nاس گل میں کیا رہے گا جس کا گلاب نکلا\n\nمطلق نہ اعتنا کی احوال پر ہمارے\nنامے کا نامے ہی میں سب پیچ و تاب نکلا\n\nشان تغافل اپنے نو خط کی کیا لکھیں ہم\nقاصد موا تب اس کے منہ سے جواب نکلا\n\nکس کی نگہ کی گردش تھی میرؔ رو بہ مسجد\nمحراب میں سے زاہد مست و خراب نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%B1_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو\nصد رہ آہنگِ زمیں بوسِ قدم ہے ہم کو\n\nدل کو میں اور مجھے دل محوِ وفا رکھتا ہے\nکس قدر ذوقِ گرفتاریِ ہم ہے ہم کو\n\nضعف سے نقشِ پئے مور، ہے طوقِ گردن\nترے کوچے سے کہاں طاقتِ رم ہے ہم کو\n\nجان کر کیجے تغافل کہ کچھ امّید بھی ہو\nیہ نگاہِ غلط انداز تو سَم ہے ہم کو\n\nرشکِ ہم طرحی و دردِ اثرِ بانگِ حزیں\nنالۂ مرغِ سحر تیغِ دو دم ہے ہم کو\n\nسر اڑانے کے جو وعدے کو مکرّر چاہا\nہنس کے بولے کہ “ترے سر کی قسم ہے ہم کو!”\n\nدل کے خوں کرنے کی کیا وجہ؟ ولیکن ناچار\nپاسِ بے رونقیِ دیدہ اہم ہے ہم کو\n\nتم وہ نازک کہ خموشی کو فغاں کہتے ہو\nہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم ہے ہم کو\n\nلکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنی\nہوسِ سیر و تماشا، سو وہ کم ہے ہم کو\n\nمقطعِ سلسلۂ شوق نہیں ہے یہ شہر\nعزمِ سیرِ نجف و طوفِ حرم ہے ہم کو\n\nلیے جاتی ہے کہیں ایک توقّع غالبؔ\nجادۂ رہ کششِ کافِ کرم ہے ہم کو\n\nابر روتا ہے کہ بزمِ طرب آمادی کرو\nبرق ہنستی ہے کہ فرصت کوئی دم ہے ہم کو\n\nطاقتِ رنجِ سفر بھی نہیں پاتے اتنی\nہجرِ یارانِ وطن کا بھی الم ہے ہم کو\n\nلائی ہے معتمد الدولہ بہادر کی امید\nجادۂ رہ کششِ کافِ کرم ہے ہم کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%BA%D8%B4_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%D9%BE%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "واں کمر باندھے ہیں مژگاں قتل پر دونوں طرف", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واں کمر باندھے ہیں مژگاں قتل پر دونوں طرف\nیاں صف عشاق ہیں زیر و زبر دونوں طرف\n\nزلف کا سربستہ کوچہ مانگ کا رستہ ہے تنگ\nدل تری شامت ہے مت جا بے خطر دونوں طرف\n\nدیر و کعبہ میں تفاوت خلق کے نزدیک ہے\nشاہد معنی کا ہر صورت ہے گھر دونوں طرف\n\nہے وہ دریا میں نہاتا میں ہوں غرق آب شرم\nکچھ عجب اک ماجرا ہے طرفہ تر دونوں طرف\n\nعشق وہ ہے جس کے ہاتھوں قمری و بلبل کے آہ\nزیر سرو و گل پڑے ہیں بال و پر دونوں طرف\n\nچشم میں کیا نور ہے دل میں بھی اس کا ہے ظہور\nظاہر و باطن وہی ہے جلوہ گر دونوں طرف\n\nآمد و شد میں ہے دیکھی سیر بستی و عدم\nہم کو اس مہماں سرا میں ہے سفر دونوں طرف\n\nشمع کچھ جلتی نہیں پروانہ بھی دیتا ہے جی\nسوزش الفت سے ہے جی کا ضرر دونوں طرف\n\nپنجۂ مژگاں پہ رکھوں کیوں نہ میں دل اور جگر\nنذر کو لایا ہوں تیری کر نظر دونوں طرف\n\nدل میں گر آتا ہے تو آ جان من آنکھوں کی راہ\nاس مکان دل کشا کے ہیں یہ در دونوں طرف\n\nکچھ حباب و بحر میں مت فرق سمجھو اے نصیرؔ\nدیکھو ٹک چشم حقیقت کھول کر دونوں طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%85%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%82%D8%AA%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "واں ہوا پردہ اٹھانا موقوف", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واں ہوا پردہ اٹھانا موقوف\nیاں ہوا راز چھپانا موقوف\n\nغیر کو رشک سے کیا آگ لگے\nکہ ہوا میرا جلانا موقوف\n\nذکرِ شیریں کی اگر بندی ہے\nکوہ کن کا بھی فسانہ موقوف!\n\nاب کس امید پہ واں جائے کوئی\nکہ ہوا غیر کا آنا موقوف\n\nرمِ آہو سے وہ رم یاد آیا\nدشت و صحرا میں بھی جانا موقوف\n\nبد دماغ آج ہوا وہ گُل رُو\nشیفتہ عطر لگانا موقوف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%85%D9%88%D9%82%D9%88%D9%81"} {"title": "واں ہے یہ بد گمانی جاوے حجاب کیوں کر", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واں ہے یہ بد گمانی جاوے حجاب کیوں کر\nدو دن کے واسطے ہو کوئی خراب کیوں کر\n\nقاصد جواب خط ہم لکھ دیں شتاب کیوں کر\nواں تو جواب مانگا لکھیے جواب کیوں کر\n\nخواب و خیال سونا یاں ہو گیا ہے جس بن\nحیراں ہوں میں کہ اس کو آوے ہے خواب کیوں کر\n\nاس سبزہ رنگ کی ہے گرمیٔ حسن گویا\nچمکے ہے مہر دیکھو زیر سحاب کیوں کر\n\nکہتی ہیں چتونیں یوں بن ٹھن کے جب وہ نکلے\nاب دیکھنے کی دیکھیں لاوے گا تاب کیوں کر\n\nوہ وصل میں بھی ہنس ہنس پوچھے ہے لو بتاؤ\nکل روئیں گی تمہاری چشم پر آب کیوں کر\n\nدل جس سے لگ گیا ہے وہ چھپ رہا ہے ہم سے\nدوڑے پھریں نہ ہر سو پر اضطراب کیوں کر\n\nاللہ رے بھلاپا منہ دھو کے خود وہ بولے\nسونگھو تو ہو گیا یہ پانی گلاب کیوں کر\n\nچالاکیوں کو سن کر اس غیرت پری کی\nگر رک کے کہیے اس کی ہم لائیں تاب کیوں کر\n\nتو یوں لگے جتانے میاں تم تو ہو دوانے\nرہنے دے ہم کو نچلا عہد شباب کیوں کر\n\nاول بھی خاک ہی تھے آخر بھی خاک ہوں گے\nہر دم کہیں نہ جرأتؔ یا بو تراب کیوں کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%AF_%DA%AF%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%92_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "واہ رے سید پاکیزہ گہر کیا کہنا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "واہ رے سید پاکیزہ گہر کیا کہنا\nیہ دماغ اور حکیمانہ نظر کیا کہنا\nقوم کے عشق میں پر سوز جگر کیا کہنا\nایک ہی دھن میں ہوئی عمر بسر کیا کہنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DB%81_%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D9%BE%D8%A7%DA%A9%DB%8C%D8%B2%DB%81_%DA%AF%DB%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "واہ فسون آب و گل", "poet_page": "مصنف:نہال سیوہاروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واہ فسون آب و گل\nدہر ہے اک رنگیں محفل\n\nرزم کناں رہ طوفاں سے\nمل ہی جائے گا ساحل\n\nکس کی محفل کو دیکھیں\nہم تم ہیں خوراک محفل\n\nجوش عمل کی خامی کا\nنام جہاں میں ہے مشکل\n\nسرخ نہ ہو کیوں اشک غم\nخون جگر بھی ہے شامل\n\nیوں نہ فسردہ خاطر رہ\nغنچہ و گل کی صورت کھل\n\nدیکھ طلسم فکر نہالؔ\nسحر بیاں شاعر سے مل", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DB%81_%D9%81%D8%B3%D9%88%D9%86_%D8%A2%D8%A8_%D9%88_%DA%AF%D9%84"} {"title": "واہ کس رنگ پہ ہے رنگ بہار عارض", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واہ کس رنگ پہ ہے رنگ بہار عارض\nباغ فردوس کا ہر پھول نثار عارض\n\nلیلۃ القدر ہے اے ماہ ترا خط سیاہ\nصبح یوم العرفہ نور دیار عارض\n\nسحر عید کا آئینہ سواد اس کا ہے\nہے چمکتی ہوئی اقلیم دیار عارض\n\nہے نظر خیرہ یہ ہے خط سیہ کا جلوہ\nدن سے بڑھ کر ہے فروغ شب تار عارض\n\nہو چلا بارور اب نخل جوانی ان کا\nچشم بد دور ہے آغاز بہار عارض\n\nمہر سے بڑھ کے ہے ذرہ کی چمک اس رخ پر\nفلک العرش ہے یا ہے یہ غبار عارض\n\nحوریں مشاطہ ہیں ہر ہفت کی خدمت ہے انہیں\nماہ آئینہ ہے مہر آئینہ دار عارض\n\nنور رخ سبزیٔ خط پیش نظر ہیں دونوں\nمیری آنکھوں میں ہے یہ لیل و نہار عارض\n\nاے گل اندام ترے حسن کی رنگت ہے کچھ اور\nپھول بھی صدقے ہیں بلبل بھی نثار عارض\n\nآئنہ سامنے ہے محو تماشا ہیں وہ\nدیکھتے ہیں مری آنکھوں سے بہار عارض\n\nزلفیں رخ پر ترے بل کرتی ہیں زیبا ہے انہیں\nان کی جاگیر میں لکھا ہے دیار عارض\n\nرنگ ہلکا سا گلابی ہے پھر اس پر خط سبز\nقابل دید ہے اکبرؔ یہ بہار عارض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%BE%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D8%B6"} {"title": "واہ کیا حسن کیسا جوبن ہے", "poet_page": "مصنف:مردان علی خاں رانا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واہ کیا حسن کیسا جوبن ہے\nکیسی ابرو ہیں کیسی چتون ہے\n\nجس کو دیکھو وہ نور کا بقعہ\nیے پرستان ہے کہ لندن ہے\n\nعبث ان کو مسیح کہتے ہیں\nمار رکھنے کا ان میں لچھن ہے\n\nحسن دکھلا رہا ہے جلوۂ حق\nروئے تاباں سے صاف روشن ہے\n\nرسم الٹی ہے خوب رویوں میں\nدوست جس کے بنو وہ دشمن ہے\n\nحال عشاق کو بتاتے ہیں\nاور ابھی خیر سے لڑکپن ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%A8%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "واہ کیا خوب قدر کی دل کی", "poet_page": "مصنف:محشر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واہ کیا خوب قدر کی دل کی\nنہ سنی تم نے ایک بھی دل کی\n\nضبط فریاد میں کٹی شب ہجر\nشکر ہے بات رہ گئی دل کی\n\nمست ہیں نشۂ جوانی سے\nکیا خبر آپ کو کسی دل کی\n\nبڑھتا جاتا ہے طول گیسوئے یار\nگھٹتی جاتی ہے زندگی دل کی\n\nوہ زمانہ اب آیا ہے محشرؔ\nہے ہر اک بزم میں ہنسی دل کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "واہ کیا خوب مہ لقا دیکھا", "poet_page": "مصنف:ابراہیم عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاجز (1934)", "year": "1934", "text_ur": "واہ کیا خوب مہ لقا دیکھا\nجلوہ اس کا ہر ایک جا دیکھا\n\nوہ عیاں تھا تو شے نہیں دیکھا\nجب ہوئی شے عیاں تو کیا دیکھا\n\nوحدت صرف آئی کثرت میں\nپردہ اس پر پڑا ہوا دیکھا\n\nدیر میں ہے نہ وہ حرم میں ہے\nلیکن اس کو ہر ایک جا دیکھا\n\nسر کہا جس نے سر گیا اس کا\nعارفوں نے یہ آزما دیکھا\n\nبحر کوزے میں کب سماتا ہے\nعقل کا تنگ حوصلہ دیکھا\n\nدید ہے جس کی عین بینائی\nنہیں دیکھا اسے تو کیا دیکھا\n\nابن مریم سے بھی تو کچھ نہ ہوا\nدرد دل ہائے لا دوا دیکھا\n\nبادشاہی میں وہ کہاں حاصل\nفقر میں ہم نے جو مزا دیکھا\n\nبلبل خوش نوا کو اے عاجزؔ\nگل و گلزار سے جدا دیکھا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D9%85%DB%81_%D9%84%D9%82%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "واہ کیا عالم عجب ہے انتظار یار کا", "poet_page": "مصنف:راغب بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واہ کیا عالم عجب ہے انتظار یار کا\nنام ہے دیدار حسرت حسرت دیدار کا\n\nسیر ہے جنت کی سیروں سے ترے عاشق کا دل\nلے کے جنت کیا کرے بھوکا ترے دیدار کا\n\nذرۂ دل میں اتر آئے ہزاروں آفتاب\nکیا کرشمہ ہے خیال جلوہ گاہ یار کا\n\nبڑھ چلا تھا تیری غفلت سے بھی بار بیکسی\nموت نے پوچھا مزاج آ کر ترے بیمار کا\n\nجانتے ہیں اک جھلک میں جان و دل مٹ جائیں گے\nلوگ منہ تکتے ہیں تیرے طالب دیدار کا\n\nدھیان میں اس کے دو عالم سے کھنچا بیٹھا ہوں میں\nیعنی اک نقشہ کھنچا ہے جذب حسن یار کا\n\nجس کو کہتے ہیں مقدر عاشقان بد نصیب\nہے وہ اک بگڑا ہوا خاکہ مزاج یار کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "واہ کیا ہم کو بنایا اور بنا کر رہ گئے", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واہ کیا ہم کو بنایا اور بنا کر رہ گئے\nوصل کا مژدہ سنایا اور سنا کر رہ گئے\n\nلے گیا شوق اس کے در تک پھر کمی ہمت نے کی\nحلقۂ در کو ہلایا اور ہلا کر رہ گئے\n\nمیں نے جو اپنے دل گم گشتہ کی پوچھی خبر\nسر ہلایا مسکرائے مسکرا کر رہ گئے\n\nغیرت دشمن کی خاطر میری غیرت لائی رنگ\nمجھ کو محفل میں بلایا اور بلا کر رہ گئے\n\nکام رونے سے بھی ساقیؔ اپنا کچھ نکلا نہیں\nلکھا قسمت کا مٹایا اور مٹا کر رہ گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "واہمہ کی یہ مشق پیہم کیا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "واہمہ کی یہ مشق پیہم کیا\nیاس و امید شادی و غم کیا\n\nتم کو اس راز ماسوا کی قسم\nتم پہ چھایا ہوا ہے عالم کیا\n\nان کے آگے غم اک فسانہ ہے\nان سے کہیے فسانۂ غم کیا\n\nعیش رفتہ کی یاد سے حاصل\nقصۂ خلد و ذکر آدم کیا\n\nتا کجا آہ زیر لب آخر\nانتہائے سکوت برہم کیا\n\nغم دنیا بقدر ظرف نہیں\nحسرت بیش و شکوۂ کم کیا\n\nسوز غم کی حدیں نہیں ملتیں\nبجھ گئی آتش جہنم کیا\n\nگرم و سرد زمانہ جو کچھ ہو\nورنہ فردوس کیا جہنم کیا\n\nموت جس کی حیات ہو فانیؔ\nاس شہید ستم کا ماتم کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%B4%D9%82_%D9%BE%DB%8C%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "وجد اہل کمال ہے کچھ اور", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وجد اہل کمال ہے کچھ اور\nشیخ صاحب کا حال ہے کچھ اور\n\nہوش جاتا ہے اہل ہوش کا سن\nتیرے مستوں کا حال ہے کچھ اور\n\nفخر انساں نہیں ملک ہونا\nجی میں اپنے خیال ہے کچھ اور\n\nجس کو کہتے ہیں وصل وصل نہیں\nمعنیٔ اتصال ہے کچھ اور\n\nغیر حرف نیاز سو بھی کبھو\nکہہ سکوں ہوں مجال ہے کچھ اور\n\nرخ خورشید پر کہاں وہ نور\nمیرے مہ کا جمال ہے کچھ اور\n\nسرو! دعویٔ ہم سری مت کر\nوہ قد نونہال ہے کچھ اور\n\nکبک تو خوش خرام ہے لیکن\nیار کی میرے چال ہے کچھ اور\n\nدیکھ چل تو بھی حالت بیدارؔ\nآج اس کا تو حال ہے کچھ اور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AC%D8%AF_%D8%A7%DB%81%D9%84_%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "وجد ہو بلبل تصویر کو جس کی بو سے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وجد ہو بلبل تصویر کو جس کی بو سے\nاوس سے گل رنگ کا دعویٰ کرے پھر کس رو سے\n\nشمع کے رونے پہ بس صاف ہنسی آتی ہے\nآتش دل کہیں کم ہوتی ہے چار آنسو سے\n\nایک دن وہ تھا کہ تکیہ تھا کسی کا بازو\nاب سر اٹھتا ہی نہیں اپنے سر زانو سے\n\nنزع میں ہوں مری مشکل کرو آساں یاروں\nکھولو تعویذ شفا جلد مرے بازو سے\n\nشوخیٔ چشم کا تو کس کی ہے دیوانہ انیسؔ\nآنکھیں ملتا ہے جو یوں نقش کف آہو سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AC%D8%AF_%DB%81%D9%88_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%88_%D8%B3%DB%92"} {"title": "وجود اب مرا لا فنا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وجود اب مرا لا فنا ہو گیا\nفنا ہو کے جزو بقا ہو گیا\n\nمقدس ہے عالم میں ذوق فنا\nکہ عقدہ دو عالم کا وا ہو گیا\n\nہوا آشکارا عدم سے وجود\nلکھا تھا جو تقدیر کا ہو گیا\n\nنہ ہم تھے نہ ہنگامۂ کائنات\nکھلی آنکھ اور خواب سا ہو گیا\n\nحقیقت ہوا رفتہ رفتہ مجاز\nرسا طالع نارسا ہو گیا\n\nترا آستانہ حرم ہو کہ دیر\nمساوات شاہ و گدا ہو گیا\n\nنہ کچھ ہوش اپنا نہ ہے کچھ خبر\nخدا جانے ساحرؔ کو کیا ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF_%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%84%D8%A7_%D9%81%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "وحشت تھی ہم تھے سایۂ دیوار یار تھا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وحشت تھی ہم تھے سایۂ دیوار یار تھا\nیا یہ کہو کہ سر پہ کوئی جن سوار تھا\n\nبگڑا چمن میں کل ترے وحشی کا جب مزاج\nجھونکا نسیم کا بھی اسے ناگوار تھا\n\nلالے کا داغ دیکھ کے چتون بدل گئی\nتیور سے صاف راز جنوں آشکار تھا\n\nپہلے تو آنکھیں پھاڑ کے دیکھا ادھرادھر\nدامن پھر اک اشارے میں بس تار تار تھا\n\nاللہ رے توڑ نیچی نگاہوں کے تیر کا\nاف بھی نہ کرنے پائے تھے اور دل کے پار تھا\n\nنیرنگ حسن و عشق کی وہ آخری بہار\nتربت تھی میری اور کوئی اشک بار تھا\n\nجھک جھک کے دیکھتا ہے فلک آج تک اسے\nجس سرزمیں پہ میرا نشان مزار تھا\n\nساحل کے پاس یاسؔ نے ہمت بھی ہار دی\nکچھ ہاتھ پاؤں مارتا ظالم تو پار تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%B3%D8%A7%DB%8C%DB%82_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک\nسر مارے ہیں اپنے در و دیوار سے اب تک\n\nمرتے ہی سنا ان کو جنہیں دل لگی کچھ تھی\nاچھا ہوا کوئی اس آزار سے اب تک\n\nجب سے لگی ہیں آنکھیں کھلی راہ تکے ہیں\nسوئے نہیں ساتھ اس کے کبھو پیار سے اب تک\n\nآیا تھا کبھو یار سو معمول ہم اس کے\nبستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے اب تک\n\nبد عہدیوں میں وقت وفات آن بھی پہنچا\nوعدہ نہ ہوا ایک وفا یار سے اب تک\n\nہے قہر و غضب دیکھ طرف کشتے کے ظالم\nکرتا ہے اشارت بھی تو تلوار سے اب تک\n\nکچھ رنج دلی میرؔ جوانی میں کھنچا تھا\nزردی نہیں جاتی مرے رخسار سے اب تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%88%DB%81%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "وحشت دل نے کہیں کا بھی نہ رکھا مجھ کو", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وحشت دل نے کہیں کا بھی نہ رکھا مجھ کو\nدیکھنا ہے ابھی کیا کہتی ہے دنیا مجھ کو\n\nاثر قید تعین سے بھی آزاد ہے دل\nکس طرح بند علایق ہو گوارا مجھ کو\n\nلینے بھی دے ابھی موج لب ساحل کے مزے\nکیوں ڈبوتی ہے ابھرنے کی تمنا مجھ کو\n\nخواہش دل تھی کہ ملتا کہیں سودائے جنوں\nمیں نے کیا مانگا تھا قسمت نے دیا کیا مجھ کو\n\nتیری بے پردگیٔ حسن نے آنکھیں کھولیں\nتنگ دامانیٔ نظارہ تھی پردا مجھ کو\n\nآخری دور میں مدہوش ہوا تھا لیکن\nلغزش پا نے مری خوب سنبھالا مجھ کو\n\nعمر ساری تو کٹی دیر و حرم میں اے شوقؔ\nاس پہ سجدہ بھی تو کرنا نہیں آیا مجھ کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیدا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیدا\nسیکڑوں کوس نہیں صورت انساں پیدا\n\nسحر وصل کرے گی شب ہجراں پیدا\nصلب کافر ہی سے ہوتا ہے مسلماں پیدا\n\nدل کے آئینے میں کر جوہر پنہاں پیدا\nدر و دیوار سے ہو صورت جاناں پیدا\n\nخار دامن سے الجھتے ہیں بہار آئی ہے\nچاک کرنے کو کیا گل نے گریباں پیدا\n\nنسبت اس دست نگاریں سے نہیں کچھ اس کو\nیہ کلائی تو کرے پنجۂ مرجاں پیدا\n\nنشۂ مے میں کھلی دشمنی دوست مجھے\nآب انگور نے کی آتش پنہاں پیدا\n\nباغ سنسان نہ کر ان کو پکڑ کر صیاد\nبعد مدت ہوئے ہیں مرغ خوش الحاں پیدا\n\nاب قدم سے ہے مرے خانۂ زنجیر آباد\nمجھ کو وحشت نے کیا سلسلہ جنباں پیدا\n\nرو کے آنکھوں سے نکالوں میں بخار دل کو\nکر چکے ابر مژہ بھی کہیں باراں پیدا\n\nنعرہ زن کنج شہیداں میں ہو بلبل کی طرح\nآب آہن نے کیا ہے یہ گلستاں پیدا\n\nنقش ان کا نہ کسی لعل سے لب پر بیٹھا\nمیرے منہ میں ہوئے تھے کس لیے دنداں پیدا\n\nخوف نا فہمی مردم سے مجھے آتا ہے\nگاؤ خر ہونے لگے صورت انساں پیدا\n\nروح کی طرح سے داخل ہو جو دیوانہ ہے\nجسم خاکی سمجھ اس کو جو ہو زنداں پیدا\n\nبے حجابوں کا مگر شہر ہے اقلیم عدم\nدیکھتا ہوں جسے ہوتا ہے وہ عریاں پیدا\n\nاک گل ایسا نہیں ہووے نہ خزاں جس کی بہار\nکون سے وقت ہوا تھا یہ گلستاں پیدا\n\nموجد اس کی ہے سیہ روزی ہماری آتشؔ\nہم نہ ہونے تو نہ ہوتی شب ہجراں پیدا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7"} {"title": "وحشت دل کا عجب رنگ نظر آتا ہے", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وحشت دل کا عجب رنگ نظر آتا ہے\nعرصۂ حشر مجھے تنگ نظر آتا ہے\n\nدونوں جانب ہے برابر تری تصویر کا رخ\nآئینہ میری طرح دنگ نظر آتا ہے\n\nکچھ تو صیاد نے کچھ باد صبا نے لوٹا\nآشیانے کا عجب رنگ نظر آتا ہے\n\nصلح جوئی کی تمنا میں شب و روز عزیزؔ\nیک جہاں مضطرب جنگ نظر آتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "وحشت زدہ دل تو جوں شرر ہے", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وحشت زدہ دل تو جوں شرر ہے\nاس کے تئیں آپ سے سفر ہے\n\nتم جور و جفا کرو جو چاہو\nان باتوں پہ کب مجھے نظر ہے\n\nتو آپ ہی خیر آپ شر ہے\nکچھ اور نہ نفع نے ضرر ہے\n\nہم بے خبروں سے رہ خبردار\nاتنی تو بھلا تجھے خبر ہے\n\nگزری جاتی ہے ہر طرح سے\nدنیا گزران سر بسر ہے\n\nدل کے خطروں سے بے خطر ہوں\nسر سے پاؤں تلک خطر ہے\n\nتو نے ہی تو یوں نڈر کیا ہے\nبس ایک مجھے ترا ہی ڈر ہے\n\nیوں درد بہ جان و دل سمایا\nہر نالہ و آہ کارگر ہے\n\nیا حضرت عندلیب بخشش\nیہ تیرے ہی درد کا اثر ہے\n\nدل تیری طرف ہے نت پر اس کو\nمعلوم نہیں کہ تو کدھر ہے\n\nیوں آنکھ سے آنکھ میں ملا ہے\nاتنا تو مرا دل و جگر ہے\n\nبے درد تو کیونکہ رہ سکے گا\nیہ حضرت دردؔ کا اثرؔ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%B2%D8%AF%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "وحشت سے ہر سخن مرا گویا غزالہ ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وحشت سے ہر سخن مرا گویا غزالہ ہے\nبو سے نشہ ہو یہ وہ مے دیر سالہ ہے\n\nاس آن پر نثار کروں بزم جام جم\nوہ مست ناز آج مرا ہم پیالہ ہے\n\nبیگانہ دیکھتا ہوں میں ہر گل کا رنگ و بو\nہم داغ اس چمن میں اگر ہے تو لالہ ہے\n\nآئے ہو اب تو دختر رز دیکھتے ہو کیا\nمشرب میں مے کشو یہ تمہاری حلالہ ہے\n\nتنہا نہیں چلا ہوں میں حاتمؔ بتاں کے شہر\nہم راہ اس سفر میں مرا آہ و نالہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%DA%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D8%B2%D8%A7%D9%84%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "وحشت میں بھی رخ جانب صحرا نہ کریں گے", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وحشت میں بھی رخ جانب صحرا نہ کریں گے\nجب تک کہ تمہیں شہر میں رسوا نہ کریں گے\n\nگھبرا گئے بیتابی دل دیکھ کے اے جان\nٹھہرو تو ابھی ہجر میں کیا کیا نہ کریں گے\n\nمر جاؤں تو مر جاؤں برا مانیں تو مانیں\nپھر کیسے مسیحا ہیں جو اچھا نہ کریں گے\n\nوہ حسن میں کامل ہیں تو ہم صبر میں یکتا\nتا عمر کبھی ذکر بھی ان کا نہ کریں گے\n\nچھپ چھپ کے کہیں گے جو چھپانے کے سخن ہیں\nہم تم سے کسی بات کا پردا نہ کریں گے\n\nبدنامی سے ڈرتے ہو عبث عشق میں اے برقؔ\nکب تک بشر اس بات کا چرچا نہ کریں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%D8%AE_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A8_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے\nمجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے\n\nاے مرغ سحر ککڑوں کوں بول کہیں جلدی\nتو بھی شب فرقت میں گونگا نظر آتا ہے\n\nداڑھی کو تری واعظ سب دیکھ کے کہتے ہیں\nوہ قصر تقدس کا چھجا نظر آتا ہے\n\nباز آئے محبت سے اے عشق خدا حافظ\nالفت میں جسے دیکھو اندھا نظر آتا ہے\n\nکچھ تجھ کو خبر بھی ہے دیکھ آئنے میں صورت\nاو ترچھی نظر والے بھینگا نظر آتا ہے\n\nسوراج کے چکر میں رہتے تھے جو سرگرداں\nان لوگوں کو اب خالی چرخا نظر آتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D9%82%D8%B4%DB%81_%D8%A7%D9%84%D9%B9%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "وحشت میں یاد آئے ہے زنجیر دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وحشت میں یاد آئے ہے زنجیر دیکھ کر\nہم بھاگتے تھے زلف گرہ گیر دیکھ کر\n\nجب تک نہ خاک ہو جیے حاصل نہیں کمال\nیہ بات کھل گئی ہمیں اکسیر دیکھ کر\n\nعذر گناہ داور محشر سے کیوں کروں\nغم مٹ گیا ہے نامۂ تقدیر دیکھ کر\n\nہوں تشنہ کام دشت شہادت زبس کہ میں\nگرتا ہوں آب خنجر و شمشیر دیکھ کر\n\nعارفؔ چھپا تو ہم سے ولے ہم تو پا گئے\nجو بات ہے یہ رنگ کی تغییر دیکھ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AC%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "وحشت کو مری دیکھ کہ مجنوں نے کہا بس", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وحشت کو مری دیکھ کہ مجنوں نے کہا بس\nمجنوں نیں تو کیا دامن ہاموں نے کہا بس\n\nہر درد نیں جیوں قطب مجھے دیکھ کے ثابت\nقربان مرے گرد ہو گردوں نے کہا بس\n\nگل رو کی جدائی میں مرے داغ جگر دیکھ\nگلشن میں ہر ایک لالۂ پرخوں نے کہا بس\n\nہے دام پری بسکہ مری آہ کا جادو\nبے باک ہو اوس چشم پر افسوں نے کہا بس\n\nاحوال سراجؔ آتش ہجراں میں تری دیکھ\nدل سوز ہو پروانۂ محزوں نے کہا بس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%A8%D8%B3"} {"title": "وحشت ہے میرے دل کو تو تدبیر وصل کر", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وحشت ہے میرے دل کو تو تدبیر وصل کر\nپانو میں اس غزال کے زنجیر وصل کر\n\nزخمی شکار ہوں میں ترا مر ہی جاؤں گا\nپہلو سے مت جدا تو مرے تیر وصل کر\n\nاک لحظہ تیری باتوں سے آتا ہے دل کو چین\nہم دم خدا کے واسطے تقریر وصل کر\n\nدست دراز اپنے کو طوق گلو مرا\nتو ایک دم تو اے خم شمشیر وصل کر\n\nاے مہ یہ تیری دور کشی کب تلک بھلا\nاک شب تو تو ارادۂ شب گیر وصل کر\n\nسینہ پہ سینہ خشت پہ گویا کہ خشت ہے\nاب اے فلک نظارۂ تعمیر وصل کر\n\nتہمت لگے گی پاس بٹھانے سے فائدہ\nناحق نہ مجھ کو مورد تقصیر وصل کر\n\nمت چاندنی میں آ کہ زمانہ غیور ہے\nاس کام کو سپرد شب قیر وصل کر\n\nشاید کہ پڑھ کے نرم ہو دل اس کا مصحفیؔ\nجا کر حوالے اس کے یہ تحریر وصل کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "وحشتؔ مبتلا خدا کے لیے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وحشتؔ مبتلا خدا کے لیے\nجان دیتا ہے کیوں وفا کے لیے\n\nآشنا سب ہوئے ہیں بیگانے\nایک بیگانہ آشنا کے لیے\n\nہم نے عالم سے بے وفائی کی\nایک معشوق بے وفا کے لیے\n\nتھا اسے ذوق عاشق آزاری\nخوب میں نے مزے جفا کے لیے\n\nغالب آئی فرامشی اس کی\nوعدہ تڑپا کیا وفا کے لیے\n\nیہ بھی تیری گدا نوازی تھی\nمیں نے بوسے جو نقش پا کے لیے\n\nذوق نظارہ نے کیا ہے خاک\nسرمہ ہوں چشم سرمہ سا کے لیے\n\nجستجو ننگ آرزو نکلی\nدرد رسوا ہوا دوا کے لیے\n\nبڑھ چلی ہے بہت حیا تیری\nمجھ کو رسوا نہ کر خدا کے لیے\n\nہے خموشی مجھے زباں وحشتؔ\nفکر کیا عرض مدعا کے لیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA%D8%94_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "وحشی تھے بوئے گل کی طرح اس جہاں میں ہم", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وحشی تھے بوئے گل کی طرح اس جہاں میں ہم\nنکلے تو پھر کے آئے نہ اپنے مکاں میں ہم\n\nساکن ہیں جوش اشک سے آب رواں میں ہم\nرہتے ہیں مثل مردم آبی جہاں میں ہم\n\nشیدائے روئے گل نہ تو شیدائے قد سرو\nصیاد کے شکار ہیں اس بوستاں میں ہم\n\nنکلی لبوں سے آہ کہ گردوں نشانہ تھا\nگویا کہ تیر جوڑے ہوئے تھے کماں میں ہم\n\nآلودۂ گناہ ہے اپنا ریاض بھی\nشب کاٹتے ہیں جاگ کے مغ کی دکاں میں ہم\n\nہمت پس از فنا سبب ذکر خیر ہے\nمردوں کا نام سنتے ہیں ہر داستاں میں ہم\n\nساقی ہے یار ماہ لقا ہے شراب ہے\nاب بادشاہ وقت ہیں اپنے مکاں میں ہم\n\nنیرنگ روزگار سے ایمن ہیں شکل سرو\nرکھتے ہیں ایک حال بہار و خزاں میں ہم\n\nدنیا و آخرت میں طلب گار ہیں ترے\nحاصل تجھے سمجھتے ہیں دونوں جہاں میں ہم\n\nپیدا ہوا ہے اپنے لیے بوریائے فقر\nیہ نیستاں ہے شیر ہیں اس نیستاں میں ہم\n\nخواہاں کوئی نہیں تو کچھ اس کا عجب نہیں\nجنس گراں بہا ہیں فلک کی دکاں میں ہم\n\nلکھا ہے کس کے خنجر مژگاں کا اس نے وصف\nاک زخم دیکھتے ہیں قلم کی زباں میں ہم\n\nکیا حال ہے کسی نے نہ پوچھا ہزار حیف\nنالاں رہے جرس کی طرح کارواں میں ہم\n\nآیا ہے یار فاتحہ پڑھنے کو قبر پر\nبیدار بخت خفتہ ہے خواب گراں میں ہم\n\nشاگرد طرز خندہ زنی میں ہے گل ترا\nاستاد عندلیب ہیں سوز و فغاں میں ہم\n\nباغ جہاں کو یاد کریں گے عدم میں کیا\nکنج قفس سے تنگ رہے آشیاں میں ہم\n\nاللہ رے بے قرارئ دل ہجر یار میں\nگاہے زمیں میں تھے تو گہے آسماں میں ہم\n\nدروازہ بند رکھتے ہیں مثل حباب بحر\nقفل درون خانہ ہیں اپنے مکاں میں ہم\n\nآتشؔ سخن کی قدر زمانے سے اٹھ گئی\nمقدور ہو تو قفل لگا دیں زباں میں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AD%D8%B4%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%A8%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%A7%D8%B3_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "وحشی ہوں میں کیا شے ہے بیاباں مرے آگے", "poet_page": "مصنف:نبی بخش نایاب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نایاب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "وحشی ہوں میں کیا شے ہے بیاباں مرے آگے\nمجنوں ہوں میں کیا جیب و گریباں مرے آگے\n\nرکھتا ہوں میں سو داغ فراق اک جگر پر\nہے خار سے کم رتبہ گلستاں مرے آگے\n\nدوزخ کو بجھاتا ہوں میں اک اشک سے اپنے\nہے قطرہ سے کم نوح کا طوفاں مرے آگے\n\nروتی ہے مرے خوف سے شبنم بہ سر گل\nاصلاح کو بلبل ہے غزل خواں مرے آگے\n\nعاشق ہوں مری جان ہتھیلی پہ دھری ہے\nکیا تاب کہ ہو خنجر براں مرے آگے\n\nدنیا کی شش و پنج میں نایابؔ کہاں تک\nیہ کام ہیں سب بازیٔ طفلاں مرے آگے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%AD%D8%B4%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92"} {"title": "وزن اب ان کا معین نہیں ہو سکتا کچھ", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وزن اب ان کا معین نہیں ہو سکتا کچھ\nبرف کی طرح مسلمان گھلے جاتے ہیں\n\nداغ اب ان کی نظر میں ہیں شرافت کے نشاں\nنئی تہذیب کی موجوں سے دھلے جاتے ہیں\n\nعلم نے رسم نے مذہب نے جو کی تھی بندش\nٹوٹی جاتی ہے وہ سب بند کھلے جاتے ہیں\n\nشیخ کو وجد میں لائی ہیں پیانوں کی گتیں\nپیچ دستار فضیلت کے کھلے جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B2%D9%86_%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B9%DB%8C%D9%86_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE"} {"title": "وسعت بحر عشق کیا کہیے", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وسعت بحر عشق کیا کہیے\nابتدا ہو تو انتہا کہیے\n\nتیرے جور و جفا کو کیا کہیے\nناز کہیے انہیں ادا کہیے\n\nاس ستم گر کو اور کیا کہیے\nسارے جھوٹوں کا پیشوا کہیے\n\nپوچھنا چاہیے طبیبوں سے\nدرد دل کی ہے یہ دوا کہیے\n\nہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں\nکچھ سمجھ کر برا بھلا کہیے\n\nغیروں کے سامنے بلا کے مجھے\nکہتے ہیں دل کا مدعا کہیے\n\nنہ کوئی یار ہے نہ ہے غم خوار\nکس سے اب دل کا ماجرا کہیے\n\nپیتے ہیں جو شراب مسجد میں\nایسے لوگوں کو پارسا کہیے\n\nشرم کیا ہے مجھے جو کہنا ہو\nسامنے سب کے برملا کہیے\n\nوہ جفا گر فلک ستم گر ہے\nکسے اچھا کسے برا کہیے\n\nغیر ساتھ آپ کے مزے لوٹیں\nہم اٹھائیں جفائیں کیا کہیے\n\nبھول کر لے گیا سوئے منزل\nایسے رہزن کو رہنما کہیے\n\nچار اگر یار ہیں تو دس دشمن\nراز دل کا نہ جا بہ جا کہیے\n\nجان سے گر گیا کوئی عاشق\nعشق کی اس کو ابتدا کہیے\n\nکیا یہی شرط ہے محبت کی\nبے وفاؤں کو با وفا کہیے\n\nشیخ پیتے ہیں جو مئے الفت\nاس کو کس طرح ناروا کہیے\n\nدل کا سینہ کا اور جگر کا حال\nہے یہ واجب جدا جدا کہیے\n\nحال سنتے نہیں مرا نہ سنو\nاپنے دل کا تو ماجرا کہیے\n\nمشرقیؔ چھوڑیئے بتوں کا ذکر\nصبح اٹھ کر خدا خدا کہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B3%D8%B9%D8%AA_%D8%A8%D8%AD%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک\nگزرے ہے آبلہ پا ابر گہربار ہنوز\n\nیک قلم کاغذ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت\nنقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز\n\nداغ اطفال ہے دیوانہ بہ کہسار ہنوز\nخلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز\n\nخانہ ہے سیل سے خو کردۂ دیدار ہنوز\nدوربیں در زدہ ہے رخنۂ دیوار ہنوز\n\nآئی یک عمر سے معذور تماشہ نرگس\nچشم شبنم میں نہ ٹوٹا مژۂ خار ہنوز\n\nکیوں ہوا تھا طرف آبلۂ پا یارب\nجادہ ہے وا شدن پیچش طومار ہنوز\n\nہوں خموشیٔ چمن حسرت دیدار اسدؔ\nمژہ ہے شانہ کش طرۂ گفتار ہنوز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B3%D8%B9%D8%AA_%D8%B3%D8%B9%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%D8%AA%D8%A7_%D8%B3%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%DA%A9"} {"title": "وسعتیں محدود ہیں ادراک انساں کے لئے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وسعتیں محدود ہیں ادراک انساں کے لئے\nورنہ ہر ذرہ ہے دنیا چشم عرفاں کے لئے\n\nاے خزاں تو شوق کے سارا چمن برباد کر\nچند پھانسیں چھوڑ جا میری رگ جاں کے لئے\n\nدور پہونچیں شہرتیں رفتار سحر آثار کی\nکھل گئے رستے ترے حسن خراماں کے لئے\n\nپھول گلشن کے نہیں تو خاک صحرا ہی سہی\nکچھ نہ کچھ تو چاہئے تسکین داماں کے لئے\n\nاس لئے دیتا دل تم کو کہ لو اور بھول جاؤ\nمیں نے اک تصویر دی ہے طاق نسیاں کے لئے\n\nدھجیاں اڑنے کو اے سیمابؔ وسعت چاہئے\nہے کوئی میدان آشوب گریباں کے لئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B3%D8%B9%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D8%AF%D9%88%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AF%D8%B1%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92"} {"title": "وصال", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وہ نہیں تھی تو دل اک شہر وفا تھا جس میں\nاس کے ہونٹوں کے تصور سے تپش آتی تھی\nاس کے انکار پہ بھی پھول کھلے رہتے تھے\nاس کے انفاس سے بھی شمع جلی جاتی تھی\n\nدن اس امید پہ کٹتا تھا کہ دن ڈھلتے ہی\nاس نے کچھ دیر کو مل لینے کی مہلت دی ہے\nانگلیاں برق زدہ رہتی تھیں جیسے اس نے\nاپنے رخساروں کو چھونے کی اجازت دی ہے\n\nاس سے اک لمحہ الگ رہ کے جنوں ہوتا تھا\nجی میں تھی اس کو نہ پائیں گے تو مر جائیں گے\nوہ نہیں ہے تو یہ بے نور زمانہ کیا ہے\nتیرگی میں کسے ڈھونڈیں گے کدھر جائیں گے\nپھر ہوا یہ کہ اسی آگ کی ایسی رو میں\nہم تو جلتے تھے مگر اس کا نشیمن بھی جلا\nبجلیاں جس کی کنیزوں میں رہا کرتی تھیں\nدیکھنے والوں نے دیکھا کہ وہ خرمن بھی جلا\nاک زلیخائے خود آگاہ کا دامن بھی جلا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84"} {"title": "وصال یار بھی ہے دور میں شراب بھی ہے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصال یار بھی ہے دور میں شراب بھی ہے\nقمر بھی ہے مرے پہلو میں آفتاب بھی ہے\n\nیہ حسن کی نہیں جادوگری تو پھر کیا ہے\nکہ تیری آنکھ میں شوخی بھی ہے حجاب بھی ہے\n\nکسی کو تاب کہاں ہے کہ تجھ کو دیکھ سکے\nجو نور ہے ترے رخ پر وہی نقاب بھی ہے\n\nثبوت عشق کو یہ دو گواہ کافی ہیں\nجگر میں داغ بھی ہے دل میں اضطراب بھی ہے\n\nغرور حسن تجھے جس قدر ہو زیبا ہے\nخدا کے فضل سے صورت بھی ہے شباب بھی ہے\n\nستم کی چال ستم کی ادا ستم کی نگاہ\nترے ستم کا ستم گر کوئی حساب بھی ہے\n\nمرے لیے نہیں پینے کی کچھ کمی ساقی\nکہ چشم مست بھی ہے ساغر شراب بھی ہے\n\nجلیلؔ نے تمہیں چاہا تو کیا گناہ کیا\nتمہیں بتاؤ تمہارا کوئی جواب بھی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "وصف اپنے دنوں کے کس سے کہیے سارے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "وصف اپنے دنوں کے کس سے کہیے سارے\nاس شوخ کی تمکیں نے تو جی ہی مارے\nبالوں میں چھپا منھ نہ کبھو یوں پوچھا\nکہہ میرؔ گئی ہے رات کیوں کر بارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "وصل آسان ہے کیا مشکل ہے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل آسان ہے کیا مشکل ہے\nتجھ کو یہ دھیان ہے کیا مشکل ہے\n\nوضع کا دھیان ہے کیا مشکل ہے\nدوست نادان ہے کیا مشکل ہے\n\nہونٹ پر جان ہے کیا مشکل ہے\nمشکل آسان ہے کیا مشکل ہے\n\nہائے دیوانہ بنا کر کہنا\nپھر بھی اک شان ہے کیا مشکل ہے\n\nاب جگہ چاہیے وحشت کو مری\nتنگ میدان ہے کیا مشکل ہے\n\nجس کو مر مٹ کے مٹایا تھا ابھی\nپھر وہی دھیان ہے کیا مشکل ہے\n\nبے بلائے کہیں جانے کے نہیں\nآ پڑی آن ہے کیا مشکل ہے\n\nہم نہ اٹھتے ہیں نہ وہ دیتے ہیں\nہاتھ میں پان ہے کیا مشکل ہے\n\nہم کو سمجھائے سمجھ ناصح کی\nپھر یہ احسان ہے کیا مشکل ہے\n\nمیرے بد عہد کو اللہ رکھے\nموت آسان ہے کیا مشکل ہے\n\nاس نے رکھا ہے وہ درباں جس سے\nجان پہچان ہے کیا مشکل ہے\n\nشیخ کرتا ہے بتوں کی غیبت\nپھر مسلمان ہے کیا مشکل ہے\n\nحسن پر خلق مٹی جاتی ہے\nجو ہے قربان ہے کیا مشکل ہے\n\nہجر میں جان نکلتی نہیں آہ\nیہ بھی ارمان ہے کیا مشکل ہے\n\nبندگی بت کی خدا کے بندے\nکفر ایمان ہے کیا مشکل ہے\n\nچارہ گر کو ہے مرے فکر دوا\nدرد ہی جان ہے کیا مشکل ہے\n\nبزم میں زہر اگلنے کو عدو\nدر پہ دربان ہے کیا مشکل ہے\n\nیوں تو پہلے بھی محبت تھی حفیظؔ\nاب تو ایمان ہے کیا مشکل ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%A2%D8%B3%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "وصل بننے کا کچھ بناؤ نہیں", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل بننے کا کچھ بناؤ نہیں\nواں لگا دل جہاں لگاؤ نہیں\n\nپاؤں کیوں دابنے نہیں دیتے\nگر کسی کا تمہیں دباؤ نہیں\n\nزخم دل کا علاج کیا کیجے\nقابل مرہم اپنا گھاؤ نہیں\n\nایسے دریا میں بہہ چلے ہیں کہ آہ!\nجس میں ٹاپو نہیں ہے ناؤ نہیں\n\nہے بہت جلوہ گاہ یار بلند\nدیکھیں کیا یاں سے کچھ دکھاؤ نہیں\n\nبل بے تیری سجاوٹیں اللہ\nکچھ قیامت ہے یہ بناؤ نہیں\n\nدسترس واں ذرا نہیں اور ہائے\nدل میں کیا کیا ہمارے چاؤ نہیں\n\nلے کے دل یوں کہے ہے چتون میں\nاب مری بزم میں تم آؤ نہیں\n\nدرد پنہاں سے جی ہی نکلے ہے\nکیا کہیں تم سے کچھ چھپاؤ نہیں\n\nگر سفر کو سدھارے ہو تو آؤ\nجا کے واں چھاؤنی تو چھاؤ نہیں\n\nکیونکہ جرأتؔ لگائیں ہم لگا\nکہ فرشتے کا واں لگاؤ نہیں\n\nاور تو اور چوری چوری سے\nبات کر لینے کا بھی داؤ نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%A8%D9%86%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A4_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وصل بھی ہوگا حسنؔ تو ٹک تو استقلال کر", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل بھی ہوگا حسنؔ تو ٹک تو استقلال کر\nحال اپنا ہم سے کہہ کہہ ہم کو مت بے حال کر\n\nسارباں گرم حدی ہے اور جرس ہے نعرہ زن\nتو بھی ٹک محمل کے آگے گرد مجنوں حال کر\n\nشمع ساں جتنا سنایا حال رو رو اس کو میں\nاٹھ گیا آخر وہ سب باتیں ہنسی میں ٹال کر\n\nمشق جور و ظلم تو کرتا ہی جاتا ہے وہ شوخ\nتو بھی دل صبر و تحمل کا اب استعمال کر\n\nعیش و عشرت کو نہ دے تو راہ دل میں اے حسنؔ\nدرد و غم ہی سے کسی کے اس کو مالا مال کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7_%D8%AD%D8%B3%D9%86%D8%94_%D8%AA%D9%88_%D9%B9%DA%A9_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D9%82%D9%84%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "وصل سے تب بھرے ہمارا پیٹ", "poet_page": "مصنف:منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل سے تب بھرے ہمارا پیٹ\nپیٹ سے جب ملے تمہارا پیٹ\n\nتھک گئے ہم تو بھرتے بھرتے اسے\nکھاتے کھاتے کبھی نہ ہارا پیٹ\n\nصاف دریائے حسن کا ہے پاٹ\nکیسا دلچسپ ہے تمہارا پیٹ\n\nناف تیری ہے یار نافۂ مشک\nاور فضائے ختن ہے سارا پیٹ\n\nہوا نظارۂ شکم نہ نصیب\nسحرؔ ہر چند ہم نے مارا پیٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D9%B9"} {"title": "وصل میں آپس کی حجت اور ہے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل میں آپس کی حجت اور ہے\nاس شکر رنجی میں لذت اور ہے\n\nکچھ نہیں وعدہ خلافی کا گلہ\nآپ سے ہم کو شکایت اور ہے\n\nصبح ہوتے ہی بدل جائے گی آنکھ\nرات بھر ان کی عنایت اور ہے\n\nوعظ کہتا ہے جو مے خانے کے پاس\nمے کشو واعظ کی نیت اور ہے\n\nسانس اکھڑی ہے ترے بیمار کی\nاب کوئی دم کی مصیبت اور ہے\n\nحوریں بھی اچھی ہیں اے زاہد مگر\nان پری زادوں کی صورت اور ہے\n\nعلم جوہر ہے حفیظؔ انسان کا\nسچ ہے لیکن آدمیت اور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%BE%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%AC%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "وصل میں بگڑے بنے یار کے اکثر گیسو", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل میں بگڑے بنے یار کے اکثر گیسو\nالجھے سلجھے مری تقدیر سے شب بھر گیسو\n\nمیں نہ مانوں گا یہ ظلمت اسے کس دن ہو نصیب\nہو گئے ہوں گے شریک شب محشر گیسو\n\nکہنے سننے سے اگر وصل ہوا بھی تو کیا\nضد سے بیٹھے وہ بنایا کیے شب بھر گیسو\n\nچاہتے ہیں کہ پریشاں پس مردن بھی رہوں\nکھول دیتے ہیں مری گور پر آ کر گیسو\n\nاڑ چلا اور بھی وہ رشک پری زاداں سے\nبن گئے حسن کے پرواز کو شہپر گیسو\n\nآرزو ہے کہ شب قدر ہو یا شام امید\nکچھ دکھائے نہ خدا تیرے دکھا کر گیسو\n\nیہ بھی تقدیر کے ہیں پیچ وگرنہ تسلیمؔ\nمجھ سا آزاد ہو پابند معنبر گیسو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%AF%DA%91%DB%92_%D8%A8%D9%86%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88"} {"title": "وصل میں خوش کبھی دل ہجر میں جلتے دیکھا", "poet_page": "مصنف:عنایت اللہ روشن بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل میں خوش کبھی دل ہجر میں جلتے دیکھا\nرنگ نیرنگ جہاں سے یہ بدلتے دیکھا\n\nاف رے اے درد جدائی ترے صدمے شب ہجر\nدل کی آنکھوں سے لہو ہو کے نکلتے دیکھا\n\nداغ پر داغ اٹھائے جو لکھا تھا وہ ہوا\nسچ ہے قسمت کے نوشتہ کو نہ ٹلتے دیکھا\n\nکچھ تو ہے لطف محبت میں جو ہوتے ہیں فنا\nشمع پروانہ کو ہر بزم میں جلتے دیکھا\n\nدیکھ کر چلئے زمانہ کا نشیب اور فراز\nکھا کے ٹھوکر جو گرا پھر نہ سنبھلتے دیکھا\n\nکون ہوتا ہے برے وقت میں اے یار شریک\nخاک پر چھوڑ کے تن روح کو چلتے دیکھا\n\nداغ تازہ دئے نیرنگ فلک نے اس کو\nباغ عالم میں جسے پھولتے پھلتے دیکھا\n\nوقت کی قدر نہ کی لہو و لعب میں جس نے\nعمر بھر دست تأسف اسے ملتے دیکھا\n\nہو مرے سامنے کیا خاک مقابل کو فروغ\nکھوٹا سکہ کہیں بازار میں چلتے دیکھا\n\nفرقت طالب و مطلوب غضب ہے روشنؔ\nجان کو جسم سے رک رک کے نکلتے دیکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "وصل میں ذکر غیر کا نہ کرو", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل میں ذکر غیر کا نہ کرو\nخوش کیا ہے تو پھر خفا نہ کرو\n\nزلفوں پر مجھ کو شیفتہ نہ کرو\nان بلاؤں میں مبتلا نہ کرو\n\nمیری اتنی تو بات مانو بھلا\nبات اغیار سے کیا نہ کرو\n\nملنے دوں گا نہ غیر سے تم کو\nکرو مجھ سے ملاپ یا نہ کرو\n\nمر بھی جاؤں کہیں یہ روگ مٹے\nاے طبیبوں مری دوا نہ کرو\n\nمنہ چھپانا ہی ہے اگر منظور\nمیرے آنکھوں تلے پھرا نہ کرو\n\nاے گل ان دنوں روؤ گے\nکھلکھلا کر بہت ہنسا نہ کرو\n\nبوسہ لینے دو کچھ تو ہو تقصیر\nہدف تیر بے خطا نہ کرو\n\nجان صدقے کروں جو قدر کرو\nدل تمہیں دوں اگر دغا نہ کرو\n\nکبھی فریادتاً سنو میری\nکون کہتا ہے تم جفا نہ کرو\n\nغیر پر کیوں نگاہ کرتے ہو\nمجھ کو اس تیر کا نشانہ کرو\n\nدو گھڑی کے لیے ہم آئے ہیں\nتلخ باتوں سے بے مزا نہ کرو\n\nایک پرزے پہ لکھ کے یہ دو حرف\nدوستو یار کو روانہ کرو\n\nجلد آؤ کہ دم نکلتا ہے\nمجھ کو پیٹو اگر بہانہ کرو\n\nبحرؔ شاکر رہو مقدر پر\nکس و ناکس سے التجا نہ کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "وصل میں رفتار معشوقانہ دکھلاتی ہے نیند", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل میں رفتار معشوقانہ دکھلاتی ہے نیند\nآج کن اٹکھیلیوں سے آنکھوں میں آتی ہے نیند\n\nیاد چشم سرمگیں میں شب کو گر آتی ہے نیند\nصورت مرغ نگہ آنکھوں سے اڑ جاتی ہے نیند\n\nفرقت دل دار میں سہواً اگر آتی ہے نیند\nآنکھ سے باہر ہی باہر آ کے پھر جاتی ہے نیند\n\nعین بے ہوشی ہے ہشیاری نہ سمجھا چاہئے\nاہل غفلت کی تو بیداری بھی کہلاتی ہے نیند\n\nکروٹیں لے لے کے کہتے ہیں شب فرقت میں ہم\nکس طرح اے خفتگان خاک آ جاتی ہے نیند\n\nان کی فرقت میں نہ پوچھو سرگزشت خواب چشم\nآج کل پائے نگہ کی ٹھوکریں کھاتی ہے نیند\n\nسبزۂ خوابیدہ گلشن کا جب آتا ہے ذکر\nتب قفس میں کوئی دم بلبل کو آ جاتی ہے نیند\n\nفرقت دل دار میں سونے کو مرنا کہتے ہیں\nعاشقوں میں خواب مرگ ایسے ہی کہلاتی ہے نیند\n\nنیند کو بھی نیند آ جاتی ہے ہجر یار میں\nچھوڑ کر بے خواب مجھ کو آپ سو جاتی ہے نیند\n\nکہتے ہیں سونا اسے چونکا نہ روز حشر تک\nاس ہماری بخت خفتہ کی قسم کھاتی ہے نیند\n\nکیا غلط سمجھے وہ آئے گا پھڑکتی ہے جو آنکھ\nآنکھ میں خوف شب فرقت سے تھراتی ہے نیند\n\nفرقت دل دار میں جو رات بھر آئی نہ تھی\nوصل میں آتی ہوئی آنکھوں شرماتی ہے نیند\n\nمنتظر رکھتی ہے غمزے کرتی ہے آتی نہیں\nاو بت ترسا تری فرقت میں ترساتی ہے نیند\n\nکوئے جاناں سے جو اٹھتا ہوں تو سو جاتے ہیں پاؤں\nدفعتاً آنکھوں سے پاؤں میں اتر آتی ہے نیند\n\nگرمیٔ سوز جگر بیتاب کر دیتی ہے جب\nٹھنڈی سانسیں ایسی بھرتا ہوں کہ آ جاتی ہے نیند\n\nتیغ کا پھل کھایا آب تیغ پی کر سو رہے\nکثرت آب و غذا سے واقعی آتی ہے نیند\n\nصورت زاہد نہ جاگو حضرت دل سو رہو\nقبلۂ من کعبۂ مقصود دکھلاتی ہے نیند\n\nاس مری دیوانگی پر اے جنوں پتھر پڑیں\nآنکھ کے ڈھیلے لگاتا ہوں اگر آتی ہے نیند\n\nواہ رے تاثیر الفت بل بے فرط اتحاد\nغش پہ غش آتے ہیں مجھ کو جب انہیں آتی ہے نیند\n\nسوتے ہو تو چشم بددور آنکھیں رہتی ہیں کھلی\nفتنۂ بیدار کیا ایسے ہی کہلاتی ہے نیند\n\nہجر میں سونے کی ایسی ہی تمنا اے وزیرؔ\nدیکھتا ہوں اس کو حسرت سے جسے آتی ہی نیند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%B9%D8%B4%D9%88%D9%82%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%AF"} {"title": "وصل میں وہ چھیڑنے کا حوصلہ جاتا رہا", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل میں وہ چھیڑنے کا حوصلہ جاتا رہا\nتم گلے سے کیا ملے سارا گلہ جاتا رہا\n\nیار تک پہنچا دیا بیتابی دل نے ہمیں\nاک تڑپ میں منزلوں کا فاصلہ جاتا رہا\n\nایک تو آنکھیں دکھائیں پھر یہ شوخی سے کہا\nکہیے اب تو کم نگاہی کا گلہ جاتا رہا\n\nروز جاتے تھے خط اپنے روز آتے تھے پیام\nایک مدت ہو گئی وہ سلسلہ جاتا رہا\n\nرو رہے تھے دل کو ہم یاں ہوش بھی جاتے رہے\nگمشدہ یوسف کے پیچھے قافلہ جاتا رہا\n\nمڑ کے قاتل نے نہ دیکھا وار پورا ہو گیا\nکشتگان نیم بسمل کا گلہ جاتا رہا\n\nوادئ غربت کے ساتھی ہیں ہمیں دل سے عزیز\nرو دئیے ہم پھوٹ کر جب آبلہ جاتا رہا\n\nبے خودی میں محو نظارہ تھے ہم کیوں چونک اٹھے\nہائے وہ اپنا مزے کا مشغلہ جاتا رہا\n\nکیا مہذب بن کے پیش یار بیٹھے ہیں جلیلؔ\nآج وہ جوش جنوں وہ ولولہ جاتا رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D9%88%D8%B5%D9%84%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے\nنہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہے\n\nقطع امید نے دل کر دیے یکسو صد شکر\nشکل مدت میں یہ اللہ نے دکھلائی ہے\n\nقوت دست خدائی ہے شکیبائی میں\nوقت جب آ کے پڑا ہے یہی کام آئی ہے\n\nڈر نہیں غیر کا جو کچھ ہے سو اپنا ڈر ہے\nہم نے جب کھائی ہے اپنے ہی سے زک کھائی ہے\n\nنشہ میں چور نہ ہوں جھانجھ میں مخمور نہ ہوں\nپند یہ پیر خرابات نے فرمائی ہے\n\nنظر آتی نہیں اب دل میں تمنا کوئی\nبعد مدت کے تمنا مری بر آئی ہے\n\nبات سچی کہی اور انگلیاں اٹھیں سب کی\nسچ میں حالیؔ کوئی رسوائی سی رسوائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "وصل کا عیش کہاں پر غم ہجراں تو ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل کا عیش کہاں پر غم ہجراں تو ہے\nلب خنداں تو نہیں دیدۂ گریاں تو ہے\n\nآرزو اور تو کچھ ہم کو نہیں دنیا میں\nہاں مگر ایک ترے ملنے کا ارماں تو ہے\n\nحال کیا پوچھے ہے حیرت کدۂ دہر کا دیکھ\nآئنہ یاں کا ہر اک دیدۂ حیراں تو ہے\n\nدام سے خط کے چھٹا دل تو نہیں خاطر جمع\nقید کرنے کو ابھی زلف پریشاں تو ہے\n\nلے چلا دل کو جو وہ شوخ تو ہمدم نہ بلا\nآپھی آوے گا وہ ہم پاس ابھی جاں تو ہے\n\nگو نہ ہو عیش کا اسباب میسر تو نہ ہو\nواسطے دل کے غم و درد کا ساماں تو ہے\n\nایک ہی دم میں کیا سر کو جدا خوب کیا\nتیغ کا تیری یہ سر پر مرے احساں تو ہے\n\nگو ہوئے جیب کے ٹکڑے تو نہیں غم ہم کو\nچاک کرنے کو ہمارا ابھی داماں تو ہے\n\nجو پڑے عشق کی آفت میں وہی جانے حسنؔ\nخلق کے کہنے میں یوں عاشقی آساں تو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "وصل کی آرزو کئے نہ بنی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل کی آرزو کئے نہ بنی\nنہ بنی جستجو کئے نہ بنی\n\nشوق نے ہم کلام کر ہی دیا\nان سے بے گفتگو کئے نہ بنی\n\nجب رکا خون بن گئی دم پر\nچاک دل کو رفو کئے نہ بنی\n\nذلت عشق ہے وہاں عزت\nشکوہ آبرو کئے نہ بنی\n\nپاک ہونا ہے رند کو لازم\nمے کشی بے وضو کئے نہ بنی\n\nقتل ٹھہرا جو شیوۂ معشوق\nہمیں دل کو لہو کئے نہ بنی\n\nاس کی تصویر سے بھی تھا یہ خوف\nداغؔ کو گفتگو کئے نہ بنی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DA%A9%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%DB%8C"} {"title": "وصل کی امید بڑھتے بڑھتے تھک کر رہ گئی", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل کی امید بڑھتے بڑھتے تھک کر رہ گئی\nصبح کاذب اور کیا کرتی چمک کر رہ گئی\n\nدل شب غم کاٹ لایا دم ہوا لیکن ہوا\nاک کلی تھی جو سحر ہوتے مہک کر رہ گئی\n\nنا شناس روئے خوش حالی ہے طبع غم نصیب\nجب مسرت سامنے آئی جھجک کر رہ گئی\n\nمجھ کو جلنے دے ابھی اے موت کیوں دنیا کہے\nآگ کیسی تھی جو سینے میں بھڑک کر رہ گئی\n\nکوئی کیا دیکھے بہار روئے قاتل بعد ذبح\nکیوں کھلے وہ آنکھ جو حسرت سے تک کر رہ گئی\n\nمیرے دل کے زخم اور ان کی شماتت دیکھیے\nہنس دیئے کشت تمنا جب لہک کر رہ گئی\n\nکیا تمنا تھی یہ بیتابی جسے رکنا پڑا\nتنگ تھا صحن قفس بلبل پھڑک کر رہ گئی\n\nلوگ کہتے ہیں کھلا تھا رات بھر باب قبول\nکس طرف میری دعا ثاقبؔ بھٹک کر رہ گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DA%A9_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "وصل کی ان بتوں سے آس نہیں", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل کی ان بتوں سے آس نہیں\nکہ ٹکے دکشنا کو پاس نہیں\n\nامتحان وفا پہ کرب فراق\nپاس ہیں ہائے اور پاس نہیں\n\nنفس کو مار کر ملے جنت\nیہ سزا قابل قیاس نہیں\n\nدم میں یہ آنا اور جانا کیا\nآپ انساں ہیں کچھ حواس نہیں\n\nخوف ویراں ہوا ہے خانۂ دل\nآس کیسی کہ یاں تو یاس نہیں\n\nکعبہ میں جا کے کیا کریں زاہد\nواں کی آب و ہوا ہی راس نہیں\n\nشاعری ہے مری کہ سحر حلال\nبھلا کہہ دیں تو حق شناس نہیں\n\nپاؤں کس سے مذاق شعر کی داد\nآج فیضیؔ و کالیداسؔ نہیں\n\nجام خورشید میں ہے آب حیات\nرام رنگی کا یہ گلاس نہیں\n\nکیفیؔ اور جام بادہ سے انکار\nتم کو کچھ نام کا بھی پاس نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%B3_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں\nآرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیں\n\nبے زبانی ترجمانی شوق بے حد ہو تو ہو\nورنہ پیشِ یار کام آتی ہیں تقریریں کہیں\n\nمِٹ رہی ہیں دل سے یادیں روز گارِ عیش کی\nاب نظر کاہے کو آئیں گی یہ تصویریں کہیں\n\nالتفات یار تھا اک خوابِ آغازِ وفا\nسچ ہوا کرتی ہیں ان خوابوں کی تعبیریں کہیں\n\nتیری بے صبری ہے حسرتؔ خامکاری کی دلیل\nگریۂ عشاّق میں ہوتی ہیں تاثیریں کہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%86%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وصل کی رات ہے آخر کبھی عریاں ہوں گے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل کی رات ہے آخر کبھی عریاں ہوں گے\nمیں پشیماں ہوں تو کیا وہ نہ پشیماں ہوں گے\n\nآپ مر جاؤں گا تو آ کہ نہ آ او ظالم\nآج وہ دن ہے کہ مجھ پر مرے احساں ہوں گے\n\nغیر کی شکل بنیں گے کبھی خود ان کا شوق\nہم بھی دیکھیں تو کہاں تک نہ وہ پرساں ہوں گے\n\nدل جو روٹھا تو منانے سے کہیں منتا ہے\nیہ ستم باعث حسرت تجھے اے جاں ہوں گے\n\nآج بہروپ عدو کا ہے بنایا میں نے\nاب تو وہ بھی مرے انداز پہ قرباں ہوں گے\n\nان کو پہنیں گے مرے دشت جنوں کے کانٹے\nیہ وہ دامن ہیں کہ آخر کو گریباں ہوں گے\n\nبرہمی دوری جاناں میں انہیں ہوگی نسیمؔ\nمیرے نالے اثر فکر غزل خواں ہوں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "وصل کی شب بھی ادائے رسم حرماں میں رہا", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل کی شب بھی ادائے رسم حرماں میں رہا\nصبح تک میں التماس شوق پنہاں میں رہا\n\nمر گئے لاکھوں شہید ناز کچھ پروا نہیں\nوہ تماشائے ہلال عید قرباں میں رہا\n\nکام اپنا کر چکی بیماریٔ عشق بتاں\nمیں فریب نسخۂ و تاثیر درماں میں رہا\n\nواہ رے پاس وفا اللہ ری شرم آرزو\nہر نفس ہم راہیٔ عمر گریزاں میں رہا\n\nکیا پڑھے اشعار تسلیمؔ جگر افگار نے\nشور تحسیں ہر طرف بزم سخنداں میں رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D8%B3%D9%85_%D8%AD%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا\nحوصلہ دل کا جو تھا دل میں بدستور رہا\n\nعمر رفتہ کے تلف ہونے کا آیا تو خیال\nلیکن اک دم کی تلافی کا نہ مقدور رہا\n\nجمع کس دن نہ ہوئے موسم گل میں میکش\nروز ہنگامہ تہ سایۂ انگور رہا\n\nگردش بخت کہاں سے ہمیں لائی ہے کہاں\nمنزلوں وادئ غربت سے وطن دور رہا\n\nراست بازی کر اگر ناموری ہے درکار\nدار سے خلق میں آوازۂ منصور رہا\n\nوہ تو ہے چرخ چہارم پہ یہ پچ محلے پر\nسچ ہے عیسیٰ سے بھی بالا ترا مزدور رہا\n\nفصل گل آئی گئی صحن چمن میں سو بار\nاپنے سر میں تھا جو سودا وہ بدستور رہا\n\nجلوۂ برق تجلی نظر آیا نہ کبھی\nمدتوں جا کے وہاں میں شجر طور رہا\n\nزلف و رخ دونوں ہیں جانے سے جوانی کے خراب\nمشک وہ مشک نہ کافور وہ کافور رہا\n\nغول صحرا نے مرا ساتھ نہ چھوڑا شب بھر\nلے کے مشعل کبھی نزدیک کبھی دور رہا\n\nہم بھی موجود تھے کل محفل جاناں میں امیرؔ\nرات کو دیر تلک آپ کا مذکور رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D9%85%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "وصل کے دن کا اشارہ ہے کہ ڈھل جاؤں گا", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل کے دن کا اشارہ ہے کہ ڈھل جاؤں گا\nدل یہ کہتا ہے کہ قابو سے نکل جاؤں گا\n\nآتش عشق بڑھی جاتی ہے بیٹھو دم بھر\nگرم رفتار رہو گے تو میں جل جاؤں گا\n\nانتظار آپ کا ایسا ہے کہ دم کہتا ہے\nنگہ شوق ہوں آنکھوں سے نکل جاؤں گا\n\nدل سے کہتا ہے شب وصل یہی شوق وصال\nمیں وہ ارمان نہیں ہوں کہ نکل جاؤں گا\n\nسیکڑوں زخم لگیں گے نہ ہٹوں گا قاتل\nشجر باغ محبت ہوں میں پھل جاؤں گا\n\nعہد طفلی سے یہ کہتا تھا مزاج جاناں\nدیکھ لینا کہ جوانی میں بدل جاؤں گا\n\nطفل اشک آنکھ تک آتا ہے یہ کہتا ہے رشیدؔ\nمجھ کو مردم نے جو روکا تو مچل جاؤں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DA%88%DA%BE%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "وصل کے لطف اُٹھاؤں کیوں کر", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل کے لطف اُٹھاؤں کیوں کر\nتاب اس جلوے کی لاؤں کیوں کر\n\nگرم جوشی کا کروں شکوہ کہ وہ\nکہتے ہیں تجھ کو جلاؤں کیوں کر\n\nکیا کروں ہائے میں بے تاب، وہ شوخ\nچین سے پاس بٹھاؤں‌کیوں کر\n\nہر بنِ مُو سے دھواں اٹھتا ہے\nآتشِ غم کو چھپاؤں کیوں کر\n\nمیرے آنے سے تم اٹھ جاتے ہیں\nبزمِ دشمن میں نہ آؤں کیوں کر\n\nیاد نے جس کی بھلایا سب کچھ\nاس کی میں یاد بھلاؤں کیوں کر\n\nآپ بھایا مجھے رونا اپنا\nکہتے ہیں ہائے میں جاؤں کیوں کر\n\nچارۂ غیر سے فرصت ہی نہیں\nدردِ دل اس کو سناؤں کیوں کر\n\nزندگانی سے خفا ہوں اپنی\nپھر کہو، تم کو مناؤں کیوں کر\n\nاس کے آتے ہی بھڑک اٹھی اور\nآتشِ دل کو بجھاؤں کیوں کر\n\nشورِ محشر ابھی چونک اٹھے گا\nشیفتہ کو میں جگاؤں کیوں کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%A7%D9%8F%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "وصل کے لمحے کہانی ہو گئے", "poet_page": "مصنف:فرحت کانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وصل کے لمحے کہانی ہو گئے\nشب کے موتی صبح پانی ہو گئے\n\nرفتہ رفتہ زندگانی ہو گئے\nغم کے لمحے جاودانی ہو گئے\n\nدولت عہد جوانی ہو گئے\nچند لمحے جو کہانی ہو گئے\n\nکیسی کچھ رنگینیاں تھیں جن سے ہم\nمحو سیر دہر فانی ہو گئے\n\nسکھ بھرے دکھ دکھ بھرے سکھ سب کے سب\nواقعات زندگانی ہو گئے\n\nمسکرائے آپ جانے کس لیے\nہم رہین شادمانی ہو گئے\n\nباتوں ہی باتوں میں راتیں اڑ گئیں\nہائے وہ دن بھی کہانی ہو گئے\n\nتم نے کچھ دیکھا خلوص جذب شوق\nسنگ ریزے گل کے پانی ہو گئے\n\nفرحتؔ ایسی بت پرستی کے نثار\nبت بھی محو لن ترانی ہو گئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D9%85%D8%AD%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "وطن", "poet_page": "مصنف:عظمت اللہ خاں", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مری جان ہو کہ مرا بدن\nترا جلوہ گاہ ہے اے وطن\nتری خاک ان کا خمیر ہے\nمرے خون میں یہ جھلک تری\nمری نبض میں یہ چپک تری\nمری سانس تری صفیر ہے\nتری خاک جگ کا خلاصہ ہے\nتیرا حسن ایک تماشا ہے\nتری پھیلی گود کہ باغ ہے\nتری خاک پاک ذلیل ہے\nتو غلامیوں کی دلیل ہے\nتری پود شرم کا داغ ہے\nتجھے ماسوا سے گرا دیا\nہمیں ماسوا نے مٹا دیا\nہوئے تفرقوں سے تمام ہم\nتجھے جب تلک کہ بھلا رکھا\nہمیں وقت نے بھی مٹا رکھا\nبنے گھر میں اپنے غلام ہم\nترے خون ہیں یہ پھٹے پھٹے\nترے پوت ہیں یہ بٹے بٹے\nترے دل جگر ہیں یہ بے وفا\nترا کچھ لہو ہی سفید ہے\nکہ عجب طرح کا یہ بھید ہے\nنہیں بھائی بھائی سے آشنا\nنہیں غیر کا ہمیں کچھ گلا\nکہ غلامیوں کا یہ پھل ملا\nہمیں تفرقہ کے جنون سے\nترے دودھ میں مری پیاری ماں\nنہیں درد کی کوئی بجلیاں\nکہ ملا دے خون کو خون سے\nہمیں بھائیوں سے غرور ہیں\nترے جہل و وہم میں چور ہیں\nکہ جو کام ہیں سو خطا کے ہیں\nکہیں ذات پات کی لاگ ہے\nکہیں دین دھرم کی آگ ہے\nکہیں بیر مفت خدا کے ہیں\nجنہیں پیت ہے انہیں جیت ہے\nیہی جگ میں جیت کی ریت ہے\nترے پوت اپنوں سے غیر ہیں\nہمیں غیریت یہ مٹانی ہے\nہمیں جیت آپ پہ پانی ہے\nاسی گھر کے غیر سے غیر ہیں\nترے پوت بھائی ہیں بھائی ہوں\nترے دل سے سب ہی فدائی رہوں\nکہ تو آپ اپنی مثال ہو\nترے زور کی یہی دھاک ہو\nکہ جہاں برائی سے پاک ہو\nترا علم حق کا کمال ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B7%D9%86"} {"title": "وطن آشوب", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سبزہ و برگ و لالہ و سرو و سمن کو کیا ہوا\nسارا چمن اداس ہے ہائے چمن کو کیا ہوا\n\nاک سکوت ہر طرف ہوش ربا و ہولناک\nخلد وطن کے پاسباں خلد وطن کو کیا ہوا\n\nرقص طرب کدھر گیا نغمہ طراز کیا ہوئے\nغمزہ و ناز کیا ہوئے عشوہ و فن کو کیا ہوا\n\nجس کی نوائے دلستاں زخمۂ ساز شوق تھی\nکوئی بتاؤ اس بت غنچہ دہن کو کیا ہوا\n\nچشمک دم بدم نہیں مشق خرام و رم نہیں\nمیرے غزال کیا ہوئے میرے ختن کو کیا ہوا\n\nچھائی ہے کیوں فسردگی عالم حسن و عشق پر\nآج وہ نل کدھر گئے آج دمن کو کیا ہوا\n\nآنکھوں میں خوف و یاس ہے چہرہ اداس اداس ہے\nعصر رواں کی لیلیٰ برقعہ فگن کو کیا ہوا\n\nآہ خرد کدھر گئی آہ جنوں نے کیا کیا\nآہ شباب خوگر دار و رسن کو کیا ہوا\n\nکوئی بتائے عظمت خاک وطن کہاں ہے اب\nکوئی بتائے غیرت اہل وطن کو کیا ہوا\n\nکوہ وہی دمن وہی دشت وہی چمن وہی\nپھر یہ مجازؔ جذبۂ حب وطن کو کیا ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B7%D9%86_%D8%A2%D8%B4%D9%88%D8%A8"} {"title": "وطن کا راگ", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "زمین ہند کی رتبہ میں عرش اعلیٰ ہے\nیہ ہوم رول کی امید کا اجالا ہے\n\nمسز بسنٹ نے اس آرزو کو پالا ہے\nفقیر قوم کے ہیں اور یہ راگ مالا ہے\n\nطلب فضول ہے کانٹے کی پھول کے بدلے\nنہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے\n\nوطن پرست شہیدوں کی خاک لائیں گے\nہم اپنی آنکھ کا سرمہ اسے بنائیں گے\n\nغریب ماں کے لئے درد دکھ اٹھائیں گے\nیہی پیام وفا قوم کو سنائیں گے\n\nطلب فضول ہے کانٹے کی پھول کے بدلے\nنہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے\n\nہمارے واسطے زنجیر و طوق گہنا ہے\nوفا کے شوق میں گاندھی نے جس کو پہنا ہے\n\nسمجھ لیا کہ ہمیں رنج و درد سہنا ہے\nمگر زباں سے کہیں گے وہی جو کہنا ہے\n\nطلب فضول ہے کانٹے کی پھول کے بدلے\nنہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے\n\nپہنانے والے اگر بیڑیاں پنہائیں گے\nخوشی سے قید کے گوشہ کو ہم بسائیں گے\n\nجو سنتری در زنداں کے بھی سو جائیں گے\nیہ راگ گا کے انہیں نیند سے جگائیں گے\n\nطلب فضول ہے کانٹے کی پھول کے بدلے\nنہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے\n\nزباں کو بند کیا ہے یہ غافلوں کو ہے ناز\nذرا رگوں میں لہو کا بھی دیکھ لیں انداز\n\nرہے گا جان کے ہمراہ دل کا سوز و گداز\nچتا سے آئے گی مرنے کے بعد یہ آواز\n\nطلب فضول ہے کانٹے کی پھول کے بدلے\nنہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے\n\nیہی دعا ہے وطن کے شکستہ حالوں کی\nیہی امنگ جوانی کے نونہالوں کی\n\nجو رہنما ہے محبت پہ مٹنے والوں کی\nہمیں قسم ہے اسی کے سپید بالوں کی\n\nطلب فضول ہے کانٹے کی پھول کے بدلے\nنہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے\n\nیہی پیام ہے کوئل کا باغ کے اندر\nاسی ہوا میں ہے گنگا کا زور آٹھ پہر\n\nہلال عید نے دی ہے یہی دلوں کو خبر\nپکارتا ہے ہمالہ سے ابر اٹھ اٹھ کر\n\nطلب فضول ہے کانٹے کی پھول کے بدلے\nنہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے\n\nبسے ہوئے ہیں محبت سے جن کی قوم کے گھر\nوطن کا پاس ہے ان کو سہاگ سے بڑھ کر\n\nجو شیر خار ہیں ہندوستاں کے لخت جگر\nیہ ماں کے دودھ سے لکھا ہے ان کے سینے پر\n\nطلب فضول ہے کانٹے کی پھول کے بدلے\nنہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D8%A7%DA%AF"} {"title": "وطن کا راگ (افسر میرٹھی ,I)", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے\nہر رت ہر اک موسم اس کا کیسا پیارا پیارا ہے\nکیسا سہانا کیسا سندر پیارا دیس ہمارا ہے\nدکھ میں سکھ میں ہر حالت میں بھارت دل کا سہارا ہے\nبھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے\n\nسارے جگ کے پہاڑوں میں بے مثل پہاڑ ہمالہ ہے\nپربت سب سے اونچا ہے یہ پربت سب سے نرالا ہے\nبھارت کی رکھشا کرتا ہے بھارت کا رکھوالا ہے\nلاکھوں چشمے بہتے ہیں اس میں لاکھوں ندیوں والا ہے\nبھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے\n\nگنگا جی کی پیاری لہریں گیت سناتی جاتی ہیں\nصدیوں کی تہذیب ہماری یاد دلاتی جاتی ہیں\nبھارت کی گلزاروں کو سرسبز بناتی جاتی ہیں\nکھیتوں کو ہریالی دیتی پھول کھلاتی جاتی ہیں\nبھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے\n\nہرے بھرے ہیں کھیت ہمارے دنیا کو ان دیتے ہیں\nچاندی سونے کی کانوں سے ہم جگ کو دھن دیتے ہیں\nپریم کے پیارے پھول کی خوشبو گلشن گلشن دیتے ہیں\nامن و اماں کی نعمت سب کو بھر بھر دامن دیتے ہیں\nبھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے\n\nکرشنؔ کی بنسی نے پھونکی ہے روح ہماری جانوں میں\nگوتمؔ کی آواز بسی ہے محلوں میں میدانوں میں\nچشتیؔ نے جو دی تھی مے وہ اب تک ہے پیمانوں میں\nنانکؔ کی تعلیم ابھی تک گونج رہی ہے کانوں میں\nبھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے\n\nمذہب کچھ ہو ہندی ہیں ہم سارے بھائی بھائی ہیں\nہندو ہیں یا مسلم ہیں یا سکھ ہیں یا عیسائی ہیں\nپریم نے سب کو ایک کیا ہے پریم کے ہم شیدائی ہیں\nبھارت نام کے عاشق ہیں ہم بھارت کے سودائی ہیں\nبھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D8%A7%DA%AF_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%B9%DA%BE%DB%8C_%2CI%29"} {"title": "وطن کا راگ (افسر میرٹھی ,II)", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے\nہر رت ہر موسم اس کا کیسا پیارا پیارا ہے\nکیسا سہانا کیسا سندر پیارا دیش ہمارا ہے\nدکھ میں سکھ میں ہر حالت میں بھارت دل کا سہارا ہے\n\nبھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے\n\nسارے جگ کے پہاڑ میں بے مثل پہاڑ ہمالہ ہے\nپربت سب سے اونچا ہے یہ پربت سب سے نرالا ہے\nبھارت کی رکشا کرتا ہے یہ بھارت کا رکھوالا ہے\nلاکھوں چشمے بہتے ہیں یہ لاکھوں ندیوں والا ہے\n\nبھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے\n\nگنگا جی کی پیاری لہریں گیت سناتی جاتی ہیں\nصدیوں کی تہذیب ہماری یاد دلاتی جاتی ہیں\nبھارت کے گلزاروں کو سرسبز بناتی جاتی ہیں\nکھیتوں کو ہریالی دیتی پھول کھلاتی جاتی ہیں\n\nبھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے\n\nکرشن کی بنسی نے پھونکی ہے روح ہماری جانوں میں\nگوتم کی آواز بسی ہے محلوں میں میدانوں میں\nچشتیؔ نے جو مے دی تھی وہ اب تک ہے پیمانوں میں\nنانکؔ کی تعلیم ابھی تک گونج رہی ہے کانوں میں\n\nبھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے\n\nمذہب کچھ ہو ہندی ہیں ہم سارے بھائی بھائی ہیں\nہندو ہیں یا مسلم ہیں یا سکھ ہیں یا عیسائی ہیں\nپریم نے سب کو ایک کیا ہے پریم کے ہم شیدائی ہیں\nبھارت نام کے عاشق ہیں ہم بھارت کے شیدائی ہیں\n\nبھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D8%A7%DA%AF_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%B9%DA%BE%DB%8C_%2CII%29"} {"title": "وطن کی لگن", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہند میرا چمن\nاس میں ہوں میں مگن\nہے اسی کی لگن\nراحت جان و تن\nمیرا پیارا وطن\nمیری عزت ہے یہ\nمیری دولت ہے یہ\nمیری عظمت ہے یہ\nمیری جنت ہے یہ\nمیرا پیارا وطن\nہند کی خاک سے\nپھول کیا کیا اگے\nلال پیلے ہرے\nمستیوں میں بسے\nمیرا پیارا وطن\nاس کے دریا بڑے\nتازگی سے بھرے\nباغ پھولے پھلے\nلہلہاتے ہوئے\nمیرا پیارا وطن\nاس کے چشمے جواں\nاس میں نہریں رواں\nجنگل اور وادیاں\nاس سے اچھی کہاں\nمیرا پیارا وطن\nیہ وطن ہے مرا\nمیں ہوں اس پر فدا\nاس پہ رکھے خدا\nاپنی رحمت سدا\nمیرا پیارا وطن\nدیس کی آس ہوں\nدیس کے پاس ہوں\nاس کی بو باس ہوں\nدیس کا داس ہوں\nمیرا پیارا وطن", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%DA%AF%D9%86"} {"title": "وطنیّت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اس دور میں مے اور ہے، جام اور ہے جم اور\nساقی نے بِنا کی روِشِ لُطف و ستم اور\nمسلم نے بھی تعمیر کِیا اپنا حرم اور\nتہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور\nان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے\nجو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے\n\nیہ بُت کہ تراشیدۂ تہذیبِ نوی ہے\nغارت گرِ کاشانۂ دینِ نبَوی ہے\nبازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے\nاسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے\nنظّارۂ دیرینہ زمانے کو دِکھا دے\nاے مصطفَوی خاک میں اس بُت کو ملا دے!\n\nہو قیدِ مقامی تو نتیجہ ہے تباہی\nرہ بحر میں آزادِ وطن صُورتِ ماہی\nہے ترکِ وطن سُنّتِ محبوبؐ الٰہی\nدے تُو بھی نبوّت کی صداقت پہ گواہی\nگُفتارِ سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے\nارشادِ نبوّت میں وطن اور ہی کچھ ہے\n\nاقوامِ جہاں میں ہے رقابت تو اسی سے\nتسخیر ہے مقصودِ تجارت تو اسی سے\nخالی ہے صداقت سے سیاست تو اسی سے\nکمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے\nاقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سے\nقومیّتِ اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B7%D9%86%DB%8C%D9%91%D8%AA"} {"title": "وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو\nہے عید کا دن اب تو گلے ہم کو لگا لو\n\nہر وقت میاں خوب نہیں گالیاں دینی\nکیا بکتے ہو تم یاوہ زباں اپنی سنبھالو\n\nپہنچے کو چھڑاؤ گے بڑے مرد ہو ایسے\nتم پہلے مرے ہاتھ سے دامن تو چھڑا لو\n\nدیوانے کا ہے تیرے یہ عالم کہ پری بھی\nدیکھ اس کو یہ کہتی ہے کوئی اس کو بلا لو\n\nاس شوخ کی آنکھوں کے جو جاتا ہوں مقابل\nکہتی ہیں نگاہیں کہ اسے مار ہی ڈالو\n\nیوں پھرتے ہو مقتل پہ شہیدان وفا کے\nدامن تو ذرا ہاتھ میں تم اپنے اٹھا لو\n\nجاں ڈالتا ہے مصحفیؔ قالب میں سخن کے\nمشکل ہے کہ تم اس کی طرح شعر تو ڈھالو\n\nگو زمزمۂ دہلی و کو لہجۂ پورب\nکیوں اس کی طرف ہوتے ہو ناحق کو رزالو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B9%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D9%BE%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%86%DB%81_%D9%B9%D8%A7%D9%84%D9%88"} {"title": "وعدہ اس ماہرو کے آنے کا", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وعدہ اس ماہرو کے آنے کا\nیہ نصیبہ سیاہ خانے کا\n\nکہہ رہی ہے نگاہ دز دیدہ\nرخ بدلنے کو ہے زمانے کا\n\nذرے ذرے میں بے حجاب ہیں وہ\nجن کو دعوی ہے منہ چھپانے کا\n\nحاصل عمر ہے شباب مگر\nاک یہی وقت ہے گنوانے کا\n\nچاندنی خامشی اور آخر شب\nآ کہ ہے وقت دل لگانے کا\n\nہے قیامت ترے شباب کا رنگ\nرنگ بدلے گا پھر زمانے کا\n\nتیری آنکھوں کی ہو نہ ہو تقصیر\nنام رسوا شراب خانے کا\n\nرہ گئے بن کے ہم سراپا غم\nیہ نتیجہ ہے دل لگانے کا\n\nجس کا ہر لفظ ہے سراپا غم\nمیں ہوں عنوان اس فسانے کا\n\nاس کی بدلی ہوئی نظر توبہ\nیوں بدلتا ہے رخ زمانے کا\n\nدیکھتے ہیں ہمیں وہ چھپ چھپ کر\nپردہ رہ جائے منہ چھپانے کا\n\nکر دیا خوگر ستم اخترؔ\nہم پہ احسان ہے زمانے کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%D8%A7%DB%81%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "وعدہ تھا جس کا حشر میں وہ بات بھی تو ہو", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وعدہ تھا جس کا حشر میں وہ بات بھی تو ہو\nیہ سن کے کس ادا سے کہا رات بھی تو ہو\n\nہم لیں بلائیں زلف کی وہ رات بھی تو ہو\nآئے مزے کی رت کہیں برسات بھی تو ہو\n\nگزرے یوں ہی تو توبہ کے دن اب سوا پیوں\nساقی ذرا تلافئ مافات بھی تو ہو\n\nاظہار آرزو کوئی ایسی خطا نہ تھی\nکیوں تیوریاں چڑھی ہیں کوئی بات بھی تو ہو\n\nپاپوش ان حسینوں کی آتی ہے میرے گھر\nان کی نظر میں کچھ مری اوقات بھی تو ہو\n\nمینا کی طرح جا کے ابھی سر جھکائیں ہم\nپیر مغاں سا قبلۂ حاجات بھی تو ہو\n\nہم میکدے کو چھوڑ کے کعبے کے ہو رہیں\nکعبے میں اس طرح کی مدارات بھی تو ہو\n\nبیعت کو سوئے شیخ بڑھیں گے ہزار ہاتھ\nحضرت سے کچھ ظہور کرامات بھی تو ہو\n\nکہنے کو اٹھ رہے گی ستم گر سے کوئی بات\nمحشر کے روز مجھ سے ملاقات بھی تو ہو\n\nبنت عنب بچھائے گی دامن پئے نماز\nزاہد مرید پیر خرابات بھی تو ہو\n\nتم کو ریاضؔ جانتے ہیں خوب یہ حسیں\nجتنے ہو نیک اتنے ہی بد ذات بھی تو ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88"} {"title": "وعدہ رہا نہ یاد مرے مست خواب کو", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وعدہ رہا نہ یاد مرے مست خواب کو\nاب کیا جواب دوں دل پر اضطراب کو\n\nزیبا غرور و ناز تھا تیرے شباب کو\nٹھکرا دیا مرے دل خانہ خراب کو\n\nچمکے جو داغ دل مرے روز سیاہ میں\nتارے دکھائی دینے لگے آفتاب کو\n\nمیدان حشر میں نہ قیامت بپا ہو اور\nمیں دل سنبھالوں آپ سنبھالیں نقاب کو\n\nلاکھوں میں چن لیا تمہیں روز شمار بھی\nدیکھو ذرا مری نگہ انتخاب کو\n\nبھر آئی آنکھ جب کبھی یاد آ گئی وہ رات\nبھولا نہ آج تک میں جوانی کے خواب کو\n\nصفدرؔ کہاں میں اور کہاں حضرت ریاض\nنسبت مگر چراغ سے ہے آفتاب کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%88"} {"title": "وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھا\nکل بدل جائے گی دنیا مجھے معلوم نہ تھا\n\nحسن ہے مشغلۂ ظلم کو گہرا پردہ\nپس پردہ ہے اندھیرا مجھے معلوم نہ تھا\n\nعشق وہ شے ہے کہ چرکے بھی مزہ دیتے ہیں\nورنہ قاتل ہیں حسیں کیا مجھے معلوم نہ تھا\n\nدل کی ضد اس لئے رکھ لی تھی کہ آ جائے قرار\nکل یہ کچھ اور کہے گا مجھے معلوم نہ تھا\n\nجھوٹی امیدوں نے کیا کیا نہ ہرے باغ لگائے\nوقت جھونکا ہے ہوا کا مجھے معلوم نہ تھا\n\nجتنے قسمت کے سہارے تھے وہ جھوٹے نکلے\nہے بندھی مٹھیوں میں کیا مجھے معلوم نہ تھا\n\nبرسوں بھٹکا کیا اور پھر بھی نہ ان تک پہونچا\nگھر تو معلوم تھا رستہ مجھے معلوم نہ تھا\n\nراز غم فاش نہ ہو اس لئے روکی تھی زباں\nچپ بھی رہ کر یہی ہوگا مجھے معلوم نہ تھا\n\nدل مزے لیتا ہے جس غم کے وہ ہے کاہش جاں\nزہر بھی ہوتا ہے میٹھا مجھے معلوم نہ تھا\n\nعشق آباد کے ناکے ہی سے رخصت ہوئے ہوش\nہے یہ دیوانوں کی دنیا مجھے معلوم نہ تھا\n\nہوگا امروز کی صورت میں ظہور فردا\nوعدہ یوں روز ٹلے گا مجھے معلوم نہ تھا\n\nآرزو ہاں بھی حسینوں کی نہیں ہوتی ہے\nان کی ہر بات ہے دھوکا مجھے معلوم نہ تھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%D8%B3%DA%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "وعدہ کبھی سچا کوئی کرتا ہی نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وعدہ کبھی سچا کوئی کرتا ہی نہیں ہے\nاندیشۂ فردا تو گزرتا ہی نہیں ہے\n\nدامن کی شکن دور سے لیتی ہے بلائیں\nبل یار کے ابرو کا اترتا ہی نہیں ہے\n\nدل سے تو مرے سینے کے پھر داغ ہی اچھے\nکم بخت ابھارے سے ابھرتا ہی نہیں ہے\n\nسب بھول گئے اس کو ترے عہد ستم میں\nاب شکوۂ گردوں کوئی کرتا ہی نہیں ہے\n\nجو جانتے ہیں بڑھ کے نشیمن سے قفس کو\nپر ایسوں کے صیاد کترتا ہی نہیں ہے\n\nکیا چیز ہے اے بادہ کشو موسم گل بھی\nاس دور میں توبہ کوئی کرتا ہی نہیں ہے\n\nاپنے ستم و جور اسے لاکھ سکھاؤ\nدرباں سے تمہارے کوئی ڈرتا ہی نہیں ہے\n\nیوں پسنے کو دل لاکھ پسیں برگ حنا پر\nوہ ہاتھ کبھی خون میں بھرتا ہی نہیں ہے\n\nکیا آ گئی اس میں دل بیتاب کی الجھن\nگیسو ہے کسی کا کہ سنورتا ہی نہیں ہے\n\nسمجھا ہے اثر کوئی بلا آہ کو میری\nڈرتا ہے وہ گردوں سے اترتا ہی نہیں ہے\n\nجب تک کوئی آئے نہ لب بام نکھر کر\nرنگ شفق شام نکھرتا ہی نہیں ہے\n\nدیوانہ ریاضؔ اوروں سے کیا بات کرے گا\nمعشوقوں سے تو بات وہ کرتا ہی نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%DA%86%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "وعدۂ وصل اور وہ کچھ بات ہے", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وعدۂ وصل اور وہ کچھ بات ہے\nہو نہ ہو اس میں بھی کوئی گھات ہے\n\nخلق ناحق درپئے اثبات ہے\nہے دہن اس کا کہاں اک بات ہے\n\nبوسۂ چاہ زنخداں غیر لیں\nڈوب مرنے کی یہ اے دل بات ہے\n\nگھر سے نکلے ہو نہتے وقت قتل\nیہ بھی بہر قتل عاشق گھات ہے\n\nمیں نے اتنا ہی کہا بنواؤ خط\nیہ بگڑنے کی بھلا کیا بات ہے\n\nبعد مدت بخت جاگے ہیں مرے\nبیٹھے ہیں سونے کو ساری رات ہے\n\nکیا کروں وصف بتان خودپسند\nان سے بڑھ کر بس خدا کی ذات ہے\n\nباتوں باتوں میں جو میں کچھ کہہ گیا\nہنس کے فرمانے لگے کیا بات ہے\n\nحرف مطلب صاف کہہ سکتا نہیں\nہے ادب مانع کہ پہلی رات ہے\n\nمجھ سے ہو اظہار الفت واہ وا\nآپ کے فرمانے کی یہ بات ہے\n\nرو رہے ہیں ہم ملا دے لب سے لب\nمے کشی ہو ساقیا برسات ہے\n\nزچ ہے تیری چال سے رفتار چرخ\nمہر رخ سے بازیٔ مہ مات ہے\n\nکیسی کٹتی ہے سیہ بختی میں عمر\nرات سے دن دن سے بد تر رات ہے\n\nچھیڑتا ہے دل کو کیا اے درد ہجر\nخود گرفتار ہزار آفات ہے\n\nاے غنی دے سیم و زر وقت بلا\nمال دنیا جان کی خیرات ہے\n\nگر جگہ دل میں نہیں پھر اس سے کیا\nیہ دوشنبے کی یہ بدھ کی رات ہے\n\nصاف کہہ دے تو یہاں آیا نہ کر\nیار یہ سو بات کی اک بات ہے\n\nلخت دل ہیں میرے کھانے کو امیرؔ\nبس انہیں ٹکڑوں پہ اب اوقات ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%82_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%88%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "وعدۂ وصل یار نے مارا", "poet_page": "مصنف:سید واجد علی فرخ بنارسی", "kind": "poetry", "section": "غزل > تجلیات فرخ (1930)", "year": "1930", "text_ur": "وعدۂ وصل یار نے مارا\nلذت انتظار نے مارا\n\nجلوۂ گل عذار نے مارا\nایک جان بہار نے مارا\n\nپائمال غم حوادث ہوں\nستم روزگار نے مارا\n\nنہ کھلا عقدۂ فریب شہود\nدیدۂ اعتبار نے مارا\n\nدست جور خزاں کا کیا شکوہ\nمجھ کو جوش بہار نے مارا\n\nجبر اور وہ بھی کس غضب کا جبر\nتہمت اختیار نے مارا\n\nدے کے فرخؔ مجھے پیام وفا\nاک تغافل شعار نے مارا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%82_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "وعدۂ وصلت سے دل ہو شاد کیا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وعدۂ وصلت سے دل ہو شاد کیا\nتم سے دشمن کی مبارک باد کیا\n\nکچھ قفس میں ان دنوں لگتا ہے جی\nآشیاں اپنا ہوا برباد کیا\n\nنالۂ پیہم سے یاں فرصت نہیں\nحضرت ناصح کریں ارشاد کیا\n\nہیں اسیر اس کے جو ہے اپنا اسیر\nہم نہ سمجھے صید کیا صیاد کیا\n\nشوخ بازاری تھی شیریں بھی مگر\nورنہ فرق خسرو و فرہاد کیا\n\nنشۂ الفت سے بھولے یار کو\nسچ ہے ایسی بے خودی میں یاد کیا\n\nنالہ اک دم میں اڑا ڈالے دھوئیں\nچرخ کیا اور چرخ کی بنیاد کیا\n\nجب مجھے رنج دل آزاری نہ ہو\nبے وفا پھر حاصل بیداد کیا\n\nپانوں تک پہنچی وہ زلف خم بہ خم\nسرو کو اب باندھئے آزاد کیا\n\nکیا کروں اللہ سب ہیں بے اثر\nولولہ کیا نالہ کیا فریاد کیا\n\nان نصیبوں پر کیا اختر شناس\nآسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا\n\nروز محشر کی توقع ہے عبث\nایسی باتوں سے ہو خاطر شاد کیا\n\nگر بہائے خون عاشق ہے وصال\nانتقام زحمت جلاد کیا\n\nبت کدہ جنت ہے چلیے بے ہراس\nلب پہ مومنؔ ہرچہ بادا باد کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%82_%D9%88%D8%B5%D9%84%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا\nجو دوست ہمارا ہے سو دشمن ہے ہمارا\n\nیہ کاہ ربا سے بھی ہیں کم اے کشش دل\nمذکور کچھ ایسا پس چلمن ہے ہمارا\n\nافسوس موئے شمع شب وصل کی مانند\nجو قہقہہ شادی ہے سو شیون ہے ہمارا\n\nمہتاب کا کیا رنگ کیا دود فغاں نے\nاحوال شب تار سے روشن ہے ہمارا\n\nدیتا نہیں اس ضعف پہ بھی جوش جنوں چین\nہر ریگ رواں دشت میں توسن ہے ہمارا\n\nتفریح نہ کیونکر ہو ہوا آ نہیں سکتی\nگویا در و دیوار نشیمن ہے ہمارا\n\nگر پاس ہے لوگوں کا تو آ جا کہ قلق سے\nہے لاش کہیں اور کہیں مدفن ہے ہمارا\n\nجذب دل اسے کھینچ کے لائے تو کہاں لائے\nجو غیر کا گھر ہے وہی مسکن ہے ہمارا\n\nبت خانے سے کعبے کو چلے رشک کے مارے\nمومنؔ خضر راہ برہمن ہے ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%B9%D8%AA_%D8%AF%D9%85_%DA%A9%D8%B4%D8%AA%D9%86_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "وعظ میں جب نہیں اثر واعظ", "poet_page": "مصنف:وحیدالدین احمد وحید", "kind": "poetry", "section": "غزل > انتخاب وحید (1939)", "year": "1939", "text_ur": "وعظ میں جب نہیں اثر واعظ\nکیوں پھراتا ہے اپنا سر واعظ\n\nترک الفت کی کھاؤں گا میں قسم\nاس گھڑی دھیان ہے کدھر واعظ\n\nمنع رونے سے کیا کرے گا مجھے\nاب تو ہے خود ہی چشم تر واعظ\n\nپھر طریق وفا سے بہکانا\nکوئی دم اور کر سفر واعظ\n\nچشم جلاد ہم نے دیکھی ہے\nاس نظر سے نہ دیکھ ادھر واعظ\n\nجانتا تھا یہ کچھ سنے گا نہیں\nہنس پڑا مجھ کو دیکھ کر واعظ\n\nفصل گل دیکھتے ہی سوجھی اور\nآ گیا اپنے رنگ پر واعظ\n\nیاد کس کس طرح کے جملے ہیں\nاپنے فن میں ہے خوب ہر واعظ", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D8%B9%D8%B8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "وفا شعار کو تو نے ذلیل و خوار کیا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وفا شعار کو تو نے ذلیل و خوار کیا\nجفا پرست یہ کیا شیوہ اختیار کیا\n\nاٹھائے سے نہ اٹھا دل کا پردۂ غفلت\nخطا ہوئی کہ ان آنکھوں پہ اعتبار کیا\n\nنگاہ مست حقیقت تو دے چکی تھی جواب\nمگر یہ دل ہی تھا پھر اس نے ہوشیار کیا\n\nنہ وہ تڑپ رہی دل میں نہ وہ رہی سوزش\nعلاج کیا تھا یہ کیا تو نے غم گسار کیا\n\nدکھا کے جلوۂ باطل کی اک جھلک اے حسن\nخدا کے بندہ کو ناحق گناہ گار کیا\n\nکسی کے بس کا دل مضطرب نہ تھا لیکن\nہمیں نے خوگر اندوہ انتظار کیا\n\nخیال عشق نے رحمت سے بھی رکھا محروم\nیہ کیا کیا کہ گناہوں پہ اعتبار کیا\n\nکہے میں آ کے دل ناصبور کے ہم نے\nتمام شب ترے آنے کا انتظار کیا\n\nتمہیں تو خاک میں ملنا تھا مل گئے آخر\nجہاں میں شوق عبث ان کو شرمسار کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%B0%D9%84%DB%8C%D9%84_%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "وفا میں برابر جسے تول لیں گے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وفا میں برابر جسے تول لیں گے\nاسے سلطنت بیچ کر مول لیں گے\n\nاجازت اگر سر پٹکنے کی ہوگی\nمقفل در یار ہم کھول لیں گے\n\nطبیبو نہ بخشے کی صحت ٹھنڈ آئے\nنہ جب تک کہ زہر اس میں ہم گھول لیں گے\n\nکسی دن جو پلٹا مقدر ہمارا\nبکے جس کے ہاتھوں اسے مول لیں گے\n\nگلوں سے نہ ہوگی جو عقدہ کشائی\nگرہ دل کے کانٹے سے ہم کھول لیں گے\n\nہمیں باغ جانے سے یہ مدعا ہے\nذرا بلبل و گل سے ہنس بول لیں گے\n\nرہائی نہ دیں گے وہ قید ستم سے\nنہ جب تک میری جان کو اول لیں گے\n\nبدن کیوں چھپاتے ہو زیور پہن کر\nجواہر کے اکے نہ ہم کھول لیں گے\n\nابھی ہم سے اور ان سے صحبت نئی ہے\nجو منہ لگ چلیں گے تو ہنس بول لیں گے\n\nغم یار بھی ابر نیساں ہے اے بحرؔ\nجو ٹپکیں گے آنسو گہر رول لیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88%D9%84_%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میں", "poet_page": "مصنف:سائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میں\nحریف قمری و پروانۂ ہزار ہوں میں\n\nجدا جدا نظر آتی ہے جلوۂ تاثیر\nقرار ہو گیا موسیٰ کو بے قرار ہوں میں\n\nخمار جس سے نہ واقف ہو وہ سرور ہیں آپ\nسرور جس سے نہ آگاہ ہو وہ خمار ہوں میں\n\nسما گیا ہے یہ سودا عجیب سر میں مرے\nکرم کا اہل ستم سے امیدوار ہوں میں\n\nعوض دوا کے دعا دے گیا طبیب مجھے\nکہا جو میں نے غم ہجر سے دو چار ہوں میں\n\nشباب کر دیا میرا تباہ الفت نے\nخزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں\n\nقرار داد گریباں ہوئی یہ دامن سے\nکہ پرزے پرزے اگر ہو تو تار تار ہوں میں\n\nمرے مزار کو سمجھا نہ جائے ایک مزار\nہزار حسرت و ارماں کا خود مزار ہوں میں\n\nظہیرؔ و ارشدؔ و غالبؔ کا ہوں جگر گوشہ\nجناب داغؔ کا تلمیذ و یادگار ہوں میں\n\nامیر کرتے ہیں عزت مری ہوں وہ سائلؔ\nگلوں کے پہلو میں رہتا ہوں ایسا خار ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D8%B3%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وفا کر کے اس کا صلا چاہتا ہوں", "poet_page": "مصنف:عزیز الحسن غوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وفا کر کے اس کا صلا چاہتا ہوں\nبڑا ناسزا ہوں سزا چاہتا ہوں\n\nبتوں کو برائے خدا چاہتا ہوں\nسر خم دل مبتلا چاہتا ہوں\n\nرہا عمر بھر چپ میں یوں ان کے آگے\nکہ جیسے کچھ ان سے کہا چاہتا ہوں\n\nستائے بھی کوئی تو پائے دعائیں\nگدا ہوں میں سب کا بھلا چاہتا ہوں\n\nبھلاتا ہوں پھر بھی وہ یاد آ رہے ہیں\nوہی چاہتے ہیں میں کیا چاہتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%B5%D9%84%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے\nکہا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے\n\nمسیحائی کا دعویٰ اور بیماروں سے یہ غفلت\nدوا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے\n\nرقیبوں پر عدو پر غیر پر چرخ ستم گر پر\nجفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے\n\nکبھی داد محبت دے کے حق میری وفاؤں کا\nادا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے\n\nزکات حسن دے کر اپنے کوچے کے گداؤں کا\nبھلا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے\n\nدل مضطرؔ کو قید دام گیسوئے پریشاں سے\nرہا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "وفا کیسی؟", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آج وہ آخری تصویر جلا دی ہم نے\nجس سے اس شہر کے پھولوں کی مہک آتی تھی\nجس سے بے نور خیالوں پہ چمک آتی تھی\nکعبۂ رحمت اصنام تھا جو مدت سے\nآج اس قصر کی زنجیر ہلا دی ہم نے\nآگ، کاغذ کے چمکتے ہوئے سینے پہ بڑھی\nخواب کی لہر میں بہتے ہوئے آئے ساحل\nمسکراتے ہوئے ہونٹوں کا سلگتا ہوا کرب\nسرسراتے ہوئے لمحوں کے دھڑکتے ہوئے دل\nجگمگاتے ہوئے آویزاں کی مبہم فریاد\nدشت غربت میں کسی حجلہ نشیں کا محمل\nایک دن روح کا ہر تار صدا دیتا تھا\nکاش ہم بک کے بھی اس جنس گراں کو پا لیں\nخود بھی کھو جائیں پر اس رمز نہاں کو پا لیں\nعقل اس حور کے چہرے کی لکیروں کو اگر\nآ مٹاتی تھی تو دل اور بنا دیتا تھا\nاور اب یاد کے اس آخری پیکر کا طلسم\nقصۂ رفتہ بنا زیست کی ماتوں سے ہوا\nدور اک کھیت پہ بادل کا ذرا سا ٹکڑا\nدھوپ کا ڈھیر ہوا دھوپ کے ہاتوں سے ہوا\nاس کا پیار اس کا بدن اس کا مہکتا ہوا روپ\nآگ کی نذر ہوا اور انہی باتوں سے ہوا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C%D8%9F"} {"title": "وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے\nبہت روئے مگر رونے نہ پائے\n\nکچھ اتنا شور تھا شہر سبا میں\nمسافر رات بھر سونے نہ پائے\n\nجہاں تھی حادثہ ہر بات باقیؔ\nوہیں کچھ حادثے ہونے نہ پائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%DB%81%D9%85_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "وفا کے ہیں خوان پر نوالے ز آب اول دوم بہ آتش", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وفا کے ہیں خوان پر نوالے ز آب اول دوم بہ آتش\nبھرے ہے ساقی یہاں پیالے ز آب اول دوم بہ آتش\n\nچمن میں جوش جنوں کے ہیں اشک اور داغ دروں سے اپنے\nکروں شگفتہ گل اور لالے ز آب اول دوم بہ آتش\n\nہمارے اشک اور آہ کی موجیں باندھ دیتی ہیں سب جو دوری\nبنے ہیں ماہ فلک پہ ہالے ز آب اول دوم بہ آتش\n\nجہاں کے سب گرم و سرد دیکھے نہ ذوق ہے ان میں کچھ نہ لذت\nدو روز چھاتی یہاں پکالے ز آب اول دوم بہ آتش\n\nدو حکم ہیں شاہ عشق کے ان میں ایک گلنا ہے ایک جلنا\nہیں دفتر درد میں قبالے ز آب اول دوم بہ آتش\n\nنہ کھول واعظ کتاب دانش کہ آتش عشق و آب مے سے\nدھوؤں جلاؤں ترے رسالے ز آب اول دوم بہ آتش\n\nستم ہے آفت ہے مہر یا کیں بلا یہ عشق ستیزہ گر کی\nدلوں کے خانے اجاڑ ڈالے ز آب اول دوم بہ آتش\n\nپڑے ہیں ہم خون دل میں غلطاں جگر ہے داغ جفا سے سوزاں\nکوئی ہے اپنے تئیں سنبھالے ز آب اول دوم بہ آتش\n\nوصال کی جستجو میں حسرتؔ چلا نہ زاری نہ زور کا کچھ\nبہت سے یاں ہم نے ڈھب نکالے ز آب اول دوم بہ آتش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%D8%B2_%D8%A2%D8%A8_%D8%A7%D9%88%D9%84_%D8%AF%D9%88%D9%85_%D8%A8%DB%81_%D8%A2%D8%AA%D8%B4"} {"title": "وفائے دوستاں کیسی جفائے دشمناں کیسی", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وفائے دوستاں کیسی جفائے دشمناں کیسی\nنہ پوچھا ہو کسی نے جس کو اس کی داستاں کیسی\n\nکچھ ایسا احترام درد الفت ہے مرے دل کو\nخموشی حکمراں ہے آہ و فریاد و فغاں کیسی\n\nکسی کو فکر آزادی نہیں اس قید رنگیں سے\nدل عالم پہ ہے چھائی ہوئی مہر بتاں کیسی\n\nبھلا ہی دیتے ہیں اس کو جو گزرا بزم عالم سے\nہے سب کو اپنی اپنی فکر یاد رفتگاں کیسی\n\nتمہارا مدعا ہی جب سمجھ میں کچھ نہیں آیا\nتو پھر مجھ پر نظر ڈالی یہ تم نے مہرباں کیسی\n\nابھی ہوتے اگر دنیا میں داغؔ دہلوی زندہ\nتو وہ سب کو بتا دیتے ہے وحشتؔ کی زباں کیسی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%AC%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C"} {"title": "وفادار ہو یا جفا کار تم ہو", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وفادار ہو یا جفا کار تم ہو\nجو کچھ ہو سو ہو پر مرے یار تم ہو\n\nاجاڑو مرے دل کو یا پھر بساؤ\nمری جان اس گھر کے مختار تم ہو\n\nجدا سب سے ہو اور سب سے ملے ہو\nغرض کیا کہوں ایک عیار تم ہو\n\nخدا جانیے دل پہ کیا گزرے آخر\nیہ اہل وفا ہے ستم گار تم ہو\n\nبنے اس طبیعت سے کیوں کر کسی کی\nذرا جی میں منصف تو دل دار تم ہو\n\nخفا ہوتے ہیں ہم تو خوش ہوتے ہو تم\nجو خوش ہوتے ہم ہیں تو بیزار تم ہو\n\nنہیں بے سبب یہ حسنؔ سرد آہیں\nکہیں ان دنوں میں گرفتار تم ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%88"} {"title": "وفور ضعف سے دل یار پر نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وفور ضعف سے دل یار پر نہیں آتا\nغم فراق میں جینا نظر نہیں آتا\n\nنگاہ دیدۂ دل سے نظر نہیں آتا\nخیال یار بھی دو دو پہر نہیں آتا\n\nوصال دوست بھی بعد وصال ہے شاید\nکہ جو ادھر کو گیا پھر ادھر نہیں آتا\n\nغبار چشم بھی ہے جستجو میں سرگرداں\nہوا میں خاک بھی وہ راہبر نہیں آتا\n\nچڑھائے گور غریباں پہ کون چادر گل\nچراغ لے کے کوئی قبر پر نہیں آتا\n\nیہ روز شام سے ہے صبح تک خود آرائی\nکہ شب کو آئینہ بھی اپنے گھر نہیں آتا\n\nنہ شمع رو پہ بھی دوں جان مثل پروانہ\nکہ نام عشق کو بدنام کر نہیں آتا\n\nمیں شب کو لا کے اسے عرشؔ خاک ہوں ہم خواب\nوہ شوخ خانہ خراب اپنے گھر نہیں آتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%81%D9%88%D8%B1_%D8%B6%D8%B9%D9%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکے", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکے\nظہور قدرت پروردگار دیکھ چکے\n\nنقاب کھول کے روئے نگار دیکھ چکے\nکچھ ایک بار نہیں لاکھ بار دیکھ چکے\n\nجہاں کے عیش و غم روزگار دیکھ چکے\nجو دیکھتا تھا سو پروردگار دیکھ چکے\n\nوہ جیتے جی ہوئے ایذا سے نزع کی آگاہ\nجو صدمے تیرے شب انتظار دیکھ چکے\n\nخدا کے واسطے اب چھوڑ جسم خاکی کو\nاذیتیں بہت او جان زار دیکھ چکے\n\nجنوں نے خوب دکھائی بہار جیب و کنار\nہوا میں اڑتے ہوئے تار تار دیکھ چکے\n\nوہ قول غیر کو دیتے ہیں لیتے ہیں اقرار\nتری طرف کو دل بے قرار دیکھ چکے\n\nیقیں ہے اب نہ کریں میرے قتل میں تاخیر\nفساں چٹا کے وہ خنجر کی دھار دیکھ چکے\n\nنہ ڈال پیچ میں خاطر نہ اب پریشاں کر\nبہت سے درد سر او زلف یار دیکھ چکے\n\nکرے وہ زینت فتراک یا حلال کرے\nکہیں ادھر کو بھی وہ شہسوار دیکھ چکے\n\nنہ پہونچا ایک بھی ذرہ تمہارے دامن تک\nاڑا کے خاک بھی ہم خاکسار دیکھ چکے\n\nہوئے سفید و سیاہ جہان سے واقف\nبہت سی گردش لیل و نہار دیکھ چکے\n\nکئے ہیں خوب سے نظارے باغ ہستی کے\nجہاں کو بس مرے پروردگار دیکھ چکے\n\nالٰہی تو نے شرف جس کو آسماں پہ دیا\nوہ سر زمین بھی یہ خاکسار دیکھ چکے\n\nنہیں ہے ایک میں ہمت یہ وہ زمانہ ہے\nغریب دیکھ چکے مال دار دیکھ چکے\n\nتہی ہے نشۂ الفت سے یہ خم گردوں\nشرابیں پی کے ترے بادہ خوار دیکھ چکے\n\nکلاہ کج کو ہٹا کر دکھا دیا ابرو\nقسم علی کی کھنچی ذو الفقار دیکھ چکے\n\nبھلا وہ خاک کریں قصد بزم ہستی کا\nجو لوگ راحت کنج مزار دیکھ چکے\n\nہوا یقین فرشتوں کو خاکساری کا\nکفن لکھا جو یہ خط غبار دیکھ چکے\n\nعمامے باز جو یہ کنٹھے گھٹے والے ہیں\nجہاں میں جیسے ہیں ذی اعتبار دیکھ چکے\n\nاٹھائی گیرے ہیں سب جعل ساز ہیں مفسد\nکچھ ایک دو نہیں ہم تو ہزار دیکھ چکے\n\nسوائے ذات خدا سب کے واسطے ہے فنا\nثبات ہستئ نا پائیدار دیکھ چکے\n\nقصور بخت ہے پھر جائیں اب اگر محروم\nدر کریم تو امیدوار دیکھ چکے\n\nہزار شکر کہ باقی نہیں کوئی حسرت\nبہار تیری بھی او گلعذار دیکھ چکے\n\nنجف کو لے گئے میت فرشتہ نقال\nعزیز کھول کے میرا مزار دیکھ چکے\n\nفقیر بھی مترصد نگاہ لطف کا ہے\nادھر بھی رندؔ مرا شہریار دیکھ چکے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%B0%D9%88%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%86%DA%A9%DB%92"} {"title": "وقت", "poet_page": "مصنف:عظیم الدین احمد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہے سال نو کی آمد ہر شخص کو خوشی ہے\nکیا رنگ لائے گا یہ اس کی نہیں خبر کچھ\nمیں جانتا ہوں ظالم تیری یہ دل لگی ہے\nدل میں نہیں کسی کے جو موت کا خطر کچھ\nاے وقت بے مروت اے وقت بے مروت\n\nعالم کا لحظہ لحظہ میں حال کیا سے کیا ہے\nمفلس ابھی تھا کوئی مسند نشیں ابھی ہے\nجیتا کوئی ابھی تھا اب دفن ہو رہا ہے\nظالم کبھی رفاقت تو نے کسی کی کی ہے\nاے وقت بے مروت اے وقت بے مروت\n\nکہنا کسی گھڑی کو اپنا غلط سراسر\nعالم جسے ہیں کہتے تغییر کا ہے مسکن\nتجھ کو اگر میں سمجھوں ٹھہرا غلط سراسر\nظالم لگا ہوا ہے تجھ میں بلا کا انجن\nاے وقت بے مروت اے وقت بے مروت\n\nتھے خار زار جس جا ہے بلبلوں کا مسکن\nاللہ کس غضب کے ہر آن ہیں یہ پھیرے\nتھیں محفلیں جہاں پر ہے بیکسوں کا مدفن\nیہ ہتکھنڈے ہیں تیرے یہ ہتکھنڈے ہیں تیرے\nاے وقت بے مروت اے وقت بے مروت", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA"} {"title": "وقت آخر ہمیں دیدار دکھایا نہ گیا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وقت آخر ہمیں دیدار دکھایا نہ گیا\nہم تو دنیا سے گئے آپ سے آیا نہ گیا\n\nراز پوشی سے کبھی ہاتھ اٹھایا نہ گیا\nنبض دکھلائے مرض اپنا بتایا نہ گیا\n\nپھوٹ نکلی نہ رکی سینے کی اندر خوشبو\nمشک تھا داغ محبت کہ چھپایا نہ گیا\n\nمیرا دل کس نے لیا نام بتاؤں کس کا\nمیں ہوں یا آپ ہیں گھر میں کوئی آیا نہ گیا\n\nہاتھ اٹھا بیٹھے ہم اس زندگیٔ شیریں سے\nغم جدائی کا یہ تھا تلخ کہ کھایا نہ گیا\n\nجب کیا قصد کہ احسان کسی کا لوں میں\nآبرو گھٹنے لگی ہاتھ بڑھایا نہ گیا\n\nآج وہ حال ہے اپنا جو کسی نے پوچھا\nہو گئے قفل دہن شرم بتایا نہ گیا\n\nرنج پوچھا جو محبت میں تو راحت سمجھے\nدکھ اٹھایا کبھی دل اس سے اٹھایا نہ گیا\n\nکچھ نہ پوچھو لب شیریں کی حلاوت ہم سے\nیہ وہ حلوا ہے کبھی بانٹ کے کھایا نہ گیا\n\nحیف آنکھوں نے بھی دیکھی نہ مری تشنہ لبی\nمنہ میں پانی مژۂ ترسی چوایا نہ گیا\n\nناتوانی کا برا ہو ہم ادھر کو جو چلے\nتیور آ آ گئے گر گر پڑے جایا نہ گیا\n\nمغز چاٹا کبھی اندوز و نصیحت والے\nغم ہمارا کسی غم خوار سے کھایا نہ گیا\n\nدوست کب دوست کا ہوتا ہے مخل راحت\nسو گئے پاؤں تو ہاتھوں سے جگایا نہ گیا\n\nکب حرارا دل بیتاب کا رونے سے مٹا\nشعلۂ برق کبھی منہ سے بجھایا نہ گیا\n\nآمد یار کی کیا کیا نہ سنی گرم خبر\nعمر بھر راستہ دیکھا کوئی آیا نہ گیا\n\nجس کے جویا ہوئے ہم ڈھونڈھ نکالا اس کو\nعقل غم ہے کہ مزاج آپ کا پایا نہ گیا\n\nاس کے کوچے سے ضعیفی میں بھی اٹھے نہ قدم\nسر پہ دھوپ آ گئی دیوار کا سایا نہ گیا\n\nقطع جب سے ہوئی امید وصال جاناں\nاس طرح بیٹھ گیا دل کہ اٹھایا نہ گیا\n\nجاگنا ہی مری تقدیر میں کیا لکھا تھا\nشب فرقت میں اجل سے بھی سلایا نہ گیا\n\nقصد تھا بحرؔ کا بت خانے سے کعبے کی طرف\nلاابالی ہے خدا جانے گیا یا نہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھے\nمرتے مرتے دے دیا انگور کا پانی مجھے\n\nوہ مری صورت تو دیکھیں اپنی صورت کے لیے\nکاش آئینہ بنا دے میری حیرانی مجھے\n\nکٹ گیا ہے وصل سے پہلے زمانہ عمر کا\nہائے دھوکا دے گیا بہتا ہوا پانی مجھے\n\nدامن صحرا سے لوں گا مر کے وحشت میں کفن\nاک نیا جوڑا پنہائے گی یہ عریانی مجھے\n\nمیرے گل کو لا یا اپنے پھول لے جا عندلیب\nایسے کانٹوں سے نہیں پھانسیں نکلوانی مجھے\n\nتم اگر چاہو تو مٹی سے ابھی پیدا ہوں پھول\nمیں اگر مانگوں تو دریا بھی نہ دے پانی مجھے\n\nتشنہ کامی اس کو کہتے ہیں کہ بحر عشق میں\nمیں اگر اتروں تو اوپر پھینک دے پانی مجھے\n\nایسی مشکل تم نے ڈالی ہے کہ جب مر جاؤں گا\nمدتوں رویا کرے گی میری آسانی مجھے\n\nتو نے اتنی دی کہ مے خواری کی حسرت بہہ گئی\nمیں نے اتنی پی کہ آخر ہو گئی پانی مجھے\n\nرونے جاتا ہوں میں اپنی حسرتوں کے ڈھیر پر\nبے کسی آ کر سکھا دے مرثیہ خوانی مجھے\n\nحشر میں چلنا پڑے گا ایک ٹیڑھا راستہ\nکوچۂ جاناں سکھا دے ٹھوکریں کھانی مجھے\n\nمضطرؔ اپنے حق کے کانٹے چن کے میں رخصت ہوا\nاور کیا دیتی بہار گلشن فانی مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%81%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "وقت بوسے کے مرا منہ اس کے لب سے جوں جڑا", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وقت بوسے کے مرا منہ اس کے لب سے جوں جڑا\nگرد غم ہوئی دل میں میٹھی جیسے شکر کا پڑا\n\nبے ضیا سورج کے پھرنے سے ہو جیسے آئنہ\nنور جاں دل سے گیا جوں اس کا رخ مجھ سے مڑا\n\nکیا بلا پتھراؤ تھیں اس سنگ دل کی گالیاں\nلے گیا سارا تھا شیشہ دل کا میں لیایا تڑا\n\nباغ میں جاوے وہ وحشی چشم اگر مست شراب\nنرگس اس اوپر نثار سیم و زر دیوے اڑا\n\nان لبوں کے بوسے کے لالچ میں جلتا ہے بہشت\nسن لے عزلتؔ کان دھر کہتا ہے حقہ گڑگڑا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D8%AC%DA%91%D8%A7"} {"title": "وقت تزئیں جو دکھائے وہ صفا سینے کو", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وقت تزئیں جو دکھائے وہ صفا سینے کو\nمنہ دکھانے کی نہ پھر جا رہے آئینے کو\n\nغم نہیں محفل جاناں میں نہیں صدر نشیں\nاس نے سینے میں تو جاوے ہے مرے کینے کو\n\nاے صنم تجھ کو جو پہنچا وہ خدا کو پہنچا\nزینہ عرش سمجھتا ہوں ترے زینے کو\n\nشال شاہی سے زیادہ ہے مجھے کملیٔ فقر\nجانتا پشم برابر ہوں میں پشمینے کو\n\nہم وہ حاتم ہیں کہ جو صورت قارون اے شادؔ\nساتھ لے جائیں گے زر بانٹ کے گنجینے کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%AA%D8%B2%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B5%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88"} {"title": "وقت رخصت چلتے چلتے کہہ گئے", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وقت رخصت چلتے چلتے کہہ گئے\nاب جو ارماں رہ گئے سو رہ گئے\n\nجلد باز ارماں ترے دیدار کے\nخون ہو کر آنسوؤں میں بہہ گئے\n\nعمر بھر سوچا کیے سمجھے نہ ہم\nآنکھوں آنکھوں میں وہ کیا کیا کہہ گئے\n\nکیا چھپاتا ہے مرا حال اے طبیب\nکہنے والے میرے منہ پر کہہ گئے\n\nاس کی منزل تک نہ پہنچا ایک بھی\nسب مسافر راستے میں رہ گئے\n\nپہلے ناطقؔ دل جگر میں درد تھا\nاب سراپا درد بن کر رہ گئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%92_%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہن", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہن\nبولے شہ رو نہ بس اب اے مری غم خوار بہن\nکیا کروں جان کے دینے میں ہوں ناچار بہن\nاب رہا روز قیامت ہی پہ دیدار بہن\n\nجن عزیزوں نے مرے ساتھ کیا تھا اک جوگ\nدیکھتے دیکھتے ہی چل بسے سارے وے لوگ\nلطف اس جینے کا کچھ ہے کہ رکھا کریے سوگ\nہوجے کس کس کے لیے آہ عزادار بہن\n\nساتھ والا نہ کوئی ہووے رہوں میں صد حیف\nبن حریفوں کے یہ خم خانہ ہے سارا بے کیف\nپھر جو بازو تھے وے سب ہیں علف خنجر و سیف\nقاسم اکبر کے تئیں کھا گئی تلوار بہن\n\nساتھ جو ایسا ہو تیار تو رہتا ہے کوئی\nواسطے جائے یہ پھر جور بھی سہتا ہے کوئی\nاس جگہ جز سخن مرگ بھی کہتا ہے کوئی\nہو تنک تو ہی مری منصف گفتار بہن\n\nہاتھ سے بیٹوں بھتیجوں کو نہ یوں دے جاتا\nبیکسانہ رفقا کے نہ گلے کٹواتا\nکس و کو ساتھ لیے کاہے کو یاں میں آتا\nعلم اگر ہوتا کہ یہ دشت ہے خوں خوار بہن\n\nآتش غم سے درونہ ہی نہیں جلتا ہے\nدل بھی سینے میں مرے جیسے کوئی ملتا ہے\nگھر کے ویرانے کی کچھ شرح میں لب ہلتا ہے\nورنہ حیرت نے کیا ہے مجھے دیوار بہن\n\nحیف وہ جن کنھوں نے ساتھ نہ یاروں کا کیا\nپھر وہ ہے ہے کہ اکیلا برے احوال جیا\nپاس ان کا ہے ضروری جنھوں نے جان دیا\nدور ان سے ہے مجھے زندگی دشوار بہن\n\nہر دم ایک آگ نئی جلتی ہے میں بھنتا ہوں\nناکسی اپنی نظر کرتا ہوں سر دھنتا ہوں\nمنھ پہ کیا کیا مرے وے کہتے ہیں میں سنتا ہوں\nہم زبانی سے جنھوں کی تھی مجھے عار بہن\n\nبالش ناز سے جس کے تئیں لگتا تھا ننگ\nاب اسی سر کے تئیں پاتے ہیں شائستۂ سنگ\nپھول رہتے تھے بھرے جس میں ہمیشہ صد رنگ\nاسی دامن سے گتھے رہتے ہیں اب خار بہن\n\nہائے یہ وقت نہیں طاقت دل کھونے کا\nکڑھیو تب جب تجھے غم ہو نہ مرے ہونے کا\nابھی کیا رووے ہے آگے ہے سماں رونے کا\nیاد آؤں گا بہت میں جگرافگار بہن\n\nخاک میں اپنے جگرپارے پڑے پاتا ہوں\nرنگ صحبت سے کھڑا خون جگر کھاتا ہوں\nجی میں جو کچھ ہے سوجی ہی میں لیے جاتا ہوں\nوقت ہے تنگ مناسب نہیں اظہار بہن\n\nخوش نہ اس خستگی حال سے گڑتا پوتا\nاپنے دل کے لہو سے خاک بھرا منھ دھوتا\nآج کے دن جو سلامت مرے سر پر ہوتا\nدیکھتا یوں نہ مجھے حیدر کرار بہن\n\nآشنا کون کہوں جس سے یہ حال مستور\nعقل سے دور ہے مرنے کے قریب اب مذکور\nدرد دل اپنا سناتا اسے سب میں مجبور\nہوتا دنیا میں اگر احمد مختار بہن\n\nچشم انصاف کہاں جس سے نظر آوے حال\nکس کے اس طرح ہوئے خویش و برادر پامال\nتو ہی مجھ ظلم رسیدہ سے ہو سرگرم مقال\nابھی اکبر تھا بھلا خوں کا سزاوار بہن\n\nجور کے تیر کا اصغر کا گلا تھا قابل\nقاسم ایسا تھا کہ مارا پڑے ہوکر گھائل\nمیں ہوں ایسا کہ مرے درپئے خوں ہوں جاہل\nعالم الغیب ہی جانے ہے یہ اسرار بہن\n\nمیں تو جانا تھا کہ یہ قوم تشہدگو ہے\nاور احمد کا تمناے دل و جاں تو ہے\nیہ نہ جانا کہ ہر اک تیرہ دروں بدخو ہے\nجی سے ماریں گے مجھے کرکے گرفتار بہن\n\nآنکھ ان لوگوں کی آتی ہے نظر مجھ کو بری\nدیکھیو سر کے تئیں کاٹیں گے لے لے کے چھری\nپھر بھی تو ان کے دلوں سے نہیں جانے کی پری\nسر کٹے پر بھی رکھیں گے یہ سروکار بہن\n\nغم شریک آج پدر ہے نہ کوئی بھائی ہے\nسو طرح کی ہے جفا اور یہ تنہائی ہے\nسر پہ کیا جانیے کیوں ایسی بلا آئی ہے\nپاؤں تو کج ہے مرا یاں نہیں زنہار بہن\n\nمجھ کو جائے ہی بنے گرچہ نہیں ہے دل خواہ\nسر کٹے ساتھ کے جتنے ہیں کھڑے ہیں سر راہ\nدل غم دیدہ میں کیا کیا ہے مرے کیونکر آہ\nفرصت کم میں کہوں یہ غم بسیار بہن\n\nہاتھ سے تم بھی سر رشتۂ تسکیں کو نہ دو\nسخت کر جی کے تئیں بیٹھو نہ روؤ نہ کڑھو\nہوسکے تو دل سجاد کو اب ہاتھ میں لو\nچھوڑتا ہوں میں اسے بیکس و بیمار بہن\n\nایک تو تپ اسے رہتی ہی نہایت ہے حقیر\nدوسرے جاتے رہے جان سے سب خرد و پیر\nتیسرے مرگ پدر سخت کرے گی دل گیر\nمار ہی ڈالے ہے آزار پر آزار بہن\n\nوقت نزدیک ہے اب جیسے مرے جانے کا\nیہی صورت ہے تو میں منھ نہیں دکھلانے کا\nقابو بنتا ہے کہاں یاں تئیں پھر آنے کا\nہیں سب اسباب مرے مرنے کے تیار بہن\n\nجس گھڑی تن سے مری جان جدا ہووے گی\nدن کی ہوجاوے گی شب تیرہ ہوا ہووے گی\nدرہمی برہمی سے حشر بپا ہووے گی\nاس قیامت میں سکینہ سے خبردار بہن\n\nہے وہ ناداں نہ کہیں خوف اثر کر جاوے\nدیکھ کر گھر کے تئیں لٹتے ہوئے ڈر جاوے\nیا مجھے یاد کرے سر کو پٹک مرجاوے\nکرتی رہیو مرے پیچھے اسے ٹک پیار بہن\n\nشہربانو کو نہ ٹک پاس سے ہلنے دیجو\nفرط اندوہ سے دل اس کا سمھلنے دیجو\nغم کی ماری کو نہ جنگل میں نکلنے دیجو\nاس کے سب اہل جنوں کے سے ہیں اطوار بہن\n\nمجھ سے دل بستگی رکھتی ہے وہ شومردہ بہت\nکم جو آتا ہوں تو ہو جاتی ہے افسردہ بہت\nسن کے مرنے کو مرے ہوگی دل آزردہ بہت\nپونچھیو اس کے بہت دیدۂ خونبار بہن\n\nیہ سخن بھائی نے کہہ منھ جو کیا اودھر کو\nسر سے زینب نے اٹھا پھینک دیا معجر کو\nدیکھتی تھی کبھی بھائی کو کبھی گھر در کو\nچھپ گیا آنکھ سے جب رہ گئی من مار بہن\n\nکیا کہوں میرؔ سنا جن نے جگر اس کا جلا\nجب وہ نومید ہو یوں کہنے لگی تاب نہ لا\nتو جو اک بار اٹھا یاں سے تو مرنے ہی چلا\nاب پکارے گی اخی کہہ کسے ہر بار بہن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%AA%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%8C_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D9%86"} {"title": "وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں\nدل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیں\n\nصحبت شیشہ گراں ہے انکار\nسنگ آئینہ بنا ہے کہ نہیں\n\nہر کرن وقت سحر کہتی ہے\nروزن دل کوئی وا ہے کہ نہیں\n\nرنگ ہر بات میں بھرنے والو\nقصہ کچھ آگے بڑھا ہے کہ نہیں\n\nزندگی جرم بنی جاتی ہے\nجرم کی کوئی سزا ہے کہ نہیں\n\nدوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں\nکوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں\n\nزخم دل منزل جاں تک آئے\nسنگ رہ ساتھ چلا ہے کہ نہیں\n\nکھو گئے راہ کے سناٹے میں\nاب کوئی دل کی صدا ہے کہ نہیں\n\nہم ترسنے لگے بوئے گل کو\nکہیں گلشن میں صبا ہے کہ نہیں\n\nحکم حاکم ہے کہ خاموش رہو\nبولو اب کوئی گلہ ہے کہ نہیں\n\nچپ تو ہو جاتے ہیں لیکن باقیؔ\nاس میں بھی اپنا بھلا ہے کہ نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%DA%91%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیں\nروز اقرار بھول جاتے ہیں\n\nوہ جو بے وجہ مسکراتے ہیں\nسیکڑوں وہم دل میں آتے ہیں\n\nاشک حسرت نکل کے دامن میں\nجان سے ہاتھ دھوئے آتے ہیں\n\nجب تم آتے نہیں ہو وعدہ پر\nملک الموت کو بلاتے ہیں\n\nسو گیا بخت جب سے رو رو کر\nسارے ہم سایوں کو جگاتے ہیں\n\nان کو شرم و حیا نہیں آتی\nدل چرا کر نظر چراتے ہیں\n\nبے خطا ہے وہ آسماں مجرم\nاس کو الزام کیوں لگاتے ہیں\n\nجان کر بن گئے ہیں ہم بھولے\nچٹکیوں میں کسے اڑاتے ہیں\n\nتیرے کوچہ میں ہم بھی اب تھک کر\nدل کے مانند بیٹھے جاتے ہیں\n\nغیر کیا اور اس کی ہستی کیا\nآپ کیوں مفت خوف کھاتے ہیں\n\nکوئی تازہ ستم کیا ایجاد\nدیکھ کر وہ جو مسکراتے ہیں\n\nآگ پانی میں کیوں لگاتے ہو\nنیک جو لوگ ہیں بجھاتے ہیں\n\nتم مرے دل میں ہو تو دیکھوں میں\nحور و غلماں کہیں سماتے ہیں\n\nمیں نے پوچھی جو وجہ قتل کہا\nٹھہرو دم لے کے ہم بتاتے ہیں\n\nعشق تیرے طفیل دنیا کے\nطنزیں سنتے ہیں طعنے کھاتے ہیں\n\nبے سبب کیا بگڑنے کا باعث\nآپ پرویںؔ کو بھی بناتے ہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وقت پیری شباب کی باتیں", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وقت پیری شباب کی باتیں\nایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں\n\nپھر مجھے لے چلا ادھر دیکھو\nدل خانہ خراب کی باتیں\n\nواعظا چھوڑ ذکر نعمت خلد\nکہہ شراب و کباب کی باتیں\n\nمہ جبیں یاد ہیں کہ بھول گئے\nوہ شب ماہتاب کی باتیں\n\nحرف آیا جو آبرو پہ مری\nہیں یہ چشم پرآب کی باتیں\n\nسنتے ہیں اس کو چھیڑ چھیڑ کے ہم\nکس مزے سے عتاب کی باتیں\n\nجام مے منہ سے تو لگا اپنے\nچھوڑ شرم و حجاب کی باتیں\n\nمجھ کو رسوا کریں گی خوب اے دل\nیہ تری اضطراب کی باتیں\n\nجاؤ ہوتا ہے اور بھی خفقاں\nسن کے ناصح جناب کی باتیں\n\nقصۂ زلف یار دل کے لیے\nہیں عجب پیچ و تاب کی باتیں\n\nذکر کیا جوش عشق میں اے ذوقؔ\nہم سے ہوں صبر و تاب کی باتیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وقت کی سعیٔ مسلسل کارگر ہوتی گئی", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "وقت کی سعیٔ مسلسل کارگر ہوتی گئی\nزندگی لحظہ بہ لحظہ مختصر ہوتی گئی\nسانس کے پردوں میں بجتا ہی رہا ساز حیات\nموت کے قدموں کی آہٹ تیز تر ہوتی گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%B9%DB%8C%D9%94_%D9%85%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "وقت کی قدر", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دعوت\n\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\nچمن کی گود میں آ کر سما بھی جا سلمیٰ\nکلی کلی میں بہاریں بسا بھی جا سلمیٰ\nمجھے جنوں کا سبق پھر پڑھا بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\n\nملیں گے حشر میں مت کہہ یہ بار بار مجھے\nہو کیسے حشر کے وعدے پہ اعتبار مجھے\nخدا کے دل پہ نہیں کوئی اختیار مجھے\nخدا کو مان یہیں حشر اٹھا بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\n\nنشاط عمر کو امید پر نثار نہ کر\nوصال صبح قیامت کا انتظار نہ کر\nریاض خلد کی باتوں کا اعتبار نہ کر\nفریب وعدۂ فردا مٹا بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\n\nکسے خبر ہے قیامت میں ہم ملیں نہ ملیں\nفضائے روضۂ جنت میں ہم ملیں نہ ملیں\nکشاکش ابدیت میں ہم ملیں نہ ملیں\nکشاکش ابدیت بھلا بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\n\nگنوا نہ سوگ میں اپنے شباب کی راتیں\nنظر نہ آئیں گی پھر ماہتاب کی راتیں\nیہ نکہتوں کا ہجوم اور یہ خواب کی راتیں\nفضا میں خواب حسیں بن کے چھا بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\n\nخبر لے جلد کہ عمر عزیز فانی ہے\nسرائے دہر کی ہر چیز آنی جانی ہے\nبرنگ ابر رواں فصل نوجوانی ہے\nچھلکنے والا ہے ساغر پلا بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\n\nکسے خبر یہ گھٹائیں رہیں رہیں نہ رہیں\nیہ نکہتیں یہ ہوائیں رہیں رہیں نہ رہیں\nیہ مستیاں یہ فضائیں رہیں رہیں نہ رہیں\nشراب وصل کا ساغر پلا بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\n\nثبات عہد زمانے میں کسی نے پایا ہے\nزمانہ رنگ بدلنے کو رنگ لایا ہے\nبہار عمر رواں بادلوں کا سایا ہے\nبہار عمر کی خوشیاں منا بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\n\nترے خیال کو دل میں بسائے بیٹھے ہیں\nخدائی ہو کہ خدا ہو بھلائے بیٹھے ہیں\nسرور عہد جوانی لٹائے بیٹھے ہیں\nتو آ کے قدر جوانی سکھا بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\n\nیہ فصل اور یہ بہاریں نظر نہ آئیں گی پھر\nیہ بادلوں کی قطاریں نظر نہ آئیں گی پھر\nیہ ہلکی ہلکی پھواریں نظر نہ آئیں گی پھر\nشراب عیش مسرت لنڈھا بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\n\nبتا تو کیا یہ نظارے اجڑ نہ جائیں گے\nیہ ندیاں یہ کنارے اجڑ نہ جائیں گے\nیہ چاند اور یہ کنارے اجڑ نہ جائیں گے\nستارہ وار شعاعیں لٹا بھی بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\n\nغموں پہ کی ہیں فدا شادمانیاں ہم نے\nخدا کے نام پہ تج دیں جوانیاں ہم نے\nگزار دی ہیں یوں ہی زندگانیاں ہم نے\nدم اخیر تو غم سے چھڑا بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\n\nفنا نصیب ہیں یہ سبزہ زار کے منظر\nیہ کوہسار دل جوئبار کے منظر\nنظر نہ آئیں گے پھر یہ بہار کے منظر\nابھی سماں ہے بہاریں دکھا بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\n\nخبر لے جلد کہ بہکی ہوئی بہار ہے آج\nنشاط خلد سے معمور سبزہ زار ہے آج\nاجل پہ بھی مری ہستی کو اختیار ہے آج\nغرور عشق کی ہمت بڑھا بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\n\nتو حکم دے تو ستاروں کو چھین لاؤں میں\nفلک سے اس کے نظاروں کو چھین لاؤں میں\nارم کی مست بہاروں کو چھین لاؤں میں\nخدائی کو یہ تماشا دکھا بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ\n\nتو سامنے ہو تو کون و مکاں کو گم کر دوں\nخم طرب میں خم آسماں کو گم کر دوں\nدوئی ہو فرد تو دونوں جہاں کو گم کر دوں\nبرنگ روح بدن میں سما بھی جا سلمیٰ\nبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%AF%D8%B1"} {"title": "وقت کی مساعدت", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اے وقت بگاڑ کا ہے سب کے چارہ\nپر تجھ سے بگڑنے کا نہیں ہے یارا\nہو جائے گر ایک تو ہمارا ساتھی\nپھر غم نہیں پھر جائے زمانہ سارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%B9%D8%AF%D8%AA"} {"title": "وقت کی چیز", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "سب جسے انتہا کہیں تو اسے ابتدا سمجھ\nہو نہ اسی سمجھ پہ خوش یوں ہی بڑھائے جا سمجھ\nذوق سفر گھٹا نہ دے لوگ کہیں جو نا سمجھ\nحاصل مدعا کو بھی پرتو مدعا سمجھ\nاور بلندیوں پہ جا راز عروج کا سمجھ\n\nدل میں ہے درد قوم اگر قوم کی جلد لے خبر\nقوم سے ہیں جو بے خبر قوم کی ان کو دے خبر\nسوچ کہ اپنی قوم سے کون ہے آج بے خبر\nکام کا آدمی ملے یا نہ ملے کسے خبر\nکیا نہیں تو خود آدمی خود کو ہی کام کا سمجھ\n\nتیرے حدود میں کہیں آئیں نظر نہ پستیاں\nلائق اعتنا نہ ہوں غیروں کی چیرہ دستیاں\nدرخور التفات ہوں کیوں یہ ذلیل ہستیاں\nجس کی خودی پہ چھین لیں قوم کی خود پرستیاں\nایسے خودی نواز کو قوم کا رہنما سمجھ\n\nقوت زر سے جو بشر آئی بلا کو ٹال دے\nاس کی کرامتوں میں جس اور بھی ذوالجلال دے\nاس سے اگر ہے بد ظنی دل میں تو اب نکال دے\nقوم کی مفلسی کو جو معرض شک میں ڈال دے\nایسے بھی مال دار کو مکرمت آشنا سمجھ\n\nتو نہ رکھ اتنی حب زر دل میں مگر یہ رکھ خیال\nوقت کی چیز بن گئی آج نمود جاہ و مال\nتیرے نمود پر کرے فخر ہر ایک با کمال\nعزت قوم کا ہے جز عزت نفس کا سوال\nاپنے بھی ارتقا کو تو قوم کا ارتقا سمجھ", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%DB%8C%D8%B2"} {"title": "وقت کی ڈبیا", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اچھی اماں وقت کی ڈبیا جو کھل جائے کہیں\nاور یہ گھنٹے اور منٹ سارے نکل کر بھاگ جائیں\nتب مجھے مکتب نہ جانے پر برا کہنا نہ تم\nتب تو مکتب کا نہ ہوگا وقت ہی گویا کبھی\nجس قدر گھڑیاں ہیں دنیا بھر میں وہ تو سب کی سب\nدیکھ لینا دس بجانا ہی نہ جانیں گی کبھی\n\nدیکھو اماں اب جو سونے کے لیے لیٹوں نہ میں\nتم نہ اب مجھ پر خفا ہونا خطا میری نہیں\nکیسے سوؤں میں نشاں تک بھی نہ ہو جب رات کا\nمیری اماں اب تو راتیں ساری غائب ہو گئیں\n\nاچھی اماں آج تو اک بات میری مان لو\nبس کہانی پر کہانی مجھ سے تم کہتی رہو\nتم کہو گی یہ کہانی ختم ہوتی ہی نہیں\nختم ہو جائے کہانی رات جب آگے بڑھے\nدیکھ لینا آج سونے کو نہ ہوگی دیر کچھ\nوقت کی ڈبیا کے کھل جانے سے راتیں اڑ گئیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DA%88%D8%A8%DB%8C%D8%A7"} {"title": "وقت کے ساتھ لوگ کہتے تھے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "وقت کے ساتھ لوگ کہتے تھے\nزخم دل بھی تمہارے ہوں گے دور\nآج کوئی انہیں خبر کر دو\nمیرا ہر زخم بن گیا ناسور", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%84%D9%88%DA%AF_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "وو زلف ہے تو حرف تتار و ختن غلط", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وو زلف ہے تو حرف تتار و ختن غلط\nاس لب کے ہوتے نام عقیق یمن غلط\n\nآیا ہے جب سیں باغ طرف وو کتاب رو\nتب سیں ہوا ہے صفحۂ برگ سمن غلط\n\nبیٹھے سخن میں وعدہ خلافی کا بول کیوں\nہرگز نبول' بول اے شیریں دہن غلط\n\nڈرتا ہوں اس بھنؤں کے اشارت سیں دم بدم\nہوتا نہیں ہے سیف زباں کا سخن غلط\n\nروشن ہے اے سراجؔ کہ فانی ہے سب جہاں\nمطرب غلط ہے جام غلط انجمن غلط", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%88_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AD%D8%B1%D9%81_%D8%AA%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%88_%D8%AE%D8%AA%D9%86_%D8%BA%D9%84%D8%B7"} {"title": "وَحی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "عقلِ بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں\nراہبر ہو ظن و تخمیں تو زبُوں کارِ حیات\nفکر بے نُور ترا، جذبِ عمل بے بنیاد\nسخت مشکل ہے کہ روشن ہو شبِ تارِ حیات\nخوب و ناخُوب عمل کی ہو گِرہ وا کیونکر\nگر حیات آپ نہ ہو شارحِ اسرارِ حیات!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%8E%D8%AD%DB%8C"} {"title": "وُجود", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اے کہ ہے زیرِ فلک مثلِ شرر تیری نمود\nکون سمجھائے تجھے کیا ہیں مقاماتِ وجود!\nگر ہُنَر میں نہیں تعمیرِ خودی کا جوہر\nوائے صُورت گری و شاعری و ناے و سرود!\nمکتب و مے کدہ جُز درسِ نبودن ندہند\nبودن آموز کہ ہم باشی و ہم خواہی بود", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%8F%D8%AC%D9%88%D8%AF"} {"title": "وِصال", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "جُستجو جس گُل کی تڑپاتی تھی اے بُلبل مجھے\nخوبیِ قسمت سے آخر مِل گیا وہ گُل مجھے\nخود تڑپتا تھا، چمن والوں کو تڑپاتا تھا میں\nتجھ کو جب رنگیں نوا پاتا تھا، شرماتا تھا میں\nمیرے پہلو میں دلِ مضطر نہ تھا، سیماب تھا\nارتکابِ جُرمِ الفت کے لیے بے تاب تھا\nنامرادی محفلِ گُل میں مری مشہور تھی\nصُبح میری آئنہ دارِ شبِ دیجور تھی\nاز نفَس در سینۂ خوں گشتہ نشتر داشتم\nزیرِ خاموشی نہاں غوغائے محشر داشتم\n\nاب تاثّر کے جہاں میں وہ پریشانی نہیں\nاہلِ گُلشن پر گراں میری غزل خوانی نہیں\nعشق کی گرمی سے شُعلے بن گئے چھالے مرے\nکھیلتے ہیں بجلیوں کے ساتھ اب نالے مرے\nغازۂ اُلفت سے یہ خاکِ سیہ آئینہ ہے\nاور آئینے میں عکسِ ہمدمِ دیرینہ ہے\nقید میں آیا تو حاصل مجھ کو آزادی ہوئی\nدل کے لُٹ جانے سے میرے گھر کی آبادی ہوئی\nضَو سے اس خورشید کی اختر مرا تابندہ ہے\nچاندنی جس کے غبارِ راہ سے شرمندہ ہے\nیک نظر کردی و آدابِ فنا آموختی\nاے خُنک روزے کہ خاشاکِ مرا واسوختی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%D9%90%D8%B5%D8%A7%D9%84"} {"title": "وکالت", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "منظور ہے گزارش احوال واقعی\nاپنا بیان حسن طبیعت نہیں مجھے\n\nوکالت بھی کیا ہی عمدہ۔۔۔ آزاد پیشہ ہے۔ کیوں؟ سنیے میں بتاتا ہوں۔\n\nپار سال کا ذکر ہے کہ وہ کڑا کے کا جاڑا پڑ رہا تھا کہ صبح کے آٹھ بج گیے تھے مگر بچھو نے سے نکلنے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ لحاف میں بیٹھے بیٹھے چائے پی۔ دو مرتبہ خانم نے لحاف گھسیٹا مگر نہ اٹھنا تھا نہ اٹھا۔ غرض چائے پینے کے بعد اسی طرح اوڑھے لپیٹے بیٹھ کر سگریٹ سلگایا ہی تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بلی الماری کے پیچھے سے جھانک رہی ہے ۔فوراً اٹھا اور دبے پاﺅں دروازہ پر پہنچ کر اس کو بند کر دیا۔ دوسرے دروازہ کو بھی لپک کر بند کیا جب بلی گھر گئی تو حلق پھاڑ کر چلایا،خانم دوڑنا۔۔۔ جلدی آنا۔۔۔ بلی۔۔۔ بلی، گھیری ہے۔\n\nکیا ہے ؟ خانم نے صحن کے اس پار سے آواز دی۔ ابھی آئی۔\n\nزور سے میں پھر گلا پھاڑ کر چلایا، بلی گھیری ہے۔۔۔ بلی۔۔۔ ارے بلی۔۔۔ بلی۔۔۔ کیا بہری ہو گئی ؟\n\nخانم کو کبوتروں کا بے حد شوق تھا اور یہ کمینی بلی تین کبوتر کھا گئی تھی۔ علاوہ اس کے دو مرغیاں،چار چوزے اور مکھن دودھ وغیرہ علیحدہ۔ خانم تو بوکھلائی ہوئی پہنچی اور کانپتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا، کیا بلی؟ پکڑ لی! پکڑ لی۔۔۔؟\n\nمیں نے کہا، ہاں۔۔۔ گھیر لی۔۔۔ بلی بلی! جلدی۔۔۔ یہ کہہ کر میں نے خانم کو اندر لے کر دروازہ بند کر لیا۔ خانم کی اماں جان نے منع کر دیا ہے کہ بلی کو جان سے مت مارنا۔ ادھر بلی کا یہ حال کہ روئی کے گالے کی مار سے قابو میں نہیں آتی۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور میں نے بھی ایک نئی ترکیب نکالی ہے کہ بلی کی بھی عقل ٹھکانے آ جائے اور خانم کی اماں جان بھی ناراض نہ ہوں۔ وہ یہ کہ کمرے کو چاروں طرف سے بند کر کے صرف ایک دروازے کے کواڑ ذرا سے کھول دیجئے، صرف اتنا کہ بلی اس میں سے نکل جائے اور خود دروازے کے پاس ایک کرسی پر کھڑے ہو کر کواڑ پر ہاتھ رکھے اپنی بیوی سے کہئے کہ لکڑی لے کر بلی پر دوڑے اور جب ڈر لگے تو لکڑی کو تاک کر بلی کے ایسے مارے کہ سیدھی لیمپ میں جا لگے اور دور ہی سے تکیے، جوتے، گلاس، ضروری مقدموں کی مسلیں، تعزیرات ہند، قانون شہادت، باضابطہ دیوانی اور یا اسی قسم کی دوسری چیزیں بلی کی طرف پھینکے اور پھر بھی جب کہ کچھ نہ لگے اور کوئی چیز بھی باقی نہ رہے تو سگریٹ کا ڈبہ معہ سگریٹوں کے تاک کے بلے کے مارے۔\n\nلازمی ہے کہ ایک سگریٹ تو بلی کے ضرور ہی لگے گا۔ بلی تنگ آ کر خواہ مخواہ اسی دروازے سے بھاگے گی جہاں آپ اس کے منتظر کو اڑ پکڑے کھڑےہیں۔ جب آدھی بلی دروازہ کے باہر ہو اور آدھی اندر تو زور سے دروازہ کو بند کر دیجئے اور بلی کو دروازے ہی میں داب لیجئے۔ بیوی سے کہئے کہ دروازہ زور سے دبائے رہے اور خود ایک تیز دھار استرے سے بلی کی دم خیار ترکی طرح کاٹ لیجئے۔ پھر جو دم کٹی آپ کے منہ کی طرف رخ بھی کر جائے تو میرا ذمہ۔\n\nچنانچہ میں نے بھی یہی کیا ادھر بلی دروازے کے بیچ میں آئی اور پھر زور سے چلایا خانم لیجیو! خانم لیجیو!خانم دوڑ کر آئی۔ میں نے کہا کہ تم دروازہ دابو مگر زور سے،ورنہ بلی لوٹ کر کاٹ کھائے گی غرض خانم نے زور سے دروازہ دبایا، بلی تڑپ رہی تھی اور عجیب عجیب قسم کی آوازیں نکال رہی تھی ادھر میں استرا لے کر دوڑا بس ایک ہاتھ میں دم کھٹ سے صاف اڑا دی۔\n\nدم تو بالکل صاف اڑ گئی مگر بد قسمتی ملاحظہ ہو۔ دفتر کا وقت تھا اور منشی جی ایک مقدمے والے کو پھانسے لا رہے تھے۔ بلی کو اسی طرح دبا ہوا دیکھ کر سیڑھیوں پر بے طرح لپکے کہ یہ ماجرا کیا ہے۔ عین اس وقت جب کہ میں نے دم کاٹی ،انتہائی زور لگا کر بلی تڑپ اٹھی اور غوں فش کر کے منشی جی پر لگی اور وہ موکلوں پر ! غلغپ!! خانم کے منہ سے منشی جی کی جھلک دیکھ کر ایک دم سے نکلا، منشی جی۔ میرے منہ سے نکلا۔موکل ! مقدمہ۔۔۔\n\nخانم نے پھر کہا، مقدمہ۔۔۔\n\nاتنے میں منشی جی نے دروازے میں سر ڈال کر اندر دیکھا۔ میرے ایک ہاتھ میں استرہ تھا اور دوسر ے ہاتھ میں بلی کی دم ! خانم برابر کھڑی تھی۔ منشی جی آگ بگولا ہو گیے، اندر آئے غصہ کے مارے ان کی شکل چڑی تن کے باشاہ کی سی تھی۔\n\nلاحول ولا قوۃ مٹھی بھینچ کر منشی جی بولے موکل۔اور پھر دانت پیس کر بہت زور لگایا مگر نہایت آہستہ سے کہ موکل جو باہر کھڑا تھا وہ سن نہ لے۔ موکل لاحول ولا قوۃ۔۔۔ کوئی مقدمہ نہ آئے گا۔۔۔ یہ وکالت ہو رہی ہے؟ منشی جی نے ہاتھ سے کمرہ کی لوٹ پوٹ حالت کو دیکھ کر کہا۔\n\nخانم غائب ہو چکی تھی۔\n\nمیں بھلا اس کا کیا جواب دیتا۔\n\nیہ وکالت ہو رہی ہے۔ منشی جی نے پھر اسی لہجہ میں کہا، ۵۰۰ کا مقدمہ ہے۔ جلدی ۔ہاتھ سے جھٹک کر کہا۔\n\nپانچ سو روپے کا نام سن کر میں بھی چونکا۔ روپوں کا خیال آنا تھا کہ استرہ اور بلی کی دم الگ پھینکی اور دوڑ کر دوسری طرف سے دفتر کا دروازہ کھولا۔\n\nمنشی جی نے جلدی سے موکلوں کو بٹھایا اور دوڑ کر مجھ سے تاکید کی کہ فوراً آؤ پانچ سو روپے ملنے والے ہو رہے تھے اور جوں توں کر کے جلدی جلدی میں نے کوٹ پتلون پہنا کیونکہ منشی جی کی ہمیشہ سے تاکید تھی کہ بغیر کوٹ پتلون پہنے دفتر میں نہ بیٹھا کرو۔موزے پہننے کو تھا کہ منشی جی پھر آئے اور چلتے نہیں کہہ کر میرے آئے ہوش اڑا دیے۔ میں بغیر موزے پہنے سلیپر میں چلا آیا بلکہ یوں کہیےکہ منشی جی مجھے کھینچ لائے۔ نہایت ہی سنجیدگی سے میں نے موکلوں کے سلام کا جواب دیا۔ ایک بڑی توند والے مارواڑی لالہ تھے اور ان کے ساتھ دو آدمی تھے جو ملازم معلوم ہوتے تھے۔ لالہ جی بیٹھ گیے اور انہوں نے اپنے مقدمہ کی تفصیل سنائی۔\n\nواقعہ دراصل یوں تھا کہ کسی سمجھ دار آدمی نے لالہ جی کو الو کی گالی دی تھی۔ گالی دہرانا خلاف تہذیب ہے۔ ناظرین کی آگاہی کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ اس گالی کی رو سے لالہ صاحب کی ولدیت الو ہوئی جاتی تھی۔میں نے لالہ جی سے بہت سے سوالات کیے اور خوب اچھی طرح غور و فکر کے بعد ان سے کہا، مقدمہ نہیں چل سکتا۔\n\nکیوں؟ لالہ جی نے اعتراض کیا۔\n\nاس وجہ سے میں نے کہا۔ اس وجہ سے نہیں چل سکتا کہ اول تو آپ کے پاس کوئی گواہ نہیں اور پھر دوسرے یہ کے تمام ہائی کورٹ اس بارے میں متفق ہیں کہ اس قسم کے الفاظ روزانہ اعلیٰ طبقہ کے لوگ بات چیت کے دوران میں آزادی سے استعمال کرتے ہیں اور اس سے توہین نہیں ہوتی۔\n\nلالہ جی کچھ برداشتہ خاطر ہو کر منشی جی سے بولے، واہ جی تم بھی ہمیں کہاں لے آئے ہمیں تو ایسے وکیل کے پاس لے چلو جو مقدمہ چلا دے۔\n\nمیری نظر منشی جی پر پڑی اور ان کی میرے اوپر۔ وہ آگ بگولہ ہو رہے تھے مگر ضبط کر رہے تھے۔ نظر بچا کر انہوں نے جھنجھلا کر میرے اوپر دانت پیسے پھر ایک دم سے سامنے کی الماری پر سے بلا کسی امتیاز دو تین کتابیں جو سب سے زیادہ موٹی تھیں میرے سامنے پٹک دیں اور بولے:\n\nوکیل صاحب، لالہ صاحب اپنے ہی آدمی ہیں ذرا کتابوں کو غور سے دیکھ کر کام شروع کیجئے۔ یہ کہتے ہوئے میرے سامنے ڈکشنری کھول کر رکھ دی کیونکہ اس کتاب کی جلد بھی سب سے موٹی تھی۔پھر لالہ صاحب کی طرف مسکرا کر منشی جی نے عینک کے اوپر سے دیکھتے ہوے کہا، لالہ صاحب معاف کیجئے گا یہ بھی دکانداری ہے اور۔۔ پھر۔۔ آپ کا مقدمہ۔۔۔ جی سو میں چلے ہزار میں چلے (یہ مقدمہ بالکل نہ چلا اور میں ہار گیا) پھر میری طرف مخاطب ہو کر منشی جی اسی طرح مسکراتے ہوئے بولے۔\n\nصاحب، یہ لالہ صاحب گھر ہی کے آدمی ہیں۔ میری ان کی ۱۸ برس سے دوستی ہے کوئی آج کی ملاقات تھوڑی ہے۔ لالہ جی کے منشی جی سے نہایت ہی گہرے اور دیرینہ تعلقات تھے اور وہ یہ کہ منشی جی اس سٹرک پر اٹھارہ برس سے چلتے تھے جس پر لالہ صاحب کی دکان تھی۔ چنانچہ لالہ صاحب نے ان دیرینہ تعلقات کی تصدیق کی۔ میں اس دوران ڈکشنری کو لاپرواہی سے دیکھ رہا تھا۔ میرے سامنے حروف (بی) کی فہرست تھی۔ معاً لفظ (برڈ) یعنی چڑیا پر میری نظر پڑی اور پھر لالہ جی پر۔ قطعی یہ لالہ جی چڑیا تھا کم از کم میرے لیے اور وہ بھی سونے کی۔ان سے مجھے پانچ سو روپے وصول ہونے والے تھے ! میں نے واقعی بڑی حماقت کی تھی جو ان سے کہہ دیا تھا کہ مقدمہ نہیں چل سکتا۔ یہ میں نے محسوس کیا۔مجھے خاموش دیکھ کر لالہ صاحب پژمردہ ہو کر بولے : وکیل صاحب تو کچھ بولتے نہیں۔\n\nان کے والد خان بہادر ہیں۔ میں نے منشی جی سے سوال کیا،لالہ جی نے کہا یہ ہمارے محلے میں خود ایک رائے بہادر رہتے ہیں۔ لالہ جی نے یہ اس طرح فخریہ کہا گویا وہ خود رائے بہادر لڑکے ہیں۔\n\nمیں نے موقع پر کہا، لالہ صاحب آپ کے گواہ کوئی نہیں ہیں اس کا تو۔۔۔\n\nمنشی جی نے میری بات کاٹ کر کہا: اس بارے میں سب طے ہو چکا ہے ! چار گواہ بنا لیے جائیں گے۔\n\nتو پھر کیا ہے؟ میں نے اطمینانیہ لہجہ میں کہا۔\n\nاس کے بعد ہی لالہ جی پر روغن قاز کی خوب ہی مالش کی گئی۔ اس سلسلے میں لالہ جی سے کچھ عجیب ہی طرح کے بڑے گہرے تعلقات قائم ہو گیے کیونکہ لالہ جی مار واڑی تھے اور میں بھی مارواڑی ہوں اور پھر میرے والد صاحب مارواڑ کی اس ریاست میں جہاں لالہ جی کی لڑکی بیاہی گئی ہے، ملازم ہیں۔میرے پیر میں سردی محسوس ہو رہی تھی۔ دو مرتبہ ملازم لڑکے کو آواز دے چکا تھا۔ موزے پلنگ کے پاس کرسی پر پڑے تھے۔ لالہ جی نے منشی جی کی تجویز پر کہا کہ نوکر آپ ہی کا ہے۔ کمرہ بھی برابر ہی تھا مگر وہ مارواڑی ملازم تھا جب وہاں پہنچا تو پکار کر اس نے پوچھا۔ کیا دونوں لاؤں؟\n\nلاحول ولاقوۃ۔ میں نے اپنے دل میں کہا یہ لالہ جی کا نوکر بھی عجیب احمق ہے مگر میں خود مارواڑی تھا اور جانتا تھا کہ یہ اس ملک کا رہنے والا ہے جہاں اردو ٹھیک نہیں سمجھتے ہیں مگر پھر بھی اس حماقت پر تو بہت ہی غصہ آیا کیونکہ آپ خود غور کیجئے کہ موزے منگائے اور پوچھتا ہے کہ دونوں لاؤں، پکار کر منشی جی نے کہا، ہاں دونوں۔\n\nآپ یقین مانیے کہ وہ کمرے سے بجائے موزوں کے دونوں اگالدان لیے چلا آتا ہے، میں اب اس کی صورت کو دیکھتا ہوں کہ ہنسوں یا روؤں، ابھی ابھی یہ طے کرنے نہیں پایا تھا کہ لالہ جی مراد آبادی قلعی کے اگالدان کو شاید گلدان سمجھ کر دیکھتے ہیں۔ اس کو مٹھی میں اس طرح پکڑتے ہیں جیسے مداری ڈگڈگی کو، یہاں تک بھی غنیمت ہے مگر قسمت تو دیکھئے کہ قبل اس کے کہ منشی جی ان کے ہاتھ سے اگالدان کو لیں اور ملازم کو اس کی غلطی بتائیں لالہ جی نے اس کے اندر جھانک کر دیکھا اور کراہیت مگر نہایت سنجیدگی سے اس کو زمین پر رکھتے ہوئے بولے۔ باسن توگھڑائیں چوکھا ہے مگر کسی بیٹی رے باپ نے اس میں تھوک دیا ہے۔\n\nانا للہ و انا الیہ راجعون! وہ اپنا ہاتھ پاک کرنے کے لیے زمین پر رگڑ رہے تھے اور میں اپنی قسمت کو رو رہا تھا کہ خدا نے پالا ڈالا تو ایسوں سے کیونکہ گھڑائیں چوکھا کے معنی ہیں بہت اچھا اور بیٹی رے باپ کے معنی ہیں، بیٹی کا باپ، یعنی پرلے درجے کا احمق اور بدتمیز۔ یہ سب کچھ تھا مگر پانچ سو روپے ! مجھے لالہ جی محض انہی روپوں کی وجہ سے پری معلوم ہو رہے تھے اور کیوں نہ ہوں۔ادھر لالہ جی گیے اور ادھر منشی جی نے عینک کے اوپر سے میرے اوپر نگاہیں ترچھی ترچھی ڈالیں، بڑے لال پیلے ہو کر انہوں نے کہا:میں نوکری نہیں کر سکتا۔۔۔ آپ وکالت کر چکے ہیں۔۔۔ کر چکے۔۔۔ بس۔۔۔ بس ہو چکی۔۔۔ دیکھ لیا۔۔۔\n\nنائی رے نائی کتنے بال؟ جو ہیں صاحب جی سامنے آئے جاتے ہیں۔۔۔ کہیں ایسے ہی وکالت ہوتی ہے ؟ادھر پھر۔۔۔\n\nمیں نے تنگ آ کر کہا، تو آخر کیا غضب ہو گیا؟\n\nجھلا کر منشی جی بولے : جی ہاں۔۔۔ مارواڑی کا مقدمہ اور آپ بلی کی دم کاٹ رہے ہیں۔۔۔ اور جو وہ دیکھ لیتا تو؟ ہاں۔۔۔ اور یہ! آپ نے یہ کیسے کہہ دیا کہ مقدمہ نہیں چل سکتا؟ منشی جی نے یہ جملہ تیز ہو کر کہا۔\n\nمیں: اس لیے کہ اول تو گواہ ندارد اور پھر دوسرے یہ کہ محض اتنی سی بات پر مقدمہ۔۔۔\n\nمنشی جی جھلا کر بولے، بس بس۔۔۔ ہو چکی وکالت۔۔۔ آپ کو کیسے معلوم کہ مقدمہ نہیں چلے گا۔ ہونہہ امتحان کیا پاس کیا کہ سمجھے کہ وکیل ہو گیے، ارے میاں یہاں تو یہ حال ہے کہ نہ معلوم کتنے وکیل بنا دیے۔۔۔ ہار ہار کہتا ہوں، اور پھر وہی باتیں۔۔۔ مقدمہ نہ بھی چلے گا تو موکل سے تھوڑی کہہ دیا جاتا ہے کہ تیرا مقدمہ نہیں چلے گا۔ میں قائل ہو رہا تھا واقعی میری غلطی تھی۔ منشی جی بزرگ اور ہمدرد تھے۔ قانون دانی سے کچھ نہیں ہوتا۔ بقول ان کے وکالت کے پیچ سیکھنا چاہئیں، یہ وکالت کے پیچ ہیں! یعنی بالفاظ دیگر مک۔۔۔ کا۔۔۔ ری۔\n\nمیں کیا جواب دیتا، قائل تھا، معقول تھا، سر ہلا رہا تھا، ہنسی آ رہی تھی اور دل میں کہہ رہا تھا۔\n\nکہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے\n\nکم بختی تو دیکھیے کہ خانم شیشہ میں سے جھانک رہی تھی اور منشی جی کی باتیں سن کر اکیلی ہی اکیلی ہنس رہی تھی۔ میری نظر جو پڑی تو مجھے بھی بے اختیار ہنسی آئی اور میں ایک دم سے کمرے سے بھاگا۔ خدا معلوم منشی جی کیا بڑبڑائے اتنا ضرور سنا۔۔۔ بدتمیزی۔۔۔ وکالت نہیں منشی جی غصے میں آ کر چل دیے۔\n\nمیں کھانا کھا ہی رہا تھا کہ ایک مقدمے والے نے پکارا ۔یہ ایک موکل کا لڑکا تھا جس کا آج مقدمہ تھا اور اس نے مجھ سے کہا، باپ نے تاکید کر کے کہہ دیا ہے کہ موٹی والی کتاب ضرور لیتے آنا۔ مقدمہ دیوانی کا تھا، اور مجھے فوجداری کی ایک کتاب کی آج کچہری میں ضرورت تھی چنانچہ میں نےتعزیرات ہند دے کر اس کوروانہ کیا۔ یہ بھی کرنا پڑتا ہے ورنہ موکل صاحب مقدمہ خلاف ہو جانے کی صورت میں تمام الزام دیتے کہ کتاب موٹی والی کہہ دینے پر بھی نہ لائے خواہ آپ کو کتاب کی ضرورت ہو یا نہ ہو مگر موکل صاحب فرمائیں تو پھر کیسے نہ لے جائیے گا۔ضرورت پتلی سی کتاب کی ہو مگر آپ کو موٹی کتاب لے جانا پڑے گی۔\n\nمیں اپنی قابلیت پر دل ہی دل میں نازاں تھا اور اس کا سکہ خانم پر بھی بٹھانا چاہتا تھا،کچھ سنتی ہو میں نے کہا میرے ساتھیوں میں سے اب تک کسی کو پانچ سو روپیہ کا مقدمہ نہیں ملا شاید قائل ہو کر خانم اس کے جواب میں مسکرائی اور میں نے اور رعب جمایا،تم خود دیکھو کہ اتنی جلدی پانچ پانچ سو روپے کے مقدمات آنے لگے ہیں، اب بتاؤ نوکری اچھی یا یہ وکالت۔\n\nخانم اپنی فکر میں تھیں اور بولیں ، تو اپنی بات سے نہ پھر جانا ،آج شام کو کچہری سے آؤ بندے ضرور ساتھ ہوں دام طے کر لینا اور چکا کر لانا اور۔۔۔ بات کاٹ کر میں نے کہا لیتا آؤں گا۔۔۔ میں۔۔۔ اور دیکھو جب ایک مقدمہ بڑا آتا ہے یعنی زیادہ فیس کا تو پھر اس کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے مقدمے آتے ہیں اور تار سا بندھ جاتا ہے۔\n\nخانم نے کہا، تو ضرور لیتے آنا، کل تک تو وہ دے دے گا آخر مارواڑی مہاجن ہے اس کے لیے پانچ سو روپے کون سی بڑی بات ہے۔\n\nقاعدے سے تو منشی جی نے اس سے روپیہ وصول کر ہی لیا ہو گا۔ میں نے سوچا کہ بات دراصل جناب یہ ہے کہ میری حیثیت کے نئے وکیل کے پاس اگر پانچ سو روپے کا مقدمہ آ جائے تو اس کو ایسا معلوم دیتا ہے کہ ٹھنڈے پانی سے نہا رہے ہیں، مطلب میرا یہ کہ سانس کچھ اوپر کو کھینچنے لگتی ہے۔ میں نے خانم سے فوراً وعدہ کر لیا تھا کہ کچہری سے واپسی میں ہیرے کے بندے لیتا آؤں گا۔ وہ بندے انہوں نے حال میں بے حد پسند کیے تھے لیکن قاعدے سے اب تک ان کے لیے میری حیثیت کو دیکھتے ہوئے وہ خریدنے کی چیز نہ تھی بلکہ محض دیکھنے کی چیز تھی۔ خانم کےبار بار اصرار سے میں نے کہا:\n\nجان کیوں کھائے جاتی ہو ،کہتا بھی ہوں کہ لیتا آؤں گا ضرور لیتا آؤں گا ضرور بالضرور اور کچہری سے سیدھا بازار جاؤں گا اطمینان رکھو۔ باوجود اس قدر اطمینان دلانے کے بھی خانم مجھے کمرے کے دروازے تک حسب معمول رخصت کرنے جو آئیں تو چلتے چلتے پھر تاکید کر دی۔\n\nمیں کچہری پہنچا۔ راستہ میں جتنے بھی نیم کے درخت ملے ان کی طرف دیکھا تو خانم کی خیالی تصویر ہیرے کے بندے پہنے ہوئے نظر آئی۔ طبعیت آج بے طرح خوش تھی، اپنے کو میں ذرا بڑے وکیلوں میں شمار کر رہا تھا، کچہری پہنچ کر سیدھا منشی جی کے پاس پہنچا، منشی جی نے مجھے دیکھ کر ناک کے نتھنے پھلا لیے، میں نے ذرا ادھر ادھر کی کام کی باتیں پوچھیں تو منہ بنا بنا کر جواب دیے۔ مگر مجھے خانم کے بندوں کی جلدی پڑی تھی اور میں نے منشی جی سے آخر کو پوچھ لیا کہ پانچ سو روپے میں لالہ جی کتنے روپے دے گیے اور کتنے باقی ہیں، کسی نے کہا ہے؛\n\nاے بسا آرزو کہ خاک شد\n\nآپ مشکل سے اندازہ لگا سکیں گے کہ میرا کیا حال ہوا جب معلوم ہوا کہ مقدمہ پانچ سو کا تو بے شک تھا اور ہے مگر پانچ سو روپے کا نہیں ہے بلکہ دفعہ ۵۰۰ کا (تعزیرات ہند) ہے۔صدمہ کی وجہ سے میری گردن ایک طرف کو ڈھلک گئی اور اس پر منشی جی کا نہایت ہی کرخت اور طنزیہ لہجے میں ریمارک، جی۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ پانچ سو روپے فیس کے مقدمے آپ کے لیے اب میں ہائیکورٹ سے منگواؤں گا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔\n\nمیرا تمام جوش و خروش رخصت ہو گیا اور ایک عجیب پسپائیت چھا گئی۔ جماہی لے کر سامنے نیم کی طرف دیکھا ۔بجائے خانم کے خیالی تصویر کے دکاندار کی الماری میں بندے مخمل کی ڈبیا میں رکھے اسی طرح چمک رہے تھے۔\n\nگھر پہنچا تو خانم نے چپکے سے آکر پیچھے سے آنکھیں بند کر لیں اور پھر فوراً ہی میری دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈال کر کہا تمہیں قسم ہے کتنے میں ملے۔ اب آگے جانے دیجیے کہ کس طرح میں نے خانم کو غلط فہمی سے نکال کر سمجھایا اور کیا کیا کوفت ہوئی ہے اور یہ سب کچھ اپنی ہی حماقت سے کیونکہ ذرا غور کرنے پر معلوم ہو گیا کہ اس قسم کے خیالات ہی دل میں مجھے نہ لانا چاہیے تھے۔ لاحول ولا قوۃ۔\n\n(۲)\n\nدوسرے تیسرے روز کا ذکر ہے کہ ایک پر لطف ایٹ روم تھا ،کچھ شناسا اور دوست باہر سے بھی اسی تقریب میں آئے تھے جن کا تعلق کالج سے تھا۔ ان میں سے کچھ وکیل بھی تھے۔ یہاں وکیلوں سے بحث ہے۔ ان میں سے کچھ صاحبان ایسے تھے جن سے میری بڑی بے تکلفی تھی۔ مجھ سے دو تین سال پہلے ایل ایل بی کر چکے تھے فرض کیجیے کہ ان میں سے ایک کا نام الف اور دوسرے کا ب اور تیسرے کا ج تھا۔\n\nمسٹر الف سے صبح ملاقات ہوئی تھی سخت پریشان تھے۔ وکالت قطعی نہ چلتی تھی کہنے لگے یار کیا کروں نوکری کی فکر میں ہوں، میں نے کہا پھر؟ تو بولے کوئی نوکری بھی نہیں ملتی۔ میری حالت پوچھی تو میں نے بھی یہی کہا اور حقیقت بتلا دی کہ یار جب تک والد صاحب روپے دیتے جائیں گے میں برابر وکالت کرتا جاؤں گا۔\n\nاسی طرح ب صاحب سے بھی ملاقات ایک اور صاحب کے ہاں ہوئی۔ ان کا پتلا حال تھا بلکہ ان کی جیب سے تو عمدہ عمدہ قسم کے وانٹڈ اشتہارات کی گڈی کی گڈی نکلی۔ چونکہ میرے گہرے دوست تھے، دو تین اس میں سے چھانٹ کر مجھے بھی اشتہار دیے اور پھر عرضی کے بارے میں تاکید کی کہ رجسٹری سے بھیجنا۔ آج تک تو عرضیوں میں سے ایک کا بھی جواب نہیں آیا اور خواہ مخواہ رجسٹریوں پر میرے دام گیے۔ج صاحب سے بھی ملاقات ہوئی اور ان کا بھی یہی حال تھا۔ میری ان تینوں حضرات سے بے تکلفی تھی لہذا مجھے اصلی حالات بتانے میں کسی نے تامل نہ کیا۔\n\nشام کو ایٹ ہوم کے پر لطف جلسے میں میری قسم کے بہت سے وکیل اپنے اپنے باپوں کی کمائی سے بنوائے ہوئے قیمتی سوٹ زیب تن کیے کیک اور پھل جھاڑ رہے تھے۔ ہم عمر اور ہم خیال اور پھر ہم پیشہ جمع ہوئے تو یہی سوال پیش ہو گیا کہ کہو بھئی کیسے چلتی ہے۔ میں نہیں عرض کر سکتا کہ یہ سوال کس قدر ٹیڑھا ہے۔ آپ کو پہچان بتاتا ہوں کہ نیا وکیل اس سوال کا جواب دینے سے پہلے اگر ذرا بھی کھانسے یا ادھر ادھر دیکھے تو جو آمدنی وہ اپنی بتائے اس کو بے دھڑک دس پر تقسیم کر دیں بالکل صحیح جواب نکل آئے گا۔ نئے وکیل اس سوال سے اس قدر گھبراتے ہیں (خصوصاً میں) کہ اگر وہ سسرال جاتے ہوں تو محض اس سوال سے بچنے کے لیے بطور پیش بندی یہی کہہ دیا جاتا ہے کہ جناب ایک مقدمہ میں جا رہا ہوں۔ آپ ہی بتائیے کہ پھر آخر کیا بتایا جائے۔\n\nغرض یہی سوال کہ کیسی چلتی ہے ؟ پیش کیا گیا اور مسٹر ب کو جواب دینا پڑا۔ مسٹر ب نے چہرے کو کسی قدر منور کر کے کہا۔ خدا کا شکر ہے اچھا کام چل رہا ہے۔\n\nکتنا اوسط پڑ جاتا ہے ؟ مسٹر ج نے پوچھا۔مسٹر ب نے ذرا گلا صاف کر کے کھانستے ہوئے کہا ، کیا اوسط ہوتا ہے۔۔۔ بھئی بات تو یہ ہے کہ نیا کام ہے کچھ بھروسہ نہیں، کسی مہینے میں کم تو کسی میں زیادہ۔ اتنا کہہ کر کچھ کھانے کی طرف متوجہ ہوئے،کیونکہ ا س فرض سے بھی غافل رہنا نہ چاہتے تھے۔اور پھر کچھ سمجھ کر خود ہی کہا۔۔۔ ایک مہینے میں ایسا ہوا کہ صرف بتیس روپے پونے نو آنے آئے۔۔۔ !\n\nایک قہقہہ لگا اور ایک صاحب نے زور سے کہا پونے نو آنے نہ کم نہ زیادہ۔مسٹر ب نے جلدی سے لوگوں کی غلط فہمی سے اس طرح نکالا، ایک میں تو ساڑھے بتیس روپے آئے لیکن دوسرے مہینے میں سترہ روز کے اندر اندر دو سو چھیالیس۔ مسٹر ج نیز اوروں نے غور سے مسٹر ب کی آمدنی کا معائنہ کرتے ہوئے کہا، تو اوسط آپ کا دو سو روپیہ ماہوار کا پڑتا ہوگا۔\n\nمسٹر ب نے نظر نیچی کیے نارنگی کی پھانک کھاتے ہوئے کہا، جی مشکل سے۔۔۔ دو سو سے کم ہی سمجھیے بلکہ ایک کم دو سو کہیے اس طرح سوال سے اپنی جان چھڑا کر اب مسٹر ج کو پکڑا اور کہا کہو یار تمہارا کیا حال ہے ؟ اب مسٹر ج کی طرف سب کی آنکھیں اٹھ گئیں ان کی حالت بھی قابل رحم تھی، ان کو بھی کھانسی آئی اور ان کا بھی اوسط دو سو پونے دو سو کے قریب پڑا۔ مسٹر الف کا نمبر آیا تو کم و بیش اتنا ہی ان کا بھی حساب پڑتا تھا مگر چونکہ وہ حساب رکھنے کے عادی نہیں تھے لہذا کچھ زیادہ روشنی ڈالنے سے قاصر رہے۔ سب کی بالا تفاق رائے تھی کہ وکالت نہایت عمدہ اور آزاد پیشہ ہے، قطعی ہے بشرطیکہ گھر سے برابر روپیہ آتا رہے، سال دو سال میں ڈیڑھ دو سو کی آمدنی ہونے لگنا دلیل ہے اس یقینی امر کی کہ دس بارہ سال میں کافی آمدنی ہونے لگے گی یعنی ہزار بارہ سو۔\n\nمیرا نمبر آیا تو میں نے مسٹر ب کے عطا کردہ وانٹڈ کے اشتہار نکال کر دکھائے کہ بھئی میں تو آج کل یہ دیکھ رہا ہوں۔ ناظرین نے ایک قہقہہ لگا یا اور میں نےچپکے سے مسٹر ب کی طرف دیکھا وہ کچھ بے چین تھے۔مسٹر الف و ب و ج کیا بلکہ بڑی حد تک جتنے بھی وہاں وکالت پیشہ تھے انہوں نے خاص دلچسپی کا اظہار کیا اور پھر مسٹر الف و ب و ج نے تو کہا کہ ا جی جمے رہو۔ ہم بھی پہلے گھبرا گیے تھے اور تمہاری طرح کہتے تھے کہ نوکری کر لیں گے مگر خبردار نوکری کا بھول کر بھی نام نہ لینا۔\n\nواقعی بات بھی ٹھیک تھی، کیوں؟ شاید محض اس وجہ سے کہ وکالت نہایت معزز اور آزاد پیشہ ہے۔\n\n(۳)\n\nاسی ایٹ ہوم میں میرے سینئر بھی ملے۔ کہنے لگے کہ ،صبح آنا ایک معمولی سی عذر داری ہے دس بجے کی گاڑی سے چلے جانا شام کی گاڑی سے چلے آنا۔\n\nیہ ضلع کی ایک تحصیل کی منصفی کا مقدمہ تھا۔ مقدمہ یا فیس کے بارے میں کیفیت پوچھ نہ سکا۔ میرے سینئر پرانے اور کامیاب وکیل ہیں۔ لمبے چوڑے وجہیہ آدمی، قد آور، دبنگ آواز کے وکیلوں میں نمایاں شخصیت رکھنے والے۔چونکہ تحصیلوں کی منصفی میں نئے وکیل کو خصوصاً ذرا ٹھاٹھ سے جانا چاہیے۔ میں نے بھی رات ہی کو ایک عمدہ سا سوٹ نکال کر رکھا۔ صبح خانم سے کہا کہ چائے کے بجائے پراٹھے اور انڈے کھلواؤ۔ ایک کتاب بھی لے جانا طے ہوا حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہ تھی۔\n\nمجھے تو افسوس تھا ہی، خانم سے کہا تو اس کو اور بھی افسوس ہوا کہ جب میں اپنے سینئر کے ہاں سے واپس آیا اور سارا قصہ سناتے ہوئے جلدی جلدی اسٹیشن جانے کی تیاری کی۔ بات افسوس کی دراصل یہ تھی کہ موکل بیس روپے دے گیا تھا۔ سینئر صاحب تو ججی کے ایک اپیل کی وجہ سے نہ جا سکتے تھے لہذا انہوں نے مجھ سے کہا کہ وکالت نامہ موجود ہے اس پر تم بھی دستخط کر دینا اور دس روپے تم لے لینا باقی موکل کو واپس کر دینا۔ میں بھلا ان سے کیسے کہتا کہ جناب یہ آپ کیوں نا حق واپس کرواتے ہیں۔\n\nمیرے اور خانم کے دماغ تو دیکھیے۔ میں سوچ رہا تھا کہ جو کام میرے سینئر کرتے، آخر بالکل وہی کام میں کروں گا، وہ خود کرتے تو بیس لیتے جو موکل دے ہی گیا تھا اور مجھ سے کام لے رہے ہیں تو آیا ہوا روپیہ واپس کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ مگر مجھے واپس کرنا ہی تھا۔ روپے فیس کے علاوہ کرایہ وغیرہ کے علیحدہ تھے۔ معاملے کو سینئر صاحب سے خوب سمجھ کر آیا تھا اور پھر آخر کچھ معاملہ بھی تو ہو،ذرا غور تو کیجیے کام ہی کیا تھا۔ قصہ دراصل یہ تھا کہ دو بھائی تھے ایک نے قرض لیا، مہاجن قرقی کرانے آیا تو قرض دار بھائی کے پاس کچھ برآمد نہ ہوا تو اس نے دوسرے بھائی کے بیل خواہ مخواہ قرق کرا لیے۔\n\nاگر دیکھا جائے تو اس معاملہ میں دراصل کسی وکیل کی بھی ضرورت نہ تھی۔ کجا ایک بڑے وکیل کی کیونکہ کو آپریٹو بنک کے رجسٹر موجود تھے اور پھر پٹواری کی فرد جس سے یہ ثابت تھا کہ دونوں بھائیوں کی کھیتی باڑی اور تمام کاروبار الگ ہیں اور ایک بھائی کے قرضے میں دوسرے بھائی کے بیل کسی طور بھی قرق نہیں ہو سکتے۔ اس کی بھی پوری شہادت موجود تھی کہ یہ بیل بنک کے قرضے سے خریدے گیے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود بھی بجائے وکیل بالکل نہ کرنے کے یا میرا سا کوئی تھرڈ کلاس کر لینے کے وہ بھلا مانس سیدھا میرے سینئر کے پاس دوڑا آیا۔\n\nمیں آپ سے کیا عرض کروں کہ تمام نئے وکیلوں کو (خصوصاً مجھے سب سے زیادہ) کتنی بڑی شکایت ہے کہ اہل معاملہ یعنی مقدمہ لڑنے والے ذرا ذرا سے کاموں کے لیے بڑے بڑے وکیلوں کے پاس دوڑتے ہیں۔ ہم لوگوں کو کوئی مسخرا بھول کر بھی نہیں پوچھتا ورنہ اس سے بہتر کام آدھی سے کم فیس پر دوڑ کر کریں۔ مگر صاحب ہماری کوئی نہیں سنتا، جسے دیکھو بڑے وکیلوں کی طرف دوڑا چلا جا رہا ہے، ہم بھی جل کر کہتے ہیں جاؤ ہماری بلا سے تم ایک چھوڑ دس مرتبہ جاؤ، دوگنے چوگنے دام بھی دو اور جھڑکیاں کھاؤ وہ علیحدہ۔ اب آپ ہی بتائیں کہ اس کے علاوہ اور بھلا ہم کر ہی کیا سکتے ہیں۔\n\nساڑھے دس بجے کے قریب میں منزل مقصود پر پہنچ گیا اور فوراً اپنے موکل کی تلاش شروع کر دی۔یہ موکل دراصل میرے سینئر صاحب کا بے حد قائل بلکہ معتقد تھا اور سوچتا تھا کہ خراب مقدمہ بھی وہ درست کر سکتے ہیں، چنانچہ اسی بنا پر وہ ان کے پاس دوڑا آیا تھا، میں نے اس موذی کو کبھی نہ دیکھا تھا۔ ادھر میں اس کی تلاش میں تھا اور ادھر وہ میرے سینئر کا منتظر، اسے کیا معلوم کہ ان کے بجائے میں آیا ہوں اور خود اس کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں۔ پیش کار کے پاس جا کر میں نے وکالت نامہ داخل کیا۔ عدالت کے کمرے سے نکلا ہی تھا کہ ایک گنوار نے مجھے سلام کیا، اس طرح کہ جیسے مجھ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہے، اس نے مجھ سے میرے سینئر کے بارے میں پوچھا کہ ،کیوں صاحب آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ کیوں نہیں آئے ؟ میں نے اس کے جواب میں اس کا نام لے کر پوچھا کہ تمہارا نام یہ ہے، اس نے کہا ہاں، میں خوش ہوا کہ موکل مل گیا۔ میں نے اس سے کہا کہ تمہارے مقدمہ میں، میں آیا ہوں ان کی ججی میں ایک اپیل ہے۔ یہ سن کر اس کمبخت کا گویا دم ہی تو سوکھ گیا۔ نہایت ہی بد دل ہو کر اس نالائق نے دو چار آدمیوں کے سامنے ہی کہہ دیا کہ انہوں نے (یعنی میرے سینئر نے ) میرا مقدمہ پٹ کر دیا۔ آپ خود ہی خیال کیجیے کہ اس گنوار کے اوپر مجھے کیا غصہ نہ آیا ہو گا۔ میں سخت خفیف سا ہوا اور دل میں ہی میں نے کہا کہ اگر ایسے ہی دو چار اور مل گیے تو پھر بقول منشی جی وکالت تو بس چل چکی۔\n\nمیں نے اپنی خفت مٹانے کو ہنسی میں بات ٹالنا چاہی اور کہا، کیا فضول بکتا ہے۔ مجھے خیال آیا کہ دس روپے منجملہ بیس کے اسی وقت واپس کر دوں تاکہ یہ خوش ہو جائے، چنانچہ میں نے دس روپے کا نوٹ نکال کر اس کو دیا اور کہا کہ باقی میری دس فیس کے ہوئے اور یہ تمہیں واپس کیے جاتے ہیں۔میرا روپیہ واپس کرنا گویا اور بھی ستم ہو گیا، گویا ساری قلعی کھل گئی۔ اس نے نوٹ تہہ کر کے اپنی جیب میں رکھتے ہوئے کہا۔ مجھے دس پانچ روپے کا ٹوٹا پھوٹا وکیل کرنا ہوتا تو میں ان کے پاس کیوں جاتا؟ یہیں کسی کو نہ کر لیتا۔\n\nاب تو جناب میں اور بھی گھبرایا، کیا بتاؤں کس قدر اس کم بخت نے مجھے خفیف کیا اور کیسا سب کے سامنے ذلیل کیا۔ مارے غصے کے میں کانپنے لگا مجھے معلوم ہوتا کہ یہ موذی مجھے اس بری طرح بھگو بھگو کر مارے گا تو میں سو روپے فیس پر بھی اس نالائق کے مقدمہ میں نہ آتا، ہائے میں کیوں آیا بس نہ تھا کہ ایک دم سے اڑ کر یہاں سے کسی طرح غائب ہو جاؤں مبادا کہ وہ اسی قسم کے فقرے چست کرے۔ میں اس پیشے کو دل ہی دل میں برا بھلا کہہ رہا تھا اور باہر اس لطیفے پر کچہری کے لوگ ہنس رہے تھے، لا حول ولا قوۃ ایسی بھی میری کبھی کاہے کو ذلت ہوئی ہو گی، اور یہ سب درگت محض دس روپیہ کی بدولت لعنت ہے اس پیشے پر، میں نے اپنے دل میں کہا۔\n\nجب میں نے دیکھا کہ وہ موذی دور چلا گیا تو پھر برآمدہ میں نکلا۔ دور سے ایک درخت کے نیچے میں نے اس کو کھڑا دیکھا، دو چار آدمی اور تھے۔ اتنے میں اس ظالم نے مجھے دیکھا اور دیکھتے ہی وہیں سے میری طرف اس نے انگلی اٹھائی۔آپ کی طرف اگر کوئی دشمن بھری ہوئی بندوق کی نال دکھائے تو آپ کیا کریں گے ؟ یقینی آڑ میں چھپ جائیں گے، بس پھر میں نے بھی یہی کیا اور فوراً عدالت کے کمرہ میں گھس گیا کیونکہ وہ ناشدنی انگلی میرے لیے کسی طرح بھی بندوق کی نال سے کم نہ تھی پھر تھوڑی دیر بعد نکلا تو پھر اس نے میری طرف انگلی اٹھائی، اب مجھ میں ضبط کی طاقت نہ تھی اور سیدھا اسی کی طرف گیا۔ مارے غصے کے میرا برا حال تھا ۔پہنچتے ہی اس نے میرے تیور بگڑے دیکھے۔ کچھ جھجکا کہ میں نے ڈانٹ کر کہا، چپ رہو بدتمیز کہیں کا ایک تو ہم اتنی دور سے آئے آدھی فیس لی اور اس پر تو بدزبانی کرتا ہے۔\n\nدو ایک عرائض نویسوں نے بھی میری حمایت کی اور اس کو ڈانٹا اور میری قابلیت وغیرہ پر کچھ روشنی ڈالی اور اس کو قائل کیا تو وہ فوراً سیدھا ہو گیا اور پھر معذرت کرنے گا کیونکہ آخر مجھ ہی سے اس کو کام لینا تھا۔ جب وہ راہ راست پر آ گیا تو میں نے اس سے کچھ زبانی بھی باتیں دریافت کیں۔ پٹواری سے بھی بات چیت کی۔ بنک کے منشی سے بھی مل لیا اور سب کو ضروری ہدایت بھی کر دی۔ تھوڑی ہی دیر بعد مقدمہ کی پیشی ہوئی میں کبھی اس پیشی کو نہ بھولوں گا۔\n\nادھر سے میں وکیل تھا اور ادھر سے ایک موٹے تازے بڑی بڑی مونچھوں والے کالے بھجنگ وکیل تھے جن کی گھاٹی اس قدر صاف تھی اور وہ اس تیزی سے بولتے تھے کہ گمان ہوتا تھا کہ کوئی چنے دل رہا ہے۔ ادھر تو یہ معاملہ اور ادھر میں، سوکھا ساکھا قحط کا مارا معہ مبالغہ مجھ جیسے ان میں سے دس بنتے۔ غل غپاڑہ ویسے تو میں بھی مچا سکتا ہوں، حضرت کہاں ڈفلی اور کہاں ڈھول اور پھر علاوہ اس کے مجھ میں اور ان میں سب سے بڑا ایک اور فرق تھا وہ فرق جو عموماً ہائی کورٹ اور تحصیل کے وکیل میں ہو سکتا ہے۔\n\nجب مقدمہ پیش ہوا تو میں نے کچھ بن کر نہایت ہی قاعدے سے اپنے موکل کی عذر داری پیش کی مگر خدا وکیلوں کی بدتمیزی سے بچائے۔ وکیل مخالف بار بار خلاف قاعدہ دخل در معقولات کرتے تھے، بے وجہ اور بے بات میرے اوپر خلاف قاعدہ اعتراض کرتے تھے، کئی مرتبہ میں نے عدالت کی توجہ بھی اس طرف دلائی کہ ان کا کوئی حق نہیں اور عدالت نے کہا مگر وہ بھلا کاہے کو سنتے تھے، نہ انہیں عدالت کی جھڑکیوں کا ڈر تھا اور نہ اس کا خیال کہ یہ بات بالکل بے قاعدہ ہے کہ میری تقریر کے دوران میں دخل دیں، انہیں تو بس ایک ہی خیال تھا اور وہ یہ کہ مقدمہ تو ہارنا ہی ہے لاؤ اپنے موکل ہی کو خوش کر لوں تاکہ وہ قائل ہو جائے کہ میرے وکیل نے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ غرض وہ مرغے کی سی چونچیں لڑ رہے تھے، کبھی مسل سامنے سے لیے لیتے تھے تو کبھی پھاند پھاند کر مجھے روک دیتے تھے۔\n\nجس طرح بھی بن پڑا میں نے اپنی تقریر نہایت ہی عمدہ پیرائے سے خوش اسلوبی کے ساتھ ختم کی اور اب ان کا نمبر آیا انہوں نے اپنی مونچھیں پونچھ کر ذرا گلا صاف کیا گویا بالفاظ دگرکہا؛\n\nاب جگر تھام کے بیٹھو مری باری آئی\n\nانہوں نے اپنی جوابی تقریر شروع کی، آنکھیں گھما کر اور پیشانی پر بل ڈال کر ریل گاڑی سی چھوڑ دی، جو منہ میں آیا خواہ تعلق یا بے تعلق سب کہہ ڈالا اور پھر اس تقریر کے دوران میں ان کا گردن کو جھٹکا دے کر ایک عجیب انداز سے آگے کو بڑھنا اور پھر گردن ہلاتے ہوئے آنکھیں مٹکاتے ہوئے اور ہاتھ نچاتے ہوئے پیچھے ہٹنا اور پھر جھپٹ کر مسل کو لینا اور تیزی سے ورق کو الٹ پلٹ کر کے اس کے ورق اڑانا، یہ سب ایک تماشا تھا کہ اگر مسٹر السٹن یا جسٹس محمود یا راش بہاری گھوش ہوتے تب بھی اس مقدمے میں میرے خلاف ان کی بولنے کی ہمت نہ پڑتی کیونکہ مقدمہ ہی اس طرف سے کمزور تھا مگر وہ حضرت بھلا کاہے کو رکتے۔\n\nان کی اس بے تکی اور لغو تقریر سے میرے اوپر یا عدالت کے اوپر تو کوئی اثر نہ پڑ سکتا تھا مگر بدقسمتی سے میرے موکل کے اوسان خطا ہو گیے۔ وہ ناشدنی سخت گھبرایا اور یہ سمجھا کہ وکیل مخالف چونکہ بڑے زور و شور سے مقدمہ لڑ رہا ہے لہذا میری کاہلی سے جیت نہ جائے، چنانچہ اس نے میرے کان میں چپکے سے اپنا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے مجھ سے کہا کہ تم کیوں نہیں لڑتے۔ میں نے اس کی اس بے ہودگی کا کچھ جواب نہ دیا، مجھے کیا معلوم تھا کہ اس کا نتیجہ میرے حق میں برا نکلے گا ورنہ وکیل مخالف کے چپت ہی پڑتا۔لیکن میرے موکل نے مجھے پھر آگاہ کیا اور جب کئی مرتبہ مجھے بار بار تنگ کیا تو میں نے اسے جھڑک دیا کہ چپ رہ۔\n\nاب میری مصیبت آتی ہے تھوڑی ہی دیر بعد جب وکیل مخالف کی دھواں دھار تقریر پھر زوروں پر آئی تو میرے موکل نے ایک نئی ترکیب نکالی حضور کہہ کر، ہاتھ جوڑ کر منصف صاحب کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ منصف صاحب نے وکیل مخالف کو روکا اور میرے موکل سے کہا کیوں؟ اور پھر میری طرف مخاطب ہو کر کہا یہ کیا کہتا ہے ؟ مجھ سے انہوں نے اس وجہ سے پوچھا کہ عموماً موکل ہر بات پر اپنے وکیل کی معرفت عدالت سے کہتا ہے، میں نے لاعلمی ظاہر کی اور موکل سے پوچھا کہ جو کہنا ہو مجھ سے کہو۔ میری طرف موکل نے بھنا کر دیکھا اور کہا تم سے نہیں کہنا ہے مجھے تو حضور سے کہنا ہے۔ یعنی عدالت سے۔ منصف صاحب نے اس سے کہا کہ بول کیا کہتا ہے یعنی عدالت سے، منصف صاحب نے اس سے کہا کہ بول کیا کہتا ہے۔ ہاتھ جوڑے تو وہ کھڑا ہی تھا اب گڑگڑا کر کہنے لگا۔\n\nحضور میرے مقدمہ کی پیشی کی کوئی دوسری تاریخ فرما دی جائے۔ قبل اس کے کہ منصف صاحب کچھ بولیں، اس نے تین چار مرتبہ فریاد کی۔\n\nحضور میری پیشی بڑھا دی جائے۔ حضور میں مر جاؤں گا۔ وغیرہ وغیرہ اب میں کچھ کھٹکا اور گھبرایا۔\n\nقاعدہ ہے کہ بغیر وجہ مقدمہ ملتوی نہیں ہوتا لہٰذا منصف صاحب نے وجہ دریافت کی اس پر وہ ناشدنی بولا کہ صاحب میں بے موت مر گیا اب کیا کہوں اور کیا وجہ بتاؤں بس کچھ نہ پوچھئے۔ میرے تو کرم پھوٹ گیے جب اس نے بار بار دریافت کرنے پر بھی کچھ نہ بتایا تو منصف صاحب نے ڈانٹ کر کہا کہ بتانا ہو تو بتاؤ ورنہ عدالت سے باہر نکلوا دوں گا۔\n\nاس پر وہ موذی بولا اور نہایت ہی برے لہجہ میں کہا حضور میری تقدیر اس وجہ سے پھوٹ گئی اس مقدمہ میں بڑے وکیل صاحب کو بلایا تھا۔ میرے کرم جو پھوٹے تو انہوں نے بھیج دیا ان کو۔ یہ کہہ کر میری طرف انگلی اٹھائی اور میرا چہرہ فق ہو گیا، ہاتھ پیر پھول گیے،دل دھڑکنے لگا۔ جاڑوں کا موسم تھا۔ مگر پسینہ سا آ گیا۔ غرض میری طرف انگلی اٹھا کر اس نے سلسلہ کلام اسی قابل اعتراض لہجے میں جاری رکھا اور کہا،انہوں نے انہیں بھیج دیا اور حضور ان کا حال یہ ہے کہ ان کا چرکورئے کا سا سینہ نہ بحثیں نہ بحثیں۔\n\nاس پر زور سے قہقہہ لگا مگر منصف صاحب نے ڈانٹ کر کہا کیا بکتا ہے نالائق کہیں کا، مگر ہنسی کے مارے سب کا برا حال تھا۔ ادھر میرا یہ حال کہ خفت کی ہنسی ہنسنے کی کوشش کی۔ اس سے کام نہ چلا تو جماہی لی منہ رومال سے پوچھا، گھڑی کی طرف دیکھا، قلم کی نب سے کچھ میز کریدی اور وہ ملعون ہے کہ گڑگڑا کر کہے جا رہا ہے کہ حضور میری پیشی بڑھا دی جائے۔ میرے اوپر رحم کیجیے، میں مر جاؤں گا وغیرہ وغیرہ۔\n\nمنصف صاحب نے خود ہنسی کو روکا اور سنجیدگی سے وکیل مخالف سے کہا کہ آپ کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں بشرطیکہ فریق مخالف میرا ہرجانہ داخل کر دے۔ یہ سنتے ہی میرے موکل نے وہی دس روپے کا نوٹ جو میں نے اسے واپس کیا تھا عدالت کی میز پر رکھ دیا۔ وکیل مخالف نے فوراً اس کو اٹھا کر اپنی جیب میں رکھا۔ اب اس نے یعنی میرے موکل نے اطمینان سے وکیل مخالف کی طرف بھی ٹیڑھی نظروں سے دیکھا اور کہا، آج ٹیں ٹیں کر لو، اب کی مرتبہ جو میرا وکیل آئے گا تو تمہیں بھی بند کر دے گا۔ منصف صاحب نے ایک ڈانٹ اسے بتائی اور کہا اسے نکالو، عدالت سے نکالو وہ کم بخت ہاتھ جوڑتا سلام کرتا منصف صاحب کو ججی کی دعائیں دیتا سر پر پیر رکھ کر بھاگا۔ میں آپ سے کیا عرض کروں کہ میرا کیا حال تھا۔ ہر شخص مجھے دیکھ کر مسکرا رہا تھا اور میں مرا جا رہا تھا، بس نہ چلتا تھا کہ زمین میں سما جاؤں۔ چلتے وقت مصف صاحب نے بھی ایک چھینٹا کسا اور مجھ سے کہا کہ وکیل صاحب ڈنڈ نکالا کیجئے تاکہ سینہ کشادہ ہو جائے۔\n\nغرض جس طرح بن پڑا سیدھا عدالت کے کمرے سے نکل کر اسٹیشن کی طرف بھاگا۔ وہ دن اور آج کا دن پھر کبھی اس تحصیل میں جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ یہی کیا کم ہے کہ وکالت کر رہا ہوں۔ وہ شاید اس وجہ سے کہ وکالت نہایت عمدہ اور ایک آزاد پیشہ ہے۔ قربان جائیے اس آزادی کے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DA%A9%D8%A7%D9%84%D8%AA"} {"title": "وہ", "poet_page": "مصنف:رشید جہاں", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "میری اس سے شفا خانے میں ملاقات ہوئی، وہ بھی دوا لینے گئی تھی اور میں بھی۔ اس کو دیکھ کر سب عورتیں بچنے لگیں۔ ڈاکٹر نے بھی اپنی کراہت کا اظہار آنکھیں بند کر کے کیا۔ گھن تو مجھ کو بھی آئی لیکن میں نے کسی نہ کسی طرح سے اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا، وہ بھی مسکرائی۔ کم از کم کوشش تو کی۔ اس کی ناک سرے سے غائب تھی۔ اور دو بڑے بڑے لال لال سے چھید اس کی ناک کی جگہ پر تھے۔ ایک آنکھ بھی نہ تھی اور دوسری سے بھی بغیر گردن کے سہارے نہ دیکھ سکتی تھی۔\n\nاور پھر تھوڑی دیر بعد دوا خانے کی کھڑکی پر میری اس سے مڈبھیڑ ہوئی۔ اس نے غن غنا کر مجھ سے پوچھا۔ ’’آپ کہاں سے تشریف لاتی ہیں؟‘‘ میں نے اپنا پتہ بتا دیا۔ وہ دوا لے کر چلی گئی۔ اور مجھ کو کمپونڈر نے بغیر میرے پوچھے بتانا شروع کردیا۔ ’’یہ بدمعاش عورت ہے، رنڈی ہے رنڈی۔ سڑ سڑ کر مر رہی ہے۔ اب آئی ہے علاج کرانے، ڈاکٹر کا تو دماغ خراب ہے کہ نسخہ لکھ دیتی ہے۔ نکال باہر کریں سسری کو!‘‘\n\nمیں ایک لڑکیوں کے اسکول میں استانی تھی۔ نئی نئی کالج سے نکلی تھی، دنیا میرے قدموں سے لگی تھی، مستقبل میرے سامنے مثل چمن کے تھا اور جس کا ہر پودا گلاب اور چنبیلی سے کم نہ تھا۔ مجھ کو ساری دنیا ایک چاندنی رات اور اس میں دریا کا بہاؤ جو کہیں نرم خرام اور کہیں آبشار معلوم ہوتا تھا۔ میں خوش تھی، تکلیف، غم میں جانتی ہی نہ تھی کیا ہو تے ہیں۔ پڑھانا بھی وقت کانٹنے کا بہانہ تھا۔ ساری خودی اس زمانے میں ایک انتظار تھی۔\n\nچلمن اٹھی اور وہ کالج کے دفتر میں داخل ہو رہی تھی۔ میں حیرت سے کھڑی ہو گئی اور بغیر سوچے سمجھے عادت کے مطابق بول اٹھی ’’تشریف رکھئے‘‘ پہلے تو جھجکی اور پھر بیٹھ گئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک موتیا کا پھول تھا۔ اس نے میز پر میرے سامنے رکھ دیا۔ مجھ کو اس پھول کو اٹھاتے ہوئے گھن ضرور آئی لیکن اپنے اوپر جبر کر کے اس کو اپنے بالوں میں لگا لیا۔ وہ مسکرائی اور اٹھ کر چلی گئی۔\n\nاب یہ روز کا معمول تھا۔ وہ روز چھٹی کے وقت چلمن اٹھا کر اندر آتی۔ میں کہتی تشریف رکھئے۔ وہ بیٹھ جاتی، کوئی نہ کوئی پھول میرے سامنے رکھ دیتی۔ میری ہم عمر استانیاں اس کے لئے چھیڑتیں۔ جس کرسی پر وہ بیٹھتی تھی اس پر کوئی نہ بیٹھتا تھا۔ اس کی صورت ہی ایسی گھناؤنی تھی۔ میں خود اس کرسی کو کبھی نہ چھوتی تھی۔ بڑھیا نصیباً بھی روز اس کے جانے کے بعد بڑبڑایا کرتی تھی۔ یہ نئی استانی اچھی آئی ہیں۔ اس گندی سندی کو منہ لگالیا ہے، ہم اس کی کرسی کیوں جھاڑیں۔\n\nپرنسپل بھی ناک بھوں چڑھاتیں اور کہتیں۔’’تم اس کو یہاں اسکول میں کیوں بلاتی ہو؟ یہاں لڑکیوں کے ماں باپ ضرور اعتراض کریں گے کہ ایسی فاحشہ عورت آ جاتی ہے۔‘‘ دوسرا دن ہوتا اور پھر وہ آجاتی اور میں پھر کہتی ’’تشریف رکھئے‘‘ اب وہ ذرا دیر تک بیٹھتی اور میری طرف دیکھتی رہتی، ہماری کبھی باتیں نہیں ہوئیں۔ کیا یہ سمجھتی ہے کہ مجھ کو اس کی حقیقت کا علم نہیں؟ وہ صرف دیکھتی رہتی، اسی اپنی ایک ٹیڑھی سی آنکھ سے اور بغیر ناک والے گھناؤنے چہرے سے۔ کبھی کبھی مجھ کو شبہ ہوتا کہ اس کی آنکھ اشک آلود ہے۔ وہ کیا سوچتی رہتی ہے؟ میرا دل چاہتا ہے کہ پوچھ لوں لیکن کہاں سے شروع کرتی؟\n\nاکثر تو یہ ہوا کہ جہاں وہ آئی اور استانیاں اٹھ کر چل دیتیں اور انگریزی میں مجھ کو دق کرتی رہتی تھیں۔ ’’صفیہ کی وہ آئی ہیں، بھئی چلو لائبریری میں بیٹھیں گے۔ کم بخت کی شکل تو دیکھو!‘‘\n\nکوئی کہتی، ’’بھئی صفیہ اس منحوس کو دیکھ کر تو مجھ سے روٹی بھی نہیں کھائی جاتی قے آتی ہے۔‘‘\n\n’’لیکن چنی بھی تو ظالم نے خوب ہے۔ تم سب میں نمبر ایک۔‘‘\n\n’’اس کم بخت سے تو پردہ کرنا چاہئے‘‘ یہ دینیات کی موٹی بڑھیا استانی جل کر فرماتیں۔\n\nمیں اپنا کام کرتی رہتی اور وہ دیکھتی رہتی۔ مجھ کو بے چینی ہوتی۔ کیا دیکھتی ہے؟ کیا سوچتی ہے؟ کیا یہ بھی کبھی میری طرح تھی۔ میرے روئیں کھڑے ہوجاتے۔\n\nیہ کیوں آتی ہے؟ کیا یہ نہیں جانتی کہ لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں اور گھن کھاتے ہیں۔ اس کی ناک بھی برابر ان لال چھیدوں سے ٹپکتی رہتی ہے۔ اور میں روز سوچتی اس کو منع کردینا چاہئے۔ پرنسپل صاحب ٹھیک تو کہتی ہیں، لڑکیاں الگ بڑبڑاتی ہیں۔ استانیاں قے کرتی پھرتی ہیں۔ لیکن جب وہ دوسرے دن آتی تو میں کرسی پیش کرکے پھر کہتی ’’تشریف رکھئے۔‘‘\n\nکیا اس کے پاس آئینہ نہیں ہے۔ کیا اس کو معلوم نہیں کہ یہ اپنے گناہوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ کوئی اس کو بتا کیوں نہیں دیتا۔ اس کا کوئی ہے بھی یا نہیں۔ یہ کہاں رہتی ہے۔ کہاں سے آجاتی ہے۔ کیا یہ سمجھتی ہے کہ میں اس کو صرف ایک بیماری سمجھتی ہوں۔ میرا اسکول میں ایک عجیب مذاق بنتا ہے۔ مذاق ہی نہیں ایک توہین سی ہوتی ہے۔ لیکن جب وہ کوئی پھول میرے سامنے رکھ دیتی، میں سر میں لگا لیتی اور وہ اپنی بھیانک مسکراہٹ سے مسکرادیتی۔\n\nیہ مجھ کو کیوں دیکھا کرتی ہے؟ یہ کون ہے؟ یہ کون تھی؟ کہاں پیدا ہوئی اور کیسے اس حال کو پہنچی؟ میرے پاس آکر اس کو کیا محسوس ہوتا ہے، ایک تکلیف یا سکون؟\n\nایک روز جب وہ باہر نکلی تو اس نے جھانک کر ناک چھٹکی اور گندگی دیوار سے لگا دی، جو نصیباً چھوٹی بچیوں کی تختیوں پر ملتانی مٹی مل رہی تھی اور عرصے سے خار کھائے بیٹھی تھی۔ ایک دم جوانوں کی پھرتی سے اٹھی، آکر سیدھی ایک تختی اس کی کمر پر جمائی اور وہ گھبرا گئی۔ بوا نصیباً وہ سب تہذیب جو انھوں نے اسکول کی بیس سال کی نوکری میں سیکھی تھی۔ اور جو ہمیشہ لڑکیوں کو تمیزدار بننے کی نصیحت کیا کرتی تھیں آج سب بھول گئیں۔ اور وہی گلی والی نصیباً بن گئیں۔ ’’حرامزادی، رنڈی،آئی ہے بڑی کرسیوں پر بیٹھنے،دن لگ گئے، کل چوک میں بیٹھتی تھی۔ آج جو کٹ کٹ کر گوشت گررہا ہے تو چلی بیگم بننے۔۔۔‘‘\n\nایک لات، دوسری لات، تیسرا مکا۔۔۔\n\nمیں بھاگ کر باہر نکلی اور نصیباً کو پکڑا۔ ’’ہائیں ہائیں کیا کرتی ہو؟‘‘ لڑکیوں کا ایک ٹھٹ لگ گیا۔ استانیاں بھی بھاگی چلی آرہی تھیں۔ نصیباً تو آپے میں ہی نہ تھی۔\n\n’’تم نے ہی تو سر چڑھایا ہے کہ موری کی اینٹ چوبارے چڑھی ساری دیوار گندی کردی۔ بیس سال سے نوکر ہیں، ہم نے نہیں دیکھا کہ رنڈیاں اسکول میں آئیں۔ میں ہرگز اب یہاں نہیں رہوں گی۔ بلا لو اور کوئی عورت جو۔۔۔‘‘ ایک بار بپھر کر اس کی طرف بڑھیں۔ لوگوں نے بڑھیا کو سنبھال لیا۔\n\nمیں نے جھک کر اس کو اٹھایا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی ےتھی۔ میں پکڑ کر اس کو پھاٹک کی طرف لے گئی۔ اس کی کنپٹی سے خوب بہہ رہا تھا۔ غالبا وہ بھی اسے نہ معلوم ہوا تھا۔\n\nروتے میں منہ چھپاکر غن غنائی، ’’اب تو آپ کو معلوم ہوگیا۔‘‘ اور چلی گئی۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81"} {"title": "وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دے\nولے مجھے تپش دل مجال خواب تو دے\n\nکرے ہے قتل لگاوٹ میں تیرا رو دینا\nتری طرح کوئی تیغ نگہ کو آب تو دے\n\nدکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو\nنہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہیں جواب تو دے\n\nپلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے\nپیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے\n\nاسدؔ خوشی سے مرے ہاتھ پانو پھول گئے\nکہا جو اس نے ذرا میرے پانو داب تو دے\n\nیہ کون کہوے ہے آباد کر ہمیں لیکن\nکبھی زمانہ مراد دل خراب تو دے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B3%DA%A9%DB%8C%D9%86_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%92"} {"title": "وہ آئے نگار میں نہ مانوں", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ آئے نگار میں نہ مانوں\nآ جائے قرار میں نہ مانوں\n\nوہ ہمدم غیر ہو گیا ہے\nدم ساز ہو یار میں نہ مانوں\n\nدزدیدہ نظر میں ایک نظر ہے\nوہ ہوں نہ دو چار میں نہ مانوں\n\nجو وقت گیا وہ پھر کہاں ہے\nچھوٹے وہ شکار میں نہ مانوں\n\nکھٹکا نہ ہو آمد خزاں کا\nاے باغ و بہار میں نہ مانوں\n\nباز آئے تو اپنی شوخیوں سے\nاے فتنہ شعار میں نہ مانوں\n\nآرام ملے جہاں میں اس کو\nتو جس کا ہو یار میں نہ مانوں\n\nنالوں میں تیرے اثر ہو پیدا\nاے ساقیؔ زار میں نہ مانوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA"} {"title": "وہ آرزو نہ رہی اور وہ مدعا نہ رہا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ آرزو نہ رہی اور وہ مدعا نہ رہا\nہمارے آپ کے ہرگز وہ ماجرا نہ رہا\n\nسر نیاز رہا زیر پائے یاد مدام\nحنا کی طرح میں قدموں سے کب لگا نہ رہا\n\nدل آشنائی کو چاہے کسی کی خاک مرا\nکہ آشنا جو ہوا تھا وہ آشنا نہ رہا\n\nہمیشہ جس سے پہنچتا رہے تھا دل کو الم\nہزار شکر کہ وہ درد بے دوا نہ رہا\n\nجب آپ ہم نے بتاں ترک آشنائی کی\nکسی بھی طرح کا تم سے ہمیں گلا نہ رہا\n\nگلوں کے چہروں پہ زردی سی پھر رہی ہے تمام\nگئی بہار وہ موسم کا ابتدا نہ رہا\n\nصفائے سینہ سے پھسلا نہ کب دل عاشق\nکہ چاہ ناف میں وہ خوں گرفتہ جا نہ رہا\n\nہزار حرف زباں سوز درمیاں آئے\nہے سچ تو یہ کہ محبت میں وہ مزا نہ رہا\n\nچمن کو چھوڑ ہم ایسے چلے گئے سوئے دشت\nکہ نام کو بھی پھر اندیشۂ صبا نہ رہا\n\nیہ کس کے چاہ زنخداں کی فکر میں ڈوبا\nتمام رات جو زانو سے سر جدا نہ رہا\n\nعجب نہ جان گر آ جائے سلطنت کو زوال\nکسی کے سر پہ سدا سایۂ ہما نہ رہا\n\nنشان مصحفیٔؔ خستہ پوچھتے کیا ہو\nوہ خاک راہ تو اب مثل نقش پا نہ رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ\nجو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ\n\nیہ ترا جمال کامل یہ شباب کا زمانہ\nدل دشمناں سلامت دل دوستاں نشانہ\n\nکبھی حسن کی طبیعت نہ بدل سکا زمانہ\nوہی ناز بے نیازی وہی شان خسروانہ\n\nمیں ہوں اس مقام پر اب کہ فراق و وصل کیسے\nمرا عشق بھی کہانی ترا حسن بھی فسانہ\n\nمری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے\nمری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ\n\nترے عشق کی کرامت یہ اگر نہیں تو کیا ہے\nکبھی بے ادب نہ گزرا مرے پاس سے زمانہ\n\nتری دوری و حضوری کا یہ ہے عجیب عالم\nابھی زندگی حقیقت ابھی زندگی فسانہ\n\nمرے ہم صفیر بلبل مرا تیرا ساتھ ہی کیا\nمیں ضمیر دشت و دریا تو اسیر آشیانہ\n\nمیں وہ صاف ہی نہ کہہ دوں جو ہے فرق مجھ میں تجھ میں\nترا درد درد تنہا مرا غم غم زمانہ\n\nترے دل کے ٹوٹنے پر ہے کسی کو ناز کیا کیا\nتجھے اے جگرؔ مبارک یہ شکست فاتحانہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "وہ اس ادا سے وہاں جا کے شرمسار آیا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ اس ادا سے وہاں جا کے شرمسار آیا\nرقیب پر مجھے بے اختیار پیار آیا\n\nیہ حال تھا شب وعدہ کہ تا بہ راہ گزر\nہزار بار گیا میں ہزار بار آیا\n\nترا ہی کوچہ ٹھکانہ ہے خاکساروں کا\nجو زندہ آ نہ سکا میں مرا غبار آیا\n\nمزے اڑائے وہاں خوش رہا لیا انعام\nیہاں جو نامہ بر آیا تو اشک بار آیا\n\nگزر گئے اسی گردش میں اپنے لیل و نہار\nشب فراق گئی روز انتظار آیا\n\nاڑائے ہیں ملک الموت نے بھی تیرے ڈھنگ\nہزار بار بلایا تو ایک بار آیا\n\nخدا کے واسطے جھوٹی نہ کھائیے قسمیں\nمجھے یقین ہوا مجھ کو اعتبار آیا\n\nکہاں تھے شب کو تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ نہیں\nکوئی پکارنے والا بہت پکار آیا\n\nکمال عشق کو فرہاد و قیس کب پہنچے\nوہ پختہ کار ہے دل جس کا بار بار آیا\n\nوہ کیوں ہوئے مرے مشتاق خیر ہو یا رب\nطلب میں کل ہی خط آیا تھا آج تار آیا\n\nپلا دے آج سر شام مجھ کو اے ساقی\nکہ تیری بزم میں اک میں ہی روزہ دار آیا\n\nڈرے جو حشر میں وہ مجھ کو دیکھتے ہی کہا\nمرا رفیق مرا داغؔ جاں نثار آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "وہ امنگیں ہیں نہ وہ دل ہے نہ اب وہ جوش ہے", "poet_page": "مصنف:کیفی حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ امنگیں ہیں نہ وہ دل ہے نہ اب وہ جوش ہے\nحسن بار چشم ہے نغمہ وبال گوش ہے\n\nمیں کہوں تو کیا کہوں اب وہ کہے تو کیا کہے\nدے کے دل خاموش ہوں وہ لے کے دل خاموش ہے\n\nاے وفور شادمانی یہ سمجھ لینے تو دے\nکیا ہمیں ہیں جس سے وہ ہم بزم ہم آغوش ہے\n\nاس طرف دل پر جگر پر اس طرف رہتا ہے ہاتھ\nاپنی ہر کروٹ میں اک معشوق ہم آغوش ہے\n\nتار اس کا ٹوٹنے پائے نہ کیفیؔ حشر تک\nدامن اشک ندامت جرم عصیاں پوش ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%85%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ ان زلفوں کا عالم ابتری کا", "poet_page": "مصنف:منتظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ ان زلفوں کا عالم ابتری کا\nسبب تھا میری شوریدہ سری کا\n\nپری کی سی ہو جس ظالم کی رفتار\nوہ کیا جانے جتن آدم گری کا\n\nعجب اپنا بھی ہے معشوق بے عیب\nہنر ہے جس میں عاشق پروری کا\n\nتری جادو نگاہی جس نے دیکھی\nوہ کب قائل ہے سحر سامری کا\n\nرواں ہیں لخت دل یوں چشم نم سے\nمسافر جوں چلے رستہ تری کا\n\nشرف اصحاب کہف اوپر رکھے ہے\nجو سگ ہے آستان حیدری کا\n\nبدی مت کر کسی کی منتظرؔ تو\nاگر خواہاں ہے اپنی بہتری کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%86_%D8%B2%D9%84%D9%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم\nاپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہم\n\nکاٹتے ہیں رات جانے کس طرح\nصبح دم گھر سے نکل آتے ہیں ہم\n\nبند کمرے میں سکوں ملنے لگا\nجب ہوا چلتی ہے گھبراتے ہیں ہم\n\nہائے وہ باتیں جو کہہ سکتے نہیں\nاور تنہائی میں دہراتے ہیں ہم\n\nزندگی کی کشمکش باقیؔ نہ پوچھ\nنیند جب آتی ہے سو جاتے ہیں ہم", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "وہ اور تسلی مجھے دیں ان کی بلا دے", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ اور تسلی مجھے دیں ان کی بلا دے\nجاتے ہوئے فرما تو گئے صبر خدا دے\n\nہر بات کا اللہ نے بخشا ہے سلیقہ\nلڑنا بھی مزا دے ترا ملنا بھی مزا دے\n\nاس طرح بھی غش سے کہیں ہوتا ہے افاقہ\nیا زلف سنگھا یا مجھے دامن کی ہوا دے\n\nدم چڑھنے لگا غصے کے تیور جو بنائے\nنازک ہو جو اتنا وہ مجھے خاک سزا دے\n\nکمبخت نے سب کھول دیئے راز محبت\nیہ کس نے کہا تھا تجھے بیخودؔ کو پلا دے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D8%B3%D9%84%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D8%AF%DB%92"} {"title": "وہ اٹھ کر قیامت اٹھانا کسی کا", "poet_page": "مصنف:راجہ نوشاد علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ اٹھ کر قیامت اٹھانا کسی کا\nوہ دل تھام کر بیٹھ جانا کسی کا\n\nبرا گر نہ مانو تو اتنا کہیں ہم\nکہ اچھا نہیں ہے ستانا کسی کا\n\nمری آہ نے ان کو تڑپا دیا ہے\nجنہیں کھیل تھا دل دکھانا کسی کا\n\nزباں گو ہوئی بند بسمل کی لیکن\nلب زخم پر ہے فسانہ کسی کا\n\nاٹھے میرے پہلو سے دل تھام کر وہ\nقیامت ہوا یاد آنا کسی کا\n\nمرے دشمن جاں سب اہل جہاں میں\nکہ عاشق ہے سارا زمانہ کسی کا\n\nعجب کیا ہزاروں کو بیمار ڈالے\nکسی کی عیادت کو جانا کسی کا\n\nترے وصل سے ناز ہے کیوں عدو کو\nرہے گا نہ یکساں زمانہ کسی کا\n\nمجھے اور بھی بد گماں کر رہا ہے\nقسم میرے سر کی نہ کھانا کسی کا\n\nتڑپنے میں کیا جانے کیا منہ سے نکلے\nنہ دکھتا ہوا دل دکھانا کسی کا\n\nوہ نوشادؔ کا چھیڑنا وصل کی شب\nوہ شرما کے آنکھیں جھکانا کسی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "وہ اٹھے ہیں تیور بدلتے ہوئے", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "وہ اٹھے ہیں تیور بدلتے ہوئے\nچلو دیکھیں تلوار چلتے ہوئے\n\nنہ دیکھا ترے دور میں اے فلک\nنہال تمنا کو پھلتے ہوئے\n\nہیں انگشت حیرت بدنداں مسیح\nوہ مردے جلاتے ہیں چلتے ہوئے\n\nچلو مے کدہ محفل وعظ سے\nیہ عمامے دیکھو اچھلتے ہوئے\n\nزباں پر ترا نام جب آ گیا\nتو گرتے کو دیکھا سنبھلتے ہوئے\n\nمحبت میں پائے ہر اک راہ سے\nہزاروں ہی رستے نکلتے ہوئے\n\nہیں کیا ان کی زلفیں یہ اے دل نہ پوچھ\nچھلاوے کو دیکھا ہے چھلتے ہوئے\n\nبنے جزو تن جب چبھے خار غم\nیہ کانٹے نہ دیکھے نکلتے ہوئے\n\nکیا کچھ نہ جب تک رہا اختیار\nجہاں سے چلے ہاتھ ملتے ہوئے\n\nغم عشق پیدا ہوا میرے ساتھ\nاسے گزری اک عمر پلتے ہوئے\n\nرکے کس طرح تیغ ابرو کا وار\nسنا ہے اجل کو بھی ٹلتے ہوئے\n\nان آنکھوں کے فتنوں کا کیا پوچھنا\nیہ جادو ہیں لاکھوں میں چلتے ہوئے\n\nنہیں شمع عارض پہ خط جمع ہیں\nہزاروں ہی پروانے جلتے ہوئے\n\nفسانے ہیں مشہور عشاق کے\nکٹی عمر فرقت میں جلتے ہوئے\n\nجواں مرتے دیکھے بہت نامراد\nسنا ہوگا ارماں نکلتے ہوئے\n\nنہیں کھیل چلنا رہ عشق میں\nذرا پاؤں رکھنا سنبھلتے ہوئے\n\nجو مشہور ثابت قدم تھے حبیبؔ\nانہیں ہم نے دیکھا پھسلتے ہوئے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%AF%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "وہ اپنے مطلب کی کہہ رہے ہیں زبان پر گو ہے بات میری", "poet_page": "مصنف:بشیر الدین احمد دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ اپنے مطلب کی کہہ رہے ہیں زبان پر گو ہے بات میری\nہے چت بھی ان کی ہے پٹ بھی ان کی ہے جیت ان کی ہے مات میری\n\nکبھی وہ ملتا ہے دشمنوں سے کبھی وہ ملتا ہے مجھ سے آ کر\nجو دن ہے میرا تو رات ان کی جو دن ہے ان کا تو رات میری\n\nکبھی ہے تولہ کبھی ہے ماشہ کبھی ہیں ناخوش کبھی ہیں وہ خوش\nقرار ان کو نہیں ہے دم بھر ہے تاک ان کی تو گھات میری\n\nیہ بات کیا ہے یہ ماجرا کیا یہ راز کیا ہے یہ واقعہ کیا\nکہ ہاں میں ہاں سب ملا رہے ہیں وہ کر رہے ہیں صفات میری\n\nارادہ ہے میں لکھوں فسانہ کسی کی کچھ دل شکستگی کا\nقلم شکستہ پڑا کدھر ہے کہاں ہے کوئی دوات میری\n\nادھر بنی ہے دل حزیں پر ادھر تو سرگرم ناز ہیں وہ\nکوئی یہ آ کر تماشا دیکھے ادا ہے ان کی ممات میری\n\nیہ ہو رہا ہے تماشہ کیسا ادھر تو غم ہے ادھر ہے شادی\nکبھی اٹھے گا جنازہ میرا کبھی سجی تھی برات میری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%DA%AF%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "وہ اگر بے حجاب ہو جاتا", "poet_page": "مصنف:عبدالعلیم آسی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ اگر بے حجاب ہو جاتا\nخلق میں انقلاب ہو جاتا\n\nدل سے ہوتی اگر دوئی معدوم\nذرہ بھی آفتاب ہو جاتا\n\nحشر تک ہوش میں نہ آتے کلیمؔ\nوہ اگر بے نقاب ہو جاتا\n\nآتش عشق نے جگر پھونکا\nدل بھی جل کر کباب ہو جاتا\n\nتم پلاتے جو ہاتھ سے اپنے\nہر قدح آفتاب ہو جاتا\n\nعشق میں لطف ہے تڑپنے کا\nیہ سکون اضطراب ہو جاتا\n\nدل لگانا ثواب تھا لیکن\nجی چھڑانا عذاب ہو جاتا\n\nنہ لگاتے بتوں سے دل عاصی\nنہ زمانہ خراب ہو جاتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "وہ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کئی مہینے سے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کئی مہینے سے\nکہ جاں پہ بن گئی تنگ آ گیا میں جینے سے\n\nہوئے نمود جو پستاں تو شرم کھا کے کہا\nیہ کیا بلا ہے جو اٹھتی ہے میرے سینے سے\n\nوہ دور کھنچ کے شب وصل اس کا یہ کہنا\nکوئی ادھر ہی کو بیٹھا رہے قرینے سے\n\nجو بوسہ دیتے ہیں تو لب بچاتے ہیں لب سے\nلپٹتے بھی ہیں تو سینہ چرا کے سینے سے\n\nوہ ساتھ سونا کسی کا وہ گرم جوشی ہائے\nنمی وہ جسم کی چولی وہ تر پسینے سے\n\nخوشی یہی ہے کہ اک دن تو غم سے چھوٹیں گے\nنہ موت آئے تو کیا حاصل ایسے جینے سے\n\nوہ نیچی نیچی نگاہوں سے دیکھنا مجھ کو\nوہ پیار تکیے کو کرنا لگا کے سینے سے\n\nیہی وہ راہ ہے جو دل سے دل کو ہوتی ہے\nحصول کون سا چاک جگر کے سینے سے\n\nمیں اور کچھ نہیں کہتا مگر یہ سن رکھئے\nعدو کا دل ہے لبالب حسد سے کینے سے\n\nخدا کی شان ہے یہ بات اور منہ ان کا\nنظامؔ پھر کروں توبہ شراب پینے سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%AF%DA%91%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A6%DB%8C_%D9%85%DB%81%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92"} {"title": "وہ بت بول اٹھے کسی بات میں", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "وہ بت بول اٹھے کسی بات میں\nخدا سے یہ مانگا مناجات میں\n\nٹپکتا بہت خانۂ چشم ہے\nمکاں بیٹھ جاتا ہے برسات میں\n\nچمن میں ہے گلچیں کا کھٹکا لگا\nنہ صیاد سا ہو کہیں گھات میں\n\nوہاں وعظ کا شور مسجد میں ہے\nیہاں ہا و ہو ہے خرابات میں\n\nیہ دعوت عداوت ہوئی اے وقارؔ\nکہ ہو غیر داخل مدارات میں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%D9%88%D9%84_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذ", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذ\nہیں دونوں بازو پہ اس کے ادھر ادھر تعویذ\n\nوہ ہم نہیں جو ہوں دیوانے ایسے کاموں سے\nکسے پلاتے ہو پانی میں گھول کر تعویذ\n\nاٹھے گا پھر نہ کلیجے میں میٹھا میٹھا درد\nاگر لکھے مرے دل پر تری نظر تعویذ\n\nکہاں وہ لوگ کہ جن کے عمل کا شہرا تھا\nکچھ اس زمانے میں رکھتا نہیں اثر تعویذ\n\nپلایا سانپ کو پانی جو من نکال لیا\nنہانے بیٹھے ہیں چوٹی سے کھول کر تعویذ\n\nوہاں گیا جو کوئی دل ہی بھول کر آیا\nرکھے ہیں گاڑ کے اس نے ادھر ادھر تعویذ\n\nپس فنا بھی محبت کا سلسلہ نہ مٹا\nترے گلے میں ہے اور میری قبر پر تعویذ\n\nیہ بھید ہے کہ نہ مردے ڈریں فرشتوں سے\nبنا کے قبر بناتے ہیں قبر پر تعویذ\n\nیہ کیا کہ زلف میں رکھا ہے باندھ کر مرا دل\nاسے بھی گھول کے پی جاؤ جان کر تعویذ\n\nجو چاند سے ہیں بدن ہیں وہ چاند تاروں میں\nگلوں میں ہیکلیں ہیکل کے تا کمر تعویذ\n\nہوئے ہیں حضرت مائلؔ بھی دل میں اب قائل\nکچھ ایسا لکھتی ہے اے جاں تری نظر تعویذ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D9%84_%D9%88_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%D8%B9%D9%88%DB%8C%D8%B0"} {"title": "وہ بحر کرم جو مہرباں ہو جائے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "وہ بحر کرم جو مہرباں ہو جائے\nہر دامن تر صبح جناں ہو جائے\nاس کی رحمت جو ہو خریدار منیرؔ\nجنس عصیاں بہت گراں ہو جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AD%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "وہ برق جلوہ دکھائے جمال اگر اپنا", "poet_page": "مصنف:ابراہیم عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاجز (1934)", "year": "1934", "text_ur": "وہ برق جلوہ دکھائے جمال اگر اپنا\nتو اے کلیم کریں ہم نثار سر اپنا\n\nوہ ذات پاک کہاں یہ نگار خاک کہاں\nجو دیکھے اس کو ذرا دیکھے منہ بشر اپنا\n\nکہیں خزاں ہی بنا وہ کہیں بہار بنا\nغرض ہر ایک چمن میں کیا گزر اپنا\n\nبسا ہے میری ہی آنکھوں میں کچھ نہیں وہ شوخ\nدلوں میں سب کے بنایا ہے اس نے گھر اپنا\n\nحریم کعبہ میں بت خانہ میں کلیسا میں\nبنائے قبلہ تمہیں صاحب نظر اپنا\n\nمقام عبرت و حسرت سرائے فانی ہے\nبنا لیا ہے جسے غافلوں نے گھر اپنا\n\nگہر نہ سمجھو ان اشکوں کو ہیں یہ لعل سپید\nدکھا رہی ہے یہ اعجاز چشم تر اپنا\n\nسمجھ کے عیب کریں گے حسود مجھ پر طعن\nیہی ہے سوچ دکھاؤں کسے ہنر اپنا\n\nفنا کی راہ میں وہ گرم رو ہوں اے عاجزؔ\nکہ سایہ بھی نہیں واللہ ہم سفر اپنا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "وہ بن کر بے زباں لینے کو بیٹھے ہیں زباں مجھ سے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ بن کر بے زباں لینے کو بیٹھے ہیں زباں مجھ سے\nکہ خود کہتے نہیں کچھ اور کہلواتے ہیں ہاں مجھ سے\n\nبہت کچھ حسن ظن رکھتا ہے میرا مہرباں مجھ سے\nکہ تہمت دھر کے ہے خواہان تائید بیاں مجھ سے\n\nکسی گل کی قبا ملتی نہیں تحریق سے خالی\nجنوں نے لے کے بانٹی ہیں یہ کتنی دھجیاں مجھ سے\n\nپلا ساقی کہ رہ جائے خمار کیف کا پردہ\nبس اب رکتیں نہیں آتی ہوئی انگڑائیاں مجھ سے\n\nجو گل کو گل نہ سمجھو گے تو کانٹوں ہی میں الجھو گے\nنہ دو اپنے کو دھوکا آپ ہو کر بد گماں مجھ سے\n\nبہت جلدی نہ کر اے چشم تر کچھ دیر کو دم لے\nبیاں کرنا وہ تو رہ جائے جتنی داستاں مجھ سے\n\nمثال شمع اپنی آگ میں کیا آپ جل جاؤں\nقصاص خامشی لے گی کہاں تک اے زباں مجھ سے\n\nہوئیں تا دیر پہچانی ہوئی آواز میں باتیں\nوہ کچھ کچھ کھل چلے ہیں رکھ کے پردہ درمیاں مجھ سے\n\nتصور کی نظر پردوں کے روکے رک نہیں سکتی\nبتا او جانے والے چھپ کے جائے گا کہاں مجھ سے\n\nاگر اے آرزوؔ ہر سانس دل کی آہ بن جائے\nنہ ہوگی ختم پھر بھی میری لمبی داستاں مجھ سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92"} {"title": "وہ بھی کیا دن تھے کہ الفت کا سبق یاد نہ تھا", "poet_page": "مصنف:محمود رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ بھی کیا دن تھے کہ الفت کا سبق یاد نہ تھا\nدرد ہمدرد نہ تھا غم مرا ہم زاد نہ تھا\n\nغیر پر ہی تجھے منظور تھی ناوک فگنی\nکیا سزاوار ہدف یہ دل ناشاد نہ تھا\n\nتجھ کو لازم تھا عیادت میں دکھانا آنکھیں\nایسے بیمار کو جو قابل فریاد نہ تھا\n\nجب پسند آ گیا ان کو تو میں قیمت کیا لوں\nمیں سمجھ لوں گا کہ میرا دل ناشاد نہ تھا\n\nبول اٹھے آج وہ خود اپنی زباں سے محمودؔ\nسب میں اک تو ہی فقط شاکیٔ بیداد نہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%86_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A8%D9%82_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "وہ بھی کیا دن تھے کہ جب چاہ نہ تھی پیار نہ تھا", "poet_page": "مصنف:نشتر چھپروی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نشتر (1930)", "year": "1930", "text_ur": "وہ بھی کیا دن تھے کہ جب چاہ نہ تھی پیار نہ تھا\nہجر کا رنج نہ تھا عشق کا آزار نہ تھا\n\nبے خودی تیرا برا ہو مجھے جب ہوش آیا\nدل نہ تھا سینے میں پہلو میں وہ عیار نہ تھا\n\nدے کے دل ان کو پڑی جان غضب میں میری\nوصل کو کہئے تو کہتے ہیں کہ اقرار نہ تھا\n\nکیوں لحد کو مرے ٹھکرا کے مٹایا اس نے\nمیری جانب سے مکدر جو ستم گار نہ تھا\n\nلب پہ فریاد رہی اشک رہے آنکھوں میں\nکب ترا دھیان مجھے اے بت عیار نہ تھا\n\nیہ بھی دن ہیں کہ حسینوں پہ مٹا جاتا ہوں\nوہ بھی دن تھے کہ مجھے عشق کا آزار نہ تھا\n\nحشر میں فضل سے اپنے مجھے حق نے بخشا\nگو کہ دنیا میں کوئی مجھ سا سیہ کار نہ تھا\n\nنگہ مست نے تیری یہ دکھائی تاثیر\nسب تھے بدمست کوئی رات کو ہشیار نہ تھا\n\nاے جنوں موسم گل میں ترے ہاتھوں ہے ہے\nدامن و جیب میں دیکھا تو کوئی تار نہ تھا\n\nپیٹتا تھا کبھی سر کو تو کبھی سینے کو\nشب تنہائی میں اے شوخ میں بے کار نہ تھا\n\nکوچۂ یار سے یوں شیخ و برہمن نکلے\nسر پہ دستار نہ تھی دوش پہ زنار نہ تھا\n\nکیا محبت نے مری اپنی دکھائی تاثیر\nکس لئے بزم میں شب مجمع اغیار نہ تھا\n\nہجو مے کرتے تھے کل حضرت واعظ سر راہ\nخیریت گزری کہ سنتا کوئی مے خوار نہ تھا\n\nیوں تو شب بزم میں ہر ایک گیا اور آیا\nایک بد بخت میں ہی تھا جسے واں یار نہ تھا\n\nجاگتا میرا نصیبہ جو شب وصل عدو\nپاسباں یہ تو ترا دیدۂ بے دار نہ تھا\n\nدرد و اندوہ و غم و رنج و الم اے نشترؔ\nایک دنیا تھی مری لاش پہ وہ یار نہ تھا", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%86_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%DA%86%D8%A7%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "وہ بہکی نگاہیں کیا کہیے وہ مہکی جوانی کیا کہیے", "poet_page": "مصنف:فرحت کانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ بہکی نگاہیں کیا کہیے وہ مہکی جوانی کیا کہیے\nوہ کیف میں ڈوبے لمحوں کی اب رات سہانی کیا کہیے\n\nالجھی ہوئی زلفیں خواب اثر بدمست نگاہیں وجہ بقا\nدنیا سے مگر امکان شب اسرار و معانی کیا کہیے\n\nروداد محبت سن سن کر خود حسن کو بھی نیند آنے لگی\nاب اور کہاں سے لائیں دل اب اور کہانی کیا کہیے\n\nجینا بھی بہت ہی مشکل ہے مرنا بھی کوئی آسان نہیں\nاللہ رے کشاکش الفت کی کیا جی میں ہے ٹھانی کیا کہیے\n\nفرحتؔ کا پتا پوچھے جو کوئی کافی ہے فقط یہ کافی ہے\nپھوٹی ہوئی قسمت ٹوٹا دل اب اور نشانی کیا کہیے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%81%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%81%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوں\nوہ مے خوار غیروں میں ہے خوار میں ہوں\n\nنہیں عشق سے زرد زردار میں ہوں\nاگر ہے وہ یوسف خریدار میں ہوں\n\nتمنا ہے ساقی کبھی بزم مے میں\nوہ سرشار ہو اور ہشیار میں ہوں\n\nہوئی جمع بے دردی دردمندی\nدل آزار وہ ہے ستم گار میں ہوں\n\nوہ کرتا ہے باتیں میں کرتا ہوں آہیں\nگہر بار وہ ہے شرر بار میں ہوں\n\nوہی بولتا ہے جو میں بولتا ہوں\nاگر وہ ہے بلبل تو منقار میں ہوں\n\nدگرگوں ہے ہر آن وضع محبت\nکبھی غیر میں ہوں کبھی یار میں ہوں\n\nکہا حضرت دردؔ نے خوب ناسخؔ\nیہ زلف بتاں کا گرفتار میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "وہ بیکلی نہیں دل کو وہ اضطراب نہیں", "poet_page": "مصنف:نسیم میسوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ بیکلی نہیں دل کو وہ اضطراب نہیں\nتمہارے ہجر کا اب کچھ مجھے عتاب نہیں\n\nجلا بھنا ہوں مجھے خواہش کباب نہیں\nپلا دے دھو کے سبو ہی اگر شراب نہیں\n\nسنا ہے ہم نے کہ عارض پہ ہے غبار سا کچھ\nبلا سے خط کا ہمارے اگر جواب نہیں\n\nتری خبر کے لئے دیکھتے ہیں سب اخبار\nمطالعہ میں کسی کے کوئی کتاب نہیں\n\nرسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت\nتمہاری زلف سے خاطر کو پیچ و تاب نہیں\n\nپلانا تول کے بادۂ مغاں خدا کے لئے\nیہ دن شرف کے ہیں میزاں میں آفتاب نہیں\n\nفرار کیوں نہ ہو ہر روز جاں نثار اک ایک\nحضور آپ کی وہ دولت شباب نہیں\n\nتمہارے زلف کی تصویر کیا کرے سیراب\nخطا معاف ہو ہم تشنۂ سراب نہیں\n\nنسیمؔ پی گئے اب مے کدوں میں ہے کیا خاک\nدوا کے واسطے لندن میں بھی شراب نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%8C%DA%A9%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ تغافل کو علاج غم پنہاں سمجھا", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ تغافل کو علاج غم پنہاں سمجھا\nچارہ گر بھی نہ مرے درد کا درماں سمجھا\n\nتاب دیدار نہ لائی نگہ ناز پرست\nاور وہ دیدۂ عشاق پہ احساں سمجھا\n\nجمع خاطر نہ ہوئی دید بتاں سے اپنی\nدفتر حسن کو اجزائے پریشاں سمجھا\n\nنہ ہوئی جلوہ گہہ ناز کی وسعت معلوم\nگو میں ہر ذرہ کو اک دیدۂ حیراں سمجھا\n\nتھی تری یاد بھی کیا انجمن آرائے خیال\nدل میں جو شعلہ اٹھا شمع شبستاں سمجھا\n\nشورش عشق کا آسان نہ تھا اندازہ\nچاک ہو کر مری وحشت کو گریباں سمجھا\n\nصاحب دل ہے وہی مرشد کامل ہے وہی\nمیرے چہرے سے جو میرا غم پنہاں سمجھا\n\nہر نفس شاہد دشواریٔ الفت ہے نظرؔ\nسخت مشکل تھا وہی کام جو آساں سمجھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AA%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC_%D8%BA%D9%85_%D9%BE%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7"} {"title": "وہ تو یوں ہی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ تو یوں ہی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\nمیرا یہ مقولہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nکہہ جاتا ہے وہ صاف ہزاروں مجھے باتیں\nپھر اس پہ یہ کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nاے دوستو اس شوخ کا میں کیا کہوں عالم\nکچھ آج وہ دیکھا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nیوں غیر ستائیں مجھے اور کچھ نہ کہوں میں\nمنہ مجھ کو تمہارا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nہر بات پہ کیا کیا ہمیں کہتا ہے وہ ظالم\nگر کہیے تو کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nبس اور کیا چاہتے ہو مجھ پہ ستم کیا\nسوچو تو یہ تھوڑا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nکیا حال بنایا ہے غم غیر میں اپنا\nوہ آپ کا نقشا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nجز میرے کسی اور کو تو آپ ستائیں\nہاں آپ نے سمجھا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nایسا ہمیں کہتے ہو کہ بس جانتے ہیں ہم\nیہ آپ کو دھوکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nکیا کیا مجھے تم کہتے ہو انصاف تو کیجے\nیہ حوصلہ میرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nدعویٰ کریں گو اور نظامؔ اپنے سخن پر\nپر مجھ کو یہ دعویٰ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7"} {"title": "وہ جب آپ سے اپنا پردا کریں", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ جب آپ سے اپنا پردا کریں\nتو بند قبا کس طرح وا کریں\n\nاگر ہم نہ ان کی تمنا کریں\nتو وہ ہم پہ کیوں ناز بے جا کریں\n\nاسے لوگ کیوں مہر تاباں کہیں\nجسے دور سے بھی نہ دیکھا کریں\n\nکیا اس نے قتل اور میں نے معاف\nعبث اہل شہر اس کا چرچا کریں\n\nپھرے قیس آوارہ ہم وہ نہیں\nکہ معشوق کو اپنی رسوا کریں\n\nمرے درد دل کی ہی پرسش دوا\nاگر مجھ کو پوچھیں تو اچھا کریں\n\nخدا بے نیاز اور بت سنگ دل\nکہو کس سے ہم راہ پیدا کریں\n\nچلو پھر کہیں ان سے ہم حال دل\nیہی پھر کہیں گے کہ ہم کیا کریں\n\nجنہیں فصل گل میں نہ ہو دسترس\nکہ سامان عشرت مہیا کریں\n\nوہ قمری و بلبل کو مطرب بنائیں\nگل و سرو کو جام و مینا کریں\n\nانہیں کیا ہو ناظمؔ قیامت کا ڈر\nجو ہر روز اک فتنہ برپا کریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D8%A2%D9%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ جب تک انجمن میں جلوہ فرمانے نہیں آتے", "poet_page": "مصنف:شیر سنگھ ناز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ جب تک انجمن میں جلوہ فرمانے نہیں آتے\nصراحی رقص میں گردش میں پیمانے نہیں آتے\n\nشریک درد بن کر اپنے بیگانے نہیں آتے\nمئے عشرت جو پیتے ہیں وہ غم کھانے نہیں آتے\n\nلپٹ کر شمع کی لو سے لگی دل کی بجھاتے ہیں\nپرائی آگ میں جلنے کو پروانے نہیں آتے\n\nاڑاتے ہی پھریں گے عمر بھر وہ خاک صحرا کی\nتری زلفوں کے سائے میں جو دیوانے نہیں آتے\n\nجو اپنی آن پر اے نازؔ اپنی جان دیتے تھے\nزمانے میں نظر اب ایسے دیوانے نہیں آتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%92"} {"title": "وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گے\nتو اپنے ہر تصور میں مری تصویر دیکھیں گے\n\nسنا ہے حسن کو دہ چند کر دیتا ہے یہ شیشہ\nلگا کر اپنے دل میں آپ کی تصویر دیکھیں گے\n\nوفا کا تذکرہ کیا اب تو یہ ارشاد ہے ان کا\nکہ تم نالہ کرو ہم گرمئ تاثیر دیکھیں گے\n\nشکستہ ہر کڑی ہے ہر کڑی میں دل کے ٹکڑے ہیں\nبڑی عبرت سے دیوانے مری زنجیر دیکھیں گے\n\nخیال حشر و نشر فکر اے سیمابؔ لا حاصل\nکہ ہے تقدیر میں جو کچھ بہر تقدیر دیکھیں گے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%AA_%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "وہ جو بولیں تو بات جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ جو بولیں تو بات جاتی ہے\nچپ رہوں میں تو رات جاتی ہے\n\nساتھ حوروں کے ہے شہید ترا\nکیا عدم کو برات جاتی ہے\n\nمے کے پینے سے کر تو لوں توبہ\nآرزوئے نجات جاتی ہے\n\nدل لگی کا مزہ جب آتا ہے\nہستی بے ثبات جاتی ہے\n\nخوب آتا ہے لطف آزادی\nجب یہ قید حیات جاتی ہے\n\nکیا کروں داغؔ وصل میں شکوہ\nبات کہنے میں رات جاتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئے\nزندگی سے روٹھ جانا چاہیئے\n\nہمت قاتل بڑھانا چاہیئے\nزیر خنجر مسکرانا چاہیئے\n\nزندگی ہے نام جہد و جنگ کا\nموت کیا ہے بھول جانا چاہیئے\n\nہے انہیں دھوکوں سے دل کی زندگی\nجو حسیں دھوکا ہو کھانا چاہیئے\n\nلذتیں ہیں دشمن اوج کمال\nکلفتوں سے جی لگانا چاہیئے\n\nان سے ملنے کو تو کیا کہئے جگرؔ\nخود سے ملنے کو زمانا چاہیئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88%D9%B9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%D8%A6%DB%92"} {"title": "وہ جو شخص اپنے ہی تاڑ میں سو چھپا ہے دل ہی کی آڑ میں", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "وہ جو شخص اپنے ہی تاڑ میں سو چھپا ہے دل ہی کی آڑ میں\nنہ وہ بستی میں نہ اجاڑ میں نہ وہ جھاڑ میں نہ پہاڑ میں\n\nمجھے کام تجھ سے ہے اے جنوں نہ کہوں کسی سے نہ کچھ سنوں\nنہ کسی کی رد و قدح میں ہوں نہ اکھاڑ میں نہ پچھاڑ میں\n\nیہ صبا نے قیس سے آ کہا کہ سنا کچھ اور بھی ماجرا\nترے پاس سے جو چلا گیا تو کھڑا ہے ناقہ اجاڑ میں\n\nارے آہ تو نے غضب کیا مرے دل کو مجھ سے تڑا لیا\nمری جی کو لے کے جلا دیا پڑی اختلاط یہ پہاڑ میں\n\nخفگی بھی طرفہ ہے ایک شے پڑے قصہ ہوتے ہیں لاکھوں طے\nوہ کہاں ملاپ میں لطف ہے جو مزہ ہے ان کی بگاڑ میں\n\nمژہ پر ہے پارۂ دل تھنبا وہ مثل ہوئی ہے اب اے خدا\nکہ درخت سے جو کبھی گرا تو وہ اٹکا ان کے ہی جھاڑ میں\n\nکہیں کھڑکیوں کی طرف بندھی مری ٹکٹکی تو اے لو ابھی\nگل نرگس آ کے لگا گئی وہ پری ہر ایک دراڑ میں\n\nمری دل میں نشہ کا ہے مکاں مجھے سوجھتی ہیں وہ مستیاں\nکہ کھجوری چوٹیوں والیاں پڑی پھرتی ہیں مرے تاڑ میں\n\nبڑی داڑھیوں پہ نہ جا دلا یہ سب آہوؤں کی ہیں مبتلا\nیہ شکار کیسے ہیں برملا انہیں ٹٹیوں کی تو آڑ میں\n\nکھڑی جھانکتی ہے وہی پری نہیں شبہ اس میں تو واقعی\nوہ جو عطر فتنہ کی باس تھی سو رچی ہوئی ہے کواڑ میں\n\nنہ کر اپنی جان کو مضمحل ارے انشاؔ ان سے لگا نہ دل\nتو دگر نہ ہووے گا منفعل کہیں آ گیا جو لتاڑ میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%B4%D8%AE%D8%B5_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%DA%91_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%88_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%DA%91_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ جو کچھ کچھ نگہ ملانے لگے", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ جو کچھ کچھ نگہ ملانے لگے\nہم ہر اک سے نظر چرانے لگے\n\nدیکھیے کیا ہو جور کا انجام\nوہ مرے حوصلے بڑھانے لگے\n\nیہ وہ کافر ہے عشق خانہ خراب\nتم مرے غم کدے میں آنے لگے\n\nکاوشوں میں بھی اب مزا نہ رہا\nہر کسی کو وہ جب ستانے لگے\n\nموت آئی ظہیرؔ کب ہم کو\nجب محبت کے لطف آنے لگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DA%AF%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\nوہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nوہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر\nمجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nوہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیں\nوہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nکبھی بیٹھے سب میں جو روبرو تو اشارتوں ہی سے گفتگو\nوہ بیان شوق کا برملا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم بہ دم\nگلۂ ملامت اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nکوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگی\nتو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nکبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی\nکبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nسنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھا\nسو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nکہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مرے دل سے صاف اتر گئی\nتو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nوہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کا\nوہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nجسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا\nمیں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D9%88"} {"title": "وہ جھنکار پیدا ہے تار نفس میں", "poet_page": "مصنف:شیر سنگھ ناز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ جھنکار پیدا ہے تار نفس میں\nکہ ہے نغمہ نغمہ مری دسترس میں\n\nتصور بہاروں میں ڈوبا ہوا ہے\nچمن کا مزہ مل رہا ہے قفس میں\n\nگلوں میں یہ سرگوشیاں کس لیے ہیں\nابھی اور رہنا پڑے گا قفس میں\n\nنہ جینا ہے جینا نہ مرنا ہے مرنا\nنرالی ہیں سب سے محبت کی رسمیں\n\nنہ دیکھی کبھی ہم نے گلشن کی صورت\nترستے رہے زندگی بھر قفس میں\n\nکہو خواہ کچھ بھی مگر سچ تو یہ ہے\nجو ہوتے ہیں جھوٹے وہ کھاتے ہیں قسمیں\n\nمیں ہونے کو یوں تو رہا ہو گیا ہوں\nمری روح اب تک ہے لیکن قفس میں\n\nنہ گرتا میں اے نازؔ ان کی نظر سے\nدل اپنا یہ کم بخت ہوتا جو بس میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AC%DA%BE%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D9%81%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ جھوٹا عشق ہے جس میں فغاں ہو", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ جھوٹا عشق ہے جس میں فغاں ہو\nوہ کچی آگ ہے جس میں دھواں ہو\n\nعدو تم سے تم ان سے بدگماں ہو\nتمھارے وہ تم ان کے پاسباں ہو\n\nبھلا تم اور مجھ پر مہرباں ہو\nعنایت یہ نصیب دشمناں ہو\n\nمرا حال اور پھر میرا بیاں ہو\nعجب کیا گر عدو بھی ہم زباں ہو\n\nکہیں کس سے خودی میں تم کہاں ہو\nگلہ جب ہو کہ قابو میں زباں ہو\n\nتمھاری بے رخی شکوے ہمارے\nقیامت تک نہ پوری داستاں ہو\n\nزباں بہکی ہوئی حیراں نگاہیں\nخیال دل کہاں ہے تم کہاں ہو\n\nمزہ جب آئے ان سے گفتگو کا\nپیامی کا دہن میری زباں ہو\n\nکشیدہ کیوں نہ ہو بازار یوسف\nکہ جب تم سا متاع کارواں ہو\n\nکہوں کیا راز دل کیوں کر ہو باور\nکہ تم سا ہی تمھارا رازداں ہو\n\nابھی سے کس لیے دل چھوڑ بیٹھیں\nجہاں تک ہو سکے آہ و فغاں ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88"} {"title": "وہ جی گیا جو عشق میں جی سے گزر گیا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ جی گیا جو عشق میں جی سے گزر گیا\nعیسیٰ کو ہو نوید کہ بیمار مر گیا\n\nآزاد کچھ ہوئے ہیں اسیران زندگی\nیعنی جمال یار کا صدقہ اتر گیا\n\nدنیا میں حال آمد و رفت بشر نہ پوچھ\nبے اختیار آ کے رہا بے خبر گیا\n\nشاید کہ شام ہجر کے مارے بھی جی اٹھیں\nصبح بہار حشر کا چہرہ اتر گیا\n\nآیا کہ دل گیا کوئی پوچھے تو کیا کہوں\nیہ جانتا ہوں دل ادھر آیا ادھر گیا\n\nہاں سچ تو ہے شکایت زخم جگر غلط\nدل سے گزر کے تیر تمہارا کدھر گیا\n\nدل کا علاج کیجیے اب یا نہ کیجیے\nاپنا جو کام تھا وہ غم یار کر گیا\n\nکیا کہیے اپنی گرم روی ہائے شوق کو\nکچھ دور میرے ساتھ مرا راہبر گیا\n\nفانیؔ کی ذات سے غم ہستی کی تھی نمود\nشیرازہ آج دفتر غم کا بکھر گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AC%DB%8C_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "وہ حد سے دور ہوتے جا رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:شیر سنگھ ناز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ حد سے دور ہوتے جا رہے ہیں\nبڑے مغرور ہوتے جا رہے ہیں\n\nبسے ہیں جب سے وہ میری نظر میں\nسراپا نور ہوتے جا رہے ہیں\n\nجو پھوٹے آبلے دل کی خلش سے\nوہ اب ناسور ہوتے جا رہے ہیں\n\nبہت مشکل ہے منزل تک رسائی\nوہ کوسوں دور ہوتے جا رہے ہیں\n\nکہاں پہلی سی راہ و رسم الفت\nنئے دستور ہوتے جا رہے ہیں\n\nہمارے داغ دل راہ طلب میں\nچراغ طور ہوتے جا رہے ہیں\n\nخدا حافظ ہے اب بادہ کشوں کا\nنشے میں چور ہوتے جا رہے ہیں\n\nپلا دے ساقیا بادہ کشوں کو\nنشے کافور ہوتے جا رہے ہیں\n\nقریب دل وہ کیا اے نازؔ آئے\nنظر سے دور ہوتے جا رہے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AD%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سِکھا گیا ہے جُنوں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سِکھا گیا ہے جُنوں\nخدا مجھے نفَسِ جبرئیل دے تو کہوں\n\nستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا\nوہ خود فراخیِ افلاک میں ہے خوار و زبُوں\n\nحیات کیا ہے، خیال و نظر کی مجذوبی\nخودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گوناگُوں\n\nعجب مزا ہے، مجھے لذّتِ خودی دے کر\nوہ چاہتے ہیں کہ مَیں اپنے آپ میں نہ رہوں\n\nضمیرِ پاک و نگاہِ بلند و مستیِ شوق\nنہ مال و دولتِ قاروں، نہ فکرِ افلاطوں\n\nسبق مِلا ہے یہ معراجِ مصطفیٰؐ سے مجھے\nکہ عالمِ بشَرِیّت کی زد میں ہے گردُوں\n\nیہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید\nکہ آرہی ہے دما دم صدائے ’کُنْ فَیَکُوںْ‘\n\nعلاج آتشِ رومیؔ کے سوز میں ہے ترا\nتری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں\n\nاُسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن\nاُسی کے فیض سے میرے سبُو میں ہے جیحوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AD%D8%B1%D9%81%D9%90_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%90%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%8F%D9%86%D9%88%DA%BA"} {"title": "وہ حسیں بام پر نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ حسیں بام پر نہیں آتا\nچاند اپنا نظر نہیں آتا\n\nہوک اٹھتی نہیں ہے کب دل سے\nمنہ کو کس دن جگر نہیں آتا\n\nکون اس بیکسی میں پرساں ہے\nہوش دو دو پہر نہیں آتا\n\nیہ بھی سننا تھا واے ناکامی\nمرتے ہیں اور مر نہیں آتا\n\nتھی کبھی بات بات میں تاثیر\nاب دعا میں اثر نہیں آتا\n\nکھیل ہے کیا مزاج داں ہونا\nکام یہ عمر بھر نہیں آتا\n\nسادگی کا ہوں اس کی دیوانہ\nابھی جس کو سنور نہیں آتا\n\nبے خودی ہے کہ چھائی جاتی ہے\nہوش آتا نظر نہیں آتا\n\nیہ حسیں اور التجائیں حفیظؔ\nرحم تم کو مگر نہیں آتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "وہ حور کو چاہا کہ پری کو چاہا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "وہ حور کو چاہا کہ پری کو چاہا\nچاہا اسے ہم نے جس کسی کو چاہا\nسو رنگ سے تھی دل میں تمنا اس کی\nجب اس کو نہ چاہا تو اسی کو چاہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AD%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A7"} {"title": "وہ خط جو پوسٹ نہ کیے گئے", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "کالی شلوار", "year": "1941", "text_ur": "حوا کی ایک بیٹی کے چند خطوط جو اس نے فرصت کے وقت محلے کے چند لوگوں کو لکھے۔ مگر ان وجوہ کی بنا پر پوسٹ نہ کیے گئے جو ان خطوط میں نمایاں نظر آتی ہیں۔\n\n(نام اور مقام فرضی ہیں)\n\nپہلا خط۔۔۔ مسز کرپلانی کے نام\n\nخاتونِ مکرم\n\nآداب عرض! معاف فرمائیے گا۔ میں یہ سطور بغیر تعارف کے لکھ رہی ہوں۔ مگر مجھے چند ضروری باتیں آپ سے کہنا ہیں۔ آپ کو میں ایک عرصے سے جانتی ہوں۔ ہر روز صبح ساڑھے آٹھ بجے جب میں بسترسے اٹھ کر بالکنی میں آتی ہوں تو آپ کو بازار میں سیر سے واپس آتے دیکھا کرتی ہوں۔ مجھے تعجب ہے کہ مسٹر کرپلانی جنھیں ساڑھے آٹھ بجے گھر سے دفتر پہنچنے کے لیے نکل جانا ہوتا ہے۔ صرف ایک بڈھی نوکرانی کی موجودگی اور آپ کی غیر حاضری میں ناشتہ کیسے کرتے ہیں، کپڑے کیونکر تبدیل کرتے ہیں اور پھر آپ کا بچہ بھی تو ہے۔ اس کی دیکھ بھال کون کرتا ہے؟\n\nاس میں کوئی شک نہیں کہ سیر آپ کی صحت کے لیے مفید ہے۔ مگر اس سیر کا اثر آپ کے شوہر پر کیا پڑے گا، کیا آپ نے اس کی بابت کبھی غورکیا ہے؟میں نے پرسوں مسٹر کرپلانی کو دیکھا۔ ان کی حالت قابل رحم تھی۔ آپ نے سرپر ہیٹ الٹا لگا رکھا تھا اور اگر میری نگاہوں نے دھوکا نہیں دیا تو ان کے بوٹ کا ایک تسمہ کھلا ہوا تھا جو بار بار ان کے پاؤں میں الجھ رہا تھا۔ کل بھی آپ کی حالت ایسی ہی تھی۔ ان کی پتلون شکنوں سے بھرپور تھی اور ٹائی کی گرہ بھی درست نہیں تھی۔اگر آپ کی صبح کی سیر اسی طرح جارہی رہی۔ تو مجھے اندیشہ ہے ایک روز مسٹر کرپلانی اس افراتفری میں دفتر کا رخ کریں گے کہ راہ چلتی عورتوں کو اپنی آنکھیں بند کرنی پڑیں گی۔\n\nاور ہاں، دیکھیے کل آپ نے جو ساڑی پہن رکھی تھی، وہ آپ کی نہیں ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مسز اڈوانی نے یہ ساڑی پچھلی دیوالی پر خریدی تھی۔ دوسروں کے کپڑے پہننا بہت معیوب ہے۔ آپ کے پاس کم از کم بیس ساڑیاں موجود ہیں۔ مسز اڈوانی کی ساڑی مستعار لے کر آپ نے کیوں پہنی۔ یہ میں ابھی تک نہیں سمجھ سکی۔\n\nایک بات اور، وہ یہ کہ آپ کو بغیر آستینوں کا بلاؤز اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ آپ کے کاندھوں پر ضرورت سے زیادہ گوشت ہے جس کی نمائش آنکھوں پر بہت گراں گزرتی ہے۔ آپ کے جسم کا یہ عیب آستینوں والے بلاؤز میں چھپ جاتا ہے۔ اس لیے آپ کو ہمیشہ اسی تراش کا بلاؤز پہننا چاہیے۔\n\nاونچی ایڑی کا شو آپ کیوں پہنتی ہیں۔۔۔؟ آپ کا قد ماشاء اللہ کافی اونچا ہے۔ پرسوں آپ نے غیر معمولی اونچی ایڑی کا سینڈل پہن رکھا تھا۔ معاف فرمائیے،معلوم ہوتا تھا کہ آپ کے پیروں کے ساتھ اسٹول بندھے ہوئے ہیں۔ اونچی ایڑی کا جوتا پہن کر آپ آسانی سے چل بھی نہیں سکتیں۔ خواہ مخواہ کیوں اپنے آپ کو تکلیف دیتی ہیں۔\n\nآپ کی۔۔۔\n\nدوسرا خط۔۔۔ مسز اڈوانی کے نام\n\nمحترم بہن\n\nتسلیمات۔ میں نے پچھلے دنوں آپ کو باندرہ کے میلے پر چند سہیلیوں کے ساتھ دیکھا تھا۔ آپ نے پیلے رنگ کی جارجٹ کی ساڑی پہن رکھی تھی، بورڈر کے بغیر۔ بلاؤز کالی ساٹن کا تھا۔ کھلے گلے کا، آستینوں کے بغیر۔ گلے پر زرد رنگ کی سائٹ کا پائپنگ تھا اور سامنے سینے پر اسی رنگ کا پھول۔ پاؤں میں آپ کے سنہری سینڈل تھی۔ چھاتا سیاہ رنگ کا تھا جس کی مونٹھ زرد رنگ کے سلولائیڈ کی تھی۔ کالے بالوں میں پیلا ربن تھا۔ سیاہی اور زردی کا یہ میل مجھے بہت پسند آیا تھا۔ آپ کے ذوق کی میں بے حد معترف ہوں۔ رنگوں کے صحیح التزام کا آپ خوب سلیقہ رکھتی ہیں۔ مگر کل آپ جب بس پر سے اُتریں تو مجھے یہ دیکھ کر سخت صدمہ ہوا کہ آپ نے کالی ساڑی کے ساتھ بھوسلے رنگ کا بلاؤز پہن رکھا ہے۔ آپ کے بالوں میں نیلا ربن گندھا ہے اور جوتا سفید کینوس کا پہن رکھا ہے۔\n\nمیری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ ایسی اعلیٰ ذوق رکھنے والی خاتون نے کیونکر ایسے بھونڈے لباس میں باہر نکلنا گوارا کیا۔ اور پھر غضب یہ ہے کہ آپ بس میں کہیں دور گئی تھیں۔ آئندہ اگر میں نے آپ کو ایسے بے تکے لباس میں دیکھا تو مجھے اتنا صدمہ ہوگا کہ میں بیان نہیں کرسکوں گی۔ایک بات اور میری سمجھ میں نہیں آئی کہ آپ کی نوکرانی اتنا سنگھار کیوں کرتی ہے؟ اس کی عمر میرے اندازے کے مطابق اٹھارہ برس ہے۔ بظاہر وہ کنواری ہے۔ اس عمرمیں اور خاص کر کنوارپنے میں اس کا یوں بن کر سنور کر سودا سلف لینے باہر بازارمیں نکلنا، اتنا خطرناک نہیں جتنا کہ اس کا آپ کے گھر میں اپنے سنگھار پر توجہ دینا ہے۔ آپ عموماً گھر سے باہر رہتی ہیں۔ اور مسٹر اڈوانی چونکہ دفتر نہیں جاتے، اس لیے وہ اکثر گھر ہی میں رہتے ہیں۔۔۔ آپ کی غفلت حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے ۔میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہہ سکتی۔\n\nمیرا خیال ہے کہ آپ کی دائیں آنکھ بائیں آنکھ سے کچھ چھوٹی ہے۔۔۔ اگر آپ چشمہ پہنا کریں تو یہ عیب بالکل دور ہو جائے گا۔ کیونکہ شیشوں میں سے یہ معمولی فرق نظر نہ آئے گا۔\n\nہاں، یہ آپ اپنی سہیلیوں کو اپنی ساڑیاں پہننے کے لیے کیوں دے دیا کرتی ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ بدعت معاشرتی نقطۂ نظر سے بہت بری ہے۔ اس کے علاوہ سہیلیاں خواہ کتنی ہی محتاط ہوں، مستعار کپڑے کو نہایت بے دردی کے ساتھ استعمال کرتی ہیں اگر آپ کو یقین نہ ہو تو اس سفید ساڑی کو غور سے دیکھیے جو آپ نے ایک روز مسزکر پلانی کو پہننے کے لیے دی تھی۔ اس کا تِلے کا کام کئی جگہ سے اکھڑ گیا ہے۔\n\nبازار میں چلتے وقت آپ بار بار ساڑی کا پلو نہ سنبھالا کریں۔ مجھے اس سے بڑی الجھن ہوتی ہے۔\n\nآپ کی۔۔۔\n\nتیسرا خط۔۔۔ مسٹر ایوب خان انسپکٹر پولیس کے نام\n\nمکرمی محترمی۔ سلام مسنون\n\nکیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ دن میں دو بار اپنی ڈاڑھی منڈوانا چھوڑ دیں۔۔۔ میں سمجھتی ہوں کہ نارمل آدمی کی ڈاڑھی کے بال نارمل حالت میں اتنی جلدی کبھی نہیں اگتے۔ پولیس اسٹیشن جاتے ہوئے اور وہاں سے شام کو آتے ہوئے آپ کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ سیلون میں داخل ہو جائیں۔۔۔میرا خیال ہے کہ آپ کو mania ہوگیا ہے۔ اگر آپ کا دماغی توازن درست ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ دن میں دوبار صبح و شام اپنی ڈاڑھی پر استرا پھرائیں۔ کیا سیلون کا نائی آپ کی اس عجیب و غریب عادت پر زیرِ لب کبھی نہیں مسکرایا؟\n\nاور پھر یہ آپ اپنے سر کے بال کس طور سے کٹواتے ہیں۔۔۔؟ واللہ بہت برے معلوم ہوتے ہیں۔ گردن سے لے کر کھوپڑی کے بالائی حصے تک آپ بالوں کا بالکل صفایا کرادیتے ہیں اور کانوں کے اوپر تک باریک مشین پھروا کر آخر آپ کیا فیشن پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت آپ کی گردن بہت بھدی ہے اور آپ کے سر کے نچلے حصے پر پھوڑوں کے نشان ہیں جو صرف بال ہی چھپا سکتے ہیں اور کیا آپ نے کبھی غور فرمایا ہے کہ بار بار بال مونڈنے سے آپ کی گردن موٹی ہو جائے گی۔\n\nآپ کے کان بہت بڑے ہیں۔ جس فیشن کی حجامت کا آپ کو شوق ہے،اس سے یہ اور بھی زیادہ بڑے دکھائی دیتے ہیں۔ میری رائے ہے کہ آپ قلمیں رکھیں۔ اور کانوں کے قریب سے بال زیادہ نہ کٹوائیں۔ گردن پر اگر آپ تھوڑے سے بال اگنے دیں تو کوئی ہرج نہیں۔ اس سے آپ کو کوئی تکلیف نہ ہوگی۔\n\nہاتھ میں چھڑی لے کر جب آپ بازار میں چلتے ہیں تو دماغ میں اس خیال کو جگہ نہ دیا کریں کہ ہر اسکول جانے والی لڑکی آپ کو دیکھ رہی ہے۔ کسی شائستہ مذاق لڑکی کی آنکھیں آپ کی طرف نہیں اٹھ سکتیں۔ اس لیے کہ آپ اپنے کاندھوں پر ایسا بھونڈا سر اٹھائے پھرتے ہیں جس کو آپ کے ایجاد کردہ فیشن نے اور بھی زیادہ بدنما بنا رکھا ہے۔\n\nبار بار آپ اپنے کوٹ سے کیا جھاڑا کرتے ہیں؟ کیا گردوغبار کے ذرے صرف آپ ہی کے کوٹ پر آبیٹھتے ہیں۔۔۔ یا پھر آپ حد سے زیادہ نفاست پسند ہیں؟کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ چالیس برس کے ہونے پر بھی آپ کنوارے ہیں؟ اگر یہ سچ ہے تو اس سے آپ کو عبرت حاصل کرنا چاہیے۔ میرا مشورہ لیجیے اور دن میں دوبار سیلون میں جا کر ڈاڑھی منڈوانا چھوڑ دیجیے۔ خدا آپ کی حالت پر رحم کرے۔\n\nآپ کی مخلص۔۔۔\n\nچوتھا خط۔۔۔ مس ڈی سِلوا کے نام\n\nڈیئر مس ڈی سِلوا\n\nتمہاری حالت پر مجھے بہت افسوس ہوتا ہے۔ تم روز بروز موٹی ہورہی ہو۔ اگر تمہارا موٹاپا اسی رفتار سے بڑھتا گیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ تم کسی مرد کے قابل نہ رہو گی۔ اسکول جانے کیلیے جب تم ’’جم‘‘ پہن کر گھر سے نکلتی ہو تو میرے دل میں عجیب وغریب خیال پیدا ہوتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ اس کرسمس پر تم ڈانس کیسے کرسکو گی۔ ایک دو قدموں ہی میں تمہارا پسینہ چھوٹ جائے گا۔ اور تمہارا ساتھی کیوں کرتمہاری بانہوں کو حسب منشا حرکت میں لاسکے گا۔ تمہاری بغلوں کے نیچے اس قدر گوشت جمع ہورہا ہے کہ تم ڈانس کرنے کے بالکل قابل نہیں رہی ہو۔ خدا کے لیے اپنا علاج کرو اور اس موٹاپے کوجلد از جلد ختم کرنے کی کوشش کرو۔\n\nایک نصیحت میری اور سن لو۔ شام کو تم ہر روز ٹیرس پر اکیلی جاتی ہواور سامنے والے مکان پر ڈی کوسٹا کے بڑے لڑکے کو اشارے کرتی رہتی ہو۔ اوّل تو یہ شریف لڑکیوں کا کام نہیں،دوسرے یہ اشارے چربی بھرے گوشت کے مانند بھدے اور بے لذّت ہوتے ہیں۔ تم جیسی موٹی لڑکیوں کو ایسی اشارہ بازی نہیں کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ اشارہ ایک لطیف یعنی باریک اور پتلی چیز کا نام ہے۔ تمہارے اشارے، اشارے نہیں ہوتے۔ ان کے لیے مجھے کوئی اور نام تلاش کرنا ہوگا۔\n\nجس لونڈے کے ساتھ تم رومان لڑانا چاہتی ہو، اس کے متعلق بھی سن لو۔ وہ ایک آوارہ مزاج لڑکا ہے۔ ڈھائی مہینے سے کالی کھانسی میں مبتلا ہے۔ ماں باپ نے ناقابلِ اصلاح سمجھ کر اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ اس کے پاس صرف تین پتلونیں ہیں جن کوبدل بدل کر پہنتا ہے۔ ہر روز اپنی قمیص اور پتلون پر وہ دو بار استری کرتا ہے تاکہ باہر کے لوگوں کی نظر میں اس کی وضع داری قائم رہے۔ مجھے ایسے آدمیوں سے نفرت ہے۔\n\nتم اپنی پنڈلیوں کے بال استرے سے نہ مونڈا کرو۔ بال اڑانے کے سب پوڈر اور سب کریمیں بھی فضول ہیں۔ بال ہمیشہ کے لیے کبھی غائب نہیں ہوسکتے اس لیے تم اپنی پنڈلیوں پر ظلم نہ کرو۔ بال رہنے دو اور لمبی جرابیں پہنا کرو۔\n\nتمہارا دوست آج دوپہر کو اپنا پھٹا ہوا جوتا خود مرمت کررہا تھا۔\n\nتمہاری خیر خواہ۔۔۔\n\nپانچواں خط۔۔۔ کوشلیا دیوی کے نام\n\nشریمتی کوشلیا دیوی۔ نمسکار\n\nاس میں کوئی شک نہیں: اپنے گھر میں ہر شخص کو اختیار ہے کہ وہ آرام دہ سے آرام دہ لباس پہنے اور تکلّفات سے آزاد رہے۔ مگر دیوی جی آپ ململ کی باریک دھوتی پہن کر اس آزادی سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں اور پھر یہ دھوتی آپ کچھ اس ’’بے تکلفی‘‘ سے پہنتی ہیں کہ جب آپ اتفاق سے نظر آجائیں تو سوچنا پڑتا ہے کہ آپ کو کس زاویے سے دیکھا جائے۔\n\nآپ کو معلوم ہونا چاہیے روشنی کے سامنے کھڑے ہونے سے آپ کی ململ کی دھوتی کا وجود ہونے نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ آپ کی عمر اس وقت چوالیس برس کے قریب ہے۔ عمر کی اس زیادتی نے آپ کے جسم کو بالکل ڈھیلا کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باریک دھوتی میں سے آپ کی بھدی ٹانگوں کی نمائش آنکھوں پر ’’گوہانجنی‘‘ بن کر رہ جاتی ہے۔\n\nآپ کے فلیٹ کا دروازہ عام طور پر کھلا رہتا ہے اورمیں نے اکثر آپ کو باورچی خانہ کے پاس یہی باریک دھوتی پہنے دیکھا ہے۔ اگر آپ کو اس کا استعمال ترک نہیں کرنا ہے تو براہ کرم اپنے فلیٹ کا دروازہ بند رکھا کریں۔\n\nآپ کی۔۔۔\n\nچھٹا خط۔۔۔ مسٹر سعید حسن جرنلسٹ کے نام\n\nجناب من۔ تسلیم۔\n\nآپ ہر روز صبح بالکونی میں پتلون پہنتے ہیں۔ آپ کا یہ فعل کمیونزم کی بدترین مثال ہے۔مجھے امید ہے کہ یہ خط پڑھ کر آپ ضرور شرمسار ہوں گے اور آئندہ سے پتلون، شریف آدمیوں کی طرح اپنے کمرے میں پہنا کریں گے۔\n\nمخلص۔۔۔\n\nمکرر: آپ کے بال بہت بڑھ گئے ہیں۔ سیلون آپ کے مکان کے نیچے ہے۔ ہمت کرکے آج ہی کٹوا دیں۔\n\nساتواں خط ۔۔۔مِسز قاسمی کے نام\n\nخاتونِ مکرم، السلام علیکم\n\nمیں بہت عرصے سے آپ کو یہ خط لکھنے کا ارادہ کررہی تھی مگر چند در چند وجوہ کے باعث ایسا نہ کرسکی۔ میں نے سنا ہے کہ دو گھروں میں نفاق پیدا کرنے کے لیے آپ کو بہت سے گر زبانی یاد ہیں۔ مسز اڈوانی اور مسز کرپلانی کے درمیان ایک دفعہ آپ ہی کی کوششوں سے رنجش پیدا ہوئی تھی۔ اور پچھلے دنوں سیٹھ گوپال داس کی لڑکی پشپا کے بارے میں آپ نے جو افواہیں مشہور کی تھیں ان سے سیٹھ گوپال داس اور سیٹھ رام داس کے خاندانوں میں اچھا خاصا ہنگامہ برپا ہوگیا تھا۔ مجھے آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔مگر میں سوچتی ہوں کہ ابھی تک آپ کے اور مسز قانون گو کے درمیان کشیدگی پیدا کیوں نہیں ہوئی۔ اب تک آپ نے جس عورت کو اپنی سہیلی بنایا ہے اس سے تیسرے چوتھے مہینے آپ کی تو تو میں میں ضرور ہوتی ہے۔ لیکن مسز قانون گو سے آپ کی دوستی کو چھ مہینے ہوگئے ہیں۔ جو کئی برسوں کے برابر ہیں۔ میں اب زیادہ دیر انتظار نہیں کرسکتی۔ اس مہینے میں مسز قانون گو سے آپکی چخ چخ ضرور ہونی چاہیے۔ آپ کو اپنی روایات برقرار رکھنی چاہئیں۔\n\nہاں یہ ضرور بتائیے کہ آپ کہاں پیدا ہوئی تھیں۔ یہ تو مجھے معلوم ہے کہ آپ پنجاب کی رہنے والی ہیں۔ مگر آپ کا چہرہ نیپالیوں اور تبتیوں سے کیوں ملتا جلتا ہے؟ آپ کی ناک بالکل نیپالیوں کی طرح چپٹی ہے۔ اور گالوں کی ہڈیاں بھی ان ہی کی طرح ابھری ہوئی ہیں، البتہ آپ کا قد ان کی طرح پست نہیں۔\n\nآپ نے عید پر جو ساڑی پہنی تھی، مجھے پسند نہیں آئی۔ آپ کا ذوق نہایت فضول ہے۔ اگر آپ بھڑکیلے اور شوخ رنگوں کے بجائے ہلکے رنگ کے کپڑے انتخاب کیا کریں تو بہت اچھا ہو۔ لمبے قد کی عورتوں کو کھڑی لکیروں کی قمیص نہیں پہننی چاہیے، اس سے وہ اور لمبی ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح آپ کو ’’پف سیلوز‘‘ کا بلاؤز بھی نہیں پہننا چاہیے۔ کیونکہ لمبے قد کی عورتوں کے لیے یہ موزوں نہیں ہوتااور پھر آپ تو ویسے ہی دبلی پتلی ہیں۔ آپ کے کاندھے پر بلاؤز کے اُٹھے ہوئے ’’پف‘‘ بہت برے معلوم ہوتے ہیں۔\n\nآپ کی خیر اندیش۔۔۔\n\nآٹھواں خط۔۔۔ مس راجکماری ایکٹرس کے نام\n\nمس راجکماری!\n\nمجھے تم سے نفرت ہے۔ تم عورت نہیں ہو۔ سوٹ کیس ہو۔\n\nتم سے نفرت کرنے والی۔۔۔\n\nنواں خط۔۔۔ مسٹر صالح بھائی کنٹریکٹر کے نام\n\nجناب صالح بھائی صاحب، تسلیم۔\n\nمجھے آپ کے خلاف کوئی شکایت نہیں لیکن پھر بھی میں آپ کو پسند نہیں کرتی۔ نہ معلوم کیا وجہ ہے کہ آپ کو دیکھ کر میرے دل میں غیظ و غضب پیدا ہو جاتا ہے۔ آپ بہت شریف آدمی ہیں۔ آپ کی شکل و صورت بھی کوئی خاص بری نہیں۔ لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ پھر آپ کو میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے کیوں دیکھتی ہوں۔۔۔ آپ کے چہرے پر یتیمی برستی ہے، آپ کی چال بھی نہایت واہیات ہے۔\n\nآپ کی ہمدرد۔۔۔\n\nدسواں خط۔۔۔ مس رضیہ صلاح الدین کے نام\n\nڈیئر مس رضیہ، سلام مسنون۔\n\nتم ابھی ابھی پنجاب کے کسی گاؤں سے آئی ہو۔ پہلے ساڑی پہننے کی عادت اختیار کرو پھر اس لباس میں باہر نکلو۔ تمہیں یہ لباس پہننے کا بالکل سلیقہ نہیں ہے۔ خدا کے لیے اپنے آپ کو تماشہ نہ بناؤ۔\n\nتمہاری خیر خواہ۔۔۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AE%D8%B7_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%D9%88%D8%B3%D9%B9_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "وہ خوش کسی کے ساتھ ہیں ناخوش کسی کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:رسا رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ خوش کسی کے ساتھ ہیں ناخوش کسی کے ساتھ\nہر آدمی کی بات ہے ہر آدمی کے ساتھ\n\nلاکھوں جفائیں سیکڑوں صدمے ہزار غم\nاک آسمان ٹوٹ پڑا زندگی کے ساتھ\n\nممکن نہیں کہ دل سے نکل جائے آرزو\nیہ میرے دم کے ساتھ ہے یہ میرے جی کے ساتھ\n\nاب کیا کروں میں شکوۂ بیداد حشر میں\nمنہ میرا تک رہے ہیں وہ کس بیکسی کے ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D8%AE%D9%88%D8%B4_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیا\nمجھے کیا امیدیں تھیں کیا ہو گیا\n\nنوید شفا چارہ سازوں کو دو\nمرض اب مرا لا دوا ہو گیا\n\nکسی غیر سے کیا توقع کہ جب\nمرا دل ہی دشمن مرا ہو گیا\n\nکہاں سے کہاں لائی قسمت مری\nکس آفت میں میں مبتلا ہو گیا\n\nمیں یکجا ہی کرتا تھا اپنے حواس\nکہ ان سے مرا سامنا ہو گیا\n\nرواںؔ تو کہاں اور کہاں درد عشق\nتجھے کیا یہ مرد خدا ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "وہ در تلک آوے نہ کبھی بات کی ٹھہرے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ در تلک آوے نہ کبھی بات کی ٹھہرے\nحیراں ہوں میں کس طرح ملاقات کی ٹھہرے\n\nہر روز کا ملنا ہے جو دشوار تو پیارے\nاتنا تو کرو قصد کہ اک رات کی ٹھہرے\n\nجس وقت کہ ہم آئیں تو یہ چاہئے تم کو\nاوروں سے نہ پھر حرف و حکایات کی ٹھہرے\n\nاے دیدۂ تر تم بھی جھڑی اپنی لگا دو\nاس سال تو برسات میں برسات کی ٹھہرے\n\nکس چیز پہ پھر ہم ہوں گفتار تعین\nدن رات کی ٹھہرے ہے نہ اوقات کی ٹھہرے\n\nجب کاٹ کے دل پیر گئی ہووے جگر میں\nپھر کیوں نہ چھری آپ کی اس بات کی ٹھہرے\n\nہر روز یہ چاہے ہے تری چشم کی گردش\nاس مرکز خاکی پہ کچھ آفات کی ٹھہرے\n\nاے مصحفیؔ اس وقت وہ مہماں ہے تمہارے\nہے گھات کی جاگہ تو، اگر گھات کی ٹھہرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%D8%A2%D9%88%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1%DB%92"} {"title": "وہ دریا بار اشکوں کی جھڑی ہے", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ دریا بار اشکوں کی جھڑی ہے\nکہ حوت آسماں تہہ میں پڑی ہے\n\nمرے ارماں بتوں کی سرد مہری\nزراعت برف کے پالے پڑی ہے\n\nچمن میں سرو کا بہروپ بھر کر\nقیامت منتظر کس کی کھڑی ہے\n\nدہان تنگ غنچہ پتیاں لب\nہنسی ہے پھول فقرہ پنکھڑی ہے\n\nلگا دی آگ کس شعلہ نے بلبل\nہر اک پھولوں کی ٹہنی پھلجھڑی ہے\n\nنگاہ یاس کس کی کر گئی چوٹ\nکہ گردن تیغ کی ڈھلکی پڑی ہے\n\nعناصر جلد پہنچا دیں گے تا گور\nنہایت تیز رو یہ چوکڑی ہے\n\nکفن سے منہ لپیٹے میری حسرت\nدل ویراں کے کونے میں پڑی ہے\n\nسرہانے مدعی آیا تو جانا\nجدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے\n\nکسی کو پار اتارے گا فلک کیا\nاسی کی ناؤ چکر میں پڑی ہے\n\nبنا لے عقل آگ کا پتلا فلاطوں\nکہ تلچھٹ کچھ مرے خم میں پڑی ہے\n\nنشہ ہے اور ہرن ہیں اس کی آنکھیں\nنظر بازی ہرن کی چوکڑی ہے\n\nنگاہ شوق سے سینہ چرایا\nہماری چوٹ تم سے بھی کڑی ہے\n\nبلائے زلف مہماں سے کہوں کیا\nنہیں ٹلتی مرے سر آ پڑی ہے\n\nسیاہی دور ہوگی رفتہ رفتہ\nابھی زاہد کی داڑھی کڑبڑی ہے\n\nسر محشر بڑھی ہے کس قدر زلف\nقیامت کس قدر اوچھی پڑی ہے\n\nگہر بیں ہے نظام الملک اپنا\nطبیعت کیا بیاںؔ قسمت لڑی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%B4%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%DA%BE%DA%91%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ دل نصیب ہوا جس کو داغ بھی نہ ملا", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ دل نصیب ہوا جس کو داغ بھی نہ ملا\nملا وہ غم کدہ جس میں چراغ بھی نہ ملا\n\nگئی تھی کہہ کے میں لاتی ہوں زلف یار کی بو\nپھری تو باد صبا کا دماغ بھی نہ ملا\n\nچراغ لے کے ارادہ تھا یار کو ڈھونڈیں\nشب فراق تھی کوئی چراغ بھی نہ ملا\n\nخبر کو یار کی بھیجا تھا گم ہوئے ایسے\nحواس رفتہ کا اب تک سراغ بھی نہ ملا\n\nجلالؔ باغ جہاں میں وہ عندلیب ہیں ہم\nچمن کو پھول ملے ہم کو داغ بھی نہ ملا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "وہ دلبری کا اس کی جو کچھ حال ہے سو ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ دلبری کا اس کی جو کچھ حال ہے سو ہے\nاور اپنی دل دہی کا جو احوال ہے سو ہے\n\nمت پوچھ اس کی زلف کی الجھیڑے کا بیان\nیہ میری جان کے لیے جنجال ہے سو ہے\n\nنیکی بدی کا کوئی کسی کے نہیں شریک\nجو اپنا اپنا نامۂ اعمال ہے سو ہے\n\nپس جائے کوئی ہو یا کہ پامال اس کو کیا\nاس گردش فلک کی جو کچھ چال ہے سو ہے\n\nوے ہی علم میں آہوں کے ویسی ہی فوج اشک\nاب تک غم و الم کا جو اقبال ہے سو ہے\n\nایسا تو وہ نہیں جو مرا چارہ ساز ہو\nپھر فائدہ کہے سے جو کچھ حال ہے سو ہے\n\nشکوہ مجھے تو سوزن مژگاں سے کچھ نہیں\nدل خار خار آہ سے غربال ہے سو ہے\n\nنقش قدم کی طرح حسنؔ اس کی راہ میں\nاپنا یہ دل سدا سے جو پامال ہے سو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ دیکھا خواب قاصر جس سے ہے اپنی زباں اور ہم", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "وہ دیکھا خواب قاصر جس سے ہے اپنی زباں اور ہم\nکہ گویا ایک جا ہے اس میں ہے وہ نوجواں اور ہم\n\nوہ رو رو مجھ سے کہتا ہے خدا کی باتیں ہیں ورنہ\nبھلا ٹک دل میں اپنے غور کر تو یہ مکاں اور ہم\n\nجو پوچھا قیس سے لیلیٰ نے جنگل میں اکیلے ہو\nتو بولے اے نہیں وحشت ہے اور آہ و فغاں اور ہم\n\nاجی گڑبڑ رہی ہے عقل اپنے سب فرشتوں سے\nپڑے پھرتے ہیں باہم سیر کرتے قدسیاں اور ہم\n\nنشا ہے عالم مستی ہے بے قیدی ہے رندی ہے\nکہاں اب زہد و تقویٰ ہے خرابات مغاں اور ہم\n\nنیابت ہم کو رضواں کی ملی مولیٰ کے صدقہ سے\nوگرنہ عہدۂ دربانیٔ باغ جناں اور ہم\n\nعجب رنگینیاں باتوں میں کچھ ہوتی ہیں اے انشاؔ\nبہم ہو بیٹھتے ہیں جب سعادت یار خاں اور ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%B1_%D8%AC%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%85"} {"title": "وہ دیکھتے جاتے ہیں کنکھیوں سے ادھر بھی", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ دیکھتے جاتے ہیں کنکھیوں سے ادھر بھی\nچلتا ہوا جادو ہے محبت کی نظر بھی\n\nاٹھنے کی نہیں دیکھیے شمشیر نظر بھی\nپہلے ہی لچکتی ہے کلائی بھی کمر بھی\n\nپھوٹیں مری آنکھیں جو کچھ آتا ہو نظر بھی\nدنیا سے الگ چیز ہے فرقت کی سحر بھی\n\nساقی کبھی مل جائے محبت کا ثمر بھی\nان آنکھوں کا صدقہ کوئی ساغر تو ادھر بھی\n\nبیتاب ہوں کیا چیز چرا لی ہے نظر نے\nہونے کو تو دل بھی ہے مرے پاس جگر بھی\n\nگھر سمجھا ہوں جس کو کہیں تربت تو نہیں ہے\nآتی ہے یہاں شام کی صورت میں سحر بھی\n\nخاموش ہوں میں اور وہ کچھ پوچھ رہے ہیں\nماتھے پہ شکن بھی ہے عنایت کی نظر بھی\n\nاس کے لب رنگیں کی نزاکت ہے نہ رنگت\nغنچے بھی بہت دیکھ لیے ہیں، گل تر بھی\n\nآتی ہے نظر دور ہی سے حسن کی خوبی\nکچھ اور ہی ہوتی ہے جوانی کی نظر بھی\n\nہٹتی ہے جو آئینہ سے پڑ جاتی ہے دل پر\nکیا شوخ نظر ہے کہ ادھر بھی ہے ادھر بھی\n\nبیمار محبت کا خدا ہے جو سنبھل جائے\nہے شام بھی مخدوش جدائی کی سحر بھی\n\nمے خانۂ عشرت نہ سہی کنج غریباں\nآنکھوں کے چھلکتے ہوئے ساغر ہیں ادھر بھی\n\nمل جائیں اگر مجھ کو تو میں خضر سے پوچھوں\nدیکھی ہے کہیں شام جدائی کی سحر بھی\n\nاے شوق شہادت کہیں قسمت نہ پلٹ جائے\nباندھی تو ہے تلوار بھی قاتل نے کمر بھی\n\nاے دل تری آہیں تو سنیں کانوں سے ہم نے\nاب یہ تو بتا اس پہ کریں گی یہ اثر بھی\n\nاک رشک کا پہلو تو ہے سمجھوں کہ نہ سمجھوں\nگردن بھی ہے خم آپ کی نیچی ہے نظر بھی\n\nکچھ کان میں کل آپ نے ارشاد کیا تھا\nمشتاق اسی بات کا ہوں بار دگر بھی\n\nسوفار بھی رنگین کئے ہاتھ بھی اس نے\nآیا ہے بڑے کام میرا خون جگر بھی\n\nچھپتی ہے کوئی بات چھپائے سے سر بزم\nاڑتے ہو جو تم ہم سے تو اڑتی ہے خبر بھی\n\nیوں ہجر میں برسوں کبھی لگتی ہی نہیں آنکھ\nسو جاتا ہوں جب آ کے وہ کہہ دیتی ہیں مر بھی\n\nکھلتا ہی نہیں بیخودؔ بدنام کا کچھ حال\nکہتے ہیں فرشتہ بھی اسے لوگ بشر بھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیا\nسو بار آنکھیں کھولیں بالیں سے سر اٹھایا\n\nگلشن کے طائروں نے کیا بے مروتی کی\nیک برگ گل قفس میں ہم تک نہ کوئی لایا\n\nبے ہیچ اس کا غصہ یارو بلائے جاں ہے\nہرگز منا نہ ہم سے بہتیرا ہی منایا\n\nقد بلند اگرچہ بے لطف بھی نہیں ہے\nسرو چمن میں لیکن اندازہ وہ نہ پایا\n\nنقشہ عجب ہے اس کا نقاش نے ازل کے\nمطبوع ایسا چہرہ کوئی نہ پھر بنایا\n\nشب کو نشے میں باہم تھی گفتگوئے درہم\nاس مست نے جھنکایا یعنی بہت جھکایا\n\nدل بستگی میں کھلنا اس کا نہ اس سے دیکھا\nبخت نگوں کو ہم نے سو بار آزمایا\n\nعاشق جہاں ہوا ہے بے ڈھنگیاں ہی کی ہیں\nاس میرؔ بے خرد نے کب ڈھب سے دل لگایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%B9%DA%A9_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "وہ رشک مہر و قمر گھات پر نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ رشک مہر و قمر گھات پر نہیں آتا\nکبھی اندھیرے اجالے نظر نہیں آتا\n\nیہ کہہ دو کوچۂ جاناں کے جانے والوں سے\nادھر جو کوئی گیا پھر ادھر نہیں آتا\n\nطلائی رنگ یہ کیا کیا چلے ہیں تلواریں\nکسی کے قبضے میں وہ کنج زر نہیں آتا\n\nوہ ناتواں ہوں کہ سنتا نہیں کوئی میری\nوہ زار ہوں کہ کسی کو نظر نہیں آتا\n\nمری طرف سے یہ غفلت ہے ہم صفیروں کو\nچمن سے اڑ کے کبھی ایک پر نہیں آتا\n\nنہیں نصیب میں اپنی جو دولت بیدار\nتو خواب میں بھی مرا سوئمبر نہیں آتا\n\nعذاب نزع ہی قاصد کا انتظار مجھے\nاجل ہی آئے اگر نامہ بر نہیں آتا\n\nوہ کون لوگ ہیں جن پر ہما ہے سایہ فگن\nیہاں تو بوم بھی بالائے سر نہیں آتا\n\nیہاں وسیلۂ روزی فقط ہے یاد خدا\nکہ ہیچ کارہ ہیں کوئی ہنر نہیں آتا\n\nبشر کو چاہنے انجام کار کی کچھ فکر\nجہان میں کوئی بار دگر نہیں آتا\n\nصنم کو ہاتھ سے جانے نہ دیجئے اے بحرؔ\nنکل کے مشت صدف سے گہر نہیں آتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D9%88_%D9%82%D9%85%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%D8%A7%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "وہ رم شعار مرا شوخ دیدہ آیا تھا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ رم شعار مرا شوخ دیدہ آیا تھا\nوہ عشوہ سنج کشیدہ کشیدہ آیا تھا\n\nکیا ہے چشم مروت نے آج مائل مہر\nمیں ان کی بزم سے کل آب دیدہ آیا تھا\n\nجو راز دل تھا وہ خلوت میں سب کہا ہم نے\nکوئی بھی ساتھ نہیں تھا جریدہ آیا تھا\n\nوہ مرغ بسمل الفت فدائے حسن ترا\nبہ شکل طائر رنگ پریدہ آیا تھا\n\nوہ تیرے جذب محبت کا شوق مستانہ\nجنوں لباس گریباں دریدہ آیا تھا\n\nتمہارا بلبل کشمیر شیفتہ شیدا\nبہار جلوہ لئے اک قصیدہ آیا تھا\n\nستم ظریف ہیں پیر مغاں بھی مے خوارو\nکہاں سرور میں ساقیؔ ندیدہ آیا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B1%D9%85_%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "وہ رنگت تو نے اے گل رو نکالی", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ رنگت تو نے اے گل رو نکالی\nنچھاور کو گلوں نے بو نکالی\n\nمزاج بوئے سنبل کر کے موقوف\nصبا نے نکہت گیسو نکالی\n\nنہ تھی جانے کی اس تک راہ دل کی\nچھری سے چیر کے پہلو نکالی\n\nنکاسی جب نہ دیکھی یاس دل کی\nبہا کے آٹھ آٹھ آنسو نکالی\n\nہماری روح اک رشک چمن نے\nسنگھا کے پھول کی خوشبو نکالی\n\nمرے صیاد نے بلبل کی میت\nقفس سے توڑ کے بازو نکالی\n\nکیا اس سے جو خوش چشمی کا دعویٰ\nتری جائے گی آنکھ آہو نکالی\n\nسلیمانی دکھا دی شان تم نے\nپری رو مانگ وہ خوش رو نکالی\n\nنکالا حسن کا ارمان تو نے\nمری حسرت نہ اے دل جو نکالی\n\nچمن میں بھینی بھینی بو نے ان کی\nنہ بسنے دی گئی شبو نکالی\n\nدہان زخم سے تلوار چومی\nبہ شکل بوسۂ ابرو نکالی\n\nقیامت کا شباب اس نے نکالا\nشرفؔ چنگیز خانی خو نکالی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B1%D9%86%DA%AF%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%A7%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D9%88_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "وہ روئے کتابی تو ہے قرآن ہمارا", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ روئے کتابی تو ہے قرآن ہمارا\nکہتے ہیں جسے عشق ہے ایمان ہمارا\n\nہاتھوں کی شکایت ہے ہمیں دشت جنوں میں\nپاؤں میں الجھتا ہے گریبان ہمارا\n\nہر صبح دکھاتا ہے ہمیں جلوہ پری کا\nبالائے ہوا دار سلیمان ہمارا\n\nہیں مردم غم دیدہ کے دانتوں کی طرح بند\nمثل دہن ننگ ہے زندان ہمارا\n\nہم خانہ خرابوں سے ملے کیا کوئی آ کر\nدروازۂ افتادہ ہے دربان ہمارا\n\nرہتا ہے ہمیں دھیان تمہارا ہی ہمیشہ\nتم کو نہیں آتا ہے کبھی دھیان ہمارا\n\nآ جائے ابھی جان میں جان آؤ اگر تم\nتن ہجر میں بے جان ہے اے جان ہمارا\n\nبے کھٹکے توحش میں نہ کیوں دوڑتے پھریے\nپہلو میں ہے بے خار بیابان ہمارا\n\nلی جان خدا نے کسی بت نے نہ کیا قتل\nنکلا نہ دم مرگ بھی ارمان ہمارا\n\nلی ہم نے بلا اپنے ہی سر سب کو بچایا\nاے جان ہے اغیار پہ احسان ہمارا\n\nہر بیت میں اک شاہد معنی کی ہے تصویر\nناسخؔ ہے مرقع نہیں دیوان ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "وہ زار ہوں کہ سر پہ گلستاں اٹھا لیا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ زار ہوں کہ سر پہ گلستاں اٹھا لیا\nوہ خار ہوں کہ پہلوے گل کو دبا لیا\n\nکیا مجھ سے چال چلتے وہ میں بھی ہوں چالیا\nکترا کے چل دیئے تھے کہ بندہ نے جا لیا\n\nکیا بات بوسۂ لب جاں بخش یار کے\nپنجے سے موت کے مجھے اس نے بچا لیا\n\nمیں جیسے نالے کرتا ہوں ان کے خیال میں\nگائے تو اس طرح سے گویا خیالیا\n\nان کی گلی کے کتے سے تو منہ کی کھائے گا\nہڈی کا میرے نام جو تو نے ہما لیا\n\nتصویر کھینچتا ہوں سراپائے یار کی\nہیں عالم مثال کہ شعر مثالیا\n\nاٹھوا دیا رقیب کو واں بیٹھ بیٹھ کے\nایسے جمے کہ ہم نے بھی نقشہ جما لیا\n\nداغوں کی بس دکھا دی دوالی میں روشنی\nہم سا نہ ہوگا کوئی جہاں میں دیوالیہ\n\nکہنے لگے مرید کہ پہنچے ہوئے ہیں آپ\nموسیٰ بنا وہ ہاتھ میں جس نے عصا لیا\n\nایسے نہ جیب کترے کہیں ہیں نہ گٹھ کٹے\nپہلو میں بیٹھتے ہی دل اس نے اڑا لیا\n\nآیا شباب روپ پہ حسن و جمال ہے\nاس باغ میں بہار نے رنگ اب جما لیا\n\nواعظ حساب دیں گے وہاں تجھ سے دانہ زد\nرزاق کا ہے شکر جو کھلوایا کھا لیا\n\nیاد آ گئی جو ہم کو وہ گردن صراحی دار\nشیشہ کو مے کدہ میں گلے سے لگا لیا\n\nللہ بوئے گل سے نہ کر مجھ کو بد دماغ\nخوشبو اڑا کے ان کے بدن کی صبا لیا\n\nآتے ہیں وہ کہیں سے تو اے مہرؔ قرض دام\nچکنی ڈلی الاچی منگا پان چھالیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "وہ زلف ہوا سے مجھے برہم نظر آئی", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ زلف ہوا سے مجھے برہم نظر آئی\nاڑتی ہوئی ناگن قد آدم نظر آئی\n\nہے پنجۂ رنگیں میں ہمارا دل بے تاب\nیہ آگ تو سیماب سے باہم نظر آئی\n\nآغاز میں ہستی کی اجل آ گئی اے دل\nجو چیز مؤخر تھی مقدم نظر آئی\n\nشبنم کی ہے انگیا تلے انگیا کے پسینہ\nکیا لطف ہے شبنم تہ شبنم نظر آئی\n\nمجروح کیا الفت ابرو نے دم حج\nمحراب حرم ناخن ضیغم نظر آئی\n\nادنیٰ ہے یہ اے جان سراپے کی لطافت\nپرچھائیں تری حور مجسم نظر آئی\n\nزنجیر پہننے سے ہوا قیدیوں کا نام\nہر ایک کڑی حلقۂ خاتم نظر آئی\n\nتوبہ کی مگر نشہ سے اس حور شیم نے\nکیوں آتش مے نار جہنم نظر آئی\n\nتم بالوں کو کھولے ہوے گلشن میں جو آئے\nہر شاخ شجر زلف نمط خم نظر آئی\n\nبد ظن نہ ہو کس طرح منیرؔ آج خدارا\nمسکی ہوئی اے بت تری محرم نظر آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "وہ زمانہ نظر نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ زمانہ نظر نہیں آتا\nکچھ ٹھکانا نظر نہیں آتا\n\nجان جاتی دکھائی دیتی ہے\nان کا آنا نظر نہیں آتا\n\nعشق درپردہ پھونکتا ہے آگ\nیہ جلانا نظر نہیں آتا\n\nاک زمانہ مری نظر میں رہا\nاک زمانہ نظر نہیں آتا\n\nدل نے اس بزم میں بٹھا تو دیا\nاٹھ کے جانا نظر نہیں آتا\n\nرہیے مشتاق جلوۂ دیدار\nہم نے مانا نظر نہیں آتا\n\nلے چلو مجھ کو راہروان عدم\nیاں ٹھکانا نظر نہیں آتا\n\nدل پہ بیٹھا کہاں سے تیر نگاہ\nیہ نشانہ نظر نہیں آتا\n\nتم ملاؤگے خاک میں ہم کو\nدل ملانا نظر نہیں آتا\n\nآپ ہی دیکھتے ہیں ہم کو تو\nدل کا آنا نظر نہیں آتا\n\nدل پر آرزو لٹا اے داغؔ\nوہ خزانہ نظر نہیں آتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "وہ زیب شبستاں ہوا چاہتا ہے", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ زیب شبستاں ہوا چاہتا ہے\nیہ مجمع پریشاں ہوا چاہتا ہے\n\nبری ہو گئی شہرت کوئے جاناں\nکوئی خانہ ویراں ہوا چاہتا ہے\n\nترے غم نے سب کام آساں کئے ہیں\nکہ مرنا بھی آساں ہوا چاہتا ہے\n\nچلے آتے ہیں سیر کرتے ہوئے وہ\nگلستاں گلستاں ہوا چاہتا ہے\n\nنہ دیکھا کرو تم کہ اب آئنہ بھی\nمری چشم حیراں ہوا چاہتا ہے\n\nنکالا ہے یہ رنگ حالیؔ نے سالکؔ\nکہ ہر شعر دیواں ہوا چاہتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B2%DB%8C%D8%A8_%D8%B4%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ ساغر شباب چھلکتا ہوا ہے کیا", "poet_page": "مصنف:عبد الہادی وفا", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وفا (1923)", "year": "1923", "text_ur": "وہ ساغر شباب چھلکتا ہوا ہے کیا\nآنکھوں سے یہ تراوش رنگ ادا ہے کیا\n\nتیرا گناہ گار ہوں تیرے سوا ہے کیا\nاپنی طرف تو دیکھ مجھے دیکھتا ہے کیا\n\nجب دل ہی بجھ گیا تو کسی سے گلہ ہے کیا\nجب میں نہیں رہا تو پھر اچھا برا ہے کیا\n\nعذر جفا کے پردہ میں فکر جفا ہے کیا\nظالم پھر امتحان امید وفا ہے کیا\n\nدر پردہ پھر یہ رنجش طاقت گسل ہے کیوں\nبے پردہ پھر یہ نازش صبر آزما ہے کیا\n\nپھر یہ تغافل ستم بے حجاب کیوں\nپھر یہ تجاہل نگہ آشنا ہے کیا\n\nجادو طرازیٔ سخن دل نشیں ہے کیوں\nنیرنگ وعدہائے تسلی فزا ہے کیا\n\nافسون شوق گوش دو عالم میں پھونکنا\nپھر مانگنا کہیں دل بے مدعا ہے کیا\n\nخوں نابۂ سرشک پہ یوں خاک ڈالنا\nپھر چھیڑنا کہ سرخیٔ رنگ حنا ہے کیا\n\nپہلے کسی کے ناخن تدبیر توڑنا\nپھر پوچھنا کہ عقدۂ بند قبا ہے کیا\n\nمحشر بھی ایک صفحۂ بزم خیال ہے\nاعمال نامۂ نگۂ سرمہ سا ہے کیا\n\nسیلاب آتشیں بنا موسیٰ ہے موجزن\nخون بہار کیا رگ موج صبا ہے کیا\n\nدیکھو حریف طعنۂ دشمن نہ ہو سکا\nتم جانتے ہو یہ دل بے مدعا ہے کیا\n\nتعبیر رنگ حال پہ جیتا ہوں ہائے ہائے\nوہ مجھ سے پوچھتے ہیں تمہیں ہو گیا ہے کیا\n\nتعلیم غیر سے بھی تغافل نہ چھوڑنا\nہم یاس پر جئیں گے امید وفا ہے کیا\n\nآئینہ ہے گواہ کہ ہوں مظہر صفات\nاے حسن بے حجاب مرا پوچھنا ہے کیا\n\nتیری طرف ہیں ظاہر و باطن کھنچے ہوئے\nہستی کو چھوڑ دیکھ عدم میں رہا ہے کیا\n\nشیرازۂ وجود و عدم ہے تری کمر\nجو راز کھل گیا ہے وہی چھپ گیا ہے کیا\n\nقربان اس بگاڑ کے صدقے بناؤ گے\nجو تجھ پہ مٹ گیا ہے وہی بن گیا ہے کیا\n\nہے وقت نزع ناقۂ عمر رواں بھی گرم\nہے ہے شکست رنگ صدائے درا ہے کیا\n\nکیوں دوستی کے پردہ سے آتی ہے بوئے غیر\nخلوت گہہ وصال میں جوش حیا ہے کیا\n\nمجبور ہو کے غیر کو اپنا بنا لیا\nظالم کی دشمنی بھی محبت فزا ہے کیا\n\nتوڑا ہے تم نے عہد محبت ہزار بار\nآخر شکست شیشۂ دل کی صدا ہے کیا\n\nاحباب قدرداں ہیں سخن فہم اے وفاؔ\nپھر تو بتا کہ تیری غزل کا صلہ ہے کیا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%86%DA%BE%D9%84%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "وہ سامنے تھا پھر بھی کہاں سامنا ہوا", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ سامنے تھا پھر بھی کہاں سامنا ہوا\nرہتا ہے اپنے نور میں سورج چھپا ہوا\n\nاے روشنی کی لہر کبھی تو پلٹ کے آ\nتجھ کو بلا رہا ہے دریچہ کھلا ہوا\n\nسیراب کس طرح ہو زمیں دور دور کی\nساحل نے ہے ندی کو مقید کیا ہوا\n\nاے دوست چشم شوق نے دیکھا ہے بارہا\nبجلی سے تیرا نام گھٹا پر لکھا ہوا\n\nپہچانتے نہیں اسے محفل میں دوست بھی\nچہرہ ہو جس کا گرد الم سے اٹا ہوا\n\nاس دور میں خلوص کا کیا کام اے شکیبؔ\nکیوں کر چلے بساط پہ مہرہ پٹا ہوا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "وہ سامنے جب آ جاتے ہیں سکتے کا سا عالم ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:اقبال سہیل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ سامنے جب آ جاتے ہیں سکتے کا سا عالم ہوتا ہے\nاس دل کی تباہی کیا کہئے امرت بھی جسے سم ہوتا ہے\n\nدیتے ہیں اسی کو جام طرب جو جرعہ کش غم ہوتا ہے\nکب باغ جہاں ہیں خندۂ گل بے گریۂ شبنم ہوتا ہے\n\nجب ولولہ صادق ہوتا ہے جب عزم مصمم ہوتا ہے\nتکمیل کا ساماں غیب سے خود اس وقت فراہم ہوتا ہے\n\nانجام وفا بھی دیکھ لیا اب کس لئے سر خم ہوتا ہے\nنازک ہے مزاج حسن بہت سجدے سے بھی برہم ہوتا ہے\n\nیہ آگ دہکتی ہے جتنی اتنا ہی دھواں کم دیتی ہے\nاحساس ستم بڑھ جاتا ہے تو شور فغاں کم ہوتا ہے\n\nرگ رگ میں نظام فطرت کی رقصاں ہے محبت کی بجلی\nہو لاکھ تضاد اضداد میں بھی اک رابطہ باہم ہوتا ہے\n\nمل جل کے بہ رنگ شیر و شکر دونوں کے نکھرتے ہیں جوہر\nدریاؤں کے سنگم سے بڑھ کر تہذیبوں کا سنگم ہوتا ہے\n\nتاراج نشیمن کھیل سہی صیاد مگر اتنا سن لے\nجب عشق کی دنیا لٹتی ہے خود حسن کا ماتم ہوتا ہے\n\nدیوانوں کے جیب و دامن کا اڑتا ہے فضا میں جو ٹکڑا\nمستقبل ملت کے حق میں اقبال کا پرچم ہوتا ہے\n\nمنصور جو ہوتا اہل نظر تو دعوئ باطل کیوں کرتا\nاس کی تو زباں کھلتی ہی نہیں جو راز کا محرم ہوتا ہے\n\nتا چند سہیلؔ افسردۂ غم کیا یاد نہیں تاریخ حرم\nایماں کے جہاں پڑتے ہیں قدم پیدا وہیں زمزم ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ سر بام کب نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ سر بام کب نہیں آتا\nجب میں ہوتا ہوں تب نہیں آتا\n\nبہر تسکیں وہ کب نہیں آتا\nاعتبار آہ اب نہیں آتا\n\nچپ ہے شکوؤں کی ایک بند کتاب\nاس سے کہنے کا ڈھب نہیں آتا\n\nان کے آگے بھی دل کو چین نہیں\nبے ادب کو ادب نہیں آتا\n\nزخم سے کم نہیں ہے اس کی ہنسی\nجس کو رونا بھی اب نہیں آتا\n\nمنہ کو آ جاتا ہے جگر غم سے\nاور گلہ تا بہ لب نہیں آتا\n\nبھولی باتوں پہ تیری دل کو یقیں\nپہلے آتا تھا اب نہیں آتا\n\nدکھ وہ دیتا ہے اس پہ ہے یہ حال\nلینے جاتا ہوں جب نہیں آتا\n\nآرزوؔ بے اثر محبت چھوڑ\nکیوں کرے کام جب نہیں آتا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "وہ سر نہیں جس میں ترا سودا نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:قمر ہلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل > بیاض عاشقان (1916)", "year": "1916", "text_ur": "وہ سر نہیں جس میں ترا سودا نہیں ہوتا\nآنکھیں نہیں جن میں ترا جلوہ نہیں ہوتا\n\nکیوں مجھ پہ کرم آپ کا مولا نہیں ہوتا\nکیوں نذر کے قابل دل شیدا نہیں ہوتا\n\nکب تک دل بیمار تڑپتا رہے آقا\nکیوں لطف و کرم اس پہ مسیحا نہیں ہوتا\n\nتیر نگہ یار کا کشتہ ہے مرا دل\nجز مرہم دیدار وہ اچھا نہیں ہوتا\n\nکیا خاک ملے اس کو مزا عشق کا تیرے\nدنیا میں جو تیرے لئے رسوا نہیں ہوتا\n\nکیوں چھپ کے چلے جاتے ہو ہم غیر نہیں ہیں\nاپنوں سے جہاں میں کہیں پردا نہیں ہوتا\n\nکشتہ تری دزدیدہ نگاہوں کا قمرؔ ہے\nروتا ہے تڑپتا ہے وہ اچھا نہیں ہوتا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "وہ سعی قفس میں کر کہ ٹوٹے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ سعی قفس میں کر کہ ٹوٹے\nاس میں رہے بال و پر کہ ٹوٹے\n\nپائے طلب اس کی جستجو میں\nیاں تک پھرے در بہ در کہ ٹوٹے\n\nرونے کا تار بندھ رہا ہے\nایسا نہ ہو چشم تر کہ ٹوٹے\n\nہے بے مے عشق شیشۂ دل\nمار اس کو تو سنگ پر کہ ٹوٹے\n\nدنیا سے تو ٹوٹتا نہیں دل\nایسی کچھ فکر کر کہ ٹوٹے\n\nہوئی بس کہ خوشیٔ زخم تازہ\nہیں ٹانکے ترے جگر کہ ٹوٹے\n\nمحشر میں بھی نیند غافلوں کی\nممکن نہیں بے خبر کہ ٹوٹے\n\nؔجوشش ہر خار دشت پر یاں\nاس طرح قدم نہ دھر کہ ٹوٹے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%B9%DB%8C_%D9%82%D9%81%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%D9%B9%D9%88%D9%B9%DB%92"} {"title": "وہ سن کر حور کی تعریف پردے سے نکل آئے", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ سن کر حور کی تعریف پردے سے نکل آئے\nکہا پھر مسکرا کر حسن زیبا اس کو کہتے ہیں\n\nاجل کا نام دشمن دوسرے معنی میں لیتا ہے\nتمہارے چاہنے والے تمنا اس کو کہتے ہیں\n\nمرے مدفن پہ کیوں روتے ہو عاشق مر نہیں سکتا\nیہ مر جانا نہیں ہے صبر آنا اس کو کہتے ہیں\n\nنمک بھر کر مرے زخموں میں تم کیا مسکراتے ہو\nمرے زخموں کو دیکھو مسکرانا اس کو کہتے ہیں\n\nزمانے سے عداوت کا سبب تھی دوستی جن کی\nاب ان کو دشمنی ہے ہم سے دنیا اس کو کہتے ہیں\n\nدکھاتے ہم نہ آئینہ تو یہ کیوں کر نظر آتا\nبشر حوروں سے اچھا تم نے دیکھا اس کو کہتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%AD%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "وہ سو سو اٹھکھٹوں سے گھر سے باہر دو قدم نکلے", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ سو سو اٹھکھٹوں سے گھر سے باہر دو قدم نکلے\nبلا سے اس کی گر اس میں کسی مضطر کا دم نکلے\n\nکہاں آنسو کے قطرے خون دل سے ہیں بہم نکلے\nیہ دل میں جمع تھے مدت سے کچھ پیکان غم نکلے\n\nمرے مضمون سوز دل سے خط سب جل گیا میرا\nقلم سے حرف جو نکلے شرر ہی یک قلم نکلے\n\nنکال اے چارہ گر تو شوق سے لیکن سر پیکاں\nادھر نکلے جگر سے تیر ادھر قالب سے دم نکلے\n\nتصور سے لب لعلیں کے تیرے ہم اگر رو دیں\nتو جو لخت جگر آنکھوں سے نکلے اک رقم نکلے\n\nنہیں ڈرتے اگر ہوں لاکھ زنداں یار زنداں سے\nجنون اب تو مثال نالۂ زنجیر ہم نکلے\n\nجگر پر داغ لب پر دود دل اور اشک دامن میں\nتری محفل سے ہم مانند شمع صبح دم نکلے\n\nاگر ہوتا زمانہ گیسوئے شب رنگ کا تیرے\nمری شب دیز سودا کا زیادہ تر قدم نکلے\n\nکجی جن کی طبیعت میں ہے کب ہوتی وہ سیدھی ہے\nکہو شاخ گل تصویر سے کس طرح خم نکلے\n\nشمار اک شب کیا ہم نے جو اپنے دل کے داغوں سے\nتو انجم چرخ ہشتم کے بہت سے ان سے کم نکلے\n\nخدا کے واسطے زاہد اٹھا پردہ نہ کعبہ کا\nکہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے\n\nتمنا ہے یہ دل میں جب تلک ہے دم میں دم اپنے\nظفرؔ منہ سے ہمارے نام اس کا دم بہ دم نکلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B3%D9%88_%D8%B3%D9%88_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DA%A9%DA%BE%D9%B9%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%88_%D9%82%D8%AF%D9%85_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "وہ شاہ حسن جو بے مثل ہے حسینوں میں", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ شاہ حسن جو بے مثل ہے حسینوں میں\nکبھی فقیر بھی تھا ان کے ہم نشینوں میں\n\nاگر حیات ہے دیکھیں گے ایک دن دیدار\nکہ ماہ عید بھی آخر ہے ان مہینوں میں\n\nنہ اختلاط نہ وہ آنکھ ہے نہ وہ چتون\nیہ کیا سبب کہ پڑا فرق سب قرینوں میں\n\nنہیں بتوں کے تصور سے کوئی دل خالی\nخدا نے ان کو دئیے ہیں مکان سینوں میں\n\nمآل کار وہی سب کا ہے وہی آغاز\nہزار فرق کریں خود پرست دینوں میں\n\nعبث حریص ہوس سے ذلیل ہوتے ہیں\nامٹ ہے برقؔ جو تحریر ہے جبینوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D9%85%D8%AB%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں\nاک روز چمکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں\n\nگر ارض و سما کی محفل میں لولاک لما کا شور نہ ہو\nیہ رنگ نہ ہو گلزاروں میں یہ نور نہ ہو سیاروں میں\n\nجو فلسفیوں سے کھل نہ سکا جو نکتہ وروں سے حل نہ ہوا\nوہ راز اک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں\n\nبو بکر و عمر عثمان و علی کرنیں ہیں ایک ہی مشعل کی\nہم مرتبہ ہیں یاران نبی کچھ فرق نہیں ان چاروں میں\n\nوہ جنس نہیں ایمان جسے لے آئیں دکان فلسفہ سے\nڈھونڈے سے ملے گی عاقل کو ی قرآں کے سپاروں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%B3_%D8%A8%D8%B1%D8%B3_%D8%AA%DA%A9_%D8%BA%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گا", "poet_page": "مصنف:ہجر ناظم علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گا\nتو ماہتاب فلک کو حجاب آئے گا\n\nخبر نہ تھی کہ مٹیں گے جوان ہوتے ہی\nاجل کا بھیس بدل کر شباب آئے گا\n\nپڑے گا عکس جو ساقی کی چشم میگوں کا\nنظر شراب میں جام شراب آئے گا\n\nہزار حیف کہ سر نامہ بر کا آیا ہے\nسمجھ رہے تھے کہ خط کا جواب آئے گا\n\nکلیم ہاں دل بیتاب کو سنبھالے ہوئے\nسنا ہے طور پہ وہ بے نقاب آئے گا\n\nجو آرزو ہے ہماری وہ کہہ تو دیں لیکن\nخیال یہ ہے کہ تم کو حجاب آئے گا\n\nیہ شوخیاں تری اس کم سنی میں اے ظالم\nقیامت آئے گی جس دن شباب آئے گا\n\nکبھی یہ فکر کہ وہ یاد کیوں کریں گے ہمیں\nکبھی خیال کہ خط کا جواب آئے گا\n\nچلا ہے ہجرؔ سیہ کار بزم جاناں کو\nذلیل ہو کے یہ خانہ خراب آئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%A8%D8%A7%D9%85_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "وہ صفائی کبھی جو ہم سے ملاقات میں تھی", "poet_page": "مصنف:مرزا علی لطف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ صفائی کبھی جو ہم سے ملاقات میں تھی\nصاف کل ساختگی اس کی ہر اک بات میں تھی\n\nجو بھلی آ کے کہی سحر ہے سمجھا نہ اسے\nکل بری جو کہی داخل وہ کرامات میں تھی\n\nہے دل غیر کو اس ناوک مژگاں سے اب انس\nجو کہ نت اپنے جگر دوزیوں کے گھات میں تھی\n\nسنتے ہیں غیر سے وہ بات بآواز بلند\nکیا قیامت ہے کہ جو ہم سے اشارات میں تھی\n\nکیا غضب ہے وہی آئینہ پن اب لاکھ سے ہے\nجو صفائی کبھی ہم سے کسی اوقات میں تھی\n\nکوئی حاجت نہیں اب غیر کی جو ہو نہ روا\nیہ تو آگے نہ مرے قبلۂ حاجات میں تھی\n\nاتنا جویائے ملاقات نہ ہوتا تھا لطفؔ\nشکل نبھنے کی جو کچھ تھی سو مساوات میں تھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "وہ صنم جو مہر عذار ہے اسے ہم سے ملنے میں عار ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ صنم جو مہر عذار ہے اسے ہم سے ملنے میں عار ہے\nولے اپنا جو دل زار ہے وہ ہزار جان سے نثار ہے\n\nملے جب سے کوچے میں اس کے جا یہ سرور عیش ہے برملا\nلب دل ہے اور وہ نقش پا بر جاں ہے اور در یار ہے\n\nوہ نگہ جو اس کی ہے فتنہ گر اسے مشق صید ہے پیشتر\nہے جو دل کا طائر تیز پر اسی باز کا یہ شکار ہے\n\nوہ مژہ لگا کے جو ایک سنان گئی پھر تو کر نہ دل اب فغاں\nکئی ایسے ہوویں گے امتحاں یہ ابھی تو پہلا ہی وار ہے\n\nجو بہار گل پہ رہی ہے تل ہمیں کیا جو حسن کی پی ہے مل\nجنہیں چاہئے ہے وہ رشک گل انہیں گل سے کیا سروکار ہے\n\nجو بتوں کو دیویں دل اور دیں رکھیں اس کو یہ بہ الم قریں\nبھلا کہئے کیا اسے ہم نشیں یہ عجب کچھ ان کا شعار ہے\n\nکئی دن ہوے ہیں نظیرؔ اب کہ خفا ہے ہم سے وہ غنچہ لب\nاسے کیا ولے ہمیں روز و شب نہ تو صبر ہے نہ قرار ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے", "poet_page": "مصنف:صفی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے\nشب فرقت کے غم جھیلے ہوؤں کا دم نکلتا ہے\n\nالٰہی خیر ہو الجھن پہ الجھن بڑھتی جاتی ہے\nنہ میرا دم نہ ان کے گیسوؤں کا خم نکلتا ہے\n\nقیامت ہی نہ ہو جائے جو پردے سے نکل آؤ\nتمہارے منہ چھپانے میں تو یہ عالم نکلتا ہے\n\nشکست رنگ رخ آئینۂ بے تابئ دل ہے\nذرا دیکھو تو کیوں کر غم زدوں کا دم نکلتا ہے\n\nنگاہ التفات مہر اور انداز دل جوئی\nمگر اک پہلوئے بے تابئ شبنم نکلتا ہے\n\nصفیؔ کشتہ ہوں نا پرسانیوں کا اہل عالم کی\nیہ دیکھوں کون میرا صاحب ماتم نکلتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ عالمگیر جلوہ اور حسن مشترک تیرا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ عالمگیر جلوہ اور حسن مشترک تیرا\nخدا جانے ان آنکھوں کو ہوا کس کس پہ شک تیرا\n\nبتا حد سے سوا ہم پاؤں پھیلائیں کدھر جائیں\nفقط دو گز زمیں اپنی ہے اور ساتوں فلک تیرا\n\nکیا اے سونے والے رحم صبح وصل نے تجھ پر\nکہ جوں جوں کھلتی ہیں آنکھیں مٹا جاتا ہے شک تیرا\n\nبس اب حد ہے کہ غیروں تک کا دامن جا کے پکڑا ہے\nڈگے کس کس جگہ ہم ہو گیا کس کس پہ شک تیرا\n\nترے نقش قدم کی گرد تک پہنچے نہ واماندہ\nبہت پیچھا کیا اے کارواں کوسوں تلک تیرا\n\nغذائے روح ہے اے حسن تو اپنی ملاحت سے\nہر اک کے ذائقے میں ٹھیک ہے آب و نمک تیرا\n\nاگر آنکھیں سلامت ہیں تو کیا کیا کچھ دکھائے گا\nیہی پھیلا ہوا جلوہ سما سے تا سمک تیرا\n\nمری ہم دردیوں سے ہو گئی غیروں کو اک عبرت\nلیا گھبرا کے جب جب نام نامی بے دھڑک تیرا\n\nنہ پوچھو عشق نے غیرت سے کیا کیا رنگ بدلا ہے\nخیال آیا ہے ساتھ اوروں کے جب جب مشترک تیرا\n\nفقط زاہد پہ کیا موقوف سب کی رال ٹپکی ہے\nوہ شوخی وہ نمو کے دن وہ چہرہ بے ڈلک تیرا\n\nبہت تو نے جب اپنے پاؤں پھیلائے تو کیا چارہ\nادب کرتی رہی اے اشک مدت تک پلک تیرا\n\nعبث الجھا کے رکھا ہے کوئی انصاف بھی آخر\nامیدیں ساتھ دیں گی شادؔ آخر کب تلک تیرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "وہ عندلیب ہوں کہ صدا مجھ کو غم رہا", "poet_page": "مصنف:کیپٹن ڈامنگو پال لیزوا ذرہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ عندلیب ہوں کہ صدا مجھ کو غم رہا\nباغ جہاں میں نخل تمنا قلم رہا\n\nوحشی وہ ہوں کہ حد عدم سے نہ بڑھ گیا\nصحرا میں قیس کا میں قدم در قدم رہا\n\nمنظور ان کو صاف ہیں وعدہ خلافیاں\nاے انتظار کیوں مری آنکھوں میں دم رہا\n\nاکثر مری غزل میں جو نکتے ہیں رمز ہیں\nعاجز جبھی ثنا میں ہر اہل قلم رہا\n\nعادت سجود کی جو تھی عہد شباب میں\nپیری میں بھی صدا قد عاشق میں خم رہا\n\nذرہ نئی غزل کہی یکتاؔ کے فیض سے\nگو درد مشق شعر و سخن تجھ کو کم رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B9%D9%86%D8%AF%D9%84%DB%8C%D8%A8_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%B5%D8%AF%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "وہ عہد عہد ہی کیا ہے جسے نبھاؤ بھی", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ عہد عہد ہی کیا ہے جسے نبھاؤ بھی\nہمارے وعدۂ الفت کو بھول جاؤ بھی\n\nبھلا کہاں کے ہم ایسے گمان والے ہیں\nہزار بار ہم آئیں ہمیں بلاؤ بھی\n\nبگڑ چلا ہے بہت رسم خودکشی کا چلن\nڈرانے والو کسی روز کر دکھاؤ بھی\n\nنہیں کہ عرض تمنا پہ مان ہی جاؤ\nہمیں اس عہد تمنا میں آزماؤ بھی\n\nفغاں کہ قصۂ دل سن کے لوگ کہتے ہیں\nیہ کون سی نئی افتاد ہے ہٹاؤ بھی\n\nتمہاری نیند میں ڈوبی ہوئی نظر کی قسم\nہمیں یہ ضد ہے کہ جاگو بھی اور جگاؤ بھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A4_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "وہ عہد گیا کہ جور اس کے سہیے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "وہ عہد گیا کہ جور اس کے سہیے\nوہ بات نہیں رہی کہ چپکے رہیے\nجب جی ہی چلا میرؔ تو صرفہ کیا ہے\nبے صرفہ جو کچھ کہ منھ میں آئے کہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "وہ فراق اور وہ وصال کہاں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ فراق اور وہ وصال کہاں\nوہ شب و روز و ماہ و سال کہاں\n\nفرصت کاروبار شوق کسے\nذوق نظارۂ جمال کہاں\n\nدل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا\nشور سودائے خط و خال کہاں\n\nتھی وہ اک شخص کے تصور سے\nاب وہ رعنائی خیال کہاں\n\nایسا آساں نہیں لہو رونا\nدل میں طاقت جگر میں حال کہاں\n\nہم سے چھوٹا قمار خانۂ عشق\nواں جو جاویں گرہ میں مال کہاں\n\nفکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں\nمیں کہاں اور یہ وبال کہاں\n\nمضمحل ہو گئے قویٰ غالب\nوہ عناصر میں اعتدال کہاں\n\nبوسہ میں وہ مضائقہ نہ کرے\nپر مجھے طاقت سوال کہاں\n\nفلک سفلہ بے محابا ہے\nاس ستمگر کو انفعال کہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے ناز", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے ناز\nاک سروِ ناز ہے جو بنا ہو برائے ناز\n\nاُس نازنیں پہ ختم ہیں سب شیوہ ہائے ناز\nجس کو بنا کے خود بھی ہے نازاں خدائے ناز\n\nکیا کیا نہ آرزو کے بڑھیں دل میں حوصلے\nرکھ دیں کبھی جو فرقِ ہوس پردہ پائے ناز\n\nاربابِ اشتیاق ہیں اور انتہائے شوق\nحالانکہ حُسن یار ہے اور ابتدائے ناز\n\nکچھ یوں ہی اپنے حُسن پر مغرور تھا وہ شوخ\nکچھ لے اُڑی ہے اور بھی اسکو ہوائے ناز", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%AA%D9%90_%D8%A8%D9%84%D9%86%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B1_%D9%82%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2"} {"title": "وہ قضا کے رنج میں جان دیں کہ نماز جن کی قضا ہوئی", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ قضا کے رنج میں جان دیں کہ نماز جن کی قضا ہوئی\nترے مست بادۂ شوق نے نہ کبھی پڑھی نہ ادا ہوئی\n\nترے دور دورۂ عشق میں مری ایک رنگ سے کٹ گئی\nنہ ستم ہوا نہ کرم ہوا نہ جفا ہوئی نہ وفا ہوئی\n\nمجھے غیر عجز و نیاز نے ترے در پہ جا کے جھکا دیا\nنہ تو کوئی عہد لکھا گیا نہ تو کوئی رسم ادا ہوئی\n\nمرا دل بھی تھا مری جاں بھی تھی نہ وہی رہا نہ یہی رہی\nمجھے کیا خبر کہ وہ کیا ہوا مجھے کیا خبر کہ یہ کیا ہوئی\n\nمری عمر مضطرؔ خستہ دل کٹی رنج و درد و فراق میں\nنہ کسی سے میری دوا ہوئی نہ دوا سے مجھ کو شفا ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2_%D8%AC%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "وہ لطف اب ہندو مسلماں میں کہاں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "وہ لطف اب ہندو مسلماں میں کہاں\nاغیار ان پر گزرتے ہیں اب خندہ زناں\nجھگڑا کبھی گائے کا زباں کی کبھی بحث\nہے سخت مضر یہ نسخۂ گاؤ زباں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "وہ لڑکی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "سرکنڈوں کے پیچھے", "year": "1955", "text_ur": "سوا چار بج چکے تھے لیکن دھوپ میں وہی تمازت تھی جو دوپہر کو بارہ بجے کے قریب تھی۔ اس نے بالکنی میں آکر باہر دیکھا تو اسے ایک لڑکی نظر آئی جو بظاہر دھوپ سے بچنے کے لیے ایک سایہ دار درخت کی چھاؤں میں آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی۔\n\nاس کا رنگ گہرا سانولا تھا، اتنا سانولا کہ وہ درخت کی چھاؤں کا ایک حصہ معلوم ہوتا تھا۔ سریندر نے جب اس کو دیکھا تو اس نے محسوس کیا کہ وہ اس کی قربت چاہتا ہے، حالانکہ وہ اس موسم میں کسی کی قربت کی بھی خواہش نہ کرسکتا تھا۔موسم بہت واہیات قسم کا تھا۔ سوا چار بج چکے تھے۔ سورج غروب ہونے کی تیاریاں کررہا تھالیکن موسم نہایت ذلیل تھا۔ پسینہ تھا کہ چھوٹا جارہا تھا۔ خدا معلوم کہاں سے مساموں کے ذریعے اتنا پانی نکل رہا تھا۔ سریندر نے کئی مرتبہ غور کیا تھا کہ پانی اس نے زیادہ سے زیادہ چار گھنٹوں میں صرف ایک گلاس پیا ہوگا مگر پسینہ بلامبالغہ چار گلاس نکلا ہوگا۔ آخر یہ کہاں سے آیا!\n\nجب اس نے لڑکی کو درخت کی چھاؤں میں آلتی پالتی مارے دیکھا تو اس نے سوچا کہ دنیا میں سب سے خوش یہی ہے جسے دھوپ کی پرواہ ہے نہ موسم کی۔\n\nسریندر پسینے میں لت پت تھا۔ اس کی بنیان اس کے جسم کے ساتھ بہت بری طرح چمٹی ہوئی تھی۔ وہ کچھ اس طرح محسوس کررہا تھا جیسے اس کے بدن پر کسی نے موبل آئل مل دیا ہے لیکن اس کے باوجود جب اس نے درخت کی چھاؤں میں بیٹھی ہوئی لڑکی کو دیکھا تو اس کے جسم میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اس کے پسینے کے ساتھ گھل مل جائے، اس کے مساموں کے اندر داخل ہو جائے۔\n\nآسمان خاکستری تھا۔ کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ بادل ہیں یا محض گردوغبار۔ بہر حال، اس گردوغبار یا بادلوں کے باوجود دھوپ کی جھلک موجود تھی اور وہ لڑکی بڑے اطمینان سے پیپل کی چھاؤں میں بیٹھی سستا رہی تھی۔\n\nسریندر نے اب کی غور سے اس کی طرف دیکھا۔ اس کا رنگ گہرا سانولا مگر نقش بہت تیکھے کہ وہ سریندر کی آنکھوں میں کئی مرتبہ چبھے۔مزدور پیشہ لڑکی معلوم ہوتی تھی۔ یہ بھی ممکن تھا کہ بھکارن ہو۔ لیکن سریندر اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کرسکا تھا۔ اصل میں وہ یہ فیصلہ کررہا تھاکہ آیا اس لڑکی کو اشارہ کرنا چاہیے یا نہیں۔\n\nگھر میں وہ بالکل اکیلا تھا۔ اس کی بہن مری میں تھی۔ ماں بھی اس کے ساتھ تھی۔ باپ مر چکا تھا۔ ایک بھائی، اس سے چھوٹا، وہ بورڈنگ میں رہتا تھا۔ سریندر کی عمر ستائس اٹھائیس سال کے قریب تھی۔ اس سے قبل وہ اپنی دو ادھیڑ عمر کی نوکرانیوں سے دو تین مرتبہ سلسلہ لڑا چکا تھا۔\n\nمعلوم نہیں کیوں، لیکن موسم کی خرابی کے باوجود سریندر کے دل میں یہ خواہش ہورہی تھی کہ وہ پیپل کی چھاؤں میں بیٹھی ہوئی لڑکی کے پاس جائے یا اسے اوپر ہی سے اشارہ کرے تاکہ وہ اس کے پاس آجائے، اور وہ دونوں ایک دوسرے کے پسینے میں غوطہ لگائیں اور کسی نامعلوم جزیرے میں پہنچ جائیں۔\n\nسریندر نے بالکنی کے کٹہرے کے پاس کھڑے ہو کر زور سے کھنکارا مگر لڑکی متوجہ نہ ہوئی۔ سریندر نے جب کئی مرتبہ ایسا کیا اور کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا تو اس نے آواز دی،’’ارے بھئی۔۔۔ ذرا ادھر دیکھو!‘‘مگر لڑکی نے پھر بھی اس کی طرف نہ دیکھا۔وہ اپنی پنڈلی کھجلاتی رہی۔سریندر کو بہت الجھن ہوئی۔ اگر لڑکی کی بجائے کوئی کتا ہوتا تو وہ یقیناً اس کی آواز سن کر اس کی طرف دیکھتا۔ اگر اسے اس کی یہ آواز ناپسند ہوتی تو بھونکتا مگر اس لڑکی نے جیسے اس کی آواز سنی ہی نہیں تھی۔ اگر سنی تھی تو ان سنی کردی تھی۔\n\nسریندر دل ہی دل میں بہت خفیف ہورہا تھا۔ اس نے ایک بار بلند آواز میں اس لڑکی کو پکارا،’’اے لڑکی!‘‘\n\nلڑکی نے پھر بھی اس کی طرف نہ دیکھا۔ جھنجھلا کر اس نے اپنا ململ کا کرتا پہنا اور نیچے اترا۔ جب اس لڑکی کے پاس پہنچا تو وہ اسی طرح اپنی ننگی پنڈلی کھجلا رہی تھی۔ سریندر اس کے پاس کھڑا ہوگیا۔ لڑکی نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور شلوار نیچی کرکے اپنی پنڈلی ڈھانپ لی۔\n\nسریندر نے اس سے پوچھا،’’تم یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘\n\nلڑکی نے جواب دیا، ’’بیٹھی ہوں‘‘\n\n’’کیوں بیٹھی ہو؟‘‘\n\nلڑکی اٹھ کھڑی ہوئی،’’لو، اب کھڑی ہوگئی ہوں!‘‘\n\nسریندر بوکھلا گیا،’’اس سے کیا ہوتا ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ تم اتنی دیر سے یہاں بیٹھی کیا کررہی تھیں؟‘‘\n\nلڑکی کا چہرہ اور زیادہ سنولا ہوگیا،’’تم چاہتے کیا ہو؟‘‘\n\nسریندر نے تھوڑی دیر اپنے دل کو ٹٹولا،’’میں کیا چاہتا ہوں۔۔۔ میں کچھ نہیں چاہتا۔۔۔ میں گھر میں اکیلا ہوں۔ اگر تم میرے ساتھ چلو تو بڑی مہربانی ہوگی۔‘‘\n\nلڑکی کے گہرے سانولے ہونٹوں پر عجیب و غریب قسم کی مسکراہٹ نمودار ہوئی،’’مہربانی۔۔۔کاہے کی مہربانی۔۔۔چلو!‘‘\n\nاور دونوں چل دیے۔\n\nجب اوپر پہنچے تو لڑکی صوفے کی بجائے فرش پر بیٹھ گئی اور اپنی پنڈلی کھجلانے لگی۔ سریندر اس کے پاس کھڑا سوچتا رہا کہ اب اسے کیا کرنا چاہیے۔اس نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ خوبصورت نہیں تھی لیکن اس میں وہ تمام قوسیں اور وہ تمام خطوط موجود تھے جو ایک جوان لڑکی میں موجود ہوتے ہیں۔ اس کے کپڑے میلے تھے، لیکن اس کے باوجود اس کا مضبوط جسم اس کے باہر جھانک رہا تھا۔\n\nسریندر نے اس سے کہا،’’یہاں کیوں بیٹھی ہو۔۔۔ ادھر صوفے پر بیٹھ جاؤ!‘‘\n\nلڑکی نے جواب میں صرف اس قدر کہا،’’نہیں!‘‘\n\nسریندر اس کے پاس فرش پر بیٹھ گیا،’’تمہاری مرضی۔۔۔ لو اب یہ بتاؤ کہ تم کون ہو اور درخت کے نیچے تم اتنی دیر سے کیوں بیٹھی تھیں؟‘‘\n\n’’میں کون ہوں اور درخت کے نیچے میں کیوں بیٹھی تھی۔۔۔ اس سے تمہیں کوئی مطلب نہیں۔‘‘ لڑکی نےیہ کہہ کر اپنی شلوار کا پائنچہ نیچے کرلیا اور پنڈلی کھجلانا بند کردی۔\n\nسریندر اس وقت اس لڑکی کی جوانی کے متعلق سوچ رہا تھا۔ وہ اس کا اور ان دو ادھیڑ عمر کی نوکرانیوں کا مقابلہ کررہا تھا جن سے اس کا دو تین مرتبہ سلسلہ ہو چکا تھا۔ وہ محسوس کررہا تھا کہ وہ اس لڑکی کے مقابلے میں ڈھیلی ڈھالی تھیں، جیسے برسوں کی استعمال کی ہوئی سائیکلیں۔ لیکن اس کا ہر پرزہ اپنی جگہ پر کسا ہوا تھا۔\n\nسریندر نے ان ادھیڑ عمر کی نوکرانیوں سے اپنی طرف سے کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ خود اس کو کھینچ کر اپنی کوٹھریوں میں لے جاتی تھیں مگر سریندر اب محسوس کرتا تھا کہ یہ سلسلہ اس کو اب خود کرنا پڑے گا، حالانکہ اس کی تکنیک سے قطعاًناواقف تھا۔ بہر حال۔ اس نے اپنے ایک بازوکو تیار کیا اور اسے لڑکی کی کمر میں حمائل کردیا۔\n\nلڑکی نے ایک زور کا جھٹکا دیا، ’’یہ کیا کررہے ہو تم؟‘‘\n\nسریندر ایک بار پھر بوکھلاگیا، ’’میں۔۔۔میں۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔‘‘\n\nلڑکی کے گہرے سانولے ہونٹوں پر عجیب قسم کی مسکراہٹ نمودار ہوئی، ’’آرام سے بیٹھے رہو!‘‘\n\nسریندر آرام سے بیٹھ گیا۔ مگر اس کے سینے میں ہلچل اور زیادہ بڑھ گئی۔ چنانچہ اس نے ہمت سے کام لے کر لڑکی کو پکڑ کر اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔لڑکی نے بہت ہاتھ پاؤں مارے،مگر سریندر کی گرفت مضبوط تھی۔ وہ فرش پر چت گر پڑی۔ سریندر اس کے اوپر تھا۔ اس نے دھڑاد ھڑ اس کے گہرے سانولے ہونٹ چومنے شروع کردیے۔لڑکی بے بس تھی۔ سریندر کا بوجھ اتنا تھا کہ وہ اسے اٹھا کر پھینک نہیں سکتی تھی۔ بوجہ مجبوری وہ اس کے گیلے بوسے برداشت کرتی رہی۔سریندر نے سمجھا کہ وہ رام ہوگئی ہے، چنانچہ اس نے مزید دراز دستی شروع کی۔ اس کی قمیص کے اندر ہاتھ ڈالا۔ وہ خاموش رہی۔ اس نے ہاتھ پاؤں چلانے بند کردیے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس نے مدافعت کو اب فضول سمجھا ہے۔\n\nسریندر کو اب یقین ہوگیا کہ میدان اسی کے ہاتھ رہے گا، چنانچہ اس نے دراز دستی چھوڑ دی اور اس سے کہا،’’چلو آؤ، پلنگ پر لیٹتے ہیں۔‘‘لڑکی اٹھی اور اس کے ساتھ چل دی۔ دونوں پلنگ پر لیٹ گئے۔ ساتھ ہی تپائی پر ایک طشتری میں چند مالٹے اور ایک تیز چھری پڑی تھی۔ لڑکی نے ایک مالٹا ا ٹھایا اور سریندر سے پوچھا،’’میں کھالوں؟‘‘\n\n’’ہاں ہاں۔۔۔ ایک نہیں سب کھالو!‘‘\n\nسریندر نے چھری اٹھائی اور مالٹا چھیلنے لگا، مگر لڑکی نے اس سے دونوں چیزیں لے لیں۔\n\n’’میں خود چھیلوں گی!‘‘\n\nاس نے بڑی نفاست سے مالٹا چھیلا۔ اس کے چھلکے اتارے۔ پھانکوں پر سے سفید سفید جھلی ہٹائی۔ پھر پھانکیں علیحدہ کیں۔ ایک پھانک سریندر کو دی، دوسری اپنے منہ میں ڈالی اور مزہ لیتے ہوئے پوچھا،’’تمہارے پاس پستول ہے؟‘‘\n\nسریندر نے جواب دیا، ’’ہاں۔۔۔ تمہیں کیا کرنا ہے؟‘‘\n\nلڑکی کے گہرے سانولے ہونٹوں پر پھر وہی عجیب و غریب مسکراہٹ نمودار ہوئی، ’’میں نے ایسے ہی پوچھا تھا۔۔۔ تم جانتے ہو نا کہ آج کل ہندو مسلم فساد ہورہے ہیں۔‘‘\n\nسریندر نے دوسرا مالٹا طشتری میں سے اٹھایا،’’آج سے ہورہے ہیں۔۔۔ بہت دنوں سے ہورہے ہیں۔۔۔ میں اپنے پستول سے چار مسلمان مار چکا ہوں۔۔۔ بڑے خونی قسم کے!‘‘\n\n’’سچ؟‘‘ یہ کہہ کر لڑکی اٹھ کھڑی ہوئی۔’’مجھے ذرا وہ پستول تو دکھانا!‘‘\n\nسریندر اٹھا۔ دوسرے کمرے میں جا کر اس نے اپنے میز کا دراز کھولا اور پستول لے کر باہر آیا،’’یہ لو۔۔۔ لیکن ٹھہرو!‘‘ اور اس نے پستول کا سیفٹی کیچ ٹھیک کردیا کیوں کہ اس میں گولیاں بھری تھیں۔لڑکی نے پستول پکڑا اور سریندر سے کہا، ’’میں بھی آج ایک مسلمان ماروں گی۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے سیفٹی کیچ کو ایک طرف کیا اور سریندر پر پستول داغ دیا۔۔۔وہ فرش پر گر پڑا اور جان کنی کی حالت میں کراہنے لگا، ’’یہ تم نے کیا کیا؟‘‘\n\nلڑکی کے گہرے سانولے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی، ’’وہ چار مسلمان جو تم نے مارے تھے، ان میں میرا باپ بھی تھا!‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%84%DA%91%DA%A9%DB%8C"} {"title": "وہ لے کے دل کو یہ سوچی کہیں جگر بھی ہے", "poet_page": "مصنف:شوق قدوائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ لے کے دل کو یہ سوچی کہیں جگر بھی ہے\nنظر ٹٹول رہی ہے کہ کچھ ادھر بھی ہے\n\nہنسو نہ کھول کے زلفیں بلا نصیبوں پر\nبلا نصیب جہاں میں تمہارا سر بھی ہے\n\nوہ بگڑے سن کے مگر سن تو لی ہماری آہ\nیہ بے اثر ہی نہیں بلکہ با اثر بھی ہے\n\nجنون کو وہ بناوٹ سمجھ رہا ہے ابھی\nیہ سن لیا ہے کسی سے کہ میرے گھر بھی ہے\n\nفراق میں یہ نیا تجربہ ہوا مجھ کو\nکہ ایک رات زمانے میں بے سحر بھی ہے\n\nیہ کہہ کے حشر سے بھاگا میں اپنا جی لے کر\nالٰہی خیر یہاں تو وہ فتنہ گر بھی ہے\n\nمجھے تو آپ میں اس وقت تم نہیں ملتے\nکہاں ہو شوقؔ کچھ اپنی تمہیں خبر بھی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D9%88%DA%86%DB%8C_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ مجھ سے بے خبر ہیں ان کی عادت ہی کچھ ایسی ہے", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ مجھ سے بے خبر ہیں ان کی عادت ہی کچھ ایسی ہے\nمیں ان کو یاد کرتا ہوں محبت ہی کچھ ایسی ہے\n\nمیں آؤں وعظ میں سو بار جب یہ دل بھی آنے دے\nکروں کیا واعظو رندوں کی صحبت ہی کچھ ایسی ہے\n\nمیں کس گنتی میں ہوں اور اک مرے دل کی حقیقت کیا\nہزاروں جان دیتے ہیں وہ صورت ہی کچھ ایسی ہے\n\nکوئی آئے یہ آتی ہے کوئی جائے یہ جاتا ہے\nمرا دل ہی کچھ ایسا ہے طبیعت ہی کچھ ایسی ہے\n\nہمارا کیا بگڑ جاتا حسنؔ تیری سفارش میں\nہماری ان کی اب صاحب سلامت ہی کچھ ایسی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ محبت وہ دل وہ خو ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ محبت وہ دل وہ خو ہی نہیں\nواقعہ ہے کہ تو وہ تو ہی نہیں\n\nکب وہ ایفائے عہد کرتے ہیں\nجب یہاں دل میں آرزو ہی نہیں\n\nالتفات ستم نما ہے یہ\nآج وہ طرز گفتگو ہی نہیں\n\nہائے کیا دن تھے وہ مسرت کے\nجب یہ کہتے تھے آرزو ہی نہیں\n\nذرہ ذرہ ہے پرتو لمعات\nچشم جلوہ شناس تو ہی نہیں\n\nکب وہ آئے ہیں پوچھنے احوال\nجب یہاں تاب گفتگو ہی نہیں\n\nآنکھ میں پھر کہاں سے آتا ہے\nجب کہیں جسم میں لہو ہی نہیں\n\nخواہش وصل خامکاری ہے\nدل سے نکلے وہ آرزو ہی نہیں\n\nغفلت جرأت آزما بے سود\nکہ یہاں پائے جستجو ہی نہیں\n\nسنگ در بھی رہا ہے صرف جبیں\nشاہد سجدہ خاک کو ہی نہیں\n\nسر نہ کٹ کر گرے تو سجدہ کیا\nخون سے جو نہ ہو وضو ہی نہیں\n\nان کا ملنا منیرؔ آساں ہے\nسچ تو یہ ہے کہ جستجو ہی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%88%DB%81_%D8%AE%D9%88_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا\nراز مکتوب بہ بے ربطی عنواں سمجھا\n\nیک الف بیش نہیں صیقل آئینہ ہنوز\nچاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا\n\nشرح اسباب گرفتاری خاطر مت پوچھ\nاس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا\n\nبد گمانی نے نہ چاہا اسے سرگرم خرام\nرخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا\n\nعجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہوگا\nنبض خس سے تپش شعلۂ سوزاں سمجھا\n\nسفر عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی\nہر قدم سائے کو میں اپنے شبستاں سمجھا\n\nتھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دم مرگ\nدفع پیکان قضا اس قدر آساں سمجھا\n\nدل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار اسدؔ\nغلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا\n\nہم نے وحشت کدۂ بزم جہاں میں جوں شمع\nشعلۂ عشق کو اپنا سر و ساماں سمجھا\n\nہم نے وحشت کدۂ بزم جہاں میں چوں شمع\nشعلۂ عشق کو اپنا سرو ساماں سمجھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%DA%86%DB%8C%D9%86_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D9%BE%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7"} {"title": "وہ مست ناز آتا ہے ذرا ہشیار ہو جانا", "poet_page": "مصنف:عزیز الحسن غوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ مست ناز آتا ہے ذرا ہشیار ہو جانا\nیہیں دیکھا گیا ہے بے پیے سرشار ہو جانا\n\nہمارا شغل ہے راتوں کو رونا یاد دلبر میں\nہماری نیند ہے محو خیال یار ہو جانا\n\nلگاوٹ سے تری کیا دل کھلے معلوم ہے ہم کو\nذرا سی بات میں کھنچ کر ترا تلوار ہو جانا\n\nعبث ہے جستجو بحر محبت کے کنارے کی\nبس اس میں ڈوب مرنا ہی ہے اے دل پار ہو جانا\n\nنہیں درکار مے ہم کو پیے جا تو ہی اے ساقی\nہمیں تو مست کرتا ہے ترا سرشار ہو جانا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "وہ مسیحا قبر پر آتا رہا", "poet_page": "مصنف:مردان علی خاں رانا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ مسیحا قبر پر آتا رہا\nمیں موے پر روز جی جاتا رہا\n\nزندگی کی ہم نے مر مر کے بصر\nوہ بت ترسا جو ترساتا رہا\n\nواہ بخت نارسا دیکھا تجھے\nنامہ بر سے خط کہیں جاتا رہا\n\nراہ تکتے تکتے آخر جاں گئی\nوہ تغافل کیش بس آتا رہا\n\nدل تو دینے کو دیا پر ہم نشیں\nہاتھ میں مل مل کے پچھتاتا رہا\n\nدیکھ اس کو ہو گیا میں بے خبر\nدل یکایک ہاتھ سے جاتا رہا\n\nکیا کہوں کس طرح فرقت میں جیا\nخون دل پیتا تو غم کھاتا رہا\n\nرات بھر اوس برق وش کی یاد میں\nسیل اشک آنکھوں سے برساتا رہا\n\nڈھونڈھتا پھرتا ہوں اس کو جا بہ جا\nدل خدا جانے کدھر جاتا رہا\n\nاس مسیحا کی امید وصل میں\nشام جیتا صبح مر جاتا رہا\n\nعشق کا رعناؔ مرض ہے لا دوا\nکب سنا تو نے کہ وہ جاتا رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B3%DB%8C%D8%AD%D8%A7_%D9%82%D8%A8%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "وہ مشق خوئے تغافل پھر ایک بار رہے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ مشق خوئے تغافل پھر ایک بار رہے\nبہت دنوں مرے ماتم میں سوگوار رہے\n\nخدا کی مار جو اب دل پہ اختیار رہے\nبہت قرار کے پردے میں بے قرار رہے\n\nکسی نے وعدۂ صبر آزما کیا تو ہے\nخدا کرے کہ مجھے تاب انتظار رہے\n\nفنا کے بعد یہ مجبوریاں ارے توبہ\nکوئی مزار میں کوئی سر مزار رہے\n\nسکون موت مری لاش کو نصیب نہیں\nرہے مگر کوئی اتنا نہ بے قرار رہے\n\nمیں کب سے موت کے اس آسرے پہ جیتا ہوں\nکہ زندگی مری مرنے کی یادگار رہے\n\nجو دل بچا نہ سکے جان کیا بچا لیں گے\nنہ اختیار رہا ہے نہ اختیار رہے\n\nمیں غم نصیب وہ مجبور شوق ہوں فانیؔ\nجو نامراد جیے اور امیدوار رہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B4%D9%82_%D8%AE%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ مقام دل و جاں کیا ہوگا", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ مقام دل و جاں کیا ہوگا\nتو جہاں آخری پردا ہوگا\n\nمنزلیں راستہ بن جاتی ہیں\nڈھونڈنے والوں نے دیکھا ہوگا\n\nسائے میں بیٹھے ہوئے سوچتے ہیں\nکون اس دھوپ میں چلتا ہوگا\n\nتیری ہر بات پہ چپ رہتے ہیں\nہم سا پتھر بھی کوئی کیا ہوگا\n\nابھی دل پر ہیں جہاں کی نظریں\nآئنہ اور بھی دھندلا ہوگا\n\nراز سر بستہ ہے محفل تیری\nجو سمجھ لے گا وہ تنہا ہوگا\n\nاس طرح قطع تعلق نہ کرو\nاس طرح اور بھی چرچا ہوگا\n\nبعد مدت کے چلے دیوانے\nکیا ترے شہر کا نقشہ ہوگا\n\nسب کا منہ تکتے ہیں یوں ہم جیسے\nکوئی تو بات سمجھتا ہوگا\n\nپھول یہ سوچ کے کھل اٹھتے ہیں\nکوئی تو دیدۂ بینا ہوگا\n\nخود سے ہم دور نکل آئے ہیں\nتیرے ملنے سے بھی اب کیا ہوگا\n\nہم ترا راستہ تکتے ہوں گے\nاور تو سامنے بیٹھا ہوگا\n\nخود کو یاد آنے لگے ہم باقیؔ\nپھر کسی بات پہ جھگڑا ہوگا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "وہ مقتل میں اگر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:انوری جہاں بیگم حجاب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ مقتل میں اگر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیں\nتو ہم بھی جان دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں\n\nدر پیر مغاں پر اس طرح مے خوار بیٹھے ہیں\nکہ کچھ مخمور بیٹھے ہیں تو کچھ سرشار بیٹھے ہیں\n\nاگر وہ گالیاں دینے پر آمادہ ہیں خلوت میں\nتو ہم بھی عرض مطلب کے لیے تیار بیٹھے ہیں\n\nگلا میں کاٹ لوں خود اک اشارہ ہو جو ابرو کا\nوہ کیوں میرے لیے کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیں\n\nسہارا جب دیا ہے کچھ امید وصل نے آ کر\nتو اٹھ کر بستر غم سے ترے بیمار بیٹھے ہیں\n\nحجاب ان سے وہ میرا پوچھنا سر رکھ کے قدموں پر\nسبب کیا ہے جو یوں مجھ سے خفا سرکار بیٹھے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%82%D8%AA%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہ", "poet_page": "مصنف:محمد دین تاثیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہ\nنہ طریق آشنائی نہ رسوم جام و بادہ\n\nتری نیم کش نگاہیں ترا زیر لب تبسم\nیونہی اک ادائے مستی یونہی اک فریب سادہ\n\nوہ کچھ اس طرح سے آئے مجھے اس طرح سے دیکھا\nمری آرزو سے کم تر مری تاب سے زیادہ\n\nیہ دلیل خوش دلی ہے مرے واسطے نہیں ہے\nوہ دہن کہ ہے شگفتہ وہ جبیں کہ ہے کشادہ\n\nوہ قدم قدم پہ لغزش وہ نگاہ مست ساقی\nیہ تراش زلف سرکش یہ کلاہ کج نہادہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%84%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%AA%DA%A9%D9%84%D9%81_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AF%DB%81"} {"title": "وہ من گئے تو وصل کا ہوگا مزا نصیب", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ من گئے تو وصل کا ہوگا مزا نصیب\nدل کی گرہ کے ساتھ کھلے گا مرا نصیب\n\nکھائیں گے رحم آپ اگر دل بگڑ گیا\nہو جائے گا ملاپ اگر لڑ گیا نصیب\n\nشب بھر جمال یار ہو آنکھوں کے روبرو\nجاگیں نصیب جس کو ہو یہ رتجگا نصیب\n\nپہرا دیا ہے دولت بیدار حسن کا\nسوئے جو وہ بغل میں تو جاگا مرا نصیب\n\nپہنچا کے میری خاک در یار تک صبا\nرخصت ہوئی یہ کہہ کر اب آگے ترا نصیب\n\nاے دل وہ تجھ سے کہتے ہیں میری بلا ملے\nایسے ترے نصیب کہاں اے بلا نصیب\n\nجب درد دل بڑھا تو انہیں رحم آ گیا\nپیدا ہوئی چمک تو چمکنے لگا نصیب\n\nدشمن کو لطف وصل حسنؔ کو غم فراق\nہر شخص کا جدا ہے مقدر جدا نصیب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%86_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7_%D9%85%D8%B2%D8%A7_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8"} {"title": "وہ مِس بولی اِرادہ خودکشی کا جب کِیا میں نے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "وہ مِس بولی اِرادہ خودکشی کا جب کِیا میں نے\nمہذّب ہے تو اے عاشق! قدم باہر نہ دھر حد سے\n\nنہ جُرأت ہے، نہ خنجر ہے تو قصدِ خودکُشی کیسا\nیہ مانا دردِ ناکامی گیا تیرا گزر حد سے\n\nکہا میں نے کہ اے جانِ جہاں کچھ نقد دِلوا دو\nکرائے پر منگالوں گا کوئی افغان سرحد سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%90%D8%B3_%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%8C_%D8%A7%D9%90%D8%B1%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DA%A9%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%D9%90%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92"} {"title": "وہ مژہ مارتی کٹاری ہے", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "وہ مژہ مارتی کٹاری ہے\nچشم بددور زخم کاری ہے\n\nآنکھیں چمکا گیا وہ برق آسا\nدل مرا وقف بے قراری ہے\n\nقیس باد صبا ہے بو لیلیٰ\nشاخ گل نافہ کی سواری ہے\n\nزلف تک گو نہ پہونچا شانہ وار\nہاتھ کو پر امیدواری ہے\n\nدل پہ چڑھتی نہیں کوئی تدبیر\nمیری تقدیر وہ اتاری ہے\n\nدوستوں سے ہے ان کی عیاری\nاور اعدا سے دوست داری ہے\n\nدم سمجھتا ہے اے وقارؔ وہ شوخ\nمیری دو دن سے دم شماری ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%DA%98%DB%81_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D9%B9%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ میرا انتظار کر رہی ہے", "poet_page": "مصنف:قاضی عبدالغفار", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "زندگی کے پرشور دریا میں، رات کے وقت، کتنے دیے بہے چلے جاتے ہیں۔ حیات انسانی کے کوہساروں میں کتنے جگنو چمکتے ہیں۔ اور پھر ان کو ظلمت شب اپنی چادر میں لپیٹ کر نہ جانے کہاں لے جاتی ہیں؟ آسمان پر کتنی بجلیاں چمکتی ہیں اور پھر کالے بادلوں میں منھ چھپا لیتی ہیں۔ بادل کی گود سےہزار مرتبہ نکلتی ہیں اور پھر اسی میں جاکر چھپ جاتی ہیں۔\n\nیہ آٹھ پہر کی داستان ہے۔ گوش ہوش سنتا ہے۔ اور چشم عبرت دیکھتی ہے۔\n\nظاہر کی تشریح بیکار اور عیاں کا بیان فضول، پھر کیجیے کیا کہ دل کے زخموں کالطف کریدنے سے دونا ہوتا ہے۔ مسکین فاختہ اپنے زخم کو اپنے پردوں سےچھپا لیتی ہے۔ مگر انسان زخم کو کریدتا رہتا ہے کہ کہیں خلش کم نہ ہوجائے۔ خون نہ رک جائے۔\n\nاس کے زخم کی جان بہتا ہوا گرم خون اور دکھتا ہوا جسم ہے۔ گرم خون اگر نہ بہے تو تالاب کے پانی کی طرح میلا اور ناپاک ہوتا ہے۔ جسم اگر دکھے نہیں تو وہ کچھ بھی نہیں۔ خاک ہے۔ مضر حرکت کا نامہے۔ اور حضرت موت ہے۔ زندگی زخم ہے اورموت اس کا اندمال!\n\nپس میری آنکھوں سے دیکھو کہ میرا سفر خارِ مغیلاں کے بغیر بے لطف رہتا اور میری منزل درد کی تڑپ اور زخموں کے بغیر سونی اور ویران۔\n\nچمن کی کیاریوں میں جب نسیم شمالی آتی ہے تو اس کے جھونکےبند کلیوں کو کھلا دیتے ہیں۔ مگر جو پھول کھل جاتے ہیں ان کی پتیوں کو ہر طرف بکھیر دیتے ہیں۔\n\nمیرے مرجھائے ہوئے پھولوں کی کیاریوں میں جب کبھی کوئی جھونکا آتا ہے تو وہ دوچار پتیاں اڑاکر لے جاتا ہے۔ پتیاں خشک ہوجاتی ہیں۔ مگر بے رنگ نہیں ہوتیں۔ ان کا اجڑا ہوا رنگ بھی دورِ بہار کی ایک داستان بیان کرتا ہے۔\n\nہاں! ان خشک پتیوں کی داستان خشک نہیں ہے۔ آبشار کی ملکہ سے پوچھو وہ میری داستان کی تصویق کرے گی۔ میری داستان اسی کی داستان ہے۔ کیا وہ بھول گئی ہوگی؟\n\nایک شعاع نور تھی کہ فضائے بسیط میں چمکی۔ اور اپنے ہی نور میں محو ہوگئی۔ زندگی کا ایک ہلکا نغمہ تھا کہ ہوا کا ایک جھونکا اس کو کہیں سے لایا اور لے گیا۔\n\nایک ننھی کلی تھی کہ پھول بنی اور بن کر مرجھاگئی۔ یا ستارہ امید تھا کہ چند لمحوں کے لیے اپنی خنک روشنی سے دنیا کو منور کرکے رخصت ہوگیا۔۔۔ تھا کیا؟ مجھ سے نہ پوچھو، میں جانتا ہوں، مگر بتاؤں گا نہیں! ہاں نہیں بتاؤں گا! اور کیونکر بتاؤں کہ بتا سکتا نہیں، اگرکوئی شخص آنکھ کے نور اور روح کی گہرائی کو چھوسکتا ہو تو صرف وہی اس شعاع نور، اس نغمہ حیات، اس شمارہ امید کی حقیقت سے بھی آشنا ہونے کا دعوی کرے۔\n\nمیں نے ایک خواب دیکھا تھا۔ اور زندگی میں میرا وہ شاید پہلا اورآخری خواب تھا۔ میں نے دیکا کہ آسمان پرستارے رقص کر رہے ہیں۔ ماہتاب کی شعاعیں کانپ رہی ہیں۔ چادر ماہتاب کبھی ایسی خنک اور جاں بخش نہ تھی جیسی کہ اس شب کو ماہتاب کی ایک کرن پر جو آسمان سےزمین کی طرف پھیلی ہوئی تھی، اس طرح جیسے دوتارہ کے تار پر موسیقی، میں نے اس کو کھلتے ہوئے پایا۔ زمین سے آسمان تک ایک عالم لاہوتی تھا۔ اور اس فضا میں زندگی کاایک چشمہ ابل رہا تھا۔ اس چشمہ کے آبشار ہنستے ہوئے پھولوں اور مسکراتی ہوئی کلیوں کے انبوہ میں اس طرح گر رہے تھے کہ گویا بے تابانہ لوٹ رہے ہیں۔ نور کی ان موجوں میں بہت سی سرخ اور سبز مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ کھیل رہی تھیں۔ رقص کر رہی تھیں۔ مگر ایک زمردیں مچھلی ان سب کے درمیان تھی۔ جو نہ کھیلتی تھی نہ رقص کرتی تھی۔ اس کے سرپر ایک درِشاہوار تھا۔ کہ اس کا مثل میں نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ آبشار کی روانی کےساتھ یہ ماہی زمردیں ایک عالم استغراق میں کچھ کھوئی ہوئی، بھولی ہوئی، پھولوں اور کلیوں میں الجھ الجھ کر پیچھے ہٹتی اور پھر آگے بڑھتی تھی۔ آگے نکل کر پھر پیچھے ہٹتی تھی۔ پھر آگے جاتی تھی۔ ہر شاخ گل سے الجھتی تھی۔ ہر پھول کو مس کرتی تھی۔ اور گویا مایوس ہوکر کبھی آگے بڑھ جاتی تھی۔ کبھی پیچھے ہٹ آتی تھی۔ وہ اس عالمرنگ وبو میں سب سے علیحدہ اور سب کے ساتھ تھی۔\n\nمیری نظروں میں طاقت نہ تھی کہ اس کا راستہ روکیں۔ میں نے ہاتھ بڑھایا! انسان کا خود غرض ہاتھ!! جو پھولوں اور کلیوں کو صرف اس لیے مسلتا ہے کہ ان کا مسلنا ان کی حیوانیت کے لیے تسکین بخش ہے۔ رنگ و بو کو رنگ و بو کی خاطر وہ پسند نہیں کرتا۔ اس کو تو محض اپنے نفس کی ’طلب‘ کے آگے برھاکر پھولوں کے توڑنے اورسبزہ کے مسلنے پر آمادہ کرتی ہے۔\n\nمیرا خودغرض ہاتھ پانچ انگلیوں کاجال لے کر بڑھا:\n\nپھولوں کے جھمگٹے میں ابھی اس ماہئی زمردیں نے شاید دوچار ہی چکر لگائے تھے کہ میرا ہاتھ اس کی کمر تک پہنچا۔ اور وہ شاید نہ پہنچ سکتا۔ اگرمیں خود تابہ کمر پانی میں نہ پہنچ گیا ہوتا۔\n\nپھول میرے جسم کو مس کر رہے تھے، کلیاں مجھے گدگدا رہی تھیں۔ پر میں دیوانہ وار اس سبز پوش پردست ہوس دراز کر رہا تھا۔ یہ تو میں نہ کہوں گاکہ تصور تنہا میرا ہی تھا۔ اس لیے کہ اگر میں نے ہاتھ بڑھایا تھا تو کچھ کشش اس کی طرف سے بھی تھی۔ اس کے زمردیں لباس اور اس کے حسن تمام نے یہی میرے دست طلب کے ساتھ سازش کی تھی! اورشاید آبشار کے ان شریر پھولوں نے بھی مجھے اشتعال دلایا تھا۔ بہرحال میرا گناہ آلودہ ہاتھ، جو خدا جانے کتنے پھول مسل چکا تھا۔ پانی کی اس ملکہ تک پہنچا اور میں نے سمجھا کہ پانی کی اب تمام شہنشاہی میرے ہی لیے ہے۔۔۔ لیکن شاید دست طلب کی صرف ایک انگلی سے میں نے اس جسد زمردیں کو چھوا ہوگا کہ ایک بجلی میری آنکھوں کے سامنے چمکی اور جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ آبشار زندگی کی وہ کجکلاہ ایک شعاعِ نوربن کر سطح آپ سے نکلی۔ بہ یک آن واحد چمک کر اٹھی اور میری آنکھوں کے سامنے سے گزر کر ماہتاب کے ہالہ میں جابیٹھی۔۔۔ آج تک میں اس کو اپنے تخت آسمانی پر متمکن دیکھتا ہوں اور پچھتاتا ہوں کہ میں نے اس کو چھوا کیوں تھا!\n\nصبح کو جب کہ ہنوز دامنِ مشرق چاک نہیں ہوا تھا۔ میں اس آسمان کی ملکہ کو خاموش آسمانوں پر صبح کاذب کی روشنی میں جھلملاتے دیکھتا ہوں۔ شب کو بھی میری نظر اسی ستارۂ امید پر جمی ہوتی ہے۔ جس کی خنک شعاعیں اپنا پیام لے کر رات بھر میرے پاس آتی رہتی ہیں۔ اور میرے پیام لے کر آبشار کی اسی زردیں ملکہ تک واپس جاتی ہیں جو اپنے آسمانی مسکن میں نور کا لباس پہنے بیٹھی ہے۔\n\nمیں جانتا ہوں کہ وہ میرا انتظار کر رہی ہے! پس جس دن میرا یہ جسدِ خاکی سپرد خاک ہوگا۔ اس دن تم اس ستارے کے چاروں طرف ایک ہالہ دیکھو گے۔۔۔ وہ ہالہ میری روح ہوگی!\n\n۱۹۱۸ء", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ میرا رونقِ محفل کہاں ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "وہ میرا رونقِ محفل کہاں ہے\nمری بجلی، مرا حاصل کہاں ہے\nمقام اس کا ہے دل کی خلوَتوں میں\nخدا جانے مقامِ دل کہاں ہے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D9%86%D9%82%D9%90_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہوا\nکہ اس کا غم ہی مری زیست کا بہا نہ ہوا\n\nنظر نے جھک کے کہا مجھ سے کیا دم رخصت\nمیں سوچتا ہوں کہ کس دل سے وہ روانہ ہوا\n\nنم صبا مئے مہتاب عطر زلف شمیم\nوہ کیا گیا کہ کوئی کارواں روانہ ہوا\n\nوہ یاد یاد میں جھلکا ہے آئنے کی طرح\nاس آئنہ میں کبھی اپنا سامنا نہ ہوا\n\nوہ چند ساعتیں جو اس کے ساتھ گزری ہیں\nانہی کا دور رہا اور جاودانہ ہوا\n\nمیں اس کے ہجر کی تاریکیوں میں ڈوبا تھا\nوہ آیا گھر میں مرے اور چراغ خانہ ہوا\n\nوہ لوٹ آیا ہے یا میری خود فریبی ہے\nنگاہ کہتی ہے دیکھے اسے زمانہ ہوا\n\nمیں اپنے درد کی نسبت کو دل سمجھتا ہوں\nقفس جو ٹوٹ گیا میرا آشیانہ ہوا\n\nاسی کی یاد ہے سرمایۂ حیات ظفرؔ\nنہیں تو میرا ہے کیا میں ہوا ہوا نہ ہوا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "وہ مے پرست ہوں بدلی نہ جب نظر آئی", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ مے پرست ہوں بدلی نہ جب نظر آئی\nسمٹ گئیں جو سیہ کاریاں گھٹا چھائی\n\nسفید بال ہوئے شب ہوئی جوانی کی\nدمیدہ صبح ہوئی چونک سر پہ دھوپ آئی\n\nحرم میں خاک ہوا ہوں وہ عاشق برباد\nمیان دیر ہواے بتاں اڑا لائی\n\nمیں وہ ہوں بلبل باغ جہاں کوئی گل ہو\nدیا دل اس کو محبت کی جس میں بو پائی\n\nچمن میں جا کے جو پوچھا بہار گل کا ثبات\nکھلی نہ تھی جو کلی مسکرا کے مرجھائی\n\nحصار حسن کے ہالے میں منہ نظر آیا\nملا کے ہاتھ جو لی اس حسیں نے انگڑائی\n\nمیں وہ کسان ہوں کھیتی پہ برق نے جس کی\nدعا جو مینہ کے لیے کی تو آگ برسائی\n\nرہے مدام یوں ہی عشق میں تہ و بالا\nجو غم سے بیٹھ گیا دل تو اٹھنے آنکھ آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "وہ نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا\nخوبی میں گل رخاں سوں ممتاز ہے سراپا\n\nاے شوخ تجھ نین میں دیکھا نگاہ کر کر\nعاشق کے مارنے کا انداز ہے سراپا\n\nجگ کے ادا شناساں ہے جن کی فکر عالی\nتجھ قد کوں دیکھ بولے یو ناز ہے سراپا\n\nکیوں ہو سکیں جگت کے دل بر ترے برابر\nتو حسن ہور ادا میں اعجاز ہے سراپا\n\nگاہے اے عیسوی دم یک بات لطف سوں کر\nجاں بخش مجھ کو تیرا آواز ہے سراپا\n\nمجھ پر ولیؔ ہمیشہ دل دار مہرباں ہے\nہر چند حسب ظاہر طناز ہے سراپا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%B2%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%BE%D8%A7"} {"title": "وہ نازنیں یہ نزاکت میں کچھ یگانہ ہوا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ نازنیں یہ نزاکت میں کچھ یگانہ ہوا\nجو پہنی پھولوں کی بدھی تو درد شانہ ہوا\n\nشہید ناز و ادا کا ترے زمانہ ہوا\nاڑایا مہندی نے دل چور کا بہانہ ہوا\n\nشب اس کے افعئ گیسو کا جو فسانہ ہوا\nہوا کچھ ایسی بندھی گل چراغ خانہ ہوا\n\nنہ زلف یار کا خاکہ بھی کر سکا مانی\nہر ایک بال میں کیا کیا نہ شاخسانہ ہوا\n\nتونگروں کو مبارک ہو شمع کافوری\nقدم سے یار کے روشن غریب خانہ ہوا\n\nگناہ گار ہیں محراب تیغ کے ساجد\nجھکایا سر تو ادا فرض پنجگانہ ہوا\n\nغرور عشق زیادہ غرور حسن سے ہے\nادھر تو آنکھ بھری دم ادھر روانہ ہوا\n\nدکھا دے زاہد مغرور کو بھی اے صنم آنکھ\nجمال حور کا حد سے سوا فسانہ ہوا\n\nبھرا ہے شیشۂ دل کو نئی محبت سے\nخدا کا گھر تھا جہاں واں شراب خانہ ہوا\n\nہوائے تند نہ چھوڑے مرے غبار کا ساتھ\nیہ گرد راہ کہاں خاک آستانہ ہوا\n\nخدا کے واسطے کر یار چین ابرو دور\nبڑا ہی عیب لگا جس کماں میں خانہ ہوا\n\nہوا جو دن تو ہوا اس کو پاس رسوائی\nجو رات آئی تو پھر نیند کا بہانہ ہوا\n\nنہ پوچھ حال مرا چوب خشک صحرا ہوں\nلگا کے آگ مجھے کارواں روانہ ہوا\n\nنگاہ ناز بتاں سے نہ چشم رحم بھی رکھ\nکسی کا یار نہیں فتنۂ زمانہ ہوا\n\nاثر کیا تپش دل نے آخر اس کو بھی\nرقیب سے بھی مرا ذکر غائبانہ ہوا\n\nہوائے تند سے پتا اگر کوئی کھڑکا\nسمند باد بہاری کا تازیانہ ہوا\n\nزبان یار خموشی نے میری کھلوائی\nمیں قفل بن کے کلید در خزانہ ہوا\n\nکیا جو یار نے کچھ شغل برق اندازی\nچراغ زندگیٔ خضر تک نشانہ ہوا\n\nرہا ہے چاہ ذقن میں مرا دل وحشی\nکنوئیں میں جنگلی کبوتر کا آشیانہ ہوا\n\nخدا دراز کرے عمر چرخ نیلی کو\nیہ بے کسوں کے مزاروں کا شامیانہ ہوا\n\nنہیں ہے مثل صدف مجھ سا دوسرا کمبخت\nنصیب غیر مرے منہ کا آب و دانہ ہوا\n\nحنائی ہاتھوں سے چوٹی کو کھولتا ہے یار\nکہاں سے پنجۂ مرجاں حریف شانہ ہوا\n\nدکھائی چشم غزالاں نے حلقۂ زنجیر\nہمیں تو گوشۂ صحرا بھی قید خانہ ہوا\n\nہمیشہ شام سے ہمسائے مر رہے آتشؔ\nہمارا نالۂ دل گوش کو فسانہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%B2%D9%86%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D9%86%D8%B2%D8%A7%DA%A9%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا\nمرادیں غریبوں کی بر لانے والا\n\nمصیبت میں غیروں کے کام آنے والا\nوہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا\n\nفقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ\nیتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ\n\nخطا کار سے درگزر کرنے والا\nبد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا\n\nمفاسد کا زیر و زبر کرنے والا\nقبائل کو شیر و شکر کرنے والا\n\nاتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا\nاور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا\n\nمس خام کو جس نے کندن بنایا\nکھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا\n\nعرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا\nپلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا\n\nرہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا\nاِدھر سے اُدھر پھر گیا رخ ہوا کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%A8%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%AA_%D9%84%D9%82%D8%A8_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہی", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہی\nمجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہی\n\nزندگی داغ محبت ہی سہی\nآپ سے دور کی نسبت ہی سہی\n\nتم نہ چاہو تو نہیں کٹ سکتی\nایک لمحے کی مسافت ہی سہی\n\nدل محبت کی ادا چاہتا ہے\nایک آنسو دم رخصت ہی سہی\n\nآب حیواں بھی نہیں مجھ پہ حرام\nزہر کی مجھ کو ضرورت ہی سہی\n\nاپنی تقدیر میں سناٹا ہے\nایک ہنگامے کی حسرت ہی سہی\n\nاس قدر شور طرب کیا معنی\nجاگنے کی مجھے عادت ہی سہی\n\nبزم رنداں سے تعلق کیسا\nآپ کی میز پہ شربت ہی سہی\n\nحد منزل ہے مقرر باقیؔ\nرہرو شوق کو عجلت ہی سہی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے\nکلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہو جائے\n\nنظر وہ ہے جو اس کون و مکاں سے پار ہو جائے\nمگر جب روئے تاباں پر پڑے بے کار ہو جائے\n\nتبسم کی ادا سے زندگی بیدار ہو جائے\nنظر سے چھیڑ دے رگ رگ مری ہشیار ہو جائے\n\nتجلی چہرۂ زیبا کی ہو کچھ جام رنگیں کی\nزمیں سے آسماں تک عالم انوار ہو جائے\n\nتم اس کافر کا ذوق بندگی اب پوچھتے کیا ہو\nجسے طاق حرم بھی ابروئے خم دار ہو جائے\n\nسحر لائے گی کیا پیغام بیداری شبستاں میں\nنقاب رخ الٹ دو خود سحر بیدار ہو جائے\n\nیہ اقرار خودی ہے دعوئ ایمان و دیں کیسا\nترا اقرار جب ہے خود سے بھی انکار ہو جائے\n\nنظر اس حسن پر ٹھہرے تو آخر کس طرح ٹھہرے\nکبھی خود پھول بن جائے کبھی رخسار ہو جائے\n\nکچھ ایسا دیکھ کر چپ ہوں بہار عالم امکاں\nکوئی اک جام پی کر جس طرح سرشار ہو جائے\n\nچلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے\nاگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%BA%D9%85%DB%81_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%88%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "وہ نقاب آپ سے اٹھ جائے تو کچھ دور نہیں", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ نقاب آپ سے اٹھ جائے تو کچھ دور نہیں\nورنہ میری نگہ شوق بھی مجبور نہیں\n\nخاطر اہل نظر حسن کو منظور نہیں\nاس میں کچھ تیری خطا دیدۂ مہجور نہیں\n\nلاکھ چھپتے ہو مگر چھپ کے بھی مستور نہیں\nتم عجب چیز ہو نزدیک نہیں دور نہیں\n\nجرأت عرض پہ وہ کچھ نہیں کہتے لیکن\nہر ادا سے یہ ٹپکتا ہے کہ منظور نہیں\n\nدل دھڑک اٹھتا ہے خود اپنی ہی ہر آہٹ پر\nاب قدم منزل جاناں سے بہت دور نہیں\n\nہائے وہ وقت کہ جب بے پیے مدہوشی تھی\nہائے یہ وقت کہ اب پی کے بھی مخمور نہیں\n\nحسن ہی حسن ہے جس سمت اٹھاتا ہوں نظر\nاب یہاں طور نہیں برق سر طور نہیں\n\nدیکھ سکتا ہوں جو آنکھوں سے وہ کافی ہے مجازؔ\nاہل عرفاں کی نوازش مجھے منظور نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D9%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگ جاں ہو گئیں", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگ جاں ہو گئیں\nدل میں نشتر بن کے ڈوبیں اور پنہاں ہو گئیں\n\nتھیں جو کل تک جلوہ افروزی سے شمع انجمن\nآج وہ شکلیں چراغ زیر داماں ہو گئیں\n\nاک نظر گھبرا کے کی اپنی طرف اس شوخ نے\nہستیاں جب مٹ کے اجزائے پریشاں ہو گئیں\n\nدم رکا تھا جس کی الجھن سے مرے سینے میں آہ\nپھر وہی زلفیں مرے غم میں پریشاں ہو گئیں\n\nپھونک دی اک روح دیکھا زور اعجاز جنوں\nجتنی سانسیں میں نے لیں تار گریباں ہو گئیں\n\nعشق کے قصے کو ہم سادہ سمجھتے تھے مگر\nجب ورق الٹے تو آنکھیں سخت حیراں ہو گئیں\n\nچند تصویریں مری جو مختلف وقتوں کی تھیں\nبعد میرے زینت دیوار زنداں ہو گئیں\n\nاڑ کے دل کی خاک کے ذرے گئے جس جس طرف\nرفتہ رفتہ وہ زمینیں سب بیاباں ہو گئیں\n\nآئنے میں عکس ہے اور عکس میں جذب خلش\nدل میں جو پھانسیں چبھیں تصویر مژگاں ہو گئیں\n\nاس کی شام غم پہ صدقے ہو مری صبح حیات\nجس کے ماتم میں تری زلفیں پریشاں ہو گئیں\n\nشام وعدہ آئیے تو آپ اس کی فکر کیا\nپھر بنا دوں گا اگر زلفیں پریشاں ہو گئیں\n\nکس دل آوارہ کی میت گھر سے نکلی ہے عزیزؔ\nشہر کی آباد راہیں آج ویراں ہو گئیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DA%AF_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ نہ آیا کبھی ادھر افسوس", "poet_page": "مصنف:سید ہمایوں میرزا حقیر", "kind": "poetry", "section": "غزل > چمنستان فصاحت (1940)", "year": "1940", "text_ur": "وہ نہ آیا کبھی ادھر افسوس\nغیر کا ہو گیا مگر افسوس\n\nان کو ہوتی نہیں خبر افسوس\nآہ کرتی نہیں اثر افسوس\n\nجب سے وہ مے نہیں ہے پہلو میں\nغم کدہ ہو گیا ہے گھر افسوس\n\nاپنے کوٹھے پہ وہ نہیں آئے\nآج نکلا نہیں قمر افسوس\n\nیوں ہی روتا حقیرؔ وہ جاتے\nمجھ پہ آتا انہیں اگر افسوس", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3"} {"title": "وہ نہیں ہم جو ڈر ہی جاویں گے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ نہیں ہم جو ڈر ہی جاویں گے\nدل میں جو ہے سو کر ہی جاویں گے\n\nتجھ سے جس دم جدا ہوئے مری جان\nپھر یہ سنیو کہ مر ہی جاویں گے\n\nدید پھر پھر جہان کی کر لیں\nآخرش تو گزر ہی جاویں گے\n\nجی تو لگتا نہیں جہاں دل ہے\nہم بھی اب تو ادھر ہی جاویں گے\n\nبے خبر جس طرح سے آئے ہیں\nاس طرح بے خبر ہی جاویں گے\n\nتجھ کو غیروں سے کام ہے تو رہ\nہم بھی اب اپنے گھر ہی جاویں گے\n\nدل کو لکھ پڑھ کے دیجیو تو حسنؔ\nورنہ دلبر مکر ہی جاویں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%AC%D9%88_%DA%88%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "وہ نہیں ہوں میں کہ جس پر کوئی اشک بار ہوتا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ نہیں ہوں میں کہ جس پر کوئی اشک بار ہوتا\nکبھی شمع بھی نہ روتی جو مرا مزار ہوتا\n\nشب غم میں زندگی کا کسے اعتبار ہوتا\nمری جان جا چکی تھی جو نہ انتظار ہوتا\n\nمری داستان غم کو وہ غلط سمجھ رہے ہیں\nکچھ انہیں کی بات بنتی اگر اعتبار ہوتا\n\nیہی سوز عشق جس کو میں ہمیشہ راز سمجھا\nجو حجاب دل نہ جلتا تو نہ آشکار ہوتا\n\nمیں شکایت زمانہ جو کروں تو کیا سمجھ کر\nنہ یہ دور چرخ ہوتا نہ یہ روزگار ہوتا\n\nدل پارہ پارہ تجھ کو کوئی یوں تو دفن کرتا\nوہ جدھر نگاہ کرتے ادھر اک مزار ہوتا\n\nمئے عشق جوش زن ہے یہ لہو نہیں رگوں میں\nمرا نشہ کیوں اترتا مجھے کیوں خمار ہوتا\n\nمرے دل نے بڑھ کے روکا ترے تیر جاں فشاں کو\nجو یہ بیچ میں نہ پڑتا تو جگر کے پار ہوتا\n\nوہ لحد پہ ان کا آنا وہ قدم قدم پہ محشر\nمری نیند کیوں اچٹتی اگر ایک بار ہوتا\n\nشب ہجر بعد میرے اگر اس جہاں میں رہتی\nتو یہی سیاہ دفتر مرا یادگار ہوتا\n\nجو ہمارے دیکھنے کو کبھی آپ آ نکلتے\nوہی آنکھ در پہ ہوتی وہی انتظار ہوتا\n\nوہ شباب کے فسانے جو میں سن رہا ہوں دل سے\nاگر اور کوئی کہتا تو نہ اعتبار ہوتا\n\nیہ زمانہ بڑھ رہا ہے فقط اضطراب دل سے\nشب غم نہ یوں ٹھہرتی جو مجھے قرار ہوتا\n\nوہ جہاں میں آگ لگتی کہ بجھائے سے نہ بجھتی\nمرے دود دل میں ثاقبؔ جو کوئی شرار ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D8%B3_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "وہ نیرنگ الفت کو کیا جانتا ہے", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ نیرنگ الفت کو کیا جانتا ہے\nکہ اپنے سے مجھ کو جدا جانتا ہے\n\nکچھ ایسی تو دشمن میں خوبی نہیں ہے\nمگر تو خدا جانے کیا جانتا ہے\n\nیہ منہ سے تو کہتا ہوں چھوڑی محبت\nمگر حال دل کا خدا جانتا ہے\n\nتمہاری شرارت کو کیا جانے کوئی\nیہ میں جانوں یا دل مرا جانتا ہے\n\nظہیرؔ اپنے عیبوں کو میں جانتا ہوں\nزمانہ مجھے پارسا جانتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%8C%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ واقعات کسے یاد اک زمانہ ہوا", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ واقعات کسے یاد اک زمانہ ہوا\nکسی نے کیا نہ کیا اور ہم پہ کیا نہ ہوا\n\nمرا برا تو مرے حسب مدعا نہ ہوا\nبھلا ہوا بھی تو کوئی مرا برا نہ ہوا\n\nدکھاتے ہم دل پر داغ کی بہار اسے\nیہ منظر اور ذرا سا بھی خوش نما نہ ہوا\n\nکسی کا درد محبت اگر تھا کم مایہ\nتو ٹھہر ٹھہر کے پھر کیوں ذرا ذرا نہ ہوا\n\nترا ارادہ مبارک تجھے مگر اے دل\nیہ نقش پا اگر اس کا ہی نقش پا نہ ہوا\n\nستم کرے بھی تو سمجھوں کہ یہ ستم ہی نہیں\nخفا ہوا بھی تو جانوں کہ تو خفا نہ ہوا\n\nکیا جب آنے کا اقرار آپ بھول گئے\nیہ ایک وعدہ تو شاید کبھی وفا نہ ہوا\n\nزمانہ آپ کو عاشق نواز کہتا ہے\nیہ سچ بھی ہو تو کبھی ہم کو کچھ عطا نہ ہوا\n\nوہ کیا کہیں گے جو اقبال ہی نہ ہو مجھ کو\nوہ کیا کریں گے جو میں قابل خطا نہ ہوا\n\nاگرچہ شیخ میں لاکھوں کرامتیں آئیں\nمگر یہ بندے کا بندہ رہا خدا نہ ہوا\n\nرضائے دوست کے ہوتے ہیں اور کیا معنی\nکہ مجھ سے ان کا کبھی آج تک گلا نہ ہوا\n\nوہ خود ملے تو بتا کیا جواب دوں اے دل\nیہ عذر لنگ ہے کوئی بھی رہنما نہ ہوا\n\nصفیؔ نصیب برے ہوں تو کیا کرے کوئی\nنہیں تو قیس بھی کچھ آدمی برا نہ ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%88%D8%A7%D9%82%D8%B9%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A7%DA%A9_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "وہ وقت شباب وہ زمانہ نہ رہا", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "وہ وقت شباب وہ زمانہ نہ رہا\nوہ نشہ مستی وہ ترانہ نہ رہا\nآتا ہے کہانی کا مزہ باتوں میں\nاب اپنے سوا کوئی فسانہ نہ رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیں\nہم یہاں عیش کا سامان کئے بیٹھے ہیں\n\nزہر کھا لیں گے شب وعدہ نہ آؤ گے اگر\nاپنی مشکل کو ہم آسان کئے بیٹھے ہیں\n\nکل شب وصل تھی سب عیش میسر تھے ہمیں\nآج ہم چاک گریبان کئے بیٹھے ہیں\n\nعشق پردے میں رہے کب تلک اے جوش جنوں\nہم بھی طوفان کا سامان کئے بیٹھے ہیں\n\nان کی زلفوں کا تصور بھی غضب ہے عاشقؔ\nدل کو خود اپنے پریشان کئے بیٹھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%81%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ پارہ ہوں میں جو آگ میں ہوں وہ برق ہوں جو سحاب میں ہوں", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ پارہ ہوں میں جو آگ میں ہوں وہ برق ہوں جو سحاب میں ہوں\nزمیں پہ بھی اضطراب میں ہوں فلک پہ بھی اضطراب میں ہوں\n\nنہ میں ہوا میں نہ خاک میں ہوں نہ آگ میں ہوں نہ آب میں ہوں\nشمار میرا نہیں کسی میں اگرچہ میں بھی حساب میں ہوں\n\nاگرچہ پانی کی موج بن کر ہمیشہ میں پیچ و تاب میں ہوں\nوہی ہوں قطرہ وہی ہوں دریا جو عین چشم حباب میں ہوں\n\nسلایا کس نے گلے لگا کر کہ صور بھی تھک گیا جگا کر\nبپا ہے عالم میں شور محشر مجھے جو دیکھو تو خواب میں ہوں\n\nمزا ہے ساقی ترے کرم سے ظہور میرا ہے تیرے دم سے\nوہ بادہ ہوں جو ہوں میکدے میں وہ نشہ ہوں جو شراب میں ہوں\n\nالٰہی وہ گورے گورے تلوے کہیں نہ ہو جائیں مجھ سے میلے\nکہ خاک بن کر برنگ سرمہ ہمیشہ چشم رکاب میں ہوں\n\nجو بھیس اپنا بدل کے آیا تو رنگ اطلاق منہ سے دھویا\nکیا ہے پانی میں قید مجھ کو ہوا کی صورت حباب میں ہوں\n\nغضب ہے جوش ظہور تیرا پکارتا ہے یہ نور تیرا\nخدا نے اندھا کیا ہے جس کو اسی کے آگے حجاب میں ہوں\n\nہوئی ہے دونوں کی ایک حالت نہ چین اس کو نہ چین مجھ کو\nادھر وہ ہے محو شوخیوں میں ادھر جو میں اضطراب میں ہوں\n\nالٰہی مجھ پر کرم ہو تیرا نہ کھول اعمال نامہ میرا\nپکارتا ہے یہ خط قسمت کہ میں بھی فرد حساب میں ہوں\n\nدماغ میں ہوں قدح کشوں کے دہن میں آیا ہوں مہ وشوں کے\nنشہ وہ ہوں جو شراب میں ہوں مزا وو ہوں جو کباب میں ہوں\n\nوہ اپنا چہرا اگر دکھائے یقین اندھوں کو خاک آئے\nپکارتی ہے یہ بے حجابی کہ میں ازل سے حجاب میں ہوں\n\nعلاحدہ کر کے خود سے مجھ کو جو تو نے بخشا تو خاک بخشا\nاگرچہ جنت مجھے ملی ہے الٰہی پھر بھی عذاب میں ہوں\n\nہجوم نظروں کا ہے وہ منہ پر دیا ہے دونو کو جس نے دھوکا\nیقیں یہ مجھ کو پڑا ہے پردا گماں یہ ان کو نقاب میں ہوں\n\nجو مجھ کو اس سے جدا کرو گے تو میرا نقصان کیا کرو گے\nنہیں ہوں مانند صفر کچھ بھی اگرچہ میں بھی حساب میں ہوں\n\nنہ آیا مر کر بھی چین مجھ کو اٹھا مری خاک سے بگولا\nبتوں کا گیسو تو میں نہیں ہوں الٰہی کیوں پیچ و تاب میں ہوں\n\nجو حال پوچھو تو اک کہانی نشان پوچھو تو بے نشانی\nوہ ذرہ ہوں جو مٹا ہوا ہوں اگرچہ میں آفتاب میں ہوں\n\nمٹا اگرچہ مزار میرا چھٹا نہ وہ شہسوار میرا\nپکارتا ہے غبار میرا کہ میں بھی حاضر رکاب میں ہوں\n\nکرم کی مائلؔ پہ بھی نظر ہو نظر میں پھر چلبلا اثر ہو\nازل سے امیدوار میں بھی الٰہی تیری جناب میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%DA%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%AD%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "وہ پاس ہے تیرے دور نہیں تو واصل ہے مہجور نہیں", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ پاس ہے تیرے دور نہیں تو واصل ہے مہجور نہیں\nکیوں حبل مرکب میں ہے پھنسا مختار ہے تو مجبور نہیں\n\nسرگرم شوق و حضور نہیں دل سرد ہے تو محرور نہیں\nجس قلب میں عشق کا نور نہیں وہ تاب جلوۂ طور نہیں\n\nہر رنگ میں ہے وہ جلوہ نما تو ایک حجاب میں جا کے چھپا\nکیوں کور سواد ہوا ہے بتا کیا آنکھوں میں ترے نور نہیں\n\nجو عشق میں بر سر دار ہوا سردار وہی سرشار ہوا\nسرمست وصال یار ہوا کس طرح کہیں منصور نہیں\n\nجو باطن میں مشغول ہوئے محبوب ہوئے مقبول ہوئے\nمجہول ہوئے معروف کہاں مشہور جو ہیں منظور نہیں\n\nکیوں محو سر پندار ہوا اے مشت خاک ہے نقش فنا\nدنیا میں کہاں ہے رنگ بقا جمشید نہیں مغفور نہیں\n\nمستور جو تھا منظور ہوا وہ جلوۂ رنگ ظہور ہوا\nجو حجاب تھا رخ سے دور ہوا مشتاق لقا مہجور نہیں\n\nجو آپ ہوا بے نام و نشاں اس کو ہے ملا وہ جان جہاں\nمعراج وصال ہے اس کو کہاں جو عشق میں چکنا چور نہیں\n\nمیں تیرا فدائے سراپا ہوں میں تالب وصل معرا ہوں\nمشتاق و شیدا تیرا ہوں میں طالب حور و صور نہیں\n\nمخمور جام باقی ہے شیدائے نوائے عراقی ہے\nسرشار محبت ساقیؔ ہے سر مست ہے یہ مستور نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%88%D8%A7%D8%B5%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ پری وش عشق کے افسوں سے مائل ہو گیا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ پری وش عشق کے افسوں سے مائل ہو گیا\nمفت میں مشہور میں لوگوں میں عامل ہو گیا\n\nمیں نہیں فرہاد، وہ خسرو نہیں، پھر کیا سبب؟\nغیر کا مائل جو وہ شیریں شمائل ہو گیا\n\nاشک باری ہم کناری کی ہوس میں رات تھی\nقلزمِ گریہ کو اس کا دھیان ساحل ہو گیا\n\nزخم میرے خنجرِ خوں ریز تھے اغیار کو\nبے وفائی سے خجل کس وقت قاتل ہو گیا\n\nاہلِ وحشت کو مری شورش سے لازم ہے خطر\nمیں وہ مجنوں ہوں کہ مجنوں کے مقابل ہو گیا\n\nرشکِ خسرو بے تصرف، نازِ شیریں بے اثر\nسینۂ فرہاد مثلِ بے ستوں، سِل ہو گیا\n\nہے خراشِ ناخنِ غم میں بھی کیا بالیدگی\nجو ہلالِ غرہ تھا، سو ماہِ کامل ہو گیا\n\nعید کے دن ذبح کرنا اور بھی اچھا ہوا\nحلقۂ اسلام میں وہ شوخ داخل ہو گیا\n\nاس کے اٹھتے ہی یہ ہلچل پڑ گئی بس بزم میں\nطورِ روزِ حشر سب کو طورِ محفل ہو گیا\n\nہوش تو دیکھو کہ سن کر میری وحشت کی خبر\nچھوڑ کر دیوانہ پن کو قیس عاقل ہو گیا\n\nہاتھ اٹھایا اس نے قتلِ بے گنہ سے میرے بعد\nطالع اغیار سے جلاد عادل ہو گیا\n\nحسن کے اعجاز نے تیرے مٹایا کفر کو\nتیرے آگے نقشِ مانی، نقشِ باطل ہو گیا\n\nمیرے مرتے دم جو رویا وہ بڑی تسخیر تھی\nآبِ چشمِ یار آبِ چاہِ بابل ہو گیا\n\nہے عدم میں بھی تلاشِ سرمہ و مشک و نمک\nشیفتہ تیغِ نگہ سے کس کی گھائل ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D9%88%D8%B4_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "وہ پری ہی نہیں کچھ ہو کے کڑی مجھ سے لڑی", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "وہ پری ہی نہیں کچھ ہو کے کڑی مجھ سے لڑی\nآنکھ نرگس سے بھی دو چار گھڑی مجھ سے لڑی\n\nواسطے تیرے مرا رنگ محل ہے دشمن\nتیری خاطر تو ہر اک چھوٹی بڑی مجھ سے لڑی\n\nجھڑ لگا دی مری آنکھوں نے تو لو اور سنو\nٹکٹکی باندھ کے کیوں منہ کی جھڑی مجھ سے لڑی\n\nرات لڑ بھڑ وہ جو چپ ہو رہی تو ان کے عوض\nبولتے تھے وہ جو سونے کی گھڑی مجھ سے لڑی\n\nبیٹھے بیٹھے کہیں بلبل کو جو چھیڑا میں نے\nتو نسیم اس کی بدل ہو کے کھڑی مجھ سے لڑی\n\nکون سی حور یہاں کھیلنے چوتھی آئی\nبوئے گل لے کے جو پھولوں کی چھڑی مجھ سے لڑی\n\nروٹھ کر ان کی گلی میں جو لگا تو انشاؔ\nہر اک اس دو لڑی موتی کی لڑی مجھ سے لڑی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DA%91%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%84%DA%91%DB%8C"} {"title": "وہ پوچھتے ہیں ہجر میں ہے اضطراب کیا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ پوچھتے ہیں ہجر میں ہے اضطراب کیا\nحیران ہوں کہ دوں انہیں اس کا جواب کیا\n\nدل اور وہ بھی صرف مرا دردمند دل\nتیری نگاہ نے یہ کیا انتخاب کیا\n\nجاتی نہیں خلش الم روزگار کی\nاے آسماں ہوا وہ ترا انقلاب کیا\n\nنظارۂ جمال کی یاں تاب ہی نہیں\nاے برق حسن چاہیئے تجھ کو نقاب کیا\n\nوعدہ بھی کر لو وعدہ پہ یاں آ بھی جاؤ تم\nیہ سب سہی تمہاری نہیں کا جواب کیا\n\nبیش از گمان خواب نہیں فرصت حیات\nفانیؔ تم اس خیال کو سمجھے ہو خواب کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "وہ پیرہن جان میں جاں حجلۂ تن میں", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ پیرہن جان میں جاں حجلۂ تن میں\nہوں وہم جدائی سے عجب رنج و محن میں\n\nمقصود زیارت ہے اگر کعبۂ دل کی\nہو گرم سفر ناحیۂ ملک وطن میں\n\nوہ قامت دل کش ہے عجب فتنۂ عالم\nچھپتا ہی نہیں پیرہن نود کہن میں\n\nاے شمع بہا اشک چھپا راز محبت\nخاکستر پروانہ ہے بیتاب لگن میں\n\nشورش مری بے جا ہے نہ فریاد نکمی\nرونق ہے ذرا نالۂ بلبل سے چمن میں\n\nتاثیر ہو کیا خاک جو باتوں میں گھڑت ہو\nکچھ بات نکلتی ہے تو بے ساختہ پن میں\n\nکم تر ہے دو و دام سے انساں بہ مراتب\nہر دم جو ترقی نہ کرے چال چلن میں\n\nہوں میں تو وہی معتکف گوشۂ عزلت\nحالانکہ مرا ریختہ پہونچا ہے دکن میں\n\nیہ سچ ہے کہ سودا بھی تھا استاد زمانہ\nمیری تو مگر میرؔ ہی تھا شعر کے فن میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%81%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%AD%D8%AC%D9%84%DB%82_%D8%AA%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ چال اٹکھیلیوں سے چل کر دل و جگر روندے ڈالتے ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "وہ چال اٹکھیلیوں سے چل کر دل و جگر روندے ڈالتے ہیں\nابھی جوانی کا ہے جو عالم نہ دیکھتے ہیں نہ بھالتے ہیں\n\nچلا ہے پہلو سے یار اٹھ کر غم جدائی کو ٹالتے ہیں\nکبھی تو ہم دل کو تھامتے ہیں کبھی جگر کو سنبھالتے ہیں\n\nکبھی نہ جن کو لگایا تھا منہ گلے میں باہیں وہ ڈالتے ہیں\nجو مانگتا ہوں میں ایک بوسہ تو آپ آنکھیں نکالتے ہیں\n\nاگر یہی ہے تلون ان کا خدا ہی ہے وعدہ ہو جو پورا\nکہا تھا کل آج وصل ہوگا وہ آج پھر کل پہ ٹالتے ہیں\n\nنہ قہر رفتار ناز ڈھائے لچک نہ وقت خرام آئے\nخدا ہی نازک کمر بچائے کہ پائنچے وہ سنبھالتے ہیں\n\nنہ جاں بہ لب کیوں مریض غم ہو پئے عیادت نہ آئے دیکھو\nمسیح کہتے ہیں لوگ جن کو وہ جان کر مار ڈالتے ہیں\n\nکبھی یہ کہتے ہیں درد سر ہے کبھی یہ کہتے ہیں اب سحر ہے\nستم یہ مشتاق وصل پر ہے ہزاروں حیلے نکالتے ہیں\n\nنکالوں ارمان کیوں نہ جی کے کہ مست ہوں جام عشق پی کے\nمیں صدقے اس اپنی بے خودی کے کہ دوڑ کر وہ سنبھالتے ہیں\n\nکسی کے انجمؔ جو ہیں سکھائے تو ہیں نیا رنگ آج لائے\nکہ چپکے بیٹھے ہیں سر جھکائے نہ بولتے ہیں نہ چالتے ہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%86%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D9%B9%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D9%86%D8%AF%DB%92_%DA%88%D8%A7%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ چاندنی رات اور وہ ملاقات کا عالم", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ چاندنی رات اور وہ ملاقات کا عالم\nکیا لطف میں گزرا ہے غرض رات کا عالم\n\nجاتا ہوں جو مجلس میں شب اس رشک پری کی\nآتا ہے نظر مجھ کو طلسمات کا عالم\n\nبرسوں نہیں کرتا تو کبھو بات کسو سے\nمشتاق ہی رہتا ہے تری بات کا عالم\n\nکر مجلس خوباں میں ذرا سیر کہ باہم\nہوتا ہے عجب ان کے اشارات کا عالم\n\nدل اس کا نہ لوٹے کبھی پھولوں کی صفا پر\nشبنم کو دکھا دوں جو ترے گات کا عالم\n\nہم لوگ صفات اس کی بیاں کرتے ہیں ورنہ\nہے وہم و خرد سے بھی پرے ذات کا عالم\n\nوہ کالی گھٹا اور وہ بجلی کا چمکنا\nوہ مینہ کی بوچھاڑیں، وہ برسات کا عالم\n\nدیکھا جو شب ہجر تو رویا میں کہ اس وقت\nیاد آیا شب وصل کے اوقات کا عالم\n\nہم مصحفیؔ قانع ہیں بہ خشک و تر گیتی\nہے اپنے تو نزدیک مساوات کا عالم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%86%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85"} {"title": "وہ چاندنی میں جو ٹک سیر کو نکلتے ہیں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ چاندنی میں جو ٹک سیر کو نکلتے ہیں\nتو مہ کے طشت میں گھی کے چراغ چلتے ہیں\n\nپڑے ہوس ہی ہوس میں ہمیشہ گلتے ہیں\nہمارے دیکھیے ارمان کب نکلتے ہیں\n\nہجوم آہ ہے آنکھوں سے اشک ڈھلتے ہیں\nبھرے ہیں چاؤ جو دل میں سو یوں نکلتے ہیں\n\nچراغ صبح یہ کہتا ہے آفتاب کو دیکھ\nیہ بزم تم کو مبارک ہو ہم تو چلتے ہیں\n\nبرنگ اشک کبھی گر کے ہم نہ سنبھلے آہ\nیہی کہا کئے جی میں کہ اب سنبھلتے ہیں\n\nنکالتا ہے ہمیں پھر وہ اپنے کوچے سے\nابھی تو نکلے نہیں ہیں پر اب نکلتے ہیں\n\nفدا جو دل سے ہے ان شوخ سبزہ رنگوں پر\nیہ ظالم اس کی ہی چھاتی پہ مونگ دلتے ہیں\n\nہوا نحیف بھی یاں تک کہ حضرت مجنوں\nیہ مجھ سے کہتے ہیں اور ہاتھ اپنے ملتے ہیں\n\nکوئی تو پگڑی بدلتا ہے اور سے لیکن\nمیاں نظیرؔ ہم اب تم سے تن بدلتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%B9%DA%A9_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ چشمہ دلا کہاں سے پیدا ہوگا", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "وہ چشمہ دلا کہاں سے پیدا ہوگا\nپیدا بھی ہوا تو تو ہی کہہ کیا ہوگا\nکیفیت بادہ آب حیواں میں کہاں\nپانی ہے کمال یہ کہ میٹھا ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%86%D8%B4%D9%85%DB%81_%D8%AF%D9%84%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "وہ چل کے ناز سے اے دل ادھر کو دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ چل کے ناز سے اے دل ادھر کو دیکھتے ہیں\nہم ان کی چال کو ان کی نظر کو دیکھتے ہیں\n\nہم ان کی آنکھ کو ان کی نظر کو دیکھتے ہیں\nوہ بزم غیر میں دیکھیں کدھر کو دیکھتے ہیں\n\nسمجھ میں کچھ نہیں آتا یہ کیا قیامت ہے\nسب اہل حشر اسی فتنہ گر کو دیکھتے ہیں\n\nنہ اس نے جان چرائی نہ اس نے منہ موڑا\nہم ان کی تیغ کو اپنے جگر کو دیکھتے ہیں\n\nہماری طرح کسی کو یہ کیا اجاڑے گا\nفلک کو دیکھ کے ہم اپنے گھر کو دیکھتے ہیں\n\nہمارا حال کوئی دیکھتا نہیں صفدرؔ\nسب اہل بزم انہیں کی نظر کو دیکھتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%86%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے\nکہ دل رہ گیا مدعا کہتے کہتے\n\nمرا عشق بھی خود غرض ہو چلا ہے\nترے حسن کو بے وفا کہتے کہتے\n\nشب غم کس آرام سے سو گئے ہیں\nفسانہ تری یاد کا کہتے کہتے\n\nیہ کیا پڑ گئی خوئے دشنام تم کو\nمجھے ناسزا برملا کہتے کہتے\n\nخبر ان کو اب تک نہیں مر مٹے ہم\nدل زار کا ماجرا کہتے کہتے\n\nعجب کیا جو ہے بدگماں سب سے واعظ\nبرا سنتے سنتے برا کہتے کہتے\n\nوہ آئے مگر آئے کس وقت حسرتؔ\nکہ ہم چل بسے مرحبا کہتے کہتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%86%D9%BE_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92"} {"title": "وہ چہچہے نہ وہ تری آہنگ عندلیب", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ چہچہے نہ وہ تری آہنگ عندلیب\nکس گل کی یاد میں ہے تو دل تنگ عندلیب\n\nبیداد باغباں سے جو میں سیر باغ کی\nلاکھوں دبی پڑی تھیں تہہ سنگ عندلیب\n\nاب برگ گل بھی چھینے ہے دست نسیم سے\nآگے تو اس قدر نہ تھی سرہنگ عندلیب\n\nکیا ظلم ہے کہ تو ہے اسیر اور باغ میں\nکلیاں نکالتی ہیں نئے رنگ عندلیب\n\nتجھ کو اسیر گردش ایام نے کیا\nچوب قفس سے کرتی ہے کیوں جنگ عندلیب\n\nگر شاخ گل میں ہو کمر یار کی لچک\nاس سے اڑے نہ کھاوے اگر سنگ عندلیب\n\nجاتا ہوں گر چمن میں تو رکھ رکھ کے کان کو\nنالے کا مجھ سے سیکھتی ہے ڈھنگ عندلیب\n\nواللہ بھول جاوے تو سب اپنے چہچہے\nگر باغ میں ہو وہ صنم شنگ عندلیب\n\nآ کر چمن میں مصحفیؔ خستہ کیا کرے\nاب سیر گل کو سمجھے ہے یہ ننگ عندلیب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%86%DB%81%DA%86%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%DB%81%D9%86%DA%AF_%D8%B9%D9%86%D8%AF%D9%84%DB%8C%D8%A8"} {"title": "وہ کافر آشنا نا آشنا یوں بھی ہے اور یوں بھی", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کافر آشنا نا آشنا یوں بھی ہے اور یوں بھی\nہماری ابتدا تا انتہا یوں بھی ہے اور یوں بھی\n\nتعجب کیا؟ اگر رسم وفا یوں بھی ہے اور یوں بھی\nکہ حسن و عشق کا ہر مسئلہ یوں بھی ہے اور یوں بھی\n\nکہیں ذرہ کہیں صحرا کہیں قطرہ کہیں دریا\nمحبت اور اس کا سلسلہ یوں بھی ہے اور یوں بھی\n\nوہ مجھ سے پوچھتے ہیں ایک مقصد میری ہستی کا\nبتاؤں کیا کہ میرا مدعا یوں بھی ہے اور یوں بھی\n\nہم ان سے کیا کہیں وہ جانیں ان کی مصلحت جانے\nہمارا حال دل تو برملا یوں بھی ہے اور یوں بھی\n\nنہ پا لینا ترا آساں نہ کھو دینا ترا ممکن\nمصیبت میں یہ جان مبتلا یوں بھی ہے اور یوں بھی\n\nلگا دے آگ او برق تجلی دیکھتی کیا ہے\nنگاہ شوق ظالم نارسا یوں بھی ہے اور یوں بھی\n\nالٰہی کس طرح عقل و جنوں کو ایک جا کر لوں\nکہ منشائے نگاہ عشوہ زا یوں بھی ہے اور یوں بھی\n\nمجازیؔ سے جگرؔ کہہ دو ارے او عقل کے دشمن\nمقر ہو یا کوئی منکر خدا یوں بھی ہے اور یوں بھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D9%86%D8%A7_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ\nہوئے ہیں ہم تو دیوانے ستارو تم تو سو جاؤ\n\nکہاں تک مجھ سے ہمدردی کہاں تک میری غم خواری\nہزاروں غم ہیں انجانے ستارو تم تو سو جاؤ\n\nگزر جائے گی غم کی رات امیدو تو جاگ اٹھو\nسنبھل جائیں گے دیوانے ستارو تم تو سو جاؤ\n\nہمیں روداد ہستی رات بھر میں ختم کرنی ہے\nنہ چھیڑو اور افسانے ستارو تم تو سو جاؤ\n\nہمارے دیدۂ بے خواب کو تسکین کیا دو گے\nہمیں لوٹا ہے دنیا نے ستارو تم تو سو جاؤ\n\nاسے قابلؔ کی چشم نم سے دیرینہ تعلق ہے\nشب غم تم کو کیا جانے ستارو تم تو سو جاؤ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%A8_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A4"} {"title": "وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے\nرات دن صورت کو دیکھا کیجئے\n\nچاندنی راتوں میں اک اک پھول کو\nبے خودی کہتی ہے سجدہ کیجئے\n\nجو تمنا بر نہ آئے عمر بھر\nعمر بھر اس کی تمنا کیجئے\n\nعشق کی رنگینیوں میں ڈوب کر\nچاندنی راتوں میں رویا کیجئے\n\nپوچھ بیٹھے ہیں ہمارا حال وہ\nبے خودی تو ہی بتا کیا کیجئے\n\nہم ہی اس کے عشق کے قابل نہ تھے\nکیوں کسی ظالم کا شکوہ کیجئے\n\nآپ ہی نے درد دل بخشا ہمیں\nآپ ہی اس کا مداوا کیجئے\n\nکہتے ہیں اخترؔ وہ سن کر میرے شعر\nاس طرح ہم کو نہ رسوا کیجئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "وہ کریں گے مرا قصور معاف", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کریں گے مرا قصور معاف\nہو چکا کر چکے ضرور معاف\n\nحسن کو بے قصور کہتے ہیں\nہے قصور آپ کا قصور معاف\n\nمیں نے یہ جان کر خطائیں کیں\nہر خطا ہوگی بالضرور معاف\n\nوہ ہنسی آ گئی ترے لب پر\nہو گیا وہ مرا قصور معاف\n\nبے خودی میں جو ہو خطا ہم سے\nکم سے کم وہ تو ہو ضرور معاف\n\nخامشی ان کی مجھ سے کہتی ہے\nاب ہوا اب ہوا قصور معاف\n\nپھر نہ تم بخشنا کبھی مجھ کو\nپہلی تقصیر ہو ضرور معاف\n\nہاتھ بھی جوڑے پانو پر بھی گرا\nاب تو کہہ دو کیا قصور معاف\n\nہے یہی کام اس کی رحمت کا\nہوں گے میرے گنہ ضرور معاف\n\nاور عادت مری خراب ہوئی\nکاش کرتے نہ وہ قصور معاف\n\nخود یہ اقرار جرم کرتے ہیں\nکیجئے نوحؔ کو ضرور معاف", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81"} {"title": "وہ کس پیار سے کوسنے دے رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کس پیار سے کوسنے دے رہے ہیں\nبلائیں عداوت کی ہم لے رہے ہیں\n\nپڑے ہیں وہ عشرت کدے آج ویراں\nجہاں یار لوگوں کے جلسے رہے ہیں\n\nبرے اور اچھوں کے ہیں ذکر باقی\nبرے ہی رہے ہیں نہ اچھے رہے ہیں\n\nپیامی سے کہتے ہیں کس نے کہا تھا\nوہ کیوں رات بھر یوں تڑپتے رہے ہیں\n\nزباں تھک گئی کوسنے دیتے دیتے\nبس اب خیر سے چٹکیاں لے رہے ہیں\n\nنئے داغ کھائے ہیں کیا آج دل پر\nیہ گل تو ہمیشہ ہی کھلتے رہے ہیں\n\nجہاں مل کے بیٹھے ہیں دو چار ہم سن\nہمارے تمہارے ہی چرچے رہے ہیں\n\nظہیرؔ آہ دن زندگانی کے اپنے\nبہت جا چکے اور تھوڑے رہے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%B3%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ کسی سے تم کو جو ربط تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کسی سے تم کو جو ربط تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\nوہ کسی پہ تھا کوئی مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nکبھی ہم میں تم میں بھی پیار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\nکبھی ہم بھی تم بھی تھے ایک جا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nوہ بنانا چہرہ عتاب کا وہ نہ دینا منہ سے جواب کا\nوہ کسی کی منت و التجا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nتمہیں جس کی چاہ پہ ناز تھا جو تمھارا محرم راز تھا\nمیں وہی ہوں عاشق باوفا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nکبھی ہم میں تم میں بھی ساز تھے کبھی ہم بھی وقف نیاز تھے\nہمیں یاد تھا سو جتا دیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nکبھی بولنا وہ خفا خفا کبھی بیٹھنا وہ جدا جدا\nوہ زمانہ ناز و نیاز کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nابھی تھوڑے دن کا ہے تذکرہ کہ رقیب کہتے تھے برملا\nمرے آگے تم کو برا بھلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nکبھی ہنس کے منہ کو چھپا لیا کبھی مسکرا کے دکھا دیا\nکبھی شوخیاں تھیں کبھی حیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nجو بنا ہے عارف با خدا یہ وہی ظہیرؔ ہے بے حیا\nوہ جو رند خانہ بدوش تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D8%A8%D8%B7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D9%88"} {"title": "وہ کسی پر جفا نہیں کرتے", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کسی پر جفا نہیں کرتے\nاعتبار وفا نہیں کرتے\n\nایک ہم سے خفا ہے خلق خدا\nلوگ دنیا میں کیا نہیں کرتے\n\nاے نصیحت گرو خدا کے لئے\nیوں نصیحت کیا نہیں کرتے\n\nسر نہ کھاؤ کہ عشق لالہ رخاں\nہم نے کہہ جو دیا نہیں کرتے\n\nسخت مشکل ہے دلبری دیکھیں\nآپ کرتے ہیں یا نہیں کرتے\n\nغم جاناں ہو یا غم دوراں\nتیر ان کے خطا نہیں کرتے\n\nمر بھی جائیں تو ہم سر محفل\nساقیا ساقیا نہیں کرتے\n\nاے عزیزو تمہاری شرط نہیں\nہم تو اپنا کہا نہیں کرتے\n\nدوست ہیں بے وفا مگر عابدؔ\nمنہ سے ایسا کہا نہیں کرتے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیں", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیں\nاس آفتاب کا کس ذرہ میں ظہور نہیں\n\nکوئی شتاب خبر لو کہ بے نمک ہے بہار\nچمن کے بیچ دوانوں کا اب کے شور نہیں\n\nتجلیوں سے پہنچتا ہے کب اسے آسیب\nصنم کدہ ہے نہ آخر یہ کوہ طور نہیں\n\nترے سفر کی خبر سن کے جان دھڑکوں سے\nجو پہنچوں مرگ کے نزدیک میں تو دور نہیں\n\nکوئی بھی دیتا ہے لڑکوں کے ہاتھ شیشۂ دل\nیقیںؔ میں غور سے دیکھا تو کچھ شعور نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ کون لوگ ہیں جو مے ادھار لیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کون لوگ ہیں جو مے ادھار لیتے ہیں\nیہ مے فروش تو ٹوپی اتار لیتے ہیں\n\nیہ پاس پردہ نشینوں کا ہے کہ نالے بھی\nجو اونچے ہوتے ہیں پردہ پکار لیتے ہیں\n\nوہ کہتے ہیں ابھی اللہ اتنی طاقت ہے\nجو کروٹیں کبھی ہم بے قرار لیتے ہیں\n\nبچائیں گے گل و بلبل کو دام گلچیں سے\nجو کوئی پہنچے تو فصل بہار لیتے ہیں\n\nیہی ہیں کام نکلتا ہے جن کا بے طاعت\nمزے کرم کے ترے شرمسار لیتے ہیں\n\nاترتے عرش سے ڈرتا ہے تو دعا والے\nاثر کو ہاتھ بڑھا کر اتار لیتے ہیں\n\nشراب کے لیے مے نوش منہ ہیں پھیلائے\nجمھائیاں نہیں وقت خمار لیتے ہیں\n\nگناہ گار ہیں اتنے ہی ان بتوں کے ہم\nکہ پانچ وقت خدا کو پکار لیتے ہیں\n\nجما یہ رنگ کہ اب وقت زمزمہ سنجی\nچمن میں مجھ کو عنادل پکار لیتے ہیں\n\nپئے ہوں کتنی ہی لیکن یہ ہوش رہتا ہے\nکہ سوتے وقت وہ زیور اتار لیتے ہیں\n\nریاضؔ باتوں میں اپنی اگر نہیں جادو\nپری کو شیشے میں یوں ہی اتار لیتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D9%84%D9%88%DA%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%92_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%A7%D8%B1_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتا", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتا\nپر میرا جگر دیکھ کہ میں اف نہیں کرتا\n\nکیا قہر ہے وقفہ ہے ابھی آنے میں اس کے\nاور دم مرا جانے میں توقف نہیں کرتا\n\nکچھ اور گماں دل میں نہ گزرے ترے کافر\nدم اس لیے میں سورۂ یوسف نہیں کرتا\n\nپڑھتا نہیں خط غیر مرا واں کسی عنواں\nجب تک کہ وہ مضموں میں تصرف نہیں کرتا\n\nدل فقر کی دولت سے مرا اتنا غنی ہے\nدنیا کے زر و مال پہ میں تف نہیں کرتا\n\nتا صاف کرے دل نہ مئے صاف سے صوفی\nکچھ سود و صفا علم تصوف نہیں کرتا\n\nاے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر\nآرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%D8%A3%D8%B3%D9%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7"} {"title": "وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتا\nکس گھر میں خوشی ہوتی ہے ماتم نہیں ہوتا\n\nایسے بھی ہیں دنیا میں جنہیں غم نہیں ہوتا\nاک غم ہے ہمارا جو کبھی کم نہیں ہوتا\n\nتم جا کے چمن میں گل و بلبل کو تو دیکھو\nکیا لطف تہ چادر شبنم نہیں ہوتا\n\nکیا سرمہ بھری آنکھوں سے آنسو نہیں گرتے\nکیا مہندی لگے ہاتھوں سے ماتم نہیں ہوتا\n\nاڑتی تھی وہ شے آتی تھیں جنت کی ہوائیں\nاب رندوں کا جمگھٹ سر زمزم نہیں ہوتا\n\nیہ جان کے کیوں روئے گا کوئی سر تربت\nسبزہ سے جدا قطرۂ شبنم نہیں ہوتا\n\nیہ شان گدائے در میخانہ ہے ساقی\nبھولے سے وہ ہم بزم کے و جم نہیں ہوتا\n\nمایوس‌ اثر اشک عنادل نہیں ہوتے\nمانوس اثر گریۂ شبنم نہیں ہوتا\n\nکچھ اور ہی ہوتی ہیں بگڑنے کی ادائیں\nبننے میں سنورنے میں یہ عالم نہیں ہوتا\n\nسو رہتے ہو روتے نہیں تم جان کو اس کی\nاب غیر کے گھر رات کو ماتم نہیں ہوتا\n\nگھٹتی نہیں تربت میں بھی فرقت کی اذیت\nیہ درد وہ ہے مر کے بھی جو کم نہیں ہوتا\n\nتسکین تو ہو جائے جو تو پھوٹ کے بہہ جائے\nیہ تجھ سے بھی اے دیدۂ پر نم نہیں ہوتا\n\nسبزہ مری تربت کا رگ گل نہیں بلبل\nان آنسوؤں سے تیرے تو یہ نم نہیں ہوتا\n\nمٹتے ہوئے دیکھی ہے عجب حسن کی تصویر\nاب کوئی مرے مجھ کو ذرا غم نہیں ہوتا\n\nوہ بھی تو مٹے جان جہاں نام تھا جان کا\nیہ نظم جہاں پھر بھی تو برہم نہیں ہوتا\n\nکچھ بھی ہو ریاضؔ آنکھ میں آنسو نہیں آتے\nمجھ کو تو کسی بات کا اب غم نہیں ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "وہ کہاں جلوۂ جاں بخش بتان دہلی", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کہاں جلوۂ جاں بخش بتان دہلی\nکیوں کہ جنت پہ کیا جانے گمان دہلی\n\nان کا بے وجہ نہیں ٹوٹ کے ہونا برباد\nڈھونڈے ہے اپنے مکینوں کو مکان دہلی\n\nجس کے جھونکے سے صبا طبلۂ عطار بنے\nہے وہ باد سحر عطر فشان دہلی\n\nمہر زر خاک کو کرتا ہے یہ سچ ہے لیکن\nاس سے کچھ بڑھ کے ہیں صاحب نظران دہلی\n\nآئنہ ساز سکندر ہے تو جم جام فروش\nوسعت آباد ہے کس درجہ جہان دہلی\n\nکر کے برباد اسے کس کو بسائے گا فلک\nکیا کوئی اور بھی ہے شہر بسان دہلی\n\nاس لیے خلد میں جانے کا ہر اک طالب ہے\nکہ کچھ اک دور سے پڑتا ہے گمان دہلی\n\nوہ ستم دیکھ چکے تھے کہ رہے آسودہ\nفتنہ و حشر میں آفت زدگان دہلی\n\nسمجھے ہیں سوئے ادب جنت ثانی کہنا\nوہ کچھ اشخاص جو ہیں مرتبہ دان دہلی\n\nسیلیٔ پنجۂ جلاد ستم سے ہے ہے\nنذر بیداد ہوئے منتخبان دہلی\n\nیا خدا حضرت غالبؔ کو سلامت رکھنا\nاب اسی نام سے باقی ہے نشان دہلی\n\nکربت غربت و تنہائی و شب ہائے دراز\nاور مجروحؔ دل افگار بیان دہلی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%AE%D8%B4_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C"} {"title": "وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھے", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھے\nخواب کیا کیا نظر آتے ہیں مجھے\n\nاس پری وش سے لگاتے ہیں مجھے\nلوگ دیوانہ بناتے ہیں مجھے\n\nیا رب ان کا بھی جنازہ اٹھے\nیار اس کو سے اٹھاتے ہیں مجھے\n\nابروئے تیغ سے ایما ہے کہ آ\nقتل کرنے کو بلاتے ہیں مجھے\n\nبے وفائی کا عدو کی ہے گلہ\nلطف میں بھی وہ ستاتے ہیں مجھے\n\nحیرت حسن سے یہ شکل بنی\nکہ وہ آئینہ دکھاتے ہیں مجھے\n\nپھونک دے آتش دل داغ مرے\nاس کی خو یاد دلاتے ہیں مجھے\n\nگر کہے غمزہ کسے قتل کروں\nتو اشارت سے بتاتے ہیں مجھے\n\nمیں تو اس زلف کی بو پر غش ہوں\nچارہ گر مشک سونگھاتے ہیں مجھے\n\nشعلہ رو کہتے ہیں اغیار کو وہ\nاپنے نزدیک جلاتے ہیں مجھے\n\nجاں گئی پر نہ گئی جورکشی\nبعد مردن بھی دباتے ہیں مجھے\n\nوہ جو کہتے ہیں تجھے آگ لگے\nمژدۂ وصل سناتے ہیں مجھے\n\nاب یہ صورت ہے کہ اے پردہ نشیں\nتجھ سے احباب چھپاتے ہیں مجھے\n\nمومنؔ اور دیر خدا خیر کرے\nطور بے ڈھب نظر آتے ہیں مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "وہ کہتے ہیں اٹھو سحر ہو گئی", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کہتے ہیں اٹھو سحر ہو گئی\nازاں ہو گئی توپ سر ہو گئی\n\nگلے سے ملو اب تو بہر خدا\nتڑپتے مجھے رات بھر ہو گئی\n\nالٰہی ہوا جذب الفت کو کیا\nمری آہ کیوں بے اثر ہو گئی\n\nزمانہ تو اے جان برگشتہ تھا\nتمہاری بھی ترچھی نظر ہو گئی\n\nہوئے سر کٹانے کو تیار ہم\nجو واں تیغ زیب کمر ہو گئی\n\nدکھائی مجھے کس لیے شام ہجر\nشب وصل کی کیوں سحر ہو گئی\n\nملا وصل میں بھی نہ آغاؔ کو چین\nشکایت میں شب بھر بسر ہو گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D9%88_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں\nمحبت کریں خوش رہیں مسکرا دیں\n\nغرور اور ہمارا غرور محبت\nمہ و مہر کو ان کے در پر جھکا دیں\n\nجوانی ہو گر جاودانی تو یا رب\nتری سادہ دنیا کو جنت بنا دیں\n\nشب وصل کی بے خودی چھا رہی ہے\nکہو تو ستاروں کی شمعیں بجھا دیں\n\nبہاریں سمٹ آئیں کھل جائیں کلیاں\nجو ہم تم چمن میں کبھی مسکرا دیں\n\nعبادت ہے اک بے خودی سے عبارت\nحرم کو مے مشک بو سے بسا دیں\n\nوہ آئیں گے آج اے بہار محبت\nستاروں کے بستر پہ کلیاں بچھا دیں\n\nبناتا ہے منہ تلخی مے سے زاہد\nتجھے باغ رضواں سے کوثر منگا دیں\n\nجنہیں عمر بھر یاد آنا سکھایا\nوہ دل سے تری یاد کیونکر بھلا دیں\n\nتم افسانۂ قیس کیا پوچھتے ہو\nادھر آؤ ہم تم کو لیلیٰ بنا دیں\n\nیہ بے دردیاں کب تک اے درد غربت\nبتوں کو پھر ارض حرم میں بسا دیں\n\nوہ سرمستیاں بخش اے رشک شیریں\nکہ خسرو کو خواب عدم سے جگا دیں\n\nترے وصل کی بے خودی کہہ رہی ہے\nخدائی تو کیا ہم خدا کو بھلا دیں\n\nانہیں اپنی صورت پہ یوں ناز کب تھا\nمرے عشق رسوا کو اخترؔ دعا دیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%86%D8%AC%D8%B4_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ کہتے ہیں کہ ہے ٹوٹے ہوئے دل پر کرم میرا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کہتے ہیں کہ ہے ٹوٹے ہوئے دل پر کرم میرا\nمگر منجملۂ آداب غم خواری ہے غم میرا\n\nوہاں سجدے سے اب تک قدسیوں کے سر نہیں اٹھتے\nپڑا تھا جس جگہ راہ محبت میں قدم میرا\n\nزہے تقدیر ناکامی کہ تیری مصلحت ٹھہری\nتری مرضی سے وابستہ ہوا اللہ رے غم میرا\n\nنہ جانیں اس سفر کی منزل اول کہاں ہوگی\nفنا کی آخری منزل پہ ہے پہلا قدم میرا\n\nمرے جوش طلب کی شان استغنا کوئی دیکھے\nکہ میں رہبر سے آگے مجھ سے آگے ہے قدم میرا\n\nمیں وہ آزردۂ وہم مسرت ہوں معاذ اللہ\nکہ غم کو غم سمجھنے سے بھی گھبراتا ہے دم میرا\n\nیہ محروم تبسم میر سامان تبسم ہے\nتری بزم طرب میں معتبر ہے اشک غم میرا\n\nاب آگے کس سے لکھا جائے آغاز محبت پر\nفسانہ ختم کر دیتے ہیں ارباب قلم میرا\n\nمری آوارگی ہر قید سے بے زار ہے شاید\nکہ اب اس کی گلی میں بھی گزر ہوتا ہے کم میرا\n\nبقا کہتے ہیں جس کو وہ مرا احسان ہے فانیؔ\nوہ حادث ہوں کہ دنیائے قدم بھرتی ہے دم میرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%B9%D9%88%D9%B9%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "وہ کیا دن تھے جو قاتل بن دل رنجور رو دیتا", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کیا دن تھے جو قاتل بن دل رنجور رو دیتا\nمرا ہر زخم جوں وہ تیغ ہوتی دور، رو دیتا\n\nعجب ڈھوری لگن میری کی تھی اس شمع سرکش کو\nکہ میرا دیکھتا جب عجز وہ مغرور رو دیتا\n\nہمارے شہر درد آباد میں لوہو کے آنسو سے\nوہاں کا دار جب سولی دیا منصور رو دیتا\n\nمثال صبح شبنم ریز جو سورج کا برقعہ ہے\nچھڑکتا جب وہ میرے داغ دل پر شور رو دیتا\n\nجو ہوتی وہ پلک نشتر سحاب چشم کی رگ پر\nمرے سیلاب اشک آگے ندی کا پور رو دیتا\n\nنہ نکلا گھر سے ورنہ نعش میری خاک راہ اوپر\nپڑی گر دیکھتا عزلتؔ وہ رشک حور رو دیتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%86_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%D8%A8%D9%86_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D9%86%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D8%B1%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7"} {"title": "وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیا\nجواب خط نہیں آیا تو یہ سمجھو جواب آیا\n\nقریب صبح یہ کہہ کر اجل نے آنکھ جھپکا دی\nارے او ہجر کے مارے تجھے اب تک نہ خواب آیا\n\nدل اس آواز کے صدقے یہ مشکل میں کہا کس نے\nنہ گھبرانا نہ گھبرانا میں آیا اور شتاب آیا\n\nکوئی قتال صورت دیکھ لی مرنے لگے اس پر\nیہ موت اک خوشنما پردے میں آئی یا شباب آیا\n\nپرانے عہد ٹوٹے ہو گئے پیماں نئے قائم\nبنا دی اس نے دنیا دوسری جو انقلاب آیا\n\nگزر گاہ محبت بن گئی اک مستقل بستی\nلگا کر آگ آیا گھر کو جو خانہ خراب آیا\n\nمعمہ بن گیا راز محبت آرزوؔ یوں ہی\nوہ مجھ سے پوچھتے جھجکے مجھے کہتے حجاب آیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "وہ کیا ہے ترا جس میں جلوا نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ کیا ہے ترا جس میں جلوا نہیں ہے\nنہ دیکھے تجھے کوئی اندھا نہیں ہے\n\nکہاں دامن حسن عاشق سے اٹکا\nگل داغ الفت میں کانٹا نہیں ہے\n\nکیا ہے وہاں اس نے پیمان فردا\nیہاں ہے وہ شب جس کو فردا نہیں ہے\n\nوہ کہتے ہیں میں زندگانی ہوں تیری\nیہ سچ ہے تو ان کا بھروسا نہیں ہے\n\nمری زیست کیوں کر نہ ہو جاودانی\nجو مرتا ہے اس پر وہ مرتا نہیں ہے\n\nوہی خاک اڑانا وہی گردشیں ہیں\nیہ مانا کہ عاشق بگولا نہیں ہے\n\nگلو گیر ہے ان بھوؤں کا تصور\nگریبان میں اپنے کنٹھا نہیں ہے\n\nان آنکھوں کو جب سے بصارت ملی ہے\nسوا تیرے کچھ میں نے دیکھا نہیں ہے\n\nمری حسرتیں اس قدر بھر گئی ہیں\nکہ اب تیرے کوچے میں رستا نہیں ہے\n\nوہ دل کیا جو دلبر کی صورت نہ پکڑے\nوہ مجنوں نہیں ہے جو لیلیٰ نہیں ہے\n\nکمال ظہور تجلی سے جانا\nجو پنہاں نہیں ہے وہ پیدا نہیں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ گل ہیں نہ ان کی وہ ہنسی ہے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ گل ہیں نہ ان کی وہ ہنسی ہے\nدیکھو جدھر اس سی پڑی ہے\n\nکیوں سوگ کی رسم جیتے جی ہے\nمرنے کی ہمارے کیا کہی ہے\n\nآڑی ہیکل کو چوم لے گی\nوہ چیز جو کچھ اٹھی اٹھی ہے\n\nدعوت تھی رقیب کی مرے گھر\nجوتی میں دال کیا بٹی ہے\n\nآیا دبے پاؤں قبر پر کون\nکوئی نہیں میری بیکسی ہے\n\nایک وضع پر اب خدا نباہے\nتوبہ کر کے شراب پی ہے\n\nواعظ ہے خراب خواہش خلد\nبالکل یہ شخص جنتی ہے\n\nکچھ پھوٹ پڑی ہے گھنگھرؤں میں\nچھاگل کچھ ان کی کہہ رہی ہے\n\nمجبور فرشتہ ہے بدی کا\nپہلے ہی سے کچھ کہی بدی ہے\n\nپیوستہ نہیں مرا لب شوق\nتیرے لب پر تری ہنسی ہے\n\nاب کون کلیم بن کے آیا\nپھر طور پر آگ سی لگی ہے\n\nہے آنکھ میں آنکھ کون ڈالے\nکوئی نہیں تیری آرسی ہے\n\nکیسا پینا کہاں کی توبہ\nاب میں ہوں خدا ہے بے خودی ہے\n\nخوش ہو گے ریاضؔ سے بھی ملنا\nکیا باغ و بہار آدمی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DA%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد\nسحر تھی شام سے پہلے سحر ہے شام کے بعد\n\nہر انقلاب مبارک ہر انقلاب عذاب\nشکست جام سے پہلے شکست جام کے بعد\n\nمجھی پہ اتنی توجہ مجھی سے اتنا گریز\nمرے سلام سے پہلے مرے سلام کے بعد\n\nچراغ بزم ستم ہیں ہمارا حال نہ پوچھ\nجلے تھے شام سے پہلے بجھے ہیں شام کے بعد\n\nیہ رات کچھ بھی نہیں تھی یہ رات سب کچھ ہے\nطلوع جام سے پہلے طلوع جام کے بعد\n\nوہی زباں وہی باتیں مگر ہے کتنا فرق\nتمہارے نام سے پہلے تمہارے نام کے بعد\n\nحیات گریۂ شبنم حیات رقص شرر\nترے پیام سے پہلے ترے پیام کے بعد\n\nیہ طرز فکر یہ رنگ سخن کہاں قابلؔ\nترے کلام سے پہلے ترے کلام کے بعد", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%88%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "وہ ہمکنار ہے جام شراب ہاتھ میں ہے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ ہمکنار ہے جام شراب ہاتھ میں ہے\nبغل میں چاند ہے اور آفتاب ہاتھ میں ہے\n\nپلا کے پیر کو ساغر جواں بناتا ہے\nمزہ ہے پیر مغاں کے شباب ہاتھ میں ہے\n\nبر آئی آج مرے دل کی آرزو صد شکر\nکہ دامن آپ کا روز حساب ہاتھ میں ہے\n\nیہ آئے کس کے قدم دست موج سے دریا\nلئے ہوئے جو کلاہ حباب ہاتھ میں ہے\n\nعرق وصال میں پونچھا ہے گل سے گالوں کو\nیہی ہے وجہ کہ بوئے گلاب ہاتھ میں ہے\n\nبن آئی ہے مرے دست ہوس کی وصل کی شب\nحنا لگائے جو وہ مست خواب ہاتھ میں ہے\n\nہوا سے تیز وہ آتا ہے نامہ بر میرا\nنیاز نامے کا میرے جواب ہاتھ میں ہے\n\nکھلے ہیں گل گل عارض کے وصف میں سر دست\nقلم مرا ہے کہ شاخ گلاب ہاتھ میں ہے\n\nحفیظؔ آپ کا دیوان یہ ہوا مقبول\nکہ جس کو دیکھو لیے یہ کتاب ہاتھ میں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%85%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ ہو علاج درد مداوا کہیں جسے", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ ہو علاج درد مداوا کہیں جسے\nایسا تو ہو کوئی کہ مسیحا کہیں جسے\n\nپرسان حال کوئی نہیں جس کا نام لیں\nاک درد دل ہی ہے کہ شناسا کہیں جسے\n\nمشکل یہ ہے کہ آپ تو سنتے ہی کچھ نہیں\nروداد عشق وہ کہ فسانہ کہیں جسے\n\nجلوے سے دیکھیے کہیں آنکھیں جھپک نہ جائیں\nیوں چشم وا ہو ذوق تماشا کہیں جسے\n\nاللہ ایسی دے تجھے توفیق اے جنوں\nسر میں وہ دھن سمائے کہ سودا کہیں جسے\n\nسب حسرتوں کو خاک میں ظالم ملا دیا\nاب دل میں کیا رہا کہ تمنا کہیں جسے\n\nیہ بار زندگی کہیں ہلکا نہ شوقؔ ہو\nاتنا تو ہو کہ حاصل دنیا کہیں جسے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%85%D8%AF%D8%A7%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%DB%92"} {"title": "وہ ہو کیسا ہی دبلا تار بستر ہو نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ ہو کیسا ہی دبلا تار بستر ہو نہیں سکتا\nغلط ہے آدمی اس طرح لاغر ہو نہیں سکتا\n\nکبھی آنسو کا قطرہ مثل گوہر ہو نہیں سکتا\nغلط ہے ابر نیساں دیدۂ تر ہو نہیں سکتا\n\nمیاں مجنوں ہوں چاہے کوہ کن ہو دونوں خبطی تھے\nکسی کا کچھ بھی ان سے خاک پتھر ہو نہیں سکتا\n\nکمر جس کے نہ ہو وہ بار سے کیوں کر چلے گا پھر\nخلاف عقل ہے یہ اس طرح پر ہو نہیں سکتا\n\nکہو پھر یہ کمر موٹی ہے سر چھوٹا ہے دلبر کا\nنہیں تو پھر قد جاناں صنوبر ہو نہیں سکتا\n\nوہ خط شوق کے جتنے پلندے چاہے لے جائے\nملازم ڈاک خانے میں کبوتر ہو نہیں سکتا\n\nظریفؔ آئینہ دے کر ڈارون صاحب کو سمجھا دو\nنہ ہو جب تک شریر انسان بندر ہو نہیں سکتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے\nوہ فلک نہ رہا وہ سماں نہ رہا وہ مکاں نہ رہے وہ مکیں نہ رہے\n\nوہ گلوں میں گلوں کی سی بو نہ رہی وہ عزیزوں میں لطف کی خو نہ رہی\nوہ حسینوں میں رنگ وفا نہ رہا کہیں اور کی کیا وہ ہمیں نہ رہے\n\nنہ وہ آن رہی نہ امنگ رہی نہ وہ رندی و زہد کی جنگ رہی\nسوئے قبلہ نگاہوں کے رخ نہ رہے اور در پہ نقش جبیں نہ رہے\n\nنہ وہ جام رہے نہ وہ مست رہے نہ فدائی عہد الست رہے\nوہ طریقۂ کار جہاں نہ رہا وہ مشاغل رونق دیں نہ رہے\n\nہمیں لاکھ زمانہ لبھائے تو کیا نئے رنگ جو چرخ دکھائے تو کیا\nیہ محال ہے اہل وفا کے لیے غم ملت و الفت دیں نہ رہے\n\nترے کوچۂ زلف میں دل ہے مرا اب اسے میں سمجھتا ہوں دام بلا\nیہ عجیب ستم ہے عجیب جفا کہ یہاں نہ رہے تو کہیں نہ رہے\n\nیہ تمہارے ہی دم سے ہے بزم طرب ابھی جاؤ نہ تم نہ کرو یہ غضب\nکوئی بیٹھ کے لطف اٹھائے گا کیا کہ جو رونق بزم تمہیں نہ رہے\n\nجو تھیں چشم فلک کی بھی نور نظر وہی جن پہ نثار تھے شمس و قمر\nسو اب ایسی مٹی ہیں وہ انجمنیں کہ نشان بھی ان کے کہیں نہ رہے\n\nوہی صورتیں رہ گئیں پیش نظر جو زمانہ کو پھیریں ادھر سے ادھر\nمگر ایسے جمال جہاں آرا جو تھے رونق روئے زمیں نہ رہے\n\nغم و رنج میں اکبرؔ اگر ہے گھرا تو سمجھ لے کہ رنج کو بھی ہے فنا\nکسی شے کو نہیں ہے جہاں میں بقا وہ زیادہ ملول و حزیں نہ رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D9%88%DB%81_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "وہ ہوں مٹھی میں ان کی دل ہو ہم ہوں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ ہوں مٹھی میں ان کی دل ہو ہم ہوں\nیوں ہی پردہ سا کچھ حائل ہو ہم ہوں\n\nستائیں ہم اسی طرح جس طرح چاہیں\nکوئی نشہ میں یوں غافل ہو ہم ہوں\n\nتمہارا بام رشک آسماں ہو\nاگر تم ہو مہ کامل ہو ہم ہوں\n\nمزا خلوت کا آئے قتل گہہ میں\nوہاں کوئی نہ ہو قاتل ہو ہم ہوں\n\nہر اک گوشے میں جیسے حشر برپا\nنئے فتنے ہوں وہ محفل ہو ہم ہوں\n\nنہیں پروا نہ سبزہ ہو لب جو\nیہ مینا ہو لب ساحل ہو ہم ہوں\n\nہمارے ہاتھ میں ہو تیغ قاتل\nنہ ہو کوئی عدو بسمل ہو ہم ہوں\n\nگرہ ہو زلف کی دل میں ہمارے\nہمارا عقدۂ مشکل ہو ہم ہوں\n\nپرانے نجد میں اب ہوں نئے آج\nنئی لیلیٰ نیا محمل ہو ہم ہوں\n\nیوں ہی ہم اپنی ہستی سے گزر جائیں\nہماری سعئ لا حاصل ہو ہم ہوں\n\nیہ کم بخت اک جہان آرزو ہے\nنہ ہو کوئی ہمارا دل ہو ہم ہوں\n\nنہ ہم اٹھیں نہ کوئی ہاتھ اٹھائے\nگلے پر خنجر قاتل ہو ہم ہوں\n\nیہ سہو و محو ہوں ہم سیر گل میں\nہر اک غنچہ ہمارا دل ہو ہم ہوں\n\nریاضؔ اس شوخ کو بھی تم سنا دو\nوہ کیا ہے چلبلا سا دل ہو ہم ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D9%B9%DA%BE%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88_%DB%81%D9%85_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں", "poet_page": "مصنف:عبد المجید سالک", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں\nتڑپ بجلی میں اس کی اضطراب اس کا ستاروں میں\n\nمدد اے اضطراب شوق تو جان تمنا ہے\nنکل اے صبر تیرا کام کیا ہے بے قراروں میں\n\nیہ کس کا نام لے کر جان دی بیمار الفت نے\nیہ کس ظالم کا چرچا رہ گیا تیمارداروں میں\n\nذرا سی چھیڑ بھی کافی ہے مضراب محبت کی\nکہ نغمے مضطرب ہیں بربط ہستی کے تاروں میں\n\nکہاں کا شغل اب تو دور ہے خوننابۂ غم کا\nوہی قسمت میں تھی جو پی چکے اگلی بہاروں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D9%81%D8%B2%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C_%D8%B3%D8%A8_%D9%86%D8%B8%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ یوں شکل طرز بیاں کھینچتے ہیں", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "وہ یوں شکل طرز بیاں کھینچتے ہیں\nکہ قائل کی گویا زباں کھینچتے ہیں\n\nیہ تشہیر دیکھو سگ کوئے دلبر\nابھی تک مری ہڈیاں کھینچتے ہیں\n\nکرے گر کوئی ذکر جا کر ہمارا\nوہ تالو سے اس کی زباں کھینچتے ہیں\n\nنہ صدمہ سے کیوں خشک ہو خون بلبل\nگلوں کا عرق باغباں کھینچتے ہیں\n\nبڑھی ہے سفر میں وطن کی محبت\nمکینوں کو کیا کیا مکاں کھینچتے ہیں\n\nکرے کون سودائے زلف مسلسل\nہمیں ہیں جو یہ بیڑیاں کھینچتے ہیں\n\nپس مرگ معراج عاشق کی دیکھو\nلحد کی زمیں آسماں کھینچتے ہیں\n\nنشانہ بنائیں گے تیر نظر کا\nمحبت کے دل پر نشاں کھینچتے ہیں\n\nذرا دم تو لینے دے اے موت مجھ کو\nٹھہر کر نفس ناتواں کھینچتے ہیں\n\nضعیفی میں بھی دل میں ہے یاد ابرو\nکبادہ ہیں خود اور کماں کھینچتے ہیں\n\nمجھے دیکھ کر جب وہ منہ موڑتے ہیں\nتو دل میں چھپا کر سناں کھینچتے ہیں\n\nغضب ہے حسینوں کا طور تکلم\nدلوں کو یہ جادو بیاں کھینچتے ہیں\n\nبڑھا فکر میں رنگ زردی رخ سے\nیہ عطر گل زعفراں کھینچتے ہیں\n\nحبیبؔ اب زمیں آسماں سر پہ لیں گے\nکہ نالے مرے بجلیاں کھینچتے ہیں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%B7%D8%B1%D8%B2_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہ یہ کہتے ہیں زمانے کی تمنا میں ہوں", "poet_page": "مصنف:ہجر ناظم علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہ یہ کہتے ہیں زمانے کی تمنا میں ہوں\nکیا کوئی اور بھی ایسا ہے کہ جیسا میں ہوں\n\nاپنے بیمار محبت کا مداوا نہ ہوا\nاور پھر اس پہ یہ دعویٰ کہ مسیحا میں ہوں\n\nعکس سے اپنے وہ یوں کہتے ہیں آئینہ میں\nآپ اچھے ہیں مگر آپ سے اچھا میں ہوں\n\nکہتے ہیں وصل میں سینے سے لپٹ کر میرے\nسچ کہو دل تمہیں پیارا ہے کہ پیارا میں ہوں\n\nوہ ستاتا ہے الگ چرخ ستم گار الگ\nسیکڑوں دشمن جاں ہیں مرے تنہا میں ہوں\n\nبخت برگشتہ وہ ناراض زمانہ دشمن\nکوئی میرا ہے نہ اے ہجرؔ کسی کا میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "وہاں پہنچ کے یہ کہنا صبا سلام کے بعد", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہاں پہنچ کے یہ کہنا صبا سلام کے بعد\nکہ تیرے نام کی رٹ ہے خدا کے نام کے بعد\n\nوہاں بھی وعدۂ دیدار اس طرح ٹالا\nکہ خاص لوگ طلب ہوں گے بار عام کے بعد\n\nگناہ گار کی سن لو تو صاف صاف یہ ہے\nکہ لطف رحم و کرم کیا پھر انتقام کے بعد\n\nطلب تمام ہو مطلوب کی اگر حد ہو\nلگا ہوا ہے یہاں کوچ ہر مقام کے بعد\n\nوہ خط وہ چہرہ وہ زلف سیاہ تو دیکھو\nکہ شام صبح کے بعد آئے صبح شام کے بعد\n\nپیامبر کو روانہ کیا تو رشک آیا\nنہ ہم کلام ہو اس سے مرے کلام کے بعد\n\nابھی تو دیکھتے ہیں ظرف بادہ خواروں کا\nسبو و خم کی بھی ٹھہرے گی دور جام کے بعد\n\nالٰہی آسیؔ بیتاب کس سے چھوٹا ہے\nکہ خط میں روز قیامت لکھا ہے نام کے بعد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86_%DA%A9%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت\nمیں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت\n\nکسی کے سر پہ کبھی ٹوٹ کر گرا ہی نہیں\nاس آسماں نے ہوا میں قدم جمائے بہت\n\nنہ جانے رت کا تصرف تھا یا نظر کا فریب\nکلی وہی تھی مگر رنگ جھلملائے بہت\n\nہوا کا رخ ہی اچانک بدل گیا ورنہ\nمہک کے قافلے صحرا کی سمت آئے بہت\n\nیہ کائنات ہے میری ہی خاک کا ذرہ\nمیں اپنے دشت سے گزرا تو بھید پائے بہت\n\nجو موتیوں کی طلب نے کبھی اداس کیا\nتو ہم بھی راہ سے کنکر سمیٹ لائے بہت\n\nبس ایک رات ٹھہرنا ہے کیا گلہ کیجے\nمسافروں کو غنیمت ہے یہ سرائے بہت\n\nجمی رہے گی نگاہوں پہ تیرگی دن بھر\nکہ رات خواب میں تارے اتر کے آئے بہت\n\nشکیبؔ کیسی اڑان اب وہ پر ہی ٹوٹ گئے\nکہ زیر دام جب آئے تھے پھڑپھڑائے بہت", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B8%D9%84%D9%85_%DA%88%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA"} {"title": "وہی اصلِ مکان و لامکاں ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "وہی اصلِ مکان و لامکاں ہے\nمکاں کیا شے ہے، اندازِ بیاں ہے\nخِضَر کیونکر بتائے، کیا بتائے\nاگر ماہی کہے دریا کہاں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D8%B5%D9%84%D9%90_%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D9%84%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہی اک پکار وہی فغاں مری مہر دیدہ و لب میں ہے", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہی اک پکار وہی فغاں مری مہر دیدہ و لب میں ہے\nہے کراہ جو شب و روز کی جو فضا کے شور و شغب میں ہے\n\nکبھی دن ڈھلے پہ ہو سامنا کبھی دید آخر شب میں ہے\nہے یہی مآل طلب مرا تو مری عبادت رب میں ہے\n\nکبھی فاصلوں کی مسافتوں پہ عبور ہو تو یہ کہہ سکوں\nمرا جرم حسرت قرب ہے تو یہی کمی یہاں سب میں ہے\n\nسحر ازل کو جو دی گئی وہی آج تک ہے مسافری\nاسے طے کریں تو پتہ چلے کہاں کون کس کی طلب میں ہے\n\nکوئی اور طرز حیات بھی مجھے اب رہین کرم بتا\nکہ ہے بات میری گرفتنی مری چپ بھی سوئے ادب میں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%A7%DA%A9_%D9%BE%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D9%88_%D9%84%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا\nشباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری\nاگر ہو جنگ تو شیرانِ غاب سے بڑھ کر\nاگر ہو صُلح تو رعنا غزالِ تاتاری\nعجب نہیں ہے اگر اس کا سوز ہے ہمہ سوز\nکہ نیستاں کے لیے بس ہے ایک چنگاری\nخدا نے اس کو دیا ہے شکوہِ سُلطانی\nکہ اس کے فقر میں ہے حیدری و کرّاری\nنگاہِ کم سے نہ دیکھ اس کی بے کُلاہی کو\nیہ بے کُلاہ ہے سرمایۂ کُلہ داری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%82%D8%A8%DB%8C%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "وہی جھکی ہوئی بیلیں وہی دریچہ تھا", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہی جھکی ہوئی بیلیں وہی دریچہ تھا\nمگر وہ پھول سا چہرہ نظر نہ آتا تھا\n\nمیں لوٹ آیا ہوں خاموشیوں کے صحرا سے\nوہاں بھی تیری صدا کا غبار پھیلا تھا\n\nشب سفر تھی قبا تیرگی کی پہنے ہوئے\nکہیں کہیں پہ کوئی روشنی کا دھبا تھا\n\nیہ آڑی ترچھی لکیریں بنا گیا ہے کون\nمیں کیا کہوں مرے دل کا ورق تو سادا تھا\n\nمیں خاکداں سے نکل کر بھی کیا ہوا آزاد\nہر اک طرف سے مجھے آسماں نے گھیرا تھا\n\nادھر سے بارہا گزرا مگر خبر نہ ہوئی\nکہ زیر سنگ خنک پانیوں کا چشمہ تھا\n\nوہ اس کا عکس بدن تھا کہ چاندنی کا کنول\nوہ نیلی جھیل تھی یا آسماں کا ٹکڑا تھا\n\nمیں ساحلوں میں اتر کر شکیبؔ کیا لیتا\nازل سے نام مرا پانیوں پہ لکھا تھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%AC%DA%BE%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%DA%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "وہی راتیں آئیں وہی زاریاں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہی راتیں آئیں وہی زاریاں\nوہی پھر سحر تک کی بیداریاں\n\nپری حور انساں کسی میں نہیں\nجو دیکھی ہیں تجھ میں ادا داریاں\n\nمیں کافر ہوں پر دیکھ سکتا نہیں\nکمر سے تری ربط زناریاں\n\nنہ تھے داغ سینے کے اتنے گھنے\nیہ ہیں دست قدرت کی گل کاریاں\n\nہم اک روز جی سے گزر جائیں گے\nرہیں یوں ہی گر نت کی بے زاریاں\n\nبہاریں کہاں ابر گلنار کی\nکہاں میری مژگاں کی خوں باریاں\n\nنہ سجدوں سے حاصل ہوا وصل یار\nمیں کعبے میں بھی ٹکریں ماریاں\n\nمواقیس جس دم تو ثابت ہوئیں\nسوا عشق کے کتنی بیماریاں\n\nتو کیسی بلا میں پھنسا مصحفیؔ\nہوئیں کیا دوانے وہ ہشیاریاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%B2%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "وہی سائل وہی مسؤل وہی حاجت مند", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہی سائل وہی مسؤل وہی حاجت مند\nگر ہو مقرون اجابت تو سوال اچھا ہے\n\nہے تری خوئے کرم تلخ نوائی کا علاج\nعوض سنگ ثمر دے وہ نہال اچھا ہے\n\nجمعۂ آخر ماہ رمضان ہے افضل\nیوں تو جس وقت میں ہو بذل و نوال اچھا ہے\n\nہو گئی مخمصۂ قحط و گرانی میں کمی\nشکر ہے سال گزشتہ سے یہ سال اچھا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%B3%D8%A4%D9%84_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%AD%D8%A7%D8%AC%D8%AA_%D9%85%D9%86%D8%AF"} {"title": "وہی صبح کا دھندھلکا وہی منزلیں وہی شب", "poet_page": "مصنف:ہوش بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہی صبح کا دھندھلکا وہی منزلیں وہی شب\nکوئی کیا سمجھ سکے گا غم زندگی کا مطلب\n\nمری بے قراریاں ہیں مری زندگی کا حاصل\nیہی مسلک محبت یہی اہل دل کا مذہب\n\nمرے غم کی پرسشوں سے انہیں اجتناب کیوں ہے\nوہ سمجھ گئے ہیں شاید مری ہر نظر کا مطلب\n\nغم دل ہے راز ہستی نہ بلندیاں نہ پستی\nیہ حقیقتیں تو سمجھا دل بے خبر مگر کب\n\nنہ مری خزاں مقرر نہ مری بہار قائم\nجو مجھے ملی ہے یہ بھی کوئی زندگی ہے یا رب\n\nمیں حدیث غم سناؤں میں وفا کا ساز چھیڑوں\nجو زباں نہ کھل سکی تو جو کسی نے سی دئے لب\n\nکوئی ہوشؔ کہہ سکا ہے غم دل کبھی زباں سے\nوہ سوال کر رہے ہیں میں کہوں تو کیا کہوں اب", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DA%BE%D9%86%D8%AF%DA%BE%D9%84%DA%A9%D8%A7_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%B4%D8%A8"} {"title": "وہی ضد ان کو ہے وہی ہے ہٹ", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہی ضد ان کو ہے وہی ہے ہٹ\nان کی چاہی نہیں ہے یہ جھنجھٹ\n\nپاؤں کی میرے جو سنی آہٹ\nہوئے داخل مکان میں جھٹ پٹ\n\nشوخ کتنا کیا ہے پیر مغاں\nمغبچے ہو گئے بڑ منہ پھٹ\n\nکوئی پہلو نظر نہیں آتا\nدیکھیے بیٹھے اونٹ کس کروٹ\n\nیاد کرتے نہیں کبھی وہ ہمیں\nنام کی ان کے ہاں لگی ہے رٹ\n\nزیب محفل ہے ماہ رخ میرا\nہر طرف ہے ستاروں کا جھرمٹ\n\nجلوہ گہ میں عجب کرشمہ ہے\nیاد کرتے ہی آ گئے جھٹ پٹ\n\nجلوہ فرما وہ گل ہے گلشن میں\nہر روش پر لگے ہوئے ہیں ٹھٹ\n\nان کو پردے میں بھی حجاب رہا\nہے نمایاں نقاب میں گھونگھٹ\n\nنالۂ دل چراغ روشن ہے\nکوہ آتش فشاں کی ہے یہ لپٹ\n\nبادۂ ناب قسمت اغیار\nساقیؔ زار کو ملے تلچھٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%B6%D8%AF_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%B9"} {"title": "وہی عاشق ہے قاتل کا نہ جو شاکی وہاں ہوگا", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہی عاشق ہے قاتل کا نہ جو شاکی وہاں ہوگا\nجسے دار جزا سمجھے ہیں دار امتحاں ہوگا\n\nجدا سب عالموں سے ایک دن تیرا جہاں ہوگا\nمحبت کی زمیں ہوگی وفا کا آسماں ہوگا\n\nنہ میں دیر و حرم سمجھوں نہ میں عرش و ارم جانوں\nجہاں سجدے کو دل جھک جائے تیرا آستاں ہوگا\n\nامیدیں دل کی وابستہ ہیں میدان قیامت سے\nنہ اس جا یہ زمیں ہوگی نہ واں یہ آسماں ہوگا\n\nچھڑایا جس نے دامن کاش اس کو یہ خبر ہوتی\nکہ عنوان قیامت درد دل کی داستاں ہوگا\n\nوہ جنت ہے جو زاہد کے سفر کی آخری منزل\nاسی میں پہلی منزل پر ہمارا کارواں ہوگا\n\nاسیری میں گری ہیں آہ لاکھوں بجلیاں دل پر\nجہاں بجلی گری سمجھے ہمارا آشیاں ہوگا\n\nفراق جاودانی انتقام وصل جاناں ہے\nمگر صدقے ترے جانے بھی دے اے آسماں ہوگا\n\nفسانہ دہر و گلزار و بہار و گل کا رہنے دے\nاگر کچھ ہے بھی اے بیخودؔ سوائے آشیاں ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%B4%D8%A7%DA%A9%DB%8C_%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "وہی لوگ پھر آنے جانے لگے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہی لوگ پھر آنے جانے لگے\nمرے پاس کیوں آپ آنے لگے\n\nکوئی ایسے سے کیا شکایت کرے\nبگڑ کر جو باتیں بنانے لگے\n\nیہ کیا جذب دل کھینچ لایا انہیں\nمرے خط مجھے پھر کے آنے لگے\n\nابھی تو کہا ہی نہیں میں نے کچھ\nابھی تم جو آنکھیں چرانے لگے\n\nہمارے ہی آگے گلے غیر کے\nہماری ہی طرزیں اڑانے لگے\n\nنہ بن آیا جب ان کو کوئی جواب\nتو منہ پھیر کر مسکرانے لگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%D9%84%D9%88%DA%AF_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "وہی میری نا مرادی وہی گردش زمانہ", "poet_page": "مصنف:ہوش بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہی میری نا مرادی وہی گردش زمانہ\nمری زندگی تصور مری عشرتیں فسانہ\n\nنہ حضوریوں کی خواہش نہ وصال کی تمنا\nمجھے اب بھی ہے تعارف وہی ان سے غائبانہ\n\nجو تجھے خیال ہوتا یہ مرا نہ حال ہوتا\nنہ تری نگاہ بدلی نہ بدل سکا زمانہ\n\nیہ جہاں کی ایک کروٹ یہ خزاں کا ایک دھوکا\nیہ ہوائیں بھیگی بھیگی یہ بہار کا ترانہ\n\nکوئی خواب تھا یہ شاید جو نظر میں پھر رہا ہے\nوہ مری نیاز مندی وہ کسی کا آستانہ\n\nنہ ترا سراغ پایا نہ سکوں کا راز پایا\nمری زندگی تھی گویا غم دل کا اک بہانہ\n\nمری آرزوئے رسوا نہ چھپے گی ہوشؔ مجھ سے\nکہ مری نگاہ میں ہے مرے درد کا فسانہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D9%88%DB%81%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بے نیازی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بےنیازی\nمرے کام کچھ نہ آیا یہ کمالِ نَےنوازی\n\nمیں کہاں ہوں تُو کہاں ہے، یہ مکاں کہ لامکاں ہے؟\nیہ جہاں مرا جہاں ہے کہ تری کرشمہ‌سازی\n\nاسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں\nکبھی سوز و سازِ رومیؔ، کبھی پیچ و تابِ رازیؔ\n\nوہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں\nاُسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسمِ شاہبازی\n\nنہ زباں کوئی غزل کی، نہ زباں سے باخبر میں\nکوئی دِلکُشا صدا ہو، عجَمی ہو یا کہ تازی\n\nنہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا\nیہ سپہ کی تیغ بازی، وہ نگہ کی تیغ بازی\n\nکوئی کارواں سے ٹُوٹا، کوئی بدگماں حرم سے\nکہ امیرِ کارواں میں نہیں خُوئے دل نوازی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D9%85_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8%DB%8C%D8%8C_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%B2%DB%8C"} {"title": "وہی وعدہ ہے وہی آرزو وہی اپنی عمر تمام ہے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہی وعدہ ہے وہی آرزو وہی اپنی عمر تمام ہے\nوہی چشم ہے وہی راہ ہے وہی صبح ہے وہی شام ہے\n\nوہی خستہ حال خراب ہے وہی خواب کشتۂ خواب ہے\nوہی زندگی کو جواب ہے نہ سلام ہے نہ پیام ہے\n\nوہی جوش نالہ و آہ میں وہی شعلہ جان تباہ میں\nوہی برق یاس نگاہ میں جو خیال ہے سو وہ خام ہے\n\nوہی خواب و خور کی تلاش ہے وہی جان و دل میں خراش ہے\nوہی رنج غیر معاش ہے مجھے زندگی بھی حرام ہے\n\nوہی ہجر دشمن وصل ہے وہی مرگ و زیست میں فصل ہے\nوہی اپنے شغل سے شغل ہے وہی اپنے کام سے کام ہے\n\nوہی شق جگر نہ سیو سیو وہی زیست ہے نہ جیو جیو\nوہی خون دل نہ پیو پیو وہی بادہ ہے وہی جام ہے\n\nوہی شوق راہ ہے رہنما وہی جلوہ گاہ ہے رخ کشا\nوہی بزم ناز ہے جا بہ جا وہی ہر قدم پہ مقام ہے\n\nوہی نیم جاں دم واپسیں وہی نالہ کش سخن حزیں\nوہی یاس زیست ہے دل نشیں کہ زباں پہ آپ کا نام ہے\n\nوہی رنج ہے تو یوں ہی سہی وہ قلقؔ ہی تھا کہ یوں ہی نبھی\nمری آپ کو بھی ہے بندگی مرا عشق کو بھی سلام ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہی چتون کی خوں خواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہی چتون کی خوں خواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے\nتری آنکھوں کی بیماری جو آگے تھی سو اب بھی ہے\n\nوہی نشو نمائے سبزہ ہے گور غریباں پر\nہوائے چرخ زنگاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے\n\nتعلق ہے وہی تا حال ان زلفوں کے سودے سے\nسلاسل کی گرفتاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے\n\nوہی سر کا پٹکنا ہے وہی رونا ہے دن بھر کا\nوہی راتوں کی بیداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے\n\nرواج عشق کے آئیں وہی ہیں کشور دل میں\nرہ و رسم وفا جاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے\n\nوہی جی کا جلانا ہے پکانا ہے وہی دل کا\nوہ اس کی گرم بازاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے\n\nنیاز خادمانہ ہے وہی فضل الٰہی سے\nبتوں کی ناز برداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے\n\nفراق یار میں جس طرح سے مرتا تھا مرتا ہوں\nوہ روح و تن کی بے زاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے\n\nوہی سودائے کاکل کا ہے عالم جو کہ سابق تھا\nیہ شب بیمار پر بھاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے\n\nجنوں کی گرم جوشی ہے وہی دیوانوں سے اپنی\nوہی داغوں کی گلکاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے\n\nوہی بازار گرمی ہے محبت کی ہنوز آتشؔ\nوہ یوسف کی خریداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%DA%86%D8%AA%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D9%88_%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہی کارواں وہی قافلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہی کارواں وہی قافلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\nوہی منزلیں اور وہی مرحلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nمتفاعلن متفاعلن متفاعلن متفاعلن\nاسے وزن کہتے ہیں شعر کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nوہی شکر ہے جو سپاس ہے وہ ملول ہے جو اُداس ہے\nجسے شکوہ کہتے ہو گلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nوہی نقص ہے وہی کھوٹ ہے وہی ضرب ہے وہی چوٹ ہے\nوہی سو ہے وہی فائدہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nوہی ہے ندی وہی نہر ہے وہی موج ہے وہی لہر ہے\nیہ حباب ہے وہی بُلبلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nوہی کذب ہے وہی جھوٹ ہے وہی جرعہ ہے وہی گھونٹ ہے\nوہی جوش ہے وہی ولولہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nوہی ساتھی ہے جو رفیق ہے وہی یار ہے جو صَدِیق ہے\nوہی مہر ہے وہی مامتا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nجسے بھید کہتے ہو راز ہے جسے باجا کہتے ہو ساز ہے\nجسے تان کہتے ہو ہے نوا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nجو مراد ہے وہی مدعا وہی متّقی وہی پارسا\nجو پھنسے بلا میں وہ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nجو کہا ہے میں نے مقول ہے جو نمونہ ہے وہ مثال ہے\nمری سرگزشت ہے ماجرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔\n\nجو چنانچہ ہے وہی جیسا ہے جو چگونہ ہے وہی کیسا ہے\nجو چناں چیں ہے سو ہکذا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو\n\nوہی خوار ہے جو ذلیل ہے وہی دوست ہے جو خلیل ہے\nبدو نیک کیا ہے برا بھلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D9%82%D8%A7%D9%81%D9%84%DB%81_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D9%88"} {"title": "وہی گل ہے گلستاں میں وہی ہے شمع محفل میں", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہی گل ہے گلستاں میں وہی ہے شمع محفل میں\nوہی یوسف ہے زنداں میں وہی لیلیٰ ہے محمل میں\n\nہزاروں بن گئی ہیں کشتگان خال کی قبریں\nجگہ تل بھر نہیں باقی زمین کوئے قاتل میں\n\nنہیں روشن دلوں کی قدر کچھ ارباب ظاہر کو\nاجازت بیٹھنے کی شمع کو دی کس نے محفل میں\n\nیہ عالم نور کا ہے جلوۂ داغ محبت سے\nنہیں کچھ فرق میرے دل میں اور خورشید منزل میں\n\nسیاہی خون سودا کی یہ وقت قتل کام آئی\nلگایا سرمہ چشم جوہر شمشیر قاتل میں\n\nیہ کس زہرہ جبیں کی انجمن میں آمد آمد ہے\nبچھایا ہے قمر نے چاندنی کا فرش محفل میں\n\nنظر آتا نہیں مانند ابرو ایک ماہ نو\nمہینوں رہتی ہیں وہ حسرتیں مد مقابل میں\n\nنہ ہو منکر نہ ہو منکر خدا وہ ہے خدا وہ ہے\nرجوع قلب ہو جاتے ہے جس کی سمت مشکل میں\n\nنہیں جوہر لیے ہیں بسکہ شوق قتل میں بوسے\nہمارے نقش دنداں ہیں لب شمشیر قاتل میں\n\nوہ آوارہ ہوں میں ہے ختم مجھ پر تیز رفتاری\nکہ ہیں مقراض دونوں پاؤں میرے قطع‌‌ منزل میں\n\nتمہارے گیسوئے پیچاں کی جب تعریف لکھتا ہوں\nقلم پابند ہو جاتا ہے مصرعوں کی سلاسل میں\n\nفلک پر جائے عیسیٰ ہے گیا زیر زمیں قاروں\nزمین و آسماں کا فرق پایا حق و باطل میں\n\nبشر تنہا نہیں دیوانے اس شمشاد‌ قامت کے\nشجر جکڑے ہوئے ہیں عشق پیچی کی سلاسل میں\n\nمٹا حرف محبت آپ کے عارض پہ خط نکلا\nہمارا نام اب لکھیے تو لکھیے فرد باطل میں\n\nامید‌ معدلت اس شاہ سے ہے مجھ کو اے ناظمؔ\nہوئی جس کی ولادت بھی زمان شاہ عادل میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%DA%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "وہی ہوتا ہے جو محبوب کو منظور ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہی ہوتا ہے جو محبوب کو منظور ہوتا ہے\nمحبت کرنے والا ہر طرح مجبور ہوتا ہے\n\nجہاں جاتے ہیں ہم اس کی گلی سے ہو کے جاتے ہیں\nاگرچہ راستہ اس راستے سے دور ہوتا ہے\n\nنہیں رکتے گھڑی بھر طالب دیدار کے آنسو\nیہ ظالم شوق گویا آنکھ کا ناسور ہوتا ہے\n\nکوئی مجنوں کی عزت عشق کی سرکار میں دیکھے\nبڑی خدمت پہ ایسا آدمی مامور ہوتا ہے\n\nحسینوں کا تنزل بھی نہیں ہے شان سے خالی\nبڑھاپے میں بھی ان لوگوں کے منہ پہ نور ہوتا ہے\n\nوہ ایسی خندہ پیشانی سے ہر معروضہ سنتے ہیں\nیہ سمجھے عرض کرنے والا اب منظور ہوتا ہے\n\nتجھے مشہور ہونا ہو تو عاشق کی برائی کر\nبرائی سے بہت جلد آدمی مشہور ہوتا ہے\n\nہمارے گھر وہ آ کر تھک گئے ہاں کیوں نہ تھک جاتے\nنیا رستہ جو ہو نزدیک بھی تو دور ہوتا ہے\n\nجو تم وابستۂ دامن کو سمجھے داغ بدنامی\nتو اب کیا دور کر سکتے ہو اب یہ دور ہوتا ہے\n\nبڑا احسان ہوگا میرے دل کا خون کر ڈالو\nیہی مجبور کرتا ہے یہی مجبور ہوتا ہے\n\nمجھے تم جانتے ہو عقل سے معذور ہاں بے شک\nمحبت کرنے والا عقل سے معذور ہوتا ہے\n\nحسین ہر ایک ہو سکتا نہیں بے شک صفیؔ بے شک\nوہی ہوتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "وہیں تھے شاخ گل پر گل جہاں جمع", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہیں تھے شاخ گل پر گل جہاں جمع\nکیے بلبل نے خار آشیاں جمع\n\nلگا دیتا ہے ان کو چن کے آتش\nہما کر کے ہمارے استخواں جمع\n\nچمن میں کس کے آنے کی خبر ہے\nکرے ہے پھول چن چن باغباں جمع\n\nہے صحبت کا پریشانوں کے یہ رنگ\nہوا سے ہوویں جو برگ خزاں جمع\n\nسفر کی مجھ سے کیا کہتے ہو جاؤ\nکروں کیا گر ہوا ہے کارواں جمع\n\nابھی موے پریشاں سے کسی کے\nمری خاطر نہیں اے دوستاں جمع\n\nفلک نے سنگ پھینکا تفرقے کا\nہوئے دو چار صاحب دل جہاں جمع\n\nنہ خرچ مصحفیؔ کی پوچھو اس سے\nتوکل کا ہے مال بے کراں جمع", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%B4%D8%A7%D8%AE_%DA%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%DA%AF%D9%84_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D9%85%D8%B9"} {"title": "وہیں سے جب کہ اشارہ ہو خود نمائی کا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وہیں سے جب کہ اشارہ ہو خود نمائی کا\nعجب کہ بندہ نہ دعویٰ کرے خدائی کا\n\nملے جو رتبہ ترے در کی جبہہ‌ سائی کا\nتو ایک سلسلہ ہو شاہی‌ و گدائی کا\n\nنہیں ہے فیض میں خست ولیک پیدا ہے\nتفاوت آئنہ و‌‌ سنگ میں صفائی کا\n\nیہاں جو عشق ہے بیتاب جلوۂ دیدار\nوہاں بھی حسن محرک ہے خود نمائی کا\n\nبتوں کے سامنے بت گر گھسے جبین نیاز\nمیں شیفتہ ہوں تری شان کبریائی کا\n\nنہ کر کسی کی برائی نہ بن بھلے سے برا\nبھلا بھلا ہے برا کام ہے برائی کا\n\nبنائیں بگڑی ہوئی کو تو ایک بات بھی ہے\nبگاڑنا نہیں مشکل بنی بنائی کا\n\nاٹھا حجاب تو بس دین و دل دئے ہی بنی\nجناب شیخ کو دعویٰ تھا پارسائی کا\n\nتمہارے دل سے کدورت مٹائے تو جانیں\nکھلا ہے شہر میں اک محکمہ صفائی کا\n\nہوس ہے گر سر و ساماں کے جمع کرنے کی\nتلاش کر سر و سامان بے نوائی کا\n\nسوائے عشق نہیں کوئی رہبر چالاک\nوہاں خرد کو نہیں حوصلہ رسائی کا\n\nاسی کا وصف ہے مقصود شعر خوانی سے\nاسی کا ذکر ہے منشا غزل سرائی کا\n\nنہیں ہے اب کے زمانہ کی یہ روش زنہار\nمیں یادگار ہوں ؔخاقانیؔ و سنائی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "وید", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "فیض قدرت سے جو تقدیر کھلی عالم کی\nساحل ہند پہ وحدت کی تجلی چمکی\n\nمٹ گئی جہل کی شب صبح کا تارہ چمکا\nآریہ ورت کی قسمت کا ستارا چمکا\n\nاہل دل پر ہوئی کیفیت عرفاں طاری\nجن سے دنیا میں ہوئیں دین کی نہریں جاری\n\nتھیں کھلی جلوہ گہ خاص میں راہیں ان کی\nواقف راز حقیقت تھیں نگاہیں ان کی\n\nعرش سے ان کے لیے نور خدا آیا تھا\nبندۂ خاص تھے رشیوں کا لقب پایا تھا\n\nوید ان کے دل حق کیش کی تصویریں ہیں\nجلوۂ قدرت معبود کی تفسیریں ہیں\n\nعین کثرت میں یہ وحدت کا سبق وید میں ہے\nایک ہی نور ہے جو ذرہ و خورشید میں ہے\n\nجس سے انسان میں ہے جوش جوانی پیدا\nاسی جوہر سے ہے موجوں میں روانی پیدا\n\nرنگ گلشن میں فضا دامن کہسار میں ہے\nخوں رگ گل میں ہے نشتر کی خلش خار میں ہے\n\nتمکنت حسن میں ہے جوش ہے دیوانے میں\nروشنی شمع میں ہے نور ہے پروانے میں\n\nرنگ و بو ہو کے سمایا وہی گلزاروں میں\nابر بن کر وہی برسا کیا کہساروں میں\n\nشوق ہو کر دل مجذوب پہ چھایا ہے وہی\nدرد بن کر دل شاعر میں سمایا ہے وہی\n\nنور ایماں سے جو پیدا ہو صفا سینے میں\nعکس اس کا نظر آتا ہے اس آئینے میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%8C%D8%AF"} {"title": "ویسا کہاں ہے ہم سے جیسا کہ آگے تھا تو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ویسا کہاں ہے ہم سے جیسا کہ آگے تھا تو\nاوروں سے مل کے پیارے کچھ اور ہو گیا تو\n\nچالیں تمام بے ڈھب باتیں فریب ہیں سب\nحاصل کہ اے شکر لب اب وہ نہیں رہا تو\n\nجاتے نہیں اٹھائے یہ شور ہر سحر کے\nیا اب چمن میں بلبل ہم ہی رہیں گے یا تو\n\nآ ابر ایک دو دم آپس میں رکھیں صحبت\nکڑھنے کو ہوں میں آندھی رونے کو ہے بلا تو\n\nتقریب پر بھی تو تو پہلو تہی کرے ہے\nدس بار عید آئی کب کب گلے ملا تو\n\nتیرے دہن سے اس کو نسبت ہو کچھ تو کہیے\nگل گو کرے ہے دعویٰ خاطر میں کچھ نہ لا تو\n\nدل کیونکے راست آوے دعواے آشنائی\nدریائے حسن وہ مہ کشتی بکف گدا تو\n\nہر فرد یاس ابھی سے دفتر ہے تجھ گلے کا\nہے قہر جب کہ ہوگا حرفوں سے آشنا تو\n\nعالم ہے شوق کشتۂ خلقت ہے تیری رفتہ\nجانوں کی آرزو تو آنکھوں کا مدعا تو\n\nمنہ کریے جس طرف کو سو ہی تری طرف ہے\nپر کچھ نہیں ہے پیدا کیدھر ہے اے خدا تو\n\nآتی بہ خود نہیں ہے باد بہار اب تک\nدو گام تھا چمن میں ٹک ناز سے چلا تو\n\nکم میری اور آنا کم آنکھ کا ملانا\nکرنے سے یہ ادائیں ہے مدعا کہ جا تو\n\nگفت و شنود اکثر میرے ترے رہے ہے\nظالم معاف رکھیو میرا کہا سنا تو\n\nکہہ سانجھ کے موئے کو اے میرؔ روئیں کب تک\nجیسے چراغ مفلس اک دم میں جل بجھا تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%88"} {"title": "وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں\nاب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں\n\nآیا تھا کیوں عدم میں کیا کر چلا جہاں میں\nیہ مرگ و زیست تجھ بن آپس میں ہنستیاں ہیں\n\nکیونکر نہ ہو مشبک شیشہ سا دل ہمارا\nاس شوخ کی نگاہیں پتھر میں دھنستیاں ہیں\n\nبرسات کا تو موسم کب کا نکل گیا پر\nمژگاں کی یہ گھٹائیں اب تک برستیاں ہیں\n\nلیتے ہیں چھین کر دل عاشق کا پل میں دیکھو\nخوباں کی عاشقوں پر کیا پیش دستیاں ہیں\n\nاس واسطے کہ ہیں یہ وحشی نکل نہ جاویں\nآنکھوں کو میری مژگاں ڈوروں سے کستیاں ہیں\n\nقیمت میں ان کے گو ہم دو جگ کو دے چکے اب\nاس یار کی نگاہیں تس پر بھی سستیاں ہیں\n\nان نے کہا یہ مجھ سے اب چھوڑ دخت رز کو\nپیری میں اے دوانے یہ کون مستیاں ہیں\n\nجب میں کہا یہ اس سے سوداؔ سے اپنے مل کے\nاس سال تو ہے ساقی اور مے پرستیاں ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%88%DB%92_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D8%B3_%D9%85%D9%84%DA%A9_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ٹانکوں سے زخم پہلو لگتا ہے کنکھجورا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ٹانکوں سے زخم پہلو لگتا ہے کنکھجورا\nمت چھیڑ میرے دل کو بیٹھا ہے کنکھجورا\n\nچمپا کلی اس کی کیوں کر خیال چھوٹے\nبے وجہ دل سے آ کر لپٹا ہے کنکھجورا\n\nوہ جنبش نگہ کیوں مارے نہ ڈنک ہر دم\nتحریر سرمہ گویا کالا ہے کنکھجورا\n\nزیب گلو ہے کنٹھی یاقوت کی ہے گھنڈی\nاے شوخ یہ گریباں تیرا ہے کنکھجورا\n\nرہتا ہے کیا تصور دن رات مجھ کو اس کا\nآنکھوں میں لال سر کا پھرتا ہے کنکھجورا\n\nطفلی میں کھیل سیکھے مجھ پر جو اب بنا کر\nتنکوں سے سینگرے کے پھینکا ہے کنکھجورا\n\nخط سیاہ درپئے ہے زلف کے نصیرؔ اب\nبچھو کا چھیننے گھر نکلا ہے کنکھجورا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%D8%A7%D9%86%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%84%DA%AF%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%86%DA%A9%DA%BE%D8%AC%D9%88%D8%B1%D8%A7"} {"title": "ٹوبہ ٹیک سنگھ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": null, "year": "1955", "text_ur": "بٹوارے کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کی طرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہیے یعنی جو مسلمان پاگل، ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انھیں پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو اور سکھ، پاکستان کے پاگل خانوں میں ہیں انھیں ہندوستان کے حوالے کردیا جائے۔\n\nمعلوم نہیں یہ بات معقول تھی یا غیر معقول، بہر حال دانش مندوں کے فیصلے کے مطابق ادھر ادھر اونچی سطح کی کانفرنسیں ہوئیں اور بالآخر ایک دن پاگلوں کے تبادلے کے لیے مقرر ہوگیا۔ اچھی طرح چھان بین کی گئی۔ وہ مسلمان پاگل جن کے لواحقین ہندوستان ہی میں تھے، وہیں رہنے دیے گئے تھے۔ جو باقی تھے، ان کو سرحد پر روانہ کردیا گیا۔ یہاں پاکستان میں چونکہ قریب قریب تمام ہندو، سکھ جا چکے تھے اسی لیے کسی کو رکھنے رکھانے کا سوال ہی نہ پیدا ہوا۔ جتنے ہندو، سکھ پاگل تھے سب کے سب پولیس کی حفاظت میں بارڈر پر پہنچا دیے گئے۔\n\nادھر کا معلوم نہیں، لیکن ادھر لاہور کے پاگل خانے میں جب اس تبادلے کی خبر پہنچی تو بڑی دلچسپ چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ ایک مسلمان پاگل جو بارہ برس سے ہر روز باقاعدگی کے ساتھ ’زمیندار‘ پڑھتا تھا، اس سے جب اس کے ایک دوست نے پوچھا، ’’مولبی ساب! یہ پاکستان کیا ہوتا ہے؟‘‘ تو اس نے بڑے غور و فکر کے بعد جواب دیا، ’’ہندوستان میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں استرے بنتے ہیں۔‘‘ یہ جواب سن کر اس کا دوست مطمئن ہوگیا۔\n\nاسی طرح ایک سکھ پاگل نے ایک دوسرے سکھ پاگل سے پوچھا، ’’سردار جی ہمیں ہندوستان کیوں بھیجا رہا ہے۔۔۔ ہمیں تو وہاں کی بولی نہیں آتی۔‘‘\n\nدوسرا مسکرایا، ’’مجھے تو ہندوستوڑوں کی بولی آتی ہے۔۔۔ ہندوستانی بڑے شیطانی، اکڑ اکڑ پھرتے ہیں۔‘‘\n\nایک دن نہاتے نہاتے ایک مسلمان پاگل نے’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ اس زور سے بلند کیا کہ فرش پر پھسل کر گرا اور بے ہوش ہوگیا۔\n\nبعض پاگل ایسے بھی تھے جو پاگل نہیں تھے۔ ان میں اکثریت ایسے قاتلوں کی تھی جن کے رشتہ داروں نے افسروں کو دے دلا کر، پاگل خانے بھجوا دیا تھا کہ پھانسی کے پھندے سے بچ جائیں۔ یہ کچھ کچھ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کیوں تقسیم ہوا ہے اور یہ پاکستان کیا ہے۔ لیکن صحیح واقعات سے وہ بھی خبر تھے۔ اخباروں سے کچھ پتا نہیں چلتا تھا اور پہرہ دار سپاہی ان پڑھ اور جاہل تھے۔ ان کی گفتگوؤں سے بھی وہ کوئی نتیجہ برآمد نہیں کرسکتے تھے۔ ان کو صرف اتنا معلوم تھا کہ ایک آدمی محمد علی جناح ہے جس کو قائداعظم کہتے ہیں۔ اس نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ملک بنایا ہے جس کا نام پاکستان ہے۔۔۔ یہ کہاں ہے، اس کا محل وقوع کیا ہے، اس کے متعلق وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاگل خانے میں وہ سب پاگل جن کا دماغ پوری طرح ماؤف نہیں ہوا تھا، اس مخصمے میں گرفتار تھے کہ وہ پاکستان میں ہیں یا ہندوستان میں۔۔۔ اگرہندوستان میں ہیں تو پاکستان کہاں ہے! اگر وہ پاکستان میں ہیں تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ عرصے پہلے یہیں رہتے ہوئے بھی ہندوستان میں تھے!\n\nایک پاگل تو پاکستان اور ہندوستان، اور ہندوستان اور پاکستان کے چکر میں کچھ ایسا گرفتار ہوا کہ اور زیادہ پاگل ہوگیا۔ جھاڑو دیتے ایک دن درخت پر چڑھ گیا اور ٹہنی پر بیٹھ کر دو گھنٹے مسلسل تقریر کرتا رہا جو پاکستان اور ہندوستان کے نازک مسئلے پر تھی۔ سپاہیوں نے اسے نیچے اترنے کو کہا تووہ اور اوپر چڑھ گیا۔ ڈرایا دھمکایا گیا تو اس نے کہا، ’’میں ہندوستان میں رہنا چاہتا ہوں نہ پاکستان میں۔۔۔ میں اس درخت پر ہی رہوں گا۔‘‘\n\nبڑی مشکلوں کے بعد جب اس کا دورہ سرد پڑا تو وہ نیچے اترا اور اپنے ہندو سکھ دوستوں سے گلے مل مل کر رونے لگا۔ اس خیال سے اس کا دل بھر آیا تھا کہ وہ اسے چھوڑکر ہندوستان چلے جائیں گے۔\n\nایک ایم۔ ایس۔ سی۔ پاس ریڈیو انجنیئر میں، جو مسلمان تھا اور دوسرے پاگلوں سے بالکل الگ تھلگ، باغ کی ایک خاص روش پر، سارا دن خاموش ٹہلتا رہتا تھا، یہ تبدیلی نمودار ہوئی کہ اس نے تمام کپڑے اتار کر دفعدار کے حوالے کردیے اور ننگ دھڑنگ سارے باغ میں چلنا پھرنا شروع کردیا۔\n\nچنیوٹ کے ایک موٹے مسلمان پاگل نے جو مسلم لیگ کا سرگرم کارکن رہ چکا تھا اور دن میں پندرہ سولہ مرتبہ نہایا کرتا تھا، یک لخت یہ عادت ترک کردی۔ اس کا نام محمد علی تھا۔ چنانچہ اس نے ایک دن اپنے جنگلے میں اعلان کردیا کہ وہ قائداعظم محمد علی جناح ہے۔ اس کی دیکھا دیکھی ایک سکھ پاگل ماسٹر تارا سنگھ بن گیا۔ قریب تھا کہ اس جنگلے میں خون خرابہ ہو جائے مگر دونوں کو خطرناک پاگل قرار دے کر علیحدہ علیحدہ بند کردیا گیا۔\n\nلاہور کا ایک نوجوان ہندو وکیل تھا جو محبت میں ناکام ہو کر پاگل ہوگیا تھا۔ جب اس نے سنا کہ امرتسر ہندوستان میں چلا گیا ہے تو اسے بہت دکھ ہوا۔ اسی شہر کی ایک ہندو لڑکی سے اسے محبت ہوئی تھی۔ گو اس نے اس وکیل کو ٹھکرا دیا تھا، مگر دیوانگی کی حالت میں بھی وہ اس کو نہیں بھولا تھا۔ چنانچہ وہ ان تمام ہندو اور مسلم لیڈروں کو گالیاں دیتا تھا جنہوں نے مل ملا کر ہندوستان کے دو ٹکڑے کردیے۔۔۔ اس کی محبوبہ ہندوستانی بن گئی اور وہ پاکستانی۔\n\nجب تبادلے کی بات شروع ہوئی تو وکیل کو کئی پاگلوں نے سمجھایا کہ وہ دل برا نہ کرے، اس کوہندوستان بھیج دیا جائے گا۔ اس ہندوستان میں جہاں اس کی محبوبہ رہتی ہے۔ مگر وہ لاہور چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اس لیے کہ اس کا خیال تھا کہ امرتسر میں اس کی پریکٹس نہیں چلے گی۔\n\nیورپین وارڈ میں اینگلو انڈین پاگل تھے۔ ان کو جب معلوم ہوا کہ ہندوستان کو آزاد کرکے انگریز چلے گئے ہیں تو ان کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ چھپ چھپ کر گھنٹوں آپس میں اس اہم مسئلے پر گفتگو کرتے رہتے کہ پاگل خانے میں اب ان کی حیثیت کس قسم کی ہوگی۔ یورپین وارڈ رہے گا یا اڑا دیا جائے گا۔ بریک فاسٹ ملا کرے گا یا نہیں۔ کیا انھیں ڈبل روٹی کے بجائے بلڈی انڈین چپاتی تو زہر مار نہیں کرنا پڑے گی۔\n\nایک سکھ تھا جس کو پاگل خانے میں داخل ہوئے پندرہ برس ہو چکے تھے۔ ہر وقت اس کی زبان سے یہ عجیب وغریب الفاظ سننے میں آتے تھے۔ ’’اوپڑدی گڑگڑدی انیکس دی بے دھیانادی منگ دی دال اف دی لالٹین۔‘‘ دن کو سوتا تھا نہ رات کو۔ پہریداروں کا یہ کہنا تھا کہ پندرہ برس کے طویل عرصے میں وہ ایک لحظے کے لیے بھی نہیں سویا۔ لیٹا بھی نہیں تھا۔ البتہ کبھی کبھی کسی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لیتا تھا۔\n\nہر وقت کھڑا رہنے سے اس کے پاؤں سوج گئے تھے۔ پنڈلیاں بھی پھول گئی تھیں، مگر اس جسمانی تکلیف کے باوجود لیٹ کر آرام نہیں کرتا تھا۔ ہندوستان، پاکستان اور پاگلوں کے تبادلے کے متعلق جب کبھی پاگل خانے میں گفتگو ہوتی تھی وہ غور سے سنتا تھا۔ کوئی اس سے پوچھتا تھا کہ اس کا کیا خیال ہے تو وہ بڑی سنجیدگی سے جواب دیتا، ’’اوپڑدی گڑ گڑ دی انیکس دی بے دھیانا دی منگ دی وال آف دی پاکستان گورنمنٹ۔‘‘\n\nلیکن بعد میں ’’آف دی پاکستان گورنمنٹ‘‘ کی جگہ ’’آف دی ٹوبہ ٹیک سنگھ گورنمنٹ‘‘ نے لے لی اور اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے جہاں کا وہ رہنے والا ہے۔ لیکن کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں۔ جو بتانے کی کوشش کرتے تھے، خود اس الجھاؤ میں گرفتار ہو جاتے تھے کہ سیالکوٹ پہلے ہندوستان میں ہوتا تھا پر اب سنا ہے کہ پاکستان میں ہے، کیا پتہ ہے کہ لاہور جو اب پاکستان میں ہے کل ہندوستان میں چلا جائے۔ یا سارا ہندوستان ہی پاکستان بن جائے اور یہ بھی کون سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کسی دن سرے سے غائب ہی ہو جائیں۔\n\nاس سکھ پاگل کے کیس چھدرے ہو کر بہت مختصر رہ گئے تھے۔ چونکہ بہت کم نہاتا تھا، اس لیے داڑھی اور سر کے بال آپس میں جم گئے تھے، جس کے باعث اس کی شکل بڑی بھیانک ہوگئی تھی۔ مگر آدمی بے ضرر تھا۔ پندرہ برسوں میں اس نے کبھی کسی سے جھگڑا فساد نہیں کیا تھا۔ پاگل خانے کے جو پرانے ملازم تھے، وہ اس کے متعلق جانتے تھے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اس کی کئی زمینیں تھیں۔ اچھا کھاتا پیتا زمیندار تھا کہ اچانک دماغ الٹ گیا۔\n\nاس کے رشتہ دار لوہے کی موٹی موٹی زنجیروں میں اسے باندھ کر لا ئے اور پاگل خانے میں داخل کرا گئے۔ مہینے میں ایک بارملاقات کے لیے یہ لوگ آتے تھے اور اس کی خیر خیریت دریافت کرکے چلے جاتے تھے۔ ایک مدت تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پر جب پاکستان، ہندوستان کی گڑبڑ شروع ہوئی تو ان کا آنا بند ہوگیا۔\n\nاس کا نام بشن سنگھ تھا مگر اسے ٹوبہ ٹیک سنگھ کہتے تھے۔ اس کو یہ قطعاً معلوم نہیں تھا کہ دن کون سا ہے، مہینہ کون سا ہے یا کتنے سال بیت چکے ہیں۔ لیکن ہر مہینے جب اس کے عزیز و اقارب اس سے ملنے کے لیے آتے تھے تو اسے اپنے آپ پتہ چل جاتا تھا۔ چنانچہ وہ دفعدار سے کہتا کہ اس کی ملاقات آرہی ہے۔ اس دن وہ اچھی طرح نہاتا، بدن پر خوب صابن گھستا اور سر میں تیل لگا کر کنگھا کرتا، اپنے کپڑے جو وہ کبھی استعمال نہیں کرتا تھا، نکلوا کے پہنتا اور یوں سج کر ملنے والوں کے پاس جاتا۔ وہ اس سے کچھ پوچھتے تو وہ خاموش رہتا یا کبھی کبھار ’’اوپر دی گڑگڑ دی انیکس دی بے دھیانا دی منگ دی وال آف دی لالٹین‘‘ کہہ دیتا۔\n\nاس کی ایک لڑکی تھی جوہر مہینے ایک انگلی بڑھتی بڑھتی پندرہ برسوں میں جوان ہوگئی تھی۔بشن سنگھ اس کو پہچانتا ہی نہیں تھا۔ وہ بچی تھی جب بھی اپنے باپ کو دیکھ کر روتی تھی، جوان ہوئی تب بھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے۔\n\nپاکستان اور ہندوستان کا قصہ شروع ہوا تو اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔ جب اطمینان بخش جواب نہ ملا تو اس کی کرید دن بدن بڑھتی گئی۔ اب ملاقات بھی نہیں آتی تھی۔ پہلے تو اسے اپنے آپ پتہ چل جاتا تھا کہ ملنے والے آرہے ہیں، پر اب جیسے اس کے دل کی آواز بھی بند ہوگئی تھی جو اسے ان کی آمد کی خبر دے دیا کرتی تھی۔\n\nاس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ لوگ آئیں جو اس سے ہمدردی کا اظہار کرتے تھے اور اس کے لیے پھل، مٹھائیاں اور کپڑے لاتے تھے۔ وہ اگر ان سے پوچھتا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ تو وہ اسے یقیناً بتا دیتے کہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ہی سے آتے ہیں، جہاں اس کی زمینیں ہیں۔\n\nپاگل خانے میں ایک پاگل ایسا بھی تھا جو خود کو خدا کہتا تھا۔ اس سے جب ایک روز بشن سنگھ نے پوچھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں تو اس نے حسب عادت قہقہہ لگایا اور کہا، ’’وہ پاکستان میں ہے نہ ہندوستان میں۔ اس لیے کہ ہم نے ابھی تک حکم نہیں دیا۔‘‘\n\nبشن سنگھ نے اس خدا سے کئی مرتبہ منت سماجت سے کہا کہ وہ حکم دیدے تاکہ جھنجھٹ ختم ہو، مگر وہ بہت مصروف تھا اس لیے کہ اسے اور بے شمار حکم دینے تھے۔ ایک دن تنگ آکر وہ اس پر برس پڑا، ’’اوپڑ دی گڑ گڑ دی انیکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف واہے گوروجی دا خالصہ اینڈ واہے گوروجی کی فتح۔۔۔ جو بولے سونہال، ست سری اکال۔‘‘\n\nاس کا شاید یہ مطلب تھا کہ تم مسلمان کے خدا ہو۔۔۔ سکھوں کے خدا ہوتے تو ضرور میری سنتے۔\n\nتبادلے سے کچھ دن پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ایک مسلمان جو اس کا دوست تھا، ملاقات کے لیے آیا۔ پہلے وہ کبھی نہیں آیا تھا۔ جب بشن سنگھ نے اسے دیکھا تو ایک طرف ہٹ گیا اور واپس جانے لگا، مگر سپاہیوں نے اسے روکا، ’’یہ تم سے ملنے آیا ہے۔۔۔ تمہارا دوست فضل دین ہے۔‘‘\n\nبشن سنگھ نے فضل دین کو ایک نظر دیکھا اور کچھ بڑبڑانے لگا۔ فضل دین نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، ’’میں بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ تم سے ملوں لیکن فرصت ہی نہ ملی۔۔۔ تمہارے سب آدمی خیریت سے ہندوستان چلے گئے۔۔۔ مجھ سے جتنی مدد ہوسکی، میں نے کی۔۔۔ تمہاری بیٹی روپ کور۔۔۔ ‘‘وہ کچھ کہتے کہتے روک گیا۔ بشن سنگھ کچھ یاد کرنے لگا۔ ’’بیٹی روپ کور!‘‘ فضل دین نے رک رک کر کہا، ’’ہاں۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔۔۔ ان کے ساتھ ہی چلی گئی۔‘‘\n\nبشن سنگھ خاموش رہا۔ فضل دین نے کہنا شروع کیا، ’’انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہاری خیر خیریت پوچھتا رہوں۔۔۔ اب میں نے سنا ہے کہ تم ہندوستان جارہے ہو۔۔۔ بھائی بلبیر سنگھ اور بھائی ودھاوا سنگھ سے میرا سلام کہنا۔۔۔ اور بہن امرت کور سے بھی۔۔۔ بھائی بلبیر سے کہنا فضل دین راضی خوشی ہے۔۔۔ دو بھوری بھینسیں جو وہ چھوڑ گئے تھے، ان میں سے ایک نے کٹا دیا ہے۔۔۔ اور دوسری کے کٹی ہوئی تھی پر وہ چھ دن کی ہو کے مر گئی۔۔۔ اور۔۔۔میرے لائق جو خدمت ہو کہنا، میں ہر وقت تیار ہوں۔۔۔ اور یہ تمہارے لیے تھوڑے سے مرونڈے لایا ہوں۔‘‘\n\nبشن سنگھ نے مرونڈوں کی پوٹلی لے کر پاس کھڑے سپاہی کے حوالے کردی اور فضل دین سے پوچھا، ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟‘‘ فضل دین نے قدرے حیرت سے کہا، ’’کہاں ہے۔۔۔وہیں ہے جہاں تھا۔‘‘ بشن سنگھ نے پھر پوچھا، ’’پاکستان میں یا ہندوستان میں؟‘‘\n\n’’ہندوستان میں۔۔۔نہیں نہیں، پاکستان میں۔‘‘ فضل دین بوکھلا سا گیا۔\n\nبشن سنگھ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔’’اوپڑ دی گڑ گڑ دی انیکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی درفٹے منہ۔‘‘\n\nتبادلے کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آنے والے پاگلوں کی فہرستیں پہنچ گئی تھیں اور تبادلے کا دن بھی مقرر ہو چکا تھا۔ سخت سردیاں تھیں، جب لاہور کے پاگل خانے سے ہندو، سکھ پاگلوں سے بھری ہوئی لاریاں پولیس کے محافظ د ستے کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ متعلقہ افسر بھی ہمراہ تھے۔ واہگہ کے بارڈر پر طرفین کے سپرنٹنڈنٹ ایک دوسرے سے ملے اور ابتدائی کاروائی ختم ہونے کے بعد تبادلہ شروع ہو گیا جو رات بھر جاری رہا۔\n\nپاگلوں کو لاریوں سے نکالنا اور ان کو دوسرے افسروں کے حوالے کرنا بڑا کٹھن کام تھا۔ بعض تو باہر نکلتے ہی نہیں تھے۔ جو نکلنے پررضا مند ہوئے تھے، ان کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا کیوں کہ ادھر ادھر بھاگ اٹھتے تھے، جو ننگے تھے، ان کو کپڑے پہنائے جاتے وہ پھاڑ کر اپنے تن سے جدا کر دیتے۔ کوئی گالیاں بک رہا ہے۔ کوئی گا رہا ہے۔ آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ رو رہے ہیں، بلک رہے ہیں۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ پاگل عورتوں کا شور و غوغا الگ تھا اور سردی اتنی کڑاکے کی تھی کہ دانت سے دانت بج رہے تھے۔\n\nپاگلوں کی اکثریت اس تبادلے کے حق میں نہیں تھی، اس لیے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ انھیں اپنی جگہ سے اکھاڑ کر کہاں پھینکا جارہا ہے۔ وہ چند جو کچھ سوچ سمجھ سکتے تھے۔’پاکستان زندہ باد‘ اور ’پاکستان مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ دو تین مرتبہ فساد ہوتے ہوتے بچا کیوں کہ بعض مسلمانوں اور سکھوں کو یہ نعرہ سن کر طیش آگیا تھا۔\n\nجب بشن سنگھ کی باری آئی اور واہگہ کے اس پار متعلقہ افسر اس کا نام رجسٹر میں درج کرنے لگا تو اس نے پوچھا، ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔۔۔ پاکستان میں یا ہندوستان میں؟‘‘\n\nمتعلقہ افسر ہنسا، ’’پاکستان میں۔‘‘\n\nیہ سن کر بشن سنگھ اچھل کر ایک طرف ہٹا اور دوڑ کر اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا۔\n\nپاکستانی سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور دوسری طرف لے جانے لگے، مگر اس نے چلنے سے انکار کردیا، ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ یہاں ہے۔۔۔‘‘ اور زور زور سے چلانے لگا، ’’اوپڑ دی گڑ گڑ دی انیکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان۔‘‘\n\nاسے بہت سمجھایا گیا کہ دیکھو اب ٹوبہ ٹیک سنگھ ہندوستان میں چلا گیا ہے۔۔۔ اگر نہیں گیا تو اسے فوراً وہاں بھیج دیا جائے گا، مگر وہ نہ مانا۔ جب اس کو زبردستی دوسری طرف لے جانے کی کوشش کی گئی تو وہ درمیان میں ایک جگہ اس انداز میں اپنی سوجی ہوئی ٹانگوں پر کھڑا ہوگیا جیسے اب اسے کوئی طاقت وہاں سے نہیں ہلاسکے گی۔\n\nآدمی چونکہ بے ضرر تھا اس لیے اس سے مزید زبردستی نہ کی گئی۔ اس کو وہیں کھڑا رہنے دیا گیا اور تبادلے کا باقی کام ہوتا رہا۔\n\nسورج نکلنے سے پہلے ساکت وصامت بشن سنگھ کے حلق سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی۔ ادھر ادھر سے کئی افسر دوڑے آئے اور دیکھا کہ وہ آدمی جو پندرہ برس تک دن رات اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہا تھا، اوندھے منہ لیٹا ہے۔ ادھر خار دار تاروں کے پیچھے ہندوستان تھا۔۔۔ ادھر ویسے ہی تاروں کے پیچھے پاکستان۔ درمیان میں زمین کے اس ٹکڑے پر جس کا کوئی نام نہیں تھا، ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑا تھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%D9%88%D8%A8%DB%81_%D9%B9%DB%8C%DA%A9_%D8%B3%D9%86%DA%AF%DA%BE"} {"title": "ٹوٹو", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "خالی بوتلیں، خالی ڈبے", "year": "1950", "text_ur": "میں سوچ رہا تھا:\n\nدنیا کی سب سے پہلی عورت جب ماں بنی تو کائنات کا رد عمل کیا تھا؟دنیا کے سب سے پہلے مرد نے کیا آسمانوں کی طرف تمتماتی آنکھوں سے دیکھ کر دنیا کی سب سے پہلی زبان میں بڑے فخر کے ساتھ یہ نہیں کہا تھا، ’’میں بھی خالق ہوں۔‘‘\n\nٹیلی فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی۔ میرے آوارہ خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ بالکنی سے اٹھ کر میں اندر کمرے میں آیا۔ ٹیلی فون ضدی بچے کی طرح چلائے جارہا تھا۔ٹیلی فون بڑی مفید چیز ہے،مگر مجھے اس سے نفرت ہے،اس لیے کہ یہ وقت بے وقت بجنے لگنا ہے۔۔۔ چنانچہ بہت ہی بددلی سے میں نے ریسیور اٹھایا اور نمبر بتایا، ’’فور فور فائیو سیون۔‘‘\n\nدوسرے سرے سے ہیلو ہیلوشروع ہوئی۔ میں جھنجھلا گیا، ’’کون ہے؟‘‘\n\nجواب ملا، ’’آیا۔‘‘\n\nمیں نے آیاؤں کے طرز گفتگو میں پوچھا، ’’کس کومانگتا ہے؟‘‘\n\n’’میم صاحب ہے؟‘‘\n\n’’ہے۔۔۔ ٹھہرو۔‘‘\n\nٹیلی فون کا ریسیور ایک طرف رکھ کر میں نے اپنی بیوی کو جو غالباً اندر سو رہی تھی، آواز دی، ’’میم صاحب۔۔۔ میم صاحب۔‘‘\n\nآواز سن کر میری بیوی اٹھی اور جمائیاں لیتی ہوئی آئی، ’’یہ کیا مذاق ہے۔۔۔ میم صاحب، میم صاحب!‘‘\n\nمیں نے مسکرا کرکہا، ’’میم صاحب ٹھیک ہے۔۔۔ یاد ہے، تم نے اپنی پہلی آیا سے کہا تھا کہ مجھے میم صاحب کے بدلے بیگم صاحبہ کہا کرو تو اس نے بیگم صاحبہ کو بینگن صاحبہ بنا دیا تھا۔‘‘\n\nایک مسکراتی ہوئی جمائی لے کر میری بیوی نے پوچھا، ’’کون ہے؟‘‘\n\n’’دریافت کرلو۔‘‘\n\nمیری بیوی نے ٹیلی فون اٹھایا اور ہیلو ہیلو شروع کردیا۔۔۔ میں باہر بالکنی میں چلا گیا۔۔۔ عورتیں ٹیلی فون کے معاملے میں بہت لمبی ہوتی ہیں۔ چنانچہ پندرہ بیس منٹ تک ہیلو ہیلو ہوتا رہا۔\n\nمیں سوچ رہا تھا۔\n\nٹیلی فون پرہر دو تین الفاظ کے بعد ہیلو کیوں کہا جاتا ہے؟\n\nکیا اس ہلو ہلوکے عقب میں احساس کمتری تو نہیں۔۔۔؟ بار بار ہلو صرف اسے کرنی چاہیے جسے اس بات کا اندیشہ ہو کہ اس کی مہمل گفتگو سے تنگ آکر سننے والا ٹیلی فون چھوڑ دے گا۔۔۔ یا ہو سکتا ہے یہ محض عادت ہو۔\n\nدفعتاً میری بیوی گھبرائی ہوئی آئی،’’سعادت صاحب، اس دفعہ معاملہ بہت ہی سیریس معلوم ہوتا ہے۔‘‘\n\n’’کون سا معاملہ؟‘‘\n\nمعاملے کی نوعیت بتائے بغیر میری بیوی نے کہنا شروع کردیا،’’بات بڑھتے بڑھتے طلاق تک پہنچ گئی ہے۔۔۔ پاگل پن کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔۔۔ میں شرط لگانے کے لیے تیار ہوں کہ بات کچھ بھی نہیں ہوگی ۔ بس پُھسری کا بھگندر بنا ہوگا۔۔۔ دونوں سر پھرے ہیں۔‘‘\n\n’’اجی حضرت کون؟‘‘\n\n’’میں نے بتایا نہیں آپ کو۔۔۔؟ اوہ۔۔۔ ٹیلی فون، طاہرہ کا تھا!‘‘\n\n’’طاہرہ۔۔۔ کون طاہرہ؟‘‘\n\n’’مسز یزدانی۔‘‘\n\n’’اوہ!‘‘ میں سارا معاملہ سمجھ گیا، ’’کوئی نیا جھگڑا ہوا ہے؟‘‘\n\n’’ نیا اور بہت بڑا۔۔۔ جائیے یزدانی آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔‘‘\n\n’’مجھ سے کیا بات کرنا چاہتا ہے؟‘‘\n\n’’معلوم نہیں۔۔۔ طاہرہ سے ٹیلی فون چھین کر مجھ سے فقط یہ کہا۔ بھابی جان، ذرا منٹوصاحب کو بلائیے!‘‘\n\n’’خواہ مخواہ میرا مغز چاٹے گا۔‘‘ یہ کہہ کر میں اٹھا اور ٹیلی فون پر یزدانی سے مخاطب ہوا۔\n\nاس نے صرف اتنا کہا، ’’معاملہ بے حد نازک ہوگیا ہے۔۔۔ تم اور بھابی جان ٹیکسی میں فوراً یہاں آجاؤ۔‘‘\n\nمیں اور میری بیوی جلدی کپڑے تبدیل کرکے یزدانی کی طرف روانہ ہوگئے۔۔۔ راستے میں ہم دونوں نے یزدانی اور طاہرہ کے متعلق بے شمار باتیں کیں۔\n\nطاہرہ ایک مشہور عشق پیشہ موسیقار کی خوبصورت لڑکی تھی۔ عطا یزدانی ایک پٹھان آڑھتی کا لڑکا تھا۔ پہلے شاعری شروع کی، پھر ڈرامہ نگاری، اس کے بعد آہستہ آہستہ فلمی کہانیاں لکھنے لگا۔۔۔ طاہرہ کا باپ اپنے آٹھویں عشق میں مشغول تھا اور عطا یزدانی علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک کے لیے ’’بیلچہ‘‘ نامی ڈرامہ لکھنے میں۔۔۔\n\nایک شام پریڈ کرتے ہوئے عطا یزدانی کی آنکھیں طاہرہ کی آنکھوں سے چار ہوئیں۔ ساری رات جاگ کر اس نے ایک خط لکھا اور طاہرہ تک پہنچا دیا۔۔۔ چند ماہ تک دونوں میں نامہ و پیام جاری رہا اور آخر کار دونوں کی شادی بغیر کسی حیل حجت ہوگئی۔ عطا یزدانی کو اس بات کا افسوس تھا کہ ان کا عشق ڈرامے سے محروم رہا۔\n\nطاہرہ بھی طبعاً ڈرامہ پسند تھی۔۔۔ عشق اور شادی سے پہلے سہیلیوں کے ساتھ باہر شوپنگ کو جاتی تو ان کے لیے مصیبت بن جاتی۔۔۔ گنجے آدمی کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھوں میں کھجلی شروع ہو جاتی، ’’میں اس کے سر پر ایک دھول تو ضرور جماؤں گی، چاہے تم کچھ ہی کرو۔‘‘\n\nذہین تھی۔۔۔ ایک دفعہ اس کے پاس کوئی پیٹی کوٹ نہیں تھا۔ اس نے کمر کے گرد ازار بند باندھا اور اس میں ساڑی اڑس کر سہیلیوں کے ساتھ چل دی۔\n\nکیا طاہرہ واقعی عطا یزدانی کے عشق میں مبتلا ہوئی تھی؟ اس کے متعلق وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا۔ یزدانی کا پہلا عشقیہ خط ملنے پر اس کا رد عمل غالباً یہ تھا کہ کھیل دلچسپ ہے کیا ہرج ہے، کھیل لیا جائے۔ شادی پربھی اس کا رد عمل کچھ اسی قسم کا تھا۔ یوں تو مضبوط کردار کی لڑکی تھی، یعنی جہاں تک با عصمت ہونے کا تعلق ہے، لیکن تھی کھلنڈری۔ اور یہ جو آئے دن اس کا اپنے شوہر کے ساتھ لڑائی جھگڑا ہوتا تھا، میں سمجھتا ہوں ایک کھیل ہی تھا۔ لیکن جب ہم وہاں پہنچے اور حالات دیکھے تو معلوم ہوا کہ یہ کھیل بڑی خطرناک صورت اختیار کرگیا تھا۔\n\nہمارے داخل ہوتے ہی وہ شور برپا ہوا کہ کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ طاہرہ اور یزدانی دونوں اونچے اونچے سروں میں بولنے لگے۔ گلے، شکوے، طعنے مہنے۔۔۔ پرانے مردوں پر نئی لاشیں، نئی لاشوں پرپرانے مردے۔۔۔ جب دونوں تھک گئے تو آہستہ آہستہ لڑائی کی نوک پلک نکلنے لگی۔\n\nطاہرہ کو شکایت تھی کہ عطا اسٹوڈیو کی ایک واہیات ایکٹرس کو ٹیکسیوں میں لیے لیے پھرتا ہے۔\n\nیزدانی کا بیان تھا کہ یہ سراسر بہتان ہے۔\n\nطاہرہ قرآن اٹھانے کے لیے تیار تھی کہ عطا کا اس ایکٹرس سے ناجائز تعلق ہے۔ جب وہ صاف انکاری ہوا تو طاہرہ نے بڑی تیزی کے ساتھ کہا، ’’کتنے پارسا بنتے ہو۔۔۔ یہ آیا جو کھڑی ہے، کیا تم نے اسے چومنے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔ وہ تو میں اوپر سے آگئی۔۔۔‘‘\n\nیزدانی گرجا، ’’بکواس بند کرو۔‘‘\n\nاس کے بعد پھر وہی شور برپا ہوگیا۔میں نے سمجھایا۔ میری بیوی نے سمجھایا مگر کوئی اثر نہ ہوا۔ عطا کو تومیں نے ڈانٹا بھی، ’’زیادتی سراسر تمہاری ہے۔۔۔ معافی مانگو اور یہ قصہ ختم کرو۔‘‘عطا نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ میری طرف دیکھا،’’ سعادت، یہ قصہ یوں ختم نہیں ہوگا۔۔۔ میرے متعلق یہ عورت بہت کچھ کہہ چکی ہے، لیکن میں نے اس کے متعلق ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا۔۔۔ عنایت کو جانتے ہو تم؟‘‘\n\n’’عنایت؟‘‘\n\n’’پلے بیک سنگر۔۔۔ اس کے باپ کا شاگرد!‘‘\n\n’’ہاں ہاں‘‘\n\n’’اول درجے کا چھٹا ہوا بدمعاش ہے۔۔۔ مگر یہ عورت ہر روز اسے یہاں بلاتی ہے۔۔۔ بہانہ یہ ہے کہ۔۔۔‘‘\n\nطاہرہ نے اس کی بات کاٹ دی، ’’بہانہ وہانہ کچھ نہیں۔۔۔ بولو، تم کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘\n\nعطا نے انتہائی نفرت کے ساتھ کہا، ’’کچھ نہیں۔‘‘\n\nطاہرہ نے اپنے ماتھے پر بالوں کی جھالر ایک طرف ہٹائی،’’عنایت میرا چاہنے والا ہے۔۔۔ بس!‘‘\n\nعطا نے گالی دی۔۔۔ عنایت کو موٹی اور طاہرہ کو چھوٹی۔۔۔ پھر شور برپا ہوگیا۔\n\nایک بار پھر وہی کچھ دہرایا گیا۔ جو پہلے کئی بار کہا جا چکا تھا۔۔۔ میں نے اور میری بیوی نے بہت ثالثی کی مگر نتیجہ وہی صفر۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے عطا اور طاہرہ دونوں اپنے جھگڑے سے مطمئن نہیں۔ لڑائی کے شعلے ایک دم بھڑکتے تھے اور کوئی مرئی نتیجہ پیداکیے بغیر ٹھنڈے ہو جاتے تھے۔ پھر بھڑکائے جاتے تھے، لیکن ہوتا ہواتا کچھ نہیں تھا۔\n\nمیں بہت دیر تک سوچتا رہا کہ عطا اور طاہرہ چاہتے کیا ہیں مگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔۔۔ مجھے بڑی الجھن ہورہی تھی۔ دو گھنٹے سے بک بک اور جھک جھک جاری تھی۔ لیکن انجام خدا معلوم کہاں بھٹک رہا تھا۔ تنگ آکر میں نے کہا،’’بھئی، اگر تم دونوں کی آپس میں نہیں نبھ سکتی تو بہتر یہی ہے کہ علیحدہ ہو جاؤ۔‘‘\n\nطاہرہ خاموش رہی، لیکن عطا نے چند لمحات غور کرنے کے بعد کہا، ’’علیحدگی نہیں۔۔۔ طلاق!‘‘\n\nطاہرہ چلائی، ’’طلاق، طلاق،طلاق۔۔۔ دیتے کیوں نہیں طلاق۔۔۔ میں کب تمہارے پاؤں پڑی ہوں کہ طلاق نہ دو۔‘‘\n\nعطا نے بڑی مضبوط لہجے میں کہا، ’’دے دوں گا اور بہت جلد۔‘‘\n\nطاہرہ نے اپنے ماتھے پر سے بالوں کی جھالر ایک طرف ہٹائی، ’’آج ہی دو۔‘‘\n\nعطا اٹھ کر ٹیلی فون کی طرف بڑھا، ’’میں قاضی سے بات کرتا ہوں۔‘‘\n\nجب میں نے دیکھا کہ معاملہ بگڑ رہا ہے تو اٹھ کر عطا کو روکا، ’’بے وقوف نہ بنو۔۔۔ بیٹھو آرام سے!‘‘\n\nطاہرہ نے کہا، ’’نہیں بھائی جان، آپ مت روکیے۔‘‘\n\nمیری بیوی نے طاہرہ کو ڈانٹا، ’’بکواس بند کرو۔‘‘\n\n’’یہ بکواس صرف طلاق ہی سے بند ہوگی۔‘‘ یہ کہہ کر طاہرہ ٹانگ ہلانے لگی۔\n\n’’سن لیا تم نے؟‘‘ عطا مجھ سے مخاطب ہو کر پھر ٹیلی فون کی طرف بڑھا، لیکن میں درمیان میں کھڑا ہوگیا۔\n\nطاہرہ میری بیوی سے مخاطب ہوئی، ’’مجھے طلاق دے کر اس چڈو ایکٹرس سے بیاہ رچائے گا۔‘‘\n\nعطا نے طاہرہ سے پوچھا، ’’اور تو؟‘‘\n\nطاہرہ نے ماتھے پر بالوں کے پسینے میں بھیگی ہوئی جھالر ہاتھ سے اوپر کی، ’’میں۔۔۔ تمہارے اس یوسفِ ثانی عنایت خان سے!‘‘\n\n’’بس اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔۔ ۔حد ہوگئی ہے۔۔۔ تم ہٹ جاؤ ایک طرف۔‘‘ عطا نے ڈائرکٹری اٹھائی اور نمبر دیکھنے لگا۔ جب وہ ٹیلی فون کرنے لگا تو میں نے اسے روکنا مناسب نہ سمجھا۔ اس نے ایک دو مرتبہ ڈائل کیا لیکن نمبر نہ ملا۔ مجھے موقعہ ملا تو میں نے اسے پرزور الفاظ میں کہا کہ اپنے ارادے سے باز رہے۔ میری بیوی نے بھی اس سے درخواست کی مگر وہ نہ مانا۔ اس پر طاہرہ نے کہا، ’’صفیہ، تم کچھ نہ کہو۔۔۔ اس آدمی کے پہلو میں دل نہیں پتھر ہے۔۔۔ میں تمہیں وہ خط دکھاؤں گی جو شادی سے پہلے اس نے مجھے لکھے تھے۔۔۔ اس وقت میں اس کے دل کا قرار اس کی آنکھوں کا نور تھی۔ میری زبان سے نکلا ہوا صرف ایک لفظ اس کے تِن مردہ میں جان ڈالنے کے لیے کافی تھا۔۔۔ میرے چہرے کی صرف ایک جھلک دیکھ کر یہ بخوشی مرنے کے لیے تیار تھا۔۔۔ لیکن آج اسے میری ذرہ برابر پروا نہیں۔‘‘\n\nعطا نے ایک بار پھر نمبر ملانے کی کوشش کی۔\n\nطاہرہ بولتی رہی، ’’میرے باپ کی موسیقی سے بھی اسے عشق تھا۔۔۔ اس کو فخر تھا کہ اتنا بڑا آرٹسٹ مجھے اپنی دا مادی میں قبول کررہا ہے۔۔۔ شادی کی منظوری حاصل کرنے کے لیے اس نے ان کے پاؤں تک دابے، پر آج اسے ان کا کوئی خیال نہیں۔‘‘\n\nعطا ڈائل گھماتا رہا۔\n\nطاہرہ مجھ سے مخاطب ہوئی، ’’آپ کو یہ بھائی کہتا ہے، آپ کی عزت کرتا ہے۔۔۔ کہتا تھا جو کچھ بھائی جان کہیں گے میں مانوں گا۔۔۔ لیکن آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔۔۔ ٹیلی فون کررہا ہے قاضی کو۔۔۔ مجھے طلاق دینے کے لیے۔‘‘\n\nمیں نے ٹیلی فون ایک طرف ہٹا دیا، ’’عطا، اب چھوڑو بھی۔‘‘\n\n’’نہیں‘‘ یہ کہہ کر اس نے ٹیلی فون اپنی طرف گھسیٹ لیا۔\n\nطاہرہ بولی،’’ جانے دیجیے بھائی جان۔۔۔ اس کے دل میں میرا کیا،ٹُوٹُو کا بھی کچھ خیال نہیں!‘‘\n\nعطا تیزی سے پلٹا، ’’نام نہ لو ٹُو ٹُو کا!‘‘\n\nطاہرہ نے نتھنے پھلا کرکہا، ’’کیوں نام نہ لوں اس کا؟‘‘\n\nعطا نے ریسیور رکھ دیا، ’’وہ میرا ہے!‘‘\n\nطاہرہ اٹھ کھڑی ہوئی، ’’جب میں تمہاری نہیں ہوں تو وہ کیسے تمہارا ہو سکتا ہے۔۔۔ تم تو اس کا نام بھی نہیں لے سکتے۔‘‘\n\nعطا نے کچھ دیر سوچا، ’’میں سب بندوبست کرلوں گا۔‘‘\n\nطاہرہ کے چہرے پر ایک دم زردی چھا گئی، ’’ٹُو ٹُو کو چھین لو گے مجھ سے؟‘‘\n\nعطا نے بڑے مضبوط لہجے میں جواب دیا،’’ہاں۔‘‘\n\n’’ظالم۔‘‘\n\nطاہرہ کے منہ سے ایک چیخ نکلی۔ بے ہوش کر گرنے والی ہی تھی کہ میری بیوی نے اسے تھام لیا۔۔۔ عطا پریشان ہوگیا۔ پانی کے چھینٹے۔ یوڈی کلون۔ا سملنگ سالٹ۔ ڈاکٹروں کو ٹیلی فون۔۔۔ اپنے بال نوچ ڈالے، قمیص پھاڑ ڈ الی۔۔۔ طاہرہ ہوش میں آئی تو وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر تھپکنے لگا، ’’جانم ٹوٹو تمہارا ہے۔۔۔ ٹوٹو تمہارا ہے۔‘‘\n\nطاہرہ نے رونا شروع کردیا، ’’نہیں وہ تمہارا ہے۔‘‘\n\nعطا نے طاہرہ کی آنسوؤں بھری آنکھوں کو چومنا شروع کردیا، ’’میں تمہارا ہوں، تم میری ہو۔۔۔ ٹوٹو تمہارا بھی ہے، میرا بھی ہے۔‘‘\n\nمیں نے اپنی بیوی سے اشارہ کیا۔ وہ باہر نکلی تو میں بھی تھوڑی دیر کے بعد چل دیا۔۔۔ ٹیکسی کھڑی تھی، ہم دونوں بیٹھ گئے۔ میری بیوی مسکرا رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا،’’یہ یہ ٹوٹو کون ہے؟‘‘\n\nمیری بیوی کھکھلا کر ہنس پڑی، ’’ان کا لڑکا۔‘‘\n\nمیں نے حیرت سے پوچھا، ’’لڑکا؟‘‘\n\nمیری بیوی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔\n\nمیں نے اور زیادہ حیرت سے پوچھا، ’’کب پیدا ہوا تھا۔۔۔ میرا مطلب ہے۔۔۔‘‘\n\n’’ابھی پیدا نہیں ہوا۔۔۔ چوتھے مہینے میں ہے۔‘‘\n\nچوتھے مہینے، یعنی اس واقعے کے چار مہینے بعد، میں باہر بالکنی میں بالکل خالی الذہن بیٹھا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی۔ بڑی بے دلی سے اٹھنے والا تھا کہ آواز بند ہوگئی۔ تھوڑی دیر کے بعد میری بیوی آئی۔ میں نے اس سے پوچھا، ’’کون تھا؟‘‘\n\n’’یزدانی صاحب۔‘‘\n\n’’کوئی نئی لڑائی تھی؟‘‘\n\n’’نہیں۔۔۔ طاہرہ کے لڑکی ہوئی ہے۔۔۔ مری ہوئی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ روتی ہوئی اندر چلی گئی۔\n\nمیں سوچنے لگا، ’’اگر اب طاہرہ اور عطا کا جھگڑا ہوا تو اسے کون ٹُو ٹُو چکائے گا؟‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%D9%88%D9%B9%D9%88"} {"title": "ٹوٹے جو دانت منہ کی شباہت بگڑ گئی", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ٹوٹے جو دانت منہ کی شباہت بگڑ گئی\nوہ گھر ہوا خراب جہاں پھوٹ پڑ گئی\n\nوہ زار ہوں جو سانس دم مرگ اکھڑ گئی\nمیت کنار گور میں کانٹے سی گڑ گئی\n\nڈھونڈھو چراغ لے کے ضعیفوں گلی گلی\nغم ہو گیا شباب جوانی بچھڑ گئی\n\nپھولوں پھلوں میں کیا چمن روزگار میں\nمیں وہ نہال سبز ہوں گھن جس کی جڑ گئی\n\nچاہا جو مالش کف افسوس کیجیے\nہاتھوں کو یہ ملا کہ ہتھیلی رگڑ گئی\n\nگل آ کے زیر کفش صبا صاف ہو گیا\nجوتی جو بے حیا کے پڑی خاک جھڑ گئی\n\nعقدہ کھلا یہ دست حنا بند یار سے\nمنہدی ہے اپنے چور کی مشکیں جکڑ گئی\n\nوہ گل عرق فشاں نظر آیا جو باغ میں\nشبنم پہ اوس آب خجالت سے پڑ گئی\n\nڈھانپا کفن میں منہ کو جو شرم گناہ سے\nمیت مری زمیں میں خجالت سے گڑ گئی\n\nاے شادؔ لکھنؤ کی خرابی نہ پوچھئے\nبستی بسی بسائی گلوں کی اجڑ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%D9%88%D9%B9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%AA_%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%AA_%D8%A8%DA%AF%DA%91_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ٹوٹے پڑتے ہیں یہ ہیں کس کے خریدار تمام", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ٹوٹے پڑتے ہیں یہ ہیں کس کے خریدار تمام\nصبح سے بند ہیں کیوں مصر کے بازار تمام\n\nاب رہا کون جو دیدار تمہارا دیکھے\nپردہ اٹھتے ہی ہوئی حسرت دیدار تمام\n\nاک جھلک دیکھ لی پردے سے تو ظالم نے کہا\nلوٹ لی تو نے مرے حسن کی سرکار تمام\n\nحسن انداز ادا ناز نگاہیں شوخی\nدل مرا چھین کے بن بیٹھے ہیں مختار تمام\n\nاب بھی اپنا کوئی بیخودؔ مجھے سمجھا کہ نہیں\nچھپ گئے اب تو مرے حال کے اخبار تمام", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%D9%88%D9%B9%DB%92_%D9%BE%DA%91%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85"} {"title": "ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا\nتس پر یہ غضب پوچھتے ہو نام ہمارا\n\nتم نے تو نہیں خیر یہ فرمائیے بارے\nپھر کن نے لیا راحت و آرام ہمارا\n\nمیں نے جو کہا آئیے مجھ پاس تو بولے\nکیوں کس لیے کس واسطے کیا کام ہمارا\n\nرکھتے ہیں کہیں پانو تو پڑتے ہیں کہیں اور\nساقی تو ذرا ہاتھ تو لے تھام ہمارا\n\nٹک دیکھ ادھر غور کر انصاف یہ ہے واہ\nہو جرم و گنہ غیر سے اور نام ہمارا\n\nاے باد صبا محفل احباب میں کہیو\nدیکھا ہے جو کچھ حال تہہ دام ہمارا\n\nگر وقت سحر جائیے ہوتا ہے یہ ارشاد\nہے وقت ملاقات سر شام ہمارا\n\nپھر شام کو آئے تو کہا صبح کو یوں ہی\nرہتا ہے سدا آپ پر الزام ہمارا\n\nسرگشتگی مرحلۂ شوق میں اے عشق\nپڑتا ہے نئی وضع سے ہر گام ہمارا\n\nاے برہمن دیر محبت میں صنم کی\nاللہ ہی باقی رکھے اسلام ہمارا\n\nہم کوچۂ دل دار کے ہوتے ہیں تصدق\nاے شیخ حرم ہے یہی احرام ہمارا\n\nبیتابی دل کے سبب اس شوخ تک انشاؔ\nپہنچے ہے بلا واسطہ پیغام ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%A9_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئی", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئی\nکرے گا بعد میرے کس توقع پر وفا کوئی\n\nنظر آتا نہیں ثابت گریباں ایک غنچہ کا\nچمن پر یہ ستم کرتا ہے اے باد صبا کوئی\n\nگل و لالہ سے شور انگیز تر ہے گی حنا تیری\nنہ ہو دیوانہ کیوں کر دیکھ تیرے دست و پا کوئی\n\nعجب سج سے کیا ہے قتل مجھ کو اس کو مت ٹوکو\nطلب کرتا ہے ایسے قاتلوں سے خوں بہا کوئی\n\nگزر جا وصل سے گر ہجر میں دیکھے رضا اس کی\nمحبت میں یقیںؔ لیتا ہے نام مدعا کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%A9_%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%D9%86%D8%B5%D8%A7%D9%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ٹک اک اے نسیم سنبھال لے کہ بہار مست شراب ہے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "ٹک اک اے نسیم سنبھال لے کہ بہار مست شراب ہے\nوہ جو حسن عالم نشہ ہے اسے اب کی عین شباب ہے\n\nوہ گھٹائیں چھائیں جو کالیاں جو ہری بھری ہوئیں ڈالیاں\nابھر آئیں پھولوں کی لالیاں تو بجائے آب شہاب ہے\n\nیہ دو روزہ نشو و نما کو تو نہ سمجھ کہ نقش پر آب سے\nیہ سراب ہے یہ حباب ہے فقط ایک قصۂ خواب ہے\n\nعرق بہار شراب ہے وہ ہی آج چھڑکیں گے آپ پر\nنہ تو بید مشک ہے اس گھڑی نہ تو کیوڑا نہ گلاب ہے\n\nانہیں کہنے سننے سے بیر ہے جو خود آئیں سو تو بخیر ہے\nیہ غرض کہ زور ہی سیر ہے نہ سوال ہے نہ جواب ہے\n\nکدھر آؤں جاؤں کروں سو کیا مرا جی ہی ناک میں آ گیا\nنہ تو عرض حال کی تاب ہے نہ تو صبر خانہ خراب ہے\n\nمجھے وحش و طیر سے رشک ہے کہ کبھی انہوں کو کسی نمط\nنہ سوال ہے نہ جواب ہے نہ عذاب ہے نہ عقاب ہے\n\nمری بات مان سنا دلا نہ تو عرض و فرض پہ جی چلا\nکوئی ان کو ٹوکے سو کیا بھلا کہ وہ عالی ان کی جناب ہے\n\nارے انشاؔ اب جو یہ دور ہے تری وضع ان دنوں اور ہے\nیہ بھی کوئی زیست کا طور ہے نہ شراب ہے نہ کباب ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%A9_%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%DB%92_%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D8%B3%D9%86%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D9%84_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "ٹک تو خاموش رکھو منہ میں زباں سنتے ہو", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ٹک تو خاموش رکھو منہ میں زباں سنتے ہو\nاپنی ہی کہتے ہو میری بھی میاں سنتے ہو\n\nسنگ کو آب کریں پل میں ہماری باتیں\nلیکن افسوس یہی ہے کہ کہاں سنتے ہو\n\nخشک و تر پھونکتی پھرتی ہے سدا آتش عشق\nبچیو اس آنچ سے اے پیر و جواں سنتے ہو\n\nدم قدم تک تھی ہمارے ہی جنوں کی رونق\nاب بھی کوچوں میں کہیں شور و فغاں سنتے ہو\n\nمیں کہا خلق تمہاری جو کمر کہتی ہے\nتم بھی اس کا کہیں کچھ ذکر و بیاں سنتے ہو\n\nہنس کے یوں کہنے لگا خیر اگر ہے یہ بات\nہوئے گی ویسی ہی جیسی کہ وہاں سنتے ہو\n\nحضرت دردؔ کی خدمت میں جب آ قائمؔ نے\nعرض کہ یہ کہ اے استاد زماں سنتے ہو\n\nامر ہووے تو ہدایتؔ کو کروں میں سیدھا\nواں سے ارشاد ہوا یہ کہ میاں سنتے ہو\n\nراست ہوتے ہیں کسی سے بھی کبھو کج طینت\nتیر بنتی ہے کہیں شاخ کماں سنتے ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%A9_%D8%AA%D9%88_%D8%AE%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "ٹک دیکھ لیں چمن کو چلو لالہ زار تک", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ٹک دیکھ لیں چمن کو چلو لالہ زار تک\nکیا جانے پھر جئیں نہ جئیں ہم بہار تک\n\nقسمت نے دور ایسا ہی پھینکا ہمیں کہ ہم\nپھر جیتے جی پہنچ نہ سکے اپنے یار تک\n\nلے جاؤں اب میں یاں سے کہاں اپنا آشیاں\nدشمن ہے اس چمن میں مرا خار خار تک\n\nدست ستم دراز کیا جب جنون نے\nچھوڑا نہ میرے پاس گریباں کا تار تک\n\nپھر بھی ٹک اتنا اس کو تو کہہ دیجیو صبا\nجاوے اگر ہمارے تغافل شعار تک\n\nجینے کی صورت اس کی ٹھہرتی ہے کوئی دم\nاس وقت میں بھی پہنچو جو اس بیقرار تک\n\nکہہ اس زمیں میں ایک غزل اور بھی حسنؔ\nہے تیری طبع کہنے پر اب تو ہزار تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%A9_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D9%84%D9%88_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "ٹک دیکھیو یہ ابروئے خم دار وہی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ٹک دیکھیو یہ ابروئے خم دار وہی ہے\nکشتہ ہوں میں جس کا سو یہ تروار وہی ہے\n\nمنصور سا کوئی نہ ہوا خلق جہاں میں\nاس مملکت فقر کا سردار وہی ہے\n\nپوچھا جو میں اس سے کہ حضورؔ ایسا کوئی اور\nگاہک بھی ہے یا ایک خریدار وہی ہے\n\nاتنی جو اذیت اسے دیتا ہے تو ہر دم\nکیا قابل جور و ستم اے یار وہی ہے\n\nکہنے لگا ہم لوگوں کا مشرب تو یہی ہے\nجو کوئی بہت چاہے گنہ گار وہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%A9_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%85_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%88%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ٹک قیس کو چھیڑ چھاڑ کر عشق", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "ٹک قیس کو چھیڑ چھاڑ کر عشق\nلپٹا مجھے پنجے جھاڑ کر عشق\n\nخم ٹھونک مری ہوا مقابل\nفرہاد کو دوں پچھاڑ کر عشق\n\nآیا کج و وا کج اس طرف کو\nوامق کا گھر اجاڑ کر عشق\n\nبے فوج سرشک و پرچم آہ\nجھپٹا یوں بھیڑ بھاڑ کر عشق\n\nالقصہ سبھوں کے ہو مقابل\nپہونچا اب ہم کو تاڑ کر عشق\n\nتا دامن کوہ کھینچ لایا\nجنگل میں انہوں کو گاڑ کر عشق\n\nہم عشق اللہ بولے تو بھی\nچنگھاڑ کے آئے پھاڑ کر عشق\n\nہے ہے انشاؔ ہمارے دل کو\nبے طرح گیا لتاڑ کر عشق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%A9_%D9%82%DB%8C%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91_%DA%86%DA%BE%D8%A7%DA%91_%DA%A9%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "ٹک ہونٹ ہلاؤں تو یہ کہتا ہے نہ بک بے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ٹک ہونٹ ہلاؤں تو یہ کہتا ہے نہ بک بے\nاور پاس جو بیٹھوں تو سناتا ہے سرک بے\n\nکہتا ہوں کبھی گھر میں مرے آ تو ہے کہتا\nچوکھٹ پہ ہماری کوئی دن سر تو پٹک بے\n\nجب بدر نکلتا ہے تو کہتا ہے وہ مغرور\nکہہ دو اسے یاں آن کے اتنا نہ چمک بے\n\nپردہ جو الٹ دوں گا ابھی منہ سے تو دم میں\nاڑ جائے گی چہرے کی ترے سب یہ جھمک بے\n\nسب بانکپن اب تیرا نظیرؔ عشق نے کھویا\nکیا ہو گئی سچ کہہ وہ تیری دوت دبک بے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%A9_%DB%81%D9%88%D9%86%D9%B9_%DB%81%D9%84%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%A9_%D8%A8%DB%92"} {"title": "ٹکڑا جہاں گرا جگر چاک چاک کا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ٹکڑا جہاں گرا جگر چاک چاک کا\nیاقوت سا دمکنے لگا رنگ خاک کا\n\nلے جاتے ہیں اٹھا کے ملک اس کی نعش کو\nیہ مرتبہ ہے تیغ نگہ کے ہلاک کا\n\nاے باغباں نہ مجھ سے ہو آزردہ میں چلا\nاک دم خوش آ گیا تھا مجھے سایہ تاک کا\n\nملنے میں کتنے گرم ہیں یہ ہائے دیکھیو\nکشتہ ہوں میں تو شعلہ رخوں کے تپاک کا\n\nاے شعلہ اپنی گرم روی پر نہ بھولیو\nعالم ہے اور آہ دل سوزناک کا\n\nآتا ہے اپنے کشتے کی تربت پہ جب وہ شوخ\nاک نعرہ واں سے نکلے ہے روحی فداک کا\n\nشکر خدا کہ نام ہے عصمت کا مصحفیؔ\nروز جزا گواہ مرے عشق پاک کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%A9%DA%91%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ٹکڑے جگر کے آنکھ سے بارے نکل گئے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ٹکڑے جگر کے آنکھ سے بارے نکل گئے\nارمان آج دل کے ہمارے نکل گئے\n\nواحسرتا کہ لخت جگر تھے جو طفل اشک\nآنکھوں کے سامنے سے ہمارے نکل گئے\n\nشعلے ہمارے آہوں کے ایسے ہوئے بلند\nابروں سے آسماں کے ستارے نکل گئے\n\nمانند دشت خرقہ ہوا کہنہ اے نسیمؔ\nدامن کے ہر طرف سے کنارے نکل گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%A9%DA%91%DB%92_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ\nسرخاب بیٹھے پانی میں ہیں مل کے چار پانچ\n\nمنہ کھولے ہیں یہ زخم جو بسمل کے چار پانچ\nپھر لیں گے بوسے خنجر قاتل کے چار پانچ\n\nکہنے ہیں مطلب ان سے ہمیں دل کے چار پانچ\nکیا کہیے ایک منہ ہیں وہاں مل کے چار پانچ\n\nدریا میں گر پڑا جو مرا اشک ایک گرم\nبت خانے لب پہ ہو گئے ساحل کے چار پانچ\n\nدو چار لاشے اب بھی پڑے تیرے در پہ ہیں\nاور آگے دب چکے ہیں تلے گل کے چار پانچ\n\nراہیں ہیں دو مجاز و حقیقت ہے جن کا نام\nرستے نہیں ہیں عشق کی منزل کے چار پانچ\n\nرنج و تعب مصیبت و غم یاس و درد و داغ\nآہ و فغاں رفیق ہیں یہ دل کے چار پانچ\n\nدو تین جھٹکے دوں جوں ہی وحشت کے زور میں\nزنداں میں ٹکڑے ہوویں سلاسل کے چار پانچ\n\nفرہاد و قیس و وامق و عذرا تھے چار دوست\nاب ہم بھی آ ملے تو ہوئے مل کے چار پانچ\n\nناز و ادا و غمزہ نگہ پنجۂ مژہ\nماریں ہیں ایک دل کو یہ پل پل کے چار پانچ\n\nایما ہے یہ کہ دیویں گے نو دن کے بعد دل\nلکھ بھیجے خط میں شعر جو بیدل کے چار پانچ\n\nہیرے کے نورتن نہیں تیرے ہوئے ہیں جمع\nیہ چاندنی کے پھول مگر کھل کے چار پانچ\n\nمینائے نہہ فلک ہے کہاں بادۂ نشاط\nشیشے ہیں یہ تو زہر ہلاہل کے چار پانچ\n\nناخن کریں ہیں زخموں کو دو دو ملا کے ایک\nتھے آٹھ دس سو ہو گئے اب چھل کے چار پانچ\n\nگر انجم فلک سے بھی تعداد کیجئے\nنکلیں زیادہ داغ مرے دل کے چار پانچ\n\nماریں جو سر پہ سل کو اٹھا کر قلق سے ہم\nدس پانچ ٹکڑے سر کے ہوں اور سل کے چار پانچ\n\nمان اے ظفرؔ تو پنج تن و چار یار کو\nہیں صدر دین کی یہی محفل کے چار پانچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%A9%DA%91%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88%D8%A4%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86"} {"title": "ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم\nپر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم\n\nہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی ہم\nمنہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس بے کسی سے ہم\n\nہم سے نہ بولو تم، اسے کیا کہتے ہیں بھلا\nانصاف کیجیے پوچھتے ہیں آپ ہی سے ہم\n\nبیزار جان سے جو نہ ہوتے تو مانگتے\nشاہد شکایتوں پہ تری مدعی سے ہم\n\nاس کُو میں جا مریں گے مدد اے ہجومِ شوق\nآج اور زور کرتے ہیں بے طاقتی سے ہم\n\nصاحب نے اس غلام کو آزاد کر دیا\nلو بندگی کہ چھوٹ گئے بندگی سے ہم\n\nبے روئے مثلِ ابر نہ نکلا غبارِ دل\nکہتے تھے ان کو برقِ تبسم ہنسی سے ہم\n\nان ناتوانیوں پہ بھی تھے خارِ راہِ غیر\nکیوں کر نکالے جاتے نہ اس کی گلی سے ہم\n\nکیا گُل کھلے گا دیکھیے ہے فصلِ گُل تو دور\nاور سوئے دشت بھاگتے ہیں کچھ ابھی سے ہم\n\nمنہ دیکھنے سے پہلے بھی کس دن وہ صاف تھے\nبے وجہ کیوں غبار رکھیں آرسی سے ہم\n\nہے چھیڑ اختلاط بھی غیروں کے سامنے\nہنسنے کے بدلے روئیں نہ کیوں گدگدی سے ہم\n\nوحشت ہے عشق پردہ نشیں میں دمِ بکا\nمنہ ڈھانکتے ہیں پردۂ چشمِ پری سے ہم\n\nکیا دل کو لے گیا کوئی بیگانہ آشنا\nکیوں اپنے جی کو لگتے ہیں کچھ اجنبی سے ہم\n\nلے نام آرزو کا تو دل کو نکال لیں\nمومن نہ ہوں جو ربط رکھیں بدعتی سے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "ٹھنڈا گوشت (افسانہ)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "ٹھنڈا گوشت", "year": "1950", "text_ur": "ایشر سنگھ جونہی ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا، کلونت کور پلنگ پر سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز آنکھوں سے اس کی طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کردی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، شہر کا مضافات ایک عجیب پراسرار خاموشی میں غرق تھا۔\n\nکلونت کور پلنگ پر آلتی پالتی مار کربیٹھ گئی۔ ایشرسنگھ جو غالباً اپنے پراگندہ خیالات کے الجھے ہوئے دھاگے کھول رہا، ہاتھ میں کرپان لیے ایک کونے میں کھڑا تھا۔ چند لمحات اسی طرح خاموشی میں گزر گیے۔کلونت کور کو تھوڑی دیر کے بعد اپنا آسن پسند نہ آیا، اور وہ دونوں ٹانگیں پلنگ سے نیچےلٹکا کر ہلانے لگی۔ ایشر سنگھ پھر بھی کچھ نہ بولا۔\n\nکلونت کور بھرے بھرے ہاتھ پیروں والی عورت تھی۔ چوڑے چکلے کولہے، تھل تھل کرنے والے گوشت سے بھرپور کچھ بہت ہی زیادہ اوپر کو اٹھا ہواسینہ، تیز آنکھیں، بالائی ہونٹ پر بالوں کا سرمئی غبار، ٹھوڑی کی ساخت سے پتہ چلتا تھا کہ بڑے دھڑلے کی عورت ہے۔\n\nایشر سنگھ گوسرنیوڑھائے ایک کونے میں چپ چاپ کھڑا تھا۔سرپر اس کی کس کر باندھی ہوئی پگڑی ڈھیلی ہورہی تھی۔ اس کے ہاتھ جو کرپان تھامے ہوئے تھے، تھوڑے تھوڑے لرزاں تھے، مگر اس کے قدوقامت اور خدوخال سے پتہ چلتا تھا کہ کلونت کور جیسی عورت کے لیے موزوں ترین مرد ہے۔\n\nچند اور لمحات جب اسی طرح خاموشی سے گزر گئے تو کلونت کور چھلک پڑی۔ لیکن تیز تیز آنکھوں کو نچا کر وہ صرف اس قدر کہہ سکی، ’’ایشرسیاں۔‘‘ ایشر سنگھ نے گردن اٹھا کر کلونت کور کی طرف دیکھا، مگر اس کی نگاہوں کی گولیوں کی تاب نہ لا کرمنہ دوسری طرف موڑ لیا۔ کلونت کور چلائی، ’’ایشر سیاں۔‘‘لیکن فوراً ہی آواز بھینچ لی اور پلنگ پر سے اٹھ کر اس کی جانب جاتے ہوئے بولی، ’’کہاں رہے تم اتنے دن؟‘‘\n\nایشر سنگھ نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔ ’’مجھے معلوم نہیں۔‘‘\n\nکلونت کور بھنا گئی۔ ’’یہ بھی کوئی مو یا جواب ہے؟‘‘\n\nایشر سنگھ نے کرپان ایک طرف پھینک دی اور پلنگ پر لیٹ گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ کئی دنوں کا بیمار ہے۔کلونت کور نے پلنگ کی طرف دیکھا۔ جواب ایشر سنگھ سے لبالب بھرا تھا۔ اس کے دل میں ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوگیا۔ چنانچہ اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اس نے بڑے پیار سے پوچھا، ’’جانی کیا ہوا ہے تمہیں؟‘‘\n\nایشر سنگھ چھت کی طرف دیکھ رہا تھا، اس سے نگاہیں ہٹا کر اس نے کلونت کور کے مانوس چہرے کوٹٹولنا شروع کیا۔’’کلونت‘‘\n\nآواز میں درد تھا۔ کلونت کور ساری کی ساری سمٹ کراپنے بالائی ہونٹ میں آگئی۔’’ہاں جانی‘‘ کہہ کر وہ اس کو دانتوں سے کاٹنے لگی۔\n\nایشر سنگھ نے پگڑی اتار دی۔ کلونت کور کی طرف سہارا لینے والی نگاہوں سے دیکھا، اس کے گوشت بھرے کولھے پر زور سے دھپا مارا اور سر کو جھٹکا دے کر اپنے آپ سے کہا، ’’یہ کڑی یا دماغ ہی خراب ہے۔‘‘\n\nجھٹکا دینے سے اس کے کیس کھل گیے۔ کلونت کور انگلیوں سے ان میں کنگھی کرنے لگی۔ ایسا کرتے ہوئے اس نے بڑے پیار سے پوچھا، ’’ایشر سیاں، کہاں رہے تم اتنے دن؟‘‘\n\n’’برے کی ماں کے گھر‘‘ ایشر سنگھ نے کلونت کور کو گھور کے دیکھا اور دفعتاً دونوں ہاتھوں سے اس کے ابھرے ہوئے سینے کو مسلنے لگا۔\n\n’’قسم واہگورو کی بڑی جاندار عورت ہے۔‘‘\n\nکلونت کور نے ایک ادا کے ساتھ ایشر سنگھ کے ہاتھ ایک طرف جھٹک دیے اور پوچھا، ’’تمہیں میری قسم بتاؤ، کہاں رہے۔۔۔؟ شہرگیے تھے؟‘‘\n\nایشرسنگھ نے ایک ہی لپیٹ میں اپنے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے جواب دیا، ’’نہیں۔‘‘\n\nکلونت کور چڑ گئی۔ ’’نہیں تم ضرور شہر گیے تھے۔۔۔ اور تم نے بہت سا روپیہ لوٹا ہے جو مجھ سے چھپا رہے ہو۔‘‘\n\n’’وہ اپنے باپ کا تخم نہ ہو جو تم سے جھوٹ بولے۔‘‘\n\nکلونت کور تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوگئی، لیکن فوراً ہی بھڑک اٹھی، ’’لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا، اس رات تمہیں کیا ہوا۔۔۔؟ اچھے بھلے میرے ساتھ لیٹے تھے، مجھے تم نے وہ تمام گہنے پہنا رکھے تھے جو تم شہر سے لوٹ کر لائے تھے۔ میری بھپیاں لے رہے تھے، پر جانے ایک دم تمہیں کیا ہوا، اٹھے اور کپڑے پہن کر باہر نکل گیے۔‘‘\n\nایشر سنگھ کا رنگ زرد ہوگیا۔ کلونت کور نے یہ تبدیلی دیکھتے ہی کہا، ’’دیکھا کیسے رنگ نیلا پڑ گیا۔۔۔ ایشر سیاں، قسم واہگورو کی، ضرور کچھ دال میں کالا ہے؟‘‘\n\n’’تیری جان کی قسم کچھ بھی نہیں۔‘‘\n\nایشر سنگھ کی آواز بے جان تھی۔ کلونت کور کا شبہ اور زیادہ مضبوط ہوگیا، بالائی ہونٹ بھینچ کر اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’ایشر سیاں، کیا بات ہے۔ تم وہ نہیں ہو جو آج سے آٹھ روز پہلے تھے؟‘‘\n\nایشر سنگھ ایک دم اٹھ بیٹھا، جیسے کسی نے اس پر حملہ کیا تھا۔ کلونت کور کو اپنے تنو مند بازوؤں میں سمیٹ کر اس نے پوری قوت کے ساتھ اسے بھنبھوڑنا شروع کردیا۔’’جانی میں وہی ہوں۔۔۔ گھٹ گھٹ پا جپھیاں، تیری نکلے ہڈاں دی گرمی۔۔۔‘‘\n\nکلونت کور نے مزاحمت نہ کی، لیکن وہ شکایت کرتی رہی۔ ’’تمہیں اس رات ہو کیا گیا تھا؟‘‘\n\n’’برے کی ماں کا وہ ہوگیا تھا۔‘‘\n\n’’بتاؤگے نہیں؟‘‘\n\n’’کوئی بات ہو تو بتاؤں۔‘‘\n\n’’مجھے اپنے ہاتھوں سے جلاؤ اگر جھوٹ بولو۔‘‘\n\nایشر سنگھ نے اپنے بازو اس کی گردن میں ڈال دیے اور ہونٹ اس کے ہونٹوں میں گاڑ دیے۔ مونچھوں کے بال کلونت کور کے نتھنوں میں گھسے تو اسے چھینک آگئی۔ دونوں ہنسنے لگے۔ایشر سنگھ نے اپنی صدری اتار دی اور کلونت کور کو شہوت بھری نظروں سے دیکھ کر کہا، ’’آجاؤ، ایک بازی تاش کی ہو جائے!‘‘\n\nکلونت کور کے بالائی ہونٹ پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں پھوٹ آئیں، ایک ادا کے ساتھ اس نے اپنی آنکھوں کی پتلیاں گھمائیں اور کہا، ’’چل دفان ہو۔‘‘\n\nایشر سنگھ نے اس کے بھرے ہوئے کولہے پر زور سے چٹکی بھری۔ کلونت کور تڑپ کر ایک طرف ہٹ گئی، ’’نہ کر ایشر سیاں، میرے درد ہوتا ہے۔‘‘ ایشر سنگھ نے آگے بڑھ کر کلونت کور کا بالائی ہونٹ اپنے دانتوں تلے دبا لیا اور کچکچانے لگا۔ کلونت کور بالکل پگھل گئی۔ ایشر سنگھ نے اپنا کرتہ اتار کے پھینک دیا اور کہا، ’’لو، پھرہو جائے ترپ چال۔۔۔‘‘\n\nکلونت کور کا بالائی ہونٹ کپکپانے لگا، ایشر سنگھ نے دونوں ہاتھوں سے کلونت کور کی قمیص کا گھیرا پکڑا اور جس طرح بکرے کی کھال اتارتے ہیں، اسی طرح اس کو اتار کر ایک طرف رکھ دیا، پھراس نے گھور کے اس کے ننگے بدن کو دیکھا اور زور سے اس کے بازو پرچٹکی بھرتے ہوئے کہا، ’’کلونت، قسم واہگورو کی، بڑی کراری عورت ہے تو۔‘‘ کلونت کور اپنے بازو پر ابھرتے ہوئے لال دھبے کو دیکھنے لگی، ’’بڑا ظالم ہے تو ایشر سیاں۔‘‘\n\nایشر سنگھ اپنی گھنی کالی مونچھوں میں مسکرایا، ’’ہونے دے آج ظلم؟‘‘ اور یہ کہہ کر اس نے مزید ظلم ڈھانے شروع کیے۔ کلونت کور کا بالائی ہونٹ دانتوں تلے کچکچایا۔ کان کی لووں کو کاٹا، ابھرے ہوئے سینے کو بھنبھوڑا، ابھرے ہوئے کولہوں پر آواز پیدا کرنے والے چانٹے مارے۔ گالوں کے منہ بھر بھر کے بوسے لیے۔ چوس چوس کر اس کا سارا سینہ تھوکوں سے لتھیڑ دیا۔ کلونت کور تیز آنچ پر چڑھی ہوئی ہانڈی کی طرح ابلنے لگی۔\n\nلیکن ایشر سنگھ ان تمام حیلوں کے باوجود خود میں حرارت پیدا نہ کرسکا۔ جتنے گر اور جتنے داؤ اسے یاد تھے،سب کے سب اس نے پٹ جانے والے پہلوان کی طرح استعمال کردیے،پرکوئی کارگر نہ ہوا۔ کلونت کور نے، جس کے بدن کے سارے تار تن کر خود بخود بج رہے تھے،غیر ضروری چھیڑ چھاڑ سے تنگ آکر کہا، ’’ایشر سیاں، کافی پھینٹ چکا ہے، اب پتا پھینک!‘‘\n\nیہ سنتے ہی ایشر سنگھ کے ہاتھ سے جیسے تاش کی ساری گڈی نیچے پھسل گئی۔ ہانپتا ہوا وہ کلونت کور کے پہلو میں لیٹ گیا اور اس کے ماتھے پر سرد پسینے کے لیپ ہونے لگے۔ کلونت کور نے اسے گرمانے کی بہت کوشش کی۔ مگر ناکام رہی، اب تک سب کچھ منہ سے کہے بغیر ہوتا رہا تھا لیکن جب کلونت کور کے منتظر بہ عمل اعضا کو سخت ناامیدی ہوئی تو وہ جھلا کر پلنگ سے نیچے اتر گئی۔ سامنے کھونٹی پر چادر پڑی تھی، اس کو اتار کر اس نے جلدی جلدی اوڑھ کر اور نتھنے پھلا کر، بپھرے ہوئے لہجے میں کہا ’’ایشر سیاں، وہ کون حرام زادی ہے، جس کے پاس تو اتنے دن رہ کر آیا ہے۔ جس نے تجھے نچوڑ ڈالا ہے؟‘‘ ایشر سنگھ پلنگ پر لیٹا ہانپتا رہا اور اس نے کوئی جواب نہ دیا۔\n\nکلونت کور غصے سے ابلنے لگی۔ ’’میں پوچھتی ہوں؟ کون ہے چڈو۔۔۔ کون ہے وہ الفتی۔۔۔ کون ہے وہ چورپتا؟‘‘\n\nایشر سنگھ نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا، ’’کوئی بھی نہیں کلونت، کوئی بھی نہیں۔‘‘\n\nکلونت کور نے اپنے بھرے ہوئے کولہوں پر ہاتھ رکھ کر ایک عزم کے ساتھ کہا، ’’ایشر سیاں، میں آج جھوٹ سچ جان کے رہوں گی۔۔۔کھا واہگورو جی کی قسم۔۔۔کیا اس کی تہہ میں کوئی عورت نہیں؟‘‘\n\nایشر سنگھ نے کچھ کہنا چاہا، مگرکلونت کور نے اس کی اجازت نہ دی۔ ’’قسم کھانے سے پہلے سوچ لے کہ میں سردار نہال سنگھ کی بیٹی ہوں۔۔۔ تکا بوٹی کردوں گی، اگر تو نے جھوٹ بولا۔۔۔ لے اب کھا واہگورو جی کی قسم۔۔۔ کیا اس کی تہہ میں کوئی عورت نہیں؟‘‘\n\nایشر سنگھ نے بڑے دکھ کے ساتھ اثبات میں سر ہلایا، کلونت کور بالکل دوانی ہوگئی۔ لپک کر کونے میں سے کرپان اٹھائی،میان کو کیلے کے چھلکے کی طرح اتار کر ایک طرف پھینکا اور ایشر سنگھ پر وارکردیا۔ آن کی آن میں لہو کے فوارے چھوٹ پڑے۔ کلونت کور کی اس سے بھی تسلی نہ ہوئی تو اس نے وحشی بلیوں کی طرح ایشر سنگھ کے کیس نوچنے شروع کر دیے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی نامعلوم سوت کوموٹی موٹی گالیاں دیتی رہیں۔ ایشر سنگھ نے تھوڑی دیر کے بعد نقاہت بھری التجا کی، ’’جانے دے اب کلونت! جانے دے۔‘‘\n\nآواز میں بلا کا درد تھا، کلونت کور پیچھے ہٹ گئی۔\n\nخون، ایشر سنگھ کے گلے سے اڑ اڑ کر اس کی مونچھوں پر گررہا تھا، اس نے اپنے لرزاں ہونٹ کھولے اور کلونت کور کی طرف شکریے اور گِلے کی ملی جلی نگاہوں سے دیکھا۔ ’’میری جان! تم نے بہت جلدی کی۔۔۔ لیکن جو ہوا ٹھیک ہے۔‘‘\n\nکلونت کور کا حسد پھر بھڑکا۔ ’’مگر وہ کون ہے تمہاری ماں؟‘‘\n\nلہو، ایشر سنگھ کی زبان تک پہنچ گیا، جب اس نے اس کا ذائقہ چکھا تو اس کے بدن پر جھرجھری سی دوڑ گئی۔\n\n’’اور میں۔۔۔ اور میں۔۔۔ بھینی یا چھ آدمیوں کو قتل کرچکا ہوں۔۔۔ اسی کرپان سے۔۔۔‘‘\n\nکلونت کور کے دماغ میں صرف دوسری عورت تھی۔’’میں پوچھتی ہوں، کون ہے وہ حرام زادی؟‘‘\n\nایشر سنگھ کی آنکھیں دھندلارہی تھیں، ایک ہلکی سی چمک ان میں پیدا ہوئی اور اس نے کلونت کور سے کہا، ’’گالی نہ دے اس بھڑوی کو۔‘‘\n\nکلونت چلائی، ’’میں پوچھتی ہوں، وہ ہے کون؟‘‘\n\nایشر سنگھ کے گلے میں آواز رندھ گئی۔ ’’بتاتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیرا اور اس پر اپنا جیتا جیتا خون دیکھ کر مسکرایا۔’’انسان ماں یا بھی ایک عجیب چیز ہے۔‘‘\n\nکلونت کور اس کے جواب کی منتظر تھی۔ ’’ایشر سیاں، تو مطلب کی بات کر۔‘‘\n\nایشر سنگھ کی مسکراہٹ اس کی لہو بھری مونچھوں میں اور زیادہ پھیل گئی۔ ’’مطلب ہی کی بات کررہا ہوں۔۔۔ گلا چراہے ماں یا میرا۔۔۔ اب دھیرے دھیرے ہی ساری بات بتاؤں گا۔‘‘\n\nاور جب وہ بات بنانے لگا تو اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پسینے کے لیپ ہونے لگے۔\n\n’’کلونت! میری جان۔۔۔ میں تمہیں نہیں بتا سکتا، میرے ساتھ کیا ہوا۔۔۔؟ انسان کڑی یا بھی ایک عجیب چیز ہے۔۔۔ شہر میں لوٹ مچی تو سب کی طرح میں نے بھی اس میں حصہ لیا۔۔۔ گہنے پاتے اور روپے پیسے جو بھی ہاتھ لگے وہ میں نے تمہیں دے دیے۔۔۔ لیکن ایک بات تمہیں نہ بتائی۔‘‘\n\nایشر سنگھ نے گھاؤ میں درد محسوس کیا اور کراہنے لگا۔کلونت کور نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ اور بڑی بے رحمی سے پوچھا۔’’کون سی بات؟‘‘\n\nایشرسنگھ نے مونچھوں پر جمتے ہوئے لہو کو پھونک کے ذریعے سے اڑاتے ہوئے کہا، ’’جس مکان پر۔۔۔ میں نے دھاوا بولا تھا۔۔۔ اس میں سات۔۔۔ اس میں سات آدمی تھے۔۔۔ چھ میں نے۔۔۔ قتل کر دیے۔۔۔ اسی کرپان سے جس سے تو نے مجھے۔۔۔ چھوڑ اسے۔۔۔ سن۔۔۔ ایک لڑکی تھی بہت سندر۔۔۔ اس کو اٹھا میں اپنے ساتھ لے آیا۔‘‘\n\nکلونت کور، خاموش سنتی رہی۔ ایشر سنگھ نے ایک بار پھر پھونک مار کے مونچھوں پر سے لہو اڑایا۔’’کلونت جانی، میں تم سے کیا کہوں، کتنی سندر تھی۔۔۔ میں اسے بھی مار ڈالتا، پر میں نے کہا، ’’نہیں، ایشر سیاں، کلونت کور کے تو ہر روز مزے لیتا ہے، یہ میوہ بھی چکھ دیکھ۔‘‘\n\nکلونت کور نے صرف اس قدر کہا، ’’ہوں۔۔۔!‘‘\n\n’’اور میں اسے کندھے پر ڈال کر چل دیا۔۔۔ راستے میں۔۔۔ کیا کہہ رہا تھا میں؟۔۔۔ ہاں راستے میں۔۔۔ نہر کی پٹری کے پاس، تھوہڑکی جھاڑیوں تلے میں نے اسے لٹا دیا۔۔۔ پہلے سوچا کہ پھینٹوں، لیکن پھر خیال آیا کہ نہیں۔۔۔‘‘ یہ کہتے کہتے ایشر سنگھ کی زبان سوکھ گئی۔\n\nکلونت کور نے تھوک نگل کر اپنا حلق تر کیا اور پوچھا، ’’پھر کیا ہوا؟‘‘\n\nایشر سنگھ کے حلق سے بمشکل یہ الفاظ نکلے، ’’میں نے۔۔۔ میں نے پتا پھینکا۔۔۔ لیکن۔۔۔لیکن۔‘‘\n\nاس کی آواز ڈوب گئی۔\n\nکلونت کور نے اسے جھنجھوڑا: ’’پھر کیا ہوا؟‘‘\n\nایشر سنگھ نے اپنی بند ہوتی ہوئی آنکھیں کھولیں اور کلونت کور کےجسم کی طرف دیکھا، جس کی بوٹی بوٹی تھرک رہی تھی۔ ’’وہ۔۔۔ وہ مری ہوئی تھی۔۔۔ لاش تھی۔۔۔بالکل ٹھنڈا گوشت۔۔۔ جانی مجھے اپنا ہاتھ دے۔۔۔‘‘\n\nکلونت کور نے اپنا ہاتھ ایشر سنگھ کے ہاتھ پر رکھا، جو برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا تھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%BE%D9%86%DA%88%D8%A7_%DA%AF%D9%88%D8%B4%D8%AA_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29"} {"title": "ٹھوکر بھی نہ ماریں گے اگر خود سر ہے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ٹھوکر بھی نہ ماریں گے اگر خود سر ہے\nزردار کو بھی فروتنی بہتر ہے\nہے میوۂ نخل قد انساں تسلیم\nجھکتی ہے وہی شاخ جو بار آور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%BE%D9%88%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%B3%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "ٹھوکریں کھلوائیں کیا کیا پائے بے زنجیر نے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ٹھوکریں کھلوائیں کیا کیا پائے بے زنجیر نے\nگردش تقدیر نے جولانی تدبیر نے\n\nعالم اسباب سے کیا فیض ناکامی ملا\nراہ پر لا کر مجھے بھٹکا دیا تقدیر نے\n\nکارواں کتنے بگولے بن کے غائب ہو گئے\nخاک سے یکساں کیا جولاں گہ تدبیر نے\n\nباز آئے زندگی کے خواب رنگا رنگ سے\nدست و پا گم کر دئیے اندیشۂ تعبیر نے\n\nداد خواہی کو اٹھا ہے ذرۂ پامال تک\nسوتے فتنوں کو جگایا حشر عالم گیر نے\n\nماتم حسرت کیا پہلے گریباں پھاڑ کر\nپھر دعا دی دشمنوں کو دست بے شمشیر نے\n\nجان دے کر ایک حکم آخری مانا تو کیا\nلکھ دیا جب سرکشوں میں کاتب تقدیر نے\n\nواہ کیا کہنا مجسم کر دیا موہوم کو\nنقش بندان ازل کی شوخی تحریر نے\n\nجم گئی گرد فنا ایسی کہ چھٹنے کی نہیں\nکس غضب کا رنگ پکڑا یاسؔ کی تصویر نے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%BE%D9%88%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AC%DB%8C%D8%B1_%D9%86%DB%92"} {"title": "ٹھکانا ہے کہیں جائیں کہاں ناچار بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ٹھکانا ہے کہیں جائیں کہاں ناچار بیٹھے ہیں\nاجازت جب نہیں در کی پس دیوار بیٹھے ہیں\n\nیہ مطلب ہے کہ محفل میں منائے اور من جائیں\nوہ میرے چھیڑنے کو غیر سے بیزار بیٹھے ہیں\n\nخریدار آ رہے ہیں ہر طرف سے نقد جاں لے کر\nوہ یوسف بن کے بکنے کو سر بازار بیٹھے ہیں\n\nاچانک لے نہ لوں بوسہ یہ کھٹکا ان کے دل میں ہے\nمرے پہلو میں بیٹھے ہیں مگر ہشیار بیٹھے ہیں\n\nتمہارے عاشقوں میں بے قراری کیا ہی پھیلی ہے\nجدھر دیکھو جگر تھامے ہوئے دو چار بیٹھے ہیں\n\nقیامت ہے ستم مردے پہ بھی ان کو گوارا ہے\nمرا لاشہ اٹھانے کے لئے اغیار بیٹھے ہیں\n\nلب بام آ کے دکھلا وہ تماشا طور کا تم بھی\nبڑے موقعے سے در پر طالب دیدار بیٹھے ہیں\n\nاثرؔ کیوں کر نہ جانوں اس کے در کو قبلۂ عالم\nاسی جانب کئی رخ کافر و دیں دار بیٹھے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%BE%DA%A9%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%A7%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ٹھہر جاوید کے ارماں دل مضطر نکلتے ہیں", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ٹھہر جاوید کے ارماں دل مضطر نکلتے ہیں\nکھڑے ہیں منتظر ہم گھر سے وہ باہر نکلتے ہیں\n\nاسیران کہن معتوب ہو ہو کر نکلتے ہیں\nکہ زنداں سے جنازے اٹھتے ہیں بستر نکلتے ہیں\n\nنہیں معلوم منہ سے دل جگر کیوں کر نکلتے ہیں\nہم ان سے پوچھ لیں گے چھوڑ کے جو گھر نکلتے ہیں\n\nخبر لیتا نہیں غربت میں کوئی پا شکستہ کی\nجہاں ہم ہیں ادھر سے قافلے اکثر نکلتے ہیں\n\nکبھی مدفوں ہوئے تھے جس جگہ پر کشتۂ ابرو\nابھی تک اس زمیں سے سیکڑوں خنجر نکلتے ہیں\n\nہر اک معشوق کے دفتر میں ہم مقتول لکھے ہیں\nجہاں دیکھو ہمارے نام کے دفتر نکلتے ہیں\n\nنہیں ہے ایک حرف تلخ کی جاگو مرے دل میں\nمگر پوچھو تو شکوؤں کے ابھی دفتر نکلتے ہیں\n\nجوانی سے تکلف بڑھ گیا ہے میرے ساقی کا\nشراب کہنہ آئی ہے نئے ساغر نکلتے ہیں\n\nہزاروں مفسدے در پر بپا رہتے ہیں اے قاتل\nترے کوچے سے لاکھوں فتنۂ محشر نکلتے ہیں\n\nابھی فرصت نہیں اے اہل محشر سب فرشتوں کو\nٹھہر جاؤ مرے اعمال کے دفتر نکلتے ہیں\n\nجو کر کے ضبط ساتھ اشکوں کے ہیں آنے نہیں دیتا\nصدا دیتا ہے دل پہلو سے ہم باہر نکلتے ہیں\n\nہوا ہے سخت مشکل دفن ہونا تیرے وحشی کا\nجہاں پر قبر کھودی جاتی ہے پتھر نکلتے ہیں\n\nبہار آئی مبارک عاشق و معشوق کو ملنا\nکہ کلیاں پھوٹتی ہیں بلبلوں کے پر نکلتے ہیں\n\nسوا قلب و جگر کے مملکت میں عشق کی کیا ہے\nاگر ڈھونڈھو تو یہ اجڑے ہوئے دو گھر نکلتے ہیں\n\nنظر کے خوف سے کتری گئیں ہیں ان کی واں پلکیں\nمری رگ رگ سے یاں ٹوٹے ہوئے نشتر نکلتے ہیں\n\nسمجھ کے جن کو جگنو باندھتے ہو اپنے دامن میں\nشرر یہ شب کو میرے دل سے اے دلبر نکلتے ہیں\n\nنشاں قلب و جگر کا آنسوؤں سے صاف کیا پاؤں\nکہ وہ تو کشتیاں ڈوبی ہیں سو لنگر نکلتے ہیں\n\nکشیدہ ان کے ابرو ہیں نگاہیں تیز ہوتی ہیں\nکمانیں کھنچ رہی ہیں میان سے خنجر نکلتے ہیں\n\nجگر دل آتے ہیں آنکھوں سے باہر جمع ہیں آنسو\nکہ اپنے ملک سے سلطاں مع لشکر نکلتے ہیں\n\nخیال اتنا تو ہے تیرے گلے کا ہار ہوں شاید\nگل تر باغ سے ہنستے ہوئے باہر نکلتے ہیں\n\nجہنم سے کوئی کہہ دے ذرا ہشیار ہو جائے\nغضب کا وقت ہے قبروں سے دامن تر نکلتے ہیں\n\nتوقع اٹھ گئی آنے کی بالکل یوں اٹھایا ہے\nکہ آج ان کی گلی سے ہم مع بستر نکلتے ہیں\n\nکروں کیوں کر نہ تعظیم اس کی میں لائے جو خط اس کا\nکہ اکثر اس طرح کے لوگ پیغمبر نکلتے ہیں\n\nقفس میں ہم صفیران چمن کیوں چھوڑے جاتے ہو\nذرا دو دن ٹھہر جاؤ ہمارے پر نکلتے ہیں\n\nجگر داری کا دعویٰ مٹ گیا ہر شخص کہتا ہے\nجو دونوں ہاتھ ہم رکھے ہوئے دل پر نکلتے ہیں\n\nرشیدؔ آغاز الفت سے کہیں انجام بہتر ہے\nکہ بحر عشق کے ڈوبے لب کوثر نکلتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ٹھیلہ والا شہزادہ", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "۱۹۱۱ء کے دربار میں دہلی کے دن پھرے۔ نئے شہر کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ نقشے بنے۔ نامورانجینئروں کی دماغ آرائیاں اپنے جوہر دکھانے لگیں۔ شاہان اودھ کی مورث منصور علی خاں صفدر جنگ کے مقبرہ کے آس پاس کئی اینٹ بنانے اور پکانے کے کارخانے جاری ہوئے۔ ہزاروں غریبوں کا روزگار چمکا۔ پکی ہوئی اینٹوں کے انبار ریل گاڑیوں اور ٹھیلو ں میں سوار ہو ہو کر امپریل سٹی (شہنشاہی شہر دہلی) کی تعمیرات میں جانے لگے۔۱۱ مئی ۱۹۱۷ء کا ذکر ہے۔ ٹھیک دو پہر کی دھوپ اور حواس کھونے والی گرمی میں ایک بوڑھا ٹھیلے والا خان بہادر سیٹھ محمد ہارون کے بھٹہ سے اینٹیں لے کر دہلی جا رہا تھا۔ سر پر سورج کی تیز کرنیں، سفید داڑھی اور مونچھوں پر راستہ کا گردو غبار، پیشانی پر پسینہ، جس میں اینٹوں کی سرخی جمی ہوئی۔ پیچھے سے ایک موٹر (غالباً قطب صاحب سے) آ رہی تھی۔ ڈرائیور نے ہر چند بگل بجایا، مگر بوڑھے اور بہرے ٹھیلہ والے نے اس کی آواز نہ سنی اور ٹھیلہ کو سڑک سے نہ بچایا۔ موٹر قریب آئی اور ٹھیلے سے ٹکرائی۔ ڈرائیور بہت ہوشیار تھا۔ ٹکر لگتے لگتے موٹر کو روک لیا اور ٹھیلہ کی ٹکر سے موٹر کو کچھ نقصان نہ پہنچا۔ اس موٹر میں ایک پنجابی سوداگر جوانی اور شراب کے نشے میں چور کسی بازاری عورت کو لیے بیٹھا تھا۔ ٹھیلہ والا کو غریب بوڑھا اور کمزور دیکھ کر غصہ سے بیتاب ہوگیا۔ ہاتھ میں بطور فیشن کے ایک کوڑا تھا۔ اسی کو لیا۔ موٹر سے اترا اور بچار ے ٹھیلہ والے کو مارنے لگا۔ٹھیلہ والا اکیلا تھا۔ ضعیف و ناتواں تھا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مفلس اور نادار تھا، مگر خبر نہیں دل میں کیا ہمت اور جرأت رکھتا تھا کہ چار کوڑے تو پہلے حملے میں اس نے کھا لیے، لیکن پھر بیل ہانکنے کا چابک لے کر اس نے بھی اس مخمور نوجوان پر حملہ کیا اور چابک کے بانس کا ڈنڈ ا ایسا مارا کہ شرابی عیاش کا مغز پھٹ گیا۔ موٹر ڈرائیور نے چاہا کہ اس بوڑھے کو سزا دینے کو آگے بڑھے۔ مگر قدم بڑھانے سے پہلے ہی چابک کی لکڑی اس کے سر پر بھی پڑی، جس نے اس کا چہرہ بھی خون سے لال کردیا۔ موٹر نشین طوائف نے گھبرا کر رونا شروع کیا اور بلبلا کر چیخی کہ خدا کے لیے تم موٹر میں آجاؤ ورنہ یہ گنوار تم کو جان سے مار ڈالے گا۔یہ سن کر جوان اور موٹر بان دونوں موٹر میں بیٹھ گئے اور ٹھیلہ والے کو گالیاں دینے لگے۔ بوڑھا خاموش کھڑا مسکراتا رہا اور کہتا رہا کہ بس ایک ہی وار میں بھاگ نکلے۔ تیموری طمانچہ کھانا آسان نہیں ہے۔ ٹھیلہ والا اس قدر بہرہ تھا کہ موٹر والوں کی گالیاں اس نے نہ سنیں اور پھر ٹھیلہ پر آن بیٹھا۔ موٹر بھی دہلی چلی گئی اور ٹھیلہ بھی رسینہ (وہ مقام جہاں نئی دہلی کی تعمیر ہو رہی ہے) میں کہیں اینٹیں ڈالنے روانہ ہو گیا۔(۲)رسینہ کے تھانے میں دوسرے دن دو زخمی اور چند ٹھیلے جمع تھے۔ وہ بوڑھا ٹھیلے والا بھی کھڑا تھا۔ داروغہ پولیس نے پوچھا، ’’کیا تم نے ان کو زخمی کیا ہے؟‘‘ بوڑھا چپ کھڑا رہا۔ داروغہ نے پھر ذرا بگڑ کر سوال کیا اور کہا کہ ’’بولتا کیوں نہیں۔‘‘ دوسرے ٹھیلے والے بولے، ’’حضور! یہ بہرا ہے۔‘‘ تب ایک سپاہی نے بوڑھے کے کان کے پاس جا کر آواز سے یہی سوال کیا تو بوڑھے نے جواب دیا، ’’ہاں میں نے مارا ہے۔ انہوں نے مجھ پر حملہ کیا۔ چار کوڑے مارے تو میں نے بھی جواب ترکی بہ ترکی دیا۔ یہ امیر لوگ غریبوں کو گھاس پھوس سمجھتے ہیں۔ آج سے ساٹھ برس پہلے ان زخمیوں کے ماں باپ میرے غلام تھے اور یہی نہیں سارا ہندوستان میرا محکوم تھا۔‘‘داروغہ پولیس ہنسا اور اس نے کہا شاید یہ پاگل ہوگیا ہے۔ بڑھاپے نے اس کی عقل کھودی۔ اچھا اس کو حوالات میں لے جاؤ۔ کل عدالت میں چالان کیا جائے گا۔ ایسے دیوانہ کو پاگل خانہ بھیجنا چاہیے۔(۳)سٹی مجسٹر یٹ کے ہاں بوڑھا ٹھیلہ والا پولیس کی حراست میں حاضر تھا اور دونوں مدعی بھی موجود تھے۔ کورٹ انسپکٹر نے واقعات پیش کیے تو عدالت نے مد عا علیہ کا بیان لینا چاہا اور یہ معلوم کر کے کہ وہ بہرا ہے، چپراسی نے چیخ چیخ کر اس کا اظہار لیا۔ بوڑھے نے بیان کیا،’’میرا نام ظفر سلطان ہے۔ میں مرزا بابر برادر بہادر شاہ بادشاہ کا بیٹا ہوں۔ میرے دادا ہندوستان کے شہنشاہ معین الدین اکبر شاہ ثانی تھے۔ غدر کے بعد میں ہزاروں پریشانیوں کے بعد ملکوں ملکوں پھرتا ہوا پھر دہلی میں آگیا اور ٹھیلا چلانے کا کام کرنے لگا۔ ۱۱مئی ۱۹۱۷، جو ۱۱ مئی ۱۸۵۷ء کی طرح گرم اور سخت تھی، اس واقعہ کی تاریخ ہے۔ میں بہرا ہوں۔ میں نے موٹر کی آواز نہیں سنی۔ موٹر والوں نے میری عمر اور حالت پر رحم نہ کیا اور میرے چار کوڑے مارے۔ میرے بدن میں جو خون ہے، اس کو مار کھانے کی اور ظلم و جور سہنے کی اب تو عادت ہوگئی ہے، مگر پہلے نہ تھی۔جس جگہ عدالت کی کرسی ہے، اسی مقام پر غدر سے پہلے میرے حکم سے بارہا بہت سے شریروں اور سرکشوں کو سزائیں دی گئی ہیں۔ میرے دل اور دماغ نے ان عادتوں کو فراموش نہیں کیا۔ گو میری آنکھوں نے ان نظاروں کی دید مدت سے ترک کر دی ہے۔ میں کیونکر چار کوڑوں کو برداشت کر سکتا تھا۔ میں نے بے بیشک بدلہ لیا اور ان دونوں بہادر جوانوں کے سر پھاڑ ڈالے۔ اگر آپ شریف لوگوں کا انصاف کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کے فیصلہ کے سامنے سر جھکانے کو تیار و آمادہ ہوں۔‘‘ بوڑھے کی تقریر سن کر عدالت میں سناٹا چھا گیا۔ مجسٹریٹ صاحب جو یورپین تھے، قلم منہ میں لے کر بوڑھے کو دیکھنے لگے اور ان کا مسلمان سر رشتہ دار آنکھوں میں آنسو بھر لایا۔ دونوں مدعی بھی یہ بیان سن کر دم بخود رہ گئے۔عدالت نے حکم دیا، تم کو رہا کیا جاتا ہے اور مدعیوں پر دس دس روپے جرمانہ، کیونکہ خود ان کے بیان سے ظاہر ہے کہ انہوں نے نشہ کی حالت میں پہلے مدعا علیہ پر حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد مجسٹریٹ نے چپراسی کے ذریعہ بوڑھے شہزادے سے پوچھا، ’’کیا تمہاری پنشن سرکار سے مقرر نہیں ہوئی۔ تم ٹھیلے کا ذلیل کا م کیوں کرتے ہو۔‘‘شہزادہ نے جواب دیا، ’’مجھے معلوم ہے کہ انگریزی سرکار نے ہمارے خاندان والوں کی پانچ پانچ روپے ماہوار پنشن مقرر کردی ہے، مگر میں اول تو برسوں دہلی سے غیر حاضر رہا۔ اس کے علاوہ جب تک ہاتھ پاؤں چلتے ہیں، کام کر کے محنت کی روزی کما نی فرض سمجھتا ہوں۔ جناب مجھ کو ٹھیلہ میں تین چار روپے روزا نہ مل جاتے ہیں۔ دور وپے روز بیلوں وغیرہ کا خرچ ہے، جس میں گھر کا کرایہ بھی شامل ہے اور روپیہ دو روپیہ مجھ کو بچ جاتے ہیں۔ میں پانچ روپے مہینہ لے کر کیا کرتا۔ آج کل بہت خوش ہوں اور مجھ کو ہر طرح کی آزادی اور بے فکری ہے۔ جو لوگ آپ کی کچہریوں میں نوکریاں تلاش کرتے پھرتے ہیں اور بی اے ایم اے پاس ہونے میں عمریں برباد کرتے ہیں، ان سے مجھ ٹھیلہ والا کی حالت لاکھ درجہ بہتر ہے۔ ٹھیلا چلانے میں کچھ ذلت نہیں ہے، کیونکہ میں بیلوں پر حکومت کرتا ہوں اور خودبیل بن کر محکوم نہیں بنتا۔‘‘(۴)ٹھیلہ والا شہزادہ پہاڑ گنج کی مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا اور اسی کے قریب اس کا گھر تھا۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو ایک شخص اس کے پاس گیا اور کہا، ’’میں آج کچہری میں موجود تھا اور میں نے آپ کے بیان کا چرچا سنا تھا۔ کیا آپ غدر کے حالات سنا سکتے ہیں کہ آپ غدر میں اور اس کے بعد کہاں کہاں رہے اور آپ پر کیا کیا مصیبت پڑی۔‘‘ٹھیلہ والے نے مسکرا کر کہا، ’’کیا آپ وہ حالات سن سکتے ہیں؟ اور کیا آپ کو ان جھوٹی باتوں پر یقین آسکتا ہے؟ کیونکہ میرا عقیدہ یہ ہے کہ جو بات گزر جائے، خواہ خوشی کی ہو یا تکلیف کی، ہو جھوٹی ہے۔ اس کا بیان کرنا جھوٹ بولنا ہے۔ آنے والا زمانہ وہم ہے۔ گذرنے والا وقت جھوٹا ہے اور موجودہ گھڑی سچی ہے۔ میرا خیال تو یہ ہے کہ جو وقت سامنے ہے اس پر یقین کروں اور ہنسی خوشی اس کو گذار دوں۔ نہ گزرے وقت کی یاد دل میں آنے دوں، نہ آنے والے زمانے کا فکر ذہن میں لاؤں۔ بس جو کچھ سمجھوں، اسی وقت کو سمجھوں، جو آنکھوں کو نظر آتا ہو اور جس میں موجودہ سانس کی آمد و رفت ہو۔‘‘سائل نے کہا، ’’یہ تو آپ کی ذاتی تجربہ کی باتیں ہیں۔ آپ کے دل کو صدموں اور حادثوں نے دنیا سے اداس کر دیا ہے، مگر میں تو واقعات غدر کی یادداشت مرتب کرنے کو آپ سے یہ حالات پوچھتا ہوں۔ میں نے اور بھی اسی طرح بہت سے واقعات جمع کیے ہیں اور آپ بیتی کیفیت شہزادوں سے پوچھ پوچھ کر لکھی ہے۔‘‘ یہ سن کر شہزادہ نے زور سے قہقہہ لگایا اور کہا، ’’شاید آپ اخبار والے ہیں۔ میں ان لوگوں سے سخت بیزار ہوں۔ یہ بہت ہی جھوٹ بولا کرتے ہیں۔ اچھا آپ میرے گھر پر چلئے۔ میں مہمان کی دل شکنی نہیں کروں گا اور آپ جو پوچھیں گے، بتاؤں گا۔‘‘شہزادہ سائل کو لے کر اپنے گھر میں گیا۔ چھپر کا ایک مکان تھا۔ باہر صحن مین دو بیل اور ایک گائے بندھی ہوئی تھی، اندر دالان میں ایک تخت بچھا ہوا تھا۔ برابر ایک پلنگ تھا۔ دونوں پر سفید چاند نیاں بچھی ہوئی تھیں، جن سے غریب مگر محنتی اورکماؤ شہزادہ کی نفاست مزاجی ظاہرہوتی تھی۔ شہزادہ نے سائل کو تخت پر بٹھایا اور خود باورچی خانہ سے کھانا لایا اور کہا آؤ پہلے کھانا کھا لو۔ پھر باتیں کریں گے۔ کھانا ا گر چہ ایک آدمی کا تھا، مگر دو قسم کا سالن، دال چٹنی اور کچھ میٹھا، اس بات کو ظاہر کرتی تھی کہ شہزادہ اس حالت میں مکلف زندگی بسر کرتا ہے۔ سائل نے ہر چند عذر کیا مگر شہزادہ نہ مانا اور دونوں نے کھانا کھایا اور پھر شہزادہ نے خود حقہ بھر ا اور سائل کے آگے رکھا۔ اس نے حقہ نہ پینے کا عذر تو شہزادے نے کلی کو آگے رکھ کریہ داستان کہنی شرو ع کی۔(۵)میں میرزا بابر کا بیٹا ہوں۔ میرزا بابر بہادر شاہ کے بھائی تھے۔ غدر سے پہلے بہادر شاہ کی حکومت تو ہندوستان میں نہ تھی، مگر عزت بادشاہوں کی سی ہر صوبہ، ہر شہر اور ہر آبادی میں ان کے نام کی جاتی تھی اور دہلی میں تو ہر شخص بہادر شاہ اور ان کے خاندان کا وہی ادب و لحاظ کرتا تھا جو شاہ جہاں اور عالمگیر کے وقت میں ہوتا تھا۔میں اپنے باپ کا بہت لاڈلا بیٹا تھا۔ اگر چہ ان کے اولاد اور بھی تھی، مگر اپنی ماں کا میں اکلوتا تھا۔ میرے والد کا غدر سے پہلے انتقال ہوگیا تھا۔ جب غدر پڑا اور باغیوں کی فوج دہلی میں گھسی تو جیسی ستم کاریاں اس نے انگریزوں اور ان کی عورتوں و بچوں پر کیں، ان کے کہنے سے کلیجہ کا نپتا ہے۔ اس کے بعد جب انگریز پنجاب کی مدد لے کر دہلی پر آئے اور اس کو مغلوب کر لیا تو بادشاہ سمیت سارا شہر بھاگ نکلا۔ میری والدہ نا بینا تھیں اور آئے دن کی بیماریوں سے بہت کمزور ہوگئی تھیں۔ رتھ میں سوار ہونا بھی ان کو دوبھر تھا، مگر دو عورتوں کی مدد سے میں نے ان کو سوار کیا اور خود بھی اس میں سوار ہو کر دہلی سے نکلا۔ بادشاہ و غیرہ تو مقبرہ ہمایوں گئے تھے مگر میں نے کرنال کا رخ کیا کیونکہ وہاں میرے ایک دوست رہتے تھے، جن سے دہلی میں اکثر ملاقات ہوا کرتی تھی اور وہ کرنال کے علاقہ میں صاحب حیثیت زمیندار تھے۔ہمارا رتھ اجمیری دروازہ سے باہر نکلا (راستہ تو لاہوری دروازے سے تھا، مگر ادھر انگریزی فوج کا ڈر تھا) تو دیکھا ہزاروں عورت، مرد، بچے، بوڑھے بقچیاں سروں پر رکھے حیران و پریشان چلے جا رہے تھے۔ رتھ والے نے کہا گوڑ گا نوہ ہوکر کر نال چلنا چاہئے تاکہ فوج والوں کے ہاتھ سے امن رہے گا۔ گوڑگانوہ تک تو ہم امن سے چلے گئے۔ اگر چہ راستہ میں گوجرو غیرہ ملے، مگر ہم حیلہ حوالے کرکے ان کے ہاتھوں سے بچ گئے، لیکن گوڑگانو ہ سے جب کرنال کی طرف مڑے تو دو کوس کے بعد ہی گوجروں کے ایک غول نے رتھ کو گھیر لیا اور لوٹنا چاہا۔ابھی انہوں نے ہاتھ نہ ڈالا تھا کہ سامنے سے ایک انگریزی فوج کا دستہ آگیا۔ یہ سب گورے تھے۔ ان کو دیکھ کر گوجر تو بھاگ گئے اور گورے گھوڑے دوڑا کر رتھ کے پاس پہنچے اور انہوں نے مذاق کے انداز سے انگریزی زبان میں کچھ کہنا شروع کیا جس کو میں نہیں سمجھا۔ میں مشرق رخ تھا۔ مغربی رخ سے ایک گورے نے رتھ کا پردہ اٹھا کردیکھا اور والدہ کو نابینا اور بڑھیا دیکھ کر قہقہہ لگایا اور اپنے ساتھیوں سے کچھ کہا جس کو سن کر وہ سب آگے بڑھ گئے اور ہم کو کچھ تکلیف نہ دی۔جب وہ چلے گئے تو ہم آگے بڑھے اور شام تک چلتے رہے۔ رات کو ایک گاؤں کے پاس قیام کیا۔ وہاں آدھی رات کو چور بیل کھول کر لے گئے۔ گاڑی بان بھی کہیں غائب ہوگیا۔ صبح کو میں بہت فکر مند ہوا اور گاؤں سے جاکر کرائے کی گاڑی مانگی۔ یہ جاٹ تھے۔ ان کا چودھری میرے ساتھ آیا او ر بولا، ’’گاڑی تو ہمارے گاؤں میں نہیں ہے۔ تم اپنی ماں کو ہمارے گھر میں ٹھہرا دو۔ دوسرے گاؤں سے گاڑی منگوادیں گے۔‘‘ میں نے اس کو غنیمت سمجھا اور والدہ کو لے کر چودھری کے گھر میں چلا گیا۔ ہمارے پاس ایک پٹاری تھی اور ایک صندوقچہ اور ان دونوں میں اشرفیاں اور جڑاؤ زیور تھا۔چودھری نے گھر میں اتار کر اور سب سامان رکھ کر ایک آدمی کو دوسرے گاؤں سے گاڑی لانے کے لیے بھیجا۔ تھوڑی دیر میں گاؤں والوں نے غل مچایا کہ انگریزی فوج آتی ہے۔ چودھری میرے پاس آیا اور کہا جاؤ تم گھر سے بھاگ جاؤ، ورنہ ہم بھی تمہارے ساتھ مارے جائیں گے۔ میں بہت گھبرایا اور چودھری سے کہنے لگا کہ اندھی ماں کو لے کر کہاں جاؤں۔ تم کو میرے حال پر ترس نہیں آتا۔ یہ سن کر اس جاٹ نے میرے ایک مکا مارا اور کہا کیا ہم تیرے لیے اپنی گردن کٹوادیں۔ میں نے بھی اس کے تھپڑ رسید کیا۔ یہ دیکھتے ہی جاٹ جمع ہوگئے اور ان سب نے مل کر مجھ کو خوب مارا اور میں بے ہوش ہوکر گر پڑا۔ ہوش میں آیا تو ایک جنگل میں پڑا تھا اور والدہ میرے سرہانے بیٹھی رو رہی تھیں۔ والدہ نے کہا وہ جاٹ تجھ کو اور مجھ کو ایک چار پائی پر اٹھا کر یہاں ڈال گئے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے انہوں نے اسباب لوٹنے کا بہانہ کیا تھا۔ فوج ووج کچھ نہ آئی تھی۔وہ بڑا کٹھن وقت تھا۔ جنگل بیابان، دھوپ کی شدت، ایک میں اور میری ناتواں آنکھوں سے محتاج ماں اور چاروں طرف سناٹا اور دشمنوں کا ڈر، راستہ کی بے خبری اور زخموں کی دکھن سونے پر سہاگہ۔ والدہ نے کہا بیٹا چلو ہمت کر کے آگے بڑھو۔ یہاں جنگل میں پڑے رہنے سے کچھ فائدہ نہیں۔ میں کھڑا ہو گیا۔ سر میں اور بازو پر زخم تھے۔ پیروں پر بھی چوٹ آئی تھی، مگر اندھی ماں کا ہاتھ پکڑ کے راستہ چلنا شروع کیا۔ کانٹے دار جھاڑیاں سارے میدان میں پھیلی ہوئی تھیں، جنہوں نے بدن کے کپڑے پھاڑ ڈالے اور پیروں کو لہولہان کر دیا۔ والدہ ٹھوکریں کھا کھا کر گر پڑتی تھیں اور میں ان کو سنبھالتا تھا، مگر زخموں کی کمزوری سے مجھ میں بھی چلنے کی ہمت نہ تھی۔ دو وقت سے ہم نے کچھ کھایا بھی نہ تھا۔ غرض ایسا وقت تھا کہ خدا دشمن کو بھی نہ دکھائے۔جب دوپہر کا سورج سر پر آیا تو میرے سر کے زخم میں ایسی تکلیف ہوئی کہ میں چکرا کر گر پڑا۔ ہوش تھا مگر اٹھنے اور چلنے کی طاقت نہ تھی۔ والدہ نے میرا سرا پنے زانو پر رکھ لیا اور یہ دعا مانگنی شروع کی، ’’الٰہی مجھ پر رحم کر۔ میرے گناہوں کو معاف کردے اور میری بچہ کی جان کو بچا لے۔ خدایا! یہ اندھی شہزادی تیرے آگے ہاتھ پھیلاتی ہے۔ اس کو محروم نہ کر۔ ہمارا تیرے سوا کوئی نہیں ہے۔ آسمان زمین ہمارے دشمن ہیں۔ تجھ بن کس سے کہوں۔ تو جس کو چاہے عزت دے جس کو چاہے ذلت دے۔ کل ہم ملکوں اور ہاتھی گھوڑوں اور لونڈی غلاموں کے مالک تھے۔ آج ان میں سے کچھ ہمارے پاس نہیں۔ کس برتے پر دنیا والے اس فانی جہان میں جینے کی آرزو کرتے ہیں۔ تو بہ ہے۔ گناہوں کی توبہ ہے۔ رحم رحم۔ اے خدا رحم۔‘‘اماں دعا مانگ رہی تھیں کہ ایک گنوارا دھر آنکلا اور اس نے کہا، ’’بڑھیا تیرے پاس جو کچھ ہو ڈال دے۔‘‘ والدہ بولیں، ’’بیٹا میرے پاس تو سوائے اس زخمی بیمار کے کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ یہ سن کر اس گنوار نے ایک لٹھ والدہ کے سر پر مارا۔ لٹھ کے پڑتے ہی والدہ کے منہ سے ایک چیخ نکلی اور انہوں نے کہا، ’’ہائے ظالم میرے بچہ کو نہ ماریو۔‘‘ میں ہمت کر کے اٹھا مگر پھر چکرا کر گر پڑا اور بیہوش ہوگیا۔ گنوارنے میرے اور والدہ کے کپڑے اتار لیے۔ مجھے ہوش آیا تو گنوار چلا گیا تھا اور ہم دونوں بالکل برہنہ پڑے تھے۔ والدہ دم توڑ رہی تھیں۔ میں نے ان سے پوچھا، ’’اماں کیا حال ہے؟‘‘ انہوں نے بہت اکھڑی آواز میں کہا، ’’میاں مرتی ہوں۔ میاں کو خدا کے سپرد۔۔۔ آہ کفن بھی میسر نہ آیا۔ ارے گور بھی نہ ملے گی۔ میں شہنشاہ ہند کی بھاوج ہوں۔‘‘ لاَ اِلہٰ اِلا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُو ل اللہ کہا اور مر گئیں۔میں نے وہیں سے ریتا سمیٹا اور اس بیکس لاش کو خاک میں چھپا دیا اور خود بھی بمشکل گھسٹ گھسٹ کر ایک درخت کے نیچے جاکر لیٹ گیا۔ تھوڑی دیر میں ایک فوجی سوار دہاں سے گذرا اور مجھ کو دیکھ کر قریب آیا۔ میں نے سارا حال اس سے کہا۔ اس نے رحم کیا اور کمر کا رومال کھول کر مجھ کو دیا، جس سے میں نے تہ بند باندھا۔ اس کے بعد اس سوار نے مجھ کو اٹھاکر گھوڑے پر اپنے پیچھے بٹھا لیا اور اپنی چھاؤنی میں لے گیا۔ وہاں اس نے میرا علاج کرایا، جس سے میرے زخم اچھے ہو گئے۔ پھر میں اس کی خدمت کرنے لگا۔ یہ مسلمان سوار بہت ہی نیک مزاج تھا۔ اس کا مکان پٹیالہ میں تھا۔ اس کے ہمراہ کچھ دن تومیں پٹیالہ میں رہا اور پھر فقیر ہو کر شہر بہ شہر پھرنے لگا۔جب بمبئی پہنچا تو خیراتی قافلہ کے ساتھ مکہ معظمہ چلا گیا اور وہاں دس برس گذارے۔ پھر مدینہ شریف حاضری دی اور وہاں بھی پانچ برس بسر کیے۔ اس کے بعد شام اور بیت المقدس کی زیارتیں کر کے حلب ہو کر بغداد شریف گیا۔ دو سال وہاں کاٹے۔ بغداد سے ایک میمن کے ہمراہ کراچی آیا اور وہاں سے دہلی آگیا، کیونکہ دہلی کی یاد مجھ کو ہر جگہ بے چین رکھتی تھی۔یہاں ریل پر میں نے مزدوری کرنی شروع کی، جس سے مجھ کو کھانے پینے کے بعد کچھ بچت ہونے لگی۔ اور دو سال میں میرے پاس تین سو روپے ہوگئے تو میں نے ایک ٹھیلہ والے کی شرکت میں ٹھیلہ بنایا اور اس کی آمدنی سے آہستہ آہستہ ساجھی کا حصہ ادا کر کے اپنا مستقل ذاتی ٹھیلہ بنا لیا۔ اور اب اسی پر میری گذر اوقات ہے۔سائل نے کہا، ’’بہراپن کب ہوا؟ اور اس سے تو آپ کو تنہائی میں بہت تکلیف اٹھانی پڑتی ہوگی۔‘‘ شہزادہ نے ہنس کر جواب دیا، ’’خدا کا شکر ہے کہ کچھ تکلیف نہیں ہوتی۔ سارے جہان کے عیب سننے سے کان بند ہیں۔ گاؤں میں جب جاٹوں نے مارا تھا، اسی وقت دماغ پر ایسی چوٹ آئی تھی جس سے کان کی قوت جاتی رہی۔ اب صرف بائیں کان سے کچھ سن سکتا ہوں۔ دایاں بالکل بے کار ہے۔‘‘سائل نے یہ ماجرائے عبرت سن کر کہا، ’’کیا میں ان کو اپنی کتاب میں لکھ دوں؟‘‘ شہزادہ نے کہا، ’’ضرور لکھ دو، مگر یہ بھی لکھ دینا کہ ہر گذر نے والی بات اور گذرنے والا وقت اور گذرے نے والی راحت و تکلیف جھوٹی اور بے اصل ہے مگر اس میں عبرت ضرور ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DA%BE%DB%8C%D9%84%DB%81_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%B4%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%81"} {"title": "ٹیس پیڑو میں اٹھی اوہی مری جان گئی", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "ریختی", "year": null, "text_ur": "ٹیس پیڑو میں اٹھی اوہی مری جان گئی\nمت ستا مجھ کو دوگانا ترے قربان گئی\n\nتجھ سے جب تک نہ ملی تھی مجھے کچھ دکھ ہی نہ تھا\nہاتھ ملتی ہوں بری بات کو کیوں مان گئی\n\nجوں جوں پہنچی ہے چمک بندی کا دم رکتا ہے\nاب مری جان گئی جان یہ میں جان گئی\n\nمیں ترے پاس دوگانا ابھی آئی تھی چلی\nمیرے گھر میں تو عبث کرنے کو طوفان گئی\n\nزہر لگتی ہے مجھے یہ تری چتھل بازی\nیاں ترے آنے سے باجی تجھے پہچان گئی\n\nتیری رنگیںؔ سے کہیں آنکھ لڑی سچ کہہ دے\nکچھ تو گھبرائی ہوئی پھرتی ہے اوسان گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DB%8C%D8%B3_%D9%BE%DB%8C%DA%91%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D9%88%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ٹیلی فون", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "بیسویں صدی کی بہترین ایجاد، کیا بلحاظ فوائد بنی نوع انسان اور کیا بلحاظ آرام و آسائش، اگر ہے تو ٹیلی فون ہے۔\n\n(۱)\n\nمندرجہ بالا اقتباس میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ میں نے نہایت ہی اطمینان سے اپنی میز پر نظر ڈالی اور کیوں نہ ڈالتا کہ میں بھی ایک ٹیلی فون کے سیٹ کا ملک تھا۔ میرے گھر میں بھی ٹیلی فون تھا۔ قبل اس کے کہ میں کچھ عرض کروں گزارش ہے کہ حضرت نہ تو میں کوئی وبال ہوں اور نہ قہرِ خدا ہوں اور نہ موذی ہوں اور نہ خلق خدا کی آسائش کا دشمن ہوں، بلکہ ایک ادنی اور نہایت ہی ادنیٰ پبلک کا خادم ہوں۔ مگر ساتھ ہی یہ ایک مجسم حقیقت ہے کہ میں بلا شرکت غیرے ایک ٹیلی فون کے سیٹ کا مالک بھی ہوں اور خداوند تعالیٰ نے وہ فوائد اور تمام وہ آسائشیں میری تقدیر میں لکھ دیں ہیں جو ٹیلی فون کے سیٹ رکھنے والے کا حصہ ہیں۔\n\nتو میں پھر عرض کرتا ہوں کہ حضرت نہ تو میرا دماغ خراب ہوگیا ہے اور نہ میں موذی ہوں، بلکہ پبلک کا ایک ادنی خادم ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ میرے گھر میں ٹیلی فون ہے، میں اس کے فوائد کا حقدار ہوں۔ سو کچھ اس وقت جی بھی گھبرا رہا تھا۔ چنانچہ میں نے ٹیلی فون کے پاس نہایت ہی اطمینان سے کرسی پر بیٹھ کر آلہ اٹھا کر کان اور منہ سے بیک وقت لگا لیا۔\n\nایکسچینج نے کہا، ’’نمبر پلیز، کون سا نمبر مانگتے ہیں آپ؟‘‘ چونکہ مجھے در اصل کسی نمبر کی بھی ضرورت نہ تھی، لہٰذا میں نے بلا تامل کہہ دیا، ’’نمبر ۱۲ سے ملا دیجیے۔‘‘ نمبر ۱۲ کو اطلاع، اور اب وہ آئے اور بولے، ’’جی۔ آپ کہاں سے بولتے ہیں؟‘‘ میں نے بھی یہی سوال کر دیا اور کہا، ’’آپ کون صاحب ہیں؟‘‘\n\n’’بوٹ و شوز مرچنٹ!‘‘\n\n’’دیکھیے جناب!‘‘ میں نے کہا، ’’ہم گورنمنٹ ٹھیکیدار ہیں۔ احمد حسین محمد حسین اور دہلی نمبر ۴۸ سے باتیں کرتے ہیں۔ در اصل ہمیں دو ہزار سیاہ رنگ کے گورا شاہی فوجی بوٹ درکار ہیں۔ براہ مہربانی فرمائیے کہ کیا دام ہوں گے اور کتنے دنوں میں آپ دے سکیں گے؟‘‘ بہت خوش ہو کر اس طرف سے وہ بولے، ’’ہم ڈیڑھ مہینے کے اندر اندر مال دے سکتے ہیں، اور قیمت کے بارے میں عرض ہے کہ بارہ روپیہ فی جوڑا ہوگا۔‘‘ قدرتاً میں نے کہا، ’’یہ بہت زیادہ ہے۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے کچھ چمڑے وغیرہ کے بارے میں تفصیلی بحث کی اور نتیجہ اس کا یہ رہا کہ جب میں نے قیمت نامنظور کردی تو انہوں نے کہا کہ ہم خود تھوڑی دیر بعد مفصل تخمینہ بنا کر مطلع کریں گے۔\n\n(۲)\n\nایک دوسرے صاحب سے سلسلہ ملایا۔ بعد ’’آپ کون اور آپ کون‘‘ کے انہوں نے کہا۔ ’’ہم ہڈی پیستے ہیں، ہڈی پیسنے کا کارخانہ ہے۔‘‘\n\nاوہو! میں نے دل میں کہا، یہی وہ لوگ ہیں جو شکر میں ہڈی ملا ملا کر سینکڑوں ہندو مسلمانوں کو عیسائی بنا چکے۔ خیر۔۔۔ مگر اس وقت میں نےمجبوراً ان سے کہا، ’’ہم ہڈی فروخت کرتے ہیں۔۔۔ تاجر ہیں ہڈی کے، آپ لیں گے؟‘‘\n\n’’جی ہاں۔‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’اپنا نرخ بتائیے اور پھر کس قسم کی ہڈی ہوگی۔‘‘ اب میری سمجھ میں نہ آیا کہ تولے کے حساب سے نرخ دوں یا من کے حساب سے۔ غلطی سے بچنے کی نیت سے میں نے کہا، ’’آپ جس بھاؤ دوسرے ٹھیکیداروں سے لیتے ہیں اسی پر ہم سے لے لیجیے۔‘‘\n\n’’ہم ساٹھ روپے فی ویگن لیتے ہیں اور ثابت ہڈی لیتے ہیں۔ آپ کتنی دے سکیں گے؟‘‘ اب میں نے سوچا کہ انہیں بہترین مال دینا چاہیے اور پھر ان پر اپنی تجارت کا رعب جما دینا چاہیے، چنانچہ میں نے جواب دیا، ’’ہمارے پاس چالیس ہزار مسلم ڈھانچے موجود ہیں۔ ہم ویگن کے حساب سے نہیں دے سکتے، کیونکہ ہمیں مسلم ڈھانچے توڑنے پڑیں گے۔ بہتر ہے کہ آپ فی ڈھانچہ ہم سے نرخ طے کر لیں۔‘‘\n\n’’ہیں!‘‘ انہوں نے سخت تعجب سے کہا، ’’چالیس ہزار ڈھانچہ۔۔۔ مسلم۔‘‘\n\n’’جی۔‘‘ میں نے جواب دیا، ’’بیشک اور پھر چھوٹے عدد بھی موجود ہیں۔‘‘\n\n’’وہ کیا؟‘‘\n\n’’خرگوش کے ڈھانچے۔‘‘\n\n’’مت بکو۔‘‘ انہوں نے کہا۔ میں نے کہا، ’’ہشت۔‘‘ ختم سلسلہ۔\n\n(۳)\n\nاس کے بعد شہر کے مشہور سیٹھ صاحب کی نل اور پائپ کی دکان سے سلسلہ جنبانی کر کے بعد تبادلہ ’’آپ کون؟‘‘، مؤدبانہ طریقہ سے میں نے عرض کیا کہ ’’ہم گورنمنٹ ٹھیکیدار ہیں اور دہلی نمبر ۵۳ سے بولتے ہیں۔‘‘ وہ بولے، ’’کیا چاہیے؟‘‘ میں نے کہا، ’’ہم انجینئر لوگ ہیں اور دریائے چنبل کا صاف پانی نئی دہلی میں لانے کا گورنمنٹ سے ہم نے ٹھیکہ لے لیا ہے اور اس کے واسطے ہمیں بہت لمبا چوڑا پائپ درار ہے۔‘‘\n\n’’کتنا چوڑا؟‘‘ انہوں نے کہا، ’’لمبائی بھی بتائیے گا۔‘‘\n\nمیں نے جواب دیا کہ ’’بہت چوڑا۔‘‘\n\n’’آخر کتنا؟‘‘\n\n’’بہت چوڑا!‘‘\n\n’’پھر بھی؟‘‘ انہوں نے کہا، ’’اور لمبائی؟‘‘\n\n’’یہی کوئی آٹھ فٹ چوڑا چاہیے۔ لمبائی تین چار سو میل ہوگی۔‘‘\n\n’’آٹھ فٹ چوڑا!‘‘ تعجب سے انہوں نے کہا۔\n\n’’جی۔‘‘\n\n’’اور پھر تین سو میل میں آپ ٹکڑے کتنے چاہتے ہیں؟‘‘\n\n’’بس ایک ٹکڑا چاہیے۔‘‘\n\n’’ہیں!‘‘ انہوں نے کہا، ’’آپ مذاق کرتے ہیں۔‘‘\n\n’’آپ کی جان عزیز کی قسم۔‘‘ میں نے کہا، ’’مذاق سے مجھے کیا سروکار۔‘‘\n\nضرور بالضرور، یہ مجھ سے زیادہ بے وقوف تھے، کہنے لگے، ’’ہم دس دس فٹ کے ٹکڑے دے سکتے ہیں، مگر نرخ بعد میں بتائیں گے۔‘‘ میں نے کہا، ’’بہتر ہے، مگر دیکھیے اگر نل ٹپکایا ٹوٹا تو دام نہ دیں گے۔‘‘ وہ راضی ہوگئے اور لطف تو دیکھیے کہ انہوں نے سچ مچ حساب بٹھا کر کچھ عرصہ بعد دہلی نمبر ۵۳ سےکچھ اس کے بارے میں کہا۔ وہاں ایک ڈاکٹر صاحب تھے، انہوں نے جو یہ لغویات وغیرہ سنیں تو کہا کہ جلد آپ سلسلہ منقطع کریں ورنہ ابھی کرتا ہوں میں آگرے کے پاگل خانے کوٹیلی فون۔ یہ بعد میں معلوم ہوا۔\n\n(۴)\n\nاس کے بعد ہی میں ایک تیل پیلنے کے کارخانے سے واقعی معاملے کی گفت و شنید کر رہا تھا۔ چونکہ دوپہر کے وقت مالکان کارخانہ لازمی طور پر آرام فرماتے ہیں اور ٹیلی فون پر منیب جی ہوتے ہیں۔ لہٰذا سلسلۂ گفتگو شروع ہوتے ہی میں نے قیاس دوڑایا، ’’منیب جی ہیں؟‘‘ وہ بولے، ’’جی ہاں!‘‘ میں نے کہا، ’’نمستے۔ ذرا لالہ جی کو بلائیے۔‘‘ (میں جانتا تھا کہ لالہ صاحب سو رہے ہوں گے۔)\n\nمنیب جی بولے، ’’وہ سو رہے ہیں اور تاکید کردی تھی کہ مت جگانا۔‘‘\n\n’’مگر تم انہیں جگا دو، کہنا کہ احمد بھائی بلاتا ہے، سخت ضروری کام ہے۔‘‘ مجبوراً لالہ صاحب آئے اور بعد نمستے میں نے عرض کیا، ’’ہمیں دو لاکھ من سرسوں کا تیل پلوانا ہے، کیا نرخ ہوگا؟‘‘ لالہ صاحب بولے، ’’کیا اسی لیے ہمیں جگایا۔ منیب جی سے نہ پوچھ لیا۔‘‘ میں نے عرض کیا، ’’میں روپیہ پیشگی منیب جی کو نہیں دے سکتا تھا، آپ کو دوں گا۔‘‘ اس کا جواب لالہ صاحب نے دیا۔ ہم ’باہری‘سرسوں نہیں پیلتے ہیں۔ میں نے عرض کیا، ’’مگر یہ تو ’اندری‘ ہے۔ سودیشی سرسوں۔‘‘\n\n’’ہمیں اپنے سرسوں سے فرصت نہیں، اپنے کام سے مہلت نہیں ہے۔‘‘\n\nبہت کچھ اونچ نیچ سمجھا کر اور نقد رقم پیشگی کی دھمکیاں دے کر جو میں نے نرخ پوچھا تو لالہ جی نے تین روپے من مانگا۔ بڑی مشکل سے ڈھائی روپے من طے ہوا۔ بشرطیکہ میں پچاس ہزار کا چیک پیشگی دے دوں۔ مجھے بھلا کیا انکار ہو سکتا تھا۔ مگر میں نے اب کچھ مزید تشریح کی۔ ظاہر ہے کہ سرسوں پیلی جائے گی تو کھلی بھی ہوگی۔ تیل کو کام میں لے آؤں گا مگر آپ غور کریں کہ آخر اتنی کھلی کا میں کیا کروں گا۔ چنانچہ میں نے لالہ صاحب سے کہا، ’’مگر یہ تو بتائیے کہ کھلی آپ کیا بھاؤ لیں گے؟‘‘\n\nلالہ جی نے کہا، ’’ہم کھلی نہیں لیں گے۔‘‘\n\n’’کھلی تو آپ کو لینا پڑے گی۔‘‘ میں نے صاف صاف کہہ دیا۔\n\n’’ہم کھلی ولی نہیں لیں گے۔‘‘ کچھ چیں بہ جیں ہو کر۔\n\n’’کھلی تو آپ کو لینا پڑے گی۔‘‘ زور دے کر میں نے کہا، ’’مذاق نباشد، مجبوراً لینی ہوگی۔‘‘\n\n’’ہم نہیں لیتے، یہ کون سا قاعدہ ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’ہم قاعدہ واعدہ کچھ نہیں جانتے۔ کان کھول کر سن لیجیے، کھلی آپ کو جبراً لینا ہوگی، ورنہ۔۔۔‘‘\n\n’’ہم سرسوں نہیں پیلتے۔‘‘\n\n’’پیلنا پڑے گی۔‘‘ میں نے خفا ہو کر کہا، مگر وہ ٹیلی فون چھوڑ چکے تھے۔\n\n(۵)\n\nاس کے بعد ایک حاجی صاحب سے سلسلہ ملایا۔ بخدا کس قدر تلخ اور کس قدر درشتی سے انہوں نے میرے کان میں جیسے پھاؤڑا مارا ہے، ’’کون۔ کون ہو۔ و۔۔۔ و۔۔۔‘‘ برجستہ میں نے بھی کہا، ’’ملک الموت۔ چلو جہنم کی طرف۔‘‘\n\n’’مردود!‘‘ انہوں نے تڑپ کر کہا۔\n\n’’گھوڑے!‘‘ میں نے ڈپٹ کر کہا۔ (سلسلہ ختم)\n\n(۶)\n\nاس کے بعد ایک اور صاحب سے سلسلہ ملایا۔ ’’کون ہے؟‘‘ انہوں نے ایسی آواز میں کہا جیسے ان کے ڈاڑھی ہے اور قبل اس کے کہ میں بولوں خود ہی جواب دیا، ’’حسرت۔۔۔ او حسرت۔۔۔ حسرت۔۔۔ ارے حسرت۔‘‘ مجبوراً مجھے کہنا پڑا ’’جی۔‘‘ وہ بولے گالی دے کر، ’’کیا مر گیا تھا؟‘‘ میں نے عرض کیا، ’’جی ہاں۔ ابھی قبرستان سے آرہا ہوں۔‘‘ اس پر انہوں نے وہ گالی دی ہے کہ میں نے خود سلسلہ توڑ دیا۔\n\n(۷)\n\nاس کے بعد ایک نوجوان گریجویٹ سے سلسلہ ملا۔ نہایت ہی ہونہار اور قابل واقع ہوئے تھے اور حال ہی میں ایک مضمون حمایت نسواں پر بڑے معرکہ کا ’’پانیر‘‘ میں دے چکے تھے۔ جب انہوں نے اپنا نام بتایا تو مجھے پتہ چلا کہ یہ وہ حضرت ہیں۔ چنانچہ میں نے مضمون کا ذکر کرکے مبارک باد پیش کی۔\n\n’’شکریہ۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’آپ نے وہ میرا مضمون پڑھا تھا؟‘‘ خوش ہو کر انہوں نے پوچھا۔\n\n’’جی ہاں۔ میں نے بڑے شوق سے اسے پڑھا تھا۔‘‘ میں نے کہا۔\n\n’’میں نے بڑی محنت سے اسے لکھا تھا۔ آپ کو کچھ پسند بھی آیا؟‘‘\n\nآپ خود خیال فرمائیے کہ اب میری خطا تھی یا خود ان کی۔ مضمون کی میں تعریف کر چکا، مبارک باد عرض کر چکا، پھر بار بار پوچھتے ہیں کہ پڑھا بھی تھا، اور اب کہتے ہیں کہ آبیل مجھے مار! میں نے سوچا دل میں کہ یہ یوں نہ مانیں گے، لہٰذا میں نے جواب دیا، ’’جی ہاں۔‘‘ میں نے کہا، ’’مجھے بے حد پسند آیا مگر ایک بات تو بتائیے۔‘‘\n\n’’وہ کیا؟‘‘ انہوں نے خوش ہوکر پوچھا، ’’فرمائیے۔‘‘\n\n’’آپ نے اسے کہاں سے نقل کیا تھا؟‘‘ میں نے سادگی سے پوچھا۔\n\nجیسے بھنا کر انہوں نے کہا، ’’یہ تو بتائیے جناب کرتے کیا ہیں؟‘‘\n\n’’میں چلتا ہوں، کھاتا ہوں، پہنتا ہوں۔‘‘ کہ اتنے میں برابر کی میز پر گھڑی کا الارم بولا تو میں نے وہی اٹھا کر ٹیلی فون کے آلے پر لگا دیا۔\n\n(۸)\n\nدوسری جگہ ملایا۔\n\nوہ، ’’آپ کس نمبر سے بولتے ہیں؟‘‘\n\nمیں، ’’آپ کس نمبر سے بولتے ہیں؟‘‘\n\nوہ، ’’آپ کون صاحب ہیں؟‘‘\n\nمیں، ’’آپ کون صاحب ہیں؟‘‘\n\nوہ، ’’میرا نام کلب علی خان اور آپ کا نام؟‘‘\n\nمیں، ’’شتر محمد خاں۔‘‘ (گھڑی کا الارم لگا دیا)\n\n(۹)\n\nشاید کبھی آپ کے ساتھ بھی ایسا اتفاق ہوا ہو کہ غلطی سے بجائے کسی دوسرے نمبر کے کسی کا سلسلہ آپ سے مل گیا ہو اور آپ نے غلطی محسوس کر کے ذرا بھی غلطی کو نباہنے کی کوشش نہ کی ہو۔ اکثر کوئی اس طرح بات پوچھے تو آپ فوراً کہہ دیں گے کہ معاف کیجیے گا، معلوم ہوتا ہے غلط نمبر مل گیا ہے۔ میری دانست میں ایسا کرنا خدائی ناشکری اور خود ٹیلی فون کے موجد کی جدتِ طبع کی توہین ہے۔ اس مختصر تمہید کے بعد عرض ہے کہ میں سوچ ہی رہا تھا کہ اب کس نمبر سے ملاؤں کہ خود کسی نے مجھے گھنٹی دی۔ زہے قسمت کہہ کر میں نے آلہ اٹھایا۔ اس طرف سےکسی نے کہا، ’’نمستے۔‘‘\n\n’’نمستے۔‘‘\n\n’’کہیے ٹھاکر صاحب کیسے ہیں؟ کوئی تار کا جواب آیا؟‘‘\n\nفوراً میں نے جواب دیا، ’’ٹھاکر صاحب تو مر گئے۔‘‘\n\nقاعدہ ہے کہ اگر آپ جواب دینے میں ذرا بھی تساہل کریں گے تو میری دانست میں شاید ٹیلی فون کے موجد کی دماغ سوزی کی داد دینے سے آپ قاصر رہیں گے۔ ایسے موقعوں پر چاہیے کہ برجستگی سے کام لیا جائے جیسا کہ میں نے کہا۔ در اصل ہر وہ شخص جس کے یہاں ٹیلیفون ہے بہت آسانی سے اس مخصوص فائدہ سے بہرہ اندوز ہونے کی بڑی آسانی سے صلاحیت پیدا کر سکتا ہے۔ اگر وہ مجبور ہے تو اس کی تیرہ بختی۔ جب میں نے یہ روح فرسا پیغام ادھر پہنچایا تو وہ حضرت تو ’’ارے‘‘ کہہ کر ہٹ گئے اور دوسرے صاحب آئے اور خدا ان کا بھلا کرے کہ انہوں نے مجھے میرا نام بتایا، کہنے لگے، ’’دیکھو شام جی ذرا بڑے بابو جی کو بھیج دو۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’بہت اچھا۔‘‘ تو وہ بولے کہ ’’جلدی کرو۔‘‘ میں نے بھی کہا، ’’جلدی ہی لو۔‘‘ چنانچہ بہت جلد مجھے بڑے بابوجی کی حیثیت سے گفتگو کرنے کا فخر حاصل ہوا۔ میں نے ضرورتاً نہیں بلکہ احتیاطاً کچھ آواز بھی بدل دی۔ جب انہوں نے معلوم کر لیا کہ بڑے بابوجی آگئے تو وہ حضرت مجھ سے بولے، ’’بڑے بابوجی ہیں۔۔۔ ہاں تو دیکھیے وہ بلٹی تو آپ نے واپس نہیں کی ہے نا۔‘‘\n\nواللہ اعلم یہ کیسی بلٹی تھی اور میں صحیح اندازہ لگانے سے قاصر رہا کہ کیا جواب مناسب ہوگا، لہٰذا میں نے بھی ذرا گول جواب دیا۔ ’’واپس تو ابھی نہیں کی ہے مگر کر رہے ہیں۔‘‘ وہ گھبرا کر بولے، ’’ارے! واہ صاحب! یہ آخر کیوں؟‘‘ میں چوں کہ کوئی مناسب وجہ نہ بتا سکتا تھا لہٰذا مجبوراً میں نے اور ہی رویہ اختیار کیا۔ ذرا کرختگی سے میں نے کہا، ’’ہماری مرضی۔‘‘\n\n’’ہم نے پیشگی روپیہ دے دیا ہے تب بھی آپ واپس کردیں گے۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’ہاں۔‘‘\n\n’’یہ کیوں؟‘‘ انہوں نے تیز ہوکر کہا، ’’ہم پیشگی روپیہ دے چکے ہیں اور اب۔۔۔‘‘ بات کاٹ کر میں نے بھی ڈپٹ کر کہا، ’’ہم پیشگی ویشگی کچھ نہیں جانتے۔ ہم بلٹی واپس کر رہے ہیں۔‘‘\n\n’’غضب ہو جائے گا۔‘‘ وہ گھبرا کر بولے، ’’ہزاروں کا نقصان ہو جائے گا، آپ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔‘‘\n\n’’ہم تمہاری غلطیوں کے ذمہ دار نہیں۔‘‘ تیز ہو کر میں نے کہا۔\n\nاتنے میں کسی دوسرے نے اُدھر سے ٹیلی فون لیا۔ جو غالباً اس کے پاس ہی کھڑا سب سن رہا تھا اور اس نے تیز ہو کر کہا، ’’آپ کس قاعدے سے بلٹی واپس کر رہے ہیں؟‘‘ میں نے کہا، ’’ہم کوئی قاعدہ واعدہ نہیں جانتے۔‘‘ وہ بولے، ’’آپ کی تحریر اور وعدہ موجود ہے کہ تین روز تک بلٹی واپس نہیں کریں گے اور اب آپ یہ کہہ رہے ہیں۔‘‘\n\n’’ہم نہیں جانتے۔‘‘ میں نے ڈانٹ کر کہا، ’’ہم تو اب بغیر بلٹی واپس کیے ہرگز نہ مانیں گے۔‘‘ جب انہوں نے حجت اور بحث کی تو میں نے سلسلہ منقطع کر دیا۔\n\n(۱۰)\n\nاب ایک نیا لطیفہ سنیے۔ وہ نمبر ۱۲جوتے والے جن سےمیں نے سب سے پہلے بات چیت کی تھی اور جوتوں کا نرخ پوچھا تھا، وہ اتفاقاً اس دہلی کے فرضی نمبر کو بھول گئے جو میں نے انہیں بتایا تھا۔ مجبوراً انہوں نے ایکسچینج سے کہا کہ ہم دہلی کے اس نمبر سے بات کرنا چاہتے ہیں جس نمبر نے خود ہم سے گھنٹہ دوگھنٹہ ہوئے بات کی تھی۔ ایکسچینج نے کہا کہ حضرت آپ سے تو کیا دہلی سے تو آج کسی سے بھی شہر میں سلسلہ نہیں ملا۔ ہاں نمبر ۴۲ (میرا نمبر) نے البتہ آپ سے سلسلہ ملایا تھا۔ اس پر جب انہوں نے اطمینان پورا پورا کرلیا کہ کہ محض مذاق تھا تو ایکسچینج سے کہا کہ خیر کچھ بھی ہو ہمیں تم اس نمبر سے ملا دو جس نے ہم سے بات کی تھی۔ خواہ وہ دہلی کے ہوں یا شہر کے چنانچہ اس نے مجھ سے سلسلہ ملا دیا اور انہوں نے اس خادم کو گھنٹی دی۔\n\n’’آپ نمبر ۴۲ سے بولتے ہیں؟‘‘ انہوں نے بغیر میرا جواب لیے ہوئے کہا، ’’اور میں نمبر ۱۲جوتوں کی دکان سے بولتا ہوں۔ بھلا اس قسم کے مذاق سے کیا فائدہ۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’آپ جوتوں کی دکان سے بولتے ہیں؟‘‘\n\nوہ بولے، ’’ہاں۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’پھر جناب اس میں مذاق اور بحث کی کیا گنجائش، بتائیے جلدی سے جوتوں کا نرخ ورنہ ہم دوسری جگہ سے سودا کرلیں گے۔‘‘ وہ اس پر کچھ عامیانہ مذاق فرمانے لگے۔ کچھ اس قسم کی باتیں ہوئیں کہ جنت میں ایک ایک کے عوض ستر ملیں گے۔ نتیجہ یہ کہ میں نے مجبوراً گھڑی کا الارم لگا دیا اور یوں سلسلہ کو ختم کیا۔\n\nاب میں نے سوچا کہ اس کو کیا حق حاصل تھا کہ مجھ سے جواب طلب کرے، شاید اس کو نہیں معلوم کہ مجھے بھی فرصت ہے، چنانچہ میں نے پھر کوئی دس منٹ بعد ہی ان کو پکارا اور کہا، ’’حضرت وہ جوتوں کا نرخ آپ نے نہ بتایا، ہم دہلی سے بولتے ہیں اور کاروباری آدمی ہیں، نقصان ہو رہا ہے ہمارا۔‘‘ اس پر وہ ہنسنے لگے اور لگے برجستگی دکھانے۔ سلسلہ ختم ہو گیا۔ لیکن اب میں ٹیلی فون سے پورا پورا فائدہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ گھڑی لے کر بیٹھ گیا اور ادھر دس منٹ گزرے اور میں نے انہیں گھنٹی دی اور بس یہی سوال کہ ’’ہم دلی کے سوداگر ہیں، براہ کرم جوتوں کا نرخ بتائیے۔‘‘\n\nتھوڑی دیر کے بعد مذاق سے اترکر یہ حضرت گالی گلوچ پر اترآئے اور ادھر میں نے خریداری کا تقاضا ذرا اور سخت کیا۔ یعنی بجائے ہر دس منٹ کی حاضری کے پانچ منٹ کی قید لگا دی۔ آپ کہیں گے کہ ان کی حماقت تھی، آخر چپ کیوں نہ ہو رہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت آپ خود ٹیلی فون لگا کر جوتے کی دکان کھولیں تو اس کا اندازہ ہو۔ دکان دار کو ہر ٹیلی فون کی گھنٹی پر شملہ اور نینی تال کا فوجی آرڈر سنائی دیتا ہے۔ اگر ایک گھنٹی خالی گئی تو ممکن ہے ہزاروں روپے پر پانی پھر جائے۔ قصہ مختصر ہر مرتبہ ان کو آنا پڑتا اور نتیجہ یہ نکلتا کہ گالی گلوچ۔ کچھ دیر بعد ہی جب انہوں نے دیکھا کہ یہ عجیب وغریب خریدار پیچھا ہی نہیں چھوڑتا تو ایکسچینج سے شکایت کردی کہ خبردار جو اس نمبر سے ہمارا نمبر ملایا۔\n\nاب جو میں نے ایکسچینج سے نمبر ۱۲مانگا تو جواب دیا کہ ’’آپ ان کو دق کر رہے ہیں، یہ جرم ہے۔‘‘ دیکھا آپ نے لاچاری اس کا نام ہے۔ مجبوراً قہر درویش بر جان درویش۔ چھوڑ چھاڑ کر میں بھی ٹیلیفون سے سیر ہوکر الگ ہوا۔ مجھے اب ٹیلی فون کے موجد پر غصہ آ رہا تھا کہ کیوں نہ اس بات کا اس نے کوئی تدارک کیا۔ بڑی دیر تک سوچتا رہا۔ کچھ عقل نے کام نہ کیا۔ مجھے معلوم ہوا کہ ٹیلی فون میں یہ بڑی خامی ہے، لیکن دماغ لڑاتا ہی رہا۔ کوئی دو گھنٹہ بعد وہ دور کی کوڑی لایا ہوں کہ دوڑا ٹیلی فون کی طرف، پورا فائدہ ٹیلی فون سے اٹھانے۔\n\n’’ایکسچینج، ایکسچینج!‘‘ میں نے زور سے پکارا۔ ’’دیکھیے، کیا میرے یہاں سے کسی نے آج نمبر ۱۲ کو پریشان کیا۔‘‘\n\nایکس چینج نے کہا، ’’جناب من نمبر ۱۲ کو آپ کے یہاں سے سخت شکایت ہے۔ ان کو تو آج آپ کے یہاں سے کسی نے بہت دق کیا۔‘‘\n\n’’دیکھیے۔‘‘ میں نے زور سے کہا، ’’دیکھیے، میری طرف سے ان سے معافی مانگئے گا اور عرض کیجیے گا کہ میں شکار کو گیا تھا، آج کمرہ کھلا رہ گیا۔ بچوں نے سخت نالائقی کی اور میں بے حد شرمندہ ہوں۔ بلکہ میں خود ان سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔ آپ ملا تو دیجیے۔‘‘\n\n’’مگر انہوں نے منع کر دیا ہے۔‘‘ ایکسچینج نے جواب دیا۔\n\n’’آپ ان سے دریافت کرلیں۔‘‘ میں نے کہا۔\n\nبہت جلد ہی گھنٹی آئی، واہ رے ٹیلی فون کے موجد، میں نے دل میں کہا، کیا ایجاد ہے۔ سلسلہ نمبر ۱۲ سے پھر مل گیا۔\n\nنہایت ہی تپاک سے میں نے نمبر ۱۲ سے کہا، ’’معاف کیجیے گا۔ جناب کو آج میری ذرا سی لاپرواہی سے بڑی زحمت ہوئی۔ نوکر نے مجھے سے کہا کہ ’’نمبر۱۲‘‘ آج لڑکے پکار رہے تھے اور سخت لڑائی لڑ رہے تھے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دوبچوں کو تو میں نے ادھیڑ کر ڈال دیا، سسک رہے ہیں اور تیسرے کو ملازم پکڑنے گیا ہے۔‘‘\n\n’’واللہ آپ یہ کیا غضب کرتے ہیں؟‘‘ انہوں نے پریشان ہو کر کہا، ’’آپ کو میرے سر کی قسم جو بچے کو ہاتھ بھی لگایا۔ ایسا ہوتا ہی رہتا ہے۔ کوئی مضائقہ نہیں، بچے تو شریر ہوتے ہی ہیں۔‘‘\n\n’’مگر میں تو بغیر سزا دیے نہ مانوں گا۔‘‘ میں نے کہا۔ وہ بولے، ’’بخدا آپ میرے اوپر ظلم کریں گے جو بچے کو مارا اور جن بچوں کو آپ نے مارا ان پر ظلم نہیں کیا، بلکہ میرے اوپر ظلم کیا۔ میں آپ کو خدا کا واسطہ دیتا ہوں جو آپ نے بچے کو ہاتھ بھی لگایا۔‘‘\n\n’’مگر مجھے آپ سے جو سخت شرمندگی ہے۔‘‘\n\n’’آپ کچھ پروانہ کریں۔‘‘\n\n’’مگر مجھے سخت ندامت ہی نہیں بلکہ صدمہ ہوا کہ آپ کو پریشانی ہوئی۔‘‘\n\nوہ بولے، ’’آپ تو کمال کرتے ہیں۔ کوئی بات بھی ہو آخر۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’اچھا تو پھر آپ بتائیے کہ دل سے آپ نے معاف کیا۔‘‘\n\n’’واللہ۔‘‘ وہ بولے، ’’آپ کیسی باتیں کرتے ہیں۔ ذرہ بھر مجھے خیال نہیں۔‘‘ میں نے کہا، ’’آپ کی عنایت کا کس زبان سے شکریہ ادا کروں، مگر ایک عرض ہے، اگر اجازت ہو تو۔۔۔‘‘ وہ بولے، ’’احی حضرت ایک نہیں دو فرمائیے۔ ارشاد۔‘‘ میں نے کہا، ’’براہ کرم ان جوتوں کا نرخ بتا ہی دیجیے۔‘‘\n\nاب میں آپ سے کیا عرض کروں کہ انہوں نے کیا کہا۔ میرا یہ کہنا تھا کہ گویا بارود میں آگ لگ گئی۔ ادھر انہوں نے مغلظات شروع کی ہیں اور اِدھر میں نے گھڑی کا الارم لگا دیا۔\n\nعرض یہ کہ اس خادم کے یہاں ٹیلی فون ہے اور دوچار دوستوں کے یہاں بھی یہ مفید سلسلہ جاری ہے۔ جب میں نے دیکھا کہ مجھے ٹیلی فون سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا اور مجھے اب نمبر ۱۲سے شرف سلسلہ حاصل نہ ہوسکے گا تو مجبوراً میں نے بذریعہ ٹیلی فون دو تین اور احباب کو اس راز سے آگاہ کیا۔ انہوں نے جو اس میں خوبیاں اور فوائد دیکھے تو وہ ہاتھ دھو کر نمبر ۱۲ کی جان کے پیچھے پڑگئے اور ایک لامتناہی سلسلہ چھیڑ دیا کہ نرخ جوتوں کا بتاؤ ہم دہلی سے بولتے ہیں۔ پھر بدقسمتی سے میرے ان دوستوں نے اپنے اپنے دوستوں کو خبر کی اور ان لوگوں نے اپنے اور دوستوں کے دوستوں کو آگاہ کیا۔ نتیجہ ظاہر ہے ’یک انار و صد بیمار ایکسچینج والا خود ایک بلا میں گرفتار ہوگیا اور جسے دیکھیے وہ نمبر ۱۲ سے بات کرنے کا خواہاں ہے۔\n\nجس روز کا یہ ذکر ہے، اس رات گئے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ میرے پاس دم دم پہ رپورٹیں بذریعہ ٹیلی فون آتی تھیں۔ مجھے کیوں نہ فخر ہو۔ اگر ٹیلی فون کے موجد کی ذہانت قابل داد ہے تو ٹیلی فون سے پورا پورا فائدہ حاصل کرنا میں جانتا ہوں۔ شام کو جو رپورٹ میرے پاس آئی، اس سے معلوم ہوا کہ نمبر۱۲ ’’عجیب پسپائیت کے عالم‘‘ میں ہے۔ وہ تیزی اور وہ حرارت کافور ہوگئی، جو شروع میں تھی اور اب تو بڑی حسرت سے کہتے ہیں اور وہ بھی بڑے پر درد لہجہ میں۔ ’’ابے موذی! کیوں میری جان کے پیچھے پڑا ہے۔ شام کا وقت ہے۔ گاہک چھوڑ چھوڑ کر آتا ہوں۔ خدا کے واسطے میری جان چھوڑ۔‘‘\n\nدوسرے روز دکان نمبر ۱۲ کے مالک مجھ سے ملنے آئے۔ میں باہر برآمدے میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ مجھے انہوں نے مفصل قصہ سنایا۔ میں نے سب سے پہلے تو حیرت و استعجاب کا اظہار کیا بلکہ یقین کرنے سے انکار کیا، پھر بڑی مشکل سے یقین کیا۔\n\n’’میرے یہاں سے! میرے یہاں سے۔۔۔! آپ کو۔۔۔ ناممکن! ہر وقت ٹیلی فون کے کمرے میں تالا پڑا رہتا ہے۔۔۔ مجال نہیں کسی کی جو کوئی چھو بھی سکے۔ میں کل متھرا گیا تھا تو تالا ڈال کر گیا۔۔۔ آج ہی رات تو کمرہ کھولا ہے۔۔۔ (مسکرا کر) غلطی ہوئی ہوگی۔۔۔ کوئی اور نمبر ہوگا۔۔۔ (پھر اس کے بعد) ممکن ہے کوئی اور صاحب! میں عرض نہیں کر سکتا۔۔۔ میری تو عقل کام نہیں کرتی۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ میں کیا تدبیر بتاؤں۔۔۔ میں اول اس معمے کو ہی کو سمجھوں کہ میرے یہاں سے کسی نے کیسے بات کی تب کہیں دماغ بھی لڑاؤں۔۔۔ (پھر اس کے بعد) بڑے افسوس کی بات ہے۔۔۔ لا حول و لا قوۃ۔۔۔ سخت ذلیل حرکت ہے۔۔۔ ہیں ناہم لوگ آخر کو ہندوستانی۔۔۔ بھلا ایسا یورپ میں ہو تو کا ہے کو دنیا کا کام چلے۔۔۔ آپ سٹی مجسٹریٹ کو رپورٹ کریں۔۔۔ ایکسچینج والے کلرک پر دعویٰ کریں۔ ہو نہ ہو اسی کی بدمعاشی ہے وغیرہ وغیرہ‘‘ غرض اسی قسم کی باتیں کر کے انہیں رخصت کیا۔\n\nدوتین ہی دن میں عجیب حال ہوگیا۔ ایک آنریری مجسٹریٹ تھے بڈھے سے، انہوں نے اول روز جب سنا تو اپنے نواسوں کو مارا، لیکن تیسرے روز سنا تو کچھ مسکرا کر بولے کہ ’’آج ہم نے بھی سوچا کہ لاؤ دیکھیں کہ یہ نمبر ۱۲ والا کیا کہتا ہے، تو وہ تو بڑا بدمعاش ہے، بڑی گالیاں دیتا ہے۔‘‘\n\nظاہر ہے کہ کون بھلا مانس ہوگا جس نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہ دھولیا ہوگا۔\n\n(۱۱)\n\nپانچویں روز ہی سب معاملہ سرد ہونا شروع ہوا۔ نمبر ۱۲ نے اب عقل مندی سے کام لیا۔ ٹیلی فون پر آتے، کان سےآلہ لگاتے مگر بندہ خدا بات نہ کرتے۔ یعنی جواب ہی نہ دیتے۔ لوگوں نے جب یہ دیکھا تو مایوس ہو کر بیٹھنا شروع ہوئے۔ اس میں نمبر ۱۲ کو بڑی کامیابی ہوئی اور قریب قریب معاملہ سرد پڑ گیا تھا کہ میں ایک صاحب کے یہاں پہنچا۔ کسی قدر کبیدہ خاطر اور مغموم ہو کر انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر نمبر۱۲ کی خاموشی کی مجھ سے شکایت کی کہ میرا دل لرز گیا۔ میں نےانہیں اطمینان دلایا کہ خدا کار ساز حقیقی ہے۔ وہ مجیب الدعوات ہے۔ ذرا ٹیلی فون کا آلہ ادھر تو لاؤ۔ وہ لے آئے۔ میں نے سلسلہ کلام شروع کیا۔\n\n’’ایکسچینج۔۔۔۱۲‘‘\n\nسلسلہ نمبر ۱۲ سے مل گیا اور اب مجھے معلوم تھا کہ اگر جوتوں کا نرخ پوچھوں گا تو یہ حضرت چپ چاپ آلہ لگا کر گاؤ تکیہ پر جا بیٹھیں گے۔ لہٰذا میں نےکہا، ’’دیکھیے۔۔۔ دروغہ جی ہیں؟‘‘ نمبر ۱۲ کو مجبوراً بولنا پڑا، ’’کون دروغہ؟‘‘\n\n’’کوتوالی سے بولتے ہیں نا آپ؟‘‘ میں نےکہا، ’’ذراچھوٹے تھانیدار صاحب کو بھیج دیجیے ٹیلی فون پر۔۔۔‘‘ نمبر ۱۲ نے کہا، ’’یہ کوتوالی نہیں ہے!‘‘\n\nمیں، ’’پھر؟‘‘\n\nنمبر۱۲، یہ تو نمبر ۱۲ جوتوں کی دکان ہے۔ آپ کو غلطی ہوئی ہے۔‘‘\n\nمیں، ’’جوتوں کی دکان ہے؟‘‘\n\nنمبر ۱۲، ’’جی ہاں۔‘‘\n\nمیں، ’’اچھا تو پھر جوتوں کا نرخ ذرا بتا دیجیے گا۔‘‘\n\nکیا عرض کروں کہ کیا کچھ ان کانوں نے سنا، وہ وہ مغلظات سننے میں آئی ہیں کہ بیان سے باہر۔ اب اس نسخے کا دریافت ہونا تھا کہ ایک نیا سلسلہ چھڑ گیا۔ نمبر۱۲ سے سلسلہ ملوا کر کوئی تو حکیم جی کو پوچھتا ہے تو کوئی پیر جی کو، اور کوئی شیخ جی کو پوچھتا ہے، تو کوئی پنڈت جی کو اور پھر اس میں لوگوں نے وہ وہ اختراعیں کی ہیں کہ خدا کی پناہ۔ کوئی کہتا ہے کہ ’’میں گھڑی شام کو بھیج دوں گا۔‘‘ نمبر۱۲ کہتے ہیں کیسی گھڑی۔ آپ کو غلطی ہوئی ہے۔ وہ بات کرنے والا اپنی غلطی معلوم کرتے ہی جوتوں کا نرخ پوچھتا ہے۔\n\nایک صاحب نے تو حد ہی کر دی۔ بڑی لمبی چوڑی تمہید اٹھانے کے بعد بڑی دیر میں جوتوں کا نرخ اس قدر گھما پھرا کر پوچھا ہے کہ اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ نہ معلوم انہوں نے کس طرح بہلا پھسلا کر نمبر ۱۲ سے کسی صاحب کے مکان یا محلے کا راستہ ٹیلی فون پر پوچھنا شروع کر دیا اور جب وہ بتا چکے تو اس کے بعد شکریہ ادا کرکے جوتوں کا نرخ پوچھا۔\n\nنتیجہ اس کا ظاہر ہے۔ اسی مہینے میں نمبر۱۲ نے ٹیلی فون اپنے یہاں سے اٹھوا دیا۔ یہ تو خیر ہونا ہی تھا مگر بیسویں صدی کی اس بہترین ایجاد سے اصل فائدہ کسی اور نے اٹھایا۔ کسی ڈاکٹر صاحب نے ٹیلی فون لیا۔ نمبر ۱۲ خالی تھا لہٰذا قاعدہ کے مطابق ان کو نمبر ۱۲دیا گیا۔ لوگوں کو یہ کیا پتہ کہ نمبر ۱۲ پر اب کون ہے۔ لگے سب کے سب ڈاکٹر صاحب کی ’’کاری‘‘ کرنے۔ ڈاکٹر صاحب نے جب دیکھا کہ یہ کیا مصیبت آئی کہ نہ لڑنے سے کام چلتا ہے نہ جھگڑنے سے نجات ملتی ہے تو بوکھلا کر انہوں نے اپنا نمبر بدلوایا۔ محکمے کو مجبوراً نمبر ۱۲ ایک عرصے تک خالی رکھنا پڑا۔ جب جاکر اس مصیبت کا خاتمہ ہوا۔\n\nیہ ہے ان فوائد کا تھوڑا سا ذکر جن کی وجہ سے ٹیلی فون کو بیسویں صدی کا بہترین ایجاد تسلیم کرنا پڑتا۔ لیکن میں پھر آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ نہ تو میں موذی ہوں نہ کوئی بلا ہوں۔ ہاں ٹیلی فون کے ایک سیٹ کا البتہ مالک ہوں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DB%8C%D9%84%DB%8C_%D9%81%D9%88%D9%86"} {"title": "ٹیٹوال کا کتا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "یزید", "year": "1951", "text_ur": "کئی دن سے طرفین اپنے اپنے مورچے بر جمے ہوئے تھے۔ دن میں ادھر اور ادھر سے دس بارہ فائر کیے جاتے جن کی آواز کے ساتھ کوئی انسانی چیخ بلند نہیں ہوتی تھی۔ موسم بہت خوشگوار تھا۔ہواخودروپھولوں کی مہک میں بسی ہوئی تھی۔ پہاڑیوں کی اونچائیوں اور ڈھلوانوں پر جنگ سے بے خبرقدرت اپنے مقررہ اشغال میں مصروف تھی۔ پرندےاسی طرح چہچہاتےتھے۔ پھول اسی طرح کھل رہے تھے اور شہد کی سست رو مکھیاں اسی پرانے ڈھنگ سے ان پر اونگھ اونگھ کر رس چوستی تھیں۔\n\nجب پہاڑیوں میں کسی فائر کی آواز گونجتی تو چہچہاتے ہوئے پرندے چونک کراڑنے لگتے، جیسے کسی کا ہاتھ ساز کے غلط تار سے جا ٹکرایا ہےاور ان کی سماعت کو صدمہ پہنچانے کا موجب ہوا ہے۔ستمبر کا انجام اکتوبر کے آغاز سے بڑے گلابی انداز میں بغل گیر ہورہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ موسمِ سرما اور گرما میں صلح صفائی ہورہی ہے۔ نیلے نیلے آسمان پر دھنکی ہوئی روئی ایسے پتلے پتلے اور ہلکے ہلکے بادل یوں تیرتے تھے جیسے اپنے سفید بجروں میں تفریح کررہے ہیں۔\n\nپہاڑی مورچوں میں دونوں طرف کے سپاہی کئی دن سے بڑی کوفت محسوس کررہے تھے کہ کوئی فیصلہ کن بات کیوں وقوع پذیر نہیں ہوتی۔ اکتا کر ان کا جی چاہتا تھا کہ موقع بے موقع ایک دوسرے کو شعر سنائیں۔ کوئی نہ سنے تو ایسے ہی گنگناتے رہیں۔ پتھریلی زمین پر اوندھے یا سیدھے لیٹے رہتے تھےاور جب حکم ملتا تھا ایک دو فائر کردیتے تھے۔\n\nدونوں کے مورچے بڑی محفوظ جگہ تھے۔ گولیاں پوری رفتار سے آتی تھیں اور پتھروں کی ڈھال کے ساتھ ٹکرا کر وہیں چت ہو جاتی تھیں۔ دونوں پہاڑیاں جن پر یہ مورچے تھے، قریب قریب ایک قد کی تھیں۔ درمیان میں چھوٹی سی سبز پوش وادی تھی جس کے سینے پر ایک نالہ موٹے سانپ کی طرح لوٹتا رہتا تھا۔\n\nہوائی جہازوں کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ توپیں ان کے پاس تھیں نہ ان کے پاس، اس لیے دونوں طرف بے خوف و خطر آگ جلائی جاتی تھیں۔ ان سے دھوئیں اٹھتے اور ہواؤں میں گھل مل جاتے۔ رات کو چونکہ بالکل خاموشی ہوتی تھی،ا س لیےکبھی کبھی دونوں مورچوں کے سپاہیوں کو ایک دوسرے کی کسی بات پر لگائے ہوئے قہقہے سنائی دے جاتے تھے۔ کبھی کوئی لہر میں آکے گانے لگتا تو اس کی آوازرات کے سناٹے کو جگا دیتی۔ ایک کے پیچھے ایک باز گشت صدائیں گونجتیں تو ایسا لگتا کہ پہاڑیاں آموختہ دہرا رہی ہیں۔\n\nچائے کا دور ختم ہو چکا تھا۔ پتھروں کے چولھے میں چیڑ کے ہلکے پھلکے کوئلے قریب قریب سرد ہو چکے تھے۔ آسمان صاف تھا۔ موسم میں خنکی تھی۔ ہوا میں پھولوں کی مہک نہیں تھی جیسے رات کو انھوں نے اپنے عطردان بند کرلیے تھے، البتہ چیڑ کے پسینے یعنی بروزے کی بوتھی مگر یہ بھی کچھ ایسی ناگوار نہیں تھی۔ سب کمبل اوڑھے سورہے تھے، مگر کچھ اس طرح کہ ہلکے سے اشارے پر اٹھ کر لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو سکتے تھے۔ جمعدار ہرنام سنگھ خود پہرے پر تھا۔ اس کی راسکوپ گھڑی میں دو بجے تو اس نے گنڈا سنگھ کو جگایا اورپہرے پر متعین کردیا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ سو جائے، پر جب لیٹا تو آنکھوں سے نیند کو اتنا دور پایا جتنے کہ آسمان کے ستارے تھے۔ جمعدار ہرنام سنگھ چٹ لیٹا ان کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔ اورگنگنانے لگا۔\n\nجُتیّ لینی آں ستاریاں والی۔۔۔ ستاریاں والی۔۔۔ وے ہر نام سنگھا\n\nہو یارا،بھاویں تیری مہیں وک جائے\n\nاور ہرنام سنگھ کو آسمان پر ہر طرف ستاروں والے جوتے بکھرے نظر آئے۔ جو جھلمل جھلمل کررہے تھے\n\nجتی لے دؤں ستاریاں والی۔۔۔ ستاریاں والی۔۔۔ نی ہرنام کورے\n\nہونارے، بھاویں میری مَہیں وک جائے\n\nیہ گا کر وہ مسکرایا، پھر یہ سوچ کر کہ نیند نہیں آئے گی، اس نے اٹھ کر سب کو جگا دیا۔ نار کے ذکر نے اس کے دماغ میں ہلچل پیدا کردی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اوٹ پٹانگ گفتگو ہو، جس سے اس بولی کی ہرنام کوری کیفیت پیدا ہو جائے۔ چنانچہ باتیں شروع ہوئیں مگر اکھڑی اکھڑی رہیں۔ بنتا سنگھ جو ان سب میں کم عمر اور خوش آواز تھا، ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گیا۔ باقی اپنی بظاہر پرلطف باتیں کرتے اور جمائیاں لیتے رہے۔ تھوڑی دیر کے بعد بنتا سنگھ نے ایک دم اپنی پرسوز آواز میں ہیر گانا شروع کردی۔\n\nہیر آکھیا جو گیا جھوٹھ بولیں، کون روٹھڑے یار مناؤندائی\nایسا کوئی نہ ملیا میں ڈھونڈتھکی جیہڑا گیاں نوں موڑلیاؤندائی\n\nاک باز تو کانگ نے کونج کھوئی دیکھاں چپ ہے کہ کرلاؤندائی\nدکھاں والیاں نوں گلاں سُکھدیاں نی قصے جوڑ جہان سناؤندائی\n\nپھر تھوڑے وقفے کے بعد اس نے ہیر کی ان باتوں کا جواب رانجھے کی زبان میں گایا،\nجیہڑے بازتوں کانگ نے کونج کھوئی صبرشکر کر بازفناہ ہویا\n\nاینویں حال ہے اس فقیر دانی دھن مال گیا تے تباہ ہویا\nکریں صدق تے کم معلوم ہووے تیرا رب رسول گواہ ہویا\n\nدنیا چھڈ اداسیاں پہن لیاں سید وارثوں ہن وارث شاہ ہویا\n\nبنتا سنگھ نے جس طرح ایک دم گانا شروع کیا تھا، اسی طرح وہ ایک دم خاموش ہوگیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خاکستری پہاڑیوں نے بھی اداسیاں پہن لی ہیں۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے تھوڑی دیر کے بعد کسی غیر مرئی چیز کو موٹی سی گالی دی اور لیٹ گیا۔ دفعتا رات کے آخری پہر کی اس اداس فضا میں کتے کے بھونکنے کی آواز آئی۔ سب چونک پڑے۔ آواز قریب سے آئی تھی۔ صوبیدار ہرنام سنگھ نے بیٹھ کر کہا،’’یہ کہاں سے آگیا بھونکو؟‘‘ کتا پھر بھونکا ۔ اب اس کی آواز اور بھی نزدیک سے آئی تھی۔ چند لمحات کے بعد دور جھاڑیوں میں آہٹ ہوئی۔ بنتا سنگھ اٹھا اور اس کی طرف بڑھا۔ جب واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک آوارہ سا کتا تھا جس کی دم ہل رہی تھی۔ وہ مسکرایا،’’جمعدار صاحب!میں ہوکمز،ادھر بولا تو کہنے لگا، میں ہوں چپڑ جُھن جُھن!‘‘\n\nسب ہنسنے لگے۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے کتے کو پچکارا، ’’ادھر آچپڑ جُھن جُھن۔‘‘\n\nکتا دم ہلاتا ہرنام سنگھ کے پاس چلا گیا اور یہ سمجھ کرکہ شاید کوئی کھانے کی چیز پھینکی گئی ہے، زمین کے پتھر سونگھنے لگا۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے تھیلا کھول کر ایک بسکٹ نکالا اور اس کی طرف پھینکا۔ کتے نے اسے سونگھ کر منہ کھولا، لیکن ہرنام سنگھ نے لپک کر اسے اٹھالیا،’’ٹھہر۔ کہیں پاکستانی تو نہیں!‘‘ سب ہنسنے لگے۔سردار بنتا سنگھ نے آگے بڑھ کر کتے کی پیٹھ پرہاتھ پھیرا اور جمعدار ہرنام سنگھ سے کہا،’’نہیں جمعدار صاحب، چپڑ جُھن جُھن ہندوستانی ہے۔‘‘\n\nجمعدارہرنام سنگھ ہنسا اور کتے سے مخاطب ہوا،’’نشانی دکھا اوئے؟‘‘ کتا دم ہلانے لگا۔\n\nہرنام سنگھ ذرا کھل کے ہنسا،’’یہ کوئی نشانی نہیں، دم تو سارے کتے ہلاتے ہیں۔‘‘\n\nبنتا سنگھ نے کتے کی لرزاں دم پکڑلی،’’شرنارتھی ہے بے چارہ!‘‘\n\nجمعدار ہرنام سنگھ نے بسکٹ پھینکا جو کتے نے فوراً دبوچ لیا۔ ایک جوان نے اپنے بوٹ کی ایڑھی سے زمین کھودتے ہوئے کہا،’’اب کتوں کو بھی یا تو ہندوستانی ہونا پڑے گا یا پاکستانی!‘‘ جمعدار نے اپنے تھیلے سے ایک بسکٹ نکالا اور پھینکا،’’پاکستانیوں کی طرح پاکستانی کتے بھی گولی سے اڑا دیے جائیں گے!‘‘ ایک نے زور سے نعرہ بلند کیا،’’ہندوستان زندہ باد!‘‘ کتا جو بسکٹ اٹھانے کے لیے آگے بڑھا تھا ڈر کے پیچھے ہٹ گیا۔ اس کی دم ٹانگوں کے اندر گھس گئی۔ جمعدار ہرنام سنگھ ہنسا،’’اپنے نعرے سے کیوں ڈرتا ہے چپڑجُھن جُھن۔۔۔ کھا۔۔۔ لے ایک اور لے‘‘۔اس نے تھیلے سے ایک اور بسکٹ نکال کر اسے دیا۔\n\nباتوں باتوں میں صبح ہوگئی۔ سورج ابھی نکلنے کا ارادہ ہی کررہا تھا کہ چار سو اجالا ہوگیا۔ جس طرح بٹن دبانے سے ایک دم بجلی کی روشنی ہوتی ہے۔ اسی طرح سورج کی شعاعیں دیکھتے ہی دیکھتے ہی اس پہاڑی علاقے میں پھیل گئی جس کا نام ٹیٹوال تھا۔اس علاقے میں کافی دیر سے لڑائی جاری تھی۔ ایک ایک پہاڑی کے لیے درجنوں جوانوں کی جان جاتی تھی، پھر بھی قبضہ غیریقینی ہوتا تھا۔ آج یہ پہاڑی ان کے پاس ہے، کل دشمن کے پاس، پرسوں پھر ان کے قبضے میں اس سے دوسرے روز وہ پھر دوسروں کے پاس چلی جاتی تھی۔\n\nصوبیدار ہرنام سنگھ نے دوربین لگا کر آس پاس کا جائزہ لیا۔ سامنے پہاڑی سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ اس کا یہ مطلب تھا کہ چائے وغیرہ تیار ہورہی ہے ،ادھر بھی ناشتے کی فکر ہورہی تھی۔ آگ سلگائی جارہی تھی۔ ادھر والوں کو بھی یقیناً ادھر سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا تھا۔ناشتے پر سب جوانوں نے تھوڑا تھوڑا کتے کو دیا جس کو اس نے خوب پیٹ بھر کے کھایا۔ سب اس سے دلچسپی لے رہے تھے جیسے وہ اس کو اپنا دوست بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے آنے سے کافی چہل پہل ہوگئی تھی۔ ہر ایک اس کو تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد پچکار کر’’چپڑ جُھن جُھن‘‘ کے نام سے پکارتا اور اسے پیار کرتا۔\n\nشام کے قریب دوسری طرف پاکستانی مورچے میں صوبیدار ہمت خان اپنی بڑی بڑی مونچھوں کو جن سے بے شمار کہانیاں وابستہ تھیں، مروڑے دے کر ٹیٹوال کے نقشے کا بغور مطالعہ کررہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی وائرلیس آپریٹر بیٹھا تھا اور صوبیدار ہمت خاں کے لیے پلاٹون کمانڈر سے ہدایات وصول کررہا تھا۔ کچھ دور ایک پتھر سے ٹیک لگائے اور اپنی بندوق لیے بشیر ہولے ہولے گنگنا رہا تھا ۔\n\nچن کِتھے گوائی آئی رات وے۔۔۔چن کتھے گوائی آئی\n\nبشیر نے مزے میں آکر ذرا اونچی آواز کی تو صوبیدار ہمت خان کی کڑک بلند ہوئی،’’اوئے کہاں رہا ہے تو رات بھر؟‘‘ بشیر نے سوالیہ نظروں سے ہمت خان کو دیکھنا شروع کیا۔ جو بشیر کے بجائے کسی اور سے مخاطب تھا۔’’بتا اوئے۔‘‘بشیر نے دیکھا۔ کچھ فاصلے پر وہ آوارہ کتا بیٹھا تھا جو کچھ دن ہوئے ان کے مورچے میں بن بلائے مہمان کی طرح آیا تھا اور وہیں ٹک گیا تھا۔ بشیر مسکرایا اور کتے سے مخاطب ہو کر بولا،’’چن کتھے گوائی آئی رات وے۔۔۔ چن کتھے گوائی آئی؟ کتے نے زور سے دم ہلانا شروع کردی جس سے پتھریلی زمین پر جھاڑوسی پھرنے لگی۔\n\nصوبیدار ہمت خاں نے ایک کنکر اٹھا کر کتے کی طرف پھینکا،’’سالے کو دم ہلانے کے سوا اور کچھ نہیں آتا!‘‘ بشیر نے ایک دم کتے کی طرف غور سے دیکھا،’’اس کی گردن میں کیا ہے؟‘‘ یہ کہہ کروہ اٹھا، مگر اس سے پہلے ایک اور جوان نے کتے کو پکڑ کر اس کی گردن میں بندھی ہوئی رسی اتاری۔ اس میں گتے کا ایک ٹکڑا پرویا ہوا تھا۔ جس پر کچھ لکھا تھا۔ صوبیدار ہمت خاں نے یہ ٹکڑا لیا اور اپنے جوانوں سے پوچھا،’’لنڈے ہیں، جانتا ہے تم میں سے کوئی پڑھنا۔‘‘ بشیر نے آگے بڑھ کر گتے کا ٹکڑا لیا،’’ہاں۔۔۔ کچھ کچھ پڑھ لیتا ہوں۔‘‘ اور اس نے بڑی مشکل سے حرف جوڑ جوڑ کر یہ پڑھا،\n\n’’چپ۔۔۔ چپڑ۔۔۔ جُھن جُھن۔۔۔ چپڑ جُھن جُھن۔۔۔ یہ کیاہوا؟‘‘\n\nصوبیدار ہمت خاں نے اپنی بڑی بڑی تاریخی مونچھوں کو زبردست مروڑا دیا،’’کوڈورڈ ہوگا کوئی۔‘‘ پھر اس نے بشیر سے پوچھا، ’’کچھ اور لکھاہے بشیرے؟‘‘ بشیر نے جو حروف شناسی میں مشغول تھا،جواب دیا،’’جی ہاں۔۔۔یہ۔۔۔ ہند۔۔۔ ہند۔۔۔ ہندوستانی۔۔۔ یہ ہندوستانی کتا ہے!‘‘ صوبیدار ہمت خاں نے سوچنا شروع کیا۔’’مطلب کیا ہوا اس کا؟ کیا پڑھا تھا تم نے۔۔۔ چپڑ؟‘‘ بشیر نے جواب دیا،’’چپڑ جُھن جُھن!‘‘\n\nایک جوان نے بڑے عاقلانہ انداز میں کہا، ’’جو بات ہے اسی میں ہے۔‘‘ صوبیدار ہمت خان کو یہ بات معقول معلوم ہوئی، ’’ہاں کچھ ایسا لگتا ہے۔‘‘ بشیر نے گتے پر لکھی ہوئی عبارت پڑھی،’’چپڑ جھن جھن۔۔۔ یہ ہندوستانی کتا ہے!‘‘ صوبیدار ہمت خان نے وائرلیس سیٹ لیا اور کانوں پر ہیڈ فون جما کر پلاٹون کمانڈر سے خود اس کتے کے بارے میں بات چیت کی۔ وہ کیسے آیاتھا۔ کس طرح ان کے پاس کئی دن پڑارہا،پھر ایکا ایکی غائب ہوگیا اور رات بھر غائب رہا۔ اب آیا ہے تو اس کے گلے میں رسی نظر آئی جس میں گتے کا ایک ٹکرا تھا۔ اس پر جو عبارت لکھی تھی وہ اس نے تین چار مرتبہ دہرا کرپلاٹون کمانڈر کو سنائی مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔\n\nبشیر الگ کتے کے پاس بیٹھ کر اسے کبھی پچکار کر، کبھی ڈرا دھمکا کر پوچھتا رہا کہ وہ رات کہاں غائب رہا تھا اور اسکے گلے میں وہ رسی اور گتے کا ٹکڑا کس نے باندھا تھا مگر کوئی خاطر خواہ جواب نہ ملا۔ وہ جو سوال کرتا، اس کے جواب میں کتا اپنی دم ہلا دیتا۔ آخرغصے میں آکر بشیر نے اسے پکڑ لیا اور زور سے جھٹکا دیا۔ کتا تکلیف کے باعث چاؤں چاؤں کرنے لگا۔وائرلیس سے فارغ ہو کرصوبیدار ہمت خان نے کچھ دیر نقشے کا بغور مطالعہ کیا پھر فیصلہ کن انداز میں اٹھا اور سگریٹ کی ڈبیا کا ڈھکنا کھول کر بشیر کودیا۔’’بشیرے، لکھ اس پر گورمکھی میں۔۔۔ان کیڑے مکوڑوں میں۔۔۔‘‘\n\nبشیر نے سگرٹ کی ڈبیا کا گتا لیا اور پوچھا،’’کیا لکھوں صوبیدار صاحب؟‘‘ صوبیدار ہمت خاں نے مونچھوں کو مروڑے دے کر سوچنا شروع کیا،’’لکھ دے۔۔۔ بس لکھ دے!‘‘ یہ کہہ اس نے جیب سے پنسل نکال کر بشیر کودی،’’کیا لکھنا چاہیے؟۔‘‘ بشیر پنسل کے منہ کو لب لگا کر سوچنے لگا۔پھرایک دم سوالیہ انداز میں بولا،’’سپڑ سُن سُن؟‘‘ لیکن فوراً ہی مطمئن ہو کر اس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا،’’ٹھیک ہے۔۔۔ چپڑ جُھن جُھن کا جواب سپڑ سُن سُن ہی ہو سکتا ہے۔۔۔ کیا یاد رکھیں گے اپنی ماں کے سکھڑے۔‘‘\n\nبشیر نے پنسل سگرٹ کی ڈبیا پرجمائی۔’’سپڑ سن سن؟‘‘\n\n’’سولہ آنے۔۔۔ لکھ۔۔۔ سب۔۔۔ سپڑ۔۔۔ سن سن!‘‘ یہ کہہ کرصوبیدار ہمت خاں نے زور کا قہقہہ لگایا،’’اور آگے لکھ۔۔۔یہ پاکستانی کتا ہے!‘‘ صوبیدار ہمت خاں نے گتا بشیر کے ہاتھ سے لیا۔ پنسل سے اس میں ایک طرف چھید کیا اوررسی میں پرو کرکتے کی طرف بڑھا،’’لے جا، یہ اپنی اولاد کے پاس!‘‘ یہ سن کرسب خوب ہنسے۔ صوبیدار ہمت خاں نے کتے کے گلے میں رسی باندھ دی۔ وہ اس دوران میں اپنی دم ہلاتا رہا۔ اس کے بعد صوبیدار نے اسے کچھ کھانے کو دیا اور بڑے ناصحانہ انداز میں کہا۔’’دیکھو دوست غداری مت کرنا۔۔۔ یادرکھو غدار کی سزا موت ہوتی ہے!‘‘\n\nکتا دم ہلاتا رہا۔ جب وہ اچھی طرح کھا چکا تو صوبیدار ہمت خاں نے رسی سے پکڑ کر اس کا رخ پہاڑی کی اکلوتی پگڈنڈی کی طرف پھیرا اورکہا،’’جاؤ۔۔۔ ہمارا خط دشمنوں تک پہنچا دو۔۔۔ مگر دیکھوواپس آجانا۔۔۔ یہ تمہارے افسر کا حکم ہے سمجھے؟‘‘ کتے نے اپنی دم ہلائی اور آہستہ آہستہ پگڈنڈی پر جو بل کھاتی ہوئے نیچے پہاڑی کے دامن میں جاتی تھی، چلنے لگا۔ صوبیدار ہمت خاں نے اپنی بندوق اٹھائی اور ہوا میں ایک فائر کیا۔\n\nفائر اور اس کی باز گشت دوسری طرف ہندوستانیوں کے مورچے میں سنی گئی۔ اس کا مطلب ان کی سمجھ میں نہ آیا۔ جمعدار ہرنام سنگھ معلوم نہیں کس بات پر چڑچڑا ہورہا تھا، یہ آواز سن کر اور بھی چڑچڑا ہوگیا۔ اس نے فائر کا حکم دے دیا۔ آدھے گھنٹے تک چنانچہ دونوں مورچوں سے گولیوں کی بیکار بارش ہوتی رہی۔ جب اس شغل سے اکتا گیا تو جمعدار ہرنام سنگھ نے فائر بند کرادیا اور داڑھی میں کنگھا کرنا شروع کردیا۔ اس سے فارغ ہو کر اس نے جالی کے اندرسارے بال بڑے سلیقے سے جمائے اور بنتا سنگھ سے پوچھا،’’اوئے بنتاں سیاں! چپڑ جُھن جُھن کہاں گیا؟‘‘\n\nبنتا سنگھ نے چیڑ کی خشک لکڑی سے بروزہ اپنے ناخنوں سے جدا کرتے ہوئے کہا،’’مجھے نہیں معلوم۔‘‘\n\n’’کتے کو گھی ہضم نہیں ہوا؟‘‘ہرنام سنگھ نے کہا۔بنتا سنگھ اس محاورے کا مطلب نہ سمجھا،’’ہم نے تواسے گھی کی کوئی چیز نہیں کھلائی تھی۔‘‘ یہ سن کر جمعدار ہرنام سنگھ بڑے زور سے ہنسا،’’اوئے ان پڑھ!تیرے ساتھ تو بات کرنا پچانویں کا گھاٹا ہے!‘‘\n\nاتنے میں وہ سپاہی جو پہرے پر تھا اور دور بین لگائے اِدھر سے اُدھر دیکھ رہا تھا،ایک دم چلایا،’’وہ۔۔۔ وہ آرہا ہے!‘‘ سب چونک پڑے۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے پوچھا،’’کون؟‘‘ پہرے کے سپاہی نے کہا،’’کیا نام تھا اس کا۔۔۔؟ چپڑ جُھن جُھن!‘‘\n’’چپڑ جُھن جُھن؟‘‘ یہ کہہ کر جمعدار ہرنام سنگھ اٹھا۔’’کیا کررہا ہے؟‘‘ پہرے کے سپاہی نے جواب دیا،’’آرہا ہے۔‘‘ جمعدار ہرنام سنگھ نے دور بین اس کے ہاتھ میں لی اور دیکھنا شروع کیا۔۔۔’’ادھر ہی آرہا ہے۔۔۔ رسی بندھی ہوئی ہے گلے میں۔۔۔لیکن۔۔۔یہ تو اُدھرسے آ رہا ہے دشمن کے مورچے سے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے کتے کی ماں کو بہت بڑی گالی دی۔ اس کے بعد اس نے بندوق اٹھائی اور شست باندھ کر فائر کیا۔ نشانہ چوک گیا۔ گولی کتے سے کچھ فاصلے پر پتھروں کی کرچیں اڑاتی زمین میں دفن ہوگئی۔ وہ سہم کر رک گیا۔\n\nدوسرے مورچے میں صوبیدار ہمت خاں نے دور بین میں سے دیکھا کہ کتا پگڈنڈی پر کھڑا ہے۔ ایک اور فائر ہوا تووہ دم دبا کر الٹی طرف بھاگا۔ صوبیدار ہمت خاں کے مورچے کی طرف۔ وہ زور سے پکارا،’’بہادر ڈرا نہیں کرتے۔۔۔ چل واپس۔‘‘ اور اس نے ڈرانے کے لیے ایک فائر کیا۔ کتا رک گیا۔ ادھر سے جمعدار ہرنام سنگھ نے بندوق چلائی۔ گولی کتے کے کان سے سنساتی ہوئی گزر گئی۔ اس نے اچھل کر زور زور سے دونوں کان پھڑپھڑانے شروع کیے۔ ادھر سے صوبیدار ہمت خاں نے دوسرا فائر کیا جو اس کے اگلے پنجوں کے پاس پتھروں میں پیوست ہوگیا۔ بوکھلا کر کبھی وہ ادھر دوڑا، کبھی ادھر۔ اس کی اس بوکھلاہٹ سے ہمت خاں اور ہرنام دونوں مسرور ہوئے اور خوب قہقہے لگاتے رہے۔ کتے نے جمعدار ہرنام سنگھ کے مورچے کی طرف بھاگنا شروع کیا۔ اس نے یہ دیکھا تو بڑے تاؤ میں آکر موٹی سی گالی دی اور اچھی طرح شِست باندھ کر فائر کیا۔ گولی کتے کی ٹانگ میں لگی۔ ایک فلک شگاف چیخ بلند ہوئی۔ اس نے اپنا رخ بدلا۔ لنگڑا لنگڑا کر صوبیدار ہمت خاں کے مورچے کی طرف دوڑنے لگا تو ادھر سےبھی فائر ہوا، مگر وہ صرف ڈرانے کے لیے کیا گیا تھا۔ ہمت خاں فائر کرتے ہی چلایا،’’بہادر پروا نہیں کیا کرتے زخموں کی۔۔۔ کھیل جاؤ اپنی جان پر۔۔۔ جاؤ۔۔۔ جاؤ!‘‘\n\nکتا فائر سے گھبرا کرمڑا۔ ایک ٹانگ اس کی بالکل بیکار ہوگئی تھی۔ باقی تین ٹانگوں کی مدد سے اس نے خود کو چند قدم دوسری جانب گھسیٹا کہ جمعدار ہرنام سنگھ نے نشانہ تاک کرگولی چلائی جس نے اسے وہیں ڈھیر کردیا۔\n\nصوبیدار ہمت خاں نے افسوس کے ساتھ کہا،’’چچ چچ۔۔۔ شہید ہوگیا بے چارہ!‘‘\nجمعدار ہرنام سنگھ نے بندوق کی گرم گرم نالی اپنے ہاتھ میں لی اور کہا،’’وہی موت مرا جو کتے کی ہوتی ہے!‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DB%8C%D9%B9%D9%88%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ٹیڑھی لکیر", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "اگر سڑک سیدھی ہو۔۔۔ بالکل سیدھی، تو اس پر اس کے قدم منوں بھاری ہو جاتے تھے۔ وہ کہا کرتا تھا، ’’یہ زندگی کے خلاف ہے۔ جو پیچ در پیچ راستوں سے بھری ہے‘‘ جب ہم دونوں باہر سیر کو نکلتے تو اس دوران میں وہ کبھی سیدھے راستے پر نہ چلتا۔ اسے باغ کا وہ کونا بہت پسند تھا جہاں لہراتی ہوئی روشیں بنی ہوئی تھیں۔\n\nایک بار اس نے اپنی ٹانگوں کو سینے کے ساتھ جوڑ کر، بڑے دلکش انداز میں مجھ سے کہا تھا، ’’عباس، اگر مجھے اور کوئی کام نہ ہو تو بخدا میں اپنی ساری زندگی کشمیر کی پہاڑی سڑکوں پر چڑھنے اترنے میں گزار دوں۔۔۔ کیا پیچ ہیں۔۔۔ ابھی تم مجھے نظر آ رہے ہو اور ایک موڑ مڑنے کے بعد میری نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہو۔۔۔ کتنی پر اسرار چیز ہے۔۔۔ سیدھے راستے پر تم ہر آنے والی چیز دیکھ سکتے ہو، مگر یہاں آنے والی چیزیں تمہاری آنکھوں کے سامنے بالکل اچانک آجائیں گی۔۔۔ موت کی طرح اچانک۔۔۔اس میں کتنا مزا ہے!‘‘\n\nوہ ایک دبلا پتلا نوجوان تھا۔ بے حد دبلاتھا۔ اس کو ایک نظر دیکھنے سے اکثر اوقات معلوم ہوتا کہ ہسپتال کے کسی بستر سے کوئی زرد رو بیمار اٹھ کر چلا آیا ہے۔ اس کی عمر بمشکل بائیس برس کے قریب ہو گی۔ مگر بعض اوقات وہ اس سے بہت زیادہ عمر کا معلوم ہوتا تھا۔ اور عجیب بات ہے کہ کبھی کبھی اس کو دیکھ کر میں یہ خیال کرنے لگتا کہ وہ بچہ بن گیا ہے۔ اس میں ایکا ایکی اس قدر تبدیلی ہو جایا کرتی تھی کہ مجھے اپنی نگاہوں کی صحت پر شبہ ہونے لگ جاتا تھا۔\n\nآخری ملاقات سے دس روز پہلے جب وہ مجھے بازار میں ملا تو میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ ہاتھ میں ایک بڑا سیب لیے اسے دانتوں سے کاٹ کر کھا رہا تھا۔ اس کا چہرہ بچوں کی مانند ایک ناقابلِ بیان خوشی کے باعث تمتمایا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ گواہی دے رہا تھا کہ سیب بہت لذیذ ہے۔سیب کے رس سے بھرے ہوئے ہاتھوں کو بچوں کےمانند اپنی پتلون سے صاف کر کے اس نے میرا ہاتھ بڑے جوش سے دبایا اور کہا، ’’عباس ،وہ دو آنے مانگتا تھا، مگر میں نے بھی ایک ہی آنے میں خریدا۔‘‘\n\nاس کے ہونٹ ظفر مندانہ ہنسی کے باعث تھرتھرانے لگے، پھر اس نے جیب سے ایک چیز نکالی اور میرے ہاتھ میں دے کر کہا، ’’تم نے لٹو تو بہت دیکھے ہوں گے۔ پر ایسا لٹو کبھی دیکھنے میں نہ آیا ہو گا۔۔۔۔ اوپر کا بٹن دباؤ۔۔۔دباؤ۔۔۔ ارے دباؤ!‘‘ میں سخت متحیر ہو رہا تھا لیکن اس نے میری طرف دیکھے بغیر لٹو کا بٹن دبا دیا جو میری ہتھیلی پر سے اچھل کر سڑک پر لنگڑانے لگا۔۔۔ اس پر خوشی کے مارے میرے دوست نے اچھلنا شروع کر دیا۔\n\n’’دیکھو، عباس، دیکھو، اس کا ناچ۔‘‘میں نے لٹو کی طرف دیکھا جو میرے سر کی مانند گھوم رہا تھا۔ ہمارے ارد گرد بہت سے آدمی جمع ہو گئے تھے۔ شائد وہ یہ سمجھ رہے تھےکہ میرا دوست دوائیاں بیچے گا۔\n\n’’لٹو اٹھاؤ اور چلیں۔۔۔ لوگ ہمارا تماشہ دیکھنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں!‘‘\n\nمیرے لہجے میں شاید تھوڑی سی تیزی تھی کیونکہ اس کی ساری خوشی ماند پڑ گئی اور اس کے چہرے کی تمتماہٹ غائب ہو گئی۔ وہ اٹھا اور اس نے میری طرف کچھ اس انداز سے دیکھا کہ مجھے ایسا معلوم ہواجیسے ایک ننھا سا بچہ رونی صورت بنا کر کہہ رہا ہے: میں نے تو کوئی بری بات نہیں کی پھر مجھے کیوں جھڑکا گیا ہے؟ اس نے لٹّو وہیں سڑک پر چھوڑ دیااور میرے ساتھ چل پڑا، گھر تک میں نے اور اس نے کوئی بات نہ کی۔ گلی کے نکڑ پر پہنچ کر میں نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ اس قلیل عرصے میں اس کے چہرے پر انقلاب پیدا ہو گیا تھا۔ وہ مجھے ایک تفکر زدہ بوڑھا نظر آیا۔\n\nمیں نے پوچھا، ’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘\n\nاس نے جواب دیا، ’’میں یہ سوچ رہا ہوں۔۔۔ اگر خدا کو انسان کی زندگی بسر کرنی پڑ جائے تو کیا ہو؟‘‘ وہ اسی قسم کی بے ڈھنگی باتیں سوچا کرتا تھا۔ بعض لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو نرالا ظاہر کرنے کے لیے ایسے خیالات کا اظہار کرتا ہے مگر یہ بات غلط تھی۔ دراصل اس کی طبیعت کا رجحان ہی ایسی چیزوں کی طرف رہتا تھا جو کسی اور دماغ میں نہیں آتی تھیں۔\n\nآپ یقین نہیں کریں گے۔ مگر اس کو اپنے جسم پر رستا ہوا زخم بہت پسند تھا۔ وہ کہا کرتا تھا:اگر میرے جسم پر ہمیشہ کے لیے کوئی زخم بن جائے تو کتنا اچھا ہو۔۔۔ مجھے درد میں بڑا مزا آتا ہے۔\n\nمجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اسکول میں ایک روز اس نے میرے سامنے اپنے بازو کو استرے کے تیز بلیڈ سے زخمی کیا۔ صرف اس لیے کہ کچھ روز اس میں درد ہوتا رہے۔ ٹیکا اس نے کبھی اس خیال سے نہیں لگوایا تھا کہ اس سے ہیضے، پلیگ یا ملیریا کا خوف نہیں رہتا۔ اس کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی تھی کہ دو تین روز اس کا بدن بخار کے باعث تپتا رہے۔ چنانچہ جب کبھی وہ بخار کو دعوت دیا کرتا تھا تو مجھ سے کہا کرتا تھا۔،’’عباس، میرے گھر میں ایک مہمان آنے والا ہے۔ اس لیے تین روز تک مجھے فرصت نہیں ملے گی۔‘‘\n\nایک روز میں نے اس سے پوچھا کہ، ’’تم آئے دن ٹیکا کیوں لگواتے ہو؟‘‘ اس نے جواب دیا،’’ عباس، میں تمہیں بتا نہیں سکتا کہ ٹیکا لگوانے سے جو بخار چڑھتا ہے اس میں کتنی شاعری ہوتی ہے۔۔۔ جب جوڑ جوڑ میں درد ہوتا ہے اور اعضا شکنی ہوتی ہے تو بخدا ایسا معلوم ہوتا ہے۔ کہ تم کسی نہایت ہی ضدی آدمی کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہو۔۔۔ اور پھر بخار بڑھ جانے سے جو خواب آتے ہیں۔ واللہ، کس قدر بے ربط ہوتے ہیں۔۔۔۔ بالکل ہماری زندگی کی مانند۔۔۔! ابھی تم یہ دیکھتے ہو کہ تمہاری شادی کسی نہایت حسین عورت سے ہو رہی ہے، دوسرے لمحے یہی عورت تمہاری آغوش میں ایک قوی ہیکل پہلوان بن جاتی ہے۔‘‘\n\nمیں اس کی ان عجیب و غریب باتوں کا عادی ہو گیا تھا، لیکن اس کے باوجود ایک روز مجھے اس کے دماغی توازن پر شبہ ہونے لگا۔ گزشتہ مئی میں مَیں نے اس سے اپنے استاد کا تعارف کرایا جس کی میں بے حد عزت کرتا تھا۔ ڈاکٹرشاکر نے اس کا ہاتھ بڑی گرمجوشی سے دبایا اور کہا، ’’میں آپ سے مل کر بہت خوش ہوا ہوں۔‘‘\n\n’’اس کے برعکس مجھے آپ سے مل کر کوئی خوشی نہیں ہوئی۔‘‘ یہ میرے دوست کا جواب تھا۔ جس نے مجھے بےحد شرمندہ کیا، آپ قیاس فرمائیے کہ اس وقت میری کیا حالت ہوئی ہو گی۔ شرم کے مارے میں اپنے استاد کے سامنے گڑا جا رہا تھا اور وہ بڑے اطمینان سے سگریٹ کے کش لگا کر، ہال میں ایک تصویر کی طرف دیکھ رہا تھا۔ڈاکٹر شاکر نے میرے دوست کی اس حرکت کو برا سمجھا اور تخلیے میں مجھ سے بڑے تیز لہجے میں کہا، ’’معلوم ہوتا ہے تمہارے دوست کا دماغ ٹھکانے نہیں۔ ‘‘میں نے اس کی طرف سے خودمعذرت طلب کی اور معاملہ رفع دفع ہو گیا، میں واقعی بے حد شرمندہ تھا کہ ڈاکٹر شاکر کو میری وجہ سے ایسا سخت فقرہ سننا پڑا۔\n\nشام کو میں اپنے دوست کے پاس گیا، اس ارادے کے ساتھ کہ اس سے اچھی طرح باز پرس کروں گااور اپنے دل کی بھڑاس نکالوں گا۔ وہ مجھے لائبریری کے باہر ملا۔ میں نے چھوٹتے ہی اس سے کہا، ’’تم نے آج ڈاکٹر شاکر کی بہت بے عزتی کی۔۔۔ معلوم ہوتا ہے تم نے مجلسی آداب کو خیرباد کہہ دیا ہے۔‘‘ وہ مسکرایا، ’’ارے چھوڑو اس قصّے کو۔۔۔ آؤ کوئی اور کام کی بات کریں۔‘‘\n\nیہ سن کر میں اس پر برس پڑا۔ خاموشی سے میری تمام باتیں سن کر اس نے صاف صاف کہہ دیا ’’اگر مجھ سے مل کر کسی شخص کو خوشی حاصل ہوتی ہے تو ضروری نہیں کہ اس سے مل کر مجھے بھی خوشی حاصل ہو۔۔۔اور پھر پہلی ملاقات پر صرف ہاتھ ملانے سے میں نے اس کے دل میں خوشی پیدا کر دی۔۔۔میری سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ تمہارے ڈاکٹر صاحب نے اس روز پچیس آدمیوں سے تعارف کیا۔ اور ہر شخص سے انھوں نے یہی کہاتھا کہ آپ سے مل کر مجھے بڑی مسرت حاصل ہوئی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہر شخص ایک ہی قسم کے تاثرات پیدا کرے۔۔۔تم مجھ سے فضول باتیں نہ کرو۔۔۔ آؤ اندر چلیں!‘‘\n\nمیں ایک سحر زدہ آدمی کی طرح اس کے ساتھ ہو لیا۔ اور لائبریری کے اندر جا کر اپنا سب غصہ بھول گیا۔ بلکہ یہ سوچنے لگا کہ میرے دوست نے جو کچھ کہا تھا،صحیح ہے ۔لیکن فوراً ہی میرے دل میں ایک حسد سا پیدا ہوا کہ اس شخص میں اتنی قوت کیوں ہےکہ وہ اپنے خیالات کا اظہار بے دھڑک کر دیتا ہے۔ پچھلے دنوں میرے ایک افسر کی دادی مر گئی تھی۔ اور مجھے اس کے سامنے مجبوراً اپنے اوپر غم کی کیفیت طاری کرنی پڑی تھی۔ اور اس سے اپنی مرضی کے خلاف دس پندرہ منٹ تک افسوس ظاہر کرنا پڑا تھا۔ اس کی دادی سے مجھے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اس کی موت کی خبر نے میرے دل پر کوئی اثر نہ کیا تھالیکن اس کے باوجود مجھے نقلی جذبات تیار کرنے پڑے تھے۔ اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ میرا کریکٹر اپنے دوست کے مقابلے میں بہت کمزور ہے، اس خیال ہی نے میرے دل میں حسد کی چنگاری پیدا کی تھی۔ اور میں اپنے حلق میں ایک ناقابلِ برداشت تلخی محسوس کرنے لگا تھا۔ لیکن یہ ایک وقتی اور ہنگامی جذبہ تھا جو ہوا کے ایک تیز جھونکے کے مانند آیا اور گزر گیا۔ میں بعد میں اس پر بھی نادم ہوا۔\n\nمجھے اس سے بے حد محبت تھی۔ لیکن اس محبت میں غیر ارادی طور پر کبھی کبھی نفرت کی جھلک بھی نظر آتی تھی۔ ایک روز میں نے اس کی صاف گوئی سے متاثر ہو کر کہا تھا،’’یہ کیا بات ہے کہ بعض اوقات میں تم سے نفرت کرنے لگتا ہوں۔‘‘اور اس نے مجھے یہ جواب دے کر مطمئن کر دیا تھا، ’’تمہارا دل جو میری محبت سے بھرا ہوا ہے ،ایک ہی چیز کو بار بار دیکھ کر کبھی کبھی تنگ آ جاتا ہے۔ اور کسی دوسری شے کی خواہش کرنے لگ جاتا ہے۔۔۔ اور پھر اگر تم مجھ سے کبھی کبھی نفرت نہ کرو تو مجھ سے ہمیشہ محبت بھی نہیں کر سکتے۔۔۔ انسان اسی قسم کی الجھنوں کا مجموعہ ہے۔‘‘\n\nمیں اور وہ اپنے وطن سے بہت دور تھے۔ ایک ایسے بڑے شہر میں جہاں زندگی تاریک قبر سی معلوم ہوتی ہے۔ مگر اسے کبھی ان گلیوں کی یاد نہ ستاتی تھی۔ جہاں اس نے اپنابچپن اور اپنے شباب کا زمانۂ آغاز گزارا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اسی شہر میں پیدا ہوا ہے۔ میرے چہرے سے ہر شخص یہ معلوم کر سکتا ہے کہ میں غریب الوطن ہوں۔ مگر میرا دوست ان جذبات سے یکسر عاری ہے۔ وہ کہا کرتا ہے: وطن کی یاد بہت بڑی کمزوری ہے ایک جگہ سے خود کو چپک دینا ایسا ہی ہے جیسے ایک آزادی پسند سانڈ کو کھونٹے کے ساتھ باندھ دیا جائے۔\n\nاس قسم کے خیالات کے مالک کی جو ہر شے کو ٹیڑھی عینک سے دیکھتا ہو اور مروجہ رسوم کے خلاف چلتا ہو ،باقاعدہ نکاح خوانی ہو، یعنی پرانی رسوم کے مطابق اس کا عقد عمل میں آئے تو کیا آپ کو تعجب نہ ہو گا۔۔۔؟ مجھے یقین ہے کہ ضرور ہو گا۔\n\nایک روز شام کو جب وہ میرے پاس آیااور بڑے سنجیدہ انداز میں اس نے مجھے اپنے نکاح کی خبر سنائی تو آپ یقین کریں، میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔اس حیرت کا باعث یہ چیزنہ تھی کہ وہ شادی کر رہا ہے۔ نہیں، مجھے تعجب اس بات پر تھا کہ اس نے لڑکی بغیر دیکھے، پرانے خطوط کے مطابق نکاح کی رسم میں شامل ہونا قبول کیسے کر لیا؟ جب کہ وہ ہمیشہ ان مولویوں کا مضحکہ اڑایا کرتا تھا جو لڑکی اور لڑکے کو رشتہ ازدواج میں باندھتے ہیں۔ وہ کہا کرتا تھا،’’یہ مولوی مجھے بڈھے اور گنٹھیا کے مارے پہلوان معلوم ہوتے ہیں۔ جو اپنے اکھاڑے میں چھوٹے چھوٹے لڑکوں کی کشتیاں دیکھ کر اپنی حرص پوری کرتے ہیں۔‘‘\n\nاور پھر وہ شادی یا نکاح پر لوگوں کے جمگھٹے کا بھی تو قائل نہ تھامگر۔۔۔ اس کا نکاح پڑھا گیا۔ میری آنکھوں کے سامنے مولوی نے۔۔۔ اس مولوی نے جس سے اس کو سخت چڑ تھی اور جس کو وہ بوڑھا طوطا کہا کرتا تھا، اس کا نکاح پڑھا۔چھوہارے بانٹے گئے۔ اور میں ساری کارروائی یوں دیکھ رہا تھا گویا سوتے میں کوئی سپنا دیکھ رہا ہوں۔\n\nنکاح ہو گیا۔ دوسرے لفظوں میں انہونی بات ہو گئی اور جو تعجب مجھے پہلے پیدا ہوا تھابعد میں بھی برقرار رہا۔ مگر میں نے اس کے متعلق اپنے دوست سے ذکر نہ کیا۔ اس خیال سے کہ شاید اسے ناگوار گزرے۔ لیکن دل ہی دل میں اس بات پر خوش تھا کہ آخر کار اسے اس دائرے میں لوٹنا پڑا۔ جس میں دوسرے زندگی بسر کر رہے ہیں۔\n\nنکاح کرکے میرا دوست اپنے اصولوں کے ٹیڑھے منار سے بہت برح طری پھسلا تھا اور اس گڑھے میں سر کے بل آ گرا تھاجس کو وہ بے حد غلیظ کہا کرتا تھا۔ جب میں نے یہ سوچا تو میرے جی میں آئی کہ اپنے کج رفتار دوست کے پاس جاؤں اور اتنا ہنسوں ،اتنا ہنسوں کہ پیٹ میں بل پڑ جائیں۔ مگر جس روز میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی اسی روز وہ دوپہر کو میرے گھر آیا۔\n\nنکاح کو تین مہینے گزر گئے تھے اور اس دوران میں وہ ہمیشہ اداس اداس رہتا تھا۔ اس کا چہرہ چمک رہا تھا۔ اور ناک جو چند روز پہلے بھدی نیام کے اندر چھپی ہوئی تلوار کا نقشہ پیش کرتی تھی،اس پر سب سے نمایاں نظر آ رہی تھی۔وہ میرے کمرے میں داخل ہوا اور سگریٹ سلگا کر میرے پاس بیٹھ گیا۔اس کے ہونٹوں کے اختتامی کونے کپکپا رہے تھے۔ ظاہر تھا کہ وہ مجھے کوئی بڑی اہم بات سنانے والا ہے۔ میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔اس نے سگریٹ کے دھوئیں سے چھلا بنایااور اس میں اپنی انگلی گاڑتے ہوئے مجھ سے کہا، ’’عباس! میں کل یہاں سے جا رہا ہوں۔‘‘\n\n’’جا رہے ہو؟‘‘ میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔\n\n’’میں کل یہاں سے جا رہا ہوں۔ شاید ہمیشہ کے لیے۔ میں اس خبر سے تمہیں مطلع کرنے کے لیے نہ آتا۔ مگر مجھے تم سے کچھ روپے لینا ہیں جو تم نے مجھ سے قرض لے رکھے ہیں۔۔۔ کیا تمہیں یاد ہے؟‘‘\n\nمیں نے جواب دیا،’’یاد ہے، پر تم جا کہاں رہے ہو۔۔۔؟ اور پھر ہمیشہ کے لیے۔۔۔؟‘‘\n\n’’بات یہ ہے کہ مجھے اپنی بیوی سے عشق ہو گیا ہےاور کل رات میں اسے بھگا کر اپنے ساتھ لیے جا رہا ہوں۔۔۔ وہ تیار ہو گئی ہے!‘‘\n\nیہ سن کر مجھے اس قدر حیرت ہوئی کہ میں بیوقوفوں کی مانند ہنسنے لگا اور دیر تک ہنستا رہا۔ وہ اپنی منکوحہ بیوی کو جسے وہ جب چاہتا انگلی پکڑ کر اپنے ساتھ لا سکتا تھا، اغوا کرکے لے جا رہا تھا۔۔۔بھگا کر لے جا رہا تھا۔ جیسے جیسے۔۔۔ میں کیا کہوں کہ اس وقت میں نے کیا سوچا۔۔۔ دراصل میں کچھ سوچنے کے قابل ہی نہ رہا تھا۔مجھے ہنستا دیکھ کر اس نے ملامت بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔’’عباس ! یہ ہنسنے کا موقع نہیں۔ کل رات وہ اپنے مکان کے ساتھ والے باغ میں میرا انتظار کرے گی، اور مجھے سفر کے لیے کچھ روپیہ فراہم کرکے اس کے پاس ضرور پہنچنا چاہیے۔ وہ کیا کہے گی اگر میں اپنے وعدے پر قائم نہ رہا۔۔۔ تمہیں کیا معلوم، میں نے کن کن مشکلوں کے بعد رسائی حاصل کرکے اس کو اس بات پر آمادہ کیا ہے!‘‘\n\nمیں نے پھر ہنسنا چاہامگر اس کو غایت درجہ سنجیدہ و متین دیکھ کر میری ہنسی دب گئی اور مجھے قطعی طور پر معلوم ہو گیا کہ وہ واقعی اپنی منکوحہ بیوی کو بھگا کر لے جا رہا ہے۔ کہاں۔۔۔؟ یہ مجھے معلوم نہ تھا۔میں زیادہ تفصیل میں نہ گیا۔ اور اسے وہ روپے ادا کر دیے جو میں نے عرصہ ہوا اس سے قرض لیے تھے۔ اور یہ سمجھ کر ابھی تک نہ دیے تھے کہ وہ نہ لے گا۔ مگر اس نے خاموشی سے نوٹ گن کر اپنی جیب میں ڈالے اور بغیر ہاتھ ملائے رخصت ہونے ہی والا تھا کہ میں نے آگے بڑھ کر اس سے کہا،’’تم جا رہے ہو۔۔۔ لیکن مجھے بھلا نہ دینا!‘‘\n\nمیری آنکھوں میں آنسو آ گئے مگر اس کی آنکھیں بالکل خشک تھیں۔\n\n’’میں کوشش کروں گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ میں بہت دیر تک جہاں کھڑا تھا بت بنا رہا۔\n\nجب ادھر اس کے سسرال والوں کو پتہ چلا کہ ان کی لڑکی رات رات میں کہیں غائب ہو گئی ہے تو ایک ہیجان برپا ہو گیا۔ ایک ہفتے تک انھوں نے اسے ادھر ادھر تلاش کیا اور کسی کو اس واقعہ کی خبر تک نہ ہونے دی۔ مگر بعد میں لڑکی کے بھائی کو میرے پاس آنا پڑا۔ اور مجھے اپنا ہمراز بنا کر اسے ساری رام کہانی سنانی پڑی۔وہ بے چارے یہ خیال کر رہے تھے کہ لڑکی کسی اور آدمی کے ساتھ بھاگ گئی ہے اور لڑکی کا بھائی میرے پاس اس غرض سے آیا تھا کہ ان کی طرف سے میں اپنے دوست کو اس تلخ واقعے سے آگاہ کروں۔ وہ بیچارہ شرم کے مارے زمین میں گڑا جا رہا تھا۔\n\nجب میں نے اس کو اصل واقعہ سے آگاہ کیا تو حیرت کے باعث اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس بات سے تو اسے بہت ڈھارس ہوئی کہ اس کی بہن کسی غیر مرد کے ساتھ نہیں گئی بلکہ اپنے شوہر کے پاس ہے۔ لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میرے دوست نے یہ فضول اور نازیبا حرکت کیوں کی؟\n\n’’بیوی اسی کی تھی جب چاہتا لے جاتا۔ مگر اس حرکت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے جیسے۔۔۔ جیسے۔۔۔‘‘ وہ کوئی مثال پیش نہ کر سکا اور میں بھی اسے کوئی اطمینان دہ جواب نہ دے سکا۔\n\nکل صبح کی ڈاک سے مجھے اس کا خط ملا جس کو میں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کھولا۔ لفافے میں ایک کاغذ تھا جس پر ایک ٹیڑھی لکیر کھینچی ہوئی تھی۔۔۔ خالی لفافہ ایک طرف رکھ کر میں اس عمود کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔ جو میں نے بورڈ پر چپکے ہوئے کاغذ پر گرایا تھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%B9%DB%8C%DA%91%DA%BE%DB%8C_%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%B1"} {"title": "پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پئے نذرِ کرم تحفہ ہے ‘شرمِ نا رسائی’ کا\nبہ خوں غلطیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا\n\nنہ ہو’ حسنِ تماشا دوست’ رسوا بے وفائی کا\nبہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا\n\nجہاں مٹ جائے سعیِ دید خضر آبادِ آسایش\nبجیبِ ہر نگہ پنہاں ہے حاصل رہنمائی کا\n\nبہ عجز آبادِ وہمِ مدّعا تسلیمِ شوخی ہے\nتغافل یوں نہ کر مغرور تمکیں آزمائی کا\n\nزکاتِ حسن دے، اے جلوۂ بینش، کہ مہر آسا\nچراغِ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا\n\nنہ مارا جان کر بے جرم، غافل! تیری گردن پر\nرہا مانند خونِ بے گنہ حق آشنائی کا\n\nتمنائے زباں محوِ سپاسِ بے زبانی ہے\nمٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا\n\nوہی اک بات ہے جو یاں نفَس واں نکہتِ گل ہے\nچمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا\n\nدہانِ ہر” بتِ پیغارہ جُو”، زنجیرِ رسوائی\nعدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا\n\nنہ دے نامے کو اتنا طول غالبؔ، مختصر لکھ دے\nکہ حسرت سنج ہوں عرضِ ستم ہائے جدائی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A6%DB%92_%D9%86%D8%B0%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D8%AA%D8%AD%D9%81%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D9%85_%D9%86%D8%A7_%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "پئے گل گشت سنا ہے کہ وہ آج آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پئے گل گشت سنا ہے کہ وہ آج آتے ہیں\nپھولوں کی بھی یہ خوشی ہے کہ کھلے جاتے ہیں\n\nبہر تسکین دل احباب یہ فرماتے ہیں\nآپ کہیے تو ابھی جا کے بلا لاتے ہیں\n\nگدگدی کر کے ہنساتے ہیں جو غش میں احباب\nکس کے رومال سے تلوے مرے سہلاتے ہیں\n\nآپ کے ہوتے کسی اور کو چاہوں توبہ\nکس طرف دھیان ہے کیا آپ یہ فرماتے ہیں\n\nمیری ہی جان کے دشمن ہیں نصیحت والے\nمجھ کو سمجھاتے ہیں ان کو نہیں سمجھاتے ہیں\n\nبلبلو باغ میں غافل نہ کہیں ہو جانا\nہر طرف گھات میں صیاد نظر آتے ہیں\n\nخوب پہچان لیا ہم نے تمہیں دل دے کر\nسچ کہا ہے کہ جو کھوتے ہیں وہی پاتے ہیں\n\nمجھ کو باور نہیں سچ سچ یہ بتا دے ہم دم\nتو نے کس سے یہ سنا ہے کہ وہ آج آتے ہیں\n\nکیا دل و دیدہ بھی ہرکارے ہیں سبحان اللہ\nلاکھ پردوں میں کوئی ہو یہ خبر لاتے ہیں\n\nدیکھ اچھا نہیں جوہرؔ کہیں مائل ہونا\nجب بھی سمجھاتے تھے اب بھی تجھے سمجھاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D9%84_%DA%AF%D8%B4%D8%AA_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%A2%D8%AC_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پئے گناہ ہے تیری پناہ کی تخصیص", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "پئے گناہ ہے تیری پناہ کی تخصیص\nکہ ہے تجھی پہ ہر اک داد خواہ کی تخصیص\n\nجو آپ سمجھے ہیں مجرم ہمیں تو کچھ نہیں ڈر\nکہ کی ہے آپ ہی نے دو گواہ کی تخصیص\n\nفراق یار میں بے روئے بن نہیں پڑتی\nاثر کے واسطے کر دی ہے آہ کی تخصیص\n\nنہ دل چراتے ہمارا نہ تم خجل ہوتے\nپئے حجاب ہے نیچی نگاہ کی تخصیص\n\nدکھاوے اور کوئی اپنا یار زہرہ جبیں\nجو آسماں نہیں اس رشک ماہ کی تخصیص\n\nپہنچ ہی جاتے کبھی پھر پھرا کے در پہ ترے\nیہ تو نے کاہے کو کی ایک راہ کی تخصیص\n\nتمام خلق خدا تجھ کو چاہنے لگتی\nلگا نہ دیتا اگر تو پناہ کی تخصیص\n\nوہ مجھ سے کہتے ہیں تم چاہتے نہیں مجھ کو\nمرے ڈبونے کو کرتے ہیں چاہ کی تخصیص\n\nہے تیری ذرہ نوازی کی یہ دلیل ادنیٰ\nکہ آسماں کے ہے ہمراہ جاہ کی تخصیص", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AE%D8%B5%DB%8C%D8%B5"} {"title": "پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد\nخارِ پا ہیں جوہرِ آئینۂ زانو مجھے\n\nدیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقت\nہے نگاہِ آشنا تیرا سرِ ہر مو مجھے\n\nہوں سراپا سازِ آہنگِ شکایت کچھ نہ پوچھ\nہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7_%D8%A8%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%B3%DA%A9%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D9%88%D8%B1%D8%AF"} {"title": "پا شکستوں کو جب جب ملیں گے آپ", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پا شکستوں کو جب جب ملیں گے آپ\nسر راہ طلب ملیں گے آپ\n\nان سے پوچھا کہ کب ملیں گے آپ\nبولے جب جاں بلب ملیں گے آپ\n\nدل یہ کہہ کر خبر کو اس کی چلا\nمجھ کو زندہ نہ اب ملیں گے آپ\n\nعرصۂ حشر عید گاہ ہوا\nسب سے مل لیں گے جب ملیں گے آپ\n\nوصل میں بھی جبیں پہ ہوگی شکن\nتوڑنے کو غضب ملیں گے آپ\n\nبے خودوں کو تلاش سے کیا کام\nہر جگہ بے طلب ملیں گے آپ\n\nچھوڑ دی رخ پہ زلف سمجھے ہم\nچھپ کے ایک آدھ شب ملیں گے آپ\n\nچھیڑ مطرب ترانۂ شب وصل\nساز عیش و طرب ملیں گے آپ\n\nیار جب مل گیا تو ہم سے جلالؔ\nجو نہ ملتے تھے سب ملیں گے آپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7_%D8%B4%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%A8_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "پاؤں پھر ہوویں گے اور دشت مغیلاں ہوگا", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پاؤں پھر ہوویں گے اور دشت مغیلاں ہوگا\nہاتھ پھر ہوویں گے اور اپنا گریباں ہوگا\n\nدل وحشی تو نہ کر عشق پریشاں ہوگا\nمثل آئینہ کے پھر ششدر و حیراں ہوگا\n\nگر یہی عشق کا آغاز ہے تو سن لینا\nلاش ہووے گی مری کوچۂ جاناں ہوگا\n\nڈوب کر مرنے کا شوق اس سے ہی پوچھ اے قاتل\nجس نے دیکھا یہ ترا چاہ زنخداں ہوگا\n\nکہتی تھی دام میں صیاد کے رو کر بلبل\nاب کبھی ہم کو میسر نہ گلستاں ہوگا\n\nجتنے دنیا میں ستم چاہے تو کر لے مجھ پر\nحشر میں ہاتھ مرا تیرا گریباں ہوگا\n\nجان دے بیٹھے گا اک روز تو اس پر آغاؔ\nوہ نہیں حال کا تیرے کبھی پرساں ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D9%85%D8%BA%DB%8C%D9%84%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا\nدل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا\n\nکاٹے ہیں خاک اڑا کر جوں گرد باد برسوں\nگلیوں میں ہم ہوئے ہیں اس بن خراب کیا کیا\n\nکچھ گل سے ہیں شگفتہ کچھ سرو سے ہیں قد کش\nاس کے خیال میں ہم دیکھے ہیں خواب کیا کیا\n\nانواع جرم میرے پھر بے شمار و بے حد\nروز حساب لیں گے مجھ سے حساب کیا کیا\n\nاک آگ لگ رہی ہے سینوں میں کچھ نہ پوچھو\nجل جل کے ہم ہوئے ہیں اس بن کباب کیا کیا\n\nافراط شوق میں تو رویت رہی نہ مطلق\nکہتے ہیں میرے منہ پر اب شیخ و شاب کیا کیا\n\nپھر پھر گیا ہے آ کر منہ تک جگر ہمارے\nگزرے ہیں جان و دل پر یاں اضطراب کیا کیا\n\nآشفتہ اس کے گیسو جب سے ہوئے ہیں منہ پر\nتب سے ہمارے دل کو ہے پیچ و تاب کیا کیا\n\nکچھ سوجھتا نہیں ہے مستی میں میرؔ جی کو\nکرتے ہیں پوچ گوئی پی کر شراب کیا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D8%B7%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%B9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پائے غیر اور میرا سر دیکھو", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پائے غیر اور میرا سر دیکھو\nٹوٹ جائے نہ سنگ در دیکھو\n\nایک عالم پڑا ہے چکر میں\nگردش چشم فتنہ گر دیکھو\n\nمیں نظر بند غیر مد نظر\nاپنا دل اور مرا جگر دیکھو\n\nچشم پر نم ہے تن غبار آلود\nآن کر سیر بحر و بر دیکھو\n\nفکر افشائے راز کیوں نہ کروں\nکیا حیا خیز ہے نظر دیکھو\n\nہے دگر گوں مریض غم کا حال\nہو سکے تو دوا بھی کر دیکھو\n\nغیر جھلتے ہیں اب انہیں پنکھا\nاثر آہ پر شرر دیکھو\n\nکم نمائی و خویشتن بینی\nکتنے بے دید ہو ادھر دیکھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "پابند اگرچہ اپنی خواہش کے رہو", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پابند اگرچہ اپنی خواہش کے رہو\nلائل سبجیکٹ تم برٹش کے رہو\nقانون سے فائدہ اٹھانا ہے اگر\nحامی نہ کسی خراب سازش کے رہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%A7%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B4_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%DB%81%D9%88"} {"title": "پابند حکم گریۂ بے اختیار ہوں", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پابند حکم گریۂ بے اختیار ہوں\nمیں سیل آبشار ہوں ابر بہار ہوں\n\nابر بہار ہوں نہ فضائے بہار ہوں\nمیں گرد دامن چمن روزگار ہوں\n\nاے باغبان گلشن ہستی بتا مجھے\nاپنی بہار ہوں کہ چمن کی بہار ہوں\n\nہیں یاں کے ذرے ذرے میں بے تابیاں مری\nمیں جان بے قرار و دل بے قرار ہوں\n\nکہتا ہے حسن یار سے حسن نگاہ مصر\nچڑھتی بہار تو میں اترتی بہار ہوں\n\nاب میں کہاں زمین و فضائے وطن کہاں\nبیخودؔ میں آندھیوں کا اڑایا غبار ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%AD%DA%A9%D9%85_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%82_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "پابندیِ وحشت میں زنجیر کے مشتاق", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پابندیِ وحشت میں زنجیر کے مشتاق\nدیوانے ہیں اس زلفِ گرہ گیر کے مشتاق\n\nبے رحم نہیں جرمِ وفا قابلِ بخشش\nمحروم ہیں کس واسطے تعزیر کے مشتاق\n\nرہتے تھے بہم جن سے مثالِ ورق و حرف\nاب ان کی رہا کرتے ہیں تحریر کے مشتاق\n\nلکھتا ہوں جو میں آرزوئے قتل میں نامے\nہیں میرے کبوتر بھی ترے تیر کے مشتاق\n\nکیوں قتل میں عشاق کے اتنا ہے تغافل\nمر جائیں گے ظالم دمِ شمشیر کے مشتاق\n\nاے آہ ذرا شرم کہ وہ کہتے ہیں اکثر\nمدت سے ہیں ہم آہ کی تاثیر کے مشتاق\n\nسیماب تھا دل، جل کے سو اب خاک ہوا ہے\nلے جائیں مری خاک کو اکسیر کے مشتاق\n\nکیا ہجر کے دن آنے میں ہے عذر سنیں تو\nہم ہیں ملک الموت کی تقریر کے مشتاق\n\nدل سرد کے سن کے ترے لالۂ موزوں\nتھے شیفتہ ہم محسنِ تاثیر کے مشتاق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%D9%90_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%86%D8%AC%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D9%82"} {"title": "پاتا نہیں جو لذت آہ سحر کو میں", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پاتا نہیں جو لذت آہ سحر کو میں\nپھر کیا کروں گا لے کے الٰہی اثر کو میں\n\nآشوب گاہ حشر مجھے کیوں عجیب ہو\nجب آج دیکھتا ہوں تری رہ گزر کو میں\n\nایسا بھی ایک جلوہ تھا اس میں چھپا ہوا\nاس رخ پہ دیکھتا ہوں اب اپنی نظر کو میں\n\nجینا بھی آ گیا مجھے مرنا بھی آ گیا\nپہچاننے لگا ہوں تمہاری نظر کو میں\n\nوہ شوخیوں سے جلوہ دکھا کر تو چل دیے\nان کی خبر کو جاؤں کہ اپنی خبر کو میں\n\nآہوں نے میری خرمن ہستی جلا دیا\nکیا منہ دکھاؤں گا تری برق نظر کو میں\n\nباقی نہیں جو لذت بیداری فنا\nپھر کیا کروں گا زندگی بے اثر کو میں\n\nاصغرؔ مجھے جنوں نہیں لیکن یہ حال ہے\nگھبرا رہا ہوں دیکھ کے دیوار و در کو میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%D8%A2%DB%81_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پاتا نہیں موت پر کوئی شخص ظفر", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پاتا نہیں موت پر کوئی شخص ظفر\nممکن ہی نہیں اس سے کسی طرح مفر\nہر چند اس سفر میں سختی ہے بہت\nسہ لے کہ مصیبت سے تقاضائے سفر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%88%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B4%D8%AE%D8%B5_%D8%B8%D9%81%D8%B1"} {"title": "پاتا نہیں ہوں اور کسی کام سے لذت", "poet_page": "مصنف:آفتاب شاہ عالم ثانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پاتا نہیں ہوں اور کسی کام سے لذت\nجو کچھ کہ میں پاتا ہوں ترے نام سے لذت\n\nکیفیتیں اس دیدۂ میگوں سے جو پائیں\nپائی نہ کبھی بادے سے اور جام سے لذت\n\nظاہر ہے تری نرگس مخمور سے مستی\nٹپکے ہے ترے لعل مے آشام سے لذت\n\nپاتا ہوں مزا بیکلی اور درد کا ایسا\nپاوے ہے کوئی جیسے کہ آرام سے لذت\n\nؔرکھتا ہے ہوس بوسے کی تیرے شہ عالم\nپاوے گا بہت تیرے اس انعام سے لذت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%84%D8%B0%D8%AA"} {"title": "پاداش", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کبھی اس سبک رو ندی کے کنارے گئے ہی نہیں ہو\nتمہیں کیا خبر ہے\nوہاں ان گنت کھردرے پتھروں کو\nسجل پانیوں نے\nملائم رسیلے، مدھر گیت گا کر\nامٹ چکنی گولائیوں کو ادا سونپ دی ہے\nوہ پتھر نہیں تھا\nجسے تم نے بے ڈول، ان گھڑ سمجھ کر\nپرانی چٹانوں سے ٹکرا کے توڑا\nاب اس کے سلگتے تراشے\nاگر پاؤں میں چبھ گئے ہیں تو کیوں چیختے ہو؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B4"} {"title": "پارسا تو پارسائی پر نہ کر اتنا غرور", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پارسا تو پارسائی پر نہ کر اتنا غرور\nمیں اگر بندہ ہوں عاصی پر مرا مولیٰ غفور\n\nماسوا دیدار خواہش ہے مجھے کس چیز کی\nتو پڑا پھرتا ہے جنت ڈھونڈھتا حور و قصور\n\nمیں اگرچہ رند ہوں تو آپ کو میں آپ کو\nزہد سے تیرے مجھے مطلب نہ کچھ کار ضرور\n\nتیرے تئیں غرہ ہے اپنی پارسائی زہد کا\nمیرے تئیں اللہ کے فضل و کرم سے ہے سرور\n\nرند کے مشرب پر اے زاہد تبسم مت کرے\nبھید اس کا کچھ نہ پاوے گا تو ہے معنی سے دور\n\nزخم تیغ ابرو سہہ جاوے نہ تجھ سے بوالہوس\nایک شمع سے ہوا تھا جس کے سرمہ کوہ طور\n\nچوتڑ اوپر سر جھکانا اس کو تو سمجھا ہے فخر\nہے نہیں قابل تو فضل اللہ کا اے بے شعور\n\nکیا تجھے معلوم ہے دیر و حرم کی ایک راہ\nبت پرستی اس جگہ اور اس جگہ ہے یک امور\n\nدم غنیمت ہے تو ہر دم یاد میں لے دم کے تئیں\nذکر دائم آفریدیؔ ہو چراغ اندر قبور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1"} {"title": "پارسائی ان کی جب یاد آئے گی", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پارسائی ان کی جب یاد آئے گی\nمجھ سے میری آرزو شرمائے گی\n\nگر یہی ہے پاس آداب سکوت\nکس طرح فریاد لب تک آئے گی\n\nیہ تو مانا دیکھ آئیں کوئے یار\nپھر تمنا اور کچھ فرمائے گی\n\nجانے دے صبر و قرار و ہوش کو\nتو کہاں اے بے قراری جائے گی\n\nہجر کی شب گر یہی ہے اضطراب\nنیند اے تسلیمؔ کیوں کر آئے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A8_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "پاس آداب ترے حسن کا کرتے کرتے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پاس آداب ترے حسن کا کرتے کرتے\nتجھ کو دیکھا بھی کبھی ہوں گا تو ڈرتے ڈرتے\n\nمستعد ہو کے مرے قتل پہ آیا جلاد\nمیں نے یہ شعر پڑھا درد سے مرتے مرتے\n\nبارے صد شکر خدا کا کہ بر آئی امید\nآرزو آج کی یک عمر سے کرتے کرتے\n\nسرد مہروں سیتی پالا نہ پڑا تھا سو پڑا\nہو گئے سرد دم سرد کے بھرتے بھرتے\n\nمنزل عشق نہ طے ہووی بقول سوداؔ\nمل گئے خاک میں یاں پاؤں کے دھرتے دھرتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "پاس اخلاص سخت ہے تکلیف", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پاس اخلاص سخت ہے تکلیف\nتاکجا خاطر وضیع و شریف\n\nچشم و دل سے نہ تھی یہ چشم ہمیں\nکہ نہ گریہ کے ہو سکیں گے حریف\n\nصبح تک تھا وہیں یہ مخلص بھی\nآپ رکھتے تھے شب جہاں تشریف\n\nمجھ سے تجھ بن گیا جو فصل ربیع\nکب یہ اشجار سے کرے ہے خریف\n\nیوں کبھو تو نے مے نہ دی ساقی\nنائے حلقوم کو سمجھتے قیف\n\nاپنے تئیں آپ وہ نہیں پاتے\nفکر میں تجھ کمر کی ہیں جو ضعیف\n\nکیوں نہ واہی ہو شعر قائمؔ کا\nہے دوانے کی آخرش تصنیف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D8%B5_%D8%B3%D8%AE%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%81"} {"title": "پاس ادب مجھے انہیں شرم و حیا نہ ہو", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پاس ادب مجھے انہیں شرم و حیا نہ ہو\nنظارہ گاہ میں اثر ماسوا نہ ہو\n\nمانا مری قبول نہیں ہے دعا نہ ہو\nاتنا ہی ہو کہ اس پہ اثر غیر کا نہ ہو\n\nکیوں کر کہوں کہ پاس انہیں غیر کا نہ ہو\nجو غصے میں بھی کہتے ہیں تیرا برا نہ ہو\n\nاس پردے میں تو کتنے گریبان چاک ہیں\nوہ بے حجاب ہوں تو خدا جانے کیا نہ ہو\n\nتکیے میں کیا رکھا ہے خط غیر کی طرح\nدیکھوں تو میں نوشتۂ قسمت مرا نہ ہو\n\nمل کر گلے وہ کرتے ہیں خنجر کی طرح کاٹ\nاس پر بھی کہہ رہا ہوں کہ مجھ سے جدا نہ ہو\n\nموسیٰ کا حال دیکھ کے دل کانپنے لگا\nاب تو دعا ہے ان سے مرا سامنا نہ ہو\n\nوہ بار بار میرا لپٹنا شب وصال\nان کا جھجک کے کہنا کوئی دیکھتا نہ ہو\n\nبیدمؔ کی زندگی ہے اسی چھیڑ چھاڑ میں\nترک وفا کی طرح سے ترک جفا نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D8%AF%D8%A8_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%D9%85_%D9%88_%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "پاس ادب میں جوش تمنا لئے ہوئے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پاس ادب میں جوش تمنا لئے ہوئے\nمیں بھی ہوں اک حباب میں دریا لئے ہوئے\n\nرگ رگ میں اور کچھ نہ رہا جز خیال دوست\nاس شوخ کو ہوں آج سراپا لئے ہوئے\n\nسرمایۂ حیات ہے حرمان عاشقی\nہے ساتھ ایک صورت زیبا لئے ہوئے\n\nجوش جنوں میں چھوٹ گیا آستان یار\nروتے ہیں منہ میں دامن صحرا لئے ہوئے\n\nاصغرؔ ہجوم درد غریبی میں اس کی یاد\nآئی ہے ایک طلسمی تمنا لئے ہوئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D8%AF%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D9%84%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "پاس اس بت کے جو غیر آ کے کوئی بیٹھ گیا", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پاس اس بت کے جو غیر آ کے کوئی بیٹھ گیا\nدرد اٹھا یا مرے جس میں کہ جی بیٹھ گیا\n\nعشق مژگاں میں ہزاروں نے گلے کٹوائے\nعید قرباں میں جو وہ لے کے چھری بیٹھ گیا\n\nجب رقیب اس کو بتانے لگے ارکان نماز\nتھام کر دل کبھی اٹھا میں کبھی بیٹھ گیا\n\nاے جلا ساز کبھی پھر نہ صفائی ہوگی\nزنگ آئینۂ دل میں جو ذرا بیٹھ گیا\n\nدست و پا ہوتے ہیں ہر وار میں لاکھوں کے دو نیم\nہاتھ چورنگ پہ مشق اس نے جو کی بیٹھ گیا\n\nچشمۂ گور وہ ہے اس سے نہ نکلا کوئی\nاس کنوئیں میں جو گرا ڈوبتے ہی بیٹھ گیا\n\nتھام کیوں کر نہیں لیتے ہیں وہ دل دیکھیں تو\nتیر نالہ جو نشانے پہ کوئی بیٹھ گیا\n\nپھوٹ بہتا جو یہ اے شادؔ تو بہتر ہوتا\nپھر یہ ابھرے گا پھپھولا جو ابھی بیٹھ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پاس رہ کر دیکھنا تیرا بڑا ارمان ہے", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پاس رہ کر دیکھنا تیرا بڑا ارمان ہے\nمجھ کو سب مشکل ہے پیارے تجھ کو سب آسان ہے\n\nاے مرے بدمست مت کر تو غزالوں کا شکار\nلے نہ میرے دل کو چکھ یہ زور ہی بریان ہے\n\nکیا دعا دیتے ہو میاں جیتے رہو جیتے رہو\nزندگانی تو نہیں انگریز کا زندان ہے\n\nایک بوسہ مچ مچا کر بیچ سے ہونٹوں کے دے\nپھر اگر دل تجھ سے مانگوں جان بھی نادان ہے\n\nجس کی نیت میں دغا ہے آپ ہوتا ہے خراب\nخوشۂ گندم کو دیکھو کب سے داتا دان ہے\n\nآہ کچھ چبھتا ہے اٹھتے بیٹھتے سینے کے بیچ\nچیر کے دیکھو تو یہ الماس کا پیکان ہے\n\nمیرے سمجھانے کو آیا ہے بغل میں لے کتاب\nناک میں لایا ہے دم ناصح کوئی شیطان ہے\n\nسوزؔ کا رتبہ کہاں پہنچا ہے جو تیری رضا\nلوگ یہ کہتے ہیں اب تو صاحب دیوان ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%B1%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DA%91%D8%A7_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "پالا امید و بیم سے ناگاہ پڑ گیا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پالا امید و بیم سے ناگاہ پڑ گیا\nدل کا بنا بنایا گھروندا اجڑ گیا\n\nالٹی تھی مت زمانۂ مردہ پرست کی\nمیں ایک ہوشیار کہ زندہ ہی گڑ گیا\n\nشربت کا گھونٹ جان کے پیتا ہوں خون دل\nغم کھاتے کھاتے منہ کا مزہ ہی بگڑ گیا\n\nایسے کے پاؤں چومئے یا پیار کیجیے\nقدموں پہ میں جھکا تو وہ دونا اکڑ گیا\n\nدونوں کے دل سے پوچھئے انجام کار عشق\nسل گھستے گھستے گھس گئی بٹا رگڑ گیا\n\nکھینچی جو صدق دل سے اسیروں نے آہ سرد\nپھر کیا تھا پاؤں باد خزاں کا اکھڑ گیا\n\nاللہ ری کشاکش دیر و حرم کہ یاسؔ\nحیرت کے مارے بیچ دوراہے پہ گڑ گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%BE%DA%91_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پامال خرام ناز کیجے", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "پامال خرام ناز کیجے\nٹھکرائیے سرفراز کیجے\n\nدل تم نے لیا زبان دے کر\nعاشق کا نہ فاش راز کیجے\n\nسوز تپ ہجر کا یہ ہے حکم\nتن شمع صفت گداز کیجے\n\nمحمود ہوا ہے حسن صاحب\nپہلے مجھ کو ایاز کیجے\n\nہو کوئی قضا جو بادہ خوارو\nبھٹی پہ ادا نماز کیجے\n\nکہتا ہے یہ ناز دل ربائی\nاے عاشقو جان نیاز کیجے\n\nناساز زمانہ کا نہیں غم\nہاں کار زمانہ ساز کیجے\n\nغیروں سے تو ہے وقارؔ بہتر\nاب آپ بھی امتیاز کیجے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92"} {"title": "پامال راہ عشق ہیں خلقت کی کھا ٹھوکر بھی ہم", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پامال راہ عشق ہیں خلقت کی کھا ٹھوکر بھی ہم\nجوں شیشہ نازک تر تھے کیا سختی میں ہیں پتھر بھی ہم\n\nآئینہ دل کا صاف کر کہلائے صیقل گر بھی ہم\nاپنے سوا دیکھیں کسے اندر بھی ہم باہر بھی ہم\n\nجاں بر ہو ان سے کیونکہ دل کہتی ہیں پلکیں یار کی\nنیزہ بھی ہم ناوک بھی ہم برچھی بھی ہم خنجر بھی ہم\n\nاشکوں کی دولت کیوں نہ ہو سلطان اقلیم جنوں\nرکھتے ہیں ساتھ اپنے سدا لڑکوں کا اک لشکر بھی ہم\n\nچنوا کے ابرو مجھ سے کیا وہ ہنس کے فرمانے لگے\nاس تیغ کے دم لے سدا دکھلائیں گے جوہر بھی ہم\n\nکیا خاک کیجے مے کشی اے ساقیٔ گلفام آ\nگریاں ہیں مثل ابر کیا جوں برق ہیں مضطر بھی ہم\n\nکہتے ہیں وہ پاں خوردہ لب یاقوت کے ٹکڑے تو تھے\nکہلائے لیکن آج سے برگ گل احمر بھی ہم\n\nاے شوخ دانتوں کا ترے یاں یہ تصور ہے بندھا\nدن رات چشم تر سے یاں برساتے ہیں گوہر بھی ہم\n\nرکھتے تو ہیں گرداب یم پر ڈر ہے یہ اے چشم تر\nگرداب دریا کی طرح کھاتے ہیں یاں چکر بھی ہم\n\nجو چاہے کر جور و جفا پر دل کا مہر داغ سے\nروز قیامت کوسنا دکھلائیں گے محضر بھی ہم\n\nقد سے نصیرؔ اس کے سدا اک شور محشر ہے بپا\nچھوٹے عذاب قبر سے کیا خاک یاں مر کر بھی ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%84%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%B9%DA%BE%D9%88%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85"} {"title": "پان اس کے لبوں پہ اس قدر ہے زیبا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پان اس کے لبوں پہ اس قدر ہے زیبا\nہو رنگ پہ جس کے سرخیٔ لعل فدا\nہر فندق انگشت سے اس دست کو گر\nگلدستۂ باغ حسن کہیے تو بجا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A8%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%B2%DB%8C%D8%A8%D8%A7"} {"title": "پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیں\nیہ مرے قتل کے سامان کہاں جاتے ہیں\n\nسر اگر جائے تو جائے مگر اے خنجر یار\nسر سے اپنے ترے احسان کہاں جاتے ہیں\n\nبعد مرنے کے بھی مٹی مری برباد رہی\nمری تقدیر کے نقصان کہاں جاتے ہیں\n\nحال کھلتا نہیں ان خویش فراموشوں کا\nروز کے روز یہ مہمان کہاں جاتے ہیں\n\nکس کی آشفتہ مزاجی کا خیال آیا ہے\nآپ حیران پریشان کہاں جاتے ہیں\n\nآج کس منہ سے مری دل شکنی ہوتی ہے\nآج وہ آپ کے مہمان کہاں جاتے ہیں\n\nاے ظہیرؔ اب یہ کھلا حال بڑی دور ہیں آپ\nآپ جاتے ہیں جہاں دھیان کہاں جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D9%86_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا\nجب مرا خوں ہو چکا شمشیر پھر کھینچی تو کیا\n\nاے مہوس جب کہ زر تیرے نصیبوں میں نہیں\nتو نے محنت بھی پئے اکسیر پھر کھینچی تو کیا\n\nگر کھنچے سینہ سے ناوک روح تو قالب سے کھینچ\nاے اجل جب کھنچ گیا وہ تیر پھر کھینچی تو کیا\n\nکھینچتا تھا پاؤں میرا پہلے ہی زنجیر سے\nاے جنوں تو نے مری زنجیر پھر کھینچی تو کیا\n\nدار ہی پر اس نے کھینچا جب سر بازار عشق\nلاش بھی میری پئے تشہیر پھر کھینچی تو کیا\n\nکھینچ اب نالہ کوئی ایسا کہ ہو اس کو اثر\nتو نے اے دل آہ پر تاثیر پھر کھینچی تو کیا\n\nچاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنا\nدیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا\n\nکھینچ لے اول ہی سے دل کی عنان اختیار\nتو نے گر اے عاشق دلگیر پھر کھینچی تو کیا\n\nکیا ہوا آگے اٹھائے گر ظفرؔ احسان عقل\nاور اگر اب منت تدبیر پھر کھینچی تو کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%D8%B1%D9%85%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پان کی سرخی نہیں لب پر بت خوں خوار کے", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پان کی سرخی نہیں لب پر بت خوں خوار کے\nلگ گیا ہے خون عاشق منہ کو اس تلوار کے\n\nخال عارض دیکھ لو حلقے میں زلف یار کے\nمار مہرہ گر نہ دیکھا ہو دہن میں مار کے\n\nانجم تاباں فلک پر جانتی ہے جس کو خلق\nکچھ شرارے ہیں وہ میری آہ آتش بار کے\n\nطوبی جنت سے اس کو کام کیا ہے حوروش\nجو کہ ہیں آسودہ سائے میں تری دیوار کے\n\nپوچھتے ہو حال کیا میرا قمار عشق میں\nجھاڑ بیٹھا ہاتھ میں نقد دل و دیں ہار کے\n\nیہ ہوئی تاثیر عشق کوہکن سے سنگ آب\nاشک جاری اب تلک چشموں سے ہیں کہسار کے\n\nہے وہ بے وحدت کہ جو سمجھے ہے کفر و دیں میں فرق\nرکھتی ہے تسبیح رشتہ تار سے زنار کے\n\nوعدۂ دیدار جو ٹھہرا قیامت پر تو یاں\nروز ہوتی ہے قیامت شوق میں دیدار کے\n\nہوشیاری ہے یہی کیجے ظفرؔ اس سے حذر\nدیکھیے جس کو نشے میں بادۂ پندار کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%B1%D8%AE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92"} {"title": "پانو میں قیس کے زنجیر بھلی لگتی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پانو میں قیس کے زنجیر بھلی لگتی ہے\nیوں ہی دیوانے کی تصویر بھلی لگتی ہے\n\nاپنی کیا تجھ سے کہوں تو ہی کہہ اپنی مجھ سے\nکہ مجھے تیری ہی تقریر بھلی لگتی ہے\n\nخوش نما ہے ترے عارض پہ یہ خط یوں جس طرح\nگرد قرآن کے تفسیر بھلی لگتی ہے\n\nجب مرے خون میں ہوتی ہے وہ رنگیں قاتل\nاس گھڑی کیا تری شمشیر بھلی لگتی ہے\n\nہوتی ہے عاشق و معشوق کی جس میں تصویر\nاپنی آنکھوں میں وہ تعمیر بھلی لگتی ہے\n\nمیری تصویر کو غم ناک تو کھینچ اے مانی\nشکل عشاق کی دلگیر بھلی لگتی ہے\n\nمصحفیؔ باجے ہے نوبت تو در آصفؔ پر\nکیا ہی آواز بم و زیر بھلی لگتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%86%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%82%DB%8C%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AC%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%D9%84%DB%8C_%D9%84%DA%AF%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "پانچ دن", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "چغد", "year": "1948", "text_ur": "جموں توی کے راستے کشمیر جائیے تو کُد کے آگے ایک چھوٹا سا پہاڑی گاؤں بٹوت آتا ہے۔ بڑی پر فضا جگہ ہے۔ یہاں دق کے مریضوں کے لیے ایک چھوٹا سا سینی ٹوریم ہے۔ یوں تو آج سے آٹھ نو برس پہلے بٹوت میں پورے تین مہینے گزار چکا ہوں، اور اس صحت افزا مقام سے میری جوانی کا ایک ناپختہ رومان بھی وابستہ ہے مگر اس کہانی سے میری کسی بھی کمزوری کا تعلق نہیں۔\n\nچھ سات مہینے ہوئے، مجھے بٹوت میں اپنے ایک دوست کی بیوی کو دیکھنے کے لیے جانا پڑا جو وہاں سینی ٹوریم میں زندگی کے آخری سانس لے رہی تھی۔ میرے وہاں پہنچتے ہی ایک مریض چل بسا اور بے چاری پدما کے سانس جو پہلے اکھڑے ہوئے تھے اور بھی غیر یقینی ہوگئے۔ میں نہیں کہہ سکتا وجہ کیا تھی لیکن میرا خیال ہے کہ محض اتفاق تھا کہ چار روز کے اندر اندر اس چھوٹے سے سینی ٹوریم میں تین مریض اوپر تلے مر گئے۔ جوں ہی کوئی بستر خالی ہوتا یا تیمار داری کرتے کرتے تھکے ہوئے انسانوں کی تھکی ہوئی چیخ پکار سنائی دیتی، سارے سینی ٹوریم پر ایک عجیب قسم کی خاکستری اداسی چھا جاتی اور وہ مریض جو امید کے پتلے دھاگے کے ساتھ چمٹے ہوتے تھے، یاس کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتے۔\n\nمیرے دوست کی بیوی پدما تو بالکل دم بخود ہو جاتی۔ اس کے پتلے ہونٹوں پر موت کی زردیاں کانپنے لگتیں اور اس کی گہری آنکھوں میں ایک نہایت ہی رحم انگیز استفسار پیدا ہوجاتا۔ سب سے آگے ایک خوف زدہ ’’کیوں؟‘‘ اور اس کے پیچھے بہت سے ڈرپوک’’نہیں!‘‘\n\nتیسرے مریض کی موت کے بعد میں باہر برآمدے میں بیٹھ کرزندگی اور موت کے متعلق سوچنے لگا۔۔۔ سینی ٹوریم ایک مرتبان سا لگتا ہے جس میں یہ مریض،پیاز کی طرح ،سرکے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ایک کانٹا آتا ہے اور جو پیاز اچھی طرح گل گئی ہے، اسے ڈھونڈتا ہے اور نکال کر لے جاتا ہے۔ یہ کتنی مضحکہ خیز تشبیہ تھی۔ لیکن جانے کیوں بار بار یہی میرے ذہن میں آئی۔ میں اس سے زیادہ اور کچھ نہ سوچ سکا کہ موت ایک بہت ہی بھونڈی چیز ہے۔۔۔ یعنی آپ اچھے بھلے جی رہے ہیں، ایک مرض کہیں سے آن چمٹتا ہے اور مرجاتے ہیں۔ افسانوی نقطہ نظر سے بھی زندگی کی کہانی کا یہ انجام کچھ چست معلوم نہیں ہوتا۔\n\nبرآمدے سے اٹھ کر اندر داخل ہوا۔ دس پندرہ قدم اٹھائے ہوں گے کہ پیچھے سے آواز آئی۔\n\n’’دفنا آئے آپ نمبر بائیس کو!‘‘\n\nمیں نے مڑ کر دیکھا۔ سفید بستر پر دو کالی آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔ یہ آنکھیں جیسا کہ مجھے بعد میں معلوم ہوا۔ ایک بنگالی عورت کی تھیں جو دوسرے مریضوں سے بالکل الگ طریقے پر اپنی موت کا انتظار کررہی تھی۔اس نے جب یہ کہا’’دفنا آئے آپ نمبر بائیس کو؟‘‘ تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ہم انسان کو نہیں بلکہ ایک عدد دفنا کر آرہے ہیں۔ اور سچ پوچھیے تو اس مریض کو قبر کے سپرد کرتے ہوئے میرے دل و دماغ کے کسی کونے میں بھی یہ احساس پیدا نہیں ہوا تھا کہ وہ ایک انسان تھا، اور اس کی موت سے دنیا میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔\n\nمیں جب مزید گفتگو کرنے کے لیے اس بنگالی عورت کے پاس بیٹھا جس کی سیاہ فام آنکھیں ایسی ہول ناک بیماری کے باوجود تروتازہ اور چمکیلی تھیں تو اس نے ٹھیک اسی طرح مسکرا کر کہا،’’میرا نمبرچار ہے۔‘‘ پھر اس نے اپنی سفید چادرکی چند سلوٹیں اپنے استخوانی ہاتھ سے درست کیں اور بڑے بے تکلف انداز میں کہا،’’آپ مردوں کو جلانے دفنانے میں کافی دلچسپی لیتے ہیں۔‘‘ میں نے یونہی سا جواب دیا، ’’نہیں تو۔۔۔‘‘اس کے بعد یہ مختصر گفتگو ختم ہوگئی اور میں اپنے دوست کے پاس چلا گیا۔\n\nدوسرے روز میں حسب معمول سیر کو نکلا۔ ہلکی ہلکی پھوارگررہی تھی۔ جس سے فضا بہت ہی پیاری اور معصوم ہوگئی تھی، یعنی جیسے اس کو ان مریضوں سے کوئی سروکار ہی نہیں جو اس میں جراثیم بھرے سانس لے رہے تھے۔۔۔ چیڑ کے لانبے لانبے درخت، نیلی نیلی دھند میں لپٹی ہوئی پہاڑیاں، سڑک پر لڑھکتے ہوئے پتھر۔۔۔ پست قد مگرصحت مند بھینسیں۔۔۔ ہر طرف خوبصورتی تھی۔۔۔ ایک پراعتماد خوبصورتی جسے کسی چور کا کھٹکا نہیں تھا۔\n\nمیں سیر سے لوٹ کر سینی ٹوریم میں داخل ہوا تو مریضوں کے اترے ہوئے چہروں ہی سے مجھے معلوم ہوگیا کہ ایک اور عدد چل بسا ہے۔۔۔ گیارہ نمبر، یعنی پدما۔\n\nاس کی دھنسی ہوئی آنکھوں میں جو کھلی رہ گئی تھیں میں نے بہت سے خوفزدہ’’ کیوں‘‘ اور ان کے پیچھے بے شمار ڈرپوک’’نہیں‘‘ منجمد پائے۔۔۔ بے چاری!!\nپانی برس رہا تھا ، اس لیے خشک ایندھن جمع کرنے میں بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ بہر حال، اس غریب کی لاش کو آگ کے سپرد کردیا گیا۔ میرا دوست وہیں چتا کے پاس بیٹھا رہا اور میں اس کا سامان ٹھیک کرنے کے لیے سینی ٹوریم آگیا۔۔۔ اندر داخل ہوتے ہوئے مجھے پھر اس بنگالی عورت کی آواز آئی۔\n\n’’بہت دیر لگ گئی آپ کو۔‘‘\n\n’’جی ہاں ،بارش کی وجہ سے خشک ایندھن نہیں مل رہا تھا اس لیے دیر ہوگئی۔‘‘\n\n’’اور جگہوں پر تو ایندھن کی دکانیں ہوتی ہیں، پر میں نے سنا ہے یہاں اِدھر اُدھر سے خود ہی لکڑیاں کاٹنی اور چننی پڑتی ہیں۔‘‘\n\n’’جی ہاں۔‘‘\n\n’’ذرا بیٹھ جائیے۔‘‘\n\nمیں اس کے پاس اسٹول پر بیٹھ گیا۔ تو اس نے ایک عجیب سا سوال کیا،’’تلاش کرتے کرتے جب آپ کو خشک لکڑی کا ٹکرا مل جاتا ہوگا تو آپ بہت خوش ہوتے ہوں گے؟ ‘‘اس نے میرے جواب کا انتظار نہ کیا اور اپنی چمکیلی آنکھوں سے مجھے بغور دیکھتے ہوئے کہا،’’موت کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘\n\n’’میں نے کئی بار سوچا ہے لیکن سمجھ نہیں سکا۔‘‘\n\nوہ داناؤں کی طرح مسکرائی اور بچوں کے سے انداز میں کہنے لگی، ’’میں کچھ کچھ سمجھ سکی ہوں۔۔۔ اس لیے کہ بہت موتیں دیکھ چکی ہوں۔۔۔ اتنی کہ آپ شاید ہزار برس بھی زندہ رہ کر نہ دیکھ سکیں۔۔۔ میں بنگال کی رہنے والی ہوں جہاں کا قحط آج کل بہت مشہور ہے۔۔۔ آپ کو تو پتہ ہی ہوگا۔ لاکھوں آدمی وہاں مر چکے ہیں۔۔۔ بہت سی کہانیاں چھپ چکی ہیں۔ سیکڑوں مضمون لکھے جا چکے ہیں۔ پھر بھی سنا ہے کہ انسان کی اس بپتا کا اچھی طرح نقشہ نہیں کھینچا جاسکا۔۔۔ موت کی اسی منڈی میں،موت کے متعلق میں نے سوچا۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا، ’’کیا؟‘‘\n\nاس نے اسی انداز سے جواب دیا،’’میں نے سوچا کہ ایک آدمی کا مرنا موت ہے۔۔۔ ایک لاکھ آدمیوں کا مرنا تماشاہے۔۔۔ سچ کہتی ہوں موت کا وہ خوف جو کبھی مرے دل پر ہوا کرتا تھا، بالکل دور ہوگیا۔۔۔ ہر بازارمیں دس بیس ارتھیاں اور جنازے نظر آئیں تو کیا موت کا اصلی مطلب فوت نہیں ہو جائے گا۔۔۔ میں صرف اتنا سمجھ سکی ہوں کہ ایسی بے تحاشا موتوں پر رونا بیکار ہے۔۔۔ بیوقوفی ہے۔۔۔ اول تو اتنے آدمیوں کا مرجاناہی سب سے بڑی حماقت ہے۔‘‘\n\nمیں نے فوراً ہی پوچھا، ’’کس کی؟‘‘\n\n’’کسی کی بھی ہو۔۔۔ حماقت، حماقت ہے۔۔۔ ایک بھرے شہر پر آپ اوپر سے بم گرا دیجیے۔۔۔ لوگ مر جائیں گے۔۔۔ کنوؤں میں زہر ڈال دیجیے۔۔۔جو بھی ان کا پانی پیے گا مر جائے گا۔۔۔ یہ کال، قحط،جنگ اور بیماریاں سب واہیات ہیں۔۔۔ ان سے مرجانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے اوپر سے چھت آگرے۔ لیکن، دل کی ایک جائز خواہش کی موت ،بہت بڑی موت ہے۔۔۔ انسان کو مارنا کچھ نہیں، لیکن اس کی فطرت کو ہلاک کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ کچھ دیر کے لیے چپ ہوگئی۔ لیکن پھر کروٹ بدل کر کہنے لگی،’’میرے خیالات پہلے ایسے نہیں تھے۔ سچ پوچھیے تو مجھے سوچنے کا وقوف ہی نہیں تھا۔ لیکن اس قحط نے مجھے ایک بالکل نئی دنیا میں پھینک دیا۔‘‘ رک کر ایک دم وہ میری طرف متوجہ ہوئی۔ میں اپنی کاپی میں یاداشت کے طور پر اس کی چند باتیں نوٹ کررہا تھا۔\n\n’’یہ آپ کیا لکھ رہے ہیں؟‘‘\n\nمیں نے صاف گوئی سے کام لیا اور کہا، ’’میں افسانہ نگار ہوں۔۔۔ جو باتیں مجھے دلچسپ معلوم ہوں، نوٹ کرلیا کرتا ہوں۔‘‘\n\n’’اوہ۔۔۔ تو پھر میں آپ کو اپنی پوری کہانی سناؤں گی۔‘‘\n\nتین گھنٹے تک، نحیف آواز میں وہ مجھے اپنی کہانی سناتی رہی۔ میں اب اپنے الفاظ میں اسے بیان کرتا ہوں۔ غیر ضروری تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ بنگال میں جب قحط پھیلا اور لوگ دھڑا دھڑ مرنے لگے تو سکینہ کو اس کے چچا نے ایک اوباش آدمی کے پاس پانچ سو روپے میں بیچ دیا جو اسے لاہور لے آیا۔ اور ایک ہوٹل میں ٹھہرا کر اس سے روپیہ کمانے کی کوشش کرنے لگا۔ پہلا آدمی جو اس کے پاس اس غرض سے لایا گیا، ایک خوبصورت اور تندرست نوجوان تھا۔ قحط سے پہلے جب روٹی کپڑے کی فکر نہیں تھی، وہ ایسے ہی نوجوان کے خواب دیکھا کرتی تھی جو اس کا شوہر بنے۔ مگر یہاں اس کا سودا کیا جارہا تھا۔ ایک ایسے فعل کے لیے اسے مجبور کیا جارہا تھا جس کے تصور ہی سے وہ کانپ کانپ اٹھتی تھی۔\n\nجب وہ کلکتےسے لاہور لائی گئی تو اسے معلوم تھاکہ اس کے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے۔ وہ باشعور لڑکی تھی۔ اچھی طرح جانتی تھی کہ چند ہی روز میں اسے ایک سکہ بنا کر جگہ جگہ بھنایا جائے گا۔ اس کو یہ سب کچھ معلوم تھا لیکن اس قیدی کی طرح جو رحم کی امید نہ ہونے پربھی آس لگائے رہتا ہے، وہ کسی ناممکن حادثے کی متوقع تھی۔۔۔ یہ حادثہ تو نہ ہوا لیکن خود اس میں اتنی ہمت پیدا ہوگئی کہ وہ رات کوکچھ اپنی ہوشیاری سے اور کچھ اس نوجوان کی خامکاری کی بدولت ہوٹل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔\n\nاب لاہور کی سڑکیں تھیں اور ان کے نئے خطرے۔ قدم قدم پر ایسا لگتا تھا کہ لوگوں کی نظریں اسے کھا جائیں گی۔ لوگ اسے کم دیکھتے تھے، لیکن اس کی جوانی کو جو چھپنے والی چیز نہیں تھی، کچھ اتنا زیادہ گھورتے تھے، جیسے برمے سے اس کے اندر سوراخ کررہے ہیں۔ سونے چاندی کا کوئی زیور یا موتی ہوتا تو وہ شاید لوگوں کی نظروں سے بچا لیتی۔ مگر وہ ایک ایسی چیز کی حفاظت کررہی تھی جس پر کوئی بھی آسانی کے ساتھ ہاتھ مار سکتا تھا۔\n\nتین دن اور تین راتیں وہ کبھی ادھر کبھی ادھر گھومتی بھٹکتی رہی۔ بھوک کے مارے اس کا برا حال تھا مگر اس نے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اس کا یہ پھیلا ہوا ہاتھ، اس کی عصمت سمیت، کسی اندھیری کوٹھری میں کھینچ لیا جائے گا۔۔۔ دکانوں میں سجی ہوئی مٹھائیاں دیکھتی تھی۔ بھٹیار خانوں میں لوگ بڑے بڑے نوالے اٹھاتے تھے۔ اس کے ہر طرف کھانے پینے کی چیزوں کا بڑی بےدردی سے استعمال ہوتا تھا۔۔۔ لیکن جیسے دنیا میں اس کے مقسوم کا کوئی دانہ ہی نہیں رہا تھا۔\n\nاسے زندگی میں پہلی بار کھانے کی اہمیت معلوم ہوئی۔ پہلے اس کو کھانا ملتا تھا، اب وہ کھانے سے ملنا چاہتی تھی اور مل نہیں سکتی تھی۔ چار روز کے فاقوں نے اسے اپنی ہی نظروں میں ایک بہت بڑا شہید تو بنا دیالیکن اس کے جسم کی ساری بنیادیں ہل گئیں۔وہ جو روحانی تسکین ہوتی ہے ایک وقت آگیا کہ وہ بھی سکڑنے لگی۔\n\nچوتھے روز شام کو وہ ایک گلی میں سے گزر رہی تھی۔ جانے کیا جی میں آئی کہ ایک مکان کے اندر گھس گئی۔ اندر چل کر خیال آیا کہ نہیں، کوئی پکڑ لے گا۔۔۔ اور تمام کیے کرائے پر پانی پھر جائےگا۔ اب اس میں اتنی طاقت بھی تو نہیں۔ لیکن سوچتے سوچتے وہ صحن کے پاس پہنچ چکی تھی۔۔۔ ملگجے اندھیرے میں اس نے گھڑونچیوں پر دو صاف گھڑے دیکھے۔ اوران کے ساتھ ہی پھلوں سے بھرے ہوئے دو تھال۔۔۔ سیب۔۔۔ ناشپاتیاں۔۔۔ انار۔۔۔ اس نے سوچا انار بکواس ہے۔۔۔ سیب اور ناشپاتیاں ٹھیک ہیں۔۔۔ گھڑے کے اوپر چپنی کے بجائے ایک پیالہ پڑا تھا۔۔۔ اس نے طشتری اٹھا کر دیکھا تو ملائی سے پر تھا۔\n\nاس نے اٹھا لیا اور پیشتر اس کے کہ وہ کچھ سوچ سکے، جلدی جلدی اس نے نوالے اٹھانے شروع کیے۔ ساری ملائی اس کے پیٹ میں تھی۔۔۔ کتنا راحت بخش لمحہ تھا! بھول گئی کہ کسی غیر کے مکان میں ہے۔۔۔۔ وہیں بیٹھ کر اس نے سیب اور ناشپاتیاں کھانا شروع کردیں۔۔۔ گھڑونچی کے نیچے کچھ اور بھی تھا۔۔۔ یخنی۔۔۔ ٹھنڈی تھی لیکن اس نے ساری پتیلی ختم کردی۔۔۔ ایک دم جانے کیا ہوا۔ پیٹ کی گہرائیوں سے غبار سا اٹھا اور اس کاسر چکرانے لگا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ کہیں سے کھانسی کی آواز آئی۔ بھاگنے کی کوشش کی مگر چکرا کر گری اور بے ہوش ہوگئی۔\n\nجب ہوش آیا تو وہ ایک صاف ستھرے بستر میں لیٹی تھی۔ سب سے پہلے اسے خیال آیا۔ کہیں میں لوٹی تو نہیں گئی۔۔۔ لیکن فوراً ہی اسے اطمینان ہوگیا کہ وہ صحیح سلامت تھی۔۔۔ کچھ اور سوچنے ہی لگی تھی کہ پتلی پتلی کھانسی کی آواز آئی۔ ایک ہڈیوں کا ڈھانچہ کمرے میں داخل ہوا۔\n\nسکینہ نے اپنے گاؤں میں بہت سے قحط کے مارے انسان دیکھے تھے مگر یہ انسان ان سے بہت مختلف تھا۔ بے چارگی اس کی آنکھوں میں بھی تھی مگر اس میں وہ اناج کی ترسی ہوئی خواہش نہیں تھی۔ اس نے پیٹ کے بھوکے دیکھے تھے جن کی نگاہوں میں ایک ننگی اور بھونڈی للچاہٹ تھی لیکن اس مرد کی نگاہوں میں اسے ایک چلمن سی نظر آئی۔۔۔۔۔۔ ایک دھندلا پردہ جس کے پیچھے سے وہ ڈر ڈر کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔\n\nخوف زدہ سکینہ کو ہونا چاہیے لیکن سہما ہوا وہ تھا۔۔۔ اس نے رک رک کر کچھ جھینپتے ہوئے عجیب قسم کا حجاب محسوس کرتے ہوئے اس سے کہا،’’جب تم کھا رہی تھیں تو میں تم سے دور کھڑا تھا۔۔۔ اف! میں نے کن مشکلوں سے اپنی کھانسی روکے رکھی کہ تم آرام سے کھا سکو اور میں یہ خوبصورت منظر زیادہ دیر تک دیکھ سکوں۔ بھوک بڑی پیاری چیز ہے۔ لیکن ایک میں ہوں کہ اس نعمت سے محروم ہوں۔ نہیں، محروم نہیں کہنا چاہیے کیونکہ میں نے خود اس کو ہلاک کیا ہے۔\n\nسکینہ کچھ بھی سمجھ نہ سکی۔۔۔ وہ ایک پہیلی تھی جو بوجھتے بوجھتے ایک اور پہیلی بن جاتی تھی۔ لیکن اس کے باوجود سکینہ کو اس کی باتیں اچھی لگیں جن میں انسانیت کی گرمی تھی۔ چنانچہ اس نے اپنی ساری آپ بیتی اس کو سنا دی۔ وہ خاموش سنتا رہا جیسے اس پر اثر ہی نہیں ہوا۔ لیکن جب سکینہ اس کا شکریہ ادا کرنے لگی تو اس کی آنکھیں جو آنسوؤں سے بے نیاز معلوم ہوتی تھیں ایک دم نمناک ہوگئیں اور اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، ’’یہیں رہ جاؤ سکینہ۔۔۔ میں دق کا بیمار ہوں۔۔۔ مجھے کوئی کھانا۔۔۔ کوئی پھل اچھا نہیں لگتا۔ تم کھایا کرنا اور میں تمہیں دیکھا کروں گا۔۔۔‘‘ لیکن فوراً ہی وہ مسکرانے لگا، ’’کیا حماقت ہے۔۔۔کوئی اور سنتا تو کیا کہتا۔۔۔ یعنی دوسرا کھایا کرے اور میں دیکھا کروں گا۔۔۔ نہیں سکینہ۔۔۔ ویسے میری دلی خواہش ہے کہ تم یہیں رہو۔۔۔‘‘\n\nسکینہ کچھ سوچنے لگی، ’’جی نہیں۔۔۔ میرا مطلب ہے آپ اس گھر میں اکیلے ہیں اور میں۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔ بات یہ ہے کہ میں۔۔۔‘‘ یہ سن کر اس کو کچھ ایسا صدمہ پہنچا کہ وہ تھوڑی دیر کے لیےبالکل کھو سا گیا۔ جب بولا تو اس کی آواز کھوکھلی تھی، ’’میں دس برس تک اسکول میں لڑکیاں پڑھاتا رہا ہوں ہمیشہ میں نے ان کو اپنی بچیاں سمجھا۔۔۔ تم۔۔۔ تم ایک اور ہو جاؤ گی۔‘‘ سکینہ کے لیے کوئی اور جگہ ہی نہیں تھی چنانچہ وہ اس پروفیسر کے ہاں ٹھہر گئی۔\n\nوہ ایک برس اور چند مہینے زندہ رہا۔ اس دوران میں بجائے اس کے کہ سکینہ اس کی خبر گیری کرتی، الٹا وہ جو کہ بیمار تھا، اس کو آسائش و آرام پہنچانے میں کچھ اس بے کلی سے مصروف رہا جیسے ڈاک جانے والی ہے اور وہ جلدی جلدی ایک خط میں جو بات اس کے ذہن میں آتی ہے لکھتا جارہا ہے۔ اس کی اس توجہ نے سکینہ کو جسے توجہ کی ضرورت تھی۔ چند مہینوں میں نکھار دیا۔ اب پروفیسر اس سے کچھ دور رہنے لگا۔ مگر اس کی توجہ میں کوئی فرق نہ آیا۔ آخری دنوں میں اچانک اس کی حا لت خراب ہوگئی۔ ایک رات جب کہ سکینہ اس کے پاس ہی سو رہی تھی، وہ ہڑ بڑا کر اٹھا اور زور سے چلانے لگا، ’’سکینہ۔۔۔! سکینہ۔۔۔!!‘‘\n\nیہ چیخیں سن کر سکینہ گھبرا گئی۔ پروفیسر کی دھنسی ہوئی آنکھوںمیں وہ جو چلمن سی ہوا کرتی تھی، موجود نہیں تھی۔ اب ایک اتھاہ دکھ سکینہ کو ان میں نظر آیا۔۔۔ پروفیسر نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے سکینہ کے ہاتھ پکڑے اور کہا،’’میں مر رہا ہوں۔۔۔ لیکن اس موت کا مجھے دکھ نہیں۔۔۔ کیونکہ بہت سی موتیں میرے اندر واقع ہو چکی ہیں۔ تم سننا چاہتی ہو میری داستان۔۔۔ جاننا چاہتی ہو میں کیا ہوں۔۔۔ سنو۔۔۔ ایک جھوٹ ہوں۔۔۔ بہت بڑا جھوٹ۔۔۔ میری ساری زندگی اپنے آپ سے جھوٹ بولنے اور پھر اسے سچ بنانے میں گزری ہے۔۔۔ اف کتنا تکلیف دہ، غیر فطری اور غیر انسانی کام تھا۔۔۔ میں نے ایک خواہش کو مارا تھالیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس قتل کے بعد مجھے اور بہت سے خون کرنے پڑیں گے۔ میں سمجھتا تھا کہ ایک مسام بند کر دینے سے کیا ہو گا۔۔۔لیکن مجھے اس کی خبر نہیں تھی کہ پھر مجھے اپنے جسم کے سارے دروازے بند کرنے پڑیں گے۔\n\nسکینہ! یہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں فلسفیانہ بکواس ہے، سیدھی بات یہ ہے کہ میں اپنا کیریکٹر اونچا کرتا رہا اور خود انتہائی پستیوں کے دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ میں مر جاؤں گا اور یہ کیریکٹر۔۔۔ یہ بے رنگ پھریرا میری خاک پر اڑتا رہے گا۔۔۔ وہ تمام لڑکیاں جنہیں میں ا سکول میں پڑھایا کرتا تھا۔۔۔ کبھی مجھے یاد کریں گی تو کہیں گی ایک فرشتہ تھا جو انسانوں میں چلا آیا تھا۔ تم بھی میری نیکیوں کو نہیں بھولو گی۔۔۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب سے تم اس گھرمیں آئی ہو۔۔۔ ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا جب میں نے تمہاری جوانی کو دزدیدہ نگاہوں سے نہ دیکھا ہو۔۔۔ میں نے تصور میں کئی بار تمہارے ہونٹوں کو چوما ہے۔۔۔ کئی بار میں نے تمہاری بانہوں پر اپنا سر رکھا ہے۔۔۔ لیکن ہر بار مجھے ان تصویروں کو پرزے پرزے کرنا پڑا۔پھر ان پرزوں کو جلا کر میں نے راکھ بنائی کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہے۔ میں مر جاؤں گا۔۔۔ کاش مجھ میں اتنی ہمت ہوتی کہ اپنے اس اونچے کیریکٹر کو ایک لمبے بانس پر لنگور کی طرح بٹھا دیتا، اور ڈگڈگی بجا کر لوگوں کو اکٹھا کرتا کہ آؤ دیکھو اورعبرت حاصل کرو۔‘‘\n\nاس واقعہ کے بعد پروفیسر صرف پانچ روز زندہ رہا۔۔۔ سکینہ کا بیان ہے کہ مرنے سے پہلے وہ بہت خوش تھا۔۔۔ جب وہ آخری سانس لے رہا تھا تو اس نے سکینہ سے صرف اتنا کہا،’’سکینہ! میں لالچی نہیں۔۔۔ زندگی کے یہ آخری پانچ دن میرے لیے بہت ہیں۔۔۔ میں تمہارا شکر گزار ہوں۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86_%D8%AF%D9%86"} {"title": "پانچ دن کو جو یہاں پر آ گیا", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پانچ دن کو جو یہاں پر آ گیا\nمثل گل دو روز میں کمھلا گیا\n\nزندگی پھسلا کے لے آئی مجھے\nکون ظالم اس جگہ بہلا گیا\n\nکیوں چھٹا کر ایک عدم کے عیش کو\nدوسرا کوئی عدم دکھلا گیا\n\nہستئ موہوم پر جو غور کی\nدوستو بے طرح جی گھبرا گیا\n\nپیشتر مرنے سے مرنا خوب ہے\nجو کہ یہ سمجھاؤ وہی کچھ پا گیا\n\nآہ اس دل نے نہ مانی ایک بات\nناصحا سو طرح سے سمجھا گیا\n\n\"اہل دنیا کافران مطلق اند\"\nمثنویٔ روم یہ فرما گیا\n\nذق ذق و بق بق کو اب تو چھوڑ دے\nطفلگی برنا کا سب جھگڑا گیا\n\nشیب آیا اب تو افریدیؔ سمجھ\nکیا بھروسہ دم کا ہے آیا گیا\n\nکچھ کھلا لے کھا لے لے جانا نہیں\nجو گیا ہے یاں سے سو تنہا گیا\n\nکون ہے وہ فقیر و بادشاہ\nجو کف افسوس نہیں ملتا گیا\n\nحسرت و رنج و الم غم کے سوا\nکوئی یاں سے واں کے تئیں لے کیا گیا\n\nآفریدیؔ یاں سدا رہنا نہیں\nجو گیا ہے وہ یہی کہتا گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پانچ ہزار طنبورے اور ستار کا نذرانہ", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ابرو نے کیوں کھینچی کماں یہ زلف کیوں پیچیدہ ہےبھرتا ہوں تیری مانگ میں، یہ صندل سائیدہ ہےسنا جاتا ہے کہ دلی کے عیش پرست بادشاہ ہاتھی پر سوار لال قلعہ سے شہر میں گزر رہے تھے۔ حضور والا کی سواری کے چاروں طرف سوار اور پیادوں کا ہجوم تھا۔ سر راہ ایک کوٹھا تھا، جس کی چار دیواری نیچی اور بادشاہ کی سواری اونچی تھی۔ بادشاہ نے دیکھا کہ ایک کمسن عورت اپنے صحن میں ایک پلنگڑی پر بیٹھی کنگھی کر رہی ہے۔ سامنے آئینہ رکھا ہے۔ بار بار آئینہ میں اپنا منہ دیکھتی ہے اور اپنی مانگ سنوارتی ہے۔ عورت قمر دیدار اور گل رخسار تھی۔ دیکھتے ہی حضور والا کا دل اس پر آگیا۔ جب حضور والا سیر سے پلٹ کر لال قلعہ میں آئے تو وزیر کے کان میں چپکے سے فرمایا، میں نے اس طرح، اس محلہ، اس کوٹھے پر ایک پری زاد سرو آزاد دیکھا ہے، اسے کسی طرح بلواؤ۔وزیر نے کہا بہت خوب۔ یہ کہہ کر وزارت پناہ اس کام کے سرانجام کے لئے حضور والا سے رخصت ہوکر چلے آئے۔ اور خفیہ قاصد اس کی ٹوہ میں لگائے۔ معلوم ہوا کہ ارباب نشاط کے گھرانہ کی اٹھتی کونپل ہے۔ وزیر نے اس کے وارثوں کو بلا کر ان سے کہا، ’’تمہارے نصیب جاگ اٹھے۔ فلاں مسماۃ حضور والا کو پسند آ گئی ہے۔ میں پینس تمہارے ساتھ کئے دیتا ہوں۔ اسے فوراً اس میں بٹھا دو۔ اور بادشاہی حرم سرا میں پہنچا دو۔ ‘‘ وارث بولے، اللہ کی امان، پیروں کی پناہ۔ دم قدم کی خیر۔ ہماری تو جان باشاہ کے اوپر سے قربان ہے۔ وہ لونڈی کیا چیز ہے۔ ایک گھنٹہ کے اندر کبو محل سرا میں پہنچ گئیں۔ حضور والا نے جو کبّو کو پاس سے دیکھا تو سچ مچ اس کے جوبن پر لٹو ہو گئے۔ دل فریب محل اسے خطاب عطا فرمایا۔اب کیا تھا۔ دل فریب محل کی چڑھ بنی۔ اس نے سال بھر میں کئی ہزار اپنے عزیزوں کو بڑے بڑے عہدوں پر پہنچا دیا۔ تال سم کی جاننے والی قوم، مسند اور قالین سنبھال کر بیٹھ گئی۔ اور شریف عہدوں سے اترکر روٹیوں سے محتاج ہوگئے۔ وزیر صاحب کی کمان بھی اتر گئی، اور وہ سہم کر چلا اٹھے۔دلفریب محل کے چچا دکن گئے ہوئے تھے۔ جب انہیں خبر پہنچی کہ بھتیجی بادشاہ کے گھر میں ہے اور بادشاہ اس کے پھندے میں پھنس گئے ہیں، تو وہ اپنا سرود لے کر اور سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے تو دلی آکر دم لیا۔ بھتیجی سے ملے۔ بھتیجی بھی چچا کو دیکھ اس قدر شاد ہوئی کہ تالیاں پیٹنے لگی۔ جب علی بخش سرود یے کو یقین ہو گیا کہ بادشاہ بھتیجی کی مٹھی میں ہے۔ بھتیجی سے کہا میں ایسا ویسا قلیل عہدہ تو چاہتا نہیں۔ اگر تو بڑے سے بڑا عہدہ دلوا دے تو تیری ہی نام آوری ہے۔ اس نے کہا، ضرور۔جب رات کو حضور دل فریب کے پاس حرم سرا میں رونق افروز ہوئے تو دل فریب محل نے کہا کہ میرے چچا بڑے لائق فائق شخص ہیں، کوئی بڑا عہدہ انہیں دیجئے اور ان کی لیاقت کے جوہر دیکھئے۔ بادشاہ نے فرمایا کیوں نہیں۔ کل صبح میں وزیر سے پوچھوں گا اور جیسا منہ ویسی تھپیڑ۔ انہیں ان کے رتبہ کے موافق عہدہ ملے گا۔ دوسرے دن دربار میں حضور والا نے وزیر سے پوچھا، کوئی عہدہ خالی ہے۔ وزارت پناہ نے ہاتھ باندھ کر کہا، حضور! سرحدی افغانوں کی سرکوبی کے لئے ایک لشکر جانے کے لئے تیار ہے۔ اس کی سپہ سالاری کے لئے فدوی خود عرض کرنی چاہتا تھا کہ کسے نامزد کیا جائے۔حضور والا بس ہم نے دل فریب محل کے چچا کو یہ عہدہ دیا۔ انہیں سپہ سالار بناکر آج ہی معہ فوج کے سرحد پر روانہ کردو۔ سرود یہ صاحب خضاب لگا دربار میں حاضر ہوئے۔ آداب بجا لائے اور خلعت سپہ سالاری پہن، شمشیر مرصع حضور کے دست مبارک سے لے کر دربار سے نکلے اور یلغار کرتے ہوئے سرحد پر پہنچ گئے۔ بادشاہی فوج سے افغانوں کا مقابلہ ہوا۔ افغان اپنے چھرے اور بغدے لے کر بادشاہی فوج پر پل پڑے۔ میاں علی بخش نے دیکھا کہ ان کی سپاہ گاجر مولی کی طرح کٹ رہی ہے اور خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ اس عالم کو دیکھ کر یہ تو تانت کی طرح سوکھ گئے۔ آنکھوں کے سامنے بھیروں ناچنے لگا۔ کسی کے پاؤں کا لنگڑاپن اور کسی نے کسی کی کلائی توڑی دیکھ کر ٹوڑی کی سرگم بھول گئے۔ ڈر کے مارے خاں صاحب کا پیجامہ نجس ہو گیا اور گھگھیا کر کہنے لگے،تُن تنی بجاتے، میاں کھاتے شکّر گھیایسی نوکری کی ایسی تیسی اب کے بچے جیبادشاہی اقبال یاور تھا۔ افغان کٹا چھنی کر کے چل دیے۔ پالا انہیں کے ہاتھ رہا۔ ٹھاٹھ بدل کر دلی پہنچے۔ بھتیجی سے کہا، وزیر کمبخت نے میری جان ہی لی تھی۔ مولا مشکل کشا نے بچا لیا۔ مجھے تو کسی ملک کی صوبہ داری دلوادے تاکہ مسند پر بیٹھا سرگم الاپا کروں۔ دل فریب محل نے بادشاہ سے کہا۔ بادشاہ سلامت نے وزیر سے استفسار فرمایا کہ کوئی صوبہ داری خالی ہے؟ وزیر نے کہا ایک مہینہ سے لاہور کی صوبہ داری خالی ہے۔ نائب کام کر رہا ہے۔ حضور والا نے فرمایا، دل فریب محل کے چچا کو یہ خدمت دی جائے۔ وزیر نے کہا، بہت خوب۔دوسرے دن وزیر نے علی بخش سرودیہ کو ایوان وزارت میں بلاکر کہا، صوبہ داری لاہور کی آپ کو مبارک ہو۔ مگر یہ عہدہ منصبی کہلاتا ہے۔ جب یہ دیا جاتا ہے تو اس کا نذرانہ جہاں پناہ ظل اللہ کی سرکار میں داخل کیا جاتا ہے۔سرودیہ جو آپ ارشاد کریں وہ نذر میں پیش کروں؟وزارت پناہ کچھ نہیں! آپ پانچ ہزار طنبورے اور ستار سرکار میں پہنچا دیجئے۔ اور صوبہ داری کا فرمان حاصل کر کے لاہور کا رستہ لیجئے۔علی بخش حضور بہت خوب! کچھ مہلت؟وزیر نے کہا، ایک مہینہ کی مہلت ہے۔علی بخش دوڑے دوڑے اپنی بھتیجی کے پاس آئے۔ اور سارا حال کہا۔ بھتیجی نے کہا، یہ ایسی مشکل بات نہیں ہے۔ روپیہ جس قدر چاہئے مجھ سے لیجئے اور ساز مول لے کر داخل کردیجئے۔ علی بخش روپیہ لے کر بازار میں گئے اور ساز ڈھونڈنے لگے۔ بڑی تلاش اور جستجو سے کوئی دو سو ڈھائی سو ستار طنبورے ملے۔ بنانے والوں نے کہا، پانچ ہزار سازوں کا بنانا اور ان کی جواری کھولنی ہنسی کھیل نہیں ہے۔ اور وہ بھی بادشہ کی سرکا رکے لئے۔ کم از کم ایک سال میں ہم بنا پائیں گے۔ آپ پیشگی روپیہ دے دیجئے، تاکہ سامان بہم پہنچائیں۔ علی بخش نے جاکر دل فریب سے کہا، کاریگر یہ کہتے ہیں، در سال اگر مے کہ خورد زندہ کہ ماند۔دل فریب نے کہا، میں جانتی ہوں، یہ وزیر نے جو آڑ کواڑ کی لی ہے، یہ اس کی حرمزدگی ہے۔ تم ٹھہرو میں اسے دھنیے کی کھوپڑی میں پانی پلوا دوں گی۔ علی بخش خان اپنے گھر گئے اور دل فریب بانو انٹوا ٹی کھٹواٹی لے پڑ رہیں۔ بادشاہ آئے تو دیکھا، بیگم منہ اوندھائے چھپرکھٹ میں پڑی سبکیاں لے رہی ہیں۔ بادشاہ نے گھبراکر کہا، خیر ہے، مزاج کا کیا حال ہے؟ دل فریب نے کچھ جواب نہ دیا اور کروٹ لے لی۔ بادشاہ نے بِلک کر کہا، خدا کو مان کر کہو تو سہی کیا ماجرا ہے؟دل فریب محل وہ موامونڈی کا ٹا وزیر بے سُری الاپتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ یہ منصبی عہدہ ہے۔ خاں صاحب جب تک آپ پانچ ہزار طنبورے اور ستار سرکار شاہی میں نہ پہنچائیں گے، صوبہ داری پر لاہور نہیں جاسکتے۔ اچھی خدا کے لئے کیا قانون ہے۔بادشاہ بیگم تم اپنا دل میلا نہ کرو۔ میں ناشدنی وزیر کو بلا کر ابھی سزا دیتا ہوں۔ اور چچا ابا کو لاہور بھیجتا ہوں۔ بادشاہ غصہ سے کانپتے ہوئے باہر تشریف لائے۔ وزیر کو بلایا اور فرمایا، یہ تم نے بیچارہ علی بخش کے ساتھ کیا کھڑاک لگایا ہے اور یہ پانچ ہزار ستار اور طنبورے اس مرد آدمی سے کیوں طلب کئے گئے ہیں۔ سرکار شاہی میں ان کمبخت چیزوں کی کیا ضرورت پیش آئی۔وزیر جہاں پناہ! دل فریب محل کے سیکڑوں اور ہزاروں عزیز ان کی سفارش سے بادشاہ کے ہاں عہدے پارہے ہیں اور شریف لوگ نکالے جارہے ہیں۔ اس لئے فدوی نے اب یہی مناسب سمجھا ہے کہ جس شریف کو عہدہ سے برطرف کروں اور دل فریب محل کے بھائی بندوؤں کو وہاں رکھوں تو اس عہدہ دار کو سمجھا دوں کہ اب تمہاری اس سرکار میں سمائی نہیں ہے۔ از راہ ترحم بادشاہ کی طرف سے یہ طنبورہ یا ستار تمہیں دیا جاتا ہے۔ یہ ہاتھ میں لو۔ گاتے بجاتے روٹی کماتے پھرو اور اپنی زندگی پوری کرو۔بادشاہ سلامت اس کی کیا وجہ ہے کہ ان چیزوں کی فرمائش خصوصاً علی بخش سے کی گئی ہے۔وزیر جناب والا! علی بخش خاں اسی پیشہ کے آدمی ہیں۔ پڑھے نہ لکھے، ساری عمر ان کی سرود بجاتے گزری۔ اس لئے انہیں کے خاندانی پیشے کے لحاظ سے نذرانہ مانگا گیا ہے۔بادشاہ سلامت ہیں! کیا علی بخش ڈھاری ہے؟وزیر جی ہاں! حضور اقدس۔بادشاہ سلامت کیا اس کی بھتیجی بھی گائن ہے؟وزیر بیشک ایک چنے کی دو دالیں۔ بس اتنا ہی فرق ہے کہ وہ مرد ہے اور یہ عورت ہے۔حضور والا لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ ارباب نشاط نے جس دربار میں رسوخ پایا اور وہ دربار تار بے تار ہوا۔ یہ مثل سچ ہو گئی۔ منہ لگائی ڈومنی اور کنبہ لائی سات۔ بزرگوں نے سچ کہا ہے،مالشے بایست مارا تاکہ بر بط را ہمیگو شمالی شرط باشد تا در آید در نواابھی اس بلائے بد کو محل سے نکالو۔ اور اس کے سارے خاندان کو ہماری سرکار سے دور کرو۔ توبہ۔ توبہ! فقط", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B7%D9%86%D8%A8%D9%88%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B0%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب\nمُرغانِ سحَر تیری فضاؤں میں ہیں بیتاب\nاے وادیِ لولاب!\n\nگر صاحبِ ہنگامہ نہ ہو منبر و محراب\nدیں بندۂ مومن کے لیے موت ہے یا خواب\nاے وادیِ لولاب!\n\nہیں ساز پہ موقُوف نوا ہائے جگر سوز\nڈھِیلے ہوں اگر تار تو بے کار ہے مِضراب\nاے وادیِ لولاب!\n\nمُلّا کی نظر نُورِ فراست سے ہے خالی\nبے سوز ہے میخانۂ صُوفی کی مئے ناب\nاے وادیِ لولاب!\n\nبیدار ہوں دل جس کی فغانِ سَحری سے\nاس قوم میں مُدّت سے وہ درویش ہے نایاب\nاے وادیِ لولاب!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%86%D8%B4%D9%85%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DA%91%D9%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%A8"} {"title": "پانی سیانے دیتے ہیں کیا پھونک پھونک کر", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پانی سیانے دیتے ہیں کیا پھونک پھونک کر\nدل سوز غم نے خاک کیا پھونک پھونک کر\n\nچھڑکاؤ آب تیغ کا ہے کوئے یار میں\nپاؤں اس زمیں پہ رکھئے ذرا پھونک پھونک کر\n\nدیکھا نہ آنکھ بھر کے نظر کے خیال سے\nلیتے ہیں ہم تو نام ترا پھونک پھونک کر\n\nہوگا نہ صاف جھوٹی ہوا خواہیوں سے دل\nیوں دل کا کب غبار اڑا پھونک پھونک کر\n\nباد نفس سے داغ دل سرد جل اٹھے\nہم نے جلا دیا ہے دیا پھونک پھونک کر\n\nالٹا ہے کیا اس آہ شرربار کا اثر\nدل ہی بجھا دیا ہے مرا پھونک پھونک کر\n\nپیری میں آئے گی نہ کبھی طاقت شباب\nاے پیر لاکھ پارے کو کھا پھونک پھونک کر\n\nشیطاں کا دھوکا زاہد پر فن پہ کیوں نہ ہو\nپیتا ہے چھاچھ دودھ جلا پھونک پھونک کر\n\nآتش بیانئ لب کیفیؔ نے بزم میں\nدشمن کے دل کو خاک کیا پھونک پھونک کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%A9_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%A9_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی\nآنسو میں کوندتی ہوئی بجلی جھلک گئی\n\nکب تک یہ جھوٹی آس کہ اب آئے وہ اب آئے\nپلکیں جھکیں پپوٹے تنے آنکھ تھک گئی\n\nکھلنا کہیں چھپا بھی ہے چاہت کے پھول کا\nلی گھر میں سانس اور گلی تک مہک گئی\n\nآنسو رکے تھے آنکھ میں دھڑکن کا ہو برا\nایسی تکان دی کی پیالی چھلک گئی\n\nمیری سنک بھی بڑھتی ہے ان کی ہنسی کے ساتھ\nچٹکی کلی کہ پاؤں کی بیڑی کھڑک گئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%DA%AF_%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DA%91%DA%A9_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "پانی میں ہے آگ کا لگانا دشوار", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پانی میں ہے آگ کا لگانا دشوار\nبہتے دریا کو پھیر لانا دشوار\nدشوار سہی مگر نہ اتنا جتنا\nبگڑی ہوئی قوم کو بنانا دشوار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A2%DA%AF_%DA%A9%D8%A7_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D8%B4%D9%88%D8%A7%D8%B1"} {"title": "پانی پانی ہو گیا جوش ابر دریا بار کا", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پانی پانی ہو گیا جوش ابر دریا بار کا\nدیکھ کر طوفاں ہمارے دیدہ ہائے زار کا\n\nچشم ہمدردی مریض عشق ان آنکھوں سے نہ رکھ\nکام کیا نکلے بھلا بیمار سے بیمار کا\n\nدل سے ہمدم نے رہ الفت میں یہ دھوکا دیا\nکیا کرے اب کوئی دنیا میں بھروسا یار کا\n\nدل دیا جس کو اسی نے داغ مایوسی دیا\nراس ہی آیا نہ ہم کو ہائے کرنا پیار کا\n\nیا مٹایا اس کا لکھوایا میں خود ہی مٹ گیا\nاے مقدر اب تو یہ سر اور در ہے یار کا\n\nہم نے کیفیؔ خوب ہی آنکھیں لڑائیں اس سے کل\nکر دیا سارا ہرن نشہ نگاہ یار کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئے", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئے\nپلکوں پہ اشک بن کے ٹھہر جانا چاہئے\n\nصوت و سخن کے دائرے تحلیل ہو گئے\nقوس نظر سے دل میں اتر جانا چاہئے\n\nاحساس کی زباں کو لغت سے نکال کر\nمعنی کی سرحدوں سے گزر جانا چاہئے\n\nدنیا کی وسعتیں ہیں بہ اندازۂ نظر\nیہ دیکھنے کا کام ہے کر جانا چاہئے\n\nتنہا نظر پہ کیجیے کس دل سے اعتبار\nدل کو بھی تا بہ حد نظر جانا چاہئے\n\nغم ہائے زندگی سے نہ تھا عمر بھر فراغ\nاب کچھ تو زندگی کو سنور جانا چاہئے\n\nجاؤں کہاں کہ خود مری راہیں سفر میں ہیں\nراہیں سفر میں ہوں تو کدھر جانا چاہئے\n\nزنجیری مکاں ہے جہاں حسن لا مکاں\nاس انجمن میں بار دگر جانا چاہئے\n\nزمزم حریم کعبہ میں ہے مامتا کا دل\nہے شرط زیست ڈوب کے مر جانا چاہئے\n\nجاں ہو اگر متاع طلب سے عزیز تر\nپروانوں کو چراغ سے ڈر جانا چاہئے\n\nیارو سنا ہے آپ میں گم ہو گیا ظفرؔ\nاس خانماں خراب کے گھر جانا چاہئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%DA%AF_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "پاوے کس طرح کوئی کس کو ہے مقدور ہمیں", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پاوے کس طرح کوئی کس کو ہے مقدور ہمیں\nلے گیا عشق ترا کھینچ بہت دور ہمیں\n\nصبح کی رات تو رو رو کے اب آ اے بے مہر\nروز روشن کو دکھا مت شب دیجور ہمیں\n\nربط کو چاہیے یک نوع کی جنسیت یاں\nچشم بیمار اسے ہے دل رنجور ہمیں\n\nبات گر کیجے تو ہے بندہ نوازی ورنہ\nدیکھنا ہی ہے فقط آپ کا منظور ہمیں\n\nالفت اس شوخ کی چھوٹے ہے کوئی جیتے جی\nرکھو اس پند سے اے ناصحو معذور ہمیں\n\nپی ہے مے رات کو یا جاگے ہو تم کچھ تو ہے\nآنکھیں آتی ہیں نظر آج تو مخمور ہمیں\n\nیاں سے بیدارؔ گیا وہ مہ تاباں شاید\nنظر آتا ہے یہ گھر آج تو بے نور ہمیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D9%88%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پاک ہے لذت عشرت سے زبان واعظ", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پاک ہے لذت عشرت سے زبان واعظ\nجو بلا آئے الٰہی سو بہ جان واعظ\n\nہم نفس باغ جناں گھر ہے گنہ گاروں کا\nڈھونڈھ دوزخ میں کہیں جا کے مکان واعظ\n\nخدمت رند قدح نوش میں یہ بے ادبی\nجی میں ہے کاٹیے دانتوں سے زبان واعظ\n\nخود فراموش ہے کیا اور کو سمجھائے گا\nراست بازوں سے کجی پر ہے گمان واعظ\n\nکیوں نہ ہو تیر اشارات سے عالم مجروح\nقد خم گشتہ ہے گویا کہ کمان واعظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9_%DB%81%DB%92_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "پایا ترے کشتوں نے جو میدان بیاباں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پایا ترے کشتوں نے جو میدان بیاباں\nشان چمن خلد ہوئی شان بیاباں\n\nدیوانہ ترا مر کے ہوا زندۂ جاوید\nروح اس کی جو نکلی تو ہوئی جان بیاباں\n\nمجھ سا بھی جہاں میں کوئی سودائی نہ ہوگا\nسمجھا لحد قیس کو ایوان بیاباں\n\nویرانہ نشینی ہے ازل سے مری جاگیر\nقسمت نے دیا ہے مجھے فرمان بیاباں\n\nوحشت پہ مری آہوؤں کے بہتے ہیں آنسو\nحیرت پہ مری روتے ہیں حیوان بیاباں\n\nہے عالم ہو تربت مجنوں کا مجاور\nسناٹے کا عالم ہے نگہبان بیاباں\n\nجس روز مرے ہوش کے ہمراہ اڑیں گے\nدم توڑ کے مر جائیں گے مرغان بیاباں\n\nاک دن ہی یہ موقوف ہوا خاک کا اڑنا\nکیا کیا نہ کیا قیس نے سامان بیاباں\n\nپروا نہ تھی بستی کی نہ تھی یاد وطن کی\nاللہ رے مدہوشی و نسیان بیاباں\n\nرہتے ہیں مرے گرد پری زاد ہزاروں\nہوں عالم وحشت میں سلیمان بیاباں\n\nلیلیٰ پہ جو عالم ہے تو مجنوں بھی ہے خوش رو\nوہ حور بیاباں ہے وہ غلمان بیاباں\n\nاس طبقے کی منظور جو کی تم نے تباہی\nبربادی ہوئی دست و گریبان بیاباں\n\nافسوس ہے اس نجد کو مجنوں نے بسایا\nلیلیٰ جسے کہتی ہے بیابان بیاباں\n\nدل کھول کے جی چاہتا ہے خاک اڑاؤں\nپھرنے کو ملا ہے مجھے میدان بیاباں\n\nجس دن سے بنی ہے ترے دیوانے کی تربت\nہوتے ہیں پری زاد بھی قربان بیاباں\n\nشیروں کے ہلا ڈالے ہیں دل اس کے جنوں نے\nمجنوں ہے کہ ہے رستم دستان بیاباں\n\nجس وقت شرفؔ لیلیٰ و مجنوں نے قضا کی\nاک غل ہوا رخصت ہوے مہمان بیاباں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%B4%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D9%86_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA"} {"title": "پایا جو تجھے تو کھو گئے ہم", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پایا جو تجھے تو کھو گئے ہم\nبیدار ہوئے تو سو گئے ہم\n\nدل میں لئے غیر کو گئے ہم\nایک آئے عدم سے دو گئے ہم\n\nمحشر میں لگی بجھانے آئے شیخ\nسیدھے تسنیم کو گئے ہم\n\nسمجھے نہ وہ زخم و داغ دل ہے\nلے کر نئے پھول دو گئے ہم\n\nبھر کر دم نزع اک دم سرد\nجنت کی ہوا میں سو گئے ہم\n\nاب دشت نور و عشق جو ہو\nاس راہ میں کانٹے بو گئے ہم\n\nکوثر کا تھا ذکر حوض مے پر\nہم کہہ کے گرے کہ لو گئے ہم\n\nاللہ بچائے دخت رز سے\nیہ آئی کہ مست ہو گئے ہم\n\nاب کشمکش حساب کیسی\nکچھ حشر میں آ کے کھو گئے ہم\n\nسو کعبہ دین تھے جلوہ افروز\nخم خانہ میں آج جو گئے ہم\n\nمیخانے میں جب کبھی ہم آئے\nداڑھی رو کر بھگو گئے ہم\n\nاس حج میں وہ بت بھی ساتھ ہوگا\nیہ سچ ہے ریاضؔ تو گئے ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DA%BE%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "پایا مزا یہ ہم نے اپنی نگہ لڑی کا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پایا مزا یہ ہم نے اپنی نگہ لڑی کا\nجو دیکھنا پڑا ہے غصہ گھڑی گھڑی کا\n\nعقدہ تو نازنیں کے ابرو کا ہم نے کھولا\nاب کھولنا ہے اس کی خاطر کی گل جھڑی کا\n\nاس رشک مہ کے آگے کیا قدر ہے پری کی\nکب پہنچے حسن اس کو ایسی گری پڑی کا\n\nاس گل بدن نے ہنس کر اک لے کے شاخ نسریں\nہم سے کہا کہ کیجے کچھ وصف اس چھڑی کا\n\nجب ہم نظیرؔ بولے اے جاں یہ وہ چھڑی ہے\nدل ٹوٹتا ہے جس پر جوں پھول پنکھڑی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B2%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%86%DA%AF%DB%81_%D9%84%DA%91%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "prose", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے\n\nجانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے\n\nآگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں\n\nکب موجود خدا کو وہ مغرور خودآرا جانے ہے\n\nعاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہوگا دنیا میں\n\nجی کے زیاں کو عشق میں اس کے، اپنا وارا جانے ہے\n\nچارہ گری بیماریء دل کی رسمِ شہرِ حسن نہیں\n\nورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارا جانے ہے\n\nمہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیں\n\nاور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارا جانے ہے\n\nعاشق تو مردہ ہے ہمیشہ جی اٹھتا ہے دیکھے اسے\n\nیار کے آ جانے کو یکا یک عمر دوبارا جانے ہے\n\nتشنہء خوں ہے اپنا کتنا میر بھی ناداں تلخی کش\n\nدم دار آبِ تیغ کو اس کے آبِ گوارا جانے ہے", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%AA%D8%A7_%D9%BE%D8%AA%D8%A7_%D8%A8%D9%88%D9%B9%D8%A7_%D8%A8%D9%88%D9%B9%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "پتلی کی طرح نظر سے مستور ہے تو", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پتلی کی طرح نظر سے مستور ہے تو\nآنکھیں جسے ڈھونڈھتی ہیں وہ نور ہے تو\nقربت رگ جاں سے اور پھر اس پر یہ بعد\nاللہ اللہ کس قدر دور ہے تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%AA%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88"} {"title": "پتلی کی عوض ہوں بت‌ رعناۓ بنارس", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پتلی کی عوض ہوں بت‌ رعناۓ بنارس\nاللہ پھر ان آنکھوں کو دکھلائے بنارس\n\nروتا ہوں بنارس کے تصور میں شب و روز\nاے ہندؤو دیکھو یہ ہے دریاۓ بنارس\n\nمیری یہ وصیت سے کہ مر جاؤں اگر میں\nتو باد صبا خاک کو پہنچائے بنارس\n\nہے کعبہ مقصود فقط کوچۂ دل‌‌ دار\nکافر ہوں جو مجھ کو ہو تمناۓ بنارس\n\nناظم ہو محمد کا اگر لکھنؤ جاؤں\nاس ملک میں ہوں معدلت آراۓ بنارس\n\nکعبہ میں دعا مانگوں گا میں اپنے خدا سے\nیا رب بت کافر مجھے بلوائے بنارس\n\nبنگل کو روانہ ہوں رقیبان سیہ رو\nمیرے لیے ہو مسکن‌ و ماوائے بنارس\n\nمیں خوش ہوں تو آباد رہے ورنہ الٰہی\nپھر پیپے سے باروت کے اوڑھ جائے بنارس\n\nجب سے مجھے قسمت نے بنارس سے چھڑایا\nرہتا ہے زباں پر مرے بس ہائے بنارس\n\nاک گیسوؤں والے کی محبت کا پڑا پیچ\nپہلے تو نہ تھا مجھ کو یہ سوداۓ بنارس\n\nاے مہرؔ توارد ہوں جو مضموں تو بجا ہے\nمیں اور حزیںؔ دونوں ہیں شہدائے‌ بنارس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%AA%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D9%88%D8%B6_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%AA%E2%80%8C_%D8%B1%D8%B9%D9%86%D8%A7%DB%93_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%B1%D8%B3"} {"title": "پتھر سے نہ مارو مجھے دیوانہ سمجھ کر", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پتھر سے نہ مارو مجھے دیوانہ سمجھ کر\nآیا ہوں ادھر کوچۂ جانانہ سمجھ کر\n\nکہتے ہیں یہ رونے سے لگی دل کی بجھے گی\nسمجھاتے ہیں اپنا مجھے پروانہ سمجھ کر\n\nمیں وہ ہوں کہ سیری مجھے ہوتی نہیں مے سے\nدینا مرے ساقی مجھے پیمانہ سمجھ کر\n\nنخوت سے جو اک بات نہ سنتے تھے ہماری\nخود چھیڑ رہے ہیں ہمیں دیوانہ سمجھ کر\n\nہم ان کے ہیں دل ان کا ہے جاں ان کی ہے لیکن\nپھر منہ کو چھپاتے ہیں وہ بیگانہ سمجھ کر\n\nرکھا نہ کہیں کا ہمیں بربادئ دل نے\nارمان ٹھہرتے نہیں ویرانہ سمجھ کر\n\nدیکھ آپ سے باہر نہ ہو منصور کی صورت\nکرنا ہے تو کر نعرۂ مستانہ سمجھ کر\n\nہم اور ہی کچھ ڈھونڈتے پھرتے ہیں بتوں میں\nبت خانے میں جاتے نہیں بت خانہ سمجھ کر\n\nخوباں سے پٹے یا نہ پٹے وصل کا سودا\nدل پہلے ہی لے لیتے ہیں بیعانہ سمجھ کر\n\nساقی کی جو آنکھوں کو ہوئی بزم میں گردش\nہم لوٹ گئے گردش پیمانہ سمجھ کر\n\nکہہ جاتے حفیظؔ ان کو ہو تم جوش میں کیا کچھ\nوہ طرح دیے جاتے ہیں دیوانہ سمجھ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "پدمنی", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "عندلیبوں کو ملی آہ و بکا کی تعلیم\nاور پروانوں کو دی سوز وفا کی تعلیم\nجب ہر اک چیز کو قدرت نے عطا کی تعلیم\nآئی حصے میں ترے ذوق فنا کی تعلیم\nنرم و نازک تجھے اعضا دیئے جلنے کے لیے\nدل دیا آگ کے شعلوں پہ پگھلنے کے لیے\nرنگ تصویر کے پردے میں جو چمکا تیرا\nخود بہ خود لوٹ گیا جلوۂ رعنا تیرا\nڈھال کر کالبد نور میں پتلا تیرا\nید قدرت نے بنایا جو سراپا تیرا\nبھر دیا کوٹ کے سوز غم شوہر دل میں\nرکھ دیا چیر کے اک شعلۂ مضطر دل میں\nتو وہ تھی شمع کہ پروانہ بنایا تجھ کو\nتو وہ لیلیٰ تھی کہ دیوانہ بنایا تجھ کو\nرونق خلوت شاہانہ بنایا تجھ کو\nنازش ہمت مردانہ بنایا تجھ کو\nناز آیا ترے حصے میں ادا بھی آئی\nجاں فروشی بھی، محبت بھی، وفا بھی آئی\nآئی دنیا میں جو تو حسن میں یکتا بن کر\nچمن دہر میں پھولی گل رعنا بن کر\nرہی ماں باپ کی آنکھوں کا جو تارا بن کر\nدل شوہر میں رہی خال سویدا بن کر\nحسن خدمت سے شگفتہ دل شوہر رکھا\nکہ قدم جادۂ طاعت سے نہ باہر رکھا\nتیری فطرت میں مروت بھی تھی غم خواری بھی\nتیری صورت میں ادا بھی طرح داری بھی\nجلوۂ حسن میں شامل تھی نکو کاری بھی\nدرد آیا ترے حصے میں، تو خودداری بھی\nآگ پر بھی نہ تجھے آہ مچلتے دیکھا\nتپش حسن کو پہلو نہ بدلتے دیکھا\nتو وہ عصمت کی تھی او آئینہ سیما تصویر\nحسن سیرت سے تھی تیری متجلا تصویر\nلاکھ تصویروں سے تھی اک تری زیبا تصویر\nتجھ کو قدرت نے بنایا تھا سراپا تصویر\nنور ہی نور ترے جلوۂ مستور میں تھا\nانجم ناز کا جھرمٹ رخ پر نور میں تھا\nلب میں اعجاز حیا چشم فسوں ساز میں تھی\nکہ قیامت کی ادا تیرے ہر انداز میں تھی\nشکل پھرتی جو تری دیدۂ غماز میں تھی\nبرق بے تاب تری جلوہ گاہ ناز میں تھی\nیہ وہ بجلی تھی قیامت کی تڑپ تھی جس میں\nشعلۂ نار عقوبت کی تڑپ تھی جس میں\nیہ وہ بجلی تھی جو تیغ شرر افشاں ہو کر\nکوند اٹھی قلعہ چتورؔ میں جولاں ہو کر\nیہ وہ بجلی تھی جو سوز غم حرماں ہو کر\nخاک سی لوٹ گئی تیری پشیماں ہو کر\nیہ وہ بجلی تھی، تجھے جس کے اثر نے پھونکا\nرفتہ رفتہ تپش سوز جگر نے پھونکا\nآہ و عشوہ و انداز و ادا کی دیوی\nآہ او ہند کے ناموس وفا کی دیوی\nآہ او پرتو انوار صفا کی دیوی\nاو زیارت کدۂ شرم و حیا کی دیوی\nتیری تقدیس کا قائل ہے زمانہ اب تک\nتیری عفت کا زباں پر ہے فسانہ اب تک\nآفریں ہے تری جاں بازی و ہمت کے لیے\nآفریں ہے تری عفت تری عصمت کے لیے\nکیا مٹائے گا زمانہ تری شہرت کے لیے\nکہ چلی آتی ہے اک خلق زیارت کے لیے\nنقش اب تک تری عظمت کا ہے بیٹھا دل میں\nتو وہ دیوی ہے، ترا لگتا ہے میلہ دل میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%AF%D9%85%D9%86%DB%8C"} {"title": "پر شور الفت کی ندا ہے اب بھی", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پر شور الفت کی ندا ہے اب بھی\nجو تھی وہی آن اور ادا ہے اب بھی\nہوتی نہیں سنت الٰہی تبدیل\nجس شان میں ہے وہی خدا ہے اب بھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "پر ندے کی فریاد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا\nوہ باغ کی بہاریں، وہ سب کا چہچہانا\nآزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی\nاپنی خوشی سے آنا، اپنی خوشی سے جانا\nلگتی ہے چوٹ دل پر، آتا ہے یاد جس دم\nشبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مُسکرانا\nوہ پیاری پیاری صورت، وہ کامنی سی مورت\nآباد جس کے دم سے تھا میرا آشیانا\nآتی نہیں صدائیں اُس کی مرے قفس میں\nہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس میں!\n\nکیا بد نصیب ہوں مَیں گھر کو ترس رہا ہوں\nساتھی تو ہیں وطن میں، مَیں قید میں پڑا ہوں\nآئی بہار، کلیاں پھُولوں کی ہنس رہی ہیں\nمَیں اس اندھیرے گھر میں قسمت کو رو رہا ہوں\nاس قید کا الٰہی! دُکھڑا کسے سُناؤں\nڈر ہے یہیں قفسں میں مَیں غم سے مر نہ جاؤں\n\nجب سے چمن چھُٹا ہے، یہ حال ہو گیا ہے\nدل غم کو کھا رہا ہے، غم دل کو کھا رہا ہے\nگانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سُننے والے\nدُکھّے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے\nآزاد مجھ کو کر دے، او قید کرنے والے!\nمَیں بے زباں ہوں قیدی، تو چھوڑ کر دُعا لے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1_%D9%86%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "پر نور جس کے حسن سے مدفن تھا کون تھا", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پر نور جس کے حسن سے مدفن تھا کون تھا\nچہرہ یہ کس شہید کا روشن تھا کون تھا\n\nٹھہرا گیا ہے لا کے جو منزل میں عشق کی\nکیا جانے رہنما تھا کہ رہزن تھا کون تھا\n\nتوڑا تھا کس کے دل کو کھلونے کی طرح سے\nعاشق تمہارا جب کہ لڑکپن تھا کون تھا\n\nکس دل سے ہے خدائی میں ایجاد درد عشق\nروز ازل جو موجد شیون تھا کون تھا\n\nہو کا مقام تھا مجھے روتی تھی بے کسی\nکوئی نہ تھا جہاں مرا مدفن تھا کون تھا\n\nجھک جھک کے دیکھتا تھا وہ کس کی جگر کا گھاؤ\nتر جس کے خوں میں یار کا دامن تھا کون تھا\n\nہم مسکراتے تھے وہ دکھاتا تھا سیر باغ\nدم کس پہ شیفتہ دم مردن تھا کون تھا\n\nانسان تھا کہ کوئی پری زاد تھا شرفؔ\nدل میرا جس کے نور سے روشن تھا کون تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AF%D9%81%D9%86_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "پرا باندھے صف مژگاں کھڑی ہے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پرا باندھے صف مژگاں کھڑی ہے\nنگاہ شوق کیا ماری پڑی ہے\n\nمزے لوٹو کلیم اب بن پڑی ہے\nبڑی اونچی جگہ قسمت لڑی ہے\n\nگلوں کی خوش نما بدھی پڑی ہے\nترا قد کیا ہے پھولوں کی چھڑی ہے\n\nنگاہ شوق بھی نٹ کھٹ پڑی ہے\nکسی سے طور پر جا کر لڑی ہے\n\nکڑی ہے چوٹ یہ بے شک کڑی ہے\nعدو ہے اور پھولوں کی چھڑی ہے\n\nعدو کے واسطے دنیا کا ہے عیش\nمصیبت میرے حصے میں پڑی ہے\n\nہوا سے تیز آتے ہیں ترے تیر\nکماں کی طرح چٹکی بھی کڑی ہے\n\nمزے میں رنگ میں تیزی میں ساقی\nمئے تسنیم کیا پھیکی پڑی ہے\n\nکرامت ہے سر ناصح کی یہ بھی\nکہ اچھے ہاتھ کی اچھی پڑی ہے\n\nیہ کس نے پھول ڈالے ہیں لحد پر\nجدا ہر پنکھڑی سے پنکھڑی ہے\n\nلب جاناں نے دی تسکیں دم‌ نزع\nہماری جان میں جاں اب پڑی ہے\n\nکہاں بجلی میں یہ بیتابیاں تھیں\nدل مضطر کی پرچھائیں پڑی ہے\n\nنہ دشمن کے چبھا خار اس گلی میں\nہمارے واسطے سولی کھڑی ہے\n\nجو لو کروٹ تو میں سمجھوں شب ہجر\nیہ چوٹی کس لیے پیچھے پڑی ہے\n\nترے قد نے اسے سیدھا بنایا\nقیامت ہے کہ سکتے میں کھڑی ہے\n\nقضا کا بھی پڑا ہے مجھ کو رونا\nبرابر میرے وہ بسمل پڑی ہے\n\nیہ کیا اندھیر ہے صبح شب وصل\nنہ سرمہ ہے نہ مسی کی دھڑی ہے\n\nپٹک کر جام مے ہم کب رہے پاک\nکہ اڑ کر چھینٹ دامن پر پڑی ہے\n\nڈراتے ہیں کہ اس سے ڈرتے رہنا\nبڑی کلجبھی مسی کی دھڑی ہے\n\nہوا بھاری میں ایسا نخل گل پر\nمرے سائے سے ڈالی پھٹ پڑی ہے\n\nکفن کا گوشۂ دامن تو الٹو\nیہ حسرت منہ لپیٹے کیوں پڑی ہے\n\nنہ موسی ہیں نہ ہے برق سر طور\nنئے تم ہو نئی ہم پر پڑی ہے\n\nلگا دیتا کوئی مٹی ٹھکانے\nریاضؔ اک آرزو مردہ پڑی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%92_%D8%B5%D9%81_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "پرانی اور نئی تہذیب کی ٹکر", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "طنز و مزاح", "year": null, "text_ur": "انگریزی کی ایک مثل ہے کہ ’’مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب ہے۔ یہ دونوں نہ ملے ہیں اور نہ ملیں گے۔‘‘ جس طرح یہ صحیح ہے اسی طرح یہ مثل بھی صحیح ہونی چاہئے کہ ’’ماضی ماضی ہے اور حال حال۔ یہ دونوں نہ ملے ہیں اور نہ ملیں گے۔‘‘ لیکن خدا نخواستہ اگر ان کی ٹکر ہو گئی تو سمجھ لیجئے کہ بس وہی مصیبتیں پیش آئیں گی جو مجھ غریب کو پیش آئیں۔ وہ کیا مصیبتیں تھیں ان کی بھی سن لیجئے۔ واقعات از سر تا پا غلط سہی مگر پڑھنے کی حد تک ان کو سچ جانئے اور یقین کیجئے، ورنہ پڑھنے میں خاک مزا نہ آئے گا۔ اگر آپ اس پر تیار ہیں تو بسم اللہ آگے چلئے۔\n\nآؤحضرت تمہیں بھی دکھلا دیں\nسیر ماضی کی اس زمانے میں\n\nسنہ انیس سو کچھ میں ہم نے تعلیم سے فراغت پائی۔ اب نوکری کی تلاش ہوئی۔ ایک ریاست میں (نام کی جگہ صفر) ہمارے خاندانی تعلقات تھے۔ اس لئے کالج سے نکل کر سیدھا ادھر کا رخ کیا۔ یہاں پہنچے تو کسی نے کہا کہ نوکری کر لو، کسی نے کہا ابھی تعلیم جاری رکھو۔ چوں کہ کالج کا خیال دل سے ابھی تک محو نہیں ہوا تھا او ر وہاں کی صحبتیں پیش نظر تھیں، اس لئے طبیعت نے اسی تجویز کو پسند کیا اور ہم بھی اس دوسری پارٹی کے ساتھ ہو گئے۔ خدا کی قدرت دیکھو کہ صورت بھی خود بخود پیدا ہو گئی۔\n\nاس ریاست میں میرے ایک عزیز ایک بہت ہی بڑے عہدے پر تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا، ’’ارے میاں! میں ایک ترکیب بتاتا ہوں۔ یہاں کے ایک امیر اپنے چھوٹے صاحب زادے کو تعلیم کے لئے علی گڑھ بھیج رہے ہیں۔ میرا ان کے ہاں بہت اثر ہے۔ اگر کہو تو تم کو اس لڑکے کا اتالیق بنا کر بھیجنے کے لئے کہہ دوں۔ تمہاری تعلیم مفت میں ہوجائے گی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ نواب صاحب بڑے رسوخ کے آدمی ہیں۔ واپسی کے بعد تمہیں کوئی اچھی جگہ مل جائے گی۔‘‘ میں نے کہا، ’’آپ کو اختیار ہے۔‘‘\n\nدوسرے تیسرے ہی روز انہوں نے مجھے بلا کر کہا، ’’ لو سب معاملہ ٹھیک ٹھاک ہو گیا۔ میں نے نواب صاحب سے تمہارے متعلق سب تصفیہ کر لیا ہے مگر وہ چاہتے ہیں کہ چند روز تم کو اپنے پاس رکھ کر تمہاری طبیعت کا اندازہ کر لیں۔ تم کو کبھی پرانی وضع کے نوابوں میں رہنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ تم بھی اس عرصے میں ان کی نشست و برخاست کے طریقے اور ادب آداب کے سلیقے سیکھ جاؤ گے۔ چھوٹے صاحب زادے صاحب کی طبیعت کا رنگ بھی معلوم ہو جائے گا اور انشاء اللہ اس طرح تم کچھ فائدے میں ہی رہو گے۔‘‘ میں راضی ہو گیا۔ قرار پایا کہ سہ پہر کو ان کے مدد گار صاحب لے جا کر مجھے نواب صاحب کی خدمت میں پہنچا دیں اور تعارف بھی کرا دیں۔\n\nاب آپ نواب صاحب کے نام کی جگہ نقطے سمجھ لیجئے۔ اور مدد گار صاحب کے اسم شریف پر لکیر کھینچ دیجئے۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ سچی بات بری معلوم ہوتی ہے۔ کہیں نام بتا کر میں خود مصیبت میں نہ پھنس جاؤں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ،\n\nخوشتر آں باشد کہ سر دلبراں\nگفتہ آید در حدیث دیگراں!\n\nبہر حال دو بجے ہی سے ہم نہا دھو کپڑے بدل، سیاہ ٹرکش کوٹ ڈانٹ، دستار پہن اور بگلوس باندھ تیار ہو گئے۔ یہاں ننگے سر رہنے کی عادت تھی۔ دستار سر پر بار ہوگئی۔ اگر چہ شملہ بمقدار علم کے لحاظ سے اس دستار کا بوجھ کچھ زیادہ نہ تھا، پھر بھی رہ رہ کر یہی جی چاہتا تھا کہ اس کو الگ ہی رہنے دو۔ اتار کر رکھ دو اور ننگے سر ہی چلے چلو۔ مگر کیا کیا جاتا۔ وہ نواب صاحب پرانی وضع کے ایسے دلدادہ تھے کہ ننگے سر جانا یقیناً خالی ہاتھ آنے کی صورت اختیار کر لیتا۔ اس لیے’’قہر درویش بر جان درویش‘‘ سمجھ کر اس بار کو اٹھاناہی پڑا۔ ابھی دستار کا تصفیہ پوری طرح نہ ہوا تھا کہ بگلوس نے ستانا شروع کیا۔ پیٹی باندھتے عمر گزری تھی، مگر کوٹ کے نیچے پیٹی باندھتے تھے نہ کہ کوٹ کے اوپر۔ کوٹ کے اوپر باندھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ادھر ہاتھ ہلا اور ادھر کوٹ بگلوس کے اوپر گولا بن گیا۔ دامن پکڑ کر نیچے گھسیٹا، برابر کیا۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد وہی مشکل پیش آئی اور اسی ترکیب سے پھر رفع کی۔\n\nہم اس کش مکش میں تھے کہ مدد گار صاحب اپنی وکٹوریہ میں آہی گئے۔ اور ہم کوٹ کا دامن نیچے کھینچتے اور دستار کو درست کرتے گاڑی میں جا بیٹھے۔ چلتے چلتے آندھی آ گئی۔ آخر خدا خدا کر کے نواب صاحب کا مکان آیا۔ گاڑی سے اتر ا۔ آگے مدد گار صاحب اور پیچھے ہم نواب صاحب کی عالی شان اور پر تکلف کوٹھی میں داخل ہو گئے۔ تین بج چکے تھے مگر معلوم ہوا ابھی نواب صاحب آرام میں ہیں۔ اس لئے دونوں کے دونوں بلیر ڈ روم میں بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد رپورٹر ایجنسی کی طرح اطلاعات کا سلسلہ شروع ہوا۔ پہلے خبر آئی کہ نواب صاحب بیدار ہو ئے۔ پھر اطلاع آئی کہ آنکھیں ملتے مسہری سے اٹھے۔ پھر کہا گیا کہ ہاتھ دھو رہے ہیں۔ پھر معلوم ہوا کہ منہ دھو رہے ہیں۔ چوبدار پر چوبدار آتے اور بیان کرتے کہ اب یہ ہو رہا ہے۔ اب یہ ہو رہا ہے۔ یہاں تک کہ یہ پرچہ لگا کہ اب شیروانی کی آستین میں ہاتھ ڈالا ہے۔\n\nیہ خبر آنا تھی کہ کمرے کا رنگ ہی بدل گیا۔ یا تو ہم ٹٹروں ٹوں دو ہی آدمی بیٹھے تھے یاسارا کمرہ آدمیوں سے بھر گیا۔ کوئی ادھر سے آیا کوئی ادھر سے۔ کوئی اس کمرے سے نکلا کوئی اس کمرے سے۔ غرض اتنے بڑے کمرے میں تل رکھنے کی جگہ نہ رہی۔ مدد گار صاحب سے سب کی صاحب سلامت تھی۔ نواب صاحب ان کو بہت چاہتے تھے۔ پھر بھلا مصاحبین کا کیا حوصلہ تھا جو ان سے جھک کر نہ ملتے۔ البتہ مجھ کو دیکھ کر ذرا کھنچتے تھے۔ اکثروں نے اپنی ناکیں ذرا ذرا اوپر چڑھا کر چھوڑ دیں۔ بعضوں کی پیشانی پر بل بھی آیا مگر جب مدد گار صاحب نے میرا تعارف کرایا اور یہ بتایا کہ میں کس خاندان سے ہوں تو ذرا ٹھنڈک پڑی۔ ایک صاحب کہنے لگے، ’’سبحا ن ا للہ! اس خاندان کا کیا کہنا ہے۔ آفتاب ہے آفتاب۔ ارے بھئی میر صاحب تم نہیں جانتے ان کے دادا صاحب قبلہ مرحوم و مغفور کی لکھنو میں کیا قدر تھی۔ واللہ عجیب آدمی تھے۔ اور بھئی ذرا دیکھنا ان کی شکل مرزا صاحب مرحوم سے کتنی ملتی ہے۔ میں نے تو ان کو بڑھاپے میں دیکھا ہے۔ واللہ جوانی میں عین ایسے ہی ہوں گے۔‘‘\n\nمجھ کو یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوا کہ تقریباً سب کے سب مصاحبین لکھنؤ کے رہنے والے تھے۔ اور سب دادا مرحوم کو جانتے اور اچھی طرح جانتے تھے۔ بہر حال یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک چوبدار نے آکر اطلاع دی کہ سرکار بر آمد ہو نے والے ہیں۔ یہ سننا تھا کہ سب کے سب اپنی دستاریں سنبھالتے کپڑوں کو ٹھیک کرتے اور بگلوس باندھتے باہر نکل آئے۔ اب تھوڑا سا اس مکان کا نقشا بھی سن لیجئے۔\n\nکوٹھی کیا ہے کسی بڑے بادشاہ کا محل ہے۔ قیامت کی کرسی ہے۔ سامنے بہت بڑا میدان ہے۔ اس میں سے ایک چوڑی سڑک چکر کھاتی ہوئی سیڑھیوں تک آتی ہے۔ سیڑھیوں کے بعد صحن چبوترہ اور صحن چبوترے کے بعد پھر سیڑھیاں ہیں اور یہیں کئی منزلہ مردانہ مکان شروع ہوتا ہے۔ پہلی منزل پر پرانا دقیانوسی سامان بھرا ہوا ہے۔ ان کمروں کے سامنے جو بر آمدہ ہے اس میں چند ٹوٹی پھوٹی کرسیاں لاوارث حاجت مندوں کے لئے پڑی رہتی ہیں۔ ان کرسیوں سے مجھ کو بھی واسطہ پڑا ہے۔ اس کا ذکر آئندہ کروں گا۔ جو بڑی سڑک چکر کھا کر محل سرا کے دروازے کو گئی ہے، وہ بلیر ڈروم کے سامنے سے گزرتی ہے، اور یہاں اتنی چوڑی ہو گئی ہے کہ اچھا خاصا صحن نکل آیا ہے۔ بلیرڈ روم کے سامنے دوسری منزل سے نیچے آنے کا زینہ، اور اس کے بائیں طرف اوپر کے بڑے کمرے کے سامنے چھوٹا سا چھجہ ہے۔ چھجے کے اوپر نہایت خوب صورت نیچی سی منڈیر ہے۔ بس میرے مضمون کے لئے مکان کا اسی قدر نقشا بالکل کافی ہے۔\n\nخیر! تو ہم سب یہ سن کر کہ نواب صاحب بر آمد ہونے والے ہیں، کمرے سے باہر نکل آئے اور اس طرح لائن باندھ کر کھڑے ہوئے کہ یہ چھجہ ہمارے بالکل سامنے تھا۔ بلیرڈ روم ہمارے بائیں طرف اور زینہ ہمارے دائیں جانب۔ ہر شخص کی نظر اس چھجے پر لگی ہوئی تھی کہ ایک دفعہ ہی چوبدار نے آواز دی، ’’آداب بجا لاؤ۔‘‘ اس آواز کے سنتے ہی سب تو ایک دفعہ ہی رکوع میں گئے۔ مگر میں نے جھکنے سے پہلے ایک چلتی سی نظر نواب صاحب پر ڈال لی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ نواب صاحب چھجے پر کھڑے ہیں مگر بالکل اس طرح گویا فوٹو اتروا رہے ہیں۔ میں نے ولایت کی ایک مشہور تصویر دیکھی ہے جس میں ایک بارہ سنگھے کو پہاڑ کی چوٹی پر نہایت اکڑ کر کھڑے ہوئے دکھایا ہے اس کے نیچے لکھا ہے۔\n\nبس سمجھ لو کہ وہی رنگ تھا۔ نیچے صرف یہ لکھنا باقی تھا۔\n\n’’جدھر دیکھتا ہوں ادھر میں ہی میں ہوں۔‘‘\n\nیہ غلط انداز نظر ڈالنے کے بعد میں بھی تسلیم کو جھکا۔ ہماری اصطلاح میں ’’سلام کرنا‘‘ محض ماتھے کےسامنے ہاتھ لے جانے کو کہتے ہیں۔ میں سوچا کہ یہ بڑے آدمی ہیں۔ ذرا جھک کر اس فرض کو ادا کر دوں۔ جھکا، سلام کیا اور سیدھا کھڑ ا ہو گیا لیکن ادھر ادھر جو دیکھتا ہوں تو سب لوگ جھکے ہوئے زنا زن ہاتھ چلا رہے ہیں۔ ’’نقل راچہ عقل‘‘ میں نے بھی غپ رکوع میں جا، پٹا کے ہاتھ چلانا شروع کر دیے۔ مگر کن انکھیوں سے دوسروں کو دیکھتا رہا۔ جب دیکھا کہ اب سب سیدھے ہو گئے، تو میں نے سیدھے کھڑے ہو نیت کی طرح ہاتھ باندھ لئے۔\n\nمگر حضرات! آپ ہنستے کیوں ہیں، کیا عید، بقرعید کی نماز میں اپنی حالت بھول گئے؟ آپ ہر سال نماز پڑھتے ہوں گےمگر ہر مرتبہ تکبیر کے وقت خدا کے فضل سے ادھر ادھر دیکھنا ہی پڑتا ہوگا کہ دوسروں کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں یا بندھے ہوئے۔ دوسرے رکوع میں جا رہے ہیں یا ابھی اور کوئی تکبیر باقی ہے۔ میں نے تو پہلے ہی عرض کر دیا تھا کہ پرانی اور نئی تہذیب کی ٹکر ہمیشہ ایسی ہی الجھنیں پیدا کرتی ہیں۔ پھر آپ کا میرے حال پر مسکرانا یقیناً بے جا ہے۔\n\nجب اس تسلیمات کے جھگڑوں سے نجات پا کر میں نے اوپر نظر کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ نواب صاحب کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ سمجھ گیا کہ ہو نہ ہو یہ میری حرکت کا اثر ہے۔ جی میں تو آیا کہ لاحول ولاقوۃ تو کس مصیبت میں پڑا۔ چل گھر چل۔ پھر سوچا ذرا یہاں کا رنگ بھی دیکھ لو۔ نئی چیز ہمیشہ اچھی معلوم ہوتی ہے۔ اس لطف کا بھی مزا اٹھا لو۔ میں اسی دھیڑ بن میں تھاکہ نواب صاحب نے فرمایا، ’’او ہو یہ ہمارے چھوٹے میاں کے ماسٹر صاحب ہیں؟‘‘ چلو چھٹی ہوئی۔ خدا نے خود بخود تعارف کرا دیا۔ مدد گار صاحب نے کہا، ’’جی ہاں۔‘‘ نواب صاحب مسکراتے ہوئے نیچے اتر آئے۔ میری تعلیم کا حال پوچھا۔ میں نے بیا ن کیا۔ میرے خاندان سے بہت اچھی طرح واقف تھے۔ نام بنام ایک ایک کا ذکر کرتے اور تعریف کرتے۔ غرض ان ہی باتوں میں شام ہو گئی۔ جب سب رخصت ہونے لگے تو فرمایا، ’’ماسٹر صاحب آپ دونوں وقت آیا کیجئے۔ میں عموماً یہیں ہوتا ہوں۔ اگر یہاں نہ بھی ہوا تو جہاں ہوں گا چوبدار آپ کو پہنچا دیں گے۔‘‘\n\nدربار برخاست ہوا اور سب لوگ بگلوس کھولتے ہوئے بلیرڈ روم میں داخل ہوئے۔ ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے، ’’ماسٹر صاحب آپ نواب صاحب کو مخاطب کرنے میں ہمیشہ ’آپ، آپ‘ کہتے ہیں۔ یہ صحیح نہیں ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’آپ نہ کہوں تو کیاتم کہوں؟‘‘ اردو میں تو ’’آپ‘‘ ہی تعظیم کا لفظ ہے۔‘‘ کہنے لگے، ’’نہیں سرکار کہئے، خدا وند نعمت کہیئے۔‘‘ میں نے کہا، ’’میر صاحب! یہ موٹی موٹے لفظ تو مجھ سے ادا ہونے مشکل ہیں۔ ہاں کل سے’سرکار‘ کہنے کی کوشش کروں گا۔‘‘ مگر خدا معلوم زبان کو لفظ ’سرکار‘ سے کیا چڑھ تھی کہ کبھی یہ لفظ منھ سے نہ نکلنا تھا نہ نکلا اور ہمیشہ ’جناب عالی‘ اور ’جناب والا‘ ہی سے کام چلا کیا۔\n\nایک دوسرے صاحب فرمانے لگے، ’’ماسٹر صاحب! آپ کا دولت خانہ بہت دور ہے۔ صبح آ جایا کیجئے۔ دوپہر کا خاصہ یہیں تناول فرمائیے۔ شام کو تشریف لے جایا کیجئے۔ ایک کمرہ میں آپ کے اٹھنے بیٹھنے کا انتظام کئے دیتے ہیں۔‘‘ میں نے کہا، ’’حضرت یہ دوسروں کے مکان میں آپ انتظام کرنے والے کون؟ اگر نواب صاحب کو میرے ٹھہرانے کا خیال ہوتا تو وہ خود ہی فرما دیتے۔ خدا میری بائیسکل کو سلامت رکھے۔ میرے لئے دور اور نزدیک سب برابر ہیں۔‘‘ وہ بے چارے شرما کر خاموش ہو گئے۔ چلتے چلتے ہم نے دربار کے اوقات بھی پوچھ لئے۔ معلوم ہوا کہ صبح کے نو بجے سے گیارہ بارہ بجے تک اور شام کے تین ساڑھے تین بجے سے سات آٹھ بجے تک نواب صاحب بر آمد رہتے ہیں۔\n\nدوسرے روز ہم صبح ساڑھے آٹھ ہی بجے سے پہنچ گئے۔ ایک چوبدار سے پوچھا کہ ’’نواب صاحب کس طرف بر آمد ہوں گے؟‘‘ اس نے کہا، ’’میرے ساتھ آئیے۔‘‘ ہم ساتھ ہو گئے۔ اس نے لے جا، بر آمدے کی ان ہی ٹوٹی ہوئی کرسیوں پر بٹھا دیا جس کا میں نے کہیں اور ذکر کیا ہے۔ بیٹھے بیٹھے اکتا گیا۔ نواب صاحب نہ آج نکلتے ہیں نہ کل۔ جو چوبدار ادھر سے نکلتا اس سے پوچھتا کہ’’بھئی نواب صاحب آج بر آمد ہوں گے بھی یا نہیں؟‘‘ وہ یہی کہہ کر چلا جاتا کہ ’’آپ تشریف رکھیے، ابھی یاد ہوتی ہے۔‘‘\n\nجب ایک کرسی پر بیٹھے بیٹھے تھک جاتا تو اٹھ کر دوسری پر جا بیٹھتا۔ ایک تو ٹوٹی ہوئی کرسیاں، دوسرے ا س طرح جم کر بیٹھنے کی عادت نہیں، تیسرے تنہائی کی کوفت۔ غرض کیا کہوں کہ کیا حال ہوا۔ جیب سے گھڑی نکالتا، دیکھ لیتا۔ ادھر پاؤں بیٹھے بیٹھے سن ہو گئے۔ ادھر دستار کے بوجھ اور بگلوس کے دباؤ نے پریشان کر دیا ا ور ایک ایک منٹ کاٹنا مشکل ہو گیا۔ آخر خدا خدا کر کے دن کے بارہ بجے کی توپ چلی۔ اس وقت ایک چوبدار نے آ کر کہا، ’’اب آپ جائیے، سرکار محل میں تشریف لے گئے۔ شام کو آئیے گا تو ملاقات ہوگی۔‘‘ کیا بتاؤں کس قدر غصہ آیا لیکن جز بز ہو کر رہ گیا۔\n\nآخر اپنی جگہ سے اٹھا اور سائیکل سنبھال گھر آیا۔ شام کو جانے کا ارادہ نہ تھا مگر لوگوں کے کہنے سننے سے پھر پہنچا۔ ایک چوبدار نے لے جا پھر انہیں کرسیوں پر بٹھا دیا۔ خیال تھا کہ شاید اس مرتبہ مشکل آسان ہوگی۔ مگر وہاں کون کس کو پوچھتا تھا۔ بیٹھے بیٹھے شام کے چھ بج گئے۔ اس وقت میں نے دل میں کہا، ’’حضرت اگر یوں ہی ہاتھ پاؤں توڑے بیٹھے رہے تو تمام عمر بھی نواب صاحب کو اطلاع نہ ہوگی۔ چلو بغیر اطلاع ہی پہنچ جاؤ۔ راستہ تو معلوم ہے۔ ہو نہ ہو نواب صاحب اسی طرف ہوں گے جدھر کل تھے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ بلا اطلاع چلے آنے پر خفا ہو جائیں گے۔ خفا ہوتے ہیں تو ہو جائیں۔ تم روٹھے۔ ہم چھوٹے۔‘‘\n\nیہ سوچ کرسی سے اٹھا، کمرے میں سے ہو بلیرڈ روم میں آیا۔ یہاں نواب صاحب کی آواز صاف آ رہی تھی۔ اسی آواز کی سیدھ میں چلا۔ دیکھا تو کمرے کے باہر ہی نواب صاحب اور ان کے سب مصاحب کھڑے ہیں۔ میں بھی جا تسلیمات بجا لایا۔ اس مرتبہ اس پڑھے ہوئے سبق کو ذرا اچھی طرح دہرایا۔ پرانے مشاقوں کی طرح ہاتھ میں لوچ تو نہ تھا۔ بلا سے نہ ہو مگر ہاتھ کے جھٹکے سات کے بجائے ان گنت دے ڈالے۔ جب ا س کارروائی سے فارغ ہوا تو نواب صاحب مسکرا کر کہنے لگے’’اجی ماسٹر صاحب! آپ صبح کو کہاں غائب رہے؟ مجھ کو تو آپ کا بڑا انتظار رہا۔‘‘ میں نے کہا، ’’جناب عالی! میں تو صبح کو بھی آیا تھا۔ مگر کسی نے اطلاع ہی نہیں دی۔ آخر بارہ بجے چلا گیا۔ اب بھی وہی صورت پیش آتی۔ اگر میں بغیر اطلاع نہ چلا آتا۔‘‘\n\nیہ سن نواب صاحب کو بہت غصہ آیا۔ کہنے لگے، ’’آپ آئے تھے؟ اور مجھے اطلاع نہیں دی گئی۔ اس کے کیا معنی۔ میں نے تو کل ہی کہہ دیا تھا کہ میں جہاں بھی ہوں آپ کی اطلاع کر دی جائے‘‘ میں نے کہا، ’’دیکھئے وہ چوبدار صاحب جو پیچھے کھڑے ہیں۔ انہوں ہی نے مجھے وہاں ٹوٹی ہوئی کرسیوں پر لے جا کر بٹھایا تھا اور کہا تھا کہ ’’ابھی سرکار بر آمد نہیں ہوئے۔‘‘ کئی دفعہ یہ بعد میں ادھر سے گزرے بھی مگر ہمیشہ میرے پوچھنے پر یہی جواب دیا کہ ’’ابھی عرض کر دیتا ہوں۔‘‘ اور وہ جو ان کے برابر کھڑے ہیں۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو آٹھ دس مرتبہ ان سے کہا مگر انہوں نے صرف گردن کے جھٹکے ہی پر ٹالا۔‘‘ غرض میں نے ایک ایک کو لے ڈالا جتنے چوبدار تھے۔ سب نیلی پیلی آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ مگر میں نے جب تک سب کی خبر نہ لے لی چپکا نہ ہوا۔\n\nایک چوبدار نواب صاحب کے بہت منہ چڑھے ہوئے تھے وہ کچھ ہمت کر کے آگے بڑھے اور ہاتھ باندھ کر کہا، ’’سرکار!‘‘ میں نے ان کو آگے چلنے نہ دیا اور کہا، ’’کیا سرکار، سرکار لگائی ہے، کوئی بات میں نے غلط کہی ہے جس کی اب آپ صحت فرما رہے ہیں بس خاموش رہو۔ اس طرح باتوں میں دخل دینا تمہارا کام نہیں ہے۔‘‘ وہ پھر کچھ کہنا چاہتے تھے کہ میں نے’’خاموش‘‘ اس زور سے کہا کہ وہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔ بے چارے سمجھے ہوں گے کہ کہیں یہ حضرت زبان سے ہاتھ پر نہ اتر آئیں؟ پہلے تو نواب صاحب کی پیشانی پر کچھ بل آئے مگر پھر ہنسنے لگے۔ سمجھے ہوں گے کہ پرانی اور نئی تہذیب کی ٹکر ہے۔\n\nمگر اس روز سے چوبداروں کا یہ حال ہو گیا کہ میری شکل سے گھبراتے تھے۔ میں گیا اور وہ کہتے ہوئے دوڑے کہ ’’آئیے آئیے۔‘‘ نواب صاحب کہیں ہوں۔ مجھے فوراً وہاں پہنچا دیتے۔ نواب صاحب کے چہیتے چوبدار صاحب تو ایسے پریشان ہو گئے تھے کہ اگر میں جاتا اور نواب صاحب واقعی محل میں ہوتے تو مجھ سے کہتے کہ ’’ماسٹر صاحب! سرکار محل سے ابھی بر آمد نہیں ہوئے آپ جا کر خود کمرہ دیکھ لیجئے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ سمجھیں میں غلط عرض کر رہا ہوں۔‘‘\n\nعلم مجلس کا رنگ جیسا میں نے یہاں دیکھا نہ پہلے کبھی دیکھا تھا ا ور نہ دیکھنے کی آرزو ہے۔ اس نوابی دربار میں میری صاف گوئی بعض وقت عجیب رنگ لاتی تھی۔ ایک روز شام کے وقت دربار گرم تھا کہ دو سائیس صاف ستھری وردیاں پہنے، ریشمی باگ ڈوریں ہاتھوں میں لئے ایک خوبصورت گھوڑے کو ملاحظہ کے لئے لائے۔ یہ گھوڑا اسی دن آسٹریلیا سے آیا تھا اور نواب صاحب نے کوئی تین ہزار روپے کو خریدا تھا۔ گھوڑے کو نواب صاحب نے اپنے ہاتھ سے شکر کھلائی۔ کچھ پڑھ کراس کی پیشانی پر دم کیا ور کہا، ’’بھئی عجیب چیز ملی ہے۔‘‘ بس اتنا سننا تھا کہ مصاحبوں نے تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ گھوڑے کا مقابلہ براق اور رف رف تک سے کر ڈالا۔\n\nغرض دو گھنٹے تک یہی بے سر و پا گفتگو ہوتی رہی۔ شامت اعمال دیکھو کہ نواب صاحب کا ایک اور گھوڑا تھا، ا س کو یہ بہت ہی چاہتے تھے۔ جب تعریفوں کی کوئی انتہا نہ رہی اور نواب صاحب کو ڈر ہوا کہ کہیں میرا پیارا گھوڑا اس نئے گھوڑے سے نہ دب جائے۔ تو انہوں نے کہا، ’’یہ سب کچھ سہی مگر ہمارے گھوڑے (نام بتانا گویا سارے راز افشا کرنا ہے) سے اچھا تھوڑی ہو سکتا ہے؟‘‘ یہاں تو سب سرکار کے نوکر تھے بیگن کے نوکر تو تھے ہی نہیں۔ فوراً بدل گئے۔ ایک صاحب کہنے لگے، ’’خدا وند نعمت! بھلا گھوڑوں کے تذکرے میں اس کو کیسے لایا جا سکتا ہے۔ وہ گھوڑا تھوڑی ہے۔ وہ تو انسان ہے انسان!‘‘ ان کا اتنا کہنا تھا کہ یار لوگوں کو گفتگو کا سلسلہ مل گیا۔ اب کیا تھا، اس دوسرے گھوڑے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے، جب کہیں جا کر نواب صاحب کو تسکین ہوئی۔\n\nاس طرف سے ذرا فراغت پائی تو نواب صاحب نے میری طرف دیکھ کرارشاد فرمایا، ’’مرزا صاحب! آپ نے اس گھوڑے کے متعلق کچھ نہیں کہا‘‘۔ میں نے عرض کی، ’’جنا ب عالی! مجھے نہ اس بارے میں کوئی واقفیت ہے اور نہ تعریف کرنے کے لئے الفاظ۔ میں سرے سے گھوڑے پر چڑھنا ہی نہیں جانتا۔ سائیکل پر سوار ہوتا ہوں۔ اس کا ایک ایک پرزہ پہچانتا ہوں۔ ماشاء اللہ جب اتنے واقف کار لوگ تعریف کر رہے ہیں تو گھوڑا اچھا ہی ہوگا۔ اگر سچ پوچھئے تو میں اس تمام گفتگو میں یہ بھی نہیں سمجھا کہ گھوڑے کے کس جوڑ بند کی تعریف ہو رہی ہے۔‘‘ نواب صاحب یہ سن کر مسکرانے لگے۔ خیر ان ہی باتوں میں کوئی آٹھ بج گئے اور دربار برخاست ہوا۔\n\nاب دوسرے دن شام کا ذکر سنئے کہ نواب صاحب نے حکم دیا، ’’ہمارا نیا گھوڑا لاؤ۔‘‘ سائیس اسی طرح بنا سنوار کر گھوڑے کو لائے مگر بجائے چلنے کے وہ پھدکتا ہوا آیا۔ چار ٹانگ کے گھوڑے کی جگہ تین ٹانگ کا گھوڑا رہ گیا۔ یہ دیکھنا تھا کہ نواب صاحب آگ بگولا ہو گئے اور اس سرے سے اس سرے تک سارے سائیسوں اور کوچوانوں کو لے ڈالا۔ مصاحبو ں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔ ایک صاحب نے اس ٹانگ ٹوٹنے کو جادو کا اثر بتایا۔ دوسرے نے سائیس کی لا پر وائی کو سبب ٹھہرایا۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ مگر آخر کار بغلبہ آرا، یہ تصفیہ ہوا کہ دوسرے گھوڑوں کے سائیسوں نے جل کر اس کی ٹانگ توڑ ڈالی ہے۔ قرار پایا کہ تمام سائیس یک قلم موقوف۔ میں نے جوان غریبوں پر بلا وجہ آفت آتے دیکھی تو مجھ سے نہ رہا گیا۔ آگے بڑھ کر کہا، ’’جناب والا! کل تعریفوں کے جوش میں خیال نہیں فرمایا گیا کہ یہ گھوڑ ا لنگڑا ہے۔ اگر ذرا غور سے گھوڑے کو ملاحظہ فرمایا گیا ہوتا تو کل ہی معلوم ہو جاتا کہ یہ گھوڑا تین ٹانگ کا ہے۔ کل بھی چلنے میں یہ ایک پاؤں پر زور نہیں دیتا تھا۔‘‘\n\nمیرا یہ کہنا تھا کہ جتنے لوگ وہاں کھڑے تھے، سب نے برے برے دیدوں سے میری طرف دیکھا لیکن کچھ کہنے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی۔ جانتے تھے کہ جھاڑ کا کانٹا ہو کر کہیں لپٹ نہ جائے۔ نواب صاحب کو بھی ذرا برا معلوم ہوا کہنے لگے، ’’ماسٹر صاحب! اگر آپ کومعلوم ہوا تھا کہ گھوڑا لنگ کرتا ہے تو کل ہی کیوں نہ کہا۔‘‘ میں نے کہا، ’’جناب عالی! جب اتنے حضرات تعریف کر رہے ہوں تو بھلا میری کیا مجال ہے جو ان سب کے خلاف ایک حرف بھی زبان سے نکال سکوں۔ اگر یہ حضرات گھوڑے کی تعریف کے بجائے میری مذمت پر اتر آتے تو میں کہاں ان سے پیچھا چھڑاتا پھرتا۔ میں سمجھا کہ گھوڑے کا لنگڑا پن بھی کوئی تعریف ہے جو اس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔‘‘ نواب صاحب نے فرمایا، ’’ان سے نہیں تو چپکے سے مجھ ہی سے کہہ دیا ہوتا۔‘‘ میں نے کہا، ’’عالی جناب کو تعریفیں سننے ہی سے کب فرصت تھی جو مجھے کچھ عرض کرنے کا موقع ملتا۔‘‘ قصہ مختصر سارا الزام میرے سر منڈھ دیا گیا لیکن خدا کا شکر ہے کہ بے چارے سائیسوں پر آئی ہوئی بلا ٹل گئی۔\n\nجب مصاحبوں کو یہ یقین ہو گیا کہ ماسٹر صاحب کے پاؤں یہاں جم گئے تو انہوں نے بھی مجھ سے راہ و رسم بڑھانی شروع کی۔ بلاتے، پاس بٹھاتے، پان کھلاتے، ادھر ادھر کی غپیں اڑتیں، شعر و سخن کے چرچے رہتے۔ غرض کچھ دنوں اچھی گزری۔ میں اس زمانے میں تحت اللفظ خوب پڑھتا تھا۔ سب نے صلاح دی کہ نواب صاحب کی مجلسوں میں تم بھی دو ایک مرتبہ پڑھو۔ نواب صاحب سن کر بہت خوش ہوں گے۔ میں راضی ہو گیا۔ چند ہی روز بعد محرم آ گیا۔ نواب صاحب کو بھی شاید کسی نے اطلاع کر دی تھی۔ انہوں نے فرمایا،\n\n’’ماسٹر صاحب! آپ بھی مجلسوں میں شریک ہوا کیجئے۔‘‘ میں نے کہا، ’’بہت خوب۔‘‘\n\nدوسرے روز شام کے چھے بجے مجلس میں شریک ہوا۔ مجلس زنانہ مکان میں ہوئی۔ اندر پردہ ہو گیا۔ محل سرا کے وسط میں جو عمارت ہے اس کے دالانوں پر پردے ڈال کر دو حصے کر دیے۔ ایک حصہ میں مردانہ، دوسرے میں زنانہ۔ اندر کا حال تو معلوم نہیں۔ مگر مردانہ حصے کا کل فرش سیاہ تھا۔ چاندنیاں سیاہ، گاؤ تکیے سیاہ، قالین سیاہ، ممبر سیاہ، یہاں تک کہ تمام گھر والوں کا سارے کا سارا لباس دستار سے لگا کر جرابوں تک سیاہ۔ نواب صاحب ممبر کے سامنے قالین پر گاؤ تکیہ لگا کر اور تمام صاحب زادے ان کے کچھ ادھر کچھ ادھر بیٹھ گئے۔ چھوٹی صاحب زادی صاحبہ تھیں، وہ نواب صاحب کے پہلو میں آ بیٹھیں اور اشارہ کے ساتھ ہی مجلس شروع ہوئی۔\n\nپہلے سوز خوانی ہوئی۔ یہ نہ پوچھو کہ کس طرح ہوئی۔ کئی سوز خواں تھے۔ شاید ہی کسی کو چند منٹ پڑھنے کو دیے گئے ہوں، ورنہ جس کو اور جہاں کہیں نواب صاحب نے چاہا روک دیا۔ روکنے کے لئے صرف ہاتھ کا اشارہ کیا جاتا تھا کہ ’’بس۔‘‘ ایک صاحب چار مصرعے پڑھنے کے بعد ٹیپ اٹھانا چاہتے تھے کہ’’بس‘‘ کا اشارہ ہوا اور ان کی آواز کو پنچم سے مدھم پر آنا نصیب نہ ہوا۔ جب یہ جماعت ختم ہوئی تو تحت اللفظ پڑھنے والوں کی باری آئی۔ کسی نے خوش قسمتی سے چار پانچ بندپڑھ لئے تو کمال کر دیا۔ ورنہ دو ہی بندوں پر بند کر دیے گئے۔ اس سلسلے کے ختم ہونے کے بعد حلقے کا ماتم شروع ہوا۔ ماتم کے بعد ہی مجلس ختم ہوئی۔ باہر نکل کر سب نے اصرار کیا کہ ’’کل آپ بھی پڑھئے۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’حضرت مجلس کا رنگ دیکھ چکا ہوں بھلا ایسے پڑھنے میں کیا لطف، اور سننے میں کیا مزا۔ مجھے تو معاف ہی فرمائیے۔‘‘ مصاحبین میں ایک میرصاحب تھے۔ بڑے بامزہ آدمی تھے۔ کہنے لگے، ’’مرزا صاحب! آج جن لوگوں نے پڑھا وہ پڑھنا نہیں جانتے۔ کل میں دکھاؤں گا کہ کیوں کر پڑھتے ہیں۔ دیکھوں تو نواب صاحب بیچ میں کیسے روک دیتے ہیں۔‘‘ دوسرے دن جب میری صاحب کی باری آئی تو انہوں نے مرثیے کو بجائے ابتدا سے پڑھنے کے وسط سے شروع کیا اور پہلے ہی بند پر میدان میں اتر آئے۔ مرثیہ واقعی اچھا تھا۔ سب لوگ نہایت غور سے سن رہے تھے۔ میر صاحب نے تلوار تول کر اٹھائی۔ چاہتے تھے کہ ہاتھ ماریں کہ ’’بس‘‘ کا اشارہ ہوا اور میر صاحب تلوار علم کئے ہوئے ممبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ اس کے بعد سب نے مجھ پر زور دیا کہ پڑھو۔ میں نے صاف انکار کر دیا۔ نواب صاحب نے بھی ایک آدھ دفعہ اشارتاً فرمایا۔ مگر میں ٹال گیا اور اس طرح سنتے سنتے ہی یہ مجلسیں ختم ہو گئیں۔\n\nمحرم کی تیرہویں یا چودہویں تاریخ تھی۔ صبح آٹھ نو بجے کا وقت تھا۔ دربار جما ہوا تھا۔ معلوم نہیں کیوں ایک دفعہ ہی نواب صاحب کو کچھ خیال آ گیا۔ حکم دیا کہ ’’ہمارے جواہر خانے سے چھوٹا صندوقچہ لاؤ۔‘‘ چوبدار صندوقچہ لے آیا۔ اوپر کار چوبی کام سے لپا ہوا سبز مخمل کا غلاف، اندر ہاتھی دانت کا صندوقچہ، صندوقچہ پر گنگا جمنی جالی کا کام۔ ایسی خوب صورت چیز تھی کہ کیا کہوں؟ نواب صاحب نے صندوقچہ کھولا۔ پہلے ایک انگوٹھی نکالی۔ اس کو دیکھا بھالا اور رکھ دیا۔ اس کے بعد سونے کی ایک جڑاؤ گھڑی نکالی اور اس کو بھی الٹ پلٹ کر دیکھا اور رکھ دیا۔ پھر ایک چھوٹے چھوٹے سبز دانوں کی تسبیح نکالی۔ اچھی طرح دیکھی بھالی اور ہاتھ میری طرف بڑھا دیا۔\n\nمیں سمجھا کہ مجھے دکھانے کو دیتے ہیں۔ میں نے تسبیح لے کر خوب غور سے دیکھا مگر سمجھ میں نہ آیا کہ شیشہ ہے یا زمرد۔ دیکھنے کے بعد جس طرح لی تھی اسی طرح واپس کر دی اور کہا، ’’جناب والا! مجھے جواہر کی پرکھ نہیں، ممکن ہے زمرد ہو کسی جوہری کو دکھائیے۔ وہ مجھ سے بہتر بتا سکے گا۔‘‘ نواب صاحب نےمسکرا کر تسبیح صندوقچہ میں بند کی اور صندوقچہ واپس بھیج دیا۔ جب دربار برخاست ہوا تو لوگوں نے میرا مذاق اڑانا شروع کیا کہ ’’واہ ماسٹر صاحب! خوب سمجھے۔ اجی حضرت تسبیح آپ کو سر فراز ہوئی تھی۔ آپ نے غضب کیا کہ واپس کر دی۔ سلام کر کے لے لیتے۔ نذر گزرانتے۔ بھلا ایسے موقع کہیں روز روز ملتے ہیں؟ ہم کو دیکھنے کے لئے بھی کوئی چیز دی جاتی ہے تو ہم سلام کر کے اپنی کر لیتے ہیں۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’حضرت! یہ لوٹ مار آپ ہی کو مبارک ہو۔ اگر نواب صاحب کا ارادہ تسبیح دینے ہی کا تھا تو زبان کس نے بند کی تھی؟ بھلا میری عمر دیکھو اور تسبیح کی سرفرازی دیکھو۔ اس بے جوڑ عطا کا مطلب بغیر سمجھائے، سمجھنا میرے لئے دشوار ہی نہیں ناممکن تھا۔‘‘\n\nاس واقعے کے چند ہی روز بعد سے ہمارے علی گڑھ جانے کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ گھر میں کیا کیا انتظامات ہوئے اس کا علم تو اللہ کو ہے۔ ہاں باہر جو کچھ لاؤ لشکر جمع کیا گیا اس کا حال سن لیجئے۔ ایک روز شام کے چار بجے کے قریب چھوٹے صاحب زادے محل سرا سے باہر تشریف لائے۔ نواب صاحب نے فرمایا، ’’بادشاہ! لو اب تم جو چیزیں ساتھ لے جانا چاہتے ہو وہ چھانٹ لو۔ ماسٹر صاحب بھی موجود ہیں۔ یہ بھی اس انتخاب میں مدد دیں گے۔‘‘ سب سے پہلے گاڑی گھوڑوں کا انتخاب شروع ہوا۔ پڑھنے جا رہے تھے پھر بھی نواب کے بیٹے تھے۔ اللہ کے فضل سے چار گاڑیاں اور چھ گھوڑے پسند کئے۔ اس کے بعد ملازمین کے چھاٹنے کی باری آئی۔ چار خدمت گار، دو پاؤں دبانے والے، ایک کہانی کہنے والا، دو باورچی، آٹھ سائیس۔ اس طرح خدا جھوٹ نہ بلوائے تو کوئی بیس پچیس آدمی منتخب ہوئے۔\n\nجب نوبت یہاں تک پہنچی تو مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں نے کہا، ’’جناب والا! یہ صاحب زادے صاحب پڑھنے جا رہے ہیں یا کہانیاں سننے اور پاؤں دبوانے؟ گاڑیاں، گھوڑے استعمال کے لئے جا رہے ہیں یا پروسیشن نکالنے؟ بھلا اس لاؤ لشکر کے ساتھ تعلیم کیا خاک ہوگی۔‘‘ جن صاحب کا انتخاب اس بہیرو بنگاہ کی نگرانی کے لئے ہوا تھا، وہ بگڑ کر بولے، ’’ماسٹر صاحب! نواب صاحب کے صاحب زادے تعلیم کے لئے جا رہے ہیں۔ میرے یا آپ کے بچے نہیں جا رہے ہیں کہ ایک صندوق اٹھایا اور نکل کھڑے ہوئے۔‘‘ میں نے کہا، ’’اور ہاں جناب عالی! یہ بھی بتا دیا جائے کہ خیر میں تو صاحب زادے صاحب کا اتالیق بن کر جا رہا ہوں، کیا یہ حضرت میرے اتالیق ہو کر تشریف لے جا رہے ہیں؟‘‘ ان کے لئےتو میرا ایک ہی فقرہ کافی تھا۔ بے چارے خاموش ہو گئے۔ جب میں نے دیکھا کہ طوطی کی آواز نقارخانے میں کوئی نہیں سنتا تو میں بھی لاحول پڑھ کر خاموش ہو گیا۔\n\nاس واقعے کو دو تین روز گزر گئے۔ ایک دن رات کو جب آٹھ بجے کے قریب دربار برخاست ہونے لگا تو نواب صاحب نے میری طرف دیکھ کر فرمایا، ’’ماسٹر صاحب! آج رات کو ہم سب چھوٹے میاں کو پہنچانے کے لئے علی گڑھ جا رہے ہیں۔ آپ بھی دو بجے اسٹیشن پر آجائیے۔‘‘ میں نے عرض کی، ’’عالی جناب! میں نے ابھی تک چلنے کی کوئی تیاری کی ہے اور نہ میں ایسے فوری حکم کے لئے خود تیار تھا۔ آپ تشریف لے جائیے میں انشاء اللہ دو تین روز بعد پہنچ جاؤں گا۔‘‘ الغرض یہ تصفیہ ہوا کہ تیسرے روز میں یہاں سے روانہ ہوں۔ اور اس وقت تک نواب صاحب وہیں تشریف فرما رہیں۔\n\nدوسرے روز صبح ہی میں نے روانگی کی تیاریاں شروع کیں۔ شام کو مدد گار صاحب سے ملنے گیا۔ ان سے معلوم ہوا کہ نواب صاحب دو تین ہی اسٹیشن گئے تھے کہ نزلہ شروع ہو گیا اور وہ مع مصاحبین واپس تشریف لے آئے، مگر صاحب زادے صاحب اور ان کا لشکر آگے چلا گیا۔ مدد گار صاحب سے مل کر میں نواب صاحب کے ہاں گیا۔ دیکھا خاصے بھلے چنگے ہیں۔ ایک آدھ چھینک آ گئی تھی۔ ڈر ہوا کہ کہیں نمونیا نہ ہو جائے۔ اس لئے واپس تشریف لے آئے۔ دوسرے دن پھر گیا تو نواب صاحب نے ایک تار میرے ہاتھ میں دیا۔ صاحب زادے صاحب کا تار تھا۔ لکھا تھا کہ ’’کالج والوں نے تمام ملازمین اور گاڑی گھوڑوں کو بورڈنگ میں رکھنے سے انکار کر دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ اگر اس کالج میں رہنا ہے تو صرف ایک اتالیق اور ایک نوکر کے ساتھ رہو ورنہ کوئی دوسرا کالج تلاش کرو۔‘‘\n\nاس تار نے تمام مصاحبین میں ایک جوش پھیلا دیا کوئی کہتا تھا، ’’خدا وند نعمت! یہ تجارت پیشہ لوگ ہیں۔ بھلا یہ کیا جانیں کہ نوابوں کے لڑکے کس طرح رہتے ہیں؟ اور کس طرح تعلیم پاتے ہیں؟ یہ تو گدھے، گھوڑے دونوں کو ایک لاٹھی سے ہانکتے ہیں۔ خدا کےواسطے صاحب زادے صاحب کو بلوائیے۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں ان کے دشمن بیمار پڑ جائیں۔‘‘ میں نے کہا، ’’میر صاحب! نوابی ہی کرنی ہے تو پڑھانے سے فائدہ؟ نواب بن کر نہیں پڑھا جاتا۔ طالب علم بن کر پڑھا جاتا ہے۔ صاحب زادے صاحب کو اگر نواب صاحب بالکل میرے سپرد کر دیں تو میں دو ہی برس میں دکھا دوں گا کہ کیا سے کیا ہو گیا۔‘‘ یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ دوسرا تار آیا۔ لکھا تھا، ’’میں اکیلا نہیں رہ سکتا، واپسی کی اجازت دی جائے۔‘‘ میں نے بہتیرا سر مارا مگر میری ایک نہ چلی اور تار دے دیا گیا کہ ’’فوراً چلے آؤ۔‘‘ جب طالب علم ہی نہ رہا تو اتالیق کیسا؟ میں نواب صاحب کو اس روز جو آخری سلام کر کے آیا تو وہ دن اور آج کا دن پھر کبھی نہیں گیا۔ مدتیں گزر گئیں۔ بھول گئے ہوں گے مگر مجھے پرانی اور نئی تہذیب کی یہ ٹکر ہمیشہ یاد رہے گی۔\n\nتم ہمیں بھول گئے ہو صاحب\nہم تمہیں یاد کیا کرتے ہیں\n\nنوٹ، یہ مضمون بالکل فرضی ہے۔ کوئی صاحب اس کو اپنے سے متعلق نہ فرمائیں (مصنف)", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%DB%81%D8%B0%DB%8C%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D9%B9%DA%A9%D8%B1"} {"title": "پرتو حسن کہیں انجمن افروز تو ہو", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پرتو حسن کہیں انجمن افروز تو ہو\nدل پر داغ مرا مایۂ صد سوز تو ہو\n\nکم سے کم کوئی تو ساماں ترے آنے کا کروں\nاطلس چرخ تو ہو بستر گل دوز تو ہو\n\nرنگ پیراے چمن جوش میں کلیاں چٹکیں\nکھول دے بند نقاب آج کہ نو روز تو ہو\n\nدل میں پیوست نہ ہو جو وہ نظر ہی کیا ہے\nتیر ترکش میں اگر ہو تو جگر دوز تو ہو\n\nنہ سہی صحبت فردوس جہنم ہی سہی\nمحفل عیش نہ ہو انجمن سوز تو ہو\n\nکیا نتیجہ ہے عزیزؔ ایسی جبیں سائی سے\nبت کا سجدہ ہو مگر ناصیہ افروز تو ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AA%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D8%A7%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88"} {"title": "پرتو ساغر صہبا کیا تھا", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پرتو ساغر صہبا کیا تھا\nرات اک حشر سا برپا کیا تھا\n\nکیوں جوانی کی مجھے یاد آئی\nمیں نے اک خواب سا دیکھا کیا تھا\n\nحسن کی آنکھ بھی نمناک ہوئی\nعشق کو آپ نے سمجھا کیا تھا\n\nعشق نے آنکھ جھکا لی ورنہ\nحسن اور حسن کا پردا کیا تھا\n\nکیوں مجازؔ آپ نے ساغر توڑا\nآج یہ شہر میں چرچا کیا تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D8%B5%DB%81%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "پرتو نور بھی ہے جوہر تنویر بھی ہے", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پرتو نور بھی ہے جوہر تنویر بھی ہے\nآئنہ بھی ہے مرا دل تری تصویر بھی ہے\n\nزہر ہے سب کے لئے زہر محبت لیکن\nاگر آ جائے موافق تو پھر اکسیر بھی ہے\n\nمجرم عشق ہوں قاتل کا میں اے داور حشر\nصاف تو یہ ہے کہ اس میں مری تقصیر بھی ہے\n\nکس قدر صرفہ نگاہوں کا ہوا غیروں میں\nکہئے اب آپ کے ترکش میں کوئی تیر بھی ہے\n\nکیوں کیا کرتا ہے تو سمع خراشی ناطقؔ\nشعر کہتا ہے تو کچھ شعر میں تاثیر بھی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AA%D9%88_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%B1_%D8%AA%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "پرتو ہے تیرے رخ کا جو جام شراب میں", "poet_page": "مصنف:منشی ٹھاکر پرساد طالب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان طالب مانکپوری (1933)", "year": "1933", "text_ur": "پرتو ہے تیرے رخ کا جو جام شراب میں\nآتا ہے ماہتاب نظر آفتاب میں\n\nدیکھی شکن جو ان کی جبیں کی عتاب میں\nمسطر کے خط دکھائی دئے آفتاب میں\n\nٹپکا جو تیرے رخ سے پسینہ شراب میں\nمہتاب سے ستارے گرے آفتاب میں\n\nیاں آئی موت واں جو چھپا رخ نقاب میں\nپردہ رہا کہ آئی قضا بھی حجاب میں\n\nوصل خدا ہی دونوں کو اپنے حساب میں\nناکام میں وہی ہے جو ہے کامیاب میں\n\nقاصد کی جان پڑ گئی قہر و عذاب میں\nکیا جانے کیا لکھا تھا انہیں اضطراب میں\n\nگوہر صدف میں مہر مبیں ہے سحاب میں\nشیشہ میں ہے پری کہ طرح رخ نقاب میں\n\nہشیار باغ دہر میں کوئی نہیں رہا\nسبزہ بھی سو رہا ہے پڑا مست خواب میں\n\nیہ بدگمانیاں کہ ابھی کچھ کہا نہیں\nبیٹھے ہیں وہ گڑھے ہوئے فقرے جواب میں\n\nخیرات ہی پلا دے کوئی جام ساقیا\nدیر اس قدر نہ چاہئے کار ثواب میں\n\nدل میں لگی ہے آگ عنایت سے عشق کی\nاللہ یوں کسی کو نہ ڈالے عذاب میں\n\nپیتا ہوں میں جو ساقئ عیسی نفس بغیر\nپاتا ہوں صاف موت کی تلخی شراب میں\n\nمحشر میں ہوں گے ہم سبب بخشش جہاں\nہوگا تمام حشر ہمارے حساب میں\n\nخلوت میں مت بلائیے طالبؔ ہے بے قرار\nپیش آئے کچھ نہ اور کہیں اضطراب میں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پرخوں ہے جگر لالۂ سیراب کی سوگند", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پرخوں ہے جگر لالۂ سیراب کی سوگند\nرنگینیٔ داغ دل بیتاب کی سوگند\n\nتصویر ہے تجھ یاد سیں آئینۂ دل آج\nحیرت وشئ دیدۂ بے خواب کی سوگند\n\nہے کعبۂ مقصود مجھے وو خم ابرو\nاے شوخ مجھے مسجد و محراب کی سوگند\n\nسر سبز ہے آنسو سیں مرا گلشن امید\nہے مجھ کوں مرے دیدۂ پر آب کی سوگند\n\nاحوال سراجؔ آ کہ برہ آگ میں توں دیکھ\nبے طاقت و بے تاب ہے سیماب کی سوگند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D9%88%DA%AF%D9%86%D8%AF"} {"title": "پردہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "بہت رنگ بدلے سِپہرِ بریں نے\nخدایا یہ دُنیا جہاں تھی، وہیں ہے\nتفاوُت نہ دیکھا زن و شو میں مَیں نے\nوہ خَلوت نشیں ہے، یہ خَلوت نشیں ہے\nابھی تک ہے پردے میں اولادِ آدم\nکسی کی خودی آشکارا نہیں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81"} {"title": "پردہ الٹ کے اس نے جو چہرا دکھا دیا", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پردہ الٹ کے اس نے جو چہرا دکھا دیا\nرنگ رخ بہار گلستاں اڑا دیا\n\nوحشت میں قید دیر و حرم دل سے اٹھ گئی\nحقا کہ مجھ کو عشق نے رستا بتا دیا\n\nپھر جھانک تاک آنکھوں نے میری شروع کی\nپھر غم کا میرے نالوں نے لگا لگا دیا\n\nانگڑائی دونوں ہاتھ اٹھا کر جو اس نے لی\nپر لگ گئے پروں نے پری کو اڑا دیا\n\nسیکھی ہے اس جوان نے پیر فلک کی چال\nہر پھر کے مجھ کو خاک میں آخر ملا دیا\n\nوہ سیر کو جو آئے تو صدقہ میں ان کو برقؔ\nہر ایک گل نے طائر نکہت اڑا دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%86%DB%81%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پردہ اور عصمت", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جو ظاہر نہ ہو وہ لطافت نہیں ہے\nجو پنہاں رہے وہ صداقت نہیں ہے\n\nیہ فطرت نہیں ہے مشیت نہیں ہے\nکوئی اور شے ہے یہ عصمت نہیں ہے\n\nصبا اور گلستاں سے دامن کشیدہ\nنوائے فسوں خیز اور ناشنیدہ\n\nتجلیٔ رخسار اور نا دمیدہ\nکوئی اور شے ہے یہ عصمت نہیں ہے\n\nسر رہ گزر چھپ چھپا کر گزرنا\nخود اپنے ہی جذبات کا خون کرنا\n\nحجابوں میں جینا حجابوں میں مرنا\nکوئی اور شے ہے یہ عصمت نہیں ہے\n\nخیالات پیہم میں ہر وقت گم سم\nدل نرم و نازک پہ ابر توہم\n\nبجھا سا تبسم گھٹا سا تکلم\nکوئی اور شے ہے یہ عصمت نہیں ہے\n\nوہ اک کاہش تلخ ہر آن دل میں\nوہ شام و سحر ایک خلجان دل میں\n\nامنڈتا ہوا ایک طوفان دل میں\nکوئی اور شے ہے یہ عصمت نہیں ہے\n\nنگاہوں کی دعوت کو پامال کرنا\nمذاق لطافت کو پامال کرنا\n\nتقاضائے فطرت کو پامال کرنا\nکوئی اور شے ہے یہ عصمت نہیں ہے\n\nقسم انجم شب کے ذوق سفر کی\nقسم تازگیٔ نسیم سحر کی\n\nقسم آسمانوں کے شمس و قمر کی\nکوئی اور شے ہے یہ عصمت نہیں ہے\n\nقسم شوخیٔ عشق سنجوگتا کی\nقسم جون کے عزم صبر آزما کی\n\nقسم طاہرہ کی قسم خالدہ کی\nکوئی اور شے ہے یہ عصمت نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B9%D8%B5%D9%85%D8%AA"} {"title": "پردہ اٹھا کر رخ کو عیاں اس شُوخ نے جس ہنگام کیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پردہ اٹھا کر رخ کو عیاں اس شُوخ نے جس ہنگام کیا\nہم تُو رہے مشغول ادھر یاں عشق نے دِل کا کام کیا\n\nآ گئے جب صیاد کہ بس میں سوچ کئے پھر حاصل کیا\nاب تُو اسی کی ٹھہری مرضی جن نے اسیر دام کیا\n\nچشم نے چھینا پلکوں نے چھیدا زلف نے باندھا دِل کو آہ\nابرو نے ایسی تیغ جڑی جُو قصہ ہی سب اتمام کیا\n\nسخت خجل ہیں اُور شرمندہ رہ رہ کر پچتاتے ہیں\nخواب میں اس سے رات لڑے ہم کیا ہی خیال خام کیا\n\nچھوڑ دیا جب ہم نے صنم کہ کوچے میں آنے جانے کو\nپھر تُو ادھر اس شُوخ نے ہم سے شکوہ بھرا پیغام کیا\n\nاُور ادھر سے چاہت بھی یُوں ہنس کر بولی واہ جی واہ\nاٹھئے چلئے یار سے ملیے اب تُو بہت آرام کیا\n\nیار کی مے گوں چشم نے اپنی ایک نگہ سے ہم کو نظیرؔ\nمست کیا اوباش بنایا رند کیا بدنام کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%8F%D9%88%D8%AE_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DB%81%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پردہ اٹھا کے مہر کو رخ کی جھلک دکھا کہ یوں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پردہ اٹھا کے مہر کو رخ کی جھلک دکھا کہ یوں\nباغ میں جا کے سرو کو قد کی لچک دکھا کہ یوں\n\nآتش گل چمن کے بیچ جب ہمہ سو ہو شعلہ زن\nاپنے لباس سرخ کی اس کو بھڑک دکھا کہ یوں\n\nجو کوئی پوچھے جان من شوخی و جلوہ کس طرح\nلمعۂ برق کی طرح ایک جھمک دکھا کہ یوں\n\nشیشے کے بیچ دخت رز کرتی ہے شوخ چشمیاں\nتو بھی ٹک اپنی چشم کی اس کو بھڑک دکھا کہ یوں\n\nنظریں ملاوے گر کوئی تجھ سے کبھی تو جان من\nاس کے تئیں تو دور سے آنکھیں تنک دکھا کہ یوں\n\nکبک و تدرو گر کریں آگے ترے خرام ناز\nاپنے خرام ناز کی ان کو لٹک دکھا کہ یوں\n\nراتوں کو تجھ سے جاگنا گر کوئی پوچھے مصحفیؔ\nچشم ستارہ باز ہیں اس کو فلک دکھا کہ یوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%DA%BE%D9%84%DA%A9_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%D9%88%DA%BA"} {"title": "پردہ دار ہستی تھی ذات کے سمندر میں", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پردہ دار ہستی تھی ذات کے سمندر میں\nحسن خوب کھل کھیلا اس صفت کے منظر میں\n\nحسن عشق میں ہے یا عشق حسن میں مضمر\nجوہر آئنے میں یا آئینہ ہے جوہر میں\n\nعشق محشر آرا کی طور پر گری بجلی\nحسن لن ترانی کہ رہ سکا نہ چادر میں\n\nدیکھ اے تماشائی گل ہے رنگ و بو بالکل\nامتیاز نا ممکن ہے عرض سے جوہر میں\n\nگل میں اور بلبل میں کون جانے کیا گزری\nچشم پوش مستی تھی اس برہنہ منظر میں\n\nاپچی بناتے ہیں حسن کو سخن گو کیوں\nکاٹ ان اداؤں کا کب ہے تیغ و خنجر میں\n\nفرط سوز الفت میں دیکھ کر سکوں دل کا\nبجلیاں مچلتی ہیں بادلوں کے محشر میں\n\nچارہ گر کو حیرت ہے ارتقائے وحشت سے\nپاؤں میں جو چکر تھا آ رہا ہے وہ سر میں\n\nحسرت آرمان کی ہو کہنا سے گنجائش\nہے وہی مرے دل میں ہے وہی مرے سر میں\n\nہوں وہ رند یا صوفی مست اس کی دھن میں ہیں\nجانے کتنے مے خانے بھر دیے ہیں کوثر میں\n\nچرخ کیا اتر آیا آج فرش گیتی پر\nرند بھی ہیں چکر میں مے کدہ بھی چکر میں\n\nمے وہ ہوش پر افگن اور نظر وہ صہبا پاش\nمست کیوں نہ ہو کیفیؔ ایک دو ہی ساغر میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%B0%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%85%D9%86%D8%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پردہ رہا کہ جلوۂ وحدت نما ہوا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پردہ رہا کہ جلوۂ وحدت نما ہوا\nغش نے خبر نہ دی مجھے کب سامنا ہوا\n\nدشمن کی دوستی کا نتیجہ برا ہوا\nخنجر گلے ملا تو مرا سر جدا ہوا\n\nمحشر میں رنگ چہرۂ ظالم ہوا ہوا\nسچ ہے برا ہوا کہ مرا سامنا ہوا\n\nگلشن سے اٹھ کے میرا مکاں دل میں آ گیا\nاک داغ بن گیا ہے نشیمن جلا ہوا\n\nکیا تیرگی لئے ہوئے آئی شعاع نور\nدیکھا شب فراق ازل کا لکھا ہوا\n\nگھر دل میں کر چکا ہے مرا نوحۂ قفس\nصیاد قید ہوگا اگر میں رہا ہوا\n\nجب تک تھا میں عروج پہ تھا حسن جاں ستاں\nپھر کچھ خبر نہیں کہ مرے بعد کیا ہوا\n\nکہنے کو مشت پر کی اسیری تو تھی مگر\nخاموش ہو گیا ہے چمن بولتا ہوا\n\nتو جس میں تھا وہ منزل ہستی میں ہے ضرور\nمیری فنا سے دل مرا کیوں کر فنا ہوا\n\nنیند ان کی یوں اڑی ہے کہ آتی نہیں کبھی\nمرنے کے بعد اب مرا نالہ رسا ہوا\n\nصیاد کا گھر آج ہے جیسے چمن تھا کل\nشاید قفس کا بیٹھنے والا رہا ہوا\n\nتصویر میری عمر گزشتہ کی دیکھ جاؤ\nتربت پہ اک چراغ ہی وہ بھی بجھا ہوا\n\nاپنے بھی مجھ سے خوش نہ رہے باغ دہر میں\nبگڑا کیا مجھی سے نشیمن بنا ہوا\n\nچمکا ہے کچھ وہ جلوۂ رخ ہو کہ داغ عشق\nدونوں دلوں میں ایک نہ اک مبتلا ہوا\n\nڈھونڈے نہ مل سکے مجھے ظلمت میں ماہ و سال\nروئے سحر بھی چشمۂ آب بقا ہوا\n\nاک عمر ہو گئی کہ ہے بارش میں چشم تر\nاب تک نہ کوئی نخل تمنا ہرا ہوا\n\nثاقبؔ خبر نہ تھی کہ فلک میں ہیں گردشیں\nمیں آ کے دانۂ دہن آسیا ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA_%D9%86%D9%85%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "پردہ میں سمت غرب کے مہتاب بھی گیا", "poet_page": "مصنف:نبی بخش نایاب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نایاب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "پردہ میں سمت غرب کے مہتاب بھی گیا\nآیا نہ یار پاس مرا خواب بھی گیا\n\nتوبہ تو کی مگر نہ ہوئی دل کی کم ہوس\nلو ہاتھ سے وہ جام مئے ناب بھی گیا\n\nوہ سخت جاں ہوں میں کہ نہ آئی قضا مجھے\nمعدے میں بارہا مرے زہراب بھی گیا\n\nمسجد میں سر جھکایا جو میں نے پئے نماز\nسجدے کے ساتھ ہی خم محراب بھی گیا\n\nسایہ فگن جو سر پہ مرے ابتدا سے تھا\nہے ہے وہ آج گلبن شاداب بھی گیا\n\nیاد آئی ناخدا کو مری نا شناوری\nسر پر سے جب گزر مرے سیلاب بھی گیا\n\nآ یار ساتھ ساتھ شب پردہ پوش کے\nاب تو فروغ مہر جہاں تاب بھی گیا\n\nجادو خیال یار ہے اے ہم نشیں نہ پوچھ\nپاس لحاظ داریٔ احباب بھی گیا\n\nدنیا سے کیسے کیسے جفا کیش اٹھ گئے\nہم شادؔ ہی کو روتے تھے نایابؔ بھی گیا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D8%BA%D8%B1%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پردہ نہ اٹھاؤ بے حجابی نہ کرو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پردہ نہ اٹھاؤ بے حجابی نہ کرو\nہووے گی قیامت اک شتابی نہ کرو\nعالم عالم بسے ہے خلق عالم\nبرباد نہ دو ابھی خرابی نہ کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A4_%D8%A8%DB%92_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "پردہ چہرے سے اُٹھا، انجمن آرائی کر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "پردہ چہرے سے اُٹھا، انجمن آرائی کر\nچشمِ مہر و مہ و انجم کو تماشائی کر\n\nتُو جو بجلی ہے تو یہ چشمک پنہاں کب تک\nبے حجابانہ مرے دل سے شناسائی کر\n\nنفَسِ گرم کی تاثیر ہے اعجازِ حیات\nتیرے سینے میں اگر ہے تو مسیحائی کر\n\nکب تلک طُور پہ دریُوزہ گری مثلِ کلیم\nاپنی ہستی سے عیاں شعلۂ سینائی کر\n\nہو تری خاک کے ہر ذرّے سے تعمیرِ حرم\nدل کو بیگانۂ اندازِ کلیسائی کر\n\nاس گُلستاں میں نہیں حد سے گزرنا اچھّا\nناز بھی کر تو بہ اندازۂ رعنائی کر\n\nپہلے خوددار تو مانندِ سکندر ہو لے\nپھر جہاں میں ہَوسِ شوکتِ دارائی کر\n\nمِل ہی جائے گی کبھی منزلِ لیلیٰ اقبالؔ!\nکوئی دن اور ابھی بادیہ پیمائی کر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%8F%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%8C_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "پردہ کس امر کا ہے اب اس بد نصیب سے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پردہ کس امر کا ہے اب اس بد نصیب سے\nکہئے تو بات رات کی کہہ دوں رقیب سے\n\nدیکھے جو دل کے داغ تو بولے رقیب سے\nملتے ہیں ایسے چاند کے ٹکڑے نصیب سے\n\nچہلیں ہیں مجھ غریب سے چھیڑیں رقیب سے\nپڑتا ہے کام دیکھیے کس خوش نصیب سے\n\nاس مرتبہ جنوں میں یہی مشغلہ رہا\nدے دے کے پھول داغ لیے عندلیب سے\n\nتم ہو کلیم دیکھنے والوں میں دور کے\nلوٹے ہیں ہم نے یار کے جلوے قریب سے\n\nاچھے ہیں اک جہان سے اس کے مریض عشق\nان کو دوا سے کام نہ مطلب طبیب سے\n\nکم بخت کی زبان سے نکلی ہے کوئی بات\nکلیاں ہیں منہ پھلائے ہوئے عندلیب سے\n\nواعظ تری بہشت کا ہم جانتے ہیں حال\nدلچسپیاں بڑھا نہ بیان عجیب سے\n\nجو بد مزاج دے نہ تسلی مریض کو\nاچھا ہے اشتداد مرض اس طبیب سے\n\nکانٹوں کے بدلے پھول چنے کس نے اے جنوں\nسن آئے ہیں چمن میں وہ کچھ عندلیب سے\n\nکافر ترے سوا جو کسی کی ہو آرزو\nہم دور ہوں خدا سے خدا کے حبیب سے\n\nاس ضعف میں یہ حال ہے ملتی نہیں اسے\nچلتی ہے چال نبض ہماری طبیب سے\n\nاللہ رے خلوص کہ منزل ابھی ہے دور\nغربت کی شام آ کے ملی مجھ غریب سے\n\nدیتی ہے یہ ضرور جو خود بیٹھتی ہے وہ\nجھکتی ہے شاخ گل بھی ذرا عندلیب سے\n\nپوشیدہ دل میں ہے کسی پردہ نشیں کا عشق\nدرد نہاں کا حال کہوں کیا طبیب سے\n\nتجھ میں پڑی ہے جان ہماری پڑی بھی رہ\nاے آرزو نہ جا دل حسرت نصیب سے\n\nلائی کچھ ان کے واسطے کچھ اپنے واسطے\nگلبن سے پھول داغ لیے عندلیب سے\n\nسر بھی سبوئے سر بھی بچا آج بال بال\nزاہد نے بڑھ کے کام لیا تھا جریب سے\n\nدن دوپہر نہ آج ہو اندھیر تو سہی\nگزریں ذرا وہ حشر میں میرے قریب سے\n\nبل گیسوؤں سے بڑھ کے جبیں پر پڑے ہوئے\nکوئی یہ جانے آئے ہیں لڑ کر رقیب سے\n\nدنیا کی کوئی بات نہیں جانتے ریاضؔ\nاک شخص ہیں ریاضؔ بہت ہی غریب سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%D8%A7%D9%85%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AF_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%DB%92"} {"title": "پردۂ درد میں آرام بٹا کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پردۂ درد میں آرام بٹا کرتے ہیں\nاس کی درگاہ میں انعام بٹا کرتے ہیں\n\nباب ساقی پہ الٰہی مرا سورج ڈوبے\nشام ہوتے ہی جہاں جام بٹا کرتے ہیں\n\nاس کے در پر مجھے اے گردش قسمت لے چل\nسب نکموں کو جہاں کام بٹا کرتے ہیں\n\nپیاس میں دیدۂ درویش نے تعلیم یہ دی\nمیکدے جاؤ جہاں جام بٹا کرتے ہیں\n\nدل مضطر کو تسلی وہی دے گا مضطرؔ\nجس کی درگاہ میں آرام بٹا کرتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%82_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D9%B9%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پردۂ ساز میں بھی سوز کا حامل ہونا", "poet_page": "مصنف:محمد صادق ضیا", "kind": "poetry", "section": "غزل > صبح مشرق (1938)", "year": "1938", "text_ur": "پردۂ ساز میں بھی سوز کا حامل ہونا\nشمع سے سیکھ شریک غم محفل ہونا\n\nبزم ہستی پہ ہے مشکل مرا مائل ہونا\nمجھے آتا نہیں سرگشتہ باطل ہونا\n\nناخدا تو مجھے آلودۂ طوفاں نہ سمجھ\nموج دریا کو سکھاتا ہوں میں ساحل ہونا\n\nسازگار آج مجھے راہ بھی ہے رہبر بھی\nمیری قسمت میں ہے آسودۂ منزل ہونا\n\nرشتۂ ہوش ہے وابستہ تجھی سے اے دوست\nکبھی ممکن نہیں تجھ سے مرا غافل ہونا\n\nدل سے ہشیار کہ ہے دل ہی طرح عین حیات\nموت سے بھی ہے سوا بے خبر دل ہونا\n\nسعی کے بعد نہ کر کاوش فکر انجام\nلعنت سعی ہے زحمت کش حاصل ہونا\n\nبارش ابر سے بجلی کی لگی بجھ نہ سکی\nغیر ممکن ہے علاج تپش دل نہ ہونا\n\nہر قدم پر رہ ہستی میں نئی ٹھوکر ہے\nاے ضیاؔ سہل نہیں فائز منزل ہونا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%82_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%85%D9%84_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "پردۂ شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھو گئے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پردۂ شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھو گئے\nدل کا کنول بجھا تو شہر تیرہ و تار ہو گئے\n\nایک ہمیں ہی اے سحر نیند نہ آئی رات بھر\nزانوئے شب پہ رکھ کے سر سارے چراغ سو گئے\n\nراہ میں تھے ببول بھی رود شرر بھی دھول بھی\nجانا ہمیں ضرور تھا گل کے طواف کو گئے\n\nدیدہ ورو بتائیں کیا تم کو یقیں نہ آئے گا\nچہرے تھے جن کے چاند سے سینے میں داغ بو گئے\n\nداغ شکست دوستو دیکھو کسے نصیب ہو\nبیٹھے ہوئے ہیں تیز رو سست خرام تو گئے\n\nاہل جنوں کے دل شکیبؔ نرم تھے موم کی طرح\nتیشۂ یاس جب چلا تودۂ سنگ ہو گئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%82_%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D9%B9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%DB%81%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DA%BE%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "پردۂ چشم سے لہو نکلا", "poet_page": "مصنف:منشی ٹھاکر پرساد طالب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان طالب مانکپوری (1933)", "year": "1933", "text_ur": "پردۂ چشم سے لہو نکلا\nقطرہ بادل سے سرخ رو نکلا\n\nسخت باتوں سے اس کا دل ٹوٹا\nسنگ دل شوخ تند خو نکلا\n\nہے بجا مار آستیں کہنا\nرہ کے پہلو میں دل عدو نکلا\n\nآنکھ کا عشق میں قصور نہیں\nدل سراسر مرا عدو نکلا\n\nایک گل ہی پہ کچھ نہیں موقوف\nوہ ہزاروں سے خوبرو نکلا\n\nمے کے پینے میں رات بھر زاہد\nنہ تو ہم نکلے اور نہ تو نکلا\n\nآئنہ کل ہوا تھا خانہ نشیں\nآج کیوں تیرے روبرو نکلا\n\nجائے کیوں کر کہیں دل وحشی\nبستۂ زلف مو بہ مو نکلا\n\nشوق ابرو میں تیرے بدر منیر\nماہ نو بن کے قبلہ رو نکلا\n\nمے پئیں برشکال آئی ہے\nسبزہ دنیا میں چار سو نکلا\n\nتجھ سے شرما کے شام مہر چھپا\nصبح نکلا تو رد رو نکلا\n\nچشم وحدت پرست وا جو ہوئی\nمیں نے دیکھا تو مجھ میں تو نکلا\n\nمحتسب تو بھی صورت زاہد\nدشمن ساغر و سبو نکلا\n\nدوست سمجھے تھے ہم جسے طالبؔ\nدشمن جان و آبرو نکلا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%82_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%84%DB%81%D9%88_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہے\nبڑھ کے مقدر آزما سر بھی ہے سنگ در بھی ہے\n\nجل گئی شاخ آشیاں مٹ گیا تیرا گلستاں\nبلبل خانماں خراب اب کہیں تیرا گھر بھی ہے\n\nاب نہ وہ شام شام ہے اپنی نہ وہ سحر سحر\nہونے کو یوں تو روز ہی شام بھی ہے سحر بھی ہے\n\nچاہے جسے بنائیے اپنا نشانۂ نظر\nزد پہ تمہارے تیر کے دل بھی ہے اور جگر بھی ہے\n\nدن کو اسی سے روشنی شب کو اسی سے چاندنی\nسچ تو یہ ہے کہ روئے یار شمس بھی ہے قمر بھی ہے\n\nزلف بہ دوش بے نقاب گھر سے نکل کھڑے ہوئے\nاب تو سمجھ گئے حضور نالوں میں کچھ اثر بھی ہے\n\nبیدمؔ خستہ کا مزار آپ تو چل کے دیکھیے\nشمع بنا ہے داغ دل بیکسی نوحہ گر بھی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلے\nصاف اب حلق پہ خنجر چلے تلوار چلے\n\nدورئ منزل مقصد کوئی ہم سے پوچھے\nبیٹھے سو بار ہم اس راہ میں سو بار چلے\n\nکون پامال ہوا اس کی بلا دیکھتی ہے\nدیکھتا اپنی ہی جو شوخیٔ رفتار چلے\n\nبے پیے چلتا ہے یوں جھوم کے وہ مست شباب\nجس طرح پی کے کوئی رند قدح خوار چلے\n\nچشم و ابرو کی یہ سازش جگر و دل کو نوید\nایک کا تیر چلے ایک کی تلوار چلے\n\nکچھ اس انداز سے صیاد نے آزاد کیا\nجو چلے چھٹ کے قفس سے وہ گرفتار چلے\n\nجس کو رہنا ہو رہے قیدئ زنداں ہو کر\nہم تو اے ہم نفسو پھاند کے دیوار چلے\n\nپھر مبارکؔ وہی گھنگھور گھٹائیں آئیں\nجانب مے کدہ پھر رند قدح خوار چلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%86%D9%84%DB%92"} {"title": "پردے پردے میں یہ کر لیتی ہیں راہیں کیوں کر", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پردے پردے میں یہ کر لیتی ہیں راہیں کیوں کر\nپار ہو جاتی ہیں سینے کی نگاہیں کیوں کر\n\nدل میں آنے کی نکل آتی ہیں راہیں کیوں کر\nاوپر اٹھ جاتی ہیں وہ نیچی نگاہیں کیوں کر\n\nکر لیا کرتے تھے دل کھول کے آہیں کیوں کر\nاب یہ رونا ہے کراہیں تو کراہیں کیوں کر\n\nگدگدانے نہیں آتی ہیں سر بام تمہیں\nعرش پر کھیلتی ہیں جا کے یہ آہیں کیوں کر\n\nنکلیں گھونگھٹ میں یہ مژگاں کے جو نکلیں بھی کبھی\nشوخ ہو جاتی ہیں شرمیلی نگاہیں کیوں کر\n\nتو بھی جانے کہ ملا چاہنے والا تجھ کو\nتو بتا دے ترے صدقے تجھے چاہیں کیوں کر\n\nکیا خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے\nکہ دم سرد بنا کرتی ہے آہیں کیوں کر\n\nطور والو سے لب بام ہیں آنے والے\nدیکھیں لڑتی ہیں نگاہوں سے نگاہیں کیوں کر\n\nشوق ادھر شرم ادھر بات نئی رات نئی\nدیکھیں ملتی ہیں نگاہوں سے نگاہیں کیوں کر\n\nیہ امنگیں یہ ترنگیں یہ جوانی یہ شباب\nتوبہ کر کے یہ بتاؤ کہ نباہیں کیوں کر\n\nشرم کے پتلے کو آ جاتی ہے کیوں کر شوخی\nبجلیاں بنتی ہیں شرمیلی نگاہیں کیوں کر\n\nہم ریاضؔ اوروں سے خوددار سوا ہیں لیکن\nرہ کے معشوقوں میں ہم وضع نباہیں کیوں کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "پردے کے پیچھے", "poet_page": "مصنف:رشید جہاں", "kind": "prose", "section": "ڈرامہ", "year": null, "text_ur": "ایک کمرہ ہے جس میں سفید فرش بچھا ہے اور کمرے کے بیچ میں ایک سوزنی بچھی ہے۔ اس پر گاؤ تکیہ سے لگی ایک بیوی بیٹھی ہیں جو رنجیدہ اور تھکی ہوئی معلوم ہوتی ہیں ان کے قریب ایک چھوٹی سی صراحی،کٹورے سے ڈھکی ہوئی، تانبے کی طشتری میں رکھی ہوئی ہے۔ ان کے مقابل ایک دوسری بیوی بیٹھی ہیں جو چالیس کے قریب عمر کی ہیں اور چھالیہ کسنے میں کاٹ رہی ہیں۔ ایک طرف ان کی پٹاری رکھی ہے اور دوسری طرف اگالدان، کمرے میں دروازے سامنے ہیں اور باقی جگہوں میں طاق اور الماریاں ہیں جس میں برتن اور سرپوش چنے ہیں، وسط میں چھت پر سے پنکھا ٹنگا ہوا ہے، جس پر گلابی جھالر لگی ہے۔ کمرے کے ایک کونے میں پلنگ، اس پر پلنگ پوش پڑا ہوا ہے، دوسری طرف ایک اور سوزنی بچھی ہے گاؤ تکیہ لگا ہے اور اگالدان رکھا ہے۔\n\nمحمدی بیگم: اے ہے آپا ہمارا کیا ہے، اتنی گذر گئی، جو باقی ہے وہ بھی خدا کسی نہ کسی طرح گزار دے گا۔ میرا دل تو اب دنیا سے ایسا اکتا گیا ہے، اگر ان چھوٹے بچوں کا خیال نہ ہوتا تو خدا کی قسم میں تو زہر کھا لیتی۔\n\nآفتاب بیگم: دیوانی ہوئی ہو بوا۔ اچھی ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے جو زہر کھانے لگیں، اب تو تمہارے بہار دیکھنے کے دن آئے ہیں۔ بچے ماشاء اللہ اب بڑے ہو رہے ہیں، اب چلی ہیں زہر کھانے، مجھے دیکھو۔\n\nمحمدی: تمہیں کیا دیکھوں کوئی عمر کی بات ہے، کوئی بڈھے ہی دنیا سے تنگ آتے ہیں! ہم نے تو جتنی زندگی کی ہوس بڈھوں میں دیکھی اتنی جوانوں میں نہ دیکھی، ساری دنیا مری جا رہی ہے، نہ معلوم ہماری موت کہاں جا کر سو رہی ۔بچے وچے سب بھول جاتے ہیں اور تھوڑے دن میں سب ٹھیک۔\n\nآفتاب: ہوش میں آ لڑکی ہوش میں! ابھی تمہاری عمر ہی کیا جو مرنے کی فکر سوار ہے، میرے سے تو تم دس بارہ سال چھوٹی ہو۔ میرے بیاہ کی باتیں ہو رہی تھیں جس برس تم پیدا ہوئی ہو۔ اس سال ملکہ مری تھی، مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے۔ اللہ بخشے چچی اماں کتنی خوش تھیں۔ میرے لئے توبٹیا ہی ہے۔ چچی اماں کے بیاہ کے تیس برس بعد کہیں تم پیدا ہوئی تھیں۔ کھانا ناچ رنگ اور کیا کیا ڈومنیاں آئی ہیں، اور تو اور تمہارا بیاہ بھی کس ارمانوں سے ہوا ہے۔ ساری دلی واہ واہ بول گئی تھی، تمہارے برابر کون خوش قسمت ہوگا۔ مجھ دکھیا کی طرف دیکھو۔ تمہارے تو اللہ رکھے میاں بچے گھر سب ہی کچھ ہے۔\n\nمحمدی: ہاں ٹھیک ہے، میاں بچے گھر سب ہی کچھ ہے، جوانی! کون مجھے جوان کہے گا؟ ستر برس کی بوڑھیاں معلوم ہوتی ہوں۔ روز روز کی بیماری، روز روز کے حکیم ڈاکٹراور ہر سال بچے جننے! ہاں مجھ سے زیادہ کون خوش قسمت ہوگا! (یہ کہہ کر آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ رومال سے آنسو پونچھ کر اور اگالدان میں تھوک کر پھر شروع کیا۔)\n\nابھی دو مہینے کی بات ہے پچھلا حمل گرنے سےپہلے کا ذکر ہے کہ ڈاکٹرنی کو بلانے کی صلاح ہوئی، ڈاکٹر غیاث نے بھی یہی کہا کہ اندرونی خرابی کی وجہ سے روز روز بخار نہ رہتا ہو، بہتر ہے کہ ڈاکٹرنی اندر سے دیکھ لے۔ لو عمر کی بات سنو۔ ڈاکٹرنی نے مجھ سے میری عمر پوچھی۔ میں نے کہا۔ 32 سال۔ کچھ اس طرز سے مسکرائی جیسے کہ یقین نہ آیا۔ میں نے کہا، مس صاحب، آپ مسکراتی کیا ہیں؟ آپ کو معلوم ہو کہ 17سال کی عمر میں میری شادی ہوئی تھی اور جب سے ہر سال میرے ہاں بچہ ہوتا ہے۔ سوائے ایک تو جب میرے میاں سال بھر کو ولایت گئے تھے اور دوسرے جب میری ان کی لڑائی ہو گئی تھی۔اور یہ دانت جو آپ غائب دیکھ رہی ہیں یہ ڈاکٹر غیاث نے اکھاڑ ڈالے۔پاریاوار یانہ معلوم کون بیماری ہوتی ہے وہ تھی۔ ساری بات یہ تھی کہ ہمارے میاں جو ولایت سے آئے تو ان کو ہمارے منہ سے بو آتی تھی۔ وہ بچاری خوب ہنسی۔\n\nآفتاب: تم باتیں ہی ایسی کرتی ہو کہ سننے والا ہنسے نہ تو کیا کرے۔\n\nمحمدی: خیر اس پجاری نے سینہ دیکھاپیٹ دیکھا جب اندرسے دیکھا تو گھبرا کر کہنے لگی۔ بیگم صاحب آپ کو تو پھر دو ماہ کا حمل معلوم ہوتا ہے، میراتو دل سن سے ہو گیا کہ لو اور آفت آئی۔\n\n(اتنے میں بچوں کے رونے کی آواز دوسرے کمرے سے آئی اور لوگوں کی چیخ پکار دوسرے کمرے میں سے سنائی دی۔ بیگم صاحب گاؤ تکیہ سے اٹھ بیٹھیں اور چیخ کر)ارے کمبختوں نہ دو منٹ سونے کا آرام نہ بات کرنے کی مہلت، اتنی حرام زادیاں بھر رہی ہیں پھر بھی بچے ہیں کہ شور مچائے جاتے ہیں۔ اس سے تو خدا مجھے ہی غارت کر دے کہ دنیا کے وبا سے چھٹوں۔\n\n(کمرے کا دروازہ کھلا دو انّائیں، صاف کپڑے سوسی کے پاجامے، مکمل کے کرتے دوپٹے، دو بچوں کو روتا ہوا لے کر داخل ہوئیں کچھ اور بچے ان سے بڑےدروازے میں کھڑے نظر آئے۔ یہ سب بچے دبلے اور زرد اور کمزور تھے۔ دروازے میں سے چبوترا اور صحن نظرآتا ہے۔)\n\nایک انّا: بیگم صاحب یہ بڑےننے میاں نہیں مانتے، جب کمرے میں آتے ہیں بچوں کو ستاتے ہیں، کھیلنے نہیں دیتے۔ اب ننی بی کی گڑیا اور چھوٹے میاں کی گیند لے کر بھاگ گئے اور سیدھے مردانے میں چلے گئے کئی بار۔\n\nمحمدی: (طیش کھا کر) قصائی ہے نگوڑا قصائی! گھر میں کسی کو چین نہیں لینے دیتا، آخر کس باپ کا بیٹا ہے۔\n\n(بچے کو گود میں لے کر پیار کیا، پٹاری میں سے کچھ نکال کر دونوں بچوں کو کھانے کو دیا اور اس کے بعد انّا کو واپس کر دیتی ہیں۔)\n\nجاؤ خدا کے لئے اب سدھارو۔ صبح سے شام تک چیخ پکار!\n\n(پھر ٹھہرکر، جب نوکریں کو اڑ کھلا چھوڑ دیتی ہیں۔)\n\nارے کواڑ تو بند کر دو، صبح سے کئی دفعہ کہہ چکی ہوں جب ادھر سے نکلیں گی کواڑ کھلا چھوڑ جائیں گی!\n\nآفتاب: بوا، تمہارے گھر میں ماشاء اللہ ہر وقت تو موا ڈاکٹر کھڑا رہتا ہے۔ پھر بھی بچے دیکھو دبلے، زرد، کم بخت، حقیر، فاقوں کے مارے معلوم ہوتے ہیں۔\n\nمحمدی: اے آپ ہی ہوں گے، جن کو ماں کا دودھ نصیب نہ ہو! انائیں جیسی کانی کھدری موٹی پتلی مل گئیں رکھ لی گئیں۔ میاں کا حکم ہے کہ جب خدا نے روپیہ دیا ہے تو تم کیوں تکلیف اٹھاؤ۔ سارا مزا اپنے نفس کا ہے کہ بچہ میرے پاس رہے گا تو خود کو تکلیف ہوگی۔ نہ رات دیکھیں نہ دن بس ہر وقت بیوی چاہئے اور بیوی پر ہی کیا ہے، ادھر ادھر جانے میں کون سے کم ہیں۔\n\nآفتاب: محمدی بیگم تم تو ہر بات میں بچارے اپنے میاں ہی کو قصور وار ٹھہراتی ہو۔ انا رکھے تو وہ برا، نہ رکھتا تو وہ برا ہوتا۔ بو ا اللہ اللہ کرو۔\n\nمحمدی: اے ہے آپا تم یہاں نہیں تھیں جب نصیر مرا ہے۔ چار مہینے کی جان جو تکلیف اس پر گزری ہے وہ خدا دشمن پر بھی نہ ڈالے۔ غیروں سے نہ دیکھی جاتی تھی۔ اس کی انا تھی تو خاصی ہٹی کٹی۔ دیکھنے میں تندرست لیکن گرمی کی بیماری تھی۔اب اس کی خس کو خبر تھی۔ بچہ پھوٹ نکلا، یہ بڑے بڑے آبلے بدن پر پڑ گئے اور جب وہ پھوٹیں تو کچا کچا گوشت نکل پڑے، جوڑ جوڑ میں پیپ پڑ گئی۔ تسلے بھر بھر کے انہیں ڈاکٹر غیاث نے نکالی۔ میں پردے کے پیچھے سے دیکھتی، دم نہ مارو شکر گزارو، کی مثل ہے، غرضیکہ اسی طرح دو مہینے سڑ سڑ کر بچہ رخصت ہوا۔ اس کے بعد تین بچے ہوئے ہیں کتنی مصر ہوتی کہ میں خود دودھ پلاؤں گی۔ لیکن سنتا کون ہے۔ دھمکی یہ ہے کہ دودھ پلاؤگی تو میں اور بیاہ کر لوں گا۔ مجھے ہر وقت عورت چاہئے۔ میں اتنا صبر نہیں کر سکتا کہ تم بچوں کی ٹلے نویسی کرو اور پھر تم کہتی ہو۔۔۔\n\nآفتاب: اے ہے تو یہ بات ہے! مجھے کیا معلوم۔ خدا ایسے مردوں سے بھی بچائے، جانور بھی تو کچھ خوف کرتے ہیں۔ یہ تو جانوروں سے بھی بدتر ہو گئے۔ ایسے مردوں کے پالے تو کوئی نہ پڑے۔ ایسی باتیں بوا پہلے نہ تھیں۔ اب جس مردوے کو سنو کم بخت کو یہی آفت ہے۔ اب تمہارے بہنوئی ہیں، خیر اب تو بڑھاپا ہے کبھی جوانی میں بھی زیادتی نہیں کی۔ (مسکرا کر) خدا کی قسم پہروں ناک رگڑواتی تھی۔\n\nمحمدی: (ٹھنڈی سانس لے کر) اپنی اپنی قسمت ہے۔ تمہاری اس بات پر یاد آیا کہ وہ ڈاکٹرنی والی بات پوری نہیں ہوئی۔ بات کہاں کی کہاں جا پہونچتی ہے۔ جب ڈاکٹرنی نے کہا میرے دو مہینے کا پیٹ ہے۔ تو نہایت تعجب سے میری طرف دیکھ کر کہنے لگی کہ بیگم صاحب آپ تو کہہ رہی تھیں کہ چار مہینے سے آپ پلنگ پر پڑی ہیں۔ روز شام کو بخار آتا ہے اور ڈاکٹر غیاث بھی یہی کہہ رہے تھے کہ روز شام کو 100 یا 101 پر بخار ہو جاتا ہے تو آپ کا مطلب ہے کہ پھر آپ کے۔۔۔ میں نے کہا ، اے مس صاحب! تم بھی بھلی ہو، کماتی ہو، کھاتی ہو، مزے کی نیند سوتی ہو،یہاں تو مردہ جنت میں جائے یا دوزخ میں، اپنے حلوے مانڈے سے کام ہے۔ بیوی نگوڑی چاہے اچھی ہو چاہے مر رہی ہو، مردوں کو اپنے نفس سے کام ہے۔ وہ بچاری سن کر چپ ہو گئی۔ کہنے لگی آپ اتنی بیمار ہیں۔ اور بوا وہ بچاری کیا سب ہی ڈاکٹر یہ کہتے ہیں کہ آپ کے بچے کس طرح موٹے تندرست ہوں، جب ایک تو آپ خود اتنی کمزور اور دوسرے بچے اتنی جلدی جلدی ہوتے ہیں۔ کیا کیا جائے اس سے کرسٹان ہوتے تو بھلے رہتے۔\n\nآفتاب: توبہ کرو توبہ! کفر نہ بکو، خدا ان کافروں کو مٹائے، ایک بیٹا وہ بھی ایک کرسٹان کر بیٹھا ہے، مجھے اس کے بیاہ کے کیا کیا ارمان تھے، اب تو بھائی نے تنگ آ کر وحیدہ کی منگنی کر دی، ہائے میرے دل پر کیا کیا سانپ نہ لوٹیں گے کہ میری بچپن کی مانگ غیر کے گھر جائے اس سے تو وہ ناشدنی نہ ہوا ہوتا اور میرے لئے تو مر گیا۔\n\nمحمدی: کس دل سے کوستی ہو!بڑھاپے کا سہارا ہے کبھی تو ٹھیک ہو گا۔\n\nآفتاب: اے وہ کیا ٹھیک ہوگا! دو برس ہو گئے صورت دیکھنے کو ترس گئی، شہر کے شہر میں رہتا ہے کبھی آکر جھانکتا بھی نہیں، اب تو سنا ہے کہ ڈیڑھ سو ملنے لگے ہیں اور خدا کا یہی شکر ہے کہ اولاد ہی ابھی تک نہ ہوئی۔ میں تو یہی دعا مانگتی ہوں کہ آفتاب بندی چاہے تیری قبر پر چراغ جلانے والا نہ ہو، لیکن اس حرامزادی، جوانامرگ، عیسائنی کے تو بچہ نہ ہو، ہائے بوا کس سے اپنا درد کہئے سب اپنی اپنی مصیبتوں میں مبتلا ہیں۔ محمد بیگم!\n\nتم نے کچھ اور بھی سنا، مرزا مقبول علی شاہ نے اور بیاہ کر لیا، دو بیویاں مرچکیں پوتیاں، نواسیاں تک بچے والیاں ہو گئیں اور یہ نئی بیوی بھی کیا بھولی بھالی شکل کی ہے جوان ہے بالکل جوان، مشکل سے کوئی بیس برس کی ہو گی، کم بخت کی قسمت پھوٹ گئی، ابھی تو بچاری کے چھ کنواری بہیں اور بیٹھی ہیں۔ جب ہی تو بچارے ماں باپوں نے ۔۔۔\n\n(اتنے میں بڑے صاحبزادے کوئی12 سال کی عمر، مٹی میں پاجائے کی مہریاں بھری ہوئی زور سے کواڑ کھول کر بھاگتے ہوئے داخل ہوتے ہیں۔ ایک ہاتھ میں ریل دوسرے میں قینچی اور ان کے پیچھے پیچھے ایک تندرست لڑکی تنگ پاجامہ میں اور ملگجے کپڑے ڈوپٹہ لٹکتا ہوا داخل ہوتی ہے۔)\n\nلڑکی: دیکھ لیےئن اماں! یہ بڑے مرزا نہیں مانتے۔یہ دیکھئے میرا نیا پاجامہ کاٹ دیا۔ یہ کہہ کر کرتا اٹھا کر دکھاتی ہے۔\n\nمیں ان سے بات بھی نہیں کر رہی تھی چپکے بیٹھی اباجان کی اچکن میں بٹن ٹانک رہی تھی اور دیکھئے یہ ڈوپٹہ کا آنچل بھی پھاڑ دیا۔\n\n(دیوار سے لگ کھسیا کر رونے لگی۔ لڑکا بہن کی نقل اتارتے ہوئے۔)\n\nلڑکا: اوں، اوں، اوں، اپنی نہیں کہتیں! ہاں تم سی رہی تھیں؟ کہہ دوں اماں سے واہیات کتابیں پڑھ رہی تھیں، دلدار یا ریا بانکا چھبیلا! میں نے ٹھیک سے نہیں دیکھا کہ کیا تھا۔\n\nلڑکی: (فوراً مڑکر ) خدا کے لئے اتنا جھوٹ نہ بولا کرو، خدا کی قسم اماں! میں مولوی اشرف علی صاحب کی بہشتی زیور پڑھ رہی تھی۔ میرے پیچھے پڑ گئے کہ دکھاؤ۔ جب میں نے نہیں دکھایا تو میرا پاجامہ کاٹ دیا ۔ آپ کبھی انہیں کچھ نہیں کہتیں۔\n\nمحمدی: (ماتھا پیٹ کر) شابش ہے بیٹی شابش۔ اماں مریں یا جئیں، ہاتھ بٹانے سے تو رہیں، اور چھوٹے بہن بھائیوں سے لڑتی ہو۔ (اور بیٹے کی طرف مڑکر) یہ موذی تو سارے دن کسی نہ کسی کو دق کرتا رہتا ہے۔ دفع ہو یہاں سے۔\n\nآفتاب: لاؤ میاں مجھے قینچی دو، دیکھ اپنی آپا کو کون دق کرتا ہے وہ بچاری کے دن کے لئے تمہارے پاس ہے۔ اب برس دو برس میں بیاہ ہو کر سسرال چلی جائے گی تو پھر صورت دیکھنے کو ترس جاؤ گے۔\n\n(صابرہ نے اس جملہ پر فوراً شرما کر سر جھکا لیا اور چپکے سے پیچھے کھسک جاتی ہے۔ بڑے مرزا گاؤ تکیہ کو گھوڑا بنا کر بیٹھ جاتے ہیں اور چند لمحہ ٹھہر کر کودنے لگتے ہیں۔)\n\nلڑکا: تو پھر یہ ہمیں کتاب کیوں نہیں دکھاتی تھیں۔\n\nمحمدی: اے ہے بڑے مرزا خدا کے لئےرحم کرو، اور اس طرح مجھ کو نہ ہلا ڈالو، سارا جسم ہلا دیا۔ کم بخت دھڑکن ہونے لگی، خدا کے لئے جاؤ باہر۔ جاؤ اپنے ابا کے پاس اور مولوی صاحب آتے ہوں گے، سبق یاد کر لیا؟\n\nآفتاب: زیادہ بچے ہوتے ہیں، ماشا ءاللہ گھر تو بھرا بھرا معلوم ہوتا ہے لیکن ہر وقت کا شور وغل بھی ناک میں دم کر دیتا ہے۔ بوا اب میں گھر میں ہوں سارے دن کوّے ہکنی کی طرح بیٹھی رہتی ہوں۔ یہ آتے ہیں نماز وماز پڑھنے۔ گھڑی دو گھڑی بیٹھے بیٹھک میں چلے گئے۔ خدا کسی کو ایسا اکیلا بھی نہ کرے۔ ہائے کیا کیا ارمان تھے! (ددروازہ کھلتا ہے اور ایک کولن حصہ لئے ہوئے داخل ہوتی ہے۔)\n\nکولن: سلام بیگم صاحب سلام! بڑی بیگم لیجئے میں تو آپ کے ہاں حصہ لے کر جانے والی تھی، کہو بیگم مزاج کیسا ہے، اللہ رکھے بچے کیسے ہیں؟\n\nمحمدی: ہاں بوا میں تو جیسی ہوں ویسی ہوں کہو بھابی اچھی ہیں۔ سب بچے اچھے ہیں۔ خدا پوتا مبارک کرے۔ پنجیری ہوگی۔ رحیمن لے طشتری خالی کر دے۔(صندوقچی کھولتے ہوئے) آپا ایک ٹکڑا پان کا دے دینا۔\n\nآفتاب: رحیمن میرا حصہ بھی یہیں لے لے۔\n\nیہ کہہ کر پان لگانے لگیں، محمدی نے دو آنہ کولن کو دیئے۔\n\nمحمدی: سب کو بہت بہت سلام دعا کہہ دینا۔ کسی روز طبیعت اچھی رہی تو آؤں گی سب کے ملنے کو دل پھڑک گیا۔ بچے کو دیکھنے کو بہت دل چاہتا ہے اور بھابی سے کہنا کہ بوا تم نے تو آنے کی قسم کھا لی ہے۔\n\n(آفتاب نے پان دیا اور کمر بند سے پیسے نکال کر دو آنے دیئے)\n\nکولن: بیگم صاحب ہماری بیوی بھی بہت یاد کرتی ہیں۔ فرصت ذرا نہیں ملتی، آج کل تو خیر گھر بھرا ہے۔ سب ہی آئے ہوئے ہیں۔\n\nآفتاب: سلطان دلہن کو میری طرف سے دعا کہہ دینا اور کہنا بوا پوتا مبارک ہو میں جمعہ کو انشا ءاللہ آؤں گی۔\n\n(کولن رکابیاں لے کر دونوں کو سلام کرکے رخصت ہوتی ہے۔)\n\nمحمدی: آپا ہماری بھابھی سلطان کا بھی خوب طرز ہے۔ ان کے میاں نے کبھی چالیس روپے سے زیادہ نہیں کمایا لیکن وہ سلیقہ ہے ماشاء اللہ سب کچھ کیا۔ بیٹوں کا بیاہ کیا، بیٹیوں کا بیاہ کیا۔ اب بیٹا خدا کے فضل سے اچھا نوکر ہو گیا ہے۔ کوئی سوا سو کا۔ آگے بڑھنے کی بھی امید ہے۔\n\nآفتاب: بہو بھی اچھی ہے۔ (ٹھنڈی سانس بھر کر) اپنی اپنی قسمت ہے۔ ایک ہم ہیں خیر یہ تو ہوگا کہو رضیہ کی بھی کچھ خبر ہے؟ تمہارے ماموں نے تو اس کا ایسے چٹ منگنی پٹ بیاہ کیا کہ کسی کو بلایا تک نہیں۔\n\nمحمدی: بلایا تک نہیں تو کیا ہوا۔ گھر گھر دوہرا تہرا کھانا بھجوایا تھا۔ شادی اس غریب کی جس طرح ہوئی وہ بھی اپنی بدنامی کے ڈر سے جلدی کر دی اور اس میں بھی خدا ان کا بھلا کرے۔\n\nآفتاب: اے ہے یہ بات تھی تو مجھےمعلوم ہی نہیں، ہاں تو پھر کیا ہوا؟\n\nمحمدی: تمہیں نہیں معلوم! اب تو سب ہی کو معلوم ہے۔ اس بچاری کی عمر ہی کیا ہے۔ میری صابرہ سے دو ڈھائی سال بڑی ہے۔ میری شادی کے تو بعد پیدا ہوئی ہے۔ جب چھوٹے ماموں کلکتہ سے آئے۔ برسوں بعد آئے تھے۔ ہم سبھی جمع تھے۔ نانی اماں بچاری، ہاتھ پاؤں میں رعشہ، سب سے زیادہ خوش تھیں۔ رضیہ کو میں کچھ روزکے لئے ساتھ لے آئی۔پھر چھوٹی ممانی میکے چلی گئیں۔ لڑکی تین چار مہینے رہ گئی۔ رضیہ ددھیال پر جان دیتی ہے۔ ننھیال سے اس کو کچھ رغبت نہیں ہے۔ بری بہن کا گھر تھا رہ گئی تھی تو کیا ہوا میرے فرشتوں تک کو خبر نہیں۔ جب ماں میکے سے آئیں تو رضیہ اپنے گھر چلی گئی۔ ایک روز رضیہ کا پرزہ آیا۔ کہ آپا جانی خدا کے لئےجلدی آیئے۔ بس آپا کیا بتاؤں، جب وہاں پہونچی تو چھوٹی نانی تو آپ نے دیکھی ہیں کیسی ہیں۔ وہ ظاہر داری کی باتیں کرتی ہیں کہ خدا کی پناہ۔ بہت آؤ بھگت کی۔ رضیہ نے چپکے سے ایک پرزہ دیا اور کہاکہ دولہا بھائی روز ہمارے یہاں آتے ہیں اور اماں بڑی خاطر مدارات کرتی ہیں اور چپکے چپکے باتیں ہوتی ہیں۔ کنواری لڑکی اور کیا کہتی۔ یہ بھی بچاری نے بڑی ہمت کی۔ خط دیکھوں تو ہمارے میاں کا رضیہ کے نام۔ وہ عشقیہ خط کہ ناولوں بھی میں بھی نہ ہوگا۔ بس میں جل ہی تو گئی رضیہ کو سمجھا کر کہ تم کچھ نہ کہو میں کسی سے تمہارا نام نہیں لوں گی۔ میں جلتی سلگتی گھر پہونچی ۔ ان سے ذکر کیا۔ اے آپا خدا کی قسم! دیدوں میں گھس گئے کہ کیا برائی ہے اور میں تو رضیہ سے شادی کروں گا چاہے تمہیں طلاق ہی دینی پڑے۔ میں نے کہا۔ میاں ہوش میں ہو یا بالکل ہی بے ہوش ہو! شریفوں کی لڑکی ہے، اگر اس کا نام بھی لیا تو اس کے باپ چچا بھائی تمہاری ہڈی بوٹی کر دیں گے۔ ان خیالوں میں بھی نہ رہنا!\n\nآفتاب: تو تمہاری ممانی نے چپکے چپکے بات پکی کر لی ہوگی۔ اسی لئے تو غرے سے کہہ رہے ہوں گے۔\n\nمحمدی: اے اور کیا۔ انہیں اللہ بخشے اماں سے اور مجھ سے ہمیشہ کی دشمنی ہے، جب اماں بیمار تھیں تب بھی ان کے سامنے قسمیں کھا کھا کر کہتی تھیں کہ اس وقت تک چین نہ لوں گی جب تک محمدی کا گھر اجڑوانہ دیا ہو۔ اور ہم ہی پر کیا بڑی ممانی جان سے بھی یہی بعض ہے۔ اور چونکہ رضیہ کی منگنی چچا کے ہاں ہوئی تھی تو روز روز کی لڑائی تھی کہ دشمنوں میں بیٹی نہ دوں گی۔\n\nآفتاب: (ہنس کر) اور بوا تمہارے میاں ہی میں کیا رکھا تھا، بیوی والا، بچوں والا ہاں روپیہ ہے۔ تو تمہارے بڑے ماموں بھی غریب نہ تھے۔ کہیں شریفوں میں بھی ایسی باتیں ہوئی ہیں۔موے پنجابیوں میں دو بہنیں اپنی بیٹیاں ایک مرد کو بیاہ دیں تو بیاہ دیں، ہمارے ہاں تو ایسا ہوتا نہیں۔ اب نیا زمانہ ہے جو کچھ نہ ہو تھوڑا ہے۔ ہاں تو پھر کیا ہوا؟\n\nمحمدی: جب میں بگڑی اور صلواتیں سنائیں تو خوشامد کرنے لگے کہ میں اس پر عاشق ہو گیا ہوں۔ ہائے خدا کے لئے میری مدد کرو۔ میری مدد کرنا تمہارا فرض ہے۔ قرآن شریف کھول کر بیٹھ جائیں اور آیتیں پڑھیں کہ میں ان کی مدد نہ کروں گی تو بعد مرنے کے یہ ہوگا وہ ہوگا۔ اب اس سے زیادہ کون سی آگ ہوگی؟ یہ ہر وقت کا جلنا، غرضکہ ہر وقت کی یہی باتیں کہ میں پاگل ہو جاؤں گا۔ کمرا بند کئے منہ اوندھائے پڑے ہیں۔ رضیہ ہائے رضیہ ہور ہی ہے، میں پڑی سب سن رہی ہوں۔ خدا کی قسم آپا اس قدر کلیجہ پک گیا ہے کہ یہ روپیہ پیسہ اب تو مصیبت معلوم ہوتا ہے۔ روکھی روٹی ہو اور سکھ ہو۔ آپا ذرا ایک پان دینا باتیں کرتے کرتے ہونٹ سوکھ گئے۔\n\n(پاس صراحی رکھی تھی اس میں سے پانی نکال کر پیا۔آفتاب نے پان کھایا اور محمدی کو بھی دیا۔)\n\nغرض کہ یہی حالت جاری رہی اور وہ عشقیہ لفظ اس معصوم کنواری بچی کے لئے استعمال کریں اورمیں سب سنوں اور دل میں گھٹوں اور چھوٹی ممانی ہیں کہ وہی سلوک وہی خاطر، رضیہ تمہارے دولہا بھائی آئے ہیں۔ پان دو۔ الائچی دو۔\n\nآفتاب: اچھا تو یہ کہو کہ سب کچھ کیا دھرا تمہاری ممانی ہی کا تھا۔\n\nمحمدی اور کیا! وہ لڑکی گھنٹوں روئے، کہیں میں مل جاؤں تو دل کا بخار نکال لے۔ ایک مہینہ تو میں چپ رہی۔ پھر ایک دن دونوں ماموں مجھ سے ملنے آئے۔ میں نے کہا۔ کیوں ماموں جان کیا رضیہ کی منگنی چھٹ گئی؟ دونوں بھائی چکرا گئے۔ پھر میں بھری بیٹھی تھی میں نے سب کچا چٹھا کہہ ڈالا۔ دونوں میں کچھ صلاح ہوئی ہو گی۔ تیسرے دن رضیہ کا بیاہ ہو گیا۔\n\nآفتاب: اللہ اللہ خیر صلا!\n\nمحمدی : لیکن بوا چھ مہینے یہ گھر میں نہیں گھسے، ہر وقت چاوڑی میں پڑے رہتے تھے اور میں تو خوش تھی۔ اللہ گواہ ہے جس روز یہ ادھر ادھر چلے جاتے ہیں تو میں چین کی نیند ہوتی ہوں۔ روز یہی ہے کہ تم تو روز روز کی بیمار ہو، میں کب تک صبر کروں؟ میں دوسرا بیاہ کرتا ہوں۔ اور پھر یہ ضد ہے کہ تم میرا بیاہ کرواؤ۔ شرع میں چار بیویاں جائز ہیں تو میں کیوں نہ کروں۔ میں نے تو کہا بسم اللہ کرو۔اب سال بھر بعد صابرہ کی رخصت ہے۔ باوا بیٹیوں کا ساتھ ساتھ ہو جائے۔ ایک گود میں نواسہ کھلانا دوسری میں نئی بیوی کا بچہ، بس لڑنے لگتے ہیں کہ عورتیں کیا جانیں، خدا نے ان کو حس ہی نہیں دی۔ میں تو کہتی ہوں کہ تم میں سارے مردوں کی حس بھری ہوئی ہے۔ اب کیا۔۔۔\n\nآفتاب: (بھڑک کر) محمدی بیگم جہاں دیکھو یہی آفت آئی ہوئی ہے، مردوں نے تو وہ گڑو جیتا ہے کہ اَٹ بھی ماریں پٹ بھی ماریں ۔ اب یہ ظلم ہے یا نہیں کہ بیاہ بھی کروں گا اور یہ بھی بیوی ہی کم بخت۔۔۔\n\nمحمدی: اسی سے تو میں جل جل کر اپنے مرنے کی دعا مانگتی ہوں۔ ایک تو ہر وقت کی اپنی بیماری، روز روز کا بچوں کا رنجھنا الگ، خیر بڑے بچے تو ماشا ءاللہ خاصے تندرست ہیں ہاں یہ چھوٹے بچے آئے دن بیمار رہتے ہیں۔ ان سب باتوں نے اب جینے کا لطف تو بالکل گھودیا۔ اور یہ تو میں جانتی ہوں کہ یہ دوسرا بیاہ کریں اور پر کریں۔یہ ہر وقت کا دھڑکا الگ، خدا اس سے پہلے تو مجھے اٹھا لے کہ میں سوکن کا منہ دیکھوں، اور سوکن کےڈر سے بوا میں نے کیا کیا نہ کیا۔ دو دفعہ آپریشن بھی کروایا۔\n\nآفتاب: اے ہاں ہم نے تو سنا تھا کہ تم نے تو کچھ ایسا کروا لیا ہے کہ اب تمہارے با ل بچے نہ ہوں گے۔\n\nمحمدی : یہ تم سے کس نے کہا؟ اصل بات یہ تھی کہ رحم اور نیچے کا سارا جسم جھک آیا تھا، تو اس کو ٹھیک کروا لیا گیا تھا کہ پھر سے میاں کو نئی بیوی کا لطف آئے۔ اے بوا جس عورت کے ہر سال بچے ہوں اس کا بدن کب تک ٹھیک رہے گا؟ پھر کھسک گیا۔ پھر میرے پیچھے پڑ کر ڈرا دھمکا کر مجھے ذبح کر وایا اور پھر بھی خوش نہیں ہیں۔\n\n(اذان کی آواز پاس کی مسجد سے آتی ہے)\n\nآفتاب: اے ہے بوا ظہر کا وقت ہو گیا، باتوں میں ایسی مشغول ہوئی کہ سب کچھ بھول گئی (کسنا باندھتے ہوئے) اب نماز پڑھ کے ہی جاؤں گی۔ تمہارے بھائی بچارے انتظار کررہے ہوں گے۔\n\nمحمدی: اے آپا آج تم آگئیں تو اتنا دل کا بخار بھی نکل گیا۔ ذرا جلدی جلدی ہو جایا کرو۔ میں تو بیمار ہوں نہ کہیں آنے کی رہی نہ جانے کی۔\n\nاے رحیمن ۔ رحیمن۔ گل شبو!\n\n(رحیمن آتی ہے۔)\n\nمحمدی: جا بڑی بیگم صاحب کو وضو کروا اور صحنچی میں چوکی پر جا نماز بچھا دے۔\n\n(پردہ)", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DB%8C%DA%86%DA%BE%DB%92"} {"title": "پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گا", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گا\nلے خون میں نے بخشا تو یاد کیا کرے گا\n\nہوں دام میں پر افشاں اور سادگی سے حیراں\nکیوں تیز کی ہیں چھریاں صیاد کیا کرے گا\n\nظالم یہ سوچ کر اب دیتا ہے بوسۂ لب\nجب ہونٹ سی دیئے پھر فریاد کیا کرے گا\n\nزنجیر تار داماں ہے طوق اک گریباں\nزور جنوں نہ کم ہو حداد کیا کرے گا\n\nہم ڈوب کر مریں گے حسرت رہے گی تجھ کو\nجب خاک ہی نہ ہوگی برباد کیا کرے گا\n\nیعقوب قطع کر دیں امید وصل دل سے\nیوسف سا بندہ کوئی آزاد کیا کرے گا\n\nدل لے کے پوچھتا ہے تو کس کا شیفتہ ہے\nبھولا ابھی سے ظالم پھر یاد کیا کرے گا\n\nاے خط بیاض عارض درکار ہے جو تجھ کو\nتحریر حسن کی کچھ روداد کیا کرے گا\n\nکنج قفس سے اک دن ہوگی رہائی اپنی\nمر جائیں گے تو آخر صیاد کیا کرے گا\n\nمثل سپند دل ہے بیتاب سوز غم میں\nرہ جائے گا تڑپ کر فریاد کیا کرے گا\n\nاے شیخ بھر گیا ہے کیوں وعظ کی ہوا میں\nریش سفید اپنی برباد کیا کرے گا\n\nظلم و ستم سے بھی اب ظالم نے ہاتھ کھینچا\nاس سے ستم وہ بڑھ کر ایجاد کیا کرے گا\n\nازبسکہ بے ہنر ہوں میں ننگ معترض ہوں\nمضموں پہ میرے کوئی ایراد کیا کرے گا\n\nاے نظمؔ جس کو چاہے وہ دے بہشت دوزخ\nنمرود کیا کرے گا شداد کیا کرے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%B4_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "پروا نہیں اس کو اور موئے ہم", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پروا نہیں اس کو اور موئے ہم\nکیوں ایسے پہ مبتلا ہوئے ہم\n\nگو پیسے ہی ڈالے جوں حنا وہ\nپر چھوڑیں نہ پاؤں بن چھوئے ہم\n\nمژگان دراز اس کی کر یاد\nسینے پہ گڑوتے ہیں سوئے ہم\n\nرونے سے مکان خانہ بولے\nبس لاکھ جگہ سے اب چوئے ہم\n\nاک بازیٔ عشق سے ہیں عاری\nکھیلے ہیں وگرنہ سب جوئے ہم\n\nخوباں کو بن اس کے دیکھیں کیا خاک\nماٹی کے سمجھتے ہیں تھوئے ہم\n\nدم آنکھوں میں آ رہا ہے، لو جان\nجلد آؤ وگرنہ اب موئے ہم\n\nاٹھ جانے سے اس کے جرأتؔ اے واے\nمعلوم نہیں کہ کیا ہوئے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "پرواز (محمد اقبال)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کہا درخت نے اک روز مُرغِ صحرا سے\nسِتم پہ غم کدۂ رنگ و بو کی ہے بنیاد\nخدا مجھے بھی اگر بال و پر عطا کرتا\nشگُفتہ اور بھی ہوتا یہ عالمِ ایجاد\nدیا جواب اُسے خوب مُرغِ صحرا نے\nغضَب ہے، داد کو سمجھا ہُوا ہے تُو بیداد!\nجہاں میں لذّتِ پرواز حق نہیں اُس کا\nوجود جس کا نہیں جذبِ خاک سے آزاد", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2_%28%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84%29"} {"title": "پروانہ سوز شمع سے یوں باخبر نہ ہو", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پروانہ سوز شمع سے یوں باخبر نہ ہو\nدل سے لگی نہ ہو تو زباں میں اثر نہ ہو\n\nکاہے کو یوں بسی کبھی بستی خیال کی\nدنیا اجڑ بھی جائے تو ہم کو خبر نہ ہو\n\nاف اف بنی ہے ایک زمانے کی جان پر\nاب دل جلوں کی آہ میں یا رب اثر نہ ہو\n\nیا اٹھتی موج چلتی ہوا سے تھی برہمی\nیا اب مجھے ملال کسی بات پر نہ ہو\n\nآئینۂ جمال جہاں کو بہت نہ دیکھ\nڈرتا ہے دل کہیں تجھے اپنی نظر نہ ہو\n\nنیرنگیٔ ملال بہت ناگوار ہے\nدنیائے غم میں شام نہ ہو یا سحر نہ ہو\n\nدنیا سے اٹھے دل کی کہانی بندھی رہی\nیوں بھی کسی ملال زدہ کی بسر نہ ہو\n\nہر سو ہے اک ملال کی دنیا بسی ہوئی\nروئے خیال آہ کدھر ہو کدھر نہ ہو\n\nہاں ہاں ہر ایک ذرہ ہے آئینۂ جمال\nکیا دیکھے تجھ کو جس کی تری سی نظر نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہے\nعالم میں ہر ایک کو تگ و دو تیری ہے\nمصباح و نجوم آفتاب و مہتاب\nجس نور کو دیکھتا ہوں ضو تیری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DA%BE%D9%86_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%DA%A9%D9%88_%D9%84%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے\nدیوانہ صفت ہوا سے لڑتے پہنچے\nپیاس آگ میں کود کر بجھانے والے\nدھن کے پکے تھے گرتے پڑتے پہنچے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D8%AA%DB%92_%D8%A8%DA%86%DA%BE%DA%91%D8%AA%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%92"} {"title": "پرپیچ بہت ہے شکن زلف سیاہ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پرپیچ بہت ہے شکن زلف سیاہ\nوارفتہ نہ رہ اس کا دلا بے گہ و گاہ\nدیوانگی کرنے کی جگہ بھی ٹک دیکھ\nجا ملتی ہے یہ کوچۂ زنجیر میں راہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D9%BE%DB%8C%DA%86_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%B4%DA%A9%D9%86_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81"} {"title": "پرچھائیاں", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کیوں نہ اب تم سے تصور میں کروں بات سنو تم سے یہ کہنا ہے مجھے\nتم کہو گی نہیں میں وجہ سخن جان گئی\nیاد سے تیری ہی معمور ہیں دن رات یہ کہنا ہے مجھے\nتم کہو گی کہ میں ہستی کو کفن مان گئی\nراہ الفت میں کبھی ہوگا ترا ساتھ یہ کہنا ہے مجھے\nتم کہو گی میں زمانے کا چلن جان گئی\nکون بدلے گا یہ حالات یہ کہنا ہے مجھے\nتم کہو گی میں انہیں دار و رسن مان گئی\nزندگی یہ ہے تو مرنا بھی ہے بارات یہ کہنا ہے مجھے\nتم کہو گی کہ یہ میں سوختہ تن جان گئی\n\nمیں زمانے کے ہوں آئین کا پابند یہ کہنا ہے مجھے\nتم کہو دیکھو کہ یہ مرگ ابد ہے کہ نہیں\nہاں میں اس پہ ہوں رضامند یہ کہنا ہے مجھے\nتم کہو جور زماں کی کوئی حد ہے کہ نہیں\nمجھ پہ ہر راہ ہوئی بند یہ کہنا ہے مجھے\nتم کہو زندہ گرفتار لحد ہے کہ نہیں\nہاں گرفتار ہوں دو چند یہ کہنا ہے مجھے\nتم کہو نعمت ہستی سے یہ کد ہے کہ نہیں\n\nتم میری زیست کے ویرانے میں پرتو ہو خیابانوں کا\nمیں تو صرصر ہوں کہ ویرانوں سے کیا میل خیابانوں کے\nتم تو ہو نغمۂ شب تاب مرے اجڑے شبستانوں کا\nمیں تو شیون ہوں کہ شیون ہیں نشاں ایسے شبستانوں کے\nتم نیا روپ رچاؤ نیا سنگار ہو میرے نئے ارمانوں کا\nمیں تو ہوں خون تمنا کہ سدا خون ہوا کرتے ہیں ارمانوں کے\nتم تو امرت ہو ملالوں کے الاؤ میں جلی جانوں کا\nمیں نہیں راکھ بھی کیا اور نشاں ہوں گے ملالوں سے جلی جانوں کے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "پری پیکر جو مجھ وحشی کا پیراہن بناتے ہیں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پری پیکر جو مجھ وحشی کا پیراہن بناتے ہیں\nگریباں چاک کر دیتے ہیں بے دامن بناتے ہیں\n\nجنوں میں جا بجا ہم جو لہو روتے ہیں صحرا میں\nگلوں کے شوق میں ویرانے کو گلشن بناتے ہیں\n\nجنہیں عشق دلی ہے وہ تمہارا نام جپنے کو\nطہارت سے ہماری خاک کی مسرن بناتے ہیں\n\nمرقع کھینچتے ہیں جو ترے گنج شہیداں کا\nتہہ شمشیر ہر تصویر کی گردن بناتے ہیں\n\nدیا کرتے ہو تم جس طرح سے بل زلف پیچاں کو\nمسافر کے لیے یوں پھانسیاں رہزن بناتے ہیں\n\nحسینان چمن پر خاتمہ ہے جامہ زیبی کا\nپھٹا پڑتا ہے جوبن جو یہ پیراہن بناتے ہیں\n\nہمیشہ شیفتہ رکھتی ہے اپنی حسن قدرت کا\nخود اس کی روح ہو جاتے ہیں جس کا تن بناتے ہیں\n\nارادہ ہے جو شمشیر دو دم کے منہ پہ چڑھنے کا\nترے جاں باز چار آئینہ و جوشن بناتے ہیں\n\nرہا کرتے ہیں وہ دل میں پھرا کرتے ہیں نظروں میں\nعطا کرتے ہیں نور آنکھوں کو دل روشن بناتے ہیں\n\nصلاح عشق دے دے کر کیے دیتے ہیں خود رفتہ\nترے شیدائی دل سے دوست کو دشمن بناتے ہیں\n\nکوئی چاک جگر بلبل کا گل چینوں سے پاتا ہے\nنکھرنے کو گل اپنے اپنے پیراہن بنانے ہیں\n\nگلوں کے ڈھیر لا لا کے چمن سے اس میں پھونکیں گے\nقریب بوستاں بیداد گر گلخن بناتے ہیں\n\nمدد تیار ہے نقشہ ارم کا کھنچ کے آیا ہے\nشہید ناز پر رحم آ گیا مدفن بناتے ہیں\n\nمرقع کھینچتے ہیں باغ کا جو حسن قدرت سے\nگل شاداب کا کیا رنگ کیا روغن بناتے ہیں\n\nتعلق زیب و زینت سے نہیں کچھ خاکساروں کو\nشرفؔ مٹی میں رنگتے ہیں جو پیراہن بناتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%88%D8%AD%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%86_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پریشان اے زلف بہر دم نہ ہو", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پریشان اے زلف بہر دم نہ ہو\nسنان مژہ کی تو پرچم نہ ہو\n\nطبیبو یہی آرزو ہے مجھے\nسر داغ پر پائے مرہم نہ ہو\n\nمرا حال درہم نہ ہو اس قدر\nجو زلف سیہ اس کی برہم نہ ہو\n\nجفا کار ہو تیری دولت زیاد\nمرا آہ و نالہ کبھی کم نہ ہو\n\nجلوں شمع ساں گرمیٔ عشق سے\nدم سرد میرا جو بے دم نہ ہو\n\nوہی دم دم آخری ہو مرا\nتری یاد میں صرف جو دم نہ ہو\n\nصفا پروراں شعلہ رو مل چکا\nکبھی آگ اور پانی باہم نہ ہو\n\nلبوں پر ترے دانت تو ہے مگر\nڈروں ہوں کہیں یہ شکر سم نہ ہو\n\nسدا رو بہ رو ہے وہ خورشید رو\nکبھی خشک یہ دیدۂ نم نہ ہو\n\nنہ سجدہ کرے کوئی محراب کو\nسر اس کا تواضع سے گر خم نہ ہو\n\nغم اس کا جو ہو خانہ پرداز دل\nتو ؔجوشش کسی چیز کا غم نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86_%D8%A7%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%A8%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "پریشانی کا سبب", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "دھواں", "year": "1941", "text_ur": "نعیم میرے کمرے میں داخل ہوا اور خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گیا۔ میں نے اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور اخبار کی آخری کاپی کے لیے جو مضمون لکھ رہا تھا اس کو جاری رکھنے ہی والا تھا کہ معًا مجھے نعیم کے چہرے پر ایک غیر معمولی تبدیلی کا احساس ہوا۔ میں نے چشمہ اتار کر اس کی طرف پھر دیکھا اور کہا،’’کیا بات ہے نعیم؟ معلوم ہوتا ہے تمہاری طبیعت ناساز ہے۔‘‘\n\nنعیم نے اپنے خشک لبوں پر زبان پھیری اور جواب دیا، ’’کیا بتاؤں، عجیب مشکل میں جان پھنس گئی ہے۔ بیٹھے بٹھائے ایک ایسی بات ہوئی ہے کہ میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔‘‘ میں نے کاغذ کی جتنی پرچیاں لکھی تھیں جمع کرکے ایک طرف رکھ دیں اور زیادہ دلچسپی لے کر اس سے پوچھا، ’’کوئی حادثہ پیش آگیا۔۔۔فلم کمپنی میں کسی ایکٹرس سے۔‘‘نعیم نے فوراً ہی کہا،’’ نہیں بھائی، ایکٹرس و یکٹرس سے کچھ بھی نہیں ہوا۔ ایک اور ہی مصیبت میں جان پھنس گئی ہے۔ تمہیں فرصت ہو تو میں ساری داستان سناؤں۔‘‘\n\nنعیم میرا دوست ہے۔ جب سے وہ بمبئی آیا ہے، اس سے میری دوستی چلی آرہی ہے۔ وہ یوں کہ بمبئی آتے ہی اس نے میرے اخبار میں کام کیا اور خود کو بہت سی اہلیتوں کا مالک ثابت کیا۔ پھر آہستہ آہستہ جب مجھے اس کے اعلیٰ خاندان کا پتا چلا اور اسی قسم کی دوسری واقفیتیں نکلتی آئیں تو میر دل میں اس کی عزت اور بھی زیادہ ہوگئی، چنانچہ چھ مہینے کے مختصر عرصے ہی میں وہ میرا بے تکلف دوست بن گیا۔\n\nنعیم نے میرے اخبار کو دلچسپ بنانے کے لیے مجھ سے زیادہ کوششیں کیں۔ ہر ہفتے جب اس نے ایک نئی کہانی لکھنی شروع کی اور میں نے اس کی تیار چار کہانیاں پڑھیں تو مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ اخبارمیں اگر نعیم پڑا رہاتو اس کی تمام ذکاوتیں تباہ ہو جائیں گی، چنانچہ میں نے موقعہ ملتے ہی ایک فلم کمپنی میں اس کی سفارش کی اور وہ مکالمہ نگار کی حیثیت سے فوراً ہی وہاں ملازم ہوگیا۔\n\nفلم کمپنی کی ملازمت کے دوران میں نعیم نے وہاں کے سیٹھوں اور ڈائریکٹروں پر کیسا اثر ڈالا، اس کے متعلق مجھے کچھ علم نہیں۔ میں بے حد مصروف آدمی ہوں لیکن نعیم سے ایک دو بار مجھے اتنا ضرور معلوم ہوا تھا کہ وہاں اس کا کام پسند کیا گیا ہے۔ اب ایکا ایکی نہ جانے کیا حادثہ پیش آیا تھا جو اس کا رنگ یوں ہلدی کی طرح زرد پڑ گیا تھا۔\n\nنعیم بے حد شریف آدمی ہے۔ اس سے کسی نامعقول حرکت کی توقع ہی نہیں ہوسکتی تھی، میں سخت متحیر ہوا کہ ایسی کون سی افتاد پڑی جو نعیم کسی کو اپنا منہ دکھانے کے قابل نہ رہا۔ میں نے اس سے اجازت لیکر جلدی جلدی آخری کاپی کے لیے مضمون کا بقایا حصہ مکمل کیا اور تمام پرچیاں کاتب کو دیکر اس کے پاس بیٹھ گیا،’’بھئی معاف کرنا میں فوراً ہی تمہاری داستان نہ سن سکا۔۔۔ لیکن میں پوچھتا ہوں یہ داستان آخر بنی کیسے۔۔۔ تم۔۔۔ تم۔۔۔ خیرچھوڑو اس قصّے کو، تم مجھے سارا واقعہ سناؤ۔‘‘\n\nنعیم نے جیب سے سگرٹ نکال کر سلگایا اور کہا، ’’اب میں تمہیں کیا بتاؤں، جوکچھ ہوا، میری اپنی بیوقوفی کی بدولت ہوا۔ ہماری فلم کمپنی میں ایک ایکٹر ہے۔ عاشق حسین اول درجے کا چغد ہے۔ چونکہ دوسروں کی طرح میں اسے ستاتا نہیں ہوں اس لیے وہ مجھ پر بری طرح فریفتہ ہے، یہ فریفتہ میں نے اس لیے کہا ہے کہ وہ مجھ سے اسی طرح باتیں کرتا ہے جس طرح خوبصورت عورتوں سے کی جاتی ہیں۔‘‘\n\nمیں ہنس پڑا، ’’پر تم اتنے خوبصورت تو نہیں ہو۔‘‘\n\nنعیم کے پیلے چہرے پر بھی ہنسی کی لال لال دھاریاں پھیل گئیں، ’’کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا ہے۔ دراصل وہ اپنے اخلاص اور اپنی بے لوث محبت کا اظہار کرنا چاہتا ہے اور چونکہ اسے ایسا کرنے کا طریقہ نہیں آتا اس لیے اس کا پیار وہی شکل اختیار کرلیتا ہے جو اس کو غالباً اپنی بیوی سے ہوگا۔۔۔ ہاں تو یہ عاشق حسین صاحب جو اول درجے کے رقاص ہیں اور رقص کے سوا اور کچھ بھی نہیں جانتے۔ پرسوں شوٹنگ کے بعد مجھے ملے۔ سیٹ پر میں نے ان کے مکالمے درست کرنے میں کافی محنت کی تھی، اس کا حق ادا کرنے کے لیے انھوں نے فوراً ہی کچھ سوچا اور کہا، ’’نعیم صاحب، میں آپ سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا، ’’فرمائیے۔‘‘ انھوں نے پھر کچھ سوچا اور کہا، ’’دن بھر کام کرنے کے بعد میں تھک گیا ہوں آپ بھی ضرور تھک گئے ہوں گے۔ چلیے، کہیں گھوم آئیں۔۔۔‘‘\n\nاب میں یہاں اپنی ایک کمزوری بتا دوں۔ موسم اگر خوشگوار ہو تو میں عموماً بہک جاتا ہوں۔ شام کا جھٹپٹا تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور فضا میں ایک عجیب قسم کی اداسی گھلی ہوئی تھی۔ جوان کنوارے آدمیوں کے دل میں ایسی اداسی ضرور موجود ہوتی ہے جو پھیل کر ایسے موقعوں پر بہت وسعت اختیار کرلیا کرتی ہے۔ میرے بدن پر ایک کپکپی سی طاری ہوگئی جب میں نے جوہو کے سمندری کنارے کا تصور کیا جہاں شام کو نم آلود ہوائیں یوں چلتی ہیں جیسے بھاری بھاری ریشمی ساڑھیاں پہن کر عورتیں چلتی ہیں۔۔۔ میں فوراً تیار ہوگیا۔\n\n’’چلیے، مگر کہاں جائیے گا۔‘‘ اب عاشق حسین نے پھر سوچا اور کہا، ’’کہیں بھی چلے چلیں گے۔۔۔ یہاں سے باہر تو نکلیں۔۔۔‘‘ ہم دونوں گیٹ سے باہر نکلے اور موڑ پر بس کا انتظار کرنے لگے۔‘‘\n\nیہاں تک کہہ کر نعیم رک گیا۔ اس کے چہرے کی زردی اب دور ہورہی تھی۔ میں نے اس کے پیکٹ سے ایک سگرٹ نکال کر سلگایا اور کہا، ’’تم دونوں گیٹ سے باہر نکل کر بس کا انتظار کرنے لگے۔‘‘\n\nنعیم نے سرہلایا، ’’اور شامتِ اعمال ادھر سے عاشق حسین کے ایک مارواڑی دوست کا گزر ہوا۔ وہ موٹر میں جارہا تھا کہ اچانک عاشق حسین کی نظر اس پر پڑی۔ فوراً ہی اس نے مارواڑی زبان میں اپنے دوست کو ٹھہرنے کے لیے کہا۔ موٹر رکی، عاشق حسین نے اس سے مارواڑی زبان میں چند باتیں کیں پھر دوڑ کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا، ’’چلیے، کام بن گیا۔ موٹر مل گئی اسی میں چلتے ہیں۔‘‘ میں چل پڑا۔\n\nموٹر میں داخل ہونے سے پہلے عاشق نے اپنے مارواڑی دوست سے جو شکل و صورت کے اعتبار سے ڈرائیور معلوم ہوتا تھا، تعارف کرایا اور حسبِ معمول مبالغے سے کام لیتے ہوئے کہا، ’’یہ مارواڑ کے بہت بڑے سیٹھ ہیں۔ یہاں ایک کاروبار کے سلسلے میں آئے ہیں۔ میرے بہت مہربان دوست ہیں۔‘‘ اور میرے متعلق اپنے دوست سے کہا، ’’یہ ہندوستان کے بہت بڑے اسٹوری رائٹر ہیں۔‘‘ ہندوستان کے بہت بڑے اسٹوری رائٹر اور مارواڑ کے بہت بڑے سیٹھ نے ہاتھ ملائے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ رسمی طور پر خوش ہوئے اور موٹر چلی۔۔۔‘‘\n\nیہ سن کر میں مسکرایا، ’’نعیم، اس مارواڑی سیٹھ کے متعلق تمہاری رائے بہت خراب معلوم ہوتی ہے۔ کیا آگے چل کر یہ ولن کا پارٹ ادا تو نہیں کرے گا۔‘‘\n\n’’تم پہلے پوری داستان سن لو۔ پھر سوچنا کہ ولن کون ہے اور ہیرو کون۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کہانی کی ہیروئن زہرہ ہے۔۔۔ زہرہ جس کو میں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ کل دادر کی ایک فوجداری عدالت میں دیکھا ہے۔۔۔ ایک مجرم کی حیثیت میں۔‘‘\n\nیہ کہتے ہوئے نعیم کے کان کی لویں شرم کے باعث سرخ ہوگئیں۔ داستان سننے کے دوران میں پہلی مرتبہ زہرہ کے اچانک ذکر سے مجھے سخت تعجب ہوا۔ میں نے کہا، ’’نعیم ۔ یہ تو بالکل الگزنڈرپو کا افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ زہرہ بالکل پو کے افسانوں کے غیر متوقع انجام کی طرح اس داستان میں آئی ہے۔ یہ عورت کون ہے؟‘‘\n\n’’میں قطعاً نہیں جانتا، یعنی اگر مجھے اس عورت کے متعلق کچھ علم ہوتو مجھ پر لعنت۔ خدا معلوم کون ہے، پر اب میں اتنا جانتا ہوں کہ اس نے ہم لوگوں پر فوجداری مقدمہ دائر کررکھا ہے۔ جرم ڈاکہ اورچوری ہے۔‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا، ’’ڈاکہ اور چوری۔‘‘نعیم کے لہجہ نے ایسی متانت اختیار کر لی جس میں روحانی اذیت کی جھلک صاف دکھائی دیتی تھی۔ کہنے لگا،’’ ہاں، ڈاکہ اور چوری۔ مجھے دفعات اچھی طرح یاد نہیں مگر ان کا مطلب یہی ہے کہ ہم نے مداخلت بیجاکی، زہرہ کے گھر پر ڈاکہ ڈالا۔ اور اس کی چند قیمتی اشیا چرا کر لے گئے، لیکن یہ تو داستان کا انجام ہے۔ پہلے کے واقعات تمہیں سنا لوں پھر اس طرف آتا ہوں۔۔۔ میں کیا کہہ رہا تھا؟‘‘\n\nمیں نے جواب دیا، ’’یہ کہ تم اس مارواڑی کی موٹر میں بیٹھ گئے۔‘‘\n\n’’ہاں میں عاشق حسین کے کہنے پر اس منحوس مارواڑی کی موٹر میں بیٹھ گیا۔ موٹر وہ خود چلا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اگلی سیٹ پر ایک اورآدمی بیٹھا تھا جو اس سے کم منحوس نہیں تھا۔ عاشق حسین نے شاید اس کے متعلق کہا تھا کہ وہ موٹریں بنانے کا کام کرتا ہے۔ خیر موٹر مختلف بازاروں سے ہوتی ہوئی دادر کی طرف جانکلی۔ ظاہر تھا کہ ہم جوہو جائیں گے، چنانچہ میں بہت خوش تھا۔ جوہو کی گیلی گیلی ریت سے مجھے بے حد پیار ہے ،کبھی کبھی ادھر جا کر میں گیلی ریت پر ضرور لیٹا کرتا ہوں اور دیر تک کھلے آسمان کی طرف دیکھا کرتا ہوں جو اتنا ہی پراسرار اور ناقابلِ رسا دکھائی دیتا ہے جتنا کہ ایک اجنبی عورت کا تصور۔۔۔\n\nسامنے رات کی سرمئی روشنی میں سمندر کروٹیں لیتا ہے، اوپر گدلے آسمان پر تارے یوں چمکتے ہیں جیسے انہونی باتیں کسی جوان آدمی کے دل میں ٹمٹما رہی ہوں۔ ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے۔دور، اس پار جہاں آسمان اور سمندر کوئی واضح خط بنائے بغیر آپس میں گھل مل جاتے ہیں، ایک ایسی دھندلی روشنی نظر آیا کرتی ہے جو خوبصورت شعروں کی طرح مصنوعی ہوتی ہے۔۔۔ میں جوہو کی سیر کے خیال میں مگن تھا کہ عاشق حسین نے موٹر کو دادر ہی میں ایک جگہ ٹھہرا لیا اور مجھ سے کہا،’’چلیے، کچھ پی لیں۔‘‘\n\nجیسا کہ تمہیں معلوم ہے، بیئر مجھے پیاری ہے۔ عاشق حسین کو خدا معلوم کہاں سے اس بات کا پتا چلا تھا کہ میں پیا کرتا ہوں۔۔۔۔ خیر، ہم چاروں یار بار میں داخل ہوئے۔ ایک بوتل بیئر کی میں نے پی اور ایک عاشق حسین نے۔ مارواڑی سیٹھ اور موٹریں بنانے والے نے کچھ نہ پیا۔ ہم جلدی ہی فارغ ہوگئے۔ پھر موٹر میں بیٹھے اور جوہو کا رخ کیا مگر فوراً ہی عاشق حسین کو ایک کام یاد آگیا،’’اوہ مجھے تو اپنی شاگرد زہرہ کے ہاں جانا ہے۔ آج اس سے ملنے کا میں نے وعدہ کیا تھا۔۔۔ نعیم صاحب اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو پانچ منٹ لگیں گے۔ اس کا مکان بالکل قریب ہے۔‘‘ مجھے کیا اعتراض ہو سکتا تھا، چنانچہ اس نے موٹر ایک گلی میں ٹھہرا لی اور اکیلا سامنے والے مکان کی طرف بڑھا۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا، ’’یہ گلی کس طرف ہے؟‘‘\n\nنعیم نے جواب دیا، ’’دادر ہی میں ہے۔۔۔ ادھر جہاں پارسیوں کے بے شمار مکان ہیں، غالباً اس محلے کو پارسی کالونی کہتے ہیں۔\n\n۔۔۔ ہاں تو عاشق حسین موٹر سے نکل کر سامنے مکان کی طرف بڑھا۔ ایک چھوٹا سا دومنزلہ مکان تھا۔ بغیچہ طے کرکے عاشق نے دروازہ پر دستک دی۔ جب کسی نے دروازہ نہ کھولا تو عاشق نے دوسری بار زور سے دستک دی۔ اندر سے کسی عورت کی آواز آئی، ’’کون ہے؟‘‘ عاشق حسین نے بلند آواز میں جواب دیا، ’’عاشق۔‘‘ اندر سے خشم آلود آواز آئی،’’عاشق کی۔۔۔۔‘‘ عاشق حسین نے یہ گالی سن کر ہماری طرف دیکھا اور زور سے دروازہ کھٹکھٹانا اور یہ کہنا شروع کیا، ’’دروازہ کھولو۔۔۔ دروازہ کھولو۔‘‘\n\nیہ سن کر میں نے کہا، ’’اس عورت نے شاید عاشق کا غلط مطلب سمجھا، ورنہ جیسا کہ تم ابھی کہہ چکے ہو وہ عاشق کی شاگرد تھی۔‘‘\n\n’’جانے بلا، کیا تھی اور کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ عاشق حسین نے جھوٹ ہی بولا ہو اور بیئر کی ایک بوتل پینے کے بعد زہرہ کا خیال اس کے دماغ میں آگیا ہو۔ کسی نے اس سے کبھی کہا ہوگا کہ فلاں نمبر کے فلیٹ میں ایک عورت زہرہ رہتی ہے۔۔۔ لیکن اس سے کیا بحث ہے۔۔۔ عاشق حسین نے اودھم مچانا شروع کردی۔ اندر سے گالیاں آتی رہیں اور پیشتر اس کے کہ میں اسے منع کرسکتا، تین چار دھکے مارکر اس نے دروازہ توڑا اور زبردستی اندر داخل ہوگیا۔ جب یہ شور ہوا تو آس پاس کے رہنے والے پارسی اکٹھے ہوگئے۔ میں بے حد پریشان ہوا، چنانچہ اسی پریشانی میں موٹر سے باہر نکلا اور عاشق کو باہر لانے کی خاطر اس مکان میں داخل ہوگیا۔\n\nمیرے پیچھے پیچھے عاشق کے دونوں ساتھی بھی چلے آئے۔ میں نے اس فلیٹ کے تینوں کمرے دیکھے مگر نہ عاشق نظر آیا نہ اس کی شاگرد زہرہ۔ خدا معلوم کہاں غائب ہوگئے تھے۔ گھر کے پرلی طرف دوسرا راستہ تھا، ممکن ہے وہ ادھر سے باہر نکل گئے ہوں۔ میں چند منٹ ان تین کمروں میں رہا۔ جب کوئی سراغ نہ ملا تو باہر نکل کر موٹر میں بیٹھ گیا۔ وہ پارسی جو گلی میں جمع ہوگئے تھے گھور گھور کر میری طرف دیکھنے لگے۔ میں اور زیادہ پریشان ہوگیا۔ بیئر کا سارا نشہ جو دماغ میں تھا اتر کر میری ٹانگوں میں چلا آیا۔ میرے جی میں آئی کہ عاشق اس کے ساتھیوں اور ان کی موٹر کو وہیں چھوڑ کر بھاگ جاؤں مگر۔۔۔ عجب مشکل میں میری جان پھنس گئی تھی۔ اگر بھاگنے کی کوشش کرتا تو یقیناً وہ پارسی، جو مجھے چڑیا گھر کا بندر سمجھ کر گھور رہے تھے پکڑ لیتے۔\n\nدس بارہ منٹ اسی شش و پنج میں گزرے۔ اس کے بعد عاشق اور اس کے دونوں دوست مکان میں سے باہر نکلے اور موٹر میں بیٹھ گئے۔ میں نے عاشق سے کوئی بات نہ پوچھی۔ موٹرچلی اور جب دادر کا حلقہ آیا تو میں نے اس سے کہا، ’’مجھے یہیں اتار دو، میں بس میں گھر چلا جاؤں گا۔‘‘ عاشق کے دماغ سے جوہو کی سیر کا خیال نکل گیا تھا، اس نے اپنے مارواڑی دوست سے موٹر روکنے کے لیے کہا، چنانچہ میں ان سے رخصت لے کر گھر چلا آیا اور اس واقعہ کو بھول گیا۔‘‘\n\nنعیم نے ایک سگریٹ اور سلگایا اور کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگیا۔ میں نے پوچھا، ’’اس کے بعد کیا ہوا؟‘‘\n\n’’مجھے گرفتار کرلیا گیا۔ ‘‘نعیم نے بڑی تلخی کے ساتھ کہا،’’اس بیوقوف کے بچے عاشق حسین سے جب پولیس والوں نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ اور کون تھا تو اس نے اپنے مارواڑی دوست، اس موٹر بنانے والے کا اور میرا نام لے دیا۔۔۔ ہم تینوں ایک گھنٹے کے اندر اندر گرفتار کرلیے گئے۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا، ’’یہ کب کی بات ہے۔۔۔؟تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی۔‘‘\n\nنعیم نے جوا ب دیا، ’’کل دو ڈھائی بجے کے قریب ہماری گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ میں نے تمہیں ٹیلی فون پر ضرور مطلع کیا ہوتا اگر میرے حواس بجا ہوتے۔ بخدا میں سخت پریشان تھا۔ پولیس انسپکٹر ٹیکسی میں ہم سب کو تھانے لے گیا۔ وہاں بیانات قلم بند ہوئے تو مجھے پتاچلا کہ عاشق حسین کے وہ مارواڑی دوست جو کسی کاروبار کے سلسلے میں یہاں آئے تھے زہرہ کا پنکھا اٹھا کر اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ بجلی کا یہ پنکھا پولیس نے ان سے حاصل کرلیا تھا۔‘‘\n\nیہ سن کر میں نے تشویش ناک لہجہ میں کہا، ’’اس سے تو چوری صاف ثابت ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’چوری ثابت ہوتی ہے جبھی تو میں اس قدر پریشان ہوں اور سچ پوچھو تو اگر یہ ثابت نہ بھی ہوتی تو میری پریشانی اسی قدر رہتی۔ تھانے اور عدالت میں جانا بے حد شرم ناک ہے، پر اب کیا کیا جائے۔ جو ہونا تھا، ہو چکا ہے۔ اس خفت سے چھٹکارا نہیں مل سکتا جو مجھے اٹھانا پڑے گی اور اٹھانا پڑ رہی ہے۔ میں بالکل بے گناہ ہوں یعنی ظاہر ہے کہ زہرہ کو میں بالکل نہیں جانتا، اس کے مکان پر میں اگر گیا تو محض عاشق حسین کی وجہ سے، اس چغد کے کہنے پر جو ایک بوتل بیئر بھی ہضم نہیں کرسکتا۔‘‘\n\nنعیم کے چہرے پر نفرت اور غصے کے ملے جلے جذبات دیکھ کر مجھے بے اختیارہنسی آگئی، ’’بھئی، بہت برے پھنسے۔‘‘نعیم نے اسی انداز میں کہا،’’ ہنسی میں پھنسی اسی کو کہتے ہیں۔۔۔ کل۔۔۔ اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ میں نے عدالت کا منہ دیکھا اوروہ زہرہ بھی پہلی مرتبہ مجھے نظر آئی۔‘‘\n\nمیں نے فوراً ہی پوچھا، ’’کیسی ہے؟‘‘\n\nنعیم نے بے پروائی سے جواب دیا، ’’بری نہیں، یعنی شکل صورت کے اعتبار سے خاصی ہے۔۔۔ بیضوی چہرہ ہے جس پر کیلوں اور مہاسوں کے داغ نظر آتے ہیں۔ لمبے لمبے کالے بال ہیں۔ پیشانی تنگ ہے۔ جوان ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حال ہی میں اس نے یہ دھندا شروع کیا ہے۔‘‘\n\nمیں نے بغیر کسی مطلب کے یوں ہی پوچھا، ’’کیسا دھندا؟‘‘\n\nنعیم شرما سا گیا، ’’ارے بھئی، وہی جو عورتیں کرتی ہیں۔۔۔ زہرہ کے چہرے پر اس کی چھاپ دور سے نظر آسکتی ہے۔۔۔ مجھے اس عورت پر اتنا غصہ کبھی نہ آتا مگر جب مجسٹریٹ نے میری طرف اشارہ کرکے پوچھا،’’ تم اس کو پہچانتی ہو؟ ‘‘تو زہرہ نے میری طرف اپنی بڑی بڑی دھلی ہوئی آنکھوں سے دیکھ کر کہا،’’ ہاں صاحب پہچانتی ہوں۔ اسی نے میرا چاندی کا ٹی سیٹ اٹھایا تھا۔ ‘‘جب اس نے یہ جھوٹ بولا تو خدا کی قسم جی میں آئی ملعونہ کے حلق میں کٹہرے کا ایک ڈنڈا نکال کر ٹھونس دوں۔ اتنا بڑا جھوٹ!!‘‘\n\nاس پر میں نے کہا، ’’بھئی جھوٹ تو بولے گی۔۔۔ اس کے بغیر کام کیسے چلے گا۔ اسے اپنا کیس مضبوط بھی تو بنانا ہے۔۔۔ اب تو تمہیں قہردرویش برجان درویش سب کچھ سننا پڑے گا۔‘‘\n\n’’ٹھیک ہے۔‘‘ نعیم نے بڑی پریشانی کے ساتھ کہا، ’’جوکچھ ہوگا اسے ہر حالت میں سہنا ہی پڑے گا مگر۔۔۔ مگر۔۔۔ میں کیا بتاؤں میں کس قدر پریشان ہوگیا ہوں، کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ اگر کسی مرد نے مجھ پر ایسا مقدمہ دائر کیا ہوتا تومجھے اتنی پریشانی نہ ہوتی مگر ذرا غور تو کرو، وہ عورت ہے۔۔۔ اور میں عورتوں کی تعظیم کرتا ہوں۔‘‘\n\nمیں نے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘ نعیم نے بڑی سادگی سے جواب دیا، ’’اس لیے کہ میں عورتوں کو جانتا ہی نہیں۔ کسی عورت سے ملنے اور اس سے کھل کر بات چیت کرنے کا مجھے کبھی موقعہ ہی نہیں ملا۔ اب زندگی میں پہلی مرتبہ عورت آئی ہے تو مدعی بن کر۔‘‘میں نے ہنسنا شروع کردیا۔ نعیم نے اس پر بگڑ کر کہا،’’ تم ہنستے ہو مگر یہاں میری جان پر بنی ہے۔۔۔ دو دن سے میں کمپنی نہیں جارہا۔۔۔ وہاں یہ بات ضرور پہنچ چکی ہوگی۔ سیٹھ صاحب کے سامنے میں کیا منہ لے کے جاؤں گا۔ انھوں نے اگر کچھ پوچھا تو میں کیا جواب دوں گا۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’جواصل بات ہے ان کو بتا دینا۔‘‘\n\n’’وہ تو میں بتا ہی دوں گا مگر خدا کے لیے سوچو تو سہی کہ میری پوزیشن کیا ہے۔۔۔ میں سیٹھ صاحب کی بے حد عزت کرتا ہوں اس لیے کہ وہ میرے آقا ہیں، اگر انھوں نے مجھے بدکردار سمجھ کر برطرف کردیا تو عمر بھر کے لیے میں داغ دار ہو جاؤں گا۔ ملازمت کھونے کا مجھے اتنا افسوس نہیں ہوگا مگر یہاں سوال عزت و ناموس کا ہے۔ وہ ضرور بدگمان ہو جائیں گے۔ میں ان کی طبیعت سے اچھی طرح واقف ہوں، میری سچی باتوں کو بھی وہ جھوٹا ہی سمجھیں گے۔ فلم کمپنی میں ہر شخص جھوٹ بولتا ہے۔ وہ خود بھی ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں۔۔۔ اب میں کیا کروں۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘\n\nمیں نے ہر ممکن طریقے سے نعیم کی اخلاقی جرأت بڑھانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ وہ بے حد ڈرپوک ہے۔ خاص کر عورتوں کے معاملے میں تو اس کی بزدلی بہت ہی زیادہ ہے۔ دراصل معاملہ بھی سنگین تھا، اگر برقی پنکھا برآمد نہ ہوتا تو کیس بالکل معمولی رہ جاتا۔ مگر پولیس اس مارواڑی سے پنکھا حاصل کرچکی تھی اس لیے ظاہر ہے کہ زہرہ ایک حد تک سچی تھی۔\n\nنعیم زیادہ دیر تک میرے پاس نہ ٹھہرا اور چلا گیا۔ دوسرے روز شام کو وہ پھرآیا۔ اس کی پریشانی اور بھی زیادہ بڑھی ہوئی تھی۔ آتے ہی کہنے لگا۔ ’’بھائی ایک مصیبت میں تو جان پھنسی تھی، اب ایک اور آفت گلے پڑ گئی ہے۔ ‘‘میں نے تشویش کے ساتھ کہا،’’ کیا ہوا۔۔۔؟ کیا کوئی اور کیس کھڑا ہوگیا۔‘‘\n\n’’نہیں، کیس وہی ہے، مگر ایک ایسی بات ہوئی ہے جو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔‘‘ نعیم نے کرسی پر بیٹھ کر اضطراب کے ساتھ ٹانگ ہلانا شروع کی۔ ’’آج صبح سیٹھ صاحب نے مجھے بلانے کے لیے موٹر بھیجی۔ مجھے جانا ہی پڑا۔ حالانکہ میں ارادہ کرچکا تھا کہ کبھی نہیں جاؤں گا۔ بخدا فلم کمپنی میں داخل ہوتے وقت میری حالت وہی تھی جو حساس ملزموں کی ہوتی ہے۔ شرم کے مارے میرا حلق سوکھ رہا تھا۔ سربھاری ہوگیا تھا۔ نیچی نظریں کیے جب میں سیٹھ صاحب کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ بڑے تپاک کے ساتھ انھوں نے پہلی مرتبہ میرے ساتھ ہینڈ شیک کیا اور ہنس کر کہنے لگے،’’منشی صاحب، آپ نے کمال کردیا۔ آپ تو چھپے رستم نکلے۔ بیٹھیے تشریف رکھیے۔‘‘\n\nمیں ندامت میں غرق کرسی پربیٹھ گیا۔ وہ بھی بیٹھ گئے۔ پھر انھوں نے ایسی باتیں شروع کیں کہ میرے اوسان خطا ہوگئے۔ کہنے لگے، ’’آپ گھبراتے کیوں ہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا آپ بتائیے کہ یہ زہرہ ہے کیسی۔۔۔؟ کچھ اچھی ہے۔۔۔؟ بھئی آپ نے تو کمال کردیا۔ میں سنتا ہوں کہ آپ نے پی کر وہ دھمال مچائی کہ پارسی کالونی کے سب آدمی وہاں اکٹھے ہوگئے۔ کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ زہرہ کی ساڑی اتارکرلے گئے۔۔۔ پہلے بھی تو آپ اس کے ہاں آتے جاتے ہوں گے، پھر حرام زادی نے پولیس میں رپورٹ کیوں لکھوائی، پر کیا پتا ہے آپ نے بہت زیادہ شرارتیں کی ہوں۔۔۔‘‘\n\nایسی ہی بے شمار باتیں انھوں نے مجھ سے کیں۔ میں خاموش رہا۔ اس کے بعد انھوں نے چائے منگوائی۔ ایک پیالہ میرے لیے بنایا اور پھر وہی گفتگو شروع کر دی، ’’چاندی کا ٹی سیٹ جو آپ اٹھا کر لے گئے تھے، مجھے اگر آپ پریزنٹ کردیں تو میں ابھی آپ کو اپنے وکیل کے پاس لے چلتا ہوں، ایسی اچھی وکالت کرے گا کہ زہرہ کی طبیعت صاف ہو جائے گا۔۔۔ میں سنتا ہوں زہرہ شکل صورت کی اچھی ہے، تو بھئی اس مقدمے کے بعد اسے لے آؤنا، اپنی فلم میں اسے کوئی چھوٹا سال رول دے دیں گے۔۔۔ اور ہاں، یہ آپ نے اچھا کیا کہ اسی کی شراب پی اور اسی کی چیزیں اڑا کر لے گئے۔۔۔! پر آپ ایک درجن آدمی اپنے ساتھ کیوں لے گئے تھے؟ بیچاری اتنے آدمی دیکھ کر گھبرا گئی ہوگی۔‘‘ بات بات پر وہ ہنستے تھے جیسے گفتگو کے لیے انھیں ایک نہایت ہی دلچسپ موضوع مل گیا ہے۔ تعجب ہے کہ اس سے پہلے انھوں نے کبھی میرے سلام کا جواب بھی نہیں دیا تھا۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’تو کیا ہوا،تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ وہ تم پر ناراض نہ ہوئے۔‘‘ نعیم بگڑ کر کہنے لگا، ’’یہ بھی تم نے خوب کہا کہ مجھے خوش ہونا چاہیے۔ وہ مجھے مجرم سمجھ رہے تھے جو کہ میں نہیں ہوں۔۔۔ میں کیا کہہ سکتا تھا۔ خاموش رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد انھوں نے خزانچی کو بلایا اور مجھے سو روپے ایڈوانس دلوائے حالانکہ دو مہینے سے کسی ملازم کو تنخواہ نہیں مل رہی۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’تو کیا برا ہوا؟‘‘\n\n’’ارے بھئی تم ساری بات تو سن لو،’’ نعیم کھنچ گیا، ’’سو روپے دلوا کر انھوں نے کہا یہ آپ اپنے پاس رکھیے آپ کو مقدمہ کے لیے ضرورت ہوگی۔ وکیل کا بندوبست میں ابھی کیے دیتا ہوں۔‘‘ ٹیلی فون پر انھوں نے فوراً ہی وکیل سے بات کی۔ پھر مجھے اپنی موٹر میں بٹھا کر اس کے پاس لے گئے۔ ساری باتیں اس کو سمجھائیں اور کہا،’’دیکھیے، اس مقدمہ میں جان لڑا دیجیے گا۔۔۔ بات بالکل معمولی ہے، اس لیے کہ منشی صاحب سے زہرہ کے تعلقات بہت پرانے ہیں۔۔۔‘‘ میں کیا کہتا۔ وہاں بھی خاموش رہا۔\n\n’’میں نے ہنس کر نعیم سے کہا،’’ اب بھی خاموش رہو۔ تمہارا کیا بگڑ گیا ہے؟‘‘\n\nنعیم اٹھ کھڑا ہوا اور اضطراب کے ساتھ ٹہلنے لگا،’’ ابھی کچھ بگڑا ہی نہیں۔ عدالت میں مجھے بیان دینا پڑے گا کہ زہرہ میری داشتہ ہے اور میں اسے ایک مدت سے جانتا ہوں۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔ سیٹھ صاحب نے آج شام مجھے مدعو کیا ہے۔ کہتے تھے گرین چلیں گے۔ وہاں کچھ شغل رہے گا۔۔۔ میری جان عجب مصیبت میں پھنس گئی ہے۔۔۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا ہورہا ہے۔۔۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A8%D8%A8"} {"title": "پریشانی ہے جی گھبرا رہا ہے", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پریشانی ہے جی گھبرا رہا ہے\nکوئی دھیمے سروں میں گا رہا ہے\n\nکہوں کیا حال ناکام محبت\nتمناؤں سے جی بہلا رہا ہے\n\nکوئی شب کی خموشی میں ہے گریاں\nتصور میں کوئی سمجھا رہا ہے\n\nتصور کی یہ مقصد آفرینی\nمیں سمجھا کوئی سچ مچ آ رہا ہے\n\nجو رستہ خلد میں نکلا ہے جا کر\nوہ دوزخ سے نکل کر جا رہا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "پریشاں کاروبارِ آشنائی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "پریشاں کاروبارِ آشنائی\nپریشاں تر مری رنگیں نوائی!\nکبھی مَیں ڈھونڈتا ہوں لذّتِ وصل\nخوش آتا ہے کبھی سوزِ جُدائی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D9%90_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "پریشاں کیوں نہ ہو جاوے نظارا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پریشاں کیوں نہ ہو جاوے نظارا\nاس آرائش نے دل پر نقش مارا\n\nیہ مشاطہ بلائے تازہ لائی\nمجعّد کر دیا سر اس کا سارا\n\nہزاروں چوٹیاں ننھی تھیں اور بال\nنہ کیوں تخت اپنا لٹوا دے ہزارا\n\nگداز آہن دلوں کو حسن جب دے\nنہ ہووے آب کیوں کر سنگ خارا\n\nکہیں دیکھا ہے اس ہیئت کا معشوق\nنظر کیجو مسلماناں! خدا را\n\nبلے اے مصحفیؔ دیگر چہ گویم\nادائے موئے مانی کشت مارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%92_%D9%86%D8%B8%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "پریشاں ہوکے میری خاک آخر دل نہ بن جائے\nجو مشکل اب ہے یا رب پھر وہی مشکل نہ بن جائے\n\nنہ کر دیں مجھ کو مجبورِ نوا فردوس میں حُوریں\nمرا سوزِدُروں پھر گرمیِ محفل نہ بن جائے\n\nکبھی چھوڑی ہُوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو\nکھٹک سی ہے جو سینے میں، غمِ منزل نہ بن جائے\n\nبنایا عشق نے دریائے ناپیدا کراں مجھ کو\nیہ میری خود نِگہداری مرا ساحل نہ بن جائے\n\nکہیں اس عالمِ بے رنگ و بُو میں بھی طلب میری\nوہی افسانۂ دُنبالۂ محمل نہ بن جائے\n\nعروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں\nکہ یہ ٹُوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "پریم کی چوڑیاں", "poet_page": "مصنف:اعظم کریوی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "نور پور گنگا جی کے کنارے الہ آباد کے ضلع میں ایک چھوٹا ساگاؤں ہے۔ پنڈت گردہاری لال اس گاؤں کے زمیندار تھے۔ راماشنگر ان کا اکلوتا لڑکا تھا۔ کھیتی باڑی میں بڑی برکت تھی۔ گھر میں غلہ کاانبار لگا رہتا تھا۔ کسی بات کی کمی نہ تھی۔ پنڈت رام لال کا لڑکا رام جیاون ذات کا برہمن تھا۔ کسی زمانہ میں اس کے خاندان میں بھی لکشمی دیوی کا راج تھا۔ لیکن غدر میں ان کا خاندان تباہ ہوگیا۔ جب اس نے ہوش سنبھالا تو وہ یتیم تھا۔ پنڈت گردہاری لال نے اس کی پرورش کی اور بڑے ہوتے ہی اپنے یہاں پیادوں میں نوکر رکھ لیا۔ رام جیاون بڑا کسرتی پہلوان تھا۔ گو اس کی عمر ۴۰ سال سے کچھ زیادہ ہوگئی تھی پھر بھی نور پورکا تو کیا ذکر آس پاس کے گاؤں میں بھی اس کی جوڑ کا کوئی دوسرا پہلوان نہ تھا۔ پنڈت گردہاری لال کے یہاں چار روپیہ ماہوار تنخواہ ملتی تھی۔ ہرفصل پر دس بارہ من اناج بھی مل جاتا تھا۔ گھر میں ایک اچھی ذات کی گائے تھی اس کے لیے بھوسہ آسامیوں سے مل جاتا تھا۔ جب پنڈت رام جیاون اکھاڑے میں ڈنڈپیل کر صبح کو اپنی گائے کا تازہ دودھ پی کر لمبی پگڑی باندھے ہوئے اور الٰہ آبادی موٹی لاٹھی کندھے پر رکھ کر گاؤں میں آسامیوں سے لگان وصول کرنے چلتے تو رعب چھا جاتا جو کام کسی اور پیادہ سے نہ ہوتا تو اسے رام جیاون مہراج کے سپرد کیا جاتا۔ گھر میں ان کی بیوی درگا اور ایک لڑکی پریم پیاری کے سوا اور کوئی نہ تھا۔\n\nرام شنکر اور پریم پیاری میں ایک سال کی چھوٹائی بڑائی تھی۔ راماشنکر کی پیدائش کے ایک سال کے بعد رام جیاون مہراج کے گھر میں لڑکی پیدا ہوئی تو راماشنکر کی ماں تییا نے لڑکی کا نام پریم پیاری رکھا۔ گاؤں میں ایسے نام کم رکھے جاتے ہیں لیکن زمینداروں کا نام رکھا ہوا کیسے بدلتا۔ پھر بھی رام پیاری کو لوگ پیار میں پریما کہنے لگے۔\n\nراماشنکر اور پریما پچپن ہی سے ایک جگہ اٹھے بیٹھے کھیلے کودے اور گروجی کے یہاں ایک ساتھ پڑھے۔ بھلا ان میں محبت کیوں نہ ہوتی۔ صبح کے وقت خاک دھول میں لت پت ہوکر گھروندے بنانا دونوں کا ایک نہایت پرلطف کھیل تھا۔ نور پور کے پرفضا میدان میں گنگا جی کے کنارے گڑیوں کا میلہ لگتا تو گریاں اپنے سسرال جاتیں۔ پریما ہاتھ پاؤں میں مہندی رچاتی، اپنی گڑیوں کو گہنے کپڑے سے سجاکر بداکرتی۔ گنگاجی کے کنارے جاتی تو راما بھی ساتھ جاتا اور جب پریما اپنی خوبصورت گڑیوں کو پانی میں پھینکتی تو راما اپنی خوش رنگ نیم کی چھڑی سے پریما کی گریوں کو پیٹتا اور خوب خوش ہوتا۔ بارہا ایسا اتفاق ہوا کہ کھیل ہی کھیل میں دونوں میں لڑائی ہوئی کوسا کاٹا مارا پیٹا اور پھر تھوڑی دیر میں ملاپ ہوگیا۔ پریما کے روٹھنے پر راما اس کی دل جوئی کرتا اور جب راما بگڑتا تو پریما اس کو منا لیتی۔ اسی طرح ہنسی خوشی میں بچپن کا کھیل ختم ہوگیا اور دونوں نے بہار عمر کے سہانے سبزہ زار میں قدم رکھا۔ پنڈت گردہاری لال کے ایک چچیرے بھائی گلزاری لال الہ آباد میں وکیل تھے۔ انھیں کے پاس راما کو انگریزی پڑھنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ الہ آباد جانے سے پہلے جب راما پریما سے ملا تو پریما نے کہا۔ ’’راما۔ دیکھو الہ آباد جاکر مجھے بھول نہ جانا۔‘‘\n\n’’پریما تیرا کدھر خیال ہے، میں تجھے بھول سکتا ہوں۔ میں جب الہ آباد سے آؤں گا تو تیرے لیے بڑی اچھی اچھی چیزیں لاؤں گا۔‘‘ الہ آباد سے کب آؤگے۔ ’’مہینہ میں ایک مرتبہ ضرور آؤنگا۔‘‘\n\nجب راما رخصت ہونے لگا تو اس نے دیکھا کہ پریما کی کنول کی سی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ہیں اس نے کہا پریما تو روتی کیوں ہے۔ پریما نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے جلدی سے اپنے آنچل سے آنسو پونچھ ڈالے اور بغیر کچھ کہے سنے اپنے گھر کے اندر بھاگ گئی۔\n\nراما جب نورپور ایسے چھوٹے گاؤں سے نکل کر الہ آباد ایسے بڑے شہر میں پہنچا تو اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ اپنے چچا کی عالیشان کوٹھی دیکھ کر راما کی نظر میں اپنے نور پور والے کچے مکان کی وقعت نہ رہ گئی۔ اس کا الہ آباد میں اتنا جی لگا کہ وہ عرصہ تک نور پور نہ گیا۔ اپنے نئے دوستوں سے مل کر وہ پریما کو بھول گیا۔ اس کے چچا نے اس کے لیے کوٹ پتلون اور انگریزی جوتہ بنوادیا۔ وہ فٹن پر سوار ہوکر شام کو خسروباغ کی سیر کرتا۔ ادھر تو راما شہر کی دلچسپیوں میں اپنی دیہاتی زندگی محو کیے تھا اور ادھر نور پور میں پریما اس کی یاد میں تڑپتی رہتی تھی۔ وہ روز شام کی ڈھلتی ہوئی چھاؤں میں اپنے گھر کے سامنے چبوترہ پر بیٹھ کر راما کی راہ دیکھا کرتی۔ بھنگ وار دھمنی کے چہچہوں سے جو قدرتی راگ پیدا ہوتا وہ ایک لمحہ بھر کے لیے بھی اس کو مسرور نہ کرسکتا۔ برسات کے موسم میں جب کالی کالی راتیں سر پر ہوتیں بجلی چمکتی بادل گرجتا۔ مور چنگہارتے۔ جھینگر الاپتے تو راما کی یاد میں پریما کی آنکھیں ساون بھادوں کی طرح جھڑیاں لگالیتیں۔\n\nخدا خدا کرکے گرمیوں کی چھٹیوں میں پورے ایک سال کے بعد راما الہ آباد سے واپس ہوا۔ جس وقت وہ گاؤں میں پہنچا دن ڈوب رہا تھا اور بھینسیں چراگاہ سے واپس ہو رہی تھیں۔ سورج دیوتا کی سنہری شعاعوں میں گائیں رنگی ہوئی ایسی معلوم ہوتی تھیں جیسے گنگا جی میں چمکتے ہوئے تارے۔ گوالے ’’برہا‘‘ گاتے ہوئے چلے آرہے تھے۔ کہیں کہیں پر چھوٹے چھوٹے بچے مٹی میں کھیل رہے تھے۔ گاؤں کی بہوئیں گھڑے لیے گنگاجی سے پانی بھرنے جارہی تھیں۔ ان میں سے ایک شوخ اور چنچل عورت نے گھونگھٹ کی اوٹ سے راما کو دیکھ کر اپنی ایک سہیلی سے کہا ’’اری! دیکھ تو یہ کون کرسٹان کا بچہ آگیا ہے‘‘ اس کی سہیلی نے غور سے راما کو دیکھ کر کہا ’’یہ تو راما ہے، کیا تو نہیں جانتی یہ ہمارے زمیندار کا لڑکا ہے۔‘‘ ارے یہ وہی راما ہے جو دھوتی کرتا پہنے گاؤں کے لڑکوں کے ساتھ کھیلتا پھرتا تھا، میں نے بالکل نہیں پہچانا تھا اور پہچانتی کیسے آج تو یہ انگریزی کپڑے پہن کر آیا ہے۔‘‘\n\nدیہاتی زندگی میں ایک برادرانہ انس ہوتا ہے جو شہری زندگی میں نہیں پایا جاتا۔ گاؤں کے چھوٹے بڑے، امیر و غریب سب اسی رشتہ میں بندھے رہتے ہیں۔ چنانچہ راما کے آنے کی خبر پاکر جگدیو لوہار، پھلی بنیا، رمضان جولاہہ، جگروا دھوبی، کالکا کاچھی، ادھین اہیر، رام جیاون مہاراج وغیرہ راما کو دیکھنے آئے اور دعا دے کر چلے گئے۔\n\nگاؤں میں بیٹھ کر راما کو پریما کی یاد آئی۔ رات تو کسی طرح سے اس نے بسر کی لیکن صبح اٹھتے ہی وہ اس کے مکان پر پہنچا۔ رام جیاون گنگا اشنان کرنے گئے ہوئے تھے۔ درگا دھان کوٹ رہی تھی، راما نے کہا ’’موسی! پرنام۔‘‘\n\nکون! راما! جیتے رہو بھیا، بھگوان تمہیں بنائے رکھیں، آؤ آؤ اچھے تو رہے، یہ کہتی ہوئی درگا نے آواز دی پریما! ارے او پریما۔ دیکھ تیرے راما بابو آئے ہیں۔ ان کو بیٹھنے کے لیے کچھ آسن تو دے۔ پریما چوکے میں دودھ گرم کر رہی تھی ماں کی آواز سن کر وہ جلدی سے اٹھی اور ایک کھٹولہ لاکر بچھا دیا۔ راما کو خیال تھا کہ پریما سامنے آتے ہی خوب گھل مل کر باتیں کرے گی۔ اس سے الہ آباد کاحال پوچھے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پریما بدن چرائے آنکھیں نیچی کیے ہوئے آئی اور کھٹولہ بچھاکر پھر چوکے میں واپس چلی گئی۔ راما نے درگا سے کہا، ’’موسی! پریما بھاگ کیوں گئی، مجھ سے باتیں کیوں نہیں کرتی۔‘‘\n\nدرگا نے چلاکر کہا پریما کہاں چلی گئی، ذرا ایک گلاس دودھ اور ملائی تو ڈال کر بھیا کو کھلادے (ہنس کر) پریما بڑی پگلی ہے تم کو جو سال بھر کے بعد دیکھا تو سامنےآتے ہوئے شرماتی ہے۔ دیہاتی لڑکیاں بڑی ناسمجھ ہوتی ہیں۔ راما ۔’’موسی میں بھی تو دیہاتی ہوں‘‘۔ درگا۔ بھیا تمہاری اور بات ہے تمہارا اور پریما کامقابلہ ہی کیا۔ تم پڑھے لکھے ہو، لیکن پریما تو بالکل گنوار ہے۔ بس وہی تمہارے ساتھ گروجی سے کچھ ہندی کتابیں پڑھی تھیں، کیا اتنے ہی سے وہ سمجھ دار ہوگئی۔ نہیں بھیا نہیں، وہ بڑی جاہل ہے۔ دیکھو نہ کئی مرتبہ پکار چکی ہوں لیکن ابھی تک دودھ لے کر نہیں آئی۔‘‘\n\nراما نے اٹھ کر کہا، اچھا تو موسی میں خود ہی اس کے پاس جاتا ہوں۔ دیکھوں تو وہ مجھ سے کیوں نہیں بولتی ہے۔ یہ کہتا ہوا راما چوکے میں گھسا اور درگا ہنس ہنس کر لوٹ گئی۔ ’’ہاں بھیا ہاں تو ضرور پریما کو ٹھیک بنائے گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے درگا نے پھر اپنا موسل اٹھایااور دھان کوٹنے لگی۔ جب راما چوکے میں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ پریما ایک گلاس میں دودھ لیے ہوئے سرجھکائے چپ چاپ کھڑی ہے۔ راما نے ہنس کر کہا، اوہو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا مجھے پہچانتی ہی نہیں۔ کہو اچھی تو رہیں۔‘‘ پریما نے دودھ سے بھرا ہوا گلاس اور ایک لٹیا میں جل بھر کر راما کے سامنے رکھ دیا اور پھر دیوار کا سہارا لے کر ایک طرف کو چپ چاپ کھڑی ہوگئی۔ لیکن کن انکھیوں سے راما کو دیکھتی جاتی تھی۔ راما نے کہا ’’نہ نہ پریما اس طرح سے کام نہیں چلے گا، جب تک تم نہ بولوگی میں تمہارے یہاں کوئی چیز نہ کھاؤں گا۔ تھوڑی دیر انتظار کرکے جب راما نے دیکھا کہ اس کا بھی کوئی جواب پریما نے نہیں دیا تو اس نے اداس ہوکر کہا، اچھا پریما نہ بولو۔ جب تم میری بات کا جواب نہیں دیتیں تو میں اب جاتا ہوں۔ یہ کہتا ہوا راما اٹھ کھڑا ہوا۔ اس وقت لجائی ہوئی پریما نے ایک عجیب انداز سے کسمساکر دھیمی آواز میں کہا ’’ہائے راما۔ تم تو نہ جانے کیا کہتے ہو‘‘۔ راما کھلکھلاکر ہنس پڑا۔ پریما کی آواز نے اس کا غنچۂ دل کھلا دیا۔ اب اس نے دودھ پی لیا اور ہنستا ہوا چوکے سے باہر نکل کر کہنے لگا موسی، آخرکار میں نے پریما سے بات چیت کرہی لی۔ اس کی ضد میں نے توڑ دی۔ درگا نے خوش ہوکر کہا وہ تمہارے ساتھ بچپن سے کھیلتی آئی ہے کہاں تک شرماسکتی ہے۔\n\nگھر سے باہر نکلتے ہوئے راما نے کہا ’’اوہو میں ایک بات بھول ہی گیا موسی، یہ دیکھو پریما کے لیے ایک جوڑہ چوڑیوں کا لایا ہوں۔ پریما کو دے دینا۔‘‘ چوڑیوں کو دیکھ کر درگا بہت خوش ہوئی۔ چوڑیاں تھیں تو کانچ کی لیکن اس قسم کی قیمتی اور خوبصورت چوڑیاں اس وقت تک گاؤں میں کسی کو نصیب نہ ہوئی تھیں۔\n\nدرگا کے بلانے پر پریما چوکے سے باہر نکلی۔ ’’دیکھ راما تیرے لیے کتنی خوبصورت چوڑیاں لایا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے درگا نے چوڑیاں پریما کی طرف بڑھائیں۔ پریما نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ان کو لیا اور دزدیدہ نگاہوں سے راما کی طرف دیکھا۔ زبان سے تو اس نے کچھ نہ کہا لیکن شرمیلی آنکھوں نے سوال کیا، کیوں جی! یہ چوڑیاں کانچ کی ہیں یا پریم کی؟‘‘ راما نے بھی اس کا مطلب سمجھ لیا اور اشاروں میں جواب دیا ’’یہ پریم کی چوڑیاں ہیں۔‘‘\n\nآسمان نے کروٹ لی، زمین نے موسم پلٹے اور دیکھتے ہی دیکھتے ۵برس گزر گئے۔ اس دوران میں پنڈت گردہاری لال اور مہاراج رام جیاون بیکنٹھ سدھارے۔ راما اب ایک وجہیہ لحیم شحیم جوان تھا۔ اس کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا اور اس نے اپنی زمینداری کا کام سنبھالا۔ لین دین بہی کھاتہ اس کے ہاتھ میں آیا تو اس کے مزاج میں رعونت پیدا ہوگئی۔ سب نشوں سے زیادہ تیز زیادہ قاتل ثروت کا نشہ ہے۔ راما اس نشہ میں بیخود ہوگیا اور اپنے کاروبار میں اتنا منہمک ہوا کہ وہ لڑکپن کی محبت کو پریما کے پریم کو رام جیاون مہاراج کی وفاداری کو بالکل بھول گیا۔ اس نے ایک دن بھی بھولے سے بھی خبر نہ لی کہ یتیم پریما اور دکھیا درگا کی کیسی گزر رہی ہے۔\n\nرام جیاون مہاراج کے کوئی جائداد تو تھی نہیں جس سے درگا کی چین سے بسر ہوتی۔ مہاراج کے مرنے پر دس بیس روپے گھر میں تھے وہ بھی انہیں کی کریا کرم میں ختم ہوگئے۔ صرف ایک گائے گھر میں تھی ماں بیٹی کی زندگی کااب ایک یہی سہارا تھا۔ اس کا دودھ بیچ کر ان کی بسراوقات ہوتی۔ کبھی کبھی فاقے بھی کرنا پڑتے۔ اسی حالت میں ایک دن درگا نے پریما سے کہا، ’’جی میں آتا ہے کہ اپنی مصیبت کا حال راما بابو سے جاکر کہوں، کیا وہ ایسی حالت میں ہماری مدد نہ کریں گے۔‘‘\n\nپریما نے اداس ہوکر جواب دیا۔ ’’نہیں اماں ان کےپاس جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ کیوں؟ ’’جب ان کو خود خیال نہیں ہے تو ہمارے کہنے سے کیا ہوگا۔‘‘ ایک دن کہہ کر تو دیکھوں، مجھے تو پوری امید ہے کہ وہ ہماری غریبی پر رحم کریں گے۔ کیا تیرے باپ کا بھی ان کو کچھ خیال نہ ہوگا۔‘‘ مہاراج کا ذکر کرتے ہوئے دونوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ تھوڑی دیر تک دونوں خوب جی بھر کے روئیں جب کچھ جی ہلکا ہوا تو درگا نے کہا ’’بیٹی تو سچ کہتی ہے میں کسی کے پاس نہ جاؤں گی۔ جب ان کے جیتے جی میں نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے، تو اب ان کے مرنے پر بھیک مانگ کر ان کی آتما کو دکھ نہ پہنچاؤں گی۔‘‘ اس کے بعد پھر دونوں میں اس قسم کی باتیں کبھی نہیں ہوئیں۔ ایک مرتبہ راما کی ماں تلسی نے درگا کو اناج بھیجا بھی لیکن اس نے لینے سے انکار کردیا۔\n\nسال بھر تک جس طرح بھی ہوسکا درگا نے دن کاٹے۔ پھٹے پرانے کپڑوں کو سی کر کسی طرح کام چلایا لیکن برسات میں ایک نئی مصیبت آئی۔ ان کاگھر چھایا نہ گیا تھا، برسات میں کئی دن تک موسلا دھار پانی برسا تو ان کے مکان کا ایک حصہ گر پڑا۔ گائے وہاں بندھی ہوئی تھی، دب کر مرگئی۔ اس نئی مصیبت نے اِن پریشانیوں میں اور اضافہ کردیا۔ گھر میں دوچار چاندی کے جو زیور تھے وہ بھی بک گئے۔ پریما نے راما کی دی ہوئی چوڑیاں ایک کپڑے میں باندھ کر ٹپاری میں رکھ دی تھیں۔ راما کی یہی ایک یادگار تھی۔ پریما نے سوچا کہ اگر وہ اِن کو پہنے رہے گی تو ٹوٹ جائیں گی۔ فکر معاش بڑی بری بلا ہے۔درگا اب کھیتوں اور چراگاہوں سے گوبر اٹھالاتی، پریما اپلے تھاپتی اور درگاگاؤں میں بیچ لاتی۔ کبھی گوبر نہ ملتا تو اور مصیبت ہوتی۔ کبھی کوئی اپلے چرالے جاتا تو فاقے کرنے پڑتے۔ دنیا کا بھی عجیب حال ہے۔ کوئی ہنس رہا ہے کوئی رو رہا ہے۔ کسی کا گھر بھرا ہوا ہے کھانے والے نہیں، کوئی رو رو کر زندگی کاٹتا ہے لیکن اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔\n\nراما کی بیسویں سالگرہ کا دن تھا۔ دروازہ پر مردوں اور گھر میں عورتوں کا ہجوم تھا۔ ایک طرف گھی کی اور دوسری طرف تیل کی پوریاں پک رہی تھیں۔ گھی کی معزز موٹے برہمنوں کے لیے، تیل کی فاقہ کش نیچوں کے لیے۔ راما کا گھر سوندھی سوندھی مٹی کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ عورتیں سہانے گیت گارہی تھیں۔ بچے خوش ہو ہو کر دوڑتے پھر رہے تھے۔ مالن پھولوں کا گجرا کیلے کی شاخیں لائی۔ کمہار نئے نئے چراغ لائے اور ہانڈیا دے گئے۔ باری سرسبز ڈھاک کے پتل اور دونے دیے گئے۔ کمہار نے آکر کلسہ میں پانی بھرا۔ بڑھئی نے راما کے لیے نئی پیڑھی بنائی۔ نائن نے آنگن لیپا اور چوک بنائی۔ راما جب نہادھوکر اپنے نئے کپڑے پہن کر تیار ہوگیا تو ایک پنڈت جی کھڑاؤں کھٹ پٹ کرتے براجمان ہوئے۔ راما کو پیڑھی پر کھڑا کرکے اشلوک پڑھا، ایک کچا دھاگا سر سے پاؤں تک ناپ کر بیسویں گرہ لگائی۔ تل ملاہوا کچا دودھ پلایا۔ ماتھے پر تلک لگاکر گلے میں پھولوں کا ہار ڈال کر آشیرواد دی۔ پنڈت جی بھلا چوک سے خالی ہاتھ کیسے اٹھتے۔ ان کا پیٹ بہت بڑا اور خوب پھولا ہوا تھا۔ تلسی نے بھی اس موقع پر پنڈت جی کو خوب ’’دچھنا‘‘ دی اور پنڈت جی ہنسی خوشی گھر سے رخصت ہوئے۔ ان کے بعد نائی، دھوبی، بھاٹ، کمہار، مالی وغیرہ کی باری آئی اور ان کو بھی انعام سے خوش کردیا گیا۔ غرض اس دن نور پور میں سوائے درگا اور پریما کے کوئی اور راما کی چشم عنایت سے محروم نہ رہا۔\n\nادھر تو جشن کا یہ سامان تھا اور ادھر غریب درگا کے یہاں فاقہ تھا، کیونکہ ثروت کے نشہ میں سرشار زمیندار اپنے اس غریب آسامی کو نیوتہ دینا بھول گیا تھا۔ شام کو جب سب لوگ کھاپی کر چلے گئے تو اتفاقاً پریما کی یاد آئی اور اس نے اپنی ماں سے جاکر پوچھا ماں جی کیا رام جیاون مہاراج کے یہاں سے کوئی نہیں آیا تھا۔ تلسی ’’نہیں تو۔ کیا تم نے ان کو نیوتہ نہیں دیا تھا۔‘‘\n\nراما۔ کیا وہ بغیر نیوتہ کے نہیں آسکتی تھیں۔ وہ ہمارے آسامی ہیں۔\n\nتلسی۔ اسامی ہونے سے کیا ہوتا ہے۔ مہاراج کے گھر کی اکڑ تو سارے گاؤں میں مشہور ہے۔ ابھی تھوڑے دن ہوئے میں نے دو من اناج بھیجا تھا، لیکن درگا نے واپس کردیا۔ وہ عورت اپنے کو نہ جانے کیا سمجھتی ہے۔ جب تک مہاراج زندہ رہے ان کا آناجانا رہا، ان کے مرتے ہی اس نے میرے یہاں آنا چھوڑ دیا۔ بھلا بغیر نیوتہ وہ ہمارے یہاں کیوں آنے لگی۔\n\nراما چپ چاپ اپنی ماں کی باتیں سنتا رہا۔ اس کے بعد بولا۔ خیر درگا نہیں آئی تو اس سے ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ مجھے ایک تھالی میں کچھ سیدھا دے دو میں اس کو جاکر دے آؤں۔\n\nتلسی۔ جب تمہاری یہی مرضی ہے تو میں کل سیدھا کسی کے ہاتھ بھجوا دوں گی۔ تمہارے جانے کی وہاں کیا ضرورت ہے۔ لوگ سنیں گے تو کیا کہیں گے، تم خود سیدھا لے کر جاؤگے تو درگا کے اور مزاج بڑھ جائیں گے۔\n\nلیکن راما نے ماں کا کہنا نہ مانا ۔ اس وقت اس کے سامنے اس کا گذرا ہوا زمانہ تھا۔ پریما کی بچپن کی بے لوث محبت اس کے دل میں چٹکیاں لے رہی تھیں۔ اس نے تلسی سے سیدھے کی تھالی منگوائی اور اسی وقت درگا کے دروازہ پر پہنچ کر آواز دی۔ درگا نے دروازہ کھول کر کہا۔ کون؟ رامانے جواب دیا ’’میں ہوں راما!‘‘\n\n’’ہمارے دھن بھاگ آئیے اندر آئیے،کہیے آج اس طرف مالک کیسے بھول کر آگئے۔‘‘ راما کے دل پر چوٹ سی لگی، اس نے شرمندہ ہوکر کہا ’’ایشور جانتا ہے کہ گھر کے کاروبار میں ایسا پھنسا رہتا ہوں کہ کسی وقت فرصت ہی نہیں ملتی۔‘‘ اس کاکچھ جواب نہ دے کر درگا نے پریما کو آواز دی۔ بیٹی ذرادیا جلادے۔ مالک اندھیرے میں کھڑے ہیں۔ پریما ایک طرف کونے میں میلی کچیلی دھوتی اوڑھے پڑی تھی۔ آج اس کی طبیعت کچھ خراب تھی۔ ماں کی آواز سن کر وہ اٹھی اور آہستہ سے کہا ’’ماں جی دیا میں تیل نہیں ہے۔‘‘ اس کی آواز میں حسرت بھری تھی، گو پریما کو راما نے نہ دیکھا لیکن اس کی آواز سن لی اور کہا ’’دیا جلانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، میں اب جارہا ہوں۔ ماں جی نے تمہارے لیے اس تھالی میں کچھ بھیجا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر راما نے تھالی بڑھائی۔ لیکن درگا پیچھے ہٹ گئی۔ اس نے اپنے کو سنبھال کر کہا ’’مالک ہم اس کے بھوکے نہیں ہیں۔‘‘ یہ سوکھا جواب سن کر راما سناٹے میں آگیا۔ غریبوں میں بھی خودداری کا مادہ ہوتا ہے، یہ اس کو معلوم نہ تھا۔\n\nایک غریب برہمنی نے اس کو ذلیل کیا۔ اس کا اس کو سخت صدمہ ہوا۔ اور وہ سیدھے کی تھالی لے کر درگا کے گھر سے نکل کر اپنے گھر واپس آگیا۔ راما کے جانے کے بعد پریما نے اپنی ماں سے کہا ’’معلوم ہوتا ہے بابو جی ناراض ہوگئے ہیں۔‘‘ درگا نے جواب دیا۔ ’’بھگوان راضی رہیں کسی کی ناراضگی کی کچھ پرواہ نہیں ہے۔‘‘\n\nپریما اب انیسویں سال میں تھی۔ اس کی جوانی کا چاند بڑی آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ حسن و رعنائی کی تمام خوبیاں قدرت نے فیاضی سے پریما کوعطا کی تھیں۔ اس کے انداز میں بھولا پن آواز میں نغمہ کی دل فریبی، آنکھوں میں حیا اور خیالات میں پاکیزگی تھی۔ لیکن ان سب خوبیوں کے ہوتے ہوئے بھی اب تک اس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ غریب کی جوانی جاڑوں کی چاندنی تھی، کوئی قدردان نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک غریب برہمن کی لڑکی تھی۔ دان ’’دہیز‘‘ دینے کے لیے درگا کے پاس کچھ نہ تھا۔ جوان جہان لڑکی کو دیکھ کر اس کے گلے میں پانی نہ اترتا تھا۔ دوچار جگہ اس نے نسبت کا پیام بھی دیا لیکن کوئی دوسو سے کم دان لینے پر راضی نہ ہوا۔ دو سوروپیہ توبہت ہوتے ہیں۔ گھر میں اتنے کھپریل بھی نہ رہے ہوں گے۔ درگا گاؤں میں جس طرف نکلتی لوگ اس کو سنا سنا کر کہتے، جوان لڑکی گھر میں بٹھا رکھی ہے۔ بیاہ نہیں کرتی۔ نہ جانے کیا ارادہ ہے۔ درگا لوگوں کے طعنے سن کرشرم کے مارے پانی پانی ہوجاتی۔ اس لیے گاؤں میں اپلے بیچنا بند کردیے۔ ایک دوسرے گاؤں میں اپلے جاکر بیچنے لگی۔ وہاں بھی کچھ دنوں بعد لوگوں نے درگا کو دق کرنا شروع کردیا۔ بیچاری کی جان بڑی مصحبت میں تھی۔ کبھی سوچتی گنگاجی میں ڈوب کر اپنی جان دے دے، لیکن جب پریما کا خیال آتا تو اپنے ارادہ سے باز آجاتی۔ اب درگا دن رات اسی فکر میں رنجیدہ رہنے لگی۔ بسااوقات وہ پریما پر بھی خواہ مخواہ خفا ہوجاتی۔ ذرا سی بات پر جھڑک دیتی۔ اس پر اگر پریما رونے لگتی تو خود بھی اس کے ساتھ روتی۔ ایک دوسرے کے دل کا حال جانتی تھی لیکن زبان پر نہ لاسکتی تھی۔ اس طرح دن گزر رہے تھے۔ ایک دن درگا کی ایک سہیلی گورا اس سے ملنے آئی تو اس نے کہا ’’جیجی پریما کا بیاہ کب کروگی، لڑکی بہت سیانی ہوگئی ہے، اس کو کنواری بیٹھا رکھنا بڑے شرم کی بات ہے۔ گاؤں بھر میں تمہاری بڑی بدنامی ہو رہی ہے۔‘‘ درگانے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا بہن کیا بتاؤں بہت تلاش کرنے پر بھی اب تک کوئی بر نہیں ملا۔\n\nگورا: یہ تو مجھے بھی معلوم ہے لیکن خاموش رہنے سے تو کام نہ چلے گا۔ میرے خیال میں تم کو اب دیری نہیں کرنی چاہیے۔\n\nدرگا: بہن تمہیں پریما کو کہیں ٹھکانے سے لگادو، بڑی کرپا ہوگی۔\n\nگورا نے کہا، ’’اچھا میں دیکھوں گی۔‘‘ یہ کہہ کر گورا چلی گئی۔ دو چار دن بعد وہ پھر آئی ۔ اس نے آتے ہی درگا سے کہا ’’جیجی مٹھائی کھلاؤ میں نے پریما کے لیے بَر ڈھونڈ لیا ہے۔‘‘ درگا نے خوش ہو کر کہا، کہاں؟\n\nگورا: مہاراج بنسی دھر کو تو جانتی ہو۔\n\nدرگا: وہی نا جو امرچھ میں رہتے ہیں۔\n\nگورا: ہاں ہاں وہی وہی۔\n\nدرگا: ان کی تو عمر بہت زیادہ ہے۔ وہ اب شادی کیوں کر رہے ہیں۔\n\nگورا: عمر ضرور زیادہ ہے لیکن اس سے کیا ہوتا ہے۔ وہ مرد ہیں۔ ان کی عمر کا کون خیال کرتا ہے۔ ان کی جتنی عمر ہے اس عمر میں تو بہت سے لوگ بیاہ کرتے ہیں۔ اور جیجی برا نہ مانو تو کہوں تمہاری لڑکی بھی بہت سیانی ہے۔ بَر بالکل چھوکرا ہونے سے بھی تو کام نہیں چلے گا۔ میرا کہنا مانو تم اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ بڑے امیر ہیں۔ بیس پچیس بیگھے موروثی کاشتکاری ہے۔ تالاب باغ سب ہی کچھ تو ہے اور سب سے اچھی بات تو یہ ہے کہ وہ کچھ دان ’’دہیز‘‘ بھی نہ لیں گے۔ کہو منظور ہے کہ نہیں۔\n\nدرگا بنسی دہر کے ساتھ پریما کا بیاہ کرنے کے لیے کبھی راضی نہ ہوتی لیکن جب اس نے سُنا کہ دان ’’دہیز‘‘ بھی نہ دینا پڑے گا تو وہ مجبوراً راضی ہوگئی۔\n\nگورا: ایک بات اور ہے وہ یہ کہ کل کچھ عورتیں مہاراج بنسی دہر کے یہاں سے پریما کو دیکھنے آئیں گے۔\n\nدرگا: بہن ایسا تو میرے یہاں کبھی نہیں ہوا۔ میرا میکہ کھاگا میں ہے۔ وہاں جب تک بیاہ نہیں ہولیتا سسرال والے لڑکی کو نہیں دیکھ سکتے۔\n\nگورا: خیر تم ایک کام کرو۔ کل سویرے پریما کونہلاکر صاف کپڑے پہنادینا۔ امرچھ سے جب عورتیں میرے یہاں آئیں گی میں کسی بہانے سے پریما کو اپنےگھر بلالے جاؤں گی۔ اس طرح وہ پریما کو دیکھ لیں گی، اس میں کوئی ہرج نہ ہوگا۔ درگا نےخوش ہوکر کہا ’’ہاں یہ ترکیب تو ٹھیک ہے۔‘‘\n\nاچھا تو اب میں جاتی ہوں۔ یہ کہہ کر گورا اپنے گھر چلی گئی۔ درگا آج بہت خوش تھی۔ اس نے اپنی پٹاری کھول کر ایک پھٹی پرانی دھوتی اور شلوکا نکال کر دھویا اور اس کی مرمت کردی۔ صبح گورا سے یہ سب باتیں ہوئیں اور شام تک گاؤں بھر میں اس کی خبر ہوگئی۔ جس کسی نے بھی سنا کہ درگا اپنی پھول سی لڑکی کابیاہ بوڑھے کھوسٹ بنسی دہر سے کرنے والی ہے اس نے افسوس کیا۔ لیکن درگا نے کسی کے کہنے سننے کی کچھ پرواہ نہ کی۔ اس کو اس کے سوائے کچھ خیال ہی نہ تھا کہ جس طرح بھی ہو پریما کا بیاہ ہوجائے اور دان ’’دہیز‘‘ نہ دینا پڑے۔ بدنامی ہوگی تو کیا اپنے فرض سے سبکدوش تو ہوجائے گی۔ پریما سے بھی کوئی بات چھپی نہ رہی۔ سب کچھ جان بوجھ کر بھی وہ کہہ ہی کیا سکتی تھی۔ وہ درد سر کا بہانہ کرکے شام سے لیٹ رہی اور چپکے چپکے ساری رات آنسو بہاتی رہی۔\n\nصبح کاذب کا وقت تھا۔ چاند دھندلی دھندلی روشنی ڈال رہا تھا۔ درگا نے پریما کو بلاکر کہا ’’بیٹا جلدی سے اٹھ اور گنگامائی میں اشنان کر آ۔ لے یہ شلوکا اور دھوتی اس کو نہاکر پہن لینا۔ ہاں خوب یاد آیا ذرا ٹھہر جا۔‘‘ درگا نے اپنی پٹاری کھولی اور اس میں سے راما کی دی ہوئی کانچ کی چوڑیاں نکالیں اور بولی ’’تیرے بدن پر کوئی زیور نہیں ہے، میں اب تجھے بنوادوں گی۔ آج تو یہ چوڑیاں پہن لے۔ یہ بھی بہت خوبصورت اور قیمتی ہیں۔‘‘ پریما اب تک خاموش سرجھکائے بیٹھی تھی، چوڑیوں کو دیکھ کر یکبارگی چلا اٹھی۔ ’’نہیں ماں نہیں میں تمہارے پاؤں پڑتی ہوں، میں ان چوڑیوں کو نہیں پہنوں گی۔‘‘ درگا نے ڈانٹ کر کہا ’’پہنے گی کیسے نہیں، بس تجھ میں یہی تو ایک بڑا عیب ہے کہ کہنا نہیں مانتی۔‘‘ یہ کہہ کر درگا نے زبردستی چوڑیاں پہنادیں۔ پریما کو نہانےکے لیے بھیج کر آپ کسی دوسرے کام میں لگ گئی۔ آج ہی امرچھ سے عورتیں پریما کو دیکھنے آئیں گی۔ درگا کو جلدی تھی، جس قدر جلد ممکن ہو پریما نہادھوکر فارغ ہوجائے۔ پریما جب گھر سے نکلی تو اس وقت بھی اندھیرا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ کچھ سوچتی ہوئی دریا کے کنارے پہنچی۔ ستاروں کی مدھم روشنی کے عکس سے دریا کا بعض بعض حصہ سانپ کی کیچلی کی طرح جگ مگ جگ مگ کر رہا تھا۔ تمام دنیا سنسان تھی۔ دریا کے کنارے پریما نے دھوتی اور شلوکا ایک طرف پھینک دیا۔ گنگامائی کو ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا اور بولی ’’ماتا! میں نے کون سا پاپ کیا ہے جو سب کی آنکھوں میں کانٹا بن رہی ہوں۔ کیا میرے لیے دنیا میں کہیں ٹھکانا نہیں ہے جو میری ماں مجھے آگ میں جھونکنےکے لیے تیار ہوگئی۔ ماتا! میرے دل میں جس کی محبت بچپن سے تھی وہی میرا نہ ہوا تو اب دنیا میں مجھے کسی سے کچھ امید نہیں ہے۔\n\nماتا! کیا تم بتاسکتی ہو کہ راما نے مجھے کیوں بھلادیا۔ ماتا! تم جواب کیوں نہیں دیتی ہو۔ اچھا میں سمجھ گئی تم کہتی ہو کہ ان کا نام جپو۔ لیکن میں تو ان کانام آج سے نہیں بلکہ بالے پن سے جپتی رہی ہوں۔ پھر بھی وہ میرے نہیں ہوئے۔ ماں! میں دھرتی ماتا کی پیٹھ کا بوجھ ہو رہی ہوں، تم اِس دکھیا کو اپنی گود میں چھپا لو۔ میں تمہارے سرن میں آتی ہوں۔‘‘ پریما کی فریاد سن کر چاند کی تھرکتی ہوئی کرنیں بالو پر لوٹنے لگیں اور گنگا مائی کی لہریں اپنا سرٹپکنے لگیں۔ پریما آگے بڑھی پھر کچھ سوچ کر رُکی اور اپنے ہاتھوں سے چوڑیاں اتار ڈالیں اور یہ کہہ کر ’’میں تو پریم کی چوڑیاں پہنے ہوئے ہوں، ان کانچ کی چوڑیوں کی ضرورت نہیں۔‘‘ ان کو توڑ کر ایک طرف زمین پر پھینک دیا۔ جن چوڑیوں کو وہ کبھی اپنے جان و دل سے بھی زیادہ عزیز سمجھتی تھی انھیں چوڑیوں کو آج اس نے خود اپنے ہاتھوں سے توڑڈالا اور پانی میں ایک قدم بڑھایا۔ ٹھیک اسی وقت کسی کی آواز سنائی دی۔\n\n’’پریما! پریما! ٹھہرو۔ مجھ سے غلطی ہوئی۔ مجھ سے بھول ہوئی تم مجھے معاف کردو۔ تم میری غلطی کی سزا تمہارا جو جی چاہے دے سکتی ہو لیکن جو کچھ تم کرنے جارہی ہو یہ سزا میرے لیے ناقابل برداشت ہوگی۔ پریما زور اور طاقت سے کانچ کی چوڑیاں توڑی جاسکتی ہیں لیکن پریم کا بندھن پریم کی چوڑیوں کاتعلق کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔ اس کے توڑنے کی طاقت نہ تم میں ہے اور نہ مجھ میں ہے۔ پریما جو میں نہیں کرسکا اس کو تم بھی نہ کرسکتیں۔‘‘ یہ راما کی آواز تھی جو اتفاقاً اس وقت گنگا اشنان کرنے کے لیے وہاں آگیا تھا۔ اس نے پریما کی فریاد سنی۔ پریما کاخوب صورت چہرہ دیکھا، پریم کی چوڑیاں توڑتے اور ان کو پھینکتے دیکھا، اس نے آگے بڑھ کر ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کواٹھالیا۔ ثابت رہنےپر بھی جن کی اس نے کبھی قدر نہ کی تھی معمولی کانچ کی چوڑیاں آج ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اس کے دل پر تیر ونشتر کا کام کرگئیں۔ دل کی گہرائیوں میں خوابیدہ محبت نے ایک کروٹ لی۔ بچپن کی محبت نے زور مارا وار قبل اس کے کہ پریما اپنی چاند سی صورت کو گنگا مائی کی لہروں میں چھپالے، راما نے پھرتی کے ساتھ آگے بڑھ کر پریما کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر پانی سے باہر نکال لیا۔ جس طرح ہوا کے جھونکے سے درخت کاایک ایک پتہ کانپنے لگتا ہے اسی طرح راما نے جب پریما کی بانہہ پکڑی تو جوشِ محبت سے پریما کا ایک ایک عضو کانپ اٹھا اور وہ راما کے چرنوں میں جھک گئی۔ محبت کے آنسو دونوں کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔ اس وقت باد سحر مستی سے جھومنے لگی، تارے غائب ہوگئے اور صبح ہوگئی۔ رنج و غم کا کہیں نشان بھی نہ رہا۔\n\nکچھ دنوں کے بعداچھی ساعت میں راما نے پریما کے ساتھ بڑی دھوم دھام کے ساتھ بیاہ کیا۔ درگا اس مبارک شادی کے بعد بھی کئی سال تک زندہ رہی لیکن اس وضع دار اور آن پر مرنے والی عورت نے اپنی جھونپڑی چھوڑ کر داماد کے یہاں رہنا کبھی گوارا نہ کیا۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D9%88%DA%91%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "پس اس کے گئے سپر جو ہم کر سینہ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پس اس کے گئے سپر جو ہم کر سینہ\nدل کرنے کو اس کی جاہ کا گنجینہ\nجب ہم نے کہا دیکھنے آئے ہیں تمہیں\nسن کر یہ لگا وہ دیکھنے آئنہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B3_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%B3%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81"} {"title": "پس توبہ حدیث مطرب و پیمانہ کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پس توبہ حدیث مطرب و پیمانہ کہتے ہیں\nیہ اک بھولا ہوا پر آج ہم افسانہ کہتے ہیں\n\nکوئی خون تمنا ہو جھلک آتا ہے آنکھوں میں\nاسی کو اتحاد بادہ و پیمانہ کہتے ہیں\n\nتباہی دل کی دیکھی ہے جو ہم نے اپنی آنکھوں سے\nہو اب کیسی ہی بستی ہم اسے ویرانہ کہتے ہیں\n\nفنا ہونے میں سوز شمع کی منت کشی کیسی\nجلے جو آگ میں اپنی اسے پروانہ کہتے ہیں\n\nجفا پر صبر سیکھا ہے وفا پر جان جاتی ہے\nیہی ہے اور کس کو تہمت مردانہ کہتے ہیں\n\nتمہاری زلف پیچاں میں رہا کیوں کر دل وحشی\nتڑا لے جائے جو زنجیر اسے دیوانہ کہتے ہیں\n\nمعاذ اللہ تیرا حسن تیری بزم عشرت میں\nیہ وہ محفل ہے جس میں شمع کو پروانہ کہتے ہیں\n\nیہاں تو جان تک دے دی نظرؔ پاداش الفت میں\nمگر بیداد گر باقی ابھی جرمانہ کہتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B3_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81_%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB_%D9%85%D8%B7%D8%B1%D8%A8_%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پس قافلہ جو غبار تھا کوئی اس میں ناقہ سوار تھا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پس قافلہ جو غبار تھا کوئی اس میں ناقہ سوار تھا\nابھی گرد باد ہو اڑ گیا وہ عجب طرح کا غبار تھا\n\nمیں نگاہ پاک سے دیکھے تھا ترے حسن پاک کو اس پہ بھی\nمرے جی میں خواہش وصل تھی مرے دل میں بوس و کنار تھا\n\nدل خستہ پہلو میں رہ گیا مرے سرد ہو کے تو کیا عجب\nکہ کسی کی صافیٔ شست کا یہ خدنگ خوردہ شکار تھا\n\nمری بے کسی پہ تری نظر نہ پڑی جب اے بت عشوہ گر\nوہ جو تیرا عہد شباب تھا سو وہ عین جوش بہار تھا\n\nمیں مزار کو بھی مٹا دیا میں غبار کو بھی اڑا دیا\nکہ تری صفائے مزاج پر مری خاک سے بھی غبار تھا\n\nاس ادا سے تیر لگاوے تھا تو بہ روئے تودۂ مشت گل\nکہ فلک بہ تیغ و کمان بھی ترا محو کند و کدار تھا\n\nیہ جنوں کی عقدہ کشائیاں کوئی بھولتا ہوں میں مصحفیؔ\nکہ بہ روئے ہر سر آبلہ وہی ناخن سر خار تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B3_%D9%82%D8%A7%D9%81%D9%84%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%BA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D9%82%DB%81_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:عزیز الحسن غوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیں\nکوئی محفل ہو ہم اس کو تری محفل سمجھتے ہیں\n\nبڑے ہشیار ہیں وہ جن کو سب غافل سمجھتے ہیں\nنظر پہچانتے ہیں وہ مزاج دل سمجھتے ہیں\n\nوہ خود کامل ہیں مجھ ناقص کو جو کامل سمجھتے ہیں\nوہ حسن ظن سے اپنا ہی سا میرا دل سمجھتے ہیں\n\nسمجھتا ہے گنہ رندی کو تو اے زاہد خود بیں\nاور ایسے زہد کو ہم کفر میں داخل سمجھتے ہیں\n\nسمجھتا ہے غلط لیلیٰ کو لیلیٰ قیس دیوانہ\nنظر والے تو لیلیٰ کو بھی اک محمل سمجھتے ہیں\n\nسڑی دیوانہ سودائی جو چاہے سو کہے دنیا\nحقیقت بیں مگر مجذوبؔ کو عاقل سمجھتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B3_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A7%D9%85%D9%84_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پسند آئیں مجھ کو ادائیں تمہاری", "poet_page": "مصنف:عزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی", "kind": "poetry", "section": "غزل > چشمۂ کوثر (1934)", "year": "1934", "text_ur": "پسند آئیں مجھ کو ادائیں تمہاری\nیہی دل میں ہے لوں بلائیں تمہاری\n\nکہا وصل کو جب تو بولے وہ ہنس کر\nہیں حد سے زیادہ خطائیں تمہاری\n\nجلا کر کیا خاک سوز الم نے\nکہاں تک اٹھاؤں جفائیں تمہاری\n\nرہیں گی سدا یادگار زمانہ\nوفائیں ہماری جفائیں تمہاری\n\nشکایت نہ کرنا عزیزؔ ان کی ہرگز\nکہ شاید وہ بگڑی بنائیں تمہاری", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "پسے دل اس کی چتون پر ہزاروں", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پسے دل اس کی چتون پر ہزاروں\nموے بے ساختہ پن پر ہزاروں\n\nمری ضد سے ہوا ہے مہرباں دوست\nمرے احساں ہیں دشمن پر ہزاروں\n\nبراے شکر قاتل رونگٹوں سے\nزبانیں ہیں مرے تن پر ہزاروں\n\nنہ اٹکھیلی سے چل ہوتے ہیں صدمے\nدل شیخ و برہمن پر ہزاروں\n\nہوا سر خم نہ زیر تیغ جلاد\nرہے بوجھ اپنی گردن پر ہزاروں\n\nترے کشتہ ہیں ہم آنکھیں ملیں گے\nہمارے سنگ مدفن پر ہزاروں\n\nنہ مل اے لعبت چین عطر گل زار\nگلا کاٹیں گے گلشن پر ہزاروں\n\nنہیں اک مرد کو دنیا سے مطلب\nمریں نامرد اس زن پر ہزاروں\n\nعجب کیا ہے اگر پروانے بے شمع\nجلیں آتشؔ کے مدفن پر ہزاروں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D8%AA%D9%88%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "پسے ہیں دل زیادہ تر حنا سے", "poet_page": "مصنف:مردان علی خاں رانا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پسے ہیں دل زیادہ تر حنا سے\nچلا دو گام بھی جب وہ ادا سے\n\nوہ بت آئے ادھر بھی بھول کر راہ\nدعا یہ مانگتا ہوں میں خدا سے\n\nحجاب اس کا ہوا شب مانع دید\nنقاب الٹی نہ چہرے کی حیا سے\n\nاشارہ خنجر ابرو کا بس تھا\nمجھے مارا عبث تیغ جفا سے\n\nبہت بل کھا رہی ہے زلف جاناں\nبچے گی جان کیوں کر اس بلا سے\n\nہے بہتر اک کرشمے میں ہوں دو کام\nمدینے جاؤں راہ کربلا سے\n\nخدا جب بے طلب بر لائے مقصد\nاٹھاؤں کیوں نہ ہاتھ اپنے دعا سے\n\nنظامؔ اب عقدۂ دل کیوں نہ حل ہوں\nمحبت ہے تجھے مشکل کشا سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D8%AA%D8%B1_%D8%AD%D9%86%D8%A7_%D8%B3%DB%92"} {"title": "پشت پا ماری بسکہ دنیا پر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پشت پا ماری بسکہ دنیا پر\nزخم پڑ پڑ گیا مرے پا پر\n\nڈوبے اچھلے ہے آفتاب ہنوز\nکہیں دیکھا تھا تجھ کو دریا پر\n\nگرو مے ہوں آؤ شیخ شہر\nابر جھوما ہی جاہے صحرا پر\n\nدل پر خوں تو تھا گلابی شراب\nجی ہی اپنا چلا نہ صہبا پر\n\nیاں جہاں میں کہ شہر گوراں ہے\nسات پردے ہیں چشم بینا پر\n\nفرصت عیش اپنی یوں گزری\nکہ مصیبت پڑی تمنا پر\n\nطارم تاک سے لہو ٹپکا\nسنگ باراں ہوا ہے مینا پر\n\nمیرؔ کیا بات اس کے ہونٹوں کی\nجینا دوبھر ہوا مسیحا پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B4%D8%AA_%D9%BE%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%B3%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "پشیمانی", "poet_page": "مصنف:تصدق حسین خالد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "موت کا راگ نفیری پہ بجاتی آٹھی\nلو جھلستی ہوئی لو\nآٹھی\nبڑھی\nریت پہ جیسے دھواں اٹھتا ہو\nسرسراہٹ سی درختوں میں ہوئی\nپتے مرجھا گئے\nگرنے لگے\nوہ ان کے کھڑکنے کی صدا میرے خدا\n\nلو کے ہم راہ بڑھے\nموت کے ناچ کا نکلا تھا جلوس\nچونک کر جاگ اٹھے صحن چمن میں طائر\nآشیانوں سے جدائی انہیں منظور نہ تھی\nسہم کر اٹھے اڑے اڑ کے وہیں آں گرے\nان کی اس آخری فریاد کی غم ناک صدا میرے خدا\n\nاک گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جھکائے ہوئے سر\nہاتھ آنکھوں پہ رکھے\nبیٹھی ہے غمگیں اداس مجبور\nپہلو میں افسردہ خوشی کو لے\nسانس رکنے لگا\nخوں جمنے لگا\nبے کلی ڈھونڈھتی پھرتی ہے پناہ\nرینگتا رینگتا خوف آیا سسکتا ہوا سانپ\nبے کلی کانپ اٹھی\nخوف جھپٹ کر اٹھا بے کلی نزع میں تھی\nمجھ کو بچا میرے خدا\n\nتیرگی کانپی\nفضا لرزی\nکھلی کرنوں کی راہ\nروحیں جو وسعت آفاق میں آوارہ سی تھیں\nڈھونڈھتی پھرتی تھیں منزل اپنی\nپھڑپھڑائے ہوئے پر اپنے اٹھیں\nاور ہواؤں میں بڑھیں\nسامنے جنت گم گشتہ نظر آتی تھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D8%B4%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "پل میں جہاں کو دیکھتے میرے ڈبو چکا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پل میں جہاں کو دیکھتے میرے ڈبو چکا\nاک وقت میں یہ دیدہ بھی طوفان رو چکا\n\nافسوس میرے مردے پر اتنا نہ کر کہ اب\nپچھتانا یوں ہی سا ہے جو ہونا تھا ہو چکا\n\nلگتی نہیں پلک سے پلک انتظار میں\nآنکھیں اگر یہی ہیں تو بھر نیند سو چکا\n\nیک چشمک پیالہ ہے ساقی بہار عمر\nجھپکی لگی کہ دور یہ آخر ہی ہو چکا\n\nممکن نہیں کہ گل کرے ویسی شگفتگی\nاس سرزمیں میں تخم محبت میں بو چکا\n\nپایا نہ دل بہایا ہوا سیل اشک کا\nمیں پنجۂ مژہ سے سمندر بلو چکا\n\nہر صبح حادثے سے یہ کہتا ہے آسماں\nدے جام خون میرؔ کو گر منہ وہ دھو چکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%88%D8%A8%D9%88_%DA%86%DA%A9%D8%A7"} {"title": "پلا جام ساقی مے ناب کا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پلا جام ساقی مے ناب کا\nکہ کچھ حظ اٹھے سیرِ مہتاب کا\n\nدلِ زار کا ماجرا کیا کہوں\nفسانہ ہے مشہور سیماب کا\n\nکہاں پھر وہ نایاب، پایا جسے\nغلط شوق ہے جنسِ نایاب کا\n\nنہ کیجو غل اے خوش نوایانِ صبح\nیہ ہے وقت ان کی شکر خواب کا\n\nمحبت نہ ہرگز جتائی گئی\nرہا ذکر کل اور ہر باب کا\n\nدمِ سرد سے لا نہ طوفانِ باد\nنہ سن ماجرا چشمِ پر آب کا\n\nوہاں بے خودوں کی خبر کون لے\nجہاں شغل ہو بادۂ ناب کا\n\nوہاں تیرہ روزوں کی پروا کسے\nجہاں شوق ہو سیرِ مہتاب کا\n\nوہ تشخیصِ شخصی بھی جاتی رہی\nکنارا الٹتے ہی جلباب کا\n\nمیں بے جرم رہتا ہوں خائف کہ واں\nجفا میں نہیں دخل اسباب کا\n\nپڑے صبر آرام کی جان پر\nمری جانِ بے صبر و بے تاب کا\n\nلبِ لعل کو کس کے جنبش ہوئی\nہوا میں ہے کچھ رنگ عناب کا\n\nنہ کرنا خطا پر نظر شیفتہ\nکہ اغماض شیوہ ہے احباب کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D9%85%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "پلا ساقی بہار آئے نہ آئے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پلا ساقی بہار آئے نہ آئے\nگھٹا پھر بار بار آئے نہ آئے\n\nتجھے ہم دیکھنے آئیں گے سو بار\nکوئی دیوانہ وار آئے نہ آئے\n\nکہے جائیں گے درد دل ہم اپنا\nکسی کو اعتبار آئے نہ آئے\n\nوہ آ جائیں ادھر کھولے ہوئے بال\nنسیم مشک بار آئے نہ آئے\n\nتمہیں آرام سے سونا مبارک\nمجھے شب بھر قرار آئے نہ آئے\n\nہوائے شوق میں اب اڑ چلے ہم\nہوائے کوئے یار آئے نہ آئے\n\nترے دل میں مسرت کے کھلیں پھول\nمرے دل میں بہار آئے نہ آئے\n\nجلیلؔ اب مے کشی کا لطف اٹھاؤ\nپھر ابر نو بہار آئے نہ آئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%84%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "پلا ساقیا ارغوانی شراب", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پلا ساقیا ارغوانی شراب\nکہ پیری میں دے نوجوانی شراب\n\nوہ شعلہ ہے ساقی کہ رنجک کی طرح\nاڑا دیتی ہے ناتوانی شراب\n\nکہاں بادۂ عیش تقدیر میں\nپیوں میں تو ہو جائے پانی شراب\n\nنہ لایا ہے شیشہ نہ جام و سبو\nپلاتا ہے ساقی زبانی شراب\n\nکہاں عقل برنا کہاں عقل پیر\nنئے سے ہے بہتر پرانی شراب\n\nمرے چہرۂ زرد کے عکس سے\nہوئی ساقیا زعفرانی شراب\n\nہوئے مست دیکھا جو پھولوں کا رنگ\nپیالوں میں تھی ارغوانی شراب\n\nکہاں چشمۂ خضر کیسے خضر\nخضر ہے مری زندگانی شراب\n\nخضر ہوں اگر میں تو جا کر پیوں\nسر چشمۂ زندگانی شراب\n\nگلستاں ہے پھولوں سے کیا لال لال\nچلے ساقیا ارغوانی شراب\n\nعجب ساقیا گندمی رنگ ہے\nکہ پرتو سے بنتی ہے دھانی شراب\n\nرہے طاق پر پارسائی امیرؔ\nپلائے جو وہ یار جانی شراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%84%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B1%D8%BA%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "پلا ساقیا مئے خنک آب میں", "poet_page": "مصنف:مفتی صدر الدین خان آزردہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پلا ساقیا مئے خنک آب میں\nکہ تھمتی نہیں توبہ مہتاب میں\n\nگیا دین کیسا حضور نماز\nوہ یاد آئے ابرو جو محراب میں\n\nملے کچھ تو زخم جگر کا مزہ\nبجھا کر رکھا تیغ زہراب میں\n\nالٰہی فلک جس سے پھٹ جائے دے\nوہ تاثیر آہ جگر تاب میں\n\nبلند آشیانوں پہ بجلی گری\nجو نیچے تھے ڈوبے وہ سیلاب میں\n\nوہ عریاں میں سرما میں تھی جن کی شب\nگزرتی سمور اور سنجاب میں\n\nنہ آئے ہوں آزردہ لینا خبر\nپڑی دھوم یہ سارے پنجاب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%84%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%86%DA%A9_%D8%A2%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پلنگ کوں چھوڑ خالی گود سیں جب اٹھ گیا میتا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پلنگ کوں چھوڑ خالی گود سیں جب اٹھ گیا میتا\nچتر کاری لگی کھانے ہمن کوں گھر ہوا چیتا\n\nبنائی بے نوائی کی جوں طرح سب سے چھڑے ہم نیں\nتجھ اوروں کو لیا ہے ساتھ اپنے اک نہیں میتا\n\nسرت کے تار ابجد ایک سر ہو مل کے سب بولے\nکہ جس کوں گیان ہے اس جان کوں ہر تان ہے گیتا\n\nجدائی کے زمانے کی سجن کیا زیادتی کہیے\nکہ اس ظالم کی جو ہم پر گھڑی گزری سو جگ بیتا\n\nمقرر جب کہ جاں بازوں میں اس کا ہو چکا مرنا\nہوا تب اس قدر خوش دل گویا عاشق نے جگ جیتا\n\nلگا دل یار سیں تب اس کو کیا کام آبروؔ سیتی\nکہ زخمی عشق کا پھر مانگ کر پانی نہیں پیتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%84%D9%86%DA%AF_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%AF%D9%88%D8%AF_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%AA%D8%A7"} {"title": "پلکوں پہ تھے پارۂ جگر رات", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پلکوں پہ تھے پارۂ جگر رات\nہم آنکھوں میں لے گئے بسر رات\n\nاک دن تو وفا بھی کرتے وعدہ\nگزری ہے امیدوار ہر رات\n\nمکھڑے سے اٹھائیں ان نے زلفیں\nجانا بھی نہ ہم گئی کدھر رات\n\nتو پاس نہیں ہوا تو روتے\nرہ رہ گئی ہے پہر پہر رات\n\nکیا دن تھے کہ خون تھا جگر میں\nرو اٹھتے تھے بیٹھ دوپہر رات\n\nواں تم تو بناتے ہی رہے زلف\nعاشق کی بھی یاں گئی گزر رات\n\nساقی کے جو آنے کی خبر تھی\nگزری ہمیں ساری بے خبر رات\n\nکیا سوز جگر کہوں میں ہمدم\nآیا جو سخن زبان پر رات\n\nصحبت یہ رہی کہ شمع روی\nلے شام سے تا دم سحر رات\n\nکھلتی ہے جب آنکھ شب کو تجھ بن\nکٹتی نہیں آتی پھر نظر رات\n\nدن وصل کا یوں کٹا کہے تو\nکاٹی ہے جدائی کی مگر رات\n\nکل تھی شب وصل اک ادا پر\nاس کی گئے ہوتے ہم تو مر رات\n\nجاگے تھے ہمارے بخت خفتہ\nپہنچا تھا بہم وہ اپنے گھر رات\n\nکرنے لگا پشت چشم نازک\nسوتے سے اٹھا جو چونک کر رات\n\nتھی صبح جو منہ کو کھول دیتا\nہر چند کہ تب تھی اک پہر رات\n\nپر زلفوں میں منہ چھپا کے پوچھا\nاب ہووے گی میرؔ کس قدر رات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%84%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%82_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "پن چکی", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "نہر پر چل رہی ہے پن چکی\nدھن کی پوری ہے کام کی پکی\nبیٹھتی تو نہیں کبھی تھک کر\nتیرے پہیے کو ہے سدا چکر\nپیسنے میں لگی نہیں کچھ دیر\nتو نے جھٹ پٹ لگا دیا اک ڈھیر\nلوگ لے جائیں گے سمیٹ سمیٹ\nتیرا آٹا بھرے گا کتنے پیٹ\nبھر کے لاتے ہیں گاڑیوں میں اناج\nشہر کے شہر ہیں ترے محتاج\nتو بڑے کام کی ہے اے چکی!\nکام کو کر رہی ہے طے چکی\nختم تیرا سفر نہیں ہوتا\nنہیں ہوتا مگر نہیں ہوتا\nپانی ہر وقت بہتا ہے دھل دھل\nجو گھماتا ہے آ کے تیری کل\nکیا تجھے چین ہی نہیں آتا\nکام جب تک نبڑ نہیں جاتا\nمینہ برستا ہو یا چلے آندھی\nتو نے چلنے کی شرط ہے باندھی\nتو بڑے کام کی ہے اے چکی!\nمجھ کو بھاتی ہے تیری لے چکی!\nعلم سیکھو سبق پڑھو بچو\nاور آگے چلو بڑھو بچو\nکھیلنے کودنے کا مت لو نام\nکام جب تک کہ ہو نہ جائے تمام\nجب نبڑ جائے کام تب ہے مزہ\nکھیلنے کھانے اور سونے کا\nدل سے محنت کرو خوشی کے ساتھ\nنہ کہ اکتا کے خامشی کے ساتھ\nدیکھ لو چل رہی ہے پن چکی\nدھن کی پوری ہے کام کی پکی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%86_%DA%86%DA%A9%DB%8C"} {"title": "پنجابی مسلمان", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت\nکر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد\nتحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا\nہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد\nتاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے\nیہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86"} {"title": "پند نامہ", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "اپنے شاگردوں کو یہ عام ہدایت ہے مری\nکہ سمجھ لیں تہ دل سے وہ بجا و بے جا\n\nشعر گوئی میں رہیں مد نظر یہ باتیں\nکہ بغیر ان کے فصاحت نہیں ہوتی پیدا\n\nچست بندش ہو نہ ہو سست یہی خوبی ہے\nوہ فصاحت سے گرا شعر میں جو حرف دبا\n\nعربی فارسی الفاظ جو اردو میں کہیں\nحرف علت کا برا ان میں ہے گرنا دبنا\n\nالف وصل اگر آئے تو کچھ عیب نہیں\nلیکن الفاظ میں اردو کے یہ گرنا ہے روا\n\nجس میں گنجلک نہ ہو تھوڑی بھی صراحت ہے وہی\nوہ کنایہ ہے جو تصریح سے بھی ہو اولیٰ\n\nعیب و خوبی کا سمجھنا ہے اک امر نازک\nپہلے کچھ اور تھا اب رنگ زباں اور ہوا\n\nیہی اردو ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے\nاہل دہلی نے اسے اور سے اب اور کیا\n\nمستند اہل زباں خاص ہیں دلی والے\nاس میں غیروں کا تصرف نہیں مانا جاتا\n\nجوہری نقد سخن کے ہیں پرکھنے والے\nہے وہ ٹکسال سے باہر جو کسوٹی نہ چڑھا\n\nبعض الفاظ جو دو آئے ہیں اک معنیٰ میں\nایک کو ترک کیا ایک کو قائم رکھا\n\nترک جو لفظ کیا اب وہ نہیں مستعمل\nاگلے لوگوں کی زباں پر وہی دیتا تھا مزہ\n\nگرچہ تعقید بری ہے مگر اچھی ہے کہیں\nہو جو بندش میں مناسب تو نہیں عیب ذرا\n\nشعر میں حشو و زواید بھی برے ہوتے ہیں\nایسی بھرتی کو سمجھتے نہیں شاعر اچھا\n\nگر کسی شعر میں ایطائے جلی آتا ہے\nوہ بڑا عیب ہے کہتے ہیں اسے بے معنیٰ\n\nاستعارہ جو مزے کا ہو مزے کی تشبیہ\nاس میں اک لطف ہے اس کہنے کا پھر کیا کہنا\n\nاصطلاح اچھی مثل اچھی ہو بندش اچھی\nروزمرہ بھی رہے صاف فصاحت سے بھرا\n\nہے اضافت بھی ضروری مگر ایسی تو نہ ہو\nایک مصرع میں جو ہو چار جگہ بلکہ سوا\n\nعطف کا بھی ہے یہی حال یہی صورت ہے\nوہ بھی آئے متواتر تو نہایت ہے برا\n\nلف و نشر آئے مرتب وہ بہت اچھا ہے\nاور ہو غیر مرتب تو نہیں کچھ بے جا\n\nشعر میں آئے جو ایہام کسی موقع پر\nکیفیت اس میں بھی ہے وہ بھی نہایت اچھا\n\nجو نہ مرغوب طبیعت ہو بری ہے وہ ردیف\nشعر بے لطف ہے گر قافیہ ہو بے ڈھنگا\n\nایک مصرع میں ہو تم دوسرے مصرع میں ہو تو\nیہ شتر گربہ ہوا میں نے اسے ترک کیا\n\nچند بحریں متعارف ہیں فقط اردو میں\nفارسی میں عربی میں ہیں مگر ان سے سوا\n\nشعر میں ہوتی ہے شاعر کو ضرورت اس کی\nگر عروض اس نے پڑھا وہ ہے سخن ور دانا\n\nمختصر یہ ہے کہ ہوتی ہے طبیعت استاد\nدین اللہ کی ہے جس کو یہ نعمت ہو عطا\n\nبے اثر کے نہیں ہوتا کبھی مقبول کلام\nاور تاثیر وہ شے ہے جسے دیتا ہے خدا\n\nگرچہ دنیا میں ہوئے اور ہیں لاکھوں شاعر\nکسب فن سے نہیں ہوتی ہے یہ خوبی پیدا\n\nسید احسنؔ جو مرے دوست بھی شاگرد بھی ہیں\nجن کو اللہ نے دی فکر رسا طبع رسا\n\nشعر کے حسن و قبائح جو انھوں نے پوچھے\nان کی درخواست سے اک قطعہ یہ برجستہ کہا\n\nپند نامہ جو کہا داغؔ نے بیکار نہیں\nکام کا قطعہ ہے یہ وقت پہ کام آئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%86%D8%AF_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81"} {"title": "پنچاب کے دہقان سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "بتا کیا تری زندگی کا ہے راز\nہزاروں برس سے ہے تُو خاک باز\nاسی خاک میں دب گئی تیری آگ\nسحَر کی اذاں ہوگئی، اب تو جاگ!\nزمیں میں ہے گو خاکیوں کی برات\nنہیں اس اندھیرے میں آبِ حیات\nزمانے میں جھُوٹا ہے اُس کا نِگیں\nجو اپنی خودی کو پرکھتا نہیں\nبُتانِ شعوب و قبائل کو توڑ\nرسُومِ کُہَن کے سلاسل کو توڑ\nیہی دِین محکم، یہی فتحِ باب\nکہ دنیا میں توحید ہو بے حجاب\nبخاکِ بدن دانۂ دل فشاں\nکہ ایں دانہ داردزحاصِل نشاں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%86%DA%86%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%81%D9%82%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92"} {"title": "پنچاب کے پِیرزادوں سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "حاضِر ہُوا میں شیخِ مجدّدؒ کی لحَد پر\nوہ خاک کہِ ہے زیرِ فلک مطلعِ انوار\nاس خاک کے ذرّوں سے ہیں شرمندہ ستارے\nاس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحبِ اسرار\nگردن نہ جھُکی جس کی جہانگیر کے آگے\nجس کے نفَسِ گرم سے ہے گرمیِ احرار\nوہ ہِند میں سرمایۂ ملّت کا نِگہباں\nاللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار\nکی عرض یہ میں نے کہ عطا فقر ہو مجھ کو\nآنکھیں مری بِینا ہیں، و لیکن نہیں بیدار!\nآئی یہ صدا سلسلۂ فقر ہُوا بند\nہیں اہلِ نظر کِشورِ پنجاب سے بیزار\nعارف کا ٹھکانا نہیں وہ خِطّہ کہ جس میں\nپیدا کُلَہِ فقر سے ہو طُّرۂ دستار\nباقی کُلَہِ فقر سے تھا ولولۂ حق\nطُرّوں نے چڑھایا نشۂ ’خدمتِ سرکار‘!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%86%DA%86%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D9%90%DB%8C%D8%B1%D8%B2%D8%A7%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "پنچایت", "poet_page": "مصنف:اعظم کریوی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "مہاراج رام لال مدن پور گاؤں کے پروہت تھے۔ بڑے ہنس مکھ اور ملنسار تھے۔ کسرت کا خاص شوق تھا۔ جوانی میں انہوں نے کئی کشتیاں ماری تھیں۔ دور دور تک ان کی پہلوانی کا شہرہ تھا۔ مگر اب بڈھے ہوچکے تھے۔ اب خود تو کشتی لڑ نہیں سکتے تھے، بلکہ اکھاڑے کے کنارے کھڑے ہوکر اپنے شاگردوں کو داؤ پیچ بتایا کرتے تھے۔ جہاں بھی دنگل ہوتا مہاراج سو کام چھوڑ کر وہاں پہنچ جاتے۔ زمانہ بدل چکا تھا۔ نئے داؤ پیچ کے سامنے پرانے داؤ پیچ کی قدر نہ تھی۔ مگر مہاراج اپنا پرانا گر ہی بتایا کرتے۔ کوئی مانے یا نہ مانے مہاراج کو اپنی نصیحت سے کام تھا۔\n\nمہاراج کو کوئی اولاد نہ تھی۔ سوائے مہاراجن کوشلیا کے اس دنیا میں اس کا اپنا اور کوئی نہ تھا۔ گھر میں ایک اچھی نسل کی گائے سدھیا تھی۔اس کی سیوا میں ان دونوں کا کافی وقت صرف ہوتا تھا۔ صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے مہاراج سدھیا کو ’’سانی‘‘ دیتے پھر دوسرا کام کرتے اور پوجا پاٹ کے لیے آسن جما کر بیٹھ جاتے۔\n\nساون بیتا ناگ پنچمی آئی۔ جس طرح میگھ کے درشن سے خوش ہو کر مور ناچنے لگتا ہے۔ اسی طرح ناگ پنچمی کے آتے ہی گاؤں میں بہار آگئی۔ درختوں میں جھولےپڑے تھے۔ اور گاؤں کی الھڑ لڑکیاں ملہار اور کجری کی تانیں اڑاتی تھیں۔ شوقین نوجوان بارہ ماسے گاتے تھے۔ چرواہے کی بانسری کی درد اور اثر میں ڈوبی ہوئی صدا کھیتوں اور جنگلوں میں انسانوں اور حیوانوں کو مست بنانے لگی۔ اجڑے ہوئے اکھاڑے پھر سے آباد ہوئے۔ پہلوانوں نے پھر سے نئے لنگوٹ بنوائے، عورتوں نے گوبر سےآنگن لیپے اور گاتی بجاتی کٹوروں میں دودھ چاول لیے ناگ دیوتا پوجنے چلیں۔ گاؤں کے قریب ہی منصور آباد میں دنگل تھا۔ بھلا ایسے موقع پر مہاراج رام لال کیسے خاموش بیٹھ سکتے تھے۔ وہ بھی اپےب شاگردوں کو ساتھ لے کر دنگل میں پہنچ گئے۔ اور خوب خوب کشتیاں لڑائیں اور خوش خوش گھر واپس ہوئے۔ واپسی میں بارش ہوگئی۔ دوستوں اور شاگرودں نے مہاراج کو راستہ میں بارش سے بچنے کے لیے کسی مکان میں بہت روکناچاہا مگر مہاراج میں یہی نقص تھا کہ وہ اپنے سامنے کسی کی کچھ سنتے نہ تھے۔ وہ یہی کہتے رہے کہ پہلوانوں کو بارش کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ میں اپنی جوانی میں تو ایسی بارش میں خاص طور سے کبڈی کھیلتا تھا۔ جب بارش میں بھیگتے ہوئے بڈھے مہاراج گھر واپس ہوئے تو ان کو سردی لگ گئی۔ مگر اکڑ میں کسی سے کچھ کہا نہیں۔ جب رات کو خوب زور کا بخار چڑھا تو مہاراجن نے گھبراکر گاؤں کے وید کو بلایا۔ ویدجی پڑھے نہ لکھے ’’فاضل نام‘‘ معلوم نہیں کیا دوا دی کہ صبح ہوتے ہوتے ہی مہاراج بیکنٹھ سدھارے۔\n\nمہاراج کے مرتے ہی مہاراجن کی دنیا تاریک ہوگئی۔ چنانچہ مہاراج کے کریا کرم سے فراغت پاکر اس نے تیرتھ یاترا کی ٹھانی۔ چھوٹے لال بنیا کا گھر قریب ہی تھا۔ لالہ چھوٹے لال گاؤں کے ساہوکار تھے۔ شادی غمی کوئی تقریب ہو لالہ جی کی مدد کے بغیر پورا ہونا مشکل تھا۔ یوں تو گاؤں میں کہاراج کا ہر شخص سے بڑا میل تھا۔ لیکن لالہ جی تو ان کے لنگوٹیا یار تھے، مہاراج کے مرنے پر لالہ اور للائن دونوں نے مہاراجن سے بہت ہمدردی کااظہار کیا۔ اور کہاجب تک ہم لوگ زندہ ہیں تم کسی بات کی فکر نہ کرنا۔ مہاراجن نے آنسو بھر کر کہا ’’سو آپ ہی لوگوں کا تو اب سہارا رہ گیا۔ اوپر بھگوان اور نیچے آپ لوگ ہی مجھ دُکھیا کے سب کچھ ہیں۔‘‘ جب لالہ جی گھر جانے لگے تو مہاراجن نے کہا ’’میں دو تین دن میں تیرتھ یاترا کے لیے جاؤں گی۔ یہ گھر آپ کو سنبھالنا پڑے گا۔ میری سُدھیا کی بھی دیکھ بھال کرنی ہوگی۔‘‘ اتنا کہہ کر مہاراجن کوٹھری میں گئیں اور وہاں سے ہاتھ میں ایک پوٹلی لے کرنکلیں۔ اور لالہ جی کے ہاتھ میں دے کر کہا ’’لیجیے یہ میری امانت ہے۔ اپنے یہاں رکھ لیجیے۔ اگر یاترا سے واپس لوٹی تو امانت واپس لے لوں گی ورنہ آپ انہیں کسی دھرم کے کام میں خیرات کردیجیے گا۔‘‘\n\nلالہ جی نے پوٹلی کھول کر دیکھا تو اس میں سونے کی ایک ہنسلی، چاندی کے لچھے، کڑے، چمپاکلی اور بازوبند کے ساتھ ہی پانچ سو روپے نقد تھے۔ لالہ جی کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ مہاراجن کو اتنا مالدار نہیں سمجھتے تھے۔ دلی جذبات کو دباکر لالہ جی نے کہا ’’اچھا تو میں تمہاری اس امانت کو جمع کرکے بہی میں لکھ لوں گا۔ یہاں قلم دوات اور کاغذ تو نہ ہوگا۔ چلو میرے گھر تک وہاں رسید لکھ دوں۔‘‘\n\nمہاراجن بولیں ’’نہیں لالہ جی! مجھے آپ پر اعتبار ہے۔ مجھے رسید کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ میرے سرگباشی پتی کے دوست ہیں۔ اس گاؤں میں آپ سے زیادہ مجھے اور کسی کا اعتبار نہیں۔‘‘\n\nللائن بیچ ہی میں بول اٹھیں۔ ’’تو کب تک تیرتھ یاترا سے واپسی ہوگی۔‘‘\n\nاب یہ تو رام جانیں۔ پریاگ راج، کاشی، چترکوٹ، متھرا بندرابن اور ہردوار کی تیرتھ کرکے واپس آؤں گی۔\n\nمہاراجن تیرتھ یاترا کو گئیں۔ تو سال بھر تک ان کا پتہ ہی نہ ملا کہ وہ کہاں ہیں۔ ایک دن للائن نے لالہ جی سے کہا، کیا بات ہے اب تک مہاراجن تیرتھ یاترا سے واپس نہیں آئیں؟\n\nلالہ جی گھٹنوں تک دھوتی چڑھائے توند پھیلائے ایک طرف پھٹے ٹاٹ پر بیٹھے تھے۔ بہی کھاتہ کھلا تھا۔ اور وہ سود بڑھانے کی فکر میں مگن تھے۔ بیچو کمہار پر پچیس روپے بیاج ہوگئے۔ بدھو مان کو اب زیادہ مہلت نہ دینی چاہیے، سود در سود میں اس کا مکان لکھ لینا چاہیے۔ میکو چمار کے کھیت کو رہن رکھ لینا چاہیے۔ مگر یہ سرکار تو نئے نئے قانون سے ہم ساہوکاروں کاناک میں دم کیے ہے۔ ساہوکارہ ایکٹ۔ انتقال اراضی ایکٹ اور نہ جانے کون کون ایکٹ پیکٹ۔ جب دیکھو ہمارے خلاف ایک نیا قانون۔ ہم کسی کی خوشامد تو کرتے نہیں، جس کی ضرورت ہوتی ہے ہم سے روپیہ قرض لیتا ہے۔ اب اگر ہمارا قرض ادا نہ ہو اور ہم اصل اور سود در سود کی نالش کرتے ہیں تو کیا بے جا کرتے ہیں۔‘‘\n\nللائن نے دوبارہ دریافت کیا تو لالہ جی جیسے سوتے سے چونک اٹھے اور بولے ’’تم کو مہاراجن کی پڑی ہے۔ اور میرا سود ڈوبا جارہا ہے۔ نئے قانون سے تو جان مشکل میں پھنسی ہے۔ مہاراجن آئیں تو واہ!واہ نہ آئیں تو واہ! واہ!‘‘\n\nللائن نے سرگوشی کے لہجہ میں کہا ’’اور ان کی امانت۔‘‘\n\n’’تم چپ رہو تمہیں اس سے کیا مطلب۔ میں سب کچھ سمجھ لوں گا۔‘‘\n\n’’کیا سمجھ لوگے؟‘‘\n\nللائن! بس تم میں یہی تو بڑی کھراب (خراب) عادت ہے۔ بات پوچھتی ہو اور بات کی جڑ پوچھتی ہو۔ کہہ تو دیا کہ لین دین کا معاملہ ہے۔ اس میں تم دکھل (دخل) نہ دو، تم ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتی ہو۔\n\n’’لیکن اتنا تو میں جانتی ہوں کہ تمہارے پاس مہاراجن کی امانت ہے۔‘‘\n\n’’مگر تمہارے سوا گاؤں میں اور کسی کو تو نہیں معلوم۔‘‘\n\n’’پرماتما کو تو معلوم ہے۔‘‘\n\n’’آئی بڑی کہاں کی دیا دھرم کی مورتی بن کر۔ امانت رکھنے کا بھی تو بیاج لیا جاتا ہے۔ ہم مفت میں اپنے پاس امانت جمع رکھنے لگیں تو بس ہم کما بیٹھے ۔‘‘\n\nیہی باتیں ہو رہی تھیں کہ سدھیا کے چلانے کی آواز آئی۔ للائن نے گھر سے باہر نکل کر دیکھا کہ مہاراجن اپنی گائے سدھیا کے گلے میں باہیں ڈالے رو رہی ہیں۔ گویا بچھڑوں کا ملاپ ہو رہا ہے۔\n\nتھوڑی دیر میں سارے گاؤں میں خبر پھیل گئی کہ مہاراجن تیرتھ یاترا سے واپس آگئیں۔ گاؤں میں بڑا میل ملاپ ہوتا ہے۔ بڑے چھوٹے سب مہاراجن کے درشن کے لیے دوڑ پڑے لیکن لالہ جی کو نہ جانے کیوں ملنے کی فرصت نہ تھی۔\n\nدوچار دن کے بعد گھر کی صفائی اور ملنے والوں سے جب مہاراجن کو فرصت ملی تو انہیں ست نرائن کی کتھا اور برہمنوں کو بھوج دینے کی سوجھی۔ جو کچھ روپے پاس تھے وہ خرچ ہوچکے تھے۔ چنانچہ وہ اپنی امانت لینے کے لیے چھوٹے لال بنیا کے یہاں پہنچیں۔ مہاراجن کو دیکھ کر لالہ جی نے کہا۔ ’’ماف (معاف) کرنا مہاراجن، کام کی وجہ سے فرصت نہ ملی۔ میں آج تم سے ملنے آنے والا ہی تھا۔ کہو اچھی تو رہیں۔‘‘\n\n’’سب آپ کی کرپا ہے۔‘‘\n\n’’کہیے کیسے تکلیف کی۔‘‘\n\n’’وہی اپنی امانت لینے آئی ہوں۔‘‘\n\n’’سدھیا کو تو آپ لے جاچکی ہیں اب اور کیا چاہیے۔‘‘\n\nمہاراجن نے لالہ کی طرف دیکھا اور کہا ’’میں اپنے روپے زیور لینےآئی ہوں۔‘‘\n\n’’اچھا تو کل آئیے بہی دیکھ کر بتاؤں گا کہ میرے پاس آپ کی کونسی امانت ہے۔ سال بھر کی بات ہوگئی۔ کچھ اچھی طرح یاد نہیں۔‘‘\n\nمہاراجن نے بہت کہا کہ ست نرائن کی کتھا اور بھوج کے لیے روپے کی بہت جلد ضرورت ہے۔ نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ پانچ سو روپے، سونے کی ہنسلی اور چاندی کے لچھے، کڑے، چمپاکلی اور بازوبند ہی تو جمع ہیں۔ لیکن لالہ جی نے یہی کہا ’’میرے پاس بہت سے زیور گروی ہیں۔ میں کہاں تک یاد رکھوں۔ جب تک بہی نہ دیکھوں گا کچھ نہیں کہہ سکتا۔ پرانی بات ہے۔ بہی تلاش کرنی پڑے گی۔‘‘ آخر مایوس ہوکر مہاراجن کو واپس ہونا پڑا۔ دوسرے دن جب وہ پھر لالہ جی کے یہاں پہنچی تو معلوم ہوا کہ لالہ جی کسی کام کے لیے شہر گئے ہیں اور معلوم نہیں کب واپس ہوں گے۔ لالہ جی کے انتظار میں کئی دن بیت گئے۔\n\nمہاراجن اسی بھرم میں تھیں کہ بہی دیکھ کر لالہ جی ان کی امانت واپس کردیں گے۔ مگر جب لالہ جی شہر سے واپس آئے اور انھوں نے ایک پرانی بہی دیکھی تو کہا ’’بہی میں تو صرف پچاس روپے اور چاندی کے لچھے جمع ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پانچ روپے مہینے کے حساب سے سدھیا گائے کی کھلائی میں ساٹھ روپے خرچ ہوئے۔ مہاراجن کے مکان کی مرمت میں دس روپے لگے۔ اس طریقے سے جمع اور خرچ برابر رہا۔ لالہ جی کےپاس اب مہاراجن کا ایک پیسہ جمع نہیں ہے۔‘‘\n\nمہاراجن یہ سنتے ہی دنگ رہ گئیں۔ ساہوکار اتنا کمینہ اور بے ایمان ہوگا یہ انھوں نے کبھی نہ سوچا تھا۔ اب ساہوکار اپنے اصلی روپ میں ان کے سامنے تھا۔ ہائے مہاراجن نے امانت کی کوئی رسید کیوں نہ لی۔ لیکن اب پچھتانا بیکار تھا۔ مہاراجن بہت روئیں چلائیں خوشامدیں کیں، اپنی غریبی اور بیوگی کا واسطہ دیا۔ لیکن لالہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ وہ یہی کہتا رہا ’’ہجّاروں (ہزاروں) کا لین دین کرتا ہوں۔ تمہارے ساتھ بے ایمانی کیوں کروں گا۔‘‘\n\nاس سے پہلے گاؤں والوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ ساہوکار کے یہاں مہاراجن کی امانت جمع ہے۔ مہاراجن نے بنیا کو ایماندار سمجھا تھا۔ گاؤں والوں کے خیال یا ڈر سے مہاراجن نے چپکے سے امانت جمع کرنے میں بہتری سمجھی تھی۔ لیکن اب وہ کب تک اور کیسے خاموش رہ سکتی تھیں۔ انھوں نے جب دیکھا کہ بے ایمان بنیا نہیں مانتا تو دہائی مچائی۔ گاؤں والے جمع ہوگئے۔ لیکن مہاراجن کے پاس کوئی رسید نہ تھی۔ گاؤں والے ساہوکار کو چھوڑ کر ایک غریب بیوہ کا کیسے ساتھ دیتے۔\n\nگاؤں میں ہلچل مچ گئی۔ جس نے سنا اسی کو تعجب ہوا۔ مہاراجن ’’پنچایت‘‘ بلارہی تھیں۔ ایک غریب بیوہ برہمنی اور ساہوکار کا مقابلہ تا ۔ گواہ نہ شاہد آخر کس بوتے پر مہاراجن کو پنچایت بلانے کی ہمت پڑی۔ گاؤں والے تو مقدمہ بازی کے عادی تھے۔ اب تک گاؤں میں کوئی پنچایت نہ تھی۔ سب کے لیے نہ نئی بات تھی۔ گاؤں کے مکھیا جمال میاں نے مہاراجن کو بہت سمجھایا کہ جب تمھارے پاس کوئی رسید نہیں کوئی گواہ نہیں تو پنچایت بلانے سے کیا فائدہ۔ مگر مہاراجن نے یہی کہا ’’مکھیا جی! رسید ہوتی تو پھر لالہ جی کو بے ایمانی کرنے کی ہمت نہ پڑتی۔ مگر آپ دیکھ لیجیے گا کہ پنچایت سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ میں تو آپ سے فریاد کرتی ہوں مجھ غریب دکھیا پر اتنی دیا کیجیے کہ آپ پنچایت بلا دیجیے۔‘‘ مکھیا کے دروازے پرشام کو پنچایت جمی۔ بیچو نائی حقہ بھرنے کے لیے آگئے۔ تمہاکو کا خرچ مہاراجن نے اٹھایا۔ جب سب گاؤں والے جمع ہوگئے۔ تو پانچ پنچوں کا چناؤ ہوا۔ سالک رام کھتری، چوبے لال کاچھی، مادھو اہیر اور بدلو بھاٹ پنچ اور جمال میاں سرپنچ ہوئے۔ نہ کوئی میز تھی اور نہ کرسی۔ پنچوں کا اجلاس تھا۔ گاؤں کی پنچایت تھی۔ پنچوں کی نشست چارپائی پر تھی۔ اور گاؤں والے اِدھر ادھر زمین پر حلقہ مارے بیٹھے تھے۔ نہ چپراسی کی دھونس نہ پیشکار کا ڈر۔ مدعی مدعا عالیہ بغیر کسی وکیل کے پیش ہوئے۔ سب پنچوں نے انصاف کرنے کی قسم کھائی۔ اور مہاراجن نے گنگا جل اٹھاکر پنچ پرمیشور کو نمسکار کیا اور مختصر طور پر جو کچھ چھوٹے لال بنیا کے یہاں امانت جمع رکھی تھی اس کا ذکر کیا۔ سالک رام پنچ نے جرح کی۔ تمہارے پاس اس کی کوئی رسید ہے؟\n\nمہاراجن نے جواب دیا ’’جی نہیں۔‘‘\n\nلالہ جی اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور بولے ’’دیکھ لی مہاراجن کی اکڑ۔‘‘\n\nسرپنچ نے پھٹکارا ’’لالہ جی! چپ چاپ کھرے رہو، مہاراجن کا بیان ہو رہا ہے۔ تمہیں بولنے کی ضرورت نہیں۔ اتنا کہہ کر سرپنچ نے مہاراجن سے کہا۔ جب تمہارے پاس کوئی رسید نہیں تو اس کا کیا ثبوت ہے کہ تم نے امانت چھوٹے لال بنیا کے یہاں جمع کی۔\n\nجرح معقول تھی۔ سب پنچوں نے سرہلا دیا۔ مہاراجن نے کہا کہ ’’للائن بلائی جائیں‘‘۔ تھوڑی دیر میں للائن پنچوں کے سامنے پیش کی گئی۔ سب کا خیال تھا کہ مہاراجن سے یہ چوک ہوئی۔ بھلا للائن اپنے شوہر کے خلاف کیسے گواہی دیں گی۔ للائن کو دیکھ کر مہاراجن نے کہا ’’للائن لو یہ گنگا جل اٹھاکر قسم کھاؤ کیا میں نے پانچ سو روپے، سونے کی ایک ہنسلی، چاندی کے لچھے، کڑے، چمپاکلی اور بازوبند تیرتھ یاترا جانے سے پہلے تمہارے سامنے لالہ جی کو جمع کرنے کے لیے نہیں دیے۔ پنچ پرمیشور تمہارے سامنے بیٹھے ہیں۔ جھوٹ نہ بولنا تم کو اپنے پتی دیو کی قسم کھانی پڑے گی۔ تم پتی ورتا استری ہو۔ استری کے دھرم کا پالن کرو۔ اس سے صرف تمہارا ہی نہیں بلکہ تمہارے پتی دیو لالہ جی کا بھی کلیان ہوگا۔‘‘ وقت کی بات۔ پنچایت کا رعب۔ بھگوان کا ڈر اور مہاراجن کی پراثر تقریر نے للائن کے قدم ڈگمگادیے۔ لالہ چھوٹے لال کی جہاندیدہ نظروں نے بھانپ لیا کہ للائن جھوٹ نہ بولیں گی اور لالہ جی کی قلعی کھل جائے گی۔ وہ یہ سب کچھ سوچ کر یکبارگی پنچوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوگئے اور بولے ’’للائن کی قسم کھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو کچھ مہاراجن نے کہا وہ سب سچ ہے۔ میں ان کی امانت واپس کرنے کو تیار ہوں۔ مجھ سے بھول ہوئی۔ معاف کیا جائے۔‘‘\n\nاب کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہ تھی۔ معاملہ صاف ہوگیا تھا۔ پنچوں نے اپنا فیصلہ صادر کیا۔ اگر لالہ جی کو مہاراجن معاف کردیں تو خیر ورنہ انہیں ڈنڈ دینا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی ایک سال تک جب بھی گاؤں میں پنچایت ہوگی، لالہ جی اس کا خرچ اٹھائیں گے۔ ایک پنچایتی فرش بھی خریدا جائے گا۔ اس کی قیمت لالہ جی دیں گے۔ اتنا سن کر لالہ جی نے کہا ’’مجھے سب منظور ہے۔‘‘ اور یہ کہہ کر معافی کے لیے مہاراجن کے چرنوں میں جھک گئے۔ نیک دل مہاراجن نے بڑی خوشی سے معاف کردیا۔ للائن مہاراجن کے گلے سے لپٹ کر آنسو بہانے لگیں۔ ’’مہاراجن کی جے ہو!‘‘، ’’پنچایت زندہ باد!‘‘ کے نعروں سے تمام گاؤں گونج اٹھا۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%86%DA%86%D8%A7%DB%8C%D8%AA"} {"title": "پوسٹ مین اس بت کا خط لاتا نہیں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "پوسٹ مین اس بت کا خط لاتا نہیں\nاور جو لاتا ہے پڑھا جاتا نہیں\n\nعاشقی سے کیوں ہم استعفیٰ نہ دیں\nہوٹلوں کا بل دیا جاتا نہیں\n\nشیخ جی موٹر پہ حج کو جائیے\nعہد نو میں اونٹ کام آتا نہیں\n\nبوسہ لیں اس سرو قد کا کس طرح\nتار پر ہم سے چڑھا جاتا نہیں\n\nعاشقوں پر ظلم کرنا چھوڑ دیں\nکیوں بے قاصد جا کے سمجھاتا نہیں\n\nرات دن فرمائشیں زیور کی ہیں\nہم سے اب عاشق رہا جاتا نہیں\n\nجل گئی سگریٹ سے داڑھی شیخ کی\nیہ مگر فیشن سے باز آتا نہیں\n\nفربہی کا طنز کیوں مشتاق پر\nتیری چکی سے تو پسواتا نہیں\n\nفیس پہلے جب تلک رکھوا نہ لے\nڈاکٹر اپنے بھی گھر جاتا نہیں\n\nبیکری میں نوکری کرنی پڑی\nوہ سوائے کیک کچھ کھاتا نہیں\n\nتیری فرقت میں بہت فاقے کٹے\nآ کہ اب بھوکا رہا جاتا نہیں\n\nکب سے ہے مہمان تو اے ہجر یار\nبھائی میرے گھر سے کیوں جاتا نہیں\n\nاو ستمگر روکنا موٹر ذرا\nمیرے خچر سے چلا جاتا نہیں\n\nلانڈری کھولی تھی اس کے عشق میں\nپر وہ کپڑے ہم سے دھلواتا نہیں\n\nحضرت ابن بطوطہ کی غزل\nضد کے مارے وہ صنم گاتا نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%D8%B3%D9%B9_%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%B7_%D9%84%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پوشاک سیہ میں رخ جاناں نظر آیا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پوشاک سیہ میں رخ جاناں نظر آیا\nشب کو ہمیں خورشید درخشاں نظر آیا\n\nدیکھا نہ کہیں کفر نہ ایماں نظر آیا\nہندو کوئی پایا نہ مسلماں نظر آیا\n\nملبوس سیہ میں رخ جاناں نظر آیا\nظلمات میں یاں چشمۂ حیواں نظر آیا\n\nبالوں میں چھپا چہرۂ جاناں نظر آیا\nپردہ میں یہاں کفر کے ایماں نظر آیا\n\nپھر جوش جنوں سلسلۂ جنباں نظر آیا\nپھر بے سر و سامانی کا ساماں نظر آیا\n\nپریاں جسے کاندھے پہ اٹھاتی تھیں ہمیشہ\nبرباد وہ اورنگ سلیماں نظر آیا\n\nباایں ہمہ وسعت بھی ہے کیا خوان فلک تنگ\nآسودہ نہ اس کا کوئی مہماں نظر آیا\n\nآنکھوں کے تلے پھر گیا وہ آہوئے‌ شہری\nجنگل میں جو آہوئے‌ بیاباں نظر آیا\n\nمجمع میں رقیبوں کے کھلا تھا ترا جوڑا\nکل رات عجب خواب پریشاں نظر آیا\n\nجس دشت میں پھوٹے ہیں مرے آبلہ پا\nکوسوں وہی سرسبز نیستاں نظر آیا\n\nتا سال دگر مے کہ خورد زندہ کہ ماند\nماہ رمضان ساقیٔ دوراں نظر آیا\n\nدیوانہ ہوں پر کام میں ہوشیار ہوں اپنے\nیوسف کا خیال آیا جو زنداں نظر آیا\n\nشوخ‌ مژۂ برگشتہ کی دیکھی نگہ قہر\nآہو بھی مجھے شیر نیستاں نظر آیا\n\nمایوس پھری آتی ہیں کیوں میری دعائیں\nکیا باب اجابت پہ بھی درباں نظر آیا\n\nمیں زار مہ نو ہوں کہ اس نے مجھے اے مہرؔ\nجب غور سے دیکھا تو کہا ہاں نظر آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%D8%B4%D8%A7%DA%A9_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%AE_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخ", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخ\nہو جائے نہ پرتو سے ترے کون و مکاں سرخ\n\nیاں بادۂ احمر کے چھلکتے ہیں جو ساغر\nاے پیر مغاں دیکھ کہ ہے ساری دکاں سرخ\n\nپی بادۂ احمر تو یہ کہنے لگا گل رو\nمیں سرخ ہوں تم سرخ زمیں سرخ زماں سرخ\n\nکیا پان کی سرخی نے کیا قتل کسی کو\nشدت سے ہے کیوں آج تری تیغ زباں سرخ\n\nسینہ میں دل غمزدہ خوں ہو گیا شاید\nبے وجہ بھی ہوتے ہیں کہیں اشک رواں سرخ\n\nکیا بھڑکے ہے سینہ میں مرے آتش فرقت\nجو آہ کے ہمراہ نکلتا ہے دھواں سرخ\n\nیہ قتل خزاں پر ہیں جوانان چمن شاد\nہر سمت گل و لالہ اڑاتے ہیں نشاں سرخ\n\nگر میری شہادت کی بشارت نہیں پرویںؔ\nپھر کیوں ہے خط شوق کے عنواں یہ نشاں سرخ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%D8%B4%D8%A7%DA%A9_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DB%81%D9%86%DB%8C%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%B1%D8%AE"} {"title": "پوشیدہ جب ہو راز کہ منہ میں زباں نہ ہو", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پوشیدہ جب ہو راز کہ منہ میں زباں نہ ہو\nہم بات بھی کریں تو بغیر از فغاں نہ ہو\n\nلے جائیں آہ مجھ کو مری بدگمانیاں\nظالم وہاں کہ تیرا پتہ بھی جہاں نہ ہو\n\nزاہد عذاب عشق صنم لطف حق سمجھ\nیعنی عذاب ہم کو یہاں ہو وہاں نہ ہو\n\nنیرنگی چمن جو مجھے یاد آ گئی\nگل پر ہوا گمان کہ برگ خزاں نہ ہو\n\nتم کو مزہ نہ دے گی کبھی داستان عشق\nجب تک ہمارے منہ سے یہ قصہ بیاں نہ ہو\n\nناقہ کو قیس کیا نہ لگا لائے راہ پر\nلیلی کا رازدار اگر سارباں نہ ہو\n\nتہمت کسی کو ظلم کی اے داغؔ کیوں لگائیں\nشکوہ بتوں سے کیا جو خدا مہرباں نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%DB%81%D9%88_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "پوشیدہ دیکھتی ہے کسی کی نظر مجھے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پوشیدہ دیکھتی ہے کسی کی نظر مجھے\nدیکھ اے نگاہ شوق تو رسوا نہ کر مجھے\n\nمقصد سے بے نیاز رہا ذوق جستجو\nمیں بے خبر ہوا جو ہوئی کچھ خبر مجھے\n\nمیں شب کی بزم عیش کا ماتم نشیں ہوں آپ\nرو رو کے کیوں رلاتی ہے شمع سحر مجھے\n\nحیرت نے میری آئینہ ان کو بنا دیا\nکیا دیکھتے کہ رہ گئے وہ دیکھ کر مجھے\n\nقربان جاؤں چھوڑ تکلف کی گفتگو\nکہہ کر پکار وحشتؔ شوریدہ سر مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "پوچھ لو گر جھوٹ کہتا ہوں دل ناکام سے", "poet_page": "مصنف:سید ہمایوں میرزا حقیر", "kind": "poetry", "section": "غزل > چمنستان فصاحت (1940)", "year": "1940", "text_ur": "پوچھ لو گر جھوٹ کہتا ہوں دل ناکام سے\nصبح کی ہے آج بھی رو رو کے میں نے شام سے\n\nسابقہ ہے روز فردا اس بت خود کام سے\nقبر میں سونے دے اے دل دو گھڑی آرام سے\n\nرو رہے ہیں اب تو دشمن بھی جنازے پر کھڑے\nآپ بھی گردن اٹھا کر دیکھ لیتے بام سے\n\nآ گئی ہے یاد مجھ کو گردش چشم نگار\nساقیا نظارۂ دور مئے گلفام سے\n\nکوئی مر جائے کہ فرقت میں رہے زندہ بگور\nان کو اپنے کام سے مطلب ہے اپنے نام سے\n\nچھٹ کے پیشانی کی افشاں دیکھیں کس کس پر گرے\nبجلیاں ناحق گراتے ہیں وہ بیٹھے بام سے\n\nبعد مردن ہو گلی اس کی کہ دشت خار خار\nواں بھی رہتے چین سے اور یاں بھی ہیں آرام سے\n\nزہر ہو لیکن وہ مجھ کو اپنے ہاتھوں سے تو دے\nیوں تو مطلب جام سے ہے اور نہ دور جام سے\n\nعاشقی اچھی سہی انجام عشق اچھا نہیں\nاے حقیرؔ اب درگزر کر اس خیال خام سے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE_%D9%84%D9%88_%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا\nبیکار ہے جو دانت دہن سے نکل گیا\n\nٹھہریں کبھی کجوں میں نہ دم بھر بھی راست رو\nآیا کماں میں تیر تو سن سے نکل گیا\n\nخلعت پہن کے آنے کی تھی گھر میں آرزو\nیہ حوصلہ بھی گور و کفن سے نکل گیا\n\nپہلو میں میرے دل کو نہ اے درد کر تلاش\nمدت ہوئی غریب وطن سے نکل گیا\n\nمرغان باغ تم کو مبارک ہو سیر گل\nکانٹا تھا ایک میں سو چمن سے نکل گیا\n\nکیا رنگ تیری زلف کی بو نے اڑا دیا\nکافور ہو کے مشک ختن سے نکل گیا\n\nپیاسا ہوں اس قدر کہ مرا دل جو گر پڑا\nپانی ابل کے چاہ ذقن سے نکل گیا\n\nسارا جہان نام کے پیچھے تباہ ہے\nانسان کیا عقیق یمن سے نکل گیا\n\nکانٹوں نے بھی نہ دامن گلچیں پکڑ لیا\nبلبل کو ذبح کر کے چمن سے نکل گیا\n\nکیا شوق تھا جو یاد سگ یار نے کیا\nہر استخواں تڑپ کے بدن سے نکل گیا\n\nاے سبزہ رنگ خط بھی بنا اب تو بوسہ دے\nبیگانہ تھا جو سبزہ چمن سے نکل گیا\n\nمنظور عشق کو جو ہوا اوج حسن پر\nقمری کا نالہ سرو چمن سے نکل گیا\n\nمد نظر رہی ہمیں ایسی رضائے دوست\nکاٹی زباں جو شکوہ دہن سے نکل گیا\n\nطاؤس نے دکھائے جو اپنے بدن کے داغ\nروتا ہوا سحاب چمن سے نکل گیا\n\nصحرا میں جب ہوئی مجھے خوش چشموں کی تلاش\nکوسوں میں آہوان ختن سے نکل گیا\n\nخنجر کھنچا جو میان سے چمکا میان صف\nجوہر کھلے جو مرد وطن سے نکل گیا\n\nمیں شعر پڑھ کے بزم سے کیا اٹھ گیا امیرؔ\nبلبل چہک کے صحن چمن سے نکل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%88%D8%B7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پوچھا کہ وجہ زندگی بولے کہ دل داری مری", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پوچھا کہ وجہ زندگی بولے کہ دل داری مری\nپوچھا کہ مرنے کا سبب بولے جفا کاری مری\n\nپوچھا کہ دل کو کیا کہوں بولے کہ دیوانہ مرا\nپوچھا کہ اس کو کیا ہوا بولے کہ بیماری مری\n\nپوچھا ستا کے رنج کیوں بولے کہ پچھتانا پڑا\nپوچھا کہ رسوا کون ہے بولے دل آزاری مری\n\nپوچھا کہ دوزخ کی جلن بولے کہ سوز دل ترا\nپوچھا کہ جنت کی پھبن بولے طرح داری مری\n\nپوچھا کہ مضطرؔ کیوں کیا بولے کہ دل چاہا مرا\nپوچھا تسلی کون دے بولے کہ غم خواری مری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D9%88%D8%AC%DB%81_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%8C"} {"title": "پوچھتا کون ہے ڈرتا ہے تو اے یار عبث", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پوچھتا کون ہے ڈرتا ہے تو اے یار عبث\nقتل کرنے سے مرے ہے تجھے انکار عبث\n\nکیا مری آنکھ عدم بیچ لگی تھی اے چرخ\nکیا اس خواب سے تو نے مجھے بیدار عبث\n\nوصل ہی اس کا دوا ہے مری بیماری کو\nاور کچھ کرتے ہیں تدبیر یہ غم خوار عبث\n\nیار تنہا ہے پھر ایسا نہیں ملنے کا وقت\nشرم ہوتی ہے میری مانع گفتار عبث\n\nاور بھی ان نے بیاںؔ ظلم کچھ افزود کیا\nکیا اس شوخ سے تیں عشق کا اظہار عبث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%DB%92_%DA%88%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D8%A8%D8%AB"} {"title": "پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیا\nتم نہ جانو تو خدا جانے مجھے کیا ہو گیا\n\nعاشقی میں وہم بڑھتے بڑھتے سودا ہو گیا\nقطرہ قطرہ جمع ہوتے ہوتے دریا ہو گیا\n\nوہ سراپا ناز ہے مجھ سے برا تو کیا کروں\nچار نے اچھا کہا جس کو وہ اچھا ہو گیا\n\nعاشقی میں نام اگر درکار ہے بد نام ہو\nدیکھ سب کچھ ہو گیا جب قیس رسوا ہو گیا\n\nکچھ ہو لیکن اب مرا دل تم سے پھر سکتا نہیں\nیہ تو جس کا ہو گیا کم بخت اس کا ہو گیا\n\nاپنے پہلو میں بٹھایا آپ نے اغیار کو\nدیکھیے بیٹھے بٹھائے کا یہ جھگڑا ہو گیا\n\nلے لیا یاد مژہ نے مجھ کو سیل اشک سے\nڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہو گیا\n\nداغ ہائے ہجر میں بھی دل میں ہیں خار شوق بھی\nباغ کا باغ اور یہ صحرا کا صحرا ہو گیا\n\nلے کے دل الزام دیتے ہو غنیمت ہے یہی\nمال کا مول آ گیا ادلے کا بدلا ہو گیا\n\nدل کی گھبراہٹ نسیم صبح دم سے کم ہوئی\nوہ نہ آئے غیب سے سامان پیدا ہو گیا\n\nکیا یہی ہے شرم تیرے بھولے پن کے میں نثار\nمنہ پہ دونوں ہاتھ رکھ لینے سے پردا ہو گیا\n\nمیری ہر اک بات قانون محبت ہے مگر\nاے صفیؔ میں شاعری کرنے سے جھوٹا ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی تھا", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی تھا\nرخصت صبر تھی یا ترک شکیبائی تھا\n\nشب فرقت میں دل غمزدہ بھی پاس نہ تھا\nوہ بھی کیا رات تھی کیا عالم تنہائی تھا\n\nمیں تھا یا دیدۂ خوننابہ فشانی شب ہجر\nان کو واں مشغلۂ انجمن آرائی تھا\n\nپارہ ہائے دل خونیں کی طلب تھی پیہم\nشب جو آنکھوں میں مری ذوق خود آرائی تھا\n\nرحم تو ایک طرف پایہ شناسی دیکھو\nقیس کو کہتے ہیں مجنون تھا صحرائی تھا\n\nآنکھیں قاتل سہی پر زندہ جو کرنا ہوتا\nلب پہ اے جان تو اعجاز مسیحائی تھا\n\nخون رو رو دیے بس دو ہی قدم میں چھالے\nیاں وہی حوصلۂ بادیہ پیمائی تھا\n\nدشمن جاں تھے ادھر ہجر میں درد و غم و رنج\nاور ادھر ایک اکیلا ترا شیدائی تھا\n\nانگلیاں اٹھتی تھیں مژگاں کی اسی رخ پیہم\nجس طرف بزم میں وہ کافر ترسائی تھا\n\nکون اس راہ سے گزرا ہے کہ ہر نقش قدم\nچشم عاشق کی طرح اس کا تماشائی تھا\n\nخوب وقت آئے نکیرین جزا دے گا خدا\nلحد تیرہ میں بھی کیا عالم تنہائی تھا\n\nہم نے بھی حضرت شبلیؔ کی زیارت کی تھی\nیوں تو ظاہر میں مقدس تھا پہ شیدائی تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%B4%D8%A8_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "پوچھتے ہیں تری حسرت کیا ہے", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پوچھتے ہیں تری حسرت کیا ہے\nآج مجھ پر یہ عنایت کیا ہے\n\nکیا کہوں رنگ طبیعت کیا ہے\nایک آفت ہے محبت کیا ہے\n\nذبح کرتے ہو جو منہ پھیر کے تم\nایسی بھی میری مروت کیا ہے\n\nجس میں تم خوش اسی میں میں خوش ہوں\nرنج کیا چیز ہے راحت کیا ہے\n\nبولتی ہی نہیں تصویر تری\nپھر مرے جینے کی صورت کیا ہے\n\nکسی آوارہ وطن سے پوچھو\nمہرباں واریٔ غربت کیا ہے\n\nذبح کے وقت رکا بھی خنجر\nیہ نہ پوچھا تری حسرت کیا ہے\n\nعمر گزری اسی کے کوچے میں\nہم سے پوچھو کہ محبت کیا ہے\n\nمے ہو سبزہ ہو گھٹا ہو تم ہو\nاس سے اچھی مجھے جنت کیا ہے\n\nغیر سے وعدہ لحد پر میری\nیہ قیامت سر تربت کیا ہے\n\nیہ تو ہے عین محبت اے دل\nان کے شکوے کی شکایت کیا ہے\n\nشیخ جی روزہ تو دن میں ہوگا\nشب کو پینے میں قباحت کیا ہے\n\nمجھ سے کہتی ہے یہ وحشت میری\nگھر میں رہنے کی ضرورت کیا ہے\n\nبھول کر بھی نہ کبھی یہ پوچھا\nحال بیمار محبت کیا ہے\n\nہم نے خود پینے سے توبہ کر لی\nشیخ صاحب کی کرامت کیا ہے\n\nسجدے کرتا ہوں در جاناں پر\nاور آئین محبت کیا ہے\n\nذکر مے اور جناب واعظ\nنہیں معلوم کہ نیت کیا ہے\n\nایک ٹھوکر سے اٹھی ہے سو بار\nآپ کے آگے قیامت کیا ہے\n\nجان ہی لے کے ٹلے گی صفدرؔ\nاک بلا ہے شب فرقت کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "پوچھتے ہیں وہ عشق کا مطلب", "poet_page": "مصنف:بشیر الدین احمد دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پوچھتے ہیں وہ عشق کا مطلب\nاب نکل جائے گا مرا مطلب\n\nاس پہ ظاہر ہوا مرا مطلب\nکاش پورا کرے خدا مطلب\n\nکہہ دیا ان سے برملا مطلب\nاب خدا چاہے تو ہوا مطلب\n\nبات پوری ابھی نہیں نکلی\nمنہ سے تم لے اڑے مرا مطلب\n\nکہتے ہیں عرض وصل پر وہ کہو\nدوسری بات دوسرا مطلب\n\nہے یہ مطلب نہ کچھ زباں سے کہوں\nمیں سمجھتا ہوں آپ کا مطلب\n\nجو تمنا ہے تم پہ ظاہر ہے\nہر گھڑی پوچھنے سے کیا مطلب\n\nدل میں جو کچھ تھا ان سے کہہ نہ سکا\nلب پہ آ آ کے رہ گیا مطلب\n\nمدعا ہے وہی جو پہلے تھا\nاور میں کیا کہوں نیا مطلب\n\nروبرو ان کے بات کر نہ سکا\nخط میں آخر کو لکھ دیا مطلب\n\nبات کیا ہے وہ مجھ سے پوچھتے ہیں\nواقعہ قصہ ماجرا مطلب\n\nواسطہ غیر کا نہیں اچھا\nخوب بنتا ہے برملا مطلب\n\nتم جو مل جاؤ کام بن جائے\nاور اس کے سوا ہی کیا مطلب\n\nآج خوش خوش بشیرؔ پھرتے ہیں\nنکلا ارمان مدعا مطلب", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8"} {"title": "پوچھو نہ کچھ اس بے سر و پا کی خواہش", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پوچھو نہ کچھ اس بے سر و پا کی خواہش\nرکھتی نہیں حد اہل وفا کی خواہش\nجاتے ہیں چلے جی ہی بتوں کی خاطر\nمعلوم نہیں کیا ہے خدا کی خواہش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D9%88_%D9%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B4"} {"title": "پوچھو نہ کچھ ثبوت خرد میں نے کیا دیا", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "پوچھو نہ کچھ ثبوت خرد میں نے کیا دیا\nایک مست ناز کو دل بے مدعا دیا\n\nاب کیا گلہ کروں عدم التفات کا\nمیری نگاہ یاس نے سب کچھ جتا دیا\n\nبڑھتے ہوئے شعور میں گم ہو رہا ہوں میں\nاحساس حسن آپ نے اتنا بڑھا دیا\n\nدیکھی نہ جب تجلیٔ تکرار آشنا\nبے رنگیوں کا رنگ خودی نے جما دیا\n\nہے شاد بے دلی پہ تہی دست آرزو\nاچھا کیا نشان تمنا مٹا دیا\n\nمایوس جلوہ ہائے طرب ہوں خبر نہیں\nدل خود ہی بجھ گیا کہ کسی نے بجھا دیا\n\nکیا لطف اضطراب دکھاؤں کہ آپ نے\nاحساس درد درد سے پہلے مٹا دیا\n\nانجام دید و عید اب اے ہم نشیں نہ پوچھ\nوہ مجھ کو یاد ہے مجھے جس نے بھلا دیا\n\nمعلوم تھا تجھے کہ وہ درد آشنا نہیں\nمنظورؔ دل کا درد انہیں بھی سنا دیا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AB%D8%A8%D9%88%D8%AA_%D8%AE%D8%B1%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیں", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیں\nہاتھ جوڑے تو کہا یہ کوئی تعزیر نہیں\n\nہم بھی دیوانے ہیں وحشت میں نکل جائیں گے\nنجد اک دشت ہے کچھ قیس کی جاگیر نہیں\n\nاک تری بات کہ جس بات کی تردید محال\nاک مرا خواب کہ جس خواب کی تعبیر نہیں\n\nکہیں ایسا نہ ہو کم بخت میں جان آ جائے\nاس لیے ہاتھ میں لیتے مری تصویر نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%82%D8%B5%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%82%D8%B5%DB%8C%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پوچھی نہ خبر کبھی ہماری", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پوچھی نہ خبر کبھی ہماری\nلی خوب خبر اجی ہماری\n\nہم لائق بندگی نہیں تو\nبس خیر ہے بندگی ہماری\n\nاے دیدۂ نم نہ تھم تو ہرگز\nہے اس میں ہی بہتری ہماری\n\nیاں تیری کمر ہی جب نہ دیکھیں\nپھر ہیچ ہے زندگی ہماری\n\nہم جان چکے کہ جان کے ساتھ\nجاوے گی یہ جانکنی ہماری\n\nچلنے کا لیا جو نام تو نے\nبس جان ابھی چلی ہماری\n\nبگڑے ہو بھلے بھی بات کہتے\nقسمت ہی بری بنی ہماری\n\nاس زلف کے سلسلہ میں ہیں ہم\nہے عمر بہت بڑی ہماری\n\nکیوں کر نہ کٹی زباں تمہاری\nہاں اور کرو بدی ہماری\n\nکہتے ہیں پلٹ گیا وہ رہ سے\nتقدیر الٹ گئی ہماری\n\nاب ہنستے ہیں ہم پہ لوگ ورنہ\nمشہور تھی یاں ہنسی ہماری\n\nہم ہٹتے ہیں ملک عشق سے کب\nہیٹی کسی نے کہی ہماری\n\nکیا کام کسی سے ہم کو احسانؔ\nہم اور یہ بے کسی ہماری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "پوچھی نہ چشم تر کی نہ آہ رسا کی بات", "poet_page": "مصنف:اسد ملتانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پوچھی نہ چشم تر کی نہ آہ رسا کی بات\nکرتے رہے وہ مجھ سے بس آب و ہوا کی بات\n\nکیا بات میں سے بات نکلتی چلی گئی\nتھا مدعا یہی کہ نہ ہو مدعا کی بات\n\nرسم و رہ جہاں کی سفارش رہی مگر\nپھر بھی تو آنے پائی نہ اہل وفا کی بات\n\nکیا رسم التفات زمانے سے اٹھ گئی\nسب کی زباں پر ہے ستم ناروا کی بات\n\nطوفاں کا خطرہ سن کے نہ کر خوف اس قدر\nآخر خدا کی بات نہیں ناخدا کی بات\n\nگویا اسدؔ ہے دل کی زباں دل کا آئنہ\nکس درجہ صاف ہوتی ہے اہل صفا کی بات", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AA%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%81_%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "پوچھے گا جو وہ رشک قمر حال ہمارا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پوچھے گا جو وہ رشک قمر حال ہمارا\nاے مہرؔ چمک جائے گا اقبال ہمارا\n\nسودے میں تری زلف کے لکھتے ہیں جو اشعار\nہوتا ہے سیہ نامۂ اعمال ہمارا\n\nابرو کا اشارہ کیا تم نے تو ہوئی عید\nاے جان یہی ہے مہ شوال ہمارا\n\nہر بار دکھاتا ہے جنوں خانۂ زنجیر\nاس گھر میں گزارا ہوا ہر سال ہمارا\n\nآتے ہی وہ کہتے ہیں کہ جاتے ہیں بس اب ہم\nبے چپن ہیں منگوایئے سکھ پال ہمارا\n\nمضموں نہ بندھا موئے کمر کا تو وہ بولے\nٹیڑھا نہ ہوا شاعروں سے بال ہمارا\n\nمہتاب سے کہتا ہے مرا چاند کا ٹکڑا\nرخسار ترا صاف ہے یا گال ہمارا\n\nتم عرش ہلاتے ہو قدم رکھ کے زمیں پر\nاس چال سے دل ہو گیا پامال ہمارا\n\nاک پل بھی جدا دیدۂ تر سے نہیں ہوتا\nاب آنکھ کا پردہ ہوا رومال ہمارا\n\nیاں روح پہ ہوتا ہے اس آواز کا صدمہ\nجی لے گا شب وصل میں گھڑیال ہمارا\n\nیاں گنج معانی ہے تو واں سیم و زر اے مہرؔ\nدولت وہ بخیلوں کی ہے یہ مال ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%82%D9%85%D8%B1_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "پَروانہ اور جُگنو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "پروانہ\nپروانے کی منزل سے بہت دُور ہے جُگنو\nکیوں آتشِ بے سوز پہ مغرور ہے جُگنو\n\nجُگنو\nاللہ کا سَو شکر کہ پروانہ نہیں مَیں\nدریُوزہ گرِ آتشِ بیگانہ نہیں مَیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%8E%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D9%8F%DA%AF%D9%86%D9%88"} {"title": "پُوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "پُوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی\nتُو صاحبِ منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہی\n\nکافر ہے مسلماں تو نہ شاہی نہ فقیری\nمومن ہے تو کرتا ہے فقیری میں بھی شاہی\n\nکافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا\nمومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی\n\nکافر ہے تو ہے تابعِ تقدیر مسلماں\nمومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی\n\nمَیں نے تو کِیا پردۂ اسرار کو بھی چاک\nدیرینہ ہے تیرا مَرضِ کور نگاہی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%8F%D9%88%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D9%82%D8%A8%D9%88%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D9%88%D8%A7%DB%81%DB%8C"} {"title": "پُھول", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "تجھے کیوں فکر ہے اے گُل دلِ صد چاکِ بُلبل کی\nتُو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے\n\nتمنّا آبرو کی ہو اگر گلزارِ ہستی میں\nتو کانٹوں میں اُلجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے\n\nصنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پا بہ گِل بھی ہے\nاِنھی پابندیوں میں حاصل آزادی کو تُو کر لے\n\nتنک بخشی کو اِستغنا سے پیغامِ خجالت دے\nنہ رہ منّت کشِ شبنم، نِگُوں جام و سبو کر لے\n\nنہیں یہ شانِ خودداری، چمن سے توڑ کر تجھ کو\nکوئی دستار میں رکھ لے، کوئی زیبِ گلو کر لے\n\nچمن میں غنچۂ گُل سے یہ کہہ کر اُڑ گئی شبنم\nمذاقِ جَورِ گُلچیں ہو تو پیدا رنگ و بو کر لے\n\nاگر منظور ہو تجھ کو خزاں ناآشنا رہنا\nجہانِ رنگ و بو سے، پہلے قطعِ آرزو کر لے\n\nاسی میں دیکھ، مُضمر ہے کمالِ زندگی تیرا\nجو تجھ کو زینتِ دامن کوئی آئینہ رُو کر لے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%8F%DA%BE%D9%88%D9%84"} {"title": "پُھول کا تحفہ عطا ہونے پر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "وہ مستِ ناز جو گُلشن میں جا نکلتی ہے\nکلی کلی کی زباں سے دُعا نکلتی ہے\n“الٰہی! پھُولوں میں وہ انتخاب مجھ کو کرے\nکلی سے رشکِ گُلِ آفتاب مجھ کو کرے”\n\nتجھے وہ شاخ سے توڑیں! زہے نصیب ترے\nتڑپتے رہ گئے گُلزار میں رقیب ترے\nاُٹھا کے صدمۂ فُرقت وصال تک پہنچا\nتری حیات کا جوہر کمال تک پہنچا\nمرا کنول کہ تصدّق ہیں جس پہ اہلِ نظر\nمرے شباب کے گُلشن کو ناز ہے جس پر\nکبھی یہ پھُول ہم آغوشِ مدّعا نہ ہوا\nکسی کے دامنِ رنگیں سے آشنا نہ ہوا\nشگفتہ کر نہ سکے گی کبھی بہار اسے\nفسُردہ رکھتا ہے گُلچیں کا انتظار اسے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%8F%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%AD%D9%81%DB%81_%D8%B9%D8%B7%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "پُھول کی پتّی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "پھُول کی پتّی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر\nمردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%8F%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%D8%AA%D9%91%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%B9_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DA%AF%D8%B1"} {"title": "پُھولوں کی شہزادی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "کلی سے کہہ رہی تھی ایک دن شبنم گُلستاں میں\nرہی مَیں ایک مدّت غنچہ ہائے باغِ رضواں میں\nتمھارے گُلستاں کی کیفیت سرشار ہے ایسی\nنِگہ فردوس در دامن ہے میری چشمِ حیراں میں\nسُنا ہے کوئی شہزادی ہے حاکم اس گُلستاں کی\nکہ جس کے نقشِ پا سے پھُول ہوں پیدا بیاباں میں\nکبھی ساتھ اپنے اُس کے آستاں تک مجھ کو تُو لے چل\nچھُپا کر اپنے دامن میں برنگِ موجِ بُو لے چل\n\nکلی بولی، سریر آرا ہماری ہے وہ شہزادی\nدرخشاں جس کی ٹھوکر سے ہوں پتھّر بھی نگیں بن کر\nمگر فطرت تری اُفتندہ اور بیگم کی شان اونچی\nنہیں ممکن کہ تُو پہنچے ہماری ہم‌نشیں بن کر\nپہنچ سکتی ہے تُو لیکن ہماری شاہزادی تک\nکسی دُکھ درد کے مارے کا اشکِ آتشیں بن کر\nنظر اُس کی پیامِ عید ہے اہلِ مُحرّم کو\nبنا دیتی ہے گوہر غم زدوں کے اشکِ پیہم کو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%8F%DA%BE%D9%88%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C"} {"title": "پِیرومُرید", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "مریدِ ہندی\nچشمِ بینا سے ہے جاری جُوئے خُوں\nعلمِ حاضر سے ہے دِیں زار و زبُوں!\n\nپیرِرُومی\nعلم را بر تن‌زنی مارے بود\nعلم را بر دل‌زنی یارے بود\n\nمریدِہندی\nاے امامِ عاشقانِ دردمند!\nیاد ہے مجھ کو ترا حرفِ بلند\nخُشک مغز و خشک تار و خشک پوست\nاز کجا می آید ایں آوازِ دوست،\nدَورِ حاضر مستِ چنگ و بے سُرور\nبے ثبات و بے یقین و بے حضور\nکیا خبر اس کو کہ ہے یہ راز کیا\nدوست کیا ہے، دوست کی آواز کیا\nآہ، یورپ بافروغ و تاب ناک\nنغمہ اس کو کھینچتا ہے سوئے خاک\n\nپیرِ رومی\nبر سماعِ راست ہر کس چِیر نیست\nطعمۂ ہر مُرغکے انجیر نیست\n\nمریدِ ہندی\nپڑھ لیے مَیں نے علومِ شرق و غرب\nرُوح میں باقی ہے اب تک درد و کرب\n\nپیرِ رومی\nدستِ ہر نا اہل بیمارت کُند\nسُوئے مادر آکہ تیمارت کُند\n\nمریدِہندی\nاے نِگہ تیری مرے دل کی کشاد\nکھول مجھ پر نکتۂ حُکمِ جہاد\n\nپیررومی\nنقشِ حق را ہم بہ امرِ حق شکن\nبر زُجاجِ دوست سنگِ دوست زن\n\nمریدِ ہندی\nہے نگاہِ خاوراں مسحُورِ غرب\nحُورِ جنّت سے ہے خوشتر حُورِ غرب\n\nپیرِرومی\nظاہرِ نُقرہ گر اسپید است و نو\nدست و جامہ ہم سیہ گردد ازو!\n\nمریدِ ہندی\nآہ مکتب کا جوانِ گرم خُوں!\nساحرِ افرنگ کا صیدِ زبُوں!\n\nپیرِرومی\nمُرغ پَر ناُرستہ چُوں پرّاں شود\nطعمۂ ہر گُربۂ درّاں شود\n\nمریدِ ہندی\nتا کجا آویزشِ دین و وطن\nجوہرِ جاں پر مقدّم ہے بدن!\n\nپیرِرومی\nقلب پہلو می زند با زر بشب\nانتظارِ روز می دارد ذہب\n\nمریدِہندی\nسِرِّ آدم سے مجھے آگاہ کر\nخاک کے ذرّے کو مہر و ماہ کر!\n\nپیرِرومی\nظاہرش را پشۂ آرد بچرخ\nباطنش آمد محیطِ ہفت چرخ\n\nمریدِ ہندی\nخاک تیرے نُور سے روشن بصر\nغایتِ آدم خبر ہے یا نظر؟\n\nپیرِرومی\nآدمی دید است، باقی پوست است\nدید آں باشد کہ دیدِ دوست است\n\nمریدِ ہندی\nزندہ ہے مشرق تری گُفتار سے\nاُمتّیں مرتی ہیں کس آزار سے؟\n\nپیرِ رومی\nہر ہلاکِ اُمّت پیشیں کہ بود\nزانکہ بر جندل گماں بردند عود\n\nمریدِ ہندی\nاب مسلماں میں نہیں وہ رنگ و بُو\nسرد کیونکر ہو گیا اس کا لہُو؟\n\nپیرِرومی\nتا دلِ صاحبدلے نامد بہ درد\nہیچ قومے را خدا رُسوا نہ کرد\n\nمریدِ ہندی\nگرچہ بے رونق ہے بازارِ وجود\nکون سے سودے میں ہے مَردوں کا سُود؟\n\nپیرِرومی\nزیرکی بفروش و حیرانی بخر\nزیرکی ظنّ است و حیرانی نظر\n\nمریدِ ہندی\nہم نفَس میرے سلاطیں کے ندیم\nمَیں فقیرِ بے کلاہ و بے گِلیم!\n\nپیرِ رومی\nبندۂ یک مردِ روشن دل شوی\nبہ کہ بر فرقِ سرِ شاہاں روی\n\nمریدِ ہندی\nاے شریکِ مستیِ خاصانِ بدر\nمَیں نہیں سمجھا حدیثِ جبر و قدر!\n\nپیررومی\nبال بازاں را سوے سُلطاں برد\nبال زاغاں را بگورستاں برد\n\nمریدِ ہندی\nکاروبارِ خسروی یا راہبی\nکیا ہے آخر غایتِ دینِ نبیؐ؟\n\nپیرِرومی\nمصلحت در دینِ ما جنگ و شکوہ\nمصلحت در دینِ عیسیٰؑ غار و کوہ\n\nمریدِ ہندی\nکس طرح قابُو میں آئے آب و گل\nکس طرح بیدار ہو سِینے میں دل؟\n\nپیرِرومی\nبندہ باش و بر زمیں رو چوں سمند\nچوں جنازہ نے کہ بر گردن برند\n\nمریدِ ہندی\nسَرِّ دیں ادراک میں آتا نہیں\nکس طرح آئے قیامت کا یقیں؟\n\nپیرِ رومی\nپس قیامت شو قیامت را ببیں\nدیدنِ ہر چیز را شرط است ایں\n\nمریدِ ہندی\nآسماں میں راہ کرتی ہے خودی\nصیدِ مہر و ماہ کرتی ہے خودی\nبے حضور و بافروغ و بے فراغ\nاپنے نخچیروں کے ہاتھوں داغ داغ!\n\nپیرِرومی\nآں کہ ارزد صید را عشق است و بس\nلیکن او کے گُنجد اندر دامِ کس!\n\nمریدِ ہندی\nتجھ پہ روشن ہے ضمیرِ کائنات\nکس طرح مُحکم ہو ملّت کی حیات؟\n\nپیرِ رومی\nدانہ باشی مُرغکانت برچنند\nغنچہ باشی کود کانت برکنند\nدانہ پنہاں کن سراپا دام شو\nغنچہ پنہاں کن گیاہِ بام شو\n\nمریدِ ہندی\nتُو یہ کہتا ہے کہ دل کی کر تلاش\n’طالبِ دل باش و در پیکار باش‘\nجو مِرا دل ہے، مرے سینے میں ہے\nمیرا جوہر میرے آئینے میں ہے\n\nپیرِرومی\nتُو ہمی گوئی مرا دل نیز ہست\nدل فرازِ عرش باشد نے بہ پست\nتُو دلِ خود را دلے پنداشتی\nجُستجوے اہلِ دل بگذاشتی\n\nمریدِ ہندی\nآسمانوں پر مرا فکرِ بلند\nمَیں زمیں پر خوار و زار و دردمند\nکارِ دنیا میں رہا جاتا ہوں مَیں\nٹھوکریں اس راہ میں کھاتا ہوں مَیں\nکیوں مرے بس کا نہیں کارِ زمیں\nابلہِ دنیا ہے کیوں دانائے دِیں؟\n\nپیرِرومی\nآں کہ بر افلاک رفتارش بود\nبر زمیں رفتن چہ دشوارش بود\n\nمریدِ ہندی\nعلم و حکمت کا مِلے کیونکر سُراغ\nکس طرح ہاتھ آئے سوز و درد و داغ\n\nپیرِرومی\nعلم و حکمت زاید از نانِ حلال\nعشق و رِقّت آید از نانِ حلال\n\nمریدِ ہندی\nہے زمانے کا تقاضا انجمن\nاور بے خلوَت نہیں سوزِ سخن!\n\nپیرِ رومی\nخلوَت از اغیار باید، نے ز یار\nپوستیں بہرِ دَے آمد، نے بہار\n\nمریدِ ہندی\nہند میں اب نُور ہے باقی نہ سوز\nاہلِ دل اس دیس میں ہیں تِیرہ روز!\n\nپیرِ رومی\nکارِ مرداں روشنی و گرمی است\nکارِ دوناں حِیلہ و بے شرمی است", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%90%DB%8C%D8%B1%D9%88%D9%85%D9%8F%D8%B1%DB%8C%D8%AF"} {"title": "پٹرے دھرے ہیں سر پر دریا کے پاٹ والے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پٹرے دھرے ہیں سر پر دریا کے پاٹ والے\nآتے ہیں کس ادا سے اس منہ پہ گھاٹ والے\n\nچسکا پڑا ہے جب سے شیریں لبوں کا اس کے\nکیسے لگے رہیں ہیں بوسے کی چاٹ والے\n\nدریا پہ تو نہانے جایا نہ کر کہ ناداں\nواں گھات میں ہیں تیری کئی دھوبی پاٹ والے\n\nکوچے میں تیرے ظالم از بہر داد خواہی\nیہ ظلم ہے تو لاکھوں آویں گے گھاٹ والے\n\nبازار مصر میں وہ جن جن کو چھل گیا ہے\nاک سوچ میں ہیں بیٹھے اب تک وہ ہاٹ والے\n\nدیکھے نہ کوئی ان کو با دیدۂ حقارت\nخزپوشوں پر گراں ہیں البتہ ٹاٹ والے\n\nمیں نے رقیب کو کل باتوں میں خوب کاٹا\nچوکیں ہیں مصحفیؔ کب ہیں وہ جو کاٹ والے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%B9%D8%B1%DB%92_%D8%AF%DA%BE%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D9%B9_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "پٹی", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "پٹیاں ایک تو وہ ہوتی ہیں جو چارپائیوں میں لگائی جاتی ہیں اور ایک وہ جو سپاہیوں کے پیروں پر باندھی جاتی ہیں، پھر اور بہت قسم کی پٹیاں بھی ہیں، لیکن میرا مطلب یہاں اس پٹی سے ہے جو پھوڑا پھنسی یا اسی قسم کی مصیبتوں کے سلسلے میں ڈاکٹروں کے یہاں باندھی جاتی ہیں۔\n\nمیری بیوی کے ملنے والیوں میں ایک لیڈی ڈاکٹر تھیں۔۔۔ میں چھٹیوں میں سسرال جانے والا تھا اور مس اروما نے مجھ سے کہہ دیا تھا کہ جس روز تم جاؤ مجھ سے ضرور مل لو، چنانچہ میں صبح تڑکے ہی مس صاحبہ کے بنگلے پر پہنچا۔ قبل اس کے میں بتاؤں کہ بنگلہ پر کیا ہوا، ایک دو باتیں کچھ کتوں کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں۔ وہ چھوٹے چھوٹے کتے جو خوبصورت کہے جاتے ہیں اور بنگلوں میں رہنے والے لامحالہ پالتے ہیں، یہ نالائق کتے خواہ کٹ کھنے نہ ہوں مگر ادھر آپ بنگلے میں داخل ہوئے اور اُدھر یہ سیدھے آپ کے اوپر۔۔۔ ظاہر اطوار پر کاٹ کھانے کے لیے، مگر در اصل آپ کو دوڑا کر اور رپٹا کر چت کرنے کی نیت سے۔ چنانچہ آپ یقین مانیں کہ یہی ہوا۔\n\nمس اروما کے تین چھوٹے چھوٹے کتے اس بری طرح میرے اوپر حملہ آور ہوئے کہ میرے ہوش جاتے رہے۔ گلاب کے ایک بھرے کانٹوں کے درخت پر میں نے ایسے پیر رکھ دیا جیسے کوئی ریشمی گدوں پر رکھتا ہے۔ وہاں سے پھنس کر بدحواسی کے ساتھ گملے پھاندا، ایک پھاند گیا، دو پھاند گیا، تیسرے میں پیر ایسا لگا کہ منہ کے بل گرا اور ساتھ ہی کتے سر پر۔ جناب! کیا بتاؤں کس طرح بے تحاشا پھر اٹھا کہ کتوں نے ایسی ٹانگ لی کہ ایک کتے پر پیر پڑ گیا اور اب کے سڑک پر گرا۔ وہاں سے گھبرا کر سیدھا اٹھ کر برآمدے میں آیا۔ کتے پیچھے تھے۔ چق اٹھانے کی کسے مہلت تھی، مع چق کے توپ کے گولے کی طرح زور سے کمرے میں داخل۔ ادھر سے مس صاحبہ بدحواس چیختی آ رہی تھیں۔ میں اس بری طرح مس صاحبہ سے جا کر ٹکرایا کہ وہ کرسی پر چیخ مار کر گریں۔ میں نے سہارا دے کر جلدی سے اٹھایا۔ کتے کھڑے اب دم ہلا رہے تھے۔ وہی موذی جو لمحہ بھر پہلے میری جان لینے کو تیار تھے۔\n\n(۲)\n\nجب ذرا ہوش درست ہوئے تو ہم دونوں نے باتیں کرنا شروع کیں۔ مس صاحبہ نے اپنی سہیلی سے ملنے کا اشتیاق ظاہر کیا۔ کچھ اور فضول باتیں کیں، اتنے میں ان کی نگاہ میرے ہاتھ پر پڑگئی جو انگوٹھے کی جڑ کے پاس سے سڑک پر گرنے سے رگڑ کھا کر کچھ چھل گیا تھا۔\n\n’’اوہ۔۔۔ یہ۔۔۔ کیا!‘‘ یہ کہہ کر آپ نے اس نام نہاد زخم کا معائنہ کرتے ہوئے کہا، ’’میں ابھی اسے لوشن سے دھو کر ڈریس کئے دیتی ہوں۔‘‘ میں نے کہا، ’’اجی رہنے دیجیے کوئی بات بھی ہو۔‘‘ پریشان صورت بنا کر مس صاحبہ بولیں، ’’مرزا صاحب یہ معمولی بات نہیں، اس کو فوراً ڈریس کروانا چاہیے۔ ورنہ کہیں۔۔۔‘‘\n\n’’ورنہ کہیں؟‘‘ میں نے سوال کیا، ’’ورنہ کیا؟‘‘ بھویں چڑھا کر کچھ خوف زدہ صورت بنا کر مس ارونا نے کہا، ’’ٹٹ۔۔۔ ٹیٹنس۔‘‘\n\n’’ٹیٹنس!‘‘ یہ میرے لیے بالکل نیا لفظ تھا۔ معاً خیال گزرا کہ یہ شیکسپیئر کی ٹٹا نیا کے کہیں بھائی بند تو نہیں، چنانچہ میں نے تفصیل پوچھی۔ یہ ایک مرض ہے از قسم زہرباد۔ سڑک کی معمولی رگڑ سے ممکن ہے کہ خراش میں ذرا سوزش ہو اور رات ہی رات میں ہاتھ سوج کر دنبل ہوجائے اور صبح ہوتے ہوتے زہر باد شروع ہو جائے اور پھر۔۔۔! میں کچھ سہم سا گیا۔ اس خوفناک مرض کے پریشان کن حالات سنتا جاتا تھا اور مس اروما کی نازک انگلیوں سے پٹی بندھواتا جاتا تھا۔ بنگلے سے جو نکلا ہوں تو حلیہ یہ تھا کہ گلے میں ایک جھولا پڑا تھا اور اس میں جکڑ بند کیا ہوا ہاتھ۔ یہ کہ پہلے تانگے پر آیا تھا ورنہ سائیکل پر ہوتا تو اور قیامت تھی۔\n\n(۳)\n\nراستہ میں ایک جان پہچان کے ملے۔ سلام علیک کے ساتھ ہی انہوں نے تانگہ کو رکوایا، ’’ارے میاں! یہ کیا، خیر تو ہے؟‘‘ انہوں نے کہا۔ میں نے اس کے جواب میں قصہ سنایا کہ جناب سڑک پر رگڑ لگ گئی اور اس ڈر کی وجہ سے کہ ٹیٹنس نہ ہو جائے، یہ کارروائی عمل میں آئی ہے۔\n\n’’لا حول و لا قوۃ!‘‘ انہوں نے زور سے قہقہہ لگایا اور ٹیٹنس اور اس کے امکان پر لعنت بھیجی، اور کہا کہ ’’کھول کھال کے پٹی پھینک دو اور اس کی جگہ سیندور اور تیل رگڑ کر لگا لو۔‘‘ اس کے بعد ایک صاحب اور ملے، انہوں نے بھی روکا۔ وہی بات چیت اور انہوں نے بھی ٹیٹنس پر لعنت بھیجی۔ خوب ہنسے اور مذاق اڑایا۔ قصہ مختصر راستے میں چار آدمی اور ملے۔ سب کے سب ’’ٹیٹنس‘‘ پر لعنت بھیجتے اور مجھ پر ہنستے۔ کسی نے کالی مرچیں بتائیں، کسی نے صندل بتایا۔ کسی نے کہا کہ کچھ نہ باندھ۔ یونہی سوکھ جائے گا۔\n\nگھر پہنچا تو والد صاحب قبلہ نے پٹی کی تفصیل پوچھی۔ والدہ صاحبہ نے پوچھی۔ بھائی بہنوں نے پوچھی۔ غرض سب کو حال بتانا پڑا۔ پھر نوکروں کی باری آئی۔ گھر کی بوڑھی ملازمہ نے ہمدردی سے سنے سنائے کی تفصیل پوچھی کہ بیٹا یہ ’’ٹن ٹس‘‘ کیا ہے جو تمہارے دشمنوں کو ہونے کا ڈر ہے۔ بڑی بی نے جب لڑکوں سے سنا تو ٹیٹنس کو شاید ترکاری وغیرہ کی قسم سے کوئی چیز سمجھی تھیں۔ جس طرح ہو سکا ان کو بھی میں نے سمجھایا۔ اتنے میں باہر ایک ملنے والے آگئے۔ ان سے کسی نے سنی سنائی اڑادی تھی۔ بہت پریشان اور ہمدردانہ لہجہ میں انہوں نے تمام تفصیل پوچھی جو بتانا پڑی، یہ چلے گئے اور خربوزے والا آیا۔ روز آتا تھا بھلا کیسے بے پوچھے رہ جاتا۔ میں نے کہہ کر ٹالنا چاہا کہ چوٹ لگ گئی ہے کہ ملازم کا لڑکا بول اٹھا، ’’ٹیں ٹس‘‘ ہو گیا۔ ادھر میں نے لونڈے کی طرف گھور کر دیکھا ادھر خربوزے والا چکرا کر بولا، ’’میاں یہ ٹیس ٹس کیا؟ کیا کوئی پھڑیا کا نام ڈاکٹروں نے رکھا ہے۔‘‘ میں نے جل کر کہا، ’’مت بیہودہ بکو۔‘‘\n\nاس سے فرصت پائی تھی کہ اندر گیا، تو والدہ صاحبہ کو دیکھا کہ وہ دو چار عورتوں کو ٹیٹنس پر لیکچر دے رہی ہیں۔ میں پہنچا تو مجھ سے بھی استدعا کی گئی کہ کچھ روشنی ڈالوں۔ اب میں تنگ تھا اور ٹیٹنس کے نام سے غصہ آتا تھا۔ جوں توں کر کے بلا ٹالی۔\n\n(۴)\n\nشام کو چار بجے کی گاڑی سے روانہ ہونے والا تھا۔ اس دوران میں لوگوں نے میرا ناطقہ بند کر دیا۔ اب میں صرف یہ کہہ کر ٹالنا چاہتا تھا کہ چوٹ لگ گئی ہے، مگر جناب پوچھنے والا بغیر ٹیٹنس کی بات چیت کے بھلا کاہے کو مانتا۔ وہ فوراً کہتا کہ فلاں صاحب سے سنا۔ وہ بتاتے تھے کہ ٹیٹنس ہونے کا اندیشہ ہے۔ مجبوراً جس طرح بن پڑتا جان چھڑاتا۔ گاڑی چھوٹنے سے پہلے ہی ایک حضرت سے اسی بنا پر بدمزگی ہوگئی۔\n\n’’ارے میاں ہاتھ میں پٹی کیسی ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔\n\n’’معمولی چوٹ لگ گئی ہے۔‘‘\n\n’’کیسے لگ گئی؟‘‘\n\n’’سڑک پر گر پڑا تھا، خراش آ گئی۔‘‘\n\n’’پھر کوئی بات تو نہیں؟‘‘\n\n’’کوئی بات نہیں۔‘‘\n\n’’مگر عبد الحمید صاحب ملے تھے وہ کہتے تھے کہ خدا نخواستہ ٹینس ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ یہ ٹیٹنس کیا ہوتا ہے۔‘‘\n\nاب مجھے ایسا غصہ آیا کہ ان کا منہ نوچ لوں کیوں کہ محض مجھے تنگ کر رہے تھے۔ اول تو آپ غور کریں کہ انہوں نے خواہ مخواہ پوری تفصیل شروع سے پوچھی۔ حالانکہ عبد الحمید صاحب کا یہ اچھی طرح مغز کھا چکے تھے اور پھر ٹیٹنس کو پوچھتے ہیں کیا ہوتا ہے حالانکہ خوب اچھی طرح پوچھ چکے تھے۔ میں نے جل کر کہا، ’’ٹیٹنس ایک قسم کا بخار ہوتا ہے جس میں چھینک آتی ہیں۔‘‘\n\n’’ہیں!‘‘ وہ بولے، ’’حمید صاحب تو کہتے تھے کہ زہرباد ہوتا ہے۔‘‘\n\n’’معاف کیجیے گا۔‘‘ میں نے کہا، ’’تو پھر آپ جب جانتے ہیں کہ ٹیٹنس کیا بلا ہے تو میرا دماغ چاٹنے سے حاصل؟‘‘ ظاہر ہے کہ اس قسم کی گفتگو کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ وہ برامانے، میں اور بھی برا مانا۔ جس سے وہ اور بھی برا مانے۔\n\n(۵)\n\nمیرے ڈبہ میں ویسے تو کئی آدمی تھے، مگر بالکل ہی پاس بیٹھنے والے ایک تو زمیندار صورت لکھنؤ کے اطراف کے مسلمان تھے۔ ایک اور صاحب کچھ فوجی نما معلوم ہو رہے تھے۔ خاکی قمیص اور نیکر پہنے تھے۔ ان کے پاس ہی ایک میرے ہم وطن یعنی مارواڑی مہاجر بیٹھے تھے۔ ان کے علاوہ دو ایک اور صاحبان بھی تھے۔ گاڑی چلی اور دو ایک اِدھر اُدھر کی زبردستی باتیں پوچھ کر ان فوجی حضرت نے آخر کو پوچھ ہی لیا کہ، ’’آپ کے ہاتھ میں یہ پٹی کیسی بندھی ہے؟‘‘ میں اس قسم کے سوالوں سے عاجز آ چکا تھا، فوراً کہہ دیا، ’’زخم ہو گیا ہے۔‘‘\n\n’’کیسے؟‘‘ انہوں نے کہا۔ مارے غصہ کے میں نے کہا، ’’بات در اصل یہ ہے کہ مگر نے کاٹ کھایا ہے۔‘‘\n\n’’مگر نے! مگر۔۔۔! مگر نے کاٹ کھایا؟‘‘\n\n’’جی ہاں!‘‘ میں نے لاپرواہی سے کہا۔\n\n’’کیسے؟‘‘ انہوں نے نہایت اشتیاق کے ساتھ اب تفصیل پوچھنا چاہی کہ میں بیان کروں کہ کس طرح پانی یا دلدل میں مگر سے میرا سابقہ پڑا، مگر میں نے اب تنگ آ کر دوسری ترکیب سوچی تھی۔\n\n’’منہ سے۔‘‘ میں نے کہا، ’’منہ سے کاٹ کھایا۔‘‘\n\n’’جی ہاں۔‘‘ انہوں نے کچھ سر کو جنبش دے کر کہا، ’’منہ سے تو کاٹا ہی ہوگا، مگر کہاں پر آخر۔۔۔‘‘\n\nجہاں چوٹ لگی تھی اور پٹی بندھی تھی میں نے وہ حصہ دوسرے ہاتھ سے پکڑ کر کہا، ’’یہاں پر کاٹ کھایا اور منہ دبا کر کاٹ کھایا۔‘‘ (منہ دبانے کی ہاتھ سے نقل بناتے ہوئے میں نے کہا۔ )\n\n’’نہیں صاحب!‘‘ وہ دوسرے زمیندار صاحب بولے، ’’ان کا مطلب یہ ہے کہ آخر وہ کون سا مقام تھا، جہاں مگر نے کاٹ کھایا۔ کیا واقعہ ہوا تھا۔\n\nمیں نے اسی طرح روکھے منہ سے کہا، ’’عرض کیا نا۔ اسی مقام پر ہتھیلی کے پاس۔‘‘ میں نے پھر دوبارہ جگہ کو پکڑ کر کہا، ’’اسی مقام پر موذی نے کاٹ کھایا اور کوئی واقعہ تو ہوا ہی نہیں۔‘‘\n\nکچھ چڑچڑا کر وہ بولے، ’’جی حضرت قصہ سنائیے، کس طرح کون سے دریا میں یاتال میں کیا معاملہ پیش آیا جو مگر نے آپ کی ہتھیلی میں کاٹ کھایا۔‘‘\n\n’’اب میں سمجھا کہ آپ کا کیا مطلب ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’سنئے۔ واقعہ در اصل یہ ہوا کہ ہمارے پڑوس میں ایک دریا ہے، وہاں ایک بڑا سا مگر رہتا تھا۔ ایک روز میں نے بڑا زبردست مچھلی کا سا کانٹا کوئی دس سیر وزن کا بنوایا۔ اسے ایک موٹے سے تار کے رسے میں باندھ کر درخت سے باندھ دیا اور کانٹے پر گوشت لگا کر دریا میں ڈال دیا۔ اس میں مگر رات کے آٹھ بج کر تین منٹ پر پھنس گیا۔‘‘\n\nاس مختصر بیان کو بھلا لوگ کاہے کو پسند کرتے۔ چاروں طرف سے سوالوں کی بوچھاڑ ہونے لگی۔ کسی نے پوچھا صاحب کانٹا کیسی نوک کا تھا۔ کسی نے کہا، کیا وہ نگل گیا؟ غرض طرح طرح کے سوال پیدا ہوگئے اور مجبوراً مجھ کو کچھ قصے مگر کے شکار کے اور سنانے پڑے۔ اس کے بعد میں نے جس طرح بھی ممکن تھا قصےکو افسانے کا رنگ دے کر بیان کرنا شروع کیا اور اس موقع پر پہنچا تھا کہ دس بارہ آدمیوں نے رسا کھینچا ہے اور زور سے تڑپ کر مگر نے پلٹا کھایا ہی ہے کہ دوسرا اسٹیشن آگیا۔ اسٹیشن آنے سے میرا قصہ بھلا کیا رکتا، مگر یہاں یہ مصیبت آئی کہ ایک صاحب بلا مبالغہ کوئی چھکڑا بھر اسباب کے ساتھ اسی ڈبہ پر حملہ آور ہوئے۔ اس گہما گہمی کے ساتھ انہوں نے اور ان کے ملازموں نے اسباب کی پھینکا پھینک اور ٹھونسا ٹھانس کی ہے کہ سب کو اپنے اپنے بوریے بستر اور جگہ کی پڑ گئی۔\n\nیہ حضرت غالباً سب انسپکٹر پولیس تھے اور کسی دوسرے تھانے پر تبادلے کے سلسلہ میں لد رہے تھے۔ قوی ہیکل جوان تھے اور ان کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں۔ سامنے ہی دوسروں کی جگہ پر قبضہ کرکے اِدھر اُدھر سرک کر بیٹھ گئے اور فوراً مجھے پان پیش کیا۔ میری کم بختی کہ میں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ اس کے بعد فوراً انہوں نے موسم کی شکایت کی۔ میں جانتا ہی تھا کہ اب یہ مجھے چھیڑیں گے۔ چنانچہ اس کے بعد ہی انہوں نے بھی آخر کو گولہ دے مارا۔\n\n’’کیوں جناب یہ آپ کے ہاتھ میں پٹی کیسی ہے؟‘‘\n\nسوکھے منہ سے میں نے کہا، ’’پرسوں کالے سانپ نے کاٹ کھایا۔‘‘\n\n’’ارے کالا سانپ!‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’جی، کالا۔‘‘ یہ کہہ کر میں نے اِدھر اُدھر ان لوگوں پر نظر ڈالی جن کو مگر والا قصہ سنا رہا تھا اور جو شاید اب بقیہ قصہ کی تکمیل کی فرمائش کرنے ہی والے تھے۔ کسی کے چہرے پر متانت تھی تو کسی کے چہرے پر مسکراہٹ۔\n\n’’کہاں؟ کیسے؟ کہاں کاٹ کھایا؟ کیسے کاٹ کھایا؟ کب؟‘‘\n\n’’میں نے عرض کیا نا کہ پرسوں کاٹ کھایا۔‘‘\n\n’’کہاں؟‘‘ میں نے پٹی پر ہاتھ سے بتا کر کہا، ’’یہاں کاٹ کھایا۔ میں کھانا کھا رہا تھا۔‘‘\n\n’’تو پھر کیا ہوا؟‘‘\n\n’’پھر سانپ نے کاٹ کھایا۔‘‘ میں نے سادگی سے جواب دیا۔\n\n’’کیسے؟‘‘\n\n’’ایسے۔‘‘ میں نے انگلی سے چٹکی لے کر سانپ کے کاٹنے کی نقل بناتے ہوئے کہا، ’’ایسے کاٹ کھایا۔‘‘\n\n’’اجی صاحب یہ مطلب نہیں۔ آخر کیا ہوا تھا۔ سانپ کیسے آیا اور واقعہ پورا پورا کیا ہے۔‘‘\n\nاس کے بعد میں نے اپنے سانپ کاٹنے کا قصہ بیان کرنا شروع کیا، جو بدقسمتی سے اس وقت مجھے یاد نہیں، مگر خوب اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے اپنا قصہ نہایت ہی خوش اسلوبی سے ختم کیا۔ جو لوگ مگر کا قصہ سن چکے تھے ان کے استفسارات کا میں نے نہایت ہی سادگی سے جواب دیا۔ میں نے کہا، ’’مگر بھلا کس طرح کاٹ سکتا ہے! مجھے مگر نے کبھی نہیں کاٹا۔‘‘ میری سنجیدگی پر پہلے تو وہ کچھ مسکرائے، پھر کچھ تشویش کا اظہار ان کے چہروں سے ہوا مگر میں بظاہر سنجیدہ تھا۔ میرے دل کو راحت پہنچ رہی تھی اور تمام دن کے صحیح جوابات سے جو کوفت پیدا ہوئی تھی وہ زائل ہو چکی تھی۔ بہ نسبت پہلے کے اب میں خوش تھا۔ ایک اندازِ بے نیازی کے ساتھ میں اخبار پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔\n\nکئی اسٹیشن گزر گئے اور کوئی نووارد ایسا نہ آیا جو میری پٹی کا حال پوچھتا۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ ’’کبھی ناؤگاڑی پر، اور کبھی گاڑی ناؤ پر۔‘‘ اب میرا نمبر تھا اور میں منتظر تھا کہ کوئی مجھ سے پوچھے تو، مگر کسی نے نہ پوچھا حتی کہ میں گھر یعنی سسرال پہنچ گیا۔\n\n(۶)\n\nرات کے ساڑھے گیارہ بجے ہوں گے۔ خوشد امن صاحبہ کے سامنے فرش پر جا کر مؤدبانہ بیٹھ گیا۔ سلام و دعا کے بعد پہلا سوال جو انہوں نے کیا وہ یہ تھا، ’’یہ تمہارے پٹی کیسی بندھی ہے؟‘‘\n\n’’گولی لگ گئی۔‘‘ میں نے جل کر کہا۔\n\n’’یا علی! گولی!‘‘ چونک کے وہ بولیں، ’’گولی خدا خیر کرے کیسے لگ گئی؟‘‘\n\n’’بندوق کی نال سے‘‘ میں نے کہا۔\n\n’’بیٹا آخر کیا ہوا تھا، کیسے بندوق چل گئی؟‘‘\n\nمیں کیا عرض کروں مجھے اس سوال سے اب کیسی کوفت ہو رہی تھی اور اب معلوم ہوا کہ کسی نے سچ کہا ہے، نہ ہر جائے مرکب تواں ناختن۔ مجھے کوفت ہو رہی تھی کیونکہ چھت والے کمرے میں بجلی کی روشنی غائب تھی، یعنی یہ کہ کمرے والی غالباً نہیں بلکہ قطعی، غیر حاضر تھیں۔ چنانچہ بجائے جواب دینے کے میں نے دل میں سوچا کہ شاید اپنے ماموں کے یہاں گئی ہوں گی۔\n\nاسی دوران میں چھوٹی سالی صاحبہ بل کھا کر لجاتی ہوئی آئیں۔ میں اس وقت بیان نہیں کر سکتا کہ کیسی الجھن میں تھا۔ خوش دامن دنیا بھر کی باتیں تو کر رہی تھیں، مگر یہ نہ بتاتی تھیں کہ ہماری بیوی صاحبہ کہاں ہیں۔ ماموں کے یہاں یا گھر میں۔ شکر ہے خدا کا چھوٹی سالی کے سلسلے میں اتنا تو معلوم ہو گیا کہ خیر سے گھر پر نہیں ہیں۔ بڑی بی بولیں، ’’دونوں گئی تھیں، یہ تو سرشام لوٹ آئی اور اس نے کھانا کھا کر آنے کو کہا تھا، مگر رہ گئی۔ بہن نے پکڑ لیا ہوگا، اللہ رکھے دونوں میں بڑی محبت ہے، اکثر بلا بھیجتی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر بڑی بی نے تو ماموں زاد بہن کی محبت کا سمع خراش قصہ بیان کرنا شروع کیا اور ادھر میں نے منہ بنایا اور لاپرواہی سے جمائیاں لینی شروع کیں۔ کیونکہ بیوی سے اس قسم کی محبت کرنے والوں سے مجھے سخت نفرت ہے۔ شکر ہے کہ میرا مطلب بڑی بی سمجھ گئیں اور کہنے لگیں، ’’لو اب تم سو رہو۔‘‘\n\nمیں تھکے ہوئے پیروں سے اندھیرے میں غیر دلچسپی کے ساتھ زینہ پر چڑھا۔ چھت پر پہنچتے ہی بتی روشن کی۔ ملازمہ کمبخت نے میرا بستر جوں کا توں پلنگ پر رکھ دیا تھا۔ میں نے کھول کر بچھایا۔ بتی گل کردی اور لیٹ رہا۔ بہت جلد سوگیا۔ آخری شب کا پہلا حصہ اور گرمیوں کی ٹھنڈی ہوا میں متوالی نیند! لیکن کچھ آہٹ، کچھ گرمی اور کچھ خوشبو اس نیند کو بھی غائب کر سکتی ہے۔ میں بجلی کی روشنی میں کھڑبڑا کر اٹھا، ’’کون؟‘‘ میرے منہ سے نکلا۔ جواب دینے والی مسکرا رہی تھی۔ وہ میری موجودگی پر اور میں اس کی موجودگی پر۔ غلطی میری تھی، کمرے کے دوسرے بازو کے سامنے ہی تو چارپائی پڑی تھی۔ میں نے نہ دیکھی۔ نہ سلام نہ دعا۔ ’’یہ ہاتھ میں آپ کے کیا ہوا، پٹی کیسی بندھی ہے؟‘‘\n\nانا للہ و انا الیہ راجعون، بھلا کیا جواب دیتا۔ سوائے اس کے کہ میں نے کہا، بحیر تم کہ عجب تیر بے کماں زدئی۔ اور اسی وقت سے طے کر لیا ہے کہ اب پٹی کبھی نہ باندھوں گا۔ خدا اس ارادے کی شرم رکھے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%D9%B9%DB%8C"} {"title": "پچھتاؤگے پھر ہم سے شرارت نہیں اچھی", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پچھتاؤگے پھر ہم سے شرارت نہیں اچھی\nیہ شوخ نگاہی دم رخصت نہیں اچھی\n\nسچ یہ ہے کہ گھر سے ترے جنت نہیں اچھی\nحوروں کی ترے سامنے صورت نہیں اچھی\n\nبھولے سے کہا مان بھی لیتے ہیں کسی کا\nہر بات میں تکرار کی عادت نہیں اچھی\n\nکیوں کل کی طرح وصل میں تشویش ہے اتنی\nتم آج بھی کہہ دو کہ طبیعت نہیں اچھی\n\nجب اتنی سمجھ ہے تو سمجھ کیوں نہیں جاتے\nمیں بھی یہی کہتا ہوں کہ حجت نہیں اچھی\n\nحوروں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا\nکیوں اب بھی کہوگے تری نیت نہیں اچھی\n\nپہنچا ہے قیامت میں بھی افسانۂ الفت\nاتنی بھی کسی بات کی شہرت نہیں اچھی\n\nہم عیب سمجھتے ہیں ہر اک اپنے ہنر کو\nکیا کیجئے مجبور ہیں قسمت نہیں اچھی\n\nمل آئیے دیکھ آئیے آج آپ بھی جا کر\nبیخودؔ کی کئی روز سے حالت نہیں اچھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%86%DA%BE%D8%AA%D8%A7%D8%A4%DA%AF%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C"} {"title": "پچھلے کو اٹھ کھڑا نہ ہو درد جگر کہیں", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پچھلے کو اٹھ کھڑا نہ ہو درد جگر کہیں\nپہنچے نہ اڑتے اڑتے کہیں سے خبر کہیں\n\nکیفیت حیات سے خالی ہوا ہے دل\nاو ساقیٔ ازل مرا پیمانہ بھر کہیں\n\nمر جائیں گے تڑپ کے اسیران بدنصیب\nسن پائیں گے جو مژدۂ وحشت اثر کہیں\n\nپھڑکا کیے مرقع عالم کے حسن پر\nٹھہری کبھی نہ اہل ہوس کی نظر کہیں\n\nآخر حجاب و شرم کی حد بھی ہے مہرباں\nپردہ الٹ نہ دے مری آہ سحر کہیں\n\nدن وعدۂ وصال کا نزدیک آ چکا\nپھر دیر کیا ہے یاسؔ ارے کمبخت مر کہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%86%DA%BE%D9%84%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%DA%BE%DA%91%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پڑ گئی آپ پر نظر ہی تو ہے", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پڑ گئی آپ پر نظر ہی تو ہے\nاک خطا ہو گئی بشر ہی تو ہے\n\nاتنا بھاری نہ ڈالیے موباف\nبل نہ کھائے کہیں کمر ہی تو ہے\n\nمیری آہوں سے ان کے دل میں اثر\nکبھی یوں بھی اڑے خبر ہی تو ہے\n\nپاؤں پھیلائے ہم نے مرقد میں\nچلتے چلتے تھکے سفر ہی تو ہے\n\nقدرؔ نے کیا زبان پائی ہے\nلوگ کہتے ہیں یہ سحر ہی تو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%91_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%D9%BE_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھوم", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھوم\nباغ میں مچتی ہے جیسے فصل گل آنے میں دھوم\n\nتیری آنکھوں نے نشے میں اس طرح مارا ہے جوش\nڈالتے ہیں جس طرح بد مست مے خانہ میں دھوم\n\nچاند کے پرتو سے جوں پانی میں ہو جلوے کا حشر\nتیرے منہ کے عکس نے ڈالی ہے پیمانے میں دھوم\n\nابر جیسے مست کو شورش میں لاوے دل کے بیچ\nمچ گئی اک بار ان بالوں کے کھل جانے میں دھوم\n\nبوئے مے آتی ہے منہ سے جوں کلی سے بوئے گل\nکیوں یقیںؔ سے جان کرتے ہو مکر جانے میں دھوم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%91_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%85"} {"title": "پڑا ہے پاؤں میں اب سلسلہ محبت کا", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پڑا ہے پاؤں میں اب سلسلہ محبت کا\nبرا ہمارا ہوا ہو بھلا محبت کا\n\nجمال صاف کی موسیٰ کو تاب کب آئی\nجو دیکھیے تو ہے طالب خدا محبت کا\n\nہر ایک در پہ ہے گردش میں میرا کاسۂ چشم\nوہ شاہ حسن ہوا یہ گدا محبت کا\n\nنہ سیم و زر کی ہے حاجت نہ کچھ حکومت کی\nاگال دے کے دیا خوں بہا محبت کا\n\nکدھر سے جاتا تھا اخترؔ یہ کیا ہوا افسوس\nخدا بچائے ہوا سامنا محبت کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%91%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "پڑتی ہے نظر جب کہ پر و بال پر اپنے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پڑتی ہے نظر جب کہ پر و بال پر اپنے\nروتا ہوں قفس میں بہت احوال پر اپنے\n\nعشاق کے احوال پہ کیا اس کو نظر ہے\nوہ آپ دوانہ ہے خط و خال پر اپنے\n\nتحسین عمل کب اسے منظور ہے اے شیخ\nنظریں جو کرے آپ ہی اعمال پر اپنے\n\nکس طرح سے میں پیر کروں عشق کا دعویٰ\nپھبتی نہیں یہ بات سن و سال پر اپنے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%91%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92"} {"title": "پڑھ نہ اے ہم نشیں وصال کا شعر", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پڑھ نہ اے ہم نشیں وصال کا شعر\nجس سے رنگیں ہو خط و خال کا شعر\n\nیوں تلاشی جو چاہے لکھ جاوے\nلیک مشکل ہے بول چال کا شعر\n\nطول کھینچا بیان نک سک نے\nمیں لکھا اس کے بال بال کا شعر\n\nاس کے عشق کمر میں اے یارو\nہم تو کہنے لگے خیال کا شعر\n\nسو خیالی بھی ایسا جس کے حضور\nگرد ہے میرزا جلالؔ کا شعر\n\nمصحفیؔ تیرے شعر دل کش کو\nاب تو لگتا نہیں کمال کا شعر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%91%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%D8%B9%D8%B1"} {"title": "پڑھ کے قاصد خط مرا اس بد زباں نے کیا کہا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پڑھ کے قاصد خط مرا اس بد زباں نے کیا کہا\nکیا کہا پھر کہہ بت نامہرباں نے کیا کہا\n\nغیر سے ملنا تمہارا سن کے گو ہم چپ رہے\nپر سنا ہوگا کہ تم کو اک جہاں نے کیا کہا\n\nگالیوں کی جھاڑ باندھی قصد سرگوشی میں رات\nکیا کہا چاہے تھا میں اس بد گماں نے کیا کہا\n\nسب خراج مصر دے کر تھا زلیخا کو یہ سوچ\nمول یوسف سے پسر کا کارواں نے کیا کہا\n\nآہ اے مرغ چمن کچھ تو بھی واقف ہے کہ صبح\nگل نے کیا پوچھا تھا ہنس کر باغباں نے کیا کہا\n\nپھر لہو ٹپکے ہے پیارے آج کچھ باتوں کے بیچ\nسچ کہو لب سے تمہارے رنگ پاں نے کیا کہا\n\nقائمؔ اس کوچہ سے شب غمگیں نہ آتا تھا یوں ہی\nکیا کہوں تجھ سے کہ اس کو پاسباں نے کیا کہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%91%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%D8%AE%D8%B7_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AF_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7"} {"title": "پڑیں یہ کس کے جلوے پر نگاہیں", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "پڑیں یہ کس کے جلوے پر نگاہیں\nنگاہیں بن گئیں خود جلوہ گاہیں\n\nکہے مجھ سے نہ کوئی ضبط غم کو\nابھی منہ سے نکل جائیں گی آہیں\n\nسلوک اپنا ہے ان کے نقش پا پر\nیہی ہیں منزل عرفاں کی راہیں\n\nانہیں دیکھیں وہ دیکھیں یا نہ دیکھیں\nانہیں چاہیں وہ چاہیں یا نہ چاہیں\n\nچلائے تھے جنہوں نے تیر دل پر\nہم آنکھوں میں لئے ہیں وہ نگاہیں\n\nنتیجہ ہے یہ آہیں کھینچنے کا\nہمیں کھینچے لئے پھرتی ہیں آہیں\n\nشرفؔ کس نے یہ ڈالی آنکھ میں آنکھ\nنگاہوں سے نکل آئیں نگاہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%91%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پکارتا ہوں کہ تم حاصل تمنا ہو", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پکارتا ہوں کہ تم حاصل تمنا ہو\nاگرچہ میری صدا بھی صدا بہ صحرا ہو\n\nجہاں تمہارا ہے ہوگا وہی جو تم چاہو\nمجھے بھی چاہنے دو کچھ اگر تو پھر کیا ہو\n\nجہان و اہل جہاں کو کسی سے کام نہیں\nمرے قریب تو آؤ کہ تم بھی تنہا ہو\n\nزمانہ مدفن ایام ہے خموش رہو\nنہ جانے کون ہماری صدا کو سنتا ہو\n\nبھرم کھلا ہے تو ایسے ہر اک کو دیکھتا ہوں\nکہ جیسے میں نے کبھی آدمی نہ دیکھا ہو\n\nترا کرم ہے کہ میں تیرے دم سے جیتا ہوں\nمرا نصیب کہ تو میرے دم سے رسوا ہو\n\nترے خیال میں گم ہو کے طے کئے میں نے\nوہ مرحلے کہ جہاں موج آبلہ پا ہو\n\nسزائے زیست قیامت سہی مگر ہم لوگ\nوہ زندہ ہیں جنہیں ہر روز روز فردا ہو\n\nدھڑکتے دل کی صدا بھی عجیب شے ہے ظفرؔ\nکہ جیسے کوئی مرے ساتھ ساتھ چلتا ہو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%85_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "پکارتی ہے خموشی مری فغاں کی طرح", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پکارتی ہے خموشی مری فغاں کی طرح\nنگاہیں کہتی ہیں سب راز دل زباں کی طرح\n\nبگڑ گئی ہے یہاں بے طرح جہاں کی طرح\nکہاں کی وضع کہاں کی ادا کہاں کی طرح\n\nچھڑا دے قید سے اے برق ہم اسیروں کو\nلگا دے آگ قفس کو بھی آشیاں کی طرح\n\nکبھی تو صلح بھی ہو جائے زہد و مستی میں\nالٰہی شیخ بھی مے خوار ہو مغاں کی طرح\n\nجلا کے داغ محبت نے دل کو خاک کیا\nبہار آئی مرے باغ میں خزاں کی طرح\n\nحیا نے روک لیا جذب دل نے کھینچ لیا\nچلے وہ تیر کی صورت کھنچی کماں کی طرح\n\nتلاش یار میں چھوڑی نہ سرزمیں کوئی\nہمارے پاؤں میں چکر ہے آسماں کی طرح\n\nجو سمجھے خضر تو قول شہید الفت کو\nگرہ میں باندھ رکھے عمر جاوداں کی طرح\n\nسنے جو حضرت زاہد سے وصف جنت کے\nتو صاف پھر گئی آنکھوں میں اس مکاں کی طرح\n\nجھکی ہی جاتی ہے کچھ خودبخود حیا سے وہ آنکھ\nگری ہی پڑتی ہے بیمار ناتواں کی طرح\n\nیہ سد راہ ہوا کس کا پاس رسوائی\nرکے ہوئے ہیں مرے اشک کارواں کی طرح\n\nادائے مطلب دل ہم سے سیکھ جائے کوئی\nانہیں سنا ہی دیا حال داستاں کی طرح\n\nمزے ہیں اس دہن زخم کے لیے کیا کیا\nجو چوسے تیر کے پیکان کو زباں کی طرح\n\nسمجھ کے کیجیے برباد میرا مشت غبار\nیہ لے نہ آئے کوئی چکر آسماں کی طرح\n\nیہ دل ہے آپ کا گھر رہئے شوق سے لیکن\nشکیب و راحت و صبر و قرار جاں کی طرح\n\nقیامت آئی شب وصل میرے گھر کے پاس\nرقیب نے اسے آواز دی اذاں کی طرح\n\nشب اس کی بزم میں تھا شمع پر بھی رشک ہمیں\nکہ منہ میں شعلے کو گلگیر لے زباں کی طرح\n\nمجھے یہ حکم ہے زنہار تم نہ کرنا عشق\nنصیحتیں بھی وہ کرتے ہیں امتحاں کی طرح\n\nہم اپنے ضعف کے صدقے بٹھا دیا ایسا\nہلے نہ در سے ترے سنگ آستاں کی طرح\n\nکچھ ان سے کہنے کو بیٹھے تھے ہم کہ خلوت میں\nرقیب آ ہی گیا مرگ ناگہاں کی طرح\n\nشکستہ بال ہوں وہ مرغ ناتواں و ضعیف\nکہ میں تو میں نہ اڑے میرے آشیاں کی طرح\n\nنہ ہوں گے سوز محبت کے دل جلے ٹھنڈے\nبھری ہے آتش غم مغز استخواں کی طرح\n\nنہ چھوڑ صید محبت کو خاک پر صیاد\nاسے بھی ڈال لے تو دوش پر کماں کی طرح\n\nزبان خار ہوئی تر ہماری وحشت سے\nکہ چھالے پھوٹے بھی چشم خوں فشاں کی طرح\n\nخدا قبول کرے داغؔ تم جو سوئے عدم\nچلے ہو عشق بتاں لے کے ارمغاں کی طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%85%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "پکڑی کسی سے جاوے نسیم اور صبا بندھے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "پکڑی کسی سے جاوے نسیم اور صبا بندھے\nمولیٰ کرے کچھ اپنی بھی اب تو ہوا بندھے\n\nعاشق کو بوغ بند میں باندھا ہے اس نے یوں\nتا ہو کے دست بقچہ میں جیسے قبا بندھے\n\nیوں دود آہ کا مری گنبد بندھا ہے یاں\nچھت جیسے ابر تیرہ کی تحت السما بندھے\n\nٹک عالم اے جنوں تو دکھا وہ کہ جس سے صاف\nلاہوت کا سماں مری آنکھوں میں آ بندھے\n\nسرما گھلا کے آنکھوں میں نکلا نہ کیجئے\nایسا نہ ہو کہ آپ پہ کچھ توتیا بندھے\n\nقدرت خدا کے دیکھو کہ چوری تو ہم کریں\nاور الٹے دست گیر ہو دزد حنا بندھے\n\nالجھیڑے میں پھنسے تھے تری زلف کے سو وہ\nالٹے ٹنگے اسیر ہوئے بارہا بندھے\n\nانشاؔ صد آفریں ترے ذہن سلیم کو\nمضموں زیادہ اس سے بھلا اور کیا بندھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%A9%DA%91%DB%8C_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%92_%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%92"} {"title": "پھانس لیتی ہے دل سمجھ لیں گے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھانس لیتی ہے دل سمجھ لیں گے\nزلف کرتی ہے بل سمجھ لیں گے\n\nہم سپاہی ہیں او کمان ابرو\nتیغ پکڑے اجل سمجھ لیں گے\n\nنیت شب حرام اے ساقی\nآج تو سوئیں کل سمجھ لیں گے\n\nآج بے مثل ہو سخن میں نسیمؔ\nچار دن میں مثل سمجھ لیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%B3_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "پھاہا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "گوپال کی ران پر جب یہ بڑا پھوڑا نکلا تو اس کے اوسان خطا ہو گئے۔\n\nگرمیوں کا موسم تھا۔ آم خوب ہوئے تھے۔ بازاروں میں، گلیوں میں، دکانداروں کے پاس، پھیری والوں کے پاس، جدھر دیکھو، آم ہی آم نظر آتے۔ لال، پیلے، سبز، رنگا رنگ کے۔۔۔ سبزی منڈی میں کھول کے حساب سے ہر قسم کے آم آتے تھے۔ اور نہایت سستے داموں فروخت ہو رہے تھے۔ یوں سمجھیے کہ پچھلے برس کی کسر پوری ہو رہی تھی۔\n\nاسکول کے باہر چھوٹو رام پھل فروش سے گوپال نے ایک روز خوب جی بھر کے آم کھائے۔ اور جیب میں سے ایک مہینے کے بچائے ہوئے جتنے پیسے جمع تھے سب کے سب ان آموں پر خرچ کر دیے جن کے گودے اور رس میں شہد گھلا ہوا تھا۔\n\nاس روز چھٹی کے وقت آم کھانے کے بعد انگلیاں چاٹتے ہوئے گوپال کو اسکول کے حلوائی سے دودھ کی لسّی پینے کا خیال آیا تھا۔ اور اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر اس نے گنڈا رام حلوائی سے پاؤ بھر دودھ کی لسّی بنانے کو کہا بھی تھا۔ مگر حلوائی نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا، ’’بابو گوپال، پہلا حساب چکا دو تو اور ادھار دوں گا، ورنہ نہیں۔‘‘\n\nگوپال نے اگر آم نہ کھائے ہوتے، یا اگر اس کی جیب میں تھوڑے بہت پیسے ہوتے۔ تو وہ وہیں کھڑے کھڑے گنڈا رام کا حساب چکا دیتا۔ اور کچھ نہیں تو نقد دام دے کر لسّی کا وہ گلاس لے لیتا جس میں برف کا ٹکڑا اڈبکیاں لگا رہا تھا۔ اور جسے حلوائی نے بُرا سا منہ بنا کر اپنے پیچھے لوہے کے تھال پر رکھ دیا تھا۔ مگر گوپال کچھ بھی نہ کر سکا۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چوتھے روز اس کی ران پر یہ بڑا پھوڑا نکل آیا۔ اور تین چار روز تک ابھرتا رہا۔\n\nگوپال کے اوسان خطا ہو گئے۔ اس کی سمجھ میں نہ آتا تھاکہ کیا کرے۔ وہ پھوڑے سے اتنا پریشان نہیں تھا۔ جتنا اس کے درد سے۔۔۔ اور سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ پھوڑا دن بدن لال ہوتا چلا جا رہا تھا۔ اور اس کے منہ پر بدن کی جھلی پھٹنا شروع ہو گئی تھی۔ بعض اوقات گوپال کو یہ معلوم ہوتا کہ پھوڑے کے اندر کوئی ہنڈیا اُبل رہی ہے۔ اور اس کے اندر سب کچھ ایک ہی اُبال میں نکلنا چاہتا ہے۔ یہ چیز اسے بہت پریشان کر رہی تھی۔ اور پھوڑے کی جسامت دیکھ کر ایک مرتبہ تو اسے ایسا معلوم ہوا تھا کہ اس کی جیب میں سے کانچ کی گولی نکل کر اس کی ران میں گھس گئی ہے۔\n\nگوپال نے گھر میں پھوڑے کی بابت کسی سے ذکر نہ کیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر پتا جی کو اس کا پتہ چل گیا۔ تو وہ اپنے تھانے کی مکھیوں کا سارا غصہ اسی پر نکالیں گے۔ اور بہت ممکن ہے کہ وہ اسے اس چھڑی سے پیٹنا شروع کر دیں جو تھوڑے روز ہوئے گردھاری وکیل کے منشی نے وزیر آباد سے انھیں تحفے کے طور پر لا کر دی تھی۔ ماں کا مزاج بھی کم گرم نہ تھا۔ وہ اگر اسے آم کھانے کے جرم کی سزا نہ دیتی تو اس غلطی پر اس کے کان کھینچ کھینچ کر ضرور لال کر دیتی کہ اس نے گھر کے باہر اکیلے اکیلے آم کیوں اڑائے۔ اس کی ماں کا اصول تھا کہ ’’گوپال اگر تجھے زہر بھی کھانا ہو تو گھر میں کھانا۔‘‘ گوپال اچھی طرح جانتا تھا کہ اس اصول کے پیچھے اس کی ماں کی صرف یہ خواہش تھی کہ گوپال کے منہ کے ساتھ اس کا منہ بھی چلتا رہے۔\n\nکچھ بھی ہو گوپال کی ران پر پھوڑا نکلنا تھا، نکل آیا۔ اس کا باعث جہاں تک گوپال سمجھ سکا تھا، وہی آم تھے۔ اس نے پھوڑے کی بابت گھر میں کسی سے ذکر نہ کیا تھا۔ اس کو اپنے پتا جی کی وہ ڈانٹ اچھی طرح یاد تھی جو غسل خانے کے اندر بتائی گئی تھی۔ اس کے پتا جی لالہ پرشو تم داس تھانے دار لنگوٹ باندھے نل کی دھار کے نیچے اپنی گنجی چندیا رکھے اور بڑی توند بڑھائے مونچھوں میں سے آم کا رس چوس رہے تھے۔ سامنے بالٹی میں ایک درجن کے قریب آم پڑے تھے جو انھوں نے صبح سویرے ایک ٹھیلے والے سے اس کا چالان کاٹ کر حاصل کیے تھے۔ گوپال باپ کی پیٹھ مل رہا تھا اور میل کی مروڑیاں بنا رہا تھا۔ جب اس نے ہاتھ صاف کرنے کے لیے بالٹی میں ڈالے تھےاور چپکے سے ایک آم اڑانا چاہا تھاتو لالہ جی نے بڑے زور سے اس کا ہاتھ جھٹک کر چھوٹے سے آم کو مونچھوں سمیت منہ میں ڈالتے ہوئے کہا تھا، ’’بے شرم۔۔۔تجھے بڑوں کا لحاظ کرنا جانے کب آئے گا؟‘‘\n\nاور جب گوپال نے رونی صورت بنا کر کہا تھا، ’’پتا جی۔۔۔ آم کھانے کو میرا بھی تو جی چاہتا ہے۔ ‘‘تو تھانیدار صاحب نے آم کی گٹھلی چوس کر موری میں پھینکتے ہوئے کہا تھا، ’’گوپو، تیرے لیے یہ آم بہت گرم تھا۔ پھوڑے پھنسیاں چاہتا ہے تو بیشک کھا لے۔۔۔ دو تین بارشیں اور ہو لینے دے، پھر خوب ٹھاٹ سے کھائیو تیری ماں سے کہوں گا وہ لسّی بنا دے گی۔۔۔ چل اب پیٹھ مل۔‘‘ اور گوپال نے یہ رکاوٹ کی بات سن کر خاموشی سے اپنے پتا کی پیٹھ ملنا شروع کر دی تھی اور آم کی مٹھاس نے جو پانی اس کے منہ میں بھر دیا تھا،اسے دیر تک نگلتا رہا تھا۔\n\nاس کے دوسرے روز اس نے آم کھائے اور چوتھے روز اس کی ران پر پھوڑا نکل آیا۔ اس کے پتا کی بات سچی ثابت ہوئی۔\n\nاب اگر گوپال گھر میں کسی سے اس پھوڑے کی بات کرتا تو ظاہر ہے کہ خوب پٹتا، یہی وجہ ہے کہ خاموش رہا۔ اور پھوڑے کا بڑھاؤ بند کرنے کی تدبیریں سوچتا رہا۔\n\nایک روز اس کے پتا جی تھانے سے واپسی پر جب گھر آئے۔ تو ان کے ہاتھ میں ایک لمبی سی بتّی تھی۔ گوپال کی ماں کو آواز دے کر انھوں نے یہ بتّی اس کے ہاتھ میں میں دے کر کہا، ’’لے، آج بڑے کام کی چیز لایا ہوں۔ بمبئی کا مرہم ہے سو دوائیوں کی ایک دوا ہے۔۔۔پھوڑے پھنسی کی بہار ہے۔ ذرا سا پھاہا پھوڑے پر لگا دو گی۔ یوں آرام آ جائے گا۔۔۔ یوں ۔بمبئی کا نخالص مرہم ہے۔ سنبھال کے رکھ۔‘‘\n\nگوپال اپنی بہن نرملا کے ساتھ صحن میں گیند بلا کھیل رہا تھا۔ اتفاق کی بات ہے کہ جب تھانیدار جی مرہم دے کر اپنی پتنی کو کچھ سمجھا رہے تھے۔ تو نرملا نے زور سے گیند پھینکی۔ گوپال کا دھیان باپ کی طرف تھا۔ گیند پھوڑے پر زور سے لگی۔ گوپال بلبلا اٹھا۔ لیکن درد کو اندر ہی اندر پی گیا۔ وہ اسکول میں ماسٹر ہری رام کے مشہور بید کی مار کھا کر درد سہنے کا عادی ہو چکا تھا۔\n\nادھر گوپال کے پھوڑے پر گیند لگی۔ ادھر اس کے باپ کی آواز بلند ہوئی، ’’ذرا سا پھاہے پر لیپ کرکے لگا دو گی۔۔۔ یوں آرام آ جائے گا۔۔۔یوں‘‘ اور یوں کے ساتھ اس کے باپ کی چٹکی نے گویا گوپال کے سوئے ہوئے دماغ کی چٹکی بھر لی۔ اس کو اپنے درد کا علاج معلوم ہو گیا۔\n\nاس کی ماں نے مرہم کی بتّی سامنے دالان میں سلائی کی پٹاری میں رکھ دی۔ گوپال کو اچھی طرح معلوم تھا۔ کہ اس کی ماں عام طور پر سلائی کی پٹاری ہی میں سب سنبھالنے والی چیزیں رکھا کرتی ہے۔ سب سے زیادہ سنبھالنے والی چیز وہ موچنا تھاجس سے اس کی ماں ہر دسویں پندرھویں روز اپنے تنگ ماتھے کے بال صاف کیا کرتی تھی۔ یہ بلاشک و شبہ سلائی کی پٹاری میں اس پڑیا سمیت موجود تھا جس میں کوئلوں کی سفید راکھ جمع رہتی تھی۔ جو اس کی ماں بال نوچ کر ماتھے پر لگایا کرتی تھی۔\n\nتاہم گوپال نے اپنا اطمینان کرنے کے لیے گیند دالان میں پھینک دی اور اس کو پلنگ کے نیچے سے نکالتے ہوئے اپنی ماں کو سلائی کی پٹاری میں مرہم رکھتے دیکھ لیا۔\n\nدوپہر کو اس نے اپنی بہن نرملا کو ساتھ ملا کر چھوٹی قینچی جس سے اس کا باپ انگلیوں کے ناخن کاٹتا تھا، مرہم کی بتّی اور اپنے باپ کے پاجامے سے بچا ہوا لٹھے کا وہ ٹکڑا حاصل کر لیا جس سے اس کی ماں ایک اور ٹکڑے کو ساتھ ملا کر شلوار کی میانی بنانا چاہتی تھی۔ دونوں یہ چیزیں لے کر اوپر کوٹھے پر چلے گئے۔ اور برساتی کے نیچے کوئلوں کی بوریوں کے پاس بیٹھ گئے۔ نرملا نے اپنی جیب سے لٹھے کا ٹکڑا نکال کر اپنی ران پر شلوار کے پھسلتے ہوئے ریشمی کپڑے پر پھیلا کر جب گوپال کی طرف اپنی ناچتی ہوئی آنکھوں سے دیکھا تو اس وقت ایسا معلوم ہوا کہ گیارہ برس کی یہ کمسن لڑکی جو دریائی سرکنڈے کی طرح نازک اور لچکیلی تھی، ایک بہت بڑے کام کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہی ہے۔ اس کا ننھا سا دل جو اس وقت تک صرف ماں باپ کی جھڑکیوں اور اپنی گڑیوں کے میلے ہوتے ہوئے چہروں کی فکر سے دھڑکا کرتا تھا، اب اپنے بھائی کی ران پر پھوڑا دیکھنے کے خیال سے دھڑک رہا تھا۔ اس کے کان کی لویں لال اور گرم ہو گئی تھیں۔\n\nگوپال نے گھر میں اپنے پھوڑے کی بابت کسی سے ذکر نہ کیا تھا۔ لیکن اب اُسے نرملا کو ساری بات سنانا پڑی کہ کس طرح اس نے چوری چوری آم کھائے اور لسّی پینا بھول گیا۔ اور اس کی ران پر پیسے کے برابر پھوڑا نکل آیا۔ جب اس نے اپنی رام کہانی سنا کر نرملا سے رازدارانہ لہجے میں کہا تھا۔ ’’دیکھ نرملا! گھر میں یہ بات کسی سے نہ کہیو۔‘‘ تو نرملا نے بڑی متین صورت بنا کر جواب دیا تھا کہ ’’میں پاگل تھوڑی ہوں۔‘‘\n\nگوپال کو یقین تھا کہ نرملا یہ بات اپنے تک ہی رکھے گی۔ چنانچہ اس نے پاجامے کو اوپر اڑس لیا، نرملا کا دل دھک دھک کرنے لگا، جب گوپال نے بیٹھ کر اپنا پھوڑا دکھایا۔ اور نرملا نے دور ہی سے اپنی انگلی سے اسے چھوا تو اس کے بدن پر ایک جھرجھری سی طاری ہو گئی۔ سی سی کرتے ہوئے اس نے ابھرے لال پھوڑے کی طرف دیکھا اور کہا، ’’کتنا لال ہے۔‘‘\n\n’’ابھی تو اور ہو گا‘‘ گوپال نے اپنے مردانہ حوصلے کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا۔ نرملا نے حیرت سے کہا، ’’سچ؟‘‘\n\n’’ابھی تو کچھ لال نہیں ہے، جو پھوڑا میں نے چرنجی کے منہ پر دیکھا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ بڑا اور لال تھا‘‘ گوپال نے پھوڑے پر دو انگلیاں پھیریں۔\n\n’’تو ابھی اور بڑھے گا؟‘‘ نرملا آگے سرک آئی۔\n\n’’کیا پتا ہے۔۔۔ ابھی تو اور بڑھتا چلا جا رہا ہے۔‘‘ گوپال نے جیب میں سے مرہم کی بتّی نکال کر کہا۔\n\nنرملا سہم سی گئی، ’’اس مرہم سے تو آرام آ جائے گا نا؟‘‘\n\nگوپال نے بتّی کے ایک سرے پر سے کاغذ کی تہ جدا کی اور اثبات میں سر ہلا دیا، ’’اس کا پھاہا لگانے ہی سے پھٹ جائے گا۔‘‘\n\n’’پھٹ جائے گا۔‘‘ نرملا کو ایسا معلوم ہوا کہ اس کے کان کے پاس ربڑ کا غبارہ پھٹ گیا ہے۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔\n\n’’اور اس کے اندر جو کچھ ہے پھوٹ بہے گا!‘‘ گوپال نے مرہم کو انگلی پر اٹھاتے ہوئے کہا۔\n\nنرملا کا گلابی رنگ اب بمبئی کے مرہم کی طرح پیلا پڑ گیا تھا، اس نے دھڑکتے ہوئے دل سے پوچھا، ’’مگر یہ پھوڑے کیوں نکلتے ہیں بھیّا؟‘‘\n\n’’گرم چیزیں کھانے سے!‘‘ گوپال نے ایک ماہر طبیب کے سے انداز میں جواب دیا۔\n\nنرملا کو وہ دو انڈے یاد آ گئے جو اس نے دو ماہ پہلے کھائے تھے۔ وہ کچھ سوچنے لگی۔\n\nگوپال اور نرملا کے درمیان چند باتیں اور ہوئیں۔ اس کے بعد وہ اصلی کام کی طرف متوجہ ہوئے، نرملا نے لٹھے کا ایک گول پھاہا کاٹا، بڑی نفاست سے، یہ روپے کے برابر تھا۔ اور اس کی گولائی میں مجال ہے ذرا سا نقص بھی ہو، اسی طرح گول تھا جس طرح نرملا کی ماں کے ہاتھ کی بنی ہوئی روٹی گول ہوتی تھی۔\n\nگوپال نے اس پھاہے پر تھوڑا سا مرہم لگا دیا۔ اور اسے اچھی طرح پھیلانے کے بعد پھوڑے کی طرف غور سے دیکھا۔ نرملا گوپال کے اوپر جھکی ہوئی تھی۔ اور گوپال کی ہر حرکت کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔ گوپال نے جب پھاہا اپنے پھوڑے کے اوپر جما دیا تو وہ کانپ گئی جیسے اس کے بدن پر کسی نے برف کا ٹکڑا رکھ دیا ہے۔\n\n’’اب آرام آ جائے گا نا؟‘‘ نرملا نے نیم سوالیہ انداز میں کہا۔\n\nگوپال جواب دینے بھی نہ پایا تھا کہ برساتی کے برابر والی سیڑھیوں پر کسی کے چڑھنے کی آواز سنائی دی۔ یہ ان کی ماں تھی جو غالباً کوئلے لینے کے لیے آ رہی تھی۔\n\nگوپال اور نرملا نے بیک وقت ایک دوسرے کے چہرے کی طرف دیکھا اورکچھ کہے سنے بغیر سب چیزیں اکٹھی کرکے اس پرانے صندوق کے پیچھے چھپا دیں جہاں ان کی بلی سندری بچے دیا کرتی تھی اور چپکے سے بھاگ گئے۔\n\nیہاں سے بھاگ کر گوپال نیچے گیا۔ تو اس کے باپ نے اسے باہر فالودہ لانے کے لیے بھیج دیا۔ جب واپس آیا تو اسے گلی میں نرملا ملی، فالودے کا گلاس اس کے حوالے کرکے وہ چرنجی کے گھر چلا گیا۔ اور اس طرح ان چیزوں کو اپنی جگہ پر رکھنا بھول گیا جو ماں کے اچانک آ جانے سے اس نے اور نرملا نے صندوق کے پیچھے چھپا دی تھیں۔\n\nچرنجی کے یہاں وہ دیر تک تاش کھیلتا رہا۔ کھیل سے فارغ ہو کر جب وہ چرنجی کی بغل میں ہاتھ ڈالے کمرے سے باہر نکل رہا تھا۔ تو کسی بات پر اس کا دوست ہنسا اور اس کے داہنے گال پر پھوڑے کا نشان لمبی سی لکیر بن گیا۔ اس کو دیکھ کر فوراً ہی اپنے پھوڑے کا گوپال کو خیال آیا اور اس خیال کے ساتھ ہی اسے وہ چیزیں یاد آگئیں جو صندوق کے پیچھے پڑی تھیں۔ چرنجی کی بغل سے ہاتھ نکال کر وہ بھاگا۔\n\nگھر پہنچ کر اس نے وہاں کی فضا دیکھی، اس کی ماں صحن میں بیٹھی اس کے باپ سے ’’ملاپ‘‘ اخبار کی خبریں سن رہی تھی۔ دونوں کسی بات پر ہنس رہے تھے۔ گوپال ان کے پاس سے گزرا۔ دونوں نے اس کی طرف دیکھا، مگر اس سے کوئی بات نہ کی، گوپال کو اطمینان ہو گیا کہ ابھی تک اس کی ماں نے اپنی سلائی کی پٹاری نہیں دیکھی۔ چنانچہ وہ چپکے سے کوٹھے پر چلا گیا۔ بڑے کوٹھے کو طے کرکے دروازے کے اندر داخل ہونے والا ہی تھاکہ اس کے قدم رک گئے۔ صندوق کے پاس بیٹھی نرملا کچھ کر رہی تھی۔ گوپال پیچھے ہٹ گیا۔ اور چھپ کر دیکھنے لگا۔\n\nنرملا بڑے انہماک سے پھاہا تراش رہی تھی۔ اس کی پتلی پتلی انگلیاں قینچی سے بڑا نفیس کام لے رہی تھیں۔ پھاہا کاٹنے کے بعد اس نے تھوڑا سا مرہم نکال کر اس پر پھیلایا اور گردن جھکا کر اپنے کرتے کے بٹن کھولے، سینے کے داہنی طرف چھوٹا سا ابھار تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ نلکی پر صابن کا چھوٹا سا نامکمل بلبلہ اٹکا ہوا ہے۔\n\nنرملا نے پھاہے پر پھونک ماری اور اسے اس ننھے سے ابھار پر جما دیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%A7%DB%81%D8%A7"} {"title": "پھبتی ترے مکھڑے پہ مجھے حور کی سوجھی", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "پھبتی ترے مکھڑے پہ مجھے حور کی سوجھی\nلا ہاتھ ادھر دے کہ بہت دور کی سوجھی\n\nٹک دیکھئے گا جبہ و عمامہ زاہد\nہے اس پہ مجھے بلعم باعور کی سوجھی\n\nکیوں میں دل پر آبلہ پر تاک نہ باندھوں\nہے اس پہ مجھے خوشۂ انگور کی سوجھی\n\nہے شیخ سیہ چہرہ جو مجلس میں پھدکتا\nیاروں کو یہاں روئی کے لنگور کی سوجھی\n\nواعظ جو پڑھا جن متبختر ہے نہایت\nاس پر مجھے شیطان کی ہے پور کی سوجھی\n\nہاتھ اپنے سے جب چھٹ گئی اس ڈنڈ کی مچھلی\nتب اس کے تڑپنے پہ سقنقور کی سوجھی\n\nہاں اے شفق صبح تری دیکھ کے رنگت\nشنجرف کی سوجھی مجھے کافور کی سوجھی\n\nجب پھول جھڑے نور کے اس آہ سے میری\nاس پر مجھے انشاؔ شجر طور کی سوجھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%A8%D8%AA%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%85%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AD%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D9%88%D8%AC%DA%BE%DB%8C"} {"title": "پھر آ گئی اک بت پہ طبیعت کو ہوا کیا", "poet_page": "مصنف:مرزا مائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر آ گئی اک بت پہ طبیعت کو ہوا کیا\nٹلتی ہی نہیں سر سے مصیبت کو ہوا کیا\n\nمحروم پھر آیا در مے خانہ سے واعظ\nرندان قدح خوار کی ہمت کو ہوا کیا\n\nمقبول دعا ہو نہ اثر آہ و فغاں میں\nاس دور میں تاثیر محبت کو ہوا کیا\n\nاس حسن و لطافت پہ کیا سنگ دل ایسا\nحیرت میں ہوں اللہ کی حکمت کو ہوا کیا\n\nجاگے تو کوئی انجمن غیر میں شب بھر\nاور چھائی مرے منہ پہ ندامت کو ہوا کیا\n\nدانستہ نقاب الٹے ہوئے ہیں سر بازار\nاور اس پہ یہ کہتے ہیں کہ خلقت کو ہوا کیا\n\nلو ہم تو چلے کوثر و تسنیم پہ زاہد\nتم یونہی کہے جاؤ کہ رحمت کو ہوا کیا\n\nمائلؔ نہیں کیا اور زمانے میں الٰہی\nمجھ پر ہی اترتی ہے یہ آفت کو ہوا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A2_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%AA_%D9%BE%DB%81_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پھر آئی فصل گل اے یار دیکھیے کیا ہو", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر آئی فصل گل اے یار دیکھیے کیا ہو\nجنوں کا دل میں چبھا خار دیکھیے کیا ہو\n\nسب آشنا ہوئے اس کے بچھڑتے بیگانے\nہوئی ہے بے کسی اب یار دیکھیے کیا ہو\n\nچمن میں باندھنے کو آشیانۂ بلبل\nگلوں نے جمع کئے خار دیکھیے کیا ہو\n\nہوا ہے یہ دل دیوانہ قابل زنجیر\nکھلے ہیں گیسوئے دلدار دیکھیے کیا ہو\n\nوہ سرو قد کی محبت کا طوق جوں قمری\nہوا ہے میرے گلے ہار دیکھیے کیا ہو\n\nوہ عزلتؔ اب مرا بوجھے گا غم کہ آرسی دیکھ\nہوا ہے اپنا گرفتار دیکھیے کیا ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D9%81%D8%B5%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "پھر آئی فصل گل پھر زخم دل رہ رہ کے پکتے ہیں", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر آئی فصل گل پھر زخم دل رہ رہ کے پکتے ہیں\nمگر داغ جگر پر صورت لالہ لہکتے ہیں\n\nنصیحت ہے عبث ناصح بیاں ناحق ہی بکتے ہیں\nجو بہکے دخت رز سے ہیں وہ کب ان سے بہکتے ہیں\n\nکوئی جا کر کہو یہ آخری پیغام اس بت سے\nارے آ جا ابھی دم تن میں باقی ہے سسکتے ہیں\n\nنہ بوسہ لینے دیتے ہیں نہ لگتے ہیں گلے میرے\nابھی کم عمر ہیں ہر بات پر مجھ سے جھجکتے ہیں\n\nوہ غیروں کو ادا سے قتل جب بے باک کرتے ہیں\nتو اس کی تیغ کو ہم آہ کس حیرت سے تکتے ہیں\n\nاڑا لائے ہو یہ طرز سخن کس سے بتاؤ تو\nدم تقدیر گویا باغ میں بلبل چہکتے ہیں\n\nرساؔ کی ہے تلاش یار میں یہ دشت پیمائی\nکہ مثل شیشہ میرے پاؤں کے چھالے جھلکتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D9%81%D8%B5%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%DB%81_%D8%B1%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DA%A9%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پھر آیا جام بکف گلعذار اے واعظ", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر آیا جام بکف گلعذار اے واعظ\nشکست توبہ کی پھر ہے بہار اے واعظ\n\nنہ جان مجھ کو تو مختار سخت ہوں مجبور\nنہیں ہے دل پہ مرا اختیار اے واعظ\n\nانار خلد کو تو رکھ کے ہیں پسند ہمیں\nکچیں وہ یار کی رشک انار اے واعظ\n\nاسی کی کاکل پر پیچ کی قسم ہے مجھے\nکہ تیرے وعظ ہیں سب پیچ دار اے واعظ\n\nہمارے درد کو کیا جانے تو کہ تجھ کو ہے\nنہ درد یار نہ درد دیار اے واعظ\n\nکیا جو ذکر قیامت یہ کیا قیامت کی\nکہ یاد آیا مجھے قد یار اے واعظ\n\nبھلائے گا نہ کبھی یاد گل رخاں احساںؔ\nکوئی وہ سمجھے ہے سمجھا ہزار اے واعظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%A8%DA%A9%D9%81_%DA%AF%D9%84%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "پھر اس انداز سے بہار آئی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر اس انداز سے بہار آئی\nکہ ہوئے مہر و مہ تماشائی\n\nدیکھو اے ساکنانِ خطّۂ خاک\nاس کو کہتے ہیں عالم آرائی\n\nکہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سر\nرو کشِ سطحِ چرخِ مینائی\n\nسبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملی\nبن گیا روئے آب پر کائی\n\nسبزہ و گل کے دیکھنے کے لیے\nچشمِ نرگس کو دی ہے بینائی\n\nہے ہوا میں شراب کی تاثیر\nبادہ نوشی ہے باد پیمائی\n\nکیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالبؔ\nشاہِ دیں دار نے شفا پائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہے\nکیا تازہ کوئی گل نے اب شاخ نکالی ہے\n\nسچ پوچھو تو کب ہے گا اس کا سا دہن غنچہ\nتسکیں کے لیے ہم نے اک بات بنا لی ہے\n\nدیہی کو نہ کچھ پوچھو اک بھرت کا ہے گڑوا\nترکیب سے کیا کہیے سانچے میں کی ڈھالی ہے\n\nہم قد خمیدہ سے آغوش ہوئے سارے\nپر فائدہ تجھ سے تو آغوش وہ خالی ہے\n\nعزت کی کوئی صورت دکھلائی نہیں دیتی\nچپ رہیے تو چشمک ہے کچھ کہیے تو گالی ہے\n\nدو گام کے چلنے میں پامال ہوا عالم\nکچھ ساری خدائی سے وہ چال نرالی ہے\n\nہے گی تو دو سالہ پر ہے دختر رز آفت\nکیا پیر مغاں نے بھی اک چھوکری پالی ہے\n\nخوں ریزی میں ہم سوں کی جو خاک برابر ہیں\nکب سر تو فرو لایا ہمت تری عالی ہے\n\nجب سر چڑھے ہوں ایسے تب عشق کریں سو بھی\nجوں توں یہ بلا سر سے فرہاد نے ٹالی ہے\n\nان مغبچوں میں زاہد پھر سر زدہ مت آنا\nمندیل تری اب کے ہم نے تو بچا لی ہے\n\nکیا میرؔ تو روتا ہے پامالیٔ دل ہی کو\nان لونڈوں نے تو دلی سب سر پہ اٹھا لی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D8%B9%D9%88%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%DA%88%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "پھر اس طرف وہ پری رو جھمکتا آتا ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر اس طرف وہ پری رو جھمکتا آتا ہے\nبرنگ مہر عجب کچھ چمکتا آتا ہے\n\nادھر ادھر جو نظر ہے تو اس لیے یارو\nجو ڈھب سے تاکتے ہیں ان کو تکتا آتا ہے\n\nکوئی جو راہ میں کہتا ہے دل کی بے تابی\nتو اس سے کہتا ہے کیا تو یہ بکتا آتا ہے\n\nملاپ کرنا ہے جس سے تو اس کی جانب واہ\nقدم اٹھاتا ہے جلد اور ہمکتا آتا ہے\n\nہمارے دل کی جو آتش ہے دینی پھر بھڑکا\nجبھی نظیرؔ وہ پلکیں جھپکتا آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D9%88%DB%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D9%88_%D8%AC%DA%BE%D9%85%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "پھر اس کے پھندے میں جا رہے ہیں کہ جس کے پھندے میں جا چکے تھے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر اس کے پھندے میں جا رہے ہیں کہ جس کے پھندے میں جا چکے تھے\nوہی مصیبت اٹھا رہے ہیں کہ جو مصیبت اٹھا چکے تھے\n\nکہو جو بے جا بجا ہے مجھ کو سزا ہے جو ناسزا ہے مجھ کو\nکہ ان کا رونا پڑا ہے مجھ کو جو مدتوں تک رلا چکے تھے\n\nجو ان کی خو تھی سو ان کی خو ہے جو گفتگو تھی سو گفتگو ہے\nپھر ان پہ مٹنے کی آرزو ہے جو ہر طرح سے مٹا چکے تھے\n\nعدو کا میں ہوں عدو مقرر برابر آ کے ہوئے برابر\nبھلا بدلتا نہ رنگ کیوں کر وہ رنگ اپنے جما چکے تھے\n\nکسی سے کوئی نہ دل لگائے نسیمؔ کیا کیفیت بتائے\nوہی اب آنسو بہانے آئے لہو جو میرا بہا چکے تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D9%86%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D9%86%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%DA%86%DA%A9%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "پھر اعتبار عشق کے قابل نہیں رہا", "poet_page": "مصنف:دل شاہ جہانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر اعتبار عشق کے قابل نہیں رہا\nجو دل تری نظر سے گرا دل نہیں رہا\n\nنشتر چبھوئے اب نہ پشیمانئ نگاہ\nمجھ کو تو شکوۂ خلش دل نہیں رہا\n\nموجیں ابھار کر مجھے جس سمت لے چلیں\nحد نگاہ تک کہیں ساحل نہیں رہا\n\nکیا کہئے اب مآل محبت کی سرگزشت\nیاد اس کی رہ گئی ہے مگر دلؔ نہیں رہا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "پھر الجھتے ہیں وہ گیسو کی طرح", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر الجھتے ہیں وہ گیسو کی طرح\nپھر کجی پر ہیں وہ ابرو کی طرح\n\nشہر وحشت میں کہاں گھر کیسا\nدشت میں رہتے ہیں آہو کی طرح\n\nحسن اور عشق کو آؤ تولیں\nدونوں آنکھوں سے ترازو کی طرح\n\nمجھ کو آنکھوں میں جگہ دو چندے\nپھر گرا دیجیو آنسو کی طرح\n\nنہ کہوں گا کہ سنوارو زلفیں\nپھر الجھ جائیں گے گیسو کی طرح\n\nاے سخیؔ پھرتی ہے کس خال کی شکل\nسامنے آنکھ کے بچھو کی طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%AC%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "پھر بادِ بہار آئی، اقبال غزل خواں ہو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "پھر بادِ بہار آئی، اقبالؔ غزل خواں ہو\nغنچہ ہے اگر گُل ہو، گُل ہے تو گُلستاں ہو\n\nتُو خاک کی مُٹھّی ہے، اجزا کی حرارت سے\nبرہم ہو، پریشاں ہو، وسعت میں بیاباں ہو\n\nتُو جنسِ محبّت ہے، قیمت ہے گراں تیری\nکم مایہ ہیں سوداگر، اس دیس میں ارزاں ہو\n\nکیوں ساز کے پردے میں مستور ہو لَے تیری\nتُو نغمۂ رنگیں ہے، ہر گوش پہ عُریاں ہو\n\nاے رہروِ فرزانہ! رستے میں اگر تیرے\nگُلشن ہے تو شبنم ہو، صحرا ہے تو طوفاں ہو\n\nساماں کی محبّت میں مُضمَر ہے تن آسانی\nمقصد ہے اگر منزل، غارت گرِ ساماں ہو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%90_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D8%8C_%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84_%D8%BA%D8%B2%D9%84_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88"} {"title": "پھر بھی کرتے ہیں میرؔ صاحب عشق", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "پھر بھی کرتے ہیں میرؔ صاحب عشق\nہیں جواں اختیار رکھتے ہیں\nچوٹٹے دل کے ہیں بتاں مشہور\nبس یہی اعتبار رکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو\nمجھ کو دیکھو مرے مرنے کی تمنّا دیکھو\n\nجرمِ نظارہ پہ کون اتنی خوشامد کرتا\nاب وہ روٹھے ہیں لو اور تماشا دیکھو\n\nدو ہی دن میں وہ بات ہے نہ وہ چاہ نہ پیار\nہم نے پہلے ہی یہ تم سے نہ کہا تھا دیکھو؟\n\nہم نا کہتے تھے بناوٹ سے ہے سارا غصّہ\nہنس کے لو پھر انھوں نے ہمیں دیکھا دیکھو\n\nمستیِ حسن سے اپنی بھی نہیں تم کو خبر\nکیا سنو عرض میری،حال میرا کیا دیکھو\n\nگھر سے ہر وقت نکل آتے ہو کھولے ہوئے بال\nشام دیکھو نہ میری جان سویرا دیکھو\n\nخانۂ جان میں نمودار ہے اک پیکرِ نور\nحسرتو آؤ رخِ یار کا جلوہ دیکھو\n\nسامنے سب کے مناسب نہیں ہم پر یہ عتاب\nسر سے ڈھل جائے نہ غصّے میں‌ ڈوپٹہ دیکھو\n\nمر مٹے ہم تو کبھی یاد بھی تم نے نہ کیا\nاب محبّت کا نہ کرنا کبھی دعویٰ دیکھو\n\nدوستو ترکِ محبّت کی نصیحت ہے فضول\nاور نہ مانو تو دلِ زار کو سمجھا دیکھو\n\nسر کہیں،بال کہیں،ہاتھ کہیں‌،پاؤں کہیں\nاس کا سونا بھی ہے کس شان کا سونا دیکھو\n\nاب وہ شوخی سے یہ کہتے ہیں ستمگر جو ہیں‌ہم\nدل کسی اور سے کچھ روز بہلا دیکھو\n\nہوَسِ دل مٹی ہے نہ مٹے گی حسرت\nدیکھنے کے لیئے چاہو انہیں جتنا دیکھو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B3%DB%8C%D8%AD%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%B9%D9%88%DB%8C%D9%B0_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "پھر بہار آئی مرے صیاد کو پروا نہیں", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر بہار آئی مرے صیاد کو پروا نہیں\nاڑ کے میں پہنچوں چمن میں کیا کروں پر وا نہیں\n\nجی جلا کر ایک بوسہ مانگتے ہیں بار سے\nآگے یا قسمت وہ دیکھیں ہاں کرے ہے یا نہیں\n\nحسرت و حرمان و یاس و حیرت رنج و تعب\nکیا کہوں اس ہجر میں کیا کیا ہے اور کیا کیا نہیں\n\nہر کسی سے لگ چلے کیا ذکر ہے امکان کیا\nہم اسے پہچانتے ہیں خوب وہ ایسا نہیں\n\nچار عنصر کی غزل رنگیںؔ کہو تم دوسری\nہے قسم تم کو علی جی کی یہ مت کہنا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B5%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پھر بہار آئی ہے پھر جوش میں سودا ہوگا", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر بہار آئی ہے پھر جوش میں سودا ہوگا\nزخم دیرینہ سے پھر خون ٹپکتا ہوگا\n\nبیتی باتوں کے وہ ناسور ہرے پھر ہوں گے\nبات نکلے گی تو پھر بات کو رکھنا ہوگا\n\nیورشیں کر کے امنڈ آئیں گی سونی شامیں\nلاکھ بھٹکیں کسی عنواں نہ سویرا ہوگا\n\nجی کو سمجھائیں گے متوالی ہوا کے جھونکے\nپھر کوئی لاکھ سنبھالے نہ سنبھلنا ہوگا\n\nکیسی رت آئی ہوا چلتی ہے جی ڈولتا ہے\nاب تو ہنسنا بھی تڑپنے کا بہانا ہوگا\n\nٹوٹ جائے گا یہ لاچارئی دائم کا فسوں\nاور اس طرح کہ جیسے کوئی آتا ہوگا\n\nدل دھڑکنے کی صدا آئے گی سونے پن میں\nدور بادل کہیں پربت پہ گرجتا ہوگا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "پھر حشر کے پردہ میں تقدیر نظر آئی", "poet_page": "مصنف:عبد الہادی وفا", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وفا (1923)", "year": "1923", "text_ur": "پھر حشر کے پردہ میں تقدیر نظر آئی\nآئینۂ وحشت میں تصویر نظر آئی\n\nجب قید سے ہم چھوٹے تدبیر نظر آئی\nجب پائے جنوں ٹوٹے زنجیر نظر آئی\n\nاے مرگ رگ و پے کو دے مژدۂ سیرابی\nزہرابۂ حرماں میں تاثیر نظر آئی\n\nہر حرف عمل نامہ کس شان سے بول اٹھا\nتحریر کے پردے میں تقریر نظر آئی\n\nطرف جگر و دل میں تھی یاس کی آبادی\nویرانے کے پہلو میں تعمیر نظر آئی\n\nافسون کرم دیکھو انداز ستم دیکھو\nہر موج شکر خندہ شمشیر نظر آئی\n\nدیوانگئ دل کا تھا ایک نیا عالم\nکونین سے آزادی تسخیر نظر آئی\n\nاس ہستیٔ وہمی نے اسرار یقیں کھولے\nکیا خواب نظر آیا تعبیر نظر آئی\n\nاندوہ وفا اول دل سوز نظر آیا\nخاکستر دل آخر اکسیر نظر آئی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "پھر خبر اس فصل میں یارو بہار آنے کی ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر خبر اس فصل میں یارو بہار آنے کی ہے\nاب بجز زنجیر کیا تدبیر دیوانے کی ہے\n\nخاک کر دیوے جلا کر پہلے پھر ٹسوئے بہائے\nشمع مجلس میں بڑی دل سوز پروانے کی ہے\n\nبھید زلفوں کا بیاں کرنے میں ہو جاتا ہے گنگ\nورنہ کہنے کو جو پوچھو سو زباں شانے کی ہے\n\nشیخ اس کی چشم کے گوشے سے گوشے ہو کہیں\nاس طرف مت جاؤ ناداں راہ مے خانے کی ہے\n\nحوصلہ تنگی کرے ہے شہر کے کوچے ہیں تنگ\nاب ہوس دل میں ہمارے سیر ویرانے کی ہے\n\nچاہئے کیا بات کہتے ہو جہاں میں قتل عام\nدیر منہ سے اب تمہارے حکم فرمانے کی ہے\n\nجی میں آتا ہے کہ حاتمؔ آج اس کو چھیڑئیے\nمدتوں سے دل میں حسرت گالیاں کھانے کی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D9%81%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "پھر دیکھتے عیش آدمی کا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر دیکھتے عیش آدمی کا\nبنتا جو فلک مری خوشی کا\n\nگلشن میں ترے لبوں نے گویا\nرس چوس لیا کلی کلی کا\n\nتیرا بھی تو حسن ہے دغاباز\nہوتا ہی نہیں کوئی کسی کا\n\nاتنی ہی تو بس کسر ہے تم میں\nکہنا نہیں مانتے کسی کا\n\nہم بزم میں ان کی چپکے بیٹھے\nمنہ دیکھتے ہیں ہر آدمی کا\n\nتم کوچہ غیر میں نہ جانا\nاس راہ میں ہے گزر کسی کا\n\nکس کس نے لئے ہیں تیرے بوسے\nہے لعل نمک فشاں جو پھیکا\n\nجو دم ہے وہ ہے بسا غنیمت\nسارہ سودا ہے جیتے جی کا\n\nآغاز کو کون پوچھتا ہے\nانجام اچھا ہو آدمی کا\n\nروکیں انہیں کیا کہ ہے غنیمت\nآنا جانا کبھی کبھی کا\n\nکہتے ہیں اسے زبان اردو\nجس میں نہ ہو رنگ فارسی کا\n\nایسے سے جو داغؔ نے نباہی\nسچ ہے کہ یہ کام تھا اسی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "پھر رگ شعلۂ جاں سوز میں نشتر گزرا", "poet_page": "مصنف:عبد الہادی وفا", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وفا (1923)", "year": "1923", "text_ur": "پھر رگ شعلۂ جاں سوز میں نشتر گزرا\nنالہ کیوں آبلۂ دل سے الجھ کر گزرا\n\nمیں ہوں دل دارئ افسون وفا پر نازاں\nجو رقیبوں پہ نہ گزرا تھا وہ مجھ پر گزرا\n\nکیا محیط مئے بے رنگ میں طوفاں آیا\nجوش رنگ انجمن ناز سے باہر گزرا\n\nتشنۂ حسرت جاوید ہوں میں کیا جانوں\nکیوں گلے سے مرے تلخابۂ کوثر گزرا\n\nآؤ میرے دل افسردہ کی تمکیں دیکھو\nجاؤ اس کشمکش ناز سے میں در گزرا\n\nلٹ گئی جان تو امید کے پہلو ڈھونڈے\nمٹ گئی راہ تو اندیشۂ رہبر گزرا\n\nاس تکلف سے گئی عمر گراں مایہ وفاؔ\nایک دم سینکڑوں برسوں کے برابر گزرا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B1%DA%AF_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%82_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B4%D8%AA%D8%B1_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7"} {"title": "پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو\nبھولا ہوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کو\n\nرہتے ہیں کچھ ملول سے چہرے پڑوس میں\nاتنا نہ تیز کیجیے ڈھولک کی تھاپ کو\n\nاشکوں کی ایک نہر تھی جو خشک ہو گئی\nکیوں کر مٹاؤں دل سے ترے غم کی چھاپ کو\n\nکتنا ہی بے کنار سمندر ہو پھر بھی دوست\nرہتا ہے بے قرار ندی کے ملاپ کو\n\nپہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں\nپھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو\n\nتعریف کیا ہو قامت دل دار کی شکیبؔ\nتجسیم کر دیا ہے کسی نے الاپ کو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%D9%86_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D8%A7%D9%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "پھر شب غم نے مجھے شکل دکھائی کیونکر", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر شب غم نے مجھے شکل دکھائی کیونکر\nیہ بلا گھر سے نکالی ہوئی آئی کیونکر\n\nکٹ سکے سختی ایام جدائی کیونکر\nغیر کو آئے الٰہی مری آئی کیونکر\n\nتو نے کی غیر سے کل میری برائی کیونکر\nگر نہ تھی دل میں تو لب پر ترے آئی کیونکر\n\nنہ کہوں گا نہ کہوں گا نہ کہوں گا ہرگز\nجا کے اس بزم میں شامت مری آئی کیونکر\n\nکھل گئی بات جب ان کی تو وہ پوچھتے ہیں\nمنہ سے نکلی ہوئی ہوتی ہے پرائی کیونکر\n\nدادخواہوں سے وہ کہتے ہیں کہ ہم بھی تو سنیں\nدوگے تم حشر میں سب مل کے دہائی کیونکر\n\nتم دل آزار و ستم گر نہیں میں نے مانا\nمان جائے گی اسے ساری خدائی کیونکر\n\nناگہاں شکوۂ بیداد تو کر بیٹھے ہم\nاب یہ ہے فکر کریں ان سے صفائی کیونکر\n\nآپ میں بھی تو رہی آتش تر کی تیزی\nآگ پانی میں یہ ساقی نے لگائی کیونکر\n\nاللہ اللہ بتوں کو ہے یہ دست قدرت\nان کی مٹھی میں رہی ساری خدائی کیونکر\n\nوہ یہاں آئیں وہاں غیر کا گھر ہو برباد\nاس طرح سے ہو صفائی میں صفائی کیونکر\n\nمجلس وعظ کو دیکھا تو کہا رندوں نے\nہوگی اس بھیڑ کی جنت میں سمائی کیونکر\n\nآئینہ دیکھ کر وہ کہنے لگے آپ ہی آپ\nایسے اچھوں کی کرے کوئی برائی کیونکر\n\nکثرت رنج و الم سن کے یہ الزام ملا\nاتنے سے دل میں ہے اتنوں کی سمائی کیونکر\n\nاس نے صدقے میں کئے آج ہزاروں آزاد\nدیکھیے ہوتی ہے عاشق کی رہائی کیونکر\n\nداغؔ کو مہر کہا اشک کو دریا ہم نے\nاور پھر کرتے ہیں چھوٹوں کی بڑائی کیونکر\n\nداغؔ کل تو دعا آپ کی مقبول نہ تھی\nآج منہ مانگی مراد آپ نے پائی کیونکر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B4%D8%A8_%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1"} {"title": "پھر عشق میں میرؔ پاؤں دھرتا ہے گا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پھر عشق میں میرؔ پاؤں دھرتا ہے گا\nجی اور منغض اپنا کرتا ہے گا\nسب مل کے چلو بارے اسے سمجھاویں\nافسوس کہ وہ جوان مرتا ہے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%AF%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا\nدل، جگر تشنۂ فریاد آیا\n\nدم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز\nپھر ترا وقتِ سفر یاد آیا\n\nسادگی ہائے تمنا، یعنی\nپھر وہ نیرنگِ نظر یاد آیا\n\nعذرِ واماندگی، اے حسرتِ دل!\nنالہ کرتا تھا، جگر یاد آیا\n\nزندگی یوں بھی گزر ہی جاتی\nکیوں ترا راہ گزر یاد آیا\n\nکیا ہی رضواں سے لڑائی ہو گی\nگھر ترا خلد میں گر یاد آیا\n\nآہ وہ جرأتِ فریاد کہاں\nدل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا\n\nپھر تیرے کوچے کو جاتا ہے خیال\nدلِ گم گشتہ، مگر، یاد آیا\n\nکوئی ویرانی سی ویرانی ہے\nدشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا\n\nمیں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ\nسنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%AA%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پھر مجھے لکھنا جو وصف روئے جاناں ہو گیا", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر مجھے لکھنا جو وصف روئے جاناں ہو گیا\nواجب اس جا پر قلم کو سر جھکانا ہو گیا\n\nسرکشی اتنی نہیں ظالم ہے او زلف سیہ\nبس کہ تاریک اپنی آنکھوں میں زمانہ ہو گیا\n\nدھیان آیا جس گھڑی اس کے دہان تنگ کا\nہو گیا دم بند مشکل لب ہلانا ہو گیا\n\nاے ازل جلدی رہائی دے نہ بس تاخیر کر\nخانۂ تن بھی مجھے اب قید خانہ ہو گیا\n\nآج تک آئینہ وش حیران ہے اس فکر میں\nکب یہاں آیا سکندر کب روانہ ہو گیا\n\nدولت دنیا نہ کام آئے گی کچھ بھی بعد مرگ\nہے زمیں میں خاک قاروں کا خزانہ ہو گیا\n\nبات کرنے میں جو لب اس کے ہوئے زیر و زبر\nایک ساعت میں تہہ و بالا زمانہ ہو گیا\n\nدیکھ لی رفتار اس گل کی چمن میں کیا صبا\nسرو کو مشکل قدم آگے بڑھانا ہو گیا\n\nجان دی آخر قفس میں عندلیب زار نے\nمژدہ ہے صیاد ویراں آشیانہ ہو گیا\n\nزندہ کر دیتا ہے اک دم میں یہ عیسائے نفس\nکھیل اس کو گویا مردے کو جلانا ہو گیا\n\nتوسن عمر رواں دم بھر نہیں رکتا رساؔ\nہر نفس گویا اسی کا تازیانہ ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%88%D8%B5%D9%81_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پھر مزاج اس رند کا کیونکر ملے", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر مزاج اس رند کا کیونکر ملے\nجس کو اس کے ہاتھ سے ساغر ملے\n\nیہ بھی ملنا ہے کہ بعد از صد تلاش\nحد وہم و فہم سے باہر ملے\n\nکچھ نہ پوچھو کیسی نفرت ہم سے ہے\nہم ہیں جب تک وہ ہمیں کیونکر ملے\n\nمیری آنکھیں اور اس کی خاک پا\nتیرے کوچے کا اگر رہبر ملے\n\nوصل ہے سر جوش صہبائے فنا\nپھر اگر کوئی ملے کیونکر ملے\n\nملنے کے پہلے فنا ہونا ضرور\nپھر فنا جو ہو گیا کیونکر ملے\n\nآسیؔ گریاں ملا محبوب سے\nگل سے شبنم جس طرح رو کر ملے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC_%D8%A7%D8%B3_%D8%B1%D9%86%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1_%D9%85%D9%84%DB%92"} {"title": "پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھی", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھی\nاور الجھا دل گرفتاری بڑھی\n\nمہربانی چارہ سازوں کی بڑھی\nجب بڑھا درماں تو بیماری بڑھی\n\nہجر کی گھڑیاں کٹھن ہوتی گئیں\nدن کے نالے رات کی زاری بڑھی\n\nپھر تصور میں کسی کے نیند اڑی\nپھر وہی راتوں کی بے داری بڑھی\n\nسختیاں راہ محبت کی نہ پوچھ\nہر قدم اک تازہ دشواری بڑھی\n\nخیر ساقی کی سلامت مے کدہ\nجس قدر پی اتنی ہشیاری بڑھی\n\nدور دورے ہیں مبارکؔ جام کے\nانتہا کی اپنی مے خواری بڑھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%85%D9%84%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DA%91%DA%BE%DB%8C"} {"title": "پھر وہی ہم ہیں خیال رخ زیبا ہے وہی", "poet_page": "مصنف:غلام بھیک نیرنگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر وہی ہم ہیں خیال رخ زیبا ہے وہی\nسر شوریدہ وہی عشق کا سودا ہے وہی\n\nدانہ و دام سنبھالا مرے صیاد نے پھر\nاپنی گردن ہے وہی عشق کا پھندا ہے وہی\n\nپھر لگی رہنے تصور میں وہ مژگان دراز\nرگ جاں میں خلش خار تمنا ہے وہی\n\nپھر لگا رہنے وہی سلسلۂ ناز و نیاز\nجلوۂ حسن وہی ذوق تماشا ہے وہی\n\nپھر ہوا ہم کو دل و دیں کا بچانا مشکل\nنگۂ ناز کا پھر ہم سے تقاضا ہے وہی\n\nناز نے پھر کیا آغاز وہ انداز نیاز\nحسن جاں سوز کو پھر سوز کا دعویٰ ہے وہی\n\nمحو دید چمن شوق ہے پھر دیدۂ شوق\nگل شاداب وہی بلبل شیدا ہے وہی\n\nپھر چمک اٹھی وہ کجلائی ہوئی چنگاری\nرخت ہستی ہے وہی عشق کا شعلہ ہے وہی\n\nآرزو جی اٹھی پھر پیار جو اس بت نے کیا\nپھر لب یار میں اعجاز مسیحا ہے وہی\n\nپاس ناموس نے پھر رخصت رفتن چاہی\nشہرت حسن وہی الفت رسوا ہے وہی\n\nپھر ہوئی لیلیٰ و مجنوں کی حکایت تازہ\nان کا عالم وہی نیرنگؔ کا نقشہ ہے وہی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%88%DB%81%DB%8C_%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%B1%D8%AE_%D8%B2%DB%8C%D8%A8%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81%DB%8C"} {"title": "پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والے\nجھوٹا ہی وعدہ کر لے سچی زبان والے\n\nموجود دل جگر ہیں دے ابروؤں کو جنبش\nدہرہ نشانہ بھی ہے دوہری کمان والے\n\nیہ چپکے چپکے باتیں نظریں بچا بچا کر\nرکھتے ہیں آنکھ ہم بھی ہم بھی ہیں کان والے\n\nکہنا پتے پتے کی اور نام پھر ہنسی کا\nچھریاں نہ بھونک دل میں میٹھی زبان والے\n\nوہ آرزوؔ سر اپنا ٹکرا رہا ہے در سے\nنیچے تو دیکھ جھک کر اونچے مکان والے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D9%88_%D8%A2%D9%86_%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن\nمجھ کو پھر نغموں پہ اُکسانے لگا مُرغِ چمن\n\nپھُول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار\nاُودے اُودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن\n\nبرگِ گُل پر رکھ گئی شبنم کا موتی بادِ صبح\nاور چمکاتی ہے اس موتی کو سورج کی کرن\n\nحُسنِ بے پروا کو اپنی بے نقابی کے لیے\nہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھّے کہ بَن\n\nاپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی\nتُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن\n\nمن کی دنیا! من کی دنیا سوز و مستی، جذب و شوق\nتن کی دنیا! تن کی دنیا سُود و سودا، مکر و فن\n\nمن کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں\nتن کی دولت چھاؤں ہے، آتا ہے دَھَن جاتا ہے دَھَن\n\nمن کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج\nمن کی دنیا میں نہ دیکھے مَیں نے شیخ و برہَمن\n\nپانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات\nتُو جھُکا جب غیر کے آگے، نہ من تیرا نہ تن", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA%D9%90_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%88_%D8%AF%D9%85%D9%86"} {"title": "پھر چرخ پر آسمان پیر آیا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پھر چرخ پر آسمان پیر آیا ہے\nہر کوچہ میں وقت دار و گیر آیا ہے\nاگلا سا نہ مجمع ہے نہ اگلے سے وہ لوگ\nیاں آن کے حیرت میں دبیرؔ آیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%BE%DB%8C%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر کچھ اک دل کو بیقراری ہے\nسینہ جویائے زخمِ کاری ہے\n\nپھِر جگر کھودنے لگا ناخن\nآمدِ فصلِ لالہ کاری ہے\n\nقبلۂ مقصدِ نگاہِ نیاز\nپھر وہی پردۂ عماری ہے\n\nچشم دلّالِ جنسِ رسوائی\nدل خریدارِ ذوقِ خواری ہے\n\nوُہ ہی صد رنگ نالہ فرسائی\nوُہ ہی صد گونہ اشک باری ہے\n\nدل ہوائے خرامِ ناز سے پھر\nمحشرستانِ بیقراری ہے\n\nجلوہ پھر عرضِ ناز کرتا ہے\nروزِ بازارِ جاں سپاری ہے\n\nپھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں\nپھر وہی زندگی ہماری ہے\n\nپھر کھلا ہے درِ عدالتِ ناز\nگرم بازارِ فوجداری ہے\n\nہو رہا ہے جہان میں اندھیر\nزلف کی پھر سرشتہ داری ہے\n\nپھر دیا پارۂ جگر نے سوال\nایک فریاد و آہ و زاری ہے\n\nپھر ہوئے ہیں گواہِ عشق طلب\nاشک باری کا حکم جاری ہے\n\nدل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا\nآج پھر اس کی روبکاری ہے\n\nبے خودی بے سبب نہیں غالبؔ\nکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "پھر کیا یہ دھوم ہے کہ جہاں ہے سیہ تمام", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "پھر کیا یہ دھوم ہے کہ جہاں ہے سیہ تمام\nپھر کیا یہ ماجرا ہے کہ ہوگئی ہے صبح شام\nپھر کیا ہے یہ غبار کہ اٹھتے ہیں دل سے جوش\nپھر کیا یہ مجہلہ ہے کہ حیراں ہیں خاص و عام\nپھر کیا ہے یہ فتور کہ ہے شور ہر طرف\nپھر کیا یہ حشر ہے کہ جہاں میں ہے دھوم دھام\nپھر کیا ہے یہ خیال سر دور چرخ میں\nجس سے نہیں زمین کے مرکز کا اک مقام\nپھر کیسا واقعہ ہے کہ یہ زلزلہ ہے یاں\nبرہم ہوا سا دیکھتے ہیں دہر کا نظام\nکس کا کیا ہے تازہ حوادث نے ایسا خوں\nہر صبح آفتاب پیے ہے لہو کا جام\nپہنچا نہیں ہے وعدۂ محشر ابھی مگر\nجبریل کہہ کے صل علیٰ جس کا لے ہے نام\nزہرا کے دل کا لخت محمدؐ کا نورعین\nاسلامیوں کے ظلم سے مارا گیا حسین\n\nکاش اس گھڑی زمیں پہ گرا ہوتا آسماں\nکاش اس گھڑی جہاں سے گیا ہوتا یہ جہاں\nتھا بال بال اس کا رگ جان مصطفےٰؐ\nتر کرتے خوں میں کاشکے حوروں کے گیسواں\nجن و ملک تمام کیے ہوتے قتل کاش\nچھوڑا نہ ہوتا کاشکے انسان کا نشاں\nسیلی نسیم مرگ کی لگتی گلوں کے تیں\nغنچہ ہوا ہے آخر موسم کا وہ دہاں\nاللہ رے حسین ستم کشتہ کا جگر\nفارغ ہوا خدا کے تئیں دے کے امتحاں\nیارب جواب داور محشر کہے گا کیا\nبولے گا جب کہ حلق بریدہ سے یہ جواں\nکیا محشریں اٹھیں گی الٰہی جو حشر کو\nہوگا یہ کشتہ ساتھ محمدؐ کے ہو رواں\nروح القدس نہ سامنے ہوگا رسولؐ کے\nہوگا حسین روبرو زہرا ملول کے\n\nسیراب جس کے خوں سے ہے میدان کربلا\nسو تشنہ لب موا ہے وہ مہمان کربلا\nسینے کے تیں چراتے ہیں سب حاملان عرش\nسر کھینچے ہے جب آہ غریبان کربلا\nیہ شاہ دیں شہید ہوا ہوگا جس گھڑی\nدیوان حشر ہووے گا دیوان کربلا\nاے چرخ پیر آل پیمبر ہے سرخ پوش\nصلواۃ بر حسین و جوانان کربلا\nزہراب تیغ ظلم سروں سے گذر گیا\nیک شہر غرق خوں ہے بیابان کربلا\nلب تشنگی حسین کو یہ تھی نہ ہو سکا\nطوفان نوح قطرۂ طوفان کربلا\nروپوش ہو فلک کہ قیامت ہے جس گھڑی\nبے پردہ ہوں گی خیمہ نشینان کربلا\nکتنے کہ جن کا نام سنے بھیجئے درود\nافسوس ہے کہ موے پریشاں کریں نمود\n\nغافل نہ رہ سپہر کہ فتنہ بپا ہوا\nنکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا\nجس کے طناب تھے رگ جاں جبرئیل کے\nسو خیمہ کربلا میں رہا ہے گڑا ہوا\nہے ظلم جا ہے ماتمیان حسین کا\nہر نالہ لامکاں کے پرے تک چلا ہوا\nہے سربرہنہ مویہ کناں بضعۃ الرسول\nحیراں ہیں قدسیاں کہ یہ کیا ماجرا ہوا\nمحمل نشین عترت پیغمبر خدا\nہیں سب شترسوار نمایاں یہ کیا ہوا\nکیا چال ہے فلک کہ سر بیکس حسین\nاس قافلے سے جا ہے سناں پر جدا ہوا\nتحریر اس گھڑی کی فغاں خامے سے نہ ہو\nبے سر کی لاش پر جو سر حرف وا ہوا\nبے تاب و بے قرار اسیر ستم ملول\nفریاد کرکے سارے پکارے کہ یا رسولؐ\n\nبے سر جو یہ بدن ہے تمھارا حسین ہے\nبیکس غریب ظلم کا مارا حسین ہے\nناموس خاندان نبوت جو شام کو\nلے اپنے سر کے ساتھ سدھارا حسین ہے\nاس لشکر شکستہ ستم دیدہ کا تمام\nاب جس کی لاش پر ہے گذارا حسین ہے\nمردہ پر اس کے آؤ کہ عابد تو ہے اسیر\nآخر یہ بے کفن وہی پیارا حسین ہے\nصد طعن ہر سخن میں ہیں جن کے سو غیر ہیں\nجس کو نہیں ہے بات کا یارا حسین ہے\nرہتی تھی جس کی تیری بغل جلوہ گاہ ناز\nسو یہ کیے جہاں سے کنارہ حسین ہے\nدلجوئی سکینہ میں ہم سب ہیں اہل بیت\nپر یہ کرے ہے جس کو اشارہ حسین ہے\nسو سر تو اس کا نیزہ پہ ہے دھڑ ہے یوں خراب\nکس منھ سے دے وہ ظلم رسیدہ اسے جواب\n\nہم یا رسولؐ شام کو جاتے ہیں خوار و زار\nمارا گیا حسین پھرا ہم سے روزگار\nمیداں میں تن سے دست و بغل ہورہے ہیں زخم\nہوتی نہیں ہے لاش نبی زادہ یک کنار\nجز ابر کون ہے کہ جو رووے حسین پر\nنالاں نہیں ہے اس پہ کوئی غیر کوہسار\nہے اب جو یادگار جوانان اہل بیت\nہے بار ذمہ اس کو گلا اپنا طوق دار\nیعنی یہ عابدیں کی اسیری و بیکسی\nرکھتا نہیں ہے غیر رسن کوئی دستیار\nانصاف دادگر تھا یہی ہم سے جو کیا\nخاک امام ہی پہ نکالا یہ سب غبار\nمایوس ہو یہ کہہ کے اسیران اہل بیت\nواں سے ہوئے روانہ جو روتے دلوں کو مار\nآندھی چلی کہ تیرہ جہاں ووہیں ہوگیا\nاک ابر سامنے سے اٹھا زور رو گیا\n\nدو گام چل کے پھر کیا زہرا کے تیں خطاب\nکہہ تشنگی حسین کی دریا کیے کباب\nیعنی بتول جیتے جو ہیں سو تو ہیں اسیر\nان جان سے گئے ہوؤں کی مٹی ہے خراب\nہر نالہ خونچکاں تو ہے جنت کو نامہ بر\nپر کیا لکھا ہے یہ کہ نہیں پہنچتا جواب\nمارا پڑا ہے ساقی کوثر کا نورچشم\nسو تشنہ کام ہو کے یہ کہتا تھا آب آب\nہے روز بد کہ نیزے پہ جا ہے سر حسین\nاندھیر ہے کہ شام کو جاتا ہے آفتاب\nگیسو کہ ریشہ جن کا ترے خون دل میں تھا\nژولیدہ ہیں گے باد پریشاں سے کھا کے تاب\nبے آب دشت بیچ تباہی ہے یہ جہاز\nطوفاں ہے یہ کہ بیٹھ گئے خیمے جوں حباب\nیا بضعۃ الرسول سبھی کی ہے الوداع\nناموس خاندان نبی کی ہے الوداع\n\nیک بار پھر علی کی طرف سب نے کی ندا\nعابد انھوں میں خاصۃً کرکے ہائے ہا\nبولا کہ جد پاک بیاں تجھ سے کیا کروں\nامت نے آگ دی کہ نبیؐ ہی کا گھر جلا\nگھر کی خرابی عرض کروں یاکہ اپنا حال\nیا وہ کہوں حسین کا پایا جو خوں بہا\nیعنی گرانی طوق کی جس سے رکے ہے دم\nہو چاک سینہ کاش کہ آوے تنک ہوا\nیہ سن نہاد دہر سے بھڑکی اک آگ تند\nہر یک زبانہ جس کا پرے عرش سے گیا\nنوری و ناری آدمی حیوان اور طیر\nان سب کو ایک آن میں بھسمنت کر دیا\nآیا ہمارے وہم پریشاں خیال میں\nلپٹے ہیں جا کے شعلے بہ دامان کبریا\nہر ایک کو ہے درد جگرسوز یوں نصیب\nاللہ کو بھی کہتے ہیں شہ رگ سے ہے قریب\n\nہم سب ہیں اب تو غربتی دشت خوفناک\nملتی نہیں ہے سر کے اپر ڈالنے کو خاک\nکیونکر دکھاویں روضے کو ہم تیرے اپنے دل\nاے کاشکے قضا نے کیے ہوتے سینے چاک\nوہ گھر کہ جو رہا حرم کبریا کے رشک\nدی شامیوں نے آگ گئے شعلے تا سماک\nناموس احمدی کو دیا غیروں نے بباد\nتیرا ملاحظہ نہ کیا نے نبیؐ کا باک\nیہ اک جوان کشتہ جسے چھوڑ آئے ہم\nآلودہ خاک و خون میں جس کا تھا جسم پاک\nتھا یہ حسین جس کا محمدؐ تھا نازکش\nناچار آفتاب سے اب اس کو ہے تپاک\nدل بھر رہے ہیں دانۂ انگور کی طرح\nاس داربست سبز فلک سے لگی ہے تاک\nیعنی شتاب قہر الٰہی نزول ہو\nروح معاویہ بھی تنک تو ملول ہو\n\nیہ کہہ کے جد پاک سے جو وہ جواں گرا\nبے طاقتی سے تپ کی امام زماں گرا\nیہ سن کے مضطرب ہوئی روح وصی پاک\nصدمے سے جس کے نعرے کے قصر جناں گرا\nماتم کی طرح اور فلک نے نئی رکھی\nجب آگے اہل بیت کے وہ ناتواں گرا\nاک شور نوحہ رو بہ بیابان پھر ہوا\nجس سے ہوا گمان کہ یہ آسماں گرا\nہر اک نے بے قرار ہو یہ شور سے کہا\nگرنے کی جا نہ تھی یہ تو عابد کہاں گرا\nوحشت عجب طرح کی نمودار ہوگئی\nجس وقت خاک رہ پہ وہ جان جہاں گرا\nوحشی جو تھے غزال گئے چوکڑی کو بھول\nطائر جو قدس کا تھا مع آشیاں گرا\nآیا بحال بارے اٹھا دل جلا کر آہ\nالقصہ شام کی لی چراغ نبی نے راہ\n\nاے چرخ کیا کہوں کہ ستمگار کیا کیا\nدیکھا کیا تو خانۂ حیدر جلا کیا\nیہ داد تھی کہ قتل کر ابن علی کے تیں\nابن معاویہ کے تئیں بادشا کیا\nکس طرح اپنی جاے رہا تو ستم شعار\nگردن پہ جب حسین کے خنجر چلا کیا\nمسجد میں خون گرنے سے بدتر تھا یہ عمل\nسجدہ امام دیں نے لہو میں ادا کیا\nکیا کیا دکھایا آنکھ مندے پر حسین نے\nباقی رہے ہوؤں پہ ستم ہی رہا کیا\nکیا ناخن ہلال سے سر کو کھجائے گا\nعقدہ جو اہل بیت کے دل کا نہ وا کیا\nظالم ستم ہے حشر کو حلق بریدہ سے\nاس کشتۂ ستم نے اگر کچھ گلہ کیا\nبے تابی ایک داور محشر کو آئے گی\nتیرے سبب یہ خلق بھی بخشی نہ جائے گی\n\nخاموش میرؔ لب نہ کریں اب سخن سے ساز\nچپ رہ خدا کو مان کہیں اے زباں دراز\nہر حرف تیرے منھ سے نکلتا ہے شعلہ زن\nسینے میں دوستوں کے ہوا جا ہے دل گداز\nکیا ظلم ہے کہ قتل ہوا ہو امام وقت\nاور اس کی لاش بے کفن اوپر نہ ہو نماز\nخاموش میرؔ شمع رسالت کی بجھ گئی\nباد شمال ظلم نے کی صبح ترکتاز\nخاموش میرؔ بس یہ جگرسوز غم نہ کہہ\nگریہ کے ہم تو لخت جگر کرتے ہیں نیاز\nخاموش میرؔ آتش غم ہے زبانہ کش\nلگ جائے گا جگر کو کوئی داغ آہ باز\nخاموش میرؔ بولنے کی جا نہیں ہے یہ\nویرانے میں پڑا رہا کہتے ہیں گنج راز\nخاموش میرؔ کرتی ہے دل چاک تیری بات\nصلواۃ بر حسین کہ ہوگی تری نجات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%85_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85"} {"title": "پھر کے جو وہ شوخ نظر کر گیا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر کے جو وہ شوخ نظر کر گیا\nتیر سا کچھ دل سے گزر کر گیا\n\nخاک کا سا ڈھیر سر رہ ہوں میں\nقافلۂ عمر سفر کر گیا\n\nخلد بریں اس کی ہے واں بود و باش\nیاں کسی دل بیچ جو گھر کر گیا\n\nچھپ کے ترے کوچہ سے گزرا میں لیک\nنالہ اک عالم کو خبر کر گیا\n\nجوں شرر کاغذ آتش زدہ\nشام غم اپنی میں سحر کر گیا\n\nتا بہ فلک نالہ تو پہنچا تھا رات\nمیں ہی کچھ اللہ کا ڈر کر گیا\n\nپوچھ نہ قائمؔ کی کٹی کیونکہ عمر\nجوں ہوا یک چند بسر کر گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی\nیہ وفا کیسی تھی صاحب یہ مروت کیسی\n\nدوست احباب سے ہنس بول کے کٹ جائے گی رات\nرند آزاد ہیں ہم کو شب فرقت کیسی\n\nجس حسیں سے ہوئی الفت وہی معشوق اپنا\nعشق کس چیز کو کہتے ہیں طبیعت کیسی\n\nہے جو قسمت میں وہی ہوگا نہ کچھ کم نہ سوا\nآرزو کہتے ہیں کس چیز کو حسرت کیسی\n\nحال کھلتا نہیں کچھ دل کے دھڑکنے کا مجھے\nآج رہ رہ کے بھر آتی ہے طبیعت کیسی\n\nکوچۂ یار میں جاتا تو نظارہ کرتا\nقیس آوارہ ہے جنگل میں یہ وحشت کیسی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%88_%D8%AF%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C"} {"title": "پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شراب\nدے بطِ مے کو دل و دستِ شنا موجِ شراب\n\nپوچھ مت وجہ سیہ مستیِ اربابِ چمن\nسایۂ تاک میں ہوتی ہے ہَوا موجِ شراب\n\nجو ہوا غرقۂ مے بختِ رسا رکھتا ہے\nسر پہ گزرے پہ بھی ہے بالِ ہما موجِ شراب\n\nہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگر\nموجِ ہستی کو کرے فیضِ ہوا موجِ شراب\n\nچار موج اٹھتی ہے طوفانِ طرب سے ہر سو\nموجِ گل، موجِ شفق، موجِ صبا، موجِ شراب\n\nجس قدر روح نباتی ہے جگر تشنۂ ناز\nدے ہے تسکیں بَدَمِ آبِ بقا موجِ شراب\n\nبس کہ دوڑے ہے رگِ تاک میں خوں ہو ہو کر\nشہپرِ رنگ سے ہے بال کشا موجِ شراب\n\nموجۂ گل سے چراغاں ہے گزر گاہِ خیال\nہے تصوّر میں ز بس جلوہ نما موجِ شراب\n\nنشّے کے پردے میں ہے محوِ تماشائے دماغ\nبس کہ رکھتی ہے سرِ نشو و نما موجِ شراب\n\nایک عالم پہ ہیں طوفانیِ کیفیّتِ فصل\nموجۂ سبزۂ نوخیز سے تا موجِ شراب\n\nشرحِ ہنگامۂ مستی ہے، زہے! موسمِ گل\nرہبرِ قطرہ بہ دریا ہے، خوشا موجِ شراب\n\nہوش اڑتے ہیں مرے، جلوۂ گل دیکھ، اسدؔ\nپھر ہوا وقت، کہ ہو بال کُشا موجِ شراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%88%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%B4%D8%A7_%D9%85%D9%88%D8%AC_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "پھر یاد جو آئی ہے مدینے کی بلانے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "پھر یاد جو آئی ہے، مدینے کو بلانے\nکیا یاد کیا پھر مجھے شاہ دو سرا نے\n\nایسا ہے تو پھر فکر ہے کیوں زاد سفر کی\nکیا غیب کے کھل جائیں گے مجھ پر، نہ خزانے\n\nمیں غلبئہ اعداد سے ڈرا ہوں ، نہ ڈروں گا\nیہ حوصلہ بخشا ہے مجھے شیر خدا نے\n\nتھا شب کو جو میں حاضر دربار محمد\nچھوڑا ہے اثر دل پہ عجب اس کی فضا نے\n\nحسرت مجھے اس جاں جہاں سے ہے تعلق\nسمجھے کہ نہ سمجھے کوئی، جانے کہ جانے کوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "پھر یہ کیسا ادھیڑ بن سا لگا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھر یہ کیسا ادھیڑ بن سا لگا\nجان غم دیدہ کو جو گھن سا لگا\n\nاس گلی میں جو میں اٹھا گاہے\nپائے خوابیدہ مجھ کو سن سا لگا\n\nاس نے جس وقت اور سر کھینچا\nنخل قد اس کا سرو بن سا لگا\n\nاس کے چھلے کے ہیں جو گل کھائے\nداغ ہر اک بدن پہ ہن سا لگا\n\nآخر عمر اپنی نظروں میں\nجامۂ زندگی کہن سا لگا\n\nکشتیٔ چشم تر کھنچی ہے ادھر\nہے جدھر تار اشک گن سا لگا\n\nیار دھرماتما کا پیار کے ساتھ\nبوسہ دینا بھی مجھ کو پن سا لگا\n\nجب دل سوختہ پہ زخم مژہ\nنظر آیا وہ صاف پن سا لگا\n\nمیں سنا مصحفیؔ کو پیری میں\nمجھ کو خیلے وہ خوش سخن سا لگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%DB%8C%DA%91_%D8%A8%D9%86_%D8%B3%D8%A7_%D9%84%DA%AF%D8%A7"} {"title": "پھرا پیامبر اپنا خراب رستے میں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھرا پیامبر اپنا خراب رستے میں\nدیا نصیب نے اچھا جواب رستے میں\n\nیہ سچ ہے راہ محبت بڑی ہے ٹیڑھی کھیر\nنہ آئے خضر کبھی اس خراب رستے میں\n\nبھٹکتے پھرتے ہیں اس رہ گزار میں عاشق\nمسافروں کی ہے مٹی خراب رستے میں\n\nگلی سے یار کی ہم اٹھ کے چل چکے تھے مگر\nمچل گیا دل پر اضطراب رستے میں\n\nوہ رستہ کاٹ کے چلتے ہیں اس لئے مجھ سے\nکہ کچھ کہے نہ یہ خانہ خراب رستے میں\n\nبغل میں داب کے لے چل عدم کو شیشۂ مے\nملے گی داغؔ نہ تجھ کو شراب رستے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پھرا کسی کا الٰہی کسی سے یار نہ ہو", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھرا کسی کا الٰہی کسی سے یار نہ ہو\nکوئی جہان میں برگشتہ روزگار نہ ہو\n\nہم اس کی چشم سیہ مست کے ہیں مستانے\nیہ وہ نشے ہیں کہ جس کا کبھی اتار نہ ہو\n\nجہان میں کوئی کہتا نہیں خدا لگتی\nوہ کیا کرے جسے دل پر بھی اختیار نہ ہو\n\nنہ پھاڑے دامن صحرا کو کیوں کہ دست جنوں\nرہا جب اپنے گریباں میں ایک تار نہ ہو\n\nنہ کھیل جان پر اپنی تو اے دل ناداں\nخدا کو یاد کر اتنا تو بے قرار نہ ہو\n\nنہ بھول زہد پہ لذت سے بخشش حق کی\nوہ بے نصیب ہے جب تک گناہ گار نہ ہو\n\nتمہارے سر کی قسم کھا کے درد دل کا کہوں\nجو میرے لکھنے کا یوں تم کو اعتبار نہ ہو\n\nجناب شیخ جی صاحب میں ایک عرض کروں\nاگر مزاج مقدس پہ ناگوار نہ ہو\n\nجناب رندوں سے ملتے تو ہیں پہ ڈر ہے مجھے\nکہ دشمنوں کا کسی دن وہاں اچار نہ ہو\n\nبہت ہے خیمۂ گردوں کے پھونکنے کو تو عیشؔ\nاس آہ تفتہ جگر میں اثر ہزار نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "پھرتا رہتا ہوں میں ہر لحظہ پس جام شراب", "poet_page": "مصنف:حکیم محمد اجمل خاں شیدا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھرتا رہتا ہوں میں ہر لحظہ پس جام شراب\nمجھ کو بد نام کرے گی ہوس جام شراب\n\nقافلہ عیش کا تیار ہے رندوں کے لیے\nقلقل شیشۂ مے ہے جرس جام شراب\n\nجنبش باد سحر سے ہے تموج مے میں\nقوت جان حزیں ہے نفس جام شراب\n\nخم لنڈھا دوں تو نہ چکرائے کبھی سر میرا\nایک جرعہ میں گیا بو الہوس جام شراب\n\nمجھ سے پوچھو اثر بادۂ گلگوں واعظ\nمیں ہوں رندوں میں بہت نکتہ رس جام شراب\n\nٹکٹکی باندھ کے دیکھا کیا اتنا کہ بنا\nسایۂ مردم دیدہ مگس جام شراب\n\nمے نہ ہو بو ہی سہی کچھ تو ہو رندوں کے لئے\nاسی حیلہ سے بجھے گی ہوس جام شراب\n\nزلف مشکیں کے لیے بو جو چلی آتی ہے\nہے نسیم سحری ہم نفس جام شراب\n\nہم نے رندوں کا مقولہ یہ سنا ہے شیداؔ\nصحبت عیش میں زاہد ہے خس جام شراب", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%D9%84%D8%AD%D8%B8%DB%81_%D9%BE%D8%B3_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "پھرتی ہے جستجو میں نسیم وطن کہاں", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھرتی ہے جستجو میں نسیم وطن کہاں\nاب میں خزاں رسیدہ کہاں اور چمن کہاں\n\nاس دور میں وفا کی رسوم کہن کہاں\nمنصور بھی اب آئے تو دار و رسن کہاں\n\nآتا ہے کون ہجر میں اے ذوق انتظار\nدور خزاں میں صدر نشین چمن کہاں\n\nمیرے غرور عشق میں بے گانگی سہی\nلیکن تری نگاہ کا بیگانہ پن کہاں\n\nخود ہی مٹا سکے تو مٹا اے رضائے دوست\nڈھونڈے کوئی وسیلۂ دار و رسن کہاں\n\nمیں اور تیری انجمن ناز کی تلاش\nمیرے لیے وہ جنت سرو و سمن کہاں\n\nگو زمزمے ہزار ہیں لیکن سوائے عشق\nحاصل کسی سے لذت کام و دہن کہاں\n\nشیرازہ بند دیر و حرم ہے مرا نیاز\nجو میں نہ ہوں تو شیخ کہاں برہمن کہاں\n\nجیب سمن دریدہ گریبان لالہ چاک\nمحفوظ اس نظر سے کوئی پیرہن کہاں\n\nجو ان کی رہ گزر میں پڑے تھے پڑے رہے\nجاتے ظفرؔ یہ خلوتیان چمن کہاں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D9%88%D8%B7%D9%86_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "پھری سی دیکھتا ہوں اس چمن کی کچھ ہوا بلبل", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھری سی دیکھتا ہوں اس چمن کی کچھ ہوا بلبل\nتجھے فرصت ہے جب تک آشیاں یاں سے اٹھا بلبل\n\nتو عاشق ہے وفا تیرا ہنر ہے عشق میں ورنہ\nمرا گل بے وفا ہے کیا اسے قدر وفا بلبل\n\nدر رحمت خدا کا باز ہے دل اپنا تازہ رکھ\nقفس میں حسرت گل سے مت اتنا پھڑپھڑا بلبل\n\nتجھے اے باغباں اک مشت پر سے کیا عداوت ہے\nبہار آخر ہے دو دن میں کجا گل پھر کجا بلبل\n\nخزان شوم یہ گلشن کے حق میں کیا قیامت ہے\nکہ اس کے آتے ہی بے برگ ہو گل بے نوا بلبل\n\nدل آسودہ نہ پایا کیا خزاں اور کیا بہار اس کو\nمحبت میں رکھے ہے طرفہ درد بے دوا بلبل\n\nبھرا ہے نعمت الواں سے گل کا خوان گو حسرتؔ\nکرے ہر صبح اٹھ کر خون دل سے ناشتا بلبل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84"} {"title": "پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرف", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرف\nچلا ہے چھوڑ کے بسمل مجھے ہرن کی طرف\n\nبنایا توڑ کے آئینہ آئینہ خانہ\nنہ دیکھی راہ جو خلوت سے انجمن کی طرف\n\nرہ وفا کو نہ چھوڑا وہ عندلیب ہوں میں\nچھٹا قفس سے تو پرواز کی چمن کی طرف\n\nگریز چاہئے طول امل سے سالک کو\nسنا ہے راہ یہ جاتی ہے راہزن کی طرف\n\nسرائے دہر میں سوؤ گے غافلو کب تک\nاٹھو تو کیا تمہیں جانا نہیں وطن کی طرف\n\nجو اہل دل ہیں الگ ہیں وہ اہل ظاہر سے\nنہ میں ہوں شیخ کی جانب نہ برہمن کی طرف\n\nجہان حادثہ آگین میں بشر کا ورود\nگزر حباب کا دریائے موجزن کی طرف\n\nاسی امید پہ ہم دن خزاں کے کاٹتے ہیں\nکبھی تو باد بہار آئے گی چمن کی طرف\n\nبچھڑ کے تجھ سے مجھے ہے امید ملنے کی\nسنا ہے روح کو آنا ہے پھر بدن کی طرف\n\nگواہ کون مرے قتل کا ہو محشر میں\nابھی سے سارا زمانہ ہے تیغ زن کی طرف\n\nخبر دی اٹھ کے قیامت نے اس کے آنے کی\nخدا ہی خیر کرے رخ ہے انجمن کی طرف\n\nوہ اپنے رخ کی صباحت کو آپ دیکھتے ہیں\nجھکے ہوئے گل نرگس ہیں یاسمن کی طرف\n\nتمام بزم ہے کیا محو اس کی باتوں میں\nنظر دہن کی طرف کان ہے سخن کی طرف\n\nاسیر ہو گیا دل گیسوؤں میں خوب ہوا\nچلا تھا ڈوب کے مرنے چہ ذقن کی طرف\n\nیہ میکشوں کی ادا ابر تر بھی سیکھ گئے\nکنار جو سے جو اٹھے چلے چمن کی طرف\n\nزہے نصیب جو ہو کربلا کی موت اے نظمؔ\nکہ اڑ کے خاک شفا آئے خود کفن کی طرف", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%D8%B2%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "پھری ہے کیوں نگہ دل ربا نہیں معلوم", "poet_page": "مصنف:منشی ٹھاکر پرساد طالب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان طالب مانکپوری (1933)", "year": "1933", "text_ur": "پھری ہے کیوں نگہ دل ربا نہیں معلوم\nہے اس ادا میں بھی کس کی قضا نہیں معلوم\n\nگلوں سے کس لئے بگڑی صبا نہیں معلوم\nچلی یہ باغ میں کیسی ہوا نہیں معلوم\n\nتمہیں پہ اپنی حیات و ممات کا ہے مدار\nہمیں تو اور کچھ اس کے سوا نہیں معلوم\n\nطلب وہ کرتے ہیں آئینہ خیر ہو یا رب\nبلا یہ لائے گا کیا دوسرا نہیں معلوم\n\nتمہاری زلفیں ہیں بے طرح رات سے بل پر\nکریں گی کس کو اسیر بلا نہیں معلوم\n\nجلائے ہستیٔ عاشق کو یہ وہ شعلہ ہے\nکچھ ان کو شوخیٔ رنگ حنا نہیں معلوم\n\nہمارے سامنے یکساں ہے رتبۂ رخ و زلف\nہمیں تفاوت صبح و مسا نہیں معلوم\n\nسوال بوسہ تک ان سے کیا نہ ہم نے کبھی\nوہ کس خطا پہ ہیں ہم سے خفا نہیں معلوم\n\nبنا مزار بھی اپنا تو تیرے کوچے میں\nمری وفا تجھے کیا بے وفا نہیں معلوم\n\nجو راہ پوچھو تو کہتے ہیں رہروان عدم\nبتائیں کیا ہمیں خود راستا نہیں معلوم\n\nہمارا حال بھی حیرت فزا ہے اے ہمدم\nکہ اشک جاری ہیں اور ماجرا نہیں معلوم\n\nخوشی یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں قتل کر کے مجھے\nسزا تو دی ہے ولے کچھ خطا نہیں معلوم\n\nمریض ہجر سے ضد ہے مرے مسیحا کو\nوگرنہ کیا اسے اس کی دوا نہیں معلوم\n\nممانعت ہے جو طالبؔ کو بت پرستی کی\nبنائے کعبہ تجھے شیخ کیا نہیں معلوم", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DA%AF%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85"} {"title": "پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے\nاجل مر رہی تو کہاں آتے آتے؟\n\nنہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی\nبہت دیر کی مہرباں آتے آتے\n\nسنا ہے کہ آتا ہے سر نامہ بر کا\nکہاں رہ گیا ارمغاں آتے آتے\n\nیقیں ہے کہ ہو جائے آخر کو سچی\nمرے منہ میں تیری زباں آتے آتے\n\nسنانے کے قابل جو تھی بات ان کو\nوہی رہ گئی درمیاں آتے آتے\n\nمجھے یاد کرنے سے یہ مدّعا تھا\nنکل جائے دم ہچکیاں آتے آتے\n\nابھی سن ہی کیا ہے، جو بے باکیاں ہوں\nاُنہیں آئیں‌ گی شوخیاں آتے آتے\n\nکلیجا مرے منہ کو آئے گا اِک دن\nیونہی لب پر آہ و فغاں آتے آتے\n\nچلے آتے ہیں دل میں ارمان لاکھوں\nمکاں بھر گیا مہماں آتے آتے\n\nنتیجہ نہ نکلا، تھکے سب پیامی\nوہاں جاتے جاتے یہاں آتے آتے\n\nتمہارا ہی مشتاقِ دیدار ہو گا\nگیا جان سے اک جواں آتے آتے\n\nتری آنکھ پھرتے ہی کیسا پھرا ہے\nمری راہ پر آسماں آتے آتے\n\nپڑا ہے بڑا پیچ پھر دل لگی میں\nطبیعت رکی ہے جہاں آتے آتے\n\nمرے آشیاں کے تو تھے چار تنکے\nچمن اُڑ گیا آندھیاں آتے آتے\n\nکسی نے کچھ ان کو ابھارا تو ہوتا\nنہ آتے، نہ آتے، یہاں آتے آتے\n\nقیامت بھی آتی تھی ہمراہ اس کے\nمگر رہ گئی ہم عناں آتے آتے\n\nبنا ہے ہمیشہ یہ دل باغ و صحرا\nبہار آتے آتے، خزاں آتے آتے\n\nنہیں کھیل اے داغ ، یاروں سے کہہ دو\nکہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92"} {"title": "پھل آتے ہیں پھول ٹوٹتے ہیں", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھل آتے ہیں پھول ٹوٹتے ہیں\nخردوں سے بزرگ چھوٹتے ہیں\n\nکھلتی نہیں گل کی بد مزاجی\nغنچے نہیں منہ سے پھوٹتے ہیں\n\nکرتے ہیں یہاں حسیں تاراج\nنباش لحد میں لوٹتے ہیں\n\nہوتا ہے فراق جان و تن میں\nبروں کے ملاپ چھوٹتے ہیں\n\nاک بت سے معاملہ درپیش\nپتھر سے نصیب پھوٹتے ہیں\n\nآسیب ہیں گیسوان معشوق\nکب ہم سے لپٹ کے چھوٹتے ہیں\n\nدل لے کے وہ جان کے ہیں خواہاں\nہر پہر کے مجھی کو لوٹتے ہیں\n\nہر وقت ہے کوفت اپنے دل کو\nرہ رہ کر سینہ کوٹتے ہیں\n\nخط پڑھتا ہے میرا کیا کہوں کون\nاغیار کی دید سے پھوٹتے ہیں\n\nرونے دھونے سے فائدہ بحرؔ\nکب سینے کے داغ چھوٹتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D9%84_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84_%D9%B9%D9%88%D9%B9%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پھل ہے اس بت کی آشنائی کا", "poet_page": "مصنف:منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھل ہے اس بت کی آشنائی کا\nمجھ کو دعویٰ ہے اب خدائی کا\n\nنہ لڑاؤ نظر رقیبوں سے\nکام اچھا نہیں لڑائی کا\n\nآسماں پر نہیں ہلال نمود\nنعل ہے تیری زیر پائی کا\n\nگل میں تھی اس قدر کہاں سرخی\nعکس ہے پنجۂ حنائی کا\n\nکس ستم گر سے تو نے اے کافر\nطرز سیکھا ہے دل ربائی کا\n\nچادر آسمان حاضر ہو\nتو جو استر کرے رضائی کا\n\nوقت کیا آ گیا ہے صد افسوس\nبھائی دشمن ہوا ہے بھائی کا\n\nگو برہمن پسر وہ قاتل ہے\nدل ملا ہے مگر قصائی کا\n\nکچھ مرا ہی نہیں وہ بت معبود\nبخدا ہے خدا خدائی کا\n\nسحرؔ کیا اس نے کر دیا جادو\nمجھ کو دعویٰ تھا پارسائی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "پھندنے (افسانہ)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "پھندنے", "year": "1955", "text_ur": "کوٹھی سے ملحقہ وسیع و عریض باغ میں جھاڑیوں کے پیچھے ایک بلی نے بچے دیے تھے، جو بِلّا کھا گیا تھا۔ پھر ایک کتیا نے بچے دیے تھے جو بڑے بڑے ہوگئے تھے اور دن رات کوٹھی کے اندر باہر بھونکتے اور گندگی بکھیرتے رہتے تھے۔ ان کو زہر دے دیا گیا۔۔۔ ایک ایک کرکے سب مر گئے تھے۔ ان کی ماں بھی۔۔۔ ان کا باپ معلوم نہیں کہاں تھا۔ وہ ہوتا تو اس کی موت بھی یقینی تھی۔\n\nجانے کتنے برس گزر چکے تھے۔ کوٹھی سے ملحقہ باغ کی جھاڑیاں سیکڑوں ہزاروں مرتبہ کتری بیونتی، کاٹی چھانٹی جا چکی تھیں۔ کئی بلیوں اور کتیوں نے ان کے پیچھے بچے دیے تھے جن کا نام و نشان بھی نہ رہا تھا۔ اس کی اکثر بدعادت مرغیاں وہاں انڈے دے دیا کرتی تھیں جن کو ہرصبح اٹھا کر وہ اندر لے جاتی تھی۔\n\nاسی باغ میں کسی آدمی نے ان کی نوجوان ملازمہ کو بڑی بے دردی سے قتل کردیا تھا۔۔۔ اس کے گلے میں اس کا پھندنوں والا سرخ ریشمی ازار بند جو اس نے دو روز پہلے پھیری والے سے آٹھ آنے میں خریدا تھا، پھنسا ہوا تھا۔ اس زور سے قاتل نے پیچ دیے تھے کہ اس کی آنکھیں باہر نکل آئی تھیں۔\n\nاس کو دیکھ کر اس کو اتنا تیز بخار چڑھا تھا کہ بے ہوش ہوگئی تھی۔۔۔ اور شاید ابھی تک بے ہوش تھی۔ لیکن نہیں، ایسا کیوں کر ہوسکتا تھا، اس لیے کہ اس قتل کے دیر بعد مرغیوں نے انڈے، نہیں بلیوں نے بچے دیے تھے اور ایک شادی ہوئی تھی۔۔۔کتیا تھی جس کے گلے میں لال دوپٹہ تھا۔ مکیشی۔۔۔جھلمل جھلمل کرتا۔اس کی آنکھیں باہر نکلی ہوئی نہیں تھیں، اندر دھنسی ہوئی تھیں۔\n\nباغ میں بینڈ بجا تھا۔۔۔ سرخ وردیوں والے سپاہی آئے تھے جو رنگ برنگی مشکیں بغلوں میں دبا کر منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکالتے تھے۔ ان کی وردیوں کے ساتھ کئی پھندنے لگے تھے۔ جنھیں اٹھا اٹھا کر لوگ اپنے ازار بندوں میں لگاتے جاتے تھے۔۔۔ پر جب صبح ہوئی تھی تو ان کا نام و نشان تک نہیں تھا۔۔۔ سب کو زہر دے دیا گیا تھا۔\n\nدلہن کو جانے کیا سوجھی، کم بخت نے جھاڑیوں کے پیچھے نہیں، اپنے بستر پر صرف ایک بچہ دیا۔۔۔ جو بڑا گل گوتھنا، لال پھندنا تھا۔ اس کی ماں مر گئی۔۔۔ باپ بھی۔۔۔ دونوں کو بچے نے مارا۔۔۔ اس کا باپ معلوم نہیں کہاں تھا۔ وہ ہوتا تو اس کی موت بھی ان دونوں کے ساتھ ہوتی۔\n\nسرخ وردیوں والے سپاہی بڑے بڑے پھندنے لٹکائے جانے کہاں غائب ہوئے کہ پھر نہ آئے۔ باغ میں بلے گھومتے تھے، جو اسے گھورتے تھے، اس کو چھیچھڑوں کی بھری ہوئی ٹوکری سمجھتے تھے حالانکہ ٹوکری میں نارنگیاں تھیں۔\n\nایک دن اس نے اپنی دو نارنگیاں نکال کر آئینے کے سامنے رکھ دیں۔ اس کے پیچھے ہوکے اس نے ان کو دیکھا مگر نظر نہ آئیں۔ اس نے سوچا اس کی وجہ یہ ہے کہ چھوٹی ہیں۔۔۔ مگر وہ اس کے سوچتے سوچتے ہی بڑی ہوگئیں اور اس نے ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر آتش دان پر رکھ دیں۔\n\nاب کتے بھونکنے لگے۔۔۔ نارنگیاں فرش پر لڑھکنے لگیں۔ کوٹھی کے ہرفرش پر اچھلیں، ہر کمرے میں کودیں اور اچھلتی کودتی بڑے بڑے باغوں میں بھاگنے دوڑنے لگیں۔۔۔ کتے ان سے کھیلتے اور آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے۔جانے کیا ہوا، ان کتوں میں دو زہر کھا کے مر گئے۔ جو باقی بچے وہ ان کی ادھیڑ عمر کی ہٹی کٹی ملازمہ کھا گئی۔ یہ اس نوجوان ملازمہ کی جگہ آئی تھی، جس کو کسی آدمی نے قتل کردیا تھا، گلےمیں اس کے پھندنوں والے ازار بند کا پھندا ڈال کر۔\n\nاس کی ماں تھی۔ ادھیڑ عمر کی ملازمہ سے عمر میں چھ سات برس بڑی۔ اس کی طرح ہٹی کٹی نہیں تھی۔ ہر روز صبح شام موٹر میں سیر کو جاتی تھی اور بدعادت مرغیوں کی طرح دور دراز باغوں میں جھاڑیوں کے پیچھے انڈے دیتی تھی۔ ان کو وہ خود اٹھا کرلاتی تھی نہ ڈرائیور۔ اوملیٹ بناتی تھی۔ جس کے داغ کپڑوں پر پڑ جاتے تھے۔ سوکھ جاتے تو ان کو باغ میں جھاڑیوں کے پیچھے پھینک دیتی تھی جہاں سے چیلیں اٹھا کر لے جاتی تھیں۔\n\nایک دن اس کی سہیلی آئی۔۔۔ پاکستان میل، موٹر نمبر9612 پی ایل بڑی گرمی تھی۔ ڈیڈی پہاڑ پر تھے۔ ممی سیر کرنے گئی ہوئی تھیں۔۔۔پسینے چھوٹ رہے تھے۔ اس نے کمرے میں داخل ہوتے ہی اپنا بلاؤز اتارا اور پنکھے کے نیچے کھڑی ہوگئی۔ اس کے دودھ ابلے ہوئے تھے جو آہستہ آہستہ ٹھنڈے ہوگئے۔ اس کے دودھ ٹھنڈے تھے جو آہستہ آہستہ ابلنے لگے۔ آخر دونوں دودھ ہل ہل کے کنگنے ہوگئے اور کھٹی لسی بن گئی۔\n\nاس سہیلی کا بینڈ بج گیا۔ مگر وہ وردی والے سپاہی پھندنے نچانے نہ آئے۔اس کی جگہ پیتل کے برتن تھے، چھوٹے اور بڑے، جن سے آوازیں نکلتی تھیں۔ گرجدار اور دھیمی۔۔۔ دھیمی اور گرجدار۔یہ سہیلی جب پھر ملی تو اس نے بتایا کہ وہ بدل گئی ہے۔سچ مچ بدل گئی تھی۔ اس کے اب دو پیٹ تھے۔ ایک پرانا، دوسرا نیا۔ ایک کے اوپر دوسرا چڑھا ہوا تھا۔ اس کے دودھ پھٹے ہوئے تھے۔\n\nپھر اس کے بھائی کا بینڈ بجا۔۔۔ ادھیڑ عمر کی ہٹی کٹی ملازمہ بہت روئی۔ اس کے بھائی نے اس کو بہت دلاسا دیا۔ بیچاری کو اپنی شادی یاد آگئی تھی۔رات بھر اس کے بھائی اور اس کی دلہن کی لڑائی ہوتی رہی۔ وہ روتی رہی، وہ ہنستا رہا۔۔۔ صبح ہوئی تو ادھیڑ عمر کی ہٹی کٹی ملازمہ اس کے بھائی کو دلاسا دینے کے لیے اپنے ساتھ لے گئی۔ دلہن کو نہلایا گیا۔۔۔ اس کی شلوار میں اس کا لال پھندنوں والا ازار بند پڑا تھا۔۔۔ معلوم نہیں یہ دلہن کے گلے میں کیوں نہ باندھا گیا۔\n\nاس کی آنکھیں بہت موٹی تھیں۔ اگر گلا زور سے گھونٹا جاتا تو وہ ذبح کیے ہوئے بکرے کی آنکھوں کی طرح باہر نکل آتیں۔۔۔ اور اس کوبہت تیز بخار چڑھتا۔ مگر پہلا تو ابھی تک اترا نہیں۔۔۔ ہو سکتا ہے اتر گیا ہو اور یہ نیا بخار ہو جس میں وہ ابھی تک بے ہوش ہے۔\n\nاس کی ماں موٹر ڈرائیوری سیکھ رہی ہے۔۔۔ باپ ہوٹل میں رہتا ہے۔ کبھی کبھی آتا ہے اور اپنے لڑکے سے مل کر چلا جاتا ہے۔ لڑکا کبھی کبھی اپنی بیوی کو گھر بلا لیتا ہے۔ ادھیڑ عمر کی ہٹی کٹی ملازمہ کو دو تین روز کے بعد کوئی یاد ستاتی ہے تو رونا شروع کردیتی ہے۔ وہ اسے دلاسا دیتا ہے، وہ اسے پچکارتی ہے اور دلہن چلی جاتی ہے۔\nاب وہ اور دلہن بھابھی، دونوں سیر کو جاتی ہیں۔۔۔ سہیلی بھی، پاکستان میل، موٹر نمبر9612پی ایل۔۔۔ سیر کرتے کرتے اجنتا جا نکلتی ہیں، جہاں تصویریں بنانے کا کام سکھایا جاتا ہے۔ تصویریں دیکھ کرتینوں تصویر بن جاتے ہیں۔ رنگ ہی رنگ، لال، پیلے، ہرے، نیلے۔۔۔ سب کے سب چیخنے والے ہیں۔ ان کو رنگوں کا خالق چپ کراتا ہے۔ اس کے لمبے لمبے بال ہیں۔\n\nسردیوں اور گرمیوں میں اوورکوٹ پہنتا ہے،اچھی شکل و صورت کا ہے، اندر باہر ہمیشہ کھڑاؤں استعمال کرتا ہے۔۔۔ اپنے رنگوں کو چپ کرانے کے بعد خود چیخنا شروع کردیتا ہے۔ اس کو یہ تینوں چپ کراتی ہیں اور بعد میں خود چلانے لگتی ہیں۔تینوں اجتنا میں مجرد آرٹ کے سیکڑوں نمونے بناتی رہیں۔ ایک کی ہر تصویر میں عورت کے دو پیٹ ہوتے ہیں۔ مختلف رنگوں کے۔۔۔ دوسری کی تصویروں میں عورت ادھیڑ عمر کی ہوتی ہے۔ ہٹی کٹی۔ تیسری کی تصویروں میں پھندنے ہی پھندنے۔ ازار بندوں کا گچھا۔\n\nمجرد تصویریں بنتی رہیں۔ مگر تینوں کے دودھ سوکھتے رہے۔۔۔ بڑی گرمی تھی، اتنی کہ تینوں پسینے میں شرابور تھیں۔ خس لگے کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی انھوں نے اپنے بلاؤز اتارے اور پنکھے کے نیچے کھڑی ہوگئیں۔ پنکھا چلتا رہا۔ دودھوں میں ٹھنڈک پیدا ہوئی نہ گرمی۔\n\nاس کی ممی دوسرے کمرے میں تھی۔ ڈرائیور اس کے بدن سے موبل آئل پونچھ رہا تھا۔\n\nڈیڈی ہوٹل میں تھا جہاں اس کی لیڈی سٹینوگرافر اس کے ماتھے پر یوڈی کلون مل رہی تھی۔\n\nایک دن اس کا بھی بینڈ بج گیا۔ اجاڑ باغ پھر بارونق ہوگیا۔ گملوں اور دروازوں کی آرائش اجنتا اسٹوڈیو کے مالک نے کی تھی۔ بڑی بڑی گہری لپ اسٹکیں اس کے بکھرے ہوئے رنگ دیکھ کر اڑ گئیں۔ ایک جو زیادہ سیاہی مائل تھی، اتنی اڑی کہ وہیں گر کراس کی شاگرد ہوگئی۔\n\nاس کے عروسی لباس کا ڈیزائن بھی اس نے تیار کیا تھا۔ اس نے اس کی ہزاروں سمتیں پیدا کردی تھیں۔ عین سامنے سے دیکھو تو وہ مختلف رنگ کے ازار بندوں کا بنڈل معلوم ہوتی تھی۔ ذرا ادھر ہٹ جاؤ تو پھلوں کی ٹوکری تھی۔ ایک طرف ہو جاؤ تو کھڑکی پر پڑا ہوا پھلکاری کا پردہ۔ عقب میں چلے جاؤ۔ کچلے ہوئے تربوزوں کا ڈھیر۔۔۔ ذرا زاویہ بدل کر دیکھو ٹماٹو ساس سے بھرا ہوا مرتبان۔۔۔اوپر سے دیکھو تو یگانہ آرٹ۔ نیچے سے دیکھو تو میرا جی کی مبہم شاعری۔\n\nفن شناس نگاہیں عش عش کر اٹھیں۔۔۔ دولہا اس قدرمتاثر ہوا تھا کہ شادی کے دوسرے روز ہی اس نے تہیہ کرلیا کہ وہ بھی مجرد آرٹسٹ بن جائے گا۔ چنانچہ اپنی بیوی کے ساتھ وہ اجنتا گیا۔جہاں انھیں معلوم ہوا کہ اس کی شادی ہورہی ہے اور وہ چند روز سے اپنی ہونے والی دلہن ہی کے ہاں رہتا ہے۔اس کی ہونے والی دلہن وہی گہرے رنگ کی لپ اسٹک تھی جو دوسری لپ اسٹکوں کے مقابلے میں زیادہ سیاہی مائل تھی۔ شروع شروع میں چند مہینے تک اس کے شوہر کو اس سے اور مجرد آرٹ سے دلچسپی رہی، لیکن جب اجنتا اسٹوڈیو بند ہوگیا اور اس کے مالک کی کہیں سے بھی سن گن نہ ملی تو اس نے نمک کا کاروبار شروع کردیا۔ جو بہت نفع بخش تھا۔\n\nاس کاروبار کے دوران میں اس کی ملاقات ایک لڑکی سے ہوئی۔ جس کے دودھ سوکھے ہوئے نہیں تھے۔ یہ اس کو پسند آگئے۔ بینڈ نہ بجا لیکن شادی ہوگئی۔ پہلی اپنے برش اٹھا کر لے گئی اور الگ رہنے لگی۔یہ ناچاقی پہلے تو دونوں کے لیے تلخی کا موجب ہوئی لیکن بعد میں ایک عجیب و غریب مٹھاس میں تبدیل ہوگئی۔ اس کی سہیلی نے جو دوسرا شوہر تبدیل کرنے کے بعد سارے یورپ کا چکر لگا آئی تھی اور اب دق کی مریض تھی، اس مٹھاس کو کیوبک آرٹ میں پینٹ کیا۔ صاف شفاف چینی کے بے شمار کیوب تھے جو تھوہر کے پودوں کے درمیان اس انداز سے اوپر تلے رکھے تھے کہ ان سے دو شکلیں بن گئیں تھی۔ اس پر شہد کی مکھیاں بیٹھی رس چوس رہی تھیں۔\n\nاس کی دوسری سہیلی نے زہر کھا کر خود کشی کرلی۔ جب اس کو یہ المناک خبر ملی تو وہ بے ہوش ہوگئی۔ معلوم نہیں بے ہوشی نئی تھی یا وہی پرانی جو بڑے تیز بخار کے بعد ظہور میں آئی تھی۔\n\nاس کا باپ یوڈی کلون میں تھا۔ جہاں اس کا ہوٹل اس کی لیڈی سٹینو گرافر کا سرسہلاتا تھا۔ اس کی ممی نے گھر کا سارا حساب کتاب ادھیڑ عمر کی ہٹی کٹی ملازمہ کے حوالے کردیا تھا۔ اب اس کو ڈرائیونگ آگئی تھی مگر بہت بیمار ہوگئی تھی۔ مگر پھر بھی اس کو ڈرائیور کے بن ماں کے پلے کا بہت خیال تھا۔ وہ اس کو اپنا موبل آئل پلاتی تھی۔\n\nاس کی بھابھی اور اس کے بھائی کی زندگی بہت ادھیڑ اور ہٹی کٹی ہوگئی تھی۔ دونوں آپس میں بڑے پیار سے ملتے تھے کہ اچانک ایک رات جب کہ ملازمہ اور اس کا بھائی گھر کا حساب کتاب کررہے تھے، اس کی بھابھی نمودار ہوئی، وہ مجرد تھی۔۔۔ اس کے ہاتھ میں قلم تھانہ برش۔ لیکن اس نے دونوں کا حساب صاف کردیا۔صبح کمرے میں سے جمے ہوئے لہو کے دو بڑے بڑے پھندنے نکلے جو اس کی بھابھی کے گلے میں لگا دیے گئے۔\n\nاب وہ قدرے ہوش میں آئی۔ خاوند سے ناچاقی کے باعث اس کی زندگی تلخ ہو کر بعد میں عجیب وغریب مٹھاس میں تبدیل ہوگئی تھی۔ اس نے اس کو تھوڑا سا تلخ بنانے کی کوشش کی اور شراب پینا شروع کی، مگر ناکام رہی۔ اس لیے کہ مقدار کم تھی۔۔۔ اس نے مقدار بڑھا دی حتیٰ کہ وہ اس میں ڈبکیاں لینے لگی۔۔۔ لوگ سمجھتے تھے کہ اب غرق ہوئی مگر وہ سطح پر ابھر آتی تھی۔ منہ سے شراب پونچھتی ہوئی اور قہقہے لگاتی ہوئی۔ صبح کو جب اٹھتی تو اسے محسوس ہوتا کہ رات بھر اس کے جسم کا ذرہ ذرہ دھاڑیں مار مار کر روتا رہا ہے۔ اس کے وہ سب بچے جو پیدا ہوسکتے تھے، ان قبروں میں جو ان کے لیے بن سکتی تھیں، اس دودھ کے لیے جو ان کا ہو سکتا تھا، بلک بلک کر رو رہے ہیں۔مگر اس کے دودھ کہاں تھے۔۔۔ وہ تو جنگلی بلے پی چکے تھے۔\n\nوہ زیادہ پیتی کہ اتھاہ سمندر میں ڈوب جائے مگر اس کی خواہش پوری نہیں ہوئی۔ ذہین تھی۔ پڑھی لکھی تھی۔ جنسی موضوعات پر بغیر کسی تصنع کے بے تکلف گفتگو کرتی تھی۔ مردوں کے ساتھ جسمانی رشتہ قائم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتی تھی، مگر پھر بھی کبھی کبھی رات کی تنہائی میں اس کا جی چاہتا تھا کہ اپنی کسی بدعادت مرغی کی طرح جھاڑیوں کے پیچھے جائے اور ایک انڈہ دے آئے۔\n\nبالکل کھوکھلی ہوگئی۔ صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ باقی رہ گیا تو اس سے لوگ دور رہنے لگے۔۔۔ وہ سمجھ گئی، چنانچہ وہ ان کے پیچھے نہ بھاگی اور اکیلی گھر میں رہنے لگی۔سگریٹ پر سگریٹ پھونکتی، شراب پیتی اور جانے کیا سوچتی رہتی۔۔۔ رات کو بہت کم سوتی تھی۔ کوٹھی کے اردگرد گھومتی رہتی تھی۔ سامنے کوارٹرمیں ڈرائیور کا بن ماں کا بچہ موبل آئل کے لیے روتا رہتا تھا مگر اس کی ماں کے پاس ختم ہوگیا تھا۔ ڈرائیور نے ایکسیڈنٹ کردیا تھا۔موٹر گیراج میں اور اس کی ماں ہسپتال میں پڑی تھی۔ جہاں اس کی ایک ٹانگ کاٹی جا چکی تھی، دوسری کاٹی جانے والی تھی۔\n\nوہ کبھی کبھی کوارٹر کے اندر جھانک کر دیکھتی تو اس کو محسوس ہوتا کہ اس کے دودھوں کی تلچھٹ میں ہلکی سی لرزش پیدا ہوئی ہے، مگر اس بدذائقہ سے تو اس کے بچے کے ہونٹ بھی تر نہ ہوتے۔\n\nاس کے بھائی نے کچھ عرصے سے باہر رہنا شروع کردیا تھا۔ آخر ایک دن اس کا خط سوئیٹزرلینڈ سے آیا کہ وہ وہاں اپنا علاج کرا رہا ہے، نرس بہت اچھی ہے۔ ہسپتال سے نکلتے ہی وہ اس سے شادی کرنے والا ہے۔\n\nادھیڑ عمر کی ہٹی کٹی ملازمہ نے تھوڑا زیور، کچھ نقدی اور بہت سے کپڑے جو اس کی ممی کے تھے، چرائے اور چند روز کے بعد غائب ہوگئی۔ اس کے بعد اس کی ماں آپریشن ناکام ہونے کے باعث ہسپتال میں مر گئی۔اس کا باپ جنازے میں شامل ہوا۔ اس کے بعد اس نے اس کی صورت نہ دیکھی۔\n\nاب وہ بالکل تنہا تھی۔ جتنے نوکر تھے، اس نے علیحدہ کردیے،ڈرائیور سمیت۔ اس کے بچے کے لیے اس نے ایک آیا رکھ دی۔۔۔ کوئی بوجھ سوائے اس کے خیالوں کے باقی نہ رہا تھا۔ کبھی کبھار اگر کوئی اس سے ملنا آتا تو وہ اندر سے چلا اٹھی تھی، ’’چلے جاؤ۔۔۔۔ جوکوئی بھی تم ہو، چلے جاؤ۔۔۔میں کسی سے ملنا نہیں چاہتی۔‘‘\n\nسیف میں اس کو اپنی ماں کے بے شمار قیمتی زیورات ملے تھے۔ اس کے اپنے بھی تھے جن سے ان کو کوئی رغبت نہ تھی۔ مگر اب وہ رات کو گھنٹوں آئینے کے سامنے ننگی بیٹھ کر یہ تمام زیور اپنے بدن پر سجاتی اور شراب پی کر کن سری آواز میں فحش گانے گاتی تھی۔ آس پاس اور کوئی کوٹھی نہیں تھی اس لیے اسے مکمل آزادی تھی۔\n\nاپنے جسم کو تو وہ کئی طریقوں سے ننگا کر چکی تھی۔ اب وہ چاہتی تھی کہ اپنی روح کو بھی ننگا کردے۔ مگر اس میں وہ زبردست حجاب محسوس کرتی تھی۔ اس حجاب کو دبانے کے لیے صرف ایک ہی طریقہ اس کی سمجھ میں آیا تھا کہ پیے اور خوب پیے اور اس حالت میں اپنے ننگے بدن سے مدد لے۔۔۔ مگر یہ ایک بہت بڑا المیہ تھا کہ وہ آخری حد تک ننگا ہو کر سترپوش ہوگیا تھا۔\n\nتصویریں بنا بنا کر وہ تھک چکی تھی۔۔۔ ایک عرصے سے اس کا پینٹنگ کا سامان صندوقچے میں بند پڑا تھا۔ لیکن ایک دن اس نے سب رنگ نکالے اور بڑے بڑے پیالوں میں گھولے۔ تمام برش دھو دھا کر ایک طرف رکھے اور آئینے کے سامنے ننگی کھڑی ہوگئی اور انے جسم پر نئے نئے خدوخال بنانے شروع کیے۔ اس کی یہ کوشش اپنے وجود کو مکمل طور پر عریاں کرنے کی تھی۔\n\nوہ اپنا سا منا حصہ ہی پینٹ کرسکتی تھی۔ دن بھر وہ اس میں مصروف رہی۔ بن کھائے پیے، آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بدن پرمختلف رنگ جماتی اور ٹیڑھے بنگے خطوط بناتی رہی۔ اس کے برش میں اعتماد تھا۔۔۔ آدھی رات کے قریب اس نے دور ہٹ کر اپنا بغور جائزہ لے کر اطمینان کا سانس لیا۔ اس کے بعد اس نے تمام زیورات ایک ایک کرکے اپنے رنگوں سے لتھڑے ہوئے جسم پر سجائے اور آئینے میں ایک بار پھر غور سے دیکھا کہ ایک دم آہٹ ہوئی۔\n\nاس نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔ ایک آدمی چھرا ہاتھ میں لیے، منہ پر ڈھاٹا باندھے کھڑا تھا جیسے حملہ کرنا چاہتا ہے۔ مگر جب وہ مڑی تو حملہ آور کے حلق سے چیخ بلند ہوئی۔ چھرا اس کے ہاتھ سے گر پڑا ،افراتفری کے عالم میں کبھی ادھر کا رخ کیا کبھی ادھر۔۔۔ آخر جو رستہ ملا، اس میں سے بھاگ نکلا۔وہ اس کے پیچھے بھاگی۔ چیختی، پکارتی،’’ٹھہرو۔۔۔ ٹھہرو میں تم سے کچھ نہیں کہوں گی۔۔۔ ٹھہرو!‘‘\n\nمگر چور نے اس کی ایک نہ سنی اور دیوار پھاند کر غائب ہوگیا۔ مایوس ہو کر واپس آئی۔ دروازے کی دہلیز کے پاس چور کا خنجرپڑا تھا۔ اس نے اٹھا لیا اور اندرچلی گئی۔۔۔ اچانک اس کی نظریں آئینے سے دو چار ہوئیں۔ جہاں اس کا دل تھا، وہاں اس نے میان نما چمڑے کے رنگ کا خول سا بنایا ہوا تھا۔ اس نے اس پر خنجر رکھ کر دیکھا۔ خول بہت چھوٹا تھا۔ اس نے خنجر پھینک دیا اور بوتل میں سے شراب کے چار پانچ بڑے بڑے گھونٹ پی کر ادھرادھر ٹہلنے لگی۔۔۔ وہ کئی بوتلیں خالی کر چکی تھی۔ کھایا کچھ بھی نہیں تھا۔\n\nدیر تک ٹہلنے کے بعد وہ پھر آئینے کے سامنے آئی۔ اس کے گلے میں ازار بند نما گلوبند تھا جس کے بڑے بڑے پھندنے تھے۔ یہ اس نے برش سے بنایا تھا۔دفعتاً اس کو ایسا محسوس ہوا کہ یہ گلوبند تنگ ہونے لگا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ اس کے گلے کے اندر دھنستا جارہا ہے۔۔۔ وہ خاموش کھڑی آئینے میں آنکھیں گاڑی رہی جو اسی رفتار سے باہر نکل رہی تھیں۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کے چہرے کی تمام رگیں پھولنے لگیں۔ پھر ایک دم سے اس نے چیخ ماری اور اوندھے منہ فرش پر گر پڑی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D9%86%D8%AF%D9%86%DB%92_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29"} {"title": "پھول اللہ نے بنائے ہیں مہکنے کے لیے", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھول اللہ نے بنائے ہیں مہکنے کے لیے\nاور بلبل کو بنایا ہے چہکنے کے لیے\n\nآتش غم سے بنایا ہے مرے سینے میں\nدل کو انگارے کی مانند دہکنے کے لیے\n\nبچے کمبخت وہ دل کیونکہ بھلا جس دل کے\nمستعد ہو نگۂ شوخ اچکنے کے لیے\n\nرند کہتے ہیں کہ خالق نے کیا ہے پیدا\nرات دن ناصح بیہودہ کو بکنے کے لیے\n\nرحم اے چشم بنایا ہے کہیں کیا دل کو\nقطرۂ اشک ہو مژگاں سے ٹپکنے کے لیے\n\nشیخ کو رندوں سے کہہ دو کہ نظر میں رکھیں\nکیونکہ اب ڈھونڈے ہے قابو وہ کھسکنے کے لیے\n\nعیشؔ بتلا تو بنا ہے دل حیراں تیرا\nمثل آئینہ یہ کس شکل کے تکنے کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%81%DA%A9%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "پھول جتنے ہیں تمہارے ہار میں", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "پھول جتنے ہیں تمہارے ہار میں\nسب گندھے ہیں آنسوؤں کے تار میں\n\nجس نے چاہا تجھ کو سر گرداں رہا\nدشت میں کوئی کوئی کہسار میں\n\nدل کے ٹکڑے او ستم گر باندھ لے\nکوئی خنجر میں کوئی تلوار میں\n\nہر جگہ ہیں چاہنے والے ترے\nکوئی صحرا میں کوئی گل زار میں\n\nہے جگہ سر پھوڑ لینے کو بہت\nکیا دھرا ہے آپ کی دیوار میں\n\nتو اگر دم بھر کو آ جائے مسیح\nجان آ جائے ترے بیمار میں\n\nجو بنے اے چرخ وہ ہم پر بنے\nپر نہ فرق آئے تری رفتار میں\n\nآنکھوں ہی آنکھوں میں اے انجمؔ کٹی\nرات ساری انتظار یار میں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%AC%D8%AA%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پھولوں سے تمیز خار پیدا کر لیں", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پھولوں سے تمیز خار پیدا کر لیں\nیک رنگیٔ اعتبار پیدا کر لیں\nٹھہرو چلتے ہیں سیر گلشن کو رواں\nپہلے دل میں بہار پیدا کر لیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%85%DB%8C%D8%B2_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پھولوں میں اگر ہے بو تمہاری", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھولوں میں اگر ہے بو تمہاری\nکانٹوں میں بھی ہوگی خو تمہاری\n\nاس دل پہ ہزار جان صدقے\nجس دل میں ہے آرزو تمہاری\n\nدو دن میں گلو بہار کیا کی\nرنگت وہ رہی نہ بو تمہاری\n\nچٹکا جو چمن میں غنچۂ گل\nبو دے گئی گفتگو تمہاری\n\nمشتاق سے دور بھاگتی ہے\nاتنی ہے اجل میں خو تمہاری\n\nگردش سے ہے مہر و مہ کے ثابت\nان کو بھی ہے جستجو تمہاری\n\nآنکھوں سے کہو کمی نہ کرنا\nاشکوں سے ہے آبرو تمہاری\n\nلو سرد ہوا میں نیم بسمل\nپوری ہوئی آرزو تمہاری\n\nسب کہتے ہیں جس کو لیلۃ القدر\nہے کاکل مشک بو تمہاری\n\nتنہا نہ پھرو امیرؔ شب کو\nہے گھات میں ہر عدو تمہاری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%88_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "پھولوں کی سازش", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "دھواں", "year": "1941", "text_ur": "باغ میں جتنے پھول تھے، سب کے سب باغی ہوگئے۔ گلاب کے سینے میں بغاوت کی آگ بھڑک رہی تھی۔ اس کی ایک ایک رگ آتشیں جذبہ کے تحت پھڑک رہی تھی۔ ایک روز اس نے اپنی کانٹوں بھری گردن اٹھائی اور غور و فکرکو بالائے طاق رکھ کر اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوا، ’’کسی کو کوئی حق حاصل نہیں کہ ہمارے پسینے سے اپنے عیش کا سامان مہیا کرے۔ ہماری زندگی کی بہاریں ہمارے لیے ہیں اور ہم اس میں کسی کی شرکت گوارا نہیں کرسکتے۔‘‘\n\nگلاب کا منہ غصہ سے لال ہورہا تھا۔ اس کی پنکھڑیاں تھرتھرارہی تھیں۔\n\nچنبلی کی جھاڑی میں تمام کلیاں یہ شور سن کر جاگ اٹھیں اور حیرت میں ایک دوسرے کا منہ تکنے لگیں۔ گلاب کی مردانہ آواز پھر بلند ہوئی۔\n\n’’ہر ذی روح کو اپنے حقوق کی نگرانی کا حق حاصل ہے اور ہم پھول اس سے مستثنی نہیں ہیں۔ ہمارے قلوب زیادہ نازک اور حساس ہیں۔ گرم ہوا کا ایک جھونکا ہماری دنیائے رنگ و بو کو جلا کر خاکستر کرسکتا ہے اور شبنم کا ایک بے معنی قطرہ ہماری پیاس بجھا سکتا ہے۔ کیا ہم اس کانے مالی کے کھردرے ہاتھوں کو برداشت کرسکتے ہیں جس پر موسموں کے تغیر و تبدل کا کچھ اثر ہی نہیں ہوتا؟‘‘\n\nموتیا کے پھول چلائے،’’ہرگز نہیں‘‘ لالہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور کہنے لگا،’’اس کے ظلم سے میرا سینہ داغدار ہورہا ہے۔ میں پہلا پھول ہوں گا جو اس جلاد کے خلاف بغاوت کا سُرخ جھنڈا بلند کرے گا۔‘‘ یہ کہہ کروہ غصہ سے تھرتھر کانپنے لگا۔\n\nچنبیلی کی کلیاں متحیر تھیں کہ یہ شور کیوں بلند ہورہا ہے۔ ایک کلی ناز کے ساتھ گلاب کے پودے کی طرف جھکی اور کہنے لگی،’’تم نے میری نیند خراب کردی ہے۔ آخر گلا پُھلا پُھلا کر کیوں چلاّ رہے ہو؟‘‘\n\nگلِ خیروجو دور کھڑا گلاب کی قائدانہ تقریر پر غور کررہا تھا بولا،’’ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے۔ گو ہم ناتواں پھول ہیں لیکن اگر ہم سب مل جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنی جان کے دشمن کو پیس کر نہ رکھ دیں۔ ہماری پتیاں اگر خوشبو پیدا کرتی ہیں تو زہریلی گیس بھی تیار کر سکتی ہیں۔۔۔ بھائیو! گلاب کا ساتھ دو اور ا پنی فتح سمجھو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اخوت کے جذبے کے ساتھ ہر پھول کی طرف دیکھا۔\n\nگلاب کچھ کہنے ہی والا تھا کہ چنبیلی کی کلی نے اپنے مرمریں جسم پر ایک تھرتھری پیدا کرتے ہوئے کہا،’’یہ سب بیکار باتیں ہیں۔۔۔ آؤ تم مجھے شعر سناؤ، میں آج تمہاری گود میں سونا چاہتی ہوں۔۔۔ تم شاعر ہو، میرے پیارے آؤ!ہم بہار کے ان خوشگوار دنوں کو ایسی فضول باتوں میں ضائع نہ کریں اور اس دنیا میں جائیں جہاں نیند ہی نیند ہے۔۔۔ میٹھی اور راحت بخش نیند!‘‘\n\nگلاب کے سینے میں ایک ہیجان برپا ہوگیا۔ اس کی نبض کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ اسے ایسا محسوس ہوا کہ وہ کسی اتھاہ گہرائی میں اتر رہا ہے۔اس نے کلی کی گفتگو کے اثر کو دور کرنے کی سعی کرتے ہوئے کہا،’’نہیں میں میدانِ جنگ میں اترنے کی قسم کھا چکا ہوں۔ اب یہ تمام رومان میرے لیے مہمل ہیں۔‘‘\n\nکلی نے اپنے لچکیلے جسم کو بل دے کر خواب گوں لہجہ میں کہا،’’آہ!میرے پیارے گلاب ایسی باتیں نہ کرو، مجھے وحشت ہوتی ہے۔۔۔ چاندنی راتوں کا خیال کرو۔۔۔ جب میں اپنا لباس اتار کر اس نورانی فوارے کے نیچے نہاؤں گی تو تمہارے گالوں پر سرخی کا اُتار چڑھاؤ مجھے کتنا پیارا معلوم ہوگا اور تم میرے سیمیں لب کس طرح دیوانہ وار چومو گے۔۔۔ چھوڑوان فضول باتوں کو میں تمہارے کاندھے پر سر رکھ کرسونا چاہتی ہوں۔‘‘\n\nاور چنبیلی کی نازک ادا کلی گلاب کے تھراّتے ہوئے گال کے ساتھ لگ کر سو گئی۔۔۔ گلاب مدہوش ہوگیا۔ چاروں طرف سے ایک عرصہ تک دوسرے پھولوں کی صدائیں بلند ہوتی رہیں مگر گلاب نہ جاگا۔۔۔ ساری رات وہ مخمور رہا۔\n\nصبح کانا مالی آیا۔ اس نے گلاب کے پھول کی ٹہنی کے ساتھ چنبیلی کی کلی چمٹی ہوئی پائی۔ اس نے اپنا کُھر درا ہاتھ بڑھایا اور دونوں کو توڑ لیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D8%B2%D8%B4"} {"title": "پھولوں کی سیج پر سے جو بے دماغ اٹھے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "پھولوں کی سیج پر سے جو بے دماغ اٹھے\nمسند پہ ناز کی جو تیوری چڑھا کے بیٹھے\nکیا غم اسے زمیں پر بے برگ و ساز کوئی\nخار و خسک ہی کیوں نہ برسوں بچھا کے بیٹھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%AC_%D9%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92"} {"title": "پھونک دے ہے منہ ترا ہر صاف دل کے تن میں آگ", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھونک دے ہے منہ ترا ہر صاف دل کے تن میں آگ\nسامنے خورشید کے لگتی ہے جو درپن میں آگ\n\nتجھ سے اے بلبل زیادہ گل میں ہے تاثیر عشق\nدل میں خوں لب پر ہنسی ہے اس کے پیراہن میں آگ\n\nاہل زر ساز رعونت سے ہوویں گے دوزخی\nڈالتے ہیں شمع کی اول رگ گردن میں آگ\n\nکوہ کن لالہ سے خوں تیرا ہے جوشاں بعد سال\nبے ستوں کے دیکھ دائم ہے بھری دامن میں آگ\n\nسوز ہجر کانہا سے جو سانولا تھا عزلتؔ آہ\nداغ دار آخر لگی ٹیسو کے بندرابن میں آگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%A9_%D8%AF%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D8%B1_%D8%B5%D8%A7%D9%81_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%DA%AF"} {"title": "پھونکی تپ فراق نے یہ تن بدن میں آگ", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھونکی تپ فراق نے یہ تن بدن میں آگ\nاب جسم کی جگہ ہے مرے پیرہن میں آگ\n\nانگاروں پہ لٹاتی ہے فرقت میں سیر باغ\nہو میرا اختیار تو دے دوں چمن میں آگ\n\nابر سیہ نہیں یہ دھواں ہے بھرا ہوا\nکس نے لگا دی آج سپہر کہن میں آگ\n\nکشتے ہیں تیرے رخ کے جوئے آتشیں عذار\nلے جائیں گے وہ باندھ کر اپنے کفن میں آگ\n\nرخصت ہوئی بہار خزاں کے دن آ گئے\nاے باغباں لگا دے اب اپنے چمن میں آگ\n\nصحرا ہماری گرمئ رفتار سے پھنکا\nدیوانوں کے قدم سے لگ اٹھی چمن میں آگ\n\nکس نے کیا ترے لب لعلیں کا تذکرہ\nاہل یمن نے آپ لگا دی یمن میں آگ\n\nزلفوں سے یوں عیاں ہے ترا روئے آتشیں\nجیسے لگی ہو وادیٔ چین و ختن میں آگ\n\nاکبرؔ تری زبان ہے کیا شمع کی زبان\nہر فقرہ تیرا شعلہ ہے ہے ہر سخن میں آگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%BE_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%D9%86%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D9%86_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%DA%AF"} {"title": "پھوٹی بھلی وہ آنکھ جو آنسو سے تر نہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھوٹی بھلی وہ آنکھ جو آنسو سے تر نہیں\nکس کام ہے وہ سیپ کہ جس میں گہر نہیں\n\nمنعم ہے کیا کہ جس سے کوئی بہرہ ور نہیں\nکس کام کا وہ نخل کہ جس میں ثمر نہیں\n\nبندہ ہوں بے خودی کا میں اس مست کی جسے\nآشوب روز حشر سے اصلاً خبر نہیں\n\nیارب خلش سے آہ کی ہو جو نہ بہرہ مند\nجس دل کا تکیہ گاہ سر نیشتر نہیں\n\nاے دل برنگ غنچہ نہ مل گل رخوں سے تو\nاپنی گرہ میں ان کے کھلانے کو زر نہیں\n\nساقی ہے شب کی دست درازی کا کیا گلہ\nپیارے جو بے خودی میں ہوا معتبر نہیں\n\nنالاں نہ ہوں گلی میں تری میں تو کیا کروں\nمرغ چمن میں نالہ سوا کچھ ہنر نہیں\n\nجوں اشک ایک لغزش پا میں گئے ہیں پار\nہستی سے تا بہ نیستی چنداں سفر نہیں\n\nقائمؔ جو اس طرح تو پھرے ہے خراب و خوار\nاے خانماں خراب مگر تیرے گھر نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%B9%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D9%84%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پھوڑے نے سفر میں سخت گھبرایا ہے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پھوڑے نے سفر میں سخت گھبرایا ہے\nکلکتہ کی راہ میں یہ دکھ پایا ہے\nکیا درد کنار نے ستایا ہے منیرؔ\nیہ گرگ بغل راہ میں ہاتھ آیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%92_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%AE%D8%AA_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "پھٹا پڑتا ہے جوبن اور جوش نوجوانی ہے", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھٹا پڑتا ہے جوبن اور جوش نوجوانی ہے\nوہ اب تو خودبخود جامے سے باہر ہوتے جاتے ہیں\n\nنظر ہوتی ہے جتنی ان کو اپنے حسن صورت پر\nستم گر بے مروت کینہ پرور ہوتے جاتے ہیں\n\nبھلا اس حسن زیبائی کا ان کے کیا ٹھکانا ہے\nکہ جتنے عیب ہیں دنیا میں زیور ہوتے جاتے ہیں\n\nابھی ہے تازہ تازہ شوق خود بینی ابھی کیا ہے\nابھی وہ خیر سے نخوت کے خوگر ہوتے جاتے ہیں\n\nوہ یوں بھی ماہ طلعت ہیں مگر شوخی قیامت ہے\nکہ جتنے بد مزہ ہوتے ہیں خوشتر ہوتے جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%D9%BE%DA%91%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%A8%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%86%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا\nخندۂ گل سے اڑا وہ شرارہ خرمن دل پر پھول پڑا\n\nدیکھ ادھر او نیند کے ماتے کس کی اچانک یاد آئی\nبیچ سے ٹوٹی ہے انگڑائی ہاتھ اٹھتے ہی جھول پڑا\n\nحسن و عشق کی ان بن کیا ہے دل کے پھنسانے کا پھندا\nاپنے ہاتھوں خود آفت میں جا کے یہ نامعقول پڑا\n\nکون کہے قسمت پلٹی یا مت پلٹی سیلانی کی\nرستہ کاٹ کے جانے والا آج ادھر بھی بھول پڑا\n\nحال نہیں جینے کے قابل آس نہیں مرنے دیتی\nایڑیاں رگڑے آخر کب تک خاک پر اک مقتول پڑا\n\nجتنے حسن آباد میں پہنچے ہوش و خرد کھو کر پہنچے\nمال بھی تو اتنے کا نہیں اب جتنا کچھ محصول پڑا\n\nراہ وفا تھی ٹیڑھی بگڑی تھی ہر گام افتاد نئی\nپاؤں کسی کا ٹوٹ گیا اور ہاتھ کسی کا جھول پڑا\n\nباغ میں گلچیں ہے نہ ہے مالی بجلی ہے نہ فلک پہ سحاب\nعہد خزاں میں جلا ہے نشیمن آ کے کہاں سے پھول پڑا\n\nپاؤں کی طاقت طاق ہوئی تو بند کی آنکھ اور جا پہنچے\nآرزوؔ اس کو خوب کیا کم راستے میں جو طول پڑا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%DA%91%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%AD%D8%B3%D8%A8_%D9%85%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%84_%D9%BE%DA%91%D8%A7"} {"title": "پھیر روز فراق یار آیا", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھیر روز فراق یار آیا\nنامہ بر آہ زار زار آیا\n\nتیرے جانے سے فتنہ ہو تیار\nبہ سر چشم اشک بار آیا\n\nجھاڑا مرقد پہ میرے جب دامن\nآسماں کا گویا غبار آیا\n\nمے سے توبہ تو کر نہیں سکتا\nکیا کروں موسم بہار آیا\n\nمارا جاوے گا بھاگ اے ناصح\nدیکھ یہ نازنیں سوار آیا\n\nکسی مخلوق کو خدا نہ دکھائے\nجو کہ مجھ پر در انتظار آیا\n\nاس کی بیداد کا خدا دے اجر\nہاتھ میں لے کے ذو الفقار آیا\n\nکہتا ہے سر جھکا جو عاشق ہے\nمیں تو اب مائل شکار آیا\n\nآفریدیؔ سمجھ حیات ابد\nقتل کو تیرے گر وہ یار آیا\n\nپیشوائی کو اس کی جا جلدی\nکہہ کہ حاضر گناہ گار آیا\n\nتجھے قاسمؔ علی خدا کی قسم\nکیسے ظالم پہ اعتبار آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ جس سے کہیں", "poet_page": "مصنف:نادر کاکوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ جس سے کہیں\nہائے جو جی پر گزرتی ہے وہ ہم کس سے کہیں\n\nمانع عرض تمنا کیوں نہ ہو رشک رقیب\nان سے ہم کہنے نہ پائیں ان کے مونس سے کہیں\n\nنادرؔ اس محفل میں ہیں وہ نام کے صدر انجمن\nآپ کو کہنا ہو جو کچھ اہل مجلس سے کہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D8%B1_%D9%84%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%DA%A9%D8%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پھیر لیں آنکھیں مروت دیکھنا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پھیر لیں آنکھیں مروت دیکھنا\nاپنی الفت دیکھنا میری محبت دیکھنا\n\nدو ہی دن میں کیا سے کیا تم ہو گئے\nآئنے میں اپنی صورت دیکھنا\n\nڈھونڈھنے پر بھی نشاں ملتا نہیں\nمر مٹوں کی شان غربت دیکھنا\n\nآہ سے در پردہ اس کو لاگ ہے\nآئنے کی یہ کدورت دیکھنا\n\nداد مہجوری کی پھر ہے جستجو\nدے نہ دھوکا اپنی قسمت دیکھنا\n\nتوبہ کرنا تو بہت آسان ہے\nپھر بدل جائے گی نیت دیکھنا\n\nمنزل دنیا نہیں آرام گاہ\nہے ابھی روز قیامت دیکھنا\n\nکر لے او سفاک ہر جور و جفا\nرہ نہ جائے کوئی حسرت دیکھنا\n\nکعبہ سے بت خانہ میں آ ہی گئے\nکھینچ لائی شوقؔ قسمت دیکھنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D9%88%D8%AA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "پھیلا کے تصور کے اثر کو میں نے", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پھیلا کے تصور کے اثر کو میں نے\nمشہور کیا سعیٔ نظر کو میں نے\nظاہر در و بام سے ہے نقش رخ دوست\nبت خانہ بنا رکھا ہے گھر کو میں نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D9%84%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92"} {"title": "پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبح", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبح\nبلبل کے چہچہوں سے ہے ظاہر سرور صبح\n\nبیٹھے ہو تم جو چہرہ سے الٹے نقاب کو\nپھیلا ہوا ہے چار طرف شب کو نور صبح\n\nبد قسمتوں کو گر ہو میسر شب وصال\nسورج غروب ہوتے ہی ظاہر ہو نور صبح\n\nپو پھٹتے ہی ریاض جہاں خلد بن گیا\nغلمان مہر ساتھ لئے آئی حور صبح\n\nمرغ سحر عدو نہ موذن کی کچھ خطا\nپرویںؔ شب وصال میں سب ہے فتور صبح", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%AD"} {"title": "پہلا جشن آزادی", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بصد غرور بصد فخر و ناز آزادی\nمچل کے کھل گئی زلف دراز آزادی\n\nمہہ‌ و نجوم ہیں نغمہ طراز آزادی\nوطن نے چھیڑا ہے اس طرح ساز آزادی\n\nزمانہ رقص میں ہے زندگی غزل خواں ہے\nزمانہ رقص میں ہے زندگی غزل خواں ہے\n\nہر اک جبیں پہ ہے اک موج نور آزادی\nہر اک آنکھ میں کیف و سرور آزادی\n\nغلامی خاک بسر ہے حضور آزادی\nہر ایک قصر ہے اک بام طور آزادی\n\nہر ایک بام پہ اک پرچم زر افشاں ہے\n\nہر ایک سمت نگاران یاسمیں پیکر\nنکل پڑے ہیں در و بام سے مہ و اختر\n\nوہ سیل نور ہے خیرہ ہے آدمی کی نظر\nبصد غرور و ادا خندہ زن ہے گردوں پر\n\nزمین ہند کہ جولا نگہ غزالاں ہے\n\nصدا دو انجم افلاک رقص فرمائیں\nبتان کافر و سفاک رقص فرمائیں\n\nشریک حلقۂ ادراک رقص فرمائیں\nطرب کا وقت ہے بے باک رقص فرمائیں\n\nکہ یہ بہار پیامئ صد بہاراں ہے\n\nیہ انقلاب کا مژدہ ہے انقلاب نہیں\nیہ آفتاب کا پرتو ہے آفتاب نہیں\n\nوہ جس کی تاب و توانائی کا جواب نہیں\nابھی وہ سعئ جنوں خیز کامیاب نہیں\n\nیہ انتہا نہیں آغاز کار مرداں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%81%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D8%B4%D9%86_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C"} {"title": "پہلا پتھر", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "صبا ہمارے رفیقوں سے جا کے یہ کہنا\nبصد تشکر و اخلاص و حسن و خوش ادبی\nکہ جو سلوک بھی ہم پر روا ہوا اس میں\nنہ کوئی رمز نہاں ہے، نہ کوئی بوالعجبی\n\nہمارے واسطے یہ رات بھی مقدر تھی\nکہ حرف آئے ستاروں پہ بے چراغی کا\nلباس چاک پہ تہمت قبائے زریں کی\nدل شکستہ پہ الزام بد دماغی کا\n\nصبا جو راہ میں دشمن ملیں تو فرمانا\nکہ یہ تو کچھ نہ کیا ہو سکے تو اور کرے\nکہ اپنے دست لہو رنگ پر نظر ڈالے\nکہ اپنے دعویٔ معصومیت پہ غور کرے\n\nحدیث ہے کہ اصولاً گناہ گار نہ ہوں\nگناہ گار پہ پتھر سنبھالنے والے\nاور اپنی آنکھ کے شہتیر پر نظر رکھیں\nہماری آنکھ سے کانٹے نکالنے والے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%81%D9%84%D8%A7_%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1"} {"title": "پہلو میں بیٹھ کر وہ پاتے کیا", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پہلو میں بیٹھ کر وہ پاتے کیا\nدل تو تھا ہی نہیں چراتے کیا\n\nہجر میں غم بھی ایک نعمت ہے\nیہ نہ ہوتا تو آج کھاتے کیا\n\nمرغ دل ہی کا کچھ رہا مذکورہ\nاور بے پر کی واں اڑاتے کیا\n\nراہ کی چھیڑ چھاڑ خوب نہیں\nوہ بگڑتا تو ہم بناتے کیا\n\nصدمہ حاصل ہوا الم لائے\nاور کوچہ سے اس کے لاتے کیا\n\nشیخ جی کہتے ہیں غنا کو حرام\nان سے پوچھو تو ہیں یہ گاتے کیا\n\nلاغر ہی سے کفن میں تھا بھی میں\nمیری میت کو وہ اٹھاتے کیا\n\nخاک اس کوچہ کی نہ لا رکھتے\nتو سخیؔ قبر میں بچھاتے کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "پہلو میں رہ گیا یوں یہ دل تڑپ تڑپ کر", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پہلو میں رہ گیا یوں یہ دل تڑپ تڑپ کر\nرہ جائے جیسے کوئی بسمل تڑپ تڑپ کر\n\nمجنون بے خرد نے دی جاں بہ ناامیدی\nلیلیٰ کا دیکھتے ہی محمل تڑپ تڑپ کر\n\nکہیو صبا جو جاوے مذبوح غم نے تیرے\nآسان کی شب اپنی مشکل تڑپ تڑپ کر\n\nاس پردگی نے اپنا آنچل نہیں دکھایا\nمر مر گئے ہیں اس کے مائل تڑپ تڑپ کر\n\nقاتل کا میرے کوچہ ہے خواب گاہ راحت\nکیا کیا نہ سو رہے یاں گھائل تڑپ تڑپ کر\n\nحال اس غریق کا ہے جائے ترحم اے دل\nرہ جائے ہے جو زیر ساحل تڑپ تڑپ کر\n\nقابو میں آئے پر میں چھوڑا نہ اس کو ہرگز\nبل کھا کے گرچہ نکلا قاتل تڑپ تڑپ کر\n\nتو نے تو آبرو ہی کھو دی ہماری اے دل\nمقتل میں عاشقوں کے شامل تڑپ تڑپ کر\n\nجھمکے دکھا کے اس کو تو نے جو منہ دکھایا\nمر ہی گیا نہ تیرا سائل تڑپ تڑپ کر\n\nگو مرغ نامہ بر کو بسمل کیا ہے اس نے\nطے کر رہے گا آخر منزل تڑپ تڑپ کر\n\nفرقت میں اس کی تو نے اے مصحفیؔ بتا تو\nجز اشک خوں کیا کیا حاصل تڑپ تڑپ کر\n\nمجھ کو یہ سوجھتا ہے ناحق تو جان دے گا\nاک دن اسی طرح سے جاہل تڑپ تڑپ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%DA%91%D9%BE_%D8%AA%DA%91%D9%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "پہلو و پشت و سینہ و رخسار آئنہ", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "پہلو و پشت و سینہ و رخسار آئنہ\nہے رزم گاہ حسن کا یہ چار آئنہ\n\nکف آئنہ بر آئنہ رخسار آئنہ\nہے سر سے پاؤں تک وہ ستم گار آئنہ\n\nہٹتا نہیں جو سامنے سے اس کے رات دن\nہم سے سوا ہے طالب دیدار آئنہ\n\nیہ تو مرا رقیب ہے میں مانتا نہیں\nکیوں دیکھتا ہے آپ کو ہر بار آئنہ\n\nرخ کا ہے عکس دل میں تو رخ میں ہے دل کا عکس\nہے آئنے کے سامنے ہر بار آئنہ\n\nخلوت میں اس کے نور سے عالم ہے طور کا\nہیں آب و تاب سے در و دیوار آئنہ\n\nغش کھا کے گر پڑے نہ کہیں رعب حسن سے\nاس واسطے ہے پشت بہ دیوار آئنہ\n\nکس میں ہے آب و تاب سوا دیکھ لیجئے\nاک بار اس کا چہرہ اور اک بار آئنہ\n\nرخ کا اور اس کا ہو گیا اک بار فیصلہ\nاچھا ہوا کہ مان گیا ہار آئنہ\n\nلبریز ہے شعاع رخ دل فروز سے\nلے آب حسن ساغر سرشار آئنہ\n\nپرویںؔ جہاں میں اس کی جھپکتی نہیں پلک\nحیرت کا آپ کرتا ہے اقرار آئنہ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%88_%D9%BE%D8%B4%D8%AA_%D9%88_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%D9%88_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81"} {"title": "پہلو کو ترے عشق میں ویراں نہیں دیکھا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پہلو کو ترے عشق میں ویراں نہیں دیکھا\nاس دل کو کبھی خالی از ارماں نہیں دیکھا\n\nصورت کو مری دیکھ کے حیرت ہے تمہیں کیا\nتم نے تو مرا حال پریشاں نہیں دیکھا\n\nموسیٰ ہوئے بے ہوش تجلئ لقا سے\nطالب تھے مگر جلوۂ جاناں نہیں دیکھا\n\nروتے ہیں گناہوں پہ وہی جن میں ہے ایماں\nکافر کو کبھی ہم نے پشیماں نہیں دیکھا\n\nدیکھا جو مرا داغ جگر ہنس کے وہ بولے\nایسا تو چراغ تہ داماں نہیں دیکھا\n\nاے درد جگر چین ذرا لینے دے مجھ کو\nتجھ سا بھی کوئی جان کا خواہاں نہیں دیکھا\n\nسر کٹ کے گرا شوق سے قاتل کے قدم پر\nایسا بھی کوئی بندۂ احساں نہیں دیکھا\n\nرونے پہ مری تم کو تحیر یہ عبث ہے\nکیا تم نے کبھی ابر کو گریاں نہیں دیکھا\n\nدیکھی ہے بہت آپ نے آئینہ کی حیرت\nعاشق کا مگر دیدۂ حیراں نہیں دیکھا\n\nسرگشتہ وہ صحرائے مصیبت میں نہ ہوگا\nجس نے تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا\n\nپوچھا جو جمیلہؔ سے تو وہ مجھ سے یہ بولے\nدل سا تو کوئی دوسرا ایواں نہیں دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "پہلے تو مجھے کہا نکالو", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پہلے تو مجھے کہا نکالو\nپھر بولے غریب ہے بلا لو\n\nبے دل رکھنے سے فائدہ کیا\nتم جان سے مجھ کو مار ڈالو\n\nاس نے بھی تو دیکھی ہیں یہ آنکھیں\nآنکھ آرسی پر سمجھ کے ڈالو\n\nآیا ہے وہ مہ بجھا بھی دو شمع\nپروانوں کو بزم سے نکالو\n\nگھبرا کے ہم آئے تھے سوئے حشر\nیاں پیش ہے اور ماجرا لو\n\nتکیے میں گیا تو میں پکارا\nشب تیرہ ہے جاگو سونے والو\n\nاور دن پہ امیرؔ تکیہ کب تک\nتم بھی تو کچھ آپ کو سنبھالو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%88"} {"title": "پہلے شرما کے مار ڈالا", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پہلے شرما کے مار ڈالا\nپھر سامنے آ کے مار ڈالا\n\nساقی نہ پلائی تونے آخر\nترسا ترسا کے مار ڈالا\n\nعیسیٰ تھے تو مرنے ہی نہ دیتے\nتم نے تو جلا کے مار ڈالا\n\nبیمار الم کو تو نے ناصح\nسمجھا سمجھا کے مار ڈالا\n\nخنجر کیسا فقط ادا سے\nتڑپا تڑپا کے مار ڈالا\n\nیاد گیسو نے ہجر کی شب\nالجھا الجھا کے مار ڈالا\n\nفرقت میں ترے غم و الم نے\nتنہا مجھے پا کے مار ڈالا\n\nخنجر نہ ملا تو اس نے بیدمؔ\nآنکھیں دکھلا کے مار ڈالا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D9%85%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DA%88%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "پہلے مذاق درد تو پیدا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:سید واجد علی فرخ بنارسی", "kind": "poetry", "section": "غزل > تجلیات فرخ (1930)", "year": "1930", "text_ur": "پہلے مذاق درد تو پیدا کرے کوئی\nپھر اپنے دل میں تیری تمنا کرے کوئی\n\nچاک جگر نے فاش کیا راز درد عشق\nکیا بات رہ گئی ہے کہ پردا کرے کوئی\n\nروداد خوں چکان محبت ہے ہر سرشک\nاس طرح بھی نہ خون تمنا کرے کوئی\n\nیہ جلوہ کیا کہ کوند کے بجلی سی رہ گئی\nیوں آؤ سامنے کہ نظارا کرے کوئی\n\nذوق طلب میں اپنی ہی ہستی ہے سد راہ\nآساں نہیں کہ تیری تمنا کرے کوئی\n\nآئینۂ وجود میں اک پرتو جمال\nاس طرح جلوہ گر ہے کہ دیکھا کرے کوئی\n\nفرخؔ اگر ہے ناصیہ سائی کا حوصلہ\nپہلے سر نیاز تو پیدا کرے کوئی", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%85%D8%B0%D8%A7%D9%82_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "پہنچا ہے آج قیس کا یاں سلسلہ مجھے", "poet_page": "مصنف:شیر محمد خاں ایمان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پہنچا ہے آج قیس کا یاں سلسلہ مجھے\nجنگل کی راس کیوں نہ ہو آب و ہوا مجھے\n\nآنا اگر ترا نہیں ہوتا ہے میرے گھر\nدولت سرا میں اپنے ہی اک دن بلا مجھے\n\nوہ ہووے اور میں ہوں اور اک کنج عافیت\nاس سے زیادہ چاہیے پھر اور کیا مجھے\n\nپیدا کیا ہے جب سے کہ میں ربط عشق سے\nبیگانہ جانتا ہے ہر ایک آشنا مجھے\n\nکافر بتوں کی راہ نہ جا آ خدا کو مان\nپیر خرد نے گرچہ کہا بارہا مجھے\n\nپر کیا کروں کہ دل ہی نہیں اختیار میں\nاس خانما خراب نے عاجز کیا مجھے\n\nپہلے ہی اپنے دل کو نہ دینا تھا اس کے ہاتھ\nایمانؔ اب تو کوئی پڑی ہے وفا مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D9%82%DB%8C%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "پہنچا ہے اس کے پاس یہ آئینہ ٹوٹ کے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پہنچا ہے اس کے پاس یہ آئینہ ٹوٹ کے\nکس سے ملا ہے شیشۂ دل ہم سے پھوٹ کے\n\nحسن ملیح کا نہ کیا زخمیوں نے شکر\nاے کردگار نکلے نمک پھوٹ پھوٹ کے\n\nسر پھوڑ کر موے جو ترے سنگ در سے ہم\nرہ رہ گئے حسین بھی ماتھوں کو کوٹ کے\n\nبے نور ہونے پر بھی وہی جوش گریہ ہے\nآنکھیں ہماری اور بہیں پھوٹ پھوٹ کے\n\nاے رشک ماہ رات کو مٹھی نہ کھولنا\nمہندی کا چور ہاتھ سے جائے نہ چھوٹ کے\n\nتدبیر زہر دینے کی ہے پائمالوں کو\nہیرے لگائے جاتے ہیں پنوں میں بوٹ کے\n\nدل لے کے پلکیں پھر گئیں زلفوں کی آڑ میں\nالٹی پھری یہ فوج سر شام لوٹ کے\n\nموزوں کریں گے وصف دکھاؤ پھکیتیاں\nجانے نہ پائیں ہاتھ سے مضمون چھوٹ کے\n\nدیتے ہیں میرے سامنے غیروں کو خرپزے\nباغ جہاں میں آپ ہیں مشتاق پھوٹ کے\n\nکنگھی سے زلف الجھی تو دل ٹکڑے ہو گیا\nآئینہ میں یہ بال پڑے ٹوٹ ٹوٹ کے\n\nرفتار میں نہ کیوں ہو چمک رقص ناز کی\nزہرہ بھی ہے شریک ستاروں میں لوٹ کے\n\nاے رشک مہ جو زہرۂ گردوں کا بس چلے\nتوڑے تمہارے ناچ کے لے جائے لوٹ کے\n\nنقد حیات و جامۂ تن چھینتی ہے کیوں\nاے موت کیا کرے گی مسافر کو لوٹ کے\n\nعنبر کے بدلے مشک ہے موج خرام میں\nزلفوں کے بال مل گئے فیتے سے لوٹ کے\n\nافشاں جو چھوٹی آپ کے ماتھے سے رات کو\nتارے گرے زمیں پر اے ماہ ٹوٹ کے\n\nرو رو کے روح جسم سے کہتی ہے وقت نزع\nاے گھر ملیں گے دیکھیے کب تجھ سے چھوٹ کے\n\nمجھ کو نہیں پسند یہ فرمائش اے منیرؔ\nکیوں جھوٹ باندھوں قافیوں میں ٹوٹ پھوٹ کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D9%B9%D9%88%D9%B9_%DA%A9%DB%92"} {"title": "پی بھی اے مایۂ شباب شراب", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پی بھی اے مایۂ شباب شراب\nگرم جوشی سے ہے کباب شراب\n\nمریمی اڑ گئی مسیحا کی\nلب نازک پہ ہے شراب شراب\n\nاس سے ہم جا بھڑے عدو کے گھر\nہے پڑی خانماں خراب شراب\n\nکیوں کہ مطلق حرام ہی کہیے\nپیجئے گا ملا کے آب شراب\n\nبہر ہر ظرف امتحاں ساغر\nہر تمنا کا انتخاب شراب\n\nبعد ازیں محتسب قسم لے لے\nتوبہ کرتا ہوں لا شتاب شراب\n\nضائع اوقات کو نہیں کرتے\nپیتے ہیں وقت ماہتاب شراب\n\nسخت ماتم ہے اے شباب ترا\nکہ رلاتی ہے خون ناب شراب\n\nمحتسب اس کا خون ہے کس پر\nجو ہے پیتا بجائے آب شراب\n\nمصحف و خرقہ بیچتے ہیں ہم\nہو گئی جان کو عذاب شراب\n\nاس کی بخشش ہے بے حساب اگر\nہم بھی پیتے ہیں بے حساب شراب\n\nہر گھڑی ذکر مے ہے اے واعظ\nہو گئی تیری تو کتاب شراب\n\nاے قلقؔ مے کدے میں سجدے کیوں\nکون دے گا پئے ثواب شراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%A7%DB%8C%DB%82_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "پی لی ہم نے شراب پی لی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پی لی ہم نے شراب پی لی\nتھی آگ مثال آب پی لی\n\nاچھی پی لی خراب پی لی\nجیسی پائی شراب پی لی\n\nعادت سی ہے نشہ نہ اب کیف\nپانی نہ پیا شراب پی لی\n\nچھوڑے کئی دن گزر گئے تھے\nآئی شب ماہتاب پی لی\n\nمنہ چوم لے کوئی اس ادا پہ\nسرکا کے ذرا نقاب پی لی\n\nمنظور تھی شستگی زباں کی\nتھوڑی سی شراب ناب پی لی\n\nداڑھی کی نہیں ریاضؔ اب شرم\nجب پا گئے بے حساب پی لی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C_%D9%84%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%BE%DB%8C_%D9%84%DB%8C"} {"title": "پی کر شراب شوق کوں بے ہوش ہو بے ہوش ہو", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پی کر شراب شوق کوں بے ہوش ہو بے ہوش ہو\nجیوں غنچہ لب کوں بند کر خاموش ہو خاموش ہو\n\nہو عاشق خونیں جگر جیوں لالہ اس گل زار میں\nکھا دل پہ داغ عاشقی گل پوش ہو گل پوش ہو\n\nتجھ کوں اگر ہے آرزو اس خوش ادا کے وصل کی\nاے دل سراپا شوق میں آغوش ہو آغوش ہو\n\nامڈا ہے دریا درد کا یارب مجھے رسوا نہ کر\nآیا ہے جوش اس دیگ کوں سرپوش ہو سرپوش ہو\n\nمجلس میں غم کی اے سراجؔ اب وقت آیا دور کا\nگر خون دل موجود ہے مے نوش ہو مے نوش ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%B1_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%B4%D9%88%D9%82_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88_%D8%A8%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88"} {"title": "پی کے کر لیتا ہوں توبہ جب سے یہ دستور ہے", "poet_page": "مصنف:رسا رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پی کے کر لیتا ہوں توبہ جب سے یہ دستور ہے\nدل بھی روشن ہے مرا منہ پر بھی میرے نور ہے\n\nآہ کرتا ہوں تو برہم کے لیے ہوتے ہو تم\nدرد مندان محبت کا یہی دستور ہے\n\nغیر سے ملنے کے شکوے پر قیامت ڈھا گیا\nان کا یہ کہنا کہ دل سے آدمی مجبور ہے\n\nمیں سوال وصل کر کے اس ادا پر مٹ گیا\nہنس کے فرمایا کہ یہ درخواست نامنظور ہے\n\nحشر میں اللہ سے فریاد ان کے ظلم کی\nاے رساؔ یہ بات تو شرط وفا سے دور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D8%B3%D8%AA%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "پی کے گرنے کا ہے خیال ہمیں", "poet_page": "مصنف:نواب ضیاالدین خاں رخشاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پی کے گرنے کا ہے خیال ہمیں\nساقیا لیجیو سنبھال ہمیں\n\nشب نہ آئے جو اپنے وعدے پر\nگزرے کیا کیا نہ احتمال ہمیں\n\nتیرے غصہ نے ایک دم میں کیا\nمردۂ صد ہزار سال ہمیں\n\nدل میں مضمر ہے معنیٔ باقی\nکسی صورت نہیں زوال ہمیں\n\nطالع بد سے نیر رخشاںؔ\nاپنے ہی گھر میں ہے وصال ہمیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پی ہم نے بہت شراب توبہ", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پی ہم نے بہت شراب توبہ\nاے گرمیٔ آفتاب توبہ\n\nعالم کا یہ انقلاب توبہ\nذرے ہوئے آفتاب توبہ\n\nجس وقت تسلیاں کوئی دے\nاس وقت کا اضطراب توبہ\n\nآنکھیں جنہیں دیکھ کر ہوں بیمار\nوہ نرگس نیم خواب توبہ\n\nکیا مستانہ ہر ادا ہے\nکس جوش پہ ہے شباب توبہ\n\nکر دوں گا ہزار میں انہیں بند\nباتوں کا مری جواب توبہ\n\nہر روز ہی اک نیا ستم ہے\nہر وقت ہے اک عتاب توبہ\n\nساقی ترے دور میں کسی کی\nہوتی بھی ہے مستجاب توبہ\n\nآنکھیں شب وصل بھی جھکی ہیں\nخلوت میں بھی یہ حجاب توبہ\n\nکرتا ہے شراب محتسب بند\nیہ بھی ہے کوئی ثواب توبہ\n\nپیری میں حفیظؔ مے پرستی\nاب کیجئے اے جناب توبہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81"} {"title": "پیا باج پیالا پیا جائے نا", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیا باج پیالا پیا جائے نا\nپیا باج یک تل جیا جائے نا\n\nکہی تھے پیا بن صبوری کروں\nکھیا جائے اما کیا جائے نا\n\nنہیں عشق جس دو بڑا کوڑ ہے\nکدھیں اس سے مل بیسیا جائے نا\n\nقطبؔ شہ نہ دے مج دوانے کو پند\nدوانے کوں کچ پند دیا جائے نا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%AC_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%86%D8%A7"} {"title": "پیا تج عشق کوں دیتی ہوں سد بد ہور جیو دل میں", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیا تج عشق کوں دیتی ہوں سد بد ہور جیو دل میں\nہنوز یک ہوک نئیں ملتا کسے بولوں تو مشکل میں\n\nخوشی کے انجھواں سیتی بھرائی سمدراں سا تو\nکہ شہ کے وصل کی دولت گری درگنج حاصل میں\n\nبھنور کالا کیا ہے بھیس تیرے مکھ کمل کے تئیں\nولے اس بھونرے تھے تیرے پیرت میں ہوئیں کامل میں\n\nازل تھے سائیں کا دل ہور میرا دل کے ہیں ایک\nبچھڑ کر کیوں رہوں ایسے جیون پیارے تھے یک تل میں\n\nنبی صدقے رین ساری دو تن جوں شمع جلتی تھی\nجو تارے کے نمن رھی تھی قطبؔ شہ چاند سوں مل میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D8%AC_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D8%AF_%D8%A8%D8%AF_%DB%81%D9%88%D8%B1_%D8%AC%DB%8C%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پیا کا عشق ہے مرا یار جانی", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیا کا عشق ہے مرا یار جانی\nبن اس نیہ کوں جیو کر میں نہ جانی\n\nمحبت ہے منج جیو چمن کا سو میرا\nپرت پھول رنگ رنگ کے اس کی نشانی\n\nہوئے عاشقاں روپ لیلہ نہ مجنوں\nولے ہوئی ہمارے وقت او کہانی\n\nعشق پنتھ میں جن نہ بیتاب ہووے\nاسے عاشقاں کیں نہیں او سیانی\n\nمحبت کی سلطانی ہے سب جگت میں\nکہ اس سم نہیں کوئی گیانی و دانی\n\nسمج سے نہ ہر کوئی مانع پرت کے\nنہیں فہم ہر کس کوں میں اے پچانی\n\nنبی صدقے قطباؔ کوں بن سائیں مکھ بن\nنہیں دیستا ہور مکھ یوں نورانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "پیا کے رخ کی جھلک کا پرتو کیا ہے جھلکار آفتابی", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "پیا کے رخ کی جھلک کا پرتو کیا ہے جھلکار آفتابی\nنظر سوں عالم کے ہو رہی ہے مثال خفاش بے حجابی\n\nجسے وہ چہتا ہے مکھ دکھانے اسی کو ہے تاب دیکھنے کا\nوہی سمجھ بخش مرشد ان کا طلب ہے توں مانگ جا شتابی\n\nاگر ملے تجھ کو چشم باطن وہی ہے مقصود عاقبت سے\nوگرنہ تحقیق دوجہاں میں نہیں ہے حاصل بجز خرابی\n\nاسی کو کہتے ہیں کور باطن جسے نہیں ہے گا دید اس کا\nنہ پاوے گا وہ نجات ہرگز اگرچہ وہ علم ہے کتابی\n\nکریم مرشد نے چشم باطن کیا نوازش علیمؔ کے تئیں\nوسا حقیقت کے گھن کا خورشید گئی نکل کر نظر سرابی", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%DA%BE%D9%84%DA%A9_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DA%BE%D9%84%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C"} {"title": "پیا کے نین میں بہت چھند ہے", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیا کے نین میں بہت چھند ہے\nاو وو زلف میں جیو کا آنند ہے\n\nسجن یوں مٹھائی سوں بولے بچن\nکہ اس خوش بچن میں لذت قند ہے\n\nموہن کے او دو گال تشبیہ میں\nسرج ایک دوجا سو جوں چند ہے\n\nنول مکھ سہے حسن کا پھولبن\nنین مرگ ہور زلف اس پھند ہے\n\nاو کسوت تھے جیو باس مہکے سدا\nتو او باس ناریاں کا دل بند ہے\n\nپیا کوں بلا لیائے ہوں اپ مندر\nدوتن من میں اس تھے ہمن دند ہے\n\nنبی صدقے قطباؔ کوں اپ سیج لیائی\nتو چوندھر خوشیاں ہور آنند ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%8C%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DA%86%DA%BE%D9%86%D8%AF_%DB%81%DB%92"} {"title": "پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں\nآئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیں\n\nوصل کا لطف مجھے وصل سے پہلے ہی ملا\nجب کہا یار نے گھبرا کے یہ کیا کرتے ہیں\n\nاس قدر تھا مجھے الفت میں بھروسا ان پر\nکی جفا بھی تو یہ سمجھا کہ وفا کرتے ہیں\n\nہے یہی عرض خدا سے کہ فلاں بت مل جائے\nوہی اچھے جو نمازوں میں دعا کرتے ہیں\n\nلب کسی کے جو ہلے کان ادھر دھیان ادھر\nدل لگا کر وہ مرا ذکر سنا کرتے ہیں\n\nصبح کو دیکھ کے آئینہ میں بوسے کا نشاں\nمسکراتے ہوئے ہونٹوں میں گلا کرتے ہیں\n\nکیسے کیسے مجھے بے ساختہ ملتے ہیں خطاب\nغصہ آتا ہے تو کیا کیا وہ کہا کرتے ہیں\n\nکیا ہوا مجھ کو رقیبوں نے اگر دی تعظیم\nتیری محفل میں تو فتنے ہی اٹھا کرتے ہیں\n\nکان باتوں کی طرف آنکھ ہے کاموں کی طرف\nہو کے انجان مرا ذکر سنا کرتے ہیں\n\nچین پیشانی پہ ہے موج تبسم لب میں\nایسے ہنس مکھ ہیں کہ غصے میں ہنسا کرتے ہیں\n\nبس تو چلتا نہیں کچھ کہہ کے انہیں کیوں ہوں ذلیل\nہم تو اپنا ہی لہو آپ پیا کرتے ہیں\n\nاس اشارے کے فدا ایسے تجاہل کے نثار\nمار کر آنکھ وہ منہ پھیر لیا کرتے ہیں\n\nجلسے ہی جلسے ہیں جب سے وہ ہوئے خود مختار\nکوئی اتنا نہیں کہتا کہ یہ کیا کرتے ہیں\n\nعاشقانہ ہے عقیدہ بھی ہمارا مائلؔ\nلے کے ہم نام بتاں ذکر خدا کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پیارا پیارا گھر اپنا", "poet_page": "مصنف:عظمت اللہ خاں", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وہ چین کہاں اپنے گھر کا وہ بات کہاں اپنے گھر کی پیارا پیارا گھر اپنا\nوہ راج کہاں اپنے گھر کا وہ رات کہاں اپنی گھر کی آنکھوں کا تارا گھر اپنا\n\nسکھ چین اگر دنیا میں ہے اپنے ہی گھر میں ملتا ہے سکھ کا سہارا گھر اپنا\nدکھ درد کی گر کوئی دوا ہی اپنے ہی گھر کی سوا ہے دکھ کا مداوا گھر اپنا\n\nوہ گھر والی سندر چترا گھر کی سیوا کرنے والی دل کا دلاسا گھر اپنا\nآرام ہمیں دینے والی آپ مصیبت بھرنے والی جان سے پیارا گھر اپنا\n\nآنکھوں کے تارے لاڈلے گھر کے سب مل کر گھر سر پہ اٹھاتے دودھوں نہایا گھر اپنا\nہنستے ہنساتے روٹھتے منتے سنتے کہانی سوتے سلاتے بسا بسایا گھر اپنا\n\nہم پر جان چھڑکنے والا وہ پروان چڑھانے والا پالنے والا گھر اپنا\nوہ بلوان بنانے والا وہ انسان بنانے والا ڈھالنے والا گھر اپنا\n\nوہ پاک ہوا اپنے گھر کی پیار کی جلا اپنے گھر کی دل میں سمایا گھر اپنا\nایثار وفا اپنے گھر کا وہ درد دیا اپنے گھر کی روح پہ چھایا گھر اپنا\n\nجڑ بنیاد وطن کی گھر ہے وطن گھروں کا اپنے گھر ہے اپنے گھروں کا گھر اپنا\nاپنے گھر پہ نثار وطن ہے اور وطن کے صدقے گھر ہے وطن کا شیدا گھر اپنا\n\nوطن کی چاہت اپنے گھر سے وطن کی طاقت اپنے گھر سے وطن کا پیارا گھر اپنا\nوطن کی دولت اپنے گھر سے وطن کی عزت اپنے گھر سے راج دلارا گھر اپنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "پیاری سہاتی ہے ابھرن سوں بھاری", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیاری سہاتی ہے ابھرن سوں بھاری\nتو جاگا کرے من میں چھند سوں پیاری\n\nاو چنچل کوں دیکھیا ہوں ہو گن میں ماہر\nبھلائی ہے تو عاشقاں کوں او تاری\n\nمحباں کے من لبدے ہیں تج سوں دائم\nگھلی ان نین میں برہ کی خماری\n\nمدن بان ساندے ہے چھنداں سوں موہن\nہوئے عاشقاں دل کے اس تھے شکاری\n\nنین سوں نین لاکھ موہی ہوں پیو پر\nکہ تن من اپس اس کے انگ پر تھے واری\n\nسجن کے چرن پر رکھی سیس اپنا\nجگت کوں پیا دھیان میں میں بساری\n\nنبی صدقے قطباؔ پچھانیا ہے تج کوں\nکہ سب میں ہے توں اس کی من کی پیاری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%81%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D9%86_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "پیاری پیاری سوں پیار کئے", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیاری پیاری سوں پیار کئے\nسو لباں تھے لب آپ عیار کئے\n\nنقش ادھرپ دسن سوں کر چھندوں\nچوم چوم گال اپر نگار کئے\n\nنک سوں تصویر کرنے جوبن پر\nکنچکی پھاڑ پھاڑ تار کئے\n\nلیکھ کچ ہات کے ارم میں پے\nلے کہے کچ دیکھت انار کئے\n\nخوش ہو پنواکھ نور بستاں سوں\nسر تھے پک لگ اسے سنگار کئے\n\nکنٹھ مالاں پدک حمیلیاں لیا\nکئے یو چھند سور کے ستار کئے\n\nسو نبی صدقے قطبؔ دھن گل با\nرات دن اس گلے کا ہار کئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A6%DB%92"} {"title": "پیاری کے نیناں ہیں جیسے کٹارے", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیاری کے نیناں ہیں جیسے کٹارے\nنہ سم اس کے انگے کوئی ہیں دو دھارے\n\nاثر تج محبت کا جس کوں چڑے گا\nترے لعل بن اس کوں کوئی نہ اتارے\n\nدو لوچن ہیں تیرے نسنگ چور راوت\nاو نو سوں دلیری نہ کر سب ہی ہارے\n\nسہاتا ہے تج کوں گماں ہور غروری\nکہ ماتے اہیں تج حسن کے پیارے\n\nسکیاں میں تو ہے مرگ نینی چھبیلی\nسجن تو نہیں ہوتے تج تھے کنارے\n\nعجب چپخلائی ہے تیری نین میں\nکہ کھنجن نمن ایک تل کئیں نہ ٹھارے\n\nنبی صدقے قطباؔ سوں مد پیوے جم جم\nوو چند مکھ کہ جس مکھ تھے جوتی سنگارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%B9%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "پیام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "عشق نے کر دیا تجھے ذوقِ تپش سے آشنا\nبزم کو مثلِ شمعِ بزم حاصلِ سوز و ساز دے\n\nشانِ کرم پہ ہے مدار عشقِ گرہ کشاے کا\nدَیر و حرم کی قید کیا! جس کو وہ بے نیاز دے\n\nصورتِ شمع نُور کی مِلتی نہیں قبا اُسے\nجس کو خدا نہ دہر میں گریۂ جاں گداز دے\n\nتارے میں وہ، قمر میں وہ، جلوہ گہِ سحَر میں وہ\nچشمِ نظارہ میں نہ تُو سُرمۂ امتیاز دے\n\nعشق بلند بال ہے رسم و رہِ نیاز سے\nحُسن ہے مستِ ناز اگر تُو بھی جوابِ ناز دے\n\nپیرِ مغاں! فرنگ کی مے کا نشاط ہے اثر\nاس میں وہ کیفِ غم نہیں، مجھ کو تو خانہ ساز دے\n\nتجھ کو خبر نہیں ہے کیا! بزم کُہن بدل گئی\nاب نہ خدا کے واسطے ان کو مئے مجاز دے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85"} {"title": "پیام (تصدق حسین خالد)", "poet_page": "مصنف:تصدق حسین خالد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "فضاؤں میں کوئی نادیدہ معلوم رستہ ہے\nجہاں جذبات مضطر روح کے سیماب پا قاصد\nصعوبات سفر سے بے خبر اک دور منزل کو\nپروں میں الفتوں کے راز کو لے کر\nہواؤں کی طرح آزاد بے پروا اڑے جائیں\nپیام شوق دے آئیں\nاگر اس رات اس بے راہ رستے پر\nکوئی جذبہ دل بے تاب سے اٹھ کر\nعناں برداشتہ نکلے\nاشارے گرم جوش آرزو آئیں گے ایثر پر\nانہیں پڑھنا\nاگر منظور خاطر ہو\nجواباً ایک جذبے کو سوار برق کر دینا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85_%28%D8%AA%D8%B5%D8%AF%D9%82_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86_%D8%AE%D8%A7%D9%84%D8%AF%29"} {"title": "پیام (ز خ ش)", "poet_page": "مصنف:ز خ ش", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دل فسردہ کو اب طاقت قرار نہیں\nنگاہ شوق کو اب تاب انتظار نہیں\nنہیں نہیں مجھے برداشت اب نہیں کی نہیں\nخدا کے واسطے کہنا نہ اب کی بار \"نہیں\"\nہمیشہ وعدے کیے اب کے مل ہی جا آ کر\nحیات و وعدہ و دنیا کا اعتبار نہیں\nدکھائی اپنی محبت کو چیر کر سینہ\nمگر نمود مرا شیوہ و شعار نہیں\nمری بہن مری محبوبہ حب عجب شے ہے\nجہان خاک نہیں کچھ جو دوست دار نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85_%28%D8%B2_%D8%AE_%D8%B4%29"} {"title": "پیام آزادی", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مقام حق ہے بلا شک مقام آزادی\nبلند عرش سے بھی کچھ ہے بام آزادی\n\nنہ ہو سکے گا کبھی محترم جہاں میں تو\nجو تیرے دل میں نہیں احترام آزادی\n\nسنا رہا ہے تجھے انقلاب دہر جو کچھ\nسن اور غور سے سن وہ پیام آزادی\n\nکہاں تلک یہ تباہی کی زندگی غافل\nاٹھ اور جلد بنا اک نظام آزادی\n\nاٹھ اور ہاتھ میں لے تیغ بے نیام عمل\nکہ ہے وسیلۂ‌ فوز و مرام آزادی\n\nیہ زندگی ہے تری موت سے سوا بد تر\nخدا کے واسطے کر اہتمام آزادی\n\nغلط ہے یہ جو غلامانہ ذہنیت کے ساتھ\nپکا رہا ہے تو سودائے خام آزادی\n\nپکار یوں تری ہرگز سنی نہ جائے گی\nزبان تیغ سے کر بس کلام آزادی\n\nوطن سے لعنت سرمایہ کو فنا کر دے\nجو چاہتا ہے بقائے دوام آزادی\n\nہٹا دے پردۂ تاریک جبر و استبداد\nکہ نور بار ہو ماہ تمام آزادی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C"} {"title": "پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہوا", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہوا\nحسد کو حیلہ ملا اشک کو بہانہ ہوا\n\nوہ میری آہ جو شرمندۂ اثر نہ ہوئی\nوہ میرا درد جو منت کش دوا نہ ہوا\n\nخیال میں نہ رہیں صورتیں عزیزوں کی\nوطن سے چھوٹے ہوئے اس قدر زمانہ ہوا\n\nوہ داغ جس کو جگہ دل میں دی تھی جیتے جی\nچراغ بھی تو ہمارے مزار کا نہ ہوا\n\nپری وشوں کو سناتے ہیں قصہ خواں بیخودؔ\nہمارا حال نہ ٹھہرا کوئی فسانہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "پیامِ صبح", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اُجالا جب ہُوا رخصت جبینِ شب کی افشاں کا\nنسیمِ زندگی پیغام لائی صبحِ خنداں کا\n\nجگایا بُلبلِ رنگیں نوا کو آشیانے میں\nکنارے کھیت کے شانہ ہِلایا اُس نے دہقاں کا\n\nطلسمِ ظلمتِ شب سُورۂ والنُّور سے توڑا\nاندھیرے میں اُڑایا تاجِ زر شمعِ شبستاں کا\n\nپڑھا خوابیدگانِ دَیر پر افسونِ بیداری\nبرہمن کو دیا پیغام خورشیدِ دُرَخشاں کا\n\nہُوئی بامِ حرم پر آ کے یوں گویا مؤذّن سے\nنہیں کھٹکا ترے دل میں نمودِ مہرِ تاباں کا؟\n\nپُکاری اس طرح دیوارِ گلشن پر کھڑے ہو کر\nچٹک او غنچہ گُل! تُو مؤذّن ہے گُلستاں کا\n\nدیا یہ حکم صحرا میں چلو اے قافلے والو!\nچمکنے کو ہے جُگنو بن کے ہر ذرّہ بیاباں کا\n\nسوئے گورِ غریباں جب گئی زندوں کی بستی سے\nتو یوں بولی نظارا دیکھ کر شہرِ خموشاں کا\n\nابھی آرام سے لیٹے رہو، مَیں پھر بھی آؤں گی\nسُلادوں گی جہاں کو، خواب سے تم کو جگاؤں گی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85%D9%90_%D8%B5%D8%A8%D8%AD"} {"title": "پیامِ عشق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "سُن اے طلب گارِ دردِ پہلو! میں ناز ہُوں، تُو نیاز ہو جا\nمیں غزنوی سومناتِ دل کا ہوں تُو سراپا ایاز ہو جا\n\nنہیں ہے وابستہ زیرِ گردُوں کمال شانِ سکندری سے\nتمام ساماں ہے تیرے سینے میں، تُو بھی آئینہ ساز ہو جا\n\nغرض ہے پیکار زندگی سے کمال پائے ہلال تیرا\nجہاں کا فرضِ قدیم ہے تُو، ادا مثالِ نماز ہو جا\n\nنہ ہو قناعت شعار گُلچیں! اسی سے قائم ہے شان تیری\nوفورِ گُل ہے اگر چمن میں تو اور دامن دراز ہو جا\n\nگئے وہ ایّام، اب زمانہ نہیں ہے صحرانوَردیوں کا\nجہاں میں مانندِ شمعِ سوزاں میانِ محفل گداز ہو جا\n\nوُجود افراد کا مجازی ہے، ہستیِ قوم ہے حقیقی\nفِدا ہو مِلّت پہ یعنی آتش زنِ طلسمِ مجاز ہو جا\n\nیہ ہند کے فرقہ ساز اقبالؔ آزری کر رہے ہیں گویا\nبچا کے دامن بُتوں سے اپنا غُبارِ راہِ حجاز ہو جا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85%D9%90_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "پیامی کامیاب آئے نہ آئے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیامی کامیاب آئے نہ آئے\nخدا جانے جواب آئے نہ آئے\n\nترے غمزوں کو اپنے کام سے کام\nکسی کے دل کو تاب آئے نہ آئے\n\nاسے شرمائیں گے ذکر عدو پر\nیہ قسمت ہے حجاب آئے نہ آئے\n\nتم آؤ جب سوار تو سن ناز\nقیامت ہم رکاب آئے نہ آئے\n\nشمار اپنی خطاؤں کا بتا دوں\nتمہیں شاید حساب آئے نہ آئے\n\nنئے خنجر سے مجھ کو ذبح کیجے\nپھر ایسی آب و تاب آئے نہ آئے\n\nشب وصل عدو تیری بلا سے\nکسی مضطر کو خواب آئے نہ آئے\n\nپیوں گا آج ساقی سیر ہو کر\nمیسر پھر شراب آئے نہ آئے\n\nیہ جا کر پوچھ آ تو ان سے درباں\nکہ وہ خانہ خراب آئے نہ آئے\n\nنہ دیکھو داغؔ کا دیوان دیکھو\nسمجھ میں یہ کتاب آئے نہ آئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "پیتم کے دیکھنے کے تماشا کو جائیں چل", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "پیتم کے دیکھنے کے تماشا کو جائیں چل\nاپنے پیا کو عشق سوں اپنے رجھائیں چل\n\nجلسہ کیا ہے یار محل میں جلی کے آج\nخلوت میں اب خفی کے پیا کو بلائیں چل\n\nپروا نہیں پیا کو کسی کے وصال سوں\nفن سوں اسی کے اس کو اپس میں رجھائیں چل\n\nدم کا سرود کر کے ارادے کا تار باندھ\nستری صدا کا صور بجا کر سنائیں چل\n\nناسوت سے گزر کے تفرح سوں اے علیمؔ\nلاہوت کے مکاں میں سدا غل مچائیں چل", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%AA%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D9%84"} {"title": "پیتے ہیں مے گناہ بہ قصد ثواب ہے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیتے ہیں مے گناہ بہ قصد ثواب ہے\nمستی کے ولولے ہیں زمان شباب ہے\n\nاے چارہ گر ندامت بے جا نہ لیجیو\nدل چاک ہو چکا ہے جگر آب آب ہے\n\nزاہد معاف ضبط طبیعت نہیں ہمیں\nساغر چھلک رہے ہیں ہواے شباب ہے\n\nبیداریاں ہیں دیدۂ زنجیر کی طرح\nوہ آنکھ ہے ازل سے جو محروم خواب ہے\n\nاے شور حشر ٹھہر کہ فرصت نہیں ہمیں\nہیں غفلتوں کے جوش جوانی کا خواب ہے\n\nاے شیخ طول ریش مقدس گھٹائیے\nحد سے زیادہ جو ہے اسی پر عذاب ہے\n\nاے بے خبر قریب ہے فرداۓ باز پرس\nہشیار ہو کہ جلد زمان حساب ہے\n\nدیکھا نگاہ غور سے ہم نے جو اے نسیمؔ\nہر شعر اس غزل کا تری انتخاب ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%92_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%A8%DB%81_%D9%82%D8%B5%D8%AF_%D8%AB%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "پیدا شعاع مہر کی مقراض جب ہوئی", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "پیدا شعاع مہر کی مقراض جب ہوئی\nپنہاں درازیٔ پر طاؤس شب ہوئی\nاور قطع زلف لیلی زہرہ لقب ہوئی\nمجنوں صفت قبائے سحر چاک سب ہوئی\nفکر رفو تھی چرخ ہنر مند کے لیے\nدن چار ٹکڑے ہوگیا پیوند کے لیے\n\nفرہاد مہر نے یہ کیا طور اختیار\nاس کوہ بے ستوں فلک پر لیا قرار\nتیشہ لگا کے خط شعاعی کا آب دار\nکی جوے ٔشیر صبح سیاہی سے آشکار\nلیکن عجیب حال تھا بے شیر شاہ کا\nنہر لبن میں شور تھا وا اصغراہ کا\n\nیوسف غریق چاہ سیہ ناگہاں ہوا\nیعنی غروب ماہ تجلی نشاں ہوا\nیونس دہان ماہیٔ شب سے عیاں ہوا\nیعنی طلوع نیر مشرق ستاں ہوا\nفرعون شب سے معرکہ آرا تھا آفتاب\nدن تھا کلیم اور ید بیضا تھا آفتاب\n\nتھی صبح یا فلک کا وہ جیب دریدہ تھا\nیا چہرہ مسیح کا رنگ پریدہ تھا\nخورشید تھا کہ عرش کا اشک چکیدہ تھا\nیا فاطمہ کا نالۂ گردوں رسیدہ تھا\nکہیے نہ مہر صبح کے سینے پہ داغ تھا\nامید اہل بیت کا گھر بے چراغ تھا\n\nروز سفید یوسف آفاق شب نقاب\nمغرب کی چاہ میں تھا جو پا بند اضطراب\nسقائے آسماں نے لیا دلو آفتاب\nجس میں رسن شعاع کی باندھی بہ آب وتاب\nیوسف کو دلو مہر میں بٹھلا کے چاہ سے\nمشرق میں لایا کھینچ کے مغرب کی راہ سے\n\nنکلا افق سے عابد روشن ضمیر صبح\nمحراب آسماں ہوئی جلوہ پذیر صبح\nکھولا سپیدی نے جو مصلاے ٔپیر صبح\nپھر سجدہ گاہ بن گیا مہر منیر صبح\nکرتی تھی شب غروب کا سجدہ درود کو\nسیارے ہفت عضو بنے تھے سجود کو\n\nظلمت جہاں جہاں تھی وہاں نور ہوگیا\nپھر مشک شب جہان سے کافور ہوگیا\nگویا کہ زنگ آئینے سے دور ہوگیا\nباطن رسالۂ شب دیجور ہوگیا\nکیا پختہ روشنائی تھی قدرت کے خامے میں\nمضموں تھا آفتاب کا ذروں کے نامے میں\n\nکھولے ہوا میں طائر زریں نے بال و پر\nبیٹھا وہ آ کے چرخ چہارم کے بام پر\nدانے ستاروں کے جو پڑے تھے ادھر ادھر\nمنقار زر میں چن لیے اس نے وہ سر بسر\nگرمیٔ حسن مہر سے آب اب گیا\nگردوں پہ خشک چشمۂ مہتاب ہوگیا\n\nپر تھا ہماۓ اوج سعادت شکستہ بال\nجز اشک آب و دانے کا تھا دیکھنا محال\nتھا پیاس سے سکینہ و اصغر کا غیر حال\nمنہ زرد لب کبود زباں خشک آنکھ لال\nوہ دودھ دودھ کہتا تھا رو کر اشارے سے\nیہ پانی پانی کہتی تھی زہرا کے پیارے سے\n\nتھے خرمن فلک پہ ابھی دانۂ نجوم\nبونے لگا جو تخم ستم ابن سعد شوم\nغلے کے بانٹنے کو ندادی علی العموم\nمانند مور دانہ زدوں نے کیا ہجوم\nجس کا کہ باپ قاسم رزق زمانہ تھا\nہفتم سے کربلا میں وہ بے آب و دانہ تھا\n\nرومال ظالموں نے زمیں پر بچھا دیے\nحصے عمر نے سب کے برابر لگا دیے\nاور افسروں کو بدرے کے بدرے اٹھا دیے\nاور سر بہ مہر صرہ ٔزر بھی دکھا دیے\nلب کھولے حیلہ ور کی عدالت کے جوش نے\nگندم نمائی آہ کی یوں جو فروش نے\n\nہاں اے نمک حلالو نہ ہمت کو ہار یو\nبھوکے کو بھوکا پیاسے کو پیاسا ہی ماریو\nابن معاویہ کی خلافت سنواریو\nسید کے سر کو سینے پہ چڑھ کر اتاریو\nاب تو ہے غلہ کل زرو جاگیرو مال ہے\nشبیر کو جو ذبح کرو سب حلال ہے\n\nزینب نے رفتہ رفتہ جو یہ شور سن لیا\nبے ساختہ حسین کے فاقے پہ رو دیا\nجنگل کو رخ کیا کبھی یثرب کو رخ کیا\nآواز دی کہاں ہو تم اے فخر انبیا\nقربان جاؤں قبر میں اس شب کو سوتے ہو\nیا کربلا میں اپنے نواسے کو روتے ہو\n\nنانا یہ کلمہ گو ہمیں ناحق ستاتے ہیں\nپیتے ہیں خود ہمیں نہیں پانی پلاتے ہیں\nانصاف کے لیے نہیں کیوں آپ آتے ہیں\nاتنا تو پوچھیےیوں ہی مہماں بلاتے ہیں\nغلہ سپاہ شام میں تقسیم ہوتا ہے\nکنبہ تمہارا تیسرے فاقے سے روتا ہے\n\nسجاد پر مکیں تھے امام فلک مکاں\nتقسیم غلہ کا جو سنا حال ناگہاں\nارزاں دیا رفیقوں کو وہ غلۂ گراں\nجس غلۂ گراں کے تھے نو دانے آسماں\nگندم کے بدلے جنت آدم میں گھر دیا\nگھر کیسا کائنات کا مختار کردیا\n\nواں غلہ دے کے سب سے مخاطب ہوا عمر\nکھالو کہ اب غذانہ ملے گی کئی پہر\nاس جنگ میں ہر اس و تردد ہے سر بہ سر\nایماں کا نقص جان کا خوف آبرو کا ڈر\nامت سے سامنا ہے امام جلیل کا\nکاٹا ہے جس کے باپ نے پر جبر ئیل کا\n\nبڑھ کر عمر سے کہنے لگے بانیٔ ستم\nاپنی تو یہ غذا ہے کہ بھوکے رہیں حرم\nنوفل پکارا سیر ہیں آب وغذا سے ہم\nکھائی ہے آج قتل علم دار کی قسم\nچلایا شمر ہم تو اسی وقت کھائیں گے\nجب تین دن کے پیاسے کا سرکاٹ لائیں گے\n\nبولا عمر یہ کبر کی باتیں روا نہیں\nمنہ کا نوالا شیروں کا سر کاٹنا نہیں\nدعواے ٔبے سند سے تمہیں کچھ حیا نہیں\nدنیا میں بھوکا پیاسا تو کوئی لڑا نہیں\nاترے نہ ہوتے تم جو لب نہر چپن سے\nپھر دیکھتا میں لڑتے ہو کیوں کر حسین سے\n\nیہ جو کہا عمر نے وہ چپکے چلے گئے\nبے عقل نقد جاں کے عوض دین دے گئے\nسید کے قصد ذبح پہ سب غلہ لے گئے\nاور یاں عمر کے اسپ عراقی کسے گئے\nچیدہ کئے عمر نے سلح کار زار کے\nخادم لے آئے چرخ سے تیغیں اتار کے\n\nسجنے لگا سلاح و غا پھر وہ پر دغا\nبے خود ہوا جو خود سر نحس پر دھرا\nبے ماہ و آفتاب کے گویا گہن لگا\nیا دار قد پہ کفر کا بخت سیہ چڑھا\nاسلام میں جو ڈالے تھے رخنے یزید نے\nان رخنوں کو کیا زرہ تن پلید نے\n\nنیزہ سنان ابن انس کا تھا دست جور\nیہ نیزہ اور حسین کا سینہ مقام غور\nترکش بھی تھا دریدہ دہن حرملہ کے طور\nگویا سواے تیر نہ اس کی زباں تھی اور\nاول خدنگ اس کا چلا شاہ خلق پر\nآخر کو تیر خرملہ اصغر کے حلق پر\n\nکثرت پہ فوج کی ہوا نازاں وہ خود پرست\nبولا کہ اپنی فتح ہے شبیر کی شکست\nپہلے کیا فرات کا ظالم نے بندوبست\nبٹھلائے دس ہزار زرہ پوش تیز و دست\nدیوار آہنی لب دریا بلند کی\nدریا نے بانگ ہائے حسینا بلند کی\n\nگھاٹوں کو روک کر یہ پکارا کہ ہاں سنو\nبے آبرو کروں گا نہ مانے گا حکم جو\nپانی کا اک قطرہ نہ شاہ زمن کو دو\nمیت کے غسل کو نہ وضو کو نہ پینے کو\nجاں بر نہ تشنگی ہے امام حجاز ہو\nخشکی میں غرق آل نبی کا جہاز ہو\n\nچیدہ کیے ہزار جوانان ناخلف\nاس عہدے پر کیا انہیں مامور ہر طرف\nساغر بکف رہیں وہ تنک ظرف صف بہ صف\nجب العطش کہیں درپاک شہ نجف\nپانی ا نھیں دکھا کے یہ بے آبرو بہا ئیں\nپانی بہا کے تشنہ لبوں کا لہو بہا یئں\n\nچالیس سو پھر اس نے کماں دار روسیاہ\nبٹھلاے چار گوشوں میں گرد خیام شاہ\nسادات کے لیے نہ رکھا گوشہ پناہ\nروح بتول کہتی تھی رو رو کے آہ آہ\nسنتا ہوں آن بان پہ سادات مرتے ہیں\nدیکھوں تو مورچے کہاں شبیر کرتے ہیں\n\nجب صبح بے ردای ٔزینب عیاں ہوئی\nاور آخری سپاہ خدا میں اذاں ہوئی\nناموس مصطفے میں بپا یہ فغاں ہوئی\nبس اب بہار گلشن زہرا خزاں ہوئی\nکانپے گا عرش فاطمہ کے شوروشین سے\nجس دم وداع ہوئے گی زینب حسین سے\n\nیاں تھا ہجوم غم حرم نیک ذات پر\nواں اہل شام نے کیا قبضہ فرات پر\nنرغہ کیا عدو نے شہہ خوش صفات پر\nظلمت محیط ہوگئی آب حیات پر\nشب کیا گئی نصیب کا کچھ پھیر ہوگیا\nہوتے ہی صبح خیمے میں اندھیر ہوگیا\n\nکیا رو سفید فوج خدا ہے حضور صبح\nآئی ہے ان کے عقد عبادت میں حور صبح\nرح سے طلوع مہر جبیں سے ظہور صبح\nاک سمت ان کا نور ہے اک سمت نور صبح\nسرسجدے میں ہے تن ہے قعود و قیام میں\nکیا صبح کی بہار ہے فوج امام میں\n\nآواز ارکبو جو ملائک سناتے ہیں\nغازی نماز پڑھ کے مصلےٰ اٹھاتے ہیں\nتعقیب کی دعا یئں مگر پڑھتے جاتے ہیں\nسجدے کو آستانۂ مولا پہ آتے ہیں\nدر پر رکھے جبینوں کو سب خوش خصال ہیں\nایک آسمان اور بہتر ہلال ہیں\n\nمثل قمر یہ عابد شب زندہ دار ہیں\nماندن مہر متقیٔ روزگار ہیں\nشکل فلک رکوع میں لیل و نہار ہیں\nمثل زمیں سجود میں یہ خاک سار ہیں\nسجدے سے ان کے خاک وظیفے میں رہتی ہے\nتسبیح ان کے ہاتھ میں تکبیر کہتی ہے\n\nدیکھو خشوع کو تو لرزتا ہے تن تمام\nپوچھو رجوع قلب تو دل ہے سوے امام\nکیا زبد ہے ریا سے بری ہیں یہ نیک نام\nجس کو نماز کہتے ہیں وہ یہ ہے والسلام\nروشن ہے ان کا اوج عبادت جہان پر\nسجادے ہیں زمیں پہ نماز آسمان پر\n\nہے دست بوس ایک کی شمشیر آب دار\nدر نجف کا سبحہ کسی کے گلے کا ہار\nکوئی خیال حور شہادت سے ہم کنار\nکوثر پہ آنکھ ایک جری کی پیالہ دار\nکہتے ہیں راہ حق میں شرف کی کمی نہیں\nاس راہ میں جو خاک نہ ہو آدمی نہیں\n\nسمجھے ہیں نامرادی ٔدنیا کو یہ مراد\nغم ان کے دل میں شاد ہے دل ان کا غم میں شاد\nہرعضو میں ہے دل کی طرح سے خدا کی یاد\nقرآن پڑھنا ختم ہے ان پر دم جہاد\nبازوے ٔجنگ مثل ترازو تلے ہوئے\nہیں زین پر کہ رحل پہ قرآں کھلے ہوئے\n\nلشکر میں ہے یہ اکبر و عباس کا وقار\nوہ انجمن میں شمع تو یہ باغ میں بہار\nآنکھوں میں وہ نگاہ تو سینوں میں یہ قرار\nوہ بازؤں میں زور یہ قبضے میں ذوالفقار\nان دونوں کی یہ فوج خدا میں مثال ہے\nدر نجف وہ ہے تو یہ حیدر کا لال ہے\n\nوہ چشم ہے پلک میں تو یہ دل ہے سینے میں\nحیدر وہ کعبے میں یہ پیمبر مدینے میں\nیوسف کنویں میں نوح ہے گویا سفینے میں\nآب بقا وہ چشمے میں یہ زر خزینے میں\nوہ آب موتیوں میں یہ اک گل ہزاروں میں\nخوشبو وہ پھولوں میں یہ تجلی ستاروں میں\n\nہر صبح مہر و ماہ کی تو کم ہے روشنی\nپر دیکھو ان کے عارضوں کی جلوہ افگنی\nخورشید وہ جری ہے تو ہے چاند یہ غنی\nاک سمت کو ہے دھوپ اور اک سمت چاندنی\nپائی نہ اس طرح کی ضیا ماہتاب میں\nدیکھی نہ آفتاب نے یہ دھوپ خواب میں\n\nوالشمس سے رسول خدا ہیں مراد اب\nاس شمس کی شعاع ہے اکبر کے رخ میں سب\nعباس کا ہے ماہ نبی ہاشمی لقب\nدودر ہیں ان کی مہر و عطا کے یہ روز و شب\nہر صبح و شام روے ٔخلائق پہ باز ہیں\nذرہ نواز وہ ہیں یہ اختر نواز ہیں\n\nعباس سے یہ کہتے ہیں اکبر کہ کیوں چچا\nکیا ہوگا گرد خیمہ بھی ہے لشکر جفا\nاماں کے پردے کا مجھے اندیشہ ہے بڑا\nباندھیں گے اپنا مورچہ ہم بھی پئے و غا\nخیمے سے فاصلہ نہ پدر سے جدائی ہو\nیہ طور ہو اگر تو بخوبی لڑائی ہو\n\nاماں نے کہہ دیا ہے کہ بخشوں گی میں نہ شیر\nاکبر تمہارے ہوتے لگا شاہ پر جو تیر\nحافظ رہوں گا باپ کا میں وقت دار و گیر\nلیکن غضب ہے اہل حرم ہوں اگر اسیر\nخیر اب تو دامن شہ خوش خو نہ چھوڑیں گے\nجو ہو سو ہو حسین کا پہلو نہ چھوڑیں گے\n\nعباس کہتے ہیں کہ فدا تم پہ ہو چچا\nزینب کے پالنے کی یہ غیرت ہے میں فدا\nوہ پوچھتے ہیں آپ کہیں ہے ارادہ کیا\nیہ ہاتھ منہ پہ پھیر کے کہتے ہیں دیکھنا\nجینے سے ہاتھ دھوتے ہیں مرد اپنی بات پر\nاپنا تو آج مورچہ ہوگا فرات پر\n\nکہتے ہیں جھوم جھوم کے زینب کے یادگار\nاس حملے میں کمند ہیں اپنے صفوں کے پار\nابن حسن کے حسن بیاں سے ہے آشکار\nارزق کا رزق برق مٹادوں تو ہو قرار\nدعوے ہیں آج حیدریوں کو بڑے بڑے\nچاہیں تو غرب و شرق کو لے لیں کھڑے کھڑے\n\nکیوں کر نہ شیر ہوں خلف شیر کبریا\nسیدانیوں کا دودھ ہے ان پیاسوں نے پیا\nدو دن سے گو نصیب میں پانی ہے نے غذا\nلیکن وہی ہے چہرے کی سرخی وہی ضیا\nسید ہر ایک حال میں خوش حال رہتے ہیں\nکھائیں نہ کھائیں شیروں کے منہ لال رہتے ہیں\n\nچہروں سے کیا ضیا و صفا آشکار ہے\nشہر حلب انہیں کا اک آئینہ دار ہے\nاک بندہ تار زلف کا ملک تتار ہے\nیہ باغ رخ بہشت کی فصل بہار ہے\nگلو گوں قدوں کے چہرے ہیں کس آب و تاب کے\nہیں پھول کے درخت میں پھل آفتاب کے\n\nابرو نے کچھ ہلال کا باقی رکھا ہے نام\nرخ نے کیا تمام مہ چاردہ کا کام\nکس رو سے ان کے رخ کا ہو روکش مہ تمام\nدو ہفتے وہ ہے اور یہ ہیں مہرباں مدام\nقدرت کے سب لکھے ہوئے یہ خط و خال ہیں\nپر نور چہرے مطلع حسن و جمال ہیں\n\nآئینہ روبروۓ جہاں ہے جو خوش نما\nوہ ان کا روشناس ہے بس اور وجہ کیا\nاب تک انہیں حجابوں کے دھوکے میں بارہا\nپھرتا ہے عکس آئینہ کے گھر میں جا بہ جا\nپر طاق دل سے آئینہ ہے یہ گرا ہوا\nجو آئینے کے عکس کا ہے منہ پھرا ہوا\n\nدنداں بہادروں کے کجا اور در کجا\nدو حرف در کے وہ بھی ہیں باہم جدا جدا\nدنداں ملے ہوئے ہیں جدائی نہیں ذرا\nپاس ادب سے دور ہے گر ان کو در کہا\nدنداں گہر ہیں مخزن پروردگار کے\nدل شرم سے چھدے ہیں در آب دار کے\n\nرخ چشمۂ حیات احبا کے واسطے\nخط لب کا ذوالفقار ہے اعدا کے واسطے\nفیض دہان پاک ہے دنیا کے واسطے\nیاں جاے دم زدن نہیں عیسیٰ کے واسطے\nدرج دہن کے دانتوں سے رتبے زیاد ہیں\nیہ وہ صدف ہیں جس کے گہر خانہ زاد ہیں\n\nپلکوں کے نیمچوں سے زبردست زیر ہیں\nیاں زندگی سے مردم خوں خوار شیر ہیں\nصید افگنی پہ چشم کی آہو دلیر ہیں\nآنسو نہیں پلک کے نیستاں میں شیر ہیں\nغیرت سے آب دیدہ ہر اک شہ سوار ہے\nتیغ اک نظر سناں مژہ ٔ آب دار ہے\n\nباندھے کمر جہاد پہ خود لیس ہے کماں\nغصے سے ایک پوست ہے بالاے استخواں\nاس قوس کی ہے قوس قزح دل سے مدح خواں\nنیزے سے نیزہ باز فلک طالب اماں\nاس نیزے سے مباحثے کی کس کو تاب ہے\nگویا زباں کی طرح سے حاضر جواب ہے\n\nڈھال ان کی ہے وہ بدر کی صورت دم جدال\nاس بدر سے تراشے ہیں تیغوں کے سو ہلال\nپر ہے جہاد میں یہ وہی بدر بے زوال\nحقا کہ حق پہ ہیں یہ قریشی ٔخوش خصال\nپس ان کے دوش پر یہ سپر کی دلیل ہے\nپشت و پناہ کعبہ رب الجلیل ہے\n\nناگاہ خیمہ گاہ سے شور بکا اٹھا\nسجادے سے نمازیٔ خیر النسا اٹھا\nاور سبز پردۂ در آل عبا اٹھا\nآواز آئی بانو کی وارث مرا اٹھا\nراضی سکینہ اپنی یتیمی پہ ہوگئیں\nپچھلے سے جاگتی رہیں اس وقت سوگئیں\n\nکلثوم صبر کر چکیں مظلوم بھائی کو\nزینب نے بھی لٹا دیا ماں کی کمائی کو\nبانو نے بھی قبول کیا بے ردائی کو\nاب کون رو کے ہائے شہہ کربلائی کو\nعابد نے کہہ دیا کہ رہ کر دگار میں\nہم تازیانے کھائیں گے بابا بخار میں\n\nخدام تازیٔ شہ والا کو در پہ لائے\nمولاۓ حلہ پوش کفن پہنے باہر آئے\nاور جسم سے رکاب نےدونوں قدم لگائے\nزینب پکاری ہائے حسین غریب ہائے\nمیکال روئے روح امیں نالہ کش ہوئے\nسامان موت پر ملک الموت غش ہوئے\n\nجنگاہ میں صفیں جو بندھیں فوج شام کی\nہر تیغ زن کو فکر ہوئی ننگ و نام کی\nخیمے کے در پہ آئی سواری امام کی\nمسند الٹ دی موت نے خیرالانام کی\nتاریک چشم اہل حرم میں جہاں ہوا\nزہرا کا چاند لے کے ستارے رواں ہوا\n\nگردوں نشیں سواریٔ شہ کا غبار تھا\nاک ایک ذرہ اس کا ثریا وقار تھا\nشہ مہر زیں تھے شیر زیاں راہ دار تھا\nزہرا کا آفتاب اسد پر سوار تھا\nحلقے کیے تھے سب رفقا اس جناب کے\nیا چودہویں کے چاند تھے گرد آفتاب کے\n\nقبروں کے واسطے جو خریدی تھی کچھ زمیں\nٹھہری وہاں سواریٔ شاہ فلک نشیں\nلشکر کو اپنے دیکھ کے بولے امام دیں\nلے کر بلا خدا نے دیے تجھ کو یہ مکیں\nسب شیر حق کے لال ہیں زہرا کے پیارے ہیں\nدر نجف ہیں عرش معلا کے تارے ہیں\n\nکہتے تھے کربلا سے یہ سلطان کربلا\nجومثل سیل خیل جفا قہر سے بڑھا\nصف باندھنے لگا پسر سعد بے حیا\nمختار اس نے میمنہ کا شیث کو کیا\nچن چن کے نیزہ دار بھی چالیس سود یے\nرہ وار گرم رو دیے ملبوس نو دیے\n\nازرق کو تیر زن دیے پنجاہ صد جدا\nکی اس نے زیب میسرہ ٔلشکر جفا\nاور دے کے دس ہزار جو انان پر دغا\nسونپا جناح حنظلہ کو اس نے برملا\nمل کر گلے نبی و علی رن میں روتے تھے\nاک سر کے کاٹنے کے یہ سامان ہوتے تھے\n\nصف باندھ کر پسر سے مخاطب ہوا عمر\nاکبر امام زادے ہیں تو ہے مرا جگر\nاپنا حشم دکھا انہیں پھر کر ادھر ادھر\nسرداروں کو پکارا کہ ہاں صاحب ہنر\nفوج خدا کے سامنے جاؤ رجز پڑھو\nگھوڑے اٹھاؤ نیزے ہلاؤ رجز پڑھو\n\nچلہ دکھایا حرملہ نے بڑھ کے تیر کا\nیاد آیا شہ کو دودھ اگلنا صغیر کا\nچمکا جو بھالا ہلنے میں ابن نمیر کا\nمرقد بلا نجف میں جناب امیر کا\nدل پکڑے آئے احمد مرسل مدینے سے\nلپٹا لیا حسین نے اکبر کو سینے سے\n\nچمکا کے تیغ شمر بڑھا فوج شام سے\nبولا ملا کے آنکھ سپاہ امام سے\nکس قدر بغض ہے اسے پیاسے کے نام سے\nنکلا ہی پڑتا ہے مرا خنجر نیام سے\nسادات پر نہ رحم کروں نے کرم کروں\nگر پانچ حلق ہوں تو برابر قلم کروں\n\nناگہ رواں ہوا پسر سعد کا پسر\nہم سن رفیق ویار جلو میں ادھر ادھر\nہاتھوں پہ خادم آگے لیے تیغ اور سپر\nاور اک غلام کھولے ہوئے سر پہ چتر زر\nیوں رد ہوا وہ اکبر ذی شاں کے سامنے\nفرعون جیسے موسیٔ عمراں کے سامنے\n\nمل کر حسینیوں نے کہا اے شہ امم\nاب کب تلک سکوت کہ رکتا ہے اپنا دم\nقرنا بجایا چاہتے ہیں بانیٔ ستم\nیاں صف کشی نہ مورچہ نے طلب نہ علم\nاب ضبط اے وزیر یداللہ قہر ہے\nشیروں کے منہ پہ چڑھتے ہیں روباہ قہر ہے\n\nشہ بولے کیا ارادہ کریں صف کشی کا ہم\nواں کثرت سپہ ہے علم ہیں کئی علم\nیاں دوست کیا عزیز بھی کم زندگی بھی کم\nمظلوم کھائیں گے مری مظلومی کی قسم\nہر سال اس مہینے میں سب خاک اڑائیں گے\nاس روز تعزیہ مرا مومن اٹھائیں گے\n\nآئی ندا یہ عرش سے اے حامل بلا\nاس سمت زر کے بندے ہیں تیری طرف خدا\nہاں جلد اب منگا علم فوج کبریا\nباندھے پرا کھڑے ہیں زیارت کو انبیا\nکس بیرق و نشاں نے بزرگی یہ پائی ہے\nتیرے علم کے سائے میں میری خدائی ہے\n\nعباس نام ور کو پکارے شہ امم\nہاں اے نشان شیر خدا لاؤ تو علم\nخاطر نشاں رکھو یہ نشاں دیں گے تم کو ہم\nعباس حکم شہ سے چلے جانب حرم\nپہنچے جو خیمۂ شہ عالی وقار میں\nدیکھا کھڑا ہوا ہے علم انتظار میں\n\nزینب نے دیکھ کر رخ عباس ذی حشم\nخود اپنے چھوٹے بھائی کو اٹھ کر دیا علم\nکی سات بار ناد علی بازؤں پہ دم\nسرکو جھکا کے چوم لیے شیر نے قدم\nطور آگیا پسند جو حق کے فدائی کا\nزینب نے سر لگا لیا سینے سے بھائی کا\n\nعباس لے کے رایت شاہ امم چلے\nکس شان سے علی کا اٹھاکر علم چلے\nگویا لیے قبالہ ٔباغ ارم چلے\nپٹکا علم کا تھام کے اہل حرم چلے\nزینب پکاری شاہ نجف یاد آتے ہیں\nکس شان سے نشاں لیے عباس جاتے ہیں\n\nیارب نشان والے کا نام و نشاں رہے\nیہ شمس بے زوال یہ گل بے خزاں رہے\nلشکر رہے حسین رہیں یہ نشاں رہے\nاس حامل علم پہ علی کی اماں رہے\nروشن رہے قمر شہ بدر و حنین کا\nوہ خاک میں ملے جو ہو دشمن حسین کا\n\nاس شان سے بڑھا علم اقدس ر سول\nسب انبیا جلو میں رواں بادل ملول\nکرو بیان عرش کا ہر اک قدم نزول\nسرننگے ساتھ حوروں کے زیر علم بتول\nاک سمت سبز پوش جواں روتے آتے تھے\nحامل پہ ہر قدم پہ فدا ہوتے آتے تھے\n\nعباس شہ کے پاس جو پہنچے علم لیے\nاقبال آیا پشت پہ جاہ و حشم لیے\nشانوں کے بوسے شہ نے بہ لطف و کرم لیے\nعباس نام دار نے جھک کر قدم لیے\nکی عرض مجھ کو سب میں نمودار کر دیا\nبے بال و پر کو جعفر طیار کر دیا\n\nناگاہ فضہ دوڑی ہوئی آئی ہے بے حواس\nکچھ شہ کے کان میں کہا اور پھر گئی اداس\nزہرا کے لال کو ہوئی تشویش بے قیاس\nاصحاب پوچھنے لگے آ آ کے پاس پاس\nنامحرموں میں کہنے کو کیا فضہ آئی تھی\nبولے پیام زینب بے کس کا لائی تھی\n\nعباس ہاتھ باندھ کے بولے کہ یا امام\nمیرے علم اٹھانے میں تو کچھ نہیں کلام\nعون و محمدان کے پسر ہیں میں ہوں غلام\nشہ نے کہا نہیں مجھے بھیجا ہے یہ پیام\nمالک ہو چاہو جیسا جو رتبہ ہو دیجیو\nسردار فوج کا مرے اکبر کو کیجیو\n\nسب نے کہا یہی ہے ہمارا بھی مدعا\nاکبر پہ سر نثار ہے جان آپ پر فدا\nبیٹا وہاں عمر کا ہے سالار فوج کا\nسردار ہوں ہمارے بھی ہم شکل مصطفی\nگو وہ پسر کو لاکھ جواہر پنہائے گا\nنقشہ کہاں سے احمد مرسل کا لائے گا\n\nپھر شہ نےکی درست صف لشکر خدا\nروئے زمیں ہوا صف لشکر سے خوش نما\nبینی سے حسن چہرے کا ہو جس طرح سوا\nروے زمیں فقط نظر آتا تھا دائما\nآراستہ جو رن میں صف فوج دیں ہوئی\nسیدھی نمود بینی روئے زمیں ہوئی\n\nاپنے حبیب خاص کو تو میمنہ دیا\nاور میسرہ زہیر کو شہ نے عطا کیا\nبخشی جناح قلب کو اطفال سے ضیا\nاکبر سے پوچھا کیوں جگر شیر کبریا\nاس لشکر قلیل کے مختار ہوتے ہو\nاک دوپہر کے واسطے سالار ہوتے ہو\n\nوہ بولے دوپہر کا کسے انتظار ہے\nگر آپ حکم دیں ابھی بندہ نثار ہے\nشہ نے کہا یقیں مجھے اے گل عذار ہے\nتیرا جوانا مرگ لقب آشکار ہے\nسالار اسے کیا جوشہ عرش اوج نے\nدکھلائی نذر ہاتھوں پہ سر رکھ کے فوج نے\n\nخیموں میں دختران علی ہول کھاتی تھیں\nپردہ اٹھا کے وارثوں کو دیکھ جاتی تھیں\nبہر دعا مصلا برابر بچھاتی تھیں\nگہ عالم ہر اس میں زیور بڑھاتی تھیں\nباجے کے غل سے بچوں کو دہشت جو ہوتی تھی\nاصغر کے دل پہ ہاتھ رکھے بانو روتی تھی\n\nزینب سر اپنا پیٹ کے کرتی تھی یہ کلام\nہے ہے بچے گی کاہے کو جان شہ انام\nفوجوں کا یاں سے تا در کوفہ ہے اژدہام\nقاصد بلاؤ نامہ لکھو اور یہ دو پیام\nگھیرا ہے سب نے فاطمہ کے نورعین کو\nآؤ مدینے والو بچاؤ حسین کو\n\nچلاتی تھیں یہ روکے کہ اماں دہائی ہے\nبی بی ترے قمر پہ گھٹا آج چھائی ہے\nظلم و جفا کے نرغے میں زینب کا بھائی ہے\nبابا بچائیے دم مشکل کشائی ہے\nگاہے پکارتی تھی رسالت مآب کو\nنانا گہن لگا ہے ترے آفتاب کو\n\nنازاں تھا صبر صبر شہ حق شناس پر\nقرباں تھا ہوش ابن علی کے حواس پر\nدریا کا زہرہ آب تھا سید کی پیاس پر\nمایوسی آس پاس تھی مرنے کی آس پر\nماں رن میں اور خیمے میں ماں جائی روتی تھی\nتنہائی پر حسین کی تنہائی روتی تھی\n\nاس وقت آئے شمر و عمر روبروے شاہ\nبولے سپاہ کیا ہوئی اے شام کم سپاہ\nکیوں ہم ہوئے تباہ کہ حضرت ہوئےتباہ\nاس لشکر قلیل پہ تھا افتخار واہ\nکیا رہ گیا کہ جس پہ یہ کچھ آن بان ہے\nبیعت کریں جو آپ تو اب بھی امان ہے\n\nلاحول پڑ ھ کے کہنے لگے سرور ہدا\nگو اب وہ فوج ہے نہ علم دار با وفا\nاس بے کسی میں بھی وہی ہے حوصلہ مرا\nبیعت کبھی کروں گا نہ میں لاکھ ہو جفا\nواللہ ہاتھ دو گا نہ فاسق کے ہات میں\nسرجائے گا پہ فرق نہ آئے گا بات میں\n\nظالم پکارا سر نہ کٹاؤ تو کیا کرو\nاب اختیار کیا جو طلب خوں بہا کرو\nتیغ دوسر کو میان سے لو سامنا کرو\nدو دن کی بھوک پیاس میں کیوںکرو دغا کرو\nہو بھی کلائیوں میں جو دست خدا کا زور\nکیوں کر دکھاؤ گے اسد کبریاں کا زور\n\nشہ بولے تم سمجھتے ہو ناچار ہے حسین\nسبط نبی ہے خلق کا مختار ہے حسین\nکرار ابن حیدر کرار ہے حسین\nقہرو جلال خالق غفار ہے حسین\nساحل پہ آ کے خون کا دریا بہاتا ہوں\nاک فاقہ کش کے دودھ کی طاقت دکھاتا ہوں\n\nآگے بڑھے جو شہ تو وہ مکارہٹ گئے\nاپنی جگہ پہ اہل ضلالت پلٹ گئے\nالٹی جو آستین دو عالم الٹ گئے\nرکھا جو ہاتھ قبضے پہ دل سب کے پھٹ گئے\nشورش ہوئی زمان پہ برنا و ٔپیر کی\nکھنچتی ہے ذوالفقار جناب امیر کی\n\nباہر نیام سے سر تیغ رواں ہوا\nیا آستین سے ید بیضا عیاں ہوا\nاژ در نکل کے غار سے شعلہ فشاں ہوا\nبے پردہ مہر خسرو کون و مکاں ہوا\nجوہر نہیں وہ تیغ شہ خوش خصال میں\nدیکھو چمک رہے ہیں ستارے ہلال میں\n\nکھنچتے ہی ذوالفقار نے حضرت کو دی صدا\nاے رہنما کشندۂ اصغر کو تو بتا\nہے کس پرے میں قاتل ہم شکل مصطفا\nدریا پہ ہوگا نوفل مکار و بے حیا\nکوئی حسینیوں کا کشندہ نہ چھوڑوں گی\nمیں شمر و ابن سعد کو زندہ نہ چھوڑوں گی\n\nدامن کو ذوالفقار سنبھالے ہوئے چلی\nسانچے میں پھل کے فتح کو ڈھالے ہوئے چلی\nجوہر کی انکھڑیوں کو نکالے ہوئے چلی\nنالوں کی زلف دوش پر ڈالے ہوئے چلی\nکھنچ کر چلی یہ چال نئی اشقیا کے ساتھ\nہفتاد ہاتھ بڑھ گئی ناز و دا ادا کے ساتھ\n\nسیفی چلی کہ سیف ید اللہ رواں ہوئی\nتیغ نگہ نیام فلک میں نہاں ہوئی\nصوفی کی طرح چلہ نشیں ہر کماں ہوئی\nہستی فنا ہوئی تو اماں بے اماں ہوئی\nزیر فلک تڑپنے سے اس شعلہ بار کے\nبجلی کے سر پہ رعد گرا چیخ مار کے\n\nآنکھیں زرہ کی تیغ پہ گرویدہ ہوگئیں\nمانندکاہ برچھیاں کاہیدہ ہوگئیں\nسہمیں کمانیں دوش پہ چسپیدہ ہوگئیں\nتیغیں سمٹ کے قبضوں میں پوشیدہ ہوگئیں\nحربے تو ہاتھ سے گرے ہاتھ آستین سے\nسر تن سے پاؤں رن سے رن اٹھا زمین سے\n\nوہ تیغ یوں چمک کے سوے راس چپ گئی\nکوڑا لگایا رعد نےبجلی تڑپ گئی\nبن کر سپاہ کے لیے لرزے کی تپ گئی\nدوزح کے شعلوں کی کفنی تن پہ نپ گئی\nدل ناریوں کا تپ کی حرارت سے جل گیا\nکچھ کچھ بخار تیغ کے دل کا نکل گیا\n\nناز وادا سے لیلی فتح و ظفر چلی\nمجنوں ہزاروں ہوگئے اس کے جدھر چلی\nفوج عدو میں موت کی بن کر خبر چلی\nمغرور خود سروں پہ جو تیغ دو سرچلی\nشفاف و صاف جنگ کا میدان کردیا\nتوڑے پرے صفوں کو پریشان کردیا\n\nیہ کلک تیغ فرد سپر پر جو چل گیا\nہوکر نڈھال ڈھال کا چہرہ بدل گیا\nفوراً سپر میں ڈوب کے باہر یہ پھل گیا\nگویا گہن میں آکے مہ نو نکل گیا\nتن غرب تھا نہ شرق تھا اہل جدال کا\nپر اس پہ تھا طلوع و غروب اس ہلال کا\n\nابرو کی شکل تھی خم شمشیر سے عیاں\nچلتے ہی رن میں بندھ گیا بھونچال کا سماں\nیوں جسم رعشہ دار سے روحیں ہوئیں رواں\nجس طرح بھاگیں زلزلے میں چھوڑ کر مکاں\nپیش نگاہ موت تھی تیغ دوسر نہ تھی\nکچھ تن بدن کی خیبریوں کو خبر نہ تھی\n\nآب دم حسام سے برسات ہوگئی\nایسی جھڑی لگی کہ گھٹا مات ہوگئی\nٹاپوں کی راہ کوچۂ ظلمات ہوگئی\nرنگ سپاہ شام اڑا رات ہوگئی\nتھا شور دھوپ دیکھنے کو سب ترستے ہیں\nچھایا ہے ابر تیغ علی سر برستے ہیں\n\nشہباز تیغ نے سپروں کو اڑا دیا\nچن چن کے افسروں کے سروں کو اڑا دیا\nخنجر قلم کیے تبروں کو اڑا دیا\nپسپا کیا سروں کو پروں کو اڑا دیا\nبرش کی یہ بندھی تھی ہوا رزم گاہ میں\nہر سمت خاک اڑاتی تھی جنگی سپاہ میں\n\nظلمت میں آنے جانے کو آب حیات تھی\nاور روشنی میں نیر اعظم کی ذات تھی\nاندھیر کرنے کو یہ قیامت کی رات تھی\nمنہ سے نکلنا اس کے لیے ایک بات تھی\nرن میں تو کافروں کے فقط حلق پر پھری\nپر شہروں میں زبانوں پہ مثل خبر پھری\n\nآخر پکارے سب کہ پیمبر کا واسطہ\nاے تیغ نوجوانی اکبر کا واسطہ\nاے تیغ روح فاتح خیبر کا واسطہ\nاے تیغ خوردسالی اصغر کا واسطہ\nکوفے کی یا کہ شام کے جانے کی راہ دے\nپہنچے سزا کو اپنی ہمیں تو پناہ دے\n\nقبضے کو چوم کر یہ پکارے شہ زمن\nبس ذوالفقار بس کہ لرزتے ہیں سب کے تن\nشمشیر نے جواب دیا ہو کے نعرہ زن\nپہلے ہی کہہ چکی ہوں یہ حضرت سے میں سخن\nلاشوں سے شام و کوفہ کے میداں بھروں گی میں\nدم لوں گی جب کہ شمر کو بے دم کروں گی میں\n\nاے ذوالفقار بس شدنی یہ نہیں ہے آہ\nتو اس کا سر نہ کاٹ سکے گی خدا گواہ\nشبیر کا گلا وہی کاٹے گا بے گناہ\nخنجر ہے اس کا اور پیمبر کی بوسہ گاہ\nجانے دے قتل شمر سے کیا تجھ کو کام ہے\nاے تیغ یہ حسین کے قاتل کا نام ہے\n\nروتی ہوئی وہ تیغ درآ ئی نیام میں\nاور شاہ بے بپاہ گھرے فوج شام میں\nآئے ملک فلک سے رکاب امام میں\nہر اک یہ نوحہ کرتا تھا اس اژدھام میں\nیا شیر کر دگار بچا لو حسین کو\nدامن میں اپنے آ کے چھپالو حسین کو\n\nخاک شفا سروں پہ اڑاتے چلے ملک\nخون جگر سے سبحۂ یاقوت تھی پلک\nپہنچے تھے تا فلک کہ لرزنے لگے فلک\nاور یہ فغاں زمیں سے گئی آسماں تلک\nفریاد گوشوارۂ عرش خدا گرا\nلو خاک پر ستارۂ خیر النسا گرا\n\nگرتے ہی خاک پر شہ دیں کو غش آگیا\nپھر بھی نہ کوئی پیاسے کو پانی پلا گیا\nخنجر لگا گیا کوئی نیرہ لگا گیا\nکھولی جو آنکھ شہ نے ہر اک تھر تھرا گیا\nدشمن بھی کہہ اٹھے یہ پیمبر کا پھول ہے\nآنکھوں میں صاف گردش چشم رسول ہے\n\nپر آہ آہ شمر نے بڑھ کر غضب کیا\nسینے پہ موزہ حلق پہ خنجر کو رکھ دیا\nآئے لحد کو چھوڑ کے محبوب کبریا\nدوڑے نجف سے روتے ہوئے شاہ اوصیا\nزہرا پکاری یہ دل مضطر کا چین ہے\nمیرا حسین ہے ارے میرا حسین ہے\n\nاے شمر مصطفی کی رسالت کا واسطہ\nاے شمر مرتضی کی امامت کا واسطہ\nاے شمر اہل بیت کی حرمت کا واسطہ\nاے شمر کبریا کی عدالت کا واسطہ\nصدقہ نبی کی روح کا حیدر کے صبر کا\nتو گل نہ کر چراغ پیمبر کی قبر کا\n\nچلائی در سے زینب بے کس بھی وا اخا\nاماں تو آئیں میں بھی نکل آؤں ننگے پا\nبولی سکینہ روک لوں میں خنجر جفا\nباقر پکار ا اروکے میں سوجان سے فدا\nشاید یہ تیغ تھام لے معصوم جان کر\nدادا ترے گلے پہ گلا رکھ دوں آن کر\n\nپھر مڑ کے زیر تیغ یہ بولے شہ امم\nزینب تجھے شہادت شبیر کی قسم\nبٹھلا مرے یتیموں کو خیمے میں ایک دم\nبٹتا ہے دھیان محو جمال خدا ہیں ہم\nبچوں کو لے کے دیوڑھی سے زینب تو ہٹ گئی\nیاں بوسہ گاہ احمد مختار کٹ گئی\n\nبرپا ہوا حرم میں قیامت کا شوروشین\nنہ سینوں میں قرار رہا نہ دلوں میں چین\nسن سن کے قتل گاہ میں خیرالنسا کے بین\nزینب پکاری بی بیو مارے گئے حسین\nتھا وقت عصر بھائی سے زینب جو چھٹ گئی\nمغرب تلک حسین کی سرکار لٹ گئی\n\nبس اے دبیرؔ دھوم ہے اس شوروشین کی\nلٹتی ہے بارگاہ شہ مشرقین کی\nزینب کے آگے جلتی تھی مسند حسین کی\nہلتی تھی قبر فاتح بدر و حنین کی\nخالق سے کہہ کہ بخش در مدعا مجھے\nحضرت کی کربلا کا مرقع دکھا مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B9_%D9%85%DB%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B6_%D8%AC%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "پیدل نہ مجھے روز شمار ان سے دے", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پیدل نہ مجھے روز شمار ان سے دے\nمرکب پہ لیے گنہ کا بار آنے دے\nمیں گھر سے لحد تک بھی گیا ہو کے سوار\nمحشر میں بھی تو مجھ کو سوار آنے دے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%92"} {"title": "پیرس کی مسجد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "مری نگاہ کمالِ ہُنر کو کیا دیکھے\nکہ حق سے یہ حرَمِ مغربی ہے بیگانہ\nحرم نہیں ہے، فرنگی کرشمہ بازوں نے\nتنِ حرم میں چھُپا دی ہے رُوحِ بُت خانہ\nیہ بُت کدہ اُنھی غارت گروں کی ہے تعمیر\nدمشق ہاتھ سے جن کے ہُوا ہے ویرانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF"} {"title": "پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیں", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیں\nہم تیری راہ محبت میں فنا ہوتے ہیں\n\nشرم کر شرم کہ اے جذبۂ تاثیر وفا\nتیرے ہاتھوں وہ پشیمان جفا ہوتے ہیں\n\nچھیڑتی ہے مجھے بیباکئ خواہش کیا کیا\nجب کبھی ہاتھ وہ پابند حنا ہوتے ہیں\n\nنہ اثر آہ میں کچھ ہے نہ دعا میں تاثیر\nتیر ہم جتنے چلاتے ہیں خطا ہوتے ہیں\n\nاہل دل سنتے ہیں اک ساز محبت کی نوا\nہم تری یاد میں جب نغمہ سرا ہوتے ہیں\n\nلذت درد نہ کیوں اہل ہوس پر ہو حرام\nکہ وہ کم بخت طلب گار دوا ہوتے ہیں\n\nکشور عشق میں دنیا سے نرالا ہے رواج\nکام جو بن نہ پڑیں یاں وہ روا ہوتے ہیں\n\nہیچ ہم سمجھے دو عالم کو تو حیرت کیا ہے\nرتبے عشاق کے اس سے بھی سوا ہوتے ہیں\n\nجسم ہوتا ہے جدا جان سے گویا حسرتؔ\nآسماں ان سے چھڑاتا ہے جدا ہوتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D9%88_%D9%85%D8%B3%D9%84%DA%A9_%D8%AA%D8%B3%D9%84%DB%8C%D9%85_%D9%88_%D8%B1%D8%B6%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پیری سے مرا نوع دگر حال ہوا ہے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیری سے مرا نوع دگر حال ہوا ہے\nوہ قد جو الف سا تھا سو اب دال ہوا ہے\n\nمقبول مرے قول سے قوال ہوا ہے\nصوفی کو غزل سن کے مری حال ہوا ہے\n\nان ہاتھوں کی دولت سے کڑا مال ہوا ہے\nان پاؤں سے آوازۂ خلخال ہوا ہے\n\nالمنۃ و للہ بہ صد منت ادھر سے\nانکار تھا جس شے کا اب اقبال ہوا ہے\n\nجب قتل کیا ہے کسی عاشق کو تو واں سے\nجلاد کی تلوار کو رومال ہوا ہے\n\nکس عقدے کو اس زلف کی کھولا نہیں ہم نے\nسلجھایا ہے الجھا ہوا جو بال ہوا ہے\n\nکس سر کو نہیں یار کی رفتار کا سودا\nمعراج وہ سمجھا ہے جو پامال ہوا ہے\n\nبیمار رہا برسوں میں عیسیٰ نفسوں میں\nپوچھا نہ کسی نے کبھی کیا حال ہوا ہے\n\nاے ابر کرم تو ہی سفید اس کو کرے گا\nبرسوں میں سیہ نامۂ اعمال ہوا ہے\n\nجو ناز کرے یار سزاوار ہے آتشؔ\nخوش رو و خوش اسلوب و خوش اقبال ہوا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D9%88%D8%B9_%D8%AF%DA%AF%D8%B1_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "پیری میں بھلا ڈھونڈھئے کیا بخت جواں کو", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیری میں بھلا ڈھونڈھئے کیا بخت جواں کو\nاب قطع محبت ہی ہوئی جسم سے جاں کو\n\nموقوف کر اس بزم میں یہ چرب زبانی\nاے شمع تو کٹوائے ہے کیوں اپنی زباں کو\n\nبے نام و نشانی ہی بڑا نام و نشاں ہے\nکیا نام و نشاں چاہئے بے نام و نشاں کو\n\nاس منزل ہستی میں ٹھہرتا نہیں کوئی\nکیا جانے کہ یہ قافلہ جاتا ہے کہاں کو\n\nانسان تو ہے صورت حق کعبے میں کیا ہے\nاے شیخ بھلا کیوں نہ کروں سجدے بتاں کو\n\nؔجوشش گل مضمون چمن طبع کا تیرے\nدیکھے نہ کبھی تا بہ ابد روئے خزاں کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%DA%BE%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88"} {"title": "پیری میں حواس و ہوش سب کھوتے ہیں", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پیری میں حواس و ہوش سب کھوتے ہیں\nکب عہد جوانی کے لیے روتے ہیں\nہشیار شباب میں تھے پیری میں ہیں غش\nشب بھر جاگے تھے صبح کو سوتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D9%88%D8%A7%D8%B3_%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پیری میں خاک زندگانی کا مزہ", "poet_page": "مصنف:جارج پیش شور", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پیری میں خاک زندگانی کا مزہ\nدانے کا ہے لطف اور نہ پانی کا مزہ\nوہ مے کشی و ذوق کہاں ہے اے شورؔ\nتا مرگ نہ بھولیں گے جوانی کا مزہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B2%DB%81"} {"title": "پیری میں دل شباب کا خواہاں کہاں رہا", "poet_page": "مصنف:وفا لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نغمۂ ہزار (1911)", "year": "1911", "text_ur": "پیری میں دل شباب کا خواہاں کہاں رہا\nافلاس میں عروج کا ارماں کہاں رہا\n\nسجدہ کیا بتوں کو تو ایماں کہاں رہا\nاے بندۂ خدا تو مسلماں کہاں رہا\n\nاعمال بد پہ اپنے جو رویا دم فنا\nمیرا سیاہ نامۂ عصیاں کہاں رہا\n\nمنصور نے کہا جو انا الحق ہوا نہ ضبط\nسب راز فاش ہو گیا پنہاں کہاں رہا\n\nرندوں کو پیٹھ پیچھے برا کہہ رہا ہے تو\nواعظ مجھے بتا تو مسلماں کہاں رہا\n\nرفتار یار دیکھ کے نادم ہوا کہاں\nکبک دری چمن میں خراماں کہاں رہا\n\nان سے ضیائے چہرۂ جاناں جو دیکھ لے\nتابندہ چرخ پر مہ تاباں کہاں رہا\n\nاللہ رے زور دست جنوں کا بہار میں\nسالم ہر ایک تار گریباں کہاں رہا\n\nفصل بہار میں تھا یہ میرے جنوں کا زور\nدامن کہاں رہا ہے گریباں کہاں رہا\n\nنکلی جو روح جسم سے بیگانہ ہو گئی\nتھا جو کہ اتحاد تن و جاں کہاں رہا\n\nسنتے ہی عیب اور ہنر اس کا دیکھ لے\nایسی صفت کا کوئی سخنداں کہاں رہا\n\nموسیٰ کو طور پر جو تجلی نظر پڑی\nوارفتگی میں ہوش کا ساماں کہاں رہا\n\nنظارہ روز کرتا تھا روئے نگار کا\nپوشیدہ میری آنکھ سے قرآں کہاں رہا\n\nسمجھے ہیں گھر خدا کا یہ بت خانہ وہ حرم\nپھر اتفاق کفر و مسلماں کہاں رہا\n\nکانٹوں میں پھنس کے ہو گیا صد چاک شکل گل\nسالم بہار میں مرا داماں کہاں رہا\n\nشمع سحر کی طرح سے بے نور ہو گیا\nپیری میں داغ عشق نمایاں کہاں رہا\n\nہو نکتہ سنجیوں سے تری شاد اے وفاؔ\nایسا جہاں میں کوئی سخنداں کہاں رہا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "پیری میں شباب کی نشانی نہ ملی", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پیری میں شباب کی نشانی نہ ملی\nافسوس متاع زندگانی نہ ملی\nجو کچھ کھویا تھا ڈھونڈ کر پھر پایا\nہر چیز ملی مگر جوانی نہ ملی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%DB%8C"} {"title": "پیری میں شوق حوصلہ فرسا نہیں رہا", "poet_page": "مصنف:عبد الغفور نساخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیری میں شوق حوصلہ فرسا نہیں رہا\nوہ دل نہیں رہا وہ زمانہ نہیں رہا\n\nکیا ذکر مہر اس کی نظر میں ہے دل وہ خوار\nشایان جور و ظلم دل آرا نہیں رہا\n\nجھگڑا مٹا دیا بت کافر نے دین کا\nاب کچھ خلاف مومن و ترسا نہیں رہا\n\nعشاق و بوالہوس میں نہیں کرتے وہ تمیز\nواں امتیاز نیک و بد اصلا نہیں رہا\n\nکیوں بہر سیر آنے لگے گل رخان دہر\nپیری میں دل سزائے تماشا نہیں رہا\n\nکہہ دو کہ قبر نعش بھی کی اس کی پائمال\nنام و نشان عاشق رسوا نہیں رہا\n\nاب تک یہاں ہے عجز و نیاز و وفا کی دھوم\nواں لطف و التفات و مدارا نہیں رہا\n\nکشتی بغیر دشت نوردی ہو کس طرح\nاشکوں سے بحر ہو گیا صحرا نہیں رہا\n\nمستی میں رات وہ نہ کھلے مجھ سے ہم نشیں\nکچھ اعتبار نشۂ صہبا نہیں رہا\n\nکیوں جائیں پھر کے کعبے سے نساخؔ دیر کو\nوہ سر نہیں رہا وہ سودا نہیں رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%AD%D9%88%D8%B5%D9%84%DB%81_%D9%81%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے\nاب صبح ہونے آئی ہے اک دم تو سوئیے\n\nرخسار اس کے ہائے رے جب دیکھتے ہیں ہم\nآتا ہے جی میں آنکھوں کو ان میں گڑویئے\n\nاخلاص دل سے چاہیے سجدہ نماز میں\nبے فائدہ ہے ورنہ جو یوں وقت کھوئیے\n\nکس طور آنسوؤں میں نہاتے ہیں غم کشاں\nاس آب گرم میں تو نہ انگلی ڈبوئیے\n\nمطلب کو تو پہنچتے نہیں اندھے کے سے طور\nہم مارتے پھرے ہیں یو نہیں ٹپے ٹویئے\n\nاب جان جسم خاکی سے تنگ آ گئی بہت\nکب تک اس ایک ٹوکری مٹی کو ڈھویئے\n\nآلودہ اس گلی کی جو ہوں خاک سے تو میرؔ\nآب حیات سے بھی نہ وے پاؤں دھوئیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "پیری کی سپیدی ہے کہ مرتا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پیری کی سپیدی ہے کہ مرتا ہوں میں\nجوں شمع دم صبح گزرتا ہوں میں\nجنت کی ہوا بھری ہے سینے میں بیاںؔ\nٹھنڈی ٹھنڈی جو سانس بھرتا ہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D9%BE%DB%8C%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پیسا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "نقش یاں جس کے میاں ہاتھ لگا پیسے کا\nاس نے تیار ہر اک ٹھاٹھ کیا پیسے کا\nگھر بھی پاکیزہ عمارت سے بنا پیسے کا\nکھانا آرام سے کھانے کو ملا پیسے کا\nکپڑا تن کا بھی ملا زیب فزا پیسے کا\nجب ہوا پیسے کا اے دوستو آ کر سنجوگ\nعشرتیں پاس ہوئیں دور ہوئے من کے روگ\nکھائے جب مال پوے دودھ دہی موہن بھوگ\nدل کو آنند ہوئے بھاگ گئے روگ اور دھوگ\nایسی خوبی ہے جہاں آنا ہوا پیسے کا\nساتھ اک دوست کے اک دن جو میں گلشن میں گیا\nواں کے سرو و سمن و لالہ و گل کو دیکھا\nپوچھا اس سے کہ یہ ہے باغ بتاؤ کس کا\nاس نے تب گل کی طرح ہنس دیا اور مجھ سے کہا\nمہرباں مجھ سے یہ تم پوچھا ہو کیا پیسے کا\nیہ تو کیا اور جو ہیں اس سے بڑے باغ و چمن\nہیں کھلے کیاریوں میں نرگس و نسرین و سمن\nحوض فوارے ہیں بنگلوں میں بھی پردے چلون\nجا بجا قمری و بلبل کی صدا شور افگن\nواں بھی دیکھا تو فقط گل ہے کھلا پیسے کا\nواں کوئی آیا لیے ایک مرصع پنجڑا\nلال دستار و دوپٹا بھی ہرا جوں طوطا\nاس میں اک بیٹھی وہ مینا کہ ہو بلبل بھی فدا\nمیں نے پوچھا یہ تمہارا ہے رہا وہ چپکا\nنکلی منقار سے مینا کے صدا پیسے کا\nواں سے نکلا تو مکاں اک نظر آیا ایسا\nدر و دیوار سے چمکے تھا پڑا آب طلا\nسیم چونے کی جگہ اس کی تھا اینٹوں میں لگا\nواہ وا کر کے کہا میں نے یہ ہوگا کس کا\nعقل نے جب مجھے چپکے سے کہا پیسے کا\nروٹھا عاشق سے جو معشوق کوئی ہٹ کا بھرا\nاور وہ منت سے کسی طور نہیں ہے منتا\nخوبیاں پیسے کی اے یارو کہوں میں کیا کیا\nدل اگر سنگ سے بھی اس کا زیادہ تھا کڑا\nموم سا ہو گیا جب نام سنا پیسے کا\nجس گھڑی ہوتی ہے اے دوستو پیسے کی نمود\nہر طرح ہوتی ہے خوش وقتئ و خوبی بہبود\nخوش دلی تازگی اور خرمی کرتی ہے درود\nجو خوشی چاہیئے ہوتی ہے وہیں آ موجود\nدیکھا یارو تو یہ ہے عیش و مزا پیسے کا\nپیسے والے نے اگر بیٹھ کے لوگوں میں کہا\nجیسا چاہوں تو مکاں ویسا ہی ڈالوں بنوا\nحرف تکرار کسی کی جو زباں پر آیا\nاس نے بنوا کے دیا جلدی سے ویسا ہی دکھا\nاس کا یہ کام ہے اے دوستو یا پیسے کا\nناچ اور راگ کی بھی خوب سی تیاری ہے\nحسن ہے ناز ہے خوبی ہے طرح داری ہے\nربط ہے پیار ہے اور دوستی ہے یاری ہے\nغور سے دیکھا تو سب عیش کی بسیاری ہے\nروپ جس وقت ہوا جلوہ نما پیسے کا\nدام میں دام کے یارو جو مرا دل ہے اسیر\nاس لیے ہوتی ہے یہ میری زباں سے تقریر\nجی میں خوش رہتا ہے اور دل بھی بہت عیش پذیر\nجس قدر ہو سکا میں نے کیا تحریر نظیرؔ\nوصف آگے میں لکھوں تا بہ کجا پیسے کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%B3%D8%A7"} {"title": "پیش عاشق چشم گریان و لب خنداں ہے ایک", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیش عاشق چشم گریان و لب خنداں ہے ایک\nجل گیا جو نخل اس کو برق اور باراں ہے ایک\n\nدیکھنے دیتا نہیں اس کو حجاب عشق ہائے\nہوں میں وہ محروم جس کو وصل اور ہجراں ہے ایک\n\nناتوانی سے ترے بیمار کے رخسار پر\nسیلیٔ دست ستم اور سایۂ مژگاں ہے ایک\n\nپیرہن میں یوں بدن ہے جس طرح سے تن میں روح\nچشم بد دور اب لطافت میں وہ جسم و جاں ہے ایک\n\nماہ سے تشبیہ پھر تجھ کو نہ کیوں کر دیجئے\nچاندنی اور سایہ تیرا اے مہ تاباں ہے ایک\n\nآپ سے بہتر کی آگے خود نمائی ہے زبوں\nروبروۓ مہر ماہ و ابر بے باراں ہے ایک\n\nچاہئے ہنس کر چھڑکنا اے لب جاناں نمک\nآتش غم سے کباب اور یہ دل سوزاں ہے ایک\n\nعاشقوں کے آگے مشرک اے بت یکتا ہوں میں\nگر کہوں میں حسن میں تو اور مہ کنعاں ہے ایک\n\nسیکڑوں طوطی زباں ہیں یاں اسیر دام غم\nخانۂ صیاد اور یہ گنبد گرداں ہے ایک\n\nایک ہی یہ نور ہے دل میں ہر اک کے جلوہ گر\nشیشے ہیں لاکھوں پری سب میں ولے پنہاں ہے ایک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%B4_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DA%86%D8%B4%D9%85_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D9%84%D8%A8_%D8%AE%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%8C%DA%A9"} {"title": "پیغام رہائی دیا ہر چند قضا نے", "poet_page": "مصنف:اقبال سہیل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیغام رہائی دیا ہر چند قضا نے\nدیکھا بھی نہ اس سمت اسیران وفا نے\n\nکہہ دوں گا جو کی پرسش اعمال خدا نے\nفرصت ہی نہ دی کشمکش بیم و رجا نے\n\nہے رشک ارم وادی پر خار محبت\nشاید اسے سینچا ہے کسی آبلہ پا نے\n\nیہ خفیہ نصیبی کہ ہوئے اور بھی غافل\nنغمے کا اثر ہم پہ کیا شور درا نے\n\nخاکستر دل میں تو نہ تھا ایک شرر بھی\nبیکار اسے برباد کیا موج صبا نے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85_%D8%B1%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%D9%86%DB%92"} {"title": "پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے", "poet_page": "مصنف:صفی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے\nمرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھے\n\nاس انقلاب کی بھی کوئی حد ہے دوستو\nنا آشنا سمجھتے ہیں اب آشنا مجھے\n\nکشتی پہنچ سکے گی یہ تا ساحل مراد\nدھوکا نہ دے خدا کے لیے نا خدا مجھے\n\nوہ طول عمر جس میں نہ ہو لطف زندگی\nمل جائے مثل خضر تو کیا فائدہ مجھے\n\nدوں تیرا ساتھ عمر رواں کس طریق سے\nآنکھیں دکھا رہے ہیں ترے نقش پا مجھے\n\nتخلیق کائنات کو سوچا کیا مگر\nکچھ ابتدا ملی نہ صفیؔ انتہا مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D9%88%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا\nنالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا\n\nاس آئینے کے مانند زنگار جس کو کھاوے\nکام اپنا اس کے غم میں دیدار تک نہ پہنچا\n\nجوں نقش پا ہے غربت حیران کار اس کی\nآوارہ ہو وطن سے جو یار تک نہ پہنچا\n\nلبریز شکوہ تھے ہم لیکن حضور تیرے\nکار شکایت اپنا گفتار تک نہ پہنچا\n\nلے چشم نم رسیدہ پانی چوانے کوئی\nوقت اخیر اس کے بیمار تک نہ پہنچا\n\nیہ بخت سبز دیکھو باغ زمانہ میں سے\nپژمردہ گل بھی اپنی دستار تک نہ پہنچا\n\nمستوری خوبروئی دونوں نہ جمع ہوویں\nخوبی کا کام کس کی اظہار تک نہ پہنچا\n\nیوسف سے لے کے تا گل پھر گل سے لے کے تا‌ شمع\nیہ حسن کس کو لے کر بازار تک نہ پہنچا\n\nافسوس میرؔ وے جو ہونے شہید آئے\nپھر کام ان کا اس کی تلوار تک نہ پہنچا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85_%D8%BA%D9%85_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%D9%84%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%A9_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7"} {"title": "پیغمبر حق کہ حق دکھایا اس کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "پیغمبر حق کہ حق دکھایا اس کا\nمعراج ہے کمترین پایہ اس کا\nسایہ جو اسے نہ تھا یہ باعث ہے گا\nکل حشر کو سب پہ ہوگا سایہ اس کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%AD%D9%82_%DA%A9%DB%81_%D8%AD%D9%82_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "پیمان وفائے یار ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیمان وفائے یار ہیں ہم\nیعنی ناپائیدار ہیں ہم\n\nخاک سر رہ گزار ہیں ہم\nپامال جفائے یار ہیں ہم\n\nنومیدی و یاس چار سو ہے\nاف کس کے امیدوار ہیں ہم\n\nکس دشمن جاں کی آرزو ہے\nجو موت کے خواست گار ہیں ہم\n\nتو ہم سے ہے بدگماں صد افسوس\nتیرے ہی تو جاں نثار ہیں ہم\n\nوحشتؔ خاموش جل رہے ہیں\nگویا شمع مزار ہیں ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "پیمانے میں وہ زہر نہیں گھول رہے تھے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیمانے میں وہ زہر نہیں گھول رہے تھے\nمیرے لئے میخانے کا در کھول رہے تھے\n\nمیں دیر میں چپ دور سے منہ دیکھ رہا تھا\nکس طرح برے بول یہ بت بول رہے تھے\n\nکرتے تھے وہ بیٹھے ہوئے ناخن سے جدا گوشت\nکہنے کو مرے دل کی گرہ کھول رہے تھے\n\nصیاد نے کب ناوک بیداد لگایا\nہم اڑنے کو جب شاخ سے پر تول رہے تھے\n\nاے آنکھ در اشک وہی نزع میں کام آئے\nبن کر ترے دامن میں جو انمول رہے تھے\n\nہم بیٹھے تھے کس طرح تہہ شاخ فسردہ\nگل ہنستے تھے مرغان چمن بول رہے تھے\n\nشوخی سے قیامت کو وہ پاسنگ بنا کر\nہم کتنے ہیں باتوں میں ہمیں تول رہے تھے\n\nتھے صبح کو وہ ساغر جم دست گدا میں\nآلودہ مے شب کو جو کشکول رہے تھے\n\nکچھ چپ سے ہیں اب حشر میں آنے سے کسی کے\nبڑھ بڑھ کے ریاضؔ آج بہت بول رہے تھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%B2%DB%81%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "پیمبر میں نہیں عاشق ہوں جانی", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیمبر میں نہیں عاشق ہوں جانی\nرہے موسی ہی سے یہ لن ترانی\n\nسلیماں ہم ہیں اے محبوب جانی\nسمجھتے ہیں تجھے بلقیس ثانی\n\nکھلا سودے میں ان زلفوں کے مر کر\nپریشاں خواب تھی یہ زندگانی\n\nیہ کیوں آتا ہے ان سے قد کشی کو\nگڑی جاتی ہے سرو بوستانی\n\nوہی دے گا کباب نرگسی بھی\nجو دیتا ہے شراب ارغوانی\n\nرنگا ہے عشق نے کس درد سر سے\nہمارا جامۂ تن زعفرانی\n\nمسافر کی طرح رہ خانہ بر دوش\nنہیں جائے اقامت دار فانی\n\nترے کوچہ کے مشتاقوں کے آگے\nجہنم ہے بہشت آسمانی\n\nوہ میکش ہوں دیا ہے قابلہ نے\nجسے غسل شراب ارغوانی\n\nیقیں ہے دیدۂ باریک بیں کو\nکرے عینک طلب یہ ناتوانی\n\nوہ خط ہے یادگار حسن رفتہ\nوہ سبزہ ہے گلستاں کی نشانی\n\nنکلتی منہ سے قاصد کے نہیں بات\nمگر لایا ہے پیغام زبانی\n\nیہ مشت خاک ہو مقبول درگاہ\nصبا کی چاہتا ہوں مہربانی\n\nلئے ہیں بوسۂ رخسارۂ صاف\nپیا ہے ہم نے آئینہ کا پانی\n\nسفیدی مو کی ہو کافور ہر چند\nکوئی مٹتا ہے یہ داغ جوانی\n\nنہ خوش ہو فربہی تن سے غافل\nسبک کرتی ہے مردے کو گرانی\n\nموے جو پیشتر مرنے سے وہ لوگ\nکفن سمجھے قبائے زندگانی\n\nجلاتی ہے دل آتشؔ طور کی طرح\nکسی پردہ نشیں کی لن ترانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے\nکندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D9%86%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92"} {"title": "پیو کے آنے کا وقت آیا ہے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیو کے آنے کا وقت آیا ہے\nجی کے جانے کا وقت آیا ہے\n\nنیم بسمل ہوں تیغ ابرو سیں\nتلملانے کا وقت آیا ہے\n\nشب خلوت میں اس پری رو کوں\nدکھ سنانے کا وقت آیا ہے\n\nملک ویران کوں مرے دل کے\nپھر بسانے کا وقت آیا ہے\n\nکب تلک ہجر کی اگن میں جلوں\nآ بجھانے کا وقت آیا ہے\n\nپیو کے غم میں انجھو بہاتا ہوں\nکیا بہانے کا وقت آیا ہے\n\nمثل پروانہ شمع رو پہ سراجؔ\nدل جلانے کا وقت آیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "پیوستہ رہ شجر سے، امیدِ بہار رکھ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ڈالی گئی جو فصلِ خزاں میں شَجر سے ٹُوٹ\nمُمکن نہیں ہری ہو سحابِ بہار سے\n\nہے لازوال عہدِ خزاں اُس کے واسطے\nکچھ واسطہ نہیں ہے اُسے برگ و بار سے\n\nہے تیرے گُلِستاں میں بھی فصلِ خزاں کا دَور\nخالی ہے جیبِ گُل زرِ کامل عیار سے\n\nجو نغمہ‌زن تھے خَلوتِ اوراق میں طیور\nرُخصت ہوئے ترے شجَرِ سایہ‌دار سے\n\nشاخِ بُریدہ سے سبق اندوز ہو کہ تُو\nناآشنا ہے قاعدۂ روزگار سے\n\nمِلّت کے ساتھ رابطۂ اُستوار رکھ\nپیوستہ رہ شجَر سے، امیدِ بہار رکھ!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%B1%DB%81_%D8%B4%D8%AC%D8%B1_%D8%B3%DB%92%D8%8C_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%D9%90_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE"} {"title": "پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوں", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوں\nمیں وہ نہیں کہ نگاہیں بچا بچا کے پیوں\n\nمٹا دئے ہیں سب احساس اف رے ذوق شراب\nسرور کم نہ ہو ترشی بھی گر ملا کے پیوں\n\nگنہ پہ تہمت بے لذتی نہ رکھ زاہد\nمزہ نہ آئے تو کیوں منہ بنا بنا کے پیوں\n\nیہ تشنگی شہادت کا اقتضا اب ہے\nکہ آب تیغ ستم زہر میں بجھا کے پیوں\n\nگلے میں لگتی ہے افراط شوق سے پھانسی\nپڑے نہ حلق میں پھندا تو ڈگڈگا کے پیوں\n\nہے ایک ساغر دل اور ہزار رنگ کی مے\nنہ ہو جو گھر میں تو بازار سے منگا کے پیوں\n\nبھروسہ کر کے میں اپنے رحیم پر واعظ\nمزہ تو جب ہے کہ تجھ کو جلا جلا کے پیوں\n\nطلب سے عار ہے اتنی کہ پیاس گر نہ بجھے\nجگر کے خون کو پانی بنا بنا کے پیوں\n\nنگاہ شوق مری روح کھینچ لیتی ہے\nنہیں وہ رند کہ ساغر سے منہ لگا کے پیوں\n\nیہ شے کہ جس سے نگاہوں کو رشک دل کو سرور\nچھپا چھپا کے انڈیلوں دکھا دکھا کے پیوں\n\nگناہ گار سہی چور میں نہیں زاہد\nہے یہ بھی کفر کہ کعبے سے منہ پھرا کے پیوں\n\nنہ رند تنگ نظر آرزوؔ نہ تنہا خور\nجو زہر بھی ہو میسر تو میں پلا کے پیوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D9%88%DA%BA"} {"title": "پیچ بھایا مجھ کو تجھ دستار کا", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیچ بھایا مجھ کو تجھ دستار کا\nبند ہے دل طرۂ زرتار کا\n\nجی پھنسا ہے جا کے اس زلفوں کے بیچ\nدل شہید اس نرگس بیمار کا\n\nپیچ میں ہوں تیرے ڈھیلے پیچ سوں\nمحو ہوں اس چیرۂ زرتار کا\n\nتجھ کو ہے ہم سے جدائی آرزو\nمیرے دل میں شوق ہے دیدار کا\n\nکیوں نہ باندھے دل کو فائزؔ زلف سوں\nشوق ہے کافر کے تیں زنار کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%DA%86_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%AF%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "پیچ فقرے پر کیا جاتا نہیں", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیچ فقرے پر کیا جاتا نہیں\nکوئی دھاگا دو بٹا جاتا نہیں\n\nبوسۂ لب غیر کو دیتے ہو تم\nمنہ مرا میٹھا کیا جاتا نہیں\n\nضعف نے یک دست توڑے پائے زیست\nنبض مردہ ہوں ہلا جاتا نہیں\n\nزلف سے سنبل کرے کیا ہم سری\nپیچ چوٹی کا کیا جاتا نہیں\n\nتیغ حسن یار سے مجروح ہے\nطوطے خط سے اڑا جاتا نہیں\n\nقبر کا طالب عبث ہے جسم زار\nچشم دشمن میں سما جاتا نہیں\n\nکیا کشیدہ صورت تصویر ہوں\nناتوانی سے کھنچا جاتا نہیں\n\nضعف سے پہنچیں گے کیوں کر آپ تک\nآپ سے باہر ہوا جاتا نہیں\n\nکھنچ سکے تصویر بیتابی میں کیا\nایک صورت پر رہا جاتا نہیں\n\nروح کو بھی بوسۂ لب کی ہے چاٹ\nمر گئے لیکن مرا جاتا نہیں\n\nمردے سے بد تر ہوں گو جیتا ہوں میں\nرنگ ہستی میں ملا جاتا نہیں\n\nرنگ کیا قد خمیدہ کا کھلے\nچھلے کے گل سے کھلا جاتا نہیں\n\nروز انگیا ہوتی ہے آراستہ\nکب نیا بنگلہ سجا جاتا نہیں\n\nپیچ میں آنے کو طاقت چاہئے\nتیرے دم پر بھی چڑھا جاتا نہیں\n\nعطر کھنچتا ہے ہماری خاک کا\nہاتھ ملنے کا مزا جاتا نہیں\n\nچٹکیاں میرے سراپے میں نہ لو\nجامۂ ہستی چنا جاتا نہیں\n\nکوئی کیا ہم کو بنائے گا منیرؔ\nایسے بگڑے ہیں بنا جاتا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%DA%86_%D9%81%D9%82%D8%B1%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نما", "poet_page": "مصنف:جارج پیش شور", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نما\nآیا نظر وہ پاس جو اپنے سے دور تھا\n\nاس ماہرو پہ آنکھ کسی کی نہ پڑ سکی\nجلوہ تھا طور کا کہ سراسر وہ نور تھا\n\nدیتے نہ دل جو تم کو تو کیوں بنتی جان پر\nکچھ آپ کی خطا نہ تھی اپنا قصور تھا\n\nذرہ کی طرح خاک میں پامال ہو گئے\nوہ جن کا آسماں پہ سر پر غرور تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%DA%A9_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D9%85%D8%A7"} {"title": "پیہم دیا پیالۂ مے برملا دیا", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "پیہم دیا پیالۂ مے برملا دیا\nساقی نے التفات کا دریا بہا دیا\n\nاس حیلہ جو نے وصل کی شب ہم سے روٹھ کر\nنیرنگ روزگار کا عالم دکھا دیا\n\nاللہ ری بہار کی رنگ آفرینیاں\nصحن چمن کو تختۂ جنت بنا دیا\n\nاب وہ ہجوم شوق کی سرمستیاں کہاں\nمایوسئ فراق نے دل ہی بجھا دیا\n\nحسرتؔ یہ وہ غزل ہے جسے سن کے سب کہیں\nمومنؔ سے اپنے رنگ کو تو نے ملا دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%D9%BE%DB%8C%DB%81%D9%85_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%84%DB%82_%D9%85%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D9%85%D9%84%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "چار بیٹیاں", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "حسین بیگ قندھاری ہمایوں کی فوج میں داخل ہوکر ہندوستان میں آیا، اور خاک دامن گیر نے اس کو قندھار جانے نہ دیا۔ اپنے دیس میں بھی وہ کھیتی باڑی کرتا تھا، اور یہاں آکر بھی اس نے ہتیار کھول ہل بیل لے لئے۔ رتن پور ضلع بلند شہر میں چار بیگھہ زمین مول لے کر اپنے پرانے دھندہ میں لگ گیا اور ربیع خریف دونوں فصلو ں میں کئی سو من اناج پیدا کر لیتا۔ نوجوان تھا، اس لئے گاؤں کی ایک عورت سے اس نے نکاح کر لیا، جس کا نام لطف النسا تھا۔لطف النساء کے پیٹ سے حسین بیگ کے گھر میں چار برس کے اندر چار لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ باپ ولایتی مغل، چاروں کی چاروں لڑکیاں قندھاری انارکی طرح سرخ رنگ اور خوبصورت ہوئیں۔ مغل نے بڑی کا نام شاہ بانو، دوسری کا جاہ بانو، تیسری کا نام شمشاد بانو، اور چوتھی کا سرو آزاد بانو رکھا۔ مگر ان لڑکیوں کی بدقسمتی دیکھئے۔ چوتھی لڑکی کا دودھ بھی چھٹنے نہ پایا تھا کہ حسین بیگ قولنج میں مبتلا ہوکر مر گیا، اور لطف النساء رانڈ ہو گئی، اور اسے لڑکیوں کا پالنا بھی دوبھر ہو گیا۔ زمین بک گئی او رلطف النساء اور اس کی بچیاں دانہ دانہ کو محتاج ہو گئیں۔ ایک بڑی مصیبت یہ تھی کہ لطف النساء جوع الکلب کی بیماری میں مبتلا تھی، جسے ہندی میں ہو کا کہتے ہیں۔ جتنا کھاتی، اتنی ہی بھوکی رہتی۔ کھاتے کھاتے تھک جاتی تو اپنے دل سے کہتی۔ دھیرا رہ چرا کھاؤں گی۔گاؤں کے رہنے والے اکثر بیٹیو ں کو منحوس سمجھتے تھے۔ خواہ ہندو تھے یا مسلمان۔ اس لئے بہت لوگ لطف النساء سے کہتے، لڑکی پرایا دھن کہلاتی ہے اور کنبہ اور قبیلہ اور گاؤں اور محلہ کی ناک کاٹتی ہے۔ اس کو تو جس دن جنم لے اسی دن چلتا کردو۔ یہ چاروں بڑی بھنڈپڑی ہیں۔ اپنے باپ کو کھاگئیں۔ نوجوان ہونے سے پہلے پہلے ایک ایک کو چپکے چپکے زہر دے کر مار ڈال۔ آج کل اندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔ ہمایوں جگ کا ٹ کر پردیس سے مارا دھاڑا آیا ہے۔ اسے ابھی اپنے تن بدن کا ہوش نہیں ہے۔ پرائے خون کی کیا چھان بین کرےگا اور اگر کرےگا تو ہوگا کیا۔ کنیاں کا مار دینا بڑا پُن ہے۔ سارا گاؤں ایک منہ ہوکر تھانہ دار سے کہہ دے گا، لڑکیاں دکھ بیماری میں مری ہیں۔لطف النساء لوگوں کے بہکائے سکھائے میں آ گئی۔ اس نے کئی بار چاہا کہ اپنی لڑکیوں کا کام تمام کردے۔ مگر جسے خدا رکھے اسے کون چکھے۔ اس گناہ کی اسے ہمت نہ ہوئی۔ اور لیت و لعل میں بڑی لڑکی چودہ برس کی ہو گئی۔ ان لڑکیوں کو بر بھی نہ ملتا تھا۔ کیونکہ لطف النساء اور مغل کو گاؤں والے کم ذات سمجھتے تھے۔ جب لڑکیاں لطف النساء کے گلے کو آ گئیں تو مرتا کیا نہ کرتا، اس نے لڑکیوں کو مار ڈالنے کی دل میں ٹھان لی۔ اور ایک دن صبح ہی ان چاروں کو لے کر بیر کھلانے کے بہانے سے جنگل کو گئی۔ اور اس دھیان میں پڑی کہ کسی کنوئیں یا تالاب میں چاروں کو ایک دم سے دھکیل دوں۔ وہ اس سڑک کو جو رتن پور ہوکر دلی کو گئی ہے، کاٹ کر ادھر جانا چاہتی تھی جو بیچ میں ایک مردانی پینس حائل ہو گئی، جس میں ایک امیر زادہ نوجوان خوبصورت سوار تھا۔ دس سوار پینس کے آگے۔ اور دس سوار ہتیار بند اس کے پیچھے تھے۔لطف النسا اور چاروں لڑکیاں پینس کے پاس پہنچ گئیں تھیں۔ اس لئے اس نوجوان نے ان سب کو اچھی طرح دیکھا اور خاص طور پر اس کی آنکھ شاہ بانو پر پڑی، جس کی رسیلی آنکھوں کی گردش نے بتایا کہ وہ وقت قریب آ لگا ہے کہ جوانی کے کنول پر ارمانوں کے بھونرے واری قربان ہونے لگیں۔ پالکی نشین نے بیتاب ہوکر دستک دی اور پینس زمین پر رکھ دی گئی۔ سوار مالک کا اشارہ پاکر دس قدم آگے بڑھ گئے۔پنیس والا سردار (لطف النساء سے مخاطب ہوکر) مائی تم کون ہو، او ریہ لڑکیاں تمہاری کون ہیں۔لطف النساء، دولہ، یہ بندی حسین بیگ قندھاری کی رانڈ ہے۔ یہ میری بیٹیاں حسین بیگ قندھاری کی بیٹیاں ہیں۔ جانہار مرگیا۔ میری مانگ کو آگ لگا گیا۔ اور چاروں کو یتیم کر گیا۔ اب گاؤں والے مجھ پر زور دیتے ہیں کہ ان چاروں کو مار ڈال۔ نہیں تو ہمارے گاؤں سے نکل جا۔ اس لئے ان کو لے کر اس واسطے نکلی ہوں کہ کسی تالاب یا کنوئیں میں ڈبو دوں۔ یہ کہہ کر لطف النساء زار زار رونے لگی۔سردار میں بھی قندھاری مغل ہوں۔ اور بادشاہ کے ساتھ دلی آیا ہوں۔ مرتضیٰ بیگ میرا نام ہے۔ بادشاہی کام بجا لاتا ہوں۔ لو یہ پانچ سو روپیہ ہیں۔ انہیں لے کر اپنے گھر جاؤ اور اطمینان سے رہو۔ تینوں لڑکیوں کو پالو پوسو اور چوتھی کو میں اپنے ساتھ لئے جاتا ہوں۔ تم جاننا کہ ایک کنوئیں میں ڈبو آئی۔ یہ کہہ کر مرتضیٰ بیگ نے پینس کے گبھہ کے نیچے سے تھیلی نکال پانچ سو روپیہ توری کے سے پھول جیسے گن لطف النساء کے حوالہ کئے اور پینس سے باہر آ، شاہ بانو کو پینس میں بٹھا، پینس کے کیواڑ بھیڑ دیے اور خود کو تل گھوڑے پر سوار ہو گیا اور چلتے چلتے لطف النساء سے کہتا گیا، جب تمہارا جی چاہے اپنی بیٹی سے ملنے کے لئے دہلی آ جانا۔ آغا مرتضیٰ بیگ مصاحب بادشاہ سلامت کی محل سرا پوچھ لینا۔ یہ لوگ چند منٹ میں لطف النساء کی نظر سے اوجھل ہو گئے اور لطف النساء روپیہ اور تینوں لڑکیوں کو لے کر رتن پور کو مڑی۔(۲)برس دن ہولیا ہے اور جاہ بانو چودہویں میں پڑی ہے۔ اس کی جوانی، اس کا اٹھان، چڑھتے چاند کے زور شور کو مات دیتا ہے۔ وہی رتن پور کی پکی سڑک ہے جو دلی کو گئی ہے اور وہی جگہ ہے، جہاں لطف النساء شاہ بانو کو لئے کھڑی تھی۔ آج وہ جاہ بانو کو بیر کھلانے کے بہانہ سے یہاں تک لائی ہے اور چھوٹی دونوں لڑکیاں بھی ساتھ ہیں، ان سب کے لانے کی وجہ وہی اس کی بدنیتی ہے کہ کنوئیں میں دھکا دے دے، جو ایک قافلہ سڑک سے گزرا اور قافلہ سالار جاہ بانو کو دیکھ کر لوٹ ہو گیا۔ لطف النساء نے قافلہ سالار کو وہی پھپٹر دلالے دکھائے جو مرتضی بیگ کو دکھائے تھے۔ اور تین سو روپے اس سے لے اور جاہ بانو کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے رتن پور چلی آئی۔ قافلہ سالارنے روانی کے وقت لطف النساء سے کہا، میا کبھی تمہارا دل اپنی لڑکی کے دیکھنے کو چاہے تو دلی آکر سوداگروں کے محلہ میں عبد الغفور سوداگر شیرازی کا گھر پوچھ لینا۔ میں مل جاؤں گا۔اور اسی طرح تیسرے برس لطف النسا نے شمشاد بانو کا سودا ایک بادشاہی باورچی سے دو سو روپیہ میں رتن پور کی سڑک پر کر لیا، جو دلی کا رہنے والا حسین بخش کہلاتا تھا۔ اور چوتھے سال میں سردار بانو سو روپیہ کے عوض عزت حسین نام بادشاہی گندہی کے حوالہ کی اور نچنت ہوکر رتن پور میں رہنے لگی اور گاؤں میں جو نعمتیں ملتی ہیں وہ مول لے کر کھاتی۔ مگر اس کا پیٹ نہ پہلے بھرا تھا نہ اب بھر سکتا تھا۔ یہاں تک کہ جو کچھ نقد پاس تھا، وہ سب چٹورپن میں اڑا دیا اور فاقوں کی نوبت آ گئی۔ ایک درزی سے برقعہ سلوا لیا اور لڑکیوں سے ملنے کے واسطے دلی چل دی۔ اور تیسرے دن شہر میں پہنچ گئی۔ ڈولی میں بیٹھ ڈولی بانوں کو مرتضی ٰ بیگ مصاحب کا پتہ بتا دیا اور وہ لطف النسا کو ٹھیک پتہ پر لے پہنچے۔دیوان خانہ، محل سرا، اور ہاتھی، گھوڑے دکھائی دیے۔ ڈولی کہاروں نے دیوان خانہ کے صحن میں رکھ کر ایک مہری سے، جو محل سرا میں جارہی تھی اندر اطلاع کروائی کی رتن پور سے سواریاں آئی ہیں۔ مرتضیٰ بیگ حویلی میں تھا۔ رتن پور کا نام سنتے ہی دروازہ پر آیا۔ ڈولی ڈیوڑھی پر رکھی گئی۔ شاہ بانو دوڑی آئی۔ ماں کو اتار کر حویلی میں لے گئی۔ دونوں مل کر روئیں دھوئیں۔ مرتضیٰ بیگ نے شاہ بانو سے کہا، ’’بیگم تم نواب وزیر کے ہاں اکیلی بیاہ میں جانے سے گھبراتی تھیں، ہماری تمہاری خوش قسمتی سے خدا نے اماں جان کو بھیج دیا۔ اب انہیں ساتھ لو، اور شام کو نواب وزیر کے ہاں چلی جاؤ۔‘‘لطف النساء بیٹی کو سچ مچ شاہ بانو بنا دیکھ کر پھولی نہ سمائی۔ سونے میں پیلی اور موتیوں میں سفید ہورہی تھی۔ لونڈیاں، خواصیں خدمت میں حاضر تھیں۔ مرتضیٰ بیگ مردانہ میں چلا گیا۔ شاہ بانو ماں کو ایک کمرہ میں لے گئی۔ لونڈیوں نے دسترخوان پر کھانا چن دیا اور لطف النسا کھانے میں مشغول ہوئی اور شاہ بانو نے الماری کھول کر شیشہ کا مرتبان نکالا اور اس میں سے آم کا مربہ نکال کر طشتری میں لطف النساء کے سامنے رکھا۔لطف النسا نے بہت رغبت سے کھایا۔ اور چپکے سے کہا، ’’دھیرا رہ چرا کھاؤں گی۔‘‘دن کے تین بجے لطف النساء کو لونڈیاں حمام میں لے گئیں، اور نہلا دھلا کرمناسب کپڑے پہنا لائیں۔ شاہ بانونے چار بجے تک بناؤ سنگار کیا۔ مغل مرتضیٰ بیگ نے باہر سے آکر ساس کو آداب کیا او رکہا دو پالکیاں ڈیوڑھی میں لگی ہوئی ہیں۔ بسم اللہ کر کے آپ دونوں صاحب سوار ہوجائیں۔ لطف النساء نے کہا، عمر دراز۔ بس اب گھڑی دو گھڑی میں سوار ہوئے جاتے ہیں اور اس کمرہ میں گئی، جس میں کھانا کھایا تھا اور بیٹی نے جو سفید دوشالہ اوڑھایا تھا، اس میں الماری سے مربہ کا مرتبان نکال، بغل میں مارا اور دو شالہ سے اس طرح چھپا لیا کہ کسی کو گمان بھی نہ ہوتا تھا کہ بغل میں کچھ ہے۔ دونوں ماں بیٹیاں پالکیوں میں اور نوکریں، لونڈیاں رتھ منجھولیوں میں سوار ہوکر نواب وزیر کی حویلی میں پہنچ گئیں۔بیاہ بڑی دھوم دھام کا تھا۔ زنانہ میں امیر، غریب پانچ چھ ہزار عورتوں کا ہنگامہ تھا۔ صدر دالان میں بیگمیں، امیر زادیوں کی محفل تھی۔ ڈومنیوں کا ناچ ہو رہا تھا۔ حسنیٰ ڈومنی کی بیس برس کی عمر، صورت بھی بہت دل ربا تھی۔ گانا بھی بہت دلکش تھا۔ نرت خوب کرتی تھی۔ محفل کو رجھا رہی تھی اور انعام پر انعام پارہی تھی۔ شاہ بانو اور لطف النساء گاؤ تکیہ سے لگی بیٹھی تھیں۔ سب گانا سننے میں محو تھے اور لطف النسا کا سیدھا ہاتھ دوشالہ کے نیچے مرتبان کے اندر پڑا ہوا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ دو پھانکیں آم کے مربہ کی ایک ساتھ نکال کر کھاؤں مگر مرتبان کا منہ چھوٹا تھا۔ اس لئے ایک پھانک بھی نہ نکلتی تھی اور لطف النساء دانت پیس کر رہ جاتی تھی۔ یہاں تک کہ رات ہوئی۔ دسترخوان چنا گیا۔ سب مہمانوں نے کھانا کھایا۔کھانے کے بعد سونے کا مناسب انتظام ہوا۔ حسب حیثیت چھپر کھٹ، مسہریاں اور پلنگ، چارپائیاں مہمانوں کوملیں اور سب سورہے۔ ڈومنیاں صحن چبوترہ پر جو فرش تھا، اس پر ڈالی گئیں۔ مگر نیند بری بلا ہے۔ ان غریبوں کو چاندنی پر پڑ کر خبر نہ رہی۔ ایک نہ سوئیں تو لطف النساء، وہ مربہ کھانے کی فکر میں تھیں۔ دو پھانکیں ایک ساتھ اب تک نہ نکلی تھیں۔ مگر موقع اب اچھا آ گیا تھا۔ رات کے تین بجے تھے۔ سب گہری نیند میں مبتلاتھے۔ یہ اپنے پلنگ پر سے اٹھیں۔ مرتبان ان کے ہاتھ میں تھا۔ صحن چبوترہ پر ایک میر فرش انہیں دکھائی دیا، جو چاندنی پر رکھا تھا۔ انہوں نے فرش پر بیٹھ کر مرتبان میر فرش پر مارا، اور مرتبان دو ٹکڑے ہو گیا۔ اور تمام مربہ چاندنی پر گر گیا۔یہ مربہ کی پھانکیں چن چن کر کھانے لگیں۔ مگر بی لطف النساء نے جسے پتھر کا میر فرش سمجھا تھا، وہ دراصل حسنیٰ ڈومنی کا سر تھا۔ شیشہ کے مرتبان کی سخت چوٹ سے وہ زخمی ہو گیا اور حسنیٰ ڈومنی بھیانک آواز سے چیخی۔ جسے سن کر سارا محل جاگ اٹھا۔ روشنی تیز کی گئی اور سب عورتوں نے دیکھا کہ حسنیٰ نامراد کے سر سے خون کے فوارے اڑ رہے ہیں اور مغل کی ساس کچھ اٹھا اٹھا کر کھارہی ہے۔ ڈومنیوں نے کہا کہ لوگو! یہ مغل کی ساس ڈائن ہے۔ حسنیٰ کا بھیجا کھا رہی ہے۔ وہ جب سے محفل میں آئی تھی، ہم دیکھتے تھے کہ وہ حسنیٰ کو گھورتی اور دانت پیستی تھی۔ دربان نے مردانہ میں نواب وزیر کو اورمرتضیٰ بیگ کو اس بات کی خبر دی۔ نواب وزیر نے جراح کو حسنیٰ کی مرہم پٹی کے لئے بلایا۔ اور مرتضیٰ بیگ شاہ بانو اور لطف النسا کو اسی وقت اپنے گھر لے آیا۔ صبح ہوتے ہی اس نے منجھولی میں بٹھا کر لطف النسا کو رتن پور چلتا کیا اور یہ کہہ دیا،بیک آمدن ربودی دل و دیں و جان و خسروچہ شود اگر بدیں ساں دوسہ بار خواہی آمدمیرے ہاں اب کبھی تشریف نہ لائیے گا۔ گھر بیٹھے وظیفہ پائیےگا۔(۳)کہار سواری اتراو لیجئے۔آواز کہاں کی سواری ہے۔کہار حضور رتن پور کی۔ یہ سننا تھا کہ جاہ بانو نے بیتاب ہوکر کہا، اماں جان آ گئیں، اور وہ ڈیوڑھی کی طرف آئی۔ لطف النسا کو ڈولی سے اتار کر لے گئی اور مل کر روئی دھوئی۔ دوپہر کے وقت سوداگر لطف النسا کا داماد بھی آیا، اور ساس کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ لطف النساء نے بیٹی کوبڑے عیش میں پایا۔ سوداگر کی حویلی، دولت اور تجارت کے سامان سے کھچا کھچ بھر رہی تھی۔ سوداگر نے جاہ بانو سے کہا، دیکھنا اماں جان کی دل و جان سے خدمت کرنا اور خاطر تواضع میں کچھ اٹھا نہ رکھنا۔ دو مہینے لطف النساء کے گھر خیر سے گزر گئے، جو ایک دن سوداگر نے باہر سے لاکر ایک مرتبان اپنی بیوی کو دے کر اس سے کہا کہ لو یہ گاجر کا حلوہ ہے۔ تم بھی کھانا اور اماں جان کو بھی کھلانا، مگر اس میں دوائیں بھی ہیں۔ ذرا گرمی کرتا ہے۔ احتیاط سے کھانا۔ لطف النسا نے دوپہر کے وقت دسترخوان پر وہ حلوا کھایا تو بہت بھایا۔ شرم کے مارے بیٹی سے اور مانگا تو نہیں مگر اپنے دل سے کہا، ’’دھیرا رہ چرا کھاؤں گی۔‘‘اتفاقاً وہ مرتبان گودام کے کمرہ میں رکھا گیا، جس میں سوداگری کا سامان بھرا پڑا تھا۔ اوربی لطف النسا کا پلنگ بھی اسی میں بچھا تھا۔ رات کو جویہ سوئیں تو بے کھٹکے مرتبان میں سے حلوہ نکال کر کھانا شروع کیا اور مرتبان خالی کر دیا۔ آدھی پر دو بجے انہیں پائخانہ کی حاجت ہوئی۔ انہوں نے کمرہ کا دروازہ کھول کر نکلنا چاہا مگر باہر سے کنڈی لگی ہوئی تھی۔ اور تقاضہ سخت تھا۔ شمع گل تھی۔ مگر کئی دن سے دیکھ رہی تھیں کہ طاق میں سوداگر کی مغلیہ ٹوپی رکھی ہے۔ وہ اندھیرے میں انہیں مل گئی اور انہوں نے اس سے طشت کا کام لیا۔ اب نجاست کے پھینکنے کی فکر ہوئی جو سامنے دیوار پر نظر پڑی اور تابدان میں سے چودھویں رات کی چاندنی آرہی تھی۔ بڑی خوش ہوئیں۔ اور اپنے پلنگ پر چڑھ کر انہوں نے نجاست سے بھری ٹوپی تابدان سے پرے پھینکنی چاہی، مگر جسے انہوں نے تابدان سمجھا تھا وہ تابدان کا عکس تھا، جو چاندنی میں دیوار پر پڑ رہا تھا۔تابدان دوسری طرف تھا۔ اس لئے ٹوپی نے دیوار سے ٹکر کھائی اور گندگی چھینٹ چھینٹ ہوکر دیوار پر اور چاروں طرف اڑی۔ الگنیوں پر دوشالوں کو، بڑی بی کے منہ کو، لحاف تو شک کو، اور گودام کی اکثر چیزوں کو ناپاک کر دیا۔ بڑی بی نے دن میں بارہا دیکھا تھا کہ گودام میں کسی عرق کے بھرے قرابہ اور شیشے رکھے ہیں۔ اس وقت اس یاد داشت نے کام دیا۔ ایک قرابہ کھول کر اس کے عرق سے اپنا منہ دھویا اور پھر دیواریں اور دوشالے، سونگھ سونگھ کر عرق سے پاک کئے۔ اس میں صبح ہو گئی۔ ایک لونڈی نے گودام کا دروازہ کھولا تو اس نے اپنے سینہ پر ہاتھ مار کر کہا ہے ہے بڑی بیوی کا منہ کالا۔ اس صدا کو سن کر جاہ بانو اور سوداگر دوڑا آیا۔ اور اس نے دیکھا کالی روشنائی کے قرابہ اور شیشہ خالی پڑے ہیں۔ بی لطف النساء اور دوشالہ اور تمام اسباب اور دیواریں گودام کی کالی ہورہی ہیں۔ اور تمام کمرہ بدبو سے سڑ رہا ہے۔ سوداگر نے اپنا یہ نقصان دیکھ کر سر پکڑ لیا۔ جاہ بانونے ماں کو کھڑ کھڑے گھر سے نکال کر کہا، ’’ناشدنی اب ہمارے ہاں کبھی نہ آنا۔‘‘ اور لطف النساء گھر پہنچ گئیں۔(۴)کچھ دن بعد لطف النسا کی مامتا نے پھر اسے ابھارا اور شمشاد بانو سے ملنے کے لئے بے چین ہوکر دلی پہنچی۔ بیٹی داماد بہت ادب سے پیش آئے۔ حسین بخش بادشاہی باورچی تھا اور نت نئے کھانے کھلاتا تھا۔ ایک دن بادشاہ نے حسین بخش سے فرمائش کی کہ شیرازی مزعفر تیار کر کے دن کے کل دس بجے دسترخوان پر لگاؤ۔ اور وہ مزعفر کا سامان بادشاہ کے ہاں سے گھر لے آیا۔ دیگیں اس کے پاس رہتی تھیں۔ مزعفر کی تیاری شروع کردی۔ حسین بخش اور شمشاد بانو نے دس بجے رات تک اسے لگاکر دیگ کو کمرہ میں رکھ لیا۔ تھوڑا سا خود بھی کھایا، تاکہ برائی بھلائی اس کی معلوم ہو جائے اور لطف النساء کو بھی چکھایا اور لطف النساء نے دل سے کہا، ’’دھیرا رہ چرا کھاؤں گی۔‘‘ اور جب شمشاد بانو اور حسین بخش سو رہے تو رات کو بارہ بجے ان کی ساس نے دیگ کھولی اور دیگ کے اوپر بیٹھ کر مزعفر کھانا شروع کیا۔یہاں تک کہ صبح کے چار بج گئے اور بڑی بی کو ایک اسہال ہوا جس کی سخت آواز سے حسین بخش اور شمشاد بانو کی آنکھ کھل گئی اور دونوں کے دونوں یہ کہتے ہوئے بھاگے، غضب ہوا۔ بلی نے بادشاہی کھانے کو بگاڑ دیا۔ پاس جاکر معلوم ہوا کہ بڑی بی ہیں اور دیگ پر بیٹھی ہیں۔ نجاست پیجامہ سے ٹپک ٹپک کر دیگ میں جا رہی ہے۔ باورچی نے یہ تماشا دیکھ اپنے سر میں دو ہتڑ مار کر کہا۔ ہائے اماں جان! آپ نے آج مجھے پھانسی پر چڑھایا۔ بیٹی نے ماں کو اسی حال میں گھر سے نکال کر کہا۔ وفان ہو غارتن۔ اب ہمارے گھر نہ آنا اور لطف النساء رتن پور پہنچ گئی۔(۵)چمیلی کی ٹہنی کی قلم بنائی۔ عرق گلاب اور کیوڑہ میں مشک عنبر کی سیاہی۔ کاغذ کے بدلے ساذج ہندی اور اوراق گل لئے۔ کیونکہ میر عزت حسین بادشاہی خوشبو ساز کے گھر کا حال لکھنا ہے۔ یعنی پورے برس دن بعد لطف النساء کو پھر دلی یاد آئی۔ اور اپنی چھوٹی بیٹی سرو آزاد بانو کے ہاں پہنچ گئی۔ اور اس کے پاس رہنے لگی۔ مگر دل کی کلی نہ کھلتی تھی۔ کیونکہ اچھی چیز کھانے کو نہ ملتی تھی۔ عطروں سے گھر بھرا پڑا تھا۔ مگر عطر سے پیٹ نہیں بھرتا ہے۔ جو ان کی خوش قسمتی سے میر صاحب نے پھولوں میں بسی بسائی دھوئی تلی اندر سے نکالی۔ کولہو میں سر شام ڈالی اور بیل بھی کولہو میں جوت کر کھڑا کردیا تاکہ رات کے ایک دو بجے سے اسے چلتا کردے اور خوشبو کا تیل نکالے۔ دھوئی تلی پر لطف النساء کا دل آ گیا۔ اور اس نے اپنے جی میں کہا، ’’دھیرا رہ چرا کھاؤں گی۔‘‘اور آدھی رات کو جب لڑکی داماد بے خبر سو گئے تو یہ کولھو کی کھپریل میں پہنچی، اور کولہو پر چڑھ دھوئی تلی کے پھنکے مارنے لگیں۔ کولہو کے بیل نے جو کولہو پر بڑی بی کو بیٹھا دیکھا تو وہ چل پڑا اور چرخ چوں ہونے لگی۔ دھوئی تلی کھاتے کھاتے بڑی بی کو بدہضمی ہوئی اور انہیں زور سے دست آیا۔ کولہو کی چرخ چوں سے عزت حسین اور سرو آزاد بانو کی آنکھیں کھل گئی اور انہوں نے سمجھا بیل بے ہنکائے چل پڑا۔ بادشاہی تیل خراب ہوا۔ مگر معلوم ہوا کہ بی لطف النساء نے یہ کرتوت کیا ہے۔ میر صاحب نے کف افسوس مل کر کہا، سرکاری بڑا نقصان ہوا۔ دو برس میں دھوئی تلی بنی تھی۔ کیا جواب دوں گااور کیا منہ دکھاؤں گا۔ لطف النساء کو بیٹی نے فوراً گھر سے نکال دیا، اور رتن پور پہنچ کر وہ پھر کبھی دلی نہ آئی۔یہ قصہ فرضی ہی سہی مگر عبرت کے لئے اصلی ہے۔ حدیث میں آیا ہے۔ ان کثرت الا کل شومٌ۔ بہت سا کھانا نحس ہے۔ خدا معدہ کی آگ سے بچائے۔چوگر سنہ میشوی سگ میشویسخت ناہنجار و بد سگ میشوی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "چار دن ہے یہ جوانی نہ بہت جوش میں آ", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چار دن ہے یہ جوانی نہ بہت جوش میں آ\nاے بت مست مے حسن ذرا ہوش میں آ\n\nدل یہ کہتا ہے جو وہ شمع عذار آ نکلے\nبن کے فانوس پکاروں مرے آغوش میں آ\n\nقدم یار کا آوازہ ہر اک گل پر ہے\nامن چاہے جو خزاں سے مری پاپوش میں آ\n\nمیرے شعروں کے جو مشتاق ہیں فرماتے ہیں\nدر مضموں صدف لب سے نکل گوش میں آ\n\nبے قرار ایسے ستارے در غلطاں ہو جائیں\nآپ جھمکی سے جو فرمائیں نیا گوش میں آ\n\nپیر ہوں بوجھ محبت کا اٹھاؤں کیوں کر\nپھر جوانی کو پکاروں کہ برو دوش میں آ\n\nبسر پیر مغاں روح تو ہی ہی اے روح\nجلد شیشے سے نکل جسم قدح نوش میں آ\n\nبیٹھ کر یار کے پہلو میں جو اٹھتا ہوں کبھی\nپاۓ خوابیدہ یہ کہتا ہے مجھے ہوش میں آ\n\nروز بد ایک نہ اک دن تجھے ننگیا لے گا\nاے زری پوش ہم احباب نمد پوش میں آ\n\nداغ ہو جائے گا یہ تاج زری کا اے شمع\nجی جلانے کو نہ خوبان زری پوش میں آ\n\nنعمت غیب سے کہتی ہے مہوس کی ہوا\nاڑ کے جوہر کی طرح دیگ سے سرپوش میں آ\n\nداغ ہیں ایک کے پر کالے بھڑک اٹھیں گے\nدیکھ او فصل بہاری نہ بہت جوش میں آ\n\nنقل محفل نظر آتا نہیں کوئی ہم میں\nشیخ مسجد سے نکل بزم نے و نوش میں آ\n\nوصل میں فصل نہ باقی رہے اے جان جہاں\nجیسے پہلو میں ہے دل یوں مرے آغوش میں آ\n\nہاتھ آئے گا مقرر وہ غزال وحشی\nبحرؔ چرتی ہے کہاں عقل ذرا ہوش میں آ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%86_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2"} {"title": "چار سو عالم امکاں میں اندھیرا دیکھا", "poet_page": "مصنف:اوج لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چار سو عالم امکاں میں اندھیرا دیکھا\nتو جدھر ہے اسی جانب کو اجالا دیکھا\n\nاس پہ قربان کہ جس نے تری آواز سنی\nصدقے اس آنکھ کے جس نے ترا جلوہ دیکھا\n\nخلوت قدس کی بے پردہ تجلی کو نہ پوچھ\nشوق نظارہ میں صرف آنکھ کا پردہ دیکھا\n\nآنکھ جب بند ہوئی کھل گیا راز قدرت\nشان معبود اندھیرے میں اجالا دیکھا\n\nپردہ اٹھ جائے گا جب روئے تجلی سے کلیم\nآپ خود منہ سے کہیں گے کہ ابھی کیا دیکھا\n\nروئے گل رنگ خزاں جوش جنوں فصل بہار\nچار دن کے لئے اس باغ میں کیا کیا دیکھا\n\nاوجؔ کج بختیٔ ارباب سخن سے کیا بحث\nدامن گل کبھی کانٹوں میں نہ الجھا دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "چار عنصر سے بنا ہے جسم پاک", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چار عنصر سے بنا ہے جسم پاک\nہیں یہ چاروں باد و آتش آب و خاک\n\nاز پے تکمیل تحقیقات علم\nہو گیا لازم خلی کا اشتراک\n\nعقل و دل ایزاد ہو کر ہو گئے\nشش جہات و ہفت منزل تابناک\n\nجب ارادت سے ہوا اس کا ظہور\nآ گیا پندار کا گردش میں چاک\n\nروح اعظم سے ہویدا ہو گئی\nوہ ارادت جس نے دم کی روح پاک\n\nروح اعظم کیا ہے وہ ذات قدیم\nہے زبان علم میں جو جان پاک\n\nوحدت و کثرت میں ساحرؔ ہے عیاں\nجان یا نور قدم یا ذات پاک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D9%86%D8%B5%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D9%BE%D8%A7%DA%A9"} {"title": "چاروں طرف ہے شور و فغاں وامصیبتا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "چاروں طرف ہے شور و فغاں وامصیبتا\nماتم کدہ ہوا ہے جہاں وامصیبتا\nمردوں کی جنس سینہ زناں وامصیبتا\nنسواں تمام مویہ کناں وامصیبتا\n\nکیا واردات ہے کہ عزا چاروں اور ہے\nکیا سانحہ ہوا ہے کہ عالم میں شور ہے\nکیسا ہے غم کہ سینہ زنی سب میں زور ہے\nناخن کے چہروں پر ہیں نشاں وامصیبتا\n\nدیکھے ہیں تار و تیرہ زمان و زمن کے تیں\nشہری گئے ہیں نعرہ زناں سارے بن کے تیں\nمردوں کے ہاتھ پہنچے ہیں جیب و کفن کے تیں\nزندہ ہوئے ہیں جامہ دراں وامصیبتا\n\nاندھیر شامیوں کے ستم سے بڑا ہوا\nسر ہے سناں پہ شاہ کا تن ہے پڑا ہوا\nخورشید ایک نیزے پر آکر کھڑا ہوا\nمحشر ہوئی جہاں میں عیاں وامصیبتا\n\nکیا دل میں حسرتیں لیے یاں سے گیا امام\nقاسم کا کام کیونکے ہوا دفعتہ تمام\nکس منھ سے کوئی اصغر ناداں کا لیوے نام\nاکبر گیا ہے کیسا جواں وامصیبتا\n\nناگاہ اس چمن میں چلی ایسی باد سخت\nجڑ پیڑ سے اکھاڑ دیے جن نے سب درخت\nنوباوگاں نے بار کیا ہے سفر کا رخت\nغنچہ ہوئے گلوں کے دہاں وامصیبتا\n\nآکر وطن سے ابن علی جان سے گیا\nاہل حرم پھرے ہیں بیاباں میں بے ردا\nعابد چلا ہے ہاتھ بندھے وا محمداؐ\nزینب ہے سر پہ خاک فشاں وامصیبتا\n\nبے چارے ہیں غریب ہیں بے خانماں ہیں سب\nبے وارث اور بیکس و بے مہرباں ہیں سب\nہر گام گرم نالہ و آہ و فغاں ہیں سب\nنے گھر نہ در نہ جا نہ مکاں وامصیبتا\n\nمرتے حسین کے وہ زمانہ نہیں رہا\nجو ہے سو مدعی ہے یگانہ نہیں رہا\nناموس احمدی کو ٹھکانا نہیں رہا\nفریاد لے کے جائیں کہاں وامصیبتا\n\nبے سر پڑے ہیں حدنظر تک تمام تن\nکھینچے ہیں خاک و خوں میں جوانوں کے پیرہن\nسب خارزار ریختن خوں سے ہے چمن\nکچھ اور ہوگیا ہے سماں وامصیبتا\n\nزہرا نے دودھ جس کے تئیں مہر سے دیا\nحیدر نے جس کو سر پہ رکھا جب تلک جیا\nآغوش میں نبیؐ نے جسے پرورش کیا\nسر اس کا اور نوک سناں وامصیبتا\n\nجس کے لیے سپہر رہا برسوں چرخ زن\nجس کے سبب نمود میں آیا زمیں زمن\nسو سر کہیں نواسے کا اس کے کہیں بدن\nپھر خاک میں ہوا نہ نہاں وامصیبتا\n\nبھائی بھتیجے آگئے تیغ ستم تلے\nخنجر رکھا گیا شہ مظلوم کے گلے\nہرچند سر ہے نیزے پہ خورشید سا ولے\nتاریک ہے زمین و زماں وامصیبتا\n\nبیٹا جو اک رہا ہے بہت ناتواں ہے وہ\nکرتا تو ہے نمود سی لیکن کہاں ہے وہ\nدبلے پنے سے جسم کے اپنے بجاں ہے وہ\nتس پر کہیں ہیں چل تو دواں وامصیبتا\n\nہاتھوں سے اس کے کچھ نہیں بن آتی کیا کرے\nناموس چھوڑ دشت میں کس طرح سے مرے\nجیتا رہے تو ضعف میں کیوں کر یہ دکھ بھرے\nگردن میں طوق ایک گراں وامصیبتا\n\nکہتے ہیں اس پہ باپ کا منھ سے نہ نام لے\nباندھے ہیں ہاتھ دل کے تئیں تانہ تھام لے\nکس طرح اس سلوک کا وہ انتقام لے\nاس کو نہ زور کچھ نہ تواں وامصیبتا\n\nدیکھے ہے ماں بہن کو تو روتا ہے زار زار\nرسی سے ہاتھ دونوں بندھے کف میں اک مہار\nگرد یتیمی منھ پہ جگر بے پدر فگار\nناچار ساتھ سب کے رواں وامصیبتا\n\nاس واقعے سے بانو پہ سختی کمال ہے\nیہ ظلم یہ ستم یہ خرابی حال ہے\nلب پر ہزار رنگ گلے لیک لال ہے\nگویا نہیں ہے منھ میں زباں وامصیبتا\n\nاس ایک کے لبوں پہ شکایت ہے خونچکاں\nاس دوسری کے نوحے سے پرشور ہے جہاں\nالقصہ بے حسین قیامت ہے درمیاں\nکیا کیا کریں ہیں بہنیں بیاں وامصیبتا\n\nبیٹی یہی کہے ہے کہ بابا کب آئے گا\nکب کا گیا ہے کب تئیں تشریف لائے گا\nشاید یہ حرف جان ہی کے ساتھ جائے گا\nکڑھنے سے اس کے ہے یہ عیاں وامصیبتا\n\nوحشی ہی فرط غم سے نہیں دشت میں اداس\nجاتے نہیں طیور بھی میرؔ آشیاں کے پاس\nکیا مرد و زن ہر ایک کے مفقود ہیں حواس\nماتم زدہ ہیں خرد و کلاں وامصیبتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D9%88%D8%A7%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA%D8%A7"} {"title": "چارہ ساز زخم دل وقت رفو رونے لگا", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چارہ ساز زخم دل وقت رفو رونے لگا\nجی بھر آیا دیدۂ سوزن لہو رونے لگا\n\nبس کہ تھی رونے کی عادت وصل میں بھی یار سے\nکہہ کے اپنا آپ حال آرزو رونے لگا\n\nخندۂ زخم جگر نے دل دکھایا اور بھی\nجس گھڑی ٹوٹا کوئی تار رفو رونے لگا\n\nصدمۂ بے رحمی ساقی نہ اٹھا بزم میں\nجی بھر آیا دیکھ کر خالی سبو رونے لگا\n\nتھا عدم میں کھینچ لایا آب و دانہ جب یہاں\nدیکھ کر بیچارگی سے چار سو رونے لگا\n\nآ گیا کعبہ میں جب محراب ابرو کا خیال\nبیٹھ کر تسلیمؔ خستہ قبلہ رو رونے لگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B1%D9%81%D9%88_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7"} {"title": "چارہ فرمائی دل رسم بتاں ہے تو سہی", "poet_page": "مصنف:نہال سیوہاروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چارہ فرمائی دل رسم بتاں ہے تو سہی\nابھی کچھ مہر و محبت کا نشاں ہے تو سہی\n\nنقش پا تیرا ہے گر تو نہیں اے حشر خرام\nاک نہ اک باعث آشوب جہاں ہے تو سہی\n\nآپ سے آپ تو پیدا نہیں یہ لالہ و گل\nکوئی آخر چمن آرائے جہاں ہے تو سہی\n\nیہ بھی کہتے ہیں کہ ہے عرض تمنا بے سود\nیہ بھی کہتے ہیں ترے منہ میں زباں ہے تو سہی\n\nجلوۂ دوست کو سمجھا نہیں یہ بات ہے اور\nجلوۂ دوست محیط دل و جاں ہے تو سہی\n\nچاہئے اور تجھے کیا پئے ہنگامۂ حسن\nتیرے قربان یہ سب کون و مکاں ہے تو سہی\n\nہم نے مانا کہ نہیں حالیؔ و مجروحؔ نہالؔ\nمیرؔ و غالبؔ کا یہ اعجاز بیاں ہے تو سہی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%B3%D9%85_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "چارہ نہیں کوئی جلتے رہنے کے سوا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "چارہ نہیں کوئی جلتے رہنے کے سوا\nسانچے میں فنا کے ڈھلتے رہنے کے سوا\nاے شمع تری حیات فانی کیا ہے\nجھونکا کھانے سنبھلتے رہنے کے سوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7"} {"title": "چارہ گر چپ ہیں کیوں علاج کریں", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چارہ گر چپ ہیں کیوں علاج کریں\nکچھ تو اپنے کئے کی لاج کر\n\nان سے کس نے کہا تھا وہ مجھ کو\nفرد ہستی میں اندراج کریں\n\nروز کھٹکا سا دل میں رہتا ہے\nدیکھیے کیا وہ حکم آج کریں\n\nفرصت زیست کم ہی کام بہت\nکل جو کرنا ہے ہم کو آج کریں\n\nچارہ گر بھی نہ کیا کریں گے یاد\nکر سکیں جس قدر علاج کریں\n\nسب اسی کی سی کہہ رہے ہیں عزیزؔ\nکس سے ہم عرض احتیاج کریں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%DA%86%D9%BE_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چارہ گرو", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "صنم کدوں میں چراغاں ہے مے کدوں کی طرف\nنگاہ پیر مغاں کی سبیل جاری ہے\nہر اک فسوں ہے، مگر بے اثر ہے چارہ گرو\n\nادھر بھی تشنہ لبی مستقل نہیں جاتی\nیہاں بھی نشۂ نا معتبر ہے چارہ گرو\n\nمیں ایسا جادۂ منزل گزشتہ ہوں جس کے\nہر ایک سنگ میں زخم سفر ہے چارہ گرو\n\nہر ایک دن کی طرح تھا وصال کا دن بھی\nجلو میں فرش، نہ قدموں میں آسمان لیے\nقریب آئے اور آ کر بدل گئے موسم\nگزر گئی شب ہجراں بغیر جان لیے\n\nکوئی سنے بھی تو کیا داستاں سناؤں اسے\nحدیث شام و سحر مختصر ہے چارہ گرو\nسوائے یہ کہ دل آشفتہ سر ہے چارہ گرو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%B1%D9%88"} {"title": "چال ایسی وہ شوخ چلتا ہے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چال ایسی وہ شوخ چلتا ہے\nحشر کا جس پہ دم نکلتا ہے\n\nاشک خوں کیوں نہ آنکھ سے ٹپکیں\nدل کا ارماں یوں ہی نکلتا ہے\n\nساقیا ایک جام کے چلتے\nکتنے پیاسوں کا کام چلتا ہے\n\nمیں کسی سرزمیں کا قصد کروں\nآسماں ساتھ ساتھ چلتا ہے\n\nہائے گردش وہ چشم ساقی کی\nمیں یہ سمجھا کہ جام چلتا ہے\n\nسرو ہے نام نخل الفت کا\nپھولتا ہے کبھی نہ پھلتا ہے\n\nکیا زمانہ بھی ہے اسیر ترا\nکہ اشارے پہ تیرے چلتا ہے\n\nتیر دل کا نہ کھینچ رہنے دے\nلطف صحبت ہے جی بہلتا ہے\n\nشعر رنگیں نہ سمجھو ان کو جلیلؔ\nطوطی فکر لعل اگلتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%84_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%86%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "چالاک ہیں سب کے سب بڑھتے جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "چالاک ہیں سب کے سب بڑھتے جاتے ہیں\nافلاک ترقی پہ چڑھتے جاتے ہیں\nمکتب بدلا کتاب بدلی لیکن\nہم ایک وہی سبق پڑھتے جاتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%84%D8%A7%DA%A9_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چاند", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "تم ندی پر جا کر دیکھو\nجب ندی میں نہائے چاند\nکیسی لگائی ڈبکی اس نے\nڈر ہے ڈوب نہ جائے چاند\nکرنوں کی اک سیڑھی لے کر\nچھم چھم اترا جائے چاند\nجب تم اسے پکڑنے جاؤ\nپانی میں چھپ جائے چاند\nاب پانی میں چپ بیٹھا ہے\nکیا کیا روپ دکھائے چاند\nچاہے جدھر کو جاؤ افسرؔ\nساتھ ہمارے جائے چاند", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"} {"title": "چاند (اے چاند! حُسن تیرا فطرت کی آبرو ہے)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اے چاند! حُسن تیرا فطرت کی آبرو ہے\nطوفِ حریمِ خاکی تیری قدیم خو ہے\nیہ داغ سا جو تیرے سینے میں ہے نمایاں\nعاشق ہے تُو کسی کا، یہ داغِ آرزو ہے؟\nمیں مضطرب زمیں پر، بے تاب تُو فلَک پر\nتُجھ کو بھی جُستجو ہے، مجھ کو بھی جُستجو ہے\nانساں ہے شمع جس کی، محفل وہی ہے تیری؟\nمیں جس طرف رواں ہوں، منزل وہی ہے تیری؟\n\nتُو ڈھُونڈتا ہے جس کو تاروں کی خامشی میں\nپوشیدہ ہے وہ شاید غوغائے زندگی میں\nاِستادہ سرْو میں ہے، سبزے میں سو رہا ہے\nبُلبل میں نغمہ زن ہے، خاموش ہے کلی میں\nآ! میں تجھے دِکھاؤں رُخسارِ روشن اس کا\nنہروں کے آئنے میں، شبنم کی آرسی میں\nصحرا و دشت و در میں، کُہسار میں وہی ہے\nانساں کے دل میں، تیرے رُخسار میں وہی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%28%D8%A7%DB%92_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%21_%D8%AD%D9%8F%D8%B3%D9%86_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DB%81%DB%92%29"} {"title": "چاند (میرے ویرانے سے کوسوں دُور ہے تیرا وطن)", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "میرے ویرانے سے کوسوں دُور ہے تیرا وطن\nہے مگر دریائے دل تیری کشش سے موجزن\n\nقصد کس محفل کا ہے؟ آتا ہے کس محفل سے تو؟\nزرد رُو شاید ہوا رنجِ رہِ منزل سے تو\n\nآفرنیش میں سراپا نور تُو، ظُلمت ہوں میں\nاس سیہ روزی پہ لیکن تیرا ہم قسمت ہوں میں\n\nآہ! مَیں جلتا ہوں سوزِ اشتیاقِ دید سے\nتو سراپا سوز داغِ منّتِ خورشید سے\n\nایک حلقے پر اگر قائم تری رفتار ہے\nمیری گردش بھی مثالِ گردشِ پَرکار ہے\n\nزندگی کی رہ میں سرگرداں ہے تُو، حیراں ہوں مَیں\nتُو فروزاں محفلِ ہستی میں ہے، سوزاں ہوں مَیں\n\nمَیں رہِ منزل میں ہوں، تُو بھی رہِ منزل میں ہے\nتیری محفل میں جو خاموشی ہے، میرے دل میں ہے\n\nتُو طلب خُو ہے تو میرا بھی یہی دستور ہے\nچاندنی ہے نور تیرا، عشق میرا نور ہے\n\nانجمن ہے ایک میری بھی جہاں رہتا ہوں میں\nبزم میں اپنی اگر یکتا ہے تُو، تنہا ہوں مَیں\n\nمہرِ کا پرتَو ترے حق میں ہے پیغامِ اجل\nمحو کر دیتا ہے مجھ کو جلوۂ حُسنِ ازل\n\nپھر بھی اے ماہِ مبیں! مَیں اور ہوں تُو اور ہے\nدرد جس پہلو میں اُٹھتا ہو، وہ پہلو اور ہے\n\nگرچہ مَیں ظلمت سراپا ہوں، سراپا نور تو\nسینکڑوں منزل ہے ذوقِ آگہی سے دُور تو\n\nجو مری ہستی کا مقصد ہے، مجھے معلوم ہے\nیہ چمک وہ ہے، جبیں جس سے تری محروم ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%28%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%8F%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%88%D8%B7%D9%86%29"} {"title": "چاند آج کی رات نہیں نکلا", "poet_page": "مصنف:تصدق حسین خالد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "چاند آج کی رات نہیں نکلا\nوہ اپنے لحافوں کے اندر چہرے کو چھپائے بیٹھا ہے\nوہ آج کی رات نہ نکلے گا\nیہ رات بلا کی کالی رات\nتارے اسے جا کے بلائیں گے\nصحرا اسے آوازیں دے گا\nبحر اور پہاڑ پکاریں گے\nلیکن اس نیند کے ماتے پر کچھ ایسا نیند کا جادو ہے\nوہ آج کی رات نہ نکلے گا\nیہ رات بلا کی کالی رات\nمغرب کی ہوائیں چیخیں گی بحر اپنا راگ الاپے گا\nسائیں سائیں\nتاریکی میں چپکے چپکے سنسان بھیانک ریتے پر\nبڑھتا بڑھتا ہی جائے گا\nموجوں کی مسلسل یورش میں\nوہ گیت برابر گاتے ہوئے\nجو کوئی نہیں اب تک سمجھا\nسبزے میں ہوئی کچھ جنبش سی\nوہ کانپا\nآہیں بھرنے لگا\nچاند آج کی رات نہیں نکلا\n\nبھیڑیں سر نیچے ڈالے ہوئے\nچپ چاپ آنکھوں کو بند کئے\nمیداں کی اداس خموشی میں فطرت کی کھلی چھت کے نیچے\nکیوں سہمی سہمی پھرتی ہیں\nاور باہم سمٹی جاتی ہیں\nچاند آج کی رات نہیں نکلا\nچاند آج کی رات نہ نکلے گا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "چاند اور تارے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ڈرتے ڈرتے دمِ سحر سے\nتارے کہنے لگے قمر سے\nنظّارے رہے وہی فلک پر\nہم تھک بھی گئے چمک چمک کر\nکام اپنا ہے صبح و شام چلنا\nچلنا، چلنا، مدام چلنا\nبے تاب ہے اس جہاں کی ہر شے\nکہتے ہیں جسے سکُوں، نہیں ہے\nرہتے ہیں ستم کشِ سفر سب\nتارے، انساں، شجر، حجر سب\nہوگا کبھی ختم یہ سفر کیا\nمنزل کبھی آئے گی نظر کیا\n\nکہنے لگا چاند، ہم نشینو\nاے مزرعِ شب کے خوشہ چینو!\nجُنبش سے ہے زندگی جہاں کی\nیہ رسم قدیم ہے یہاں کی\nہے دوڑتا اشہبِ زمانہ\nکھا کھا کے طلب کا تازیانہ\nاس رہ میں مقام بے محل ہے\nپوشیدہ قرار میں اجل ہے\nچلنے والے نِکل گئے ہیں\nجو ٹھہرے ذرا، کُچل گئے ہیں\nانجام ہے اس خرام کا حُسن\nآغاز ہے عشق، انتہا حُسن", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "چاند اور سورج", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "ابر سیہ کی فرسودہ وہ چادر\nتاریک رکھتی کب تک یہ منظر\nطلعت پہ ظلمت کیا غالب آتی\nکھلتے نہ کب تک فطرت کے جوہر\nدامن گھٹا کا خود چاک کرکے\nدیکھو وہ نکلا ماہ منور\nیہ خاص مظہر مہر مبیں کا\nکتنا حسیں ہے اللہ اکبر\nجو روپ اس کا وہ روپ اس کا\nاتنا مشابہ چہرہ ہے کس کا\n\nمظہر جلالی مظہر جمالی\nدونوں کی صورت ہے بھولی بھالی\nدونوں سبک رواں کی روش سے\nظاہر نہیں ہے آشفتہ حالی\nتابندہ ان کے فیض اثر سے\nبزم خیالی بزم مثالی\nدن اس سے تاباں رات اس سے روشن\nزرکار سند کب دیکھی خالی\nنظریں ہیں ان پر حسن اتم کی\nجلووں سے اس کے شان ان کی چمکی\n\nخوبی سے کوئی کب ہے معرا\nقدرت کا شاہد ہے ذرہ ذرہ\nلیکن ہے ان کی شان اور ہی کچھ\nارض و سما کو ہے ان پہ غرہ\nآئے گہن میں بھی یہ تو کیا غم\nذات ان کی ظلمت سے ہے مبرا\nہیں میرے روز و شب ان سے دل کش\nہوتا ہوں ان سے خوش روزمرہ\nکہتی ہے عشرت میری نظر کی\nلے لو بلائیں شمس و قمر کی\n\nخوش کن جب ان کا جاہ و حشم ہو\nذوق نظر پھر کیوں میرا کم ہو\nبالغ نظر ہوں اس سے نہ کیوں خوش\nکل نوریوں کی ضو جس میں ضم ہو\nہوں دیدہ ور کیوں اس سے نہ شاداں\nتاروں کا باقی جس سے بھرم ہو\nان کی نمود ظلمت ربا پر\nپرتو فگن جب نور قدم ہو\nہو چاند مدھم یا ماند سورج\nچمکیں گے یوں ہی یہ چاند سورج", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"} {"title": "چاند سا چہرہ جو اس کا آشکارا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاند سا چہرہ جو اس کا آشکارا ہو گیا\nتن پہ ہر قطرہ پسینہ کا شرارا ہو گیا\n\nچھپ سکا دم بھر نہ راز دل فراق یار میں\nوہ نہاں جس دم ہوا سب آشکارا ہو گیا\n\nجس کو دیکھا چشم وحدت سے وہی معشوق ہے\nپڑ گئی جس پر نظر اس کا نظارا ہو گیا\n\nہم کناری کی ہوس اے گوہر یکتا یہ ہے\nآب ہو کر غم سے دل دریا ہمارا ہو گیا\n\nخلق میں گرد یتیمی سے گہر کی قدر ہے\nخاکساری سے فزوں رتبہ ہمارا ہو گیا\n\nدل میں ہے اے برقؔ اس بت کے در دنداں کی یاد\nیہ گہر عرش بریں کا گوشوارہ ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%D8%B3%D8%A7_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ\nطرفہ نکالا آپ نے جوبن ماشاء اللہ ماشاء اللہ\n\nگل رخ نازک زلف ہے سنبل آنکھ ہے نرگس سیب زنخداں\nحسن سے تم ہو غیرت گلشن ماشاء اللہ ماشاء اللہ\n\nساقیٔ بزم روز ازل نے بادۂ حسن بھرا ہے اس میں\nآنکھیں ہیں ساغر شیشہ ہے گردن ماشاء اللہ ماشاء اللہ\n\nقہر غضب ظاہر کی رکاوٹ آفت جاں در پردہ لگاوٹ\nچاہ کی تیور پیار کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ\n\nغمزہ اچکا عشوہ ہے ڈاکو قہر ادائیں سحر ہیں باتیں\nچور نگاہیں ناز ہے رہزن ماشاء اللہ ماشاء اللہ\n\nنور کا تن ہے نور کے کپڑے اس پر کیا زیور کی چمک ہے\nچھلے کنگن اکے جوشن ماشاء اللہ ماشاء اللہ\n\nجمع کیا ضدین کو تم نے سختی ایسی نرمی ایسی\nموم بدن ہے دل ہے آہن ماشاء اللہ ماشاء اللہ\n\nواہ امیرؔ ایسا ہو کہنا شعر ہیں یا معشوق کا گہنہ\nصاف ہے بندش مضموں روشن ماشاء اللہ ماشاء اللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%D8%B3%D8%A7_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%81_%D9%86%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D8%AA%D9%88%D9%86_%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%A1_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%A1_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "چاند ستاروں سے کیا پوچھوں کب دن میرے پھرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاند ستاروں سے کیا پوچھوں کب دن میرے پھرتے ہیں\nوہ تو بچارے خود ہیں بھکاری ڈیرے ڈیرے پھرتے ہیں\n\nجن گلیوں میں ہم نے سکھ کی سیج پہ راتیں کاٹی تھیں\nان گلیوں میں بیاکل ہو کر سانجھ سویرے پھرتے ہیں\n\nروپ سروپ کی جوت جگانا اس نگری میں جوکھم ہے\nچاروں کھونٹ بگولے بن کر گھور اندھیرے پھرتے ہیں\n\nجن کے شیام برن سائے میں میرا من سستایا تھا\nاب تک آنکھوں کے آگے وہ بال گھنیرے پھرتے ہیں\n\nکوئی ہمیں بھی یہ سمجھا دو ان پر دل کیوں ریجھ گیا\nدیکھی چتون بانکی چھب والے بہتیرے پھرتے ہیں\n\nاک دن اس نے نین ملا کے شرما کے مکھ موڑا تھا\nتب سے سندر سندر سپنے من کو گھیرے پھرتے ہیں\n\nاس نگری کے باغ اور من کی یارو لیلیٰ نیاری ہے\nپنچھی اپنے سر پہ اٹھا کر اپنے بسیرے پھرتے ہیں\n\nلوگ تو دامن سی لیتے ہیں جیسے ہو جی لیتے ہیں\nعابدؔ ہم دیوانے ہیں جو بال بکھیرے پھرتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%AF%D9%86_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں\nلیکن میں آزاد ہوں ساقی چھوٹے سے پیمانے میں\n\nعمر ہے فانی عمر ہے باقی اس کی کچھ پروا ہی نہیں\nتو یہ کہہ دے وقت لگے گا کتنا آنے جانے میں\n\nتجھ سے دوری دوری کب تھی پاس اور دور تو دھوکا ہیں\nفرق نہیں انمول رتن کو کھو کر پھر سے پانے میں\n\nدو پل کی تھی اندھی جوانی نادانی کی بھر پایا\nعمر بھلا کیوں بیتے ساری رو رو کر پچھتانے میں\n\nپہلے تیرا دیوانہ تھا اب ہے اپنا دیوانہ\nپاگل پن ہے ویسا ہی کچھ فرق نہیں دیوانے میں\n\nخوشیاں آئیں اچھا آئیں مجھ کو کیا احساس نہیں\nسدھ بدھ ساری بھول گیا ہوں دکھ کے گیت سنانے میں\n\nاپنی بیتی کیسے سنائیں مد مستی کی باتیں ہیں\nمیراجیؔ کا جیون بیتا پاس کے اک مے خانے میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%82%DB%8C%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%88%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چاند میں پریاں رہتی ہیں", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اماں باجی کہتی ہیں\nچاند میں پریاں رہتی ہیں\nرات کو پر پھیلاتی ہیں\nاور اتر کر آتی ہیں\nسب بچوں کو سلاتی ہیں\nاور پھر خواب دکھاتی ہیں\nاماں باجی کہتی ہیں\nچاند میں پریاں رہتی ہیں\nمیں تو آج نہ سوؤں گا\nرات گئے تک جاگوں گا\nباہر باغ میں بیٹھوں گا\nچاند کی پریاں دیکھوں گا\nاماں باجی کہتی ہیں\nچاند میں پریاں رہتی ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چاند کا بچہ", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وہ دیکھو وہ نکلا چاند\nاماں تم نے دیکھا چاند\nیہ بھی کیا بچہ ہے اماں\nچھوٹا سا منا سا چاند\nاتنا دبلا اتنا پتلا\nکب ہوتا ہے ایسا چاند\nاماں اس دن جو نکلا تھا\nوہ تھا گول بڑا سا چاند\nبادل سے ہنس ہنس کر اس دن\nکیسا کھیل رہا تھا چاند\nچھپ جاتا تھا نکل آتا تھا\nکرتا تھا یہ تماشا چاند\nاپنے بچے کو بھیجا ہے\nگھر میں بیٹھا ہوگا چاند\nیہ بھی اک دن بن جائے گا\nاچھا گول بڑا سا چاند\nاچھا اماں کل کیوں تم نے\nمجھ کو کہا تھا میرا چاند", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%86%DB%81"} {"title": "چاندنی ہر شب کو کرتی ہے کنارا چاندنی", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاندنی ہر شب کو کرتی ہے کنارا چاندنی\nتیرے خاطر منہ کو دکھلاتی ہے تارا چاندنی\n\nآج مہتابی پہ چڑھتا ہے وہ بہر سیر ماہ\nجانتا ہوں کچھ ترا چمکا ستارا چاندنی\n\nبے ضرورت خوش نہیں آتی جہاں میں کوئی چیز\nفصل سرما میں نہیں ہوتی گوارا چاندنی\n\nتو چڑھا شب کو جو مہتابی پہ بہر چشم بد\nآسماں سے اترے کرنے کو اتارا چاندنی\n\nوصل کی شب کا سما آنکھوں میں چھایا ہے مرے\nماہرو دیکھے نہ پھر ویسے دوبارا چاندنی\n\nروتے روتے ڈوبتا ہے جب شب فرقت میں دل\nجانتا ہوں صاف دریا کا کنارا چاندنی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%86%DB%8C_%DB%81%D8%B1_%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%86%DB%8C"} {"title": "چاول", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "گزشتہ جولائی کا ذکر ہے کہ ا یک عجیب شخص سے ملاقات ہوئی۔ یہ حضرت ایک کمپنی کے ٹریولنگ ایجنٹ ہیں۔ اپنی تجارت کے سلسلے میں یہاں آئے۔ ایک اور صاحب ڈاک بنگلے میں ٹھہرے تھے، جن سےملاقات ہوئی اور ان کی وجہ سے آپ سے بھی تعارف حاصل ہوا۔ میں نے دونوں حضرات کو کھانے پر مدعو کیا۔ اول تو انہوں نے انکار کیا لیکن بعد میں راضی ہوگئے۔ مگر کہنے لگے ’’ایک شرط پر۔‘‘ میں نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ چاول میز پر نہ آئیں۔ میں نے وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ قسم ہے۔ زیادہ میں پوچھنا بھی نہ چاہتا تھا۔\n\nمیں نے اس دعوت میں دو ایک اور احباب کو بھی مدعو کیا اور ان میں سے ایک صاحب اسی روز راستے میں ملے۔ کہنے لگے، ’’مجھے سخت پیچش ہے، میں نہیں آؤں گا۔‘‘ لیکن میں نے ان سے وعدہ لے لیا کہ کیا مضائقہ ہے ویسے ہی آ جانا اور وقت کی پابندی کا تقاضا کر دیا۔ چنانچہ یہ حضرت جو پہنچے ہیں تو سب کھانا کھا رہے تھے۔ آپ بھی آگئے اور آتے ہی میز پر ڈٹ گئے۔ میں سمجھا تھا کہ آپ کھانا کھائیں گے کہ اتنے میں ان کے نوکر نے جو ساتھ تھا، تولیے میں سے نکال کر ایک پلیٹ چاولوں کی اور دہی کا پیالہ رکھ دیا!\n\nچاول میز پر آنا تھا کہ میرے عجیب و غریب مہمان کی نظر پلیٹ پر پڑی۔ ایک دلدوز چیخ اور تڑپ کے ساتھ یہ اپنی جگہ سے اچھل کود کر گویا دور گرے۔ ایسےکہ معلوم ہوا ان کے گولی لگی اور چکرا کر سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ ساری محفل ایک دم سے برہم ہوگئی اور ہم سب حیران و پریشان ان کے گرد جمع ہوگئے۔ بمشکل ان کے ہوش بجا ہوئے تو انہوں نے کہا، ’’ہٹاؤ۔ اس پلیٹ کو۔۔۔‘‘ اور یہ کہہ کر بغیر کہے سنے ہوئے جانے لگے۔ روکے نہ رکتے تھے۔ میں نے جب انتہا سے زیادہ خوشامد کی اور معافی مانگی اور اپنی بدقسمتی پر حد سے زیادہ تاسف کیا تو بمشکل رکے۔ وہ بھی اس شرط پر کہ کھانے کے لیے اب کوئی اصرار نہ کرے۔ بمشکل ان کو راضی کیا۔ چاولوں کی پلیٹ ہٹا دی گئی۔ در اصل بات یہ ہوئی کہ ان پیچش زدہ دوست کو ڈاکٹر ے دہی خشکہ بتایا تھا۔ گھر دیر سے پہنچے۔ اِدھر میرا تقاضا تھا کہ وقت پر پہنچنا۔ تکلف برطرف یہ سوچا کہ کھانا کھاتا ہوں تو دیر ہو جائے گی، لہٰذا کیوں نہ اپنا کھانا ساتھ ہی لے چلوں۔ اب جو کچھ بھی ہوا، وہ ہوا لیکن یہ معمہ سمجھ میں نہ آیا کہ آخر چاول دیکھتے ہی ان کی یہ حالت کیسے ہوگئی۔\n\nکھانا تو انہوں نے نہیں کھایا، لیکن ساتھ ضرور بیٹھے رہے۔ لازمی تھا کہ ان سے معافی مانگتے ہوئے اس غیرمعمولی بات کا سبب دریافت کیا جائے۔ کھانے کے بعد ان کی حالت جب بالکل ٹھیک ہو گئی اور وہ پیشتر کی طرح ہنسنے بولنے لگے تو ہم سب نے ان کو مجبور کیا کہ وجہ بتائیں۔ انہوں نے زیادہ انکار نہیں کیا اور اپنا عجیب و غریب قصہ بیان کیا۔۔۔ جس میں سے چند باتیں چھوڑ کر قصے کے پیرائے میں جس طرح انہوں نے بیان کیا میں آپ کو سناتا ہوں۔ انہوں نے سگریٹ سلگا کر نہایت ہی آہستہ اور سنجیدہ لہجے میں اپنا قصہ اس طرح شروع کیا۔\n\n(۱)\n\nیہ جب کا ذکر ہے کہ میں چھوٹا سا تھا مگر مجھے سب یاد ہے۔ ایسی اچھی طرح گویا کل کی بات ہے اور جب کبھی کسی دلہن کو دیکھتا ہوں تو وہی سین پیش نظر ہو جاتا ہے۔ جس وقت بچوں نے سنا کہ دلہن آگئی تو برات کی دھماچوکڑی میں ایک عجیب و غریب قابل قدر اضافہ ہوگیا۔ ایک بچے صاحب اپنی والدہ کا دودھ نوش فرما رہے تھے۔ انہوں نے سنا تو وہ بھی لپکیں اور ان بچے صاحب کو اپنے ’’ڈنر‘‘ کے التوا پر سخت غصہ آیا۔ ماں نے بچے کو وہیں چھوڑا جو سہی تو وہ بکھر گیا۔ ایک گھونسا اس کو مار کر وہ اسے اٹھا کر دوڑیں دلہن کی طرف۔ باقی بچے سب کے سب دروازے کی طرف دوڑے، ان میں میں بھی تھا۔ اسی سلسلے میں دوچار بچے واللہ اعلم کس وجہ سے پٹ گئے اور بعض نے یونہی بیزاری ظاہر کر کے رونا شروع کیا۔ ہم سب الگ ہٹا دیے گئے۔ زرق برق لباس میں سے اس کے گورے گورے مہندی کے رنگے ہوئے سرخ ہاتھ دکھائی دے رہے تھے اور خوشبو سے وہ مہک رہی تھی۔ عمر میں میں نے پہلی دفعہ یہ دلہن دیکھی۔\n\n(۲)\n\nاسی دلہن کو دیکھنے ہم دوسرے دن گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ دلہن زرق برق کپڑے پہنے بیٹھی ہے۔ مارے شرم کے جھکی جا رہی ہے۔ دراصل اس پر بڑا سخت وقت تھا۔ اردگرد کی عورتیں رونمائی کر رہی تھیں۔ دلہن کے سامنے ایک ادھیڑ عمر کی بی بی بیٹھی تھیں اور ہر دیکھنے والی کے لیے دلہن کا گھونگھٹ اٹھا دیتی تھیں۔ ایک چاند سا کھل کر چھپ جاتا تھا۔ آپس میں عورتیں دلہن کی صورت شکل اور بالخصوص اس کی شرم کی تعریف کر رہی تھیں۔ اس وقت ہم دو بچے کھڑے دیکھ رہے تھے۔ میرے ساتھی نے کہا، ’’ہماری آپا بھی دلہن بنی تھیں۔‘‘ مجھے سخت حیرت ہوئی اور میں نے اس کی بہن کے دلہن بننے کے حادثے کو ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ تو بہت ہی کالی اور بدصورت تھیں۔ دلہن ایسی نہیں ہوتی۔\n\nاس کے بعد ایک بی بی سے ہم نے دلہن دیکھنے کو کہا۔ وہ بہت خوش تھیں اور انہوں نے بڑی خوشی سے دلہن کو دکھایا۔ میں نے مسہری کے پاس آکر دیکھا۔ دلہن نے اپنی بند آنکھوں کو شرم سے ذرا جنبش دی۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔ میں نے جھانک کر اسے اچھی طرح دیکھا اور اس کی صورت شکل اس قدر بھولی اور شرمیلی تھی کہ میرے دل پر خاص اثر ہوا۔ مجھے یہ دلہن بے حد پسند آئی۔ اور میں ہٹا ہی ہوں کہ گونگے چچا آگئے۔ یہ گونگے چچا دولہا کے رشتے کے چچا تھے۔ شادی کے سبب یہ بھی اس وقت نئے کپڑے پہنے تھے۔ یہ بھی دلہن کو دیکھنے آئے اور انگلی اٹھا کر بولے ’’اپو۔۔۔ پائے۔۔۔ پاء۔۔۔‘‘ یعنی ہم بھی دلہن کو دیکھیں گے۔ مگر عورتوں نے انہیں جھڑک کر ہٹا دیا۔ کسی نے خفگی سے بھویں سکیڑیں، کسی نے چہرہ بنایا اور یہ لوٹ گئے۔ نہ یہ سن سکتے تھے اور نہ سوا ’’پع، پع‘‘ کے کچھ بول سکتے تھے۔\n\n(۳)\n\nمیں اِدھر سے چلا آیا۔ تھوڑی دیر دوسری طرف کھیلتا رہا پھر اندر گیا۔ سب عورتیں اپنے اپنے کام میں لگی تھیں اور دلہن برآمدے میں اپنے کمرے کے سامنے اکیلی بیٹھی تھی۔ اس کا خوبصورت چہرہ آدھے کے قریب کھلا تھا ار میں دور ہی سے دیکھ رہا تھا کہ اس نے ایک دم سے اپنا منہ چھپا لیا۔ دیکھتا ہوں تو گونگے چچا، یہ دیوانے سے تو تھے ہی، ’’پا۔۔۔ پاعے۔۔۔‘‘ کہہ کر مسکرائے اور سیدھے چلے دلہن کی طرف۔ اب لطف دیکھیے کہ دلہن کی مسہری کے پاس پہنچ کر آپ نہ صرف بے تکلفی سے بیٹھ گئے بلکہ گڑی مڑی دلہن کا گھونگھٹ اس آزادی سےاٹھانے لگے جیسے رونمائی کے وقت اٹھایا جا رہا تھا۔ دلہن سخت گھبرائی، یہ نہ مانے اور دلہن سے بولے، ’’پا۔۔۔ پاء۔۔۔ پاعے۔۔۔‘‘\n\nدلہن نے سخت گھبراہٹ میں اِدھر اُدھر گھونگھٹ ہی میں سے غالباً امداد کے لیے دیکھا اور جب یہ نہ مانے تو اس نے ’’ہوں‘‘ کر کے ہاتھ سے ان کو روکا۔ مگر یہ بھلا کا ہے کو مانتے۔ خندہ فرما کر، ’’پا۔ پاپاپا۔۔۔ ہے۔ پع۔۔۔‘‘ کرکے اور بھی زیادہ منہمک ہوئے۔ چشم زدن میں دلہن دونوں ہاتھوں سے پنجہ لڑانے لگی۔ وہ ان کے دونوں ہاتھ پکڑتی ہے۔ باوجود گھونگھٹ نکلا ہونے کے مردانہ وار ان کے ہاتھ پکڑتی ہے اور یہ ’’’پع۔۔۔ پا۔۔۔ پع۔۔۔‘‘ کرکے چھڑا کر گھونگٹ الٹتے ہیں کہ میں اتنے میں گھبرا گیا۔ میں نے پکارا، ’’دیکھو، یہ گونگے چچا دلہن کو مار رہے ہیں۔‘‘\n\nمیری آواز کے ساتھ ہی ’’پع۔۔۔ پع۔۔۔ پع۔۔۔ پع پاپع۔۔۔‘‘ کی آواز عورتوں کے کان میں بھی پہنچ گئی اور وہاں سے دوتین عورتیں اس سین کو دیکھ کر چیختی چنگھاڑتی جوتیاں چھوڑ چھاڑ کے دوڑیں۔ انہوں نے آکر گونگے چچا کو جھٹک پھینکا۔ دھکے دے کر ایسا غل مچایا کہ بیچارے ’’پع۔۔۔ پع‘‘ کرکے دھکے کھاتے نکل گئے۔ عورتوں نے بڑی دیر تک غل مچایا۔\n\n(۴)\n\nایک دو روز بعد میں پھر جو پہنچا تو دلہن اپنے کمرے میں تھی۔ میں نے جھانک کے دیکھا تو سچ مچ حیرت کی وجہ سے سکتہ میں رہ گیا۔ وہی شرمیلی دلہن انتہائی شرارت کی تصویر بنی اپنے میاں کی جیب سے نہ معلوم کیا چیز زبردستی چھین رہی تھی اور وہ مارے ہنسی کے بے حال ہو کر چارپائی پر پیچھے ہٹتے ہٹتے لیٹ گئے تھے۔ مگر اس شوخ و شنگ دلہن نے نہ چھوڑا۔ اس کا دوپٹہ بھی سر سے سرک گیا تھا اور مارے خوشی کے چہرہ چمک رہا تھا۔ دونو ں ہنس رہے تھے۔ میں اس شرمیلی دلہن کے اس رویے سے ایسا گھبرایا کہ دلہن نے مجھے دیکھا ہی تھا کہ میں وہاں سے بھاگا۔ میری دانست میں دلہن کو ایسا ہرگز نہ کرنا چاہیے تھا۔ میں اس کی بے باکی پر سخت متحیر تھا۔\n\n(۵)\n\nدوسرے ہی دن دبے پاؤں میں پھر جو پہنچا اور جھانک کے اس خوبصورت اور شرمیلی دلہن کو دیکھا کہ اس کا میاں آئینے کے سامنے کرسی پر بیٹھا ہے اور یہ بڑی بے تکلفی کے ساتھ اس کے کندھے پر ٹھوڑی رکھے آئینے میں دیکھ رہی ہے۔ میں دلہن کے چہرے کی شگفتگی اور انداز کی دلکشی دیکھ کر حیران سا ہو گیا کہ آئینے میں میری اس کی آنکھیں چار ہوئیں۔ مجھے دیکھتے ہی وہ چونک پڑی اور ’’کون ہے!‘‘ جو کہا تو میں بدحواس ہو کر ایسا بھاگا کہ گھر پر آکر رکا۔ میں دلہن کے بارے میں قطعی رائے قائم کر چکا تھا کہ یہ بہت ہی بری ہے۔\n\n(۶)\n\nتین چار روز اِدھر کا رخ نہ کیا۔ پھر جو گیا تو ادھر ادھر گھوم کر دلہن کے کمرے کے پاس جو پہنچا تو دلہن نے مجھے کمرے میں سے دیکھا۔ اس کا روشن اور پرنور چہرہ کھلا ہوا تھا اور اس نے مسکراتے ہوئے مجھے انگلی سے آنے کو اشارہ کیا۔ میں کھڑا دیکھتا رہا۔ وہ برابر اشارہ کرتی رہی حتی کہ میں اس کی طرف گیا۔ مگر کمرے کے دروازے پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے کہا، ’’اندر آؤ۔‘‘ میں نہ گیا، تو اٹھی اور ادھر ادھر جھانک کر ایک دم سے لپک کر مجھے پکڑ لیا۔ میں نے زیادہ زور نہ لگایا اور شرماتا ہوا گردن نیچی کرکے کھڑا ہو گیا۔ اس نے میرا نام وغیرہ وغیرہ پوچھ کر مجھ سے بار بار آنے کی وجہ دریافت کی اور جب میں کچھ نہ بتا سکا تو مجھ سے کہنے لگی کہ ’’اب جو تم ادھر آئے تو تمہارے کان کاٹ لوں گی۔ بھاگو یہاں سے۔۔۔ لانا چاقو۔‘‘ اور جناب یہ سنتے ہی میں کانوں پر ہاتھ رکھ کر جو بھاگا ہوں تو گھر جا کر دم لیا۔\n\nیہ کوئی لکھنؤ کے رہنے والے لوگ تھے۔ ملازم پیشہ تھے اور اس کے ہفتے ڈیڑھ ہفتے بعد یہ لوگ نہ معلوم کدھر چلے گئے۔ دلہن اور اس کا خیال بچپن کی ایک بھولی بسری یاد ہو کر رہ گئی۔ جب میں نے اس دلہن کو دیکھا ہے، اس وقت اس کی عمر تخمیناً سولہ یا سترہ برس کی تھی اور میری عمر شاید پانچ برس کی ہوگی۔\n\n(۷)\n\nلیکن ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے کہ ایک عجیب معاملہ پیش آیا۔ اسٹیشن کا نام بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں کہاں جا رہا تھا یہ بھی بتانےکی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں بالتفصیل کوئی بات نہ بتاؤں گا۔ ریل گاڑی جو پلیٹ فارم پر آئی ہے تو میں قریب ہی کھڑا تھا۔ گاڑی باوجودیکہ رکنے والی تھی لیکن رفتار پھر بھی تیز تھی۔ مختلف ڈبے سامنے سےگزر رہے تھے۔ تیزی سے انٹر کلاس میرے سامنے سے گزرا۔ کھڑکی میں ایک نوعمر عورت کا چہرہ سیاہ رنگ کے برقعے میں مگر بالکل کھلا ہوا میرے سامنے سے تیزی سے گزرا۔ میرے منہ سےنکلا، ’’ارے!‘‘ کیونکہ یہ واقعہ تھا کہ یہ حسین و جمیل چہرہ اسی دلہن کا تھا جسے دیکھے ہوئے آج بیس سال ہوچکے تھے! حالانکہ ایک جھپکی سی میں نے دیکھی لیکن اس چہرے کا حسن و جمال کچھ ایسا تھا کہ بیس برس گزر گئے تھے لیکن میں نے فوراً پہچان لیا۔ میں اس کو ایک عجیب و غریب نظر کی غلطی سمجھا، مگر اسی طرف چلا کیونکہ مجھے بھی اسی درجے میں بیٹھنا تھا۔\n\nاس درجے میں چار پانچ مرد بھی تھے اور یہ نوعمر خاتون ایک کونے سے لگی بیٹھی تھی، ایک ٹرنک تھا اور ایک مختصر بستر جس پر وہ اس وقت کونے میں منہ دیے بیٹھی تھی۔ اندازے سے معلوم کرکے مجھے حیرت ہوئی کہ ان مردوں میں سے کوئی بھی اس کا ساتھی نہیں معلوم ہوتا۔ یہ بھی سمجھ میں نہ آیا کہ مردانہ انٹر میں وہ کیوں بیٹھی تھی۔\n\n(۸)\n\nکوئی تین اسٹیشن گزرنے کے بعد ڈبے میں سوا میرے اور اس کے کوئی بھی نہ رہ گیا اور اس دوران میں میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی تھی۔ کیونکہ اگلے ہی اسٹیشن پر میں نے اتر کر جو اس کو دوبارہ دیکھا تو اور بھی مغالطہ ہوا! وہی نقشہ۔ رنگ و روپ سب وہی معلوم ہوا جو میں نے بیس برس ہوئے دیکھا تھا لیکن عمر اس کی بھی سولہ یا سترہ برس کی تھی اور یہی سبب ہے کہ دونوں صورتوں میں کچھ فرق نہ تھا۔ میں جب اکیلا رہ گیا تو میں نے قطعی ارادہ کیا کہ اس سے بات چیت کروں۔ اس نے برقعے سے اپنا چہرہ اچھی طرح چھپا لیا تھا۔ میں بغیر کسی بہانہ تلاش کیے اٹھ کر اس بنچ پر آگیا جو اس کے سامنے ہی تھی۔ اس نے میری نقل و حرکت کو غالباً خوف سے دیکھا تو میں نے کہا، ’’محترمہ آپ گھبرائیں نہیں۔ غالباً میں آپ کو جانتا ہوں۔ معاف کیجیے گا میں آپ کو دیکھ کر سخت حیران ہوں کہ غالباً یہی صورت شکل میں نے اب سے بیس برس پہلے دیکھی تھی۔ وہ غالباً آپ کی والدہ ہوں گی۔۔۔‘‘\n\nاس نے گھبرا کر کہا، ’’آپ میری والدہ کو جانتے ہیں! کون تھیں وہ؟ کہاں ہیں۔۔۔؟‘‘ میں نے واقعہ بتایا کہ مجھے سوا اس کے کچھ یاد نہیں کہ پڑوس میں ایک دلہن کو دیکھنے گیا تھا۔ نہ یہ معلوم کہ اس دلہن کے شوہر کا کیا نام تھا۔ وہ مجسم بے کل ہو گئی۔\n\n’’کیا آپ معلوم کر سکتے ہیں؟ کسی طرح معلوم کر سکتے ہیں کہ میرے باپ کا نام۔۔۔ مطلب یہ کہ جن کو آپ بتاتے ہیں کہ آپ کے پڑوس میں رہتے تھے ان کا نام اور پتہ کیا تھا؟‘‘ میں نے حیران ہو کر پوچھا، ’’میں آپ کے سوالات سے سوا اس کے کیا سمجھوں کہ آپ۔۔۔ آپ کو خود کیوں نہیں معلوم۔‘‘ اس نے برقع کا نقاب ذرا سا ہٹاتے ہوئے ٹھنڈی سانس لے کر کہا،\n\n’’جی ہاں! مجھے اپنے ماں باپ کا نام نہیں معلوم۔ خود اپنا اصلی نام نہیں معلوم۔ مجھے چھوٹی سی عمر میں گھر سے کوئی فقیر چرا لایا۔ وہ مجھے لیے لیے پھرا۔ جب اس جگہ آیا جہاں سےمیں آرہی ہوں تو مر گیا اور کسی نہ کسی طرح مجھے ایک بیوہ نے لے لیا اور اپنی لڑکی کی طرح پرورش کیا۔ جب میں بڑی ہوئی تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے ماں باپ نہ معلوم کون ہیں۔ ان بیوہ کا پرسوں انتقال ہوگیا۔ اور ان کے آوارہ بھتیجوں کی کشمکش سے بچنے کے لیے میں وہاں سے بھاگی ہوں۔۔۔ اور اسی وجہ سے مردانہ درجے میں بیٹھی ہوں۔‘‘\n\n’’اور آپ کہاں جا رہی ہیں؟‘‘\n\n’’ان بیوہ کے ایک دور کے رشتے کے بھائی کے یہاں۔‘‘\n\n’’وہاں تو کشمکش نہ ہوگی؟‘‘\n\nخاموش۔ اور پھر اپنا سوال کر دیا، ’’آپ نے بتایا نہیں کہ آپ ان کا نام معلوم کر سکتے ہیں جو آپ کے پڑوس میں رہتے تھے۔ شاید وہی میرے باپ ہوں۔ آپ کا پورا قصہ سن کر تو یہی اندازہ ہوتا ہے۔ کیا آپ اب اگر ان کو دیکھیں تو پہچان لیں۔‘‘ میں نے جواب دیا، ’’جی نہیں۔ مجھے ان کی صورت شکل کا خیال تک نہیں لیکن نام اور پتہ ان کا غالباً معلوم ہو سکتا ہے۔ میرے والد تو انتقال کر چکے تھے۔ ماموں صاحب کے ساتھ میں رہتا تھا اور اب ماموں صاحب بھی زندہ نہیں اور اس جگہ سے ماموں صاحب بھی سال بھر بعد چلے آئے۔ لیکن میری دانست میں محلے میں جا کر مکان والوں سے پتہ چل سکتا ہے۔‘‘\n\n’’تو آپ پتہ لگا سکتے ہیں؟‘‘\n\n’’وہاں خاص طور پر جاؤں تو غالباً پتہ چل سکتا ہے۔‘‘\n\n’’مگر۔۔۔‘‘\n\nوہ کہتے کہتے رک گئی۔\n\nمیں نے کہا، ”زممکن ہے مجھے دھوکا ہوا ہو۔۔۔‘‘\n\nگھبرا کر اور ناامید ہو کر اس نے کہا، ’’آپ نے تو کہا کہ آپ کے پڑوس میں۔۔۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’نہیں۔ نہیں۔ یہ میرا مطلب نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ آپ کی صورت شکل میں مجھے دھوکا ہوا ہو۔‘‘\n\nاس نے گھبرا کر کہا، ’’مگر آپ نے فرمایا کہ بالکل میری ماں سے۔۔۔ مطلب یہ کہ ان کی صورت سے ملتی ہے۔‘‘\n\n’’خیال ہے میرا۔ میں نے کہا، ’’ممکن ہے مجھ سے غلطی ہوئی ہو۔ آپ کی صورت شکل ان سے ملتی جلتی نہ ہو۔‘‘\n\n’’مگر آپ تو کہتے ہیں کہ ان کی صورت مجھے یاد ہے۔۔۔ مگر ہاں بہت دن ہوگئے ہیں۔‘‘ میں نے کہا، ’’ان کی صورت شکل تو ایسی یاد ہے کہ دل پر گویا نقش ہے۔۔۔‘‘ بات کاٹ کر خوش ہو کر وہ بولی، ’’تو پھر تو غلطی نہیں ہوسکتی۔‘‘ میں نے کہا، ’’جہاں تک ان کی صورت کا سوال ہے بے شک غلطی نہیں ہو سکتی مگر۔۔۔‘‘ میں رک گیا۔ غالباً وہ سمجھ گئی۔ مجھے چنداں غرض نہ تھی، لہٰذا میں بھی چپ ہی رہا۔ مگر حالت اس کی قابل رحم تھی۔ جب میں نہ بولا تو ہار کر وہ خود بولی، ’’آپ کوشش کردیں۔۔۔ شاید وہ میری ماں ہو جن کو آپ نے دیکھا۔ میں عمر بھر اس احسان کو نہ بھولوں گی۔‘‘\n\nاس کی آواز میں غم تھا۔ میں خود مشکوک تھا۔ ممکن ہے مجھ سے غلطی ہوئی۔ محض ذرا سی مشابہت پر دوڑ پڑنا۔ میں نے کہا، ’’محترمہ۔ محض ذرا سی مشابہت پر دوڑ پڑنا اور وہ بھی محض ایک جھلک دیکھنے کے بعد میں نہیں کہہ سکتا کہ کہاں تک حق بجانب ہے۔ رہ گیا میری خدمت کا سوال تو میں اس کے لیے بھی حاضر ہوں مگر مجھے شبہ ہے کہ ممکن ہے کہ۔۔۔‘‘\n\n’’آپ اپنا شبہ۔۔۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’مجھے خود لحاظ معلوم ہوتا ہے، میں نے آپ کو غور سے نہیں دیکھا ہے۔۔۔‘‘ اس نے غمناک لہجے میں کہا، ’’میں اپنی ماں اور باپ کا پتہ لگانے کے لیے جب بول رہی ہوں۔۔۔‘‘ وہ رک گئی۔ پھر اس نے ٹھہر کر کہا، ’’آپ مجھے اچھی طرح دیکھ لیجیے۔‘‘ گھٹی ہوئی آواز اور غمناک لہجے میں کہا۔ اب میں اس انتظار میں کہ یہ خود نقاب روئے روشن سے اٹھائیں لیکن زخم پر زخم پہنچانا مناسب نہ معلوم ہوا اور میں نے یہ کہتے ہوئے، ’’معاف کیجیے گا۔۔۔‘‘ نقاب چہرے سے آہستہ سے ہٹا کر ایک طرف کر دیا۔ ایک دم سے معصوم نظریں جھک گئیں اور میں حیرت زدہ ہو کر رہ گیا۔ ہو بہو وہی تصویر تھی۔ ذرہ بھر فرق نہیں۔ وہی رنگ اور روپ۔ وہی ناک اور نقشہ۔ چہرے کی چمک اور دمک سب ہی وہی۔ میں غور سے دیکھ رہا تھا کہ میرے دیکھتے دیکھتے معصوم آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ اور بڑی بڑی مگر شرمیلی پلکوں پر دو موٹے موٹے آنسو لٹکنے لگے۔ میرا دل پگھل گیا۔ میں نے فوراً نقاب چھوڑ دیا اور کہا، ’’میں گارنٹی کرتا ہوں کہ وہ آپ کی ماں تھیں۔ اگر وہ زندہ ہیں تو میں آپ کو ان سے ملانے کا ذمہ لیتا ہوں مگر۔۔۔‘‘\n\n’’مگر۔۔۔‘‘ اس نے گھبرا کر کہا۔ میں نے کہا، ’’یہ بتائیے آپ کہاں جا رہی ہیں؟ وہاں آپ کو تکلیف تو نہ ہوگی۔‘‘\n\n’’میں بتا تو چکی۔‘‘ اس نے رک کر کہا، ’’بہت ممکن ہے وہ نہ رکھیں۔‘‘ میں نے کہا، ’’آپ کی شادی ابھی نہیں ہوئی۔۔۔ تو پھر آپ کہاں رہیں گی؟‘‘ اس نے سر کے اشارے سے نفی میں جواب دیا اور کچھ نہ بولی۔ میں نے کہا، ’’میں ڈیڑھ سو روپے کا نوکر ہوں۔ میری شادی بھی ابھی نہیں ہوئی ہے اور آپ خود کہتی ہیں کہ آپ کا کوئی نہیں۔ کیا ہم اور آپ ایک دوسرے کے شریک حیات نہ ہو جائیں۔ پھر آپ میرے ساتھ زیادہ آزادی سے رہ سکتی ہیں۔ ہم دونوں مل کر ڈھونڈ لیں گے۔ یعنی آپ بھی میرے ساتھ ہوں تو بہتر ہے۔۔۔‘‘ میں صحیح عرض کرتا ہوں کہ اس نے غور سے میری طرف دیکھا۔ پھر سر جھکا لیا اور کہا، ’’میرا کوئی نہیں ہے۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ٹھنڈی سانس بھری اور چپ ہوگئی۔\n\nمیں جس کام سے جا رہا تھا اس کو ملتوی کیا۔ رخصت کی توسیع کے لیے اگلے اسٹیشن پر تار دیا۔ سفر وہیں کا وہیں روک دیا۔ شب کو وہیں ہم دونوں کا عین مسافرت میں ڈاک بنگلے میں نکاح ہوگیا۔ ایک مجسٹریٹ صاحب کو میں نے اپنے کاغذات دکھا کر حال بتا کر اپنی شناخت کے بارے میں مطمئن کر دیا۔ اب میں کیا عرض کروں کہ میری بیوی کا اپنے والدین سے ملنے کے لیے کیا حال ہو رہا تھا۔\n\nاب میں شہر میں پہنچا تو محلے یاد نہیں۔ تانگے والے نے کہا کہاں لے چلوں تو میں نے کہا، ’’جہاں تیرا جی چاہے۔‘‘ ہم دونوں میاں بیوی تانگے پر اور اب ہر محلے میں پوچھتے پھرتے ہیں کہ فلاں صاحب یعنی میرے ماموں اب سے بیس برس پہلے تو یہاں نہیں رہتے تھے۔ ہوتے ہوتے آخر کو جب وہ محلہ آیا تو میں نے مسجد دیکھتے ہی پہچان لیا۔ اور تانگہ ادھر ادھر گھمایا تو بچپن میں جن گلیوں میں کھیلا تھا وہ شناخت کر لیں اور چشم زدن میں ہمارا تانگہ اس گھر کے سامنے آکر رک گیا جس میں اب سے بیس برس پہلے میں نے دلہن کو دیکھا تھا۔\n\nخدا کی پناہ۔ میری بیوی دیوانی ہوگئی۔ مارے خوشی کے اس کا برا حال ہوگیا، حالانکہ گھر ملنے سے عزیز کا ملنا لازمی تو نہ تھا۔ دریافت پر معلوم ہوا کہ اس مکان میں کرایہ دار صاحب ہیں اور مالک مکان ’’وہاں‘‘ رہتے ہیں۔ ’’وہاں‘‘ جو گئے تو معلوم ہوا کہ مالک مکان مر گئے۔ ان کے لڑکے تھے۔ انہوں نے کہا ہمیں نہیں معلوم۔ ایک پڑوسی کا نام بتایا کہ بڈھے ہیں ان سے پوچھو۔ پھر واپس لوٹے تو ایک بڑے میاں ملے اور انہوں نے کہا کہ ہاں اس مکان میں اب سے بیس برس پیشتر ایک ڈاک خانے کے انسپکٹر رہتے تھے، ان کی شادی بھی ہوئی تھی مگر نام نہیں معلوم۔ یہاں سے اب ڈاک خانے دوڑے، معلوم ہوا کہ ’فرض کیجیے‘ ان کا نام محمد خاں تھا۔ سپرنٹنڈنٹ ڈاک خانہ جات ہیں اور آج کل لاہور میں ہیں۔\n\nایک دوسرے کلرک بولے لاہور میں اب نہیں ہیں بلکہ پہلے تھے اور قبل از وقت پنشن لے کر اپنے وطن کے شہر میں۔۔۔ بیمہ کمپنی کا بزنس کرتے ہیں اور ممکن ہے کہ ان کو تار دیا جائے تو جواب دیں۔ بیمہ کمپنی کا نام نہیں معلوم۔ اتنا ہی کافی تھا۔ وہیں کے وہیں میں ان پنشنر سپرنٹنڈنٹ ڈاک خانہ جات و حال بیمہ ایجنٹ کا پتہ کر کے بذریعہ جوابی تار ان سے پوچھا، ’’کیا آپ کی لڑکی تو گم نہیں ہوئی تھی۔‘‘ تار ارجنٹ دیا اور وہیں کے وہیں بیٹھ کر لگے انتظار کرنے۔\n\nمگر دو تین گھنٹے گزر گئے اور تار کا جواب نہ آیا۔ تب پوسٹ ماسٹر کو جوابی تار دیا کہ جواب دو تار کہاں گیا۔ وہاں سے جواب آیا کہ ’’وہ صاحب‘‘ کوئٹہ میں ہیں لہٰذا تار ان کو بصیغہ ڈاک بھیجے ہیں۔ ہم نے دوسرا تار دیا کہ جس پتے پر بھیجتے ہو اس سے ہمیں مطلع کرو۔ پتہ معلوم ہوا تو اب ہم نے اسی مضمون کا تار کوئٹے کے پتے پر دیا اور پھر لگے انتظار کرنے۔ اور اسی دن کا ذکر ہے کہ دوپہر کے کھانے پر ہمارے سامنے چاول آئے تو میری بیوی نے نفرت سے کہا، ’’ہٹاؤ ان کم بختوں کو۔‘‘ میں نے کہا، ’’کیوں؟‘‘ تو منہ بنا کر بولی، ’’برے لگتے ہیں مجھے اس وقت۔۔۔ کم بخت کیڑے سے!‘‘ اور ایسے برے لگے کہ ہٹا دیے۔\n\nہمیں اتنظار زیادہ نہ کرنا پڑا۔ تار کا جواب آیا کہ ’’ہاں، (یعنی کھوگئی تھی) کہاں ہے اور تم کون ہو؟‘‘ خدا کی پناہ! خوشی کے مارے میری بیوی دیوانی ہو کر مجھ سے چمٹ گئی۔ محبت کے مارے اس نے مجھے اپنے سینے سے لگا کر دبا لیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ خوشی کی زیادتی کے سبب اس سے بولا نہ گیا۔ اس نے میری طرف دیکھا۔ اس کی خوبصورت آنکھوں میں محبت اور شکریے کے آنسو تھے۔ وہ میری کتنی شکرگزار تھی! اس کو کتنی خوشی تھی، اس کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ میں نے فوراً تار دیا کہ ’’میں اس لڑکی کا شوہر ہوں اور وہ لڑکی یہاں ہے۔‘‘\n\nیہ تار دے کر ہم ڈاک بنگلہ آئے اور گاڑی کا وقت جو معلوم کیا اور گھڑی جو دیکھی تو کوئٹہ جانے والی گاڑی تیار ہو رہی تھی۔ دس منٹ گاڑی میں باقی تھے۔ ظاہر ہے کہ ہم نے کیا کیا۔ فوراً اسٹیشن روانہ ہوگئے۔ اپنی روانگی کا تار دینا ضروری تھا۔ ڈاک خانہ جا نہ سکتے تھے۔ لہٰذا اسٹیشن پہنچ کر میں نے تار دیا کہ ’’ہم آتے ہیں۔‘‘ اور فوراً روانہ ہوگئے۔ میں عرض نہیں کر سکتا کہ میری بیوی کا خوشی کے مارے کیا حال تھا۔ حماقت تو دیکھیے کہ خوشی کی جلدی میں پہلے والے تار میں یہ لکھنا ہی بھول گئے کہ ہم آ رہے ہیں۔\n\nراستے میں کوئی غیرمعمولی واقعہ پیش نہ آیا۔ سوائے ایک چھوٹے سے واقعے کے جو کچھ قابل ذکر بھی نہیں۔ ہمیں۔۔۔ اسٹیشن پر گاڑی بدلنا تھی اور آدھ گھنٹے سے زائد انتظار دوسری گاڑی کا کرنا تھا۔ جلدی اس قدر تھی کہ میں نے ایک کنارے بنچ کے پاس ہی ٹرنک اور بستر رکھ اس پر بیوی کو بٹھا دیا اور خود لگا ٹہلنے۔\n\nاسٹیشن پر آپ سمجھیں ہر قسم کے آدمی آتے ہیں۔ میں جو واپس آیا تو میری بیوی نے ایک آدمی کی طرف اشارہ کر کے دیکھا، ’’دیکھا تم نے اس کم بخت کو، بدتمیز کہیں کا۔‘‘ میں نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ نہ صرف آس پاس منڈلا رہا ہے بلکہ گھورتا ہے۔ میں نے مزاحاً کہا، ’’ظالم تو چیز ہی ایسی ہے۔‘‘ اور پھر ادھر چل دیا۔ مگر اب دور سے جو میں نے دیکھا تو وہی حضرت لوٹے واپس اور پھر نہایت بدتمیزی سے میری بیوی کو اس طرح گھورنے لگے کہ معلوم ہو اخبار پڑھ رہے ہیں اور پھر تھوڑی دور چل کر لوٹے اور پھر دوسری طرف سے واپس ہو کر لوٹے اس طرح کہ مجھے سخت برا معلوم ہوا۔ یہاں پردے کا سوال نہیں، سوال بدتمیزی کا تھا۔ اتنے میں آپ بنچ پر بیٹھ کر سچ مچ اس طرح گھورنے لگے کہ منہ کے سامنے تو اخبار ہے مگر آنکھیں ہیں کہ برقعے کی طرف اور وہ بھی اس بدتمیزی کے ساتھ کہ عرض نہیں کر سکتا۔\n\nمیں اس شخص کی بدتمیزی پر جل بھن کر خاک ہی تو ہو گیا اور لپکتا ہوا آیا اور آتے ہی میں نے کہا، ’’شرم نہیں آتی آپ کو۔۔۔ مسلمان ہو کر آپ۔۔۔‘‘ بھنا کر میں نے دیکھا، ’’کیا آپ اس بنچ پر نہیں بیٹھ سکتے تھے۔۔۔‘‘ میں نے سامنے والی بنچ کی طرف اشارہ کیا۔\n\n’’معاف کیجیے گا۔۔۔ میں۔۔۔ میں۔۔۔‘‘\n\nایک دم سے گاڑی آگئی اور قلی نے اسباب اٹھایا اور ہم چل دیے مگر یہ بدتمیز دیکھتا ہی رہا۔ ہم کوئٹہ پہنچے ہیں تو مارے خوشی کے ہمارا برا حال ہو گیا، لیکن تعجب تو جب ہوا کہ کوئی بھی صورت ایسی نظر نہ آئی جو ہماری متلاشی یا منتظر ہو۔ بہت کچھ ادھر ادھر دیکھا مگر کوئی صورت کسی کو منتظر نہ معلوم ہوئی۔ اسٹیشن پر تار کے بارے میں دریافت کیا معلوم ہوا کہ ریلوے محکمہ کوئی گارنٹی دیر یا جلدی کی نہیں کرتا۔ ممکن ہے کہ ابھی تک نہ پہنچا ہو۔ خیر ہمیں پتہ تو معلوم ہی تھا۔ اب میری بیوی کا یہ عالم تھا کہ ماں باپ سے ملنے کی خوشی میں اس کے دل میں درد سا ہوتا تھا۔ اس کی صورت، اس کی شکل، اس کی زبان۔ قصہ مختصر وہ مجسم شکر یہ بنی ہوئی تھی۔\n\nقصہ کو مختصر کرکے عرض ہے کہ ہم گھر جو پہنچے تو سناٹا۔ صرف ایک نوکرانی تھی اور باہر ایک نوکر۔ یہ دونوں ہی خوشی سے باؤلے ہو گئے۔ معلوم ہوا کہ ہمارا پہلا تار ملتے ہی ارجنٹ تار دے دیا کہ ’’ہم آتے ہیں‘‘ اور چونکہ گاڑی تیار تھی اور ماں باپ بیٹی کے لیے بے تاب تھے، لہٰذا فوراً چل دیے۔\n\nمیری بیوی ایک ٹھنڈی سانس لے کر سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ اسی وقت اندازہ لگایا کہ گاڑی کس اسٹیشن پر ہوگی اور اس اسٹیشن ماسٹر کی معرفت تار دیا اور ایک تار جہاں سے ہم آئے تھے وہاں کے پتہ پر دیا۔ اب پریشانی تو یہ تھی کہ وہ یہ بھی نہ جانتے تھے کہ ہم ٹھہرے کہاں تھے۔ ہم تو ڈاک بنگلے میں تھے۔ لہٰذا ڈاک بنگلے ہی کی معرفت تار دیا۔ اب اتفاق تو دیکھیے کہ کھانا جو سامنے آیا تو چاول! میری بیوی نے پھر اس نفرت سے کہا کہ ’’ہٹاؤ انہیں سامنے سے۔۔۔ کیڑے سے ہیں۔۔۔‘‘ حالانکہ معلوم ہوا کہ چاولوں سےاسے رغبت تھی مگر نہ معلوم کیوں۔ شاید سفر وغیرہ کے سبب برے معلوم ہوئے۔\n\nمیری بیوی نوکرانی سے باتیں کرنے لگی۔ معلوم ہوا کہ سوا میری بیوی کے ان کے کوئی اولاد نہیں۔ ایک نوجوان بیٹا تھا، وہ سال بھر ہوا مر گیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ تار ملتے ہی میری ساس کا عجیب وارفتگی کا سا عالم ہو گیا تھا۔ بے تاب تھیں کہ اپنی بیٹی کے پاس کیسے پر لگا کر پہنچ جاؤں۔ میری بیوی کا بھی سن کر وہی حال ہوا۔ حد یہ کہ آنسو جاری ہیں اور اپنی ماں اور باپ کی چیزوں کو اٹھا اٹھا کر اس نے وارفتگی کے عالم میں چومنا شروع کیا۔ ہر بات دیوانوں کی سی تھی۔\n\nہم کوئٹہ کوئی رات کے نو بجے پہنچے ہوں گے اور اسی بات چیت میں گیارہ بج گئے۔ نوکرانی اور نوکر چلے گئے اور ہم دونوں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ ہاں یہ کہنا بھول گیا کہ ایک تار اور ہم نے دلوایا تھا۔ یہ تار ڈاک بنگلے کے نوکر کے نام دیا تھا کہ اسٹیشن پر جا کر تم فلاں فلاں نام کے شخص سے ملو اور کہہ دو کہ ہم یہاں ہیں۔ اس کے عوض ہم نے انعام دینے کا وعدہ کیا تھا۔ رات کے بارہ بجے اور ہم در اصل انتظار کر رہے تھے کہ شاید اس تار کا جواب آتاہو۔ میں نے بیوی سے کہا بھی کہ سو جاؤ مگر اسے نیند کہاں۔ ہم اسی طرح باتیں کیا کیے اور وقت گزرتا گیا۔\n\nکمرہ بجلی کی روشنی سے جگمگا رہا تھا اور میری بیوی رہ رہ کر اپنی خوش قسمتی پر خوش ہو رہی تھی۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، آنکھوں میں محبت کا نور تھا۔ چہرے پر ایک دلربا لرزش تھی۔ آواز میں ایک دلکش ترنم تھا۔ جذبات کا یہ حال کہ نوجوان سینے میں معلوم ہو کہ محبت کا ایک طوفان بند ہے جس کے مد و جزر کے سبب کبھی تو وہ آنکھوں اور چہرے پر عجیب و غریب لرزش پیدا کرکے عجیب طرح سانس لیتی تھی اور کبھی خاموش سی ہو جاتی اور میں دیکھتا کہ شادمانی سے آنکھوں میں ایک دلربا جنبش ہے۔ میں اس کے سینے کو دیکھتا تھا کہ کس طرح جذبات محبت کے سبب دب دب کر ابھر رہے ہیں۔\n\n’’یا میرے اللہ!‘‘ اس نے اپنے چہرے پر عجیب و غریب چمک پیدا کر کے کہا، ’’میرا کیا حال ہوگا جب ملوں گی۔‘‘ اور اتنا کہہ کر اس نے ایک عجیب انداز سے اپنی گردن جھکائی اور آہستہ آہستہ میری طرف جھکتے ہوئے میرے سینے پر محبت سے سر رکھ دیا۔ اس کا محبت آمیز دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ میں نے محبت سے کلیجے سے لگا لیا۔ اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس نے اپنی مخمور آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے عجیب انداز سے مسکراہٹ کو روکتے ہوئے آنکھیں جھپکاکر کہا، ’’جان!‘‘ اور میری گردن میں ہاتھ حمائل کرکے میرے دل میں گھسنے کی کوشش کی۔ میں نے بے اختیار ہو کر اس کی پیشانی پر ایک بوسہ دیا ہے کہ ہم دونو ں چونک پڑے! یہ کیا! ہیں! ایک دل دہلا دینے والی ہیبت ناک گرج تھی۔ زمین کا خوفناک دیوتا گڑگڑا رہا تھا۔ ہماری سمجھ میں بھی نہ آیا تھا کہ کیا ہوا کہ قیامت آگئی۔\n\nایک ہیبت ناک گرج کے ساتھ مکان کی چھت گری۔ میری بیوی کے منہ سے ایک دلدوز چیخ نکلی۔ صور اسرافیل پھونک دیا گیا تھا اور قیامت کا شور تھا کہ الامان! نکلتے نکلتے کمرے سے مکان کی دیوار گری اور میری آنکھوں کے سامنے میری جان سے زیادہ عزیز اور دلربا بیوی کے تن نازنین پر ایک دیوار کا حصہ گرا۔ ایک چیخ تو اس کے منہ سے نکلی اور بس۔ میں نے ایک قدم آگے بڑھایا ہی تھا کہ میرے اوپر پتھروں کی بارش ہوئی مگر میں نکل کر ایک میدان میں آگیا جو برابر کے وسیع مکان کے گرنے سے بن گیا۔ ایک شور قیامت برپا تھا اور چیخ پکار کے سبب کچھ سنائی نہ دیتا تھا اور زمین سچ مچ ایسی چیخ رہی تھی کہ ساری فضا ہل رہی تھی۔ زمین کے خوفناک ہونکارے کی صدا! ہاں! ہاں! ہاں! ہاں! ایک سناٹے کا شور تھا کہ چیخ جورعد کی ہولناک گرج میں جا کر معدوم ہو جاتی تھی۔\n\nمیں اور دو آدمی اور ایک جگہ محفوظ تھے۔ خدا کی پناہ! کیا ہیبت ناک سین تھا جب صبح ہوئی۔ زلزلے کی تباہ کاریاں ہمارے سامنے تھیں۔ زلزلے کے خفیف جھٹکے برابر آ رہے تھے۔ سارا شہر کھنڈر پڑا تھا۔ میں نے ہمت کر کے جا کر دیکھا۔ خدا کی پناہ! میرا دل مسل کر رہ گیا۔ میں نے دیکھا کہ میری جان و ایمان، میری پیاری بیوی کی لاش پڑی تھی۔ اس کا نصف بدن کچل کر رہ گیا تھا۔ جس جانکنی سے اس کا دم نکلا ہوگا اس کے آثار اس کے چہرے پر تھے جو کبھی دلکشی اور حسن و جوانی کا مرکز تھا۔ جس پر کبھی عشق و محبت کا نور غلطاں رہتا تھا! ’’آہ‘‘ میرے سینے سے نکلی اور میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ نوکر اور نوکرانی کی تلاش بیکار تھی۔ مگر میں اپنےمحبوب کی لاش کیسے چھوڑ سکتا تھا۔\n\nجس طرح بن پڑا میں شام تک اپنی دلربا بیوی کی لاش نکال کر باہر لے گیا۔ مکان شہر کے کنارے ہی پرتھا۔ میں لاشے کو لیے بیٹھا ہی تھا کہ فوج کے گورے آئے اور میری مدد کی۔ اس محبت کی پڑیا کو روتے دھوتے اسی حالت میں میں نے اپنے ہاتھ سے فوجی امداد سے سپرد خاک کیا اور گھنٹوں سر پکڑے وہیں بیٹھا رہا کہ ہائے اس مایہ خوبی کو چھوڑ کر کہاں جاؤں۔ پیش نظر جو کچھ بھی تھا اس کا عشر عشیر آپ نے اخباروں میں پڑھا ہوگا۔ لاشوں کی بھرمار، زخمیوں کی چیخ پکار، الامان کیا سین تھا۔ میرا سر پھر گیا۔ الٰہی کدھر جاؤں اور کدھر نہ جاؤں۔ شکستہ قبر میرا مرکز تھی اور فوج کے گورے سپاہی کھانے کو دیتے تھے۔ لاوارثوں کا ایک جم غفیر تھا۔ کس لاپروائی سے لوگ لاشوں اور زخموں سے بے نیاز تھے! سوال یہ تھا کہ میں کہاں جاؤں۔ سب کا ہجوم فوج کے سپاہیوں کی طرف تھا اور جو ماں اور باپ تھے تو وہ تھے۔\n\nپانچویں دن کا ذکر ہے کہ میں فوجی کیمپ سے قبر کی طرف جا رہا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے سے ایک شناسا چلے آ رہے ہیں۔ دماغ کا یہ حال کہ سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کون ہے اور کہاں دیکھا تھا۔ وہ خود رک گیا۔ سیاہ خضاب کی ہوئی داڑھی، ستواں ناک، گورا رنگ۔ آنکھوں میں حیرانی اور پریشانی۔ مجھے دیکھ کر رک گیا۔ میں خود رک گیا اور حواس بجا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا، ’’السلام علیکم۔‘‘ میں نے جواب دیا۔\n\n’’آپ کون ہیں؟‘‘ وہ بولے، ’’میں۔۔۔ میں، وہ آپ۔۔۔ اسٹیشن پر۔۔۔‘‘\n\n’’اوہو۔‘‘ میں نے پہچانتے ہوئے کہا۔ ’’معاف کیجیے گا۔ یہ کہہ کر میں چلا، یہ وہ حضرت تھے جو میری بیوی کو گھور رہے تھے۔ ایک دم سے وہ بولے، ’’سنئے تو۔۔۔ آپ کا نام کیا ہے؟‘‘ میں نے بتایا۔ جس کے سنتے ہی وہ دیوانہ وار چمٹ پڑے، ’’عائشہ کہاں ہے؟‘‘ میں نے کہا، ’’کون عائشہ؟‘‘ اس لیے کہ میری بیوی کا نام عائشہ نہیں تھا۔\n\n’’میری بیٹی۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’میرا نام محمد خاں ہے۔۔۔‘‘\n\n’’ارے!‘‘ میرے منہ سے نکلا۔ یہ واقعہ تھا کہ یہ میرے خسر تھے۔ میں نے سب حال کہا۔ معلوم ہوا کہ بدقسمت باپ نے بیٹی کو دیکھ لیا تھا اور چونکہ بیٹی اپنی ماں کی سچ مچ تصویر تھی لہٰذا غیر معمولی شباہت کے سبب بیچارے اپنی بیٹی کو گھور گھور کر دیکھ رہے تھے اور چاہتے کہ اچھی طرح دیکھ لیں اور اپنی بیوی کو شبہ مٹانے کی غرض سے لانے ہی والے تھے کہ میں نے آ کر لتاڑا۔ ان کی بیوی ویٹنگ روم میں بیٹھی تھیں۔\n\nیا میرے اللہ! میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور میں نے اس نامراد ناشاد لڑکی کا قصہ غم سنایا، آہ! وہ اپنے ماں باپ سے ملنے کے لئے کیسی تڑپتی تھی۔ باپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کا دریا بہہ رہا تھا۔ میں نے اس قدر تکلیف دہ باتیں کاہے کو کبھی سنی ہوں گی۔ قبل اس کے کہ قبر پر لے چلوں، انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں اپنی خوشدامن کے پاس چلوں! کون؟ وہی دلہن جس کو میں نے بیس برس پہلے دیکھا تھا۔ میں عرض نہیں کر سکتا کہ میرا کیا حال ہوا اور ان کا کیا حال ہوا۔ میں نے دیکھا کہ چشم زدن میں ان کے چہرے پر بڑھاپا آگیا۔ میں نے یاد دلایا کہ میں کون ہوں اور غم کی ماری نے مجھے بیتاب ہوکر سینے سے لگا لیا، گھنٹوں وہ رویا کیں اور میں تسلی دیتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ میں بغیر اپنی بیٹی کو دیکھے زندہ نہیں رہ سکتی۔ سوال یہ تھا کہ اب کیسے ممکن ہے۔\n\nرات کا سناٹا۔ ہو کا عالم تھا۔ قدم قدم پر قبریں تھیں اور دور تک میدان چلا گیا تھا۔ فاصلے پر ریلیف والوں کی چہل پہل لالٹینوں کی جنبشوں سےعیاں تھی۔ میں نے تیزی سے مٹی ہٹانا شروع کی۔ بیگار کا کام تھا۔ چشم زدن میں مٹی ہٹ گئی اور لکڑیاں ہٹا کر میں نے غار کی طرف دیکھا۔ باوجود تعفن کے میں اندر اتر گیا۔ میرے خسر بجلی کی ٹارچ ساتھ لائے تھے۔ وہ میرے ہاتھ میں تھی۔ میں نے قبر کے اندر روشن کی۔ چہرے پر روشنی ہوئی۔ بجلی کی تیز روشنی میں ایک دم سے میں نے اس نازنین کے چہرے پر نظر ڈالی۔ اس کی ناک اور منہ پر چاول سے سفید سفید رکھے دکھائی دیے۔ غور سے جو دیکھتا ہوں تو الامان! میرے منہ سے ایک چیخ نکلی۔ کیڑے ناک اور منہ میں بجبجا رہے تھے! میں بدحواس ہو کر ایک دم سے قبر کے باہر اچھلا ہوں کہ ایک چیخ کے ساتھ میری خوشدامن اندر گریں۔ لیکن میں جو سر پر پیر رکھ کر بھاگا ہوں تو میرے خسر نے روکا۔\n\nمیرے ہوش بجا نہ تھے اور میں بھاگ آیا اور ایسا بھاگا ہوں کے پچھلے مہینے جو ذرا ہوش ٹھیک ہوئے تو اپنے خسر سے ملنے گیا، ان کے وطن میں۔ دیکھوں تو چہرہ ہونق! مجھ سے ملے تو نہ دعا نہ سلام۔ بولے، ’’بل۔۔۔ لی!‘‘ میں نے غور سے دیکھا۔ نوکر نے کہا۔ دماغ خراب ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ میری خوشدامن جو قبر میں گریں تو پھر نہ نکلیں۔ مر چکی تھیں اور ماں بیٹیاں ایک ہی قبر میں سو گئیں۔ وہاں سے یہ لوٹے تو دیوانے ہوگئے۔\n\nمیں ٹھنڈی سانسیں لیتا واپس آیا۔ شکر ہے خدا کا زندہ ہوں، لیکن حال یہ ہے کہ چاول اگر کھانے میں آ جائیں تو معاً وہی قبر کا سین سامنے آ جاتا ہے۔ منہ سے ایک چیخ نکلتی ہےاور معلوم ہوتا ہے کہ کیڑے بجبجا رہے ہیں۔ ویسے دماغ ٹھیک ہے۔ دنیا کے کاروبار کرتا ہوں اور میری اس کمزوری کا کسی کو علم بھی نہیں، لیکن عرض نہیں کر سکتا۔ اپنی بیوی کی چند روزہ صحبت کی یاد میرے دل سے کبھی محو نہ ہوگی۔ میرا اس کا ساتھ محض چند روز رہا، لیکن اپنی لافانی محبت کا نقش میرے دل پر چھوڑ گئی۔ اپنے ماں باپ سے ملنے کے لیے وہ کیسی بیتاب تھی اور کیسی بے چین تھی! بس یہ سمجھ لیجیے کہ پانی کے باہر جو کبھی مچھلی دیکھ لیتا ہوں تو وہی حالت پیش نظر ہو جاتی ہے اور صدمہ مجھے اس کا ہے کہ حیف صد حیف وہ ناکام ہوگئی۔ جوانی اور ناکام محبت! میں سر دھنتا ہوں۔ جب اس امر پر غور کرتا ہوں کہ تقدیر کی خوبی تو دیکھیے کہ ماں باپ اور بیٹی تینوں ماہیٔ بے آب، ایک ہی جگہ جمع تھے اور مل نہ سکے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%88%D9%84"} {"title": "چاک جگر و دل کا جب شکوہ بجا ہوتا", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاک جگر و دل کا جب شکوہ بجا ہوتا\nیوسف کا زلیخا نے دامن تو سیا ہوتا\n\nسہتا ہوں ستم اس کے احسان ہے دنیا پر\nگر میں نہ وفا کرتا کیا جانیے کیا ہوتا\n\nتم اور عدو دونوں اک جان دو قالب ہو\nمیں تم سے اگر ملتا وہ کیوں کہ جدا ہوتا\n\nمحرومیٔ طالع سے ہوگا نہ یہ دن ورنہ\nمیں تم کو دکھا دیتا گر روز جزا ہوتا\n\nیاں ترک وفا مشکل تم کیوں کہ ستم چھوڑو\nجو کچھ نہ ہوا مجھ سے وہ آپ سے کیا ہوتا\n\nاے کاش تم آ جاتے اغیار ہی کو لے کر\nکچھ عمر تو گھٹ جاتی گو رنج سوا ہوتا\n\nکرتے ہیں وہ چار آنکھیں یوں مل کے قیامت میں\nگویا کہ ہے فردا کا اب وعدہ وفا ہوتا\n\nدھوکے میں نہ رہنا تھا یکبار نہ کہنا تھا\nکچھ لب پہ گلا لاتے کچھ دل میں رکھا ہوتا\n\nہوتی ہے شب وعدہ جب یاس تو میں دل سے\nناچار یہ کہتا ہوں وہ آتے تو کیا ہوتا\n\nمے خانے سے مے سالکؔ پیتے ہوئے گھر جانا\nبازار ہے یہ حضرت کچھ پاس کیا ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DA%A9_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AC%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "چاک داماں نہ رہا چاک گریباں نہ رہا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاک داماں نہ رہا چاک گریباں نہ رہا\nپھر بھی پوشیدہ مرا حال پریشاں نہ رہا\n\nبزم دشمن نہ کبھی درہم و برہم دیکھی\nکیا ترا دور وہ اے گردش دوراں نہ رہا\n\nمجھ کو افسوس کہ وہ اور عدو کے بس میں\nاس کو یہ غم کہ مرا اب کوئی پرساں نہ رہا\n\nہم نے جو بات کہی تھی وہی آخر کو ہوئی\nتم نے جو راز چھپایا تھا وہ پنہاں نہ رہا\n\nمنفعل ترک وفا نے مجھے برسوں رکھا\nچار دن اپنے کیے پر وہ پشیماں نہ رہا\n\nان کی شوخی بھی ہوئی ہے مری وحشت کا جواب\nہاتھ ڈالا جو گریباں میں گریباں نہ رہا\n\nبن گئی داغ کلیجے کا تمنائے وصال\nداغ حسرت کے سوا اب کوئی ارماں نہ رہا\n\nخیر سب قول و قسم جھوٹ سہی خوش رہیے\nاب مرے آپ کے وہ عہد وہ پیماں نہ رہا\n\nروکنے کو مجھے غیرت کے سوا اس در پر\nکوئی درباں نہ رہا کوئی نگہباں نہ رہا\n\nمٹ گیا شغل جنوں اب وہ کہاں جامہ دری\nزور وحشت کا بھی اب دست و گریباں نہ رہا\n\nچار جھڑکی میں ترے در سے الگ ہو بیٹھا\nغیر کچھ روز بھی منت کش درباں نہ رہا\n\nوقت کو ہاتھ سے کھو کر کوئی دنیا میں حفیظؔ\nعمر بھر میری طرح سر بہ گریباں نہ رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "چاک سینے کا بہ انداز جگر ہو کہ نہ ہو", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاک سینے کا بہ انداز جگر ہو کہ نہ ہو\nاور پھر لذت جاں ذوق اثر ہو کہ نہ ہو\n\nتجھ سے اے شمع سر شام ہی رخصت ہو لوں\nشب بسر ہو کہ نہ ہو وقت سحر ہو کہ نہ ہو\n\nعمر نظارہ اسی جلوے پہ قرباں کر دوں\nپھر کبھی اور مجھے تاب نظر ہو کہ نہ ہو\n\nاب جہاں وہ ہیں مرا ہوش وہیں ہے اے دل\nبے خبر میں ہوں انہیں اس کی خبر ہو کہ نہ ہو\n\nاپنے محشر کی سحر بھیج ہی دے اب یا رب\nیعنی تنہا ہے مری رات بسر ہو کہ نہ ہو\n\nاس قدر پوچھ تو لو روئے سحر سے کیفیؔ\nاس پہ رنگ اثر دیدۂ تر ہو کہ نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DA%A9_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "چاک پر چاک ہوا جوں جوں سلایا ہم نے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاک پر چاک ہوا جوں جوں سلایا ہم نے\nاس گریباں ہی سے اب ہاتھ اٹھایا ہم نے\n\nحسرت لطف عزیزان چمن جی میں رہی\nسر پہ دیکھا نہ گل و سرو کا سایہ ہم نے\n\nجی میں تھا عرش پہ جا باندھئے تکیہ لیکن\nبسترہ خاک ہی میں اب تو بچھایا ہم نے\n\nبعد یک عمر کہیں تم کو جو تنہا پایا\nڈرتے ڈرتے ہی کچھ احوال سنایا ہم نے\n\nیاں فقط ریختہ ہی کہنے نہ آئے تھے ہم\nچار دن یہ بھی تماشا سا دکھایا ہم نے\n\nبارے کل باغ میں جا مرغ چمن سے مل کر\nخوبی گل کا مزہ خوب اڑایا ہم نے\n\nتازگی داغ کی ہر شام کو بے ہیچ نہیں\nآہ کیا جانے دیا کس کا بجھایا ہم نے\n\nدشت و کہسار میں سر مار کے چندے تجھ بن\nقیس و فرہاد کو پھر یاد دلایا ہم نے\n\nبیکلی سے دل بیتاب کی مر گزرے تھے\nسو تہ خاک بھی آرام نہ پایا ہم نے\n\nیہ ستم تازہ ہوا اور کہ پائیز میں میرؔ\nدل خس و خار سے ناچار لگایا ہم نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DA%A9_%D9%BE%D8%B1_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92"} {"title": "چاک چاک اپنا گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاک چاک اپنا گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا\nوحشت دل کا جو ساماں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nیا خدا دیر میں ساماں نہ ہوا تھا سو ہوا\nکافر عشق مسلماں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nرخ انور سے میں حیراں نہ ہوا تھا سو ہوا\nکبھی اے زلف پریشاں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nظلم و جور اے شب ہجراں نہ ہوا تھا سو ہوا\nخانۂ گور میں مہماں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nچشم انصاف سے طوفاں نہ ہوا تھا سو ہوا\nدل اخترؔ چمنستاں نہ ہوا تھا سو ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DA%A9_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عریانی کرے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عُریانی کرے\nصبح کے مانند، زخمِ دل گریبانی کرے\n\nجلوے کا تیرے وہ عالم ہے کہ، گر کیجے خیال\nدیدۂ دل کو زیارت گاہِ حیرانی کرے\n\nہے شکستن سے بھی دل نومید، یارب! کب تلک\nآبگینہ کوہ پر عرضِ گِرانجانی کرے\n\nمیکدہ گر چشمِ مستِ ناز سے پاوے شکست\nمُوئے شیشہ دیدۂ ساغر کی مژگانی کرے\n\nخطِّ عارض سے، لکھا ہے زُلف کو الفت نے عہد\nیک قلم منظور ہے، جو کچھ پریشانی کرے\n\nہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقتِ قہقہہ\nکرمکِ شب تاب آسا مِہ پر افشانی کرے\n\nوقت اس افتادہ کا خوش، جو قناعت سے اسدؔ\nنقشِ پائے مور کو نقشِ سلیمانی کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B4_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%A8%DB%81_%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "چاک‌ ہو پردۂ وحشت مجھے منظور نہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاک‌ ہو پردہ وحشت مجھے منظور نہیں\nورنہ یہ ہاتھ گریبان سے کچھ دور نہیں\n\nسجدے کرنے سے مٹا خط جبیں اے زاہد\nہم کہے دیتے ہیں قسمت میں تری حور نہیں\n\nمحتسب مانع علت ہے گمان مے سے\nسونگھنے کو بھی میسر مجھے انگور نہیں\n\nلب تک آئی تھی شکایت کہ محبت نے کہا\nدیکھ پچھتائے گا خاموش یہ دستور نہیں\n\nرات دن نامہ و پیغام کہاں تک ہوں گے\nصاف کہہ دیجئے ملنا ہمیں منظور نہیں\n\nتم نے دی کوہ کن و قیس سے مجھ کو نسبت\nکوئی دیوانہ نہیں میں کوئی مزدور نہیں\n\nکیا کرے داغؔ کوئی اس کی محبت کا علاج\nوہ کلیجہ ہی نہیں جس میں یہ ناسور نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DA%A9%E2%80%8C_%DB%81%D9%88_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%82_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چاہ میں اس کی دل نے ہمارے نام کو چھوڑا نام کیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاہ میں اس کی دل نے ہمارے نام کو چھوڑا نام کیا\nشغل میں اس کے شوق بڑھا کر کام کو چھوڑا کام کیا\n\nزلف دوپٹہ دھانی میں کر کے پنہاں مرا دل باندھ لیا\nصید نہ کھاوے کیوں کر جل جب سبزے میں پنہاں دام کیا\n\nرم پر اپنے آہوئے دل کو غرہ نہایت تھا لیکن\nچنچل آہوئے چشم نے اس کو ایک نگہ میں رام کیا\n\nسمجھے تھے یوں ہم دل کو لگا کر پاویں گے یاں آرام بہت\nحیف اسی فہمید نے ہم کو کیا کیا بے آرام کیا\n\nہم نے کہا جب ناز بتاں کے تم تو بہت کام آئے نظیرؔ\nسن کے کہا کیا آئے جی ہاں کچھ بت کے موافق کام کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "چاہ کر ہم اس پری رو کو جو دیوانے ہوئے", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاہ کر ہم اس پری رو کو جو دیوانے ہوئے\nدوست دشمن ہو گئے اور اپنے بیگانے ہوئے\n\nپھر نئے سر سے یہ جی میں ہے کہ دل کو ڈھونڈیئے\nخاک کوچے کی ترے مدت ہوئی چھانے ہوئے\n\nتھا جہاں مے خانہ برپا اس جگہ مسجد بنی\nٹوٹ کر مسجد کو پھر دیکھا تو بت خانے ہوئے\n\nہے یہ دنیا جائے عبرت خاک سے انسان کی\nبن گئے کتنے سبو کتنے ہی پیمانے ہوئے\n\nعقل و ہوش اپنے کا رنگیںؔ ہو گیا سب اور رنگ\nکشور دل میں جب آ کر عشق کے تھانے ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "چاہئیں مجھ کو نہیں زریں قفس کی پتلیاں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاہئیں مجھ کو نہیں زریں قفس کی پتلیاں\nآشیاں جانوں جو ہوویں خار و خس کی پتلیاں\n\nہو گئیں بے رنگ جب اگلے برس کی پتلیاں\nخون رو کر ہم نے کیں رنگیں قفس کی پتلیاں\n\nہے یہ فولادی قفس مجھ ناتواں کا کیا کروں\nکس طرح توڑوں نہیں ہیں میرے بس کی پتلیاں\n\nکیا خدا کی شان ہے آتی ہے جب فصل بہار\nسب ہری ہو جاتی ہیں میرے قفس کی پتلیاں\n\nجب کبھی کنج قفس میں کی ہے میں نے آہ گرم\nموم ہو کر بہہ گئی ہیں پیش و پس کی پتلیاں\n\nگھر قفس کو میں سمجھتا ہوں اسیری کو مراد\nجانتا ہوں اپنی آہوں کو ہوس کی پتلیاں\n\nپٹریاں میرے قفس کی شاخ گل سے کم نہیں\nلوچ یہ دیکھا نہ دیکھیں ایسی رس کی پتلیاں\n\nگونجنے لگتا ہے یہ بھی جب فغاں کرتا ہوں میں\nنصب ہیں میرے قفس میں کیا جرس کی پتلیاں\n\nدیکھیے شوق اسیری میں جکڑنے کے لئے\nہو گئیں ریشم کا لچھا سب قفس کی پتلیاں\n\nرو رہی ہے دیکھ کر لیلیٰ جو اس کو اے شرفؔ\nپسلیاں مجنوں کی ہیں میرے قفس کی پتلیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D9%81%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%D8%AA%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "چاہئے پرہیز گردش چشم شوخ یار کو", "poet_page": "مصنف:ابراہیم عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاجز (1934)", "year": "1934", "text_ur": "چاہئے پرہیز گردش چشم شوخ یار کو\nگھومنے سے جب زیاں ہے مردم بیمار کو\n\nہوں مریض عشق ہے یہ درد میرا لا دوا\nہوگی صحت کیا مسیحا سے ترے بیمار کو\n\nناوک بے پر اگر ہے اس کی مژگان دراز\nقوس کیوں سمجھے نہ عاشق ابروئے خم دار کو\n\nمیری ہی نفرت نے کی الفت رقیبوں سے سوا\nوصل کی دولت میسر کیوں نہ ہو اغیار کو\n\nشام غربت ہجر میں تو وصل میں صبح وطن\nدیکھتا ہوں اپنے گھر میں سایۂ دیوار کو\n\nکیا قیامت ہے درازیٔ شب یلدائے ہجر\nروز محشر پر جو رکھا وعدۂ دیدار کو\n\nایک درہم کی اسے خواہش تو لاکھوں کی اسے\nشکر مفلس سے زیادہ ہے کہیں زردار کو\n\nنقد جاں دے کر زلیخا نے لیا سودائے عشق\nحسن یوسف کی جو دیکھا گرمئ بازار کو\n\nابن آدم سے بھی چھینی عشق ہی نے سلطنت\nکر دیا محتاج اسی نے مالک دینار کو\n\nاس زمانے میں بڑی ہوتی ہے زرداروں کی قدر\nپوچھتا ہے کون عاجزؔ مفلس نادار کو", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92_%D9%BE%D8%B1%DB%81%DB%8C%D8%B2_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88"} {"title": "چاہت غمزے جتا رہی ہے", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاہت غمزے جتا رہی ہے\nوحشت صحرا دکھا رہی ہے\n\nغنچوں کا جگر ہلا رہی ہے\nبلبل کیا گل کھلا رہی ہے\n\nیوسف کا پتا لگا رہی ہے\nخوشبو کنعاں میں آ رہی ہے\n\nشیریں کیا رنگ لا رہی ہے\nعاشق کا لہو بہا رہی ہے\n\nکس شوخ کو دیجئے دل زار\nکس میں صاحب وفا رہی ہے\n\nآوازۂ فیض ہے جہاں میں\nجس کی شہرت سدا رہی ہے\n\nڈائن ہے پری وشوں کی فرقت\nدل کھا کے کلیجہ کھا رہی ہے\n\nجاں نذر ہوئی پری رخوں کی\nمٹی کو ہوا اڑا رہی ہے\n\nچاہت کی کشش نے لو ڈبو دی\nیوسف کو کنوئیں جھکا رہی ہے\n\nدل میں جو بسے ہوے ہیں گل رو\nسرخی آنکھوں میں چھا رہی ہے\n\nگہتا ہوں جبیں کو پائے بت سے\nتقدیر لکھا مٹا رہی ہے\n\nہنستے ہوئے دیکھ کر گلوں کو\nشبنم آنسو بہا رہی ہے\n\nاندھیر کا آج سامنا ہے\nسرمہ وہ پری لگا رہی ہے\n\nکیوں جان نہیں نکلتی آغاؔ\nکیسے صدمے اٹھا رہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA_%D8%BA%D9%85%D8%B2%DB%92_%D8%AC%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک\nکچھ میری حقیقت ہی نہیں آپ کے نزدیک\n\nکچھ قدر تو کرتے مرے اظہار وفا کی\nشاید یہ محبت ہی نہیں آپ کے نزدیک\n\nیوں غیر سے بے باک اشارے سر محفل\nکیا یہ مری ذلت ہی نہیں آپ کے نزدیک\n\nعشاق پہ کچھ حد بھی مقرر ہے ستم کی\nیا اس کی نہایت ہی نہیں آپ کے نزدیک\n\nاگلی سی نہ راتیں ہیں نہ گھاتیں ہیں نہ باتیں\nکیا اب میں وہ حسرتؔ ہی نہیں آپ کے نزدیک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%B2%D8%AF%DB%8C%DA%A9"} {"title": "چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہے\nحسرت کسی عاشق کی نکالی بھی گئی ہے\n\nتم نے کسی بیمار کو اچھا بھی کیا ہے\nحالت کسی بگڑے کی سنبھالی بھی گئی ہے\n\nتم کھیل سمجھتے ہو مگر یہ تو بتاؤ\nآہ دل مضطر کبھی خالی بھی گئی ہے\n\nکیا خاک کروں میں خلش عشق کا شکوہ\nیہ پھانس کبھی تم سے نکالی بھی گئی ہے\n\nجھگڑے بھی کہیں رشک رقابت کے مٹے ہیں\nالفت میں کبھی خام خیالی بھی گئی ہے\n\nمضطرؔ کو کبھی حسن کا صدقہ بھی دیا ہے\nیہ بھیک کبھی آپ سے ڈالی بھی گئی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D9%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%88%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "چاہت کے اب افشا کن اسرار تو ہم ہیں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاہت کے اب افشا کن اسرار تو ہم ہیں\nکیوں دل سے جھگڑتے ہو گنہ گار تو ہم ہیں\n\nرو آئینے کو دیتے ہو برعکس ہمارے\nآئینہ رکھو طالب دیدار تو ہم ہیں\n\nگلشن میں عجب جاتے ہو کر حسن کی تزئین\nاس جنس دل آرا کے خریدار تو ہم ہیں\n\nکیا کبک کو دکھلاتے ہو انداز خرام آہ\nحسرت زدۂ شوخئ رفتار تو ہم ہیں\n\nکی چشم سوئے نرگس بیمار تو پھر کیا\nاس عین عنایت کے سزا وار تو ہم ہیں\n\nدل دے کے دل آزار کو کیا شکوۂ بیداد\nگر سوچیے اپنے لیے آزار تو ہم ہیں\n\nجس دن سے پھنسے دیکھی نہ پھر شکل رہائی\nکیا کہئے نظیرؔ ایسے گرفتار تو ہم ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%81%D8%B4%D8%A7_%DA%A9%D9%86_%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چاہتا ہوں انتہائے درد دل", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاہتا ہوں انتہائے درد دل\nمل گئی آخر دوائے درد دل\n\nکیا ضروری تھی دوائے درد دل\nسن تو لیتے ماجرائے درد دل\n\nعشق کی وجہ ندامت کچھ نہ پوچھ\nدل ہے پہلو میں بجائے درد دل\n\nجس کو دل لینے پہ اتنا ناز ہے\nکاش ہوتا آشنائے درد دل\n\nیوں نہیں مٹنے کی اخترؔ یہ خلش\nدل کہیں آئے تو جائے درد دل", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84"} {"title": "چاہتا ہوں تجھے نبیؐ کی قسم", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "چاہتا ہوں تجھے نبیؐ کی قسم\nحضرت مرتضیٰ علی کی قسم\n\nمجھے غمگیں نہ چھوڑ روتا آج\nتجھے اپنی ہنسی خوشی کی قسم\n\nصاف کہہ بیٹھیے نہ جی میں جو ہو\nآپ کو اپنی سادگی کی قسم\n\nمیں دلائی قسم تو کہنے لگے\nہم نہیں مانتے کسی کی قسم\n\nصدقہ ہوتا ہوں جس گھڑی مجھ کو\nیاد آتی ہے اس پری کی قسم\n\nہائے کہنا وہ اس کا چپکے سے\nتجھے انشاؔ ہماری جی کی قسم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%D8%A8%DB%8C%D8%90_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85"} {"title": "چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھے", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھے\nآپ کو دیکھوں خدا وہ دن نہ دکھلائے مجھے\n\nآس کیا اب تو امید ناامیدی بھی نہیں\nکون دے مجھ کو تسلی کون بہلائے مجھے\n\nدل دھڑکتا ہے شب غم میں کہیں ایسا نہ ہو\nمرگ بھی بن کر مزاج یار ترسائے مجھے\n\nلے چلو للہ کوئی خضر مینا کے حضور\nعالم گم گشتگی کی راہ بتلائے مجھے\n\nاب تو جوش آرزو تسلیمؔ کہتا ہے یہی\nروضۂ شاہ نجف اللہ دکھلائے مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A8%DB%8C%D9%86%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "چاہیئے دنیا نہ عقبیٰ چاہیئے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاہیئے دنیا نہ عقبیٰ چاہیئے\nجو تجھے چاہے اسے کیا چاہیئے\n\nزندگی کیا جو بسر ہو چین سے\nدل میں تھوڑی سی تمنا چاہیئے\n\nتاب نظارہ ان آنکھوں کو کہاں\nدیکھنے والوں سے پردا چاہیئے\n\nمجھ کو دیکھو اور میری آرزو\nاک حسیں اچھے سے اچھا چاہیئے\n\nوہ بہت دیر آشنا ہے اے جلیلؔ\nآشنائی کو زمانا چاہیئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B9%D9%82%D8%A8%DB%8C%D9%B0_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%D8%A6%DB%92"} {"title": "چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جانا", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جانا\nجس طرح آنکھ اٹھے محو ادا ہو جانا\n\nکسی معشوق کا عاشق سے خفا ہو جانا\nروح کا جسم سے گویا ہے جدا ہو جانا\n\nموت ہی آپ کے بیمار کی قسمت میں نہ تھی\nورنہ کب زہر کا ممکن تھا دوا ہو جانا\n\nاپنے پہلو میں تجھے دیکھ کے حیرت ہے مجھے\nخرق عادت ہے ترا وعدہ وفا ہو جانا\n\nوقعت عشق کہاں جب یہ تلون ہو وہاں\nکبھی راضی کبھی عاشق سے خفا ہو جانا\n\nجب ملاقات ہوئی تم سے تو تکرار ہوئی\nایسے ملنے سے تو بہتر ہے جدا ہو جانا\n\nچھیڑ کچھ ہو کہ نہ ہو بات ہوئی ہو کہ نہ ہو\nبیٹھے بیٹھے انہیں آتا ہے خفا ہو جانا\n\nمجھ سے پھر جائے جو دنیا تو بلا سے پھر جائے\nتو نہ اے آہ زمانے کی ہوا ہو جانا\n\nاحسنؔ اچھا ہے رہے مال عرب پیش عرب\nدے کے دل تم نہ گرفتار بلا ہو جانا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%81%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "چاہیں ہیں یہ ہم بھی کہ رہے پاک محبت", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاہیں ہیں یہ ہم بھی کہ رہے پاک محبت\nپر جس میں یہ دوری ہو وہ کیا خاک محبت\n\nآ عشق اگر قصد تجارت ہے کہ اس جا\nہیں تودہ ہر اک گھر دو سہ افلاک محبت\n\nناصح تو عبث سی کے نہ رسوا ہو کہ ظالم\nرکھتا ہے گریباں سے مرے چاک محبت\n\nاپنے تو لئے زہر کی تاثیر تھی اس میں\nگو واسطے عالم کے ہو تریاک محبت\n\nبلبل تو ہوں قائمؔ میں پر اس باغ کا جس میں\nبے رتبہ ہے مثل خس و خاشاک محبت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D9%BE%D8%A7%DA%A9_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA"} {"title": "چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاہیے اچھّوں کو، جتنا چاہیے\nیہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے\n\nصُحبتِ رنداں سے واجب ہے حَذر\nجائے مے، اپنے کو کھینچا چاہیے\n\nچاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل؟\nبارے اب اِس سے بھی سمجھا چاہیے!\n\nچاک مت کر جیب، بے ایامِ گُل\nکُچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہیے\n\nدوستی کا پردہ ہے بیگانگی\nمنہ چُھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے\n\nدُشمنی نے میری، کھویا غیر کو\nکِس قدر دُشمن ہے، دیکھا چاہیے\n\nاپنی، رُسوائی میں کیا چلتی ہے سَعی\nیار ہی ہنگامہ آرا چاہیے\n\nمنحصر مرنے پہ ہو جس کی امید\nنا اُمیدی اُس کی دیکھا چاہیے\n\nغافل، اِن مہ طلعتوں کے واسطے\nچاہنے والا بھی اچھا چاہیے\n\nچاہتے ہیں خُوبرویوں کو اسدؔ\nآپ کی صُورت تو دیکھا چاہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%AA%D9%86%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "چاہے سو ہمیں کر تو گنہ گار ہیں تیرے", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چاہے سو ہمیں کر تو گنہ گار ہیں تیرے\nتقدیر تھی اپنی کہ گرفتار ہیں تیرے\n\nمرتے ہیں کبھی آ کے ہماری بھی خبر لے\nآہ اے بت بے درد یہ بیمار ہیں تیرے\n\nنقد دل و دیں مفت میں دے بیٹھیں گے آخر\nہم عاشق مفلس کہ خریدار ہیں تیرے\n\nخواہش ہے نہ بوسے کی نہ آغوش سے مطلب\nدیدار کے یاں صرف طلب گار ہیں تیرے\n\nہے روئے زمیں عرصۂ محشر انہیں ہر روز\nجو دل شدۂ قامت و رفتار ہیں تیرے\n\nہم وصل میں اور ہجر میں جلتے رہے ان سے\nکیا داغ جگر یہ گل رخسار ہیں تیرے\n\nسوگند ہے حسرتؔ مجھے اعجاز سخن کی\nیہ سحر ہیں جادو ہیں نہ اشعار ہیں تیرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DA%AF%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92"} {"title": "چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کے\nمطلب یہ ہے کہ رکھ دے کلیجہ نکال کے\n\nواعظ سے بحث بادہ و پیمانہ کیا کروں\nکچھ لوگ رہ گئے ہیں پرانے خیال کے\n\nسو داغ جن کے لائے ہیں زیر مزار ہم\nاحساں جتا رہے ہیں وہ دو پھول ڈال کے\n\nپھر ڈھونڈھتا ہے دل خلش خار آرزو\nپچھتا رہا ہوں دل سے یہ کانٹا نکال کے\n\nیہ غم کدہ ہے اس میں مبارکؔ خوشی کہاں\nغم کو خوشی بنا کوئی پہلو نکال کے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%AA%D9%88%D9%86_%D8%AC%D9%88_%D9%82%DB%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%92"} {"title": "چتون درست سین بجا باتیں ٹھیک ٹھیک", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چتون درست سین بجا باتیں ٹھیک ٹھیک\nناز و ادا کی اس میں ہیں سب باتیں ٹھیک ٹھیک\n\nکیا دل کو اچھی لگتی ہیں ان خوش قدوں کی آہ\nیہ پیاری پیاری بولیاں یہ گاتیں ٹھیک ٹھیک\n\nمنہ میں طمانچے چھاتی میں گھونسہ کمر میں لات\nکیا کیا ہوئیں یہ مجھ پہ عنایاتیں ٹھیک ٹھیک\n\nموقع سے بوسہ موقع سے گالی بھی ہم کو دی\nکی شوخ نے یہ دونوں مداراتیں ٹھیک ٹھیک\n\nجب دوستی میں قول کے پورے ہوں دونوں شخص\nہوتی ہیں پھر تو کیا ہی ملاقاتیں ٹھیک ٹھیک\n\nجب بن پڑی تو شیخ جی شیخی نہ ماریں کیا\nہم سے بھی پھر تو ہوویں کراماتیں ٹھیک ٹھیک\n\nسچ ہے بقول حضرت سید نظیرؔ آہ\nبن آتی ہیں تو ہوتی ہیں سب باتیں ٹھیک ٹھیک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%AA%D9%88%D9%86_%D8%AF%D8%B1%D8%B3%D8%AA_%D8%B3%DB%8C%D9%86_%D8%A8%D8%AC%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D9%B9%DA%BE%DB%8C%DA%A9_%D9%B9%DA%BE%DB%8C%DA%A9"} {"title": "چتون میں شرارت ہے اور سین بھی چنچل ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چتون میں شرارت ہے اور سین بھی چنچل ہے\nکافر تری نظروں میں کچھ اور ہی چھل بل ہے\n\nبالا بھی چمکتا ہے جگنو بھی دمکتا ہے\nبدھی کی لپٹ تس پر تعویذ کی ہیکل ہے\n\nگورا وہ گلا نازک اور پیٹ ملائی سا\nسینے کی صفائی بھی ایسی گویا مخمل ہے\n\nوہ حسن کے گلشن میں مغرور نہ ہو کیوں کر\nبڑھتی ہوئی ڈالی ہے اٹھتی ہوئی کونپل ہے\n\nانگیا وہ غضب جس کو ململ ہی کرے دل بھی\nکیا جانے کہ شبنم ہے نن سکھ ہے کہ ململ ہے\n\nیہ دو جو نئے پھل ہیں سینے پہ ترے ظالم\nٹک ہاتھ لگانے دے جینے کا یہی پھل ہے\n\nابھرا ہوا وہ سینہ اور جوش بھرا جوبن\nایک ناز کا دریا ہے اک حسن کا بادل ہے\n\nکیا کیجے بیاں یارو چنچل کی رکھاوٹ کا\nہر بات میں در در ہے ہر آن میں چلچل ہے\n\nیہ وقت ہے خلوت کا اے جان نہ کر کل کل\nکافر تری کل کل سے اب جی مرا بیکل ہے\n\nکل میں نے کہا اس سے کیا دل میں یہ آیا جو\nکنگھی ہے نہ چوٹی ہے مسی ہے نہ کاجل ہے\n\nمعلوم ہوا ہم سے روٹھے ہو تم اے جانی\nالٹا ہی دوپٹے کا مکھڑے پہ یہ آنچل ہے\n\nیہ سن کے لگی کہنے روٹھی تو نہیں تجھ سے\nپر کیا کہوں دو دن سے کچھ دل مرا بیکل ہے\n\nجس دن ہی نظیرؔ آ کر وہ شوخ ملے ہم سے\nہتھ پھیر ہیں بوسے ہیں دن رات کی مل دل ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%AA%D9%88%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D9%86_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%86%D9%86%DA%86%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "چتون کی کہوں کہ اشارات کی گرمی", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چتون کی کہوں کہ اشارات کی گرمی\nہے نام خدا اس میں ہر ایک بات کی گرمی\n\nرونے سے مرے اس کو عرق آ گیا یارو\nسچ ہے کہ بری ہوتی ہے برسات کی گرمی\n\nٹک پھول چھوا تھا سو نزاکت سے کئی بار\nرہ رہ کے دکھائی مجھے گل ہات کی گرمی\n\nکھلواتے ہی بندوں کے بدن گرم ہو آیا\nشاید کہ لگی اس کو مرے ہات کی گرمی\n\nجلتا ہوں میں اور شعلے نہیں دیتے دکھائی\nہے عشق میں یارو یہ طلسمات کی گرمی\n\nرہنا ہے کوئی دن تو سمجھ جائیو اے دل\nیاں پھر وہی ٹھہری ہے ملاقات کی گرمی\n\nگرمی تھی کہیں آہ ہم افسردہ دلوں میں\nساقی کی فقط ہے یہ عنایات کی گرمی\n\nآتے ہی جو تم میرے گلے لگ گئے واللہ\nاس وقت تو اس گرمی نے سب مات کی گرمی\n\nکہتا ہے وہ جس دم کہ چلو ہم سے نہ بولو\nاس بات میں ہے اور ہی ایک بات کی گرمی\n\nسب پوچ ہے ظاہر کی یہ شوخی و شرارت\nمعشوق میں جب تک کہ نہ ہو ذات کی گرمی\n\nتم غصہ ہو یا قہر ہو آتش ہو غضب ہو\nاب ہم نے یہ سب دل پہ مساوات کی گرمی\n\nیا حضرت دل تم تو بڑے صاحب دل تھے\nرکھتے تھے بہت اپنے کمالات کی گرمی\n\nایک ہی نگہ گرم سے بس ہو گئے تم سرد\nاب کہئے کہاں ہے وہ کرامات کی گرمی\n\nیوں گرمی صحبت تو بہت ہوگی نظیرؔ آہ\nپر یار نہ بھولے گی مجھے رات کی گرمی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%AA%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C"} {"title": "چرا نہ آنکھ کو ساقی کہ بادہ نوش ہوں میں", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چرا نہ آنکھ کو ساقی کہ بادہ نوش ہوں میں\nابھی تو فیصلہ ہوتا ہے ایک ساغر پر\n\nمریض عشق کی حالت کبھی نہ سنبھلے گی\nمجھے تو چھوڑ دے اے چارہ گر مقدر پر\n\nہمارے نالے بھی تھک تھک کے اب تو بیٹھ رہے\nگئے وہ دن کہ اٹھاتے تھے آسماں سر پر\n\nہمارے مے کدہ کو چھوڑ کر نہ جا زاہد\nملے گا قطرہ نہ کمبخت حوض کوثر پر\n\nگلہ نہ ہم نے کیا شوقؔ اس ستم گر سے\nبلائیں سب وہ اٹھائیں جو آ پڑیں سر پر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D9%86%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چراغ اس نے بجھا بھی دیا جلا بھی دیا", "poet_page": "مصنف:بشیر الدین احمد دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چراغ اس نے بجھا بھی دیا جلا بھی دیا\nیہ میری قبر پہ منظر نیا دکھا بھی دیا\n\nیہ چھیڑ کیا ہے یہ کیا مجھ سے دل لگی ہے کوئی\nجگایا نیند سے جاگا تو پھر سلا بھی دیا\n\nادھر تھا لطف و کرم ان کا اس طرف تھا عتاب\nچراغ امید کا روشن کیا بجھا بھی دیا\n\nیہ شوخیاں نئی دیکھیں تمہاری چتون میں\nکہ پردہ رخ پہ لیا اور پھر اٹھا بھی دیا\n\nادھر لگاؤ ادھر برہمی کے ہیں آثار\nمجھے پھنسا بھی لیا اور پھر چھڑا بھی دیا\n\nنکل گئے مری آنکھوں سے سیکڑوں آنسو\nخزانہ جمع کیا اور پھر لٹا بھی دیا\n\nنیا ہے حسن کے بازار کا اتار چڑھاؤ\nچڑھایا سر پہ نگاہوں سے پھر گرا بھی دیا\n\nذرا تو پاس طلب عاشقوں کا تم کرتے\nبلایا پاس بھی پھر پاس سے ہٹا بھی دیا\n\nیہ ان کا کھیل تو دیکھو کہ ایک کاغذ پر\nلکھا بھی نام مرا اور پھر مٹا بھی دیا\n\nاگرچہ راہ محبت ہے تنگ و تار مگر\nاسی کے ساتھ ہمیں عقل کا دیا بھی دیا\n\nبشیرؔ سینگ کٹا کر ملے ہیں بچھڑوں میں\nبنے جوان بڑھاپے کا غم بھلا بھی دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "چراغ حسن ہے روشن کسی کا", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چراغ حسن ہے روشن کسی کا\nہمارا خون ہے روغن کسی کا\n\nابھی نادان ہیں محشر کے فتنے\nرہیں تھامے ہوئے دامن کسی کا\n\nدل آیا ہے قیامت ہے مرا دل\nاٹھے تعظیم دے جوبن کسی کا\n\nیہ محشر اور یہ محشر کے فتنے\nکسی کی شوخیاں بچپن کسی کا\n\nادائیں تا ابد بکھری پڑی ہیں\nازل میں پھٹ پڑا جوبن کسی کا\n\nکیا تلوار نے گھونگھٹ مرے بعد\nنہ منہ دیکھے گی یہ دلہن کسی کا\n\nہماری خاک محشر تک اڑی ہے\nنہ ہاتھ آیا مگر دامن کسی کا\n\nبجائے گل مری تربت پہ ہوں خار\nکہ الجھے گوشۂ دامن کسی کا\n\nبیاںؔ برق بلا چتون کسی کی\nدل پر آرزو خرمن کسی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے", "poet_page": "مصنف:عبد المجید سالک", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے\nچمن میں آئے گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گے\n\nجوانو اب تمہارے ہاتھ میں تقدیر عالم ہے\nتمہیں ہوگے فروغ بزم امکاں ہم نہیں ہوں گے\n\nجئیں گے جو وہ دیکھیں گے بہاریں زلف جاناں کی\nسنوارے جائیں گے گیسوئے دوراں ہم نہیں ہوں گے\n\nہمارے ڈوبنے کے بعد ابھریں گے نئے تارے\nجبین دہر پر چھٹکے گی افشاں ہم نہیں ہوں گے\n\nنہ تھا اپنی ہی قسمت میں طلوع مہر کا جلوہ\nسحر ہو جائے گی شام غریباں ہم نہیں ہوں گے\n\nاگر ماضی منور تھا کبھی تو ہم نہ تھے حاضر\nجو مستقبل کبھی ہوگا درخشاں ہم نہیں ہوں گے\n\nہمارے دور میں ڈالیں خرد نے الجھنیں لاکھوں\nجنوں کی مشکلیں جب ہوں گی آساں ہم نہیں ہوں گے\n\nکہیں ہم کو دکھا دو اک کرن ہی ٹمٹماتی سی\nکہ جس دن جگمگائے گا شبستاں ہم نہیں ہوں گے\n\nہمارے بعد ہی خون شہیداں رنگ لائے گا\nیہی سرخی بنے گی زیب عنواں ہم نہیں ہوں گے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7_%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "چراغ زیست بجھا دل سے اک دھواں نکلا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چراغ زیست بجھا دل سے اک دھواں نکلا\nلگا کے آگ مرے گھر سے میہماں نکلا\n\nدل اپنا خاک تھا پھر خاک کو جلانا کیا\nنہ کوئی شعلہ اٹھا اور نہ کچھ دھواں نکلا\n\nسنیں گے چھیڑ کے افسانۂ دل مرحوم\nادھر سے ملک عدم کا جو کارواں نکلا\n\nتڑپ کے آبلہ پا اٹھ کھڑے ہوئے آخر\nتلاش یار میں جب کوئی کارواں نکلا\n\nلہو لگا کے شہیدوں میں ہو گئے داخل\nہوس تو نکلی مگر حوصلہ کہاں نکلا\n\nحریم ناز میں شاید کسی کو دخل نہیں\nدل عزیز بھی نا خواندہ میہماں نکلا\n\nنہاں تھا خانۂ دل میں ہی شاہد مقصود\nجو بے نشاں تھا وہ دیوار درمیاں نکلا\n\nہے فن عشق کا استاد بس دل وحشی\nمریض غم کا یہی اک مزاج داں نکلا\n\nلگا ہے دل کو اب انجام کار کا کھٹکا\nبہار گل سے بھی اک پہلوئے خزاں نکلا\n\nزمانہ پھر گیا چلنے لگی ہوا الٹی\nچمن کو آگ لگا کر جو باغباں نکلا\n\nہمارے صبر کی کھاتے ہیں اب قسم اغیار\nجفا کشی کا مزہ بعد امتحاں نکلا\n\nخوشی سے ہو گئے بد خواہ میرے شادیٔ مرگ\nکفن پہن کے جو میں گھر سے ناگہاں نکلا\n\nاجل سے بڑھ کے محافظ نہیں کوئی اپنا\nخدا کی شان کہ دشمن نگاہ باں نکلا\n\nدکھایا گور سکندر نے بڑھ کے آئینہ\nجو سر اٹھا کے کوئی زیر آسماں نکلا\n\nلحد سے بڑھ کے نہیں کوئی گوشۂ راحت\nقیامت آئی جو اس گھر سے میہماں نکلا\n\nاب اپنی روح ہے اور سیر عالم بالا\nکنویں سے یوسف گم کردہ کارواں نکلا\n\nکلام یاسؔ سے دنیا میں پھر اک آگ لگی\nیہ کون حضرت آتشؔ کا ہم زباں نکلا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%D8%A8%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "چراغ مہ سیں روشن تر ہے حسن بے مثال اس کا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چراغ مہ سیں روشن تر ہے حسن بے مثال اس کا\nکہ چوتھے چرخ پر خورشید ہے عکس جمال اس کا\n\nصنم کی زلف کے حلقے میں ہے جیوں جیم کا نقطہ\nعجب ہے خوش نما اس عارض گلگوں پہ خال اس کا\n\nعیاں ہوتا ہے جیوں کر سرو پانی کے کنارے پر\nہوا یوں جلوہ گر آنکھوں میں قد نونہال اس کا\n\nجدا جب سیں ہوا وو دلبر جادو نظر مجھ سیں\nجدا ہوتا نہیں یک آن خاطر سیں خیال اس کا\n\nمجھے ہے آرزو دل میں تری چاہ زنخداں کی\nنہیں درکار حوض کوثر و آب زلال اس کا\n\nگرفتار ہوس کیا لذت دیدار کوں پاوے\nجدا جو کوئی ہوا ہے آپ سیں پایا وصال اس کا\n\nسراجؔ اے شعلہ رو ہے کون سا سو میں نہیں واقف\nمجھے کیا پوچھتا ہے پوچھ پروانے سیں حال اس کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%81_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A8%DB%92_%D9%85%D8%AB%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "چرخ تک دھوم ہے کس دھوم سے آیا سہرا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "سہرا", "year": null, "text_ur": "چرخ تک دھوم ہے کس دھوم سے آیا سہرا\nچاند کا دائرہ لے زہرہ نے گایا سہرا\nجسے کہتے ہیں خوشی اس نے بلائیں لے کر\nکبھی چوما کبھی آنکھوں سے لگایا سہرا\nرشک سے لڑتی ہیں آپس میں الجھ کر لڑیاں\nباندھنے کو جو ترے سر پہ اٹھایا سہرا\nصاف آتی ہیں نظر آب گہر کی لہریں\nجنبش باد سحر نے جو ہلایا سہرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D8%AA%DA%A9_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%85_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%81%D8%B1%D8%A7"} {"title": "چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں\nآرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں\n\nمذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں\nفالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں\n\nچاہتا تھا بہت سی باتوں کو\nمگر افسوس اب وہ جی ہی نہیں\n\nجرأت عرض حال کیا ہوتی\nنظر لطف اس نے کی ہی نہیں\n\nاس مصیبت میں دل سے کیا کہتا\nکوئی ایسی مثال تھی ہی نہیں\n\nآپ کیا جانیں قدر یا اللہ\nجب مصیبت کوئی پڑی ہی نہیں\n\nشرک چھوڑا تو سب نے چھوڑ دیا\nمیری کوئی سوسائٹی ہی نہیں\n\nپوچھا اکبرؔ ہے آدمی کیسا\nہنس کے بولے وہ آدمی ہی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بجا کیا", "poet_page": "مصنف:حکیم محمد اجمل خاں شیدا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بجا کیا\nدل اس کو دے دیا تو بھلا کیا برا کیا\n\nاب کھولیے کتاب نصیحت کو شیخ پھر\nشب مے کدہ میں آپ نے جو کچھ کیا کیا\n\nوہ خواب ناز میں تھے مرا دیدۂ نیاز\nدیکھا کیا اور ان کی بلائیں لیا کیا\n\nروز ازل سے تا بہ ابد اپنی جیب کا\nتھا ایک چاک جس کو میں بیٹھا سیا کیا\n\nدیکھے جو داغ دامن عصیاں پہ بے شمار\nمیں نے بھی جوش گریہ سے طوفاں بپا کیا\n\nگم کردہ راہ آئے ہیں وہ آج میرے گھر\nاے میری آہ نیم شبی تو نے کیا کیا\n\nکیا پوچھتے ہو دست قناعت کی کوتہی\nکچھ وا شب وصال میں بند قبا کیا\n\nلذت ہی تھی کچھ ایسی کہ چھوڑا نہ صبر کو\nکرتے رہے وہ جور و ستم میں سہا کیا\n\nکیا شے تھی وہ جو آنکھ سے دل میں اتر گئی\nدل سے اٹھی تو اشک کا طوفاں بپا کیا\n\nپھر لے چلا ہے کل مجھے کیوں بزم یار میں\nایجاد اس نے کیا کوئی طرز جفا کیا\n\nشیداؔ غزل پڑھو کوئی مجلس میں دوسری\nاک پڑھ کے رہ گئے تو بھلا تم نے کیا کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B1%DA%86%D8%A7_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%D8%A8%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "چست کمر کا کیا سبب تنگ قبا کی وجہ کیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چست کمر کا کیا سبب تنگ قبا کی وجہ کیا\nہم تو ہیں آپ سر بکف ہم سے ادا کی وجہ کیا\n\nخاک میں جو ملا ہو خود اس پہ ستم سے کیا حصول\nحسن کی یہ سرشت ہے ورنہ جفا کی وجہ کیا\n\nاپنی ہیں جیسی خصلتیں مجھ پہ بھی ہے گماں وہی\nیہ نہیں گر سبب تو پھر ترک وفا کی وجہ کیا\n\nمشرب عشق میں دلا کفر ہے یار سے ریا\nجب کہ بتوں کا دھیان ہو ذکر خدا کی وجہ کیا\n\nآج کیے ہزار قتل کل کیے اور بھی سوا\nشغل یہ جس نگہ کا ہو اس کو حیا کی وجہ کیا\n\nروح و جسد کا سابقہ کتنے دنوں کا ہے بھلا\nدونوں کی جنس دو ہے جب ان میں وفا کی وجہ کیا\n\nصدمۂ درد و رنج و غم طول فراق کا الم\nہیں یہ حوادثات چند ان کی بقا کی وجہ کیا\n\nسن لیں جو وہ زہے نصیب گر نہ سنیں تو کیا گلہ\nہے یہ انہیں سے گفتگو ترک دعا کی وجہ کیا\n\nمالک دل ہیں جب وہی جب ہے انہیں کا اختیار\nمرتکب گناہ کیوں جرم و خطا کی وجہ کیا\n\nروئے ہیں ہم ضرور شادؔ تب تو ہے لب پہ آہ سرد\nمینہ نہ برس گیا تو پھر ٹھنڈی ہوا کی وجہ کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%A8%D8%A8_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D9%82%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%D8%AC%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "چشم تر رات مجھ کو یاد آئی", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چشم تر رات مجھ کو یاد آئی\nاپنی اوقات مجھ کو یاد آئی\n\nنالۂ دل پر آہ کی میں نے\nبات پر بات مجھ کو یاد آئی\n\nابھی بھولی تھی دخت رز توبہ\nپھر وہ بد ذات مجھ کو یاد آئی\n\nزلف میں دیکھ خال کو اس کے\nشب کی وہ گھات مجھ کو یاد آئی\n\nدیکھ لالہ کا رنگ اس کی کفک\nآج ہیہات مجھ کو یاد آئی\n\nجی پہ جس کے ستم کہیں دیکھا\nدل کی اوقات مجھ کو یاد آئی\n\nدیکھ روتے حسنؔ کو شدت سے\nپر کی برسات مجھ کو یاد آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AA%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے\nسرمہ تو کہوے کہ دودِ شعلہ آواز ہے\n\nپیکرِ عشّاق سازِ طالعِ نا ساز ہے\nنالہ گویا گردشِ سیّارہ کی آواز ہے\n\nدست گاہِ دیدۂ خوں بارِ مجنوں دیکھنا\nیک بیاباں جلوۂ گل فرشِ پا انداز ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%D9%85%D8%B4%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%D9%88%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92"} {"title": "چشم خونبار میں کیوں لخت جگر جمع کریں", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "چشم خونبار میں کیوں لخت جگر جمع کریں\nغنچۂ گل کی طرح کا ہے کو زر جمع کریں\n\nقتل کے بعد ہوا حکم کہ لاشیں اٹھ جائیں\nقید تفریق سے مقتولوں کے سر جمع کریں\n\nیار نے خط و کبوتر کے کئے ہیں ٹکڑے\nپرزے کاغذ کے کریں جمع کہ پر جمع کریں\n\nفکر میں گیسو و رخسار کے دل کی خاطر\nشام ہوتی ہے پریشاں جو سحر جمع کریں\n\nہم رہے دہر میں جب تک تو رہے پا بہ رکاب\nپر نہ یہ ہو سکا اسباب سفر جمع کریں\n\nدونوں عالم سے نہ کیوں بند وہ آنکھیں رکھیں\nتیرے نظارے کے خاطر جو نظر جمع کریں\n\nیک قلم پنچ صد و چار ہوں دیواں میں غزل\nہم کلام اپنا وقارؔ آج اگر جمع کریں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AE%D9%88%D9%86%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%84%D8%AE%D8%AA_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%85%D8%B9_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چشم خونخوار ابروئے خم دار دونوں ایک ہیں", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چشم خونخوار ابروئے خم دار دونوں ایک ہیں\nہیں جدا لیکن بوقت کار دونوں ایک ہیں\n\nباعث آرام یہ نے موجب آزار وہ\nچشم وحدت میں ہی گل اور خار دونوں ایک ہیں\n\nالتیام زخم دل کے حق میں گر کیجے نگاہ\nسبزۂ خط مرہم زنگار دونوں ایک ہیں\n\nحالت استغنا کی جس کے ہاتھ آئی ہے یہاں\nاس کے نزدیک اندک و بسیار دونوں ایک ہیں\n\nمیرے اس کے گو جدائی آ گئی ہے درمیاں\nجس گھڑی باہم ہوئے دو چار دونوں ایک ہیں\n\nجو نہ مانے اس کو عاشق ہو کے اس پہ دیکھ لے\nابروئے خم دار اور تلوار دونوں ایک ہیں\n\nکیا کہوں میں اس کو آنکھوں نے دیئے ہیں جو فریب\nفن مکاری میں یہ مکار دونوں ایک ہیں\n\nجو ہے کعبہ وہ ہی بت خانہ ہے شیخ و برہمن\nاس کی ناحق کرتے ہو تکرار دونوں ایک ہیں\n\nیہ نہیں کہنے کا ؔجوشش ہوگا جو صاحب دماغ\nزلف یار و نافۂ تاتار دونوں ایک ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AE%D9%88%D9%86%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%85_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چشم ساقی کا تصور بزم میں کام آ گیا", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چشم ساقی کا تصور بزم میں کام آ گیا\nبھر گئی شیشوں میں مے گردش میں خود جام آ گیا\n\nمضطرب دل اک تجلی میں فقط کام آ گیا\nابتدا ہی میں خیال عبرت انجام آ گیا\n\nحسن خود آرا نہ یوں ہوتا حجاب اندر حجاب\nشان تمکیں کو خیال منظر عام آ گیا\n\nحسن نے اتنا تغافل میری ہستی سے کیا\nرفتہ رفتہ زندگی کا مجھ پہ الزام آ گیا\n\nانتظار اب شاق ہے اے ساقیٔ پیماں شکن\nگھر گئے بادل صراحی آ گئی جام آ گیا\n\nہم تو سمجھے تھے سکوں پائیں گے بے ہوشی کے بعد\nہوش جب آیا تو پھر لب پر ترا نام آ گیا\n\nخاک آخر ہو گیا سب ساز و سامان حیات\nکیوں دل برباد حسرت اب تو آرام آ گیا\n\nہو گئی آسودگی جھگڑا چکا راحت ملی\nناتواں تھا دل نبرد عشق میں کام آ گیا\n\nدل نے کی پیری میں پیدا غفلت عہد شباب\nصبح کا بھولا جو منزل پر سر شام آ گیا\n\nپردۂ دنیا میں اب بے سود ہیں یہ کوششیں\nاے فریب آب و دانہ میں تہ دام آ گیا\n\nرند مستغنی ہیں دنیا سے غرض ہم کو عزیزؔ\nدولت جم مل گئی جب ہاتھ میں جام آ گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "چشم سے غافل نہ ہوا چاہئے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چشم سے غافل نہ ہوا چاہئے\nاس کے مقابل نہ ہوا چاہئے\n\nدل کا ضرر جان کا نقصان ہے\nاب کہیں مائل نہ ہوا چاہئے\n\nہے بت خونخوار بہت تند خو\nبوسہ کے سائل نہ ہوا چاہئے\n\nعقل کو دل چھوڑ رہ عشق میں\nہمرہ کاہل نہ ہوا چاہئے\n\nروز تنزل میں ہے ماہ تمام\nدہر میں کامل نہ ہوا چاہئے\n\nیار کمر باندھئے انصاف پر\nبر سر باطل نہ ہوا چاہئے\n\nقتل کے قابل ہے یہ ؔجوشش ترا\nغیر کے قاتل نہ ہوا چاہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "چشم ظاہر سے رخ یار کا پردہ دیکھا", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چشم ظاہر سے رخ یار کا پردہ دیکھا\nآنکھیں جب پھوٹ گئیں تب یہ تماشا دیکھا\n\nدیکھنا یہ ہے کہ ہم نے تمہیں کیسا چاہا\nپوچھنا یہ ہے کہ تم نے ہمیں کیسا دیکھا\n\nپھر جلاؤ گے کبھی طالب دیدار کا خط\nسیکڑوں آنکھوں سے اس نے تمہیں دیکھا دیکھا\n\nکان وہ کان ہے جس نے تری آواز سنی\nآنکھ وہ آنکھ ہے جس نے ترا جلوہ دیکھا\n\nآپ کہتے ہیں کہ جا دیکھ لیا دل تیرا\nکہیے تو اپنے سوا دل میں مرے کیا دیکھا\n\nتم خبر بھی نہ ہوئے خانہ بدوشوں سے کبھی\nہم نے گھر پھونک دیا سب نے تماشا دیکھا\n\nجن سے ہوں سوختہ جانوں کے کلیجے ٹھنڈے\nانہیں جلووں سے حسنؔ طور کو جلتا دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%AE_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے\nموت انسان کو لازم ہے سدا یاد رہے\n\nمیرا خوں ہے ترے کوچے میں بہا یاد رہے\nیہ بہا وہ نہیں جس کا نہ بہا یاد رہے\n\nکشتۂ زلف کے مرقد پہ تو اے لیلی وش\nبید مجنوں ہی لگا تاکہ پتا یاد رہے\n\nخاکساری ہے عجب وصف کہ جوں جوں ہو سوا\nہو صفا اور دل اہل صفا یاد رہے\n\nہو یہ لبیک حرم یا یہ اذان مسجد\nمے کشو قلقل مینا کی صدا یاد رہے\n\nیاد اس وعدہ فراموش نے غیروں سے بدی\nیاد کچھ کم تو نہ تھی اور سوا یاد رہے\n\nخط بھی لکھتے ہیں تو لیتے ہیں خطائی کاغذ\nدیکھیے کب تک انہیں میری خطا یاد رہے\n\nدو ورق میں کف حسرت کے دو عالم کا ہے علم\nسبق عشق اگر تجھ کو دلا یاد رہے\n\nقتل عاشق پہ کمر باندھی ہے اے دل اس نے\nپر خدا ہے کہ اسے نام مرا یاد رہے\n\nطائر قبلہ نما بن کے کہا دل نے مجھے\nکہ تڑپ کر یوں ہی مر جائے گا جا یاد رہے\n\nجب یہ دیں دار ہیں دنیا کی نمازیں پڑھتے\nکاش اس وقت انہیں نام خدا یاد رہے\n\nہم پہ سو بار جفا ہو تو رکھو ایک نہ یاد\nبھول کر بھی کبھی ہووے تو وفا یاد رہے\n\nمحو اتنا بھی نہ ہو عشق بتاں میں اے ذوقؔ\nچاہیئے بندے کو ہر وقت خدا یاد رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "چشم مست ساقی سے دل ہوا خراب آباد", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چشم مست ساقی سے دل ہوا خراب آباد\nمے کدہ ہے اور مستی اب تو ہرچہ بادا باد\n\nمل ملا کے دونوں نے دل کو کر دیا برباد\nحسن نے کیا بے خود عشق نے کیا آزاد\n\nمیرا ٹوٹا پھوٹا دل بن گیا وطن اس کا\nبے وطن تھا آوارہ عشق خانما برباد\n\nمستیٔ انا لیلیٰ کار عشق مجنوں ہے\nکیف‌ وصل شیریں ہے نقش تیشۂ فرہاد\n\nجسم و جان کا الحاق وجہ رنج و راحت ہے\nبند شادی و غم سے جان پاک ہے آزاد\n\nشوق اور تنفر میں راز اس کا پنہاں ہے\nہے کوئی اگر دلگیر ہے اگر کوئی دل شاد\n\nغفلت اور نادانی وجہ شوق و نفرت ہے\nہے جو عین عرفاں میں بے ثبات و بے بنیاد\n\nبند‌ رنج و راحت سے فکر شوق و نفرت سے\nقید جہل‌ و غفلت سے خود شناس ہے آزاد\n\nجلوہ اس کا اے ساحرؔ چشم پاک بیں سے دیکھ\nحسن لایزالی سے شش جہات ہیں آباد", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"} {"title": "چشم ملت میں مکیں کون ہے آغا شورش", "poet_page": "مصنف:م حسن لطیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چشم ملت میں مکیں کون ہے آغا شورش\nگوشۂ دل کے قریں کون ہے آغا شورش\n\nشعر و انشا کی بہاریں ہیں بہاریں جس سے\nوہ بہاروں سے حسیں کون ہے آغا شورش\n\nجس پہ بے تول خزانے بھی لٹا کے نہ ہوں سیر\nبے بہا در‌ ثمیں کون ہے آغا شورش\n\nجس کی جانکاہیٔ ایثار سے زنداں بھی تھا طور\nوہ درخشندہ نگیں کون ہے آغا شورش\n\nکس کی بے باکی کردار ہے ایماں افروز\nغیرت دیر نشیں کون ہے آغا شورش\n\nجس کو یورپ کا مقامر نہ کبھی جیت سکے\nنرد ناصید مکیں کون ہے آغا شورش\n\nجس جواں فکر کی تقریر سے باطل لرزے\nوہ جواں عزم و یقیں کون ہے آغا شورش\n\nکس کی کرنوں میں نئے سانحے پڑھ سکتے ہیں\nہند کی تاب جبیں کون ہے آغا شورش\n\nعزم و ایثار کا اک پیکر بیدار و بلند\nہمدم زار و حزیں کون ہے آغا شورش\n\nپوچھا ساقی سے مئے تند نے مستی چلائی\nمرد پایندہ تریں کون ہے آغا شورش\n\nشورشیں آپ کی ہیں معنیٔ نو سے لبریز\nامن عالم کا امیں کون ہے آغا شورش", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%85%D9%84%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%BA%D8%A7_%D8%B4%D9%88%D8%B1%D8%B4"} {"title": "چشم میں کب اشک بھر لاتے ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چشم میں کب اشک بھر لاتے ہیں ہم\nرات دن موتی ہی برساتے ہیں ہم\n\nجبکہ وہ تیر نگہ کھاتے ہیں ہم\nسہم کر بس سرد ہو جاتے ہیں ہم\n\nجنس دل کو چھوڑ مت اے زلف یار\nہے یہ سودا مفت ٹھہراتے ہیں ہم\n\nناصحا دست جنوں سے کام ہے\nکب یہ چاک جیب سلواتے ہیں ہم\n\nاس قدر مت کر شرارت شعلہ خیز\nتیری ان باتوں سے جل جاتے ہیں ہم\n\nکون کہتا ہے نہ کیجے امتحاں\nگر ابھی کہیے تو مر جاتے ہیں ہم\n\nخط بت نو خط لکھے ہے غیر کو\nپیچ و تاب اس واسطے کھاتے ہیں ہم\n\nکھولیے کیا آنکھ مانند حباب\nطرفۃ العین آہ مٹ جاتے ہیں ہم\n\nچھیڑنے سے زلف کے الجھو نہ تم\nپڑ گیا ہے پیچ سلجھاتے ہیں ہم\n\nگرچہ ہیں درویش لیکن اے فلک\nتجھ کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں ہم\n\nنیم ناں کے واسطے کب جوں ہلال\nتیرے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں ہم\n\nگلشن دنیا ہے نیرنگی کے ساتھ\nاور کچھ اس کی روش پاتے ہیں ہم\n\nکب برنگ بوئے گل باہر صبا\nاپنے جامے سے نکل جاتے ہیں ہم\n\nجس قدر ہاں دیکھتے ہیں اوڑھنا\nپاؤں یاں اتنے ہی پھیلاتے ہیں ہم\n\nکیا کریں کس سے کہیں ناچار ہیں\nدل کی بے تابی سے گھبراتے ہیں ہم\n\nکوئی بھی اتنا نہیں کہتا نصیرؔ\nصبر کر ظالم اسے لاتے ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "چشم مے گوں وہاں شراب لذیذ", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چشم مے گوں وہاں شراب لذیذ\nدل سوزاں یہاں کباب لذیذ\n\nلب شیریں کے بوسے پائے ہیں\nہم نے دیکھا ہے آج خواب لذیذ\n\nدہن زخم ہونٹھ چاٹتے ہیں\nاس کی تلوار میں ہے آب لذیذ\n\nکہاں تلخی کہاں یہ میٹھا پن\nاس عرق سے ہے کب گلاب لذیذ\n\nاس کے سیب ذقن کے عاشق ہیں\nہوگا محشر کے دن حساب لذیذ\n\nمیٹھی باتوں میں وصل کا انکار\nہے نئے طرح کا جواب لذیذ\n\nکیسے شانے کے دانت پڑتے ہیں\nہے جو وہ زلف مشک ناب لذیذ\n\nترشیاں کس مزے مزے کی ہیں\nہے ہمیں یار کا شباب لذیذ\n\nمر نہ جائے صنم مریض ہجر\nشربت وصل دے شتاب لذیذ\n\nہو سکے گا نہ وصف سیب ذقن\nاے سخیؔ ہے یہ بے حساب لذیذ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%85%DB%92_%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%84%D8%B0%DB%8C%D8%B0"} {"title": "چشم نم ہو تو امنڈ آتے ہیں دریا منہ پر", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چشم نم ہو تُو امنڈ آتے ہیں دریا منہ پر\nکھینچیے آہ تُو آتا ہے ، کلیجا منہ پر\n\nخال رخسار کو ترے نہیں دیکھا جیسے\nسو قسم لیجے جُو اُک دانہ ہو رکھا منہ پر\n\nروئے گل رنگ پہ آخر خط سبز آ ہی گیا\nہے مثل جس سے ڈرے پھر وہی آیا منہ پر\n\nخواب گونگے کا ہوا یار کا شکوہ گویا\nدِل میں پھرتا ہے، مگر لا نہیں سکتا منہ پر\n\nکل جُو تم بوسہ پہ بگڑے تھے کے کس وقت کہاں\nلے کہ منہ اپنا سا رہ جاتے جُو کہتا منہ پر\n\nہم سے یوں کڑوی رقیبوں سے یہ میٹھی باتیں\nجھوٹ کیا زہر ہے ، سچ بات کا کہنا منہ پر\n\nجی جلاتے ہیں حسیں کون منہ ایسوں کہ لگے\nکوئی دیتا نہیں انگارے کہ بوسا منہ پر\n\nعوض بوسہ مزا تھا جُو وُہ گالی دیتا\nلعل لب منہ میرے لگتا تُو میں چڑھتا منہ پر\n\nپاک بازوں سے حجاب آپ کو بے وجہ نہیں\nدِل میں ہو شرم تُو ہے ، آنکھ کا پردا منہ پر\n\nصورت نے کبھی غیبت میں نہ دم ماریں گے\nصاف جُو ہوئے گا دِل کا وُہ کہے گا منہ پر\n\nنامہ بر کو تُو سنانی تھی صفا غیبت میں\nخط کہ آنے کا سنایا ہمیں فقرا منہ پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%86%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%85%D9%86%DA%88_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "چشم نے کی گوہر افشانی صریح", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چشم نے کی گوہر افشانی صریح\nہو گئی یہ ہم سے نادانی صریح\n\nمنہ چھپا قاتل کہ تیری ہی طرف\nتک رہی ہے چشم قربانی صریح\n\nکربلائے عشق میں عشاق کی\nتیغ و خنجر پر ہے مہمانی صریح\n\nآئینے میں بھی نہیں پڑتا ہے عکس\nہے تری تصویر لا ثانی صریح\n\nژالہ ساں کیوں کر گھلے جاویں نہ ہم\nہے جو آنسو میں پریشانی صریح\n\nکیونکہ استقلال کا دم ماریں ہم\nاستخواں اپنے تو ہیں پانی صریح\n\nمزرع دل کس طرح سرسبز ہو\nبرق یاں کرتی ہے جولانی صریح\n\nماہ نو ہے کس کے در کا سجدہ پاش\nرک گئی ہے اس کی پیشانی صریح\n\nمصحفیؔ دم توڑے ہے مرتا نہیں\nکر رہا ہے یہ گراں جانی صریح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D9%88%DB%81%D8%B1_%D8%A7%D9%81%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B5%D8%B1%DB%8C%D8%AD"} {"title": "چشم کو شوق اشک باری ہے", "poet_page": "مصنف:میر مظفر حسین ضمیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چشم کو شوق اشک باری ہے\nچشمۂ فیض ہے کہ جاری ہے\n\nسوزن عیسوی سے کیا ہوگا\nزخم اپنے جگر کا کاری ہے\n\nہم کہیں اور تم کہیں صاحب\nخاک یہ زندگی ہماری ہے\n\nرکھ کے سر اس قدم پہ مر جاتا\nبس یہی طرز جاں نثاری ہے\n\nکس کا سونا کسے ہے آتی نیند\nشب ہجراں ہے اور اشک باری ہے\n\nیہ جو اڑتی ہے تیرے کوچہ میں\nخاکساروں کی خاکساری ہے\n\nیہ سبک تو نے کر دیا ظالم\nمیرا مردہ بھی سب کو بھاری ہے\n\nمیرے جینے میں خوش نہ مرنے میں\nپھر کہو کیا خوشی تمہاری ہے\n\nابر ساں ہے ہجوم بارش اشک\nبرق ساں شغل بے قراری ہے\n\nجو نہیں تھا کسی شمار میں آہ\nاسی عاشق کو دم شماری ہے\n\nکیجو برباد اس کے کوچے میں\nاے صبا خاک یہ ہماری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%B4%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "چغد (افسانہ)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "چغد", "year": "1948", "text_ur": "لڑکوں اور لڑکیوں کے معاشقوں کا ذکر ہورہا تھا۔ پر کاش جو بہت دیر سے خاموش بیٹھا اندر ہی اندر بہت شدت سے سوچ رہا تھا، ایک دم پھٹ پڑا۔ ’’سب بکواس ہے، سو میں سے ننانوے معاشقے نہایت ہی بھونڈے اور لچر اور بے ہودہ طریقوں سے عمل میں آتے ہیں۔ ایک باقی رہ جاتا ہے۔ اس میں آپ اپنی شاعری رکھ لیجیے یا اپنی ذہانت اور ذکاوت بھر دیجیے۔\n\nمجھے حیرت ہے۔۔۔ تم سب تجربہ کار ہو۔ اوسط آدمی کے مقابلے میں زیادہ سمجھ دار ہو۔ جو حقیقت ہے، تمہاری آنکھوں سے اوجھل بھی نہیں۔ پھر یہ کیا حماقت ہے کہ تم برابر اس بات پر زور دیے جا رہے ہو کہ عورت کو راغب کرنے کے لیے نرم و نازک شاعری، حسین و جمیل شکل اور خوش وضع لباس، عطر، لونڈر اور جانے کس کس خرافات کی ضرورت ہے اور میری سمجھ سے یہ چیز تو بالکل بالاتر ہے کہ عورت سے عشق لڑانے سے پہلے تمام پہلو سوچ کر ایک اسکیم بنانے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘\n\nچودھری نے جواب دیا،’’ہر کام کرنے سے پہلے آدمی کو سوچنا پڑتا ہے۔‘‘\n\nپرکاش نے فوراً ہی کہا، ’’مانتا ہوں۔ لیکن یہ عشق لڑانا میرے نزدیک بالکل کام نہیں۔ یہ ایک۔۔۔ بھئی تم کیوں غور نہیں کرتے۔ کہانی لکھنا ایک کام ہے۔ اسے شروع کرنے سے پہلے سوچنا ضروری ہے لیکن عشق کو آپ کام کیسے کہہ سکتے ہیں۔۔۔ یہ ایک۔۔۔ یہ ایک۔۔۔ یہ ایک۔۔۔ میرا مطلب ہے۔۔۔ عشق مکان بنانا نہیں جو آپ کو پہلے نقشہ بنوانا پڑے۔۔۔ ایک لڑکی یا عورت اچانک آپ کے سامنے آتی ہے۔ آپ کے دل میں کچھ گڑ بڑ سی ہوتی ہے۔ پھر یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ ساتھ لیٹی ہو۔ اسے آپ کام کہتے ہیں۔۔۔یہ ایک۔۔۔ یہ ایک حیوانی طلب ہے جسے پورا کرنے کے لیے حیوانی طریقے ہی استعمال کرنے چاہئیں۔ جب ایک کتا کتیا سے عشق لڑانا چاہتا ہے تو وہ بیٹھ کر اسکیم تیار نہیں کرتا۔ اسی طرح سانڈ جب بُو سونگھ کر گائے کے پاس جاتا ہے تو اسے بدن پر عطر لگانا نہیں پڑتا۔۔۔ بنیادی طور پر ہم سب حیوان ہیں۔ اس لیے عشق و محبت میں جو دنیا کی سب سے پرانی طلب ہے، انسانیت کا زیادہ دخل نہیں ہونا چاہیے۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ شعر و شاعری، مصوری، صنم تراشی یہ سب فنون لطیفہ محض بے کار ہیں؟‘‘\n\nپرکاش نے سگریٹ سلگایا اوراپنا جوش بقدر کفایت استعمال کرتے ہوئے کہا، ’’محض بے کار نہیں۔۔۔ میں سمجھ گیا تم کیا کہنا چاہتے ہو، تمہارا مطلب یہ تھا کہ فنون لطیفہ کے وجود کا باعث عورت ہے، پھر یہ بے کار کیسے ہوئے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان کے وجود کا باعث خود عورت نہیں ہے، بلکہ مرد کی عورت کے متعلق حد سے بڑھی ہوئی خوش فہمی ہے۔ مرد جب عورت کے متعلق سوچتا ہے تو اور سب کچھ بھول جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ عورت کو عورت نہ سمجھے۔۔۔ عورت کو محض عورت سمجھنے سے اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔چنانچہ وہ چاہتا ہے اسے خوبصورت سے خوبصورت روپ میں دیکھے۔ یورپی ممالک میں جہاں عورتیں فیشن کی دلدادہ ہیں، ان سے جا کر پوچھو کہ ان کے بالوں، ان کے کپڑوں، ان کے جوتوں کے نت نئے فیشن کون ایجاد کرتا ہے۔‘‘\n\nچودھری نے اپنے مخصوص بے تکلفانہ انداز میں پرکاش کے کاندھے پر ہولے سے طمانچہ مارا، ’’تم بہک گئے ہو یار۔۔۔ جوتوں کے ڈیزائن کون بناتا ہے، سانڈ گائے کے پاس جاتا ہے تو اسے لونڈر لگانا نہیں پڑتا۔ یہاں باتیں ہورہی تھیں کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے وہی رومان کامیاب ہوتے ہیں جو شریفانہ خطوط پر شروع ہوں۔‘‘\n\nپرکاش کے ہونٹوں کے کونے طنز سے سکڑ گئے، ’’چودھری صاحب قبلہ! آپ بالکل بکواس کرتے ہیں۔ شرافت کو رکھیے آپ اپنے سگریٹ کے ڈبے میں، اور ایمان سے کہیے وہ لونڈیا جس کے لیے آپ پورا ایک برس رومالوں کو بہترین لونڈر لگا کر اسکیمیں بناتے رہے، کیا آپ کو مل گئی تھی؟‘‘\n\nچودھری صاحب نے کسی قدر کھسیانہ ہو کر جواب دیا۔’’نہیں۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’وہ۔۔۔ وہ کسی اور سے محبت کرتی تھی۔‘‘\n\n’’کس سے۔۔۔ کس اُلو کے پٹھے سے۔۔۔ ایک پھیری والے بزاز سے جس کو نہ تو غالب کے شعر یاد تھے نہ کرشن چندر کے افسانے۔ جو آپ کے مقابلے میں لونڈر لگے رومال سے نہیں بلکہ اپنے میلے تہمد سے ناک صاف کرتا تھا۔‘‘ پرکاش ہنسا۔ ’’چودھری صاحب قبلہ !مجھے یاد ہے آپ بڑی محبت سے اسے خط لکھا کرتے تھے۔ ان میں آسمان کے تمام تارے نوچ کر آپ نے چپکا دیے۔ چاند کی ساری چاندنی سمیٹ کر ان میں پھیلا دی مگر اس پھیری والے بزازنے آپ کی لونڈیا کو جس کی ذہنی رفعت کے آپ ہر وقت گیت گاتے تھے، جس کی نفاست پسند طبیعت پر آپ مرمٹے تھے، ایک آنکھ مار کر اپنے تھانوں کی گٹھری میں باندھا اور چلتا بنا۔۔۔ اس کا جواب ہے آپ کے پاس؟\n\nچودھری منمنایا، ’’میرا خیال ہے جن خطوط پر میں چل رہا تھا، غلط تھے۔ اس کا نفسیاتی مطالعہ بھی جو میں نے کیا تھا درست ثابت نہ ہوا۔‘‘\n\nپرکاش مسکرایا، ’’چودھری صاحب قبلہ! جن خطوط پر آپ چل رہے تھے، یقیناً غلط تھے۔ اس کا نفسیاتی مطالعہ بھی جو آپ نے کیا تھا، سو فیصد نا درست تھا اور جو کچھ آپ کہنا چاہتے ہیں وہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اس لیے کہ آپ کو خط کشی اور نفسیاتی مطالعے کی زحمت اٹھانی ہی نہیں چاہیے تھی۔ نوٹ بک نکال کر اس میں لکھ لیجیے کہ سو میں سو مکھیاں شہد کی طرف بھاگی آئیں گی اور سو میں ننانوے لڑکیاں بھونڈے پن سے مائل ہوں گی۔‘‘\n\nپرکاش کے لہجے میں ایک ایسا طنز تھا جس کا رخ چودھری کی طرف اتنا نہیں تھا جتنا خود پرکاش کی طرف تھا۔\n\nچودھری نے سر کو جنبش دی اور کہا، ’’تمہارا فلسفہ میں کبھی نہیں سمجھ سکتا۔ آسان بات کو تم نے مشکل بنا دیا ہے۔ تم آرٹسٹ ہو اور نوٹ بک نکال کر یہ بھی لکھ لو کہ آرٹسٹ اوّل درجے کے بے وقوف ہوتے ہیں۔ مجھے بہت ترس آتا ہے ان پر ،کم بختوں کی بے وقوفی میں بھی خلوص ہوتا ہے۔ دنیا بھر کے مسئلے حل کردیں گے پر جب کسی عورت سے مڈبھیڑ ہوگی تو جناب ایسے چکر میں پھنس جائیں گے کہ ایک گز دور کھڑی عورت تک پہنچنے کے لیے پشاور کا ٹکٹ لیں گے اور وہاں پہنچ کر سوچیں گے وہ عورت آنکھوں سے اوجھل کیسے ہوگئی۔چودھری صاحب قبلہ، نکالیے اپنی نوٹ بک اور یہ لکھ لیجیے کہ آپ اوّل درجے کے چغد ہیں۔‘‘\n\nچودھری خاموش رہا اور مجھے ایک بار پھر محسوس ہوا کہ پرکاش، چودھری کو آئینہ بنا کر اس میں اپنی شکل دیکھ رہا ہے اور خود کو گالیاں دے رہا ہے۔ میں نے اسے کہا، ’’پرکاش ایسا لگتا ہے چودھری کے بجائے تم اپنے آپ کو گالیاں دے رہے ہو۔‘‘\n\nخلاف توقع اس نے جواب دیا، ’’تم بالکل ٹھیک کہتے ہو، اس لیے کہ میں بھی ایک آرٹسٹ ہوں، یعنی میں بھی۔ جب دو اور دو چاربنتے ہیں تو خوش نہیں ہوتا۔ میں بھی قبلہ چودھری صاحب کی طرح امرتسر کے کمپنی باغ میں عورت سے مل کر فرنٹیئرمیل سے پشاور جاتا ہوں اور وہاں آنکھیں مل مل کر سوچتا ہوں میری محبوبہ غائب کہاں ہوگئی۔‘‘ یہ کہہ کر پرکاش خوب ہنسا۔ پھر چودھری سے مخاطب ہوا، ’’چودھری صاحب قبلہ، ہاتھ ملائیے۔ ہم دونوں پھسڈی گھوڑے ہیں۔ اس دوڑ میں صرف وہی کامیاب ہوگا جس کے ذہن میں صرف ایک ہی چیز ہو کہ اسے دوڑنا ہے، یہ نہیں کہ کام اور وقت کا سوال حل کرنے بیٹھ جائے۔ اتنے قدموں میں اتنا فاصلہ طے ہوتا ہے تو اتنے قدموں میں کتنا فاصلہ طے ہوگا۔ عشق جو میٹری ہے نہ الجبرا۔ بس بکواس ہے۔ چونکہ بکواس ہے اس لیے اس میں گرفتار ہونے والے کو بکواس ہی سے مدد لینی چاہیے۔‘‘\n\nچودھری نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا، ’’کیا بکواس کرتے ہو؟‘‘\n\n’’ تو سنو!‘‘ پرکاش جم کر بیٹھ گیا۔’’میں تمہیں ایک سچا واقعہ سناتا ہوں۔ میرا ایک دوست ہے، میں اس کا نام نہیں بتاؤں گا۔ دو برس ہوئے وہ ایک ضروری کام سے چمبہ گیا۔ دو روز کے بعد لوٹ کر اسے ڈلہوزی چلا آنا تھا۔ اس کے فوراً بعد امرتسرپہنچنا تھا مگر تین مہینے تک وہ لاپتہ رہا۔ نہ اس نے گھر خط لکھا نہ مجھے ۔جب واپس آیا تو اس کی زبانی معلوم ہُوا کہ وہ تین مہینے چمبہ ہی میں تھا۔ وہاں کی ایک خوبصورت لڑکی سے اسے عشق ہوگیا تھا۔‘‘\n\nچودھری نے پوچھا۔ ’’ناکام رہا ہوگا۔‘‘\n\nپرکاش کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ پیدا ہوئی، ’’نہیں، نہیں۔۔۔ وہ کامیاب رہا۔ زندگی میں اسے ایک شاندار تجربہ حاصل ہوا۔ تین مہینے وہ چمبہ کی سردیوں میں ٹھٹھرتا اور اس لڑکی سے عشق کرتا رہا۔ واپس ڈلہوزی آنے والا تھا کہ پہاڑی کی ایک پگڈنڈی پر اس کافر جمال حسینہ سے اس کی مڈ بھیڑ ہوئی۔ تمام کائنات سکڑ کر اس لڑکی میں سما گئی اور وہ لڑکی پھیل کر والہانہ وسعت اختیار کرگئی۔ اس کو محبت ہوگئی تھی۔۔۔ قبلہ چودھری صاحب! سنیے۔ پندرہ دنوں تک متواتر وہ غریب اپنی محبت کو چمبہ کی یخ بستہ فضا میں دل کے اندر دبائے چھپ چھپ کر دور سے اس لڑکی کو دیکھتا رہا مگر اس کے پاس جا کر اس سے ہم کلام ہونے کی ہمت نہ کرسکا۔۔۔ ہر دن گزرنے پر وہ سوچتا کہ دوری کتنی اچھی چیز ہے۔ اونچی پہاڑی پر وہ بکریاں چرا رہی ہے۔ نیچے سڑک پر اس کا دل دھڑک رہا ہے۔ آنکھوں کے سامنے یہ شاعرانہ منظر لائیے اور داد دیجیے۔ اس پہاڑی پر عاشق صادق کھڑا ہے۔ دوسری پہاڑی پر اس کی سیمیں بدن محبوبہ۔۔۔ درمیان میں شفاف پانی کا نالہ بہہ رہا ہے۔۔۔ سبحان اللہ کیسا دلکش منظر ہے، چودھری صاحب قبلہ۔‘‘\n\nچودھری نے ٹوکا، ’’بکواس مت کرو جو واقعہ ہے، اسے بیان کرو۔‘‘\n\nپرکاش مسکرایا۔ ’’تو سنیے۔۔۔ پندرہ دن تک میرا دوست عشق کے زبردست حملے کے اثرات دور کرنے میں مصروف رہا اور سوچتا رہا کہ اسے جلدی واپس چلا جانا چاہیے۔ ان پندرہ دنوں میں اس نے کاغذ پنسل لے کر تو نہیں لیکن دماغ ہی دماغ میں اس لڑکی سے اپنی محبت کا کئی بار جائزہ لیا۔ لڑکی کے جسم کی ہر چیز اسے پسند تھی۔ لیکن یہ سوال درپیش تھا کہ اسے حاصل کیسے کیا جائے۔ کیا ایک دم بغیر کسی تعارف کے وہ اس سے باتیں کرنا شروع کردے؟ بالکل نہیں، یہ کیسے ہوسکتا تھا۔۔۔ کیوں، ہو کیسے نہیں سکتا۔۔۔ مگر فرض کرلیا جائے اس نے منہ پھیر لیا۔\n\nجواب دیے بغیر اپنی بکریوں کوہانکتی، پاس سے گزر گئی۔۔۔ جلد بازی کبھی بار آور نہیں ہوتی۔۔۔ لیکن اس سے بات کیے بغیر اسے حاصل کیسے کیا جاسکتا ہے؟ ایک طریقہ ہے، وہ یہ کہ اس کے دل میں اپنی محبت پیدا کی جائے۔ اس کو اپنی طرف راغب کیا جائے۔ ہاں ہاں، ٹھیک ہے۔ لیکن سوال یہ ہے راغب کیسے کیا جائے۔۔۔ ہاتھ سے، اشارہ؟ نہیں، بالکل پوچ ہے۔۔۔\n\nسو قبلہ چودھری صاحب! ہمارا ہیرو ان پندرہ دنوں میں یہی سوچتا رہا۔۔۔ سولہویں دن اچانک باؤلی پر اس لڑکی نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔۔۔ ہمارے ہیرو کے دل کی باچھیں کھل گئیں، لیکن ٹانگیں کانپنے لگیں۔۔۔ آپ نے اب ٹانگوں کے متعلق سوچنا شروع کیا۔ لیکن جب مسکراہٹ کا خیال آیا تو اپنی ٹانگیں الگ کردیں اور اس لڑکی کی پنڈلیوں کے متعلق سوچنے لگا جو اٹھی ہوئی گھگھری میں سے اسے نظر آئی تھیں۔ کتنی سڈول تھیں۔ لیکن وہ دن دور نہیں جب وہ ان پر بہت آہستہ آہستہ ہاتھ پھیر سکے گا۔۔۔ پندرہ دن اور گزر گئے۔۔۔ ادھر وہ مسکرا کر پاس سے گزرتی رہی۔ ادھر ہمارے ہیرو صاحب جوابی مسکراہٹ کی ریہرسل کرتے رہے۔۔۔ سوا مہینہ ہوگیا اور ان کا عشق صرف ہونٹوں پر ہی مسکراتا رہا۔\n\nآخر ایک دن خود اس لڑکی نے مہر خاموشی توڑی اور بڑی ادا سے ایک سگریٹ مانگا۔ آپ نے ساری ڈبیا حوالے کردی اور گھر آکر ساری رات کپکپاہٹ پیدا کرنے والے خواب دیکھتے رہے۔ دوسرے دن ایک آدمی کو ڈلہوزی بھیجا اور وہاں سے سگریٹوں کے پندرہ پیکٹ منگوا کر ایک چھوٹے سے لڑکے کے ہاتھ اپنی محبوبہ کو بھجوا دیے۔ جب اس نے اپنی جھولی میں ڈالے تو آپ کے دل کو دور کھڑے بہت مسرت محسوس ہوئی۔ ہوتے ہوتے وہ دن بھی آگیا۔ جب دونوں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ کیسی باتیں؟ قبلہ چودھری صاحب بتائیے، ہمارا ہیرو کیا باتیں کرتا تھا اس سے؟‘‘\n\nچودھری نے اس کو اکتائے ہوئے لہجے میں جواب دیا، ’’مجھے کیا معلوم۔‘‘\n\nپرکاش مسکرایا، ’’مجھے معلوم ہے قبلہ چودھری صاحب۔۔۔ گھر سے چلتے وقت وہ باتوں کی ایک لمبی چوڑی فہرست تیار کرتا تھا۔ میں اس سے یہ کہوں گا، میں اس سے یہ کہوں گا جب وہ نالے کے پاس کپڑے دھوتی ہوگی تو میں آہستہ آہستہ جا کر اس کی آنکھیں میچ لوں گا پھر اس کی بغلوں میں گدگدی کروں گا لیکن جب اس کے پاس پہنچتا اور آنکھیں میچنے اور گدگدی کرنے کا خیال آتا تو اسے شرم آجاتی۔۔۔ کیا بچپنا ہے۔۔۔ اور وہ اس سے کچھ دور ہٹ کر بیٹھ جاتا اور بھیڑ بکریوں کی باتیں کرتا رہتا۔۔۔ کئی دفعہ اسے خیال آیا کب تک یہ بھیڑ بکریاں اس کی محبت چرتی رہیں گی۔۔۔\n\nدو مہینے سے کچھ دن اوپر ہوگئے اور ابھی تک وہ اس کے ہاتھ تک نہیں لگا سکا۔ مگر وہ سوچتا کہ ہاتھ لگائے کیسے، کوئی بہانہ تو ہونا چاہیے لیکن پھر اسے خیال آتا بہانے سے ہاتھ لگانا بالکل بکواس ہے، لڑکی کی طرف سے اسے خاموش اجازت ملنی چاہیے کہ وہ اس کے بدن کے جس حصے کو بھی چاہے ہاتھ لگا سکتا ہے۔ اب خاموش اجازت کا سوال آجاتا۔۔۔ اسے کیسے پتہ چل سکتا ہے اس نے خاموش اجازت دے دی ہے۔۔۔ قبلہ چودھری صاحب، اس کا کھوج لگاتے لگاتے پندرہ دن اور گزر گئے۔‘‘\n\nپرکاش نے سگریٹ سلگایا اور منہ سے دھواں نکالتے ہوئے کہنے لگا، ’’اس دوران میں وہ کافی گھل مل گئے تھے۔ لیکن اس کا اثر ہمارے ہیرو کے حق میں برا ہوا۔ دوران گفتگو میں اس نے لڑکی سے اپنے اونچے خاندان کا کئی بار ذکر کیا تھا، اپنے اوباش دوستوں پر کئی بار لعنتیں بھیجی تھیں جو پہاڑی دیہاتوں میں جا کر غریب لڑکیوں کوخراب کرتے تھے۔ کبھی دبی زبان میں، کبھی بلند بانگ اپنی تعریف بھی کی تھی۔ اب وہ کیسے اس لڑکی پر اپنی شہوانی خواہش ظاہر کرتا۔ ظاہر تھا کہ معاملہ بہت ٹیڑھا اور پیچدار ہوگیا ہے۔ مگر اس کا جذبہ عشق سلامت تھا اس لیے اسے امید تھی کہ ایک روز خود لڑکی ہی اپنا آپ تھالی میں ڈال کر اس کے حوالے کردے گی۔۔۔ اس امید میں چنانچہ کچھ دن اور بیت گئے۔ ایک روز کپڑے دھوتے دھوتے لڑکی نے جب کہ ہاتھ صابن سے بھرے ہوئے تھے اس سے کہا۔ ’’تمہاری ماچس ختم ہوگئی ہے میری جیب سے نکال لو۔۔۔ یہ جیب عین اس کی چھاتی کے ابھار کے اوپر تھی۔ ہمارا ہیرو جھینپ گیا۔\n\nلڑکی نے کہا، ’’نکال لونا‘‘۔۔۔ تھوڑی سی ہمت کرکے اس نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ بڑھایا اور دو انگلیاں بڑی احتیاط سے اس کی جیب میں ڈالیں۔ ماچس بہت نیچے تھی۔ گھبرایا۔ کہیں اور نہ جا ٹکرائیں۔ چنانچہ باہر نکال لیں اور اپنی خالی ماچس سے تیلی نکال کر سگریٹ سلگایا اور لڑکی سے کہا، ’’تمہاری جیب سے ماچس پھر کبھی نکالوں گا۔‘‘ یہ سن کر لڑکی نے شریر شریر نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔ ہمارے ہیرو نے آدھا میدان مار لیا۔ دوسرا آدھا مارنے کے لیے وہ اسکیمیں سوچنے لگا۔ ایک روز صبح سویرے نالے کے اس طرف بیٹھا، دوسری طرف ندی پر اس لڑکی کو بکریاں چراتے دیکھ رہا تھا اور اس کی ابھری ہوئی جیب کے مال پر غور کررہا تھا کہ نیچے سڑک پر باؤلی کے پاس ایک موٹر لاری رکی۔ سکھ ڈرائیور نے باہر نکل کر پانی پیا اور اس لڑکی کی طرف دیکھا۔ ’’میرے دل میں ایک جلن سی پیدا ہوئی۔ باؤلی کی منڈیر پر کھڑے ہو کر اس موبل آئل سے لتھڑے ہوئے سکھ ڈرائیور نے پھر ایک بار ساوتری کی طرف دیکھا اور اپنا غلیظ ہاتھ اٹھا کر اسے اشارہ کیا۔ میرے جی میں آئی پاس پڑا ہوا پتھر اس پر لڑھکا دوں۔ اشارہ کرنے کے بعد اس نے دونوں ہاتھ منہ کے ادھر ادھر رکھ کر نہایت ہی بھونڈے طریقے سے پکارا، ’’او جانی۔۔۔ میں صدقے۔۔۔ آؤں؟‘‘ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ سکھ ڈرائیور نے اوپر چڑھنا شروع کیا۔ میرا دل گھٹنے لگا۔ چند منٹوں ہی میں وہ حرام زادہ اس کے پاس کھڑا تھا لیکن مجھے یقین تھا کہ اگر اس نے کوئی بدتمیزی کی تو وہ چھڑی سے اس کی ایسی مرمت کرے گی کہ ساری عمر یاد رکھے گا۔۔۔ میں ادھر سے نگاہ ہٹا کر اس مرمت کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ ایک دم دونوں میری آنکھوں سے اوجھل ہوگئے۔\n\nمیں بھاگا نیچے، سڑک کی طرف باؤلی کے پاس پہنچ کر سوچا کیا حماقت ہے۔ تشویش کیسی؟ لیکن پھر خیال آیا کہیں وہ الو کا پٹھا دراز دستی نہ کر بیٹھے۔ اس لیے پہاڑی پر تیزی سے چڑھنا شروع کیا۔ بڑی مشکل چڑھائی تھی۔ جگہ جگہ خار دار جھاڑیاں تھیں۔ ان کو پکڑ کر آگے بڑھنا پڑتا تھا۔ بہت دور اوپر چلا گیا پر وہ دونوں کہیں نظر نہ آئے۔ ہانپتے ہانپتے میں نے اپنے سامنے کی جھاڑی پکڑ کر کھڑے ہونے کی کوشش کی۔۔۔ کیا دیکھتا ہوں جھاڑی کے دوسری طرف پتھروں پر ساوتری لیٹی ہے اور اس غلیظ ڈرائیور کی داڑھی اس کے چہرے پر بکھری ہوئی ہے۔۔۔ میری۔۔۔ میرے جسم کے سارے بال جل گئے۔ ایک کروڑ گالیاں ان دونوں کے لیے میرے دل میں پیدا ہوئیں۔ لیکن ایک لحظے کے لیے سوچا تو محسوس ہوا کہ دنیا کا سب سے بڑا چغد میں ہوں۔ اسی وقت نیچے اترا اور سیدھا لاریوں کے اڈے کا رخ کیا۔۔۔‘‘\n\nپرکاش کے ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں چمکنے لگیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D8%BA%D8%AF_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29"} {"title": "چل بسے جو کہ تھے جانے والے", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "چل بسے جو کہ تھے جانے والے\nاب نہیں پھر کے وہ آنے والے\n\nمجھ کو دکھلا دے مرا اختر بخت\nچاند سورج کے بنانے والے\n\nلوگ کہتے ہیں تمہیں راحت جان\nتم تو ہو دل کے دکھانے والے\n\nہم سے اور بار مصیبت اٹھے\nہم تو ہیں ناز اٹھانے والے\n\nتیری رحمت ہے غضب پر غالب\nروز محشر کے ڈرانے والے\n\nکبھی بھولے سے ادھر بھی آ جا\nسونے فتنے کے جگانے والے\n\nدل بھی مل ڈال کبھی انجمؔ کا\nارے مہندی کے لگانے والے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84_%D8%A8%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "چل دل اس کی گلی میں رو آویں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چل دل اس کی گلی میں رو آویں\nکچھ تو دل کا غبار دھو آویں\n\nگو ابھی آئے ہیں یہ ہے جی میں\nپھر بھی ٹک اس کے پاس ہو آویں\n\nدل کو کھویا ہے کل جہاں جا کر\nجی میں ہے آج جی بھی کھو آویں\n\nپند گو میرا مغز کھانے کو\nکاش آویں تو ایک دو آویں\n\nہم تو باتوں میں رام کر لیں انہیں\nیہ بتاں اپنے پاس جو آویں\n\nگو خفا ہی ہوا کرے پر ہم\nاک ذرا اس کو دیکھ تو آویں\n\nجب ہم آویں تو اپنے دل میں رکو\nاور نہ آویں تو پھر کہو آویں\n\nباز آئے ہم ایسے آنے سے\nہاں جو واقف نہ ہوویں سو آویں\n\nکب تلک اس گلی میں روز حسنؔ\nصبح کو جاویں شام کو آویں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88_%D8%A2%D9%88%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چل دیے ہم اے غم عالم وداع", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چل دیے ہم اے غم عالم وداع\nشور ماتم تا کجا ماتم وداع\n\nجاتے ہی تیرے ہر اک کا کوچ ہے\nجاں وداع و دل وداع و دم وداع\n\nروز میت بھی نہیں کم عید سے\nپہلے رحلت سے ہوا ہر غم وداع\n\nہے قیامت ایک دن اس کا قیام\nدل کو کر اے طرۂ خوش خم وداع\n\nاس کا رستہ کوئے غیر اور اپنا خلد\nوہ ادھر رخصت ادھر ہیں ہم وداع\n\nغیر کی خاطر ہے تو جانے بھی دو\nکیجئے اس کو خوش و خرم وداع\n\nہائے رے عمر رواں کا قافلہ\nہر قدم ہر آن ہے ہر دم وداع\n\nکیوں نہ ہوں آغوش حسرت صبح و شام\nروز و شب عالم سے ہے عالم وداع\n\nہے بہ قدر حوصلہ یاں اتفاق\nجام سے ہرگز نہ ہوگا جم وداع\n\nسن چکا ہوں میں ترا عزم سفر\nآنکھ سے میری نہ ہوگا نم وداع\n\nحسرت بے اختیاری دیکھنا\nتن سے جاں ہوتی ہے کیا تھم تھم وداع\n\nاب کہاں صبر و قرار و تاب و ہوش\nساتھ ہی اس کے ہوئے پیہم وداع\n\nلا تعین بے نشانی نے کیا\nکیجئے آرام رخصت رم وداع\n\nمہلت رنگ چمن خوں کیوں نہ ہو\nہو گئی جب فرصت شبنم وداع\n\nاے قلقؔ چلیے کہ منزل دور ہے\nہو رہیں گے یار سب باہم وداع", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84_%D8%AF%DB%8C%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A7%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%B9"} {"title": "چل نہیں سکتے وہاں ذہن رسا کے جوڑ توڑ", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "چل نہیں سکتے وہاں ذہن رسا کے جوڑ توڑ\nان کی چالیں ہیں قیامت کی بلا کے جوڑ توڑ\n\nہے نظر انداز کوئی کوئی منظور نظر\nدیکھنا اس بت کی چشم فتنہ زا کے جوڑ توڑ\n\nکج ادائی بات ہے جس کی لگاوٹ کھیل ہے\nسیکھ لے اس فتنہ گر سے کوئی آ کے جوڑ توڑ\n\nپا کے قابو کرتے ہیں اہل غرض کیا داؤں گھات\nچلتے ہیں مطلب کی چالیں مدعا کے جوڑ توڑ\n\nدوست بن کر کرتے ہیں نیکی کے پردے میں بدی\nراج نیت یہ ہے دیکھو اغنیا کے جوڑ توڑ\n\nسختیاں استاد ہیں انساں کی دنیا میں حبیبؔ\nکرتے ہیں مغلوب کو غالب سکھا کے جوڑ توڑ", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%92_%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B0%DB%81%D9%86_%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88%DA%91_%D8%AA%D9%88%DA%91"} {"title": "چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ\nاے شب ہجر تیرا کالا منہ\n\nآرزوئے نظارہ تھی تو نے\nاتنی ہی بات پر چھپایا منہ\n\nدشمنوں سے بگڑ گئی تو بھی\nدیکھتے ہی مجھے بنایا منہ\n\nبات پوری بھی منہ سے نکلی نہیں\nآپ نے گالیوں پہ کھولا منہ\n\nہو گیا راز عشق بے پردہ\nاس نے پردہ سے جو نکالا منہ\n\nشب غم کا بیان کیا کیجئے\nہے بڑی بات اور چھوٹا منہ\n\nجب کہا یار سے دکھا صورت\nہنس کے بولا کہ دیکھو اپنا منہ\n\nکس کو خون جگر پلائے گا\nساغر مے کو کیوں لگایا منہ\n\nپھر گئی آنکھ مثل قبلہ نما\nجس طرف اس صنم نے پھیرا منہ\n\nگھر میں بیٹھے تھے کچھ اداس سے وہ\nبولے بس دیکھتے ہی میرا منہ\n\nہم بھی غمگین سے ہیں آج کہیں\nصبح اٹھے تھے دیکھ تیرا منہ\n\nسنگ اسود نہیں ہے چشم بتاں\nبوسہ مومنؔ طلب کرے کیا منہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84_%D9%BE%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%B9_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D9%85%D9%86%DB%81"} {"title": "چل چلاؤ", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بس دیکھا اور پھر بھول گئے\nجب حسن نگاہوں میں آیا\nمن ساگر میں طوفان اٹھا\nطوفان کو چنچل دیکھ ڈری آکاش کی گنگا دودھ بھری\nاور چاند چھپا تارے سوئے طوفان مٹا ہر بات گئی\nدل بھول گیا پہلی پوجا من مندر کی مورت ٹوٹی\nدن لایا باتیں انجانی پھر دن بھی نیا اور رات نئی\nپیتم بھی نئی پریمی بھی نیا سکھ سیج نئی ہر بات نئی\nاک پل کو آئی نگاہوں میں جھلمل کرتی پہلی\nسندرتا اور پھر بھول گئے\nمت جانو ہمیں تم ہرجائی\nہرجائی کیوں کیسے کیسے\nکیا داد جو اک لمحے کی ہو وہ داد نہیں کہلائے گی\nجو بات ہو دل کی آنکھوں کی\nتم اس کو ہوس کیوں کہتے ہو\nجتنی بھی جہاں ہو جلوہ گری اس سے دل کو گرمانے دو\nجب تک ہے زمیں\nجب تک ہے زماں\nیہ حسن و نمائش جاری ہے\nاس ایک جھلک کو چھچھلتی نظر سے دیکھ کے جی بھر لینے دو\n\nہم اس دنیا کے مسافر ہیں\nاور قافلہ ہے ہر آن رواں\nہر بستی ہر جنگل صحرا اور روپ منوہر پربت کا\nاک لمحہ من کو لبھائے گا اک لمحہ نظر میں آئے گا\n\nہر منظر ہر انساں کی دیا اور میٹھا جادو عورت کا\nاک پل کو ہمارے بس میں ہے پل بیتا سب مٹ جائے گا\nاس ایک جھلک کو چھچھلتی نظر سے دیکھ کے جی بھر لینے دو\nتم اس کو ہوس کیوں کہتے ہو\nکیا داد جو اک لمحے کی ہو وہ داد نہیں کہلائے گی\n\nہے چاند فلک پر اک لمحہ\nاور اک لمحہ یہ ستارے ہیں\nاور عمر کا عرصہ بھی سوچو اک لمحہ ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84_%DA%86%D9%84%D8%A7%D8%A4"} {"title": "چل کر نہ زلف یار کو تو اے صبا بگاڑ", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چل کر نہ زلف یار کو تو اے صبا بگاڑ\nاندھیر ہوگا اس سے اگر ہو گیا بگاڑ\n\nعاشق کو ہر طرح ہے مصیبت کا سامنا\nاچھا ترا ملاپ نہ اچھا ترا بگاڑ\n\nمیں کیوں کروں کسی کو مکین مکان دل\nمیں کیوں کہوں کسی سے کہ تو گھر مرا بگاڑ\n\nموقوف ایک دو پہ نہیں یار کا عتاب\nاس سے جدا بگاڑ ہے اس سے جدا بگاڑ\n\nہوتی تھی عاشقوں میں بڑے لطف سے بسر\nبیٹھے بٹھائے آپ نے کیوں کر لیا بگاڑ\n\nایسے مریض عشق کا کس سے علاج ہو\nپیدا کرے مزاج میں جس کے دوا بگاڑ\n\nنازک مزاج یار کا برتاؤ کیا کہوں\nدو دن رہا ملاپ تو برسوں رہا بگاڑ\n\nاچھوں میں عیب بھی ہو تو داخل ہنر میں ہے\nرکھتا ہے سو بناؤ تری زلف کا بگاڑ\n\nاچھا ہوا جلیلؔ سے تم صاف ہو گئے\nاغیار نے تو ڈال دیا تھا برا بگاڑ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%A8%DA%AF%D8%A7%DA%91"} {"title": "چلا آنکھوں سے جب کشتی میں وہ محبوب جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چلا آنکھوں سے جب کشتی میں وہ محبوب جاتا ہے\nکبھی آنکھیں بھر آتی ہیں کبھی جی ڈوب جاتا ہے\n\nکہو کیونکر نہ پھر ہووے گا دل روشن زلیخا کا\nجہاں یوسف سا نور دیدۂ یعقوب جاتا ہے\n\nجہاں کے خوب رو مجھ سے چرائیں کیوں نہ پھر آنکھیں\nجو کوئی خورشید کو دیکھے سو وہ محجوب جاتا ہے\n\nمرا آنسو بھی قاصد کی طرح اک دم نہیں رکتا\nکسی بیتاب کا گویا لیے مکتوب جاتا ہے\n\nیقیںؔ ہرگز کیا مت کر اتی تعریف لڑکوں کی\nاسی باتوں ستی مضمون سا محبوب جاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%D8%A7_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%D8%B4%D8%AA%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "چلا جاتا ہے کاروان نفس", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چلا جاتا ہے کاروان نفس\nنہ بانگ درا ہے نہ صوت جرس\n\nبرس کتنے گزرے یہ کہتے ہوئے\nکہ کچھ کام کر لیں گے اب کے برس\n\nنہ وہ پوچھتے ہیں نہ کہتا ہوں میں\nرہی جاتی ہے دل کی دل میں ہوس\n\nوہ حسرت زدہ صید میں ہی تو ہوں\nہے پرواز جس کی دردن ہوس\n\nستم ہیں یہ وحشتؔ تری غفلتیں\nتجھے کاش ہوتا شمار نفس", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86_%D9%86%D9%81%D8%B3"} {"title": "چلا ہے او دل راحت طلب کیا شادماں ہو کر", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چلا ہے او دل راحت طلب کیا شادماں ہو کر\nزمین کوئے جاناں رنج دے گی آسماں ہو کر\n\nکیا ویراں چمن کو آئے ہو کیا بوستاں ہو کر\nہوئے گل پانی پانی یہ چلی آب رواں ہو کر\n\nاسی خاطر تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے\nاکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر\n\nجواب نامہ کیا لایا تن بے جاں میں جان آئی\nگیا یاں سے کبوتر واں سے آیا مرغ جاں ہو کر\n\nغضب ہے روح سے اس جامۂ تن کا جدا ہونا\nلباس تنگ ہے اترے گا آخر دھجیاں ہو کر\n\nاگر آہستہ بولوں ناتوانی کہتی ہے بس بس\nصدائے جنبش لب دیتے ہی صدمے فغاں ہو کر\n\nازار آتشیں خط سیہ اک دن نکالے گا\nرلائے گا یہ شعلہ میری آنکھوں کا دھواں ہو کر\n\nمکدر ہو اگر لو مجھ کو گاڑو اس طرف دیکھو\nکہ زیر خاک ہوں گرد نگہ سے ناتواں ہو کر\n\nکیا غیروں کو قتل اس نے موے ہم رشک کے مارے\nاجل بھی دوستو آئی نصیب دشمناں ہو کر\n\nپھرا صد چاک ہو کر کوچۂ کاکل سے دل اپنا\nعزیزو یوسف گم گشتہ آیا کارواں ہو کر\n\nکمان ابرو کی ایسے نرم ہے آئے گا جو ناوک\nرہے گا استخواں میں اپنے مغز استخواں ہو کر\n\nچھڑائی چوس کر ہم نے مسی تو کیا ہے شرمایا\nلب اس محجوب کا چھپنے لگا منہ میں زباں ہو کر\n\nفلک میری طرح آخر تجھے بھی پیس ڈالے گا\nاڑے گا اے ہما اک روز گرد استخواں ہو کر\n\nہما سے ہے کڑا پن اے سگ جاناں جو تو کھائے\nملائم استخواں ہو جائیں مغز استخواں ہو کر\n\nجہاں جو چاہئے ویسی ہی وہ دکھلائے نیرنگی\nبصر آنکھوں میں گویائی زباں میں دل میں جاں ہو کر\n\nستم کر اس کے یہ دیکھے تو خوں ریزی پہ مائل ہو\nکرے سنگ ملامت تیز خنجر کو فساں ہو کر\n\nنہانے میں جو لہراتی ہے زلف یار دریا میں\nتڑپنے لگتی ہیں پانی پہ موجیں مچھلیاں ہو کر\n\nاداسی جھک کے ملتے ہو نگہ سے قتل کرتے ہو\nستم ایجاد ہو ناوک لگاتے ہو کماں ہو کر\n\nاٹھائے گی جو ہم کو وحشت دل یار کے در سے\nگریں گے پائزی پاؤں پہ اپنے بیڑیاں ہو کر\n\nکہا جو اس نے چاہا ضعف سے یاں لب نہیں ملتے\nسبک کر دیتی ہیں حرف سخن بار گراں ہو کر\n\nاثر باقی رہا بل بے شب فرقت کی تاریکی\nچراغ روز سے شعلہ نکل آیا دھواں ہو کر\n\nخط نوخیز میں عارض جو تیرے چھپتے جاتے ہیں\nپری بن جائیں گے اس سبز شیشے میں نہاں ہو کر\n\nگرا قدموں پہ صید ناتواں تھا ہاتھ سے چھٹ کر\nجگہ دے اب تو نقش پاے صیاد آشیاں ہو کر\n\nترے وحشی کو برسوں اے پری کب نیند آتی ہے\nاگر خواب گراں آیا بھی تو سنگ گراں ہو کر\n\nوزیرؔ اس کا ہوں میں شاگرد جس کو کہتے ہیں منصف\nلیا ملک معانی بادشاہ شاعراں ہو کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "چلتا نہیں فریب کسی عذر خواہ کا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چلتا نہیں فریب کسی عذر خواہ کا\nدل ہے بغل میں یا کوئی دفتر گناہ کا\n\nاب کیا لگے گا دل چمن روزگار میں\nمارا ہوا ہے دیدۂ عبرت نگاہ کا\n\nدنیا مقام ہو نظر آئے گی ناگہاں\nٹوٹے گا جب طلسم فریب نگاہ کا\n\nدل کائنات عشق میں شاہوں کا شاہ ہے\nمختار کل تمام سفید و سیاہ کا\n\nثابت ہوا کسی پہ نہ جرم وفا کبھی\nپردہ کھلا نہ عشق سراپا گناہ کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B9%D8%B0%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "چلتا ہے آفتاب کا دور اس قمر کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:نواب امراوبہادر دلیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چلتا ہے آفتاب کا دور اس قمر کے ساتھ\nہم عیب بھی جو کرتے ہیں تو اک ہنر کے ساتھ\n\nکیوں کر کسی کے روز جزا چھپ سکیں گے جرم\nخفیہ نویس دودو ہیں ہر اک بشر کے ساتھ\n\nرکھ لینا یا خدا مری تر دامنی کی شرم\nبادل برستے آئیں دعا کے اثر کے ساتھ\n\nان روزوں خانداں کو کوئی پوچھتا نہیں\nعزت ہے آدمی کی بس اب سیم و زر کے ساتھ\n\nہاتھوں میں چاہتے ہو حنا کا جو شوخ رنگ\nمہندی کو پیس لو مرے زخم جگر کے ساتھ\n\nباقی خمار رات کا اب تک ہے ساقیا\nگردش میں جام بھی رہے دوران سر کے ساتھ\n\nفضل خدا کا دیکھنا واعظ کہ روز حشر\nجنت میں ہم بھی جائیں گے خیر البشر کے ساتھ\n\nخط دے کے نامہ بر کو یہ کہتا ہے شوق دل\nاچھا تو ہے کہ خود بھی چلوں نامہ بر کے ساتھ\n\nبچنا دل و جگر کا بتوں سے محال ہے\nتیر مژہ بھی چلتے ہیں تیغ نظر کے ساتھ\n\nافسوس اب کسی کا کوئی قدرداں نہیں\nجوہر شناس اٹھ گئے اہل ہنر کے ساتھ\n\nکرتے نہ ہم کسی کی اطاعت کبھی دلیرؔ\nمعشوق ہم کو ملتے اگر زور و زر کے ساتھ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہ", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہ\nلاشے ہی نکلتے رہے دو چار ہمیشہ\n\nگل کھلتے رہیں چہچہے کرتا رہے بلبل\nیارب رہے آباد یہ گل زار ہمیشہ\n\nہم رند ہوئے شاہد مقصود سے واصل\nجھگڑے میں رہے کافر و دیں دار ہمیشہ\n\nیاں تخم تمنا سے اگا کرتا ہے لالہ\nگل کھاتے ہیں ہر فصل میں دو چار ہمیشہ\n\nتڑپا کریں کوچے میں ترے سیکڑوں کشتے\nرنگیں رہے خوں سے تری تلوار ہمیشہ\n\nدیوانے ہیں مائل ہوں اگر حور و پری کے\nجو دیکھ رہے ہوں ترا دیدار ہمیشہ\n\nمجھ تشنۂ دیدار کو کس روز چھکایا\nپیاسا ہی رہا خوں کا وہ خونخوار ہمیشہ\n\nمشتاقوں نے تیرے نہ لیا کوڑیوں کے مول\nبکتا رہا یوسف سر بازار ہمیشہ\n\nہے زلف مسلسل تری یا دام بلا ہے\nہو رہتے ہیں دو چار گرفتار ہمیشہ\n\nکیوں کر تو مسیحا ہوا مشہور جہاں میں\nمرتے ہیں ترے ہاتھ سے بیمار ہمیشہ\n\nہنگامے نئے روز ہوا کرتے ہیں برپا\nفتنے ہی اٹھاتی ہے وہ رفتار ہمیشہ\n\nاے رندؔ جنوں میں بھی نہ صحرا کو گئے ہم\nکھایا کئے پتھر سر بازار ہمیشہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81"} {"title": "چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے\nپات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے\n\nرنگ ہوا سے یوں ٹپکے ہے جیسے شراب چواتے ہیں\nآگے ہو مے خانے کے نکلو عہد بادہ گساراں ہے\n\nعشق کے میداں داروں میں بھی مرنے کا ہے وصف بہت\nیعنی مصیبت ایسی اٹھانا کار کار گزاراں ہے\n\nدل ہے داغ جگر ہے ٹکڑے آنسو سارے خون ہوئے\nلوہو پانی ایک کرے یہ عشق لالہ عذاراں ہے\n\nکوہ کن و مجنوں کی خاطر دشت و کوہ میں ہم نہ گئے\nعشق میں ہم کو میرؔ نہایت پاس عزت داراں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D9%84%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیں\nطے یہ منزل جو خدا چاہے تو کر لیتے ہیں\n\nعشق کس واسطے کرتے ہیں پری زادوں سے\nکس لیے جان پر آفت یہ بشر لیتے ہیں\n\nدیکھنے بھی جو وہ جاتے ہیں کسی گھائل کو\nاک نمکداں میں نمک پیس کے بھر لیتے ہیں\n\nخاک اڑ جاتی ہے ستھراو ادھر ہوتا ہے\nنیمچا کھینچ کے وہ باگ جدھر لیتے ہیں\n\nمیں وہ بیمار ہوں اللہ سے جا کے عیسیٰ\nمرے نسخوں کے لیے حکم اثر لیتے ہیں\n\nیار نے لوٹ لیا مجھ وطن آوارہ کو\nلوگ غربت میں مسافر کی خبر لیتے ہیں\n\nاس طرف ہیں کہ جھروکے میں ادھر بیٹھے ہیں\nجائزہ کشتوں کا اپنے وہ کدھر لیتے ہیں\n\nٹھیک اس رشک چمن کو وہ قبا ہوتی ہے\nناپ کر جس کی رگ گل سے کمر لیتے ہیں\n\nکچھ ٹھکانا ہے پری زادوں کی بے رحمی کا\nعشق بازوں سے قصاص آٹھ پہر لیتے ہیں\n\nیہ نیا ظلم ہے غصہ جو انہیں آتا ہے\nبے گناہوں کو بھی ماخوذ وہ کر لیتے ہیں\n\nشہرت اس صید وفادار کی اڑ جاتی ہے\nتیر میں جس کے لگانے کو وہ پر لیتے ہیں\n\nکہتے ہیں حوروں کے دل میں ترے کشتوں کے بناؤ\nاس لئے خوں میں نہا کر وہ نکھر لیتے ہیں\n\nکس قدر نامہ و پیغام کو ترسایا ہے\nبھیجتے ہیں خبر اپنی نہ خبر لیتے ہیں\n\nدم نکلتے ہیں کلیجوں سے لہو جاری ہے\nسانس الٹی ترے تفتیدہ جگر لیتے ہیں\n\nچل کھڑے ہوں گے تو ہستی میں نہ پھر ٹھہریں گے\nجان جاں چند نفس دم یہ بشر لیتے ہیں\n\nہے اشارہ یہی مو ہائے مژہ کا ان کی\nہم وہ نشتر ہیں کہ جو خون جگر لیتے ہیں\n\nسامنا کرتے ہیں جس وقت گدا کا تیرے\nبادشہ تخت رواں پر سے اتر لیتے ہیں\n\nسکۂ داغ جنوں پاس ہیں رہنا ہشیار\nلوگ رستے میں شرفؔ جیب کتر لیتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چلتے ہیں ہم بھی سوئے چمن چھا گئی گھٹا", "poet_page": "مصنف:وحیدالدین احمد وحید", "kind": "poetry", "section": "غزل > انتخاب وحید (1939)", "year": "1939", "text_ur": "چلتے ہیں ہم بھی سوئے چمن چھا گئی گھٹا\nساقی شراب لے کے پہنچ آ گئی گھٹا\n\nجلوہ جو اگلے لطف کا دکھلا گئی گھٹا\nاپنی نظر کے سامنے لہرا گئی گھٹا\n\nپانی برس چکا تھا ابھی خوب باغ میں\nدور شراب دیکھ کے پھر آ گئی گھٹا\n\nاس سال آگے دیکھیے کرتی ہے کیا سلوک\nاگلے برس تو خوب سا رلوا گئی گھٹا\n\nایسے خیال عیش میں ہوتے ہیں دن بسر\nدیکھا جدھر اٹھا کے نظر چھا گئی گھٹا\n\nاب بھی نہ مے کشی کا کروں شغل اے وحیدؔ\nآئی بہار پھول کھلے چھا گئی گھٹا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7"} {"title": "چلنے کا تو ہو گیا بہانہ تم کو", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "چلنے کا تو ہو گیا بہانہ تم کو\nفتنہ ہے ہر اک طرح اٹھانا تم کو\nجاتے ہو عدو کے ساتھ آگے سے مرے\nبے آگ کے آ گیا جلانا تم کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "چلو بھیا تم کو بناؤں میں گھوڑا", "poet_page": "مصنف:لطیف فاروقی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "چلو بھیا تم کو بناؤں میں گھوڑا\nبنوگے جو گھوڑا تو ماروں گی کوڑا\nنہ آئے گی لیکن ذرا چوٹ تم کو\nسلا دوں گی پیارا سا اک کوٹ تم کو\nچلو گے شپا شپ تو دوں گی میں چارا\nرکو گے تو کھاؤ گے چانٹا کرارا\nیہ چانٹا نہ ہوگا مگر مار کوئی\nسمجھ لو کہ جیسے کرے پیار کوئی\nتمہارے لیے میں نے گاڑی بنائی\nہر اک شے قرینے سے اس میں لگائی\nپڑا ہے جو کپڑوں کا صندوق اس میں\nڈرانے کو رکھ لی ہے بندوق اس میں\nاور اک ننھی چھتری بھی رکھ لی ہے میں نے\nکڑی دھوپ کے خوف سے مینہ کے ڈر سے\nکہ شاید جھکے ابر بوندیں گرانے\nتو بچ جاؤں بارش سے چھتری لگا کے\nتمہیں کیا ضرورت کہ ہو تم تو گھوڑا\nچلو اب جتو ورنہ ماروں گی کوڑا\nجو مانو گے کہنا تو لے دوں گی لٹو\nنہیں تو ہو تم آج سے میرے ٹٹو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7"} {"title": "چلی اب گل کے ہاتھوں سے لٹا کر کارواں اپنا", "poet_page": "مصنف:مظہر جان جاناں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چلی اب گل کے ہاتھوں سے لٹا کر کارواں اپنا\nنہ چھوڑا ہائے بلبل نے چمن میں کچھ نشاں اپنا\n\nیہ حسرت رہ گئی کیا کیا مزے سے زندگی کرتے\nاگر ہوتا چمن اپنا گل اپنا باغباں اپنا\n\nالم سے یاں تلک روئیں کہ آخر ہو گئیں رسوا\nڈوبایا ہائے آنکھوں نے مژہ کا خانداں اپنا\n\nرقیباں کی نہ کچھ تقصیر ثابت ہے نہ خوباں کی\nمجھے ناحق ستاتا ہے یہ عشق بدگماں اپنا\n\nمرا جی جلتا ہے اس بلبل بیکس کی غربت پر\nکہ جن نے آسرے پر گل کے چھوڑا آشیاں اپنا\n\nجو تو نے کی سو دشمن بھی نہیں دشمن سے کرتا ہے\nغلط تھا جانتے تھے تجھ کو جو ہم مہرباں اپنا\n\nکوئی آزردہ کرتا ہے سجن اپنے کو ہے ظالم\nکہ دولت خواہ اپنا مظہرؔ اپنا جان جاںؔ اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%DB%8C_%D8%A7%D8%A8_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%84%D9%B9%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "چلے آؤ اگر دم بھر کو تم تو یہ جاتا رہے فی الفور مرض", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "چلے آؤ اگر دم بھر کو تم تو یہ جاتا رہے فی الفور مرض\nکہ نہیں ہے بجز بیماریٔ غم مری جان مجھے کوئی اور مرض\n\nنہیں کہتا میں تم سے کہ چارہ کرو مگر آ کے کبھی کبھی دیکھ تو لو\nکہ سمجھتا نہیں ہے طبیب کوئی ہے تمہارے ہی قابل غور مرض\n\nمرے عیسیٰ دم مرے بے پروا نہ علاج سے میرے ہاتھ اٹھا\nنہیں بچنے کا یہ مریض ترا کہ ہے بڑھتا چلا بے طور مرض\n\nنہیں اس کا تعجب یارو اگر مرے دل میں درد ہو رہ رہ کر\nکرے غفلت عیسی دوراں جب تو نہ باندھے کیوں کر دور مرض\n\nتجھے انجمؔ درد فراق بھلا کیوں چین سے اٹھنے بیٹھنے دے\nوہ مسیح نہ جب کچھ رحم کرے کرے کیوں نہ جفا و جور مرض", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%A2%D8%A4_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D9%81%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B1%D8%B6"} {"title": "چلے بت خانے کو خدا حافظ", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چلے بت خانے کو خدا حافظ\nتم بھی زاہد کہو خدا حافظ\n\nتیرے کوچے سے پیچ اٹھا کے چلے\nگیسوۓ مشکبو خدا حافظ\n\nدم عیسیٰ سے بھی شفا نہ ہوئی\nلو بس اے ہمدمو خدا حافظ\n\nہے بہت زود رنج دل میرا\nیار ہے تند خو خدا حافظ\n\nاس صنم کو خدا کہوں نہ کہوں\nہے سخن گو مگو خدا حافظ\n\nدل کو بت خانہ کر کے کعبے چلے\nزاہدو زاہدو خدا حافظ\n\nہے فرنگن کے گورے ہاتھ میں دل\nجان کا صاحبو خدا حافظ\n\nدیر سے مثل نالۂ ناقوس\nجاتے ہیں اے بتو خدا حافظ\n\nبات بھی کی تو یہ کہا شب وصل\nجائیں ہم تم کہو خدا حافظ\n\nشہ خوباں کے غم میں جان چلی\nاے وزیرؔ اب کہو خدا حافظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%81%D8%B8"} {"title": "چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ\nہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ\n\nابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ\nملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ\n\nدریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز تو سمجھو\nاٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ\n\nزمانے بھر کی کیفیت سمٹ آئے گی ساغر میں\nپیو ان انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہ\n\nیوں ہی اک روز اپنے دل کا قصہ بھی سنا دینا\nخطاب آہستہ آہستہ نظر آہستہ آہستہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D9%B9_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81"} {"title": "چلے لے کے سر پر گناہوں کی گٹھری", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چلے لے کے سر پر گناہوں کی گٹھری\nسفر میں یہ ہے رو سیاہوں کی گٹھری\n\nپڑی روز محشر وہیں برق آ کر\nجہاں تھی ترے دادخواہوں کی گٹھری\n\nمسافر میں اس دشت کا ہوں کہ جس میں\nلٹی کتنے گم کردہ راہوں کی گٹھری\n\nجہاں سوس نے بحر سے سر نکالا\nمیں سمجھا ہے کشتی تباہوں کی گٹھری\n\nکلاہ زری ماہ نو نے اڑا لی\nکھلی تھی کہیں کج کلاہوں کی گٹھری\n\nہم ان سرقہ والوں میں اے مصحفیؔ ہیں\nچراتے ہیں جو بادشاہوں کی گٹھری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%DB%92_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D9%B9%DA%BE%D8%B1%DB%8C"} {"title": "چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کا\nدلیل راہ محبت ہے فیصلہ دل کا\n\nہوائے کوچۂ قاتل سے بس نہیں چلتا\nکشاں کشاں لیے جاتا ہے ولولہ دل کا\n\nگلہ کسے ہے کہ قاتل نے نیم جاں چھوڑا\nتڑپ تڑپ کے نکالوں گا حوصلہ دل کا\n\nخدا بچائے کہ نازک ہے ان میں ایک سے ایک\nتنک مزاجوں سے ٹھہرا معاملہ دل کا\n\nدکھا رہا ہے یہ دونوں جہاں کی کیفیت\nکرے گا ساغر جم کیا مقابلہ دل کا\n\nہوا سے وادئ وحشت میں باتیں کرتے ہو\nبھلا یہاں کوئی سنتا بھی ہے گلہ دل کا\n\nقیامت آئی کھلا راز عشق کا دفتر\nبڑا غضب ہوا پھوٹا ہے آبلہ دل کا\n\nکسی کے ہو رہو اچھی نہیں یہ آزادی\nکسی کی زلف سے لازم ہے سلسلہ دل کا\n\nپیالہ خالی اٹھا کر لگا لیا منہ سے\nکہ یاسؔ کچھ تو نکل جائے حوصلہ دل کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%DB%92_%DA%86%D9%84%D9%88_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%88%D9%84%D9%88%D9%84%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "چلے گا نہیں مجھ پہ فقرا تمہارا", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چلے گا نہیں مجھ پہ فقرا تمہارا\nہٹا لو کہ خنجر ہے جھوٹا تمہارا\n\nمنائیں تو اب جان دے کر منائیں\nقیامت ہے یہ روٹھ جانا تمہارا\n\nبڑے سیدھے سادے بڑے بھولے بھالے\nکوئی دیکھے اس وقت چہرا تمہارا\n\nبچا ہے جو ساغر میں کیوں پھینکتے ہو\nہمیں دے دو ہم پی لیں جھوٹا تمہارا\n\nیہ کیا ہے سبب آج چپ چپ ہو پیارے\nبتاؤ تو کیوں جی ہے کیسا تمہارا\n\nاٹھانے پڑے خاک سے دل کے ٹکڑے\nبڑا پیار تھا پیار دیکھا تمہارا\n\nخدا کے لئے ہاں نہیں کچھ تو کہہ دو\nکہ منہ تک رہی ہے تمنا تمہارا\n\nعلاج اس کے بیمار کا تم کرو گے\nکہیں دل چلا ہے مسیحا تمہارا\n\nچلا شاعرؔ زار تسلیم لیجئے\nبھلا ہو بھلا میرے داتا تمہارا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D9%81%D9%82%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "چلے ہائے دم بھر کو مہمان ہو کر", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چلے ہائے دم بھر کو مہمان ہو کر\nمجھے مار ڈالا مری جان ہو کر\n\nیہ صورت ہوئی ہے کہ آئینہ پہروں\nمرے منہ کو تکتا ہے حیران ہو کر\n\nجواں ہوتے ہی لے اڑا حسن تم کو\nپری ہو گئے تم تو انسان ہو کر\n\nبگڑنے میں زلف رسا کی بن آئی\nلیے رخ کے بوسے پریشان ہو کر\n\nکرم میں مزہ ہے ستم میں ادا ہے\nمیں راضی ہوں جو تجھ کو آسان ہو کر\n\nجدا سر ہوا پر ہوئے ہم نہ ہلکے\nرہی تیغ گردن پر احسان ہو کر\n\nنہ آخر بچا پردۂ راز دشمن\nہوا چاک میرا گریبان ہو کر\n\nحواس آتے جاتے رہے روز وعدہ\nتری یاد ہو کر مری جان ہو کر\n\nبتوں کو جگہ دل میں دیتے ہو توبہ\nجلیلؔ ایسی باتیں مسلمان ہو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%84%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%81%D9%85%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "چمن لالہ یہ الفت تری دکھلاتی ہے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چمن لالہ یہ الفت تری دکھلاتی ہے\nسینکڑوں داغ ہیں اور ایک مری چھاتی ہے\n\nگرچہ طوطی بھی ہے شیریں سخنی میں ممتاز\nپر تری بات کی لذت کو کہاں پاتی ہے\n\nبدلی آ جاتی ہے اس لطف سے خورشید پہ کم\nزلف منہ پر ترے جس آن سے کھل جاتی ہے\n\nگل ہی تنہا نہ خجل ہے رخ رنگیں سے ترے\nنرگس آنکھوں کے ترے سامنے شرماتی ہے\n\nمیں کہاں اور ترا وصل یہ ہے بس اے گل\nگاہ بے گاہ تری بو تو صبا لاتی ہے\n\nرات تھوڑی سی ہے بس جانے دے مل ہنس کر بول\nناخوشی تا بہ کجا صبح ہوئی جاتی ہے\n\nروشنی خانۂ عاشق کی ہے تجھ سے ورنہ\nتو نہ ہو تو شب مہتاب کسے بھاتی ہے\n\nسادگی دیکھ تو دل اس سے کرے ہے یاری\nناگنی دیکھ کے جس زلف کو بل کھاتی ہے\n\nمہ رخاں کیا ہیں کہ ہو آ کے مقابل بیدارؔ\nکانپتی سامنے جس شوخ کے برق آتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "چمن میں دہر کے آ کر میں کیا نہال ہوا", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چمن میں دہر کے آ کر میں کیا نہال ہوا\nبرنگ سبزۂ بیگانہ پائمال ہوا\n\nکہانی کہہ کے سلاتے تھے یار کو سو اب\nفسانہ عمر ہوئی خواب وہ خیال ہوا\n\nجنوں کی چاک زنی نے اثر کیا واں بھی\nجو خط میں حال لکھا تھا وہ خط کا حال ہوا\n\nنسیمؔ دزدیٔ مضموں نہ چھوڑیں گے شعرا\nاگرچہ شہر کا تبدیل کوتوال ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%81%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "چمن میں دہر کے ہر گل ہے کان کی صورت", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چمن میں دہر کے ہر گل ہے کان کی صورت\nہر ایک غنچہ ہے اس میں زبان کی صورت\n\nنہیں ہے شکوہ اگر وہ نظر نہیں آتا\nکسو نے دیکھی نہیں اپنی جان کی صورت\n\nکہیں تو سب ہیں جہاں کو رباط کہنہ ولے\nہمیشہ ہے گی نئی اس مکان کی صورت\n\nجو دیکھتا ہے سو پہچانتا نہیں، ایسی\nبدل گئی ہے دل ناتوان کی صورت\n\nجو نکلی بیضے سے بلبل تو ہوئی اسیر قفس\nنہ دیکھی کھول کے آنکھ آشیان کی صورت\n\nاگر ہزار مصور خیال دل میں کریں\nکبھو نہ کھینچ سکیں اس کی آن کی صورت\n\nفلک کے خوان اوپر اس کی تنگ چشمی سے\nکبھو نظر نہ پڑی میہمان کی صورت\n\nگھڑی گھڑی میں بدلتا ہے رنگ اے حاتمؔ\nہمیشہ بو قلموں ہے جہان کی صورت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%81%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%B1_%DA%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "چمن میں رختِ گُل شبنم سے تر ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "چمن میں رختِ گُل شبنم سے تر ہے\nسمن ہے، سبزہ ہے، بادِ سحَر ہے\nمگر ہنگامہ ہو سکتا نہیں گرم\nیہاں کا لالہ بے سوزِ جگر ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%AE%D8%AA%D9%90_%DA%AF%D9%8F%D9%84_%D8%B4%D8%A8%D9%86%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم\nنہال کس کو کرے باغباں نہیں معلوم\n\nمرے صنم کا کسی کو مکاں نہیں معلوم\nخدا کا نام سنا ہے نشاں نہیں معلوم\n\nاخیر ہو گئے غفلت میں دن جوانی کے\nبہار عمر ہوئی کب خزاں نہیں معلوم\n\nیہ اشتیاق شہادت میں محو تھا دم قتل\nلگے ہیں زخم بدن پر کہاں نہیں معلوم\n\nسنا جو ذکر الٰہی تو اس صنم نے کہا\nعیاں کو جانتے ہیں ہم نہاں نہیں معلوم\n\nکیا ہے کس نے طریق سلوک سے آگاہ\nمرید کس کا ہے پیر مغاں نہیں معلوم\n\nمری طرح تو نہیں اس کو عشق کا آزار\nیہ زرد رہتی ہے کیوں زعفراں نہیں معلوم\n\nجہان و کار جہاں سے ہوں بے خبر میں مست\nزمیں کدھر ہے کہاں آسماں نہیں معلوم\n\nسپرد کس کے مرے بعد ہو امانت عشق\nاٹھائے کون یہ نار گراں نہیں معلوم\n\nخموش ایسا ہوا ہوں میں کم دماغی سے\nدہن میں ہے کہ نہیں ہے زباں نہیں معلوم\n\nمری تمہاری محبت ہے شہرۂ آفاق\nکسے حقیقت ماہ و کتاں نہیں معلوم\n\nکس آئینہ میں نہیں جلوہ گر تری تمثال\nتجھے سمجھتے ہیں ہم این و آں نہیں معلوم\n\nملا تھا خضر کو کس طرح چشمۂ حیواں\nہمیں تو یار کا اپنے دہاں نہیں معلوم\n\nکھلی ہے خانۂ صیاد میں ہماری آنکھ\nقفس کو جانتے ہیں آشیاں نہیں معلوم\n\nطریق عشق میں دیوانہ وار پھرتا ہوں\nخبر گڑھے کی نہیں ہے کنواں نہیں معلوم\n\nجو ہو تو شوق ہی ہو کوئے یار کا ہادی\nکسی کو ورنہ سبیل جناں نہیں معلوم\n\nدہن میں آپ کے البتہ ہم کو حجت ہے\nکمر کا بھید جو پوچھوں میاں نہیں معلوم\n\nنسیم صبح نے کیسا یہ اس کو بھڑکایا\nہنوز آتش گل کا دھواں نہیں معلوم\n\nسنیں گے واقعہ اس کا زبان سوسن سے\nشہید کس کا ہے یہ ارغواں نہیں معلوم\n\nکنار آب چلے دور جام یا لب کشت\nشکار ہووے بط مے کہاں نہیں معلوم\n\nرسائی جس کی نہیں اے صنم در دل تک\nیقیں ہے اس کو ترا آستاں نہیں معلوم\n\nعجب نہیں ہے جو اہل سخن ہوں گوشہ نشیں\nکسی دہن میں زباں کا مکاں نہیں معلوم\n\nچھٹیں گے زیست کے پھندے سے کس دن اے آتشؔ\nجنازہ ہوگا کب اپنا رواں نہیں معلوم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%92_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85"} {"title": "چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا\nیقین ہو گیا شبنم کو آفتاب آیا\n\nان انکھڑیوں میں اگر نشۂ شراب آیا\nسلام جھک کے کروں گا جو پھر حجاب آیا\n\nکسی کے محرم آب رواں کی یاد آئی\nحباب کے جو برابر کبھی حباب آیا\n\nشب فراق میں مجھ کو سلانے آیا تھا\nجگایا میں نے جو افسانہ گو کو خواب آیا\n\nعدم میں ہستی سے جا کر یہی کہوں گا میں\nہزار حسرت زندہ کو گاڑ داب آیا\n\nچکور حسن مہ چار دہ کو بھول گیا\nمراد پر جو ترا عالم شباب آیا\n\nمحبت مے و معشوق ترک کر آتشؔ\nسفید بال ہوئے موسم خضاب آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم\nبہار باغ گو یوں ہی رہی لیکن کدھر شبنم\n\nعرق کی بوند اس کی زلف سے رخسار پر ٹپکی\nتعجب کی ہے جاگہ یہ پڑی خورشید پر شبنم\n\nہمیں تو باغ تجھ بن خانۂ ماتم نظر آیا\nادھر گل پھاڑتے تھے جیب روتی تھی ادھر شبنم\n\nکرے ہے کچھ سے کچھ تاثیر صحبت صاف طبعوں کی\nہوئی آتش سے گل کی بیٹھتے رشک شرر شبنم\n\nبھلا ٹک صبح ہونے دو اسے بھی دیکھ لیویں گے\nکسی عاشق کے رونے سے نہیں رکھتی خبر شبنم\n\nنہیں اسباب کچھ لازم سبک ساروں کے اٹھنے کو\nگئی اڑ دیکھتے اپنے بغیر از بال و پر شبنم\n\nنہ پایا جو گیا اس باغ سے ہرگز سراغ اس کا\nنہ پلٹی پھر صبا ایدھر نہ پھر آئی نظر شبنم\n\nنہ سمجھا دردؔ ہم نے بھید یاں کی شادی و غم کا\nسحر خنداں ہے کیوں روتی ہے کس کو یاد کر شبنم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AA%D8%B1_%D8%B4%D8%A8%D9%86%D9%85"} {"title": "چمن میں مجھ سے دیوانے کے لے جانے سے کیا حاصل", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چمن میں مجھ سے دیوانے کے لے جانے سے کیا حاصل\nدکھا کر گل جنوں کو شور میں لانے سے کیا حاصل\n\nجنہیں بالوں کی پھانسی دی وہ ہرگز جی نہیں سکتے\nجو زلفوں میں پھنسایا اس کے غم کھانے سے کیا حاصل\n\nہمارے درد کی دارو اگر کچھ ہے تو دارو ہے\nیہ سب کچھ سن کے ساقی بات پی جانے سے کیا حاصل\n\nنگہ تیرے ہی جیسے عکس آئینے کا چینی میں\nیہ سب باتیں سمجھ کر جان شرمانے سے کیا حاصل\n\nنہ وہ دل ہے نہ وہ شور جنوں ہے سیر گل مت کر\nرفیقوں بن یقیںؔ گلزار میں جانے سے کیا حاصل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84"} {"title": "چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا\nجمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا\n\nفلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کر\nبرنگ سبزۂ نورستہ پائمال کیا\n\nرہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقی\nسو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا\n\nمری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدم\nنہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا\n\nبہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کو\nچمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا\n\nجواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف\nکسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا\n\nلگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے\nجو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D9%84_%D8%AF%D8%B9%D9%88%DB%8C_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "چمن میں گل نے کہیں دعوئے جمال کیا", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چمن میں گل نے جو کل دعوئے جمال کیا\nجمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا\n\nبہار رفتہ پھرآئی اب ترے تماشے کو\nچمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا\n\nرہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقی\nسو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B9%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "چمن کا ذکر کیا اب تو خدا کو یاد کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چمن کا ذکر کیا اب تو خدا کو یاد کرتے ہیں\nخوشی صیاد کو ہوتی ہے جب فریاد کرتے ہیں\n\nنہ شرماؤ اگر ہم شکوۂ بیداد کرتے ہیں\nمحبت ہے تمہاری عادتوں کو یاد کرتے ہیں\n\nہماری داستان غم رلاتی ہے زمانے کو\nوہ ہم ہیں جو زبان غیر سے فریاد کرتے ہیں\n\nخدا آباد رکھے ہم صفیران گلستاں کو\nجو کوئی پھول کھلتا ہے تو ہم کو یاد کرتے ہیں\n\nاسیران قفس خود بھی بہت کچھ کہہ گزرتے ہیں\nچمن کے تذکرے آپس میں جب صیاد کرتے ہیں\n\nنہیں معلوم میں کس حال میں ہوں باغ عالم میں\nقفس والے بھی مجھ کو دیکھ کر فریاد کرتے ہیں\n\nخود ان کا حسن میری داد خواہی ان سے کرتا ہے\nوہ آئینہ لئے ہیں اور مجھ کو یاد کرتے ہیں\n\nعدو صیاد گلچیں کیوں ہو میرے نشیمن کے\nیہ تنکے بھی ہیں اس قابل جنہیں برباد کرتے ہیں\n\nلحد پر چلنے والے تھم کہ ہم کچھ کہہ نہیں سکتے\nزمیں رکھتی ہے منہ پر ہاتھ جب فریاد کرتے ہیں\n\nوہ خوباں جہاں اشکوں سے جن کا حسن سینچا تھا\nوہی بعد فنا مٹی مری برباد کرتے ہیں\n\nسر گور غریباں کچھ نہ پوچھو حال دل ثاقبؔ\nزمانہ جن کو بھولا ہے ہم ان کو یاد کرتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چمک تیری عیاں بجلی میں، آتش میں، شرارے میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "چمک تیری عیاں بجلی میں، آتش میں، شرارے میں\nجھلک تیری ہویدا چاند میں، سُورج میں، تارے میں\n\nبلندی آسمانوں میں، زمینوں میں تری پستی\nروانی بحر میں، اُفتادگی تیری کنارے میں\n\nشریعت کیوں گریباں گیر ہو ذوقِ تکلّم کی\nچھُپا جاتا ہوں اپنے دل کا مطلب استعارے میں\n\nجو ہے بیدار انساں میں وہ گہری نیند سوتا ہے\nشجر میں، پھول میں، حیواں میں، پتھّر میں، ستارے میں\n\nمجھے پھُونکا ہے سوزِ قطرۂ اشکِ محبّت نے\nغضب کی آگ تھی پانی کے چھوٹے سے شرارے میں\n\nنہیں جنسِ ثوابِ آخرت کی آرزو مجھ کو\nوہ سوداگر ہُوں، مَیں نے نفع دیکھا ہے خسارے میں\n\nسکوں ناآشنا رہنا اسے سامانِ ہستی ہے\nتڑپ کس دل کی یا رب چھُپ کے آ بیٹھی ہے پارے میں\n\nصدائے لن ترانی سُن کے اے اقبالؔ میں چُپ ہوں\nتقاضوں کی کہاں طاقت ہے مجھ فُرقت کے مارے میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%85%DA%A9_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%AC%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA%D8%8C_%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA%D8%8C_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے\nقفس میں رہ کے قدر آشیاں معلوم ہوتی ہے\n\nکہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے\nجو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے\n\nسحر تک سعیٔ نالہ رائیگاں معلوم ہوتی ہے\nیہ دنیا تو بقدر یک فغاں معلوم ہوتی ہے\n\nکسی کے دل میں گنجائش نہیں وہ بار ہستی ہوں\nلحد کو بھی مری مٹی گراں معلوم ہوتی ہے\n\nخزاں کے وقت بھی خاموش رہتی ہے فضا ساری\nچمن کی پتی پتی راز داں معلوم ہوتی ہے\n\nہوائے شوق کی قوت وہاں لے آئی ہے مجھ کو\nجہاں منزل بھی گرد کارواں معلوم ہوتی ہے\n\nترقی پر ہے روز افزوں خلش درد محبت کی\nجہاں محسوس ہوتی تھی وہاں معلوم ہوتی ہے\n\nقفس کی تیلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہے\nکہ ہر بجلی قریب آشیاں معلوم ہوتی ہے\n\nنہ کیوں سیمابؔ مجھ کو قدر ہو ویرانئ دل کی\nیہ بنیاد نشاط دو جہاں معلوم ہوتی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%85%DA%A9_%D8%AC%DA%AF%D9%86%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "چمکے ہیں سب کے بخت تری جلوہ گاہ میں", "poet_page": "مصنف:منشی بہاری لال مشتاق دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چمکے ہیں سب کے بخت تری جلوہ گاہ میں\nواں کچھ نہیں تمیز سفید و سیاہ میں\n\nرحمت جھلک رہی ہے غضب کی نگاہ میں\nدل پا رہا ہے لذت طاعت گناہ میں\n\nہیں جب تجھی پہ شیخ و برہمن مٹے ہوئے\nپھر فرق کیا ہے بتکدہ و خانقاہ میں\n\nپہلے وہی بہشت میں جائے تو لطف ہے\nسبقت ہوئی ہے جس کی طرف سے گناہ میں\n\nبندے ہوں تاکہ خلعت رحمت کے مستحق\nبھر دی ہے کوٹ کوٹ کے لذت گناہ میں\n\nتاثیر آہ و نالہ تو معلوم ہاں مگر\nدل کا بخار خوب نکلتا ہے آہ میں\n\nمشتاقؔ آئے راہ پہ وہ شوخ یا نہ آئے\nاپنی طرف سے فرق نہ آئے نباہ میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%85%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چند بیل", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "ایک بیل کو میں نے دیکھا کہ خاموش بیٹھا جگالی کر رہا ہے۔ آنکھیں نیم باز ہیں اور ایک کتا بڑی مشقت، تن دہی اور انہماک کے ساتھ اس کے منہ کے سامنے کھڑا بھونک رہا ہے۔ بڑھ بڑھ کر بھونکتا ہے اور پیچھے ہٹتا ہے۔ آخر جب کتا بہت قریب پہنچ گیا تو بیل نے زور سے ’’سوال‘‘ کر کے یوں سر ہلا دیا جیسے ہم آپ نفی کے طور پر سر ہلاتے ہیں۔ کتا پچھاڑ کھا کر بھاگا اور بدحواسی میں ایک آدمی سے جس کے سر پر ایک ٹوکرا تھا لڑ گیا، اور ٹوکرا گر گیا۔ بیل خاموش بیٹھا جگالی کرتا رہا۔\n\nایک بیل کو میں نے دیکھا کہ اس کے پیچھے ایک چھوٹا کتا اور دوعدد پاؤ ڈیڑھ پاؤ وزن کے پلے دوڑ رہے ہیں۔ بیل نے بدحواس ہو کر ہاکی فیلڈ کا رخ کیا۔ ایک خوانچہ لوٹ دیا۔ ایک بنچ مع لڑکوں کے پھاند گیا۔ میدان میں جب لڑکے دوڑے تو گول میں گھس پڑا، اس طرح کہ جالی توڑ کر پار نکل گیا۔ سوچتا ہوگا کہ آج بال بال بچے، کیونکہ کتے اس سے الگ ہوگئے۔ ایک بیل کو میں نے دیکھا کہ اِدھر سے آ رہا ہے۔ اُدھر سے میں جا رہا تھا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے قریب سے گزرے۔ سردی کے دن تھے۔ وہ ٹاٹ کا اوور کوٹ پہنے ہوئے تھا اور میں اون کا اوور کوٹ پہنے تھا۔\n\nایک بیل نے (جس کا لقب سانڈ تھا) ایک چھوٹی سی بیل گاڑی پر حملہ کیا، جس میں میں بیٹھا تھا۔ دو بیل گاڑی کے اور تیسرا یہ سانڈ، ان تینوں کی کوشش کہیے یا بدعنوانی، نتیجہ یہ نکلا کہ گاڑی کا ایک پہیہ بڑے مزے سے ایک فٹ اونچی چبوتری پر چڑھ گیا، گاڑی ٹوٹ گئی۔ نیچے ہم لوگوں کے بھوسا رکھا تھا۔ چوٹ کم لگی مگر گت خوب بنی۔ سانڈ ادائے عرض کے بعد بھاگ گیا۔\n\nایک مرتبہ میں بیل گاڑی پر بڑی دور جا رہا تھا۔ ایک بیل موٹا تھا اور ایک دبلا۔ جو موٹا تھا وہ سست چلتا تھا اور مار کو بھی کسی شمار میں نہ لاتا تھا۔ میں نے تنگ آکر گاڑی والے سے کہا کہ اس کو خوب مارو۔ وہ بولا کہ اسے زیادہ مارا تو وہ فوراً نان کو آپریشن کر دے گا اور چلتے چلتے بیٹھ جائے گا۔ پھر چاہے کاٹ ڈالو مگر یہ نہ اٹھے گا۔ مجھے یہ بات ناممکن معلوم ہوئی اور اس کو پٹوایا۔ نتیجہ یہ کہ وہ بیٹھ گیا اور بری طرح مارا اور کھڑا کرنے کی کوشش کی تو وہ لیٹ گیا۔ اب قیاس میں آنا، ناممکن ہے کہ کس کس طرح اس کو مارا مگر نہ اٹھنا تھا نہ اٹھا۔ آنکھوں پر مارا، سینگوں پر مارا، منہ توڑ دیا، مگر وہ لیٹا رہا۔ جب میں ہار گیا تو کنارے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر دم لینے لگا کیونکہ مارتے مارتے تھک گیا تھا۔ سگریٹ سلگایا۔ گاڑی والے نے اپنی چلم سلگائی۔ نہ معلوم مجھے کیا سوجھی کہ گاڑی والے کی چلم لے کر بیل کی دم کے نیچے جلتی ہوئی مہر کی طرح لگا دی۔ میں آپ سے کیا عرض کروں کہ کیسے وہ تڑپ کر اٹھا ہے کہ بیان سے باہر۔ پھر لطف یہ کہ سولہ میل تک اس کو ہر طرح مارا مگر پھر کبھی نہ بیٹھا۔ چند مہینے بعد گاڑی والا پھر ملا اور کہنے لگا کہ بس ایک دفعہ اور لیٹ گیا تھا مگر وہ ترکیب جو کی تو پھر کبھی بھول کر بھی اس نے ایسی غلطی نہیں کی۔\n\nایک بیل کی طبیعت خراب ہوگئی یعنی ہماری اور آپ کی طرح زبان میں چھالے پڑ گئے۔ ایک دیہاتی سول سرجن آئے جو ذات کے چمار تھے۔ انہوں نے معائنہ کیا۔ تیل اور نمک طلب فرمایا۔ دونوں کو ملا کر ایک برتن میں رکھا۔ بیل کو پیر باندھ کر گرایا اور پھر زبان اس کی باہر نکال کر ایک کھرپے سے زبان کے چھالے بری طرح چھیلے۔ اس کے بعد نمک اور تیل اچھی طرح زبان پر ملا اور اس کے بعد بڑی صفائی سے اپنا جوتا اتار کر زمین پر اس کا تلا رگڑ کر زور زور سے بیل کی زبان کو رگڑا۔ پھر چھوڑ دیا۔ بیل صاحب کھڑے کردیے گئے۔ ناک میں زبان بار بار ڈال رہے تھے۔ آپریشن نہایت ہی کامیاب رہا۔ بیل صاحب تیسرے ہی روز صحت یاب ہوگئے۔\n\nایک بیل صاحب کو میں نے دیکھا جن کی قیمت معلوم ہوا پانچ سو اسی روپے ہے۔ وہ اس طرح پر کہ اسی روپیہ کے تو وہ خود تھے اور پانچ سو روپیہ کا نوٹ کھا گئے تھے اور کھا کر فوراً بھاگ گئے اور دن بھر نہ ملے۔ ورنہ غالباً قتل کر دیے جاتے۔\n\nایک مرتبہ ہم لوگ شکار کو گئے۔ مستقر سے شکار گاہ تک بیل گاڑی سے پہنچے۔ ایک مناسب مقام پر گاڑی چھوڑ دی اور شکار میں مشغول ہو گئے۔ ہم سب لوگوں کا اور بیلوں کا ناشتہ گاڑی میں رکھا تھا۔ ایک بیل صاحب اپنا ناشتہ کھاتے کھاتے ہم لوگوں کے ناشتے کی طرف متوجہ ہوگئے۔ سالن کی قسم سے جتنی چیزیں تھیں وہ زیادہ تر پھینک دیں۔ پراٹھے کل کے کل کھالیے اور دسترخوان کھا رہے تھے کہ ہم لوگ بھوک پر دھار رکھے ہوئے کھانے کے لیے پہنچے جو ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیل صاحب دسترخوان کھانے میں مشغول ہیں۔ در حالیکہ ہم گیارہ بھوکے یہ سوچنے لگے کہ دسترخوان پراٹھوں سے پہلے کھایا جاتا ہے یا پراٹھوں کے بعد۔ معلوم ہوا کہ پراٹھوں کے بعد کھایا جاتا ہے۔ بھوک کے مارے مر مر گئے۔ ورنہ جس نے ہمارا ناشتہ کھا لیا ہم اس کا ناشتہ کھا جاتے۔ کچھ بھی ہو۔ یہ پتہ چل گیا کہ شکار اس کو کہتے ہیں۔\n\nایک بیل صاحب کے بے تکلف احباب میں سے ایک کتے صاحب خوش ہو جاتے اور دو پیر سے کھڑے ہو کر ان سے گلے ملتے۔ جھوٹ موٹ ان کے پیروں میں کاٹ کاٹ کر بھاگتے اور یہ تمام باتیں بیل صاحب خندہ پیشانی سے گوارا فرماتے بلکہ جواباً کتے صاحب کو محبت کی نظر سے دیکھتے۔ صبح معمول تھا کہ بیل صاحب تشریف فرما ہیں اور ان کے بے تکلف دوست صاحب ان کے گلے میں باہیں ڈال کر ان سے کھیل رہے ہیں۔ دوپہر کو کتے صاحب اپنے دوست کے بالکل ہی پاس آرام فرما تھے۔\n\nآگرے میں ایک سانڈ صاحب ہیں۔ ان کا دستور ہے کہ کسی مٹھائی کھٹائی کی دکان پر کھڑے ہوکر کھانا شروع کر دیا۔ اب لوگ مار رہے ہیں تو وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ محبت ہے۔ یعنی لوگ مار مار کر کھلا رہے ہیں۔ لہٰذا جہاں تک مار یا زور کی وجہ سے ہٹنے یا ہٹانے کا تعلق ہے، وہاں تک ہٹنے سے کیا مطلب۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے سامنے ہی سے چیز اٹھالی جائے۔ چنانچہ جب میزبان کی اس طرح سے نیت معلوم کر لی تو پھر ٹھہرنا بیکار خیال فرماتے ہیں۔\n\nایک بیل کے مالک ہیں کہ جنہوں نے ایک اعلیٰ درجے کا علمی و ادبی رسالہ جاری کر رکھا ہے اور لطف یہ کہ جنوری میں سالگرہ نمبر کا اہتمام بھی فرماتے ہیں۔ آپ کی ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ دسمبر کے پرچے میں ایک عجیب و غریب عنوان تجویز فرما کر میرا نام چھاپ دیا کہ ہمارے ’’مشہور مزاحیہ نگار‘‘ اس پر مضمون لکھیں گے۔ اب آپ ہی کہیے کہ کیا میں اس عجیب و غریب مطالبے سے عہدہ برآ ہو سکا ہوں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%86%D8%AF_%D8%A8%DB%8C%D9%84"} {"title": "چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "بت نمبر ایکبڑا طنازبت ہے۔ کبھی اس کلب کی زینت رہتا ہے، کبھی اس کلب کی۔ اسے کلبوں کا بت کہا جائے تو شاید زیادہ مناسب و موزوں ہو۔ پورٹ وائن نہیں پیتا۔ وسکی پیتا ہے۔ ساڑھی نہیں پہنتا غرارہ پہنتا ہے۔ سنا ہے اس کے پاس ایک ہزار غرارے ہیں۔ اس بت کے سیکڑوں پجاری ہیں، زیادہ تربوڑھے جن میں ریٹائرڈ کرنل اور میجر زیادہ ہیں۔ ا ن کے منہ میں دانت ہوتے ہیں نہ پیٹ میں آنت۔ اس بت کا سوسائٹی میں بڑا نام ہے، لیکن بعض حاسد اس کے متعلق طرح طرح کے فضیحتی منسوب کرتے رہتے ہیں۔ حلیہاس بت کا یہ ہے کہ ناک کلو پطرہ وادی نیل کی ملکہ کی ناک سے تین انچ بڑی ہے۔ قد ساڑھے پانچ فٹ ہے، بال شب دیجور کی طرح سیاہ ہیں۔ چہرہ بیضوی ہے جو ہر وقت (رات کو بھی) میکس فیکٹر کے میک اپ میں چھپا رہتا ہے۔ اس لئے اس کے صحیح خدوخال صحیح طور پر ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے اور نہ کبھی ہوں گے کیونکہ سنا ہے کہ وہ عنقریب امریکہ جا کر اپنے چہرے اور بدن پر پلاسٹک سرجری کرانے والا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ واپسی پر اس کی ناک اور قد دونوں چھوٹے ہو جائیں۔ اس صورت میں اسے اپنے ایک ہزار غراروں کا سائز چھوٹا کرانا پڑے گا۔ دانت سارے مصنوعی ہیں جن کی آب موتیوں کو بھی ماند کرتی ہے لیکن کلبوں کے باہر یہ افواہ اکثر گشت لگاتی رہتی ہے کہ اس کے اپنے دودھ کے دانت نکل رہے ہیں۔ بت نمبر دویہ کمسن بت بلا کا پھرتیلا، غضب کا چنچل ہے، ابھی میٹھا برس ہی لگا ہے لیکن وہ تین لمبی لمبی جستوں میں تلخ ترین برس تک پہنچ گیا ہے۔ اسکول میں پڑھتا تھا کہ اس کی وجہ سے دو موٹروں میں ٹکر ہوئی، تین گدھے زخمی ہوئے، ایک ٹانگہ پاش پاش ہو گیا۔ ایک لڑکے نے دوسرے لڑکے کے چھرا گھونپا۔ اس گھائل لڑکے نے وہی چھرا تیسرے لڑکے کے سینے میں پیوست کر دیا، تینوں وہیں ڈھیر ہو گئے۔ اور یہ بت کمسن ان کی بیوقوفی پر پاس کھڑا ہنستا رہا۔ اسکول سے نکلا تو کالج پہنچتے ہی چند مہینوں میں اس کے جسم کے تمام خدوخال نمایاں ہو گئے، اس قدر نمایاں کہ بعض دیکھنے والوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں جو تادم تحریر کھلی ہیں اور مندنے میں نہیں آتیں۔ پہلے مہینے میں کالج کے صرف ایک لڑکے نے اس کو دس ہزار خط لکھے۔ اس کے بعد کالج کے ہر لڑکے نے اس کو خط لکھنے شروع کر دیے، جن میں سے اس بت نے ایک بھی نہیں پڑھا۔ دس لڑکوں نے اس کو اپنے خون سے بارہ بارہ خط لکھے، کالج کے پرنسپل کو معلوم ہوا تو اس نے دس لڑکوں کو ہسپتال بھیج دیا۔ جہاں بلڈ بینک کے لئے ان میں سے ہر ایک کی رگوں سے چھ چھ اونس خون لیا گیا۔ اس بت نابالغ نے دو لڑکوں کو دق میں مبتلا کر دیا اور بڑے افسوس کا اظہار کیا۔ چار لڑکے پاگل ہو گئے۔ اس پر اس بت بے خبر نے شدید افسوس کا اظہار کیا۔ جب ایک لڑکے نے خودکشی کر لی تو اس نے چار آنسو بہائے اور اپنے نینوں کے دوپٹے میں خشک کئے۔ اب بت کمسن نے کچھ ہوش سنبھالا اور کالج کو خیر باد کہہ دیا۔۔۔ اس کی باقاعد شادی کر دی گئی۔ مگر چھ مہینے بعد طلاق ہو گئی، عدت کے دن پورے بھی نہ ہوئے تھے کہ دوسری شادی کر لی۔ حلیہچھوٹا قد، سانولا رنگ، گہرے بھورے بال، نقش تیکھے، گفتگو کا انداز شوخ و شنگ، دوپٹہ اور ساڑھی کا پلو ہمیشہ ڈھلکا رہتا ہے۔ تیسرا بتیہ بڑا سنگین بت ہے، ٹھوس پتھر کا بنا ہے۔۔۔ بڑے بڑے بت شکنوں نے اس کو گرانے کی کوشش کی مگر یہ اپنی جگہ سے ایک انچ نہ ہلا۔ بڑے بڑے وزنی گرزبنائے گئے۔ ایٹم بم تیار کئے گئے مگر یہ اسی طرح اپنے پاؤں پر قائم رہا۔ ملک کے ایک نامی گرامی بت شکن کو اپنے فن پر بڑا ناز تھا۔ اس نے چار برس متواتر کوشش کی۔ آخرکار اس بت کے ساتھ اپنا سر پھوڑ کر مر گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ حلیہبہت معمولی شکل و صورت، ناک چپٹی، ماتھا تنگ، بال خشک اور کھردرے، جسم کے خدوخال بے کشش، لیکن آواز میں جادوچند حسینوں کے خطوط\n\nپہلا خط\n\nبھائی جان! سلام۔ میں کئی دن سے پریشان تھی۔ طرح طرح کے خیال ستاتے تھے، سوچتی تھی ان کا خط کیوں نہ آیا۔۔۔ ذرا سی آہٹ ہوتی۔۔۔ ذرا سا کھٹکا ہوتا۔۔۔ تو بھاگتی لیٹر بکس کی طرف۔۔۔ پروائے ناکامی واپس لوٹتی۔ دیکھئے، میں ہاتھ جوڑتی ہوں، اتنی دیر نہ لگایا کیجئے خط لکھنے میں۔۔۔ آپ نہیں جانتے میری طبیعت کتنی نازک ہے۔۔۔ مجھے جس سے انس پیدا ہو جائے۔۔۔ محبت بھی کہہ لیجئے۔۔۔ اس کی خیر خیریت کے لئے بہت بے تاب رہتی ہوں۔۔۔ آپ سے تو مجھے خاص لگاؤ ہے۔ بہرحال آپ کا خط آیا۔ خوشیوں کا چاند دکھائی دیا۔ یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ آپ خداوند کریم کے فضل سے بخیروعافیت ہیں۔ لیکن یہاں میرا حال ناگفتہ بہ ہے۔۔۔ میرے وہ تو اپنا علاج کرانے کے لئے اب دلی چلے گئے ہیں۔ جانے کب تک رہیں۔ آپ تو جانتے ہیں کہ دائم المریض ہیں۔۔۔ میری جان بڑے عذاب میں پھنسی ہوئی ہے۔۔۔ لیکن میں آپ کو ان باتوں سے کیوں رنجیدہ کروں۔ کیا آپ کبھی ادھر نہیں آ سکتے۔۔۔ ویسے تو پردہ کرتی ہوں، لیکن پھر بھی کسی نہ کسی طرح دل بہل جائے گا میرا۔ میں آج کل کچھ بیمار رہنے لگی ہوں۔۔۔ کیا آپ کوئی علاج تجویز کر سکتے ہیں؟ اس خط کے جواب میں دیر نہ لگایئے گا۔ ورنہ دل کے دورے پڑنے شروع ہو جائیں گے۔ آپ کی۔۔۔\n\nدوسرا خط\n\nلیفٹنٹ صاحب! تم اتنے بے رحم کیوں بنتے جا رہے ہو۔۔۔ اتنی مصروفیت بھی کیا کہ ادھر کا رخ ہی نہ کرو۔ میں تمہارے جذبات بخوبی سمجھتی ہوں، لیکن میری مجبوریاں بھی تم پر اچھی طرح واضح ہیں۔ اب کے ہم پھر مری جا رہے ہیں۔ تم اور کچھ نہیں تو چھ سات روز کی چھٹیاں لے کر وہاں ضرور آؤ۔ بڑے ہنگامے رہیں گے۔ میری بھتیجیاں بھی وہاں ہوں گی۔ اسی برس تعلیم سے فارغ ہوئی ہیں۔۔۔ تم ان سے مل کر یقیناً خوش ہو گے اور تم سے مل کر مجھے۔۔۔ کیا آؤ گے۔۔۔؟ نہیں تم ضرور آؤ گے۔ میں نے تمہارے لئے ایک نیا تحفہ بنوا کے رکھا ہے۔ آؤ اور لے لو۔ تمہاری۔۔۔\n\nتیسرا خط\n\nمسٹر! تم کیوں نہیں سمجھتے کہ تمہاری خط و کتابت مجھے سخت ناپسند ہے۔ تمہاری یہ حرکت صرف ناشائستہ ہی نہیں احمقانہ بھی ہے۔۔۔ تم نے مجھے آخر کیا سمجھ رکھا ہے۔۔۔ فلرٹ؟ تم مجھے اب آئندہ کوئی خط نہ لکھا کرو، کہ مجبوراً مجھے جواب دینا پڑتا ہے۔۔۔ اب آخری بار سن لو کہ مجھے تمہاری شاعری اچھی لگتی ہے، نہ تمہاری مصوری۔ معلوم نہیں کیوں لوگ تمہیں بہت بڑا مصور مانتے ہیں۔ مجھے یہ بھی حیرت ہے، میرے نام سے تمہاری بنائی ہوئی پینٹنگ کیوں مقابلے میں اول نمبر پر آئی۔ بہرحال آخری بار سن لو کہ یہ میرا آخری خط ہے۔۔۔ میں ایک شریف لڑکی ہوں۔ اس نوعیت کی خط و کتابت سے مجھے نفرت ہے۔ اے بی سی\n\nچوتھا خط\n\nپیارے ساتھی! کل اور پرسوں میں بہت مشغول رہی۔ میری بڑی بہن کی شادی تھی۔ میں تمہیں کیا بتاؤں کتنی رونق تھی اور کن لفظوں میں بیان کروں کہ میری بہن دلہن کے لباس میں کتنی سج رہی تھی۔ خدا کی قسم چندے آفتاب چندے ماہتاب تھی۔ برات میں وہ دھوم دھڑکا ہوا کہ اللہ کی پناہ۔ وہ شور وغل تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی لیکن پھر بھی یہ سب کچھ بہت دلچسپ تھا۔ اپنے اندر بے پناہ خاموشیاں لئے۔ ایسی خاموشیاں جو۔۔۔ ڈھولک پر ہم لڑکیوں نے تمام فلموں کے گیت گا دیے۔ میں تمہیں شاید پہلے بھی لکھ چکی ہوں کہ میری آواز سریلی ہے۔ میں اپنی ہم جولیوں سے بالکل الگ تھلگ معلوم ہوتی تھی۔ دولہا بھائی بہت خوبصورت ہیں۔۔۔ میں نے جب ان کی تعریف کی تو وہ مسکرا کر میرے چہرے کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔ میں شرما گئی۔ میری تمہاری خط و کتابت شروع ہوئے قریب قریب ایک برس ہو چکا ہے۔۔۔ یہ قلمی دوستی بھی عجیب ہوتی ہے۔۔۔ کچھ لکھتے لکھتے رک گئی ہوں۔ تمہاری عمر تمہارے کہنے کے مطابق گیارہ برس کی ہے اور میری میرے کہنے کے مطابق دس برس کی۔ خدا ہم دونوں کو سمجھے۔۔۔ لیکن میں کہنا کیا چاہتی ہوں؟ تم جھوٹے ہو۔۔۔ پر لے درجے کے۔۔۔ مجھے تمہارے متعلق سب کچھ معلوم ہو چکا ہے۔۔۔ تم لا کالج میں پڑھتے۔۔۔ اب کرو انکار؟ اور چشمہ لگاتے ہو۔ تمہاری عمر ماشاء اللہ چوبیس برس کی ہے۔۔۔ آخر تم نے یہ ڈھونگ کیوں رچایا۔ کیا محض بچہ بن کر کسی چھوٹی سی بچی سے باتیں کرنے کے لئے؟ لیکن یہ باتیں کس منہ سے کہہ رہی ہوں۔۔۔ مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ تم بھی میرے متعلق سب کچھ جان چکے ہو۔۔۔ مجھے تم سے۔۔۔ نہیں میں یہ نہیں کہہ سکتی، لیکن مجھے غصہ ضرور ہے کہ تم نے مجھے اتنی دیر غافل رکھا اور خود سب کچھ جانتے ہوئے مزہ لیتے رہے۔۔۔ ہائے جب میں سوچتی ہوں کہ میرے لکھے ہوئے خط تم کس طرح مسکرا مسکرا کر پڑھتے ہو گے تو ایمان سے میں جل بھن جاتی ہوں۔ خدا ہی تمہیں سمجھے۔۔۔ اور تم کیسے بن کے لکھتے تھے، جیسے سچ مچ نویں جماعت کے طالب علم ہو۔۔۔ میں نے تمہارے سارے خط سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں، لیکن تمہیں میری قسم۔۔۔ میرے تمام خط آج ہی جلا دو۔۔۔ اگر تم نے نہ جلائے تو میں کبھی تم سے نہیں بولوں گی۔ اور کیا لکھوں۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ اچھا، تم اپنی تصویر بھیجو۔۔۔ لیکن دوسرے پتے سے جو کہ میں نے خط کے کونے میں لکھ دیا ہے، یہ یاد رہے کہ میں اپنی تصویر کبھی نہیں بھیجوں گی۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں خط و کتابت اسی طرح جاری رکھنی چاہیئے۔۔۔ یعنی اسی بچپن کے انداز میں۔۔۔ تمہارا کیا خیال ہے۔۔۔ اب اس میں زیادہ مزا آئے گا۔۔۔ تمہارا کیا خیال ہے؟ یہ مت خیال کرنا کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں۔ تمہاری سہیلی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%86%D8%AF_%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D8%B7%D9%88%D8%B7"} {"title": "چند مکالمے", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "رتی، ماشہ، تولہ", "year": "1956", "text_ur": "’’السلام و علیکم! ‘‘\n\n’’وعلیکم السلام‘‘\n\n’’کہیے مولانا کیا حال ہے؟‘‘\n\n’’اللہ کا فضل و کرم ہے ہر حال میں گزر رہی ہے۔‘‘\n\n’’حج سے کب واپس تشریف لائے؟‘‘\n\n’’جی آپ کی دعا سے ایک ہفتہ ہوگیا ہے۔ ‘‘\n\n’’اللہ اللہ ہے، آپ نے ہمت کی تو خانہ کعبہ کی زیارت کر لی۔ ہماری تمنا دل ہی میں رہ جائے گی۔ دعا کیجیے یہ سعادت ہمیں بھی نصیب ہو۔‘‘\n\n’’انشاء اللہ ورنہ میں گنہگار کس قابل ہوں۔‘‘\n\n’’میرے لائق کوئی خدمت؟‘‘\n\n’’کسی تکلیف کی ضرورت نہیں۔ ہاں دیکھیے ذرا کان کیجیے، ادھر میرے ہاں کھانڈ کی دو بوریاں ہیں۔ میری بے شمار لوگوں سے جان پہچان ہے کسی کو ضرورت ہو تو مجھ سے فرما دیجیے۔ آپ میرا مطلب سمجھ گئے ہوں گے۔ دام واجبی ہوں گے‘‘\n\n’’ لیجیے جناب، ہماری خدمات کا صلہ مل گیا۔‘‘\n\n’’کیا۔۔۔ ویسے مبارک ہو۔‘‘\n\n’’سو سو مبارک۔۔۔ کمپنی نے نوکری سے جواب دیا۔‘‘\n\n’’ہائیں۔۔۔ یہ کب کی بات ہے؟‘‘\n\n’’ایک مہینہ ہوگیا ہے۔‘‘\n\n’’لاحول ولا۔۔۔ مجھے معلوم ہی نہیں تھا۔۔۔‘‘\n\n’’دو سو ملازموں کی چھانٹی ہوئی تھی نا۔۔۔‘‘\n\n’’بہت افسوس کی بات ہے، کوئی احتجاج وغیرہ ہوا تھا؟ ‘‘\n\n’’سیکڑوں ہڑتالیں ہوئیں، جلوس نکلے کئی مرتبہ لوگوں نے بھوک ہڑتال کی، وعدے ہوئے مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔‘‘\n\n’’تعجب ہے کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔‘‘\n\n’’اللہ رحم کرے۔‘‘\n\n’’اللہ رحم نہیں کرے گا۔ وہ دن لد گئے جب وہ مائل بہ کرم ہوا کرتا تھا۔ اتنے آدمی ہیں وہ کس کس کی حاجت روائی کرے۔ میرا تو خیال ہے اوپر آسمانوں پر بھی راشننگ سسٹم ہوگیا ہے۔‘‘\n\n’’میں اس بد ذات سے کیا کہوں صاف مجھے دغا دے گیا۔۔۔‘‘\n\n’’کیسے۔۔۔؟‘‘\n\n’’حرام زادے نے وعدہ کیااور دونوں گاڑیاں ٹھکانے لگا دیں۔‘‘\n\n’’اس کی وجہ؟‘‘\n\n’’میں نے اس کا ایک کام کیا تھا اس کے عوض میں اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے ایک بیوک کار جو اس کے پاس آنے والی تھی، آدھی قیمت پر دے دے گا۔‘‘\n\n’’اور جو تم نے اس کا کام کیا تھا وہ لاکھوں کا تھا۔‘‘\n\n’’اسی لیے تو کہتا ہوں بلڈی سوائن نے میرے ساتھ دھوکا کیا لیکن میں اس سے بدلہ لوں گا۔ خود بیوک میرے گھر پہنچا کے جائے گا۔‘‘\n\n’’باورچی کو بلاؤ۔۔۔ جلدی بلاؤ۔۔۔ ہم اس سے بات کرنا مانگتا ہے۔‘‘\n\n’’حضور حاضر ہوں۔‘‘\n\n’’یہ تم نے آج کیسے واہیات کھانے پکائے ہیں؟‘‘\n\n’’حضور! ‘‘\n\n’’حضور کے بچے! اس پلیٹ سے بیگم صاحب نے ایک ہی نوالہ اٹھایا تھا کہ انھیں متلی آگئی۔‘‘\n\n’’حضور ممکن ہے کوئی گڑ بڑ ہوگئی ہو۔ معافی چاہتا ہوں۔‘‘\n\n’’معافی کے بچے۔۔۔ اٹھاؤ سالن باہر پھینک آؤ۔۔۔‘‘\n\n’’ہم نوکر کھالیں گے سرکار۔‘‘\n\n’’نہیں باہر ڈسٹ بن میں ڈال دو۔۔۔ اور تم سزا کے طور پر بھوکے رہو۔‘‘\n\n’’اٹھیے بیگم، ہم کسی ہوٹل میں چلتے ہیں۔‘‘\n\n’’اماں۔۔۔ اب گزارا کیسے ہوگا یہاں لتے بدن پر جھولنے کا زمانہ آگیا ہے۔‘‘\n\n’’تو ٹھیک کہتی ہے بیٹا۔‘‘\n\n’’سارا بازار ہی مندا ہے۔‘‘\n\n’’کیوں ۔۔۔؟‘‘\n\n’’لوگوں کے پاس روپیہ جو نہیں۔‘‘\n\n’’لیکن جو سڑکوں پر اتنی شاندار موٹریں چلتی ہیں۔۔۔ یہ جو عورتیں تن پر زرق برق لباس پہنے ہوتی ہیں یہ کہاں سے آتا ہے اماں۔‘‘\n\n’’ان لوگوں کے پاس ہے۔‘‘\n\n’’تو پھر بازار کیوں مندا ہے؟‘‘\n\n’’اب ان لوگوں نے اپنے آپس ہی میں ہمارا دھندا شروع کر دیا ہے۔‘‘\n\n’’ڈارلنگ۔۔۔‘‘\n\n’’جی!‘‘\n\n’’ساری دکانیں چھان ماریں مگر تمہارے سائز کی میڈن فورم بریز ریز نہ مل سکی۔‘‘\n\n’’اوہ ! ہاؤ سیڈ ۔۔۔ میرا سائز ہی کیا واہیات سا ہے۔‘‘\n\n’’دعوت تو جناب ایسی ہوگی کہ یہاں کی تاریخ میں یادگار رہے گی۔ لیکن ایک افسوس ہے کہ فرانس سے جو میں نے شمپیئن منگوائی تھی، وقت پر نہ پہنچ سکے گی۔‘‘\n\n’’اجی سنیے تو۔۔۔‘‘\n\n’’اوہ آپ۔۔۔ مجھے بڑا ضروری کام ہے۔ معاف فرمائیے۔‘‘\n\n’’معافیاں تم لاکھ مرتبہ مانگ چکے ہو۔ وہ میرا سو روپے کا قرض ادا کرو جو تم نے آج سے قریب قریب ایک سال ہوا، لیا تھا۔‘‘\n\n’’میں پھر معافی چاہتا ہوں، میری بیوی بیمار ہے ،دوا لینے جارہا ہوں۔‘‘\n\n’’میں ان گھسوں میں آنے والا نہیں، خدا کی قسم اگر آج میرا قرض ادا نہ ہوا تو سر پھوڑ دوں گا تمہارا۔‘‘\n\n’’ آپ کیوں اتنی زحمت اٹھائیں، میں خود ہی اس دیوار کے ساتھ ٹکر مار کے اپنا سر پھوڑے لیتا ہوں۔ یہ لیجیے۔‘‘\n\n’’یہ چرس کی لت تمھیں کہاں سے پڑی؟‘‘\n\n’’کیا بتاؤں یار ،اب تو اس کے بغیر رہا ہی نہیں جاتا۔‘‘\n\n’’میں نے تم سے پوچھا تھا کہ لت کہاں سے پڑی، تم نے کچھ اور ہی ہانکنا شروع کر دیا ہے۔‘‘\n\n’’بھائی یہ لت مجھے جیل میں لگی۔‘‘\n\n’’جیل میں۔۔۔ وہاں تو ایک مکھی بھی اندر نہیں جاسکتی۔‘‘\n\n’’بھائی میرے ،وہاں مگر مچھ بھی جاسکتے ہیں، ہاتھی بھی جاسکتے ہیں۔ اگر تمہارے پاس دولت ہے تو آپ وہاں ایک دو ہاتھی بھی ساتھ رکھ سکتے ہیں۔‘‘\n\n’’پہیلیاں نہ بھجواؤ۔ بتاؤ یہ چرس وہاں کیسے پہنچ سکتی ہے؟‘‘\n\n’’ویسے ہی جیسے ہم وہاں پہنچ سکتے ہیں میرے عزیز ،جیل خانہ صرف ان لوگوں کے لیے جیل خانہ ہے جو صاحبِ استطاعت نہیں، جو دولت مند مجرم ہیں اُن کو وہاں ہر قسم کی مراعات مل سکتی ہیں اور ملتی ہیں۔‘‘\n\n’’اگر تم چاہو تو تمھیں وہاں شراب مل سکتی ہے، گانجہ مل سکتا ہے، افیون دستیاب ہو سکتی ہے۔ اگر تم بڑے رئیس ہو تو اپنی بیوی کو بھی وہاں بلا سکتے ہوجو رات بھر تمہاری مٹھی چاپی کرتی رہے گی۔‘‘\n\n’’جیل خانوں میں ایک’’ خاکی ‘‘مارکیٹ ہوتی ہے جو بلیک مارکیٹ سے زیادہ ایمان دار ہے۔‘‘\n\n’’کرنل صاحب! آپ کی عمر کتنی ہوگی؟‘‘\n\n’’میرا خیال ہے پینسٹھ کے قریب ہوگی۔۔۔ آپ کی؟‘‘\n\n’’آپ جھوٹ بولتے ہیں، ماشاء اللہ ابھی جوان ہیں۔۔۔ میری عمر۔۔۔ میری عمر یہی پچیس چھبیس برس کے قریب ہوگی۔‘‘\n\n’’تو ہم دونوں سچ بول رہے ہیں۔‘‘\n\n’’مجھے لپ اسٹک سے نفرت ہے ،معلوم نہیں عورتیں اسے کیوں استعمال کرتی ہیں اس سے ہونٹوں کا ستیاناس ہو جاتا ہے۔‘‘\n\n’’مجھے خود اس سے نفرت ہے۔‘‘\n\n’’لیکن تمہارے ہونٹوں پر تو یہ واہیات چیز موجود ہے، خون کی طرح سرخ ہو رہے ہیں۔‘‘\n\n’’یہ سرخی میرے اپنے ہونٹوں کی ہے۔ یعنی مصنوعی نہیں۔‘‘\n\n’’تو آؤ ایک بوسہ لے لوں۔‘‘\n\n’’بڑے شوق سے۔‘‘\n\n’’پرے ہٹیے اب ،مجھے نہیں معلوم تھا کہ مرد بھی لپ اسٹک استعمال کرتے ہیں۔‘‘\n\n’’وہ کیسے؟‘‘\n\n’’ذرا آئینے میں اپنے ہونٹ ملاحظہ فرمائیے۔‘‘\n\n’’صاحب! آپ سے کوئی ملنے آیا ہے۔‘‘\n\n’’ کہہ دو صاحب گھر میں نہیں ہیں۔‘‘\n\n’’بہت اچھا جناب۔‘‘\n\n’’چلا گیا۔۔۔؟‘‘\n\n’’جی نہیں، چلی گئی۔۔۔‘‘\n\n’’کیا مطلب؟‘‘\n\n’’جی وہ ایک ایکٹریس تھی جس کا نام۔۔۔‘‘\n\n’’بھاگو بھاگو جلدی، اس کو بلا کے لاؤ اور کہو تم نے جھوٹ بولا تھا کہ میں گھر پر نہیں ہوں۔‘‘\n\n’’آپ آج کل کہاں گھنٹوں غائب رہتے ہیں؟‘‘\n\n’’بیگم ،ایک یتیم بچہ ہے اس کو دیکھنے کبھی کبھی چلا جاتا ہوں۔‘‘\n\n’’اُس یتیم بچے سے آپ کو اتنی دلچسپی کیوں ہے؟‘‘\n\n’’یتیم جو ہوا۔۔۔‘‘\n\n’’آپ کی جیب میں اس کا فوٹو بھی موجود رہتا ہے۔‘‘\n\n’’اس لیے ۔۔۔ اس لیے۔۔۔‘‘\n\n’’کہ وہ آپ کا یتیم بچہ ہے۔‘‘\n\n’’نون سنس۔۔۔‘‘\n\n’’آپ کی قمیص پر سرخ دھبہ کیسے لگا؟‘‘\n\n’’میری قمیص پر۔۔۔ کہاں ہے؟‘‘\n\n’’داہنے ہاتھ، گریبان کے قریب۔۔۔‘‘\n\n’’اوہ۔۔۔ میں جب دفتر میں کسی ضروری مسئلے پر غور کر رہا ہوتا ہو ں ،تو مجھے کسی بات کا ہوش نہیں رہتا۔ یہ لال پنسل کا نشان ہے جس سے میں نے کھجلا لیا ہو گا۔‘‘\n\n’’جی ہاں، لیکن اس میں سے تو میکس فیکٹر کی خوشبو آرہی ہے۔‘‘\n\n’’تم آج کل کس کی بیوی ہو؟‘‘\n\n’’کل تو مسٹر۔۔۔ کی تھی آج چھٹی پر ہوں۔‘‘\n\n’’آپ میدان جنگ میں جارہے ہیں، خدا آپ کا حافظ و ناصر ہو لیکن مجھے کوئی نشانی دیتے جائیے۔‘‘\n\n’’میری نشانی تو تم خود ہو۔‘‘\n\n’’نہیں کوئی ایسی چیز دیتے جائیے جس کو دیکھ کر اپنا دل بہلاتی رہوں۔‘‘\n\n’’میں وہاں سے بھیج دوں گا۔‘‘\n\n’’کیا چیز۔۔۔؟‘‘\n\n’’وہ زخم جو مجھے لڑنے کے دوران آئیں گے۔‘‘\n\n’’آپ کی بیگم کیسی ہیں؟‘‘\n\n’’یہ تو آپ کو معلوم ہوگا۔ اپنی بیگم کے بارے میں مجھ سے دریافت فرما سکتے ہیں؟‘‘\n\n’’وہ کیسی ہیں؟‘‘\n\n’’پہلے سے بہتر اور خوش ہیں۔ ان کی طبیعت بہت پسند آئی۔‘‘\n\n’’یار تم اتنی عورتوں سے یارانہ کیسے گانٹھ لیتے ہو؟‘‘\n\n’’یارانہ کہاں گانٹھتا ہوں ،باقاعدہ شادی کرتا ہوں۔‘‘\n\n’’شادی کرتے ہو؟‘‘\n\n’’ہاں بھائی میں حرام کاری کا قائل نہیں، شادی کرتا ہوں اور جب اکتا جاتا ہوں تو حقِ مہر ادا کر کے اس سے چھٹکارا حاصل کر لیتا ہوں۔‘‘\n\n’’اسلام زندہ باد!‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%86%D8%AF_%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%92"} {"title": "چند پرانی یادیں", "poet_page": "مصنف:غلام رسول مہر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": "1921", "text_ur": "میں نے بخاری صاحب کو پہلی مرتبہ نومبر ۱۹۲۱ء میں دیکھا تھا۔ ترک موالات یا لاتعاون کی تحریک اوج شباب پر تھی اور اس کے اوج شباب کی کیفیت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ لفظوں میں اس کا صحیح نقشہ پیش کرنا مشکل ہے۔ بس اتنا سمجھ لیجیئے کہ صاف نظر آرہا تھا کہ حکومت برطانیہ کے قصراقتدار میں ایک خوفناک زلزلہ آگیا ہے اور یہ قصر تھوڑی ہی دیر میں زمیں بوس ہوجائے گا۔\n\nسالک صاحب ’’زمیندار‘‘ کے مدیر کی حیثیت میں گرفتار ہوچکے تھے۔ مقدمہ چل رہا تھا اور اس کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ شفاعت الله خاں مرحوم ’’زمیندار‘‘ کے منیجر تھے اور انتظام کے علاوہ تحریر کا زیادہ تر کام بھی وہی انجام دیتے تھے۔ ان کی ہی تحریک پر سیدعبدالقادرشاہ مرحوم نے مجھے ادارہٴ تحریر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے بلایا تھا۔ مرتضیٰ احمد خاں مکیش مرحوم بھی اس وقت ’’زمیندار‘‘ ہی سے وابستہ تھے۔ خبروں اور مختلف مضمونوں کا ترجمہ ان کے ذمے تھا۔\n\n’’زمیندار‘‘ کا دفتر دہلی دروازے کے باہر اس بڑی عمارت میں تھا جو جہازی بلڈنگ کے نام سے مشہور تھی۔ ایک روز شام کے وقت دو گورے چٹے جوان نہایت عمدہ سوٹ پہنے ہوئے آئے۔ بادی النظر میں صاحب لوگ معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے کھڑے کھڑے شفاعت الله خاں سے باتیں کیں۔ غالباً اس روز سالک کے مقدمے کی پیشی ہوئی تھی۔ اسی کی کیفیت پوچھتے رہے اور چلے گئے۔ شفاعت الله خاں نے مجھے بعد میں بتایا کہ ان میں سے ایک احمد شاہ بخاری تھے اور دوسرے سیدامتیازعلی تاج۔ میں ان دونوں سے ناواقف تھا اور محض نام سن کر میری معلومات میں کیا اضافہ ہوسکتا تھا۔ میں نے ان کے متعلق کچھ پوچھنا بھی ضروری نہ سمجھا، البتہ اس بات پر تعجب ہوا کہ قومی تحریک کے نہایت اہم مرحلے پر بھی بعض مسلمان انگریزوں کی سی وضع قطع قائم رکھنے میں کوئی برائی محسوس نہیں کرتے۔\n\nچند روز بعد میں گھر واپس چلا گیا اور ’’زمیندار‘‘ کے ساتھ تعلق قائم نہ رکھ سکا اس ليے کہ میرے اقرباخصوصاً والدہ مرحومہ کو یہ تعلق منظور نہ تھا۔ دو تین مہینے کے بعد شفاعت الله خاں اور مرتضیٰ احمد خاں مکیش خود میرے گاؤں پہنچے جو جالندھر شہر سے چارپانچ میل کے فاصلے پر تھا اور اقربا کو راضی کرکے مجھے دوبارہ ’’زمیندار‘‘ میں لے آئے۔ اس وقت سے مستقل طور پر میری اخبارنویسی کی ابتدا ہوئی۔ سالک صاحب کو ایک سال قید کی سزا ہوچکی تھی اور وہ لاہور سے میانوالی جیل میں منتقل ہوچکے تھے۔ بخاری اور امتیاز وقتاًفوقتاً سالک صاحب کی صحت وعافیت دریافت کرنے کی غرض سے ’’زمیندار‘‘ کے دفتر آتے رہتے تھے۔ اس زمانے میں ان سے شناسائی ہوئی اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ وہ سالک صاحب کے نہایت عزیز دوست ہیں۔\n\n۱۹۲۲ء کے اواخر میں سالک صاحب رہا ہو کر آگئے اور ان سے وہ برادرانہ تعلق استوار ہوا جسے زندگی کا ایک عزیز ترین سرمایہ سمجھتا ہوں۔ ان کی وجہ سے بخاری اور امتیاز کے ساتھ بھی ایک خصوصی علاقہ پیدا ہوگیا۔ بخاری صاحب اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور اس علاقہ میں آخری وقت تک کوئی خلل نہ آیا۔ امتیاز صاحب کو خدا تادیر سلامت رکھے، ان کے ساتھ یہ علاقہ آج بھی اسی طرح قائم ہے جس طرح آج سے تیس پینتیس سال پیشتر قائم تھا۔\n\nپھر بخاری صاحب سے زیادہ مفصل ملاقاتیں اس زمانے میں ہوتی رہیں جب منشی نعمت الله صاحب مرحوم دہلی مسلم ہوٹل چلا رہے تھے اور بخاری صاحب نے اسی ہوٹل میں اپنے ليے ایک یا دو کمرے لے ليے تھے۔ یہ ہوٹل اسی جگہ تھا جہاں اب اس نام کا ہوٹل موجود ہے لیکن اس کی عمارت بالکل بدل گئی ہے۔\n\nبخاری صاحب کی باتیں اس زمانے میں بھی سب سے نرالی ہوتی تھیں۔ ہم لوگوں کے دل ودماغ کا ریشہ ریشہ لاتعاون اور آزادی کے جوش سے معمور تھا۔ بخاری صاحب گورنمنٹ کالج میں پروفیسر تھے۔ ایک روز انہوں نے خاص احساس ذمہ داری کے ساتھ فرمایا کہ آزادی کے ليے جو کچھ ہوسکتا ہے ضرور کرنا چاہیےٴ مگر یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھیے کہ جس قوم کا لباس ایک نہیں ، جس کے کھانے کے اوقات مقرر نہیں ، جس میں یکسانی اور یکجہتی کا کوئی بھی پہلو نظر نہیں آتا، وہ آزادی سے کیا فائدہ اٹھائے گی؟ کوشش کرو کہ اس سرزمین میں بسنے والے لوگ واقعی ایک ایسی قوم بن جائیں جو ایک نظام زندگی کی پابند ہو۔\n\nاس وقت یہ سن کر احساس ہوا کہ بخاری صاحب کا دل آزادی کے جذبے سے بالکل خالی ہے لیکن جب بنیادی حقائق کے صحیح اندازے کا شعور پیدا ہوا تو پتہ چلا کہ یہ ارشاد ان کے بلوغ نظر کی ایک روشن دستاویز تھا۔\n\nاسی طرح مجھ سے انہوں نے بارہا کہا کہ آپ اخبار میں ایک چوکھٹا مستقل طور پر لگاتے رہیں جس کے اندر جلی حروف میں یہ عبارت مرقوم ہو کہ ’’بائیں ہاتھ چلو۔‘‘ روزانہ یہ چوکھٹا چھپتا رہے گا تو یقین ہے کہ ہزاروں آدمیوں کو بائیں ہاتھ چلنے کی اہمیت کا احساس ہوتا جائے گا۔\n\nمیں خود ماضی پر نظربازگشت ڈالتا ہوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%86%D8%AF_%D9%BE%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چننے نہ دیا ایک مجھے لاکھ جھڑے پھول", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چننے نہ دیا ایک مجھے لاکھ جھڑے پھول\nاللہ کرے خانۂ گلچیں میں پڑے پھول\n\nہم پلہ ہوئے اس سے نہ چھوٹے نہ بڑے پھول\nآنکھوں میں تلا یار ترازو میں پڑے پھول\n\nجا جا کے بہت زلف کے کوچے میں اڑے پھول\nلیکن نہ کبھی کان کے پتے سے لڑے پھول\n\nوہ مرغ چمن ہیں کہ بہار اپنی خزاں ہے\nکلیائے پر و بال جب اپنے تو جھڑے پھول\n\nکچھ بھی ہے جنہیں عزم وہی صدر نشیں ہیں\nہوتے ہیں گل روئے سبد سب سے بڑے پھول\n\nسرسوں بھی نہیں پھولتی آنکھوں میں ہماری\nجب تک کہ چڑھا جائیں نہ دو چار گھڑے پھول\n\nروشن سخنی ختم ہے اس غنچہ دہن پر\nہتھ پھول کے منہ سے کبھی ایسے نہ جھڑے پھول\n\nتقدیر میں ذلت تھی گل روئے صنم سے\nتھالوں نے بہت گور جھنکائے نہ گڑے پھول\n\nرانگا ہو اگر دست برنجن تو ہے چاندی\nوہ گل جو نہ پہنے تو ہیں سونے کے کڑے پھول\n\nفریاد کر اس درد سے اے مرغ گلستاں\nکانٹے کی سناں باندھ کے گلچیں سے لڑے پھول\n\nکس دن نہ کھنچے آہ شرربار کی تلوار\nکسرات نہ میں نے سپر مہ میں جڑے پھول\n\nکیا جرم ہے کس بلبل شیدا کو جلایا\nکیوں چار پہر دھوپ میں ہوتے ہیں کھڑے پھول\n\nکیا سبزۂ رخسار سے نسبت ہے چمن کو\nکانٹے یہ وہ ہیں جن کی ہیں پلے میں دھڑے پھول\n\nہم زخمیوں کو چاندنی کی تاب نہیں ہے\nسہتے ہیں کڑی دھوپ نہایت ہیں کڑے پھول\n\nداغوں کے ہی قابل تھے ہم اس باغ میں اے بحرؔ\nگلچین مقدر نے دیے ہیں یہ سڑے پھول", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%86%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%D8%AC%DA%BE%DA%91%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84"} {"title": "چنچلاہٹ میں تو ممولا ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چنچلاہٹ میں تو ممولا ہے\nجھلجھلاہٹ میں در امولا ہے\n\nدیکھ تجھ مکھ کوں یوں چھپے یوسف\nجوں کبوتر کنویں میں کولا ہے\n\nسیر کرتا ہوں بیٹھ کر اس بیچ\nدل ہمارا اڑن کھٹولا ہے\n\nسرو سیں قد ہے یار کا موزوں\nمیں نے میزان لیں کے تولا ہے\n\nسرد مہری سیں بے وفا کا حال\nہے خنک اس قدر کہ اولا ہے\n\nجان کر کے اجان ہوتا ہے\nتم نہ جانو کہ جان بھولا ہے\n\nہم سوں سب مل کہو مبارک باد\nکہ ٹک اک ہنس کے آ کے بولا ہے\n\nآبروؔ ہائے کیوں گلے نہ لگا\nمیرے دل میں یہی ملولا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%86%DA%86%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%B9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "چو کی لفظی تحقیق", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "اشنان کرنے گھر سے چلے لالہ لال چند\nاور آگے آگے لالہ کے ان کی بہو گئی\n\nپوچھا جو میں نے لالہ للائن کہاں گئیں\nنیچی نظر سے کہنے لگے وہ بھی چو گئی\n\nمیں نے دیا جواب انہیں از رہ مذاق\nکیا وہ بھی کوئی چھت تھی کہ بارش سے چو گئی\n\nکہنے لگے کہ آپ بھی ہیں مسخرے عجب\nاب تک بھی آپ سے نہ تمسخر کی خو گئی\n\nچو ہوشیار پر میں ندی سے ہے یہ مراد\nبی بی تمیز بھی ہیں وہیں کرنے وضو گئی\n\nمیں نے کہا کہ چو سے اگر ہے مراد جو\nپھر یوں کہو کہ تا بہ لب آب جو گئی\n\nکیوں اینٹھے ہیں ماش کے آٹے کی طرح آپ\nدھوتی سے آپ کی نہیں ہلدی کی بو گئی\n\nلطف زباں سے کیا ہو سروکار آپ کو\nدامن کو آپ کے نہیں تہذیب چھو گئی\n\nہندی نے آ کے جیم کوچے سے بدل دیا\nچو آئی کوہسار سے گلشن سے جو گئی\n\nلہجہ ہوا درشت زباں ہو گئی کرخت\nلطف کلام و شستگیٔ گفتگو گئی\n\nمعنی کو ہے گلہ کہ ہوا بے حجاب میں\nشکوہ ہے لفظ کو کہ مری آبرو گئی\n\nافسوس ملک میں نہ رہی فارسی کی قدر\nمستی اڑی شراب سے پھولوں کی بو گئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%D9%81%D8%B8%DB%8C_%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82"} {"title": "چودھویں کا چاند", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "برقعے", "year": "1955", "text_ur": "اکثر لوگوں کا طرزِ زندگی، ان کے حالات پر منحصر ہوتا ہے اور بعض بیکار اپنی تقدیر کا رونا روتے ہیں۔ حالانکہ اس سے حاصل وصول کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتے ہیں اگر حالات بہتر ہوتے تو وہ ضرور دنیا میں کچھ کر دکھاتے۔ بیشتر ایسے بھی ہیں جو مجبوریوں کے باعث قسمت پر شاکر رہتے ہیں۔ ان کی زندگی ان ٹرام کاروں کی طرح ہے جو ہمیشہ ایک ہی پٹری پر چلتی رہتی ہیں۔ جب کنڈم ہو جاتی ہیں تو انہیں محض لوہا سمجھ کر کسی کباڑی کے پاس فروخت کردیا جاتا ہے۔\n\nایسے انسان بہت کم ہیں جنہوں نے حالات کی پروا نہ کرتے ہوئے زندگی کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں سنبھال لی۔ ٹامسن ولسن بھی اسی قبیل سے تھا۔اس نے اپنی زندگی بدلنے کیلیے انوکھا قدم اُٹھایا، پر اس کی منزل کا چونکہ کوئی پتا نہیں تھا، اس لیے اس کی کامیابی کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل تھا۔\n\nاس کے اس انوکھے پن کے متعلق میں نے بہت کچھ سنا۔ سب سے پہلے لوگ یہی کہتے کہ وہ خلوت پسند ہے لیکن میں نے دل میں تہیّہ کرلیا کہ کسی نہ کسی حیلے اسے اپنی داستانِ زندگی بیان کرنے پر آمادہ کرلوں گا کیونکہ مجھے دوسرے آدمیوں کے بیان کی صداقت پر اعتماد نہیں تھا۔\n\nمیں چند روز کے لیے ایک صحت افزا مقام پر گیا، وہیں اس سے ملاقات ہوئی۔ میں دریا کنارے اپنے میزبان کے ساتھ کھڑا تھا کہ وہ ایک دم پکار اُٹھا،’’ولسن!‘‘\n\nمیں نے پوچھا،’’ کہاں ہے؟‘‘\n\nمیرے میزبان نے جواب دیا،’’ارے بھئی! وہی جو منڈیر پر نیلی قمیص پہنے ہماری طرف پیٹھ کیے بیٹھا ہے۔‘‘\n\nمیں نے اس کی طرف دیکھا اورمجھے نیلی قمیص اور سفید بالوں والا سر نظر آیا۔ میری بڑی خواہش تھی کہ وہ مڑ کر دیکھے اور ہم اسے سیر و تفریح کے لیے ساتھ لے جائیں۔اس وقت سورج کا عکس دریا میں ڈوب رہا تھا۔ سیر کرنے والے چہچہا رہے تھے۔ اتنے میں گرجے کی یک آہنگ گھنٹیاں بجنے لگیں۔میں اس وقت قدرت کی دل فریبیوں سے اس قدر مسحور ہو چکا تھا کہ ولسن کو اپنی طرف آتے نہ دیکھ سکا۔ جب وہ میرے پاس سے گزرا تو میرے دوست نے اسے روک لیا اور اس کا مجھ سے تعارف کرایا۔ اس نے میرے ساتھ ہاتھ ملایا، لیکن کسی قدر بے اعتنائی سے۔۔۔ میرے دوست نے اس کو محسوس کیا اور اس کو شراب کی دعوت دی۔\n\nمدعو کیے جانے پر وہ مسکرایا۔ اگرچہ اس کے دانت خوبصورت نہ تھے پھر بھی اس کی مسکراہٹ دلکش تھی۔۔۔ وہ نیلی قمیص اور خاکستری پتلون پہنے تھا جو کسی حد تک میلی تھی۔ اس کے لباس کو اس کے جسم کی ساخت سے کوئی مناسبت نہیں تھی۔اس کا چہرہ لمبوترا، پتلے ہونٹ اور آنکھیں بھورے رنگ کی تھیں۔چہرے کے خطوط نمایاں، جن سے نمایاں تھا کہ جوانی میں وہ ضرور قبول صورت ہوگا۔ وضع قطع کے اعتبار سے وہ کسی بیمہ کمپنی کا ایجنٹ معلوم ہوتا تھا۔\n\nہم چہل قدمی کرتے، ایک ریستوران میں پہنچ کر، اس سے ملحقہ باغیچے میں بیٹھ گئے اور بیرے کو شراب لانے کے لیے کہا۔ ہوٹل والے کی بیوی بھی وہاں موجود تھی۔ ادھیڑ پن کی وجہ سے اب اس میں وہ بات نہیں رہی تھی لیکن چہرے کا نکھار اب بھی گزری ہوئی کراری جوانی کی چغلیاں کھا رہا تھا۔تیس سال پہلے بڑے بڑے آرٹسٹ اس کے دیوانے تھے، اس کی بڑی بڑی شرابی آنکھوں اور شہد بھری مسکراہٹوں میں عجب دل کشی تھی۔\n\nہم تینوں بیٹھے یوں ہی اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ چونکہ موضوع دلچسپ نہیں تھے، اس لیے ولسن تھوڑی دیر کے بعد رخصت مانگ کر چلا گیا۔ ہم بھی اس کے رخصت ہونے پر اداس ہوگئے۔راستے میں میرے دوست نے ولسن کے بارے میں کہا،’’مجھے تو تمہاری سنائی ہوئی کہانی بے سروپا معلوم ہوتی ہے۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’وہ اس قسم کی حرکت کا مرتکب نہیں ہوسکتا۔‘‘\n\nاس نے کہا،’’کوئی شخص کسی کی فطرت کے متعلق صحیح اندازہ کیسے لگا سکتا ہے؟‘‘\n\n’’مجھے تو وہ عام انسان دکھائی دیتا ہے۔ جوچند محفوظ کفالتوں کے سہارے کاروبار سے علیحدہ ہو چکا ہے۔‘‘\n\n’’تم یہی سمجھوٖ، ٹھیک ہے۔‘‘\n\nدوسرے دن دریا کنارے ولسن ہمیں پھر دکھائی دیا۔ بھورے رنگ کا لباس پہنے، دانتوں میں پائپ دبائے کھڑا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے چہرے کی جھریوں اور سفید بالوں سے بھی جوانی پھوٹ رہی ہے۔ہم کپڑے اتار کر پانی کے اندر چلے گئے۔ جب میں نہا کر باہر نکلا توولسن زمین پر اوندھے منہ لیٹا کوئی کتاب پڑھ رہا تھا۔ میں سگریٹ سلگا کر اس کے پاس گیا۔اس نے کتاب سے نظریں ہٹا کر میری طرف دیکھا اور پوچھا،’’بس، نہا چکے۔‘‘\n\nمیں نے جواب دیا،’’ہاں۔۔۔ آج تو لطف آگیا۔۔۔ دنیا میں اس سے بہتر نہانے کی اور کوئی جگہ نہیں ہوسکتی۔۔۔ تم یہاں کتنی مدت سے ہو؟‘‘\n\nاس نے جواب دیا،’’پندرہ برس سے۔‘‘\n\nیہ کہہ کروہ دریا کی مچلتی ہوئی نیلی لہروں کی طرف دیکھنے لگا، اس کے باریک ہونٹوں پر لطیف سی مسکراہٹ کھیلنے لگی،’’پہلی بار یہاں آتے ہی مجھے اس جگہ سے محبت ہوگئی۔۔۔ تمہیں اس جرمن کا قصہ معلوم ہے، جو ایک بار یہاں لنچ کھانے آیا اور یہیں کا ہو کے رہ گیا۔۔۔ وہ چالیس سال یہاں رہا۔۔۔ میرا بھی یہی حال ہوگا۔ چالیس برس نہیں تو پچیس تو کہیں نہیں گئے۔‘‘\n\nمیں چاہتا تھا کہ وہ اپنی گفتگو جاری رکھی۔ اس کے الفاظ سے ظاہر تھا کہ اس کے افسانے کی حقیقت ضرور کچھ ہے۔اتنے میں میرا دوست بھیگا ہوا ہماری طرف آیا۔ بہت خوش تھا کیونکہ وہ دریا میں ایک میل تیر کر آرہا تھا۔ اس کے آتے ہی ہماری گفتگو کا موضوع بدل گیا۔ اور بات ادھوری رہ گئی۔اس کے بعد ولسن سے متعدد بار ملاقات ہوئی، اس کی باتیں بڑی دلچسپ ہوتیں۔ وہ اس جزیرے کے چپے چپے سے واقف تھا۔\n\nایک دن چاندنی رات کا لطف اٹھانے کے بعد، میں نے اور میرے دوست نے سوچا کہ چلو مونٹی سلادو کی پہاڑی کی سیر کریں۔ میں نے ولسن سے کہا ،’’آؤ یار تم بھی ہمارے ساتھ چلو۔‘‘ولسن نے میری دعوت قبول کرلی۔ لیکن میرا دوست ناسازی طبع کا بہانہ کرکے ہم سے جدا ہوگیا۔ خیر، ہم دونوں پہاڑی کی جانب چل دیے اور اس سیر کا خوب لطف اُٹھایا۔ شام کے دھندلکے میں تھکے ماندے، بھوکے سرائے میں آئے۔\n\nکھانے کا انتظام پہلے ہی کررکھا تھا جو بہت لذیذ ثابت ہوا۔ شراب انگور کی تھی۔ پہلی بوتل تو سویاں کھانے کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔ دوسری کے آخری جام پینے کے بعد میرے اور ولسن کے دماغ میں بیک وقت یہ خیال سمانے لگا کہ زندگی کچھ ایسی دشوار نہیں۔ہم اس وقت باغیچے میں انگوروں سے لدی ہوئی بیل کے نیچے بیٹھے تھے۔رات کی خاموش فضا میں ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ سرائے کی خادمہ ہمارے لیے پنیر اور انجیریں لے آئی۔\n\nولسن تھوڑے سے وقفے کے بعد مجھ سے مخاطب ہوا،’’ہمارے چلنے میں ابھی کافی دیر ہے۔ چاند کم از کم ایک گھنٹے تک پہاڑی کے اوپر آئے گا۔‘‘ میں نے کہا،’’ہمارے پاس فرصت ہی فرصت ہے۔۔۔ یہاں آکر کوئی انسان بھی عجلت کے متعلق نہیں سوچ سکتا۔‘‘ ولسن مسکرایا، ’’فرصت۔۔۔ کاش لوگ اس سے واقف ہوتے۔ ہر انسان کو یہ چیز مفت میسر ہوسکتی ہے۔ لیکن لوگ کچھ ایسے بے وقوف ہیں کہ وہ اسے حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔۔۔ کام۔۔۔؟ کم بخت، اتنا سمجھنے کے بھی اہل نہیں کہ کام کرنے سے غرض صرف فرصت حاصل کرنا ہے۔‘‘\n\nشراب کا اثر عموماً بعض لوگوں کو غورو فکر کی طرف لے جاتا ہے۔ ولسن کا خیال اپنی جگہ درست تھا۔ مگر کوئی اچھوتی اور انوکھی بات نہیں تھی۔اس نے سگریٹ سلگایا اور کہنے لگا،’’جب میں پہلی بار یہاں آیا، تو چاندنی رات کا سماں تھا۔۔۔ آج بھی وہی چودھویں کا چاند آسمان پر نظر آئے گا۔‘‘\n\nمیں مسکرا دیا، ’’ضرور نظر آئے گا۔‘‘\n\nوہ بولا، ’’دوست، میرا مذاق نہ اڑاؤ۔۔۔ جب میں اپنی زندگی کے پچھلے پندرہ برسوں پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے یہ طویل عرصہ ایک مہینے کا دھندلکا وقفہ سا لگتا ہے۔۔۔ آہ، وہ رات، جب پہلی بارمیں نے چبوترے پر بیٹھ کر چاند کا نظارہ کیا۔ کرنیں دریا کی سطح پر چاندی کے پترے چڑھا رہی تھیں۔ میں نے اس وقت شراب ضرور پی رکھی تھی لیکن دریا کے نظارے اور آس پاس کی فضا نے جو نشہ پیدا کیا، وہ شراب کبھی پیدا نہ کرسکتی۔‘‘\n\nاس کے ہونٹ خشک ہونے لگے۔ اس نے اپنا گلاس اٹھایا، مگر وہ خالی تھا، ایک بوتل منگوائی گئی، ولسن نے دو چار بڑے بڑے گھونٹ پیے اور کہنے لگا،’’اگلے دن میں دریا کنارے نہایا اور جزیرے میں ادھر ادھر گھومتا رہا۔۔۔ بڑی رونق تھی۔۔۔ معلوم ہوا کہ حسن و عشق کی دیوی افرو ڈائٹ کا تیوہار ہے۔۔۔ اگر میری تقدیر میں سدا بینک کا منتظم ہونا ہی لکھا ہوتا تو یقیناً مجھے ایسی سیر کبھی نصیب نہ ہوتی۔‘‘میں نے اس سے پوچھا،’’کیا تم کسی بینک کے منیجر تھے؟‘‘\n\n’’ہاں بھائی تھا۔۔۔ وہ رات میرے قیام کی آخری رات تھی کیونکہ پیر کی صبح مجھے بینک میں حاضرہونا تھا۔ پر جب میں نے چاند دریا اور کشتیوں کو دیکھا تو ایسا بے خود ہوا کہ واپس جانے کا خیال میرے ذہن سے اتر گیا۔‘‘\n\nاس کے بعد اس نے اپنے گزشتہ واقعات تفصیل سے بتائے اور کہا کہ وہ جزیرے میں پندرہ سال سے مقیم ہے اور اب اس کی عمر انچاس برس کی تھی۔پہلی بارجب وہ یہاں آیا تو اس نے سوچا کہ ملازمت کا طوق گلے سے اتار دینا چاہیے اور زندگی کے باقی ایام یہاں کی مسحور کن فضاؤں میں گزارنے چاہئیں۔جزیرے کی فضا اور چاند کی روشنی ولسن کے دماغ پر اس قدر غالب آئی کہ اس نے بینک کی ملازمت ترک کردی۔ اگر وہ چند برس اوروہاں رہتا تو اسے معقول پنشن مل جاتی۔ مگر اس نے اس کی مطلق پروا نہ کی۔ البتہ بینک والوں نے اسے اس کی خدمات کے عوض انعام دیا۔ ولسن نے اپنا گھر بیچا اور جزیرے کا رخ کیا۔ اس کے اپنے حساب کے مطابق وہ پچیس برس تک زندگی بسر کرسکتا تھا۔\n\nمیری اس سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ اس دوران میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ بڑا اعتدال پسند ہے۔ اسے کوئی ایسی بات گوارا نہیں جو اس کی آزادی میں خلل ڈالے، اسی وجہ سے عورت بھی اس کو متاثر نہ کرسکی۔ وہ صرف قدرتی مناظر کا پرستار تھا۔ اس کی زندگی کا واحد مقصد صرف اپنے لیے خوشی تلاش کرنا تھا اور اسے یہ نایاب چیز مل گئی تھی۔بہت کم انسان خوشی کی تلاش کرنا جانتے ہیں، میں نہیں کہہ سکتا وہ سمجھدار تھا یا بے وقوف۔ اتنا ضرور ہے کہ اپنی ذات کے ہر پہلو سے بخوبی واقف تھا۔\n\nآخری ملاقات کے بعد میں نے اپنے میزبان دوست سے رخصت چاہی اور اپنے گھر روانہ ہوگیا۔ اس دوران میں جنگ چھڑ گئی اور میں تیرہ برس تک اس جزیرے پر نہ جاسکا۔تیرہ برس کے بعد جب میں جزیرے پر پہنچا تو میرے دوست کی حالت بہت خستہ ہو چکی تھی۔ میں نے ایک ہوٹل میں کمرا کرائے پر لیا ،کھانے پر اپنے دوست سے ولسن کے متعلق بات ہوئی۔\n\nوہ خاموش رہا۔ اس کی یہ خاموشی بڑی افسردہ تھی۔ میں نے بے چین ہو کرپوچھا،’’کہیں اس نے خود کشی تو نہیں کرلی۔‘‘میرے دوست نے آہ بھری،’’یہ درد بھری داستان میں تمہیں کیا سناؤں۔۔۔ ولسن کی اسکیم معقول تھی کہ وہ پچیس برس آرام سے گزار سکتا ہے۔ پر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ آرام کے پچیس برس گزارنے کے ساتھ ہی اس کی قوتِ ارادی ختم ہو جائے گی۔قوتِ ارادی کو زندہ رکھنے کے لیے کشمکش ضروری ہے۔ ہموار زمین پر چلنے والے پہاڑیوں پر نہیں چڑھ سکتے۔۔۔ اس کا تمام روپیہ ختم ہوگیا۔ ادھار لیتا رہا۔ لیکن یہ سلسلہ کب تک جاری رہتا۔ قرض خواہوں نے اسے تنگ کرنا شروع کیا۔ آخر ایک روز اس نے اپنی جھونپڑی کے اس کمرے میں جہاں وہ سوتا تھا، بہت سے کوئلے جلائے اور دروازہ بند کردیا۔\n\nصبح جب اس کی نوکرانی ناشتہ تیار کرنے آئی تو اسے بے ہوش پایا۔۔۔ لوگ اسے ہسپتال لے گئے۔ بچ گیا پر اس کا دماغ قریب قریب ماؤف ہوگیا۔۔۔ میں اس سے ملنے گیا لیکن وہ کچھ اس طرح حیران نظروں سے میری طرف دیکھنے لگا جیسے مجھے پہچان نہیں سکا۔\n\nمیں نے اپنے دوست سے پوچھا،’’اب کہاں رہتا ہے؟‘‘\n\n’’گھر بار تو اس کا نیلام ہوگیا ہے۔۔۔ پہاڑیوں پر آوارہ پھرتا رہتا ہے۔میں نے ایک دو مرتبہ اسے پکارا، مگر وہ میری شکل دیکھتے ہی جنگلی ہرنوں کی طرح قلانچیں بھرتا دوڑ گیا۔‘‘\n\nدو تین دن کے بعد جب میں اور میرا دوست چہل قدمی کررہے تھے کہ میرا دوست زور سے پکارا، ’’ولسن!‘‘\n\nمیری نگاہوں نے اسے زیتون کے درخت کے پیچھے چھپتےدیکھا ۔ہمارے قریب پہنچنے پر اس نے کوئی حرکت نہ کی، بس ساکت و صامت کھڑا رہا۔ پھر ایکا ایکی جوانوں کے مانند بے تحاشا بھاگنا شروع کردیا۔ اس کے بعد میں نے پھر اس کو کبھی نہ دیکھا۔\n\nگھر واپس آیا تو ایک برس کے بعد میرے دوست کا خط آیا کہ ولسن مرگیا۔ اس کی لاش پہاڑی کے کنارے پڑی تھی۔ چہرے سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ سوتے میں دم نکل گیا ہے۔۔۔ اس رات چودھویں کا چاند تھا۔۔۔ میرا خیال ہے، شاید یہ چودھویں کا چاند ہی اس کی موت کا سبب ہو۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%88%D8%AF%DA%BE%D9%88%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"} {"title": "چودہواں اس چندر کا سال ہوا", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چودہواں اس چندر کا سال ہوا\nحسن میں بدر با کمال ہوا\n\nتجھ سا چنچل نہیں زمانے میں\nرم میں اے من ہرن غزال ہوا\n\nباغ دل میں تو نخل طوبیٰ ہے\nسرو تجھ قد سے پائمال ہوا\n\nرات دن تو رہے رقیباں سنگ\nدیکھنا تیرا مجھ محال ہوا\n\nدیکھ کر تجھ نین کی شوخی کوں\nتھک کے صحرا نشیں غزال ہوا\n\nمرغ دل کے پھنسانے کو میرے\nدانہ و دام زلف و خال ہوا\n\nزلف کی ہر شکن میں تجھ میرا\nدل گرفتار بال بال ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%88%D8%AF%DB%81%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%86%D9%86%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "چور", "poet_page": "مصنف:رشید جہاں", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "رات کے دس بجے کا وقت تھا۔ میں اپنی کلینک میں اکیلی بیٹھی تھی اور ایک میڈیکل جرنل کا مطالعہ کر رہی تھی کہ دروازہ کھلا اور ایک آدمی ایک بچہ لے کر داخل ہوا۔ مجھ کو اپنی نرس پر غصہ آیا کہ یہ دروازہ کھلا چھوڑ گئی۔ میرے مریض دیکھنے کا وقت مدت ہوئی ختم ہو چکا تھا۔ میں نے رکھائی سے کہا۔\n\n’’میرے مریض دیکھنے کا وقت مدت ہوئی ختم ہو چکا۔ یا تو کل صبح لانا، ورنہ کسی دوسرے ڈاکٹر کو دکھا دو۔‘‘\n\nمرد چھوٹے قد کا تو تھا لیکن بدن کسرتی تھا اور بچہ جو گود میں تھا، اس کا سانس بری طرح سے چل رہا تھا اور صاف ظاہر تھا کہ نمونیہ ہو گیا ہے۔ بچہ گردن ڈالے نڈھال تھا ور چل چلاؤ کے قریب معلوم ہوتا تھا۔ مرد نے اکڑ کر کہا۔\n\n’’میم صاحب فیس لے لیجئے اور کیا آپ کو چاہئے۔‘‘\n\nمیں فیس کے نام سے شاید دھیمی بھی ہو جاتی پر اس کی اکڑ سے چڑ کر بولی، ’’فیس کے بغیر کوئی ڈاکٹر دیکھتا ہے۔ میں اس وقت مریض نہیں دیکھتی۔ تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ وقت ڈاکٹروں کے آرام کا ہوتا ہے۔ دوسرے تمہارا بچہ بہت بیمار ہے۔‘‘\n\n’’جبھی تو آپ کے پاس لایا ہوں۔ ہماری سالی کا بچہ تو اور بھی بیمار تھا آپ کے علاج سے اچھا ہو گیا تھا۔‘‘ اب اس کا لہجہ انکسار انہ تھا۔\n\nمیں نے بگڑ کر کہا، ’’جو میرا ہی علاج کرانا تھا تو جلدی آتے۔‘‘\n\nاس کی کنپٹی پر زخم کا ایک گہرا نشان تھا۔ اتنا بدمزاج آدمی ضرور کسی مار پیٹ میں زخمی ہوا ہوگا۔\n\nبچے نے بالکل مردہ آواز میں رونا شروع کیا جس کو دیکھ کر مجھ کو ترس آ گیا اور میں آلہ کو نکال کر کھڑی ہوئی۔ مرد نے فوراً قمیض کے جیب سے دس روپے کا نوٹ نکل کر میز پر رکھ دیا۔ بچے کو دیکھ کر میں نے کہا کہ ’’ایک انجکشن تو میں فوراً لگائے دیتی ہوں۔ چار روز تک برابر یہ انجکشن چار چار گھنٹے پر لگیں گے انتظام کر لینا۔‘‘ اس کی غربت کی طرف نگاہ کر کے میں نے کہا، ’’فیس کی ضرورت نہیں۔ انجکشن کی قیمت میں لے لوں گی۔ باقی کی دوائیں تم بازار سے بنوا لو۔‘‘\n\nاس نے پھر اکڑ کر کہا، ’’صاحب میں خیرات کا علاج نہیں کراتا۔‘‘ اس نے اپنے کرتے کے اندر ہاتھ ڈالا اور ایک انگوچھا نکالا۔ اتنے میں ٹیلیفون کی گھنٹی بجی، میں نے ریسیور اٹھایا اور ساتھ ہی نگاہ اس مرد پر پڑی۔ وہ گرہ کھول رہا تھا اور میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے ایک موٹی سی گڈی نوٹوں کی نکالی۔ کم از کم پانچ سو کے نوٹ ہوں گے اور دس روپیہ میز پر رکھ کر بولا، ’’بس یا اور چاہیے۔‘‘\n\nمیں نے ٹیلیفون کا جواب دیا، ’’ہاں، ہاں، ہاں۔‘‘ اس کی طرف مخاطب ہوئی اور پوچھا، ’’تمہارا نام کیا ہے۔‘‘\n\n’’کمن‘‘ یہ کہہ کر ذرا جھجھکا۔\n\n’’کمن‘‘ یہ نام تو کہیں میں نے سنا تھا۔ ہاں یاد آیا۔ داروغہ جب میرے ہاں چوری کی تحقیقات کرنے آیا تھا تب اس نے کمن کا نام لیا تھا اور پولس والے آپس میں بات کرنے میں کمن کی کنپٹی کے نشان کی بات بھی کر رہے تھے۔ میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ لاپرواہی سے ایک طرف کو دیکھ رہا تھا۔ میں نے انجکشن تیار کرنا شروع کیا اور پوچھا، ’’تمہارا پیشہ کیا ہے؟‘‘\n\nوہ جواب دینے والا ہی تھا کہ میں نے جواب دیا، ’’تانگہ چلاتے تھے نا؟‘‘\n\n’’آپ کو کیسے معلوم؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا، ’’آپ نے مجھے کہاں دیکھا؟ میں تو پہلے کبھی آپ کے ہاں نہیں آیا۔‘‘\n\nمیں سرنج میں دوا بھر کر بولی، ’’کمن تم بھولتے ہو۔ ابھی دو مہینے ہوئے ایک رات کے درمیان تم آئے تھے اور میرا سارا گھر صاف کر کے چل دیئے۔ تم چوری کیوں کرتے ہو؟‘‘\n\nاس نے آنکھ میں آنکھ ڈال کر برابری سے جواب دیا، ’’میم صاحب اپنا اپنا پیشہ ہے۔‘‘\n\nاب میری باری حیران ہونے کی تھی۔\n\n’’پریہ تو بتایئے کہ میرا نام کس نے آپ کو بتایا؟‘‘\n\n’’داروغہ جو تحقیقات کرنے آئے تھے وہ لوگ آپس میں تمہارے کارناموں کی باتیں کہہ رہے تھے۔ میں نے بھی سن لیا اور تمہارے ہاں تلاشی بھی تو ہوئی تھی۔‘‘\n\nوہ مغلظات گالیاں پولس والوں کو دینے لگا۔\n\n’’یہ سارے پولس والے مادر۔۔۔ پہلے اپنا حصہ وصول کر لیتے ہیں پھر کہیں ہمارا حصہ ہم کو ملتا ہے۔ بہن! ہم کو یہ بدنام کرتے ہیں۔ چور سے کہیں چوری کر اور شاہ سے کہیں ترا گھر لٹتا ہے۔ بیٹی! داروغہ کو میں سمجھ لوں گا۔میرے گھر میم صاحب سال میں سینکڑوں بار دوڑ آتی ہے۔ پر یہی پولیس والے مجھے پہلے سے خبر کر دیتے ہیں۔ سب سالوں کے مہینے نہیں باندھ رکھے ہیں میں نے؟ پانچ سال سے برابر وارنٹ میرے نام جاری رہتا ہے۔ پر خدا کا فضل ہے کہ ابھی تک تو پکڑا نہیں گیا۔‘‘ اس نے شیخی کے انداز میں مجھے اپنا حال بتایا۔\n\nمیں نے انجکشن لگانے کو بچے کی ٹانگ پکڑی۔ پر وہ بڑبڑاتا ہی رہا۔\n\n’’خود سالے آکر بتا جاتے ہیں کہ تلاشی لینے آ رہے ہیں۔ میم صاحب، پولیس اگر ہمارا ساتھ نہ دے تو ہم دو دن کسی علاقہ میں ٹک نہیں سکتے اور پھر ہمیں کو بدنام کرتے ہیں۔‘‘\n\n’’دیکھو بچے کی ٹانگ مت ہلنے دو۔‘‘\n\n’’سالے آدھے سے زیادہ تو خود کھا جاتے ہیں۔ ہم کو بچتا ہی کیا ہے۔ ساری محنت ہم کریں۔ پکڑے جائیں تو ہم جیل کی چکی پیسیں تو ہم۔ یہ مادر۔۔۔ تو گھر بیٹھے مفت کا مال اڑاتے ہیں۔\n\nاس کا چہرہ غصہ سے سرخ ہو گیا اور بچے کے رونے کی بھی جو دھیمے دھیمے سسک رہا تھا، اس نے پروانہ کی۔ میں نے بچے کو میز پر لٹاتھپکنا شروع کیا۔ اب اس میں اور مجھ میں بے تکلفی ہوتی جارہی تھی اور میں اس سے باتیں کرنا چاہتی تھی۔ میں پہلی بار ایک چور سے اور وہ بھی ایسا چار جو میرا اپنا گھر صاف کر چکا تھا ،ملی تھی۔ میں نے کہا، ’’کمن تم چوری کرتے ہو۔ تم کو ترس نہیں آیا۔ میرا گھر تو تم نے بالکل صاف کر دیا۔ پہننے کو کپڑا نہیں رہا۔ عینکوں کا تم کو کیا مل جاتا ہوتا۔ بھلا بتاؤ میری عینک بھی تم لے گئے؟‘‘\n\n’’کوئی چیز بے کار نہیں جاتی۔‘‘\n\nمیں نے اس کی طرف حیرت سے دیکھ کر کہا اور میری مری ہوئی ماں کی نشانی ایک دو پٹہ رکھا تھا وہ بھی تم لے گئے؟\n\n’’اس کو پکڑوا دوں؟‘‘ میرے دل میں آیا۔\n\n’’کون سا؟‘‘\n\n’’سفید جالی کا کڑھا ہوتا تھا۔ تم کو کیا یاد ہوگا۔ نہ معلوم جب سے اب تک کتنی چوریاں کر چکے ہو گے۔\n\nمیں اس کو باتوں میں لگانے کی کوشش کر رہی تھی، ’’تم نے چوری کیسے شروع کی؟‘‘\n\nکیا میں بجلی کا بٹن دبا کر نوکروں کو بلا لوں،\n\nجیسے سب کرتے ہیں، اپنے استاد سے سیکھی۔\n\n’’استاد سے؟ تمہارے ہاں بھی استاد ہوتے ہیں؟‘‘\n\n’’اور کیا۔ آپ نے ڈاکٹری کیسے سیکھی؟‘‘\n\n’’میں نے تو کالج میں پڑھا تھا۔‘‘ گھنٹی بجاؤں یا نہیں۔\n\n’’ہمارا بھی تو کالج ہوتا ہے۔‘‘ وہ مسکرایا، ’’میرا کالج جیل خانہ تھا۔ ایک مار پیٹ میں چھ مہینے کی جیل ہو گئی تھی۔ وہیں استاد سے ملاقات ہوئی۔‘‘\n\nبچہ پھر رونے لگا اور اسی وقت دروازہ کھلا اور میرا چھوٹا بھائی اپنی فوجی وردی میں داخل ہوا۔جوان لڑکا تھا۔ کمن سے کہیں زیادہ طاقتور تھا۔ اس کے پاس ریوالور بھی لٹک رہا تھا۔ کمن اس کو دیکھ کر چونکا اور پھر جلدی سے نسخہ اٹھا کر چلنے لگا۔ پکڑواؤں یا نہ پکڑواؤں۔ پکڑواؤں یا نہ پکڑواؤں؟ میں نے جلدی جلدی سوچا۔ میں ابھی فیصلہ نہ کر سکی تھی کہ وہ باہر چلا گیا۔\n\n’’آپا کیا بات ہے۔ پریشان کیوں ہو؟‘‘\n\n’’تمہیں معلوم ہے یہ کون تھا؟ وہ ،وہ شخص تھا جس نے میرے ہاں چوری کی تھی۔‘‘\n\n’’تمہیں کیسے معلوم ہوا؟‘‘\n\n’’میری اس سے باتیں ہوئیں۔‘‘\n\n’’باتیں ہوئیں اور تم نے اس کو جانے دیا۔‘‘ یہ کہہ کر میرا بھائی دروازے کی طرف لپکا اور باہر نکل کر ادھر ادھر دیکھا۔ سٹرک صاف پڑی تھی وہ چند قدم ایک طرف کو بھاگا اور سٹرک کے موڑ پر جا کر بھی دیکھا۔ وہاں بھی کوئی نہ تھا۔\n\nاندر آ کر غصہ سے کہنے لگا، ’’آپ تم بھی کمال کرتی ہو؟ چور تم کو ملا اور تم نے چھوڑ دیا۔ یہ گورکھا کس واسطے نوکر رکھا ہے؟ اس کو کیوں نہ بلایا اور جب میں آگیا تھا جب بھی خاموش رہیں۔‘‘ ریوالور پر ہاتھ پھیر کر کہا، ’’میں اس حرامزادے کو کبھی نہ جانے دیتا۔‘‘ میرا بھائی ایک مشہور شکاری بھی ہے۔ اس وقت اس کے چہرے پر وہی کھسیاہٹ تھی جو شکار ہاتھ سے نکل جانے پر ہوا کرتی ہے۔\n\n’’بھلا کہیں دنیا میں سنا ہے کہ آدمی چور کو یوں نکل جانے دے۔‘‘\n\nمیں خاموش تھی۔\n\n’’آپ بہت جذباتی ہیں، بچے کو دیکھ کر پگھل گئی ہوں گی۔ لو ذرا سنو اس کی اہمیت کا تو اندازہ ہو کہ بیس روپیہ یہاں چھوڑ گیا۔ یہ بھی چوری کے ہوں گے۔‘‘\n\n’’اس کے پاس تو پانچ سو چھ سو کے نوٹ تھے۔‘‘\n\n’’واللہ آپ بڑی ہیں تو ہوا کریں، لیکن ہیں بہت بے وقوف!‘‘\n\nیہ بات اب میرے ملنے والوں کو معلوم ہو چکی ہے کہ جس نے میرے ہاں چوری کہ تھی وہ اپنے بچے کا علاج کروانے آیا تھا اور میں اس کو پکڑوا سکتی تھی لیکن جانے دیا۔ سب میرا مذاق اڑاتے تھے۔ لیکن کوئی میری دماغی کشمکش کو نہ سمجھتا تھا۔ آج تک میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں نے غلطی کی تھی یا نہیں۔\n\nمیرے ایک دوست پولیس افسر ہیں۔ جب انہوںں نے سنا تو کہا کہ ’’معلوم ہے آپ کو آپ نے قانوناً بھی غلطی کی ہے۔ جس آدمی کے نام پر وارنٹ ہو اس کو نہ پکڑوانا جرم ہے۔‘‘\n\nمیں سوچتی ہوں اور ان چوروں کا کیا ہوگا جن کے نام پر نہ وارنٹ ہیں اور نہ کبھی ہوں گے۔ چوری کی بھی تو کئی قسمیں ہیں۔ اٹھائی گیری، جیب کتری، نقب زنی، ڈاکہ مارنا، چور بازاری، دوسروں کی محنت کے نفع کو لے کر اپنا گھر بھر لینا اور غیر ملکوں کو ہضم کر جانا۔ یہ سب چوری میں داخل نہیں؟\n\nلوگوں کے کہنے سننے کی تو مجھ کو پرواہ نہ تھی لیکن در اصل جب ہر طرف مجھ کو بے وقوف سمجھ کر میرا مذاق اڑنے لگا تو میرے ضمیر کے اندر ایک کرید پیدا ہو گئی۔ کیا سچ مچ اس چور کو نہ پکڑوا کر میں نے کوئی اخلاقی گناہ کیا تھا؟\n\nمیں اپنے شہر کی ایک باشندہ ہوں، کچھ شہری ذمہ داریاں مجھ پر عائد ہیں کیا اس چور کو نہ پکڑوا کر میں نے کوئی شہری جرم کیا ہے۔\n\nپھر میری نظر چاروں طرف دوڑنے لگی۔ میں نے دیکھا کہ بڑے بڑے چور بگلا بھگت بنے گھومتے ہیں۔ بڑے بڑے محلوں میں رہتے ہیں، ہوائی جہاز میں اڑتے ہیں اور بڑے بڑے براعظم کھائے بیٹھے ہیں یا کھانے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور اپنی حفاظت کے لئے جیسے کمن پولیس تو صرف رشوت ہی دیتا تھا، یہ اس سے بھی آگے بڑھے ہوئے تھے۔ سارے ملک کی پولیس و فوج ان کی تنخواہ دار تھی۔ کمن 500، 600 چوری کے نوٹوں پر سر اکٹرا کر اور برابر کا ہو کر بات کرتا تھا۔ یہ صرف اکڑتے ہی نہیں بلکہ اوپر سے بیٹھ کر حکم بھی دیتے ہیں۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%88%D8%B1"} {"title": "چور (سعادت حسن منٹو)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "یزید", "year": "1951", "text_ur": "مجھے بے شمار لوگوں کا قرض ادا کرنا تھا اور یہ سب شراب نوشی کی بدولت تھا۔ رات کو جب میں سونے کے لیے چارپائی پر لیٹتا تو میرا ہر قرض خواہ میرے سرہانے موجود ہوتا۔۔۔ کہتے ہیں کہ شرابی کا ضمیر مردہ ہوجاتا ہے، لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرے ساتھ میرے ضمیر کا معاملہ کچھ اور ہی تھا۔ وہ ہر روز مجھے سرزنش کرتا اور میں خفیف ہوکے رہ جاتا۔\n\nواقعی میں نے بیسیوں آدمیوں سے قرض لیا تھا۔ میں نے ایک رات سونے سے پہلے بلکہ یوں کہیے کہ سونے کی ناکام کوشش کرنے سے پہلے حساب لگایا تو قریب قریب ڈیڑھ ہزار روپے میرے ذمے نکلے۔ میں بہت پریشان ہوا۔ میں نے سوچا یہ ڈیڑھ ہزار روپے کیسے ادا ہوں گے۔ بیس پچیس روزانہ کی آمدن ہے لیکن وہ میری شراب کے لیے بمشکل کافی ہوتے ہیں۔\n\nآپ یوں سمجھیے کہ ہر روز کی ایک بوتل ۔۔۔ تھرڈ کلاس رم کی ۔۔۔ دام ملاحظہ ہوں۔۔۔ سولہ روپے۔۔۔ سولہ روپے تو ایک طرف رہے، ان کے حاصل کرنے میں کم از کم تین روپے ٹانگے پر صرف ہوجاتے تھے۔ کام ہوتا نہیں تھا، بس پیشگی پر گزارہ تھا۔ لیکن جب پیشگی دینے والے تنگ آگئے تو انھوں نے میری شکل دیکھتے ہی کوئی نہ کوئی بہانہ تراش لیا یا اس سے پیشتر کہ میں ان سے ملوں،کہیں غائب ہوگئے۔ آخر کب تک وہ مجھے پیشگی دیتے رہتے۔۔۔ لیکن میں مایوس نہ ہوتا اور خدا پر بھروسہ رکھ کر کسی نہ کسی حیلے سے دس پندرہ روپے ادھار لینے میں کامیاب ہوجاتا۔\n\nمگر یہ سلسلہ کب تک جاری رہ سکتا تھا۔ لوگ میری عزت کرتے تھے مگر اب وہ میری شکل دیکھتے ہی بھاگ جاتے تھے۔۔۔ سب کو افسوس تھا کہ اتنا اچھا مکینک تباہ ہورہاہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ میں بہت اچھا مکینک تھا۔ مجھے کوئی بگڑی مشین دے دی جاتی تو میں اس کو سرسری طورپر دیکھنے کے بعد یوں چٹکیوں میں ٹھیک کردیتا۔ لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں میری یہ ذہانت صرف شراب ملنے کی امید پرقائم تھی، اس لیے کہ میں پہلے طے کرلیا کرتا تھا کہ اگر کام ٹھیک ہوگیا تو وہ مجھے اتنے روپے ادا کردیں گے جن سے میرے دو روز کی شراب چل سکے۔\n\nوہ لوگ خوش تھے۔ مجھے وہ تین روز کی شراب کے دام ادا کردیتے۔ اس لیے کہ جو کام میں کردیتا وہ کسی اور سے نہیں ہوسکتا تھا۔\n\nلوگ مجھے لوٹ رہے تھے۔۔۔ میری ذہانت وذکاوت پر میری اجازت سے ڈاکے ڈال رہے تھے۔۔۔اور لطف یہ ہے کہ میں سمجھتا تھا کہ میں انھیں لوٹ رہا ہوں۔۔۔ ان کی جیبوں پر ہاتھ صاف کررہا ہوں۔۔۔ اصل میں مجھے اپنی صلاحتیوں کی کوئی قدر نہ تھی۔ میں سمجھتا تھا کہ میکنزم بالکل ایسی ہے جیسے کھانا کھانا یا شراب پینا۔\n\nمیں نے جب بھی کوئی کام ہاتھ میں لیا مجھے کوفت محسوس نہیں ہوئی۔ البتہ اتنی بات ضرور تھی کہ جب شام کے چھ بجنے لگتے تو میری طبعیت بے چین ہوجاتی۔ کام مکمل ہو چکا ہوتا مگر میں ایک دو پیچ غائب کردیتا تاکہ دوسرے روز بھی آمدن کا سلسلہ قائم رہے۔۔۔ یہ شراب حرام زادی کتنی بری چیز ہے کہ آدمی کو بے ایمان بھی بنادیتی ہے۔\n\nمیں قریب قریب ہر روز کام کرتا تھا۔ میری مانگ بہت زیادہ تھی اس لیے کہ مجھ ایسا کاریگر ملک بھر میں نایاب تھا۔۔۔ تار باجا اور راگ بوجھا والاحساب تھا۔ میں مشین دیکھتے ہی سمجھ جاتا تھا کہ اس میں کیا قصور ہے۔\n\nمیں آپ سے سچ عرض کرتا ہوں، مشینری کتنی ہی بگڑی ہوئی کیوں نہ ہو، اس کو ٹھیک کرنے میں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ لگنا چاہیے۔ لیکن اگر اس میں نئے پرزوں کی ضرورت ہو اور آسانی سے دستیاب نہ ہورہے ہوں تو اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔\n\nمیں بلا ناغہ شراب پیتا تھا اور سوتے وقت بلا ناغہ اپنے قرض کے متعلق سوچتا تھا، جو مجھے مختلف آدمیوں کو ادا کرنا تھا۔ یہ ایک بہت بڑا عذاب تھا۔ پینے کے باوجود اضطراب کے باعث مجھے نیند نہ آتی۔۔۔ دماغ میں سیکڑوں اسکیمیں آتی تھیں۔ بس میری یہ خواہش تھی کہ کہیں سے دس ہزار روپے آجائیں تو میری جان میں جان آئے۔۔۔ ڈیڑھ ہزار روپیہ قرض کا فی الفور ادا کر دوں۔ ایک ٹیکسی لوں اور ہر قرض خواہ کے پاس جاکر معذرت طلب کروں اور جیب سے روپے نکال کر ان کو دے دوں۔ جو روپے باقی بچیں ان سے ایک سیکنڈ ہینڈ موٹر خرید لوں اور شراب پینا چھوڑ دوں۔\n\nپھر یہ خیال آتا کہ نہیں دس ہزار سے کام نہیں چلے گا۔۔۔ کم از کم پچاس ہزار ہونے چاہئیں۔۔۔ میں سوچنے لگتا کہ اگراتنے روپے آجائیں، جو یقیناً آنے چاہئیں تو سب سے پہلے میں ایک ہزار نادار لوگوں میں تقسیم کر دوں گا۔۔۔ ایسے لوگوں میں جو روپیہ لے کر کچھ کاروبار کرسکیں۔\n\nباقی رہے انچاس ہزار۔۔۔ اس رقم میں سے میں نے دس ہزار اپنی بیوی کو دینے کا ارادہ کیا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ فکسڈ ڈپازٹ ہونا چاہیے۔۔۔ گیارہ ہزار ہوئے باقی رہے انتالیس ہزار۔۔۔ میرے لیے بہت کافی تھے۔ میں نے سوچا، یہ میری زیادتی ہے۔ چنانچہ میں نے بیوی کا حصّہ دوگنا کردیا، یعنی بیس ہزار۔۔۔ اب بچے انتیس ہزار۔۔۔ میں نے سوچا کہ پندرہ ہزار اپنی بیوہ بہن کو دے دوں گا۔ اب میرے پاس چودہ ہزار رہے۔۔۔ ان میں سے آپ سمجھیے کہ دو ہزار قرض کے نکل گئے۔ باقی بچے بارہ ہزار۔۔۔ ایک ہزار روپے کی اچھی شراب آنی چاہیے ۔۔۔ لیکن میں نے فوراً تھو کردیا اور یہ سوچا کہ پہاڑ پر چلا جاؤں گا اور کم از کم چھ مہینے رہوں گا تاکہ صحت درست ہوجائے۔ شراب کے بجائے دودھ پیا کروں گا۔\n\nبس ایسے ہی خیالات میں دن رات گزر رہے تھے ۔۔۔ پچاس ہزار کہاں سے آئیں گے یہ مجھے معلوم نہیں تھا۔۔۔ ویسے دو تین اسکیمیں ذہن میں تھیں۔ شمع دہلی کے معمے حل کروں اور پہلا انعام حاصل کر لوں۔۔۔ ڈربی کی لاٹری کا ٹکٹ خرید لوں۔۔۔ چوری کروں اور بڑی صفائی سے۔ میں فیصلہ نہ کرسکا کہ مجھے کون سا قدم اٹھاناچاہیے۔ بہرحال یہ طے تھا کہ مجھے پچاس ہزار وپے حاصل کرنا ہیں۔۔۔ یوں ملیں یا ووں ملیں۔\n\nاسکیمیں سوچ سوچ کر میرا دماغ چکرا گیا۔۔۔ رات کو نیند نہیں آتی تھی، جو بہت بڑاعذاب تھا۔ قرض خواہ بے چارے تقاضا نہیں کرتے تھے لیکن جب ان کی شکل دیکھتا تو ندامت کے مارے پسینہ پسینہ ہوجاتا۔۔۔ بعض اوقات تو میرا سانس رکنے لگتا اور میرا جی چاہتا کہ خودکشی کر لوں اور اس عذاب سے نجات پاؤں۔\n\nمجھے معلوم نہیں کیسے اور کب میں نے تہیہ کرلیا کہ چوری کروں گا۔۔۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ مجھے کیسے معلوم ہوا کہ۔۔۔ محلے میں ایک بیوہ عورت رہتی ہے جس کے پاس بے اندازہ دولت ہے۔۔۔ اکیلی رہتی ہے۔۔۔ میں وہاں رات کے دو بجے پہنچا۔ یہ مجھے پہلے ہی معلوم ہوچکا تھا کہ وہ دوسری منزل پر رہتی ہے۔۔۔ نیچے پٹھان کا پہرہ تھا۔ میں نے سوچا کوئی اور ترکیب سوچنی چاہیے اوپر جانے کے لیے۔۔۔ میں ابھی سوچ ہی رہاتھا کہ میں نے خود کو اس پارسی لیڈی کے فلیٹ کے اندر پایا۔۔۔ میرا خیال ہے کہ میں پائپ کے ذریعے اوپر چڑھ گیا تھا۔\n\nٹارچ میرے پاس تھی۔۔۔ اس کی روشنی میں میں نے اِدھر ادھر دیکھا۔ ایک بہت بڑا سیف تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی سیف کھولا تھا نہ بند کیا تھا، لیکن اس وقت جانے مجھے کہاں سے ہدایت ملی کہ میں نے ایک معمولی تار سے اسے کھول ڈالا۔ اندر زیور ہی ز یور تھے۔ بہت بیش قیمت ۔۔۔ میں نے سب سمیٹے اور مکے مدینے والے زرد رومال میں باندھ لیے۔۔۔ پچاس ساٹھ ہزارروپے کا مال ہوگا۔۔۔ میں نے کہا ٹھیک ہے اتناہی چاہیے تھاکہ اچانک دوسرے کمرے سے ایک بڑھیا پارسی عورت نمودار ہوئی۔۔۔ اس کا چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔ مجھے دیکھ کر پوپلی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر نمودار ہوئی۔ میں بہت حیران ہوا کہ یہ ماجرا کیا ہے۔۔۔ میں نے اپنی جیب سے بھرا ہوا پستول نکال کرتان لیا۔۔۔ اس کی پوپلی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر اور زیادہ پھیل گئی۔ اس نے مجھ سے بڑے پیار سے پوچھا، ’’آپ یہاں کیسے آئے؟‘‘\n\nمیں نے سیدھا سا جواب دیا، ’’چوری کرنے۔‘‘\n\n’’اوہ!‘‘ بڑھیا کے چہرے کی جھریاں مسکرانے لگیں، ’’تو بیٹھو۔۔۔ میرے گھر میں تو نقدی کی صورت میں صرف ڈیڑھ روپیہ ہے۔۔۔ تم نے زیور چرایا ہے، لیکن مجھے افسوس ہے کہ تم پکڑے جاؤ گے کیونکہ ان زیوروں کو صرف کوئی بڑا جوہری ہی لے سکتا ہے۔۔۔ اور ہر بڑا جوہری انھیں پہچانتا ہے۔۔۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔ میں بہت پریشان تھا کہ یا الٰہی یہ سلسلہ کیا ہے۔ میں نے چوری کی ہے اور بڑی بی مسکرا مسکرا کر مجھ سے باتیں کررہی ہیں۔۔۔ کیوں؟\n\nلیکن فوراً اس کیوں کا مطلب سمجھ میں آگیا جب ماتا جی نے آگے بڑھ کر میرے پستول کی پروانہ کرتے ہوئے میرے ہونٹوں کا بوسہ لے لیا اور اپنی بانھیں میری گردن میں ڈال دیں۔۔۔ اس وقت خدا کی قسم میرا جی چاہا کہ گٹھری ایک طرف پھینکوں اور وہاں سے بھاگ جاؤں۔ مگر وہ تسمہ پا عورت نکلی، اس کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ میں مطلقاً ہل جل نہ سکا۔۔۔ اصل میں میرے ہر رگ و ریشے میں ایک عجیب و غریب قسم کا خوف سرایت کرگیا تھا۔ میں اسے ڈائن سمجھنے لگا تھا جو میرا کلیجہ نکال کرکھانا چاہتی تھی۔\n\nمیری زندگی میں کسی عورت کا دخل نہیں تھا۔ میں غیر شادی شدہ تھا۔ میں نے اپنی زندگی کے تیس برسوں میں کسی عورت کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔ مگر پہلی رات جب کہ میں چوری کرنے کے لیے نکلا تو مجھے یہ پھپھا کٹنی مل گئی جس نے مجھ سے عشق کرنا شروع کردیا۔۔۔ آپ کی جان کی قسم! میرے ہوش و حواس غائب ہوگئے۔۔۔ وہ بہت ہی کریہہ المنظر تھی۔ میں نے اس سے ہاتھ جوڑ کر کہا، ’’ماتا جی مجھے بخشو۔۔۔ یہ پڑے ہیں آپ کے زیور۔۔۔ مجھے اجازت دیجیے۔‘‘\n\nاس نے تحکمانہ لہجے میں کہا، ’’تم نہیں جاسکتے۔۔۔ تمہارا پستول میرے پاس ہے۔۔۔ اگر تم نے ذرا سی بھی جنبش کی تو میں ڈز کردوں گی۔۔۔ یاٹیلی فون کرکے پولیس کو اطلاع دے دوں گی کہ وہ آکر تمھیں گرفتار کرلے۔۔۔لیکن جانِ من! میں ایسا نہیں کروں گی۔۔۔ مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے۔۔۔ میں ابھی تک کنواری رہی ہوں۔۔۔ اب تم یہاں سے نہیں جاسکتے۔‘‘\n\nیہ سن کر قریب تھا کہ میں بے ہوش ہوجاؤں کہ ٹن ٹن شروع ہوئی۔ دور کوئی کلاک صبح کے پانچ بجنے کی اطلاع دے رہا تھا۔ میں نے بڑی بی کی ٹھوڑی پکڑی اور اس کے مرجھائے ہوئے ہونٹوں کا بوسہ لے کر جھوٹ بولتے ہوئے کہا، ’’میں نے اپنی زندگی میں سیکڑوں عورتیں دیکھی ہیں، لیکن خدا واحد شاہد ہے کے تم ایسی عورت سے میرا کبھی واسطہ نہیں پڑا۔ تم کسی بھی مرد کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ہو۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے اپنی زندگی کی پہلی چوری تمہارے مکان سے شروع کی۔ یہ زیور پڑے ہیں۔ میں کل آؤں گا، بشرطیکہ تم وعدہ کرو کہ مکان میں اور کوئی نہیں ہوگا۔‘‘\n\nبڑھیا یہ سن کر بہت خوش ہوئی، ’’ضرور آؤ۔۔۔ تم اگر چاہوگے تو گھر میں ایک مچھر تک بھی نہیں ہوگا جو تمہارے کانوں کو تکلیف دے۔۔۔ مجھے افسوس ہے کہ گھر میں صرف ایک روپیہ اور آٹھ آنے تھے۔۔۔ کل تم آؤ گے تو میں تمہارے لیے بیس پچیس ہزار بنک سے نکلوالوں گی۔۔۔ یہ لو اپنا پستول۔‘‘\n\nمیں نے اپنا پستول لیا اور وہاں سے دم دبا کر بھاگا۔۔۔ پہلا وار خالی گیا تھا۔۔۔ میں نے سوچا کہیں اور کوشش کرنی چاہیے۔ قرض ادا کرنے ہیں اورجو میں نے پلان بنایا ہے اس کی تکمیل بھی ہوناچاہیے۔\n\nچنانچہ میں نے ایک جگہ اور کوشش کی۔ سردیوں کے دن تھے، صبح کے چھ بجنے والے تھے۔۔۔ یہ ایسا وقت ہوتا ہے جب سب گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں۔۔۔ مجھے ایک مکان کا پتہ تھا کہ اس کا جو مالک ہے بڑا مالدار ہے۔۔۔ بہت کنجوس ہے۔۔۔ اپنا روپیہ بینک میں نہیں رکھتا۔۔۔ گھر میں رکھتا ہے۔ میں نے سوچا اس کے ہاں چلنا چاہئے۔میں وہاں کن مشکلوں سے اندر داخل ہوا میں بیان نہیں کرسکتا۔۔۔ بہرحال پہنچ گیا۔ صاحب خانہ جو ماشاء اللہ جوان تھے، سورہے تھے۔ میں نے ان کے سرہانے سے چابیاں نکالیں اور الماریاں کھولنا شروع کردیں۔\n\nایک الماری میں کاغذات تھے اور کچھ فرنچ لیدر۔ میری سمجھ میں نہ آیا کہ یہ شخص جو کنوارا ہے، فرنچ لیدر کہاں استعمال کرتا ہے۔۔۔ دوسری الماری میں کپڑے تھے۔ تیسری بالکل خالی تھی، معلوم نہیں اس میں تالا کیوں پڑا ہوا تھا۔اور کوئی الماری نہیں تھی۔ میں نے تمام مکان کی تلاشی لی لیکن مجھے ایک پیسہ بھی نظر نہ آیا۔۔۔ میں نے سوچا اس شخص نے ضرور اپنی دولت کہیں دبا رکھی ہوگی۔۔۔ چنانچہ میں نے اس کے سینے پر بھرا ہوا پستول رکھ کر اسے جگایا۔\n\nوہ ایساچونکا اور بدکا کہ میرا پستول فرش پر جاپڑا۔ میں نے ایک دم پستول اٹھایا اور اس سے کہا، ’’میں چور ہوں۔۔۔ یہاں چوری کرنے آیا ہوں۔۔۔ لیکن تمہاری تین الماریوں سے مجھے ایک دمڑی بھی نہیں ملی۔۔۔ حالانکہ میں نے سنا تھا کہ تم بڑے مالدار آدمی ہو۔‘‘\n\nوہ شخص جس کا نام مجھے اب یاد نہیں، مسکرایا۔۔۔ انگڑائی لے کر اٹھا اور مجھے سے کہنے لگا، ’’یار تم چور ہو تو تم نے مجھے پہلے اطلاع دی ہوتی۔۔۔ مجھے چوروں سے بہت پیار ہے۔۔۔ یہاں جو بھی آتا ہے وہ خود کو بڑا شریف آدمی کہتا ہے، حالانکہ وہ اول درجے کا کالا چور ہوتا ہے ۔۔۔ مگر تم چور ہو۔۔۔ تم نے اپنے آپ کو چھیایا نہیں ہے ۔۔۔ میں تم سے مل کر بہت خوش ہوا ہوں۔‘‘\n\nیہ کہہ کر اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا۔ اس کے بعد ریفریجریٹر کھولا، میں سمجھا شاید میری تواضع شربت وغیرہ سے کرے گا۔۔۔ لیکن اس نے مجھے بلایا اور کھلے ہوئے ریفریجریٹر کے پاس لے جاکر کہا، ’’دوست میں اپنا سارا روپیہ اس میں رکھتا ہوں۔۔۔ یہ صندوقچی دیکھتے ہو۔۔۔ اس میں قریب قریب ایک لاکھ روپیہ پڑا ہے۔۔۔ تمھیں کتنا چاہیے؟ ‘‘\n\nاس نے صندوقچی باہر نکالی جو یخ بستہ تھی۔ اسے کھولا۔ اندر سبز رنگ کے نوٹوں کی گڈیاں پڑی تھیں۔ ایک گڈی نکال کر اس نے میرے ہاتھ میں تھمادی اور کہا، ’’بس اتنے کافی ہوں گے۔۔۔ دس ہزار ہیں۔‘‘\n\nمیری سمجھ میں نہ آیا کہ اسے کیا جواب دوں۔ میں تو چوری کرنے آیا تھا۔۔۔ میں نے گڈی اس کو واپس دی اور کہا، ’’صاحب! مجھے کچھ نہیں چاہیے۔۔۔ مجھے معافی دیجیے۔۔۔ پھر کبھی حاضر ہوں گا۔‘‘\n\nمیں وہاں سے آپ سمجھیے کہ دم دبا کر بھاگا۔ گھر پہنچا تو سورج نکل چکا تھا۔۔۔ میں نے سوچا کہ چوری کا ارادہ ترک کردینا چاہیے۔۔۔ دوجگہ کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوا۔۔۔ دوسری رات کو کوشش کرتا تو کامیابی یقینی نہیں تھی۔۔۔ لیکن قرض بدستور اپنی جگہ پر موجود تھا جو مجھے بہت تنگ کررہا تھا ۔۔۔ حلق میں یوں سمجھیے کہ ایک پھانس سی اٹک گئی تھی۔۔۔ میں نے بالآخر یہ ارادہ کرلیا کہ جب اچھی طرح سوچکوں گا تو اٹھ کر خود کشی کر لوں گا۔\n\nسو رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔ میں اٹھا۔۔۔ دروازہ کھولا۔۔۔ ایک بزرگ آدمی کھڑے تھے۔ میں نے ان کو آداب عرض کیا۔۔۔ انھوں نے مجھ سے فرمایا، ’’لفافہ دینا تھا، اس لیے آپ کو تکلیف دی۔۔۔ معاف فرمائیےگا، آپ سو رہے تھے۔‘‘\n\nمیں نے ان سے لفافہ لیا۔۔۔ وہ سلام کر کے چلے گئے ۔۔۔ میں نے دروازہ بند کیا ۔۔۔ لفافہ کافی وزنی تھا۔۔۔ میں نے اسے کھولا اور دیکھا کہ سو سو روپے کے بے شمار نوٹ ہیں۔۔۔ گنے تو پچاس ہزار نکلے۔۔۔ ایک مختصر سا رقعہ تھا، جس میں لکھا تھا کہ ’’آپ کے یہ روپے مجھے بہت دیر پہلے ادا کرنے تھے۔۔۔ افسوس ہے کہ میں اب ادا کرنے کے قابل ہوا ہوں۔‘‘\n\nمیں نے بہت غور کیا کہ یہ صاحب کون ہوسکتے ہیں جنہوں نے مجھ سے قرض لیا۔۔۔ سوچتے سوچتے میں نے آخر سوچا کہ ہوسکتا ہے کسی نے مجھ سے قرض لیا ہو جو مجھے یاد نہ رہا ہو۔بیس ہزار اپنی بیوی کو۔۔۔ پندرہ ہزار اپنی بیوہ بہن کو۔۔۔ دو ہزار قرض کے ۔۔۔ باقی بچے تیرہ ہزار ۔۔۔ ایک ہزار میں نے اچھی شراب کے لیے رکھ لیے۔۔۔ پہاڑ پر جانے اور دودھ پینے کا خیال میں نے چھوڑ دیا۔\n\nدروازے پر پھر دستک ہوئی۔۔۔ اٹھ کر باہر گیا۔ دروزہ کھولا تو میرا ایک قرض خواہ کھڑا تھا۔ اس نے مجھ سے پانچ سو روپے لینا تھے۔ میں لپک کر اندر گیا۔۔۔ تکیے کے نیچے نوٹوں کا لفافہ دیکھا مگر وہاں کچھ موجود ہی نہیں تھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%88%D8%B1_%28%D8%B3%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%85%D9%86%D9%B9%D9%88%29"} {"title": "چور دروازہ یاں کے ہم بھی ہیں", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "چور دروازہ یاں کے ہم بھی ہیں\nان کو روزن سے جھانکے ہم بھی ہیں\n\nجو عدم کو وجود سے ہیں گئے\nگرد اس کارواں کے ہم بھی ہیں\n\nفاش پردہ کرو نہ کشتوں کا\nنزع میں منہ کو ڈھانکے ہم بھی ہیں\n\nعشق چھوٹا بنا چکا ورنہ\nاک بڑے خانداں کے ہم بھی ہیں\n\nترچھی نظروں کو سیدھا رکھیں آپ\nورنہ اک ٹیڑھے بانکے ہم بھی ہیں\n\nہے زمیں کا ستایا قیس اگر\nزخم چیں آسماں کے ہم بھی ہیں\n\nنقش بیٹھا اٹھے گا کس سے وقارؔ\nسنگ بوس آستاں کے ہم بھی ہیں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2%DB%81_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چور صدموں سے ہو بعید نہیں", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چور صدموں سے ہو بعید نہیں\nآبگینہ ہے دل حدید نہیں\n\nمے کشی کیا کرے بھلا زاہد\nمغفرت کی اسے امید نہیں\n\nچار سو ہے اندھیرا آنکھوں میں\nچار دن سے جو اس کی دید نہیں\n\nمیرے آگے ملی وہ غیروں سے\nہے محرم مجھے یہ عید نہیں\n\nقتل عالم ہے تیرے ابرو پر\nکوئی تلوار سے شہید نہیں\n\nاپنے دل سے مجھے ارادت ہے\nمیں کسی پیر کا مرید نہیں\n\nدل کسی سے لگے تو کیا چھوٹے\nکوئی اس قفل کی کلید نہیں\n\nدیکھ لے مر کے سختیٔ سکرات\nصدمۂ ہجر سے شدید نہیں\n\nوصل جاناں ہے صیغۂ تہمت\nکہ مجرد ہیں ہم مزید نہیں\n\nعشق کیا درد ہے خداوندا\nکوئی دارو دوا مفید نہیں\n\nنحن اقرب دلیل ہے اے بحرؔ\nیار نزدیک ہے بعید نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%88%D8%B1_%D8%B5%D8%AF%D9%85%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%A8%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چوری", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "دھواں", "year": "1941", "text_ur": "اسکول کے تین چار لڑکے الاؤ کے گرد حلقہ بنا کربیٹھ گئے۔ اور اس بوڑھے آدمی سے جو ٹاٹ پر بیٹھا اپنے استخوانی ہاتھ تاپنے کی خاطر الاؤ کی طرف بڑھائے تھا کہنے لگے، ’’بابا جی کوئی کہانی سنائیے!‘‘\n\nمردِ معمر نے جو غالباً کسی گہری سوچ میں غرق تھا۔ اپنا بھاری سر اٹھایا جو گردن کی لاغری کی وجہ سے نیچے کو جھکا ہوا تھا، ’’کہانی۔۔۔! میں خود ایک کہانی ہوں مگر۔۔۔‘‘ اس کے بعد کے الفاظ اس نے اپنے پوپلے منہ ہی میں بڑبڑائے۔۔۔۔۔۔ شاید وہ اس جملے کو لڑکوں کے سامنے ادا کرنا نہیں چاہتا تھا جن کی سمجھ اس قابل نہ تھی کہ وہ فلسفیانہ نکات حل کرسکیں۔\n\nلکڑی کے ٹکڑے ایک شور کے ساتھ جل جل کر آتشیں شکم کو پر کررہے تھے۔ شعلوں کی عنابی روشنی لڑکوں کے معصوم چہروں پر ایک عجیب انداز میں رقص کررہی تھی۔ ننھی ننھی چنگاریاں سپید راکھ کی نقاب الٹ الٹ کر حیرت میں سربلند شعلوں کا منہ تک رہی تھیں۔بوڑھے آدمی نے الاؤ کی روشنی میں سے لڑکوں کی طرف نگاہیں اٹھا کرکہا، ’’کہانی۔۔۔ ہرروز کہانی۔۔۔! کل سناؤں گا۔‘‘\n\nلڑکوں کے تمتماتے ہوئے چہروں پر افسردگی چھاگئی۔ ناامیدی کے عالم میں وہ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ گویا وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں کہہ رہے تھے، ’’آج رات کہانی سنے بغیر سونا ہوگا۔‘‘ یکایک ان میں سے ایک لڑکا جو دوسروں کی بہ نسبت بہت ہوشیار اور ذہین معلوم ہوتا تھا، الاؤ کے قریب سر ک کر بلند آواز میں بولا، ’’مگر کل آپ نے وعدہ کیا تھا اور وعدہ خلافی کرنا درست نہیں۔۔۔۔ کیا آپ کو کل والے حامد کا انجام یاد نہیں ہے جو ہمیشہ اپنا کہا بھول جایا کرتا تھا۔‘‘\n\n’’درست۔۔۔! میں بھول گیا تھا۔‘‘ بوڑھے آدمی نے یہ کہہ کر اپنا سر جھکا لیاجیسے وہ اپنی بھول پر نادم ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ اس دلیر لڑکے کی جرأت کا خیال کرکے مسکرایا، ’’میرے بچے! مجھ سے غلطی ہوگئی۔ مجھے معاف کردو۔۔۔ مگر میں کون سی کہانی سناؤں؟ٹھہرو۔ مجھے یاد کرلینے دو۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ سر جھکا کر گہری سوچ میں غرق ہوگیا۔\n\nاسے جِن اور پریوں کی لایعنی داستانوں سے سخت نفرت تھی۔ وہ بچوں کو ایسی کہانیاں سنایا کرتا تھا جو ان کے دل و دماغ کی اصلاح کرسکیں۔ اسے بہت سے فضول قصے یاد تھے جو اس نے بچپن میں سنے تھے یا کتابوں میں پڑھے تھے۔ مگر اس وقت وہ اپنے بربط پیری کے بوسیدہ تار چھیڑ رہا تھا کہ شاید ان میں کوئی خوابیدہ راگ جاگ اٹھے۔\n\nلڑکے بابا جی کو خاموش دیکھ کر آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگے۔ غالباً اس لڑکے کی بابت جسے کتاب چرانے پر بید کی سزا ملی تھی۔ باتوں باتوں میں ان میں سے کسی نے بلند آواز میں کہا، ’’ماسٹر جی کے لڑکے نے بھی تو میری کتاب چرالی تھی۔ مگر اسے سزا وزانہ ملی۔‘‘\n\n’’کتاب چرا لی تھی۔‘‘ ان چار لفظوں نے جوبلند آواز میں ادا کیے گئے تھے، بوڑھے کی خفتہ یاد میں ایک واقعہ کو جگا دیا۔ اس نے اپنا سپید سر اٹھایا اور اپنی آنکھوں کے سامنے بھولی بسری داستان کو انگڑائیاں لیتے پایا۔ ایک لمحہ کے لیے اس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی مگر وہیں غرق ہو گئی۔۔۔ اضطراب کی حالت میں اس نے اپنے نحیف جسم کو جنبش دے کر الاؤ کے قریب کیا۔ اس کے چہرے کے تغیر و تبدل سے صاف طور پر عیاں تھاکہ وہ کسی واقعہ کو دوبارہ یاد کرکے بہت تکلیف محسوس کررہا ہے۔\n\nالاؤ کی روشنی بدستور لڑکوں کے چہروں پر ناچ رہی تھی۔ دفعتاً بوڑھے نے آخری ارادہ کرتے ہوئے کہا، ’’بچو! آج میں اپنی کہانی سناؤں گا۔‘‘\n\nلڑکے فوراً اپنی باتیں چھوڑ کر ہمہ تن گوش ہوگئے۔ الاؤ کی چٹختی ہوئی لکڑیاں ایک شورکے ساتھ اپنی اپنی جگہ پر ابھر کر خاموش ہوگئیں۔۔۔ ایک لمحہ کے لیے فضا پر مکمل سکوت طاری رہا۔\n\n’’بابا جی اپنی کہانی سنائیں گے؟‘‘ ایک لڑکے نے خوش ہوکرکہا۔ باقی سرک کر آگ کے قریب خاموشی سے بیٹھ گئے۔\n\n’’ہاں، اپنی کہانی۔‘‘ یہ کہہ کر بوڑھے آدمی نے اپنی جھکی ہوئی گھنی بھوؤں میں سے کوٹھری کے باہر تاریکی میں دیکھنا شروع کیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ لڑکوں سے پھرمخاطب ہوا،’’میں آج تمہیں اپنی پہلی چوری کی داستان سناؤں گا۔‘‘لڑکے حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ انھیں اس بات کا وہم و گمان بھی نہ تھا کہ بابا جی کسی زمانہ میں چوری بھی کرتے رہے ہیں۔۔۔ بابا جی جو ہر وقت انھیں برے کاموں سے بچنے کے لیے نصیحت کیا کرتے ہیں۔\n\nلڑکا جو اِن میں دلیر تھا، اپنی حیرت نہ چھپا سکا، ’’پر کیا آپ نے واقعی چوری کی؟‘‘\n\n’’واقعی!‘‘\n\n’’ آپ اس وقت کس جماعت میں پڑھا کرتے تھے؟‘‘\n\n’’نویں میں۔‘‘\n\nیہ سن کر لڑکے کی حیرت اور بھی بڑھ گئی۔ اسے اپنے بھائی کا خیال آیا جو نویں جماعت میں تعلیم پارہا تھا۔ وہ اس سے عمرمیں دوگنا بڑا تھا۔ اس کی تعلیم اس سے کہیں زیادہ تھی۔ وہ انگریزی کی کئی کتابیں پڑھ چکا تھا اور اسے ہر وقت نصیحتیں کیا کرتا تھا۔ یہ کیونکر ممکن تھا کہ اس عمر کا اور اچھا پڑھا لکھا لڑکا چوری کرے۔۔۔؟ اس کی عقل اس معمہ کو حل نہ کرسکی۔ چنانچہ اس نے پھر سوا ل کیا، ’’آپ نے چوری کیوں کی؟‘‘ اس مشکل سوال نے بڈھے کو تھوڑی دیر کے لیے گھبرا دیا۔۔۔ آخر وہ اس کا کیا جواب دے سکتا تھا کہ فلاں کام اس نے کیوں کیا؟ بظاہر اس کا جواب یہی ہوسکتا تھا، ’’اس لیے کہ اس وقت اس کے دماغ میں یہی خیال آیا۔‘‘ اس نے دل میں یہی جواب سوچا۔ مگر اس نے مطمئن نہ ہو کر یہ بہتر خیال کیا کہ تمام داستان من و عن بیان کردے۔\n\n’’اس کا جواب میری کہانی ہے۔ جو میں اب تمہیں سنانے والا ہوں۔‘‘\n\n’’سنائیے!‘‘\n\nلڑکے اس بوڑھے آدمی کی چوری کا حال سننے کے لیے اپنی اپنی جگہ پر جم کر بیٹھ گئے۔ جو الاؤ کے سامنے اپنے سپید بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کررہا تھااور جسے وہ ایک بہت بڑا آدمی خیال کرتے تھے۔بڈھا کچھ عرصے تک اپنے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا۔ پھر اس بُھولے ہوئے واقعہ کے تمام منتشر ٹکڑے فراہم کرکے بولا، ’’ہر شخص خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا۔ اپنی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسی حرکت ضرور کرتا ہے جس پر وہ تمام عمر نادم رہتا ہے۔ میری زندگی میں سب سے برا فعل ایک کتاب کی چوری ہے۔۔۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ رک گیا۔ اس کی آنکھیں جو ہمیشہ چمکتی رہتی تھیں، دھندلی پڑ گئیں۔ اس کے چہرے کی تبدیلی سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے زبردست ذہنی تکلیف کا سامنا کررہا ہے۔ چند لمحات کے توقف کے بعد وہ پھر بولا،’’ سب سے مکروہ فعل کتاب کی چوری ہے۔ یہ میں نے ایک کتب فروش کی دکان سے چرائی۔ یہ اس زمانہ کا ذکر ہے۔ جب میں نویں جماعت میں تعلیم پاتا تھا۔ قدرتی طور پر جیسا کہ اب تمہیں کہانی سننے کا شوق ہے مجھے افسانے اور ناول پڑھنے کا شوق تھا۔۔۔ دوستوں سے مانگ کر یا خود خرید کر میں ہر ہفتے ایک نہ ایک کتاب ضرور پڑھا کرتا تھا۔ وہ کتابیں عموماً عشق و محبت کی بے معنی داستانیں یا فضول جاسوسی قصے ہوا کرتے تھے۔ یہ کتابیں میں ہمیشہ چھپ چھپ کر پڑھا کرتا تھا۔ والدین کو اس کا علم نہ تھا۔ اگر انھیں معلوم ہوتا تو وہ مجھے ایسا ہرگز ہرگز نہ کرنے دیتے۔ اس لیے کہ اس قسم کی کتابیں اسکول کے لڑکے کے لیے بہت نقصان دہ ہوتی ہیں۔ میں ان کے مہلک نقصان سے غافل تھا۔ چنانچہ مجھے اس کا نتیجہ بھگتنا پڑا۔ میں نے چوری کی اور پکڑا گیا۔۔۔‘‘\n\nایک لڑکے نے حیرت زدہ ہو کرکہا، ’’آپ پکڑے گئے؟‘‘\n\n’’ہاں پکڑا گیا۔۔۔ چونکہ میرے والدین اس واقعہ سے بالکل بے خبر تھے۔ یہ عادت پکتے پکتے میری طبیعت بن گئی۔گھر سے جتنے پیسے ملتے ،انھیں جوڑ جوڑ کر بازار سے افسانوں کی کتابیں خریدنے میں صرف کردیتا۔ اسکول کی پڑھائی سے رفتہ رفتہ مجھے نفرت ہونے لگی۔ ہر وقت میرے دل میں یہی خیال سمایا رہتا کہ فلاں کتاب جو فلاں ناول نویس نے لکھی ہے ضرور پڑھنی چاہیے۔ یا فلاں کتب فروش کے پاس نئی ناولوں کا جو ذخیرہ موجود ہے، ایک نظر ضرور دیکھنا چاہیے۔\n\nشوق کی یہ انتہا دوسرے معنوں میں دیوانگی ہے۔ اس حالت میں انسان کو معلوم نہیں ہوتاکہ وہ کیا کرنے والا ہےیا کیا کررہا ہے۔ اس وقت وہ بے عقل بچے کے مانند ہوتا ہے جو اپنی طبیعت خوش کرنے یا شوق پورا کرنے کے لیے جلتی ہوئی آگ میں بھی ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ اسے یہ پتہ نہیں ہوتا کہ چمکنے والی شے جسے وہ پکڑ رہا ہے اس کا ہاتھ جلا دے گی۔ ٹھیک یہی حالت میری تھی۔ فرق اتنا ہے کہ بچہ شعور سے محروم ہوتا ہے۔ اس لیے وہ بغیر سمجھے بوجھے بری سے بری حرکت کربیٹھتا ہے مگر میں نے عقل کا مالک ہوتے ہوئے چوری ایسے مکروہ جرم کا ارتکاب کیا۔۔۔ یہ آنکھوں کی موجودگی میں میرے اندھے ہونے کی دلیل ہے۔میں ہرگز ایسا کام نہ کرتا اگر میری عادت مجھے مجبور نہ کرتی۔ہر انسان کے دماغ میں شیطان موجود ہوتا ہےجو وقتاً فوقتاً اسے بُرے کاموں پر مجبور کرتا ہے۔ یہ شیطان مجھ پر اس وقت غالب آیا جبکہ سوچنے کے لیے میرے پاس بہت کم وقت تھا۔۔۔خیر‘‘\n\nلڑکے خاموشی سے بوڑھے کے ہلتے ہوئے لبوں کی طرف نگاہیں گاڑے ان کی داستان سن رہے تھے۔ داستان کا تسلسل اس وقت ٹوٹتا دیکھ کر جب کہ اصل مقصد بیان کیا جانے والا تھا، وہ بڑی بے قراری سے بقایا تفصیل کا انتظار کرنے لگے۔\n\n’’مسعود بیٹا! یہ سامنے والا دروازہ تو بند کردینا۔۔۔ سرد ہوا آرہی ہے۔‘‘ بوڑھے نے اپنا کمبل گھٹنوں پرڈال لیا۔\n\nمسعود، ’’اچھا بابا جی۔‘‘ کہہ کر اٹھا اور کوٹھری کا دروازہ بند کرنے کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔\n\n’’ہاں تو ایک دن جبکہ والد گھر سے باہر تھے۔‘‘ بوڑھے نے اپنی داستان کا بقایا حصہ شروع کیا، ’’ مجھے بھی کوئی خاص کام نہ تھا۔ اور وہ کتاب جو میں ان دنوں پڑھ رہا تھا ختم ہونے کے قریب تھی۔ اس لیے میرے جی میں آئی کہ چلو اس کتب فروش تک ہو آئیں جس کے پاس بہت سی جاسوسی ناولیں پڑی تھیں۔میری جیب میں اس وقت اتنے پیسے موجود تھے جو ایک معمولی ناول کے دام ادا کرنے کے لیے کافی ہوں۔ چنانچہ میں گھر سے سیدھا اس کتب فروش کی دکان پر گیا۔۔۔ یوں تو اس دکان پر ہر وقت بہت سی اچھی اچھی ناولیں موجود رہتی تھیں۔مگر اس دن خاص طور پر بالکل نئی کتابوں کا ایک ڈھیر باہر تختے پر رکھا تھا۔ ان کتابوں کے رنگ برنگ سرِورق دیکھ کر میری طبیعت میں ایک ہیجان سا برپا ہوگیا۔ دل میں اس خواہش نے گدگدی کی کہ وہ تمام میری ہو جائیں۔\n\nمیں دکاندار سے اجازت لے کر ان کتابوں کو ایک نظر دیکھنے میں مشغول ہوگیا۔ ہر کتاب کے شوخ رنگ سرورق پر اس قسم کی کوئی نہ کوئی عبارت لکھی ہوئی تھی۔\n\n’’ ناممکن ہے کہ اس کا مطالعہ آپ پر سنسنی طاری نہ کردے۔‘‘\n\n’’مصور اسرار کا لاثانی شاہکار۔‘‘\n\n’’تمثیل!ہیجان!! رومان۔۔۔۔!!! سب یکجا۔‘‘\n\nاس قسم کی عبارتیں شوق بڑھانے کے لیے کافی تھیں۔ مگر میں نے کوئی خاص توجہ نہ دی۔ اس لیے کہ میری نظروں سے اکثر ایسے الفاظ گزر چکے تھے۔ میں تھوڑا عرصہ کتابوں کو الٹ پلٹ کردیکھتا رہا۔ اس وقت میرے دل میں چوری کرنے کا خیال مطلقاً نہ تھا، بلکہ میں نے خریدنے کے لیے ایک کم قیمت کی ناول چن کر الگ بھی رکھ لی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد دل میں یہ ارادہ کرکے میں دوسرے ہفتے ان ناولوں کو دوبارہ دیکھنے آؤں گا۔۔۔ میں نے اپنی چنی ہوئی کتاب اٹھائی۔۔۔ کتاب کا اٹھانا تھا کہ میری نگاہیں ایک مجلد ناول پر گڑ گئیں۔ سرِ ورق کے کونے پر میرے محبوب ناولسٹ کا نام سرخ لفظوں میں چھپا تھا۔ اس کے ذرا اوپر کتاب کا نام تھا۔\n\n’’منتقم شعاعیں۔۔۔ کس طرح ایک دیوانے ڈاکٹر نے لندن کو تباہ کرنے کا ارادہ کیا۔‘‘\n\nیہ سطور پڑھتے ہی میرے اشتیاق میں طغیانی سی آگئی۔۔۔ کتاب کا مصنف وہی تھا جس نے اس سے پیشتر مجھ پر راتوں کی نیند حرام کر رکھی تھی۔ ناول کو دیکھتے ہی میرے دماغ میں خیالات کا ایک گروہ داخل ہوگیا۔\n\n’’منتقم شعاعیں۔۔۔ دیوانے ڈاکٹرکی ایجاد۔۔۔ کیسا دلچسپ افسانہ ہوگا!‘‘\n\n’’لندن تباہ کرنے کا ارادہ۔۔۔ یہ کس طرح ہوسکتا ہے؟‘‘\n\n’’ اس مصنف نے فلاں فلاں کتابیں کتنی سنسنی خیز لکھی ہیں!‘‘\n\n’’ یہ کتاب ضرور ان سب سے بہتر ہوگی!‘‘\n\nمیں خاموش اشتیاق کے ساتھ اس کتاب کی طرف دیکھ رہا تھا اور یہ خیالات یکے بعد دیگرے میرے کانوں میں شور برپا کررہے تھے۔ میں نے اس کتاب کو اٹھایا اور کھول کر دیکھا توپہلے ورق پر یہ عبارت نظر آئی،’’ مصنف اس کتاب کو اپنی بہترین تصنیف قرار دیتاہے۔‘‘\n\n’’ ان الفاظ نے میرے اشتیاق میں آگ پر ایندھن کا کام دیا۔ ایکا ایکی میرے دماغ کے خدا معلوم کس گوشے سے ایک خیال کود پڑا۔۔۔ وہ یہ کہ میں اس کتاب کو اپنے کوٹ میں چھپا کر لے جاؤں۔ میری آنکھیں بے اختیار کتب فروش کی طرف مڑیں۔ جو کاغذ پر کچھ لکھنے میں مشغول تھا۔ دوکان کی دوسری طرف دو نوجوان کھڑے میری طرح کتابیں دیکھ رہے تھے۔۔۔ میں سر سے پیر تک لرز گیا۔‘‘\n\nیہ کہتے ہوئے بوڑھے کا نحیف جسم اس واقعہ کی یاد سے کانپا۔۔۔ تھوڑی دیر تک خاموش رہ کر اس نے پھر اپنی داستان شروع کردی، ’’ایک لحظہ کے لیے میرے دماغ میں یہ خیال پیدا ہوا کہ چوری کرنا بہت برا کام ہے مگر ضمیر کی آواز سرورق پر بنی ہوئی لانبی لانبی شعاعوں میں غرق ہوگئی۔ میرا دماغ’’ منتقم شعاعیں‘‘ ’’منتقم شعاعیں‘‘ کی گردان کررہا تھا۔ میں نے اِدھر اُدھر جھانکا اور جھٹ سے وہ کتاب کوٹ کے اندر بغل میں دبا لی مگر میں کانپنے لگا۔\n\nاس حالت پر قابو پا کر میں کتب فروش کے قریب گیا۔ اور اس کتاب کے دام ادا کردیئے جو میں نے پہلے خریدی تھی۔ قیمت لیتے وقت اور روپے میں سے باقی پیسے واپس کرنے میں اس نے غیر معمولی تاخیر سے کام لیا۔ میری طرف اس نے گھور کربھی دیکھا۔ جس سے میری طبیعت سخت پریشان ہوگئی۔ جی میں بھی آئی کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کروہاں سے بھاگ نکلوں۔\n\nمیں نے اس دوران میں کئی بار اس جگہ پر جو کتاب کی وجہ سے ابھری ہوئی تھی، نگاہ ڈالی۔۔۔ اور شاید اسے چھپانے کی بے سود کوشش بھی کی۔ میری ان عجیب و غریب حرکتوں کو دیکھ کر اسے شک ضرور ہوا۔ اسے لیے کہ وہ بار بار کچھ کہنے کی کوشش کرکے پھر خاموش ہو جاتا تھا۔میں نے باقی پیسے جلدی سے لیے اور وہاں سے چل دیا۔ دو سو قدم کے فاصلے پر میں نے کسی کی آواز سنی۔ مڑ کر دیکھا تو کتب فروش ننگے پاؤں چلا آرہا تھا اور مجھے ٹھہرنے کے لیے کہہ رہا تھا ۔۔۔ میں نے اندھا دھند بھاگناشروع کردیا۔ مجھے معلوم نہ تھا میں کدھر بھاگ رہاہوں۔ میرا رخ اپنے گھر کی جانب نہ تھا۔ میں شروع ہی سے اس طرف بھاگ رہا تھا جدھر بازار کا اختتام تھا۔ اس غلطی کا مجھے اس وقت احساس ہوا جب دو تین آدمیوں نے مجھے پکڑ لیا۔‘‘\n\nبوڑھا اتنا کہہ کر اضطراب کی حالت میں اپنی خشک زبان، لبوں پر پھیرنے لگا۔ کچھ توقف کے بعد وہ ایک لڑکے سے مخاطب ہوا، ’’مسعود! پانی کا ایک گھونٹ پلوانا۔‘‘\nمسعود خاموشی سے اٹھا اورکوٹھری کے ایک کونے میں پڑے ہوئے گھڑے سے گلاس میں پانی انڈیل کر لے آیا۔ بوڑھے نے گلاس لیتے ہی منہ سے لگا لیا اور ایک گھونٹ میں سارا پانی پی گیا اور خالی گلاس زمین پر رکھتے ہوئے کہا، ’’ہاں میں کیا بیان کررہا تھا؟‘‘\n\nایک لڑکے نے جواب دیا، ’’آپ بھاگے جارہے تھے۔‘‘\n\n’’میرے پیچھے کتب فروش’’ چور چور‘‘کی آواز بلند کرتا چلا آرہا تھا۔ جب میں نے دو تین آدمیوں کو اپنا تعاقب کرتے دیکھا تو میرے ہوش ٹھکانے نہ رہے۔ جیل کی آہنی سلاخیں، پولیس اور عدالت کی تصویریں ایک ایک کرکے میری آنکھوں کے سامنے آگئیں۔ بے عزتی کے خیال سے میری پیشانی عرق آلود ہوگئی۔ میں لڑکھڑایا اور گر پڑا۔ اٹھنا چاہا تو ٹانگوں نے جواب دے دیا۔ اس وقت میرے دماغ کی عجیب حالت تھی۔ ایک تند دھواں سا میرے سینے میں کروٹیں لے رہا تھا۔ آنکھیں فرطِ خوف سے ابل رہی تھیں۔ اورکانوں میں ایک زبردست شور برپا تھا۔ جیسے بہت سے لوگ آہنی چادریں ہتھوڑوں سے کوٹ رہے ہیں۔ میں ابھی اٹھ کر بھاگنے کی کوشش ہی کررہا تھا کہ کتب فروش اور اس کے ساتھیوں نے مجھے پکڑ لیا۔ اس وقت میری کیا حالت تھی،اس کا بیان کرنا بہت دشوار ہے۔ سیکڑوں خیالات پتھروں کی طرح میرے دماغ سے ٹکرا ٹکرا کر مختلف آوازیں پیدا کررہے تھے۔ جب انھوں نے مجھے پکڑا تو ایسا معلوم ہوا کہ آہنی پنجےنے میرے دل کو مسل ڈالا ہے۔۔۔ میں بالکل خاموش تھا۔ وہ مجھے دکان کی طرف کشاں کشاں لے گئے۔\n\nجیل خانے کی کوٹھری اور عدالت کا منہ دیکھنا یقینی تھا۔ اس خیال پر میرے ضمیر نے لعنت ملامت شروع کردی۔ چونکہ اب جوہونا تھا ہو چکا تھا۔ اور میرے پاس اپنے ضمیر کو جواب دینے کے لیے کوئی الفاظ موجود نہ تھے۔ اس لیے میری گرم آنکھوں میں آنسو اتر آئے اور میں نے بے اختیار رونا شروع کردیا۔‘‘\n\nیہ کہتے ہوئے بوڑھے کی دھندلی آنکھیں نمناک ہوگئیں۔\n\n’’کتب فروش نے مجھے پولیس کے حوالے نہ کیا۔ اپنی کتاب لے لی اور نصیحت کرنے کے بعد چھوڑ دیا۔‘‘ بوڑھے نے اپنے آنسو کھردرے کمبل سے خشک کیے، ’’خدا اس کو جزائے خیر دے۔ میں عدالت کے دروازے سے تو بچ گیا۔ مگر اس واقعہ کی والد اور اسکول کے لڑکوں کو خبر ہوگئی۔ والد مجھ پر سخت خفا ہوئے لیکن انھوں نے بھی اخیر میں مجھے معاف کردیا۔\n\nدو تین روز مجھے اس ندامت کے باعث بخار آتا رہا، اس کے بعد جب میں نے دیکھا میرا دل کسی کروٹ آرام نہیں لیتا اور مجھ میں اتنی قوت نہیں کہ میں لوگوں کے سامنے اپنی نگاہیں اٹھا سکوں تو میں شہر چھوڑ کروہاں سے ہمیشہ کے لیے روپوش ہوگیا۔اس وقت سے لے کر اب تک میں نے مختلف شہروں کی خاک چھانی ہے، ہزاروں مصائب برداشت کیے ہیں۔ صرف اس کتاب کی چوری کی وجہ سے جومجھے تا دمِ مرگ نادم و شرمسار رکھے گی۔اس آوارہ گردی کے دوران میں، میں نے اور بھی بہت سی چوریاں کیں۔ ڈاکے ڈالے اور ہمیشہ پکڑا گیا۔ مگر ان پر نادم نہیں ہوں۔۔۔ مجھے فخر ہے۔‘‘\n\nبوڑھے کی دھندلی آنکھوں میں پھر پہلی سی چمک نمودار ہوگئی۔ اور اس نے الاؤ کے شعلوں کو ٹکٹکی باندھ کردیکھنا شروع کردیا، ’’ہاں مجھے فخر ہے۔‘‘ یہ لفظ اس نے تھوڑے توقف کے بعد دوبارہ کہے۔\n\nالاؤمیں آگ کا ایک شعلہ بلند ہوا۔۔۔ اور ایک لمحہ فضا میں تھرتھرا کر وہیں سو گیا۔ بوڑھے نے شعلے کی جرأت دیکھی اور مسکرا دیا۔ پھر لڑکوں سے مخاطب ہوکر کہنے لگا، ’’کہانی ختم ہوگئی، اب تم جاؤ، تمہارے ماں باپ انتظار کرتے ہوں گے۔‘‘\n\nمسعود نے سوال کیا، ’’مگر آپ کو اپنی دوسری چوریوں پر کیوں فخر ہے؟‘‘\n\n’’فخر کیوں ہے۔۔۔؟‘‘ بوڑھا مسکرا دیا، ’’اس لیے کہ وہ چوریاں نہیں تھیں۔۔۔ اپنی مسروقہ چیزوں کودوبارہ حاصل کرنا چوری نہیں ہوتی میرے عزیز! بڑے ہو کرتمہیں اچھی طرح معلوم ہو جائے گا۔‘‘\n\n’’میں سمجھا نہیں۔‘‘\n\n’’ہروہ چیز جو تم سے چرا لی گئی ہے، تمہیں حق حاصل ہے کہ اسے ہر ممکن طریقہ سے اپنے قبضہ میں لے آؤ۔ پر یاد رہے تمہاری کوشش کامیاب ہونی چاہیے۔ ورنہ ایسا کرتے ہوئے پکڑے جانا اور اذیتیں اٹھانا عبث ہے۔‘‘\n\nلڑکے اٹھے اور بابا جی کو شب بخیر کہتے ہوئے کوٹھری کے دروازہ سے باہر چلے گئے۔ بوڑھے کی نگاہیں ان کو تاریکی میں گم ہوتے دیکھتی رہیں۔ تھوڑی دیر اسی طرح دیکھنے کے بعد وہ اٹھا اور کوٹھری کا دروازہ بند کرتے ہوئے بولا، ’’کاش کہ یہ بڑے ہو کر اپنی کھوئی ہوئی چیز واپس لے سکیں۔‘‘\n\nبوڑھے کو خدا معلوم ان لڑکوں سے کیا امید تھی؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%88%D8%B1%DB%8C"} {"title": "چوری سے دو گھڑی جو نظارے ہوئے تو کیا", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چوری سے دو گھڑی جو نظارے ہوئے تو کیا\nچلمن تو بیچ میں ہے اشارے ہوئے تو کیا\n\nبوسہ دہی کا لطف ملا حسن بڑھ گیا\nرخسار لال لال تمہارے ہوئے تو کیا\n\nبے پردہ منہ دکھا کے مرے ہوش اڑاؤ تم\nپردے کی آڑ سے جو نظارے ہوئے تو کیا\n\nمجھ کو کڑھا کڑھا کے وہ ماریں گے جان سے\nدلبر ہوئے تو کیا مرے پیارے ہوئے تو کیا\n\nاے جاں مقابلہ مرے ہاتھوں سے کب ہوا\nجوبن ترے ابھر کے کرارے ہوئے تو کیا\n\nالفت کا لطف کیا جو بغل ہی نہ گرم ہو\nوہ دل میں رہنے والے ہمارے ہوئے تو کیا\n\nتاثیر دے دعا میں خدا ہے یہی دعا\nاونچے جو دونوں ہاتھ ہمارے ہوئے تو کیا\n\nبوسہ نہ دے وہ مجھ کو تو میں اس کو دل نہ دوں\nاس گورے ہاتھ سے جو اشارے ہوئے تو کیا\n\nتم سوؤ پھیل کے پھولوں کی سیج پر\nفرقت میں ہم جو گور کنارے ہوئے تو کیا\n\nسینہ ملا کے سینہ سے دل میں جگہ کرو\nپھرتے ہو جوبنوں کو ابھارے ہوئے تو کیا\n\nکب کھیلنے پکڑ کے ہوا میں سے لائے وہ\nجگنو جو آہ دل کے شرارے ہوئے تو کیا\n\nاے جاں ہے تیری زلف پریشاں کا حسن اور\nحوروں کے بال ہیں جو سنوارے ہوئے تو کیا\n\nآنکھیں کھلی بھی ہوں تو وہی سامنے رہے\nآنکھوں کو بند کر کے نظارے ہوئے تو کیا\n\nلاکھوں مزے ملیں مرے لب سے اگر ملیں\nوہ گورے گال آنکھ کے تارے ہوئے تو کیا\n\nیک بوسہ اور لونگا عرق منہ سے پوچھ کر\nوہ آب آب شرم کے مارے ہوئے تو کیا\n\nمائلؔ نہ ہو وصال تو کیا عشق کا مزا\nمعشوق دور سے وہ ہمارے ہوئے تو کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D9%86%D8%B8%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا\nدیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا\n\nدہر میں میں خاک بسر ہی رہا\nعمر کو اس طور بسر کر گیا\n\nدل نہیں ہے منزل سینہ میں اب\nیاں سے وہ بیچارہ سفر کر گیا\n\nحیف جو وہ نسخۂ دل کے اپر\nسرسری سی ایک نظر کر گیا\n\nکس کو مرے حال سے تھی آگہی\nنالۂ شب سب کو خبر کر گیا\n\nگو نہ چلا تا مژۂ تیر نگہ\nاپنے جگر سے تو گزر کر گیا\n\nمجلس آفاق میں پروانہ ساں\nمیرؔ بھی شام اپنی سحر کر گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%86%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "چوری کہیں کھلے نہ نسیم بہار کی", "poet_page": "مصنف:آغا حشر کاشمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چوری کہیں کھلے نہ نسیم بہار کی\nخوش بو اڑا کے لائی ہے گیسوئے یار کی\n\nاللہ رکھے اس کا سلامت غرور حسن\nآنکھوں کو جس نے دی ہے سزا انتظار کی\n\nگلشن میں دیکھ کر مرے مست شباب کو\nشرمائی جاری ہے جوانی بہار کی\n\nاے میرے دل کے چین مرے دل کی روشنی\nآ اور صبح کر دے شب انتظار کی\n\nجرأت تو دیکھئے گا نسیم بہار کی\nیہ بھی بلائیں لینے لگی زلف یار کی\n\nاے حشرؔ دیکھنا تو یہ ہے چودھویں کا چاند\nیا آسماں کے ہاتھ میں تصویر یار کی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%88%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہو", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہو\nصدمہ شیشہ کو جو پہنچے تو صدا پیدا ہو\n\nکشتۂ تیغ جدائی ہوں یقیں ہے مجھ کو\nعضو سے عضو قیامت میں جدا پیدا ہو\n\nہم ہیں بیمار محبت یہ دعا مانگتے ہیں\nمثل اکسیر نہ دنیا میں دوا پیدا ہو\n\nکہہ رہا ہے جرس قلب بآواز بلند\nگم ہو رہبر تو ابھی راہ خدا پیدا ہو\n\nکس کو پہنچا نہیں اے جان ترا فیض قدم\nسنگ پر کیوں نہ نشان کف پا پیدا ہو\n\nمل گیا خاک میں پس پس کے حسینوں پر میں\nقبر پر بوئیں کوئی چیز حنا پیدا ہو\n\nاشک تھم جائیں جو فرقت میں تو آہیں نکلیں\nخشک ہو جائے جو پانی تو ہوا پیدا ہو\n\nیاں کچھ اسباب کے ہم بندے ہی محتاج نہیں\nنہ زباں ہو تو کہاں نام خدا پیدا ہو\n\nگل تجھے دیکھ کے گلشن میں کہیں عمر دراز\nشاخ کے بدلے وہیں دست دعا پیدا ہو\n\nبوسہ مانگا جو دہن کا تو وہ کیا کہنے لگے\nتو بھی مانند دہن اب کہیں نا پیدا ہو\n\nنہ سر زلف ملا بل بے درازی تیری\nرشتۂ طول امل کا بھی سرا پیدا ہو\n\nکس طرح سچ ہے نہ خورشید کو رجعت ہو جائے\nتجھ سا آفاق میں جب ماہ لقا پیدا ہو\n\nابھی خورشید جو چھپ جائے تو ذرات کہاں\nتو ہی پنہاں ہو تو پھر کون بھلا پیدا ہو\n\nکیا مبارک ہے مرا دست جنوں اے ناسخؔ\nبیضۂ بوم بھی ٹوٹے تو ہما پیدا ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%88%D9%B9_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D9%84%DA%AF%DB%92_%D8%A2%DB%81_%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "چوپائے کی طرح تو کتابوں سے نہ لد", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "چوپائے کی طرح تو کتابوں سے نہ لد\nحاصل ہے کتاب کا فقط علم و خرد\nکیڑوں نے ہزارہا کتابیں کھا لیں\nپائی نہ مگر کبھی فضیلت کی سند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%88%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%84%D8%AF"} {"title": "چوہے دان", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "دھواں", "year": "1941", "text_ur": "شوکت کوچوہے پکڑنے میں بہت مہارت حاصل ہے۔ وہ مجھ سے کہا کرتا ہے یہ ایک فن ہے جس کو باقاعدہ سیکھنا پڑتا ہے اور سچ پوچھیے تو جو جو ترکیبیں شوکت کوچوہے پکڑنے کے لیے یاد ہیں، ان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کافی محنت کی ہے۔ اگر چوہے پکڑنے کا کوئی فن نہیں ہے تو اس نے اپنی ذہانت سے اسے فن بنا دیا ہے۔ اس کو آپ کوئی چوہا دکھا دیجیے، وہ فوراً آپ کو بتا دے گا کہ اس ترکیب سے وہ اتنے گھنٹوں میں پکڑا جائے گا اور اس طریقے سے اگر آپ اسے پکڑنے کی کوشش کریں تو اتنے دن لگ جائیں گے۔\n\nچوہوں کی نسلوں اور ان کی مختلف عادات و اطوار کا شوکت بہت گہرا مطالعہ کرچکا ہے۔ اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کس ذات کے چوہے جلدی پھنس جاتے ہیں اور کس نسل کے چوہے بڑی مشکل کے بعد قابو میں آتے ہیں اور پھر ہر قسم کے چوہوں کو پھانسنے کی ایک سو ایک ترکیب شوکت کو معلوم ہے۔\n\nموٹے موٹے اصول اس نے ایک روز مجھے بتائے تھے کہ چھوٹی چھوٹی چوہیاں اگر پکڑنا ہوں تو ہمیشہ نیا چوہے دان استعمال کرنا چاہیے۔ چوہے دان کی ساخت کسی قسم کی بھی ہو، اس کی کوئی پروانہیں، خیال اس بات کا رکھنا چاہیے کہ چوہے دان ایسی جگہ پر نہ رکھا جائے جہاں آپ نے چوہیا یا چوہیاں دیکھی تھیں۔ٹرنکوں کے پیچھے، الماریوں کے نیچے، کہیں بھی جہاں آپ نے چوہیا نہ دیکھی ہو۔ چوہے دان رکھ دیا جائے اور اس میں تلی ہوئی مچھلی کا چھوٹا سا ٹکڑا رکھ دیا جائے۔ ٹکڑا بڑا نہ ہو۔ اگر چوہے دان کھٹ سے بند ہونےوالا ہے تو اس میں خاص طور پر بڑا ٹکرا نہیں لگانا چاہیے کہ چوہیا اندر آکر اس ٹکرے کا کچھ حصہ کتر کر باہر چلی جائے گی۔ ٹکڑا چھوٹا ہوگا تو وہ اسے اتارنے کی کوشش کرے گی اور یوں جھٹ پٹ پنجرے میں قید ہو جائے گی۔\n\nایک چوہیا پکڑنے کے بعد چوہے دان کو گرم پانی سے دھو لینا چاہیے۔ اگر آپ اسے اچھی طرح نہ دھوئیں گے تو پہلی چوہیا کی بو اس میں رہ جائے گی جو دوسری چوہیوں کے لیے خطرے کے الارم کا کام دے گی۔ اس لیے اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے۔ ہر چوہے یا چوہیا کو پکڑنے کے بعد چوہے دان کو دھو لینا چاہیے۔ اگر گھر میں زیادہ چوہے چوہیاں ہوں اور ان سب کو پکڑنا ہو تو ایک چوہے دان کام نہیں دے گا۔ تین چار چوہے دان پاس رکھنے چاہئیں جو بدل بدل کر کام میں لائے جائیں ۔چوہے کی ذات بڑی سیانی ہوتی ہے، اگر ایک ہی چوہے دان گھر میں رکھا جائے گا تو چوہے اس سے خوف کھانا شروع کردیں گے۔ اور اس کے نزدیک تک نہیں آئیں گے۔\n\nبعض اوقات ان تمام باتوں کا خیال رکھنے پر بھی چوہے چوہیاں قابو میں نہیں آتیں۔ اس کی بہت سی وجہیں ہوتی ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ آپ سے پہلے جو مکان میں رہتا تھا اس نے اسی قسم کا چوہے دان استعمال کیا تھا جیسا کہ آپ کررہے ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے چوہے پکڑ کر باہر گلی یا بازار میں چھوڑ دیا ہو اور وہ چند دنوں کے بعد پھر واپس گھر آگیا ہو۔ ایسے چوہے جو ایک بار چوہے دان میں پھنس کر پھر اپنی جگہ پر واپس آجائیں اس قدر ہوشیار ہو جاتے ہیں کہ بڑی مشکل سے قابو میں آتے ہیں۔ یہ چوہے دوسرے چوہوں کو بھی خبردار کردیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوتی ہیں اور چوہے بڑے اطمینان سے اِدھر اُدھر دوڑتے رہتے ہیں اور آپ کا اور آپ کے چوہے دان کا منہ چڑاتے رہتے ہیں۔\n\nچوہے کے بِل کے پاس تو چوہے دان ہرگز ہرگز نہیں رکھنا چاہئے، اس لیے کہ اتنی بڑی چیز اپنے گھر کے پاس دیکھ کر جو پہلے کبھی نہیں ہوتی تھی، چوہا فوراً چوکنا ہو جاتا ہے اور اس کو دال میں کالا کالا نظرآجاتا ہے۔۔۔ جب کسی حیلے سے چوہے نہ پکڑے جائیں تو گردوپیش کی فضا کا مطالعہ و مشاہدہ کرکے یہ معلوم کرنا چاہیے کہ آس پاس کے لوگ کیسے ہیں، کس قسم کی چیزیں کھاتے ہیں اور ان کے گھروں کے چوہے کس چیز پر جلدی گرتے ہیں۔یہ تمام باتیں معلوم کرکے آپ کو تجربے کرنا پڑیں گے اور ایسی ترکیب ڈھونڈنا پڑے گی جس کے ذریعہ سے آپ اپنے گھر کے چوہے گرفتار کرسکیں۔\n\nشوکت چوہے پکڑنے کے فن پر ایک طویل لکچر دے سکتا ہے، کتاب لکھ سکتا ہے مگر چونکہ وہ طبعاً خاموشی پسند ہے اس لیے اس کے متعلق زیادہ بات چیت نہیں کرتا۔ صرف مجھے معلوم ہے کہ وہ اس فن میں کافی مہارت رکھتا ہے، محلے کے دوسرے آدمیوں کو اس کی مطلق خبر نہیں، البتہ اس کے پڑوسی اس کے یہاں سے کبھی کبھی چوہے دان عاریتاً ضرور منگایا کرتے ہیں اور اس نے اس غرض کے لیے ایک پرانا چوہے دان مخصوص کررکھا ہے۔\n\nپچھلی برسات کی بات ہے۔ میں شوکت کے یہاں بیٹھا تھا کہ اس کے پڑوسی خواجہ احمد صادق صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کا بڑا لڑکا ارشد صادق آیا، میں نے جب اٹھ کر دروازہ کھولا تو اس نے کہنا شروع کیا،’’ان کم بخت چوہوں نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ابا جی سے بار ہا کہہ چکا ہوں کہ زہر منگوائیے ان کو مارنے کے لیے مگر انھیں اپنے کاموں ہی سے فرصت نہیں ملتی اور یہاں ہر روز میری کتابوں کا ستیاناس ہورہا ہے۔۔۔ آج الماری کھولی تو یہ بڑا چوہا میرے سر پر آن گرا۔۔۔ تمہیں کیا بتاؤں ان چوہوں نے مجھے کتنا تنگ کیا ہے۔ کسی کتاب کی جلد سلامت نہیں۔ بعض بڑی کتابوں کی جلد تو اس صفائی سے ان کم بختوں نے کتری ہے کہ معلوم ہوتا ہے کسی نے آری سے کاٹ دی ہے۔‘‘\n\nمیں ارشد کو شوکت کے پاس لے گیا اور کہا، ’’ارشد صاحب تشریف لائے ہیں۔ چوہوں کی شکایت لے کر آئے ہیں۔‘‘\n\nارشد کرسی پر بیٹھ گیا اور پیشانی پر سے پسینہ پونچھ کر کہنے لگا، ’’شوکت صاحب، میں کیا عرض کروں۔ ابھی الماری کی تمام کتابیں میں باہر نکال کر آیا ہوں۔ ایک بھی ان میں ایسی نہیں جس پرچوہوں نے اپنے دانت تیز نہ کیے ہوں۔ باورچی خانہ موجود ہے، دوسری الماریاں ہیں جن میں ہر وقت کھانے پینے کی چیزیں پڑی رہتی ہیں، سمجھ میں نہیں آتا کہ میری کتابیں کترنے میں ان کو کیا مزا آتا ہے۔۔۔ یعنی کاغذ اور دفتی بھلا کوئی غذا ہے۔۔۔ اجی صاحب ایک انبار کترے ہوئے گتے اور دُھنکے ہوئے کاغذوں کا میں نے الماری میں سے نکالا ہے۔‘‘\n\nشوکت مسکرایا، ’’ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے گھر میں چوہے ہر روز سیندھ لگاتے پھریں۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘\n\nارشد نے اس مذاق سے لطف نہ اٹھایا اس لیے کہ وہ واقعی بہت پریشان تھا، ’’شوکت صاحب، وہ معمولی چوہے تھوڑے ہیں۔ موٹے موٹے سنڈے ہیں جو کھلے بندوں پھرتے رہتے ہیں۔۔۔ میرے سرپر ایک آن پڑا،خدا کی قسم ابھی تک درد ہورہا ہے۔‘‘\n\nشوکت اور میں دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ ارشد بھی مسکرا دیا، ’’آپ تو دل لگی کررہے ہیں اور یہاں غصہ کے مارے میرا برا حال ہورہا ہے۔‘‘\n\nشوکت نے اٹھ کر ارشد کو سگرٹ پیش کیا، ’’اپنے دل کا غبار اس کے دھوئیں کے ساتھ باہر نکالیے اور مجھے بتائیے کہ میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں۔‘‘\n\nارشد نے سگرٹ سلگایا اور کہا، ’’میں آپ سے چوہے دان مانگنے آیا تھا۔ امی جان نے مجھ سے کہا تھا کہ شوکت کے گھر میں میں نے دو تین پڑے دیکھے ہیں۔‘‘\n\nشوکت نے فوراً نوکر کو آواز دی اور اس ے کہا، ’’وہ چوہے دان جو تم نے کل گرم پانی سے دھوکر خوب صاف کیا تھا ارشد صاحب کے گھر دے آؤ اور دیکھو ان کے نوکر سے کہنا کہ اس الماری کے نیچے اس کونہ رکھے جہاں ارشد صاحب اپنی کتابیں رکھتے ہیں۔۔۔ اس الماری سے دور بھی نہیں۔ اس میں مچھلی یا تیل میں تلی ہوئی کسی چیز کا ٹکڑا لگا کر رکھ دیا جائے۔‘‘ پھر ارشد سے مخاطب ہو کرکہا، ’’آپ بھی اچھی طرح سن لیجیے گا۔۔۔ بازار سے اگرپکوڑے مل جائیں تو ایک پکوڑا کافی رہے گا۔۔۔ اور جب چوہا پکڑا جائے تو خدا کے لیے اسے میرے گھر کے پاس نہ چھوڑ دیجیے گا اور بہت جگہیں آپ کو مل جائیں گی جہاں سے وہ پھر واپس نہ آسکے۔‘‘دیر تک ارشد ہمارے پاس بیٹھا رہا۔ شوکت اس کو مزید ہدایات دیتا رہا۔ جب نوکر چوہے دان اس کے گھر پہنچا کر واپس آگیا تو اس نے اجازت چاہی اور چلا گیا۔\n\nاس واقعہ کے چار روز بعد ارشد میرے گھر آیا۔ میں اور وہ چونکہ اکٹھے کالج میں پڑھتے رہے ہیں۔ اسی لیے وہ میرے بے تکلف دوست ہیں، شوکت سے اس کا تعارف میں نے ہی کرایا تھا۔ آتے ہی اس نے اِدھر اُدھر دیکھا جیسے مجھ سے کوئی راز کی بات تخلیہ میں کہنا چاہتا ہے۔ میں نے پوچھا،’’کیا بات ہے۔ تم اتنے پریشان کیوں ہو؟‘‘\n\n’’میں تمہیں ایک بڑی دلچسپ بات سنانے آیا ہوں مگر یہاں نہیں سناؤں گا تم باہر چلو۔ یہ کہہ کر اس نے مجھے بازو سے پکڑا اور باہر لے گیا۔\n\nراستے میں اس نے مجھے اپنی داستان سنانا شروع کی، ’’عجیب وغریب کہانی ہے جو میں تمہیں سنانے والا ہوں۔ بخدا ایسی بات ہوئی کہ میری حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہی۔۔۔ یعنی کسے یقین تھا کہ اتنی ضدی اور نفاست پسند لڑکی ایک چوہے دان کے ذریعہ سے میرے قابو میں آجائے گی۔۔۔ اسی چوہے د ان کے ذریعہ سے جو اس روز تمہارے سامنے میں نے شوکت سے لیا تھا۔‘‘\n\nمیں نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا، ’’کون سی لڑکی اس چوہے دان میں پھنس گئی۔۔۔ لڑکی نہ ہوئی چوہیا ہوگئی۔۔۔ آخر بتاؤ تو سہی لڑکی کون ہے؟‘‘\n\n’’اماں وہی سلیمہ، جس کی نفاست پسندیوں کی بڑی دھوم ہے اور جس کی ضدی طبیعت کے بڑے چرچے ہیں۔‘‘\n\nمیری حیرت اور زیادہ بڑھ گئی، ’’سلیمہ۔۔۔ جھوٹ!‘‘\n\n’’خدا کی قسم۔۔۔ جھوٹ بولنے والے پر لعنت اور بھلا میں تم سے جھوٹ کیوں کہنے لگا۔۔۔ یہی سلیمہ، شوکت کے دیےہوئے چوہے دان کے ذریعہ سے میرے قابو میں آگئی اور بخدا یہ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ ایسی آسانی سے پھنس جائے گی۔۔۔‘‘\n\nمیں نے پھر اس سے حیرت بھرے لہجہ میں کہا، ’’لیکن یہ ہوا کیونکر۔ تم مجھے پوری داستان سناؤ توکچھ پتا چلے۔۔۔ چوہے دانوں سے بھی کبھی کسی نے لڑکیاں پھانسی ہیں۔ بڑی بےتکی سی بات معلوم ہوتی ہے مجھے۔‘‘\n\nمیں سلیمہ کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ ہمارے یہاں اس کا اکثر آنا جانا ہے۔ وہ صرف نفاست پسند ہی نہیں بلکہ بڑی ذہین لڑکی ہے۔ انگریزی زبان پر اسے خوب عبورحاصل ہے۔ تین چار مرتبہ اس سے مجھے گفتگو کرنے کا اتفاق ہوا تو میں نے معلوم کیا کہ ادب اور شعر کے متعلق اس کی معلومات بہت وسیع ہیں۔ مصور بھی ہے، پیانو بجانے میں بڑی مہارت رکھتی ہے۔ اس کی ضدی اور نفاست پسند طبیعت کے بارے میں بھی چونکہ مجھے بہت کچھ معلوم ہے، اسی لیے مجھے ارشد کی یہ بات سن کر سخت تعجب ہوا۔ وہ تو کسی کو خاطر ہی میں لانےوالی نہیں۔ ارشد جیسے چغد کو اس نے کیسے پسند کرلیا۔ یہ معمہ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا۔\n\nارشد بے حد خوش تھا۔ اس نے میری طرف فتح مند نظروں سے دیکھا اور کہا، ’’میں تمہیں ساراواقعہ سنا دیتا ہوں۔ اس کے بعد کسی قسم کی وضاحت کی ضرورت نہ رہے گی۔۔۔ قصّہ یہ ہے کہ پرسوں رات کو امی جان اور ابا جی اور دوسرے لوگ سب سینما دیکھنے چلے گئے۔ میں گھر میں اکیلا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں۔ آرام کرسی میں ٹانگیں پھیلائے لیٹا یہی سوچ رہا تھا کہ ایک موٹا سا چوہا مجھے نظر آیا۔ اس کو دیکھنا تھا کہ مارے غصہ کے میرا خون کھولنے لگا۔ فوراً اٹھا اور اس کو پکڑنے کی ترکیب سوچنے لگا۔ اسے ہاتھ سے پکڑنا تو ظاہر ہے بالکل محال تھا،میں کسی طریقے سے اس کو مار بھی نہیں سکتا تھا، اس لیے کہ کمرے میں بے شمار فرنیچر اور ٹرنک وغیرہ پڑے تھے۔\n\nمیں نے شوکت کے دیے ہوئے چوہے دان کا خیال کیا جس سے آٹھ چوہے ہم لوگ پکڑ چکے تھے مگر شوکت کی ہدایات کے مطابق اس کو گرم پانی سے دھونا ضروری تھا۔ مجھے کوئی کام تو تھا نہیں اور وقت بھی کافی تھا، چنانچہ میں نے خود ہی سما وار میں پانی گرم کیا اور چوہے دان کو دھونا شروع کردیا۔ ابھی میں نے لوٹے سے گرم پانی کی دھار اس کے آہنی تاروں پر ڈالی ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سلیمہ کھڑی ہے۔ میں نے کہا، ’’آئیے، آئیے۔‘‘ وہ اندر چلی آئی اور کہنے لگی، ’’کیا کررہے ہیں آپ؟‘‘ میں نے جھینپ کر جواب دیا، ’’جی چوہے دان دھو رہا ہوں۔‘‘ وہ بے اختیار ہنس پڑی۔ ’’چوہے دان دھو رہے ہیں۔۔۔ یہ صفائی آخر کس لیے ہورہی ہے۔۔۔ کوئی بڑا چوہا انسپکشن کے لیے تو نہیں آرہا۔‘‘ یہ سن کر میری جھینپ دور ہو گئی اور میں نے قہقہہ لگا کر کہا، ’’جی ہاں۔۔۔ ایک بہت بڑا چوہا انسپکشن کے لیے آنا چاہتا ہے ،یہ صفائی اسی سلسلے میں ہورہی ہے۔‘‘\n\nیہ کہہ کر ارشد خاموش ہوگیا۔ اس پر میں نے اس سے کہا، ’’سناتے جاؤ۔ رکو نہیں۔۔۔ تمہاری داستان بہت دلچسپ ہے۔۔۔ ہاں تو پھر سلیمہ نے کیا کہا۔‘‘\n\n’’کچھ نہیں۔ میری بات سن کروہ صحن ہی میں چوکی پر بیٹھ گئی اور کہنےلگی،’’ آپ صفائی کیجیے۔ اس صفائی کی انسپکشن میں کروں گی۔۔۔ ہاں یہ تو بتائیےآج یہ سب لوگ کہاں گئے ہیں؟‘‘ میں نے جواب دیا،’’سینما گئے ہیں، میں بے کار بیٹھا تھا کہ ایک چوہا اپنے کمرے میں مجھے نظر آیا۔ میں کیا عرض کروں ہمارے گھر میں کس طرح بڑے بڑے موٹے سنڈے چوہے سیندھ مارتے پھرتے ہیں۔ میری کتابوں کا تو انھوں نے ستیاناس کردیا ہے۔ اب ان کے ظلم و ستم سے میرے اندر ایک انتقامی جذبہ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ چوہے دان لے آیا ہوں اس سے ہر روز دو تین چوہے پکڑتا ہوں اور ان کو کالے پانی بھیج دیتا ہوں۔‘‘\n\nسلیمہ نے میری گفتگو میں دلچسپی ظاہر کی، ’’خوب، خوب۔۔۔ لیکن یہ تو بتائیے کالا پانی یہاں سے کتنی دور ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’بہت دور نہیں۔ کوتوالی کےپاس ہی جو گندہ نالا بہتا ہے اسی کو فی الحال میں نے کالا پانی بنا لیا ہے۔ چوہوں نے اس پر اعتراض نہیں کیا، کیونکہ اس موری کا پانی کالا ہی ہے۔‘‘ ہم دونوں خوب ہنسے۔ پھر میں نے لوٹا اٹھایا اور چوہے دان کو برش کے ساتھ دھونا شروع کردیا۔ جب چھینٹے اڑے تو میں نے سلیمہ سے کہا، ’’آپ یہاں سے اٹھ جائیے، چھینٹے اڑ رہے ہیں۔۔۔ ویسے بھی یہ میری بڑی بدتمیزی ہے کہ میں آپ کے سامنے ایسی غلیظ چیز صاف کرنے بیٹھ گیا ہوں۔‘‘ اس نے فوراً ہی کہا، ’’آپ تکلف نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے چلے جائیے۔ چھینٹوں کے متعلق بھی آپ کوئی فکر نہ کریں۔‘‘\n\nجب میں نے چوہے دان اچھی طرح دھو کر صاف کرلیا تو سلیمہ نے پوچھا، ’’اچھا، اب آپ یہ بتائیے کہ اس کو دھونے کی کیا ضرورت تھی، بغیر دھوئے کیا آپ اس ظالم چوہے کو نہیں پکڑ سکتے۔‘‘ میں نے کہا، ’’جی نہیں۔۔۔ اس سے پہلے چونکہ اس چوہے دان میں ہم ایک چوہا پکڑ چکے ہیں اور اس کی بو اس میں ابھی تک باقی ہے اس لیے دھونا ضروری ہے گرم پانی سے ،چوہے کی بو غائب ہو جائے گی۔ اس لیے دوسرا چوہا آسانی کے ساتھ پھنس جائے گا۔‘‘ میری یہ بات سن کر سلیمہ نے بالکل بچوں کی طرح کہا، ’’اگر چوہے دان میں چوہے کی بو رہ جائے تو دوسرا چوہا نہیں آتا۔‘‘ میں نے اسکول ماسٹروں کا سا انداز اختیار کرلیا، ’’بالکل نہیں، اس لیے کہ چوہوں کی ناک بڑی تیز ہوتی ہے۔ آپ نے سنا نہیں عام طور پر یہ کہا کرتے ہیں کہ فلاں آدمی کی تو چوہے کی ناک ہے۔ یعنی اس کی قوتِ شامہّ بڑی تیز ہے۔۔۔ سمجھیں آپ؟‘‘ سلیمہ نے میری طرف جب دیکھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے ایک بہت بڑی بات اس سے کہہ دی ہے جس کو سن کر وہ بہت مرعوب ہوگئی ہے۔ اس کی نگاہوں میں مجھے اپنے متعلق قدرو منزلت کی جھلک نظر آئی۔ اس سے مجھے شہ مل گئی۔ چنانچہ وہ تمام باتیں جو میں نے شوکت سے اس روز سنی تھیں۔ ایک لیکچر کی صورت میں دہرانا شروع کردیں اور وہ۔۔۔‘‘\n\nمیں نے اس کی بات کاٹ کرکہا، ’’یہ سب مجھے افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ تم جھوٹ کہتے ہو۔‘‘\n\n’’تم بھی عجیب قسم کے منکر ہو۔‘‘ ارشد نے بگڑ کر کہا،’’بھئی قسم خدا کی ، اس کا ایک ایک لفظ سچ ہے۔ مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ تمہیں حیرت ضرور ہوگی، اس لیے کہ میں خود بہت متحیر ہوں۔ سلیمہ جیسی پڑھی لکھی اور ذہین لڑکی ایسی فضول باتوں سے متاثر ہوگئی۔ یہ بات مجھے ہمیشہ متحیررکھے گی، مگر بھئی حقیقت سے تو انکار نہیں ہوسکتا۔ اس نے میری اوٹ پٹانگ باتیں بڑے غور سے سنیں جیسے اسے دنیا کا کوئی راز نہفتہ بتا رہا ہوں۔۔۔ واللہ یہ ذہین لڑکیاں بھی پرلے درجے کی سادہ لوح ہوتی ہیں۔ سادہ لوح نہیں کہنا چاہیے۔ خدا معلوم کیا ہوتی ہیں۔ تم ان سے کوئی عقل کی بات کہوتو بس بگڑ جائیں گی ۔یہ سمجھیں گی کہ ہم نے ان کی عقل و دانش پر حملہ کردیا ہے اور جب اُن سے کوئی معمولی سی بات کہو جس سے ذہانت کو دورکا تعلق بھی نہ ہو تو وہ یہ سمجھیں گی کہ ان کی معلومات میں اضافہ ہورہا ہے۔۔۔ تم کسی فلسفہ داں اور بال کی کھال اتارنے والی عورت سے کہوکہ خدا ایک ہے تو وہ نکتہ چینی شروع کردے گی۔ اگر اس سے یہ کہو دیکھو میں نے تمہارے سامنے ماچس کی ڈبیا سے یہ ایک تیلی نکالی ہے، یہ ہوئی ایک تیلی، اب میں دوسری نکالتا ہوں۔ میز پر ان تیلیوں کو پاس پاس رکھ کر جب تم اس سے یہ کہو گے، دیکھو، اب یہ دو تیلیاں ہوگئی ہیں تو وہ اس قدر خوش ہوگی کہ اٹھ کر تمہیں چومنا شروع کردے گی۔‘‘\n\nیہ کہہ کر ارشد خوب ہنسا۔ مجھے بھی ہنسنا پڑا اس لیے کہ بات ہی ہنسی پیدا کرنے والی تھی۔ جب ہم دونوں کی ہنسی کم ہوئی۔ میں نے اس سے کہا، ’’اب تم اپنی بقیہ کہانی سناؤ اور ہنسی مذاق کو چھوڑو۔‘‘\n\n’’ہنسی مذاق میں کیسے چھوڑ سکتا ہوں بھائی۔‘‘ ارشد نے بڑی سنجیدگی سے کہا، ’’میں تو اس سے ہنسی مذاق ہی میں باتیں کررہا تھا مگر وہ بڑی سنجیدگی سے سن رہی تھی۔ ہاں تو جب میں نے چوہے پکڑنے کے اصول اس کو بتا دیے تو اور زیادہ بچہ بن کر اس نے مجھ سے کہا،’’ارشد صاحب !آپ تو فوراً چوہے پکڑ لیتے ہوں گے؟‘‘ میں نے بڑے فخر کے ساتھ جواب دیا، ’’جی ہاں، کیوں نہیں۔‘‘ اس پر سلیمہ نے بڑے اشتیاق کے ساتھ کہا، ’’کیا آپ اس چوہے کو جو آپ نے ابھی ابھی دیکھا تھا میرے سامنے پکڑ سکتے ہیں؟‘‘\n\n’’اجی یہ بھی کوئی مشکل بات ہے، یوں چٹکیوں میں اسے گرفتار کیا جاسکتا ہے۔‘‘ سلیمہ اٹھ کھڑی ہوئی، ’’تو چلیے، میرے سامنے اسے گرفتار کیجیے۔ میں سمجھتی ہوں آپ کبھی اس چوہے کو پکڑ نہیں سکیں گے۔‘‘\n\nمیں یہ سن کر یونہی مسکرا دیا، ’’آپ غلط سمجھتی ہیں۔ پندرہ نہیں تو بیس منٹ میں وہ چوہا اس چوہے دان میں ہوگا اور آپ کی نظروں کے سامنے ،بشرطیکہ آپ اتنے عرصہ تک انتظار کرسکیں۔‘‘ سلیمہ نے کہا، ’’میں ایک گھنٹے تک یہاں بیٹھنے کے لیے تیار ہوں مگر میں آپ سے پھر کہتی ہوں کہ آپ ناکام رہیں گے۔۔۔؟ وقت مقرر کرکے آپ چوہے کو کیسے پکڑ سکتے ہیں۔۔۔؟‘‘\n\n’’میں اس وقت عجیب و غریب موڈ میں تھا۔ اگر کوئی مجھ سے یہ کہتا کہ تم خدا دکھا سکتے ہو تو میں فوراً کہتا، ہاں دکھا سکتا ہوں۔ چنانچہ میں نے بڑے فخریہ لہجہ میں سلیمہ سے کہا،’’ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔۔۔ میں ابھی آپ کو وہ چوہا پکڑ کے دکھا دیتا ہوں مگر شرط باندھیے۔ ‘‘اس نے کہا،’’ میں ہر شرط باندھنے کے لیے تیار ہوں، اس لیے کہ ہار آپ ہی کی ہوگی۔ ‘‘اس پر خدا معلوم مجھ میں کہاں سے جرأت آگئی جو میں نے اس سے کہا،’’ تو یہ وعدہ کیجیے کہ اگر میں نے چوہا پکڑ لیا تو آپ سے جو چیز طلب کروں گا آپ بخوشی دے دیں گی۔‘‘ سلیمہ نے جواب دیا،’’مجھے منظور ہے۔‘‘\n\nچنانچہ میں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے چوہے دان میں صبح کی تلی ہوئی مچھلی کا ایک ٹکڑا لگایا اور اس کو اپنی کتابوں کی الماری سے دور صوفے کے پاس رکھ دیا۔ شرط ورط کا مجھے اس وقت کوئی خیال نہیں تھا۔ لیکن میں دل میں یہ دعا ضرور مانگ رہا تھا کہ کوئی نہ کوئی چوہا ضرور پھنس جائے تاکہ میری سرخ روئی ہو۔ نہ جانے کس جذبہ کے ماتحت میں نے گپ ہانک دی۔ بعد میں مجھے افسوس ہوا کہ خواہ مخواہ شرمندہ ہونا پڑے گا۔ چنانچہ ایک بار میرے جی میں آئی کہ اس سے کہہ دوں، میں تو آپ سے یونہی مذاق کررہا تھا۔ چوہا پندرہ منٹ میں کیسے پکڑا جاسکتا ہے۔۔۔گاندھی جی کا ستیہ گرہ ہی ہوتا تو اسے جب چاہے پکڑ لیتے مگر یہ تو چوہا ہے۔ آپ خود ہی غور فرمائیں۔ مگر میں اس سے یہ نہ کہہ سکا۔ اس لیے کہ اس میں میری شکست تھی۔‘‘\n\nیہ کہہ کر ارشد نے جیب سے سگرٹ نکال کر سلگایا اور مجھ سے پوچھا، ’’ کیا خیال ہے تمہارا اس داستان کے متعلق؟‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’بہت دلچسپ ہے، مگر اس کا دلچسپ ترین حصّہ تو ابھی باقی ہے۔ جلدی جلدی وہ بھی سنا دو۔‘‘\n\n’’کیا پوچھتے ہو دوست۔۔۔ وہ پندرہ منٹ جو میں نے انتظار میں گزارے ساری عمر مجھے یاد رہیں گے۔ میں اور سلیمہ کمرے کے باہر کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ وہ خدا معلوم کیا سوچ رہی تھی۔ مگر میری بری حالت تھی۔ سلیمہ نے میری جیب گھڑی اپنی ران پرر کھی ہوئی تھی۔ میں بار بار جھک کر اس میں وقت دیکھ رہا تھا۔ دس منٹ گزر گئے مگر پاس والے کمرہ میں چوہے دان بند ہونے کی کھٹ نہ سنائی دی۔ گیارہ منٹ گزر گئے۔ کوئی آواز نہ آئی۔ ساڑھے گیارہ منٹ ہوگئے۔ خاموشی طاری رہی۔ بارہ منٹ گزرنے پر بھی کچھ نہ ہوا۔ سوا بارہ منٹ ہوگئے، ساڑھے بارہ ہوئے کہ دفعتاً کھٹ کی آواز بلند ہوئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ چوہے دان میرے سینے میں بند ہوا ہے۔ ایک لمحہ کے لیے میرے دل کی دھڑکن بند سی ہوگئی۔ لیکن فوراً ہی ہم دونوں اٹھے۔ دوڑ کر کمرے میں گئے اور چوہے دان کے تاروں میں سے جب مجھے ایک موٹے چوہے کی تھوتھنی اور اس کی لمبی لمبی مونچھیں نظر آئیں تو میں خوشی سے اچھل پڑا۔ پاس ہی سلیمہ کھڑی تھی، اس کی طرف میں نے فتح مند نظروں سے دیکھا اور جھٹ پٹ اس کے حیرت سے کھلے ہوئے ہونٹوں کو چوم لیا۔\n\nیہ سب کچھ اس قدرجلدی میں ہوا کہ سلیمہ چند لمحات تک بالکل خاموش رہی، لیکن اس کے بعد اس نے خفگی آمیز لہجہ میں مجھ سے کہا، ’’یہ کیا بیہودگی ہے؟‘‘ اس وقت خدا معلوم میں کیسے موڈ میں تھاکہ ایک بار میں نے پھر اسی افراتفری میں اس کا بوسہ لے لیا اور کہا، ’’اجی مولانا آپ نے شرط ہاری ہے۔‘‘ اور۔۔۔ تیسری مرتبہ اس نے اپنے ہونٹ بوسے کے لیے خود پیش کردیے ۔۔۔ جس طرح چوہا ہاتھ آیا اسی طرح سلیمہ بھی ہاتھ آگئی، مگر بھئی میں شوکت کا بہت ممنون ہوں۔ اگر میں نے چوہے دان کو گرم پانی سے نہ دھویا ہوتا توچوہا کبھی نہ پھنستا۔‘‘\n\nیہ داستان سن کر مجھے بہت لطف آیا۔ لیکن افسوس بھی ہوا، اس لیے کہ شوکت اس لڑکی سلیمہ کی محبت میں بری طرح گرفتار ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%88%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D9%86"} {"title": "چٹکیاں لی ہی کہ اٹھ بیٹھ جو مر جائے کوئی", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چٹکیاں لی ہی کہ اٹھ بیٹھ جو مر جائے کوئی\nاے ستم گر ترے ہاتھوں سے کدھر جائے کوئی\n\nکیوں کی گزرے گی نہ گزرو گے جو تم یار ادھر\nپس یہ مرضی ہے کہ بس جیسے گزر جائے کوئی\n\nمرے مرنے سے ترا شہرہ ہوا یا قسمت\nکہ بگڑ جائے کوئی اور سنور جائے کوئی\n\nایک دم کا بھی بھروسا نہیں مانند حیات\nبحر ہستی میں حباب آ کے ابھر جائے کوئی\n\nشمع ساں سر نہ کٹے اس کا یہ امکان نہیں\nبزم خوباں میں جو با دیدۂ تر جائے کوئی\n\nدل مرا تم نے چرایا مجھے الٹی ہے یہ فکر\nنہ خبر پائے کوئی تا نہ بپھر جائے کوئی\n\nآپ کے عہد میں یہ رسم ہے دیکھی ہم نے\nکہ گنہ گار کوئی اور ہو ڈر جائے کوئی\n\nگھر سے نکلو کہ ہمیں گھر کی نہ کچھ یاد رہے\nگھر میں بیٹھے ہوئے کہتی ہو نہ گھر جائے کوئی\n\nیوں تو سمجھے سنے آتی نہیں احساںؔ کو سمجھ\nکیا تماشا ہو کہ دل لے کے مکر جائے کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%B9%DA%A9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "چپ بھی ہو بک رہا ہے کیا واعظ", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چپ بھی ہو بک رہا ہے کیا واعظ\nمغز رندوں کا کھا گیا واعظ\n\nتیرے کہنے سے رند جائیں گے\nیہ تو ہے خانۂ خدا واعظ\n\nاللہ اللہ یہ کبر اور یہ غرور\nکیا خدا کا ہے دوسرا واعظ\n\nبے خطا میکشوں پہ چشم غضب\nحشر ہونے دے دیکھنا واعظ\n\nہم ہیں قحط شراب سے بیمار\nکس مرض کی ہے تو دوا واعظ\n\nرہ چکا میکدے میں ساری عمر\nکبھی مے خانے میں بھی آ واعظ\n\nہجو مے کر رہا تھا منبر پر\nہم جو پہنچے تو پی گیا واعظ\n\nدخت رز کو برا مرے آگے\nپھر نہ کہنا کبھی سنا واعظ\n\nآج کرتا ہوں وصف مے میں امیرؔ\nدیکھوں کہتا ہے اس میں کیا واعظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%A8%DA%A9_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "چپکا چپکا پھرا نہ کر تو غم سے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "چپکا چپکا پھرا نہ کر تو غم سے\nکیا حرف و سخن عیب ہے کچھ محرم سے\nآخر کو رکے رہتے جنوں ہوتا ہے\nاے میرؔ کوئی بات کیا کر ہم سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%BE%DA%A9%D8%A7_%DA%86%D9%BE%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "چپکے رہنا نہ میرؔ دل میں ٹھانو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "چپکے رہنا نہ میرؔ دل میں ٹھانو\nبولو چالو کہا ہمارا مانو\nیک حرف نہ کہہ سکوگے وقت رفتن\nچلنے کو زبان کے غنیمت جانو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%BE%DA%A9%DB%92_%D8%B1%DB%81%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88"} {"title": "چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے\nہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے\n\nباہزاراں اضطراب و صدہزاراں اشتیاق\nتجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے\n\nبار بار اٹھنا اسی جانب نگاہ شوق کا\nاور ترا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے\n\nتجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہو جانا مرا\nاور ترا دانتوں میں وہ انگلی دبانا یاد ہے\n\nکھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً\nاور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے\n\nجان کر سوتا تجھے وہ قصد پا بوسی مرا\nاور ترا ٹھکرا کے سر وہ مسکرانا یاد ہے\n\nتجھ کو جب تنہا کبھی پانا تو از راہ لحاظ\nحال دل باتوں ہی باتوں میں جتانا یاد ہے\n\nجب سوا میرے تمہارا کوئی دیوانہ نہ تھا\nسچ کہو کچھ تم کو بھی وہ کارخانا یاد ہے\n\nغیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف\nوہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے\n\nآ گیا گر وصل کی شب بھی کہیں ذکر فراق\nوہ ترا رو رو کے مجھ کو بھی رلانا یاد ہے\n\nدوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے\nوہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے\n\nآج تک نظروں میں ہے وہ صحبت راز و نیاز\nاپنا جانا یاد ہے تیرا بلانا یاد ہے\n\nمیٹھی میٹھی چھیڑ کر باتیں نرالی پیار کی\nذکر دشمن کا وہ باتوں میں اڑانا یاد ہے\n\nدیکھنا مجھ کو جو برگشتہ تو سو سو ناز سے\nجب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ہے\n\nچوری چوری ہم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ\nمدتیں گزریں پر اب تک وہ ٹھکانا یاد ہے\n\nشوق میں مہندی کے وہ بے دست و پا ہونا ترا\nاور مرا وہ چھیڑنا وہ گدگدانا یاد ہے\n\nباوجود ادعائے اتقا حسرتؔ مجھے\nآج تک عہد ہوس کا وہ فسانا یاد ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%BE%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%BE%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%AF%D9%86_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%92"} {"title": "چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\nجی ہی جی میں تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nابر کیا آنسو بہانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\nبرق کیا ہے تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nذکر شمع حسن لانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\nان کو درپردہ جلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nجھوٹ موٹ افیون کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\nان کو کف لا کر ڈرانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nسن کے آمد ان کی از خود رفتہ ہو جاتے ہیں ہم\nپیشوا لینے کو جانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nہم نے اول ہی کہا تھا تو کرے گا ہم کو قتل\nتیوروں کا تاڑ جانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nلطف اٹھانا ہے اگر منظور اس کے ناز کا\nپہلے اس کا ناز اٹھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nجو سکھایا اپنی قسمت نے وگرنہ اس کو غیر\nکیا سکھائے گا سکھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nدیکھ کر قاتل کو بھر لائے خراش دل میں خوں\nسچ تو یہ ہے مسکرانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nتیر و پیکاں دل میں جتنے تھے دیے ہم نے نکال\nاپنے ہاتھوں گھر لٹانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nکہہ دو قاصد سے کہ جائے کچھ بہانے سے وہاں\nگر نہیں آتا بہانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nخط میں لکھوا کر انہیں بھیجا تو مطلع درد کا\nدرد دل اپنا جتانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nجب کہا مرتا ہوں وہ بولے مرا سر کاٹ کر\nجھوٹ کو سچ کر دکھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nواں ہلے ابرو یہاں پھیری گلے پر ہم نے تیغ\nبات کا ایما سے پانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nتیغ تو اوچھی پڑی تھی گر پڑے ہم آپ سے\nدل کو قاتل کے بڑھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nزخم کو سیتے ہیں سب پر سوزن الماس سے\nچاک سینے کے سلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nپوچھے ملا سے جسے کرنا ہو سجدہ سہو کا\nسیکھے گر اپنا بھلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے\n\nکیا ہوا اے ذوقؔ ہیں جوں مردمک ہم رو سیاہ\nلیکن آنکھوں میں سمانا کوئی ہم سے سیکھ جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%D9%BE%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%BE%DA%A9%DB%92_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "چچا سام کے نام آٹھواں خط", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "چچا جان، تسلیم و نیاز۔\n\nامید ہے کہ میرا ساتواں خط آپ کو مل گیا ہوگا۔ اس کے جواب کا مجھے انتظار ہے۔ کیا آپ نے روسی ثقافتی وفد کے توڑ میں کوئی ایسا ہی ثقافتی اور خیر سگالی وفد یہاں پاکستان میں بھیجنے کا ارادہ کر لیا۔۔۔؟ مجھے اس سے ضرور مطلع فرمایئے گا تاکہ اس طرف سے مجھے اطمینان ہو جائے اور میں یہاں کے کمیونسٹوں کو جو ابھی تک روسی وفد کی شاندار کامیابی پر بغلیں بجا رہے ہیں، یہ خبر سنا کر برفادوں کہ میرے چچا جان اس سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر ایسا وفد بھیج رہے ہیں جس میں ملین ڈالر ٹانگوں اور بلین ڈالر جو بنوں والی لڑکیاں شامل ہوں گی جن کی ایک جھلک دیکھ کر ہی ان کی رال ٹپکنے لگے گی۔\n\nآپ کو یہ سن کر خوشی ہوئی کہ ہمارے صوبے کے وزیر اعظم جناب ملک فیروز خان نون صاحب میدان عمل میں کود پڑے ہیں۔ آپ نے پچھلے دنوں زیرلب صرف اتنا کہا تھا کہ ہمیں کمیونسٹوں کی رشیہ دوانیوں کو دبانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ مبارک ہو کہ دابنے دبانے کا یہ کام شروع ہو چکا ہے۔ بسم اللہ کمیونسٹوں کے دفتر پر پولیس کے چھاپے سے ہوئی ہے اور میں یہ خط اسی خوشی میں لکھ رہا ہوں۔ ہمارے اخبار کہتے ہیں کہ بہت جلد ’’سرخوں‘‘ کی گرفتاریوں کی بھرمار شروع ہو جائے گی۔ محکمہ پولیس نے گرفتار کئے جانے والوں کی فہرست تیار کر لی ہے۔ اللہ نے چاہا تو بہت جلد یہ فتنہ ساز جیلوں میں ہوں گے۔ سب سے پہلے اگر کامریڈ فیروز الدین منصور کو قید کیا گیا تو مجھے بڑی راحت ہوگی۔ اس کو دمے کی شکایت ہے۔ میں نے سنا ہے کہ جس کو یہ مرض ہو تو وہ مرنے کا کبھی نام ہی نہیں لیتا۔ یہ مرض کی اگر زیادتی ہے تو کامریڈ منصور کی بھی زیادتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر اب اسے جیل میں ڈالا گیا تو ضرور مر جائے گا۔۔۔ خس کم جہاں پاک۔\n\nاحمد ندیم قاسمی بھی یقیناً قید کیا جائے گا۔ میاں افتخار الدین نے اس کو اپنے پرچے ’’امروز‘‘ کا ایڈیٹر بنا کر بہت بڑا جرم کیا۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ میاں صاحب گرفتار کئے جاتے مگر وہ بڑے کائیاں ہیں۔ پولیس ہتھکڑیاں لے کر اس کی کوٹھی پہنچے گی تو وہ مسکراتے ہوئے باہر نکلیں گے اور ’’اسٹے آرڈر‘‘ دکھا دیں گے۔ پچھلے دنوں’امروز‘ اور ’پاکستان ٹائمز‘ کے دفاتر میں کرائے کی نادہندگی کے باعث تالے لگنے ہی والے تھے کہ ایک ’اسٹے آرڈر‘ مداری کے مانند تھیلے سے باہر نکال کر پولیس کی متحیر آنکھوں کے سامنے رکھ دیا گیا تھا۔ بہرحال احمد ندیم قاسمی بھی قصور وار ہے۔ اس کو اس کی سزا ضرور ملنی چاہیئے۔ کم بخت ’’پنج دریا‘‘ کا قلمی نام لکھ کر آپ کی تاروں بھری ٹوپی اچھالتا رہتا ہے۔\n\nمیری تو یہ رائے ہے کہ آپ پانچ چھ امریکی لڑکیاں (صرف کنواری) اس کی بہنیں بنا دیں۔ اس کو راہ راست پر لانے کا یہ نسخہ بہت مجرب ہے۔ اس صورت میں اس کو جیل خانے میں ٹھونسنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ جب پانچوں گھی میں اور سر کڑاہے میں ہوگا تو کمیونزم اس کے دماغ سے ایسے غائب ہو گی جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ جونہی یہاں ’’سرخوں‘‘ کی گرفتاریاں عمل میں آئیں، میں آپ کو مطلع کر دوں گا۔ میری برخورداریاں نوٹ فرماتے جائیے گا۔ اگر آپ اچھے موڈ میں ہوں تو مجھے تین سو روپے بطور قرض دینا نہ بھولئے گا۔ پچھلا تین سو تو میں نے دو دن کے اندر اندر ہی ختم کر ڈالا تھا اور آپ کی یہ عنایت قریب قریب دو برس پرانی ہو چکی ہے۔\n\nمیں نے اپنے چھٹے خط کے متعلق جو آپ تک نہیں پہنچا، تفتیش کی ہے۔ جیساکہ مجھے شک تھا، یہ سب ان ناہنجار کمیونسٹوں کی شرارت تھی۔ احمد راہی کو آپ جانتے ہیں؟ وہی ’’ترنجن‘‘ کا مصنف، جس کو ہماری حکومت نے پانچ سو روپیہ انعام دیا تھا کہ اس نے پنجابی زبان میں بڑی پیاری نظمیں لکھی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں یہ نظمیں بڑی پیاری اور نرم و نازک ہیں، مگر آپ نہیں جانتے یہ راہی بڑا خطرناک کمیونسٹ ہے، پارٹی آفس میں دوسرے ممبر ٹوٹے پیالوں میں چاء پیتے ہیں مگر یہ چھپ چھپ کر بیئر پیتا ہے اور پی پی کر موٹا ہو رہا ہے۔ میرا دوست ہے۔ میں نے اسی کو خط پوسٹ کرنے کے لئے دیا تھا، مگر کمیونسٹ جو ہوا۔ یہ خط گول کر گیا اور پارٹی کے حوالے کر دیا۔ مجھے ابھی تک پورے طور پر تاؤ نہیں آیا اور میرے پاس اتنے پیسے بھی نہیں۔ ورنہ میں نے سوچ رکھا ہے کہ ایک روز اس کو اتنی بیئر پلاؤں کہ اس کی توند پھٹ جائے۔\n\nایک دن کم بخت مجھ سے کہنے لگا، ’تم اپنے چچا سام کو چھوڑو‘ مالنکوف سے خط و کتابت شروع کرو۔ آخر وہ تمہارا ماموں ہے۔ میں نے کہا یہ درست ہے، لیکن وہ میرے سوتیلے ماموں ہیں، ان کو مجھ سے یا مجھ کو ان سے کبھی محبت نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ میں جانتا ہوں کہ ان کا اپنے سگے بھانجوں سے بھی کوئی اچھا برتاؤ نہیں۔ وہ غریب اس پر اپنی جان چھڑکتے ہیں۔ ان سے بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں۔ پھٹے پرانے کپڑوں میں اپنی خستہ حالیوں کے باوجود دن رات اس کی خدمت کرتے ہیں اور وہ صرف ایک سوکھی شاباشی اپنی سرخ مہر لگا کر وہاں سے روانہ کر دیتا ہے۔ انگریز چچا اور انگریز ماموں اس روسی ماموں سے لاکھ درجے بہتر ہے۔ خان بہادر اور خان صاحب ایسے خطابوں ہی سے سرفراز فرما کر ٹرخا دیتے تھے، لیکن مالنکوف صاحب یہ بھی نہیں کرتے۔۔۔ میں جب مانوں کہ وہ عبداللہ ملک کو جو ان کا سب سے وفادار بھانجا ہے، کوئی چھوٹا سا خطاب ہی عطا فرما دیں۔ اس کے لئے جیل جا کر آرام و اطمینان سے کتابیں لکھنے میں کتنی آسانی ہو جائے گی۔\n\nکچھ بھی ہو۔ میں آپ کا غلام ہوں۔ آپ نے تو پہلے تین سو روپوں ہی میں مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خرید لیا تھا، اگر آپ تین سو اور بھیج دیں تو دوسری زندگی میں بھی اس غلامی کو برقرار رکھنے کا وعدہ کرتا ہوں بشرطیکہ اللہ میاں جو آپ سے بڑا ہے، میرے لئے پانچ چھ سو روپے ماہوار کا وظیفہ مقرر نہ کر دے۔ اگر انہوں نے کسی حوا سے میرا نکاح پڑھوا دیا تو مجھے افسوس ہے کہ یہ وعدہ اس صورت میں تو بالکل ایفا نہ ہو سکے گا۔۔۔ میری صاف بیانی کی داد دیجئے۔ بات در اصل یہ ہے کہ میں اللہ میاں اور اس کی حور کے سامنے چوں تک بھی نہ کر سکوں گا۔\n\nآج کل ہمارے یہاں شاہی مہمانوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ پہلے شاہ ایران آئے، پھر شاہ عراق، پھر پرنس علی خان (آپ کی ریٹا بیورتھ کے سابق شوہر) مہاراجہ جے پور۔۔۔ اور اب شاہ سعود والی سعودی عرب، میں شاہ سعود خلد اللہ ملکہ کی آمد کا آنکھوں دیکھا اور کانوں سنا حال مختصراً بیان کرتا ہوں، شاہ سعود اپنے پچیس شہزادوں سمیت ہوائی جہاز کے ذریعے سے کراچی پہنچے جہاں ان کا بڑا شاندار استقبال ہوا۔ ان کے شہزادے اور بھی ہیں۔ معلوم نہیں وہ کیوں نہ آئے۔ شاید اس لئے کہ دو تین ہوائی جہاز اور درکار ہوں گے۔ یا ان کی عمر بہت چھوٹی ہوگی اور وہ اپنی ماؤں کی گود کو ہوائی جہاز پر ترجیح دیتے ہوں گے۔ بات بھی ٹھیک ہے اپنی ماؤں اور اونٹنیوں کا دودھ پینے والے بچے گلیکسو یا کاؤگیٹ کے خشک دودھ پر کیسے جی سکتے ہیں۔\n\nچچا جان، غور کرنے والی بات ہے۔ شاہ سعود کے ساتھ ماشاء اللہ ان کے پچیس لڑکے تھے۔ لڑکیاں خدا معلوم کتنی ہوں گی۔ خدا ان کی عمر دراز کرے اور شاہ کو نظر بد سے بچائے۔ مجھے بتایئے کیا آپ کی سات آزادیوں والی مملکت میں کوئی ایسا مرد مجاہد یا مرد مردم خیز موجود ہے جس کی اتنی اولاد ہو۔ چچا جان یہ سب ہمارے مذہب اسلام کی دین ہے اور یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔ ناچیز کی یہ رائے ہے کہ آپ فوراً اپنی سلطنت کا سرکاری مذہب اسلام قرار دے دیں۔ اس سے بڑے فائدے ہوں گے۔ قریب قریب ہر شادی شدہ مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہوگی، اگر ایک عورت چار بچے بھی بڑے بخل سے کام لے کر پیدا کرے تو اس حساب سے سولہ لڑکے لڑکیاں ایک مرد کی مردانگی اور اس کی بیوی کی زرخیزی کا ثبوت ہونی چاہئیں۔ لڑکے اور لڑکیاں جنگ میں کتنی کام آ سکتی ہیں آپ جہاندیدہ ہیں، خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔\n\nمیں امرتسر کا رہنے والا ہوں (مسٹر ریڈ کلف کی مہربانی سے یہ اب بھارت میں چلا گیا ہے۔) اس میں ایک حکیم تھے۔۔۔ محمد ابوتراب۔ آپ نے اپنی زندگی میں دس شادیاں کیں۔ چار چار کر کے نہیں۔ ایک ایک کر کے۔ ان بیویوں سے ان کی بے شمار اولاد تھی۔ جب انہوں نے نوے برس کی عمر میں آخری شادی کی تو ان کے بڑے لڑکے کی عمر پچھتر برس کی اور سب سے چھوٹے کی جو اس آخری بیوی کے بطن سے پیدا ہوا صرف دو برس تھی۔ ایک سو بارہ برس کی عمر میں آپ کا انتقال یہاں لاہور میں ایک مہاجر کی حیثیت سے ہوا۔۔۔ کسی شاعر نے ان کی تاریخ وفات اس مشہور مصرعے میں نکالی تھی،\n\nحسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مر جھا گئے\n۱۳۷۱ ہجری\n\nیہ بھی اللہ تبارک تعالیٰ اور اس کے منظور شدہ مذہب، اسلام کی برکت تھی۔ اگر آپ کے شادی شدہ مردوں کو شروع شروع میں چار بیویوں کو بیک وقت سنبھالنے میں کسی قسم کی دقت محسوس ہو تو شاہ سعود کو اپنے یہاں بلا کر آپ ان سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ آپ ان کے دوست ہیں۔ ان کے والد مرحوم سے تو آپ کی بڑی گاڑھی چھنتی تھی۔ میں نے سنا تھا کہ آپ نے ان کے اور ان کے حرم کے لئے بڑی عالی شان موٹر گاڑیوں کا ایک کارواں تیار کروا کے ان کو بطور تحفہ پیش کیا تھا۔ میرا خیال ہے شاہ سعود آپ کو اپنے تمام صدری نسخے بتا دیں گے۔ ہمارے پاکستان کے ساتھ آج کل سوائے ہندوستان اور روس کے قریب قریب ہر ملک دلچسپی لے رہا ہے اور یہ سب آپ کی مہربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آپ نے ہماری طرف دوستی اور تعاون کا ہاتھ بڑھایا اور ہم اس قابل ہو گئے کہ دوسرے بھی ہم پر نظر کرم فرمانے لگے۔\n\nہم پاکستانی تو اسلام کے نام پر مر مٹتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ہم مصطفی کمال پاشا اور انور پاشا کے شیدا تھے۔ انور پاشا کے مرنے کی خبر آتی تو ہم سب سوگ کرتے۔ سچ مچ کے آنسوؤں سے روتے۔ جب یہ پتہ چلتا کہ وہ خدا کے فضل و کرم سے زندہ ہیں تو ہم خوشی سے ناچتے کودتے، گھروں میں چراغاں کرتے۔ مصطفی کمال اور انور دونوں ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے۔ ہمیں اس کا کچھ علم نہیں تھا۔ ترکوں کو ہندی مسلمانوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، لیکن ہم کو تین میں سمجھتے تھے نہ تیرہ میں، اس کا ہمیں کچھ کچھ پتہ تھا، لیکن ہمیں ان سے محبت تھی کہ وہ ہمارے اسلامی بھائی تھے۔۔۔ ہم ایسے شریف النفس اور سادہ لوح آدمی ہیں کہ ہمیں آ ملے اور چمبیلی کے اس تیل سے بھی محبت ہے جو یہاں ’’اسلامی بھائیوں کا تیار کردہ‘‘ بکتا ہے۔ اس کو ہم اپنے سروں میں ڈالتے ہیں تو ایسا کیف حاصل ہوتا ہے کہ موعودہ جنت کی تمام لطافتیں اس کے سامنے ماند پڑ جاتی ہیں۔۔۔ ہم بڑے بدھو، مگر بڑے پیارے لوگ ہیں۔ خدا رہتی دنیا تک ہماری تمام صفات قائم رکھے۔\n\nمیں بات شاہ سعود کے ورود مسعود کی کر رہا تھا، لیکن جذباتی ہو کر اسلام کے گن گانے لگا۔ بات یہ ہے کہ اسلام کے گن گانے ہی پڑتے ہیں۔ ہندو مذہب، عیسائی اور بدھ مت۔۔۔ آخر یہ کیا ہیں۔ کیا ان کے ماننے والوں میں کوئی ایک فرد پچیس لڑکوں کا باپ ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ اسی لئے میں نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ ریاستہائے متحدہ امریکہ کا سرکاری مذہب اسلام مقرر فرما دیں تاکہ آپ کو کوئی جاپان فتح کر کے حرامی بچے پیدا کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔۔۔ چچا جان کیا آپ کو یہ حرامی پنا پسند ہے۔۔۔؟ میں مسلمان ہوں۔ مجھے تو اس سے خدا اور اس کے رسول ؐ کی قسم سخت نفرت ہے۔ بچے ہی پیدا کرنے ہیں تو اس کا کتنا سہل طریقہ اسلام میں موجود ہے۔ نکاح پڑھوایئے اور بڑے شوق سے حلال کے بچے پیدا کیجئے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ آپ بھی چار شادیاں کر لیجئے۔ چچی جان اگر بقید حیات ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ آپ مشرف بہ اسلام ہو کر تین اور شادیاں کر سکتے ہیں۔ یہاں پاکستان میں آپ مشہور ایکٹرس عشرت جہاں ببو کو اپنے رشتہ مناکحت میں لا سکتے ہیں کہ وہ کئی شوہروں کا تجربہ رکھتی ہے۔\n\nشاہ سعود بڑی پر از سحر شخصیت کے مالک ہیں، طیارے سے باہر نکلتے ہی آپ ہمارے لاہور کے موچی دروازے کے گورنر جنرل جناب غلام محمد صاحب سے بغل گیر ہوئے اور اسلامی بھائیوں کی رجسٹرڈ اخوت و محبت کا مظاہرہ کیا جو بڑا کفر شکن تھا۔ آپ کے اعزاز میں کراچی کے مسلمانوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر نعرے لگائے، جلسے کئے، جلوس نکالے، دعوتیں کیں اور اسلام کی سیزدہ صد سالہ روایات کو قائم رکھا۔ سنا ہے شاہ سعود اپنے ساتھ ایک ایسا سونے سے بھرا ہوا بکس لائے تھے جو کراچی کے مزدوروں سے بصد مشکل اٹھایا گیا۔ آپ نے یہ سونا کراچی میں بیچ دیا اور پاکستان کو دس لاکھ روپے مرحمت فرمائے۔ فیصلہ ہوا ہے کہ اس روپے سے غریب مہاجرین کے لئے ایک کولونی تعمیر کی جائے گی جس کا نام سعود آباد ہوگا۔۔۔ رہے نام اللہ کا!\n\nمعتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شاہ سعود خیر سگالی کے طور پر اپنے دو صاحب زادوں کی شادی ہمارے پاکستان میں کرنا چاہتے ہیں۔ زہے نصیب۔ سنا ہے کراچی میں بیگم شاہ نواز کو جب عرب شہزادوں کے لئے کوئی مناسب رشتہ نہ ملا تو انہوں نے بیگم بشیر کو ٹیلی فون کیا کہ وہ لاہور میں سلسلہ جنبانی کریں، اس لئے کہ لاہور آخر لاہور ہے۔ اس میں شہزادوں کے لائق کنواری لڑکیوں کی کیا کمی ہے، چنانچہ سنا ہے کہ بیگم بشیر نے بیگم جی اے خان اور بیگم سلمیٰ تصدق کو ساتھ ملا کر روایتی (نائین) کے فرائض سرانجام دیے اور مختلف اونچے گھرانوں میں شاہ سعود کے دو ارجمند فرزندوں کے لئے پیغام لے کر گئیں مگر افسوس ہے کہ انہیں کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ہمارے اونچے طبقے کی جوان اور ناکتخدا لڑکیوں کو عرب کے یہ ’’اونٹ‘‘ ایک آنکھ نہیں بھائے۔\n\nمیں سمجھتا ہوں یہ ان کی غلطی ہے۔ اس سے پہلے جب کہ پاکستان نہیں بنا تھا، سعودی عرب سے ہندوستان کے مسلمانوں کا اس قسم کا رشتہ ہو چکا ہے۔ مولانا داؤد غزنوی اور مولانا اسماعیل غزنوی کے خاندان کی ایک دوشیزہ مرحوم شاہ سعود کے والد بزرگوار جناب عبدالعزیز ابن سعود کے رشتہ مناکحت میں جا چکی ہیں۔ آپ کو شاید معلوم ہو کہ مولانا اسماعیل غزنوی نے اسی سلسلے میں ستائیس حج کئے تھے۔ حالانکہ ایک ہی حج کافی تھا۔ دل بدست آور کہ حج اکبر است۔ گو بیگم بشیر، بیگم جی اے خان اور بیگم تصدق کو اس کارخیر میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن مجھے یقین ہے کوئی نہ کوئی سبیل نکل آئے گی اور ہمارے پاکستان سے ایسی دو لڑکیاں برآمد ہو جائیں گی جن کو سرزمین حجاز کے شہزادے سرفراز فرما سکیں گے۔\n\nمیں نے اپنے کسی پچھلے خط میں اپنے یہاں کی خواتین کے متعلق آپ کو کچھ لکھا تھا۔ غالباً ان بلاؤزوں کے بارے میں جو بڑی عمر کی پہنتی ہیں اور اپنے کلبوت چڑھے پیٹوں کی نمائش کرتی ہیں۔ اس پر ہماری یونیورسٹی کے صدر شعبہ فارسی جناب ڈاکٹر محمد باقر صاحب بہت جزبز ہوئے، آپ نے مجھے کئی مہذب قسم کی گالیاں دیں اور اس لئے ملعون و مطعون قرار دیا کہ میں نے اپنے یہاں کی ’’عورت‘‘ کی بے حرمتی کی ہے۔ لا حول و لا۔۔۔ میں نے جو کچھ بیان کیا تھا، محض یہ تھا کہ بوڑھی عورتوں کو اپنی عمر سے اس قسم کے نیم عریاں چوچلے زیب نہیں دیتے۔ مجھے ڈر ہے کہ ڈاکٹر صاحب جب میرا یہ خط پڑھیں گے تو مجھ پر پھر یہ الزام دھریں گے کہ میں نے پھر اپنی ’’ عورت‘‘ کی بے حرمتی کی ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ ہم لوگ فطرتاً سادہ لوح اور بدھو ہیں۔ ہماری عورتیں تو بادنما مرغیاں ہیں۔ جدھر ہوا چلتی ہے، ادھر چل پڑتی ہیں۔\n\nشاہ ایران تشریف لائے تو اونچی سوسائٹی کی لڑکیوں نے طرح طرح سے خود کو سجایا بنایا کہ شاہ ان دنوں فارغ تھے (فوضیہ کو طلاق دے چکے تھے۔) مگر انہوں نے ان سے صرف رسمی دلچسپی لی اور ایران جا کر ثریا اسفند یار سے شادی کر لی۔ اس کے بعد پرنس علی آئے۔ وہ بھی فارغ تھے اس لئے کہ آپ کی ریٹا بیورتھ ان سے طلاق حاصل کر چکی تھی۔ ہماری اونچی سوسائٹی کی لڑکیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اپنی مانگ چوٹی درست کی۔ نوک پلک نکالی، مگر اس شہزادے نے ان کی ساری امنگوں پر ٹھنڈا یخ پانی پھیرا اور آپ کے ہالی وڈ کی ایک اور ایکٹرس جین ٹیرنی سے معاشقہ شروع کر دیا۔۔۔ خدا آپ کی سات آزادیوں والی مملکت کو قائم و دائم رکھے۔\n\nپھر شاہ عراق آئے، مگر ہماری اونچی سوسائٹی کی پاکیزہ لڑکیاں انہیں دیکھ کر بہت مایوس ہوئیں، اس لئے کہ وہ کم عمر تھے۔ ایک نے کہا، ’’ہائے۔۔ اس بچے کا تو کھیل کود کا زمانہ ہے۔ کیوں اس بیچارے پر سلطنت کا بوجھ ڈالا گیا ہے۔‘‘ اسی طرح ایک بوڑھی (جس کا پیٹ بہت زیادہ ننگا نہیں تھا) شاہ عراق پر ترس کھا کے کہا، ’’بڈھوں سے اس غریب کو کیا دلچسپی ہوگی۔۔۔ جاؤ اس کے ہمعمر بلاؤ اور ان سے اس کو ملاؤ۔‘‘ یہ بھی گئے۔\n\nاب شاہ سعود تشریف لائے، اپنے بائیس یا پچیس شہزادوں سمیت گورنمنٹ ہاؤس میں ان کی شاندار دعوت ہوئی، جس میں اونچی سوسائٹی کی تمام کتخدا اور ناکتخدا لڑکیوں اور عورتوں نے شرکت کی۔ سگریٹ پینے کی اجازت نہیں تھی۔ ’’عبداللہ‘‘ کی بھی نہیں۔ بہرحال وہ سگریٹ کے دھوئیں کے بغیر بہت محظوظ ہوئے۔۔۔ اور یہ حظ انہیں خالص اسلامی مہمان نوازی کی بدولت نصیب ہوا۔ ان کے دو درجن شہزادوں نے انار کلی میں سیکڑوں پاکستانی جوتے خریدے اور اپنی خیر سگالی کا ثبوت دیا۔۔۔ اب یہ جوتے صحرائے عرب کی ریتوں پر چلیں گے اور اپنی دیرپائی کے فانی نقش ثبت کریں گے۔\n\nیہ خط نامکمل چھوڑ رہا ہوں اس لئے کہ مجھے اپنے ایک پبلشر سے اپنی نئی کتاب کی رائلٹی وصول کرنی ہے۔ دس روز سے وعدے کر رہا ہے۔ میرا خیال ہے آج دس روپے تو ضرور دے دے گا۔ یہ مل گئے تو میں یہ خط پوسٹ کر سکوں گا ورنہ۔۔۔ جین ٹیرنی کو ایک اڑتا ہوا بوسہ۔\n\nآپ کا برخودار\n\nسعادت حسن منٹو\n\n۳۱ لکشمی مینشنز ہال روڈ، لاہور\nمورخہ ۲۲؍ اپریل ۱۹۵۴ء", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%86%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D9%B9%DA%BE%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D8%B7"} {"title": "چچا سام کے نام ایک خط", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "۳۱ لکشمی مینشنز ہال روڈ، لاہور\nمورخہ ۱۶ دسمبر ۱۹۵۱ء\n\nچچا جان، السلام علیکم!\n\nیہ خط آپ کے پاکستانی بھتیجے کی طرف سے ہے، جسے آپ نہیں جانتے۔ جسے آپ کی سات آزادیوں کی مملکت میں شاید کوئی بھی نہیں جانتا۔ میرا ملک ہندوستان سے کٹ کر کیوں بنا، کیسے آزاد ہوا، یہ تو آپ کو اچھی طرح معلوم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں خط لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں، کیونکہ جس طرح میرا ملک کٹ کر آزاد ہوا اسی طرح میں کٹ کر آزاد ہوا ہوں اور چچا جان یہ بات تو آپ جیسے ہمہ دان عالم سے چھپی ہوئی نہیں ہونی چا ہئے کہ جس پرندے کو پر کاٹ کر آزاد کیا جائے گا اس کی آزادی کیسی ہوگی۔۔۔ خیر اس قصے کو چھوڑیئے۔\n\nمیرا نام سعادت حسن منٹو ہے، میں ایک ایسی جگہ پیدا ہوا تھا جو اب ہندوستان میں ہے میری ماں وہاں دفن ہے، میرا باپ وہاں دفن ہے، میرا پہلا بچہ بھی اسی زمین میں سو رہا ہے لیکن اب وہ میرا وطن نہیں، میرا وطن اب پاکستان ہے جو میں نے انگریزوں کے غلام ہونے کی حیثیت میں پانچ چھ مرتبہ دیکھا تھا۔ میں پہلے سارے ہندوستان کا ایک بڑا افسانہ نگار تھا۔ اب پاکستان کا ایک بڑا افسانہ نگار ہوں۔ میرے افسانوں کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں، لوگ مجھے عزت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ سالم ہندوستان میں مجھ پر تین مقدمے چلے تھے۔ یہاں پاکستان میں ایک، لیکن اسے ابھی بنے کے برس ہوئے ہیں۔\n\nانگریزوں کی حکومت بھی مجھے فحش نگار سمجھتی تھی۔ میری اپنی حکومت کا بھی میرے متعلق یہی خیال ہے۔ انگریزوں کی حکومت نے مجھے چھوڑ دیا تھا لیکن میری اپنی حکومت مجھے چھوڑتی نظر نہیں آتی۔ عدالت ماتحت نے مجھے تین ماہ قید بامشقت اور تین سو روپے جرمانے کی سزا دی تھی۔ سیشن میں اپیل کرنے پر میں بری ہو گیا، مگر میری حکومت سمجھتی ہے کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، چنانچہ اب اس نے ہائی کورٹ میں اپیل کی ہے کہ سیشن کے فیصلے پر نظرثانی کرے اور مجھے قرار واقعی سزا دے۔۔۔ دیکھئے عدالت عالیہ کیا فیصلہ دیتی ہے۔ میرا ملک آپ کا ملک نہیں۔ اس کا مجھے افسوس ہے، اگر عدالت عالیہ مجھے سزا دے دے تو میرے ملک میں ایسا کوئی پرچہ نہیں جو میری تصویر چھاپ سکے۔ میرے تمام مقدموں کی روداد کی تفصیل چھاپ سکے۔\n\nمیرا ملک بہت غریب ہے۔ اس کے پاس آرٹ پیپر نہیں ہے، اس کے پاس اچھے چھاپے خانے نہیں ہیں۔ اس کی غربت کا سب بڑا ثبوت میں ہوں۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا چچا جان بیس بائیس کتابوں کا مصنف ہونے کے بعد بھی میرے پاس رہنے کے لئے اپنا مکان نہیں اور یہ سن کر تو آپ حیرت میں غرق ہو جائیں گے کہ میرے پاس سواری کے لئے کوئی پیکارڈ ہے نہ ڈوج، سیکنڈ ہینڈ موٹر کار بھی نہیں۔ مجھے کہیں جانا ہو تو سائیکل کرائے پر لیتا ہوں، اخبار میں اگر میرا کوئی مضمون چھب جائے اور سات روپے فی کالم کے حساب سے مجھے بیس پچیس روپے مل جائیں تو میں تانگے پر بیٹھتا ہوں اور اپنے یہاں کی کشید کردہ شراب بھی پیتا ہوں، یہ ایسی شراب ہے کہ اگر آپ کے ملک میں کشید کی جائے تو آپ اس ڈسٹلری کو ایٹم بم سے اڑا دیں کیونکہ ایک برس کے اندر اندر ہی یہ خانہ خراب انسان کو نیست و نابود کر دیتی ہے۔\n\nمیں کہاں کا کہاں پہنچ گیا۔ اصل میں مجھے بھائی جان ارسکاٹن کولڈول کو آپ کے ذریعے سے سلام بھیجنا تھا۔ ان کو تو خیر آپ جانتے ہی ہوں گے۔ ان کے ایک ناول ’’گوڈز لٹل ایکٹر‘‘ پر آپ مقدمہ چلا چکے ہیں۔ جرم وہی تھا جو اکثر یہاں میرا ہوتا ہے یعنی فحاشی۔ یقین جانئے چچا جان! مجھے بڑی حیرت ہوئی تھی، جب میں نے سنا تھا کہ ان کے ناول پر سات آزادیوں کے ملک میں فحاشی کے الزام میں مقدمہ چلا ہے۔ آپ کے یہاں تو ہر چیز ننگی ہے۔ آپ تو ہر چیز کا چھلکا اتار کر الماریوں میں سجا رکھتے ہیں۔ وہ پھل ہو یا عورت، مشین ہو یا جانور، کتاب ہو یا کیلنڈر، آپ تو ننگ کے بادشاہ ہیں۔ میرا خیال تھا آپ کی مملکت میں طہارت کا نام فحاشی ہوگا مگر چچا جان آپ نے یہ کیا غضب کیا کہ بھائی جان ارسکاٹن کولڈول پر مقدمہ چلا دیا۔\n\nمیں اس صدمے سے متاثر ہو کر اپنے ملک کی کشید کردہ شراب زیادہ مقدار میں پی کر یقیناً مر گیا ہوتا، اگر میں نے فوراً ہی اس مقدمے کا فیصلہ نہ پڑھ لیا ہوتا۔ یہ میرے ملک کی بدقسمتی تو ہوئی کہ ایک انسان محض خس کم جہاں پاک ہونے سے رہ گیا، لیکن پھر میں آپ کو یہ خط کیسے لکھتا۔ ویسے میں بڑا سعادت مند ہوں۔ مجھے اپنے ملک سے پیار ہے۔ میں انشاء اللہ تھوڑے ہی دنوں میں مر جاؤں گا، اگر خود نہیں مروں گا تو خود بخود مر جاؤں گا، کیونکہ جہاں آٹا روپے کا پونے تین سیر ملتا ہو، وہاں بڑا ہی بے غیرت انسان ہوگا جو زندگی کے روایتی چار دن گزار سکے۔\n\nہاں، تو میں نے مقدمے کا فیصلہ پڑھا اور میں نے خانہ ساز شراب زیادہ مقدار میں پی کر خودکشی کا ارادہ ترک کر دیا۔ بھئی چچا جان کچھ بھی ہو، آپ کے ہاں ہر چیز ملمع چڑھی ہے، لیکن وہ جج جس نے بھائی جان ارسکاٹن کو فحاشی کے جرم میں بری کیا، اس کے دماغ پر یقیناً ملمع کا جھول نہیں تھا۔۔۔ اگر یہ جج (افسوس ہے کہ میں ان کا نام نہیں جانتا) زندہ ہیں تو ان کو میرا عقیدت مندانہ سلام ضرور پہنچا دیجیئے۔ ان کے فیصلے کی یہ آخری سطور ان کے دماغ کی وسعت کا پتہ دیتی ہیں،\n\n’’میں ذاتی طور پر محسوس کرتا ہوں کہ ایسی کتابوں کو سختی سے دبا دینے پر پڑھنے والوں میں خواہ مخواہ تجسس اور استعجاب پیدا ہوتا ہے جو انہیں شہوت پسندی کی ٹوہ لگانے کی طرف مائل کر دیتا ہے حالانکہ اصل کتاب کا یہ منشاء نہیں ہے، مجھے پورا یقین ہے کہ اس کتاب میں مصنف نے صرف وہی چیز منتخب کی ہے جسے وہ امریکی زندگی کے کسی مخصوص طبقے کے متعلق سچا خیال کرتا ہے میری رائے میں سچائی کو ادب کے لئے ہمیشہ جائز قرار دینا چاہیئے۔‘‘\n\nمیں نے عدالت ماتحت سے یہی کہا تھا، لیکن اس نے مجھے تین ماہ قید بامشقت اور تین سو روپے کی سزا دے دی۔ اس کی رائے یہ تھی کہ سچائی کو ادب سے ہمیشہ دور رکھنا چا ہیئے۔۔۔ اپنی اپنی رائے ہے۔ میں تین ماہ قید بامشقت کاٹنے کے لئے تیار ہوں، لیکن یہ تین سو روپے کا جرمانہ مجھ سے ادا نہیں ہوگا، چچا جان آپ نہیں جانتے میں بہت غریب ہوں۔۔۔ مشقت کا تو میں عادی ہوں لیکن روپوں کا عادی نہیں، میری عمر انتالیس برس کے قریب ہے اور یہ سارا زمانہ مشقت ہی میں گزرا ہے، آپ ذرا غور تو فرمایئے کہ اتنا بڑا مصنف ہونے پر بھی میرے پاس کوئی پیکارڈ نہیں۔۔۔! میں غریب ہوں، اس لئے کہ میرا ملک غریب ہے، مجھے تو پھر دو وقت کی روٹی کسی نہ کسی حیلے مل جاتی ہے، مگر میرے بھائی کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں یہ بھی نصیب نہیں ہوتی۔\n\nمیرا ملک غریب ہے۔۔۔ جاہل ہے، کیوں۔۔۔؟ یہ تو آپ کو بخوبی معلوم ہے چچا جان، یہ آپ کے اور آپ کے بھائی جان بل کے مشترکہ ساز کا ایسا تار ہے جسے میں چھیڑنا نہیں چاہتا۔ اس لئے کہ آپ کی سماعت پر گراں گزرے گا۔ میں یہ خط ایک برخودار کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں اس لئے مجھے اول تا آخر برخوردار ہی رہنا چا ہیئے۔ آپ ضرور پوچھیں گے اور بڑی حیرت سے پوچھیں گے کہ تمہارا ملک غریب کیونکر ہے جب کہ میرے ملک سے اتنی پیکارڈیں، اتنی بیوکیں۔۔۔ میکس فیکٹر کا اتنا سامان جاتا ہے، یہ سب ٹھیک ہے چچا جان، مگر میں آپ کے اس سوال کا جواب نہیں دوں گا۔ اس لئے آپ اس کا جواب اپنے دل سے پوچھ سکتے ہیں (اگر آپ نے اپنے قابل سرجنوں سے کہہ کر اسے اپنے پہلو سے نکلوا نہ ڈالا ہو۔) میرے ملک کی وہ آبادی جو پیکارڈوں اور بیوکوں پر سوار ہوتی ہے، میرا ملک نہیں۔۔۔ میرا ملک وہ ہے جس میں مجھ ایسے اور مجھ سے بدتر مفلس بستے ہیں۔\n\nیہ بڑی تلخ باتیں ہیں۔ ہمارے یہاں شکر کم ہے، ورنہ میں ان پر چڑھا کہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا۔ اس کو بھی چھوڑیئے۔ بات در اصل یہ ہے کہ میں نے حال ہی میں آپ کے دوست ملک کے ایک ادیب EVELYN WAUGH کی تصنیف THE LOVED ONES پڑھی ہے، میں اس سے اتنا متاثر ہوا کہ آپ کو یہ خط لکھنے بیٹھ گیا۔ آپ کے ملک کی انفرادیت کا میں یوں بھی معترف تھا، مگر یہ کتاب پڑھ کر تو میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔ جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی۔۔۔ واہ وا، واہ وا، واہ وا۔ چچا جان! وا اللہ مزا آ گیا۔ کیسے زندہ دل لوگ آپ کے ملک میں بستے ہیں۔\n\nایوی لن وا ہمیں بتاتا ہے کہ آپ کے کیلی فورنیا میں مردوں یعنی بچھڑے ہوئے عزیزوں پر بھی ملمع کاری کی جا سکتی ہے اور اس کے لئے بڑے بڑے ادارے موجود ہیں۔ مرنے والے عزیز کی شکل مکروہ ہو تو ان میں سے کسی میں بھیج دیئے، فارم موجود ہے۔ اس میں اپنی خواہشات درج کر دیجئے۔ کام حسب منشا ہوگا۔ یعنی مردے کو آپ جتنا خوبصورت بنوانا چاہیں، دام دے کر بنوا سکتے ہیں، اچھے سے اچھا ماہر موجود ہے، جو مردے کے جبڑے کا آپریشن کر کے اس پر میٹھی سے میٹھی مسکراہٹ ثبت کر سکتا ہے۔ آنکھوں میں روشنی پیدا کی جا سکتی ہے، ماتھے پر حسب ضرورت نور پیدا کیا جا سکتا ہے اور یہ سب کام ایسی چابکدستی سے ہوتا ہے کہ قبر میں منکر نکیر بھی دھوکہ کھا جائیں۔ بھئی خدا قسم چچا جان، آپ کے ملک کا کوئی جواب پیدا نہیں کر سکتا۔\n\nزندوں پر آپریشن سنا تھا، پلاسٹک سرجری سے زندہ آدمیوں کی شکل سنواری جا سکتی ہے۔ اس کے متعلق بھی یہاں کچھ چرچے ہوئے تھے۔ مگر یہ نہیں سنا تھا کہ آپ مردوں تک کی شکل سنوار دیتے ہیں۔ یہاں آپ کے ملک کا ایک سیاح آیا تھا۔ چند احباب نے مجھ سے ان کا تعارف کرایا۔ اس وقت میں بھائی ایوی لن وا کی کتاب پڑھ چکا تھا۔ میں نے ان سے ان کے ملک کی تعریف کی اور یہ شعر پڑھا،\n\nایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ\nایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے\n\nسیاح صاحب میرا مطلب نہ سمجھے مگر حقیقت یہ ہے چچا جان کہ ہم نے اپنی صورت کو بگاڑ رکھا ہے۔ اتنا مسخ کر رکھا ہے کہ اب وہ پہچانی بھی نہیں جاتی۔ اپنے آپ سے بھی نہیں۔۔۔ اور ایک آپ ہیں کہ اپنے مکروہ صورت مردوں تک کی شکل سنوار دیتے ہیں۔ حق تو یہ ہے کہ اس دنیا کے تخت پر ایک صرف آپ کی قوم ہی کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔ بخدا باقی سب جھک مار رہے ہیں۔ ہماری زبان اردو کا ایک شاعر غالب ہوا ہے۔ اس نے آج سے قریب قریب ایک صدی پہلے کہا تھا،\n\nہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا\nنہ کہیں جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا\n\nغریب کو زندگی میں اپنی رسوائی کا ڈر نہیں تھا، کیونکہ وہ اول تا آخر رسوائے زمانہ رہی۔ اس کو خوف اس بات کا تھا کہ بعداز مرگ رسوائی ہوگی۔ آدمی وضع دار تھا۔ خوف نہیں بلکہ یقین تھا اسی لئے اس نے غرق دریا ہونے کی خواہش کی کہ جنازہ اٹھے نہ مزار بنے۔ کاش وہ آپ کے ملک میں پیدا ہوا ہوتا۔ آپ اس کا بڑی شان و شوکت سے جنازہ اٹھاتے اور اس کا مزار سکائی سکریپر کی صورت میں بناتے اور اگر اسی کی خواہش پر عمل کرتے تو شیشے کا ایک حوض تیار کرتے جس میں اس کی لاش رہتی دنیا تک غرق رہتی اور چڑیا گھر میں لوگ اسے جا جا کر دیکھتے۔\n\nبھائی ایوی لن وا بتاتا ہے کہ وہاں مردہ انسانوں ہی کے لئے نہیں، مردہ حیوانوں کی نوک پلک درست کرنے والے ادارے بھی موجود ہیں۔ حادثے میں اگر کسی کتے کی دم کٹ جاتی ہے تو دوسری لگا دی جاتی ہے۔ مرحوم کی شکل و صورت میں اس کی زندگی میں جتنے عیب تھے، اس کی موت کے بعد چابک دست ہاتھ درست کر دیتے ہیں۔ اسے شان و شوکت کے ساتھ کفنا دفنا دیا جاتا ہے۔ اس کی تربت پر پھول چڑھانے کا انتظام بھی کر دیا جاتا ہے اور ہر سال جس روز کسی کا پالتو مرا ہو، اس ادارے کی طرف سے ایک کارڈ بھیج دیا جاتا ہے جس پر کچھ اس قسم کی عبارت ہوتی ہے، ’’جنت میں آپ کا ٹیمی یا جفی آپ کی یاد میں اپنی دم یا کان ہلا رہا ہے۔‘‘\n\nہم سے تو آپ کے ملک کے کتے ہی اچھے۔ یہاں آج مرے کل دوسرا دن۔ کسی کا کوئی عزیز مرتا ہے تو اس غریب پر ایک آفت ٹوٹ پڑتی ہے اور وہ دل ہی دل میں چلاتا ہے، ’’کمبخت یہ کیوں مرا۔۔۔ مجھے ہی موت آ گئی ہوتی!‘‘ سچ تو یہ ہے چچا جان ہمیں مرنے کا سلیقہ آتا ہے نہ جینے کا۔ آپ کے ملک میں ایک صاحب نے کمال کر دیا۔ ان کو یقین نہیں تھا کہ ان کی موت کے بعد ان کا جنازہ سلیقے اور قرینے سے اٹھے گا، چنانچہ انہوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنے کفن دفن کی بہار دیکھ لی۔۔۔ یہ ان کا حق تھا۔ وہ بڑی شائستگی، نفاست اور امارت کی زندگی بسر کرتے تھے۔ ہر چیز ان کے منشا کے مطابق ہوتی تھی۔ ہو سکتا ہے موت کے بعد ان کا جنازہ اٹھانے میں کسی سے کوئی کوتاہی ہو جاتی، بہت اچھا کیا جو انہوں نے زندگی ہی میں اپنی موت کی آرائش و زیبائش دیکھ لی۔ مرنے کے بعد ہوتا رہے جو ہوتا ہے۔\n\nتازہ ’’لائف‘‘ (مورخہ ۵ نومبر ۱۹۵۱ء انٹرنیشنل ایڈیشن) دیکھا۔ واللہ آپ لوگوں کی زندگی کا ایک اور زندگی آموز پہلو آنکھوں کے سامنے روشن ہوا۔ دو پورے صفحوں پر تصویروں کے ساتھ آپ کے ملک کے مشہور و معروف ’’گینگسٹر‘‘ کے جنازے کی پوری روداد مرقوم تھی۔ دلی موریٹی (خدا اسے کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے) کی شبیہ دیکھی۔ اس کا وہ عالیشان گھر دیکھا جو اس نے حال ہی میں پچپن ہزار ڈالر میں فروخت کیا تھا اور اس کی وہ پانچ ایکڑ کی سٹیٹ بھی دیکھی جہاں وہ دنیا کے ہنگاموں سے الگ ہو کر آرام اور چین کی زندگی بسر کرنا چاہتا تھا اور مرحوم کا وہ فوٹو بھی دیکھا جس میں وہ بستر پر ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کئے لیٹا ہے۔ اور اس کا پانچ ہزار ڈالر کا تابوت اور اس کے جنازے کا جلوس جو پھولوں سے لدی پھندی، گیارہ بڑی بڑی لمو زینوں اور پچھتر کاروں پر مشتمل ہے۔۔۔ اللہ واحد شاہد ہے۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔\n\nخاکم بدہن! اگر آپ انتقال فرما جائیں تو خدا آپ کو دلی موریٹی سے زیادہ عزت اور شان عنایت فرمائے۔۔۔ یہ پاکستان کے ایک غریب مصنف کی دلی دعا ہے۔ جس کے پاس سواری کے لئے ایک ٹوٹی پھوٹی سائیکل بھی نہیں۔ وہ آپ سے ایک ایسی استدعا بھی کرتا ہے کہ کیوں نہ آپ اپنے ملک کے دور اندیش آدمی کی طرح اپنی زندگی ہی میں اپنا جنازہ اٹھتا دیکھ لیں۔ بندہ بشر ہے، ہو سکتا ہے کسی سے بھول چوک ہو جائے۔ ہو سکتا ہے آپ کے چہرے کا کوئی خط سنورنے سے رہ جائے اور آپ کی روح کی تکلیف پہنچے۔۔۔ مگر بہت ممکن ہے آپ یہ خط پہنچنے سے پہلے ہی اپنا جنازہ اپنی حسب منشاء عظیم الشان دھوم دھام سے اٹھوا کے دیکھ چکے ہوں۔۔۔ اس لئے کہ آپ مجھ سے کہیں زیادہ صاحب فہم و ادراک ہیں اور میرے چچا ہیں۔\n\nبھائی جان ارسکاٹن کولڈول کو سلام اور جج کو بھی جنہوں نے ان کو فحاشی کے جرم سے بری کیا تھا۔ کوئی گستاخی ہو گئی ہو تو اسے معاف فرمائیں۔\n\nزیادہ حد ادب\nآپ کا مفلس بھتیجا\nسعادت حسن منٹو سکنہ پاکستان\n\n(یہ خط پوسٹیج اسٹیمپ خرید نہ سکنے کے باعث پوسٹ نہ کیا جا سکا)", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%86%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AE%D8%B7"} {"title": "چچا سام کے نام تیسرا خط", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "چچا جان تسلیمات!\n\nبہت مدت کے بعد آپ کو مخاطب کر رہا ہوں۔ میں در اصل بیمار تھا۔ علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز تھا ساقی۔ مگر معلوم ہوا کہ یہ محض شاعری ہی شاعری ہے۔ معلوم نہیں ساقی کس جانور کا نام ہے۔ آپ لوگ تو اسے عمر خیام کی رباعیوں والی حسین و جمیل فتنہ ادا اور عشوہ طراز معشوقہ کہتے ہیں جو بلور کی نازک گردن صراحیوں سے اس خوش قسمت شاعر کو جام بھر بھر کے دیتی تھی۔۔۔ مگر یہاں تو کوئی مونچھوں والا بدشکل لونڈا بھی اس کام کے لئے نہیں ملتا۔ یہاں سے حسن بالکل رفوچکر ہو گیا ہے۔ عورتیں پردے سے باہر تو آئی ہیں مگر انہیں دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ وہ پردے کے پیچھے ہی رہتیں تو اچھا تھا۔ آپ کے میکس فیکٹر نے ان کا حلیہ اور بھی مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔۔۔ آپ مفت گندم بھیجتے ہیں۔ مفت لٹریچر بھیجتے ہیں، مفت ہتھیار بھیجتے ہیں۔ کیوں نہیں آپ سو دو سو ٹھیٹ امریکی لڑکیاں یہاں روانہ کر دیتے جو ساقی گری کے فرائض بطریق احسن انجام دیں۔\n\nمیں اپنی بیماری کا ذکر کر رہا تھا۔۔۔ اس کا باعث وہی خانہ ساز شراب تھی۔۔۔ اللہ اس خانہ خراب کا خانہ خراب کرے۔ زہر ہے، لیکن نہایت خام قسم کا۔ سب کچھ جانتا تھا سب کچھ سمجھتا تھا مگر۔۔۔\n\nمیر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب\nاسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں\n\nجانے اس عطار کے لونڈے میں کیا کشش تھی کہ حضرت میر اسی سے دوا لیتے رہے، حالانکہ وہی ان کے مرض کا باعث تھا۔ یہاں میں جس شراب فروش سے شراب لیتا ہوں وہ تو مجھ سے بھی کہیں زیادہ مریض ہے۔ میں تو اپنی سخت جانی کی وجہ سے بچ گیا لیکن اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں۔\n\nتین مہینے ہسپتال میں رہا ہوں، جنرل وارڈ میں تھا۔ مجھے وہاں آپ کی کوئی امریکی امداد نہ ملی۔ میرا خیال ہے آپ کو میری بیماری کی کوئی اطلاع نہیں ملی، ورنہ آپ ضرور وہاں سے دو تین پیٹیاں ٹیرامائی سین کی روانہ کر دیتے اور ثوابِ دارین حاصل کرتے۔ ہماری فورن پبلسٹی بہت کمزور ہے۔ اس کے علاوہ ہماری حکومت کو ادیبوں شاعروں اور مصوروں سے کوئی دلچسپی نہیں آخر۔۔۔ کس کس کی حاجت روا کرے کوئی۔\n\nہماری پچھلی مرحوم گورنمنٹ تھی۔ جنگ شروع ہوئی تو انگریز بہادر نے فردوسئ اسلام حفیظ جالندھری کو سونگ پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ کا ڈائریکٹر بنا کر ایک ہزار روپیہ ماہوار مقرر کر دیا، پاکستان بنا تو اس کو صرف ایک کوٹھی اور شاید ایک پریس الاٹ ہوا۔ اب بیچارہ اخباروں میں اپنا رونا رو رہا ہے کہ ترانہ کمیٹی نے اس کو نکال باہر کیا۔ حالانکہ سارے پاکستان میں اکیلا وہی شاعر ہے جو دنیا کی اس سب سے بڑی اسلامی سلطنت کے لئے قومی ترانہ لکھ سکتا ہے اور اس کی دھن بھی تخلیق کر سکتا ہے۔ اس نے اپنی انگریز بیوی کو طلاق دے دی ہے، اس لئے کہ انگریزوں کا زمانہ ہی نہیں رہا۔ اب سنا ہے کسی امریکی بیوی کی تلاش میں ہے۔ چچا جان! خدا کے لئے اس کی مدد کیجئے۔ ایسا نہ ہو کہ غریب کی عاقبت خراب ہو۔\n\nآپ کے یوں تو لاکھوں اور کروڑوں بھتیجے ہیں، لیکن مجھ ایسا بھتیجا آپ کو ایٹم بم کی روشنی میں بھی کہیں نہیں ملے گا۔ قبلہ کبھی ادھر بھی توجہ کیجئے۔ بس آپ کی ایک نظرِ التفات کافی ہے۔ صرف اتنا اعلان کر دیجئے کہ آپ کا ملک (خدا، اسے رہتی دنیا تک سلامت رکھے) صرف اسی صورت میں میرے ملک کو (خدا، اس کے شراب کشید کرنے والے کارخانوں کو نیست و نابود کرے) فوجی امداد دینے کے لئے تیار ہوگا۔ اگر سعادت منٹو آپ کے حوالے کر دیا جائے۔ یہاں میری وقعت ایک دم بہت بڑھ جائے گی۔ میں اس اعلان کے بعد شمع معمے اور ڈائریکٹر معمے حل کرنا بند کردوں گا۔ بڑی بڑی شخصیتیں میرے غریب خانے پر آئیں گی۔ میں آپ سے بذریعہ ہوائی ڈاک ٹھیٹ امریکی مسکراہٹ منگوا کر اپنے ہونٹوں پر لگا لوں گا اور اس کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔\n\nاس مسکراہٹ کے ہزار معنی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ’’آپ نرے کھرے گدھے ہیں۔‘‘\n\n’’آپ پرلے درجے کے ذہین آدمی ہیں۔‘‘\n\n’’آپ سے مل کر مجھے بہت کوفت ہوئی۔‘‘\n\n’’آپ سے مل کر مجھے بے حد مسرت حاصل ہوئی۔‘‘\n\n’’آپ امریکہ کی بنی ہوئی بشرٹ ہیں۔‘‘\n\n’’آپ پاکستان کی بنی ہوئی ماچس ہیں۔‘‘\n\n’’آپ عرق گاؤزبان ہیں۔‘‘\n\n’’آپ کوکا کولا ہیں۔‘‘ وغیرہ وغیرہ\n\nمیں رہنا پاکستان ہی میں چاہتا ہوں کہ مجھے اس کی خاک بہت عزیز ہے جو میرے پھیپھڑوں میں مستقل جگہ بنا چکی ہے، لیکن میں آپ کے ملک میں ضرور آؤں گا۔ اس لئے کہ میں اپنا کایا کلپ کرانا چاہتا ہوں، پھیپھڑے چھوڑ کر میں اپنے تمام باقی اعضا آپ کے ماہروں کے سپرد کر دوں گا اور ان سے کہوں گا کہ وہ انہیں امریکی طرز کا بنا دیں۔ مجھے امریکی چال ڈھال بہت پسند ہے۔ اس لئے کہ چال ڈھال کا کام دیتی ہے اور ڈھال چال کا۔ آپ کی بش شرٹ کا نیا ڈیزائن بھی مجھے بہت بھاتا ہے۔ ڈیزائن کا ڈیزائن اور اشتہار کا اشتہار۔ ہر روز یہاں آپ کے دفتر میں گئے، مطلب کی یعنی پروپیگنڈے کی چیزیں اس پر چھپوائیں اور ادھر ادھر گھومتے پھرے۔ کبھی شیزان میں جا بیٹھے۔ کبھی کافی ہاؤس میں اور کبھی چینزلنچ ہوم میں۔\n\nپھر میں ایک پیکارڈ چاہتا ہوں، تاکہ جب میں یہ بش شرٹ پہنے، منہ میں آپ کا تحفے کے طور پر دیا ہوا پائپ دبائے مال پر سے گزروں تو لاہور کے سب ترقی پسند اور غیر ترقی پسند ادیبوں کو محسوس ہو کہ وہ سارا وقت بھاڑ ہی جھونکتے رہے تھے۔ لیکن دیکھئے چچا جان، اس کے پٹرول کا بندوبست آپ ہی کو کرنا پڑے گا۔ ویسے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ پیکارڈ ملتے ہی میں ایک افسانہ لکھوں گا جس کاعنوان ’’ایران کا نو من تیل اور رادھا۔‘‘ یقین مانئے اس افسانے کے شائع ہوتے ہی ایران کے تیل کا سارا ٹنٹا ہی ختم ہو جائے گا اور مولانا ظفر علی خان کو، جو ابھی تک بقید حیات ہیں اپنے اس شعر میں مناسب و موزوں ترمیم کرنا پڑے گی۔\n\nوائے ناکامی کہ چشمے تیل کے سوکھے تمام\nلے کے لانڈ جارج جب بھاگے کنستر ٹین کا\n\nایک چھوٹا سا، ننھا منا ایٹم بم تو میں آپ سے ضرور لوں گا۔ میرے دل میں مدت سے یہ خواہش دبی پڑی ہے کہ میں اپنی زندگی میں ایک نیک کام کروں۔۔۔ آپ پوچھیں گے، یہ نیک کام کیا ہے۔ آپ نے تو خیر کئی نیک کام کئے ہیں اور بدستور کئے جا رہے ہیں۔ آپ نے ہیروشیما کو صفحہ ہستی سے نابود کیا۔ ناگاساکی دھوئیں اور گردوغبار میں تبدیل کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے جاپان میں لاکھوں امریکی بچے پیدا کئے۔ فکر ہر کس بقدر ہمت اوست۔۔۔ میں ایک ڈرائی کلین کرنے والے کو مارنا چاہتا ہوں۔ ہمارے یہاں بعض مولوی قسم کے حضرات پیشاب کرتے ہیں تو ڈھیلا لگاتے ہیں۔۔۔ مگر آپ کیا سمجھیں گے۔۔۔ بہر حال معاملہ کچھ یوں ہوتا ہے کہ پیشاب کرنے کے بعد وہ صفائی کی خاطر کوئی ڈھیلا اٹھاتے ہیں اور شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر سربازار ڈرائی کلین کرتے چلتے پھرتے ہیں۔ میں بس یہ چاہتا ہوں کہ جونہی مجھے کوئی ایسا آدمی نظر آئے، جیب سے آپ کا دیا ہوا منی ایچر ایٹم بم نکالوں اور اس پردے ماروں تاکہ وہ ڈھیلے سمیت دھواں بن کر اڑ جائے۔\n\nہمارے ساتھ فوجی امداد کا معاہدہ بڑی معرکے کی چیز ہے۔ اس پر قائم رہیئے گا۔ ادھر ہندوستان کے ساتھ بھی ایسا ہی رشتہ استوار کر لیجئے۔ دونوں کو پرانے ہتھیار بھیجئے، کیونکہ اب تو آپ نے وہ تمام ہتھیار کنڈم کر دیے ہوں گے جو آپ نے پچھلی جنگ میں استعمال کئے تھے۔ آپ کا یہ فالتو اسلحہ ٹھکانے لگ جائے گا اور آپ کے کارخانے بیکار نہیں رہیں گے۔ پنڈت جواہر لال نہرو کشمیری ہیں۔ ان کو تحفے کے طور پر ایک ایسی بندوق ضرور بھیجئے گا جو دھوپ میں رکھنے سے ٹھس کرے۔ کشمیری میں بھی ہوں، مگر مسلمان۔ میں نے اپنے لئے آپ سے ننھا منا ایٹم بم مانگ لیا ہے۔ ایک بات اور۔۔۔ یہاں دستور بننے ہی میں نہیں آتا۔ خدا کے لئے آپ وہاں سے کوئی ماہر جلد از جلد روانہ کیجئے۔ قوم بغیر ترانے کے تو چل سکتی ہے لیکن دستور کے بغیر نہیں چل سکتی۔۔۔ لیکن آپ چاہیں تو بابا چل بھی سکتی ہے۔ جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔\n\nایک اور بات۔ یہ خط ملتے ہی امریکی ماچسوں کا ایک جہاز روانہ کر دیجئے۔ یہاں جو ماچس بنی ہے، اس کو جلانے کے لئے ایرانی ماچس خریدنی پڑتی ہے، لیکن آدھی ختم ہونے کے بعد یہ بیکار ہو جاتی ہے اور بقایا تیلیاں جلانے کے لئے روسی ماچس لینا پڑتی ہے جو پٹاخے زیادہ چھوڑتی ہے۔ جلتی کم ہے۔ امریکی گرم کوٹ بہت خوب ہیں۔ لنڈا بازار ان کے بغیر بالکل لنڈا تھا، مگر آپ پتلونیں کیوں نہیں بھیجتے۔ کیا آپ پتلونیں نہیں اتارتے۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ ہندوستان روانہ کر دیتے ہوں۔۔۔ آپ بڑے کائیاں ہیں، ضرور کوئی بات ہے۔ ادھر کوٹ بھیجتے ہیں، ادھر پتلونیں، جب لڑائی ہوگی تو آپ کے کوٹ اور آپ ہی کی پتلونیں، آپ ہی کے بھیجے ہوئے ہتھیاروں سے لڑیں گی۔\n\nیہ میں کیا سن رہا ہوں کہ چارلی چپلن اپنے امریکی شہریت کے حقوق سے دست بردار ہو گیا ہے۔۔۔ اس مسخرے کو کیا سوجھی۔ ضرور اس کو کمیونزم ہو گیا ہے، ورنہ ساری عمر آپ کے ملک میں رہا۔ یہیں اس نے نام کمایا، یہیں اس نے دولت حاصل کی۔ کیا اسے وہ وقت یاد نہ رہا جب لندن کے گلی کوچوں میں بھیک مانگتا پھرتا تھا اور کوئی پوچھتا نہیں تھا۔ روس چلا جاتا۔۔۔ لیکن وہاں مسخروں کی کیا کمی ہے۔ چلو انگلستان ہی میں رہے۔ اور کچھ نہیں تو وہاں کے رہنے والوں کو امریکنوں کا سا کھل کر ہنسنا تو آ جائے گا اور وہ جو ہر وقت اپنے چہروں پر سنجیدگی اور طہارت کا خلاف چڑھائے دکھتے ہیں، کچھ تو اپنی جگہ سے ہٹے گا۔ اچھا، میں اب خط کو بند کرتا ہوں۔\n\nبنڈی لانا کو فری اسٹائل کا ایک بوسہ\n\nخاکسار\nسعادت حسن منٹو\n\n۱۵ مارچ ۱۹۵۴ء\n۳۱ لکشمی مینشنز ہال روڈ، لاہور", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%86%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%D8%A7_%D8%AE%D8%B7"} {"title": "چچا سام کے نام ساتواں خط", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "چچا جان!\n\nآداب و تسلیمات۔۔۔ معاف کیجئے گا، میں اس وقت عجیب مخمصے میں گرفتار ہوں، میرے پچھلے خط کی رسید مجھے ابھی تک نہیں ملی۔ کیا وجہ ہے؟ یہ میرا چھٹا خط تھا۔ میں نے خود پوسٹ کرایا تھا۔ حیرت ہے، کہاں گم ہو گیا۔\n\nیہ درست ہے کہ ہمارے یہاں بعض اوقات اگر لاہور سے شیخوپورہ کوئی خط بھیجا جائے تو ڈھائی تین سال کے عرصے میں پہنچتا ہے، اور یہ محض ’’چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد‘‘ کے طور پر دانستہ کیا جاتا ہے، اس لئے کہ ہم پاکستانی شاعر مزاج لوگ ہیں، لیکن آپ کے ساتھ ایسی دل لگی کا خیال بھی ہمارے ڈاک خانے کے محکمے کو کبھی آ نہیں سکتا۔ ا س لئے کہ وہ سب کا سب آپ کا مفت بھیجا ہوا گندم کھا چکا ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں ساری کارستانی روس کی ہے، اور اس میں بھارت کا بھی ہاتھ ہے۔ پچھلے دنوں لکھنؤ میں آپ کے اس برخوردار بھتیجے پر ایک ’’سمپوزیم‘‘ ہوا تھا۔ اس میں کسی نے کہا کہ میں آپ کے امریکہ کے لئے اپنے پاکستان میں زمین ہموار کر رہا ہوں۔ کتنی ٹچی بات ہے۔ ابھی تک آپ نے بل ڈوزر تو بھیجے نہیں اور یہ ساری دنیا جانتی ہے۔ میں بھارت کے اس عقل کے اندھے سے پوچھتا ہوں کہ میں امریکہ کے لئے پاکستان میں زمین کسی چیز سے ہموار کر رہا ہوں۔۔۔؟ اپنے سر سے۔\n\nمیری باتیں بہت دیر کے بعد آپ کی سمجھ میں آتی ہیں۔ صرف اس لئے کہ آپ ہائیڈروجن بموں کے تجربات میں مصروف ہیں۔ آپ کو دین کا ہوش ہے نہ دنیا کا۔ قبلہ ان بموں کو چھوڑیے۔۔۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ میرا چھٹا خط، کمیونسٹ بالا بالا لے اڑیں۔ میرے بس میں ہوتا تو میں ان شرارت پسندوں کے ایسے کان اینٹھتا کہ بلبلا اٹھتے، مگر مصیبت یہ ہے کہ میں۔۔۔ اب میں آپ کو کیا بتاؤں۔ یہاں کے سارے بڑے بڑے کمیونسٹ میرے دوست ہیں۔ مثال کے طور پر احمد ندیم قاسمی، سبط حسن، عبداللہ ملک (حالانکہ مجھے اس سے نفرت ہے۔ بڑا گھٹیا قسم کا کمیونسٹ ہے۔) فیروز الدین منصور، احمد راہی، حمید اختر، نازش کاشمیری اور پروفیسر صفدر۔\n\nچچا جان، میں ان لوگوں کے سامنے چوں نہیں کر سکتا، اس لئے کہ میں ان سے آئے دن قرض لیتا رہتا ہوں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ مقروض قرض خواہ کے سامنے کچھ بول نہیں سکتا۔ آپ نے مجھے قرض تو کبھی نہیں دیا۔ البتہ شروع شروع میں جب میں نے آپ کو پہلا خط لکھا تھا تو اس سے متاثر ہو کر آپ نے خیر سگالی طور پر مجھے مالی امداد بھیجی تھی، یعنی تین سو روپے دیے تھے۔ اور میں نے آپ کے اس جذبے سے متاثر ہو کر دل میں یہ عہد کر لیا تھا کہ عمر بھر آپ کا ساتھ دوں گا، مگر آپ نے میرے اس جذبے کی داد نہ دی اور مالی امداد کا سلسلہ بند کر دیا۔ پیارے چچا جان۔ مجھے بتایئے کہ مجھ سے کون سا گناہ سرزد ہوا ہے کہ آپ مجھے سزا دے رہے ہیں۔ لاہور میں جو آپ کا دفتر ہے، اس کے چپراسی بھی مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کرتے۔ دو تین جونیئر افسر جو میرے پاکستانی بھائی ہیں، ان میں آپ نے ایسے سرخاب کے پر لگا دیے ہیں کہ وہ میرا نام سنتے ہی مجھے گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔\n\nآخر میرا قصور۔۔۔؟ میں نے اگر خلوص نیتی سے تسلیم کیا کہ آپ نے میری مالی امداد کی ہے تو اس میں انہوں نے کیا قباحت دیکھی۔ بھارت کو آپ کروڑوں ڈالر دے چکے ہیں۔ وہ تسلیم کرتا ہے۔ میرے پاکستان کو آپ نے مفت گندم بھیجا۔ یہ غریب بھی تسلیم کرتا ہے۔ کراچی میں ہم لوگوں نے اونٹوں کا جلوس نکالا اور باقاعدہ اشتہار بازی کی کہ آپ نے ہم پر بہت بڑا کرم کیا ہے۔ یہ جدا بات ہے کہ آپ کا بھیجا ہوا گندم ہضم کرنے کے لئے ہمیں اپنے معدے امریکیا نے پڑے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا، آپ بھارت کو اربوں ڈالر قرض دے رہے ہیں، پاکستان کو فوجی امداد دینے کا بھی آپ نے وعدہ کیا ہے، لیکن میرا وظیفہ کیوں نہیں لگا دیتے۔ لوگ کیا کہیں گے کہ پاکستان کے اتنے بڑے افسانہ نگار کو صرف تین سو روپیاں دے کر آپ نے ہاتھ روک لیا۔ یہ میری ہتک ہے اور آپ کی بھی، اگر آپ وظیفہ نہیں دینا چاہتے تو نہ دیں۔ قرض میں کیا مضائقہ ہے۔ از راہ کرم فوراً ایک لاکھ ڈالر مجھے قرض دے ڈالئے تاکہ میں اطمینان کے دو سانس لے سکوں۔\n\nآغا خان کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے کیونکہ وہ بھی بہت بڑا سرمایہ دار ہے۔ اس کی حال ہی میں پلیٹی نم جبلی منائی گئی تھی۔ میرا جی چاہتا ہے کہ میری بھی ایک جبلی ہو جائے۔ آپ میرے، پیارے، پیارے، بہت ہی پیارے چچا ہیں۔ آپ سے چوچلے نہ بگھاروں تو کیا اپنے ملک کے وزیر اعظم محمد علی صاحب سے بگھاروں گا۔۔۔ خدا کے لئے میری ایک جبلی کر ڈالئے تاکہ قبر میں میری روح بے چین نہ رہے۔\n\nپاکستان۔۔۔ میرا پاکستان اپنے فن کاروں کی قدردانی میں غافل نہیں، لیکن مصیبت یہ ہے کہ مجھ سے جو زیادہ حقدار ہیں ان کی فہرست بہت لمبی ہے۔ پچھلے دنوں میری حکومت نے خان بہادر محمد عبد الرحمن چغتائی کے لئے پانچ سو روپے ماہوار تا حیات کا وظیفہ مقرر کیا۔ خان بہادر صاحب اللہ کے فضل سے صاحب جائیداد ہیں۔ اس لئے وہ مجھ سے کہیں زیادہ مستحق تھے۔ اس کے بعد خان بہادر ابوالاثر حفیظ جالندھری صاحب کے لئے بھی تاحیات اتنا ہی وظیفہ منظور کیا گیا، اس لئے کہ وہ بھی صاحب ثروت ہیں۔ میری باری خدا معلوم کب آئے گی، اس لئے کہ میں الاٹ شدہ مکان میں رہتا ہوں جس کا کرایہ بھی میں ادا نہیں کر سکتا۔\n\nبہت سے مستحق اصحاب پڑے ہیں۔ مثال کے طور پر میاں بشیر احمد بی اے، آکسن مدیر ماہنامہ ’’ہمایوں‘‘ (سابق سفیر ترکی) سید امتیاز علی تاج، مسٹر اکرام پی سی ایس، فضل احمد کریم فضلی وغیرہ وغیرہ۔ ان کا نمبر پہلے آتا ہے اس لئے کہ ان کو کسی وظیفے کی احتیاج نہیں، لیکن میری حکومت کا دل صاف ہے۔ وہ خدمات دیکھتی ہے، دولت نہیں دیکھتی۔ ویسے میں نے کون سا اتنا بڑا کام کیا ہے جو ان لوگوں کو چھوڑ کر میری حکومت اپنی توجہ میری طرف منعطف کرے اور ایمان کی بات تو یہ ہے کہ میں صرف اس بل بوتے پر کہ میں آپ کا بھتیجا ہوں، آپ سے درخواست کر رہا ہوں کہ میری کوئی جبلی کر ڈالئے۔\n\nمیری زندگی کے دن بہت کم ہیں۔ آپ کو دکھ تو ہو گا، مگر میں کیا کہوں، اس اختصار کا باعث آپ کی ذات شریف ہے، اگر آپ کو میری صحت کا خیال ہوتا تو آپ اور کچھ نہیں تو کم از کم وہاں سے الزبتھ ٹیلر ہی کو میرے پاس بھیج دیتے کہ وہ میری تیمارداری کرتی۔ معلوم نہیں آپ کیوں اتنی غفلت برت رہے ہیں۔ کیا آپ میری موت چاہتے ہیں۔۔۔؟ یا کوئی اور بات ہے جسے آپ نے راز بنا کے رکھ چھوڑا ہے؟\n\nمگر یہ راز اب راز نہیں رہا کہ میرے ملک پاکستان میں کمیونزم بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ میں آپ سے کیا چھپاؤں۔ بعض اوقات میرا بھی جی چاہتا ہے کہ سرخ پَر لگا کر سرخا بن جاؤں۔۔۔ اب آپ ہی فرمایئے یہ کتنی خطرناک خواہش ہے۔ اسی لئے میرے بزرگوار میں نے آپ کو یہ مشورہ دیا تھا کہ روسیوں کے ثقافتی وفد کے توڑ میں وہاں سے اپنی ’’پن اپ گرلز‘‘ کا ایک خیر سگالی وفد روانہ کر دیجئے۔ ساون کے دن آنے والے ہیں۔ اس موسم میں ہم لوگ بڑے رومانٹک ہو جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے اگر آپ کا ارسال کردہ وفد اس موسم میں آئے تو بہت اچھا رہے گا۔ اس کا نام ’برشگالی وفد‘ رکھ دیجئے گا۔\n\nچچا جان، میں نے ایک بڑی تشویش ناک خبر سنی ہے کہ آپ کے یہاں تجارت اور صنعت بڑے نازک دور سے گزر رہی ہے۔ آپ تو ماشاء اللہ عقل مند ہیں، لیکن ایک بے وقوف کی بات بھی سن لیجئے۔ یہ تجارتی اور صنعتی بحران صرف اس لئے پیدا ہوا ہے کہ آپ نے کوریا کی جنگ بند کر دی ہے۔ یہ بہت بڑی غلطی تھی۔ اب آپ ہی سو چیئے کہ آپ کے ٹینکوں، بم بار ہوائی جہازوں، توپوں اور بندوقوں کی کھپت کہاں ہوگی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی رائے عامہ کی شدید مخالفت کی بنا پر آپ کو یہ جنگ بند کرنا پڑی ہے، لیکن عالمی رائے عامہ آپ کے سامنے کیا حقیقت رکھتی ہے۔ میرا مطلب ہے سارا عالم آپ کے ایک ہائیڈروجن بم کا کیا مقابلہ کر سکتا ہے۔ کوریا کی جنگ آپ نے بند کر دی ہے۔ یہ بہت بڑی غلطی تھی۔ خیر اس کو چھوڑیئے۔ آپ ہندوستان اور پاکستان میں جنگ شروع کرا دیجئے۔ کوریا کی جنگ کے فائدے اس جنگ کے فائدوں کے سامنے ماند نہ پڑ گئے تو میں آپ کا بھتیجا نہیں۔\n\nقبلہ ذرا سوچیئے یہ جنگ کتنی منعفت بخش تجارت ہوگی۔ آپ کے تمام اسلحہ ساز کارخانے ڈبل شفٹ پر کام کرنے لگیں گے۔ بھارت بھی آپ سے ہتھیار خریدے گا اور پاکستان بھی۔ آپ کی پانچوں گھی میں ہوں گی اور سر کڑاہے میں۔ ویسے آپ ہند چینی میں جنگ جاری رکھئے۔ لوگوں کو تلقین کرتے رہیئے کہ یہ بڑا نیک کام ہے۔ فرانسیسی عوام اور فرانسیسی حکومت جائے جہنم میں، وہ اس جنگ کے خلاف ہے تو ہوا کرے۔ ہمیں کوئی پروا نہیں کرنی چاہیئے۔ آخر ہمارا مقصد تو دنیا میں امن و امان قائم کرنا ہے۔ کیوں چچا جان؟\n\nمجھے آپ کے مسٹر ڈلز کا یہ کہنا بہت پسند آیا ہے کہ آزاد دنیا کا مقصد کمیونزم کو شکست دینا ہے۔۔۔ یہ ہے ہائیڈروجن بم کی پراز حریت زبان۔ جاہل گو یہ کہتے ہیں کہ مغربی اتحاد کا مقصد دوسری اقوام کے درمیان اختلافات کو طاقت کے بغیر حل کرنا ہونا چاہیئے۔۔۔ میں پوچھتا ہوں طاقت کے بغیر کوئی اختلاف آج تک حل ہوا ہے۔ آج کل تو ساری دنیا اختلافات سے بھری پڑی ہے اور اس کا حل اس کے سوائے اور کیا ہو سکتا ہے کہ دنیا کو مکمل تباہی کی تصویر پیش کر دی جائے اور اس سے کہا جائے کہ تم اپنے گھٹنے ٹیک دو۔ برطانیہ کے مسٹر بیوان کا آپ منہ بند کیوں نہیں کرتے۔ آپ کی بلی آپ ہی کو میاؤں۔ خرذات آپ کے خلاف زہر اگل رہا ہے۔ آپ کے مسٹر ڈلز کے متعلق کہتا ہے کہ وہ جدید ترین خیالات سے بے بہرہ ہیں اور دنیا کو ہائیڈروجن بم سے ڈرا دھمکا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔۔۔ الو کہیں کا۔\n\nچچا جان مجھے بڑا تاؤ آتا ہے جب برطانیہ کا کوئی مسخرا آپ کے خلاف اول جلول بکتا ہے۔ میری مانئے، جزائر برطانیہ ہی کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دیجئے۔ اولوالعزم لوگوں کے لئے یہ ٹاپو ہمیشہ درد سر بنے رہے ہیں، اگر آپ ان کو اڑانا نہیں چاہتے تو وہ بیس میل لمبی کھائی پاٹ دیجئے جو برطانیہ عظمیٰ کو یورپ سے جدا کرتی ہے۔ اللہ بخشے نپولین بونا پارٹ اور ہزہٹلر کو اس سے بڑی چڑ تھی، اگر یہ نہ ہوتی تو آج مسٹر بیوان بھی نہ ہوتے اور بہت ممکن ہے آپ بھی غفراللہ ہو گئے ہوتے۔ جو پریشانیاں اب آپ کو اٹھانا پڑ رہی ہیں ان سے آپ کو یقیناًنجات مل جاتی۔\n\nمیں آپ سے سچ کہتا ہوں آگے چل کر آپ کو یہ برطانیہ بہت تنگ کرے گا۔ میں تو کمبل چھوڑتا ہوں، کمبل ہی مجھے نہیں چھوڑتا والا معاملہ ہو جائے گا۔ پچھلی جنگ میں جرمنی نے اٹلی کو اپنے ساتھ ملایا لیکن غریب مصیبت میں گرفتار ہوگیا۔ لینے کے دینے پڑ گئے۔ آپ اس چکر میں نہ پڑیے گا۔ بس اپنے اسی پرانے اصول پر قائم رہیں۔ ’’کیش اینڈ کیری۔‘‘ رود بار انگلستان کو پر کر کے یورپ سے ملانے کا منصوبہ آپ یہ خط ملتے ہی بنا لیں۔ میرا خیال ہے، آپ کے انجینئر ایک مہینے کے اندر اندر اس کام سے عہدہ برآ ہو جائیں گے۔\n\nمیں نے اصل میں یہ خط آپ کو اس لئے لکھا تھا کہ آپ میری کوئی جبلی منائیں، کیونکہ مجھے اس کا بڑا شوق ہے۔ مجھے لکھتے ہوئے پچیس برس ہونے کو ہیں، چونچلا ہی سہی، لیکن میں آپ سے درخواست کرتا ہوں اور گڑگڑا کر کرتا ہوں کہ اور کچھ نہیں تو میری ایک جبلی منا ڈا لئے۔ چونکہ میرا پیشہ لکھنا ہے۔ اس مناسبت سے اس جبلی کا نام ’’پار کر ففٹی ون جبلی‘‘ اچھا رہے گا۔ لاہور کے اوپن تھیٹر میں مجھے پار کر کے ففٹی ون قلموں میں تلوا دیجئے۔ ترازو میں احسان بن دانش کی ٹال سے لے لوں گا۔ معلوم نہیں ایک قلم کا وزن کتنا ہوتا ہے۔ میرا وزن اس وقت ایک من ڈھائی سیر ہے، لیکن جبلی کے روز تک یہ گھٹ کے ایک من رہ جائے گا، اگر آپ نے دیر کر دی تو مجھے بڑی ناامیدی کا سامنا کرنا پڑے گا، اس لئے کہ میرا وزن گھٹتے گھٹتے صفر رہ جائے گا۔ آپ حساب لگا لیجئے کہ ایک من میں ’’پارکر ففٹی ون‘‘ قلم کتنے چڑھیں گے، لیکن خدارا جلدی کیجئے گا۔\n\nیہاں سب خیریت ہے۔ مولانا بھاشانی اور مسٹر سہروردی ماشاء اللہ دن بدن تکڑے ہو رہے ہیں۔ آپ سے کچھ ناراض معلوم ہوتے ہیں۔ مولانا کو آپ ایک عدد خالص امریکی تسبیح اور مسٹر سہروردی کو ایک عدد خالص امریکی کیمرہ روانہ کر دیں۔ ان کی ناراضی دور ہو جائے گی۔ ہیرا منڈی کی طوائفیں، شورش کاشمیری کے ذریعے سے مجرا عرض کرتی ہیں۔\n\nمورخہ ۱۴؍ اپریل ۵۴ء\n\nآپ کا تابع فرمان\n\nسعادت حسن منٹو\n۳۱ لکشمی مینشنز ہال روڈ لاہور", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%86%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D8%B7"} {"title": "چچا سام کے نام نواں خط", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "چچا جان۔ السلام علیکم۔\n\nمیرا پچھلا خط نامکمل تھا۔ بس مجھے صرف اتنا ہی یاد رہا ہے۔ اگر یاد آ گیا کہ میں نے اس میں کیا لکھا تھا تو میں اس کو مکمل کر دوں گا۔ میرا حافظہ یہاں کی کشید کی ہوئی شرابیں پی پی کر بہت کمزور ہو گیا ہے۔ یوں تو پنجاب میں شراب نوشی ممنوع ہے، مگر کوئی بھی آدمی بارہ روپے دو آنے خرچ کر کے شراب پینے کے لئے پرمٹ حاصل کر سکتا ہے۔ اس رقم میں پانچ روپے ڈاکٹر کی فیس ہوتے ہیں جو لکھ دیتا ہے کہ جس آدمی نے یہ روپے خرچ کئےہیں اگر باقاعدہ شراب نہ پئے تو اس کے جینے کا کوئی امکان نہیں۔\n\nمجھے یاد ہے، بہت عرصہ ہوا آپ نے بھی اپنے ملک میں شراب نوشی قطعاً ممنوع قرار دے دی تھی۔ پرمٹوں کا جھگڑا آپ نے نہیں پالا تھا، لیکن اس کا نتیجہ خاطر خواہ نہیں نکلا تھا۔ بڑے بڑے ’’گینگسٹر‘‘ اور ’’بوٹ لیگر‘‘ پیدا ہو گئے تھے جنہوں نے آپ کی حکومت کے مقابلے میں اپنی ایک متوازی حکومت قائم کر لی تھی۔ آخر کار ناکام ہو کر آپ کو امتناع شراب کا حکم واپس لینا پڑا تھا۔ یہاں اس قسم کی کوئی واپسی نہیں ہوگی۔ ہماری حکومت ملاؤں کو بھی خوش رکھنا چاہتی ہے اور شرابیوں کو بھی۔ حالانکہ مزے کی بات یہ ہے کہ شرابیوں میں کئی ملا موجود ہیں اور ملاؤں میں اکثر شرابی۔ بہرحال شراب بکتی رہے گی، اس لئے آپ کو میری طرف سے مترود نہیں ہونا چاہیئے۔ یوں بھی آپ کافی کٹھور ہیں۔ اتنی دفعہ لکھ چکا ہوں کہ یہاں کی شراب بڑی ظالم ہے، لیکن آپ نے کبھی اپنے برخوردار بھتیجے کو اس کے نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنے یہاں کی وسکی بھیجنے کی زحمت گوارا نہ کی۔۔۔ میں اب اس کے متعلق آپ سے کوئی بات نہیں کروں گا۔ مجھے جھونکئے بھاڑ میں۔ میرے ملک پاکستان کی فوجی امداد جاری رکھیئے۔ میں خوش، میرا خدا خوش۔\n\nمیں خوش ہوں کہ آپ میرے خطوط اپنے پائپ میں جلا کر نہیں پیتے بلکہ غور سے پڑھتے ہیں اور میرے مشوروں پر کافی توجہ دیتے ہیں۔ اسی خوشی میں آپ کو میں ایک اور مشورہ دیتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ روزنامہ ’’زمیندار‘‘ کو آپ اس طور پر مدد دیجئے کہ کانوں کان خبر نہ ہو۔ اس کے بھینگے مینجنگ ڈائریکٹر اور نیم لنگڑے ایڈیٹر کو روپیہ وصول کرنے کا کوئی سلیقہ نہیں۔ بانی ’’زمیندار‘‘ کے فرزند ارجمند مولانا اختر علی خان (جن کو مولانا کا خطاب وراثت میں ملا ہے۔) بھی یہ سلیقہ نہیں رکھتے تھے۔ اس لئے کہ جب ان کو محکمہ تعلقات عامہ کے سابق ڈائریکٹر میر نور احمد صاحب کی طرف سے؟ ہزار روپے ’’منہ بندی‘‘ کے ملے تو انہوں نے جھٹ سے ایک نئی امریکن کار خرید لی اور بڑے ٹھاٹ سے اس کی ’’مسی‘‘ کی رسم ادا کی۔ یہ ان کی سراسر حماقت تھی۔ وہ ان دنوں جیل میں ہیں۔ خدا کرے وہ اسی چار دیواری میں رہیں اور اپنی مزید حماقتوں کا ثبوت نہ دیں، مگر مجھے حیرت ہے کہ ان کے صاحب زادے بھی جو آج کل ’’زمیندار‘‘ کی مینجنگ ایڈیٹری کرتے ہیں، تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود نرے کھرے چغد ہیں۔\n\nپچھلے دنوں اس اخبار کے ’’تیمور لنگ‘‘ پر میری ہمدردی کا دورہ پڑا تھا، اگر آپ کے پاؤں میں لنگ نہ ہوتا تو آپ یقیناً پاکستان کے ڈاکٹر مصدق ہوتے۔ آپ جب لکھنا شروع کرتے ہیں تو سارے جہاں کا درد آپ کی گردن پر پیرو تسمہ پا کی طرح سوار ہو جاتا ہے۔ آپ کو خیر اس سے پہلے ہی یہ خبر پہنچ چکی ہوگی کہ جب ڈاکٹر مصدق کی اپیل کی سماعت ایران کی عدالت عالیہ میں شروع ہوئی تو اس پاکستانی ظہور الحسن ڈار نے جو، بے ڈار، تحریر میں یدطولیٰ رکھتا ہے کہا، ’’میں کچھ کہنا نہیں چاہتا۔ مجھے اس طلسمی انگوٹھی پر پوراا عتماد ہے جو میری بیوی نے مجھے پیش کی تھی۔‘‘ ایک مرتبہ انہوں نے فوجی عدالت میں سرکاری وکیل کو کشتی لڑنے کی دعوت دے ماری تھی۔ اس کے بعد انہوں نے فرمایا تھا کہ وہ بھوک ہڑتال فرمائیں گے اور خدا کے فضل و کرم سے دو دن کے اندر اندر اللہ کو پیارے ہو جائیں گے، مگر وہ اللہ کو پیارے بھی نہ ہوئے اور ماشاء اللہ زندہ رہے۔ بیہوش تو وہ اکثر ہوتے رہے۔\n\nپاکستانی ڈاکٹر مصدق یعنی ظہور الحسن ڈار گو ڈاکٹر نہیں، لیکن بیہوش ہوتے رہتے ہیں۔ جب بھی ان کو غشی کا دورہ پڑتا ہے تو علی سفیان آفاقی اور منصور علی خان اس کو مولانا ظفر علی خان کا ایجاد کردہ لخلخلہ سنگھاتے ہیں تاکہ وہ ہوش میں آئیں اور آج کی ڈائری لکھنے کے قابل ہو سکیں۔ انہی کی لنگڑی ٹانگ دیکھ کر کسی ترقی پسند نے ایک شعر کہا تھا جس کا مصرعہ ثانی مجھے یاد رہا ہے۔۔۔ ایک توڑی خدا نے دوسری توڑے رسول۔ میرا خیال ہے یہ اس ترقی پسند شاعری کی زیادتی تھی۔ ورنہ ڈار صاحب بڑے کہنہ مشق اخبار نویس ہیں، گالیاں کھا کے بھی بے مزہ نہیں ہوتے۔ گالیاں اور سٹھیناں دے کر بھی ان کا پیٹ نہیں بھرتا اور یہ سب اس طلسمی انگوٹھی کے طفیل ہے جو غالباً لڑکپن میں ان کو کسی قدر دان نے دی تھی۔\n\nمجھے کہنا یہ تھا کہ اگر آپ ’’زمیندار‘‘ کو اخباری امداد دیں تو میری وساطت سے دیں تاکہ میں اپنے ہمدرد ظہور الحسن ڈارکے لئے اس کا حصہ الگ کر کے اس کے حوالے کر دوں۔ بیچارہ میرے گھر بار کا بڑا خیال رکھتا ہے۔ میرے مضمون کی عام قیمت پچاس روپے ہے۔ اس نے اس خیال سے کہ میں اس گراں قدر رقم کو شراب میں اڑا دوں گا، اپنے خاص نمبر کے لئے مجھ سے ایک مضمون طلب کیا اور اس کی قیمت احتیاطاً بیس روپے مقرر فرمائی اور یہ تہیہ کیا کہ وہ اس رقم کا چیک میری بیوی کی خدمت میں خود پیش کرے گا تاکہ میری ہشت پشت پر اس کا احسان رہے۔۔۔ میں بہرحال اس کا ممنون و متشکر ہوں کہ اس کو میری ’’بد ذات‘‘ سے اتنی پرخلوص دلچسپی ہے۔\n\nیہاں کے سب اخباروں میں ایک صرف ’’زمیندار‘‘ ہی ایسا اخبار ہے جس کو آپ کے ڈالر جب چاہیں خرید سکتے ہیں، اگر اختر علی خان رہا ہو گئے تو میں کوشش کروں گا کہ ظہور الحسن ڈار ہی اس کا ایڈیٹر رہے۔ بڑا برخوردار لڑکا ہے۔ لیکن آپ اپنے اثر و رسوخ سے کام لے کر میر نور احمد صاحب کو پھر محکمہ تعلقات عامہ کا ڈائریکٹر بنوا دیجئے۔ سرفراز صاحب کسی کام کے آدمی نہیں۔ وہ لاکھوں روپیہ اخباروں میں تقسیم کرنے کے بالکل اہل نہیں۔ بہتر ہوگا اگر آپ روپیہ میری معرفت روانہ کریں۔ میرا ان پر اس طرح کچھ رعب بھی رہے گا اور آپ کے پروپیگنڈے کا کام بھی میری نگرانی میں بطریقِ احسن ہوتا رہے گا۔\n\nآپ کے پرچے جو یہاں شائع ہوتے ہیں، اکثر ردی میں بکتے ہیں۔ ’’اخبار، ردی، بوتل والے‘‘ آپ کے بے حد ممنون و متشکر ہیں۔ ان پرچوں کے کاغذ چونکہ مضبوط ہوتے ہیں، سودا سلف کے لئے لفافے بنانے کے کام آتے ہیں۔ آپ انہیں جاری رکھیئے کہ ہمارے یہاں کاغذ کی شدید قلت ہے، مگر آپ یہاں کے چلتے چلاتے ردی میں نہ بکنے والے پرچے خرید سکتے ہیں۔ چچا جان! میں نے ایک بہت تشویش ناک خبر پڑھی ہے۔ معلوم نہیں کمیونسٹوں کی پھیلائی ہوئی افواہ ہے یا کیا ہے۔ اخباروں میں لکھا تھا کہ آپ کے یہاں خلاف وضع فطری کے افعال زوروں پر ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو بڑی شرم کی بات ہے۔ آپ کی ملین ڈالر ٹانگوں والی لڑکیوں کو کیا ہوا۔ ڈوب مرنے کا مقام ہے ان کے لئے۔ خدا نخواستہ اگر یہ سلسلہ آپ کے یہاں شروع ہو چکا ہے تو اپنے سارے ’’اوسکر وائلڈ‘‘ یہاں روانہ فرما دیجئے۔ یہاں ان کی کھپت ہو سکتی ہے۔ ویسے بھی ہم لوگ آپ کی فوجی امداد کے پیش نظر ہر خدمت کے لئے تیار ہیں۔\n\nمعلوم نہیں، کامریڈ سبط حسن نے کسی نہ کسی طریقے سے میرا خط پڑھ لیا ہے۔ میرا خیال ہے یہ وہی خط ہے جو کامریڈ راہی نے بالا بالا اڑا لیا تھا۔ اسے پڑھ کر اس نے مجھے ایک خط لکھا ہے۔ ذرا اس کی ڈھٹائی ملاحظہ فرمائے۔ کہتا ہے کہ سعادت تم خود کمیونسٹ ہو۔ چاہے مانو نہ مانو۔ چچا جان یہ خط ضرور آپ کی نظروں سے گزرے گا۔ میں آپ کی سات آزادیوں اور آپ کے ڈالروں کو حاضر ناظر رکھ کے کہتا ہوں کہ میں کبھی کمیونسٹ تھا، نہ اب ہوں۔ یہ محض سبط حسن کی شرارت ہے۔۔۔ بڑی سرخ قسم کی، جو آپ کے اور میرے تعلقات خراب کرنے پر درپے ہے۔ ورنہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، میں آپ کا برخوردار اور نمک خوار ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان تین سو روپوں کی جو مجھے آپ نے بھیجے تھے صرف جم خانہ وسکی پی تھی (جس کی تعریف میں اپنے کسی پچھلے خط میں کر چکا ہوں۔ ) اور ایک دھیلے کا بھی نمک نہیں خریدا تھا۔ بڑی مصیبت ہے کہ ڈاکٹروں نے مجھے نمک کھانے سے منع کر رکھا ہے۔ جونہی انہوں نے اجازت دی میں آپ کو لکھ دوں گا، تاکہ آپ وہاں سے خالص امریکی نمک میری روز مرہ کی خوراک کے لئے بھیجتے رہیں اور میں صحیح معنوں میں آپ کا نمک خوار کہلا سکوں۔\n\nمیں آپ کو ایک بار پھر یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میں کمیونسٹ نہیں ہوں۔ ہو سکتا ہے قادیانی بن جاؤں مگر کمیونسٹ تو میں کبھی نہیں بنوں گا۔ اس لئے کہ یہ سالے محض زبانی جمع خرچ سے کام لیتے ہیں۔ ہاتھ سے کچھ بھی دیتے دلاتے نہیں۔ یوں تو قادیانی بھی اسی قسم کے خسیس ہیں، پھر بھی پاکستانی ہیں۔ اس کے علاوہ میں ان سے کوئی بگاڑ پیدا نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ مجھے معلوم ہے آپ کو ہائیڈروجن بم کے تجربوں کے بعد فوراً ایک نبی کی ضرورت ہوگی جو صرف مرزا بشیر الدین محمود ہی مہیا کر سکتے ہیں۔\n\nآج کل یہاں کے ٹھیٹ مسلمان سر ظفر اللہ کے بہت خلاف ہو رہے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ انہیں وزارت کی گدی سے اتار دیا جائے۔ صرف اس لئے کہ وہ قادیانی ہیں۔ ذاتی طور پر مجھے ان سے کوئی پرخاش نہیں، لیکن میں اتنا سمجھتا ہوں کہ وہ آپ کے لئے بہت کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ ان کو اپنے یہاں بلا لیں۔ خدا کے فضل و کرم سے وہ آپ کے یہاں کی تمام جنسی بے راہ رویوں کو دور کر دیں گے۔ عراق کی حکومت کی طرف سے آج یہ اعلان سنا کہ آپ اس اسلامی ملک کو بھی فوجی امداد دینے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امداد غیر مشروط ہو گی۔ چچا جان، آپ میرے پاس ہوتے تو میں آپ کے پاؤں چوم لیتا۔ خدا آپ کو رہتی دنیا تک سلامت رکھے۔ اسلامی ممالک پر آپ کی جو نظر کرم ہو رہی ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آپ بہت جلد مشرف بہ اسلام ہونے والے ہیں۔\n\nمیں اس سے پیشتر آپ کو مذہب اسلام کی چند خوبیاں بیان کر چکا ہوں، اگر آپ اس سعادت سے مشرف ہو چکے ہیں تو فوراً تین شادیاں کر لیجئے۔ (اگر چچی جان بقید حیات ہوں۔) اپنے یہاں کی مشہور ایکٹرس عشرت جہاں ببو کو میں نے تیار کر لیا ہے۔ آپ کی پہلی شادی (بشرطیکہ آپ کنوارے ہوں) اسی پاکستانی خاتون سے ہونی چاہیئے، اس لئے کہ وہ کئی شوہروں کا تجربہ رکھتی ہے اور پینا پلانا بھی جانتی ہے۔ فی الحال شادی شدہ ہے، لیکن میں اس سے کہوں گا تو وہ اپنے پانچویں یا چھٹے شوہر سے طلاق حاصل کر لے گی۔\n\nہاں، چچا جان، یہ میں نے کیا سنا ہے آپ کی ریٹا بے ورتھ روس جا رہی ہے۔ خدا کے لئے اسے روکئے۔ اس نے سر آغا خان کے صاحب زادے پرنس علی خان سے شادی کی تھی۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا، لیکن اس کا روس جانا مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا۔ مجھے حیرت ہے کہ آپ نے ابھی تک اس شریر عورت کے کان کیوں نہیں اینٹھے۔ اس کے روس جانے کی خبر مجھے کامریڈ سبط حسن نے بڑے فخر و ابتہاج سے سنائی تھی۔ کم بخت زیر لب مسکرا رہا تھا۔ جیسے آپ کا مذاق اڑا رہا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اگر ریٹا روس چلی گئی تو آپ کا اور میرا دونوں کا ایسا مذاق اڑے گا کہ طبیعت صاف ہو جائے گی۔ کہیں یہ سیماب صفت ایکٹرس مالنکوف سے شادی کرنے تو نہیں جا رہی، اگر یہی سلسلہ ہے اور اس میں آپ کی کوئی سیاسی چال ہے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ دوسری صورت بہر حال بہت ذلت آفریں اور خطرناک ہے۔\n\nآج کے اخباروں میں یہ بھی لکھا تھا کہ ریٹا کے خلاف اپنی اور شہزادہ علی خان کی بچی یاسمین اور بڑی لڑکی (معلوم نہیں یہ کس خاوند سے ہے) صحیح طور پر پرداخت نہ کرنے کے الزام میں مقدمہ چل رہا ہے اور یہ دونوں لڑکیاں عدالت کی تحویل میں ہیں۔ ریٹا مغربی فلوریڈا میں ہے جہاں حکومت اس کے چوتھے شوہر کو ملک بدر کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ یہ قصہ کیا ہے؟ میں نے احمد راہی سے پوچھا تھا لیکن وہ گول کر گیا۔ اس کی باتوں سے البتہ میں اپنی خداداد ذہانت سے اتنا معلوم کر سکا کہ یہ سب روسیوں کی کارستانی ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ ابھی تک خاموش کیوں ہیں۔\n\nمیں تو آپ کو یہ رائے دیتا ہوں کہ ریٹا کے چوتھے خاوند کو جو سنا ہے کہ موسیقار ہے، وہاں پھانسی پر لٹکا دیں یا اسے ایٹم بم یا ہائیڈروجن بم بنانے کے راز روس کے پاس بیچنے کے الزام میں ماخوذ کر کے عمر قید کی سزا کا حکم سنا دیں اور ریٹا کو فوراً یہاں بھیج دیں اور اس سے کہیں کہ وہ ہمارے مسٹر سہروردی کو پھانس کر اس سے شادی کر لے۔ اس کے بعد وہ مولانا بھاشانی سے ازدواجی رشتہ قائم کر سکتی ہے، پھر شیر بنگال چودھری فضل حق صاحب بھی خدا کے فضل و کرم سے موجود ہیں اور مشرقی پاکستان کے وزیراعلیٰ مقرر ہیں۔ ان تین بڑوں سے یکے بعد دیگرے طلاق لینے کے بعد وہ خواجہ ناظم الدین (سابق وزیر اعظم) سے رجوع کر سکتی ہے۔ زندہ رہا تو میں بھی حاضر ہوں، لیکن اس شرط پر کہ آپ میری مالی امداد باقاعدگی سے کرتے رہیں۔\n\nآپ کے اخبارات کی اطلاع ہے کہ اقوام متحدہ میں ہمارے پاکستان کے مستقل مندوب پروفیسر اے ایس بخاری کو شعبہ اطلاعات کے افسر اعلیٰ کا عہدہ پیش کیا جا رہا ہے۔ میں نے تو یہ سنا تھا کہ سر ظفر اللہ کو علیحدہ کر کے، بخاری صاحب کو وزیر خارجہ مقرر کیا جائے گا، مگر معلوم ہوتا ہے کہ آپ انہیں مستقل طور پر اپنے پاس ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ بخاری صاحب کو میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ ان کو مجھ سے بہت پیار ہے جس کا اظہار وہ ہر پانچویں یا چھٹے برس کے بعد کسی نہ کسی انداز سے کرتے رہتے ہیں۔ آپ تو صرف اتنا جانتے ہوں گے کہ وہ انگریزی زبان کے بہت بڑے جادو بیان مقرر ہیں، لیکن میں ان کو مزاح نویس کی حیثیت سے بھی جانتا ہوں۔ ان کا ایک مشہور مضمون ’’لاہور کا جغرافیہ‘‘ ہے جسے پڑھ کر بڑے بوڑھوں کے اس قول کی سو فیصد تصدیق ہو جاتی ہے کہ لاہور، لاہور ہے، اور بخاری، بخاری۔ ان سے کہئے کہ وہ آپ کے امریکہ کا بھی جغرافیہ لکھیں تاکہ آپ کے حدود اربعہ سے تمام دنیا اچھی طرح واقف ہو جائے۔ اس کا روسی زبان میں ترجمہ کرا کے ماموں مالنکوف کو ضرور بھیج دیجئے گا۔\n\nلکھتا میں بھی اچھا ہوں، لیکن مصیبت یہ ہے کہ آپ کے گھر کی مرغی بن کر دال برابر ہو گیا ہوں۔ ورنہ میں آپ کی شان میں ایسے ایسے قصیدے لکھ سکتا ہوں جو ’’نوائے وقت‘‘ کے حمید نظامی کے فلک کو بھی سوجھ نہیں سکتے۔ ایک مرتبہ مجھے اپنے یہاں بلایئے۔ دو تین مہینے اپنی سات آزادیوں کی مملکت کی سیر کرایئے۔ پھر دیکھئے یہ بندۂ آزاد آپ کی تمام خفیہ صلاحیتوں اور خوبیوں کا اعتراف کن جاندار الفاظ میں کرتا ہے۔ مجھے یقین ہے آپ اس قدر خوش ہوں گے کہ میرا منہ ڈالروں سے بھر دیں گے۔\n\nجاپان کے سائنس دانوں نے ایک اعلان میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ہائیڈروجن بم کا موسم پر بھی اثر پڑتا ہے۔ حال ہی میں آپ نے جزائر مارشل میں اس بم کے جو تجربے کئے تھے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جاپان کے موسم پر ان کا یہ اثر پڑا ہے کہ اپریل ختم ہونے کے باوجود وہاں اچھی خاصی سردی ہے۔ معلوم نہیں ان چپٹ نکے جاپانیوں کو سردی کیوں پسند نہیں۔ ہم پاکستانیوں کو تو بہت پسند ہے۔ آپ مہربانی فرما کے ایک ہائیڈروجن بم ہندوستان پر پھینک دیں۔ ہمارے ہاں گرمیوں کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ سردی ہو جائے تو میں بڑے آرام میں رہوں گا۔\n\nریٹا سے پوچھیئے۔ اگر وہ مان جائے تو پاکستان میں اس کی پہلی شادی مجھی سے رہے۔ جواب سے جلد سرفراز فرمائیے گا۔\n\nآپ کا تابع فرمان بھتیجا\n\nسعادت حسن منٹو\n\n۳۱ لکشمی مینشنز ہال روڈ لاہور\nمورخہ ۲۶ اپریل ۱۹۵۴ء", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%86%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%86%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D8%B7"} {"title": "چچا سام کے نام پانچواں خط", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "محترمی چچا جان!\n\nتسلیمات، میں اب تک آپ کو ’’پیارے چچا جان‘‘ سے خطاب کرتا رہا ہوں پر اب کی دفعہ میں نے ’’محترمی چچا جان‘‘ لکھا ہے، اس لئے کہ میں ناراض ہوں۔ ناراضی کا باعث یہ ہے کہ آپ نے مجھے میرا تحفہ (ایٹم بم) ابھی تک نہیں بھیجا۔ بتایئے یہ بھی کوئی بات ہے۔\n\nسنا تھا کہ باپ سے زیادہ چچا بچوں سے پیار کرتا ہے، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے امریکہ میں ایسا نہیں ہوتا۔۔۔ مگر وہاں بہت سی ایسی باتیں نہیں ہوتیں جو یہاں ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر یہاں آئے دن وزارتیں بدلتی ہیں۔ آپ کے یہاں ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہوتا۔ یہاں نبی پیدا ہوتے ہیں، وہاں نہیں ہوتے۔ یہاں ان کے ماننے والے وزیر خارجہ بنتے ہیں۔ اس پر ملک میں ہنگامے برپا ہوتے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ ان ہنگاموں پر تحقیقاتی کمیشن بیٹھتی ہے۔ اس کے اوپر کوئی اور بیٹھ جاتا ہے۔ وہاں اس قسم کی کوئی دلچسپ بات نہیں ہوتی۔ چچا جان، میں آپ سے پوچھتا ہوں۔ آپ اپنے یہاں نبی کیوں پیدا نہیں ہونے دیتے۔ خدا کی قسم ایک پیدا کر لیجئے۔ بڑی تفریح رہے گی۔ بڑھاپے میں وہ آپ کی لاٹھی کا کام دے گا۔ اس لاٹھی سے آپ امریکہ کی ساری بھنسیں ہانک سکیں گے (بھینسیں تو یقیناً آپ کے یہاں ضرور ہوں گی۔) اگر آپ نبی پیدا کرنے سے کسی وجہ سے معذور ہوں تو مجھے حکم دیجئے۔ میں مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے گزارش کروں گا۔ وہ اپنا صاحب زادہ بھیج دیں گے۔ جلدی لکھئے گا ایسا نہ ہو آپ کے دشمن روس سے مانگ آ جائے اور آپ منہ دیکھتے رہ جائیں۔\n\nبات ایٹم بم کی تھی جو میں نے آپ سے تحفے کے طور پر مانگا تھا اور میں نبی اور نبی زاردوں کی طرف چلا گیا۔۔۔ ہاں۔۔۔ کتنی معمولی بات تھی۔ میں نے صرف ایک چھوٹا، بہت ہی چھوٹا ایٹم بم مانگا تھا جس سے میں ایک ایسے آدمی کو اڑا سکتا جو مجھے اپنی گھیرے دار شلوار کے نیفے کے اندر ہاتھ ڈال کر ڈھیلا لگاتا نظر آتا۔۔۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے میری خواہش کی شدت کو محسوس نہیں کیا۔ یا شاید آپ ہائیڈروجن بموں کے تجربات میں مشغول تھے۔ چچا جان، یہ ہائی ڈروجن بم کیا بلا ہے۔ آٹھویں جماعت میں ہم نے پڑھا تھا کہ ہائیڈروجن ایک گیس ہوتی ہے، ہوا سے ہلکی، آپ اس کرۂ ارض کے سینے سے کس ملک کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتے ہیں۔ روس کا؟\n\nمگر سنا ہے وہ کم بخت نائٹروجن بم بنا رہا ہے۔ آٹھویں جماعت ہی میں ہم نے پڑھا تھا کہ نائٹروجن ایک گیس ہوتی ہے جس میں آدمی زندہ نہیں رہ سکتا۔ میرا خیال ہے کہ آپ اس کے جواب میں آکسیجن بم بنا دیں۔ آٹھویں جماعت میں ہم نے پڑھا تھا کہ نائٹروجن اور آکسیجن گیسیں جب آپس میں ملتے ہیں تو پانی بن جاتا ہے۔ کیا ہی مزا آئے گا۔ ادھر آپ آکسیجن بم پھینکیں گے، ادھر روس نائٹروجن بم۔۔۔ باقی دنیا پانی میں ڈبکیاں لگائے گی۔\n\nخیر یہ تو مذاق کی بات تھی۔ سنا ہے آپ نے ہائیڈروجن بم صرف اس لئے بنایا ہے کہ دنیا میں مکمل امن و امان قائم ہو جائے۔ یوں تو اللہ کی اللہ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن مجھے آپ کی بات کا یقین ہے۔ ایک اس لئے کہ میں نے آپ کا گندم کھایا ہے اور پھر میں آپ کا بھتیجا ہوں۔ بزرگوں کی بات یوں بھی چھوٹوں کو فوراً ماننی چاہیئے، لیکن میں پوچھتا ہوں، اگر آپ نے دنیا میں امن و امان قائم کر دیا تو دنیا کتنی چھوٹی ہو جائے گی۔ میرا مطلب ہے کتنے ملک صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہوں گے۔۔۔ میری بھتیجی جو اسکول میں پڑھتی ہے، کل مجھ سے دنیا کا نقشہ بنانے کو کہہ رہی تھی۔ میں نے اس سے کہا، ابھی نہیں، پہلے مجھے چچا جان سے بات کر لینے دو۔ ان سے پوچھ لوں کون سا ملک رہے گا، کون سا نہیں رہے گا، پھر بنا دوں گا۔\n\nخدا کے لئے روس کو سب سے پہلے اڑایئے گا۔ اس سے مجھے خدا واسطے کا بیر ہے۔ سات آٹھ دن ہوئے وہاں سے فن کاروں کا ایک وفد آیا تھا۔ خیر سگالی کر کے میرا خیال ہے اب واپس چلا گیا ہے۔ اس وفد میں ناچنے اور گانے والیاں تھیں، جنہوں نے ناچ گا کر ہمارے سادہ لوح پاکستانیوں کا دل موہ لیا۔ اب آپ اس کے توڑ میں جب تک وہاں سے کوئی ایسا گاتا بجاتا ناچتا تھرکتا خیر سگالی وفد نہیں بھیجیں گے، کام نہیں چلے گا۔ میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا کہ ہالی وڈ کی چند ’’ملین ڈالر‘‘ ٹانگوں والی لڑکیاں یہاں روانہ کر دیجئے، مگر آپ نے اپنے کم عقل بھتیجے کی اس بات پر کوئی غور نہ کیا اور ہائیڈروجن بم کے تجربوں میں مصروف رہے۔ قبلہ، جادو وہ ہے جو سر چڑھ کر بولے۔ ذرا اپنے سفارت خانے متعینہ پاکستان سے پوچھیئے۔ یہاں ہر ایک کی زبان پر تمہارا خانم اور مادام عاشورہ کا نام ہے۔ یہاں کا ایک بہت بڑا اردو اخبار ’’زمیندار‘‘ ہے، اس کے ایڈیٹر بڑے زاہد خشک قسم کے نوجوان ہیں۔ ان پر اس روسی وفد نے اتنا اثر کیا کہ نثر میں شاعری کرنے لگے۔ ایک پیرا ملاحظہ فرمایئے،\n\n’’جب وہ گا رہی تھی تو کھچا کھچ بھرے اوپن تھیٹر (شاید آپ کے یہاں ایسا تھیٹر نہ ہو) میں سامعین کے سانس لینے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ تھیٹر پر جھکا ہوا تاروں بھرا آسمان اور اسٹیج کے چاروں طرف ابھرے ہوئے سرسبز درخت بھی دم بخود تھے اور اس گمبھیر سناٹے میں ایک کوئل کوک رہی تھی۔ اس کی تیز، گہری اور روح کو چیر دینے والی آواز، تاریک رات کے سینے میں جابجا ان دیکھی روشنی کے گہرے گھاؤ ڈال رہی تھی۔‘‘\n\nپڑھ لیا آپ نے۔۔۔؟ چچا جان یہ معاملہ بہت سنگین ہے۔ ہائیڈروجن بموں کو فی الحال چھوڑیئے اور اس طرف توجہ دیجئے۔ آپ کے پاس کیا حسیناؤں کی کمی ہے۔ چشم بددور ایک سے ایک پٹاخاسی موجود ہے، لیکن میں آپ کو ایک مشورہ دوں، جتنی بھیجئے گا، سب کی ٹانگیں ’’ملین ڈالر‘‘ قسم کی ہوں اور ہمارے پاکستانی مردوں کو بوسہ دینے سے نہ گھبرائیں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ نے ایک جہاز بھر کولی نوس ٹوتھ پیسٹ بھیج دی تو میں سب کے دانت صاف کرا دوں گا۔ ان کے منہ سے بو نہیں آئے گی۔ آپ میری بات مان گئے تو آپ کی سات آزادیوں کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ روس والوں کے چھکے چھوٹ جائیں گے اور تمہارا خانم اور مادام عاشورہ ٹاپتی رہ جائے گی اور زمیندار کے ایڈیٹر کو دن میں تارے نظر آنے لگیں گے، لیکن چچا جان، ایک بات سن لیجئے، اگر آپ نے الزبتھ ٹیلر کو بھیجا تو اس کے بوسے صرف میرے لئے وقف ہوں گے۔ مجھے اس کے ہونٹ بہت پسند ہیں۔\n\nہاں، اس خیرسگالی وفد میں کہیں اس حبشی گویئے پال روبسن کو نہ شامل کیجئے گا۔ سالا (سالے کا مطلب ہے، بیوی کا بھائی، ہم اسے گالی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔) کمیونسٹ ہے۔ مجھے حیرت ہے آپ نے اسے ابھی تک ایسٹ افریقہ کیوں نہیں بھیجا۔ وہاں اسے بڑی آسانی سے ’ماؤ ٹاؤ‘کی تحریک میں ماخوذ کر کے گولی سے اڑایا جا سکتا ہے۔ میں اس خیر سگالی وفد کا بے چینی سے انتظار کروں گا اور ’’نوائے وقت‘‘ کے مدیر سے کہوں گا کہ وہ ابھی سے اس کا پروپیگنڈہ شروع کر دے۔ بڑا نیک اور برخوردار قسم کا آدمی ہے۔ میری بات نہیں ٹالے گا۔ ویسے آپ اسے تحفے کے طور پر ریٹا بیورتھ کی اوٹو گرافڈ تصویر بھجوا دیجیئے گا۔ بیچارہ اسی میں خوش ہو جائے گا۔\n\nمیں یہ بھی وعدہ کرتا ہوں کہ جب آپ کا یہ خیرسگالی وفد لاہور میں آئے گا تو میں اسے ہیرا منڈی کی سیر کراؤں گا۔ شورش کاشمیری صاحب کو میں ساتھ لے چلوں گا کہ وہ اس علاقے کے پیر ہیں۔ (حال ہی میں آپ نے اس پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا عنوان، ’’اس بازار میں‘‘ ہے۔ آپ اپنے سفارت خانے کو حکم دیجئے۔ وہ آپ کو اس کا ترجمہ کرا کے بھیج دے گا۔) یہاں ایک سے ایک درخشندہ و تابندہ ہیرا پڑا ہے۔۔۔ ہر تراش کا، ہر وزن کا۔ اب اور باتیں شروع کرتا ہوں۔۔۔ پاکستان کو آپ کی فوجی امداد دینے کے فیصلے اور مشرق بعید کے دیگر مسائل پر بھارت اور آپ کے اختلافات پر پنڈت نہرو نے پچھلے دنوں جو زبردست نکتہ چینی کی تھی، سنا ہے، اس کا یہ رد عمل ہوا ہے کہ آپ کے ملک کی حکمت عملی میں ایک نیا رجحان ترقی کر رہا ہے۔ بعض کی یہ بھی رائے ہے کہ امریکہ بھارت کو اپنے عزائم کے متعلق اطمینان دلانے کی ضرورت سے زیادہ کوشش کر رہا ہے۔\n\nآپ کے جنوبی ایشیائی اور افریقی معاملات کے اعلیٰ افسر، کیا نام ہے ان کا۔۔۔؟ ہاں۔۔ مسٹر جان جونیگنز نے اپنے ایک بیان میں بھارت کے لئے اپنے ملک کے خیر سگالی جذبات کی ترجمانی کی ہے، اس کا تو یہ مطلب نکلتا ہے کہ واشنگٹن، دلی کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے تڑپ رہا ہے۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں پاکستان اور بھارت کو خوش رکھنے سے آپ کا واحد مقصد یہی ہے کہ جہاں کہیں بھی آزادی اور جمہوریت کا ٹمٹماتا دیا جل رہا ہے، اسے پھونک سے نہ بجھایا جائے بلکہ اس کو تیل دیا جائے۔۔۔ بلکہ تیل میں ڈبو دیا جائے تاکہ وہ پھر کبھی اپنی تشنہ لبی کا شکوہ نہ کرے۔۔۔ ہے نا چچا جان؟\n\nآپ پاکستان کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں اس لئے کہ آپ کو درۂ خیبر سے بے حد پیار ہے جہاں سے حملہ آور صدیوں سے ہم پر حملہ کرتے رہے ہیں۔ اصل میں درۂ خیبر ہے بھی بہت خوبصورت چیز، اس سے پیاری اور خوبصورت چیز پاکستان کے پاس اور ہے بھی کیا؟ اور بھارت کو آپ اس لئے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں کہ پولینڈ، چیکوسلوویکیہ اور کوریا میں روس کی جارحانہ کارروائیاں دیکھ کر آپ کو ہر دم اس بات کا کھٹکا رہتا ہے کہ یہ سرخ مملکت کہیں بھارت میں بھی درانتیاں اور ہتھوڑے چلانا شروع نہ کر دے۔ ظاہر ہے کہ بھارت کی آزادی خدا نخواستہ خدا نخواستہ چھن گئی تو کتنا بڑا المیہ ہوگا۔۔۔ اس کا تصور کرتے ہی آپ کانپ کانپ اٹھتے ہوں گے۔ آپ کی تاروں والی اونچی ٹوپی کی قسم، آپ ایسا مخلص انسان کبھی پیدا ہوا ہے اور نہ ہوگا۔۔۔ خدا آپ کی عمر دراز کرے اور آپ کی سات آزادیوں کو دن دگنی رات چوگنی ترقی دے۔\n\nیہاں ایک علاقہ ہے مغربی پنجاب، اس کے وزیر اعلیٰ ہیں فیروز خان نون (ان کی بیگم ایک انگریز خاتون ہیں۔) آپ نے ان کا نام تو سنا ہوگا۔ حال ہی میں آپ نے اپنے دولت کدے پر (جو پنچولی فلم اسٹوڈیو کے آگے ہے) ایک کانفرنس بلائی۔ اس میں آپ نے مسلم لیگ (جسے مشرقی پاکستان میں شکست فاش ہوئی ہے۔) کے کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اشتراکیوں (سرخوں) کے مقابلے کے لئے جدوجہد کریں۔ دیکھئے چچا جان! آپ فوراً فیروز خان نون صاحب کا شکریہ ادا کیجئے اور خیر سگالی طور پر ان کی بیگم صاحبہ کے لئے ہالی وڈ کے سلے ہوئے دو تین ہزار فراک بھیج دیجئے۔۔۔ کہیں آپ نے بھیج تو نہیں دیے۔ میں بھول گیا تھا کیونکہ اب وہ ساڑھی پہنتی ہیں۔ بہرحال نون صاحب کا اشتراکیت دشمن ہونا بڑی نیک فال ہے کیونکہ کامریڈ فیروز الدین منصور پھر جیل میں ہوگا۔ مجھے اس کا ہر وقت دمے کے مرض میں گرفتار رہنا ایک آنکھ نہیں بھاتا۔\n\nاب میں آپ کو ایک بڑا اچھا مشورہ دیتا ہوں۔ ہماری حکومت نے حال ہی میں کامریڈ سبط حسن کو جیل سے رہا کیا ہے۔ آپ اس کو اغوا کر کے لے جایئے۔ میرا دوست ہے، لیکن مجھے ڈر لگتا ہے کہ وہ اپنی پیاری پیاری نرم نرم باتوں سے ایک روز مجھے ضرور کمیونسٹ بنا لے گا۔ یوں تو میں اتنا ڈرپوک نہیں۔ کمیونسٹ ہو بھی جاؤں تو میرا کیا بگڑ جائے گا مگر آپ کی عزت پر حرف آنے کا خیال ہے۔ لوگ کیا کہیں گے کہ آپ کا بھتیجا ایسے برے دلدل میں جا دھنسا۔۔۔ میری اس برخورداری پر ایک شاباشی تو بھیجئے۔\n\nاب میں احوال روز گار کی طرف آتا ہوں۔ چچا جان آپ کی ریش مبارک کی قسم۔ دن بہت برے گزر رہے ہیں۔ اتنے برے گزر رہے ہیں کہ اچھے دنوں کے لئے دعا مانگنا بھی بھول گیا ہوں۔ یہ سمجھئے کہ بدن پر لتے جھولنے کا زمانہ آ گیا ہے۔ کپڑا اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ جو غریب ہیں ان کو مرنے پر کفن بھی نہیں ملتا۔ جو زندہ ہیں وہ تار تار لباس میں نظر آتے ہیں۔ میں نے تو تنگ آ کر سوچا ہے کہ ایک ’’ننگا کلب‘‘ کھول دوں، لیکن سوچتا ہوں ننگے کھائیں گے کیا۔۔۔ ایک دوسرے کا ننگ۔۔۔؟ مگر وہ بھی اتنا کریہہ ہوگا کہ نگاہیں لقمہ اٹھاتے ہی وہیں رکھ دیں گی۔ کوئی ویرانی سی ویرانی ہے۔ کوئی تنگی سی تنگی ہے۔ کوئی ترشی سی ترشی ہے، لیکن چچا جان داد دیجئے۔\n\nگو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار\nلیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا\n\nلیکن چھوڑیئے اس قصے کو، آپ خوش گلو، خوش اندام اور خوش خرام حسینوں کا وہ خیر سگالی وفد بھیج دیجئے۔ ہم اس غربت میں بھی اپنا جی ’’پشوری‘‘ کر لیں گے۔ فی الحال آپ الزبتھ ٹیلر کے ہونٹوں کا ایک پرنٹ بھیج دیجئے۔ خدا آپ کو خوش رکھے۔\n\nآپ کا تابعدار بھتیجا\nسعادت حسن منٹو\n۳۱ لکشمی، مینشنز ہال روڈ، لاہور", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%86%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D8%B7"} {"title": "چچا منٹو کے نام ایک بھتیجے کا خط", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "۱۱ مئی ۱۹۵۲ء\n\nچچا منٹو صاحب\n\nالسلام علیکم۔ یہ خط اس بھتیجے کی طرف سے ہے جسے آپ نہیں جانتے اور نہ جسے آپ نے جاننے کی کبھی کوشش کی۔ جسے پاکستان میں شاید کوئی بھی نہیں جانتا اور وہ اپنے کام سے بچے ہوئے اس تھوڑے سے وقت میں آپ جیسے بلند پایہ ادیب کو خط لکھنے کی جسارت کر رہا ہے۔\n\nمیرے ملک کا حال نہ پوچھئے، یہ ایک کہانی ہے لیکن المناک، ایک نغمہ ہے لیکن پرسوز، آپ نہیں جانتے، میں بتاؤں گا بھی نہیں۔ میرے بتانے پر شاید آپ پھر۔۔۔ اپنے دیسی شراب والے پہلے۔۔۔ اور شاید آخری بھی، خودکشی کے طریقے پر اتر آئیں اور حکومت اپنا تین صد روپیہ جرمانہ آپ کی قبر سے وصول کرے۔ آپ تو بس اتنا سمجھ لیں کہ دو بلیاں ایک بندر اور ایک روٹی والا معاملہ ہے۔ یہ کہانی آپ نے دوسری جماعت میں ضرور پڑھی ہوگی، لیکن میں بضد ہوں کہ اسے ایک دفعہ میری زبانی بھی سنیئے۔\n\nیہ اس بوڑھے داستان گو (جو غالباً ولی نعمت اللہ نہیں تھا) ہر گز معلوم نہ تھا کہ جنہیں روٹی ملی تھی وہ بلے تھے یا بلیاں۔ روٹی انہیں کہاں سے ملی تھی۔ بس داستان یوں شروع ہوتی ہے کہ وہ دونوں دبلی پتلی۔۔۔ بی بلیاں یا بلے آپس میں خشمناک اور بندر سے مرعوب تھیں اور وہ روٹی لے کر لڑتی جھگڑتی میاں بندر کے ہاں پہنچیں۔ چچا جان پہنچ جائیں گے۔ روٹی دیکھ کر بندر کے منہ میں پانی ہی بھر آیا۔ اس کے دل میں آئی یہ ترنوالہ چھین کر نو دو گیارہ ہو جائے لیکن وہ اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے کچھ سوچ کر رک گیا اور چہرے پر متانت اور سنجیدگی کے آثار پیدا کر کے بولا، ’’پدھاریئے۔۔۔ تشریف رکھیئے!‘‘ بلیوں کو کرسیوں پر بٹھایا اور بیرے کو چائے لانے کا آرڈر دیا۔ بلیاں تو بس رام ہو گئیں اور بولیں، ’’ابا میاں۔۔۔ ہمیں ایک تنازعہ مافیہ آپ تک لے آیا ہے، ہم آپ کو ایک تکلیف دینے آئی ہیں۔‘‘\n\nبندر میاں نے چائے کی پیالیاں پیش کرتے ہوئے کہا، ’’برخوردار! ایسا نہ کہو، مجھے دکھ ہوتا ہے۔ آخر بزرگ لوگ ہوتے کس وقت کے لئے ہیں، بیٹھو، تھوڑا آرام کرو۔ تسلی سے تمام واقعہ بتاؤ تاکہ میں اس پر غور کر سکوں۔‘‘ بلیوں نے چائے کے گرم گھونٹ حلق سے نیچے اتارتے ہوئے تمام واقعہ من و عن کہہ سنایا جسے بوڑھے فیصل نے غور سے سنا۔ پھر پوچھا، ’’اب تم کیا چاہتی ہو۔۔۔؟‘‘ بلیوں نے ایک دوسرے کو مشکوک نظروں سے گھور کر کہا، ’’آپ کا ناطق فیصلہ!‘‘\n\n’’ہوں۔۔۔‘‘ بندر نے مکاری سے آنکھیں بند کر کے کہا، ’’تھوڑا سوچنے دو۔ جلدی کا فیصلہ اچھا نہیں ہوتا۔ یا شاید پھر مجھے اجلاس بلانا پڑے گا۔‘‘ بلیاں کچھ عرصے تک وہیں ٹھہریں، کچھ دنوں کے بعد استدعا کی کہ ’’ابا میاں، آپ روٹی اپنے پاس رکھیں۔ ہمیں اجازت دیں، جو فیصلہ آپ کا ہوگا وہ ہمیں منظور۔‘‘\n\n’’اجی اتنی جلدی بھی کیا ہے۔‘‘ بندر نے آنکھیں جھپکاتے ہوئے کہا، ’’کچھ روز اور ٹھہریئے۔‘‘ بلیوں نے کہا، ’’نہیں ابا میاں، ہمیں اور بہت سے کام کرنے ہیں۔ ہمارے بچے۔۔۔ جانئے آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہوں گے۔ اس لئے اجازت دیجئے۔‘‘ بندر دور دور تک رومال ہلا ہلا کر الوداعی اشارے کرتا رہا۔\n\nچچا جان! اس روٹی کے گرد کئی بندر گھومتے ہیں، اب ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کون سا طریقہ اختیار کریں جس سے روٹی ہضم ہو جائے اور بلیوں کو جل دیا جا سکے اور نادان بلیاں ایک دوسرے سے خائف بندر سے یہ امید لگائے بیٹھی ہیں کہ شائد پوری کی پوری روٹی ہمیں مل جائے۔ آپ پوچھیں گے کہ میں یہ خط آپ کو کیوں لکھ رہا ہوں۔۔۔ تو عرض کیا گیڈر کی جب موت آتی ہے تو اس کا گاؤں کی طرف بھاگنا ضروری ہو جاتا ہے۔ کتے کی موت اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر مسجد میں لے جا کر کھڑا کرتی ہے اور میری ۲۸ روز کی سزا مجھے یہ خط لکھنے پر مجبور کر رہی ہے۔ آپ شاید دوبارہ سوال کر بیٹھیں کہ ’’برخوردار وہ کیسے۔۔۔؟‘‘\n\nچچا جان! دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر کا نتیجہ آپ جیسے ماہر جنسیات اور مشہور و معروف افسانہ نگار کو اچھی طرح سے معلوم ہوگا۔ خیر اس قصے کو چھوڑیئے۔ میرا نام حیدر ہے، میرے بزرگ شاید کبھی بھٹیوں میں آباد تھے۔ اس لئے میں مصر ہوں کہ مجھے بھی بھٹی کہو اور میرے کرم فرما مجھے بھٹی کہتے ہیں، جیسے آپ کو منٹو۔ میں سرکاری فرائض انجام دے رہا ہوں۔ جب ارباب حل و عقد چاہتے ہیں میرے سر کوئی نہ کوئی الزام تھوپ کر قید کر دیتے ہیں، جب چاہتے ہیں آزاد کر دیتے ہیں۔ چچا جان۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے۔ بخدا سچ مانئے میں اس قلیل سے عرصے میں پانچ سزائیں کھا چکا ہوں۔ خیر یہ تو میں نے یونہی کہہ دیا۔ ورنہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ پانچ سزائیں مجھے کھا گئی ہیں۔\n\nاب میں قید کا اس قدر عادی ہو گیا ہوں کہ مجھے آزادی سے نفرت ہوتی جاتی ہے، اگر برا نہ مانیں تو آپ کو بھی یہی مشورہ دوں گا کہ ایک اور افسانہ گرم گوشت لکھ ڈالئے۔ زیادہ نہیں تو اتنا ضرور ہوگا کہ کچھ عرصہ تک فکر معاش سے آزاد ہو کر یکسوئی سے کسی تنگ و تاریک کوٹھری کے گوشے میں بیٹھ کر ایک دوسرے افسانے، نرم گوشت کا مواد جمع کر سکیں گے۔ جس سے قید کی مدت ختم ہونے تک اتنی مدت اور آرام کرنے کی تیاری کر سکیں گے۔\n\nچچا جان! آپ کی چار اور اپنی پانچ سزاؤں کا موازنہ کیا اور خط لکھنے بیٹھ گیا کیونکہ اس معاملہ میں مجھے آپ پر برتری حاصل ہے، میرے جرموں کی نوعیت بھی وہی ہوتی ہے جو اکثر آپ کے ہاں نظر آتی ہے، آپ کی تحریر سے حکومت کو ڈر ہے، ’’پبلک کا اخلاق خراب ہو گا۔‘‘ میری باتوں سے ڈسپلن بگڑتا ہے جب ہمارے تمام ساتھی تمام دن گینتی بیلچہ کو محنت کر کے تھکا دیتے ہیں تو آرام کرنے کے بعد چند ایک گنتی کے لمحات میں سے کچھ وقت بچا کر میرے پاس آ بیٹھتے ہیں اور میں ان کو آزاد قوموں کی کہانی سناتا ہوں۔ میری حکومت کا خیال ہے کہ میں ڈسپلن کے نام پر ایک بدنما دھبہ ہوں جو اپنے ساتھیوں کو ایسی آزادی کی باتیں بتاتا ہے اور پھر حکومت اخلاق، نظام اور جانے۔۔۔ کیا کچھ کو مد نظر رکھ کر مجھے قید کر دیتی ہے، جیسا کہ میں اوپر عرض کر چکا ہوں۔۔۔ کچھ اور بھی سنتے چلئے،\n\nہماری مہربان گورنمنٹ مجھے بیس روپے ماہوار کے حساب سے تنخواہ بھی دیتی ہے، یہ بات دوسری ہے کہ کسی مہینے بیس روپے ملیں یا نہ ملیں۔ اب کے بوٹ پیمنٹ ہو گئے بائیس روپے آٹھ آنے کاٹ لو۔ آپ حیران ہوں گے کہ بیس روپوں سے بائیس روپے آٹھ آنے کیسے کاٹے جاتے ہوں گے، لیکن سنئے تو۔۔۔ ہماری حکومت اس معاملہ میں حد سے زیادہ ہوشیار ثابت ہوئی ہے یعنی میرا مطلب ہے بقایا دوسرے مہینے پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔\n\nخدا خدا کر کے دوسرا مہینہ آتا ہے، اب کے قائد اعظم میموریل فنڈ۔۔۔ ضروری ہے۔ رفیوجی فنڈ، یہ پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ مسلمان بھائیوں کی مدد ہم نہ کریں تو کیا فرشتے کریں گے۔ ایک دن عرض کیا ہم بھی تو رفیوجی ہیں، پھر یہ فنڈ کس لئے؟ چچا جان، جانتے ہیں کیا جواب ملا۔ بخدا آپ ہوتے تو شاید خودکشی کر لیتے، لیکن میں ابھی زندہ ہوں اور زندہ رہوں گا کیونکہ ابھی قوم و ملک کے فرائض انجام دینے ہیں، میرے مرنے پر کسی کو بھی ملال نہ ہوگا۔ کوئی آنسو نہیں بہائے گا کیونکہ میں شہید ہوں گا۔ شہیدوں کو جنت میں جگہ ملتی ہے اور میری حکومت بیس روپے کا کوئی اور آدمی تلاش کر لے گی۔ خیر اس ذکر پر لعنت بھیجئے۔ ہمیں ایسی باتیں سوچنے کا کوئی حق نہیں۔ ہمارے لئے یہ کیا کم ہے کہ حکومت ہمیں مبلغ بیس روپے دیتی ہے۔ آپ کو قید بامشقت کے ساتھ تین سو روپیہ جرمانہ سن کر بخار ہی تو آ گیا ہوگا۔ آپ نے فرمایا بھی تو ہے کہ میں مشقت کا عادی ہوں لیکن روپے کا نہیں۔\n\nآپ کی حکومت کچھ دور اندیش نہیں معلوم دیتی، اسے سانپ مارنے آتے ہیں لیکن وہ لاٹھی محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ ضرورت بھی کیا پڑی ہے لاٹھی کو محفوظ رکھنے کی، اور بہت سی آ جائیں گی۔ بانس بریلی سے۔ قیمت جنس میں بھی ادا ہو سکتی ہے۔ ہماری حکومت ان معاملوں کو اچھی طرح سے سلجھاتی ہے۔ یہ بانس اگاتی ہے، بانسریاں بجاتی ہیں اور دوسروں سے بجواتی بھی ہے۔\n\nاب ذرا خیال کیجئے۔ آپ کو تین ماہ قید رکھنے سے آپ کی حکومت کو بھلا کیا خاک فائدہ ہوگا۔ یقیناً آپ کو اے کلاس میں ٹھہرایا ہوگا۔ مشقت رہی اپنی جگہ پر۔ اخراجات کا کون کفیل ہوگا۔ آئندہ سال اگر بجٹ میں خسارہ نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا۔ اگر آپ کے ملک میں آپ ایسے دو تین اور افسانہ نگاراُگ آتے تو۔۔۔ ہائیں، غضب ہی تو ہو گیا۔ ملک کا دیوالہ نکالنے کی سوچی ہے آپ لوگوں نے۔۔۔ ہماری حکومت ان رجعت پسندانہ حرکتوں کو پسند نہیں کرتی، ہمیں اٹھائیس دن قید سنا کر اٹھائیس دنوں کی تنخواہ پر ہاتھ صاف کر دیتی ہے، یا یوں کہیں تو بہتر نہیں ہوگا کہ حکومت کے ہاتھ ہماری اٹھائیس روز کی تنخواہ کو صاف کر دیتے ہیں اور ان اٹھائیس دنوں میں ہمیں کچھ اس قسم کے کاموں پر تعینات کیا جاتا ہے جس کا معاوضہ اٹھائیس دنوں سے کم نہیں ہوتا۔ میرا ملک امیر ہے، ہم تمام امیر ہیں۔ جس کا ثبوت میں موجود ہوں۔\n\nچچا صاحب۔۔۔!\n\nمیں نے آپ کے یہاں کے بارے میں کچھ عجیب و غریب سی باتیں سن رکھی ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ان کے بارے میں اگر اجازت ہو تو کچھ استفسارات کر لوں۔ اگر آپ اجازت نہ بھی دیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا جبکہ میں تہیہ کر چکا ہوں کہ آپ سے پوچھوں گا اور ضرور پوچھوں گا۔ میں نے سنا ہے، آپ کے یہاں کی دیسی شراب شرعاً منع ہے لیکن آپ کی حکومت خدا داد کا خدائی قانون اس کے ٹھیکوں کو رجسٹرڈ کرتا ہے اور شارع عام پینے کی اجازت ہے اور واعظ منبر پر چڑھنے سے پہلے ایک دو پیگ بطور دوائی کے یومیہ چڑھا لیتا ہے، لیکن چچا جان! ہمارا حاکم ایسی شرعاً ممنوع لیکن قانوناً جائز چیزوں کو قبول نہیں کرتا۔ ہماری مہربان سرکار ہمیں گڑ اور کھوپرا ارزاں نرخوں پر مہیا کرتی ہے۔ گڑ میں پاکستان کی مٹھاس اور کھوپرے میں بنگال کی گرمی ہے، اگر کچھ پیسے بچ جائیں تو ہندوستانی قسم کے کم خرچ بالانشین کپڑے بھی بنوا لیتے ہیں، لیکن ایسے موقعے شاذو نادر ہی آتے ہیں۔\n\nاور یہ بھی سنا ہے کہ آپ کے یہاں سے ایک جریدہ ’’سویرا‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے لیکن حکومت کو اس کے نام سے چڑ ہے، چڑ کیوں نہ ہو۔۔۔ حکومت آپ ہی سے کب مطمئن ہے پھر جس پرچے میں آپ کے مضمون شائع ہوں گے وہ کیسا ہوگا؟چچا جان! مجھے تو یہاں بھی کچھ ایسا نظر آتا ہے جیسے آزاد ملکوں کی کہانیاں سنائی جا رہی ہوں۔ کیا آپ مدیر سویرا، کو میرا یہ مخلصانہ مشورہ عرض نہ کریں گے کہ وہ اپنے پرچے کا نام، شام، رکھ لیں۔ ہرج ہی کیا ہے، اگر پوچھیں کیوں؟ تو اپنی طرف سے فرما دیں کہ جس طرح بچوں کو سویرے سے نفرت ہوتی ہے اسی طرح ہماری نوزائیدہ حکومت بھی حق بجانب ہے، صبح اٹھنا، اسکول جانا، ماسٹر کی مار، یہ سب خرافات نوعمر بچہ برداشت نہیں کر سکتا۔\n\nاور یہ بھی۔۔۔! کہ سچ بولنے والوں کی آپ کے ملک میں بڑی قدر ہے، میں تو یہ بیس روپے چھوڑ چھاڑ کر آپ کے ملک میں وارد ہو گیا ہوتا، اگر کہنے والا ندیم قاسمی کی مثال نہ دیتا۔ ہاں تو چچا جان، کیا یہ سچ ہے کہ حکومت کو جس آدمی پر یقین آ جائے کہ وہ ہمیشہ سچ کہتا ہے، سچ لکھتا ہے، حکومت اسے تمام معاشی فکروں سے آزاد کرا دیتی ہے اور اس کے لئے علیحدہ بنگلہ میں رہنے کا انتظام کرا دیتی ہے اور اس بنگلہ کی فلک بوس دیواریں دنیا کے دروغ گوؤں کا غوغا اندر جانے سے روکتی رہتی ہیں اور پھر وہ عمر کا ایک قیمتی وقت اسی جگہ گزارتا ہے اور یہی گاہے گاہے ان بنگلوں کو نوازتے رہتے ہیں۔\n\nاور یہ بھی۔۔۔! کہ آپ کے یہاں حکومت بوڑھے اور غریب و تباہ حال مہاجروں کو جن کے ساتھ جنس لطیف قسم کے ایک دو تین کمزور سے سہارے ہوں، آباد کرنے میں بہت عجلت سے کام لے رہی ہے، ان کا راشن کارڈ سب سے پہلے بن جاتا ہے، انہیں دکان وغیرہ الاٹ کرانے میں خاصی دقت محسوس نہیں ہوتی اور تحصیلدار صاحب زمین بھی دینے میں قطعاً دیر نہیں کرتے اور وقت بے وقت مکان کے گرد پولیس کے سپاہی بھی نظر آ جاتے ہیں، سوچتا ہوں چلا آؤں، لیکن نہیں چچا جان! آپ کو اپنا ملک مبارک اور ہمیں ہمارا۔\n\nاور یہ بھی کہ۔۔۔! کہ حکومت نے آپ کی اپیل پر آپ کو رہا کر دیا۔ یہ سن کر ششدررہ گیا۔ آپ کی حکومت مقدمہ چلا کر اپیل کی بھی اجازت دے دیتی ہے۔ یہ بذات خود بری چیز ہے اس میں حکومت کو نقصان ہی نقصان ہے۔ یقین مانئے ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ یا تو کسی پر مقدمہ چلایا ہی نہیں جاتا۔ اگر مجبور ہو کر چلانا ہی پڑے تو پھر مجرم کی کوئی اپیل سنی نہیں جاتی۔ اس کا راشن کارڈ ضبط کر لیا جاتا ہے۔ اس پر دنیا کے تمام ڈپو بند ہو جاتے ہیں، چچا جان! آپ کے اپیل پر رہا ہونے سے اوروں کا تو علم نہیں، مجھے سخت ذہنی صدمہ پہنچا ہے، اے کاش کہ آپ خالص اسلامی جیل خانے کی بھی ہوا کھا آتے۔ پہلے مقدموں میں آپ کو انگریزوں کی خرافاتی جیل میں رکھا گیا تھا، اب کے آپ اسلامی اصولوں پر بنے ہوئے جیل خانے میں جاتے، بخدا چچا جان! عاقبت سدھر جاتی۔\n\nاور یہ بھی۔۔۔! کہ آپ کے یہاں پناہ گزینوں کو آباد نہیں کیا جاتا۔ جنہیں غلطی سے آباد کر دیا گیا ہے، ان سے دس گنا زیادہ مالیہ لیا جا رہا ہے اور اگر مالیہ دینے میں پس و پیش کریں تو جیل کی سیر کروا دی جاتی ہے اور یہ تمام مالیہ ’’رفیو جی فنڈ‘‘ میں جمع ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہ۔۔۔ جس جگہ پہلے ایک آدمی کام کرتا تھا، اب دس رکھ لئے ہیں لیکن متعلقہ حاکموں کو اس پر بھی عملے کے ناکافی ہونے کی شکایت ہے۔ اور یہ بھی۔۔۔ کہ پچھلے دنوں کسی اخبار کے ایڈیٹر نے فنانشل کمشنر کے درخواست گزاری، پوچھا گیا کیا چاہتے ہو؟ ایڈیٹر بولا چھاپہ خانہ۔ لیکن صاحب فراست نے برف خانہ الاٹ کر مارا۔\n\nچچا جان! خط ضرورت سے زیادہ طویل ہو گیا ہے، معافی چاہتا ہوں۔ امید ہے معاف کیا جائے گا۔ یار زندہ صحبت باقی، پھر ملیں گے۔ ٹاٹا\n\nتمہارا حیدر بھٹی\n\n(اس مہینہ کی تنخواہ سے پانچ آنے بچائے تھے۔ ایک آنہ ادھار لے کر یہ خط پوسٹ کر رہا ہوں۔ )\n\nسعادت حسن منٹو کا جواب\n\nپیارے بھتیجے۔ وعلیکم السلام\n\nتمارا خط ملا چشم ما روشن دل ما شاد۔ بچے تم کیسے کہتے ہو کہ میں تمہیں نہیں جانتا اور میں نے تمہیں جاننے کی کوشش نہیں کی۔ کوشش کا میری جان سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دس کروڑ مسلمانوں کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اس لئے کہ یہ تمہارے چچا نہیں ہیں۔ جب تم نے مجھ سے خطاب کیا ہے تو صرف میں جواب دہ ہوں۔\n\nتم نے بندر اور بلیوں والی کہانی بیان کی ہے، ایک نئے انداز میں لیکن میری جان میں ایسی کئی کہانیاں لکھ چکا ہوں۔ اس لئے کہ کہانیاں لکھنا میرا پیشہ ہے اور میں اس فن میں کافی مہارت رکھتا ہوں۔ ’دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر‘ کا نتیجہ کیا ہوتا ہے مجھے معلوم نہیں کہ اس کے متعلق خواجہ خضر صاحب ہی حتمی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں، لیکن میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ دریا اور مگرمچھ سے ’ماہر جنسیات‘ کا کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ تم نے اپنے خط میں ایسی باتیں کہی ہیں، کہ میں لب کشائی سے ڈرتا ہوں۔ میں نے چار سزائیں نہیں صرف ایک سزا ابھی تک بھگتی ہے۔ بھگتی نہیں کہنا چاہیئے میرا ارادہ اپیل کرنے کا ہے، ہائیکورٹ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ میرا ’ٹھنڈا گوشت‘ فحش ہے۔ تین سو روپے جرمانہ ہوا ہے۔ اس کی عدم ادائیگی کی صورت میں ایک مہینے کی قید بامشقت کا حکم تھا۔\n\nمیرا گوشت تو ٹھنڈا نہیں، اگر ٹھنڈا ہوتا تو میں ایسے افسانے کبھی نہ لکھ سکتا جنہیں حکومت گرم سمجھتی ہے اور مجھ پر آئے دن مقدمے چلاتی رہتی ہے۔ میری جان! حکومتوں کے متعلق تم مجھ سے کچھ نہ کہو، تم حکومت میں ہو، میں ادب کی دلدل میں پھنسا ہوں، اصل میں جب تک ایسی حکومتیں قائم ہیں ہر جگہ، ہر مقام دلدل ہے۔ تم نے اپنا رونا رویا ہے میں نے اپنا۔۔۔ میرا خیال ہے کہ اب یہ رونا دھونا چھوڑا جائے۔ رونا تو قطعاً چھوڑ دینا چاہیئے البتہ دھونا ضرور چاہیئے۔ آؤ میں اور تم مل کر وہ داغ دھبے دھوئیں جو ہماری معاشرت کے دامن پر لگے ہیں۔ تم قوم کے خادم ہو۔ ایک بہت بڑی ہستی، لیکن میری جان میں کیا ہوں؟ ایک فحش نگار۔۔۔ تم مجھ سے ہر حال میں برگزیدہ ہو۔ تم بیس روپے ماہوار پر وطن کی خدمت کر سکتے ہو۔ میں بمشکل اپنا ایک مضمون بیس روپے کے عوض بیچنے میں کامیاب رہتا ہوں۔\n\nہاں۔۔۔ اگست کی چودہ آ رہی ہے جب برصغیر تقسیم ہوا۔ پاکستان بنا اور ہم سب آزاد ہوئے۔ یہاں یوم استقلال منایا جا رہا ہے۔ وہاں ہندوستان میں بھی کوئی اسی قسم کا یوم یقیناً منایا جائے گا۔ میں تمہارا یہ خط خاص اس تقریب کے لئے پریس کے حوالے کر رہا ہوں کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔\n\nتمہارا محکوم پاکستان میں آزاد چچا\n\nسعادت حسن منٹو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%86%D8%A7_%D9%85%D9%86%D9%B9%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%DA%BE%D8%AA%DB%8C%D8%AC%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%B7"} {"title": "چڑھی تیرے بیمار فرقت کو تب ہے", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چڑھی تیرے بیمار فرقت کو تب ہے\nبشدت قلق ہے نہایت تعب ہے\n\nمریض محبت ترا جاں بلب ہے\nتجاہل ستم ہے تغافل غضب ہے\n\nوہ آفت ہے آفت ہے آفت ہے آفت\nغضب ہے غضب ہے غضب ہے غضب ہے\n\nگلی یار کی ہے قدم رکھوں کیوں کر\nچلوں سر کے بل یاں مقام ادب ہے\n\nجو ابرو دکھایا تو عارض بھی دکھلا\nوہ قرآن ہے یہ ہلال رجب ہے\n\nہوئی صبح پیری کٹی اب جوانی\nیہ جلنا فقط شمع ساں شب کی شب ہے\n\nوہ زلف سیہ ہے کہ مشک ختن ہے\nنہیں خط سواد دیار حلب ہے\n\nکھلا کچھ نہ مجھ پر نہ آنے کا منشا\nجہت کچھ تو فرمائیے کیا سبب ہے\n\nجو شجرہ تھا مجنوں کا شجرہ ہے میرا\nجو تھا قیس کا سلسلہ وہ نسب ہے\n\nغنیمت سمجھ وقت فرصت کو غافل\nنہ ہاتھ آئے گا پھر یہ موقع جو اب ہے\n\nخدا کی خدائی کا جلوہ ہے او بت\nیہ حسن جوانی نہیں شان رب ہے\n\nکروں کیوں نہ سامان عشرت مہیا\nشب وصل دلبر عروسی کی شب ہے\n\nجسے لوگ کہتے ہیں شاہ خراساں\nوہ بے شبہ ابن امیر عرب ہے\n\nغلام اس کا ہوں جو ہے کوثر کا ساقی\nجبھی رندؔ مے خوار میرا لقب ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%91%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "چڑیا چڑے کی کہانی", "poet_page": "مصنف:سجاد حیدر یلدرم", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "(چڑے کی زبانی)\n\n’’چوں چو چوں، چڑچوں، سب غلط، سب جھوٹ! چڑیا چڑے کی کہانی بہت انسانوں نے لکھی ہے، مگر قلم درکف دشمن است چوں، چو چوں، چوں، میری اور چڑیا کی لڑائی بہتان! چڑیا کا آنکھیں دکھنے کا بہانہ کرنا افترا، چوں چڑچوں، چوں چوں۔ آؤ اب میں تمھیں چند باتیں سناؤں کہ تمھاری آنکھیں کھلیں۔\n\nحضرت انسان کو باتیں بنانی بہت آتی ہیں اور بس مجھ کو خدا نے مشاہدہ کی قوت عطا کی ہے۔ ویسے دیکھو تو میں بیوقوف بھولا بھالا ادھر ادھر پھدکتا نظر آتا ہوں، مگر میں دیکھتا سب کچھ ہوں، سمجھتا سب کچھ ہوں، کہتا بھی سب کچھ ہوں مگر تم نہیں سمجھتے۔\n\nمیں دیکھتا ہوں کہ خدا نے مجھے آزاد۔ آزادی طلب اور آزادی پسند مخلوق بنایا ہے، پرندوں اور چرندوں میں بہت سے ایسے ہیں کہ انسان سے بالکل نفرت کرتے ہیں اور جنگلوں میں انسان کے گھونسلوں سے دور جاکے رہتے ہیں۔ بعض بیوقوف ایسے ہیں کہ انسانوں میں انسان کے خادم ہوکے رہتے ہیں۔ مگر میں انسان کی کارستانیوں کو دیکھنے کے لیے شہر میں رہتا ہوں ان کے بڑے بڑے بھونڈے بھونڈے گھونسلوں میں اپنا پیارا پیارا، چھوٹا، چھوٹا گھونسلا بناتا ہوں۔ لیکن وہ پکڑ کے مجھے رکھنا چاہیں تو کبھی نہیں رہتا۔ پنجرے میں بند کرکے رکھنے کی بات دوسری ہے، یا میرے پر کاٹ دیں تو وہ اور ہی بات ہے ورنہ میں کبھی حضرت انسان سے مانوس نہیں ہوتا۔ میں انھیں خود غرض سمجھتا ہوں اور پرلے سرے کا ظالم۔\n\nمگر مجھے اپنی کہانی سنانی ہے، ضمناً حضرت انسان سے بھی دو دو باتیں ہوجائیں گی (پھدک کے اور پروں کو پھلاکے) خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایسا اچھا لباس دیا، ایک حد تک خوبصورت مگر نہ اتنا کہ انسان کی حریص نگاہوں کا ہدف بن جاؤں، جسم میں پھرتی دی کہ خوشی خوشی پھدکتا پھروں۔ چھوٹے پروں میں پرواز کی تیز طاقت دی کہ انسانوں کی رفیق ان کا ہم خصال، ان کی چہیتی بلی کی دستبرد سے بچوں۔ جسم ایسا موزوں دیا کہ بیان نہیں ہوسکتا نہ اتنا بڑا کہ شاہین اور باز مجھ پر جھپٹیں جیسے وہ کبوتر پر جھپٹتے ہیں، نہ اتنا چھوٹا کہ حشرات الارض کی طرح بالکل حقیر ہی ہوجاؤں اور کوئی مجھے دیکھے ہی نہیں۔\n\nآواز کیسی اچھی، چوں، چوں، چڑچوں، چڑچوں۔آپ کے نزدیک اگر یہ خوش آیند نہ ہو تو نہ سہی اور میں خوش ہوں کہ آپ اسے پسند نہیں کرتے لیکن میرے ننھے دل کی خوشی اور طمانیت ظاہر کرنے کے لیے یہ بہت کافی ہے۔ چوں، چوں چڑچوں۔ شکر ہے خدا کا کہ اس نے بلبل کا ترانہ شیریں اور نالہ رنگین مجھے نہیں دیا، ورنہ صیاد اور قفس یہی میرے رفیق ہوتے۔ بیوقوف بلبل کو دیکھیے قفس میں بیٹھ کے بھی گاتی ہے اور اپنی اسارت پر درد انگیز نہیں، دل آویز نالےکرتی ہے اور نہیں سمجھتی کہ یہ اس کی اسیری کو اور بڑھاتے ہیں،\n\nگل و گلچیں کا گلہ بلبل خوش لہجہ نہ کر\n\nتو گرفتار ہوئی اپنی صدا کے باعث\n\nاگر ذرا بھی عقل ہوتی تو قفس میں پہنچتے ہی خاموش ہوجاتی اور اس وقت تک خاموش رہتی کہ یا قفس کھلتا یا موت آتی۔\n\nمیں اڑتا ہوں، پھدکتا ہوں، دانے چگتا ہوں۔ مگر الحمد للہ کسی کو آزار نہیں دیتا۔ خدا کی زمین سب کے لیے اور اس کے دانے سب کے لیے ہیں۔ یہ فلسفہ قدرت نے مجھے سمجھا دیا ہے اور اس لیے میں سب سے کہتا ہوں آؤ اور کھاؤ اور خدا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جہاں بہت سے دانے ہوئے اور ہم اپنے تمام ہم جنسوں کے ساتھ پہنچے پھر وہاں اگر اور مخلوق چگ رہی تو میں معترض نہیں ہوتا، کبوتر ہوں، مینائیں ہوں، فاختائیں ہوں، سب کو صلائے عام ہے۔ سب ساتھ آئیں اور کھائیں میں اکل کھرا نہیں۔ تنہا خوری میری عادت نہیں۔\n\nحضرت انسان کی بعض باتوں پر مجھے بیساختہ ہنسی آتی ہے،\n\nقہہ، قہہ قہہ، چوں، چڑچوں، چڑچوں چوں کس قدر مغرور مگر سادہ لوح جنس ہے۔ میرا نام کنجشک خانگی رکھا ہے، یعنی جب انسان کے یہ گھونسلے جن میں وہ آج کل رہتے ہیں نہ تھے اور وہ بہائم کی طرح غاروں اور کھوؤں میں رہتے تھے تو میں نہ تھا؟ میرا گھونسلا نہ تھا؟ یا کیا اب میں سوائے ان گھونسلوں کے کسی اور جگہ اپنا گھونسلا نہیں بناتا؟ اب بھی چمن، صحرا، مرغزار، وادی، درخت، جھاڑی میرے گھونسلے کے لیے ویسے ہی موجود ہیں۔ جیسے انسان کے گھونسلے۔\n\nمیں تو ان کے بےہنگم موٹے موٹے گھونسلوں میں اپنا گھونسلا صرف اس لیے بناتا ہوں کہ یہاں رہ کر اس ریا کار مخلوق کی کرتوتوں کو اچھی طرح مشاہدہ کروں اور پھر اپنے ہم جنسوں میں بیٹھ کر ان خودبینوں، ان بیوقوف، مغروروں کے اوپر ہنسوں۔ اگر میں انھیں انسان خانگی کہوں تو زیادہ زیبا ہے۔\n\nپھر ان کے گھونسلوں کا حال سنیے۔ ایک بڑا ہے ایک چھوٹا ہے، ایک اونچا ہے، ایک نیچا ہے۔ یہ کیوں؟ مساوات کیوں نہیں؟ اسے تو میں سمجھتا ہوں کہ ان کے گھونسلوں کے اندر کے خس و خاشاک، جنھیں انسان کیا کہتے ہیں بھول گیا، ہاں، میز کرسی فرش و فروش مختلف رنگ کے ہوں۔ کیوں کہ میں بھی کہیں سے تاگا کہیں سے تنکا، کہیں سے پتا لاکر گھونسلا بناتا ہوں، لیکن بڑائی چھوٹائی کیوں ہے؟ ہاں، ہاں خیال نہیں رہا تھا، اس کی وجہ معلوم ہوئی میں نے دیکھا ہے، چھوٹے گھونسلے والا انسان بڑے گھونسلے والے انسان کے سامنے سرجھکاکے، ہاتھ جوڑ کے کھڑا ہوتا ہے، اس کی خدمت کرتا ہے۔ لاحول ولا قوۃ کس قدر بے غیرت مخلوق ہے میں نہ اپنے ہم جنس کی اور نہ کسی غیر جنس کی خدمت کرتا ہوں، اگر مار بھی ڈالو تو خدمت نہ کروں اور کیوں کروں، خڈا کے فضل سے ہم سب مساوی ہیں، کسی کو ایک دوسرے کی خدمت کرنے کی ضرورت ہے نہ آرزو۔اپنے بال بچوں کی خدمت کے سوا، کسی کی خدمت کرنا، کسی کے گھونسلے پر جاکر دریوزہ گری کرنا عار کی بات ہے، ننگ کی بات ہے، مگر انسان۔۔۔ وہ مدعئی عقل، احمق، جو اپنے تئیں درس آموز قدرت خیال کرتا ہے، اس نکتے کو نہیں سمجھتا۔\n\nہائے ریاکار انسان! اس نے ایک لفظ نکالا ہے اور اس پر اسے بہت ناز ہے۔ کہتا ہے، ’’ سوائے میرے کسی میں حیا نہیں سب جاندار سوائے انسان کے بے حیا ہیں، حیا اور شرم کا احساس صرف مجھ میں ہے۔‘‘ اوڈینگ مارنے والی مخلوق! بس، بس۔ جسے تو حیا کہتا ہے وہ ریاکاری ہے۔\n\nانسان چڑا، اور انسان چڑیا، کبوتر چڑا اور کبوتر چڑیادانہ بدلی کرنے اور پوٹا بھرانے میں ایک ہیں۔ میں نہیں جانتا انسان نے یہ عادت کبوتر سے لی ہے یا کبوتر نے انسان کی نقل اتاری۔ میں اس کی تحقیق نہیں کرسکتا، کیونکہ کبوتر اگرچہ پرندہ ہے، لیکن ایسا احمق، قدر حریت ناشناس پرندہ ہے کہ انسان سے بہت مانوس ہے اور ایسا کاہل ہے کہ اپنے لیے گھونسلا بھی نہیں بناتا، انسان اس کے لیے گھونسلا بناتا ہے اور یہ اس کے عوض میں اس کا درم ناخریدہ غلام بن جاتا ہے وہ اسے پکڑتا ہے، مگر پنجرے میں بند نہیں کرتا، پھر بھی یہ اس سے نفرت نہیں کرتا اور اڑ نہیں جاتا۔\n\nلیکن کبوتر، گو اسے رات دن غٹرغوں کی ضربیں لگانے اور دانہ بدلی کرنے کے سوائے کوئی اور کام نہیں (صبح سے شام تک یہ حضرت دانہ بدلی کیا کرتے ہیں اور یہ خیال رہے کہ دانہ بدلی بچوں کا پوٹہ بھرنے کے لیے نہیں، اگر ایسا ہوتا تو کوئی تعجب کی بات نہ تھی، کیوں کہ بیچارے بچے اڑ نہیں سکتے اور ان کا پوٹہ ماں باپوں ہی کو بھرانا پڑتا ہے، مگر کبوتریوں ہی بے فائدہ ایک دوسرے سے چونچ ملایا اور پھڑپھڑایا کرتے ہیں اور ایک منٹ دو منٹ نہیں گھنٹوں یوں ہی کیا کرتے ہیں) گو کبوتر کو اس کے سوا کوئی اور کام نہیں، تاہم۔ سادہ لوح اور صاف دروں مخلوق! وہ کبھی انسان کی طرح چھپ چھپ کے دانہ بدلی نہیں کرتا۔\n\nمگر حضرت انسان! ان کا باوا آدم ہی نرالا ہے، دانہ بدلی میں یہ کبوتر سے کم نہیں، بلکہ بڑھے ہوئے ہی ہونگے، مگر وہی خود ایجاد حیا اور شرم کی پابندی سے اپنے گھونسلوں میں چھپ چھپ کے، لیکن پہلے کہہ چکا ہوں کہ وہ حیا شرم نہیں ہے بلکہ وہ ریاکاری ہے، جو گھونسلوں میں وہ چوری چھپے کرتے ہیں جسے وہ علانیہ نہیں کرسکتے۔\n\nکل ہی کی تو بات ہے؟ یہ تمھارے پڑوس کے گھونسلے میں کئی انسان چڑیا اور چڑے بیٹھے تھے، میں اوپر چھت میں تھا، وہ اپنی زبان میں چوں چوں کررہے تھے، میں اپنی زبان میں چوں چوں کررہا تھا، آہستہ آہستہ اس گھونسلے کے ایک حصے میں سے جسے تم کمرہ کہتے ہو اور سب انسان تو چلے گئے اور بس ایک انسان چڑا اور ایک انسان چڑیا یا تمھاری زبان میں میاں بی بی رہ گئے۔ اب انھوں نے دانہ بدلی شروع کردی اور پھر وہی پیار محبت کی باتیں ہونے لگیں، تم کہوگے کہ اس میں ریاکاری کی کونسی بات ہوئی؟ سنیے، جب ان کے ہم جنس بیٹھے تھے، اس وقت انھوں نے یہ باتیں کیوں روانہ رکھیں؟ اگر کہو شرم کی وجہ سے، بہت خوب! تو بعد میں بھی تو میں کمرے میں موجود تھا، پہلے مجھے خیال ہوا تھا کہ شاید انھوں نے مجھے دیکھا نہیں، اس لیے میں اڑ کے اور پھڑ پھڑکرکے، ان کے قریب میز پر جا بیٹھا، کرسی پر جا بیٹھا، وہاں سے اڑکے دیوار میں جو تصویر لگی ہوئ تھی اس کے چوکھٹے پر جا بیٹھا، تب بھی ان پر کچھ اثر نہیں، اپنے کام سے کام آخر میں نے زور سے چلانا شروع کیا، ’’میں یہاں ہوں، میاں یہاں ہوں، چوں، چوں، چوں‘‘ مگر بے حیائی دیکھیے، مجھے دیکھ کے دونوں نے ہنسنا شروع کردیا، مجھے نہایت غصہ آیا اور میں ان کو گالیاں دیتا ہوا، پھر سے کمرے سے باہر اڑگیا۔ فرمائیے! آپ ہی فرمائیے، آپ اسے کیا کہتے ہیں حیا یا ریاکاری؟\n\nاسی بات پر کیا منحصر ہے، حضرت انسان کے ڈوھنگوں سے میں خوب واقف ہوں کوئی مجھ سے پوچھے۔ کوئی لاکھ بار تو میں نے انسان چڑے کو انسان چڑیا کے سامنے ادعائے وفاداری کرتے سنا ہوگا۔\n\n’’آہ! میں تمھیں چاہتا ہوں، تمھارے سوا حور بھی ہو تو اس پر آنکھ نہ ڈالوں۔‘‘ بیچاری بھولی بھالی چڑیا اسے یقین کرتی ہے اور محبت کی آنکھوں سے۔۔۔ ان آنکھوں سے جن سے آنسو اور احسان مندی ٹپکتی ہوتی ہیں۔ اسے دیکھتی ہے یہ ایسا منظر تھا کہ شروع شروع میں اس سے بہت متاثر ہوتا تھا لیکن میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہی انسان چڑا دوسرے دن دوسرے گھونسلے میں دوسری چڑیا سے۔ پہلی چڑیا کی نظروں سے دور۔ کہہ رہا ہے، ’’آہ! میں تمھیں چاہتا ہوں، تمھارے سوا حور بھی ہوتو اس پر آنکھ نہ ڈالوں۔‘‘ اور یہ بیچاری معصوم چڑیا بھی اس دھوکے باز چڑے کے پھندے میں پھنس جاتی ہے اور اپنا محبت بھرا دل اس کے سپرد کردیتی ہے۔\n\nتیسرے دن کیا دیکھتا ہوں کہ وہی چڑا ایک اور گھونسلے میں ایک تیسری چڑیا سے کہہ رہا ہے ’’آہ! میں تمھیں چاہتا ہوں، تمھارے سوا حور بھی ہو تو اس پر آنکھ نہ ڈالوں۔‘‘ اور یہ تیسری تشنہ محبت بھی ان باتوں پر یقین کرکے، دل ہار بیٹھتی ہے۔ آخر کار ایک دن آتا ہے کہ تینوں کو حقیقت معلوم ہوتی ہے، اور یا کنوؤں سے چند جان باختہ انسان چڑیوں کی لاشیں نکلتی ہیں، یا افیم انھیں ابدی نیند سلا دیتی ہے۔\n\nدل چاہتا ہے اس ناپاک مخلوق کی ٹھونگیں مار مار کے مار ڈالوں۔ یہاں چڑیا بول اٹھی، ’’چڑے کا قطع کلام تو ہوتا ہے مگر مجھے یہ کہنا ہے کہ انسان چڑیا کا بھولا پن یہیں ختم نہیں ہوجاتا بلکہ ہر بات سے ظاہر ہوتا ہے۔ میرا چڑا۔ میں اس کے سامنے کہتی ہوں کچھ ڈرتی تھوڑا ہی ہوں۔ رات دن مجھ سے کہا کرتا ہے، ’’تم بیحد خوبصورت ہو، تمھاری برابر دنیا میں کوئی خوبصورت نہیں۔‘‘ مگر خوشامد سے میرا دماغ نہیں چل جاتا، میں اس کان سنتی ہوں اور اس کان اڑا دیتی ہوں کیوں کہ گو اس کی نظروں میں خوبصورت ہوں لیکن حقیقت میں خوبصورت نہیں۔ اسے میں اچھی طرح جانتی ہوں مگر کہیں آدم نے حوا سے کہہ دیا تھا کہ ’’تم بہت خوبصورت ہو۔‘‘ بس وہ دن اور آج کا دن کہ انسان چڑیا کے سامنے سے آئینہ نہیں ہٹتا، آئینہ نہیں تو آرسی ہے، آرسی نہیں تو پانی میں اپنا عکس دیکھا جاتا ہے اور اپنے عکس کو دیکھ دیکھ کے خود ہی جھوما کرتی ہے اور مارے غرور کے زمین پر قدم نہیں رکھتی یہ نہیں سمجھتی کہ یہ سب چڑے کی خوشامد کی باتیں ہیں اور بس۔\n\nپھر گھر میں بیٹھی، چڑے کو نیک اور اپنا عاشق سمجھا کرتی ہے اور چڑا اس کی غیبت میں رنگ رلیاں مناتا ہے۔ یہ نہیں سمجھتی کہ ’’مال عرب پیش عرب‘‘ ہی رہے تو اچھا ہے۔ میں اس نکتہ کو سمجھتی ہوں اور یہی وجہ ہے میں ہر وقت اپنے چڑے کے ساتھ ہوں، یہاں تک کہ تدارک معیشت میں بھی برابر کی شریک ہوں، میں چڑے کو فخر وتفوق کا موقع ہی نہیں دیتی۔ چڑے نےپھر کہنا شروع کیا ’’اب مجھے دیکھیے یہ کچھ غرور اور ستائش کےطور پر نہیں کہتا اور نہ اپنی پیاری چڑیا کو سنانے کے لیے کہتا ہوں، بلکہ واقعہ بیان کرتا ہوں کہ میں ایک۔۔۔ بس ایک چڑیا کو دل دیتا ہوں، ایک کعبہ کا طواف کرتا ہوں، ایک دیوی کے گرد پھرتا ہوں، میں ایک چڑیا کو دل دیتا ہوں اور اس کے ساتھ پیمان وفا باندھتا ہوں اور اس پیمان کو نہیں توڑتا، مگر یہ کہ موت آکے اسے توڑے۔\n\nمیں ایک چڑیا کو دل دیتا ہوں اور اس کو پورا اختیار دیتا ہوں کہ میری کل حرکتوں کی نگرانی کرے، میں جہاں جاؤں جس محفل میں پہنچوں، میرے ساتھ ہو، لڑائی لڑوں تو میرا دل بڑھائے چہکوں تو میرا نغمہ سنے۔ انسانوں کی طرح ہم علیحدہ علیحدہ زندگی بسر نہیں کرتے۔\n\nمیں (سچ کہنا چاہیے) کبھی کبھی اپنے پر دوسری چڑیا کے لیے بھی پھیلا دیتا ہوں، لیکن یہ محض شوخی اور کلیل ہوتی ہے اس سے کوئی خاص ارادہ مقصود نہیں ہوتا اور میری چڑیا بھی اسے جانتی ہے، اس لیے وہ نہ ناراض ہوتی ہے اور نہ میری طرف سے اس کے دل میں شبہ بیٹھتا ہے۔\n\nلو تم سے باتیں کرنے میں، میں بھول ہی گیا کہ مجھ پر فرائض پدری ہیں، میں انسان باپوں کی طرح نہیں کہ اکثر اپنے عیش میں اپنے بال بچوں کا خیال تک نہیں کرتے، بلکہ بعض تو ہمیشہ کے لیے انھیں چھوڑ دیتے ہیں، نان ونفقہ بھی نہیں دیتے۔ میں ایسا بے غیرت نہیں۔ جب ان بچوں کو دنیا میں لانے کا میں ہی باعث ہوا ہوں تو جب تک خود نہ اڑسکیں میں خود بھوکا رہوں گا لیکن ان کا پوٹہ بھروں گا۔ بڑی دیر ہوگئی وہ چونچ کھولے انتظار میں بیٹھے ہونگے۔ ہاں ذرا مجھے دانے یا روٹی کی چھوٹی چھوٹی گولیاں بناکر تو ڈال دو۔\n\nآہا! تم نے میری خواہش پوری کی۔ شکریہ ادا کرتا ہوں۔ خدا تمھارے اور تمھارے بال بچوں کے پوتوں کو بھی ہمیشہ بھرا رکھے۔\n\nلو اب جاتے ہیں،\n\nپھر ملیں گے اگر خدا لیا‘‘\n\nاور یہ کہتے ہوئے دونوں پھر سے اڑگئے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%91%DB%8C%D8%A7_%DA%86%DA%91%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "چڑیا کے بچے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دو تین چھوٹے بچے چڑیا کے گھونسلے میں\nچپ چاپ لگ رہے ہیں سینے سے اپنی ماں کے\nچڑیا نے مامتا سے پھیلا کے دونوں بازو\nاپنے پروں کے اندر بچوں کو ڈھک لیا ہے\nاس طرح روزمرہ کرتی ہے ماں حفاظت\nسردی سے اور ہوا سے رکھتی ہے گرم ان کو\nلیکن چڑا گیا ہے چگا تلاش کرنے\nدانہ کہیں کہیں سے پوٹے میں اپنے بھر کر\nجب لائے گا تو بچے منہ کھول دیں گے جھٹ پٹ\nان کو بھرائے گا وہ ماں اور باپ دونوں\nبچوں کی پرورش میں مصروف ہیں برابر\nاور چھوٹے بچے خوش ہیں تکلیف کچھ نہیں ہے\nاے چھوٹے چھوٹے بچو تم اونچے گھونسلے سے\nہرگز نہیں گروگے پر اور پرزے اب تک\nنکلے نہیں تمہارے، اس واسطے ابھی تم\nاونچے نہ اڑ سکو گے، ہاں جب تمہارے بازو\nاور پر درست ہوں گے تو دن کی روشنی میں\nسیکھو گے تم بھی اڑنا کرتے پھرو گے چیں چیں\nاڑتے پھرو گے پھر پھر اے چھوٹے بچو لیکن\nکوا بری بلا ہے اس سے خدا بچائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%91%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%86%DB%92"} {"title": "چڑیوں کی شکایت", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "چڑیوں نے بے طرح ستایا ہے\nمیرے کمرے کو گھر بنایا ہے\nچھت پہ ان کو جہاں ملی ہے جگہ\nاک نہ اک گھونسلہ بنایا ہے\nعین میرے پلنگ کے اوپر\nہے جو حصہ وہ ان کو بھایا ہے\nتار بجلی کا ہے جو چھت پہ لگا\nوہ تو میراث ہی میں پایا ہے\nکوئی کھونٹی ہو طاق ہو در ہو\nان کی جاگیر میں وہ آیا ہے\nسر پہ بیٹوں کا مینہ برستا ہے\nبے ڈھب ایسا یہ ابر چھایا ہے\nتکیہ پر میز پر کتابوں پر\nمہر کا سا نشاں بنایا ہے\nحصہ مجھ کو بھی کچھ ملا ہے ضرور\nجب چڑا تنکے لے کر آیا ہے\nان کی چوں چوں کا راگ سن کر دل\nگانا سننے سے تنگ آیا ہے\nسب کے سر پر خدا کا ہے سایہ\nمجھ پہ ان کے پروں کا سایہ ہے\nاس قدر بیٹ کرتی ہیں کم بخت\nناک میں دم ہر ایک کا آیا ہے\nصبح سے لڑ رہی ہیں آپس میں\nسر پہ سارا مکان اٹھایا ہے\nپڑھ نہیں سکتا لکھ نہیں سکتا\nاس قدر شور و غل مچایا ہے\nایسا معلوم ہوتا ہے گویا\nمیرا کمرہ نہیں پرایا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%91%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA"} {"title": "چکھی بھی ہے تو نے درد جام توحید", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "چکھی بھی ہے تو نے درد جام توحید\nیا سن ہی لیا ہے صرف نام توحید\nہے کفر حقیقی کا نتیجہ ایماں\nترک توحید ہے مقام توحید", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF"} {"title": "چکھی نہ جس نے کبھی لذت سنان نگاہ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چکھی نہ جس نے کبھی لذت سنان نگاہ\nمزہ دے پھر اسے کیا تیغ خوں چکان نگاہ\n\nجس انجمن میں کہ پڑتا نہ تھا گمان نگاہ\nپڑا ہے ٹوٹ دم رقص آسمان نگاہ\n\nبلا سے اس سے ہی روز سیہ کا حال کہوں\nکہ میل سرمہ ہے اس کے مزاج دان نگاہ\n\nدھنک سے سرمے کی چلہ ہے تا بہ گوشۂ چشم\nکوئی ہے صید جو پھر زہ ہوئی کمان نگاہ\n\nبری ہے واجب و ممکن کی قید سے وہ حسن\nنہ درمیانۂ مردم نہ درمیان نگاہ\n\nہوا تھا مستی کی مجلس میں شب گزر اپنا\nکیا نظارۂ محویت جہان نگاہ\n\nوہ آسماں کی طرف دیکھے گر اٹھا کر آنکھ\nگرے زمین پہ عیسیٰ بھی کھا سنان نگاہ\n\nنہ تاب نور تجلی کی لا سکا موسیٰ\nفروغ حسن ہوا باعث زیان نگاہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D9%86_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81"} {"title": "چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے\nاک آگ سی رہے ہے کیا جانیے کہ کیا ہے\n\nمیں اور تو ہیں دونوں مجبور طور اپنے\nپیشہ ترا جفا ہے شیوہ مرا وفا ہے\n\nروئے سخن ہے کیدھر اہل جہاں کا یا رب\nسب متفق ہیں اس پر ہر ایک کا خدا ہے\n\nکچھ بے سبب نہیں ہے خاطر مری پریشاں\nدل کا الم جدا ہے غم جان کا جدا ہے\n\nحسن ان بھی معینوں کا تھا آپ ہی صورتوں میں\nاس مرتبے سے آگے کوئی چلے تو کیا ہے\n\nشادی سے غم جہاں میں وہ چند ہم نے پایا\nہے عید ایک دن تو دس روز یاں دہا ہے\n\nہے خصم جان عاشق وہ محو ناز لیکن\nہر لمحہ بے ادائی یہ بھی تو اک ادا ہے\n\nہو جائے یاس جس میں سو عاشقی ہے ورنہ\nہر رنج کو شفا ہے ہر درد کو دوا ہے\n\nنایاب اس گہر کی کیا ہے تلاش آساں\nجی ڈوبتا ہے اس کا جو تہہ سے آشنا ہے\n\nمشفق ملاذ و قبلہ کعبہ خدا پیمبر\nجس خط میں شوق سے میں کیا کیا اسے لکھا ہے\n\nتاثیر عشق دیکھو وہ نامہ واں پہنچ کر\nجوں کاغذ ہوائی ہر سو اڑا پھرا ہے\n\nہے گرچہ طفل مکتب وہ شوخ ابھی تو لیکن\nجس سے ملا ہے اس کا استاد ہو ملا ہے\n\nپھرتے ہو میرؔ صاحب سب سے جدے جدے تم\nشاید کہیں تمہارا دل ان دنوں لگا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%D8%AC%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%AF%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "چھانتا ہے خاک کیا تو گھر بنانے کے لیے", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھانتا ہے خاک کیا تو گھر بنانے کے لیے\nفکر رہنے کی نہ کر آیا ہے جانے کے لیے\n\nاور کو کیا رنج دوں راحت اٹھانے کے لیے\nایک تنکے کو نہ چھیڑوں آشیانے کے لیے\n\nبرق تھی بیتاب میرے آشیانے کے لیے\nابر سے بھی پیشتر آئے جلانے کے لیے\n\nکام آئی مرغ گلشن کے مری کاہیدگی\nلے گیا تنکا سمجھ کر آشیانے کے لیے\n\nاس چمن سے گل چلے بلبل گریباں پھاڑ کر\nہے جنوں تنکے جو چننے آشیانے کے لیے\n\nہم نے کیوں مانگی تھی گلشن میں دعائے جوش گل\nاب جگہ ملتی نہیں ہے آشیانے کے لیے\n\nپھر وہی ہم تھے وہی تم تھے محبت تھی وہی\nصلح کر لیتے اگر آنکھیں لڑانے کے لیے\n\nہوں وہ غم دیدہ ہنسے کوئی تو میں رونے لگوں\nکچھ بہانا چاہئے آنسو بہانے کے لیے\n\nسایہ پڑ جائے اگر زلف دراز یار کا\nپھر کہوں میں بھی تسلسل ہے زمانے کے لیے\n\nہوں وہ دیوانہ کہ بن کر ہو وہ مجنوں کی شبیہ\nمیری مٹی لیں اگر لیلیٰ بنانے کے لیے\n\nپہنچی ہے شانے تلک کیا یار کی زلف رسا\nدرد کیوں پیدا ہوا ہے میرے شانے کے لیے\n\nجملہ تن ہے چشم نرگس یار تیری دید کو\nگل ہمہ تن گوش ہیں تیرے فسانے کے لیے\n\nیوں مری قسمت میں تھا پرواز کرنا یا نصیب\nنوچتے ہیں طفل پر میرے اڑانے کے لیے\n\nکون ہوگا تیرے تیروں کا نشانہ میرے بعد\nخاک لے جانا مری تودہ بنانے کے لیے\n\nبزم عالم میں کھڑا ہوں پر چلا جاتا ہوں میں\nسیکھ لی ہے شمع سے رفتار جانے کے لیے\n\nکیوں دل بے تاب کو دکھلایا خال زیر زلف\nدام میں مچھلی نہیں آنے کی دانے کے لیے\n\nہو اگر سرگشتگی میں فکر تعمیر مکاں\nخاک اڑا لائے بگولہ گھر بنانے کے لیے\n\nاب کسی گل رو کے دل میں کیجیے گھر اے وزیرؔ\nکیا چمن میں تنکے چنئے آشیانے کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "چھانتے خاک ہیں اس راہ سے آنے والے", "poet_page": "مصنف:سید ہمایوں میرزا حقیر", "kind": "poetry", "section": "غزل > چمنستان فصاحت (1940)", "year": "1940", "text_ur": "چھانتے خاک ہیں اس راہ سے آنے والے\nجی سے جاتے ہیں ترے کوچہ سے جانے والے\n\nآج وہ عیسی دوراں ہیں جلانے والے\nہم تڑپ کر ہیں لحد سے نکل آنے والے\n\nمیں بھی پیاسا ہوں مجھے کیوں نہیں کرتے سیراب\nآپ شمشیر سے او پیاس بجھانے والے\n\nنہ ہمیں دیر سے مطلب نہ حرم سے کچھ کام\nہم تو ہیں کوچۂ دل دار کے جانے والے\n\nلو ہوئے خود بھی گرفتار محبت ناصح\nآپ ہی بھولے جو تھے راہ بتانے والے\n\nاپنی فریاد سے بیتاب نہ کر اے بلبل\nتیرے نالے ہیں مرے ہوش اڑانے والے\n\nرو ہی دیتا ہوں جو یاد آتا ہے لندن مجھ کو\nکیا ہوئے اب وہ حسیں ناچنے گانے والے\n\nدیکھ کے لاش حقیرؔ آپ کی بولا وہ شوخ\nآج دنیا سے چلے ٹھوکریں کھانے والے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "چھاپے کی ایجاد کا بیان", "poet_page": "مصنف:ماسٹر رام چندر", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ظاہر ہووے کہ سب صنعتوں سے چھاپا بہت بہتر صنعت ہے اور اس کے فائدے اور منفعتیں بہت ہیں کیونکہ اس کے وسیلے سے بہت نوع کے علوم اور بہتیرے فنون دنیا میں رواج پائے اور لوگوں میں ظاہر اور مشہور ہوئے اور یقین ہے کہ اس کے فائدے بادشاہت کے فائدے کے برابر ہیں۔\n\nجس وقت یہ صنعت ایجاد نہ ہوئی تھی لوگ قلم سے لکھتے تھے اور کتابوں کی طرف سےمحتاج تھے اور اس زمانے میں علم بہت کم اور نایاب تھا اور علماء جن کتابوں کو تصنیف کرتے تھے سب ملکوں میں پھیلنے نہیں پاتیں تھیں اور رواج ان کا بہت کم ہوتا تھا۔ اس کے سوائے یہ ہے کہ وہاں کے رہنے والے جہاں کہ کوئی کتاب تصنیف ہوتی تھی، بہت دنوں میں ان کتابوں کو تھوڑا سا جانتے تھے۔ دوسرے ملک کے لوگوں کو ان کتابوں کا جاننا بہت مشکل ہوتا تھا۔ بہت دنوں کے بعد کہیں ان لوگوں کو خبر ہوتی تھی۔ اس سبب سے علم کا بازار بہت ہی سرد تھا اور عالم بہت کم تھے اور ان کی مجلسیں بے رونق تھیں۔ اس وقت میں ولایت کے لوگ اصلاً علم سے بہرہ نہیں رکھتے تھے اور کچھ نہیں جانتے تھے۔ سب کے سب جاہل تھے اور جہالت کی تاریکی میں رہتے تھے۔ اس وقت میں یہ بات تھی کہ چند آدمی بقدر ضرورت لکھنے پڑھنے کو جانتے تھے لیکن اچھے علوم اور فنون سے سروکار نہیں رکھتے تھے۔\n\nجب سے چھاپے نے دنیا میں رواج پایا تب سے اتنی بے شمار کتابیں چھاپی گئیں کہ دنیا علم کے نور سے روشن ہوگئی اور بہت لوگ عالم ہوئے اور ان کی مجلس کو رونق ہوئی۔ اگلے زمانے میں دنیا جہالت کی تاریکی سے جیسی تاریک تھی، چھاپا ہونے کے بعد انواع علوم اور فنون کے نور سے ویسی ہی روشن ہوئی۔ اس صنعت کے وسیلے سے جھوٹ اور سچ میں اچھی طرح سے جلد امتیاز ہو سکتا ہے کیوں کہ بہتیری کتابیں چھپتی ہیں اور ہر ایک ملک میں جانے کے بعد جبکہ لوگ انھیں دیکھیں گے اور فکر و تامل کریں گے، اپنی عقل کے زور سے بخوبی جھوٹ اور سچ میں تمیز کر سکیں گے۔ اگر کوئی شخص کوئی کتاب تصنیف کرے تو چھاپے کے سبب سے جلد مشہور ہو جاتی ہے اور مشہور ہونے کے بعد جب لوگ دیکھیں اور پسند کریں تو یقین ہوگا کہ جو اس میں ہے سب سچ ہے۔\n\nخلاصہ یہ کہ صنعت چھاپے کی فائدہ بے حساب و بے شمار رکھتی ہے۔ اگر چھاپا نہ ہوتا تو بہتیرے علم کے دروازے بند ہو جاتے۔ جاننا چاہئے کہ فائدے کی معتبر کتابیں اگر چھپیں تو بہت دن تک رہتی ہیں اور اگلے زمانے میں جب بہتیرے ملک غارت ہوئے مثلاً یونانی اور رومیوں کی کتابیں جو قلمی تھیں، جب وہ ملک غارت ہوا توان کی آدھی کتابیں غارت ہوگئیں۔ جب چھاپا ظاہر ہوا، ان کی باقی کتابیں چھاپی گئیں اور وے ساری کتابیں آج تلک موجود ہیں اور ان کی کتابیں اس قدر چھپیں کہ تمام ملک میں پھیل گئیں اور دنیا میں مشہور ہو گئیں۔ اب ممکن نہیں کہ وے سب کتابیں غارت ہوں۔ کیوں کہ وے کتابیں اگر کسی آفت کے سبب سے ایک ملک میں غارت ہو جائیں تو دوسرے ملک میں البتہ موجود ہوں گی۔\n\nیہ بھی جاننا چاہئے کہ صنعت چھاپا ظاہر ہونے کے بعد فائدے کی کتابوں سے کوئی کتاب نقصان نہیں ہوئی اور اگلے اخبار اور قصے اور ان کے احوال صنعت چھاپا ظاہر ہونے کے آگے کسی کو معلوم نہ تھے بلکہ سب جہالت میں پڑے تھے، اور جو لوگ صنعت چھاپا ظاہر ہونے کے آگے تھے کوئی آدمی ان کے احوال سے خبر نہیں رکھتا تھا بلکہ ان کی اولاد اور پوتے انھیں نہیں جانتے تھے کہ ان کے باپ کس قوم سے تھے اور کون مذہب رکھتے تھے اور کس دین سے تھے کیوں کہ جو احوال ان کا لکھا ہوا تھا سب معدوم ہو گیا۔\n\nہندو پنڈتوں کی بہتیری کتابیں معدوم ہوگئیں، اب سوائے نام کے کچھ باقی نہ رہا اور جس قدر موجود ہیں اگر چھپتیں تو بے شک ہمیشہ باقی رہتیں۔ چوں کہ صنعت چھاپے کی شان بہت بڑی ہے اور اس کے ایجاد کرنے والے کے کمال پر دلیل ہے، اس واسطے شہر ہارلم کے لوگوں سے جو ملک جو ہولینڈ سے متعلق ہے اور شہر منش کے لوگوں سے، جو ملک جرمن سے متعلق ہے صنعت چھاپے کی ایجاد کرنے میں قضیہ ہوا ہے۔ ان دونوں فرقے میں سے ہر ایک فرقہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہم نے اس صنعت کو ایجاد کیا ہے لیکن شہر منش کے لوگوں کا دعویٰ بلا دلیل ہے کوئی گواہ شاید نہیں۔ یہ صرف دعویٰ ہے کیوں کہ عالموں کی تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ شہر ہارلم کے لوگوں نے چھاپا ایجاد کیا ہے اور یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ شہر منش کے رہنے والوں نے اس صنعت کو زیب و زینت بخشی ہے اور رونق دی ہے نہ کہ ایجاد کیا ہے۔\n\nاغلب کہ ایک ہزار چار سو تیس سن ۱۴۳۰ء میں لارن شش نام کے ایک شخص نے شہر ہارلم میں بازی کے لئے ایک درخت کے سر پر حروفوں کا نقش بنایا اور اس میں سیاہی ڈال کے اس پر ایک سفید کاغذ وصل کردیا اور جب اسی کاغذ کو اٹھایا تو حرفوں کا نقش بہت اچھا ظاہر ہوا۔ لوگوں نے اس کو دیکھ کے لکڑی پر حرف کھود کے چھاپا شروع کیا۔ بعد اس کے چھوٹی چھوٹی لکڑیوں پر ایک ایک حرف کھود کے بہتیری کتابیں چھاپی گئیں۔ اس صنعت کی ایجاد کا بیان یہی ہے۔\n\nجاننا چاہئے کہ چھوٹی لکڑیوں پر حروف کھودنے میں بڑی دیر ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ ایک کتاب چھاپنے میں چھ سات برس گذر جاتے تھے۔ بارہ برس گذرنے کے بعد یعنی ایک ہزار چار سو بیالیس سنہ ۱۴۴۲ء میں فشتش نام کا ایک شخص جو چھاپے خانہ میں تھا، تمام حروف اور سارا اسباب ایک کارخانہ کالے کے رات کو وہاں سے بھاگ کر شہر منش میں گیا اور وہاں اس صنعت کو رواج دیا اور کتاب چھاپنے میں مشغول ہوا۔ دوتین برس کے بعد جب دیکھا کہ جن لکڑیوں پر حروف کھودے ہوئے ہیں تھوڑے دن میں گھس جاتے ہیں اور ناکارہ ہوتے ہیں۔ اس طرز کو چھوڑ کے سیسے پر حروف کھودنے لگے۔ پس چھاپا کرنے کے دو طریق ہو گئے۔\n\nپندرہ برس گذرنے کے بعد یعنی ایک ہزار چار سو ستاون سنہ ۱۴۵۷ء میں شیپہر نام کا ایک شخص اس کام میں فشتش مذکور کا شریک ہوا اور ان دونوں نے آپس میں عہد و پیماں اور قول و قرار کیا کہ جس قدر نفع ہوگا آدھے حصے کو لیں گے۔ اب دونوں اس کام میں مشغول ہوگئے۔ چونکہ حروف کے نقش کھودنےمیں بڑی دیر ہوتی تھی، شیپہر نے اس طریقے کو چھوڑ کے دوسرا طریقہ اختیار کیا، وہ یہ ہے کہ حروف کے نقش کو پہلے فولاد پر کھودا اور اس کے بعد اس کو تانبے پر زور سے ٹھونکا اور جب حروف کے نقش تانبے پر ظاہرہوجاتے ہیں، بعد اس کے ان حروفوں کو جو تانبے پر ظاہر ہوتے ہیں، شیشہ گلا کے ڈھالتے ہیں۔ اس طور سے حروف بہت ہی خوب ظاہر ہوتے ہیں۔ جتنے حروف چاہیں اس طرح تیار کر سکتے ہیں۔ پس یہ تین طریقے ہیں۔\n\nچونکہ سیسہ بہت نرم ہے اس لئے اس میں سونا ملاتے ہیں تب وہ سخت اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ بتیس برس گذرنے کے بعد یعنی ایک ہزار چار سو باسٹھ سنہ ۱۴۶۲ء میں جس وقت جرمن ملک کے بادشاہ نے شہر منش پر چڑھائی کی اور اس کے سبب ملکوں پر فتح مند ہوا، چھاپے والے بھاگے اور چاروں طرف چھپ گئے اور چھاپے کا اسباب بھی ہر ایک ملک میں پہنچا۔ تب ہر ایک ملک کے لوگ اس صنعت سے واقف ہو گئے اور کئی برس بعد فرنگلستان کے ملکوں میں یہ صنعت پھیل گئی۔ پس معلوم ہوا کہ اس صنعت کے ایجاد کرنےوالے فقط ملک ہولینڈ کے لوگ ہیں تو بے شک وے مدح کے مستحق ہیں اور تعریف کے لائق ہیں۔ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ ملک انگلستان میں کس برس سے چھاپا شروع ہوا ہے۔ بہت دن تلک لوگوں کا گمان یہ تھا کہ ایک ہزار چار سو ستر سنہ ۱۴۷۰ء میں پہلے کاسٹن صاحب نے اس ملک میں ایک کتاب چھاپی اور لوگ اسے اس صنعت کا بانی جانتے ہیں۔\n\nمقام آکسفورڈ میں اس صنعت کے پہنچنے کا عجیب ایک قصہ ہے کیونکہ جس وقت ہالینڈ ملک میں یہ صنعت اجراء پائی، شاہ انگلستان کے بڑے وزیر نے بادشاہ کے حضور میں عرض کی کہ اگر یہ صنعت ملک ہالینڈ سے انگلستان ملک میں لائی جائے تو بے شک یہاں کے لوگ اس سے فائدہ مند ہوں گے۔ عرضی اس کی مقبول ہوئی لیکن بادشاہ نے اپنے دل میں سوچا کہ اس صنعت کو چھپا کے لانا چاہئے ورنہ ظاہر کر کے لانا ممکن نہیں۔ خلاصہ یہ کہ اپنے نوکروں میں سے ایک معتبر شخص کے ساتھ جس کا نام کرسلس تھا، کاسٹن صاحب کو ملک ہالینڈ روانہ کیا۔ وہ شخص بھیس بدل کے بہت سے روپے لے کر اس ملک میں چلا۔ وہاں پہ پہنچ کے کتنے دن تلک دو تین جگہ مقام کر کے رہا۔ بھیس بدلنے کا سبب یہ ہے کہ اس چھاپہ خانہ کے لوگ اس صنعت کے سکھانے میں بخیلی کرتے تھے اور بیگانے کی نظر سے چھپاتے تھے اور جو کوئی کسی اطراف سے اور دور دراز ملک سے ہالینڈ ملک میں چھاپا سیکھنے آتا تھا وہ اسے قید کرتےتھے۔\n\nخلاصہ یہ کہ اس شخص نے اچھی اچھی تدبیریں کر کے چھاپہ خانہ کے ایک آدمی سے بڑی دوستی پیدا کر لی اور اس آدمی کو بہت روپے دیے۔ اب وہ شخص روپے کی لالچ سے انگلینڈ میں آنے کو راضی ہوا اور رات کو بھاگنے سمندر کے کنارے آیا اور جو جہاز شاہ انگلستان کی طرف سے وہاں تھا، اس پر سوار ہو کے انگلستان میں آیا لیکن بادشاہ نے لندن میں چھاپہ خانہ کی بناء کو اس وقت مناسب نہ جانا بلکہ اس سے بہت ڈرا۔ لاچار کرسٹن مذکور کو فوج کے ساتھ مقام آکسفورڈ میں بھیجا۔ اس نے وہاں اس کام کی بنا ڈالی۔ جب ملک انگلستان کے دو تین آدمیوں نے اس کام کو اچھی طرح سے نہیں سیکھا اور اس کی حقیقت سے خوب واقف نہیں ہوئے، تب بادشاہ نے دو تین پیادوں کو اس کی نگرانی کے لئے مقرر کیا۔ بعد اس کے روز بروز یہ صنعت بڑھنے لگی اور تمام جگہوں میں جاری ہوئی اور پچاس برس کے بیچ میں کوئی جگہ اس کام سے خالی نہ رہی۔\n\nغرض اس صنعت کی تعریف بے حد و حساب ہے کیونکہ جس چیز کے وسیلے سے علم جو بے بہا چیز ہے، اور اس سے بڑھ کے کوئی نعمت نہیں ہے، ہمیشہ جاری رہے، تو البتہ وہ بے حد تعریف کے لائق ہے۔ قطع نظر اس سے خود چھاپا بذاتہ ایسی چیز ہے جس کی قیمت نہیں اور آگے جن علوم کو ہزار برس میں سیکھتے تھے اب چھاپے کے سبب سے سو برس میں سیکھتے ہیں۔ جاننا چاہئے کہ فرنگستان کے لوگ ہند کے لوگوں کو عقل اور دانائی سکھانے والے ہیں اور بے شبہ انھیں لوگوں کے سبب سے اس ملک میں علم و فضل آیا اور جتنے علوم اس صنعت کے وسیلے سے اس ملک میں پھیلے ہیں، کبھی معدوم نہیں ہوں گے بلکہ علم کا بازار ہمیشہ گرم رہے گا اور عالموں کی مجلس ہمیشہ روشن رہے گی اور فضل و کمال اور ہر طرح کا علم جو ملک فرنگستان میں ہے، اگر ہند کے لوگ ان کو اپنی زبان میں سیکھیں گے تو بے شک روشنی بڑھے گی۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D8%A7%D9%BE%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86"} {"title": "چھریاں چلیں شب دل و جگر پر", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھریاں چلیں شب دل و جگر پر\nلعنت ہے اس آہ بے اثر پر\n\nبالوں نے ترے بلا دکھا دی\nجب کھل کے وہ آ رہی کمر پر\n\nنامے کو مرے چھپا رکھے گا\nتھا یہ تو گماں نہ نامہ بر پر\n\nپھرتے ہیں جھروکوں کے تلے شاہ\nاس کو میں امید یک نظر پر\n\nکیا جاگا ہے یہ بھی ہجر کی شب\nزردی سی ہے کیوں رخ قمر پر\n\nپھر غیرت عشق نے بٹھائے\nدرباں شدید اس کے در پر\n\nرہتی ہیں بہ وقت گریہ اکثر\nدو انگلیاں اپنی چشم تر پر\n\nہے عشق سخن کا مصحفیؔ کو\nمائل نہیں اتنا سیم و زر پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%86%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "چھوٹا بڑا نہ کم نہ منجھولا ازار بند", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھوٹا بڑا نہ کم نہ منجھولا ازار بند\nہے اس پری کا سب سے امولا ازار بند\n\nہر اِک قدم پہ شوخ کہ زانو کہ درمیاں\nکھاتا ہے کس جھلک سے جھکولا ازار بند\n\nہنسنے میں ہاتھ مرا کہیں لگ گیا تُو وہ\nلونڈی سے بولی جا میرا دھو لا ازار بند\n\nاُور دھو نہیں تُو پھینک دے ناپاک ہو گیا\nوُہ دوسرا جُو ہے سو پرو لا ازار بند\n\nاِک دِن کہا جو میں نے کے اے جان آپ کا\nہم نے کبھو مزے میں نہ کھولا ازار بند\n\nسن کر لگی یہ کہنے کے اے واچھڑے چہ خوش\nایسا بھی کیا میں رکھتی ہوں پولا ازار بند\n\nآ جاوے اس طرح سے جو اب ہر کسی کہ ہاتھ\nویسا تُو کچھ نہیں میرا بھولا ازار بند\n\nاِک رات مرے ساتھ وُہ عیار مکر باز\nلیٹی چھپا کہ اپنا ممولا ازار بند\n\nجب سو گئی تُو میں نے بھی دہشت سے اس کی آ\nپہلے تُو چپکے چپکے ٹٹولا ازار بند\n\nآخر بڑی تلاش سے اس شوخ کا نظیرؔ\nجب آدھی رات گزری تُو کھولا ازار بند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%88%D9%B9%D8%A7_%D8%A8%DA%91%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%86%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%A7_%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D9%86%D8%AF"} {"title": "چھوٹی سی برقعہ والی", "poet_page": "مصنف:رفیعی اجمیری", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وہ دیکھو جا رہی ہے چھوٹی سی برقع والی\nبرقع لٹک رہا ہے دامن گھسٹ رہا ہے\nنیچے کا سارا حصہ مٹی میں اٹ رہا ہے\nیہ ڈھیلا ڈھالا برقع دب دب کے پھٹ رہا ہے\nہر مرتبہ ہوا سے مقنع الٹ رہا ہے\nپر ڈالے جا رہی ہے چھوٹی سی برقع والی\nصورت سے سن میں بیگم سات آٹھ سال ہوں گی\nپردہ کی پر یہ بولو دل میں نہال ہوں گی\nیہ دھوم دھام ماما جو بن کے جا رہی ہیں\nگھر جاتے جاتے بانو بے شک نڈھال ہوں گی\nآہا وہ جا رہی ہے چھوٹی سی برقع والی\nپردہ کا اتنا سن میں اللہ خیال دیکھو\nجالی سے ہو رہا ہے چلنا محال دیکھو\nمغلانی بی بھی ہیں ساتھ اور ہو رہی ہیں باتیں\nاور یہ سٹر پٹر سی جلدی کی چال دیکھو\nلو مسکرا رہی ہے چھوٹی سی برقع والی\nوہ دیکھو جا رہی ہے چھوٹی سی برقع والی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%88%D9%B9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%D8%B1%D9%82%D8%B9%DB%81_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "چھوٹے کام کا بڑا نتیجہ", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ایک بچہ کہ ابھی کچھ اسے تمییز نہ تھی\nلہو و بازی سے پسندیدہ کوئی چیز نہ تھی\nکھیلنا کودنا کھانا یہی معمول تھا بس\nانہیں طفلانہ تمناؤں میں مشغول تھا بس\nایک تالاب تھا دو چار قدم گھر سے پرے\nدل میں لہر آئی لب آب ذرا سیر کرے\nصاف پانی سے جو تالاب کو پایا لبریز\nکھیل کا شوق طبیعت میں ہوا اور بھی تیز\nآس پاس اپنے جو پایا کوئی کنکر پتھر\nپھینک مارا اسے پانی میں بہت خوش ہو کر\nکھیل تھا پہلے تو اب طرفہ تماشا دیکھا\nدل ہی دل میں متحیر تھا کہ یہ کیا دیکھا\nدائرہ ایک بنا ایسا کہ بڑھتا ہے محیط\nگھیر لی جس نے کہ تالاب کی سب سطح بسیط\nپھر تو کھیل اس کا اسی شغل پہ موقوف رہا\nاسی نظارے میں تا دیر وہ مصروف رہا\nاسی اثنا میں ہوا بچے کی ماں کا بھی گزر\nبولا اماں مجھے آئی ہے عجب چیز نظر\nجو نہ دیکھی نہ سنی تھی کبھی اب سے پہلے\nشاید آئی ہے نظر مجھ کو ہی سب سے پہلے\nاک ذرا سی حرکت اور یہ تاثیر عجیب\nدائرہ بڑھ کے پہنچتا ہے کنارے کے قریب\nبسکہ جی جان سے اس شعبدے پر تھا شیدا\nوسعت دائرہ کی اپنی عمل سے پیدا\nتھی وہ ماں اہل دل اور نیک منش نیک نہاد\nہنس کے فرمایا مری جاں یہ نصیحت رکھ یاد\nیوں ہی ہر کام کا ہو جاتا ہے انجام بڑا\nگو کہ آغاز میں ہوتا نہیں وہ کام بڑا\nکبھی ادنیٰ حرکت زلزلہ بن جاتی ہے\nکبھی ناچیز سی اک بات غضب ڈھاتی ہے\nیہی انداز نکوکاری و بد کاری ہے\nاولاً خاص تھی اب عام میں وہ جاری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%88%D9%B9%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%91%D8%A7_%D9%86%D8%AA%DB%8C%D8%AC%DB%81"} {"title": "چھوڑ دے مار لات دنیا کو", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھوڑ دے مار لات دنیا کو\nکچھ نہیں ہے ثبات دنیا کو\n\nہاتھ آئی ہے جس کو دولت فقر\nان نے ماری ہے لات دنیا کو\n\nزال دنیا ہی سا ہے وہ بد ذات\nجو کہے نیک ذات دنیا کو\n\nدام الفت میں سب کو کھینچے ہے\nآ گئی ہے یہ گھات دنیا کو\n\nپشت پا مارے مسند جم پر\nجو لگائے نہ ہاتھ دنیا کو\n\nتو جو مرتا ہے اس پر اے ؔجوشش\nلے گیا کوئی ساتھ دنیا کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D9%84%D8%A7%D8%AA_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D9%88"} {"title": "چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا\nشیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا\nچار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ\nکھا ڈبل روٹی کلرکی کر خوشی سے پھول جا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C%DA%86%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DB%81%D8%B3%D9%B9%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "چھوڑ ماوائے ذقن زلف پریشاں میں پھنسا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھوڑ ماوائے ذقن زلف پریشاں میں پھنسا\nمثل یوسف میں نکل چاہ سے زنداں میں پھنسا\n\nسیل اشک آج رکی آنکھ سے گرتے ہی مگر\nپھر کئی لخت جگر دیدۂ گریاں میں پھنسا\n\nکچھ بھی وقفہ ہو تو گلشن سے لے آئیں صیاد\nرہ گیا ہے دل غم کش گل و ریحاں میں پھنسا\n\nکھینچ دامن رکھیں ہم یار کو کس طرح کہ ہاتھ\nایک تو دل پہ ہے اور ایک گریباں میں پھنسا\n\nاے کہ چاہے ہے تو دیوان کو قائمؔ کے تو دیکھ\nکہیں ہوگا کسی خمار کی دکاں میں پھنسا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D9%85%D8%A7%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B0%D9%82%D9%86_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D9%86%D8%B3%D8%A7"} {"title": "چھوڑ کر مجھ کو چلی اے بے وفا میں بھی تو ہوں", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "چھوڑ کر مجھ کو چلی اے بے وفا میں بھی تو ہوں\nلے خبر میری بھی اے تیغ ادا میں بھی تو ہوں\n\nپی رہے ہیں سب پیالی پر پیالی بزم میں\nمیری باری بھی تو آئے ساقیا میں بھی تو ہوں\n\nذکر جب حور و پری کا سامنے ان کے ہوا\nپہلے تو سنتے رہے وہ پھر کہا میں بھی تو ہوں\n\nدخت رز زاہد سے بولی مجھ سے گھبراتے ہو کیوں\nکیا تمہیں ہو پاک دامن پارسا میں بھی تو ہوں\n\nخاص زاہد کے لئے جنت تو ہو سکتی نہیں\nآخر اک بندہ شرفؔ اللہ کا میں بھی تو ہوں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%DA%A9%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D9%84%DB%8C_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "چھوڑ ہر ایک کو برا کہنا", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھوڑ ہر ایک کو برا کہنا\nایسی صورت پہ تجھ کو کیا کہنا\n\nبے وفاؤں کو با وفا کہنا\nآپ کی بات واہ کیا کہنا\n\nتم نے کیا عیب ہم میں دیکھا ہے\nدیکھو اچھا نہیں برا کہنا\n\nمیں نے کیا کیا کہا ہے لوگوں سے\nایک بار اور پھر ذرا کہنا\n\nجانتے کب ہیں مجھ کو اپنا دوست\nمانتے کب ہیں وہ مرا کہنا\n\nمجھ کو غصے سے دیکھ کر نہ رکو\nدل میں جو کچھ بھی آ گیا کہنا\n\nمیں محبت میں کیا کروں انصاف\nکوئی انصاف سے ذرا کہنا\n\nآپ کو آج تک نہیں آیا\nواقعہ سب سے ایک سا کہنا\n\nخوب نقلیں اتارتے ہیں آپ\nآفریں واہ واہ کیا کہنا\n\nکیا کہا میں کبھی نہیں سنتا\nاور پھر اس پہ آپ کا کہنا\n\nان کو کہنا سلام اے قاصد\nاور دربان کو دعا کہنا\n\nاے صفیؔ ہے ابھی تو دلی دور\nکون کہتا ہے آ گیا کہنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "چھوڑا نہ تجھے نے رام کیا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھوڑا نہ تجھے نے رام کیا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا\nہم سے تو بت کافر بہ خدا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا\n\nافسوس عدم سے آ کے کیا کیا ہم نے گلشن ہستی میں\nجوں شبنم و گل رویا نہ ہنسا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا\n\nاس آئینہ رو کے وصل میں بھی مشتاق بوس و کنار رہے\nاے عالم حیرت تیرے سوا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا\n\nدل کوئے بتاں میں جا بیٹھا دم خانۂ تن کو چھوڑ گیا\nحیف آخر کار رفیق اپنا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا\n\nیا بہر طواف کعبہ گئے یا معتکف بت خانہ ہوئے\nکیا شیخ و برہمن ہم نے کیا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا\n\nاے قاصد اشک و پیک صبا اس تک نہ پیام و خط پہنچا\nتم کیا کرو ہاں قسمت کا لکھا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا\n\nکھینچ اس کو نہ لایا جذبۂ دل تاثیر نہ کچھ نالے ہی نے کی\nمیں دونوں کا بس شاکی ہی رہا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا\n\nاس لب کا لیا بوسہ نہ کبھو ہیہات نہ لپٹا پاؤں سے\nدل تجھ سے برنگ پان و حنا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا\n\nمجنوں تو پھرا جنگل جنگل فرہاد نے چیرا کوہ دلا\nمیں آہ رہا بے دست و پا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا\n\nدن کو بھی نہ دیکھا ہم نے اسے شب خواب میں بھی یارو نہ ملا\nاس طالع خفتہ کا ہووے برا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا\n\nنزدیک نصیرؔ اپنے آساں فرمائش تھی گویا یہ غزل\nکچھ اس کا بھی کہنا مشکل تھا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "چھوڑتا مجھ کو نہ بسمل وہ مگر چھوڑ دیا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھوڑتا مجھ کو نہ بسمل وہ مگر چھوڑ دیا\nسر پہ احسان رہے اس لیے سر چھوڑ دیا\n\nٹکڑے ٹکڑے کیا ناصح کا گریباں میں نے\nشکر ہے اس نے مرا دامن تر چھوڑ دیا\n\nکام سب خانہ خرابی کے ہوئے ہیں تجھ سے\nرحم کھا کر تجھے اے دیدۂ تر چھوڑ دیا\n\nپھر کہاں تھا نہ یہاں تھا نہ وہاں تھا وہ شوخ\nدامن اس کا جو سر راہ گزر چھوڑ دیا\n\nلے گئی تھی ترے دیوانہ کو گھر سے وحشت\nنہیں معلوم کہ جنگل میں کدھر چھوڑ دیا\n\nداغؔ وارفتہ طبیعت کا ٹھکانہ کیا ہے\nخانہ برباد نے مدت ہوئی گھر چھوڑ دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%AA%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84_%D9%88%DB%81_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "چھوڑتی ہی نہیں مجھ کو شب فرقت میری", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھوڑتی ہی نہیں مجھ کو شب فرقت میری\nاے میں قربان اسے اتنی محبت میری\n\nکیوں کر اوپر اٹھیں آنکھیں مری اے حسرت دید\nسر اٹھانے نہیں دیتی ہے ندامت میری\n\nپھوٹ کر رونے سے اشکوں کا مرا ہے پانی\nبے بہار آئے کھلی جاتی ہے تربت میری\n\nوصل کی شب وہ ڈراتے ہیں یہ کہہ کہہ کے مجھے\nتم ستاؤ تمہیں کوسے گی نزاکت میری\n\nجلوۂ یار نے بے ہوش کیا ہے مجھ کو\nکچھ الگ نشۂ مے سے رہی غفلت میری\n\nآنکھ تاروں نے چرائی یہ نئی بات ہے آج\nدیکھیے کٹتی ہے کیوں کر شب غربت میری\n\nرہن مے ہونے سے بچ جائے تو عزت رہ جائے\nمول لے لے کوئی دستار فضیلت میری\n\nرہیں تا حشر یوں ہی مہندی لگے پاؤں کے نقش\nچار پھولوں کی نہ محتاج ہو تربت میری\n\nتارے مجھ کو نظر آئیں نہ کہیں حشر کے دن\nڈر سے بڑھ جائے نہ حد سے شب فرقت میری\n\nچھیڑ کر مجمع زہاد کو ڈرتا ہوں ریاضؔ\nکہنہ مسجد کی عوض ہو نہ مرمت میری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%D8%A8_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "چھوڑیئے کس طرح سے مے نوشی", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھوڑیئے کس طرح سے مے نوشی\nزور عالم رکھے ہے بے ہوشی\n\nاک نظر اس کو دیکھنے پائیں\nگو میسر نہ ہو ہم آغوشی\n\nقید کرنا کسی کو ہے منظور\nزلف کرتی ہے تجھ سے سرگوشی\n\nہوں میں سرگشتہ مثل ریگ رواں\nکیا کہوں اپنی خانہ بردوشی\n\nوصف میں اس دہن کے اے ؔجوشش\nہم نے کی اختیار خاموشی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%8C%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%B4%DB%8C"} {"title": "چھوڑیں گے گریباں کا نہ اک تار کبھی ہم", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھوڑیں گے گریباں کا نہ اک تار کبھی ہم\nبیٹھیں گے جنوں میں تو نہ بیکار کبھی ہم\n\nرہتے نہ اجازت کے طلب گار کبھی ہم\nہوتے جو ترے طالب دیدار کبھی ہم\n\nپہنائے گا ہم کو وہ گل زخم کی بدھی\nپنہائیں گے قاتل کو جو اک ہار کبھی ہم\n\nدیوانہ نوازی ہے کہ سر کو دیئے پتھر\nچھوڑیں گے نہ اب دامن کہسار کبھی ہم\n\nواللہ بتوں سے نہیں کرنے کے محبت\nرکھیں گے نہ اب رشتۂ زنار کبھی ہم\n\nعنقا ہو جہاں سے مری جاں نام ہما بھی\nپائیں جو ترا سایۂ دیوار کبھی ہم\n\nپھاہے تو رہے داغ جنوں پر پئے جنت\nکیا ڈر ہے جو رکھتے نہیں دستار کبھی ہم\n\nتجویز کیا کیجئے گا یوں ہیں سزائیں\nیا رحم کے بھی ہوں گے سزاوار کبھی ہم\n\nفرصت نہیں ملتی ہے غزل کہنے کی اے مہر\nپڑھتے ہیں تب اس ڈھنگ کے اشعار کبھی ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DA%A9_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85"} {"title": "چھٹ بھیوں کی شاعری کا یہ زور یہ شور", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "چھٹ بھیوں کی شاعری کا یہ زور یہ شور\nایسوں کو کہے گا کون میدان کا چور\nشاعر ہیں یا مشاعروں کے ٹہیے\nسن پائی کوئی طرح لگانے لگے زور", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%B9_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%B2%D9%88%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%B1"} {"title": "چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت\nمایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت\n\nامکاں نہیں جیتے جی ہو اس قید سے آزاد\nمر جائے تبھی چھوٹے گرفتار محبت\n\nتقصیر نہ خوباں کی نہ جلاد کا کچھ جرم\nتھا دشمن جانی مرا اقرار محبت\n\nہر جنس کے خواہاں ملے بازار جہاں میں\nلیکن نہ ملا کوئی خریدار محبت\n\nاس راز کو رکھ جی ہی میں تا جی بچے تیرا\nزنہار جو کرتا ہو تو اظہار محبت\n\nہر نقش قدم پر ترے سر بیچے ہیں عاشق\nٹک سیر تو کر آج تو بازار محبت\n\nکچھ مست ہیں ہم دیدۂ پر خون جگر سے\nآیا یہی ہے ساغر سرشار محبت\n\nبیکار نہ رہ عشق میں تو رونے سے ہرگز\nیہ گریہ ہی ہے آب رخ کار محبت\n\nمجھ سا ہی ہو مجنوں بھی یہ کب مانے ہے عاقل\nہر سر نہیں اے میرؔ سزاوار محبت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%B9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA"} {"title": "چھٹی امید تو میں حال دل کہنے سے کیوں ڈرتا", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھٹی امید تو میں حال دل کہنے سے کیوں ڈرتا\nمثل مشہور ہے سرکار مرتا کیا نہیں کرتا\n\nبہت اچھا ہوا دشمن نے مجھ سے دشمنی کر لی\nسوا میرے نہ جانے اور کس کس کو یہ لے مرتا\n\nاگر دشمن سے ایسے پیش آتے تو مزہ پاتے\nکروں کیا عرض جو برتاؤ مجھ سے آپ نے برتا\n\nکسی پیماں شکن نے رکتے رکتے بات تو کر لی\nجو وعدے ہی پہ ہم اڑتے تو یہ کرتا نہ وہ کرتا\n\nنہیں مجھ سے تری بے اعتنائی قابل حیرت\nغریب انسان دنیا کی نگاہوں میں نہیں بھرتا\n\nصفیؔ نے ٹھوکریں کھا کے بھی اپنی وضع کب بدلی\nسمجھ والا اگر ہوتا حسینوں سے بہت ڈرتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%8C_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%88%D8%B1%D8%AA%D8%A7"} {"title": "چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی\nانتہا تھی یہ دل ربائی کی\n\nمائلِ غمزہ ہے وہ چشمِ سیاہ\nاب نہیں خیر پارسائی کی\n\nدام سے اُس کے چھوٹنا تو کہاں\nیاں ہوس بھی نہیں رہائی کی\n\nہوکے نادم وہ بیٹھے ہیں خاموش\nصلح میں شان ہے لڑائی کی\n\nاس تغافل شعار سے حسرت\nہم میں طاقت نہیں جدائی کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "چھپ کے غیروں سے دل میں آ جانا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھپ کے غیروں سے دل میں آ جانا\nاے صنم رخ مجھے دکھا جانا\n\nبر سر راہ ہے مری تربت\nہاتھ بہر دعا اٹھا جانا\n\nدل میں رہتا ہے اس کے نقش صنم\nشیخ کو ہم نے پارسا جانا\n\nغیر ممکن ہے دخل غیر اس میں\nدل کو جب خانۂ خدا جانا\n\nاے مددگار جن و انساں کے\nبگڑیوں کو مری بنا جانا\n\nاس سے افزوں ستم نہیں کوئی\nقتل عاشق کو تم نے کیا جانا\n\nکیا بتاؤں تجھے جمیلہؔ میں\nآفت جاں ہے دل کا آ جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "چھپ کے گھر غیر کے جایا نہ کرو", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھپ کے گھر غیر کے جایا نہ کرو\nربط ہر اک سے بڑھایا نہ کرو\n\nاے بتو بال بنایا نہ کرو\nسانپ ہاتھوں پہ کھلایا نہ کرو\n\nسبزۂ خط کو دکھایا نہ کرو\nطوطے ہاتھوں کے اڑایا نہ کرو\n\nرند غم ہجر کا کھایا نہ کرو\nجان کو اپنی کھپایا نہ کرو\n\nتذکرہ غیر کا لایا نہ کرو\nجلے کو اور جلایا نہ کرو\n\nمنہ کو غنچے کے چڑایا نہ کرو\nگل کو کھلی میں اڑایا نہ کرو\n\nمدعا جو ہو زباں سے کہو صاف\nحرف مطلب کو چبایا نہ کرو\n\nاپنا سمجھو مرا دل شوق سے لو\nمیری جاں اپنا پرایا نہ کرو\n\nمجھ کو بھی یاد ہیں فقرے صاحب\nجوڑ بندے پہ بنایا نہ کرو\n\nخود میں دم باز ہوں ہے دھیان کدھر\nمجھ کو فقروں میں اڑایا نہ کرو\n\nہوش میں آؤ پری زادو تم\nمجھ کو دیوانہ بنایا نہ کرو\n\nہم لہو تھوک کے مر جائیں گے\nلالی ہونٹوں پہ جمایا نہ کرو\n\nلوگ سودائی ہوئے جاتے ہیں\nدھڑی مسی کی لگایا نہ کرو\n\nہو نہ انگشت نما مثل ہلال\nجان نوچندی میں جایا نہ کرو\n\nاے بتو اپنے خدا کو مانو\nکعبۂ دل کو تو ڈھایا نہ کرو\n\nمیں تو حاضر ہوں وفاداری میں\nتم کرو مجھ سے وفا یا نہ کرو\n\nدھوکے دریا میں بھبوکا سے ہاتھ\nآگ پانی میں لگایا نہ کرو\n\nمجھ سے خلوت کی ملاقات رہے\nروز جلوت میں بلایا نہ کرو\n\nواسطے بندے کے بد نامی ہے\nجان صحبت میں بٹھایا نہ کرو\n\nدیکھنے والوں کی جانب دیکھو\nاس طرح آنکھ چرایا نہ کرو\n\nشرم بے جا ہے برا کرتے ہو\nاچھی صورت کو چھپایا نہ کرو\n\nجاؤ دریا پہ نہ تم غیر کے ساتھ\nایسے مینڈھے تو لڑایا نہ کرو\n\nدانت پیسا نہ کرو عاشق پر\nجان یوں ہونٹھ چبایا نہ کرو\n\nچار دن وصل میں ہنس لینے دو\nآٹھ آٹھ آنسو رلایا نہ کرو\n\nلوگ بد وضع کہیں گے تم کو\nمیلے ٹھیلے کبھی جایا نہ کرو\n\nجان کس کام کا یہ بھولا پن\nدم میں ہر ایک کے آیا نہ کرو\n\nعاشقوں کی بری گت ہوتی ہے\nتم ستاری تو بجایا نہ کرو\n\nحضرت دل یہی فرماتے ہیں\nعشق معشوق چھپایا نہ کرو\n\nخوش نہیں آتا اگر میرا کلام\nتو غزل بھی مری گایا نہ کرو\n\nتھامو اب قبضۂ شمشیر اے رندؔ\nکوفت پر کوفت اٹھایا نہ کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%BE_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "چھپ گیا یار خود نما ہو کر", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھپ گیا یار خود نما ہو کر\nرہ گئی چشم شوق وا ہو کر\n\nبے قراروں سے ان کو شرم آئی\nشوخیاں رہ گئیں حیا ہو کر\n\nکیا کہوں کیا ہے میرے دل کی خوشی\nتم چلے جاؤ گے خفا ہو کر\n\nروٹھ کر ان سے ہم کہاں جیتیں\nوہ منا لیتے ہیں خفا ہو کر\n\nپھنس گیا دل تو چھوڑ دو ہم کو\nاب کہاں جائیں گے رہا ہو کر\n\nدل سے کچھ کہہ رہی ہیں وہ آنکھیں\nدیکھیں کیا ٹھہرے مشورا ہو کر\n\nہاتھ اٹھا کر تلاش دل سے حسنؔ\nبیٹھ رہئے شکستہ پا ہو کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%BE_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%86%D9%85%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "چھپا ہوں میں صدائے بانسلی میں", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھپا ہوں میں صدائے بانسلی میں\nکہ تا جاؤں پری رو کی گلی میں\n\nنہ تھی طاقت مجھے آنے کی لیکن\nبزور آہ پہنچا تجھ گلی میں\n\nعیاں ہے رنگ کی شوخی سوں اے شوخ\nبدن تیرا قبائے صندلی میں\n\nجو ہے تیرے دہن میں رنگ و خوبی\nکہاں یہ رنگ یہ خوبی کلی میں\n\nکیا جیوں لفظ میں معنی سریجن\nمقام اپنا دل و جان ولیؔ میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%B3%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھی", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھی\nنگاہ یاس ہو جاتی ہے دل کی ترجماں پھر بھی\n\nغم واماندگی سے بے نیاز ہوش بیٹھا ہوں\nچلی آتی ہے آواز درائے کارواں پھر بھی\n\nحجاب اندر حجاب امواج طوفان تجلی ہیں\nفروغ شمع سے پروانہ ہے آتش بجاں پھر بھی\n\nاشاروں سے نگاہوں سے بہت کچھ منع کرتا ہوں\nقفس ہی پر جھکی پڑتی ہے شاخ آشیاں پھر بھی\n\nبہت دلچسپ ہے سیمابؔ شام وادئ غربت\nوطن کی صبح میں کچھ اور تھیں رنگینیاں پھر بھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "چھپنے والے یہ بھی چھپنے کا کوئی انداز ہے", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھپنے والے یہ بھی چھپنے کا کوئی انداز ہے\nتو ہے پردے میں مگر باہر تری آواز ہے\n\nہائے کیا بانکی ادا ہے کیا خرام ناز ہے\nچال خنجر کی عروس تیغ کا انداز ہے\n\nعشق میں کامل ہوں میں وہ حسن میں ممتاز ہے\nمیں سراپا درد ہوں قاتل سراپا ناز ہے\n\nخیر ہو یا رب محبت کا ابھی آغاز ہے\nرنگ رخ میرا ابھی سے مائل پرواز ہے\n\nبجلیوں میں گھر گیا ہے دل الٰہی خیر ہو\nشوخیاں آفت ہیں قہر اس پر نگاہ ناز ہے\n\nتم گئے گل گشت کو رسوائیوں کے گل کھلے\nہم نہ کہتے تھے زمانہ کی ہوا ناساز ہے\n\nیہ تو کہیے جان بھی دل بھی جگر بھی لے چکے\nاب یہ کس کی تاک میں چشم فسوں پرداز ہے\n\nایک وہ جلاد ہے بلبل ہے جس کی قید میں\nدوسرا جلاد اس کی حسرت پرواز ہے\n\nشکر کی جا ہے کہ تیرا حسن میرا عشق آج\nقابل صد آفریں ہے مایۂ صد ناز ہے\n\nچارہ سازوں میں خدا رکھے یہی اب رہ گئے\nآہ ہے ہمدم مری درد جگر دم ساز ہے\n\nدوست بن بن کے مرے دشمن بناتے ہیں مجھے\nیہ زمانہ بھی مگر کتنا زمانہ ساز ہے\n\nدونوں اپنے فن میں کامل ہیں مگر اتنا ہے فرق\nمجھ کو ہے مشق وفا قاتل کو عشق ناز ہے\n\nدل میں ظالم کے ہے گو میری محبت کا اثر\nمنہ سے کہہ سکتا نہیں یہ اک ستم کا راز ہے\n\nخوشہ چیں اس کا ہوں صفدرؔ جس کو کہتے ہیں جلیلؔ\nسامنے خاموش جس کے بلبل شیراز ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92"} {"title": "چھڑا پہلے پہل جب ساز ہستی", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھڑا پہلے پہل جب ساز ہستی\nتو ہر پردے نے دی آواز ہستی\n\nخیال یار تیرے صدقے جاؤں\nترے دم سے ہے سوز و ساز ہستی\n\nمیں مرنے کے لیے پیدا ہوا ہوں\nمرا انجام ہے آغاز ہستی\n\nسکون کائنات دل بقا ہے\nاجل اک جنبش پرواز ہستی\n\nمری خاک سحر کا ذرہ ذرہ\nہے بیدمؔ مخزن صد راز ہستی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%DA%91%D8%A7_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C"} {"title": "چھک گئے ہیں آج اک ساغر سے ہم", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھک گئے ہیں آج اک ساغر سے ہم\nہاتھ دھو بیٹھے مئے کوثر سے ہم\n\nبت کدہ میں جا کے اس بت کا پتہ\nپوچھتے پھرتے ہیں ہر پتھر سے ہم\n\nقصد صحرا ہے دل ویراں کے ساتھ\nاک بیاباں لے چلے ہیں گھر سے ہم\n\nجب رگ جاں سے کمی کرتا ہے خون\nچھیڑ دیتے ہیں اسے نشتر سے ہم\n\nکس قدر کٹتی ہے راہ شوق جلد\nتیز چلتے ہیں ترے خنجر سے ہم\n\nکیا کہیں کس سے کہیں کس کے لیے\nپھرتے ہیں چاروں طرف مضطر سے ہم\n\nوہ ستم گر روبرو ہوگا تو داغؔ\nکیا کہیں گے داور محشر سے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%DA%A9_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AC_%D8%A7%DA%A9_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے مضامین", "year": "1942", "text_ur": "گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی، سو جب تک مردوں کو وصل نصیب نہیں ہوتا، وہ حسرت ہی سے اپنا دِل بہلاتے رہیں گے اور خوباں سے چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ سلسلہ کب شروع ہوا۔ وہ مرد کون تھا جس نے پہلی بار کسی عورت کو چھیڑا۔ اس کے متعلق تاریخ سے ہمیں کچھ پتہ نہیں چلتا۔ بہت ممکن ہے باغ عدن کی کسی گھنی جھاڑی کے عقب میں یا کسی سایہ دار درخت کے نیچے حضرت آدم ہی نے یہ سلسلہ شروع کیا ہو کیونکہ وہ جنت سے یونہی تو نکالے نہیں گئے تھے۔\n\nاگر فرض کر لیا جائے کہ حضرت آدم ہی نے اس دلچسپ سلسلے کا آغاز کیا تھا تو ’’پہلی چھیڑ‘‘ کا تصور ممکن نہیں ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ چھیڑ بے حد خام ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس چھیڑ میں انتہا درجے کی لطافت اور نزاکت ہو۔ دراصل اس کے متعلق ہم کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ ان کے حالاتِ زندگی اور ان کے کردار و اطوار سے ہم قطعاً نآشنا ہیں، اسی طرح ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اماں حوّا نے اس چھیڑ کو کس رنگ میں دیکھا اور ان کے دل و دماغ میں اس چھیڑ نے کس قسم کا ردّعمل پیدا کیا۔۔۔ طرح طرح کے تصّور دماغ میں آتے ہیں۔ پر کوئی صحیح تصویر نہیں بنتی۔ دوبرہنہ سائے سے، ایک خیالی باغ میں ہلتے نظر آتے ہیں، اس کے بعد حال کے نقوش کچھ اس طرح ابھرتے ہیں کہ تصور امریکہ کے کسی ننگے کلب کی طرف چلا جاتا ہے۔ باوا آدم، صاحب بن جاتے ہیں اور اماں حوّا ان کی میم۔ گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی۔\n\nیورپ میں جہاں ترقی پسندی کا دور دورہ ہے اور تہذیب و تمدن کی چولی کے بند کھلے ہوئے ہیں۔ حسرتیں کم ہیں اور وصل زیادہ ہیں، لیکن اس کے باوجود وہاں چھیڑ چھاڑ عام دیکھنے میں آتی ہے۔ نقاب اٹھنے پر بھی وہاں کی بے نقاب عورتیں اسی طرح گھوری جاتی ہیں، جس طرح یہاں ہندوستان کی نقاب پوش عورتوں کے نقاب گھورے جاتے ہیں، چھیڑ چھاڑ بھی زوروں کی ہوتی ہے۔ ہندوستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ۔ دراصل جنسی بھوک کچھ اس قسم کی بھوک ہے کہ مٹائے نہیں مٹ سکتی۔ جب تک مرد اور عورت پاس پاس رہیں گے، یہ چھیڑ چلی جائے گی یا پھر کوئی ایسا زمانہ آئے کہ عورت کا وجود مرد کے لئے غیر ضروری ہو جائے تو چھیڑ کا یہ سلسلہ خودبخود ختم ہو جائے گا۔ اس سے پہلے اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔\n\nپچھلے دنوں گاندھی جی نے آج کل کی تعلیم یافتہ لڑکیوں کے بارے میں ارشاد کیا تھا، ’’ایک جو لیٹ کے سو سو رومیو موجود ہیں۔‘‘ اس پر لاہور میں وہ شور مچا تھا کہ خدا کی پناہ۔ مس ممتاز شاہ نواز اور دوسری خواتین نے گاندھی جی کے اس حملے کا بڑی شدت سے جواب دیا۔ بہت دیر تک مستورات کے مضامین ہندوستان کے اس نیم مستور لیڈر کے خلاف چھپتے رہے۔ گاندھی جی ٹس سے مس نہ ہوئے۔ انہوں نے ایک مضمون اور لکھا اور اس میں تہذیبِ نو کے گرفتار لڑکوں کو اپنے اہنسائی تیروں کا نشانہ بنایا۔ ان نوجوانوں سے گاندھی جی نے کہا، ’’تم بازار میں جب چلو تو اپنی نگاہیں نیچی رکھا کرو۔ اگر ہو سکے تو۔۔۔ ہُڈ پہنا کرو تاکہ تمہاری نگاہیں نوجوان لڑکیوں پر نہ پڑ سکیں اور تمہارا ایمان متزلزل ہونے سے بچ سکے۔‘‘\n\nہندوستان پر گاندھی جی کا اثر مسلم ہے، پر ان کا یہ مضمون نوجوانوں کے جذبات پر اثرانداز نہ ہو سکا۔۔۔ خوباں سے چھیڑ جاری رہی۔ نگاہوں پر سنسر نہ بیٹھ سکا۔ جذبات ویسے کے ویسے بے لگام رہے۔ گاندھی جی کی یہ سعی ویسے ہی ناکام رہی۔ جیسے بمبئی میں امتناعِ شراب کے بارے میں کانگریس گورنمنٹ کی کوشش۔\n\nگاندھی جی کی یہ کوشش اگر بار آور ثابت ہوتی تو ذرا غور کیجئے کہ معاشرتی زندگی میں کتنا بڑا انقلاب برپا ہو جاتا۔۔۔ گلی کوچوں اور بازاروں میں آپ کو مرد ماتھے پر ہُڈ باندھے اور نگاہیں نیچی کئے چلتے پھرتے نظر آتے۔ ٹریفک میں کئی مشکلات پیدا ہو جاتیں اور ہر روز حادثے وقوع پذیر ہوتے اور ان حادثوں کا شکار صرف مرد ہوتے۔ ماتھے پر ہُڈ (Hood) نگاہیں فرش پر، سامنے سے تیز رفتار موٹر آ رہی ہے۔ ادھر ادھر جوان عورتیں جا رہی ہیں۔ ہارن پر ہارن بجایا جا رہا ہے۔ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ ایک عجیب مشکل میں آدمی پھنس جاتا۔ ہسپتال زخمیوں سے بھر جاتا۔ وہاں بھی بیچارے مردوں کی آنکھوں پر ہُڈ چڑھا رہتا کہ کسی نرس کو نہ دیکھ پائیں۔\n\nہُڈ وڈ کی بات چھوڑیئے۔ روزمرہ کی زندگی بالکل بے کیف ہو جاتی، جذبات کا دریا بند پانی کی طرح ٹھہر جاتا۔ امنگیں، خیال آرائی کی تمام قوتیں، جذباتی ہیجان، غرضیکہ وہ سب کچھ جس سے انسانی زندگی میں حرارت پیدا ہوتی ہے، فنا ہو جاتا۔۔۔ عورت ہوتی، مرد بھی ہوتے لیکن وہ چنگاری نہ ہوتی جو ان دونوں کے تصادم سے پھوٹتی ہے۔ جوانیوں کے بھرے ہوئے جام ہونٹوں کے لمس کو ترستے رہتے۔ شوخیاں اور شرارتیں بالکل مفقود ہو جاتیں۔ چاروں طرف متانت اور سنجیدگی نظر آتی۔ چہرے لمبوترے ہو جاتے۔ ان کی تازگی، ان کی رونق اور ان کی دمک سب غائب ہو جاتی۔ زندگی کے اکتا دینے والے یک آہنگ تسلسل میں آدمی بالکل بے جان اور مردہ ہو کے رہ جاتا۔ ملک کی شاعری اور اس کے ادب کا ستیاناس ہو جاتا۔ فنونِ لطیفہ سب کے سب یتیم ہو جاتے۔۔۔ مگر یہ نہ ہوا، اس لئے کہ اس کا ہونا ممکن نہیں تھا۔\n\nہر بالغ مرد اور ہر بالغ عورت کو معلوم ہے کہ یہ چھیڑ چھاڑ کیوں ہوتی ہے۔ ا س لئے کہ یہ کوئی خلافِ عقل چیز نہیں۔ لیکن یہاں وہ چند بیانات دلچسپی سے خالی نہ ہوں گے جو میں نے بڑی کاوش سے چند نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کے متعلق حاصل کئے ہیں۔ میں نے پہلے ذیل کے سوالات لڑکوں کے لئے تیار کئے۔\n\n۱. ۔ تم لڑکیوں یا عورتوں کو کیوں چھیڑتے ہو۔۔۔ کیا اس کی کوئی وجہ تم بیان کر سکتے ہو؟\n\n۲. ۔ کس قسم کی لڑکیوں یا عورتوں کو تم زیادہ چھیڑتے ہو؟\n\n۳. ۔ تمہارے چھیڑنے کا طریقہ کیا ہے؟\n\n۴. ۔ کیا تمہارے خیال میں لڑکیاں یا عورتیں ایسی چھیڑ چھاڑ پسند کرتی ہیں؟\n\n۵. ۔ کوئی ایسا واقعہ بیان کرو جو اس قسم کی چھیڑ چھاڑ سے وابستہ ہو اور جس کے نقش تمہارے ذہن پر مرتسم ہو چکے ہوں۔\n\nمیں نے یہ پانچ سوال بارہ لڑکوں سے کئے، جن کی عمر سولہ سے لے کر چوبیس برس کے درمیان درمیان تھی۔ ان میں سے سات لڑکے جو تعلیم یافتہ تھے، مجھے پہلے سوال کا خاطر خواہ جواب نہ دے سکے۔ باقی پانچ لڑکوں نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی، لیکن ان کے جواب ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے۔ جو کچھ انہوں نے اس ضمن میں کہا، اس کا خلاصہ یہ ہے،\n\n’’ہم لڑکیوں اور عورتوں کو اس لئے چھیڑتے ہیں کہ ہمیں اس میں مزہ آتا ہے۔ زیادہ مزا ہمیں ان لڑکیوں کو چھیڑنے میں آتا ہے جو ہماری دراز دستیوں کے خلاف صدائے احتجاج بُلند نہ کر سکیں۔ دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا کر خاموش ہو جائیں، گالیاں ان کی زبان کی نوک پر آ آ کر رک جائیں۔ غصے کے اس خاموش اظہار کا لطف بیان سے باہر ہے۔۔۔ ہم اس لئے ان کو چھیڑتے ہیں۔۔۔ کہ اس چھیڑ کی تحریک ہمارے اندر خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات بازار میں چلتے ہوئے کئی خوب صورت اور پرشباب لڑکیاں ہمارے پاس سے گزر جاتی ہیں مگر ہم ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔ دراصل چھیڑنا موڈ کی بات ہے، اگر موڈ ایسا ہو تو کوئی لڑکی ہماری چھیڑ سے بچ کر نہیں جا سکتی۔ بعض اوقات ہمیں گالیاں سننا پڑتی ہیں اور خطرناک حادثوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس سے ہماری یہ سرگرمی کچھ دیر کے لئے ماند پڑ جاتی ہے، مگر پھر وہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔۔۔\n\nاس میں شک نہیں کہ عورت کی بے بسی سے ہم ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، مگر عورت کی بے بسی ہمیں بے بسی نظر نہیں آتی، اس لئے کہ ہماری پہنچ سے بہت دور رہتی ہے۔ اس کے خیالات و محسوسات سے چونکہ ہم غافل ہیں، اس لئے ہمیں وہ اونچے درخت کی ٹہنیوں سے الجھی ہوئی پتنگ دکھائی دیتی ہے جس پر کنکر مارنے کا خیال خواہ مخواہ دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔۔۔ آپ پوچھتے ہیں کہ ہم لڑکیوں کو کیوں چھیڑتے ہیں، ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ ہم لڑکیوں کو کیوں نہ چھیڑیں؟ اگر ہم انہیں نہ چھیڑیں گے تو اور کون چھیڑے گا۔ ہمارے اور ان کے تعلقات ہمیشہ سے کچھ اس قسم کے چلے آئے ہیں۔ یہ چھیڑ چھاڑ ضروری ہے۔\n\nان پانچ نوجوانوں میں سے ایک لڑکا جس کی عمر چوبیس برس کی تھی، بہت ہوشیار تھا۔ اس کی سوچنے سمجھنے کی قوت دوسروں کے مقابلے میں زیادہ اچھی تھی۔ اس نے مجھ سے کہا۔ آپ کہتے ہیں کہ ہم عورتوں کو کیوں چھیڑتے ہیں؟ اس کا جواب تو آپ کو کچھ نہ کچھ مل ہی جائے گا، لیکن اس کا جواب کیا ہے کہ میں نے پرسوں بازار میں جاتے ہوئے ایک کتے کی طرف دیکھا۔ ایک دم نہ جانے مجھے کیا ہوا کہ میں نے اسے آنکھ مار دی۔ اب اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ میں نے اس کو آنکھ کیوں ماری تو میں آپ کو خاطر خواہ جواب نہ دے سکوں گا۔ اس لئے کہ میں اس لمحاتی جذبے کا تجزیہ نہیں کر سکتا جو اس عجیب و غریب حرکت کا باعث ہوا۔‘‘\n\nدوسرے سوال کا جواب آٹھ لڑکوں نے یہ دیا کہ ہم ان لڑکیوں کو چھیڑنا پسند کرتے ہیں یا ان لڑکیوں کو چھیڑنے کے لئے ہمارے اندر اکساہٹ پیدا ہوتی ہے،جو جوان ہوں اور جنہیں اپنی جوانی پر ناز ہو۔ یہ ناز ان کی چال ڈھال میں صاف نظر آ جاتا ہے۔ دو لڑکوں نے اسی سوال کا جواب یوں دیا، ’’ہم صرف ان لڑکیوں کو چھیڑنا پسند کرتے ہیں جو ہمیں عین موقع پر پسند آ جائیں۔ بعض اوقات معمولی شکل و صورت اور معمولی جوانی کی لڑکیوں کو چھیڑنے کو دل چاہتا ہے اور بعض اوقات غیر معمولی طور پر حسین اور تیکھی لڑکیوں ہی کو چھیڑا جاتا ہے۔ یہ محض اکساہٹ کی بات ہے۔ ہمارا خیال ہے یہ اکساہٹ لڑکیاں خود پیدا کرتی ہیں۔ چھیڑنے کا مادہ تو ہمارے اندر موجود ہے مگر اس بارود کو آگ وہی دکھاتی ہیں۔۔۔‘‘\n\nباقی دو لڑکوں نے کہا، ’’ہم صرف موٹی اور گول گپی لڑکیوں کو چھیڑتے رہتے ہیں۔ دبلی پتلی لڑکیوں کو ہم نے کبھی نہیں چھیڑا۔ موٹی اور بھاری جسم کی لڑکی کو چھیڑنے میں بہت مزا آتا ہے۔‘‘ ان میں سے ایک نے کہا، ’’بازار میں یا گلی میں جہاں کہیں موٹی لڑکی مجھے نظر آ جائے میں آنکھ ضرور مارتا ہوں۔ اس میں ایک خاص لطف آتا ہے مجھے، جسے میں بیان نہیں کر سکتا۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری آنکھ اس کے نرم نرم جسم میں کھب گئی ہے۔ موٹی لڑکیاں یوں بھی زیادہ شرمیلی ہوتی ہیں۔ ان کو آنکھ ماری جائے تو شرم سے ان کے گدگدے گال جب تھرتھراتے ہیں تو ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے۔‘‘\n\nتیسرے سوال کا جواب دس لڑکوں نے ایک جیسا دیا۔ انہوں نے کہا چھیڑنے کے طریقے یوں تو بہت سے ہیں، لیکن عام طریقہ یہی ہے کہ راہ چلتی لڑکی کو آنکھ ماری جائے۔ آنکھ سے چھیڑنا خطرناک نہیں، اس لئے کہ اس میں قربت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دور سے بھی آنکھ ماری جائے تو نشانے پر بیٹھتی ہے اور اپنا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ آنکھ محض شرارت کے طور پر ماری جاتی ہے، مگر اس جھپک میں یہ سوال بھی پوشیدہ ہوتا ہے، ’’کیا خیال ہے تمہارا؟‘‘ صرف ایک پلک کے ذریعے سے یہ سوال جس میں ہزارہا سوال منجمد ہوتے ہیں، ایک سیکنڈ سے کم عرصے میں کر دیا جاتا ہے۔ اس کا جواب عام طور پر ایک نفرت انگیز اور خشم آلود گھبراہٹ ہوتی ہے جو لڑکی کے سارے جسم پر چشم زدن میں پھیل جاتی ہے۔ آنکھ مارنا اس لئے زیادہ خطرناک نہیں کہ اس شرارت کا ٹھوس ثبوت بہم پہنچانا بہت مشکل ہے۔ ذرا آنکھ جھپکائی، لڑکی کے چہرے پر انگارے سے بکھرے اور چل دیے۔\n\nکبھی کبھی کوئی لڑکی مسکرا بھی دیتی ہے اور یہ مسکراہٹ دیر تک ہمیں یاد رہتی ہے، اس لئے کہ اس میں ایک ایسی تیتری کے رنگ ہوتے ہیں، جو ہاتھ نہیں آ سکتی۔ بس ایک لمحے کے لئے یہ مسکراہٹ ہماری آنکھ کی جھپک سے تیتری کے ہلکے پھلکے پروں کی طرح چھوتی ہے اور پھڑ پھڑا کر اڑ جاتی ہے۔۔۔ آنکھوں کو چھوڑ دیجئے تو جسم میں زبان کے علاوہ صرف ہاتھ باقی رہ جاتے ہیں جن سے چھیڑا جا سکتا ہے، ہم ان سے مدد لیتے ہیں، لیکن بہت کم، اس لئے کہ ہاتھ اکثر اختیار سے باہر نکل جاتے ہیں اور لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔\n\nبھیڑ بھاڑ زیادہ ہو، کوئی میلا ٹھیلا ہو، کھوے سے کھوا چھل رہا ہو، اس افراتفری میں کسی لڑکی کو اگر گد گدا دیا جائے تو اتنا زیادہ خطرناک نہیں ہوتا۔ نمائش میں رات کے وقت اس مقام پر جہاں اونچی سیڑھی پر سے بازی گر کو نیچے آگ کے کنوئیں میں چھلانگ لگانا ہوتی ہے کافی ہجوم ہوتا ہے۔ یہاں ہم اکثر لڑکیوں کے گد گدیاں کیا کرتے ہیں۔ بعض اوقات اپنا جسم اس کے جسم سے رگڑ کر ہم تیزی سے آگے نکل جایا کرتے ہیں۔ کبھی کبھی کاندھے سے ہلکا سا دھکا بھی دے دیا جاتا ہے۔ بس ہم صرف یہی طریقے استعمال کرتے ہیں۔‘‘\n\nباقی دو لڑکوں میں سے ایک نے کہا، ’’میں نے آج تک کسی لڑکی کو آنکھ نہیں ماری۔ میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ آنکھ ماری جاتی ہے اور میں نے کئی لڑکوں کو آنکھ مارتے بھی دیکھا ہے، مگر میں کوشش کے باوجود یہ چیز سیکھ نہیں سکا۔ میں جب کبھی ایک آنکھ سکیڑنے کی کوشش کرتا ہوں تو میری دوسری آنکھ بھی بند ہو جاتی ہے۔ میں اسی وجہ سے کسی کو آنکھ نہیں مارتا۔ میں نے ہاتھ سے بھی آج تک کسی لڑکی کو نہیں چھیڑا۔ میرا چھیڑ چھاڑ کا طریقہ سب سے جدا اور انوکھا ہے۔ میں راہ چلتی لڑکیوں سے وقت پوچھا کرتا ہوں۔ اس سے مجھے بہت لطف حاصل ہوتا ہے۔ وقت میں صرف انہی سے پوچھتا ہوں جن کی کلائی پر گھڑی بندھی ہو۔ آج تک کسی لڑکی نے مجھے وقت بتانے سے انکار نہیں کیا، لیکن بہت کم لڑکیاں مجھے گھڑی دیکھ کر وقت بتا سکتی ہیں۔ اس لئے کہ ایک دم جس کسی لڑکی سے وقت پوچھا جائے تو وہ سخت گھبرا جاتی ہے۔ اس گھبراہٹ میں وہ انکار بھی نہیں کر سکتی۔\n\nمیں خود اپنے آپ کو گھبرایا ہوا ظاہر کرتا ہوں جیسے مجھے ایک خاص وقت پر کہیں پہنچنا ہے۔ اس قسم کی اضطراری کیفیت اپنے اوپر طاری کر کے میں ادھر ادھر پریشانی کے عالم میں دیکھا کرتا ہوں، پھر جیسے اچانک میری نگاہیں اس کی گھڑی پر جا پڑی ہیں۔ میں پوچھا کرتا ہوں، ’’معاف فرمایئے گا، آپ کی گھڑی میں کیا وقت ہے؟‘‘ بس وقت پوچھا، جو کچھ اس نے بتایا، سنا اور تیز قدمی سے چل دیے۔ بعض اوقات شکریہ ادا کر دیا اور بعض اوقات مصنوعی گھبراہٹ میں یہ بھی بھول گئے۔ پانچ برس کے عرصے میں ایک سو ستاون لڑکیوں سے میں وقت پوچھ چکا ہوں۔ ایک بار جس سے میں وقت پوچھتا ہوں، اس کی شکل و صورت اچھی طرح یاد رکھتا ہوں تاکہ پھر اس سے وقت نہ پوچھوں۔‘‘\n\nدوسرے لڑکے نے اس کا جواب یوں دیا، ’’مجھے صرف زبانی چھیڑ چھاڑ پسند ہے۔ میں نے پانچ چھ بار آنکھ بھی ماری ہوگی، مگر زیادہ لطف مجھے زبانی چھیڑ چھاڑ میں آتا ہے۔ بازار میں کسی لڑکی پر ایسا فقرہ کسنا کہ صرف وہی سمجھے، آس پاس کے لوگ نہ سمجھیں یقیناً ایک فن ہے، مگر ایسے فقرے ہر روز نہیں کسے جا سکتے۔ دماغ روشن اور حاضر ہو۔ کوئی محرک مل جائے تو فقرہ کسنے میں ایسا لطف آتا ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔‘‘\n\nچوتھے سوال کا جواب نو لڑکوں نے بالکل ایک جیسا دیا، ’’ہمارا خیال ہے کہ لڑکیاں ہماری چھیڑ چھاڑ کو پسند نہیں کرتیں، اس لئے کہ عورت اور مرد کے درمیان اس وقت تک مفاہمت کا کوئی رشتہ پیدا نہیں ہو سکتا جب تک وہ میاں بیوی نہ بن جائیں۔ عورت مرد کی طرف یوں دیکھتی ہے جیسے بکری قصائی کی طرف۔۔۔ مرد کا تصور ہمیشہ عورتوں کو عصمت کے تنے ہوئے رسے پر کھڑا کر دیتا ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ بعض اوقات ہماری یہ چھیڑ چھاڑ محض ایک معصوم تفریح کے لئے ہو مگر عورت اس معصوم تفریح کو بھی خطرناک طور پر گناہ اور ثواب کے ترازو میں تولے گی۔۔۔ سچ پوچھئے تو ہمارے پیش نظر صرف عورت ہوتی ہے، جو کچھ اس کے عقب میں ہے ہم نے اس پر کبھی غور نہیں کیا۔۔۔ وہ اگر خوش نہیں ہوتی ہے تو نہ ہو، اگر ناراض ہوتی ہے تو ہوا کرے، ہماری یہ چھیڑ جاری رہے گی۔‘‘\n\nدو لڑکوں نے اس سوال کا جواب یوں دیا، ’’عورتیں ہماری چھیڑ چھاڑ پسند کرتی بھی ہیں اور نہیں بھی کرتیں۔ در اصل عورت ہاں اور نہ کا ایک نہایت ہی دلچسپ مرکب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اسے پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں، اگر اس میں ہاں اور نہ کا یہ الجھاؤ نہ ہوتا تو ہم اسے کبھی نہ چھیڑتے۔ انکار اور اقرار کچھ اس طرح عورت کے وجود میں خلط ملط ہو گیا ہے کہ بعض اوقات اقرار انکار معلوم ہوتا ہے اور انکار اقرار۔۔۔ ہمیں تو اسی چیز نے مار رکھا ہے۔‘‘\n\nایک لڑکے نے اس سوال کا جواب بالکل مختلف طور پر دیا، ’’اجی صاحب چھوڑیئے۔ لڑکیاں اس چھیڑ چھاڑ کو بہت پسند کرتی ہیں۔ عورت کی جوانی اور مرد کی جوانی میں لمبا چوڑا فرق ہی کیا ہے۔ بس یہی ناکہ وہ شلوار قمیص یا ساڑھی پہن کر جوان ہوتی ہے اور ہم پتلون کوٹ کے اندر جوان ہو جاتے ہیں۔۔۔ میں تو صرف اس لئے لڑکیوں کو چھیڑتا ہوں کہ وہ اسے پسند کرتی ہیں۔۔۔ جب ہم انہیں چھیڑتے ہیں تو وہ تخلیے میں اپنی سہیلیوں کو اپنے تاثرات ضرور بتاتی ہیں۔ یہ تاثرات ان سہیلیوں پر عجیب و غریب کپکپاہٹیں طاری کرتے ہیں۔ آپ کو معلوم نہیں اور نہ مجھے معلوم ہے مگر میں محسوس کرتا ہوں کہ ہماری پھونکوں سے لڑکیوں کے کنوارپن کی لو لرزتی ہے تو ایک عجیب ہی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اگر اس حقیقت کا احساس مجھے نہ ہوتا تو میں ہر گز ہر گز کسی لڑکی کو نہ چھیڑتا۔‘‘\n\nاب میں آخری سوال کے جوابات کی طرف آتا ہوں۔ ہر لڑکے نے ایک واقعہ بیان کیا جو اس قسم کی چھیڑ چھاڑ سے متعلق تھا، مگر ان میں سے صرف چند اس قابل ہیں کہ یہاں درج کروں۔ اکثر واقعات کچھ اس قسم کے تھے۔۔۔ ایک لڑکی کو چھیڑا گیا۔ اس نے شور مچا دیا جس کے باعث چھیڑنے والے کی بہت بدنامی ہوئی۔ وغیرہ وغیرہ\n\nسب سے دلچسپ داستان اس لڑکے نے مجھے سنائی، جس نے ایک بار کتے کو آنکھ ماری تھی۔ اس نے کہا، ’’آج سے چار برس پہلے کا ذکر ہے۔ امرتسر میں کانگرس تحریک کے باعث دھڑا دھڑ گرفتاریاں ہو رہی تھیں۔ جلیانوالہ باغ میں طلبا اور دوسرے لوگوں کا ایک میلا سا لگا رہتا تھا۔ ایک روز جب کہ میں اس باغ میں جانے کے لئے بازار طے کر رہا تھا، میری نگاہ بغیر کسی مطلب کے اوپر کو اٹھی۔ ایک سال خوردہ مکان کی بالکونی میں مجھے ایک سفید پگڑی نظر آئی۔ میں نے ایک لمحے کے لئے سمجھا کہ کوئی سکھ ہوگا، پر جب وہ پگڑی اونچی ہوئی تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی، جب میں نے سانولے رنگ کی ایک تیکھے نقشوں والی لڑکی کو دیکھا، اس نے سر پر پگڑی باندھ رکھی تھی۔ آہنی جنگلے میں سے اس کا چوڑی دار پائجامہ بھی مجھے نظر آیا۔ کمبخت نے اچکن بھی پہن رکھی تھی، جو اس کے بہت پھنس کر آئی تھی۔ اس نے میری طرف جب دیکھا تو میں نےبلند آواز میں کہا، ’’تسلیم عرض کرتی ہوں۔‘‘\n\nیہ سن کر وہ بوکھلا سی گئی۔ ایک کھسیانی سی شرم آلود ہنسی اس کے ہونٹوں پر پھیلی اور میری تیز نگاہوں سے پہلو بچا کر اندر کمرے میں چلی گئی۔ جلیانوالہ باغ میں اسٹوڈنٹ یونین کیمپ کے اندر جا کر میں نے اپنے چند دوستوں کو یہ واقعہ سنایا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ لڑکی ایک کانگرس ورکر کی بیوی ہے جو تین چار روز سے قید خانے میں ہے۔ لڑکی کی شادی کو مشکل سے چار پانچ مہینے ہوئے تھے۔ خاوند کی گرفتاری کے بعد اب وہ اکیلی اس مکان میں رہتی تھی۔ یہ تمام باتیں جب مجھے معلوم ہو گئیں تو میں سیدھا اپنے گھر روانہ ہوا جو وہاں سے دور نہیں تھا۔ گھر جا کر اپنے کمرے کو بند کر کے میں نے بلاؤز پہنا۔ بلاؤز کے نیچے میں نے ربڑ کی گیند کے دو ٹکڑے کر کے سینے پر جما لئے۔ پیٹی کوٹ پہنا، پھر ساڑھی پہنی۔ اس زمانے میں میرے بال بہت لمبے تھے۔ سیدھی مانگ نکال کر میں نے چند لٹیں ادھر اور ادھر چھوڑ دیں۔ ان دنوں عورتوں میں چپل پہننے کا رواج عام تھا، چنانچہ میں نے اپنا چپل ہی پاؤں میں رہنے دیا۔\n\nیہ سب کچھ کرنے کے بعد جب میں نے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھا تو مجھے خود پر عورت کا دھوکا ہونے لگا۔ لباس آدمی کو کتنا تبدیل کرتا ہے۔۔۔ خیر، بہن کا برقعہ اوڑھ کر میں چلا۔ گلی میں کئی بار مجھے ٹھوکریں لگیں۔ اس لئے کہ برقعہ پاؤں میں الجھ الجھ جاتا تھا۔ عورتوں کی چال بھی مجھ سے نہیں چلی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ یہ خیال بھی دامن گیر تھا کہ کوئی راستے میں بھانپ لے گا تو بہت خفیف ہونا پڑے گا۔ بہرحال ان تمام مشکلات کے ہوتے ہوئے میں نے تین بازار طے کئے اور اس مکان پر پہنچ گیا۔ حلوائی کی دکان کے ساتھ ہی اس مکان کی سیڑھیاں تھیں۔ میں نے منہ پر سے برقعہ ذرا اونچا کیا اور اوپر چڑھ گیا۔ دل میرا دھک دھک کر رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بس کوئی دم میں سینے سے نکل کر سیڑھیوں پر آ پڑے گا لیکن شرارت کا تصور اس کمزوری پر غالب آیا۔\n\nمیں نے دستک دی اور دستک دیتے ہی سوچ لیا، اگر کوئی مرد سامنے آ گیا تو میں کچھ کہے سنے بغیر نیچے چلا آؤں گا اور اگر ضرورت پڑی تو آواز میں باریکی پیدا کر کے کہہ دوں گا۔ معاف کیجئے گا، میں غلطی سے ادھر چلی آئی۔۔۔ چنانچہ یہ سوچتے ہی میں نے ایک بار اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ قدموں کی چاپ سنائی دی۔ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میرا دل پہلو سے نکل کر اندر کمرے کے فرش پر چل رہا ہے۔ میں نے سوچا کہ بھاگ جاؤں، پر اندر سے کنڈی کھل چُکی تھی۔ میں نے اٹھا ہوا برقعہ نیچے چھوڑ لیا۔ دروازہ کھلا۔ وہ لڑکی میرے سامنے تھی۔ مجھ سے زیادہ بوکھلائی ہوئی۔ سر کے بال پریشان ہو رہے تھے۔ مردانہ قمیص اس نے پہن رکھی تھی۔ پائجامہ وہی تھا چوڑی دار۔ کاندھے پر اس نے دوپٹہ بڑی بے ترتیبی سے ڈال رکھا تھا۔ برقعہ پوش عورت کو دیکھ کر اس کے ہوش بجا ہوئے۔ میرے بھی سانس میں سانس آیا۔ اس نے کہا، ’’اندر آ جایئے‘‘ میں بے دھڑک اندر چلا گیا۔\n\nایک بڑا کمرہ تھا۔ اس کو طے کر کے ہم دوسرے کمرے میں پہنچے جو بہت ہی چھوٹا تھا۔ اس میں دو کرسیاں اور ایک چارپائی پڑی تھی۔ اس چارپائی پر مجھے وہ اچکن دکھائی دی جس کو اس نے پہن رکھا تھا۔ اس کی ایک آستین الٹی ہوئی تھی۔ پاس ہی سفید پگڑی دھری تھی۔ اس نے کئی بار مجھے سر تا پا دیکھا۔ میری آمد اس کے لئے ایک معما بنی ہوئی تھی۔ اس چھوٹے کمرے میں پہنچ کر اس نے مجھ سے کہا، ’’تشریف رکھئے!‘‘ اور یہ کہہ کر اس نے کرسی پر سے چند کتابیں اٹھا کر چارپائی پر رکھ دیں۔ میں اس کرسی پر بیٹھ گیا۔ اب میری پریشانی کسی حد تک دور ہو گئی تھی مگر میرا دھیان دروازے کی طرف تھا، جو وہ کھلا چھوڑ آئی تھی۔ بے شمار خیالات میرے دماغ میں آ رہے تھے۔ جب میں کرسی پر بیٹھ گیا تو اس نے مہمان نوازانہ انداز میں کہا، ’’برقعہ اتار لیجئے، میں نے اس کے جواب میں ادھر ادھر دیکھا تو اس نے مجھے یقین دلاتے ہوئے کہا، ’’یہاں میرے سوا کوئی نہیں۔‘‘\n\nمیں دل ہی دل میں ارادہ کرچکا تھا کہ کوئی بات نہ کروں گا، مگر یہ الفاظ غیر ارادی طور پر میرے منہ سے نکل گئے، ’’آپ باہر کا دروازہ بند کر دیجئے۔‘‘ لہجہ میرا اپنا تھا، مگر اسے شک نہ ہوا۔ وہ فوراً اٹھی اور دروازہ بند کرنے چلی گئی۔ میں نے اس دوران میں حالات پر غور کیا اور چہرے پر سے نقاب ہٹا لی۔ سر میرا برقعے کی ٹوپی میں تھا۔ دونوں کان بھی اس میں چھپے ہوئے تھے۔ چہرہ بالوں سے بے نیاز تھا۔ اس لئے میں نے سوچا کہ اس کو صدمہ اچانک نہیں پہنچے گا۔ دروازہ بند کر کے وہ آئی۔ میں نے منہ دوسری طرف موڑ لیا۔ وہ چارپائی پر بیٹھی اور بیٹھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی جسے بھڑنے اسے کاٹ کھایا ہے۔ میری طرف دیکھ کر اس کے منہ سے مدھم سی چیخ نکلی۔۔۔ انگریزی ضرب المثل کے مطابق بلی بیگ میں سے نکل چُکی تھی۔ میں نے برقعہ اتار دیا۔ اس کی ٹانگیں چوڑی دار پائجامے میں کانپ کانپ گئیں۔ میری جرات بڑھ گئی۔ مسکرا کر میں نے کہا، ’’آداب عرض کرتی ہوں۔‘‘\n\nوہ مجھے پہچان گئی تھی اور خوف نے اس کو جھنجوڑ دیا تھا۔ میں نے اس کی خوف زدہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، ’’آپ کو مردانہ لباس خوب سجتا ہے، کیا میرے بدن پر آپ کا یہ لباس اچھا نہیں لگتا۔‘‘ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کرے، اگر چھت نیچے آ رہتی یا آسمان سے ناگہانی طور پر بجلی گرپڑتی تو اس کو اتنا خوفناک تعجب کبھی نہ ہوتا جتنا کہ میری آمد پر اسے ہوا۔ اس کی زبان بالکل گنگ ہو گئی تھی، اگر وہ چیخنا بھی چاہتی تو ناکام رہتی۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر مجھے ترس آیا۔ چنانچہ میں اپنا برقعہ اٹھا کر کہا، ’’گھبرایئے نہیں، میں اب چلتا ہوں۔ مذاق ختم ہو گیا۔‘‘ جب میں نے وہاں سے چلنے کا قصد کیا تو اس نے لرزاں آواز میں کہا، ’’ذرا ٹھہریئے۔‘‘\n\nاس نے میرے بلاؤز کی طرف دیکھا جس میں سے گیند کے ٹکڑے نیچے ڈھلک آئے تھے۔ شرم سے اس کے کان کی سانولی لویں سُرخی مائل ہو گئیں، لیکن بے اختیار اس کو ہنسی آ گئی۔ میں بھی ہنس پڑا۔ اس سے اس کا خوف کچھ دور ہوا، چنانچہ اس نے غیر لرزاں آواز میں کہا، ’’آپ اس لباس میں گھر واپس جا سکیں گے؟‘‘ میں نے جواب دیا، ’’کیوں نہیں؟ آیا بھی تو اسی لباس میں تھا۔‘‘ لیکن یہ کہتے ہی ایک دم اندرونی طور پر مجھے محسوس ہوا کہ میں اس لباس میں ہرگز ہرگز ایک قدم بھی نہ اٹھا سکوں گا۔ اس نے میرا جواب سن کر کہا، ’’آپ سوچ لیجئے۔‘‘\n\nاور جب میں نے سوچنا شروع کیا تو یہ احساس اور زیادہ پختہ ہوتا گیا۔ میں نے سوچا کہ ساڑھی اتار دوں، لیکن بلاؤز اور پیٹی کوٹ میں بالکل اسٹیج کا مسخرہ بن جاتا، پھر خیال آیا کہ سب کچھ اتار دوں اور ساڑھی کا تہمد بنا لوں، مگر یوں لوگوں کی نگاہیں اور بھی میری طرف اٹھتیں۔ پھر سوچا کہ جیسے آیا تھا ویسے ہی چلوں، مگر برقعے کا تصور اب ایک بہت بڑا بوجھ محسوس ہونے لگا۔ میں نے گھبرا کر اس سے کہا، ’’ اگر آپ اجازت دیں تو یہاں تھوڑی دیر بیٹھ جاؤں۔‘‘\n\nاس نے میری درخواست رد نہ کی۔ ’’تشریف رکھئے۔‘‘ لیکن فوراً ہی اسے کوئی خیال آیا اور وہ مضطرب ہو گئی، ’’آپ اب تشریف لے جایئے۔ میرے فادر اِن لا آنے والے ہیں۔۔۔ میں بھول ہی گئی تھی۔۔۔ جایئے، یہاں سے جلدی چلے جایئے۔‘‘ میں اس قدر گھبرا گیا کہ مجھے محسوس ہوا کہ میرے سارے کپڑے اتار کر کسی نے مجھے ننگا کر دیا ہے۔ میں بجائے اٹھنے کے اور جم کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ یہ دیکھ کر اس نے مجھ سے زیادہ گھبرا کر کہا، ’’میرے فادر اِن لا آنے والے ہیں۔۔۔ بس اب وہ آتے ہی ہوں گے۔۔۔ آپ چلے جایئے۔‘‘\n\nمجھے اپنے آپ پر غصّہ آ رہا تھا، اسی غصّے میں اس سے میں نے تیز لہجے میں کہا، ’’تو میں کیا کروں۔ اس لباس میں مجھ سے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘ موقع کی نزاکت کے باوجود اسے ہنسی آ گئی، لیکن میری سنجیدگی ویسی کی ویسی قائم رہی۔ اس نے چند لمحات غور کیا اور پھر کہا، ’’آپ یہ اچکن پہن لیجئے۔ میں آپ کو قمیص اور پائجامہ نکال دیتی ہوں، مگر پرماتما کے لئے جلدی کیجئے۔ اب کچھ سوچیئے نہیں۔‘‘\n\nاس نے میرے جواب کا انتظار نہ کیا۔ چارپائی کے نیچے سے ایک ٹرنک کھینچ نکالا، اس میں سے جلدی جلدی اس نے ایک قمیص نکالی۔ پائجامہ وہ دیر تک ڈھونڈتی رہی مگر اسے نہ ملا۔ میں اس دوران میں بلاؤز اتار کر قمیص پہن چکا تھا۔ جب پائجامہ نہ ملا تو اس نے کہا، ’’آپ یہیں ٹھہریئے، میں یہ پائجامہ اتار کر آپ کو دے دیتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پھرتی سے دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ دو منٹ شدید قسم کے اضطراب میں گزرے۔ اس کے بعد وہ آئی۔ پائجامہ دے کر وہ باہر چلی گئی، ’’اب جلدی پہن لیجئے۔‘‘ میں نے افراتفری میں یہ پائجامہ پہنا۔ چونکہ چوڑیاں کافی زیادہ تھیں۔ اس لئے کھینچ تان کر پورا آ ہی گیا۔ اتنے میں آواز آئی، ’’پہن لیا؟‘‘ میں نے کہا، ’’ہاں پہن لیا۔‘‘ یہ سن کر وہ اندر آئی اور کہنے لگی، ’’ پرماتما کے لئے یہاں سے چلے جایئے۔۔۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں آ نہ جائیں۔‘‘ میں نے اچکن پہنی۔ برقعہ ہاتھ میں لیا اور وہاں سے چلنے ہی والا تھا کہ اس نے کہا، ’’ یہ ساڑھی وغیرہ تو لیتے جایئے۔‘‘\n\nمیں نے بلاؤز، ساڑھی، پیٹی کوٹ اور ربڑ کی گیند کے دونوں ٹکڑوں کی طرف دیکھا اور باہر نکلتے ہوئے کہا، ’’ یہ سب چیزیں یہیں پڑی رہیں۔‘‘ اس نے اس کے جواب میں کچھ نہ کہا۔ میں دروازے تک پہنچ گیا۔ وہ میرے ساتھ ساتھ آئی جب دروازہ کھول کر میں باہر نکلا تو اس نے مسکرا کر کہا، ’’آدابِ عرض کرتا ہوں۔۔۔‘‘ اس کے بعد میری اس سے ملاقات نہ ہوئی، کیونکہ وہ دوسرے روز ہی کہیں چلی گئی، نہ معلوم کہاں۔ میں نے اس کا بہت کھوج لگایا مگر کچھ پتہ نہ چلا، اس کی اچکن اور پائجامہ ابھی تک میرے پاس محفوظ پڑا ہے۔ شاید میری ساڑھی، بلاؤز اور پیٹی کوٹ بھی اس کے پاس ابھی تک محفوظ ہوں اور گیند کے وہ دو ٹکڑے بھی۔ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ مگر یہ واقعہ ایسا نہیں کہ ہم دونوں میں سے کوئی بھول سکے۔‘‘\n\nاس لڑکے نے جس کو راہ چلتی لڑکیوں سے وقت پوچھنے میں مزا آتا تھا۔ ذیل کا واقعہ بیان کیا، ’’میں جب بمبئی گیا تو وہاں سڑکوں پر ان گنت لڑکیاں دیکھ کر میری طبیعت بہت خوش ہوئی کیونکہ ان میں سے اکثر اپنی کلائیوں پر گھڑی باندھتی تھیں۔ ایک روز کا ذکر ہے، ناگ پاڑہ میں جہاں یہودیوں کی آبادی ہے، فٹ پاتھ پر میں نے ایک پارسی لڑکی دیکھی، جو بڑی تیز قدمی سے سامنے باٹلی والے ہسپتال کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس کی گوری گوری کلائی پر کالے تسمے کے ساتھ گھڑی بندھی تھی۔ اس کے اور میرے درمیان قریباً ایک فرلانگ کا فاصلہ تھا جو میں نے چٹکیوں میں طے کر لیا۔ اس سے دو قدم آگے نکل کر میں دفعتاً مڑا، ’’تمہاری گھڑی ماکٹلاوا گا؟‘‘ میں نے اس سے گجراتی زبان میں وقت پوچھا۔ اس نے اپنی کلائی اونچی کی تو گھڑی ندارد۔\n\n’’ماری گھڑیاں کاں چھے۔‘‘ اس نے گھبرا کر کہا۔ میری گجراتی ختم ہو گئی۔ میں نے اسے ہندوستانی میں جواب دیا، ’’آپ کی گھڑی مجھے کیا معلوم کہاں ہے؟‘‘ صاحب اس نے تو چلانا شروع کر دیا۔ ایک تو گجراتی زبان، اس پر اس پارسی لڑکی کا چیخ چیخ کر بولنا، میرے اوسان خطا ہو گئے۔ گھڑی میں نے چند منٹ پہلے اس کی کلائی پر دیکھی تھی، پر اب ایک دم خدا معلوم کہاں غائب ہو گئی تھی۔ وہ برابر کہے جا رہی تھی۔ ’’تمے اَج لیدی ہسّے۔‘‘ یعنی تم نے ہی لی ہے اور میں اسے بے سود یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے آپ کی گھڑی نہیں لی ہے، اگر میں نے آپ کی گھڑی لی ہوتی تو آپ سے وقت ہی کیوں پوچھتا۔۔۔ اس کو بھی چھوڑیئے، میں نے گھڑی آپ کی کلائی سے کیسے اتار لی؟\n\nاس کا شور سن کر فٹ پاتھ پر کئی یہودی اور کرسچین جمع ہوگئے۔ میں ان میں گھرگیا۔ بھانت بھانت کی بولیاں شروع ہوگئیں۔ کبھی میں انگریزی میں اپنی بے گناہی ثابت کرتا کبھی ہندوستانی میں، مگر سب اسی کے طرفدار تھے، میں سخت گھبرا گیا۔ قریب تھا کہ میں ان سب سے کہہ دوں، ’’تم جاو جہنم میں۔ نہیں مانتے تو نہ مانو۔‘‘ کہ میری نگاہ سڑک پر ایک چھوٹے سے بچے پر پڑی۔ اس کے ہاتھ میں مجھے کالا فیتا نظر آیا۔ کالے فیتے کےساتھ گھڑی بھی لٹک رہی تھی۔ میں چلایا، ’’وہ دیکھو، اس بچے کے ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘ سب سے پہلے اس لڑکی نے بچے کی طرف دیکھا اور کہا، ’’میری گھڑی۔‘‘ بچے کے ہاتھ میں گھڑی اسی کی تھی۔ ایک بڈھی یہودن نے بڑھ کر اس بچے سے گھڑی لی اور اس پار سی لڑکی کو دے دی۔ میں نے کوئی بات کرنی مناسب نہ سمجھی۔ اس لئے کہ اس وقت میں اپنے آپ کو ہیرو سمجھ رہا تھا۔\n\nاس لڑکے نے جس کا یہ کہنا تھا کہ لڑکیاں چھیڑچھاڑ پسند کرتی ہیں، یہ واقعہ بیان کیا، جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ لڑکیاں ہماری چھیڑ چھاڑ پسند کرتی ہیں بلکہ بعض اوقات تو وہ ہمیں دعوت دیتی ہیں کہ ہم انہی چھیڑیں۔ اس واقعے سے جو میں اب بیان کرنے والا ہوں، آپ اس کی تصدیق کرسکیں گے۔ آج سے اڑھائی برس پہلے کا ذکر ہے، جب میرے خیالات آج سے مختلف تھے۔ ان دنوں مجھ پر کسی سے عشق کرنے کی دھن سوار تھی، چنانچہ ہر وقت اداس اداس رہتا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھ کہ میرے سارے وجود پر ایک ناقابل بیان اضمحلال طاری ہے۔ یہ اداسی اور یہ اضمحلال اس روز بہت ہی زیادہ بڑھ گیا جب مجھے اپنے ایک دوست سے معلوم ہوا کہ وہ گلی میں ایک لڑکی سے عشق لڑا رہا ہے۔ اس کے عشق کی داستان سن کر مجھے بے حد افسوس ہوا۔ اس قدر شک آیا کہ میری آنکھو میں آنسو بھر آئے۔ اب میں نے ارادہ کرلیا کہ ہر روز اس گلی سے گزرا کروں گا اور اسی لڑکی سے رابطہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ یہ ارادہ میں نے اس لئے کیا کہ میری نظر میں کوئی ایسی لڑکی تھی ہی نہیں جس سے اس قسم کا رشتہ پیدا کیا جاسکتا ہو۔\n\nسو جناب، میں پندرہ بیس روز تک متواتر ایک ہی وقت پر اس گلی میں سے گزرتا رہا۔ وہ لڑکی اس دوران میں مجھے کئی بار نظر آئی۔ ہر مرتبہ اس نے میری طرف دیکھا، مگر بات اس سے زیادہ نہ بڑھ سکی۔ ایک روز دوپہر کو جب کہ گلی بالکل خالی تھی، میں ادھر سے گزرا۔ جب میں موڑ مڑا تو مسجد کے پاس دفعتاً ایک برقعہ پوش عورت مجھے نظر آئی۔ میں جب اس کے پاس سے گزرا تو اس نے برقعے سے ہاتھ نکال کر میرا بازو پکڑ لیا اور بلند آواز میں کہا، ’’کیوں وے گشتیا، توں ہر روز ایدھر دے پھیرے کیوں کرنا ایں۔‘‘ اس کا مطلب یہ تھا کہ آوارہ گرد کہیں کے، تو ہر روز یہاں کے پھیرے کیوں کرتا رہتا ہے۔۔۔ میرے اوسان خطا ہو گئے۔ بخدا، میری ٹانگیں کانپنے لگیں۔ میرا حلق خشک ہو گیا میں بمشکل یہ کہہ سکا، ’’میں۔۔۔ میں۔۔۔ میں تو کبھی ادھر سے نہیں گزرتا۔‘‘\n\nوہ ہنسی، برقعے کی جالی میں سے اس کی آنکھیں مجھے نظر آئیں۔ میرا خوف دور ہو گیا۔ میں نے اپنا بازو چھڑا لیا اور اس کے کولہے پر اس زور سے چٹکی بھری کہ وہ بلبلا اٹھی۔ ’’اللہ کر کے مر جائیں۔۔۔ تیرا ککھ نہ رہے۔۔۔‘‘ اس کا مطلب یہ تھا کہ خدا کرے تومر جائے۔ تیرا کچھ باقی نہ رہے۔۔۔ میرا سب کچھ باقی رہا، وہ بھی باقی رہی اس لئے کہ میرا خوف دور ہو گیا تھا اور اس کی خفگی نہ رہی۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D8%AF"} {"title": "چھیڑ منظور ہے کیا عاشق دلگیر کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھیڑ منظور ہے کیا عاشق دلگیر کے ساتھ\nخط بھی آیا کبھی تو غیر کی تحریر کے ساتھ\n\nگو کہ اقرار غلط تھا مگر اک تھی تسکین\nاب تو انکار ہے کچھ اور ہی تقریر کے ساتھ\n\nدور ایسے نہ کھیچو پاس بھی آؤگے کبھی\nوہ گئے دن جو یہ نالے نہ تھے تاثیر کے ساتھ\n\nپیچ قسمت کا ہو تو کیا کرے اس میں کوئی\nدل کو وابستگی ہے زلف گرہ گیر کے ساتھ\n\nوہ بھی کہتے ہوئے کچھ دور تک آئے پیچھے\nہم جو اس بزم سے نکلے بھی تو توقیر کے ساتھ\n\nیہ بھی اک وصل کی صورت تھی مگر رشک نصیب\nاس کی تصویر کبھی غیر کی تصویر کے ساتھ\n\nوعدۂ صبح پہ اب کس کو یقیں ہو قاصد\nآج تو جان گئی نالۂ شب گیر کے ساتھ\n\nکہو رنجش کا سبب کچھ نہیں میری ہی سنو\nعذر تو چاہیئے کرنا مجھے تقصیر کے ساتھ\n\nآپ دیتے ہیں اذیت ہی شکایت کی عوض\nکچھ زباں سے بھی تو فرمائیے تعزیر کے ساتھ\n\nدیکھیے مل ہی گیا آپ سے وہ شوخ نظامؔ\nکام جو کچھ کرے انسان سو تدبیر کے ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%AF%D9%84%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "چھیڑتے ہیں گدگداتے ہیں پھر ارماں آج کل", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھیڑتے ہیں گدگداتے ہیں پھر ارماں آج کل\nجھوٹے سچے کوئی کر لے عہد و پیماں آج کل\n\nگھونٹ دے میرا گلا کچھ زور اگر اس کا چلے\nہاتھ سے میرے ہی تنگ اتنا گریباں آج کل\n\nچڑھ گئے دیوار زنداں پر کبھی اترے کبھی\nہم بنے ہیں سایۂ دیوار زنداں آج کل\n\nروز راتوں کو سنا کرتا ہوں یہ آواز قیس\nپھاڑے کھاتا ہے مجھے خالی بیاباں آج کل\n\nاے عروس تیغ کچھ تجھ کو حیا بھی چاہئے\nکیوں گلے پڑتی ہے تو ہو ہو کے عریاں آج کل\n\nسنگ دل کافر کا شاید ٹوٹتے دیکھا ہے کفر\nٹوٹ کر ملتے ہیں مجھ سے اس کے درباں آج کل\n\nآ گیا ایسا ہی اب کافر زمانہ کیا کریں\nدابے پھرتے ہیں بغل میں لوگ ایماں آج کل\n\nرات دن ہے میری تربت پر حسینوں کا ہجوم\nدیکھنے کی چیز ہے گور غریباں آج کل\n\nدن کو روزہ عید شب کو ہے عجب شغل ریاضؔ\nرات بھر پیتا ہے یہ مرد مسلماں آج کل", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%AF%DA%AF%D8%AF%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%D9%84"} {"title": "چھیڑنے کا تو مزہ جب ہے کہو اور سنو", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "چھیڑنے کا تو مزہ جب ہے کہو اور سنو\nبات میں تم تو خفا ہو گئے لو اور سنو\n\nتم کہو گے جسے کچھ کیوں نہ کہے گا تم کو\nچھوڑ دے گا وہ بھلا دیکھیے تو اور سنو\n\nیہ بھی انصاف ہے کچھ سوچو تو اپنے دل میں\nتم تو سو کہہ لو مری کچھ نہ سنو اور سنو\n\nاب تو کچھ اتنے خفا ہو کہ کہو ہو مجھ سے\nہے قسم تم کو مرا نام نہ لو اور سنو\n\nعرض احوال مرا سن کے جھڑک کر بولے\nجاؤ، رے واؤ زبر رو ہو، چلو اور سنو\n\nچل کے دو ایک قدم دیکھتے پھر ہو یوں کو\nگالیاں سن تو چکے چاہتے ہو اور سنو\n\nآپ ہی آپ مجھے چھیڑو رکو پھر آپھی\nآپ ہی بات میں پھر روٹھ رہو اور سنو\n\nآفریں ایں نہ یہی چاہیئے شاباش تمہیں\nدیکھ روتا مجھے یوں ہنسنے لگو اور سنو\n\nبات میری جو نہیں سنتے اکیلے مل کے\nایسے ہے ڈھب سے سناؤں کہ سنو اور سنو\n\nشکوہ مند آپ سے انشاؔ ہو سو اس کا کیا دخل\nتم نہ مانو تو کہیں چپکے چھپو اور سنو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B2%DB%81_%D8%AC%D8%A8_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%86%D9%88"} {"title": "چھیڑنے ہم کو یار آج آیا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چھیڑنے ہم کو یار آج آیا\nبارے کچھ چہل پر مزاج آیا\n\nتخت شاہی کا کس کو بھاتا ہے\nخوش ہمیں فقر ہی کا تاج آیا\n\nکشت دل فوج غم نے کی تاراج\nتس پہ تو مانگنے خراج آیا\n\nتو نے کیا کیا اسے بتنگ کیا\nلے کے تجھ تک جو احتیاج آیا\n\nکی دوا درد دل کی بہتیری\nراس کوئی نہ پر علاج آیا\n\nمر گیا کل ہی جرأتؔ بیمار\nتو عیادت کو اس کی آج آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%AC_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "چہ کافرانہ قِمارِ حیات می بازی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "چہ کافرانہ قِمارِ حیات می بازی\nکہ با زمانہ بسازی بخود نمی سازی\nدِگر بمدرسہ ہائے حرم نمی بینم\nدلِ جُنید و نگاہِ غزالی و رازی\nبحکمِ مفتیِ اعظم کہ فطرتِ ازلیست\nبدینِ صعوہ حرام است کارِ شہبازی\nہماں فقیہِ ازَل گُفت جُرّہ شاہیں را\nبآسماں گرَوی با زمیں نہ پروازی\nمنم کہ توبہ نہ کردم ز فاش گوئی ہا\nز بیمِ ایں کہ بسُلطاں کنند غمّازی\nبدستِ ما نہ سمرقند و نے بخارا ایست\nدُعا بگو ز فقیراں بہ تُرکِ شیرازی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%82%D9%90%D9%85%D8%A7%D8%B1%D9%90_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%DB%8C"} {"title": "چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا\nپردے میں تھا آفتاب دیکھا\n\nکیوں کر نہ بکوں میں ہاتھ اس کے\nیوسف کی طرح میں خواب دیکھا\n\nکچھ میں ہی نہیں ہوں، ایک عالم\nاس کے لیے یاں خراب دیکھا\n\nدل تو نے عبث لکھا تھا نامہ\nجو ان نے دیا جواب دیکھا\n\nبے جرم و گناہ قتل عاشق\nمذہب میں ترے صواب دیکھا\n\nکچھ ہووے تو ہو عدم میں راحت\nہستی میں تو ہم عذاب دیکھا\n\nجس چشم نے مجھ طرف نظر کی\nاس چشم کو میں پر آب دیکھا\n\nحیران وہ تیرے عشق میں ہے\nیاں ہم نے جو شیخ و شاب دیکھا\n\nبھولا ہے وہ دل سے لطف اس کا\nسوداؔ نے یہ جب عتاب دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D9%86%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "چہلم ہے اے محباں اس شاہ دوسرا کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "چہلم ہے اے محباں اس شاہ دوسرا کا\nجو آرزوے جاں تھا پیغمبر خدا کا\nمذبوح دار و دستہ سب خنجر جفا کا\nرہتا کوئی تو ہوتا غم اس کے کچھ عزا کا\n\nآگے ہی مر گئے تھے اس کے جو تھے ہوادار\nماتم لے کون بیٹھے کون اس کا ہو عزادار\nاک عابدیں سو اس کی ایذا کے سب روادار\nبیمار تس کے اوپر محتاج وہ دوا کا\n\nبھائی نہ تھا کہ روتا مردے پہ ٹک کھڑا ہو\nاکبر نہ تھا کہ اس کو واں گور اور گڑھا ہو\nقاسم نہ تھا کہ جس کا دل داغ ہوگیا ہو\nوہ جان کر موا تھا احوال یہ چچا کا\n\nوارث نہ غیر عابد سو مبتلا بلا میں\nگردن میں طوق اس کے زنجیر اس کے پا میں\nاک شور سا ہو اٹھتا رونے کا جب نسا میں\nمنھ دیکھ دیکھ روتا ہمشیر اور ما کا\n\nکڑھنا بنا نہ اس پر دلخواہ عورتوں کو\nمہلت کہاں کہ کہتے اپنی مصیبتوں کو\nوارث موئے اٹھایا کیا کیا اذیتوں کو\nرونا ہر ایک کو تھا اسباب میں ردا کا\n\nخیمے کیے جلاکر سب خاک کے برابر\nاہل حرم کے سر پر معجر نہ ایک چادر\nپرسش کو کام کھنچتا ہوتا جو کوئی داور\nاس طور گھر کو لوٹا دیتے ہیں جیسے ڈاکا\n\nجور و ستم کی آندھی شدت سے آہ آئی\nگلزار رشک وادی اک دم میں کر دکھائی\nخاشاک و خار و خس نے واں سہل راہ پائی\nہوتا تھا جس چمن میں مشکل گذر صبا کا\n\nایسے ثبات پا سے مرنا بہت ہے مشکل\nسو سو سیاہ دل تھے ایک ایک کے مقابل\nرحمت برآں جواناں لعنت بہ جمع باطل\nمر تو گئے وے سید پر کر گئے ہیں ساکا\n\nآیا تھا کس گھڑی کا جو پھر نہ گھر گیا وہ\nسر دے سر جہاں سے آخر گذر گیا وہ\nیعنی کہ ہوکے بیکس ناچار مر گیا وہ\nٹھہرا رکھا تھا ان نے چارہ یہ انتہا کا\n\nتیر و سناں کی بارش کرتا رہا نظارہ\nدیکھا نہ آنکھ اٹھاکر کنبہ موا بھی سارا\nبیٹے موئے تو ان نے زنہار دم نہ مارا\nکیا کیا ستم اٹھائے پر راضی تھا رضا کا\n\nجا سے گیا نہ اپنی ووہیں رہا شکیبا\nکیا حوصلہ تھا یارب کیسا دل و جگر تھا\nمرنا سبھوں کا دیکھا ان نے خموش یک جا\nبولا نہ غیر ازیں کچھ چارہ نہیں قضا کا\n\nنو گل چمن کے اپنے مرجھائے ان نے پائے\nاشجار سرکشیدہ اکھڑے نظر میں آئے\nپودھے جو تھے سو پھل سب حلق بریدہ لائے\nپھر جانا خوب دیکھا یکبارگی ہوا کا\n\nغربت کی سختی دیکھو اس بے وطن کو دیکھو\nگرم آفتاب میں پھر سیر بدن کو دیکھو\nعابد کے ہاتھ دیکھو یارو رسن کو دیکھو\nنے پاس مصطفےٰؐ کا نے خوف مرتضےٰؓ کا\n\nاحمد کو سرکشی سے بالفرض وَی نہ مانو\nحیدر کو بے تہی سے کچھ بھی نہ دل میں جانو\nکلثوم اور یہ دھومیں دشت اور شہربانو\nانصاف کوئی پوچھے تھا کون سی یہ جا کا\n\nبہنوں کو پیٹنے کی مطلق ملی نہ فرصت\nبیٹے کو راہ چلنا اس پر کہ تھی نہ طاقت\nحلواے مرگ کیسا کیسی رسوم میت\nہر ایک مبتلا تھا درد و غم و بلا کا\n\nبابا حسین کہہ کر روتی تھی جب سکینہ\nدل چاک ہوتے تھے سب پھٹتا تھا سن کے سینہ\nکہتا تھا ناملائم کیا کیا ہر اک کمینہ\nحرف تسلی کیسے مذکور کیا وفا کا\n\nپرخار وہ بیاباں کثرت سے تنگ آیا\nبندی کیا سبھوں کو ماتم وہ یوں اٹھایا\nبے محمل اشتروں پر عورات کو بٹھایا\nپھر راہ ضیق ایسی جیسے سوئی کا ناکا\n\nیہ خونچکاں فسانہ رکھتا نہیں ہے پایاں\nمہماں عزیز ایسا تعظیم کا جو شایاں\nاس پر یہ جور بے حد ایسی جفا نمایاں\nہے داغ سب کے دل پر اس طرفہ ماجرا کا\n\nوہ کنج زار صحرا پھر چہل روزہ مدت\nکچھ بولیے نہ اس جا یہ ہے خدا کی قدرت\nجب عابدیں نے پائی اس قید سے فراغت\nتب آکے جسم گاڑا اس سب کے پیشوا کا\n\nالقصہ شامیوں نے کیا کیا جفا عیاں کی\nچادر تلک نہ چھوڑی ان ظلم دیدگاں کی\nپوشیدہ کیا رہا ہے حاجت جو ہو بیاں کی\nکہا شرح و بسط کریے اس خارجی ادا کا\n\nآیت حجاب کی تھی شانوں میں جن کی نازل\nسر ننگے پابرہنہ لائے انھوں کو جاہل\nحق میرؔ یہ ہے تھے وے مردود سارے باطل\nپردہ اٹھا دیا تھا اس قوم نے حیا کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DB%81%D9%84%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیں\nداغ ہیں یہ گل نہیں ناسور ہیں اختر نہیں\n\nسر رہے یا جائے کچھ ہم میکشوں کو ڈر نہیں\nکون سا مینائے مے اے محتسب بے سر نہیں\n\nوہ بت شیریں ادا کرتا ہے مجھ کو سنگسار\nیہ شکر پارے برستے ہیں جنوں پتھر نہیں\n\nہو رہا ہے ایک عالم تیرے ابرو پر نثار\nکون گردن ہے جہاں میں جو تہ خنجر نہیں\n\nدم نکلنے پر جو آتا ہے نہیں رکتا ہے پھر\nدیکھ لو قصر حباب اے اہل غفلت در نہیں\n\nآدمی تو کیا وہ کہتا ہے نشان پا سے بھی\nکیوں پڑا ہے میرے کوچے میں ترا کیا گھر نہیں\n\nاے تصور کیوں بتوں کو جمع کرتا ہے یہاں\nدل مرا کعبہ ہے کچھ بت خانۂ آزر نہیں\n\nشکوہ جو بے نوکری کا کرتے ہیں نادان ہیں\nآپ آقا ہے کسی کا جو کوئی نوکر نہیں\n\nہے خرابات جہاں میں بھی وہ ساقی سے نفور\nجو کہ اے ناسخؔ غلام ساقیٔ کوثر نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DB%8C%D9%86_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%A7_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D8%AF%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چین پڑتا ہے دل کو آج نہ کل", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چین پڑتا ہے دل کو آج نہ کل\nوہی الجھن گھڑی گھڑی پل پل\n\nمیرا جینا ہے سیج کانٹوں کی\nان کے مرنے کا نام تاج محل\n\nکیا سہانی گھٹا ہے ساون کی\nسانوری نار مدھ بھری چنچل\n\nنہ ہوا رفع میرے دل کا غبار\nکیسے کیسے برس گئے بادل\n\nپیار کی راگنی انوکھی ہے\nاس میں لگتی ہیں سب سریں کومل\n\nبن پئے انکھڑیاں نشیلی ہیں\nنین کالے ہیں تیرے بن کاجل\n\nمجھے دھوکا ہوا کہ جادو ہے\nپاؤں بجتے ہیں تیرے بن چھاگل\n\nلاکھ آندھی چلے خیاباں میں\nمسکراتے ہیں طاقچوں میں کنول\n\nلاکھ بجلی گرے گلستاں میں\nلہلہاتی ہے شاخ میں کونپل\n\nکھل رہا ہے گلاب ڈالی پر\nجل رہی ہے بہار کی مشعل\n\nکوہ کن سے مفر نہیں کوئی\nبے ستوں ہو کہیں کہ بندھیاچل\n\nایک دن پتھروں کے بوجھ تلے\nخود بخود گر پڑیں گے راج محل\n\nدم رخصت وہ چپ رہے عابدؔ\nآنکھ میں پھیلتا گیا کاجل", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DB%8C%D9%86_%D9%BE%DA%91%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%AC_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%84"} {"title": "چین پہلو میں اسے صبح نہیں شام نہیں", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چین پہلو میں اسے صبح نہیں شام نہیں\nایک دم بھی دل بیمار کو آرام نہیں\n\nرخ پر نور نہیں زلف سیہ فام نہیں\nوہ زمانہ نہیں وہ صبح نہیں شام نہیں\n\nشہروں شہروں مری رسوائی کا شہرا پہنچا\nمجھ سا دنیا میں کوئی عاشق بد نام نہیں\n\nچاند ہی تاروں کی جھرمٹ میں ذرا دیکھ اے دل\nگوں میں شوخ‌‌ نصارا کی یہ بو تام نہیں\n\nواعظوں جائے جہنم میں فضائے جنت\nخار ہیں گل میری نظروں میں جو گلفام نہیں\n\nنالے کرتا ہوں کبھی یا کبھی تدبیر وصال\nاور تو ہجر کی شب میں مجھے کچھ کام نہیں\n\nفصل گل آئی تو کیا بے سر و ساماں ہیں ہم\nشیشہ و جام نہیں ساقئ گل فام نہیں\n\nدل گیا دین گیا جان گئی الفت میں\nاور آغاز ہی دیکھا ابھی انجام نہیں\n\nبوسے دو تین تو لے لینے دی مجھ کو للٰلہ\nکام کے وقت نہ کر او بت خود کام نہیں\n\nلخلخلہ کی عوض اس زلف کی بو سونگھوں گا\nہے تپ عشق میں سودا مجھے سرسام نہیں\n\nنزع میں دیکھ کے جیتا ہوں ترے کوٹھے کو\nلب عیسیٰ ہے یہ اے جان لب بام نہیں\n\nمہرؔ بے لطف ہے بزم‌ شعرا بے معشوق\nبلبلیں چہچہے میں ہیں کوئی گلفام نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DB%8C%D9%86_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "چین ہو یا بے چینی ہو پہلے دل گھبرائے گا", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "چین ہو یا بے چینی ہو پہلے دل گھبرائے گا\nجاتے جاتے جائے گی آتے آتے آئے گا\n\nقاصد آنے جانے میں تھک تھک کر گھبرائے گا\nجائے گا پھر آئے گا آئے گا پھر جائے گا\n\nڈھونڈنے والی نظروں نظروں دیکھیں گے پہلو کی طرف\nان کی اس دل جوئی پر میرا دل اترائے گا\n\nدل میں امیدیں لاکھوں تھیں کچھ نکلیں ہیں کچھ باقی ہیں\nخیر کبھی پھر آؤ گے پھر کبھی دیکھا جائے گا\n\nدیر و حرم کے مالک سے ہم کچھ مانگیں بھی تو سہی\nہے وہ بڑا دینے والا دے گا یا دلوائے گا\n\nدل کے خود آزار و الم دل کی قدر بڑھائیں گے\nہوگا یہ اکسیر مگر خاک میں جب مل جائے گا\n\nناصح آنے والا ہے دو ہی باتیں ہونی ہیں\nیا اسے ہم سمجھائیں گے یا وہ ہمیں سمجھائے گا\n\nشکوۂ غم کی محشر میں ہم کو تو امید نہیں\nسامنے وہ آ جائیں گے ہوش کسے رہ جائے گا\n\nدل دینے والا غم سے چھٹ جائے گا دل دے کر\nدل لینے والا دل میں دل لے کر پچھتائے گا\n\nنوحؔ کے رونے پر ہنسنا بے دردوں کا خواب نہیں\nبحر محبت میں اس سے اور بھی طوفان آئے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DB%8C%D9%86_%DB%81%D9%88_%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%92_%DA%86%DB%8C%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "چیونٹی اورعقاب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "چیونٹی\nمَیں پائمال و خوار و پریشان و دردمند\nتیرا مقام کیوں ہے ستاروں سے بھی بلند؟\n\nعقاب\nتُو رِزق اپنا ڈھُونڈتی ہے خاکِ راہ میں\nمَیں نُہ سِپِہر کو نہیں لاتا نگاہ میں!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%86%DB%8C%D9%88%D9%86%D9%B9%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%B9%D9%82%D8%A7%D8%A8"} {"title": "ڈارلنگ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "نمرود کی خدائی", "year": "1950", "text_ur": "یہ ان دنوں کا واقعہ ہے۔ جب مشرقی اور مغربی پنجاب میں قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ کئی دن سے موسلا دھار بارش ہورہی تھی۔ وہ آگ جو انجنوں سے نہ بجھ سکی تھی۔ اس بارش نے چند گھنٹوں ہی میں ٹھنڈی کردی تھی۔لیکن جانوں پر باقاعدہ حملے ہورہے تھے اور جوان لڑکیوں کی عصمت بدستور غیر محفوظ تھی۔ ہٹے کٹے نوجوان لڑکوں کی ٹولیاں باہر نکلتی تھیں اور اِدھر اُدھر چھاپے مار کر ڈری ڈبکی اور سہمی ہوئی لڑکیاں اٹھا کر لے جاتی تھیں۔\n\nکسی کے گھر پر چھاپہ مارنا اور اس کے ساکنوں کو قتل کرکے ایک جوان لڑکی کو کاندھے پر ڈال کر لے جانا بظاہر بہت ہی آسان کام معلوم ہوتا ہے لیکن’س‘ کا بیان ہے کہ یہ محض لوگوں کا خیال ہے۔ کیونکہ اسے تو اپنی جان پر کھیل جانا پڑا تھا۔\n\nاس سے پہلے کہ میں آپ کو’س‘ کا بیان کردہ واقعہ سناؤں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سے آپ کو متعارف کرادوں۔’س‘ ایک معمولی جسمانی اور ذہنی ساخت کا آدمی ہے۔ مفت کے مال سے اس کو اتنی ہی دلچسپی ہے جتنی عام انسانوں کو ہوتی ہے۔ لیکن مالِ مفت سے اس کا سلوک دلِ بے رحم کا سا نہیں تھا۔ پھر بھی وہ ایک عجیب و غریب ٹریجڈی کا باعث بن گیا۔ جس کا علم اسے بہت دیر میں ہوا۔\n\nاسکول میں’س‘ اوسط درجے کا طالب علم تھا۔ ہر کھیل میں حصہ لیتا تھا۔ لیکن کھیلتے کھیلتے جب نوبت لڑائی تک جا پہنچی تھی تو’س‘ اس میں سب سے پیش پیش ہوتا۔ کھیل میں وہ ہر قسم کے اوچھے ہتھیار استعمال کر جاتا تھا۔ لیکن لڑائی کے موقع پر اس نے ہمیشہ ایمانداری سے کام لیا۔\n\nمصوری سے’س‘ کو بچپن ہی سے دلچسپی تھی۔ لیکن کالج میں داخل ہونے کے ایک سال بعد ہی اس نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ تعلیم کو خیرباد کہہ کر سائیکلوں کی دکان کھول لی۔\n\nفساد کے دوران میں جب اس کی دکان جل کر راکھ ہوگئی تو اس نے لوٹ مار میں حصہ لینا شروع کردیا۔ انتقاماً کم اور تفریحاً زیادہ، چنانچہ اسی دوران میں اس کے ساتھ یہ عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ جو اس کہانی کا موضوع ہے۔ اس نے مجھ سے کہا، ’’موسلا دھار بارش ہورہی تھی۔ منوں پانی برس رہا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنی تیز و تند بارش کبھی نہیں دیکھی۔ میں اپنے گھر کی برساتی میں بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔ میرے سامنے لوٹے ہوئے مال کا ایک ڈھیر پڑا تھا۔ بے شمار چیزیں تھیں مگر مجھے ان سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ میری دکان جل گئی تھی۔ مجھے اس کا بھی کوئی اتنا خیال نہیں تھا شاید اس لیے کہ میں نے لاکھوں کا مال تباہ ہوتے دیکھا تھا۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا، دماغ کی کیا کیفیت تھی۔۔۔ اتنے زور سے بارش ہورہی تھی۔ لیکن ایسا لگتا تھا کہ چاروں طرف خاموشی ہی خاموشی ہے اور ہر چیز خشک ہے۔۔۔ جلے ہوئے مردنڈوں کی سی بو آرہی تھی۔ میرے ہونٹوں میں جلتا ہوا سگرٹ تھا۔ اس کے دھوئیں سے بھی کچھ ایسی ہی بونکل رہی تھی۔۔۔ جانے کیا سوچ رہا تھا اور شاید کچھ سوچ ہی نہیں رہا تھا کہ ایک دم بدن پر کپکپی سی دوڑ گئی اور جی چاہا کہ ایک لڑکی اٹھا کر لے آؤں۔جونہی یہ خیال آیا۔ بارش کا شور سنائی دینے لگا اور کھڑکی کے باہر ہر چیز پانی میں شرابور نظر آنے لگی۔۔۔ میں اٹھا، سامنے لوٹے ہوئے مال کے ڈھیر سے سگرٹوں کا ایک نیا ڈبہ اٹھا کر میں نے برسانی پہنی اور نیچے اتر گیا۔‘‘\n\n’’سڑکیں اندھیری اور سنسان تھیں۔ سپاہیوں کا پہرہ بھی نہیں تھا۔ میں دیر تک ادھر ادھر گھومتارہا۔ اس دوران میں کئی لاشیں مجھے نظر آئیں۔ لیکن مجھ پر کوئی اثر نہ ہوا۔ گھومتا گھامتا میں سول لائنز کی طرف نکل گیا۔ لُک پھری ہوئی سڑک بالکل خالی تھی۔ جہاں جہاں بجری اکھڑی ہوئی تھی۔ و ہاں بارش جھاگ بن کر اڑ رہی تھی۔ دفعتہً مجھے موٹر کی آواز آئی۔ پلٹ کر دیکھا تو ایک چھوٹی سی موٹر بیبی آسٹن اندھا دھند چلی آرہی تھی۔ میں سڑک کے عین درمیان میں کھڑا ہوگیا اور دونوں ہاتھ اس انداز سے ہلانے لگا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ رک جاؤ۔‘‘\n\n’’موٹر بالکل پاس آگئی مگر اس کی رفتار میں فرق نہ آیا۔ چلانے والے نے رخ بدلا۔ میں بھی پینترہ بدل کر ادھر ہوگیا۔ موٹر تیزی سے دوسری طرف مڑ گئی۔ میں بھی لپک کر ادھر ہولیا۔ موٹر میری طرف بڑھی مگر اب اس کی رفتار دھیمی ہوگئی تھی میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا۔۔۔ پیشتر اس کے کہ میں کچھ سوچتا مجھے زور سے دھکا لگا اور میں اکھڑ کر فٹ پاتھ پر جاگرا۔ جسم کی تمام ہڈیاں کڑکڑا اٹھیں مگر مجھے چوٹ نہ آئی۔ موٹر کے بریک چیخے، پہیّے ایک دم پھسلے اور موٹر تیرتی ہوئی سامنے والے فٹ پاتھ پر چڑھ کر ایک درخت سے ٹکرائی اور ساکت ہوگئی۔ میں اٹھا اور اس کی طرف بڑھا۔ موٹر کا دروازہ کھلا اور ایک عورت سرخ رنگ کا بھڑکیلا مومی رین کوٹ پہنے باہر نکلی۔ میری کڑکڑائی ہوئی ہڈیاں ٹھیک ہوگئیں اور جسم میں حرارت پیدا ہوگئی۔رات کے اندھیرے میں مجھے صرف اس کا شوخ رنگ رین کوٹ ہی دکھائی دیا۔ لیکن اتنا اشارہ کافی تھا کہ اس مومی کپڑے میں لپٹا ہوا جو کوئی بھی ہے۔صنفِ نازک میں سے ہے۔‘‘\n\n’’میں جب اس کی طرف بڑھا تو اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا۔ بارش کے لرزتے ہوئے پردے میں سے مجھے دیکھ کر بھاگی۔ مگر میں نے چند گزوں ہی میں اسے جا لیا جب ہاتھ اس کے چکنے زین کوٹ پر پڑا تو وہ انگریزی میں چلائی۔’’ہلپ ہلپ۔‘‘\n\nمیں نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور گود میں اٹھا لیا۔ وہ پھر انگریزی میں چلائی’’ ہلپ ہلپ۔۔۔ ہی از کلنگ می۔‘‘\n\nمیں نے اس سے انگریزی میں پوچھا۔’’آر یو اے انگلش وومن‘‘ فقرہ منہ سے نکل گیا تو خیال آیا کہ اے کی جگہ مجھے این کہنا چاہیے تھا۔ اس نے جواب دیا۔’’نو۔‘‘\n\nانگریز عورتوں سے مجھے نفرت ہے۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا’’دَن اِٹ از آل رائیٹ۔‘‘\n\nاب وہ اردو میں چلانے لگی۔’’ تم مار ڈالو گے مجھے۔ تم مار ڈالو گے مجھے۔‘‘\n\nمیں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس لیے کہ میں اس کی آواز سے، اس کی شکل و صورت اور عمر کا اندازہ لگا رہا تھا۔ لیکن ڈری ہوئی ہوئی آواز سے کیا پتہ چل سکتا تھا۔ میں نے اس کے چہرے پر سے ہڈہٹانے کی کوشش کی۔ پر اس نے دونوں ہاتھ آگے رکھ دیے۔ میں نے کہا۔ ہٹاؤ اور سیدھا موٹر کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھول کر اس کو پچھلی سیٹ پرڈ الا اور خود اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ گیر درست کرکے سلف دبایا تو انجن چل پڑا۔۔۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ ہینڈل گھمایا۔ گاڑی کوفٹ پاتھ پر سے اتارا اور سڑک میں پہنچ کر اکسلریٹر پر پیر رکھ دیا۔۔۔ موٹر تیرنے لگی۔\n\nگھر پہنچ کر میں نے پہلے سوچا کہ اوپر برساتی ٹھیک رہے گی۔ لیکن اس خیال سے کہ لونڈیا کو اوپر لے جانے میں جھک جھک کرنی پڑے گی۔ اس لیے میں نے نوکر سے کہا۔ دیوانہ خانہ کھول دو۔ اس نے دیوان خانہ کھولا تو میں نے اسے گھپ اندھیرے ہی میں صوفے پر ڈال دیا۔ سارا رستہ خاموش رہی تھی۔ لیکن صوفے پر گرتے ہی چلانے لگی۔’’ڈونٹ کِل می۔۔۔ڈونٹ کِل می پلیز۔‘‘\n\nمجھے ذرا شاعری سوجھی۔’’ آئی وونٹ کِل یو۔۔۔ آئی وونٹ کِل یو ڈارلنگ۔‘‘\n\nوہ رونے لگی۔ میں نے نوکر سے کہا۔ چلے جاؤ۔ وہ چلا گیا۔ میں نے جیب سے دیا سلائی نکالی۔ ایک ایک کرکے ساری تیلیاں نکالیں مگر ایک بھی نہ سلگی۔ اس لیے کہ بارش میں ان کے مصالحے کا بالکل فالودہ ہوگیا تھا۔ بجلی کا کرنٹ کئی دنوں سے غائب تھا۔۔۔ اوپر برساتی میں ٹوٹے ہولے مال کے ڈھیر میں کئی بیٹریاں پڑی تھیں۔ لیکن میں نے کہا۔ اندھیرے ہی میں ٹھیک ہے، مجھے کون سی فوٹو گرافی کرنی ہے۔۔۔ چنانچہ برساتی اتار کر میں نے ایک طرف پھینک دی اور اس سے کہا۔’’لائیے میں آپ کا رین کوٹ اتار دوں۔‘‘\n\nمیں نیچے صوفے کی جانب جھکا۔ لیکن وہ غائب تھی۔ میں بالکل نہ گھبرایا۔ اس لیے کہ دروازہ نوکر نے باہر سے بند کردیا تھا۔ گُھپ اندھیرے میں اِدھر اُدھر میں نے اسے تلاش کرنا شروع کیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بھڑ گئے اور تپائی کے ساتھ ٹکرا کر گر پڑے۔ فرش پر لیٹے ہی لیٹے میں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا جو گردن پر جاپڑا۔ وہ چیخی میں نے کہا۔’’چیختی کیوں ہو۔۔۔ میں تمہیں ماروں گا نہیں۔‘‘\n\nاس نے پھر سسکیاں لینا شروع کردیں۔ شاید اس کا پیٹ ہی تھا جس پر میرا ہاتھ پڑا۔ وہ دوہری ہوگئی۔ میں نے جیسا بھی بن پڑا اس کے رین کوٹ کے بٹن کھولنے شر وع کردیے۔ مومی کپڑا بھی عجیب ہوتا ہے جیسے بوڑھے گوشت میں چکنی چکنی جھریاں پڑی ہوں۔ وہ روتی رہی اور ادھر ادھر لپٹ کر مزاحمت کرتی رہی۔ لیکن میں نے پورے بٹن کھول دیے اسی دوران میں مجھے معلوم وہ کہ وہ ساڑھی پہنے تھی۔۔۔ میں نے کہا یہ تو ٹھیک رہا۔ چنانچہ میں نے ذرا معاملہ دیکھا۔۔۔ خاصی سڈول پنڈلی تھی جس کے ساتھ میرا ہاتھ لگا۔۔۔ وہ تڑپ کر ایک طرف ہٹ گئی۔ میں پہلے ذرا یوں ہی سلسلہ کررہا تھا۔ پنڈلی کے ساتھ جب میرا ہاتھ لگا تو بدن میں چار سو چالیس والٹ پیدا ہوگئے۔ لیکن میں نے فوراً ہی بریک لگا دیے کہ سہج پکے سو میٹھا ہو ئے۔۔۔ چنانچہ میں نے شاعری شروع کردی۔\n\n’’ڈارلنگ۔ میں تمہیں یہاں قتل کرنے کے لیے نہیں لایا۔ ڈرو نہیں۔۔۔ یہاں تم زیادہ محفوظ ہو، جانا چاہو تو چلی جاؤ۔ لیکن باہر لوگ درندوں کی طرح چیر پھاڑ دیں گے۔۔۔ جب تک یہ فساد ہیں تم میرے ساتھ رہنا۔۔۔ تم پڑھی لکھی لڑکی ہو، میں نہیں چاہتا کہ تم گنواروں کے چنگل میں پھنس جاؤ۔۔۔‘‘\n\nاس نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا۔’’ یو وونٹ کِل می؟‘‘\n\nمیں نے فوراً ہی کہا۔’’نو سر۔‘‘\n\nوہ ہنس پڑی۔۔۔ مجھے فوراً ہی خیال آیا کہ عورت کو سر نہیں کہا کرتے۔ بہت خفت ہوئی۔ لیکن اس کے ہنس پڑنے سے مجھے کچھ حوصلہ ہوگیا۔ میں نے کہا۔ معاملہ پٹا سمجھو، چنانچہ میں بھی ہنس پڑا۔’’ ڈارلنگ، میری انگریزی کمزور ہے۔‘‘\n\nتھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے مجھ سے پوچھا۔’’ اگر تم مجھے مارنا نہیں چاہتے تو یہاں کیوں لائے ہو؟‘‘\n\nسوال بڑا بے ڈھب تھا۔ میں نے جواب سوچنا شروع کیا۔ لیکن تیار نہ ہوا۔ میں نے کہا جو منہ میں آئے کہہ دو۔’’ میں تمہیں مارنا بالکل نہیں چاہتا۔ اس لیے کہ مجھے یہ کام بالکل اچھا نہیں لگتا۔۔۔ تمہیں یہاں کیوں لایا ہوں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میں اکیلا تھا۔‘‘\n\nوہ بولی۔’’تمہارا نوکر تمہارے پاس رہتا ہے۔‘‘\n\nمیں نے بغیر سوچے سمجھے جواب دے دیا۔’’اس کا کیا ہے وہ تو نوکر ہے۔‘‘\n\nوہ خاموش ہوگئی۔ میرے دماغ میں نیکی کے خیال آنے لگے میں نے کہا۔ ہٹاؤ چنانچہ اٹھ کر اس سے کہا، ’’ تم جانا چاہتی ہو تو چلی جاؤ۔ اٹھو۔‘‘\n\nمیں نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ایک دم مجھے اس کی پنڈلی کا خیال آگیا اور میں نے زور سے اس کو اپنے سینے کے ساتھ چمٹا لیا۔ اس کی گرم گرم سانس میری ٹھوڑی کے نیچے گھس گئی۔ میں نے اٹکل پچو اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر جما دیے۔ وہ لرزنے لگی۔ میں نے کہا۔’’ڈارلنگ ڈرو نہیں۔۔۔ میں تمہیں ماروں گا نہیں۔‘‘\n\n’’چھوڑ دو مجھے۔‘‘ کی آواز میں عجیب و غریب قسم کی کپکپاہٹ تھی۔\n\nمیں نے اسے اپنی گرفت سے علیحدہ کردیا۔ لیکن فوراً ہی اپنے بازوؤں میں اٹھا لیا۔ سڑک پر اسے اٹھاتے وقت مجھے محسوس نہیں ہوا تھا۔ لیکن اس وقت میں نے محسوس کیا کہ اس کے کولہوں کا گوشت بہت ہی نرم تھا۔۔۔ ایک بات مجھے اور بھی معلوم ہوئی وہ یہ کہ اس کے ایک ہاتھ میں چھوٹا سا بیگ تھا۔ میں نے اسے صوفے پر لٹا دیا اور بیگ اس کے ہاتھ سے لے لیا۔’’ اگر اس میں کوئی قیمتی چیز ہے تو یقین رکھو یہاں بالکل محفوظ رہے گی۔۔۔ بلکہ چاہو تو میں بھی تمہیں کچھ دے سکتا ہوں۔‘‘\n\nوہ بولی، ’’مجھے کچھ نہیں چاہیے۔‘‘\n\n’’لیکن مجھے چاہیے‘‘\n\nاس نے پوچھا، ’’کیا؟‘‘\n\nمیں نے جواب دیا۔ ’’تم۔‘‘\n\nوہ خاموش ہوگئی۔۔۔ میں فرش پر بیٹھ کر اس کی پنڈلی سہلانے لگا۔ وہ کانپ اٹھی۔ لیکن میں ہاتھ پھیرتا رہا۔ اس نے جب کوئی مزاحمت نہ کی تو میں نے سوچا کہ مجبوری کی وجہ سے بیچاری نے اپنا آپ ڈھیلا چھوڑ دیا ہے۔ اس سے میری طبیعت کچھ کھٹی سی ہونے لگی۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا۔’’ دیکھو میں زبردستی کچھ نہیں کرنا چاہتا۔ تمہیں منظور نہیں ہے تو جاؤ۔‘‘\n\nیہ کہہ کر میں اٹھنے ہی والا تھا کہ اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیا۔ جو کہ دھک دھک کررہا تھا۔ میرا بھی دل اچھلنے لگا۔ میں نے زور سے ڈارلنگ کہا اور اس کے ساتھ چمٹ گیا۔\n\nدیر تک چوما چاٹی ہوتی رہی۔ وہ سسکیاں بھر بھر کے مجھے ڈارلنگ کہتی رہی۔ میں بھی کچھ اسی قسم کی خرافات بکتا رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے اس سے کہا۔’’ یہ رین کورٹ اتار دو۔۔۔ بہت ہی واہیات ہے۔‘‘\n\nاس نے جذبات بھری آواز میں کہا۔’’ تم خود ہی اتار دو ناں۔‘‘\n\nمیں نے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور کوٹ اس کے بازوؤں میں سے کھینچ کر اتار دیا۔\n\nاس نے بڑے پیار سے پوچھا، ’’کون ہو تم؟‘‘\n\nمیں اس وقت اپنا حدود اربعہ بتانے کے موڈ میں نہیں تھا۔’’تمہارا ڈارلنگ!‘‘\n\nاس نے’’یو آر اے نوٹی بوائے‘‘ کہا اور اپنی باہیں میرے گلے میں ڈ ال دیں میں اس کا بلاؤز اتارنے لگا تو اس نے میرے ہاتھ پکڑ لیے اور التجا کی۔\n\n’’مجھے ننگا نہ کرو ڈارلنگ، مجھے ننگا نہ کرو۔‘‘\n\nمیں نے کہا۔’’ کیا ہوا۔۔۔ اس قدر اندھیرا ہے۔‘‘\n\n’’نہیں، نہیں!‘‘\n\n’’تو اس کا یہ مطلب ہے کہ۔۔۔‘‘ اس نے میرے دونوں ہاتھ اٹھا کر چومنے شروع کردیے اور لرزاں آواز میں کہنے لگی۔’’ نہیں نہیں۔۔۔ مجھے شرم آتی ہے۔‘‘\n\nعجیب ہی سی بات تھی۔ لیکن میں نے کہا۔ چلو ہٹاؤ چھوڑو بلاؤز کو۔ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں کچھ دیر خاموش رہا تو اس نے ڈری ہوئی آواز میں پوچھا’’ تم ناراض تو نہیں ہوگئے؟‘‘\n\nمجھے کچھ معلوم ہی نہیں تھا کہ میں ناراض ہوں یا کیا کہوں۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا، ’’نہیں نہیں ناراض ہونے کی کیا بات ہے۔۔۔ تم بلاؤز نہیں اتارنا چاہتی ہو، نہ اتارو۔۔۔ لیکن۔۔۔‘‘ اس سے آگے کہتے ہوئے مجھے شرم آگئی۔ لیکن ذرا گول کرکے میں نے کہا۔’’ لیکن کچھ تو ہونا چاہیے۔ میرا مطلب ہے کہ ساڑھی اتار دو۔۔۔‘‘\n\n’’مجھے ڈر لگتا ہے‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کا حلق سوکھ گیا۔\n\nمیں نے بڑے پیار سے کہا۔’’ کس سے ڈر لگتا ہے۔‘‘\n\n’’اسی سے۔۔۔۔ اسی سے‘‘ اور اس نے بلک بلک کر رونا شروع کردیا۔\n\nمیں نے اسے تسلی دی کہ ڈرنے کی وجہ کوئی بھی نہیں۔’’ میں تمہیں تکلیف نہیں دوں گا۔ لیکن اگر تمہیں و اقعی ڈر لگتا ہے تو جانے دو۔۔۔ دو تین دن یہاں رہو جب میری طرف سے تمہیں پورا اطمینان ہو جائے تو پھر سہی۔‘‘\n\nاس نے روتے روتے کہا، ’’نہیں نہیں۔‘‘ اور اپنا سر میری رانوں پر رکھ دیا۔\n\nمیں اس کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد اس نے رونا بند کردیا اور سوکھی سوکھی ہچکیاں لینے لگی۔ پھر ایک دم مجھے اپنے ساتھ زور کے ساتھ بھینچ لیا اور شدت کے ساتھ کانپنے لگی۔ میں نے اسے صوفے پر سے اٹھ کر فرش پر بٹھا دیا اور۔۔۔\n\nکمرے میں دفعتہً روشنی کی لکیریں تیر گئیں۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے پوچھا’’ کون ہے؟‘‘ نوکر کی آواز آئی، ’’لالٹین لے لیجیے‘‘ میں نے کہا، ’’اچھا‘‘ لیکن اس نے آواز بھینچ کر خوفزدہ لہجے میں کہا، ’’نہیں نہیں۔‘‘\n\nمیں نے کہا، ’’حرج کیا ہے۔ ایک طرف نیچی کرکے رکھ دوں گا۔‘‘ چنانچہ میں نے اٹھ کرلالٹین لی اور دروازہ اندر سے بند کردیا۔۔۔ اتنی دیر کے بعد روشنی دیکھی تھی۔ اس لیے آنکھیں چندھیا گئیں۔ وہ اٹھ کر ایک کونے میں کھڑی ہوگئی تھی۔ میں نے کہا’’ بھئی اتنا بھی کیا ہے۔ تھوڑی دیر روشنی میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ جب تم کہو گی اسے گل کردیں گے۔‘‘\n\nچنانچہ میں لالٹین ہاتھ ہی میں لیے اس کی طرف بڑھا۔ اس نے ساڑھی کا پلو سرکا کہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ لیا۔ میں نے کہا’’ تم بھی عجیب و غریب لڑکی ہو۔۔۔ اپنے دولھے سے بھی پردہ۔‘‘\n\nیہ کہہ میں سمجھنے لگا کہ وہ میری دولہن ہے اور میں اس کا دولھا۔ چنانچہ اسی تصور کے۔۔۔ تحت میں نے اس سے کہا، ’’اگر ضد ہی کرنی ہے تو بھئی کرلو۔۔۔ ہمیں آپ کی ہر ادا قبول ہے۔‘‘\n\nایک دم زور کا دھماکا ہوا۔ وہ میرے ساتھ چمٹ گئی۔ کہیں بم پھٹا تھا۔ میں نے اس کو دلاسا دیا۔’’ڈرو نہیں۔۔۔ معمولی بات ہے‘‘ ایک دم مجھے خیال آیا جیسے میں نے اس کے چہرے کی جھلک دیکھی تھی۔ چنانچہ اس کو دونوں کندھوں سے پکڑ کرمیں ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔۔۔ میں بیان نہیں کرسکتا۔ میں نے کیا دیکھا۔۔۔ بہت ہی بھیانک صورت، گال اندر دھنسے ہوئے جن پر گاڑھا میک اپ تھپا تھا۔ کئی جگہوں پر سے اس کی تہہ بارش کی وجہ سے اتری ہوئی تھی اور نیچے سے اصلی جلد نکل آئی تھی جیسے کئی زخموں پرسے پھاہے اتر گئے ہیں۔۔۔ خضاب لگے خشک اور بے جان بال جن کی سفید جڑیں دانت دکھا رہی تھیں۔۔۔ اور سب سے عجیب و غریب چیز مومی پھول تھے جو اس نے اس کان سے اس کان تک ماتھے کے ساتھ ساتھ بالوں میں اڑسے ہوئے تھے۔۔۔ میں دیر تک اس کو دیکھتا رہا۔ وہ بالکل ساکت کھڑی رہی۔ میرے ہوش و حواس گم ہوگئے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد جب میں سنبھلا تو میں نے لالٹین ایک طرف رکھی اور اس سے کہا’’تم جانا چاہو تو چلی جاؤ!‘‘\n\nاس نے کچھ کہنا چاہا۔ لیکن جب دیکھا کہ میں اس کا رین کوٹ اور بیگ اٹھا رہا ہوں تو خاموش ہوگئی۔ میں نے یہ دونوں چیزیں اس کی طرف دیکھے بغیر اس کو دے دیں۔ وہ کچھ دیر گردن جھکائے کھڑی رہی۔ پھر دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی۔‘‘\n\nیہ واقعہ سُنا کر میں نے ’س‘ سے پوچھا، ’’جانتے ہو وہ عورت کون تھی؟‘‘\n\n’س‘ نے جواب دیا، ’’نہیں تو۔‘‘\n\nمیں نے اس کو بتایا، ’’وہ عورت مشہور آرٹسٹ مس’م‘ تھی۔‘‘\n\nوہ چلایا، ’’مس ’م‘؟ وہی جس کی بنائی ہوئی تصویروں کی میں اسکول میں کاپی کیا کرتا تھا؟‘‘\n\nمیں نے جواب دیا، ’’وہی۔۔۔ ایک آرٹ کالج کی پرنسپل تھی۔ جہاں وہ لڑکیوں کو صرف عورتوں اور پھولوں کی تصویر کشی سکھاتی تھی۔۔۔ مردوں سے اسے سخت نفرت تھی۔‘‘\n\nیہ سن کر ’س‘ کچھ سوچنے لگا۔ ایک دم چونکا، ’’کہاں ہے آج کل۔‘‘\n\nمیں نے جواب دیا، ’’آسمان پر‘‘\n\nاس نے پوچھا، ’’کیا مطلب؟‘‘\n\nمیں نے جواب دیا، اسی رات کو جب تم نے اسے باہر نکالا اس کی موٹر کا حادثہ ہوا اور وہ مر گئی۔ لیکن اس کے قاتل تم ہو۔ یہ صرف میں جانتا ہوں۔۔۔ نہیں۔۔۔ تم دو عورتوں کے قاتل ہو۔ ایک اس عورت کے جس کو سب مشہور آرٹسٹ کی حیثیت سے جانتے ہیں، دوسری اس کے جو تمہارے دیوان خانے میں پہلی عورت کے قالب میں سے باہر نکلی تھی اور جس کو صرف تم جانتے ہو۔۔۔‘‘\n\n’س‘ خاموش رہا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%D8%A7%D8%B1%D9%84%D9%86%DA%AF"} {"title": "ڈاکٹر نذیر احمد کی کہانی، کچھ میری اور کچھ ان کی زبانی", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اللہ اللہ! ایک وہ زمانہ تھا کہ میں اور دانی، مولوی صاحب مرحوم کی باتیں سنتے تھے۔ ان کی ہمت ہماری ہمت بڑھاتی تھی، ان کا طرز بیان ہماری تحریر کا رہبر ہوتا تھا، ان کی خوش مذاقی خود ان کو ہنساتی اور ہمارے پیٹ میں بل ڈالتی تھی، ان کی تکلیفیں خود ان کو پر نم اور ہم کو تڑپاتی تھیں۔ اور آج وہ دن ہے کہ ان کے حالات زبان قلم پر لانے سے سے ڈر لگتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ بزرگ ہستی اخوت اسلامی کا سبق پڑھے ہوئے تھی۔ اس کو اپنے بل بوتے پر ترقی کرنے پر ناز تھا۔ وہ چھوٹے درجے سے بڑے درجے پر ترقی کرنا اپنا کارنامہ سمجھتی تھی۔ اس نے جو کچھ کیا اور جو کچھ کر دکھایا، وہ کسی کی خوشامد، کسی کی سفارش یا کسی خاندانی وجاہت کے باعث نہ تھا۔ وہ تھا اور دنیا کا وسیع اکھاڑا۔\n\nوہ اپنے دست و بازو کے بھروسے پر اس میدان میں اترا، ہر مصیبت کا سامنا اپنی ذاتی قابلیت و ہمت سے کیا۔ جس کا م میں ہاتھ ڈالا، اس کی تکمیل میں خون پانی ایک کر دیا اور دنیا پر بہ خوبی ثابت کر دیا کہ بے یاری اور مدد گاری، ترقی کی راہ میں ایسی رکاوٹیں نہیں ہیں جو بہ آسانی ہٹائی نہ جا سکیں اور خاندانی تعلقات کی عدم موجودگی، ایسی چیز نہیں ہے جو مانع ترقی ہو سکے۔ جب کبھی جوش میں آتے تو ہمیشہ I am a self made man کا فقرہ ضرور استعمال کیا کرتے اور جب کبھی اس پہلو پر نصیحت کرتے، تو ہمیشہ یہی فرماتے کہ بیٹا! جو کچھ کرنا ہے خود کرو، باپ داد کی ہڈیوں کے واسطے سے بھیک نہ مانگتے پھرو۔\n\nانسان، فطرت سے مجبور ہے۔ جب دنیا کی نظریں اس پر پڑنے لگتی ہیں، تو وہ ہمیشہ اپنی پہلی حالت کی کمزوریوں کو چھپاتا اور خوبیوں کو دکھاتا ہے۔ جس طرح بڑے بڑے گھرانوں کی نا اہل اولاد اپنے باپ دادا کے نام سے اپنی نالائقی کو چھپاتی ہے، اسی طرح غریب گھرانوں کی لائق اولاد چاہتی ہے کہ ان کے باپ دادا کے نام لوگوں کے دلوں سے محو ہو جائیں۔ یہ ہماری اخلاقی کمزوری اور یہ ہے ہماری اسلامی سبق سے بے خبری۔ ایک مولوی نذیر احمد خاں تھے، جو اپنے آباء و اجداد کا نقشہ اصلی رنگ میں دکھاتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے۔ ان کو اپنی ابتدائی غربت پر ناز تھا اور اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’میاں! اگر لفٹننٹ گورنر کے بیٹے ہو، تو کم سے کم ڈپٹی کمشنر تو ہو جاؤ، دس روپے کے اہل کار ہو کر باپ کو لفٹیننٹ گورنر کہتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی۔‘‘\n\nبہر حال یہ فطرت انسانی کا خیال تھا جس نے اب تک مجھے مولوی صاحب مرحوم کے حالات لکھنے سے روکا۔ بہت کچھ لکھ لیا تھا، وہ پھاڑ ڈالا کہ کہیں اینچن چھوڑ گھسیٹن میں نہ پڑ جاؤں۔ رہ رہ کر جوش آتا تھا اور ٹھنڈا پڑ جاتا تھا۔ خدا بھلا کرے مولوی عبد الحق صاحب کا کہ انہوں نے مجھے اس اگر مگر سے نکالا اور دل کی باتوں کو حوالہ قلم کرنے پر آمادہ کر دیا۔ اب جو کچھ کانوں سے سنا اور آنکھوں سے دیکھا ہے وہ لکھوں گا اور بے دھڑک لکھوں گا، خواہ کوئی برا مانے یا بھلا۔ جہاں مولوی صاحب مرحوم کی خوبیاں دکھاؤں گا، وہاں ان کی کمزوریوں کو بھی ظاہر کر دوں گا، تاکہ اس مرحوم کی اصلی اور جیتی جاگتی تصویر کھنچ جائے اور یہ چند صفحات ایسی سوانح عمری نہ بن جائیں جو کسی کےخوش کرنے یا جلانے کو لکھی گئی ہو۔\n\nمیں واقعات کے بیان کرنے میں کوئی سلسلہ بھی قائم نہ کروں گا کیونکہ یہ بناوٹ کی صورت ہے۔ جس موقع پر جو کچھ سنایا دیکھا، اس کو جوں کا توں لکھ دوں گا اور ہمیشہ اس امر کی کوشش کروں گا کہ جہاں تک ممکن ہو، واقعات مولوی صاحب کی زبان میں بیان کئے جائیں۔ انشاء اللہ واقعات کے اظہار میں مجھ سے غلطی نہ ہوگی، ہاں یہ ممکن ہے کہ بعض نام بھول جانے کی وجہ سے چھوڑ جاؤں یا غلط لکھ جاؤں۔ اب رہا سچ یا جھوٹ تو اس کی مجھے پروا نہیں۔ میں اپنے محترم استاد کے حالات لکھ رہا ہوں۔ اگر سچ ہیں، تو میں اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔ اگر جھوٹ ہیں تو وہ خود میدان حشر میں، سود در سود لگا کر تاوان وصول کر لیں گے۔\n\nاب رہا طرز بیان، تو اس میں متانت کو بالائے طاق رکھ دیتا ہوں، کیونکہ مولوی صاحب جیسے خوش مذاق آدمی کے حالت لکھنے میں متانت کو دخل دینا ان کا منہ چڑانا ہی نہیں ان کی توہین کرنا ہے، بلکہ یوں کہو کہ سید ا نشا کو میر اور مارک ٹوئن کو امر سن بنانا ہے۔ جب اپنی زندگی میں انہوں نے میری شوخ چشمی کی ہنس ہنس کر داد دی، تو کوئی وجہ نہیں کہ اب وہ اپنی وضع داری کو بدل دیں اور میری صاف گوئی کو گستاخی قرار دے کر دعوے دار ہوں۔۔۔ چل رے خامے بسم اللہ۔\n\n1903 میں میاں دانی نے اور میں نے ہندو کالج دہلی سے ایف اے کا امتحان پاس کیا اور دونوں مشن کالج میں داخل ہو گئے۔ ایف اے میں میرا مضمون اختیاری سائنس اور دانی کا عربی تھا۔ انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ بے اے میں عربی لے لو، دونوں کوایک دوسرے سے مدد ملے گی اور امتحان کی تیاری میں سہولت ہوگی۔ مجھے اپنے حافظے پر گھمنڈ تھا، یہ بھی نہ سمجھا کہ اس مضمون کو سنبھال بھی سکوں گا یا نہیں، جھٹ راضی ہو گیا۔ القصہ ہم دونوں بی اے کے درجہ ابتدائی میں شریک ہو گئے۔ ہمارے عربی کے پروفیسر مولوی جمیل الرحمان صاحب تھے، بڑے اللہ والے لوگ تھے، عربی کا گھنٹا بہ آسانی تصوف کی باتوں میں گزر جاتا تھا، کچھ تھوڑا بہت پڑھ بھی لیتے تھے، دانی کچھ سمجھتے ہوں تو سمجھتے ہوں، کمترین تو توتے کی طرح حفظ کر لیتا تھا۔ اب رہی صرف و نحو، اس میں تو کورے کا کورا ہی رہا۔\n\nسنتے آئے ہیں کہ مصیبت کہہ کر نہیں آتی، لیکن یہ نہیں سنا تھا کہ عربی کے پروفیسر کہہ کر نہیں جاتے۔ ایک دن جو مولوی صاحب کے کمرے میں ہم دونوں پہنچے تو دیکھا کہ کمرا خالی ہے۔ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ مولوی صاحب کل شام کو استعفیٰ دے کر کعبۃ اللہ چل دیے۔ پرنسپل صاحب کے پاس پہنچے تو انہوں نے کورا جواب دے دیا کہ ہم عربی کی جماعت کا بندوبست نہیں کر سکتے، بہتر یہ ہے کہ مضمون تبدیل کر لو۔ میں نے دانی سے کہا کہ بھئی تمہارے کہنے سے میں نے عربی لی تھی، اب میرے کہنے پر تم سائنس لے لو۔ جس سہولت کی بنا پر تم نے میرا مضمون بدلوایا تھا، اب اسی سہولت کے مد نظر اپنا مضمون بدلو۔ بہ قول شخصے کہ’’مرتا کیا نہ کرتا‘‘ وہ راضی ہو گئے۔ دفتر جا کر جو لکچروں کا حساب کیا تو معلوم ہوا کہ مضمون تبدیل کرنے کا وقت نہیں رہا، لکچر کم رہ جائیں گے اور اس طرح بجائے دو سال کے تین سال میں شریک امتحان ہونا پڑے گا۔ سنگ آمد و سخت آمد۔\n\nجب ’’وہ جو بیچتے تھے دوائے دل، وہ دکان اپنی بڑھا گئے‘‘ کی صورت آن پڑی، تو دوسرے ٹھکانے کی تلاش ہوئی۔ دونوں سرملا کر بیٹھے، مشورے کیے، رزولیوشن پاس ہوئے، آخر یہ تجویز پاس ہوئی کہ ’’خاک از تو دہ کلاں بردار‘‘ کے مقولے پر عمل کرکے کسی زبر دست مولوی کو گھیرنا چاہئے۔ دلی میں دو تین بڑے عربی داں مانے جاتے تھے، ایک مولوی محمد اسحاق صاحب، دوسرے شمس العلماء مولوی ضیاء الدین خاں صاحب ایل ایل ڈی، اور تیسرے مولوی نذیر احمد خاں صاحب۔ پہلے کو تو دیوانگی سے فرصت نہ تھی، اس لیے وہاں تو دال گلتی معلوم نہیں ہوئی، قرعہ دوسرے صاحب کے نام پرپڑا۔\n\nگرمیوں کا زمانہ تھا، مولوی ضیاء الدین صاحب جامع مسجد میں رات کے دس گیارہ بجے تک بیٹھے وظیفہ پڑھا کرتے تھے، ہم دونوں نے بھی جا کر شام ہی سے جامع مسجد کی سیڑھیوں پر ڈیرے ڈال دیے۔ آٹھ بے، نو بجے، دس بج گئے۔ مولوی صاحب نہ آج نکلتے ہیں نہ کل۔ خدا خدا کر کے دروازے سے قندیل نکلتی ہوئی معلوم ہوئی۔ ہم دونوں بھی ہاتھ پاؤں جھٹک، خوشامد کے فقرے کے فقرے سوچ کھڑے ہو گئے۔\n\nہم آخری سیڑھیوں پر کھڑے تھے، اس لئے دروازے میں سے پہلے قندیل نکلتی نظر آئی، اس کے بعد جس طرح سمندر کے کنارے سے جہاز آتی دکھائی دیتا ہے اسی طرح پہلے مولوی صاحب کا عمامہ، اس کے بعد ان کا نورانی چہرہ، سر مگیں آنکھیں، سفید ریش مبارک، سفید جبہ اور سب سے آخر زرد بانات کی سلیم شاہی جوتیاں نظر آئیں۔ آہستہ آہستہ انہوں نے سیڑھیوں سےاترنا اور اوپر تلے ہمارے سانس نے چڑھنا شروع کیا۔ ہم سوچتے ہی رہے کہ راستہ روک کر کھڑے ہو جائیں، وہ سٹ سے پاس سے نکل گئے۔\n\nآخر ذرا تیز قدم، چل کر ان کو جا لیا اور نہایت ادب سے دونوں نے جھک کر فرشی سلام کیا۔ وہ سمجھے کوئی راہ گیر ہیں، میری وجاہت کی وجہ سے سلام کر رہے ہیں۔ یہ نہ سمجھے کی سائل ہیں، ان سے پیچھا چھڑانا مشکل ہے۔ وہ تو سلام لیتے ہوئے آگے بڑھے اور ہم نے وہی پہلی والی ترکیب کی کہ چکر کھا کر پھر سامنے آگئے۔ یہ دیکھ کر وہ ذرا ٹھٹکے، پوچھا، میں نے آپ صاحبوں کو نہیں پہچانا، کیا مجھ سے کوئی کام ہے؟ رام کہانی بیان کر کے عرض مدعا زبان پر لائے۔ فرمانے لگے، تم کو معلوم ہے کہ میں پنجاب یونیورسٹی کا ممتحن ہوں۔ بجنسہ اسی لہجے میں یہ الفاظ ادا کئے جیسے اس زمانے میں کوئی کہے، تم کو معلوم ہے کہ میں سی آئی ڈی کا انسپکٹر ہوں۔ لیکن ہم جان سے ہاتھ دھوئے بیٹھے تھے، عرض کیا کہ ہم امتحان میں رعایت کے طالب نہیں، تعلیم میں مدد چاہتے ہیں۔ فرمانے لگے کہ تم کو تعلیم دینا اور پھر ممتحن رہنا میرے ایمان کے خلاف ہے، کسی دوسرے کی تلاش کیجئے۔\n\nممکن ہے کہ یہ مسئلہ کوئی جزو ایمان ہو، ممکن ہے کہ پنجاب یونیورسٹی نے مولوی صاحب سے تعلیم نہ دینے کا حلف لے لیا ہو، بہر حال کچھ بھی ہو، انہوں نے ہم دونوں کو سلام علیکم کا ایک زور سے دھکا دے کر نوکر کو حکم دیا کہ آگے بڑھو۔ وہ حکم کا بندہ قندیل اٹھا، آگے چلا اور مولوی صاحب اس کے پیچھے پیچھے لمبے لمبے ڈگ بھرتے روانہ ہوئے۔ ڈر تھا کہ کہیں یہ دونوں قطاع الطریق پھر راستہ نہ روک لیں، مگر مولوی صاحب کےطرز عمل اور سلام علیکم کے جھٹکے نے ہم دونوں کو مضمحل کر دیا تھا۔ جہاں کھڑے تھے وہیں کھڑے کے کھڑے رہ گئے اور مولوی صاحب رہٹ کے کنویں کی گلی میں گھس، اپنے مکان میں داخل ہو گئے۔ چلو امید نمبر دو پر پانی پھر گیا، لیکن آئندہ کے لئے سبق مل گیا کہ ایسے زبردست دشمن پر کھلے میدان میں حملہ کرنا خطرناک ہے، ایسے رستم کو پکڑنے کے لئے شغاد بننا ضروری ہے۔\n\nوہیں سیڑھیوں پر بیٹھ کر کونسل ہوئی او رزولیوشن پاس ہوا کہ مولوی نذیر احمد صاحب پر حملہ عبد الرحمان کی آڑ میں کیا جائے۔ اب میاں عبد الرحمان کا حال بھی سن لیجئے۔ ان کے والد کا نام سراج الدین صاحب تھا۔ نہایت نیک اور پرہیز گار شخص تھے۔ جوتوں کی دکان تھی۔ مولوی نذیر احمد صاحب اس دکان کو ہمیشہ رقمی مدد دیا کرتے تھے اور روزانہ شام کو وہاں آ کر بیٹھتے تھے۔ عبد الرحمان میرے ہم جماعت نہ تھے لیکن آپس میں میل جول بہت تھا۔ مولوی صاحب کو ان کی تعلیم کا بہت خیال تھا، چنانچہ انہیں کی وجہ سے عبد الرحمن نے بی اے، ایل ایل بی کے امتحانات پاس کیے۔ انہی کی وجہ سے وکالت میں ترقی کی، یہاں تک کہ مولوی صاحب ہی کی دلچسپی کا نتیجہ ہے کہ اس وقت دہلی میں ان کی ٹکر کا کوئی مسلمان وکیل نہیں ہے۔ اس زمانے میں یہ ایف اے میں پڑھتے تھے۔\n\nبہر حال اسکیم تیار ہو گئی اور دوسرے ہی دن میں نے عبد الرحمان کو گانٹھنا شروع کیا۔ دو ایک روز کے بعد ان سے اظہار مطلب کیا۔ کہنے لگے کہ بھئی مولوی صاحب کو فرصت کم ہے کہیں انکار نہ کر بیٹھیں۔ میں نے کہا کہ میاں عبد الرحمان! تم ان تک ہم کو پہنچا دو، اگر ہو سکے تو ایک دو کلمہ خیر بھی ہمارے حق میں کہہ دو، آگے ہم جانیں اور ہماری قسمت۔ وہ راضی ہوگئے اور کہا کہ شام کو آٹھ بجے دکان پر آجانا، میں مولوی صاحب سے ملوا دوں گا، اندھا کیا چاہے، دو آنکھیں۔\n\nٹھیک آٹھ بجے ہم دونوں سراج الدین صاحب کی دکان پر پہنچے۔ یہ دکان فتح پوری کی مسجد کے قریب تھی۔ جا کر کیا دیکھتے ہیں کہ مولوی صاحب بیٹھے سراج الدین سے کچھ رقم کا حساب کر رہے ہیں۔ ہم نے جاتے ہی فرشی سلام کیے اور خاموش تخت کے کونے پر بیٹھ گئے۔ سراج الدین صاحب نے خیریت پوچھی، عبد الرحمان ہمارے پاس آبیٹھے، مگر مولوی صاحب روپیوں کے حساب کتاب میں اس قدر مشغول تھے کہ انہوں نے دیکھا بھی نہیں کہ کون آیا، کون گیا۔ میں نے سوچا کہ یہاں بھی معاملہ پٹتا معلوم نہیں ہوتا، دھتکار سن کر یہاں سے بھی نکلنا پڑے گا۔ سچ ہے، مایوسی انسان کو ہمت والا بنا دیتی ہے۔ مرتا کیا نہ کرتا، میں نے بھی سوچ لیا کہ آج اس پار یا اس پار۔ مولوی ضیاء الدین صاحب تو بچ کر نکل گئے، لیکن مولوی نذیر احمد صاحب سے دو دو ہاتھ ہو جائیں گے۔\n\nقصہ مختصر، مولوی صاحب حساب سے فارغ ہوئے اور پوچھا کہ یہ دونوں صاحب کون ہیں؟ عبد الرحمان نے ہمارے نام بتائے، کچھ الٹے سیدھے خاندانی حالات بھی بیان کئے، ا س کے بعد ہماری مصیبت کا بھی ذرا سا تذکرہ کیا اور خاموش ہوگئے۔ میں نے دل میں کہا، پرائے برتے کھیلا جوا، آج نہ موا کل موا۔ اب میاں عبد الرحمان کو رہنے دو، جو کچھ کہنا ہے خود کہہ ڈالو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہاں سے بھی بے نیل مرام باضابطہ پسپائی ہو۔ میں نے نہایت رقت آمیز لہجے میں اپنی مصیبت کا تذکرہ شروع کیا۔ فرمانے لگے، تو عربی چھوڑ دو، سائنس پڑھو۔ بیٹا! آج کل مسلمانوں کو سائنس کی بڑی ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں مثل ہے، پڑھیں فارسی بیچیں تیل، یہ دیکھو قدرت کے کھیل۔ فارسی پڑ کر تیل تو بیچ لوگے، عربی پڑھ کر تیل بیچنا بھی نہ آئے گا۔\n\nان کی اس پر مذاق گفتگو سے ہم دونوں کے دل بڑھ گئے۔ ہم رہنے والے ٹھہرے جامع مسجد کے نیچے کے، بھلا ایسی باتوں میں ہم سے کون اور آ سکتا ہے۔ ہم نے بھی ایسے ہی شگفتہ الفاظ میں جواب دیا۔ مولوی صاحب پہلے تو مسکراتے رہے۔ اس کے بعد کھلکھلا کر ہنس دیے۔ دانی کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے کہ یہ بڑا غریب معلوم ہوتا ہے، مگر تو بڑا بدمعاش ہے۔ بیٹا! جاؤ کسی دوسرے مولوی صاحب کی تلاش کرو۔ دلی میں کیا مولویوں کا کال ہے۔ مجھے ذرا بھی فرصت ہوتی تو کبھی انکار نہ کرتا۔ میں نے عرض کی کہ جناب والا کا ارشاد بالکل صحیح ہے مگر جو مولوی ہیں وہ پڑھاتے نہیں اور جو پڑھاتے ہیں، وہ مولوی نہیں ہیں۔\n\nکہنے لگے، نہیں، ایک آدھ ایسا بھی نکل آئے گا جو مولوی بھی ہوگا اور پڑھائے گا بھی۔ جناب شمس العلماء مولوی ضیاء الدین خاں صاحب ایل ایل ڈی ( یہ الفاظ بہت طنز سے کہے) کے پاس جاؤ، ا ن کو فرصت بھی ہے اور عالم بھی ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کے ساتھ وہ پنجاب یونیورسٹی کے ممتحن بھی کہنے لگے۔ میں اس کا مطلب نہیں سمجھا۔ یہاں تو جلے بیٹھے ہی تھے، جامع مسجد کی سیڑھیوں والا واقعہ خوب نمک مرچ لگا کر بیان کیا۔ بہت ہنسے اور کہنے لگے کہ بھئی، تم لونڈوں سے ڈرنا چاہئے۔ ضیاء الدین کو اگر خبر ہو جائے کہ ان کے اوصاف حمیدہ و خصائل پسندیدہ سراج الدین کی دکان پر اس طرح معرض بحث میں آتے ہیں تو یقین جانو کی نالش ٹھونک دیں۔ اچھا بھئی میں تم کو پڑھاؤں گا مگر تم بھاگ جاؤ گے۔\n\nہم دونوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلا، نہیں ہرگز نہیں۔ مولوی صاحب نے کہا چھٹی ایک دن کی نہ ہوگی۔ ہم نے کہا بہت خوب۔ مولوی صاحب نے کہا کہ عید بقر عید کو بھی آنا پڑے گا۔ ہم نے کہا کہ بہت مناسب، کل کس وقت حاضر ہوں؟ مولوی صاحب تھوڑی دیر تک انگلیوں پر کچھ اپنے وقت کا حساب کرتے رہے، اس کے بعد کہا، ’’دوپہر کو ڈیڑھ بجے۔‘‘ ہم نے کہا، بہت خوب۔ چونکہ ان باتوں میں رات زیادہ ہو گئی تھی، اس لئے مولوی صاحب دکان سے اٹھے۔ ہم سب نے سلام کیا اور وہ و علیکم السلام کہتے ہوئے تشریف لے گئے۔\n\nیہاں میں یہ ضرور کہوں گا کہ سراج الدین صاحب وقتاً فوقتاً ہماری ہاں میں ہاں ملا کر اس فیصلے میں بڑی مدد کی۔ ہم دونوں بھی خوش خوش اٹھے اور سلام علیکم، و علیکم السلام کر کے دکان سے چلے۔ راستے میں دانی نے کہا، میاں مرزا! بڑے میاں نے مار ڈالا، بھئی گیارہ بجے کالج سے پڑھ کر نکلیں گے، کشمیری دروازے سے چل کر چوڑی والوں آتے آتے ساڑھے گیارہ بج جائیں گے۔ دم نہ لینے پائیں گے کہ مولوی صاحب کے ہاں چلنے کی تیاری کرنی پڑے گی۔ کہاں چاوڑی اور کہاں کھاری باولی، جون کامہینہ؟ کہیں راستے میں لو لگ کر ٹیں نہ ہو جائیں!\n\nمیں نے کہا، میاں دانی کچھ دنوں چل کر دیکھو، شاید مولوی صاحب کو رحم آ جائے مگر ان کو آخر تک رحم نہ آنا تھا، نہ آیا۔ لطف یہ ہے کہ جاڑوں میں صبح ساڑھے چھے بجے سے تعلیم کا وقت مقرر ہوا، لیکن ایمان کی بات ہے کہ مولوی صاحب ہی کی ہمت تھی جو وہ ہمارے پڑھانے کو تیار ہو گئے، بے چاروں کا ایک منٹ خالی نہ تھا اور انہوں نے جو وقت ہم کو دیا تھا، وہ اپنے آرام کے وقت میں سے کاٹ کر دیا تھا۔\n\nتقریباً دو برس تک ہم ان سے پڑھتے رہے، نہ ہم نے کبھی گرمی یا سردی کی شکایت کی اور نہ کبھی وقت بدلنے کا لفظ زبان پر لائے۔ نہ ان دو سال میں ایک دن ناغہ کیا۔\n\nیہاں تک کہ مولوی صاحب بھی ہمیشہ کہتے تھے کہ بیٹا، جب تم دونوں آتے ہو میرا دل خوش ہو جاتا ہے، کیوں کہ میں تم میں طالب علمی کی بو پاتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ تعلیم کس کو کہتے اور علم کیوں کر حاصل ہوتا ہے۔ جس طرح ہم نے پڑھا ہے کچھ ہمارا ہی دل جانتا ہے۔ اس زمانے کے لونڈوں پر اگر ایسی بپتا پڑے تو گھر چھوڑ کر بھاگ جائیں، مگر (میری طرف دیکھ کر) استاد! تم سے مجھے کچھ توقع نہیں، تم صرف بی اے پاس کرنے کی فکر میں ہو۔ دانی کو شوق ہے، یہ عربی میں ترقی کرے گا، مگر تم کورے کے کورے ہی رہو گے اور انشاء اللہ پانچ چھے ہی برس میں میری ساری محنت اکارت کر دوگے۔ خدا کے فضل سے ان کی یہ پیشین گوئی پوری ہوئی۔\n\nاس سے پہلے کہ مولوی صاحب کی ابتدائی تعلیم کا ذکر کروں، میں مولوی صاحب کی شکل و صورت، مکان کی حالت، ان کے رہنے سہنے کے طریقے اور ان کے مشاغل کا نقشہ کھینچ دینا مناسب خیال کرتا ہوں، تاکہ مولوی صاحب کے کیرکٹر کا صحیح اندازہ ہو سکے، لیکن سینو میٹو گرام کا یہ فلم چڑھانے سے قبل میں اپنے طرز بیان کے متعلق معافی مانگ لیتا ہوں، کیوں کہ میری شوخی بعض جگہ حد تجاوز سے بڑھ جائے گی، لیکن آپ تمام قارئین کرام کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر مولوی صاحب خود اپنی سوانح عمری لکھتے تو اسی رنگ میں لکھتے اور اگر آپ ان کی صحبت میں رہے ہوتے، تو آپ کو بھی ان کے حالات لکھتے وقت میری ہی طرح معافی مانگنی پڑتی، ورنہ آپ کی تحریر، بجائے مولوی نذیر احمد صاحب کی سوانح عمری کے، کسی ٹھوٹھ ملا کے بے لطف واقعات کا ایک مجموعہ ہو جاتی۔ خدا بہتر جانتا ہے کہ اس وقت بھی لکھتے لکھتے پنسل ہاتھ سے رکھ دیتا ہوں اور ایک عالم بے خودی مجھ پر چھا جاتا ہے۔\n\nمولوی صاحب کی کوئی بات نہ تھی جس میں خوش مذاقی کا پہلو نہ ہو۔ کوئی قصہ نہ تھا جس میں ظرافت کوٹ کوٹ کر نہ بھری ہو۔ کوئی طرز بیان نہ تھا جو ہنساتے ہنساتے نہ لٹا دے۔ وہ دوسروں کو ہنساتے تھے اور چاہتے تھے کہ دوسرے اپنی باتوں سے ان کو ہنسائیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم (اور خاص کر میں) مولوی صاحب کے سامنے بہت شوخ ہو گئے تھے، لیکن وہ طرح ہی نہیں دیتے تھے، بلکہ کہا کرتے تھے کہ مجھے مقطع اور مسمسے شاگردوں سے نفرت ہے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی صاحب یہ توقع رکھیں کہ میں مولوی صاحب کے حالات، متانت کا پہلو اختیار کر کے لکھوں، تو میں اس کا صرف یہی جواب دوں گا کہ ’’ہائے کم بخت! تونے پی ہی نہیں۔‘‘\n\nلیجئے، اب مولوی صاحب کا حلیہ سنیئے۔۔۔ رنگ سانولا مگر روکھا، قد خاصا اونچا تھا، مگر چوڑان نے لمبان کو دبا دیا تھا۔ دہرا بدن، گدرا ہی نہیں بلکہ مٹاپے کی طرف کسی قدر مائل۔ فرماتے تھے کہ بچپن میں ورزش کا شوق تھا۔ ورزش چھوڑ دینے سے بدن جس طرح مرمروں کا تھیلا ہو جاتا ہے، بس یہی کیفیت تھی۔ بھاری دن کی وجہ سے چونکہ قد ٹھنگنا معلوم ہونے لگا تھا س لیے اس کا تکملہ اونچی ترکی ٹوپی سے کر دیا جاتا تھا۔ کمر کا پھیر ضرورت سے زیادہ تھا۔ توند اس قدر بڑھ گئی تھی کہ گھر میں ازاربند باندھنا بھی بے ضرورت ہی نہیں، تکلیف دہ سمجھا جاتا تھاا ور محض ایک گرہ کو کافی خیال کیا گیا تھا۔ گرمیوں میں تہمد ( تہ بند) باندھتے تھے، اس کے پلو اڑسنے کی بجائے ادھر ادھر ڈال لیتے تھے۔ مگر اٹھتے وقت بہت احتیاط کرتے تھے۔ اول تو قطب بنے بیٹھے رہتے تھے اگر اٹھنا ہوتو پہلے اندازہ کرتے تھے کہ فی الحال اٹھنے کو ملتوی کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ضرورت نے بہت مجبور کیا تو ازار بند کی گرہ یا تہمد کے کونوں کو اڑسنے کا دباؤ توند پر ڈالتے تھے۔\n\nسر بہت بڑا تھا مگر بڑی حد تک اس کی صفائی کا انتظام قدرت نے اپنے اختیار میں رکھا تھا۔ جو تھوڑے رہے سہے بال تھے وہ اکثر نہایت احتیاط سے صاف کرا دیے جاتے تھے، ورنہ بالوں کی یہ کگر سفید مقیش کی صورت میں ٹوپی کے کناروں پر جھالر کا نمونہ ہو جاتی تھی۔ آنکھیں چھوٹی چھوٹی، ذرا اندر کو دھنسی ہوئی تھیں۔ بھنویں گھنی اور آنکھوں کے اوپر سایہ افگن تھیں۔ آنکھوں میں غضب کی چمک تھی۔ وہ چمک نہیں جو غصے کے وقت نمودار ہوتی ہے، بلکہ یہ وہ چمک تھی جس میں شوخی اور ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ اگر میں اس کو مسکراتی ہوئی آنکھیں کہوں تو بے جا نہ ہوگا۔\n\nکلہ جبڑا بڑا زبر دست پایا تھا۔ چونکہ دہانہ بھی بڑا تھا اور پیٹ کے محیط نے سانس کے لیے گنجائش بڑھا دی تھی، اس لئے نہایت اونچی آواز میں بغیر سانس کھینچے بہت کچھ کہہ جاتے تھے۔ آواز میں گرج تھی مگر لوچ کے ساتھ، کوئی دور سے جو سنے تو یہ سمجھے کہ مولوی صاحب کسی کو ڈانٹ رہے ہیں۔ لیکن پاس بیٹھنے والا ہنسی کے مارے لوٹ رہا ہو۔ جوش میں آکر جب آواز بلند کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ ترم بج رہا ہے، اسی لیے بڑے بڑے جلسوں پر چھا جاتے تھے اور پاس اور دور بیٹھنے والے دونوں کو ایک ایک حرف صاف صاف سنائی دیتا تھا۔\n\nناک کسی قدر چھوٹی تھی اور نتھنے بھاری، ایسی ناک کو گنواروں کی اصطلاح میں ’’گاجر‘‘ اور دلی والوں کی بول چال میں ’’پھلکی‘‘ کہا جاتا ہے۔ گو متانت چھو کر نہیں گئی تھی لیکن جسم کے بوجھ نے رفتار میں خود بہ خود متانت پیدا کر دی تھی۔ ڈاڑھی بہت چھدری تھی۔ ایک ایک بال بہ آسانی گنا جا سکتا تھا۔ کلے تو کبھی قینچی کے منت کش نہ ہوئے۔ البتہ ٹھوڑی پر کا حصہ کبھی کبھی ہموار کرا لیا جاتا تھا۔ ڈاڑھی کی وضع، قدرت نے خود فرنچ فیشن بنا دی تھی۔ بالوں میں ٹھوڑی اس طرح دکھائی دیتی تھی جیسے ایکس ریز (X- Rays) ڈالنے سے کسی بکس کے اندر کی چیز۔ ٹھوڑی چوڑی اور ان کے ارادے کے پکے ہونے کا اظہار کرتی تھی۔ گردن چھوٹی مگر موٹی تھی۔ لیجئے یہ ہیں، مولوی نذیر احمد خاں صاحب۔\n\nاب رہی لباس کی بحث تو اس کا بھی حال سن لیجئے۔ جنہوں نے ان کو شالی رومال باندھے، کشمیری جبہ یا ایل ایل ڈی کا گون پہنے دیکھا ہے انہون نے عالی جناب شمس العلماء مولوی حافظ ڈاکٹر نذیر احمد خاں صاحب ایل ایل ڈی مدظلہ العالی کو دیکھا ہے، مولوی نذیر احمد صاحب کو نہیں دیکھا۔ ان کے گھر کے اور باہر کے لباس میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ اگر ان کو روزانہ باہر نکلنے کا شوق نہ ہوتا تو لباس کی مدہی ان کے اخراجات کی فہرست سے نکل جاتی۔ جب شام کو گھر سے نکلتے تو عموماً ترکی ٹوپی یا چھوٹا سفید صافہ باندھ کر نکلتے تھے۔ گرمیوں میں نہایت صاف شفاف سفید اچکن اور سفید کرتا پائجامہ ہوتا اور جاڑوں میں کشمیرے کی ا چکن یا کشمیری کام کا جبہ۔\n\nچونکہ سراج الدین صاحب سے لین دین تھا س لئے لال نری کا سلیم شاہی جوتا زیادہ استعمال کرتے تھے۔ پھر بھی وقت بے وقت کے لیےدو انگریزی جوڑے لگا رکھے تھے جن پر میری یاد میں پالش ہونے کی کبھی نوبت نہ آئی۔ یہاں تک کہ دونوں سوکھ کر کھڑنک ہو گئے تھے۔ انہی کا پاؤں تھا کہ ان چینیوں کے سے سخت جوتوں کی برداشت کرتا تھا۔ جرابوں سے انہیں ہمیشہ نفرت تھی۔ گو دربار میں جانے کے لیے دو ایک جوڑیاں پاس رہتی تھیں۔\n\nیہ تو پبلک کے مولوی صاحب ہوئے، اب ہمارے مولوی صاحب کو دیکھئے۔ آئیے میرے ساتھ چوڑی والوں سے چلئے۔ چوڑی والوں سے نکل کر چاوڑی میں آئیے۔ الٹے ہاتھ کو مڑ کر قاضی حوض پر سے ہوتے ہوئے، سر کی والوں پر سے گزر کر لال کنویں پہنچئے۔ آگے بڑھیئے تو بڑیوں کا کٹرا ہے، وہاں سے آگے چل کر نئے بانس میں آئیے۔ یہ سیدھا راستہ کھاری باولی کو نکل گیا ہے۔ نکڑ سے ذرا ادھر ہی دائیں ہاتھ کو ایک گلی مڑی ہے۔ یہ بتاشے والوں کی گلی ہے۔ بتاشے بنتے ہوئے ہم نے سب سے پہلے یہیں دیکھے۔ یہاں اچار، چٹنیوں والوں کی بیسیوں دکانیں ہیں، انہی دکانوں کے بیچ میں سے ایک گلی سیدھے ہاتھ کو مڑی ہے، تھوڑی ہی دور جا کر بائیں طرف ایک پتلی سی گلی اس میں سے کٹ گئی ہے، اس گلی میں پہلا ہی مکان مولوی صاحب کا ہے۔\n\nمکان دو منزلہ ہے اور نیا بنا ہوا ہے۔ صفائی کی یہ حالت ہے کہ تنکا پڑا ہوا نظر نہیں آتا۔ دروازے کے باہر دونوں پہلوؤں میں دو سنگیں چوکیاں ہیں۔ دروازے کو عبور کرنے کے بعد صحن میں آتے ہیں، صحن کسی قدر چھوٹا ہے۔ سیدھی طرف دفتر ہے جہاں اکثر دو تین آدمی بیٹھے ہوئے کلام مجید پر حنا کیا کرتے ہیں۔ اس کے مقابل بائیں طرف باورچی خانہ ہے، چولہے بنے ہوئے ہیں، آگ جل رہی ہے مگر برتن اور ہنڈیاں وغیرہ جو باورچی خانے کا جزو لاینفک ہیں، سرے سے ندارد ہیں۔ آگ صرف حقے کے لیے سلگائی جاتی ہے، کھانا دوسرے گھر سے پک کر آتا ہے۔ دروازے کے بالکل سامنے اکہرا دالان ہے او راندر ایک لمبا کمرا۔ گرمی کا موسم ہے اور مولوی صاحب ایک چھوٹی سی میز کے سامنے بیٹھے کچھ لکھ رہے ہیں۔ کمرے کے دو دروازے بند ہیں، ایک کھلا ہے۔ باہر ایک بڑھیا پھونس چماری بیٹھی پنکھے کی رسی کھینچ رہی ہے۔\n\nہاں تو میں کیا تصویر دکھانا چاہتا تھا؟ مولوی صاحب کا لباس، مگر خدا کے فضل سے ان کے جسم پر کوئی لباس ہی نہیں ہے جس کا تذکرہ کیا جائے۔ نہ کرتا ہے نہ ٹوپی نہ پائجامہ، ایک چھوٹی سی تہمد برائے نام کمر سے بندھی ہوئی ہے۔ بندھی ہوئی نہیں ہے محض لپٹی ہوئی ہے لیکن گرہ کے جنجال سے بے نیاز ہے۔ کمرے میں نہایت اجلی چاندنی کا فرش ہے۔ ایک طرف پلنگ بچھا ہواہے کبھی اس پر چادر ہے کبھی نہیں ہے۔ سرہانے تکیہ رکھا ہے۔ مگر اس کی رنگت کا بیان احاطہ تحریر سے باہر ہے۔ البتہ جس گاؤ تکیے سے مولوی صاحب لگے بیٹھے ہیں وہ بہت صاف ہے۔ قالین بھی عمدہ اور قیمتی ہے۔ اگر مولوی صاحب کی حالت دیکھ کر آپ سوال کر بیٹھیں کہ ’’مولانا! ایں چہ کار است کہ کردہ ای؟‘‘ تو انشاء اللہ یہی جواب ملے گا کہ ’’محتسب را درون خانہ چہ کار۔‘‘\n\nجاڑوں میں مکان کے اوپر کے حصے میں رہتے تھے۔ چلئے وہاں کا بھی رنگ دکھا دوں۔ صدر دروازے سے ملا ہوا ہوا زینہ ہے۔ اور سیڑھیوں کے ختم ہونے پر غسل خانہ اور بیت الخلا ہے۔ اس کے بعد ایک دروازہ آتا ہے۔ دروازے سے گزر کر چھت پر آتے ہیں۔ سامنے ہی ایک کمرا ہے اوراس کے دونوں جانب کوٹھریاں۔ غسل خانے کے بالکل مقابل دوسری طرف ایک چھوٹا سا کمرہ ہے۔ آخر آخر میں مولوی صاحب یہیں رہا کرتے تھے۔ جس زمانے میں ہم پڑھتے تھے تو ان کی نشست سامنے والے بڑے کمرے میں تھی۔ یہاں بھی چاندنی کا فرش ہے، اس پر قالین، پیچھے گاؤ تکیہ۔ سامنے ایک چھوٹی نیچی میز، پہلو میں حقہ۔ اس کی حقیقت کما حقہ بیان کرنا مشکل ہے۔\n\nمولوی صاحب کو حقے کا بہت شوق تھا مگر تمباکو ایسا کڑوا پیتے تھے کہ اس کے دھویں کی کڑواہٹ بیٹھنے والوں کے حلق میں پھندا ڈال دیتی تھی۔ فرشی قیمتی تھی مگر چلم پیسے کی دو والی اور نیچہ تو خدا کی پناہ! اس کے تیار ہونے کی تاریخ لوگوں کے دلوں سے مدت کی محو ہو چکی تھی۔ ایک آدھ دفعہ ایک صاحب نے نیچا بدلنے کا ارادہ بھی کیا مگر مولوی صاحب نے نیچے کو جورو کا مترادف قرار دے کر ایسا سخت فقرہ کسا کہ بے چارے ٹھنڈے ہو کر رہ گئے۔\n\nخیر جاڑے کا موسم ہے۔ مولوی صاحب بیٹھے حقہ پی رہے ہیں اور پڑھا رہے ہیں۔ سر پر کنٹوپ ہے، مگر بڑا دقیانوسی کبھی کانوں کو ڈھکے ہوئے اور ڈوریاں نیچے لٹکتی ہوئیں، کبھی اس کے دونوں پاکھے اوپر کی طرف سیدھے کھڑے ہو کر لاٹ پادری کی ٹوپی کا نمونہ بن جاتے اور ڈوریاں طرے کا کام دیتیں۔ کبھی پاکھوں کو سر پر اوپر تلے ڈوریوں سے کس دیا جاتا اور اس طرح کنٹوپ، فلٹ کیپ کی شکل اختیار کر لیتا۔ جسم پر روئی کی مرزئی، مگر ایسی پرانی کہ اس کی روئی کی گرمی مدت سے مائل بہ سردی ہو چکی ہے۔ اوپر صندلی رنگ کا ڈھسا پڑا ہوا۔ لیجئے دیکھا آپ نے ہمارے مولوی صاحب کو!\n\nچار بجے اور مولوی صاحب نے آواز دی! پانی تیار ہے؟ جواب ملا، جی ہاں۔ مولوی صاحب غسل خانے میں گئے، کپڑے بدل (یا یوں کہو کہ جون بدل) باہر نکل آئے اور چلے ٹاؤن ہال کو۔ اب یہ ہمارے مولوی صاحب نہیں رہے، آپ کے مولوی صاحب ہو گئے۔\n\nگھر میں اس لباس سے استغنا کے کئی باعث تھے۔ اول تو یہ بات تھی کہ ان کواپنے کاموں ہی سے فرصت نہ تھی، پڑھنے پڑھانے اور لکھنے لکھانے میں ان کا سارا دن گزر جاتا تھا۔ دوسرے یہ کہ وہ بہت کم لوگوں سےمکان پر ملتے تھے۔ جس کو ملنا ہوتا تھا شام کو ٹاؤن ہال کی لائبریری میں ان سے جا کر مل آتا تھا۔ جو لوگ مکان پر آتے تھے، وہ یا تو ان کے شاگرد ہوتے تھے یا خود صاحب کمال اور ظاہر ہے کہ ایسے صحاب کمال لوگ ظاہری حالت کو نہیں دیکھتے، یہ دیکھتے ہیں کہ مولوی صاحب ہیں کتنے پانی میں۔ لباس سے اس بے اعتنائی کی تیسری وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے گھر کو اپنا گھر سمجھتے تھے کسی دوسرے کا دولت خانہ نہیں جانتے تھے۔ ان کو جس طرح آرام ملتا اسی طرح رہتے۔ جی چاہتا پہنتے، نہ جی چاہتا نہ پہنتے، البتہ جب باہر جاتے تو ’کھائے من بھاتا، پہنے جگ بھاتا‘‘ پر عمل کرتے۔ اصل عالم تو گھر پر تھے۔ باہر نکل کر ظاہری عالم بھی بن جاتے۔\n\nسب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ گھر میں کوئی عورت نہ تھی جو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتی، یا کم سے کم ان کا کنٹوپ، مرزئی یا سرہانے کے تکیے کا غلاف تو بدل دیا کرتی۔ گھر میں تھا کون، ایک مولوی صاحب، دوسرا ایک کانڑا ٹٹو، بدھو نفر، ان کا نوکر خدا بخش۔ وہ بھی ایسابے پروا کہ خدا کی پناہ! ظالم نے بہرا بن کر کام سے اور اپنا پیچھا چھڑا لیا تھا۔ مولوی صاحب کی آواز جس سے مردے قبر میں چونک پڑیں، اس کو کبھی نہ سنائی دی اور جب تک کسی نے جا کر اس کا شانہ نہ ہلایا، اس نے ہمیشہ سنی کو ان سنی کر دیا۔\n\nالبتہ حقے کے معاملے میں بڑا تیز تھا۔ یا تو اس کو یہ خیال تھا کہ حقے بغیر مولوی صاحب کے ہاں گزارا ہونا مشکل ہے، یا یہ وجہ تھی کہ تمباکو زیادہ صرف کرنے میں اس کو دو ایک پیسے روز مل جاتے تھے۔ غرض یہ حال تھا کہ حقہ پورا سلگا بھی نہیں کہ وہ چلم اٹھا کر چلا۔ مولوی صاحب ’’ہاں ہاں‘‘ کرتے ہی رہے، اس نے جا چلم الٹ دی، دوسرا سلفہ رکھ، آگ بھر، چلم حقے پر لا کر رکھ دی۔ توا گرم، حقہ بھڑک گیا۔ میاں نوکر صاحب کو پھر بلا کر توا ٹھنڈا کرنے اور چلم بھروانے کی ضرورت پیش آئی۔ غرض سارے دن ان کا یہی کام تھا اور وہ اس میں خوش اور بہت مگن تھے۔\n\nجرمنی کے مشہور فلسفی کانٹ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ وقت کاا س قدر پابند تھا کہ لوگ اس کو دیکھ کر اپنی گھڑیاں ٹھیک کر لیتے تھے۔ بعض یورپ پرست اس کی پابندی اوقات کو یورپ والوں کا ہی حصہ خیال کریں تو خیال کریں، میں تو یہ کہتا ہوں کہ صرف دہلی میں میں نے تین ایسے شخص دیکھے ہیں جو آندھی آئے، مینہ آئے، روزانہ چھے بجے ٹاؤن ہال کی لائبریری میں آتے تھے۔ ادھر انہوں نے لائبریری کے دروازے میں قدم رکھا، ادھر گھنٹا گھر نے ٹن ٹن چھے بجائے۔ لطف یہ ہے کہ ان میں سے ایک مشرق میں رہتا تھا تو دوسرا مغرب میں۔ یہ تین شخص کون تھے، ایک منشی ذکاء اللہ صاحب، دوسرے رائے بہادر پیارے لال صاحب اور تیسرے مولوی صاحب۔\n\nایک چیلوں کے کوچے سے آتا تھا، دوسرا دریبے سے اور تیسرا کھاری باولی سے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک نے آ کر دوسرے کا انتظار کیا ہو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک نہ آتا تو ایک ہی نتیجہ نکل سکتا تھا کہ نہ آنے والا ایسا بیمار ہے کہ چلنا دشوار ہے اور یہ نتیجہ کبھی غلط ثابت نہیں ہوا۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا او رکانوں سے سنا ہے کہ اگر کسی شخص کو ان تینوں میں سے کسی سے ملنا ہوتا اور چھے بجے سے ذرا پہلے لائبریری کے کسی ملازم سے جا کر دریافت کرتا تو یہی جواب ملتا کہ اب آتے ہی ہوں گے، چھے میں دو ہی منٹ تو رہ گئے ہیں۔\n\nدوسرے دو صاحبوں کا ٹائم ٹیبل تو مجھے معلوم نہیں البتہ مولوی صاحب کی مصروفیتوں کا حال لکھتا ہوں۔ ان کے اس نظام اوقات میں گرمی اور جاڑے کے لحاظ سے کچھ کچھ تغیر ہو جاتا تھا۔ وہ ہمیشہ بہت سویرے اٹھنے کے عادی تھے۔ گرمیوں میں اٹھتے ہی نہاتے اور ضروریات سے فارغ ہو کر نماز پڑھتے۔ ان کی صبح کی اور عصر کی نماز کبھی ناغہ نہ ہوتی تھی، باقی کا حال اللہ کو معلوم ہے نہ میں نے دریافت کیا اور نہ مجھ سے کسی نے کہا۔ صبح کی نماز پڑھ کر کچھ تلاوت کرتے۔ ادھر ذرا دن چڑھا ادھر مولویوں کی جماعت اور خود مولوی صاحب کا ناشتا داخل ہوا۔ اس جماعت میں بخارا، کابل سرحد وغیرہ کے لوگ تھے۔\n\nان کی تعداد کوئی 15، 16 تھی۔ محنت ایسی کرتے تھے کہ دوسرا کرے تو مرجائے، لیکن ٹھوٹھ ایسے تھے کہ مولوی صاحب بھی زچ ہو جاتے تھے۔ خوش مذاقی تو انہیں چھوکر نہیں گئی تھی۔ خود مذاق کرنا تو کجا، دوسرے کا مذاق بھی نہیں سمجھ سکتے تھے۔ متانت اور ادب کا یہ حال تھا کہ آنکھ اٹھا کر صاحب کو دیکھنا سوء ادبی سمجھتے تھے۔ اب ان کے وہ عمامے اونچے اونچے، یہ یہ لمبی ڈاڑھیاں دیکھو اور مولوی صاحب کی حالت کا اندازہ کرو، بچارے ناشتا کرتے جاتے تھے اور اپنا فرض اتارتے جاتے تھے۔ عالم تھے، دوسروں کو عالم بناتے تھے، لیکن کہا کرتے تھے کہ ان فتح پوری کے ملانوں کو پڑھا کر میرا دل بیٹھ جاتا ہے۔ کیا کہوں ’’میں ہوں ہنسوڑ اور تو ہے مقطع، میرا تیرا میل نہیں‘‘ کا نقشہ ہے۔\n\nیہ جماعت اٹھی اور مولوی رحیم بخش صاحب آ نازل ہوئے۔ کاغذوں کا مٹھا بغل میں، ہاتھ میں پنسل، کان میں قلم۔ ادھر فتح پوری کی جماعت نے کمرے سے قدم نکالا، ادھر انہوں نے کمرے میں قدم رکھا۔ اب سلسلہ تصنیف و تالیف شروع ہوا۔ چونکہ آخر میں مولوی صاحب کے ہاتھ میں رعشہ آ گیا تھا اس لئے لکھوانے کا کام اکثر انہیں سے لیا جاتا تھا۔ سب سے پہلے کلام مجید اور حمائل شریف کی کاپیوں کی صحت کی جاتی۔ اس کے بعد مطبع کا حساب دیکھا جاتا اور پھر جدید تصنیفات کا سلسلہ شروع ہوتا۔ یہ کام سمیٹتے سمیٹتے ساڑھے گیارہ، پونے بارہ بج جاتے۔ رحیم بخش صاحب کےاٹھتے ہی کھانا آتا۔ کھانا کھایا پلنگ پر لیٹ گئے۔ ادھر ڈیڑھ بجا اور ادھر ہم دونوں داخل ہوئے۔ ہمارا قدم رکھنا تھا کہ مولوی صاحب اٹھ بیٹھے، سارھے تین بجے تک ہم سے سر مغزنی کرتے رہے۔ اگر کوئی دلچسپ بحث یا قصہ چھڑ گیا تو چار بج گئے۔\n\nچار بجے اور مولوی صاحب غسل خانے میں گئے۔ نہائے دھوئے، کپڑے پہن نکل کھڑے ہوئے۔ پہلے شمس العارفین کی دکان پر ٹھہرے۔ یہاں بھی ان کا حساب کتاب تھا۔ وہاں کا کھاتا دیکھا، جو کچھ لینا دینا تھا، لیا دیا اور سیدھے ٹاؤن ہال کی لائبریری میں پہنچ گئے۔ سات بجے تک وہاں ٹھہرے، جس کو ملنا ہوا، وہ وہاں مل لیا۔ سات بجے وہاں سے اٹھ کر سراج الدین صاحب کی دکان پر آئے۔ یہاں بھی حساب کتاب کیا، عبد الرحمان کو پڑھایا۔ گھنٹا بھر یہاں ٹھہر کر مکان پہنچ گئے۔ کھانا کھایا، کچھ لکھا پڑا اور دس بجے سو رہے۔ جاڑے میں پروگرام میں یہ تبدیلی ہو جاتی تھی کہ پہلے صبح ہی صبح ہم پہنچتے تھے، اس کے بعد مولویوں کی جماعت آتی تھی۔ رحیم بخش صاحب کا نمبر سہ پہر میں آتا تھا۔\n\nخوش خوراک تھے اور مزے لے لے کر کھانا کھاتے تھے۔ ناشتے میں دو نیم برشت انڈے ضرور ہوتے تھے۔ میوے کا بڑا شوق تھا۔ ناشتے اور کھانے کے ساتھ میوے کا ہونا لازم تھا۔ پڑھاتے جاتے تھے، مگر مجھ کو ایک حسرت رہ گئی کہ کبھی شریک طعام نہ ہو سکا۔ خیر ان پٹھانوں کی جماعت کی تو کیا صلا کرتے۔ ان کے لئے تو مولوی صاحب کا ناشتہ، اونٹ کے منہ میں زیرہ ہو جاتا، البتہ ہم دونوں کی صلا نہ کرنا غضب تھا۔ کہتے بھی جاتے تھے، بھئی کیا مزے کا خربوزہ ہے! میاں، کیا مزے کا آم ہے! مگر بندہ خدا نے کبھی یہ نہ کہا کہ بیٹا ذرا چکھ کر تو دیکھو یہ کیسا ہے۔ میں نے تو تہیہ کر لیا تھا (میاں دانی اب انکار کریں تو کریں، لیکن ان کا بھی یہی ارادہ تھا) کہ مولوی صاحب اگر جھوٹے منہ بھی شریک ہونے کو کہیں، تو ہم سچ مچ شریک ہو جائیں۔\n\nمولوی صاحب کو مسلمانوں میں تجارت پھیلانے کا شوق تھا اور اس غرض کے حاصل کرنے میں ان کو مالی مدد دینے میں کبھی انکار نہ ہوتا تھا۔ بے دریغ روپیہ دیتے تھے اور اکثر بڑی بڑی رقمیں ڈبو بیٹھتے تھے۔ کہا کرتے تھے، ’’میاں! میں سچ کہتا ہوں کہ اس تجارت کے شوق میں تین لاکھ روپے کھو بیٹھا ہوں۔ پھر بھی جوکچھ مجھے بعض کھرے دکان داروں سے فائدہ پہنچا ہے اس نے میرے نقصان کی تلافی ہی نہیں کردی بلکہ کچھ نفع ہی پہنچا دیا۔ بیٹا! تم بھی تجارت کرو، روپیہ میں دیتا ہوں۔ نوکری کی کھکھیڑ اٹھاؤ گے، تو مزا معلوم ہوگا۔‘‘\n\nجس طرح روپیہ دل کھول کر دیتے تھے اسی طرح حساب بھی بڑی سختی سے لیتے تھے۔ گرمی ہو یا جاڑا، دھوپ ہو یا مینہ، قرض داروں کے ہاں ان کا روزانہ چکر نہیں چھوٹتا تھا۔ گئے اور جاتے ہی پہلے غلق پر قبضہ کیا، اس کے بعد کھاتا دیکھا، کِروی دیکھی۔ سامان دیکھ کر بکری کا اندازہ کیا، روپیہ جیب میں ڈالا، سلام علیکم وعلیکم السلام کیا اور چل دیے۔\n\nدوسرے دوکاندار کے پاس پہنچے اور وہاں بھی وہی پہلا سبق دہرایا۔ کوڑی کوڑی کا حساب دیکھتے، اعتراضوں کی بوچھاڑ سے پریشان کرتے اور کہتے جاتے، ’’بھئی، حساب جو جو، بخشش سو سو۔‘‘ فقرے کے پہلے جزو سے تو بچاروں کو روزانہ واسطہ پڑتا، لیکن دوسرے جزو کا دیکھنا کبھی کسی کو نصیب نہ ہوا۔ یہ ضرور ہے کہ اگر واقعی بازار کے مندا ہونے یا کسی اور وجہ سے ان کے کسی قرض دار کا نقصان ہو جاتا یا دیوالیہ نکل جاتا، تو پھر اس قرضے کا ذکر زبان پر نہ لاتے۔\n\nان کو خیال تھا کہ دہلی کے پنجابی تجارت کو خوب سمجھتے ہیں، ان کو دل کھول کر روپیہ دیتے تھے اور اکثر انہیں کے ہاتھوں نقصان اٹھاتے تھے۔ مثال کے طور پر ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ ایک صاحب جن کا نام ظاہر کرنا مناسب نہیں، مولوی صاحب کے پاس آئے۔ تجارت کا ذکر چھیڑا اور مولوی صاحب کو ولایتی جوتوں کے فائدے کے وہ سبز باغ دکھائے کہ تیسرے ہی روز بلا کسی طمانیت کے، گیارہ ہزار روپے کا چک مولوی صاحب نے ان کے نام لکھ دیا۔ بڑے ٹھاٹھ سے سنہری مسجد کے قریب دکان کھولی گئی۔ مولوی صاحب جاتے، گھڑی دو گھڑی وہاں بیٹھتے، دکاندار صاحب کی لچھے دار باتیں سنتے، چلتے وقت کچھ روپے جیب میں ڈالنے کو مل جاتے، اس لئے خوش خوش بغیر حساب کتاب کئے گھر آ جاتے۔ یہی ٹھوکر تھی جس نے مولوی صاحب کو چوکنا کر دیا ور وہ بغیر حساب کتاب دیکھے، روپے کو ہاتھ لگانا گناہ سمجھتے تھے۔\n\nقصہ مختصر، اصل میں سے دو ڈھائی ہزار روپیہ مولوی صاحب کو تھما، اس نے دیوالیہ نکال دیا۔ قرقی ہوئی، مال نیلام چڑھا اوراس میرے یار نے کل سامان دوسروں کے ذریعے خود خرید لیا۔ مولوی صاحب کو اس چال کی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ اس کے بعد آیا، بہت رویا، بہت ٹسوے بہائے۔ مولوی صاحب سمجھے بچارے کو بڑا رنج ہوا۔ کہا، جاؤ بھئی جاؤ، تجارت میں یہی ہوتا ہے، یا اس پار یا اس پار۔ چلو گئی گزری بات ہوئی۔\n\nایک روز خدا کا کرنا کیا ہوتا ہے کہ یہ چاوڑی میں جا رہے تھے، کچھ جھٹپٹا ہوا تھا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ دکاندار صاحب خوب پیے ہوئے، عطر میں بسے، پھولوں کا کنٹھا گلے میں ڈالے، ایک رنڈی کا ہاتھ پکڑے، کوٹھے سے اترے اور آکر ایک کھلی گاڑی میں سوار ہوئے۔ مولوی صاحب نے جو یہ رنگ دیکھا و وہیں ٹھٹک گئے۔ اتنے میں انہوں نے بھی مولوی صاحب کو دیکھا، بہت مسکرا کر سلام کیا، رنڈی نے چپکے چپکے کچھ دریافت کیا، تو ایک قہقہہ لگایا اور اونچی آواز میں کہا، ’’یہ سب کچھ مولوی صاحب ہی کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔‘‘ مولوی صاحب کے آگ لگ گئی۔ دوسرے ہی دن نالش ٹھونک دی اور آخر ٹھکانے لگا کر دم لیا۔ لوگوں نے سفارشیں بھی کیں، انہوں نے خود بھی آ کر بہت کچھ توبہ تلا کی لیکن یہ نہ ماننا تھا نہ مانے اور آخر جب اس کو کھک کر دیا، اس وقت ان کو چین آیا۔\n\nدین لین سب کچھ کرتے تھے مگر حساب کتاب صرف دوسروں کی کتابوں یا ان کے دل میں تھا، کچھ تھوڑا بہت، لوگوں کے کہنے سننے سے متفرق پرچوں پر لکھ بھی لیا تھا لیکن اتنے بڑے بیوپار کے لئے جیسا دفتر چاہئے، وہ انہوں نے نہ رکھنا تھا نہ رکھا۔ سود لینا وہ جائز سمجھتے تھے۔ اگر کوئی حجت کرتا تو مارے تاویلوں کے اس کا ناطقہ بند کر دیتے۔ ایک تو حافظ دوسرے عالم، تیسرے لسان، بھلا ان سے کون اور آ سکتا تھا۔ اور تو اور خود مجھ سے سود لینے کو تیار ہو گئے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم پر متفرق قرضے تھے، خیال آیا کہ ایک جگہ سے قرض لے کر سب کو ادا کر دیا جائے۔ قرضہ کس سے لیا جائے یہ ذرا ٹیڑھا سوال تھا۔ ہر پھر کر مولوی صاحب ہی پر نظر جاتی تھی۔ آخر ایک دن جی کڑا کر کے میں نے مولوی صاحب سے سوال کر ہی دیا۔ کہنے لگے، کتنا روپیہ چاہئے؟ میں نے کہا، بارہ ہزار۔ بولے، ضمانت؟ میں نے کہا، چوڑی والوں والا مکان۔ پوچھا، کتنی مالیت کا ہے؟ میں نے کہا، کوئی ساٹھ ستر ہزار روپے کا۔ فرمایا، کل قبالہ لیتے آنا۔ میں نے دل میں سوچا، چلو چھٹی ہوئی، بڑی جلدی معاملہ پٹ گیا۔\n\nدوسرے دن قبالہ لے کر پہنچا۔ پڑھ کر کہا، ٹھیک ہے، مگر بیٹا سود کیا دوگے؟ میں نے کہا، مولوی صاحب آپ اور سود؟ کہنے لگے، کیوں، اس میں کیا ہرج ہے؟ میں نہ دوں گا تو کسی ساہوکار سے لوگے، اس کو خوشی سے سود دوگے۔ ارے میاں! مجھے کچھ فائدہ پہنچاؤ گے تو دین دنیا دونوں میں بھلا ہوگا۔ آخر میں تمہارا استاد ہوں یا نہیں! میرا بھی کچھ حق تم پر ہے یا نہیں؟ جاؤ شاباش بیٹا! اپنے چچا سے جا کر تصفیہ کر آؤ، کل ہی چک بنگال بنک کے نام لکھے دیتا ہوں۔ میں نے کہا، مولوی صاحب! لوگ کیا کہیں گے کہ مولوی ہو کر سود لیتے ہیں، اور لیتے ہیں کس سے، اپنے شاگردوں سے۔ کہنے لگے، اس کی پروا نہ کرو۔ جب مجھ پر کفر کا فتویٰ لگ چکا ہے تو اب مجھے ڈر ہی کیا رہا، جاؤ تمہارے ساتھ یہ رعایت کرتا ہوں کہ اوروں سے روپیہ سیکڑا لیتا ہوں، تم سے چودہ آنے لوں گا۔\n\nمیں نے آ کرگھر میں ذکر کیا۔۔۔ ہم کو دوسری جگہ سے آٹھ آنے سیکڑے پر روپیہ مل گیا، اس لئے یہ معاملہ یوں کا یوں ہی رہ گیا۔\n\nلیجئے، یہ قصہ تو سنا چکا، اب اصل کہانی کی طرف رجوع کرتا ہوں اور مولوی صاحب کی ابتدائی تعلیم کے واقعات جو ان کی زبانی سنے تھے، بیان کرتا ہوں۔\n\nایک روز مولوی صاحب معلقات پڑھا رہے تھے، عمر بن کلثوم کا قصیدہ تھا، جب اس شعر پر پہنچے،\n\nابا ہند فلا تعجل علینا\n\nوانظرنا نخبرک الیقینا\n\nتو بہت ہنسے، کتاب رکھ دی اور ہنستے ہنستے لوٹ گئے۔ ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ الہی یہ کیا ماجرا ہے! شعر میں تو کوئی ہنسی کی بات نہیں پھر مولوی صاحب کو یہ کیا مرض اٹھا ہے۔ آخر جب ہنسنے کا ذرا زور کم ہوا، تو وجہ دریافت کی۔ مولوی صاحب پھر ہنسنے لگے۔ تھوڑی دیر کے بعد سنبھل کر بولے، میاں! بعض شعر قصہ طلب ہوتے ہیں۔ یہ شعر میری زندگی کے قصے کا آغاز ہے۔ اچھا لو، سناتا ہوں مگر پہلے تمہید سن لو۔\n\nبھئی ہم بہت غریب لوگ تھے، نہ کھانے کو روٹی نہ پہننے کو کپڑا۔ تعلیم کا شوق تھا اس لیے پھرتا پھراتا پنجابیوں کے کٹرے کے مسجد میں ٹھہر گیا۔ یہاں کے مولوی صاحب بڑے عالم تھے، ان سے پڑھتا اور توکل پر گزارا کرتا۔ مولوی صاحب کے دو چار شاگرد اور بھی تھے، انہیں بھی پڑھاتے تھے، مجھے بھی پڑھاتے۔ دن رات پڑھنے کے سوا کچھ کام نہ تھا۔ تھوڑے دنوں میں کلام مجید پڑھ کر میں نے ادب پڑھنا شروع کیا۔ چار پانچ برس میں معلقات پڑھنے لگا۔ گو عمر میری بارہ سال کی تھی، مگر قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے نو دس برس کامعلوم ہوتا تھا۔\n\nپڑھنے کے علاوہ میراکام روٹیاں سمیٹنا بھی تھا۔ صبح ہوئی اور میں چھڑی ہاتھ میں لے کر گھر گھر روٹیاں جمع کرنے لگا۔ کسی نے رات کی بچی ہوئی دال ہی دے دی، کسی نے قیمے کی لگدی ہی رکھ دی، کسی نے دو تین سوکھی روٹیوں ہی پر ٹرخایا، غرض رنگ برنگ کا کھانا جمع ہو جاتا۔ مسجد کے پاس ہی عبد الخالق صاحب کا مکان تھا، اچھے کھاتے پیتے آدمی تھے۔ انہیں کے بیٹے ڈپٹی عبد الحامد صاحب ہیں جو سامنے والے مکان میں رہتے ہیں۔ ان کے ہاں میرا قدم رکھنا مشکل تھا۔ ادھر میں نے دروازے میں قدم رکھا، ادھر ان کی لڑکی نے ٹانگ لی۔ جب تک سیر دو سیر مسالا مجھ سے نہ پسوا لیتی، نہ گھر سے نکلنے دیتی، نہ روٹی کا ٹکڑا دیتی۔ خدا جانے کہاں سے محلے بھر کا مسالا اٹھا لاتی تھی۔ پیستے پیستے ہاتھوں میں گٹے پڑ گئے تھے۔ جہاں میں نے ہاتھ روکا، اس نے بٹا انگلیوں پر مارا، بہ خدا جان سی نکل جاتی تھی۔ میں نے مولوی صاحب سے کئی دفعہ شکایت بھی کی مگر انہوں نے ڈال دیا۔ خبر نہیں مجھ سے کیا دشمنی تھی، چلتے چلتے تاکید کر دیا کرتے تھے کہ عبد الخالق صاحب کے مکان میں ضرور جانا۔\n\nبہر حال مارا دھاڑی روز وہاں جانا پڑتا اور روز یہی مصیبت جھیلنی پڑتی۔ تم سمجھے بھی کہ یہ لڑکی کون تھی؟ میاں! یہ لڑکی وہ تھی جو بعد میں ہماری بیگم صاحبہ ہوئیں۔ جب سوچتا ہوں تو پچھلا نقشہ آنکھوں میں پھر جاتا ہے اور بے اختیار ہنسی آ جاتی ہے۔ اکثر ہم دونوں پہلی باتوں کو یاد کر کے خوب ہنستے تھے۔ خدا غریق رحمت کرے۔ جیسی بچپن میں شریر تھیں، ویسی ہی جوانی میں غریب ہو گئیں۔ ان کے مرنے کے بعد ہماری تو زندگی کا مزا جاتا رہا۔ بھئی دیکھنا، میں نے کیسے مزے کی تاریخ کہی ہے! اس کے بعد انہوں نے عربی کے چار پانچ اشعار کا قطعہ سنایا، مادہ تاریخ لہا غفر تھا۔ میں نے بڑی زور سے ’اوں ہوں‘ کی۔ بگڑ کر میری طرف دیکھا اور کہا، آپ کو اس پر کوئی اعتراض ہے؟ میں نے عرض کی، جی نہیں، لیکن اس قطعے کو سن کر مجھے دبیر کی ایک رباعی یاد آ گئی، کیا خوب لکھی ہے، فرماتے ہیں،\n\nہم شان ِنجف نہ عرش ِانور ٹھہرا\n\nمیزاں میں یہ بھاری، وہ سبک تر ٹھہرا\n\nاس پلے میں تھا نجف اور اس پلے میں عرش\n\nپہنچا وہ فلک پر، یہ زمین پر ٹھہرا\n\nبڑے غور سے سنتے رہے، پھر کہنے لگے، یہ تو بے معنی ہے۔ نجف کی جگہ دنیا کی جس چیز کو رکھ دو، اس سے یہ رباعی متعلق ہو جائے گی اور وہ عرش سے بھاری ثابت ہوگی۔ میں نے عرض کی کہ آپ کے قطعے کو اس سال میں مرنے والی جس عورت سے متعلق کر دو، متعلق ہو جائے گا۔ اس تاریخ میں خوبی ہی کیا ہے۔ اول تو ایسی عام تاریخیں کچھ قابل تعریف نہیں ہوتیں۔ دوسرے سر سید کی تاریخ انتقال غفر لہ پر آپ نے صرف الف کا اضافہ کر کے اس کا پنا مال کر لیا ہے۔ مسکرا کر کہنے لگے، اچھا بھئی تو ہی سچا سہی، اب اس جھگڑے کو چھوڑ و اور میری اصل کہانی کو لو۔\n\nہاں تو فرصت کے وقت ہم دہلی کی گلیوں کا چکر لگاتے، کبھی کبھی کشمیری دروازے کی طرف بھی نکل جاتے۔ ایک روز جو کشمیری دروازے کی طرف گیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ دہلی کالج میں بڑا ہجوم ہے۔ کالج وہاں تھا جہاں اب گورنمنٹ اسکول ہے۔ میں بھی بھیڑ میں گھس گیا۔ معلوم ہوا کہ لڑکوں کا امتحان لینے مفتی صدر الدین صاحب آئے ہوئے ہیں۔ ہم نے کہا، چلو، ہم بھی دیکھیں۔ بر آمدے میں پہنچا، قد چھوٹا تھا، لوگوں کی ٹانگوں میں سے ہوتا ہوا، گھس گھسا کر کمرے کے دروازے تک پہنچ ہی گیا۔ دیکھا کہ کمرے کے بیچ میں میز بچھی ہے، اس کے سامنے کرسی پر مفتی صاحب بیٹھے ہیں۔ ایک ایک لڑکا آتا ہے، اس سے سوال کرتے ہیں اور سامنے کاغذ پر کچھ لکھتے جاتے ہیں۔ میز کے دوسرے پہلو کی کرسی پر ایک انگریز بیٹھا ہے، یہ مدرسے کے پرنسپل صاحب تھے۔\n\nتماشے میں محو تھا کہ صاحب کسی کام کے لئے اٹھے، چپراسیوں نے رستہ صاف کرنا شروع کیا۔ جو لوگ دروازہ روکے کھڑے تھے، وہ کسی طرح پیچھے نہ ہٹتے تھے، چپراسی زبر دستی ڈھکیل رہے تھے۔ غرض اس دھکا پیل میں میرا قلیہ ہو گیا۔ دروازے کے سامنے سنگ مرمر کا فرش تھا، اس پر میرا پاؤں رپٹا اور دھم سے گرا۔ اتنی دیر میں پرنسپل صاحب بھی دروازے تک آ گئے تھے۔ انہوں نے جو مجھے گرتے دیکھا، تو دوڑ کر میری طرف بڑھے، مجھے اٹھایا، پوچھتے رہے کہ کہیں چوٹ تو نہیں آئی۔ ان کی شفقت آمیز باتیں اب تک میرے دل پر کالنقش فی الحجر ہیں۔\n\nباتوں باتوں ہی میں پوچھا، میاں صاحب زادے کیا پڑھتے ہو؟ میں نے کہا، معلقات۔ ان کو بڑا تعجب ہوا۔ پھر پوچھا، میں نے پھر وہی جواب دیا۔ میری عمر پوچھی۔ میں نے کہا مجھے کیا معلوم۔ وہ میرا ہاتھ پکڑ بجائے اپنے کام کو جانے کے، سیدھا مجھ کو مفتی صاحب کے پاس لے گئے اور کہنے لگے، مفتی صاحب! یہ لڑکا کہتا ہے میں معلقات پڑھتا ہوں، ذرا دیکھئے تو سہی، سچ کہتا ہے یا یوں ہی باتیں بناتا ہے۔ مفتی صاحب نے کہا، تو کیا پڑھتا ہے؟ میں نے کہا، معلقات۔ کہنے لگے، کہاں پڑھتا ہے؟ میں نے کہا، پنجابیوں کے کٹرے کی مسجد میں۔ پھر کہا معلقات دوں، پڑھے گا؟ میں نے کہا لائیے۔ انہوں نے میز پر سے کتاب اٹھائی، میرے ہاتھ میں دی اور کہا یہاں سے پڑھ۔ جس شعر پر انہوں نے انگلی رکھی تھی، وہ یہی شعر تھا،\n\nابا ہند فلا تعجل علینا\n\nوانظر نا نخبرک الیقینا\n\nمیں نے پڑھا، معنی بیان کئے۔ انہوں نے ترکیب پوچھی، وہ بیان کی۔ میاں دانی! تمہاری طرح میں نے شعر نہیں پڑھا تھا۔ اور میاں فرحت! تمہاری طرح ترکیب نہیں کی تھی (مولوی صاحب کا یہ اشارہ ہماری کمزوریوں کی طرف تھا، اس کا ذکر آئندہ آئے گا۔) مفتی صاحب بہت چکرائے، پوچھنے لگے، تجھ کو کون پڑھاتا ہے؟ میں نے کہا، مسجد کے مولوی صاحب۔ کہا، مدرسے میں پڑھے گا؟ میں نے کہا ضرور پڑھوں گا۔ مفتی صاحب نے قلم اٹھایا، کاغذ پر چند سطریں لکھیں اور پرنسپل صاحب کو دے کرکہا، اس کو پریسیڈنٹ صاحب کے پاس پیش کر دینا۔ ہم وہاں سے نکل کر اپنے گھر آئے، مولوی صاحب سے کچھ نہ کہا۔\n\nکوئی سات آٹھ روز کے بعد کالج کا چپراسی مولوی صاحب کے پاس آ، ایک کاغذ دے گیا، اس میں لکھا تھا کہ نذیر احمد کو کالج میں داخل کرنے کی اجازت ہو گئی ہے، کل سے آپ اس کو کالج میں آنے کی ہدایت کر دیجئے، اس کا وظیفہ بھی ہو گیا ہے۔ چپراسی تو یہ حکم دے چلتا بنا، مولوی صاحب نے مجھ کو بلایا، خط دکھایا، پوچھا، یہ کیا معاملہ ہے؟ میں نے کچھ جواب نہ دیا۔ جب ذرا سختی کی، تو تمام واقعہ بیان کیا۔ وہ بہت خوش ہوئے اور دوسرے روز لے جا میرا ہاتھ پرنسپل صاحب کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس زمانے میں سید احمد خاں فارسی کی جماعت میں، منشی ذکاء اللہ حساب کی جماعت میں اور پیارے لال انگریزی کی جماعت میں پڑھتے تھے۔ میں عربی کی جماعت میں شریک ہوا۔ ایک تو شوق، دوسرے پڑھانے والے ہوشیار، تیسرے ایک مضمون اور وہ بھی ایسا جس کا مجھے بچپن سے شوق تھا۔ تھوڑے ہی دنوں میں اپنی جماعت والوں میں سب کو دبا لیا۔ اب جب کبھی یہ شعر پڑھتا ہوں، تو پہلا زمانہ یادآ جاتا ہےاور میں بے اختیار ہنسنے لگتا ہوں۔ یہ کہتے ہی انہوں نے لہک لہک کر یہ شعر،\n\nابا ہند فلا تعجل علینا\n\nوانظرنا نخبرک الیقینا\n\nپڑھنا اور ہنسنا شروع کیا۔\n\nمیں نے کہا، مولوی صاحب! آپ کی جماعت کہاں بیٹھی تھی؟ کہنے لگے، پرنسپل صاحب کے کمرے کے بازو میں جو چھوٹا کمرا ہے، اس میں ہماری جماعت تھی۔ دوسرے پہلو میں جو کمرا ہے اس میں فارسی کی جماعت۔ دانی نے کہا، مولوی صاحب! آپ کے اختیاری مضمون کیا تھے۔ مولوی صاحب ہنسے اور کہا، میاں دانی! ہم پڑھتے تھے، آج کل کے طالب علموں کی طرح چوتڑوں سے گھاس نہیں کاٹتے تھے (مولوی صاحب اس فقرے کا اکثر استعمال کیا کرتے تھے، معلوم نہیں کہاں کا محاورہ ہے) ارے بھئی! ایک ہی مضمون کی تکمیل کرنا دشوار ہے۔ آج کل پڑھاتے نہیں لادتے ہیں۔ آج پڑھا کل بھولے، تمہاری تعلیم ایسی دیوار ہے جس میں گارے کا بھی ردا ہے، ٹھیکریاں بھی گھسیڑ دی گئی ہیں، مٹی بھی ہے، پتھر بھی ہے، کہیں چونا اور اینٹ بھی ہے۔ ایک دھکا دیا اور اڑا اڑا دھم گری۔ ہم کو اس زمانے میں ایک مضمون پڑھاتے تھے مگر اس میں کامل کر دیتے تے۔ پڑھانے والے بھی ایرے غیرے پچکلیان نہیں ہوتے تھے۔ ایسے ایسے کو چھانٹا جاتا تھا جن کے سامنے آج کل کے عالم، محض کاٹھ کے الو ہیں۔ اچھا بھئی اچھا، آگے چلو۔\n\nبانا نورد الرايات بیضا\n\nو نصدر ہن حمرا قد روینا\n\nمیں نے کہا، مولوی صاحب پہلے شعر کے معنی تو رہ ہی گئے۔ کہنے لگے، اتنا بڑا قصہ سنا دیا ور اس کے بعد بھی اس شعر کے معنی کی ضرورت ہے۔ پس اس کے یہی معنی ہیں کہ تحقیق ایک ملا کا بیٹا ڈاکٹر، ڈپٹی، شمس العلماء، ایل ایل ڈی ہو گیا ساتھ آسانی کے، بیچ اسی دلی کے، بہ وجہ شعر کے۔\n\nمولوی صاحب کی تعلیم کا حال سن چکے، ہم ہماری تعلیم کا حال سنیئے اور قصے کو سراج الدین صاحب کی دکان کے واقعے کے دوسرے روز سے لیجئے۔\n\nمیں اور میاں دانی ساڑھے گیارہ بجے مدرسے سے ا ٓئے۔ کھانا وانا کھایا، سبق کا مطالعہ کیا اور ایک بجے نکل کھڑے ہوئے۔ مکان کا پتا پوچھتے پچھاتے ڈیڑھ میں پانچ منٹ تھے کہ مولوی صاحب کے دروازے پر جا دھمکے۔ دروازے کی ایک چوکی پر میں اور دوسری پر میاں دانی ڈٹ گئے۔ سامنے ہی کمرا تھا۔ بی چماری رسی ہاتھ میں لیے اونگھ رہی تھیں۔ کبھی کبھی رسی کو ایک آدھ جھٹکا دے دیتی تھیں۔ کمرے کے اندرمولوی صاحب تھے، لیکن دروازہ بند تھا، ا س لئے دکھائی نہ دیتے تھے۔ اب یہ خیال ہوا کہ یہ مولوی صاحب ہی کا مکان ہے یا کسی دوسرے کا۔ اندر زنانہ تو نہیں ہے! غرض اس شش و پنج میں تھے کہ مولوی صاحب کے کمرے کے گھنٹے نے ٹن سے ڈیڑھ بجایا۔ ہم دونوں اٹھے اور دبے پاؤں چوروں کی طرح اندر داخل ہوئے۔\n\nگھر میں سناٹا تھا۔ بی چماری نے سر بھی اٹھا کر نہ دیکھا کہ کون جا رہا ہے۔ کمرے کا ایک دروازہ کھلا تھا اس میں گردن ڈال کر جھانکا۔ چونکہ روشنی سے اندھیرے میں آئے تھے اس لئے کچھ دکھائی نہ دیا۔ اندر سے کسی نے ڈانٹ کر کہا، کون ہے؟ اس آواز کو پہچان کر ہم تو سنبھل گئے مگر بی چماری اچھل پڑیں اور بے اختیار ان کے منہ سے گنبد کی آواز کی طرح نکلا، کون ہے؟ میں نے کہا، میں اور دانی۔ مولوی صاحب نے کہا، آؤ بیٹا اندر آؤ۔ مولوی صاحب فوراً پلنگ پر اٹھ بیٹھے اور تہمد کو سنبھالتے ہوئے نیچے اتر آئے۔ پوچھا، کیا پڑھتے ہو؟ ہم نے کتاب پیش کی۔ تھوڑی دیر تک الٹ پلٹ کر دیکھتے رہے، اس کے بعد کہا، بھئی ایک کتاب میرے لئے بھی لیتے آنا۔ ہم نے اپنی ایک کتاب ان کو دے دی اور دوسری دونوں نے مل کر کام نکالا۔ کب پڑھایا اور کس طرح پڑھایا، اس کا میں آئندہ ذکر کروں گا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جب پڑھ کر اٹھے تو سب کچھ یاد تھا، مگر دماغ پر کسی قسم کا بار نہ تھا۔ خوشی خوشی گھر آئے، چلو اللہ دے اور بندہ لے۔\n\nہم نے بھی کالج میں مولوی صاحب کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ یہاں تک کہ یہ آواز ہندو کالج کے طلبہ کے کان تک پہنچی۔ وہاں کے ایک طالب علم مسٹر رضا کے دل میں گدگدی اٹھی، وہ آئے، ہم سے ملے اور کہا، بھئی میں بھی تمہارے ساتھ چلوں، مولوی صاحب انکار تو نہ کریں گے؟ ہم نے کہا، بھائی چلو اور ضرور چلو، مولوی صاحب کا کیا بگڑتا ہے، دو کو نہ پڑھایا تین کو پڑھایا۔ انہوں نے کہا، نہیں، پہلے مولوی صاحب سے پوچھ لو، ہم نے کہا، یار چلو بھی، اگر انہوں نے کچھ کہا، تو ہمارا ذمہ۔ وہ راضی نہ ہوئے اور یہی کہا کہ پہلے پوچھ لو۔\n\nاس عرصے میں ہماری ہمت مولوی صاحب کے سامنے بہت بڑھ گئی تھی۔ دوسرے دن جاتے ہی رضا کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، لیتے کیوں نہ آئے۔ ہم نے کہا، وہ ذرا شرمیلے ہیں، بغیر اجازت آنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا، طالب علم شرمیلا ہوا اور ڈوبا۔ خیر کل ضرور ساتھ لانا، ذرا ان کا بھی رنگ دیکھ لوں۔ شام کو واپسی کے وقت جاتے جاتے فراش خانے میں ہم نے رضا کومولوی صاحب کا اجازت نامہ پہنچا دیا اور کہہ دیاکہ بھئی پورے ڈیڑھ بجے پہنچ جانا ورنہ اندر گھسنا نہ ملے گا۔\n\nدوسرے دن جو ہم پہنچے تو وہ پہلے ہی سے دروازے پر ڈھئی دیے بیٹھے تھے۔ ٹھیک ڈیڑھ بجے ہم اندر داخل ہوئے۔ مولوی صاحب ہم کو دیکھتے ہی پلنگ پر اٹھ بیٹھے اور کہا، لاؤ کتاب۔ ہم نے کتاب طاق پر سے اتار ان کے ہاتھ میں دی اور وہ کتاب لیتے لیتے نیچے آ بیٹھے اور کہا، اچھا، یہ ہیں میاں رضا! بے چارے رضا نے گردن جھکا کر کہا، جی ہاں۔ مولوی صاحب نے کہا، اچھا بھئی شروع کرو۔\n\nہمارے پڑھنے کا یہ طریقہ تھا کہ ایک روز میں پڑھتا تھا، دوسرے روز میاں دانی۔ اب اس کو ہماری شرارت کہو یا محض اتفاق۔ ہم دونوں چپکے بیٹھے رہے۔ جب اس خاموشی نے طول کھینچا تو مولوی صاحب نے کہا، ارے بھئی، آج تم پڑھتے کیوں نہیں؟ کیا منہ میں گھنگنیاں بھر کر آئے ہو۔ اچھا میاں رضا! تم ہی شروع کرو۔ رضا نے صفحہ پوچھا اور پڑھنا شروع کیا، اگر اعراب کی غلطیاں مجھ سے کم کیں، تو نظم کو نثر میاں دانی سے زیادہ بنا دیا۔ ایک آدھ شعر تک تو مولوی صاحب چپکے سنتے رہے، اس کے بعد کہنے لگے، بھئی واہ! ہم کو بھی عجب نمونے کے شاگرد ملے ہیں۔ میاں رضا! اگر ہم تم کو ایک نیک صلاح دیں، تو مانو گے؟ رضا نے نہایت شرمیلی آواز میں گردن جھکا کر کہا! بہ سرو چشم۔\n\nمولوی صاحب نے کہا دیکھو، اپنے وعدے سے پھر نہ جانا! انہوں نے کہا، جی نہیں۔ مولوی صاحب نے کہا، اچھا تو میری صلاح یہ ہے کہ کل سے تم میرے ہاں نہ آنا۔ یہ سن کر وہ بچارے کچھ پژمردہ سے ہو گئے۔ مولوی صاحب نے کہا، بھئی رضا! میں یہ نہیں کہتا کہ میرے ہاں آنا ہی چھوڑ دو، میں تم کو بھی ضرور پڑھاؤں گا، مگر تم دس پندرہ روز شام کے وقت کالی جان کے ہاں تعلیم میں ہو آیا کرو۔ اتنے دنوں کے آنے جانے میں تمہارے کانوں کو نظم اور نثر کا فرق معلوم ہونے لگے گا۔ بھئی مجھ سے تو شعروں کے گلے پر چھری پھیرتے دیکھا نہیں جاتا۔ بچارے متنبی کو کیا خبر تھی کہ بتاشوں کی گلی میں نذیر احمد کے کمرے میں اس کے اشعار مولوی رضا صاحب اس طرح حلال کریں گے۔ بچارے رضا کے سر پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ خدا خدا کر کے سبق ختم ہوا اور ہم سب رخصت ہوئے۔ راستے میں ہم نے ان کو بہت بنایا، دوسرے روز سے وہ ایسے غائب ہوئے کہ پھر شکل نہ دکھائی۔\n\nمسٹر رضا کی حیا کا حال تو سن چکے، اب ہماری بے حیائی کی داستان سنیئے۔ میری صرف و نحو بہت کمزور تھی، اور کمزور کیوں نہ ہوتی، شروع کیے ہوئے کے دن ہوئے تھے۔ اعراب میں ہمیشہ غلطی کرتا تھا۔ نثر کو تو سنبھال لیتا تھا مگر نظم میں دقت پڑتی تھی۔ شعر خود بھی کہتا تھا، دوسروں کے ہزاروں شعر یاد تھے اس لیے شعر کو تقطیع سے گرنے نہ دیتا تھا۔ میاں دانی کی حالت اس کے بالکل بر عکس تھی، وہ اعراب کی غلطی نہ کرتے تھے مگر شعر کو نثر کر دیتے تھے۔ سکتے تو کیا جھٹکے پڑ جاتے تھے۔ مولوی صاحب ہم دونوں کے پڑھنے سے بہت جز بز ہوتے تھے۔\n\nایک دن یہ ہوا کہ میرے پڑھنے کی باری تھی۔ میں نے ایک شعر پڑھا، معلوم نہیں کہاں کے اعراب کہاں لگا گیا۔ مولوی صاحب نے کہا، کیا پڑھا؟ میں سمجھا کہ اعراب میں کہیں غلطی ضرور ہوئی۔ تمام اعراب بدل کر شعر موزوں کر دیا۔ انہوں نے پھر بڑے زور سے ’’ہوں‘‘ کی۔ ہم نے پھر اعراب بدل دیے۔ اس سے ان کو غصہ آ گیا، دانی! تم تو پڑھو۔ انہوں نے شعر کا گلا ہی گھونٹ دیا، خاصے بھلے چنگے شعر کو نثر بنا دیا۔ اب کیا تھا مولوی صاحب کا پارا ایک سو دس ڈگری پر چڑھ گیا۔ کتاب اٹھا کر جو پھینکی تو کمرے سے گزر دالان میں ہوتی ہوئی صحن میں پہنچی اور نہایت غصیلی آواز میں کہا، نکل جاؤ بھی میرے گھر سے نکل جاؤ۔ نہ تم مجھ سے پڑھے کے قابل ہو اور نہ میں تمہارے پڑھانے کے لائق۔\n\nدانی نے میری طرف دیکھا، میں نے دانی کی طرف دیکھا۔ انہوں نے آنکھوں آنکھوں میں کہا، چلو۔ میں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں جواب دیا، ہرگز نہیں۔ انہوں نے اٹھنے کا ارادہ کیا، میں نے ان کا زانو دبایا۔ مولوی صاحب کی یہ حالت تھی کی شیر کی طرح بپھر رہے تھے۔\n\nآخر جب دیکھا کہ یہ لونڈے ٹس سے مس نہیں ہوتے تو کہنے لگے کہ اب جاتے ہو یا نہیں! میں نے کہا، مولوی صاحب جب تک کوئی دھکے دے کر نہ نکالے گا، اس وقت تک تو ہم جاتے نہیں اور جائیں گے تو ابھی پھر آجائیں گے۔ مولوی صاحب نے جو یہ بے حیائی دیکھی تو ذرا نرم ہوئے، کہنے لگے، اچھا نہیں جاتے ہو تو نہ جاؤ مگر میں ایک حرف تم کو نہ پڑھاؤں گا۔ میں نے کہا، نہ پڑھائیے، مگر بغیر پڑھے ہم یہاں سے ٹلے ہیں نہ ٹلیں گے۔\n\nکہنے لگے، بیٹا! اس وقت میری طبیعت خراب ہو گئی ہے، اب چلے جاؤ کل آ جانا۔ دانی نے سچ جانا۔ میں سمجھا کہ اس وقت اٹھے اور مولوی صاحب ہاتھ سے گئے۔ دانی اٹھ کھڑے ہوئے، میں نے پکڑ کر ان کو بٹھا لیا۔ مولوی صاحب یہ تماشا دیکھتے رہے۔ میں نے کہا، مولوی صاحب پڑھیں گے تو آج پڑھیں گے اور آج پڑھیں گے تو اس وقت پڑھیں گے۔ پڑھانا ہے تو پڑھائیے ورنہ ہم کو یہاں سے نہ جانا ہے نہ جائیں گے۔\n\nآخر کار ہم جیتے اور مولوی صاحب ہارے، کہنے لگے، خدا محفوظ رکھے! تم جیسے شاگرد بھی کسی کے نہ ہوں گے۔ شاگرد کیا ہوئے، استاد کے استاد ہو گئے۔ اچھا بھئی میں ہارا، میں ہارا۔ اچھا خدا کے لئے کتاب اٹھا لاؤ اور سبق پڑھ کر میرا پنڈ چھوڑو۔ دیکھئے کون سا دن ہوتا ہے کہ میرا تم سے چھٹکارا ہوتا ہے۔ میں جا کر صحن میں سے کتاب اٹھا لایا اور مولوی صاحب جیسے تھے ویسے کے ویسے ہو گئے۔ کہا کرتے تھے کہ اگر اس دن تم چلے جاتے تو میرے گھر میں گھسنا نصیب نہ ہوتا۔ میں تمہارے شوق کو آزماتا تھا، مگر تم نے مجھے ہی آزما ڈالا۔ خدا ایسے شاگرد سب کو نصیب کرے۔ یہ بے حیائی نہیں، میاں یہ شوق ہے! علم کا جس کو چسکا ہوتا ہے وہ بری بھلی سب ہی کچھ سنتا ہے۔ بد شوق بھاگ نکلتے ہیں اور شوقین استاد کو دبا لیتے ہیں۔\n\nپڑھانے کا طریقہ یہ تھا کہ ہم میں سے کسی نے کتاب میں سے ایک شعر پڑھا اور مولوی صاحب نے کتاب الٹ کر میز پر رکھ دی۔ پہلے دانی کی طرف متوجہ ہوئے اور صرف و نحو کے نکات پر بحث شروع ہوئی۔ اس بحث میں مجھے بارہ پتھر باہر سمجھ لیا جاتا تھا۔ کبھی میں نے دخل بھی دیا تو مولوی صاحب نے فرمایا، مہربانی کر کے اس بارے میں اپنے دماغ پر زور ڈالنے کی تکلیف گوارا نہ فرمائیے۔ اس کے بعد معنی بیان کئے، نکات بتائے اور پھر اسی مضمون کے شعر اور مقولوں کا سلسلہ چھڑا۔ اب میاں دانی خارج از بحث ہو گئے۔ اول تو مجھے یوں ہی ہزاروں شعر یاد تھے، دوسرے خاص طور پر تیار ہو کر جاتا تھا، مولوی صاحب اگر ایک شعر پڑھتے تو میں دو پڑھنے کو تیار ہو جاتا۔ جب فریقین اپنا ہندوستانی گولہ بارود ختم کر چکتے تو یورپ اور انگلستان کے شعرا اور فلسفیوں کے مقولوں کا نمبر آتا، اس میں دانی بھی شریک ہو جاتے۔ اگر کوئی قصہ طلب شعر ہوا، اور اسی قسم کا کوئی ماجرا مولوی صاحب پر گزرا تھا تو اس قصے کے ساتھ اپنا قصہ بھی ضرور بیان کر دیتے۔ غرض ایک شعر کی تصریح میں آدھ آدھ گھنٹا گزر جاتا مگر اس کے بعد جو وہ شعر ذہن نشین ہوتا تو اس کا محو ہونا مشکل تھا۔ چنانچہ اب تک مجھے اکثر شعر یاد ہیں۔\n\nاگر کوئی رزمیہ قصیدہ ہوا تو اس سلسلے میں اکثر غدر کے حالات بیان کرتے اور جو کچھ شرفائے دہلی پر اس طوفان بے تمیزی میں گزری تھی اس کی داستان نہایت دردناک الفاظ میں سناتے۔ اکثر کہا کرتے، میاں! بچارا بہادر شاہ مجبور تھا۔ کسی اور پر بھی اگر یہی مصیبت نازل ہوتی تو وہ بھی اسی طرح ان بد معاش تلنگوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی کی طرح ناچتا۔ یہ لوگ کوئی بادشاہ کو فائدہ پہنچانے تھوڑی آئے تھے۔ ان کا مقصد توشہر لوٹنا تھا وہ پورا ہوا اور انہوں نے دہلی کو کھک کر دیا۔ ایک روز میں دریبے میں جا رہا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک فون کی فوج تلنگوں کی آ رہی ہے۔ میں بھی دبک کر گلاب گندھی کی دکان کے سامنے کھڑاہو گیا۔ آگے آگے بینڈ والے تھے مگر وہ ایسا اندھا دھند ڈھول ٹھونک رہے تھے کہ خدا کی پناہ، پیچھے کوئی پچاس ساٹھ سوار تھے مگر ان کی عجیب کیفیت تھی۔\n\nگھوڑے کیا تھے، دھوبی کے گدھے معلوم ہوتے تھے۔ بیچ میں سوار تھے مگر گٹھریوں کی کثرت سے جسم کا کچھ تھوڑا ہی حصہ دکھائی دیتا تھا۔ یہ گٹھریاں کیا تھیں۔ دہلی کی لوٹ۔ جس بھلے آدمی کو کھاتا پیتا دیکھا اس کے کپڑے تک اتروا لیے۔ جس روپے پیسے والے کو دیکھا اس کے گھر پر جا کر ڈھئی دے دی اور کہا، چل ہمارے ساتھ قلعے کو، تو انگریزوں سے ملا ہوا ہے۔ جب تک کچھ رکھوا نہ لیا، اس کا پنڈ نہ چھوڑا۔ اگر دہلی کےچاروں طرف انگریز فوج کا محاصرہ نہ ہوتا تو شریف لوگ کبھی کے دہلی سے نکل گئے ہوتے۔\n\nغرض خدائی فوج داروں کا یہ لشکر غل مچاتا، دین دین کے نعرے مارتا میرے سامنے سے گزرا۔ اس جم غفیر کے بیچوں بیچ دولہا میاں تھے۔ یہ کون تھے عالی جناب بہادر خاں صاحب سپہ سالار۔ لباس سے بجائے سپہ سالار کے دولہا معلوم ہوئے تھے۔ جڑاؤ زیور میں لدے ہوئے تھے۔ پہنتے وقت شاید یہ بھی معلوم کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کی گئی تھی کہ کون سا مردانہ زیور ہے اور کان سا زنانہ۔ صافے پر بجائے طرے کے، سرا سری لگائی تھی۔ جیسے خود زیور سے آراستہ تھے اسی طرح ان کا گھوڑا بھی زیور سے لدا ہوا تھا۔ ماش کے آٹے کی طرح اینٹھے جاتے تھے۔ معلوم ہوتا تھا نعوذ باللہ خدا کی خدائی اب ان کے ہی ہاتھ میں آ گئی ہے۔\n\nگلاب گندھی نے جوان لٹیروں کو آتے دیکھا، چپکے سے دکان بند کر دی اور اندر دروازوں سے بیٹھا جھانکتا رہا۔ خدا معلوم کیا تفاق ہوا کہ بہادر خاں کا گھوڑا عین اس کی دکان کے سامنے آکر رکا۔ بہادر خاں نے ادھر ادھر گردن پھیری، پوچھا، یہ کس کی دکان ہے؟ ان کے ایڈی کانگ نے عرض کی کہ گلاب گندھی کی۔ فرمایا۔ اس بد معاش کو خبر نہیں تھی کہ ما بدولت ادھر سے گزر رہے ہیں؟ دکان بند کر نے کے کیا معنی، ابھی کھلواؤ۔ خبر نہیں کہ اس حکم قضا شیم کا بچارے لالا جی پر اندر کیا اثر ہوا، ہم نے تو یہ دیکھا کہ ایک سپاہی نے تلوار کا دستہ کواڑ پر مار کر کہا دروازہ کھولو، اور جس طرح ’’سم سم کھل جا‘‘ کے الفاظ سے علی بابا کے قصے میں چوروں کے خزانے کا دروازہ کھلتا تھا اسی طرح اس حکم محکم سے گلاب گندھی کی دکان کھل گئی، بجنسہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تماشے کا پردہ اٹھ گیا۔\n\nدروازے کے بیچوں بیچ لالا جی کانپتے ہاتھ جوڑے کھڑے تھے۔ کچھ بولنا چاہتے تھے مگر زبان یاری نہ دیتی تھی۔ اس وقت بہادر خاں کچھ خوش خوش تھے، شاید کسی موٹی اسامی کو مار کر آئے ہوں گے۔ کہنے لگے، تمہاری دکان سے بادشاہ کے ہاں عطر جاتا ہے؟ لالا جی نے بڑے زور سے گردن کو ٹوٹی ہوئی گڑیا کی طرح جھٹکا دیا۔ حکم ہوا کہ جو عطر بہتر سے بہتر ہو، وہ حاضر کرو۔ وہ لڑ کھڑاتے ہوئے اندر گئے اور دو کنٹر عطر سے بھرے ہوئے حاضر کئے۔ معلوم نہیں بیس روپے تولے کا عطر تھا یا تیس روپے تولے کا۔ بہادر خاں نے دونوں کنٹر لیے، کاگ نکالنے کی تکلیف کون گوارا کرتا۔ ایک کی گردن دوسرے سے ٹکرا دی، دونوں گردنیں کھٹ سے ٹوٹ گئیں۔ عطر سونگھا، کچھ پسند آیا، ایک کنٹر گھوڑےکی ایال پر الٹ دیا او ر دوسرا دم پر۔ کنٹر پھینک حکم دیا گیا۔۔۔ فارورڈ۔۔۔ اور اس طرح بچارے گلاب گندھی کا سیکڑوں روپے کا نقصان کر کے یہ ہندوستان کو آزادی دلانے والے چل دیے۔ ادھر اس خدائی فوج دار کا جانا ادھر ہم لونڈوں کا تالیاں بجانا، بچارے لالا جی نے کھسیانے ہو کر دکان بند کردی۔\n\nبھئی غدر کے طوفان بے تمیزی میں نقصان تو جو ہونا تھا وہ ہوا، مگر کالج کی دور بین توڑ کر جو نقصان اس بے سری فوج نے ملک کو پہنچایا اس کی تلافی نا ممکن ہے۔ کالج میں پرنسپل صاحب کے کمرے کے اوپر ایک بڑی زبر دست دور بین نصب تھی۔ پرنسپل صاحب کہا کرتے تھے کہ یہ دور بین کالج کے ایک بڑے دلدادہ انگریز نے کالج کی نذر کی ہے۔ اس کا سامنے کا شیشہ بڑی دقت سے تیار ہوا تھا۔ اس انگریز کے خاندان والوں نے برسوں میں اسے گھس کر پتلا اور اتنا پتلا کیا تھا کہ کاغذ سے بھی باریک ہو گیا تھا۔ غرض کہ یہ دوربین کالج کا سرمایہ ناز تھی۔ دور سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوٹھے پر ایک بڑی توپ لگی ہوئی ہے۔ غدر کے زمانے میں کسی بد معاش کی اس پر بھی نظر پڑ گئی۔ اس نے جا کر فوج میں اڑا دیا کہ انگریزوں نے راتوں رات کشمیری دروازے سے آ کر کالج کے اوپر توپ لگا دی ہے اور اب تھوڑی دیر میں قلعہ اڑا دیں گے۔\n\nیہ سننا تھا کہ ساری فوج کالج پر چڑھ آئی، سیڑھیاں لگا سیکڑوں سپاہی چھت پر پہنچ گئے۔ کندہ نا تراش نے بندوق کا کندا سامنے کے شیشے پر مارا۔ چھن سے شیشے کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اور ایک خاندان کی پچاس ساٹھ برس کی محنت خاک میں مل گئی۔ ان نابکاروں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا۔ دور بین کی دور بین اٹھا نیچے پھینک دی اور چند ہی منٹ کے اندر دین دین کے نعروں میں اس یادگار سلف کا ان نا خلفوں کے ہاتھوں خاتمہ بالخیر ہو گیا۔\n\nغدر کے ہزاروں واقعات مولوی صاحب سے سنے ہیں لیکن اکثر تو ایسے ہیں کہ ان کا زمانہ موجودہ میں دہرانا خطرناک ہے۔ اور بعض ایسے ہیں کہ وہ پوری طرح یاد نہیں رہے۔ ہم بی اے میں پڑھتے تھے کہ کیمبرج سے غدر کے متعلق ایک جواب مضمون پر انعام مقرر ہوا۔ ا س مضمون کے لیے شرط یہ قائم کی گئی تھی کہ کوئی واقعہ تاریخی کتاب سے نہ لیا جائے، جو کچھ لکھا جائے شہر کے بڈھے بڑھیوں سے دریافت کر کے لکھا جائے۔ میں نے یہی مضمون لکھا تھا اور مجھ کو یہ انعام ملا۔ میں نے اس مضمون میں ایک باب مولوی صاحب کے بیان کردہ قصوں کے لیے مخصوص کر دیا تھا۔ میں کرید کرید کر مولوی صاحب سے اس مضمون کے لیے واقعا ت دریافت کیا کرتا اور وہ خوشی خوشی بتاتے۔ اب وہ مضمون دریا برد نہیں تو دریا پار ضرور ہو گیا۔ مسودہ نہ رکھا ا ور نہ رکھنے کی عادت ہے، اس لئے اب اس کا ذکر کرنا ہی فضول ہے۔\n\nہمارے پڑھنے کا طریقہ تو سن چکے، اب مولویوں کی جماعت کا حال سن لیجئے۔ اس جماعت میں تمام کے تمام سرحد پار ہی کے لوگ تھے۔ لمبے لمبے کرتے، بڑی بڑی آستینیں، ڈیڑھ ڈیڑھ، دو دو تھان کی شلواریں، ’’شملہ بہ مقدار علم‘‘ کے لحاظ سے کئی کئی سیر کے پگڑ، لمبی لمبی داڑھیاں، غرض معلوم ہوتا تھا کہ افغانستان کا کوئی قطعہ اٹھا کر بتاشوں کی گلی میں رکھ دیا ہے۔ محنت کی یہ حالت تھی کہ رات رات بھر کتاب دیکھتے۔ ٹھوٹھ ایسے کہ باوجود اس محنت کے کورے کے کورے رہتے۔\n\nمولوی صاحب ہمیشہ ہم سے ان کی موٹی عقل کی تعریف کیا کرتے اور کہتے، بھئی، میں ان ملانوں سے عاجز آ گیا ہوں، اپنا بھی وقت ضائع کرتے ہیں اور میرا بھی۔ جواب اس لئے نہیں دے دیتا کہ دل شکنی ہوگی، مگر کیا کروں، اللہ میاں نے ان کو ادب کے سمجھنے کا دماغ ہی نہیں دیا ہے۔ ہزار سمجھاتا ہوں، ان کی سمجھ ہی میں نہیں آتا۔ بھلا ان کو حماسہ یا متنبی پڑھنے کی کیا ضرورت پڑی ہے۔ فوج میں نوکر ہو جائیں، محنت مزدوری کریں یا ہینگ کا تو بڑا گلے میں ڈال کر بیچتے پھریں۔ ہم کہتے، مولوی صاحب! آپ بھی غضب کرتے ہیں۔ رگڑ سے پتھر بھی گھس جاتا ہے۔ آخر متنبی نے ایسے کون سے شعر کہے ہیں جو غور کرنے سے سمجھ میں نہ آئیں۔\n\nایک روز فرمانے لگے، لو، آج تم ٹھہر جاؤ اور ان مولویوں کا رنگ بھی دیکھ لو، مگر دیکھو، کہیں ہنس نہ دینا، ورنہ چھرا ہی بھونک دیں گے۔ اس روز ہم کو بھی چھٹی تھی۔ ہم پڑھ کر فارغ ہو ئے تھے کہ یہ جماعت آ گئی۔ یہ لوگ مولوی صاحب کو گھیر کر بیٹھ گئے اور ہم اٹھ کر ایک کونے میں جا بیٹھے۔ اس روز مقامات حریری کا سبق تھا۔ کتابیں کھولی گئی اور ایک صاحب نےبڑی گرجتی ہوئی آواز میں اعوذ باللہ سے سبق شروع کیا۔ زید بن حارث کے سفر کا حال تھا اور رات کے وقت سفر کرنے کو فی آناء اللیل سے ادا کیا تھا۔ ان بھلے آدمیوں نے قاموس دیکھ کر مطالعہ کیا تھا۔ اس میں شامت اعمال سے ’’اناء‘‘ کے معنی مٹکے کے بھی ہیں۔ اللہ دے اور بندہ لے، انہوں نے یہاں مٹکا پھنسا دیا اور نہایت متانت سے ’فی آناء اللیل‘ کے معنی’’رات کے مٹکے میں سفر کیا‘‘ سے کر دیے۔\n\nمولوی صاحب نے فرمایا، ’’اناء‘‘ کے دوسرے معنی بھی توہیں۔ پڑھنے والے صاحب نے کہا، جی ہاں کئی معنی ہیں، لیکن اس مقام پر’ مٹکا‘ہی زیاہ چسپاں ہوتا ہے۔ ہم کو ہنسی آئی، مولوی صاحب نے مسکرا کر، ان لوگوں نے نہایت برے برے دیدوں سے ہماری طرف دیکھا۔ ہم نے سوچا، بھائی یہاں ہمارا ٹھکانا نہیں، یہاں سے کھسک جانا ہی مناسب ہے، کہیں کوئی اٹھ کر گلا نہ گھونٹ دے۔ ہم نے اجازت چاہی۔ مولوی صاحب کہتے ہی رہے کہ بیٹھو، ذرا اور کچھ سن جاؤ، ہم نے کہا، مولوی صاحب! ہم کو کام ہے، کسی اور دن دیکھا جائے گا۔ یہ کہہ جوتیاں پہن سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے۔ کوٹھے سے اتر جو ہنسنا شروع کیا تو گھر پہنچتے پہنچتے بڑی مشکل سے ہنسی رکی۔ اب جب کبھی خیال آتا ہے تو اس جماعت کا نقشہ آنکھوں کے نیچے پھر جاتا ہے۔ اور رات کے مٹکے میں سفر کرنے کا فقرہ ہنساتا نہیں مسکراہٹ ضرور پیدا کردیتا ہے۔\n\nمولوی صاحب کو اپنے ترجمے پر ناز تھا اور اکثر اس کا ذکر فخریہ لہجے میں کیا کرتے تھے۔ اردو ادب میں ان کی جن تصنیفات نے دھوم مچا دی ہے وہ ان کے نزدیک بہت معمولی چیزیں تھیں۔ وہ کہا کرتے تھے میری تمام عمر کا اصلی سرمایہ کلام مجید کا ترجمہ ہے۔ اس میں مجھے جتنی محنت اٹھانی پڑی ہے اس کا اندازہ کچھ میں ہی کر سکتا ہوں۔ ایک ایک لفظ کے ترجمے میں میرا سارا سارا دن صرف ہو گیا ہے۔ میاں! سچ کہنا کیسا محاورے کی جگہ محاورہ بٹھایا ہے۔ ہم نے کہا، مولوی صاحب! بٹھایا نہیں ٹھونسا ہے۔ جہاں یہ فقرہ کہا اور مولوی صاحب اچھل پڑے۔ بڑے خفا ہوتے اور کہتے۔ کل کے لونڈو! میرے محاوروں کو غلط بتاتے ہو! میاں میری اردو کا سکہ تمام ہندوستان پر بیٹھا ہوا ہے خود لکھو گے تو چیں بول جاؤ گے۔\n\nمحاوروں کی بھرمار کے متعلق اکثر مجھ سے ان کا جھگڑا ہوا کرتا تھا۔ میں ہمیشہ کہا کرتا تھا، مولوی صاحب! آپ نے محاوروں کی کوئی فہرست تیار کر لی ہے اور کسی نہ کسی محاورے کو آپ کسی نہ کسی جگہ پھنسا دینا چاہتے ہیں، خواہ اس کی گنجائش وہاں ہو یا نہ ہو۔ جناب والا! اہل زبان کو یہ دکھانے کی ضرورت نہیں کہ وہ محاوروں پر حاوی ہے۔ یہ صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو دوسروں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم باہر والے نہیں، دہلی والے ہیں۔ تھوڑی دیر تو حجت کرتے، اس کے بعد کہتے، اچھا بھئی! تم ہی دہلی والے سہی۔ ہم تو اسی طرح لکھیں گے جس طرح اب تک لکھا ہے۔ تم ہم کو دہلی والوں کی فہرست سے نکال دو، مگر میاں! اپنا ہی نقصان کرو گے۔\n\nمجھ کو مولوی صاحب کے طرز تحریر پر کوئی رائے ظاہر کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ اول تو میرے لئے ابتدا ہی میں ’’خطائے بزرگاں گرفتن، خطا است‘‘ کی سب سے بڑی ٹھوکر ہے۔ دوسرے میری قابلیت محدود کی سرحد سے گزر کر مفقود کی سرحد میں آ گئی ہے، لیکن باوجود موانعات کے، میں نے مولوی صاحب کے سامنے یہی کہا، اب بھی کہتا ہوں اور ہمیشہ کہوں گا کہ محاوروں کے استعمال کا شوق مولوی صاحب کو حد سے زیادہ تھا۔ تحریر میں ہویا تقریر میں وہ محاوروں کی ٹھونسم ٹھانس سے عبارت کو بے لطف کر دیتے تھے، اور بعض وقت ایسے محاورے کا استعمال کر جاتے تھے جو بے موقع ہی نہیں اکثر غلط ہوتے تھے۔\n\nخدا معلوم انہوں نےمحاوروں کی کوئی فرہنگ تیار کر رکھی تھی یا کیا! ایسے ایسے محاورے ان کی زبان اور قلم سے نکل جاتے تھے جو نہ کبھی دیکھے نہ سنے۔ ان کی عبارت کی روانی اور بے ساختگی کا جواب دوسری جگہ ملنا مشکل ہے، مگر چلتے چلتے راستے میں عربی الفاظ کے روڑے ہی نہیں بچھاتے تھے بلکہ پہاڑ رکھ دیتے تھے۔ غرض یہ تھی کہ لوگ یہ جان لیں کہ میں دہلی والا ہی نہیں ہوں مولوی بھی ہوں۔ بہر حال ان کی تحریر کا ایک خاص رنگ ہے اور اس کی نقل اتارنا مشکل اور بہت مشکل ہے۔\n\nترجمہ کرنے کا انہیں خاص ملکہ تھا، وجہ یہ تھی کہ کئی زبانوں پر حاوی تھے۔ اگرایک زبان کے لفظ سے مطلب ادا نہ ہوا تو دوسری زبان کا لفظ وہاں رکھ دیا۔ مثال کے طور پر ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ 1903 کے دربار تاج پوشی پر جو انگریزی کتاب لکھی گئی تھی اس کا ترجمہ مولوی صاحب کے سپرد ہوا۔ ایک روز جو ہم پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ خوبصور ت سی جلد کی ایک بڑی موٹی کتاب مولوی صاحب کی میز پر رکھی ہے۔ ہم نے اجازت لے کر کتاب اٹھائی اور اول سے آخر ساری تصویریں دیکھ ڈالیں۔ اول تو مولوی صاحب بیٹھے دیکھتے رہے، پھر کہنے لگے، بیٹا! یوں سر سری نظر سے کیا دیکھتے ہو، گھر لے جاؤ اچھی طرح پڑھو، مگر دیکھو خراب نہ کرنا۔ ہم دونوں نے دل میں سوچا کہ خدا معلوم کیا بھید ہے جو مولوی صاحب بغیر مانگے اپنی کتاب دے رہے ہیں۔\n\nخوش خوش کتاب بغل میں مار گھر آئے۔ دو ایک روز میں پڑھ ڈالی، ایک آدھ تصویر بھی غائب کر دی۔ چوتھے روز کتاب لے جا مولوی صاحب کے حوالے کی۔ پوچھا، کہو پسند آئی؟ ہم نے کہا، مولوی صاحب! خوب کتاب ہے۔ کہنے لگے۔ اچھی کتاب ہے تو ترجمہ کر ڈالو، ہم نے کورا جواب دے دیا۔ کہا، دیکھو، سنو اس کتاب کا ترجمہ مجھے کرنا ہے، تم سے ترجمہ کراؤں گا، صحیح میں کر دوں گا۔ اب مجھ میں اتنا دم نہیں کہ اتنی بڑی کتاب کا ترجمہ کر سکوں۔ اگر اب کے انکار کیا تو کل سے گھر میں گھسنے نہ دوں گا۔ یہ کہتے کہتے کتاب کی جلد توڑ، دس صفحے میرے اور دس میاں دانی کےحوالے کر دیے۔ ساتھ ہی میاں رحیم بخش کو آواز دی۔ وہ آئے، ان کو حکم دیا کہ ایک ایک دستہ بادامی کاغذ کا ان دونوں کو دے دو۔ ’’قہر درویش بر جان دروش‘‘ کی صورت تھی۔ جس طرح پہلے خوشی خوشی پوری کتاب لے گئے تھے اسی طرح منہ بنائے ہوئے ان پلندوں کو بغل میں مارا۔\n\nگھر آکر بے کار کے کام کی طرح ترجمہ کیا۔ دوسرے روز جا کر پڑھنے کے لیے کتاب اٹھائی، پوچھا، ترجمہ لائے؟ ہم نے دبی ہوئی آواز میں کہا، لائے۔ کہا، پہلے وہ پڑھو۔ ہم پڑھتے جاتے اور مولوی صاحب اصل کتاب دیکھ کر اس کی درستی کرتے جاتے۔ اب اگر میں یا دانی کہیں کہ یہ ترجمہ ہمارا ہے تو یقین مانئے کہ دونوں جھوٹے ہیں۔\n\nمولوی صاحب کی اصلاح نے ہماری آنکھیں کھول دیں اور ہم نے سمجھ لیا کہ اس علم میں بھی مولوی صاحب سے بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد سے ہماری مولوی صاحب سے بڑی جنگ ہوئی، کیونکہ بندہ خدا نے ہم دونوں غریبوں کا اس میں ذرا بھی ذکر نہیں کیا مگر کچھ پروا نہیں۔ اس کا بدلا ہم اب لیے لیتے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ کہے دیتے ہیں کہ اس کتاب میں تھوڑے بہت لفظ ہم دونوں کے بھی ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ اگر اصلاح شدہ مسودوں کو دیکھا جائے تو کاٹ چھانٹ کی وجہ سے ہمارے لفظوں کا تلاش کرنا سر میں لیکھیں دیکھنے سے کم مشکل نہ ہوگا۔\n\nہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ مولوی صاحب چونکہ کئی زبانوں پر حاوی تھے اس لیے ان کو کہیں نہ کہیں سے مناسب لفظ ادائے مطلب کے لیےضرور مل جاتا تھا۔ مثلاً اسی جشن تاج پوشی کی کتاب میں ایک جگہ لفظ Stallion آیا۔ ڈکشنری میں جو دیکھا تو اس کے معنی ’’سیاہ بڑا جنگی گھوڑا‘‘ نکلے، یاروں نے ترجمے میں وہی لفظ ٹھونک دیے۔ جب مولوی صاحب نے یہ الفاظ سنے تو بہت ہنسے، کہنے لگے، واہ بیٹا واہ! کیوں نہ ہو دہلی والے ہو، خالص اردو لکھی ہے، بندہ خدا ’’شبدیز‘‘ لکھ دو، چلو چھٹی ہوئی۔ اب کوئی صاحب اس سے بہتر لفظ بتا دیں تو میں جانوں۔ ان کے ترجمے میں خوبی یہ ہوتی تھی کہ لفظ کی جگہ لفظ بٹھاتے تھے لیکن وہ لفظ ایسا ہوتا تھا کہ وہاں نگینہ بن جاتا تھا۔\n\n’’تعزیرات ہند‘‘ کا ترجمہ اٹھا کر دیکھو، وہی لفظ پر لفظ ہے معنی بھی پورے دیتا ہےاور اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتا۔ سیکڑوں کتابوں کے ترجمے ہوئے۔ دوسری اشاعت میں کچھ اور تیسری میں کچھ کے کچھ ہو گئے۔ لیکن ’’تعزیرات ہند‘‘ کا ترجمہ جوں کا توں ہے۔ ایک لفظ ادھر سے ادھر نہیں ہوا۔\n\nکہا کرتے تھے کہ’’تعزیرات ہند‘‘ کا ترجمہ بھی میرا ایک کارنامہ ہے۔ اس کتاب کے ترجمے کا کام تین آدمیوں کے سپرد ہوا تھا، ان میں ایک مولوی عظمت اللہ صاحب تھے۔ اس کی اصلاح ڈائرکٹر صاحب کے ذمے تھی اور ہم ڈائرکٹر صاحب کے رشتے دار تھے۔ روزانہ ایک دو دفعات کا ترجمہ آتا، ہم ڈائرکٹر صاحب کو سناتے۔ وہ بڑا غل مچاتے کہ یہ لفظ خلاف محاورہ ہے، اس لفظ سے مفہوم ادا نہیں ہوتا یہ لفظ اپنی طرف سے بڑھا دیا گیا ہے۔ غرض دو تین دفعات کہیں تین چار گھنٹے میں پاس ہوتیں۔ مجھے بڑا تاؤ آتا تھا کہ ترجمہ کرے کوئی، یہ باتیں سنے کوئی مگر بھئی یہ ضرور کہوں گا کہ وہ بھلا آدمی جو بات کہتا تھا، باون تولے پاو رتی کی کہتا تھا۔ جو اعتراض کرتا تھا وہ اٹھائے نہ اٹھتا تھا۔ میاں! پرانے زمانے کے انگریز غضب کی اردو سمجھتے تھے۔ گو اچھی اردو لکھ نہ سکیں مگر ترجمے کی وہ وہ غلطیاں نکالتے تھے کہ تم جیسے دہلی والوں کے کان پکڑوا دیں۔\n\nمیں بھی ترجمہ دیکھتا تو واقعی کچھ اکھڑا اکھڑا معلوم ہوتا تھا۔ میں نے دل میں کہا نذیر احمد! تو بھی خم ٹھونک کر میدان میں کیوں نہیں آ جاتا۔ اردو جانتا ہے، فارسی جانتا ہے، عربی جانتا ہے کچھ ٹوٹی پھوٹی انگریزی بھی سمجھتا ہے۔ ان لوگوں سے اچھا نہیں تو کم سے کم ایسا ترجمہ تو تو بھی کر لے گا۔ یہ سوچ، سوا روپے کی رائل ڈکشنری بازار سے خرید لایا، رات کو لمپ جلا کر کپڑے اتار، لنگوٹ باندھ، ترجمے پر پل پڑا۔ جن دفعات کا ترجمہ دوسرے روز پیش ہونے والا تھا ان کا خود ترجمہ کر ڈالا۔ دوسرے دن ترجمہ جیب میں ڈال، دفتر پہنچا۔ ڈائرکٹر صاحب آئے، مجھے بلایا اور ان لوگوں کے ترجمے کو سن کر وہی گڑ بڑ شروع کی۔ خدا خدا کر کے یہ مشکل آسان ہوئی۔ میں نے کہا کہ کم ترین بھی کچھ عرض کرنا چاہتا ہے۔\n\nکہا، اچھا کہو۔ میں نے جیب میں سے کاغذ نکالا۔ وہ سمجھے عرضی ہے، لینے کو ہاتھ بڑھایا۔ میں نے کہا، عرضی نہیں، آج کی دفعات کا ترجمہ میں نے کیا ہے۔ ڈائریکٹر صاحب یہ سن کر اچھل پڑے، کہنے لگے، تم نے! تم نے ترجمہ کیا ہے! تم کو تو انگریزی نہیں آتی، پھر ترجمہ کیسے کیا؟ میں نے کہا رائل ڈکشنری سے۔ انہوں نے ہنس کر کہا، ’’تعزیرات ہند‘‘ کا ترجمہ رائل ڈکشنری سے نہیں ہوا کرتا۔ میں نے کہا، سن تو لیجئے۔ کہا، اچھا سناؤ۔ میں نے جو پڑھا تو صاحب بہادر کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ کہنے لگے، یہ ترجمہ تم نے رائل ڈکشنری سے کیا ہے؟ میں نے کہا، ہاں۔ کہنے لگے، کل شروع کی چار دفعات کا ترجمہ کر کے لاؤ۔ میں دوسرے دن لے کر گیا۔ بہت پسند کیا ور کہا تم نے پہلے ہی کیوں نہ کہا کہ میں ترجمہ کر سکتا ہوں، جو میرا اتنا وقت ضائع کرایا۔ جاؤ تم بھی ان ترجمہ کرنے والوں میں شریک ہوجاؤ۔ اس دن سے ہم بھی پانچوں سواروں میں مل گئے اور یہی ہماری ترقی کا زینہ تھا۔\n\nاب رہے ہماری تصنیفات پر انعام، وہ تو اللہ میاں نے چھپر پھاڑ کر دیے ہیں۔ اگر کوئی کہتا بھی کہ ’’مرآۃ العروس‘‘ پر تم کو انعام ملے گا تو میں اس کو دیوانہ سمجھتا۔ اصل یہ ہے کہ یہ کتاب میں نے اپنی لڑکی کے لئے لکھی تھی وہی پڑھا کرتی تھی۔ میاں بشیر کو ’’چند پند‘‘ لکھ کر دی تھی۔ میں اس زمانے میں تعلیمات کا انسپکٹر تھا۔ دورے پر نکلے تھے، بال بچے ساتھ تھے۔ ایک جگہ ٹھہرے تھے۔ مستر کیمپ سن ڈائرکٹر تعلیمات کا ڈیرا بھی قریب میں آ لگا۔ شام کا وقت تھا، میاں بشیر اپنی ٹٹوانی پر سوار ہو کر ہوا خوری کو نکلے۔ ادھر سے ڈائرکٹر صاحب آ رہے تھے۔ میاں بشیر نے جھک کر سلام کیا۔\n\nصاحب ٹھہر گئے، پوچھا، میاں تمہارا کیا نام ہے؟ انہوں نے نام بتایا۔ پھر پوچھا، تمہارے والد کون ہیں؟ میرا نام بتایا۔ پھر پوچھا، کہو میاں کیا پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا، ’’چند پند۔‘‘ ڈائرکٹر صاحب سمجھے تھے کہ اردو کی پہلی یا دوسری کہے گا۔ ’’چند پند‘‘ کا نام سن کر پریشان ہوئے، کیونکہ اس عجیب و غریب نام سے ان کے کان نا آشنا تھے، کہا، ہمیں اپنی کتاب دکھاؤ گے؟ بشیر نے کہا، جی ہاں، ابھی لاتا ہوں۔ ہماری آپا کی بھی کتاب دیکھئے گا۔ انہوں نے کہا، اس کتاب کا کیا نام ہے؟ انہوں نے کہا، ’’مرآۃ العروس۔‘‘ یہ دوسرا نیا نام تھا۔ صاحب نے کہا، ہاں وہ بھی لاؤ۔\n\nمیاں بشیر ٹٹوانی سے کود بھاگتے ہوئے ڈیرے میں آئے، اپنا جزدان کھول ’’چند پند‘‘ نکالی۔ اس کے بعد اپنی بہن کے جزدان پر قبضہ کیا۔ اس نے جودیکھا کہ بشیر جزدان ٹٹول رہا ہے، تو دوڑی ہوئی گئی۔ اتنے میں بشیر ’’مرآۃ العروس‘‘ لےکر بھاگا، یہ اس کے پیچھے بھاگی۔ دونوں میں بڑی دھینگا مشتی ہوئی، خوب رونا پیٹنا ہوا۔ بشیر بہن کو دھکا دے، کتاب لے، یہ جا وہ جا۔ بہن صاحبہ نے دل کا بخار آنسو بہا کر نکالا۔ میاں بشیر نے دونوں کتابیں لے جا صاحب کے حوالے کیں۔ انہوں نے الٹ پلٹ کر کچھ پڑھا اور بشیر سے کہا، ہم یہ کتابیں لے جائیں؟ کل بھجوا دیں گے۔ انہوں نے کہا، لے جائیے کل ہم کو چھٹی رہے گی۔\n\nمیں جو ڈیرے میں آیا تو کیا دیکھا ہوں کہ قیامت مچ رہی ہے۔ لڑکی نے رو رو کر آنکھیں لال کر لی ہیں، میاں بشیر ڈرے سہمے ڈیرے کے ایک کونے میں دبکے بیٹھے ہیں۔ میرا اندر قدم رکھنا تھا کہ فریاد کی صدا بلند ہوئی۔ صاحب زادی نے رو رو کر اس طرح واقعہ بیان کیا جس طرح کسی عزیز کے مرنے کا کوئی بین کرتا ہے۔ میں نے بشیر کو بلایا۔ وہ ڈرے کہ کہیں ٹھکائی نہ ہو جائے، پہلے ہی بسورنا شروع کیا۔ وہ دبے جاتے تھے اور بہن شیر ہوئی جاتی تھی۔ آخر بڑی مشکل سے اتنا معلوم ہوا کہ ایک انگریز دونوں کتابیں لے کر چلا گیا۔ میں نے جا کر سائیس سے پوچھا کہ وہ انگریز کون تھا؟ تو معلوم ہوا کہ سامنے جو ڈیرے پڑے ہیں، ان میں وہ اترے ہیں۔ مجھے بڑا تعجب ہوا کہ بھلا ڈائرکٹر صاحب کو بچوں کی کتابوں سے کیا کام! خیر لڑکی کو دلاسا دیا کہ میں لا دوں گا، نہیں تو دوسری لکھ دوں گا، اس نے کہا میں لوں گی تو وہی کتاب لوں گی۔ بڑی مشکل سے اس کا غصہ ٹھنڈا کیا۔\n\nاب فکر ہوا کہ صاحب سے پوچھوں تو کیونکر پوچھوں! سمجھ ہی میں نہیں آتا تھا کہ صاحب کا مطلب اس طرح بچوں کی کتابیں منگانے سے کیا ہو سکتا ہے! غرض اسی شش و پنج میں صبح ہو گئی۔ کوئی سات بجے ہوں گے کی صاحب کا چپراسی آیا اور کہا کہ صاحب سلام بولتے ہیں۔\n\nوہاں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ صاحب بیٹھے’مرآۃ العروس‘ پڑھ رہے ہیں۔ سلام کر کے کرسی پر بیٹھ گیا۔ صاحب نے کہا، مولوی صاحب! آپ نے ایسی مفید اور دلچسپ کتابیں لکھیں اور طبع نہ کرائیں! اگر کل آپ کا لڑکا مجھ کو نہ ملتا تو شاید کوئی بھی ان کتابوں کو نہ دیکھتا اور چند ہی روز میں بچوں کے ہاتھوں یہ کتابیں پھٹ پھٹا کر برابر ہو جاتیں۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں ’’مرآۃ العروس‘‘ کو سرکار میں پیش کر دوں۔ آج کل گورنمنٹ ایسی کتابوں کی تلاش میں ہے جو لڑکیوں کے نصاب تعلیم میں داخل ہو سکیں۔ میں نے کہا، آپ کو اختیار ہے یہ کہہ کر میں چلا آیا۔\n\nصاحب نے وہ کتاب گورنمنٹ میں پیش کردی۔ وہاں سے انعام ملا، یہاں شیر کے منہ کو خون لگ گیا، اوپر تلے کئی کتابیں گھسیٹ ڈالیں۔ جو کتاب لکھی، اس پر انعام ملا۔ جو لکھا گیا پسند کیا گیا۔ غرض ہم مصنف بھی بن گئے اور ساتھ ہی ڈپٹی کلکٹر بھی ہو گئے مگر بھئی بات یہ ہے کہ انسان کا جتنا عہدہ بڑھتا جاتا ہے اسی طرح اس کی فرصت کا وقت بھی گھٹتا جاتا ہے۔ یہی مصیبت ہم پر پڑی۔ ادھر کام کی زیادتی، ادھر سر سید کی فرمائشوں کی بھر مار، آج یہاں لکچر دیا، کل وہاں دیا، تصنیف کا سلسلہ ہی ٹوٹ گیا۔\n\nخدا خدا کر کے بڑھاپے میں فرصت ملی تو قرآن شریف حفظ کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ شوق ہوا کہ اس کا ترجمہ بھی کر ڈالو، لوگوں کو بھی مفید ہوگا اور شاید تمہاری نجات کا بھی ذریعہ ہو جائے گا۔ غرض جتنی محنت ممکن تھی، اتنی محنت کی۔ اسی ترجمے کے سلسلے میں ’الحقوق و الفرائض‘ کا مواد بھی جمع کر لیا۔ کلام مجید کی دعاؤں کو بھی ایک جگہ اکٹھا کر لیا۔ غرض ایک پنتھ اور کئی کاج ہو گئے۔ مگر بھئی سچ کہنا کہ کیسا ترجمہ کیا ہے؟ میں خاموش رہا، مگر دانی نے کہا کہ مولوی صاحب! ہم کو اس ترجمے کے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ مولوی صاحب نے کہا، ہیں میاں دانی! یہ کیا کہا؟ تم نے ابھی تک میرا ترجمہ نہیں دیکھا؟ بھئی غضب کیا۔ ارے میاں رحیم بخش! ذرا ادھر تو آنا، وہ جو سنہری جلد کی حمائل شریف ہے وہ میاں دانی کو دے دو۔ بیٹا! ذرا اس کو غور سے پڑھو، دیکھو تو میں نے اس بڑھاپے میں کیا محنت کی ہے۔ غرض حمائل شریف میاں دانی کے قبضے میں آ گئی۔ انہوں نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ آپ کی یاد گار رہے گی۔ جب ہم اٹھ کر چلنے لگے تو مولوی صاحب نے دانی سے کہا، ارے بھئی۔ ایک بات تو کہنی بھول گیا، اس حمائل شریف کا ہدیہ ساڑھے پانچ روپے ہے، کل ضرور لیتے آنا۔ بچارے کا شکریہ اکارت گیا اور دوسرے روز پورے ساڑھے پانچ روپے مولوی صاحب نے دھرا لیے۔\n\nمولوی صاحب نے اس عاجز پر بھی رقمی حملے کیے لیکن یہ ذرا ٹیڑھا مقابلہ تھا۔ ایک چھوڑ کئی کتابیں مولوی صاحب سے اینٹھیں، کبھی ایک پیسا نہ دیا۔ یہ نہیں کہ خدا نخواستہ وعدہ کرتا اور رقم نہ دیتا، میں اس وقت تک کتاب لیتا ہی نہ تھا جب تک مولوی صاحب خود نہ فرما دیتے کہ اچھا بھئی تو یوں ہی لے جا مگر میرا پیچھا چھوڑ۔ میری ترکیب یہ تھی کہ پہلے کتاب پر قبضہ کرتا، مولوی صاحب قیمت مانگتے، میں حجت کرتا، وہ جواب دیتے، میں اس کاجواب دیتا، غرض بہت کچھ جھک جھک کے بعد تھک کر کہتے کہ جاؤ میں نے قیمت معاف کی، آئندہ میری کسی کتاب کو ہاتھ لگایا تو اچھا نہیں ہوگا، مگر خدا غریق رحمت کرے! ہمیشہ کوئی نہ کوئی کتاب مجھ کو دے دیتے تھے اور جان جان کر جھگڑتے تھے۔ ریویو کے لیے جو کتابیں آتیں، وہ تو ہمارے باپ دادا کا مال تھیں۔ وہ پورا ریویو لکھنے بھی نہ پاتے کہ کتاب کے صفحہ اول پر میرا نام درج ہو کر شہادت دستاویزی اور ثبوت قبضہ کی شکل اختیار کر لیتا۔ اس وقت بھی میرے پاس اس زمانے کی بعض کتابیں موجود ہیں۔ معلوم نہیں کہ میاں دانی کو جو حمائل شریف عطا ہوئی تھی وہ ان کے پاس رہی یا نہیں۔\n\nکتابیں تو کتابیں، میں نے مولوی صاحب کی ایل ایل ڈی کی گون پر قبضہ کرنے کا فکر کیا تھا۔ ہوا یہ کہ جب میں اور دانی بی اے میں پاس ہوئے تو جلسہ تقسیم اسناد کے لیے لاہور جانا پڑا۔ گون بنوانا بے ضرورت سمجھا گیا۔ اب خیال ہوا کہ گون کس کی چھینیں۔ دانی کو تو گون مل گئی۔ میں نے مولوی صاحب کی گون تاکی۔ ہم دونوں مل کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ضرورت کا اظہار کیا۔ کہنے لگے، بیٹا! میری گون بڑی قیمتی ہے۔ ساڑھے چھ سو روپے میں دو گونیں پڑی ہیں۔ بھلا میں کیا خریدتا، یہ میاں مشرف نے میری سرمنڈھ دیں۔ و ہ ایڈمبرا میں پڑھتے تھے، مجھے لکھا کہ اپنی تمام تصنیفات و تالیفات کی نہایت عمدہ جلدیں بندھوا کر بھجوا دیجئے، سر ولیم میور دیکھنا چاہتے ہیں۔\n\nسر ولیم میور پہلے ممالک مغربی و شمالی کے لیفٹیننٹ گورنر تھے، مجھ پر بھی بہت مہربان تھے۔ میں نے مشرف کے لکھے کو سچ جانا، کتابوں کی جلدیں بندھوا ایڈمبرا روانہ کر دیں۔ ان کتابوں میں میرا کلام مجید کا ترجمہ بھی تھا۔ وہ بہت پسند کیا گیا۔ سر ولیم میور نے یہ کتابیں ایڈمبرا یونیورسٹی میں پیش کر دیں اور ہمیں گھر بیٹھے ایل ایل ڈی کی ڈگری مل گئی۔ مگر اس ڈگری کی اطلاع میرے پاس بعد میں آئی پہلے ایک درزی کا خط اور بل آیا کہ مسٹر مشرف کی فرمائش کے بہ موجب ایل ایل ڈی کی ایک سیاہ اور ایک سرخ گون مع ٹوپی کے روانہ کی گئی ہے، براہ کرم جس قدر جلد ممکن ہو ساڑھے چھ سو روپے روانہ فرمائیے۔\n\nمیری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ الہی یہ کیا مراجرا ہے! یا تو مشرف دیوانہ ہوگیا ہے یا یہ درزی پاگل ہے کہ بیٹھے بٹھائے بل روانہ کر رہا ہے۔ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ گون کا پلندا بھی آ گیا۔ غرض اسی شش و پنج میں ایک ہفتہ گزر گیا۔ دوسری ڈاک سے ایل ایل ڈی کی ڈگری ملنے کا مراسلہ اور میاں مشرف کا خط ملا۔ قہر درویش پر جان درویش، درزی صاحب کو رقم روانہ کی، مشرف کو برا بھلا کہا کہ وہاں سے یہ تھیلے بنوا کر بھجوانے کی کیا ضرورت تھی، میں یہاں اپنے ناپ کی گون بنوا لیتا۔ بہر حال یہ گونیں ساڑھے چھ سو روپے کی ہیں، معاف کیجئے میں نہیں دے سکتا۔ جا کسی پروفیسر کی گون چھین کر کیوں نہیں لے جاتا جو میرے پیچھے پڑا ہے۔\n\nمیں یہ قصہ بیٹھا سنتا رہا۔ اس کے بعد بغیر کچھ کہے سنے اٹھا اور مولوی صاحب کے سامان کی کوٹھری کا رخ کیا۔ وہ ’’ہاں ہاں ہاں‘‘ کہتے رہی رہے، میں نے کنڈی کھول، اندر گھس، الماری سے کالی گون نکال ہی لی۔ جب مولوی صاحب نے دیکھا کہ پانی سر سے گزرگیا تو سنبھل سنبھل کر اٹھے۔ میں اتنی دیر میں دروازہ بند کر، گون بغل میں مار، پھر اپنی جگہ پر آ گیا۔ مولوی صاحب بھی بیٹھ گئے اور اب انہوں گون کی قیمت، میری لا پروائی، ریل میں چوری کے خطرات، بی اے اور ایل ایل ڈی کی گون کے اختلاف، غرض اسی طرح کی بیسیوں چیزوں پر لیکچر دے ڈالے، میں بیٹھا سنتا رہا۔\n\nجب وہ کہتے کہتے تھک گئے تو میں نے لکچر دینا شروع کیا۔ استادوں کی محبت، اپنی غربت، گون کی صرف ایک روز کی ضرورت، وقت کی قلت، غرض دس بارہ پہلوؤں پر میں نے بھی اسپیچ دے دی اور آخر میں صاف صاف کہہ دیا کہ یہ گون میں لے کر جاؤں گا اور ضرور لے کر جاؤں گا۔ اس کے بعد مولوی صاحب کچھ نرم پڑے، کہنے لگے، واپس کب کروگے؟ میں نے کہا، آپ سرخ گون پہنتے ہیں، کالی گون مجھے دے دیجئے۔ آپ کا کچھ نقصان نہ ہوگا اور ایک غریب کا فائدہ ہو جائے گا۔ مولوی صاحب نے کہا، نہیں بیٹا! لاہور سے آ کر دے دیجیو، مجھے در بار وغیرہ میں یہ گون پہننی پڑتی ہے۔ یہ الفاظ انہوں نے کچھ ایسے لہجے میں کہے کہ مجھے بھی وعدہ کرتے ہی بن پڑی۔\n\nآخر میں گون لے کر گیا اور لاہور سے آکر واپس کر دی۔ جب مولوی صاحب نے گون پر قبضہ کر لیا، اس وقت بہت خفا ہوئے، کہنے لگے، اب کے تو اگر میری کوٹھری میں گھسا تو اچھا ہی نہ ہوگا۔ کل کو میرا کیش بکس اٹھا کرلے جائے گا۔ خیر دانی گون لے جاتا تو کچھ ہرج نہ تھا کیوں کہ واپسی کی تو امید رہتی۔ مجھے کب امید تھی کہ آپ بزرگ واپس بھی کر دیں گے۔ وہ تو کہو میرا حلال کا مال تھا جو واپس آ گیا۔ میں نے کہا، مولوی صاحب! اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا کہ آپ کو گون کی واپسی کی توقع نہیں ہے تو آپ اس کی تمام عمر شکل بھی نہ دیکھتے۔ ہنس کر کہنے لگے، چلو ’’مشتے بعد از جنگ‘‘ کی صورت ہے۔ آئندہ میں دینے میں احتیاط کروں گا اور تم واپسی میں احتیاط کرنا۔\n\nاس وقت تو یہ باتیں ہنسی میں ہوئیں، مگر اب افسوس ہوتا ہے۔ گون اگر میرے پاس رہ جاتی تو، مولوی صاحب کی یاد گار ہوتی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ گون میرے پاس بھیج دے کیونکہ اس میں میرا بھی حق ہے۔ یہ ضرور ہے کہ وہ گون مولوی صاحب نے مجھ کو دی تو نہ تھی لیکن وہ سمجھ چکے تھے کہ یہ میرے ہاتھ سے گئی۔ میری غلطی تھی کہ جو اس کو لے جا کر واپس کیا۔ اگر مل گئی توکبھی ایسی غلطی نہ کروں گا۔\n\nجس طرح مسٹر مشرف نے یہ گونیں مولوی صاحب کے گلے منڈھی تھیں، اسی طرح نواب محسن الملک نے حیدر آباد میں فرنیچر ان کے سر چیپک دیا تھا۔ اس زمانے میں حیدر آباد میں نواب محسن الملک کا طوطی بول رہا تھا۔ ان کی تجویز اور سر سید کی تحریک پر مولوی صاحب حیدر آباد آئے۔ پہلے نواب محسن الملک ہی کے ہاں قیام کیا۔ اس کے بعد علاحدہ کوٹھی میں جا رہے۔ ہندوستانی وضع کا سامان، تخت، چوکیاں وغیرہ خرید لیں۔ بھلا محسن الملک یہ کیوں کر دیکھ سکتے تھے کہ ان کا دوست پرانی وضع کے لوگوں کی طرح زندگی بسر کرے، ایک روز سکندر آباد جا، ایلن اینڈ کمپنی کوکئی ہزار کے فرنیچر کا آر ڈر دے دیا اور کہہ دیا کہ مولوی صاحب کے ہاں پہنچا دو اور بل بنا کر بھیج دو۔\n\nایک روز جو مولوی صاحب اٹھتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ چھکڑے پر چھکڑا فرنیچر کا لدا کوٹھی کے باہر کھڑا ہے۔ بہت چکرائے، لینے سے انکار کیا مگر وہ نواب محسن الملک کا پڑھایا ہوا شیطان تھا۔ وہ کب ماننے والا تھا۔ آخر لاچار گھر چھوڑ باہر آ بیٹھے اور دن بھر میں مولوی صاحب کا مکان صاحب بہادر کی کوٹھی ہو گیا۔ مگر یہ بھی نذیر احمد تھے کچھ ایسی چال چلے کہ جب ان کا تقرر پٹنچرو کی صدر تعلقے داری پر ہوا تو وہ سب کا سب سامان بہت تھوڑی کمی پر ایلن ہی کے سر مارا اور پٹنچرو، وہی اپنے پرانے تخت وغیرہ لے گئے۔ نواب محسن الملک کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوئی۔\n\nاب آگے کی داستان بڑی دلچسپ ہے۔ نوام محسن الملک دورے پر نکلے، پٹنچرو قیام کیا۔ مولوی صاحب خود کہیں دورے پر گئے ہوئے تھے۔ نواب صاحب نے گھر میں کہلا بھیجا کہ میں آیا ہوں، میرے قیام کا انتظام کر دو۔ ایک کمرا جس میں دو تین کرسیاں اور ایک دو میزیں تھیں، کھول دیا گیا۔ وہ ایلن والے فرنیچر کی تلاش میں تھے، سمجھے مولوی صاحب نے اپنے کمر ے میں سجا رکھا ہوگا، اندر کہلا بھجوایا کہ میں مولوی صاحب کے کمرے میں ٹھہروں گا۔ پہلے تو جواب ملا کہ وہاں آپ کو تکلیف ہوگی، مگر جب ادھر سے اصرار ہوا تو وہ کمرا بھی کھول دیا گیا۔ اندر جا کر کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں صفا چٹ میدان ہے۔ نہ دری ہے نہ چادر۔ نہ چاندنی ہے، نہ میز ہے نہ کرسی۔ کمرے کے بیچ میں ایک چھوٹا سا تخت ہے، اس پر ایک کمبل پڑا ہوا ہے۔ بازو میں ایک چوکی پر رحل اور جانماز رکھی ہے، کھونٹی پرکلام مجید لٹک رہا ہے۔ یہ بہت چکرائے، لوگوں سے پوچھا، وہ فرنیچر کہاں گیا۔ معلوم ہوا کہ آتے آتے مولوی صاحب اس کے کوڑے کر آئے۔ بچارے ایک رات ٹھہرے اور صبح ہی کوچ بول دیا۔\n\nکچھ عرصے تک تو نواب محسن الملک اور ان کی بنی رہی، بعد میں اتنی کھنچی کہ ٹوٹ گئی۔ مولوی صاحب کو یہ شکایت تھی کہ محسن املک مجھ پر دباؤ ڈال کر کام نکالنا چاہتے ہیں۔ محسن ا لملک کو یہ شکایت تھی کہ مولوی صاحب میرے مخالف ہو کر میرے اکھاڑنے کی فکر میں ہیں۔ غرض جب عماد السلطنت بہادر کا زمانہ آیا اور محسن الملک بہادر کی کمان چڑھی تو مولوی صاحب کو میدان سے ہٹ جانا ہی مناسب معلوم ہوا۔ دوسرے حیدر آباد میں صحبت کا جو رنگ تھا وہ ایسا نہ تھا جس میں مولوی صاحب کا رنگ جم سکتا۔ اس زمانے کے جو حالات مولوی صاحب بیان کیا کرتے تھے ان کا زبان قلم پر نہ آنا ہی زیادہ مناسب ہے۔\n\nبعد میں دونوں بہ ظاہر ملتے جلتے تھے، لیکن موقع پڑا تو ایک دوسرے کو پردے ہی پردے میں سنائے بغیر نہ رہتے تھے۔ ایک واقعہ تو خود میری آنکھوں کے سامنے گزرا ہے۔ 1903 کے دربار کے موقع پر کانفرنس کا اجلاس دہلی میں اجمیری دروازے کے باہر ہوا۔ اس زمانے میں نواب محسن الملک، علی گڑھ کالج کے سکریٹری تھے۔ کانفرنس کے صدر ہزہائی نس سر آغا خاں تھے۔ آدمیوں کی یہ کثرت تھی کہ بیٹھنے کو پنڈال میں جگہ نہ ملتی تھی۔ ہر جلسے میں کئی کئی رئیس آ جاتے تھے۔ ایک پورا دن خاص مولوی صاحب کے لکچر کے لیے مقرر ہوا۔ مدت ہوئی تھی کہ مولوی صاحب نے پبلک میں لکچر دینا چھوڑ دیا تھا۔ اس روز جو معلوم ہوا کہ مولوی صاحب لکچر دیں گے، خلقت ٹوٹ پڑی۔\n\nلکچر شروع ہی ہوا تھا کہ لارڈ کچنر نے کہلا بھیجا کہ آ ج میں بھی آؤں گا۔ نواب محسن الملک نے ایسے با وقعت و ذی جاہ مہمان کے استقبال کی تیاریاں شروع کیں، مولوی صاحب لکچر میں اس گڑ بڑ سے کھنڈت پڑ تی تھی۔ پنڈال کے باہر ذرا گڑ بڑ ہوئی اور نواب محسن الملک سمجھے کہ لارڈ کچنر آ ئے، اٹھ کر باہر گئے اور پھر آ کر بیٹھے۔ اس طرح وہ کوئی دس پندرہ دفعہ باہر گئے اور اند آئے۔ مولوی صاحب بہت جز بز ہوئے، خفا بھی ہوئے مگر ان کی کون سنتا تھا۔\n\nقصہ مختصر آخر لارڈ کچنر آ ہی گئے۔ نواب محسن الملک نے سب کا تعارف کرایا۔ مولوی صاحب نے خود اپنا تعارف کر لیا۔ لارڈ کچنر کہنے لگے، مولوی صاحب ہم نے کورس میں آپ کی کتابیں پڑھی ہیں، آج آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔ مولوی صاحب نے کہا، لاٹ صاحب مجھے بھی آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی، اور سب سے بڑی یہ خوشی ہوئی کہ آپ کی وجہ سے ایک معمہ حل ہو گیا۔ لارڈ کچنر نے کہا، وہ کیا معمہ تھا؟\n\nمولوی صاحب نے کہا کہ ہمارے ہاں قیامت کی نشانیوں میں لکھا ہے کہ اس وقت ایسا تہلکہ ہوگا کہ حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے۔ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ وہ ایسی کیا مصیبت ہوگی کہ حمل گرا دے گی مگر آج یقین آ گیا جو کچھ لکھا ہے صحیح لکھا ہے۔ جب آپ کی آمد نے بڑے بڑے پیٹ والے بڈھوں کے حمل گرا دیے تو کیا تعجب ہے کہ قیامت کی آمد عورتوں کے حمل گرا دے۔ تمام پنڈال میں سناٹا ہو گیا مگر مولوی صاحب کو جو کہنا تھا کہہ گئے اور اس طرح اپنے دل کا بخار نکال لیا۔ بات یہ ہے کہ مولوی صاحب کو وقت پر ایسی سوجھتی ھی کہ باید و شاید، چنانچہ امیر حبیب اللہ خاں ہی کے دربار کا واقعہ دیکھ لو۔\n\nامیر حبیب اللہ خاں بقر عید کے دن دہلی میں تھے، اس روز جمعہ تھا۔ صبح بقر عید کی نماز عیدگاہ میں پڑھی اور جمعہ کی نماز جامع مسجد میں، شام کو سرکٹ ہاؤس میں دربار کیا۔ اس دربار میں آٹھ یا نو دہلی کے ہندو امیر اور اسی قدر مسلمان مشاہیر بلائے گئے، ان میں ایک مولوی صاحب بھی تھے۔ سر ہنری میک موہن نے ان لوگوں کا تعارف امیر صاحب سے کرایا۔ جب مولوی صاحب کی باری آئی اور ان کی تعریف سر ہنری نے کی، تو امیر صاحب نے کہا، آ پ کو ان کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں خود ان کی تصانیف بڑے شوق سے پڑھتا ہوں اور تقریباً سب کا ترجمہ بھی کرا چکا ہوں۔ دیکھنے کا اشتیاق تھا، وہ آج پورا ہو گیا۔\n\nاس کے بعد باتوں ہی باتوں میں پوچھا، آپ شعر بھی کہتے ہیں؟ مولوی صاحب نے کہا، جی ہاں کہتا ہوں لیکن آج آپ کی تعریف میں اپنا نہیں دوسروں کا شعر سناؤں گا۔ یہ کہہ کر متنبی کا یہ شعر پڑھا۔\n\nعید و عید و عید جاء مجتمعا\n\nوجہ الحبیب و یوم العید والجمعا\n\nموقع کے لحاظ سے یہ شعر ایسا بر محل ہو گیا کہ متنبی کو نصیب بھی نہ ہوا ہوگا۔ واقعات اور خاص کر ’’حبیب‘‘ کے لفظ نے شعر میں جان ڈال دی۔ تمام دربار چمک اٹھا۔ امیر حبیب اللہ خاں نے اٹھ کر مولوی صاحب کو گلے سے لگا لیا اور اتنے بوسے دیے کہ مولوی صاحب گھبرا گئے۔\n\nدوسرے روز جو انہوں نے اس واقعے کا ذکر ہم سے کیا، اس کو انہی کے الفاظ میں دہرانا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ کہنے لگے، بھئی میں تو شعر پڑھ کر مصیبت میں پھنس گیا۔ شعر پڑھنا تھا کہ یہ معلوم ہوا کہ کسی شیر نے آ کر مجھے دبوچ لیا۔ اس میرے شیر کا کوئی سوا گز چوڑا سینہ، میں ٹھہرا چھوٹے قد کا آدمی، اس نے جو پکڑ کر بھینچا، تو ادھر تو ہڈیاں پلپلی ہو گئیں، ادھر دم گھٹنے لگا۔ اس کی گرفت سے نکلنے کی ہزار کوشش کرتا ہوں، جنبش تک نہیں ہوتی۔ قسم خدا کی اس وقت تک ہڈیوں میں درد ہو رہا ہے۔ بارے خدا خدا کر کے گرفت ڈھیلی ہوئی تو میں ذرا علاحدہ ہوا۔ ابھی پوری طرح سانس بھی نہ لینے پایا تھا کہ اس نے میری گلے میں بانہیں ڈال، بوسے پر بوسہ لینا شروع کیا۔ بھلا مجھ بڈھے کو دیکھو اور امیر صاحب کی اس حرکت کو دیکھو! کچھ تعریف کا یہ طریقہ افغانستان ہی میں اچھا معلوم ہوتا ہوگا۔ مجھے تو مارے شرم کے پیسنے چھوٹ گئے۔\n\nوہ اللہ کا بندہ ذرا دم لیتا اور سبحان اللہ کہہ کر پھر لپٹ جاتا۔ لپٹتا اور لپٹتے ہی بوسے پر بوسہ لینا شروع کر دیتا۔ بچارے دوسرے بھلے آدمی بیٹھے ہوئے کیا کہتے ہوں گے۔ جب میں نے اس مصیبت سے رہائی پائی، تو میری ناک سے پسینا اس طرح بہہ رہا تھا جس طرح کسی ٹوٹی صراحی میں سے پانی بہتا ہے۔ نا بھائی نا! ایسے دربار کو میرا دور ہی سے سلام ہے۔ کون شعر پڑھ کر اپنی ہڈیاں تڑوائے۔ مولوی صاحب اپنی ہڈیاں سہلاتے جاتے اور یہ قصہ بیان کرتے جاتے تھے۔ مگر ان کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا کہ خوشی کے مارے دل کھلا جا رہا ہے اور سمجھ رہے ہیں کہ شعر کی داد اس طرح اور اس رنگ میں آج تک نہ کسی شاعر کو ملی ہے اور نہ ملے گی۔\n\nاس تیزی طبع کے ساتھ صاف گوئی بھی بلا کی تھی۔ جو کہنا ہوتا وہ کہے بغیر نہ رہتے تھے۔ اس میں کسی لفٹننٹ گورنر پر ہی حملہ کیوں نہ ہو جائے۔ 1904 میں لارڈ کرزن کا ایک لکچر ہوا، اور اس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک ہندوستانی یورپ والوں کی طرح سچ بولنے کی عادت نہ ڈالیں گے اس وقت تک ہندوستان ترقی نہیں کر سکتا۔ اخباروں میں لکچر پڑھ کر مولوی صاحب کو بہت غصہ آیا۔ خدا کی قدرت دیکھو کہ اس کے چند ہی روز بعد ہمارے کالج میں سالانہ جلسہ ہوا، اور لارڈ لیفر اے، جو ہندوستان کے لاٹ پادری تھے، تشریف لائے۔ شامت اعمال سے انہوں نے بھی اپنے لکچر کا موضوع یہی قرار دیا۔ کالج کی کی طرف سے لاٹ صاحب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے مولوی صاحب تجویز کیے گئے۔ اب کیا تھا، اللہ دے اور بندہ لے۔ جو کچھ دل میں بخار بھرا تھا، خوب اچھی طرح نکال لیا۔ کالج والے حیران تھے کہ یا الہی یہ کیا ماجرا ہے! مولوی صاحب شکریہ ادا کر رہے ہیں یا لاٹ صاحب پر اعتراضات مگر انہوں نے جب تک اپنے دل کی بھڑاس نہ نکال لی، خاموش نہیں ہوئے۔\n\nسب سے پہلے انہوں نے ہندوستان کے مغربی اثر کو نہایت پر مذاق پہلو سے بیان کیا۔ فرمانے لگے، حضرات! پائجامہ اچھا ہے یا پتلون؟ ہم پرانے آدمی تو موسم کے لحاظ سے اٹھنے بیٹھنے کی سہولت و آرام کے لحاظ سے پائجامے ہی کو اچھا کہیں گے، مگر آج کل کے ہندوستانی صاحب پتلون کا ساتھ دیں گے۔ یہ کیوں؟ اس لیے کہ انگریزوں کا پہناوا ہے۔ ہم اچکن یا انگرکھے کو اچھا کہیں گے، اس سے ستر ڈھکتا ہے، آدمی بھاری بھر کم معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے یورپ کے دل دادہ بھائی کوٹ کو پسندکریں گے۔ یہ کیوں؟ اس لیے کہ یہ انگریزوں کا پہناوا ہے۔ ہم بڈھے سلیم شاہی جوتی پر جان دیں گے کیوں کہ اس میں پیر کو آرام ملتا ہے، نرم اور سبک ہوتی ہے۔ ہمارے فیشن کے عاشق فل بوٹ کا انتخاب کریں گے۔ یہ کیوں؟ اس لئے کہ یہ انگریزوں کا پہناوا ہے۔ ہمارے پاس اپنی پرانی ہر چیز کےاچھے ہونے کا ثبوت موجود ہے۔ ان کے پاس صرف ایک جواب ہے کہ یورپ والے ایسا پہنتے ہیں۔ اور بھئی! ہے بھی یہی بات۔ قسمت نے ہم کو انگریزوں کے ماتحت کر دیا ہے، ان کی ہر چیز ہمارے لیے قابل تقلید ہے اور ان کا فعل ہمارے لیے چراغ ہدایت۔\n\nاب افعال سے گزر کر اقوال پر نوبت آ گئی ہے۔ پادری کرزن، تھوڑے ہی دن ہوئے، فرما چکے ہیں کہ ہندوستانی سچ چھوڑو اور انگریزی سچ بولا کرو۔ آج ہمارے پادری لیفراے بھی ان کے ہم نوا ہوئے ہیں۔ یا تو انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ یہاں کے سچ اور یورپ کے سچ میں فرق ہے اور وقت آگیا ہے کہ پائجامے کی طرح ہندوستانی سچ کو اتار پھینک دیا جائے اور پتلون کی طرح ولایتی سچ پہن لیا جائے۔ یا ان کا یہ خیال ہے کہ ہندوستان کے کسی مذہب نے سچ کی تلقین ہی نہیں کی ہے اور یہ نیا مال دساور ہو کر ولایت سے آیا ہے۔ بہر حال کچھ بھی ہو، اب تمہارے پرانے سچ کی قدر نہیں رہی ہے۔\n\nخدا کے لیے اپنا بھلا چاہتے ہو تو ان لاٹ صاحبوں کا حکم مانو۔ یہ بڑے لوگ ہیں۔ مولوی نذیر حسین یا پنڈت بانکے لال نہیں ہیں کہ انہوں نے ہندوستانی سچ بولنے کی ہدایت کی اور تم ہنس کر ٹال گئے۔ لاٹ صاحبوں کی بات نہ مانو گے اور ولایتی سچ نہ بولو گے اور یہ تازہ مال استعمال نہ کر وگے تو یاد رکھو نوکری ملنی مشکل ہو جائے گی اور نوکری نہ ملی تو روٹیوں کی محتاج ہو جائے گے، کیونکہ دونوں لاٹ صاحبوں نے یہ ہدایت نہیں کی ہے کہ نوکری کا خبط چھوڑو اور تجارت یا صنعت و حرفت اختیار کرو۔ اسی سے تمہارے دلدر دور ہوں گے۔\n\nآخر میں مولوی صاحب نے تھوڑا بہت لارڈ لیفر اے کا شکریہ بھی ادا کر دیا۔ لاٹ صاحب اردو بہت اچھی جانتے تھے۔ مولوی صاحب کی اس پر مذاق تقریر پر مسکراتے رہے مگر دل کا خدا ہی مالک تھا۔ کالج کے منتظمین کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ مگر یہاں ’’تیر از کمان جستہ‘‘ کی صورت تھی۔ کیا کر سکتے تھے البتہ دل میں انہوں نے ٹھان لی ہوگی کہ آئندہ مولوی صاحب کو شکریہ ادا کرنے کی تکلیف نہ دینا ہی مناسب ہوگا۔\n\nاس واقعے کے کچھ ہی دنوں بعد میں حیدر آباد چلا گیا۔ پھر دو دفعہ دہلی میں میرا مولوی صاحب سے ملنا ہوا۔ پہلی دفعہ جو ملا تو یہ وہ زمانہ تھا کہ ’’امہا ت الامہ‘‘ کی وجہ سے مولوی صاحب پر بڑی لے دے ہو رہی تھی۔ میں نے اس کا ذکر چھیڑا۔ کہنے لگے، بھئی مجھے تو اس کتاب میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے لوگ اس طرح بر انگیختہ ہو جائیں۔ تم نے بھی یہ کتاب دیکھی ہوگی۔ آخر تم ہی بتاؤ اس میں میں نے کون سی ایسی نئی بات لکھی ہے؟ میں نے خود ’امہات الامہ‘ نہیں دیکھی تھی مگر میں مولوی صاحب کے طرز تحریر سے واقف تھا۔ اس لیے میں نے یہی کہا کہ مولوی صاحب آپ کا طرز تحریر مذاق کا پہلو لیے ہوتا ہے۔ وہ کچھ قصے کہانیوں ہی میں مزا دیتا ہے۔ تاریخ کی کتابوں اور خاص کر مذہبی معاملات میں وہ کسی طرح کھپ نہیں سکتا۔ اگر لوگوں کو اعتراض ہوگا تو آپ کے طرز تحریر ہی کے متعلق ہوگا۔\n\nمولوی صاحب نے کہا، میرے کلام مجید کے ترجمے کے متعلق یہ اودھم کیوں نہیں مچا؟ میں نے کہا، اس پر بھی لوگوں کو اعتراض ہیں مگر اس میں آپ کا معاملہ اللہ میاں سے ہے اور یہاں انسانوں سے۔ مشہور مقولہ ہے کہ ’’با خدا دیوانہ باش وبا محمد ہوشیار۔‘‘ کچھ سوچتے رہے پھر کہنے لگے، کہتے تو سچ ہو۔ اس قسم کی تالیفات میرے دائرہ تحریر سے باہر ہیں۔ انشاء اللہ دوسرے ایڈیشن میں نقص کو رفع کر دوں گا۔\n\nجب میں چلنے لگا تو فرمایا، کہو بیٹا! پھر ملوگے؟ ابھی تو تمہارے جانے میں بہت دن ہیں۔ میں نے کہا، انشاء اللہ ضرور آؤں گا۔ ہنس کرکہنے لگے، انشا ء اللہ کہنے کے بعد تم ضرور آؤگے! مسلمانوں کو جب کوئی کام کرنا ہوتا ہے تو ہزاروں قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ یہ کام میں ضرور کروں گا۔ مگر جب کام کرنے کو جی نہی چاہتا تو ہمیشہ یہی کہا کرتے ہیں کہ انشاء اللہ ضرور کروں گا۔ ہم تو اس کے یہ معنی سمجھتے ہیں کہ اس کام کے کرنے کا تو ارادہ نہیں ہے۔ ہاں اگر خدا نے چاہا اور زبردستی یہ کام کرا دیا، تو مجبوراً کر لیں گے۔ میں نے کہا، مولوی صاحب آپ کو انشاء اللہ کے یہ معنی پہنانے مناسب نہیں۔ آپ مذاقیہ پہلو مذہبی معاملات میں بھی نہیں چھوڑتے۔ کہنے لگے، میاں! پہلے انشا ء اللہ کے معنی دوسرے تھے۔ آج کل مسلمان وہی معانی لیتے ہیں جو میں نے بیان کئے۔\n\nخدا کی قدت دیکھو کہ اسی ر ات کو عین میرے پلنگ کے نیچے طاعون کا چوہا مرا اور صبح ہی کے میل سے میں ایسا دہلی سے بھاگا کہ حیدر آباد آ کر دم لیا۔\n\nدوسری دفعہ جو میں ملا تو مولوی صاحب کی صحت جواب دے چکی تھی۔ چھت پر جو چھوٹا کمرا تھا اس میں آ رہے تھے۔ رعشے میں اضافہ ہو گیا تھا۔ آنکھوں سے بھی کم دکھائی دیتا تھا۔ پلنگ پر بیٹھے رہا کرتے تھے۔ میں نے کمرے کے دروازے میں قدم رکھتے ہی بڑے زور سے سلام کیا۔ کہنے لگے، ہیں یہ کون صاحب ہیں؟ میں نے کہا، میں ہوں۔ پھر پوچھا، آخر ’’میں‘‘ کون صاحب ہوئے؟ نام کیوں نہیں بتاتے۔ ارے بھائی! اب مجھے صاف دکھائی نہیں دیتا، ذرا قریب آؤ۔ میں نے کہا، واہ مولوی صاحب واہ! اگر آواز سے نہیں پہچانا، تو خوب پہچانا، دور سے پہچانیئے تو بات ہے۔ ایک دفعہ ہی ہنس پڑے اور کہنے لگے، اوہو، میاں فرحت ہیں! بھلا اور کون یہ بے تکی باتیں کرے گا۔ آؤ بیٹا آؤ۔ اب کے تو کئی برس کے بعد آئے۔\n\nمیں پاس گیا، گلے لگایا، حالات پوچھتے رہے۔ باتیں کرتے کرتے کہا، ذرا دیکھنا بھی گھڑی میں کیا بجا ہے؟ میں نے گھڑی دیکھ کر کہا کہ ساڑھے نو میں پانچ منٹ ہیں۔ کہنے لگے، او ہو دیر ہو گئی! ذرا میرا جوتا اور جرابیں تو لے آؤ۔ میں نے لاکر جرابیں پہنائیں۔ جوتا سوکھ کر لکڑی ہو گیا تھا وہ زبر دستی پاؤں میں ٹھونسا۔ جوتا پہن کر کھڑے ہوگئے۔ میں نے کھونٹی پر سے اتار کر شیروانی اور ٹوپی دی۔ وہ پہن کر کہنے لگے، چلو بھئی چلو وقت تنگ ہو گیا ہے۔ میں نے کہا، مولوی صاحب آخر کہاں جانا ہے؟ کہنے لگے، بیٹا! آج ایک مقدمے کی پیشی ہے، وہاں جا رہا ہوں۔ ذرا مجھ کو کشمیری دروازے تک تو لے چل۔\n\nمیرا ہاتھ پکڑ کر نیچے اترے۔ باہر دیکھوں تو کوئی سواری نہیں۔ میں نے کہا مولوی صاحب! خدا کے لیے اب اس عمر میں تو اس طرح پیدل نہ پھرا کیجئے! خدا نے سب کچھ دے رکھا ہے، آخر یہ کس دن کے لیے ہے؟ روپیہ اسی لیے ہوتا ہے کہ خرچ کیا جائے۔ بال بچوں کی طرف سے بھی بے فکری ہے۔ کیوں اس بڑھاپے میں آپ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ ذرا اپنی حالت کو دیکھئے اور کشمیری دروازے کو دیکھئے! یہ دو میل آنا جانا آپ کو مضمحل کر دے گا، ذرا ٹھہر جائیے۔ میں گاڑی لے آتا ہوں۔ بہت بگڑے اور کہنے لگے، تجھ کو میرے معاملے میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے! اب چلتا ہے تو چل نہیں میں کسی اور کو بلاتا ہوں، ابھی میرے ہاتھ پاؤں نے ایسا جواب نہیں دیا ہے کہ کشمیری دروازے تک نہ جا سکوں۔\n\nمیں نے کہا، مولوی صاحب! خدا کے لیے اب تو گاڑی رکھ لیجئے۔ اگر آپ خرچ نہیں اٹھاتے میں اٹھاؤں گا۔ ہنس کر کہنے لگے، کیوں نہ ہو، روپیہ اچھلنے لگا ہے۔ کیا میرے پاس اتنا روپیہ نہیں ہے کہ گاڑی نہ رکھ سکوں۔ بیٹا! بات یہ ہے کہ پہلے تو میں اس لیے گاڑی گھوڑ ا نہیں رکھا کہ سائیسوں سے ڈر لگتا تھا۔ ایک تو دانہ گھاس چراتے ہیں، دوسرے گھوڑے کی مالش نہیں کرتے، تیسرے گاڑی کا آج یہ توڑا، کل وہ توڑا، کون بیٹھے بٹھائے اپنی بھلی چنگی جان کو یہ عذاب لگائے اور دن رات کا فکر مول لے۔ رفتہ رفتہ پیدل پھرنے کی عادت ہو گئی۔ اب آخری عمر میں گاڑی کی ضرورت ہوئی تو گاڑی رکھتے ہوئے شرم آتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ تمام عمر تو مولوی صاحب جوتیاں چٹخاتے پھرے، اب بڑھاپے میں گاڑی پر سوار ہو کر پھرتے ہیں۔\n\nنا بھئی نا! اب گاڑی رکھنا وضع داری کے خلاف ہے۔ میں نے کہا، تو کمیشن ہی جاری کرا لیا ہوتا۔ کہنے لگے، وہ بھی میری وضع داری کے خلاف ہے۔ بہر حال یہی حجتیں کرتے کرتے کچہری پہنچ گئے۔ ڈپٹی صاحب کو اطلاع ہوئی۔ انہوں نے مولوی صاحب کو اپنے کمرے میں بٹھایا اور سب سے پہلے ان کا مقدمہ لے کر ان کی شہادت قلم بند کی اور یہ جس طرح گئے تھے اسی طرح ہانپتے کانپتے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر آ گئے۔\n\nحیدر آباد آنے کے تھوڑے ہی دنوں بعد معلوم ہوا کہ اس چہکتے ہوئے بلبل نے گلشن دنیا سے کوچ کیا۔ جب کبھی دہلی جاتا ہوں تو مولوی صاحب کے مکان پر ضرور جاتا ہوں۔ اندر قدم نہیں رکھتا مگر باہر ہی بڑی دیر تک دیوار سے لگ کر دروازے دیکھا کرتا ہوں۔ اور رہ رہ کر ذوق کا یہ شعر زبان پر آتا ہے،\n\nیہ چمن یوں ہی رہے گا، اور سارے جانور\n\nاپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گے\n\nاللہ بس، باقی ہوس", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1_%D9%86%D8%B0%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "ڈبوئے گی بتو یہ جسم دریا بار پانی میں", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈبوئے گی بتو یہ جسم دریا بار پانی میں\nبنے گی موج بھی میرے لیے زنار پانی میں\n\nغبار دیدہ تر سے تکدر دل کا ظاہر ہے\nتماشہ ہے اٹھی مٹی کی اک دیوار پانی میں\n\nتن بے جاں میں جاں آئی ہے ابرو کے اشارہ سے\nبجھی تھی چشمۂ حیواں کی یہ تلوار پانی میں\n\nیہی رونا ہے فرقت میں تو جاں آنکھوں سے نکلے گی\nہے مرغ آبی اڑنے کے لیے تیار پانی میں\n\nہمیں کیا غیر کے کھیتوں پہ جو ابر کرم برسا\nنہ آئی اپنی جانب تو کبھی بوچھار پانی میں\n\nتڑپتا ہوں میں رو رو کے خیال مصحف رخ میں\nکہ غسل ارتماسی کرتے ہیں دیں دار پانی میں\n\nمرے رونے پہ وہ ہنستے ہیں تو اغیار جلتے ہیں\nطلسم تازہ ہے بد گل ہوئے فی النار پانی میں\n\nہوئے غرق عرق جو شرم عصیاں سے وہ پاک اٹھے\nہوا کرتے ہیں پیدا گوہر شہوار پانی میں\n\nنہ ہوگی آبروئے عارضی تو جوہر ذاتی\nپئیں سونے کا پانی بھی اگر زردار پانی میں\n\nجو تو آئینہ رکھ کر سامنے زیور پہنتا ہے\nتری بالی کی مچھلی تیرتی ہے یار پانی میں\n\nشراب ناب ہے اک قسم کا پانی ہے اے زاہد\nعبث کیوں ہے تجھے اے نا سمجھ انکار پانی میں\n\nلطیف‌ الطبع جز راحت نہیں دیتے کبھی ایذا\nنہیں ممکن کہ پیدا ہو چھری کی دھار پانی میں\n\nبنا دیتے ہیں دم میں سیکڑوں گنبد حبابوں کے\nخدا کی شان رہتے ہیں عجب معمار پانی میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%D8%A8%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D8%A8%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\nپر حال یہ افشا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nناصح یہ گلہ کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\nتو کب مری سنتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nمیں بولوں تو چپ ہوتے ہیں اب آپ جبھی تک\nیہ رنجش بے جا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nکچھ غیر سے ہونٹوں میں کہے ہے یہ جو پوچھو\nتو ووہیں مکرتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nکب پاس پھٹکنے دوں رقیبوں کو تمہارے\nپر پاس تمہارا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nناصح کو جو چاہوں تو ابھی ٹھیک بنا دوں\nپر خوف خدا کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nکیا کیا نہ کہے غیر کی گر بات نہ پوچھو\nیہ حوصلہ میرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nکیا کہئے نصیبوں کو کہ اغیار کا شکوہ\nسن سن کے وہ چپکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nمت پوچھ کہ کس واسطے چپ لگ گئی ظالم\nبس کیا کہوں میں کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nچپکے سے ترے ملنے کا گھر والوں میں تیرے\nاس واسطے چرچا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nہاں تنگ دہانی کا نہ کرنے کے لیے بات\nہے عذر پر ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nاے چارہ گرو قابل درماں نہیں یہ درد\nورنہ مجھے سودا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nہر وقت ہے دشنام ہر اک بات میں طعنہ\nپھر اس پہ بھی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nکچھ سن کے جو میں چپ ہوں تو تم کہتے ہو بولو\nسمجھو تو یہ تھوڑا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nسنتا نہیں وہ ورنہ یہ سرگوشی اغیار\nکیا مجھ کو گوارا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا\n\nمومنؔ بخدا سحر بیانی کا جبھی تک\nہر ایک کو دعویٰ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ڈر نہیں تھوکتے ہیں خون جو دکھ پائے ہوئے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈر نہیں تھوکتے ہیں خون جو دکھ پائے ہوئے\nلخت دل بن کے نکل جائیں گے غم کھائے ہوئے\n\nدم نکلنا ہے دل زار کا ہے حال اخیر\nنالے آتے ہیں لبوں تک مرے گھبرائے ہوئے\n\nیہ بہانہ ہے مرے قتل پہ راضی نہیں تیر\nغل مچاتی ہے کماں ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے\n\nہم تو مر جائیں گے ہر گل پہ عدم میں بھی رشیدؔ\nجاتے ہیں گلشن فانی کی ہوا کھائے ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%A9%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D9%86_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%DA%A9%DA%BE_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "ڈر نہیں مجھ کو گناہوں کی گراں باری کا", "poet_page": "مصنف:محمد علی جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈر نہیں مجھ کو گناہوں کی گراں باری کا\nتیری رحمت ہے سبب میری سبک ساری کا\n\nدار نے اک سگ دنیا کو یہ بخشا ہے عروج\nہے فرشتوں میں بھی چرچا مری دیں داری کا\n\nدل و جاں سونپ چکے ہم تجھے اے جان جہاں\nاب ہمیں خوف ہی کیا اپنی گرفتاری کا\n\nجان بھی چیز ہے کوئی کہ رکھیں تم سے دریغ\nپاس اتنا بھی نہ ہو رسم وفاداری کا\n\nساقیا سب کو تری ایک نظر کافی تھی\nتھا کسے ہوش ترے عہد میں ہشیاری کا\n\nمیں فدا آج بھی ہو جائے وہی ایک نگاہ\nخاتمہ ہو کہیں اس دور کی خودداری کا\n\nعاشقوں کے لیے ہے دار ہی داروئے شفا\nعشق کی طب میں دوا نام ہے بیماری کا\n\nاجل استادہ ہے بالیں پہ مریض غم عشق\nآنکھ تو کھول ذرا وقت ہے بیداری کا\n\nجوہرؔ اور حاجب و درباں کی خوشامد کیا خوب\nعرش و کرسی پہ گزر ہے ترے درباری کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووے", "poet_page": "مصنف:اشرف علی فغاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووے\nدنیا میں الٰہی کوئی بدنام نہ ہووے\n\nشمشیر کوئی تیز سی لینا مرے قاتل\nایسی نہ لگانا کہ مرا کام نہ ہووے\n\nگر صبح کو میں چاک گریبان دکھاؤں\nاے زندہ دلاں حشر تلک شام نہ ہووے\n\nآتا ہے مری خاک پہ ہم راہ رقیباں\nیعنی مجھے تربت میں بھی آرام نہ ہووے\n\nجی دیتا ہے بوسہ کی توقع پہ فغاںؔ تو\nٹک دیکھ لے سودا یہ ترا خام نہ ہووے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92"} {"title": "ڈرتے ہیں چشم و زلف و نگاہ و ادا سے ہم", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈرتے ہیں چشم و زلف و نگاہ و ادا سے ہم\nہر دم پناہ مانگتے ہیں ہر بلا سے ہم\n\nمعشوق جائے حور ملے مے بجائے آب\nمحشر میں دو سوال کریں گے خدا سے ہم\n\nگر تو کسی بہانے آ جائے وقت نزع\nظالم کریں ہزار بہانے قضا سے ہم\n\nگو حال دل چھپاتے ہیں پر اس کو کیا کریں\nآتے ہیں خودبخود نظر اک مبتلا سے ہم\n\nناچار اختیار کیا شیوۂ رقیب\nکچھ بے حیائی خوب ہیں گزرے حیا سے ہم\n\nمانگی نہ ہوگی خضر نے یوں عمر جاوداں\nکیا اپنی موت مانگتے ہیں التجا سے ہم\n\nدیکھیں تو پہلے کون مٹے اس کی راہ میں\nبیٹھے ہیں شرط باندھ کے ہر نقش پا سے ہم\n\nمجبور اپنی شیوۂ شرم و حیا سے تم\nناچار اضطراب دل مبتلا سے ہم\n\nیہ آرزو ہے آنکھ میں سرمہ لگائیں گے\nاے داغؔ خاک پائے رسول خدا سے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%88_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%88_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%88_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "ڈرو نہ تم کہ نہ سن لے کہیں خدا میری", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈرو نہ تم کہ نہ سن لے کہیں خدا میری\nکہ روشناس اجابت نہیں دعا میری\n\nوہ تم کہ تم نے جفا کی تو کچھ برا نہ کیا\nوہ میں کہ ذکر کے قابل نہیں وفا میری\n\nچلے بھی آؤ کہ دنیا سے جا رہا ہے کوئی\nسنو کہ پھر نہ سنوگے تم التجا میری\n\nکچھ ایسی یاس سے حسرت سے میں نے دم توڑا\nجگر کو تھام کے رہ رہ گئی قضا میری\n\nخدا نے زہر کی تاثیر بخش دی فانیؔ\nترس گئی تھی اثر کو بہت دعا میری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%D8%B1%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%86_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ڈرپوک", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "میدان بالکل صاف تھا مگر جاوید کا خیال تھا کہ میونسپل کمیٹی کی لالٹین جو دیوار میں گڑی ہے، اس کوگھور رہی ہے۔ بار باروہ اس چوڑے صحن کو جس پر نانک شاہی اینٹوں کا اونچا نیچا فرش بنا ہوا تھا، طے کرکے اس نکڑ والے مکان تک پہنچنے کا ارادہ کرتا جو دوسری عمارتوں سے بالکل الگ تھلگ تھا۔ مگر یہ لالٹین جو مصنوعی آنکھ کی طرح ہر طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی، اس کے ارادے کو متزلزل کردیتی اور وہ اس بڑی موری کے اس طرف ہٹ جاتا جس کو پھاند کر وہ صحن کو چند قدموں میں طے کرسکتا تھا۔۔۔ صرف چند قدموں میں!\n\nجاوید کا گھر اس جگہ سے کافی دور تھا۔ مگر یہ فاصلہ بڑی تیزی سے طے کرکے یہاں پہنچ گیا تھا۔ اس کے خیالات کی رفتار اس کے قدموں کی رفتار سے زیادہ تیز تھی۔ راستے میں اس نے بہت سی چیزوں پرغور کیا۔ وہ بیوقوف نہیں تھا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ ایک بیسوا کے پاس جا رہا ہے۔ اور اس کو اس بات کا بھی پورا شعور تھا کہ وہ کس غرض سے اس کے یہاں جانا چاہتاہے۔\n\nوہ عورت چاہتا تھا۔ عورت، خواہ وہ کسی شکل میں ہو۔ عورت کی ضرورت اس کی زندگی میں یک بیک پیدا نہیں ہوئی تھی۔ ایک زمانے سے یہ ضرورت اس کے اندر آہستہ آہستہ شدت اختیار کرتی رہی تھی۔ اور اب دفعتاً اس نے محسوس کیا تھا کہ عورت کے بغیر وہ ایک لمحہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ عورت اس کو ضرور ملنی چاہیے، ایسی عورت جس کی ران پر ہولے سے طمانچہ مار کروہ اس کی آواز سن سکے۔ ایسی عورت جس سے وہ واہیات قسم کی گفتگو کرسکے۔\n\nجاوید پڑھا لکھا ہوش مند آدمی تھا۔ ہر بات کی اونچ نیچ سمجھتا تھا مگر اس معاملے میں مزید غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس کے دل میں ایک ایسی خواہش پیدا ہوئی تھی، جو اس کے لیے نئی نہ تھی۔ عورت کی قربت حاصل کرنے کی خواہش اس سے پہلے کئی بار اس کے دل میں پیدا ہوئی اور اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے انتہائی کوششوں کے بعد جب اسے ناامیدی کا سامنا کرنا پڑا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس کی زندگی میں سالم عورت کبھی نہیں آئے گی اور اگر اس نے اس سالم عورت کی تلاش جاری رکھی تو کسی روز وہ دیوانے کُے کی طرح راہ چلتی عورت کو کاٹ کھائے گا۔\n\nکاٹ کھانے کی حد تک اپنے ارادہ میں ناکام رہنے کے بعد اب دفعتاً اس کے دل میں اس خواہش نے کروٹ بدلی تھی۔ اب کسی عورت کے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کرنے کاخیال اس کے دماغ سے نکل چکا تھا۔ عورت کا تصور اس کے دماغ میں موجود تھا۔ اس کے بال بھی تھے۔ مگر اب اس کی یہ خواہش تھی کہ وہ ان بالوں کو وحشیوں کی طرح کھینچے، نوچے، اکھیڑے۔\n\nاب اس کے دماغ میں سے وہ عورت نکل چکی تھی جس کے ہونٹوں پر وہ اپنے ہونٹ اس طرح رکھنے کا آرزو مند تھا جیسے تتلی پھولوں پر بیٹھتی ہے، اب وہ ان ہونٹوں کو اپنے گرم ہونٹوں سے داغنا چاہتا تھا۔۔۔ ہولے ہولے سرگوشیوں میں باتیں کرنے کا خیال بھی اس کے دماغ میں نہیں تھا۔ اب وہ بلند آواز میں باتیں کرنا چاہتا تھا،ایسی باتیں جو اس کے موجودہ ارادے کی طرح ننگی ہوں۔\n\nاب سالم عورت اس کے پیش نظر نہیں تھی۔۔۔ وہ ایسی عورت چاہتا تھا جو گھس گھسا کر شکستہ حال مرد کی شکل اختیار کرگئی ہو۔ ایسی عورت جو آدھی عورت ہو اور آدھی کچھ بھی نہ ہو۔\n\nایک زمانہ تھا جب جاوید عورت کہتے وقت اپنی آنکھوں میں خاص قسم کی ٹھنڈک محسوس کیا کرتا تھا۔ جب عورت کا تصور اسے چاند کی ٹھنڈی دنیا میں لے جاتا تھا۔ وہ ’’عورت‘‘ کہتا تھا بڑی احتیاط سے جیسے اس کو اس بے جان لفظ کے ٹوٹنے کا ڈر ہو۔۔۔ ایک عرصے تک وہ اس دنیا کی سیر کرتا رہا مگر انجام کار اس کو معلوم ہوا کہ عورت کی تمنا اس کے دل میں ہے۔ اس کی زندگی کا ایسا خواب ہے جو خراب معدے کے ساتھ دیکھا جائے۔\n\nجاوید اب خوابوں کی دنیا سے باہر نکل آیا تھا۔ بہت دیر تک ذہنی طور پر وہ اپنے آپ کو بہلاتا رہا۔ مگر اب اس کا جسم خوف ناک حد تک بیدار ہو چکا تھا۔ اس کے تصور کی شدت نے اس کی جسمانی حسیات کی نوک پلک کچھ اس طور پر نکالی تھی کہ اب زندگی اس کے لیے سوئیوں کا بستر بن گئی۔ ہر خیال ایک نشتر بن گیا اور عورت اس کی نظروں میں ایسی شکل اختیار کرگئی جس کو وہ بیان بھی کرنا چاہتا تو نہ کرسکتا۔\n\nجاوید کبھی انسان تھا۔ مگر اب انسانوں سے اسے نفرت تھی، اس قدر کہ اپنے آپ سے بھی متنفر ہوچکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ خود کو ذلیل کرنا چاہتا تھا۔ اس طورپر کہ ایک عرصے تک اس کے خوبصورت خیال جن کو وہ اپنے دماغ میں پھولوں کی طرح سجا کے رکھتا رہا تھا، غلاظت سے لتھڑے رہیں۔\n\n’’مجھے نفاست تلاش کرنے میں ناکامی رہی ہے لیکن غلاظت تو میرے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ اب جی یہ چاہتا ہے کہ اپنی روح اور جسم کے ہر ذرے کو اس غلاظت سے آلودہ کردوں۔ میری ناک جو اس سے پہلے خوشبوؤں کی متجسس رہی ہے اب بدبو دار اور متعفن چیزیں سونگھنے کے لیے بیتاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے آج اپنے پرانے خیالات کا چغہ اتار کر اس محلے کا رخ کیا ہے جہاں ہر شے ایک پراسرار تعفن میں لپٹی نظر آتی ہے۔۔۔ یہ دنیا کس قدر بھیانک طور پر حسین ہے!‘‘\n\nنانک شاہی اینٹوں کا ناہموار فرش اس کے سامنے تھا۔ لالٹین کی بیمار روشنی میں جاوید نے اس فرش کی طرف اپنی بدلی ہوئی نظروں سے دیکھا تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ بہت سی ننگی عورتیں اوندھی سیدھی لیٹی ہیں، جن کی ہڈیاں جا بجا ابھر رہی ہیں۔ اس نے ارادہ کیا کہ اس فرش کو طے کرکے نکڑ والے مکان کی سیڑھیوں تک پہنچ جائے اور کوٹھے پر چڑھ جائے مگر میونسپل کمیٹی کی لالٹین غیر مختتم ٹکٹکی باندھے اس کی طرف گھور رہی تھی۔ اس کے بڑھنے والے قدم رک گئےاور وہ بھنا سا گیا۔ یہ لالٹین مجھے کیوں گھور رہی ہے۔۔۔ یہ میرے راستے میں کیوں روڑے اٹکاتی ہے۔\n\nوہ جانتا تھا کہ یہ محض واہمہ ہے اور اصلیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں لیکن پھربھی اس کے قدم رک جاتے تھے۔ اور وہ اپنے دل میں تمام بھیانک ارادے لیے موری کے اس پار کھڑا رہ جاتا تھا، وہ یہ سمجھتا تھا کہ اس کی زندگی کے ستائیس برسوں کی جھجک جو اسے ورثے میں ملی تھی، اس لالٹین میں جمع ہوگئی ہے۔ یہ جھجک جس کو پرانی کینچلی کی طرح اتار کروہ اپنے گھر چھوڑ آیا تھا ،اس سے پہلے وہاں پہنچ چکی تھی جہاں اسے اپنی زندگی کا سب سے بھدا کھیل کھیلنا تھا۔ ایسا کھیل جو اسے کیچڑ میں لت پت کردے، اس کی روح کو ملوّث کردے۔\n\nایک میلی کچیلی عورت اس مکان میں رہتی تھی۔ اس کے پاس چار پانچ جوان عورتیں تھیں جو رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں یکساں بھدے پن سے پیشہ کیا کرتی تھیں۔ یہ عورتیں گندی موری سے غلاظت نکالنے والے پمپ کی طرح چلتی رہتی تھیں۔ جاوید کو اس قحبہ خانے کے متعلق اس کے ایک دوست نے بتایا تھا جو حسن و عشق کی تلاش کئی مرتبہ اس قبرستان میں دفن کر چکا تھا۔ جاوید سے وہ کہا کرتا تھا،’’ تم عورت عورت پکارتے ہو۔۔۔ عورت ہے کہاں۔۔۔؟ مجھے تو اپنی زندگی میں صرف ایک عورت نظر آئی جو میری ماں تھی۔۔۔ مستورات البتہ دیکھی ہیں اور ان کے متعلق سنا بھی ہے لیکن جب کبھی عورت کی ضرورت محسوس ہوئی ہے تو میں نے مائی جیواں کے کوٹھے کو اپنا بہترین رفیق پایا ہے۔۔۔ بخدا مائی جیواں عورت نہیں فرشتہ ہے۔۔۔ خدا اس کو خضر کی عمر عطا فرمائے۔‘‘\n\nجاوید، مائی جیواں اور اس کے یہاں کی چار پانچ پیشہ کرنے والی عورتوں کے متعلق بہت کچھ سن چکا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ ان میں سے ایک ہر وقت گہرے رنگ کے شیشے والا چشمہ پہنے رہتی ہے۔ اس لیے کہ کسی بیماری کے باعث اس کی آنکھیں خراب ہو چکی ہیں۔ ایک کالی کلوٹی لونڈیا ہے جو ہر وقت ہنستی رہتی ہے۔ اس کے متعلق جاوید جب سوچتاتو عجیب و غریب تصویر اس کی آنکھوں کے سامنے کھنچ جاتی،’’مجھے ایسی ہی عورت چاہیے جو ہر وقت ہنستی رہے۔۔۔ ایسی عورتوں کو ہنستے ہی رہنا چاہیے۔۔۔ جب وہ ہنستی ہوگی تو اس کے کالے کالے ہونٹ یوں کھلتے ہوں گےجیسے بدبودار گندے پانی میں میلے بلبلے بن بن کر اٹھتے ہیں۔‘‘\n\nمائی جیواں کے پاس ایک اور چھوکری بھی تھی جو باقاعدہ طور پر پیشہ کرنے سے پہلے گلیوں اور بازاروں میں بھیک مانگا کرتی تھی۔ اب ایک برس سے وہ اس مکان میں تھی، جہاں اٹھارہ برسوں سے یہی کام ہورہا تھا۔ یہ اب پوڈر اور سرخی لگاتی تھی۔ جاوید اس کے متعلق بھی سوچتا،’’اس کے سرخی لگے گال بالکل داغدار سیبوں کے مانند ہوں گے۔۔۔ جو ہر کوئی خرید سکتا ہے۔‘‘\n\nان چار یا پانچ عورتوں میں سے جاوید کی کسی خاص پر نظر نہیں تھی۔۔۔ مجھے کوئی بھی مل جائے۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ مجھ سے دام لیے جائیں اور کھٹ سے ایک عورت میری بغل میں تھما دی جائے۔۔۔ ایک سیکنڈ کی دیر نہ ہونی چاہیے، کسی قسم کی گفتگو نہ ہو، کوئی نرم و نازک فقرہ منہ سے نہ نکلنے پائے۔۔۔ قدموں کی چاپ سنائی دے۔ دروازہ کھلنے کی کھڑکھڑاہٹ پیدا ہو۔۔۔ روپے کھنکھنائیں، اور آوازیں بھی آئیں مگر منہ بند رہے، اگر آواز نکلے تو ایسی جو انسانی آواز معلوم نہ ہو۔۔۔ ملاقات ہو بالکل حیوانوں کی طرح ،تہذیب و تمدن کے صندوق میں تالا لگ جائے۔ تھوڑی دیر کے لیے ایسی دنیا آباد ہو جائے جس میں سونگھنے، دیکھنے اور سننے کی نازک حسیات زنگ لگے استرے کے مانند کند ہو جائیں۔\n\nجاوید بے چین ہوگیا۔ ایک الجھن سی اس کے دماغ میں پیدا ہوگئی۔ ارادہ اس کے اندر اتنی شدت اختیار کر چکا تھا کہ اگر پہاڑ بھی اس کے راستے میں ہوتے تو وہ ان سے بھڑ جاتا۔ مگر میونسپل کمیٹی کی ایک اندھی لالٹین جس کو ہوا کا ایک جھونکا بجھا سکتا تھا،اس کی راہ میں بہت بری طرح حائل ہوگئی تھی۔\n\nاس کی بغل میں پان والے کی دکان کھلی تھی۔ تیز روشنی میں اس کی چھوٹی سی دکان کا اسباب اس قدر نمایاں ہورہا تھا کہ بہت سی چیزیں نظر نہیں آتی تھیں۔ بجلی کے قمقمے کے اردگرد مکھیاں اس انداز سے اڑ رہی تھیں جیسے ان کے پَر بوجھل ہورہے ہیں۔ جاوید نے جب ان کی طرف دیکھا تو اس کی الجھن میں اضافہ ہوگیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسے کوئی سست رفتار چیز نظر آئے۔ اس کا کر گزرنے کا ارادہ جو وہ اپنے گھر سے لے کر یہاں آیا تھا ان مکھیوں کے ساتھ ساتھ بار بار ٹکرایا اور وہ اس کے احساس سے اس قدر پریشان ہوا کہ ایک ہلڑ سا اس کے دماغ میں مچ گیا،’’میں ڈرتا ہوں۔۔۔ میں خوف کھاتا ہوں۔۔۔ اس لالٹین سے مجھے ڈر لگتا ہے۔۔۔ میرے تمام ارادے اس نے تباہ کردیے ہیں۔۔۔ میں ڈرپوک ہوں۔۔۔ میں ڈرپوک ہوں۔۔۔ لعنت ہو مجھ پر۔‘‘اس نے کئی لعنتیں اپنے آپ پر بھیجیں مگر خاطر خواہ اثر پیدا نہ ہوا۔ اس کے قدم آگے نہ بڑھ سکے۔ نانک شاہی اینٹوں کا ناہموار فرش اس کے سامنے لیٹا رہا۔\n\nگرمیوں کے دن تھے۔ نصف رات گزرنے پر بھی ہوا ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی۔ بازار میں آمدورفت بہت کم تھی۔ گنتی کی صرف چند دکانیں کھلی تھیں۔ فضا خاموشی میں لپٹی ہوئی تھی۔ البتہ کبھی کبھی کسی کوٹھے سے ہوا کے گرم جھونکے کے ساتھ تھکی ہوئی موسیقی کا ایک ٹکڑا اڑ کر ادھر چلا آتا تھا اور گاڑھی خاموشی میں گھل جاتا تھا۔\n\nجاوید کے سامنے ،یعنی مائی جیواں کے قحبہ خانے سے ادھر ہٹ کر بڑے بازار میں جو دکانوں کے اوپر کوٹھوں کی ایک قطار تھی، اس میں کئی جگہ زندگی کے آثار نظر آرہے تھے۔ اس کے بالمقابل کھڑکی میں تیز روشنی کے قمقمے کے نیچے ایک سیاہ فام عورت بیٹھی پنکھا جھل رہی تھی۔ اس کے سر کے اوپر بجلی کا بلب جل رہا تھا اور ایسا دکھائی دیتا تھا کہ سفید آگ کا ایک گولا ہے جو پگھل پگھل کر اس ویشیا پر گر رہا ہے۔\n\nجاوید اس سیاہ فام عورت کے متعلق کچھ غور کرنے ہی والا تھا کہ بازار کے اس سرے سے جو اس کی آنکھوں سے اوجھل تھا، بڑے بھدے نعروں کی صورت میں چند آوازیں بلند ہوئیں۔ تھوڑی دیر کے بعد تین آدمی جھومتے جھامتے شراب کے نشے میں چور نمودار ہوئے۔ تینوں کے تینوں اس سیاہ فام عورت کے کوٹھے کے نیچے پہنچ کر کھڑے ہوگئے اور جاوید کے کانوں نے ایسی ایسی واہیات باتیں سنیں کہ اس کے تمام ارادے اس کے اندر سمٹ کر رہ گئے۔\n\nایک شرابی نے ،جس کے قدم بہت زیادہ لڑکھڑا رہے تھے، اپنے مونچھوں بھرے ہونٹوں سے بڑی بھدی آواز کے ساتھ ایک بوسہ نوچ کر اس کالی ویشیا کی طرف اچھالا اور ایک ایسا فقرہ کسا کہ جاوید کی ساری ہمت پست ہوگئی۔ کوٹھے پر برقی لیمپ کی روشنی میں اس سیاہ فام عورت کے ہونٹ ایک آبنوسی قہقہے نے وا کیے اور اس نے شرابی کے فقرے کا جواب یوں دیا جیسے ٹوکری بھر کوڑا نیچے پھینک دیا ہے۔ نیچے غیر مربوط قہقہوں کا ایک فوارہ سا چھوٹ پڑا اور جاوید کے دیکھتے دیکھتے وہ تینوں شرابی کوٹھے پر چڑھے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ نشست جہاں وہ کالی ویشیا بیٹھی تھی خالی ہوگئی۔\n\nجاوید اپنے آپ سے اور زیادہ متنفر ہوگیا،’’تم۔۔۔تم۔۔۔تم کیا ہو۔۔۔؟ میں پوچھتا ہوں،آخر تم کیا ہو۔۔۔ نہ تم یہ ہو، نہ وہ ہو۔۔۔ نہ تم انسان ہو نہ حیوان۔۔۔ تمہاری ذہانت و ذکاوت آج سب دھری کی دھری رہ گئی ہے۔ تین شرابی آتے ہیں۔ تمہاری طرح ان کے دل میں ارادہ نہیں ہوتا۔ لیکن بے دھڑک اس ویشیا سے واہیات باتیں کرتے ہیں اور ہنستے، قہقہے لگاتے کوٹھے پر چڑھ جاتے ہیں۔ گویا پتنگ اڑانے جارہے ہیں۔۔۔ اور تم۔۔۔ اور تم جو کہ اچھی طرح سمجھتے ہو کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔ یوں بیوقوفوں کی طرح بیچ بازار میں کھڑے ہو اور ایک بے جان لالٹین سے خوف کھا رہے ہو۔۔۔ تمہارا ارادہ اس قدر صاف اور شفاف ہے لیکن پھر بھی تمہارے قدم آگے نہیں بڑھتے۔۔۔ لعنت ہو تم پر۔۔۔‘‘\n\nجاوید کے اندر ایک لمحے کے لیے خود انتقامی کا جذبہ پیدا ہوا۔ اس کے قدموں میں جنبش ہوئی اور موری پھاند کر وہ مائی جیواں کے کوٹھے کی طرف بڑھا۔ قریب تھا کہ وہ لپک کر سیڑھیوں کے پاس پہنچ جائے کہ اوپرسے ایک آدمی اترا۔ جاوید پیچھے ہٹ گیا۔ غیرارادی طور پر اس نے اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش بھی کی لیکن کوٹھے پر سے نیچے آنے والے آدمی نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔\n\nاس آدمی نے اپنا ململ کا کرتہ اتار کرکاندھے پر دھرا تھا۔ اور دا ہنی کلائی میں موتیے کے پھولوں کا مسلا ہوا ہار لپیٹا تھا۔ اس کا بدن پسینے سے شرابور ہورہا تھا۔ جاوید کے وجود سے بے خبر وہ اپنے تہمد کو دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں تک اونچا کیے نانک شاہی اینٹوں کا اونچا نیچا فرش طے کرکے موری کے اس پار چلا گیا اور جاوید نے سوچنا شروع کیا کہ اس آدمی نے اس کی طرف کیوں نہیں دیکھا۔\n\nاس دوران میں اس نے لالٹین کی طرف دیکھا تو وہ اسے یہ کہتی معلوم ہوئی، ’’تم کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس لیے کہ تم ڈرپوک ہو۔۔۔ یاد ہے تمہیں پچھلے برس برسات میں جب تم نے اس ہندو لڑکی اندرا سے اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہا تو تمہارے جسم میں سکت نہیں رہی تھی۔۔۔ کیسے کیسے بھیانک خیال تمہارے دماغ میں پیدا ہوئے تھے۔۔۔ یاد ہے، تم نے ہندو مسلم فساد کے متعلق بھی سوچا تھا اور ڈر گئے تھے۔ اس لڑکی کو تم نے اسی ڈر کے مارے بھلا دیا اور حمیدہ سے تم اس لیے محبت نہ کرسکے کہ وہ تمہاری رشتہ دار تھی اور تمہیں اس بات کا خوف تھا کہ تمہاری محبت کو غلط نظروں سے دیکھا جائے گا۔ کیسے کیسے وہم تمہارے اوپر ان دنوں مسلط تھے۔۔۔ اور پھر تم نے بلقیس سے محبت کرنا چاہی۔\n\nمگر اس کو صرف ایک بار دیکھ کر تمہارے سب ارادے غائب ہوگئے اور تمہارا دل ویسے کا ویسا بنجر رہا۔۔۔ کیا تمہیں اس بات کا احساس نہیں کہ ہر بار تم نے اپنی بے لوث محبت کو آپ ہی شک کی نظروں سے دیکھا ہے۔ تمہیں اس بات کا کبھی پوری طرح یقین نہیں آیا کہ تمہاری محبت ٹھیک فطری حالت میں ہے۔۔۔ تم ہمیشہ ڈرتے ہو۔ اس وقت بھی تم خائف ہو۔ یہاں گھریلو عورتوں اور لڑکیوں کا سوال نہیں، ہندو مسلم فساد کا بھی اس جگہ کوئی خدشہ نہیں لیکن اس کے باوجود تم کبھی اس کوٹھے پر نہیں جاسکو گے۔۔۔ میں دیکھوں گی تم کس طرح اوپر جاتے ہو۔‘‘\n\nجاوید کی رہی سہی ہمت بھی پست ہوگئی۔ اس نے محسوس کیا وہ واقعی پرلے درجے کا ڈرپوک ہے۔۔۔ بیتے ہوئے واقعات تیز ہوا میں رکھی ہوئی کتاب کے اوراق کی طرح اس کے دماغ میں دیر تک پھڑپھڑاتے رہے اور پہلی مرتبہ اس کو اس بات کا بڑی شدت کے ساتھ احساس ہوا کہ اس کے وجود کی بنیادوں میں ایک ایسی جھجک بیٹھی ہوئی ہے جس نے اسے قابلِ رحم حد تک ڈرپوک بنا دیاہے۔\n\nسامنے سیڑھیوں سے کسی کے اترنے کی آواز آئی تو جاوید اپنے خیالات سے چونک پڑا۔ وہی جو گہرے رنگ کے شیشوں والی عینک پہنتی تھی اور جس کے متعلق وہ کئی بار اپنے دوست سے سن چکا تھا، سیڑھیوں کے اختتامی چبوترے پر کھڑی تھی۔ جاوید گھبرا گیا، قریب تھا کہ وہ آگے سرک جائے کہ اس نے بڑے بھدے طریقے پر اسے آواز دی، ’’اجی ٹھہر جاؤ۔۔۔ میری جان گھبراؤ نہیں۔۔۔ آؤ۔۔۔آؤ۔۔۔‘‘ اس کے بعد اس نے پچکارتے ہوئے کہا، ’’چلے آؤ۔۔۔ آجاؤ۔‘‘\n\nیہ سن کر جاوید کو ایسا محسوس ہوا کہ اگر وہ کچھ دیر وہاں ٹھہرا تو اس کی پیٹھ میں دم اگ آئے گی جو ویشیا کے پچکارنے پرہلنا شروع کردے گی۔ اس احساس سمیت اس نے چیوترے کی طرف گھبرائی ہوئی نظروں سے دیکھا۔ مائی جیواں کے قحبہ خانے کی اس عینک چڑھی لونڈیا نے کچھ اس طرح اپنے بالائی جسم کو حرکت دی کہ جاوید کے تمام ارادے پکے ہوئے بیروں کی مانند جھڑ گئے۔ اس نے پھر پچکارا، ’’آؤ۔۔۔ میری جان اب آبھی جاؤ۔‘‘\n\nجاوید اٹھ بھاگا۔ موری پھاند کر جب وہ بازار میں پہنچا تو اس نے ایک ایسے قہقہے کی آواز سنی جو خطرناک طور پر بھیانک تھا۔ وہ کانپ اٹھا۔\n\nجب وہ اپنے گھر کے پاس پہنچا تو اس کے خیالات کے ہجوم میں سے دفعتاًایک خیال رینگ کر آگے بڑھاجس نے اس کو تسکین دی، ’’جاوید، تم ایک بہت بڑے گناہ سے بچ گئے۔ خدا کا شکر بجا لاؤ۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%D8%B1%D9%BE%D9%88%DA%A9"} {"title": "ڈوب جانے کے سوا عشق میں چارا ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:بیتاب عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈوب جانے کے سوا عشق میں چارا ہی نہیں\nاس سمندر کا کسی سمت کنارا ہی نہیں\n\nتلخیٔ زخم جگر جس کو گوارا ہی نہیں\nاس کو ناوک نگہ ناز نے مارا ہی نہیں\n\nسنتے آتے ہیں کہ اک روز قیامت ہوگی\nآپ نے زلف پریشاں کو سنوارا ہی نہیں\n\nپردۂ دل سے صدا یار کی آ ہی جاتی\nہم تذبذب میں رہے اس کو پکارا ہی نہیں\n\nباز ہم ایسے تصور سے کہ اب تک جس نے\nایک نقشہ بھی ترا ٹھیک اتارا ہی نہیں\n\nپھر شکایت ہے مرے دل کے تڑپنے کی عبث\nتاک کر تیر کوئی آپ نے مارا ہی نہیں\n\nکیا ہے دریائے محبت کے ادھر کیا معلوم\nتیری تلوار نے اس گھاٹ اتارا ہی نہیں\n\nان کی محفل کی عجب بات ہے کیا عرض کریں\nتذکرہ سب کا ہے اک ذکر ہمارا ہی نہیں\n\nمل گئی اس کی نظر میری نظر سے آخر\nاب تو دینا ہی پڑا دل کوئی چارا ہی نہیں\n\nاور بھی دیدۂ دل رکھتے ہیں پرخوں ہم سے\nکچھ ترے ہجر میں یہ رنگ ہمارا ہی نہیں\n\nپارسائی میں ہے فرد اس کی حیا اے بیتابؔ\nشوق آلود نظر اس کو گوارا ہی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%D9%88%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ڈوبا ہوا اٹھوں دم محشر شراب میں", "poet_page": "مصنف:مرزا مائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈوبا ہوا اٹھوں دم محشر شراب میں\nدے دیں کفن جو یار ڈبو کر شراب میں\n\nمانے نہ مانے کوئی پہ اتنا کہیں گے ہم\nہے ذوق بے خودی تو مقرر شراب میں\n\nمانیں جو میری بات مریدان بے ریا\nدیں شیخ کو کفن تو ڈبو کر شراب میں\n\nکس کے خرام ناز سے ملتی ہے موج جام\nبرپا ہے ایک فتنۂ محشر شراب میں\n\nوہ رند بادہ کش ہوں کہ مائلؔ پس فنا\nجلوے نے ترے قہر اٹھایا نقاب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%D9%88%D8%A8%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%85_%D9%85%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ڈپٹی صاحب کا کتا", "poet_page": "مصنف:قاضی عبدالغفار", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "داروغہ جی محلہ کی سڑک پر خراماں خراما تشریف لے جارہے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بید کا ٹکرا ہے، جس کی دم میں چمڑےکے کٹے ہوئے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے لگے ہوئے ہیں۔ وہ اس کواس طرح ہلاتے اور گھماتے چلے جاتے ہیں کہ چمڑے کے ٹکڑوں کا ایک پھول ہوا میں بن جاتا ہے۔ سیاہ فام چہرہ پر گھنی مونچھوں سے ڈھکے ہوئے موٹے موٹے ہونٹ ہیں۔ جس کی گرفت میں ایک سلگتا ہوا سگریٹ ہے۔ اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے وہ ہر طرف دیکھتے جاتے ہیں۔۔۔ گویا محلہ کے ہر در و دیوار پر اور ہر دروازے میں دو نہیں ایک چھپا ہوا چور نظر آنے والا ہے۔\n\nسڑک پر کھیلتے ہوئے بچے داروغہ جی کو دیکھ دیکھ کر اپنے گھروں کے دروازوں کی طرف بھاگنے لگے!\n\nمحلہ کی پنہیاریوں نے راستہ چھوڑ کر اپنے گھونگھٹ لمبے کرلیے!۔۔۔ اس طرح داروغہ جی محلہ میں شام کا پہرا لگا رہے ہیں!!\n\n’’کیں بے، دیکھتا نہیں، سالے۔‘‘\n\nبھنگی نے جھاڑو چھوڑ کر دونوں ہاتھوں سے سلام کیا۔ داروغہ جی نے جیب سے رومال نکال کر اپنی ناک کو لگایا۔ تاکہ سڑک پر بھنگی کی جھاڑو سے جو خاک اڑ رہی تھی۔ وہ ان کی سریع الحس ناک میں داخل نہ ہونے پائے۔\n\n‘‘خاں صاحب! ہم دیکھتے ہیں تمہارے ہاں اب تاش بہت کھیلا جاتا ہے۔‘‘ خان صاحب معہ اپنے احباب کے گھبراکر چارپائی سے اٹھ کھڑے ہوئے:\n\n’’آئیے داروغہ جی! آئیے، حقہ تو پیتے جائیے۔‘‘\n\n’’کیوں جی! گیہوں کا بھاؤ پھر تم نے بڑھادیا۔‘‘ بنیا دوکان سے اترکر سڑک پر آگیا۔\n\n’’نہیں تو ہجور!‘‘ اس نے گڑگڑاکر کہا۔ ’’بھلا سرکاروں کے لیے بھاؤ تاؤ کیا۔‘‘\n\n’’ادھر آبے۔‘‘ داروغہ جی نے ایک لونڈے کو گائیں ہکائے لیے جارہا تھا، بلایا۔ ’’دیکھ! تیرے گھر تازہ مکھن ہو تو اپنی ماں سے کہنا ایک پاؤ بھر تھانہ میں پہنچا دے۔‘‘\n\nداروغہ جی اپنے چمڑے کا ٹکڑا گھماتے ہوئے چلے جارہے ہیں۔ نان بائی کی دوکان کے سامنے ایک کتا بیٹھا ہوا تھا۔ کیا جانے کیا سمجھ کر وہ بھوکنےلگا۔\n\n’’کیوں بے!‘‘ داروغہ جی کتے سے مخاطب ہوئے۔ ’’بہت دانت نکالتا ہے۔‘‘ ایک چابک لگاکر:\n\n’’اور لےگا؟‘‘ محلہ والوں کی طرف مخاطب ہوکر۔ ’’کیوں جی۔ تم لوگ ان کٹکھنے کتوں کو مارتے بھی نہیں۔ عجیب لوگ ہیں اس محلے کے۔ کیوں جی! معلوم ہے قانون کیا کہتا ہے؟ قانون کہتا ہے کہ کاٹنے والے کتے کو فوراً مار دیا جائے۔۔۔ مارنا تو ذرا دولاتیں اس مردود کے! بھونکے جاتا ہے! بھونکے جاتا ہے۔‘‘\n\nدو ایک آدمی دوڑ پڑے۔ کتے کا پٹا پکڑ کر اس کو دھپانا شروع کیا۔ کتا ٹیاؤں ٹیاؤں کر رہاہے۔ داروغہ جی نے اپنا چمڑے کا ٹکرا بغل میں اور سگریٹ منہ سےنکال کر انگلیوں میں دبالیا ہے۔ ان کی آنکھوں میں روشنی بڑھ گئی ہے!\n\n’’مارو سالے کو! بہت گلا پھاڑ تا ہے۔ موذی ہے سالا!‘‘\n\nاب تو محلے کے بچے بوڑھے جوان سب ہی سمٹ آئے۔ دکاندار بھی اپنی دکانوں کے تختوں سے اٹھ کر سڑک پر آگئے۔۔۔ داروغہ جی کے حکم سے کتا پیٹا جارہاہے!\n\nمحلہ کے دوسرے سرےکےدوکان پر ایک ’’جوان‘‘ بھی بیٹھاہوا حقہ پی رہا تھا، اس نے جو سنا کہ داروغہ جی محلہ میں آگئے، تو وہ بھی اپنی پیٹی کمر میں اور صافہ سر پر درست کرتا ہوا اٹھا۔ محلے والے جمع ہیں۔ داروغہ جی پہلا سگریٹ ختم کرکے دوسرا سلگا رہے ہیں۔ اور کتا پٹ رہا ہے!\n\nکتا چھوٹی نسل کا بھورے بالوں والا۔ خاصا خوبصورت کتا تھا۔ کبھی نان بائی کی دوکان کے سامنے آجایا کرتا تھا۔ مزاج کا ذرا کڑوا تھا۔ اور کم بخت کو داروغہ اور غیر داروغہ کی پہچان نہ تھی!\n\nاس وقت اس کی آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں۔ دم ٹانگوں کے اندر مڑ کر گویا چپک گئی تھی۔ زبان ایک انچ سے زیادہ باہر نکلی ہوئی تھی۔ اس کا ہر انداز رحم طلب تھا۔\n\n’’یہ کتا کہیں چھوٹے صاحب کا نہ ہو۔‘‘ کانسٹیبل نے داروغہ کے کان سے منہ ملا کر کہا۔\n\n’’ارے کس کا ہے یہ کتا؟‘‘ داروغہ جی نے محلہ والوں سے سوال کیا۔ مارپیٹ اب بند ہوگئی۔\n\nشیخ جی! جو ابھی ابھی شور پکار سن کر مسجد سے نکلے تھے۔ دبی زبان سے کہنے لگے:\n\n’’یہ کتا تو، صاحب میرے، وہی نا، جو نئے ڈپٹی صاحب آئے ہیں ان کا معلوم ہوتا ہے۔‘‘\n\nایک لونڈا بول پڑا:\n\nدیکھا تو ان ہی کے دروازے پر ہے، داروغہ جی۔\n\nداروغہ جی نے سگریٹ کی جلتی ہوئی دم نالی کی طرف پھینک دی۔ کچھ کھانسے:\n\n’’بھئی کتا تو اچھی نسل کا ہے۔ ہو نہ ہو ڈپٹی صاحب ہی کا ہوگا۔ ذرا ادھر تو لاؤ اسکو۔‘‘ کتے کے سر پر انہوں نے ہاتھ پھیرا:\n\n’’اچھا کتاب ہے۔ نئے ڈپٹی صاحب آدمی شوقین ہیں۔‘‘\n\nپھر کتے کے سر پر تھپکی دی۔ وہ مانوس نہیں ہوتا۔ دم اس کی ابھی تک ٹانگوں کے اندر ہے۔ اب وہ چیختا تو نہیں۔ مگر غرائے جاتا ہے۔\n\n’’مزاج کا ذرا گرم ہے یہ کتا۔۔۔ یہی تو علامت ہے اس بات کی کہ اچھی نسل کا ہے۔\n\nیہ کہہ کر داروغہ جی نے محلہ والوں کی طرف دیکھا گویا اپنی پہچان اور شناخت کی داد چاہتے ہیں۔ کلو نان بائی نے اپنی دکان کے تختہ پر سے پکارا:\n\n’’اجی نہیں داروغہ جی، یہ سسرا تو روز میری دوکان کے سامنے بیٹھا رہتا ہے۔ بھلا ڈپٹی صاحب کا کتا ایسا کیوں ہونے لگا۔‘‘\n\nکسی نے جواب دیا:\n\n’’نہیں جی، پاگل ہو، اس کا پٹا نہیں دیکھا۔ پالتو ہے جی، بازاری نہیں ہے۔‘‘ داروغہ جی نے تیسرا سگریٹ سلگایا۔ ان کا پارہ ذرا چڑھنے لگا:\n\n’’ارے میاں، تم اتنے محلہ والے ہو۔ کسی کو معلوم نہیں کہ کتا کس کا ہے، عجیب بے خبر لوگ ہو تم! اس محلہ کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔‘‘\n\n’’ہاں صاحب! ہاں صاحب! ہمیں معلوم ہے۔ یہ کتا ڈپٹی صاحب کا ہے۔ ہم نے ہزار دفعہ اس کو ان کی کرسی کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘\n\n’’ارے میاں! تم بھی عجیب آدمی ہو خاں صاحب۔‘‘ داروغہ جی نے جلدی سے فرمایا۔ ’’کھڑے دیکھ رہے ہو، کتا غریب پٹ رہا ہے اور روکتے بھی نہیں۔ پھلا یہ کیا ظلم ہے۔ کہ سب کے سب غریب کتے پر ٹوٹ پڑیں۔۔۔ چھوڑ دو، اس کا پٹا۔ چھوڑ دو جی! معلوم نہیں کہاں سے گھیر گھار کر اس کو لے آئے۔ اور کہتے ہو کہ دکان کے سامنے پڑا رہتا ہے۔ معلوم نہیں تم لوگوں کو؟ جانوروں پر ظلم کرنے کے متعلق کس قدر سخت قانون ہے، ابھی چاہو تو دوچار کا چالان کردوں۔ غضب خدا کا، غریب کتا کس بری طرح پیٹا گیا ہے۔ تم لوگ انسان ہو یا جانور۔ بے زبان جانوروں پر یہ ظلم! اس وقت میں نہ آگیا ہوتا تو تم لوگ تو مار ہی ڈالتے ڈپٹی صاحب کے کتے کو!‘‘\n\nکانسٹیبل کی طرف مخاطب ہوکر فرمانے لگے:\n\n’’لے بھئی، ذرا اٹھا تولے اس غریب کو سنبھال کر۔ چل ڈپٹی صاحب کے یہاں پہنچادیں۔‘‘\n\nمحلہ والوں کی طرف رخ کرکے:\n\n’’دیکھو جی! خبردار، آئندہ ایسی حرکت نہ کی جائے ورنہ باندھ لے جاؤں گا دس پانچ کو۔‘‘", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%D9%BE%D9%B9%DB%8C_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ڈھارس", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "چغد", "year": "1948", "text_ur": "آج سے ٹھیک آٹھ برس پہلے کی بات ہے۔\n\nہندو سبھا کالج کے سامنے جو خوبصورت شادی گھر ہے اس میں ہمارے دوست بشیشر ناتھ کی برات ٹھہری ہوئی تھی۔ تقریباً تین ساڑھے تین سو کے قریب مہمان تھے جو امرتسر اور لاہور کی نامور طوائفوں کا مجرا سننے کے بعد اس وسیع عمارت کے مختلف کمروں میں فرش پر یا چارپائیوں پر گہری نیند سو رہے تھے۔\n\nچار بج چکے تھے۔ میری آنکھوں میں، بشیشر ناتھ کے ساتھ ایک علیحدہ کمرے میں خاص خاص دوستوں کی موجودگی میں پی ہوئی وسکی کا خمار ابھی تک باقی تھا۔ جب ہال کے گول کلاک نے چار بجائے تو میری آنکھ کھلی۔ شاید کوئی خواب دیکھ رہا تھا کیوں کہ پلکوں میں کچھ چیز پھنسی پھنسی معلوم ہوتی تھی۔\n\nایک آنکھ بند کرکے، اس خیال سے کہ دوسری آنکھ ابھی کچھ دیر سوتی رہے، میں نے ہال کے فرش پر نظر دوڑائی۔ سب سو رہے تھے۔ کچھ اوندھے، کچھ سیدھے اور کچھ چاقو سے بنے ہوئے۔ میں نے اب دوسری آنکھ کھولی اور دیکھا۔ رات کو پینے کے بعد جب ہم ہال میں آکر لیٹے تھے تو اصغر علی نے ضد کی تھی کہ وہ گاؤ تکیہ لے کر سوئے گا۔ گاؤ تکیہ میرے سر سے کچھ فاصلے پر پڑا تھا مگر اصغر موجود نہیں تھا۔\n\nمیں نے سوچا، حسبِ معمول رات بھر جاگتا رہا ہے اور اس وقت یہاں سے بہت دور رام باغ میں کسی معمولی ٹکھائی کے میلے بستر پر سو رہا ہے۔\n\nاصغر علی کے لیے شراب دیسی ہو یا انگریزی، ایک تیز گاڑی تھی جو اسے فوراً عورت کی طرف کھینچ کر لے جاتی تھی۔ شراب پینے کے بعد یوں تو ننانوے فی صد مردوں کو خوبصورت چیزیں اپنی طرف کھینچتی ہیں، لیکن اصغر جو نہایت اچھا فوٹو گرافر اور پینٹر تھا۔۔۔ جو رنگوں اور لکیروں کا صحیح امتزاج جانتا تھا، شراب پینے کے بعد ہمیشہ نہایت ہی بھونڈی تصویر پیش کیا کرتا تھا۔میری پلکوں میں پھنسے ہوئے خواب کے ٹکڑے نکل گئے اور میں نے اصغر علی کے متعلق سوچنا شروع کردیا جو خواب نہیں تھا۔ اس کے لمبے بالوں والے وزنی سر کا دباؤ گاؤ تکیے پر مجھے صاف نظر آرہا تھا۔\n\nکئی بار غور کرنے کے باوجود میں سمجھ نہ سکا تھا کہ شراب پی کر اصغر کا دل اور دماغ شل کیوں ہو جاتا ہے۔ شل تو نہیں کہنا چاہیے کیونکہ وہ خوفناک طور پر بیدار ہو جاتا تھا اور اندھیری سے اندھیری گلیوں میں بھی راستہ تلاش کرتا، وہ لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے کسی نہ کسی جسم بیچنے والی عورت کے پاس پہنچ جاتا۔ اس کے غلیظ بستر سے اٹھ کر جب وہ صبح نہا دھو کر اپنے اسٹوڈیو پہنچتا اور صاف ستھری، تندرست جوان اور خوب صورت لڑکیوں اور عورتوں کی تصویر اتارتا تو اس کی آنکھوں میں حیوانیت کی ہلکی سی جھلک بھی نہ ہوتی جو شرابی حالت میں ہر دیکھنے والے کو نظر آسکتی تھی۔\n\nیقین مانیے شراب پی کر وہ سخت بے چین ہو جاتا تھا۔ اس کے دماغ سے خود احتسابی کچھ عرصے کے لیے بالکل مفقود ہو جاتی تھی۔ آدمی کتنی پی سکتا تھا! چھ، سات، آٹھ پیگ۔۔۔ مگر اس بظاہر بے ضرر سیال مادے کے چھ یا سات گھونٹ اسے شہوت کے اتھاہ سمندر میں دھکیل دیتے تھے۔\n\nآپ وسکی میں سوڈا یا پانی ملا سکتے ہیں، لیکن عورت کو اس میں حل کرنا کم از کم میری سمجھ میں نہیں آتا۔ شراب پی جاتی ہے،غم غلط کرنے کے لیے۔۔۔ عورت کوئی غم تو نہیں۔ شراب پی جاتی ہے، شور مچانے کے لیے۔۔۔ عورت کوئی شور تو نہیں۔\n\nرات اصغر نے شراب پی کر بہت شور مچایا۔ شادی بیاہ پر چونکہ ویسے ہی کافی ہنگامہ ہوتا ہے اس لیے یہ شور دب گیا ورنہ مصیبت برپا ہوتی۔ ایک دفعہ وسکی سے بھرا ہوا گلاس اٹھا کر یہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا، ’’میں بہت اونچا آدمی ہوں۔۔۔ اونچی جگہ بیٹھ کر پیوں گا۔‘‘ میرا خیال تھا کہ رام باغ میں کسی اونچے کوٹھے کی تلاش میں چلا گیا ہے، لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد جب دروازہ کھلا تو وہ ایک لکڑی کی سیڑھی لیے اندر داخل ہوا اور اسے دیوار کے ساتھ لگا کر سب سے اوپر والے ڈنڈے پر بیٹھ گیا اور چھت کے ساتھ سر لگا کر پینے لگا۔\n\nبڑی مشکلوں کے بعد میں نے اور بشیشر نے اسے نیچے اتارا اور سمجھایا کہ ایسی حرکتیں صرف اس وقت اچھی لگتی ہیں جب کوئی اور موجود نہ ہو، شادی گھر مہمانوں سے کھچا کھچ بھرا ہے، اسے خاموش رہنا چاہیے۔ معلوم نہیں کیسے یہ بات اس کے دماغ میں بیٹھ گئی کیونکہ جب تک پارٹی جاری رہی، وہ ایک کونے میں چپ چاپ بیٹھا اپنے حصے کی وسکی پیتا رہا۔\n\nیہ سوچتے سوچتے میں اٹھا اور باہر بالکنی میں جا کر کھڑا ہوگیا۔ سامنے ہندو سبھا کالج کی لال لال اینٹوں والی عمارت صبح کے خاموش اندھیارے میں لپٹی ہوئی تھی۔ آسمان کی طرف دیکھا تو کئی تارے مٹیالے آسمان پر کانپتے ہوئے نظر آئے۔ مارچ کے آخری دنوں کی خنک ہوا دھیرے دھیرے چل رہی تھی۔ میں نے سوچا چلو اوپر چلیں۔ کھلی جگہ ہے، کچھ دیر مر مر کے بنے ہوئے شہ نشین پر لیٹیں گے۔ سردی محسوس ہونے پر بدن میں جو تیز تیز جھرجھریاں پیدا ہوں گی، ان کا مزا آئے گا۔\n\nلمبا برآمدہ طے کرکے جب میں سیڑھیوں کے پاس پہنچا تو اوپر سے کسی کے اترنے کی آواز آئی۔ چند لمحات کے بعد اصغر نمودار ہوا اور مجھ سے کلام کیے بغیر پاس سے گزر گیا۔ اندھیرا تھا، میں نے سوچا شاید اس نے مجھے دیکھا نہیں چنانچہ آہستہ آہستہ سیڑھیوں پر میں نے چڑھنا شروع کیا۔ میری عادت ہے، جب کبھی میں سیڑھیاں چڑھتا ہوں تو اس کے زینے ضرور گنتا ہوں۔ میں نے دل میں چوبیس کہا اور دفعتًا مجھے آخری زینے پر ایک عورت کھڑی نظر آئی۔ میں بوکھلا گیاکیونکہ قریب قریب ہم دونوں ایک دوسرے سے ٹکرا گئے تھے۔\n\n’’معاف کر دیجیے گا۔۔۔ اوہ، آپ!‘‘\n\nعورت شاردا تھی۔ ہماری ہمسائی ہرنام کور کی بڑی لڑکی جو شادی کے ایک برس بعد ہی بیوہ ہو گئی تھی۔ پیشتر اس کے کہ میں اس سے کچھ اور کہوں، اس نے مجھ سے بڑی تیزی سے پوچھا، ’’یہ کون تھا جو ابھی نیچے گیا ہے؟‘‘\n\n’’کون؟‘‘\n\n’’وہی آدمی جو ابھی نیچے اتر کے گیا ہے۔۔۔ کیا آپ اسے جانتے ہیں۔‘‘\n\n’’جانتا ہوں۔‘‘\n\n’’کون ہے؟‘‘\n’’اصغر‘‘\n\n’’اصغر!‘‘ اس نے یہ نام اپنے دانتوں کے اندر جیسے کاٹ دیا اور مجھے، جو کچھ بھی ہوا تھا اس کا علم ہوگیا۔\n\n’’کیا اس نے کوئی بدتمیزی کی ہے؟‘‘\n\n’’بدتمیزی!‘‘ شاردا کا دوہرا جسم غصے سے کانپ اٹھا، ’’لیکن میں کہتی ہوں اس نے مجھے سمجھا کیا۔۔۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں آنسو آگئے۔\n\n’’اس نے۔۔۔ اس نے۔۔۔‘‘ اس کی آواز حلق میں پھنس گئی اور دونوں ہاتھوں سے منہ ڈھانپ کر اس نے زور زور سے رونا شروع کردیا۔میں عجیب الجھن میں پھنس گیا۔ سوچنے لگا اگر رونے کی آواز سن کر کوئی اوپر آگیا تو ایک ہنگامہ برپا ہو جائے گا۔ شاردا کے چار بھائی ہیں اور چاروں کے چاروں شادی گھر میں موجود ہیں۔ ان میں سے دو تو ہر وقت دوسروں سے لڑائی کا بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ اصغر علی کی اب خیر نہیں۔\n\nمیں نے اس کو سمجھانا شروع کیا، ’’دیکھیے آپ روئیے نہیں۔۔۔ کوئی سن لے گا۔‘‘\nایک دم دونوں ہاتھ اپنے منہ سے ہٹا کر اس نے تیز آوازمیں کہا، ’’سن لے۔۔۔ میں سنانا ہی تو چاہتی ہوں۔۔۔ مجھے آخر اس نے سمجھا کیا تھا۔۔۔ بازاری عورت۔۔۔ میں۔۔۔ میں۔۔۔‘‘\n\nآواز پھر اس کے حلق میں اٹک گئی۔\n\n’’ میرا خیال ہے اس معاملے کو یہیں دبا دینا چاہیے۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’بدنامی ہوگی۔‘‘\n\n’’کس کی۔۔۔ میری یا اس کی؟‘‘\n\n’’بدنامی تو اس کی ہوگی لیکن کیچڑ میں ہاتھ ڈالنے کا فائدہ ہی کیا ہے؟‘‘\n\nیہ کہہ میں نے اپنا رومال نکال کر اسے دیا، ’’لیجیے آنسو پونچھ لیجیے۔‘‘\n\nرومال فرش پر پٹک کروہ شہ نشین پر بیٹھ گئی۔ میں نے رومال اٹھا کر اپنی جیب میں رکھ لیا۔\n\n’’شاردا دیوی! اصغر میرا دوست ہے۔ اس سے جو غلطی ہوئی، میں اس کی معافی چاہتا ہوں۔‘‘\n\n’’آپ کیوں معافی مانگتے ہیں؟‘‘\n\n’’ اس لیے کہ میں یہ معاملہ رفع دفع کرنا چاہتا ہوں۔ ویسے آپ کہیں تو میں اسے یہاں لے آتا ہوں۔ وہ آپ کے سامنے ناک سے لکیریں بھی کھینچ دے گا۔‘‘\n\nنفرت سے اس نے اپنا منہ پھیر لیا، ’’نہیں۔۔۔ اس کو میرے سامنے مت لائیے گا۔۔۔ اس نے میرا اپمان کیا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے پھر اس کا گلا رندھ گیا، اور شہ نشین کی مرمریں سل پر کہنیوں کے بل دوہری ہو کر اس نے مجروح جذبات کے اٹھتے ہوئے فوارے کو دبانے کی ناکام کوشش کی۔میں بوکھلا گیا۔۔۔ ایک جوان اور تندرست عورت میرے سامنے رو رہی تھی اور میں اسے چپ نہیں کراسکتا تھا۔ ایک دفعہ اسی اصغر کی موٹر چلاتے چلاتے میں نے ایک کتے کو بچانے کے لیے ہارن بجایا۔۔۔ شامت اعمال ایسا ہاتھ پڑا کہ ہارن بس وہیں، آواز۔۔۔ ایک نہ ختم ہونے والا شور بن کے رہ گئی۔ ہزار کوشش کررہا ہوں کہ ہارن بند ہو جائے مگر وہ پڑا چلا رہا ہے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں اور میں مجسم بے چارگی بنا بیٹھا ہوں۔\n\nخدا کا شکر ہے کوٹھے پرمیرے اور شاردا کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ لیکن میری بے چارگی کچھ اس ہارن والے معاملے سے سوا تھی۔ میرے سامنے ایک عورت رو رہی تھی جس کو بہت دکھ پہنچا تھا۔\n\nکوئی اور عورت ہوتی تو میں تھوڑی دیر اپنا فرض ادا کرنے کے بعد چلا جاتا، مگر شاردا ہمسائی کی لڑکی تھی اور میں اسے بچپن سے جانتا تھا۔ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ اپنی تین چھوٹی بہنوں کے مقابلے میں کم خوبصورت لیکن بہت ذہین۔ کروشیے اور سلائی کے کام میں چابک دست اور کم گو۔ جب پچھلے برس شادی کے عین ساڑھے گیارہ مہینوں بعد اس کا خاوند ریل کے حادثے میں مر گیا تھا تو ہم سب گھر والوں کو بہت افسوس ہوا تھا۔خاوند کی موت کا صدمہ کچھ اور ہے، مگر یہ صدمہ جو شاردا کو میرے ایک واہیات دوست نے پہنچایا تھا، ظاہر ہے کہ اس کی نوعیت بالکل مختلف اور بہت اذیت دہ تھی۔\n\nمیں نے اس کو چپ کرانے کی ایک بار اور کوشش کی۔ شہ نشین پراس کے پاس بیٹھ کر میں نے اس سے کہا، ’’شاردا یوں روئے جانا ٹھیک نہیں۔ جاؤ! نیچے چلی جاؤ اور جو کچھ ہوا ہے، اس کو بھول جاؤ۔۔۔ وہ کم بخت شراب پیے ہوا تھا۔ ورنہ یقین جانو اتنا برا آدمی نہیں۔ شراب پی کر جانے کیا ہو جاتا ہے اسے۔‘‘\n\nشاردا کا رونا بند نہ ہوا۔\n\nمجھے معلوم تھا اصغر نے کیا کیا ہوگا، کیونکہ عام مردوں کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے، جسمانی۔ لیکن پھربھی میں خود شاردا کے منہ سے سننا چاہتا تھا کہ اصغر نے کس طور پر یہ بے ہودگی کی۔ چنانچہ میں نے اسی ہمدردانہ لہجے میں اس سے کہا، ’’معلوم نہیں اس نے تم سے کیا بدتمیزی کی ہے، لیکن کچھ نہ کچھ میں سمجھ سکتا ہوں۔۔۔ تم اوپر کیا کرنے آئی تھیں۔‘‘\n\nشاردا نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا، ’’میں نیچے کمرے میں سو رہی تھی، دو عورتوں نے میرے متعلق باتیں شروع کردیں۔‘‘\n\nآواز ایک دم اس کے گلے میں رندھ گئی۔\n\nمیں نے پوچھا، ’’کیا کہہ رہی تھیں؟‘‘\n\nشاردا نے اپنا منہ مرمریں سل پر رکھ دیا اور بہت زور سے رونے لگی۔میں نے اس کے چوڑے کاندھوں پر ہولے ہولے تھپکی دی، ’’چپ کر جاؤ شاردا۔۔۔ چپ کر جاؤ۔‘‘\n\nروتے روتے، ہچکیوں کے درمیان اس نے کہا، ’’وہ کہتی تھیں۔۔۔ وہ کہتی تھیں۔۔۔ اس ودوا کو یہاں کیوں بلایا گیا ہے۔‘‘\n\nودوا کہتے ہوئے شاردا نے اپنے آنسوؤں بھرے دوپٹے کا ایک کونہ منہ میں چبا لیا، ’’یہ سن کر میں رونے لگی اور اوپر چلی آئی۔۔۔ اور۔۔۔‘‘\n\nیہ سن کر مجھے بھی شدید دکھ ہوا۔۔۔ عورتیں کتنی ظالم ہوتی ہیں۔ خاص طور پر بوڑھی۔ زخم تازہ ہوں یا پرانے، کیا مزے لے لے کرکریدتی ہیں۔ میں نے شاردا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور پر خلوص ہمدردی سے دبایا، ’’ایسی باتوں کی بالکل پروا نہیں کرنی چاہیے۔‘‘\n\nوہ بچے کی طرح بلکنے لگی، ’’میں نے اوپر آکر یہی سوچا تھا اور سو گئی تھی۔۔۔ کہ آپ کا دوست آیا اور اس نے میرا دوپٹہ کھینچا۔۔۔ اور میرے کرتے کے بٹن کھول کر۔‘‘\n\nاس کےکرتے کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔\n\n’’جانے دو شاردا۔ بھول جاؤ جو کچھ ہوا۔‘‘ میں نے جیب سے رومال نکالا اور اس کے آنسو پونچھنے شروع کیے۔دوپٹے کا کونہ ابھی تک اس کے منہ میں تھا، بلکہ اس نے کچھ اور زیادہ اندر چبا لیا تھا۔ میں نے کھینچ کر باہر نکال لیا۔ اس گیلے حصے کو اس نے اپنی انگلیوں پر لپیٹتے ہوئے بڑے دکھ سے کہا:\n\n’’ آپ کے دوست نے ودوا سمجھ کر ہی مجھ پر ہاتھ ڈالا ہوگا۔ سوچا ہوگا اس عورت کا کون ہے۔۔۔‘‘\n\n’’نہیں نہیں شاردا، نہیں۔‘‘ میں نے اس کا سر اپنے کندھے کے ساتھ لگا لیا۔\n\n’’جو کچھ اس نے سوچا، جو کچھ اس نے کیا، لعنت بھیجو اس پر۔۔۔ چپ ہو جاؤ۔‘‘\n\nجی چاہا لوری دے کر اس کو سلادوں۔میں نے اس کی آنکھیں خشک کی تھیں لیکن آنسو پھر ابل آئے تھے۔ دوپٹے کا کونہ جو اس نے پھر منہ میں چبا لیا تھا، میں نے نکال کر انگلیوں سے اس کے آنسو پونچھے اور دونوں آنکھوں کو ہولے ہولے چوم لیا۔\n\n’’ بس اب نہیں رونا۔‘‘\n\nشاردا نے اپنا سر میرے سینے کے ساتھ لگا دیا۔ میں نے دھیرے دھیرے اس کے گال تھپکائے،’’بس، بس، بس!‘‘\n\nتھوڑی دیر کے بعد جب میں نیچے اترا تو مارچ کے آخری دنوں کی خنک ہوا میں، شہ نشین کی مرمریں سل پر، اصغر کی بے ہودگی کو بھول کر شاردا اپنا ململ کا دوپٹہ تانے خود کو بالکل ہلکی محسوس کررہی تھی۔۔۔ اس کے سینے میں تلاطم کے بجائے اب شیر گرم سکون تھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%B3"} {"title": "ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہے", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہے\nمیراجیؔ دانا تو نہیں ہے عاشق ہے سودائی ہے\n\nصبح سویرے کون سی صورت پھلواری میں آئی ہے\nڈالی ڈالی جھوم اٹھی ہے کلی کلی لہرائی ہے\n\nجانی پہچانی صورت کو اب تو آنکھیں ترسیں گی\nنئے شہر میں جیون دیوی نیا روپ بھر لائی ہے\n\nایک کھلونا ٹوٹ گیا تو اور کئی مل جائیں گے\nبالک یہ انہونی تجھ کو کس بیری نے سجھائی ہے\n\nدھیان کی دھن ہے امر گیت پہچان لیا تو بولے گا\nجس نے راہ سے بھٹکایا تھا وہی راہ پر لائی ہے\n\nبیٹھے ہیں پھلواری میں دیکھیں کب کلیاں کھلتی ہیں\nبھنور بھاؤ تو نہیں ہے کس نے اتنی راہ دکھائی ہے\n\nجب دل گھبرا جاتا ہے تو آپ ہی آپ بہلتا ہے\nپریم کی ریت اسے جانو پر ہونی کی چترائی ہے\n\nامیدیں ارمان سبھی جل دے جائیں گے جانتے تھے\nجان جان کے دھوکے کھائے جان کے بات بڑھائی ہے\n\nاپنا رنگ بھلا لگتا ہے کلیاں چٹکیں پھول بنیں\nپھول پھول یہ جھوم کے بولا کلیو تم کو بدھائی ہے\n\nآبشار کے رنگ تو دیکھے لگن منڈل کیوں یاد نہیں\nکس کا بیاہ رچا ہے دیکھو ڈھولک ہے شہنائی ہے\n\nایسے ڈولے من کا بجرا جیسے نین بیچ ہو کجرا\nدل کے اندر دھوم مچی ہے جگ میں اداسی چھائی ہے\n\nلہروں سے لہریں ملتی ہیں ساگر امڈا آتا ہے\nمنجدھار میں بسنے والے نے ساحل پر جوت جگائی ہے\n\nآخری بات سنائے کوئی آخری بات سنیں کیوں ہم نے\nاس دنیا میں سب سے پہلے آخری بات سنائی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%DA%BE%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%BE%D9%86_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ڈھب ہیں تیرے سے باغ میں گل کے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈھب ہیں تیرے سے باغ میں گل کے\nبو گئی کچھ دماغ میں گل کے\n\nجائے روغن دیا کرے ہے عشق\nخون بلبل چراغ میں گل کے\n\nدل تسلی نہیں صبا ورنہ\nجلوے سب ہیں گے داغ میں گل کے\n\nاس حدیقے کے عیش پر مت جا\nمے نہیں ہے ایاغ میں گل کے\n\nسیر کر میرؔ اس چمن کی شتاب\nہے خزاں بھی سراغ میں گل کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%DA%BE%D8%A8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92"} {"title": "ڈھولکی دھم دھمی خنجری بھی بجانی جانی", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈھولکی دھم دھمی خنجری بھی بجانی جانی\nتان کی جان مگر تم نے نہ جانی جانی\n\nہل گئے مل گئے انجانوں سے جوں جان پہچان\nپر مری قدر ذری تم نہ پہچانی جانی\n\nلگ چلے جو کہ رقیبوں نے لگایا تم کو\nسانچی اور جھوٹی کوئی بات نہ چھانی جانی\n\nجو کہا میں نے نہ تم نے کبھی دھر کان سنا\nبات کیا ایسی مری تم نے دوانی جانی\n\nمان نے تیری تو مارا ہمیں اب تو من جا\nیہ ہٹیلا نہیں دیکھا کوئی مانی جانی\n\nجاں کنی میں تو ذرا آ کے دکھاؤ دیدار\nجان مر جاؤں گا کہتا ہی میں جانی جانی\n\nرات دن یہ جو سلوک ہم سے کیا کرتے ہو\nدل میں کیا جانیے کیا تم نے ہے ٹھانی جانی\n\nصرف کی اپنی ترے عشق میں جانی سب عمر\nاظفریؔ نے نہ بڑھاپا نہ جوانی جانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%84%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%DA%BE%D9%85_%D8%AF%DA%BE%D9%85%DB%8C_%D8%AE%D9%86%D8%AC%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "ڈھونڈ لیتا جو انہیں ڈھونڈھنے والا ہوتا", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈھونڈ لیتا جو انہیں ڈھونڈھنے والا ہوتا\nدیکھ لیتا جو کوئی دیکھنے والا ہوتا\n\nمجھ کو اس چاہ میں کچھ لطف دوبالا ہوتا\nکاش ناصح ہی ترا چاہنے والا ہوتا\n\nہم بھی مرتے تری حوروں پہ مگر اے زاہد\nان بتوں سے جو کچھ انداز نرالا ہوتا\n\nکیا گزرتی ہے ترے دل پہ بتا تو کمبخت\nہائے اتنا ہی کوئی پوچھنے والا ہوتا\n\nمیرے گھر پر سے ملیں آ کے بلائیں کتنی\nتم نے جب تک مجھے بوسوں ہی پہ ٹالا ہوتا\n\nاے غم یار مجھے تو نے گھلا کر کھایا\nپہلے کھاتا تو ترے منہ کا نوالا ہوتا\n\nآپ نے زلف کے عقدے تو بہت کھلوائے\nمیرا آسان سا اک کام نکالا ہوتا\n\nتم نے کچھ عشق کا انجام نہ سوچا اکبرؔ\nکیوں بگڑتی جو طبیعت کو سنبھالا ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88_%D9%84%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%DA%BE%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ڈھونڈ لیں ہم کو ہماری جو خبر رکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈھونڈ لیں ہم کو ہماری جو خبر رکھتے ہیں\nہم کو دیکھیں وہ اگر حسن نظر رکھتے ہیں\n\nواقف راہ ہیں منزل کی خبر رکھتے ہیں\nکچھ سمجھ سوچ کے ہم عزم سفر رکھتے ہیں\n\nآنکھ کو وقف سر راہ گزر رکھتے ہیں\nخاک ہونے کے لیے ذوق نظر رکھتے ہیں\n\nعشق اور عشق میں اک شان اثر رکھتے ہیں\nحسن کی آنکھ محبت کی نظر رکھتے ہیں\n\nاب وہ آنکھوں سے سمجھ لیتے ہیں حسرت دل کی\nچشم بد دور نگاہوں پہ نظر رکھتے ہیں\n\nان کے جلوؤں کی حقیقت تو انہیں سے پوچھو\nہم تو بجلی کے چمکنے کی خبر رکھتے ہیں\n\nاک کشش ہے کہ جو کھنچے لیے جاتی ہے ہمیں\nورنہ دیوانے بھی منزل کی خبر رکھتے ہیں\n\nدوراندیشیٔ الفت نے کیا ہے محتاط\nہم نگاہوں میں تری راہ گزر رکھتے ہیں\n\nایک مرکز پہ سمٹ آئی ہے دنیائے جمال\nکس کی تصویر کو ہم پیش نظر رکھتے ہیں\n\nدل لگی عشق کی ہے حسن کا سنجیدہ مذاق\nہم کو دھوکا ہے کہ ہم درد جگر رکھتے ہیں\n\nدیکھ لیں گے ترے جلوے بھی جو فرصت ہوگی\nہم ابھی دل کی تجلی پہ نظر رکھتے ہیں\n\nادب حسن ہے ورنہ یہ محبت والے\nسحر آنکھوں میں خیالوں میں اثر رکھتے ہیں\n\nآج کس بزم میں لے آئی ہے تقدیر منیرؔ\nکہ فرشتے بھی مرے سامنے سر رکھتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88_%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ڈھونڈ ہم ان کو پریشان بنے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:یاسین علی خاں مرکز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مرکز (1926)", "year": "1926", "text_ur": "ڈھونڈ ہم ان کو پریشان بنے بیٹھے ہیں\nوہ تو پردہ لئے انسان بنے بیٹھے ہیں\n\nذوق حاصل انہیں ہوتا ہے ہر یک صورت سے\nرنگ و بے رنگی سے ہر آن بنے بیٹھے ہیں\n\nچھوڑ مسجد کو گئے دیر میں پوجا کرنے\nتھے مسلمان وہ رہبان بنے بیٹھے ہیں\n\nبات یہ ہے کہ ہیولیٰ سے ہے صورت پیدا\nہر یک اجسام میں رحمان بنے بیٹھے ہیں\n\nتازہ ہر آن دکھاتے ہیں وہ جلوہ اپنا\nہر تعین کے لئے شان بنے بیٹھے ہیں\n\nہیں مسیحا کہیں بیمار کہیں درد کہیں\nہر طرح سے وہی درمان بنے بیٹھے ہیں\n\nوہی ہوتا ہے ہر یک کام جو وہ چاہتے ہیں\nدیتے حسرت بھی ہیں ارمان بنے بیٹھے ہیں\n\nکفر و اسلام کے پردے سے ہیں ہر حال میں خوش\nواجب آئینہ سے امکان بنے بیٹھے ہیں\n\nسچ تو یہ ہے کہ حقیقت جو ہے ان کی معلوم\nجانتے جو ہیں وہ انجان بنے بیٹھے ہیں\n\nجملہ ادوار و شیونات سے جلوہ کرتے\nشان مرکزؔ میں وہ سبحان بنے بیٹھے ہیں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D9%86%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ڈھونڈا نہ پائیے جو اس وقت میں سو زر ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈھونڈا نہ پائیے جو اس وقت میں سو زر ہے\nپھر چاہ جس کی مطلق ہے ہی نہیں ہنر ہے\n\nہر دم قدم کو اپنے رکھ احتیاط سے یاں\nیہ کار گاہ ساری دکان شیشہ گر ہے\n\nڈھایا جنوں نے اس کو ان پر خرابی آئی\nجانا گیا اسی سے دل بھی کسو کا گھر ہے\n\nتجھ بن شکیب کب تک بے فائدہ ہوں نالاں\nمجھ نالہ کش کے تو اے فریاد رس کدھر ہے\n\nصید افگنو ہمارے دل کو جگر کو دیکھو\nاک تیر کا ہدف ہے اک تیغ کا سپر ہے\n\nاہل زمانہ رہتے اک طور پر نہیں ہیں\nہر آن مرتبے سے اپنے انہیں سفر ہے\n\nکافی ہے مہر قاتل محضر پہ خوں کے میرے\nپھر جس جگہ یہ جاوے اس جا ہی معتبر ہے\n\nتیری گلی سے بچ کر کیوں مہر و مہ نہ نکلیں\nہر کوئی جانتا ہے اس راہ میں خطر ہے\n\nوے دن گئے کہ آنسو روتے تھے میرؔ اب تو\nآنکھوں میں لخت دل ہے یا پارۂ جگر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%88_%D8%B2%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "ڈھونڈا کرے کوئی لاکھ کیا ملتا ہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ڈھونڈا کرے کوئی لاکھ کیا ملتا ہے\nدن کا کہیں رات کو پتا ملتا ہے\nجب تک کہ ہے بندگی خدائی کا حجاب\nبندہ کو بھلا کہیں خدا ملتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم\nجو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم\n\nمیں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر\nدریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم\n\nہو جائے بکھیڑا پاک کہیں پاس اپنے بلا لیں بہتر ہے\nاب درد جدائی سے ان کی اے آہ بہت بیتاب ہیں ہم\n\nاے شوق برا اس وہم کا ہو مکتوب تمام اپنا نہ ہوا\nواں چہرہ پہ ان کے خط نکلا یاں بھولے ہوئے القاب ہیں ہم\n\nکس طرح تڑپتے جی بھر کر یاں ضعف نے مشکیں کس دیں ہیں\nہو بند اور آتش پر ہو چڑھا سیماب بھی وہ سیماب ہیں ہم\n\nاے شوق پتا کچھ تو ہی بتا اب تک یہ کرشمہ کچھ نہ کھلا\nہم میں ہے دل بے تاب نہاں یا آپ دل بے تاب ہیں ہم\n\nلاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک\nاے اہل زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں کم یاب ہیں ہم\n\nمرغان قفس کو پھولوں نے اے شادؔ یہ کہلا بھیجا ہے\nآ جاؤ جو تم کو آنا ہو ایسے میں ابھی شاداب ہیں ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%D9%88%DA%AF%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D9%84%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D9%85%D9%84%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "ڈھونڈھتا حق کو در بدر ہے تو", "poet_page": "مصنف:یاسین علی خاں مرکز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مرکز (1926)", "year": "1926", "text_ur": "ڈھونڈھتا حق کو در بدر ہے تو\nوائے اپنے سے بے خبر ہے تو\n\nشان حق آشکار ہے تن سے\nموجد کلّ خیر و شر ہے تو\n\nایک میں کیا وجود جملہ ظہور\nکل میں خود آپ با اثر ہے تو\n\nقدرت کاملہ کو غور تو کر\nبحر یکتائی کا گہر ہے تو\n\nمیٹ اپنی خودی خدا کو پا\nنفع حاصل ہو کیا اگر ہے تو\n\nمقتدر آپ ہر سبب کا ہے\nاس لئے ہو گیا بشر ہے تو\n\nخیر و شر کے حجاب میں کب تک\nظلمت کفر کا سحر ہے تو\n\nتیری ہی شان کل ہویدا ہے\nبندہ کہتا ہے کیوں کدھر ہے تو\n\nآپ ہر شے میں جلوہ فرما ہیں\nبے خبر کیا ہے با خبر ہے تو\n\nمجھ پہ الزام آ نہیں سکتا\nہر طرح سے ادھر ادھر ہے تو\n\nکوئی کچھ قلب کیا کرے تجھ کو\nبے غل و غش وہ صاف زر ہے تو\n\nکہہ رہا ہے ہمیشہ اِنی انا\nجملہ اعمیٰ کا راہبر ہے تو\n\nجو ہے منظور ہو رہا وہی\nکس نتیجہ کا منتظر ہے تو\n\nبالیقیں حق کی شان ہے تیری\nمختصر یہ ہے مختصر ہے تو\n\nنام تیرا خدا نما ہے حجاب\nدیدۂ دید کا بصر ہے تو\n\nکوئی پاتا نہیں تجھے مرکزؔ\nدو بہ دو آپ جلوہ گر ہے تو", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%D8%AD%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D8%B1_%D8%A8%D8%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88"} {"title": "ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیں", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیں\nسچ اگر پوچھو تو سچا آشنا ملتا نہیں\n\nآپ کے جو یار بنتے ہیں وہ ہیں مطلب کے یار\nاس زمانے میں محب با صفا ملتا نہیں\n\nسیرتوں میں بھی ہے انسانوں کی باہم اختلاف\nایک سے صورت میں جیسے دوسرا ملتا نہیں\n\nدیر و کعبہ میں بھٹکتے پھر رہے ہیں رات دن\nڈھونڈھنے سے بھی تو بندوں کو خدا ملتا نہیں\n\nہیں پریشاں اور حیراں جائیں تو جائیں کدھر\nراہ گم گشتوں کو منزل کا پتا ملتا نہیں\n\nبوالہوس دل کی طرح ہر رنگ ہے صرف شکست\nلالہ و گل میں بھی رنگ دیر پا ملتا نہیں\n\nہے یہاں تو سیر گلزار خیال نوع بہ نوع\nہاں اسیرو ہم کو مضموں کچھ نیا ملتا نہیں\n\nروئیے رونا زمانے کا تو کیفیؔ کس کے پاس\nکوئی اس دل کے سوا درد آشنا ملتا نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%DA%BE%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ڈھُونڈ رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا دوام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ڈھُونڈ رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا دوام\nوائے تمنّائے خام، وائے تمنّائے خام!\n\nپیرِ حرم نے کہا سُن کے مری رُوئداد\nپُختہ ہے تیری فغاں، اب نہ اسے دل میں تھام\n\nتھا اَرِنی گو کلیم، میں اَرِنی گو نہیں\nاُس کو تقاضا روا، مجھ پہ تقاضا حرام\n\nگرچہ ہے افشائے راز، اہلِ نظر کی فغاں\nہو نہیں سکتا کبھی شیوۂ رِندانہ عام\n\nحلقۂ صُوفی میں ذکر، بے نم و بے سوز و ساز\nمیں بھی رہا تشنہ کام، تُو بھی رہا تشنہ کام\n\nعشق تری انتہا، عشق مری انتہا\nتُو بھی ابھی ناتمام، میں بھی ابھی ناتمام\n\nآہ کہ کھویا گیا تجھ سے فقیری کا راز\nورنہ ہے مالِ فقیر سلطنتِ روم و شام", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%88%DA%BE%D9%8F%D9%88%D9%86%DA%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%81%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%B9%DB%8C%D8%B4%D9%90_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%A7%D9%85"} {"title": "ژولیدہ معما ہے جہان پر پیچ", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ژولیدہ معما ہے جہان پر پیچ\nاے دل نہ ستم اس کے کشائش میں کھینچ\nاچھا ہے خیال دہن و فکر کمر\nدنیا ہیچ است و کار دنیا ہمہ ہیچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%98%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D9%85%D8%B9%D9%85%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%DA%86"} {"title": "کئی دن سلوک وداع کا مرے در پے دل زار تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کئی دن سلوک وداع کا مرے در پے دل زار تھا\nکبھو درد تھا کبھو داغ تھا کبھو زخم تھا کبھو وار تھا\n\nدم صبح بزم خوش جہاں شب غم سے کم نہ تھی مہرباں\nکہ چراغ تھا سو تو دود تھا جو پتنگ تھا سو غبار تھا\n\nدل خستہ لوہو جو ہو گیا تو بھلا ہوا کہ کہاں تلک\nکبھو سوز سینہ سے داغ تھا کبھو درد و غم سے فگار تھا\n\nدل مضطرب سے گزر گئی شب وصل اپنی ہی فکر میں\nنہ دماغ تھا نہ فراغ تھا نہ شکیب تھا نہ قرار تھا\n\nجو نگاہ کی بھی پلک اٹھا تو ہمارے دل سے لہو بہا\nکہ وہیں وہ ناوک بے خطا کسو کے کلیجے کے پار تھا\n\nیہ تمہاری ان دنوں دوستاں مژہ جس کے غم میں ہے خوں چکاں\nوہی آفت دل عاشقاں کسو وقت ہم سے بھی یار تھا\n\nنہیں تازہ دل کی شکستگی یہی درد تھا یہی خستگی\nاسے جب سے ذوق شکار تھا اسے زخم سے سروکار تھا\n\nکبھو جائے گی جو ادھر صبا تو یہ کہیو اس سے کہ بے وفا\nمگر ایک میرؔ شکستہ پا ترے باغ تازہ میں خار تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9_%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%B9_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کئی دن سے ہم بھی ہیں دیکھے اسے ہم پہ ناز و عتاب ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کئی دن سے ہم بھی ہیں دیکھے اسے ہم پہ ناز و عتاب ہے\nکبھی منہ بنا کبھی رخ پھرا کبھی چیں جبیں پہ شتاب ہے\n\nہے پھنسا جو زلف میں اس کے دل تو بتا دیں کیا تجھے ہم نشیں\nکبھی بل سے بل کبھی خم سے خم کبھی تاب چین سے تاب ہے\n\nوہ خفا جو ہم سے ہے غنچہ لب تو ہماری شکل یہ ہے کہ اب\nکبھی رنج دل کبھی آہ جاں کبھی چشم غم سے پر آب ہے\n\nنہیں آتا وہ جو ادھر ذرا ہمیں انتظار میں اس کے یاں\nکبھی جھانکنا کبھی تاکنا کبھی بے کلی پئے خواب ہے\n\nوہ نظیرؔ ہم سے جو آ ملا تو پھر اس گھڑی سے یہ عیش ہیں\nکبھی رخ پہ رخ کبھی لب پہ لب کبھی ساغر مئے ناب ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%BE%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D9%88_%D8%B9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "کئی دن ہو گئے یارب نہیں دیکھا ہے یار اپنا", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کئی دن ہو گئے یارب نہیں دیکھا ہے یار اپنا\nہوا معلوم یوں شاید کیا کم ان نے پیار اپنا\n\nہوا بھی عشق کی لگنے نہ دیتا میں اسے ہرگز\nاگر اس دل پہ ہوتا ہائے کچھ بھی اختیار اپنا\n\nیہ دونو لازم و ملزوم ہیں گویا کہ آپس میں\nنہ یار اپنا کبھو ہوتے سنانے روزگار اپنا\n\nہوا ہوں خاک اس کے غم میں تو بھی سینہ صافی سے\nنہیں کھوتا ہے وہ آئینہ رو دل سے غبار اپنا\n\nیہ شعلہ سا تمہارا رنگ کچھ زور ہی جھمکتا ہے\nجلا کیوں کر نہ دوں میں خرمن صبر و قرار اپنا\n\nسر فتراک تھا اس کو نہ تھا لیکن نصیبوں میں\nتڑپتا چھوڑ کر جاتا رہا ظالم شکار اپنا\n\nتجھے لازم ہے ہونا مہرباں تاباںؔ پہ اے ظالم\nکہ ہے بیتاب اپنا عاشق اپنا بے قرار اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "کئی ستارے چمک رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "لرز لرز کر دمک رہے ہیں\nمگر جب آئے گا دن کا چیتا\nاور ان ستاروں کا وقت بیتا\nتو آسمان کے نکیلے جگنو\nبنیں گے پل میں ڈھلکتے آنسو\nسحر کے پردے میں جا چھپیں گے\nمیں اور تو آج ہیں اکٹھے\nسنا رہی ہے تری جوانی\nمجھے مرے عشق کی کہانی\nمگر ہے اک خوف سا فضا میں\nہے ایک لرزش سی اس ہوا میں\nستارے اب ٹمٹما رہے ہیں\nخزاں کے آثار چھا رہے ہیں\nمجھے یہ محسوس ہو رہا ہے\nکہ اب ستاروں کا وقت بیتا\nبس اب تو آئے گا دن کا چیتا\nاب آسمان کے نکیلے جگنو\nیہ دست انجم کے پیارے آہو\nسحر کے پردے میں جا چھپیں گے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%86%D9%85%DA%A9_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کار دیں اس بت کے ہاتھوں ہائے ابتر ہو گیا", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کار دیں اس بت کے ہاتھوں ہائے ابتر ہو گیا\nجس مسلماں نے اسے دیکھا وہ کافر ہو گیا\n\nدلبروں کے نقش پا میں ہے صدف کا سا اثر\nجو مرا آنسو گرا اس میں سو گوہر ہو گیا\n\nکیا بدن ہوگا کہ جس کے کھولتے جامہ کا بند\nبرگ گل کی طرح ہر ناخن معطر ہو گیا\n\nآنکھ سے نکلے پہ آنسو کا خدا حافظ یقیںؔ\nگھر سے جو باہر گیا لڑکا سو ابتر ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کارخانے کا ہے مالک مَردکِ ناکردہ کار", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "کارخانے کا ہے مالک مَردکِ ناکردہ کار\nعیش کا پُتلا ہے، محنت ہے اسے ناسازگار\n\nحکمِ حق ہے لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَاسَعیٰ\nکھائے کیوں مزدور کی محنت کا پھل سرمایہ دار", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9_%D9%85%D9%8E%D8%B1%D8%AF%DA%A9%D9%90_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D8%B1"} {"title": "کارل مارکس کی آواز", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "یہ علم و حکمت کی مُہرہ بازی، یہ بحث و تکرار کی نمائش\nنہیں ہے دُنیا کو اب گوارا پُرانے افکار کی نمائش\nتری کتابوں میں اے حکیمِ معاش رکھّا ہی کیا ہے آخر\nخطوطِ خم دار کی نمائش، مریز و کج دار کی نمائش\nجہانِ مغرب کے بُت کدوں میں، کلیسیاؤں میں، مَدرسوں میں\nہَوس کی خُون ریزیاں چھُپاتی ہے عقلِ عیّار کی نمائش", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%84_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2"} {"title": "کاروبار عشق کی کثرت کبھی ایسی نہ تھی", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کاروبار عشق کی کثرت کبھی ایسی نہ تھی\nدل نہ تھا تو تنگئ فرصت کبھی ایسی نہ تھی\n\nیاس سے ویرانئ حسرت کبھی ایسی نہ تھی\nدل میں سناٹا نہ تھا وحشت کبھی ایسی نہ تھی\n\nان کے وعدہ پر ہمیں جینا پڑا ہے حشر تک\nورنہ طولانی شب فرقت کبھی ایسی نہ تھی\n\nدیکھ ڈالے زندگی میں وصل و فرقت کے طلسم\nغم کبھی ایسا نہ تھا راحت کبھی ایسی نہ تھی\n\nآپ نے بیمار پرسی کی تو جینا ہے وبال\nورنہ مرنے کی مجھے حسرت کبھی ایسی نہ تھی\n\nبامزا ہے کس قدر انکار ان کا وصل میں\nتجھ میں اے خون جگر لذت کبھی ایسی نہ تھی\n\nدل کو کیا سمجھا دیا نومیدیٔ جاوید نے\nپردہ دار غم شب فرقت کبھی ایسی نہ تھی\n\nزندگی کی کش مکش سے مر کے پائی کچھ نجات\nاس سے پہلے اے نظرؔ فرصت کبھی ایسی نہ تھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%AB%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے\nاک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہے\n\nبے دلوں کی ہستی کیا جیتے ہیں نہ مرتے ہیں\nخواب ہے نہ بیداری ہوش ہے نہ مستی ہے\n\nکیا بتاؤں کیا ہوں میں قدرت خدا ہوں میں\nمیری خود پرستی بھی عین حق پرستی ہے\n\nکیمیائے دل کیا ہے خاک ہے مگر کیسی\nلیجئے تو مہنگی ہے بیچئے تو سستی ہے\n\nخضر منزل اپنا ہوں اپنی راہ چلتا ہوں\nمیرے حال پر دنیا کیا سمجھ کے ہنستی ہے\n\nکیا کہوں سفر اپنا ختم کیوں نہیں ہوتا\nفکر کی بلندی یا حوصلے کی پستی ہے\n\nحسن بے تماشا کی دھوم کیا معما ہے\nکان بھی ہیں نامحرم آنکھ بھی ترستی ہے\n\nچتونوں سے ملتا ہے کچھ سراغ باطن کا\nچال سے تو کافر پر سادگی برستی ہے\n\nترک لذت دنیا کیجئے تو کس دل سے\nذوق پارسائی کیا فیض تنگ دستی ہے\n\nدیدنی ہے یاسؔ اپنے رنج و غم کی طغیانی\nجھوم جھوم کر کیا کیا یہ گھٹا برستی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%8C%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کارگاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کارگاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے\nبرقِ خرمنِ راحت، خونِ گرمِ دہقاں ہے\n\nغنچہ تا شگفتن ہا برگِ عافیت معلوم\nباوجودِ دل جمعی خوابِ گل پریشاں ہے\n\nہم سے رنجِ بیتابی کس طرح اٹھایا جائے\nداغ پشتِ دستِ عجز، شعلہ خس بہ دنداں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "کاش ابر کرے چادر مہتاب کی چوری", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "کاش ابر کرے چادر مہتاب کی چوری\nتا مجھ سے بھی ہو جام مئے ناب کی چوری\n\nٹک تکیہ پہ سر دھر کے رہا سو تو لگائی\nصاحب نے ہمیں مسند کمخواب کی چوری\n\nسیماب کے آنسو وہ سدا روئے الٰہی\nکی جس نے ہو میرے دل بے تاب کی چوری\n\nوہ عشق کہ سچ آنکھوں سے کاجل کو چرا لے\nکس طرح نہ عاشق کے کرے خواب کی چوری\n\nمجھ کو سر بازار گھسٹوا کے نکالا\nکی اس نے ہی کچھ خانۂ نواب کی چوری\n\nجس نے کہ مرے چہرہ سے آب آہ اڑا لے\nثابت ہوئی اس پر در نایاب کی چوری\n\nشب سیندھ جو دی داغ کی ایک چور نے انشاؔ\nتو ہو گئی سب صبر کے اسباب کی چوری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D8%B4_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%86%D8%A7%D8%AF%D8%B1_%D9%85%DB%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D9%88%D8%B1%DB%8C"} {"title": "کاش اٹھیں ہم بھی گنہ گاروں کے بیچ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کاش اٹھیں ہم بھی گنہ گاروں کے بیچ\nہوں جو رحمت کے سزاواروں کے بیچ\n\nجی سدا ان ابروؤں ہی میں رہا\nکی بسر ہم عمر تلواروں کے بیچ\n\nچشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر\nمنہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ\n\nہیں عناصر کی یہ صورت بازیاں\nشعبدے کیا کیا ہیں ان چاروں کے بیچ\n\nجب سے لے نکلا ہے تو یہ جنس حسن\nپڑ گئی ہے دھوم بازاروں کے بیچ\n\nعاشقی و بے کسی و رفتگی\nجی رہا کب ایسے آزاروں کے بیچ\n\nجو سرشک اس ماہ بن جھمکے ہے شب\nوہ چمک کاہے کو ہے تاروں کے بیچ\n\nاس کے آتش ناک رخساروں بغیر\nلوٹیے یوں کب تک انگاروں کے بیچ\n\nبیٹھنا غیروں میں کب ہے ننگ یار\nپھول گل ہوتے ہی ہیں خاروں کے بیچ\n\nیارو مت اس کا فریب مہر کھاؤ\nمیرؔ بھی تھے اس کے ہی یاروں کے بیچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D8%B4_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%86"} {"title": "کاش سنتے وہ پر اثر باتیں", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کاش سنتے وہ پر اثر باتیں\nدل سے جو کی تھیں عمر بھر باتیں\n\nبے سبب تیرے لب نہیں خاموش\nکر رہی ہے تری نظر باتیں\n\nکوئی سمجھائے آ کے ناصح کو\nسن سکے کون اس قدر باتیں\n\nاس کے افسانے بن گئے لاکھوں\nمیں نے جو کی تھیں عمر بھر باتیں\n\nدم الٹ جائے گا عزیزؔ عزیزؔ\nرہ نہ خاموش کچھ تو کر باتیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D8%B4_%D8%B3%D9%86%D8%AA%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کاش مری جبین شوق سجدوں سے سرفراز ہو", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کاش مری جبین شوق سجدوں سے سرفراز ہو\nیار کی خاک آستاں تاج سر نیاز ہو\n\nہم کو بھی پائمال کر عمر تری دراز ہو\nمست خرام ناز ادھر مشق خرام ناز ہو\n\nچشم حقیقت آشنا دیکھے جو حسن کی کتاب\nدفتر صد حدیث راز ہر ورق مجاز ہو\n\nسامنے روئے یار ہو سجدے میں ہو سر نیاز\nیونہی حریم ناز میں آٹھوں پہر نماز ہو\n\nاس کے حریم ناز میں عقل و خرد کو دخل کیا\nجس کی گلی کی خاک کا ذرہ جہان راز ہو\n\nتیری گلی میں پا کے جا جائے کہاں ترا گدا\nکیوں نہ وہ بے نیاز ہو تجھ سے جسے نیاز ہو\n\nبیدمؔ خستہ ہجر میں بن گئی جان زار پر\nجس نے دیا ہے درد دل کاش وہ چارہ ساز ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D8%B4_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%D9%86_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%B3%D8%AC%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D9%88"} {"title": "کاش مقبول ہو دعائے عدو", "poet_page": "مصنف:مفتی صدر الدین خان آزردہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کاش مقبول ہو دعائے عدو\nکیا کروں وہ بھی مستجاب نہیں\n\nاب تو اس چشم تر کا چرچا ہے\nذکر دریا نہیں سحاب نہیں\n\nجمع طوفان و چشم تر مصرف\nاب مصارف کا کچھ حساب نہیں\n\nدھو دیا سب کو دیدۂ تر نے\nوہ نہیں درس وہ کتاب نہیں\n\nعشق بازی کا منہ چڑانا ہے\nاور وہ موسم نہیں شباب نہیں\n\nتیری آنکھوں کے دور میں کیا کیا\nسحر رسوا نہیں خراب نہیں\n\nمختصر حال چشم و دل یہ ہے\nاس کو آرام اس کو خواب نہیں\n\nجو سراپائے یار آزردہؔ\nتیرے دیواں کا انتخاب نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D8%B4_%D9%85%D9%82%D8%A8%D9%88%D9%84_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%AF%D9%88"} {"title": "کاش ہم لوگ لڑ گئے ہوتے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "کاش ہم لوگ لڑ گئے ہوتے\nآپ کی دوستی کا رونا ہے\nدل سے گرد الم نہیں چھٹتی\nآنسوؤں کی کمی کا رونا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D8%B4_%DB%81%D9%85_%D9%84%D9%88%DA%AF_%D9%84%DA%91_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92"} {"title": "کاغذ کی ناؤ", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دیکھو اماں کیسی اچھی ہے مری کاغذ کی ناؤ\nلے چلا ہے ساتھ اس کو مینہ کے پانی کا بہاؤ\nبند کر دیتا نہ میں سب مہریوں کے منہ اگر\nکس طرح پانی سے بھر جاتا بھلا پھر سارا گھر\nمیری کشتی تم ذرا دیکھو تو اک چکر میں ہے\nگو کہ دریا میں ہے لیکن پھر بھی گھر کے گھر میں ہے\nمچھلیاں اس واسطے آنگن کے دریا میں نہیں\nڈر کے میری ناؤ سے ساری کی ساری چھپ گئیں\nاچھی اماں اب مجھے دریا میں جانے دو ذرا\nاپنی کشتی کو مجھے خود ہی چلانے دو ذرا\nجاؤں گا میں جب کشتی سنبھالے دیکھنا\nتم کہو گی میرے ننھے ناؤ والے دیکھنا\nمیں کہوں گا میری اماں کس طرح دیکھوں ادھر\nکیا کروں گا ناؤ رستے سے بھٹک جائے اگر\nدھیان بٹ جائے تو کشتی ڈوب جائے گی ضرور\nبیٹھ کر کس چیز میں پھر جاؤں گی میں دور دور\n\nاچھی اماں اب مجھے دریا میں جانے دو ذرا\nاپنی کشتی کو مجھے خود ہی چلانے دو ذرا\nدیکھ لینا تم کہ اس دریا میں ڈوبوں گا نہ میں\nاچھی اماں دیر تک پانی میں کھیلوں گا نہ میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D8%A4"} {"title": "کافر بتوں کے نام ہوں کیوں کر تمام حفظ", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کافر بتوں کے نام ہوں کیوں کر تمام حفظ\nاتنے خدا کہ ہو نہ سکیں جن کے نام حفظ\n\nمطلب نہ خبط ہو کوئی فقرہ نہ چھوٹ جائے\nقاصد نے حرف حرف کیا سب پیام حفظ\n\nرونا مرا ہو اور بھی باعث ثواب کا\nپڑھتا ہوں سوز میں نے کئے ہیں سلام حفظ\n\nدوزخ کا ڈر نہیں ہے تو پتھر کی آگ کیا\nکافر بتو ہمیں ہے خدا کا کلام حفظ\n\nپیتے ہی یاد آ گئے بھولے ہوئے سبق\nپوچھو کسی مقام سے ہے ہر مقام حفظ\n\nمیخانے میں نماز جو کی تو نے جلد ختم\nسورہ بڑا نہ تھا کوئی تجھ کو امام حفظ\n\nتجھ کو قفس میں تیری سناؤں گا گفتگو\nصیاد باتیں کی ہیں تری زیر دام حفظ\n\nکس کو نہیں ہے قدر ہمارے کلام کی\nلوگوں کو ہے ریاضؔ ہمارا کلام حفظ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%AD%D9%81%D8%B8"} {"title": "کافر تجھے اللہ نے صورت تو پری دی", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کافر تجھے اللہ نے صورت تو پری دی\nپر حیف ترے دل میں محبت نہ ذری دی\n\nدی تو نے مجھے سلطنت بحر و بر اے عشق\nہونٹوں کو جو خشکی مری آنکھوں کو تری دی\n\nخال لب شیریں کا دیا بوسہ کب اس نے\nاک چاٹ لگانے کو مرے نیشکری دی\n\nکافر ترے سوائے سر زلف نے مجھ کو\nکیا کیا نہ پریشانی و آشفتہ سری دی\n\nمحنت سے ہے عظمت کہ زمانے میں نگیں کو\nبے کاوش سینہ نہ کبھی ناموری دی\n\nصیاد نے دی رخصت پرواز پر افسوس\nتو نے نہ اجازت مجھے بے بال و پری دی\n\nکہتا ترا کچھ سوختہ جاں لیک اجل نے\nفرصت نہ اسے مثل چراغ سحری دی\n\nقسام ازل نے نہ رکھا ہم کو بھی محروم\nگرچہ نہ دیا کوئی ہنر بے ہنری دی\n\nاس چشم میں ہے سرمے کا دنبالہ پر آشوب\nکیوں ہاتھ میں بدمست کے بندوق بھری دی\n\nدل دے کے کیا ہم نے تری زلف کا سودا\nاک آپ بلا اپنے لیے مول خریدی\n\nساقی نے دیا کیا مجھے اک ساغر سرشار\nگویا کہ دو عالم سے ظفرؔ بے خبری دی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D9%86%DB%92_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%AF%DB%8C"} {"title": "کافر و مومن", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "کل ساحلِ دریا پہ کہا مجھ سے خضَر نے\nتُو ڈھُونڈ رہا ہے سمِ افرنگ کا تریاق؟\nاک نکتہ مرے پاس ہے شمشیر کی مانند\nبُرّندہ و صَیقل زدہ و روشن و بَرّاق\nکافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گُم ہے\nمومن کی یہ پہچان کہ گُم اس میں ہیں آفاق!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D9%88_%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86"} {"title": "کافر وہ زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کافر وہ زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف\nپھر اس پہ چشم سحر فن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nہنگامہ رحلت دیکھیے دل کس طرف اپنا جھکے\nبیٹھے ہیں شیخ و برہمن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nزلفوں کی یہ سرگوشیاں دل پر بلائیں لائیں گی\nغماز ہے گرم سخن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nغیروں کا مجمع اور تم پریوں کا جمگھٹ اور ہم\nپہلو بہ پہلو انجمن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nدل ایک تنہا بیچ میں آنکھیں تری سفاک دو\nشمشیر زن ناوک فگن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nمیں مر گیا ہوں وصل میں راحت ہو ہر پہلو مجھے\nتکیے ہوں دو زیر کفن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nتو اور دہنے بائیں ہوں لیلی و شیریں بزم میں\nمیں اور قیس و کوہ کن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nدونوں فرشتے دوش پر کیا لکھ سکیں حالت مری\nآلودہ رنج و محن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nرخسار تیرے سیم گوں پھر اس پہ گل گونے کا رنگ\nپھولا ہے کیا رنگ چمن ایک اس طرف ایک اس طرف\n\nاترا رہا ہے داغؔ کیا ہنگام گل گشت چمن\nرنگیں قبا گل پیرہن ایک اس طرف ایک اس طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%BE%D8%B1_%D8%B4%DA%A9%D9%86_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "کافر کو ہے بندگی بتوں کی غم خوار", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کافر کو ہے بندگی بتوں کی غم خوار\nمومن کے لئے بھی ہے خدائے غفار\nسب سہل ہے یہ ولیک ہونا دشوار\nآزادہ و بے نیاز و بیکس بے کار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%BA%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1"} {"title": "کافر ہوا ہوں رشتۂ زنار کی قسم", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کافر ہوا ہوں رشتۂ زنار کی قسم\nتجھ زلف حلقہ دار کے ہر تار کی قسم\n\nہرگز مریض ہجر کوں بن وصل نہیں علاج\nاس خوش ادا کی نرگس بیمار کی قسم\n\nاس گل بدن کے کاکل پر پیچ کا خیال\nزنار مجھ گلے کا ہوا ہار کی قسم\n\nتیرے بھنووں کی یاد نے ٹکڑے کیا ہے دل\nہے ذو الفقار حیدر کرار کی قسم\n\nامیدوار چاہ زنخدان یار ہوں\nمیں تشنہ لب ہوں شربت دیدار کی قسم\n\nدرکار گر حنا ہے مجھ آنکھوں میں رکھ قدم\nہے تجھ کوں میرے دیدۂ خوں بار کی قسم\n\nیکجا ہوئے ہیں بلبل و پروانہ اے سراجؔ\nاس شمع رو کے چیرۂ گل نار کی قسم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%82_%D8%B2%D9%86%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85"} {"title": "کافر ہوں گر کسی کو دیوانہ جانتا ہوں", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کافر ہوں گر کسی کو دیوانہ جانتا ہوں\nاحوال قیس کا بھی افسانہ جانتا ہوں\n\nاے شعلہ رو زبانی ہے تیری گرم جوشی\nمیں خوب ربط شمع و پروانہ جانتا ہوں\n\nجام شراب کا میں کاہے کو ملتجی ہوں\nآنکھوں کو تیری ساقی پیمانہ جانتا ہوں\n\nکنج قفس کو سونپا روز ازل قضا نے\nنے دام جانتا ہوں نے دانہ جانتا ہوں\n\nرہتا ہوں مست ہر دم یاد نگہ میں اس کی\nکافر ہوں گر میں راہ مے خانہ جانتا ہوں\n\nتیرے کنشت سے میں واقف نہیں برہمن\nاپنے حریم دل کو بت خانہ جانتا ہوں\n\nسودائے عشق جب سے مجھ کو ہوا ہے ؔجوشش\nآبادیٔ جہاں کو ویرانہ جانتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "کافور ہے دل جلوں کو تنویر سحر", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کافور ہے دل جلوں کو تنویر سحر\nٹھنڈک ہے کلیجوں کی طباشیر سحر\nجی انہیں دلوں میں آرزوئیں مر کر\nکیا روح فزا ہے واہ تاثیر سحر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%81%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%D8%AD%D8%B1"} {"title": "کالا پتھر", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میرا چہرہ آئینہ ہے\nآئینے پر داغ جو ہوتے\nلہو کی برکھا سے میں دھوتا\n\nاپنے اندر جھانک کے دیکھو\nدل کے پتھر میں کالک کی کتنی پرتیں جمی ہوئی ہیں\nجن سے ہر نتھرا ستھرا منظر کجلا سا گیا\nدریا سوکھ گئے ہیں شرم کے مارے\nکوئلے پر سے کالک کون اتارے!!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1"} {"title": "کالی شلوار (افسانہ)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "کالی شلوار", "year": "1941", "text_ur": "دہلی آنے سے پہلے وہ انبالہ چھاؤنی میں تھی جہاں کئی گورے اس کے گاہک تھے۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی، ان کو وہ عام گفتگو میں استعمال نہیں کرتی تھی لیکن جب وہ دہلی میں آئی اوراس کا کاروبار نہ چلا تو ایک روز اس نے اپنی پڑوسن طمنچہ جان سے کہا، ’’دِس لیف۔۔۔ ویری بیڈ۔‘‘ یعنی یہ زندگی بہت بری ہے جبکہ کھانے ہی کو نہیں ملتا۔\n\nانبالہ چھاؤنی میں اس کا دھندا بہت اچھی طرح چلتا تھا۔ چھاؤنی کے گورے شراب پی کر اس کے پاس آجاتے تھے اور وہ تین چار گھنٹوں ہی میں آٹھ دس گوروں کو نمٹا کر بیس تیس روپے پیدا کر لیا کرتی تھی۔ یہ گورے، اس کے ہم وطنوں کے مقابلے میں بہت اچھے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایسی زبان بولتے تھے جس کا مطلب سلطانہ کی سمجھ میں نہیں آتا تھا مگر ان کی زبان سے یہ لاعلمی اس کے حق میں بہت اچھی ثابت ہوتی تھی۔ اگر وہ اس سے کچھ رعایت چاہتے تو وہ سر ہلا کرکہہ دیا کرتی تھی، ’’صاحب، ہماری سمجھ میں تمہاری بات نہیں آتا۔‘‘ اور اگر وہ اس سے ضرورت سے زیادہ چھیڑ چھاڑ کرتے تو وہ ان کو اپنی زبان میں گالیاں دینا شروع کردیتی تھی۔ وہ حیرت میں اس کے منہ کی طرف دیکھتے تو وہ ان سے کہتی، ’’صاحب، تم ایک دم الو کا پٹھا ہے۔ حرام زادہ ہے۔۔۔ سمجھا۔‘‘ یہ کہتے وقت وہ اپنے لہجہ میں سختی پیدا نہ کرتی بلکہ بڑے پیار کے ساتھ ان سے باتیں کرتی۔ یہ گورے ہنس دیتے اور ہنستے وقت وہ سلطانہ کو بالکل الو کے پٹھے دکھائی دیتے۔\n\nمگر یہاں دہلی میں وہ جب سے آئی تھی ایک گورا بھی اس کے یہاں نہیں آیا تھا۔ تین مہینے اس کو ہندوستان کے اس شہر میں رہتے ہوگیے تھے جہاں اس نے سنا تھا کہ بڑے لاٹ صاحب رہتے ہیں، جو گرمیوں میں شملے چلے جاتے ہیں، مگر صرف چھ آدمی اس کے پاس آئے تھے۔ صرف چھ، یعنی مہینے میں دو اور ان چھ گاہکوں سے اس نے خدا جھوٹ نہ بلوائے تو ساڑھے اٹھارہ روپے وصول کیے تھے۔ تین ر وپے سے زیادہ پرکوئی مانتا ہی نہیں تھا۔ سلطانہ نے ان میں سے پانچ آدمیوں کو اپنا ریٹ دس روپے بتایا تھا مگر تعجب کی بات ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے یہی کہا، ’’بھئی ہم تین روپے سے ایک کوڑی زیادہ نہ دیں گے۔‘‘ نہ جانے کیا بات تھی کہ ان میں سے ہر ایک نے اسے صرف تین روپے کے قابل سمجھا۔\n\nچنانچہ جب چھٹا آیا تو اس نے خود اس سے کہا، ’’دیکھو، میں تین روپے ایک ٹیم کے لوں گی۔ اس سے ایک دھیلا تم کم کہو تو میں نہ لوں گی۔ اب تمہاری مرضی ہو تو رہو ورنہ جاؤ۔‘‘ چھٹے آدمی نے یہ بات سن کر تکرار نہ کی اور اس کے ہاں ٹھہر گیا۔ جب دوسرے کمرے میں دروازے وروازے بند کرکے وہ اپنا کوٹ اتارنے لگا تو سلطانہ نے کہا، ’’لائیے ایک روپیہ دودھ کا۔‘‘ اس نے ایک روپیہ تو نہ دیا لیکن نئے بادشاہ کی چمکتی ہوئی اٹھنی جیب میں سے نکال کر اس کو دے دی اور سلطانہ نے بھی چپکے سے لے لی کہ چلو جو آیا ہے غنیمت ہے۔\n\nساڑھے اٹھارہ روپے تین مہینوں میں۔۔۔ بیس روپے ماہوار تو اس کوٹھے کا کرایہ تھا جس کو مالک مکان انگریزی زبان میں فلیٹ کہتا تھا۔ اس فلیٹ میں ایسا پاخانہ تھا جس میں زنجیر کھینچنے سے ساری گندگی پانی کے زور سے ایک دم نیچے نل میں غائب ہو جاتی تھی اور بڑا شور ہوتا تھا۔ شروع شروع میں تو اس شور نے اسے بہت ڈرایا تھا۔ پہلے دن جب وہ رفع حاجت کے لیے اس پاخانہ میں گئی تو اس کے کمر میں شدت کا درد ہورہا تھا۔ فارغ ہو کر جب اٹھنے لگی تو اس نے لٹکی ہوئی زنجیر کا سہارا لے لیا۔ اس زنجیرکو دیکھ کر اس نے خیال کیا چونکہ یہ مکان خاص ہم لوگوں کی رہائش کے لیے تیار کیے گیے ہیں، یہ زنجیر اس لیے لگائی گئی ہے کہ اٹھتے وقت تکلیف نہ ہو اور سہارا مل جایا کرے مگر جونہی اس نے زنجیر پکڑ کر اٹھنا چاہا، اوپر کھٹ کھٹ سی ہوئی اور پھر ایک دم پانی اس شور کے ساتھ باہر نکلا کہ ڈر کے مارے اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔\n\nخدا بخش دوسرے کمرے میں اپنا فوٹو گرافی کا سامان درست کررہا تھا اور ایک صاف بوتل میں ہائی ڈرو کونین ڈال رہا تھا کہ اس نے سلطانہ کی چیخ سنی۔ دوڑ کروہ باہر نکلا اور سلطانہ سے پوچھا، ’’کیا ہوا؟۔۔۔ یہ چیخ تمہاری تھی؟ ‘‘\n\nسلطانہ کا دل دھڑک رہا تھا۔ اس نے کہا، ’’یہ موا پاخانہ ہے یا کیا ہے۔ بیچ میں یہ ریل گاڑیوں کی طرح زنجیر کیا لٹکا رکھی ہے۔ میری کمرمیں درد تھا۔ میں نے کہا چلو اس کا سہارا لے لوں گی، پر اس موئی زنجیر کو چھیڑنا تھا کہ وہ دھماکہ ہوا کہ میں تم سے کیا کہوں۔‘‘\n\nاس پر خدا بخش بہت ہنسا تھا اور اس نے سلطانہ کو اس پیخانے کی بابت سب کچھ بتا دیا تھا کہ یہ نئے فیشن کا ہے جس میں زنجیر ہلانے سے سب گندگی نیچے زمین میں دھنس جاتی ہے۔\n\nخدا بخش اور سلطانہ کا آپس میں کیسے سمبندھ ہوا یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ خدا بخش راولپنڈی کا تھا۔ انٹرنٹس پاس کرنے کے بعد اس نے لاری چلانا سیکھا، چنانچہ چار برس تک وہ راولپنڈی اور کشمیر کے درمیان لاری چلانے کا کام کرتا رہا۔ اس کے بعد کشمیر میں اس کی دوستی ایک عورت سے ہوگئی۔ اس کو بھگا کر وہ لاہور لے آیا۔ لاہور میں چونکہ اس کو کوئی کام نہ ملا۔ اس لیے اس نے عورت کو پیشے بٹھا دیا۔ دو تین برس تک یہ سلسلہ جاری رہا اور وہ عورت کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی۔ خدا بخش کو معلوم ہوا کہ وہ انبالہ میں ہے۔ وہ اس کی تلاش میں انبالہ آیا جہاں اس کو سلطانہ مل گئی۔ سلطانہ نے اس کو پسند کیا، چنانچہ دونوں کا سمبندھ ہوگیا۔\n\nخدا بخش کے آنے سے ایک دم سلطانہ کا کاروبار چمک اٹھا۔ عورت چوں کہ ضعیف الاعتقاد تھی اس لیے اس نے سمجھا کہ خدا بخش بڑا بھاگوان ہے جس کے آنے سے اتنی ترقی ہوگئی، چنانچہ اس خوش اعتقادی نے خدا بخش کی وقعت اس کی نظروں میں اور بھی بڑھا دی۔\n\nخدا بخش آدمی محنتی تھا۔ سارا دن ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنا پسند نہیں کرتا تھا۔ چنانچہ اس نے ایک فوٹو گرافرسے دوستی پیدا کی جو ریلوے اسٹیشن کے باہر منٹ کیمرے سے فوٹو کھینچا کرتا تھا۔ اس لیے اس نے فوٹو کھینچنا سیکھ لیا۔ پھر سلطانہ سے ساٹھ روپے لے کر کیمرہ بھی خرید لیا۔ آہستہ آہستہ ایک پردہ بنوایا، دو کرسیاں خریدیں اور فوٹو دھونے کا سب سامان لے کر اس نے علیحدہ اپنا کام شروع کردیا۔\n\nکام چل نکلا، چنانچہ اس نے تھوڑی ہی دیر کے بعد اپنا اڈا انبالے چھاؤنی میں قائم کردیا۔ یہاں وہ گوروں کے فوٹو کھینچتا رہتا۔ ایک مہینے کے اندر اندر اس کی چھاؤنی کے متعدد گوروں سے واقفیت ہوگئی، چنانچہ وہ سلطانہ کو وہیں لے گیا۔ یہاں چھاؤنی میں خدا بخش کے ذریعہ سے کئی گورے سلطانہ کے مستقل گاہک بن گیے اور اس کی آمدنی پہلے سے دوگنی ہوگئی۔\n\nسلطانہ نے کانوں کے لیے بُندے خریدے۔ ساڑھے پانچ تولے کی آٹھ کنگنیاں بھی بنوالیں۔ دس پندرہ اچھی اچھی ساڑیاں بھی جمع کرلیں، گھرمیں فرنیچر وغیرہ بھی آگیا۔ قصہ مختصر یہ کہ انبالہ چھاؤنی میں وہ بڑی خوش حال تھی مگر ایکا ایکی نہ جانے خدا بخش کے دل میں کیا سمائی کہ اس نے دہلی جانے کی ٹھان لی۔ سطانہ انکار کیسے کرتی جبکہ خدا بخش کو اپنے لیے بہت مبارک خیال کرتی تھی۔ اس نے خوشی خوشی دہلی جانا قبول کرلیا۔ بلکہ اس نے یہ بھی سوچا کہ اتنے بڑے شہر میں جہاں لاٹ صاحب رہتے ہیں اس کا دھندا اور بھی اچھا چلے گا۔ اپنی سہیلیوں سے وہ دہلی کی تعریف سن چکی تھی۔ پھر وہاں حضرت نظام الدین اولیاء کی خانقاہ تھی جس سے اسے بے حد عقیدت تھی، چنانچہ جلدی جلدی گھر کا بھاری سامان بیچ باچ کر وہ خدا بخش کے ساتھ دہلی آگئی۔ یہاں پہنچ کر خدا بخش نے بیس روپے ماہوار پر ایک چھوٹا سا فلیٹ لے لیا جس میں وہ دونوں رہنے لگے۔\n\nایک ہی قسم کے نئے مکانوں کی لمبی سی قطار سڑک کے ساتھ ساتھ چلی گئی تھی۔ میونسپل کمیٹی نے شہر کا یہ حصہ خاص کسبیوں کے لیے مقرر کردیا تھا تاکہ وہ شہر میں جگہ جگہ اپنے اڈے نہ بنائیں۔ نیچے دکانیں تھیں اور اوپر دومنزلہ رہائشی فلیٹ۔ چونکہ سب عمارتیں ایک ہی ڈیزائن کی تھیں اس لیے شروع شروع میں سلطانہ کو اپنا فلیٹ تلاش کرنے میں بہت دقت محسوس ہوئی تھی، پر جب نیچے لانڈری والے نے اپنا بورڈ گھر کی پیشانی پر لگا دیا تو اس کو ایک پکی نشانی مل گئی۔ ’یہاں میلے کپڑوں کی دھلائی کی جاتی ہے‘ یہ بورڈ پڑھتے ہی وہ اپنا فلیٹ تلاش کرلیا کرتی تھی۔\n\nاسی طرح اس نے اور بہت سی نشانیاں قائم کرلی تھیں، مثلاً بڑے بڑے حروف میں جہاں’کوئلوں کی دوکان‘ لکھا تھا وہاں اس کی سہیلی ہیرا بائی رہتی تھی جو کبھی کبھی ریڈیو گھر میں گانے جایا کرتی تھی۔ جہاں ’شرفا کے کھانے کا اعلیٰ انتظام ہے‘ لکھا تھا وہاں اس کی دوسری سہیلی مختار رہتی تھی۔ نواڑ کے کارخانہ کے اوپر انوری رہتی تھی جو اسی کارخانہ کے سیٹھ کے پاس ملازم تھی۔ چونکہ سیٹھ صاحب کو رات کے وقت اپنے کارخانہ کی دیکھ بھال کرنا ہوتی تھی اس لیے وہ انوری کے پاس ہی رہتے تھے۔\n\nدوکان کھولتے ہی گاہک تھوڑے ہی آتے ہیں۔ چنانچہ جب ایک مہینے تک سلطانہ بیکار رہی تو اس نے یہی سوچ کر اپنے دل کو تسلی دی، پر جب دو مہینے گزر گیے اور کوئی آدمی اس کے کوٹھے پر نہ آیا تو اسے بہت تشویش ہوئی۔ اس نے خدا بخش سے کہا، ’’کیا بات ہے خدا بخش، دو مہینے آج پورے ہوگیےہیں ہمیں یہاں آئے ہوئے، کسی نے ادھر کا رخ بھی نہیں کیا۔۔۔ مانتی ہوں آج کل بازار بہت مندا ہے، پر اتنا مندا بھی تو نہیں کہ مہینے بھر میں کوئی شکل دیکھنے ہی میں نہ آئے۔‘‘\n\nخدا بخش کو بھی یہ بات بہت عرصہ سے کھٹک رہی تھی مگر وہ خاموش تھا، پر جب سلطانہ نے خود بات چھیڑی تو اس نے کہا، ’’میں کئی دنوں سے اس کی بابت سوچ رہا ہوں۔ ایک بات سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ کہ جنگ کی وجہ سے لوگ باگ دوسرے دھندوں میں پڑ کر ادھر کا رستہ بھول گیے ہیں۔۔۔ یا پھر یہ ہو سکتا ہے کہ۔۔۔ ‘‘ وہ اس کے آگے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ سیڑھیوں پر کسی کے چڑھنے کی آواز آئی۔ خدا بخش اور سلطانہ دونوں اس آواز کی طرف متوجہ ہوئے۔ تھوڑی دیر کے بعد دستک ہوئی۔ خدا بخش نے لپک کر دروازہ کھولا۔ ایک آدمی اندر داخل ہوا۔ یہ پہلا گاہک تھا جس سے تین روپے میں سودا طے ہوا۔ اس کے بعد پانچ اور آئے یعنی تین مہینے میں چھ، جن سے سلطانہ نے صرف ساڑھے اٹھارہ روپے وصول کیے۔\n\nبیس روپے ماہوار تو فلیٹ کے کرایہ میں چلے جاتے تھے، پانی کا ٹیکس اور بجلی کا بل جدا تھا۔ اس کے علاوہ گھر کے دوسرے خرچ تھے۔ کھانا پینا، کپڑے لتے، دوا دارو اور آمدن کچھ بھی نہیں تھی۔ ساڑھے اٹھارہ روپے تین مہینے میں آئے تو اسے آمدن تو نہیں کہہ سکتے۔ سلطانہ پریشان ہوگئی۔ ساڑھے پانچ تولے کی آٹھ کنگنیاں جو اس نے انبالے میں بنوائی تھیں آہستہ آہستہ بک گئیں۔ آخری کنگنی کی جب باری آئی تو اس نے خدا بخش سے کہا۔ ’’تم میری سنو اور چلو واپس انبالے میں یہاں کیا دھرا ہے۔۔۔ ؟ بھئی ہوگا، پر ہمیں تو یہ شہر راس نہیں آیا۔ تمہارا کام بھی وہاں خوب چلتا تھا، چلو، وہیں چلتے ہیں۔ جو نقصان ہوا ہے اس کو اپنا سر صدقہ سمجھو۔ اس کنگنی کو بیچ کر آؤ، میں اسباب وغیرہ باندھ کر تیار رکھتی ہوں۔ آج رات کی گاڑی سے یہاں سے چل دیں گے۔‘‘\n\nخدا بخش نے کنگنی سلطانہ کے ہاتھ سے لے لی اور کہا، ’’نہیں جانِ من، انبالہ اب نہیں جائیں گے، یہیں دہلی میں رہ کر کمائیں گے۔ یہ تمہاری چوڑیاں سب کی سب یہیں واپس آئیں گی۔ اللہ پر بھروسہ رکھو۔ وہ بڑا کارساز ہے۔ یہاں بھی وہ کوئی نہ کوئی اسباب بنا ہی دے گا۔‘‘\n\nسلطانہ چپ ہورہی، چنانچہ آخری کنگنی ہاتھ سے اتر گئی۔ بُچے ہاتھ دیکھ کر اس کو بہت دکھ ہوتا تھا، پر کیا کرتی، پیٹ بھی تو آخر کسی حیلے سے بھرنا تھا۔\nجب پانچ مہینے گزر گیے اور آمدن خرچ کے مقابلے میں چوتھائی سے بھی کچھ کم رہی تو سلطانہ کی پریشانی اور زیادہ بڑھ گئی۔ خدا بخش بھی سارا دن اب گھر سے غائب رہنے لگا تھا۔ سلطانہ کو اس کا بھی دکھ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پڑوس میں اس کی دو تین ملنے والیاں موجود تھیں جن کے ساتھ وہ اپنا وقت کاٹ سکتی تھی، پر ہر روز ان کے یہاں جانا اور گھنٹوں بیٹھے رہنا اس کو بہت برا لگتا تھا۔ چنانچہ آہستہ آہستہ اس نے ان سہیلیوں سے ملنا جلنا بالکل ترک کردیا۔ سارا دن وہ اپنے سنسنان مکان میں بیٹھی رہتی۔ کبھی چھالیا کاٹتی رہتی، کبھی اپنے پرانے اور پھٹے ہوئے کپڑوں کو سیتی رہتی اور کبھی باہر بالکونی میں آ کر جنگلے کے ساتھ کھڑی ہو جاتی اور سامنے ریلوے شیڈ میں ساکت اور متحرک انجنوں کی طرف گھنٹوں بے مطلب دیکھتی رہتی۔\n\nسڑک کی دوسری طرف مال گودام تھا جو اس کونے سے اس کونے تک پھیلا ہوا تھا۔ داہنے ہاتھ کو لوہے کی چھت کے نیچے بڑی بڑی گانٹھیں پڑی رہتی تھیں اور ہر قسم کے مال اسباب کے ڈھیر سے لگے رہتے تھے۔ بائیں ہاتھ کو کھلا میدان تھا جس میں بے شمار ریل کی پٹریاں بچھی ہوئی تھیں۔ دھوپ میں لوہے کی یہ پٹریاں چمکتیں تو سلطانہ اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتی جن پر نیلی نیلی رگیں بالکل ان پٹریوں کی طرح ابھری رہتی تھیں۔ اس لمبے اور کھلے میدان میں ہر وقت انجن اور گاڑیاں چلتی رہتی تھیں۔ کبھی ادھر کبھی ادھر۔ ان انجنوں اور گاڑیوں کی چِھک چِھک پَھک پَھک سدا گونجتی رہتی تھی۔\n\nصبح سویرے جب وہ اٹھ کر بالکونی میں آتی تو ایک عجیب سماں نظر آتا۔ دھندلکے میں انجنوں کے منہ سے گاڑھا گاڑھا دھواں نکلتا تھا اور گدلے آسمان کی جانب موٹے اور بھاری آدمیوں کی طرح اٹھتا دکھائی دیتا تھا۔ بھاپ کے بڑے بڑے بادل بھی ایک شور کے ساتھ پٹریوں سے اٹھتے تھے اور آنکھ جھپکنے کی دیر میں ہوا کے اندر گھل مل جاتے تھے۔ پھر کبھی کبھی جب وہ گاڑی کے کسی ڈبے کو جسے انجن نے دھکا دے کر چھوڑ دیا ہو، اکیلے پٹریوں پر چلتا دیکھتی تو اسے اپنا خیال آتا۔ وہ سوچتی کہ اسے بھی کسی نے زندگی کی پٹری پر دھکا دے کر چھوڑ دیا ہے اور وہ خود بخود جارہی ہے۔ دوسرے لوگ کانٹے بدل رہے ہیں اور وہ چلی جارہی ہے۔۔۔ نہ جانے کہاں۔ پھر ایک روز ایسا آئے گا جب اس دھکے کا زور آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گا اور وہ کہیں رک جائے گی۔۔۔ کسی ایسے مقام پر جو اس کا دیکھا بھالا نہ ہوگا۔\n\nیوں تو وہ بے مطلب گھنٹوں ریل کی ان ٹیڑھی بانکی پٹریوں اور ٹھہرے اور چلتے ہوئے انجنوں کی طرف دیکھتی رہتی تھی، پر طرح طرح کے خیال اس کے دماغ میں آتے رہتے تھے۔ انبالہ چھاؤنی میں جب وہ رہتی تھی تو اسٹیشن کے پاس ہی اس کا مکان تھا مگروہاں اس نے کبھی ان چیزوں کو ایسی نظروں سے نہیں دیکھا تھا۔ اب تو کبھی کبھی اس کے دماغ میں یہ بھی خیال آتا کہ یہ جو سامنے ریل کی پٹریوں کا جال سا بچھا ہے اور جگہ جگہ سے بھاپ اور دھواں اٹھ رہا ہے ایک بہت بڑا چکلہ ہے۔ بہت سی گاڑیاں ہیں جن کو چند موٹے موٹے انجن ادھر ادھر دھکیلتے رہتے ہیں۔ سلطانہ کو تو بعض اوقات یہ انجن سیٹھ معلوم ہوتے ہیں جو کبھی کبھی انبالہ میں اس کے ہاں آیا کرتے تھے۔ پھر کبھی کبھی جب وہ کسی انجن کو آہستہ آہستہ گاڑیوں کی قطار کے پاس سے گزرتا دیکھتی تو اسے ایسا محسوس ہوتا کہ کوئی آدمی چکلے کے کسی بازار میں سے اوپر کوٹھوں کی طرف دیکھتا جارہاہے۔\n\nسلطانہ سمجھتی تھی کہ ایسی باتیں سوچنا دماغ کی خرابی کا باعث ہے، چنانچہ جب اس قسم کے خیال اس کو آنے لگے تو اس نے بالکونی میں جانا چھوڑ دیا۔ خدا بخش سے اس نے بارہا کہا، ’’دیکھو، میرے حال پر رحم کرو۔ یہاں گھر میں رہا کرو۔ میں سارا دن یہاں بیماروں کی طرح پڑی رہتی ہوں۔‘‘ مگر اس نے ہر بار سلطانہ سے یہ کہہ کر اس کی تشفی کردی، ’’جانِ من۔۔۔ میں باہر کچھ کمانےکی فکر کررہا ہوں۔ اللہ نے چاہا تو چند دنوں ہی میں بیڑا پار ہو جائے گا۔‘‘\n\nپورے پانچ مہینے ہوگیے تھے مگر ابھی تک نہ سلطانہ کا بیڑا پار ہوا تھا نہ خدا بخش کا۔\n\nمحرم کا مہینہ سر پر آرہا تھا مگر سلطانہ کے پاس کالے کپڑے بنوانے کے لیے کچھ بھی نہ تھا۔ مختار نے لیڈی ہیملٹن کی ایک نئی وضع کی قمیص بنوائی تھی جس کی آستینیں کالی جارجٹ کی تھیں۔ اس کے ساتھ میچ کرنے کے لیے اس کے پاس کالی ساٹن کی شلوار تھی جو کاجل کی طرح چمکتی تھی۔ انوری نے ریشمی جارجٹ کی ایک بڑی نفیس ساڑی خریدی تھی۔ اس نے سلطانہ سے کہا تھا کہ وہ اس ساڑی کے نیچے سفید بوسکی کا پیٹی کوٹ پہنے گی کیونکہ یہ نیا فیشن ہے۔ اس ساڑی کے ساتھ پہننے کو انوری کالی مخمل کا ایک جوتا لائی تھی جو بڑا نازک تھا۔ سلطانہ نے جب یہ تمام چیزیں دیکھیں تو اس کو اس احساس نے بہت دکھ دیا کہ وہ محرم منانے کے لیے ایسا لباس خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔\n\nانوری اور مختار کے پاس یہ لباس دیکھ کر جب وہ گھر آئی تو اس کا دل بہت مغموم تھا۔ اسے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پھوڑا سا اس کے اندر پیدا ہوگیا ہے۔ گھر بالکل خالی تھا۔ خدا بخش حسبِ معمول باہر تھا۔ دیر تک وہ دری پر گاؤ تکیہ سر کے نیچے رکھ کر لیٹی رہی، پرجب اس کی گردن اونچائی کے باعث اکڑ سی گئی تو اٹھ کر باہر بالکونی میں چلی گئی تاکہ غم افزا خیالات کو اپنے دماغ میں سے نکال دے۔\n\nسامنے پٹریوں پر گاڑیوں کے ڈبے کھڑے تھے پر انجن کوئی بھی نہ تھا۔ شام کا وقت تھا۔ چھڑکاؤ ہو چکا تھا اس لیے گرد و غبار دب گیا تھا۔ بازار میں ایسے آدمی چلنے شروع ہوگیے تھے جو تاک جھانک کرنے کے بعد چپ چاپ گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک آدمی نے گردن اونچی کرکے سطانہ کی طرف دیکھا۔ سلطانہ مسکرا دی اور اس کوبھول گئی کیونکہ اب سامنے پٹریوں پر ایک انجن نمودار ہوگیا تھا۔\n\nسلطانہ نے غورسے اس کی طرف دیکھنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ یہ خیال اس کے دماغ میں آیا کہ انجن نے بھی کالا لباس پہن رکھا ہے۔ یہ عجیب و غریب خیال دماغ سے نکالنے کی خاطر جب اس نے سڑک کی جانب دیکھا تو اسے وہی آدمی بیل گاڑی کے پاس کھڑا نظر آیا جس نے اس کی طرف للچائی نظروں سے دیکھا تھا۔ سلطانہ نے ہاتھ سے اسے اشارہ کیا۔ اس آدمی نے ادھر ادھر دیکھ کر ایک لطیف اشارے سے پوچھا، کدھر سے آؤں، سلطانہ نے اسے راستہ بتا دیا۔ وہ آدمی تھوڑی دیر کھڑا رہا مگر پھر بڑی پھرتی سے اوپر چلا آیا۔\n\nسلطانہ نے اسے دری پر بٹھایا۔ جب وہ بیٹھ گیا تو اس نے سلسلہ گفتگو شروع کرنے کے لیے کہا، ’’آپ اوپر آتے ڈر رہے تھے۔‘‘ وہ آدمی یہ سن کر مسکرایا۔ ’’تمہیں کیسے معلوم ہوا۔۔۔ ڈرنے کی بات ہی کیا تھی؟‘‘ اس پر سلطانہ نے کہا، ’’یہ میں نے اس لیے کہا کہ آپ دیر تک وہیں کھڑے رہے اور پھر کچھ سوچ کر ادھر آئے۔‘‘ وہ یہ سن کر پھر مسکرایا۔ ’’تمہیں غلط فہمی ہوئی۔ میں تمہارے اوپر والے فلیٹ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہاں کوئی عورت کھڑی ایک مرد کو ٹھینگا دکھا رہی تھی۔ مجھے یہ منظر پسند آیا۔ پھر بالکونی میں سبز بلب روشن ہوا تو میں کچھ دیر کے لیے ٹھہر گیا۔ سبز روشنی مجھے پسند ہے۔ آنکھوں کو بہت اچھی لگتی ہے۔‘‘ یہ کہہ اس نے کمرے کا جائزہ لینا شروع کردیا۔ پھر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ سلطانہ نے پوچھا، ’’آپ جارہے ہیں؟‘‘ اس آدمی نے جواب دیا، ’’نہیں، میں تمہارے اس مکان کو دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ چلو مجھے تمام کمرے دکھاؤ۔‘‘\n\nسلطانہ نے اس کو تینوں کمرے ایک ایک کرکے دکھا دیے۔ اس آدمی نے بالکل خاموشی سے ان کمروں کا معائنہ کیا۔ جب وہ دونوں پھر اسی کمرے میں آگیےجہاں پہلے بیٹھے تھے تو اس آدمی نے کہا، ’’میرا نام شنکر ہے۔‘‘\n\nسلطانہ نے پہلی بار غور سے شنکر کی طرف دیکھا۔ وہ متوسط قد کا معمولی شکل و صورت کا آدمی تھا مگر اس کی آنکھیں غیرمعمولی طور پر صاف اور شفاف تھیں۔ کبھی کبھی ان میں ایک عجیب قسم کی چمک بھی پیدا ہوتی تھی۔ گٹھیلا اور کسرتی بدن تھا۔ کنپٹیوں پر اس کے بال سفید ہورہے تھے۔ خاکستری رنگ کی گرم پتلون پہنے تھا۔ سفید قمیص تھی جس کا کالر گردن پر سے اوپر کو اٹھا ہوا تھا۔ شنکر کچھ اس طرح دری پر بیٹھا تھا کہ معلوم ہوتا تھا شنکر کے بجائے سلطانہ گاہک ہے۔ اس احساس نے سلطانہ کو قدرے پریشان کردیا۔ چنانچہ اس نے شنکر سے کہا، ’’فرمائیے۔۔۔‘‘\n\nشنکر بیٹھا تھا، یہ سن کر لیٹ گیا۔ ’’میں کیا فرماؤں، کچھ تم ہی فرماؤ۔ بلایا تمہیں نے ہے مجھے۔‘‘ جب سلطانہ کچھ نہ بولی تو وہ اٹھ بیٹھا۔ ’’میں سمجھا، لو اب مجھ سے سنو، جو کچھ تم نے سمجھا، غلط ہے، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو کچھ دےکر جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی طرح میری بھی فیس ہے۔ مجھے جب بلایا جائے تو فیس دینا ہی پڑتی ہے۔‘‘\n\nسلطانہ یہ سن کر چکرا گئی مگر اس کے باوجود اسے بے اختیار ہنسی آگئی۔\n\n’’آپ کام کیا کرتے ہیں؟‘‘\n\nشنکر نے جواب دیا، ’’یہی جو تم لوگ کرتے ہو۔‘‘\n\n’’کیا؟‘‘\n\n’’تم کیا کرتی ہو؟‘‘\n\n’’میں۔۔۔ میں۔۔۔ میں کچھ بھی نہیں کرتی۔‘‘\n\n’’میں بھی کچھ نہیں کرتا۔‘‘\n\nسلطانہ نے بھنا کر کہا، ’’یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔۔۔ آپ کچھ نہ کچھ تو ضرور کرتے ہوں گے۔‘‘\n\nشنکر نے بڑے اطمینان سے جواب دیا، ’’تم بھی کچھ نہ کچھ ضرور کرتی ہوگی۔‘‘\n\n’’جھک مارتی ہوں۔‘‘\n\n’’میں بھی جھک مارتا ہوں۔‘‘\n\n’’تو آؤ دونوں جھک ماریں۔‘‘\n\n’’میں حاضر ہوں مگر جھک مارنے کے لیے دام میں کبھی نہیں دیا کرتا۔‘‘\n\n’’ہوش کی دوا کرو۔۔۔ ۔ ۔ یہ لنگر خانہ نہیں۔‘‘\n\n’’اور میں بھی والنٹیر نہیں ہوں۔‘‘\n\nسلطانہ یہاں رک گئی۔ اس نے پوچھا، ’’یہ والنٹیر کون ہوتے ہیں۔‘‘\n\nشنکر نے جواب دیا، ’’الو کے پٹھے۔‘‘\n\n’’میں بھی الو کی پٹھی نہیں۔‘‘\n\n’’مگر وہ آدمی خدا بخش جو تمہارے ساتھ رہتا ہے ضرور الو کا پٹھا ہے۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\n’’اس لیے کہ وہ کئی دنوں سے ایک ایسے خدا رسیدہ فقیر کے پاس اپنی قسمت کھلوانے کی خاطر جارہا ہے جس کی اپنی قسمت زنگ لگے تالے کی طرح بند ہے۔‘‘ یہ کہہ کر شنکر ہنسا۔\n\nاس پر سلطانہ نے کہا، ’’تم ہندو ہو، اسی لیے ہمارے ان بزرگوں کا مذاق اڑاتے ہو۔‘‘\n\nشنکر مسکرایا، ’’ایسی جگہوں پر ہندو مسلم سوال پیدا نہیں ہوا کرتے۔ بڑے بڑے پنڈت اور مولوی اگر یہاں آئیں تو وہ بھی شریف آدمی بن جائیں۔‘‘\n\n’’جانے تم کیا اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہو۔۔۔ بولو رہو گے؟‘‘\n\n’’اسی شرط پر جو پہلے بتا چکا ہوں۔‘‘\n\nسلطانہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’تو جاؤ رستہ پکڑو۔‘‘\n\nشنکر آرام سے اٹھا۔ پتلون کی جیبوں میں اس نے اپنے دونوں ہاتھ ٹھونسے اور جاتے ہوئے کہا، ’’میں کبھی کبھی اس بازار سے گزرا کرتا ہوں۔ جب بھی تمہیں میری ضرورت ہو بلا لینا۔۔۔ میں بہت کام کا آدمی ہوں۔‘‘\n\nشنکر چلا گیا اور سلطانہ کالے لباس کو بھول کر دیر تک اس کے متعلق سوچتی رہی۔ اس آدمی کی باتوں نے اس کے دکھ کو بہت ہلکا کردیا تھا۔ اگر وہ انبالے میں آیا ہوتا جہاں کہ وہ خوشحال تھی تو اس نے کسی اور ہی رنگ میں اس آدمی کو دیکھا ہوتا اور بہت ممکن ہے کہ اسے دھکے دےکر باہر نکال دیا ہوتا مگر یہاں چونکہ وہ بہت اداس رہتی تھی، اس لیے شنکر کی باتیں اسے پسند آئیں۔\n\nشام کو جب خدا بخش آیا تو سلطانہ نے اس سے پوچھا، ’’تم آج سارا دن کدھر غائب رہے ہو؟‘‘ خدا بخش تھک کر چور چور ہورہا تھا، کہنے لگا، ’’پرانے قلعہ کے پاس سے آرہا ہوں۔ وہاں ایک بزرگ کچھ دنوں سے ٹھہرے ہوئے ہیں، انہی کے پاس ہر روز جاتا ہوں کہ ہمارے دن پھر جائیں۔۔۔‘‘\n\n’’کچھ انھوں نے تم سے کہا؟‘‘\n\n’’نہیں، ابھی وہ مہربان نہیں ہوئے۔۔۔ پر سلطانہ، میں جو ان کی خدمت کررہا ہوں وہ اکارت کبھی نہیں جائے گی۔ اللہ کا فضل شامل حال رہا تو ضرور وارے نیارے ہو جائیں گے۔‘‘\n\nسلطانہ کے دماغ میں محرم منانے کا خیال سمایا ہوا تھا، خدا بخش سے رونی آواز میں کہنے لگی، ’’سارا سارا دن باہر غائب رہتے ہو۔۔۔ میں یہاں پنجرے میں قید رہتی ہوں، نہ کہیں جاسکتی ہوں نہ آسکتی ہوں۔ محرم سر پر آگیا ہے، کچھ تم نے اس کی بھی فکر کی کہ مجھے کالے کپڑے چاہئیں، گھر میں پھوٹی کوڑی تک نہیں۔ کنگنیاں تھیں سو وہ ایک ایک کرکے بک گئیں، اب تم ہی بتاؤ کیا ہوگا؟۔۔۔ یوں فقیروں کے پیچھے کب تک مارے مارے پھرا کرو گے۔ مجھے تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہاں دہلی میں خدا نے بھی ہم سے منہ موڑ لیا ہے۔ میری سنو تو اپنا کام شروع کردو۔ کچھ تو سہارا ہو ہی جائے گا۔‘‘\n\nخدا بخش دری پر لیٹ گیا اور کہنے لگا، ’’پر یہ کام شروع کرنے کے لیے بھی تو تھوڑا بہت سرمایہ چاہیے۔۔۔ خدا کے لیے اب ایسی دکھ بھری باتیں نہ کرو۔ مجھ سے اب برداشت نہیں ہوسکتیں۔ میں نے سچ مچ انبالہ چھوڑنے میں سخت غلطی کی، پر جو کرتا ہے اللہ ہی کرتا ہے اور ہماری بہتری ہی کے لیے کرتا ہے، کیا پتا ہے کہ کچھ دیر اور تکلفیں برداشت کرنے کے بعد ہم۔۔۔‘‘\n\nسلطانہ نے بات کاٹ کر کہا، ’’تم خدا کے لیے کچھ کرو۔ چوری کرو یا ڈاکہ مارو پر مجھے ایک شلوار کا کپڑا ضرور لادو۔ میرے پاس سفید بوسکی کی قمیص پڑی ہے، اس کو میں رنگوالوں گی۔ سفید نینون کا ایک نیا دوپٹہ بھی میرے پاس موجود ہے، وہی جو تم نے مجھے دیوالی پر لا کر دیا تھا، یہ بھی قمیص کے ساتھ ہی کالا رنگوا لیا جائے گا۔ ایک صرف شلوار کی کسر ہے، سووہ تم کسی نہ کسی طرح پیدا کردو۔۔۔ دیکھو تمہیں میری جان کی قسم کسی نہ کسی طرح ضرور لادو۔۔۔ میری بھتی کھاؤ اگر نہ لاؤ۔‘‘\n\nخدا بخش اٹھ بیٹھا۔ ’’اب تم خواہ مخواہ زور دیے چلی جارہی ہو۔۔۔ میں کہاں سے لاؤں گا۔۔۔ افیم کھانے کے لیے تو میرے پاس پیسہ نہیں۔‘‘\n\n’’کچھ بھی کرو مگر مجھے ساڑھے چار گز کالی ساٹن لادو۔‘‘\n\n’’دعا کرو کہ آج رات ہی اللہ دو تین آدمی بھیج دے۔‘‘\n\n’’لیکن تم کچھ نہیں کرو گے۔۔۔ تم اگر چاہو تو ضرور اتنے پیسے پیدا کرسکتے ہو۔ جنگ سے پہلے یہ ساٹن بارہ چودہ آنہ گز مل جاتی تھی، اب سوا روپے گز کے حساب سے ملتی ہے۔ ساڑھے چار گزوں پرکتنے روپے خرچ ہو جائیں گے؟‘‘\n\n’’اب تم کہتی ہو تو میں کوئی حیلہ کروں گا۔‘‘ یہ کہہ کر خدا بخش اٹھا۔ ’’لو اب ان باتوں کو بھول جاؤ، میں ہوٹل سے کھانا لے آؤں۔‘‘\n\nہوٹل سے کھانا آیا دونوں نے مل کر زہر مار کیا اور سو گیے۔ صبح ہوئی۔ خدا بخش پرانے قلعے والے فقیر کے پاس چلا گیا اور سلطانہ اکیلی رہ گئی۔ کچھ دیر لیٹی رہی، کچھ دیر سوئی رہی۔ ادھر ادھر کمروں میں ٹہلتی رہی، دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد اس نے اپنا سفید نینون کا دوپٹہ اور سفید بوسکی کی قمیص نکالی اور نیچے لانڈری والے کو رنگنے کے لیے دے آئی۔ کپڑے دھونے کے علاوہ وہاں رنگنے کا کام بھی ہوتا تھا۔ یہ کام کرنے کے بعد اس نے واپس آکر فلموں کی کتابیں پڑھیں جن میں اس کی دیکھی ہوئی فلموں کی کہانی اور گیت چھپے ہوئے تھے۔ یہ کتابیں پڑھتے پڑھتے وہ سو گئی، جب اٹھی تو چار بج چکے تھے کیونکہ دھوپ آنگن میں سے موری کے پاس پہنچ چکی تھی۔ نہا دھو کر فارغ ہوئی تو گرم چادر اوڑھ کر بالکونی میں آکھڑی ہوئی۔ قریباً ایک گھنٹہ سلطانہ بالکونی میں کھڑی رہی۔\n\nاب شام ہوگئی تھی۔ بتیاں روشن ہورہی تھیں۔ نیچے سڑک میں رونق کے آثار نظر آنے لگے۔ سردی میں تھوڑی سی شدت ہوگئی تھی مگر سلطانہ کو یہ ناگوار معلوم نہ ہوئی۔ وہ سڑک پر آتے جاتے ٹانگوں اور موٹروں کی طرف ایک عرصہ سے دیکھ رہی تھی۔ دفعتاًاسے شنکر نظر آیا۔ مکان کے نیچے پہنچ کر اس نے گردن اونچی کی اور سلطانہ کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔ سلطانہ نے غیر ارادی طور پر ہاتھ کا اشارہ کیا اور اسے اوپر بلا لیا۔\n\nجب شنکر اوپر آگیا تو سلطانہ بہت پریشان ہوئی کہ اس سے کیا کہے۔ دراصل اس نے ایسے ہی بلا سوچے سمجھے اسے اشارہ کردیا تھا۔ شنکر بے حد مطمئن تھا جیسے اس کا اپنا گھر ہے، چنانچہ بڑی بے تکلفی سے پہلے روز کی طرح وہ گاؤ تکیہ سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گیا۔ جب سلطانہ نے دیر تک اس سے کوئی بات نہ کی تو اس سے کہا، ’’تم مجھے سو دفعہ بلا سکتی ہو اور سو دفعہ ہی کہہ سکتی ہو کہ چلے جاؤ۔۔۔ میں ایسی باتوں پر کبھی ناراض نہیں ہوا کرتا۔‘‘\n\nسلطانہ شش و پنج میں گرفتار ہوگئی، کہنے لگی، ’’نہیں بیٹھو، تمہیں جانے کو کون کہتا ہے۔‘‘\n\nشنکر اس پر مسکرا دیا۔ ’’تو میری شرطیں تمہیں منظور ہیں۔‘‘\n\n’’کیسی شرطیں؟‘‘ سلطانہ نے ہنس کر کہا، ’’کیا نکاح کررہے ہو مجھ سے؟‘‘\n\n’’نکاح اور شادی کیسی؟ نہ تم عمر بھر میں کسی سے نکاح کرو گی نہ میں۔ یہ رسمیں ہم لوگوں کے لیے نہیں۔۔۔ چھوڑو ان فضولیات کو۔ کوئی کام کی بات کرو۔‘‘\n\n’’بولو کیا بات کروں؟‘‘\n\n’’تم عورت ہو۔۔۔ کوئی ایسی بات شروع کرو جس سے دو گھڑی دل بہل جائے۔ اس دنیا میں صرف دوکانداری ہی دوکانداری نہیں، اور کچھ بھی ہے۔‘‘\n\nسلطانہ ذہنی طور پر اب شنکر کو قبول کرچکی تھی۔ کہنے لگی، ’’صاف صاف کہو، تم مجھ سے کیا چاہتے ہو۔‘‘\n\n’’جو دوسرے چاہتے ہیں۔‘‘ شنکر اٹھ کر بیٹھ گیا۔\n\n’’تم میں اور دوسروں میں پھر فرق ہی کیا رہا۔‘‘\n\n’’تم میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں۔ ان میں اور مجھ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایسی بہت سی باتیں ہوتی ہیں جو پوچھنا نہیں چاہئیں خود سمجھنا چاہئیں۔‘‘\n\nسلطانہ نے تھوڑی دیر تک شنکر کی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کی پھر کہا، ’’میں سمجھ گئی۔‘‘\n\n’’تو کہو، کیا ارادہ ہے؟‘‘\n\n’’تم جیتے، میں ہاری۔ پر میں کہتی ہوں، آج تک کسی نے ایسی بات قبول نہ کی ہوگی۔‘‘\n\n’’تم غلط کہتی ہو۔۔۔ اسی محلے میں تمہیں ایسی سادہ لوح عورتیں بھی مل جائیں گی جو کبھی یقین نہیں کریں گی کہ عورت ایسی ذلت قبول کرسکتی ہے جو تم بغیر کسی احساس کے قبول کرتی رہی ہو۔ لیکن ان کے نہ یقین کرنے کے باوجود تم ہزاروں کی تعداد میں موجود ہو۔۔۔ تمہارا نام سلطانہ ہے نا؟‘‘\n\n’’سلطانہ ہی ہے۔‘‘\n\nشنکر اٹھ کھڑا ہوا اور ہنسنے لگا، ’’میرا نام شکر ہے۔۔۔ یہ نام بھی عجب اوٹ پٹانگ ہوتے ہیں، چلو آؤ اندر چلیں۔‘‘\n\nشنکر اور سلطانہ دری والے کمرے میں واپس آئے تو دونوں ہنس رہے تھے، نہ جانے کس بات پر۔ جب شنکر جانے لگا تو سلطانہ نے کہا، ’’شنکر میری ایک بات مانو گے؟‘‘\n\nشنکر نے جواباً کہا، ’’پہلے بات بتاؤ۔‘‘\n\nسلطانہ کچھ جھینپ سی گئی، ’’تم کہو گے کہ میں دام وصول کرنا چاہتی ہوں مگر۔‘‘\n\n’’کہو کہو۔۔۔ رک کیوں گئی ہو۔‘‘\n\nسلطانہ نے جرأت سے کام لے کر کہا، ’’بات یہ ہے کہ محرم آرہا ہے اور میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں کالی شلوار بنوا سکوں۔۔۔ یہاں کے سارے دکھڑے تو تم مجھ سے سن ہی چکے ہو۔ قمیص اور دوپٹہ میرے پاس موجود تھا جو میں نے آج رنگوانے کے لیے دےدیا ہے۔‘‘\n\nشنکر نے یہ سن کرکہا، ’’تم چاہتی ہو کہ میں تمہیں کچھ روپے دے دوں جو تم یہ کالی شلوار بنوا سکو۔‘‘\n\nسلطانہ نے فوراً ہی کہا، ’’نہیں، میرا مطلب یہ ہے کہ اگر ہو سکے تو تم مجھے ایک کالی شلوار لادو۔‘‘\n\nشنکر مسکرایا۔ ’’میری جیب میں تو اتفاق ہی سے کبھی کچھ ہوتا ہے، بہر حال میں کوشش کروں گا۔ محرم کی پہلی تاریخ کو تمہیں یہ شلوار مل جائے گی۔ لے بس اب خوش ہو گئیں۔‘‘ سلطانہ کے بُندوں کی طرف دیکھ کر شنکر نے پوچھا، ’’کیا یہ بُندے تم مجھے دے سکتی ہو؟‘‘\n\nسلطانہ نے ہنس کر کہا، ’’تم انھیں کیا کرو گے۔ چاندی کے معمولی بُندے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ پانچ روپے کے ہوں گے۔‘‘\n\nاس پر شنکر نے کہا، ’’میں نے تم سے بندے مانگے ہیں۔ ان کی قیمت نہیں پوچھی، بولو، دیتی ہو۔‘‘\n\n’’لے لو۔‘‘ یہ کہہ کر سلطانہ نے بُندے اتار کر شنکر کو دے دیے۔ اس کے بعد افسوس ہوا مگر شنکر جا چکا تھا۔\n\nسلطانہ کو قطعاً یقین نہیں تھا کہ شنکر اپنا وعدہ پورا کرے گا مگر آٹھ روز کے بعد محرم کی پہلی تاریخ کو صبح نو بجے دروازے پر دستک ہوئی۔ سلطانہ نے دروازہ کھولا تو شنکر کھڑا تھا۔ اخبار میں لپٹی ہوئی چیز اس نے سلطانہ کو دی اور کہا، ’’ساٹن کی کالی شلوار ہے۔۔۔ دیکھ لینا، شاید لمبی ہو۔۔۔ اب میں چلتا ہوں۔‘‘\n\nشنکر شلوار دے کر چلا گیا اورکوئی بات اس نے سلطانہ سے نہ کی۔ اس کی پتلون میں شکنیں پڑی ہوئی تھیں۔ بال بکھرے ہوئے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ابھی ابھی سو کر اٹھا ہے اور سیدھا ادھر ہی چلا آیا ہے۔ سلطانہ نے کاغذ کھولا۔ ساٹن کی کالی شلوار تھی ایسی ہی جیسی کہ وہ مختارکے پاس دیکھ کر آئی تھی۔ سلطانہ بہت خوش ہوئی۔ بندوں اور اس سودے کا جو افسوس اسے ہوا تھا اس شلوار نے اور شنکر کی وعدہ ایفائی نے دور کردیا۔\n\nدوپہر کو وہ نیچے لانڈری والے سے اپنی رنگی ہوئی قمیص اور دوپٹہ لے کر آئی۔ تینوں کالے کپڑے اس نے جب پہن لیے تو دروازے پر دستک ہوئی۔ سلطانہ نے دروازہ کھولا تو مختار اندر داخل ہوئی۔ اس نے سلطانہ کے تینوں کپڑوں کی طرف دیکھا اور کہا، ’’قمیص اور دوپٹہ تو رنگا ہوا معلوم ہوتا ہے، پر یہ شلوار نئی ہے۔۔۔ کب بنوائی؟‘‘\n\nسلطانہ نے جواب دیا، ’’آج ہی درزی لایا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی نظریں مختارکے کانوں پر پڑیں، ’’یہ بُندے تم نے کہاں سے لیے؟‘‘\n\nمختار نے جواب دیا۔ ’’آج ہی منگوائے ہیں۔‘‘\n\nاس کے بعد دونوں کو تھوڑی دیر تک خاموش رہنا پڑا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%B4%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29"} {"title": "کالی کالی گھٹا برستی ہے", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کالی کالی گھٹا برستی ہے\nآج کیا لطف مے پرستی ہے\n\nخوش لگے دل کو کیوں نہ ویرانہ\nعاشقوں کی یہی تو بستی ہے\n\nآج محفل میں یہ خیال رہے\nکس کی جانب سے پیش دستی ہے\n\nجب کہ اس کا بھی ہے مآل یہی\nمے پرستی بھی فاقہ مستی ہے\n\nایک تیر نظر ادھر مارو\nدل ترستا ہے جاں ترستی ہے\n\nبوسہ ملتا ہے جان کے بدلے\nمشرقیؔ خوب جنس سستی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کالی گھٹا کب آئے گی فصل بہار میں", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کالی گھٹا کب آئے گی فصل بہار میں\nآنکھیں سفید ہو گئیں اس انتظار میں\n\nکیوں کر قرار آئے دل بے قرار میں\nتم پورے کب اترتے ہو قول و قرار میں\n\nتاریک دشت ہو گیا آنکھوں میں قیس کی\nپنہاں ہوا جو ناقۂ لیلیٰ غبار میں\n\nآئے کبھی نہ پھر تجھے سیر چمن میں لطف\nبیٹھے اگر تو آ کے دل داغدار میں\n\nلازم نہیں کہ مرد مصیبت میں ہو ملول\nخنداں ہمیشہ رہتا ہے گل خارزار میں\n\nہے یہ کسی کی چشم سیہ مست کا اثر\nتوبہ بھی لڑکھڑانے لگی ہے بہار میں\n\nہوتے وہاں جو داغؔ تو دلی بھی دیکھتے\nاب کیا کریں گے جا کے اس اجڑے دیار میں\n\nکیا خاک اپنے دل کو تمنائے شعر ہو\nجز خار کچھ نہیں چمن روزگار میں\n\nجز داغؔ آج بلبل ہندوستاں ہے کون\nکہتے ہیں ہم پکار کے یہ سو ہزار میں\n\nاے مشرقیؔ نصیب نہ سوئے دعا ہے یہ\nکیا غم جو جاگتا ہوں شب انتظار میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%DA%A9%D8%A8_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D9%81%D8%B5%D9%84_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں\nاس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں\n\nمجھ کو یہ اعتراف دعاؤں میں ہے اثر\nجائیں نہ عرش پر جو دعائیں تو کیا کریں\n\nاک دن کی بات ہو تو اسے بھول جائیں ہم\nنازل ہوں دل پہ روز بلائیں تو کیا کریں\n\nظلمت بدوش ہے مری دنیائے عاشقی\nتاروں کی مشعلے نہ چرائیں تو کیا کریں\n\nشب بھر تو ان کی یاد میں تارے گنا کئے\nتارے سے دن کو بھی نظر آئیں تو کیا کریں\n\nعہد طرب کی یاد میں رویا کئے بہت\nاب مسکرا کے بھول نہ جائیں تو کیا کریں\n\nاب جی میں ہے کہ ان کو بھلا کر ہی دیکھ لیں\nوہ بار بار یاد جو آئیں تو کیا کریں\n\nوعدے کے اعتبار میں تسکین دل تو ہے\nاب پھر وہی فریب نہ کھائیں تو کیا کریں\n\nترک وفا بھی جرم محبت سہی مگر\nملنے لگیں وفا کی سزائیں تو کیا کریں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A2_%D8%B3%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا\nدل کچھ اس صورت سے تڑپا ان کو پیار آ ہی گیا\n\nجب نگاہیں اٹھ گئیں اللہ ری معراج شوق\nدیکھتا کیا ہوں وہ جان انتظار آ ہی گیا\n\nہائے یہ حسن تصور کا فریب رنگ و بو\nمیں یہ سمجھا جیسے وہ جان بہار آ ہی گیا\n\nہاں سزا دے اے خدائے عشق اے توفیق غم\nپھر زبان بے ادب پر ذکر یار آ ہی گیا\n\nاس طرح خوش ہوں کسی کے وعدۂ فردا پہ میں\nدر حقیقت جیسے مجھ کو اعتبار آ ہی گیا\n\nہائے کافر دل کی یہ کافر جنوں انگیزیاں\nتم کو پیار آئے نہ آئے مجھ کو پیار آ ہی گیا\n\nدرد نے کروٹ ہی بدلی تھی کہ دل کی آڑ سے\nدفعتاً پردہ اٹھا اور پردہ دار آ ہی گیا\n\nدل نے اک نالہ کیا آج اس طرح دیوانہ وار\nبال بکھرائے کوئی مستانہ وار آ ہی گیا\n\nجان ہی دے دی جگرؔ نے آج پائے یار پر\nعمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%82_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2_%DB%81%DB%8C_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کام آساں نظر آیا مجھے مشکل ہو کر", "poet_page": "مصنف:عبد الہادی وفا", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وفا (1923)", "year": "1923", "text_ur": "کام آساں نظر آیا مجھے مشکل ہو کر\nحاصل عمر ملا حسرت حاصل ہو کر\n\nدو جہاں مجھ کو ملے ہیں تپش دل ہو کر\nاک نظر دیکھ تو لوں دیدۂ بسمل ہو کر\n\nکس پر آتا ہے یہ الزام خدا خیر کرے\nمیں تمہیں بھول گیا غیر پہ مائل ہو کر\n\nکون سی بات ہے آئینے میں جو مجھ میں نہیں\nبیٹھ تو جاؤ ذرا میرے مقابل ہو کر\n\nوحشت بیکسیٔ شوق لئے جاتی ہے\nنقش پا آگے بڑھا دورئ منزل ہو کر\n\nخواہش مرگ سر رشتۂ امید سہی\nآخر الجھے نہ کہیں وہ گرہ دل ہو کر\n\nپردہ پوشی بھی مزے دے گئی اللہ اللہ\nسامنے آئی اجل خندۂ قاتل ہو کر\n\nنشۂ خواب عدم سرمہ بیداری ہے\nآنکھیں کھل جاتی ہیں اس پردہ میں غافل ہو کر\n\nصف محشر ہے مرا حلقۂ آغوش نہیں\nکیا بچے جاتے ہو اغیار میں شامل ہو کر\n\nدل میں رہ کر بھی تمنا کی خبر رکھتے نہیں\nقافلے سیکڑوں گزرے پس محفل ہو کر\n\nمیری نظروں میں ہے خورشید قیامت کی نمود\nبرسوں پہلو میں رہا آبلۂ دل ہو کر\n\nآنکھیں پھر اٹھنے لگیں شرم کا پردہ بن کر\nلو وہ پھر آتے ہیں رنگ رخ محفل ہو کر\n\nگلۂ تشنگی شوق ہے اک طول امل\nمل گئے خاک میں آخر لب ساحل ہو کر\n\nتیرہ بختی سے ملا روز جزا کو حصہ\nرہ گیا ہے رخ افسوس پہ اک تل ہو کر\n\nصاف آتا ہے نظر تم ہو مٹانے والے\nکیا کیا پردۂ تقدیر نے حائل ہو کر\n\nاہل دنیا کی طرف دست دعا کیوں اٹھیں\nبھیک اغیار سے اک دوست کے سائل ہو کر\n\nجلوہ ان کا ہے کلیم ان کے ہیں ایمن ان کا\nطور کیوں جلنے لگا بیچ میں حائل ہو کر\n\nاثر غمزۂ شیریں دل خسرو میں سہی\nرہ گیا سینۂ فرہاد اگر سل ہو کر\n\nاے وفاؔ طالع ناشاد کو رشک آتا ہے\nہم رہے جاتے ہیں نقصان میں کامل ہو کر", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کام اتنا میرے پیارے چرخ کہن سے نکلے", "poet_page": "مصنف:مردان صفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مردان صفی (1914)", "year": "1914", "text_ur": "کام اتنا میرے پیارے چرخ کہن سے نکلے\nتم سے نہ ہوں جدا میں جب جان تن سے نکلے\n\nتم حالت نزع میں بھی پاس میرے رہنا\nتا کلمۂ محمد میرے دہن سے نکلے\n\nیا رب نہ تا قیامت محتاج ہوں کسی کا\nجو ہو مری تمنا وہ پنج تن سے نکلے\n\nوحشت نہ قبر میں ہو تم سامنے ہی رہنا\nدست جنوں نہ میرا باہر کفن سے نکلے\n\nہے لطف زندگی کا بعد از فنا اسی میں\nنام خدا جو اپنے سب تن بدن سے نکلے\n\nروزہ نماز تسبیح پہنچائیں گے نہ واں تک\nہوگا وصال اسی کو جو ما و من سے نکلے\n\nاپنی خبر نہ باقی رہ جائے گی کسی کو\nپردے سے گر کہیں وہ اک بانکپن سے نکلے\n\nیاد قد صنم میں میں دوں مثال اس وقت\nجب کام کوئی میرا سرو چمن سے نکلے\n\nمرداںؔ جو کوئی ڈوبے دریائے عشق میں وہ\nچھوٹے خودی سے اپنے حب وطن سے نکلے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%DB%81%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "کام اس دنیا میں آ کر ہم نے کیا اچھا کیا", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کام اس دنیا میں آ کر ہم نے کیا اچھا کیا\nحسن کو بے پردہ نام عشق کو رسوا کیا\n\nحسن نے اور عشق نے ہنگامہ اک برپا کیا\nشمع کو روشن کیا پروانہ کو شیدا کیا\n\nبے تمنائی میں آسودہ تھا یا رب کیا کیا\nکس لئے میرے دل دیوانہ کو دانا کیا\n\nایک جذبہ تھا ازل سے گوشۂ دل میں نہاں\nعشق کو اس حسن کے بازار نے رسوا کیا\n\nتیری قسمت کا نوشتہ تھا کسی کا کیا قصور\nتیرے آگے آ گیا اے دل جو تھا تیرا کیا\n\nنار نے کی سرکشی روز ازل جب اختیار\nخاک کو بخشا شرف یعنی بشر پیدا کیا\n\nدل کو پروانہ بنایا کر دیا جاں کو نثار\nشمع رو کے عشق میں ہم کیا کہیں کیا کیا کیا\n\nجو کیا حکم قضا سے ہم نے ساحرؔ تھا بجا\nہم نے اپنی رائے سے جو کچھ کیا بے جا کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کام اگر حسب مدعا نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کام اگر حسب مدعا نہ ہوا\nتیرا چاہا ہوا برا نہ ہوا\n\nخاک اڑتی جو ہم خدا ہوتے\nبندگی کا بھی حق ادا نہ ہوا\n\nسب جتایا کئے نیاز قدیم\nوہ کسی کا بھی آشنا نہ ہوا\n\nرخش ایام کو قرار کہاں\nادھر آیا ادھر روانہ ہوا\n\nکیا کھلے جو کبھی نہ تھا پنہاں\nکیوں ملے جو کبھی جدا نہ ہوا\n\nسخت فتنہ جہان میں اٹھتا\nکوئی تجھ سا ترے سوا نہ ہوا\n\nجو گدھا خوئے بد کی دلدل میں\nجا پھنسا پھر کبھی رہا نہ ہوا\n\nتو نہ ہو یہ تو ہو نہیں سکتا\nمیرا کیا تھا ہوا ہوا نہ ہوا\n\nرہرو مسلک توکل ہے\nوہ جو محتاج غیر کا نہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%D8%A8_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "کام دنیا میں بہت کرنا ہے", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کام دنیا میں بہت کرنا ہے\nقبل مرنے کے ہمیں مرنا ہے\n\nآئیے نزع کا ہنگام ہے اب\nمشورہ آپ سے کچھ کرنا ہے\n\nدل نے یہ کہہ کے کہیں چھوڑا ساتھ\nہم کو کچھ کام یہاں کرنا ہے\n\nقتل کرنے میں تکلف نہ کرو\nآخر اک روز ہمیں مرنا ہے\n\nتم سے اک روز کریں گے تقریر\nاپنی باتوں میں اثر بھرنا ہے\n\nتم کو دکھلائیں گے دل کی تصویر\nجا بجا رنگ ابھی بھرنا ہے\n\nروک لو گریۂ خونیں کو عزیزؔ\nدل کا ناسور ابھی بھرنا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کام دیوانوں کو شہروں سے نہ بازاروں سے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کام دیوانوں کو شہروں سے نہ بازاروں سے\nمست ہیں عالم ایجاد کے نظاروں سے\n\nزلفیں بل کھاتی ہیں یا جھومتی ہے کالی گھٹا\nبارش نور ہے ہر سو ترے رخساروں سے\n\nواں نقاب اٹھی یہاں چاندنی نے کھیت کیا\nکٹ گئی ظلمت شب چاند سے رخساروں سے\n\nدیکھتا رہ گیا آئینہ کسی کی صورت\nزلفیں اٹکھیلیاں کرتی رہیں رخساروں سے\n\nدیکھیں کس طرح بسر ہوتے ہیں ایام جنوں\nیاں تو ہے سامنا ہر دم انہیں غم خواروں سے\n\nہاتھ الجھا ہے گریباں میں کھڑے دیکھتے ہیں\nاور امید کوئی کیا کرے غم خواروں سے\n\nکشش دشت بلا حب وطن دامن گیر\nآج گھر چھٹتا ہے پہلے پہل آواروں سے\n\nمرتے دم تک تری تلوار کا دم بھرتے رہے\nحق ادا ہو نہ سکا پھر بھی وفاداروں سے\n\nبے دھڑک پچھلے پہر نالہ و شیون نہ کریں\nکہہ دے اتنا تو کوئی تازہ گرفتاروں سے\n\nموسم گل نہیں پیغام اجل تھا صیاد\nدیکھ خالی ہے قفس آج گرفتاروں سے\n\nکیا برا حال ہے انگڑائیاں لیتے لیتے\nساقیا ناز اب اچھا نہیں مے خواروں سے\n\nکانپتے ہاتھوں سے ساغر کو بچایا تو بہت\nکیا کہیں خود ہی نہ سنبھلا گیا مے خواروں سے\n\nسر کو ٹکرا کے گیا ہے کوئی صحرا کی طرف\nخون ثابت ہے ابھی شہر کی دیواروں سے\n\nایڑیاں وادئ غربت میں رگڑتے ہی رہے\nدور کھنچتی گئی منزل وطن آواروں سے\n\nکان میں پچھلے پہر آئی اک آواز حزیں\nاب تو غم خوار بھی دق ہیں ترے بیماروں سے\n\nجھلملانے لگا جب یاسؔ چراغ سحری\nپھر تو ٹھہرا نہ گیا ہجر کے بیماروں سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%DB%81%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کام میں اپنے ظہور حق ہے آپ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کام میں اپنے ظہور حق ہے آپ\nحضرت آدم کے تو ماں تھی نہ باپ\n\nان کو دے کچھ، مت ظرافت ان سے کر\nلے نہ اے ناداں اتیتوں کے شراپ\n\nہم تہی دستی میں بھی کچھ کم نہیں\nہاتھ میں راجا کے ہو سونے کی چھاپ\n\nآہ و نالے کا سمجھ ٹک زیر و بم\nسخت مشکل ان سروں کی ہے الاپ\n\nہر کوئی چاہے گا اپنی مغفرت\nحشر میں سب کو پڑے گی آپا دھاپ\n\nمصحفیؔ مت اس کے کوچے سے نکل\nجب تلک دم ہے زمیں تو واں کی ناپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%D8%AD%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہے\nسانپ کو مار کے گنجینۂ زر لیتا ہے\n\nنا گوارا کو جو کرتا ہے گوارا انساں\nزہر پی کر مزۂ شیر و شکر لیتا ہے\n\nہالے میں ماہ کا ہوتا ہے چکوروں کو یقیں\nکبھی انگڑائی جو وہ رشک قمر لیتا ہے\n\nوہ زبوں بخت شجر ہوں میں کہ دہقاں میرا\nپیچھے بوتا ہے مجھے پہلے تبر لیتا ہے\n\nمنزل فقر و فنا جائے ادب ہے غافل\nبادشہ تخت سے یاں اپنے اتر لیتا ہے\n\nگنج پنہاں ہیں تصرف میں بنی آدم کے\nکان سے لعل یہ دریا سے گہر لیتا ہے\n\nنظر آ جاتا ہے اے گل جسے رخسار ترا\nپھولوں سے دامن نظارہ وہ بھر لیتا ہے\n\nعقل کر دیتی ہے انساں کی جہالت زائل\nموت سے جان چھپانے کو سپر لیتا ہے\n\nیاد رکھتا ہے عدم میں کوئی ساغر کش اسے\nہچکیاں شیشۂ مے شام و سحر لیتا ہے\n\nغیرت نالہ و فریاد نہ کھو اے آتشؔ\nآشنا کوئی نہیں کون خبر لیتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%85%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D8%AF_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%84%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کانوں کی غرض کلام بتلاتا ہے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کانوں کی غرض کلام بتلاتا ہے\nآنکھیں کیوں ہیں نظر خود جاتا ہے\nکیا کیا درکار ہے یہ میں کیوں سوچوں\nتو خود ہر چیز دے کے سمجھاتا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل\nمیرے لیے چمن بھی بیاباں نکل گیا\n\nدست جنوں کا ضعف سے اٹھنا محال تھا\nکیا جانے کس طرح سے گریباں نکل گیا\n\nدل میں تو آگ ہی وہی اب تک لگی ہوئی\nمانا کہ چشم شوق کا ارماں نکل گیا\n\nجوش جنوں سے کچھ نہ چلی ضبط عشق کی\nسو سو جگہ سے آج گریباں نکل گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%86%D8%B4%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%AF%D9%84"} {"title": "کانپور", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "یہ مقناطیس کی دعوت تھی آہن کیسے رد کرتا\nمیں کلکتہ سے رخصت ہو کے سیدھا کانپور آیا\n\nنظر آئے رضاکاران نیلی پوش صف در صف\nمرے دل میں سرور اترا مری آنکھوں میں نور آیا\n\nسنائی داستاں لاہور اور اس کے شہیدوں کی\nتو میری پیشوائی کے لئے شور نشور آیا\n\nسیہ مستی کی دیتا ہوں صلا رندان مشرق کو\nخمستان عرب کے نشہ میں ہو کر میں چور آیا\n\nکیا افسانہ دنیا کا سپرد خامہ جب میں نے\nتو افسوں دین قیم کا نظر بین السطور آیا\n\nمسلمانوں کی جمعیت سے ٹکرانا نہیں آساں\nوہ ٹکرائیں تو سمجھو ان کی عقلوں میں فتور آیا\n\nخدا کی حمد پیغمبر کی مدح اسلام کے قصے\nمرے مضموں میں جب سے شعر کہنے کا شعور آیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%BE%D9%88%D8%B1"} {"title": "کاٹوں گا شب تڑپ کر رو کر سحر کروں گا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کاٹوں گا شب تڑپ کر رو کر سحر کروں گا\nفرقت میں تیری جاناں یوں ہی بسر کروں گا\n\nکہتا ہے عشق دلبر فرقت میں ہو نہ مضطر\nدل میں گزر کروں گا آنکھوں میں گھر کروں گا\n\nآتا نہیں وہ دلبر کہتا ہے روز مجھ سے\nآنے کی اپنے تجھ کو پہلے خبر کروں گا\n\nتم جا رہے ہو جاؤ اے بت مرا خدا ہے\nسینے کو رنج فرقت پتھر جگر کروں گا\n\nقطروں میں چشم تر کے تصویر دل ربا ہے\nحسرت سے کیوں نہ اس کی جانب نظر کروں گا\n\nعاشق کا قافلہ اب جاتا ہے ان کے در پر\nبانگ جرس بنوں گا نالوں کو سر کروں گا\n\nتربت کو دیکھ کر میں کہتا ہوں اے جمیلہؔ\nاے گور میں بھی تیرا آباد گھر کروں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%B9%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7_%D8%B4%D8%A8_%D8%AA%DA%91%D9%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کاٹھ کی ہنڈیا چڑھی کب بار بار", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کاٹھ کی ہنڈیا چڑھی کب بار بار\nکھو دیا جھوٹے نے اپنا اعتبار\nبات جھوٹی جو زباں پر لائے گا\nسچ بھی اس کا جھوٹ سمجھا جائے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%86%DA%88%DB%8C%D8%A7_%DA%86%DA%91%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%A8_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B1"} {"title": "کاہلی", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "یہ ایک ایسا لفظ ہے جس کے معنی سمجھنے میں لوگ غلطی کرتے ہیں۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہاتھ پاؤں سے محنت نہ کرنا، کام کاج، محنت مزدوری میں چستی نہ کرنا، اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے میں سستی کرنا کاہلی ہے۔ مگر یہ خیال نہیں کرتے کہ دلی قوی کو بے کار چھوڑ دینا سب سے بڑی کاہلی ہے۔\n\nہاتھ پاؤں کی محنت اوقات بسر کرنے اور روٹی کما کر کھانے کے لیے نہایت ضروری ہے اور روٹی پیدا کرنا اور پیٹ بھرنا ایک ایسی چیز ہے کہ بمجبوری اس کے لیے محنت کی جاتی ہے اور ہاتھ پاؤں کی کاہلی چھوڑی جاتی ہے اور اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ محنت مزدوری کرنے والے لوگ اور وہ جو کہ اپنی روزانہ محنت سے اپنی بسر اوقات کا سامان مہیا کرتے ہیں بہت کم کاہل ہوتے ہیں۔ محنت کرنا اور سخت سخت کاموں میں ہر روز لگے رہنا گویا ان کی طبیعت ثانی ہو جاتی ہے۔ مگر جن لوگوں کو ان باتوں کی حاجت نہیں ہے وہ اپنے دلی قوی کو بے کار چھوڑ کر بڑے کاہل اور بالکل حیوان صفت ہو جاتے ہیں۔\n\nیہ سچ ہے کہ لوگ پڑھتے ہیں اور پڑھنے میں ترقی بھی کرتے ہیں اور ہزار پڑھے لکھوں میں سے شاید ایک کو ایسا موقع ملتا ہوگا کہ کہ اپنی تعلیم کو اور اپنی عقل کو ضرورتاً کام میں لاوے لیکن اگر انسان ان عارضی ضرورتوں کا منتظر رہے اور اپنے دلی قوی کو بے کار ڈال دے تو وہ نہایت سخت کاہل اور وحشی ہو جاتا ہے۔ انسان بھی مثل اور حیوانوں کے ایک حیوان ہے اور جب کہ اس کے دلی قوی کی تحریک سست ہو جاتی ہے اور کام میں نہیں لائی جاتی تو وہ اپنی حیوانی خصلت میں پڑ جاتا ہے۔ پس ہر ایک انسان پر لازم ہے کہ اپنے اندرونی قوی کو زندہ رکھنے کی کوشش میں رہے اور ان کو بےکار نہ چھوڑے۔\n\nایک ایسے شخص کی حالت کو خیال کرو جس کی آمدنی اس کے اخراجات کو مناسب ہو اور اس کے حاصل کرنے میں اس کو چنداں محنت و مشقت کرنی نہ پڑے جیسے کہ ہمارے ہندوستان میں ملکیوں اور لاخراج دازوں کا حال تھا اور وہ اپنے دلی قوی کو بھی بے کار ڈال دے تو اس کا کیا حال ہوگا۔ یہی ہوگا کہ اس کے عام شوق وحشیانہ باتوں کی طرف مائل ہوتے جاویں گے۔ شراب پینا اور مردار کھانا اس کو پسند ہوگا، قمار بازی اور تماش بینی کا عادی ہوگا اور یہی سب باتیں اس کے وحشی بھائیوں میں بھی ہوتی ہیں، البتہ اتنا فرق ہوتا ہے کہ وہ پھوہڑ، بد سلیقہ وحشی ہوتے ہیں اور یہ ایک وضعدار وحشی ہوتا ہے۔ شراب پی کر پلنگ پر پڑے رہنا اور ناریل میں تمباکو کے دھوویں اڑانا اس کو پسند ہوتا ہے۔ پس پیچوان اور ناریل اور بچھونے اور ریت کے فرق سے کچھ مشابہت میں جو ان دونوں میں ہے کمی نہیں ہوتی۔\n\nہم قبول کرتے ہیں کہ ہندوستان میں ہندوستانیوں کے لیے ایسے کام بہت کم ہیں جن کو ان کو قوائے دلی اور قوت عقلی کو کام میں لانے کا موقع ملے اور بر خلاف اس کے اور ولایتوں میں اور خصوصا انگلستان میں وہاں کے لوگوں کے لیے ایسے موقعے بہت ہیں۔ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ انگریزوں کو بھی کوشش اور محنت کی ضرورت اور اس کا شوق نہ رہے جیسا کہ اب ہے تو وہ بھی بہت جلد وحشت پنے کی حالت کو پہنچ جاویں گے، مگر ہم اپنے ہم وطنوں سے یہ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں جو ہم کو اپنے قوائے دلی اور قوت عقلی کو کام میں لانے کا موقع نہیں رہا ہے اس کا بھی سبب یہی ہے کہ ہم نے کاہلی اختیار کی ہے یعنی اپنے دلی قوی کو بے کار چھوڑ دیا ہے۔ اگر ہم کو قوائے قلبی اور قوت عقلی کے کام میں لانے کا موقع نہیں ہے تو ہم کو اسی کی فکر اور کوشش چاہیے کہ وہ موقع کیونکر حاصل ہو اگر اس کو حاصل کرنے میں ہمارا کچھ قصور ہے تو اس کی فکر اور کوشش چاہئے کہ وہ قصور کیونکر رفع ہو۔\n\nغرض کہ کسی شخص کے دل کو بے کار پڑے رہنا نہ چاہیے۔ کسی نہ کسی بات کی فکر و کوشش میں رہنا لازم ہے تاکہ ہم کو اپنی تمام ضروریات کے انجام کرنے کی فکر اور مستعدی رہے اور جب تک ہماری قوم سے کاہلی یعنی دل کو بے کار پڑے رہنا نہ چھوٹے گا، اس وقت تک ہم کو اپنی قوم کی بہتری کی توقع کچھ نہیں ہے۔ نہایت حکیمانہ قول ہے کہ،\n\nبے کار مباش کچھ کیا کر\nگر کر نہ سکے تو کچھ کہا کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%DB%81%D9%84%DB%8C"} {"title": "کاہے کو کوئی خراب خواری ہوتا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کاہے کو کوئی خراب خواری ہوتا\nکاہے کو ہمیں یہ جان بھاری ہوتا\nدلخواہ ملاپ ہوتا تو تو ملتے\nاے کاشکے عشق اختیاری ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کب اس زمیں پہ مجھے آرمیدہ ہونا تھا", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب اس زمیں پہ مجھے آرمیدہ ہونا تھا\nہوا سے خاک کو برسوں پریدہ ہونا تھا\n\nاگر تھی دامن جاناں کی آرزو اے دل\nتو چند دم کے لیے آب دیدہ ہونا تھا\n\nکسی کے چہرہ پہ ہوتا کسی کے دامن میں\nمجھے بھی آنکھ کا اشک چکیدہ ہونا تھا\n\nکبھی نہ خدمت دامن سے سرفراز ہوا\nوہ ہاتھ ہوں کہ جسے نا رسیدہ ہونا تھا\n\nکمال بے ادبی سے یہ عرض کرتے ہیں\nہمیں سے اے قد جاناں کشیدہ ہونا تھا\n\nاگر تھی لذت پامال کی ہوس اے دل\nبہ شکل سبزہ زمیں پر دمیدہ ہونا تھا\n\nعجب نہ تھا کہ اسے رحم کچھ نہ کچھ آتا\nمیری امید تجھے ابر دیدہ ہونا تھا\n\nکمال ربط میں ہوتی ہیں سیکڑوں باتیں\nنہ اس قدر تمہیں ہم سے کشیدہ ہونا تھا\n\nترا جمال بنا میں کبھی، کبھی احساں\nغرض یہ تھی کہ مجھے برگزیدہ ہونا تھا\n\nکھلی اب آنکھ تو کیا فائدہ نسیمؔ افسوس\nنہ سمجھے زیر لحد آرمیدہ ہونا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A2%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کب اپنی خوشی سے وہ آئے ہوئے ہیں", "poet_page": "مصنف:تعشق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب اپنی خوشی سے وہ آئے ہوئے ہیں\nمرے جذب دل کے بلائے ہوئے ہیں\n\nکجی پر جو افلاک آئے ہوئے ہیں\nان آنکھوں کے شاید سکھائے ہوئے ہیں\n\nکبھی تو شہیدوں کی قبروں پہ آؤ\nیہ سب گھر تمہارے بسائے ہوئے ہیں\n\nکیا ہے جو کچھ ذکر مجھ دل جلے کا\nپسینہ میں بالکل نہائے ہوئے ہیں\n\nذرا پھول سے پاؤں میلے نہ ہوں گے\nتم آؤ ہم آنکھیں بچھائے ہوئے ہیں\n\nکہیں خاک بھی اب نہ بیٹھی گی اپنی\nکہ ان کی گلی سے اٹھائے ہوئے ہیں\n\nگرے گا زمیں پہ نہ خون شہیداں\nعبث آپ دامن اٹھائے ہوے ہیں\n\nفقط پاس ہے ان کے تیر نگہ کا\nجو سینہ سے دل کو لگائے ہوئے ہیں\n\nجنازہ مرا دوستو کل اٹھانا\nکہ وہ آج مہندی لگائے ہوئے ہیں\n\nانہیں پاس ہے دل ہمارا مقرر\nوہی ہم سے آنکھیں چرائے ہوئے ہیں\n\nجو ہے گھر کے اندر وہی گھر کے باہر\nوہ آنکھوں میں دل میں سمائے ہوئے ہیں\n\nمیرے بعد جانے کے اتریں گے کیوں کر\nیہ کپڑے جو میرے پنہائے ہوئے ہیں\n\nنہ ہو سبزہ رنگوں میں کیوں ان کی شہرت\nمرے قتل پر زہر کھائے ہوئے ہیں\n\nمرے خط کے پرزے اڑائے انہوں نے\nکسی کے سکھائے پڑھائے ہوئے ہیں\n\nخدا زلف سے دل جگر کو بچائے\nبڑے پیچ میں دونوں آئے ہوئے ہیں\n\nتڑپ کر شب ہجر میں کیوں نہ روؤں\nچمکتی ہی برق ابر آئے ہوئے ہیں\n\nتعشقؔ وہ جو چاہیں باتیں سنائیں\nسر عجر ہم تو جھکائے ہوئے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کب بات ہو بغیر خوشامد وہاں درست", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب بات ہو بغیر خوشامد وہاں درست\nوہ نادرست بھی جو کہیں کہیے ہاں درست\n\nتھوڑے سے دن بہار کے ہیں کس امید پر\nکرتے ہیں اپنے مرغ چمن آشیاں درست\n\nکچھ میں بھی اپنا حال طبیعت بیاں کروں\nگر ہو مزاج آپ کا اے مہرباں درست\n\nاس کو درستی دل عاشق سے کیا غرض\nجس بد زبان کی نہیں اب تک زباں درست\n\nآنکھوں میں رہ کہ دل میں ٹھہر تیرے واسطے\nآراستہ ہر ایک مکاں ہر مکاں درست\n\nہر روز تازیانہ زلف دراز سے\nتو نے بھی دل کو خوب کیا میری جاں درست\n\nآتا ہے سامنے جو وہ غارت گر شکیب\nاوسان داغؔ رہتے ہیں اپنے کہاں درست", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%D9%88_%D8%A8%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%B4%D8%A7%D9%85%D8%AF_%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%D8%B3%D8%AA"} {"title": "کب بیٹھتے ہیں چین سے ایذا اٹھائے بن", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب بیٹھتے ہیں چین سے ایذا اٹھائے بن\nلگتا نہیں ہے جی کہیں لگا لگائے بن\n\nجب تک نہ بے قرار ہوں پڑتا نہیں قرار\nآتا نہیں ہے چین ہمیں تلملائے بن\n\nبے آہ و نالہ منہ سے نکلتی نہیں ہے بات\nحیران بیٹھے رہتے ہیں آنسو بہائے بن\n\nزنداں لگے ہے گھر جو کسی کا نہ ہوں اسیر\nآتے نہیں بہ خود کہیں ہم آئے جائے بن\n\nدیوانے گر نہ ہوں تو پری رو نہ دیکھیں سیر\nبگڑے ہے بات حال پریشاں بنائے بن\n\nجنبش نہ دست و پا میں ہو بے شورش جنوں\nافسردہ طبع رہتے ہیں دھومیں مچائے بن\n\nگر ہو نہ درد عشق تو بے درد ہم کہائیں\nکچھ لطف گفتگو ہی نہیں ہائے وائے بن\n\nکیا جوش طبع ہو نہ مئے عشق گر پئیں\nکچھ کیفیت نہیں ہے یہ پیالہ پلائے بن\n\nگر بر میں ہو نہ کوئی تو پہلو تہی رہے\nکیا بیٹھنا ہے زانو سے زانو بھڑائے بن\n\nکوئی نہ دے دکھائی تو کیا خاک دیکھیے\nرہتے اسیر غم ہیں کسی کے بلائے بن\n\nافکار سیکڑوں ہوں اگر ہو نہ فکر عشق\nوارستگی کہاں ہے کہیں جی پھنسائے بن\n\nقاتل سے گر نہ ملیے تو جرأتؔ ہماری کیا\nجوں گل شگفتہ ہو نہ کوئی زخم کھائے بن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DB%8C%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D8%B0%D8%A7_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D9%86"} {"title": "کب تصور یار گل رخسار کا فعل عبث", "poet_page": "مصنف:بہرام جی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب تصور یار گل رخسار کا فعل عبث\nعشق ہے اس گلشن و گل زار کا فعل عبث\n\nنکہت گیسوئے خوباں نے کیا بے قدر اسے\nاب ہے سودا نافۂ تاتار کا فعل عبث\n\nرشتۂ الفت رگ جاں میں بتوں کا پڑ گیا\nاب بظاہر شغل ہے زنار کا فعل عبث\n\nآرزو مند شہادت عاشق صادق ہوئے\nغیر کو ڈر ہے تری تلوار کا فعل عبث\n\nجب دل سنگیں دلاں میں کچھ اثر ہوتا نہیں\nگریہ ہے اس دیدۂ خوں بار کا فعل عبث\n\nخواب میں بھی یار کو اس کا خیال آتا نہیں\nجاگنا تھا دیدۂ بے دار کا فعل عبث\n\nخالی از حکمت ہوا بہرامؔ کب فعل حکیم\nکام کب ہے داور دادار کا فعل عبث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%81%D8%B9%D9%84_%D8%B9%D8%A8%D8%AB"} {"title": "کب تلک جی رکے خفا ہووے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب تلک جی رکے خفا ہووے\nآہ کریے کہ ٹک ہوا ہووے\n\nجی ٹھہر جائے یا ہوا ہووے\nدیکھیے ہوتے ہوتے کیا ہووے\n\nکر نمک سود سینۂ مجروح\nجی میں گر ہے کہ کچھ مزہ ہووے\n\nکاہش دل کی کیجیے تدبیر\nجان میں کچھ بھی جو رہا ہووے\n\nچپ کا باعث ہے بے تمنائی\nکہیے کچھ بھی تو مدعا ہووے\n\nبیکلی مارے ڈالتی ہے نسیم\nدیکھیے اب کے سال کیا ہووے\n\nمر گئے ہم تو مر گئے تو جی\nدل گرفتہ تری بلا ہووے\n\nعشق کیا ہے درست اے ناصح\nجانے وہ جس کا دل لگا ہووے\n\nپھر نہ شیطاں سجود آدم سے\nشاید اس پردے میں خدا ہووے\n\nنہ سنا رات ہم نے اک نالہ\nغالباً میرؔ مر رہا ہووے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%D8%AC%DB%8C_%D8%B1%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92"} {"title": "کب تلک پیوے گا تو تر دامنوں سے مل کے مل", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب تلک پیوے گا تو تر دامنوں سے مل کے مل\nایک دم اے غنچہ لب ہم سے کبھی تو کھل کے کھل\n\nبے سرو برگوں کو کیا نسبت ہے سیر باغ سے\nداغ دل ہیں ہم تہی دستان پا در گل کے گل\n\nاس کی جنگ بے سبب کا ہے تغافل ہی علاج\nآپ ڈھیلا ہو کے آوے گا ادھر ڈھل ڈھل کے ڈھل\n\nزیر ابرو اس طرح مژگاں نہیں رہتی مدام\nسر پہ میرے جوں رہے ہے تیغ اس قاتل کی تل\n\nربط کچھ بزم مشائخ سے نہیں رندوں کے تئیں\nکب لئے یہ مست ساغر کے سوا قلقل کی قل\n\nہو سکے تو بخیہ و مرہم کا یارو وقت ہے\nجاں نہ جاوے اس تن مجروح میں گھائل کے گھل\n\nبا قد خم گشتہ ہوں رونے سے نت کے میں خراب\nموج دریا توڑتے ہیں جس طرح پل پل کے پل\n\nچلے کی مانند کھینچوں جب تلک بر میں نہ تنگ\nکب مٹے ہے اس بت ہرجائی چنچل کی چل\n\nدور میں اس زلف کے ہے بس کہ دیوانوں کی دھوم\nسنتا ہوں چاروں طرف سے میں صدائے غل کے غل\n\nحسرتؔ اس کے دام میں پھنسنا مقدر تھا مرا\nتھے مری نظروں میں تو پیچ و خم اس کاکل کے کل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%D9%BE%DB%8C%D9%88%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%AA%D8%B1_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%84"} {"title": "کب تلک ہم کو نہ آوے گا نظر دیکھیں تو", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب تلک ہم کو نہ آوے گا نظر دیکھیں تو\nکیسے ترساتا ہے یہ دیدۂ تر دیکھیں تو\n\nعشق میں اس کے کہ گزرے ہیں سر و جان سے ہم\nاپنی کس طور سے ہوتی ہے گزر دیکھیں تو\n\nکر کے وہ جور و ستم ہنس کے لگا یہ کہنے\nآہ و افغاں کا تری ہم بھی اثر دیکھیں تو\n\nصبر ہو سکتا ہے کب ہم سے ولے مصلحتاً\nآزمائش دل بیتاب کی کر دیکھیں تو\n\nڈھب چڑھے ہو مرے تم آج ہی تو مدت بعد\nجائیں گے آپ کہاں اور کدھر دیکھیں تو\n\nکس دلیری سے کرے ہے تو فدا جان اس پر\nدل جانباز ترا ہم بھی ہنر دیکھیں تو\n\nکیا مجال اپنی جو کچھ کہہ سکیں ہم تجھ سے اور\nتجھ کو بھر کر نظر اے شوخ پسر دیکھیں تو\n\nہو چلیں خیرہ تو اختر شمری سے آنکھیں\nشب ہماری بھی کبھی ہوگی سحر دیکھیں تو\n\nعشق کے صدمے اٹھانے نہیں آساں حسرتؔ\nکر سکے کوئی ہمارا سا جگر دیکھیں تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D9%88%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88"} {"title": "کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا\nایک دن یوں ہی جی سے جائیے گا\n\nشکل تصویر بے خودی کب تک\nکسو دن آپ میں بھی آئیے گا\n\nسب سے مل چل کہ حادثے سے پھر\nکہیں ڈھونڈا بھی تو نہ پائیے گا\n\nنہ موئے ہم اسیری میں تو نسیم\nکوئی دن اور باؤ کھائیے گا\n\nکہیے گا اس سے قصۂ مجنوں\nیعنی پردے میں غم سنایئے گا\n\nاس کے پابوس کی توقع پر\nاپنے تیں خاک میں ملایئے گا\n\nاس کے پاؤں کو جا لگی ہے حنا\nخوب سے ہاتھ اسے لگایئے گا\n\nشرکت شیخ و برہمن سے میرؔ\nکعبہ و دیر سے بھی جائیے گا\n\nاپنی ڈیڑھ اینٹ کی جدی مسجد\nکسی ویرانے میں بنایئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا\nجیتا ہوں تو تجھی میں یہ دل لگا رہے گا\n\nیاں ہجر اور ہم میں بگڑی ہے کب کی صحبت\nزخم دل و نمک میں کب تک مزہ رہے گا\n\nتو برسوں میں ملے ہے یاں فکر یہ رہے ہے\nجی جائے گا ہمارا اک دم کو یا رہے گا\n\nمیرے نہ ہونے کا تو ہے اضطراب یوں ہی\nآیا ہے جی لبوں پر اب کیا ہے جا رہے گا\n\nغافل نہ رہیو ہرگز نادان داغ دل سے\nبھڑکے گا جب یہ شعلہ تب گھر جلا رہے گا\n\nمرنے پہ اپنے مت جا سالک طلب میں اس کی\nگو سر کو کھو رہے گا پر اس کو پا رہے گا\n\nعمر عزیز ساری دل ہی کے غم میں گزری\nبیمار عاشقی یہ کس دن بھلا رہے گا\n\nدیدار کا تو وعدہ محشر میں دیکھ کر کر\nبیمار غم میں تیرے تب تک تو کیا رہے گا\n\nکیا ہے جو اٹھ گیا ہے پر بستۂ وفا ہے\nقید حیات میں ہے تو میرؔ آ رہے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کب تک رہے سینہ میں تمنائے مدینہ", "poet_page": "مصنف:سائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "کب تک رہے سینہ میں تمنائے مدینہ\nکب تک دل بیتاب کہے ہائے مدینہ\n\nمر جاوں مدینے میں، مدینے میں لحد ہو\nلے جاوں لحد میں، میں تمنائے مدینہ\n\nآ بیٹھو مرے دل میں کہ دل عرش بریں ہے\nتم جاہو تو سینہ مرا بن جائے مدینہ\n\nیا رب مرے دل میں رہے یثرب کی تمنا\nیا رب مرے سر میں رہے سودائے مدینہ\n\nاے چشم تصور تجھے اتنا ہی بہت ہے\nگھربیٹھے نظر میں مری آجائے مدینہ\n\nسائل کی تمنا ہے شب و رو الہی\nہر دم مرے دل میں رہے سودائے مدینہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%81"} {"title": "کب تک میں رنج و غم کی شدت دیکھوں", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کب تک میں رنج و غم کی شدت دیکھوں\nتا کے اپنے پہ یہ مصیبت دیکھوں\nگردوں نے پیر کر دیا ہے مجھ کو\nخم ہوں کہ بس اب نہ اس کی صورت دیکھوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%AF%D8%AA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA"} {"title": "کب تک کریں گے جبر دل ناصبور پر", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب تک کریں گے جبر دل ناصبور پر\nموسیٰ تو جا کے بیٹھ رہے کوہ طور پر\n\nکوئی مجھے بتائے کہ اب کیا جواب دوں\nوہ مجھ سے عذر کرتے ہیں میرے قصور پر\n\nطالب ہیں جو ترے انہیں جنت سے کیا غرض\nپڑتی نہیں ہے آنکھ شہیدوں کی حور پر\n\nجلوہ دکھائیے ہمیں بس عذر ہو چکا\nجلنے کے واسطے نہیں آئے ہیں طور پر\n\nزاہد بھی اس زمانے کے عاشق مزاج ہیں\nجیتے ہیں اس کو دیکھ کے مرتے ہیں حور پر\n\nگھر کر گئیں نہ دل میں مری خاکساریاں\nنازاں تھے آپ بھی بہت اپنے غرور پر\n\nبخشے گئے نہ ہم سے جو دو چار بادہ خوار\nبھنکیں گی مکھیاں ہیں شراب طہور پر\n\nکچھ شوخیوں کے رنگ بھی بیتابیوں میں ہیں\nکس کی نظر پڑی ہے دل ناصبور پر\n\nزاہد کی طرح ہم کو بھی جنت کی ہے تلاش\nاپنا بھی آ گیا ہے دل اک رشک حور پر\n\nرکھے کہیں یہ شوق رہائی مجھے نہ قید\nتڑپا اگر یہیں تو رہیں گے ضرور پر\n\nبیخودؔ نہ ڈھونڈ کوئی وسیلہ نجات کا\nیہ منحصر ہے رحمت رب غفور پر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%AC%D8%A8%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%A8%D9%88%D8%B1_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "کب حق پرست زاہد جنت پرست ہے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب حق پرست زاہد جنت پرست ہے\nحوروں پہ مر رہا ہے یہ شہوت پرست ہے\n\nدل صاف ہو تو چاہیئے معنی پرست ہو\nآئینہ خاک صاف ہے صورت پرست ہے\n\nدرویش ہے وہی جو ریاضت میں چست ہو\nتارک نہیں فقیر بھی راحت پرست ہے\n\nجز زلف سوجھتا نہیں اے مرغ دل تجھے\nخفاش تو نہیں ہے کہ ظلمت پرست ہے\n\nدولت کی رکھ نہ مار سر گنج سے امید\nموذی وہ دے گا کیا کہ جو دولت پرست ہے\n\nعنقا نے گم کیا ہے نشاں نام کے لیے\nگم گشتہ کون کہتا ہے شہرت پرست ہے\n\nیہ ذوقؔ مے پرست ہے یا ہے صنم پرست\nکچھ ہے بلا سے لیک محبت پرست ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%AD%D9%82_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA_%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D8%AC%D9%86%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "کب خوں میں بھرا دامن قاتل نہیں معلوم", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب خوں میں بھرا دامن قاتل نہیں معلوم\nکس وقت یہ دل ہو گیا بسمل نہیں معلوم\n\nاس قافلے میں جاتے ہیں محمل تو ہزاروں\nپر جس میں کہ لیلیٰ ہے وہ محمل نہیں معلوم\n\nدرپیش ہے جوں اشک سفر ہم کو تری کا\nدن رات چلے جاتے ہیں منزل نہیں معلوم\n\nحیران ہیں ہم اس کے معمائے دہن میں\nکیوں کر کھلے یہ عقدۂ مشکل نہیں معلوم\n\nاے مصحفیؔ جل بھن کے ہوا خاک میں سارا\nدکھلاوے گی اب کیا تپش دل نہیں معلوم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85"} {"title": "کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیا\nہے بے صدا وہ چینی جس میں کہ بال آیا\n\nسینے سے میں دعا کو لایا جو شب لبوں تک\nکہنے لگی اجابت کیدھر خیال آیا\n\nکونین تک ملی تھی جس دل کی مجھ کو قیمت\nقسمت کہ یک نگہ پر جا اس کو ڈال آیا\n\nبخشش پہ دو جہاں کے آئی تھی ہمت دہر\nلیکن نہ یاں زباں تک حرف سوال آیا\n\nنازاں نہ ہو تو اس پر گر تجھ کو سنگ میں سے\nگوہر نکالنے کا کسب و کمال آیا\n\nارباب فہم آگے وہ صاحب ہنر ہے\nکینہ کسی کے دل سے جس کو نکال آیا\n\nدیر خراب میں کل اک مست کی زباں پر\nیہ شعر اس جگہ کے کیا حسب حال آیا\n\nاعمال دیکھ تیرے مے شرم سے عرق ہے\nاے محتسب تجھے بھی کچھ انفعال آیا\n\nملنے کا ایک دم بھی یاں ضعف دل ہے مانع\nاکتا کے اٹھ گیا وہ تب میں بحال آیا\n\nنخل حیات اپنا گلشن میں باغباں نے\nبویا تو تھا ہوس کر لیکن نہ پال آیا\n\nاکسیر ہے تو کیا ہے وہ مشت خاک سوداؔ\nخاطر پہ جب کسی کی جس سے ملال آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%DA%A9%D8%B3%D8%AA_%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D8%B9%D8%B1%D8%B6_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرض", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرض\nنیں پہنچتی کان تک اس زلف کے شانے کی عرض\n\nگرمی اہل بزم سے مت کر کہ میں ہوتا ہوں داغ\nشمع کی خدمت میں ہے اتنی ہی پروانے کی عرض\n\nشیشہ مجھ دل سا نہ پاوے اور تری آنکھوں سا جام\nلے اگر ساقی ہزاروں سال میخانے کی عرض\n\nدل کو ویراں مت کرو یہ ہے جنوں کا پاۓ تخت\nاے پری زادوں کبھو سنئے بھی دیوانے کی عرض\n\nفصل جاتی ہے یقیںؔ اور باغباں سے ایک یار\nکوئی کرتا نیں ہمارے باغ میں جانے کی عرض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%B3%D9%86%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AC%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%85%D8%AC%D8%B1%D9%88%D8%AD_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%B1%D8%B6"} {"title": "کب سے نظر لگی تھی دروازۂ حرم سے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب سے نظر لگی تھی دروازۂ حرم سے\nپردہ اٹھا تو لڑیاں آنکھیں ہماری ہم سے\n\nصورت گر اجل کا کیا ہاتھ تھا کہے تو\nکھینچی وہ تیغ ابرو فولاد کے قلم سے\n\nسوزش گئی نہ دل کی رونے سے روز و شب کے\nجلتا ہوں اور دریا بہتے ہیں چشم نم سے\n\nطاعت کا وقت گزرا مستی میں آب رز کی\nاب چشم داشت اس کے یاں ہے فقط کرم سے\n\nکڑھیے نہ روئیے تو اوقات کیونکے گزرے\nرہتا ہے مشغلہ سا بارے غم و الم سے\n\nمشہور ہے سماجت میری کہ تیغ برسی\nپر میں نہ سر اٹھایا ہرگز ترے قدم سے\n\nبات احتیاط سے کر ضائع نہ کر نفس کو\nبالیدگی دل ہے مانند شیشہ دم سے\n\nکیا کیا تعب اٹھائے کیا کیا عذاب دیکھے\nتب دل ہوا ہے اتنا خوگر ترے ستم سے\n\nہستی میں ہم نے آ کر آسودگی نہ دیکھی\nکھلتیں نہ کاش آنکھیں خواب خوش عدم سے\n\nپامال کر کے ہم کو پچھتاؤ گے بہت تم\nکم یاب ہیں جہاں میں سر دینے والے ہم سے\n\nدل دو ہو میرؔ صاحب اس بد معاش کو تم\nخاطر تو جمع کر لو ٹک قول سے قسم سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2%DB%82_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کب صبا سوئے اسیران قفس آتی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب صبا سوئے اسیران قفس آتی ہے\nکب یہ ان تک خبر آمد گل لاتی ہے\n\nدختر رز کی ہوں صحبت کا مباشر کیوں کر\nابھی کمسن ہے بہت مرد سے شرماتی ہے\n\nکیونکہ فربہ نہ نظر آوے تری زلف کی لٹ\nجونک سی یہ تو مرا خون ہی پی جاتی ہے\n\nجسم نے روح رواں سے یہ کہا تربت میں\nاب مجھے چھوڑ کے تنہا تو کہاں جاتی ہے\n\nکیا مگر اس نے سنا شہرۂ حسن اس گل کا\nآنکھیں کحال سے نرگس بھی جو بنواتی ہے\n\nلاکھ ہم شعر کہیں لاکھ عبارت لکھیں\nبات وہ ہے جو ترے دل میں جگہ پاتی ہے\n\nہووے کس طرح دلیرانہ وہ عاشق سے دو چار\nاپنے بھی عکس سے جو آنکھ کہ شرماتی ہے\n\nمصحفیؔ کو نہیں کچھ وصف اضافی سے تو کام\nشعر کہنا زبس اس کا صفت ذاتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D9%82%D9%81%D8%B3_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کب غیر نے یہ ستم سہے چپ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب غیر نے یہ ستم سہے چپ\nایسے تھے ہمیں جو ہو رہے چپ\n\nشکوہ تو کریں ہم اس سے اکثر\nپر کیا کریں دل ہی جب کہے چپ\n\nسن شور گلی میں اپنی ہر دم\nبولا کبھی تم نہ یاں رہے چپ\n\nجب ہم نے کہا نظیرؔ اس سے\nہم رہنے کے یاں نہیں گہے چپ\n\nسوچو تو کبھی چمن میں اے جاں\nبلبل نے کیے ہیں چہچہے چپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D9%86%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%81%DB%92_%DA%86%D9%BE"} {"title": "کب غیر ہوا محو تری جلوہ گری کا", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب غیر ہوا محو تری جلوہ گری کا\nتو پوچھ مرے دل سے مزہ بے خبری کا\n\nسودا جو گل و لالہ کو ہے جیب دری کا\nادنیٰ یہ شگوفہ ہے نسیم سحری کا\n\nکس نے لب بام آ کے دکھایا رخ روشن\nخورشید میں ہے رنگ چراغ سحری کا\n\nاپنی یہ غزل ہے کہ پرستان سخن ہے\nپرواز مضامیں میں ہے انداز پری کا\n\nکچھ کم نہیں نازک مرے مضمون کمر سے\nشہرہ ہے بجا یار کی نازک کمری کا\n\nاک رات بھی اے ماہ نہ جاگی مری قسمت\nسنتا تھا بہت شور دعائے سحری کا\n\nجس نے مجھے آگاہ کیا حال جہاں سے\nکیا لطف جمادات کو ہے بے خبری کا\n\nغربت میں ملا لطف کہیں بڑھ کے وطن سے\nحاصل جو ہوا تجھ سے مزا ہم سفری کا\n\nاس ماہ کی محفل میں جو ہے قہقہہ زن آج\nہوتا ہے بط مے پہ گماں کبک دری کا\n\nقرآن کہے دیتا ہے کہ ہم حق کی زباں ہیں\nہوتا ہے جدا طور کلام بشری کا\n\nآدم کی تو ماں بھی نہ تھی اے منکر اعجاز\nعیسیٰ کو ملا صرف شرف بے پدری کا\n\nسرو قد دلبر کی جو تصویر ہے دل پر\nہم سنگ نہیں لعل عقیق شجری کا\n\nآنکھیں ہیں حسینوں کی ترے سبزۂ رخ پر\nکیونکہ نہ ہو میلان غزالوں کو چری کا\n\nچل تو بھی اثرؔ لے کے متاع دل بے تاب\nوہ دیکھنے جاتے ہیں تماشا گزری کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کب لگ سکے جفا کو اس کی وفائے عالم", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب لگ سکے جفا کو اس کی وفائے عالم\nہے جس کا ہر کرشمہ صبر آزمائے عالم\n\nمحتاج پھر جہاں میں کوئی نظر نہ آتا\nکرتا خدا جو مجھ کو حاجت روائے عالم\n\nہم کو تو کچھ نہ سوجھا آوے وہی دکھا دے\nدیکھا ہو گر کسی نے کچھ یا ورائے عالم\n\nعالم اگر ہے حادث تو مجھ کو تو بتا دے\nکیوں اب تلک ہے وہ ہی نشو و نمائے عالم\n\nکوئی کچھ ہی سمجھے اس کو پر اپنی آنکھ میں تو\nساتھ اس حدوث کے ہے ثابت بقائے عالم\n\nوہ بھی نظر میں اپنی اس وقت جلوہ گر ہے\nعالم جو کچھ کہ ہوگا بعد از فنائے عالم\n\nآنکھیں تو تجھ کو دی ہیں ٹک دیکھ تو سہی تو\nہے راست کس کے قد پر چسپاں قبائے عالم\n\nعالم میں اور ہم میں اک طرفہ رفتگی ہے\nعالم فدا ہے ہم پر ہم ہیں فدائے عالم\n\nہم ابتدا کی پوچھیں پھر بیٹھ کر حقیقت\nہم کو کوئی بتا دے گر انتہائے عالم\n\nکیا لطف عاشقی کا اب رہ گیا ہماری\nیاں آخر جوانی واں ابتدائے عالم\n\nکس غنچہ لب کی مجھ کو یاد آ گئی ہے اس دم\nجو تنگ ہو گیا ہے مجھ پر فضائے عالم\n\nایسے سے داد خواہی محشر میں بھی ستم ہے\nہر ایک غمزہ جس کا ہو خوں بہائے عالم\n\nکب داد کو کسی کی پہنچا وہ روے دل کش\nہم نے تو اس کو پایا حسرت فزائے عالم\n\nجب عالم حیا سے بیگانہ وہ نگہ تھی\nپاتے تھے تب بھی اس کو ہم آشنائے عالم\n\nہیں مصحفیؔ ہم اب تو مانند حادثے کے\nدیکھیں ٹلے ہے کس دن سر سے بلائے عالم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D9%84%DA%AF_%D8%B3%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85"} {"title": "کب نگہ اس کی عشوہ بار نہیں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب نگہ اس کی عشوہ بار نہیں\nکب نگاہیں کرشمہ زار نہیں\n\nغیر پر رحم یہ کسے آیا\nتم تو مانا ستم شعار نہیں\n\nیاں فغاں سے لہو ٹپکتا ہے\nمیں نواسنج شاخسار نہیں\n\nکلفت دل سے ہے جو آلودہ\nگوہر اشک آبدار نہیں\n\nہم ہیں ایسے فراخ رو درویش\nمحفل پادشہ سے عار نہیں\n\nنہ جلا خانۂ عدو تو نہ ہنس\nشعلۂ آہ ہے شرار نہیں\n\nباغ بے صرفہ چل کے کیا کیجے\nجن سے تھی باغ کی بہار نہیں\n\nبادہ بیہودہ پی کے کیا کیجے\nاب وہ ساقی نہیں وہ یار نہیں\n\nاے منجم عبث یہ نادانی\nتو کچھ اندازہ دان کار نہیں\n\nتو روش یاب مہر و ماہ غلط\nتو اداسنج روزگار نہیں\n\nواقف اسرار آسمانی سے\nجز حریفان بادہ خوار نہیں\n\nچڑھ گئے ہیں کسی کے پھر دم پر\nشیفتہؔ آج بے قرار نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D9%86%DA%AF%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%B4%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کب وہ سنتا ہے کہانی میری", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب وہ سنتا ہے کہانی میری\nاور پھر وہ بھی زبانی میری\n\nخلشِ غمزۂ خوں ریز نہ پوچھ\nدیکھ خوں نابہ فشانی میری\n\nکیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یار\nمگر آشفتہ بیانی میری\n\nہوں ز خود رفتۂ بیدائے خیال\nبھول جانا ہے نشانی میری\n\nمتقابل ہے مقابل میرا\nرک گیا دیکھ روانی میری\n\nقدرِ سنگِ سرِ رہ رکھتا ہوں\nسخت ارزاں ہے گرانی میری\n\nگرد بادِ رہِ بیتابی ہوں\nصرصرِ شوق ہے بانی میری\n\nدہن اس کا جو نہ معلوم ہوا\nکھل گئی ہیچ مدانی میری\n\nکر دیا ضعف نے عاجز غالبؔ\nننگِ پیری ہے جوانی میری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D9%86%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "کب کوئی تجھ سا آئینہ رو یاں ہے دوسرا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب کوئی تجھ سا آئینہ رو یاں ہے دوسرا\nہے تو ترا ہی عکس نمایاں ہے دوسرا\n\nپوچھ اس کی مت خبر جسے ناصح سیے تھا تو\nوہ دھجیاں اڑا یہ گریباں ہے دوسرا\n\nشکل ان کی یہ ہے جو کہ ہیں محو جمال یار\nششدر کھڑا ہے ایک تو حیراں ہے دوسرا\n\nرخ اس کا دیکھیو شب مہتاب میں کوئی\nگویا زمیں پہ یہ مہ تاباں ہے دوسرا\n\nکیا دل جگر کی کہیے تمنائے وصل میں\nحسرت بھرا ہے ایک پر ارماں ہے دوسرا\n\nوادیٔ عشق میں ہمیں برسوں یوں ہی کٹے\nاک دشت طے کیا کہ بیاباں ہے دوسرا\n\nتیرے خرام ناز کے صدقے کہ کب کوئی\nایسا چمن میں سرو خراماں ہے دوسرا\n\nغم خوار و مونس اب ترے بیمار کے ہیں یوں\nتسکین ایک دے تو ہراساں ہے دوسرا\n\nجرأتؔ غزل پڑھ اور اک ایسی کہ سب کہیں\nکب اس طرح کا کوئی غزل خواں ہے دوسرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D8%A7_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%B1%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کب کوئی فضول ہاتھ ملتا ہے بھلا", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کب کوئی فضول ہاتھ ملتا ہے بھلا\nمطلب کہیں اس طرح نکلتا ہے بھلا\nجب داہنے ہاتھ سے گرہ کھل نہ سکی\nکب بائیں قدم سے کام چلتا ہے بھلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%81%D8%B6%D9%88%D9%84_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7"} {"title": "کب گل ہے ہوا خواہ صبا اپنے چمن کا", "poet_page": "مصنف:ممنونؔ نظام الدین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب گل ہے ہوا خواہ صبا اپنے چمن کا\nوا جنبش دم سے ہے رفو زخم کہن کا\n\nبیتابی دل تیرے شہیدوں کی کہاں جائے\nکچھ کم رگ بسمل سے نہیں تار کفن کا\n\nدیتا ہے پھر آئینے کو کس واسطے بوسہ\nوہ آپ جو دل دادہ نہیں اپنے دہن کا\n\nمانند حباب آپ کیا عشق نے ممنوںؔ\nپایا نہ نشاں جامہ میں اپنے کہیں تن کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%DA%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کب ہاتھ کو خیالِ جزائے رفو نہیں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب ہاتھ کو خیالِ جزائے رفو نہیں\nکب پارہ پارہ پیرہنِ چارہ جو نہیں\n\nگلگشتِ باغ کس چمن آرا نے کی کہ آج\nموجِ بہار مدعی رنگ و بو نہیں\n\nواں بار ہو گیا ہے نزاکت سے بار بھی\nیاں ضعف سے دماغ و دلِ آرزو نہیں\n\nکس نے سنا دیا دلِ حیرت زدہ کا حال\nیہ کیا ہوا کہ آئنہ اب روبرو نہیں\n\nتغئیرِ رنگ کہتی ہے وصلِ عدو کا حال\nیعنی نقاب رخ پہ کبھو ہے، کبھو نہیں\n\nگستاخِ شکوہ کیا ہوں کہ اندازِ عرض پر\nکہتے ہیں اختلاط کی بندے کی خو نہیں\n\nکیا جانے دردِ زخم کو گو ہو شہیدِ ناز\nجو نیم کشتِ خنجرِ رشکِ عدو نہیں\n\nابرِ سرشک و گلشنِ داغ و نسیمِ آہ\nسامانِ عیش سب ہے پر افسوس تو نہیں\n\nبد خوئیوں سے یار کی کیا خوش ہوں شیفتہ\nہر ایک کو جو حوصلۂ آرزو نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84%D9%90_%D8%AC%D8%B2%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D9%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کب ہے منظور کہ یوں جنس دل زار بکے", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کب ہے منظور کہ یوں جنس دل زار بکے\nپر یہ وہ شے ہے نہ بیچوں بھی تو سو بار بکے\n\nلوح مرتد پہ یہ محمود کے لکھ دینا تھا\nحسن وہ شے ہے کہ لیتے ہی خریدار بکے\n\nسو ہی جاوے مرے طالع کے برابر آ کر\nکیا ہو گر بخت عدو بھی سر بازار بکے\n\nہوں خلش دوست دعا ہے کہ دوا کے بدلے\nیا رب اس عہد میں درد دل بیمار بکے\n\nبک کے یوسف نے خریدا ہے وہ رتبہ کہ نہ پوچھ\nیہ ہی بکنا ہے تو ہم مفت ہی سو بار بکے\n\nپوشش کعبہ سے کیا کم ہے اگر دل پر ہے\nچاہیے میرے گریباں کا ہر اک تار بکے\n\nدیکھ کر اشک مسلسل کو وہ آنسو بھر لائے\nلاکھ موتی کے عوض دو در شہوار بکے\n\nجب وہ غارت گر ایماں ہے تو حیرت کیا ہے\nدیر میں جبہ بکے کعبے میں زنار بکے\n\nہے شب وصل عدو اور زمانہ مہجور\nکیوں نہ بستر کے لیے گل کی جگہ خار بکے\n\nکہتے ہیں زلف میں رکھنے کو ہیں کچھ دل درکار\nطالب اس چیز کے ہیں جو پس دیوار بکے\n\nجامہ اے دست جنوں اور کہاں سے لاؤں\nلے رکھوں مول اگر دامن کہسار بکے\n\nاثر گرمی رفتار ہے یہ بھی میرا\nکہ بیاباں میں بہت سوکھ کے اشجار بکے\n\nتم ہو ساقی تو عجب کیا ہے کہ میخانے میں\nعوض صنعت جم ساغر سرشار بکے\n\nخوف ہے یہ دل بے تاب نہ بر میں آ جائے\nہم نہ لیں مول جو وہ طرۂ طرار بکے\n\nایک بلبل رہے کس کس کی زلیخائی میں\nڈھیر پھولوں کا جب آ کر سر بازار بکے\n\nبار عصیاں کو اٹھائے ہوئے پھرتا کب تک\nمفت ہی ٹال دوں سالکؔ جو یہ انبار بکے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%86%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%A9%DB%92"} {"title": "کباڑ کی کوٹھڑی", "poet_page": "مصنف:قاضی عبدالغفار", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "’’بلاگردان‘‘ صاحب کا یہ قصہ تو کچھ زیادہ عجیب نہیں، لیکن انداز بیان بہت دلچسپ ہے۔ اس لیے فیس داخلہ قبول کرکے صاحب موصوف کو انجمن کی رکنیت میں شامل کیا جاتا ہے۔‘‘\n\nغدر سے پہلے دادا صاحب مرحوم نے وہ مکان بنایا تھا جس میں ہم رہتے ہیں۔۔۔ پرانا ہے مگر بہت مضبوط ہے! جب غدر شروع ہوا تو دادا صاحب ایک بڑے سرکاری عہدہ پر فائز تھے۔ مگر آخر میں انھوں نے پھانسی پائی۔ (کوئی پولیس والا نہ سن لے) الزام یہ تھا کہ انھوں نے ایک بھاگے ہوئے دلی کے شہزادے کی مدد کی تھی۔ وہ بیچارے تو پھانسی پر لٹکے اور ادھر ان کی ساری جائداد اور املاک بحق سرکار ضبط ہوگئی۔ ہمارامکان بھی ضبط ہوگیا۔ دادی بیچاری اس طرح گھر سے نکلیں کہ صرف ایک چادر ان کے سر پر تھی۔\n\nداروگیر کازمانہ گزر گیا۔ دادی ہماری بڑی اولوالعزم عورت تھیں۔ کم عمر ی میں بیوہ ہوکر بھی وہ مصائب سے گھبرانے والی نہ تھیں۔ ڈولی میں بیٹھ کر بڑے صاحب کی کوٹھی پر پہنچ گئی اور جو کچھ کہنا سنا تھا صاف صاف کہا۔ صاحب نئے نئے ضلع میں آئے تھے، انھوں نے جو تحقیقات شروع کی تو ثابت یہ ہوا کہ دادا صاحب نے بے گناہ پھانسی پائی!! عجلت میں پھانسی پر چڑھادیے گئے۔ ۔۔ اس زمانے میں کالے آدمی کی جان کی قیمت صرف اتنی تھی کہ جب یہ حقیقت واضح ہوئی تو سرکار نے بڑا کرم کیا کہ جو کچھ ضبط کیا تھا اس کا نصف واپس کردیا! دادی نے کہا، چلو، بھاگتے بھوت کی لنگوٹی۔ یہی غنیمت ہے۔ دوسال بعد پھر اپنےبچوں کو لے کر گھر آئیں۔۔۔ جس وقت گھر بند ہوا تھا تو اوپر کی منزل پر ایک کوٹھڑی تھی اس میں سارے گھر کا کاٹ کباڑ ڈال دیا گیا تھا۔ کوٹھڑی کا ایک ہی دروازہ تھا اس میں تالا پڑا ہوا تھا۔ گھر میں واپس آنے کے بعد بھی وہ تالا اسی طرح پڑا رہا۔۔۔ یہ سارا قصہ اس زمانے کا ہے جب میں تو کہاں، میری ماں بھی غالباً پیدا نہ ہوئی تھیں!! یہ نہ سمجھیے کہ میں چشم دید بیان کر رہا ہوں!!\n\nمیری پیدائش کے پندرہ برس بعد تک اس کوٹھڑی میں بدستور تالا پڑا ہوا تھا۔ ایک گناہ گار کے سینہ کی طرح اس کے اندر روشنی جانے کا بھی کوی راستہ نہ کھلا۔ مجھے یاد ہے کہ ’’دادی‘‘ اماں اس کوٹھڑی کے متعلق عجب عجب قصے سنایا کرتی تھیں۔ میں جب ۱۲برس کا تھا تو دادی اماں کی عمر اسی برس کے قریب تھی۔ وہ فرمایا کرتی تھیں کہ جب غدر میں ہم لوگ اس مکان سے نکالے گئے اور دوبرس تک یہ مکان خالی پڑا رہا تو اس زمانہ میں ایک بہت نیک خیال جن اس کوٹھڑی میں آکر رہنے لگے۔ اکثر صبح کو اُن کے قرآن شریف پڑھنے کی آواز آتی ہے اور مجھ پر تو اس قدر مہربان ہیں کہ جب کبھی میرا دل گرم گرم مٹھائی یا تازے پھل کھانے کو چاہتاہے، فوراً بھیج دیتے ہیں!!۔۔۔ میں بچہ تو تھا لیکن انیسویں صدی عیسوی کا بچہ تھا! یہ قصے سنتا تھا اور دادی اماں کو اس قدر چھیڑتا کہ وہ چڑجاتی تھیں۔۔۔ ’’کیوں دادی اماں، یہ تمہارے دوست جو اوپر کوٹھڑی میں رہتے ہیں مٹھائی تو لاتے ہیں، کیا ہمارے لیے کرکٹ کا ایک بلا نہ لادیں گے؟ اچھی دادی اماں! آپ ذرا ان سے کہیے تو‘‘۔۔۔ ’’کیوں دادی اماں بھلا یہ جن صاحب اس کوٹھڑی میں رہتے ہیں تو پاخانہ پیشاب بھی اسی کے اندر کرتے ہوں گے۔۔۔ بڑے غلیظ ہیں وہ!‘‘ ۔۔۔ ’’دادی اماں‘‘ کو غصہ آجاتا تھا، کہتی تھیں ’’توبہ توبہ کر لڑکے! وہ خدا کے نیک بندے ہیں،ہمارے مہمان ہیں ایسی باتیں کرتا ہے تو ان کے متعلق۔۔۔‘‘\n\nمیں کہتا: ’’دادی اماں! وہ اُڑتے بھی تو ہوں گے۔۔۔ ہم نے سنا ہے کہ سب جن اڑتے ہیں۔۔۔ بھلا ان سے کہیے ایک دن ہم کو اُڑاکر دلی لے چلیں۔۔۔ حضرت سلیمان کی قسم دیجیے گاتو ضرور مان جائیں گے!‘‘\n\nدادی اماں دِق ہوجاتیں تو اپنی لاٹھی اٹھاکر مجھے ڈراتیں۔۔۔ ’’نہیں جائے گا تو، نہیں جائے گا؟ بکے جائے گا، بکے جائے گا؟ اچھا ٹھہر تیرے مولوی صاحب آئیں تو دیکھ میں کیسا کچھ پٹواتی ہوں۔۔۔‘‘\n\nکبھی ’’دادی اماں‘‘ چند چراغ جلاکر ۔۔۔ شام کے وقت۔۔۔ اس کوٹھڑی کے دروازہ پر رکھ دیتیں اور سب سے کہتیں ’’دیکھو بچو اس وقت غل شور نہ ہونے پائے، آج جنات جمع ہیں میلاد شریف کی محفل ہو رہی ہے۔۔۔‘‘\n\nمیں کہتا ’’دادی! یہ کیسا میلاد شریف ہے، کوئی آواز تو آتی ہی نہیں! وہ فرماتیں، جا بھاگ! بچوں کو آواز نہیں آیا کرتی!۔۔۔‘‘\n\nایک رات کو ۔۔۔ جاڑوں کازمانہ تھا۔۔۔ ہمسب دالان میں سو رہے تھے، دالان کے سب دروازے بند تھے دادی اماں کے پلنگ کے پاس ہی میرا پلنگ تھا۔ یکایک میری آنکھ کھلی، یہ معلوم ہوا جیسے کوئی میرے پلنگ پر کودا ہو، ڈرکے مارے میری چیخ نکل گئی، سب لوگ جاگ اٹھے، دیکھا تو ایک سفید رنگ کابلا تھا۔۔۔ معلوم نہیں کدھر سےآگیا۔۔۔ تھا بہت بڑا، بکری کے بچے کے برابر۔۔۔ وہ تو ہم لوگوں کے جاگنے کے بعد کسی طرف سے نکل گیا۔ مگر دادی اماں نے صبح تک کسی کو اپنی باتوں سے سونے نہ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اوپر والے جن اس وقت بلے کی صورت میں آئے۔ معلوم نہیں مجھ سے کیا کہنا چاہتے تھے؟ بار بار دادی اماں فرماتی تھیں!! غرض یہ کہ صبح سے دوپہر تک سارے محلہ میں دادی اماں نے خبر کردی کہ اب تو کوٹھڑی والے جن خود ہی ان کے پاس آنے لگے ہیں!! میں کہتا دادی اماں آپ نے اس وقت ان کی دم نہ پکڑلی، جانے کیوں دیا؟ وہ مجھے جھڑک دیتیں ’’چپ، بدتمیز!‘‘ ۔۔۔جن صاحب کے آنے جانے کاسلسلہ بھی عرصہ تک جاری رہا۔\n\nایک رات کو میری ایک پھوپھی جو اسی دالان میں سو رہی تھیں، سوتےسوتے کسی ضرورت سےاٹھیں تو انہوں نے دیکھا کہ دادی اماں اپنے پلنگ پر نہیں ہیں۔ باہر نکلیں تو دیکھا کہ وہ صحن میں کھڑی بلے سے کھیل رہی ہیں۔ دادی اماں نے کہا کہراتبلے نے ان کو سونے نہ دیا تو ایک دفعہ غصہ میں آکر وہ اس کی کمر پر سوار ہوگئیں، بلا ان کو لے کر بھاگا۔۔۔ صحن سےاس نے جست کی تو سامنے کی دیوار پر پہنچا تو سامنے کی دیورا سے جست کی تو کوٹھڑی کی چھت پر پہنچ گیا۔۔۔ وہاں سے جست کی تو پھر صحن میں۔۔۔ اور دادی اماں برابر اس کی کمر پر جمی رہیں!! ۔۔۔ میں نے جو یہ قصہ سناتو خوب تالیاں بجائیں ۔۔۔ دادی اماں بہت ناراض ہوئیں، مگرمیں کئی راتیں اس فکر میں جاگتا رہاکہ اگر سفید بلا آجائے تو میں بھی ضرور اس کی کمر پر بیٹھ ہی توجاؤں!!\n\n’’دادی اماں! تم ان سے کہو‘‘ میں نے کہا کہ روز ہمیں سواری دے جایا کریں، آہا ہا! کیا مزے کی سواری ہوگی۔۔۔ اس آہا ہا کے جواب میں دادی اماں کا ڈنڈا میری کمر کی طرف آیا ۔۔۔ اور میں بھاگا۔۔۔\n\nغرض کہ جب تک دادی اماں زندہ ہیں وہ ضرور ’’جن صاحب‘‘ کا کوئی نہ کوئی نیا قصہ ضرور سنایا کرتیں اورمیں ضرورکوئی نہ کوئی فقرہ چست کرتا۔ کبھی کبھی ایک دو ڈنڈے بھی کھاتا۔ پھر میں اسکول میں داخل ہوگیا اور چند ہی روز بعد ’’دادی اماں‘‘ کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد سے ’’جن صاحب‘‘ بھی غائب ہوگئے۔ کم از کم کوٹھری میں ان کی موجودگی کے آثار نظر نہ آتے تھے۔ گرم گرم مٹھائی تھی نہ سفید بلاتھا نہ قرآن شریف پڑھنے کی آوازتھی۔ ممکن ہے کہ وہ دادی اماں کے ساتھ ہی رخصت ہوگئے ہوں۔\n\nبچپن کی ناسمجھی نوجوانی کی شرارتوں میں بدل گئی۔ میں اسکول سے فارغ ہوکر کالج میں داخل ہوا۔ جوانی دیوانی ہونےلگی۔ والد نے جو یہ رنگ دیکھا تو میری شادی کااہتمام شروع کردیا۔ رشتہ بچپن ہی سے قائم ہوچکاتھا۔ میری منگنی اس وقت ہوگئی تھی جب میں ۵برس کا اور میری بیوی صرف ۲برس کی تھی! غرض یہ کہ میں نے کچھ انکار بھی کیا، مگرکون سنتا ہے، پکڑ دھکڑ کے یہ بیل آخر کارزندگی کے ہل میں جوت ہی دیا گیا۔۔۔ ہمارا خاندان تھا۔ اس لیے شادی بہت سادہ اور شرعی قسم کی ہوئی۔ شام کو بارات گئی۔ شب بھر ہم سسرال میں پڑے رہے، دوسرے دن شام تک بیوی کو لے کر گھر آئے ۔۔۔ لیکن واقعات کے سلسلہ کو توڑ کر، پہلے اس کوٹھری کے متعلق تھوڑا سا قصہ بیان کردوں۔\n\nجب شادی کااہتمام شروع ہوا تو والدہ سے میں نے کہا کہ زنانہ مکان کی بالائی منزل پر میں اپنے لیے ایک ہوادار کمرہ بنوانا چاہتا ہوں اور کمرہ کے لیے بہترین جگہ وہی ہے جہاں وہ پرانی کوٹھری ہے۔ والد نے فرمایا کہ بیٹا! تمہاری دادی نےکبھی اس کوٹھری کے تالے کو ہاتھ نہ لگانے دیا۔ ان کے بعد بھی میں نے اس کوٹھری کو بدستور بند چھوڑدیا۔ بہتر ہو کہ اس کو یوں ہی چھوڑدو اور کسی اور طرف انے لیے کمرہ بنوالو۔ میں نے کہا، اب تو یہ سب باتیں فضول ہیں۔ اگر کبھی کوٹھری میں کوئی جن یا بھوت تھا بھی تو وہ بھی اب باقی نہیں، کیا فائدہ کہ کوٹھری کو بند رکھاجائے اور اس قدر ہوادار موقع کو چھوڑ کر دوسری طرف کمرہ بنایا جائے ۔۔۔ والد خاموش ہوگئے ۔۔۔ وہ انیسویں صدی عیسوی کے بیٹے سے اختلاف ذرا کم ہی کیا کرتے تھے۔ القصہ کوٹھری کا دروازہ کھول دیا گ یا۔ غدر سے پہلے کا کاٹ کباڑ۔۔۔ ٹوٹے ہوئے پلنگ، بکس، پالنے، مٹی کے گھڑے اورخدا جانے کیا کیا۔۔۔ پچاس برس کی گرد سے ڈھکاہوا سامان وہاں سے نکالا گیا، دیواریں گرادی گئیں اور اسی جگہ نیا کمرہ تعمیر ہوگیا۔\n\nمیری ازدواجی زندگی کی یہ پہلی شام تھی۔ وہ شام جس کے متعلق شاعر گیت گاتے ہیں! دلہن اسی کمرہ میں بٹھائی گئی تھی، میری بہنیں اس کے پاس بیٹھی تھیں۔ کمرہ میں پرانی وضع کی ہانڈیاں لٹک رہی تھیں، دیواروں پر دیوار گیر فانوس لگے ہوئے تھے۔ اسی منزل پر ایک دوسراکمرہ میری نشست گاہ تھا۔ مغرب کے وقت مجھے وہاں سے بلایا گیا اور کہا گیا کہ ان فانوسوں اور ہانڈیوں کی مومبتیاں روشن کردوں۔ دلہن ایک چاندی کے پلنگ پر سرجھکائے بیٹھی تھی۔ اس کے پلنگ کے پاس ایک کرسی رکھ کر اوپر چڑھا تاکہ ہانڈی کی بتی کو روشن کردوں۔ دیا سلائی جلا کر میں نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ دفعتاً یہ معلوم ہوا کہ کسی نے میرے پاؤں کے نیچے سے کرسی کو کھینچ لیا اور میں بے قابو ہوکر دلہن کے پلنگ پر گرا۔۔۔ کچھ ہوں ہی چوٹ بھی آئی اور خیال یہ ہوا کہ کسی بہن نے شرارت کر کے مجھے گرایا۔ ایک شریر بہن۔۔۔ خدا مغفرت کرے۔۔۔ ہنسنے لگی۔ ’’واہ بھائی واہ! اس قدر بے صبری، تمہیں اس پلنگ پر بیٹھنےسے منع کس نے کیا تھا جو یہ بہانہ نکالا۔‘‘ اب تو یقین ہوگیا کہ شرات کی گئی۔۔۔ پھر کسی پر چڑھا او رپھر دیا سلائی جلاکر موم بتی جلانے کا ارادہ کیا۔۔۔ اور پھر وہی حشر ہوا آیا، اس دفعہ کچھ چوٹ بھی زیادہ لگی۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ کرسی بدستور اپنی جگہ پر موجود تھی۔ حالانکہ مجھے صاف یہ محسوس ہوا تھا کہ کرسی ہٹائی گئی۔\n\n’’یہ کیا بے موقع مذاق ہے؟‘‘ میں نے بگڑکر کہا۔۔۔ میری بہنوں نے قسمیں کھائیں کہ انہوں نے کوئی شرارت نہیں کی۔ پھر میں کرسی پر چڑھا، دیا سلائی جلاکر ہاتھ میں نے بتی کی طرف بڑھایا لیکن نیچے کی طرف بھی دیکھتا رہا۔۔۔ سب لڑکیاں کرسی سے کافی فاصلہ پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ مگر پھر میں گرا اور اس دفعہ بالکل دلہن کےاوپر!۔۔۔ جھلاکر میں نے دیاسلائی کی ڈبیا پھینک دی اور باہر چلا گیا۔\n\nاسی شب کو ۹ بجے کےقریب میں پھر اندر گیا، میری بہنیں جا چکی تھیں۔ میری بیوی کے پاس صرف ایک ماما بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ بھی اٹھ کر چلی گئی۔ میں نے وہیں بیٹھ کر کھانا کھایا اور ایک دروازہ کے پاس آرام کرسی بچھاکر حقہ پینے لگا۔ گلابی جاڑوں کا موسم تھا۔ کمرہ کے تین دروازے تھے وہ بند تھے۔ کمرہ کے سامنے غسل خانہ تھا، میری بیوی غسل خانہ جانےکے لیے اٹھیں اور میری کرسی کے سامنےسے گزر کر باہر چلی گئیں، چندمنٹ بعد وہواپس آئیں تو میں نے ان سےکہا کہ دروازہ بند کرتی آؤ۔ انہوں نے چوکھٹ سے گزر کر بغیر منہ موڑے ایک ہاتھ سے کواڑ بند کردیا اور ساتھ ایک قدم آگے بڑھیں۔ اگر وہ ایک قدم آگے نہ بڑھ گئیں ہوتیں تو معلوم نہیں کس قدر زخمی ہوتیں، اس لیے کہ کواڑ بند ہوتے ہی یہ معلوم ہوا کہ گویا باہر سے کسی نے دونوں کواڑوں پر پوری قوت سے ایک لات ماری، اور کواڑ دفعتاً کھل گئے۔\n\nخیریت گزری کہ میری بیوی چشم و زن پہلے اُن کی زد سےنکل چکی تھیں!۔۔۔ پھر وہ دھڑاکے کی آواز۔۔۔ سارا مکان گونج گیا۔۔۔ میں گھبرا کر اٹھا، سمجھا کہ آندھی کا کوئی جھونکا آیا۔ آسمان کی طرف دیکھا تو بالکل صاف تھا۔ چاندنی کھلی ہوئی تھی۔ سامنے کی چھت بہت وسیع تھی۔ خیال آیا کہ شاید نیچے کی منزل سے کسی شریر لڑکی نے آکر یہ مذاق کیا ہو۔۔۔ لیکن زینہ اس قدر دور تھا۔۔۔ اور بالکل سامنے کہ کتنا ہی تیز کوئی آتا جاتا چھپنا مشکل تھا اور پھر اس کھلی ہوئی چانی میں! چھت پر ایک چکر لگاکر میں واپس آیا۔ کوئی بات سمجھ میں نہ آئی۔۔۔ بہر حال کواڑ بندکرکے اور ۱۱ بجےکے قریب سوگیا۔۔۔ میری آنکھ چھپکے شاید دس پندہ منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ پھر دروازہ پٹنا شروع ہوا۔ گھبراکر اٹھا، دروازہ کھولا، باہر گیا۔ ہر طرف دیکھا۔ چاندنی کھلی ہوئی تھی۔ ساری چھت صاف تھی، ہوا کا نام نہ تھا۔ کوئی ایسا راستہ نہ تھا کہ غیر شخص آسکتا، زینہ کا دروازہ میں نے پہلے ہی اندر سے بند کرلیا تھا، وہ بدستور بند تھا۔۔۔ پھر سوگیا، ذرا آنکھ لگی تھی کہ پھر کواڑ پٹنے شروع ہوئے۔ پھر اٹھا، پھر سویا، پھر جاگا، رات بھر اسی طرح چوکیداری کرتے گزری، جب تک جاگتا رہتا تھا کوئی کھٹکا نہ ہوتا تھا۔ جہاں آنکھ لگی اور کواڑ پٹنے شروع ہوئے! ساری رات تو اسی طرح گزر گئی، بیوی سےمیں نے منع کردیا کہ اس واقعہ کا کسی سے ذکر نہ کریں۔\n\nدوسرے دن کمرہ کے باہر برآمدہ میں، دروازہ کے پاس دو کتے باندھے گئے۔ زینہ کا دروازہ بند کرکے تالا ڈالا گیا۔ بارہ بجے تک میں بیٹھا ہوا بیوی سے باتیں کرتا رہا۔۔۔ وہ ڈر تو بہت رہی تھیں لیکن اپنا خوف ظاہر نہ ہونے دیتی تھیں۔ باتیں کرتے کرتے ہم لوگ سوگئے۔۔۔ پندرہ ہی منٹ کے بعد پھر کواڑ پٹنے شروع ہوگئے اور یہی حال رات بھر رہا۔ کتے دروازہ کے سامنے بیٹھے تھے اور صرف اسی وقت بھونکتے تھے جب کواڑ پٹنے کی آواز شروع ہوتی تھی! یقیناً وہ کسی کو دروازہ کے پاس آتا نہ دیکھتے تھے۔۔۔ پھر یہ معمہ کیا تھا؟\n\nایک دن، دو دن، چار دن۔۔۔ ایک ہفتہ اسی طرح گزر گیا۔ رات کی نیند حرام ہوگئی۔ میں نے اور میری بیوی نےبہت اس قصہ کو چھپایا لیکن کہاں تک، بہنوں تک بات پہنچی، پھر والدہ کو معلوم ہوا، پھر والد کے کان تک سارا قصہ پہنچا او رہوتے ہوتے ہماری ساس کو خبر لگی۔۔۔ وہ بے چاری پرانے زمانہ کی بری بی، سنتے ہی ڈولی پر چڑھ کر دوڑیں۔۔۔ سارے گھر میں قیامت آگئی۔\n\n’’غضب خدا کا! پہلے دن سے یہ ظلم ہو رہا ہے میری بچی کو مار ڈالنے کا ارادہ ہے کچھ؟ اور یہ میاں لڑکے تو پاگل معلوم ہوتے ہیں، مجھے کیا خبر تھی کہ داماد پاگل ملا ہے۔ بند کرو، اس کمرہ کو، صاحبزادے نیچے کی منزل میں رہنا چاہیں تو رہیں نہیں تو میں اپنی بچی کو لیے جاتی ہوں۔ کیا کہا؟ نیچے تکلیف ہوگی؟ کیا تکلیف ہوگی؟ تمہارے باپ دادا سب یہیں رہے، تم یہیں پیدا ہوئے، یہیں پرورش پائی۔ ہمیشہ کمرہ پر ہی تو رہا کرتے تھے گویا!۔۔۔ چلو جھک جھک نہ کرو ۔۔۔ وہیں رہوگے تو رہو، میں تو اپنی بچی کو لیے جاتی ہوں، ۔۔۔ اللہ بچائےآج کل لڑکوں سے۔۔۔ دیدہ کی صفائی تو دیکھو ۔۔۔ جنات سے مقابلہ کریں گے یہ! اپنی دادی کی باتوں پر ہنسا کرتے تھے۔ اس وقت تو میاں بالشت ہی بھر کے تھے۔۔۔ اب مجھ سے دل لگی کرنےلگے!۔۔۔ جو تمہارے جی میں آئے کرو۔۔۔‘‘\n\nایک لمبا چوڑا لیکچر دے کر وہ تو میری کولے کو گھر چلی گئیں۔ اب اماں باوا کی یورش مجھ پر شروع ہوئی۔۔۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کا سخت ترین مقابلہ ہوا۔ مگر میں نےکسی کی نہ سنی۔ تنہا بھی وہیں سویا۔۔۔ اتنا تو ہوا کہ اباجان نے بغیر میری اطلاع کے دونوکر برابر کی چھت پر بٹھا دیا۔ لیکن رات کی دھڑادھڑ کو وہ بھی نہ روک سکے، سلسلہ برابر جاری رہا۔۔۔ میں بھی اپنے سرہانے طلسم ہوشربا اور رینالڈس کے ناول رکھ کر لیٹتا تھا اور تین چار بجے صبح تک پڑھتا تھا۔ اس لیے صبح کے قریب جب آنکھ لگتی تھی تو ایک دو دفعہ سے زیادہ کواڑ پٹنے کا موقع نہ آتا تھا۔ اس طرح دوہفتے گزرے ایک دن میں نے کہا چھوڑو میں نہیں سوتا کمرہ میں۔ کواڑ کھول دو اور دروازہ کے سامنے برآمدہ میں بستر بچھا۔۔۔ وہ شب امن سے گزری، اس کے بعد کبھی یہ سلسلہ جاری نہ ہوا۔ بلکہ میں جب پھر اندر سونے لگا اور تب بھی وہ واقعہ پیش نہ آیا۔ ساس صاحبہ کو جب کافی اطمینان ہوگیا تو انہوں نے بھی بہت سے تعویذ پہناکر اور بہت فلیتے کمرہ میں جلانے کے لیے ساتھ کرکے میری بیوی کو بھیج دیا۔ ۱۸ برس رتک ہم اس کمرہ میں رہے، گرمی، جاڑا، برسات تمام موسم وہیں گزرتے تھے، میرے بچے بھی وہیں رہتے تھے۔۔۔ معلوم ہوتا تھا کہ دادی اماں کے وہ روحانی دوست ناراض ہوکر ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے۔\n\nاب یہ نہ پوچھیے کہ میری رائے کیا ہے اور اس سارے واقعہ کی اصلیت میں کیا سمجھتا ہوں! جنات کے متعلق بدعقیدہ میں اب بھی ہوں۔ اب بھی میں ان باتوں کو ڈھکوسلا ہی سمجھتا ہوں لیکن اگرآپ مجھ سے یہ دریافت کریں کہ آخر دو ہفتے تک میرے کواڑ کون پیٹا کرتا تھا تو میں جواب کچھ نہ دے سکوں گا، البتہ آپ سے کہوں کہ جدید روحانیت کے یورپین ماہرین سے مشروہ کیجیے۔ بغیر یورپین ماہرین کے مشورہ کے اس الجھٹے کا بھی۔۔۔ سلجھنا مشکل ہے! تعلیم یافتہ متمدن اور ’’روشن خیال‘‘ آدمی ہوں۔۔۔ علم و سائنس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ جنات ونات سب پرانی بوڑھیوں کے ڈھکوسلے ہیں۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%D8%A7%DA%91_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D9%B9%DA%BE%DA%91%DB%8C"} {"title": "کبریائی کی ادا تجھ میں ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبریائی کی ادا تجھ میں ہے\nگرچہ تو بت ہے خدا تجھ میں ہے\n\nشوخی و ناز و ادا تجھ میں ہے\nیا یہ اک قہر خدا تجھ میں ہے\n\nمنہ چھپاتا ہے تو آئینے سے\nکس قدر شرم و حیا تجھ میں ہے\n\nخیر باشد کہ مرے خون کی سی\nسرخی اے رنگ حنا تجھ میں ہے\n\nپوچھ لیتا ہے تو اوروں سے مجھے\nبارے اتنی تو وفا تجھ میں ہے\n\nگل ہے بے حال یہ کس گیسو کی\nنکہت اے باد صبا تجھ میں ہے\n\nدل کو کھینچے ہے تری زلف سیاہ\nسحر جادو کی بلا تجھ میں ہے\n\nہو نہ اے خاک کے پتلے مغرور\nاس پہ تو یہ جو ہوا تجھ میں ہے\n\nسب یہ نقشہ ہے ترا عاریتی\nاک ذرا سوچ تو کیا تجھ میں ہے\n\nتو جو یوں گل کو بنا دیتی ہے\nکچھ تو اے باد صبا تجھ میں ہے\n\nمصحفیؔ سے تو ملا دے اس کو\nیہ اثر دست دعا تجھ میں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "کبوتروں والا سائیں", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "کالی شلوار", "year": "1941", "text_ur": "پنجاب کے ایک سرد دیہات کے تکیے میں، مائی جیواں:صبح سویرے ایک غلاف چڑھی قبر کے پاس ،زمین کے اندر کھدے ہوئے گڈھے میں، بڑے بڑے اپلوں سے آگ سلگا رہی ہے۔ صبح کے سرد اور مٹیالے دھندلکے میں، جب وہ اپنی پانی بھری آنکھوں کو سکیڑ کر اور اپنی کمر کو دہرا کرکے، منہ قریب قریب زمین کے ساتھ لگا کر اوپر تلے رکھے ہوئے اپلوں کے اندر پھونک گھسیڑنے کی کوشش کرتی ہے تو زمین پر سے تھوڑی سی راکھ اڑتی ہے اور اس کے آدھے سفید اور آدھے کالے بالوں پر جو کہ گھسے ہوئے کمبل کا نمونہ پیش کرتے ہیں، بیٹھ جاتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بالوں میں تھوڑی سی سفیدی اور آگئی ہے۔\n\nاپلوں کے اندر آگ سلگتی ہے اور یوں جو تھوڑی سی لال لال روشنی پیدا ہوتی ہے، مائی جیواں کے سیاہ چہرے پر جھریوں کو اور نمایاں کردیتی ہے۔\n\nمائی جیواں یہ آگ کئی مرتبہ سلگا چکی ہے۔ یہ تکیہ یا چھوٹی سی خانقاہ جس کے اندر بنی ہوئی قبر کی بابت اس کے پردادا نے لوگوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ وہ ایک بہت بڑے پیر کی آرام گاہ ہے، ایک زمانے سے ان کے قبضہ میں تھی۔ گاما سائیں کے مرنے کے بعد اب اس کی ہوشیار بیوی اس تکیے کی مجاور تھی۔ گاما سائیں سارے گاؤں میں ہر دل عزیز تھا۔ ذات کا وہ کمہار تھا مگر چونکہ اسے تکیے کی دیکھ بھال کرنا ہوتی تھی، اس لیے اس نے برتن بنانے چھوڑ دیے تھے۔ لیکن اس کے ہاتھ کی بنائی ہوئی کونڈیاں اب بھی مشہور ہیں۔ بھنگ گھوٹنے کے لیے وہ سال بھر میں چھ کونڈیاں بنایا کرتا تھا جن کے متعلق بڑے فخر سے وہ یہ کہا کرتا تھا،’’چودھری لوہا ہے لوہا۔۔۔ فولاد کی کونڈی ٹوٹ جائے پر گاما سائیں کی یہ کونڈی، دادا لے تو اس کا پوتا بھی اسی میں بھنگ گھوٹ کرپیے۔‘‘\n\nمرنے سے پہلے گاما سائیں چھ کونڈیاں بنا کررکھ گیا تھا جو اب مائی جیواں بڑی احتیاط سے کام میں لاتی تھی۔\n\nگاؤں کے اکثر بڈھے اور جوان تکیے میں جمع ہوتے تھے اور سردائی پیا کرتے تھے۔ گھوٹنے کے لیے گاما سائیں نہیں تھا پر اس کے بہت سے چیلے چانٹے جو اب سر اور بھویں منڈا کر سائیں بن گئے تھے، اس کے بجائے بھنگ گھوٹا کرتے تھے اور مائی جیواں کی سلگائی ہوئی آگ سُلفہ پینے والوں کے کام آتی تھی۔\n\nصبح اور شام کو تو خیر کافی رونق رہتی تھی، مگر دوپہر کوبھی آٹھ دس آدمی مائی جیواں کے پاس بیری کی چھاؤں میں بیٹھے ہی رہتے تھے۔ اِدھر اُدھر کونے میں لمبی لمبی بیل کے ساتھ ساتھ کئی کابک تھے جن میں گاما سائیں کے ایک بہت پرانے دوست ابو پہلوان نے سفید کبوتر پال رکھے تھے۔ تکیے کی دھوئیں بھری فضا میں ان سفید اور چتکبرے کبوتروں کی پھڑپھڑاہٹ بہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔ جس طرح تکیے میں آنے والے لوگ شکل وصورت سے معصومانہ حد تک بے عقل نظر آتے تھے اسی طرح یہ کبوتر جن میں سے اکثر کے پیروں میں مائی جیواں کے بڑے لڑکے نے جھانجھ پہنا رکھے تھے ،بے عقل اور معصوم دکھائی دیتے تھے۔\n\nمائی جیواں کے بڑے لڑکے کا اصلی نام عبدالغفار تھا۔ اس کی پیدائش کے وقت یہ نام شہر کے تھانےدار کا بھی تھا جو کبھی کبھی گھوڑی پر چڑھ کر موقعہ دیکھنے کے لیے گاؤں میں آیا کرتا تھا اور گاما سائیں کے ہاتھ کا بنا ہوا ایک پیالہ سردائی کا ضرور پیا کرتا تھا۔ لیکن اب وہ بات نہ رہی تھی۔ جب وہ گیارہ برس کا تھا تو مائی جیواں اس کے نام میں تھانےداری کی بو سونگھ سکتی تھی مگر جب اس نے بارہویں سال میں قدم رکھا تو اس کی حالت ہی بگڑ گئی۔ خاصا تگڑا جوان تھا پر نہ جانے کیا ہوا کہ بس ایک دو برس میں ہی سچ مچ کا سائیں بن گیا۔ یعنی ناک سے رینٹھ بہنے لگا اور چپ چپ رہنے لگا۔ سر پہلے ہی چھوٹا تھا پر اب کچھ اور بھی چھوٹا ہوگیا اور منہ سے ہر وقت لعاب سا نکلنے لگا۔\n\nپہلے پہل ماں کو اپنے بچے کی اس تبدیلی پر بہت صدمہ ہوا مگر جب اس نے دیکھا کہ اس کی ناک سے رینٹھ اور منہ سے لعاب بہتے ہی گاؤں کے لوگوں نے اس سے غیب کی باتیں پوچھنا شروع کردی ہیں اور اس کی ہر جگہ خوب آؤ بھگت کی جاتی ہے تو اسے ڈھارس ہوئی کہ چلو یوں بھی تو کما ہی لے گا۔ کمانا ومانا کیا تھا۔ عبدالغفار جس کو لوگ اب کبوتروں والا سائیں کہتے تھے، گاؤں میں پھرپھرا کر آٹا چاول اکٹھا کرلیا کرتا تھا، وہ بھی اس لیے کہ اس کی ماں نے اس کے گلے میں ایک جھولی لٹکا دی تھی، جس میں لوگ کچھ نہ کچھ ڈال دیا کرتے تھے۔ کبوتروں والا سائیں اسے اس لیے کہا جاتا تھا کہ اسے کبوتروں سے بہت پیار تھا۔ تکیےمیں جتنے کبوتر تھے ان کی دیکھ بھال ابو پہلوان سے زیادہ یہی کیا کرتا تھا۔\n\nاس وقت وہ سامنے کوٹھری میں ایک ٹوٹی ہوئی کھاٹ پر اپنے باپ کا میلا کچیلا لحاف اوڑھے سورہا تھا۔ باہر اس کی ماں آگ سلگا رہی تھی۔ چونکہ سردیاں اپنے جوبن پر تھیں اس لیے گاؤں ابھی تک رات اور صبح کے دھوئیں میں لپٹا ہوا تھا۔ یوں تو گاؤں میں سب لوگ بیدار تھے اور اپنے کام دھندوں میں مصروف تھے مگر تکیہ جو کہ گاؤں سے فاصلہ پر تھا، ابھی تک آباد نہ ہوا تھا، البتہ دور کونے میں مائی جیواں کی بکری زور زور سے ممیا رہی تھی۔\n\nمائی جیواں آگ سلگا کر بکری کے لیے چارہ تیار کرنے ہی لگی تھی کہ اسے اپنے پیچھے آہٹ سنائی دی۔ مڑ کر دیکھا تو اسے ایک اجنبی سر پر ٹھاٹا اور موٹا سا کمبل اوڑھے نظر آیا۔ پگڑی کے ایک پلو سے اس آدمی نے اپنا چہرہ آنکھوں تک چھپا رکھا تھا۔ جب اس نے موٹی آواز میں، ’’مائی جیواں السلام علیکم‘‘ کہا تو پگڑی کا کھردرا کپڑا اس کے منہ پر تین چار مرتبہ سکڑا اور پھیلا۔مائی جیواں نے چارہ بکری کے آگے رکھ دیا اور اجنبی کو پہچاننے کی کوشش کیے بغیر کہا، ’’وعلیکم السلام۔ ۔۔آؤ بھائی بیٹھو۔ آگ تاپو۔‘‘\n\nمائی جیواں کمر پر ہاتھ رکھ کر اس گڑھے کی طرف بڑھی جہاں ہر روز آگ سلگتی رہتی تھی۔ اجنبی اور وہ دونوں پاس پاس بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر ہاتھ تاپ کر اس آدمی نے مائی جیواں سے کہا، ’’ماں، اللہ بخشے، گاماں سائیں مجھے باپ کی طرح چاہتا تھا۔ اس کے مرنے کی خبر ملی تو مجھے بہت صدمہ ہوا۔ مجھے آسیب ہوگیا تھا، قبرستان کا جن ایسا چمٹا تھا کہ اللہ کی پناہ، گاما سائیں کے ایک ہی تعویذ سے یہ کالی بلا دور ہوگئی۔‘‘\n\nمائی جیواں خاموشی سے اجنبی کی باتیں سنتی رہی جو کہ اس کے شوہر کا بہت ہی معتقد نظر آتا تھا۔ اس نے اِدھر اُدھر کی اوربہت سی باتیں کرنے کے بعد بڑھیا سے کہا، ’’میں بارہ کوس سے چل کر آیا ہوں، ایک خاص بات کہنے کے لیے۔‘‘اجنبی نے رازداری کے انداز میں اپنے چاروں طرف دیکھا کہ اس کی بات کوئی اور تو نہیں سن رہا اور بھنچے ہوئے لہجہ میں کہنے لگا،’’میں سندر ڈاکو کے گروہ کا آدمی ہوں۔ پرسوں رات ہم لوگ اس گاؤں پر ڈاکا مارنے والے ہیں۔ خون خرابہ ضرور ہوگا، اس لیے میں تم سے یہ کہنے آیا ہوں کہ اپنے لڑکوں کو دور ہی رکھنا۔ میں نے سنا ہے کہ گاما سائیں مرحوم نے اپنے پیچھے دو لڑکے چھوڑے ہیں۔ جو ان آدمیوں کا لہو ہے بابا، ایسا نہ ہو کہ جوش مار اٹھے اور لینے کے دینے پڑ جائیں۔ تم ان کو پرسوں گاؤں سے کہیں باہر بھیج دو تو ٹھیک رہے گا۔ بس مجھے یہی کہنا تھا۔ میں نے اپنا حق ادا کردیا ہے۔ السلام علیکم۔‘‘\n\nاجنبی اپنے ہاتھوں کو آگ کے الاؤ پر زور زور سے مل کر اٹھا اور جس راستے سے آیا تھا اسی راستے سے باہر چلا گیا۔\n\nسندر جاٹ بہت بڑا ڈاکو تھا۔ اس کی دہشت اتنی تھی کہ مائیں اپنے بچوں کو اسی کا نام لے کر ڈرایا کرتی تھیں۔ بے شمار گیت اس کی بہادری اور بےباکی کے گاؤں کی جوان لڑکیوں کو یاد تھے۔ اس کا نام سن کر بہت سی کنواریوں کے دل دھڑکنے لگتے تھے۔ سندر جاٹ کو بہت کم لوگوں نے دیکھا تھا مگر جب چوپال میں لوگ جمع ہوتے تھے تو ہر شخص اس سے اپنی اچانک ملاقات کے من گھڑت قصے سنانے میں ایک خاص لذت محسوس کرتا تھا۔ اس کے قدوقامت اور ڈیل ڈول کے بارے میں مختلف بیان تھے: بعض کہتے تھے کہ وہ بہت قد آور جوان ہے، بڑی بڑی مونچھوں والا۔ ان مونچھوں کے بالوں کے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہ دو بڑے بڑے لیموں ان کی مدد سے اٹھا سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ بیان تھا کہ اس کا قد معمولی ہے مگر بدن اس قدر گٹھا ہوا ہے کہ گینڈے کا بھی نہ ہوگا۔ بہرحال سب متفقہ طور پر اس کی طاقت اور بےباکی کے معترف تھے۔\n\nجب مائی جیواں نے یہ سنا کہ سندر جاٹ ان کے گاؤں پر ڈاکا ڈالنے کے لیے آرہا ہے تو اس کے آئے اوسان خطا ہوگئے اور وہ اس اجنبی کے سلام کا جواب تک نہ دے سکی اور نہ اس کا شکریہ ادا کرسکی۔ مائی جیواں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ سندر جاٹ کا ڈاکا کیا معنی رکھتا ہے۔ پچھلی دفعہ جب اس نے ساتھ والے گاؤں پر حملہ کیا تھا تو سکھی مہاجن کی ساری جمع پونجی غائب ہوگئی تھی اور گاؤں کی سب سے سندر اور چنچل چھوکری بھی ایسی گُم ہوئی تھی کہ اب تک اس کا پتہ نہیں ملتا تھا۔یہ بلا اب ان کے گاؤں پر نازل ہونے والی تھی اور اس کا علم سوائے مائی جیواں کے، گاؤں میں کسی اور کو نہ تھا۔ مائی جیواں نے سوچا کہ وہ اس آنے والے بھونچال کی خبر کس کس کو دے۔۔۔ چودھری کے گھر خبر کردے۔۔۔ لیکن نہیں وہ تو بڑے کمینے لوگ تھے۔ پچھلے دنوں اس نے تھوڑا سا ساگ ان سے مانگا تھا تو انھوں نے انکار کردیا تھا۔ گھسیٹا رام حلوائی کو متنبہ کردے۔۔۔ نہیں، وہ بھی ٹھیک آدمی نہیں تھا۔\n\nوہ دیر تک ان ہی خیالات میں غرق رہی۔ گاؤں کے سارے آدمی وہ ایک ایک کرکے اپنے دماغ میں لائی اور ان میں سے کسی ایک کو بھی اس نے مہربانی کے قابل نہ سمجھا۔ اس کے علاوہ اس نے سوچا اگر اس نے کسی کو ہمدردی کے طور پر اس راز سے آگاہ کردیا تو وہ کسی اور پر مہربانی کرے گا اور یوں سارے گاؤں والوں کو پتہ چل جائے گا جس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔ آخر میں وہ یہ فیصلہ کرکے اٹھی کہ اپنی ساری جمع پونجی نکال کر وہ سبز رنگ کی غلاف چڑھی قبر کے سرہانے گاڑ دے گی اور رحمان کو پاس والے گاؤں میں بھیج دے گی۔\n\nجب وہ سامنے والی کوٹھری کی طرف بڑھی تو دہلیز میں اسے عبدالغفار یعنی کبوتروں والاسائیں کھڑا نظر آیا۔ ماں کو دیکھ کر وہ ہنسا۔ اس کی یہ ہنسی آج خلافِ معمول معنی خیز تھی۔ مائی جیواں کو اس کی آنکھوں میں سنجیدگی اور متانت کی جھلک بھی نظر آئی جو کہ ہوش مندی کی نشانی ہے۔ جب وہ کوٹھری کے اندر جانے لگی تو عبدالغفار نے پوچھا،’’ماں،یہ صبح سویرے کون آدمی آیا تھا؟‘‘\n\nعبدالغفار اس قسم کے سوال عام طور پر پوچھا کرتا تھا، اس لیے اس کی ماں جواب دیے بغیر اندر چلی گئی اور اپنے چھوٹے لڑکے کو جگانے لگی، ’’اے رحمان، اے رحمان اٹھ اُٹھ۔‘‘بازو جھنجھوڑ کر مائی جیواں نے اپنے چھوٹے لڑکے رحمان کو جگایا اور وہ جب آنکھیں مل کر اٹھ بیٹھا اور اچھی طرح ہوش آگیا تو اس کی ماں نے اس کو ساری بات سنا دی۔ رحمان کے تو اوسان خطا ہوگئے۔ وہ بہت ڈرپوک تھا ،گو اس کی عمر اس وقت بائیس برس کی تھی اور کافی طاقتور جوان تھا مگر اس میں ہمت اور شجاعت نام تک کو نہ تھی۔ سندر جاٹ!اتنا بڑا ڈاکو، جس کے متعلق مشہور تھا کہ وہ تھوک پھینکتا تھا تو پورے بیس گز کے فاصلے پر جا کر گرتا تھا، پرسوں ڈاکا ڈالنے اور لوٹ مار کرنے کے لیے آرہا تھا۔وہ فوراً اپنی ماں کے مشورے پر راضی ہوگیا بلکہ یوں کہیے کہ وہ اسی وقت گاؤں چھوڑنے کی تیاریاں کرنے لگا۔\n\nرحمان کو نیتی چمارن یعنی عنایت سے محبت تھی جو کہ گاؤں کی ایک بےباک، شوخ اور چنچل لڑکی تھی۔ گاؤں کے سب جوان لڑکے، شباب کی یہ پوٹلی حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے مگر وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ بڑے بڑے ہوشیار لڑکوں کو وہ باتوں باتوں میں اڑا دیتی تھی۔ چودھری دین محمد کے لڑکے فضل دین کو کلائی پکڑنے میں کمال حاصل تھا۔ اس فن کے بڑے بڑے ماہر دور دور سے اس کو نیچا دکھانے کے لیے آتے تھے مگر اس کی کلائی کسی سے بھی نہ مڑی تھی۔ وہ گاؤں میں اکڑ اکڑ کر چلتا تھا مگر اس کی یہ ساری اکڑفوں نیتی نے ایک ہی دن میں غائب کردی جب اس نے دھان کے کھیت میں اس سے کہا، ’’فجے، گنڈا سنگھ کی کلائی مروڑ کر تو اپنے من میں یہ مت سمجھ کہ بس اب تیرے مقابلہ میں کوئی آدمی نہیں رہا۔۔۔ آ، میرے سامنے بیٹھ، میری کلائی پکڑ، ان دو انگلیوں کی ایک ہی ٹھمکی سے تیرے دونوں ہاتھ نہ چھڑا دوں تو نیتی نام نہیں۔۔۔‘‘\n\nفضل دین اس کو محبت کی نگاہوں سے دیکھتا تھا اور اسے یقین تھا کہ اس کی طاقت اور شہ زوری کے رعب اور دبدبے میں آکر وہ خودبخود ایک روز رام ہو جائیگی۔ لیکن جب اس نے کئی آدمیوں کے سامنے اس کو مقابلے کی دعوت دی تو وہ پسینہ پسینہ ہوگیا۔ اگر وہ انکارکرتا ہے تو نیتی اور بھی سر پر چڑھ جاتی ہے اور اگر وہ اس کی دعوت قبول کرتا ہے تو لوگ یہی کہیں گے، عورت ذات سے مقابلہ کرتے شرم تو نہیں آئی مردود کو۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کرے۔ چنانچہ اس نے نیتی کی دعوت قبول کرلی تھی۔ اور جیسا کہ لوگوں کا بیان ہے اس نے جب نیتی کی گدرائی ہوئی کلائی اپنے ہاتھوں میں لی تو وہ سارے کا سارا کانپ رہا تھا۔ نیتی کی موٹی موٹی آنکھیں اس کی آنکھوں میں دھنس گئیں، ایک نعرہ بلند ہوا اور نیتی کی کلائی فضل کی گرفت سے آزاد ہوگئی۔۔۔ اس دن سے لےکر اب تک فضل نے پھر کبھی کسی کی کلائی نہیں پکڑی۔\n\nہاں، تو اس نیتی سے رحمان کو محبت تھی، جیسا کہ وہ آپ ڈرپوک تھا اسی طرح اس کا پریم بھی ڈرپوک تھا۔ دور سے دیکھ کروہ اپنے دل کی ہوّس پوری کرتا تھا اور جب کبھی اس کے پاس ہوتی تو اس کو اتنی جرأت نہیں ہوتی تھی کہ حرفِ مدعا زبان پر لائے۔ مگر نیتی سب کچھ جانتی تھی۔ وہ کیا کچھ نہیں جانتی تھی۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ چھوکرا جو درختوں کے تنوں کے ساتھ پیٹھ ٹیکے کھڑا رہتا ہے، اس کے عشق میں گرفتار ہے، اس کے عشق میں کون گرفتار نہیں تھا؟ سب اس سے محبت کرتے تھے۔ اس قسم کی محبت جو کہ بیریوں کے بیرپکنے پر گاؤں کے جوان لڑکے اپنی رگوں کے تناؤ کے اندر محسوس کیا کرتے ہیں مگر وہ ابھی تک کسی کی محبت میں گرفتار نہیں ہوئی تھی۔ محبت کرنے کی خواہش البتہ اس کے دل میں اس قدر موجود تھی کہ بالکل اس شرابی کے مانند معلوم ہوتی تھی جس کے متعلق ڈر رہا کرتا ہے کہ اب گرا اور اب گرا۔۔۔ وہ بے خبری کے عالم میں ایک بہت اونچی چٹان کی چوٹی پر پہنچ چکی تھی اور اب تمام گاؤں والے اس کی افتاد کے منتظر تھے جو کہ یقینی تھی۔\n\nرحمان کو بھی اس افتاد کا یقین تھا مگر اس کا ڈرپوک دل ہمیشہ اسے ڈھارس دیا کرتا تھا کہ نہیں، نیتی آخر تیری ہی باندی بنے گی اور وہ یوں خوش ہوجایا کرتا تھا۔جب رحمان دس کوس طے کرکے دوسرے گاؤں میں پہنچنے کے لیے تیار ہو کر تکیے سے باہر نکلا تو اسے راستے میں نیتی کا خیال آیا مگر اس وقت اس نے یہ نہ سوچا کہ سندر جاٹ دھاوا بولنے والا ہے۔وہ دراصل نیتی کے تصور میں اس قدر مگن تھا اور اکیلے میں اس کے ساتھ من ہی من میں اتنے زوروں سے پیار محبت کررہا تھا کہ اسے کسی اور بات کا خیال ہی نہ آیا۔ البتہ جب وہ گاؤں سے پانچ کوس آگے نکل گیا تو ایکا ایکی اس نے سوچا کہ نیتی کو تو بتا دینا چاہیے تھا کہ سندر جاٹ آرہا ہے۔ لیکن اب واپس کون جاتا۔\n\nعبدالغفاریعنی کبوتروں والا سائیں تکیے سے باہر نکلا۔ اس کے منہ سے لعاب نکل رہا تھا جو کہ میلے کرتے پر گر کر دیر تک گلیسرین کی طرح چمکتا رہتا تھا۔ تکیے سے نکل کروہ سیدھا کھیتوں کا رخ کیا کرتا تھا اور سارا دن وہیں گزار دیتا تھا۔ شام کو جب ڈھورڈنگر واپس گاؤں کو آتے تو ان کے چلنے سے جو دھول اڑتی ہے اس کے پیچھے کبھی کبھی غفار کی شکل نظر آجاتی تھی۔ گاؤں اس کو پسند نہیں تھا۔ اجاڑ اور سنسان جگہوں سے اسے غیر محسوس طور پر محبت تھی۔یہاں بھی لوگ اس کا پیچھا نہ چھوڑتے تھے اور اس سے طرح طرح کے سوال پوچھتے تھے۔ جب برسات میں دیر ہو جاتی تو قریب قریب سب کسان اس سے درخواست کرتے تھے کہ وہ پانی بھرے بادلوں کےلیے دعا مانگے اور گاؤں کے عشق پیشہ جوان اس سے اپنے دل کا حال بیان کرتے اور پوچھتے کہ وہ کب اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے، نوجوان چھوکریاں بھی چپکے چپکے دھڑکتے ہوئے دلوں سے اس کے سامنے اپنی محبت کا اعتراف کرتی تھیں اور یہ جاننا چاہتی تھیں کہ ان کے’’ماہیا‘‘ کا دل کیسا ہے۔ عبدالغفار ان سوالیوں کو اوٹ پٹانگ جواب دیا کرتا تھا اس لیے کہ اسے غیب کی باتیں کہاں معلوم تھیں، لیکن لوگ جو اس کے پاس سوال لےکر آتے تھے، اس کی بے ربط باتوں میں اپنا مطلب ڈھونڈ لیا کرتے تھے۔\n\nعبدالغفار مختلف کھیتوں میں سے ہوتا ہوا اس کنویں کے پاس پہنچ گیا جو کہ ایک زمانے سے بےکار پڑا تھا۔ اس کنویں کی حالت بہت ابتر تھی۔ اس بوڑھے برگد کے پتے جو کہ سالہا سال سے اس کے پہلو میں کھڑا تھا اس قدر اس میں جمع ہوگئے تھے کہ اب پانی نظر ہی نہ آتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا کہ بہت سی مکڑیوں نے مل کر پانی کی سطح پر موٹا سا جالا بُن دیا ہے۔ اس کنویں کی ٹوٹی ہوئی منڈیر پر عبدالغفار بیٹھ گیا اور دوپہرکی اداس فضا میں اس نے اپنے وجود سے اور بھی اداسی پیدا کردی۔\n\nدفعتاً اڑتی ہوئی چیلوں کی اداس چیخوں کو عقب میں چھوڑتی ہوئی ایک بلند آواز اٹھی اور بوڑھے برگد کی شاخوں میں ایک کپکپاہٹ سی دوڑ گئی۔\n\nنیتی گا رہی تھی،\n\nماہی مرے نے باگ لوایا\n\nچمپا، مہ وا خوب کھلایا\n\nاسی تے لوایاں کھٹیاں وے\n\nراتیں سونٹرنہیں، دیندیاں اکھیاں وے\n\nاس گیت کا مطلب یہ تھا کہ میرے ماہیا یعنی میرے چاہنے والے نے ایک باغ لگایا ہے، اس میں ہر طرح کے پھول اگائے ہیں، چمپا، مہ و ا وغیرہ کھلائے ہیں۔ اور ہم نے تو صرف نارنگیاں لگائی ہیں۔۔۔ رات کو آنکھیں سونے نہیں دیتیں۔۔۔ کتنی انکساری برتی گئی ہے۔ معشوق عاشق کے لگائے ہوئے باغ کی تعریف کرتا ہے، لیکن وہ اپنی جوانی کے باغ کی طرف نہایت انکسارانہ طور پر اشارہ کرتا ہے جس میں حقیر نارنگیاں لگی ہیں اور پھر شب خوابی کا گلہ کس خوبی سے کیا گیا ہے۔\n\nگو عبدالغفار میں نازک جذبات بالکل نہیں تھے پھر بھی نیتی کی جوان آواز نے اس کو چونکا دیا اور وہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ اس نے پہچان لیا تھا کہ یہ آواز نیتی کی ہے۔گاتی گاتی نیتی کنویں کی طرف آنکلی۔ غفار کو دیکھ کروہ دوڑی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی،’’اوہ، غفار سائیں۔۔۔ تم۔۔۔ اوہ، مجھے تم سے کتنی باتیں پوچھنا ہیں۔۔۔ اور اس وقت یہاں تمہارے اور میرے سوا اور کوئی بھی نہیں۔۔۔ دیکھو میں تمہارا منہ میٹھا کراؤں گی اگر تم نے میرے دل کی بات بوجھ لی اور۔۔۔ لیکن تم تو سب کچھ جانتے ہو۔۔۔ اللہ والوں سے کسی کے دل کا حال چھپا تھوڑی رہتا ہے۔‘‘وہ اس کے پاس زمین پر بیٹھ گئی اور اس کے میلے کرتے پر ہاتھ پھیرنے لگی۔\n\nخلافِ معمول کبوتروں والا سائیں مسکرایا مگر نیتی اس کی طرف دیکھ نہیں رہی تھی، اس کی نگاہیں گاڑھے کے تانے بانے پربغیر کسی مطلب کے تیر رہی تھیں۔ کھردرے کپڑے پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے اس نے گردن اُٹھائی اور آہوں میں کہنا شروع کیا، ’’غفار سائیں تم اللہ میاں سے محبت کرتے ہو اور میں۔۔۔ میں ایک آدمی سے محبت کرتی ہوں۔۔۔ تم میرے دل کا حال کیا سمجھو گے۔۔۔! اللہ میاں کی محبت اور اس کے بندے کی محبت ایک جیسی تو ہو نہیں سکتی۔۔۔ کیوں غفار سائیں۔۔۔ ارے تم بولتے کیوں نہیں۔۔۔ کچھ بولو۔۔۔ کچھ کہو۔۔۔ اچھا تو میں ہی بولے جاؤں گی۔۔۔ تم نہیں جانتے کہ آج میں کتنی دیر بول سکتی ہوں۔۔۔ تم سنتے سنتے تھک جاؤ گے پر میں نہیں تھکوں گی۔۔۔‘‘ یہ کہتے کہتے وہ خاموش ہوگئی اور اس کی سنجیدگی زیادہ بڑھ گئی۔ اپنے من میں غوطہ لگانے کے بعد جب وہ ابھری تو اس نے ایکا ایکی عبدالغفار سے پوچھا، ’’سائیں! میں کب تھکوں گی؟‘‘ عبدالغفار کے منہ سے لعاب نکلنا بند ہوگیا۔ اس نے کنویں کے اندر جھک کر دیکھتے ہوئے جواب دیا، ’’بہت جلد۔‘‘یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس پر نیتی نے اس کے کرتے کا دامن پکڑ لیا اور گھبرا کر پوچھا، ’’کب۔۔۔؟ کب۔۔۔؟ سائیں کب؟‘‘\n\nعبدالغفار نے اس کاکوئی جواب نہ دیا اور ببول کے جھنڈ کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ نیتی کچھ دیر کنویں کے پاس کھڑی سوچتی رہی، پھر تیز قدموں سے جدھر سائیں گیا تھا ادھر چل دی۔\n\nوہ رات جس میں سندر جاٹ گاؤں پر ڈاکا ڈالنے کے لیے آرہا تھا، مائی جیواں نے آنکھوں میں کاٹی۔ ساری رات وہ اپنی کھاٹ پر لحاف اوڑھے جاگتی رہی۔ وہ بالکل اکیلی تھی۔ رحمان کو اس نے دوسرے گاؤں بھیج دیا اور عبدالغفار نہ جانے کہاں سو گیا تھا۔ ابو پہلوان کبھی کبھی تکیے میں آگ تاپتا تاپتا وہیں الاؤ کے پاس سو جایا کرتا تھا مگر وہ صبح ہی سے دکھائی نہیں دیا تھا، چنانچہ کبوتروں کو دانہ مائی جیواں ہی نے کھلایا تھا۔\n\nتکیہ گاؤں کے اس سرے پرواقع تھا جہاں سے لوگ گاؤں کے اندر داخل ہوتے تھے۔ مائی جیواں ساری رات جاگتی رہی مگر اس کو ہلکی سی آہٹ بھی سنائی نہ دی۔ جب رات گزر گئی اور گاؤں کے مرغوں نے اذانیں دینا شروع کردیں تو وہ سندر جاٹ کی بابت سوچتی سوچتی سو گئی۔ چونکہ رات کو وہ بالکل نہ سوئی تھی اس لیے صبح بہت دیر کے بعد جاگی۔ کوٹھری سے نکل کر جب وہ باہر آئی تو اس نے دیکھا کہ ابو پہلوان کبوتروں کو دانہ دے رہا ہے اور دھوپ سارے تکیے میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس نے باہر نکلتے ہی اس سے کہا، ’’ساری رات مجھے نیند نہیں آئی۔ یہ موا بڑھاپا بڑا تنگ کررہا ہے۔ صبح سوئی ہوں اور اب اٹھی ہوں۔۔۔ ہاں تم سناؤ کل کہاں رہے ہو؟‘‘\n\nابو نے جواب دیا، ’’گاؤں میں۔‘‘\n\nاس پر مائی جیواں نے کہا، ’’کوئی تازہ خبر سناؤ۔‘‘\n\nابو نے جھولی کے سب دانے زمین پر گرا کر اور جھپٹ کر ایک کبوتر کو بڑی صفائی سے اپنے ہاتھ میں دبوچتے ہوئے کہا، ’’آج صبح چوپال پر نتھا سنگھ کہہ رہا تھا کہ گام چمار کی وہ لونڈیا۔۔۔ کیا نام ہے اس کا۔۔۔؟ ہاں وہ نیتی، کہیں بھاگ گئی ہے۔۔۔؟ میں تو کہتا ہوں اچھا ہوا۔۔۔ حرام زادی نے سارا گاؤں سر پر اٹھا رکھا تھا۔‘‘\n\n’’کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے یا کوئی اٹھا کر لے گیا ہے؟‘‘\n\n’’جانے میری بلا۔۔۔ لیکن میرے خیال میں تو وہ خود ہی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔‘‘\n\nمائی جیواں کو اس گفتگو سے اطمینان نہ ہوا۔ سندر جاٹ نے ڈاکانہیں ڈالا تھا پر ایک چھوکری تو غائب ہوگئی تھی۔ اب وہ چاہتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح نیتی کا غائب ہو جانا سندر جاٹ سے متعلق ہو جائے۔ چنانچہ وہ ان تمام لوگوں سے نیتی کے بارے میں پوچھتی رہی جو کہ تکیے میں آتے جاتے رہے لیکن جو کچھ ابو نے بتایا تھا اس سے زیادہ اسے کوئی بھی نہ بتا سکا۔\n\nشام کورحمان لوٹ آیا۔ اس نے آتے ہی ماں سے سندر جاٹ کے ڈاکےکے متعلق پوچھا۔ اس پر مائی جیواں نے کہا، ’’سندر جاٹ تو نہیں آیا بیٹا، پر نیتی کہیں غائب ہوگئی ہے۔۔۔ ایسی کہ کچھ پتہ ہی نہیں چلتا۔‘‘ رحمان کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کی ٹانگوں میں دس کوس اور چلنے کی تھکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ وہ اپنی ماں کے پاس بیٹھ گیا، اس کا چہرہ خوف ناک طور پر زرد تھا۔ایک دم یہ تبدیلی دیکھ کر مائی جیواں نے تشویش ناک لہجہ میں اس سے پوچھا، ’’کیا ہوا بیٹا؟‘‘\n\nرحمان نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور کہا، ’’کچھ نہیں ماں۔۔۔ تھک گیا ہوں۔‘‘\n\n’’ اور نیتی کل مجھ سے پوچھتی تھی، میں کب تھکوں گی؟‘‘\n\nرحمان نے پلٹ کر دیکھا تو اس کا بھائی عبدالغفار آستین سے اپنے منہ کا لعاب پونچھ رہا تھا۔ رحمان نے اس کی طرف گھور کردیکھا اور پوچھا’’ کیا کہا تھا اس نے تجھ سے؟‘‘\n\nعبدالغفار الاؤ کے پاس بیٹھ گیا، ’’کہتی تھی کہ میں تھکتی ہی نہیں۔۔۔ پر اب وہ تھک جائے گی۔‘‘\n\nرحمان نے تیزی سے پوچھا، ’’کیسے؟‘‘\n\nغفار سائیں کے چہرے پر ایک بے معنی سی مسکراہٹ پیدا ہوئی، ’’مجھے کیا معلوم۔۔۔؟ سندر جاٹ جانے اور وہ جانے۔‘‘\n\nیہ سن کر رحمان کے چہرے پر اور زیادہ زردی چھا گئی اور مائی جیواں کی جھریاں زیادہ گہرائی اختیار کرگئیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%D9%88%D8%AA%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کبک و قمری میں ہے جھگڑا کہ چمن کس کا ہے", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبک و قمری میں ہے جھگڑا کہ چمن کس کا ہے\nکل بتا دے گی خزاں یہ کہ وطن کس کا ہے\n\nفیصلہ گردش دوراں نے کیا ہے سو بار\nمرو کس کا ہے بدخشان و ختن کس کا ہے\n\nدم سے یوسف کے جب آباد تھا یعقوب کا گھر\nچرخ کہتا تھا کہ یہ بیت حزن کس کا ہے\n\nمطمئن اس سے مسلماں نہ مسیحی نہ یہود\nدوست کیا جانئے یہ چرخ کہن کس کا ہے\n\nواعظ اک عیب سے تو پاک ہے یا ذات خدا\nورنہ بے عیب زمانہ میں چلن کس کا ہے\n\nآج کچھ اور دنوں سے ہے سوا استغراق\nعزم تسخیر پھر اے شیخ زمن کس کا ہے\n\nآنکھ پڑتی ہے ہر اک اہل نظر کی تم پر\nتم میں روپ اے گل و نسرین و سمن کس کا ہے\n\nعشق ادھر عقل ادھر دھن میں چلے ہیں تیری\nرستہ اب دیکھیے دونوں میں کٹھن کس کا ہے\n\nشان دیکھی نہیں گر تو نے چمن میں اس کی\nولولہ تجھ میں یہ اے مرغ چمن کس کا ہے\n\nہیں فصاحت میں مثل واعظ و حالیؔ دونوں\nدیکھنا یہ ہے کہ بے لاگ سخن کس کا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%A9_%D9%88_%D9%82%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DA%BE%DA%AF%DA%91%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کبھو تک کے در کو کھڑے رہے کبھو آہ بھر کے چلے گئے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھو تک کے در کو کھڑے رہے کبھو آہ بھر کے چلے گئے\nترے کوچے میں جو ہم آئے بھی تو ٹھہر ٹھہر کے چلے گئے\n\nگئے باغ میں کسی گل تلے تو وہاں بھی اپنا نہ جی لگا\nلے برنگ غنچہ جمائیاں تجھے یاد کر کے چلے گئے\n\nکہیں غش میں تھا میں پڑا ہوا سنو اور قہر کی بات تم\nمجھے دیکھنے کو جو آئے وہ تو بگڑ سنور کے چلے گئے\n\nکروں مو و زلف کا کیا بیاں کہ عجیب قصہ ہے درمیاں\nیہ ادھر کو سینے پہ آ رہی وہ ادھر کمر کے چلے گئے\n\nاب انیس ہے نہ جلیس ہے نہ رفیق ہے نہ شفیق ہے\nہم اکیلے گھر میں پڑے رہے سبھی لوگ گھر کے چلے گئے\n\nیہ عجب زمانے کی رسم ہے کہ جنہوں پہ مرتے تھے ہم سدا\nپس مرگ آ وہی خاک میں ہمیں آہ دھر کے چلے گئے\n\nچڑھے کوٹھے پر تو تھے مصحفیؔ پہ نہ داؤ پر وہ مرے چڑھے\nمیں چڑھاؤں جب تلک آستیں اٹھے اور اتر کے چلے گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%D8%AA%DA%A9_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%D8%A2%DB%81_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "کبھو دکھا کے کمر اور کبھو دہاں مجھ کو", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھو دکھا کے کمر اور کبھو دہاں مجھ کو\nبہت بتنگ کیا تو نے اے میاں مجھ کو\n\nوہ دن گئے کہ اٹھاتے تھے یار نکہت گل\nہے بے دماغیٔ دل ان دلوں گراں مجھ کو\n\nمیں رہگزر میں پڑا ہوں برنگ نقش قدم\nمیں چھوڑا کس کے بھروسے پہ کارواں مجھ کو\n\nمیں ہوں تو مرغ چمن پر غلط نگاہی سے\nہیں کتنے روز کہ بھولا ہے آشیاں مجھ کو\n\nتو اتنے واسطے اے باغباں نہ کاوش کر\nبہت ہے سایۂ دیوار گلستاں مجھ کو\n\nروا رکھوں نہ کہ ہووے ملک بھی پاس مرے\nکیا ہے بسکہ محبت نے بد گماں مجھ کو\n\nمری نظر میں ہے قائمؔ یہ کائنات تمام\nنظر میں گو کوئی لاتا نہیں ہے یاں مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%85%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%D8%AF%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "کبھو نہ اس رخ روشن پہ چھائیاں دیکھیں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھو نہ اس رخ روشن پہ چھائیاں دیکھیں\nگھٹائیں چاند پہ سو بار چھائیاں دیکھیں\n\nفتادگی میں جو عزت ہے سرکشی میں کہاں\nکہ نقش پا کی یہاں رہنمائیاں دیکھیں\n\nبلائیں لیوے ہے ہاتھوں سے اس کی زلفوں کی\nیہ دست شانہ کی ہم نے رسائیاں دیکھیں\n\nچمن میں ناخن ہر برگ گل سے بلبل کی\nہزار رنگ سے عقدہ کشائیاں دیکھیں\n\nزبان تیشہ بہت کام آئی اے فرہاد\nجو عشق نے تری زور آزمائیاں دیکھیں\n\nنظر میں اپنی وہ پھرتی ہیں صورتیں ہیہات\nفلک نے خاک میں کیا کیا ملائیاں دیکھیں\n\nکسو نے لی نہ خبر غرق بحر الفت کی\nان آشناؤں کی یہ آشنائیاں دیکھیں\n\nہماری اس کی کدورت کی وجہ کچھ نہ رہی\nکہ آئنے نے دلوں کی صفائیاں دیکھیں\n\nہم اپنا تجھ کو ہوا خواہ جانتے تھے صبا\nبہاریں تو نے بھی تنہا اڑائیاں دیکھیں\n\nبیان کس سے کروں اپنی تیرہ بختی کا\nاندھیری راتیں وہ اے دل پھر آئیاں دیکھیں\n\nنصیرؔ کیجے وفا کب تلک بقول میرؔ\nجفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D8%B1%D8%AE_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D9%BE%DB%81_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کبھو ہم سے بھی وفا کیجئے گا", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھو ہم سے بھی وفا کیجئے گا\nیا یہی جور و جفا کیجئے گا\n\nدیکھیں دشنام کہاں تک دوگے\nدم میں سو بار دعا کیجئے گا\n\nنظر آتا ہے گرہ زلف سے کھول\nہر طرف فتنہ بپا کیجئے گا\n\nجان و دل سے بھی گزر جائیں گے\nاگر ایسا ہی خفا کیجئے گا\n\nکی ہے بندے کے لئے یہ بیداد\nرحم ٹک بہر خدا کیجئے گا\n\nعشق کے صدقے اٹھاتا تھا دل\nاب تو وہ بھی نہیں کیا کیجئے گا\n\nاب تو ٹک میرا کہا کیجئے پھر\nچاہئے گا سو کہا کیجئے گا\n\nگو اسے اہل وفا سے ہے خلاف\nاب اثرؔ تو بھی وفا کیجئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کبھی آوارہ و بے خانماں عشق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کبھی آوارہ و بے خانماں عشق\nکبھی شاہِ شہاں نوشیرواں عشق\nکبھی میداں میں آتا ہے زرہ پوش\nکبھی عُریان و بے تیغ و سناں عشق!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "کبھی ادھر جو سگ کوئے یار آ نکلا", "poet_page": "مصنف:میاں داد خاں سیاح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی ادھر جو سگ کوئے یار آ نکلا\nگماں ہوا مرے ویرانہ میں ہما نکلا\n\nرخ اس کا دیکھ ہوا زرد نیر اعظم\nسنہرے برج سے جس دم وہ مہ لقا نکلا\n\nوہ سن کے پاک محبت کا نام کہتے ہیں\nہماری جان کو لو یہ بھی پارسا نکلا\n\nہمارے پاؤں پڑے آ کے آبلے ہر گام\nکبھی جو دشت جنوں میں برہنہ پا نکلا\n\nمہ صیام میں آیا جو وہ ہلال ابرو\nگماں ہوا یہ مجھے چاند عید کا نکلا\n\nجہاں کی سیر تو کی تو نے لیکن اے شہ حسن\nکبھی فقیر کے تکیے پہ تو نہ آ نکلا\n\nنہ نکلا وہم کے مارے وہ گھر سے بھی سیاحؔ\nگلی سے یار کے تابوت جب مرا نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%DA%AF_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "کبھی انجمؔ اسے ہشیار تو کر", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "کبھی انجمؔ اسے ہشیار تو کر\nکوئی نالہ پس دیوار تو کر\n\nدل بے تاب کو تسکین تو ہو\nنہ دے بوسہ مگر اقرار تو کر\n\nکہیں معشوق تو مشہور تو ہو\nہمیں رسوا سر بازار تو کر\n\nتجھے معلوم تو ہو حال میرا\nذرا آنے کا تو انکار تو کر\n\nانہیں انجمؔ کبھی تو دیکھ تو لے\nکسی دن حال دل اظہار تو کر", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D8%94_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DB%81%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کبھی اے اشک تر آنکھوں سے ڈھل پڑ", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "کبھی اے اشک تر آنکھوں سے ڈھل پڑ\nکبھی اے آہ دل منہ سے نکل پڑ\n\nنہ اے پاۓ تصور اتنا شل پڑ\nکبھی تو لا مکاں سے آگے چل پڑ\n\nہوا وہ بت نہ دو دن بھی کبھی رام\nجہنم میں تو اے علم و عمل پڑ\n\nوہ رقصاں بزم میں ہیں تو بھی اے دل\nکبھی تو وجد میں آ کر اچھل پڑ\n\nکسی دن تو کبھی اے ابر رحمت\nمرے بیت الحزن میں بھی انڈل پڑ\n\nگل عارض پہ ان کے مثل بلبل\nکبھی او طفل دل تو بھی مچل پڑ\n\nمرے آگے کبھی ہاتھ اپنے دھو کر\nرقیبوں کے بھی پیچھے اے اجل پڑ\n\nبہے گو عالم امکاں پر اے چشم\nکبھی تو صورت زمزم ابل پڑ\n\nنبھی اک پل کبھی جس سے نہ اے دل\nاسی سرکش کے پھر قدموں پہ چل پڑ\n\nکبھی او شعر وصف ساعد یار\nمرے خامے کے بھی سانچے سے ڈھل پڑ\n\nوقارؔ اس بزم میں تو بھی صدف وار\nدہان پاک سے موتی اگل پڑ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%DB%92_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%AA%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%88%DA%BE%D9%84_%D9%BE%DA%91"} {"title": "کبھی اے حقیقت دلبری سمٹ آ نگاہ مجاز میں", "poet_page": "مصنف:عبدالعلیم آسی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی اے حقیقت دلبری سمٹ آ نگاہ مجاز میں\nکہ تڑپ رہے ہیں ہزاروں دل رہ عشق سینہ گداز میں\n\nیہ کشش یہ جذب یہ معجزہ نگہ یتیم حجاز میں\nکہ پڑے تھے سیکڑوں غزنوی بھی جہاں لباس مجاز میں\n\nفقط ایک نقطہ گناہ کا سر چرخ ابر سیہ بنا\nنظر آئیں مجھ کو جو وسعتیں تری عفو بندہ نواز میں\n\nیہ نہیں کہ ہم میں نہیں ہیں وہ یہ نہیں کہ عین ہمی ہیں وہ\nمگر اک حقیقت معنوی ہے نہاں لباس مجاز میں\n\nنہ انا غلط تھا نہ حق غلط مگر اتنی سی غلطی ہوئی\nیہ جو راز تھا اسے چاہیے تھا چھپانا پردۂ راز میں\n\nجسے پی کے پیر بنے جواں جسے پی کے چیخ اٹھے جواں\nیہ وہ مے ہے ساقیٔ مے کشاں تری چشم بادہ نواز میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%DB%92_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D9%85%D9%B9_%D8%A2_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%85%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کبھی اے حقیقتِ منتظَر! نظر آ لباسِ مجاز میں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "کبھی اے حقیقتِ منتظَر! نظر آ لباسِ مجاز میں\nکہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں\n\nطرَب آشنائے خروش ہو، تُو نَوا ہے محرمِ گوش ہو\nوہ سرود کیا کہ چھُپا ہوا ہو سکوتِ پردۂ ساز میں\n\nتُو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئنہ ہے وہ آئنہ\nکہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئنہ ساز میں\n\nدمِ طوف کرمکِ شمع نے یہ کہا کہ وہ اَثرِ کہن\nنہ تری حکایتِ سوز میں، نہ مری حدیثِ گداز میں\n\nنہ کہیں جہاں میں اماں مِلی، جو اماں مِلی تو کہاں مِلی\nمرے جُرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں\n\nنہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حُسن میں رہیں شوخیاں\nنہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زُلفِ ایاز میں\n\nجو میں سر بسجدہ ہُوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا\nترا دل تو ہے صنَم آشنا، تجھے کیا مِلے گا نماز میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%DB%92_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%D9%90_%D9%85%D9%86%D8%AA%D8%B8%D9%8E%D8%B1%21_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2_%D9%84%D8%A8%D8%A7%D8%B3%D9%90_%D9%85%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کبھی بالوں کو سلجھایا تو ہوتا", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "کبھی بالوں کو سلجھایا تو ہوتا\nمجھے شانے سے الجھایا تو ہوتا\n\nبگڑ جاتا ابھی منہ آئنے کا\nتمہارے روبرو آیا تو ہوتا\n\nگل یوسف زلیخائی دکھاتا\nچمن میں وہ عزیز آیا تو ہوتا\n\nزبان بوسۂ لب دے کر اے یار\nنہ دیدے دل کو للچایا تو ہوتا\n\nمجھے وارفتگی جانے نہ دیتی\nولیکن تم نے بلوایا تو ہوتا\n\nوہ کہتے غیر سے کہتے پر اے دل\nزباں پر مدعا لایا تو ہوتا\n\nرخ رنگیں ترا گر دیکھتا گل\nنہ اڑ جاتا تو پتایا تو ہوتا\n\nسہارے پر سحر ہوتی شب ہجر\nنہ آتے وعدہ فرمایا تو ہوتا\n\nنہ پایا تم کو میں نے تو گلا کیا\nکبھی خود آپ کو پایا تو ہوتا\n\nمسیحائی نہ کرتا گو وہ کافر\nجنازے پر مرے آیا تو ہوتا\n\nنہ دیتا لے کے دل وہ پر بلا سے\nمرا دل ہاتھ میں لایا تو ہوتا\n\nمیں تھا گم کردۂ عشق کمر یار\nکبھی عنقا سے ڈھونڈھوایا تو ہوتا\n\nمیں کرتا شکر مقدم میں فدا جاں\nفرشتہ موت کا آیا تو ہوتا\n\nنہ رہتا دست وحشت آستیں میں\nجنوں نے پاؤں پھیلایا تو ہوتا\n\nمیں اڑ چلتا بہ رنگ صوت ناقوس\nوقارؔ اس بت نے بلوایا تو ہوتا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%84%D8%AC%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کبھی تقصیر جس نے کی ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی تقصیر جس نے کی ہی نہیں\nہم سے پوچھو تو آدمی ہی نہیں\n\nمر چکے جیتے جی خوشا قسمت\nاس سے اچھی تو زندگی ہی نہیں\n\nدوستی اور کسی غرض کے لئے\nوہ تجارت ہے دوستی ہی نہیں\n\nیا وفا ہی نہ تھی زمانے میں\nیا مگر دوستوں نے کی ہی نہیں\n\nکچھ مری بات کیمیا تو نہ تھی\nایسی بگڑی کہ پھر بنی ہی نہیں\n\nجس خوشی کو نہ ہو قیام و دوام\nغم سے بد تر ہے وہ خوشی ہی نہیں\n\nبندگی کا شعور ہے جب تک\nبندہ پرور وہ بندگی ہی نہیں\n\nایک دو گھونٹ جام وحدت کے\nجو نہ پی لے وہ متقی ہی نہیں\n\nکی ہے زاہد نے آپ دنیا ترک\nیا مقدر میں اس کے تھی ہی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%82%D8%B5%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کبھی تم مول لینے ہم کوں ہنس ہنس بھاؤ کرتے ہو", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی تم مول لینے ہم کوں ہنس ہنس بھاؤ کرتے ہو\nکبھی تیر نگاہ تند کا برساؤ کرتے ہو\n\nکبھی تم سرد کرتے ہو دلوں کی آگ گرمی سیں\nکبھی تم سرد مہری سیں جھٹک کر باؤ کرتے ہو\n\nکبھی تم صاف کرتے ہو مرے دل کی کدورت کوں\nکبھی تم بے سبب تیوری چڑھا کر تاؤ کرتے ہو\n\nکبھی تم موم ہو جاتے ہو جب میں گرم ہوتا ہوں\nکبھی میں سرد ہوتا ہوں تو تم بھڑکاؤ کرتے ہو\n\nکبھی لا لا مجھے دیتے ہو اپنے ہات سیں پیالا\nکبھی تم شیشۂ دل پر مرے پتھراؤ کرتے ہو\n\nکبھی تم دھول اڑاتے ہو مری غصے سیں روکھے ہو\nکبھی منہ پر حیا کا لا عرق چھڑکاؤ کرتے ہو\n\nکبھی خوش ہو کے کرتے ہو سراجؔ اپنے کی جاں بخشی\nکبھی اس کے بجھا دینے کوں کیا کیا داؤ کرتے ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%85_%D9%85%D9%88%D9%84_%D9%84%DB%8C%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%86%D8%B3_%DB%81%D9%86%D8%B3_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A4_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "کبھی تنہائیِ کوہ و دمن عشق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کبھی تنہائیِ کوہ و دمن عشق\nکبھی سوز و سرُور و انجمن عشق\nکبھی سرمایۂ محراب و منبر\nکبھی مولا علیؓ خیبر شکن عشق!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%90_%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%88_%D8%AF%D9%85%D9%86_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "کبھی تو آؤ ہمارے بھی جان کوٹھے پر", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی تو آؤ ہمارے بھی جان کوٹھے پر\nلیا ہے ہم نے اکیلا مکان کوٹھے پر\n\nکھڑے جو ہوتے ہو تم آن آن کوٹھے پر\nکرو گے حسن کی کیا تم دکان کوٹھے پر\n\nتمہیں جو شام کو دیکھا تھا بام پر میں نے\nتمام رات رہا میرا دھیان کوٹھے پر\n\nیقیں ہے بلکہ مری جان جب کہ نکلے گی\nتو آ رہے گی تمہارے ہی جان کوٹھے پر\n\nمجھے یہ ڈر ہے کسی کی نظر نہ لگ جاوے\nپھرو نہ تم کھلے بالوں سے جان کوٹھے پر\n\nبشر تو کیا ہے فرشتے کا جی نکل جاوے\nتمہارے حسن کی دیکھ آن بان کوٹھے پر\n\nجھمک دکھا کے ہمیں اور بھی پھنسانا ہے\nجبھی تو چڑھتے ہو تم جان جان کوٹھے پر\n\nتمہیں تو کیا ہے ولیکن مری خرابی ہو\nکسی کا آن پڑے اب جو دھیان کوٹھے پر\n\nگو چونے کاری میں ہوتی ہے سرخی تو ایسی\nکسی کے خون کا یہ ہے نشان کوٹھے پر\n\nیہ آرزو ہے کسی دن تو اپنے دل کا درد\nکریں ہم آن کے تم سے بیان کوٹھے پر\n\nلڑاؤ غیر سے آنکھیں کہو ہو ہم سے آہ\nکہ تھا ہمیں تو تمہارا ہی ہے دھیان کوٹھے پر\n\nخدا کے واسطے اتنا تو جھوٹ مت بولو\nکہیں نہ ٹوٹ پڑے آسمان کوٹھے پر\n\nکمند زلف کی لٹکا کے اس صنم نے نظیرؔ\nچڑھا لیا مجھے اپنے ندان کوٹھے پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D8%A4_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "کبھی تو بیٹھوں ہوں جا اور کبھی اٹھ آتا ہوں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی تو بیٹھوں ہوں جا اور کبھی اٹھ آتا ہوں\nمنوں ہوں آپ ہی پھر آپھی روٹھ جاتا ہوں\n\nمعاملہ تو ذرا دیکھیو تو چاہت کا\nمجھے ستاوے ہے وہ اس کو میں ستاتا ہوں\n\nرکا ہوا وہ مجھے دیکھ کر جو بولے ہے\nتو بولتا نہیں میں اس سے سر ہلاتا ہوں\n\nپر اتنے میں جو میں سوچوں ہوں یہ نہ رک جاوے\nزباں پہ اپنی بھی اک آدھ حرف لاتا ہوں\n\nکہے ہے دل یہ کہ ایسے سے دوستی ہے عبث\nبرائیوں کا جو اس کی خیال لاتا ہوں\n\nیہ کہہ کے بیٹھ رہوں ہوں جو اپنے گھر میں ذرا\nتو دل کہے ہے یہ گھبرا کے میں تو جاتا ہوں\n\nجب اپنا حال یہ دیکھوں ہوں میں تو ہونا چار\nجھپٹ کے پیچھے سے دل کے قدم اٹھاتا ہوں\n\nبتا تو مصحفیؔ کیا تجھ کو ہو گیا کم بخت\nکچھ ان دنوں ترا چہرہ تغیر پاتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "کبھی تو دیکھے ہماری عرق فشانی دھوپ", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی تو دیکھے ہماری عرق فشانی دھوپ\nجلے بھوؤں پہ کرے اپنی مہربانی دھوپ\n\nہمارے داغ کو جب آفتاب نے دیکھا\nہوا یہ زرد نظر آئے زعفرانی دھوپ\n\nتپ فراق وہ بد ہے چڑھے جو سورج کو\nپگھل کے برف کی صورت ہو پانی پانی دھوپ\n\nسفر سقر ہے ہزاروں بلائیں سر پر ہیں\nہے ایک ان میں سے آسیب آسمانی دھوپ\n\nتہہ سحاب رہے آفتاب روز فراق\nشعاعوں سے نہ کرے مجھ پہ تیغ رانی دھوپ\n\nکٹے جو رات بھی زخمیٔ ہجر کو تو کیا\nہے مار ڈالنے کو چاندنی کی ثانی دھوپ\n\nرہے شگفتہ ہم اس طرح جیسے آگ کے پھول\nکبھی نہ دشت نوردی میں ہم نے پانی دھوپ\n\nسفید بال ہوئے جیسے تیور آتے ہیں\nبہت ضعیف کو دیتے ہے سرگرانی دھوپ\n\nہمیں تو فصل زمستاں بہت خوش آتی ہے\nوہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اور وہ سہانی دھوپ\n\nلگائے ابر کا لکا نہ کس طرح چھتری\nکرے نہ چاند سے رنگت کو آسمانی دھوپ\n\nعجب نہیں گل رخسار سوسنی ہو جائیں\nبہار حسن کو ہے آفت خزانی دھوپ\n\nامیر شال‌ دوشالوں میں گرم راحت و عیش\nغریب کے لیے جاڑوں میں زندگانی دھوپ\n\nذرا سی گرم ہوا میں یہ منہ بناتی ہیں\nنہ کر سکے گی گلوں کی مزاج دانی دھوپ\n\nموافقت نہ کبھی سرد و گرم میں ہوگی\nہے چاندنی مری پیری تری جوانی دھوپ\n\nشباب یاد دلاتے ہے سر سفیدی بحرؔ\nہے آفتاب‌ جوانی کی یہ نشانی دھوپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B9%D8%B1%D9%82_%D9%81%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%BE"} {"title": "کبھی تھا ناز زمانہ کو اپنے ہند پہ بھی", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی تھا ناز زمانہ کو اپنے ہند پہ بھی\nپر اب عروج وہ علم و کمال و فن میں نہیں\n\nرگوں میں خوں ہے وہی دل وہی جگر ہے وہی\nوہی زباں ہے مگر وہ اثر سخن میں نہیں\n\nوہی ہے بزم وہی شمع ہے وہی فانوس\nفدائے بزم وہ پروانے انجمن میں نہیں\n\nوہی ہوا وہی کوئل وہی پپیہا ہے\nوہی چمن ہے پہ وہ باغباں چمن میں نہیں\n\nغرور جہل نے ہندوستاں کو لوٹ لیا\nبجز نفاق کے اب خاک بھی وطن میں نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%86%D8%AF_%D9%BE%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "کبھی جھڑکی سے کبھی پیار سے سمجھاتے رہے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی جھڑکی سے کبھی پیار سے سمجھاتے رہے\nہم گئی رات پہ دل کو لیے بہلاتے رہے\n\nاپنے اخلاق کی شہرت نے عجب دن دکھلائے\nوہ بھی آتے رہے احباب بھی ساتھ آتے رہے\n\nہم نے تو لٹ کے محبت کی روایت رکھ لی\nان سے تو پوچھیے وہ کس لیے پچھتاتے رہے\n\nاس کے تو نام سے وابستہ ہے کلیوں کا گداز\nآنسوؤ تم سے تو پتھر بھی پگھل جاتے رہے\n\nیوں تو نا اہلوں کے پینے پہ جگر کٹتا تھا\nہم بھی پیمانے کو پیمانے سے ٹکراتے رہے\n\nان کی یہ وضع قدیمانہ بھی اللہ اللہ!\nپہلے احسان کیا بعد کو شرماتے رہے\n\nیوں کسے ملتی ہے معمول سے فرصت لیکن\nہم تو اس لطف غم یار سے بھی جاتے رہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%DA%BE%DA%91%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا\nہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا\n\nہزار شکر وہ عاشق تو جانتے ہیں مجھے\nجو کہتے ہیں کہ ترا دل کہیں ضرور آیا\n\nجو با حواس تھا دیکھا اسی نے جلوۂ یار\nجسے سرور نہ آیا اسے سرور آیا\n\nخدا وہ دن بھی دکھائے کہ میں کہوں بیخودؔ\nجناب داغؔ سے ملنے میں رام پور آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کبھی خوں ہوتی ہوئے اور کبھی جلتے دیکھا", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی خوں ہوتی ہوئے اور کبھی جلتے دیکھا\nدل کو ہر بار نیا رنگ بدلتے دیکھا\n\nجب یہ چاہا کہ لکھیں وصف صفائے رخ یار\nصفحہ پر پائے قلم ہم نے پھسلتے دیکھا\n\nمے میں یہ بات کہاں جو ترے دیدے میں ہے\nجس کو دیکھا کہ گرا پھر نہ سنبھلتے دیکھا\n\nاف رے سوز دل عاشق کہ لحد پر اس کے\nسنگ مرمر صفت برف پگھلتے دیکھا\n\nدل کے لینے میں یہ قدرت اسے اللہ نہ دے\nجس کو مٹی کے کھلونے پہ مچلتے دیکھا\n\nدل کا کیا رنگ ہے تم پھر بھی نہ سمجھے افسوس\nچشمۂ چشم سے خوناب ابلتے دیکھا\n\nہے یہ ساقی کی کرامت کہ نہیں جام کے پاؤں\nاور پھر بزم میں سب نے اسے چلتے دیکھا\n\nواعظ و شیخ سبھی خوب ہیں کیا بتلاؤں\nمیں نے میخانے سے کس کس کو نکلتے دیکھا\n\nپردہ کیوں کرتا ہے ناظمؔ ترے گھر آئے تھے\nرات کو ہم نے انہیں بھیس بدلتے دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کبھی دامان دل پر داغ مایوسی نہیں آیا", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی دامان دل پر داغ مایوسی نہیں آیا\nادھر وعدہ کیا اس نے ادھر دل کو یقیں آیا\n\nمحبت آشنا دل مذہب و ملت کو کیا جانے\nہوئی روشن جہاں بھی شمع پروانہ نہیں آیا\n\nدوعالم سے گزر کے بھی دل عاشق ہے آوارہ\nابھی تک یہ مسافر اپنی منزل پر نہیں آیا\n\nمری جانب سے ان کے دل میں کس شکوے پہ کینہ ہے\nوہ شکوہ جو زباں پر کیا ابھی دل میں نہیں آیا\n\nحیات بے خودی کچھ ایسی نا محسوس تھی ناطقؔ\nاجل آئی تو مجھ کو اپنی ہستی کا یقیں آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D9%85%D8%A7%DB%8C%D9%88%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کبھی دریا سے مثلِ موج ابھر کر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "کبھی دریا سے مثلِ موج ابھر کر\nکبھی دریا کے سینے میں اُتر کر\nکبھی دریا کے ساحل سے گزر کر\nمقام اپنی خودی کا فاش تر کر!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AB%D9%84%D9%90_%D9%85%D9%88%D8%AC_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کبھی دیکھیں جو روئے یار درخت", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی دیکھیں جو روئے یار درخت\nاپنے پھولوں کو سمجھیں خار درخت\n\nچار سو ہے انہیں کا لکھ پیڑا\nیہ عناصر کے ہیں جو چار درخت\n\nمیرے گلزار میں ہیں شعلے پھول\nمیرے ہر آہ شعلہ بار درخت\n\nسو فساد ایک عشق میں اٹھے\nبویا اک تخم اگے ہزار درخت\n\nجب چلا باغ سے وہ سرو رواں\nہو گئے طائروں کو دار درخت\n\nجس کو طوبیٰ زمانہ کہتا ہے\nتیرے گھر میں ہے سایہ دار درخت\n\nتو خزاں میں جو سیر کو نکلے\nمرے ہو جائیں بے بہار درخت\n\nپھل نہ لایا نہال عشق اپنا\nپھلے پھولے ہزار بار درخت\n\nبحرؔ کیا نشہ میں خوش آتے ہیں\nنہر گلشن کے دار پار درخت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D8%AA"} {"title": "کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پر", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پر\nمیں چمن میں چاہے جہاں رہوں مرا حق ہے فصل بہار پر\n\nمجھے دیں نہ غیظ میں دھمکیاں گریں لاکھ بار یہ بجلیاں\nمری سلطنت یہ ہی آشیاں مری ملکیت یہ ہی چار پر\n\nجنہیں کہئے عشق کی وسعتیں جو ہیں خاص حسن کی عظمتیں\nیہ اسی کے قلب سے پوچھئے جسے فخر ہو غم یار پر\n\nمرے اشک خوں کی بہار ہے کہ مرقع غم یار ہے\nمری شاعری بھی نثار ہے مری چشم سحر نگار پر\n\nعجب انقلاب زمانہ ہے مرا مختصر سا فسانہ ہے\nیہی اب جو بار ہے دوش پر یہی سر تھا زانوئے یار پر\n\nیہ کمال عشق کی سازشیں یہ جمال حسن کی نازشیں\nیہ عنایتیں یہ نوازشیں مری ایک مشت غبار پر\n\nمری سمت سے اسے اے صبا یہ پیام آخر غم سنا\nابھی دیکھنا ہو تو دیکھ جا کہ خزاں ہے اپنی بہار پر\n\nیہ فریب جلوہ ہے سر بسر مجھے ڈر یہ ہے دل بے خبر\nکہیں جم نہ جائے تری نظر انہیں چند نقش و نگار پر\n\nمیں رہین درد سہی مگر مجھے اور چاہئے کیا جگرؔ\nغم یار ہے مرا شیفتہ میں فریفتہ غم یار پر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%AE_%D9%88_%D8%B3%D8%A8%D8%B2%DB%81_%D9%88_%D8%A8%D8%B1%DA%AF_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%81_%D9%88_%DA%AF%D9%84_%D9%88_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو", "poet_page": "مصنف:غلام بھیک نیرنگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو\nدن مری زیست کے کچھ اور بڑھا جاتے ہو\n\nاک جھلک تم جو لب بام دکھا جاتے ہو\nدل پہ اک کوندتی بجلی سی گرا جاتے ہو\n\nمیرے پہلو میں تم آؤ یہ کہاں میرے نصیب\nیہ بھی کیا کم ہے تصور میں تو آ جاتے ہو\n\nتازہ کر جاتے ہو تم دل میں پرانی یادیں\nخواب شیریں سے تمنا کو جگا جاتے ہو\n\nاتنی ہم کو بھی دکھاتے ہو مسیحا نفسی\nحسرت مردہ کو آ آ کے جلا جاتے ہو\n\nنگہ لطف میں جادو ہے تمہاری جاناں\nسارے شکوے گلے اک پل میں بھلا جاتے ہو\n\nشعلۂ طور سے تو وادی ایمن ہی جلا\nتم جہاں آتے ہو اک آگ لگا جاتے ہو\n\nہے تو نیرنگؔ وہی عشق کا رونا دھونا\nانہی باتوں میں نیا رنگ دکھا جاتے ہو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "کبھی قلق میں کبھی فکر و انتظار میں ہیں", "poet_page": "مصنف:رنج حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > مخبر عشق (1895)", "year": "1895", "text_ur": "کبھی قلق میں کبھی فکر و انتظار میں ہیں\nہزار طرح کے صدمے فراق یار میں ہیں\n\nوہ سن کے قصۂ غم ہنستے ہنستے لوٹ گیا\nیہ شوخیاں بھی نئی شوخ گلعذار میں ہیں\n\nمیں کیا بیان کروں آگے تیرے اے زاہدؔ\nعجیب کیفیتیں نشہ کے خمار میں ہیں\n\nجہاں میں ہم نے اٹھائے تھے رنج کیا کیا کچھ\nفنا کے بعد بڑے چین سے مزار میں ہیں\n\nوہ ہم کو قتل کریں چاہیں ٹکڑے ٹکڑے کریں\nہم ان کے بس میں ہیں ہم ان کے اختیار میں ہیں\n\nخدا کرے کہ نہ آئیں وہ فاتحہ پڑھنے\nکہ تین دن ابھی بھاری مجھے مزار میں ہیں\n\nنصیحت آپ تو کرتے ہیں حضرت ناصح\nمیں جانتا ہی نہیں آپ کس شمار میں ہیں\n\nپیامبر یہ بھی کہنا ہماری جانب سے\nتمہاری یاد میں ہیں اور انتظار میں ہیں\n\nخدا کے فضل سے کٹتی ہے لطف سے اے رنجؔ\nبڑے مزے میں ہیں ہم بھی بڑی بہار میں ہیں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%82%D9%84%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D9%88_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کبھی لطف زبان خوش بیاں تھے", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی لطف زبان خوش بیاں تھے\nزمین شعر کے ہم آسماں تھے\n\nلگا ٹھوکر نہ پائے ناز سے تو\nکبھی تاج سر ہندوستاں تھے\n\nزمیں پر چرخ دیتا ہے عبث تو\nکبھی پیر فلک ہم بھی جواں تھے\n\nزر گل بن گیا نالہ ہمارا\nچمن میں بھی ہمیں آتش فشاں تھے\n\nمکیں تھی روح چھوڑا جسم جس دم\nکرائے کے یہ سب قصر و مکاں تھے\n\nوہی جنگل ہے اب پر اس سے آگے\nچمن تھے گل تھے ہم تھے باغباں تھے\n\nنہیں اب ضبط باقی ناتواں ہوں\nمرے آنسو نہایت رازداں تھے\n\nمرے نالوں سے پہنچا قافلہ سب\nجرس بے کار مشغول فغاں تھے\n\nجگایا ناتواں بینوں نے ان کو\nعبث وہ مائل خواب گراں تھے\n\nدبے زیر زمیں اے چرخ مہ رو\nیہاں دو دن کے یہ سب مہماں تھے\n\nعجب موسم میں کٹتی تھی جوانی\nچمن تھا اور لطف قصہ خواں تھے\n\nکہاں مجنوں کہاں فرہادؔ و وامقؔ\nہماری موت کے سب نوحہ خواں تھے\n\nسواد لکھنؤ چھوڑا الم میں\nیہ اخترؔ بھی غضب کے خوش بیاں تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "کبھی لکھتا ہوں میں ان کو اگر خط", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "کبھی لکھتا ہوں میں ان کو اگر خط\nچلا جاتا ہے قاصد بھول کر خط\n\nنہیں آزاد کر سکتے ہمیں وہ\nلکیریں اپنے ماتھے کی ہیں سر خط\n\nجو تم بے اعتنائی سے نہ لکھتے\nنہ دیتا ہم کو قاصد پھینک کر خط\n\nمری قسمت سے بھولا نام قاصد\nنہ لکھتے تم تو ورنہ عمر بھر خط\n\nخوشی سے اٹھ کے انجمؔ پاؤں چوموں\nکہ لایا یار کا ہے نامہ بر خط", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AE%D8%B7"} {"title": "کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہے\nبدل کر وضع چھپ کر شب کو آنا یاد آتا ہے\n\nوہ باتیں بھولی بھولی اور وہ شوخی ناز و غمزہ کی\nوہ ہنس ہنس کر ترا مجھ کو رلانا یاد آتا ہے\n\nگلے میں ڈال کر بانہیں وہ لب سے لب ملا دینا\nپھر اپنے ہاتھ سے ساغر پلانا یاد آتا ہے\n\nبدلنا کروٹ اور تکیہ مرے پہلو میں رکھ دینا\nوہ سونا آپ اور میرا جگانا یاد آتا ہے\n\nوہ سیدھی الٹی اک اک منہ میں سو سو مجھ کو کہہ جانا\nدم بوسہ وہ تیرا روٹھ جانا یاد آتا ہے\n\nتسلی کو دل بیتاب کی میری دم رخصت\nنئی قسمیں وہ جھوٹی جھوٹی کھانا یاد آتا ہے\n\nوہ رشک غیر پر رو رو کے ہچکی میری بندھ جانا\nفریبوں سے وہ تیرا شک مٹانا یاد آتا ہے\n\nوہ میرا چونک چونک اٹھنا سحر کے غم سے اور تیرا\nلگا کر اپنے سینہ سے سلانا یاد آتا ہے\n\nکبھی کچھ کہہ کے وہ مجھ کو رلانا اس ستم گر کا\nپھر آنکھیں نیچی کر کے مسکرانا یاد آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آ جائے ہے، مُجھ سے\nجفائیں کر کے اپنی یاد، شرما جائے ہے، مُجھ سے\n\nخُدایا! جذبۂ دل کی مگر تاثیر اُلٹی ہے!\nکہ جتنا کھینچتا ہوں، اور کِھنچتا جائے ہے مُجھ سے\n\nوہ بَد خُو، اور میری داستانِ عشق طُولانی\nعبارت مُختصر، قاصد بھی گھبرا جائے ہے، مُجھ سے\n\nاُدھر وہ بد گمانی ہے، اِدھر یہ ناتوانی ہے\nنہ پُوچھا جائے ہے اُس سے، نہ بولا جائے ہے مجھ سے\n\nسنبھلنے دے مجھے اے نا اُمیدی! کیا قیامت ہے!\nکہ دامانِ خیالِ یار، چُھوٹا جائے ہے مُجھ سے\n\nتکلف بر طرف، نظارگی میں بھی سہی، لیکن\nوہ دیکھا جائے، کب یہ ظُلم دیکھا جائے ہے، مُجھ سے\n\nہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبردِ عشق میں زخمی\nنہ بھاگا جائے ہے مجھ سے، نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے\n\nقیامت ہے کہ ہووے مُدعی کا ہمسفر غالبؔ!\nوہ کافر، جو خُدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مُجھ سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%8C%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B1_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کبھی وفائیں کبھی بے وفائیاں دیکھیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی وفائیں کبھی بے وفائیاں دیکھیں\nمیں ان بتوں کی غرض آشنائیاں دیکھیں\n\nہم اٹھ چلے جو کبھی اس گلی کو وحشت میں\nتو اس گھڑی نہ کنویں اور نہ کھائیاں دیکھیں\n\nزہے نصیب ہیں اس کے کہ جس نے وصل کی شب\nگلے میں اپنے وہ نازک کلائیاں دیکھیں\n\nیہ سطح خاک ہے کیا رزم گاہ کا میدان\nکہ جس پہ ہوتی ہوئی نت لڑائیاں دیکھیں\n\nگلی میں اس کی یہ بازار مرگ گرم ہوا\nکہ داد خواہوں کی واں چارپائیاں دیکھیں\n\nرکھا نہ خط کبھی عارض پہ اس پری رو نے\nبرنگ آئینہ نت واں صفائیاں دیکھیں\n\nہنوز جیتے رہے ہیں تو سخت جانی سے\nوگرنہ ہم نے بھی کیا کیا جدائیاں دیکھیں\n\nنہ ہاتھ آئی مرے مصحفیؔ وہ زلف رسا\nمیں طالعوں کی بھی اپنے رسائیاں دیکھیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کبھی گیسو نہ بگڑے قاتل کے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی گیسو نہ بگڑے قاتل کے\nناز بردار ہیں مرے دل کے\n\nمجھ کو اغیار سے بھی الفت ہے\nکہ یہ کشتے ہیں میرے قاتل کے\n\nاٹھے جاتے ہیں بزم عالم سے\nآنے والے تمہاری محفل کے\n\nان کے در تک پہنچ کے مرتا ہوں\nڈوبتا ہوں قریب ساحل کے\n\nداغ دل گھٹ رہے ہیں پیری میں\nبجھ رہے ہیں چراغ محفل کے\n\nہے مسافر نواز تیغ تری\nمجھ کو رخصت کیا گلے مل کے\n\nاے رشیدؔ انسؔ تک تھے ہم شاعر\nہو گئے خاک حوصلے دل کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%AF%DA%91%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DA%A9%DB%92"} {"title": "کبھی ہوتا ہوں ظاہر جلوۂ حسن نکو ہو کر", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی ہوتا ہوں ظاہر جلوۂ حسن نکو ہو کر\nکبھی خاطر میں چھپ جاتا ہوں تیری آرزو ہو کر\n\nکبھی کم ہو کے شرماتا ہوں مثل قطرہ ساغر میں\nکبھی کثرت سے رک جاتا ہوں شیشے کا گلو ہو کر\n\nبڑھا لیتا ہوں اکثر ربط یار پاک دامن سے\nلپٹ جاتا ہوں دست و پا سے میں آب وضو ہو کر\n\nسکونت سے بہت بڑھ کے ہے میری خانہ بردوشی\nرہا کرتا ہوں ہر خاطر میں تیری جستجو ہو کر\n\nنہیں ہے احتیاج غیر وقت جوش بیتابی\nچھلک جاتا ہوں بے تکلیف ساقی میں سبو ہو کر\n\nسکھائی ہے نئی تدبیر مجھ کو میری خاطر نے\nپسند آتا ہوں دشمن کو بھی تیری گفتگو ہو کر\n\nنہیں چلتی کوئی تدبیر کیا کیا فکر کرتے ہیں\nمیں کر دیتا ہوں قائل سب کو تیری گفتگو ہو کر\n\nتقاضائے تمنا سے نہ اک جا دو گھڑی بیٹھے\nپھرایا عمر بھر عالم میں تیری جستجو ہو کر\n\nنہ کیوں کر شور ہو عالم میں میری فکر خاطر کا\nدلوں کو کھینچ لیتا ہوں تمہارا رنگ رو ہو کر\n\nنہیں ممکن کبھی تر دامنی میں فرق کچھ آئے\nبہا کرتے ہیں اشک چشم میرے آب جو ہو کر\n\nنشاں کیا پوچھتے ہو بے نشانوں کے ٹھکانوں کا\nدماغوں میں رہا کرتا ہوں میں گیسو کی بو ہو کر\n\nکبھی ملک حلب میں ہوں کبھی شہر ختن میں ہوں\nنہیں رہتا تری شہرت کی صورت ایک سو ہو کر\n\nخراش زخم سینہ مدتوں کا دور کرتا ہوں\nلپٹ جاتا ہوں جب شانے سے زلف مشک بو ہو کر\n\nکمی میں بھی مری ہستی کی ہستی اور پیدا ہے\nکبھی ابرو بھی بن جاتا ہوں قصر آبرو ہو کر\n\nاٹھا لیتا ہوں جو آئے مصیبت اپنے سر پر میں\nسہا کرتا ہوں ظلم دل ربا عاشق کی خو ہو کر\n\nبھلی کو بھی سمجھتا ہوں بری ہر دوست دشمن کی\nنہیں قابو میں میں رہتا مزاج جنگ جو ہو کر\n\nمرے سوز دروں میں سو طرح کے لطف حاصل ہیں\nجلاتا ہوں دلوں کو یاد یار شمع رو ہو کر\n\nلہو سے پیرہن تر دیکھ کر یاروں نے فرمایا\nنسیمؔ آیا ہے کوئے یار سے کیا سرخ رو ہو کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%86%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کبھی ہے آج اور کل کبھی ہے بھلا یہ عہد وصال کیا ہے", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی ہے آج اور کل کبھی ہے بھلا یہ عہد وصال کیا ہے\nہو وعدہ ایفا کہ ترک الفت یہ روزمرہ کی ٹال کیا ہے\n\nزبان بگڑی ہے آپ ہی کی ہمارا نقصان کیا ہے اس میں\nذرا تمہیں پوچھوں دل سے اپنے بھلا یہ طرز مقال کیا ہے\n\nجو مانگا اک بوسہ میں نے ان سے تو بولے کیا تو سڑی ہوا ہے\nذرا یہ باتیں سنو تو لوگو جواب کیا ہے سوال کیا ہے\n\nانہیں سر رہ اکیلا پا کر یہ بولا چھاتی سے میں لگا کر\nکہ اب تو فرما دیں بندہ پرور وصال میں قیل و قال کیا ہے\n\nہیں ترک الفت میں ہم بھی راضی یہ کہہ دو بے کھٹکے اس صنم سے\nبتوں کا اس ہند کی زمیں پر خدا کی رحمت سے کال کیا ہے\n\nکڑا رکھے آدمی جو دل کو تو جھیل لے ہر کڑی کو آساں\nبندھی ہوئی ہو جو اپنی ہمت تو کام کوئی محال کیا ہے\n\nیہ کیسی ہیں ٹھنڈی سانسیں کیفیؔ کہیں تو آیا ہے آپ کا دل\nیہ منہ نکل آیا کیوں ذرا سا بتائیے تو کہ حال کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%84_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کبھی یہاں لیے ہوئے کبھی وہاں لیے ہوئے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کبھی یہاں لیے ہوئے کبھی وہاں لیے ہوئے\nپھری ہے جستجو تری کہاں کہاں لیے ہوئے\n\nزمین دل کی خاک ہے صد آسماں لیے ہوئے\nتنزلات عشق میں ترقیاں لیے ہوئے\n\nدل و جگر لیے ہوئے متاع جاں لیے ہوئے\nکسی کا ناوک نظر تلاشیاں لیے ہوئے\n\nاسی گلی سے آئی ہے شمیم زلف لائی ہے\nنسیم صبح آئی ہے تسلیاں لیے ہوئے\n\nمرے غم نہاں میں ہے نوید عشرت آفریں\nبہار ہی بہار ہے مری خزاں لیے ہوئے\n\nہماری آہ کے شرر ہمیں کو پھونکنے لگے\nہوا کے جھونکے آئے ساتھ بجلیاں لیے ہوئے\n\nتری گلی میں ماہ رو پڑے ہوئے ہیں چار سو\nتمام ذرے خاک کے تجلیاں لیے ہوئے\n\nنہ قرب گل کی تاب تھی نہ ہجر گل میں چین تھا\nچمن چمن پھرے ہم اپنا آشیاں لیے ہوئے\n\nنگاہ اہل راز میں حقیقت و مجاز میں\nہماری بے نشانیاں ترا نشاں لیے ہوئے\n\nاٹھے ہیں حشر میں فدائے کوئے یار اس طرح\nجبیں میں سجدے دل میں یاد آستاں لئے ہوئے\n\nنہ دل ملے گا بیدمؔ اور نہ دل کی حسرتیں کہیں\nکہ گم ہوا ہے یوسف اپنا کارواں لیے ہوئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "کتاب کا خلاصہ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "خالی بوتلیں، خالی ڈبے", "year": "1950", "text_ur": "سردیوں میں انور ممٹی پر پتنگ اڑا رہا تھا۔ اس کا چھوٹا بھانجا اس کے ساتھ تھا۔ چونکہ انور کے والد کہیں باہر گئے ہوئے تھے اور وہ دیر سے واپس آنے والے تھے اس لیے وہ پوری آزادی اور بڑی بے پروائی سے پتنگ بازی میں مشغول تھا۔ پیچ ڈھیل کا تھا۔ انور بڑے زوروں سے اپنی مانگ پائی پتنگ کو ڈور پلا رہا تھا۔ اس کے بھانجے نے، جس کا چھوٹا سا دل دھک دھک کررہا تھا اور جس کی آنکھیں آسمان پر جمی ہوئی تھیں انور سے کہا، ’’ماموں جان کھینچ کے پیٹاکاٹ لیجیے۔‘‘ مگر وہ دھڑا دھڑ ڈور پلاتا رہا۔\n\nنیچے کھلے کوٹھے پر انور کی بہن سہیلیوں کے ساتھ دھوپ سینک رہی تھی۔ سب کشیدہ کاری میں مصروف تھیں۔ ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتی جاتی تھیں۔ انور کی بہن شمیم انور سے دو برس بڑی تھی۔ کشیدہ کاری اور سینے پرونے کے کام میں ماہر۔ اسی لیے گلی کی اکثر لڑکیاں اس کے پاس آتی تھیں اور گھنٹوں بیٹھی کام سیکھتی رہتی تھیں۔ ایک ہندو لڑکی جس کا نام بملا تھا، بہت دور سے آتی تھی۔ اس کا گھر قریباً دو میل پرے تھا لیکن وہ ہر روز بڑی باقاعدگی سے آتی اور بڑے انہماک سے کشیدہ کاری کے نئے نئے ڈیزائن سیکھا کرتی تھی۔\n\nبملا کا باپ اسکول ماسٹر تھا۔ بملا ابھی چھوٹی بچی ہی تھی کہ اس کی ماں کا دیہانت ہوگیا۔ بملا کا باپ لالہ ہری چرن چاہتا تو بڑی آسانی سے دوسری شادی کرسکتا تھا مگر اس کو بملا کا خیال تھا، چنانچہ وہ رنڈوا ہی رہا اور بڑے پیار محبت سے اپنی بچی کو پال پوس کر بڑا کیا۔ اب بملا سولہ برس کی تھی۔ سانولے رنگ کی دبلی پتلی لڑکی، خاموش خاموش بہت کم باتیں کرنے والی۔ بڑی شرمیلی۔ صبح دس بجے آتی۔ آپا شمیم کو پرنام کرتی اور اپنا تھیلا کھول کر کام میں مشغول ہو جاتی۔\nانور اٹھارہ برس کا تھا۔ اس کو تمام لڑکیوں میں سے صرف سعیدہ سے ہلکی سی دلچسپی تھی، لیکن یہ ہلکی سی دلچسپی کوئی اور صورت اختیار نہیں کرسکی تھی اس لیے کہ اس کی بہن اس کو لڑکیوں میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ اگر وہ کبھی ایک لحظے کے لیے ان کے پاس آبیٹھتا تو آپا شمیم فوراً ہی اس کو حکم دیتیں، ’’انور اٹھو، تمہارا یہاں کوئی کام نہیں۔‘‘ اور انور کو اس حکم کی فوری تعمیل کرنی پڑتی۔\n\nبملا البتہ کبھی کبھی انور کو بلاتی تھی، ناول لینے کے لیے۔ اس نے شمیم سے کہا تھا، ’’گھر میں میرا جی نہیں لگتا۔ پتا جی باہر شطرنج کھیلنے چلے جاتے ہیں۔ میں اکیلی پڑی رہتی ہوں۔ انور بھائی سے کہیے، مجھے ناول دے دیا کریں پڑھنے کے لیے۔‘‘\n\nپہلے تو بملا، شمیم کے ذریعے سے ناول لیتی رہی ۔پھر کچھ عرصے کے بعد اس نے براہ راست انور سے مانگنے شروع کردیے۔ انور کو بملا بڑی عجیب و غریب لڑکی لگتی تھی۔ یعنی ایسی جو بڑے غور سے دیکھنے پر دکھائی دیتی تھی۔ لڑکیوں کے جھرمٹ میں تو وہ بالکل غائب ہو جاتی تھی۔ بیٹھک میں جب وہ انور سے نیا ناول مانگنے آتی تو اس کو اس کی آمد کا اس وقت پتا چلتا جب وہ اس کے پاس آکر دھیمی آواز میں کہتی، ’’انور صاحب۔۔۔ یہ لیجئے اپنا ناول۔۔۔ شکریہ۔‘‘\n\nانور اس کی طرف دیکھتا۔ اس کے دماغ میں عجیب و غریب تشبیہ پھدک اٹھتی، ’’یہ لڑکی تو ایسی ہے جیسے کتاب کا خلاصہ۔‘‘ بملا اور کوئی بات نہ کرتی۔ پرانا ناول واپس کرکے نیا ناول لیتی اور نمستے کرکے چلی جاتی۔ انور اس کے متعلق چند لمحات سوچتا، اس کے بعد وہ اس کے دماغ سے نکل جاتی۔ لیکن انور نے ایک بات ضرورمحسوس کی تھی کہ بملا نے ایک دو بار اس سے کچھ کہنا چاہا تھا مگر کہتے کہتے رک گئی تھی۔ انور سوچتا، ’’کیا کہنا چاہتی تھی مجھ سے؟‘‘ اس کا جواب اس کا دماغ یوں دیتا، ’’کچھ بھی نہیں۔۔۔ مجھ سے وہ کیا کہنا چاہتی ہو گی بھلا؟‘‘\n\nانور ممٹی پر پتنگ اڑا رہا تھا۔ پیچ ڈھیل کا تھا، خوب ڈور پلا رہا تھا۔ دفعتاً اس کی بہن شمیم کی گھبرائی ہوئی آوازآئی، ’’انور۔۔۔ انور۔۔۔ ابا جی آگئے!‘‘\n\nانور کو اور کچھ نہ سوجھا۔ ہاتھ سے ڈور توڑی اور ممٹی پر سے نیچے کود پڑا۔ وہ کاٹا، وہ کاٹا کا شور بلند ہوا۔ انور کا گھٹنا بڑے زوروں سے چھل گیا تھا۔ ایک اس کو اس کا دکھ تھا ،اس پر اس کے حریف فاتحانہ نعرے لگا رہے تھے۔ لنگڑاتا لنگڑاتا چارپائی پر بیٹھ گیا۔ گھٹنے کو دیکھا تو اس میں سے خون بہہ رہا تھا۔ بملا سامنے بیٹھی تھی۔ اس نے اپنا دوپٹہ اتارا، کنارے پر سے تھوڑا سا پھاڑا اور پٹی بنا کر انور کے گھٹنے پر باندھ دیا۔ انور اس وقت اپنے پتنگ کے متعلق سوچ رہا تھا۔ اس کو یقین تھا کہ میدان اس کے ہاتھ رہے گا۔ لیکن اس کے باپ کی بے وقت آمد نے اسے مجبور کردیا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اتنے بڑھے ہوئے پتنگ کا خاتمہ کردے۔ حریفوں کے نعرے ابھی تک گونج رہے تھے۔ اس نے غصہ آمیز آواز میں اپنی بہن سے کہا، ’’ابا جی کو بھی اسی وقت آنا تھا۔‘‘\n\nشمیم مسکرائی، ’’وہ کب آئے ہیں۔‘‘\n\nانور چلایا، ’’کیا کہا؟‘‘\n\nشمیم ہنسی، ’’میں نے تم سے مذاق کیا تھا۔‘‘\n\nانور برس پڑا، ’’میرا بیڑا غرق کراکے آپ ہنس رہی ہیں۔۔۔ اچھا مذاق ہے۔ ایک میرا اتنا بڑھا ہوا پتنگ غارت ہوا۔ لوگوں کے آوازے سنے۔۔۔ اور گھٹنا الگ زخمی ہوا۔‘‘\n\nیہ کہہ کر انور نے اپنے گھٹنے کی طرف دیکھا۔ سفید ململ کی پٹی بندھی تھی۔ اب اس کو یہ یاد آیا کہ یہ پٹی بملا نے اپنا دوپٹہ پھاڑ کر اس کے باندھی تھی۔ اس نے شکر گزار آنکھوں سے بملا کو دیکھا اور اس کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ اس کے زخم کے درد کو محسوس کررہی ہے۔\n\nبملا، شمیم سے مخاطب ہوئی، ’’آپا! آپ نے بہت ظلم کیا۔۔۔ زیادہ چوٹ آجاتی تو۔۔۔‘‘ وہ کچھ اور کہتے کہتے رک گئی اور کشیدہ کاڑھنے میں مصروف ہوگئی۔\n\nانور کی نگاہ بملا سے ہٹ کر سعیدہ پر پڑی۔ سفید پل اوور میں وہ اسے بہت بھلی معلوم ہوئی۔ انور اس سے مخاطب ہوا، ’’سعیدہ تم ہی بتاؤ یہ مذاق اچھا تھا۔۔۔ ہنسی میں پھنسی ہو جاتی تو؟‘‘\n\nشمیم نے اسے ڈانٹ دیا، ’’جاؤ انور، تمہارا یہاں کوئی کام نہیں۔‘‘\n\nانور نے ایک نگاہ سعیدہ پر ڈالی۔ ’’بہت اچھا‘‘ کہہ کر اٹھا اور لنگڑاتا لنگڑاتا پھر ممٹی پر چڑھ گیا۔ تھوڑی دیر پتنگ اڑائے۔ غصے میں کھینچ کے ہاتھ مار کر قریباً ایک درجن پتنگ کاٹے اور نیچے اتر آیا۔ گھٹنے میں درد تھا۔ بیٹھک میں صوفے پر لیٹ گیا اور اوپر کمبل ڈال لیا۔ تھوڑی دیر اپنی فتوحات کے متعلق سوچا اور سو گیا۔\n\nتقریباً ایک گھنٹے کے بعد اس کو آواز سنائی دی جیسے کوئی اسے بلا رہا ہے۔ اس نے آنکھیں کھولیں، دیکھا سامنے بملا کھڑی تھی۔مرجھائی ہوئی، کچھ سمٹی ہوئی۔ انور نے لیٹے لیٹے پوچھا، ’’کیا ہے بملا؟‘‘\n\n’’جی، میں آپ سے کچھ۔۔۔‘‘ بملا رک گئی۔ ’’جی میں آپ سے کوئی۔۔۔ کوئی نئی کتاب دیجیے۔‘‘ انور نے کہا، ’’میرے گھٹنے میں زوروں کا درد ہے۔۔۔ وہ جو سامنے الماری ہے اسے کھول کر جو کتاب تمہیں پسند ہو لے لو۔‘‘\n\nبملا چند لمحات کھڑی رہی، پھر چونکی،’’جی؟‘‘\n\nانور نے اس کو غور سے دیکھا۔ اس دوپٹے کے پیچھے جس میں سے بملا نے پٹی پھاڑی تھی،بڑی مریل قسم کی چھاتیاں دھڑک رہی تھیں۔ انور کو اس پر ترس آیا۔ اس کی شکل وصورت، اس کے خدوخال ہی کچھ اس قسم کے تھے کہ اس کو دیکھ کر انور کے دل و دماغ میں ہمیشہ رحم کے جذبات پیدا ہوتے تھے۔ اس کو اور تو کچھ نہ سوجھا۔ یہ کہا، ’’پٹی باندھنے کا شکریہ!‘‘\n\nبملا نے کچھ کہے بغیر الماری کا رخ کیا اور اسے کھول کر کتابیں دیکھنے لگی۔ انور کے دماغ میں وہ تشبیہ پھر پھدکی،’’یہ کتاب نہیں، کتاب کا خلاصہ ہے۔۔۔ بہت ہی ردی کاغذوں پر چھپا ہوا!‘‘\n\nبملا نے ایک بار انور کو کنکھیوں سے دیکھا مگر جب اسے متوجہ پایا تو اس کی طرف پیٹھ کرلی۔ کچھ دیر کتابیں دیکھیں۔ ایک منتخب کی، الماری کو بند کیا، انورکے پاس آئی اور، ’’میں یہ لے چلی ہوں۔‘‘ کہہ کر چلی گئی۔\n\nانور نے بملا کے بارے میں سوچنے کی کوشش کی مگر اس کو سعیدہ کے سفید پل اوور کا خیال آتا رہا، ’’پل اوور پہننے سے جسم کے خط کتنے واضح ہو جاتے ہیں۔۔۔ سعیدہ کا سینہ اور اس بملا کی مریل چھاتیاں۔۔۔ جیسے ان کا دودھ الگ کرکے صرف پانی رہنے دیا گیا ہے۔۔۔ سعیدہ کے گھنگھریالے بال۔۔۔ کم بخت نے اپنے ماتھے کے زخم کے نشان کو چھپانے کا کیا ڈھنگ نکالا ہے۔۔۔ بل کھاتی ہوئی ایک لٹ چھوڑ دیتی ہے اس پر۔۔۔ اور بملا۔۔۔ جانے کیا تکلیف ہے اسے۔۔۔ آج بھی کچھ کہتے کہتے رک گئی تھی۔ مگر مجھ سے کیا کہنا چاہتی ہے۔۔۔ شاید اس کا اندازہی کچھ اس قسم کا ہو۔۔۔ ہمیشہ کتاب اسی طرح مانگتی ہے جیسے کوئی مدد مانگ رہی ہے۔کوئی سہارا ڈھونڈ رہی ہے۔۔۔ سعیدہ ماشاء اللہ آج سفید پل اوور میں قیامت ڈھا رہی تھی۔۔۔ یہ قیامت ڈھانا کیا بکواس ہے۔۔۔ قیامت تو ہر چیز کا خاتمہ ہے اور سعیدہ تو ابھی میری زندگی میں شروع ہوئی ہے۔\n\nبملا۔۔۔ بملا۔۔۔ بھئی میری سمجھ میں نہیں آئی یہ لڑکی۔۔۔ باپ تو اس کو بہت پیار کرتا ہے۔ اسی کی خاطر اس نے دوسری شادی نہ کی۔۔۔ شاید ان کو کوئی مالی تکلیف ہو۔۔۔ لیکن گھر تو خاصا اچھا تھا۔۔۔ ایک ہی پلنگ تھا لیکن بڑا شاندار۔۔۔ صوفہ سیٹ بھی برا نہیں تھا۔ اور جو کھانا میں نے کھایا تھا اس میں کوئی برائی نہیں تھی۔۔۔ سعیدہ کا گھر تو بہت ہی امیرانہ ہے۔ بڑے رئیس کی لڑکی ہے۔۔۔ اس ریاست کی ایسی تیسی۔۔۔یہی تو بہت بڑی مصیبت ہے ورنہ۔۔۔ لیکن چھوڑو جی۔۔۔ سعیدہ جوان ہے، کل کلاں بیاہ دی جائے گی۔۔۔ مجھے خدا معلوم کتنے برس لگیں گے پوری تعلیم حاصل کرنے میں۔۔۔ بی اے۔۔۔ بی اے کے بعد ولایت۔۔۔ میم۔۔۔؟ دیکھیں گے۔۔۔! لیکن سفید پل اوور خوب تھا!‘‘\n\nانور کے دماغ میں اسی قسم کے مخلوط خیالات آتے رہے، اس کے بعد وہ دوسرے کاموں میں مشغول ہوگیا۔ دوسرے روز بملا نہ آئی مگر انور نے اس کی غیر حاضری کو کچھ زیادہ محسوس نہ کیا، بس صرف اتنا دیکھا کہ وہ لڑکیوں کے جھرمٹ میں نہیں ہے۔۔۔ شاید ہو، لیکن اگلے روز جب بملا آئی تو لڑکیوں نے اس سے پوچھا، ’’بملا تم کل کیوں نہ آئیں۔‘‘\n\nبملا اور زیادہ مرجھائی ہوئی تھی، اور زیادہ مختصر ہوگئی تھی جیسے کسی نے رندہ پھیر کر اس کو ہر طرف سے چھوٹا اور پتلا کردیا ہے۔ اس کا سانولا رنگ عجب قسم کی دردناک زردی اختیار کرگیا تھا۔ لڑکیوں کا سوال سن کر اس نے انور کی طرف دیکھا جو گملوں میں پانی دے رہا تھا اور تھیلا کھول کر چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا، ’’کل پتا جی۔۔۔ کل پتا جی بیمار تھے۔‘‘\n\nشمیم نے افسوس ظاہر کیا اور پوچھا، ’’کیا تکلیف تھی انھیں؟‘‘\nبملا نے انور کی طرف دیکھا۔ چونکہ وہ اس کو دیکھ رہا تھا۔ اس لیے نگاہیں دوسری طرف کرلیں اور کہا، ’’تکلیف۔۔۔ معلوم نہیں کیا تکلیف تھی۔‘‘ پھر تھیلے میں ہاتھ ڈال کر اپنی چیزیں نکالیں، ’’میں تو نہیں سمجھتی۔‘‘\n\nانور نے لوٹا منڈیر پر رکھا اور بملا سے مخاطب ہوا، ’’کسی ڈاکٹر سے مشورہ لیا ہوتا۔‘‘\n\nبملا نے انور کو بڑی تیز نگاہوں سے دیکھا، ’’ان کا روگ ڈاکٹروں کی سمجھ میں نہیں آئے گا۔‘‘\n\nانور کو ایسا محسوس ہوا کہ بملا نے اس سے یہ کہا ہے، ’’ان کا روگ تم سمجھ سکتے ہو۔‘‘ وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ سعیدہ کی آواز اس کے کانوں میں آئی۔ وہ بملا سے کہہ رہی تھی، ’’خالو جان کے پاس جائیں وہ بہت بڑے ڈاکٹر ہیں۔ یوں چٹکیوں میں سب کچھ بتا دیں گے۔‘‘ سعیدہ نے چٹکی بجائی تھی مگر بجی نہیں تھی۔ انور نے اس سے کہا، ’’سعیدہ تم سے چٹکی کبھی نہیں بجے گی۔ فضول کوشش نہ کیا کرو۔‘‘\n\nسعیدہ شرما گئی، آج کا پل اوور سیاہ تھا۔ انور نے سوچا، ’’کم بخت پر ہررنگ کھلتا ہے۔۔۔ لیکن کتنے پل اوور ہیں اس کے پاس۔۔۔؟ ہر وقت کوئی نہ کوئی بنتی ہی رہتی ہے۔ سویٹروں اور پل اووروں کا خبط ہے۔۔۔ اس سے میری شادی ہو جائے تو مزے آجائیں، پل اوور ہی پل اوور۔۔۔ دوست یار خوب جلیں۔۔۔ لیکن یہ بملا کیوں آج راکھ کی ڈھیر سی لگتی ہے۔۔۔ سعیدہ شرما گئی تھی۔۔۔ یہ شرمانا مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔۔ چٹکی بجانا سیکھ لے مجھ سے۔۔۔ مجھ سے نہیں تو کسی اور سے۔۔۔ لیکن بہترین چٹکی بجانے والا ہوں۔‘‘\n\nیہ سب کچھ اس نے ایک سیکنڈ کے عرصے میں سوچا۔ سعیدہ نے کوئی جواب نہ دیا تھا۔ انور نے اس سے کہا، ’’دیکھئے چٹکی یوں بجایا کرتے ہیں۔‘‘ اور اس نے بڑے زور سے چٹکی بجائی۔ اتفاقاً اس کی نگاہ بملا پر پڑی۔ اس کے چہرے پر مایوسی کی مردنی طاری تھی۔ انور کے دل میں ہمدردی کے جذبات ابھر آئے، ’’بملا تم پتا جی سے کہو کہ وہ کسی اچھے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ لیں۔۔۔ ان کے سوا تمہارا اور کون ہے؟‘‘\nیہ سن کر بملا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ زور سے دونوں ہونٹ بھینچے اور انتہائی ضبط کے باوجود زار و قطار روتی، برساتی کی طرف دوڑ گئی۔ ساری لڑکیاں کام چھوڑ کر اس کی طرف بھاگیں انور نے برساتی میں جانا مناسب نہ سمجھا اور نیچے بیٹھک میں چلا گیا۔ بملا کے بارے میں اس نے سوچنے کی کوشش کی مگر اس کے دماغ نے اس کی رہبری نہ کی۔ وہ بملا کے دکھ درد کا صحیح تجزیہ نہ کرسکا وہ صرف اتنا سوچ سکا کہ اس کو صرف اس بات کا غم ہے کہ اس کی ماں زندہ نہیں۔\n\nشام کو انور نے اپنی بہن سے بملا کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا، ’’معلوم نہیں کیا دکھ ہے بیچاری کو۔۔۔ اپنے باپ کا بار بار ذکر کرتی تھی کہ ان کو جانے کیا روگ ہے اوربس!‘‘\n\nسعیدہ پاس کھڑی تھی سیاہ پل اوور پہنے۔ اس کی جیتی جاگتی چھاتیاں آبنوسی گولوں کی صورت میں اس کے سفید ننون کے دوپٹے کی پیچھے بڑا دلکش تضاد پیدا کررہی تھیں۔ ایسا لگتاتھا جیسے سایہ بٹوں پر ان کی چمک چھپانے کے لیے کسی مکڑی نے مہین سا جالا بن دیا ہے۔ انور بملا کو بھول گیا اور سعیدہ سے باتیں کرنے لگا۔ سعیدہ نے اس سے کوئی دلچسپی نہ لی اور آپا شمیم کو سلام کرکے چلی گئی۔\n\nانور بیٹھک میں کالج کا کام کرنے بیٹھا تو اسے بملا کا خیال آیا، ’’کیسی لڑکی ہے۔۔۔؟ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ میرے پٹی باندھی۔۔۔ اپنا دوپٹہ پھاڑ کر۔۔۔ آج میں نے کہا، پتا جی کے سوا تمہارا کون ہے تو اس لیے زار و قطار رونا شروع کردیا۔۔۔ اور جب میں گملوں میں پانی دے رہا تھا تو بملا کی اس بات سے کہ ان کا روگ ڈاکٹروں کی سمجھ میں نہیں آئے گا اس نے کیوں یہ محسوس کیا تھا کہ بملا نے اس کے بجائے اس سے یہ کہا ہے، ان کا روگ تم سمجھ سکتے ہو۔۔۔ لیکن میں کیسے سمجھ سکتا ہوں۔۔۔ کیا سمجھ سکتا ہوں۔۔۔ وہ مجھے ٹھیک طور پر سمجھاتی کیوں نہیں، یعنی اگر وہ کچھ سمجھانا ہی چاہتی ہے۔۔۔ میری سمجھ میں تو کچھ بھی نہیں آتا۔\n\nجب اس نے میری طرف دیکھا تھا تو اس کی نگاہوں میں اتنی تیزی کیوں تھی۔۔۔ اب خیال کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ میری ذہانت و فراست پر لعنت بھیج رہی تھی۔۔۔ لیکن کیوں۔۔۔؟ ہٹاؤ جی۔۔۔۔۔۔ سعیدہ۔۔۔ ہاں وہ سیاہ پل اوور۔۔۔ سفید ننوں کا ہوائی دوپٹہ۔۔۔ اور۔۔۔ لیکن مجھے ایسا نہیں سوچنا چاہیے۔۔۔ جانے کس کا مال ہے۔۔۔ خیر کچھ بھی ہو۔ خوبصورت لڑکی ہے۔ مگر اس پر خوبصورتی ختم تو نہیں ہوگئی۔‘‘\n\nاگلے روز بملا نہ آئی۔ انور کے گھر میں سب متفکر تھے۔ دعائیں کرتے تھے کہ خدا اس کے باپ کو اس کے سر پر سلامت رکھے۔ شمیم کو بملا بے حد پسند تھی۔ اس لیے کہ وہ خاموشی پسند اور ذہین تھی۔ باریک سے باریک بات فوراً سمجھ جاتی تھی، چنانچہ وہ سارا دن وقفوں کے بعد اس کو یاد کرتی رہی۔ انور کی ماں نے تو انور سے کہا کہ وہ سائیکل پر جائے اور بملا کے باپ کی خیریت دریافت کرکے آئے۔\n\nانور گیا۔۔۔ بملا ساگوان کے چوڑے پلنگ پر اوندھی لیٹی تھی ۔ سانس کا اتار چڑھاؤ تیز تھا۔ انور نے ہولے سے پکارا تو کوئی رد عمل نہ ہوا۔ ذرا بلند آواز میں کہا، ’’بملا۔‘‘ تو وہ چونکی کروٹ بدل کر اس نے انور کو دیکھا۔ انور نے نمستے کی۔ بملا نے ہاتھ جوڑ کر اس کا جواب دیا۔ انور نے دیکھا کہ بملا کی آنکھیں میلی تھیں، جیسے وہ روتی رہی تھی اور اس نے اپنے آنسو خشک نہیں کیے تھے۔\n\nپلنگ پر سے اٹھ کر اس نے انور کو کرسی پیش کی اور خود فرش پر بچھی ہوئی دری پر بیٹھ گئی۔ انور نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد، ’’وہاں سب کو بہت فکر تھی۔۔۔ پتا جی کہاں ہیں؟‘‘\n\nبملا کے مرجھائے ہوئے ہونٹ کھلے اور اس نے کھوکھلی آواز میں صرف اتنا کہا، ’’پتا۔۔۔‘‘\n\nانور نے پوچھا، ’’طبیعت کیسی ہے ان کی۔‘‘\n\n’’اچھی ہے۔‘‘ بملا کی آواز اس کی آواز نہیں تھی۔\n\n’’تم آج نہیں آئیں تو سب کو بڑی تشویش ہوئی۔۔۔ امی جان نے مجھ سے کہا، سائیکل پر جاؤ اور پتا لے کر آؤ۔۔۔ لالہ جی کہاں ہیں؟‘‘\n\n’’شطرنج کھیلنے گئے ہیں۔‘‘\n\n’’تم آج کیوں نہیں آئیں؟‘‘\n\n’’میں؟‘‘ یہ کہہ کر بملا رک گئی۔ تھوڑے وقفے کے بعد بولی، ’’میں اب نہیں آسکوں گی۔۔۔ مجھے۔۔۔ مجھے ایک کام مل گیا ہے۔‘‘\n\nانورنے پوچھا، ’’کیسا کام؟‘‘\n\nبملا نے ایک آہ بھری، ’’کل ہی معلوم ہوا ہے۔۔۔ جانے کیا ہے۔‘‘\n\nیہ کہتے ہوئے کانپی، ’’ٹھیک ہے، جو کچھ بھی ہے ٹھیک ہے۔‘‘ پھر وہ جیسے اپنے اندر ڈوب گئی۔\n\nکچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر انور نے اکتا کر پوچھا، ’’میں ان سے کیا کہوں؟‘‘\n\nبملا چونکی،’’ کیا؟‘‘\n\nانور نے اپنے الفاظ دہرائے، ’’میں ان سے کیا کہوں؟‘‘\n\n’’ اور کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ سب کو نمستے!‘‘\n\nانور کرسی پر سے اٹھا۔ ہاتھ جوڑ کر بملا کو نمستے کی۔ بملا نے اس کا جواب دیا مگر انور کھڑا رہا۔ بملا، خلا میں دیکھ رہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد انور اس سے مخاطب ہوا، ’’بملا۔۔۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ۔۔۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ تم نے مجھ سے کئی بار کچھ کہنے کی کوشش کی۔ مگر کہہ نہ سکیں۔۔۔ میں پوچھ سکتا ہوں؟‘‘\n\nبملا کے ہونٹوں پر ایک زخم خوردہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ انور اپنی بات مکمل نہ کرسکا، بملا اٹھی۔ کھڑکی کے ساتھ لگ کر اس نے نیچے بڑی بدرو کی طرف دیکھا اور انور سے کہا، ’’جو میں کہہ نہ سکی، تم سمجھ نہ سکے، اب کہنے اور سمجھنے سے بہت پرے چلا گیا ہے۔۔۔ تم جاؤ، میں سونا چاہتی ہوں۔‘‘\n\nانور چلا گیا۔۔۔ بملا پھر نہ آئی۔\n\nقریباً دس مہینے بعد اخباروں میں یہ سنسنی پھیلانے والی خبر شائع ہوئی کہ بڑی سڑک کی بدرو میں ایک نوزائیدہ بچہ مرا ہوا پایا گیا۔ تحقیقات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ بچہ لالہ ہری چرن اسکول ماسٹر کی لڑکی بملا کا تھا اور بچے کا باپ خود لالہ ہری چرن تھا۔۔۔ سب پر سکتہ چھا گیا۔\n\nانور نے سوچا، ’’تو ساری کتاب کا خلاصہ یہ تھا۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%84%D8%A7%D8%B5%DB%81"} {"title": "کتنوں کو جگر کا زخم سیتے دیکھا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کتنوں کو جگر کا زخم سیتے دیکھا\nدیکھا جسے خون دل ہی پیتے دیکھا\nاب تک روتے تھے مرنے والوں کو اور اب\nہم رو دیے جب کسی کو جیتے دیکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%AA%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%B3%DB%8C%D8%AA%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کتے کی دعا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "بادشاہت کا خاتمہ", "year": "1950", "text_ur": "’’آپ یقین نہیں کریں گے مگر یہ واقعہ جو میں آپ کو سنانے والا ہوں، بالکل صحیح ہے۔‘‘ یہ کہہ کرشیخ صاحب نے بیڑی سلگائی۔ دو تین زور کے کش لے کر اسے پھینک دیا اور اپنی داستان سنانا شروع کی۔ شیخ صاحب کے مزاج سے ہم واقف تھے، اس لیے ہم خاموشی سے سنتے رہے۔ درمیان میں ان کو کہیں بھی نہ ٹوکا۔\n\nآپ نے واقعہ یوں بیان کرنا شروع کیا، ’’گولڈی میرے پاس پندرہ برس سے تھا۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔۔۔ اس کا رنگ سنہری مائل بھوسلا تھا۔ بہت ہی حسین کتا تھا ۔جب میں صبح اس کے ساتھ باغ کی سیر کو نکلتا تو لوگ اس کو دیکھنے کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے۔ لارنس گارڈن کے باہر میں اسے کھڑا کردیتا،’’گولڈی کھڑے رہنا یہاں۔ میں ابھی آتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر میں باغ کے اندر چلا جاتا۔ گھوم پھر کر آدھے گھنٹے کے بعد واپس آتا تو گولڈی وہیں اپنے لمبے لمبے کان لٹکائے کھڑا ہوتا۔\n\nاسپیشل ذات کے کتے عام طورپربڑے اطاعت گزار اور فرماں بردار ہوتے ہیں مگر میرے گولڈی میں یہ صفات بہت نمایاں تھیں۔ جب تک اس کو اپنے ہاتھ سے کھانا نہ دوں نہیں کھاتا تھا۔ دوست یاروں نے میرا مان توڑنے کے لیے لاکھوں جتن کیے مگر گولڈی نے ان کے ہاتھ سے ایک دانہ تک نہ کھایا۔\n\nایک روز اتفاق کی بات ہے کہ میں لارنس کے باہر اسے چھوڑ کر اندر گیا تو ایک دوست مل گیا۔ گھومتے گھومتے کافی دیر ہوگئی۔ اس کے بعد وہ مجھے اپنی کوٹھی لے گیا۔ مجھے شطرنج کھیلنے کا مرض تھا۔ بازی شروع ہوئی تو میں دنیا مافیہابھول گیا۔ کئی گھنٹے بیت گئے۔ دفعتاً مجھے گولڈی کا خیال آیا۔ بازی چھوڑ کر لارنس کے گیٹ کی طرف بھاگا۔ گولڈی وہیں اپنے لمبے لمبے کان لٹکائے کھڑا تھا۔ مجھے اس نے عجیب نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہا ہے، ’’دوست، تم نے آج اچھا سلوک کیا مجھ سے۔‘‘\n\nمیں بے حد نادم ہوا۔ چنانچہ آپ یقین جانیں میں نے شطرنج کھیلنا چھوڑ دی۔۔۔ معاف کیجیے گا، میں اصل واقعے کی طرف ابھی تک نہیں آیا۔ دراصل گولڈی کی بات شروع ہوئی تو میں چاہتا ہوں کہ اس کے متعلق مجھے جتنی باتیں یاد ہیں آپ کو سنا دوں۔۔۔ مجھے اس سے بے حد محبت تھی۔ میرے مجرد رہنے کا ایک باعث اس کی محبت بھی تھی ۔جب میں نے شادی نہ کرنے کا تہیہ کیا تواس کو خصی کرادیا۔۔۔ آپ شاید کہیں کہ میں نے ظلم کیا، لیکن میں سمجھتا ہوں محبت میں ہر چیز روا ہے۔۔۔ میں اس کی ذات کے ساتھ اور کسی کو وابستہ دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔\n\nکئی بار میں نے سوچا اگر میں مر گیا تو یہ کسی اور کے پاس چلا جائے گا۔کچھ دیر میری موت کا اثر اس پر رہے گا۔ اس کے بعد مجھے بھول کر اپنے نئے آقا سے محبت کرنا شروع کردے گا۔ جب میں یہ سوچتا تو مجھے بہت دکھ ہوتا۔ لیکن میں نے یہ تہیہ کرلیا تھا کہ اگرمجھے اپنی موت کی آمد کا پورا یقین ہوگیا تو میں گولڈی کو ہلاک کردوں گا۔ آنکھیں بند کرکے اسے گولی کا نشانہ بنا دوں گا۔\n\nگولڈی کبھی ایک لمحے کے لیے مجھ سے جدا نہیں ہوا تھا۔ رات کو ہمیشہ میرے ساتھ سوتا۔ میری تنہا زندگی میں وہ ایک روشنی تھی۔ میری بے حد پھیکی زندگی میں اس کا وجود ایک شیرینی تھا۔ اس سے میری غیر معمولی محبت دیکھ کر کئی دوست مذاق اڑاتے تھے، ’’شیخ صاحب گولڈی کتیا ہوتی تو آپ نے ضرور اس سے شادی کر لی ہوتی۔‘‘\n\nایسے ہی کئی اور فقرے کسے جاتے لیکن میں مسکرا دیتا۔ گولڈی بڑا ذہین تھا۔ اس کے متعلق جب کوئی بات ہوتی تو فوراً اس کے کان کھڑے ہو جاتے تھے۔ میرے ہلکے سے ہلکے اشارے کو بھی وہ سمجھ لیتا تھا۔ میرے موڈ کے سارے اتار چڑھاؤ اسے معلوم ہوجاتے تھے۔ اگر کسی وجہ سے رنجیدہ ہوتا تووہ میرے ساتھ چہلیں شروع کردیتا ،مجھے خوش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا۔\n\nابھی اس نے ٹانگ اٹھا کر پیشاب کرنا نہیں سیکھا تھا ،یعنی ابھی کم سن تھا کہ اس نے ایک برتن کو جو کہ خالی تھا، تھوتھنی بڑھا کرسونگھا۔ میں نے اسے جھڑکا تو دم دبا کروہیں بیٹھ گیا۔۔۔ پہلے اس کے چہرے پر حیرت سی پیدا ہوئی تھی کہ ہیں یہ مجھ سے کیا ہوگیا۔ دیر تک گردن نیوڑھائے بیٹھا رہا،جیسے ندامت کے سمندر میں غرق ہے۔ میں اٹھا۔ اٹھ کر اس کو گود میں لیا، پیارکیا،پچکارا۔ بڑی دیر کے بعد جا کر اس کی دم ہلی۔۔۔ مجھے بہت ترس آیا کہ میں نے خواہ مخواہ اسے ڈانٹا کیوں کہ اس روز رات کو غریب نے کھانے کو منہ نہ لگایا۔ وہ بڑاحساس کتا تھا۔\n\nمیں بہت بے پروا آدمی ہوں۔ میری غفلت سے اس کو ایک بار نمونیہ ہوگیا، میرے اوسان خطا ہوگئے۔ ڈا کٹروں کے پاس دوڑا۔ علاج شروع ہوا، مگر اثر ندارد۔ متواتر سات راتیں جاگتارہا۔ اس کو بہت تکلیف تھی۔ سانس بڑی مشکل سے آتا تھا۔ جب سینے میں درد اٹھتا تو وہ میری طرف دیکھتا جیسے یہ کہہ رہا ہے، ’’فکر کی کوئی بات نہیں، میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔‘‘\n\nکئی بار میں نے محسوس کیا کہ صرف میرے آرام کی خاطر اس نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کی تکلیف کچھ کم ہے ،وہ آنکھیں میچ لیتا، تاکہ میں تھوڑی دیر آنکھ لگالوں۔ آٹھویں روز خدا خدا کرکے اس کا بخار ہلکا ہوا اور آہستہ آہستہ اتر گیا۔ میں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو مجھے ایک تھکی تھکی سی مسکراہٹ اس کی آنکھوں میں تیرتی نظر آئی۔\n\nنمونیے کے ظالم حملے کے بعد دیر تک اس کو نقاہت رہی۔ لیکن طاقت ور دواؤں نے اسے ٹھیک ٹھاک کردیا۔ ایک لمبی غیر حاضری کے بعد لوگوں نے مجھے اس کے ساتھ دیکھا تو طرح طرح کے سوال کرنے شروع کیے، ’’عاشق و معشوق کہاں غائب تھے اتنے دنوں؟‘‘\n\n’’آپس میں کہیں لڑائی تو نہیں ہوگئی تھی؟‘‘\n\n’’کسی اور سے تو نظر نہیں لڑ گئی تھی گولڈی کی۔‘‘\n\nمیں خاموش رہا۔ گولڈی یہ باتیں سنتا تو ایک نظر میری طرف دیکھ کر خاموش ہو جاتا کہ بھونکنے دو کتوں کو۔ وہ مثل مشہور ہے۔ کند ہم جنس باہم جنس پرواز۔ کبوتر بہ کبوتر باز بہ باز۔لیکن گولڈی کو اپنے ہم جنسوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کی دنیا صرف میری ذات تھی۔ اس سے باہر وہ کبھی نکلتا ہی نہیں تھا۔\n\nگولڈی میرے پاس نہیں تھا، جب ایک دوست نے مجھے اخبار پڑھ کر سنایا۔ اس میں ایک واقعہ لکھا تھا۔ آپ سنیے بڑا دلچسپ ہے۔ امریکہ یا انگلستان مجھے یاد نہیں کہاں، ایک شخص کے پاس کتا تھا۔ معلوم نہیں کس ذات کا۔ اس شخص کا آپریشن ہونا تھا۔ اس کو ہسپتال لے گئے تو کتا بھی ساتھ ہولیا۔ اسٹریچر پر ڈال کر اس کو آپریشن روم میں لے جانے لگے تو کتے نے اندر جانا چاہا۔ مالک نے اس کو روکا اور کہا، باہر کھڑے رہو۔ میں ابھی آتا ہوں۔۔۔ کتا حکم سن کر باہر کھڑا ہوگیا۔ اندر مالک کا آپریشن ہوا، جو ناکام ثابت ہوا۔۔۔ اس کی لاش دوسرے دروازے سے باہر نکال دی گئی۔۔۔ کتا بارہ برس تک وہیں کھڑا اپنے مالک کا انتظار کرتا رہا۔ پیشاب۔ پاخانے کے لیے کچھ دیر وہاں سے ہٹتا۔۔۔ پھروہیں کھڑا ہو جاتا۔۔۔ آخر ایک روز موٹر کی لپیٹ میں آگیا۔ اور بری طرح زخمی ہوگیا مگر اس حالت میں بھی وہ خود کو گھسیٹتاہوا وہاں پہنچا، جہاں اس کے مالک نے اسے انتظار کرنے کے لیے کہا تھا۔ آخری سانس اس نے اسی جگہ لیا۔۔۔ یہ بھی لکھا تھا۔۔۔ کہ ہسپتال والوں نے اس کی لاش میں بھس بھر کے اس کو وہیں رکھ دیا ہے جیسے وہ اب بھی اپنے آقا کے انتظار میں کھڑا ہے۔\n\nمیں نے یہ داستان سنی تو مجھ پر کوئی خاص اثر نہ ہوا۔ اول تو مجھے اس کی صحت ہی کا یقین نہ آیا، لیکن جب گولڈی میرے پاس آیا اور مجھے اس کی صفات کا علم ہوا تو بہت برسوں کے بعد میں نے یہ داستان کئی دوستوں کو سنائی۔ سناتے وقت مجھ پر ایک رقت طاری ہو جاتی تھی اور میں سوچنے لگتا تھا،’’میرے گولڈی سے بھی کوئی ایسا کارنامہ وابستہ ہونا چاہیے۔۔۔گولڈی معمولی ہستی نہیں ہے۔ ‘‘گولڈی بہت متین اور سنجیدہ تھا۔ بچپن میں اس نے تھوڑی شرارتیں کیں مگر جب اس نے دیکھا کہ مجھے پسند نہیں تو ان کو ترک کردیا۔ آہستہ آہستہ سنجیدگی اختیار کرلی جو تادمِ مرگ قائم رہی۔\n\n’’میں نے تادمِ مرگ کہا ہے تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے ہیں۔‘‘\n\nشیخ صاحب رک گئے۔ ان کی آنکھیں نم آلود ہوگئی تھیں۔ ہم خاموش رہے۔ تھوڑے عرصے کے بعد انھوں نے رومال نکال کر اپنے آنسو پونچھے اور کہنا شروع کیا۔\n’’ یہی میری زیادتی ہے کہ میں زندہ ہوں۔۔۔ لیکن شاید اس لیے زندہ ہوں کہ انسان ہوں۔۔۔ مر جاتا تو شاید گولڈی کی توہین ہوتی۔۔۔ جب وہ مرا تو رو رو کر میرا برا حال تھا۔۔۔ لیکن وہ مرا نہیں تھا۔ میں نے اس کو مروا دیا تھا۔ اس لیے نہیں کہ مجھے اپنی موت کی آمد کا یقین ہوگیا تھا۔۔۔ وہ پاگل ہوگیا تھا۔ ایسا پاگل نہیں جیسا کہ عام پاگل کتے ہوتے ہیں۔ اس کے مرض کا کچھ پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔ اس کو سخت تکلیف تھی۔ جان کنی کا سا عالم اس پر طاری تھا۔ ڈاکٹروں نے کہا اس کا واحد علاج یہی ہے کہ اس کو مروا دو۔ میں نے پہلے سوچا نہیں۔ لیکن وہ جس اذیت میں گرفتار تھا، مجھ سے دیکھی نہیں جاتی تھی۔ میں مان گیا ۔وہ اسے ایک کمرہ میں لے گئے جہاں برقی جھٹکا پہنچا کر ہلاک کرنے والی مشین تھی۔\n\nمیں ابھی اپنے نحیف دماغ میں اچھی طرح کچھ سوچ بھی نہ سکا تھا کہ وہ اس کی لاش لے آئے۔۔۔ میرےگولڈی کی لاش۔ جب میں نے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھایا تو میرے آنسو ٹپ ٹپ اس کے سنہرے بالوں پر گرنے لگے۔ جو پہلے کبھی گرد آلود نہیں ہوئے تھے۔۔۔ ٹانگے میں اسے گھر لایا۔ دیر تک اس کو دیکھا کیا۔ پندرہ سال کی رفاقت کی لاش میرے بستر پر پڑی تھی۔۔۔ قربانی کا مجسمہ ٹوٹ گیا تھا۔ میں نے اس کو نہلایا۔۔۔ کفن پہنایا۔ بہت دیر تک سوچتا رہا کہ اب کیا کروں۔۔۔ زمین میں دفن کروں یا جلادوں۔\n\nزمین میں دفن کرتا تو اس کی موت کا ایک نشان رہ جاتا۔ یہ مجھے پسند نہیں تھا۔ معلوم نہیں کیوں۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ میں نے کیوں اس کو غرقِ دریا کرنا چاہا۔ میں نے اس کے متعلق اب بھی کئی بار سوچا ہےمگر مجھے کوئی جواب نہیں ملا۔۔۔ خیرمیں نے ایک نئی بوری میں اس کی کفنائی ہوئی لاش ڈالی۔۔۔ دھو دھا کر بٹے اس میں ڈالے اور دریا کی طرف روانہ ہوگیا۔\n\nجب بیڑی دریا کے درمیان میں پہنچی اور میں نے بوری کی طرف دیکھا تو گولڈی سے پندرہ برس کی رفاقت و محبت ایک بہت ہی تیز تلخی بن کر میرے حلق میں اٹک گئی۔ میں نے اب زیادہ دیر کرنا مناسب نہ سمجھا۔ کانپتے ہوئے ہاتھوں سے بوری اٹھائی اور دریا میں پھینک دی۔ بہتے ہوئے پانی کی چادرپرکچھ بلبلے اٹھے اور ہوا میں حل ہوگئے۔\n\nبیڑی واپس ساحل پر آئی۔ میں اتر کر دیر تک اس طرف دیکھتا رہا جہاں میں نے گولڈی کو غرقِ آب کیا تھا۔۔۔ شام کا دھندلکا چھایا ہوا تھا۔ پانی بڑی خاموشی سے بہہ رہا تھا جیسے وہ گولڈی کو اپنی گود میں سلا رہا ہے۔ ‘‘یہ کہہ کرشیخ صاحب خاموش ہوگئے۔ چند لمحات کے بعد ہم میں سے ایک نے ان سے پوچھا،’’ لیکن شیخ صاحب آپ تو خاص واقعہ سنانے والے تھے۔‘‘\n\nشیخ صاحب چونکے،’’ اوہ معاف کیجیے گا۔ میں اپنی رو میں جانے کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔۔۔ واقعہ یہ تھا کہ۔۔۔ میں ابھی عرض کرتا ہوں۔۔۔ پندرہ برس ہوگئے تھے ہماری رفاقت کو۔ اس دوران میں کبھی بیمار نہیں ہوا تھا۔ میری صحت ماشاء اللہ بہت اچھی تھی، لیکن جس دن میں نے گولڈی کی پندرھویں سالگرہ منائی۔ اس کے دوسرے دن میں نے اعضا شکنی محسوس کی۔ شام کو یہ اعضا شکنی تیز بخارمیں تبدیل ہوگئی۔ رات سخت بے چین رہا۔ گولڈی جاگتا رہا۔ ایک آنکھ بند کرکے دوسری آنکھ سے مجھے دیکھتا رہا۔ پلنگ پر سے اتر کر نیچے جاتا پھر آکر بیٹھ جاتا۔\n\nزیادہ عمر ہو جانے کے باعث اس کی بینائی اور سماعت کمزور ہوگئی تھی لیکن ذرا سی آہٹ ہوتی تو وہ چونک پڑتا اور اپنی دھندلی آنکھوں سے میری طرف دیکھتا اور جیسے یہ پوچھتا، ’’یہ کیا ہو گیاہے تمہیں؟‘‘\n\nاس کو حیرت تھی کہ میں اتنی دیرتک پلنگ پر کیوں پڑا ہوں، لیکن وہ جلدی ہی ساری بات سمجھ گیا۔ جب مجھے بستر پر لیٹے کئی دن گزر گئے تو اس کے سال خوردہ چہرے پر افسردہ چھا گئی۔ میں اس کو اپنے ہاتھ سے کھلایا کرتا تھا۔ بیماری کے آغاز میں تو میں اس کو کھانا دیتا رہا۔ جب نقاہت بڑھ گئی تو میں نے ایک دوست سے کہا کہ وہ صبح شام گولڈی کو کھانا کھلانے آجایا کرے۔ وہ آتا رہا مگر گولڈی نے اس کی پلیٹ کی طرف منہ نہ کیا۔ میں نے بہت کہا لیکن وہ نہ مانا۔ ایک مجھے اپنے مرض کی تکلیف تھی جو دورہونے ہی میں نہیں آتا تھا۔ دوسرے مجھے گولڈی کی فکر تھی جس نے کھانا پینا بالکل بند کردیا تھا۔\n\nاب اس نے پلنگ پر بیٹھنا لیٹنا بھی چھوڑ دیا۔ سامنے دیوار کے پاس سارا دن اور ساری رات خاموش بیٹھا اپنی دھندلی آنکھوں سے مجھے دیکھتا رہتا۔اس سے مجھے اور بھی دکھ ہوا۔ وہ کبھی ننگی زمین پر نہیں بیٹھا تھا۔ میں نے اس سے بہت کہا لیکن وہ نہ مانا۔وہ بہت زیادہ خاموش ہو گیا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ غم و اندوہ میں غرق ہے۔ کبھی کبھی اٹھ کر پلنگ کے پاس آتا۔ عجیب حسرت بھری نظروں سے میری طرف دیکھتا اور گردن جھکا کر واپس دیوار کے پاس چلا جاتا۔\n\nایک رات لیمپ کی روشنی میں میں نے دیکھاکہ گولڈی کی دھندلی آنکھوں میں آنسو چمک رہے ہیں۔ اس کے چہرے سے حزن و ملال برس رہا تھا۔ مجھے بہت دکھ پہنچا۔ میں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے بلایا۔ لمبے لمبے سنہرے کان ہلاتا وہ میرے پاس آیا۔ میں نے بڑے پیار سے کہا،’’گولڈی میں اچھا ہو جاؤں گا۔ تم دعا مانگو۔۔۔ تمہاری دعا ضرور قبول ہوگی۔‘‘\n\nیہ سن کر اس نے بڑی اداس آنکھوں سے مجھے دیکھا، پھر سر اوپر اٹھا کر چھت کی طرف دیکھنے لگا جیسے دعا مانگ رہا ہے۔۔۔ کچھ دیر وہ اس طرح کھڑا رہا۔ میرے جسم پر جھرجھری سی طاری ہوگئی۔ ایک عجیب و غریب تصویر میری آنکھوں کے سامنے تھی۔ گولڈی سچ مچ دعا مانگ رہا تھا۔۔۔ میں سچ عرض کرتا ہوں وہ سرتاپا دعا تھا۔ میں کہنا نہیں چاہتا لیکن اس وقت میں نے محسوس کیا کہ اس کی روح خدا کے حضور پہنچ کر گڑگڑارہی ہے۔\n\nمیں چند ہی دنوں میں اچھا ہوگیا لیکن گولڈی کی حالت غیرہ ہوگئی۔ جب تک میں بستر پر تھا وہ آنکھیں بند کیے دیوار کے ساتھ خاموش بیٹھا رہا۔ میں ہلنے جلنے کے قابل ہوا تو میں نے اس کو کھلانے پلانے کی کوشش کی مگر بے سود۔ اس کو اب کسی شے سے دلچسپی نہیں تھی۔ دعا مانگنے کے بعد جیسے اس کی ساری طاقت زائل ہوگئی تھی۔\n\nمیں اس سے کہتا،میری طرف دیکھو گولڈی۔۔۔ میں اچھا ہوگیا ہوں۔۔۔ خدا نے تمہاری دعا قبول کرلی ہے، لیکن وہ آنکھیں نہ کھولتا۔ میں نے دو تین دفعہ ڈاکٹر بلایا۔ اس نے انجکشن لگائے پرکچھ نہ ہوا۔ ایک دن میں ڈاکٹر لے کر آیا تو اس کا دماغ چل چکا تھا۔میں اٹھا کر اسے بڑے ڈاکٹر کے پاس لے گیا اور اس کو برقی ضرب سے ہلاک کرادیا۔\n\nمجھے معلوم نہیں بابر اور ہمایوں والا قصہ کہاں تک صحیح ہے۔۔۔ لیکن یہ واقعہ حرف بحرف درست ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%AA%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7"} {"title": "کثرت داغ سے دل رشک گلستاں نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کثرت داغ سے دل رشک گلستاں نہ ہوا\nمیرا دل خواہ جو کچھ تھا وہ کبھو یاں نہ ہوا\n\nجی تو ایسے کئی صدقے کیے تجھ پر لیکن\nحیف یہ ہے کہ تنک تو بھی پشیماں نہ ہوا\n\nآہ میں کب کی کہ سرمایۂ دوزخ نہ ہوئی\nکون سا اشک مرا منبع طوفاں نہ ہوا\n\nگو توجہ سے زمانے کی جہاں میں مجھ کو\nجاہ و ثروت کا میسر سر و ساماں نہ ہوا\n\nشکر صد شکر کہ میں ذلت و خواری کے سبب\nکسی عنوان میں ہم چشم عزیزاں نہ ہوا\n\nبرق مت خوشے کی اور اپنی بیاں کر صحبت\nشکر کر یہ کہ مرا واں دل سوزاں نہ ہوا\n\nدل بے رحم گیا شیخ لیے زیر زمیں\nمر گیا پر یہ کہن گبر مسلماں نہ ہوا\n\nکون سی رات زمانے میں گئی جس میں میرؔ\nسینۂ چاک سے میں دست و گریباں نہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%AB%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "کثرت سے داغ ہیں جو غم عشق خال میں", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کثرت سے داغ ہیں جو غم عشق خال میں\nتل بھر جگہ نہیں ہے دل پر ملال میں\n\nافشائے راز عشق جو اشکوں نے کر دیا\nڈوبا ہوا ہے دل عرق انفعال میں\n\nرہتی نہیں ہے زلف پریشاں بناؤ سے\nبکھری ہے اس لیے کہ پھنسے کوئی جال میں\n\nاے جان دل کے گور غریباں میں آئیے\nسب آرزوئیں دفن ہیں گرد ملال میں\n\nدل کو جو یاد جلوۂ عارض ہے دم بہ دم\nروشن ہے شمع حسن مکان خیال میں\n\nکیا دل دکھاؤ گے جو مزہ درد کا نہیں\nدم بھر تو بیٹھو آ کے دل پر ملال میں\n\nہم کو ہجوم غم بھی غنیمت ہوا نظرؔ\nسب عیب دل کے چھپ گئے گرد ملال میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%AB%D8%B1%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AE%D8%A7%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا\nجس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیا\n\nجب اس رخ پر نور کا جلوہ نظر آیا\nکعبہ نظر آیا نہ کلیسا نظر آیا\n\nیہ حسن یہ شوخی یہ کرشمہ یہ ادائیں\nدنیا نظر آئی مجھے تو کیا نظر آیا\n\nاک سرخوشی عشق ہے اک بے خودی شوق\nآنکھوں کو خدا جانے مری کیا نظر آیا\n\nجب دیکھ نہ سکتے تھے تو دریا بھی تھا قطرہ\nجب آنکھ کھلی قطرہ بھی دریا نظر آیا\n\nقربان تری شان عنایت کے دل و جاں\nاس کم نگہی پر مجھے کیا کیا نظر آیا\n\nہر رنگ ترے رنگ میں ڈوبا ہوا نکلا\nہر نقش ترا نقش کف پا نظر آیا\n\nآنکھوں نے دکھا دی جو ترے غم کی حقیقت\nعالم مجھے سارا تہ و بالا نظر آیا\n\nہر جلوے کو دیکھا ترے جلووں سے منور\nہر بزم میں تو انجمن آرا نظر آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%AB%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کثرت وحدانیت میں حسن کی تنویر دیکھ", "poet_page": "مصنف:شیر سنگھ ناز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کثرت وحدانیت میں حسن کی تنویر دیکھ\nدیدۂ حق بیں سے رنگ عالم تصویر دیکھ\n\nاس قدر کھنچنا نہیں اچھا بت بے پیر دیکھ\nپیار کی نظروں سے سوئے عاشق دلگیر دیکھ\n\nغیر نے مجھ پر ستم ڈھائے ہیں ڈھالے آج تو\nرہ نہ جائے کوئی بھی ترکش میں باقی تیر دیکھ\n\nکام بن بن کر بگڑ جاتے ہیں لاکھوں رات دن\nکس قدر ہے مجھ سے برگشتہ مری تقدیر دیکھ\n\nپھر نہ یہ کہنا کہ خط لکھا ہے کس نے غیر کو\nلے یہ ہے موجود تیرے ہاتھ کی تحریر دیکھ\n\nہارنا ہمت دلیل کامیابی سے ہے دور\nکام لے تدبیر سے پھر خوبی تقدیر دیکھ\n\nگنبد گردوں سنبھل اے گنبد گردوں سنبھل\nکر نہ دے صد پاش تیر آہ پر تاثیر دیکھ\n\nچار دن کی زندگی پر مشت خاک اتنا غرور\nپیس دے گا ایک دن یہ آسمان پیر دیکھ\n\nبے بلائے تو نہیں آیا تری محفل میں نازؔ\nدیکھ ہاں ہاں دیکھ اپنے ہاتھ کی تحریر دیکھ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%AB%D8%B1%D8%AA_%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE"} {"title": "کجا ہستی بتا دے تو کہاں ہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کجا ہستی بتا دے تو کہاں ہے\nجسے کہتے ہیں بسمل نیم جاں ہے\n\nہمارا گھر ہے یعنی خانۂ ماست\nمحل ہی کاخ ہے کوشک مکاں ہے\n\nچچا عم ہے پسر بیٹا پدر باپ\nتو کنبہ خانمان و دودماں ہے\n\nسفینہ ناؤ کشتی بان ملاح\nبہے پانی تو وہ آب رواں ہے\n\nبتاؤ آگ کیا ہے نار و آتش\nدھواں کیا چیز ہے دو دود و خاں ہے\n\nجسے کہتے ہو تم گردون گرداں\nفلک چرخ‌ و سپہر و آسماں ہے\n\nوہی جنت کہ جس کی آرزو ہے\nنعیم و خلد و فردوس و جناں ہے\n\nسنا کیجئے حکایت ہے کہانی\nکہا کیجئے فسانہ داستاں ہے\n\nمرا سر راس ہے ماتھا جبیں ہے\nمرے منہ میں زباں ہے جو لساں ہے\n\nکہو تم جو ترازو ہے سو میزاں\nسنو تم آزمائش امتحاں ہے\n\nحجر پتھر ہے اور قرطاس کاغذ\nسبک ہلکا ہے اور بھاری گراں ہے\n\nعصا لاٹھی علم نیزہ سناں بھال\nجسے ہم قوس کہتے ہیں کماں ہے\n\nنہان و مستتر پوشیدہ مخفی\nجو بارز ہے تو ظاہر ہے عیاں ہے\n\nاگر جانو ہو تم ریوڑ کو گلہ\nتو چرواہا بھی راعی اور شباں ہے\n\nکہا کرتے ہیں شاعر کو سخنداں\nجو بھیدی ہے تو محرم راز داں ہے\n\nہمانجا آمدم جائے کہ ہستی\nوہیں آیا ہوں میں بھی تو جہاں ہے\n\nیہی کون و مکاں دنیا ہے عالم\nیہ ہی گیتی ہی گیہاں ہے جہاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%AC%D8%A7_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%A8%D8%AA%D8%A7_%D8%AF%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "کدورت بڑھ کے آخر کو نکلتی ہے فغاں ہو کر", "poet_page": "مصنف:نادر کاکوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کدورت بڑھ کے آخر کو نکلتی ہے فغاں ہو کر\nزمیں یہ سر پر آ جاتی ہے اک دن آسماں ہو کر\n\nمرے نقش قدم نے راہ میں کانٹے بچھائے ہیں\nبتائیں تو وہ گھر غیروں کے جائیں گے کہاں ہو کر\n\nخدا سے سرکشی کی پیر زاہد اس قدر تو نے\nکہ تیرا تیر سا قد ہو گیا ہے اب کماں ہو کر\n\nکوئی پوچھے کہ میت کا بھی تم کچھ ساتھ دیتے ہو\nیہ آئے مرثیہ لے کر وہ آئے نوحہ خواں ہو کر\n\nارادہ پیر زاہد سے ہے اب ترکی بہ ترکی کا\nکسی بھٹی پہ جا بیٹھوں گا میں پیر مغاں ہو کر\n\nتلاش یار کیا اور سیر کیا اے ہم نشیں ہم تو\nچلے اور گھر چلے آئے یہاں ہو کر وہاں ہو کر\n\nسخنؔ کی بزم میں نادرؔ اسی کے سر پہ سہرا ہے\nرہا جو ہم نوائے بلبل ہندوستاں ہو کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کدھر ابرو کی اس کے دھاک نہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کدھر ابرو کی اس کے دھاک نہیں\nکون اس تیغ کا ہلاک نہیں\n\nمثل آئینہ آبرو ہے تو دیکھ\nورنہ گھر میں تو اپنے خاک نہیں\n\nدے ہے ہم چشمی اس سے پھر خورشید\nکیا بھلا اس کے منہ پہ ناک نہیں\n\nچاہیں توبہ کی چھاؤں ہم زاہد\nکیا کہیں دار بست تاک نہیں\n\nخبر غیب خطرۂ دل ہے\nورنہ تا عرش اپنی ڈاک نہیں\n\nجس مصلے پہ چھڑکئے نہ شراب\nاپنے آئین میں وہ پاک نہیں\n\nیوں تو تائب ہیں مے سے ہم بھی پہ شیخ\nگر پلاوے کوئی تو باک نہیں\n\nیاں وہ ملبوس خاص نئیں جوں گل\nجو قبا دس جگہ سے چاک نہیں\n\nقائمؔ اس کوچہ میں پھرے ہے مگر\nابھی کچھ بات ٹھیک ٹھاک نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DA%BE%D8%A7%DA%A9_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کدھر جائیے اور کہاں بیٹھیے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کدھر جائیے اور کہاں بیٹھیے\nپرچتا نہیں دل جہاں بیٹھیے\n\nمیں دیکھا تمہیں خوب پردے میں اب\nذرا اور ہو کر نہاں بیٹھیے\n\nکھڑے دیکھتے کیا ہو پھر آئیے\nکرم کیجیے مہرباں بیٹھیے\n\nابھی سے کہاں اٹھ چلے کوئی دم\nغنیمت ہے صحبت میاں بیٹھیے\n\nترے ہاتھوں سے اے جفائے فلک\nبتا تو ہی چھپ کر کہاں بیٹھیے\n\nبٹھایا مجھے تم نے زنداں میں خوب\nمیں بیٹھا بس اب دوستاں بیٹھیے\n\nتم آنکھوں میں کیا بیٹھتے ہو مری\nبہ پہلوئے دل مثل جاں بیٹھیے\n\nنہیں بیٹھنے کی تمہارے وہ جا\nادھر آئیے اب یہاں بیٹھیے\n\nنہ پہنچوں گے منزل کو تم مصحفیؔ\nگیا دور اب کارواں بیٹھیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%8C%DB%92"} {"title": "کدھر ہے آج الٰہی وہ شوخ چھل بلیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کدھر ہے آج الٰہی وہ شوخ چھل بلیا\nکہ جس کے غم سے مرا دل ہوا ہے باولیا\n\nتمام گوروں کے حیرت سے رنگ اڑ جاتے\nجو گھر سے آج نکلتا وہ میرا سانولیا\n\nتجھے خبر نہیں بلبل کے باغ سے گلچیں\nبڑی سی پھولوں کی اک بھر کے لے گیا ڈلیا\n\nنظیرؔ یار کی ہم نے جو کل ضیافت کی\nپکایا قرض منگا کر پلاؤ اور قلیا\n\nسو یار آپ نہ آیا رقیب کو بھیجا\nہزار حیف ہم ایسے نصیب کے بلیا\n\nادھر تو قرض ہوا اور ادھر نہ آیا یار\nپکائی کھیر تھی قسمت سے ہو گیا دلیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%86%DA%BE%D9%84_%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کر امتحاں ٹک ہو کے تو خونخوار یک طرف", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر امتحاں ٹک ہو کے تو خونخوار یک طرف\nمیں آج یک طرف ہوں ترے یار یک طرف\n\nانصاف ہے کہ غیر سے صحبت رکھے تو گرم\nبیٹھا رہوں میں مثل گنہ گار یک طرف\n\nسیکھے ہو کس سے سچ کہو پیارے یہ چال ڈھال\nتم یک طرف چلو ہو تو تلوار یک طرف\n\nناز و کرشمہ عشوہ و انداز اور ادا\nمیں یک طرف ہوں اتنے ستم گار یک طرف\n\nکس بات پر تری میں کروں اعتبار ہائے\nاقرار یک طرف ہے تو انکار یک طرف\n\nدیکھیں پرووے کون بھلا سلک لخت دل\nمیں اک طرف ہوں ابر گہربار یک طرف\n\nقائمؔ ہر ایک کوچہ میں ہے طرفہ تعزیہ\nیوسف ترے کی گرمئ بازار یک طرف\n\nدلال ایک سمت کو منہ سے ملیں ہیں خاک\nسر پیٹتے پھریں ہیں خریدار یک طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%DA%BA_%D9%B9%DA%A9_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AE%D9%88%D9%86%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%DA%A9_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "کر دیا زار غم عشق نے ایسا مجھ کو", "poet_page": "مصنف:مردان علی خاں رانا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر دیا زار غم عشق نے ایسا مجھ کو\nموت آئی بھی تو بستر پہ نہ پایا مجھ کو\n\nکبھی جنگل کبھی بستی میں پھرایا مجھ کو\nآہ کیا کیا نہ کیا عشق نے رسوا مجھ کو\n\nدشمن جاں ہوا در پردہ مرا جذبۂ عشق\nمنہ چھپانے لگے وہ جان کے شیدا مجھ کو\n\nروز روشن ہو نہ کیوں کر مری آنکھوں میں سیاہ\nہے ترے گیسوئے شب رنگ کا سودا مجھ کو\n\nاک پری رو کی محبت کا میں ہوں دیوانہ\nنہ پری کا نہ کسی جن کا ہے سایہ مجھ کو\n\nروز و شب شوخ نے کیا کیا نہ دکھائے نیرنگ\nرخ دکھایا کبھی گیسوئے چلیپا مجھ کو\n\nدن بھلے آئے تو اعدا سبب خیر ہوئے\nبد دعا نے کیا اغیار کی اچھا مجھ کو\n\nفخر سے بزم بتاں میں وہ کہا کرتے ہیں\nپیار کچھ روز سے اب کرتے ہیں رعناؔ مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "کر دیا زلف پریشاں سا پریشاں مجھ کو", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر دیا زلف پریشاں سا پریشاں مجھ کو\nدشت میں چھوڑ گیا ہے دل ناداں مجھ کو\n\nداغ یاران وطن تھا جو دل محزوں میں\nوہ نظر آیا چراغ تہ داماں مجھ کو\n\nجاں کنی سے کہیں اچھا ہے مرا مر جانا\nنیم بسمل نہ بنا ناوک مژگاں مجھ کو\n\nجلوۂ صبح قیامت کا مزہ دیتا ہے\nچاک دل چاک جگر چاک گریباں مجھ کو\n\nمرغ دل دام میں گیسو کے الجھ کر نہ کہے\nہو مبارک تمہیں گلشن تو یہ زنداں مجھ کو\n\nجلوۂ حسن خدا داد دکھا کر دلبر\nمثل آئینہ کیا آپ نے حیراں مجھ کو\n\nاپنا اپنا یہ مقدر ہے کہوں کیا واعظ\nمحفل وعظ تجھے محفل رنداں مجھ کو\n\nاپنی تنہائی پہ روتا ہوں بڑی حسرت سے\nاپنا پہلو جو نظر آتا ہے ویراں مجھ کو\n\nغنچۂ زخم جگر کھل کے دکھا دیتے ہیں\nچمن عشق صنم کا گل خنداں مجھ کو\n\nمیہماں گوشۂ تربت کا مجھے ہونا ہے\nکیوں نہ مرغوب ہو یہ گور غریباں مجھ کو\n\nمنتیں موت کی کرتا ہوں تو وہ کہتی ہے\nزندگی نے تو کیا تیرا نگہباں مجھ کو\n\nشعر گوئی نہیں سیکھی ہے جمیلہؔ میں نے\nمیری فطرت نے کیا صاحب دیواں مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "کر رہے ہیں مجھ سے تجھ بن دیدۂ نمناک جنگ", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر رہے ہیں مجھ سے تجھ بن دیدۂ نمناک جنگ\nداغ دل جوں شمع کرتے ہیں جدا بے باک جنگ\n\nعشق پر غالب رہا مجنوں وہ تنکے سا نحیف\nیہ وہ جاگہ ہے کہ شعلے سے کرے خاشاک جنگ\n\nنئیں دماغ ہجر تیرا شمع کے شعلے کی طرح\nکھا گئی ہے مجھ کو گر کر مجھ سے اپنی ناک جنگ\n\nمیں نہیں شاکی فلک کا ہجر کے ایام میں\nمجھ سے جوں صبح اپنی ہی کرتی ہے جیب چاک جنگ\n\nبادشاہ عشق نے مجھ کو دیئے ہیں یہ خطاب\nآفت الملک اور فناء الدولہ عزلتؔ خاک جنگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%D9%86_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D9%86%D9%85%D9%86%D8%A7%DA%A9_%D8%AC%D9%86%DA%AF"} {"title": "کر سکی کچھ نہ تری زلف سیاہ فام مرا", "poet_page": "مصنف:بوم میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر سکی کچھ نہ تری زلف سیاہ فام مرا\nکفر کے سایہ میں بڑھتا رہا اسلام مرا\n\nساقیا میز پہ رہنے دے ابھی جام مرا\nمست آنکھوں نے تیری کر دیا الٹام مرا\n\nکیا کہا تو نے بڑھاپے میں نہ لے نام مرا\nحسن تھا خام ترا عشق نہیں خام مرا\n\nلڑتے ہی پہلی نظر جان تصدق کر دی\nہو گیا ساتھ ہی آغاز کے انجام مرا\n\nتم اگر پیار سے دیکھو تو ابھی جی جاؤں\nنگہ ناز میں ہے زیست کا پیغام مرا\n\nبومؔ چپکے سے وہیں دے دیا بوسہ اس نے\nکان میں جب یہ کہا نیند کا انعام مرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81_%D9%81%D8%A7%D9%85_%D9%85%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کر سکے دفن نہ اس کوچہ میں احباب مجھے", "poet_page": "مصنف:میر تسکینؔ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر سکے دفن نہ اس کوچہ میں احباب مجھے\nخاک میں دل کی کدورت نے دیا داب مجھے\n\nہجر میں پاس نہ ہے زہر نہ خنجر افسوس\nنہ دئے موت کے بھی چرخ نے اسباب مجھے\n\nقاصد آیا ہے وہاں سے تو ذرا تھم اے ہوش\nبات تو کرنے دے اس سے دل بے تاب مجھے\n\nنام تسکیںؔ پہ یہ مضمون تپش نازیبا\nتھا تخلص جو سزاوار تو بیتاب مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%81%D9%86_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج\nکام کب آتا ہے دیوانوں کو سیانے کا علاج\n\nرنگ گل کی آگ پر دامن نہ مار اے باد صبح\nکیا کریں گی بلبلیں پھر آشیانے کا علاج\n\nحق کو کب پہنچے نہ باندھے جب تک ان زلفوں سے دل\nکیوں کہ ہو زنجیر بن ایسے دیوانے کا علاج\n\nگر طہارت چاہتا ہے تو خدا کے واسطے\nکاٹ سر لوہو سے اپنے کر نہانے کا علاج\n\nشیشۂ دل کے تئیں اپنے سنبھالے رکھ یقیںؔ\nپھر کرے گا کون اس کے ٹوٹ جانے کا علاج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B9%D9%82%D9%84_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC"} {"title": "کر سیر اپنے دل کی ہے نور کا تماشا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر سیر اپنے دل کی ہے نور کا تماشا\nہاں دیکھ بن کے موسیٰ اس طور کا تماشا\n\nناظر وہی نظر بھی منظور بھی وہی ہے\nنظارہ کا ہے مظہر منظور کا تماشا\n\nیہ قرب بعد کیا ہے تقریب ماسوا ہے\nہے ترک ماسوا میں یہ دور کا تماشا\n\nصورت کا شیفتہ ہو ظاہر ہو حرف معنی\nمنصور کی ہے صورت منصور کا تماشا\n\nتعمیر وقت میں ہے ویرانیٔ وساوس\nویراں کدہ میں دیکھا معمور کا تماشا\n\nخم خانہ عشق کا ہے پیر مغاں کی صحبت\nرندان مست دیکھا مخمور کا تماشا\n\nارنی و لن ترانی ہے سر عشق ساقیؔ\nراز و نیاز میں ہے مستور کا تماشا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7"} {"title": "کر لیتے الگ ہم تو دل اس شوخ سے کب کا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر لیتے الگ ہم تو دل اس شوخ سے کب کا\nگر اور بھی ہوتا کوئی اس طور کی چھب کا\n\nبوسہ کی عوض ہوتے ہیں دشنام سے مسرور\nاتنا تو کرم ہم پہ بھی ہے یار کے لب کا\n\nاس کان کے جھمکے کی لٹک دیکھ لی شاید\nہر خوشہ اسی تاک میں رہتا ہے عنب کا\n\nدیکھا جو بڑی دیر تلک اس نے منہ اپنا\nلے دست حنا بستہ میں آئینہ حلب کا\n\nجب ہم نے کہا رکھیے اب آئینہ کو یہ تو\nحصہ ہے کسی اور بھی دیدار طلب کا\n\nیہ سن کے ادھر اس نے کیا غصے میں منہ سرخ\nبھبکا ادھر آئینہ بھی ہمسر ہو غضب کا\n\nتم ربط کے ڈھب جس سے لڑاتے ہو نظیرؔ آہ\nوہ دلبر عیار ہے کچھ اور ہی ڈھب کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%D8%A7%D9%84%DA%AF_%DB%81%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A8_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گزاریں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گزاریں\nفریاد کریں کس سے کہاں جا کے پکاریں\n\nہر دم کا بگڑنا تو کچھ اب چھوٹا ہے ان سے\nشاید کسی ناکام کا بھی کام سنواریں\n\nدل میں جو کبھو جوش غم اٹھتا ہے تو تا دیر\nآنکھوں سے چلی جاتی ہیں دریا کی سی دھاریں\n\nکیا ظلم ہے اس خونی عالم کی گلی میں\nجب ہم گئے دو چار نئی دیکھیں مزاریں\n\nجس جا کہ خس و خار کے اب ڈھیر لگے ہیں\nیاں ہم نے انہیں آنکھوں سے دیکھیں ہیں بہاریں\n\nکیوں کر کے رہے شرم مری شہر میں جب آہ\nناموس کہاں اتریں جو دریا پہ ازاریں\n\nوے ہونٹ کہ ہے شور مسیحائی کا جن کی\nدم لیویں نہ دو چار کو تا جی سے نہ ماریں\n\nمنظور ہے کب سے سر شوریدہ کا دینا\nچڑھ جائے نظر کوئی تو یہ بوجھ اتاریں\n\nبالیں پہ سر اک عمر سے ہے دست طلب کا\nجو ہے سو گدا کس کنے جا ہاتھ پساریں\n\nان لوگوں کے تو گرد نہ پھر سب ہیں لباسی\nسو گز بھی جو یہ پھاڑیں تو اک گز بھی نہ واریں\n\nناچار ہو رخصت جو منگا بھیجی تو بولا\nمیں کیا کروں جو میرؔ جی جاتے ہیں سدھاریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%DA%A9%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D9%82%D8%A7%D8%AA_%DA%AF%D8%B2%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کر نہ لے اپنا ٹھکانہ دشمن", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر نہ لے اپنا ٹھکانہ دشمن\nدوست نادان ہے دانا دشمن\n\nدیکھے گر اس کی پلک یا اللہ\nتو ہو تیروں کا نشانہ دشمن\n\nدیدہ تر نہ بہانا آنسو\nڈھونڈھتے ہیں یہ بہانہ دشمن\n\nدوست کو دوست نہ سمجھا تم نے\nاور دشمن کو نہ جانا دشمن\n\nدوستی کی نہ رہے پھر امید\nکاش ہو جائے زمانہ دشمن\n\nدشمن جاں ہیں بہت پر اے عشق\nتجھے جانا تجھے مانا دشمن\n\nتم سمجھتے ہو اسے یار قدیم\nدل ہے اے داغؔ پرانا دشمن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D9%84%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%B9%DA%BE%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86"} {"title": "کر چکا قید سے جس وقت کہ آزاد مجھے", "poet_page": "مصنف:مردان علی خاں رانا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر چکا قید سے جس وقت کہ آزاد مجھے\nہاتھ ملتا ہی رہا دیکھ کے صیاد مجھے\n\nعمر بھر یوں تو کبھی لی بھی نہ کروٹ پس مرگ\nحیف رہ رہ کے کیا کرتے ہیں اب یاد مجھے\n\nحکم درباں کو ہے زنہار نہ آنے پائے\nغیر کے سامنے کرتے ہیں مگر یاد مجھے\n\nباغباں گلشن عالم کا میں وہ بلبل ہوں\nطائر سدرہ کہا کرتا ہے استاد مجھے\n\nہم صفیروں کو مرا حال کھلے گا پس مرگ\nدیکھنا دل میں کریں گے وہ بہت یاد مجھے\n\nصحن گلشن میں مرے پھول کریں گے گلچیں\nروئے گا سونا قفس دیکھ کے صیاد مجھے\n\nراہ الفت میں ملاقات ہوئی کس کس سے\nدشت میں قیس ملا کوہ میں فرہاد مجھے\n\nغیب سے ہوتے ہیں القا مرے دل میں مضمون\nدیکھ فیضان سخن کا ہے خداداد مجھے\n\nسبز باغ آتا ہے دنیا کا نظر جب رعناؔ\nیاد آتی ہے بہت حسرت شداد مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%DA%86%DA%A9%D8%A7_%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%D9%88%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "کر چکے برباد دل کو فکر کیا انجام کی", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر چکے برباد دل کو فکر کیا انجام کی\nاب ہمیں دے دو یہ مٹی ہے ہمارے کام کی\n\nڈوب دے دے بادۂ گل رنگ میں زاہد اگر\nدیکھیے رنگینیاں پھر جامۂ احرام کی\n\nعکس ابرو دیکھتے ہیں بادۂ سرجوش میں\nعید ہے ساقی پرستوں میں ہلال جام کی\n\nابتدائے عشق ہے اور بجھ رہا ہے دل مرا\nہو چلی دھیمی ابھی سے لو چراغ شام کی\n\nآنکھ میں آنسو ہیں ماتھے پر عرق ہے موت کا\nلے خبر عمر رواں اپنے چھلکتے جام کی\n\nہو گئی بازیچۂ اطفال بے ذوق و شعور\nشاعری جو تھی مرادف معنی الہام کی\n\nپختگی سمجھے ہوئے ہیں جو تناسب کو فقط\nچاہیے اصلاح ان کو اس خیال خام کی\n\nہے یہ نازک فن جو شایان تہی مغزی نہیں\nدور مجلس میں ضرورت کیا ہے خالی جام کی\n\nٔہے عزیزؔ آئینۂ لفظی مراعات النظیر\nحسن معنی جب نہیں پھر شاعری کس کام کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%DA%86%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "کر کے آزاد ہر اک شہپر بلبل کترا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر کے آزاد ہر اک شہپر بلبل کترا\nآج صیاد نے ایک اور نیا گل کترا\n\nجیب کتروں میں ہے مشہور صبا بادی چور\nصبح غنچے کا جو کیسہ بتأمل کترا\n\nدیکھ ٹک اپنے گریبان میں منہ ڈال کے شیخ\nحرص کے ہاتھ سے دامان توکل کترا\n\nپنجۂ مہر بنا شانۂ مشاطۂ صبح\nمہ جبیں تو نے جوں ہی رشتۂ کاکل کترا\n\nلیں گے مرغان چمن خاک گلستاں کا سبق\nباغباں جب کہ خزاں نے ورق گل کترا\n\nکس قدر تیز ہے مقراض سخن تیری نصیرؔ\nگوش ہوش و خرد طالب آمل کترا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D8%B4%DB%81%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%DA%A9%D8%AA%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کر کے بیمار دی دوا تو نے", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر کے بیمار دی دوا تو نے\nجان سے پہلے دل لیا تو نے\n\nرہرو تشنہ لب نہ گھبرانا\nاب لیا چشمۂ بقا تو نے\n\nشیخ جب دل ہی دیر میں نہ لگا\nآ کے مسجد سے کیا لیا تو نے\n\nدور ہو اے دل مآل اندیش\nکھو دیا عمر کا مزا تو نے\n\nایک بیگانہ وار کر کے نگاہ\nکیا کیا چشم آشنا تو نے\n\nدل و دیں کھو کے آئے تھے سوئے دیر\nیاں بھی سب کچھ دیا خدا تو نے\n\nخوش ہے امید خلد پر حالیؔ\nکوئی پوچھے کہ کیا کیا تو نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92"} {"title": "کر کے دل نالاں سے مرے ساز کسی نے", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر کے دل نالاں سے مرے ساز کسی نے\nدی ہے مجھے پردے سے یہ آواز کسی نے\n\nاس دل کا ہے جو درد وہی جان ہے دل کی\nسمجھا نہ کبھی عشق کا یہ راز کسی نے\n\nوا باب قفس اور ہوں میں باب قفس پر\nجیسے کہ اڑا لی پر پرواز کسی نے\n\nتقدیر میں جو کچھ مری ہنسنا ہے کہ رونا\nبخشا وہی دل کو مرے انداز کسی نے\n\nہر اشک کا قطرہ تھا فسانہ مرے دل کا\nدیکھا نہ مرا دیدۂ غماز کسی نے\n\nدی مجھ کو تڑپ وہ بھی بقدر دل بے تاب\nمیں کیا کہ یہ سمجھا نہ ترا راز کسی نے\n\nہر شعر ہے ڈوبا ہوا تاثیر میں کیفیؔ\nبخشا ہے مجھے خامۂ اعجاز کسی نے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D9%84%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%92"} {"title": "کر کے دل کو شکار آنکھوں میں", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر کے دل کو شکار آنکھوں میں\nگھر کرے ہے تو یار آنکھوں میں\n\nچشم بد دور ہو نظر نہ کہیں\nہے نپٹ ہی بہار آنکھوں میں\n\nاور سب چہرہ بازیوں کے سوا\nعشوہ ہے صد ہزار آنکھوں میں\n\nکیا کہوں کچھ کہی نہیں جاتی\nباتیں ہیں بے شمار آنکھوں میں\n\nجس گھڑی گھورتے ہو غصہ سے\nنکلے پڑتا ہے پیار آنکھوں میں\n\nتیر مژگاں دلوں کے پار ہوئے\nہے یہ گزر و گزار آنکھوں میں\n\nیار تیرے لئے یہ گوہر اشک\nتھے برائے نثار آنکھوں میں\n\nاشک خونیں کے یہ نہیں قطرے\nیہ رہے ہیں شرار آنکھوں میں\n\nدیکھنا ٹک اثرؔ سے نظریں ملا\nکیا ہوئے تھے قرار آنکھوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کر کے قول و قرار کیا کہنا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کر کے قول و قرار کیا کہنا\nاو فراموش کار کیا کہنا\n\nہو کے نادم گنہ سے پاک ہوا\nواہ رے شرمسار کیا کہنا\n\nکام بگڑے تو ہی بناتا ہے\nاے مرے کردگار کیا کہنا\n\nخوب تو نے سنی لگی دل کی\nواہ رے غم گسار کیا کہنا\n\nدن کو تارے دکھا دئے تو نے\nاے شب انتظار کیا کہنا\n\nخاک میں بھی ملا کے اے ظالم\nنہ کیا اعتبار کیا کہنا\n\nدل حسرت زدہ رہا نہ رہا\nاس کا قول و قرار کیا کہنا\n\nاس سے حال غم دل مظلوم\nجو نہ ہو شرمسار کیا کہنا\n\nبا وفائی بھی تیری اے دل زار\nرہ گئی یادگار کیا کہنا\n\nنہ سنے ایک بار جو دل کی\nاس سے پھر بار بار کیا کہنا\n\nخم کے خم شوقؔ کر دئے خالی\nاے مرے بادہ خوار کیا کہنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D9%88%D9%84_%D9%88_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7"} {"title": "کراہتے ہوئے دل", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میں اسپتال کے بستر پہ تم سے اتنی دور\nیہ سوچتا ہوں کہ ایسی عجیب دنیا میں\nنہ جانے آج کے دن کیا نہیں ہوا ہوگا\nکسی نے بڑھ کے ستارے قفس کیے ہوں گے\nکسی کے ہات میں مہتاب آ گیا ہوگا\nجلائی ہوں گی کسی کے نفس نے قندیلیں\nکسی کی بزم میں خورشید ناچتا ہوگا\nکسی کو ذہن کا چھوٹا سا تازیانہ بہت\nکسی کو دل کی کشاکش کا حوصلہ ہوگا\nنہ جانے کتنے ارادے ابھر رہے ہوں گے\nنہ جانے کتنے خیالوں کا دل بڑھا ہوگا\nتمہاری پھول سی فطرت کی سطح نرم سے دور\nپہاڑ ہوں گے سمندر کا راستہ ہوگا\n\nیہ ایک فرض کا ماحول فرض کا سنگیت\nیہ اسپتال کے آنسو یہ اسپتال کی ریت\nمرے قریب بہت سے مریض اور بھی ہیں\nپکارتی ہوئی آنکھیں کراہتے ہوئے دل\nبہت عزیز ہے ان سب کو زندگی اپنی\nیہ اپنی زیست کا احساس کیسی نعمت ہے\n\nمگر مجھے یہی الجھن کہ زندگی کی یہ بھیک\nجو مل گئی بھی تو کتنی ذرا سی بات ملی\nکسی کے ہات میں مہتاب آ گیا بھی تو کیا\nکسی کے قدموں میں سورج کا سر جھکا بھی تو کیا\nہوا ہی کیا جو یہ چھوٹی سی کائنات ملی؟\nمرے وجود کی گہری خموش ویرانی\nتمہیں یہاں کے اندھیرے کا علم کیا ہوگا\nتمہیں تو صرف مقدر سے چاند رات ملی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%84"} {"title": "کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاث", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاث\nیک بار تیرے دل میں نہیں کار الغیاث\n\nتیری نگہ کو دیکھ کے گردش میں آسمان\nکرتا پھرے ہے شعبدہ دوار الغیاث\n\nمغرور حسن کا ہے تجھے یہ کہاں خبر\nیعنی کہ کون ہے پس دیوار الغیاث\n\nسوداؔ میں کہتا ہوں کہ یہ پرہیز عشق سے\nرسوا ہے کیوں تو کوچہ و بازار الغیاث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B8%D9%84%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%AB"} {"title": "کرتا ہوں سدا میں اپنی شانیں تبدیل", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کرتا ہوں سدا میں اپنی شانیں تبدیل\nطوفان میں تھا نوح تو آتش میں خلیل\nفی الحال ہوں ظاہر میں اگر اسماعیل\nہوں عالم باطن میں وہی رب جلیل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D8%AF%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%A8%D8%AF%DB%8C%D9%84"} {"title": "کرتا ہے باغ دہر میں نیرنگیاں بسنت", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کرتا ہے باغ دہر میں نیرنگیاں بسنت\nآیا ہے لاکھ رنگ سے اے باغباں بسنت\n\nہم رنگ کی ہے دون نکل اشرفی کے ساتھ\nپاتا ہے آ کے رنگ طلائی یہاں بسنت\n\nجوبن پر ان دنوں ہے بہار نشاط باغ\nلیتا ہے پھول بھر کے یہاں جھولیاں بسنت\n\nموباف زرد رنگ ہے سنبل کی چوٹ میں\nکھوتا ہے بوئے گل کی پریشانیاں بسنت\n\nنواب نامدار ظفرؔ جنگ کے حضور\nگاتی ہے آ کے زہرۂ گردوں مکاں بسنت\n\nجام عقیق زرد ہے نرگس کے ہاتھ میں\nتقسیم کر رہا ہے مے ارغواں بسنت\n\nہوتے ہیں طائران چمن نرگسی کباب\nکہہ دو کہ اس قدر نہ کرے گرمیاں بسنت\n\nچہرے تمام زرد ہیں دولت کے رنگ سے\nکوٹھی میں ہو گیا ہے سراپا عیاں بسنت\n\nنیلا ہوا ہے منہ گل سوسن کا باغ میں\nلیتا ہے اختلاط میں کیا چٹکیاں بسنت\n\nکڑوے دھرے ہوئے ہیں جو نواب کے حضور\nباہر ہے اپنے جامہ سے اے باغباں بسنت\n\nپکھراج کے گلاسوں میں ہے لالہ گوں شراب\nسونے کا پانی پی کے ہے رطب اللساں بسنت\n\nسرسوں جو پھولی دیدۂ جام شراب میں\nبنت العنب سے کرنے لگا شوخیاں بسنت\n\nزیر قدم ہے فرش بسنتی حضور کے\nمصروف پائے بوس میں ہے ہر زماں بسنت\n\nمیں گرد پوش ہو کے بنا شاخ زعفراں\nلپٹا ہوا ہے میرے بدن سے یہاں بسنت\n\nکرتا ہوں اب تمام دعا پر یہ چند شعر\nآیا پسند مجمع اہل زماں بسنت\n\nجب تک کہ محو قہقہہ ہوں گل ہزار میں\nرنگین تار ہے صفت زعفراں بسنت\n\nیا رب ہزار سال سلامت رہیں حضور\nہو روز جشن عید یہاں جاوداں بسنت\n\nاحباب سرخ رو رہیں دشمن ہوں زرد رو\nجب تک منائیں مردم ہندوستاں بسنت\n\nزردی کی طرح بیضۂ بلبل میں چھپ رہے\nاس باغ سے نہ جائے میان خزاں بسنت\n\nتقدیر میں تھی فرقت یاران لکھنؤ\nاس شہر میں منیرؔ کہاں تھا کہاں بسنت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%AF%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%8C%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%B3%D9%86%D8%AA"} {"title": "کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے\nدس بیس روز مرتے ہیں دو چار کے لیے\n\nدیکھا عذاب رنج دل زار کے لیے\nعاشق ہوئے ہیں وہ مرے آزار کے لیے\n\nدل عشق تیرے نذر کیا جان کیونکہ دوں\nرکھا ہے اس کو حسرت دیدار کے لیے\n\nقتل اس نے جرم صبر جفا پر کیا مجھے\nیہ ہی سزا تھی ایسے گنہ گار کے لیے\n\nلے تو ہی بھیج دے کوئی پیغام تلخ اب\nیہ تجویز زہر ہے ترے بیمار کے لیے\n\nآتا نہیں ہے تو تو نشانی ہی بھیج دے\nتسکین اضطراب دل زار کے لیے\n\nکیا دل دیا تھا اس لیے میں نے تمہیں کہ تم\nہو جاؤ یوں عدو مرے اغیار کے لیے\n\nچلنا تو دیکھنا کہ قیامت نے بھی قدم\nطرز خرام و شوخی رفتار کے لیے\n\nجی میں ہے موتیوں کی لڑی اس کو بھیج دوں\nاظہار حال چشم گہربار کے لیے\n\nدیتا ہوں اپنے لب کو بھی گلبرگ سے مثال\nبوسے جو خواب میں ترے رخسار کے لیے\n\nجینا امید وصل پہ ہجراں میں سہل تھا\nمرتا ہوں زندگانی دشوار کے لیے\n\nمومنؔ کو تو نہ لائے کہیں دام میں وہ بت\nڈھونڈے ہے تار سبحہ کے زنار کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%82%D8%AA%D9%84_%D8%B9%D8%A7%D9%85_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "کرتا ہے چرخ روز بصد گونہ احترام", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "کرتا ہے چرخ روز بصد گونہ احترام\nفرمانرواے کشور پنجاب کو سلام\nحق گوے و حق پرست و حق اندیش و حق شناس\nنواب مستطاب امیر شہ احتشام\nجم رتبہ میکلوڈ بہادر کہ وقت رزم\nترک فلک کے ہاتھ سے وہ چھین لیں حسام\nجس بزم میں کہ ہو انھیں آہنگ میکشی\nواں آسمان شیشہ بنے آفتاب جام\nچاہا تھا میں نے تم کو مہ چاردہ کہوں\nدل نے کہا کہ یہ بھی ہے تیرا خیال خام\nدو رات میں تمام ہے ہنگامہ ماہ کا\nحضرت کا عز و جاہ رہے گا علی الدوام\nسچ ہے تم آفتاب ہو جس کے فروغ سے\nدریاے نور ہے فلک آبگینہ فام\nمیری سنو کہ آج تم اس سر زمین پر\nحق کے تفضلات سے ہو مرجع انام\nاخبار لودھیانہ میں میری نظر پڑی\nتحریر ایک جس سے ہوا بندہ تلخ کام\nٹکڑے ہوا ہے دیکھ کے تحریر کو جگر\nکاتب کی آستیں ہے مگر تیغ کا نیام\nوہ فرد جس میں نام ہے میرا غلط لکھا\nجب یاد آگئی ہے کلیجا لیا ہے تھام\nسب صورتیں بدل گئیں ناگاہ یک قلم\nلمبر رہا نہ نذر نہ خلعت کا انتظام\nستر برس کی عمر میں یہ داغ جانگداز\nجس نے جلا کے راکھ مجھے کردیا تمام\nتھی جنوری مہینے کی تاریخ تیرہویں\nاستادہ ہو گئے لب دریا پہ جب خیام\nاس بزم پر فروغ میں اس تیرہ بخت کو\nلمبر ملا نشیب میں از روے اہتمام\nسمجھا اسے گراب ہوا پاش پاش دل\nدربار میں جو مجھ پہ چلی چشمک عوام\nعزت پہ اہل نام کی ہستی کی ہے بنا\nعزت جہاں گئی تو نہ ہستی رہی نہ نام\nتھا ایک گونہ ناز جو اپنے کمال پر\nاس ناز کا فلک نے لیا مجھ سے انتقام\nآیا تھا وقت ریل کے کھلنے کا بھی قریب\nتھا بارگاہ خاص میں خلقت کا ازدحام\nاس کشمکش میں آپ کا مداح درد مند\nآقاے نامور سے نہ کچھ کر سکا کلام\nجو واں نہ کہہ سکا وہ لکھا ہے حضور کو\nدیں آپ میری داد کہ ہوں فائز المرام\nملک و سپہ نہ ہو تو نہ ہو کچھ ضرر نہیں\nسلطان بر و بحر کے در کا ہوں میں غلام\nوکٹوریا کا دہر میں جو مدح خوان ہو\nشاہان عصر چاہیے لیں عزت اس سے دام\nخود ہے تدارک اس کا گورمنٹ کو ضرور\nبے وجہ کیوں ذلیل ہو غالبؔ ہے جس کا نام\nامر جدید کا تو نہیں ہے مجھے سوال\nبارے قدیم قاعدے کا چاہیے قیام\nہے بندے کو اعادۂ عزت کی آرزو\nچاہیں اگر حضور تو مشکل نہیں یہ کام\nدستور فن شعر یہی ہے قدیم سے\nیعنی دعا پہ مدح کا کرتے ہیں اختتام\nہے یہ دعا کہ زیر نگیں آپ کے رہے\nاقلیم ہند و سند سے تا ملک روم و شام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%A8%D8%B5%D8%AF_%DA%AF%D9%88%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%85"} {"title": "کرتا ہے یوں بیان سخن ران کربلا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "کرتا ہے یوں بیان سخن ران کربلا\nاحوال زار شاہ شہیدان کربلا\nباآنکہ تھا فرات پہ میدان کربلا\nپیاسا ہوا ہلاک وہ مہمان کربلا\n\nانصاف کی نہ ایک نے کی چشم نیم باز\nکھولے ستم کے ہاتھ زبانیں کیاں دراز\nقتل امام مقصد و تیاری نماز\nبدتر تھے کافروں سے مسلمان کربلا\n\nسیلاب تھا بلا کا ہر اک سمت گرم جوش\nفریاد بیکساں کی طرف کم کسو کے گوش\nآل نبی تمام ہوئی خوں سے سرخ پوش\nصلواۃ بر حسین و جوانان کربلا\n\nانواع جور مدعی ایجاد کر گئے\nتخت و کلاہ احمدی برباد کر گئے\nکیا تیرہ روز شامی بھی بیداد کر گئے\nپایا زبون مور سلیمان کربلا\n\nمنصف تھے ہائے کتنے دروں تیرہ اہل شام\nخوش تشنہ لب جنھوں نے کیا کشتن امام\nفخر بشر کا نور دل و دیدہ تشنہ کام\nسیراب وحش و طائر و حیوان کربلا\n\nیارب نہ تھا سپہر پہ اس وقت کوئی بھی کیا\nجب سر پہ اہل بیت کے تھی اس قدر جفا\nہوتا کوئی تو دیکھتا ہی سر کو ٹک جھکا\nتا لامکاں تھا شور غریبان کربلا\n\nنوک سناں پہ رکھ کے چلے لے سر امام\nناموس کے جو لوگ تھے بندی ہوئے تمام\nٹکڑے جگر کے ہوتے تھے کرتا تھا جب کلام\nبے خانماں وہ جمع پریشان کربلا\n\nبیٹے بھتیجے اس کے جواں مارے سب پڑے\nہو ٹکڑے ٹکڑے سامنے بیکس بہت لڑے\nفرصت نہ اتنی دی کہ کوئی خاک میں گڑے\nپوشیدہ کیا ہے ظلم نمایان کربلا\n\nسر اس کا کٹ کے نیزے پہ جس دم رکھا گیا\nنونیزہ پانی چڑھ کے جیوں کو ڈبا گیا\nہرچند بوند پانی کی کوئی نہ پا گیا\nلیکن خدا کا قہر تھا طوفان کربلا\n\nتھی عابدیں کے لب پہ شکایت یہ خونچکاں\nکاے چرخ آہ کیونکے نبھے گا یہ کارواں\nیہ سب ہیں زیربار الم میں ہوں ناتواں\nطے کس طرح سے کریے بیابان کربلا\n\nمشفق پدر تو رخت سفر کر گیا ہے بار\nبھائی کو اس سے آگے ہی دشمن گئے تھے مار\nہوں میں برہنہ پا سو مرض سے نحیف و زار\nپھر ہر قدم پہ خار مغیلان کربلا\n\nہے تودہ تودہ لاشوں پہ جن کی یہ خاک دھول\nسب یہ شگفتہ رو تھے نگاہوں میں جیسے پھول\nمنھ دیکھ ان کے کہتے تھے صلواۃ بر رسولؐ\nگلزار تھی یہ وادی ویران کربلا\n\nاب سب ہی خاک و خون میں وے ہیں اٹے پڑے\nاشجار و نونہال ہیں سارے کٹے پڑے\nدل ہیں فگار سینے ہیں سب کے پھٹے پڑے\nمسلخ سے کم نہیں یہ گلستان کربلا\n\nجل جل کے ایک ایک سے اس کا تھا یہ خطاب\nکاے قوم بس بہت ہوئی اب کم ہے جی میں تاب\nپہلو سے میرے ہے جگر دشت بھی کباب\nرکھ ہاتھ دیکھ سینۂ بریان کربلا\n\nیہ آگے جانتے نہ تھے دیکھیں گے یہ ستم\nخون پدر گرے گا زمیں پر رکیں گے دم\nاندوہ و درد و رنج و الم اب ہے اور ہم\nخرد و کلاں ہیں کشتۂ احسان کربلا\n\nموقوف ہوگی غم کشی یہ جب نہ ہوں گا میں\nمدت تلک مصیبتیں اپنی کہوں گا میں\nجیتا رہوں گا جب تئیں روتا رہوں گا میں\nاب تھم چکے یہ دیدۂ گریان کربلا\n\nزینب کے لب سے حرف نکلتے تھے شکوہ ناک\nآشفتہ مو وہ سر میں کھڑی ڈالتی تھی خاک\nکہتی تھی تا سپہر مگر اے خداے پاک\nجاتے نہیں یہ نالہ و افغان کربلا\n\nشاید غبار رکھتی ہیں چشمان مہر و ماہ\nاحوال پر ہمارے نہیں مطلقاً نگاہ\nپردہ رہے جو گر پڑے گردون روسیاہ\nہیں سربرہنہ خاک نشینان کربلا\n\nباد شمال ظلم ادھر کو جو آگئی\nایک ایک کرکے دین کی شمعیں بجھا گئی\nدل داغ سارے کر گئی سینے جلا گئی\nسب اڑ گئی وہ خوبی ایوان کربلا\n\nپیٹے ہیں ہم حسین کو جو کھول کھول بال\nکیا خاطروں سے جاتے رہیں گے ہمارے حال\nاشجار بید کے جو ہیں سو سالہاے سال\nدیویں گے یاد یہ سر عریان کربلا\n\nکرتے جو نوحہ لاشوں پہ ہم جمع آ ہوئے\nآنکھوں سے دل کے ٹکڑے گرے بال وا ہوئے\nبے جا ہمارے شور سے وحشی بجا ہوئے\nدیواں ہوا ہے حشر کا دیوان کربلا\n\nاس لوٹے کاروان کا دیکھے کوئی گذار\nیہ سانحہ ہوا ہے زمانے کا یادگار\nعترت نبیؐ کی اونٹوں پہ ہے ننگے سر سوار\nسجاد نالہ کش ہے حدی خوان کربلا\n\nوارث کے پیچھے جانیں گئیں وسوسوں سے ہائے\nکیا طرحیں چرخ کرتے ہیں ہم بیکسوں سے ہائے\nکیسی کمی اٹھائی ہے ہم نے خسوں سے ہائے\nکس سے کہیں یہ درد فراوان کربلا\n\nناگہ نگہ جو لاش پہ قاسم کی جا پڑی\nساعت وہ گذری اہل حرم پر بہت کڑی\nماں اس کی سر کو پیٹتی کہتی تھی یہ کھڑی\nہے دیدنی یہ نوشہ بے جان کربلا\n\nچن چن کے دشمنوں نے عزیزوں کے کاٹے سر\nمارا پڑا رئیس تلف ہوگئے پسر\nسر پر نہ عورتوں کے ردا تھی نہ ان کو گھر\nآئی نہ کام ہمت مردان کربلا\n\nآیا جو شاہ یاں تو یہیں کا یہیں رہا\nانواع جور و ظلم و ستم جان پر سہا\nآخر کو خون اس کا اسی خاک پر بہا\nنکلا نہ پھر وہ یوسف زندان کربلا\n\nآنکھوں کو جس کی رہ میں بچھایا کیے ہیں ہم\nمنت سے جس کے ناز اٹھایا کیے ہیں ہم\nمسند پہ جس کو ناز کی پایا کیے ہیں ہم\nسو خاک میں پڑا ہے وہ سلطان کربلا\n\nیہ مردمی تو دیکھو کہ دریا بہا کیا\nخیمہ کھڑا کنارے پر اس کے رہا کیا\nشہ بہر طفل پانی ہی پانی کہا کیا\nپیاسا موا ندان وہ نادان کربلا\n\nبالفرض دشمنوں نے نہ کی اس طرف نظر\nکینہ سے ہونٹ سوکھے ہمارے نہ چاہے تر\nاک ابر بھی نہ آن کے برسا تنک ادھر\nتا آسماں تھی شورش عطشان کربلا\n\nکلثوم یوں تھی لاش پہ بھائی کی حرف زن\nسر کیا ہوا کہ خاک میں پامال ہے بدن\nپھر وجہ کیا کہ اب نہیں ملتا تجھے کفن\nاے بادشاہ بے سر و سامان کربلا\n\nہم کچھ کریں جو فکر سو قدرت نہیں ہمیں\nماتم میں تیرے بیٹھیں سو فرصت نہیں ہمیں\nمیت کی رسمیں کرتے سو مہلت نہیں ہمیں\nرسوائی کر رہے ہیں نگہبان کربلا\n\nمہمانی ہم مسافروں کی کیا رہی ہے یاں\nلخت دل و جگر تھے جو مارے پڑے جواں\nجانا نہ ہم نے یاں کا دم آب و پارہ ناں\nدیکھی سو اب یہ نعمت الوان کربلا\n\nاس خاک پر اترتے نہ فرصت تجھے رہی\nدرپیش ہر قدم پہ قیامت تجھے رہی\nبے ڈولیوں سے یاں کی کدورت تجھے رہی\nشائستگی مگر نہ تھی شایان کربلا\n\nہو دلخوشی کسو کو تو ہو بھی شگفتہ رو\nشادی ہو جان کو تو کرے ہنس کے گفتگو\nتھی رونے کی جگہ کہ بخود ہم نہ تھے نہ تو\nلب ہاے زخم تھے لب خندان کربلا\n\nہفتم سے آب و دانہ کا قدغن ہوا تھا یاں\nجز ذکر تیغ تیز کچھ آیا نہ درمیاں\nسادات کشتہ جانتے ہیں یا انھوں کی جاں\nجو دیکھ کر موئے ہیں یہ حرمان کربلا\n\nکروبیوں کے گوش مگر کر تھے اس گھڑی\nجس وقت کشت و خون کی یاں دھوم تھی پڑی\nصف عورتوں کی لاشوں پہ چلاتی تھی کھڑی\nمحشر بہ بر تھا ہر دل نالان کربلا\n\nیاں سے نہیں چلے ہیں ہم ایسے ہو پائمال\nجو خاطروں سے اپنے فراموش ہو یہ حال\nاب جاچکی دلوں سے یہ حیرانی و ملال\nرہیے گا زندگی تئیں حیران کربلا\n\nالقصہ پیٹ روکے گئے آگے وے اسیر\nدل چاک سر میں خاک جواں اور خرد و پیر\nبس تو بھی اپنے ہاتھ سے رکھ کر قلم کو میرؔ\nکہہ باد سے کہ ہووے گل افشان کربلا\n\nبعد از نماز و سجدہ کرے در پہ التماس\nکاے شاہ بندہ پرور و قدر گداشناس\nمقصود میرؔ یہ ہے کہ اب ترک کر لباس\nجوں زائران چاک گریبان کربلا\n\nہندوستاں سے قطرہ زن آوے چلا ہوا\nمانند ابر چند پھرے دل بھرا ہوا\nتو ملتفت ہوا کہ یہ مطلب روا ہوا\nدیوے گا پھر نہ ہاتھ سے دامان کربلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D8%B1%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%B1%D8%A8%D9%84%D8%A7"} {"title": "کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتار", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتار\nتلوار کی تلوار ہے رفتار کی رفتار\n\nکج ایسی نہ تھی آگے مرے یار کی رفتار\nسیکھا ہے مگر چرخ ستم گار کی رفتار\n\nسر گرتے ہیں کٹ کٹ کے وہ رکھتا ہے جہاں پاؤں\nسیکھی ہے مگر یار نے تلوار کی رفتار\n\nگردش ہے تری نرگس بیمار کو دن رات\nدیکھی نہیں ایسی کسی بیمار کی رفتار\n\nٹلتی نہیں زلفوں کے تصور کی طرح سے\nہے طرفہ جدائی کی شب تار کی رفتار\n\nلغزش نہ ہو کیوں کر رہ دیں میں مجھے زاہد\nیاد آ گئی اس کافر مے خوار کی رفتار\n\nظالم ترے کوچے سے قدم اٹھ نہیں سکتا\nکیوں کر نہ چلوں سایۂ دیوار کی رفتار\n\nکیا مار کو نسبت ترے گیسو کے چلن سے\nہے سایۂ گیسو میں صنم مار کی رفتار\n\nموتی عوض نقش قدم گرتے ہیں ناسخؔ\nایسی ہے مری کلک گہر بار کی رفتار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%82%D8%AA%D9%84_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1"} {"title": "کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کا\nشاید ہمیں دکھلاویں گے دیدار خدا کا\n\nہے ابر کی چادر شفقی جوش سے گل کے\nمیخانے کے ہاں دیکھیے یہ رنگ ہوا کا\n\nبہتیری گرو جنس کلالوں کے پڑی ہے\nکیا ذکر ہے واعظ کے مصلیٰ و ردا کا\n\nمر جائے گا باتوں میں کوئی غم زدہ یوں ہی\nہر لحظہ نہ ہو ممتحن ارباب وفا کا\n\nتدبیر تھی تسکیں کے لیے لوگوں کی ورنہ\nمعلوم تھا مدت سے ہمیں نفع دوا کا\n\nہاتھ آئینہ رویوں سے اٹھا بیٹھیں نہ کیوں کر\nبالعکس اثر پاتے تھے ہم اپنی دعا کا\n\nآنکھ اس کی نہیں آئینے کے سامنے ہوتی\nحیرت زدہ ہوں یار کی میں شرم و حیا کا\n\nبرسوں سے تو یوں ہے کہ گھٹا جب امنڈ آئی\nتب دیدۂ تر سے بھی ہوا ایک جھڑاکا\n\nآنکھ اس سے نہیں اٹھنے کی صاحب نظروں کی\nجس خاک پہ ہوگا اثر اس کی کف پا کا\n\nتلوار کے سائے ہی میں کاٹے ہے تو اے میرؔ\nکس دل زدہ کو ہوئے ہے یہ ذوق فنا کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%B7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کرتے ہیں شوق دید میں باتیں ہوا سے ہم", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کرتے ہیں شوق دید میں باتیں ہوا سے ہم\nجاتے ہیں کوئے یار میں پہلے صبا سے ہم\n\nپیچھے کہیں رہے نہیں آہ رسا سے ہم\nجاتے ہیں کوئے یار میں پہلے صبا سے ہم\n\nایذا کی اپنی فکر کریں گے دوا سے ہم\nڈھونڈیں گے کوئی موت کا نسخہ شفا سے ہم\n\nزاہد برا نہ مانیں گے اس بد دعا سے ہم\nہوں بت پرست چاہتے ہیں یہ خدا سے ہم\n\nالجھیں گے ایک بار تو زلف دوتا سے ہم\nسودائی ہوں سڑی ہوں تمہاری بلا سے ہم\n\nتیغ نگہ نہ تیر مژہ نے کیا ہلاک\nہاں مر گئے ہیں آپ ہی اپنی قضا سے ہم\n\nنا قدر سے ہی قدر کی امید ہے عبث\nاو بے وفا خجل ہوئے اپنی وفا سے ہم\n\nگھر جا کے ان کے روگ لگا لائے عشق کا\nبیمار ہو کے آئے ہیں دار الشفا سے ہم\n\nآب حیات خضر و سکندر کو چاہئے\nساقی فقط شراب کے ہیں اک پیا سے ہم\n\nبولے مسیح دیکھ کے بیمار عشق کو\nمجبور ہیں اسی مرض لا دوا سے ہم\n\nجھیلی ہوئی ہیں عشق میں لاکھوں مصیبتیں\nڈرتے نہیں ہے آپ کے جور و جفا سے ہم\n\nگھر میں حضور کے ہمیں سونا نصیب ہو\nآئے ہیں مال مارنے دولت سرا سے ہم\n\nگلزار ہے شہیدوں کا جنت کا ہم سواد\nجائیں گے تو نہ آئیں گے پھر کربلا سے ہم\n\nقسمت کا اپنی پیچ ہوا گیسوؤں کا پیچ\nبدلیں سیاہ طالع ظل ہما سے ہم\n\nدل میں ترے اثر نہ ہوا عرش ہل گیا\nنادم ہیں نا رسائی آہ رسا سے ہم\n\nاچھا ہوا نہ دفن ہوئی نعش بعد مرگ\nکیا مشت استخواں کو چھپاتے ہما سے ہم\n\nسوتے نہیں ہیں رات کو بھی ہم تو چین سے\nکرتے ہیں مہرؔ انس جو اک مہ لقا سے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "کرتے ہیں چین بیٹھے حسن و جمال والے", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "کرتے ہیں چین بیٹھے حسن و جمال والے\nپھرتے ہیں مارے مارے کیا کیا کمال والے\n\nمیری طرح سے ایک دن بازار سے جہاں کے\nجاویں گے ہاتھ خالی جتنے ہیں تال والے\n\nدم دے کے پھانستا ہے عشاق کے دنوں کو\nمیں جانتا ہوں تجھ کو زلفوں کے جال والے\n\nمحشر کا معرکہ ہو جس دم جہاں کے اندر\nاس دن ہمیں بچانا او لمبی ڈھال والے\n\nبلبل ہیں تیرے ہم بھی باغ جہاں کے اندر\nاو گل سے گال والے سنبل سے بال والے\n\nتنہا لحد کے اندر ہوں گے گدا کی صورت\nجتنے ہیں اس جہاں میں جاہ و جلال والے\n\nزلف شب جدائی تیری بری بلا ہے\nاس کا خیال رکھنا او لمبے بال والے\n\nعاشق ہیں ہم بھی تیرے ابرو کے اور رخ کے\nہم کو بھی یاد رکھنا بدر و ہلال والے\n\nبھولے ہیں دو جہاں کو سد بد نہیں کسی کی\nجو جو ہیں اس جہاں میں تیرے خیال والے\n\nصیاد نے بچھایا گلشن میں دام و دانہ\nسن گلعذار والے او خط و خال والے\n\nمیری طرح سے اک دن بازار سے جہاں کے\nجائیں گے ہاتھ خالی جتنے ہیں مال والے\n\nمنصور و قیس و وامق فرہاد و منتہیؔ سے\nکیا کیا گئے جہاں سے فضل و کمال والے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DB%8C%D9%86_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%88_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "کرشمہ سازئ دل دیکھتا ہوں", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کرشمہ سازئ دل دیکھتا ہوں\nتمہیں اپنے مقابل دیکھتا ہوں\n\nجہاں منزل کا امکاں ہی نہیں ہے\nوہاں آثار منزل دیکھتا ہوں\n\nصدا دی تو نے کیا جانے کہاں سے\nمگر میں جانب دل دیکھتا ہوں\n\nکہاں کا رہنما اور کیسی راہیں\nجدھر بڑھتا ہوں منزل دیکھتا ہوں\n\nاشارا ہے ترا طوفاں کی جانب\nمگر میں ہوں کہ ساحل دیکھتا ہوں\n\nمحبت ہی محبت ہے جہاں پر\nمحبت کی وہ منزل دیکھتا ہوں\n\nمرے ہاتھوں میں بھی ہے ساز لیکن\nابھی میں رنگ محفل دیکھتا ہوں\n\nترے ہاتھوں سے جو ٹوٹا تھا اک دن\nوہی ٹوٹا ہوا دل دیکھتا ہوں\n\nکبھی طوفاں ہی طوفاں ہے نظر میں\nکبھی ساحل ہی ساحل دیکھتا ہوں\n\nغرور حسن باطل پر نظر ہے\nنیاز عشق کامل دیکھتا ہوں\n\nمجازؔ اور حسن کے قدموں پہ سجدے\nمآل زعم باطل دیکھتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%B4%D9%85%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%B2%D8%A6_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "کرشن", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "متھرا کہ نگر ہے عاشقی کا\nدم بھرتی ہے آرزو اسی کا\nہر ذرۂ سر زمین گوکل\nدارا ہے جمال دلبری کا\nبرسانا و نند گاؤں میں بھی\nدیکھ آئے ہیں جلوہ ہم کسی کا\nپیغام حیات جاوداں تھا\nہر نغمۂ کرشن بانسری کا\nوہ نور سیاہ یا کہ حسرت\nسر چشمہ فروغ آگہی کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%B4%D9%86"} {"title": "کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سے\nمجھے سوء ظن نہیں ہے کہ دعا کروں خدا سے\n\nدل مطمئن کی وسعت کوئی کم ہے ماسوا سے\nمجھے کاہے کی کمی ہے جو طلب کروں خدا سے\n\nہوئی ختم غم کی آندھی وہی دل کی لو ہے اب بھی\nیہی شعلہ تھا وہ شعلہ کہ لڑا کیا ہوا سے\n\nکہے کون اسے پتنگا جو ہے شعلے پر دھواں سا\nتجھے لے اڑے ہیں کتنا ترے پر ذرا ذرا سے\n\nجو ہے سب کا دینے والا میں اسی کو چاہتا ہوں\nمری بھیک وہ نہیں ہے کہ ملے کسی گدا سے\n\nیہ ہے قصر زندگانی کہ حباب بحر فانی\nابھی بن گیا ہوا سے ابھی مٹ گیا ہوا سے\n\nیہ خیال خود ہے ایسا جو خوشی بنا دے غم کو\nکہ ہے ابتدا خوشی کی مرے غم کی انتہا سے\n\nمرا دل رضا پہ راضی کرم اس کا جوش پر ہے\nجو اب آ گئی زباں تک تو اثر گیا دعا سے\n\nمری لاکھ منتوں پر تری اک حیا ہے بھاری\nکوئی پردہ ہے وہ پردہ کہ ہلے ڈلے ہوا سے\n\nترے پاکباز الفت نہیں ہارنے کے ہمت\nجو مریں گے ڈوب کر بھی تو مریں گے رہ کے پیاسے\n\nکسی دل کی آس یوں بھی کبھی آرزوؔ نہ ٹوٹے\nیہ کہے بنی ہے دم پر وہ کہے مری بلا سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AD%D8%AF_%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%AC%D8%A7_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں مَیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں مَیں\nغلامِ طغرل و سنجر نہیں مَیں\nجہاں بِینی مری فطرت ہے لیکن\nکسی جمشید کا ساغر نہیں مَیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%8E%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کرنا جو محبت کا اقرار سمجھ لینا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کرنا جو محبت کا اقرار سمجھ لینا\nاک بار نہیں اس کو سو بار سمجھ لینا\n\nہم ہوں کہ عدو اس میں جو ظلم کا شاکی ہو\nکرتا ہی نہیں تم کو وہ پیار سمجھ لینا\n\nمر جائے مگر جانا اس کی نہ عیادت کو\nتم جس کو محبت کا بیمار سمجھ لینا\n\nبن بن کے بگڑتا ہے وہ کام محبت میں\nآسان نہیں جس کو دشوار سمجھ لینا\n\nغفلت کدۂ ہستی جب کہتے ہیں عالم کو\nسودا ہے پھر اپنے کو ہشیار سمجھ لینا\n\nمحفل میں رقیبوں کی جانا ہے اگر تم کو\nصورت سے مجھے اپنی بیزار سمجھ لینا\n\nدل پر تو لگاتے ہو تم تیر نظر لیکن\nآہوں کو ہماری بھی تلوار سمجھ لینا\n\nچھیڑا جو مرے آگے پھر تذکرۂ دشمن\nرکھی ہوئی ہے مجھ سے تکرار سمجھ لینا\n\nپوشیدہ حفیظؔ اس میں اسرار محبت ہیں\nآسان نہیں میرے اشعار سمجھ لینا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "کرنے لگا دل طلب جب وہ بت خوش مزاج", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کرنے لگا دل طلب جب وہ بت خوش مزاج\nہم نے کہا جان کل اس نے کہا ہنس کے آج\n\nزلف نے اس کی دیا کاکل سنبل کو رشک\nچشم سیہ نے لیا چشم سے آہو کے باج\n\nاس کی وہ بیمار چشم دیکھ رہا تو جو دل\nرہ تو سہی میں تیرا کرتا ہوں کیسا علاج\n\nکام پڑا آن کر چاہ سے جس دن ہمیں\nچھٹ گئے اس روز سے اور جو تھے کام کاج\n\nدل تو نہ دیتے ہم آہ لے گئی لیکن نظیرؔ\nاس کی جبیں کی حیا اور وہ آنکھوں کی لاج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D8%AC%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC"} {"title": "کرو نہ دیر جہاں میں جہاں سے آگے چلو", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کرو نہ دیر جہاں میں جہاں سے آگے چلو\nیہاں گمان خطر ہے قدم بڑھائے چلو\n\nیہاں فریب نشیب و فراز اکثر ہے\nخدا کے واسطے اتنا نہ منہ اٹھائے چلو\n\nشکستہ پا ہوں کہیں ساتھ سے نہ رہ جاؤں\nمجھے بھی ہاتھ ذرا دوستو لگائے چلو\n\nابھی تو حسن عمل کا زمانہ باقی ہے\nوہاں کی بگڑی ہوئی کچھ یہیں بنائے چلو\n\nادھر ادھر کہیں بھر کر ترارہ جا نہ پڑے\nسمند عمر رواں کو ذرا دبائے چلو\n\nعدم میں ترسو گے درد جگر کو اے تسلیمؔ\nجو ہو سکے کوئی سینہ پہ تیر کھائے چلو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%DA%86%D9%84%D9%88"} {"title": "کروں شکوہ نہ کیوں چرخ کہن سے", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "کروں شکوہ نہ کیوں چرخ کہن سے\nکہ فرقت ڈالی تجھ سے گل بدن سے\n\nتری فرقت کا یہ صدمہ پڑا یار\nزباں ناآشنا ہو گئی سخن سے\n\nدم تکفین بھی گر یار آوے\nتو نکلیں ہاتھ باہر یہ کفن سے\n\nکھلا ہے تختۂ لالہ جگر میں\nہمیں کیا کام اب سیر چمن سے\n\nنہ پہنچا گوش تک اک تیرے ہیہات\nہزاروں نالہ نکلا اس دہن سے\n\nدماغ جاں میں ہے یہ بوئے کاکل\nکہ نفرت ہو گئی مشک ختن سے\n\nجگر پر لاکھ تیشے غم کے نت ہیں\nرہی نسبت ہمیں کیا کوہ کن سے\n\nسرورؔ آتا ہے جب وہ یاد دلبر\nتو جاں بس میری ہو جاتی ہے سن سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%DB%81%D9%86_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کروں میں کہاں تک مدارات روز", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "ریختی", "year": null, "text_ur": "کروں میں کہاں تک مدارات روز\nتمہیں چاہیئے ہے وہی بات روز\n\nمجھے گھر کے لوگوں کا ڈر ہے کمال\nکروں کس طرح سے ملاقات روز\n\nمرا تیرا چرچا ہے سب شہر میں\nبھلا آؤں کیونکر میں ہر رات روز\n\nکہاں تک سنوں کان تو اڑ گئے\nتری سنتے سنتے حکایات روز\n\nگئے ہیں مرے گھر میں سب تجھ کو تاڑ\nکیا کر نہ رنگیںؔ اشارات روز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%B1%D9%88%D8%B2"} {"title": "کروں کس سے فریاد کیا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:سید ہمایوں میرزا حقیر", "kind": "poetry", "section": "غزل > چمنستان فصاحت (1940)", "year": "1940", "text_ur": "کروں کس سے فریاد کیا ہو گیا\nمرا یار مجھ سے جدا ہو گیا\n\nکریں کیا کہ دل ہاتھ سے جا چکا\nجو ہونا مقدر میں تھا ہو گیا\n\nمرا جو غم ہجر میں وہ جیا\nکہ زندان غم سے رہا ہو گیا\n\nمرے سامنے غیر سے اختلاط\nمروت کا بس خاتمہ ہو گیا\n\nکہوں عشق پروانہ کیا شمع سے\nوہ روشن رہی خود فنا ہو گیا\n\nحقیرؔ آگے پیتا تھا مے خم کے خم\nمیں سنتا ہوں اب پارسا ہو گیا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کروں ہوں رات دن پھیرے کئی پھیرے میاں صاحب", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کروں ہوں رات دن پھیرے کئی پھیرے میاں صاحب\nکبھی تو بھی نہ پایا تم کو ہم ڈیرے میاں صاحب\n\nاٹھاویں کیوں نہ نکتوڑے کہ ہم چاکر ہیں الفت کے\nوگرنہ تم سے عالم میں ہیں بہتیرے میاں صاحب\n\nجہاں کے خوب صورت ہم بہت تاڑیں ہیں نظروں میں\nتو سب کا سب طرح صاحب ہے اے میرے میاں صاحب\n\nیہی ہوتی ہے عاشق پروری کی شرط ہے ظالم\nکہ ہم مرتے ہیں تم جاتے ہو منہ پھیرے میاں صاحب\n\nبرا کرتے ہو جو گھر سے نکل جاتے ہو حاتمؔ کے\nنشے میں مست اجیالے و اندھیرے میاں صاحب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%AF%D9%86_%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%A6%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8"} {"title": "کرچیں اور کرچیاں", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "’’ہندوستان کے مشہور نڈر نیتا کے داخلے پر کشمیر میں پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘‘\n\n’’اور یہ طرفہ تماشہ ہے کہ یہ مشہور اور نڈر لیڈر خود کشمیری ہیں۔‘‘\n\n’’سعادت حسن منٹو بھی کشمیری ہے۔‘‘\n\n’’اور اس پر تین مقدمے فحاشی کے الزام میں چل چکے ہیں۔‘‘\n\n’’سیاست بھی فحاشی ہے۔‘‘\n\n’’ہندوستان کے مشہور اور نڈر لیڈر پر زیردفعہ ۲۹۲ تعزیرات ہند مقدمہ چلانا چاہیئے۔‘‘\n\n’’اور سیشن میں بری کر دینا چا ہیئے۔‘‘\n\n’’اس لئے کہ ابھی تک فحاشی کا صحیح تعین نہیں ہوا۔‘‘\n\n’’اور نہ ابھی تک اس کی صحیح اور قطعی تعریف ہی دریافت ہوئی ہے۔‘‘\n\n’’ہندوستان کے مشہور اور نڈر نیتا جو کشمیری ہیں۔‘‘\n\n’’زندہ باد!‘‘\n\n’’سعادت حسن منٹو۔‘‘\n\n’’ہندوستان کے مشہور نڈر اور جذباتی لیڈر نے کشمیر میں اپنے داخلے کی پابندی کے باوجود دھاوا بول دیا۔‘‘\n\n’’ڈوگرہ حکومت ہشیار باش۔‘‘\n\n’’با ادب، باملاحظہ، ہوشیار۔۔۔ نگاہیں روبرو۔‘‘\n\n’’راشٹر پتی کی سواری آتی ہے۔‘‘\n\n’’ہم ڈوگرے نہیں۔۔۔ دو گُرے ہیں۔۔۔ ہمارے دو گرہیں۔‘‘\n\n’’تم دوگرے ہو۔۔۔ مگر گورے نہیں جو ہزار گرے تھے۔۔۔ تم مجھے نہیں روک سکتے۔‘‘\n\n’’ہم تو نہیں روک سکتے۔۔۔ لیکن یہ سنگین اور کرچیں روک سکتی ہیں، جو بنائی اسی لئے گئی ہیں۔‘‘\n\n’’یہ کیوں بنائی گئی ہیں؟‘‘\n\n’’معلوم نہیں۔۔۔ جنہوں نے بنائی ہیں ان سے پوچھو۔‘‘\n\n’’تم کشمیری ہو؟‘‘\n\n’’ہمیں معلوم نہیں۔۔۔ ہم صرف ڈوگرے ہیں۔۔۔ ہم صرف کرچیں ہیں۔۔۔ ہم صرف وہ ہیں جو ہم نہیں ہیں، لیکن ہمیں تمہارے وجود نے جنم دیا ہے۔۔۔ تم چلے جاؤ۔۔۔ واپس الہ آباد چلے جاؤ جہاں کے امرود بہت مشہور ہیں۔۔۔ ہم اپنی تیز تیز کرچوں سے انہیں کاٹ کاٹ کر کھاتے رہے ہیں۔۔۔ جاؤ، واپس چلے جاؤ، ایسا نہ ہو کہ ہم تمہیں بھی الہ آبادی امرود سمجھ کر کھا جائیں۔‘‘\n\n’’میں بڑا جذباتی آدمی ہوں۔۔۔ میں امرود بھی بن جاؤں گا۔۔۔ مگر یہاں نمرود کی خدائی نہیں دیکھوں گا۔۔۔ تمہارا مہاراج نمرود ہے۔۔۔ الہ آباد کا امرود ہونے کا اسے فخر کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔۔۔ میں کشمیری ہوں۔ بگو گوشہ ہوں۔ گلاس ہوں، سیب ہوں۔۔۔ میں بڑی سے بڑی قیمتی شے ہوں یہاں سے باہر نکل کر تمام ہندوستان سے پوچھو کہ میں کون ہوں، میرا باپ موتی تھا۔۔۔ بڑا نایاب موتی۔۔۔ کیا تم اس کی آب و تاب بھول گئے ہو؟‘‘\n\n’’جو بندھ گیا سو موتی۔۔۔ کیا وہ بندھ گیا تھا؟‘‘\n\n’’وہ بندھا نہیں تھا، کئی دفعہ باندھا گیا تھا۔۔۔ اس کو پیٹا بھی گیا تھا۔‘‘\n\n’’تو وہ موتی نہیں تھا۔۔۔؟ ہم نے اس کی جیوتی کبھی نہیں دیکھی۔‘‘\n\n’’تم نے اس کی جوتی بھی نہیں دیکھی اور نہ تم اس لائق ہو کہ اسے دیکھو۔‘‘\n\n’’پکڑ لو۔‘‘\n\n’’پکڑ لو۔‘‘\n\n’’نہیں سنگینوں کی روک پر اس کو روک لو۔‘‘\n\n’’میں اس کی پروا نہیں کرتا۔‘‘\n\n’’اٹھاؤ اس سر پھرے کو، موٹر میں ڈالو اور کشمیر کی سرحد سے باہر چھوڑ آؤ۔‘‘\n\n’’ہاں۔۔۔ آدمی برا نہیں۔۔۔ حالانکہ باتیں بہت بری کرتا ہے۔‘‘\n\n’’جو ہمیں نہیں سکھائی گئیں۔‘‘\n\n’’پکڑو۔‘‘\n\n’’ڈالو موٹر میں۔‘‘\n\n’’اور چھوڑ آؤ سرحد پار۔‘‘\n\n’’ہندوستان کے مشہور نڈر اور جذباتی لیڈر کو پکڑو۔۔۔ بڑی احتیاط کے ساتھ۔۔۔ جس طرح کہ تم بچے کو اٹھاتے ہو، اور یوں سمجھو کہ تم اسے موٹر میں نہیں بلکہ ایک جھولے میں ڈال رہے ہو۔۔۔ جھولا جھلاتے ہوئے اسے وہیں چھوڑ آؤ جہاں سے اس نے ہماری نیند حرام کرنے کی ٹھانی تھی۔۔۔ ہم ڈوگرے ہیں۔‘‘\n\n’’ہم دوگرے ہیں۔‘‘\n\n’’ہم ہری سنگھ ہیں۔‘‘\n\n’’ہم نے رم پی ہوئی ہے۔‘‘\n\n’’اس لئے ہم۔۔۔ با ادب ہیں، با ملاحظہ ہیں۔۔۔ ہوشیار ہیں۔‘‘\n\n’’راشٹر پتی کی سواری واپس کرو۔‘‘\n\n’’لو بھئی تقسیم ہو گیا۔‘‘\n\n’’کیا تقسیم ہو گیا؟‘‘\n\n’’برصغیر!‘‘\n\n’’برصغیر؟‘‘\n\n’’کس نے تقسیم کیا؟‘‘\n\n’’معاف کرنا میں ہندو ہوں۔۔۔ میرا ملک اب یہ ہندوستان ہے۔‘‘\n\n’’کون سا ہندوستان؟‘‘\n\n’’جسے ریڈکلف نے ہمارے بہی کھاتے میں درج کیا ہے۔‘‘\n\n’’تو اس میں معافی کی کیا ضرورت تھی؟‘‘\n\n’’ضرورت تھی، مت بولو۔۔۔ اب تم ہندو ہو۔۔۔ تمہاری زبان ہندی ہونی چا ہیئے۔‘‘\n\n’’مگر ہمارے ملک کے لنگوٹی پوش نیتا نے کہا تھا۔۔۔‘‘\n\n’’وہ مارا جائے گا۔‘‘\n\n’’اسے کون مار سکتا ہے۔۔۔؟‘‘\n\n’’ہم ماریں گے۔‘‘\n\n’’تم؟‘‘\n\n’’ہماری قوم میں سے کوئی بھی آدمی اٹھے گا اور ایسے تفرقہ پرداز آدمی کو ہلاک کر دے گا۔‘‘\n\n’’یہ ضرور ہونا چا ہیئے۔‘‘\n\n’’یہ ضرور ہوگا۔‘‘\n\n’’کب؟‘‘\n\n’’ہو جائے گا اپنے وقت پر۔‘‘\n\n’’یہ وقت کب آئے گا؟‘‘\n\n’’وقت کے آنے اور لے جانے کے سوال پر کئی دفعہ غور ہو چکا ہے، مگر سنا ہے کہ یہ ارباب حکومت کے اختیار کی بات نہیں۔۔۔ سنا ہے کہ ایک رب ہے جو اس محکمے کا افسر اعلیٰ ہے۔‘‘\n\n’’وہ کسی کو چوں و چرا کی اجازت نہیں دیتا اور اپنی من مانی کرتا ہے۔‘‘\n\n’’وہ لائق تعزیر ہے۔‘‘\n\n’’اس کے لئے ہماری تعزیرات ہند بالکل بے اثر ہے۔‘‘\n\n’’یہ کیا ہو رہا ہے بھائی صاحب؟‘‘\n\n’’السلام علیکم!‘‘\n\n’’وعلیکم السلام!‘‘\n\n’’دنیا کی سب سے بڑی اسلامی حکومت وجود میں آ رہی ہے۔‘‘\n\n’’سنا ہے کہ بگل کافی بجے تھے۔۔۔ پٹاخے بھی چھوٹے تھے۔‘‘\n\n’’شبرات تھی؟‘‘\n\n’’ہر انقلاب ایک شبرات ہوتا ہے۔‘‘\n\n’’لیکن ہر شبرات انقلاب نہیں ہوتی۔‘‘\n\n’’تم بکواس کرتے ہو۔۔۔ تم۔۔۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک سامراجی بندھنوں میں گرفتار ہو۔‘‘\n\n’’تم بورژ وائی ہو۔۔۔ تمہیں پرولتاریوں سے کوئی نسبت نہیں۔‘‘\n\n’’چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔‘‘\n\n’’یہ سعادت حسن منٹو تو نہیں بول رہا۔‘‘\n\n’’جی نہیں۔۔۔ اسے تو عرصہ ہوا مرے ہوئے۔۔۔ اس کا ٹھنڈا گوشت بول رہا ہے۔‘‘\n\n‘‘ کہاں سے؟‘‘\n\n’’قبر سے۔‘‘\n\n’’ایسا کیونکر ہو سکتا ہے۔۔۔ اس کے خلاف تو فتوے دے چکے ہیں کہ کافر ہے۔۔۔ کافر کی قبر کیسے بن سکتی ہے؟‘‘\n\n’’خود بخود بن گئی ہے۔‘‘\n\n’’غلط ہے۔۔۔ ہر چہار اکناف اعلان کرو کہ یہ اس خبیث کی قبر نہیں۔۔۔ ۔ کسی نامعلوم درویش کی ہے، جو صرف اندرونی طور پر فحش تھا اور خفیہ انداز میں اپنے اس مرض کا علاج کرتا رہا تھا۔‘‘\n\n’’ٹھیک ہے۔‘‘\n\n’’ٹھیک ہے!‘‘\n\n’’بہت ہی ٹھیک طور پر ٹھیک ہے۔‘‘\n\n’’خدا بخشش کرنے والا ہے۔‘‘\n\n’’خدا منٹو کو بھی اس نعمت غیر مترقبہ سے مستفیض فرمائے۔‘‘\n\n’’آمین!‘‘\n\n’’ثُم آمین!‘‘\n\n’’یہ تو جہنم نہیں۔۔۔ فردوس ہے!‘‘\n\n’’اگر فردوس برروئے زمیں است\nہمیں است وہمیں است وہمیں است۔‘‘\n\n’’دغا دار ڈرا۔‘‘\n\n’’اس کا کیا مطلب ہوا؟‘‘\n\n’’مطلب اس کا وہی کچھ ہے، جو ہم سب کا مطلب ہے۔‘‘\n\n’’تو ہم ضرور کشمیر لے لیں گے۔‘‘\n\n’’ضرور۔۔۔‘‘\n\n’’یو این او فیصلہ کرے گی۔‘‘\n\n’’کس کا؟‘‘\n\n’’ہماری قسمت کا۔‘‘\n\n’’پہلے تو ایسے فیصلے خدا کیا کرتا تھا۔‘‘\n\n’’اب ارضی جنت کا فیصلہ ارضی ’’دیوتا‘‘ کرے گا۔‘‘\n\n’’وہ ارضی ’’دیوتا‘‘ کون ہے۔‘‘\n\n’’اس کے کئی نام ہیں۔۔۔ اس کا نام رحیم بھی ہو سکتا ہے، رام بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ یعنی کہ اگر اہم ہوا۔۔۔ اگر دونوں قوموں نے۔۔۔ دونوں ملکوں نے اسے تسلیم کیا تو۔۔۔‘‘\n\n’’ورنہ؟‘‘\n\n’’ورنہ۔۔۔ سب بکواس ہے۔‘‘\n\n’’اس کا نام مت لو۔۔۔ ہم اسے مردود قرار دے چکے ہیں۔‘‘\n\n’’مرحبا!‘‘\n\n’’مرحبا!‘‘\n\n’’زندہ باد!‘‘\n\n’’جنت کے ہم حقدار ہیں۔‘‘\n\n’’یقیناً۔۔۔ اس کا ہندی مترادف کیا ہے۔۔۔ یہ نیتا جی، آل انڈیا ریڈیو سے پوچھ کے بتائیں گے۔۔۔ اس کا مطلب ان کی سمجھ میں آئے گا یا نہیں۔ اس کے متعلق انہوں نے ابھی تک کچھ نہیں کہا۔‘‘\n\n’’جنت کو ہم سورگ کہتے ہیں نیتا جی!‘‘\n\n’’میں نے اس کا نام آج سنا ہے۔‘‘\n\n’’یہ بڑی اچرج بات ہے۔‘‘\n\n’’یہ ’اچرج‘ بھی میں نے آج ہی سنا ہے۔‘‘\n\n’’یہ ریڈیائی زبان ہے۔۔۔ وہ زبان جو آپ کے ہوتے ہوئے یہاں پل رہی ہے۔‘‘\n\n’’میں بڑا بد زبان ہوں۔۔۔ مجھے اس زبان سے کوئی سروکار نہیں۔‘‘\n\n’’یہ سروکار کیا ہوتا ہے؟‘‘\n\n’’اس سے سرکار کا کوئی تعلق نہیں۔۔۔ اس سے صرف میرا تعلق رہا ہے۔۔۔ میرے سارے خاندان کا تعلق۔۔۔ لیکن تم ان سب پر لعنت بھیجو۔۔۔ لیکن میں تم سے صاف الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے کشمیر چاہیئے۔۔۔ اس لئے کہ میں وہاں پیدا ہوا تھا۔‘‘\n\n’’منٹو وہاں پیدا نہیں ہوا۔‘‘\n\n’’دنیا کا کوئی انسان وہاں پیدا نہیں ہوا۔‘‘\n\n’’اگر کوئی انسان پیدا ہوتا رہا ہے تو وہ ہمیشہ کشمیر سے باہر پیدا ہوتا رہا ہے۔‘‘\n\n’’اس کی وجہ؟‘‘\n\n’’اس کا باعث؟‘‘\n\n’’خود کشمیر سے پوچھو۔‘‘\n\n’’خود پیدا ہونے والے سے پوچھو۔‘‘\n\n’’خود پیدا کرنے والے سے پوچھو۔‘‘\n\n’’یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے۔‘‘\n\n’’اس عجیب و غریب بات کا دوسرا نام یو این او ہے۔‘‘\n\n’’یہ بھی کافی عجیب و غریب نام ہے۔‘‘\n\n’’عجیب و غریب کا نام ہی سیاست ہے۔‘‘\n\n’’اور اس کا دوسرا نام سعادت!‘‘\n\n’’ایں سعادت بزور بازو نیست\nتانہ بخشد۔۔۔ خدائے کشمیری!‘‘\n\n’’لیکن افسوس کہ وہ ’ہاتو‘ نہیں۔‘‘\n\n’’ڈاکٹر گراہم زندہ باد!‘‘\n\n’’مردہ باد!‘‘\n\n’’سالا کچھ کرتا ہی نہیں ہے۔‘‘\n\n’’نہیں یار۔۔۔ رپورٹیں لکھتا ہے۔۔۔ اور یہ بڑا مشکل کام ہے۔‘‘\n\n’’مشکلیں زندہ باد!‘‘\n\n’’آزاد کشمیر زندہ باد!‘‘\n\n’’جنت کے بھی ٹکڑے ہوئے ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’آدھا ہمارا۔۔۔ آدھا ان کا۔‘‘\n\n’’نہیں ہم پورا چاہتے ہیں۔‘‘\n\n’’ثابت و سالم جنت۔‘‘\n\n’’ حقّا کہ با عقوبت دوزخ برابر است\nرفتن بہ پائے مردے ہمسایہ در بہشت‘‘\n\n’’یہ کون ہے؟‘‘\n\n’’منٹو؟‘‘\n\n’’نہیں۔۔۔ شیخ سعدی۔۔۔ جو اپنے وقت کا منٹو تھا۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%DA%86%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DA%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "کرکٹ میچ", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "(۱)\n\nکرکٹ میچ پر آج کل برسات کے موسم میں کوئی مضمون لکھنا ’’بے فصلی‘‘ سی چیز ہے۔ بالخصوص جب کہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ کرکٹ کے واہیات میچوں کا حال اور ان کی خبریں چھاپتے چھاپتے اخبار والوں نے پبلک کو پست کر دیا اور پھر اب تو ایم سی سی والے بھی ہندوستان سے ’’آؤٹ‘‘ ہو گئے، ورنہ بہت ممکن ہے کہ یہ مضمون اگر کچھ پہلے شائع ہوتا تو ہمارے ہندوستانی کھلاڑی کرکٹ کا ایک ایسا گر جان جاتے کہ ایک ہی مقابلے میں ایم سی سی کی عقل راہ پر آ جاتی۔\n\nبہت ممکن ہے کہ آپ یہ سوچیں کہ یہ ایک مضمون نگار غریب کیا جانے کرکٹ اور کرکٹ کی باتیں! مگر عرض ہے، اکثر میدان کار زار میں لٹھ کام آتے ہیں اور تلواریں دھری رہ جاتی ہیں اور پھر میں کرکٹ میں ایسا گمنام یا اناڑی بھی تو نہیں۔ مجھے تسلیم ہے کہ اسکول کی ٹیم کے کپتان سے ہمیشہ پیش از پیش رہا۔ کالج میں پہنچ کر وزیرعلی اور نذیر علی کا کلاس فیلو رہا۔ سیکڑوں میچ دیکھ ڈالے۔ رن گن ڈالے، امپائروں کی غلطیاں نکالیں، ولایتی بلوں میں خرابیاں نکالیں، بکہ ایک تو چرا لیا۔ علی گڑھ میں جب ایم سی سی والے آئے تو گلیکن کے سامنے ایک میچ کا چیلنج دیا اور اگر منظور کر لیتے تو اپنی شکست کو عمر بھر نہ بھولتے۔ قصہ مختصر کرکٹ کی فضا میں رہا، بڑھا اور پلا اور محض اپنی جدت سے کرکٹ میں وہ ترکیب دریافت کی جس سے میچ ہارنے کا امکان ہی جاتا رہا۔ ایک نہیں اسی ترکیب سے دس میچ کھیلے اور جیتے ہیں، خود ہم نے!\n\n(۲)\n\nایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جب ہم اسکول میں پڑھتے تھے تو ہمارے کپتان صاحب دوڑ دھوپ کر کے مل ملا کر کسی نہ کسی طرح ایک میچ گوروں سے طے کر آئے۔ یہ گورے تو ویسے بھی میچ کے بھوکے ہوتے ہیں۔ اس میچ میں کپتان صاحب نے نہ تو ہمیں کھلاڑیوں میں شامل کیا اور نہ ’’مد فاضل‘‘ میں رکھا جو ہر جگہ گھس گھس کر میچ دیکھتے۔ رن گنتے، بلے تولتے یا اور طرح خصوصیت جتاتے اور ریفرشمنٹ کے انتظامات میں بھی پیش از پیش ہوتے ہیں۔ گوروں کی فوج کی طرف سے میچ کا خاصا انتظام تھا۔ حد کہ یہ ایک خیمے میں ریفرشمنٹ کے بہانے سے نہ معلوم کیا کیا یار لوگ ’’ریشم‘‘ اور ’’کلابتون‘‘ اڑایا کیے اور ہم ’’ناتوان‘‘ دیکھا کیے! یعنی ہم اور ہمارے دوست واقعی دور ہی سے معمولی میچ دیکھنے والوں کی طرح میچ کو سچ مچ ’’دیکھتے‘‘ ہی رہ گئے۔\n\nنتیجتاً ہمارے اسکول کو دوڑتے دوڑتے اور ’’پدتے پدتے‘‘ سویرا ہو گیا۔ کھلاڑیوں کا گوروں نے فشار نکال دیا۔ ایک سے ایک تگڑا وہاں گورا موجود، ایسا کہ ادھر گیند پہنچی نہیں کہ اس نے ’’بنی‘‘ کر دی۔ قصہ مختصر لڑکوں کو رپٹا مارا، جتنا کھلایا تھا سب وصول کر لیا۔ پھر عنایت ہی سمجھیے جو گوروں نے بخش دیا، کیونکہ ان کے رن اتنے ہو گئے تھے کہ آگے کھیل کی ضرورت ہی نہ رہی۔ کئی وکٹ اور بہت سے رنوں سے اسکول کی ٹیم ہاری۔ میچ کا انتظام اور ریفرشمنٹ وغیرہ کا نظام ایسا نہ تھا کہ اس کی دلکش اور سہانی یاد کسی نیک اور پاک دل طالب علم کے معصوم دل سے محو ہو سکے۔ چنانچہ ہمیں بھی فکر پڑا کہ کسی طرح ان گوروں سے میچ طے کریں۔\n\nچنانچہ ہم اس تاک میں تھے کہ ایک روز اسی رجمنٹ کا گورا ہمارے بنگلے کی طرف نکل کر آیا۔ یہ رجمنٹ ہائی لنڈرز کا تھا۔ اس گورے کے ساتھ ایک کتا تھا اور ہمارے یہاں بلا مبالغہ اچھے سے اچھے کتے موجود تھے اور کتوں کے ڈاکٹر اور قدردان نہیں بلکہ عاشق زار بھائی صاحب بھی موجود۔ کچھ تو کتا پسند اور کچھ گورا پسند، لہٰذا گورے صاحب کو روکنے کا بہانہ ہاتھ آیا۔ نتیجہ یہ کہ بہت جلد قبلہ گورے صاحب بنگلے کے مختصر لان پر بیٹھے کتوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ یہاں اپنا یہ حال کہ باتیں تو کتوں کی ہو رہی ہیں مگر جی ہے کہ پڑا ہے میچ کے ریفرشمنٹ میں۔ گورے صاحب کو کرکٹ کے ڈول پر لانا چاہا تو معلوم ہوا وہ کرکٹ کے قطعی شوقین نہیں۔ سوڈا برف سے ان کی خاطر خواہ مدارات کی۔ ان کے یہاں کتے دیکھنے آنے کا وعدہ کیا اور یہ بھی بر سبیل تذکرہ عرض کردیا کہ میچ کا معاملہ بھی وہیں طے کرلیں گے۔\n\nدوچار روز بعد رجمنٹ میں جو پہنچے تو یا تو اس بیہودہ گورے کا ہم نام بھول گئے یا دس بیس گورے اسی نام کے اور موجود تھے۔ پتہ لگا کر پہنچے جو سہی تو اسی نام کا ایک سخت بدتمیز گورا ملا، جو ہمیں دیکھتے ہی آنکھیں مٹکانے لگا اور انگلیاں نچانے لگا اور اس کے ساتھی لگے قہقہہ اڑانے۔ پھر آگے ہمت نہ پڑی جو اس منحوس کی تلاش کے سلسلہ میں کسی اور بھی ’’خراب‘‘ گورے سے ملتے۔ باضابطہ ٹائپ شدہ چیلنج ایک فرضی کلب کے کپتان کی طرف سے لائے تھے کیونکہ کسی رجمنٹ سے میچ طے کرنا معمولی بات نہیں۔ گھنٹوں ادھر سے ادھر دوڑے، درجنوں افسروں اور نہ معلوم کن کن سے ملے اور نتیجہ یہ کہ جواب باصواب نہ ملا۔ خط پر پتے چھوڑ کر آئے کہ اس پتہ پر ہم مطلع ہوں۔\n\nبات گئی گزری سی ہوگئی تھی کہ دس پندرہ دن بعد ایک اطلاع نامہ آیا کہ ہم فلاں دن میچ کے لیے تیار ہیں۔ فوراً ہم پھر رجمنٹ پہنچے اور میچ منظور کر لیا، ایک شرط پر۔ وہ یہ کہ کھیل کا سامان ہماری دوسری ٹیم اسی روز ایک اور جگہ لے جائے گی، لہٰذا سامان وغیرہ آپ کا ہی رہے گا۔ در اصل یہاں یہ حال تھا کہ ٹوٹا بلا چھوڑ ’’اسکورنگ‘‘ پنسل تک نہ تھی، گوروں کے یہاں قاعدہ ہے کہ روز تو وہاں قواعد پریڈ اور اسی قسم کے فضول دھندے رہتے ہیں۔ میچ کے لیے خاص طور پر دن نکالا جاتا ہے۔ ساری رجمنٹ کی چھٹی ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ہم سے وقت پر پہنچنے کا بھی اشارہ کردیا گیا تھا۔\n\nیہ معاملہ طے کر کے جو ہم آئے ہیں تو یار دوست مارے خوشی کے دیوانے ہوگئے، ناچنے لگے اور یہ حال کہ تمام دوست میچ کھیلنے کو تیار! ایسے ایسے اناڑی کہ گیند کھیلنے سے پیشتر ہی آؤٹ ہو جائیں۔ بڑی مشکل سے ہم نے انتخاب کیا اور گہری دوستی ہی کو مجبوراً معیار قرار دیا۔ ایک صاحب کو محض اس وجہ سے رکھنا پڑا کہ انہوں نے دوسوٹ دوسرے کھلاڑیوں کو دینے کا وعدہ کیا۔ در اصل یہ بے حد ضروری تھا کہ ہم ٹھاٹ سے جائیں۔ ایک موٹر کرایہ پر کیا اور اتنے قبل از وقت ہم وہاں پہنچے ہیں کہ سوائے مزدورں اور خلاصیوں کے کوئی بھی نہ تھا۔ موٹر پر آنا بیکار گیا۔ اس دوران میں سب آپس میں پرتھوی راج کی فوج کی طرح ایک دوسرے سے عہد و پیمان کرتے رہے کہ بے حد اچھا کھیلیں گے۔ جب تک جان میں جان ہے اور بلا ہاتھ میں ہے، گیند کو وکٹ کے قریب بھی نہ جانے دیں گے خواہ کتنے ہی زور سے گیند آتی ہوگی، ہرگز ہرگز کریز نہ چھوڑیں گے۔ در اصل دو تین ایسے ہی تھے۔ ان سے قسمیں لیں۔\n\n(۳)\n\nبہت جلد خدائے عزوجل نے مہربانی کی اور میدان بھر گیا۔ سیکڑوں گورے بقول کسے ’’گورے پہ گورا‘‘ اور میمیں اور ادھر ادھر کے لوگ آجمع ہوئے۔ پہلے کا سا مجمع ہوگیا اور انتظام وہ زوردار کہ ریفرشمنٹ کے خیمہ کی طرف دیکھ کر ہم لوگ آپس میں جب آنکھ کا اشارہ کرکے مسکراتے تو اندر سے دل کھنچنے لگتا۔ کھانا بھی کون منحوس کھا کر آیا۔ کسی نے کہا کہ بھیا میں دو بسکٹ کھا کر آیا ہوں، کوئی روٹی کا ایک ٹکڑا کھا کر اوپر سے بہت سا پانی پی کر آیا تھا۔ میں نے خود صرف ایک انڈے پر اکتفا کی تھی۔ یہ سوچ کر کہ وہ ڈٹ کر کھایا ہو کہ یاد کریں گورے بھی کہ آئی تھی کوئی ٹیم کرکٹ کھیلنے۔ میچ تھا، گوروں سے کوئی مذاق تھوڑا تھا۔\n\nہم آپ سے صحیح عرض کرتے ہیں کہ سہم ہی تو گئے جب گوروں کے کپتان نے کہا کہ ’’ٹاس!‘‘ گویا یہ طے ہو کہ کون پہلے کھیلے۔ ہم نے کہا کہ جیسا ہم پہلے عرض کر چکے ہیں عموماً ہم دو میچ کھیلتے ہیں۔ اس میچ میں ہم پہلے کھیل لیں اور دوسرے میچ میں آپ پہلے کھیل لیجیے گا۔ ایک گورے نے چوں و چرا کی تو ہم نے کہا کہ ’’صاحب ہم لوگ آخر کو ہندوستانی اور وہمی آدمی ہیں۔ شگون اور استخارہ سے کام چلاتے ہیں۔ اگر اس کے خلاف ہوا تو اپنے عقیدے کے بموجب نہ صرف ہم ہار جائیں گے بلکہ اور کسی افتاد سے سابقہ پڑے گا۔‘‘ شگون اور استخارہ کے پاکیزہ اصول جب ان بے وقوف گوروں کو سمجھائے تو وہ بہت ہنسے اور راضی ہو گئے۔\n\nجلدی جدی اور چپکے چپکے میں نے کھلاڑیوں کو قسمیں دے دے کر تاکید کی کہ دیکھو گڑبڑ نہ ہونے پائے، ڈرنا مت، ڈٹ کر کھیلنا وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے دو گھٹیا قسم کے کھلاڑی بلا لے کر میدان میں تالیوں کی گونج میں اترے۔ یہ دونوں دیکھنے میں بڑے عمدہ کھلاڑی معلوم ہوتے تھے، مگر اصلیت یہ تھی کہ گلی ڈنڈے سے آگے کچھ نہ جانتے تھے۔ تیار ہو کر کھڑے ہوئے۔ اُدھر سے گیند جو آئی تو ان کا وعدہ تھا کہ بالکل نہ ڈروں گا۔ چنانچہ وعدہ پورا کیا۔ انہوں نے وہ کس کر ہٹ لگایا کہ اگر گیند پر بلا پڑ جاتا تو تارا ہو جاتی، مگر وہ تو کمبخت وکٹ اڑالے گئی۔ انہیں پہلے ہی سے سکھا دیا گیا تھا اور باوجود آؤٹ ہونے کے اپنی جگہ سے نہ ہٹے۔ پوچھا تو کہنے لگے یہ تو ’’ٹرائل بال‘‘ تھی۔ گورے فوراً راضی ہوگئے مگر یہ حضرت تیسری گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ دو خالی نکل گئیں۔\n\nچوتھا شخص جو ہمارا پہنچا ہے، تو اس نے گوروں کو پریشان کر دیا۔ اچھا کھلاڑی تھا، ساتھی بھی اچھا ملا، چو طرفہ ہٹ لگائے اور کسی طرح گوروں کے قبضے میں نہ آیا تا وقتیکہ اس نے چونتیس رن نہ لیے، کل ملا کر ہمارے رن قریب پچاس کے پہنچے تھے کہ یہ خاکی پتلا اٹھا۔ یار لوگوں کو سکھا دیا تھا، اس واسطے خوب چیرز دیے گئے اور میں اس ٹاٹھ سے ’’کریز‘‘ پر پہنچا ہوں کہ بس دیکھا ہی کیجیے۔ پہنچتے ہی اول تو میں نے چاروں طرف ایسے نظر دوڑائی گویا یہ دیکھ رہا ہوں کہ کس گورے کو زیادہ دوڑانا چاہیے۔ دیکھ بھال کے بعد میں نے کریز ناپی۔ اس کے بعد ان کے امپائر سے بڑی شان کے ساتھ سنٹر مانگا۔ اپنے امپائر کو بھی آنکھ مار دی۔ وہ بھی پہنچا اور انتظام میں شریک ہو کر اس نے سائنٹفک طریقے پر غلطی نکال کر نئے سنٹر کی تصدیق کی اور وہ بھی اتنی جانچ پڑتال کے بعد کہ غالباً لوگ تنگ آگئے ہوں گے۔ اس کے بعد رومال جو میں ’’پویلین‘‘ میں قصداً چھوڑ آیا تھا وہ مانگا۔\n\nفوراً ایک سدھایا ہوا ساتھی بگٹٹ لیے دوڑا آیا۔ اب جو دیکھتا ہوں تو سامنے گوروں کا خطرناک بولر ایک گٹھا ہوا، انتہا سے زیادہ سرخ اور سخت مضبوط، خود گیند کی طرح گول مول گورا تھا جو اس زور سے بھنا کر گیند پھینکتا تھا کہ معلوم ہو میکسم گن کا گولا ہے کہ چلا آرہا ہے! میں نے اس بدتمیز کو دیکھا کہ چلا وہ اِدھر سے گیند لے کر اور اُدھر قبل اس کے ہاتھ سے گیند چھوٹے، میں ’’ناٹ ریڈی‘‘ کہہ کر کریز کو چھوڑ کر پرے ہٹ گیا۔ گیند بیچ کا وکٹ اڑائے چلی گئی۔ میں نے معذرت کی، کچھ نہیں ایسا بھی ہوتا ہے۔ میں نے اس طرح سے گیند کی رفتار بھی معلوم کر لی۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ اگر کہیں لگ گئی یہ گیند میرے سر پر، تب کیا ہوگا۔ دل نے کہا کہ بھیا مرزا کھیل گیا چولہے میں۔ یہ گیند نہیں گولا ہے جسے ایک موذی پھینک رہا ہے۔ سب کپتانی دھری رہ جائے گی جو پھوٹ گیا سر تو ریفرشمنٹ کے خیمہ کے بجائے یہی نامعقول گورے تمہیں خالی پیٹ ملٹری ہسپتال نہ پہنچا دیں گے اور پھر کیک پیسٹری کے بجائے صرف کھاری سوڈا ہاتھ آئے گا۔\n\nچنانچہ ان امور کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے بادل ناخواستہ گیند پھینکنے کی اجازت دی۔ دل دھڑکنے لگا۔ منہ بنا کر اور بدن کو جھٹکا دے کر وہ کمبخت لپکا ہے کہ گیند تو اس کے ہاتھ سے چھوٹتے نظر آئی۔ میں نے کچکچا کر بلا مضبوط پکڑ لیا تھا اور اٹھا کر ہٹ لگانے کے امکان پر غور کرنے ہی کو تھا کہ ’’کھٹکا‘‘ ہوا۔ میں چونک پڑا، کیا آؤٹ ہوگیا! مگر نہیں گیند بلے پر پڑی تھی۔ لوگوں نے نعرہ ہائے تحسین بلند کیے ’’ویل پلیڈ، ویل ڈن، ویل ججڈ۔‘‘ ان معقول آوازوں کے ساتھ ہی ’’اوور‘‘ ختم ہو گیا۔ اب دوسرے کھلاڑی کی باری تھی۔ ان کا ویسے ہی دم سوکھ رہا تھا، اِدھر میں نے ان سے کہا ’’اسٹڈی‘‘ ادھر تڑ سے وکٹ ان کا غائب۔\n\nنیا کھلاڑی آیا۔ اس نے بھگتان بھگتا ہی تھا کہ پھر میرا نمبر آیا۔ میں نے دل میں کہا کہ اگر یہ اوور کھیل لیے خیریت سے تو پھر ایک سرے سے کرکٹ ہی کھیلنا کم کر دیں گے، اُدھر بولر جھومتا چلا اور اِدھر میں نے دل میں سوچا کہ گیند یا تو میری طرف آئے گی اور یا وکٹوں کی طرف۔ اگر ہٹ نہ لگا تو کیا ہے گیند بھی تو نہ لگے گی۔ بس یہ دیکھنا ہے کہ گیند خود اپنی طرف تو نہیں آ رہی۔ در اصل کرکٹ کا یہی گر ہے۔ چنانچہ یہ سوچ کر میں تیار ہوگیا۔ اُدھر سے گیند جو آئی دندناتی ہوئی تو صحیح عرض کرتا ہوں کہ جس وقت بولر کے ہاتھ سے چھوٹی ہے، میرا قطعی ارادہ نہیں تھا کہ اس پر باؤنڈری لگاؤں گا کیونکہ وہ وکٹ کی طرف آ رہی تھی، مگر جب تک گیند آدھی مسافت طے کرے میں ’’چوٹ پھینٹ‘‘ کے امکان پر غور کر چکا تھا۔\n\nوکٹوں کی طرف۔۔۔ میری طرف۔۔۔ وکٹ محفوظ! مگر نہیں وہ تو دونوں طرف آتی ہوئی معلوم ہوئی۔ وکٹ گئے چولہے میں۔ کوئی چارہ کار نہ تھا، سوائے اس کے کہ استغفار پڑھ کر آنکھ میچ کے بلے کی ڈھال بناتے ہوئے جگہ سے ’’نو بول‘‘ کہہ کر اچھل کے دور گروں۔ اس کارروائی میں بلے کی جگہ میرے پیر نے لی اور اس پر زور سے گیند لگی اور اُھر میں ’’نو بال‘‘ کہہ کر پھاند چکا تھا۔ سکھایا پڑھایا امپائر اپنا تھا۔ دونوں طرف سے اپیل ہوئی۔ ہماری طرف والے بولے، ’’ناٹ آؤٹ۔‘‘ امپائر بھی بول اٹھا، ’’ناٹ آؤٹ۔‘‘ گورے بھنا کر رہ گئے۔ قاعدہ اچھا ہے جو امپائر کہے وہ سچ اور ہم نے تو اپنے امپائر سے کہہ دیا تھا کہ اگر تمہاری وہاں کسی نے کرکری کی تو حسب دستور جھگڑا کر کے میچ بند کر دیں گے۔\n\nاب دوسری گیند جو آئی تو میری ہمت قلابازی کھا رہی تھی۔ آنکھ میچ کے یا علی کہہ کر جو ہٹ بڑھ کر دیا تو بلا خالی اور گیند شانے کو چاٹتی ہوئی ٹوپی اڑالے گئی۔ میں پھر چیخا، ’’نوبال‘‘ مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔ اب سوائے جان پر کھیل جانے کے چارہ نہ تھا۔ اس کے بعد پھر جو گیند آئی تو کیا عرض کروں، جانچ تول کر ہٹ بھی لگایا، نشانہ بھی صحیح بیٹھا مگر وکٹ غائب، بس یہ معلوم ہو۔ میرے بعد پھر جو باقی بچے وہ بہت برا کھیلے، ڈر کے مارے کریز پھاند پھاند پڑے، اِدھر اُدھر کی جاتی گیندوں کو مردانہ وار ران اور پشت پر لیا اور جو سیدھی آئی وکٹ لیے چلی گئی۔ کل ہمارے ساٹھ ستر رن کے قریب ہوئے اور سب آؤٹ۔ ہم بھی اس حماقت سے چھٹی پا کر خوش ہوئے کہ چلو اب اصل کھیل تو شروع ہوگا ریفرشمنٹ والا، اب دیکھیں یہاں کون کون ہٹ اور باؤنڈری لگاتا ہے۔\n\n(۴)\n\nناشتے کی میز پر گھمسان کا معرکہ رہا۔ گورے خود بے تکلف اور ہم سب بے تکلف اور مزید برآں بھوکے۔ الم غلم جو سامنے آیا پار کیا۔ بعض چیزیں تو اس گڑبڑ کے عالم میں کھائیں کہ نمک ڈالنا بھول گئے اور بعض کا ذائقہ یاد نہ رہا۔ دل کو سمجھا لیا کہ بھئی انگریزی کھانے پھیکے میٹھے تو ہوتے ہی ہیں۔ میں خود پورا ایک کیک کھا گیا۔ گوروں نے بمشکل فی کس اتنا کھایا ہوگا کہ اس کا چوگنا ہمارے یہاں اس شخص نے کھایا جس نے سب سے کم کھایا۔ اس پر چائے اور پان کے بجائے نارنگیاں۔ غرض وہ ڈٹ کے کھایا کہ اب جو پانی پیتے ہیں تو جی یہی چاہا کہ اب ’’باقی پھر‘‘ مگر ہمیں تو میچ کھیلنا اور ’’جیتنا‘‘ بھی تھا۔\n\nعرض ہے کہ یہ خاکسار وکٹ کیپری میں قدرے ماہر ہے، لہٰذا جب گوروں کے کھیلنے کی باری آئی تو ان فرائض کا بارگراں اپنے ہی کندھوں پر رکھا۔ اپنے کھلاڑیوں کو قرینے سے کھڑا کیا، کسی کو خواہ مخواہ ذرا سا اِدھر ہٹایا، کسی کو اُدھر ہٹایا، کسی کی جگہ بدلی۔ اس کے بعد بندہ نہایت ہی ہوشیاری سے بڑی شان کے ساتھ اپنے اہم فرائض میں مصروف ہوگیا۔\n\nہماری طرف سے پہلی ہی گیند آئی ہے کہ غدر مچ گیا۔ گوروں نے کس کر ہٹ لگایا۔ ہٹ اوچھا پڑا اور بڑا عمدہ ’’سلپ‘‘ نکلا۔ ایسا کہ گیند اٹھ گئی اور سیدھی ہمارے ایک ہوشیار کھلاڑی کے سینہ کی طرف ایک بہترین ’’کیچ‘‘ کا امکان لیے ہوئے آئی مگر کھلاڑی ایک ہوشیار ٹھہرا۔ صاف بچا گیا۔ سر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا اور گیند اوپر سے نکل گئی اور پرے گری۔ لپک کر ہمارے ایک بہادر نے لی، گورا رن کر رہا تھا، لہٰذا انہوں نے بڑے زور سے وکٹ کیپر یعنی میری طرف پھینکی تاکہ میں وکٹ میں مار دوں۔ اب میرے پاس جو گیند آئی تو اول تو بہت ہی قریب سے پھینکی گئی تھی اور پھر اس زور سے پھینکی تھی کہ الامان، لہٰذا قصداً اور غیر قصداً گیند مجھ سے نکل گئی اور میں اپنی ڈیوٹی چھوڑ چھاڑ ایک نعرہ مار کر گیند کے پیچھے! مگر مجھ سے پہلے ایک اور ہمارے کھلاڑی نے اٹھالی اور زور سے جو وکٹوں کی طرف پھینکی یا ماری ہے تو وہ گولی کی طرح وکٹوں کے کچھ فاصلے سے ہو کر نکلی چلی گئی۔\n\nوہاں روکتا کون۔ میں تو یہاں تھا۔ اب میں پھر لوٹا اور بجائے وکٹوں پر رکنےکے گیند کی طرف دوڑا۔ وہاں گیند دور پہنچ چکی تھی۔ ایک صاحب نے اٹھا کر مجھے دی۔ میں نے دیکھا کہ میری جگہ ایک اور ہمارے کھلاڑی آگئے ہیں اور گیند کے منتظر ہیں کہ پہنچے تو وکٹوں کو گرا دیں لہٰذا میں نے اپنی پوری قوت سے گیند ان کی طرف پھینکی۔ انہوں نے ویسے تو بڑی تیاری کی تھی لیکن جب گیند قریب آئی تو آدمی یہ بھی سمجھدار تھے۔ صاف اپنے پیر بچانے کے لیے اچھل گئے اور پھر گیند نکلی چلی گئی اور اس درمیان میں گورے ہیں کہ زنازن، رن پہ رن! میں پھر گیند کی طرف لپکا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہمارے دو کھلاڑیوں کے درمیان سے گیند نکل گئی ہے۔ ایک نے اپنی ہی جگہ تڑپ کر کہا، ’’اماں لینا۔۔۔‘‘ دوسرے نے کہا، ’’چہ خوش! اپنی بلا میرے سر، خود کیوں نہیں دوڑتے۔‘‘\n\nمیں کپتان تھا، عزت ہمارے ہاتھ تھی، دوڑ کر گیند کو پکڑ ورنہ باؤنڈری ہو جاتی، مگراب گھوم کر جو دیکھتے ہیں تو گوروں نے رن کرنا بند کر دیے ہیں۔ کوئی بیس بائیس رن تو ہوچکے تھے اوراگر وہ کئے جاتے تو دس بارہ اور ہوجاتے۔ جب میں نے یہ دیکھا تو گیند ہاتھ ہی میں لیے لپکتا آیا۔ دونوں کھلاڑی اپنی اپنی جگہ چھوڑ کر میری طرف آگئے تھے۔ تیوری پر ان کے بل تھے۔ ایک گورے نے بڑھ کر مجھ سے کہا، ’’وہٹ از گوئنگ آن کیپٹن؟‘‘ بجائے جواب کے میں نے گیند کو وکٹ پر چھواتے ہوئے امپائر سے پوچھا، ’’ہاؤزٹ امپائر؟‘‘ ہمارا امپائر بولا، ’’آؤٹ۔‘‘ اس پر پویلین سے ایک شور سا ہوا۔ ہم خود قاعدہ قانون سے واقف، اگر تھوڑی دیر کے لیے مان بھی لیا جائے کہ ہم قصداً رن بنانے کا غنیم کو موقع دے رہے تھے تو اس کے یہ معنی تو نہیں کہ رن کرنے والے رن کرتے کرتے نہ صرف رک جائیں، بلکہ اِدھر اُدھر افیونیوں کی طرح گھومنے لگیں، خود ان کے امپائر سے ہم نے بھی کہلوا لیا کہ کھلاڑی آؤٹ ہوگیا۔ بحث اور حجت تک نوبت پہنچی۔ ہم نے بھی کہا کہ صاحب ہم بہترین فیلڈنگ کر رہے ہیں۔ آپ رن کیے جائیے۔ آپ کو ہماری فیلڈنگ سے کیا بحث۔ چاہے ہم زیادہ رن بنوا دیں یا تھوڑے، آپ کون؟ آپ کو رن کرنے سے مطلب۔\n\nچنانچہ اب جو گورے صاحبان کھیلنے کھڑے ہوئے ہیں تو ہماری فیلڈنگ کا رنگ ہی اور تھا۔ وہ کھلاڑی جو ’’ہٹ‘‘ پر تھا جیب میں تاش لایا تھا اور کنارے بیٹھا ’’باؤنڈری مین‘‘ کے ساتھ ’’چائنس‘‘ کھیل رہا تھا۔ جو کھلاڑی ’’آف‘‘ پر تھا وہ ہاتھ نچا نچا کر گنگنا رہا تھا۔ ’’موٹر کا پہیہ تیز سیاں ہم نہیں بیٹھیں گے۔۔۔‘‘\n\n’’لانگ وکٹ کیپر‘‘ بیٹھا ہوا تھا، پوچھا کیوں، تو بولا، ہم اِدھر سے گیند ہرگز نہ جانے دیں گے، تمہاری بلا سے بیٹھیں یا لیٹیں۔ باقی جوان سے زیادہ مستعد تھے وہ بجائے علیحدہ علیحدہ کھڑے ہونے کے باتیں کرنے کے لیے دو دو اکٹھے کھڑے تھے یا لیٹے تھے۔ کچھ مونگ پھلیاں ٹھونگ رہے تھے۔ کھا اتنا لیا تھا کہ چلنا مشکل تھا۔ فیلڈ کی یہ حالت اور ادھر ہمارا بولر باربار کھلاڑیوں کو پکار کر کہہ رہا تھا کہ ’’ریڈی پلیز‘‘ اور ادھر میں بھی اپنے ’’مڈگارڈ‘‘ ٹانگوں پر چڑھائے ’’یس۔۔۔ یس۔۔۔‘‘ کہہ رہا تھا اور ادھر گورے صاحبان بجائے کھیل کے حجت اور بحث پر آمادہ! آگ بگولا ہوکر مجھ سے گورے نے کہا، ’’تمہارا کیا مطلب ہے؟‘‘ اور ہمارے دو مستعد کھلاڑیوں کی طرف انگلی اٹھائی جو اس وقت تندہی سے پنجہ لڑا رہے تھے۔ میں نے جواب دیا کہ ہمارے کھلاڑی در اصل اپنی ذمہ داری خوب سمجھتے ہیں، آپ کو تکلیف کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہماری ٹیم ایک جگہ نہیں سیکڑوں جگہ سے جیت کر آئی ہے۔ قصہ مختصر میں نے اور ہمارے بولر نے تقاضا کر کر کے گورے کو راضی کیا۔ ہمارے بولر نے قصداً گیندیں بچا بچا کر دینی شروع کیں، ایسی کہ گورے کہ پیچھے سے نکلی چلی جائے۔ چوتھی گیند گورے نے بڑھ کر کس کر ٹھونک دی اور اسی پر ہم میچ جیت گئے۔\n\nگیند میں ہٹ جو لگا اور میں نے جو کہا ہے کہ ’’لینا‘‘ تو اب ہمارے کھلاڑیوں کی مستعدی ملاحظہ کیجیے کہ جو جہاں تھا وہیں سے دوڑ پڑا! گیند کی طرف! اور وہ بھی اس قدر بے تحاشا کہ بس دیکھا ہی کیجیے مگر گیند چونکہ آگے جا چکی تھی اور دوڑنے والوں نے قدرے دوسری سمت اختیار کی تھی لہٰذا بہت جلد وہاں سے لوگ پکارے ’’ہمیں نہیں ملتی۔‘‘ اور پھر فوراً یہ روح فرسا پیام آیا کہ ’’کھو گئی۔‘‘ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ سن کر ہمارے بولر نے نعرہ مارا، ’’کھو گئی۔۔۔‘‘ اب گوروں کی حماقت ملاحظہ ہو کہ رن نہیں کرتے۔ میں نے ہاتھ جھٹک کر ترغیب دی، ’’گو آن سر۔۔۔ رن آن۔‘‘\n\nپویلین سے قہقہے بلند ہوئے اور سیکڑوں آدمی چلائے، ’’رن آن رن آن۔‘‘ مگر توبہ کیجیے گڑبڑ ہوگئی۔ تمام لوگ پویلین پر سے اترپڑے۔ ان میں سے کچھ غصہ تھے لیکن باقی ہنس رہے تھے۔ مگر خود کھلاڑی گورے آگ بگولا ہو رہے تھے، سوائے دوتین کھلاڑیوں کے جو میری پیٹھ ٹھونک کر کہنے لگے، ’’ویل پلیڈ کیپٹن۔‘‘ اور میں حجت کر رہا تھا کہ آپ لوگ کیوں کھیل بند کیے دیتے ہیں۔ ہمارے سب کھلاڑی آن موجود ہوئے۔ بحث شروع ہوگئی، جن دو گوروں نے رن کیے تھے ان کا میمیں اور لڑکیاں اتنا مذاق اڑارہی تھیں کہ خود اپنی حماقت پر انہیں ہنسی آنے لگی۔ بہتیرا ہم نے کہا کہ کھیلو مگر گورے نہ مانے۔ جب کسی طرح راضی نہ ہوئے تو ہم نے امپائر سے ’’رول مانگا۔‘‘ نتیجہ یہ کہ ہم قریب پچاس ساٹھ رن سے جیتے اور بوجہ فریق مخالف کے نہ کھیلنے کے میچ ختم ہوگیا۔\n\nاس کامیاب میچ کے بعد ہم نے کانپور میں دو تین اسی طرح کے میچ کھیل ڈالے حتی کہ ایک میچ میں زد و کوب تک کی نوبت پہنچی۔ پھر تو یہ دستور ہوگیا کہ جو بھی ٹاس جیتا وہ میچ بھی جیت گیا۔ پھر جب علی گڑھ میں ایم سی سی کا میچ ہوا تو نہ صرف ایک ٹیم تیار کرلی تھی بلکہ ہماری ٹیم کے سرپرست اعلیٰ اور دوسرے احباب ایک ہزار تک روپیہ بھی ایم سی سی کو دینے کو تیار تھے اور میں اس سلسلہ میں بہت کچھ دوڑا دھوپا، مگر گلیکن نے وقت کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے انکار کر دیا۔ ورنہ ہم صحیح کہتے ہیں کہ اس میدان پر ان کو شکست دیتے جس جگہ انہوں نے ہماری یونیورسٹی کو شکست دی تھی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%DA%A9%D9%B9_%D9%85%DB%8C%DA%86"} {"title": "کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس\nنہیں اپنا بس نہیں اپنا بس نہیں اپنا نہیں اپنا بس\n\nشب وصل ہے شب وصل ہے شب وصل ہے شب وصل ہے\nنہ بجے جرس نہ بجے جرس نہ بجے جرس نہ بجے جرس\n\nنہ گیا جنوں نہ گیا جنوں نہ گیا جنوں نہ گیا جنوں\nہوئے چھلنی بس ہوئے چھلنی بس ہوئے چھلنی بس ہوئے چھلنی بس\n\nترے پاؤں تک ترے پاؤں تک ترے پاؤں تک ترے پاؤں تک\nنہیں دسترس نہیں دسترس نہیں دسترس نہیں دسترس\n\nوہ گلے ملیں وہ گلے ملیں وہ گلے ملیں وہ گلے ملیں\nیہی ہے ہوس یہی ہے ہوس یہی ہے ہوس یہی ہے ہوس\n\nمیں ہوں جاں بہ لب میں ہوں جاں بہ لب میں ہوں جاں بہ لب میں ہوں جاں بہ لب\nکرو کچھ ترس کرو کچھ ترس کرو کچھ ترس کرو کچھ ترس\n\nارے سوز غم ارے سوز غم ارے سوز غم ارے سوز غم\nگیا دل جھلس گیا دل جھلس گیا دل جھلس گیا دل جھلس\n\nیہ ہے بیکسی یہ ہے بیکسی یہ ہے بیکسی یہ ہے بیکسی\nنہیں ہم نفس نہیں ہم نفس نہیں ہم نفس نہیں ہم نفس\n\nمری آنکھ سے مری آنکھ سے مری آنکھ سے مری آنکھ سے\nگیا مینہ برس گیا مینہ برس گیا مینہ برس گیا مینہ برس\n\nرہے بند ہم رہے بند ہم رہے بند ہم رہے بند ہم\nنہ کھلا قفس نہ کھلا قفس نہ کھلا قفس نہ کھلا قفس\n\nترے رخ سے مہ ترے رخ سے مہ ترے رخ سے مہ ترے رخ سے مہ\nہوا مقتبس ہوا مقتبس ہوا مقتبس ہوا مقتبس\n\nترے ہجر میں ترے ہجر میں ترے ہجر میں ترے ہجر میں\nہے گھڑی برس ہے گھڑی برس ہے گھڑی برس ہے گھڑی برس\n\nجہاں مہرؔ ہے جہاں مہرؔ ہے جہاں مہرؔ ہے جہاں مہرؔ ہے\nوہیں آ کے بس وہیں آ کے بس وہیں آ کے بس وہیں آ کے بس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%B3_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%B3_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%B3_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%B3"} {"title": "کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد\nمری نگاہ نہیں سُوئے کوفہ و بغداد\n\nیہ مدرسہ، یہ جواں، یہ سُرور و رعنائی\nانھی کے دم سے ہے میخانۂ فرنگ آباد\n\nنہ فلسفی سے، نہ مُلّا سے ہے غرض مجھ کو\nیہ دل کی موت، وہ اندیشہ و نظر کا فساد\n\nفقیہِ شہر کی تحقیر! کیا مجال مری\nمگر یہ بات کہ مَیں ڈھُونڈتا ہوں دل کی کشاد\n\nخرید سکتے ہیں دنیا میں عشرتِ پرویز\nخدا کی دین ہے سرمایۂ غمِ فرہاد\n\nکیے ہیں فاش رمُوزِ قلندری میں نے\nکہ فکرِ مدرسہ و خانقاہ ہو آزاد\n\nرِشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہَمن کا طِلسم\nعصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%A7%DB%81%D9%84%D9%90_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"} {"title": "کریں گے سب یہ دعویٰ نقد دل جو ہار بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:ظریف لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کریں گے سب یہ دعویٰ نقد دل جو ہار بیٹھے ہیں\nخفیفہ میں تمہارے عاشق نادار بیٹھے ہیں\n\nعجب کیا عاشقوں کو دل میں یہ معشوق کہتے ہوں\nیہ کیوں گھر گھیر کر میرا خدا کی مار بیٹھے ہیں\n\nشب فرقت کا اک دریائے غم ہے بیچ میں حائل\nجو میں اس پار بیٹھا ہوں تو وہ اس پار بیٹھے ہیں\n\nکوئی ہے اطلاع اس وقت کر دے جا کے تھانے پر\nوہ میرے قتل پر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیں\n\nسفیدی خانۂ دل میں سیہ کاروں کے پھیریں گے\nنہیں منبر پہ واعظ پاڑ پر معمار بیٹھے ہیں\n\nپکڑ کر کان اپنا درس گاہ عشق میں عاشق\nہزاروں بار اٹھے ہیں ہزاروں بار بیٹھے ہیں\n\nکہا کرتے تھے والد قیس کے فرط محبت میں\nنہیں معلوم کس جنگل میں بر خوردار بیٹھے ہیں\n\nظریفؔ اب فائدہ کیا شاعروں کو سردی کھانے سے\nغزل ہم پڑھ چکے گھر جائیں کیوں بیکار بیٹھے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D8%B9%D9%88%DB%8C%D9%B0_%D9%86%D9%82%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کریں گے ظلم دنیا پر یہ بت اور آسماں کب تک", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "کریں گے ظلم دنیا پر یہ بت اور آسماں کب تک\nرہے گا پیر یہ کب تک رہوگے تم جواں کب تک\n\nخداوندا انہیں کس دن شعور آئے گا دنیا کا\nرہیں گی بے پڑھی لکھی ہماری لڑکیاں کب تک\n\nپھرے گا اور کتنے دن خیالی پار گھوڑے پر\nاڑے گا شعر گوئی میں نہ انجن کا دھواں کب تک\n\nعنان حکمرانی دیکھیے کس دن خدا لے گا\nرہیں گے قسمتوں پر حکمراں یہ آسماں کب تک\n\nدئے جائیں گے کب تک شیخ صاحب کفر کے فتوے\nرہیں گی ان کے صندوقچہ میں دیں کی کنجیاں کب تک\n\nچلی جائے گی اک ہی رخ ہوا تاکہ زمانہ کی\nنہ پورا ہوگا تیرا دور یہ اے آسماں کب تک\n\nتحمل ختم ہوتے ہی بڑی بد نامیاں ہوں گی\nتمہارے خوف سے پرویںؔ نہ کھولے گی زباں کب تک", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%B8%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے\nجو ہوگی عمر بھر کی راہ تو دم بھر میں آویں گے\n\nاگر ہاتھوں سے اس شیریں ادا کے ذبح ہوں گے ہم\nتو شربت کے سے گھونٹ آب دم خنجر میں آویں گے\n\nیہی گر جوش گریہ ہے تو بہہ کر ساتھ اشکوں کے\nہزاروں پارۂ دل میرے چشم تر میں آویں گے\n\nگر اس قید بلا سے اب کی چھوٹیں گے تو پھر ہرگز\nنہ ہم دام فریب شوخ غارت گر میں آویں گے\n\nنہ جاتے گرچہ مر جاتے جو ہم معلوم کر جاتے\nکہ اتنا تنگ جا کر کوچہ دلبر میں آویں گے\n\nگریباں چاک لاکھوں ہاتھ سے اس مہر طلعت کے\nبرنگ صبح محشر عرصۂ محشر میں آویں گے\n\nجو سرگردانی اپنی تیرے دیوانے دکھائیں گے\nتو پھر کیا کیا بگولے دشت کے چکر میں آویں گے\n\nظفرؔ اپنا کرشمہ گر دکھایا چشم ساقی نے\nتماشے جام جم کے سب نظر ساغر میں آویں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D9%82%D8%B5%D8%AF_%DB%81%D9%85_%D8%AC%D8%B3_%D8%AF%D9%85_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%88%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "کرے عاشق پہ وہ بیداد جتنا اس کا جی چاہے", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کرے عاشق پہ وہ بیداد جتنا اس کا جی چاہے\nرکھے دل کو مرے ناشاد جتنا اس کا جی چاہے\n\nہمیں بھی صبر خاطر خواہ داد حق ہے الفت میں\nوہ دے جور و جفا کی داد جتنا اس کا جی چاہے\n\nیہ مظلوم محبت داد رس ہرگز نہ پاوے گا\nکرے دل داد اور فریاد جتنا اس کا جی چاہے\n\nعدم ہے اور وجود اس مشت پر کا بھی مساوی سا\nستم ہم پر کرے صیاد جتنا اس کا جی چاہے\n\nبلائے ناگہاں گریہ گرفتاری نہیں غافل\nوہ ہو غم سے مرے آزاد جتنا اس کا جی چاہے\n\nنہیں ہے سر نوشت اس کی لب جاں بخش شیریں کی\nکرے جاں کندنی فرہاد جتنا اس کا جی چاہے\n\nہمیں حسرتؔ فراموشی بھی اس کی یادگاری ہے\nکرے گو ہم کو کمتر یاد جتنا اس کا جی چاہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D9%BE%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%AC%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%92"} {"title": "کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے\nزمیں سخت ہے آسماں دور ہے\n\nجرس راہ میں جملہ تن شور ہے\nمگر قافلے سے کوئی دور ہے\n\nتمنائے دل کے لیے جان دی\nسلیقہ ہمارا تو مشہور ہے\n\nنہ ہو کس طرح فکر انجام کار\nبھروسہ ہے جس پر سو مغرور ہے\n\nپلک کی سیاہی میں ہے وہ نگاہ\nکسو کا مگر خون منظور ہے\n\nدل اپنا نہایت ہے نازک مزاج\nگرا گر یہ شیشہ تو پھر چور ہے\n\nکہیں جو تسلی ہوا ہو یہ دل\nوہی بے قراری بدستور ہے\n\nنہ دیکھا کہ لوہو تھنبا ہو کبھو\nمگر چشم خوں بار ناسور ہے\n\nتنک گرم تو سنگ ریزے کو دیکھ\nنہاں اس میں بھی شعلۂ طور ہے\n\nبہت سعی کریے تو مر رہیے میرؔ\nبس اپنا تو اتنا ہی مقدور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%AC%D8%A8%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ\nخط پیالہ سراسر نگاہ گل چیں ہے\n\nکبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے\nکہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے\n\nبجا ہے گر نہ سنے نالہ ‌ہائے بلبل زار\nکہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے\n\nاسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا برائے خدا\nمقام ترک حجاب و وداع تمکیں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B3%D8%A8_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%BA"} {"title": "کس بری ساعت سے خط لے کر گیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس بری ساعت سے خط لے کر گیا\nنامہ بر اب تک نہ آیا مر گیا\n\nجاتے ہی دل اس گلی میں مر گیا\nمرنے والا بے وفائی کر گیا\n\nدل تو جانے کو گیا لیکن مجھے\nاس بھری محفل میں رسوا کر گیا\n\nحسرتیں تھیں جینے والی جی گئیں\nمرنے والا تھا دل اپنا مر گیا\n\nغم کی لذت ابتدا میں تھی مگر\nاس قدر کھایا کہ اب جی بھر گیا\n\nہر نوالہ اس کا اب تو تلخ ہے\nعمر نعمت تھی مگر جی بھر گیا\n\nکیا کہوں احوال اٹھتی بزم کا\nپہلے مینا بعد کو ساغر گیا\n\nدل نے اک دن بھی نہ دیکھا تجھ کو آہ\nاس گلی تک خواب میں اکثر گیا\n\nمرنے والے دل تجھے اب کیا کہوں\nخیر بخشا میں نے جو کچھ کر گیا\n\nکیا کہوں ان آنسوؤں کا زور و شور\nآنکھیں جھپکی تھیں کہ چلو بھر گیا\n\nدل گلہ کرتا تھا خوب اس شوخ کا\nتذکرہ محشر کا سن کر ڈر گیا\n\nجس جگہ دارا کو بھیجا تھا وہیں\nکچھ دنوں کے بعد اسکندر گیا\n\nجس کا کہلاتا ہے واں تھی کیا کمی\nاے گدا کیوں مانگنے دردر گیا\n\nدل نے سبقت کی حواس و صبر پر\nپہلے سلطاں بعد کو لشکر گیا\n\nمنہ سے نکلا تھا کہ پہنچا عرش پر\nنالۂ دل نام اونچا کر گیا\n\nدل یہ امڈا مے سے خالی دیکھ کر\nجام اشکوں سے لبالب بھر گیا\n\nگر نہ جائے خاک پر قطرہ کوئی\nبس بس اے ساقی کہ ساغر بھر گیا\n\nمے کشو ماتم کرو اب شادؔ کا\nہائے کیا مے خوار رحلت کر گیا\n\nشادؔ کیا کچھ کم ہیں دو کم ساٹھ سال\nزندگی سے بس دل اپنا بھر گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D8%B9%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%B7_%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کس بزم میں شمع تو نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:عنایت اللہ روشن بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس بزم میں شمع تو نہیں ہے\nکس جا تری گفتگو نہیں ہے\n\nکس رنگ میں جلوہ گر نہیں تو\nکس پھول میں تیری بو نہیں ہے\n\nہے پردۂ چشم پردۂ دید\nکس وقت وہ روبرو نہیں ہے\n\nدیدار کی ہے فقط تمنا\nدل میں اور آرزو نہیں ہے\n\nخوبی تری جلوہ گر ہے دل میں\nیہ آئنہ عیب جو نہیں ہے\n\nسامان نشاط سب ہیں بے کار\nمحفل میں جو ایک تو نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "کس جا نہ بے قراری سے میں خستہ تن گیا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس جا نہ بے قراری سے میں خستہ تن گیا\nپر دیکھنے کا اس کے کہیں ڈھب نہ بن گیا\n\nکس کس طرح کی کی خفگی دل نے مجھ سے آہ\nروٹھا کسی کا یار کسی سے جو من گیا\n\nیارو جہاں میں اب کہیں دیکھی وفا کی چال\nجانے دو یہ نہ ذکر کرو وہ چلن گیا\n\nسوسن زباں نکالے جو نکلی تو زیر خاک\nکیا جانیے کہ کون یہ تشنہ دہن گیا\n\nاے عشق سچ تو یہ ہے کہ شیریں نے کچھ نہ کی\nحسرت کا کوہ دل پہ لیے کوہ کن گیا\n\nبس ناصحا یہ تیر ملامت کہاں تلک\nباتوں سے تیری آہ کلیجا تو چھن گیا\n\nکل اس صنم کے کوچے سے نکلا جو شیخ وقت\nکہتے تھے سب ادھر سے عجب برہمن گیا\n\nپیدا یہ ہجر یار میں وحشت ہوئی کہ آہ\nاس دل کا وصل میں بھی نہ دیوانہ پن گیا\n\nحیراں ہے تجھ کو دیکھ کے جرأتؔ مری تو عقل\nدو چار دن میں کیا یہ ترا حال بن گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%AC%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%AA%D9%86_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کس جگہ جلوہ نہیں اے مہ تاباں تیرا", "poet_page": "مصنف:احمد شاہ خاں شبنم", "kind": "poetry", "section": "غزل > گلدستۂ لطافت (1936)", "year": "1936", "text_ur": "کس جگہ جلوہ نہیں اے مہ تاباں تیرا\nپا ہی جاتا ہے تجھے ہر کہیں خواہاں تیرا\n\nکون دیکھے تجھے اس ماہ جبیں کے ہوتے\nمنہ ادھر کو رہے اے مہر درخشاں تیرا\n\nتیرے سائے کو بھی تجھ تک نہ پھٹکنے دیتا\nیار ہوتا جو یہ ناچیز نگہباں تیرا\n\nکسی آشفتہ کا کیا صبر پڑا ہے اس پر\nکیوں پریشان ہے گیسوئے پریشاں تیرا\n\nلے کے دل مجھ سے کوئی اپنا نہ کام اس سے لیا\nکاش آئینہ ہی ہوتا دل حیراں تیرا\n\nآج ہے وصل کی شب جا بھی ترا منہ کالا\nپھر نہ دکھلائے خدا منہ شب ہجراں تیرا\n\nجان سے تنگ ہوں پر جان سے جاؤں کیوں کر\nمجھ کو مرنے بھی تو دیتا نہیں ارماں تیرا\n\nکون جائے در دل دار سے اٹھ کر واعظ\nخیر اچھا ہی سہی روضۂ رضواں تیرا\n\nشعر اس میں نہیں یہ پھول کھلے ہیں شبنمؔ\nحور کے ہاتھ کا گلدستہ ہے دیواں تیرا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%AC%DA%AF%DB%81_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%81_%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کس حسن سے کہوں میں اس کی خوش اختری کی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس حسن سے کہوں میں اس کی خوش اختری کی\nاس ماہرو کے آگے کیا تاب مشتری کی\n\nرکھنا نہ تھا قدم یاں جوں باد بے تامل\nسیر اس جہاں کی رہرو پر تو نے سرسری کی\n\nشبہا بحال سگ میں اک عمر صرف کی ہے\nمت پوچھ ان نے مجھ سے جو آدمی گری کی\n\nپائے گل اس چمن میں چھوڑا گیا نہ ہم سے\nسر پر ہمارے اب کے منت ہے بے پری کی\n\nپیشہ تو ایک ہی تھا اس کا ہمارا لیکن\nمجنوں کے طالعوں نے شہرت میں یاوری کی\n\nگریے سے داغ سینہ تازہ ہوئے ہیں سارے\nیہ کشت خشک تو نے اے چشم پھر ہری کی\n\nیہ دور تو موافق ہوتا نہیں مگر اب\nرکھیے بنائے تازہ اس چرخ چنبری کی\n\nخوباں تمہاری خوبی تا چند نقل کریے\nہم رنجہ خاطروں کی کیا خوب دلبری کی\n\nہم سے جو میرؔ اڑ کر افلاک چرخ میں ہیں\nان خاک میں ملوں کی کاہے کو ہمسری کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "کس دل سے ترک لذت دنیا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس دل سے ترک لذت دنیا کرے کوئی\nوہ خواب دل فریب کہ دیکھا کرے کوئی\n\nکیا سہل ہے کہ ترک تماشا کرے کوئی\nدل سے نہ ہو تو آنکھ سے توبہ کرے کوئی\n\nغنچے کے دل میں کچھ نہ تھا اک آہ کے سوا\nپھر کیا شگفتگی کی تمنا کرے کوئی\n\nآنکھیں ہوں جس کے آنکھوں ہی آنکھوں میں تاڑ لے\nدرد اپنا وہ نہیں کہ ٹٹولا کرے کوئی\n\nدل مضطرب نگاہ گرفتار شش جہت\nفرمائیے کدھر کا ارادہ کرے کوئی\n\nیادش بخیر یاد خدا آ ہی جاتی ہے\nاپنی طرف سے لاکھ بھلایا کرے کوئی\n\nاس کی نگاہ شوق کے قربان جائیے\nتجھ ایسے بے نشاں کو جو پیدا کرے کوئی\n\nطاعت ہو یا گناہ پس پردہ خوب ہے\nدونوں کا جب مزہ ہے کہ تنہا کرے کوئی\n\nبندے نہ ہوں گے جتنے خدا ہیں خدائی میں\nکس کس خدا کے سامنے سجدہ کرے کوئی\n\nحسن یگانہؔ آپ ہی اپنا حجاب ہے\nحسن حجاب دور سے دیکھا کرے کوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کس راہ گیا لیلیٰ کا محمل نہیں معلوم", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس راہ گیا لیلیٰ کا محمل نہیں معلوم\nہے بادیہ ریگ اور ہمیں منزل نہیں معلوم\n\nمیں حشر کے دن دعویٰ خوں کس سے کروں گا\nوہ کشتہ ہوں جس کشتہ کا قاتل نہیں معلوم\n\nنکلیں ہیں مرے دل کے تڑپنے میں ادائیں\nہے کس کی نگاہوں کا یہ بسمل نہیں معلوم\n\nتھا روئے دل خستہ تو شب میری طرف کو\nکب ہو گیا مژگاں کے مقابل نہیں معلوم\n\nوہ بحر ہے دریائے سرشک اپنا کہ جس کا\nپہنا ہی نظر آوے ہے ساحل نہیں معلوم\n\nمر جاؤں کہ جیتا رہوں میں ہجر میں تیرے\nکس چیز کا خواہاں ہے مرا دل نہیں معلوم\n\nآنکھوں سے گزارا ہے جو یوں لخت جگر کا\nآتے ہیں چلے کس کے یہ گھائل نہیں معلوم\n\nکیا جانیے کیا اس میں تری آنکھوں نے دیکھا\nکیوں ہو گئیں آئینے کی مائل نہیں معلوم\n\nاے مصحفیؔ افسوس کہ اس ہستی پہ ہم کو\nتحصیل وفاداری کا حاصل نہیں معلوم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%D9%B0_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D9%85%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85"} {"title": "کس رنگ میں بیان کریں ماجرائے قلب", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس رنگ میں بیان کریں ماجرائے قلب\nدیکھا جو ہم نے جلوۂ حیرت فزائے قلب\n\nوہ جانتا ہے وسعت مشرب کے راز کو\nدیکھا ہے جس نے عالم بے انتہائے قلب\n\nیا رب یہ قلب ہیئت قلبی عجیب ہے\nنیرنگ دیکھتے ہیں یہ کیا اے خدائے قلب\n\nیہ زمزمہ طیور خوش آہنگ کا نہیں\nہے نغمہ سنج بلبل رنگیں نوائے قلب\n\nروشن ضمیر ہیں یہ ترے خاکسار عشق\nرکھتے ہیں فیض عشق سے نور و صفائے قلب\n\nسالک بقائے عشق اسے کب نصیب ہو\nجس کے سلوک میں نہ ہوئی ہو فنائے قلب\n\nتاباں ہے دل میں مہر درخشان معرفت\nنور القلوب ہے یہ ہماری ضیائے قلب\n\nعشاق جو تصور برزخ کے ہو گئے\nآتی ہے دم بہ دم یہ انہیں کو صدائے قلب\n\nقلب شہید میں ہے تجلیٔ حسن یار\nمشتاق جلوہ کیوں نہ ہوں دل سے فدائے قلب\n\nصاحب دلوں کو حق نے دیا ہے حضور قلب\nمقبول کس طرح سے نہیں ہو دعائے قلب\n\nیہ شوق و رم کی بھول بھلیاں عجیب ہے\nنیرنگ رنگ ہے حرم دل کشائے قلب\n\nجس پر پڑی جہاں میں ابو الوقت کی نگاہ\nاس کو ملا ہے آئنہ گیتی نمائے قلب\n\nہیں آفتاب نار محبت کے سوختہ\nصحبت میں ان کی ہوتی ہے ساقیؔ جلائے قلب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%A7%D8%AC%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%82%D9%84%D8%A8"} {"title": "کس روز الٰہی وہ مرا یار ملے گا", "poet_page": "مصنف:شیر محمد خاں ایمان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس روز الٰہی وہ مرا یار ملے گا\nایسا بھی کبھی ہوگا کہ دل دار ملے گا\n\nجوں چاہیئے ووں دل کی نکالوں گا ہوس میں\nجس دن وہ مجھے کیف میں سرشار ملے گا\n\nاک عمر سے پھرتا ہوں لیے دل کو بغل میں\nاس جنس کا بھی کوئی خریدار ملے گا\n\nمل جائے گا پھر آپ سے یہ زخم جگر بھی\nجس روز کہ مجھ سے وہ ستم گار ملے گا\n\nیہ یاد رکھ اے کافر بدکیش قسم ہے\nمجھ سا نہ کوئی تجھ کو گرفتار ملے گا\n\nایمانؔ نہ کہتا تھا میں تجھ سے یہ ہمیشہ\nجو شوخ ملے گا سو دل آزار ملے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کس ستم گر کا گناہ گار ہوں اللہ اللہ", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس ستم گر کا گناہ گار ہوں اللہ اللہ\nکس کے تیروں سے دل افگار ہوں اللہ اللہ\n\nاس کے ہاتھوں سے نہ جیتا ہوں نہ مرتا ہوں میں\nکس مصیبت میں گرفتار ہوں اللہ اللہ\n\nخضر اب دور کر آگے سے مرے آب حیات\nکس کے بوسے کا طلب گار ہوں اللہ اللہ\n\nکیوں نہ آنکھوں میں رکھے مجھ کو زلیخا بھی عزیز\nکیسے یوسف کا خریدار ہوں اللہ اللہ\n\nنمک حسن سے اس لب کے مزے لوٹوں ہوں\nکس نمک داں کا نمک خوار ہوں اللہ اللہ\n\nنرگس اب ہم سے نہ کر دعویٰ ہم چشمی تو\nکس کی نرگس کا میں بیمار ہوں اللہ اللہ\n\nاتنا کہتا بھی نہیں کون یہ چلاتا ہے\nکب سے نالاں پس دیوار ہوں اللہ اللہ\n\nخواب میں یار نے آ مجھ کو جگایا حاتمؔ\nکس قدر طالع بے دار ہوں اللہ اللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "کس سے آزردہ مرے قاتل کا خنجر ہو گیا", "poet_page": "مصنف:محمد علی جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس سے آزردہ مرے قاتل کا خنجر ہو گیا\nکیا ہوا جو آج یوں جامے سے باہر ہو گیا\n\nمیرا شہرہ آج اک عالم میں گھر گھر ہو گیا\nتیرے ہاتھوں مجھ کو قاتل یہ میسر ہو گیا\n\nکیوں نہیں ملتا ابھی تک تشنہ لب ہیں بادہ خوار\nکیا ترا ساغر بھی ساقی جام کوثر ہو گیا\n\nاس قدر وحشت بھی اے دست جنوں کس کام کی\nتیرے ہاتھوں میرا جینا بھی تو دوبھر ہو گیا\n\nجوش وحشت کا ارادہ تھا کہ عریاں ہی رہے\nبارے مر کر اک کفن مجھ کو میسر ہو گیا\n\nاس کی رسوائی کا بھی آیا نہ تجھ کو کچھ خیال\nکس قدر بے باک تو اے دیدۂ تر ہو گیا\n\nمژدہ اے گنج شہیداں تیرے بھی دن پھر گئے\nآج دل برداشتہ دنیا سے جوہرؔ ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%B2%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%86%D8%AC%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کس سے احوال کہوں اپنا میں اے یار کہ تو", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس سے احوال کہوں اپنا میں اے یار کہ تو\nمل کے اغیار سے مجھ سے ہے بیزار کہ تو\n\nنہ میری بات کو پوچھے ہے نہ دیکھے ہے ادھر\nایک دن یہ نہ کیا عاشق بیمار کہ تو\n\nکس طرح سے ہے بتا حال دل غمیں کچھ تو\nکیوں مئے غم سے ہے اس طرح سے سرشار کہ تو\n\nروز با دیدہ تر خاک بسر پھرتا ہے\nنہ رہا شہر میں اک کوچہ و بازار کہ تو\n\nوہاں ہیں جا کے جتاتا ہے یہ مصیبت اپنی\nآج تک کل ہیں دل کو تیرے زنہار کہ تو\n\nسخت بیکل ہے نکل کوچۂ غم سے اب تو\nاس قدر کب ہے اذیت کا سزاوار کہ تو\n\nیوں ہی فریاد کناں نعرہ زنان خاک بسر ہے\nاک شب آئیو میرے پس دیوار کہ تو\n\nچاہ میں تیری ہی ڈوبا ہے کنوئیں میں غم کے\nجوں زلیخا ہیں یوسف کا طلب گار کہ تو\n\nمیرا احسان ہے میرا عاشق صادق ہے صنم\nجبکہ یہ بھی نہ ہو میں پڑھوں اشعار کہ تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%88"} {"title": "کس سے محبت ہے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بتاؤں کیا تجھے اے ہم نشیں کس سے محبت ہے\nمیں جس دنیا میں رہتا ہوں وہ اس دنیا کی عورت ہے\nسراپا رنگ و بو ہے پیکر حسن و لطافت ہے\nبہشت گوش ہوتی ہیں گہر افشانیاں اس کی\n\nوہ میرے آسماں پر اختر صبح قیامت ہے\nثریا بخت ہے زہرہ جبیں ہے ماہ طلعت ہے\nمرا ایماں ہے میری زندگی ہے میری جنت ہے\nمیری آنکھوں کو خیرہ کر گئیں تابانیاں اس کی\n\nوہ اک مضراب ہے اور چھیڑ سکتی ہے رگ جاں کو\nوہ چنگاری ہے لیکن پھونک سکتی ہے گلستاں کو\nوہ بجلی ہے جلا سکتی ہے ساری بزم امکاں کو\nابھی میرے ہی دل تک ہیں شرر سامانیاں اس کی\n\nزباں پر ہیں ابھی عصمت و تقدیس کے نغمے\nوہ بڑھ جاتی ہے اس دنیا سے اکثر اس قدر آگے\nمرے تخئیل کے بازو بھی اس کو چھو نہیں سکتے\nمجھے حیران کر دیتی ہیں نکتہ دانیاں اس کی\n\nجبیں پر سایہ گستر پرتو قندیل رہبانی\nعذار نرم و نازک پر شفق کی رنگ افشانی\nقدم پر لوٹتی ہے عظمت تاج سلیمانی\nازل سے معتقد ہے محفل نورانیاں اس کی\n\nادائیں لے کے آئی ہے وہ فطرت کے خزانوں سے\nجگا سکتی ہے محفل کو نظر کے تازیانوں سے\nوہ ملکہ ہے خراج اس نے لیے ہیں بوستانوں سے\nبس اک میں نے ہی اکثر کی ہیں نافرمانیاں اس کی\n\nوہ میری جرأتوں پر بے نیازی کی سزا دینا\nہوس کی ظلمتوں پر ناز کی بجلی گرا دینا\nنگاہ شوق کی بیباکیوں پر مسکرا دینا\nجنوں کو درس تمکیں دے گئیں نادانیاں اس کی\n\nوفا خود کی ہے اور میری وفا کو آزمایا ہے\nمجھے چاہا ہے مجھ کو اپنی آنکھوں پر بٹھایا ہے\nمرا ہر شعر تنہائی میں اس نے گنگنایا ہے\nسنی ہیں میں نے اکثر چھپ کے نغمہ خوانیاں اس کی\n\nمرے چہرے پہ جب بھی فکر کے آثار پائے ہیں\nمجھے تسکین دی ہے میرے اندیشے مٹائے ہیں\nمرے شانے پہ سر تک رکھ دیا ہے گیت گائے ہیں\nمری دنیا بدل دیتی ہیں خوش الحانیاں اس کی\n\nلب لعلیں پہ لاکھا ہے نہ رخساروں پہ غازہ ہے\nجبین نور افشاں پر نہ جھومر ہے نہ ٹیکا ہے\nجوانی ہے سہاگ اس کا تبسم اس کا گہنا ہے\nنہیں آلودۂ ظلمت سحر دامانیاں اس کی\n\nکوئی میرے سوا اس کا نشاں پا ہی نہیں سکتا\nکوئی اس بارگاہ ناز تک جا ہی نہیں سکتا\nکوئی اس کے جنوں کا زمزمہ گا ہی نہیں سکتا\nجھلکتی ہیں مرے اشعار میں جولانیاں اس کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "کس سے ٹھنڈک ہے کہ یہ سب ہیں جلانے والے", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس سے ٹھنڈک ہے کہ یہ سب ہیں جلانے والے\nنالے آہوں سے سوا آگ لگانے والے\n\nبعد مردن تو ہوا سوز محبت پیدا\nوہ مری قبر پہ ہیں شمع جلانے والے\n\nکوٹھے پر چڑھ کے اڑایا نہ کریں آپ پتنگ\nڈورے ڈالیں نہ کہیں یار اڑانے والے\n\nکیونکہ معشوقوں کے وعدوں پہ حیا کرتے تھے\nبھولے بھالے تھے بہت اگلے زمانے والے\n\nاڑتی چڑیاں کوئی کیا پکڑے گا ان کے آگے\nاچھے اچھوں کو ہیں چٹکی میں اڑانے والے\n\nہم جو کہتے ہیں کہ مرتے ہیں تو فرماتے ہیں\nایسے دیکھے ہیں بہت جان سے جانے والے\n\nلے کے دل آنکھ بھی تو ہم سے ملاتے وہ نہیں\nتھے مرے دل کی طرح دن بھی یہ آنے والے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%B9%DA%BE%D9%86%DA%88%DA%A9_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%A8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح\nساتھ طفلاں کے لگا پھرتا ہے دیوانے کی طرح\n\nیار کے پاؤں پہ سر رکھ جی کو اپنے دیجئے\nاس سے بہتر اور نہیں ہوتی ہے مر جانے کی طرح\n\nکب پلاوے گا تو اے ساقی مجھے جام شراب\nجاں بلب ہوں آرزو میں مے کی پیمانے کی طرح\n\nمست آتا ہے پئے مے آج وہ قاتل مرا\nکچھ نظر آتی ہے مجھ کو اپنے جی جانے کی طرح\n\nشمع رو کے گرد پھرتی ہیں سدا قربان ہو\nچشم میری پر لگا مژگاں کے پروانے کی طرح\n\nباغ میں گل نے کیا اپنے تئیں لوہولہان\nدیکھ اس غنچہ دہن کے پان کے کھانے کی طرح\n\nفصل گل آئی ہے تاباںؔ گھر میں کیا بیٹھا ہے یوں\nکر گریباں چاک جا صحرا میں دیوانے کی طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "کس سے گرمی کا رکھا جائے یہ بھاری روزہ", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "ریختی", "year": null, "text_ur": "کس سے گرمی کا رکھا جائے یہ بھاری روزہ\nسردی ہووے تو رکھے مجھ سی بچاری روزہ\n\nدیکھ پنسورے میں تاریخ بتا دے مجھ کو\nاب کے آ تو جی رکھوں گی میں ہزاری روزہ\n\nمنہ پہ کچھ رکھتی نہیں اپنے وہ پن بھتی میں\nکھولتی جب ہے ددا میری دلاری روزہ\n\nآج سے فرنی و فالودہ کی تیاری کر\nکل ہے نو چندی رکھے گی میری پیاری روزہ\n\nمیرا منہ اترا ہوا دیکھ کے کہتی ہے جیا\nآج تو کر کے نہ رکھ منت و زاری روزہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%B2%DB%81"} {"title": "کس سے ہوں داد خواہ کوئی دادرس نہیں", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس سے ہوں داد خواہ کوئی دادرس نہیں\nوہ کشتنی ہوں میں کہ کسی کو ترس نہیں\n\nزاہد کسی وصال صنم کی ہوس نہیں\nپتھر کا بت ہے تو کہ تجھے حس و مس نہیں\n\nوہ ناتواں ہوں کہ مرے دل کو ہے یقیں\nآندھی کی جھونکے چلتے ہیں باد نفس نہیں\n\nجب تک کہ تم نہ آؤ گے رگڑوں گا ایڑیاں\nمیں بھی ہوں سخت جان جو تم کو ترس نہیں\n\nضبط فغاں سے عضو بدن گھل چلے تمام\nمیں کاروان ریگ رواں ہوں جرس نہیں\n\nدنیا کی نعمتوں سے یہ سیری ہے روح کو\nبوسہ بھی یار دے تو کہوں میں ہوس نہیں\n\nکچھ تو ہماری رونے میں تخفیف ہو گئی\nبارش جو اگلے سال تھی اب کی برس نہیں\n\nپروانہ و چراغ پر آتا ہے مجھ کو رشک\nکس طرح تم سے اڑ کے لپٹ جاؤں بس نہیں\n\nاے شہسوار اس کا چمکنا دلیل ہے\nآہوئے خاوری ہے یہ تیرا فرس نہیں\n\nہم مے کشوں کی بزم میں ہے بے تکلفی\nکچھ دانہ ہائے سبحہ صفت پیش و پس نہیں\n\nبیتابیاں یہی ہیں تو اک دن نجات ہے\nصیاد یا تو میں ہی نہیں یا قفس نہیں\n\nاپنے لیے ہے مرگ گلوں کی مفارقت\nہے گنبد مزار ہمارا قفس نہیں\n\nاے بحرؔ اس مقام پر اٹکا ہے جا کے دل\nپائے خیال کی بھی جہاں دسترس نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D8%A7%D8%AF%D8%B1%D8%B3_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کس شام سے اٹھا تھا مرے دل میں درد سا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس شام سے اٹھا تھا مرے دل میں درد سا\nسو ہو چلا ہوں پیشتر از صبح سرد سا\n\nبیٹھا ہوں جوں غبار ضعیف اب وگرنہ میں\nپھرتا رہا ہوں گلیوں میں آوارہ گرد سا\n\nقصد طریق عشق کیا سب نے بعد قیس\nلیکن ہوا نہ ایک بھی اس رہ نورد سا\n\nحاضر یراق بے مزگی کس گھڑی نہیں\nمعشوق کچھ ہمارا ہے عاشق نبرد سا\n\nکیا میرؔ ہے یہی جو ترے در پہ تھا کھڑا\nنمناک چشم و خشک لب و رنگ زرد سا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B3%D8%A7"} {"title": "کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے\nرستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہے\nہر قصر سلاطین زمن کانپ رہا ہے\nسب ایک طرف چرخ کہن کانپ رہا ہے\nشمشیر بکف دیکھ کے حیدر کے پسر کو\nجبریل لرزتے ہیں سمیٹے ہوئے پر کو\n\nہیبت سے ہیں نہ قلعۂ افلاک کے دربند\nجلاد فلک بھی نظر آتا ہے نظر بند\nوا ہے کمر چرخ سے جوزا کا کمر بند\nسیارے ہیں غلطاں صفت طائر پر بند\nانگشت عطارد سے قلم چھوٹ پڑا ہے\nخورشید کے پنجے سے علم چھوٹ پڑا ہے\n\nخود فتنۂ و شر پڑھ رہے ہیں فاتحۂ خیر\nکہتے ہیں انالعبد لرز کر صنم دیر\nجاں غیر ہے تن غیر مکیں غیر مکاں غیر\nنے چرخ کا ہے دور نہ سیاروں کی ہے سیر\nسکتے میں فلک خوف سے مانند زیں ہے\nجز بخت یزید اب کوئی گردش میں نہیں ہے\n\nبے ہوش ہے بجلی پہ سمند ان کا ہے ہشیار\nخوابیدہ ہیں سب طالع عباس ہے بیدار\nپوشیدہ ہے خورشید علم ان کا نمودار\nبے نور ہے منہ چاند کا رخ ان کا ضیا بار\nسب جزو ہیں کل رتبہ میں کہلاتے ہیں عباس\nکونین پیادہ ہیں سوار آتے ہیں عباسؑ\n\nچمکا کے مہ و خور زر و نقرہ کے عصا کو\nسرکاتے ہیں پیر فلک پشت دوتا کو\nعدل آگے بڑھا حکم یہ دیتا ہے قضا کو\nہاں باندھ لے ظلم و ستم و جور و جفا کو\nگھر لوٹ لے بغض و حسد و کذب و ریا کا\nسرکاٹ لے حرص و طمع و مکر و دغا کا\n\nراحت کے محلوں کو بلا پوچھ رہی ہے\nہستی کے مکانوں کو فنا پوچھ رہی ہے\nتقدیر سے عمر اپنی قضا پوچھ رہی ہے\nدونوں کا پتہ فوج جفا پوچھ رہی ہے\nغفلت کا تو دل چونک پڑا خوف سے ہل کر\nفتنے نے کیا خواب گلے کفر سے مل کر\n\nالنشر کا ہنگامہ ہے اس وقت حشر میں\nالصورکا آوازہ ہے اب جن و بشر میں\nالہجر کا ہے تذکرہ باہم تن و سر میں\nالوصل کا غل ہے سقر و اہل سقر میں\nالحشر جو مردے نہ پکاریں تو غضب ہے\nالموت زبان ملک الموت پہ اب ہے\n\nروکش ہے اس اک تن کا نہ بہمن نہ تہمتن\nسہراب و نریمان و پشن بے سرو بے تن\nقاروں کی طرح تحت زمیں غرق ہے قارن\nہر عاشق دنیا کو ہے دنیا چہہ بے زن\nسب بھول گئے اپنا حسب اور نسب آج\nآتا ہے جگر گوشۂ قتال عرب آج\n\nہر خود نہاں ہوتا ہے خود کاسۂ سر میں\nمانند رگ و ریشہ زرہ چھپتی ہے بر میں\nبے رنگ ہے رنگ اسلحے کا فوج عمر میں\nجوہر ہے نہ تیغوں میں نہ روغن ہے سپر میں\nرنگ اڑ کے بھرا ہے جو رخ فوج لعیں کا\nچہرہ نظر آتا ہے فلک کا نہ زمیں کا\n\nہے شور فلک کا کہ یہ خورشید عرب ہے\nانصاف یہ کہتا ہے کہ چپ ترک ادب ہے\nخورشید فلک پرتو عارض کا لقب ہے\nیہ قدرت رب قدرت رب قدرت رب ہے\nہر ایک کب اس کے شرف و جاہ کو سمجھے\nاس بندے کو وہ سمجھے جو اللہ کو سمجھے\n\nیوسف ہے یہ کنعاں میں سلیماں ہے سبا میں\nعیسیٰ ہے مسیحائی میں موسیٰ ہے دعا میں\nایوب ہے یہ صبر میں یحییٰ ہے بکا میں\nشپیر ہے مظلومی میں حیدر ہے وغا میں\nکیا غم جو نہ مادر نہ پدر رکھتے ہیں آدم\nعباس سا دنیا میں پسر رکھتے ہیں آدم\n\nپنجے میں یداللہ ہے بازو میں ہے جعفر\nطاعت میں ملک خو میں حسنؑ زور میں حیدر\nاقبال میں ہاشم تو تواضع میں پیمبر\nاور طنطنہ و دبدبہ میں حمزۂ صفدر\nجوہر کے دکھانے میں یہ شمشیر خدا ہے\nاور سر کے کٹانے میں یہ شاہ شہدا ہے\n\nبے ان کے شرف کچھ بھی زمانہ نہیں رکھتا\nایمان سوا ان کے خزانہ نہیں رکھتا\nقرآں بھی کوئی اور فسانہ نہیں رکھتا\nشپیر بغیر ان کے یگانہ نہیں رکھتا\nیہ روح مقدس ہے فقط جلوہ گری میں\nیہ عقل مجرد ہے جمال بشری میں\n\nصحرا میں گرا پرتو عارض جو قضارا\nسورج کی کرن نے کیا شرما کے کنارا\nیوں دھوپ اڑی آگ پہ جس طرح سے پارا\nموسیٰ کی طرح غش ہوئے سب کیسا نظارا\nجز مدح نہ دم روشنئ طور نے مارا\nشب خون عجب دھوپ پہ اس نور نے مارا\n\nقربان ہوائے علم شاہ امم کے\nسب خار ہرے ہو کے بنے سرو ارم کے\nہیں راز عیاں خالق ذوالفضل و کرم کے\nجبریلؑ نے پر کھولے ہیں دامن میں علم کے\nپرچم کا جہاں عکس گرا صاعقہ چمکا\nپرچم کہیں دیکھا نہ سنا اس چم و خم کا\n\nقرنا میں نہ دم ہے نہ جلاجل میں صدا میں ہے\nبوق و دہل و کوس کی بھی سانس ہوا ہے\nہر دل کے دھڑکنے کا مگر شور بپا ہے\nباجا جو سلامی کا اسے کہیے بجا ہے\nسکتے میں جو آواز ہے نقارۂ و دف کی\nنوبت ہے ورود خلف شاہ نجف کی\n\nآمد کو تو دیکھا رخ پر نور کو دیکھو\nوالشمش پڑھو روشنیٔ طور کو دیکھو\nنے روشنیٔ ماہ کو نے ہور کو دیکھو\nاس شمع مراد ملک و حور کو دیکھو\nہے کون تجلی رخ پر نور کی مانند\nیاں روشنیٔ طور جلی طور کی مانند\n\nمداح کو اب تازگیٔ نظم میں کد ہے\nیا حضرت عباسؑ علیؑ وقت مدد ہے\nمولا کی مدد سے جو سخن ہو وہ سند ہے\nاس نظم کا جو ہو نہ مقر اس کو حسد ہے\nحاسد سے صلا بھی نہیں درکار ہے مجھ کو\nسرکار حسینیؑ سے سروکار ہے مجھ کو\n\nگلزار ہے یہ نظم و بیاں بیشہ نہیں ہے\nباغی کو بھی گلگشت میں اندیشہ نہیں ہے\nہر مصرعۂ پر جستہ ہے پھل تیشہ نہیں ہے\nیاں مغز سخن کا ہے رگ و ریشہ نہیں ہے\nصحت مری تشخیص سے ہے نظم کے فن کی\nمانند قلم ہاتھ میں ہے نبض سخن کی\n\nگر کاہ ملے فائدہ کیا کوہکنی سے\nمیں کاہ کو گل کرتا ہوں رنگیں سخنی سے\nخوش رنگ ہے الفاظ عقیق یمنی سے\nیہ ساز ہے سوز غم شاہ مدنی سے\nآہن کو کروں نرم تو آئینہ بنا لوں\nپتھر کو کروں گرم تو میں عطر نکا لوں\n\nگو خلعت تحسیں مجھے حاصل ہے سراپا\nپر وصف سراپا کا تو مشکل ہے سراپا\nہر عضو تن اک قدرت کامل ہے سراپا\nیہ روح ہے سر تا بقدم دل ہے سراپا\nکیا ملتا ہے گر کوئی جھگڑتا ہے کسی سے\nمضمون بھی اپنا نہیں لڑتا ہے کسی سے\n\nسورج کو چھپاتا ہے گہن آئینہ کو زنگ\nداغی ہے قمر سوختہ و لالۂ خوش رنگ\nکیا اصل در و لعل کی وہ پانی ہے یہ سنگ\nدیکھو گل و غنچہ وہ پریشاں ہے یہ دل تنگ\nاس چہرے کو داور ہی نے لاریب بنایا\nبے عیب تھا خود نقش بھی بے عیب بنایا\n\nانساں کہے اس چہرے کو کب چشمۂ حیواں\nیہ نور وہ ظلمت یہ نمودار وہ پنہاں\nبرسوں سے ہے آزار برص میں مہ تاباں\nکب سے یرقاں مہر کو ہے اور نہیں درماں\nآئینہ ہے گھر زنگ کایہ رنگ نہیں ہے\nاس آئینہ میں رنگ ہے اور زنگ نہیں ہے\n\nآئینہ کہا رخ کو تو کچھ بھی نہ ثنا کی\nصنعت وہ سکندر کی یہ صنعت ہے خدا کی\nواں خاک نے صیقل یہاں قدرت نے جلا کی\nطالع نے کس آئینہ کو خوبی یہ عطا کی\nہر آئینہ میں چہرۂ انساں نظر آیا\nاس رخ میں جمال شہ مرداں نظر آیا\n\nبے مثل حسیں ہے نگہ اہل یقیں میں\nبس ایک یہ خورشید ہے افلاک و زمیں میں\nجلوہ ہے عجب ابروؤں کا قرب جبیں میں\nدو مچھلیاں ہیں چشمۂ خورشید مبیں میں\nمردم کو اشارہ ہے یہ ابرو کا جبیں پر\nہیں دو مہ نو جلوہ نما چرخ بریں پر\n\nبینی کے تو مضموں پہ یہ دعوا ہے یقینی\nاس نظم کے چہرے کی وہ ہوجائے گا بینی\nمنظور نگہ کو جو ہوئی عرش نشینی\nکی سایۂ بینی نے فقط جلوہ گزینی\nدرکار اسی بینی کی محبت کا عصا ہے\nیہ راہ تو ایماں سے بھی باریک سوا ہے\n\nبینی کو کہوں شمع تو لو اس کی کہاں ہے\nپر نور بھنوؤں پر مجھے شعلہ کا گماں ہے\nدو شعلے اور اک شمع یہ حیرت کا مکاں ہے\nہاں زلفوں کے کوچوں سے ہوا تند رواں ہے\nسمجھو نہ بھویں بس کہ ہوا کا جو گزر ہے\nیہ شمع کی لو گاہ ادھر گاہ ادھر ہے\n\nاس درجہ پسند اس رخ روشن کی چمک ہے\nخورشید سے برگشتہ ہر اک ماہ فلک ہے\nابرو کا یہ غل کعبۂ افلاک تلک ہے\nمحراب دعائے بشر و جن و ملک ہے\nدیکھا جو مہ نو نے اس ابرو کے شرف کو\nکعبہ کی طرف پشت کی رخ اس کی طرف کو\n\nجو معنیٔ تحقیق سے تاویل کا ہے فرق\nپتلی سے وہی کعبہ کی تمثیل کا ہے فرق\nسرمہ سے اور اس آنکھ سے اک میل کا ہے فرق\nمیل ایک طرف نور کی تکمیل کا ہے فرق\nاس آنکھ پہ امت کے ذرا خشم کو دیکھو\nناوک کی سلائی کو اور اس چشم کو دیکھو\n\nگر آنکھ کو نرگس کہوں ہے عین حقارت\nنرگس میں نہ پلکیں ہیں نہ پتلی نہ بصارت\nچہرے پہ مہ عید کی بے جا ہے اشارت\nوہ عید کا مژدہ ہے یہ حیدرؑ کی بشارت\nابرو کی مہ نو میں نہ جنبش ہے نہ ضو ہے\nاک شب وہ مہ نو ہے یہ ہر شب مہ نو ہے\n\nمنہ غرق عرق دیکھ کے خورشید ہوا تر\nابرو سے ٹپکتا ہے نرا تیغ کا جوہر\nآنکھوں کا عرق روغن بادام سے بہتر\nعارض کا پسینہ ہے گلاب گل احمر\nقطرہ رخ پر نور پہ ڈھلتے ہوئے دیکھو\nعطر گل خورشید نکلتے ہوئے دیکھو\n\nتسبیح کناں منہ میں زبان آٹھ پہر ہے\nگویا دہن غنچہ میں برگ گل تر ہے\nکب غنچہ و گلبرگ میں یہ نور مگر ہے\nاس برج میں خورشید کے ماہی کا گزر ہے\nتعریف میں ہونٹوں کی جو لب تر ہوا میرا\nدنیا ہی میں قابو لب کوثر ہوا میرا\n\nیہ منہ جو ردیف لب خوش رنگ ہوا ہے\nکیا فاقیہ غنچہ کا یہاں تنگ ہوا ہے\nاب مدح دہن کا مجھے آہنگ ہوا ہے\nپر غنچے کا نام اس کے لیے ننگ ہوا ہے\nغنچہ کہا اس منہ کو حذر اہل سخن سے\nسونگھے کوئی بو آتی ہے غنچے کے دہن سے\n\nشیریں رقموں میں رقم اس لب کی جدا ہے\nاک نے شکر اور ایک نے یاقوت لکھا ہے\nیاقوت کا لکھنا مگر ان سب سے بجا ہے\nیاقوت سے بڑھ جو لکھوں میں تو مزا ہے\nچوسا ہے یہ لب مثل رطب حق کے ولی نے\nیاقوت کا بوسہ لیا کس روز علیؑ نے\n\nجان فصحا روح فصاحت ہے تو یہ ہے\nہر کلمہ ہے موقع پہ بلاغت ہے تو یہ ہے\nاعجاز مسیحا کی کرامت ہے تو یہ ہے\nقائل ہے نزاکت کہ نزاکت ہے تو یہ ہے\nیوں ہونٹوں پہ تصویر سخن وقت بیاں ہے\nیاقوت سے گویا رگ یاقوت عیاں ہے\n\nاب اصل میں شیریں دہنی کی کروں تحریر\nطفلی میں کھلا جبکہ یہی غنچۂ تقریر\nپہلے یہ خبر دی کہ میں ہوں فدیۂ شپیر\nاس مژدے پہ مادر نے انہیں بخش دیا شیر\nمنہ حیدر کرار نے میٹھا کیا ان کا\nشیرینیٔ اعجاز سے منہ بھر دیا ان کا\n\nاس لب سے دم تازہ ہر اک زندے نے پایا\nجیسے شہ مرداں نے نصیری کو جلایا\nجان بخشئے اموات کا گویا ہے یہ آیا\nہم دم دم روح القدس ان کا نظر آیا\nدم قالب بے جاں میں جو دم کرتے تھے عیسیٰ\nان ہونٹوں کے اعجاز کا دم بھرتے تھے عیسیٰ\n\nدانتوں کی لڑی سے یہ لڑی عقل خدا داد\nوہ بات ٹھکانے کی کہوں اب کہ رہے یاد\nیہ گوہر عباس ہیں پاک ان کی ہے بنیاد\nعباس و نجف ایک ہیں گنئے اگر اعداد\nمعدن کے شرف ہیں یہ جواہر کے شرف ہیں\nدنداں در عباس ہیں تو در نجف ہیں\n\nاثناعشری اب کریں ہاتھوں کا نظارا\nدس انگلیاں ہیں مثل علم ان میں صف آرا\nہر پنجہ کا ہے پنجتنی کو یہ اشارا\nاے مومنو عشرہ میں علم رکھنا ہمارا\nپہلے مرے آقا مرے سالار کو رونا\nپھر زیر علم ان کے علمدار کو رونا\n\nتا موئے کمر فکر کا رشتا نہیں جاتا\nفکر ایک طرف وہم بھی حاشا نہیں جاتا\nپر فکر رسا کا مری دعوا نہیں جاتا\nمضمون یہ نازک ہے کہ باندھا نہیں جاتا\nاب زیب کمر تیغ شرر بار جو کی ہے\nعباسؑ نے شعلہ کو گرہ بال سے دی ہے\n\nعشاق ہوں اب عالم بالا کی مدد کا\nدرپیش ہے مضمون علمدار کے قد کا\nیہ ہے قد بالا پسر شیر صمد کا\nیا سایہ مجسم ہوا اللہ احد کا\nاس قد پہ دو ابرو کی کشش کیا کوئی جانے\nکھینچے ہیں دو مد ایک الف پر یہ خدا نے\n\nنے چرخ کے سو دورے نہ اک رخش کا کاوا\nدیتا ہے سدا عمر رواں کو یہ بھلاوا\nیہ قسم ہے ترکیب عناصر کے علاوا\nاللہ کی قدرت ہے نہ چھل بل نہ چھلاوا\nچلتا ہے غضب چال قدم شل ہے قضا کا\nتوسن نہ کہو رنگ اڑا ہے یہ ہوا کا\n\nگردش میں ہر اک آنکھ ہے فانوس خیالی\nبندش میں ہیں نعل اس کے رباعئ ہلالی\nروشن ہے کہ جوزا نے عناں دوش پہ ڈالی\nبھرتی سے ہے مضمون رکابوں کا بھی خالی\nسرعت ہے اندھیرے اور اجالے میں غضب کی\nاندھیاری اسے چاندنی ہے چودھویں شب کی\n\nگردوں ہو کبھی ہم قدم اس کا یہ ہے دشوار\nوہ قافلہ کی گرد ہے یہ قافلہ سالار\nوہ ضعف ہے یہ زور وہ مجبور یہ مختار\nیہ نام ہے وہ ننگ ہے یہ فخر ہے وہ عار\nاک جست میں رہ جاتے ہیں یوں ارض و سما دور\nجس طرح مسافر سے دم صبح سرا دور\n\nجو بوند پسینے کی ہے شوخی سے بھری ہے\nان قطروں میں پریوں سے سوا تیز پری ہے\nگلشن میں صبا باغ میں یہ کبک دری ہے\nفانوس میں پروانہ ہے شیشے میں پری ہے\nیہ ہے وہ ہما جس کے جلو دار ملک ہیں\nسایہ کی جگہ پر کے تلے ہفت فلک ہیں\n\nٹھہرے تو فلک سب کو زمیں پر نظر آئے\nدوڑے تو زمیں چرخ بریں پر نظر آئے\nشہباز ہوا کا نہ کہیں پر نظر آئے\nراکب ہی فقط دامن زیں پر نظر آئے\nاس راکب و مرکب کی برابر جو ثنا کی\nیہ علم خدا کا وہ مشیت ہے خدا کی\n\nشوخی میں پری حسن میں ہے حور بہشتی\nطوفان میں راکب کے لئے نوح کی کشتی\nکب ابلق دوراں میں ہے یہ نیک سرشتی\nیہ خیر ہے وہ شر ہے یہ خوبی ہے وہ زشتی\nصحرا میں چمن فصل بہاری ہے چمن میں\nرہوار ہے اصطبل میں تلوار ہے رن میں\n\nاس رخش کو عباسؑ اڑاتے ہوئے آئے\nکوس لمن الملک بجاتے ہوئے آئے\nتکبیر سے سوتوں کو جگاتے ہوئے آئے\nاک تیغ نگہ سب پہ لگاتے ہوئے آئے\nبے چلے کے کھینچے ہوئے ابرو کی کماں کو\nبے ہاتھ کے تانے ہوئے پلکوں کی سناں کو\n\nلکھا ہے مورخ نے کہ اک گبر دلاور\nہفتم سے فروکش تھا میان صف لشکر\nروئیں تن و سنگیں دل و بد باطن و بدبر\nسر کرکے مہم نیزوں پہ لایا تھا کئی سر\nہمراہ شقی فوج تھی ڈنکا تھا نشاں تھا\nجاگیر کے لینے کو سوئے شام رواں تھا\n\nتقدیر جو رن میں شب ہفتم اسے لائی\nخلوت میں اسے بات عمر نے یہ سنائی\nدرپیش ہے سادات سے ہم کو بھی لڑائی\nوان پنچتنی چند ہیں یاں ساری خدائی\nاکبرؑ کا نہ قاسمؑ کا نہ شپیرؑ کا ڈر ہے\nدو لاکھ کو اللہ کی شمشیر کا ڈر ہے\n\nبولا وہ لرز کر کہ ہوا مجھ کو بھی وسواس\nشمشیر خدا کون عمر بولا کہ عباسؑ\nاس نے کہا پھر فتح کی کیوں کر ہے تجھے آس\nبولا کہ کئی روز سے اس شیر کو ہے پیاس\nہم بھی ہیں بہادر نہیں ڈرتے ہیں کسی سے\nپر روح نکلتی ہے تو عباسؑ علی سے\n\nتشریف علمدار جری رن میں جو لایا\nاس گبر کو چپکے سے عمر نے یہ سنایا\nاندیشہ تھا جس شیر کے آنے کا وہ آیا\nسر اس نے پرے سے سوئے عباسؑ اٹھایا\nدیکھا تو کہا کانپ کے یہ فوج وغا سے\nروباہو لڑاتے ہو مجھے شیر خدا سے\n\nمانا کہ خدا یہ نہیں قدرت ہے خدا کی\nمجھ میں ہے نرا زور یہ قوت ہے خدا کی\nکی خوب ضیافت مری رحمت ہے خدا کی\nسب نے کہا تجھ پر بھی عنایت ہے خدا کی\nجا عذر نہ کر نام ہے مردوں کا اسی سے\nتو دبدبۂ و زور میں کیا کم ہے کسی سے\n\nبادل کی طرح سے وہ گرجتا ہوا نکلا\nجلدی میں سلح جنگ کے سجتا ہوا نکلا\nہرگام رہ عمر کو تجتا ہوا نکلا\nاور سامنے نقارہ بھی بجتا ہوا نکلا\nغالب تھا تہمتن کی طرح اہل جہاں پر\nدھنستی تھی زمیں پاؤں وہ رکھتا تھا جہاں پر\n\nتیار کمر کس کے ہوا جنگ پہ خونخوار\nاور پیک اجل آیا کہ ہے قبر بھی تیار\nخنجر لیا منہ دیکھنے کو اور کبھی تلوار\nمثل ورم مرگ چڑھا گھوڑے پہ اک بار\nوہ رخش پہ یا دیو دنی تخت زری پر\nغل رن میں اٹھا کوہ چڑھا کبک دری پر\n\nاس ہیئت و ہیبت سے وہ نخوت سیر آیا\nآسیب کو بھی سائے سے اس کے حذر آیا\nمیدان قیامت کو بھی محشر نظر آیا\nگرد اپنے لیے نیزوں پہ کشتوں کے سر آیا\nزندہ ہی پئے سیر نہ ہر صف سے بڑھے تھے\nسر مردوں کے نیزوں پہ تماشے کو چڑھے تھے\n\nسیدھا کبھی نیزہ کو ہلایا کبھی آڑا\nپڑھ پڑھ کے رجز باغ فصاحت کو اجاڑا\nظالم نے کئی پشت کے مردوں کو اکھاڑا\nبولا میری ہیبت نے جگر شیروں کا پھاڑا\nہم پنچہ نہ رستم ہے نہ سہراب ہے میرا\nمرحب بن عبدالقمر القاب ہے میرا\n\nفتراک میں سر باندھتا ہوں پیل دماں کا\nپنجہ میں سدا پھیرتا ہوں شیر ژیاں کا\nنظارا ذرا کیجئے ہر شاخ سناں کا\nاس نیزے پہ وہ سر ہے فلاں ابن فلاں کا\nجو جو تھے یلان کہن اس دورۂ نو میں\nتن ان کے تہ خاک ہیں سر میرے جلو میں\n\nیاں سیف زباں سیف الٰہی نے علم کی\nفرمایا مرے آگے ہے تقریر ستم کی\nاب منہ سے کہا کچھ تو زباں میں نے قلم کی\nکونین نے گردن مرے دروازے پہ خم کی\nطاقت ہے ہماری اسداللہ کی طاقت\nپنجے میں ہمارے ہے یداللہ کی طاقت\n\nعبدالقمر نحس کا تو داغ جگر ہے\nمیں چاند علیؑ کا ہوں ارے یہ بھی خبر ہے\nخورشید پرستی سے تری کیا مجھے ڈر ہے\nقبضہ میں طناب فلک و شمش و قمر ہے\nمقدور رہا شمس کی رجعت کا پدر کو\nدو ٹکڑے چچا نے کیا انگلی سے قمر کو\n\nخورشید درخشاں میں بتا نور ہے کس کا\nکلمہ ورق ماہ پہ مسطور ہے کس کا\nاور سورۂ والشمس میں مذکور ہے کس کا\nذرے کو کرے مہر یہ مقدور ہے کس کا\nیہ صاحب مقدور نبیؐ اور علیؑ ہیں\nیا ہم کہ غلام خلف الصدق نبیؐ ہیں\n\nتوبہ تو خدا جانتا ہے شمش و قمر کو\nوہ شام کو ہوتا ہے غروب اور یہ سحر کو\nایمان سمجھ مہر شہ جن و بشر کو\nشمع رہ معراج ہیں یہ اہل نظر کو\nخورشید بنی فاطمہ تو شاہ امم ہیں\nاور ماہ بنی ہاشمی آفاق میں ہم ہیں\n\nدو چاند کو کرتی ہے اک انگشت ہماری\nہے مہر نبوت سے ملی پشت ہماری\nہے تیغ ظفر وقت زد و کشت ہماری\nسو گرز قضا ضربت یکمشت ہماری\nقدرت کے نیستان کے ہم شیر ہیں ظالم\nہم شیر ہیں اور صاحب شمشیر ہیں ظالم\n\nسب کو ہے فنا دور ہمیشہ ہے ہمارا\nسر پیش خدا رکھنا یہ پیشہ ہے ہمارا\nہیں شیر خدا جس میں وہ بیشہ ہے ہمارا\nعاری ہے اجل جس سے وہ تیشہ ہے ہمارا\nہم جزو بدن اس کے ہیں جو کل کا شرف ہے\nرشتے میں ہمارے گہر پاک نجف ہے\n\nجوشن جو دعاؤں میں ہے وہ اپنی زرہ ہے\nہر عقدے کا ناخن مرے نیزے کی گرہ ہے\nتلوار سے پانی جگر ہر کہ و مہ ہے\nکاٹا پر جبریل کو جس تیغ سے یہ ہے\nسرخود و کلہ کا نہیں محتاج ہمارا\nشپیر کا ہے نقش قدم تاج ہمارا\n\nاحمد ہے چچا میرا پدر حیدرؑ صفدر\nوہ کل کا پیمبر ہے یہ کونین کا رہبر\nاور مادر زینبؑ کی ہے لونڈی مری مادر\nبھائی مرا اک عون دو عبداللہ و جعفر\nاور شپر و شپیر ہیں سردار ہمارے\nہم ان کے غلام اور وہ مختار ہمارے\n\nقاسم کا عزادار ہوں اکبرؑ کا میں غمخوار\nلشکر کا علمدار ہوں سرور کا جلو دار\nمیں کرتا ہوں پردا تو حرم ہوتے ہیں اسوار\nتھا شب کو نگہبان خیام شہ ابرار\nاب تازہ یہ بخشش ہے خدائے ازلی کی\nسقا بھی بنا اس کا جو پوتی ہے علیؑ کی\n\nہم ہانٹتے ہیں روزئ ہر بندۂ غفار\nرزاق کی سرکار کے ہیں مالک و مختار\nپر حق کی اطاعت ہے جو ہر کار میں درکار\nخود وقت سحر روزے میں کھالتے ہیں تلوار\nہیں عقدہ کشا وقت کشا قلعہ کشا بھی\nپر صبر سے بندھواتے ہیں رسی میں گلا بھی\n\nاس کے قدم پاک کا فدیہ ہے سر اپنا\nقربان کیا جس پہ نبیؐ نے پسر اپنا\nنذر سر اکبرؑ ہے دل اپنا جگر اپنا\nبیت الشرف شاہ پہ صدقے ہے گھر اپنا\nمشہور جو عباسؑ زمانے کا شرف ہے\nشپیر کی نعلین اٹھانے کا شرف ہے\n\nشاہوں کا چراغ آتے ہی گل کردیا ہم نے\nہر جا عمل ختم رسل کر دیا ہم نے\nخندق پہ در قلعہ کو پل کر دیا ہم نے\nاک جزو تھا کلمہ اسے کل کر دیا ہم نے\nدھوکا نہ ہو یہ سب شرف شیر خدا ہیں\nپھر وہ نہ جدا ہم سے نہ ہم ان سے جدا ہیں\n\nناری کو بہشتی کے رجز پر حسد آیا\nیوں چل کے پئے حملہ وہ ملعون بد آیا\nگویا کہ سقر سے عمر عبدود آیا\nاور لرزے میں مرحب بھی میان لحد آیا\nنفریں کی خدا نے اسے تحسیں کی عمر نے\nمجرا کیا عباسؑ کو یاں فتح و ظفر نے\n\nشپیر کو بڑھ بڑھ کے نقیبوں نے پکارا\nلو ٹوٹتا ہے دست زبردست تمہارا\nہے مرحب عبدالقمر اب معرکہ آرا\nشپیر یقیں جانو کہ عباسؑ کو مارا\nیہ گرگ وہ یوسف یہ خزاں ہے وہ چمن ہے\nوہ چاند یہ عقرب ہے وہ سورج یہ گہن ہے\n\nاس شور نے تڑپا دیا حضرت کے جگر کو\nاکبرؑ سے کہا جاؤ تو عمو کی خبر کو\nاکبرؑ بڑھے اور مڑ کے پکارے یہ پدر کو\nگھیرا ہے کئی نحس ستاروں نے قمر کو\nاک فوج نئی گرد علمدار ہے رن میں\nلو ماہ بنی ہاشمی آتا ہے گہن میں\n\nاک گبر قوی آیا ہے کھینچے ہوئے تلوار\nکہتا ہے کہ اک حملہ میں ہے فیصلۂ کار\nسرکشتوں کے نیزوں پہ ہیں گرد اس کے نمودار\nیاں دست بہ قبضہ متبسم ہیں علمدار\nاللہ کرے خیر کہ ہے قصد شر اس کو\nسب کہتے ہیں مرحب بن عبدالقمر اس کو\n\nغل ہے کہ دل آل عبا توڑے گا مرحب\nاب بازوئے شاہ شہدا توڑے گا مرحب\nبند کمر شیر خدا توڑے گا مرحب\nگوہر کو تہہ سنگ جفا توڑے گا مرحب\nمرحب کا نہ کچھ اس کی توانائی کا ڈر ہے\nفدوی کو چچا جان کی تنہائی کا ڈر ہے\n\nشہ نے کہا کیا روح علیؑ آئی نہ ہوگی\nنانا نے مرے کیا یہ خبر پائی نہ ہوگی\nکیا فاطمہؑ فردوس میں گھبرائی نہ ہوگی\nسر ننگے وہ تشریف یہاں لائی نہ ہوگی\nبندوں پہ عیاں زور خدا کرتے ہیں عباسؑ\nپیارے مرے دیکھو تو کہ کیا کرتے ہیں عباسؑ\n\nسن کر یہ خبر بیبیاں کرنے لگیں نالا\nڈیوڑھی پہ کمر پکڑے گئے سید والا\nچلائے کہ فضہ علی اصغر کو اٹھا لا\nہے وقت دعا چھوٹتا ہے گود کا پالا\nسیدانیو! سر کھول دو سجادہ بچھا دو\nدشمن پہ علمدار ہو غالب یہ دعا دو\n\nخیمے میں قیامت ہوئی فریاد بکا سے\nسہمی ہوئی کہتی تھی سکینہؑ یہ خدا سے\nغارت ہو الٰہی جو لڑے میرے چچا سے\nوہ جیتے پھریں خیر میں مرجاؤں بلا سے\nصدقے کروں قربان کروں اہل جفا کو\nدو لاکھ نے گھیرا ہے مرے ایک چچا کو\n\nہے ہے کہیں اس ظلم و ستم کا ہے ٹھکانا\nسقے پہ سنا ہے کہیں تلوار اٹھانا\nکوئی بھی روا رکھتا ہے سید کا ستانا\nجائز ہے کسی پیاسے سے پانی کا چھپانا\nہفتم سے غذا کھائی ہے نے پانی پیا ہے\nبے رحموں نے کس دکھ میں ہمیں ڈال دیا ہے\n\nاچھی مری اماں مرے سقے کو بلاؤ\nکہہ دو کہ سکینہؑ ہوئی آخر ادھر آؤ\nاب پانی نہیں چاہیے تابوت منگاؤ\nکاندھے سے رکھو مشک جنازے کو اٹھاؤ\nملنے مری تربت کے گلے آئیں گے عباسؑ\nیہ سنتے ہی گھبرا کے چلے آئیں گے عباسؑ\n\nاس عرصہ میں حملے کئے مرحب نے وہاں چار\nپر ایک بھی اس پنچتنی پر نہ چلا وار\nمانند دل و چشم ہر اک عضو تھا ہشیار\nعاری ہوئی تلوار مخالف ہوا ناچار\nجب تیغ کو جھنجلا کے رخ پاک پہ کھینچا\nتلوار نے انگلی سے الف خاک پہ کھینچا\n\nغازی نے کہا بس اسی فن پر تھا تجھے ناز\nسیکھا نہ یداللٰہیوں سے ضرب کا انداز\nپھر کھینچی اس انداز سے تیغ شرر انداز\nجو میان کے بھی منہ سے ذرا نکلی نہ آواز\nیاں خوف سے قالب کو کیا میان نے خالی\nواں قالب اعدا کو کیا جان نے خالی\n\nیہ تیغ سراپا جو برہنہ نظر آئی\nپھر جامۂ تن میں نہ کوئی روح سمائی\nہستی نے کہا توبہ قضا بولی دہائی\nانصاف پکارا کہ ہے قبضہ میں خدائی\nلو فتح مجسم کا وہ سر جیب سے نکلا\nنصرت کے فلک کا مہ نو غیب سے نکلا\n\nبجلی گری بجلی پہ اجل ڈر کے اجل پر\nاک زلزلہ طاری ہوا گردوں کے محل پر\nسیارے ہٹے کر کے نظر تیغ کے پھل پر\nخورشید تھا مریخ یہ مریخ زحل پر\nیہ ہول دیا تیغ درخشاں کی چمک نے\nجو تاروں کے دانتوں سے زمیں پکڑی فلک نے\n\nمرحب سے مخاطب ہوئے عباسؑ دلاور\nشمشیر کے مانند سراپا ہوں میں جوہر\nممکن ہے کہ اک ضرب میں دو ہو تو سراسر\nپر اس میں عیاں ہوں گے نہ جوہر مرے تجھ پر\nلے روک مرے وار ترے پاس سپر ہے\nزخمی نہ کروں گا ابھی اظہار ہنر ہے\n\nکاندھے سے سپر لے کے مقابل ہوا دشمن\nبتلانے لگے تیغ سے یہ ضرب کا ہرفن\nیہ سینہ یہ بازو یہ کمر اور یہ گردن\nیہ خود یہ چار آئنہ یہ ڈھال یہ جوشن\nکس وار کو وہ روکتا تلوار کہاں تھی\nآنکھوں میں تو پھرتی تھی نگاہوں سے نہاں تھی\n\nمرحب نے نہ پھر ڈھال نہ تلوار سنبھالی\nاس ہاتھ سے سر ایک سے دستار سنبھالی\nظالم نے سناں غصے سے اک بار سنبھالی\nاس شیر نے شمشیر شرر ہار سنبھالی\nتانی جو سناں اس نے علمدار کے اوپر\nیہ نیزا اڑا لے گئے تلوار کے اوپر\n\nجو چال چلا وہ ہوا گمراہ و پریشاں\nپھر زائچہ کھینچا جو کماں کا سر میداں\nتیروں کی لڑائی پہ پڑا قرعۂ پیکاں\nتیروں کو قلم کرنے لگی تیغ درخشاں\nجوہر سے نہ تیروں ہی کے پھل داغ بدل تھے\nگر شست کے تھے ساٹھ تو چلہ کے چہل تھے\n\nاس تیغ نے سرکش کے جو ترکش میں کیا گھر\nغل تھا کہ نیستاں میں گری برق چمک کر\nپر تیروں کے کٹ کٹ کے اڑے مثل کبوتر\nمرحب ہوا مضطر صفت طائر بے پر\nبڑھ کر کہا غازی نے بتا کس کی ظفر ہے\nاب مرگ ہے اور تو ہے یہ تیغ اور یہ سر ہے\n\nنامرد نے پوشیدہ کیا رخ کو سپر سے\nاور کھینچ لیا خنجر ہندی کو کمر سے\nخنجر تو ادھر سے چلا اور تیغ ادھر سے\nاس وقت ہوا چل نہ سکی بیچ میں ڈر سے\nاللہ رے شمشیر علمدار کے جوہر\nجوہر کیے اس خنجر خونخوار کے جوہر\n\nخنجر کا جو کاٹا تو وہ ٹھہری نہ سپر پر\nٹھہری نہ سپر پر تو وہ سیدھی گئی سر پر\nسیدھی گئی سر پر تو وہ تھی صدر و کمر پر\nتھی صدر و کمر پر تو وہ تھی قلب و جگر پر\nتھی قلب و جگر پر تو وہ تھی دامن زیں پر\nتھی دامن زیں پر تو وہ راکب تھا زمیں پر\n\nایماں نے اچھل کر کہا وہ کفر کو مارا\nقدرت نے پکارا کہ یہ ہے زور ہمارا\nحیدر سے نبیؐ بولے یہ ہے فخر تمہارا\nحیدرؑ نے کہا یہ مری پتلی کا ہے تارا\nپروانۂ شمع رخ تاباں ہوئیں زہراؑ\nمحسن کو لیے گود میں قرباں ہوئیں زہراؑ\n\nہنگامہ ہوا گرم یہ ناری جو ہوا سرد\nواں فوج نے لی باگ بڑھا یاں یہ جواں مرد\nٹاپوں کی صدا سے سر قاروں میں ہوا درد\nرنگ رخ اعدا کی طرح اڑنے لگی گرد\nقاروں کا زر گنج نہانی نکل آیا\nیہ خاک اڑی رن سے کہ پانی نکل آیا\n\nجو زندہ تھے العظمۃ للٰلہ پکارے\nسر مردوں کے نیزوں پہ جو تھے واہ پکارے\nڈرکر عمر سعد کو گمراہ پکارے\nخوش ہو کے علمدار سوئے شاہ پکارے\nیاں تو ہوا یا حضرت شپیر کا نعرہ\nشپیر نے ہنس کر کیا تکبیر کا نعرہ\n\nپردے کے قریب آ کے بہن شہ کی پکاری\nدشمن پہ ہوئی فتح مبارک ہو میں واری\nاب کہتی ہوں میں دیکھتی تھی جنگ یہ ساری\nعباسؑ کی اک ضرب میں ٹھنڈا ہوا ناری\nمرحب کو تو خیبر میں یداللہ نے مارا\nہم نام کو ابن اسد اللہ نے مارا\n\nمیداں میں علمدار کے جانے کے میں صدقے\nاس فاقے میں تلوار لگانے کے میں صدقے\nباہم علم و مشک اٹھانے کے میں صدقے\nاس پیاس میں اک بوند نہ پانے کے میں صدقے\nسقا بنا پیاسوں کا مروت کے تصدق\nبے سر کیا شہ زوروں کو قوت کے تصدق\n\nتم دونوں کا ہر وقت نگہبان خدا ہو\nدیکھے جو بری آنکھ سے غارت ہو فنا ہو\nدونوں کی بلا لے کے یہ ماں جائی فدا ہو\nرو کر کہا حضرت نے بہن دیکھیے کیا ہو\nمنہ چاند سا مجھ کو جو دکھائیں تو میں جانوں\nدریا سے سلامت جو پھر آئیں تو میں جانوں\n\nزینبؑ سے بحسرت یہ بیاں کرتے تھے مولا\nناگاہ سکینہؑ نے سنا فتح کا مژدا\nچلائی میں صدقے ترے اچھی مری فضا\nجا جلد بلائیں مرے عمود کی تو لے آ\nدکھ پیاس کا کہہ کر انہیں مدہوش نہ کرنا\nپر یاد دلانا کہ فراموش نہ کرنا\n\nلینے کو بلائیں گئی فضہ سوئے جنگاہ\nعباسؑ نے آتے ہوئے دیکھا اسے ناگاہ\nچلائے کہ پھر جا میں ہوا آنے سے آگاہ\nکہہ دینا سکینہؑ سے ہمیں یاد ہے واللہ\nدل پیاس سے بی بی کا ہوا جاتا ہے پانی\nلے کر ترے بابا کا غلام آتا ہے پانی\n\nدریا کو چلے ابر صفت ساتھ لیے برق\nمرحب کے شریکوں کا جدا کرتے ہوئے فرق\nسردار میں اور فوج میں باقی نہ رہا فرق\nمرحب کی طرح سب چہ ہب ہب میں ہوئے غرق\nتلوار کی اک موج نے طوفان اٹھایا\nطوفان نے سر پر وہ بیابان اٹھایا\n\nپانی ہوئی ہر موج زرہ فوج کے تن میں\nملبوس میں زندے تھے کہ مردے تھے کفن میں\nخنجر کی زبانوں کو قلم کرکے دہن میں\nاک تیغ سے تلواروں کو عاری کیا رن میں\nحیدر کا اسد قلزم لشکر میں در آیا\nامڈے ہوئے بادل کی طرح نہر پر آیا\n\nدریا کے نگہبان بڑھے ہونے کو چو رنگ\nپہنے ہوئے مچھلی کی طرح بر میں زرہ تنگ\nکھینچے ہوئے موجوں کی طرح خنجر بے زنگ\nسقے نے کہا پانی پہ جائز ہے کہاں جنگ\nدریا کے نگہبان ہو پر غفلت دیں ہے\nمانند حباب آنکھ میں بینائی نہیں ہے\n\nمذہب ہے یہ کیسا کہ رہ شرع نہ جانی\nمشرب ہے یہ کیسا کہ پلاتے نہیں پانی\nبے شیر کا بچپن علی اکبرؑ کی جوانی\nبرباد کیے دیتی ہے اب تشنہ دہانی\nلب خشک ہیں بچوں کی زباں پیاس سے شق ہے\nدریا ہی سے تم پوچھ لو کس پیاسے کا حق ہے\n\nپانی مجھے اک مشک ہے اس نہر سے درکار\nبھر لینے دو مجھ کو نہ کرو حجت و تکرار\nچلائے ستم گر ہے گزر نہر پہ دشوار\nغازی نے کہا ہاں پہ ارادہ ہے تو ہشیار\nلو سیل کو اور برق شرر بار کو روکو\nرہوار کو روکو مری تلوار کو روکو\n\nیہ کہہ کے کیا اسپ سبک تاز کو مہمیز\nبجلی کی طرح کوند کے چمکا فرس تیز\nاشرار کے سر پر ہوا نعلوں سے شرر ریز\nسیلاب فنا تھا کہ وہ طوفان بلا خیز\nجھپکی پلک اس رخش کو جب قہر میں دیکھا\nپھر آنکھ کھلی جب تو رواں نہر میں دیکھا\n\nدریا میں ہوا غل کہ وہ در نجف آیا\nالیاسؑ و خضرؑ بولے ہمارا شرف آیا\nعباسؑ شہنشاہ نجف کا خلف آیا\nپا بوس کو موتی لیے دست صدف آیا\nیاد آ گئی پیاسوں کی جو حیدرؑ کے خلف کو\nدل خون ہوا دیکھ کے دریا کی طرف کو\n\nسوکھے ہوئے مشکیزہ کا پھر کھولا دہانہ\nبھرنے لگا خم ہو کے وہ سرتاج زمانہ\nاعدا نے کیا دور سے تیروں کا نشانہ\nاور چوم لیا روح یداللہ نے شانہ\nفرمایا کہ کیا کیا مجھے خوش کرتے ہو بیٹا\nپانی مری پوتی کے لیے بھرتے ہو بیٹا\n\nکچھ فرق تری کوشش و ہمت میں نہیں ہے\nپانی مگر اس پیاسی کی قسمت میں نہیں ہے\nوقفہ مرے پیارے کی شہادت میں نہیں ہے\nجو زخم میں لذت ہے جراحت میں نہیں ہے\nاک خون کی نہر آنکھوں سے زہراؑ کے بہی ہے\nرونے کو تری لاش پہ سر کھول رہی ہے\n\nدریا سے جو نکلا اسداللہ کا جانی\nتھا شور کہ وہ شیر لیے جاتا ہے پانی\nپھر راہ میں حائل ہوئے سب ظلم کے بانی\nسقائے سکینہؑ کی یہ کی مرتبہ دانی\nقبریں نبیؐ و حیدرؑ و زبیراؑ کی ہلادیں\nبرچھوں کی جو نوکیں تھیں کلیجے سے ملا دیں\n\nوہ کون سا تھا تیر جو دل پر نہ لگایا\nمشکیزے کے پانی سے سوا خون بہایا\nیہ نرغہ تھا جو شمر نے حیلے سے سنایا\nعباسؑ بچو غول کمیں گاہ سے آیا\nمڑ کر جو نظر کی خلف شیر خدا نے\nشانوں کو تہہ تیغ کیا اہل جفا نے\n\nلکھا ہے کہ ایک نخل رطب تھا سر میداں\nابن ورقہ زید لعیں اس میں تھا پنہاں\nپہنچا جو وہاں سرو روان شہ مرداں\nجو شانہ تھا مشک و علم و تیغ کے شایاں\nوار اس پہ کیا زید نے شمشیر اجل سے\nیہ پھولی پھلی شاخ کٹی تیغ کے پھل سے\n\nمشک و علم و تیغ کو بائیں پہ سنبھالا\nاور جلد چلا عاشق روئے شہ والا\nپر ابن طفیل آگے بڑھاتان کے بھالا\nبرچھی کی انی سے تو کیا دل تہہ و بالا\nاور تیغ کی ضربت سے جگر شاہ کا کاٹا\nوہ ہاتھ بھی فرزند یداللہ کا کاٹا\n\nسقے نے کئی بانہوں پہ مشکیزہ کو رکھ کر\nمانند زباں منہ میں لیا تسمہ سراسر\nناگاہ کئی تیر لگے آگے برابر\nاک مشک پہ اک آنکھ پہ اور ایک دہن پر\nمشکیزے سے پانی بہا اور خوں بہا تن سے\nعباسؑ گرے گھوڑے سے اور مشک دہن سے\n\nگر کر لب زخمی سے علمدار پکارا\nکہہ دو کوئی پیاسوں سے کہ سقا گیا مارا\nسن لی یہ صدا شاہ شہیداں نے قضارا\nزینبؑ سے کہا لو نہ رہا کوئی ہمارا\nاصغرؑ کا گلا چھد گیا اکبرؑ کا جگر بھی\nبازو بھی مرے ٹوٹ گئے اور کمر بھی\n\nگویا کہ اسی وقت جلے خیمے ہمارے\nظالم نے طمانچے بھی مری بیٹی کو مارے\nرسی میں مرے خورد و کلاں بندھ گئے سارے\nعباسؑ کے غم میں ہوئے ہم گور کنارے\nاعدا میں ہے غل مالک شمشیر کو مارا\nیہ کیوں نہیں کہتے ہیں کہ شپیر کو مارا\n\nزینبؑ نے کہا سچ ہے تمہیں مرگئے بھائی\nسب کنبے کو عباسؑ فنا کر گئے بھائی\nآفاق سے اب حمزہؑ حیدرؑ گئے بھائی\nہم مجلس حاکم میں کھلے سر گئے بھائی\nمیں جان چکی قید مصیبت میں پڑی ہوں\nاب گھر میں نہیں بلوے میں سر ننگے کھڑی ہوں\n\nناگاہ صدا آئی کہ اے فاطمہؑ کے لال\nجلد آؤ کہ لاشہ مرا اب ہوتا ہے پامال\nزینبؑ نے کہا زندہ ہیں عباسؑ خوش اقبال\nتم جاؤ میں یاں بہر شفا کھولتی ہوں بال\nشہ بولے لب گور سکینہؑ کا چچا ہے\nاس فوج کا مارا ہوا کوئی بھی بچا ہے\n\nاکبرؑ کے سہارے سے چلے نہر پہ آقا\nگہ ہوش تھا گہ غش کبھی سکتہ کبھی نوحا\nلکھا ہے کہ ٹکڑے ہوئے یوں سقے کی اعضا\nاک ہاتھ تو مقتل میں ملا اک لب دریا\nزہراؑ کا پسر رن میں جو زیر شجر آیا\nاک ہاتھ تڑپتا ہوا شہ کو نظر آیا\n\nگر کر شہ والا نے یہ اکبر سے کہی بات\nاے لال اٹھا لو مرے بازو کا ہے یہ ہاتھ\nیہ ہاتھ رکھے سینہ پہ وہ وارث سادات\nپہنچا جو سر لاشۂ عباسؑ خوش اوقات\nہیہات قلم تیغوں سے شانے نظر آئے\nسر ننگے یداللہ سرہانے نظر آئے\n\nبے ساختہ ماتھے پہ رکھا شاہ نے ماتھا\nلب رکھ کے لبوں پر کہا وا حسرت و در وا\nیہ تیر یہ آنکھ اور یہ نیزہ یہ کلیجا\nوا قرۃ عینا مرے وا مہجۃ قلبا\nکچھ منہ سے تو بولو مرے غمخوار برادر\nعباسؑ ابوالفضل علمدار برادر\n\nاس جاں شکنی میں جو سنا شیون مولا\nتعظیم کی نیت میں کٹے شانوں کو ٹیکا\nپھر پاؤں سمیٹے کہ نہ ہوں پائنتی آقا\nشہ بولے نہ تکلیف کرو اے میرے شیدا\nکی عرض میں پھیلائے ہوئے پاؤں پڑا ہوں\nحضرت نے یہ فرمایا سرہانے میں کھڑا ہوں\n\nیاں تھی یہ قیامت وہاں خیمہ میں یہ محشر\nدر پر تھیں نبی زادیاں سب کھولے ہوئے سر\nتشویش تھی کیوں لاش کو لے آئے نہ سرور\nعباسؑ کا فرزند سراسیمہ تھا باہر\nتن رعشے میں خورشید درخشاں کی طرح تھا\nدل ٹکڑے یتیموں کے گریباں کی طرح تھا\n\nضد کرتا تھا ماں سے مرے بابا کو بلا دو\nمیں نہر پہ جاتا ہوں مرا نیمچہ لادو\nماں کہتی تھی بابا کو سکینہؑ کے دعا دو\nبابا بھی چچا کو کہو بابا کو بھلا دو\nحیدرؑ سے نویں سال چھڑایا تھا قضا نے\nواری ترے بابا کو بھی پالا تھا چچا نے\n\nدریا پہ ابھی گھر گئے تھے باپ تمہارے\nپیارے کے چچا جان انہیں لینے کو سدھارے\nتو رہ یہیں اے میرے رنڈاپے کے سہارے\nبابا کو چچا جاں لیے آتے ہیں پیارے\nتھا عشق جو عباسؑ سے اس نیک خلف کو\nبڑھ بڑھ کے نظر کرتا تھا دریا کی طرف کو\n\nناگاہ پھرا پیٹتا منہ کو وہ پریشاں\nزینبؑ نے کہا خیر تو ہے میں ترے قرباں\nچلایا کہ خادم کی یتیمی کا ہے ساماں\nبھیا علی اکبر نے ابھی پھاڑا گریباں\nبن باپ کا بچپن میں ہمیں کر گئے بابا\nمردے سے لپٹتے ہیں چچا مر گئے بابا\n\nیہ غل تھا جو مولا لیے مشک و علم آلے\nخیمہ میں کمر پکڑے امام امم آئے\nاور گرد علم بال بکھیرے حرم آئے\nزینبؑ سے کہا شہ نے بہن لٹ کے ہم آئے\nبھائی کے یتیموں کی پرستار ہو زینبؑ\nتم مہتمم سوگ علمدار ہو زینب\n\nہاں سوگ کا حیدرؑ کے سیہ فرش بچھاؤ\nہیں رخت عزا جس میں وہ صندوق منگاؤ\nدو سب کو سیہ جوڑے عزادار بناؤ\nشپر کی عزا کا ہمیں ملبوس پنہاؤ\nتم پہنو وہ کالی کفنی آل عبا میں\nجو فاطمہؑ نے پہنی تھی نانا کی عزا میں\n\nعباسؑ کا یہ سوگ نہیں سوگ ہے میرا\nعباسؑ کا ماتم ہو مرے گھر میں جو برپا\nنوحے میں نہ عباسؑ کہے نہ کہے سقا\nجو بین کرے رو کے کہے ہائے حسیناؑ\nسب لونڈیاں یوں روئیں کہ آقا گیا مارا\nچلائے سیکنہؑ بھی کہ بابا گیا مارا\n\nزینب نے کہا ہیں میری قسمت کے یہی کام\nدینے لگی ماتم کے یہ جوڑے تو وہ ناکام\nفضہ سے کہا سوگ کا کرتی ہوں سر انجام\nٹھنڈا ہوا ہے ہے علم لشکر اسلام\nزہراؑ کا لباس اپنے لیے چھانٹ رہی ہوں\nعباسؑ کا ملبوس عزا بانٹ رہی ہوں\n\nپھر زیر علم فرش سیہ لا کے بچھایا\nاور بیوۂ عباسؑ کو خود لا کے بٹھایا\nتھے جتنے سیہ پوش انہیں رو کے سنایا\nقسمت نے جواں بھائی کا بھی داغ دکھایا\nناسور نہ کس طرح سے ہو دل میں جگر میں\nماتم ہے علمدار کا سردار کے گھر میں\n\nباقی کوئی دستور عزا رہنے نہ پائے\nاب خیمہ میں اپنے ہر اک اس خیمہ سے جائے\nایک ایک یہاں پُرسے کو عباسؑ کے آئے\nسر ننگے لب فرش سے زینبؑ اسے لائے\nیہ جعفر و حمزہ کا یہ حیدرؑ کا ہے ماتم\nشپیر کا اکبرؑ کا اور اصغر کا ہے ماتم\n\nسب خیموں میں اپنے گئیں کرتی ہوئی زاری\nیاں کرنے لگی بین ید اللہ کی پیاری\nفضہ نے کہا زینب مضطر سے میں واری\nاے بنت علیؑ آتی ہے بانو کی سواری\nمنہ زیر علم ڈھانپے علمدار کی بی بی\nپُرسے کے لیے آتی ہے سردار کی بی بی\n\nبانو نے قدم پیچھے رکھا فرش سیہ پر\nپہلے وہاں بٹھلا دیا اصغر کو کھلے سر\nپھر سوئے علم پیٹتی دوڑی وہ یہ کہہ کر\nقربان وفا پر تری اے بازوئے سرور\nسنتی ہوں تہہ تیغ ستم ہو گئے بازو\nدریا پہ بہشتی کے قلم ہو گئے بازو\n\nعباسؑ کو تو میں نہ سمجھتی تھی برادر\nمیں ان کو پسر کہتی تھی اور وہ مجھے مادر\nاس شیر کے مرجانے سے بیکس ہوئے سرور\nبے جان ہوا حافظ جان علی اکبر\nسب کہتے ہیں حضرت کا برادر گیا مارا\nپوچھو جو مرے دل سے تو اکبرؑ گیا مارا\n\nاتنے میں سنی بالی سیکنہؑ کی دہائی\nزینب نے کہا روح علمدار کی آئی\nجوڑے ہوئے ہاتھوں کو وہ شپیر کی جائی\nکہتی تھی سزا پانی کے منگوانے کی پائی\nتعذیر دو یا دختر شپیر کو بخشو\nکس طرح کہوں میں مری تقصیر کو بخشو\n\nمیں نے تمہیں بیوہ کیا رنڈ سالہ پنہایا\nہے ہے مری اک پیاس نے سب گھر کو رلایا\nکوثر پہ سدھارا اسد اللہ کا جایا\nاور کنبے کا الزام مرے حصے میں آیا\nانصاف کرو لوگوں یہ کیا کر گئے عمو\nمیں پیاسی کی پیاسی رہی اور مر گئے عمو\n\nبعد اس کے ہوا شور کہ لو آتی ہے بیوہ\nتشریف نئی بیوہ کے گھر لاتی ہے بیوہ\nگھونگھٹ کو الٹتے ہوئے شرماتی ہے بیوہ\nسر گوندھا ہوا ساس سے کھلواتی ہے بیوہ\nزینبؑ نے کہا بیوۂ فرزند حسنؑ ہے\nیہ کیوں نہیں کہتے مرے قاسمؑ کی دلہن ہے\n\nکبراؑ کو چچی پاس جو زینبؑ نے بٹھایا\nاس بیوہ نے گھونگھٹ رخ کبرؑیٰ سے ہٹایا\nاور پوچھا کہ دولہا ترا کیوں ساتھ نہ آیا\nافسوس چچی نے تجھے مہماں نہ بلایا\nپرسے کو تو آئی خلف شیر خدا کے\nپہلا ترا چالا یہ ہوا گھر میں چچا کے\n\nناگاہ فغاں زیر علم یہ ہوئی پیدا\nسیدانیو دو مادر عباسؑ کو پرسا\nتعظیم کو سب اٹھے کہ ہے نالۂ زہراؑ\nزینبؑ نے کہا اماں وطن میں ہے وہ دکھیا\nآئی یہ ندا پاس ہوں میں دور کہاں ہوں\nعباسؑ مرا بیٹا میں عباسؑ کی ماں ہوں\n\nرنڈ سالہ بہو کو میں پہنانے کو ہوں آئی\nاک حُلۂ پر نور ہوں فردوس سے لائی\nعباسؑ کے ماتم کی تو صف تم نے بچھائی\nسامان سوئم ہوگا نہ کچھ اے مری جائی\nتم روز سوئم ہائے رواں شام کو ہوگی\nچہلم کو کفن لاش علمدار کو دوگی\n\nلو حیدریو وارد مجلس ہوئیں زہراؑ\nدو فاطمہؑ کی روح کو عباسؑ کا پرسا\nاب تک نہیں کفنائے گئے ہیں شہ والا\nبے گور ہے سردار و علمدار کا لاشا\nرونے نہیں دیتے ہیں عدو آل نبی کو\nتم سب کے عوض روؤ حسینؑ ابن علی کو\n\nخاموش دبیرؔ اب کہ نہیں نظم کا یارا\nمداح کا دل خنجر غم سے ہے دو پارا\nکافی پئے بخشش یہ وسیلہ ہے ہمارا\nاک ہفتے میں تصنیف کیا مرثیہ سارا\nتجھ پر کرم خاص ہے یہ حق کے ولی کا\nیہ فیض ہے سب مدح جگر بند علیؑ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%85%D8%AF_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%B1%D9%86_%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%BE_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کس طرح آئے تری بزم طرب میں آئنہ", "poet_page": "مصنف:مظفر علی اسیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس طرح آئے تری بزم طرب میں آئنہ\nہے نظر بند آج کل شہر حلب میں آئنہ\n\nہند سے اس تک جو لے جائے کوئی تصویر یار\nشرم سے لیلیٰ نہ دیکھے پھر عرب میں آئنہ\n\nبزم میں بلوائے جلدی کہ اک مدت سے ہے\nاشتیاق زلف و خط و چشم و لب میں آئنہ\n\nنوکری بھی کی تو حیرانی فقط ہم کو ملی\nآرسی تنخواہ میں پائی طلب میں آئنہ\n\nشیخ صاحب تا کجا آرائش ریش سپید\nدیکھیے شانہ بلا میں ہے غضب میں آئنہ\n\nساقیا یہ آئنہ ہے تیرا مے خانہ نہیں\nہے ہر اک ساغر کف بنت العنب میں آئنہ\n\nدیکھنے جاتا ہے اس کو تاب نظارہ نہیں\nسادہ لوح اس سے ہوا مشہور سب میں آئنہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%B7%D8%B1%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81"} {"title": "کس طرح زخمی کیا تم نے نگاہ ناز سے", "poet_page": "مصنف:ناصری لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نذر احباب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "کس طرح زخمی کیا تم نے نگاہ ناز سے\nرات بھر رویا کیا دل درد کی آواز سے\n\nمیرے دل کو تم نے چھیڑا کچھ عجب انداز سے\nرنگ محفل بڑھ گیا اس ساز کی آواز سے\n\nدیکھتے ہیں وہ رخ بیمار اس انداز سے\nدل دھڑکتا ہے شکست رنگ کی آواز سے\n\nسامنے آ کوئی کہہ دے اس قدر انداز سے\nدیکھ دل بڑھتے ہیں تیرے تیر کی آواز سے\n\nآج یہ راہ جنوں میں کس نے رکھا ہے قدم\nہل گیا سارا جہاں زنجیر کی آواز سے\n\nبے پری سے رہ گئی بلبل کی ساری آرزو\nدر قفس کے وا ہیں اور مجبور ہے پرواز سے\n\nاس قدر صدمہ ہوا رنگ گلستاں اڑ گیا\nپر شکستہ بلبلوں کی حسرت پرواز سے\n\nدیکھ کر جلوہ بھلا کیا ہوش میں رہتے کلیم\nدل تو ٹکڑے ہو چکا تھا اک نئی آواز سے\n\nدیکھنا ہے اس مہم میں کس طرح کرتا ہے صبر\nامتحاں دل کا وہ لیں گے پاؤں کی آواز سے\n\nموت کی ہے نیند سوتے ہیں شہیدان وفا\nتو صدا دے جاگ اٹھیں شاید تری آواز سے\n\nبزم میں ان کی گیا دل ناصریؔ میں بھی سنوں\nآج کرتے ہیں جو باتیں وہ مرے ہم راز سے", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B2%D8%AE%D9%85%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کس طرح سے گریہ کو نہ ہو طغیانی", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کس طرح سے گریہ کو نہ ہو طغیانی\nہے کشتیٔ دریائے کرم طوفانی\nعباس کے شانے بھی گرے مشک کے ساتھ\nاے تشنہ لبی اب تو ہو پانی پانی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتا", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتا\nہم جا نہیں سکتے انہیں آنا نہیں ملتا\n\nپھرتے ہیں وہاں آپ بھٹکتی ہے یہاں روح\nاب گور میں بھی ہم کو ٹھکانا نہیں ملتا\n\nبدنام کیا ہے تن انور کی صفا نے\nدل میں بھی اسے راز چھپانا نہیں ملتا\n\nدولت نہیں کام آتی جو تقدیر بری ہو\nقارون کو بھی اپنا خزانا نہیں ملتا\n\nآنکھیں وہ دکھاتے ہیں نکل جائے اگر بات\nبوسہ تو کہاں ہونٹ ہلانا نہیں ملتا\n\nطاقت وہ کہاں جائیں تصور میں جو اے برقؔ\nبرسوں سے ہمیں ہوش میں آنا نہیں ملتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%85%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کس طرح واقف ہوں حال عاشق جاں باز سے", "poet_page": "مصنف:غلام بھیک نیرنگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس طرح واقف ہوں حال عاشق جاں باز سے\nان کو فرصت ہی نہیں ہے کاروبار ناز سے\n\nمیرے درد دل سے گویا آشنا ہیں چوب و تار\nاپنے نالے سن رہا ہوں پردہ ہائے ساز سے\n\nذرہ ذرہ ہے یہاں اک کتبۂ سر الست\nآپ ہی واقف نہیں ہیں رسم خط راز سے\n\nدل گئے ایماں گئے عقلیں گئیں جانیں گئیں\nتم نے کیا کیا کر دکھایا اک نگاہ ناز سے\n\nآہ! کل تک وہ نوازش! آج اتنی بے رخی\nکچھ تو نسبت چاہئے انجام کو آغاز سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%88%D8%A7%D9%82%D9%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کس طرح پر ایسے بد خو سے صفائی کیجیے", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "کس طرح پر ایسے بد خو سے صفائی کیجیے\nجس کی طینت میں یہی ہو کج ادائی کیجیے\n\nجب مسیحا کی ہو مرضی کج ادائی کیجیے\nاس جگہ کیا درد دل کی پھر دوائی کیجیے\n\nاس سے کھنچ رہتا ہوں جب تب یہ کہے ہے مجھ سے دل\nعاشقی یا کیجیے یا میرزائی کیجیے\n\nگر یہ دل اپنا کہے میں اپنے ہووے ناصحا\nبیٹھ کر کنج قناعت میں خدائی کیجیے\n\nکیا یہی تھی شرط کچھ انصاف کی اے تند خو\nجو بھلا ہو آپ سے اس سے برائی کیجیے\n\nوہ بھلا چنگا ہوا برگشتہ مجھ سے اور بھی\nکیا بیاں نالے کی اپنے نارسائی کیجیے\n\nکھا گیا لغزش قدم ایسا بتوں کو دیکھ کر\nجی میں یہ آیا کہ ترک پارسائی کیجیے\n\nعکس ہو معلوم اس کا گھر ہی بیٹھے اے سرورؔ\nپہلے زنگ دل کی جب اپنے صفائی کیجیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%AF_%D8%AE%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%8C%DB%92"} {"title": "کس طرح چین سے دم بھر شب فرقت میں رہے", "poet_page": "مصنف:راجہ نوشاد علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس طرح چین سے دم بھر شب فرقت میں رہے\nہائے وہ دل جو ترے وصل کی حسرت میں رہے\n\nہم پس مرگ بھی بیتابیٔ فرقت میں رہے\nکبھی باہر نکل آئے کبھی تربت میں رہے\n\nتیرگی اب نہ ہماری شب فرقت میں رہے\nان کی زلفوں میں رہے غیر کی تربت میں رہے\n\nکوئے قاتل میں رہے ہم یہ اذیت میں رہے\nنیم بسمل کی طرح شوق شہادت میں رہے\n\nصبح تک مجھ سے وہ لپٹا شب وصلت میں رہے\nرات بھر آج اثر جذب محبت میں رہے\n\nغیر کے اشکوں سے دھوئیں تو نہ دامن سے چھٹے\nاتنی شوخی تو مرے خون کی رنگت میں رہے\n\nرنگ ہلکا سا ہو جن پھولوں کا وہ پہنو تم\nکچھ تکلف بھی مری جان نزاکت میں رہے\n\nغیر کے ساتھ وہ جب پھول چڑھانے آئے\nہم بہت دل کو سنبھالے ہوئے تربت میں رہے\n\nتیری سرکار میں انصاف یہی ہے اے عشق\nآرزو کوئی نکالے کوئی حسرت میں رہے\n\nذبح کے وقت وہ زانو پہ مرا سر رکھ لے\nکچھ تو آرام کا پہلو بھی اذیت میں رہے\n\nدم خندہ در دندانں کا اگر عکس پڑے\nکچھ چمک بھی ترے رخسار کی رنگت میں رہے\n\nلطف کیا پائے ہیں ہنس بول کے ہم نے تم نے\nگل و بلبل کی طرح باغ محبت میں رہے\n\nپوچھیں احوال مرا وہ تو یہ کہنا قاصد\nشب کو بے چین بہت درد کی شدت میں رہے\n\nدل نہ قابو میں رہا دیکھ کے صورت ان کی\nغش سے فرصت ہوئی ہم کو تو حیرت میں رہے\n\nمیں تو گھبرا کے چلا ہوں کسی کوچے کی طرف\nبیکسی آ کے مرے گھر شب فرقت میں رہے\n\nبد گماں ہوں میں دکھائے نہ کسی کو صورت\nیا مرے دل میں رہے یا کوئی خلوت میں رہے\n\nرخ روشن پہ جو تم زلف سیہ بکھرا دو\nپھر نہ کچھ خوف سحر کا شب وصلت میں رہے\n\nبعد مردن نہ جگہ پائی کسی کوچے میں\nمفت برباد حسینوں کی محبت میں رہے\n\nمری تربت سے لپٹ کر یہ کسی کا کہنا\nآپ اب حشر تلک وصل کی حسرت میں رہے\n\nزانوئے حور پہ سویا کئے سر رکھے ہوئے\nترے کشتے بھی بڑی عیش سے تربت میں رہے\n\nبعد مرنے کے کھلی ہیں جو ہماری آنکھیں\nہے اشارہ ترے دیدار کی حسرت میں رہے\n\nدھجیاں شیخ کی اس طرح اڑاؤ رندو\nایک بھی تار نہ دستار فضیلت میں رہے\n\nبے نقاب آ کے جو وہ قبر پہ غم کرتے ہیں\nچاہتے ہیں کہ مری نعش نہ تربت میں رہے\n\nکبھی دل تھام کے بیٹھے کبھی گھبرا اٹھے\nکیا کہیں آپ سے کیوں کر شب فرقت میں رہے\n\nذبح کرتا کوئی زانو سے دبا کر سینہ\nہائے مشتاق شہادت اسی حسرت میں رہے\n\nخوش نصیبی ہے جو پھرتا ہوں ترے کوچہ میں\nآرزو ہے یہی گردش مری قسمت میں رہے\n\nغیر کی قبر پہ وہ پھول چڑھایا کئے روز\nآسرا ہم بھی لگائے ہوئے تربت میں رہے\n\nحضرت شیخ جو میخانے میں آئیں نوشادؔ\nایک بھی تار نہ دستار فضیلت میں رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DA%86%DB%8C%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%B4%D8%A8_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "کس طرح کرے نہ ایک عالم افسوس", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کس طرح کرے نہ ایک عالم افسوس\nجی بھر کے کیا نہ شہ کا ماتم افسوس\nکیا جلد گزر گئے یہ دس دن غم کے\nکیوں صاحبو ہو چکا محرم افسوس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3"} {"title": "کس طرح کہوں آ بھی کہیں عذر نہ کر", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کس طرح کہوں آ بھی کہیں عذر نہ کر\nرسوائی ناموس کا ہے کس کو ڈر\nوہ پردہ نشیں خلوت دل میں کیا آئے\nامید تو جاتی نہیں دل سے باہر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A2_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%B0%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کس طور سے کس طرح سے کیوں کر پایا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کس طور سے کس طرح سے کیوں کر پایا\nدل نظر کیا سراغ دلبر پایا\nباقی رہا مدعا نہ دعویٰ نہ دلیل\nکھوئے گئے آپ ہی تو سب بھر پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کس قدر تھا گرم نالہ بلبل ناشاد کا", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس قدر تھا گرم نالہ بلبل ناشاد کا\nآگ پھولوں میں لگی گھر جل گیا صیاد کا\n\nسہل سمجھا تھا ستانا بلبل ناشاد کا\nچار نالوں میں کلیجا ہل گیا صیاد کا\n\nزیر خنجر میں تڑپتا ہوں فقط اس واسطے\nخون میرا اڑ کے دامن گیر ہو جلاد کا\n\nدرپئے آزار پہلے آسماں اتنا نہ تھا\nپا گیا ہے کچھ اشارہ اس ستم ایجاد کا\n\nاب تو وہ بھی لوٹ ہے بلبل تری آواز پر\nبارک اللہ خوب پھانسا تو نے دل صیاد کا\n\nاس کے صدقے جائیے جس نے تجھے پیدا کیا\nشکل دی حور و پری کی دل دیا جلاد کا\n\nوصل میں کیسا ادب اے جان گستاخی معاف\nآج لینا ہے مجھے تم سے عوض بیداد کا\n\nآپ بھی خنجر بکف ہیں میں بھی ہوں سینہ سپر\nرہ نہ جائے آج کوئی حوصلہ بیداد کا\n\nمجھ کو ہے ایسا چمن درکار جس میں اے جلیلؔ\nخوف گلچیں کا نہ ہو کھٹکا نہ ہو صیاد کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کس قدر دل ربا نما ہے دل", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس قدر دل ربا نما ہے دل\nخانۂ غیر ہو گیا ہے دل\n\nہر گھڑی کیوں نہ زلزلے میں رہے\nمشہد حسرت و وفا ہے دل\n\nموت بھی سہل کچھ نہیں اپنی\nکس لیے طاقت آزما ہے دل\n\nمصلحت اس میں ہو نہ کوئی کاش\nدشمن جان ہو گیا ہے دل\n\nسب سے لگ چلنے کی ہوئی ہے کھو\nکس قدر صرف آشنا ہے دل\n\nشیخ صنعاں کا یاد ہے قصہ\nسخت کافر بری بلا ہے دل\n\nاپنی حالت میں مبتلا ہوں آپ\nدل ربا جاں ہے جاں ربا ہے دل\n\nبل بے واماندگی کی تیز روی\nجیسے جانے پہ آ گیا ہے دل\n\nکس جفا کار کی وفا ہے جاں\nکس ستم کش کا مدعا ہے دل\n\nتیری الفت کا نقد داغ جگر\nمیری حسرت کا خوں بہا ہے دل\n\nکہیے کس سے لگا لیا لگا\nاے قلقؔ کیوں کے لگ چلا ہے دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%D9%86%D9%85%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84"} {"title": "کس قدر دھیان ہے اے کاکل پیچاں تیرا", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس قدر دھیان ہے اے کاکل پیچاں تیرا\nاپنے سایہ سے الجھتا ہے پریشان تیرا\n\nاپنی حسرت پہ لہو روئے ہر اک زخم جگر\nگر پڑا ہاتھ سے قاتل جو نمک داں تیرا\n\nکیا کہوں ہے مرے صحرا کی جو وسعت اے قیس\nنہ ملے اس میں جو کھو جائے بیاباں تیرا\n\nحوصلہ نکلے مری وحشت دل کا کیوں کر\nدائرہ تنگ ہے اے عالم امکاں تیرا\n\nلے گیا اس کی گلی تک نہ بہا کر لاشہ\nچشم تر کام کچھ آیا مرے طوفاں تیرا\n\nآج کل چلتی ہے دنیا میں قیامت کی ہوا\nگل نہ ہو جائے چراغ اے مہ تاباں تیرا\n\nخیر ہو بوئے رقابت مجھے آئی تجھ سے\nچاک کس کے لئے اے گل ہے گریباں تیرا\n\nکس طرف ڈھونڈھتا پھرتا ہے تو اے تیر افگن\nدل میں اکبرؔ نے چھپا رکھا ہے پیکاں تیرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%DA%A9%D8%A7%DA%A9%D9%84_%D9%BE%DB%8C%DA%86%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کس قدر مجھ کو ناتوانی ہے", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس قدر مجھ کو ناتوانی ہے\nبار سر سے بھی سرگرانی ہے\n\nچشم تر سے جو خوں فشانی ہے\nناوک عشق کی نشانی ہے\n\nسارے قرآن سے اس پری رو کو\nیاد اک لفظ لن ترانی ہے\n\nجب ہوا رتبۂ فنا فی اللہ\nغم نہیں گر جہان فانی ہے\n\nہے ہر اک شعر یار کی تصویر\nفکر اپنی خیال مانی ہے\n\nکیوں نہ ہوں عاشق لب جاناں\nچشمۂ آب زندگانی ہے\n\nاس کی رفتار کے لکھے ہیں جو وصف\nکیا مری طبع میں آتی ہے\n\nناصحا عاشقی میں رکھ معذور\nکیا کروں عالم جوانی ہے\n\nکس سے دوں اس صنم کو میں تشبیہ\nکب خدائی میں اس کا ثانی ہے\n\nنہ مری زخم پر رکھو مرہم\nمیرے قاتل کی یہ نشانی ہے\n\nسر کٹائیں گے شمع ساں خاموش\nگر یہی اپنی بے زبانی ہے\n\nہم نہیں شمع ہوں جو اشک فشاں\nکار عشاق جاں فشانی ہے\n\nمنہ نے گھر میں مرے رکھا اس کو\nیہ بھی تائید آسمانی ہے\n\nدل بھی اس سے اٹھا نہیں سکتے\nناتوانی سی ناتوانی ہے\n\nقد موزوں کے عشق میں گویاؔ\nرات دن شغل شعر خوانی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کس لئے پروانہ خاکستر ہوا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس لئے پروانہ خاکستر ہوا\nشمع کیوں اپنی جلن میں گھل گئی\n\nمنتشر کیوں ہو گئے اوراق گل\nچیختی گلشن سے کیوں بلبل گئی\n\nآب دیدہ ہو کے شبنم کیوں چلی\nدم کے دم کانٹوں میں آ کر تل گئی\n\nسبزۂ طرف خیاباں کیا ہوا\nآہ کیوں شادابیٔ سنبل گئی\n\nکچھ نہ تھا خواب پریشاں کے سوا\nاس تھئیٹر کی حقیقت کھل گئی\n\nراہ کے رنج و تعب کا کیا گلہ\nجب کہ دل سے گرد کلفت دھل گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%84%D8%A6%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھ", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھ\nکس کو یہ ڈھونڈتے ہیں برہنہ سر دونوں ساتھ\n\nکیسی یارب یہ ہوا صبح شب وصل چلی\nبجھ گیا دل مرا اور شمع سحر دونوں ساتھ\n\nبعد میرے نہ رہا عشق کی منزل کا نشاں\nمٹ گئے راہرو و راہ گزر دونوں ساتھ\n\nاے جنوں دیکھ اسی صحرا میں اکیلا ہوں میں\nرہتے جس دشت میں ہیں خوف و خطر دونوں ساتھ\n\nمجھ کو حیرت ہے شب عیش کی کوتاہی پر\nیا خدا آئے تھے کیا شام و سحر دونوں ساتھ\n\nاس نے پھیری نگۂ ناز یہ معلوم ہوا\nکھنچ گیا سینے سے تیر اور جگر دونوں ساتھ\n\nغم کو دی دل نے جگہ دل کو جگہ پہلو نے\nایک گوشے میں کریں گے یہ بسر دونوں ساتھ\n\nاس کو روکوں میں الٰہی کہ سنبھالوں اس کو\nکہ تڑپنے لگے دل اور جگر دونوں ساتھ\n\nناز بڑھتا گیا بڑھتے گئے جوں جوں گیسو\nبلکہ لینے لگے اب زلف و کمر دونوں ساتھ\n\nتجھ سے مطلب ہے نہیں دنیا و عقبیٰ سے غرض\nتو نہیں جب تو اجڑ جائیں یہ گھر دونوں ساتھ\n\nبات سننا نہ کسی چاہنے والے کی کبھی\nکان میں پھونک رہے ہیں یہ گہر دونوں ساتھ\n\nآندھیاں آہ کی بھی اشک کا سیلاب بھی ہے\nدیتے ہیں دل کی خرابی کی خبر دونوں ساتھ\n\nکیا کہوں زہرہ و خورشید کا عالم اے نظمؔ\nنکلے خلوت سے جوں ہی وقت سحر دونوں ساتھ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%B4%D9%85%D8%B3_%D9%88_%D9%82%D9%85%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا\nآگے تو ہیں راہیں اور کٹھن دل پہلے ہی ٹھوکر کھا کے گرا\n\nآگے جو بڑھا تھرائے قدم وہ ہنس جو دیے شرما کے گرا\nبے ہوش نہیں ہشیار تھا میں اٹھنے کا سہارا پا کے گرا\n\nدل شوق کے جوش میں دوڑ چلا اور جوش تو ہوتا ہے اندھا\nدر بند پڑا تھا قسمت کا ٹکر جو لگی تیورا کے گرا\n\nجتنی بھی دل کی ضرورت تھی بس اتنی ہی ہمت و طاقت تھی\nرستے کی کھکھیڑیں جھیل گیا پاس آتے ہی میں چکرا کے گرا\n\nکیا عشق کی منزل بھی ہے کڑی بندھ بندھ کر ہمت ٹوٹ گئی\nجو ایک قدم چل کر سنبھلا وہ دو قدم آگے جا کے گرا\n\nسلگی ہوئی ہے غم کی بھٹی دل کیوں نہ پگھل کے بنے پانی\nجو قطرہ آنسو ہو کے بہا لہرا کے چلا تیورا کے گرا\n\nوہ نالہ فلک سے ٹکرایا وہ آرزوؔ اک تارا ٹوٹا\nدشمن کی طرف جو لپکا تھا شعلہ وہ مجھی پر آ کے گرا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DA%91%DB%8C_%D9%85%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D9%84%DB%81%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کس منہ سے کروں میں تن عریاں کی شکایت", "poet_page": "مصنف:مرزا مائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس منہ سے کروں میں تن عریاں کی شکایت\nداماں کی شکایت نہ گریباں کی شکایت\n\nکیسا ہی کھٹکتا رہے دل میں مرے پیکاں\nمجھ سے تو نہ ہوگی کبھی مہماں کی شکایت\n\nاتنا بھی تغافل نہیں اچھا کہیں تم کو\nکرنی نہ پڑے شورش پنہاں کی شکایت\n\nاللہ رکھے مرے تصور کو سلامت\nتجھ کو تو نہیں ہے شب ہجراں کی شکایت\n\nہوں لنگ مگر واقف آداب جنوں ہوں\nمیں کفر سمجھتا ہوں بیاباں کی شکایت\n\nکہتی ہے تری چشم کی گردش مرے ہوتے\nکوئی نہ کرے گردش دوراں کی شکایت\n\nجاتے تو ہو کعبے کو خدا کے لئے مائلؔ\nکرنا نہ کسی دشمن ایماں کی شکایت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%86_%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA"} {"title": "کس منہ سے کہیں گناہ کیا ہیں", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس منہ سے کہیں گناہ کیا ہیں\nتوبہ ہے رو سیاہ کیا ہیں\n\nاللہ ہے عفو کرنے والا\nمیں کیا ہوں مرے گناہ کیا ہیں\n\nاے دوست ترے گدا کے آگے\nکچھ بھی نہیں بادشاہ کیا ہیں\n\nتم سا کوئی بد چلن نہ ہوگا\nہے ہے عاشق تباہ کیا ہیں\n\nگوری گوری ہے ان کی صورت\nاس پر گیسوئے سیاہ کیا ہیں\n\nچکر میں ہیں شیخ و گبر دونو\nاپنے لئے خود تباہ کیا ہیں\n\nدیکھے کوئی حال اہل دنیا\nیہ لوگ بھی واہ واہ کیا ہیں\n\nاتریں ان سے مقابلے کو\nافلاک پہ مہر و ماہ کیا ہیں\n\nدھومیں تیغ نگاہ کی ہیں\nتیور اے کج کلاہ کیا ہیں\n\nشاہد ہیں ترے ستم کے لاکھوں\nدو چار اس کے گواہ کیا ہیں\n\nاللہ رے ان بتوں کی آنکھیں\nکافر جادو نگاہ کیا ہیں\n\nکٹ جائے گی عمر چند روزہ\nفکریں شام و پگاہ کیا ہیں\n\nان کا تو جواب ہی نہیں ہے\nماشاء اللہ واہ کیا ہیں\n\nاے دل الفت کے محکمے میں\nقاضی کیا ہے گواہ کیا ہیں\n\nدل ہے تو زیادہ اس سے ہوں گے\nیہ نالہ و اشک و آہ کیا ہیں\n\nپہلو میں نگار ہاتھ میں جام\nاس وقت تو بادشاہ کیا ہیں\n\nان کی آمد جو اے صباؔ ہے\nسب مطلب رو بہ راہ کیا ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کس میں خوبی ہے جلانے میں کہ جل جانے ہیں", "poet_page": "مصنف:راج بہادر سکسینہ اوجؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل > تصویر خیال (1933)", "year": "1933", "text_ur": "کس میں خوبی ہے جلانے میں کہ جل جانے ہیں\nشمع میں سوز زیادہ ہے کہ پروانے میں\n\nلذت درد کو اک خار میسر نہ ہوا\nدل کا کانٹا نہ نکالا گیا ویرانے میں\n\nمیرے پر درد بیاں نے مجھے مرنے نہ دیا\nموت کو نیند سی آئی مرے افسانے میں\n\nآب کوثر تو نہ تھا چشم سیہ میں تیری\nپڑ گئی جان تجھے دیکھ کے دیوانے میں\n\nحق پرستی مری کعبہ سے صدا دیتی ہے\nدل میں کر یاد خدا بیٹھ کے بت خانے میں\n\nغم غلط کرتا ہوں پی پی کے جگر کے آنسو\nشبنمی مے ہے مری آنکھ کے پیمانے میں\n\nمجھ کو جب ساقیٔ مغرور نے ساغر نہ دیا\nاوجؔ آنسو نکل آئے مرے میخانے میں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%A8%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کس ناز سے واہ ہم کو مارا", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس ناز سے واہ ہم کو مارا\nکی ترچھی نگاہ ہم کو مارا\n\nسو پیچ میں لا کے آخر کار\nاے زلف سیاہ ہم کو مارا\n\nخواہندہ ترے تھے اے پری ہم\nکیوں خواہ نہ خواہ ہم کو مارا\n\nکعبے کو جو ہم چلے بتوں نے\nکہہ کر گمراہ ہم کو مارا\n\nشکوہ ہمیں کچھ نہیں فلک سے\nتو نے اے ماہ ہم کو مارا\n\nچاہ زقن صنم دکھا کر\nتو نے اے چاہ ہم کو مارا\n\nایسے ہیں ضعیف مر گئے ہم\nجس نے پر کاہ ہم کو مارا\n\nاس کی زلف دراز نے شب\nقصۂ کوتاہ ہم کو مارا\n\nشمشیر نگہ سے اس نے بے موت\nخالق ہے گواہ ہم کو مارا\n\nبوسہ کی طلب میں اس نے گویاؔ\nنا کردہ گناہ ہم کو مارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%A7%DB%81_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کس نام مبارک نے مزہ منہ کو دیا ہے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس نام مبارک نے مزہ منہ کو دیا ہے\nکیوں لب پہ مرے زمزمۂ صل علیٰ ہے\n\nکس در کی گدائی مری قسمت میں ہے یا رب\nسر پر جو مرے سایہ فگن بال ہما ہے\n\nسینے میں مرے داغ غم عشق نبی ہے\nاک گوہر نایاب مرے ہاتھ لگا ہے\n\nسرگرم ہے دل شافع محشر کی طلب میں\nکافر ہوں اگر کچھ بھی غم روز جزا ہے\n\nگستاخ تری مدح سرائی میں ہے وحشتؔ\nکیونکر نہ ہو تیرے ہی تو کوچے کا گدا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%B2%DB%81_%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کس نور کی مجلس میں مری جلوہ گری ہے", "poet_page": "مصنف:میر مظفر حسین ضمیر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "کس نور کی مجلس میں مری جلوہ گری ہے\nجس نور سے پر نور یہ نور نظری ہے\nآمد ہی میں حیران قیاس بشری ہے\nیہ کون سی تصویر تجلی سے بھری ہے\nگو حسن کا رتبہ نہیں مذکور ہوا ہے\nمنبر مرا ہم مرتبۂ طور ہوا ہے\n\nصد شکر کہ مجلس مری مشتاق سخن ہے\nیہ فیض عنایات حسین اور حسن ہے\nپھر جوش جوانی پہ مری طبع کہن ہے\nیہ قوت امداد شہ تشنہ دہن ہے\nنقاش میں یہ صنعت تحریر نہیں ہے\nتصویر دکھاتا ہوں یہ تقریر نہیں ہے\n\nنقاش تو کرتا ہے قلم لے کے یہ تدبیر\nاک شکل نئی صفحۂ قرطاس پہ تحریر\nانصاف کرو کلک زباں سے دم تحریر\nمیں صفحۂ باطن میں رقم کرتا ہوں تصویر\nسو رنگ سے تصویر مصور نے بھری ہے\nرنیگنئ مضموں کی کہاں جلوہ گری ہے\n\nتصویر میں اس شخص کی ہوں تم کو دکھاتا\nجو ثانی محبوب الٰہی ہے کہاتا\nاک نور جو جاتا ہے تو اک نور ہے آتا\nوجہ عدم سایۂ احمد ہوں سناتا\nتھا بعد محمد کے جو آیا علی اکبر\nتھا احمد مختار کا سایہ علی اکبر\n\nیاں تک سخن تازہ کیا طبع نے پیدا\nوہ نور نبی اور نبی نورخدا کا\nیہ سلسلۂ نور کہاں جا کے ہے پہنچا\nاکبر کو جو دیکھا تو بتاؤ کسے دیکھا\nواللہ زیارت کا سزا وار ہے اکبر\nنعم البدل احمد مختار ہے اکبر\n\nلیکن تمہیں تصویر یہ کرتی ہے اشارت\nہاں مجلسیاں روضۂ جنت کی بشارت\nہو محو طہارت ہے اگر قصد زیارت\nہے لازم و ملزوم زیارت کو طہارت\nاس قصد پہ بیٹھے ہو جو صاحب نظرو تم\nتجدید وضو اشک کے پانی سے کرو تم\n\nلکھا ہے کہ تھی حضرت شبیر کو عادت\nہوتی تھی نماز سحری سے جو فراغت\nپہلے علی اکبر ہی کو بلواتے تھے حضرت\nفرماتے تھے کرتا ہوں عبادت میں عبادت\nروشن ہو نہ کیوں چشم حسین ابن علی کی\nکرتا ہوں زیارت میں جمال نبوی کی\n\nکرتے علی اکبر تو جھکا فرق کو مجرا\nہر مرتبہ مل جاتا تھا پاؤں سے سر ان کا\nتعظیم کو ہوتے تھے کھڑے سید والا\nکہتے علی اکبر کہ یہ کیا کرتے ہو بابا\nشہ کہتے تھے عادت تھی یہ محبوب خدا کی\nتعظیم وہ کرتے تھے بتول عذرا کی\n\nاے جان پدر ہے مجھے واجب تری توقیر\nتو سر سے قدم تک ہے مرے نانا کی تصویر\nتب جوڑ کے ہاتھوں کو وہ نو بادہ ٔ شبیر\nگردن کو جھکا شرم سے کرتا تھا یہ تقریر\nبس ختم شرافت ہوئی فرزندہ علی پر\nرکھا ہے قدم آپ نے دوش نبوی پر\n\nتب لیتے تھے پیشانی کا بوسہ شہ ذی شان\nکہتے تھے کہ شیریں سختی پر تری قربان\nزینب نے سنے راز و نیاز ان کے یہ جس آن\nچلائی کہ دونوں پہ تصدق ہو مری جان\nدیکھا نہ کوئی باپ اگر ابن علی سا\nبیٹا بھی سنا ہے کوئی ہم شکل نبی سا\n\nسن لو علی اکبر کی زیارت کا قرینہ\nپہلے تو کدورت سے کرو صاف یہ سینہ\nپھر دیدۂ باطن کو کرو دیدۂ بینا\nتا جلوہ نما ہو رخ سلطان مدینہ\nمعلوم ہوا صفحۂ قرآں علی اکبر\nتحقیق ہوا کعبۂ ایماں علی اکبر\n\nقرآن کی تشبیہ یہ اس دل نے بتائی\nپیشانیٔ انور ہے کہ ہے لوح طلائی\nابرو سے ہے بسم اللہ قرآں نظر آئی\nجدول کشش زلف کی قاروں نے دکھائی\nوہ زلف وہ بینی الف و لام رقم ہے\nپر میم دہن مل کے یہ اک شکل الم ہے\n\nاور کعبۂ دلہا کی یہ تمثیل ہے اظہر\nیہ خال سیہ ہے حجر الاسود زیور\nمحراب حرم پیش نظر ابروے اکبر\nیہ چاہ ذقن ہے چہ زمزم کے برابر\nاس بینئ اقدس کا مجھے دھیان گر آیا\nکعبہ میں دھرا نور کا منبر نظر آیا\n\nدیکھو کہ صفا ہے رخ اکبر سے نمایاں\nیاں سعی میں ہردم ہے دل زینب نالاں\nکعبہ جو سیہ پوش ہے اے صاحب عرفاں\nیاں بھی رخ انور پہ ہیں گیسوے ٔ پریشاں\nاس زلف میں پابند دل شاہ امم ہے\nزنجیر میں کعبے کی یہ قندیل حرم ہے\n\nکیا قدر کوئی پائے مبارک کی سنادے\nیہ رکن ہیں کعبہ کے اگر فہم خدادے\nانصاف کرو تم کو خدا اس کی جزا دے\nاس رکن کو یوں امت بے دین گرادے\nحج تم نے کیا کعبے کا جب چشم ادھر ہے\nمعنی حج اکبر کے یہی ہیں جو نظر ہے\n\nسب آتے ہیں کعبے نے یہ ہے مرتبہ پایا\nیہ قبلۂ ایمان ہدایت کا جو آیا\nآہوے حرم جان کے مجروح بنایا\nاور خون کا دریا تھا ہر اک سمت بہایا\nقربانی ہو کعبے میں یہ فرمان خدا ہے\nیہ کعبہ تو امت ہی یہ قربان ہوا ہے\n\nحسن علی اکبر تو سنایا نہیں جاتا\nکچھ دل ہی مزا چشم تصور میں ہے پاتا\nاس قد کا اگر باغ میں مذکور ہے آتا\nتب سرو انگشت شہادت کو اٹھاتا\nپیشانی تو آئینہ لب ریز صفا ہے\nابرو ہے کہ خود قبلہ ہے اور قبلہ نما ہے\n\nمانند دعاے سحری قد رسا ہے\nماتھا ہے کہ دیباچہ انوار خدا ہے\nدو زلف نے اک چاند سا منہ گھیر لیا ہے\nوصل شب قدر و شب معراج ہوا ہے\nدو زلفیں ہیں رخسار دل افروز بھی دو ہیں\nہاں شام بھی دو ہیں بہ خدا روز بھی دو ہیں\n\nہے چشم سیہ بس کہ تہہ ابروے خم دار\nسو پنچۂ مژگاں کو اٹھائے تن بیمار\nمحراب کے نیچے یہ دعا کرتے ہیں ہربار\nاس چشم جہاں بیں کو نہ پہنچے کوئی آزار\nگیسو نہیں یہ سنبل فردوس نشاں ہیں\nیہ چشم نہیں نرگس شہلائے جہاں ہیں\n\nہونٹوں سے کبو دی جو عطش کی ہے نمودار\nہوتا ہے دھواں آتش یاقوت سے اظہار\nغصے سے جو ابرو میں شکن پڑتی ہے ہربار\nہالہ اسے سمجھے ہیں سرو ہی کا وہ کفار\nابرو جو ہر اک موے مبارک سے بھرا ہے\nاعجاز سے شمشیر میں نیزوں کو دھرا ہے\n\nاس ابروو بینی میں یہ پائی گئی صورت\nجس طرح مہ عید پہ انگشت شہادت\nشمع حرم حق نے کیا سایۂ وحدت\nگوہر یہ نیا لایا ہے غواص طبیعت\nمطبوع ہر اک شکل سے پایا جو رقم کو\nیاں رکھ دیا نقاش دو عالم نے قلم کو\n\nخط جلوہ نما عارض گلگوں پہ ہوا ہے\nمصحف کو کسی نے ورق گل پہ لکھا ہے\nیہ چشم یہ قد حسن میں اعجاز نما ہے\nہاں اہل نظر سرو میں بادام لگا ہے\nتیروں سے سوا ترکش مژگاں کا اثر ہے\nدشمن کے لیے ریزۂ الماس جگر ہے\n\nکانوں کا تہ زلف مسلسل ہے اشارہ\nدو پھول ہیں سنبل میں نہاں وقت نظارا\nکس کو صفت حسن بنا گوش کا یارا\nخورشید سے دیکھو تو ٹپکتا ہے ستارا\nچہرہ غرق آلودہ دم صف شکنی ہے\nخورشید پہ ہر قطرۂ سنبل یمنی ہے\n\nبرگشتہ مژہ اس کی یہ کرتی ہے اشارے\nبرگشتگیٔ عمر کے سامان ہیں سارے\nمژگاں کے یہ نیزے جو خمیدہ ہوئے بارے\nدھڑکا ہے کہ نیزہ کوئی اکبر کو نہ مارے\nیک چشم زدن میں جو فلک اس سے پھرے گا\nاس چشم کے مانند یہ نیزوں سے گھرے گا\n\nلب ہیں کہ ہے دریائے لطافت بہ سراوج\nاس اوج میں پیدا یم قدرت کی ہوئی موج\nہیں فرد نزاکت میں مگر دیکھنے میں زوج\nدو ہونٹ ہیں اور پیاس کی ہے چاروں طرف فوج\nبند آنکھیں ہیں لب خشک ہیں اور عالم غش ہے\nاور منہ میں زباں ماہی دریاے عطش ہے\n\nکس منہ سے کرے اب کوئی مدح درد نداں\nکچھ قدر نہیں در عدن کی جہاں چنداں\nتارے سے چمکنے لگے جس دم ہوئے خنداں\nمضمون یہ ہے قابل دشوار پسنداں\nیہ قاعدہ کلی ہے نہ ہو مدح بشر سے\nکلی کوئی جب تک نہ کرے آب گہر سے\n\nگردن ہے کہ فوارۂ نور ازلی ہے\nیہ دوش تو ہم دوش بدوش نبوی ہے\nسینہ ہے کہ آئینہ وضع احدی ہے\nدل صاف نظر آتا ہے آئینہ یہی ہے\nان ساعدو ساقین کے رتبے کہو کیا ہیں\nیہ چار مگر ماہی دریاے صفا ہیں\n\nپشتینوں سے یہ پشت ہے ہم پشت پیمبر\nلیکن شہ مظلوم چڑھے پشت نبی پر\nیہ پشت پہ شبیر کی بیٹھا ہے مکرر\nلے فرق سے تانا خن پا نور سراسر\nکیا فرق ہے موسیٰ میں اور اس ماہ لقا میں\nواں ہاتھ میں اور یاں ید بیضا کف پا میں\n\nاور تن پہ سلاح خربی خوبی سجا ہے\nیہ خود نہیں سایہ افضال خدا ہے\nنیزہ نہیں شبیر کا یہ دست دعا ہے\nیا بانوۓ مغموم کی فریاد رسا ہے\nچار آئینے میں چار طرف عکس پڑے ہیں\nیا بہر مد دپنچ تن پاک کھڑے ہیں\n\nشبیر تو اس کے تن عارض پہ فدا ہے\nزینب کا تو پوچھو نہ جو کچھ حال ہوا ہے\nعابد کو قلق اس کی جدائی کا بڑا ہے\nبانو کا تو سر خاک یہ اس غم سے جھکا ہے\nیہ چار نہیں پھول جو تزئین سپر ہیں\nبالائے سپر چاروں کے یہ داغ جگر ہیں\n\nیہ تیغ کلید در اقبال و ظفر ہے\nہر سمت کو وا جس کے لیے زخم کا در ہے\nحلقہ یہ زرہ کا نہیں تن رشک قمر ہے\nسو تن سے ملا دیدۂ ارباب نظر ہے\nگھوڑا تو ہے خاکی پہ خمیر آب بقا ہے\nگرمی میں جو آتش ہے تو سرعت میں ہوا ہے\n\nمیں چشم تصور میں لگا کھینچنے تصویر\nبس ذہن میں سرعت سے نہ ٹھہرا کسی تدبیر\nجب بندش مضمون میں باندھا دم تحریر\nدی کلک نے آواز پری کو کیا تسخیر\nڈھیلی جو ہوئی باگ تصور کی ادھر سے\nجوں عمر رواں ہوگیا معدوم نظر سے\n\nاس گھوڑے کی سرعت کہو کیوں کر کروں مرقوم\nجوں حرف غلط حرف ہوئے جاتے ہیں معدوم\nکونین میں یہ تیز روی کے جو ہیں مفہوم\nیاں ہوتا ہے معلوم نہ واں ہوتا ہے معلوم\nمرقوم ثنا صفحۂ کاغذ پہ جہاں ہو\nہر حرف وہیں مورچے کی طرح رواں ہو\n\nکیوں مومنو تصویر پیمبر نظر آئی\nلیکن تمہیں کس وقت میں صورت یہ دکھائی\nجب باپ میں اور بیٹے میں ہوتی ہے جدائی\nبس خوش ہیں کہ ہم نے بھی رضا جنگ کی پائی\nخود قید مصیبت سے تو آزاد ہوئے ہیں\nماں باپ یہاں مفت میں برباد ہوئے ہیں\n\nاٹھارہواں سال ہوگیا ایسا اسے بھاری\nیہ تیغ نظر کس کی اسے لگ گئی کاری\nماں باپ کی برباد ہوئیں حسرتیں ساری\nیوں سامنے سے چاند سی تصویر سدھاری\nحسرت کا مرادوں کا یہ ارمان کا دن تھا\nاٹھارہ برس پال کے یہ موت کا سن تھا\n\nماں ہتی کہتی بیٹا مجھے پسا اپنے بلاؤ\nشہ کہتے تھے اس سینے کی آتش کو بجھاؤ\nسجاد یہ چلاتے تھے بستر سے اٹھاؤ\nکہتی تھی سکینہ مجھے ٹوپی تو پنہاؤ\nزینب یہی کہتی تھی کہ اے صاحبو کیا ہے\nاٹھارہ برس والا بھی مرنے کو چلا ہے\n\nاکبر کا یہ عالم ہے کہ بس روبہ قضا ہیں\nاک منتظر آمد شاہ شہدا ہیں\nکہنے سے جو چھٹتے ہیں تو مشغول بکا ہیں\nجس روز سے پیدا ہوئے وہ نور خدا ہیں\nاس روز سے ماں باپ کی چھاتی کے تلے ہیں\nاور آج نکلتے ہیں تو مرنے کو چلے ہیں\n\nبیٹا تو ادھر واسطے مرنے کے سدھارا\nیاں شاہ نے سر چوب در خیمہ سے مارا\nبانو نے ادھر ہائے پسر جب کہ پکارا\nگھونسا سا لگا آ کے کلیجے میں دوبارا\nکہتے ہیں کہ ہیں سامنے جاتے علی اکبر\nلیکن نہیں ہم کو نظر آتے علی اکبر\n\nہیں خاک پہ بیٹھے ہوئے اور فرق جھکا ہے\nفرماتے ہیں یہ مسند شاہ شہدا ہے\nگہ سر کو اٹھاکر یہی مضمون دعا ہے\nلے آج یہ بیٹا بھی تری نذر کیا ہے\nراضی ہوں میں تو داغ پسر دیجیو مجھ کو\nپر شرط یہ ہے صبر عطا کیجیو مجھ کو\n\nادنی ٰترا بندہ ہوں سو طاقت مری کیا ہے\nاس داغ کا دل ہو متحمل تو مزا ہے\nمیرا بھی تو اب کوچ کا سامان لگا ہے\nدوچار گھڑی کا یہ پس و پیش ذرا ہے\nبانو پہ عجب طرح کی آفت یہ پڑی ہے\nیارب تری لونڈی کی مجھے فکر بڑی ہے\n\nآئی تھی یہاں چھوڑ کے شاہی کو وہ دل گیر\nسو تونے دیا تھا شرف بستر شبیر\nآزاد کیا لونڈیوں کو دے دے کے جاگیر\nبیٹا جو ملا تھا سو محمد کی تھی تصویر\nہاں ایک یہ دولت اسے امداد ہوئی ہے\nسو ہاتھ سے امت کے وہ برباد ہوئی ہے\n\nہے بازو کو تھامے ہوئے کنبہ مرا سارا\nکہتی ہے کہ لوگو کہو آیا مرا پیارا\nنیزہ تو ابھی اس کو کسی نے نہیں مارا\nجیتا ہے تو پھر کیوں مجھے اب تک نہ پکارا\nاب موت کے پھندے میں مرا ماہ جبیں ہے\nبے میرے تو اک آن اسے چین نہیں ہے\n\nہنستے ہوئے آتے تھے جو رخصت کے ارادے\nکہتے تھے کہ اماں تمہیں اب صبر خدا دے\nمیں نے کہا آہستہ سے سر اپنا لگادے\nواری گئی اللہ تری پیاس بجھادے\nرخصت کا سخن دیکھ نکلتے ہوئے لب سے\nکی تھی ابھی کیا کیا مجھے تسلیم ادب سے\n\nاے صاحبو اب خاک پہ بانو کو بٹھادو\nکالی کفنی ہو تو مجھے لا کے پنہا دو\nاس کوکھ پہ اب خاک کا پھایا بھی لگادو\nجس راہ گیا ہو وہ مجھے راہ بتا دو\nاس دھوپ میں راہی وہ مرا لال ہوا ہے\nاب پیاس سے کیا جانیے کیا حال ہوا ہے\n\nزینب نے کہا ہائے کہاں جاؤگی بھابھی\nروکے در خیمہ کو کھڑے ہیں شہ عالی\nاصغر ترا مرتا ہے اٹھالے اسے بی بی\nبانو نے کہا آہ خبر ہے مجھے کس کی\nاصغر سے تو امید نہیں چند نفس کی\nلٹتی ہے کمائی مری اٹھارہ برس کی\n\nہے یاس کا یہ ساماں سنو دشت کا ساماں\nواں جاتے ہیں خوش خوش علی اکبر سوئے میداں\nسب عرش الہی کی سی شوکت ہے وہی شاں\nآتا ہے بڑی دھوم سے جیسے کوئی سلطاں\nکہتا ہے نقیب اجل انصاف کی جاہے\nدیکھو کہ جواں مرنے کو کیا شیر چلا ہے\n\nاک سمت رکاب اس کی ہے تھامے ہوئے حشمت\nاور اک طرف باگ کو پکڑے ہوئے نصرت\nشاطر کی طرح آگے قدم مارتی دولت\nاقبال و ظفر چتر لگائے پئے خدمت\nاک نور سے ہر چار طرف دشت بھرا ہے\nاور حسن نے خود غاشیا کاندھے پہ دھراے\n\nنہ لاکھ میں یہ رعب کی آمد ہے نہ سو میں\nدل تھامے ہوئے احمد مختار جلو میں\nروح اسداللہ چلی آتی ہے رو میں\nاور فاطمہ رہوار کے پیچھے تگ ودو میں\nلپٹی ہوئی بس گر دسواری سے اسی کی\nآتی ہے چلی جان حسین ابن علی کی\n\nواں فوج میں حیرت سے ہر اک شخص ہے تکتا\nہر دار کو سکتہ ہے کہ بس ہل نہیں سکتا\nکہتا ہے کہ دیکھو تو ہے کیا نور چمکتا\nہر عضو سے ہے حسن خدا داد ٹپکتا\nکیا نور ہے کیا دبدبہ کیا جلوہ گری ہے\nخورشید بھی یاں مثل چراغ سحری ہے\n\nہم قیصر روم اس کو جو سمجھیں تو بجا ہے\nفغفور کہیں چین کا تو اس سے سوا ہے\nخاقان حتن گر کہیں اس کو تو خطا ہے\nجن کہیے تو جن میں یہ کہاں حسن و ضیا ہے\nواللہ خوشا باپ کہ یہ جس کا خلف ہے\nپیدا ہے شرافت سے کہ یہ در نجف ہے\n\nنذریں دو اسے چل کے اور اس فوج میں لاؤ\nمحکوم ہو تم سب اسے سردار بناؤ\nیہ چتر مرصع سر اقدس پہ لگاؤ\nشبیر کو بلوا کے یہ صورت تو دکھاؤ\nکرتے ہیں بہت فخر گھرانے پہ نبی کے\nبس یاں یہ مقابل ہے حسین ابن علی کے\n\nبہتر ہے جو بلوا کے کہو کیوں شہ تنہا\nتھا حسن کا اکبر کے نہایت تمہیں دعوا\nاب لا کے کھڑا دونوں کو کردیجئے یک جا\nدنیا میں پڑے بندۂ اللہ ہیں کیا کیا\nگو حسن کا اکبر کے بھی عنوان یہی ہے\nکیوں اے شہ ذی شان کہو شان یہی ہے\n\nتشویش میں تھی فوج کہ اس میں علی اکبر\nکرنے لگے میداں میں رجز خوانیاں بڑھ کر\nہوں یوسف گل پیرہن سبط پیمبر\nجویائے خزان چمن حسرت مادر\nننھیال سے ددھیال سے یہ حسب و نسب ہے\nاک شاہ عجم ایک شہنشاہ عرب ہے\n\nسلطان کفن پوش ہوں در حق کا سناسا\nناشاد ہوں نکلا نہیں در مان ذرا سا\nپوتا شہ مرداں کا ہوں کسرا کا نواسا\nمظلوم کا مظلوم ہوں اور پیاسے کا پیاسا\nتصویر مری جلد مٹاؤ کوئی آ کر\nبرچھی مرے سینے پہ لگاؤ کوئی آکر\n\nیہ سنتے ہی لشکر میں تلاطم ہوا اک بار\nسوچے کہ یہی ہے پسر حیدر کرار\nترغیب میں تو تھا عمر سعد بد اطوار\nپر مستعد قتل ہوا ایک نہ زنہار\nکہتے تھے اگر لاشے پہ لاشے ہی پڑیں گے\nاس جان جہاں سے نہ لڑیں گے نہ لڑیں گے\n\nلیکن یہاں اکبر کےہے دل میں یہی بس دھیان\nاس قوم کے ہاتھوں سے ہوئے قتل چچا جان\nواللہ کہ ہیں گبر سے بدتر یہ مسلمان\nانسان جو ہوتے تو ہمیں جانتے انسان\nہے دل میں جو ارمان بھر اصف شکنی کا\nلے نام علی قصد کرو تیغ زنی کا\n\nبس دوش سے چلا وہ کماں کا جو اتارا\nچلے کو بنا گوش تلک کھینچا قضا را\nتھا عارض و پیکان و کماں کا یہ اشارا\nخورشید ہے اور قوس ہے اور اس میں ستارا\nاور اس کا یہ سرعت سے چلا وار کے اوپر\nپیکان تھا ایک ایک کے رہوار کے اوپر\n\nاکبر نے کہا ہے مرا مشہور گھرانا\nدستور نہیں پہلے کوئی وار لگانا\nواجب ہوا تم پر مجھے تلوار چلانا\nکیوں ظالمو یوں آل محمد کو مٹانا\nتم سب کو کروں قتل مرے سامنے کیا ہو\nپانی مجھے مل جائے تو لڑنے کا مزا ہو\n\nزخمی ہوئی سب فوج تو غصہ انہیں آیا\nجھنجھلا کے لعنیوں نے نشانوں کو بڑھایا\nجلوہ علموں نے بہ سر فوج دکھایا\nیاں رانوں میں شہزادے نے گھوڑے کو دبایا\nہستی کو جلاتا تھا فقط نور کا شعلہ\nتھا جلوہ نماچار طرف طور کا شعلہ\n\nابر سیہ ٔفوج کا ایسا ہوا طغیاں\nجو چاند حسین ابن علی کا ہوا پنہاں\nمیداں میں اٹھا تھا غبار سم اسپاں\nتاریک ہوا دیدۂ خورشید درخشاں\nجاتی تھی چلی جان عدو چھوڑ کے تن کو\nاکبر نے سیا سوزن مژگاں سے کفن کو\n\nنیزے سے کہیں زخم لگاتا کہیں شمشیر\nبینی کہیں ابرو کی کہیں چشم کی تصویر\nتھا بسکہ تماشائی وہ نوبادہ ٔشبیر\nخورشید کی عینک کو دھرے تھا فلک پیر\nچار آئینہ یوں توڑ کے نیزہ وہ ادھر جائے\nجس طرح کہ عینک سے نگہ صاف گزر جائے\n\nتھا آب دم تیغ سے طوفان کا اسباب\nتھی موج فنا سر سے گزرتا تھا پڑا آب\nدریا تھا وہ لشکر تو ہر اک حقلہ تھا گرداب\nاعضاے بریدہ صفت ماہی بے آب\nآب دم خنجر پہ علم داروں کے دم تھے\nجب تیغ علم کی تو علم صاف قلم تھے\n\nیوں میان کے درمیان سے باہر ہوئی تلوار\nجوں پھوٹ کے باہر نکل آئے بدن خار\nاک قطرۂ آب اس کو جو کہئے ہے سزاوا\nآتش مگر اس آب سے ہوتی تھی نمودار\nتھا سرووہ نیزہ پہ ہوا دار بدوں کو\nوہ سرو گراتا تھا مگر سروقدوں کو\n\nشمشیر جو تھی رنگ میں الماس کی تمثال\nمرجان کی تھی شاخ کہ بس خوں سے ہوئی لال\nتیروں کے لعینوں کے تواتر پہ چلے بھال\nمانند زرہ تھیں سپریں ہاتھوں میں غربال\nتھی چشم زرہ پوش شجاعت کے جوبل میں\nاک دم میں گرفتار ہوئے دام اجل میں\n\nتھے کاسۂ سر دشمنوں کے ٹھوکریں کھاتے\nوہ تخم شتر مرغ کی صورت نظر آتے\nتیروں کے عقاب اپنی یہ صورت ہیں دکھاتے\nطعمہ جگر لشکر اعدا کا بناتے\nمجروح بس اک تیر میں سو سو کا جگر ہو\nجس طرح کہ سودانوں میں رشتے کا گذر ہو\n\nاک آن میں لشکر متفرق ہوا سارا\nاک جا پہ ٹھہر کر ہوا اجماع دوبارا\nنعرہ پسر سعد نے سرداروں کو مارا\nاکبر سے کرو مکر کوئی جلد خدارا\nزور اس میں ہیں تین اور اکیلا یہ جری ہے\nحیدر ہے پیمبر ہے حسین ابن علی ہے\n\nدو شخص تھے لشکر میں عراقین کے مشہور\nتھا ابن علی اک تو اک صالح مغرور\nاستاد عرب تھے فن نیزہ میں وہ مقہور\nکچھ مشورہ کر کرکے وہ لشکر سے ہوئے دور\nاک روبرو اکبر کی زدوکشت پر آیا\nنیزے کو ہلاتا ہوا اک پشت پر آیا\n\nدونوں سے غرض چلنے لگے نیزہ خوں خوار\nگہہ اس کا گہے اس کا کھڑے روکتے تھے وار\nاک برق الٹتی تھی پلٹتی تھی ہر اک بار\nگھوڑا تھا دیا کل کا بنایا ہوا رہوار\nنیزہ وہ نہ تھا شعلۂ جوالہ ہوا تھا\nگرد مہ رخسار عجب بالہ ہوا تھا\n\nکہتے تھے ملک جرأت اکبر یہ فدا ہیں\nگویا احد وبدر میں محبوب خدا ہیں\nجن کہتے تھے خود آج علی گرم وغا ہیں\nدو دو سے تو لڑتے ہیں مگر ہوش بجاہیں\nحوریں یہی کہتی تھیں کہ زہرا جو رضا دیں\nکوثر کا بھرا جام ابھی لا کے پلا دیں\n\nحوروں سے یہ فرماتی تھیں خاتون قیامت\nاک آدھ گھڑی اور ہے یہ پیاس کی شدت\nکیا ہووے گی اس مادر غم دیدہ کی حالت\nاس لال کے لینے کو گئے شاہ ولایت\nاک دم میں کلیجہ یہ سناں کھاتا ہے اکبر\nحورو لب کوثر پر چلا آتا ہے اکبر\n\nیاں وار کیا پشت پہ صالح نے قضارا\nاکبر نے پلٹ کر وہیں نیزہ اسے مارا\nاتنے ہی پلٹنے نے غضب کردیا سارا\nبس سر کے بل آیا نہ رہا سانس کا یارا\nواں شاہ گرے بانو کو غش آگیا گھر میں\nاک نیزے نے سوراخ کئے تین جگر میں\n\nجب توڑ کلیجے کو گیا پشت میں بھالا\nتھرا گئے اکبر تو اٹھا سینے سے نالا\nاللہ ری جرأت وہیں نیزے کو نکالا\nغش آگیا ہر چند بہت دل کو سنبھالا\nجب چھائی اجل اس دل مایوس کے اوپر\nکس یاس سے سر رکھ دیا قربوس کے اوپر\n\nتھیں برچھیاں بھی نیزے بھی تلواریں بھی ہرسو\nعمامہ بھی پرزے ہوا کٹ کٹ گئے گیسو\nکہتے تھے کہ آتی نہیں بابا کی کہیں بو\nکی گھوڑے نے اپنے سے بچانے میں تگ و دو\nوارث تو نہ تھا کوئی بہ جز پنج تن اس کا\nجس طرح سے چاہا کیا ٹکڑے بدن اس کا\n\nشادی سے لگے چار طرف لوگ اچھلنے\nاس شور میں دی کوچ کی آواز دہل نے\nکہتے تھے کہ مت دیجیو زخمی کو نکلنے\nبس باگ پکڑلی وہیں گھوڑے کی اجل نے\nپاتا نہ کہیں راہ نکلنے کو وہاں تھا\nگھوڑا صفت تختہ ٔتابوت رواں تھا\n\nیاں شاہ کو ناگہ دل اکبر نے ندا دی\nکیا بیٹھے ہو واں بجتے ہیں نقارۂ شادی\nنانا کی جو تصویر تھی اعدا نے مٹا دی\nحضرت نے وہیں خاک پہ دستار گرادی\nزینب کو صدا دی کہ بہن مرگئے اکبر\nبھاوج سے خبردار سفر کر گئے اکبر\n\nلکھا ہے کہ نعرہ وہاں شبیر نے مارا\nجس نعرے سے سب دشت بلا ہل گیا سارا\nگھبراتا تھا یوں شیر الٰہی کا وہ پیارا\nبچہ کہیں جوں شیر کا کھوتا ہے قضارا\nجب کرتے تھے غل ہائے علی وائے علی کا\nتھا جھوم رہا عرش جناب احدی کا\n\nکہتے تھے ملک شاہ کو اکبر سے ملادے\nیا تو ہمیں دنیا میں اترنے کی رضا دے\nدنیا کی رضا دے ہمیں اور حکم وغا دے\nان ظالموں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دے\nیعقوب ہے یہ دشت ہے بیت الحزن اس کا\nہاں جلد ملا یوسف گل پیرہن اس کا\n\nخالق کی صدا آئی فرشتوں کو کہ جاؤ\nمردا اسے فرزند کالے جاکے دکھاؤ\nناشاد کو بچھڑے ہوئے بیٹے سے ملاؤ\nشبیر اگر مانے تو دکھ درد بٹاؤ\nہے اس پہ مسلط کیا اس واسطے غم کو\nیہ صبر حسین ابن علی بھاتا ہے ہم کو\n\nیاں متصل فوج جو پہنچے شہ ذی جاہ\nہر ایک سے کہتے تھے بتاؤ مجھے لللہ\nجس خاک پہ تم سب نے گرایا ہے مراماہ\nگم ہوگیا بیٹا مرا روکو نہ مری راہ\nہے حق بہ طرف اب جو مرا حال دگر ہے\nدنیا میں کسی باپ کا اکبر سا پسر ہے\n\nتم سب نے مرا لال ہے کس طرح کا مارا\nسنتا ہوں کہ مجروح کلیجہ کیا سارا\nمجھ باپ کو دیکھو کہ رہا محو نظارا\nدل ہل گیا جب یا ابتا اس نے پکارا\nلو پاس کا انسان دکھائی نہیں دیتا\nاب کچھ مجھے آنکھوں سے سجھائی نہیں دیتا\n\nسب گھر تو مرا صاف کیا تم نے جفا سے\nکیسے مرے دل دار کیے ذبح پیاسے\nجس شخص میں ہوں رحم کے آثار ذرا سے\nوہ ہاتھ مرا تھام لے اب ڈر کے خدا سے\nجس راہ سدھارا وہ مجھے راہ بتادو\nبس دور سے لاشہ علی اکبر کا دکھادو\n\nڈرتے ہو تو آؤ مری شمشیر و سپر لو\nاندیشہ جو ہو دل میں تو قیدی مجھے کرلو\nتم گر دچلو اور مجھے بیچ میں دھرلو\nدو لال مرا مجھ کو مرے جسم سے سرلو\nسید پہ کرو رحم مسلمان سمجھ کر\nکیا ترس بھی آتا نہیں انسان سمجھ کر\n\nناگاہ صدا دور سے یہ کان میں آئی\nکیوں قبلہ حاجات بڑی دیر لگائی\nکس وقت میں حضرت نے مری یاد بھلائی\nاس کی خبر اماں نے بھی پائی کہ نہ پائی\nوہ سامنے میرے ملک الموت کھڑا ہے\nجلد آئیے اب درد کلیجے میں بڑا ہے\n\nسن کر یہ صدا کچھ تو ہوا دل کو سہارا\nچلائے کہ ہے ڈھونڈھ رہا باپ تمہارا\nہم کیا کریں بیٹا نہیں کچھ جرم ہمارا\nآخر ہوا جاکر یہ سر نعش گزارا\nدیکھا کہ ہے بیٹھا ہوا گھوڑا تو زمیں پر\nتن خاک پہ گردن ہے دھری خانۂ زیں پر\n\nچھاتی پہ دھرا ہاتھ ہے اور خوں ہے ابلتا\nتھم تھم کے لہو سانس کے ہم راہ نکلتا\nمنہ زرد ہے جس طرح کہ خورشید ہو ڈھلتا\nماتھے پہ عرق آیا ہے اور دل ہے اچھلتا\nمشتاق پدر دیر سے ہر چند ہیں آنکھیں\nکھلتی ہیں کبھی اور کبھی بند ہیں آنکھیں\n\nبے ساختہ اس دم شہ مظلوم پکارے\nلو جان پدر آئے ہیں ہم پاس تمہارے\nبولا نہ گیا جب کیے ابرو سے اشارے\nرکھ دیجئے نعلین کو سینے پہ ہمارے\nجینے کی نہ دنیا کی نہ کوثر کی ہوس ہے\nاس وقت مجھے زانوے مادر کی ہوس ہے\n\nحضرت نے اسے گود میں پہلے تو سنبھالا\nپھر پھول کے مانند اٹھا گھوڑے پہ ڈالا\nاکبر نے کہا آہ مرا زخم ہے آلا\nشہ نے کہا ہے ناوک دل اور یہ نالا\nاس درد کی شدت میں جو لے جاؤں تو کیوں کر\nجیتا ہو اماں تک تمہیں پہنچاؤں تو کیوں کر\n\nگر درد یہی ہے تو گزر جاؤ گے اکبر\nماں تک بھی نہ پہنچو گے کہ مرجاؤ گے اکبر\nبے کس پدر پیر کو کرجاؤ گے اکبر\nمیں بھی وہیں جاؤں گا جدھر جاؤ گے اکبر\nیہ آخری دیدار اسے دکھلاؤ تو بہتر\nجیتے ہوئے ماں تک جو پہنچ جاؤ تو بہتر\n\nتھے با سرعریاں تو حسین آپ روا نا\nخود باگ کو تھامے ہوئے سلطان زمانا\nکہتے تھے کہ گھوڑے قدم آہستہ بڑھانا\nتو زخم نہ اکبر کے کلیجے کا دکھانا\nفرزند کا بانو کے بدن چور ہے گھوڑے\nیہ مجھ کو دکھانا اسے منظور ہے گھوڑے\n\nگھوڑا تو رواں ہوتا تھا ہر چند کو تھم تھم\nہر گام پہ بس ٹوٹنے لگتا تھا یہاں دم\nدس بیس قدم اس نے اٹھائے نہ تھے پیہم\nیاں ہونے لگا سانس کابس اور ہی عالم\nخیمہ رہا نزدیک تو اتنی ہی تکاں میں\nروح علی اکبر گئی گلزار جناں میں\n\nپانو نے یہاں دیکھ لیا شاہ کا سایا\nچلائی کہ صاحب کہو یوسف مرا آیا\nتم نے اسے کس واسطے گھوڑے پہ لٹایا\nقربوس پہ رخسار ہے کیوں اس نے جھکایا\nوہ دور وہ طاقت وہ توانائی کہاں ہے\nلٹکائے ہوئے ہاتھ مرا شیر جواں ہے\n\nمردہ نظر آیا اسے جب متصل آئے\nمردے ہی سے ملنے کے لیے ہاتھ بڑھائے\nناموس محمد نے عجب شور مچائے\nمل جل کے وہ ہاتھوں پہ اٹھا خیمے میں لائے\nاس شیر کے مردے پہ بھی اک رعب بڑا تھا\nبس خون میں ڈوبا ہوا اک چاند پڑا تھا\n\nبانو نے غرض بیٹھ کے زانو پہ لیا سر\nگیسو کو اٹھا چاند سا مکھڑا کیا باہر\nچلائی کہ دو صاحبو پرسا مجھے آکر\nنوحہ میں پڑھوں تم کہو ہے ہے علی اکبر\nبرباد یہاں بانو کی دولت گئی لوگو\nاٹھارہ برس کی مری محنت گئی لوگو\n\nاکبرکی وہ دانائیاں اب لگتی ہیں جوں تیر\nجب شہ سے رضا جنگ کی لائے تھے بہ تدبیر\nمنظور ہو اماں سے بھی بخشائیے اب شیر\nکرتی تھی زباں شرم سے لکنت دم تقریر\nمیں نے کہا ہم جان کو واریں علی اکبر\nصدقے ہوئیں یہ دودھ کی دھاریں علی اکبر\n\nپھر بانو نے اس زخم سے ہاتھ اپنا اٹھایا\nمنہ اپنا جھکا کر اسے آنکھوں سے لگایا\nبس الفت مادر نے جو اک جوش سا کھایا\nاکبر کا دل اس زخم کے رستے نکل آیا\nسب دیکھتے تھے فرط محبت کے چلن سے\nتادیر وہ لپٹا رہا مادر کے دہن سے\n\nاور آئ صدا پانی نہ ہاتھ آیا ذرا سا\nاماں میں پیاسا رہا پیاسا رہا پیاسا\nاب چھوڑ دو دامن مرا اے حق کی شناسا\nاب مرنے کو جاتا ہے محمد کا نواسا\nلاشے پہ مرے آپ نے وہ بین کیا ہے\nاس روح پر ارمان کو بے چین کیا\n\nیہ سنتے ہی غش ہوگئی بانو جگر افگار\nسب گرد کھڑے ہوگئے گھبرا کے بس اک بار\nفرصت جو ملی اتنی تو بادیدۂ خوںبار\nلاشے کو اٹھا لے گئے باہر شہ ابرار\nباقی علی اصغر کے سوا کوئی نہیں ہے\nاب خنجر بے داد و گلوے شہ دیں ہے\n\nجس سال کہے وصف یہ ہم شکل نبی کے\nسن بارہ سے انچاس تھے ہجری نبوی کے\nآگے تو یہ اندازہ سخن تھے نہ کسی کے\nاب سب یہ مقلد ہوئے اس طرز نوی کے\nدس میں کہوں سو میں کہوں یہ ورد ہے میرا\nجو جو کہے اس طرز میں شاگرد ہے میرا\n\nہاں کلک بس اب آگے نہیں طاقت تحریر\nہو اور زیادہ تری تحریر میں تاثیر\nکہتا ہے ضمیر اب کہ براے شہ دل گیر\nمحبوب علی جان نبی حضرت شبیر\nاس مرثیے کا بس یہ خدا مجھ کو صلا دے\nاکبر کا تصدق مری اولاد جلادے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%86%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کس نے سنایا اور سنایا تو کیا سنا", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس نے سنایا اور سنایا تو کیا سنا\nسنتا ہوں آج تو نے مرا ماجرا سنا\n\nایسے سے دل کا حال کہیں بھی تو کیا کہیں\nجو بے کہے کہے کہ چلو بس سنا سنا\n\nوصل عدو کا حال سنانے سے فائدہ\nاللہ رحم کیجئے بس بس سنا سنا\n\nقاصد ترے سکوت سے دل بے قرار ہے\nکیا اس جفا شعار نے تجھ سے کہا سنا\n\nآخر حسنؔ وہ روٹھ گئے اٹھ کے چل دیے\nکم بخت اور حال دل مبتلا سنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D9%86%D8%A7"} {"title": "کس واسطے دی تھیں ہمیں یارب آنکھیں", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کس واسطے دی تھیں ہمیں یا رب آنکھیں\nواللہ کہ بے دید ہیں بے ڈھب آنکھیں\nدانائی ہے نادان تو بینائی کور\nکب آپ کو دیکھا کہ مندیں جب آنکھیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92_%D8%AF%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کس پہ قابو جو تجھی پہ نہیں قابو اپنا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس پہ قابو جو تجھی پہ نہیں قابو اپنا\nکس سے امید ہمیں جب نہ ہوا تو اپنا\n\nجام مے دیکھ کے جاتا رہا قابو اپنا\nلڑکھڑاتا ہوں پکڑ لے کوئی بازو اپنا\n\nنکہت گل بہت اتراتی ہوئی پھرتی ہے\nوہ کہیں کھول بھی دیں طرۂ گیسو اپنا\n\nاس نے پھر کر بھی نہ دیکھا کہ یہ ہے کون بلا\nہم کو تھا زعم کہ چل جائے گا جادو اپنا\n\nجس کو سمجھے ہو وہی چیز نہیں مدت سے\nہم دکھا دیں گے کبھی چیر کے پہلو اپنا\n\nپر پرواز نکلنے دے قفس میں صیاد\nکام دے گا یہی ٹوٹا ہوا بازو اپنا\n\nمل گئے خاک میں در پر ترے اتنا بیٹھے\nاس ریاضت پہ بھی اب تک نہ ہوا تو اپنا\n\nغم نہیں جام طلاکار اٹھا رکھ ساقی\nکیا غرض ہم کو سلامت رہے چلو اپنا\n\nچوکڑی بھول کے منہ تکتے ہیں مجھ وحشی کے\nآکے اس پاؤں پہ سر رکھتے ہیں آہو اپنا\n\nکون اے طول شب غم ترا جھگڑا رکھے\nآج قصہ ہی کیے دیتے ہیں یکسو اپنا\n\nنکہت خلد بریں پھیل گئی کوسوں تک\nوہ نہا کر جو سکھانے لگے گیسو اپنا\n\nللہ الحمد کدورت نہیں رہنے پاتی\nمنہ دھلا دیتا ہے ہر صبح کو آنسو اپنا\n\nشادی و غم کے رہیں گے یہی رگڑے جھگڑے\nقصہ جس وقت تلک ہوگا نہ یکسو اپنا\n\nغم میں پروانۂ مرحوم کے تھمتے نہیں اشک\nشمع اے شمع ذرا دیکھ تو منہ تو اپنا\n\nبے ادب مصحف رخسار پہ جھک پڑتے ہیں\nرکھئے شانوں پہ ذرا گھیر کے گیسو اپنا\n\nسینۂ تنگ سے گھبرا کے گیا دل تو گیا\nمنہ دکھائے نہ مجھے اب یہ سیہ رو اپنا\n\nپھنسنے والا تھا پھنسا آ کے تری زلفوں میں دل\nبہ خدا اس میں نہیں جرم سر مو اپنا\n\nشام سے جیب میں اک تلخ دوا رکھی ہے\nآج قصہ ہی کیے دیتے ہیں یکسو اپنا\n\nوہم و ادراک و خیالات و دل و خواہش دل\nسب تو اپنے ہیں مگر کیوں نہیں قابو اپنا\n\nشادؔ سمجھاتے ہیں کیوں غیر لیا کیا ان کا\nچشم تر اپنی ہے جان اپنی ہے آنسو اپنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%D9%BE%DB%81_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "کس کو بہلاتے ہو شیشہ کا گلو ٹوٹ گیا", "poet_page": "مصنف:مرزا علی لطف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس کو بہلاتے ہو شیشہ کا گلو ٹوٹ گیا\nخم مرے منہ سے لگا دے جو سبو ٹوٹ گیا\n\nکیجو اس زلف کو مشاط سمجھ کر شانہ\nلاکھ دل ٹوٹے اگر ایک وہ مو ٹوٹ گیا\n\nکچھ خبر ہے تجھے کہتے ہیں ترے زخمی کا\nآج پھر چاک کا سینے کے رفو ٹوٹ گیا\n\nفلک اس دل شکنی کا تو مزا دیکھے گا\nکوئی دل گر کبھی اے عربدہ جو ٹوٹ گیا\n\nتھی مریدوں کے لیے قلب کے صدمے کی دلیل\nشیخ کا رقص میں سم پر جو وضو ٹوٹ گیا\n\nدھیان اس شیشے کا رکھنا کہ نہ ہوگا پیوند\nدل مری جان اگر یک سر مو ٹوٹ گیا\n\nاس خود آرا کے رہا ہاتھ میں نت آئینہ\nغم سے آئینہ دل ہائے نہ تو ٹوٹ گیا\n\nمحتسب نے تو خرابات میں کی خوں ریزی\nپر سر رند پہ شب مے کا کدو ٹوٹ گیا\n\nدیکھنا تار محبت کہ ہے مشکل پھر سانٹھ\nرشتۂ دوستی اے لطفؔ کبھو ٹوٹ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%81%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%D9%84%D9%88_%D9%B9%D9%88%D9%B9_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے\nدل دھڑکتا ہے ماجرا کیا ہے\n\nاک محبت تھی مٹ چکی یا رب\nتیری دنیا میں اب دھرا کیا ہے\n\nدل میں لیتا ہے چٹکیاں کوئی\nہائے اس درد کی دوا کیا ہے\n\nحوریں نیکوں میں بٹ چکی ہوں گی\nباغ رضواں میں اب رکھا کیا ہے\n\nاس کے عہد شباب میں جینا\nجینے والو تمہیں ہوا کیا ہے\n\nاب دوا کیسی ہے دعا کا وقت\nتیرے بیمار میں رہا کیا ہے\n\nیاد آتا ہے لکھنؤ اخترؔ\nخلد ہو آئیں تو برا کیا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں\nمے کدے ہاتھ بڑھاتے ہیں جدھر جاتے ہیں\n\nدل میں ارمان وصال آنکھ میں طوفان جمال\nہوش باقی نہیں جانے کا مگر جاتے ہیں\n\nبھولتی ہی نہیں دل کو تری مستانہ نگاہ\nساتھ جاتا ہے یہ مے خانہ جدھر جاتے ہیں\n\nپاسبانان حیا کیا ہوئے اے دولت حسن\nہم چرا کر تری دزدیدہ نظر جاتے ہیں\n\nپرسش دل تو کجا یہ بھی نہ پوچھا اس نے\nہم مسافر کدھر آئے تھے کدھر جاتے ہیں\n\nچشم حیراں میں سمائے ہیں یہ کس کے جلوے\nطور ہر گام پہ رقصاں ہیں جدھر جاتے ہیں\n\nجس طرح بھولے مسافر کوئی ساماں اپنا\nہم یہاں بھول کے دل اور نظر جاتے ہیں\n\nکتنے بے درد ہیں اس شہر کے رہنے والے\nراہ میں چھین کے دل کہتے ہیں گھر جاتے ہیں\n\nاگلے وقتوں میں لٹا کرتے تھے رہرو اکثر\nہم تو اس عہد میں بھی لٹ کے مگر جاتے ہیں\n\nفیض آباد سے پہنچا ہمیں یہ فیض اخترؔ\nکہ جگر پر لیے ہم داغ جگر جاتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%DB%81_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کس کی آواز کان میں آئی", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس کی آواز کان میں آئی\nدور کی بات دھیان میں آئی\n\nایسی آزاد روح اس تن میں\nکیوں پرانے مکان میں آئی\n\nآپ آتے رہے بلاتے رہے\nآنے والی اک آن میں آئی\n\nہائے کیا کیا نگاہ بھٹکی ہے\nجب کبھی امتحان میں آئی\n\nیہ کنارہ چلا کہ ناؤ چلی\nکہیے کیا بات دھیان میں آئی\n\nعلم کیا علم کی حقیقت کیا\nجیسی جس کے گمان میں آئی\n\nکون جانے ندائے حق کیا ہے\nکس خدا کی زبان میں آئی\n\nایسی پائے خطا کہ اف نہ کرے\nڈھیل جس کی زبان میں آئی\n\nحسن کیا خواب سے ہوا بیدار\nجان تازہ جہان میں آئی\n\nآپ کی یہ اکڑ ارے توبہ\nکب کسی نوجوان میں آئی\n\nجان لیوا ہے یہ چڑھی تیوری\nیہ کشش کس کمان میں آئی\n\nبات ادھوری مگر اثر دونا\nاچھی لکنت زبان میں آئی\n\nآنکھ نیچی ہوئی ارے یہ کیا\nکیوں غرض درمیان میں آئی\n\nمیں پیمبر نہیں یگانہؔ سہی\nاس سے کیا کسر شان میں آئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کس کی بد گمانی پر", "poet_page": "مصنف:م حسن لطیفی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "حسن کو بد گمان رہنے دے\nراز دل راز دان رہنے دے\nنگۂ نیم کش کی عمر دراز\nنوبت اک درمیان رہنے دے\nحسرت عنفوان راز و نیاز\nروح پر حکمران رہنے دے\nعشق کی کائنات ہے حرماں\nآرزو کا زیان رہنے دے\nنقش نا کندہ کے تصور کا\nیہ مٹا سا نشان رہنے دے\nقسمت عشق تو ہے قسمت عشق\nبارے منت کی شان رہنے دے\nنا سزا واریوں کا کیا کہنا\nبس انہیں مہربان رہنے دے\nہاں مجھے خود ہے اعتراف شکست\nاب مرا امتحان رہنے دے\nوعدۂ شوق تھا فریب آمیز\nبس اسے رائیگان رہنے دے\nدوست کس کس کا تھا دل بے دوست\nیہ زبوں داستان رہنے دے\nہدئیے کیا کیا دئے تھے کس کس کو\nشرح یہ قصہ خوان رہنے دے\nمیرے تحت الشعور کی دنیا\nتہہ نشیں اور نہان رہنے دے\nرہی کن گل رخوں سے شیفتگی\nاب یہ شیوہ بیان رہنے دے\nبھول پھولوں کی پیار شاہیں کا\nسوانگ یہ گل فشان رہنے دے\nہے جہاں گرد اور حجاز پرست\nلاابالی جوان رہنے دے\nغایت عاشقی ہوس کاری\nہے بجا میری جان رہنے دے\nشوق تھا شوق تا غبار گماں\nمٹ چکا وہ جہان رہنے دے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%AF_%DA%AF%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "کس کی رکھتی ہیں یہ مجال انکھیاں", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس کی رکھتی ہیں یہ مجال انکھیاں\nکہ دیکھیں مکھ ترا سنبھال انکھیاں\n\nسرمہ سیتی بنا سیاہ برن\nآج دل کوں ہوئی ہیں کال انکھیاں\n\nرقص انجھواں کا بے اصول نہیں\nکف مژگاں سوں دے ہیں تال انکھیاں\n\nجب اٹھاتی ہیں گریہ سیں طوفاں\nکف دریا کریں رومال انکھیاں\n\nصید کرنے کوں دل کے مژگاں سوں\nروپتے ہیں بنا کے جال انکھیاں\n\nدل کوں اک تل نہیں مرے آرام\nلگی ہیں جب سوں تیرے نال انکھیاں\n\nدل کی خونیں اگر نہیں تو کیوں\nاس قدر ہیں تمہاری لال انکھیاں\n\nتیر مژگاں کمان ابرو سیں\nمارتی ہیں جگر میں بھال انکھیاں\n\nآبروؔ جب کبھی نگاہ کریں\nتب لے جاں تن سیں جی نکال انکھیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%AC%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "کس کی چشم مست یاد آتی رہی", "poet_page": "مصنف:خوشی محمد ناظر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس کی چشم مست یاد آتی رہی\nنیند آنکھوں سے مری جاتی رہی\n\nدل تو شوق دید میں تڑپا کیا\nآنکھ ہی کم بخت شرماتی رہی\n\nزندگی سے ہم رہے نا آشنا\nسانس گو آتی رہی جاتی رہی\n\nعمر بھر ناظرؔ رہے صحرا نورد\nبزم گلشن گرچہ یاد آتی رہی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%8C"} {"title": "کس کے لیے کیجئے جامۂ دیبا طلب", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس کے لیے کیجئے جامۂ دیبا طلب\nدل تو کرے ہے مدام دامن صحرا طلب\n\nکام روا ہوں بھلا اس سے ہم اب کس طرح\nاس کو تمنا نہیں ہم ہیں تمنا طلب\n\nکس سے کہیں کیا کریں ہے یہ تماشا کی بات\nوہ تو ہے پردہ نشیں ہم ہیں تماشا طلب\n\nکہئے تو کس کس کے اب غور کرے وہ طبیب\nجس کے طلب گار ہوں لاکھ مداوا طلب\n\nایک تمنا ہو تو یار سے کہئے نظیرؔ\nدل ہے پر از آرزو کیجئے کیا کیا طلب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%85%DB%82_%D8%AF%DB%8C%D8%A8%D8%A7_%D8%B7%D9%84%D8%A8"} {"title": "کس کے کھوئے ہوئے اوسان چلے آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس کے کھوئے ہوئے اوسان چلے آتے ہیں\nوہ جو یوں بے سر و سامان چلے آتے ہیں\n\nغیر کے ملنے کی تاکید ہے ہر خط میں مجھے\nکس قیامت کے یہ فرمان چلے آتے ہیں\n\nتم جو نازک ہو تو کیا آ نہیں سکتے دل میں\nآنکھ کی راہ بھی انسان چلے آتے ہیں\n\nگھر سے باہر نکل آیا نہ ہو وہ پردہ نشیں\nلوگ کیوں چاک گریبان چلے آتے ہیں\n\nرشک دشمن کبھی دل میں ہے خیال غم دوست\nآج مہمان پہ مہمان چلے آتے ہیں\n\nآپ غربت میں نہ گھبرائیے اتنا صفدرؔ\nدیکھیے غیب سے سامان چلے آتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B3%D8%A7%D9%86_%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کس کے ہاتھوں بک گیا کس کے خریداروں میں ہوں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس کے ہاتھوں بک گیا کس کے خریداروں میں ہوں\nکیا ہے کیوں مشہور میں سودائی بازاروں میں ہوں\n\nغم نہیں جو بیڑیاں پہنے گرفتاروں میں ہوں\nناز ہے اس پر کہ تیرے ناز برداروں میں ہوں\n\nتیرے کوچے میں جو میرا خون ہو اے لالہ رو\nسرخ رو یاروں میں ہوں گل رنگ گلزاروں میں ہوں\n\nاس قدر ہے اے پری رو زور پر جوش جنوں\nسر سے توڑوں قید اگر لوہے کی دیواروں میں ہوں\n\nعشق سے مطلب نہ تھا دل زلف میں الجھا نہ تھا\nتھا جب آزادوں میں تھا اب تو گرفتاروں میں ہوں\n\nہوگی معشوقوں کو خواہش مجھ نحیف و زار کی\nگل کریں گے آرزو میری میں ان خاروں میں ہوں\n\nدل کو دھمکانا ہے دھیان اس نرگس بیمار کا\nجان لے کر چھوڑتا ہوں میں ان آزاروں میں ہوں\n\nاس مرے سودے کا دنیا میں ٹھکانا ہے کہیں\nجان کا گاہک جو ہے اس کے خریداروں میں ہوں\n\nکس سے پوچھوں کیا کروں صیاد کی مرضی کی بات\nتازہ وارد ہوں قفس میں تو گرفتاروں میں ہوں\n\nآرزو ہے میں وہ گل ہو جاؤں اے رشک چمن\nباغ میں دن بھر رہوں شب کو ترے ہاروں میں ہوں\n\nآ گیا دم ضیق میں لیکن نہ یہ ثابت ہوا\nکون ہے عیسیٰ مرا میں کس کے بیماروں میں ہوں\n\nڈریے ایسی آنکھ سے جو صاف اشارے سے کہے\nنرگس بیمار ہوں پر مردم آزاروں میں ہوں\n\nدل تو میں صدقہ کروں تم اس پہ میری جان لو\nتم ہی منصف ہو کہ میں ایسے گنہ گاروں میں ہوں\n\nکون ہوں کیا ہوں کہاں ہوں میں نہیں یہ بھی خبر\nخود غلط خود رفتہ ہوں میں خاک ہوشیاروں میں ہوں\n\nہے یہ ابرو کا اشارا تھی جہاں کی ذو الفقار\nاے شرفؔ میں اس سلح خانے کی تلواروں میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DA%A9_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "کس کے ہیں زیر زمیں دیدۂ نم ناک ہنوز", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کس کے ہیں زیر زمیں دیدۂ نم ناک ہنوز\nجا بجا سوت ہیں پانی کے تا خاک ہنوز\n\nگل زمیں سے جو نکلتا ہے برنگ شعلہ\nکون جاں سوختہ جلتا ہے تہ خاک ہنوز\n\nایک دن گھیر میں دامن کا ترے دیکھا تھا\nگرد پھرتے ہیں گریباں کے مرے چاک ہنوز\n\nجستجو کر کے تجھ آفت کو بہم پہنچایا\nباز آتے نہیں گردش سے یہ افلاک ہنوز\n\nباغ میں جب سے گیا تھا تو خمار آلودہ\nگل ہیں خمیازے میں انگڑائی میں ہیں تاک ہنوز\n\nزخم دل پر ہے مرے تیغ جنوں کا ناصح\nتو گریبان کا ناداں سیے ہے چاک ہنوز\n\nکیوں کے سوداؔ میں کروں وصف بنا گوش اس کا\nکی نہیں آب گہر سے یہ زباں پاک ہنوز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D9%86%D9%85_%D9%86%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D9%86%D9%88%D8%B2"} {"title": "کسان", "poet_page": "مصنف:میکش حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "برہنہ جسم پسینہ میں غرق ننگے پاؤں\nمگر سکون ہے یوں دل میں جیسے ٹھنڈی چھاؤں\nگیہوں کے کھیت سے کٹیا میں اپنی آیا ہے\nتصورات کی دنیا میں ساتھ لایا ہے\nہے اک پھٹی ہوئی کمبل غریب کاندھوں پر\nسیاہ ابر پہ رہ رہ کے اٹھ رہی ہے نظر\nپڑا ہے کھیت کا سامان ایک کونے میں\nہیں اس کی زیست کے اسرار پا کے کھونے میں\nنفس ہے پھولی ہوئی جیسے پھونک بھٹے کی\nرکھی ہے کان پہ بیڑی بنا کے پتے کی\nلہو کی لہر سی ہے موج زن پسینے میں\nبقائے دہر کا ہے راز اس کے جینے میں\nہر ایک سانس ہے اس کی بہار آزادی\nکہ اس غلام کا دل ہے دیار آزادی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%D8%A7%D9%86"} {"title": "کسان، مزدور، سرمایہ دار، زمیندار", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے مضامین", "year": "1942", "text_ur": "ہمارے دو سال کے تجربات نے، جو ہمیں قحط زدہ علاقہ میں امدادی رقوم تقسیم کرنے کے دوران میں حاصل ہوئے ہیں، ہمارے ان دیرینہ افکار و آرا کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ مصائب جن کی روک تھام کے لئے ہم روس کے ایک کونے میں بیٹھ کر بیرونی ذرائع سے سعی کر رہے ہیں، کسی غیر مستقل وجہ کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ ان مستقل و غیر مختتم اسباب و علل کا نتیجہ ہیں جو ہم تعلیم یافتہ لوگوں کے اس غیر برادرانہ و سنگ دلانہ سلوک کے پیدا کردہ ہیں جو غریب مزدورں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔\n\nغربا اپنی محنت و مشقت اور لامتناہی مصائب سہنے کے علی الرغم ہمارے محتاج ہیں اور ہم اس آقائی اور مولائی حیثیت کے باوجود ان سے بے پروا ہیں، اگر اس سال اس احتیاج، ستم زدگان اور بھوک (جس کے شکار لاکھوں مظلوم نوجوان اور ہزاروں سسکتے ہوئے بوڑھے اور بیسیوں بلکتے ہوئے بچے ہوتے ہیں) کی ستم آفرینیوں سے ہمارے کان ناآشنا ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ بلائیں پھر نازل نہ ہوں گی۔۔۔ وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہیں گی اور ہم انہیں فراموش کر دیں گے۔ ہم اپنے آپ کو یقین دلانے کی کوشش کریں گے کہ ان کا وجود باقی نہیں رہا اور یہ کہ اگر نام و نشاں باقی ہے تو یہ قانون قدرت ہے ہمیں اس میں کیا دخل؟ یہ یقین و تیقن دروغ بافی پر مبنی ہے۔ نہ صرف ان آفات سے بچاؤ ممکن ہے بلکہ ان کا استیصال ضروری ہے۔ وقت آ رہا ہے کہ وہ نابود ہو کر رہیں گی اور وہ وقت اب قریب تر ہے۔\n\nہمیں مزدور جماعتوں سے اپنا شراب سے لبریز پیالہ پوشیدہ معلوم ہوتا ہے۔ ہم جدی رسوم اور چالاک دلائل ہی سے عیش پرستی کو جائز قرار دیتے ہیں۔ عیش و عشرت کی زندگی ان مزدوروں کے درمیان گزارتے ہیں، جو محنت و مشقت کی تکالیف اٹھا کر اپنے گاڑھے پسینہ سے ہمارے لئے یہ سامان عیش مہیا کرتے ہیں۔ مگر اب مشعل علم ہمارے رشتوں کو منور بنا رہی ہے اور ہم بہت جلد ایک خطرناک مجرم کی حیثیت میں دنیا کے سامنے پیش ہوں گے۔۔۔ ایک ایسا مجرم جو یکایک طلوع آفتاب کی وجہ سے کسی جرم کا ارتکاب کرتا پکڑا جائے۔\n\nاگر ایک دکان دار ضرر رساں اور خراب اشیا مزدوروں کے پاس فروخت کرتا ہے یا روٹی اور دیگر ضروریات زندگی کو جنہیں وہ کوڑیوں کے مول خریدے اور روپوں کے دام بیچ کر یہ دعوے کرے کہ وہ ایمانداری سے لوگوں کی ضروریات مہیا کرتا ہے، اگر سگریٹ شراب اور آئینے بنانے والا کارخانہ یہ بلند و بانگ دعوے کرے کہ وہ مزدوروں کے لئے کام مہیا کر کے ان کا روزی رساں بنا ہے، اگر کوئی افسر جو سالانہ ہزاروں پونڈ مشاہرہ حاصل کرتا ہے یہ یقین دلائے کہ وہ قوم کی خدمت کر رہا ہے اور اگر زمیندار یہ لاف زنی کرے کہ وہ زراعت کے بہترین اصولوں سے اپنے گاؤں میں خوشحال پھیلا رہا ہے۔۔۔ اگر یہ تمام چیزیں آج ممکن ہیں، یہ دعوے آج ببانگ دہل دہرائے جا سکتے ہیں جبکہ ہزاروں غریب کسان بھوک سے مر رہے ہیں اور زمیندار کئی ایکڑ زمین میں آلو کی صرف اس غرض سے کاشت کر رہا ہے کہ ان سے شراب کشید کی جا سکے تو کل یہ حالات نہ رہیں گے اور یہ دروغ دعاوی فضا کو متعفن نہ کریں گے۔\n\nمحولہ فوق وجوہ کی بنا پر ہم یہ خیال کرنے سے عاری ہو گئے ہیں کہ ان ہزاروں گرسنہ شکم لوگوں کو ’’جو ہمارے گرد کام کی زیادتی اور مشاہرے کی کمی کی وجہ سے تڑپ رہے ہیں‘‘ ہماری ضروریات بہم پہنچانے کے لئے نان خشک تک نصیب نہیں ہوتی۔ باغوں کی رنگ رلیاں، شکارگاہوں کی ہنگامہ آرائیاں، شراب نوشی کی مجلسیں، پنیر اور گوشت کے ٹکڑے تک وہ ہمارے لئے جانفشانی سے مہیا کرتے ہیں اور ہمارے عیش کی افراط ان پر کام کا اور بھاری بوجھ ڈال دیتی ہے۔ ہم روسی لوگ اپنی حقیقت اور حالت کو سمجھنے کی زیادہ اہلیت رکھتے ہیں۔ مجھے اس نوجوان کا واقعہ بخوبی یاد ہے، جو مجھ سے گزشتہ موسم سرما میں ملنے آیا تھا۔ ہمیں ایک کسان کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس گھر میں ہرطرف میلی کچیلی چیزیں بکھری ہوئی تھیں۔ چیتھڑے لٹکائے ہوئی زرد عورتیں اور بیمار بچہ جو بلک رہا تھا۔ فضا متعفن اور کثیف تھی۔ ہر طرف اداسی اور حسرت برس رہی تھی۔ مقیموں کے زرد چہرے رحم کے متمنی تھے۔\n\nمجھے یاد ہے کہ جب ہم جھونپڑی سے باہر نکلے تو اس نوجوان نے مجھ سے کچھ کہنا چاہا لیکن اس کی زبان تالو سے چمٹ گئی اور اس نے رونا شروع کر دیا۔ وہ ماسکو اور پیٹرز برگ میں چند مہینے گزار کر آیا تھا۔ اس نے وہاں کے حسین باغوں کی سیر کی تھی، شاندار محلات دیکھے تھے۔ جہاں ہر وقت مسرتیں کھیلتی ہیں اور ہر تعیش پسند جماعت میں شمولیت کی تھی۔ آج پہلی مرتبہ اس نے ان لوگوں کا نقشہ دیکھا جو اپنے گاڑھے پسینہ سے سامان عیش مہیا کرتے ہیں۔ وہ حیرت زدہ اور ہراساں ہو گیا۔ شاید اس بوہمیا میں، جو اس کا وطن ہے، جہاں دولت و ثروت کا کوئی شمار نہیں اور جہاں تعلیم عام ہونے کی وجہ سے ہر ایک مجلسی دائرے میں شمولیت حاصل کر سکتا ہے، مشقت کا ثمرہ معلوم ہو مگر وہ ان ہزاروں لوگوں سے قطع نظر کر کے یہ نظریہ قائم کرتا ہے جو رات کوئلے کی کانوں میں مشقتیں اٹھاتے ہیں اور یہ سامان عیش مہیا کرتے ہیں۔\n\nشاید وہ ان لوگوں کو بھی بھول جائے جو ہماری ضروریات کو مہیا کرنے کے لئے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں، لیکن ہم روسی لوگ ایسے خیالات کو اپنے دماغ میں جگہ نہیں دے سکتے۔ عیش اور مشقت کا رشتہ یہاں عیاں تر ہے اور ایک قوم کے افراد کی تعیش پرستیاں اور ناداریاں ہم پر روشن ہیں۔۔۔ ہم اس قیمت سے جو ہمارے عیش و آرام کی خاطر دوسرے انسانوں کو ادا کرنی پڑتی ہے، منہ نہیں پھیر سکتے۔ ہمارے لئے سورج طلوع ہو چکا ہے اور ہم حقیقت سے اغماض نہیں کر سکتے۔ ہم حکومت کی آڑلے کر لوگوں پر حکومت کرنے کی ضرورت کا عذر پیش نہیں کر سکتے۔ سائنس اور آرٹ کے پردے میں چھپ کر جو کہ موجودہ زمانے میں لازمی تصور کئے جاتے ہیں، اپنی ملکیت کے بل بوتے پر یا جدی رسوم کی تقلید کی وجہ بیان کر کے ان کمزوریوں کو نہیں چھپا سکتے اور نہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔\n\nآفتاب حقیقت کی کرنیں ان تمام پردوں کو چاک کر دیں گی۔۔۔ اب ہر ایک شخص جانتا ہے کہ جو لوگ حکومت کی خدمت کرتے ہیں وہ لوگوں کے فلاح کے لئے نہیں بلکہ روپیہ بٹورنے کی خاطر ہے۔ وہ لوگ جو زمین کے مالک ہیں اور وہ اپنی زمین پر کاشت کی قیمت بڑھا کر مقدس حقوق کے لئے کوشاں نہیں بلکہ اپنی عیش پرستیوں کی قیمت ادا کرنے کے لئے آمدنی کے خواہاں ہیں۔۔۔ اب یہ باتیں چھپ نہیں سکتیں! یہ دروغ تا بکے؟ اب اہل ثروت کے لئے دو راستے کشادہ ہیں۔۔۔ ان کے لئے جو کچھ کام نہیں کرتے مگر سنہری اشرفیوں کے مالک ہیں۔ ایک راستہ یہ ہے کہ وہ مذہب بلکہ انسانیت، انصاف اور اسی قسم کے دوسرے اوصاف سے منہ موڑ کر انہیں یہ کہہ کر پھٹکا ردیں۔\n\n’’میں ان حقوق و فوائد کا واحد مالک ہوں اور خواہ کچھ بھی ہو انہیں کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑوں گا، اگر کوئی مجھ سے یہ علیحدہ کرنا چاہے تو اسے پہلے میری طاقت کو زیرغور لانا چاہیئے۔۔۔ میرے ہاتھ میں طاقت ہے، میں سپاہی مہیا کر سکتا ہوں، قید کروا سکتا ہوں، درّے لگوا سکتا ہوں اور تو اور پھانسی پر لٹکوا سکتا ہوں۔‘‘\n\nدوسرا راستہ اپنے قصوروں کا اعتراف، جھوٹ سے کنارہ کشی، عفو خواہی اور عوام کی امداد کے لئے سعی ہے، صرف زبانی نہیں جیسا کہ ان دو سالوں میں کی گئی ہے بلکہ اس پیسے سے جو ان کے گاڑھے پسینہ کی کمائی ہے، مگر ان سے زبردستی چھین لی گئی ہے اور ان دیواروں کو جو ہمارے اور مزدوروں کے درمیان ایستادہ ہیں، مسمار کرنا ہے، لفظوں سے نہیں بلکہ اعمال سے انہیں اپنا بھائی سمجھ کر، اپنی زندگی کے موجودہ طریقوں کو بدل کر، اپنے ذاتی حقوق اور فوائد چھوڑ کر اور مزدوروں کے ساتھ کام کر کے سائنس اور ادب کی برکات سے متمتع ہونا ہے۔۔۔ وہ برکات جو ہم بغیر ان کی رضا کے ان پر دھکیل رہے ہیں۔\n\nہم دو رستوں کے چوک پر کھڑے ہیں اور ہمیں ایک راستہ انتخاب کرنا ہے۔ ایک راستہ انسان کو دائمی برائیوں اور لعنتوں میں مبتلا کرنے کے لئے۔ اس میں بدکرداروں کے آشکارا ہونے کا ڈر اور موجودہ نظام کے بدل جانے کا احتمال قدم قدم پر نظر آتا ہے۔ دوسرا راستہ سچے دل سے حقیقی اصولوں کو مان لینے اور ان کی ترویج کے لئے بے لوث کوشش کرنے کے لئے کھلا ہے۔۔۔ وہ اصول جن کی ترویج کے لئے انسانی عقل و ادراک پکار رہی ہے اور آج یا کل ضرور منوا لئے جانے والے ہیں۔۔۔ اگر ہم نہیں تو ہمارے بعد کی آنے والی نسلیں انہیں منوا کر رہیں گی۔ ا س لئے کہ اس انانیت کا استیصال ہی ان تمام بلاؤں اور آفتوں سے ملک اور قوم کو بچا سکتا ہے۔ دروغ بافیوں سے احتراز، تعیش پرستیوں سے پرہیز اور برادرانہ اخوت، ان تمام بیماریوں کی تیر بہدف دوا ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%8C_%D9%85%D8%B2%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%8C_%D8%B3%D8%B1%D9%85%D8%A7%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%8C_%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B1"} {"title": "کسو کو مجھ سے نے مجھ کو کسو سے کام رہتا ہے", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسو کو مجھ سے نے مجھ کو کسو سے کام رہتا ہے\nمرے دل میں سوا تیرے خدا کا نام رہتا ہے\n\nکچھ ان روزوں دل اپنا سخت بے آرام رہتا ہے\nاسی حالت میں لے کر صبح سے تا شام رہتا ہے\n\nکلیجہ پک گیا ہے کیا کہوں اس دل کے ہاتھوں سے\nہمیشہ کچھ نہ کچھ اس میں خیال خام رہتا ہے\n\nبیاں میں کیا کروں اس سے اب آگے اپنی ناکامی\nترے یہ طور اور مجھ کو تجھی سے کام رہتا ہے\n\nبلا جانے اثرؔ دوراں یہ کیدھر چرخ مارے ہے\nہماری بزم میں دن رات دور جام رہتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%D9%88_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B3%D9%88_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے\nغم دل مرے رفیقو غم رائگاں نہیں ہے\n\nکوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی رازداں نہیں ہے\nفقط ایک دل تھا اب تک سو وہ مہرباں نہیں ہے\n\nمری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو\nمرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے\n\nکسی زلف کو صدا دو کسی آنکھ کو پکارو\nبڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے\n\nانہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ\nمرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%8C_%D8%AE%D9%84%D8%B4_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "کسی بت کی ادا نے مار ڈالا", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی بت کی ادا نے مار ڈالا\nبہانے سے خدا نے مار ڈالا\n\nجفا کی جان کو سب رو رہے ہیں\nمجھے ان کی وفا نے مار ڈالا\n\nجدائی میں نہ آنا تھا نہ آئی\nمجھے ظالم قضا نے مار ڈالا\n\nمصیبت اور لمبی زندگانی\nبزرگوں کی دعا نے مار ڈالا\n\nانہیں آنکھوں سے جینا چاہتا ہوں\nجن آنکھوں کی حیا نے مار ڈالا\n\nہمارا امتحاں اور کوئے دشمن\nکسی نے بے ٹھکانے مار ڈالا\n\nپڑا ہوں اس طرح اس در پہ مضطرؔ\nکوئی دیکھے تو جانے مار ڈالا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DA%88%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "کسی بیکس کو اے بیداد گر مارا تو کیا مارا", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی بیکس کو اے بیداد گر مارا تو کیا مارا\nجو آپ ہی مر رہا ہو اس کو گر مارا تو کیا مارا\n\nنہ مارا آپ کو جو خاک ہو اکسیر بن جاتا\nاگر پارے کو اے اکسیر گر مارا تو کیا مارا\n\nبڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارا\nنہنگ و اژدہا و شیر نر مارا تو کیا مارا\n\nخطا تو دل کی تھی قابل بہت سی مار کھانے کے\nتری زلفوں نے مشکیں باندھ کر مارا تو کیا مارا\n\nنہیں وہ قول کا سچا ہمیشہ قول دے دے کر\nجو اس نے ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا تو کیا مارا\n\nتفنگ و تیر تو ظاہر نہ تھا کچھ پاس قاتل کے\nالٰہی اس نے دل کو تاک کر مارا تو کیا مارا\n\nہنسی کے ساتھ یاں رونا ہے مثل قلقل مینا\nکسی نے قہقہہ اے بے خبر مارا تو کیا مارا\n\nمرے آنسو ہمیشہ ہیں برنگ لعل غرق خوں\nجو غوطہ آب میں تو نے گہر مارا تو کیا مارا\n\nجگر دل دونوں پہلو میں ہیں زخمی اس نے کیا جانے\nادھر مارا تو کیا مارا ادھر مارا تو کیا مارا\n\nگیا شیطان مارا ایک سجدہ کے نہ کرنے میں\nاگر لاکھوں برس سجدے میں سر مارا تو کیا مارا\n\nدل سنگین خسرو پر بھی ضرب اے کوہ کن پہنچی\nاگر تیشہ سر کہسار پر مارا تو کیا مارا\n\nدل بد خواہ میں تھا مارنا یا چشم بدبیں میں\nفلک پر ذوقؔ تیر آہ گر مارا تو کیا مارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کسی تو کام زمانے کے سوگوار آئے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی تو کام زمانے کے سوگوار آئے\nتجھے جو پا نہ سکے زیست کو سنوار آئے\n\nتھا جس پہ وعدۂ فردوس و عاقبت کا مدار\nوہ رات ہم سر کوئے بتاں گزار آئے\n\nترے خیال پہ شب خوں تو خیر کیا کرتے\nبہت ہوا تو اک اوچھا سا ہات مار آئے\n\nمتاع دل ہی بچی تھی بس اک زمانے سے\nسو ہم اسے بھی تری انجمن میں ہار آئے\n\nبڑے خلوص سے احوال پوچھنے کے لیے\nگزر گئی شب فرقت تو میرے یار آئے\n\nکسی کو حال بتانا ضرور ہی کیا تھا\nاس انجمن سے ہم اپنے قصوروار آئے\n\nنگاہ ناز مرے دل کے گھاؤ پر مت جا\nخدا کرے کہ تجھے اپنا کاروبار آئے\n\nیہ اور بات کہ ساقی سے قرض مل نہ سکی\nحضور حضرت یزداں تو با وقار آئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%DA%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "کسی حسرت زدہ نے خود کشی منظور کی دل سے", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی حسرت زدہ نے خود کشی منظور کی دل سے\nصدا لبیک کی سن کر زمین کوئے قاتل سے\n\nخدا کے واسطے دم بھر تو اے باد اجل تھم جا\nکہ لے لوں کچھ ہوا میں دامن شمشیر قاتل سے\n\nٹھہرنا او دل بے تاب پھر تو بھی تو سینے میں\nنکل آئے تڑپ کر موج جب آغوش ساحل سے\n\nزمیں سے آسماں تک میری بیتابی کا چرچا ہے\nسبق لیتی ہے بجلی آ کے میرے قلب بسمل سے\n\nکوئی تدبیر سوچو تاکہ دل آ جائے قابو میں\nکہیں میں قید ہو سکتا ہوں ان طوق و سلاسل سے\n\nابھی دیکھو تو میری مشق کس حد تک پہنچتی ہے\nبنا لوں گا کبھی تم کو بھی اپنا جذب کامل سے\n\nگرا تھا قطرۂ اول جو میرے خون ناحق سے\nاٹھی تھی سرخ اک آندھی زمین کوئے قاتل سے\n\nوہ اب آتے ہی ہوں گے اور یاں پر آ کے بیٹھیں گے\nخداوندا یہ باتیں کب تلک عالمؔ کرے دل سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%B2%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%DA%A9%D8%B4%DB%8C_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کسی دن تو ہمارا درد دل سوز جگر دیکھو", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی دن تو ہمارا درد دل سوز جگر دیکھو\nکبھی تو بھول کر آؤ کبھی تو پوچھ کر دیکھو\n\nنہ دیکھو دوست بن کر تم تو دشمن کی نظر دیکھو\nخفا ہو کر بگڑ کر روٹھ کر دیکھو مگر دیکھو\n\nنہیں بھرتی طبیعت لاکھ دیکھو عمر بھر دیکھو\nخدا کی شان ہے ایسے بھی ہوتے ہیں بشر دیکھو\n\nکسی کو جب سے دیکھا ہے دکھائی کچھ نہیں دیتا\nہوئی میری نظر کو دوستو کس کی نظر دیکھو\n\nترستی ہیں یہ آنکھیں دیکھنے کو دل تڑپتا ہے\nزیادہ سے زیادہ مختصر سے مختصر دیکھو\n\nمقدر سے نبھی تم ایک گویا بھولے بھالے تھے\nکوئی ظالم سے ظالم فتنہ گر سے فتنہ گر دیکھو\n\nکہی ہیں ہم نشینو دل لگی میں تم نے جو باتیں\nانہیں سچ مچ پہنچ جائے نہ یہ جھوٹی خبر دیکھو\n\nپھر اس پر نکتہ چیں ہے نکتہ داں ہے شیخ لوگوں میں\nاناڑی پڑھ رہا ہے دخت رز کو دخت زر دیکھو\n\nکوئی بیتاب کوئی مست کوئی چپ کوئی حیراں\nتری محفل میں گویا اک تماشا ہے جدھر دیکھو\n\nتمہاری بزم بات انسانیت کی پھر رقیبوں میں\nبھرے ہیں آدمی کی صورتوں کے جانور دیکھو\n\nنہ ہو جو بندہ پرور بندگی کو بندگی اس کی\nجناب دل خدا رزاق کوئی اور گھر دیکھو\n\nنہیں از روئے قانون محبت جرم نظارہ\nتو پھر کیوں ہیں جناب دل اگر دیکھو مگر دیکھو\n\nاسے دیکھا ہے جس کے دیکھنے کو لوگ مرتے ہیں\nنظر بازو ہماری بھی ذرا حد نظر دیکھو\n\nصفیؔ کو شاعری سے مل گئی ہر دل عزیزی بھی\nدروغ مصلحت آمیز بھی ہے کیا ہنر دیکھو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں\nمجھے اجل کے بھی آنے کا اعتبار نہیں\n\nجواب نامہ کا قاصد مزار پر لایا\nکہ جانتا تھا اسے تاب انتظار نہیں\n\nیہ کہہ کے اٹھ گئی بالیں سے میری شمع سحر\nتمام ہو گئی شب اور تجھے قرار نہیں\n\nجو تو ہو پاس تو حور و قصور سب کچھ ہو\nجو تو نہیں تو نہیں بلکہ زینہار نہیں\n\nخزاں کے آنے سے پہلے ہی تھا مجھے معلوم\nکہ رنگ و بوئے چمن کا کچھ اعتبار نہیں\n\nغزل کہی ہے کہ موتی پروئے ہیں اے نظمؔ\nوہ کون شعر ہے جو در شاہوار نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%B3_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%B4%D9%88%D8%AF_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کسی سے عشق دشمن کا گلہ کیا", "poet_page": "مصنف:ہاجر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی سے عشق دشمن کا گلہ کیا\nنہیں جب ربط تو پھر مدعا کیا\n\nہر اک شے میں تجھی کو دیکھتے ہیں\nہمارے واسطے اچھا برا کیا\n\nضرورت کیا ہے سمجھے کون زاہد\nروا کیا ہے یہاں پر ناروا کیا\n\nاسے ظالم سمجھ کر دل دیا تھا\nتو پھر اب کم نگاہی کا گلہ کیا\n\nغم دنیا کی مانا ہے دوا عشق\nمگر پھر درد الفت کی دوا کیا\n\nبہت پچھتائے تم سے دل لگا کر\nبجز رنج و الم ہم کو ملا کیا\n\nنہ ہوگی کیا کبھی امید پوری\nنہ ہوگا مہرباں وہ بے وفا کیا\n\nسبھی انسان ہیں اللہ کے بندے\nجہاں میں آشنا نا آشنا کیا\n\nفقط اک دل ہے وہ ہے نذر تیری\nہمارے پاس ہے اس کے سوا کیا\n\nنگاہ ناز سے دل بچ بھی جائے\nمگر گھائل نہ کر دے گی ادا کیا\n\nلٹا کر چل دیا گھر بار ہاجرؔ\nاسے بیٹھے بٹھائے یہ ہوا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%D9%84%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کسی سے وصل میں سنتے ہی جان سوکھ گئی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی سے وصل میں سنتے ہی جان سوکھ گئی\nچلو ہٹو بھی ہماری زبان سوکھ گئی\n\nاک آہ گرم نے جھلسائے خوشۂ انجم\nتمام کھیتی تری آسمان سوکھ گئی\n\nقیامت اور وہ ہنگامہ پھر قیامت کا\nلحد سے اٹھتے ہی دھڑکوں سے جان سوکھ گئی\n\nرہا نہ بعد مرے ہائے کوئی آبلہ پا\nپکارتے ہیں یہ کانٹے زبان سوکھ گئی\n\nشب فراق کا آدھا نہیں رہا تن و توش\nیہ میرے گھر جو ہوئی میہمان سوکھ گئی\n\nملا بھی ہم کو تو بے وقت اس طرح کھانا\nکہ چاول اینٹھ گئے اور نان سوکھ گئی\n\nبہت ہی پھولی ہوئی تھی یہ اپنی رنگت پر\nجو دیکھا رنگ مرا زعفران سوکھ گئی\n\nہوائے گرم خزاں میں وہ رنگ و روپ کہاں\nتھی عندلیب یوں ہی دھان پان سوکھ گئی\n\nریاضؔ یاد ہے ان کا وصال میں کہنا\nخدا کے واسطے چھوڑو زبان سوکھ گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B3%D9%88%DA%A9%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کسی صورت تو دل کو شاد کرنا", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی صورت تو دل کو شاد کرنا\nہمیں دشمن سمجھ کر یاد کرنا\n\nدعائیں دیں گے چھٹ کر قیدیٔ زلف\nجہاں تک ہو سکے آزاد کرنا\n\nکہیں وہ آفریں ایسا پڑے ہاتھ\nنہ مجھ پر رحم او جلاد کرنا\n\nمسیحائی دکھانا بعد مردن\nجو دل چاہے تو کچھ ارشاد کرنا\n\nاڑا دو خاک میری ٹھوکروں سے\nاگر منظور ہے برباد کرنا\n\nادب سیکھے نہیں ہوں نو گرفتار\nبتا کر قاعدے بیداد کرنا\n\nمزا تھا بے بسی کی گالیوں میں\nاسی بھولے سبق کو یاد کرنا\n\nبہت مشکل ہے ان سنگیں دلوں سے\nخیال خاطر ناشاد کرنا\n\nجنازہ اٹھ چکے میرا تو تم بھی\nادا رسم مبارک باد کرنا\n\nنسیمؔ خستہ دل نے جان دے دی\nغضب لایا ترا بیداد کرنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7"} {"title": "کسی صورت سے اس محفل میں جا کر", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی صورت سے اس محفل میں جا کر\nمقدر ہم بھی دیکھیں آزما کر\n\nتغافل کیش میں نے ہی بنایا\nاسے حال دل شیدا سنا کر\n\nاٹھا لینے سے تو دل کے رہا میں\nتو اب ظالم وفا کر یا جفا کر\n\nترے گلشن میں پہنچے کاش اک دن\nنسیم آشنائی راہ پا کر\n\nخوشی ان کو مبارک ہو الٰہی\nوہ خوش ہیں خاک میں مجھ کو ملا کر\n\nدہن ہے رشک سے غنچے کا پرخوں\nکدھر دیکھا تھا تم نے مسکرا کر\n\nوہ شرماتے ہیں سن کر وصل کا نام\nرہا ہوں میں جو چپ تو بات پا کر\n\nہوا وہ بے وفائی میں مسلم\nنشان تربت عاشق مٹا کر\n\nگناہ اپنے مجھے یاد آئے وحشتؔ\nخجل سا رہ گیا میں ہاتھ اٹھا کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کسی صورت عدو کی ترک الفت ہو نہیں سکتی", "poet_page": "مصنف:فروغ حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی صورت عدو کی ترک الفت ہو نہیں سکتی\nہمارے حال پر تیری عنایت ہو نہیں سکتی\n\nکبھی تیرے سوا دل دوسرے پر آ نہیں سکتا\nکسی پر اب مری مائل طبیعت ہو نہیں سکتی\n\nبنی ہے مہر لب پیہم محبت اس ستم گر کی\nبیاں اب داستان درد فرقت ہو نہیں سکتی\n\nالٰہی میرا دل اس سنگ دل کا دل تو بن جائے\nمری تقدیر گر دشمن کی قسمت ہو نہیں سکتی\n\nیہ ہو سکتا ہے دنیا بھر کو چھوڑوں تیری خاطر سے\nرقیب رو سیہ کی مجھ سے منت ہو نہیں سکتی\n\nتصور میں بھی تم بار نزاکت سے نہیں آتے\nتمہارے وصل کی اب کوئی صورت ہو نہیں سکتی\n\nخدا کی شان ہے عشق عدو میں روتے پھرتے ہیں\nجو کہتے تھے کبھی تاثیر الفت ہو نہیں سکتی\n\nگھلایا ضعف نے ایسا فراق یار میں مجھ کو\nتصور میں بھی قائم میری صورت ہو نہیں سکتی\n\nحجاب آتا ہے تجھ کو دشمن مہر و وفا کہتے\nکسی پردے میں اب تیری شکایت ہو نہیں سکتی\n\nفروغؔ نیر تقدیر ضو بخش تمنا ہے\nشب وصل ستم گر شام فرقت ہو نہیں سکتی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%8C"} {"title": "کسی صورت نمود سوز پنہانی نہیں جاتی", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی صورت نمود سوز پنہانی نہیں جاتی\nبجھا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتی\n\nنہیں جاتی کہاں تک فکر انسانی نہیں جاتی\nمگر اپنی حقیقت آپ پہچانی نہیں جاتی\n\nنگاہوں کو خزاں نا آشنا بننا تو آ جائے\nچمن جب تک چمن ہے جلوہ سامانی نہیں جاتی\n\nپشیمان ستم وہ دل ہی دل میں رہتے ہیں لیکن\nخوشا حسنے کہ طرز ناپشیمانی نہیں جاتی\n\nمزاج اہل دل بے کیف و مستی رہ نہیں سکتا\nکہ جیسے نکہت گل سے پریشانی نہیں جاتی\n\nصداقت ہو تو دل سینوں سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ\nحقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی\n\nبلندی چاہیئے انسان کی فطرت میں پوشیدہ\nکوئی ہو بھیس لیکن شان سلطانی نہیں جاتی\n\nگئے وہ دن کہ دل سرمایہ دار درد پیہم تھا\nمگر آنکھوں کی اب تک میر سامانی نہیں جاتی\n\nجسے رونق ترے قدموں نے دے کر چھین لی رونق\nوہ لاکھ آباد ہو اس گھر کی ویرانی نہیں جاتی\n\nوہ یوں دل سے گزرتے ہیں کہ آہٹ تک نہیں ہوتی\nوہ یوں آواز دیتے ہیں کہ پہچانی نہیں جاتی\n\nمجھے تو کر دیا سیراب ساقی نے مرے لیکن\nمری سیرابیوں کی تشنہ سامانی نہیں جاتی\n\nنہیں معلوم کس عالم میں حسن یار دیکھا تھا\nکوئی عالم ہو لیکن دل کی حیرانی نہیں جاتی\n\nجلے جاتے ہیں بڑھ بڑھ کر مٹے جاتے ہیں گر گر کر\nحضور شمع پروانوں کی نادانی نہیں جاتی\n\nمحبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے\nکہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی\n\nجگرؔ وہ بھی ز سر تا پا محبت ہی محبت ہیں\nمگر ان کی محبت صاف پہچانی نہیں جاتی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D9%86%D9%85%D9%88%D8%AF_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%BE%D9%86%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C"} {"title": "کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوں", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوں\nہزارہا نقش آرزو کے بنا رہا ہوں مٹا رہا ہوں\n\nوفا مری معتبر ہے کتنی جفا وہ کر سکتے ہیں کہاں تک\nجو وہ مجھے آزما رہے ہیں تو میں انہیں آزما رہا ہوں\n\nکسی کی محفل کا نغمۂ نے محرک نالہ و فغاں ہے\nفسانۂ عیش سن رہا ہوں فسانۂ غم سنا رہا ہوں\n\nزمانہ بھی مجھ سے نا موافق میں آپ بھی دشمن سلامت\nتعجب اس کا ہے بوجھ کیونکر میں زندگی کا اٹھا رہا ہوں\n\nنہ ہو مجھے جستجوئے منزل مگر ہے منزل مری طلب میں\nکوئی تو مجھ کو بلا رہا ہے کسی طرف کو تو جا رہا ہوں\n\nیہی تو ہے نفع کوششوں کا کہ کام سارے بگڑ رہے ہیں\nیہی تو ہے فائدہ ہوس کا کہ اشک حسرت بہا رہا ہوں\n\nخدا ہی جانے یہ سادہ لوحی دکھائے گی کیا نتیجہ وحشتؔ\nوہ جتنی الفت گھٹا رہے ہیں اسی قدر میں بڑھا رہا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%AF%D9%86_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D9%B9_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "کسی محاذ پہ وہ بولنے نہیں دیتا", "poet_page": "مصنف:حیرت الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی محاذ پہ وہ بولنے نہیں دیتا\nضرورتاً بھی زباں کھولنے نہیں دیتا\n\nقفس میں اب بھی محافظ کئی پرندوں پر\nنگاہ رکھتا ہے پر تولنے نہیں دیتا\n\nوہ جس کا حق ہے اسے بھی تو نا شناس وفا\nمحل سراؤں کے در کھولنے نہیں دیتا\n\nمرا بھی پیار ہے صادق اسی لئے تو کبھی\nکسی کو پیار میں سم گھولنے نہیں دیتا\n\nوہ چاہتا ہے کہ صحرا نورد بن جاؤں\nمکان ذہن کے در کھولنے نہیں دیتا\n\nہزار ہا گہر اشک گل بہ وقت سحر\nچمن میں موسم گل رولنے نہیں دیتا\n\nوہ ترک عشق کی دیتا ہے دھمکیاں مجھ کو\nجو بات سچ ہے اسے بولنے نہیں دیتا\n\nہوا نے پیرہن بادباں اڑا بھی دیا\nیہ نا خدا ہے کہ لب کھولنے نہیں دیتا\n\nتخیلات پہ حیرتؔ کے چھا گیا ایسا\nتصورات کے در کھولنے نہیں دیتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D8%A7%D8%B0_%D9%BE%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D9%88%D9%84%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کسی مست خواب کا ہے عبث انتظار سو جا", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی مست خواب کا ہے عبث انتظار سو جا\nکہ گزر گئی شب آدھی دل بے قرار سو جا\n\nیہ نسیم ٹھنڈی ٹھنڈی یہ ہوا کے سرد جھونکے\nتجھے دے رہے ہیں لوری مرے غم گسار سو جا\n\nیہ تری صدائے نالہ مجھے متہم نہ کر دے\nمرے پردہ دار سو جا مرے راز دار سو جا\n\nمجھے خوں رلا رہا ہے ترا دم بدم تڑپنا\nترے غم میں آہ کب سے میں ہوں اشک بار سو جا\n\nابھی دھان پان ہے تو نہیں عاشقی کے قابل\nیہ تپش کا آہ شیوہ نہ کر اختیار سو جا\n\nنہ تڑپ زمیں پہ ظالم تجھے گود میں اٹھا لوں\nتجھے سینے سے لگا لوں تجھے کر لوں پیار سو جا\n\nتجھے جن کا ہے تصور ارے مست جام الفت\nانہیں انکھڑیوں کے صدقے مرے بادہ خوار سو جا\n\nتجھے پہلا سابقہ ہے شب غم بری بلا ہے\nکہیں مر مٹے نہ ظالم دل بے قرار سو جا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%A8%D8%AB_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D9%88_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "کسی موسم کی وہ باتیں جو تیری یاد کرتا ہوں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی موسم کی وہ باتیں جو تیری یاد کرتا ہوں\nانہیں باتوں کو پھر پھر کہہ دل اپنا شاد کرتا ہوں\n\nنہیں معلوم مجھ پر بھی یہ احوال اپنی زاری کا\nکہ میں مثل جرس کس کے لئے فریاد کرتا ہوں\n\nیہ دل کچھ آپھی ہو جاتا ہے بند اور آپھی کھلتا ہے\nنہ میں قید اس کو کرتا ہوں نہ میں آزاد کرتا ہوں\n\nجگر جل کر ہوا ہے خاک اور تس پر میں آہوں سے\nجو کچھ باقی رہے ہے گرد سو برباد کرتا ہوں\n\nغبار دل کو آب تیغ سے اس کے ملا کر میں\nنئے سر سے عمارت دل کی پھر بنیاد کرتا ہوں\n\nمرے آباد دل کو کر خراب اس نے کہا ہنس ہنس\nکہ میں اس ملک کا نام اب خراب آباد کرتا ہوں\n\nکبھی تیرے بھی دل میں یہ گزرتی ہے کہ میں ناحق\nبھلا دل پر حسنؔ کے اتنی کیوں بیداد کرتا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "کسی نے رات کہا اس کی دیکھ کر صورت", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی نے رات کہا اس کی دیکھ کر صورت\nکہ میں غلام ہوں اس شکل کا بہر صورت\n\nہیں آئنے کے بھی کیا طالع اب سکندر واہ\nکہ اس نگار کی دیکھے ہے ہر سحر صورت\n\nعجب بہار ہوئی کل تو وقت نظارہ\nجو میں ادھر کو ہوا اس نے کی ادھر صورت\n\nادھر کو جب میں گیا اس نے لی ادھر کو پھیر\nپھرا میں اس نے پھرائی جدھر جدھر صورت\n\nہزاروں پھرتیاں میں نے تو کیں پر اس نے نظیرؔ\nنہ دیکھنے دی مجھے اپنی آنکھ بھر صورت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "کسی نے پکڑا دامن اور کسی نے آستیں پکڑی", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی نے پکڑا دامن اور کسی نے آستیں پکڑی\nنہ اٹھا میں ہی اس کوچے سے یہ میں نے زمیں پکڑی\n\nخدا شاہد ہے دل پر چوٹ سی اک لگ گئی میرے\nبہانا درد سر کا کر کے جب اس نے جبیں پکڑی\n\nسوا ان کے نہ کہنا اور سے آفت نہ کچھ آئے\nنہ جانے بات میری قاصدا شاید کہیں پکڑی\n\nبھلا اب مجھ سے چھٹتا ہے کہیں اس شوخ کا چسکا\nیہ کیا ہے چھیڑ میری ہر گھڑی کی ہم نشیں پکڑی\n\nغضب ہیں آپ بھی میں نے تو تم سے کان پکڑا ہے\nہوا جب کچھ میں کہنے کو زباں میری وہیں پکڑی\n\nیہ قسمت وصل کی شب صبح تک تکرار میں گزری\nادھر کچھ میں نے ضد پکڑی ادھر اس نے نہیں پکڑی\n\nمجھے ڈسواؤ اک مار سیہ سے یہ سزا دیجے\nجفا کی اپنے صاحب کی جو زلف عنبریں پکڑی\n\nخدا کے فضل سے ایسی طبیعت ہے نظامؔ اپنی\nغزل دم میں کہی فضل خدا سے جو زمیں پکڑی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D9%BE%DA%A9%DA%91%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%A2%D8%B3%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%A9%DA%91%DB%8C"} {"title": "کسی کا ایک ہے دشمن تو دوست دار ہے ایک", "poet_page": "مصنف:مسکین شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "کسی کا ایک ہے دشمن تو دوست دار ہے ایک\nہمارا ہجر عدو ایک وصل یار ہے ایک\n\nجہاں میں شادی و غم سے نہیں ہے دور کوئی\nخزاں عدو ہے مرا ایک اور بہار ہے ایک\n\nخوشی نصیب نہیں ہم کو تابہ حشر کوئی\nہزار رنج ہیں ایک اور یہ دل فگار ہے ایک\n\nبسان مرگ و حیات اہل دل کو عالم میں\nہمیشہ ایک ہے دل جس پہ غم سوار ہے ایک\n\nملا ہے حسن خداداد جن کو عالم میں\nفدا جو ایک ہے ان پر تو جاں نثار ہے ایک\n\nرہ وفا میں یہ ہے حال عاشقوں کا مدام\nخراب ایک ہے شوریدہ سر تو خار ہے ایک\n\nملوگے ہم سے جو مسکیںؔ دوئی کو دور کرو\nشمار ایک ہے گر دم ہے دو پہ تار ہے ایک", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%8C%DA%A9"} {"title": "کسی کا دل کو رہا انتظار ساری رات", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی کا دل کو رہا انتظار ساری رات\nفلک کو دیکھا کئے بار بار ساری رات\n\nتڑپ تڑپ کے تمنا میں کروٹیں بدلیں\nنہ پایا دل نے ہمارے قرار ساری رات\n\nادھر تو شمع تھی گریاں ادھر تھے ہم گریاں\nاسی طرح پہ رہے اشک بار ساری رات\n\nخیال شمع رخ یار میں جلے تا صبح\nلیا قرار نہ پروانہ وار ساری رات\n\nنہ پوچھ سوز جدائی کو ہم سے اے ہم دم\nجلا کیا یہ دل داغ دار ساری رات\n\nمژہ کے عشق سے آئی نہ نیند آنکھوں میں\nنظر کھٹکتی رہی بن کے خار ساری رات\n\nخیال زلف سیہ میں بہا کئے آنسو\nبندھا رہا مرے رونے کا تار ساری رات\n\nنہ پوچھ ہم سے اثرؔ رات کس طرح کاٹی\nعجب طرح کا رہا انتشار ساری رات", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "کسی کا راغ مطالب کسی کا باغ مراد", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کسی کا راغ مطالب کسی کا باغ مراد\nعوام خلق کو منظور ہے چراغ مراد\nنہیں ہے اپنی مراد آفریدیؔ اس کے سوا\nاگرچہ ہے بھی تو ساقی و یار ایاغ مراد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%D9%85%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AF"} {"title": "کسی کا کام دل اس چرخ سے ہوا بھی ہے", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی کا کام دل اس چرخ سے ہوا بھی ہے\nکوئی زمانہ میں آرام سے رہا بھی ہے\n\nکسی میں مہر و محبت کہیں وفا بھی ہے\nکوئی کسی کا زمانہ میں آشنا بھی ہے\n\nکوئی فلک کا ستم مجھ سے بچ رہا بھی ہے\nجنا نصیب کوئی مجھ سا دوسرا بھی ہے\n\nبرا نہ مانیو میں پوچھتا ہوں اے ظالم\nکہ بے کسوں کے ستائے سے کچھ بھلا بھی ہے\n\nجو پختہ مغز ہیں وے سوز دل نہیں کہتے\nکسی نے شمع سے جلنے میں کچھ سنا بھی ہے\n\nتم اس قدر جو نڈر ہو کے ظلم کرتے ہو\nبتاں ہمارا تمہارا کوئی خدا بھی ہے\n\nتو قاتلوں سے لگاتا ہے دل کو کیوں تاباںؔ\nکہ ان کے ہاتھ سے جیتا کوئی بچا بھی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کسی کو دیکھ کر بے خود دل کام ہو جانا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی کو دیکھ کر بے خود دل کام ہو جانا\nاسی کو لوگ کہتے ہیں خیال خام ہو جانا\n\nمحبت سے جو پیش آئے کوئی ہو دوست یا دشمن\nہمیں تو ہر کسی کا بندۂ بے دام ہو جانا\n\nخدا جانے کہ کیا ہوتا مآل اپنی محبت کا\nبہت اچھا ہوا آغاز میں انجام ہو جانا\n\nمٹانا ہو اگر دھبا ریا کاری کا اے زاہد\nکسی کی بزم میں اک دن شریک جام ہو جانا\n\nجہاں دیکھو وہاں کچھ ذکر ہے اپنی محبت کا\nبرا ہے آدمی کے واسطے بدنام ہو جانا\n\nکرے گا رخنہ پیدا کوئی دن درباں کا ہنگامہ\nقیامت ہے ترے در پر ہجوم عام ہو جانا\n\nحفیظؔ ایسے مسلماں کا بھی کوئی دین و مذہب ہے\nبتوں کی دوستی میں تارک اسلام ہو جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی کو دے کے دل کوئی نواسنجِ فغاں کیوں ہو\nنہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو\n\nوہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں\nسبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سر گراں کیوں ہو\n\nکِیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبّت کو\nنہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میرا راز داں کیوں ہو\n\nوفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا\nتو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو\n\nقفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم\nگری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو\n\nیہ کہہ سکتے ہو “ہم دل میں نہیں ہیں” پر یہ بتلاؤ\nکہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو\n\nغلط ہے جذبِ دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے\nنہ کھینچو گر تم اپنے کو، کشاکش درمیاں کیوں ہو\n\nیہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے\nہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو\n\nیہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں\nعدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو\n\nکہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی\nبجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو\n\nنکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تُو غالبؔ\nترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B3%D9%86%D8%AC_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88"} {"title": "کسی کو لاکھ الم ہو ذرا ملال نہیں", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی کو لاکھ الم ہو ذرا ملال نہیں\nکوئی مرے کہ جیے کچھ انہیں خیال نہیں\n\nیہ جانتا ہوں مگر کیا کروں طبیعت کو\nکہ مے حرام ہے اے واعظو حلال نہیں\n\nعبث غرور ہے منگوا کے آئنہ دیکھو\nوہ رنگ و روپ نہیں اب وہ سن و سال نہیں\n\nحضور آپ جو ہوتے تو کوئی کیوں بنتا\nیہ خوبی آپ کی ہے غیر کی مجال نہیں\n\nادھر تو دیکھو ہمیں دو ہی دن میں بھول گئے\nیہ بے مروتی اللہ کچھ خیال نہیں\n\nبہار حسن یہ دو دن کی چاندنی ہے حضور\nجو بات اب کی برس ہے وہ پار سال نہیں\n\nحذر نہ کیجئے ملنے سے خاکساروں کے\nدعا تو ہے جو فقیروں کے پاس مال نہیں\n\nکسی نے جا کے برائی کہی جو جوہرؔ کی\nکہا یہ جھوٹ ہے اس کی تو یہ مجال نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D9%84%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کسی کو کیا خبر اے صبح وقت شام کیا ہوگا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی کو کیا خبر اے صبح وقت شام کیا ہوگا\nخدا جانے ترے آغاز کا انجام کیا ہوگا\n\nگرفتاران گیسو پر نہیں کچھ منحصر ناصح\nپھنسا ہے جو تعلق میں اسے آرام کیا ہوگا\n\nعبث ہے زاہدوں کو مے کشی میں عذر ناداری\nگرو رکھ لیں اسی کو جامۂ احرام کیا ہوگا\n\nوہی رہ رہ کے گھبرانا وہی نا کار گر آہیں\nسوا اس بات کے تجھ سے دل ناکام کیا ہوگا\n\nاسے بھی جلد اٹھا کر طاق نسیاں کے حوالے کر\nنہیں پیش نظر جب ختم تو ساقی جام کیا ہوگا\n\nیہی ٹوٹے سبو مٹی کے کافی ہیں قناعت کر\nبلوریں جام مے اے رند درد آشام کیا ہوگا\n\nتقرب جن کو ہے ان کو بھی یک گونہ ہے مایوسی\nیہ حالت ہے تو پھر دیدار تیرا عام کیا ہوگا\n\nنہ پوچھو مفتیان شرع کا احوال جانے دو\nتنفر کفر کو جس سے ہو وہ اسلام کیا ہوگا\n\nسحر فرقت کی ہے اور غش پہ غش آتے ہیں عاشق کو\nابھی سے جب یہ حالت ہو گئی تا شام کیا ہوگا\n\nضعیفی میں تو شادؔ اللہ اکبر پی گیا خم تک\nجوانی میں کہو یہ رند مے آشام کیا ہوگا\n\nزمانہ شادؔ بے گاری میں کیوں آخر پھنساتا ہے\nاپاہج کر دیا پیری نے مجھ سے کام کیا ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کسی کی جبہ سائی سے کبھی گھستا نہیں پتھر", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "کسی کی جبہ سائی سے کبھی گھستا نہیں پتھر\nوہ چوکھٹ موم کی چوکھٹ ہے یا میری جبیں پتھر\n\nکھلا اب رکھتے ہیں پہلو میں پنہاں نازنیں پتھر\nنہ تھا معلوم ہیں قلب بتان و مہ جبیں پتھر\n\nبٹھایا خاتم عزت پہ تیرے نام نامی نے\nوگرنہ ہے یہ ظاہر تھا حقیقت میں نگیں پتھر\n\nدکھائے پھر نہ کیوں تاثیر اپنی جذب روحانی\nیقیں ہو جائے جب حاجت روا ہے بالیقیں پتھر\n\nتلاش یار میں کیا خار دامن گیر ہمت ہوں\nہوئے نادم ملے جب سد رہ بن کر کہیں پتھر\n\nجو میں اے کوہکن دوں جان شیریں عشق شیریں میں\nتو دکھلائے بجائے شیر جوئے آبگیں ادائیوں پتھر\n\nگرا دوں فیض اعجاز نبوت سے وہ مومن ہوں\nچھپائیں پھر مخالف گر میان آستیں پتھر\n\nپس مردن رہے قلب و جگر میں گر یہی سوزش\nتو لوح سنگ مرمر ہوگی از خود آتشیں پتھر\n\nیہ کہتا ہے کسی نا مہرباں کا مہرباں ہونا\nپسیجیں گے تری گرمی سے آہ آتشیں پتھر\n\nگریں ہر سنگ دل پر بجلیاں ایسی حوادث کی\nکہ دیتے ہیں گواہی تیری آہ آتشیں پتھر\n\nحبیبؔ آئے کہاں سے تازگی نخل مضامیں میں\nجہاں تک دیکھیے ہے یک قلم یہ گل زمیں پتھر", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A8%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D8%B3%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1"} {"title": "کسی کی عشوہ گری سے بہ غیر فصل بہار", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی کی عشوہ گری سے بہ غیر فصل بہار\nسبھی کا چاک گریباں ہے دیکھیے کیا ہو\n\nتمہیں خبر ہی نہیں اے طیور نغمہ سرا\nیہی چمن یہی زنداں ہے دیکھیے کیا ہو\n\nجہاں کشود نوا پر خزاں کے پہرے ہیں\nوہیں بہار غزل خواں ہے دیکھیے کیا ہو\n\nسبو اٹھا کہ یہ نازک مقام ہے ساقی\nنہ اہرمن ہے نہ یزداں ہے دیکھیے کیا ہو\n\nرواں ہے موج گل و لالہ موج خوں کی طرح\nچمن شہید بہاراں ہے دیکھیے کیا ہو\n\nدرازی شب ہجراں سے مجھ کو خوف نہ تھا\nکسی کی زلف پریشاں ہے دیکھیے کیا ہو\n\nہوا کا رنگ یہ ہے آشیاں تو ایک طرف\nقفس بھی شاخ پہ لرزاں ہے دیکھیے کیا ہو\n\nیہی ہے دل سے شکایت کہ میرا محرم راز\nمجھی سے دست و گریباں ہے دیکھیے کیا ہو\n\nہمیں ہیں پیر مغاں کافروں کے اے عابدؔ\nہمیں کو دعویٰ ایماں ہے دیکھیے کیا ہو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%B4%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%81_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D9%81%D8%B5%D9%84_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1"} {"title": "کسی کی نرگس مخمور کچھ کہہ دے اشاروں میں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی کی نرگس مخمور کچھ کہہ دے اشاروں میں\nمزہ ہے رات دن چلتی رہے پرہیزگاروں میں\n\nجنوں میں دیکھیے میدان کس کے ہاتھ رہتا ہے\nپڑی ہے آبلوں میں پھوٹ اور ایکا ہے خاروں میں\n\nوہ شرمائی ہوئی آنکھیں وہ گھبرائی ہوئی باتیں\nنکل کر گھر سے وہ گھرنا ترا امیدواروں میں\n\nپلک اٹھتی نہیں میری طرف کیا تھک گئیں آنکھیں\nابھی تو ہو رہی تھیں غیر سے باتیں اشاروں میں\n\nکوئی جنت کا خواہاں ہے کوئی کوثر کا طالب ہے\nاڑا کرتی ہے بے پر کی ہمیشہ بادہ خواروں میں\n\nجلانا داغؔ کا اچھا نہیں یہ دم غنیمت ہے\nکہ ایسا با وفا اک آدھ نکلے گا ہزاروں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B1%DA%AF%D8%B3_%D9%85%D8%AE%D9%85%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AF%DB%92_%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کسی کی نیک ہو یا بد جہاں میں خو نہیں چھپتی", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی کی نیک ہو یا بد جہاں میں خو نہیں چھپتی\nچھپائے لاکھ خوشبو یا کوئی بدبو نہیں چھپتی\n\nزباں پر جب تلک آتی نہیں البتہ چھپتی ہے\nزباں پر جب کہ آئی بات اے گل رو نہیں چھپتی\n\nیہاں تو تجھ کو سو پردے لگے ہیں اہل تقوی سے\nبھلا رندوں سے کیوں اے دختر رز تو نہیں چھپتی\n\nسلیقہ کیا کرے اس میں کوئی بیتابی جاں کو\nچھپاؤ سو طرح جب دل ہو بے قابو نہیں چھپتی\n\nحجاب اس میں کہاں ہے بے حجابی جس کی عادت ہو\nچھپا کر لاکھ پیوے گر کوئی دارو نہیں چھپتی\n\nرخ روشن کو تم کیوں چھوڑ کر زلفیں چھپاتے ہو\nچمک رخ کی چھپائے سے تہ گیسو نہیں چھپتی\n\nیہ ریش و جبہ و دستار زاہد کی بناوٹ ہے\nطبیعت بے تکلف جس کی ہو یکسو نہیں چھپتی\n\nکلام اپنا عبث تو اہل دانش سے چھپاتا ہے\nجہاں میں عیشؔ طرز شاعر خوش گو نہیں چھپتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%8C%DA%A9_%DB%81%D9%88_%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%AF_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%AA%DB%8C"} {"title": "کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے\nابھی اس کی دنیا کو لذت نہیں ہے\n\nاگر تم کو ملنے کی فرصت نہیں ہے\nمجھے بھی زیادہ ضرورت نہیں ہے\n\nبہت خوش نما ہے گلستان عالم\nمگر سیر کرنے کی فرصت نہیں ہے\n\nبہت سے گھروں میں خزانے ہیں مدفوں\nنہیں ہے تو گنج قناعت نہیں ہے\n\nکہاں تک نہ بے ہوش و بے خود کرے گی\nمئے وصل ہے کوئی شربت نہیں ہے\n\nخیالات میں اپنے ہوں غرق واعظ\nمجھے کہنے سننے کی فرصت نہیں ہے\n\nدکھاتے نہیں شرم سے روئے روشن\nکوئی کامیابی کی صورت نہیں ہے\n\nتزلزل میں کس واسطے ہے زمانہ\nشب ہجر ہے یہ قیامت نہیں ہے\n\nکہاں اے پری تو کہاں حور جنت\nتری اس کی آپس میں نسبت نہیں ہے\n\nمری قمریوں کے سوا کون انساں\nیہ شمشاد ہے اس کی قامت نہیں ہے\n\nوہ اٹھے تو لاکھوں ہی فتنے اٹھیں گے\nوہ قامت بھی کم از قیامت نہیں ہے\n\nنہ کیوں دل لگے یاں وہ ہے اور خلوت\nیہ حورا نہیں ہے یہ جنت نہیں ہے\n\nجفائیں نہ کیجے نہ کیجے نہ کیجے\nتحمل کی اب مجھ کو طاقت نہیں ہے\n\nتلاطم میں مصروف ہے قطرہ قطرہ\nکوئی شے یہاں بے حقیقت نہیں ہے\n\nجہاں تک بنے تم سے بیداد کر لو\nاگر آنے والی قیامت نہیں ہے\n\nلرزتا ہے کیوں ڈر سے اے جسم لاغر\nیہ دھڑکا ہے دل کا قیامت نہیں ہے\n\nحسینوں کی چاہت حسینوں کی الفت\nمصیبت بھی ہے اور مصیبت نہیں ہے\n\nتمہیں عاشق اور مجھ کو معشوق لاکھوں\nیہاں آدمیوں کی قلت نہیں ہے\n\nسنبھل کر ذرا ناز و اغماض کیجے\nحسینوں کی دنیا میں قلت نہیں ہے\n\nزمانہ میں ہونے کو سب کچھ ہے پرویںؔ\nہمیں کیا امید شفاعت نہیں ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا\nبشر کو زیست ملی موت کو بہانہ ملا\n\nمذاق تلخ پسندی نہ پوچھ اس دل کا\nبغیر مرگ جسے زیست کا مزا نہ ملا\n\nدبی زباں سے مرا حال چارہ ساز نہ کہہ\nبس اب تو زہر ہی دے زہر میں دوا نہ ملا\n\nخدا کی دین نہیں ظرف خلق پر موقوف\nیہ دل بھی کیا ہے جسے درد کا خزانہ ملا\n\nدعا گدائے اثر ہے گدا پہ تکیہ نہ کر\nکہ اعتماد اثر کیا ملا ملا نہ ملا\n\nظہور جلوہ کو ہے ایک زندگی درکار\nکوئی اجل کی طرح دیر آشنا نہ ملا\n\nتلاش خضر میں ہوں رو شناس خضر نہیں\nمجھے یہ دل سے گلہ ہے کہ رہنما نہ ملا\n\nنشان مہر ہے ہر ذرہ ظرف مہر نہیں\nخدا کہاں نہ ملا اور کہیں خدا نہ ملا\n\nمری حیات ہے محروم مدعائے حیات\nوہ رہ گزر ہوں جسے کوئی نقش پا نہ ملا\n\nوہ نامراد اجل بزم یاس میں بھی نہیں\nیہاں بھی فانیؔ آوارہ کا پتا نہ ملا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "کسی کے حسن عالم تاب کی تنویر کے صدقے", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی کے حسن عالم تاب کی تنویر کے صدقے\nکسی بد بخت کی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی\n\nمروت کی ادا پر بند آنکھیں کر کے لٹ جانا\nیہ نادانی سہی لیکن یہ نادانی نہیں جاتی\n\nوہاں دل لے چلا ہے پھر وہی اک بات کہنے کو\nکہی جاتی ہے جو اکثر مگر مانی نہیں جاتی\n\nخداوندا پھر آخر کیا تمنا ہے مرے دل کی\nوہ پہلو میں بھی ہیں لیکن پریشانی نہیں جاتی\n\nکیا تھا میں نے شکوہ آپ نے آنکھیں جھکا لی تھیں\nہوئی مدت مگر اب تک پشیمانی نہیں جاتی\n\nوہی ہے اپنی رندی اور وہی واعظ کی فہمائش\nبری عادت کوئی بھی ہو بہ آسانی نہیں جاتی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B5%D8%AF%D9%82%DB%92"} {"title": "کسی کے سنگ در سے اپنی میت لے کے اٹھیں گے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی کے سنگ در سے اپنی میت لے کے اٹھیں گے\nیہی پتھر پئے تعویذ تربت لے کے اٹھیں گے\n\nگئے وہ دن کہ ہم گرتے تھے اور ہمت اٹھاتی تھی\nوہ دن آیا کہ اب ہم اپنی ہمت لے کے اٹھیں گے\n\nاگر دل ہے تو تیرا درد الفت ساتھ جائے گا\nکلیجا ہے تو تیرا داغ حسرت لے کے اٹھیں گے\n\nیہ پیدا ہوتے ہی رونا صریحاً بدشگونی ہے\nمصیبت میں رہیں گے اور مصیبت لے کے اٹھیں گے\n\nخط قسمت مٹاتے ہو مگر اتنا سمجھ لینا\nیہ حرف آرزو ہاتھوں کی رنگت لے کے اٹھیں گے\n\nمجھے اپنی گلی میں دیکھ کر وہ ناز سے بولے\nمحبت سے دبے جاتے ہیں حسرت لے کے اٹھیں گے\n\nترے کوچے میں کیوں بیٹھے فقط اس واسطے بیٹھے\nکہ جب اٹھیں گے اس دنیا سے جنت لے کے اٹھیں گے\n\nترا راز محبت لے کے آئے لے کے جائیں گے\nامانت لے کے بیٹھے ہیں امانت لے کے اٹھیں گے\n\nہمیں اس نام جپنے کا مزا اس روز آئے گا\nتمہارا نام جس دن زیر تربت لے کے اٹھیں گے\n\nدم آخر ہم آنچل ان کا مضطرؔ کس طرح چھوڑیں\nیہی تو ہے کفن جس کی بدولت لے کے اٹھیں گے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D8%AF%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%AA_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "کسی کے نقش قدم کا نشاں نہیں ملتا", "poet_page": "مصنف:باسط بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی کے نقش قدم کا نشاں نہیں ملتا\nوہ رہ گزر ہوں جسے کارواں نہیں ملتا\n\nقدم قدم پہ تری راہ میں فلک حائل\nمجھے تلاش سے بھی آسماں نہیں ملتا\n\nانہیں طریقۂ لطف و کرم نہیں معلوم\nہمیں سلیقۂ آہ و فغاں نہیں ملتا\n\nعروس دہر کو غازہ بھی چاہئے لیکن\nغبار جادۂ امن و اماں نہیں ملتا\n\nدھڑک رہا ہے ہر اہل وفا کے سینے میں\nہمارا درد بھرا دل کہاں نہیں ملتا\n\nسبھی کو دعوئے مہر و وفا ہے دنیا میں\nجو مہرباں نہ ہو وہ مہرباں نہیں ملتا\n\nغم حیات کے پر ہول قہقہوں کے سوا\nکہیں سے اپنا جواب فغاں نہیں ملتا\n\nدل شکستہ کو لے جائیے کہاں باسطؔ\nدماغ نخوت شیشہ گراں نہیں ملتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%82%D8%AF%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کسی گل میں نہیں پانے کی تو بوئے وفا ہرگز", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی گل میں نہیں پانے کی تو بوئے وفا ہرگز\nعبث اپنا دل اے بلبل چمن میں مت لگا ہرگز\n\nطبیبوں سے علاج عشق ہوتا ہے نپٹ مشکل\nہمارے درد کی ان سے نہیں ہونے کی دوا ہرگز\n\nتجا گھر ایک اور سارے بیاباں کا ہوا وارث\nکوئی مجنوں سا عیارا نہ ہوگا دوسرا ہرگز\n\nبہار آئی ہے کیوں کر عندلیبیں باغ میں جاویں\nقفس کے در کے تئیں کرتا نہیں صیاد وا ہرگز\n\nنہ تھے عاشق کسی بیداد پر ہم جب تلک تاباںؔ\nہمارے دل کے تئیں کچھ درد و غم تب تک نہ تھا ہرگز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DB%81%D8%B1%DA%AF%D8%B2"} {"title": "کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے\nجہاں نہ سمجھو اسی جگہ ہے جہاں سمجھ لو وہیں نہیں ہے\n\nتمہارا وعدہ ہے کیسا وعدہ کہ جس کا دل کو یقیں نہیں ہے\nنگین بے نقش تو ہزاروں یہ نقش ہے اور نگیں نہیں ہے\n\nتصوروں کے فریب اٹھا کر مشاہدہ وہم بن رہا ہے\nنظر نے کھائے ہیں اتنے دھوکے کہ دیکھ کر بھی یقیں نہیں ہے\n\nتلون اک جزر و مد ہے خود ہی تھپیڑوں میں آ پھنسی ہے کشتی\nخبر ہے مدت کے ڈوبے دل کی کہ آج تک تہہ نشیں نہیں ہے\n\nیہ کہتی ہے گردش زمانہ قدم تھمیں گے نہ اب کسی جا\nہے یہ بھی اک آسماں کا ٹکڑا تری گلی کی زمیں نہیں ہے\n\nوفا کی حامی حمیت ان کی حریف امید غیرت ان کی\nنگاہیں اقرار کر رہی ہیں زباں پہ لیکن نہیں نہیں ہے\n\nہوا جو اک دل کا داغ روشن تو ہو گئے کل چراغ روشن\nخیال روشن دماغ روشن بس اب اندھیرا کہیں نہیں ہے\n\nسرشک خونیں کا کل فسانہ لپیٹ رکھا ہے اک ورق میں\nنچوڑنے پر لہو نہ ٹپکے تو آستیں آستیں نہیں ہے\n\nہماری ناکامیٔ وفا نے زمانے کی کھول دی ہیں آنکھیں\nچراغ کب کا بجھا پڑا ہے مگر اندھیرا کہیں نہیں ہے\n\nمجھی پہ کیا ہے نہیں ہے کس میں یہ بت تراشی یہ بت پرستی\nاگر نہ حسن نظر سے دیکھو تو کوئی بھی پھر حسیں نہیں ہے\n\nرہ اطاعت میں آرزوؔ نے قدم قدم پہ کئے ہیں سجدے\nجو آپ کا نقش پا نہیں ہے وہ اس کا نقش جبیں نہیں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%AF%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%88_%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتا", "poet_page": "مصنف:مخمور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتا\nیہاں پتھر بہت ملتے ہیں لیکن دل نہیں ملتا\n\nمحبت کا صلہ ایثار کا حاصل نہیں ملتا\nوہ نظریں بارہا ملتی ہیں لیکن دل نہیں ملتا\n\nتمہارا روٹھنا تمہید تھی افسانۂ غم کی\nزمانہ ہو گیا ہم سے مزاج دل نہیں ملتا\n\nجہاں تک دیکھتا ہوں میں جہاں تک میں نے سمجھا ہے\nکوئی تیرے سوا تعریف کے قابل نہیں ملتا\n\nحرم کی منزلیں ہوں یا صنم خانے کی راہیں ہوں\nخدا ملتا نہیں جب تک مقام دل نہیں ملتا\n\nمسافر اپنی منزل پر پہنچ کر چین پاتے ہیں\nوہ موجیں سر پٹکتی ہیں جنہیں ساحل نہیں ملتا\n\nہم اپنا غم لیے بیٹھے ہیں اس بزم طرب میں بھی\nکسی نغمے سے اب مخمورؔ ساز دل نہیں ملتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "کُشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے\nنیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے\n\nبِٹھا کے عرش پہ رکھّا ہے تو نے اے واعظ!\nخدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے\n\nمری نگاہ میں وہ رند ہی نہیں ساقی\nجو ہوشیاری و مستی میں امتیاز کرے\n\nمدام گوش بہ دل رہ، یہ ساز ہے ایسا\nجو ہو شکستہ تو پیدا نوائے راز کرے\n\nکوئی یہ پُوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہے\nجو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے\n\nسخن میں سوز، الٰہی کہاں سے آتا ہے\nیہ چیز وہ ہے کہ پتھّر کو بھی گداز کرے\n\nتمیزِ لالہ و گُل سے ہے نالۂ بُلبل\nجہاں میں وا نہ کوئی چشمِ امتیاز کرے\n\nغرورِ زُہد نے سِکھلا دیا ہے واعظ کو\nکہ بندگانِ خدا پر زباں دراز کرے\n\nہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبالؔ\nاُڑا کے مجھ کو غبارِ رہِ حجاز کرے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D8%AF%D8%B3%D8%AA%D9%90_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D8%AC%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "کشتۂ ناز دل ربا ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:قمر ہلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل > بیاض عاشقان (1916)", "year": "1916", "text_ur": "کشتۂ ناز دل ربا ہیں ہم\nزخمیٔ خنجر ادا ہیں ہم\n\nکیا کہیں تم سے ہم کہ کیا ہیں ہم\nمظہر نور کبریا ہیں ہم\n\nآپ پر جب سے مبتلا ہیں ہم\nخویش و بیگانے سے جدا ہیں ہم\n\nآپ ہیں اپنے حسن پر شیدا\nآپ اپنے ہی پر فدا ہیں ہم\n\nدونوں عالم سے کچھ نہیں مطلب\nکوچۂ یار کے گدا ہیں ہم\n\nگو بظاہر ہیں صورت آدم\nفی الحقیقت خدا‌ نما ہیں ہم\n\nبس قمرؔ اتنا افتخار ہمیں\nیار کے نقش کفش پا ہیں ہم", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B4%D8%AA%DB%82_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "کشتی میں کپی تیل کی انا انڈیل ڈال", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "ریختی", "year": null, "text_ur": "کشتی میں کپی تیل کی انا انڈیل ڈال\nسوکھے ہیں بال آ کے مرے سر میں تیل ڈال\n\nیا رب شب جدائی تو ہرگز نہ ہو نصیب\nبندی کو یوں جو چاہے تو کولہو میں پیل ڈال\n\nباجی نہ کر نصیحت بے جا جلے ہے دل\nہے آگ سی جو سینے میں اس کو کڑیل ڈال\n\nہوگا جو اس کا وصل تو تھل بیٹھیو رے جی\nیہ ہجر کے جو دن ہیں تو اب ان کو جھیل ڈال\n\nچڑھ مست ہے ددا کہیں اس کی یہ چل بجھے\nرنگیںؔ خدا کے واسطے تو اس کو کھیل ڈال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B4%D8%AA%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%BE%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D9%86%DA%88%DB%8C%D9%84_%DA%88%D8%A7%D9%84"} {"title": "کشتی ہے تباہ دل شدوں کی", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کشتی ہے تباہ دل شدوں کی\nلینا خبر اپنے بے خودوں کی\n\nاے سرو سہی کے ایک گلشن\nچلیو مت چال خوش قدوں کی\n\nکیوں کر وو کرے سلوک ہم سے\nخاطر ہے عزیز حاسدوں کی\n\nتعمیر کنشت دل ہوا جب\nزاہد نہ بنا تھی مسجدوں کی\n\nکہنا مت مان واعظوں کا\nبیہودہ ہے بات بیہدوں کی\n\nداڑھی نہ رہے گی شیخ صاحب\nصحبت میں نہ بیٹھو امردوں کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B4%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%A8%D8%A7%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%D8%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "کشش حسن کی یہ انجمن آرائی ہے", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کشش حسن کی یہ انجمن آرائی ہے\nساری دنیا ترے کوچے میں سمٹ آئی ہے\n\nدرد نے کھوے ہوئے دل کی جگہ پائی ہے\nاک بلا سر سے گئی ایک بلا آئی ہے\n\nجاں نثاروں کو سہارا جو نہ جینے کا ملا\nکوئے قاتل میں قضا کھینچ کے لے آئی ہے\n\nمیں چھپاتا ہوں غم عشق تو بنتا نہیں کام\nاور کہتا ہوں تو گویا مری رسوائی ہے\n\nجگر و دل میں ترازو نہ ہو کیوں ناوک ناز\nاس کو دونوں سے برابر کی شناسائی ہے\n\nدل یہ کہتا ہے وہاں جا کے سنبھل جاؤں گا\nمیں یہ کہتا ہوں کہ بد بخت کی موت آئی ہے\n\nبن کے ناصح وہ یہ کہتے ہیں محبت نہ کرو\nمجھ کو مرنے نہیں دیتے یہ مسیحائی ہے\n\nسب جسے داغ دل و زخم جگر کہتے ہیں\nوہ مرے ناخن غم کی چمن آرائی ہے\n\nکیا ہے دنیا میں نمود اور نمائش کے سوا\nزندگی ہم کو تماشے کے لیے لائی ہے\n\nعشق رسوا کن عالم وہ ہے احسنؔ جس سے\nنیک ناموں کی بھی بد نامی و رسوائی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B4%D8%B4_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کشش سے دل کی اس ابرو کماں کو ہم رکھا بہلا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کشش سے دل کی اس ابرو کماں کو ہم رکھا بہلا\nجو کر قبضے میں دل سب کا پھرے تھا سب سے وہ گہلا\n\nجو گزرا عرش سے یہ نہ فلک کرسی ہے اس آگے\nکرے ہے لا مکاں کی سیر عاشق چھوڑ نو محلا\n\nتھکا آخر کو مجنوں غم سے راہ عشق میں میرے\nغبار خاطر و آنسو کی بارش دیکھ کر چہلا\n\nگلابی لعل کی ہوئی ہر کلی مے نوش سن تجھ کو\nچمن میں ہے کھڑی لے جام نیلم نرگس شہلا\n\nرکھی ہے ہم نے بازی زور سے شمشیر کے دشمن\nکیا چاہے تھا سر واسوخت ہو مجھ نقش سے دہلا\n\nتمہارے حسن کے گلشن میں پیارے کچھ نہ چھوڑوں گا\nرقیبوں کے سر اوپر چڑھ کے توڑوں گا یہ پھل پہلا\n\nنہ تھا ناجیؔ کو لازم طعن کرنا ہر سخن گو پر\nجواب اس شعر کا حاتمؔ نہیں کچھ کام تو کہلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B4%D8%B4_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%DB%81%D9%84%D8%A7"} {"title": "کشمیر", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جنت کی گویا\nتصویر دیکھو\nتصویر کیسی\nکشمیر دیکھو\nکشمیر دیکھو\nدل کش نظارے\nکشمیر کے ہیں\nکل سین پیارے\nکشمیر کے ہیں\nکشمیر دیکھو\nشفاف نہریں\nبل کھانے والی\nکالی گھٹائیں\nلہرانے والی\nکشمیر دیکھو\nہیں باغ اس کے\nشاداب کیسے\nاور پھول پھل ہیں\nنایاب کیسے\nکشمیر دیکھو\nباغ اور بنوں پر\nچھائے ہیں بادل\nگھر گھر کے کیسے\nآئے ہیں بادل\nکشمیر دیکھو\nیہ سرزمیں بھی\nکتنی حسیں ہے\nکشمیر کیا ہے\nخلد بریں ہے\nکشمیر دیکھو\nجنت کا ٹکڑا\nسب کیاریاں ہیں\nکیا خوب صورت\nپھلواریاں ہیں\nکشمیر دیکھو\nسارے جہاں کی\nزینت ہے کشمیر\nہندوستاں کی\nجنت ہے کشمیر دیکھو\nکشمیر دیکھو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1"} {"title": "کعبہ بھی ہے ٹوٹا ہوا بت خانہ ہمارا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کعبہ بھی ہے ٹوٹا ہوا بت خانہ ہمارا\nیا رب رہے آباد یہ ویرانہ ہمارا\n\nباطن کی طرح پاک ہے خم خانہ ہمارا\nکیوں کر نہ اچھوتا رہے پیمانہ ہمارا\n\nجو شمع ہوا کرتی ہے روشن سر بازار\nاس شمع پہ گرتا نہیں پروانہ ہمارا\n\nساقی ترا مے خانہ رہے حشر تک آباد\nبھر جاتا ہے کشکول گدایانہ ہمارا\n\nبہہ جائے گا اس بزم میں اک فیض کا دریا\nآتا ہے چھلکتا ہوا پیمانہ ہمارا\n\nچل سوئے عدم چل ہمیں کیا عذر ہے اے موت\nتیار ہے سامان غریبانہ ہمارا\n\nبن جاتا ہے پھر شیخ کا بھی مرشد کامل\nڈگتا نہیں پیتا ہے جو پیمانہ ہمارا\n\nکس زلف کو سلجھائیں رقیبان سیہ کار\nچھوتا نہیں اس زلف کو پھر شانہ ہمارا\n\nفریاد کناں ہیں کسی پازیب کے دانے\nتوڑے کہیں زنجیر نہ دیوانہ ہمارا\n\nخاروں سے یہ کہہ دو کہ گل تر سے نہ الجھیں\nسیکھے کوئی انداز شریفانہ ہمارا\n\nتاثیر نہ ہو شادؔ تو دینا ہمیں الزام\nکچھ دیر تو سن واعظ حکیمانہ ہمارا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%B9%D9%88%D9%B9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کعبہ سے مجھ کو لائے سواد کنشت میں", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کعبہ سے مجھ کو لائے سواد کنشت میں\nاصلاح دی بتوں نے خط سر نوشت میں\n\nپھرتے ہیں کوچۂ بت قدسی سرشت میں\nدیوانے لاتیں مار رہے بہشت میں\n\nکفارۂ شراب میں دیتا ہوں نقد ہوش\nسرگرم ہوں تلافیٔ اعمال زشت میں\n\nاکثر جزائے سجدہ میں کھانی ہیں ٹھوکریں\nلکھا ہے کیا خط کف پا سر نوشت میں\n\nحوروں سے گرمیاں جو کہوں اس شریر کی\nلگ جائے آگ آتش گل سے بہشت میں\n\nسنتی ہے روز نغمۂ زنجیر عاشقاں\nوہ زلف بھی ہے سلسلۂ اہل چشت میں\n\nزنداں سے آنکھیں سینکنے اس گل کے گھر گئے\nدوزخ سے آگ لینے چلے ہم بہشت میں\n\nبیگانے اک ہمیں نظر آئے پس فنا\nبے دردوں کا ہجوم ہے باغ بہشت میں\n\nبت خانے میں سفیدیٔ حسن فرنگ ہے\nگرجے کی روشنی ہے سواد کنشت میں\n\nجل جل کے خاک ہوتے ہیں بے اشک و آہ ہم\nآب و ہوا نہیں ہے ہماری سرشت میں\n\nگرمی میں تیرے کوچہ نشینوں کے واسطے\nپنکھے ہیں قدسیوں کے پروں کے بہشت میں\n\nسونا کساؤں اشرفی داغ سجدہ کا\nسنگ محک لگاؤں بنائے کنشت میں\n\nبجلی چمک گئی جو ہنسی میں پھڑک گئے\nشوخی بھری ہوئی ہے تمہاری سرشت میں\n\nتصویریں تیری دست حنائی کی لے گئے\nچھاپے لہو کے ہم نے لگائے بہشت میں\n\nکرتی ہیں خون چرخ بتوں کی تعلیاں\nرنگ شفق لگاتی ہے سقف کنشت میں\n\nابر بہار جوہر شمشیر یار تھے\nگلہائے زخم کھل گئے اردی بہشت میں\n\nتقدیر میں ہے تیری دہان و کمر کا عشق\nسر نہاں لکھا ہے مری سر نوشت میں\n\nدی جان ایک حور کے بوسے کی چاٹ پر\nقسمت نے مجھ کو زہر دیا ہے بہشت میں\n\nچوروں سے گفتگوئے خط سبز یار ہے\nطوطی کسی کا بول رہا ہے بہشت میں\n\nادنیٰ غلام شاہ ولایت ہوئے منیرؔ\nدشت نجف کی خاک ہے میری سرشت میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D9%86%D8%B4%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کعبہ میں تو صدق اور صفا کو پایا", "poet_page": "مصنف:جارج پیش شور", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کعبہ میں تو صدق اور صفا کو پایا\nبت خانے میں ناز اور ادا کو پایا\nحاصل نہ ہوا کہیں سے دل کا مقصد\nجب خود ہی میں ڈھونڈھا تو خدا کو پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%B5%D8%AF%D9%82_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B5%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں\nبھولا ہوں حق صحبت اہل کنشت کو\n\nطاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ\nدوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو\n\nہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسم ثواب سے\nٹیڑھا لگا ہے قط قلم سرنوشت کو\n\nغالبؔ کچھ اپنی سعی سے لہنا نہیں مجھے\nخرمن جلے اگر نہ ملخ کھائے کشت کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%88_%D8%B7%D8%B9%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کعبہ و بت خانہ والوں سے جدا بیٹھے ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کعبہ و بت خانہ والوں سے جدا بیٹھے ہیں ہم\nاک بت ناآشنا سے دل لگا بیٹھے ہیں ہم\n\nآپ سے اپنے کو دیوانہ بنا بیٹھے ہیں ہم\nکوئے جاناں چھوڑ کے جنگل میں آ بیٹھے ہیں ہم\n\nکیوں مکدر کر دیا نازک مزاجوں کا مزاج\nکوچۂ جاناں سے چل جا اے صبا بیٹھے ہیں ہم\n\nیہ دعا کعبہ میں کرتے ہیں کہ اس بت سے ملا\nتیرے دروازہ پر آ کر اے خدا بیٹھے ہیں ہم\n\nوہ تو کہتے ہیں کہ اٹھ جائیں میرے کوچہ سے آپ\nہائے کتنی ہو گئی ہیں بے حیا بیٹھے ہیں ہم\n\nسرگرانی ہے عبث ہم خاکساروں سے تمہیں\nیا تو مٹنے کو بسان نقش پا بیٹھے ہیں ہم\n\nاپنا باطن خوب ہے ظاہر سے بھی اے جان جاں\nآنکھ کے لڑنے سے پہلے جی لڑا بیٹھے ہیں ہم\n\nمیں تو کہتا ہوں کہ بزم غیر ہے یاں سے اٹھو\nاور وہ کہتے ہیں مجھ سے تجھ کو کیا بیٹھے ہیں ہم\n\nیا ہمیں اٹھوا دیا یا اٹھ گئے ہیں آپ وہ\nگر کبھی مجلس میں بھی پاس ان کے جا بیٹھے ہیں ہم\n\nبزم تصویر اپنی صحبت ہو گئی ہے ان دنوں\nآشنا دن میں بھی اب نا آشنا بیٹھے ہیں ہم\n\nپڑ گیا ہے ہاتھ جب انگیا پہ اس خوش گات کی\nصورت شہباز چڑیا کو دبا بیٹھے ہیں ہم\n\nگہر سے اٹھنے کی نہیں باہر نہیں رکھنے کے پاؤں\nیار کے سر کی قسم اے مہرؔ کھا بیٹھے ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%D9%88_%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "کعبہ و دیر میں جلوہ نہیں یکساں ان کا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کعبہ و دیر میں جلوہ نہیں یکساں ان کا\nجو یہ کہتے ہیں ٹٹولے کوئی ایماں ان کا\n\nجستجو کے لیے نکلے گا جو خواہاں ان کا\nگھر بتا دے گا کوئی مرد مسلماں ان کا\n\nتو نے دیدار کا جن جن سے کیا ہے وعدہ\nہائے رے ان کی خوشی ہائے رے ارماں ان کا\n\nاپنے مٹنے کا سبب میں بھی بتا دوں اے شوق\nکاش چھو جائے مری خاک سے داماں ان کا\n\nچھوڑ کر آئے ہیں جو صبح وطن سی شے کو\nمرتبہ کچھ تو سمجھ شام غریباں ان کا\n\nجن کی آغوش تصور میں ہے وہ حور جمال\nکہیں سچ ہو نہ یہی خواب پریشاں ان کا\n\nجو اس الجھاؤ کے خود ہیں متمنی دل سے\nکیا بگاڑے گی تری زلف پریشاں ان کا\n\nسر میں سودائے خرد پاؤں میں زنجیر شکوک\nبھید پائے گا نہ اس شکل سے انساں ان کا\n\nہم دعا دیں تجھے دل کھول کے اے پہلوئے تنگ\nٹوٹ کر سینہ میں رہ جائے جو پیکاں ان کا\n\nچاک کرنے کا ہے الزام مرے سر ناحق\nہاتھ ان کے ہیں ہم ان کے ہیں گریباں ان کا\n\nوہ مٹا کیوں نہیں دیتے مجھے حیرت تو یہ ہے\nان کے کہنے میں ہے دل دل میں ہے ارماں ان کا\n\nان شہیدان محبت میں تو میں صاف کہوں\nکوئی اتنا نہیں پکڑے جو گریباں ان کا\n\nوہی ایسے ہیں کہ خاموش ہیں سب کی سن کر\nسب کو دعوا ہے کہ ہوں بندۂ فرماں ان کا\n\nپہلے ہم نیت خالص سے وضو تو کر لیں\nٹھہر اے خاک ٹھہر پاک ہے داماں ان کا\n\nچاہیں دوزخ میں اتاریں کہ جگہ خلد میں دیں\nدخل کیا غیر کو گھر ان کے ہیں مہماں ان کا\n\nکہیں پیوند کی کوشش کہیں تدبیر رفو\nجامۂ تن سے بہت تنگ ہے عریاں ان کا\n\nکیجیے شانہ و آئینہ کی حالت پہ نگاہ\nسینہ صدچاک کوئی ہے کوئی حیراں ان کا\n\nمان لو پاؤں سے زنجیر بھی اتری لیکن\nبھاگ کر جائے کہاں قیدئ زنداں ان کا\n\nجن شہیدوں نے بہ صد درد تڑپ کر دی جان\nچھن گیا ہاتھ سے جیتا ہوا میداں ان کا\n\nہم تو کیا چیز ہیں جبریل تو جا لیں ان تک\nروک لیتا ہے فرشتوں کو بھی درباں ان کا\n\nمست جاتے ہیں خرابات سے مسجد کی طرف\nراہ پر شور ہے اللہ نگہباں ان کا\n\nہم شب ہجر کے جاگے نہ قیامت میں اٹھیں\nجب تلک خواب سے چونکائے نہ ارماں ان کا\n\nوہم تو ہی خلل انداز ہوا ہے ورنہ\nکون جویا نہیں اے رہزن ایماں ان کا\n\nدن قیامت کا ڈھلا سب نے مرادیں پائیں\nرہ گیا دیکھ کے منہ تابع فرماں ان کا\n\nمرنے والوں کا اگر ساتھ دیا پورا کر\nلے جنازہ بھی اٹھا حسرت و ارماں ان کا\n\nحق جتاتے ہیں شہیدان محبت بے کار\nکیا یہ مرنا تھا بڑا کار نمایاں ان کا\n\nشادؔ گھبرا گیا اک عمر سے جیتے جیتے\nوہ بلا لیں مجھے اس وقت تو احساں ان کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DA%A9%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کعبہ و دیر میں ہے کس کے لیے دل جاتا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کعبہ و دیر میں ہے کس کے لیے دل جاتا\nیار ملتا ہے تو پہلو ہی میں ہے مل جاتا\n\nخدمت یار میں میں جبکہ ہوں سائل جاتا\nکچھ نہ کچھ بوسہ و دشنام سے ہے مل جاتا\n\nتیرے دانتوں سے جو ہونے کو مقابل جاتا\nصورت اشک گہر خاک میں مل مل جاتا\n\nپھل ملا ہے یہ تری تیغ سے ہم کو اے ترک\nپھوٹ کی طرح ہر اک زخم ہے کھل کھل جاتا\n\nرخ کے ہوتے ہوے ڈھونڈا نہ دہن کا مضمون\nسہل کو چھوڑ کے کیوں جانب مشکل جاتا\n\nپر تو کترے ہیں یقین ہے کہ چھری بھی پھیرے\nزمزموں سے مرے صیاد ہے ہل ہل جاتا\n\nزخم کاری کی تری تیغ سے اللہ ری خوشی\nرقص کرتا ہوا دنیا سے ہے بسمل جاتا\n\nراہ بھولے ہوے حاجی ہے بھٹکتا ناحق\nکعبۃ اللہ جو جاتا تو سوئے دل جاتا\n\nطرفہ رکھتی ہے خرابات مغاں کیفیت\nہوشیار آ کے ہے اس بزم سے غافل جاتا\n\nراہ میں شان کریمی ہے تری بھر دیتی\nپھر کے خالی کسی در سے جو ہے سائل جاتا\n\nاے صبا تو ہی اڑا کر رخ لیلیٰ دکھلا\nدست مجنوں نہیں تا پردۂ محمل جاتا\n\nکون سی راحت جاں کی ہیں یہ آنکھیں مشتاق\nکر کے اندھیر ہے وہ رونق محفل جاتا\n\nآمد یار کی کانوں سے سنی ہے جو خبر\nچھپ کے پہلو سے ہے آنکھوں کی طرف دل جاتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کعبہ کو جائیں کس لیے اور کیوں کنشت کو", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "کعبہ کو جائیں کس لیے اور کیوں کنشت کو\nپہونچیں یہیں سے بندگیاں سنگ و خشت کو\n\nگر حسن گندمی ترا ان کو نہ تھا پسند\nآدم نے چھوڑا کس لیے باغ بہشت کو\n\nہے میرے آگے ایک گل و خار و نیک و بد\nاللہ نے بنایا ہے ہر خوب و زشت کو\n\nبارش ضرور چاہئے ابر فریب کی\nشطرنج ساں جو چاہے کوئی سبز کشت کو\n\nلایا خدا جو بعد عناصر ظہور میں\nقائم کیا ہے مجھ سے پر ان کی سرشت کو\n\nلکھا خط شکستہ میں ہے یک قلم وقار\nمنشیٔ آسماں نے مری سر نوشت کو", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%86%D8%B4%D8%AA_%DA%A9%D9%88"} {"title": "کعبہ ہے اگر شیخ کا مسجود خلائق", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کعبہ ہے اگر شیخ کا مسجود خلائق\nہر بت ہے مرے دیر کا معبود خلائق\n\nنقصان سے اور نفع سے کچھ اپنے نہیں کام\nہر آن ہے منظور مجھے سود خلائق\n\nمیں دست دعا اس کی طرف کیونکہ اٹھاؤں\nہوتا ہی نہیں چرخ سے مقصود خلائق\n\nپھرتا ہے فلک فکر میں گردش میں یہ سب کی\nہرگز یہ نہیں چاہتا بہبود خلائق\n\nتاباںؔ مرے مذہب کو تو مت پوچھ کہ کیا ہے\nمقبول ہوں خلاق کا مردود خلائق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B3%D8%AC%D9%88%D8%AF_%D8%AE%D9%84%D8%A7%D8%A6%D9%82"} {"title": "کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوریٔ بتاں سے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوریٔ بتاں سے\nآئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سے\n\nتصویر کے سے طائر خاموش رہتے ہیں ہم\nجی کچھ اچٹ گیا ہے اب نالہ و فغاں سے\n\nجب کوندتی ہے بجلی تب جانب گلستاں\nرکھتی ہے چھیڑ میرے خاشاک آشیاں سے\n\nکیا خوبی اس کے منہ کی اے غنچہ نقل کریے\nتو تو نہ بول ظالم بو آتی ہے وہاں سے\n\nآنکھوں ہی میں رہے ہو دل سے نہیں گئے ہو\nحیران ہوں یہ شوخی آئی تمہیں کہاں سے\n\nسبزان باغ سارے دیکھے ہوئے ہیں اپنے\nدلچسپ کاہے کو ہیں اس بے وفا جواں سے\n\nکی شست و شوبدن کی جس دن بہت سی ان نے\nدھوئے تھے ہاتھ میں نے اس دن ہی اپنی جاں سے\n\nخاموشی ہی میں ہم نے دیکھی ہے مصلحت اب\nہر یک سے حال دل کا مدت کہا زباں سے\n\nاتنی بھی بد مزاجی ہر لحظہ میرؔ تم کو\nالجھاؤ ہے زمیں سے جھگڑا ہے آسماں سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%81_%D9%84%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B1%DB%8C%D9%94_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کعبے کا شوق ہے نہ صنم خانہ چاہئے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کعبے کا شوق ہے نہ صنم خانہ چاہئے\nجانانہ چاہئے در جانانہ چاہئے\n\nساغر کی آرزو ہے نہ پیمانہ چاہئے\nبس اک نگاہ مرشد مے خانہ چاہئے\n\nحاضر ہیں میرے جیب و گریباں کی دھجیاں\nاب اور کیا تجھے دل دیوانہ چاہئے\n\nعاشق نہ ہو تو حسن کا گھر بے چراغ ہے\nلیلیٰ کو قیس شمع کو پروانہ چاہئے\n\nپروردۂ کرم سے تو زیبا نہیں حجاب\nمجھ خانہ زاد حسن سے پردا نہ چاہئے\n\nشکوہ ہے کفر اہل محبت کے واسطے\nہر اک جفائے دوست پہ شکرانہ چاہئے\n\nبادہ کشوں کو دیتے ہیں ساغر یہ پوچھ کر\nکس کو زکوٰۃ نرگس مستانہ چاہئے\n\nبیدمؔ نماز عشق یہی ہے خدا گواہ\nہر دم تصور رخ جانانہ چاہئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%D9%88%D9%82_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے\nمجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے\n\nسن کے مرا فسانہ انہیں لطف آ گیا\nسنتا ہوں اب کہ روز طلب قصہ خواں کی ہے\n\nپیغام بر کی بات پر آپس میں رنج کیا\nمیری زبان کی ہے نہ تمہاری زباں کی ہے\n\nکچھ تازگی ہو لذت آزار کے لیے\nہر دم مجھے تلاش نئے آسماں کی ہے\n\nجاں بر بھی ہو گئے ہیں بہت مجھ سے نیم جاں\nکیا غم ہے اے طبیب جو پوری وہاں کی ہے\n\nحسرت برس رہی ہے ہمارے مزار پر\nکہتے ہیں سب یہ قبر کسی نوجواں کی ہے\n\nوقت خرام ناز دکھا دو جدا جدا\nیہ چال حشر کی یہ روش آسماں کی ہے\n\nفرصت کہاں کہ ہم سے کسی وقت تو ملے\nدن غیر کا ہے رات ترے پاسباں کی ہے\n\nقاصد کی گفتگو سے تسلی ہو کس طرح\nچھپتی نہیں وہ بات جو تیری زباں کی ہے\n\nجور رقیب و ظلم فلک کا نہیں خیال\nتشویش ایک خاطر نامہرباں کی ہے\n\nسن کر مرا فسانۂ غم اس نے یہ کہا\nہو جائے جھوٹ سچ یہی خوبی بیاں کی ہے\n\nدامن سنبھال باندھ کمر آستیں چڑھا\nخنجر نکال دل میں اگر امتحاں کی ہے\n\nہر ہر نفس میں دل سے نکلنے لگا غبار\nکیا جانے گرد راہ یہ کس کارواں کی ہے\n\nکیونکہ نہ آتے خلد سے آدم زمین پر\nموزوں وہیں وہ خوب ہے جو سنتے جہاں کی ہے\n\nتقدیر سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ عشق میں\nتدبیر کوئی بھی ستم ناگہاں کی ہے\n\nاردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ\nہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%B3_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کعبے ہی کا اب قصد یہ گمراہ کرے گا", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کعبے ہی کا اب قصد یہ گمراہ کرے گا\nجو تم سے بتاں ہوگا سو اللہ کرے گا\n\nزلفوں سے پڑا طول میں اب عشق کا جھگڑا\nخط آن کے یہ مجہلہ کوتاہ کرے گا\n\nبوسے کی طلب سے تو رہے گا تبھی اے دل\nجب گالیاں دو چار وہ تنخواہ کرے گا\n\nآئینے کو ٹک بھر کے نظر دیکھ تو پیارے\nوہ تجھ کو مرے حال سے آگاہ کرے گا\n\nاحوال دل زار تجھے ہووے گا معلوم\nجب تو کسی مہ وش کی میاں چاہ کرے گا\n\nواہی نہ سمجھ سوزؔ کے پیماں کو تو اے یار\nجو تجھ سے کیا عہد سو نرباہ کرے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%92_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D9%82%D8%B5%D8%AF_%DB%8C%DB%81_%DA%AF%D9%85%D8%B1%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کف مومن سے نہ دروازۂ دوراں سے ملا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کف مومن سے نہ دروازۂ دوراں سے ملا\nرشتۂ درد اسی دشمن ایماں سے ملا\n\nاس کا رونا ہے کہ پیماں شکنی کے با وصف\nوہ ستم گر اسی پیشانیٔ خنداں سے ملا\n\nطالب دست ہوس اور کئی دامن تھے\nہم سے ملتا جو نہ یوسف کے گریباں سے ملا\n\nکوئی باقی نہیں اب ترک تعلق کے لئے\nوہ بھی جا کر صف احباب گریزاں سے ملا\n\nکیا کہیں اس کو جو محفل میں شناسا بھی نہ تھا\nکبھی خلوت میں در آیا تو دل و جاں سے ملا\n\nمیں اسی کوہ صفت خون کی اک بوند ہوں جو\nریگ زار نجف و خاک خراساں سے ملا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%81_%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2%DB%82_%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہے", "poet_page": "مصنف:بہرام جی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہے\nجس بت کو دیکھتا ہوں وہ یاد خدا میں ہے\n\nعاشق ہے جو کہ جامۂ صدق و صفا میں ہے\nمعشوق ہے جو پردۂ حلم و حیا میں ہے\n\nعالم ہے مست سجدۂ جاناں میں تا ابد\nمستی بلا کی بادۂ قالو بلیٰ میں ہے\n\nایماں ہے عکس رخ تو ہے گیسو کا عکس کفر\nوہ کون چیز ہے جو تری ماسوا میں ہے\n\nابرو کے محو کعبے میں صورت کے دیر میں\nعشاق رخ کا سلسلہ نور و ضیا میں ہے\n\nبے جلوہ گاہ یار کہاں یہ رجوع خلق\nبحث فضول برہمن و پارسا میں ہے\n\nجویا ہے بس کہ عارض و گیسوئے یار کا\nپابند شیخ سجدۂ صبح و مسا میں ہے\n\nرفتار معجزہ ہے تو ہے سحر چال میں\nشوخی عجب طرح کی ترے نقش پا میں ہے\n\nتیری طرف کو مسلم و کافر کی ہے رجوع\nپوجا میں برہمن ہے تو زاہد دعا میں ہے\n\nمقتول لاکھوں ہو چکے شائق ہزارہا\nلذت عجیب یار کی تیغ جفا میں ہے\n\nاک پیچ و خم میں گبر و مسلماں ہیں مبتلا\nوسعت بلا کی یار کی زلف رسا میں ہے\n\nبہرامؔ عاشقانہ غزل ایک اور بھی\nقوت ابھی بہت تری فکر رسا میں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AA_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "کفر عشق آیا بدل مجھ مومن دیں دار تک", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کفر عشق آیا بدل مجھ مومن دیں دار تک\nنوبت با صندل و قشقہ ہے بل زنار تک\n\nاشٹ کا اشلوک اک راہب نے بت خانے کے بیچ\nمجھ کو بتلایا کہ بھولا غیر ذکر اذکار تک\n\nشعبدہ دنیا کا کم فرصت بہت ہے جوں حباب\nزندگی ہے تا زمانہ وعدۂ اقرار تک\n\nکام ہے مطلب سے چاہے کفر ہووے یا کہ دیں\nجا پہنچتا ہے کسی صورت سے اپنے یار تک\n\nآفریدیؔ چھوڑ مت ہرگز در پیر مغاں\nہاتھ آوے دختر رز ساغر سرشار تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%81%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "کفر مومن ہے نہ کرنا دلبراں سے اختلاط", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کفر مومن ہے نہ کرنا دلبراں سے اختلاط\nکر لیا کعبے نے بھی کے دن بتاں سے اختلاط\n\nبندہ اس بلبل کا ہوں جو بوئے گل کے واسطے\nگرم رکھے ہائے ہر خار خزاں سے اختلاط\n\nخاکساروں کی ہے الفت رہروان عشق سے\nجیسے گرد راہ کا ہے کارواں سے اختلاط\n\nکیوں نہ ہووے پختہ و بر جستہ روشن دل کا شعر\nدود و شعلے سا سخن کو ہے زباں سے اختلاط\n\nدل شکن کے واسطے دست دعا عزلتؔ اٹھائے\nجیسے غنچے کا نسیم گلستاں سے اختلاط", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%81%D8%B1_%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B7"} {"title": "کفر میں بھی ہم رہے قسمت سے ایماں کی طرف", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کفر میں بھی ہم رہے قسمت سے ایماں کی طرف\nشکر ہے کعبہ بھی نکلا کوئے جاناں کی طرف\n\nکچھ اسیران قفس کے بخت ہی برگشتہ ہیں\nبوئے گل پھر پھر گئی الٹی گلستاں کی طرف\n\nدیکھتے مر کر کسی پر لطف عمر جاوداں\nکیوں گئے خضر و سکندر آب حیواں کی طرف\n\nدیکھیے کیا گل کھلائے فصل گل آتی تو ہے\nہاتھ ابھی سے دوڑتے ہیں جیب و داماں کی طرف\n\nرشک کہتا ہے کہ پونچھے ہوں گے اس سے اشک غیر\nہاتھ اٹھ کر رہ گیا سو بار داماں کی طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "کفر کیا تثلیث کیا الحاد کیا اسلام کیا", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "کفر کیا تثلیث کیا الحاد کیا اسلام کیا\nتو بہر صورت کسی زنجیر میں جکڑا ہوا\nتوڑ سکتا ہے تو پہلے توڑ دے سب قید و بند\nبیڑیوں کے ساز پر نغمات آزادی نہ گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D8%AB%D9%84%DB%8C%D8%AB_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کل اس کے چہرے کو ہم نے جو آفتاب لکھا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل اس کے چہرے کو ہم نے جو آفتاب لکھا\nتو اس نے پڑھ کے وہ نامہ بہت عتاب لکھا\n\nجبیں کو مہ جو لکھا تو کہا ہو چیں بہ جبیں\nیہ کیسی اس کی سمجھ تھی جو ماہتاب لکھا\n\nچمکتے دانتوں کو گوہر لکھا تو ہنس کے کہا\nستارے اڑ گئے تھے جو در خوش آب لکھا\n\nلکھا جو مشک خطا زلف کو تو بل کھا کر\nکہا خطا کی جو یہ حرف نا صواب لکھا\n\nگلاب عرق کو لکھا تو یہ بولا ناک چڑھا\nاسے نہ عطر میسر تھا جو گلاب لکھا\n\nجگر کباب لکھا اپنا تو کہا جل کر\nبھلا جی کیا میں شرابی تھا جو کباب لکھا\n\nحساب شوق کا دفتر لکھا تو جھنجھلا کر\nکہا میں کیا متصدی تھا جو حساب لکھا\n\nجو بے حساب لکھا اشتیاق دل تو کہا\nوہ کس حساب میں ہے یہ بھی بے حساب لکھا\n\nہوئے جو رد و بدل ایسے کتنے بار نظیر\nتو اس نے خط کا ہمارے نہ پھر جواب لکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کل اپنے مُریدوں سے کہا پِیرِ مغاں نے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کل اپنے مُریدوں سے کہا پِیرِ مغاں نے\nقیمت میں یہ معنی ہے دُرِناب سے دہ چند\nزہراب ہے اُس قوم کے حق میں میء افرنگ\nجس قوم کے بچّے نہیں خوددار و ہُنرمند", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%D9%8F%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D9%BE%D9%90%DB%8C%D8%B1%D9%90_%D9%85%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%92"} {"title": "کل اے آشوب نالہ آج نہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل اے آشوب نالہ آج نہیں\nآج ہنگامہ پر مزاج نہیں\n\nغیر اس کے کہ خوب روئیے اور\nغم دل کا کوئی علاج نہیں\n\nاب بھی قیمت ہے دل کی گوشۂ چشم\nاتنی یہ جنس بے رواج نہیں\n\nشہ کو بھی چاہئے ہے گور و کفن\nکون ہے جس کو احتیاج نہیں\n\nدل سے بس ہاتھ اٹھا تو اب اے عشق\nدہ ویران پر خراج نہیں\n\nدو جہاں بھی ملیں تو بس ہے ہمیں\nیاں کچھ اتنی تو احتیاج نہیں\n\nکر نہ جرأت تو اے طبیب کہ یہ\nدل کا دھڑکا ہے اختلاج نہیں\n\nمیں تو قائمؔ کہے تھا تجھ سے آہ\nدل نازک ہے یہ زجاج نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D8%A7%DB%92_%D8%A2%D8%B4%D9%88%D8%A8_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%A2%D8%AC_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئی\nدو دو بچن کے ہونے میں اک بات ہو گئی\n\nکن کن مصیبتوں سے ہوئی صبح شام ہجر\nسو زلفیں ہی بناتے اسے رات ہو گئی\n\nگردش نگاہ مست کی موقوف ساقیا\nمسجد تو شیخ جی کی خرابات ہو گئی\n\nڈر ظلم سے کہ اس کی جزا بس شتاب ہے\nآیا عمل میں یاں کہ مکافات ہو گئی\n\nخورشید سا پیالۂ مے بے طلب دیا\nپیر مغاں سے رات کرامات ہو گئی\n\nکتنا خلاف وعدہ ہوا ہوگا وہ کہ یاں\nنومیدی و امید مساوات ہو گئی\n\nآ شیخ گفتگوے پریشاں پہ تو نہ جا\nمستی میں اب تو قبلۂ حاجات ہو گئی\n\nٹک شہر سے نکل کے مرا گریہ سیر کر\nگویا کہ کوہ و دشت پہ برسات ہو گئی\n\nدیدار کی گرسنگی اپنی یہیں سے دیکھ\nاک ہی نگاہ یاروں کی اوقات ہو گئی\n\nاپنے تو ہونٹ بھی نہ ہلے اس کے روبرو\nرنجش کی وجہ میرؔ وہ کیا بات ہو گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کل تو کھیلے تھا وہ گلی ڈنڈا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل تو کھیلے تھا وہ گلی ڈنڈا\nڈنڈ پیل آج ہو گیا سنڈا\n\nلال کرتا ہے عشق عاشق کو\nآگ میں جیسے سرخ ہو کنڈا\n\nدل ہے یوں زخم دار ڈاس فلک\nجیسے ہوتا ہے مچھلی کا کھنڈا\n\nسب میں مشہور ہے شجاعت مرغ\nباہ افزوں کرے نہ کیوں انڈا\n\nقلعۂ چرخ پر شب ہجراں\nجا کے گاڑا ہے آہ نے جھنڈا\n\nمصحفیؔ غم میں اس سہی قد کے\nسوکھ کر ہو گیا ہے سرکنڈا\n\nحکم ہے مفلسی کا مفلس کو\nشام سے تو چراغ کر ٹھنڈا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84%DB%92_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%DA%88%D9%86%DA%88%D8%A7"} {"title": "کل تک اس کی وہ مہربانی تھی", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل تک اس کی وہ مہربانی تھی\nآج دیکھا تو سرگرانی تھی\n\nکیا غمگین اس نے ہم کو نت\nجس کے ملنے کی شادمانی تھی\n\nگو بہ ظاہر وہ غیر سے تھا دو چار\nہم سے بھی دوستی نبھانی تھی\n\nجل بجھے تب کھلا پتنگوں پر\nشمع اور دوستی زبانی تھی\n\nآ گیا رحم اس کے دل میں آہ\nہم نے یوں اپنی مرگ ٹھانی تھی\n\nسو گیا سنتے ہی وہ غم کی مرے\nسرگزشت اس کے تئیں کہانی تھی\n\nنہ جہاں دارؔ جانے تھا اے میرؔ\nدوستی مدعیٔ جانی تھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D8%AA%DA%A9_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "کل تک تھی خلد خانہ زاد دہلی", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کل تک تھی خلد خانہ زاد دہلی\nہے خواب و خیال آج یاد دہلی\nجز نام ہمیں یاد نہیں اب نقشہ\nتھا سایۂ عنقا کہ سواد دہلی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D8%AA%DA%A9_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AE%D9%84%D8%AF_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%D8%AF%DB%81%D9%84%DB%8C"} {"title": "کل جو تم ایدھر سے گزرے ہم نظر کر رہ گئے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل جو تم ایدھر سے گزرے ہم نظر کر رہ گئے\nجی میں تھا کچھ کہیے لیکن آہ ڈر کر رہ گئے\n\nجب نہ کچھ بس چل سکا اپنا تو پھر حسرت سے ہائے\nدیکھ کر منہ کو ترے اک آہ بھر کر رہ گئے\n\nسر بہت پٹکا قفس میں اپنا ہم نے ہم صفیر\nکوئی نہ پہنچا داد کو فریاد کر کر رہ گئے\n\nنامہ بر کی یا کبوتر کی کہ دل کی رکھیے آس\nاپنے تو یاں سے گئے جو واں وہ مر کر رہ گئے\n\nکل کسی کا ذکر خیر آیا تھا مجلس میں حسنؔ\nاس دل بے تاب پر ہم ہاتھ دھر کر رہ گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "کل جو رخ عرق فشاں یار نے ٹک دکھا دیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل جو رخ عرق فشاں یار نے ٹک دکھا دیا\nپانی چھڑک کے خواب سے فتنے کو پھر جگا دیا\n\nاس کے شرار حسن نے شعلہ جو اک دکھا دیا\nطور کو سر سے پاؤں تک پھونک دیا جلا دیا\n\nپھر کے نگاہ چار سو ٹھہری اسی کے رو بہ رو\nاس نے تو میری چشم کو قبلہ نما بنا دیا\n\nمیرا اور اس کا اختلاط ہو گیا مثل ابر و برق\nاس نے مجھے رلا دیا میں نے اسے ہنسا دیا\n\nمیں ہوں پتنگ کاغذی ڈور ہے اس کے ہاتھ میں\nچاہا ادھر گھٹا دیا چاہا ادھر بڑھا دیا\n\nتیشے کی کیا مجال تھی یہ جو تراشے بے ستوں\nتھا وو تمام دل کا زور جس نے پہاڑ ڈھا دیا\n\nگزرے جو سوئے خانقاہ واں بھی بہ شکل جانماز\nاہل صلوٰۃ و زہد کو فرش کیا بچھا دیا\n\nنکلے جو راہ دیر سے اک ہی نگاہ مست میں\nگبر کا صبر کھو دیا بت کو بھی بت بنا دیا\n\nشکوہ ہمارا ہے بجا مفت بروں سے کس لیے\nہم نے تو اپنا دل دیا ہم کو کسی نے کیا دیا\n\nسن کے ہمارے حال کا یار نے اک سخن نظیرؔ\nہنس کے کہا کہ بس جی بس تم نے تو سر پھرا دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D8%AE_%D8%B9%D8%B1%D9%82_%D9%81%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D9%B9%DA%A9_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کل جو رونے پر مرے ٹک دھیان اس کا پڑ گیا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل جو رونے پر مرے ٹک دھیان اس کا پڑ گیا\nہنس کے یوں کہنے لگا کچھ آنکھ میں کیا پڑ گیا؟\n\nبیٹھے بیٹھے آپ سے کر بیٹھتا ہوں کچھ گناہ\nپاؤں پڑنے کا جو اس کے مجھ کو چسکا پڑ گیا\n\nجنگ جوئی کیا کہوں اس کی کہ کل پرسوں میں آہ\nصلح ٹک ہونے نہ پائی تھی کہ جھگڑا پڑ گیا\n\nسوزش دل کچھ نہ پوچھو تم کہ ٹک سینے پہ رات\nہاتھ رکھتے ہی ہتھیلی میں پھپھولا پڑ گیا\n\nبس کہ تھا بے بال و پر میں دامن صیاد پر\nخون بھی اڑ کر دم بسمل نہ میرا پڑ گیا\n\nجو مرے بد گو ہیں تم ان کو سمجھتے ہو بھلا\nواہ وا مجھ سے تمہیں یہ بیر اچھا پڑ گیا\n\nکیوں پڑا دم توڑتا ہے بستر غم پر دلا\nآہ کس بے درد کے ملنے میں توڑا پڑ گیا\n\nبہتری کا منہ نہ دیکھا مر ہی کر پائی نجات\nکڑھتے کڑھتے دل مرا بیمار ایسا پڑ گیا\n\nباتیں کرتے کرتے پیارے دل دھڑکنے کیوں لگا\nسن کے کچھ آہٹ کہو کیا دل میں کھٹکا پڑ گیا\n\nرک گیا ایسا ہی وہ جو پھر نہ آیا کل جو ٹک\nہاتھ اس کے پاؤں پر بھولے سے میرا پڑ گیا\n\nمیں تو یاں اس بات پر اپنے پڑا ملتا ہوں ہاتھ\nاور سارے شہر میں کچھ اور چرچا پڑ گیا\n\nگرچہ ہوں میں نام کو جرأتؔ پر اب اس کی طرف\nآنکھ اٹھا سکتا نہیں یہ دل میں خطرا پڑ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%B9%DA%A9_%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DA%91_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کل سیں بے کل ہے مرا جی یار کوں دیکھا نہ تھا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل سیں بے کل ہے مرا جی یار کوں دیکھا نہ تھا\nکیوں نہ ہووے بیتاب دل دل دار کوں دیکھا نہ تھا\n\nہے بجا گر ہووے غزل خواں مثل بلبل دل مرا\nنوبہار گلشن دیدار کوں دیکھا نہ تھا\n\nکیونکہ ہووے زاہد خود بیں مرید زلف یار\nاس نے ساری عمر میں زنار کوں دیکھا نہ تھا\n\nاب مشبک ہو گیا اس تیر مژگاں کے طفیل\nجس دل نازک نے نوک خار کوں دیکھا نہ تھا\n\nابرو پر چیں کوں تیرے دیکھ دل حیراں ہوا\nکیا مگر شمشیر جوہر دار کوں دیکھا نہ تھا\n\nسینۂ گل دار میرا اس کوں آیا ہے پسند\nیار نے شاید کبھی گل زار کوں دیکھا نہ تھا\n\nدیکھ اشک گرم کوں میرے کہا اس نے سراجؔ\nمیں کبھی اس ابر آتش بار کوں دیکھا نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کل سے دل بیمار کی حالت نہیں اچھی", "poet_page": "مصنف:عاشق حسین بزم آفندی", "kind": "poetry", "section": "غزل > ایاغ بزم (1927)", "year": "1927", "text_ur": "کل سے دل بیمار کی حالت نہیں اچھی\nاللہ کرے خیر ہو صورت نہیں اچھی\n\nاس شوخ سے ملنے کی یہ صورت نہیں اچھی\nموت اچھی مگر غیر کی منت نہیں اچھی\n\nمیں عاشق گیسو ہوں بہلتا ہے یہیں دل\nکیوں کر یہ کہوں قبر کی وحشت نہیں اچھی\n\nدیکھو کہ گلے ملتے ہی سر کاٹتی ہے تیغ\nسچ کہتے ہیں ظالم کی محبت نہیں اچھی\n\nکہہ کر کمر یار کو معدوم ہوئے غم\nہر جا پہ طبیعت کی بھی جودت نہیں اچھی\n\nقاتل تجھے دے گا لب ہر زخم دعائیں\nہر وقت نمک ڈال یہ خست نہیں اچھی\n\nاے شیخ نہ کر شوق میں حوروں کی عبادت\nہرگز نہ ملیں گی تری نیت نہیں اچھی\n\nیہ کہہ کے لحد میری وہ کر جاتے ہیں پامال\nپھر اس کو بناؤ کہ یہ تربت نہیں اچھی\n\nاک عیب بھی ہے حسن کے ہم راہ بتوں میں\nصورت اگر اچھی ہے تو سیرت نہیں اچھی\n\nہے ہے تجھے کس ظالم بے رحم نے روندا\nحالت جو تری سبزۂ تربت نہیں اچھی\n\nکیوں طور شرار رخ روشن سے جلائے\nکہہ دے کوئی ان سے یہ شرارت نہیں اچھی\n\nجاتے ہی ترے چھا گئی گھر بھر میں اداسی\nمیں کیا در و دیوار کی حالت نہیں اچھی\n\nعشاق کو وہ دیکھتے ہیں چشم غضب سے\nاک مصحف رخ میں یہی صورت نہیں اچھی\n\nپیدا کرو انداز نئے تازہ ادائیں\nظلم و ستم و جور میں جدت نہیں اچھی\n\nمیں نے جو کہا رنج ہے کیا مرگ عدو کا\nبولے کہ نہیں میری طبیعت نہیں اچھی\n\nاے دیدۂ تر رو کہ کٹیں ہجر کی راتیں\nبرسات میں پانی کی یہ قلت نہیں اچھی\n\nگھیرا جو مجھے دائرۂ رنج و الم نے\nکیا میرے مقدر کی کتابت نہیں اچھی\n\nاے بزمؔ اٹھا کرتا ہے کیوں درد جگر میں\nسچ کہہ کسے دیکھا کہ طبیعت نہیں اچھی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C"} {"title": "کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھا\nشام سے تا صبح دم بالیں پہ سر یکجا نہ تھا\n\nشہرۂ عالم اسے یمن محبت نے کیا\nورنہ مجنوں ایک خاک افتادۂ ویرانہ تھا\n\nمنزل اس مہ کی رہا جو مدتوں اے ہم نشیں\nاب وہ دل گویا کہ اک مدت کا ماتم خانہ تھا\n\nاک نگاہ آشنا کو بھی وفا کرتا نہیں\nوا ہوئیں مژگاں کہ سبزہ سبزۂ بیگانہ تھا\n\nروز و شب گزرے ہے پیچ و تاب میں رہتے تجھے\nاے دل صد چاک کس کی زلف کا تو شانہ تھا\n\nیاد ایامے کہ اپنے روز و شب کی جائے باش\nیا در باز بیاباں یا درمے خانہ تھا\n\nجس کو دیکھا ہم نے اس وحشت کدے میں دہر کے\nیا سڑی یا خبطی یا مجنون یا دیوانہ تھا\n\nبعد خوں ریزی کے مدت بے حنا رنگیں رہا\nہاتھ اس کا جو مرے لوہو میں گستاخانہ تھا\n\nغیر کے کہنے سے مارا ان نے ہم کو بے گناہ\nیہ نہ سمجھا وہ کہ واقع میں بھی کچھ تھا یا نہ تھا\n\nصبح ہوتے وہ بناگوش آج یاد آیا مجھے\nجو گرا دامن پہ آنسو گوہر یک دانہ تھا\n\nشب فروغ بزم کا باعث ہوا تھا حسن دوست\nشمع کا جلوہ غبار دیدۂ پروانہ تھا\n\nرات اس کی چشم میگوں خواب میں دیکھی تھی میں\nصبح سوتے سے اٹھا تو سامنے پیمانہ تھا\n\nرحم کچھ پیدا کیا شاید کہ اس بے رحم نے\nگوش اس کا شب ادھر تا آخر افسانہ تھا\n\nمیرؔ بھی کیا مست طافح تھا شراب عشق کا\nلب پہ عاشق کے ہمیشہ نعرۂ مستانہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D8%B4%D8%A8_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہوگا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہوگا\nاے میں قربان وفا وعدۂ فردا ہوگا\n\nحشر کے روز بھی کیا خون تمنا ہوگا\nسامنے آئیں گے یا آج بھی پردا ہوگا\n\nہم نہیں جانتے ہیں حشر میں کیا کیا ہوگا\nیہ خوشی ہے کہ وفا وعدۂ فردا ہوگا\n\nتو بتا دے ہمیں صدقے ترے اے شان کرم\nہم گنہ گار ہیں کیا حشر ہمارا ہوگا\n\nلاکھ پردوں میں کوئی اے نگہ شوق رہے\nدیکھ لے گا جو کوئی دیکھنے والا ہوگا\n\nایسی لے دے ہوئی آ کر کہ الٰہی توبہ\nہم سمجھتے تھے کہ محشر میں تماشا ہوگا\n\nسعی ہر گام میں کی ہے یہ سمجھ کر ہم نے\nوہی ہوگا جو مشیت کا تقاضا ہوگا\n\nپی کے آیا عرق شرم جبیں پر جو کبھی\nچہرے پر بادہ کشو نور برستا ہوگا\n\nرہنے دے گا نہ دم ذبح کوئی حلق کو خشک\nمیکدے میں ہمیں اتنا تو سہارا ہوگا\n\nمجھے کیا ڈر ہے کہ ہوں گے مرے سرکار شفیع\nمجھے کیا ڈر ہے کہ تو بخشنے والا ہوگا\n\nشرم عصیاں سے نہیں اٹھتی ہیں پلکیں اپنی\nہم گنہ گار سے کیا حشر میں پردا ہوگا\n\nکعبہ سنتے ہیں کہ گھر ہے بڑے داتا کا ریاضؔ\nزندگی ہے تو فقیروں کا بھی پھیرا ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کل منج وزیر دل تھے قاصد بشارت آیا", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل منج وزیر دل تھے قاصد بشارت آیا\nیا حضرت سلیماں کن تھے اشارت آیا\n\nخوش نین نیر سیتی تن خاک کوں گلاوو\nدل کے مندہر کوں سر تھے وقت عمارت آیا\n\nمیرا سو عیب ڈھانکو اے مے سوں بھیگے کپڑے\nاو پاک دامن آپی ہمنا بچارت آیا\n\nمنج یار حسن تھے جے بولے ہیں باتاں بے حد\nیک باب ہے سو ان میں جو اس عبارت آیا\n\nجاگا سو ہر یکس کا ہووے گا آج پرگٹ\nاو چھند بھریا سو چندا بیٹھن صدارت آیا\n\nجم کے سو تخت اوپر جے تاج سور چند ہے\nچمٹے کی دیکھو ہمت جو اس حقارت آیا\n\nاس شوخ دید تھے یوں ایماں اپس سنبھالیں\nاو ساحر کماندار کرنے سو غارت آیا\n\nقطباؔ توں داس شہ کا جم فیض اس تھے مانگیں\nسودا ہے تج پرم سب وقت تجارت آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D9%85%D9%86%D8%AC_%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%D8%A8%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کل میرؔ نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل میرؔ نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابی\nآخر کو گرو رکھا سجادۂ محرابی\n\nجاگا ہے کہیں وہ بھی شب مرتکب مے ہو\nیہ بات سجھاتی ہے ان آنکھوں کی بے خوابی\n\nکیا شہر میں گنجائش مجھ بے سر و پا کو ہو\nاب بڑھ گئے ہیں میرے اسباب کم اسبابی\n\nدن رات مری چھاتی جلتی ہے محبت میں\nکیا اور نہ تھی جاگا یہ آگ جو یاں دابی\n\nسو ملک پھرا لیکن پائی نہ وفا اک جا\nجی کھا گئی ہے میرا اس جنس کی نایابی\n\nخوں بستہ نہ کیوں پلکیں ہر لحظہ رہیں میری\nجاتے نہیں آنکھوں سے لب یار کے عنابی\n\nجنگل ہی ہرے تنہا رونے سے نہیں میرے\nکوہوں کی کمر تک بھی جا پہنچی ہے سیرابی\n\nتھے ماہ وشاں کل جو ان کوٹھوں پہ جلوے میں\nہے خاک سے آج ان کی ہر صحن میں مہتابی\n\nکل میرؔ جو یاں آیا طور اس کا بہت بھایا\nوہ خشک لبی تس پر جامہ گلے میں آبی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C"} {"title": "کل نشے میں تھا وہ بت مسجد میں گر آ جاتا", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل نشے میں تھا وہ بت مسجد میں گر آ جاتا\nایماں سے کہو یارو پھر کس سے رہا جاتا\n\nمردے کو جلا لیتے گرتے کو اٹھا لیتے\nاک دم کو جو یاں آتے تو آپ کا کیا جاتا\n\nیہ کہیے کہ دھیان اس کو آتا ہی نہیں ورنہ\nمحشر سے تو سو فتنے وہ دم میں اٹھا جاتا\n\nمحفل میں مجھے دیکھا تو ہنس کے لگے کہنے\nآنے سے ہر اک کے ہے صحبت کا مزا جاتا\n\nایذائیں یہ پائی ہیں مقدور اگر ہوتا\nمیں رسم تعشق کو دنیا سے اٹھا جاتا\n\nکیوں پاس مرے آ کر یوں بیٹھے ہو منہ پھیرے\nکیا لب ترے مصری ہیں میں جن کو چبا جاتا\n\nکیا جلوہ نما وہ مہ کوٹھے پہ ہوا آ کر\nکچھ آج سویرے سے سورج ہے چھپا جاتا\n\nیہ کاہشیں کیوں ہوتیں گھبرا کے اگر یہ دل\nپہلو سے نکل جاتا آرام سا آ جاتا\n\nاچھا ہوا محفل میں مجروحؔ نہ کچھ بولا\nوہ حال اگر کہتا تو کس سے سنا جاتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D9%86%D8%B4%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B1_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کل نظر آیا چمن میں اک عجب رشک چمن", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل نظر آیا چمن میں اک عجب رشک چمن\nگل رخ و گلگوں قبا و گلغدار و گل بدن\n\nمہر طلعت زہرہ پیکر مشتری رو مہ جبیں\nسیم بر سیماب طبع و سیم ساق و سیم تن\n\nتیر قد نشتر نگہ مژگاں سناں ابرو کماں\nبرق ناز و رزم ساز و نیزہ باز تیغ زن\n\nزلف و کاکل خال و خط چاروں کے یہ چاروں غلام\nمشک تبت مشک چیں مشک خطا مشک ختن\n\nنازنیں ناز آفریں نازک بدن نازک مزاج\nغنچہ لب رنگیں ادا شکر دہاں شیریں سخن\n\nبے مروت بے وفا بے درد بے پروا خرام\nجنگجو قتال وضع و سرفراز و سر فگن\n\nدوش و بر دنداں و لب چاروں سے یہ چاروں خجل\nنسترن برگ سمن در عدن لعل یمن\n\nسختی و بے رحمی و ظلم و جفا اس شوخ کے\nمعتمد مومی الیہ مستشار و موتمن\n\nمبتلا ایسے ہی خوش وضعوں کے ہوتے ہیں نظیرؔ\nبے قرار و دل فگار و خستہ حال بے وطن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%A9_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%DA%86%D9%85%D9%86"} {"title": "کل نغمہ گر جو مطربِ جادو ترانہ تھا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل نغمہ گر جو مطربِ جادو ترانہ تھا\nہوش و حواس و عقل و خرد کا پتا نہ تھا\n\nیہ بت کہ جائے شیب ہے، جب تھا نقاب میں\nعہدِ شباب اور بتوں کا زمانہ تھا\n\nمعلوم ہے ستاتے ہو ہر اک بہانے سے\nقصداً نہ آئے رات، حنا کا بہانہ تھا\n\nحسرت سے اس کے کوچے کو کیوں کر نہ دیکھئے\nاپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا\n\nکیا مے کدوں میں ہے کہ مدارس میں وہ نہیں\nالبتہ ایک واں دلِ بے مدعا نہ تھا\n\nساقی کی بے مدد نہ بنی بات رات کو\nمطرب اگرچہ کام میں اپنے یگانہ تھا\n\nکچھ آج ان کی بزم میں بے ڈھب ہے بندوبست\nآلودہ مے سے دامنِ بادِ صبا نہ تھا\n\nدشمن کے فعل کی تمہیں توجیہ کیا ضرور\nتم سے فقط مجھے گلۂ دوستانہ تھا\n\nکل شیفتہ سحر کو عجب حالِ خوش میں تھے\nآنکھوں میں نشہ اور لبوں پر ترانہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D9%86%D8%BA%D9%85%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B7%D8%B1%D8%A8%D9%90_%D8%AC%D8%A7%D8%AF%D9%88_%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کل وصل میں بھی نیند نہ آئی تمام شب", "poet_page": "مصنف:ممنونؔ نظام الدین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل وصل میں بھی نیند نہ آئی تمام شب\nایک ایک بات پر تھی لڑائی تمام شب\n\nیہ بھی ہے ظلم تو کہ اسے وصل میں رہا\nذکر طلوع صبح جدائی تمام شب\n\nکس بے ادب کو عرض ہوس ہر نگہ میں تھی\nآنکھ اس نے بزم میں نہ اٹھائی تمام شب\n\nیاں التماس شوق وہاں احتراز ناز\nمشکل ہوئی تھی عہدہ برائی تمام شب\n\nکیا سر پہ کوہ کن کے ہوئی بے ستوں سے آج\nممنوںؔ صدائے تیشہ نہ آئی تمام شب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%AF_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%A8"} {"title": "کل وہ جو پئے شکار نکلا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل وہ جو پئے شکار نکلا\nہر دل ہو امیدوار نکلا\n\nجینے کی نہیں امید ہم کو\nتیر اس کا جگر کے پار نکلا\n\nہم خاک بھی ہو گئے پر اب تک\nدل سے نہ ترے غبار نکلا\n\nجوں بام پہ بے نقاب ہو کر\nوہ ماہ رخ ایک بار نکلا\n\nاس روز مقابل اس کے خورشید\nنکلا بھی تو شرمسار نکلا\n\nغم خوار ہو کون اب ہمارا\nجب تو ہی نہ غم گسار نکلا\n\nتھے جس کی تلاش میں ہم اب تک\nپاس اپنے ہی وہ نگار نکلا\n\nہر چند میں کی سرشک باری\nپر دل سے نہ یہ بخار نکلا\n\nبیدارؔ ہے خیر تو کہ شب کو\nجوں شمع تو اشک بار نکلا\n\nگزرا ہے خیال کس کا جی میں\nایسا جو تو بے قرار نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%D8%A6%DB%92_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "کل پتنگ اس نے جو بازار سے منگوا بھیجا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل پتنگ اس نے جو بازار سے منگوا بھیجا\nسادہ مانجھے کا اسے ماہ نے گولا بھیجا\n\nنام کا اس کے جو میں کہہ کے معما بھیجا\nیہ بھی حرکت ہے بری اس نے یہ فرما بھیجا\n\nاس کی فرمائشیں کیا کیا نہ بجا لایا میں\nکبھی پٹا کبھی لچکا کبھی گوٹا بھیجا\n\nقیس و فرہاد کو جاگیر یہی عشق نے دی\nایک کو کوہ ملا ایک کو صحرا بھیجا\n\nسوزن و شانہ و آئینہ خریدے ہم نے\nکبھی بھیجا بھی تو اس گل کو یہ سودا بھیجا\n\nپھر تہ خاک مرا داغ جگر تازہ ہوا\nکس نے تربت پہ مری لالۂ حمرا بھیجا\n\nعاشقوں میں اسے گنتے نہیں وارستہ مزاج\nجس نے تا نوک قلم حرف تمنا بھیجا\n\nداغ دل زخم جگر کلفت غم درد فراق\nحضرت عشق نے کیا کیا نہیں تحفہ بھیجا\n\nمصحفیؔ جا کے وہاں بھول گئے کیا ہم کو\nکبھی یاران عدم نے جو نہ پرزہ بھیجا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%D9%BE%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%86%DA%AF%D9%88%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AC%D8%A7"} {"title": "کل چمن میں گل و سمن دیکھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل چمن میں گل و سمن دیکھا\nآج دیکھا تو باغ بن دیکھا\n\nکیا ہے گلشن میں جو قفس میں نہیں\nعاشقوں کا جلا وطن دیکھا\n\nذوق پیکان تیر میں تیرے\nمدتوں تک جگر نے چھن دیکھا\n\nگھر کے گھر جلتے تھے پڑے تیرے\nداغ دل دیکھے بس چمن دیکھا\n\nایک چشمک دو صد سنان مژہ\nاس نکیلے کا بانکپن دیکھا\n\nشکر زاہد کا اپنی آنکھوں میں\nمے عوض خرقہ مرتہن دیکھا\n\nحسرت اس کی جگہ تھی خوابیدہ\nمیرؔ کا کھول کر کفن دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%D9%88_%D8%B3%D9%85%D9%86_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کل کا وعدہ نہ کرو دل مرا بیکل نہ کرو", "poet_page": "مصنف:آفتاب شاہ عالم ثانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل کا وعدہ نہ کرو دل مرا بیکل نہ کرو\nکل پڑے گی نہ مجھے مجھ سے یہ کل کل نہ کرو\n\nکہیں جلا دے نہ اسے شعلۂ آہ عاشق\nپلکوں کی ٹٹی کے تئیں آنکھوں کی اوجھل نہ کرو\n\nکر چکی تیغ نگاہ کام تو پل ہی میں تمام\nتیر پلکوں کا مقابل مرے پل پل نہ کرو\n\nاس کو ہر شب ہے زوال اس کو نہیں ہے کچھ نقص\nبدر کو چہرے سے اس کے متمثل نہ کرو\n\nدکھ نہ پاوے کہیں وہ نازنیں گردن پیارے\nتکیہ زنہار سر بالش مخمل نہ کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%DA%A9%D9%84_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "کل کا گھوڑا", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "طنز و مزاح", "year": null, "text_ur": "جناب ایڈیٹر صاحب رسالہ نمائشالسلام علیکم!آپ جانتے ہیں کہ آج کل کی نئی پود نے ملک کی بہبودی کے لئے ڈاکے کو جائز قرار دیا ہے۔ چنانچہ بنگالہ کی حالت اس کی کھلی ہوئی مثال ہے۔ اگر یہ اصول صحیح ہے تو میں بھی’’پنج کہیں بلی تو بلی ہی سہی‘‘ کے مقولے پر عمل کر کے اردو کی خاطر انگریزی ادب پر ڈاکہ ڈالتا ہوں۔ لیکن مال کی ہیئت تبدیل کرنے کے لئے بہت کچھ کتر بیونت کر دیتا ہوں تاکہ شناخت کی وجہ سے ڈاکے کا الزام عائد نہ ہو سکے۔ اگر چوری کا مال خریدنے اور نکاسی کرنے کی ہمت ہے تو بسم اللہ۔ نمائش میں کسی جگہ جما دیجئے ورنہ واپس فرمائیے۔ خدا کے فضل سے دنیا میں مال مسروقہ خریدنے والوں کا توڑا نہیں۔ مال کھرا ہے، میں کہیں اور دام کھرے کر لوں گا۔دیکھئے ایک راز کی بات بھی کہے دیتا ہوں۔ کسی سے کہیئے گا نہیں۔ اس مضمون کا کچھ خاکہ جون 1909 کے پیر یسنز میگزین سے اڑایا گیا ہے لیکن اضافہ واقعات اور طرز ادا نے دونوں مضمونوں میں زمین آسمان کا فرق پیدا کر دیا ہے۔ کوئی بے وقوف سے بے وقوف بھی نہ کہے گا کہ یہ مال فلاں مال کو گلا کر بنایا گیا ہے۔ پیرسنز میگزین بھی اس کے ساتھ بھیجتا ہوں۔ آپ مقابلہ کر کے اپنی عقل کا اندازہ لگا لیجئے۔ والسلامکم ترین مرزا الم نشرحموجد دنیا میں سیکڑوں ہیں اور ہوتے چلے آئے ہیں۔ مگر توبہ توبہ! خدا کسی کو میرے دوست مسٹر مور جیسا موجد نہ کرے۔ بندہ خدا کو دنیا سے کوئی واسطہ ہی نہ رہا تھا۔ جب دیکھو اپنے دارالتجربہ میں بیٹھے ہیں، جب جاؤ اس کو توڑا، اس کو جوڑ رہے ہیں۔ بیٹھے بیٹھے آندھ آجاتی تھی مگر وہ اللہ کا بندہ یہ بھی نہیں پوچھتا تھا کہ میاں خیریت سے تو ہو۔ ہزاروں ایجادوں سے دنیا کو مالا مال کر دیا لیکن یہ بھی نہ سمجھے کہ دنیا ہے کیا بلا اور دنیا میں ہو کیا رہا ہے۔ جنگ عظیم میں ان کی بیسیوں ایجادیں کام میں لائی گئیں لیکن ان کو یہ بھی خبر نہ ہوئی کہ جنگ کب چھڑی! کون جیتا کون ہارا۔ ایک دن میں نے باتوں باتوں میں ذکر کیا کہ اس لڑائی میں بیلجیم نے اپنی بساط سے بہت زیادہ ہمت دکھائی۔ پوچھنے لگے کہ یہ مسٹر بلیجیم کون صاحب ہیں اور کہاں رہتے ہیں۔ بھلا ایسوں کی صحبت سے کسی کا کیا دل بہل سکتا ہے۔میں تو ٹھہرا بیوپاری کہ پیسوں کے لیےمردہ کا کفن بھی اتروا لوں۔ اور مسٹر مور ٹھہرے ایسے بے پروا کہ اپنی کسی ایجاد کی رجسٹری تک نہ کروائی۔ میں نے کئی دفعہ کہا بھی تو یہی جواب ملا کہ ہر ایجاد عامہ خلائق کے فائدے کے لیے ہے۔ کسی شخص کا حق نہیں ہے اور نہ ٹکے پیدا کرنے کے لیے ہے۔ ایک دوربین ایجاد کی تھی۔ گھر کے باہر سے گھر کے اندر کا حال دکھاتی تھی لیکن میرے یار نے اس کی بھی رجسٹری نہ کرائی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک کار خانے نے اپنے نام سے اس کی رجسٹری کرا کے لاکھوں روپے کھرے کر لیے۔ جب میں نے مور سے اس کا ذکر کیا تو وہ یہ بھی نہ سمجھے کہ اس کارخانے پر ہرجہ کا دعویٰ ہو سکتا ہے۔ بہر حال مور کی ایجادات دریا کی لہریں تھیں کہ یکے بعد دیگرے پیدا ہوتی تھیں اور بغیر ان کو فائدہ پہنچائے ان کی حد تک فنا ہو جاتی تھیں۔ گو دوسرے ان سے پوری طرح متمتع ہوتے تھے۔اگر باپ دادا نے جائیداد نہ چھوڑی ہوتی تو میرے یا رکبھی کے محتاج خانے پہنچا دیے گئے ہوتے۔ ان کی ذات سے سب ہی کو فائدہ پہنچتا تھا۔ نہ پہنچتا تھا تو مجھ کو۔ کیونکہ مجھے خبر تک نہ ہوتی تھی کہ ان کی کوئی تازہ ایجاد کب مکمل ہوئی اور کب نصیب دشمناں ہو گئی۔ خود مور سے تو اس کی توقع رکھنی فضول تھی کہ وہ اس کا ذکر مجھ سے کرتے۔ اگر حال کھلتا تھا تو اخباروں سے اور’’اب پچھتائے کیا ہوت ہے جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔‘‘ کی مثل ہمیشہ مجھ پر صادق آتی تھی۔ اگر میری مالی حالت اچھی ہوتی تو میں پروا بھی نہ کرتا لیکن کاروبار کے مندے اور اکثر بیوپاریوں کی نا دہندی نے مجھ کو کھک کر دیا تھا۔ ایسی صورت میں آپ ہی انصاف کیجئے کہ اپنے سچے مگر حاجت مند دوست کےساتھ مور کی یہ بے التفاتی قابل شکایت ہے یا نہیں۔ایک دن میں پریشانی کی حالت میں دفتر سے سیدھا مور کے ہاں پہنچا۔ معلوم ہوا کہ وہ اپنے دارالتجربہ میں کچھ کام کر رہے ہیں۔ وہیں چلا گیا۔ اس روز ان کی طبیعت کچھ بشاش معلوم ہوتی تھی۔ میرے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر پوچھنے لگے، ’’یہ کیا کتاب ہے۔‘‘ میں نے کہا دہلی کے ایک شاعر میر حسن نے ایک مثنوی اردو میں لکھی تھی اس کا انگریزی ترجمہ ہے۔ پوچھا کہ مضمون کیا ہے۔ میں نے کہا یوں ہی واہی تباہی بکا ہے۔ ایک کل کا گھوڑا بنایا ہے۔ اس پر سوار ہو کر شاہ زادہ آسمان پر ہوا خوری کو جایا کرتا تھا۔ غرض اسی طرح کی بے تکی باتیں ہیں۔ مجھ سے اتنا سنتے ہی مور کے چہرہ پر سرخی دوڑ گئی۔ آنکھیں چمکنے لگیں اور کہنے لگے، ’’ذرا مجھ کو کل کے گھوڑے والا حصہ سناؤ۔‘‘ میں نے کتاب میں سے وہ داستان نکالی اور پڑھنا شرو ع کیا۔ لیکن پڑھنے میں خلاف فطرت باتوں کے متعلق شاعر کا مذاق بھی اڑاتا گیا۔ میں پڑھ ہی رہا تھا کہ مور نے نہایت غصیلی آواز سے کہا، ’’اوبے ادب خاموش! تجھ جیسا جاہل اس عالی قدر شاعر کو کیا سمجھ سکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ شاعر ہی نہ تھا بلکہ بجلی کی قوت اور کل پرزوں کی ترکیب کا بھی پورا ماہر تھا۔ تم جیسوں کے لیے اس کی باتیں مضحکہ خیز ہوں تو ہوں لیکن سمجھنے والے کے لیے اس کا ہر نکتہ چراغ ہدایت ہے۔‘‘ یہ سن کر میں دم بخود ہو گیا۔ کیونکہ ڈرتا تھا کہ یہ حضرت کہیں بجلی کے ایک جھٹکے میں میرے جسم کے ذرات بناکر ہوا میں نہ اڑا دیں۔ اس لیے ٹالنے کے لیے مسکرا کر کہا کہ، ’’اگر تم کو یہ کتاب پسند ہے تو میں چھوڑے جاتا ہوں۔ میرے تو کسی کام کی نہیں۔ اس سے کیا بہتر ہے کہ میرے کسی دوست کے کام آجائے۔‘‘ مور نے کتاب میرے ہاتھ سے لے لی۔ میرا بہت بہت شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’’یار عزیز اس کتاب نے اس وقت دماغ میں ایک نیا خیال پیدا کر دیا ہے۔ اس کو میں عملی صورت دینا چاہتا ہوں۔ بس اب آپ اپنے گھر سدھاریں تو بہتر ہے۔ اچھا خدا حافظ۔‘‘ اس کی یہ اکھڑی اکھڑی باتیں سن کر بڑی کوفت ہوئی اور میں دل میں اس کو صلواتیں سناتا ہوا اپنے گھر چلا آیا۔چند روز تک میرا مور کے پاس جانا نہ ہو سکا۔ ایک دن جو ادھر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ مور کے دارالتجربہ میں ایک نہایت خوب صورت مشکی گھوڑا کھڑا ہنہنا رہا ہے۔ مجھے مور کے پاس گھوڑا دیکھ کر بڑا تعجب ہوا کیونکہ بھلا ایسے شخص کو ایسی چیزوں سے کیا واسطہ۔ میں خود گھوڑوں کا بہت بڑا شوقین ہوں۔ کوئی گھوڑ دوڑ نہیں ہوتی جس میں اپنا کام ہرج کر کے نہ جاؤں۔ اس گھوڑے کو جو دیکھا تو بظاہر جاندار پایا۔ پاس جا کر تھپکا۔ سم دیکھے۔ بھونریاں دیکھیں۔ جوڑ دیکھے۔ غرض ہر طرح بے عیب پایا۔ اتنے میں مور بھی اپنے کسی تجربے سے فارغ ہو کر میرے پاس آ کھڑے ہوئے۔ میں نے پوچھا، ’’یار من یہ گھوڑا کہا ں سے مار لائے اور لاکر کہاں رکھا ہے کہ دارالتجربہ میں۔ کیا خون کا امتحان کر رہے ہو یا بجلی سے علاج۔‘‘مور نے بڑے زور سے قہقہہ مارا اور کہا، ’’یار جانی! یہ وہی میر حسن کی مثنوی والا گھوڑا ہے۔ فرق اتنا ہے کہ یہ صرف دوڑتا ہے۔ اڑ نہیں سکتا۔ میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ شاعر غضب کا دماغ لے کر آیا تھا۔ پرزے تو میں نے بھی نکال لیے مگر ان کو بٹھا نہیں سکتا۔ خیر آئندہ دیکھا جائے گا۔‘‘ مجھے مور کی یہ گفتگو بہت بری معلوم ہوئی۔ گویا ہم کو اندھا بنا رہا ہے۔ میں اس کو برا بھلا کہتا رہا مگر وہ برابر ہنستا رہا۔ آخر کہنے لگا کہ ’’ کیا واقعی تم اس کو اصلی گھوڑا سمجھتے ہو؟‘‘ میں نے کہا، ’’اور نہیں تو کیا یہ مٹی کا ہے۔‘‘مور مٹی کا نہیں تو کل کا ضرور ہے۔میں تو کیا میں اندھا ہوں۔مور تو اس کا اندازہ تم خود کر لو۔یہ کہہ کر اس نے گھوڑے کے ایک پہلو کو دبایا اور پہلو کا پہلو اٹھا کر دوسری طرف الٹ دیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ گھوڑے کے پیٹ میں ہزاروں تار ادھر سے ادھر دوڑے ہوئے ہیں۔ سیکڑوں پرزے اس سرےسے اس سرے تک بیٹھے ہوئے ہیں اور بیسیوں مقناطیس اور بیٹریاں جا بجا جمی ہوئی ہیں۔ یہ دیکھ کر میرے ہوش گم ہو گئے۔ جب ذرا سنبھلا تو پوچھا کہ مور کیا واقعی یہ گھوڑا دوڑ سکتا ہے؟مور تو کیا میں نے یہ بچوں کا کھلونا بنایا ہے۔ میاں دوڑے گا اور خوب دوڑے گا۔میں اور اس کی انتہائی رفتار۔مور اس کا تو میں کوئی صحیح اندازہ نہیں کر سکتا لیکن میرے خیال میں کم از کم 300 میل فی گھنٹہ ہوگی۔میں 300 میل!مور ہاں 300 تین سو میل بلکہ کچھ زیادہ۔یہ سنتے ہی مجھے ٹکے پیدا کرنے کا خیال آ گیا اور سوچا کہ اس گھوڑے سے کچھ فائدہ اٹھانا چاہئے۔ میں نے مور پر ڈورے ڈالنے شروع کئے۔ کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ اگر یہ دو تین دوڑیں بھی جیت گیا تو بس میرے دلدر پار ہو گئے۔میں کیوں یار اسے ڈربی کے گھوڑ دوڑ میں کیوں نہیں دوڑاتے؟مور ڈربی کیا بلا ہے؟میں نے اس کو سمجھانا چاہا مگر گھوڑ دوڑ کا مطلب نہ اس کو سمجھ میں آتا تھا نہ آیا۔ آخر تھک کر میں نے اس سے کہا، ’’اچھا یہ تو بتاؤ اس کی رفتار کم زیادہ ہو سکتی ہے؟مور یہ بھی ایک ہی کہی۔ اگر رفتار کم زیادہ نہ ہو سکے تو پھر ایجاد ہی کیا خاک ہوئی۔\n\nمیں خیر یہ تو بتاؤ اس گھوڑے کا تم کروگے کیا۔ کیا اچار ڈالو گے۔مور کچھ نہیں کوئی صاحب آ کر اٹھا لے جائیں گے۔ پھر نہ گھوڑے کو مجھ سے کچھ کام اور نہ مجھ کو گھوڑے سے کچھ غرض۔میں تو پھر یہ مجھے ہی دے ڈالو۔مور تم ہی لے جاؤ۔ اور سچ تو یہ ہے کہ یہ حق بھی تمہارا ہی ہے۔ تمہاری ہی کتاب سے یہ پیدا ہوا ہے اور تم ہی اس کے سب سے زیادہ مستحق ہو۔اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ میں نے مور سےاس کے چلانے کی پوری ترکیب سیکھ لی۔ گھوڑے کو کمرے سے نکالا، سوار ہو کر گھر آیا۔ اور تھان پر باندھ دیا۔ اس کے ایک دو روز بعد میں مور کے پاس گیا۔ اس گھوڑے کا کچھ ذکر بھی چھیڑا لیکن میرے یار کو یہ بھی یاد نہ رہا کہ اس نے ایسا کوئی گھوڑا بنایا بھی تھا یا نہیں۔ چلو گئی گزری بات ہوئی۔میرا ارادہ ہوا کہ ڈربی سے پہلے اس گھوڑے کو دو تین چھوٹی موٹی دوڑوں میں بھگا لوں تاکہ لوگ اس کی حالت سے آگاہ ہو جائیں اور ایک دفعہ ایسی بڑی دوڑ میں شریک ہونے کے متعلق کوئی ضابطہ کا اعتراض نہ ہو سکے۔ رجسٹر میں گھوڑے کا اندراج کرنے کے لیے گھوڑ دوڑ کے مہتمم نے اس کا نام دریافت کیا۔ یہ ٹیڑھی کھیر تھی اور میں اس کے لئے تیار نہ تھا لیکن میری تیزی طبع نے اس مشکل کو بہ آسانی رفع کر دیا۔ پہلے میں نے اس کا نام آدم بتایا۔ مہتمم نے ماں اور باپ کا نام پوچھا۔ میں نے کہا کہ آدم کی پیدائش کے لئے ماں باپ کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر جب انہوں نے ضابطے کی دفعہ بتائی تو مجھے لا چار نام تبدیل کرنا پڑا۔ آخر سوچتے سوچتے’’ایجاد‘‘ نام سمجھ میں آیا۔ ’’ضرورت‘‘ کو ایجاد کی ماں بتایا اور ’تجربہ‘ کو اس کا باپ دادا۔ پر دادا کا نام دریافت کیا گیا تو نادر شاہ کے نسب نامے پر عمل کر کے شمشیر ابن شمشیر ابن شمشیر کے بجائے ترقی ابن ترقی ابن ترقی کا سلسلہ ستر پشت تک گنوا دیا۔ یہ بیان کافی سمجھا گیا اور ’’ایجاد‘‘ کے نام سے میرے گھوڑے کی رجسٹری ہو گئی۔اب دوسری مشکل چابک سوار کی تھی۔ سوار ایسا ہونا چاہئے تھا جس کا نام فہرست چابک سواران میں بھی درج ہو۔ اور جو لفظ ضمیر اوراس کے مفہوم سے بالکل بے خبر ہو، اور ساتھ ہی قابل اعتبار بھی ہو۔ ظاہر ہے ان صفات کا انسان ملنا آسان نہیں۔ مگر مثل مشہور ہے جو یندہ پائندہ۔ ایک اللہ کے بندے کو ڈھونڈ ڈھانڈ کر نکال ہی لیا۔ اس کا نام فہرست میں تو ضرور تھا لیکن مرد میدان نہ تھے۔ دو چار مرتبہ گھوڑ دوڑ میں شریک بھی ہوئے مگر اپنی نا اہلی سے جیتے ہوئے گھوڑوں کو ہرا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ روٹیوں کو محتاج ہو گئے۔آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جس کے کھانے کو رزق اور مرنے کو موت نہ ہو۔ وہ بے چارہ ضمیر اور اس کے پیچیدہ مسائل کی بحث میں کیوں جانے لگا۔ قصہ مختصر انہوں نے بلا پس و پیش نہایت خوشی سی میری ملازمت قبول کر لی۔ مجھے ان کی تما م صفتوں میں ان کی خاموشی سب سے زیادہ پسند آئی۔ ان کی خاموشی کا آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تصاویر ان کی خاموشی پر رشک کرتی تھیں اور بت اس دیو جانسن کلبی کے سامنے افلاطون او سسرو معلوم ہوتے تھے۔ان کا نام تو کلیمینٹس، جولیس، آگسٹس جو فری ڈی گبریلیو تھا لیکن اپنی خاموشی کو نبھانے کے لئے یہ صرف اپنا نام ’’کل‘‘ بتایا کرتے تھے۔ چلو چھٹی ہوئی۔ گھوڑا بھی کل کا اور چلانے والا بھی مجسم ’’کل۔‘‘یہاں بات یہ ہے کہ یہ سب بن پڑے کا سودا ہے۔ جب تقدیر سیدھی ہو جاتی ہے تو سب مشکلیں اپنے آپ کھلتی چلی جاتی ہیں۔ چند ہی روز میں گھوڑا بھی مل گیا اور کوڑا بھی مل گیا۔ اب رہ گئی دوڑ۔ وہ تو پہلے سے جیتی جتائی رکھی تھی۔غرض اسی طرح دن پر دن گزرتے گئے اور آخر کار گھوڑ دوڑ کا دن آ گیا لیکن اس گھوڑے نے ایسی گم نامی میں پرورش پائی تھی کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ تھی کہ ’’ایجاد‘‘ کیا بلا ہے۔ کس دَم کَس کا ہے اور اس کے جیتنے کی توقع بھی ہے یا نہیں۔ عین گھوڑ دوڑ کے دن صبح کو مور کی پہلی بے وقوفی کا اظہار ہوا۔ شاید اس کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ زین گھوڑے کی کمر پر کسا جاتاہے۔ اگر معلوم ہوتا تو رفتار بدلنے کے بٹن پیٹھ پر قائم نہ کرتا۔ پہلی رفتار کا تعلق لگام سے رکھا تھا لیکن بقیہ جس قدر تیز رفتاریاں تھیں ان کے بٹن آگے پیچھے گھوڑے کی پیٹھ پر لگا دیے تھے۔ آخر مسٹر کل نے اس معمے کو حل کیا اور زین بجائے پیٹھ کے ’’ایجاد‘‘ کے پٹھوں پر کس دیا۔ چوں کہ رکابوں کے لیے جگہ نہ تھی اس لیےان کو سرے سے اڑا ہی دیا۔ اور مسٹر کل زین پر اکڑوں بیٹھ کر مقابلے کے لیے میدان میں اس طرح داخل ہوئے کہ ان کی سوکھی سوکھی ٹانگوں کے گھٹنے ان کے کانوں سے اوپر نکل گئے تھے۔ کمر دہری ہو کر کمان بن گئی تھی، او ر وہ گھوڑے کے ہر جھٹکے پر زین سے پھدکتے اور پھر وہیں آ بیٹھتے تھے۔رغبت اور نفرت دیوانگی کی ابتدائی حالتوں کا نام ہے۔ طبیعت ایک چیز کو بلا وجہ پسند کرتی ہے اور دوسری کو بلا سبب نا پسند۔ یہی حالت گھوڑ دوڑ کے گھوڑوں کی ہے۔ بعض گھوڑوں کو محض اس وجہ سے پسند کیا جاتا ہے کہ ان کے باپ داداؤں نے یہ کار گزاریاں دکھائی تھیں او ر بعض کو اس لیے نظر سے گرا دیا جاتا ہے کہ ان کا سلسلہ نسب حضرت آدم کے گھوڑے تک نہیں پہنچتا۔ میرے بے چارے گھوڑے کو اس طوفان بے تمیزی میں کون پوچھتا۔ اس کی حالت بس اس نواب بو چڑیا راجہ پنساری کی سی تھی جو پشتینی نوابوں اور راجاؤں کے کسی جلسے میں آ گیا ہو۔ کسی نے نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا کہ یہ گھوڑا ہے یا گھوڑی، گدھا ہے یا خچر۔ جب یہ صورت ہو تو بھلا اس چیز کا کون اندازہ کر نے لگا کہ واقعی یہ گھوڑا ہے بھی یا نہیں۔ البتہ مسٹر کل کے طریقہ نشست کا بڑا خاکہ اڑایا گیا۔ مگر اس اللہ کے بندے نے یہ بھی سمجھنے کی کوشش نہ کی کہ یہ فقرے اس پر کسے جا رہے ہیں یا کسی اور پر۔ شرطوں کی یہ حالت تھی کہ بعض گھوڑوں پر ایک کے دو بھی مشکل سے ملتے تھے مگر ’ایجاد‘ پر ایک ایک کے سو سو دینے پر لوگ تیار تھے۔ میں نے بھی اپنی جمع پونجی سب اس شرط پر لگا دی۔ اور نہایت اطمینان کے ساتھ کرسی پر بیٹھ کر نتیجہ کا منتظر رہا۔گھنٹی بجی، جھنڈی گری اور گھوڑے تیر کی طرح نکلے۔ مسٹر کل نے یہ ہوشیاری کی کہ ایجاد کو شتر بے مہار نہیں کیا بلکہ اس کو نہایت احتیاط سے چلاتا ہوا لایا اور صرف ناک کی پھننگ سے سے یہ دوڑ جیتی۔ ہزاروں کے دیوالے نکل گئے اور میں نے صرف ایک دوڑ میں دس لاکھ روپے سمیٹ لیے۔ اس میں سے ایک لاکھ روپے تو مسٹر کل کے حصے میں آئے اور بقیہ نے میری حالت قابل رشک بنا دی۔ تمام دنیا میں اس دوڑ کا چرچا ہو گیا۔ تین اخباروں کے مضامین کے کچھ حصے نقل کرتا ہوں۔ اس سے لوگوں کے خیالات کا اندازہ لگ سکے گا۔’اخبار گھوڑ دوڑ‘لکھتا ہے، ’’ہم کو معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جو گھوڑا گزشتہ دوڑ میں جیتا ہے وہ سلطان روم کی خاص سواری کا تھا اور محض اس کی قوت اور کس کا اندازہ کرنے کے لیے تبدیل نام کے ساتھ اس کو اس دوڑ میں شریک کیا گیا تھا۔ ہم نے اپنے قارئین کی اطلاع کے لیے ہزاروں روپے خرچ کر کے یہ بھی دریافت کر لیا ہے کہ اس گھوڑے کی نسل پوشیدہ رکھنے میں انتہائی کوشش کی جاتی ہےاور بچہ پیدا ہونے کے بعد ہی ماں اور باپ دونوں کو مار دیا جاتا ہے تاکہ نسل زیادہ نہ بڑھے۔ یہ اب تک پتا نہ چلا کہ ان گھوڑوں کا جنگل صحرائے عرب کے کس حصے میں واقع ہے۔ البتہ یہ ضرور معلوم ہو چکا ہے کہ جتنے سائیس اور سوار اس جنگل میں ہیں، ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئی ہیں اور زبانیں کاٹ لی گئی ہیں تاکہ کسی کو اس جنگل کی جائے وقوع معلوم نہ ہو سکے۔ آئندہ جو مزید حالات ظاہر ہوں گے وہ ناظرین کی معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے پیش کئے جائیں گے۔‘‘اقتباس از اخبار پنچمحققین زبان کو یہ معلوم کر کے بڑی مسرت ہوگی کہ ’’دم پر نمدہ باندھنےاور دم دبا کر بھاگنے‘‘ کے محاوروں کی اصلیت کو گذشتہ گھوڑ دوڑ میں ایک نئے گھوڑے ’’ایجاد‘‘ نامی نے ظاہر کر دیا۔ان دونوں محاوروں کا مفہوم ہمیشہ ’’بے تحاشا بھاگنا‘‘ لیا جاتا ہے لیکن کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ دم پر نمدہ باندھنے یا دم دبانے سے رفتار میں تیزی کس طرح پیدا ہو سکتی ہے۔ اس گھوڑ دوڑ میں ’’ایجاد‘‘ کے زین کا نمدہ یعنی عرق گیر بجائے کمر پر ر کھنے کے اس کے پٹھوں پر رکھا گیا اور واقعی اس طرح اس کی دم پر نمدہ بھی آ گیا۔ او ر دم دب بھی گئی۔ اس گھوڑے کا ایسی بڑی دوڑ جیتنا، اس کی تیز رفتاری کا بین ثبوت ہے۔ ہم اس گھوڑے کے مالک کو ان کی کامیابی پر مبارک باد بھی دیتے ہیں اور لغات کے اہل فن کی جانب سے شکریہ بھی ادا کرتے ہیں کہ ان کے گھوڑے کی بدولت بہ آسانی دو پیچیدہ محاوروں کی تشریح ہو گئی۔‘‘ مقالہ افتتاحیہ ’اخبار سائینس‘رواج اور قدامت پسندی ہمیشہ سے مانع ترقی رہے ہیں لیکن بلحاظ اپنی قدامت کے کوئی ایسا رواج ہماری نظر سے نہیں گذرا جو گھوڑوں پر زین کسنے کے پرانے طریقے کا مقابلہ کر سکے۔ تاریخ پر جہاں تک نظر ڈالی جاتی ہے اور پرانے کتبوں، تصویروں اور مجسموں کو جہاں تک دیکھا جاتا ہے، یہی پتا چلتا ہے کہ زین یا چار جامہ ہمیشہ گھوڑوں کی پیٹھ ہی پر ڈالا گیا ہے لیکن اصول سائینس سے اگر اس طریقہ عمل کو دیکھا جائے تو یقیناً پہلی نظر میں یہ بالکل خلاف فطرت معلوم ہوگا۔ گھوڑے کی بناوٹ ظاہر کر رہی ہے کہ اس کے پچھلے پٹھے بوجھ سہارنے کے لئے بنائے گئے ہیں نہ کہ اگلی ٹانگیں۔ اگر فطرت کا یہ تقاضا ہوتا تو پیٹھ پر بوجھ قائم کیا جائے تو گھوڑے کے اگلے اور پچھلے پیر دونوں کی وضع ایک ہی ہوتی ہے تاکہ بوجھ ان چاروں حصوں پر برابر تقسیم ہو جائے لیکن گھوڑے کی ساخت زبان حال سے بتا رہی ہے کہ اس کے پچھلے پیروں پر بوجھ ڈالواور اگلے پاؤں رفتار کے لئے چھوڑ دو۔خود چو پاؤں کے بھاگنے کے طریقے پر اگر سائینس کے اصولوں کو پیش نظر رکھ کر دیکھا جائے تو یہ مسئلہ اور بھی آسانی سے حل ہو جاتا ہے۔ جانور کی چاروں ٹانگیں اگر آگے کو جھکیں گی تو ہمیشہ رفتار میں تیزی پیدا ہوگی۔ بر خلاف اس کے اگر دو آگے کی طرف اور دو پیچھے کی جانب مائل ہوں گی تو اس کو تیز چلنے میں دشواری ہوگی۔ اس اصول کو اب واقعات سے منطبق کیجئے۔ جانور کی پیٹھ پر بوجھ رکھنے کا یہ لازمی نتیجہ ہوتا ہے کہ اس کی پچھلی ٹانگیں تو ضرور آگے کو جھک آتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اس کے اگلے پیر بجائے آگے جھکنے کے پیچھے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں ا ور اس سے یقیناً رفتار پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔یہ مسئلہ عرصے سے ہمارے زیر غور تھا لیکن ہم اس پر کچھ لکھنے کی ہرگز جرأت نہ کرتے اگر گزشتہ گھوڑ دوڑ میں ’’ایجاد‘‘ نے اصول کو عملاً ثابت نہ کر دیا ہوتا کیونکہ ایسے قدیم رواج کے خلاف ایک حرف بھی لکھنا مفت کی لڑائی مول لینا ہے۔ ہم کو امید ہے کہ اب قدامت پسند لوگوں کی آنکھیں سائنس کا عملی تجربہ دیکھنے کے بعد کھلیں گی اور آئندہ گھوڑ دوڑ میں ہم رواج کے مقابلے میں سائینس کی فتح کو اس شکل میں دیکھیں گے کہ بجائے پیٹھ کے سب گھوڑوں کے پٹھوں پر زین کسے ہوں گے۔غرض خدا خدا کر کے ایک ہی گھوڑ دوڑ میں میری مالی حالت درست ہو گئی لیکن اب مصیبت یہ آ پڑی کہ جو سہولتیں ’’ایجاد‘‘ کی گم نامی کی وجہ سے تھیں وہ جاتی رہیں اور اب لوگوں پر یہ ظاہر کرنا پڑا۔ یہ کھاتا پیتا، ہگتا، موتتا ہوا گھوڑا ہے۔ یہ کام بظاہر مشکل تھا مگر میری جدت طبع نے اس کو بھی آسان کر دیا۔ ایک اسی کے قد و قامت، رنگ ڈھنگ، وضع قطع کا گھوڑا راتوں رات خرید لایا۔ اصلی گھوڑے کو تھان پر باندھ دیا اور نقلی کو ایک کمرے میں بند کر دیا۔ بڑے بڑے ماہران فن آتے اور گھوڑے کو دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ اس میں تو کوئی ایسی خوبی نظر نہیں آتی جو اتنی بڑی گھوڑ دوڑ اس کو جتوا سکے۔ نہ تو جوڑی مضبوط ہیں اور نہ بناوٹ ایسی سبک ہے پھر اس قیامت کی رفتار اس میں پیدا ہو گئی تو کہاں سے پیدا ہو گئی۔ غرض جتنے منہ اتنی ہی باتیں۔ ہر شخص اپنی ہانکتا تھا مگر اس عقدہ کو کوئی نہ کھول سکتا تھا۔ آخر ہوتے ہوتے دوسری گھوڑدوڑ کا دن آ گیا۔ رات ہی کو نقلی اصطبل میں اور اصلی کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔ اور میں اور مسٹر کل گھوڑے کو لے کر عین وقت پر میدان میں پہنچے۔کیا دیکھتا ہوں کہ جتنے گھوڑے دوڑنے والے ہیں، سب ایک قطار باندھے کھڑے ہیں اور بڑے بڑے حساب داں تقسیم وزن کا لحاظ کر کے ناپ ناپ کر ان کے پٹھون ر زین بندھوا رہے ہیں۔ غرض یہ مشکل بھی آسان ہوئی اور گھنٹہ بجتے ہی سب گھوڑے دوڑ کے لیے ایک صف میں کھڑے ہو گئے۔ ادھر جھنڈی گری اور ادھر سواروں نے گھوڑوں کے چابک رسید کیے۔ چابک مارنا تھا کہ قیامت بپا ہو گئی۔ مارے دو لتیوں اور پشتکوں کے گھوڑوں کے سواروں کی جانیں ہلا دیں۔ بعض تو ڈر کر کود گئے۔ بعض ہمت والے تھے اور جھٹکے جھیلتے رہے لیکن تھوڑی ہی دیر میں تماشائیوں کے سروں اور کندھوں پر گٹھریوں کی شکل میں نظر آئے۔ ایک ’’ایجاد‘‘ تھا کہ وہ اول آخر سب ہی کچھ رہا۔ چونکہ اس دوڑ میں لوگوں نے ذرا سمجھ بوجھ کر روپیہ لگایا تھا، اس لیے میری آمدنی بھی کچھ زیادہ نہ ہوئی۔ پھر بھی ستر اسی ہزار روپے میں نے بناہی لیے۔اس واقعے کے متعلق اخباروں میں جو مضامین شائع ہوئے ہیں ان میں سے بعض کا اقتباس ناظرین کی ضیافت طبع کے لئے درج ذیل کیا جاتا ہے۔’اخبار گھوڑ دوڑ‘ہم کو سرکاری طور پر اطلاع ملی ہے کہ علاقہ نجد کے کسی نا معلوم مقام پر دو ہوائی جہازوں پر گولیاں برسائی گئیں جس کی وجہ سے وہ نیچے اترنے پر مجبور ہوئے۔ دونوں جہازوں پر جتنے لوگ سوار تھے ان سب کو نہایت بے دردی سے ذبح کر دیا گیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ اسی مقام کے آس پاس کہیں سلطان روم کے خاصے کے گھوڑوں کا جنگل ہے۔ ورنہ بلا وجہ جہازوں پر گولیاں چلانے اور ان کی سواریوں کو ہلاک کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ امید ہے کہ گورنمنٹ اس ہم معاملے کواپنے ہاتھ میں لے کر صدیوں کے راز کا انکشاف کرے گی۔پنچ میں ایک نہایت مختصر سا مضمون تھا۔ لکھا تھا کہ ’’اس مرتبہ گھوڑوں کے دموں پر نمدہ باندھا گیا تھا مگر بدقسمتی سے دوڑ کے وقت بہت سواروں کے چوتڑوں پر نمدہ بندھ گیا اور اکثر سواروں میں اتنی تیزی آ گئی کہ وہ اپنے زور میں اچھل اچھل کر گھوڑوں کی گردنوں سے آگے نکل گئے۔‘‘ اخبار سائینس کا مضمون بہت عالمانہ تھا۔ اس نے روح پر بحث کر کے لکھا تھا کہ ’’ماہرانِ فنِ علمِ حیوانات اس وقت قائل نہ تھے کہ انسان اور حیوان دونوں میں ایک ہی قسم کی روح ہوتی ہےاور اسی لیے حیوانوں میں بھی رواج اور قدامت پسندی اسی طرح جاری اور ساری ہے جس طرح انسانوں میں ہے۔ اس مسئلے کا تصفیہ گذشتہ گھوڑدوڑ نے نہایت اطمینان بخش طریقے پر کر دیا اور اب کسی کو اس کے خلاف زبان ہلانے کی گنجائش نہیں رہی۔ رواج قدیم کے خلاف مگر اصول سائینس کے موافق اس گھوڑ دوڑ میں زین بجائے پیٹھ پر رکھنے کے گھوڑوں کے پٹھوں پر کسا گیا تھا۔ گو اس طریق عمل سے ان جانوروں کو زیادہ آسائش و سہولت تھی۔ لیکن رواج قدیم کے خلاف ہونے کی وجہ سے انہوں نے بطور احتجاج دو لتیاں جھاڑنا اور پشتکین مارنا شروع کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان گھوڑوں کی بے وقوفی کے باعث پھر ’’ایجاد‘‘ نامی گھوڑا جو اصول سائینس کو سمجھتا اور اپنی آسائش کا احساس رکھتا تھا، بازی لے گیا لیکن وہ زمانہ کچھ دور نہیں ہے جب یہ جانور بھی اپنی ضد سے باز آئیں گے اور اپنی قدامت پسندی کو اسی طرح ترک کر دیں گے جس طرح گزشتہ گھوڑ دوڑ کے بعد سے انسانوں نے ترک کر دیا ہے۔‘‘ اب ڈربی کا نازک زمانہ قریب آ گیا اور ’’ایجاد‘‘ کے ٹکٹوں کی قیمت چڑھنا شروع ہوئی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ روپے پر ایک آنہ بھی کوئی دینے کو تیار نہ تھا لیکن اس کے ساتھ ہی میں ایک دوسرے خلجان پر پڑ گیا۔ جو لوگ گھوڑ دوڑ کے فن سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایک گھوڑے کے نکل جانے سے شرطوں میں زمین و آسمان کا فرق پڑ جاتا ہے۔ اس لیے بعض بے ایمان لوگ ایسے نکل آتے ہیں جو گھوڑوں کو زہر دینے یا اصطبل کو بم سے اڑھا دینے میں بھی تامل نہیں کرتے۔ باوجود میری حفاظتی تدابیر کے ایک روز رات کے بارہ بجے میرا اصطبل مع اصلی گھوڑے کے بم سے اڑا دیا گیا اور بچارے نا کردہ گناہ کے چھیچڑے اور کھال کے ٹکڑے کئی کئی میل کے فاصلے پر پائے گئے لیکن شکر ہے کہ میرا ’’ایجاد‘‘ اس حملے سے محفوظ رہا۔دوسرے دن ہی صبح کو اس واقعے کا حال اخباروں میں بڑے بڑے موٹے موٹے حرفوں میں چھپ گیا اور چھپنے کے ساتھ ہی ایجاد کے ٹکٹوں کی قیمت گر گئی۔ میرے لئے یہ ’’خدا شرے بر انگیزو کہ خیرے مادر آن باشد‘‘ کا مصداق ہو گیا۔ اور میں نے دل کھول کر ٹکٹ خریدنا شروع کئے۔ ہزاروں تار تعزیت کے آئے مگر میں نے ایک بھی جواب نہ دیا۔ لوگوں کو تعجب ہوتا تھا کہ میں مرے ہوئے گھوڑے کے ٹکٹ کیوں خرید رہا ہوں۔ لوگوں میں بہت کچھ چہ می گوئیاں ہوئیں اور آخر انہوں نے پتا چلا لیا کہ ’’ایجاد‘‘ میرے سونے کے کمرے میں صحیح سلامت موجود ہے۔ڈربی سے ایک دن پہلے میں اور مسٹر کل اپنے کمرے میں کھڑے گھوڑے کی دیکھ بھال کر رہے تھے کہ سامنے کی کھڑکی میں سے پستول چلا اور گولی ’’ایجاد‘‘ کے پہلو میں لگ کر آر سے پار ہوگئی۔ میں کھڑکی سے کود کر اس شخص کے پیچھے بھاگا لیکن وہ ہاتھ نہ آیا۔ پولیس میں اطلاع دینا گویا اپنا راز کھول کر خود کو تباہ کرلینا تھا۔ اس لیے خاموشی اختیار کی۔ واپس آ کرمیں نے اور مسٹر کل نے ’’ایجاد‘‘ کے پرزوں کو اچھی طرح دیکھا بھالا۔ لیکن کوئی خرابی نظر نہ آئی۔ اور ہم نے ’’رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت‘‘ کا ورد کر کے ساری رات آنکھوں ہی آنکھوں میں کاٹ دی۔میں ’’ایجاد‘‘ کے مالک کی حیثیت سے تو تمام دنیا میں مشہور ہو گیا تھا لیکن دل چاہتا تھا کہ ’’ایجاد‘‘ پر سوار ہو کر اور خود ڈربی جیت کر اپنی شہرت کو چار چاند لگاؤں۔ اس لئے میں نے تہیہ کر لیا کہ کچھ ہی کیوں نہ ہو۔ اس مرتبہ تو میں ہی اس پر سوار ہوں گا۔ مسٹر کل نے منع بھی کیا لیکن میں نے ایک نہ مانی اور صبح ہی سے تیاری شروع کر دی۔ڈربی کے میدان میں پہنچا تو دل ہیبت سے کانپ گیا جہاں تک نظر جاتی تھی، آدمی ہی آدمی نظر آتے تھے۔ خود بادشاہ سلامت بھی مع خاندان شاہی کے رونق افروز تھے۔ تمام گھوڑے یکے بعد دیگرے ان کے سامنے سے گزارے گئے۔ جب ’’ایجاد‘‘ میدان میں آیا تو تالیوں کی آواز سے آسمان گونج گیا۔ میں نے بھی خراماں خراماں گھوڑے کو میدان کا چکر دیا اور سب گھوڑوں میں ملا کر کھڑا کر دیا۔ گھنٹہ بجا، جھنڈی گری اور سب گھوڑے آندھی کی طرح رواں ہوئے مگر ’’ایجاد‘‘ نے بے تحاشا بدکنا شروع کیا۔ ایک تو غصہ دوسرے شرمندگی۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بڑے زور سے تیز رفتاری کا بٹن دبا دیا۔ جس وقت بٹن دبایا تو اس کے منہ کی بجائے اس کی پیٹھ میدان کی طرف تھی۔ میری حیرت کی کچھ انتہا نہ رہی۔ جب میں نے دیکھا کہ ’’ایجاد‘‘ نے پوری رفتار کے ساتھ الٹے پاؤں بھاگنا شروع کیا۔معلوم ہوتا ہے کہ رات کی گولی نے لگام والی رفتار کے پرزے کو تو کوئی ضرور نہیں پہنچایا تھا مگر تیز رفتاری کے پرزوں کے عمل کو بالکل بدل دیا تھا۔ میں نے گھوڑے کو روکنا چاہا تو پسینے چھوٹ گئے۔ کیوں کہ میرے زور سے بٹن دبانے کی وجہ سے بٹن دب کر ٹوٹ گیا تھا۔ اب کیا تھا گھوڑا ہوا سے باتیں کرنے لگا۔ تھوڑی دیر میں دوسرے گھوڑوں کا جالیا اور آن واحد میں ان سے آگے نکل گیا۔ گو یہ گھوڑے آگے بڑھ رہے تھے مگر میرے الٹی رفتار کے باعث پیچھے ہٹتے ہوئے معلوم ہوتے تھے اور گو میں پیچھے ہٹ رہا تھا لیکن در اصل ان سے آگے بڑھا جاتا تھا لوگوں کے قہقہوں اور تالیوں نے صور اسرافیل کی صورت پیدا کر لی۔ اور بعض سواروں کی ہنسی کی وجہ سے اپنے گھوڑوں کو روکنا پڑا۔ واقعے کے بیان کرنے میں عرصہ لگا ہے لیکن خود یہ واقعہ شرو ع ہوا، اور آنا فاناً میں ختم ہو گیا اورڈربی کی تاریخ میں یہ پہلا اور آخری موقع تھا کہ جیتنے میں کسی گھوڑے کا حساب سر کی لمبان سے لگانے کی بجائے دم کی لمبان سے لگانا پڑا ہو۔اب مشکل یہ آ پڑی تھی کہ گھوڑا نہ اب رکتا ہے نہ جب۔ میدان کو عبور کر کے باڑ کو توڑتا ہوا تماشائیوں میں گھس گیا۔ جدھر نکل گیا، کائی سی پھٹ گئی۔ بھیڑ چھٹ گئی اور میدان صاف ہو گیا۔ اب میں کروں تو کیا کروں، رفتار ایسی تیز تھی کہ کودنے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ میں نے دیکھا کہ دور ایک خالی موٹر کھڑی ہے۔ جب گھوڑا اس کے پاس سے نکلا میں اللہ کا نام لے دھم سے موٹر میں کود پڑا۔ اب رہے میاں ’’ایجاد‘‘ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کا کیا حشر ہوا۔البتہ دوسرے روز کے اخبار میں ہوائی خبر سے یہ ضرور معلوم ہوا کہ ایک گھوڑا الٹا تیرتا ہوا افریقہ کے جنوبی کنارے پر دیکھا گیا۔ اخبار گھوڑ دوڑ کا خیال ہے کہ فطرت اس کو اپنے مسکن کی طرف لے جا رہی ہے لیکن پنچ کی رائے ہے کہ جب تک اس کی دم پر نمدہ بندھا رہے گا، اس کی رفتار کم نہ ہوگی۔ اب آپ ہی بتائیے کہ دونوں میں کون سچا ہے۔ میرے چوٹ تو آئی مگر سمجھا چلو جان بچی تو لاکھوں پائے۔ لنگڑے ہو گئے تو کیا ہرج ہے، ڈربی تو جیت لی۔ بدھیا مری تو مری آگرہ تو دیکھ لیا۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7"} {"title": "کل کہاں بچاری بلبل اور کہاں بچارا گل", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "کل کہاں بچاری بلبل اور کہاں بچارا گل\nآج بلبل دید کر لے باغ کی نظارہ گل\n\nخالی از شر یہ چٹکنے کی صدا ہرگز نہیں\nصبح دم کرتا ہے اپنے کوچ کا نقارا گل\n\nغنچہ جب تک چپ رہا ہر طرح خاطر جمع تھی\nخندۂ مفرط نے لیکن کر دیا آوارہ گل\n\nظاہرا باطن سبک تھا کچھ گرانی آ گئی\nہو گیا بلبل کی جانب سے جو سنگ خارا گل\n\nکیوں نہ گزرے دم بہ دم بلبل کا پرچہ اے وقارؔ\nرکھتا ہے باد صبا کا باغ میں ہرکارہ گل", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%86%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%AF%D9%84"} {"title": "کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل کے لیے کر آج نہ خسّت شراب میں\nیہ سُوء ظن ہے ساقیِ کوثر کے باب میں\n\nہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند\nگستاخیِ فرشتہ ہماری جناب میں\n\nجاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع\nگر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں\n\nرَو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمے\nنے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں\n\nاتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بُعد ہے\nجتنا کہ وہمِ غیر سے ہُوں پیچ و تاب میں\n\nاصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہے\nحیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں\n\nہے مشتمل نمُودِ صُوَر پر وجودِ بحر\nیاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں\n\nشرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی\nہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یُوں حجاب میں\n\nآرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوز\nپیشِ نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں\n\nہے غیبِ غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود\nہیں خواب میں ہنوز، جو جاگے ہیں خواب میں\n\nغالبؔ ندیمِ دوست سے آتی ہے بوئے دوست\nمشغولِ حق ہوں، بندگیِ بُو تراب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D8%A2%D8%AC_%D9%86%DB%81_%D8%AE%D8%B3%D8%AA_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کل گئے تھے تم جسے بیمار ہجراں چھوڑ کر", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کل گئے تھے تم جسے بیمار ہجراں چھوڑ کر\nچل بسا وہ آج سب ہستی کا ساماں چھوڑ کر\n\nطفل اشک ایسا گرا دامان مژگاں چھوڑ کر\nپھر نہ اٹھا کوچۂ چاک گریباں چھوڑ کر\n\nکیونکہ نکلے تیرا اس کا دل میں پیکاں چھوڑ کر\nجائے بیضے کو کہاں یہ مرغ پراں چھوڑ کر\n\nجس نے ہو لذت اٹھائی زخم تیغ عشق کی\nکب وہ مرہم دان کو ڈھونڈے نمک داں چھوڑ کر\n\nصید دل کو کیونکہ چھوڑے جب کہ دکھلا دے نہ تو\nمچھلیاں دست حنائی میں مری جاں چھوڑ کر\n\nسرد مہری سے کسی کی آگے ہی جی سرد ہے\nیاں سے ہٹ جا دھوپ اے ابر خراماں چھوڑ کر\n\nدیکھیے کیا ہو کہ ہے اب جان کے پیچھے پڑی\nدل کو اے کافر تری زلف پریشاں چھوڑ کر\n\nاے دل اس کے تیر کے ہم راہ سینے سے نکل\nورنہ پچھتائے گا تو یہ ساتھ ناداں چھوڑ کر\n\nکیوں نہ رم کر جائیں آہو ایسے وحشی سے ترے\nشیر بھاگیں جس کے نالوں سے نیستاں چھوڑ کر\n\nسرخی پاں دیکھ لے زاہد جو دنداں پر ترے\nاٹھ کھڑا ہو ہاتھ سے تسبیح مرجاں چھوڑ کر\n\nپیش خیمہ لے کے نکلا گرد باد دور رو\nہے جو سرگرم سفر تن کو مری جاں چھوڑ کر\n\nگر خدا دیوے قناعت ماہ دوہفتہ کی طرح\nدوڑے ساری کو کبھی آدھی نہ انساں چھوڑ کر\n\nساغر دل بیچتا آیا ہوں کھو مت ہاتھ سے\nچوکتا ہے کیوں یہ جنس دست گرداں چھوڑ کر\n\nکام یہ تیرا ہی تھا رحمت ہو اے ابر کرم\nورنہ جائے داغ عصیاں میرا داماں چھوڑ کر\n\nپڑھ غزل اے ذوقؔ کوئی گرم سی اب تو نہ جا\nجانب مضمون طرز تفتہ جاناں چھوڑ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D9%85_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کل ہم سے ملاقات میں وہ یار جو کی بحث", "poet_page": "مصنف:مسکین شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "کل ہم سے ملاقات میں وہ یار جو کی بحث\nمیں بھی وہیں اک بات میں بیزار ہو کی بحث\n\nلڑتے نہ کسی طرح سے اس سے کبھی ہرگز\nپر کیا کروں اس وقت میں لاچار ہو کی بحث\n\nلایا تھا مرے دل کی گرفتاری کا سامان\nاس واسطے میں اس سے بہ تکرار ہو کی بحث\n\nسمجھا کے لگا کہنے کہ آ ہم سے تو مل جا\nمیں تیرے لیے بر سر بازار ہو کی بحث\n\nمسکینؔ نہ جو تو ہم سے اگر دل سے ملے گا\nکیوں تو نے مرا مثل خریدار ہو کی بحث", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%AD%D8%AB"} {"title": "کلال گردوں اگر جہاں میں جو خاک میری کا جام کرتا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کلال گردوں اگر جہاں میں جو خاک میری کا جام کرتا\nتو میں صنم کے لبوں سے مل کر عجب ہی عیش مدام کرتا\n\nجو پاتا لذت بسان مستاں مے محبت سے تیری زاہد\nتو خانقہ سے نکل کے اپنی وہ میکدے میں قیام کرتا\n\nوہ بزم اپنی تھی مے کشی کی فرشتے ہو جاتے مست و بے خود\nجو شیخ جی واں سے بچ کے آتے تو پھر میں ان کو سلام کرتا\n\nجو زلفیں مکھڑے پہ کھول دیتا صنم ہمارا تو پھر یہ گردوں\nنہ دن دکھاتا نہ شب بتاتا نہ صبح لاتا نہ شام کرتا\n\nوہ بزم اپنی تھی مے خوری کی فرشتے ہو جاتے مست و بے خود\nجو شیخ جی بچ کے واں سے آتے تو میں پھر ان کو سلام کرتا\n\nنظیرؔ آخر کو ہار کر میں گلی میں اس کی گیا تھا بکنے\nتماشا ہوتا جو مجھ کو لے کر وہ شوخ اپنا غلام کرتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%84_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کلام سخت کہہ کہہ کر وہ کیا ہم پر برستے ہیں", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کلام سخت کہہ کہہ کر وہ کیا ہم پر برستے ہیں\nلب ان کے لعل ہیں پر لعل سے پتھر برستے ہیں\n\nبنا گر قطرہ واں گوہر تو یاں گوہر برستے ہیں\nہمارے دیدۂ تر ابر سے بہتر برستے ہیں\n\nعرق رخ کا نقاب رخ سے جب ٹپکا تو ہم سمجھے\nکہ مہ پر چھا رہا ہے ابر اور اختر برستے ہیں\n\nجھپکنا جس نے دیکھا ہو تری پلکوں کا وہ جانے\nوگرنہ کون مانے گر کہوں خنجر برستے ہیں\n\nتماشا دیکھ سیلاب بہاری پر حبابوں کا\nاٹھا لا شیشہ ساقی ابر سے ساغر برستے ہیں\n\nترے در پر گدا و شہ کے غش کھا کھا کے گرنے سے\nدل و جاں بہتے پھرتے ہیں سر و افسر برستے ہیں\n\nسرشک چشم سے نالے رواں ہوتے نہیں دیکھے\nکہے کون اس کو رونا دیدہ ہائے تر برستے ہیں\n\nجلا خرمن تو کیا پر جو دھوئیں اٹھتے ہیں خرمن سے\nستم ہے بن کے بادل کشت دشمن پر برستے ہیں\n\nمری ہستی مگر فصل بہار شعلہ ہے ناظمؔ\nشرر پھلتے ہیں داغ اگتے ہیں اور اخگر برستے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B3%D8%AE%D8%AA_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کلرک کا نغمۂ محبت", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سب رات مری سپنوں میں گزر جاتی ہے اور میں سوتا ہوں\nپھر صبح کی دیوی آتی ہے\nاپنے بستر سے اٹھتا ہوں منہ دھوتا ہوں\nلایا تھا کل جو ڈبل روٹی\nاس میں سے آدھی کھائی تھی\nباقی جو بچی وہ میرا آج کا ناشتہ ہے\n\nدنیا کے رنگ انوکھے ہیں\nجو میرے سامنے رہتا ہے اس کے گھر میں گھر والی ہے\nاور دائیں پہلو میں اک منزل کا ہے مکاں وہ خالی ہے\nاور بائیں جانب اک عیاش ہے جس کے ہاں اک داشتہ ہے\nاور ان سب میں اک میں بھی ہوں لیکن بس تو ہی نہیں\nہیں اور تو سب آرام مجھے اک گیسوؤں کی خوشبو ہی نہیں\nفارغ ہوتا ہوں ناشتے سے اور اپنے گھر سے نکلتا ہوں\nدفتر کی راہ پر چلتا ہوں\nرستے میں شہر کی رونق ہے اک تانگہ ہے دو کاریں ہیں\nبچے مکتب کو جاتے ہیں اور تانگوں کی کیا بات کہوں\nکاریں تو چھچھلتی بجلی ہیں تانگوں کے تیروں کو کیسے سہوں\nیہ مانا ان میں شریفوں کے گھر کی دھن دولت ہے مایا ہے\nکچھ شوخ بھی ہیں معصوم بھی ہیں\nلیکن رستے پر پیدل مجھ سے بدقسمت مغموم بھی ہیں\nتانگوں پر برق تبسم ہے\nباتوں کا میٹھا ترنم ہے\nاکساتا ہے دھیان یہ رہ رہ کر قدرت کے دل میں ترحم ہے\nہر چیز تو ہے موجود یہاں اک تو ہی نہیں اک تو ہی نہیں\nاور میری آنکھوں میں رونے کی ہمت ہی نہیں آنسو ہی نہیں\n\nجوں توں رستہ کٹ جاتا ہے اور بندی خانہ آتا ہے\nچل کام میں اپنے دل کو لگا یوں کوئی مجھے سمجھاتا ہے\nمیں دھیرے دھیرے دفتر میں اپنے دل کو لے جاتا ہوں\nنادان ہے دل مورکھ بچہ اک اور طرح دے جاتا ہوں\nپھر کام کا دریا بہتا ہے اور ہوش مجھے کب رہتا ہے\n\nجب آدھا دن ڈھل جاتا ہے تو گھر سے افسر آتا ہے\nاور اپنے کمرے میں مجھ کو چپراسی سے بلواتا ہے\nیوں کہتا ہے ووں کہتا ہے لیکن بے کار ہی رہتا ہے\nمیں اس کی ایسی باتوں سے تھک جاتا ہوں تھک جاتا ہوں\nپل بھر کے لیے اپنے کمرے کو فائل لینے آتا ہوں\nاور دل میں آگ سلگتی ہے میں بھی جو کوئی افسر ہوتا\nاس شہر کی دھول اور گلیوں سے کچھ دور مرا پھر گھر ہوتا\nاور تو ہوتی\nلیکن میں تو اک منشی ہوں تو اونچے گھر کی رانی ہے\nیہ میری پریم کہانی ہے اور دھرتی سے بھی پرانی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84%D8%B1%DA%A9_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%BA%D9%85%DB%82_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA"} {"title": "کلکتہ", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "مجلس اتحاد ملت کو\nلکھیے حبل المتین کلکتہ\nسارے ہندوستاں کی دولت کو\nکہئے ملک یمین کلکتہ\nکفر ہگلی میں جا کے ڈوب گیا\nدیں ہوا ہے مکین کلکتہ\nاثر سجدہ ہائے پیہم سے\nہوئی روشن جبین کلکتہ\nہر طرف پھر رہے ہیں نیلی پوش\nآسماں ہے زمین کلکتہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84%DA%A9%D8%AA%DB%81"} {"title": "کلکتہ کو ڈاک میں چلا ہوں جو میں آہ", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کلکتہ کو ڈاک میں چلا ہوں جو میں آہ\nغیروں کے پاؤں سے ہوئی قطع یہ راہ\nہیں تیز کہار پالکی میں ہوں سوار\nکیا خانہ بدوش میں چلا ہوں واللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84%DA%A9%D8%AA%DB%81_%DA%A9%D9%88_%DA%88%D8%A7%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%DB%81"} {"title": "کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں\nاک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہاے ہاے\nوہ سبزہ زار ہاے مطرا کہ ہے غضب\nوہ نازنیں بتان خود آرا کہ ہاے ہاے\nصبر آزما وہ ان کی نگاہیں کہ حف نظر\nطاقت ربادہ ان کا اشارا کہ ہاے ہاے\nوہ میوہ ہاے تازۂ شیریں کہ واہ واہ\nوہ بادہ ہاے ناب گوارا کہ ہاے ہاے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84%DA%A9%D8%AA%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کلی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "جب دِکھاتی ہے سحَر عارضِ رنگیں اپنا\nکھول دیتی ہے کلی سینۂ زرّیں اپنا\nجلوہ آشام ہے صبح کے مے خانے میں\nزندگی اس کی ہے خورشید کے پیمانے میں\nسامنے مہر کے دل چیر کے رکھ دیتی ہے\nکس قدر سینہ شگافی کے مزے لیتی ہے\n\nمرے خورشید! کبھی تو بھی اُٹھا اپنی نقاب\nبہرِ نظّارہ تڑپتی ہے نگاہِ بے تاب\nتیرے جلوے کا نشیمن ہو مرے سینے میں\nعکس آباد ہو تیرا مرے آئینے میں\nزندگی ہو ترا نظّارہ مرے دل کے لیے\nروشنی ہو تری گہوارہ مرے دل کے لیے\nذرّہ ذرّہ ہو مرا پھر طرب اندوزِ حیات\nہو عیاں جوہرِ اندیشہ میں پھر سوزِ حیات\nاپنے خورشید کا نظّارہ کروں دُور سے میں\nصفَتِ غُنچہ ہم آغوش رہوں نُور سے میں\nجانِ مضطر کی حقیقت کو نمایاں کر دوں\nدل کے پوشیدہ خیالوں کو بھی عُریاں کر دوں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84%DB%8C"} {"title": "کلی جو گل کی چٹک رہی ہے طبیعت اپنی کھٹک رہی ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "کلی جو گل کی چٹک رہی ہے طبیعت اپنی کھٹک رہی ہے\nجہاں میں وحشت بھٹک رہی ہے ہزار سر کو پٹک رہی ہے\n\nچمن میں ہے جو کہ شاخ سنبل عروس گل کی وہ یا ہے کاکل\nتجھے خبر ہے کچھ اس کی بلبل جو اس کے منہ پر لٹک رہی ہے\n\nوہاں مجھے شوق دل تو لے جا جہاں نہ ساغر نہ ہوئے مینا\nبرنگ ساقی ہر ایک بیٹھا شراب خالص ٹپک رہی ہے\n\nچمن میں بلبل یہی پکاری لو میکشوں کی پھر آئی باری\nزباں پہ شیشے کے ہے یہ جاری شراب لو یاں ڈھلک رہی ہے\n\nکہیں پہ مجمع ہے میکشوں کا کہیں اکھاڑا ہے ان بتوں کا\nکہیں برسنا ہے بادلوں کا کہیں پہ بجلی چمک رہی ہے\n\nمژہ کی الفت میں زار بن کر رہا ہوں موئے نگار بن کر\nیہ سانس سینے میں خار بن کر جگر کے اندر کھٹک رہی ہے\n\nنہ اس میں آئی ذرا کدورت گلوں کی میلی نہ سیاحت\nصبا چمن میں پئے لطافت گلوں کے جامہ چھٹک رہی ہے\n\nنہیں بگولا میان ہاموں جو مجھ سے پوچھو تو صاف کہہ دوں\nتلاش لیلہ میں روح مجنوں ہر ایک جانب بھٹک رہی ہے\n\nغرور حسن اے نگار کب تک چمن کے اوپر بہار کب تک\nرہو گے زیب کنار کب تک خزاں ہر اک گل کو تک رہی ہے\n\nجہاں نہ بھٹی نہ مے کدہ ہے عجب طرح کا مگر سماں ہے\nخم فلک میں یہ کیا بھرا ہے شراب صافی ٹپک رہی ہے\n\nکہوں میں فقرہ وہ ہے ہنسی کا چراغ محفل کا ہے فلیتا\nچھٹا جو شملہ ہے شیخ جی کا یہ ان کی شیخی لٹک رہی ہے\n\nبہار لایا ہے ساغر گل بھرے ہیں گویا پیالۂ مل\nنہیں ہے محفل میں شور قلقل چمن میں بلبل چہک رہی ہے\n\nلڑائی کس نے ہے آنکھ اوپر نگاہ اس کی ہے مثل خنجر\nمیں دیکھتا ہوں کہ چشم اختر فلک کے اوپر جھپک رہی ہے\n\nہمارے دل میں نہیں ہے کینہ کہ جیسے بے جرم ہو نگینہ\nیہ بحر ہستی کا ہے سفینہ اسی پہ دنیا پھڑک رہی ہے\n\nبہار ہے دور مے کشی کی گلوں کی رنگت ابھی ہے پھیکی\nعجیب حالت ہے منتہیؔ کی ابھی سے چھاتی دھڑک رہی ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D9%B9%DA%A9_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DA%BE%D9%B9%DA%A9_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے\nسنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے\n\nٹپکتے درد ہیں آنسو کی جاگا\nالٰہی چشم یا زخم کہن ہے\n\nخبر لے پیر کنعاں کی کہ کچھ آج\nنپٹ آوارہ بوئے پیرہن ہے\n\nنہیں دامن میں لالہ بے ستوں کے\nکوئی دل داغ خون کوہ کن ہے\n\nشہادت گاہ ہے باغ زمانہ\nکہ ہر گل اس میں اک خونیں کفن ہے\n\nکروں کیا حسرت گل کو وگرنہ\nدل پر داغ بھی اپنا چمن ہے\n\nجو دے آرام ٹک آوارگی میرؔ\nتو شام غربت اک صبح وطن ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7_%D8%AF%DB%81%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "کلیجا منہ کو آتا ہے شب فرقت جب آتی ہے", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کلیجا منہ کو آتا ہے شب فرقت جب آتی ہے\nاکیلے منہ لپیٹے روتے روتے جان جاتی ہے\n\nلب نازک کے بوسے لوں تو مسی منہ بناتی ہے\nکف پا کو اگر چوموں تو مہندی رنگ لاتی ہے\n\nدکھاتی ہے کبھی بھالا کبھی برچھی لگاتی ہے\nنگاہ ناز جاناں ہم کو کیا کیا آزماتی ہے\n\nوہ بکھرانے لگے زلفوں کو چہرے پر تو میں سمجھا\nگھٹا میں چاند یا محمل میں لیلیٰ منہ چھپاتی ہے\n\nکرے گی اپنے ہاتھوں آج اپنا خون مشاطہ\nبہت رچ رچ کے تلووں میں ترے مہندی لگاتی ہے\n\nنہ کوئی زور اس عیار پر اب تک چلا اپنا\nیہاں دم ٹوٹتا ہے اور دم میں جان جاتی ہے\n\nتڑپنا تلملانا لوٹنا سر پیٹنا رونا\nشب فرقت اکیلی جان پر سو آفت آتی ہے\n\nپچھاڑیں کھا رہا ہوں لوٹتا ہوں درد فرقت سے\nاجل کے پاؤں ٹوٹیں کیوں نہیں اس وقت آتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84%DB%8C%D8%AC%D8%A7_%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D8%AC%D8%A8_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کلیجا منہ کو آیا اور نفس کرنے لگا تنگی", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کلیجا منہ کو آیا اور نفس کرنے لگا تنگی\nہوا کیا جان کو میری ابھی تو تھی بھلی چنگی\n\nذقن کی چاہ میں یہ سبزئ خط زہر قاتل ہے\nپری ہے بھانگ کوئے میں نہ ہو کیوں خلق چت بھنگی\n\nجہاں کی طرح سو سو رنگ پل پل میں بدلتا ہے\nکبھو کچھ ہے کبھو کچھ ہے کبھو کچھ ہے وہ بہو رنگی\n\nترے رخسار سے بے طرح لپٹی جائے ہے ظالم\nجو کچھ کہیے تو بل کھا الجھتی ہے زلف بے ڈھنگی\n\nغریبوں کا خدا حافظ ہے حاتمؔ دیکھیے کیا ہو\nکہ وہ ہے چور کیفی ہاتھ میں شمشیر ہے ننگی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84%DB%8C%D8%AC%D8%A7_%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%D9%81%D8%B3_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D8%AA%D9%86%DA%AF%DB%8C"} {"title": "کلیجہ منہ کو آتا ہے کریں تم سے بیاں کیونکر", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کلیجہ منہ کو آتا ہے کریں تم سے بیاں کیونکر\nنہ پوچھو ہم صفیرو ہم سے چھوٹا آشیاں کیونکر\n\nذرا دیکھیں بدل جاتا ہے دور آسماں کیونکر\nکسی کے حال پر ہوتا ہے کوئی مہرباں کیونکر\n\nہمیں تو غم سے اتنی بھی نہیں فرصت کہ یہ سوچیں\nمحبت میں ہوا کرتا ہے کوئی شادماں کیونکر\n\nکسی پر عمر بھر کی کس طرح مشق ستم تم نے\nذرا سوچو تو دل میں اور لو گے امتحاں کیونکر\n\nچمن میں ایک مدت ہم نے مشق گل فشانی کی\nقفس تک آتے آتے آ گئی طرز فغاں کیونکر\n\nجو حالت دل کی ہے وہ رنگ رخ اڑ اڑ کے کہتا ہے\nچھپائیں ہم اسے بھی صورت درد نہاں کیونکر\n\nکلیجے کی طرح جس کو جگہ دی ہم نے سینے میں\nوہی دل بن گیا ہے آج ان کا ہم زباں کیونکر\n\nکسی دن آ کے آنکھوں سے ذرا تم دیکھ تو لیتے\nکیا کرتا ہے کوئی ہجر میں آہ و فغاں کیونکر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84%DB%8C%D8%AC%DB%81_%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کلیوں کا تبسم ہو، کہ تم ہو کہ صبا ہو", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کلیوں کا تبسم ہو، کہ تم ہو کہ صبا ہو\nاس رات کے سناٹے میں، کوئی تو صدا ہو\n\nیوں جسم مہکتا ہے ہوائے گل تر سے!\nجیسے کوئی پہلو سے ابھی اٹھ کے گیا ہو\n\nدنیا ہمہ تن گوش ہے، آہستہ سے بولو\nکچھ اور قریب آؤ، کوئی سن نہ رہا ہو\n\nیہ رنگ، یہ انداز نوازش تو وہی ہے\nشاید کہ کہیں پہلے بھی تو مجھ سے ملا ہو\n\nیوں رات کو ہوتا ہے گماں دل کی صدا پر\nجیسے کوئی دیوار سے سر پھوڑ رہا ہو\n\nدنیا کو خبر کیا ہے مرے ذوق نظر کی\nتم میرے لیے رنگ ہو، خوشبو ہو، ضیا ہو\n\nیوں تیری نگاہوں میں اثر ڈھونڈ رہا ہوں\nجیسے کہ تجھے دل کے دھڑکنے کا پتا ہو\n\nاس درجہ محبت میں تغافل نہیں اچھا\nہم بھی جو کبھی تم سے گریزاں ہوں تو کیا ہو\n\nہم خاک کے ذروں میں ہیں اخترؔ بھی، گہر بھی\nتم بام فلک سے، کبھی اترو تو پتا ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%A8%D8%B3%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%8C_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "کم تر یا بیشتر گئے ہم", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کم تر یا بیشتر گئے ہم\nاس در سے بہ چشم نم گئے ہم\n\nاک گل نہ چنا ہم اس چمن سے\nلے اپنا ہی مشت پر گئے ہم\n\nبیضے سے نکالتے ہی سر حیف\nیوں قید قفس میں پڑ گئے ہم\n\nبن یار لگا نہ دل کدھر بھی\nجتنا کہ ادھر ادھر گئے ہم\n\nکیا دور سے مسکرا کے سرکا\nکل اس کی نظر جو پڑ گئے ہم\n\nدنیا کا و دیں کا ہم کو کیا ہوش\nمست آئے و بے خبر گئے ہم\n\nاس جان عزیز نے نہ پوچھا\nجیتے ہیں یا کہ مر گئے ہم\n\nکچھ کام نہ تھا ہمیں کسی سے\nلینے دل کی خبر گئے ہم\n\nاتنی مدت کے بعد حسرتؔ\nکل رات جو اس کے گھر گئے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85_%D8%AA%D8%B1_%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%B4%D8%AA%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "کم سنی کی شادی", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "طنز و مزاح", "year": null, "text_ur": "میں اول ہی سے رشیدہ کی شادی کے خلاف تھا۔ بھائی جان کے سر ہوا کہ خدا کے لیےابھی اس لڑکی کو شادی کی مصیبت میں نہ پھنسائیں۔ بھابی جان کے آگے ہاتھ جوڑے کہ للہ اس بارہ برس کی چھوکری کے حال پر رحم کیجئے۔ مگر میری کون سنتا تھا۔ بھابی جان کو ارمان نکالنے کا شوق تھا۔ رہے بھائی جان تو وہ اپنی بیگم صاحبہ کے ہاتھ میں تھے۔ بھلا ان کے مقابلے میں میری کیا چلتی۔ آخر نکاح کی تاریخ ٹھیر ہی گئی۔میں نے ڈپٹی عابد حسین سے کہا کہ آپ اس شادی کو تھوڑے دن کے لیے روک دیجئے۔ ذرا دولہا دلہن دونوں کو کچھ بڑا ہونے دیجئے۔ یا یوں نہیں تو نکاح کر لیجئے۔ وداع دو چار سال بعد کیجئے گا۔ مگر وہ کب ماننے والے تھے۔ کہنے لگے، ’’میاں تم کیوں خواہ مخواہ بیچ میں کھنڈت ڈالتے ہو۔ میرا ایک ہی بچہ ہے۔ بڑھاپے میں پیدا ہو اہے۔ ماشاء اللہ چودہ برس کا ہے۔ ایف اے میں پڑھتا ہے۔ میں اب قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہوں۔ رہیں ان کی اماں تو وہ خود چل چلاؤ پر ہیں۔ اگر ہم دونوں نے محبوب کا سہرا نہیں دیکھا تو شاید ہم کو قبر میں بھی چین نہ آئے۔ اگر تم کو اپنی بھتیجی ایسی ہی عزیز ہے تو بھائی جواب دے دو۔ ہم محبوب کے لیے دوسری جگہ تلاش کر لیں گے۔‘‘بڑے میاں نے یہ باتیں کچھ ایسی اکھڑی اکھڑی کیں کہ میں ان کی طرف سے بالکل مایوس ہو گیا۔ اٹھ کر چلا آیا۔ میں نے تو خود ان کے ہی بھلے کو یہ باتیں کہی تھیں اور بڑے میاں کی بیوی نے ہماری بھابی جان کو کہلا بھجوایا کہ تمہارے دیور اس رشتے سے خوش نہیں ہیں۔ پھر کیوں خواہ مخواہ اس رشتے پر اصرار کیا جا رہا ہے۔ یہ سننا تھا کہ بھابی جان کے تو آگ ہی لگ گئی۔ بھائی جان سے ایک ایک کی سو سو لگائیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک سچی بات کہنے سے بھائی جان الگ بگڑ بیٹھے اور ڈپٹی عابد حسین علاحدہ تن گئے کہ یہی شخص فساد کی جڑ ہے اور خواہ مخواہ اس رشتے میں حائل ہو رہا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ڈپٹی صاحب کی ذات ذمات بری ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان کے ہاں رشیدہ کو تکلیف ہونے کا مجھے ڈر ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ محبوب اچھا اور نیک بخت لڑکا نہیں ہے۔ میرا کہنا تو یہ ہے کہ ابھی یہ لڑکی اور لڑکا شادی کے قابل ہی نہیں ہیں۔ بارہ برس کی لڑکی اور چودہ برس کے لڑکے کی شادی بھلا کوئی شادی ہوئی۔ گڈے گڑیا کا بیا ہوا۔ جب کبھی بھابی جان سے کہو وہ یہی جواب دیتی ہیں کہ لڑکی جوان ہو گئی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی کی ایک خاص حالت کو جوان ہونا سمجھ لیا جاتا ہے ، اس پر غور نہیں کیا جاتا کہ نہ تو ابھی اس کے جوڑ بند مضبوط ہوئے ہیں ار نہ اس کے اعضا ابھی تکمیل کو پہنچے ہیں۔ نہ اس کی عقل ایسی پختہ ہوئی ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات کو سمجھ سکے یا گھر سنبھال سکے۔ بس غل مچا ہوا ہے کہ لڑکی جوان ہو گئی۔اب اس کو کسی کے پلو سے نہ باندھ دیا گیا تو خدا معلوم کیا آفت بپا ہو جائے۔ یہ نہیں سمجھا جاتا کہ جس کے ساتھ اس کو باندھا جا رہا ہے، اس کی ابھی عمر ہی کیا ہے۔ اس نے ابھی تعلیم کی تکمیل نہیں کی ہے۔ اس میں بھی بردباری نام و نشان کو نہیں ہے۔ وہ ابھی اخراجات کے لیے دوسروں کا دست نگر ہے۔ بھلا ایسے بچے سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ شادی کے تعلقات کو سمجھ سکے گا یا اپنی اور اپنی بیوی کی صحت کا خیال رکھ سکے گا یا آئندہ اپنی تعلیم جاری رکھ کر کھانے کمانے کے قابل ہو سکے گا۔بہر حال میں نے ہزار طرح سمجھایا۔ میری ایک نہ چلی۔ بڑی دھوم سے شادی ہوئی۔ دنوں مہمان داری ہوئی۔ ہزاروں کا جہیز دیا گیا اور بی رشیدہ اور میاں محبوب میاں بیوی ہو ہی گئے۔ دونوں میں وہ ملاپ ہوا، وہ ملاپ ہوا کہ خدا کی پناہ۔ ایک جان دو قالب تھے۔ جب دیکھو دونوں کے دونوں ایک دوسرے کے پاس جمے ہوئے ہیں۔ میاں محبوب نے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا۔ یار دوستوں سے ملنا چھوڑ دیا۔ پڑھنا لکھنا چھوڑ دیا۔ اور آخر تھوڑے ہی دنوں میں کالج جانا بھی چھوڑ دیا۔ بھابی جان خوش تھیں کہ میری بیٹی کو ایسا چاہنے والا شوہر ملا۔ بھائی جان خوش تھے کہ چلو بیٹی آرام چین سے ہے۔ ڈپٹی صاحب اور ان کی بیوی نہال نہال تھے کہ چاند جیسی بٹواسی بہو گھر میں آئی ہے لیکن یہ کوئی نہیں سیکھتا تھا کہ میاں محبوب کی لکھائی پڑھائی کا خاتمہ ہو گیا۔ بہو کی صحت نے جواب دے دیا۔ لڑکے کے قوی مضمحل ہو گئے اور جن باتوں کو میں ابتدا ہی سے رو رہا تھا، ان کا دو ہی مہینے میں ظہور ہو گیا۔شادی کو شاید تین ہی مہینے ہوئے ہوں گے کہ مجھے اڑتی اڑتی خبر ملی کہ بی رشیدہ پیٹ سے ہیں۔ میں نے بھابی جان سے پوچھا۔ انہوں نے پہلے تو ٹالنا چاہا لیکن آخر قبولیں۔ میں نے کہا، ’’دیکھئے بھابی جان! میں پہلے ہی آپ کو روکتا تھا کہ اللہ ابھی اس لڑکی کی شادی نہ کیجئے۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے لیکن آپ نے ایک نہ مانی۔ خدا کرے ساتھ خیر و خوبی کے بی رشیدہ کے ہاں بچہ ہو۔ مگر یہ سمجھ لیجئے کہ تیرہ برس کی عمر میں اولاد ہونے سے اس بچاری کی صحت تباہ ہو جائے گی اور اگر دوا درمن سے وہ سنبھل بھی گئی تو یہ بتایئے کہ اس عمر میں وہ بچہ کو کیسے پالے گی اور تربیت کیا خاک کرے گی۔ ابھی تو اس کی تربیت خود ہی پوری طرح نہیں ہوئی ہے۔‘‘ اب آپ ہی بتائیے کہ میں نے ان سے جو کچھ کہا تھا کیا اس میں کوئی بری بات تھی۔ مگر صاحب میری باتیں سن کر بھابی جان تو بگڑ ہی گئیں۔ کہنے لگیں، ’’نوج میری رشیدہ کی صحت خدا نخواستہ کیوں خراب ہونے لگی۔ ہوگی اس کے برا چاہنے والوں کی۔ میری بیٹی تو لالوں کی لال بنی بیٹھی ہے۔ ماشاء اللہ وہ صورت شکل اور ہاتھ پاؤں نکالے ہیں کہ نظر لگتی ہے۔ اب رہا بچہ ہونا تو میری بہن بی نظیر کے ہاں بارہ ہی برس کی عمر میں سعیدہ ہوئی تھی۔ لڑکی کو جوان ہوتے کیا دیر لگتی ہے۔ تمہاری طرح تھوڑی کہ بیس اکیس برس کی عمر ہے اور بارہ برس کے لونڈے معلوم ہوتے ہو۔اب رہی تربیت تو بھئی ذرا میں بھی تو سنوں کہ بی رشیدہ کی تربیت میں کون سی کمی ہے۔ ماشاء اللہ کھانا وہ پکائے۔ گھر داری وہ کرے۔ سینا پرونا اس کو آئے کیا یہ کچھ جاننے کے بعد وہ ایک پھونسڑے کو بھی نہ پال سکے گی۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہماری زندگی میں یہ دن دکھایا اور تم ہو کہ ابتدا ہی سے جو نہیں نہیں کی رٹ لگائی ہے تو کسی طرح ختم ہی نہیں ہوتی۔ بھئی مجھے تمہاری ایسی باتوں سے وہم ہوتا ہے۔ خدا کے واسطے میرے سے تو تم ایسی باتیں نہ کیا کرو۔ تم جانو اور تمہارے بھائی جانیں۔ ان سے تمہارا جو جی چاہے کہو۔ مگر مجھ سے اگر پھر کبھی ایسی باتیں کیں تو یاد رکھنا میں سر پیٹ لوں گی۔‘‘لیجئے دیکھا آپ نے نیک صلاح کا نتیجہ۔ ہے یہ کہ کسی سے سچی بات کہنا مفت کی لڑائی مول لینا ہے۔ بھابی جان سعیدہ کا پیدا ہونا تو بیان کر گئیں لیکن یہ نہیں دیکھا کہ سعیدہ کے پیدا ہونے کے بعد بی نظیر پر کیا گزری۔ بچاری زچگی کے بعد سے جو بیمار ہوئی تو دو برس کے بعد مر ہی کر اٹھی۔ کون سی بیماری تھی جو اس غریب نے نہیں اٹھائی اور کون سی تکلیف تھی جو اس مرنے والی نے نہ سہی۔ روپیہ پانی کی طرح بہہ گیا۔ دنیا جہاں کے علاج ہوئے مگر اس کو نہ بچنا تھا نہ بچی۔ اب ا س کی یاد گار بی سعیدہ رہ گئی ہیں مگر ان کا کیال حال ہے۔ بالکل دھان پان ہیں۔ آج نزلہ ہے تو کل بخار۔ آج پسلی میں درد ہے تو کل معدہ خراب ہے۔ غرض اس کے لیے تو جینا وبال جان ہو گیا ہے۔ عمر پوری کرنی ہے وہ کسی نہ کسی طرح پوری کر رہی ہے۔ ذرا کوئی جھٹکا لگا اور اس کا بھی خاتمہ ہے۔ بہر حال اس روز سے میں نے تو توبہ کر لی کہ اب بی رشیدہ کے بارے میں کچھ کہوں تو جو چور کا حال ہو میرا حال۔شادی کے نو مہینے کے بعد رشیدہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوا مگر کس مصیبت سے ہوا یہ نہ پوچھو۔ بچاری کی جان کے لالے پڑ گئے۔ مہینہ بھر تک یہ حال رہا کہ کوئی دن نہ ہوتا ہوگا جو ڈاکٹر اور میمیں نہ آتی ہوں، اور بچاس ساٹھ روپے روزانہ خرچ نہ ہوتے ہوں۔ آخر خدا خدا کر کے لڑکی پلنگ سے اٹھی لیکن صورت ایسی ہو گئی تھی کہ دیکھنے سے ڈر لگتا تھا۔ سوکھ کر کانٹا ہو گئی تھی۔ منہ پر دانت ہی دانت دکھائی دیتے تھے۔ چلتی تھی تو ہر قدم پر چکر آتا تھا۔ بس یوں سمجھو کہ موت کے منہ سے نکلی۔ بڑی خوشیاں ہوئیں۔ غریبوں کو خیرات بٹی۔ رشتے داروں کی دعوت ہوئی۔ ڈاکٹروں اور میموں کو تحفے دیے گئے اور سمجھے کہ چلو اللہ نے بڑی خیر کی۔رشیدہ کا بچہ صادق انا کا دود ھ پیتا تھا مگر کسی طرح پنپتا ہی نہ تھا۔ ہڈی سے چمڑا لگ گیا تھا۔ دستوں کا جو سلسلہ لگا تو کہیں پندرہ بیس دن میں جا کر ختم ہوا۔ ادھر دست رکے اور ادھر بخار نے آ لیا۔ بیماری کے ہاتھوں ناک میں دم آ گیا۔ رشیدہ اور صادق کی حالت دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے پھر بھابی جان پر زور دیا کہ ان کو تھوڑے دنوں کے لئے بلا کر اپنے ہاں رکھو۔ جب ذرا پنپ جائیں تو بھیج دینا۔ بھابی جان بھی بچی کی حالت دیکھ کر اس پر راضی ہو گئیں۔ مگر رشیدہ کی سسرال والے کب ماننے والے تھے۔ ہزار ہزار زور دیا لیکن انہوں نے ناسے ہاں نہ کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ابھی اس بے چاری کو بیماری سے ا ٹھ کر تین مہینے بھی نہیں ہوئے تھے کہ پھر حاملہ ہو گئی۔میں نے تو یہ خبر سنتے ہی انا للہ پڑھ لی اور سمجھ گیا کہ اب کی دفعہ بی رشیدہ کی خیر نہیں۔ پانچویں مہینے سے اس کی طبیعت بگڑنی شروع ہوئی۔ ہلکی ہلکی حرارت رہنے لگی۔ کھانسی کا بھی لگاؤ تھا۔ پہلے تو موسمی خرابی اس حرارت کا باعث سمجھی گئی۔ لیکن جب بخار نے ہلنے کا نام نہیں لیا تو اس وقت بھاگ دوڑی شروع ہوئی۔ ڈاکٹر ا ٓتے، نسخہ لکھتے، فیس لیتے، چلے جاتے مگر بخار تھا کہ کسی طرح ٹس سے مس نہ ہوتا تھا۔ بیس پچیس روز کے بعد معلوم ہوا کہ بخار اتر گیا۔ بھابی جان کی جان میں جان آئی۔ اچھا ہونے کے کوئی آٹھ دس روز بعد رشیدہ نے غسل صحت کیا۔ ہمارے ہاں آئی۔ پس کیا کہوں اس کا کیا حال تھا۔ سوکھ کر لقات ہو گئی تھی۔ پھونک مارو تو اڑ جائے۔ کہتی تھی کہ کیا بتاؤں دل بیٹھا جاتا ہے۔ جوڑ جوڑ میں درد ہے۔ کھانستی ہو ں تو سینہ میں درد ہوتا ہے۔ بخار اتر نے سے کیا ہوتا ہے۔ یہ درد جائے تو جانوں۔دو تین روز ہمارے ہاں رہی تھی کہ سسرال والوں نے بلا بھیجا۔ جانے کو تو اس کا جی نہیں چاہتا تھا مگر لاچار جانا پڑا۔ جا کر کوئی آٹھ ہی دن گزرے ہوں گے کہ پھر بخار نے آ لیا۔ اب کے بخار بھی ذرا تیز اور کھانسی بھی زیادہ تھی۔ سول سرجن کو بلا کر دکھایا۔ انہوں نے شش دیکھ کر کہا کہ میں بغیر خون کا امتحان کیے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ خیر خون کا امتحان کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ خون میں دق کے جراثیم ہیں۔ گو ابتدائی درجہ ہے مگر مرض بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ سننا تھا کہ گھر بھر کے پاؤں تلے کی زمین نکل گئی۔ اور جو سیدھا سیدھا علاج ہو رہا تھا وہ بھی غارت گیا۔ کوئی کہتا حکیم کو دکھاؤ کوئی کہتا وید کا علاج کرو۔ کوئی کہتا کہ نہیں جس طرح علاج ہو رہا ہے اسی طرح چلنے دو۔ غرض اس گڑ بڑ میں یہ ہوا کہ آج اس کا علاج ہے تو کل اس کا۔ آج حکیم کا نسخہ پیا جا رہا ہے تو کل وید صاحب کی گولیاں کھائی جا رہی ہیں۔آخر اس الٹ پھیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ کل کا بگڑتا مریض آج بگڑ گیا۔ میں نے بہت کہا کہ اس کو مدن پلی لے جاؤ مگر ڈپٹی عابد حسین کیا ماننے والے تھے۔ پرانے زمانے کے آدمی تھے۔ کہنے لگے کہ ’’نئیں بھئی میری بہو اور عیسائیوں کے ہاتھوں میں جا کر پڑے۔ توبہ کرو۔ اور اگر بھیجوں بھی تو اس کی خبر گیری کون کرے گا۔ میری یہ عمر نہیں کہ خود مدن پلی جاؤں۔ اب رہے میاں محبوب، تو وہ ابھی بچے 1ہیں۔ ان سے کیا خاک بیمار کا رکھ رکھاؤ ہو سکے گا۔ اب جو قسمت میں لکھا ہے یہیں ہونے دو۔ ہائے! میں بھی کیا بد قسمت آدمی ہوں کہ ایسی خوب صورت اور سلیقہ مند بہو آئے اور دوہی برس میں اس حال کو پہنچ جائے۔‘‘غرض بڑے میاں نے بہت کچھ حجت کی، بہت کچھ بسورے مگر بہو کو مدن پلی بھیجنے پر راضی نہ ہوئے۔ ہر پھر کر یہی کہتے تھے کہ یہ مرض لا علاج ہے کیوں اس غریب کو اس حالت میں تکلیف دی جائے۔ سمجھتے تھے کہ رشیدہ مر گئی تو دوسری بہو بیاہ لائیں گے۔ ان کا کیا جاتا تھا۔ جاتا تو ہمارا تھا کہ پالی پوسی لڑکی ہاتھ سے جا رہی تھی۔ میں نے بھائی جان اور بھابی جان سے آ کر کہا کہ آپ ڈپٹی صاحب پر زور دیجئے، شاید راضی ہو جائیں۔ مگر وہ بڈھا اس بلا کا بنا ہوا تھا کہ لاکھ لاکھ سب نے سر پٹخا، اس کو نہ راضی ہونا تھا نہ ہوا۔ جب ادھر سے مایوسی ہو گئی تو سب راضی برضا ہو کر بیٹھ رہے۔ بھابی جان کی یہ حالت تھی کہ ہر وقت روتی تھیں اور آنچل پھیلا پھیلا کر دعا ئیں مانگتی تھیں کہ اس کی آئی مجھے آ لگے مگر اس سے کیا ہوتا ہے جس کی ہوتی ہے اس کو آتی ہے۔ ایک کی بیماری دوسرے کو آ لگے تو دنیا کا کارخانہ ہی درہم برہم ہو جائے۔میاں محبوب کی یہ کیفت تھی کہ بیوی کی پٹی جو پکڑ کر بیٹھے تو اٹھنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔ رات ہے تو جاگ رہے ہیں، دن ہے تو جاگ رہے ہیں۔ نرس نوکر تھی مگر سارا کام خود کرتے۔ دوا خود پلاتے، کپڑے خود بدلواتے۔ کھانا پلانا خود کرتے۔ یہاں تک کہ سر میں کھنگھی خود کرتے اور چوٹی خود ڈالتے۔ میں نے منع بھی کیا کہ میاں محبوب اس طرح تم خود بیمار پڑ جاؤ گے۔ آخر نوکر، مامائیں اور میمیں ہیں کس کام کے۔ کام ان سے لو۔ نگرانی خود رکھو۔ مگر وہ کیا ماننے والے تھے۔ سمجھتے تھے کہ محبت کے اظہار کا یہی موقع ہے اور واقعی اس سے رشیدہ خوش بھی بہت تھی۔ یہ جاننے کے باوجود بھی کہ اب میں جینے کی تو نہیں، ہر وقت مسکراتی رہتی اور میاں کی محبت دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی تھی۔ایک دن اس کی طبیعت بہت بگڑ گئی۔ صلاح ہوئی کہ کئی ڈاکٹروں کو بلا کر مشورہ کیا جائے۔ سول سرجن کو بلایا اور اس کے ساتھ مشورہ کرنے میں شہر کے پانچ چھ بڑے بڑے ڈاکٹروں کو شریک کیا گیا۔ سب نے اچھی طرح دیکھنے بھالنے کے بعد یہی رائے دی کہ رشیدہ کا بچنا محال ہے اور بیماری کا اصل سبب اس کی کم عمری کی شادی ہے۔ اس کے اعضاء ابھی پوری طرح تکمیل کو نہ پہنچے تھے کہ ان پر ناقابل برداشت بار پڑا۔ اس لیے بجائے بڑھنے کے ٹھٹھر کر رہ گئے۔ اس پر ہوئی اولاد، اعضاء میں جو کچھ تھوڑ ا بہت دم تھا وہ بھی نکل گیا۔ کمزوری میں ہر مرض زور کرتا ہے۔ دق ہو گئی اور اب آخری درجہ پر ہے۔ ڈاکٹر تو یہ کہہ اور فیس لے رخصت ہوئے اور ہماری بھابی جان نے رو رو کر برا حال کر لیا۔ مجھے بلوایا ور کہنے لگیں، ’’بھائی توسچ کہتا تھا۔ میرے شوق نے رشیدہ کو تباہ کیا۔ اب کیا کروں۔ وہ نہ رہی تو میں کیسے جیوں گی۔ کاش اس کی آتی مجھے آجائے۔‘‘بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ ان کی یہ حالت ہو اور میں ان کی پہلے غلطیوں پر انہیں لکچر دینا شروع کر دوں۔ میں نے یہ کیا کہ بڑی دیر تک بیٹھا ان کو سمجھاتا رہا۔ وہ بیٹھی روتی اور میری باتیں سنتی رہیں۔ آخر میں کہنے لگیں، ’’سعید خدا کے لئے تو یہ کر کہ رشیدہ کا سارا قصہ شروع سے آخر تک لکھ کر چھپوا دے۔ شاید مجھ جیسی بیوقوف بیویاں اس کو پڑھ کر عبرت حاصل کریں اور اپنی نازوں کی پلی ہوئی بچیوں کا چھٹپنے میں بیاہ کر کے ان کو تباہ نہ کریں۔ ارے مجھے یہ معلوم ہوتا تو میں مر جاتی اور ساری عمر اس کی شادی نہ کرتی۔‘‘میں نے کہا، ’’یہ آپ دوسری غلطی کھاتیں۔ زیادہ عمر تک بچیوں کو بٹھا رکھنا بھی ویسا ہی مضر صحت ہے جیسا چھوٹی عمر میں شادی کرنا۔ خیر میں رشیدہ کا قصہ لکھے تو دیتا ہوں مگر مجھے امید نہیں کہ میری ہندوستانی بہنیں اس سے سبق حاصل کریں گی، کیونکہ بچوں کی شادی کا وہ شوق ہوتا ہے کہ ان کو اس وقت بھلا برا کچھ نہیں دکھائی دیتا۔ کم عمری میں شادی کر دیتی ہیں اور آخر میں پچھتاتی ہیں۔‘‘بھابی جان سے جو وعدہ میں نے کیا تھا۔ اس کی تعمیل میں یہ مضمون لکھا ہے۔ اب خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ میری بہنیں اس سے سبق لیتی ہیں یا پڑھ کر اور جھوٹا قصہ سمجھ کر ’’اونھ‘‘ کر دیتی ہیں اور کتاب کو اٹھا کر پھینک دیتی ہیں۔\n\nحاشیہ\n\n(1) جی ہاں شادی کے لئے بچہ نہیں تھے بیوی کی تیمارداری کے لئے بچہ ہو گئے۔\n\n(مصنف)", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85_%D8%B3%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C"} {"title": "کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہے", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہے\nمانند حباب ابھر کے اتر آتا ہے\nکرتے ہیں ذرا سی بات پر فکر خسیس\nتنکا تھوڑی سی ہوا سے اڑ جاتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85_%D8%B8%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%D9%88_%D8%B2%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہم", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہم\nدانائیوں سے اچھے ہیں نادانیوں میں ہم\n\nشاید رقیب ڈوب مریں بحرِ شرم میں\nڈوبیں گے موجِ اشک کی طغیانیوں میں ہم\n\nمحتاجِ فیضِ نامیہ کیوں ہوتے اس قدر\nکرتے جو سوچ کچھ جگر افشانیوں میں ہم\n\nپہنچائی ہم نے مشق یہاں تک کہ ہو گئے\nاستادِ عندلیب، نواخوانیوں میں ہم\n\nغیروں کے ساتھ آپ بھی اٹھتے ہیں بزم سے\nلو میزبان بن گئے مہمانیوں میں ہم\n\nجن جن کے تو مزار سے گزرا وہ جی اٹھے\nباقی رہے ہیں ایک ترے فانیوں میں ہم\n\nگستاخیوں سے غیر کی ان کو ملال ہے\nمشہور ہوتے کاش ادب دانیوں میں ہم\n\nدیکھا جو زلفِ یار کو تسکین ہو گئی\nیک چند مضطرب تھے پریشانیوں میں ہم\n\nآنکھوں سے یوں اشارۂ دشمن نہ دیکھتے\nہوتے نہ اس قدر جو نگہبانیوں میں ہم\n\nجو جان کھو کے پائیں تو فوزِ عظیم ہے\nوہ چیز ڈھونڈتے ہیں تن آسانیوں میں ہم\n\nپیرِ مغاں کے فیضِ توجہ سے شیفتہ\nاکثر شراب پیتے ہیں روحانیوں میں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85_%D9%81%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "کم نگاہی ہور تغافل مت کر اے ماہ تمام", "poet_page": "مصنف:قربی ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کم نگاہی ہور تغافل مت کر اے ماہ تمام\nمک ترا کرتا ہے غمزہ کام عاشق کا تمام\n\nخنجر بسمل سوں دل کوں نیم بسمل جب کیا\nیک نگاہ لطف سوں کر پختہ اس کا کار خام\n\nسر بسر کا یاں جہاں کے عاشقاں کوں پوچھ ہیں\nعشق بازی کے بغیر از کر نکوں تو اور کام\n\nپی شراب نام رنداں تا اثر سوں کیف کے\nذکر اللہ اللہ ہووے گر کہے تو رام رام\n\nاو سوں توں ہو توں سو او بھی او سو او بھی توں سو توں\nقربیؔ یہ مشکل ہے نکتہ بوج توں ثم الکلام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85"} {"title": "کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیں", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیں\nسجدہ ہم کرتے ہیں جوں محراب پیمانے کے تئیں\n\nہے یہ دل ناصح بتاں کا جلوہ گاہ اس سے نہ بول\nتوڑ مت سنگ جفا سے اس پری خانے کے تئیں\n\nہجر میں جینے سے بہتر ہے ہلاک روز وصل\nیہ طرح کیا خوب راس آئی ہے پروانے کے تئیں\n\nلائیے مے کرتی ہے تعمیر دل ہائے خراب\nتا ابد رکھیو خدا معمور میخانے کے تئیں\n\nاٹھ گیا کہتے ہیں دیوانہ یقینؔ دنیا سے ہائے\nان نے کیا آباد کر رکھا تھا ویرانے کے تئیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A8%D9%88%D8%AC%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کمال شاعری کیلئے ضروری شرائط", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "شاعری میں کمال حاصل کرنے کے لئے ضروری شرطیں حسب ذیل ہیں۔ یہ وہ شرطیں اور خاص باتیں ہیں جوشاعر کوغیر شاعر سے تمیز دیتی ہیں۔ ان میں سے ایک وہی ہے یعنی تخیل اور دوم محاکات یعنی صحیفہ فطرت کے مطالعے کی عادت اور الفاظ پر قدرت۔ سب سے مقدم اورضروری چیزجو شاعر کوغیرشاعر سے تمیز دیتی ہے قوت متخیلہ یا تخیل ہے جس کو انگریزی میں امیجینیشن (Imagination) کہتے ہیں۔ یہ قوت جس قدرشاعر میں اعلیٰ درجے کی ہوگی اسی قدر اس کی شاعری اعلیٰ درجہ کی ہوگی اور جس قدرادنی درجے کی ہوگی اسی قدر اس کی شاعری ادنی درجے کی ہوگی۔ یہ وہ ملکہ ہے جس کو شاعر اپنے ساتھ ماں کے پیٹ سے لے کر نکلتا ہے اور جو اکتساب سے حاصل نہیں ہو سکتا۔اگر شاعرکی ذات میں یہ ملکہ موجود ہے اور باقی شرطوں میں (جوکمال شاعری کے لئے ضروری ہیں) کچھ کمی ہے تو وہ اس کمی کا تدارک اس ملکہ سے کر سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ ملکہ فطری کسی میں موجود نہیں ہے تو اور ضروری شرطوں کا مجموعہ اس کے قبضے میں ہو، وہ ہرگز شاعر کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جوشاعر کووقت اور زمانے کی قید سے آزاد کرتی ہے اور ماضی واستقبال کو اس کے لئے زمانہ حال میں کھینچ لاتی ہے۔ وہ آدم اور جنت کی سرگزشت اور حشرونشر کا بیان اس طرح کرتا ہے کہ گویا اس نے تمام واقعات اپنی آنکھ سے دیکھے ہیں اور ہر شخص اس سے ایسا متاثر ہوتا ہے جیسا کہ ایک واقعی بیان سے ہونا چاہئے۔ اس میں یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ جن اور پری، عنقا اور آب حیوان جیسی فرضی اور معدوم چیزوں کو ایسے معقول اوصاف کے ساتھ متصف کر سکتا ہے کہ ان کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھرجاتی ہے۔ جو نتیجے وہ نکالتا ہے گو وہ منطق کے قاعدوں پر منطبق نہیں ہوتے لیکن جب دل اپنی معمولی حالت سے کسی قدر بلند ہو جاتا ہے تو وہ بالکل ٹھیک معلوم ہوتے ہیں۔ مثلاً فیضی کہتا ہے،سخت است سیاہی شب منلخت زشب است کو کب مناس پر منطقی قاعدے سے یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ رات کی تاریکی سب کے لئے یکساں ہوتی ہے پھر ایک خاص شخص کی رات سب سے زیادہ تاریک کیونکر ہو سکتی ہے؟ اور تمام کواکب ایسے اجرام ہیں جن کا وجود بغیر روشنی کے تصور میں نہیں آ سکتا۔ پھر ایک خاص کوکب ایسا مظلم اور سیاہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ اس کو کالی رات کا ایک ٹکڑا کہا جا سکے؟ مگرجس عالم میں شاعر اپنے تئیں دکھانا چاہتا ہے وہاں یہ سب نا ممکن باتیں ممکن بلکہ موجود نظر آتی ہیں۔ یہی وہ ملکہ ہے جس سے بعض اوقات شاعر کا ایک لفظ جادو کی فوج سامنے کھڑی کر دیتا ہے اور کبھی وہ ایسے خیال کو جو کئی جلدوں میں بیان ہو سکے، ایک ایک لفظ میں ادا کر دیتا ہے۔تخیل یا امیجینیشن کی تعریف کرنی بھی ایسی ہی مشکل ہے جیسی کہ شعر کی تعریف۔ مگر من وجہ ِِاس کی ماہیت کا خیال ان لفظوں سے دل میں پیدا ہو سکتا ہے۔ یعنی وہ ایک ایسی قوت ہے کہ معلومات کا ذخیرہ جو تجربہ و مشاہدہ کے ذریعہ سے ذہن میں پہلے سے مہیا ہوتا ہے، یہ اس کو ترتیب دے کر ایک نئی صورت بخشتی ہے۔ اور پھر اس کو الفاظ کے ایسے پیرائے میں جلوہ گر کرتی ہے جو معمولی پیرایوں سے بالکل یا کسی قدر الگ ہوتا ہے۔ اس تقریر سے ظاہر ہے کہ تخیل کا عمل اور تصرف جس طرح خیالات میں ہوتا ہے اسی طرح الفاظ میں بھی ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات شاعر کا طریقہ بیان ایسا نرالا اور عجیب ہوتا ہے کہ غیر شاعر کا ذہن کبھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہی ایک چیزہے جو کبھی تصورات اور خیالات میں تصرف کرتی ہے اور کبھی الفاظ اور عبارات میں۔ اگرچہ اس قوت کا ہر ایک شاعر کی ذات میں موجود ہونا نہایت ضروری ہے لیکن ہمارے نزدیک اس کا عمل شاعر کے ہر ایک کلام میں یکساں نہیں ہوتا، بلکہ کہیں زیادہ ہوتا ہے، کہیں کم ہوتا ہے اور کہیں محض خیالات میں ہوتا ہے۔ کہیں محض الفاظ میں۔ یہاں چند مثالیں بیان کرنی مناسب معلوم ہوتی ہیں۔غالب دہلویاور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیاجام جم سے یہ مرا جام سفال اچھا ہےشاعرکے ذہن میں پہلے سے اپنی اپنی جگہ یہ باتیں ترتیب وار موجود تھیں کہ مٹی کا کوزہ ایک نہایت کم قیمت اور ارزاں چیز ہے جو بازار میں ہروقت مل سکتا ہے اور جام جمشید ایک ایسی چیز تھی جس کا بدل دنیا میں موجود نہ تھا۔ اس کو یہ بھی معلوم تھا کہ تمام عالم کے نزدیک جام سفال کی کوئی خوبی ایسی نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ جام جم جیسی چیز سے فائق اور افضل سمجھا جائے۔ نیزیہ بھی معلوم تھا کہ جام جم میں شراب پی جاتی تھی اور مٹی کے کوزے میں بھی شراب پی جا سکتی ہے۔ اب قوت متخیلہ نے ان تمام معلومات کو ایک نئے ڈھنگ سے ترتیب دے کر ایسی صورت میں جلوہ گر کر دیا کہ جام سفال کے آگے جام جم کی حقیقت نہ رہی اور پھر اس صورت میں موجود فی الذہن کو بیان کا ایک دل فریب پیرایہ دے کر اس قابل کر دیا کہ زبان اس کو پڑھ کر متلذذ اور کان اس کو سن کر محظوظ اور دل اس کو سن کر متاثر ہو سکے۔اس مثال میں وہ قوت جس نے شاعر کی معلومات سابقہ کو دوبارہ ترتیب دے کر ایک نئی صورت بخشی ہے وہ تخیل ہے اور اس نئی صورت موجود فی الذہن نے جب الفاظ کا لباس پہن کرعالم محسوسات میں قدم رکھا تو اس کا نام شعر ہوا ہے۔ نیز اس مثال میں تخیل کا عمل خیالات اور الفاظ دونوں کے لحاظ سے بے مرتبہ غایت اعلیٰ درجے میں واقع ہوا ہے کہ باوجود کمال سادگی اور بے ساختگی کے نہایت بلند اور نہایت تعجب خیز ہے۔(۲) غالب کا اسی زمین میں دوسرا شعر یہ ہے،ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہےشاعر کو پہلے سے یہ بات معلوم تھی کہ دوست کے ملنے سے خوشی ہوتی ہے اور بگڑی ہوئی طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم تھا کہ دوست کو جب تک عاشق اپنی حالت زاراور اس کی جدائی کا صدمہ نہ جتائے، دوست عاشق کی محبت اور عشق کا پورا پورا یقین نہیں کر سکتا۔ یہ بھی معلوم تھا کہ بعضی خوشی سے دفعتاً ایسی بشاشت ہو سکتی ہے کہ رنج وغم اور تکلیف کا مطلق اثر چہرے پر باقی نہیں رہتا۔ اب تخیل نے ان تمام معلومات میں اپنا تصرف کرکے ایک نئی ترتیب پیدا کر دی۔ یعنی یہ کہ عاشق کسی طرح اپنی جدائی کے زمانے کی تکلیفیں معشوق پر ظاہر نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ جب تکلیف کا وقت ہوتا ہے اس وقت معشوق نہیں ہوتا اور جب معشوق ہوتا ہے اس وقت تکلیف نہیں رہتی۔ اس مثال میں بھی تخیل کا عمل معناً اور لفظاً دونوں طرح بدرجہ غایت لطیف اور حیرت انگیز واقع ہوا ہے۔ جیسا کہ صاف ذوق سلیم پر ظاہر ہے۔اگرچہ قوت متخیلہ اس حالت میں بھی جبکہ شاعری کی معلومات کا دائرہ نہایت تنگ اور محدود ہو اسی معمولی ذخیرہ سے کچھ نہ کچھ نتائج نکال سکتی ہے۔ لیکن شاعری میں کمال حاصل کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ نسخہ کائنات اور اس میں سے خاص کر نسخہ فطرت انسانی کا مطالعہ نہایت غور سے کیا جائے۔ انسان کی مختلف حالتیں (جو زندگی میں اس کو پیش آتی ہیں) ان کوتعمق کی نگاہ سے دیکھنا، جو امور مشاہدے میں آئیں ان کے ترتیب دینے کی عادت ڈالنی، کائنات میں گہری نظر سے وہ خواص اور کیفیات مشاہدہ کرنے جو عام آنکھوں سے مخفی ہوں اور فکر میں مشق وممارست سے یہ طاقت پیدا کرنی کہ وہ مختلف چیزوں سے متحد اور متحدچیزوں سے مختلف خاصیتیں فوراً اخذ کر سکے اور اس سرمایہ کو اپنی یاد کے خزانے میں محفوظ رکھے۔ مختلف چیزوں سے متحد خاصیت اخذ کرنے کی مثال ایسی ہے جیسے مرزا غالب کہتے ہیں،بوئے گل نالہ دل دود چراغ محفلجو تیری بزم سے نکلا وہ پریشاں نکلااور متحد اشیاء سے مختلف خاصیتیں استنباط کرنے کی مثال میر ممنون کا یہ شعر ہے،تفاوت قامت یارو قیامت میں ہے یہ ممنوںوہی فتنہ ہے لیکن یاں ذرا سانچے میں ڈھلتاہےیعنی قامت معشوق اور قیامت فتنہ ہونے میں تو دونوں متحدہیں مگر فرق یہ ہے کہ فتنہ قیامت سانچے میں ڈھلا ہوا نہیں ہے اور قامت معشوق سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔غرض یہ تمام باتیں جو اوپر ذکر کی گئیں، ایسی ضروری ہیں کہ کوئی شاعران سے استغنا کاد عویٰ نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ اگر قوت متخیلہ کو اپنی اصلی غذا (جس سے وہ نشو ونماپاتی ہے) نہیں پہنچتی تو اس کی قوت آدھی بلکہ آدھی سے بھی کم رہ جاتی ہے۔قوت متخیلہ کوئی شئے بغیر مادے کے پیدا نہیں کر سکتی۔ بلکہ جو مصالحہ اس کو خارج سے ملتا ہے اس میں وہ اپنا تصرف کرکے ایک نئی شکل تراش کر لیتی ہے۔ جتنے نامور شاعر دنیا میں گزرے ہیں وہ کائنات یا فطرت انسانیت کے مطالعے میں ضرور مستغرق رہے ہیں۔ جب رفتہ رفتہ طبیعت اس مطالعے کی عادی ہو جاتی ہے تو ہر ایک چیز کو غور سے دیکھنے کا ملکہ ہو جاتا ہے اور مشاہدوں کے خزانے گنجینہ خیال میں خود بخود جمع ہونے لگتے ہیں۔سروالٹر سکوٹ جو انگلستان میں ایک مشہور شاعر ہے اس کی نسبت لکھا ہے کہ اس کی خاص خاص نظموں میں دو خاصیتیں ایسی ہیں جن کوسب نے تسلیم کیا ہے۔ ایک اصلیت سے تجاوز نہ کرنا دوسرے ایک ایک مطلب کو نئے اسلوب سے ادا کرنا۔ جہاں کہیں اس نے کسی باغ یا جنگل یا پہاڑ کی فضا کا بیان کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع کی روح میں جو جو خاصیتیں تھیں سروالٹر نے وہ سب انتخاب کر لی تھیں۔ سروالٹر کی نظم پڑھ کر آنکھوں کے سامنے بالکل وہی سماں بندھ جاتا ہے جو پہلے خود اس موقع کے دیکھنے سے معلوم ہوا تھا اور اب دھیان سے اتر گیا تھا۔ ظاہراً اس نے ان بیانات میں قوت متخیلہ پر ایسا بھروسہ نہ کیا کہ اصلیت کو چھوڑ کر محض تخیل ہی پر قناعت کر لیتا۔ کہتے ہیں کہ جب وہ روکبی کا قصہ لکھ رہا تھا، ایک شخص نے اس کو دیکھا کہ پاکٹ بک میں چھوٹے چھوٹے خودرو پھول پتے اور میوے جو وہاں اگ رہے تھے ان کو نوٹ کر رہا تھا۔ ایک دوست نے اس سے کہا کہ اس دردسر سے کیا فائدہ؟ کیا عام پھول کافی نہ تھے جو چھوٹے چھوٹے پھولوں کو ملاحظہ کرنے کی ضرورت پڑی۔ سروالٹر نے کہا، ’’تمام کائنات میں دو چیزیں بھی ایسی نہیں جو بالکل یکساں ہوں۔‘‘ پس جوشخص محض اپنے تخیل پربھروسہ کرکے مذکورہ بالا مطالعے سے چشم پوشی یا غفلت کرےگا اس کوبہت جلد معلوم ہوجائےگا کہ اس کے دماغ میں چند معمولی تشبیہوں یا تمثیلوں کا ایک محدود ذخیرہ ہے جس کو برتتے برتتے خود اسی کا جی اکتا جائےگا اور سامعین کوسنتے سنتے نفرت ہو جائےگی۔ جو شخض شعر کی ترتیب میں اصلیت کو ہاتھ سے نہیں دیتا اور محض ہوا پر اپنی بنیاد کو نہیں رکھتا وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ایک مطلوب کوجتنے اسلوبوں میں چاہے بیان کرے۔ اس کا تخیل اسی قدر وسیع ہوگا جس قدر کہ اس کا مطالعہ وسیع ہے۔کائنات کے مطالعے کی عادت ڈالنے کے بعد دوسرا نہایت ضروری مطالعہ اور تفحص ان الفاظ کا ہے جن کے ذریعہ سے اپنے خیالات مخاطب کے روبرو پیش کرتے ہیں۔ یہ دوسرا مطالعہ بھی ویسا ہی ضروری اور اہم ہے، جیسا کہ پہلا۔ شعر کی ترتیب کے وقت اول متناسب الفاظ کا انتخاب کرنا اور پھران کو ایسے طور پر ترتیب دینا کہ شعر سے معنی مقصود کے سمجھنے میں مخاطب کو کچھ تردد باقی نہ رہے اور خیال کی تصویر ہو بہ ہو آنکھوں کے سامنے پھر جائے اور باوجود اس کے کہ اس ترتیب میں ایک جادو مخفی ہو جو مخاطب کو مسخر کر لے۔ اس مرحلے کا طے کرنا جس قدر دشوار ہے اسی قدر ضروری بھی ہے کیونکہ اگر شعر میں یہ بات نہیں ہے تو اس کے کہنے سے نہ کہنا بہتر ہے۔ اگرچہ شاعری کی متخیلہ کو الفاظ کی ترتیب میں ویسا ہی دخل ہے جیسا کہ خیالات کی ترتیب میں لیکن اگر شاعر زبان کے ضروری حصے پر حاوی نہیں ہے اور ترتیب شعر کے وقت صبرو استقلال کے ساتھ ا لفاظ کا تتبع اور تفحص نہیں کرت اتو محض قوت متخیلہ کچھ کام نہیں آ سکتی۔جن لوگوں کو یہ قدرت ہوتی ہے کہ شعر کے ذریعہ سے ہم جنسوں کے دل میں اثر پیدا کر سکتے ہیں، ان کو ایک ایک لفظ کی قدر و قیمت معلوم ہوتی ہے۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ فلاں لفظ جمہور کے جذبات پر کیا اثر رکھتا ہے اور اس کے اختیار کرنے یا ترک کرنے سے کیا خاصیت بیان میں پیدا ہوتی ہے۔ نظم الفاظ میں اگر بال برابر بھی کمی رہ جاتی ہے تو وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ ہمارے شعر میں کون سی بات کی کسر ہے۔ جس طرح ناقص سانچے میں ڈھلی ہوئی چیز فوراً چغلی کھاتی ہے، اسی طرح اگر ان کے شعر میں تاؤ بھاؤ بھی فرق رہ جائے معاً ان کی نظرمیں کھٹک جاتاہے۔ اگرچہ وزن اور قافیے کی قید ناقص اور کامل دونوں قسم کے شاعروں کو اکثر اوقات ایسے لفظ کے استعمال پر مجبور کرتی ہے جو خیال کو بہ خوبی ادا کرنے سے قاصر ہے مگر فرق صرف اس قدر ہے کہ ناقص شاعر تھوڑی سی جستجو کے بعداسی لفظ پر قناعت کر لیتا ہے اور کامل جب تک کہ زبان کے تمام کنویں جھانک نہیں لیتا تب تک اس پر قانع نہیں ہوتا۔شاعر کوجب تک الفاظ پر کامل حکومت اور ان کی تلاش و جستجو میں نہایت صبر و استقلال حاصل نہ ہو ممکن نہیں کہ وہ جمہور کے دلوں پر بااستقلال حکومت کر سکے۔ ایک حکیم شاعر کا قول ہے، شعر شاعر کے دماغ سے ہتھیار بند نہیں کو دتا بلکہ خیال کی ابتدائی ناہمواری سے لے کر انتہا کی تنقیح و تہذیب تک بہت سے مرحلے طے کرنے ہوتے ہیں جو سامعین کو شاید محسوس نہ ہوں لیکن شاعر کو ضرور پیش آتے ہیں۔اس بحث کے متعلق چند امور ہیں، جن کو فکر شعر کے وقت ضرور ملحوظ رکھنا چاہئے۔ اول خیالات کو صبر و تحمل کے ساتھ الفا ظ کا لباس پہنانا۔ پھر ان کو جانچنا اور تولنا اور ادائے معنی کے لحاظ سے ان میں جو قصور رہ جائے اس کو رفع کرنا، الفاظ کو ایسی ترتیب سے منتظم کرنا کہ صورت اگرچہ نظم سے ممیز ہو مگر معنی اس قدر پورے ادا کرے جیسے کہ نثر میں ادا ہو سکتے۔ شاعر بشرطیکہ شاعر ہو اول تووہ ان باتوں کا لحاظ وقت پرضرور کرتا ہے۔ اور اگر کسی وجہ سے بالفعل اس کو زیادہ غور کرنے کا موقع نہیں ملتا تو پھر جب وہ اپنے کلام کو اطمینان کے وقت دیکھتا ہے، اس کو ضرور کاٹ چھانٹ کرنی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر بڑے بڑے شاعروں کا کلام مختلف نسخوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ پایا جاتا ہے۔اب تخیل کی نسبت اتناجان لینا اور ضرور ہے کہ اس کو جہاں تک ممکن ہو، اعتدال پر رکھنا اور طبیعت پرغالب نہ ہونے دینا چاہئے۔ کیونکہ جب اس کا غلبہ طبیعت پر زیادہ ہو جاتا ہے اور وہ قوت ممیزہ سے جو کہ اس کی روک ٹوک کرنے والی ہے، باہر ہو جاتا ہے تو اس کی یہ حالت شاعر کے حق میں زیادہ خطرناک ہے۔ قوت متخیلہ ہمیشہ خلاقی اور بلند پروازی کی طرف مائل رہتی ہے مگر قوت ممیزہ اس کی پرواز کو محدود کرتی ہے۔ اس کی خلاقی کی مزاحم ہوتی ہے اور اس کو ایک قدم بے قاعدہ نہیں چلنے دیتی۔ قوت متخیلہ کیسی ہی دلیر اور بلند پرواز ہو، مگر جب تک وہ قوت ممیزہ کی محکوم ہے، شاعر کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔ بلکہ جس قدر اس کی پرواز بلند ہوگی اسی قدرشاعری اعلیٰ درجے کو پہنچےگی۔دنیا میں جس قدر بڑے بڑے شاعر ہوئے ہیں ان میں قوت متخیلہ کی بلند پروازی اورقوت ممیزہ کی حکومت دونوں ساتھ ساتھ پائی جاتی ہیں۔ ان کا تخیل نہ خیالات میں بے اعتدالی کرنے پاتا ہے نہ الفاظ میں کج روی۔ مگر دوسری صورت میں جبکہ تخیل قوت ممیزہ پرغالب آ جائے، شاعر کے لئے اس کی پرواز ایسی ہی خطرناک ہے جیسے سوار کے لئے نہایت چالاک گھوڑا جس کے منہ میں لگام نہ ہو۔ ہزاروں ہونہار شاعروں کو اس قوت کی آزادی اور مطلق العنانی نے گمراہ کر دیا ہے اور بعض جو گمراہ ہوکر راہ راست پرآئے ہیں وہ اس وقت تک نہیں آئے جب تک کہ قوت ممیزہ کو اس پر حاکم نہیں بنایا۔ قوت متخیلہ کی دلیری اوربلند پروازی زیادہ تر اس وقت بڑھتی ہے جب شاعر کے ذہن میں اس کو اپنی غذایعنی حقائق و واقعات کا ذخیرہ جس میں وہ تصرف کرے، نہیں ملتا۔جس طرح انسان بھوک کی شدت میں جب معمولی غذا نہیں پاتا تو مجبور ہوکر بنا سپتی سے اپنا دوزخ بھر کر صحت کو خراب کر لیتا اور اکثر ہلاک ہو جاتا ہے، اسی طرح جب قوت متخیلہ کو اس کی معتاد غذا نہیں ملتی تووہ غیر معتاد غذا پر ہاتھ ڈالتی ہے۔ خیالات دور ازکار (جن میں اصلیت کانام و نشان تک نہیں ہوتا) تراش کر بہ تکلف ان کو شعر کا لباس پہناتی ہے اور قوت ممیزہ کو اپنے کلام میں خلل انداز سمجھ کر ا س کی اطاعت سے باہر ہو جاتی ہے اور شاعر کو ’’مہمل گو‘‘ اور ’’کوہ کندن و کاہ بر آور دن‘‘ کا مصداق بنا دیتی ہے۔شاعر کے لئے نیچر کا خزانہ ہر وقت کھلا ہوا ہے اور قوت متخیلہ کے لئے اس کی اصلی غذا کی کچھ کمی نہیں ہے۔ پس بجائے اس کے کہ وہ گھر میں بیٹھ کر کاغذ کے پھول پنکھڑیاں بنائے، اس کو چاہئے کہ پہاڑوں اور جنگلوں میں اور خود اپنی ذات میں قدرت حق کا تماشا دیکھے، جہاں بھانت بھانت کے اصلی پھول اور پنکھڑیوں کے لازوال خزانے موجود ہیں۔ ورنہ اس کی نسبت کہا جائےگا،جانتا قدرت کو ہے اک کھیل توکھیل قدرت کے تجھے دکھائیں کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D9%84%D8%A6%DB%92_%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D8%B7"} {"title": "کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں\nیہ کس کے ہاتھ سے دامن چھڑا رہا ہوں میں\n\nتمہیں تو ہو جسے کہتی ہے ناخدا دنیا\nبچا سکو تو بچا لو کہ ڈوبتا ہوں میں\n\nیہ میرے عشق کی مجبوریاں معاذ اللہ\nتمہارا راز تمہیں سے چھپا رہا ہوں میں\n\nاس اک حجاب پہ سو بے حجابیاں صدقے\nجہاں سے چاہتا ہوں تم کو دیکھتا ہوں میں\n\nبتانے والے وہیں پر بتاتے ہیں منزل\nہزار بار جہاں سے گزر چکا ہوں میں\n\nکبھی یہ زعم کہ تو مجھ سے چھپ نہیں سکتا\nکبھی یہ وہم کہ خود بھی چھپا ہوا ہوں میں\n\nمجھے سنے نہ کوئی مست بادۂ عشرت\nمجازؔ ٹوٹے ہوئے دل کی اک صدا ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کمال علم و تحقیق مکمل کا یہ حاصل ہے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کمال علم و تحقیق مکمل کا یہ حاصل ہے\nترا ادراک مشکل تھا ترا ادراک مشکل ہے\n\nیہ ویرانی تصور کی وہ رنگینی خیالوں کی\nکبھی محفل میں خلوت ہے کبھی خلوت میں محفل ہے\n\nوہ آئینہ ہو یا ہو پھول تارہ ہو کہ پیمانہ\nکہیں جو کچھ بھی ٹوٹا میں یہی سمجھا مرا دل ہے\n\nاجالا ہو تو ڈھونڈوں دل بھی پروانوں کی لاشوں میں\nمری بربادیوں کو انتظار صبح محفل ہے\n\nوہ دل لے کر ہمیں بے دل نہ سمجھیں ان سے کہہ دینا\nجو ہیں مارے ہوئے نظروں کے ان کی ہر نظر دل ہے\n\nوہ اے سیمابؔ کیوں سرگشتۂ تسنیم و جنت ہو\nمیسر جس کو سیر تاج ہے جمنا کا ساحل ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%B9%D9%84%D9%85_%D9%88_%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82_%D9%85%DA%A9%D9%85%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "کمالات خسروی", "poet_page": "مصنف:ناصر نذیر فراق دہلوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "آفاق ہاگردیدہ ام عشق بتاں و رزیدہ ام\nبسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری\n\nسلف سے جتنے تذکرہ نویس گزرے ہیں، ان حضرات نے حضرت امیر خسرو طوطی ہند قدس سرہ العزیز کے متعلق صرف اتنا ہی لکھا ہے کہ آپ ہندی فارسی کے بڑے شاعر تھے۔ اور شاعری کی بعض صنعتوں کے موجد گزرے ہیں۔ کچھ فقیر بھی تھے اور علم موسیقی کو بھی جانتے تھے۔ اپنی استعداد اور حوصلہ کے موافق حضرت کے کلام پر کچھ رائے بھی لکھ دی۔ اللہ اللہ، خیر صلا، تذکرہ نویسی کا حق ادا کر دیا۔ یہ کچھ نہ لکھا کہ آپ باطنی درجہ کیا رکھتے تھے اور علم موسیقی میں کہاں تک دخل تھا۔ مگر یہ دونوں کام ان کے بوتہ کے نہ تھے۔ کیونکہ، کار درویشی ورائے فہم تست۔\n\nتصوف کا انہیں مذاق بھی نہ تھا اور علم موسیقی سے بھی نابلد۔ ان صاحبوں کے نزدیک تصوف اور موسیقی دونوں عبث۔ مگر انہیں خبر نہیں تھی کہ اگر حضرت امیر خسرو دہلویؒ تصوف اور موسیقی میں دستگاہ نہ رکھتے، تو وہ بھی معمولی شاعروں کی طرح گمنام ہو گئے ہوتے۔ اور قبر ڈھونڈھے سے بھی نہ ملتی۔ یہ تصوف ہی کی برکت ہے کہ چھ سو برس سے آج تک آپ کا مزار زر بفت اور اطلس کے غلاف سے جگمگایا کرتا ہے۔ پھولوں کی سیج تیار رہتی ہے۔ اگر سوز میں عود اور خوشبوئیں ہر وقت جلتی رہتی ہیں اور آپ کی خانقاہ کی دہلیز کو خلجی، لودھی اور مغل تاجداروں نے سجدہ کیا ہے اور ہمارے حضور عالی جاہ قیصر ہند اور تمام لارڈ اور وائسرائے اور گورنمنٹ انگلشیہ کے بااقبال جانشین ہماری آنکھوں دیکھتے آپ کے مزار کی زیارت کو شوق کے ساتھ درگاہ میں آئے ہیں۔ اور چونکہ آپ کو بقائے باللہ حاصل ہو گئی ہے، اس لئے امید ہے کہ آپ کے آستانہ پر اہل حاجت کا تانتا قیامت تک لگا رہےگا۔\n\nابو القاسم فردوسی خدائے سخن گزرا ہے۔ عسجدی، فرخی، خاقانی، انوری، خاک ایران سے کیسے لائق فائق شاعر پیدا ہوئے مگر ان میں سے کسی کے مزار پر خاص و عام کے جھمگٹ ایسے رہتے ہیں جیسے ہمارے امیر صاحب کے آستانہ پر؟ تو مجھے بتاؤ جس خوبی نے حضرت امیر کو اس رتبہ پر پہنچایا ہے اسی سے تذکرہ نویسوں نے جی چرایا ہے۔ افسوس اس چمن کی ہوا بگڑ گئی۔ گل اور غنچہ، برگ اور شگوفہ خزاں نوچ کھسوٹ کر لے گئی اور کاٹھ رہ گئے۔ سائنس یا نئی روشنی اجازت نہیں دیتی کہ امیر خسرو دہلوی کو سوائے شاعر کے ولی بھی کہا جائے۔ اور اگر کہا جائے تو پھر اپنے تئیں جنٹلمینوں کی نگاہ میں حقیر کرنا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت امیر خسروؒ ایک صوفی حق آگاہ تھے اور آپ کے کلام میں جو زندگی ہے، وہ تصوف کی وجہ سے ہے۔ دیکھئے کس قدر کھلم کھلا کہتے ہیں،\n\nمرا زاں آتشے شوقے کہ دامن سوخت اے خسروؔ\nمحمد شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم\n\nحضور محبوب پاک جو رات بھر مشاہدہ حق میں جاگتے رہتے، تو آپ کی چشم نرگسیں نیند سے کڑوی ہوکر صبح کو کچھ اور عالم پیدا کر لیتی تھیں۔ اسی کی طرف آپ اشارہ کرتے ہیں،\n\nتوشبینہ مینمائی ببرکہ بودی امشب\nکہ ہنوز چشم مستست اثرِ خمار دارد\n\nحضور والا کے درجۂ قرب کے متعلق فرماتے ہیں،\n\nگفتم کہ حوری یا پری گفتا کہ من شاہ بتاں\nگفتم کہ خسرو ناتواں گفتا پرستارِ منست\n\nحضرت امیرؒ کے کلام قدسی نظام میں جو مکاشفات واردات شہود، وحدت وجود، لطائف وغیرہ تصوف کے مقامات کے کنائے اشارے ہیں، اگر میں ان کی شرح کروں تو عوارف المعارف اور احیاء العلوم اور فتوحات کی طرح ضخیم کتابیں تیار ہو جائیں۔\n\nمن و تو ہر دو خواجہ تاشانیم\nبندۂ بارگاہ سلطانیم\n\nمیرے ہاتھ میں بھی محبوب پاک کا دامن عطر بیز ہے۔ حضرت امیر خسروؒ کی جو شان ہے اسے میں خوب جانتا ہوں۔ علی ہذا تذکرہ نویسوں کے خیال میں موسیقی بھی ڈوم ڈھاڑیوں کے لئے ہے۔ کہیں بھلے آدمی بھی اس میں وقوف رکھتے ہوں گے۔ ہائے میری مری ہوئی دلّی! تجھے آج میں کیونکر زندہ کر کے ان لوگوں کو دکھاؤں جس میں شرافت اور امارت کے لئے موسیقی کا جاننا ایک تمغہ گنا جاتا تھا۔\n\nسراج الدین ابو ظفر بادشاہ دہلی، اس فن کو اچھی طرح جانتے تھے او راہل ہنر سے اسے سیکھا تھا۔ جب کبھی آستانہ محبوبی میں حاضر ہوتے تو مزار شریف کے سامنے ہاتھ باندھ کر عرض کرتے۔ آپ کے باپ دادا کا ڈوم حاضر ہے۔ اور پھر تمنیاً و تبرکاً اپنی تصنیف کی کوئی چیز بہت خوش الحانی کے ساتھ گاتے۔ کیونکہ جانتے تھے کہ حضرات چشت کو سماع دل و جان سے پسند ہے۔ میر ناصر احمد بین کار، قطب بخش، چناکنچنی، ٹڑموئی خانم کنچنی، دلدارا عظمیہ نٹنی، یہ حضور کے بزم کے ارباب نشاط تھے۔ جب یہ لوگ گاتے تو حضور ان کو موقع موقع سے داد دیتے تھے اور اگر لے سر کی غلطی ہوجاتی تھی تو فوراً ٹوک دیتے تھے۔ واجد علی شاہ فرماں روائے اودھ نے جس درجہ تک اسے حاصل کیا تھا، وہ سب جانتے ہیں۔ حضرت امیر ابن امیر نواب مستطاب حضور کلب علی خاں نور اللہ مرقدہ، اس فن کے جوہری تھے۔ جب آپ کے سامنے قطب الدولہ گویا گاتا تھا، تو اس کا دل اندر سے ہلا کرتا تھا کہ حضور اس فن کے بڑے سمجھنے والے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہیں غلطی ہو جائے۔\n\nہمارا گھرانہ خواجہ میر درد رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر خواجہ ناصر امیر مرحوم تک اس فن کا ماہر گنا جاتا تھا۔ ہر مہینے کی دوسری اور چوبیسویں تاریخ کو راگ کی دو محفلیں ہوتی تھیں، جن میں تمام شہر کے قوال اور گویے اور کنچنیاں بے بلائے حاضر ہوتیں۔ اور رات بھر گا بجاکر اپنا اپنا ہنر دکھاتی تھیں۔ اس پیشہ کے جو کسبی باہر سے دلی میں آتے تھے، ان کی قوم کے لوگ ان سے کہہ دیتے تھے، اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے ہنر کی ساری دلی میں دھوم ہو جائے تو خواجہ میر دردؒ کی بارہ دری میں جاکر سجادہ نشین کو کچھ سنا آؤ۔ آپ جس پیشہ ور کی تعریف کردیتے ہیں وہ شہر بھر میں پُج جاتا ہے۔\n\nحضرت شاہ عبد العزیز صاحب اس تقوے اور طہارت پر ہندی موسیقی کے ارتھ وِدّیا کو ایسا جانتے تھے کہ جب گویوں میں اس بات کا جھگڑا ہوتا تھا کہ یہ راگ سنپورن ہے یا سنکیرن، کھاڈو ہے یا اوڈو، تو شاہ صاحب کی خدمت میں آکر عرض کرتے تھے کہ ہمارا فیصلہ کردیجئے۔ شاہ صاحب اس تشریح کے ساتھ انہیں سمجھاتے تھے کہ وہ آپ کے قدم پکڑ لیتے تھے، اور آپ کے فیصلہ کو دل و جان سے مان لیتے تھے۔\n\nفن موسیقی درحقیقت حکمت میں شامل ہے۔ اس کے موجد حکماء گزرے ہیں، جنہوں نے سرگم، یا سیتک کا مزاج الگ بتایا ہے۔ پھر راگ راگنی کی ترکیب سے بحث کی ہے، اور اس کی نسبت نجومی بھی مفصل لکھی ہے۔ اس کے افعال، خواص، تاثیرات کو بیان کرکے بتایا ہے کہ یہ راگ راگنی اس مرض میں فائدہ دیتی ہے۔ اس کے سننے سے فلاں بیماری جاتی ہے۔ اور ہندوؤں کے اعتقاد میں تو راگ الہامی فن ہے۔ اس کا تذکرہ وید میں موجود ہے۔ اور سیکڑوں گرنتھ اور پستکیں اور پوتھیاں سنسکرت میں اس کی تصنیف ہوئی ہیں۔ برہما جی، مہادیو جی، سری کرشن جی، ہنومان جی، دیوتا اور اوتاروں نے اسے مرتب کیا ہے اور داخل عبادت فرمایا ہے۔\n\nہر راگ اور راگنی ایک روحانیت رکھتی ہے، جس کی ایک باطنی صورت ہوتی ہے۔ جب کوئی گائن بہت ادب اور عقیدت اور صحت کے ساتھ گاتا ہے تو راگ راگنی اپنی روحانیت یا حسن نورانی کو گائن کے اوپر ظاہر کردیتی ہے اور بالمشافہ پرگھٹ ہو جاتی ہے۔ اگر گائن کم ظرف اور دل کا بودا ہوتا ہے تو اس کے روپ سروپ کو دیکھ کر دیوانہ ہو جاتا ہے۔ ہندومت کے عقیدت مندوں نے اپنے معبودوں کو الاپ چاری اور گلے سے گاکر بھی خوش کیا۔ اور ان کے رجھانے کے لئے ساز بھی ایجاد کئے۔ سارنگی اور بین ایسے باجے ہیں جو گلے کی باریک حرکتوں کو ادا کر دیتے ہیں۔ اور اسی باعث سے دنیا کے سارے سازوں پر، جاننے والوں کے نزدیک ان سازوں کو فوقیت اور ترجیح ہے۔\n\nتال اور لے کے تولنے کے لئے پکھاوج ایسا آلہ بنایا کہ بال بھر کی زیادتی کمی معلوم ہوجاتی ہے۔ اگر یہ فن ایسا عجیب و غریب نہ ہوتا تو حضرت امیر اسے حاصل نہ فرماتے۔ درحقیقت آپ ایران کے فن موسیقی اور ہندوستانی سنگیت ودیا میں فرد کامل تھے۔ اسی باعث سے آپ کو اس فن کے اہل کمال نے نائکوں میں شمار کیا ہے۔ آپ اپنے وقت او ر زمانہ کے نائک تھے۔ نائک شاستر میں سنگیت ودیا کے کامل الفن او ر موجد کو کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس کی مثال میں مجدد یا امام کا لفظ ہے۔ اور اس کمال کے باعث سے نائک کو جوتی سروپ بھی کہا جاتا ہے۔ جیسے مہادیو جی پون کمار یعنی ہنومان جی۔\n\nسری کرشن جی مہاراج وغیرہ جو لوگ اس فن کے عالم اور حامل ہیں، وہ میری اس تحریر سے سمجھ جائیں گے کہ حضرت امیر خسرو دہلی کا اس ہنر میں کیا پایہ ہے۔ بے شک آپ علم موسیقی کے حکیم اور نائک تھے اور آپ کو اور نائکوں پر بھی فضیلت ہے۔ کیونکہ ہندومت کے نائک صرف ہندوستانی راگ کو جانتے تھے۔ اور آپ ہندوستان اور ایران دونوں ملکوں کی سنگیت ودیا کے استاذ الاستاذ تھے۔ جس طرح آپ نے ہندی، فارسی اور ساری کے ساتھ ترکی عربی الفاظ کو کھچڑی بناکر اردو کی بنیاد ڈالی تھی، اسی طرح آ پ نے ہندی تال اور ادہیّا اور سر ادہیّا میں تصرف کیا۔ دیکھئے خمسہ کی تال آپ نے کس طرح بنائی۔ اس میں پانچ ضربیں برابر ہیں۔ دھن دھن، دھا دھا، دن دن تاتت، دھاکٹشک دھنک، دھناکٹٹک، دھنک۔ دوسرا ٹھیکہ آپ نے چھ تالوں سے قائم کیا اور اس کا نام آپ نے فردوست رکھا۔ اس کے بول یہ ہیں، دھین کڑتک، دھین کڑتک، تھگن تھگن دھن، کڑتک دینا کہٹتا۔\n\nاس کے علاوہ بھی حضرت امیر نے بہت سی تالیں ایجاد کی ہیں۔ اس مختصر میں وہ سب نہیں آسکتیں۔ غالباً ناظرین انہیں دو تالوں کے بول پڑھ کر گھبرا جائیں گے۔ میں نے دو تالوں پر ہی اکتفا کیا ہے۔ میں نے یہ تفصیل بھی نہیں لکھی ہے کہ یہ دونوں کس موقع پر کام دیتی ہیں اور گانے کی کون کون سی چیزوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ بھی تفاوت نہیں جتایا کہ اگلی تالوں کی نسبت یہ کس قدر پر لطف ہیں اور انہوں نے قبولیت پائی ہے۔ جنہیں کچھ مذاق ہے وہ سمجھ جائیں گے، اور حضرت امیر کے کلام پر کمال تحسین کریں گے۔ اسی طرح آپ نے راگ راگنیاں بھی متعدد ایجاد کیں۔ مثلاً،\n\n(۱) نمازہ، یہ راگنی یا دھن آپ نے فارسی مقامات سے نکالی اور ایسی دلکش نکالی کہ ہندوستان میں اس سرے سے اس سرے تک مقبول ہو گئی۔ اور سب استادوں نے اسے پسند کر لیا۔ یہ سنپورن ہے اور اس میں سوائے مدھم کے سب سُر تیور لگتے ہیں۔\n\n(۲) زیلف، اس راگ یا دھن کے موجد بھی ہمارے امیر صاحب ہیں۔ اسے آپ نے کھٹ راگنی سے رنگ دیا ہے۔ اس میں شرج پنچم سدھ ہے۔ رکھ مدھم دہائیوت کو مل گاندھار لکھنا دتیور ہیں۔ یہ راگنی رات کے آخر حصہ میں بہت مزہ دیتی ہے۔\n\n(۳) ضلع، اس کے موجد بھی آپ ہی ہیں۔ اور آپ نے اسے کافی اور سدھ سے ملاکر ایسا جاں پرور بنا دیا ہے کہ سبحان اللہ۔ یہ بھی سنپورن ہے۔ جس میں شرج اور پنچم سدھ رکھب اور دہائیوت تیور ہیں۔ اور گاندھار، مدھم، نکھاد، کومل ہیں۔\n\n(۴) سرپردہ، اس کے موجد بھی آپ ہی ہیں۔ یہ راگنی بھی سنپورن ہے۔ آپ نے اسے گور سارنگ، بلاول اور بوریا سے مرکب کیا ہے۔\nاسی طرح آپ بہت سے راگوں کے موجد ہیں، اور ان کی تفصیل لکھی جائے تو ایک دفتر بن جائے۔ آپ کے زمانہ میں مسلمانوں کا اقبال اساڑ اور ساون کی گھٹا کی طرح اٹھا چلا آتا تھا۔ افغانستان، ایران، ہندوستان ایک ہو رہے تھے اور ان ملکوں کے اہل کمال دلی چلے آتے تھے۔ ولایتی خنیاگر اور مطربوں کو اپنے نغمہ و سرود پر بڑا ناز تھا، مگر حضرت امیر نے ان سے کہا کہ ہمارے ہندوستان کا علم موسیقی تمہارے ولایت کے موسیقی سے کچھ کم نہیں ہے۔ صرف نام اور ترکیب کا فرق ہے۔ ورنہ جو چیز تمہارے ہاں ہے، اس سے اچھی ہمارے ہاں موجود ہے۔\n\nپھر آپ نے انہیں گاکر سمجھایا کہ دیکھو جن کا نام تمہاری اصطلاح میں رکت اور غزل ہے اس کا نام ہم نے کھٹ رکھا ہے۔ جسے تم بھات کہتے ہو، اسے ہم دھناسری کہتے ہیں، جسے تم صغیر کبیر کہتے ہو، اسے ہم ایمن کہتے ہیں۔ جسے تم عشاق عراق اوج کہتے ہو، ہم اسے گنکلی کہتے ہیں۔ جسے تم حسینی دوگا تو اور عجم کہتے ہو، ہم اسے سارنگ اور کافی کہتے ہیں۔ جسے تم سہ گاہ چہار گاہ، مایہ بستہ نگار زنگولہ مغلوب کہتے ہو، ہم اسے ٹوری کہتے ہیں۔ جسے تم مجیرسی یا عراق کہتے ہو، ہم اسے نمازہ کہتے ہیں۔ جسے تم عشاق کہتے ہو، ہم اسے سارنگ اور نسیت کہتے ہیں۔ جسے تم فرغنہ کہتے ہو، اسے ہم گورا اور گنکلی کہتے ہیں۔\n\nمیں نے ایرانی اور ہندی راگوں کی ترکیب بھی مختصر دکھا دی ہے، جو حضرت امیر نے ایران کے استادوں کو سمجھائی ہے۔ ورنہ بہت سے راگ راگنیاں ہیں، جن کی حضرت امیر نے ایران اور ہندوستان کے راگ راگنیوں سے تطبیق کی ہے۔ پھر آپ نے کنٹھ (حلق) سے ادا کر کے انہیں یہ بھی سمجھایا کہ جسے تم نشید کہتے ہو، ہندی والے اسے الاپ کہتے ہیں، جس کا نام تم نے مدر رکھا ہے، اسے ہمارے ملک میں ٹیپ کہتے ہیں۔ جسے تم لوگ ہشد کہتے ہو، اسے یہاں والے شرج یا کھرج کہتے ہیں، جس کانام تمہارے ہاں زمزمہ ہے، ہم اسے گٹکری کہتے ہیں۔\n\nآپ کے عہد میں ایک گویا گوپال نامی دکن سے دہلی آیا۔ اور کمال کے باعث سے دربار شاہی تک پہنچا۔ ایسا گایا ایسا گیا کہ بادشاہ اور تمام حاضرین حیران ہو گئے۔ بادشاہ نے اپنے گویوں کی طرف اشارہ کیا کہ تم بھی گاؤ اور اس کے کمال کا جواب دو۔ مگر سب نے کانوں پر ہاتھ دھر کر کہا، اس انداز کا گانا ہم لوگ نہیں جانتے۔ بادشاہ کو بدمزہ دیکھ کر حضرت امیر نے کہا، اگر اجازت ہو تو میں کچھ عرض کروں۔ بادشاہ نے کہا ضرور۔ آپ نے گوپال کے گانے کی ترکیب فوراً ہی اُڑالی اور اسی ڈھنگ میں اپنی طبیعت سے ترانہ اور قلیان ایجاد کر کے سنایا تو گوپال کے ہوش اڑ گئے۔ حضرت امیر نے کہا، استاد جی! ان دونوں چیزوں کا نام بتائیے کیا ہے۔ گوپال بڑا ہنر شناس تھا۔ اس نے کہا، کبھی پہلے اس قسم کی چیز سنی ہو تو بتاؤں۔ نہ یہ دہرپد ہے، نہ چترنگ ہے، نہ ٹروت ہے۔ یہ تو دنیا سے نرالی چیزیں ہیں۔ آپ کے حلق میں طوطی بیٹھا ہے۔ وہ نورانی بولی بول رہا ہے۔ آپ ہی بتائیے ان کا کیا نام ہے۔\n\nحضرت امیر نے فرمایا، ایک کا نام ترانہ ہے اور دوسرے کا نام قلیان۔ ان کا مرتب کرنا اور گانا اور تال سم کا جاننا ہر ایک کا کام نہیں ہے۔ جب آپ کا کمال گوپال کو پورا پورا معلوم ہو گیا تو اس نے آپ کے سامنے کان پکڑ کر کہا، آپ کو نائک کا لقب پھبتا ہے۔ یہ آپ کا ہی حصہ ہے کہ گھڑی بھر میں ایجاد بھی کریں، اور اسے ادا بھی کر کے دکھائیں۔ بادشاہ بھی بہت خوش ہوا۔\n\nآپ کے یہ کمالات تو ہمیں سب تسلیم ہیں، مگر کوئی یہ تو ٹھیک ٹھیک بتائے کہ حضرت امیر خسروؒ کے وقت میں ہندوستان کے اندر کون سی یونیورسٹی تھی، جس میں عربی، فارسی، ترکی، سنسکرت، بھاشا اور تمام علوم اور فن موسیقی کی تعلیم دی جاتی تھی۔ جن میں حضرت امیر نے تعلیم پاکر یہ کمال حاصل کیا تھا۔ اس کا جواب چارو ں طرف سے یہی ملےگا کہ اس وقت ایسا کوئی مدرسہ یا کالج نہیں تھا، تو میں ضرور کہوں گا اور سب اہل عقیدت اتفاق کے ساتھ یہی کہتے آئے ہیں کہ حضرت امیر میں جو اس قدر ہنر گستری تھی، یہ حضرت محبوب پاک رضی اللہ عنہ کا فیضان تھا۔\n\nآہن کہ بپارس آشنا شد\nفی الحال بصورت طلا شد\n\nنئی روشنی کے دلدادہ اسے نہیں مانیں گے کیونکہ ’’فیہ ظلمٰت وَّ رَعدٌ وَبَرْقٌ‘‘ مگر میرا اس پر ایمان ہے۔ حضور محبوب پاک نے ایک بار آپ کو کچھ اداس دیکھا تو سبب دریافت کیا۔ آپ نے عرض کیا، آج مجھے حضرت خضر علیہ السلام سے نیاز حاصل ہوا تھا۔ میں نے حضرت سے کہا، آپ نے موسیٰ علیہ السلام کو باطنی تعلیم دی ہے۔ کچھ اس فقیر کو بھی فیض پہنچائیے۔ حضرت نے فرمایا، تم کیسا فیض چاہتے ہو۔ میں نے کہا، فصاحت بلاغت کا۔ حضرت خضرنے فرمایا، یہ فیض میرے لعاب دہن میں امانت تھا۔ وہ شیخ سعدی کو دے چکا۔ اس سوکھے جواب پر میرا دل پکڑا گیا۔ حضور محبوب پاک نے فرمایا، اتنی سی بات کے لئے رنجیدہ بیٹھے ہو۔ آؤ میں تمہیں اپنا لعاب دہن کھلا دوں۔ حضرت امیر سلام کر کے حضور کے پاس جا بیٹھے۔ حضرت ممدوح نے انگشت مبارک لعاب دہن میں تر کر کے حضرت امیر کے ہونٹوں کو لگادی۔ اللہ اللہ وہ تری آب حیات یا اکسیر الٰہی تھی۔ جس نے آن کی آن میں الم نشرح لک صدرک کی کیفیت دکھا دی۔ آج تک اسی فیض کی برکت ہے، جو حضرت امیر کے کمالات کی ہندوستان سے لے کر یورپ تک دھوم ہے۔ اور آپ کی تصانیف ولایت کے میوزیم اور لائبریریوں میں جگا جگا کر رکھی جاتی ہے۔\n\nاعجاز خسروی جب ایران پہنچی تو اس سمندر کو دیکھ کر وہاں کے انشاء پرداز اور شاعر چکرا گئے۔ جواب تو اس کا کسی سے دیا نہ گیا۔ مگر کھسیانے ہوکر یہ کہہ دیا کہ ’’ایں زبان مانیست۔‘‘\n\nمجھے اتنی مہلت نہیں ہے کہ میں حضرت امیر کی نظم و نثر کے کمالات پر ریویو کروں، اور بتاؤں کہ آپ کی فارسی کیا ہے اور زابلی، کابلی، سعدی، پہلوی، دری، وغیرہ ایرانی زبانوں میں سے آپ کے کلام میں کون کون سی زبانیں آئی ہیں اور آپ کے کلام نے کیا قبولیت پائی ہے۔ صرف اتنا لکھتا ہوں کہ آپ کی یہ شان ہے کہ حضور محبوب پاک نے فرمایا، خدا اگر مجھ سے پوچھےگا کہ نظام الدین تو دنیا میں سے میرے لئے کیا تحفہ لایا ہے تو امیر خسرو کو پیش کروں گا۔\n\nحضرت امیر اور آپ کے کمالات زندہ ہیں اور آپ ہر محفل میں تشریف رکھتے ہیں۔ صوفیہ افضل الفوائد اور راحۃ المحسنین کو پڑھتے ہیں اور سر دھنتے ہیں۔ مکتبوں کے بچے آپ کی خالق باری کا سبق لیتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ چھوٹے بچے آپ کی پہیلیاں ایک دوسر ے کو سناتے ہیں اور اپنا جی بہلاتے ہیں۔ لڑکیاں ساون میں آپ کے گیت جھولے میں بیٹھ کر گاتی ہیں اور اپنے چاؤ کو پورا کرتی ہیں۔ گھر کی بیٹھنے والی عورتیں پتی ورتا اپنے خاوندوں کے فراق میں حضرت امیر کے گیت گاتی ہیں اور اپنے درد دل کا علاج کرتی ہیں۔ سبحان اللہ امیر صاحب کی بھاشا کی لطافت کیا لکھی جائے۔ اس مصرعہ کو پڑھ کر مزہ لیجئے۔ سکھی پیا کو جو میں نہ پاؤں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں۔\n\nیہ معلوم ہوتا ہے کہ کنہیا جی مہاراج دو ارکا کو سدھار گئے ہیں، اور رادھا جی فراق میں گھبراتی ہیں اور یہ بول اپنی زبان سے کہہ رہی ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ حضرت محض بھاشا جانتے تھے۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ نائک کے لئے لازم ہے کہ وہ موسیقی علماً اور تفنناً دو نوں طرح جانے۔ اس لئے آپ ضرور سنسکرت کے ماہر تھے۔ مگر اپنے مذہبی اور قومی کمالات کے سامنے اس سے زیادہ کام نہیں لیا۔ آپ اس ہمہ دانی اور قابلیت پر بڑے منصف مزاج اور ہنر مند تھے۔\n\nجب حضرت حسن علاء سنجری آپ کے پیر بھائی نے فوائد الفوااد شریف لکھی تو آپ کو بہت پسند آئی۔ آپ نے حسن علاء سنجری سے کہا، میں اپنی ساری تصانیف پر آپ کا نام ڈال دوں اور آپ انہیں لے لیں، اور یہ رسالہ مجھے آپ عنایت کردیں۔ میری ساری تصانیف سے آپ کی فوائد الفوائد اچھی ہے۔ حضرت حسن نے کہا، بہت اچھا۔ آپ کی تصانیف آپ کو مبارک رہے، اگر آپ کو میری کتاب پسند ہے تو میں نذر کردوں گا۔ مگر میں حضرت پیرو مرشد سے پوچھ لوں۔ کیونکہ میں اسے حضور میں گزران چکا ہوں۔ اگر بغیر اجازت حضرت کے اس میں کچھ تبدیلی کروں گا توباز پرس ہوگی۔ حضرت امیر نے کہا بہت مناسب ہے۔ حضرت سے استمزاج کر لیجئے۔ حضرت حسن علاء سنجری نے موقعہ پاکر یہ حال حضور محبوب پاک کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہم اس کا جواب امیر خسرو ہی کو دے دیں گے۔\n\nحضرت امیر حضور والا کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے مسکرا کر فرمایا، امیر! ماشاء اللہ تم تو ملک الشعراء، طوطی ہند ہو۔ تمہاری تصنیف کا کیا ٹھکانہ ہے۔ گنتی میں بھی نہیں آتیں اور بیچارے حسن نے مرکھپ کر ساری عمر میں ایک رسالہ لکھا ہے، وہ تمہارے کہنے کو نہیں ٹال سکتا ہے، وہ تمہیں دے دےگا مگر میرے نزدیک تو یہ اسی کو بخش دو۔ شاید اسی کتاب سے اسے کچھ شہرت ہوجائے۔ غرض حضرت امیر کے کمالات کے بیان کرنے کو بڑا وقت درکار ہے۔\n\nحضرت میر عبد الواحد بلگرامی واسطی زیدی رحمۃ اللہ علیہ کتاب سبعہ سنابل میں فرماتے ہیں کہ جب حضرت امیر خسروؒ دہلوی نے اس جہان فانی سے انتقال فرمایا تو دہلی میں تہلکہ مچ گیا۔ بادشاہ سے لے کر فقیر تک آپ کے سوگ میں تھے۔ شیخ رکن الدین سہروردی ایک کامل بزرگ تھے۔ آپ نے کہا افسوس ہے، آج امیر خسروؒ طوطیٔ ہند ملک الشعراء اس جہان سے گزر گئے۔ ان کے صاحب کمال ہونے میں تو شک نہیں ہے مگر بادشاہوں کی صحبت میں رہے، اور ان کی تعریف میں بہت سے قصیدے لکھے ہیں۔ اس لئے ہمیں خیال ہے کہ دیکھئے خدا سے کیسی بنتی ہے۔ ان کے جنازے پر جاکر ہمیں ان کی مغفرت کے لئے دعا کرنی چاہئے۔ یہ کہہ کر اٹھے اور جبہ درویشی پہن اور مریدوں کو ساتھ لے کر تشریف لے آئے۔ اور حضرت امیر کے جنازے کے پاس بیٹھ گئے۔ ابھی دعا کے لئے ہاتھ نہ اٹھائے تھے، جو حضرت امیر اپنے کفن مبارک کو کھول کر اٹھ بیٹھے اور ہنس کر کہا۔ شیخ رکن الدین صاحب !،\n\nما بہ نعمت ہائے پیر خود کفایت کردہ ایم\nنیست مارا حاجتِ آمرزشِ آمرزگار\n\nیعنی مجھے اپنے پیر و مرشد کا وسیلہ کافی ہے۔ کسی اور کی بخشش اور سفارش کی حاجت نہیں ہے۔ یہ کہہ کر آپ پھر لیٹ گئے اور شیخ رکن الدین صاحب کو معلوم ہو گیا کہ حضرت امیر کیا شان رکھتے ہیں۔ بارک اللہ۔ حضرات چشت بھی کیا چیز ہیں۔ آپ ہی مردہ آپ ہی مسیحا۔ چاہے مر جائیں، چاہے جی جائیں۔\n\nغدر ۱۸۵۷ء سے پہلے جب حضرت خواجہ الہ بخش صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شاہ سلیمان قدس سرہ العزیز کے پوتے زیارت کے واسطے دہلی آئے توبہادر شاہ مرحوم آپ کے لینے کے لئے حضرت شاہ نصیر الدین چراغ دہلوی قدس سرہ العزیز کی درگاہ تک گئے۔ اور لال قلعہ میں آپ کی دعوت کی۔ کھانے کے بعد بہادر شاہ نے خواجہ بخش صاحب سے ہاتھ باندھ کر کہا، حضور دعا فرمائیں کہ میری سلطنت کو ایسا عروج ہو جائے جیسا کہ جلال الدین اکبر اور اورنگ زیب کی سلطنت کو تھا۔ حضرت نے اس کے جواب میں فرمایا، جس دن سے تم لوگوں نے محمد شاہ پیا کی قبر پر سنگ مرمر کا پنجرہ بنا کر کھڑا کیا ہے، اسی دن سے حضور محبوب پاک اور تمام خواجگان چشت مغلوں سے ناخوش ہو گئے ہیں۔ اور لال قلعہ پر زوال آ گیا ہے۔ کیونکہ تم نے عاشق معشوق کے نظارے میں خلل ڈال دیا اور پردہ لگا دیا۔ اگر تم اس پنجرے کو اکھڑوا کر پھینک دو تو میں دعا کروں۔ بادشاہ کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ حضرت خواجہ الہ بخش صاحب نے فرمایا، تو مجھ سے دعا بھی نہیں ہو سکتی۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA_%D8%AE%D8%B3%D8%B1%D9%88%DB%8C"} {"title": "کمالِ تَرک نہیں آب و گِل سے مہجوری", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کمالِ تَرک نہیں آب و گِل سے مہجوری\nکمالِ ترک ہے تسخیرِ خاکی و نوری\n\nمَیں ایسے فقر سے اے اہلِ حلقہ باز آیا\nتمھارا فقر ہے بے دَولتی و رنجوری\n\nنہ فقر کے لیے موزُوں، نہ سلطنت کے لیے\nوہ قوم جس نے گنّوایا متاعِ تیموری\n\nسُنے نہ ساقیِ مہ‌وَش تو اور بھی اچھّا\nعیارِ گرمیِ صُحبت ہے حرفِ معذوری\n\nحکیم و عارف و صُوفی، تمام مستِ ظہور\nکسے خبر کہ تجلّی ہے عین مستوری\n\nوہ مُلتفت ہوں تو کُنجِ قفَس بھی آزادی\nنہ ہوں تو صحنِ چمن بھی مقامِ مجبوری\n\nبُرا نہ مان، ذرا آزما کے دیکھ اسے\nفرنگ دل کی خرابی، خرد کی معموری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D9%90_%D8%AA%D9%8E%D8%B1%DA%A9_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A8_%D9%88_%DA%AF%D9%90%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%AC%D9%88%D8%B1%DB%8C"} {"title": "کمالِ جوشِ جُنوں میں رہا مَیں گرمِ طواف", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کمالِ جوشِ جُنوں میں رہا مَیں گرمِ طواف\nخدا کا شُکر، سلامت رہا حرم کا غلاف\n\nیہ اتّفاق مبارک ہو مومنوں کے لیے\nکہ یک زباں ہیں فقیہانِ شہر میرے خلاف\n\nتڑپ رہا ہے فلاطوں میانِ غیب و حضور\nازل سے اہلِ خرد کا مقام ہے اعراف\n\nترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب\nگِرہ کُشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشّاف\n\nسُرور و سوز میں ناپائدار ہے، ورنہ\nمئے فرنگ کا تہ جُرعہ بھی نہیں ناصاف", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D9%90_%D8%AC%D9%88%D8%B4%D9%90_%D8%AC%D9%8F%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%85%D9%8E%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%D9%85%D9%90_%D8%B7%D9%88%D8%A7%D9%81"} {"title": "کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کا\nتباہے حال تری زلف کے اسیروں کا\n\nڈھلے ہے جس پہ دل تس کا کیا ہے ظاہر اسم\nوہی ہے وہ کہ جو مرجع ہے ان ضمیروں کا\n\nہر ایک سبز ہے ہندوستان کا معشوق\nبجا ہے نام کہ بالم رکھا ہے کھیروں کا\n\nمرید پیٹ کے کیوں نعرہ زن نہ ہوں ان کا\nبرا ہے حال کہ لاگا ہے زخم پیروں کا\n\nبرہ کی راہ میں جو کوئی گرا سو پھر نہ اٹھا\nقدم پھرا نہیں یاں آ کے دست گیروں کا\n\nوہ اور شکل ہے کرتی ہے دل کو جو تسخیر\nعبث ہے شیخ ترا نقش یہ لکیروں کا\n\nسیلی میں جوں کہ لٹکا ہو آبروؔ یوں دل\nسجن کی زلف میں لٹکا لیا فقیروں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%82%D8%AF_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D9%88%D8%B4%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کمر اس دل ربا کی دل ربا ہے", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کمر اس دل ربا کی دل ربا ہے\nنگہ اس خوش ادا کی خوش ادا ہے\n\nسجن کے حسن کوں ٹک فکر سوں دیکھ\nکہ یہ آئینۂ معنی نما ہے\n\nیہ خط ہے جوہر آئینہ راز\nاسے مشک ختن کہنا بجا ہے\n\nہوا معلوم تجھ زلفاں سوں اے شوخ\nکہ شاہ حسن پر ظل ہما ہے\n\nنہ ہووے کوہ کن کیوں آ کے عاشق\nجو وو شیریں ادا گل گوں قبا ہے\n\nنہ پوچھو آہ و زاری کی حقیقت\nعزیزاں عاشقی کا مقتضا ہے\n\nولیؔ کوں مت ملامت کر اے واعظ\nملامت عاشقوں پر کب روا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں\nبہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں\n\nنہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی\nتجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں\n\nخیال ان کا پرے ہے عرش اعظم سے کہیں ساقی\nغرض کچھ اور دھن میں اس گھڑی مے خوار بیٹھے ہیں\n\nبسان نقش پائے رہرواں کوئے تمنا میں\nنہیں اٹھنے کی طاقت کیا کریں لاچار بیٹھے ہیں\n\nیہ اپنی چال ہے افتادگی سے ان دنوں پہروں\nنظر آیا جہاں پر سایۂ دیوار بیٹھے ہیں\n\nکہیں ہیں صبر کس کو آہ ننگ و نام ہے کیا شے\nغرض رو پیٹ کر ان سب کو ہم یک بار بیٹھے ہیں\n\nکہیں بوسے کی مت جرأت دلا کر بیٹھیو ان سے\nابھی اس حد کو وہ کیفی نہیں ہشیار بیٹھے ہیں\n\nنجیبوں کا عجب کچھ حال ہے اس دور میں یارو\nجسے پوچھو یہی کہتے ہیں ہم بے کار بیٹھے ہیں\n\nنئی یہ وضع شرمانے کی سیکھی آج ہے تم نے\nہمارے پاس صاحب ورنہ یوں سو بار بیٹھے ہیں\n\nکہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشاؔ\nغنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%86%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%A8_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتی", "poet_page": "مصنف:ناجی شاکر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتی\nکہے ہیں بات ایسی خیال میں میرے نہیں آتی\n\nجو چاہو سیر دریا وقف ہے مجھ چشم کی کشتی\nہر ایک موئے پلک میرا ہے گویا گھاٹ خیراتی\n\nبرنگ اس کے نہیں محبوب دل رونے کو عاشق کے\nسعادت خاں ہے لڑکا وضع کر لیتا ہے برساتی\n\nجو کوئی اصلی ہے ٹھنڈا گرم یاقوتی میں کیونکر ہو\nنہ لاوے تاب تیرے لب کی جو نامرد ہے ذاتی\n\nنہ دیکھا باغ میں نرگس نیں تجھ کوں شرم جانے سیں\nاسی غم میں ہوئی ہے سرنگوں وہ وقت نہیں پاتی\n\nکہاں ممکن ہے ناجیؔ سا کہ تقویٰ اور صلاح آوے\nنگاہ مست خوباں وہ نہیں لیتا خراباتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%B3%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C"} {"title": "کن الجھنوں میں چھوڑ گئی جستجو مجھے", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کن الجھنوں میں چھوڑ گئی جستجو مجھے\nمیں آرزو کو ڈھونڈھتا ہوں آرزو مجھے\n\nامید نے بھی ہاتھ سے دامن چھڑا لیا\nکیا حال ہو جو ایسے میں مل جائے تو مجھے\n\nمقصود دل کچھ اور ہے ذوق نظر کچھ اور\nکس کشمکش میں ڈال گئی آرزو مجھے\n\nقربان بے خودی کے کیا سب سے بے نیاز\nاپنی تلاش ہے نہ تری جستجو مجھے\n\nلرزاں تھی جس خیال سے دنیائے آرزو\nعالم وہ آ رہا ہے نظر ہو بہ ہو مجھے\n\nہر اک نفس ہے ساز محبت بنا ہوا\nبخشی ہے سوز عشق نے وہ آبرو مجھے\n\nاک مرکز جمال ہے میری نگاہ شوق\nپہنچا دیا ہے کس نے ترے روبرو مجھے\n\nشاید منیرؔ عشق کی تکمیل ہو گئی\nبار گراں ہے آج ہر اک آرزو مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%86_%D8%A7%D9%84%D8%AC%DA%BE%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "کن کے کہنے میں جو ہوا سو ہوا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کن کے کہنے میں جو ہوا سو ہوا\nرانڈ رونا نہ رو ہوا سو ہوا\n\nجو ازل میں قلم چلی سو چلی\nبد ہوا یا نکو ہوا سو ہوا\n\nرنج و راحت میں اختیار نہیں\nراضی ہو یا نہ ہو ہوا سو ہوا\n\nیوں نہ ہو یوں ہو یوں ہوا سو کیوں\nکیا ہے یہ گفتگو ہوا سو ہوا\n\nشکوہ قسمت کا شکوۂ حق ہے\nبک نہ خاموش ہو ہوا سو ہوا\n\nہاتھ آتا نہیں بغیر نصیب\nپاؤں پھیلا کے سو ہوا سو ہوا\n\nجو مقدر تھا ہو چکا حاتمؔ\nفکر میں دم نہ کھو ہوا سو ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%86_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی\nگماں گزرتا ہے یہ شخص دوسرا ہے کوئی\n\nہوا نے توڑ کے پتہ زمیں پہ پھینکا ہے\nکہ شب کی جھیل میں پتھر گرا دیا ہے کوئی\n\nبٹا سکے ہیں پڑوسی کسی کا درد کبھی\nیہی بہت ہے کہ چہرے سے آشنا ہے کوئی\n\nدرخت راہ بتائیں ہلا ہلا کر ہاتھ\nکہ قافلے سے مسافر بچھڑ گیا ہے کوئی\n\nچھڑا کے ہاتھ بہت دور بہہ گیا ہے چاند\nکسی کے ساتھ سمندر میں ڈوبتا ہے کوئی\n\nیہ آسمان سے ٹوٹا ہوا ستارہ ہے\nکہ دشت شب میں بھٹکتی ہوئی صدا ہے کوئی\n\nمکان اور نہیں ہے بدل گیا ہے مکیں\nافق وہی ہے مگر چاند دوسرا ہے کوئی\n\nفصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں\nحدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی\n\nشکیبؔ دیپ سے لہرا رہے ہیں پلکوں پر\nدیار چشم میں کیا آج رت جگا ہے کوئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A8_%DA%A9%DA%BE%DA%91%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کنارِ راوی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "سکُوتِ شام میں محوِ سرود ہے راوی\nنہ پُوچھ مجھ سے جو ہے کیفیت مرے دل کی\n\nپیام سجدے کا یہ زیروبم ہُوا مجھ کو\nجہاں تمام سوادِ حرم ہُوا مجھ کو\n\nسرِ کنارۂ آبِ رواں کھڑا ہوں میں\nخبر نہیں مجھے لیکن کہاں کھڑا ہوں میں\n\nشرابِ سُرخ سے رنگیں ہوا ہے دامنِ شام\nلیے ہے پیرِ فلک دستِ رعشہ دار میں جام\n\nعَدم کو قافلۂ روز تیزگام چلا\nشفَق نہیں ہے، یہ سورج کے پھُول ہیں گویا\n\nکھڑے ہیں دُور وہ عظمت فزائے تنہائی\nمنارِ خواب گہِ شہسوارِ چغتائی\n\nفسانۂ ستمِ انقلاب ہے یہ محل\nکوئی زمانِ سلَف کی کتاب ہے یہ محل\n\nمقام کیا ہے، سرودِ خموش ہے گویا\nشجر، یہ انجمنِ بے خروش ہے گویا\n\nرواں ہے سینۂ دریا پہ اک سفینۂ تیز\nہُوا ہے موج سے ملاّح جس کا گرمِ ستیز\n\nسبک روی میں ہے مثلِ نگاہ یہ کشتی\nنِکل کے حلقہ حدّ نظر سے دُور گئی\n\nجہازِ زندگیِ آدمی رواں ہے یونہی\nابَد کے بحر میں پیدا یونہی، نہاں ہے یونہی\n\nشکست سے یہ کبھی آشنا نہیں ہوتا\nنظر سے چھُپتا ہے لیکن فنا نہیں ہوتا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1%D9%90_%D8%B1%D8%A7%D9%88%DB%8C"} {"title": "کنایہ اور ڈھب کا اس مری مجلس میں کم کیجے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "کنایہ اور ڈھب کا اس مری مجلس میں کم کیجے\nاجی سب تاڑ جاویں گے نہ ایسا تو ستم کیجے\n\nتمہارے واسطے صحرا نشیں ہوں ایک مدت سے\nبسان آہوۓ وحشی نہ مجھ سے آپ رم کیجے\n\nمہاراجوں کے راجہ اے جنوں ڈنڈوت ہے تم کو\nیہی اب دل میں آتا ہے کوئی پوتھی رقم کیجے\n\nگلے میں ڈال کر زنار قشقہ کھینچ ماتھے پر\nبرہمن بنئے اور طوف‌ در بیت الصنم کیجے\n\nکہیں دل کی لگاوٹ کو جو یوں سوجھے کہ تک جا کر\nقدیمی یار سے اپنے بھی خلطہ کوئی دم کیجیے\n\nتو انگلی کاٹ دانتوں میں پھلا نتھنے رہاندی ہو\nلگا کہنے بس اب میرے بڑھاپے پر کرم کیجے\n\nپھڑکتا آج بھی ہم کو نہ پرسوں کی طرح رکھئے\nخدا کے واسطے کچھ یاد وہ اگلی قسم کیجے\n\nملنگ آپس میں کہتے تھے کہ زاہد کچھ جو بولے تو\nاشارا اس کو جھٹ سو نر انگشت شکم کیجے\n\nکبھی خط بھی نہ لکھ پہنچا پڑھایا آپ کو کس نے\nکہ القط دوستی انشاؔ سے ایسی یک قلم کیجیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%86%D8%A7%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%88%DA%BE%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92"} {"title": "کنج قفس سے پہلے گھر اپنا کہاں نہ تھا", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کنج قفس سے پہلے گھر اپنا کہاں نہ تھا\nآئے یہاں تو حوصلۂ آشیاں نہ تھا\n\nتجھ کو سمجھ کے خواب میں پہنچا میں جس جگہ\nدیکھا جو آنکھ کھول کے تو کچھ وہاں نہ تھا\n\nاک اک قدم پہ اب تو قیامت کی دھوم ہے\nآگے تو یہ چلن کبھی اے جان جاں نہ تھا\n\nٹھہری جو وصل کی تو ہوئی صبح شام سے\nبت مہرباں ہوئے تو خدا مہرباں نہ تھا\n\nکیونکر قسم پہ آج مجھے اعتبار آئے\nکس دن خدا تمہارے مرے درمیاں نہ تھا\n\nتوڑا جو پھول بلبل شیدا کے سامنے\nکیا تیرے دل میں درد کچھ اے باغباں نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%86%D8%AC_%D9%82%D9%81%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کنج کاوی جو کی سینے میں غم ہجراں نے", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "کنج کاوی جو کی سینے میں غم ہجراں نے\nاس دفینے ستی اقسام جواہر نکلا\nاشک تر لخت جگر قطرۂ خوں پارۂ دل\nایک سے ایک رقم آپ سے بہتر نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%86%D8%AC_%DA%A9%D8%A7%D9%88%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D9%85_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%92"} {"title": "کنول", "poet_page": "مصنف:اعظم کریوی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "ہم دونوں کے مکان پاس ہی پاس تھے۔ کنول کے پتا تحصیلدار اور میرے ماموں انسپکٹر پولیس تھے۔ کنول مجھ سے چار پانچ سال چھوٹی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے بھولا نہیں کہ بچپن میں صبح کے وقت خاک و ہول میں لت پت ہوکر زمین پر گھروندے بنانا ہمارا دل پسند کھیل تھا۔ کنول جب گڑیا گڈے کا کھیل کھیلتی تو میں بھی شریک ہوجاتا۔ اس کی سہیلیاں کنول سے بگڑکر کہتیں ’’واہ جی واہ! لڑکیوں میں لڑکے کا کیا کام؟‘‘ مگر کنول میرا ساتھ دیتی۔ وہ میرے بغیر کوئی کھیل نہ کھیلتی۔ کبھی کھیل ہی کھیل میں وہ میری بہو بن جاتی، میرے روٹھنے پر وہ میری دلجوئی کرتی اور جب وہ خود کبھی خفا ہوجاتی تو میں خوشامدیں کرکے اسے منالیتا۔ کیسے اچھے دن تھے زندگی ایک خوشنما ہمواری تھی جس میں خزاں کا گزر نہ تھا۔ بہار ہی بہار تھی۔ کنول اس پھلواری کی خوشنما کلی تھی روپ رنگ سے، وہ ایک راج کماری معلوم ہوتی تھی۔ صاف نکھرا ہوا رنگ۔ موہنی صورت۔ سارا دن مینا کی طرح باتیں کرتی تھی۔ گھروالوں کے لیے تو وہ کھلونا تھی میں بھی اس کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ کسی بچہ کو کھلونا اور کسی کو تصویر پسند ہوتی ہے لیکن میں تو کنول اور صرف کنول کو چاہتا تھا۔ اگر بالے پن کا پریم گناہ نہ سمجھائے جائے تو مجھے یہ کہنے میں بالکل جھجک نہیں معلوم ہوتی کہ مجھے اس سے پریم تھا۔\n\nمیں اس کی موہنی صورت کو گھنٹوں دیکھا کرتا تھا اور سمجھتا تھا کہ اس کا حق صرف مجھ ہی کو ہے۔ اس خیال سے میرا دل چاندنی رات کی طرح کھل جاتا تھا۔ انسان لڑکپن میں سیکڑوں غلطیاں کرتا ہے، یہ بھی ان میں سے ایک ایسی غلطی تھی جس کی وجہ سے سماج نے مجھے برادری سے جداکردیا۔ کنول کے پتا پرانے خیالات کے دکشت برہمن تھے۔ نئی روشنی والوں کو اچھی نظر سے نہ دیکھتے تھے خود شہر کے باشندے مگر ان کی بیوی دیہات کی رہنے والی تھی۔ وہ تعلیم نسواں کے بھی خلاف تھے۔ لیکن کنول کے ماموں نے جو ایک روشن خیال ڈاکٹر تھے چپکے چپکے کنول کو ہندی کی ابتدائی کتابیں پڑھادیں۔ جب ایک دن تحصیلدار صاحب نے کنول کو خوش الحانی کے ساتھ تلسی کرت رامائن کا پارٹ کرتے سنا تو وہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے کنول کو تعلیم کاسلسلہ جاری رکھنے کی خوشی سے اجازت دے دی۔ دیوریا تحصیل میں لڑکیوں کے لیے ایک پاٹ شالہ اور لڑکوں کے لیے مڈل اسکول تھا۔ جب کنول پاٹ شالہ میں داخل کی گئی تو مجھے بھی ماموں صاحب نے اسکول میں داخل کردیا۔ اسکول جانے اور وہاں سے واپس آنے میں ہم دونوں کی ملاقات ہوجاتی تھی۔ اسی طرح سے ہنسی خوشی میں لڑکپن کا زمانہ ختم ہوگیا اور بچپن کی بے لوث محبت شباب کی جذبات آلود محبت میں منتقل ہوگئی۔ آج قریب بیس سال ہوگئے لیکن بالے پن کی محبت کا پہلا سبق مجھے آج تک نہیں بھولا اور نہ جیتے جی بھولوں گا۔\n\nبھادوں کا مہینہ تھا۔ کپاس کے پھولوں کی سرخ و سفید ملاحت۔ تل کی اودی بہار اور سن کی شوخ زردی کھیتوں میں بہار دکھا رہی تھی۔ کسانوں کے منڈھوں اور چھپروں پر بھی لوکی اور ترئی کے پھولوں کی بہار تھی۔ اس پر پانی کی ہلکی ہلکی پھواریں قدرتی حسن پر مشاطہ کا کام دے رہی تھیں۔ جس طرح عارفوں کے دل نورِحقیقت سے لبریز ہوتے ہیں اسی طرح ندی اور تالاب پانی سے بھرے ہوئے تھے۔ شاید راجہ اندر کیلاش کی طراوٹ بیز بلندیوں سے اترکر اب میدان میں آنے والے تھے ۔تحصیل دار صاحب اور ماموں جی کہیں دیہات میں دورے پر گئے ہوئے تھے۔ تحصیلی کے پاس ہی ایک باغیچہ تھا۔ قریباً چار بجے سے پہر کا وقت ہوگا میں مالی کی جھونپڑی میں چپ چاپ بیٹھا قدرت کی گلکاری کا نظارہ کر رہا تھا کہ پیچھے سے کنول پکوان کی تھال لے کر آگئی۔ اس نے کہا ’’پریم!‘‘ میرانام کچھ اور ہے۔ لیکن کنول مجھے پریم کہتی تھی۔ میں اس خطاب سے خوش تھا، اس خطاب نے مجھے مجسم پریم بنادیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا جس طرح تالاب میں کنول کا لہرانا بہت خوبصورت معلوم ہوتا ہے اسی طرح میری کنول کی خوبصورتی ہنسی کی لہروں میں جگمگارہی تھی۔ اس دن سے پہلے میں نے کبھی محبت کااظہار نہ کیا تھا۔ مجھے کبھی اس کی جرأت ہی نہ ہوئی تھی۔ لیکن آج میں اپنے دل پر قابو نہ رکھ سکا۔ میں نے صبح کو کنول کے نوشگفتۂ پھول تالاب سے توڑے تھے۔ وہ لاکھ ’’ہاں۔ ہاں‘‘ کرتی رہی مگر میں نے آگے بڑھ کر ان پھولوں کو اس کے جوڑے میں لگادیے اور جس طرح ایک پجاری مورتی کے سامنے ڈنڈوت کرتا ہے۔ میں نے بھی ہاتھ جوڑ کر کہا ’’دیوی جی، پرنام‘‘۔ پہلے تو اس نے تیوری چڑھائی پھر یکبارگی اس کے چہرہ پر متنانت آگئی۔ اس نے زبان سے تو ایک لفظ نہ کہا لیکن نیچی نگاہیں اور حیاس سے سرخ رخساروں نے میری دل پر ایسا اثر کیا کہ میں نے آگے بڑھ کر اس کی بلائیں لے لیں۔ وہ بھی بے خودی میں میرا ہاتھ تھام کر بیٹھ گئی۔ دونوں میں سے کسی کے منھ سے کوئی بات نہ نکلی۔ مولسری کی شاخوں کے کان میں ہوا کے جھونکوں نے جو سرگوشیاں کیں شام تک بیٹھے ہم وہی سنتے رہے۔ پکوان کھانے کا کسی کو ہوش ہی نہ رہا۔\n\nدوسری ہی دن ہماری محبت کا افسانہ مشہور ہوگیا۔ پولس کے کانسٹیبلوں اور تحصیل کے چپراسیوں نے میرا مذاق بنالیا۔ تحصیلدار صاحب کے ایک چپراسی کی یہ سب شرارت تھی۔ یہ آگ اسی کی لگائی ہوئی تھی۔ جب ماموں صاحب اور تحصیلدار صاحب دورے سے واپس ہوئے تو ہماری معصوم اور پاک محبت کی شکایت کی گئی۔ تحصیلدار صاحب نے بدنامی کے خیال سے کنول کا پاٹ شالہ جانا بند کردیا اور ماموں صاحب نےمجھے ایک دن تنہائی میں بلاکر تنبیہ کی ’’مجھے بہت افسوس ہے کہ تم اب آوارہ ہوتے جارہے ہو۔ بہن نے تم کو میرے پاس تعلیم کے لیے بھیجا ہے، تم کو اپنی عزت کا خیال نہیں تو خاندان کا نام تو بدنام نہ کرو۔ آئندہ اگر پھر میں نے تمہارے متعلق کوئی شکایت سنی تو اس کا نتیجہ اچھا نہ ہوگا۔‘‘ شرم و ندامت کے مارے میرا سر نیچا ہوگیا، میری آنکھوں سے آنسو بھر آئے۔ ماموں صاحب مجھے اپنی اولاد سے بڑھ کر سمجھتے تھے۔ ان کی تنبیہ نے میرے دل پر خاص اثر کیا۔ کچھ دنوں تک تو میں کنول کے مکان کے سامنے سے بھی نہ نکلا مگر پھر اس کی محبت نے زور مارا۔ پڑھنے لکھنے میں میرا دل نہ لگتا۔ میں پاگلوں کی طرح سے کنول کے مکان کا چکر کاٹنے لگا۔ میری اس بیوقوفی سے کنول کی بدنامی ہونے لگی۔ وہ یک دن خلاف توقع مجھ سے ملی اور کہنے لگی:\n\n’’پریم! کیا اسی کا نام م حبت ہے۔ یہ محبت نہیں بو الہوسی ہے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان باتوں سے میں آپ کو مل جاؤں گی۔ نہیں ہرگز نہیں۔ آپ مرد ہیں آپ کا تو کچھ نہ بگڑے گا لیکن میں برباد ہوجاؤں گی، سماج میں منھ دکھانے کے قابل نہ رہوں گی۔ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ میرا باپ کٹر برہمن ہے، وہ اپنی برادری کے علاوہ اور کسی جگہ میرا رشتہ ہرگز پسند نہ کرے گا۔ ایسی حالت میں بہتر یہی ہوگا کہ آپ مجھے بھول جائیے، سمجھ لیجیے کہ کنول اس دنیا میں موجود ہی نہیں۔ ہمارے درمیان سماج کی دیوار کھڑی ہے اس کو توڑنے کی ممکن ہے آپ میں ہمت ہو۔ لیکن میں اپنے ماتا پتا کو دکھ پہنچانا نہیں چاہتی۔ میں گھٹ گھٹ کر مرجانا پسند کروں گی لیکن اپنے پریم کو دباؤں گی۔ ایں آپ روتے کیوں ہیں کیا مردوں کو رورنا زیب دیتا ہے۔ نہیں یہ تو عورتوں کا کام ہے دل کو مضبوط کیجیے اگر آپ کو میری سچی محبت ہے تو کوئی ایسی حرکت نہ کیجیے جس سے جگ ہنسائی ہو۔ اب میں آپ سے نہ مل سکوں گی۔ مجھ سے خط و کتابت کرنے کی بھی کوشش نہ کیجیے ورنہ مجھے سخت قلق ہوگا۔ میں اب جاتی ہوں۔ میرا کہا سُنا معاف کیجیے گا ہاں جانے سے پہلے میں آپ کو یقین دلائے جاتی ہوں کہ گو میں آپ سے نہ مل سکوں مگر میں آپ کی ہوں اور جیتے جی آپ ہی کی رہوں گی۔ عورت صرف ایک ہی مرتبہ محبت کرتی ہے اور اسی محبت پر قربان ہوجاتی ہے۔ اس محبت کی لاج رکھیے گا۔ میری عزت اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔ پریم پیارے پرنام!‘‘ کنول چلی گئی اور میں اپنی قسمت کو رونے کے لیے اپنے گھر چلا آیا۔\n\nکچھ عرصہ کے بعد ماموں صاحب کا تبادلہ علی گڑھ اور تحصیلدار صاحب کا تبادلہ متھرا ہوگیا۔ چلتے وقت میں نے کنول سے ملنے کی بہت کوشش کی لیکن اس میں مجھے کامیابی نہ ہوئی۔ علی گڑھ پہنچ کر بھی بہت دنوں تک کنول کی یاد نے مجھے بے قرار رکھا۔ لیکن رفتہ رفتہ کچھ تو تعلیم کی مصروفیت اور کچھ نئے دوستوں کے میل ملاقات سے سکونِ قلب حاصل ہوگیا۔ انٹرنس پاس کرنے کے بعد علی گڑھ کالج میں داخل ہوگیا۔ لیکن ایف اے کا دوسرا سال ختم ہونے بھی نہ پایا تھا کہ میری تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ کچھ عرصہ تک بےکار رہنے کے بعد سہارنپور کے ایک سرکاری دفتر میں مجھے کلرکی کی جگہ مل گئی۔ غلام ہوکر بھی میں نے سمجھا کہ مجھے آزادی مل گئی۔ جنگِ عظیم کا زمانہ تھا۔ دفتروں میں رشوت کا بازار گرم تھا۔ میں بھی ’’دستِ غیب‘‘ کا مرید بن گیا۔ جوانی کا عالم بے فکری کے دن تھے۔ میں اب خود مختار تھا۔ ماموں صاحب یا کسی کا ڈر نہ تھا۔ میرے لیے دن عید اور رات شب برات ہوگئی۔ مالِ مفت دلِ بے رحم۔ جو کچھ کماتا وہ فضول خرچی کے نذر ہوجاتا۔ خوشامدی دوستوں نے مجھے اپنا بھلا بُرا سمجھنے کا موقع ہی نہ دیا۔ یہاں تک کہ عیش و عشرت میں پڑکر میں اپنی کنول کو بھی بھول گیا۔ اسی طرح کئی سال گزر گئے۔ میرے ملنے والوں میں پنڈت رگھناتھ پانڈے ذرا سمجھ دار واقع ہوئے تھے۔ مذہب کے بڑے پابند ہوتے ہوئے بھی وہ مجھ ایسے آزاد خیال انسان پر مہر بان تھے۔ وہ میری طرح فضول خرچ نہ تھے۔ چنانچہ وہ اکثر میری فضول خرچی پر مجھے سمجھایا بھی کرتے لیکن میں ان کا مذاق اڑاتا۔ بدقسمتی سے وہ چیچک روپستہ قد اور ابھری توند والے پنڈت تھے۔ جب وہ مجھے سمجھاتے تو میں اس کا بدلہ ان کی توند سے لیتا، وہ غصہ میں جب مجھے مارنے دوڑتے تو میں بھاگ نکلتا۔ پنڈت جی کی شادی ہوچکی تھی لیکن میری طرح وہ بھی سہارنپور میں تنہائی کی زندگی گذار رہے تھے۔ ایک دن میں ان کے یہاں پہنچا تو پنڈت جی کو بہت اداس دیکھا، وجہ دریافت کی تو پہلے تو بتانے سے انکار کیا لیکن جب میں نے ان کو بہت دق کیا تو مجبوراً کہنے لگے۔ ’’بابوجی کیا بتاؤں۔ کلجگ ہے، جو نہ ہوجائے تو تھوڑا ہے ہندودیویاں تعلیم پاکر اب قابو سے باہر ہوئی جارہی ہیں۔ ہمارے ایک رشتہ دار نے جو تحصیلدار ہیں اپنی ایک تعلیم یافتہ قبول صورت لڑکی کی شادی سیتاپور کے ایک وکیل صاحب کے ساتھ کردی۔ وکیل صاحب کی دوسری شادی تھی۔ پہلی بیوی مر چکی تھی۔ پینتالیس سال کی عمر میں یہ دوسری شادی تھی۔ میں نے کہا واہ پنڈت جی لڑکیوں کو تو بدنام کر رہے ہو لیکن کیا یہ مردوں کا ظلم نہیں ہے جو وہ بے جوڑ کی شادیا ں کرتے ہیں۔ ہمارے انہی کرموں سے تو بھارت کاناش ہو رہا ہے۔‘‘\n\nپنڈت جی نے بگڑکر کہا۔ ’’سارا معاملہ تو سنا نہیں بیچ ہی میں بول اٹھے اسی واسطے تو میں آپ سے کچھ کہنا پسند نہیں کرتا۔‘‘\n\nپنڈت جی سے معافی مانگی خوشامدیں کیں تو پھر وہ آگے بڑھے۔ ’’یہ آپ کا خیال ہی خیال ہے چالیس پینتالیس سال کی عمر کچھ زیادہ نہیں ہوتی وکیل صاحب بہت نیک شریف النفس اور اچھی صحت والے تھے۔ جب تحصیلدار صاحب کی لڑکی سسرال میں پہنچی تو اس نے قیامت بپاکردی۔ جب رات کو وہ تنہائی میں وکیل صاحب سے ملی تو مجھے ایک معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ اس نے وکیل صاحب کو ایک خط دیا۔ جس میں لکھا تھا ’’دنیا کی نگاہوں میں آپ میرے دیوتا ہیں لیکن افسوس ہے کہ میں آپ کے لائق نہیں ہوں۔ یہ شادی زبردستی کی گئی ہے۔ میں بالے پن ہی میں کسی اور کو اپنا پتی بناچکی ہوں۔ میں آپ کو دھوکا نہیں دینا چاہتی۔ آپ مجھے جو جی چاہے اس کی سزا دیجیے میں اس کے لیے تیار ہوں مگر آپ مجھے ہاتھ نہ لگائیے۔ میں اس کے ساتھ ہی آپ کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ میں پاک ہوں، میرا دامن عصمت گناہ سے آلودہ نہیں ہوا۔‘‘ وکیل صاحب نے یہ خط پڑھا تو انہیں چکر آگیا، وہ لڑکی سے صرف اتنا کہہ کر ’’اس میں تمہاری کوئی خطا نہیں‘‘ حجلۂ عروسی سے فوراً نکل گئے اور جب تک زندہ رہے وہ اس لڑکی سے نہ ملے۔\n\nسسرال میں چند دن رہ کر لڑکی اپنے میکے چلی گئی۔ کسی کو اصلیت کا پتہ ہی نہ چل سکا۔ لیکن دل کی آگ نے وکیل صاحب کو اندر ہی اندر جلادیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بہت جلد اس دنیا سے چل بسے۔ کسی نے سمجھا ان کو تپ دق ہوئی کسی کا خیال ہے کہ دل کی حرکت بند ہوگئی۔ لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ اس شادی نے ان کی جان لی۔ ان کے مرنے کے بعد بھی اصلیت پر پردہ پڑا رہتا۔ لیکن اتفاق سے وکیل صاحب کی خودنوشت ڈائری میرے ہم زلف کو مل گئی جس سے حقیقت معلوم ہوگئی۔ آج مجھے اپنے ہم زلف کا خط ملا۔ اس میں سب حال لکھا ہے۔ پنڈت جی اتنا کہہ کر کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر ٹھنڈی سانس بھر کر بولے ’’اجی وہ تو وکیل صاحب ہی ایسے سیدھے سادے بزرگ تھے جو خاموش رہ گئے۔ وہ لڑکی میرے پلے پڑتی تو مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیتا۔ اس کی ساری آزاد خیالی کو خاک میں ملادیتا۔‘‘ میری زبان سے نکل گیا ’’پنڈت جی، عورتوں پر ہاتھ اٹھانا آپ ہی ایسے بہادر مردوں کو زیب دیتا ہے۔‘‘ پنڈت جی نے کھسیاکر کہا۔ تو کیا ایسی عورت کی میں جوتیاں چاٹتا جس نے خاندان بھر کی ناک کٹواڈالی۔ ایسی ننگِ خاندان عورت کو ضرور سزا ملنی چاہیے۔‘‘ میں نے پنڈت جی کو چھیڑنے کی غرض سے کہا ’’لیکن میرے خیال سے تو اس خاندان کو سزا ملنی چاہیے جس نے ایک تعلیم یافتہ قبول صورت اور جوان لڑکی کی شادی ایک بڈھے مرد سے کی۔ سزا ملنی چاہیے اس سماج کو جس نے اس شادی کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہ کی، بلکہ الٹا اب لڑکی کو قابل ملامت خیال کیا۔ میری رائے میں تو اس لڑکی نے سچی بات کہہ کر صرف اپنی ہی نہیں بلکہ وکیل صاحب اور اپنے کل خاندان کی عزت رکھ لی۔ جب وہ پہلے ہی سے کسی کو اپنا پتی بناچکی تھی تو پھر کس طرح سے کسی دوسرے مرد کی بیوی بن جاتی۔ اسکی یہ اخلاقی جرأت قابل تعریف ہے اس پر شاید آپ یہ اعراض کریں کہ یہ اسکا ذاتی فعل تھا اپنے والدین سے اس نے پہلے اجامت کیوں نہ لی تو میں یہ کہوں گا کہ جب بڈھے سے شادی کرتے وقت والدین نے اس سے دریافت نہ کیا تو لڑکی ان سے کیوں پوچھتی۔ شادی اس کی تھی نہ کہ اس کے والدین کی۔ آیا خیال شریف میں؟‘‘\n\nپنڈت جی مجھ سے کھری کھری باتیں سن کر بہت بگڑے، کہنے لگے ’’آپ ہی ایسے ناستکوں نے تو بھارت کا ناش کردیا۔ آپ کا یہ مطلب ہے کہ یورپین لیڈیوں کی طرح ہماری دیویاں بھی آزاد ہوجائیں۔‘‘ میں نے جواب دیا ’’آپ کا خیال ہے میرا یہ ہرگز منشا نہیں ہے۔ بلکہ میں یورپ کی کورانہ تقلید کا مخالف ہوں میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ شادی کے معاملہ میں لڑکی کی مرضی بھی معلوم کرنی چاہیے۔ آپ کو برہمن خاندان میں ہونے کا فخر ہے۔ شاستر پڑھا ہی ہوگا۔ کیا پراچین بھارت میں سوئمبر کی رسم جاری نہ تھی۔ پھر آج ایک لڑکی نے اخلاقی جرأت سے کام لیا تو آپ کیوں بگڑ رہے ہیں۔ اگر آپ ایسے کٹر برہمن لڑکی کی مرضی معلوم کرنا مناسب نہیں سمجھتے تو پرماتما کے لیے بے جوڑ کی شادیوں کے خلاف آواز بلند کیجیے۔‘‘ جب پنڈت کی دکھتی رگ کو میں نے چھیڑا تو کہنے لگے ’’خیر جو ہونا تھا وہ تو ہو ہی چکا اب وہ لڑکی ہزار کہے کہ وہ پتی والی ہے۔ کوئی ماننے کے لیے تیار نہ ہوگا۔ دنیا اس کو بیوہ ہی کہے گی اور شاید آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ ہمارے یہاں ودھوا بواہ کا رواج نہیں ہے۔ بیوہ کی شادی ہونا ناممکن ہے۔ ایسی حالت میں اب آپ ہی بتائیے کہ یہ جو گڑبڑی ہوئی ہے اس کا ذمہ دار اس لڑکی کے سوا اور کون ہوسکتا ہے۔‘‘ میں نے کہا ’’اس کے ذمہ دار آپ ہیں، آگے بڑھیے ہمت سے کام لیجے، آپ اصلی حال سے واقف ہیں۔ برادری سے کہہ دیجیے اور لڑکی کو اس کے اصلی پتی کے پاس پہنچادیجیے۔‘‘ پنڈت جی نے کہا ’’اجی یہ میرے بس کا کام نہیں ہے، اگر ہماری برادری کو اتنا ہی پتہ چل جائے کہ لڑکی نے کسی مرد سے ملاقات کی ہے تو وہ لڑکی کے تمام اعزا و اقارب کو برادری سے نکال دیں۔ اصلیت تو صرف چند ہی لوگوں کو معلوم ہے اور ہم خاندان کی عزت کے خیال سے اس کو چھپائے ہوئے ہیں۔ اور ہاں یہ تو بتائیے کہ اگر میں نے کچھ ہمت بھی کی اور پتی کو تلاش کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ مرد برہمن ہونے کے بجائے چھتری ویش یا کسی اور فرقہ کا ہے تو کیا کیا جائے گا۔‘‘\n\nرات کافی ہوچکی تھی پنڈت جی سے کہاں تک بحث کرتا میں اتنا کہہ کر گھر چلا آیا ’’لڑکی کو اس کے حوالے کردیجیے گا یا سرپکڑ کر روئیے گا۔‘‘\n\nکئی ہفتے گزر گئے پھر پنڈت جی سے ملاقات نہ ہوسکی۔ ایک دن شام کو دفتر سے گھر آتےہوئے میں تحصیل کی طرف نکل گیا۔ شباب کا زمانہ اور بے فکری کے دن تھے۔ یہی وہ عالم ہوتا ہے جس میں جوانوں کی نظریں زمین کے بجائے آسمان کی طرف رہتی ہیں۔ میں سائیکل پر سوار تھا۔ لیکن میری نظر خواہ مخواہ تحصیل کے بالا خانہ کی طرف اٹھ گئی۔ تحصیلدار صاحب کا مکان تحصیل کے اندر ہی تھا۔ اوپر کھڑکی پر چلمن پڑی تھی۔ اسی چلمن پر میری نظریں گڑ گئیں۔ جو خوشی جو مسرت کھوئی ہوئی چیز کے مل جانے سے کسی کو ہوسکتی ہے وہی حالت میری ہوئی۔ ایک نہ دو پورے آٹھ سال کے بعد میں یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ اس کھڑکی پر سفید ساری پہنے لڑکپن کی ساتھی میری کنول کھڑی تھی۔ نظر کا ملنا تھا کہ اس نے ہاتھ جوڑ کر مجھے پرنام کیا۔ خوشی اور حیرت کی باہمی کشمکش سے قریب تھا کہ میری سائیکل کسی رہ گیر سے ٹکراجاتی۔ میں گھبراکر سائیکل سے اتر پڑا یہ صرف ایک لمحہ کی بات تھی، ہٹی ہوئی چلمن اب اپنی جگہ پر تھی اور وہ چاند سا مکھڑا اس کی اوٹ میں۔ باہر سے صرف اس کی جھلک یا سایہ دکھائی دے رہا تھا۔ یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ کنول کو بالکل بھول گیا تھا۔ مگر اس میں شک نہیں کہ اب اس کی یاد بہت کم آتی تھی۔ لیکن آج آٹھ سال کے بعد اس کودیکھ کر میری اولین محبت کی دبی ہوئی چنگاری بھڑک اٹھی۔ لڑکپن کا دماغ اس وقت کی نظریں ہی کچھ اور ہوتی ہیں اس وقت کی باتی مرتے دم تک نہیں بھولتیں۔ آج میں نے اپنے دل کی ملکہ کو دیکھا تو سب گئی گزری باتیں یاد آگئیں۔ عہد و پیمان کا خیال آیا، بالے پن میں وہ ایک ناشگفتہ کلی تھی لیکن اب اس نے پھول کی شکل اختیار کرلی تھی۔ مگر ایک ہی جھلک میں مجھے یہ اندازہ کرنے میں دیر نہ لگی کہ دوپہر کا کھلا ہوا پھول ہے۔ جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ کیا برہمن خاندان کی ایک جوان عورت سفید ساری پہنے گی، نہیں یہ تو بیوگی کانشان ہے، تو کیا میری کنول کی شادی بھی ہوئی اور وہ بیوہ ۔۔۔ اس میں یہ سوچنے کی ہمت نہ کرسکا میں سڑک کے کنارے حیران کھڑا تھا کہ میرے دوست پنڈت جی تحصیل سے لپکے ہوئے نکلے اور مجھے حیران دیکھ کر کہنے لگے ’’کہیے بابوجی! خیریت تو ہے اس وقت آپ ادھر کیسے آنکلے۔‘‘ مجھے اس وقت پنڈت جی کا ملنا بہت برا معلوم ہوا۔ لیکن ان سے پیچھا چھڑانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ مجبوراً باتیں کرتا ہوا ان کے گھر تک چلا گیا۔ مجھے خود حیرت تھی کہ پنڈت جی کا تحصیل میں کیا کام ہوسکتا ہے۔\n\nدریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ وہی تحصیلدار صاحب ہیں جن کی لڑکی کا واقعہ انہوں نے مجھے سنایا تھا۔ یہ معلوم کرکے میں پنڈت جی کے یہاں سے جلدی رخصت ہوکر اپنے گھر پہنچا۔ اب میں سب کچھ سمجھ گیا۔ کنول سفید ساری کیوں پہنے تھی یہ بھی معلوم ہوگیا۔ لیکن میں نے پنڈت جی کو کبھی پتہ نہ چلنے دیا کہ میں تحصیل دار صاحب اور ان کی لڑکی سے آج سے نہیں بلکہ آٹھ سال پہلے سے واقف ہوں۔ گھر پہنچ کر میں نے اپنے نوکر کو بھی گھر سے نکال کر اندر سے دروازہ بند کرلیا۔ نہ تو سیر کرنے کو گیا اور نہ یارانِ طریقت سےملا۔ بغیر کچھ کھائے پیے پلنگ پر پڑا رہا۔ ساری رات کروٹیں بدلتے ہی گزر گئی۔ میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا تھا تو کنول کو بھول کر عیش و عشرت میں پڑا تھا۔ لیکن شرافت کی دیوی محبت کی پتلی کنول نے تیرے لیے اپنی زندگی تباہ کردی۔ تیری وجہ سے وہ خاندان بھر میں بدنام ہوئی لیکن تو اس سے غافل رہا۔ تو نے اس کی خبر تک نہ لی اس پر بھی کنول تجھے اپنا شوہر سمجھتی ہے۔ دنیا کی نگاہوں میں وہ بیوہ ہے لیکن پرماتما کے دربار میں وہ اب بھی سہاگن ہے۔ اب بھی وقت ہے اگر تجھ میں ہمت ہے تو کنول کا ہاتھ تھام لے۔ ضمیر کی آواز میں نے سنی لیکن سماج کے دیو نے مجھے ڈرایا ’’خبردار! تو کنول کو نہیں پاسکتا۔ مذہب کی دیوار درمیان میں کھڑی ہے۔ اس کا توڑناآسان کام نہیں ہے۔ کنول بیوہ ہے اور وہ بیوہ رہے گی۔ تحصیلدار صاحب ایسے عالی خاندان برہمن ودھوا بیاہ کے لیے ہرگز تیار نہ ہوں گے۔‘\n\nمیری ساری رات اسی ادھیڑ بُن میں گزر گئی اور میں کچھ فیصلہ نہ کرسکا۔\n\nدوستوں سے ملنا جلنا چھوٹ گیا۔ دفتر کے کام میں بھی مجھ سے غفلت ہونے لگی۔ اب تو میری نگاہوں میں کنول ہی کا جلوہ تھا۔ اب تو نہ مجھے دنیا کی پرواہ تھی نہ سماج کا ڈر۔ طوافِ کوئے یار ہی سے میرے دل کو کچھ تسکین ہوتی تھی۔ اصل معنی میں کنول میری بیوی تھی میں اس کو حاصل کرنے کے لیے کسی سے کیوں ڈرتا لیکن میری اس وحشت کا یہ نتیجہ ہوا کہ میں بدنام ہوگیا۔ تحصیلدار صاحب تک میری شکایت پہنچی، وہ حاکم تھے ان کے ہاتھ میں حکومت کی باگ تھی۔ وہ میرے خون کے پیاسے ہوگئے لیکن میں اپنی دھن میں اس سے بے خبر تھا۔ ایک دن حسبِ معمول جب میں شام کو ان کے مکان کے نیچے سے گزرا تو کنول نے خلاف توقع ایک پرزہ پھینکا میں نے گھر جاکر پڑھا۔ لکھا تھا:\n\n’’پریم! ہاتھ جوڑتی ہوں اس طرف کا آنا چھوڑ دیجیے۔ آپ کی جان خطرہ میں ہے۔ میں تو آپ کو آج سے نہیں بلکہ بالے پن سے ہی اپنا سرتاج بناچکی ہوں اور جیتے جی اپنے دل کے مندر میں آپ کو اپنا دیوتا سمجھ کر پوجتی رہوں گی۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اپنے بوڑھے پتا کو رنج پہنچاؤں۔ شاید آپ کو معلوم نہ ہوگا میری ماتا جی سرگباش ہوگئیں۔ سوتیلے بھائیوں اور بھاوجوں کے طعنے سُنے نہیں جاتے۔ پھر بھی میں کسی ایسی بات کا موقع نہیں دینا چاہتی جس سے جگ ہنسائی ہو۔ آپ کی کوچہ گردی سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اس میں میری اور آپ کی بدنامی ہے۔ آپ شاد رہیں آباد رہیں۔ بس یہی میری دعا ہے۔ شرافت کو ہاتھ سے نہ جانے دیجیے۔ دشمنوں نے پتاجی کو آپ کے خلاف کردیا اس کی سزا مجھے یہ دی گئی ہے کہ پتاجی مجھے کل یہاں سے میرے سسرال سیتاپور بھیج رہے ہیں۔ سسرال کے لفظ پر چونکنے کی ضرورت نہیں جی ہاں میری شادی ہوئی۔ لیکن میرا پرماتما گواہ ہے کہ اس زبردستی کی شادی نے مجھے میرے پریتم سے جدا نہیں کیا، میں آپ کو کبھی نہیں بھولی۔ لڑکپن میں آپ سے جو وعدہ کیا تھا اس پر اب تک قایم ہوں اور امید ہے کہ مرتے دم تک قایم رہوں گی۔ جن سے میری زبردستی شادی کی گئی تھی وہ اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ اس لحاظ سے میں دنیا کی نگاہوں میں بیوہ ہوں لیکن میرے سرتاج کو پرماتما میرے سر پر قایم رکھے میں خود کو سہاگن سمجھتی رہوں گی۔ اگر سماج نے ہمیں اس دنیا میں ملنے کا موقع نہیں دیا تو ہم دوسری دنیا میں ضرور ملیں گے۔ سیتاپور پہنچ کر اگر مجھے موقع ملا تو میں ضرور خط لکھوں گی ورنہ مجھے معاف کیجیے گا۔ لیکن آپ کو میری جان کی قسم بغیر میری اجازت نہ تو سیتاپور آنے کی کوشش کیجیے گا اور نہ میری پاس خط بھیجیے گا۔ خط کا پہنچنا ناممکن ہے۔ میری عزت آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی جانب سے کوئی ایسی بات نہ ہونی چاہیے جس سے ہماری بدنامی ہو۔ آرام سے اپنے گھر پر رہیے۔ بیکار اِدھر ادھر پھرنے کی ضرورت نہیں۔ پرماتما ہم دونوں کے دلوں کو شانتی دے۔ پرنام۔\n\nآپ کی داسی کنول\n\nخط پڑھ کر بہت ضبط کرنے پر بھی میرے آنکھوں میں آنسو آگئے مگر رونا بیکار تھا۔ کنول دوسروں کے بس میں تھی میں کر ہی کیا سکتا تھا۔ تحصیلدار صاحب نے تار کے ذریعہ سے کنول کے دیور کو سیتاپور سے بلایا اور کنول کو ان کے ہمراہ سیتاپور روانہ کردی۔ کنول نے مجھے ممانعت کی تھی پھر بھی میں نے کچھ خیال نہ کیا اور جس ٹرین میں وہ جارہی تھی اس میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ کنول کے دیور نے مجھے کبھی دیکھا نہ تھا وہ مجھ پر کسی قسم کا شک بھی نہ کرسکے۔ وہ مردانے میں اور کنول زنانے ڈبے میں تھی۔ راستہ میں کنول سے مجھ کو تھوڑی دیر باتیں کرنے کا موقع مل گیا۔ میں نے اسے لاکھ کہا کہ موقعہ اچھا ہے وہ اب میرے ساتھ کسی ایسے مقام کو چلے جہاں کسی کو ہمارا پتہ ہی نہ چل سکے اور اگر پتہ بھی چلاتو کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ کنول بالغ تھی یہ کوئی جرم نہ ہوگا۔ لیکن میرا کہنا بیکار گیا۔ کنول نے صاف انکار کردیا۔ اس نے بھاگنا ناپسند کیا۔ کنول کی تیوری چڑھی دیکھ کر پھر میں اس سے زیادہ اصرار نہ کرسکا۔ میں اس کی طبیعت سے واقف تھا۔ میں سیتا پور تک گیا اور کنول کو اس کی سسرال تک پہنچاکر سہارنپور واپس آگیا۔\n\nکئی مہینے گزر گئے لیکن کنول کا مجھے کوئی خط نہ مل سکا۔ میری طبیعت بہت پریشان رہتی تھی۔ دفتر کے ایک خزانچی نے مجھ سے ہمدردی ظاہر کی میں نے اس کو اپنا ہم راز بنالیا لیکن وہ میرے حق میں مارِ آستین ثابت ہوا۔ بظاہر تو وہ مجھ سے ملا رہا لیکن باطن میں اس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے میرے دوست پنڈت جی کو میرا حال بتادیا اور وہ بھی میرے دشمن ہوگئے۔ اب مجھے اپنی جان کا ہر وقت خطرہ رہنے لگا۔ کئی مرتبہ مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن پرماتما نے مجھے بچالیا۔ دفتر کے آفیسروں کو بھی میرے دشمنوں نے ورغلادیا جس سے میری جان بڑی مصیبت میں رہنے لگی۔ میں اپنی زندگی سے تنگ تھا کہ ایک دن خلاف امید مجھے کنول کا بیرنگ خط مل گیا۔ کانپتے ہاتھوں سے میں نے لفافہ چاک کیا، اس میں لکھا تھا:\n\n’’سوامی! میارے ہردیشور! میری رکھشا کرو۔ میری عزت خطرے میں ہے، میرے سوتیلے بھائیوں نے میرے خلاف سسرال والوں سے بھی شکایت کردی تھی، جس سے یہاں کے سب لوگ میرے دشمن ہوگئے۔ سب نے مل کر مجھے روحانی اور جسمانی تکلیف بھی پہنچائی۔ گالیوں اور طعنوں سے ناک میں دم کیا پھر بھی میں نے کوئی پروا نہ کی میں نے یہ سب مصیبتیں خندہ پیشانی سے برداشت کیں۔ ا ن کی سختیوں پر کبھی اف بھی نہ کی۔ مگر پریتم! اب میں کیا کروں اب تو میری عزت اور عصمت کا سوال ہے۔ وہ عزت اور عصمت جو عورتوں کا زیور ہے۔ جس کے لیے میں نے آرام، چین اور اپنی خوشیوں کو بھی قربان کردیا۔ مگر ظالم اب میری عزت اور عصمت پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ میرے دیور کی نیت خراب ہوگئی ہے اس کے ڈر سے مجھے ساری رات جاگتے گزر جاتی ہے۔ ایک ہی گھر میں رہ کر کب تک اس دشٹ کے ہاتھ سے بچوں گی یہ پرماتما ہی جانے۔ لیکن میں اپنی عصمت کی حفاظت میں اپنی جان دے دوں گی۔ کسی کی مجال نہیں کہ مجھ پر ہاتھ اٹھائے۔ افسوس تو مجھے اپنے خاندان پر ہے جن کی عزت کے خیال سے میں آپ سے جدا رہی ان کو میری عزت کا کوئی خیال نہیں۔ وہ تو مجھے مردہ سمجھ چکے ہیں، وہ مجھ سے اب کوئی واسطہ رکھنا نہیں چاہتے۔ شرم کی بات ہے کیسے لکھوں کہ میری دیورانی، نند اور جٹھانی کو بھی میرے دیور کی نیت کا پتہ چل گیا ہے مگر وہ اسے منع نہیں کرتیں۔ ایسی حالت میں آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ میری عزت خطرہ میں ہے۔ اعزہ و اقارب کو پروا نہیں۔ سسرال والوں کا یہ حال ہے۔ یہ ہے ہماری سماج۔ میں نے اب تک سماج کا خیال رکھا۔ میری جانب سے کوئی ایسی بات نہ ہوئی جس سے کسی کو شکایت کا موقع نہ ملے یا سماج کی بدنامی ہو مگر وہی سماج میری عزت کی طلب گار ہے۔ میں نے اپنی عزت کو خطرہ میں دیکھ کر اب مجبوراً فیصلہ کرلیا ہے کہ جب سماج ہی کو میرا خیال نہیں تو میں اس کی کیوں پروا کروں۔\n\nمیرے لیے صرف دو راہیں ہیں یا تو اپنی عصمت کو سماج پر قربان کردوں یا سماج کو چھوڑدوں۔عصمت کو میں کسی قیمت پر قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ حرام موت مرنا نہیں چاہتی۔ بس اب میرے لیے ایک ہی راہ رہ گئی ہے کہ میں سماج کو چھوڑدوں۔ ہاں اب مجبوراً اس کے لیے تیار ہوں میں سماج کی ستائی ہوئی ہوں۔ آؤ میرے پریتم آؤ۔ کیا آپ مجھ ابلا کو اپنی چرن میں لینے کے لیے تیار ہیں۔ میں جو کبھی اپنے گھر کو سماج کو خاندان کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ جس نے آپ کا بھی کہنا نہ مانا وہی آج خاندان کی لاپرواہی، سماج کے ظلم سے تنگ آکر اپنی عصمت کو خطرہ میں دیکھ کر خودبخود آپ کی چرن میں آنا چاہتی ہے۔ دیکھیے کیںھ سماج سے نہ ڈر جائیے گا۔ میں دنیا کی نگاہوں میں بیوہ ہوں آپ کی برادری میں نہیں ہوں۔ میری وجہ سے آپ بھی سماج کے ظلم و ستم کا نشانہ بنیں گے۔ آپ کی برادری آپ کو لعنت ملامت کرے گی۔ آپ سے قطع تعلق کرلے گی۔ ان سب باتوں کو پہلے سوچ لیجیے گا۔ اگر آپ مجھ بیکس کے لیے جو صرف آپ ہی کے نام کی مالا جب کر اب تک زندہ ہے۔ مصیبت اٹھانے کے لیے تیار ہیں تو خط دیکھتے ہی فوراً تشریف لائیے۔ ورنہ آپ مجھے زندہ نہ پائیں گے۔ میرے بدمعاش دیور نے مجھے صرف ایک ہفتہ کی مہلت دی ہے۔ اگر آپ نے میری خبر نہ لی اور میں نے پاپی دیور کا کہنا نہ مانا تو رام جانے اس کا کتنا بھیانک انجام ہوگا۔\n\nآپ کے چرنوں کی داسی کنول\n\nمیں سیتاپور کیسے پہنچا اور پھر وہاں سے اپنی کنول کو کیسے لایا۔ اس کے لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں جس محبت کا آغاز گڑیا گڈے کی شادی سے ہوا تھا اس کا انجام بخیر ہوا یہ ضرور ہے کہ اس کے بدلے میں مجھے سماج نے کافی سزا دی ملازمت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد کنول کے اقبال سے مجھے پہلے سے بھی بہتر ملازمت مل گئی۔ کنول کی وجہ سے مجھے میری برادری نے باہر کردیا۔ میرے خاندان کی کوئی عورت میری کنول کے ساتھ کھانا بھی پسند نہیں کرتی، وہان کی نگاہوں میں ’’باہر کی عورت‘‘ ہے۔ ایک عالی نسب۔ معزز خاندان کی لڑکی ہوکر بھی میری برادری کے خیال سے وہ اچھوت ہے۔ لیکن ان کوتاہ بینوں کو کیا معلوم کہ میری نگاہوں میں تو کنول ایک آسمانی دیوی ہے۔ مجھے فخر ہے کہ پرماتما نے مجھ پاپی میں نہ جانے کیا خوبی دیکھی جو ایسی پاک دامن جاں نثار دیوی کا مجھے شوہر بنایا۔ ایسی دیوی جس نے میری زندگی بنادی۔ تمام دنیا مجھے چھوڑ دے، دنیا کی ساری خوشیاں خاک میں مل جائے، مفلسی چاروں طرف سے مجھے گھیرلے۔ مصیبت کا طوفان مجھ پر ٹوٹ پڑے لیکن پرماتما مجھے میری عصمت کی دیوی، فرماں بردار بیوی کنول سے مرتے دم تک نہ جدا کرے۔ یہی میری دعا ہے اور یہی ارمان ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%86%D9%88%D9%84"} {"title": "کنکوا بن جاؤں", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "تارا سا لہراؤں\nکنکوا بن جاؤں\nجب اماں تم آؤ\nچھت کو خالی پاؤ\nچپ کی چپ راہ جاؤ\nسارے میں ڈھنڈواؤ\nپھر بھی میں تو نہ آؤں\nکنکوا بن جاؤں\nڈور کو جب تم پاؤ\nکھینچو اور کھنچواؤ\nاور ہنستی بھی جاؤ\nاور پھر مجھ کو بلاؤ\nتب میں گھر میں آؤں\nکنکوا بن جاؤں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%86%DA%A9%D9%88%D8%A7_%D8%A8%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA"} {"title": "کنھیا کی طرح پیارے تری انکھیاں یہ سانوریاں", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کنھیا کی طرح پیارے تری انکھیاں یہ سانوریاں\nکریں گی ہند میں دعویٰ خدائی کا ہم اٹکلیاں\n\nہوا ہے ہم کوں دنیاں میں میسر سیر جنت کا\nملیں ہیں ذوق سیں پھرنے کوں اپنے یار کی گلیاں\n\nمیاں کہنے سیں ان کتے رقیبوں کے تم عاشق پر\nاتے جو غرفشی کرتے ہو یہ باتیں نہیں بھلیاں\n\nایسی کیوں رسمسی مرجان اور کیوں لال ہیں انکھیاں\nاگر تم نیں کری نہیں غیر سیں مل رات رنگ رلیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%86%DA%BE%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "کو عمر کہ اب فکر امیری کریے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کو عمر کہ اب فکر امیری کریے\nبن آوے تو اندیشۂ پیری کریے\nآگے مرنے سے خاک ہوجے اے میرؔ\nیعنی کہ کوئی روز فقیری کریے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DB%92"} {"title": "کوئل", "poet_page": "مصنف:عظیم الدین احمد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے چیت میں آنے والی کوئل\nمطلق کھلتا نہیں ترا راز\nطائر تجھ کو کہے مرا دل\nیا جسم سے خالی کوئی آواز\n\nکس کے غم میں ہے تیری کو کو\nبتلا ہے کون تیرا دلبر\nپھرتی جو ڈال ڈال ہے تو\nکس کو تو ڈھونڈھتی ہے آخر\n\nجنگل جنگل یہ تیری پرواز\nآخر کس کی تلاش میں ہے\nتجھ کو ہے سوز سے مگر ساز\nکیسی پر درد ہے تری لے\n\nخلقت سوئی پڑی ہے اور جب\nسارے طائر ہیں آشیاں میں\nتیری پر اس گھڑی سے ہر شب\nکٹتی ہے بھور تک فغاں میں\n\nلیکن نہیں درد مند اک تو\nہے تیرا شریک ایک ناشاد\nتیری ہے نصف شب سے کو کو\nاس کی شب بھر ہے آہ و فریاد\n\nدن بھر تجھ کو ہے عافیت پر\nاس کو دم بھر نہیں ہے راحت\nدن بھر رہتا ہے سخت مضطر\nشب بھر اس پر ہے اک قیامت\n\nپھرتی ہے تو ملک ملک اس پر\nتجھ کو اتنا غم و الم ہے\nجا ہی نہ سکے جو گھر سے باہر\nاس پر کیسا بتا ستم ہے\n\nلیکن یہ جان کر کہ تو بھی\nکرتی ہے کسی کے غم میں فریاد\nاس درد بھری صدا کو تیری\nسنتا ہے پڑا عظیمؔ ناشاد", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%D9%84"} {"title": "کوئل (سرور جہاں آبادی)", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "او چمن کی اجنبی چڑیا! کہاں تھی آہ! تو\nکیا کسی صحرا کے دامن میں نہاں تھی آہ! تو\nتیرے دل کش زمزمے تھے سبزہ زاروں میں خموش\nآشیانہ تھا ترا گلشن میں بزم بے خروش\nکھینچتی وقت سحر دل کو تری کو‌ کو نہ تھی\nچھاؤں میں تاروں کی محو نغمۂ دلجو نہ تھی\nموسم سرما میں اے سرمایۂ صبر و شکیب\nبے صدا تیرا پس پردہ تھا ساز دل فریب\nمرحبا اے پیکر پیک سبک گام بہار\nلے کے پھر تو گرمیوں میں آئی پیغام بہار\nتو ادھر آئی فضائے گل کا دور آیا ادھر\nتو نے گائے گیت اور آموں کا بور آیا ادھر\nطائران باغ نے چھیڑا ہے ساز انبساط\nتیرے مقدم میں ہے شاخوں پر ہم آہنگ نشاط\nپہنی ننھی ننھی کلیوں نے قبائے شبنمیں\nآ رہی ہے کان میں تیری صدائے دلنشیں\nکوئی انجم آسماں کا اور سبک پرواز شوق\nرہنما ہے کیا ترا دلدادۂ انداز شوق\nتو جو آنے والے موسم کا نشاں پاتی ہوئی\nاپنی منزل پر پہنچ جاتی ہے یوں گاتی ہوئی\nتیرے مقدم میں شکیب خاطر نا شاد میں\nموسم گل کو بھی دیتا ہوں مبارک باد میں\nتو چمن میں اڑ کے کیا آئی کہ آ پہنچی بہار\nگا رہی ہیں چھوٹی چڑیاں سبز کنجوں میں ملہار\nدامن رنگیں میں اک دوشیزۂ ناکتخدا\nچن رہی ہے ننھی ننھی سرخ کلیاں خوش نما\nاور تجھ سے ہم سرود نغمۂ اعجاز ہے\nبزم قدرت میں تری گویا شریک راز ہے\nمیٹھے نغمے گانے والی او چمن کی نازنیں\nہے تر و تازہ ہمیشہ تیرا کنج دل نشیں\nاور مصفا ہے فضائے آسماں تیرے لئے\nہے شفق جام شراب ارغواں تیرے لئے\nتیرے نغموں میں اثر اندوہ حرماں کا نہیں\nسال میں تیرے گزر فصل زمستاں کا نہیں\nمجھ کو قسام ازل دیتا اگر دو بال و پر\nاڑ کے ہوتا میں بھی تیرے ساتھ سرگرم سفر\nبن کے ہم دونوں رفیق موسم جوش بہار\nکرتے خوش خوش ہر برس گلگشت دشت و کوہسار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%D9%84_%28%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%29"} {"title": "کوئل نیں آ کے کوک سنائی بسنت رت", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئل نیں آ کے کوک سنائی بسنت رت\nبورائے خاص و عام کہ آئی بسنت رت\n\nوہ زرد پوش جس کوں بھر آغوش میں لیا\nگویا کہ تب گلے سیں لگائی بسنت رت\n\nوہ زرد پوش جس کا کہ گن گاوتے ہیں ہم\nشوخی نیں اس کی ناچ نچائی بسنت رت\n\nغنچے نیں اس بہار میں کڈوایا اپنا دل\nبلبل چمن میں پھول کے گائی بسنت رت\n\nٹیسو کے پھول دشنۂ خونی ہوے اسے\nبرہن کے جی کوں ہے یہ کسائی بسنت رت\n\nگائے ہنڈول آج کلاونت کھلس کھلس\nہر تان بیچ کیا کے پھلائی بسنت رت\n\nبلبل ہوا ہے دیکھ سدا رنگ کی بہار\nاس سال آبروؔ کوں بن آئی بسنت رت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%D9%84_%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%A9_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%B3%D9%86%D8%AA_%D8%B1%D8%AA"} {"title": "کوئی آباد منزل ہم جو ویراں دیکھ لیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:صفی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی آباد منزل ہم جو ویراں دیکھ لیتے ہیں\nبہ حسرت سوئے چرخ فتنہ ساماں دیکھ لیتے ہیں\n\nنظر حسن آشنا ٹھہری وہ خلوت ہو کہ جلوت ہو\nجب آنکھیں بند کیں تصویر جاناں دیکھ لیتے ہیں\n\nشب وعدہ ہمیشہ سے یہی معمول ہے اپنا\nسحر تک راہ شوخ سست پیماں دیکھ لیتے ہیں\n\nخدا نے دی ہیں جن روشن دلوں کو دوربیں نظریں\nسواد کفر میں وہ نور ایماں دیکھ لیتے ہیں\n\nدل بیتاب کا اصرار مانع شرم رسوائی\nبچا کر سب کی نظریں سوئے جاناں دیکھ لیتے ہیں\n\nوہ خود سر سے قدم تک ڈوب جاتے ہیں پسینے میں\nبھری محفل میں جو ان کو پشیماں دیکھ لیتے ہیں\n\nٹپک پڑتے ہیں شبنم کی طرح بے اختیار آنسو\nچمن میں جب کبھی گل ہائے خنداں دیکھ لیتے ہیں\n\nنگاہ ناز کی مستانہ یہ نشتر زنی کیسی\nبوقت فصد رگ زن بھی رگ جاں دیکھ لیتے ہیں\n\nاسیران ستم کے پاسبانوں پر ہیں تاکیدیں\nبدلتے ہیں جو پہرا قفل زنداں دیکھ لیتے ہیں\n\nصفیؔ رہتے ہیں جان و دل فدا کرنے پہ آمادہ\nمگر اس وقت جب انساں کو انساں دیکھ لیتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%DB%81%D9%85_%D8%AC%D9%88_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کوئی ارمان مرے دل کا نکلنے نہ دیا", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی ارمان مرے دل کا نکلنے نہ دیا\nشوخیوں نے تری فقرہ بھی تو چلنے نہ دیا\n\nپے بہ پے تیر نظر آئے سنبھلنے نہ دیا\nچاندنی چوک سے بسمل کو نکلنے نہ دیا\n\nجب سسکنے کا نہیں حکم تڑپنا کیسا\nاتنا ارمان بھی قاتل نے نکلنے نہ دیا\n\nبزم ہستی میں ابھی آ کے تو ہم بیٹھے تھے\nیوں اجل آئی کہ زانو بھی بدلنے نہ دیا\n\nشب فرقت سے ہو حاصل مجھے کس طرح نجات\nسخت جانی نے مرا دم بھی نکلنے نہ دیا\n\nرحم کر پردۂ فانوس سے اے شمع نکل\nاس قدر ظلم کہ پروانوں کو جلنے نہ دیا\n\nیہ دبایا قد موزوں نے ترے طوبیٰ کو\nباغ فردوس میں بھی پھولنے پھلنے نہ دیا\n\nخوب نظارۂ قاتل رہا اکبرؔ تہ تیغ\nہاتھ رک رک گیا تقدیر نے چلنے نہ دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کوئی ارماں تلاش دوست کا کیوں دل میں رہ جاتا", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی ارماں تلاش دوست کا کیوں دل میں رہ جاتا\nغبار اپنا اگر گرد رہ منزل میں رہ جاتا\n\nنہیں معلوم کس مدت سے خنجر تشنۂ خوں تھا\nکوئی خطرہ لہو کا کیوں تن بسمل میں رہ جاتا\n\nصفائی کب تھی ممکن یہ غبار دل وہ کافر ہے\nمرے دل سے نکلتا بھی تو اس کے دل میں رہ جاتا\n\nجلا اور جل کے سوز رشک سے دل بجھ گیا فوراً\nاگر ہوتا چراغ و شمع اس محفل میں رہ جاتا\n\nتأسف ہے غبار قیس کی پرواز حسرت پر\nلپٹ کر کاش تھوڑا پردۂ محمل میں رہ جاتا\n\nنہ دیتا گر سہارا کچھ امید وصل کا طوفاں\nشناور بحر غم کا حسرت ساحل میں رہ جاتا\n\nاس آئینے میں گر وہ دیکھ لیتے روئے انور کو\nتو کیوں اتنا بڑا دھبہ مہ کامل میں رہ جاتا\n\nنہ ملتا مدعائے دل درم ملتا جو منعم سے\nمگر اک داغ بن کر وہ کف سائل میں رہ جاتا\n\nنشاں اس کا کہیں ملتا سراغ اس کا کہیں لگتا\nتو اپنا پاؤں کیوں تھک کر رہ منزل میں رہ جاتا\n\nنظرؔ ہم کو علاقہ شعر سے کیا پر یہ حسرت ہے\nنہ رہتے ہم تو اپنا ذکر اس محفل میں رہ جاتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B4_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کوئی اس دل کا حال کیا جانے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی اس دل کا حال کیا جانے\nایک خواہش ہزار تہہ خانے\n\nموت نے آج خودکشی کر لی\nزیست پر کیا بنی خدا جانے\n\nپھر ہوا کوئی بد گماں ہم سے\nپھر جنم لے رہے ہیں افسانے\n\nوقت نے یہ کہا ہے رک رک کر\nآج کے دوست کل کے بیگانے\n\nدور سے ایک چیخ ابھری تھی\nبن گئے بے شمار افسانے\n\nزیست کے شور و شر میں ڈوب گئے\nوقت کو ناپنے کے پیمانے\n\nکتنا مشکل ہے منزلوں کا حصول\nکتنے آساں ہیں جال پھیلانے\n\nراز یہ ہے کہ کوئی راز نہیں\nلوگ پھر بھی مجھے نہ پہچانے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "کوئی اس ستم گر کو آگاہ کر دے کہ باز آئے آزار دینے سے جھٹ پٹ", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی اس ستم گر کو آگاہ کر دے کہ باز آئے آزار دینے سے جھٹ پٹ\nادھر کی ادھر آج ہوتی ہے دنیا مریض محبت بدلتا ہے کروٹ\n\nکبھی پردہ داری کبھی خود نمائی کبھی کچھ رکاوٹ کبھی کچھ لگاوٹ\nتمہاری یہ چاروں ادائیں غضب ہیں یہ چاروں کریں گی ہزاروں کو چوپٹ\n\nقیامت نہ اٹھے کہ اٹھے جہاں میں مگر بالیقیں میں تو اٹھوں گا جھٹ پٹ\nتہ قبر جس وقت مجھ کو ملے گی سر قبر کچھ ان کے قدموں کی آہٹ\n\nکوئی کس طرح اس کو تسلیم کر لے کہ دونوں اکیلے بسر کر رہے ہیں\nترے گرد تیری اداؤں کا مجمع مری حسرتوں کا مرے پاس جمگھٹ\n\nخدا جانے آپس میں کیا پیش آئے یہ تاخیر و تعجیل کیا رنگ لائے\nہمارا ارادہ کہ فوراً نہ دیں دل تمہاری تمنا کہ مل جائے جھٹ پٹ\n\nکہاں لطف بزم مسرت اٹھایا کہاں دور پر کیف گزرے نظر سے\nمئے ناب اوروں کے حصے میں آئی ہمارے مقدر میں تھی صرف تلچھٹ\n\nادھر وہ بھی سرگرم ظلم و جفا ہے ادھر ہم بھی مصروف آہ و بکا ہیں\nکہیں بڑھتے بڑھتے نہ بڑھ جائے جھگڑا کہیں ہوتے ہوتے نہ ہو جائے کھٹ پٹ\n\nیہ کیوں ہے تأمل یہ کیوں ہے توقف یہ انکار کیا ہے یہ اغماض کیا ہے\nلڑاؤ بھی آنکھیں ملاؤ بھی نظریں دکھاؤ بھی مکھڑا اٹھاؤ بھی گھونگھٹ\n\nبہت کچھ چھپایا بہت کچھ بچایا مگر پیش بندی نہ کچھ کام آئی\nکئے خنجر ناز نے چار ٹکڑے بالآخر ہوا دل محبت میں چوپٹ\n\nمحبت میں یہ جھڑکیاں بھی عبث ہیں یہ ہر وقت کی دھمکیاں بھی عبث ہیں\nکرم ہو کہ مجھ پر ستم ہو تمہارا نہ اٹھوں گا در سے نہ چھوڑوں گا چوکھٹ\n\nبیان تمنا سنا اور سن کر بڑی دیر سے غور فرما رہے ہیں\nنہ آئیں گے یا میرے گھر آ گئے وہ جو ہونا ہو ارشاد ہو جائے جھٹ پٹ\n\nستم بھی اٹھائے ہزاروں طرح کے بلائیں بھی جھیلیں ہزاروں طرح کی\nہوا تجربہ ہم کو یہ دل لگا کر حسینوں سے دل کا لگانا ہے جھنجھٹ\n\nترے عشق میں کیوں نہ میں دل کو روؤں جگر کے لئے کیوں نہ میں آہ کھینچوں\nشب و روز کی مختلف آفتوں نے اسے کر دیا چت اسے کر دیا پٹ\n\nبنا غیرت آئینۂ دل ہمارا غبار آئے کیوں کر کدورت رہے کیا\nمثل ہے وہ خس کم جہاں پاک والی نہ اس گھر میں کوڑا نہ اس گھر میں کرکٹ\n\nمحبت کے رستے میں اے شوق منزل ملے گا عجب لطف پائے طلب کو\nادھر خار ہیں اور ادھر آبلے ہیں اگر نذر ہاں وہ ہیں تو یہ ہیں منہ پھٹ\n\nترے عشق میں چین سے کیا رہوں میں ترے عشق میں جب نہ دے چین مجھ کو\nنظر کا پلٹنا زباں کا بدلنا مقدر کی گردش زمانے کی کروٹ\n\nیہ اے نوحؔ کس نے تمہیں رائے دی تھی کہ طوفاں اٹھاؤ زمیں دار ہو کر\nاب اچھا تماشا نظر آ رہا ہے تہہ آب کھاتا سر آب کھیوٹ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%B2_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DA%BE%D9%B9_%D9%BE%D9%B9"} {"title": "کوئی اس سے نہیں کہتا کہ یہ کیا بے وفائی ہے", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی اس سے نہیں کہتا کہ یہ کیا بے وفائی ہے\nچرا کر دل مرا اب آنکھ بھی اپنی چرائی ہے\n\nاٹھو اے مے کشو آباد مے خانہ کریں چل کر\nذرا دیکھو تو کیا کالی گھٹا گھنگھور چھائی ہے\n\nبتوں کے عشق سے ہم باز آئے ہیں نہ آئیں گے\nنہیں پروا ہمیں دشمن اگر ساری خدائی ہے\n\nنشاط دل کو دشمن کے بنائیں گے اسی سے ہم\nوہ کہتے ہیں تری آہ رسا تیرا ہوائی ہے\n\nبگڑ کر غیر سے تم آئے ہو ہم یہ سمجھتے ہیں\nہمارے سامنے بے وجہ کیوں صورت بنائی ہے\n\nہر اک مشکل سے مشکل کام بنتا ہے بنانے سے\nمگر بگڑی ہوئی قسمت کسی نے کب بنائی ہے\n\nخبر سن کر مرے مرنے کی وہ کہنے لگے ہنس کر\nکسی دشمن نے شاید یہ خبر جھوٹی اڑائی ہے\n\nگلوں کو نغمۂ بلبل سنائی تک نہیں دیتا\nترے دیوانوں نے وہ دھوم گلشن میں مچائی ہے\n\nدل عاشق میں ہو اے مشرقیؔ گر جذب دل کامل\nوہ بت پھر کیوں نہ مائل ہو کوئی گھر کی خدائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کوئی امید بر نہیں آتی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی امّید بر نہیں آتی\nکوئی صورت نظر نہیں آتی\n\nموت کا ایک دن معین ہے\nنیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟\n\nآگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی\nاب کسی بات پر نہیں آتی\n\nجانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد\nپر طبعیت ادھر نہیں آتی\n\nہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں\nورنہ کیا بات کر نہیں آتی\n\nکیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں\nمیری آواز گر نہیں آتی\n\nداغِ دل گر نظر نہیں آتا\nبو بھی اے چارہ گر نہیں آتی\n\nہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی\nکچھ ہماری خبر نہیں آتی\n\nمرتے ہیں آرزو میں مرنے کی\nموت آتی ہے پر نہیں آتی\n\nکعبے کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ\nشرم تم کو مگر نہیں آتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C"} {"title": "کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے\nاور جو یہ تنگ کریں منہ سے شکایت نہ کرے\n\nعشق کے داغ کو دل مہر نبوت سمجھا\nڈر ہے کافر کہیں دعوائے نبوت نہ کرے\n\nہے جراحت کا مری سودۂ الماس علاج\nفائدہ اس کو کبھی سنگ جراحت نہ کرے\n\nہر قدم پر مرے اشکوں سے رواں ہے دریا\nکیا کرے جادہ اگر ترک رفاقت نہ کرے\n\nآج تک خوں سے مرے تر ہے زبان خنجر\nکیا کرے جب کہ طلب کوئی شہادت نہ کرے\n\nہے یہ انساں بڑے استاد کا شاگرد رشید\nکر سکے کون اگر یہ بھی خلافت نہ کرے\n\nبن جلے شمع کے پروانہ نہیں جل سکتا\nکیا بڑھے عشق اگر حسن ہی سبقت نہ کرے\n\nپھر چلا مقتل عشاق کی جانب قاتل\nسر پہ برپا کہیں کشتوں کے قیامت نہ کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%AF%DB%81%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "کوئی انیسؔ کوئی آشنا نہیں رکھتے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی انیسؔ کوئی آشنا نہیں رکھتے\nکسی کی آس بغیر از خدا نہیں رکھتے\n\nکسی کو کیا ہو دلوں کی شکستگی کی خبر\nکہ ٹوٹنے میں یہ شیشے صدا نہیں رکھتے\n\nفقیر دوست جو ہو ہم کو سرفراز کرے\nکچھ اور فرش بجز بوریا نہیں رکھتے\n\nمسافرو شب اول بہت ہے تیرہ و تار\nچراغ قبر ابھی سے جلا نہیں رکھتے\n\nوہ لوگ کون سے ہیں اے خدائے کون و مکاں\nسخن سے کان کو جو آشنا نہیں رکھتے\n\nمسافران عدم کا پتہ ملے کیونکر\nوہ یوں گئے کہ کہیں نقش پا نہیں رکھتے\n\nتپ دروں غم فرقت ورم پیادہ روی\nمرض تو اتنے ہیں اور کچھ دوا نہیں رکھتے\n\nکھلے گا حال انہیں جب کہ آنکھ بند ہوئی\nجو لوگ الفت مشکل کشا نہیں رکھتے\n\nجہاں کی لذت و خواہش سے ہے بشر کا خمیر\nوہ کون ہیں کہ جو حرص و ہوا نہیں رکھتے\n\nانیسؔ بیچ کے جاں اپنی ہند سے نکلو\nجو توشۂ سفر کربلا نہیں رکھتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%B3%D8%94_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92"} {"title": "کوئی اچھا نہیں ہوتا ہے بری چالوں سے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی اچھا نہیں ہوتا ہے بری چالوں سے\nلب بام آ کے کھڑے ہو نہ کھلے بالوں سے\n\nروز و شب کس لیے رہتا ہوں الٰہی بیتاب\nنہ تو گوروں سے محبت نہ مجھے کالوں سے\n\nجوش وحشت میں جو جنگل کی طرف جا نکلا\nتپ چڑھی شیر نیستاں کو مرے نالوں سے\n\nکوئی کچھ عشق کا کرتا ہے بیاں کوئی کچھ\nتنگ آیا ہوں میں اس قضیہ کے دلالوں سے\n\nبیشتر صبح شب وصل سے ہم گزریں گے\nزور ادبار چلے گا نہ خوش اقبالوں سے\n\nمست ہاتھی ہے تری چشم سیہ مست اے یار\nصف مژگاں اسے گھیرے ہوے ہے بھالوں سے\n\nروئے خوباں سے ملے گا ہمیں بوسہ کہ نہیں\nحال ان شکلوں کا کچھ پوچھیے رمالوں سے\n\nعارضی حسن سے نفرت یہ ہوئی ہے دل کو\nرتبہ زلفوں کو نہیں مکڑیوں کے جالوں سے\n\nخط شب گوں نے نکل کر عبث اندھیر کیا\nکافرستاں تو وہ رخ آگے ہی تھا خالوں سے\n\nدو جہاں حشر کے دن ہوویں گے باہم موجود\nمتفق ہوں گے اِدھر والے اُدھر والوں سے\n\nدل حسینوں کے تصور سے بنایا خالی\nآئینہ خانوں میں کثرت رہی تمثالوں سے\n\nکچھ تو ہلکا کریں خار رہ صحرائے جنوں\nبوجھ لنگر کا ہوئے ہیں کف پا چھالوں سے\n\nان کے بوسوں کی تمنا ہے لبوں کو آتشؔ\nآئنہ کسب صفا کرتے ہیں جن گالوں سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%DA%86%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کوئی بات ایسی آج اے میری گل رخسار بن جائے", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "کوئی بات ایسی آج اے میری گل رخسار بن جائے\nکہ بلبل باتوں باتوں میں دم گفتار بن جائے\n\nعیاں ہو جذب شوق ایسا حسیں آئیں زیارت کو\nمری تربت کا میلہ مصر کا بازار بن جائے\n\nمرے ہنسنے پہ وہ کہتے ہیں ایسا بھی نہ ہو بے خود\nکہ کوئی آدمی سے قہقہہ دیوار بن جائے\n\nتعجب کچھ نہیں ہے گر وفور سوز فرقت سے\nمرا ہر موئے تن منقار موسیقار بن جائے\n\nٹہلتے گر چلے آئیں وہ داغوں کے تماشے کو\nابھی سرو چراغاں میرا جسم زار بن جائے\n\nبرہمن شیخ کو کر دے نگاہ ناز اس بت کی\nگلوئے زہد میں تار نظر زنار بن جائے\n\nاگر گھر سے بقصد سیر نکلے وہ کماں ابرو\nتو بہر طائر دل ہر مژہ سو فار بن جائے\n\nتبسم کر تماشا دیکھ کے وحشت کا پھر ظالم\nمرا چاک گریباں زخم دامن دار بن جائے\n\nیوں ہی ہنس ہنس کے تم عاشق کا رونا دیکھتے جاؤ\nکہ ہر تار نظر اک موتیوں کا ہار بن جائے\n\nبڑھاؤ منزلت تیغ ادا کی تند خوئی سے\nمناسب ہے جو یہ شمشیر جوہر دار بن جائے\n\nاگر آئینۂ دل صاف ہو حسن توجہ سے\nہر اک آنکھوں کا پردہ پردۂ اسرار بن جائے\n\nیہی ہے خوں بہا چل کر ذرا کہہ دو اشارے سے\nحبیبؔ خستہ کا مرقد پس دیوار بن جائے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%A2%D8%AC_%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "کوئی بھی ہم سفر نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:فرحت کانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی بھی ہم سفر نہیں ہوتا\nدرد کیوں رات بھر نہیں ہوتا\n\nراہ دل خودبخود ہے مل جاتی\nکوئی بھی راہبر نہیں ہوتا\n\nآہ کا بھی نہ ذکر کر اے دل\nآہ میں بھی اثر نہیں ہوتا\n\nدل کو آسودگی بھی کیونکر ہو\nغم سے شیر و شکر نہیں ہوتا\n\nآہ اے بے خبر یہ بے خبری\nدل ناداں خبر نہیں ہوتا\n\nدل کی راہیں جدا ہیں دنیا سے\nکوئی بھی راہبر نہیں ہوتا\n\nاب تو محفل سے چل دیا فرحتؔ\nاب کسی کا گزر نہیں ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کوئی تجھ کو پکارتا جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کوئی تجھ کو پکارتا جاتا ہے\nکوئی ہمت ہی ہارتا جاتا ہے\nکوئی تہہ کو سدھارتا جاتا ہے\nدریا ہے کہ موجیں مارتا جاتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کوئی تو بات ہے یا رب ہوائے کوے جاناں میں", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی تو بات ہے یا رب ہوائے کوے جاناں میں\nاسیروں کو ذرا تسکین ہو جاتی ہے زنداں میں\n\nیہاں کی خاک خون بے گنہ کا رنگ لاتی ہے\nذرا دامن بچا کر آئیے گور غریباں میں\n\nیہ قد بوٹا سا گل سے گال آنکھیں نرگس شہلا\nجوانی تم پہ کیا آئی بہار آئی گلستاں میں\n\nزمانہ کی دو رنگی دیکھ کر جلتا ہے جی کیسا\nکہ شبنم رو رہی ہے پھول ہنستے ہیں گلستاں میں\n\nجو دیکھو غور سے تو چار دن کی زندگی کیا ہے\nفقط ہیں چند سانسیں اور کیا رکھا ہے انساں میں\n\nنہ روتا ہے کسی کے حال پر کوئی نہ ہنستا ہے\nبڑے آرام سے سوتے ہیں سب گور غریباں میں\n\nستم ایجاد کس کس کو ترے درباں جگائیں گے\nمری تقدیر بھی سوتی ہے میرے ساتھ زنداں میں\n\nکریں گے سجدے جھک جھک کر بتوں کے پوجنے والے\nصنم خانے کا لطف آئے گا صفدرؔ میرے دیواں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D9%88%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کوئی جانے تو کیا جانے وہ یکتا ہے ہزاروں میں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی جانے تو کیا جانے وہ یکتا ہے ہزاروں میں\nستم گاروں میں عیاروں میں دل داروں میں یاروں میں\n\nکسی کا دل تو کیا شیشہ نہ ٹوٹا بادہ خواروں میں\nیہ توبہ ٹوٹ کر کیوں جا ملی پرہیزگاروں میں\n\nکہاں ہے دختر رز اے محتسب ہم بادہ خواروں میں\nترے ڈر سے وہ کافر جا چھپی پرہیزگاروں میں\n\nکوئی غنچہ دہن ہنس کر ہمیں اب کیا ہنسائے گا\nبہاریں ہم نے لوٹی ہیں بہت اگلی بہاروں میں\n\nانہیں لوگوں کے آنے سے تو میخانے کی عظمت ہے\nقدم لو شیخ کے تشریف لائے بادہ خواروں میں\n\nوہ کترا کر چلے ہیں میکدے سے حضرت زاہد\nبڑے مرشد ہیں ہاتھوں ہاتھ لانا ان کو یاروں میں\n\nپڑا رویا کرے وہ داغؔ بیکس اس طرح تنہا\nکہ جس کی رات دن ہنس بول کر گزری ہو یاروں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%DB%81_%DB%8C%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کوئی جہاں میں نہ یا رب ہو مبتلائے فراق", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی جہاں میں نہ یا رب ہو مبتلائے فراق\nکسی کی جان کی دشمن نہ ہو بلائے فراق\n\nہزار طرح کے صدمے اسے گوارا ہیں\nمگر اٹھا نہیں سکتا ہے دل جفائے فراق\n\nلبوں پہ جان ہے اب صدمہ ہائے دوری سے\nخبر وصال کی دیتی ہے انتہائے فراق\n\nزبان بند ہے یہ جوش غم کا عالم ہے\nبیان ہو نہیں سکتا ہے ماجرائے فراق\n\nکریں جو ضبط کلیجا سراہیے ان کا\nکہ آسماں کو بلاتے ہیں نالہ ہائے فراق\n\nجدا حفیظؔ ہوا کون تیرے پہلو سے\nلبوں پر آٹھ پہر ہے جو ہائے ہائے فراق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8_%DB%81%D9%88_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82"} {"title": "کوئی حسین ہے مختار کار خانۂ عشق", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی حسین ہے مختار کار خانۂ عشق\nکہ لا مکاں ہی کی چوکھٹ ہے آستانۂ عشق\n\nنگاہیں ڈھونڈھ رہی ہیں دل یگانۂ عشق\nاشارے پوچھ رہے ہیں کہاں ہے خانۂ عشق\n\nپھریں گے حشر میں گرد دل یگانۂ عشق\nکریں گے پیش خدا ہم طواف خانۂ عشق\n\nنئی صدا ہو نئے ہونٹھ ہوں نیا لہجہ\nنئی زباں سے کہوں گر کہوں فسانۂ عشق\n\nجو مولوی ہیں وہ لکھیں گے کفر کے فتوے\nسناؤں صورت منصور اگر ترانۂ عشق\n\nاگر لگے تو لگے چوٹ میرے نالے کی\nاگر پڑے تو پڑے دل پہ تازیانۂ عشق\n\nجو ڈال دیں اسے پتھر پہ بھی پھلے پھولے\nدرخت طور بنے سبز ہو کے دانۂ عشق\n\nتمہیں کہو جو لٹا دیں تو کون خالی ہو\nخزانہ حسن کا افزوں ہے یا خزانۂ عشق\n\nوہ رات آئے کہ سر تیرا لے کے بازو پر\nتجھے سلاؤں بیاں کر کے میں فسانۂ عشق\n\nوہ در تک آتے نہیں در سے ہم نہیں اٹھتے\nادھر بہانۂ حسن اور ادھر بہانۂ عشق\n\nسکھائی کس نے یہ رفتار میرے نالے کو\nکمر کی طرح لچکتا ہے تازیانۂ عشق\n\nکسی کو پیار کرے گا شباب میں تو بھی\nترے بھی گھر میں جلے گا چراغ خانۂ عشق\n\nجو خوش نویس ملے کوئی دیں گے دل اپنا\nہم اس کتاب میں لکھوائیں گے فسانۂ عشق\n\nگئے ہیں وہ مری محفل میں بھول کر رومال\nیہ جانماز بچھا کر پڑھوں دوگانۂ عشق\n\nکسی کے حسن نے کافر بنا دیا مائلؔ\nلگا کے قشقۂ درد شراب خانۂ عشق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AE%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "کوئی حیران ہے یاں کوئی دلگیر", "poet_page": "مصنف:راسخ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی حیران ہے یاں کوئی دلگیر\nکہے تو ہے یہ عالم بزم تصویر\n\nجلے تک کا میں اپنے قدرداں ہوں\nیہ چٹکی راکھ ہے اک طرفہ اکسیر\n\nنگاہ عجز کچھ کچھ کارگر تھی\nسو اب جاتی رہی اس کی بھی تاثیر\n\nوہ دن کیا با حلاوت تھے کہ احباب\nموافق تھے بہم جوں شکر و شیر\n\nکروں کیوں کر نہ میں راسخؔ مباہات\nکہ ہیں استاد میرے حضرت میرؔ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%84%DA%AF%DB%8C%D8%B1"} {"title": "کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے\nقیامت ہے یہ دل کا آنا نہیں ہے\n\nمنائیں انہیں وصل میں کس طرح ہم\nیہ روٹھے کا کوئی منانا نہیں ہے\n\nہے منظور انہیں امتحاں شوق دل کا\nنزاکت کا خالی بہانہ نہیں ہے\n\nوفا پر دغا صلح میں دشمنی ہے\nبھلائی کا ہرگز زمانہ نہیں ہے\n\nشب غم بھی ہو جائے گی اک دن آخر\nکبھی اک روش پر زمانا نہیں ہے\n\nہے کوئے بتاں بس گھر اس کا ہی کیفیؔ\nزمانے میں جس کو ٹھکانا نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "کوئی دم تھمتا نہیں باران اشک", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "کوئی دم تھمتا نہیں باران اشک\nالاماں از چشم پر طوفان اشک\n\nکس لب میگوں کی خواہش ہے مدام\nجوش زن ہے یہ مے جوشان اشک\n\nشور نالوں کا مرے سن دم بدم\nسہمگیں ہیں یک قلم طفلان اشک\n\nکشتیٔ گردوں یقیں ہے ڈوب جائے\nبڑھ چلا ہے بحر بے پایان اشک\n\nشوق میں اس سلک دنداں کی مدام\nہیں نکلتے یہ در غلطان اشک\n\nجل کے ہوتا خاک سوز دل سے تن\nگر نہ کرتی آنکھ یہ سامان اشک\n\nفیض سے خون دل مجروح کی\nرشک گلشن ہو گیا دامان اشک\n\nدھو گیا خاطر سے جاناں کی غبار\nجان پر میری ہے یہ احسان اشک\n\nہوں میں گریاں عشق خادم شاہ میں\nاس لیے آثمؔ ہوں میں نازان اشک", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%85_%D8%AA%DA%BE%D9%85%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%B4%DA%A9"} {"title": "کوئی دن کا آب و دانہ اور ہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی دن کا آب و دانہ اور ہے\nپھر چمن اور آشیانہ اور ہے\n\nہاں دل بے تاب چندے انتظار\nامن و راحت کا ٹھکانہ اور ہے\n\nشمع پھیکی رات کم محفل اداس\nاب مغنی کا ترانہ اور ہے\n\nاے جوانی تو کہانی ہو گئی\nہم نہیں وہ یا زمانہ اور ہے\n\nجس کو جان زندگانی کہہ سکیں\nوہ حیات جاودانہ اور ہے\n\nجس کو سن کر زہرۂ سنگ آب ہو\nآہ وہ غمگیں فسانہ اور ہے\n\nوا اگر سمع رضا ہو تو کہوں\nایک پند مشفقانہ اور ہے\n\nاتفاقی ہے یہاں کا ارتباط\nسب ہیں بیگانے یگانہ اور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%A8_%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "کوئی دن گر زندگانی اور ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی دن گر زندگانی اور ہے\nاپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے\n\nآتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاں\nسوزِ غم ہائے نہانی اور ہے\n\nبارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں\nپر کچھ اب کے سر گرانی اور ہے\n\nدے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر\nکچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے\n\nقاطعِ اعمار ہیں اکثر نجوم\nوہ بلائے آسمانی اور ہے\n\nہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمام\nایک مرگِ ناگہانی اور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%DA%AF%D8%B1_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "کوئی دیتا نہیں ہے داد بے داد", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی دیتا نہیں ہے داد بے داد\nکوئی سنتا نہیں فریاد فریاد\n\nکہیں ہیں کیا بلا دام بلا ہے\nتیری زلفوں کو اے صیاد صیاد\n\nنہ رکھ امید آسائش جہاں میں\nکہ ہے دنیا کی بے بنیاد بنیاد\n\nتجھے معشوقیت کے فن میں محبوب\nکہیں ہیں عشق کے استاد استاد\n\nگئی غفلت میں ساری عمر حاتمؔ\nکہ جیسی خاک رہ برباد برباد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%AF"} {"title": "کوئی دیکھے تو میری نَے نوازی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کوئی دیکھے تو میری نَے نوازی\nنفس ہندی، مقامِ نغمہ تازی\nنِگہ آلُودۂ اندازِ افرنگ\nطبیعت غزنوی، قسمت ایازی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%86%D9%8E%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2%DB%8C"} {"title": "کوئی رسوا کوئی سودائی ہے", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی رسوا کوئی سودائی ہے\nاک جہاں آپ کا شیدائی ہے\n\nصحبت غیر سے بچئے بچئے\nدیکھیے دیکھیے رسوائی ہے\n\nہر ادا میں ہے حیات جاوید\nہر اشارہ میں مسیحائی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے\nکبھی کبھی ترا غم ہی نہ ہو تو کیا کیجے\n\nہماری راہ جدا ہے کہ ایسی راہوں پر\nرواج نقش قدم ہی نہ ہو تو کیا کیجے\n\nہمیں بھی بادہ گساری سے عار تھی لیکن\nشراب ظرف سے کم ہی نہ ہو تو کیا کیجے\n\nتباہ ہونے کا ارماں سہی محبت میں\nکسی کو خوئے ستم ہی نہ ہو تو کیا کیجے\n\nہمارے شعر میں روٹی کا ذکر بھی ہوگا\nکسی کسی کے شکم ہی نہ ہو تو کیا کیجے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%D9%81%DB%8C%D9%82_%D8%A8%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92"} {"title": "کوئی رنج ہے نہ شکایتیں مجھے اپنے ہوش پریدہ سے", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی رنج ہے نہ شکایتیں مجھے اپنے ہوش پریدہ سے\nیہ وہ شمع تھی جو بھڑک اٹھی مری آہ نیم کشیدہ سے\n\nمری وحشتوں کی ہے انتہا کہ کسی کا حسن ہے رونما\nکبھی میرے دامن چاک سے کبھی میری جیب دریدہ سے\n\nمیں نمود حسن الست ہوں میں چراغ عشق بدست ہوں\nیہ تجلیات بہار ہیں مرے رنگ و بوئے پریدہ سے\n\nتری یاد میری انیس ہے تری یاد میری جلیس ہے\nمری زندگی کی نمود ہے تری آرزوئے تپیدہ سے\n\nمیں حرم میں محو نیاز تھا میں بتوں میں سجدہ طراز تھا\nکبھی امتیاز نہ ہو سکا مرے ذوق ہجر چشیدہ سے\n\nکوئی آرزوئے دلی سراجؔ مراد کو نہ پہنچ سکی\nکوئی پھول بار نہ پا سکا مری کشت برق رسیدہ سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کوئی سمجھائیو یارو مرا محبوب جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی سمجھائیو یارو مرا محبوب جاتا ہے\nمرا مقصود جاتا ہے مرا مطلوب جاتا ہے\n\nمبارک ماہ کنعاں اے زلیخا چشم ما روشن\nبس اتنی بات کہنے مصر میں یعقوب جاتا ہے\n\nدعا کہہ کر چلا بندہ سلام آکر کرے گا پھر\nخط آوے جب تلک تو بندگی سے خوب جاتا ہے\n\nہنر اپنے کیے ظاہر اگر تجھ کو نہیں بھاتے\nتو اب سو عیب کا قائل ہو یہ معیوب جاتا ہے\n\nبیاںؔ جب میں بیاں کرتا ہوں یہ مضمون مضموں کا\nکبھو آنکھیں بھر آتی ہیں کبھو جی ڈوب جاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کوئی شمع اور کوئی پروانہ ہوگا", "poet_page": "مصنف:خوشی محمد ناظر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی شمع اور کوئی پروانہ ہوگا\nجہاں میں عشق کا افسانہ ہوگا\n\nجنون عشق سے ہے لطف ہستی\nوہ دیوانہ ہے جو فرازانہ ہوگا\n\nترے مستوں کا اے کوثر کے ساقی\nوہی پیماں وہی پیمانہ ہوگا\n\nخرابات جہاں وقف فنا ہے\nمگر باقی ترا مے خانہ ہوگا\n\nرواں ہیں کارواں جس کی طرف سب\nیہی وہ کوچۂ جانانہ ہوگا\n\nوہ دل ہی کیا کہ رقص موج جس کا\nحریف جنبش دریا نہ ہوگا\n\nوبال دوش ہے وہ سر کہ جس میں\nکسی کے عشق کا سودا نہ ہوگا\n\nجسے شہد و شکر کی آرزو ہے\nلب نوشیں کا وہ رسیا نہ ہوگا\n\nمحبت کے ہیں رنگا رنگ نیرنگ\nکہیں افسوں کہیں افسانہ ہوگا\n\nپرستاری ہے طینت میں بشر کی\nجہاں کعبہ نہیں بت خانہ ہوگا\n\nپیامی سے کسی نے کہہ دیا ہے\nکہ ناظرؔ سے کوئی پروانہ ہوگا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کوئی صورت سے گر صفا ہو", "poet_page": "مصنف:وزیر علی صبا لکھنؤی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی صورت سے گر صفا ہو\nآئنۂ دل خدا‌ نما ہو\n\nماشاء اللہ چشم بد دور\nکیا خوب جوان مہ لقا ہو\n\nمنصف ہوں شیخ و گبر دل میں\nقصہ چک جائے فیصلہ ہو\n\nدوزخ کو بھی مات کر دیا ہے\nاے سوزش دل ترا برا ہو\n\nمسند کیسی فقیر ہوں میں\nتھوڑی سی جگہ ہو بوریا ہو\n\nکہتے ہیں وہ میرے دیکھنے پر\nدیکھو کوئی نہ دیکھتا ہو\n\nمعلوم ہیں واعظوں کی باتیں\nاس سے کہیں جو نہ جانتا ہو\n\nیارو سمجھاؤ اس صنم کو\nکیسے تم بندۂ خدا ہو\n\nگلچیں ممکن ہے پھول توڑے\nبلبل نالہ بھی جانتا ہو\n\nکس سے ملتا ہے دیکھ اے دل\nغافل ایسا نہ ہو دغا ہو\n\nسن لے کبھی مجھ فقیر کی بھی\nاللہ کرے ترا بھلا ہو\n\nیہ حال ہے نقد دل کو کھو کر\nجیسے کوئی لٹا ہوا ہو\n\nالٹی الٹی نہ کیوں ہوں باتیں\nٹیڑھی ٹیڑھی ہے خفا خفا ہو\n\nبندہ باہر کبھی نہیں ہے\nجب چاہے اجل کا سامنا ہو\n\nاللہ کرے نامۂ عمل پر\nتیرا نقشہ کھنچا ہوا ہو\n\nاے یار کبھی تو کام آؤ\nاتنی مدت کی آشنا ہو\n\nابرو سے چشم سے نگہ سے\nآفت ہو قہر ہو بلا ہو\n\nکب سے امید و بیم میں ہیں\nجو کچھ ہونا ہو یا خدا ہو\n\nکچھ رحم بھی ہے خدا خدا کر\nبندے سے صبر تا کجا ہو\n\nپڑھتے ہو صباؔ بتوں کا کلمہ\nکہنے کو بندۂ خدا ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%D8%B5%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا\nکبھی سامنے ہو کے مجنوں نہ نکلا\n\nبڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا\nجو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا\n\nبجا کہتے آئے ہیں ہیچ اس کو شاعر\nکمر کا کوئی ہم سے مضموں نہ نکلا\n\nہوا کون سا روز روشن نہ کالا\nکب افسانہ زلف شب گوں نہ نکلا\n\nپہنچتا اسے مصرع تازہ و تر\nقد یار سا سرو موزوں نہ نکلا\n\nرہا سال ہا سال جنگل میں آتش\nمرے سامنے بید مجنوں نہ نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%81%D8%B2%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "کوئی لے کر خبر نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی لے کر خبر نہیں آتا\nجو گیا نامہ بر نہیں آتا\n\nچاند کس جا نظر نہیں آتا\nیار کیوں میرے گھر نہیں آتا\n\nدم محبت کا بھر نہیں آتا\nراز افشا تو کر نہیں آتا\n\nعشق کیا جانے زاہد بے مغز\nڈھنگ یہ عمر بھر نہیں آتا\n\nپنڈتو پترے میں دیکھو تو\nکیوں مرا نامہ بر نہیں آتا\n\nلالہ ہر سال رنگ لاتا ہے\nرنگ داغ جگر نہیں آتا\n\nوہ تو کہتے ہیں صبر کر چندے\nاور یہاں صبر کر نہیں آتا\n\nکبھی پوچھو لپٹ کے سینہ سے\nاب تو منہ کو جگر نہیں آتا\n\nشیشۂ دل میں او پری پیکر\nہے پری تو اتر نہیں آتا\n\nہم بھی باتیں بنایا کرتے ہیں\nشعر کہنا مگر نہیں آتا\n\nغنچہ گل ہو کے ان سے کہتا ہے\nکس کا منہ کو جگر نہیں آتا\n\nرنگ لایا نہیں ابھی رونا\nابھی لخت جگر نہیں آتا\n\nناصحا کیوں نہ ہو خیال ان کا\nخواب تو رات بھر نہیں آتا\n\nعمر بھر اک تمہیں کو پیار کیا\nدل کہیں اس قدر نہیں آتا\n\nمیرے مرنے کی کیا نہیں ہے خبر\nکیوں تو اے بے خبر نہیں آتا\n\nکیوں بگڑیے بنے بنے نہ بنے\nخیر بندہ کو شر نہیں آتا\n\nذبح مجھ کو انیلے پن نے کیا\nقتل قاتل کو کر نہیں آتا\n\nکوچۂ یار ہے کہ جنت ہے\nجو گیا پھر کے گھر نہیں آتا\n\nیار کوٹھے پہ اپنے چڑھتا ہے\nمہ فلک سے اتر نہیں آتا\n\nجی نہ چاہے جسے میں کیا چاہوں\nمجھ کو بے موت مر نہیں آتا\n\nدیکھ کر ان کو جس کو دیکھے مہرؔ\nکوئی اتنا نظر نہیں آتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کوئی مجھ سا مستحق رحم و غم خواری نہیں", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی مجھ سا مستحق رحم و غم خواری نہیں\nسو مرض ہیں اور بظاہر کوئی بیماری نہیں\n\nہر قدم پر باغ عالم میں بچھا ہے دام حسن\nکون ایسا ہے جسے ذوق گرفتاری نہیں\n\nدیکھے گر غور سے دنیا ہے غفلت کا طلسم\nیہ بھی خواب عشق ہے فرقت سے بیداری نہیں\n\nجان لے کر بھی جو ہاتھ آئے تو ارزاں جانیے\nسہل ایسی جنس الفت کی خریداری نہیں\n\nعشق کی ناکامیوں نے اس قدر کھینچا ہے طول\nمیرے غم خواروں کو اب یارائے غم خواری نہیں\n\nمجھ سے ضبط درد الفت کی شکایت ہے فضول\nاے دل ناداں تجھے احساس خود داری نہیں\n\nمیری دولت دیکھ کر کیوں تم نے ٹھنڈی سانس لی\nبے کسوں پر رسم آئین ستم گاری نہیں\n\nہر طرف سے یہ صدا آتی ہے ملک حسن میں\nیہ وہ دنیا ہے جہاں رسم وفاداری نہیں\n\nہو گیا شاید کہ صرف سوز غم سب خون دل\nآنسوؤں کا اب وہ دریا آنکھ سے جاری نہیں\n\nاس کو رحم آئے کہاں یہ نا امیدی میں امید\nدل کو خوش کرنا ہے شغل گریہ و زاری نہیں\n\nہم ہیں چپ بیٹھے ہوئے لیکن ہے دل مصروف عشق\nاس عدیم الفرصتی کا نام بیکاری نہیں\n\nبند آنکھوں سے نظر آتی ہے ہر شے دہر کی\nعالم رویا میں فرق خواب و بے داری نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D8%A7_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%AD%D9%82_%D8%B1%D8%AD%D9%85_%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں\nمجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں\n\nقفس میں جی نہیں لگتا کسی طرح\nلگا دو آگ کوئی آشیاں میں\n\nکوئی دن بوالہوس بھی شاد ہو لیں\nدھرا کیا ہے اشارات نہاں میں\n\nکہیں انجام آ پہنچا وفا کا\nگھلا جاتا ہوں اب کے امتحاں میں\n\nنیا ہے لیجئے جب نام اس کا\nبہت وسعت ہے میری داستاں میں\n\nدل پر درد سے کچھ کام لوں گا\nاگر فرصت ملی مجھ کو جہاں میں\n\nبہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کر\nابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہے\nغبار قیس خود اٹھتا ہے خود برباد ہوتا ہے\n\nقفس کیا حلقہ ہائے دام کیا رنج اسیری کیا\nچمن پر مٹ گیا جو ہر طرح آزاد ہوتا ہے\n\nیہ سب نا آشنائے لذت پرواز ہیں شاید\nاسیروں میں ابھی تک شکوۂ صیاد ہوتا ہے\n\nبہار سبزہ و گل ہے کرم ہوتا ہے ساقی کا\nجواں ہوتی ہے دنیا مے کدہ آباد ہوتا ہے\n\nبنا لیتا ہے موج خون دل سے اک چمن اپنا\nوہ پابند قفس جو فطرتا آزاد ہوتا ہے\n\nبہار انجام سمجھوں اس چمن کا یا خزاں سمجھوں\nزبان برگ گل سے مجھ کو کیا ارشاد ہوتا ہے\n\nازل میں اک تجلی سے ہوئی تھی بے خودی طاری\nتمہیں کو میں نے دیکھا تھا کچھ ایسا یاد ہوتا ہے\n\nسمائے جا رہے ہیں اب وہ جلوے دیدہ و دل میں\nیہ نظارہ ہے یا ذوق نظر برباد ہوتا ہے\n\nزمانہ ہے کہ خوگر ہو رہا ہے شور و شیون کا\nیہاں وہ درد جو بے نالہ و فریاد ہوتا ہے\n\nیہاں کوتاہی ذوق عمل ہے خود گرفتاری\nجہاں بازو سمٹتے ہیں وہیں صیاد ہوتا ہے\n\nیہاں مستوں کے سر الزام ہستی ہی نہیں اصغرؔ\nپھر اس کے بعد ہر الزام بے بنیاد ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D9%85%D9%84_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کوئی معیار محبت نہ رہا میرے بعد", "poet_page": "مصنف:باسط بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی معیار محبت نہ رہا میرے بعد\nہر طرف عام ہیں خاصان وفا میرے بعد\n\nسلسلہ ان کے ستم کا نہ رہا میرے بعد\nبدلا بدلا سا ہے دستور جفا میرے بعد\n\nکون پہنے گا گلے میں تری الفت کی کمند\nکس کے سر ہوگی تری زلف دوتا میرے بعد\n\nہوں گی قربان ترے رخ پہ نگاہیں کس کی\nچاند ہو جائے گا ہالے سے جدا میرے بعد\n\nسوچتا ہوں کہ بہ ایں عالم بیتابیٔ دل\nکون مانگے گا محبت کی دعا میرے بعد\n\nداد چاہیں گے مری طرح مٹا کر کس کو\nعشوہ و غمزۂ انداز و ادا میرے بعد\n\nٹھوکریں کھاتی پھرے گی شب یلدائے فراق\nخون روئے گی ہر اک تازہ بلا میرے بعد\n\nسونی سونی سی ہے ہر محفل ایذا طلبی\nجیسے دنیا میں کوئی غم نہ رہا میرے بعد\n\nخیرہ ہو جاتی تھی جس سے نگہ صبر و قرار\nان کے لب پر وہ تبسم نہ رہا میرے بعد\n\nکیا خبر تھی کہ میں خود ساتھ نہ دوں گا اپنا\nگوشت ہو جائے گا ناخن سے جدا میرے بعد\n\nفطرت حسن کو ہے ایسے ستم کش کی تلاش\nجو وفا پر بھی کرے عذر خطا میرے بعد\n\nزرد کر دے گا اسے میری تباہی کا خیال\nرنگ لایا بھی اگر رنگ حنا میرے بعد\n\nان کا دیوانہ تو کہلانا ہے مشکل باسطؔ\nکوئی دیوانہ اگر بن بھی گیا میرے بعد", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "کوئی منہ چوم لے گا اس نہیں پر", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی منہ چوم لے گا اس نہیں پر\nشکن رہ جائے گی یوں ہی جبیں پر\n\nگری تھی آج تو بجلی ہمیں پر\nیہ کہئے جھک پڑے وہ ہم نشیں پر\n\nلہو بیکس کا مقتل کی زمیں پر\nنہ دامن پر نہ ان کی آستیں پر\n\nبلائیں بن کے وہ آئیں ہمیں پر\nدعائیں جو گئیں عرش بریں پر\n\nیہ قسمت داغ جس میں درد جس میں\nوہ دل ہو لوٹ دست نازنیں پر\n\nرلا کر مجھ کو پونچھے اشک دشمن\nرہا دھبا یہ ان کی آستیں پر\n\nاڑائے پھرتی ہے ان کو جوانی\nقدم پڑتا نہیں ان کا زمیں پر\n\nارے او چرخ دینے کے لئے داغ\nبہت ہیں چاند کے ٹکڑے زمیں پر\n\nنزاکت کوستی ہے مجھ کو کیا کیا\nطبیعت آئی اچھی نازنیں پر\n\nتمنائے اثر او چشم حسرت\nاٹھا رکھ اب نگاہ واپسیں پر\n\nدھری رہ جائے گی یوں ہی شب وصل\nنہیں لب پر شکن ان کی جبیں پر\n\nخدا جانے دکھائے گی یہ کیا رنگ\nدعائیں جمع ہیں عرش بریں پر\n\nنگاہ شوق گرم اتنی کہ بجلی\nنہ آنچ آئے کہیں اس نازنیں پر\n\nمجھے ہے خون کا دعویٰ مجھے ہے\nانہیں پر داور محشر انہیں پر\n\nریاضؔ اچھے مسلماں آپ بھی ہیں\nکہ دل آیا بھی تو کافر حسیں پر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%86%D9%88%D9%85_%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے\nکسو نے دم نہ مارا تیشۂ فولاد کے آگے\n\nگئے دوڑے نہ آخر حضرت یعقوب کنعاں سے\nزمیں ناپے پدر بھی حسن مادر زاد کے آگے\n\nاکیلا کیونکہ لگتا بستیوں میں دل بچارے کا\nنہ ہوتا نقش شیریں کا اگر فرہاد کے آگے\n\nاگر دھڑکا ہو جنت میں تو بد تر ہے جہنم سے\nہمیں گل خار سا لگتا ہے اس صیاد کے آگے\n\nیقیںؔ اس قد کے آگے اس طرح سے سرو رسوا ہے\nدرختان بیابانی ہیں جوں شمشاد کے آگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AC%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D9%81%D8%B1%DB%81%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92"} {"title": "کوئی مے دے یا نہ دے ہم رند بے پروا ہیں آپ", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی مے دے یا نہ دے ہم رند بے پروا ہیں آپ\nساقیا اپنی بغل میں شیشۂ صہبا ہیں آپ\n\nغافل و ہشیار وہ تمثال یک آئینہ ہیں\nورطۂ حیرت میں ناداں آپ ہیں دانا ہیں آپ\n\nکیوں رہے میری دعا منت کش بال ملک\nنالۂ مستانہ میرے آسماں پیما ہیں آپ\n\nہے تعجب خضر کو اور آب حیواں کی طلب\nاور پھر عزلت گزین دامن صحرا ہیں آپ\n\nمنزل طول امل درپیش اور مہلت ہے کم\nراہ کس سے پوچھئے حیرت میں نقش پا ہیں آپ\n\nحق سے طالب دید کے ہوں ہم بصیر ایسے نہیں\nہم کو جو کوتہ نظر سمجھیں وہ نا بینا ہیں آپ\n\nگل ہمہ تن زخم ہیں پھر بھی ہمہ تن گوش ہیں\nبے اثر کچھ نالہ ہائے بلبل شیدا ہیں آپ\n\nحرص سے شکوہ کروں کیا ہاتھ پھیلانے کا میں\nکہتی ہے وہ اپنے ہاتھوں خلق میں رسوا ہیں آپ\n\nہم سے اے اہل تنعم منہ چھپانا چاہئے\nدم بھرا کرتے ہیں ہم اور آئنہ سیما ہیں آپ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%DB%92_%D8%AF%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B1%D9%86%D8%AF_%D8%A8%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "کوئی نادان نہ دانا اچھا", "poet_page": "مصنف:عاشق حسین بزم آفندی", "kind": "poetry", "section": "غزل > ایاغ بزم (1927)", "year": "1927", "text_ur": "کوئی نادان نہ دانا اچھا\nآپ اچھے تو زمانا اچھا\n\nنہ ہوا دل کا لگانا اچھا\nغلطی کی نہیں جانا اچھا\n\nایسے بگڑوں کا بنانا اچھا\nوہ جو روٹھیں تو منانا اچھا\n\nآئے ہیں غیر کو لے کر ہمراہ\nایسے آنے سے نہ آنا اچھا\n\nساتھ ہے زیر زمیں تاروں کے\nیہ ملا اس کو خزانہ اچھا\n\nیہ مقابل ہے وہ سر چڑھتا ہے\nآئنے سے تو ہے شانا اچھا\n\nمجھ سے ملنے میں بہانے نہ کرو\nخون اس سے تو بہانا اچھا\n\nاے حنا جاتے ہیں وہ غیر کے گھر\nرنگ ایسے میں جمانا اچھا\n\nلوٹ ہوں خال رخ یار پہ میں\nہو جو قسمت میں یہ دانا اچھا\n\nبادشہ سے بھی نہیں دبتے تھے\nتھا لڑکپن کا زمانا اچھا\n\nدرد ہو جس میں حکایت ہے وہ خوب\nجو ہو رنگیں وہ فسانا اچھا\n\nطور پر کام تھا کیا جلوے کا\nدل میں آنکھوں میں سمانا اچھا\n\nیہی اے بزمؔ رہے دل میں خیال\nہم برے سب سے زمانا اچھا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D9%86_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کوئی نہ دیکھا کہ واپس آیا خدا کے گھر ایک بار جا کر", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی نہ دیکھا کہ واپس آیا خدا کے گھر ایک بار جا کر\nوہ دیر و کعبہ میں ہے مقید خدا خدا کر خدا خدا کر\n\nسمجھ نہ تو اس کو بے نوائی یہ دو جہاں کی ہے بادشائی\nکہ دولت عشق ہاتھ آئی متاع دنیا و دیں لٹا کر\n\nجہاں کی کائنات کیا ہے امید عقبیٰ میں کیا دھرا ہے\nبری ہیں جو اس سے وہ نہ دیکھیں ادھر ذرا آنکھ بھی اٹھا کر\n\nکرم ترا طمع پر ہے مبنی ہے تیری خیرات اس نفس پر\nکہ سود میں اشرفی ملے گی جو دے گا اک دام ہاتھ اٹھا کر\n\nیہ دل لگی کیا ہے باد و باراں ہنسی ہے یہ یا ستم ظریفی\nگلوں کو مٹی میں کیوں ملایا کھلا کھلا کر ہنسا ہنسا کر\n\nنہ رہ سکے پیش مہر تاباں گل اور شبنم میں ربط رسمی\nمیں کٹ گیا کل جہاں سے کیفیؔ دل ایک دل دار سے لگا کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D9%88%D8%A7%D9%BE%D8%B3_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کوئی نہیں پچھتانے والا", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی نہیں پچھتانے والا\nمر جائے مر جانے والا\n\nمحفل میں آئے گا کیوں کر\nخلوت میں شرمانے والا\n\nمیں روکوں لیکن کیا روکوں\nجائے گا گھر جانے والا\n\nشکر خدا کا ہم کرتے ہیں\nکام آیا کام آنے والا\n\nصبر مرا بے کار نہ جائے\nتڑپے وہ تڑپانے والا\n\nاپنا دل بہلاؤں کس سے\nہے کون آنے جانے والا\n\nوہ نہ ملیں مجھ کو مل جائے\nکوئی جی بہلانے والا\n\nدل وہ شے ہے جس کا شاکی\nکھونے والا پانے والا\n\nلطف و کرم فرماتا جائے\nلطف و کرم فرمانے والا\n\nسب سے مشکل بات یہی ہے\nزندہ ہو مر جانے والا\n\nکیا سمجھے اسرار محبت\nدل دے کر پچھتانے والا\n\nپھولوں کا مرجھانا دیکھے\nکلیوں پر اترانے والا\n\nجان مری ہے جانے والی\nدل ہے ان پر آنے والا\n\nیا میں ہوں یا میرا دل ہے\nروز نیا غم پانے والا\n\nنوحؔ محبت کی دنیا میں\nہے طوفان اٹھانے والا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%86%DA%BE%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "کوئی نہیں کہ یار کی لاوے خبر مجھے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی نہیں کہ یار کی لاوے خبر مجھے\nاے سیل اشک تو ہی بہا دے ادھر مجھے\n\nیا صبح ہو چکے کہیں یا میں ہی مر چکوں\nرو بیٹھوں اس سحر ہی کو میں یا سحر مجھے\n\nنہ دیر ہی کو سمجھوں ہوں نہ کعبہ یہ ترا\nپھرتا ہے اشتیاق لئے گھر بہ گھر مجھے\n\nمنت تو سر پہ تیشہ کی فرہاد تب میں لوں\nجب سر پٹکنے کو نہ ہو دیوار و در مجھے\n\nکیا جاؤں جاؤں کرتا ہے جاناں تو بیٹھ جا\nمیں دیکھوں تجھ کو اور تو دیکھ اک نظر مجھے\n\nپھر کوئی دم میں آہ خدا جانے یہ فلک\nلے جاوے کس طرف کو تجھے اور کدھر مجھے\n\nرونا کبھی جو آنکھوں بھی دیکھا نہ تھا حسنؔ\nسو اب فلک نے دل کا کیا نوحہ گر مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%D8%A7%D9%88%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "کوئی پوچھے نہ ہم سے کیا ہوا دل", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی پوچھے نہ ہم سے کیا ہوا دل\nہوا کیا لٹ گیا دل مٹ گیا دل\n\nیہ کہہ کر دے دیا مجھ کو مرا دل\nہمیں کوسے گا دے گا بد دعا دل\n\nمزا دے جائے گی مجھ کو تری آنکھ\nمزا دے جائے گا تجھ کو مرا دل\n\nچمن میں جو کھلا گل میں یہ سمجھا\nکہ ہے میرا یہ مرجھایا ہوا دل\n\nاٹھے گا لطف صحبت کا ابھی تو\nنئے تم ہو نئے ہم ہیں نیا دل\n\nکسی سے یوں دغا کرتے نہیں ہیں\nارے او بے مروت بے وفا دل\n\nقیامت ہے تمہاری چلبلی شکل\nقیامت ہے ہمارا چلبلا دل\n\nہمارا دل ہمارے کام کا ہے\nکہاں پائیں تمہارے کام کا دل\n\nبہت ہے جم کو اپنے جام پر ناز\nذرا لانا مرا ٹوٹا ہوا دل\n\nکسی کا زور پھر چلتا نہیں ہے\nکسی سے جب کسی کا مل گیا دل\n\nاسے کس منہ سے کہتے ہو برا تم\nتمہیں کس دل سے دیتا ہے دعا دل\n\nگیا وہ داغ لے کر داغ دے کر\nنشانی دے گیا دل لے گیا دل\n\nحسیں اس کو برا سمجھے بچی جاں\nبرا بن کر بہت اچھا رہا دل\n\nکہیں کیا کس نے لوٹا کس کو لوٹا\nلٹے ہم تم لٹا جوبن لٹا دل\n\nوہی اچھا تھا اس چھاتی کی سل سے\nبدل دیتا کسی بت سے خدا دل\n\nتمہاری راہ میں وہ بھی پڑا ہے\nذرا دیکھے ہوئے ٹوٹا ہوا دل\n\nکوئی اب مفت بھی خواہاں نہیں ہے\nریاضؔ ایسا گیا گزرا ہوا دل", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%DB%92_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AF%D9%84"} {"title": "کوئی کر سکتا ہے یارو جیسا میں نے کام کیا", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی کر سکتا ہے یارو جیسا میں نے کام کیا\nیار کے ذمے دی کر نیکی اپنے تئیں بد نام کیا\n\nآنکھوں سے سہلایا کیا میں تلوے اس کے وقت خواب\nاتنی خدمت دیکھ مری گھر غیر کے جا آرام کیا\n\nکون سی شب بے نالہ و زاری میں نے نہیں کی اس بن صبح\nکون سا دن بے رنج و مصیبت میں نہ رو رو شام کیا\n\nکچھ نہ چلا بس اس پہ عزیزو اپنی ہی میں جان پہ کھیلا\nآخر درد ہجر نے اس کے میرا کام تمام کیا\n\nشب کہا میں نے اس سے مرا دل زلف کا تیری بندہ ہے\nکیوں اسے تو نے قیدیٔ دام سنبل مشکیں فام کیا\n\nکافی تھا اس کی بستگی کو تو تار کاکل رشتۂ زلف\nکر کے اسیر حلقۂ گیسو کیوں اسے بے آرام کیا\n\nچیں بہ جبیں ہو بولا دور ہو تجھ کو ہے سودا دیوانے\nچھوٹنے کا کیوں اس کے تو نے دل میں خیال خام کیا\n\nاول مرغ رشتہ بپا سا تھا پابند تار زلف\nحلقۂ گیسو میں لا اس کو آخر صید دام کیا\n\nآرزو یک بوسہ کی رکھتا دل میں جہاں دارؔ اے پیارے\nلعل لب شیریں سے تم نے پر نہ کبھو انعام کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D8%AC%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کوئی کس طرح تم سے سر بر ہو", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی کس طرح تم سے سر بر ہو\nسخت بے رحم ہو ستم گر ہو\n\nاٹھ گیا ہم سے گو مکدر ہو\nخوش رہے وہ جہاں ہو جیدھر ہو\n\nتیوری چڑھ رہی ہے یہ بھوں پر\nکیا ہے کیوں کس لیے مکدر ہو\n\nکیا شتابی ہی ایسے جائے گا\nخشک تو ہو عرق ابھی تر ہو\n\nجان کھائی ہے ناصحو نے مری\nسامنے ان کے تو ٹک آ کر ہو\n\nلیجے حاضر ہے چیز کیا ہے دل\nغصہ اس واسطے جو مجھ پر ہو\n\nیاد میں اس کی گھر سے نکلا ہوں\nسخت بے اختیار و مضطر ہو\n\nاس سے بیدارؔ بات تو معلوم\nدیکھنا بھی کہیں میسر ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D8%A8%D8%B1_%DB%81%D9%88"} {"title": "کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھا", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھا\nسوائے اس کے ان آنکھوں نے کیا نہیں دیکھا\n\nیہ لوگ منع جو کرتے ہیں عشق سے مجھ کو\nانھوں نے یار کو دیکھا ہے یا نہیں دیکھا\n\nبھلائی کیا دل کافر نے بت میں پائی ہے\nجہاں میں کوئی اتنا برا نہیں دیکھا\n\nکچھ اس جہاں میں نہ دیکھیں گے کیونکہ اندھے ہیں\nاسی جہاں میں جنھوں نے خدا نہیں دیکھا\n\nبہ رنگ سایہ و خورشید اے بیاںؔ میں نے\nکبھو رقیب سے اس کو جدا نہیں دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کوئی کمر کو تری کچھ جو ہو کمر تو کہے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی کمر کو تری کچھ جو ہو کمر تو کہے\nکہ آدمی جو کہے بات سوچ کر تو کہے\n\nمری حقیقت پر درد کو کبھی اس سے\nبہ آہ و نالہ نہ کہوے بہ چشم تر تو کہے\n\nیہ آرزو ہے جہنم کو بھی کہ آتش عشق\nمجھے نہ شعلہ گر اپنا کہے شرر تو کہے\n\nبقدر مایہ نہیں گر ہر اک کا رتبہ و نام\nتو ہاں حباب کو دیکھیں کوئی گہر تو کہے\n\nکہے جو کچھ مجھے ناصح نہیں وہ دیوانہ\nکہ جانتا ہے کہے کا ہو کچھ اثر تو کہے\n\nجل اٹھے شمع کے مانند قصہ خواں کی زباں\nہمارا قصۂ پرسوز لحظہ بھر تو کہے\n\nصدا ہے خوں میں بھی منصور کے انا الحق کی\nکہے اگر کوئی توحید اس قدر تو کہے\n\nمجال ہے کہ ترے آگے فتنہ دم مارے\nکہے گا اور تو کیا پہلے الحذر تو کہے\n\nبنے بلا سے مرا مرغ نامہ بر بھنورا\nکہ اس کو دیکھ کے وہ منہ سے خوش خبر تو کہے\n\nہر ایک شعر میں مضمون گریہ ہے میرے\nمری طرح سے کوئی ذوقؔ شعر تر تو کہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D9%85%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%DB%92"} {"title": "کوئی کیسا ہی ثابت ہو طبیعت آ ہی جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی کیسا ہی ثابت ہو طبیعت آ ہی جاتی ہے\nخدا جانے یہ کیا آفت ہے آفت آ ہی جاتی ہے\n\nوہ کیسے ہی چلیں تھم تھم قیامت آ ہی جاتی ہے\nبچے کوئی کسی ڈھب سے پہ شامت آ ہی جاتی ہے\n\nستم کر کے ستم گر کی نظر نیچی ہی رہتی ہے\nبرائی پھر برائی ہے ندامت آ ہی جاتی ہے\n\nزلیخا بے خرد آوارہ لیلیٰ بد مزہ شیریں\nسبھی مجبور ہیں دل سے محبت آ ہی جاتی ہے\n\nچراغ و شمع بزم یار کر کر غیر کو پھونکا\nدل افسردہ میں آخر حرارت آ ہی جاتی ہے\n\nہوا نظروں ہی نظروں میں وہ محشر برق صد خرمن\nمحبت کی نگاہوں سے شرارت آ ہی جاتی ہے\n\nپسینہ آ گیا ان کو کیا وعدہ جو آنے کا\nبری ہے ناز برداری نزاکت آ ہی جاتی ہے\n\nہر اک سے اب وہ کہتے ہیں کہ لو ہم پر یہ مرتے ہیں\nجییں گے اس طرح کب تک کہ غیرت آ ہی جاتی ہے\n\nنہیں کچھ دل کا پھرنا عہد دشمن سے ترا پھرنا\nمگر کچھ سوچ کر آخر مروت آ ہی جاتی ہے\n\nنہ ہوتی گر نوید مرگ کیوں کر ہجر میں جیتے\nمحبت میں بھی آسائش پہ نیت آ ہی جاتی ہے\n\nوصال غیر کے قصے کو سن کر کیا تڑپتا ہوں\nیہ ارماں کوئی جا سکتا ہے حسرت آ ہی جاتی ہے\n\nاگر صد سال کیجے شکر الفت کیجئے لیکن\nیہ وہ شیوہ ہے بد ظن پھر شکایت آ ہی جاتی ہے\n\nقلقؔ خط غیر کا کیوں کر نہ آتا کیوں نہ تم پڑھتے\nقضا لکھی ہوئی حضرت سلامت آ ہی جاتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%AB%D8%A7%D8%A8%D8%AA_%DB%81%D9%88_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D8%A2_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کوئی ہمدرد نہ ہمدم نہ یگانہ اپنا", "poet_page": "مصنف:ممنونؔ نظام الدین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی ہمدرد نہ ہمدم نہ یگانہ اپنا\nروبرو کس کے کہیں ہم یہ فسانا اپنا\n\nنہ کسو جیب کے ہیں پھول نہ دامن کے ہیں خار\nکس لیے تھا چمن دہر میں آنا اپنا\n\nفائدہ کیا جو ہوئے شیخ حرم راہب دیر\nنہ ہوا دل میں کسی کے جو ٹھکانا اپنا\n\nہے ہزاروں دل پر خوں کو یہاں پیچ پہ پیچ\nدیکھیو طرۂ مشکیں نہ ملانا اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%85%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85%D8%AF%D9%85_%D9%86%DB%81_%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "کوئی ہوا نہ روکش ٹک میری چشم تر سے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی ہوا نہ روکش ٹک میری چشم تر سے\nکیا کیا نہ ابر آ کر یاں زور زور برسے\n\nوحشت سے میری یارو خاطر نہ جمع رکھیو\nپھر آوے یا نہ آوے نو پر اٹھا جو گھر سے\n\nاب جوں سرشک ان سے پھرنے کی چشم مت رکھ\nجو خاک میں ملے ہیں گر کر تری نظر سے\n\nدیدار خواہ اس کے کم ہوں تو شور کم ہو\nہر صبح اک قیامت اٹھتی ہے اس کے در سے\n\nداغ ایک ہو جلا بھی خوں ایک ہو بہا بھی\nاب بحث کیا ہے دل سے کیا گفتگو جگر سے\n\nدل کس طرح نہ کھینچیں اشعار ریختے کے\nبہتر کیا ہے میں نے اس عیب کو ہنر سے\n\nانجام کار بلبل دیکھا ہم اپنی آنکھوں\nآوارہ تھے چمن میں دو چار ٹوٹے پر سے\n\nبے طاقتی نے دل کی آخر کو مار رکھا\nآفت ہمارے جی کی آئی ہمارے گھر سے\n\nدل کش یہ منزل آخر دیکھا تو آہ نکلی\nسب یار جا چکے تھے آئے جو ہم سفر سے\n\nآوارہ میرؔ شاید واں خاک ہو گیا ہے\nیک گرد اٹھ چلے ہے گاہ اس کی رہ گزر سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B1%D9%88%DA%A9%D8%B4_%D9%B9%DA%A9_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AA%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کوئی یہ اقبالؔ سے جا کر ذرا پوچھے ضیاؔ", "poet_page": "مصنف:محمد صادق ضیا", "kind": "poetry", "section": "غزل > صبح مشرق (1938)", "year": "1938", "text_ur": "کوئی یہ اقبالؔ سے جا کر ذرا پوچھے ضیاؔ\nمدتوں سے کیوں تری بانگ درا خاموش ہے\n\nایک عرصہ ہو گیا نغمے نہیں فردوس گوش\nتشنۂ ساز لب اقبالؔ ہر اک گوش ہے\n\nبزم ہستی میں وہی اب تک ہے پیدا انتشار\nخود ہی مسلم مضطرب ہے خود مصیبت کوش ہے\n\nاس گلستاں میں مناظر کا وہی ہے رنگ بھی\nدیکھنے والا فریب دید میں مدہوش ہے\n\nخوں شہیدوں کا رواں ہے جنگ کے میدان میں\nاور غازی کی زباں پر نعرۂ پر جوش ہے\n\nکیا قلم جولانیاں اپنی دکھا سکتا نہیں\nوہ قلم جس کی نوا بھی صور کی ہم دوش ہے\n\nکیا ترے جذبات کے شعلے بھڑک سکتے نہیں\nکیا ترا وہ گلخن پر سوز اب گل پوش ہے\n\nکیا ابھی باقی ہے تیری روح میں اگلی تڑپ\nآ میں دیکھوں اب بھی کیا سینے میں تیرے جوش ہے\n\nحشر ہے عالم میں برپا اور تو ہے مطمئن\nشور ہے محفل میں پیدا اور تو خاموش ہے\n\nجاگ اٹھی قوم تیرے نغمۂ بیدار سے\nپہلے وہ بے ہوش تھی اور آج تو بے ہوش ہے\n\nکند تلواریں ہوئیں عہد زرہ پوشی گیا\nجاگ اٹھ غفلت سے وقت خود فراموشی گیا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%94_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%DB%92_%D8%B6%DB%8C%D8%A7%D8%94"} {"title": "کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشن", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشن\nلاکھ بلائیں ایک نشیمن\n\nقاتل رہبر قاتل رہزن\nدل سا دوست نہ دل سا دشمن\n\nپھول کھلے ہیں گلشن گلشن\nلیکن اپنا اپنا دامن\n\nعشق ہے پیارے کھیل نہیں ہے\nعشق ہے کار شیشہ و آہن\n\nخیر مزاج حسن کی یارب\nتیز بہت ہے دل کی دھڑکن\n\nآ کہ نہ جانے تجھ بن کب سے\nروح ہے لاشہ جسم ہے مدفن\n\nآج نہ جانے راز یہ کیا ہے\nہجر کی رات اور اتنی روشن\n\nعمریں بیتیں صدیاں گزریں\nہے وہی اب تک عشق کا بچپن\n\nتجھ سا حسیں اور خون محبت\nوہم ہے شاید سرخی دامن\n\nبرق حوادث اللہ اللہ\nجھوم رہی ہے شاخ نشیمن\n\nتو نے سلجھ کر گیسوئے جاناں\nاور بڑھا دی شوق کی الجھن\n\nرحمت ہوگی طالب عصیاں\nرشک کرے گی پاکئ دامن\n\nدل کہ مجسم آئینہ ساماں\nاور وہ ظالم آئینہ دشمن\n\nبیٹھے ہم ہر بزم میں لیکن\nجھاڑ کے اٹھے اپنا دامن\n\nہستئ شاعر اللہ اللہ\nحسن کی منزل عشق کا مسکن\n\nرنگیں فطرت سادہ طبیعت\nفرش نشیں اور عرش نشیمن\n\nکام ادھورا اور آزادی\nنام بڑے اور تھوڑے درشن\n\nشمع ہے لیکن دھندھلی دھندھلی\nسایا ہے لیکن روشن روشن\n\nکانٹوں کا بھی حق ہے کچھ آخر\nکون چھڑائے اپنا دامن\n\nچلتی پھرتی چھاؤں ہے پیارے\nکس کا صحرا کیسا گلشن", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AF%DB%92_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86"} {"title": "کوئے دشمن سے اسے چھپ کے نکلتے دیکھا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوئے دشمن سے اسے چھپ کے نکلتے دیکھا\nہم نے نقش قدم یار کو چلتے دیکھا\n\nہائے کیا حال دم وصل ہمارا ہوگا\nبوسہ لینے میں تمہیں رنگ بدلتے دیکھا\n\nابر بن کر جو برس پڑنے کو آیا واعظ\nبے طرح ہم نے خم مے کو ابلتے دیکھا\n\nیہ بھی پینا ہے کوئی چال ہے یہ بھی کوئی\nہر قدم پر انہیں سو بار سنبھلتے دیکھا\n\nیہی آنکھیں ہیں کہ جن میں نہیں اب نام کو اشک\nانہیں آنکھوں سے کبھی خون ابلتے دیکھا\n\nحشر کے روز نہ تاب ابر کرم کو آئی\nمجھ گنہ گار کو جب دھوپ میں جلتے دیکھا\n\nگیسوئے حور کہو سبزۂ تربت کیسا\nقبر دشمن سے دھواں ہم نے نکلتے دیکھا\n\nکوچۂ عشق میں اللہ رے پا مردیٔ دل\nٹھوکریں کھا کے اسے ہم نے سنبھلتے دیکھا\n\nغیر کے گھر سے جھجکتے ہوئے تم نکلے تھے\nرکتے دیکھا تمہیں پھر چھپ کے نکلتے دیکھا\n\nدل میں کیا جان تھی کیا قطرۂ خوں کی تھی بساط\nملتے دیکھا اسے ہاتھوں سے مسلتے دیکھا\n\nپھول لالے کا کھلا تھا کہ شفق شام کی تھی\nوصل کی رات کو بھی رنگ بدلتے دیکھا\n\nکبھی کچھ رات گئے یا کبھی کچھ رات رہے\nہم نے ان پردہ نشینوں کو نکلتے دیکھا\n\nخون دل پر ہے عبث رشک تری مہندی کو\nاپنی ہی آگ میں ہم نے اسے جلتے دیکھا\n\nدل بیتاب تھا یا آگ کی چنگاری تھی\nکس قدر جلد انہیں پاپوش سے ملتے دیکھا\n\nواہ کیا رنگ ہے کیا خوب طبیعت ہے ریاضؔ\nہو زمیں کوئی تمہیں پھولتے پھلتے دیکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%BE_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کوتاہ نہ عمر مے پرستی کیجے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کوتاہ نہ عمر مے پرستی کیجے\nزلفوں سے تری دراز دستی کیجے\nساقی نہ ہو جو شراب ہے آج وہ ابر\nپانی پی پی کے فاقہ مستی کیجے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%AA%D8%A7%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D9%85%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92"} {"title": "کورانہ انگریز پرستی", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "رہا وہ جرگہ جسے چر گئی ہے انگریزی\nسو واں خدا کی ضرورت نہ انبیا درکار\nوہ آنکھ میچ کے بر خود غلط بنے ایسے\nکہ ایشیا کی ہر اک چیز پر پڑی دھتکار\nجو پوششوں میں ہے پوشش تو پس دریدہ کوٹ\nسواریوں میں سواری تو دم کٹا رہوار\nجو اردلی میں ہے کتا تو ہاتھ میں اک بید\nبجاتے جاتے ہیں سیٹی سلگ رہا ہے سگار\nوہ اپنے آپ کو سمجھے ہوئے ہیں جنٹلمین\nاور اپنی قوم کے لوگوں کو جانتے ہیں گنوار\nنہ کچھ ادب ہے نہ اخلاق نے خدا ترسی\nگئے ہیں ان کے خیالات سب سمندر پار\nوہ اپنے زعم میں لبرل ہیں یا ریڈیکل ہیں\nمگر ہیں قوم کے حق میں بصورت اغیار\nنہ انڈیا میں رہے وہ نہ وہ بنے انگلش\nنہ ان کو چرچ میں آنر نہ مسجدوں میں بار\nنہ کوئی علم نہ صنعت نہ کچھ ہنر نہ کمال\nتمام قوم کے سر پر سوار ہے ادبار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%8C"} {"title": "کوشش پیہم کو سعیٔ رائیگاں کہتے رہو", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوشش پیہم کو سعیٔ رائیگاں کہتے رہو\nہم چلے اب تم ہماری داستاں کہتے رہو\n\nگفتنی باتیں سہی نا گفتنی باتیں سہی\nچپ نہ بیٹھو کوئی افسانہ یہاں کہتے رہو\n\nمصلحت کیا بات جو حق ہی وہ کہہ دو برملا\nلاکھ ہوں احباب تم سے بد گماں کہتے رہو\n\nہم کہ تھے آزاد آزادی کی خاطر مر گئے\nجینے والو تم قفس کو آشیاں کہتے رہو\n\nصرف کہنے سے زمیں کیا آسماں ہو جائے گی\nکچھ نہیں ہوگا زمیں کو آسماں کہتے رہو\n\nراہ کیا منزل ہے کیسی ہر حقیقت ہے فریب\nکارواں کو بھی غبار کارواں کہتے رہو\n\nکیوں کرو اخترؔ کی باتیں وہ تو اک دیوانہ ہے\nتم تو یارو اپنی اپنی داستاں کہتے رہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%B4%D8%B4_%D9%BE%DB%8C%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%B9%DB%8C%D9%94_%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%B1%DB%81%D9%88"} {"title": "کوششِ نا تمام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "فُرقتِ آفتاب میں کھاتی ہے پیچ و تاب صُبح\nچشمِ شفَق ہے خوں فشاں اخترِ شام کے لیے\n\nرہتی ہے قیسِ روز کو لیلیِ شام کی ہوس\nاخترِ صبح مضطرب تابِ دوام کے لیے\n\nکہتا تھا قطبِ آسماں قافلۂ نجوم سے\nہمرہو، میں ترس گیا لُطفِ خرام کے لیے\n\nسوتوں کو ندّیوں کا شوق، بحر کا ندّیوں کو عشق\nموجۂ بحر کو تپش ماہِ تمام کے لیے\n\nحُسنِ ازل کہ پردۂ لالہ و گُل میں ہے نہاں\nکہتے ہیں بے قرار ہے جلوۂ عام کے لیے\n\nرازِ حیات پُوچھ لے خِضرِ خجستہ گام سے\nزندہ ہر ایک چیز ہے کوششِ نا تمام سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D8%B4%D8%B4%D9%90_%D9%86%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85"} {"title": "کوفت سے جان لب پہ آئی ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوفت سے جان لب پہ آئی ہے\nہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے\n\nلکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر\nشوق نے بات کیا بڑھائی ہے\n\nآرزو اس بلند و بالا کی\nکیا بلا میرے سر پہ لائی ہے\n\nدیدنی ہے شکستگی دل کی\nکیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے\n\nہے تصنع کہ لعل ہیں وے لب\nیعنی اک بات سی بنائی ہے\n\nدل سے نزدیک اور اتنا دور\nکس سے اس کو کچھ آشنائی ہے\n\nبے ستوں کیا ہے کوہ کن کیسا\nعشق کی زور آزمائی ہے\n\nجس مرض میں کہ جان جاتی ہے\nدلبروں ہی کی وہ جدائی ہے\n\nیاں ہوئے خاک سے برابر ہم\nواں وہی ناز و خود نمائی ہے\n\nایسا موتیٰ ہے زندۂ جاوید\nرفتۂ یار تھا جب آئی ہے\n\nمرگ مجنوں سے عقل گم ہے میرؔ\nکیا دوانے نے موت پائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%81%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کون آئے گا جو تو بے سر و ساماں ہوگا", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون آئے گا جو تو بے سر و ساماں ہوگا\nورنہ ہوگا تو نہ اندیشۂ درباں ہوگا\n\nقتل کے بعد بھی اک عیش کا ساماں ہوگا\nمئے گل رنگ لہو زخم نمکداں ہوگا\n\nبانکپن بس کہ ہے منظور مرے قاتل کو\nگل دستار بھی اب غنچۂ پیکاں ہوگا\n\nاک نظر دیکھ سکے گا نہ تری چشم سیاہ\nسبزۂ خط بھی چراگاہ غزالاں ہوگا\n\nتو وہاں بھی جو نہ ہو یار تو پھر ہے اندھیر\nروز محشر پہ گمان شب ہجراں ہوگا\n\nدلبرو دل کے نہ لے جانے میں اصرار کرو\nتم کو کیا فائدہ ہوگا مرا نقصاں ہوگا\n\nجاتے ہیں صبر و قرار و خرد و ہوش و حواس\nجرس قافلہ اپنا دل نالاں ہوگا\n\nمیرے عیسیٰ سے مرے درد کا درماں ہوگا\nشربت وصل علاج تپ ہجراں ہوگا\n\nواعظ ہم کو تو نہ ہنگامۂ محشر سے ڈرا\nاپنے نزدیک وہ اک مجمع یاراں ہوگا\n\nآئنہ دیدۂ حیراں تجھے دکھلائے گا\nشانۂ زلف مرا حال پریشاں ہوگا\n\nدل بے عشق سے کونین میں تو ہوگا خراب\nبرہمن دیر میں کعبہ میں مسلماں ہوگا\n\nگر یہ ہیں دست جنوں اور وہ ہیں خار جنوں\nنہ تو دامن ہی رہے گا نہ گریباں ہوگا\n\nشاخ گل ہے قلم فکر تو اشعار ہیں گل\nعرشؔ دیوان مرا رشک گلستاں ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کون اس باغ سے اے باد صبا جاتا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون اس باغ سے اے باد صبا جاتا ہے\nرنگ رخسار سے پھولوں کے اڑا جاتا ہے\n\nشعلہ شمع میں گرمی یہ کہاں سے آئی\nاس کی گرمی سے تو فانوس جلا جاتا ہے\n\nدل کے دھڑکوں کا یہ عالم ہے کہ بے منت دست\nپرزے ہو ہو کے گریبان اڑا جاتا ہے\n\nربط پہلے جو ترے یاد کبھی کرتا ہوں\nبیٹھے بیٹھے مجھے افسوس سا آ جاتا ہے\n\nپوچھتا کوئی نہیں کب سے ترے کوچے میں\nدل کسی کا ہے کہ پامال ہوا جاتا ہے\n\nگئے وے دن کہ تمنا ہمیں اک اشک کی تھی\nاب تو ان آنکھوں سے دریا سا بہا جاتا ہے\n\nشام کے وقت تو کوٹھے پہ جو آتا ہے کبھی\nدیکھ کر تجھ کو یہ خورشید چھپا جاتا ہے\n\nبے ادب کے تئیں مطلق نہیں صحبت کا شعور\nشانہ کتنا تری زلفوں سے لگا جاتا ہے\n\nیوں قدم رکھ نہ زمیں پر تری رفتار سے آہ\nدل کسی کا ہے کہ ماٹی میں ملا جاتا ہے\n\nمصحفیؔ عشق کی وادی میں گزر ہے کس کا\nبھولا بھٹکا کوئی ایدھر کو بھی آ جاتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کون ان لاکھوں اداؤں میں مجھے پیاری نہیں", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون ان لاکھوں اداؤں میں مجھے پیاری نہیں\nنام لوں کس کس کا مجھ کو ایک بیماری نہیں\n\nآگ کتنی لے کے نکلا تھا مرا دود جگر\nوہ فضا ہے کون جس میں کوئی چنگاری نہیں\n\nیاس سے کیوں دیکھتے ہیں دوست اے آزار دل\nپوچھتے ہیں کیا مجھے تو کوئی بیماری نہیں\n\nہاتھ رکھ کر اک ذرا دیکھو تپ غم کا اثر\nیہ تمہارا ہی جلایا دل ہے چنگاری نہیں\n\nدل نے رگ رگ سے چھپا رکھا ہے تیرا راز عشق\nجس کو کہہ دے نبض ایسی میری بیماری نہیں\n\nقید ہو کر میں نے کھولی ہم صفیروں کی زباں\nکس گلستاں میں مرا ذکر گرفتاری نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%A7%D9%86_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کون برہم ہے زلف جاناں سے", "poet_page": "مصنف:شیخ علی بخش بیمار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون برہم ہے زلف جاناں سے\nتنگ ہوں خاطر پریشاں سے\n\nمژدہ اے خار دشت دست جنوں\nگزرے ہم دامن و گریباں سے\n\nدانت کس کا ہے جام پر ساقی\nمے ٹپکتی ہے ابر نیساں سے\n\nگر یہی رنگ ہے زمانے کا\nباز آیا میں کفر و ایماں سے\n\nبیٹھ جاتا ہے آ کے میرے پاس\nجو نکلتا ہے بزم جاناں سے\n\nحور عاشق نواز ہے کوئی\nپہلے پوچھیں گے ہم یہ رضواں سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کون تھا اس کے ہوا خواہوں میں جو شامل نہ تھا", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون تھا اس کے ہوا خواہوں میں جو شامل نہ تھا\nاب ہوا معلوم مجھ کو دل بھی میرا دل نہ تھا\n\nعشق کی بیتابیوں پر حسن کو رحم آ گیا\nجب نگاہ شوق تڑپی پردۂ محمل نہ تھا\n\nتھیں نگاہ شوق کی رنگینیاں چھائی ہوئی\nپردۂ محمل اٹھا تو صاحب محمل نہ تھا\n\nقہر ہے تھوڑی سی بھی غفلت طریق عشق میں\nآنکھ جھپکی قیس کی اور سامنے محمل نہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D9%85%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کون دل ہے مرے اللہ جو ناشاد نہیں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون دل ہے مرے اللہ جو ناشاد نہیں\nکون گھر ہے مرے اللہ جو برباد نہیں\n\nنازنیں جان بھی لیں تو کوئی بیداد نہیں\nچوڑیاں ہاتھ میں ہیں خنجر فولاد نہیں\n\nاے نسیم سحری ساتھ لیے جا سوئے بام\nنفس رد ہے نالہ نہیں فریاد نہیں\n\nسبز باغ آپ دکھائیں نہ اب آزادی کے\nآپ کے باغ میں تو سرو بھی آزاد نہیں\n\nچپ سے ہیں کچھ مرے آغوش میں وہ حشر کے دن\nیہ وہی ہیں جنہیں پیمان وفا یاد نہیں\n\nدیکھتے رنگ حنا جاتے ہیں مقتل کی طرف\nہاتھ میں تیغ نہیں خنجر فولاد نہیں\n\nہے تری جیب پر آج آنکھ نشیمن کے عوض\nباغباں یہ تو کوئی چور ہے صیاد نہیں\n\nشور قلقل میں گم آواز اذاں ہے اے شیخ\nیہ بہت خوب کہی مے کدہ آباد نہیں\n\nایک اک پھول کو ایک ایک کلی کو دیکھا\nہار میں ان کے ہمارا دل ناشاد نہیں\n\nنکلی ہیں حشر میں دنیا کی پرانی باتیں\nمیں تو کیا میرے فرشتوں کو بھی اب یاد نہیں\n\nنہ گری برق مگر آپ گرے غش کھا کر\nیہ تو اے حضرت موسیٰ کوئی افتاد نہیں\n\nجس سے آتا تھا نشیمن کا قفس میں کچھ لطف\nتیرے قربان تری آنکھ وہ صیاد نہیں\n\nدل سے نکلی ہے یہ دل ہی میں رہے گی ظالم\nجا کے دیوار سے ٹکرائے وہ فریاد نہیں\n\nکام کرتا تھا جو اے چرخ ترے پردے میں\nوہ نہیں کام میں تو لذت بیداد نہیں\n\nیہ بہت ہے رہے دل پر جو حکومت قائم\nآج قبضے میں اگر بصرہ و بغداد نہیں\n\nبوئے خوں دیتے ہیں شیریں ترے مہندی لگے ہاتھ\nہاتھ میں لالے کے خون سر فرہاد نہیں\n\nحد سے آگے نہ بڑھے دیکھیے مژگان دراز\nچھیڑنے کے لئے کم نشتر فصاد نہیں\n\nشعرا آپ کو بھی خوب بناتے ہیں ریاضؔ\nسب یہ کہتے ہیں کوئی آپ سا استاد نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کون دل ہے کہ ترے درد میں بیمار نہیں", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون دل ہے کہ ترے درد میں بیمار نہیں\nکون جی ہے کہ ترے غم میں گرفتار نہیں\n\nکون دہرا ہے کہ تجھ بت کی نہیں ہے پوجا\nکون مسجد ہے کہ تجھ درس کی تکرار نہیں\n\nکون خوش رو ہے کہ تجھ رو کا نہیں ہے طالب\nکون طالب ہے کہ تجھ شے کا طلب گار نہیں\n\nکون صوفی ہے کہ تجھ مے سے نہیں ہے مدہوش\nکون کیفی ہے کہ تجھ کیف سے ہشیار نہیں\n\nکون کہتا ہے کہ حاتمؔ کو نہیں تجھ سے پیار\nکون کہتا ہے کہ حاتمؔ سے تجھے پیار نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کون دنیا سے بادہ خوار اٹھا", "poet_page": "مصنف:شیخ علی بخش بیمار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون دنیا سے بادہ خوار اٹھا\nچشم تر ابر نو بہار اٹھا\n\nکھا کے غش گر پڑے کھڑے بیٹھے\nبیٹھ کر اس ادا سے یار اٹھا\n\nآتش عشق دیکھ کر مالک\nالاماں الاماں پکار اٹھا\n\nدرد تعظیم مرگ کو دل میں\nشب فرقت ہزار بار اٹھا\n\nجیتے جی دور آسمانی میں\nنہ زمیں سے یہ خاکسار اٹھا\n\nابر رحمت نے دے دیا چھینٹا\nبعد مرنے کے جب غبار اٹھا\n\nوحشت دل نے پھر نکالے پاؤں\nپھر تحمل کا اختیار اٹھا\n\nپھر جنوں فصل گل میں لایا رنگ\nپھر میں ہونے کو شرمسار اٹھا\n\nحال بیمارؔ جائے رقت ہے\nمرہم دل کا اعتبار اٹھا\n\nچور زخم جگر میں بیٹھ گیا\nچارہ گر ہو کے شرمسار اٹھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیا\nخواب میں آنے کی بھی تم نے قسم کھائی کیا\n\nاس کا گھر چھوڑ کے ہم تو نہ کسی در پہ گئے\nپر سمجھتا ہے اسے وہ بت ہرجائی کیا\n\nسنتے ہی جس کے ہوئی جان ہوا تن سے مرے\nاس گلی سے یہ خبر باد صبا لائی کیا\n\nواہ میں اور نہ آنے کو کہوں گا توبہ\nمیں تو حیراں ہوں یہ بات آپ نے فرمائی کیا\n\nبہہ چلا چشم سے یکبار جو اک دریا سا\nبیٹھے بیٹھے مجھے کیا جانے یہ لہر آئی کیا\n\nحرف مطلب کو مرے سن کے بصد ناز کہا\nہم سمجھتے نہیں بکتا ہے تو سودائی کیا\n\nشیخ جی ہم تو ہیں ناداں پر اسے آنے دو\nہم بھی پوچھیں گے ہوئی آپ کی دانائی کیا\n\nکیفیت محفل خوباں کی نہ اس بن پوچھو\nاس کو دیکھوں نہ تو پھر دے مجھے دکھلائی کیا\n\nآج دم اپنا ٹھہرتا نہیں کیا جانیے آہ\nمصلحت لوگوں نے واں بیٹھ کے ٹھہرائی کیا\n\nبر میں وہ شوخ تھا اور سیر شب ماہ تھی رات\nاپنے گھر کیا کہیں تھی انجمن آرائی کیا\n\nپر گیا صبح سے وہ گھر تو یہی دھڑکا ہے\nدیکھیں آج اس کا عوض لے شب تنہائی کیا\n\nدیکھنے کا جو کروں اس کے میں دعویٰ جرأتؔ\nمجھ میں جرأت یہ کہاں اور مری بینائی کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کون سا تن ہے کہ مثل روح اس میں تو نہیں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون سا تن ہے کہ مثل روح اس میں تو نہیں\nکون گل ہے جو ترا مسکن برنگ بو نہیں\n\nجام نرگس میں کہاں شبنم جو نکلے آفتاب\nیار کے آگے مری آنکھوں میں اک آنسو نہیں\n\nیاد گیسو میں ہوا میرا یہ دھجی سا بدن\nمجھ پہ پھبتی کہتے ہیں موباف ہے گیسو نہیں\n\nجسم ایسا گھل گیا ہے مجھ مریض عشق کا\nدیکھ کر کہتے ہیں سب تعویذ ہے بازو نہیں\n\nدیکھے ہیں ہنسنے میں جس دن سے در دندان یار\nچین مثل گوہر غلطاں کسی پہلو نہیں\n\nعشق میں بدمست ہوں میں پر کوئی واقف نہیں\nنشہ ہے جام مئے الفت میں لیکن بو نہیں\n\nزلف جاناں میں نہیں کوئی دل وحشی اسیر\nیہ عجب تاتار ہے جو ایک بھی آہو نہیں\n\nہو گیا ہے یہ قران آفتاب و ماہ نو\nیار کے رخسار آتش رنگ پر ابرو نہیں\n\nہو گیا ہے مثل مو تار نگہ اپنا سیاہ\nآگے آنکھوں کے صنم جب سے ترے گیسو نہیں\n\nرات دن ناقوس کہتے ہیں بآواز بلند\nدیر سے بہتر ہے کعبہ گر بتوں میں تو نہیں\n\nقمریاں دیوانی ہیں کیونکر گلے میں ہو نہ طوق\nباغ میں اک سرو مثل قامت دل جو نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%D8%A7_%D8%AA%D9%86_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%AB%D9%84_%D8%B1%D9%88%D8%AD_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کون سا دن کہ مجھے اس سے ملاقات نہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون سا دن کہ مجھے اس سے ملاقات نہیں\nلیک جی چاہے ہے جوں ملنے کو وہ بات نہیں\n\nآنکھ لڑ جائے ہے یوں اب بھی تو اس کی محرم\nلیک نظروں میں وہ آگے کی سی سمکھات نہیں\n\nجس جھمکڑے سے کہ نت چشم مری ٹپکے ہے\nایسی جھڑیوں سے تو برسی کبھی برسات نہیں\n\nرونق بادہ پرستی تھی ہمیں تک جب سے\nہم نے کی توبہ کہیں نام خرابات نہیں\n\nشیخ کی داڑھی کی جو کہئے بڑائی سچ ہے\nاس سوا اور پر اک پشم کرامات نہیں\n\nآ جو ملتا ہے تو مل لے تو کہ فرصت ہے مفت\nایک چشمک میں مری جان یہ پھر رات نہیں\n\nرکھ تو سرگوشی کے حیلے کو تو منہ پر قائمؔ\nبوسہ لینے کی اس انبوہ میں گو گھات نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%D8%A7_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا\nدیکھتا بھالتا ہر شاخ کو صیاد آیا\n\nمیرے قابو میں نہ پہروں دل ناشاد آیا\nوہ مرا بھولنے والا جو مجھے یاد آیا\n\nکوئی بھولا ہوا انداز ستم یاد آیا\nکہ تبسم تجھے ظالم دم بیداد آیا\n\nلائے ہیں لوگ جنازے کی طرح محشر میں\nکس مصیبت سے ترا کشتۂ بیداد آیا\n\nجذب وحشت ترے قربان ترا کیا کہنا\nکھنچ کے رگ رگ میں مرے نشتر فصاد آیا\n\nاس کے جلوے کو غرض کون و مکاں سے کیا تھا\nداد لینے کے لیے حسن خداداد آیا\n\nبستیوں سے یہی آواز چلی آتی ہے\nجو کیا تو نے وہ آگے ترے فرہاد آیا\n\nدل ویراں سے رقیبوں نے مرادیں پائیں\nکام کس کس کے مرا خرمن برباد آیا\n\nعشق کے آتے ہی منہ پر مرے پھولی ہے بسنت\nہو گیا زرد یہ شاگرد جب استاد آیا\n\nہو گیا فرض مجھے شوق کا دفتر لکھنا\nجب مرے ہاتھ کوئی خامۂ فولاد آیا\n\nعید ہے قتل مرا اہل تماشا کے لیے\nسب گلے ملنے لگے جب کہ وہ جلاد آیا\n\nچین کرتے ہیں وہاں رنج اٹھانے والے\nکام عقبیٰ میں ہمارا دل ناشاد آیا\n\nدی شب وصل موذن نے اذاں پچھلی رات\nہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا\n\nمیرے نالے نے سنائی ہے کھری کس کس کو\nمنہ فرشتوں پہ یہ گستاخ یہ آزاد آیا\n\nغم جاوید نے دی مجھ کو مبارک بادی\nجب سنا یہ کہ انہیں شیوۂ بیداد آیا\n\nمیں تمنائے شہادت کا مزا بھول گیا\nآج اس شوق سے ارمان سے جلاد آیا\n\nشادیانہ جو دیا نالہ و شیون نے دیا\nجب ملاقات کو ناشاد کی ناشاد آیا\n\nلیجئے سنئے اب افسانۂ فرقت مجھ سے\nآپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا\n\nآپ کی بزم میں سب کچھ ہے مگر داغؔ نہیں\nہم کو وہ خانہ خراب آج بہت یاد آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%D8%A7_%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D8%B1_%DA%AF%D9%85_%DA%AF%D8%B4%D8%AA%DB%81_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کون سا عشق بتاں میں ہمیں صدمہ نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:رسا رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون سا عشق بتاں میں ہمیں صدمہ نہ ہوا\nدرد فرقت نہ ہوا غم نہ ہوا کیا نہ ہوا\n\nغیر نے بات تو کی بات تو پوچھی میری\nخیر سے تم کو تو اتنا بھی سلیقہ نہ ہوا\n\nمحو حیرت ہیں تو دونوں ہیں تری محفل میں\nہم سے پردا ہوا آئینے سے پردا نہ ہوا\n\nان کی یہ خوبیٔ اخلاق کہ وعدہ تو کیا\nمیری یہ شومیٔ تقدیر کہ ایفا نہ ہوا\n\nجذبۂ عشق سے ہم ان کو بلا لیتے رساؔ\nیہ بھی کمبخت طبیعت کو گوارا نہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%AF%D9%85%DB%81_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "کون سا گھر ہے کہ اے جاں نہیں کاشانہ ترا اور جلوہ خانہ ترا", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون سا گھر ہے کہ اے جاں نہیں کاشانہ ترا اور جلوہ خانہ ترا\nمیکدہ تیرا ہے کعبہ ترا بت خانہ ترا سب ہے جانانہ ترا\n\nتو کسی شکل میں ہو میں ترا شیدائی ہوں تیرا سودائی ہوں\nتو اگر شمع ہے اے دوست میں پروانہ ترا یعنی دیوانہ ترا\n\nمجھ کو بھی جام کوئی پیر خرابات ملے تیری خیرات ملے\nتا قیامت یوں ہی جاری رہے پیمانہ ترا رہے مے خانہ ترا\n\nتیرے دروازے پہ حاضر ہے ترے در کا فقیر اے امیروں کے امیر\nمجھ پہ بھی ہو کبھی الطاف کریمانہ ترا لطف شاہانہ ترا\n\nصدقہ مے خانہ کا ساقی مجھے بے ہوشی دے خود فراموشی دے\nیوں تو سب کہتے ہیں بیدمؔ ترا مستانہ ترا اب ہوں دیوانہ ترا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کون سنتا ہے صرف ذات کی بات", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون سنتا ہے صرف ذات کی بات\nلب پہ ہے میرے کائنات کی بات\n\nکیوں شکن پڑ گئی ہے ابرو پر\nمیں تو کہتا ہوں ایک بات کی بات\n\nشمع روتی ہے تارے ڈوبتے ہیں\nاب فسانہ بنے گی رات کی بات\n\nصبح نو مسکرانے والی ہے\nکیا کہیں شب کے حادثات کی بات\n\nمضطرب ہو رہے ہیں دیوانے\nہے تمہاری نوازشات کی بات\n\nبزم اخترؔ میں کیوں خموش ہو تم\nہے یہ بے جا تکلفات کی بات", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%D9%86%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%B0%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "کون سی بات تری ہم سے اٹھائی نہ گئی", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون سی بات تری ہم سے اٹھائی نہ گئی\nپر جفا جو تری یہ نت کی لڑائی نہ گئی\n\nنہ کہا تھا کہ تو قاتل ہو مرا میں مقتول\nسر نوشت اپنی کسی ہی سے مٹائی نہ گئی\n\nقصد ہر چند کیا سیکھنے کا بلبل نے\nوضع نالے کی مری اس سے اڑائی نہ گئی\n\nدل سوزاں کی جہاں دارؔ ترے تا بہ فلک\nکون سی آہ تھی جو مثل ہوائی نہ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کون سی شے میں ترا نور نہیں", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون سی شے میں ترا نور نہیں\nکس جگہ پر ترا ظہور نہیں\n\nدل سے آتی ہے یہ صدا پیہم\nپاس تیرے ہوں تجھ سے دور نہیں\n\nدل وحشی نے تھے قدم چومے\nاس میں کوئی مرا قصور نہیں\n\nخاک ہو کر غبار راہ بنو\nنخوت و کبر کچھ ضرور نہیں\n\nجلوہ دکھلا دے شاہ دیں مجھ کو\nتیرے لطف و کرم سے دور نہیں\n\nجلوۂ نور سے جلا تھا کوہ\nدل مکان خدا ہے طور نہیں\n\nاے جمیلہؔ گنہ کا کیا دھڑکا\nنام اس کا مگر غفور نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%DB%8C_%D8%B4%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کون سی وہ شمع تھی جس کا میں پروانہ ہوا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون سی وہ شمع تھی جس کا میں پروانہ ہوا\nاور پھر لو بھی لگی ایسی کہ دیوانہ ہوا\n\nساقیٔ سر مست سے جب تک کہ لینے کو بڑھوں\nہاتھ سے گرتے ہی چکنا چور پیمانہ ہوا\n\nدل حریم ناز سے لے کر تو ہم نکلے مگر\nہو گیا عالم کچھ ایسا سب سے بیگانہ ہوا\n\nخیر تھی الفت میں دل نے رنگ کچھ بدلا نہ تھا\nاب تماشہ دیکھئے گا وہ بھی دیوانہ ہوا\n\nہم نے جانے کیا کہا لوگوں نے کیا سمجھا اسے\nسرگزشت درد دل تھی جس کا افسانہ ہوا\n\nفیض ساقی نے بدل دی صورت دل اور ہی\nپہلے پیمانہ تھا پیمانہ سے مے خانہ ہوا\n\nمیرے لب تک آتے آتے کیوں چھلک جاتا ہے شوقؔ\nجام رنگیں ساغر مل یا کہ پیمانہ ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "کون سے دل میں محبت نہیں جانی تیری", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون سے دل میں محبت نہیں جانی تیری\nجس کو سنتا ہوں وہ کہتا ہے کہانی تیری\n\nکچھ دہن ہی نہیں وہم شعرا کے نزدیک\nمو سے باریک کمر بھی ہے گمانی تیری\n\nجس کے آگے سے گزرتا ہے وہ کہتا ہے یہی\nدیکھی اے روح رواں ہم نے روانی تیری\n\nشیشۂ مے سے کوئی میری زبانی کہہ دے\nخوش نہیں آتی ہے یہ پنبہ دہانی تیری\n\nکیا تری شان ہے قربان ہوں اے عفو کریم\nآس رکھتا ہے ہر اک فاسق و زانی تیری\n\nاس خرابی میں ترے واسطے پھرتے ہیں خراب\nجستجو ہم کو ہے اے کنج نہانی تیری\n\nعین احساں ہے مرے صفحۂ دل پر مجھ کو\nایک تصویر اگر کھینچ دے مانیؔ تیری\n\nصبح تک شام سے کرتی ہے زباں ذکر جمال\nنیند آتی ہے کسے سن کے کہانی تیری\n\nمثل گل ہنس کے کسی روز تو دل کو خوش کر\nخوں رلاتی ہے ہمیں غنچہ دہانی تیری\n\nناز و انداز و ادا میں ہے ترقی دہ چند\nفتنہ طفلی تھی قیامت ہے جوانی تیری\n\nکون سے غلہ کا دانہ تو اے دانۂ خال\nہم نے ارزانی میں بھی پائی گرانی تیری\n\nگرم جوشی سے جلایا کرے کشف و خرمن\nبرق ہو سکتی نہیں شوخی میں ثانی تیری\n\nجان کی طرح سے رکھتا ہے عزیز اے گل رو\nداغ دل لالہ نے سمجھا ہے نشانی تیری\n\nمصرع تیغ ہے ہر مصرع موزوں آتشؔ\nدیکھ لی یار مری سیف زبانی تیری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "کون سے دن تری یاد اے بت سفاک نہیں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون سے دن تری یاد اے بت سفاک نہیں\nکون سی شب ہے کہ خنجر سے جگر چاک نہیں\n\nلطف قاتل میں تامل نہیں پر کیا کیجے\nسر شوریدہ مرا قابل فتراک نہیں\n\nتجھ پر اے دلبر عالم جو ہر اک مرتا ہے\nاس لیے مرنے سے میرے کوئی غم ناک نہیں\n\nدل ہوا پاک تو پھر کون نظر کرتا ہے\nاور دل پاک نہیں ہے تو نظر پاک نہیں\n\nعلم اور جہل میں کچھ فرق نہ ہو کیا معنی\nہم بھی بیباک ہیں پر غیر سے بیباک نہیں\n\nقیس کو فضل تقدم ہے وگرنہ یاں کیا\nسر شوریدہ نہیں یا جگر چاک نہیں\n\nماسوا اللہ نہ رہے شیفتہؔ ہرگز دل میں\nخسروی کاخ سزائے خس و خاشاک نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%86_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%D8%B3%D9%81%D8%A7%DA%A9_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کون صیاد ادھر بہر شکار آتا ہے", "poet_page": "مصنف:میاں داد خاں سیاح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون صیاد ادھر بہر شکار آتا ہے\nطائر دل قفس تن میں جو گھبراتا ہے\n\nزلف مشکیں کا جو اس شوخ کے دھیان آتا ہے\nزخم سے سینۂ مجروح کا چر جاتا ہے\n\nہجر میں موت بھی آئی نہ مجھے سچ ہے مثل\nوقت پر کون کسی کے کوئی کام آتا ہے\n\nاب تو اللہ ہے یاران وطن کا حافظ\nدشت میں جوش جنوں ہم کو لیے جاتا ہے\n\nڈوب کر چاہ ذقن سینہ مرا دل نکلا\nقد آدم سے سوا آب نظر آتا ہے\n\nمژدہ اے دل کہ مسیحا نے دیا صاف جواب\nاب کوئی دم کو لبوں پر مرا دم آتا ہے\n\nتیغ سی چلتی ہے قاتل کی دم جنگ زباں\nصلح کا نام جو لیتا ہے تو ہکلاتا ہے\n\nطرۂ کاکل پیچاں رخ نورانی پر\nچشمۂ آئینہ میں سانپ سا لہراتا ہے\n\nشوق طوف حرم کوئے صنم کا دن رات\nصورت نقش قدم ٹھوکریں کھلواتا ہے\n\nدو بہ دو عاشق شیدا سے وہ ہوگا کیونکر\nآئینے میں بھی جو منہ دیکھتے شرماتا ہے\n\nسخت پچھتاتے ہیں ہم دے کے دل اس کو سیاحؔ\nاپنی افسوس جوانی پہ ہمیں آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%B5%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%B1_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کون و مکاں میں یارو آباد ہیں تو ہم ہیں", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "کون و مکاں میں یارو آباد ہیں تو ہم ہیں\nاس ارض اور سما کی بنیاد ہیں تو ہم ہیں\n\nوحدت سے تا بہ کثرت سب سے ظہور اپنا\nگر ایک ہیں تو ہم ہیں ہفتاد ہیں تو ہم ہیں\n\nسب مرز بوم عالم ہے جلوہ گاہ اپنی\nویران ہیں تو ہم ہیں آباد ہیں تو ہم ہیں\n\nاقلیم خیر و شر میں ہے حکم اپنا جاری\nگر داد ہیں تو ہم ہیں بیداد ہیں تو ہم ہیں\n\nاس گلشن جہاں میں سب ہے بہار اپنی\nگر قمری ہیں تو ہم ہیں شمشاد ہیں تو ہم ہیں\n\nہیں جوہر اپنے یارو ہر رنگ میں نمایاں\nگر تیغ ہیں تو ہم ہیں جلاد ہیں تو ہم ہیں\n\nہے دست گاہ اپنی سب شے میں کار فرما\nگر فصد ہیں تو ہم ہیں فصاد ہیں تو ہم ہیں\n\nیہ دارگیر عالم سب اپنی حالتیں ہیں\nگر دام ہیں تو ہم ہیں صیاد ہیں تو ہم ہیں\n\nیہ راز ہم نے آثمؔ خادم صفی سے پایا\nگر رشد ہیں تو ہم ہیں ارشاد ہیں تو ہم ہیں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D9%88_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کون وقت اے وائے گزرا جی کو گھبراتے ہوئے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون وقت اے وائے گزرا جی کو گھبراتے ہوئے\nموت آتی ہے اجل کو یاں تلک آتے ہوئے\n\nآتش خورشید سے اٹھتا نہیں دیکھا دھواں\nآ کھڑے ہو بام پر تم بال سکھلاتے ہوئے\n\nچاک آتا ہے نظر پیراہن صبح بہار\nکس شہید ناز کو دیکھا ہے کفناتے ہوئے\n\nوہ نہ جاگے رات کو اور ضد سے بخت خفتہ کی\nبج گیا آخر گجر زنجیر کھڑکاتے ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%A7%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "کون کرتا ہے سر زلف کی باتیں دل میں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون کرتا ہے سر زلف کی باتیں دل میں\nجی پہ کٹتی ہیں عجب طرح کی راتیں دل میں\n\nکوئی ترکیب ملاقات کی بنتی نہیں اور\nوصل کے روز کیا کرتے ہیں گھاتیں دل میں\n\nگو ہمیں تو نے یہ ظاہر میں نوازا پر ہم\nدھیان میں اپنے تری کھاتے ہیں لاتیں دل میں\n\nطرفہ شطرنج محبت کی ہے غائب بازی\nشاطر عشق کو ہو رہتی ہیں ماتیں دل میں\n\nکون سی آن و ادا ہے کہ نہیں جی کو لگے\nکھب رہی ہیں وہ تری سب حرکاتیں دل میں\n\nذات گر پوچھیے آدم کی تو ہے ایک وہی\nلاکھ یوں کہنے کو ٹھہرائیے ذاتیں دل میں\n\nوصل کا صاد بھی ہوئے گا حسنؔ صبر کرو\nدفتر عشق کی دوڑیں ہیں براتیں دل میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کون کہتا ہے تم ادا نہ کرو", "poet_page": "مصنف:پیر شیر محمد عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > کرشمۂ عشق (1922)", "year": "1922", "text_ur": "کون کہتا ہے تم ادا نہ کرو\nپر وفا کی جگہ جفا نہ کرو\n\nسرو کٹ جائیں گے پسے گی حنا\nاس طرح باغ میں پھرا نہ کرو\n\nہنس رہے ہیں ابھی خوشی میں وہ\nمیرے رونے کا تذکرہ نہ کرو\n\nزخم دل پر نہ ہو نمک پاشی\nاس مزے سے تو آشنا نہ کرو\n\nہے قیامت تمہاری اٹکھیلی\nحشر اے جان من بپا نہ کرو\n\nخرمن دل پہ برق گرتی ہے\nمیرے رونے پہ تم ہنسا نہ کرو\n\nنعمت عشق ہے یہ داغ جگر\nشکر حق کے سوا گلا نہ کرو\n\nہے شب وصل بے تکلف ہو\nشوخیاں کہتی ہیں حیا نہ کرو\n\nہوں گرفتار الفت گیسو\nمجھ کو بہر خدا رہا نہ کرو\n\nشوق کہتا ہے خود چلے جاؤ\nمنت نامہ بر کیا نہ کرو\n\nدل لگانا برا ہے اے عاجزؔ\nچپ رہو اس کا تذکرہ نہ کرو", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%85_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "کون کہتا ہے جفا کرتے ہو تم", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون کہتا ہے جفا کرتے ہو تم\nشرط معشوقی وفا کرتے ہو تم\n\nمسکرا کر موڑ لیتے ہو بھویں\nخوب ادا کا حق ادا کرتے ہو تم\n\nہم شہیدوں پر ستم جیتے رہو\nخوب کرتے ہو بجا کرتے ہو تم\n\nسرمئی آنکھوں کوں کیا سرمے سیں کام\nناحق ان پر توتیا کرتے ہو تم\n\nہر پر بلبل کوں اے خونیں نگاہ\nخون گل سیں کربلا کرتے ہو تم\n\nپیستے ہو دل کوں جیوں برگ حنا\nہات خوں آلودہ کیا کرتے ہو تم\n\nخاک کرتے ہو جلا جان سراجؔ\nاور کہو کیا کیمیا کرتے ہو تم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85"} {"title": "کون کہتا ہے نسیم سحری آتی ہے", "poet_page": "مصنف:بشیر الدین احمد دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون کہتا ہے نسیم سحری آتی ہے\nنکہت گل میں بسی ایک پری آتی ہے\n\nشوق سے ظلم کرو شوق سے دو تم آزار\nیہ سمجھ لو مجھے بھی نوحہ گری آتی ہے\n\nکوئی کہتا ہے کہ آتا ہے دکھانا دل کا\nکوئی کہتا ہے تمہیں چارہ گری آتی ہے\n\nدرد الفت کو بڑھا کر وہ گھٹا دیتے ہیں\nچاک دل کیوں نہ کریں بخیہ گری آتی ہے\n\nجھوٹ سے مجھ کو نہ مطلب نہ بناوٹ سے کام\nبات جو آتی ہے منہ پر وہ کھری آتی ہے\n\nزور سے سانس جو لیتا ہوں تو اکثر شب غم\nدل کی آواز عجب درد بھری آتی ہے\n\nدست وحشت کا مرے شغل وہ کیا پوچھتے ہیں\nکچھ نہیں آتا فقط جامہ دری آتی ہے\n\nکام کرنے کے سلیقے سے ہم آگاہ نہیں\nاور کیا آتا ہے بس بے ہنری آتی ہے\n\nدل پژمردہ کھلا جاتا ہے کیوں آج بشیرؔ\nآ گئی ہے کوئی یا خوش خبری آتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D8%B3%D8%AD%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کون کہتا ہے کہ آ کر دیکھ لو", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون کہتا ہے کہ آ کر دیکھ لو\nحال عاشق کا بلا کر دیکھ لو\n\nپوچھتے کیا ہو کہ دل میں کون ہے\nلو یہ آئینہ اٹھا کر دیکھ لو\n\nپوچھنا یہ ہے کہ پوچھو مجھ سے حال\nدیکھنا یہ ہے کہ آ کر دیکھ لو\n\nوہ اگر دیکھے تو آنکھیں پھوٹ جائیں\nتم حسنؔ کو چھپ چھپا کر دیکھ لو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%D9%88"} {"title": "کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوا\nفکر درماں نہ ہوئی رنج مداوا نہ ہوا\n\nواہ اس نالہ پہ اور اتنی عدو کو نازش\nبزم میں اور تو کیا حشر بھی برپا نہ ہوا\n\nسیر گلشن سے رہے شاد ولیکن افسوس\nاب کے معلوم کچھ احوال قفس کا نہ ہوا\n\nسو گئے سنتے ہی سنتے وہ دل زار کا حال\nجب کو ہم سمجھے تھے افسوں وہی افسانہ ہوا\n\nربط کچھ داغ و جگر کا تو ہے چسپاں عاشقؔ\nورنہ اس دور میں کوئی بھی کسی کا نہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "کون کہتا ہے یار نے مارا", "poet_page": "مصنف:رنج حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > مخبر عشق (1895)", "year": "1895", "text_ur": "کون کہتا ہے یار نے مارا\nیار کے انتظار نے مارا\n\nکچھ ترے انتظار نے مارا\nکچھ دل بے قرار نے مارا\n\nباتوں باتوں میں دل کو لے ہی گیا\nمجھ کو ظالم کے پیار نے مارا\n\nہو پیالے میں قل کے بادۂ ناب\nمجھ کو اک بادہ خوار نے مارا\n\nنگہ ناز نے اگر چھوڑا\nتیغ ابروئے یار نے مارا\n\nاس نے وعدہ کیا قیامت کا\nمجھ کو اس انتظار نے مارا\n\nرنجؔ دنیا نے شیخ کو مجھ کو\nغم روز شمار نے مارا\n\nوصل میں غیر کا گلہ کیا خوب\nمجھ کو در پردہ یار نے مارا\n\nسر محفل لٹا لٹا کے مجھے\nشوخیٔ چشم یار نے مارا\n\nابھی مرتا نہ میں مجھے اے رنجؔ\nآفت روزگار نے مارا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کون ہوتے ہیں وہ محفل سے اٹھانے والے", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون ہوتے ہیں وہ محفل سے اٹھانے والے\nیوں تو جاتے بھی مگر اب نہیں جانے والے\n\nآہ پر سوز کی تاثیر بری ہوتی ہے\nخوش رہیں گے نہ غریبوں کو ستانے والے\n\nکوچۂ یار میں ہم کو تو قضا لائی ہے\nجان جائے گی مگر ہم نہیں جانے والے\n\nہم کو کیا کام کسی اور پری سے توبہ\nآپ بھی خوب ہیں بے پر کی اڑانے والے\n\nجس قدر چاہیئے بٹھلائیے پہرے در پر\nبند رہنے کے نہیں خواب میں آنے والے\n\nکیا قیامت ہے کہ رلوا کے ہمیں اے جوہرؔ\nقہقہے مار کے ہنستے ہیں رلانے والے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "کون یاں بازار خوبی میں ترا ہم سنگ ہے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون یاں بازار خوبی میں ترا ہم سنگ ہے\nحسن کے میزاں میں تیرے مہر و مہ پاسنگ ہے\n\nمیں وہ ہوں دیوانۂ سرخیل ارباب جنوں\nہاتھ میں پتھر لیے ہر طفل میرے سنگ ہے\n\nجائے تکیہ عاشق بے خانماں کو وقت خواب\nزیر سر کوچہ میں تیرے خشت ہے پاسنگ ہے\n\nاس جواہر پوش کے دیکھے ہیں وہ یاقوت لب\nجس کی رنگینی کے آگے لعل بھی اک سنگ ہے\n\nسرمئی آنکھوں کا تیرے جو کوئی بیمار ہو\nایک میل اس کے تئیں رکھنا قدم فرسنگ ہے\n\nجل گیا تنہا نہ کوہ طور ہی پروانہ وار\nآگ تیرے عشق کی شمع دل ہر سنگ ہے\n\nسخت جانی میری اور ظالم ترے سنگیں دلی\nآہ مثل آسیا یہ سنگ اوپر سنگ ہے\n\nباپ کا ہے فخر وہ بیٹا کہ رکھتا ہو کمال\nدیکھ آئینے کو فرزند رشید سنگ ہے\n\nسر مرا تیرے قدم کے ساتھ یوں ہے پیش رو\nٹھوکروں میں جس طرح سے رہگزر کا سنگ ہے\n\nاعتقاد مومن و کافر ہے رہبر ورنہ پھر\nکچھ نہیں دیر و حرم میں خاک ہے پاسنگ ہے\n\nیہ صدا گھر گھر کرے ہے آسیا پھر پھر مدام\nمشت گندم کے لیے چھانی کے اوپر سنگ ہے\n\nشیخ کی مسجد سے اے بیدارؔ کیا ہے تجھ کو کام\nسجدہ گہ اپنا صنم کے آستاں کا سنگ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A8%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D8%B3%D9%86%DA%AF_%DB%81%DB%92"} {"title": "کون یاں ساتھ لیے تاج و سریر آیا ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کون یاں ساتھ لیے تاج و سریر آیا ہے\nیاں تو جو آیا ہے پہلے سو فقیر آیا ہے\n\nعشق لایا ہے فقط ایک ہی سینے کی سپر\nحسن باندھے ہوئے سو ترکش و تیر آیا ہے\n\nکل کسی شخص نے اس شوخ سے جا کر یہ کہا\nآج در پر ترے اک عاشق پیر آیا ہے\n\nپشت خم کردہ عصا ہاتھ میں گردن ہلتی\nضعف پیری سے نہایت ہی حقیر آیا ہے\n\nسن کے یہ شکل و شباہت تیری اس شوخ نے آہ\nوہیں معلوم کیا یہ کہ نظیرؔ آیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%AC_%D9%88_%D8%B3%D8%B1%DB%8C%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کونسل میں نکتہ چینوں کی ٹولی بہت پٹی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "کونسل میں نکتہ چینوں کی ٹولی بہت پٹی\nاچھا ہوا سنبھل گئی اب یونیورسٹی\nبیکار کالجوں سے بھرے گی نہ ہر سٹی\nاس بل سے یہ شکایت احباب بھی مٹی\nالجھا ہوا ہے چندہ و اسکول میں ہر ایک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%D9%86%D8%B3%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D8%AA%DB%81_%DA%86%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%B9%D9%88%D9%84%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D9%BE%D9%B9%DB%8C"} {"title": "کوچہ میں جو اس شوخ حسیں کے نہ رہیں گے", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوچہ میں جو اس شوخ حسیں کے نہ رہیں گے\nتو دیر و حرم کیا ہے کہیں کے نہ رہیں گے\n\nنزدیک کبھی خلد بریں کے نہ رہیں گے\nہم سایہ بھی اب ہم تو حسیں کے نہ رہیں گے\n\nمیں صید ہوں وحشی مجھے فتراکی کہلوا\nدو تار بھی اب دامن ذہن کے نہ رہیں گے\n\nپر وائے وسیلہ ہو سلیماں کو مبارک\nہم نام کو محتاج نگیں کے نہ رہیں گے\n\nمر جائیں گے اظہار تمنا ہی سے پہلے\nسننے کو ترے منہ سے نہیں کے نہ رہیں گے\n\nمرزا منشی اپنی گورا نہ کریں گے\nسننے کو قصص چین جبیں کے نہ رہیں گے\n\nسن لیں گے جو مجھ غمزدہ کے نالۂ موزوں\nمشتاق وہ دیوان حزیں کے نہ رہیں گے\n\nدروازہ کا پردہ تو رہے کان کا پردہ\nہم روبرو اس پردہ نشیں کے نہ رہیں گے\n\nاللہ نے چاہا تو ہم اے برہمن دیر\nمشتاق کسی لعبت‌ چیں کے نہ رہیں گے\n\nرخسار سے تشبیہ تری دیں گے ہم اے جان\nجب داغ رخ‌ ماہ مبیں کے نہ رہیں گے\n\nاوڑھتے ہوئے یہ طائر رنگ اپنا جو دیکھا\nتو ہوش بجا روح امیں کے نہ رہیں گے\n\nکس درد کی آواز سے چلائی ہے بلبل\nہم پاس تو اس مرغ حزیں کے نہ رہیں گے\n\nدیکھیں گے جو اس بت کو تو واللہ یقیں ہے\nایمان بجا اہل یقیں کے نہ رہیں گے\n\nپابند رہے کون یہاں نام کی خاطر\nحلقہ میں کبھی مثل نگیں کے نہ رہیں گے\n\nہم ڈھونڈتے پھرتے ہیں تجھے دیر و حرم میں\nگر ہے یہ تمنا تو کہیں کے نہ رہیں گے\n\nپابند ہوئے شکل اسیر اب تو یہاں مہرؔ\nایسا ہی جو دل ہے تو کہیں کے نہ رہیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "کوچہ گردی میں جوانی جائے گی", "poet_page": "مصنف:دل شاہ جہانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوچہ گردی میں جوانی جائے گی\nخاک ہو کر زندگانی جائے گی\n\nمٹ نہیں سکتا ہمارے دل کا داغ\nقبر میں بھی یہ نشانی جائے گی\n\nسچ ہے میری بات کا کیا اعتبار\nسچ کہوں گا جھوٹ جانی جائے گی\n\nحضرت دل جب بڑھاپا آئے گا\nخیر مقدم کو جوانی جائے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%81_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "کوچۂ جاناں میں جا نکلے جو غلماں بھول کر", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوچۂ جاناں میں جا نکلے جو غلماں بھول کر\nیاد ہو اس کو نہ پھر گلزار رضواں بھول کر\n\nسنگ دل بے مہر بے دیں بے وفا سمجھے نہ ہم\nکر دئیے صدقے حسینوں پر دل و جاں بھول کر\n\nبوسۂ ابرو کو لے کر منہ پہ کھائی ہم نے تیغ\nکچھ کیا تم نے نہ پاس تیغ عریاں بھول کر\n\nکر کے توبہ قول ہے اب حضرت دل کا یہی\nاب کبھی لیں گے نہ نام عشق خوباں بھول کر\n\nخوں رلایا عمر بھر شوکتؔ فراق یار نے\nمرتے مرتے بھی نہ نکلا کوئی ارماں بھول کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%BA%D9%84%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کوچۂ دلبر میں میں بلبل چمن میں مست ہے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوچۂ دلبر میں میں بلبل چمن میں مست ہے\nہر کوئی یاں اپنے اپنے پیرہن میں مست ہے\n\nنشۂ دولت سے منعم پیرہن میں مست ہے\nمرد مفلس حالت رنج و محن میں مست ہے\n\nدور گردوں ہے خداوندا کہ یہ دور شراب\nدیکھتا ہوں جس کو میں اس انجمن میں مست ہے\n\nآج تک دیکھا نہیں ان آنکھوں نے روئے خمار\nکون مجھ سا گنبد چرخ کہن میں مست ہے\n\nگردش چشم غزالاں گردش ساغر ہے یاں\nخوش رہیں اہل وطن دیوانہ پن میں مست ہے\n\nہے جو حیران صفائے رخ حلب میں آئینہ\nبوئے زلف یار سے آہو ختن میں مست ہے\n\nغافل و ہشیار ہیں اس چشم مے گوں کے خراب\nزندہ زیر پیرہن مردہ کفن میں مست ہے\n\nایک ساغر دو جہاں کے غم کو کرنا ہے غلط\nاے خوشا طالع جو شیخ و برہمن میں مست ہے\n\nوحشت مجنوں و آتشؔ میں ہے بس اتنا ہی فرق\nکوئی بن میں مست ہے کوئی وطن میں مست ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%82_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "کوچۂ یار میں کچھ دور چلے جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوچۂ یار میں کچھ دور چلے جاتے ہیں\nہم طبیعت سے ہیں مجبور چلے جاتے ہیں\n\nہم کہاں جاتے ہیں یہ بھی ہمیں معلوم نہیں\nبادۂ عشق سے مخمور چلے جاتے ہیں\n\nگرچہ آپس میں وہ اب رسم محبت نہ رہی\nتوڑ جوڑ ان کے بدستور چلے جاتے ہیں\n\nبیٹھے بیٹھے جو دل اپنا کبھی گھبراتا ہے\nسیر کرنے کو سر طور چلے جاتے ہیں\n\nقیس و فرہاد کے مرنے کا زمانہ گزرا\nآج تک عشق کے مذکور چلے جاتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%82_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کوچے سے نکلواتے ہو عبث ہم ایسے وطن آواروں کو", "poet_page": "مصنف:ضیا عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوچے سے نکلواتے ہو عبث ہم ایسے وطن آواروں کو\nرہنے دو پڑے ہیں ایک طرف دکھ دیتے ہو کیوں بے چاروں کو\n\nروگی جو تمہارے عشق کے ہیں جیتے ہیں تمہاری آس پہ وہ\nدو چار دنوں پہ خدا کے لیے دیکھا تو کرو بیماروں کو\n\nہم شکل کسی مژگاں کے جو تھے تو دل میں ہمارے چبھنا تھا\nافسوس کہ اے صحرائے جنوں چبھنا بھی نہ آیا خاروں کو\n\nہر شہر میں ہے سناٹا سا ہر کوچے میں خاک اڑتی ہے\nجس دن ث ترے دیوانوں نے آباد کیا کہساروں کو\n\nتھوڑی سی رہی ہے رات ضیاؔ کچھ مانگ دعائیں خالق سے\nبہتر ہے اسی میں ہو جو سحر پھر شام سے گننا تاروں کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%B9%D8%A8%D8%AB_%DB%81%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%B7%D9%86_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88"} {"title": "کوچے میں ترے آن کے اڑ بھی بیٹھے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کوچے میں ترے آن کے اڑ بھی بیٹھے\nبے ہیچ ہر اک بات پہ لڑ بھی بیٹھے\nحاصل کہ ہماری تیری ہرگز نہ بنی\nسو سو طرحوں سے ہم بگڑ بھی بیٹھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A2%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%DA%91_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92"} {"title": "کوچے میں تمہارے ہم جو ٹک آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کوچے میں تمہارے ہم جو ٹک آتے ہیں\nاور دل کو ذرا بیٹھ کے بہلاتے ہیں\nہو تم جو دل آرام تو ہم دیکھ تمہیں\nاک دم رخ آرام کو تک جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%AC%D9%88_%D9%B9%DA%A9_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کوہ و صحرا بھی کر نہ جائے باش", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "کوہ و صحرا بھی کر نہ جائے باش\nآج تک کوئی بھی رہا ہے یاں\nہے خبر شرط میرؔ سنتا ہے\nتجھ سے آگے یہ کچھ ہوا ہے یاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%88_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B4"} {"title": "کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے\nبے تکلف اے شرار جستہ کیا ہو جائیے\n\nبیضہ آسا ننگ بال و پر ہے یہ کنج قفس\nاز سر نو زندگی ہو گر رہا ہو جائیے\n\nوسعت مشرب نیاز کلفت وحشت اسدؔ\nیک بیاباں سایۂ بال ہما ہو جائیے\n\nیاد رکھیے ناز ہائے التفات اولیں\nآشیان طائر رنگ حنا ہوجائیے\n\nلطف عشق ہریک انداز دگر دکھلائیے گا\nبے تکلف یک نگاہ آشنا ہوجائیے\n\nداداز دست جفائے صدمہ ضرب المثل\nگر ہمہ افتادگی جوں نقش پا ہوجائیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%DA%AF%D8%B1_%D8%B5%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "کُفر و اسلام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ایک دن اقبالؔ نے پُوچھا کلیمِ طُور سے\nاے کہ تیرے نقشِ پا سے وادیِ سِینا چمن\n\nآتشِ نمرود ہے اب تک جہاں میں شُعلہ ریز\nہوگیا آنکھوں سے پنہاں کیوں ترا سوزِ کُہن\n\nتھا جوابِ صاحبِ سینا کہ مسلم ہے اگر\nچھوڑ کر غائب کو تُو حاضر کا شیدائی نہ بن\n\nذوقِ حاضر ہے تو پھر لازم ہے ایمانِ خلیلؑ\nورنہ خاکستر ہے تیری زندگی کا پیرہن\n\nہے اگر دیوانۂ غائب تو کچھ پروا نہ کر\nمنتظر رہ وادیِ فاراں میں ہو کر خیمہ زن\n\nعارضی ہے شانِ حاضر، سطوَتِ غائب مدام\nاس صداقت کو محبّت سے ہے ربطِ جان و تن\n\nشُعلۂ نمرود ہے روشن زمانے میں تو کیا\n“شمع خود را می گدازد درمیانِ انجمن\nنُورِ ما چوں آتشِ سنگ از نظر پنہاں خوش است”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%8F%D9%81%D8%B1_%D9%88_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "کُہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "کُہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد\nکہ ہے مردِ مسلماں کا لہُو سرد\nبُتوں کو میری لادینی مبارک\nکہ ہے آج آتشِ ’اَللہ ھُو، سرد", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%8F%DB%81%D9%86_%DB%81%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%85%DB%81_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D8%B3%D8%B1%D8%AF"} {"title": "کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگی", "poet_page": "مصنف:غلام بھیک نیرنگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگی\nزندگی سی زندگی ہے یہ ہماری زندگی\n\nکیا ارادوں سے ہے حاصل؟ طاقت و فرصت کہاں\nہائے کہلاتی ہے کیوں بے اختیاری زندگی\n\nاے سر شوریدہ اب تیرے وہ سودا کیا ہوئے!\nکیا سدا سے تھی یہی غفلت شعاری زندگی\n\nدرد الفت کا نہ ہو تو زندگی کا کیا مزا\nآہ و زاری زندگی ہے بے قراری زندگی\n\nآرزوئے زیست بھی یاں یاں آرزوئے دید ہے\nتو نہ پیارا ہو تو مجھ کو ہو نہ پیاری زندگی\n\nاور مرجھائے گی تیری چھیڑ سے دل کی کلی\nکر نہ دوبھر مجھ پہ اے باد بہاری زندگی\n\nیاں تو اے نیرنگؔ دونوں کے لیے ساماں نہیں\nموت بھی مجھ پر گراں ہے گر ہے بھاری زندگی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%B9_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C"} {"title": "کٹ گیا رشتۂ الفت جو ترا نام آیا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کٹ گیا رشتۂ الفت جو ترا نام آیا\nدل وفادار تھا لیکن نہ مرے کام آیا\n\nعشق کے ہاتھوں چراغ ایک سر شام آیا\nتیرہ بختی میں مرا دل ہی مرے کام آیا\n\nطلب ملک عدم سے نہ جہاں دیکھ سکا\nابھی منزل پہ نہ اترا تھا کہ پیغام آیا\n\nنازش دہر نہ تھا میں تو پس مردن کیوں\nمحفل غیر میں سو بار مرا نام آیا\n\nشمع روئی تو وہ کچھ دیر سہی تربت پر\nخیر کوئی تو زمانے میں مرے کام آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%B9_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%82_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کپڑے بدل کے آئے تھے آگ مجھے لگا گئے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کپڑے بدل کے آئے تھے آگ مجھے لگا گئے\nاپنے لباس سرخ کی مجھ کو بھڑک دکھا گئے\n\nبیٹھے ادا سے ایک پل ناز سے اٹھے پھر سنبھل\nپہلو چرا گئے نکل جی ہی مرا جلا گئے\n\nرکھتے ہی در سے پا بروں لے گئے صبر اور سکوں\nفتنۂ خفتہ تھا جنوں پھر وہ اسے جگا گئے\n\nمجھ کو تو کام کچھ نہ تھا گو کہ وہ تھے پری لقا\nبار خدا یہ کیا ہوا کیوں وہ مجھے ستا گئے\n\nہے یہ عجب طرح کی بات کیونکہ نہ ملیے اپنے ہاتھ\nدل پہ ہمارے وہ تو رات چوکی سی اک بٹھا گئے\n\nسحر کیا کہ ٹوٹکا آئی یہ وائے کیا بلا\nہائے یہ جی کدھر چلا زور ادا دکھا گئے\n\nگرچہ نہ تھے کچھ اتنے گرم لیک دکھا ادائے شرم\nدل کو لگے جو نرم نرم سخت قلق لگا گئے\n\nآویں گے پھر بھی مصحفیؔ دیکھنے میرے گھر کبھی\nاٹکا ہے اب تو ان سے جی گرچہ وہ منہ چھپا گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%BE%DA%91%DB%92_%D8%A8%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%A2%DA%AF_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "کپی کا بچہ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "تھا کپی کا بچہ اک درویش پاس\nباش و بود اس کی تھی مجھ دل ریش پاس\nاس قلندر نے بہ حسب احتیاج\nبیچنے اس کو نکالا لاعلاج\nمیں نے اس کو ایک جا دلوا دیا\nمول ٹھہرا تھا جو کچھ سو لا دیا\nبوزنہ یا کوئی تحفہ دہر کا\nعزت افزا بندرابن شہر کا\nنام منوا اس کا اب مشہور ہے\nشوخی اس کی ہر کہیں مذکور ہے\nہے ہنومانی نسب یہ باب دید\nقابل وصف اس کے حضرت بوحمید\nہے جو لکھو بندری مشہور اب\nاس کی جد مادری تھی بوالعجب\nاس کے پردادا نے ہے یہ حرف دی\nایک دم لابہ میں لنکا پھونک دی\nایک چنچل ہے بلاے روزگار\nہاتھ رہ جائے تو پا سرگرم کار\nہے تو بچہ سا ولیکن دور ہے\nپست اس کی جست کا لنگور ہے\nکیا کوئی انداز شوخی کا کہے\nہو معلق زن تو آدم تک رہے\nاچپلاہٹ اس کی سب معلوم ہے\nمعرکوں میں چوک کے اک دھوم ہے\nہوتے ہیں قراد کب دیکھے سے سیر\nاچپلی اس کی رہے ہے یاد دیر\nحرکتیں دلکش ہیں سب انداز خوب\nپر ضروری ہے کہ ہاتھوں میں ہو چوب\nورنہ بوٹا سا جو قد ہے جھاڑ ہے\nکٹکھنا نچنا ہے کپڑے پھاڑ ہے\nلونڈی باندی سب کو اس سے احتراز\nڈر سے اکثر بیبیوں کے دل گداز\nیہ جو چاہے چھوٹے تو تدبیر کیا\nرسی ڈوری لوہے کی زنجیر کیا\nربط اسے جس سے ہے اس سے ربط ہے\nمار کھانے پر بھی اس کو ضبط ہے\nجب وہ چھوٹے شور و ہنگامے رہیں\nاب تو چھوٹا اب تو چھوٹا سب کہیں\nچھوٹتا ہے گر پڑے کوئی بجوگ\nبندروں سے ناچتے پھرتے ہیں لوگ\nہوتے ہیں اس جنس میں بھی ذی خرد\nآدم و حیواں میں یہ برزخ ہیں بد\nطنز ہے یہ بات اگرچہ ہے کہی\nجو کرے انسان تو بوزینہ بھی\nلیکن اس جاگہ تو صادق ہے یہ قول\nسارے اس کے آدمی کے سے ہیں ڈول\nہے تماشا آئینے کے روبرو\nعکس سے اپنے اسے ہے گفتگو\nدیکھنا جھک جھک کے اس کا ہو نہ ضبط\nآرسی بندر کا ہے مشہور ربط\nگاہ بوسہ گاہ غرغر بولنا\nگاہ آنکھیں موندنا گہ کھولنا\nآگے تھا اک بوزنہ شطرنج باز\nچال سے اس کی نکلتا امتیاز\nکہنہ قرادوں سے ہم کو یاد ہے\nیہ اسی فتان کا داماد ہے\nجان دیں بندر اگر دیکھیں چنے\nرہتے ہیں چانول پڑے اس کے کنے\nآنکھ کب دوڑے ہے اس کی ہر طرف\nہے یہ اپنے نوع کا فخر و شرف\nالغرض منوا عبارت جاں سے ہے\nنام اس دلکش کا منوا یاں سے ہے\nخوش رہے منوا تو خوش احوال میرؔ\nورنہ آدم ہے جوانی میں بھی پیر\nدہر میں یارب نہ یہ محزوں رہے\nجس کا منوا ہے اسے میموں رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%D9%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%86%DB%81"} {"title": "کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے\nجب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے\n\nایمان و کفر اور نہ دنیا و دیں رہے\nاے عشق شاد باش کہ تنہا ہمیں رہے\n\nعالم جب ایک حال پہ قائم نہیں رہے\nکیا خاک اعتبار نگاہ یقیں رہے\n\nمیری زباں پہ شکوہ درد آفریں رہے\nشاید مرے حواس ٹھکانے نہیں رہے\n\nجب تک الٰہی جسم میں جان حزیں رہے\nنظریں مری جوان رہیں دل حسیں رہے\n\nیارب کسی کے راز محبت کی خیر ہو\nدست جنوں رہے نہ رہے آستیں رہے\n\nتا چند جوش عشق میں دل کی حفاظتیں\nمیری بلا سے اب وہ جنونی کہیں رہے\n\nجا اور کوئی ضبط کی دنیا تلاش کر\nاے عشق ہم تو اب ترے قابل نہیں رہے\n\nمجھ کو نہیں قبول دو عالم کی وسعتیں\nقسمت میں کوئے یار کی دو گز زمیں رہے\n\nاے عشق نالہ کش تری غیرت کو کیا ہوا\nہے ہے عرق عرق وہ تن نازنیں رہے\n\nدرد و غم فراق کے یہ سخت مرحلے\nحیراں ہوں میں کہ پھر بھی تم اتنے حسیں رہے\n\nاللہ رے چشم یار کی معجز بیانیاں\nہر اک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے\n\nظالم اٹھا تو پردۂ وہم و گمان و فکر\nکیا سامنے وہ مرحلہ ہائے یقیں رہے\n\nذات و صفات حسن کا عالم نظر میں ہے\nمحدود سجدہ کیا مرا ذوق جبیں رہے\n\nکس درد سے کسی نے کہا آج بزم میں\nاچھا یہ ہے وہ ننگ محبت یہیں رہے\n\nسر دادگان عشق و محبت کی کیا کمی\nقاتل کی تیغ تیز خدا کی زمیں رہے\n\nاس عشق کی تلافئ مافات دیکھنا\nرونے کی حسرتیں ہیں جب آنسو نہیں رہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D9%88%DB%81_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "کچھ اشارے وہ سر بزم جو کر جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:شیر سنگھ ناز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ اشارے وہ سر بزم جو کر جاتے ہیں\nناوک ناز کلیجے میں اتر جاتے ہیں\n\nاہل دل راہ عدم سے بھی گزر جاتے ہیں\nنام لیوا ترے بے خوف و خطر جاتے ہیں\n\nسفر زیست ہوا ختم نہ سوچا لیکن\nہم کو جانا ہے کہاں اور کدھر جاتے ہیں\n\nنگہ لطف میں ہے عقدہ کشائی مضمر\nکام بگڑے ہوئے بندوں کے سنور جاتے ہیں\n\nقابل دید ہے محشر میں خجالت ان کی\nدو قدم چلتے ہیں رکتے ہیں ٹھہر جاتے ہیں\n\nخوب بدنام کیا اپنی سیہ کاری نے\nانگلیاں اٹھتی ہیں محشر میں جدھر جاتے ہیں\n\nآنکھ کھل جاتی ہے چونک اٹھتے ہیں سونے والے\nوہ دبے پاؤں جو تربت سے گزر جاتے ہیں\n\nچارہ گر حاجت مرہم نہیں ان کو اصلاً\nزخم دل لذت ایثار سے بھر جاتے ہیں\n\nآہ سوزاں سے جو نکلے تھے ستارے شب غم\nبن کے تارے وہی گردوں پہ بکھر جاتے ہیں\n\nآج تک لوٹ کر آیا نہ جہاں سے کوئی\nہم صفیران جہاں ہم بھی ادھر جاتے ہیں\n\nبحر غم میں وہی پھنستے ہیں جو ہوتے ہیں گراں\nجو سبک ہوتے ہیں وہ پار اتر جاتے ہیں\n\nکشتۂ ناز ترا کیوں نہ زمیں پر لوٹے\nداغ دل جتنے ہیں اس طرح وہ بھر جاتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کچھ امتیاز مجھ کو نہ مے کا نہ سارکا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ امتیاز مجھ کو نہ مے کا نہ سارکا\nناچار ہوں کہ حکم نہیں کشفِ راز کا\n\nلگتی نہیں پلک سے پلک جو تمام شب\nہے ایک شعبدہ مژہِ نیم باز کا\n\nدشمن پئے صبوح جگاتے ہیں یار کو\nیہ وقت ہے نسیمِ سحر اھتزاز کا\n\nایمن ہیں اہلِ جذبہ کہ رہبر ہے ان کے ساتھ\nسالک کو ہے خیال نشیب و فراز کا\n\nپھنسنے کے بعد بھی ہے وہی دل شگفتگی\nکیا خوب جال ہے نگہِ جاں نواز کا\n\nتقویٰ مرا شعار ہے ، عصمت سرشتِ دوست\nپھر مجھ سے کون سا ہے سبب احتراز کا\n\nبارے عجیب بات تو پھیلی جہان میں\nپایا کسی نے گو ثمر افشائے راز کا\n\nساقی کے ہیں اگر یہی الطاف، کیا عجب\nارض و سما میں ہوش نہ ہو امتیاز کا\n\nپیرِ مغاں نے رات کو وہ کچھ دکھا دیا\nہرگز رہا نہ دھیان بھی حسنِ مجاز کا\n\nدیتا ہے داغِ رشک پرندِ سپہر کو\nجلوہ تمہاری معجزِ گوہر طراز کا\n\nپانی وضو کو لاؤ، رخِ شمع زرد ہے\nمینا اٹھاؤ وقت اب آیا نماز کا\n\nیکتا کسی کو ہم نے نہ دیکھا جہان میں\nطولِ امل جواب ہے زلفِ دراز کا\n\nجورِ اجل کو شوخیِ بے جا کہا کیا\nتھا مست شیفتہ جو کسی مستِ ناز کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کچھ اور بے دلی کے سوا آرزو نہیں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ اور بے دلی کے سوا آرزو نہیں\nاے دل یقین جان کہ ہم ہیں تو تو نہیں\n\nبے اشکِ لالہ گوں بھی میں بے آبرو نہیں\nآنسو میں رنگ کیا ہو کہ دل میں لہو نہیں\n\nپھر بھی کہو گے چھیڑنے کی اپنی خو نہیں\nعطرِ سہاگ ملتے ہو وہ جس میں بو نہیں\n\nیہ کیا کہا کہ بکتے ہو کیوں آپ ہی آپ تم\nاے ہم نشیں مگر وہ مرے روبرو نہیں\n\nبے طاقتی نے کام سے یہ کھو دیا کہ بس\nدل گم ہوا ہے اور سرِ جستجو نہیں\n\nمحفل میں لحظہ لحظہ وہ چشمِ ستیزہ خو\nلڑتی ہیں کیوں اگر سرِ صلحِ عدو نہیں\n\nکیا جوشِ انتظار میں ہر سمت دوڑ ہے\nبدنامیوں سے ہائے گزر ایک سو نہیں\n\nدی کس نے اشکِ سرمہ سے تیغِ مژہ کو آب\nشورِ فغاں کو فکرِ خراشِ گلو نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کچھ اور تو نہیں ہمیں اس کا عجب ہے اب", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ اور تو نہیں ہمیں اس کا عجب ہے اب\nیعنی وہ شوخ ہم سے خفا بے سبب ہے اب\n\nآہ و فغان و گریہ و اندوہ و درد و داغ\nجو جنس عشق ہے وہ مرے پاس سب ہے اب\n\nدیکھے سے جس کے غنچہ صفت گل ہو رشک ہے\nایسا تو اس جنم میں وہی غنچہ لب ہے اب\n\nصبح فلک بھی جس کی تجلی سے ہو خجل\nاس رشک ماہتاب سے اپنی وہ شب ہے اب\n\nآئینہ ایک دم نہیں رکھتا ہے ہاتھ سے\nایسا وہ اپنے رخ کا تماشا طلب ہے اب\n\nاس گل بدن کے وصل سے ہر دم نظیرؔ کو\nسب سے زیادہ خلق میں عیش و طرب ہے اب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8"} {"title": "کچھ اور دل لگی نہیں اس بد نصیب سے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ اور دل لگی نہیں اس بد نصیب سے\nہم جانتے ہیں کھیلتے ہو تم رقیب سے\n\nمیں بد گمانیوں کا بھی ممنون ہو گیا\nوہ حال پوچھ لیتے ہیں میرا طبیب سے\n\nدشمن بنائے ہیں مری قسمت نے سینکڑوں\nچاہا ہے تجھ کو خلق نے میرے نصیب سے\n\nاے ناصح شفیق رہے کچھ تو چھیڑ چھاڑ\nذکر حبیب کم نہیں وصل حبیب سے\n\nمانند برق مثل ہوا صورت نگاہ\nاکثر نکل گئے ہیں وہ میرے قریب سے\n\nپوچھو جناب داغؔ کی ہم سے شرارتیں\nکیا سر جھکائے بیٹھے ہیں حضرت غریب سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AF_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کچھ اپنی جو حرمت تجھے منظور ہو اے شیخ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ اپنی جو حرمت تجھے منظور ہو اے شیخ\nتو بحث نہ مے خواروں سے چل دور ہو اے شیخ\n\nمسجد میں ذرا وقت سحر دیکھ تو جا کر\nشاید کوئی اس چشم کا مخمور ہو اے شیخ\n\nصد دانۂ تسبیح رکھے ہاتھ میں اپنے\nچونکے تو جو یک دانۂ انگور ہو اے شیخ\n\nتو مجھ کو کہے ایک میں سو تجھ کو سناؤں\nاے کاش کہ اتنا مجھے مقدور ہو اے شیخ\n\nآیا ہے وہ بدمست لیے ہاتھ میں شمشیر\nمجلس سے شتابی کہیں کافور ہو اے شیخ\n\nکرتا ہے ہمیں منع تو پیمانہ کشی سے\nپیمانہ تری عمر کا معمور ہو اے شیخ\n\nالبتہ کرے منع ہمیں عشق بتاں سے\nتجھ سا جو کوئی عقل سے معذور ہو اے شیخ\n\nپھر دم ہے وہ شملہ جو ہوا حد سے زیادہ\nرکھ شملہ تو شملے کا جو دستور ہو اے شیخ\n\nہر حرف میں سختی ہے ترے سنگ جفا سے\nڈرتا ہوں نہ پھر شیشۂ دل چور ہو اے شیخ\n\nکیا حور کی باتوں سے لبھاوے ہے تو مجھ کو\nحاشا کہ مجھے آرزوئے حور ہو اے شیخ\n\nشیخی میں تو سنتا ہی نہیں بات کسی کی\nاس داڑھی پر اتنا بھی نہ مغرور ہو اے شیخ\n\nکیوں مصحفیؔ کو اتنی تو کرتا ہے نصیحت\nسر چڑھ نہ بہت اس کے جو مجبور ہو اے شیخ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%B1%D9%85%D8%AA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%AE"} {"title": "کچھ اپنے کام نہیں آوے جام جم کی کتاب", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ اپنے کام نہیں آوے جام جم کی کتاب\nکفایت اپنے کو بس ایک اپنے غم کی کتاب\n\nنہیں خیال سوا اس کے اور ہے دل میں\nجو مکتب عشق میں جیسے پڑھا صنم کی کتاب\n\nخط آنے سے نہیں خاطر جمع ہوئے مطلق\nاسے تو خط کہوں یا سبزہ یا ستم کی کتاب\n\nشب فراق سے تیری گیا ہوں سب کچھ بھول\nوقایہ کنز و ہدایہ سبھی علم کی کتاب\n\nہوا بہ مدرسۂ عشق جب سے طالب علم\nبہت ہے اپنے مطالعہ کو ایک دم کی کتاب\n\nنہ برہمن ہوں نہ ملا نہ مولوی نہ اتیت\nجو پوتھی دیر کی پانچوں و یا حرم کی کتاب\n\nکتاب حسن کی قاسمؔ علی مطالعہ کر\nبنائی صانع نے صنعت سے یک قلم کی کتاب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%88%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%AC%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8"} {"title": "کچھ اکیلی نہیں میری قسمت", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ اکیلی نہیں میری قسمت\nغم کو بھی ساتھ لگا لگائی ہے\n\nمنتظر دیر سے تھے تم میرے\nاب جو تشریف صبا لائی ہے\n\nنگہت زلف غبار رہ دوست\nآخر اس کوچہ سے کیا لائی ہے\n\nموت بھی روٹھ گئی تھی مجھ سے\nیہ شب ہجر منا لائی ہے\n\nمجھ کو لے جا کے مری آنکھ وہاں\nاک تماشا سا دکھا لائی ہے\n\nآہ کو سوئے اثر بھیجا تھا\nواں سے کیا جانئے کیا لائی ہے\n\nشبلیٔ زار سے کہہ دے کوئی\nمژدۂ وصل صبا لائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DA%A9%DB%8C%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA"} {"title": "کچھ اہل زمیں حال نیا کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کچھ اہل زمیں حال نیا کہتے ہیں\nاچھا کہتے ہیں یا برا کہتے ہیں\nپیری کہتی ہے تیری مطلب کی ہے بات\nجھک کے سنتا ہوں میں کہ کیا کہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کچھ ایسا تھا گمرہی کا سایا", "poet_page": "مصنف:عبدالعزیز فطرت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ ایسا تھا گمرہی کا سایا\nاپنا ہی پتا نہ ہم نے پایا\n\nدل کس کے جمال میں ہوا گم\nاکثر یہ خیال ہی نہ آیا\n\nہم تو ترے ذکر کا ہوئے جزو\nتو نے ہمیں کس طرح بھلایا\n\nاے دوست تری نظر سے میرا\nایوان نگاہ جگ مسکایا\n\nخورشید اسی کو ہم نے جانا\nجو ذرہ زمیں پہ مسکرایا\n\nمقصود تھی تازگی چمن کی\nہم نے رگ جاں سے خوں بہایا\n\nافتاد ہے سب کی اپنی اپنی\nکس نے ہے کسی کا غم بٹایا\n\nمحرومئ جاوداں ہے اور میں\nمیں ذوق طلب سے باز آیا\n\nہر غم پہ ہے میرے نام کی مہر\nفطرتؔ کوئی غم نہیں پرایا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%D9%85%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کچھ ایسا پاس غیرت اٹھ گیا اس عہد پر فن میں", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ ایسا پاس غیرت اٹھ گیا اس عہد پر فن میں\nکہ زیور ہو گیا طوق غلامی اپنی گردن میں\n\nشجر سکتے میں ہیں خاموش ہیں بلبل نشیمن میں\nسدھارا قافلہ پھولوں کا سناٹا ہے گلشن میں\n\nگراں تھی دھوپ اور شبنم بھی جن پودوں کو گلشن میں\nتری قدرت سے وہ پھولے پھلے صحرا کے دامن میں\n\nہوائے تازہ دل کو خود بخود بے چین کرتی ہے\nقفس میں کہہ گیا کوئی بہار آئی ہے گلشن میں\n\nمٹانا تھا اسے بھی جذبۂ شوق فنا تجھ کو\nنشان قبر مجنوں داغ ہے صحرا کے دامن میں\n\nزمانہ میں نہیں اہل ہنر کا قدر داں باقی\nنہیں تو سیکڑوں موتی ہیں اس دریا کے دامن میں\n\nیہاں تسبیح کا حلقہ وہاں زنار کا پھندا\nاسیری لازمی ہے مذہب شیخ و برہمن میں\n\nجنہیں سینچا تھا خون دل سے اگلے باغبانوں نے\nترستے اب ہیں پانی کو وہ پودے میرے گلشن میں\n\nدکھایا معجزہ حسن بشر کا دست قدرت نے\nبھری تاثیر تصویر گلی کے رنگ و روغن میں\n\nشہید یاس ہوں رسوا ہوں ناکامی کے ہاتھوں سے\nجگر کا چاک بڑھ کر آ گیا ہے میرے دامن میں\n\nجہاں میں رہ کے یوں قائم ہوں اپنی بے ثباتی پر\nکہ جیسے عکس گل رہتا ہے آب جوئے گلشن میں\n\nشراب حسن کو کچھ اور ہی تاثیر دیتا ہے\nجوانی کے نمو سے بے خبر ہونا لڑکپن میں\n\nشباب آیا ہے پیدا رنگ ہے رخسار نازک سے\nفروغ حسن کہتا ہے سحر ہوتی ہے گلشن میں\n\nنہیں ہوتا ہے محتاج نمائش فیض شبنم کا\nاندھیری رات میں موتی لٹا جاتی ہے گلشن میں\n\nمتاع درد دل اک دولت بیدار ہے مجھ کو\nدر شہوار ہیں اشک محبت میرے دامن میں\n\nنہ بتلائی کسی نے بھی حقیقت راز ہستی کی\nبتوں سے جا کے سر پھوڑا بہت دیر برہمن میں\n\nپرانی کاوشیں دیر و حرم کی مٹتی جاتی ہے\nنئی تہذیب کے جھگڑے ہیں اب شیخ و برہمن میں\n\nاڑا کر لے گئی باد خزاں اس سال اس کو بھی\nرہا تھا ایک برگ زرد باقی میرے گلشن میں\n\nوطن کی خاک سے مر کر بھی ہم کو انس باقی ہے\nمزا دامان مادر کا ہے اس مٹی کے دامن میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D9%BE%D8%B1_%D9%81%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے", "poet_page": "مصنف:حکیم محمد اجمل خاں شیدا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے\nہم اور جاتے بزم عدو میں مگر گئے\n\nیہ تو خبر نہیں کہ کہاں اور کدھر گئے\nلیکن یہاں سے دور کچھ اہل سفر گئے\n\nارماں جو ہم نے جمع کئے تھے شباب میں\nپیری میں وہ خدا کو خبر ہے کدھر گئے\n\nرتبہ بلند ہے مرے داغوں کا اس قدر\nمیں ہوں زمیں پہ داغ مرے تا قمر گئے\n\nرخسار پر ہے رنگ حیا کا فروغ آج\nبوسے کا نام میں نے لیا وہ نکھر گئے\n\nدنیا بس اس سے اور زیادہ نہیں ہے کچھ\nکچھ روز ہیں گزارنے اور کچھ گزر گئے\n\nجانے لگا ہے دل کی طرف ان کا ہاتھ اب\nنالے شب فراق کے کچھ کام کر گئے\n\nحسرت کا یہ مزا ہے کہ نکلے نہیں کبھی\nارماں نہیں ہیں وہ کہ شب آئے سحر گئے\n\nبس ایک ذات حضرت شیداؔ کی ہے یہاں\nدہلی سے رفتہ رفتہ سب اہل ہنر گئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%85%DB%92_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "کچھ بدگمانیاں ہیں کچھ بد زبانیاں ہیں", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ بدگمانیاں ہیں کچھ بد زبانیاں ہیں\nمدت سے ان کی ہم پر یہ مہربانیاں ہیں\n\nآتا ہے جب کسی پر رکتا نہیں ہے ہرگز\nمانند موج دریا دل کی روانیاں ہیں\n\nپیدا کہاں ہیں ہوتے اب ذوقؔ اور غالبؔ\nہاں داغؔ اور حالیؔ ان کی نشانیاں ہیں\n\nجو پاس تھا وہ کھویا نام سلف ڈبویا\nکیا خاک اپنی اے دل اب زندگانیاں ہیں\n\nاے دل نہ چھیڑ قصہ ہو درد جس سے پیدا\nیہ شعر خوانیاں ہے یا نوحہ خوانیاں ہیں\n\nکیا ہم نے یہ نکالی طرز غزل نرالی\nکچھ گلفشانیاں ہیں کچھ خوں فشانیاں ہیں\n\nباد خزاں نے گلشن ویراں کیا ہے سارا\nبلبل کی اب کہاں وہ رنگیں بیانیاں ہیں\n\nجور و جفا کے ایسے ہم ہو گئے ہیں خوگر\nنا‌ مہربانیاں بھی اب مہربانیاں ہیں\n\nاے مشرقیؔ جہاں میں دیکھا یہی تماشا\nکچھ ماتم‌ و الم ہے کچھ شادمانیاں ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%D8%AF%DA%AF%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%D8%AF_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کچھ بس ہی نہ تھا ورنہ یہ الزام نہ لیتے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ بس ہی نہ تھا ورنہ یہ الزام نہ لیتے\nہم تجھ سے چھپا کر بھی ترا نام نہ لیتے\n\nنظریں نہ بچانا تھیں نظر مجھ سے ملا کر\nپیغام نہ دینا تھا تو پیغام نہ لیتے\n\nکیا عمر میں اک آہ بھی بخشی نہیں جاتی\nاک سانس بھی کیا آپ کے ناکام نہ لیتے\n\nاب مے میں نہ وہ کیف نہ اب جام میں وہ بات\nاے کاش ترے ہاتھ سے ہم جام نہ لیتے\n\nقابو ہی غم عشق پہ چلتا نہیں ورنہ\nاحسان غم گردش ایام نہ لیتے\n\nہم ہیں وہ بلا دوست کہ گلشن کا تو کیا ذکر\nجنت بھی بجائے قفس و دام نہ لیتے\n\nخاموش بھی رہتے تو شکایت ہی ٹھہرتی\nدل دے کے کہاں تک کوئی الزام نہ لیتے\n\nاللہ رے مرے دل کی نزاکت کا تقاضا\nتاثیر محبت سے بھی ہم کام نہ لیتے\n\nتیری ہی رضا اور تھی ورنہ ترے بسمل\nتلوار کے سائے میں بھی آرام نہ لیتے\n\nاک جبر ہے یہ زندگی عشق کہ فانیؔ\nہم مفت بھی یہ عیش غم انجام نہ لیتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%D8%B3_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%88%D8%B1%D9%86%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92"} {"title": "کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے\nوہ زلف پریشاں بھول گئے وہ دیدۂ گریاں بھول گئے\n\nاے شوق نظارہ کیا کہئے نظروں میں کوئی صورت ہی نہیں\nاے ذوق تصور کیا کیجے ہم صورت جاناں بھول گئے\n\nاب گل سے نظر ملتی ہی نہیں اب دل کی کلی کھلتی ہی نہیں\nاے فصل بہاراں رخصت ہو ہم لطف بہاراں بھول گئے\n\nسب کا تو مداوا کر ڈالا اپنا ہی مداوا کر نہ سکے\nسب کے تو گریباں سی ڈالے اپنا ہی گریباں بھول گئے\n\nیہ اپنی وفا کا عالم ہے اب ان کی جفا کو کیا کہئے\nاک نشتر زہر آگیں رکھ کر نزدیک رگ جاں بھول گئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%D8%B4%D9%88%D8%B1%D8%B4_%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا\nتم نہ ہوتے نہ سہی ذکر تمہارا ہوتا\n\nترک دنیا کا یہ دعویٰ ہے فضول اے زاہد\nبار ہستی تو ذرا سر سے اتارا ہوتا\n\nوہ اگر آ نہ سکے موت ہی آئی ہوتی\nہجر میں کوئی تو غمخوار ہمارا ہوتا\n\nزندگی کتنی مسرت سے گزرتی یا رب\nعیش کی طرح اگر غم بھی گوارا ہوتا\n\nعظمت گریہ کو کوتاہ نظر کیا سمجھیں\nاشک اگر اشک نہ ہوتا تو ستارا ہوتا\n\nلب زاہد پہ ہے افسانۂ حور جنت\nکاش اس وقت مرا انجمن آرا ہوتا\n\nغم الفت جو نہ ملتا غم ہستی ملتا\nکسی صورت تو زمانے میں گزارا ہوتا\n\nکس کو فرصت تھی زمانے کے ستم سہنے کی\nگر نہ اس شوخ کی آنکھوں کا اشارا ہوتا\n\nکوئی ہمدرد زمانے میں نہ پایا اخترؔ\nدل کو حسرت ہی رہی کوئی ہمارا ہوتا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کچھ تو وفور شوق میں باعث امتیاز ہو", "poet_page": "مصنف:فرحت کانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ تو وفور شوق میں باعث امتیاز ہو\nمیری نظر کے سامنے ان کی حریم ناز ہو\n\nسوز درون و آہ دل عشق میں دونوں ایک ہیں\nہم کو تو اک سرور ہے سوز ہو یا کہ ساز ہو\n\nوہ دل نظارہ کوش تیرا یہ ذوق بے خودی\nجلوے کی تاب ہو نہ ہو ان کی حریم ناز ہو\n\nناز ہے شوق آفریں شوق ہے شورش دماغ\nحسن ہے آرزو پسند عشق جنوں نواز ہو\n\nذوق طلب کو عشق نے طرفہ سبق یہ دے دیا\nنالۂ دل خراش بن آہ جگر گداز ہو\n\nدل کی تڑپ میں اے خدا کچھ تو ہو ذوق عافیت\nدرد وہ دے جو عشق میں باعث امتیاز ہو\n\nفرحتؔ آرزو پسند درس نیاز عشق نے\nکوچۂ معرفت میں آ شیفتہ مجاز ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%D9%88%D9%81%D9%88%D8%B1_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B9%D8%AB_%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D9%88"} {"title": "کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہے\nدن گزر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہے\n\nرہ گئے گاہ تبسم پہ گہے بات ہی پر\nبارے اے ہم نشیں اوقات چلی جاتی ہے\n\nٹک تو وقفہ بھی کر اے گردش دوراں کہ یہ جان\nعمر کے حیف ہی کیا سات چلی جاتی ہے\n\nیاں تو آتی نہیں شطرنج زمانہ کی چال\nاور واں بازی ہوئی مات چلی جاتی ہے\n\nروز آنے پہ نہیں نسبت عشقی موقوف\nعمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے\n\nشیخ بے نفس کو نزلہ نہیں ہے ناک کی راہ\nیہ ہے جریان منی دھات چلی جاتی ہے\n\nخرقہ مندیل و ردا مست لیے جاتے ہیں\nشیخ کی ساری کرامات چلی جاتی ہے\n\nہے مؤذن جو بڑا مرغ مصلی اس کی\nمستوں سے نوک ہی کی بات چلی جاتی ہے\n\nپاؤں رکتا نہیں مسجد سے دم آخر بھی\nمرنے پر آیا ہے پر لات چلی جاتی ہے\n\nایک ہم ہی سے تفاوت ہے سلوکوں میں میرؔ\nیوں تو اوروں کی مدارات چلی جاتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%86%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کچھ تو ہو درد کی لذت ہی سہی", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ تو ہو درد کی لذت ہی سہی\nتیری الفت میں اذیت ہی سہی\n\nدرد کو درد نہ جب تو سمجھے\nبد گمانی تری عادت ہی سہی\n\nدل مہجور میں ارمان وصال\nنہ سہی دید کی حسرت ہی سہی\n\nبت کدہ چھوڑنے والے تو نہ تھے\nخیر ملتی ہے تو جنت ہی سہی\n\nدل کو تھا خاک میں ملنا سو ملا\nدیکھنے والوں کو عبرت ہی سہی\n\nاس ستم گار نے کر لی توبہ\nاے فلک ہاں کوئی آفت ہی سہی\n\nکوئی جلوہ نظر آئے شاید\nٹکٹکی بندھنے کی عادت ہی سہی\n\nہیں کسی جلوے کی آنکھیں مشتاق\nکچھ کم و بیش یہ غفلت ہی سہی\n\nعشق کی بولتی تصویر ہے شوقؔ\nدیکھنے والوں کو حیرت ہی سہی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "کچھ تو ہو کر دو بدو کچھ ڈرتے ڈرتے کہہ دیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ تو ہو کر دو بدو کچھ ڈرتے ڈرتے کہہ دیا\nدل پہ جو گزرا تھا ہم نے آگے اس کے کہہ دیا\n\nباتوں باتوں میں جو ہم نے درد دل کا بھی کہا\nسن کے بولا تو نے یہ کیا بکتے بکتے کہہ دیا\n\nاب کہیں کیا اس سے ہمدم دل لگاتے وقت آہ\nتھا جو کچھ کہنا سو وہ تو ہم نے پہلے کہہ دیا\n\nچاہ رکھتے تھے چھپائے ہم تو لیکن اس کا بھید\nکچھ تو ہم نے سامنے اس ہم نشیں کے کہہ دیا\n\nیہ ستم دیکھو ذرا منہ سے نکلتے ہی نظیرؔ\nاس نے اس سے اس نے اس سے کہہ دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%88_%D8%A8%D8%AF%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%88%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DA%88%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کچھ تیرا ثمر نہ اے جوانی پایا", "poet_page": "مصنف:جارج پیش شور", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کچھ تیرا ثمر نہ اے جوانی پایا\nسرما زدہ باغ زندگانی پایا\nجی خاک لگے شورؔ کہ اس گلشن میں\nجو پھول کھلا اسی کو فانی پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AB%D9%85%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کچھ حساب اے ستم ایجاد تو کر", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ حساب اے ستم ایجاد تو کر\nکس قدر ظلم کئے یاد تو کر\n\nزندہ جا سکتے ہیں باہر کہ نہیں\nدیکھ اسیروں کو اب آزاد تو کر\n\nخاک کیوں چھان رہا ہے بتلا\nتھا بھی دل پاس ترے یاد تو کر\n\nارے منہ ڈھانپ کے رونے والے\nدم الٹ جائے گا فریاد تو کر\n\nہائے کیا ہوگا بہار آنے تک\nقیدیٔ کنج قفس یاد تو کر\n\nوہ تسلی ہی سہی اے صیاد\nکچھ معین مری میعاد تو کر\n\nہے تنفر جو بتوں سے واعظ\nصفت حسن خداداد تو کر\n\nجا کبھی نجد کی جانب بھی عزیزؔ\nروح مجنوں کو ذرا شاد تو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کچھ حسینوں کی محبت بھی بری ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ حسینوں کی محبت بھی بری ہوتی ہے\nکچھ یہ بے چپن طبیعت بھی بری ہوتی ہے\n\nجیتے جی میرے نہ آئے تو نہ آئے اب آؤ\nکیا شہیدوں کی زیارت بھی بری ہوتی ہے\n\nآپ کی ضد نے مجھے اور پلائی حضرت\nشیخ جی اتنی نصیحت بھی بری ہوتی ہے\n\nاس نے دل مانگا تو انکار کا پہلو نہ ملا\nخانہ برباد مروت بھی بری ہوتی ہے\n\nاے حسنؔ آپ کہاں اور کہاں بزم شراب\nپیر و مرشد بری صحبت بھی بری ہوتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں\nگردن میں طوق بھی تو لڑکپن کے یار ہیں\n\nسینہ ہو کشتگان محبت کا یا گلا\nدونوں یہ تیرے خنجر آہن کے یار ہیں\n\nخاطر ہماری کرتا ہے دیر و حرم میں کون\nہم تو نہ شیخ کے نہ برہمن کے یار ہیں\n\nکیا پوچھتا ہے مجھ سے نشاں سیل و برق کا\nدونوں قدیم سے مرے خرمن کے یار ہیں\n\nکیا گرم ہیں کہ کہتے ہیں خوبان لکھنؤ\nلندن کو جائیں وہ جو فرنگن کے یار ہیں\n\nوہ دشمنی کریں تو کریں اختیار ہے\nہم تو عدو کے دوست ہیں دشمن کے یار ہیں\n\nکچھ اس چمن میں سبزۂ بیگانہ ہم نہیں\nنرگس کے دوست لالہ و سوسن کے یار ہیں\n\nکانٹے ہیں جتنے وادئ غربت کے اے جنوں\nسب آستیں کے جیب کے دامن کے یار ہیں\n\nگم گشتگی میں راہ بتاتا ہے ہم کو کون\nہے خضر جن کا نام وہ رہزن کے یار ہیں\n\nچلتے ہیں شوق برق تجلی میں کیا ہے خوف\nچیتے تمام وادیٔ ایمن کے یار ہیں\n\nپیری مجھے چھڑاتی ہے احباب سے امیرؔ\nدنداں نہیں یہ میرے لڑکپن کے یار ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کچھ خاک رہ گزار تھے کچھ داغدار تھے", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ خاک رہ گزار تھے کچھ داغدار تھے\nمیرے چمن کے پھول شہید بہار تھے\n\nمنزل کڑی تھی پیش نظر اور ہم سفر\nخوش تھے کہ زیر سایۂ دیوار یار تھے\n\nایما ہی تھا یہ چشم دل آویز یار کا\nہم رمز خوان گردش لیل و نہار تھے\n\nڈرتے نہ تھے درازیٔ شام فراق سے\nہم راز دار سلسلۂ زلف یار تھے\n\nہم جانتے تھے خون شہیداں کا ماجرا\nہم نکتہ دان غازۂ روئے نگار تھے\n\nپھولوں سے ہم کلام تھے کانٹوں کے ہمزباں\nدیکھو ہمیں کہ محرم فصل بہار تھے\n\nیہ طرفہ ماجرا ہے کہ اڑتی تھی دل میں خاک\nپھر بھی یہاں نشان کف پائے یار تھے\n\nکرتا ہے اختیار غم یار بھی یہ روپ\nہم شاد تھے کہ رہن غم روزگار تھے\n\nامسال موج گل ہی نہ تھی زینت چمن\nسیلاب خوں بھی غازۂ روئے بہار تھے\n\nآیا کوئی چمن میں سنہری قفس لئے\nکچھ نغمہ گر طیور سر شاخسار تھے\n\nہم وحشیوں نے صحن گلستاں سے اے خزاں\nتنکے بھی چن لئے کہ شریک بہار تھے\n\nعابدؔ ذلیل و خوار تھی رسم نوا گری\nنغمے ہمیں بھی نوک زباں بے شمار تھے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AF%D8%A7%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "کچھ خواب سی ہے میرؔ یہ صحبت داری", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کچھ خواب سی ہے میرؔ یہ صحبت داری\nاٹھ جائیں گے یہ بیٹھے ہوئے یک باری\nکیا آنکھوں کو کھولا ہے تنک کانوں کو کھول\nافسانہ ہے پل مارتے مجلس ساری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%DB%8C%DB%81_%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "کچھ خوشی سے ہمیں عشق ستم ایجاد نہیں", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ خوشی سے ہمیں عشق ستم ایجاد نہیں\nاپنے کہنے ہی میں اپنا دل ناشاد نہیں\n\nتجھ سا بے رحم کوئی اور ستم ایجاد نہیں\nدم بھی لینے کی اجازت دم بیداد نہیں\n\nیہ نیا ظلم ہے یا رب کہ انہیں کا وعدہ\nہم انہیں یاد دلائیں وہ کہیں یاد نہیں\n\nسیکھ جاتا ہے بشر عشق کے صدمے سہہ کر\nچوٹ دل کی بھی کم از سیلئ استاد نہیں\n\nجان ہی جائے گی یا صبر ہی آ جائے گا\nیا ہمیں آج نہیں یا دل ناشاد نہیں\n\nیہی محشر ہے یہی وعدۂ فردا کا ہے دن\nآپ کیا بھول گئے اور مجھے یاد نہیں\n\nیوں ہوا ہوں میں نظرؔ عشق بتاں میں کافر\nمیں تو میں میرے فرشتوں کو خدا یاد نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں\nکچھ آگ بھری ہوئی ہے نے میں\n\nکچھ زہر اگل رہی ہے بلبل\nکچھ زہر ملا ہوا مے میں\n\nبدمست جہان ہو رہا ہے\nہے یار کی بو ہر ایک شے میں\n\nہیں ایک ہی گل کی سب بہاریں\nفروردیں میں اور فصلِ دَے میں\n\nہے مستئ نیم خام کا ڈر\nاصرار ہے جامِ پے بہ پے میں\n\nمے خانہ نشیں قدم نہ رکھیں\nبزمِ جم و بارگاہِ کے میں\n\nاب تک زندہ ہے نام واں کا\nگزرا ہے حسین ایک جے میں\n\nہوتی نہیں طے حکایتِ طے\nگزرا ہے کریم ایک طے میں\n\nکچھ شیفتہ یہ غزل ہے آفت\nکچھ درد ہے مطربوں کی لے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B7%D8%B1%D8%A8%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کچھ دل سے جھکے ہوئے کہا کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کچھ دل سے جھکے ہوئے کہا کرتے ہیں\nآنسو بے کار بھی بہا کرتے ہیں\nپیروں کی عبادت کا معین نہیں وقت\nہر وقت رکوع میں رہا کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DA%BE%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کچھ زرد زرد پتے نشاں جو خزاں کے ہیں", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ زرد زرد پتے نشاں جو خزاں کے ہیں\nنیرنگ دل فریب یہ سب آسماں کے ہیں\n\nاک آگ سی لگی ہے زمانے میں ہر طرف\nکیا جانے زمزمے یہ کس آتش زباں کے ہیں\n\nہم دل جلوں کو حزن و الم سے ہے سوز و ساز\nانداز زمزموں میں بھی آہ و فغاں کے ہیں\n\nیہ بھی تو ہیں خراب اسی چشم مست کے\nپرہیزگار حضرت واعظ کہاں کے ہیں\n\nاٹھ اٹھ کے بیٹھ جاتا ہے بانگ جرس پہ دل\nدیکھ اے فلک یہ حوصلے اس ناتواں کے ہیں\n\nگزرے ہوئے زمانے کی اب یاد کیا ضرور\nچرچے قفس نصیبوں میں کیوں آشیاں کے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B2%D8%B1%D8%AF_%D8%B2%D8%B1%D8%AF_%D9%BE%D8%AA%DB%92_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کچھ سرگزشت کہہ نہ سکے روبرو قلم", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ سرگزشت کہہ نہ سکے روبرو قلم\nگردش نصیب روز ازل سے ہے تو قلم\n\nکاغذ کا تاؤ کیا ہے ترے روبرو قلم\nایسا ہی یعنی پیر کا نیزہ ہے تو قلم\n\nظالم نہیں تو حرف محبت سے آشنا\nمشق ستم سے شرم کر اے جنگجو قلم\n\nکیا خامہ لکھ سکے صفت زلف مشک بار\nشورے کے بھی ہوئے ہیں کہیں مشک بو قلم\n\nنامہ پر ہما ہو مرا اے شہ بتاں\nلکھو گر استخواں سے بنا کر کبھو قلم\n\nقاتل کو میں نے خط نہیں شنجرف سے لکھا\nکس وجہ سے ہوا ہے تو اب سرخ رو قلم\n\nیعنی کہ اس کے عشق میں اس دم ملا ہے یاں\nمنہ سے لہو لگا کے شہیدوں میں تو قلم\n\nلکھ اور اک غزل کہ شگفتہ زمین ہے\nلے کر نصیرؔ اب یہ لب آبجو قلم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B3%D8%B1%DA%AF%D8%B2%D8%B4%D8%AA_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D9%82%D9%84%D9%85"} {"title": "کچھ شکوے گلے ہوتے کچھ طیش سوا ہوتا", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ شکوے گلے ہوتے کچھ طیش سوا ہوتا\nقسمت میں نہ ملنا تھا ملتے بھی تو کیا ہوتا\n\nجاتے تو قلق ہوتا آتے تو خفا ہوتے\nہم جاتے تو کیا ہوتا وہ آتے تو کیا ہوتا\n\nشکوؤں کا گلا کیا ہے انصاف تو کر ظالم\nکیا کچھ نہ کیا ہوتا گر تو میری جا ہوتا\n\nگر صلح ٹھہر جاتی سو فتنے اٹھے ہوتے\nاچھا ہے نہ ملنا ہی ملتے تو برا ہوتا\n\nسوچو تو ظہیرؔ آخر وہ جور تو کرتا ہے\nمیں اس سے گلا کر کے محروم جفا ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%92_%DA%AF%D9%84%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B7%DB%8C%D8%B4_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کچھ صلہ ہی نہ ملا عشق میں جل جانے کا", "poet_page": "مصنف:باسط بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ صلہ ہی نہ ملا عشق میں جل جانے کا\nشمع نے لوٹ لیا سوز بھی پروانے کا\n\nضبط فریاد کی بے سود توقع دل سے\nظرف کیوں دیکھیے ٹوٹے ہوئے پیمانے کا\n\nمیرا مٹنا نہیں آسان محبت کی قسم\nموت ہے نام ترے دل سے اتر جانے کا\n\nحشر تک روئے گی دنیائے محبت مجھ کو\nسلسلہ ختم نہ ہوگا مرے افسانے کا\n\nموت کی نیند سے انساں کو جگا دیتی ہے\nجس حقیقت میں ذرا رنگ ہو افسانے کا\n\nاس طرح مجھ سے مخاطب ہے زمانہ جیسے\nہوش کی فکر بھی اک فرض ہو دیوانے کا\n\nان کے انداز ستم کا ہے تقاضا باسطؔ\nعہد کر لیجئے مر مر کے جئے جانے کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B5%D9%84%DB%81_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کچھ طبیعت آج کل پاتا ہوں گھبرائی ہوئی", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "کچھ طبیعت آج کل پاتا ہوں گھبرائی ہوئی\nشہر بھر میں ہے اداسی ہر طرف چھائی ہوئی\n\nہائے رے غارت گر صبر و شکیبائی ہوئی\nوہ تری ترچھی نظر وہ آنکھ شرمائی ہوئی\n\nاے صبا چلتی ہے کیوں اس درجہ اترائی ہوئی\nکیا نہیں ہے تو وہی اس گل کی ٹھکرائی ہوئی\n\nوصل میں اچھی طرح جب بادہ پیمائی ہوئی\nاڑ گئی کافور بن بن کر حیا آئی ہوئی\n\nشب کو جب ابرو و مژگاں کی صف آرائی ہوئی\nشوخیوں میں دب گئی شرم و حیا آئی ہوئی\n\nہائے میری بے قراری اور ان کا اضطراب\nاور چلتے وقت کی باتیں وہ گھبرائی ہوئی\n\nقبر تک پہونچا گئے سارے عزیز و اقربا\nآگے آگے پھر رفیق راہ تنہائی ہوئی\n\nہاں تمہیں پر جان دیتا ہوں تمہیں پر ہوں نثار\nہاں تمہیں پر ہے طبیعت ٹوٹ کر آئی ہوئی\n\nٹکڑے ٹکڑے ہیں جگر کے شیشۂ دل چورچور\nیہ قیامت ہے تمہاری چال کی ڈھائی ہوئی\n\nجس میں طاقت ہے نہ حرکت ہے نہ خواہش ہے نہ جاں\nدل نہیں اک لاش ہے سینہ میں دفنائی ہوئی\n\nبیٹھتے ہی بیٹھتے محفل میں بے خود ہو گیا\nدیکھتے ہی دیکھتے رخصت توانائی ہوئی\n\nخوب رونے دو کہ یہ روکے سے رک سکتا نہیں\nمیرے دل پر ہے ابھی غم کی گھٹا چھائی ہوئی\n\nآب دیدہ ہو کے وہ آپس میں کہنا الوداع\nاس کی کم میری سوا آواز بھرائی ہوئی\n\nمنتیں کرتا ہوں درگزرو خدارا بخش دو\nاب تو نادانی ہوئی یا مجھ سے دانائی ہوئی\n\nشکوۂ وعدہ خلافی کا ملا اچھا جواب\nپیشگی رکھی تھی اک امید بر آئی ہوئی\n\nحور پر میری طبیعت آئے کیا مقدور ہے\nتوبہ توبہ یہ بھی تیری طرح ہرجائی ہوئی\n\nخود ہی سوچو دیکھنے والوں کا اس میں کیا قصور\nجب تماشا تم ہوئے خلقت تماشائی ہوئی\n\nروتے روتے ٹھہر جاتا ہوں تری سر کی قسم\nیاد آ جاتی ہے جب وہ بات سمجھائی ہوئی\n\nدے کے دل غصہ میں واپس ان کو پچھتانا پڑا\nکیا رقم جاتی رہی ہے ہاتھ سے آئی ہوئی\n\nخوش نصیبی اس جگہ کی تو جہاں رکھے قدم\nریل بھی پھرتی ہے اسٹیشن پر اترائی ہوئی\n\nجب کہا اس نے کہ مرتا ہوں تو کوسا اس طرح\nتجھ کو آئے یا الٰہی غیر کی آئی ہوئی\n\nربط بڑھنے پر کھلا کرتا ہے کچھ اچھا برا\nاس سے کیا ہوتا ہے گر رسمی شناسائی ہوئی\n\nعشق بازی اور شے ہے فسق ہے کچھ اور چیز\nنیک نامی کو نہ کہہ پرویںؔ کہ رسوائی ہوئی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%D9%84_%D9%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہمارا", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہمارا\nجی لے ہی کے جاوے گا یہ آزار ہمارا\n\nکوچہ سے ترے کوچ ہے اے یار ہمارا\nجی لے ہی چلی حسرت دیدار ہمارا\n\nتو ہم کو اٹھا لیجیو اس وقت الٰہی\nجس وقت اٹھے پہلو سے دل دار ہمارا\n\nیارا ہے کہاں اتنا کہ اس یار کو یارو\nمیں یہ کہوں اے یار ہے تو یار ہمارا\n\nہم پادشہ مملکت عشق ہیں ناحق\nمنصور سا مارا گیا سردار ہمارا\n\nکہہ دیجیو مکھولی کو اے گردش طالع\nہاں جلدی سے لا تخت ہوا دار ہمارا\n\nابرو کی تری بیت کی کیا بات ولیکن\nہے آہ کا مصرعہ بھی دھواں دار ہمارا\n\nاحساںؔ تو غزل فارسی ہی اپنی کہا کر\nدل ریختہ تیرے سے ہے بیزار ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%86%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%B2%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کچھ غرض وجہ مدعا باعث", "poet_page": "مصنف:منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ غرض وجہ مدعا باعث\nکیوں خفا ہو گئے ہو کیا باعث\n\nمجھ سے روٹھے ہو کیوں بلا باعث\nکیا خطا کیا قصور کیا باعث\n\nاب کھلا یہ کہ جان جانے کا\nتھا سبب دل ہی دل ہی تھا باعث\n\nمیں نے چھیڑا تھا کیوں بگڑتے نہ وہ\nخفگی کی ہوئی خطا باعث\n\nمیں انہیں چاہوں وہ یہ خود چاہیں\nکوئی ایسا ہو یا خدا باعث\n\nنہیں ملتے نہ ملئے بسم اللہ\nپر بتا دیجئے ذرا باعث\n\nآج کیوں وہ بگڑ گئے ہم سے\nیا الٰہی نہ کچھ کھلا باعث\n\nمر گئے دیکھ ہم ترا انداز\nہے فضا کی تری ادا باعث\n\nجب کہا میں نے آئیے مرے پاس\nدو گھڑی کے لیے کہا باعث\n\nتم حسیں ہو تو چاہتے ہیں تمہیں\nیہی باعث ہے اور کیا باعث\n\nکر لیا کیسا آپ کو تسخیر\nسحرؔ ہوں ورنہ اور کیا باعث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%D9%88%D8%AC%DB%81_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B9%D8%AB"} {"title": "کچھ غم نہیں جو حضرتِ واعظ ہیں تنگ دست", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "کچھ غم نہیں جو حضرتِ واعظ ہیں تنگ دست\nتہذیبِ نَو کے سامنے سر اپنا خم کریں\n\nردِّ جہاد میں تو بہت کچھ لِکھا گیا\nتردیدِ حج میں کوئی رسالہ رقم کریں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%D9%90_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%AF%D8%B3%D8%AA"} {"title": "کچھ لاگ کچھ لگاو محبت میں چاہئے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ لاگ کچھ لگاو محبت میں چاہئے\nدونوں طرح کا رنگ طبیعت میں چاہئے\n\nیہ کیا کہ بت بنے ہوئے بیٹھے ہو بزم میں\nکچھ بے تکلفی بھی تو خلوت میں چاہئے\n\nوہ ابتدائے عشق میں حاصل ہوئی مجھے\nجو بات انتہائے محبت میں چاہئے\n\nآئیں گے بے شمار فرشتے عذاب کے\nمیدان حشر غیر کی تربت میں چاہئے\n\nکچھ تو پڑے دباؤ دل بے قرار پر\nپارا بھرا ہوا مری تربت میں چاہئے\n\nمعشوق کے کہے کا برا مانتے ہو داغؔ\nبرداشت آدمی کی طبیعت میں چاہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%84%D8%A7%DA%AF_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%88_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "کچھ لطف سخن وقت ملاقات نہیں", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کچھ لطف سخن وقت ملاقات نہیں\nلب پر تعریف دل پہ گر ہات نہیں\nیک واہ کرے تو دوسرا آہ کرے\nجس میں نہ اثر ہو وہ مری بات نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کچھ لگی دل کی بجھا لوں تو چلے جائیے گا", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ لگی دل کی بجھا لوں تو چلے جائیے گا\nخیر سینے سے لگا لوں تو چلے جائیے گا\n\nمیں زخود رفتہ ہوا سنتے ہی جانے کی خبر\nپہلے میں آپ میں آ لوں تو چلے جائیے گا\n\nراستہ گھیرے ہیں ارمان و قلق حسرت و یاس\nمیں ذرا بھیڑ ہٹا لوں تو چلے جائیے گا\n\nپیار کر لوں رخ روشن کی بلائیں لے لوں\nقدم آنکھوں سے لگا لوں تو چلے جائیے گا\n\nمیرے ہونے ہی نے یہ روز سیہ دکھلایا\nاپنی ہستی کو مٹا لوں تو چلے جائیے گا\n\nچھوڑ کر زندہ مجھے آپ کہاں جائیں گے\nپہلے میں جان سے جا لوں تو چلے جائیے گا\n\nآپ کے جاتے ہی بیدمؔ کی سنے گا پھر کون\nاپنی بیتی میں سنا تو چلے جائیے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کچھ مجھے کہہ کے نہ کہوائیے آپ", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ مجھے کہہ کے نہ کہوائیے آپ\nبس زباں میری نہ کھلوایئے آپ\n\nدوش پر اور نہ بھاری ہو جائے\nمیرے سر کی نہ قسم کھائیے آپ\n\nبزم ناز اس کی ہے اے حضرت دل\nپاؤں اپنے بھی نہ پھیلائیے آپ\n\nغیر کے شکوے نہ پوچھو شب وصل\nپچھلے مردے نہ اکھڑوائیے آپ\n\nلوگ جانیں گے تمہارا عاشق\nمیں اگر آؤں تو شرمائیے آپ\n\nکچھ پتا میرا بتا دیجئے گا\nکچھ خبر میری اگر پائیے آپ\n\nساتھ میرے نہ کوئی چیخ اٹھے\nمجھ کو محفل سے نہ اٹھوائیے آپ\n\nجاتے جاتے کہیں اغیار کے گھر\nکاش رستے ہی میں مل جائیے آپ\n\nایک دم اس کو بھلا کر سالکؔ\nجی کسی طرح تو بہلائیے آپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "کچھ محبت میں عجب شیوۂ دل دار رہا", "poet_page": "مصنف:ہجر ناظم علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ محبت میں عجب شیوۂ دل دار رہا\nمجھ سے انکار رہا غیر سے اقرار رہا\n\nکچھ سروکار نہیں جان رہے یا نہ رہے\nنہ رہا ان سے تو پھر کس سے سروکار رہا\n\nشب خلوت وہی حجت وہی تکرار رہی\nوہی قصہ وہی غصہ وہی انکار رہا\n\nطالب دید کو ظالم نے یہ لکھا خط میں\nاب قیامت پہ مرا وعدۂ دیدار رہا\n\nحال دل بزم میں اس شوخ سے ہم کہہ نہ سکے\nلب خاموش کی صورت لب اظہار رہا\n\nکچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے\nرات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا\n\nاک نظر نزع میں دیکھی تھی کسی کی صورت\nمدتوں قبر میں بے چین دل زار رہا\n\nدل ہمارا تھا ہمارا تھا ہمارا لیکن\nان کے قابو میں رہا ان کا طرفدار رہا\n\nعمر ہنس کھیل کے اس طرح گزاری اے ہجرؔ\nدوست کا دوست رہا یار کا میں یار رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%B4%DB%8C%D9%88%DB%82_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "کچھ ملک عدم میں رنج کا نام نہ تھا", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کچھ ملک عدم میں رنج کا نام نہ تھا\nمعلوم ہمیں اپنا سرانجام نہ تھا\nآئے جو یہاں تو بس ہوا یہ ثابت\nاک موت سے ملنا تھا کوئی کام نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%D9%84%DA%A9_%D8%B9%D8%AF%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کچھ منہ سے دینے کہہ وہ بہانے سے اٹھ گیا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ منہ سے دینے کہہ وہ بہانے سے اٹھ گیا\nحرف سخاوت آہ زمانے سے اٹھ گیا\n\nہے اس کے دیکھنے کی ہوس کیا غضب کہ آہ\nجو تند خو ٹک آنکھ اٹھانے سے اٹھ گیا\n\nپوچھی جو اس سے میں دل صد چاک کی خبر\nالجھا کے اپنی زلف وہ شانے سے اٹھ گیا\n\nکہیو صبا جو ہووے گزر یار کی طرف\nدل سب طرف سے آپ کے جانے سے اٹھ گیا\n\nپایا جو مضطرب مجھے محفل میں تو وہیں\nشرما کے کچھ وہ اپنے بیگانے سے اٹھ گیا\n\nہوتا تھا اپنے جانے سے جس کو قلق سو ہائے\nگھبرا کے آج کیا مرے آنے سے اٹھ گیا\n\nہمدم نہ مجھ کو قصۂ عیش و طرب سنا\nمدت سے دل کچھ ایسے فسانے سے اٹھ گیا\n\nجب تک تو آئے آئے کہ دنیا ہی سے کوئی\nلے جان تیرے دیر لگانے سے اٹھ گیا\n\nجرأتؔ ہم اس زمین میں کہتے ہیں اور شعر\nہر چند جی سخن کے بڑھانے سے اٹھ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کچھ موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی\nشاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئی\n\nدلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے\nجو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی\n\nمغرور بہت تھے ہم آنسو کی سرایت پر\nسو صبح کے ہونے کو تاثیر نظر آئی\n\nگل بار کرے ہے گا اسباب سفر شاید\nغنچے کی طرح بلبل دلگیر نظر آئی\n\nاس کی تو دل آزاری بے ہیچ ہی تھی یارو\nکچھ تم کو ہماری بھی تقصیر نظر آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%D9%88%D8%AC_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%DA%86%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کچھ میرؔ تکلف تو نہیں اپنے تئیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کچھ میرؔ تکلف تو نہیں اپنے تئیں\nان روزوں نہیں پاتے کہیں اپنے تئیں\nاب جی تو بہت بتنگ آیا اے کاش\nجاویں ہم چھوڑ کر یہیں اپنے تئیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%AA%DA%A9%D9%84%D9%81_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہے\nچتون ہے کہ تلوار لئے سر پہ کھڑی ہے\n\nآنے کو ہے کوئی جو للک پھر سے ہوئی ہے\nڈوبے ہوئے سورج کی کرن پھوٹ رہی ہے\n\nہے پگھلی ہوئی آگ کہ جلتے ہوئے آنسو\nلوکا وہیں اٹھا ہے جہاں بوند پڑی ہے\n\nجب سکھ نہیں جینے میں تو اک روگ ہے جینا\nسانس آئی ہے جب چوٹ کلیجے میں لگی ہے\n\nکل کیا کہیں دیکھیں وہ بدلتی ہوئی چتون\nسو آسرے ٹوٹے ہیں تو اک آس بندھی ہے\n\nمیں کچھ نہ کہوں اور وہ جو چاہے کہے جائیں\nاب روکی ہوئی سانس گلا گھونٹ رہی ہے\n\nکہنے کو تو آتی ہے انہیں ہاں بھی نہیں بھی\nہو جس پہ بھروسہ نہ وہی ہے نہ یہی ہے\n\nابھرے ہوے چھالے ہیں ہے روکا ہوا آنسو\nبس بجھ چکی یہ آگ کہ پانی سے لگی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کچھ نہ ایدھر ہے نے ادھر تو ہے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ نہ ایدھر ہے نے ادھر تو ہے\nجس طرف کیجئے نظر تو ہے\n\nاختلاف صور ہیں ظاہر میں\nورنہ معنیٔ یک دگر تو ہے\n\nہے جو کچھ تو سو تو ہی جانے ہے\nکوئی کیا جانے کس قدر تو ہے\n\nکیا مہ و مہر کیا گل و لالہ\nجب میں دیکھا تو جلوہ گر تو ہے\n\nکس سے تشبیہ دیجئے تجھ کو\nسارے خوباں سے خوب تر تو ہے\n\nوہ تو بیدارؔ ہے عیاں لیکن\nاس کے جلوہ سے بے خبر تو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%8C%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "کچھ نہ پائی دل نے تسکیں اور کچھ پائی تو کیا", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ نہ پائی دل نے تسکیں اور کچھ پائی تو کیا\nایسی صورت سے تری صورت نظر آئی تو کیا\n\nایک دشمن کے کہے پر ناز وہ بھی اس قدر\nاپنے مطلب کو کسی نے آپ کی گائی تو کیا\n\nہوش آنا تھا کہ وہ خاصے ستم گر بن گئے\nہائے ری قسمت کہ ان کو عقل بھی آئی تو کیا\n\nاو جفا پیشہ شگفتہ خاطری ہے اور شے\nیوں ہنسی آنے کو رونے میں ہنسی آئی تو کیا\n\nآپ اپنے دل سے پوچھیں آپ ہی سوچیں ذرا\nمیری آہوں میں اگر تاثیر بھی آئی تو کیا\n\nمیرے لاشے پر اگر تشریف بھی لائے تو ہیچ\nبعد میرے ان کو میری یاد بھی آئی تو کیا\n\nاپنی عادت سے وہ باز آ جائیں ممکن ہی نہیں\nکہنے سننے سے گھڑی بھر کو حیا آئی تو کیا\n\nکچھ نہ کچھ اغیار نے پٹی پڑھائی ہے ضرور\nتم نے کھانے کو مرے سر کی قسم کھائی تو کیا\n\nتھا جو کچھ تقدیر کا ہونا وہ ہو کر ہی رہا\nکرنے والوں نے جو کی بھی چارہ فرمائی تو کیا\n\nبے وفاؤں میں تو کچھ گنتی نہیں تیری طرح\nہم کو کہتی ہے اگر مخلوق سودائی تو کیا\n\nاے صفیؔ ترک تعلق کر کے اتراتے ہو کیوں\nعمر بھر میں یہ ہوئی ہے تم سے دانائی تو کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%B3%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کچھ نہ کچھ رنج وہ دے جاتے ہیں آتے جاتے", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ نہ کچھ رنج وہ دے جاتے ہیں آتے جاتے\nچھوڑ جاتے ہیں شگوفے کوئی جاتے جاتے\n\nشوق بن بن کے مرے دل میں ہیں آتے جاتے\nدرد بن بن کے ہیں پہلو میں سماتے جاتے\n\nخیر سے غیر کے گھر روز ہیں آتے جاتے\nاور قسمیں بھی مرے سر کی ہیں کھاتے جاتے\n\nہائے ملنے سے ہے ان کے مجھے جتنا اعراض\nوہ اسی درجہ نظر میں ہیں سماتے جاتے\n\nنہیں معلوم وہاں دل میں ارادہ کیا ہے\nوہ جو اس درجہ ہیں اخلاص بڑھاتے جاتے\n\nلو مرے سامنے غیروں کے گلے ہوتے ہیں\nلطف میں بھی تو مجھی کو ہیں ستاتے جاتے\n\nآج رکتی ہے مریض غم الفت کو شفا\nچارہ گر درد بھی جائے گا تو جاتے جاتے\n\nیہی ہم دم مجھے پیغام قضا دیتے ہیں\nیہ جو سینے میں دم چند ہیں آتے جاتے\n\nیوں ہی آخر تو ہوا نام عزا کا بدنام\nآئے تھے آ کے جنازہ بھی اٹھاتے جاتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88%DB%81_%D8%AF%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92"} {"title": "کچھ نہیں حاصل سپر کو چیر کو یا تلوار توڑ", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ نہیں حاصل سپر کو چیر کو یا تلوار توڑ\nہے اگر طاقت تو میرے آنسوؤں کا تار توڑ\n\nتیری چشم و زلف سے سودائے ہم چشمی کیا\nاے صنم بادام چشم آہوئے تاتار توڑ\n\nزلف میں موتی پرونا میرے حق میں زہر ہے\nآج اے مشاطۂ دنداں دہان یار توڑ\n\nسلسلہ گبر و مسلماں کی عداوت کا مٹا\nاے پری بے پردہ ہو کر سبحہ و زنار توڑ\n\nکبر بھی ہے شرک اے زاہد موحد کے حضور\nلے کے تیشہ خاکساری کا بت پندار توڑ\n\nآب گوہر سے بدن کی آب ہوتی ہے خراب\nبوجھ ہے اے نازنیں یہ موتیوں کا ہار توڑ\n\nشرم کب تک اے پری لا ہاتھ کر اقرار وصل\nاپنے دل کو سخت کر کے رشتۂ انکار توڑ\n\nصبر کب تک راہ پیدا ہو کہ اے دل جان جائے\nایک ٹکر مار کر سر پھوڑ یا دیوار توڑ\n\nاے زلیخا نقد جاں ہم دیں لگا تو گنج زر\nقیمت یوسف کا ہو جائے سر بازار توڑ\nوصف چشم یار لکھنے کے لئے اے دست شوق\nچل کسی گلشن میں شاخ نرگس بیمار توڑ\n\nچڑھ کے کوٹھے پر دکھا دے اپنے ابرو میں شکن\nاے پری پیکر ہلاک چرخ کی تلوار توڑ\n\nآئنہ ہے مانع نظارۂ حسن و جمال\nہو سکے تو سد اسکندر کو اے دل دار توڑ\n\nمانع مستی کو بد مستی دکھانا چاہئے\nمحتسب کا شیشۂ دل اے بت مے خوار توڑ\n\nحسن پیشانی سے قصر چرخ کو برباد کر\nلوح قرآں سے طلسم گنبد دوار توڑ\n\nنام کو اے دل نہ رکھ اسباب اصلاح جنوں\nوادئ وحشت میں چل کر نشتر ہر خار توڑ\n\nآنکھیں پھوڑ اس کی جو دیکھے بے اجازت منہ ترا\nشوق سے اے مست جام شربت دیدار توڑ\n\nعشق زلف عنبر افشاں کا نہ ٹوٹے سلسلہ\nپاؤں کی زنجیر اے دست جنوں سو بار توڑ\n\nسائل بوسہ ہیں ان کو دیکھ چشم قہر سے\nآنکھ کے ڈھیلوں سے اے بت خاطر اغیار توڑ\n\nحِصن غم میں ایک مدت سے مقید ہے منیرؔ\nفکر دنیا کا حصار اے حیدر کرار توڑ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D8%B3%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DA%86%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%88%DA%91"} {"title": "کچھ نہیں کے دو پہلو", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "جنہیں عشق سے واسطہ کچھ نہیں\nانہیں حسن سے کیا ملا کچھ نہیں\nجہاں زہد خشک آ گیا اس جگہ\nمحبت مروت وفا کچھ نہیں\nخدا جانے کس دل سے کہتے ہیں لوگ\nحسیں اور ان کی ادا کچھ نہیں\nنہیں ہیں جو تنویر دل ماہ وش\nشب ماہ میں بھی مزہ کچھ نہیں\nشرر ہیں یہ ہنس مکھ ستارے اگر\nتو ہر خندۂ خوش نما کچھ نہیں\nنظر کے ہیں دھوکے مناظر اگر\nتو پھر یہ چمن یہ فضا کچھ نہیں\nحکیموں پہ حیرت نہ ہو کیوں مجھے\nبڑھا علم تو کہہ دیا کچھ نہیں\nنہ ساقی نہ ساغر نہ شاہد نہ باغ\nمآل ان کی تحقیق کا کچھ نہیں\nوجود ان کا میری نظر میں بھی کیا\nعدم ہے عدم کے سوا کچھ نہیں\nکہوں کیسے ہستی کے گلزار میں\nفنا ہی فنا ہے بقا کچھ نہیں\nمیں خوش حسن سے ہوں سوا حسن کے\nمری زیست کا مدعا کچھ نہیں\nاگر میری نظروں سے دیکھے کوئی\nبقا ہی بقا ہے فنا کچھ نہیں\nیہ معمورۂ حسن ہے تو یہاں\nخوشی ہے خوشی کے سوا کچھ نہیں\nنگاہ حقیقت رس حسن سے\nتعلق غم و رنج کا کچھ نہیں\nمزے اہل دل کے لیے ہیں بہت\nکہا میں نے کب یاں مزہ کچھ نہیں\nیہ ساقی یہ ساغر یہ شاہد یہ باغ\nحلاوت ہے دل میں تو کیا کچھ نہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%88_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88"} {"title": "کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے مضامین", "year": "1942", "text_ur": "قطع کیجئے نہ تعلق ہم سے۔۔۔ کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی۔۔۔ قطع تعلق بھی ہے اور نہیں بھی ہے۔ عداوت بھی ہے اور نہیں بھی ہے۔ عجیب و غریب مضمون ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ مرد اور عورت کا باہمی رشتہ کیا ہے۔ عورت کی طرف مرد کا میلان سمجھ میں آ جاتا ہے لیکن مرد کی طرف عورت کا میلان جو ہے بھی اور نہیں بھی ہے، سمجھ سے کچھ اونچا ہی رہتا ہے، یعنی عورت مرد سے نفرت بھی کرتی ہے اور انجام کار اس سے محبت بھی کرتی ہے۔ اس کی بدعنوانیوں کی مذمت کرتی ہے، مگر اس کے باوجود ان بدعنوانیوں کا شکار ہو جاتی ہے۔\n\nشادی ہی کو لیجئے جوکہ بہت عام چیز ہے۔ چاہیئے تو یہ کہ لڑکی اپنی شادی پر خوش ہو، لیکن ہونے والی دلہنوں کو کس نے گٹھری بنتے نہیں دیکھا۔ رونی آواز میں ان کے منہ سے ایسی باتیں کس نے نہیں سنیں۔ میری جوتی کو کیا غرض پڑی تھی جو میں چق میں سے ان کو جھانک کر دیکھتی۔۔۔ میں تو انہیں ہاتھ تک نہ لگانے دوں۔۔۔ مفتوں کی ہاتھ لگ گئی ہوں جبھی تو اپنے دوستوں میں میری یوں ہتک کی گئی ہے۔۔۔ آگ لگے میری جان کو۔۔۔ نہیں بھئی میں تو عمر بھر کنواری رہوں گی۔۔۔ امی جان نے تو اپنے سر کی بلا ٹالی ہے۔۔۔ جانے کون ہیں کون نہیں ہیں، گھر لے جاتے ہی مجھے قتل کر دیں۔۔۔\n\nاتنا پڑھایا لکھایا تھا کیا اسی دن کیلئے کہ مجھے ایک نامحرم آدمی کے حوالے کر دیا جائے۔۔۔ میں زہر کھا لوں گی۔۔۔ لڑکیاں پرایا دھن ہوتا ہے، بس یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے۔۔۔ چار روز سے میرے منہ میں ایک کھیل تک نہیں گئی۔ کسی کو ترس نہیں آتا۔۔۔ نہیں میں یوں نہیں بیٹھوں گی۔۔۔ مجھ سے یہ کیوں کہا جا رہا ہے کہ نہاؤ، سجو، بنو۔۔۔ یہ سجا بنا کر مجھے کس کے حوالے کیا جا رہا ہے۔۔۔ میری بھتی کھایئے، مجھے ہائے ہائے کر کے پیٹیے اگر میری شادی کیجئے۔۔۔\n\nآنکھوں میں سے آنسو بہتے ہیں۔ کئی کئی دن واقعی کھانا نہیں کھایا جاتا، لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ہاتھوں پر مہندی لگوائی جاتی ہے، ڈھولک بجانے والی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھا جاتا ہے۔ گپیں اڑائی جاتی ہیں اور تخلیے میں اپنی سب سے عزیز سہیلی کے ساتھ کپکپی پیدا کرنے والی باتیں کی جاتی ہیں۔ آزمودہ نسخے نوٹ کئے جاتے ہیں۔ آنے والے حادثات کی تفصیلات ادھر ادھر سے اکٹھی کی جاتی ہیں اور۔۔۔ اور۔۔۔ کیا کچھ نہیں کیا جاتا۔\n\nمہندی لگے ہاتھ، مقیشی بال۔۔۔ لس لس کرتے بھاری جوڑے، چمکیلے زیور، چہرے کی اڑی اڑی رنگت، ریشمی گھونگھٹ، دل میں دھڑکنیں۔۔۔ شہنائیاں۔۔۔ باجے گاجے۔ دھوم دھڑکے۔۔۔ اس کے بعد حجلہ عروسی۔۔۔ خاموشیوں کے قفل جو کبھی کھلیں ہی نہیں۔ ادھر یکسر انکار، ادھر کبھی التجائیں، منتیں، خوشامدیں اور کبھی دھمکیاں، ’’لو اب خدا کیلئے مان بھی جاؤ۔۔۔ دیکھو ہم تم سے کبھی نہ بولیں گے۔۔۔ کچھ منہ سے تو بولو۔۔۔ قسم لے لے جو تمہیں پھر گدگداؤں، ایک فقط تم ہاں کر دو۔۔۔ خدا کی قسم میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔۔۔ لو میں ایک طرف ہٹ جاتا ہوں۔۔۔ تم اب بھی نہیں مانتیں۔ آخر یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ بھئی میں تو تھک گیا ہوں۔ آخر ہمیں تھوڑی دیر آرام بھی تو کرنا ہے۔۔۔‘‘\n\nکفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔۔۔ خاموشی تکلم میں تبدیل ہوئی، ’’نہیں آپ اپنے دوستوں کو ضرور ساری بات بتا دیں گے۔۔۔ مجھے کہیں کا نہ رکھیں گے۔۔۔ آپ کو خدا کی قسم جو آپ نے کچھ کہا۔۔۔ ہائے، میں کیسی بے حیا ہوں۔۔۔ آپ دل میں کیا کہتے ہوں گے۔ چٹاخ چٹاخ باتیں کر رہی ہے۔۔۔ خدا کرے مجھے موت آ جائے۔۔۔ ضرور دروازے کے باہر کوئی کھڑا ہے۔۔۔ اب میں کیا کروں۔۔۔ زبردستی نہ کیجئے۔۔۔ میری کلائی ٹوٹ جائے گی۔ آپ کتنے بے رحم ہیں۔۔۔ دیکھئے میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔ خدا کے واسطے مجھے چھوڑ دیجیئے۔۔۔ میں مر جاؤں گی۔۔۔ مجھے بخش دیجئے۔ صرف آج کے روز بخش دیجئے، پھر آپ جو کہیں گے میں مان لوں گی۔۔۔‘‘\n\nایسی باتیں کون مانتا ہے۔ آخر وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔۔۔ ہر جوان لڑکی سے جلد یا بدیر یہی سانحہ پیش آتا ہے۔ مردوں کی بدعنوانیوں کے متعلق ساری شکایتیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں اور ایک ہی رات میں وہ تمام منزلیں طے کر لی جاتی ہیں جن کے متعلق سوچنا بھی کبھی گناہ سمجھا جاتا تھا۔ شادی کے دوسرے روز ہی وہ مرد جس کو برا بھلا کہا جاتا تھا، عزیز ترین رفیق بن جاتا ہے۔\n\n’’انہوں نے کہا تھا کہ تم سیدھی مانگ نکالا کرو۔۔۔ صبح سے کہیں باہر گئے ہیں، ابھی تک لوٹے نہیں۔ اللہ خیر کرے۔۔۔ یہ سلیپنگ سوٹ انہوں نے مجھے دیا ہے۔ کہتے تھے رات کو سوتے وقت دوسرے کپڑوں کی بجائے اب اسے ہی پہنا کرو۔۔۔ نہیں بھئی میں پان نہیں کھاؤں گی۔ انہوں نے منع کیا تھا۔۔۔ ان کو آج تک کبھی وقت پر چائے نہیں ملی تھی۔ جب میں نے یہ سنا تو خدا کی قسم میرے دل کو بہت دکھ ہوا۔۔۔ صبح اٹھ کر میں نے پہلا کام یہی کیا کہ ان کے لئے چائے بنوائی۔۔۔‘‘\n\nمیں سمجھتا ہوں کہ مرد اور عورت کے درمیان صرف ایک رات حائل ہے۔ اگر یہ کالی چیز حائل نہ ہوتی تو خوباں سے چھیڑ چھاڑ کبھی پردۂ ظہور پر نہ آتی۔ بہت ممکن ہے کہ مرد چھیڑتے وقت اس بات کو بھول جاتا ہو مگر عورت جب چھیڑتی ہے یا جب کسی عورت کو چھیڑا جاتا ہے تو یہ رات جھٹ اس کی نظروں کے سامنے آ جاتی ہے۔ سارا فساد اسی رات کا ہے، جس نے انسانی زندگی کو کئی خوبصورت روشنیوں سے متعارف کرایا ہے۔ چھیڑ چھاڑ انہی روشنیوں میں سے ایک روشنی ہے، جسے پھلجھڑی کہنا بجا ہوگا۔ میں اس کے متعلق پچھلے مضمون میں نوجوان مردوں کے تاثرات بیان کر چکا ہوں۔ اس مضمون میں نوجوان لڑکیوں کا رد عمل بیان کیا جائے گا۔ یہ رد عمل معلوم کرنے کے لئے میں نے ذیل کا سوالیہ تیار کیا،\n\n۱۔ مردوں کی چھیڑ چھاڑ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے۔۔۔ آپ اسے پسند کرتی ہیں یا نا پسند؟ پسندیدگی اور ناپسندیدگی کی وجہ بیان کیجئے۔\n\n۲۔ جب آپ کو چھیڑا جاتا ہے تو آپ کیا کرتی ہیں؟\n\n۳۔ آپ کو کیوں چھیڑا جاتا ہے؟\n\n۴۔ کیا آپ مردوں کو نہیں چھیڑتیں؟\n\n۵۔ کوئی ایسا واقعہ بیان کیجئے جو اس چھیڑ چھاڑ سے متعلق ہو اور جس کا تاثر ابھی تک آپ کے حافظے پر قائم ہو۔\n\nظاہر ہے کہ عورتوں اور لڑکیوں سے براہ راست یہ سوال کرنے اور ان کا جواب حاصل کرنے میں مجھے بہت دقت پیش آئی ہوگی۔ خصوصاً کنواری لڑکیوں سے تو میں نے ڈر ڈر کے یہ سوال کئے۔ بہرحال کسی نہ کسی طرح ان دقتوں اورمشکلوں کے باوجود یہ مضمون تیار ہو ہی گیا۔\n\nعورتوں اور لڑکیوں کے تاثرات اور ان کا رد عمل بیان کرنے سے پہلے میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک جگہ تمام لڑکیوں اور عورتوں کو بلا کر میں نے یہ معلومات حاصل نہیں کیں۔ مجھے تین بڑے شہروں میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے۔ لاہور، بمبئی اور دہلی۔ ان تین شہروں میں مختلف اوقات میں، میں ایک ایک دو دو عورتوں سے ملا۔ ان سے دوستانہ بات چیت کی اور اپنے مطلب کی باتیں معلوم کر لیں۔ کل بارہ عورتوں سے میرا اس قسم کا انٹرویو ہوا۔ جن میں سے دو بیاہی ہوئی تھیں۔ باقی سب کنواری تھیں۔ ان کی عمر کا اوسط سولہ سال سے زیادہ نہیں تھا۔\n\nنو لڑکیوں نے جن میں دو بیاہی ہوئی بھی شامل تھیں، پہلے سوال کا بالکل ایک جیسا جواب دیا، مردوں کی چھیڑ چھاڑ کے متعلق ہمارا خیال یہ ہے کہ ایسی فضول اور نازیبا حرکت کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔ پرائی بہو بیٹیوں کو چھیڑنا کہاں کی شرافت ہے۔ یہ صریحاً شُہداپن ہے۔ اس قسم کی حرکت صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اخلاقِ حمیدہ سے عاری ہوتے ہیں۔ جن کی آنکھوں میں شرم کا پانی بھی نہیں ہوتا۔ ہم اس چھیڑ چھاڑ کو صرف ناپسند ہی نہیں کرتیں بلکہ انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ ا س لئے کہ ہماری آزادی میں یہ بے شمار رکاوٹیں پیدا کرنے کا موجب بنی ہوئی ہے۔ غضب خدا کا ہم ڈر کے مارے باہر سیر کو بھی تو نہیں جا سکتیں۔ باغ میں گھومنے کے لئے جایئے تو ہمیشہ اس بات کا کھٹکا رہتا ہے کہ کوئی مرد ہمارے پیچھے پیچھے چلنا شروع کر دے گا اور ایسی بھوکی نظروں سے دیکھے گا کہ سیر کا سارا لطف، سارا مزا کرکرا ہو جائے گا۔ کسی پھول کی طرف دیکھئے تو جھاڑی کے عقب سے کن سری آواز آئے گی۔ ’’انہیں منظور اپنے زخمیوں کو دیکھ آنا تھا۔ چلیں ہیں سیرِ گل کو دیکھنا شوخی بہانے کی۔‘‘\n\nسیر گل گئی بھاڑ میں اور زخمی گئے چولہے میں۔ کہاں کی سیرِ گل، کہاں کی شوخی، یہ نگوڑے کچھ کرنے بھی دیں۔ یہ موئی چھیڑ چھاڑ ہے یا گندی موری کے چھینٹے۔ کوئی پکچر دیکھنے جاؤ تو سب کی گردنیں ہماری طرف مڑ جائیں گی۔ گھورے جا رہے ہیں۔ سب گھورے جا رہے ہیں۔ بات تک کرنے کی اجازت نہیں۔ اندھیرا ہوتا ہے تو اس بات کا دھڑکا رہتا ہے کہ اپنی ٹانگ کھجلانے کے بہانے ساتھ والے لالہ جی ہماری ٹانگ کھجلانا شروع کر دیں گے۔ پکچر ختم ہونے پر باہر نکلتے وقت یہ اندیشہ لاحق رہے گا کہ کوئی صاحب کندھا مار کر نکل جائیں گے اور انگریزی میں افسوس کا اظہار کر دیں گے۔۔۔ کوٹھے پر بال سکھانے کے لئے جاؤ تو کوئی ہمسایہ اپنے چڑھے ہوئے پتنگ کی ڈور ڈھیلی کر کے بالوں میں الجھا دے گا۔ غصّے میں آ کر ڈور پکڑ لو تو آواز آئے گی۔ ’’لے لیجئے جتنی درکار ہے۔‘‘ بھنا کر ڈور کھینچنا شروع کی تو انہوں نے چرخی ہاتھ میں لے لی۔ ’’کھینچتے جایئے جب تک آپ تھک نہ جائیں۔‘‘\n\nکیا کریں کیا نہ کریں ہم تو بہت عاجز آ گئے ہیں۔۔۔ ایک دکھ ہو تو بتائیں۔۔۔ شاپنگ کے لئے جائیں تو اور مصیبتیں سر پر کھڑی ہوتی ہیں۔ دکاندار ہی آنکھیں سینک رہے ہیں اور اپنی حرص پوری کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی کوئی فقرہ بھی چست کر دیتا ہے۔ ’’کشمیر کے سیب ادھر بھی دیکھتے جایئے۔۔۔ انڈر وئیرز کے نئے نئے ڈیزائن آئے ہیں۔ ملاحظہ فرماتے جایئے۔۔۔ ایک نظر ادھر بھی، بالکل نیا مال ہے۔۔۔‘‘ اب ان مردوں سے کوئی کیا کہے۔ جی تو اکثر یہی چاہتا ہے کہ اپنی چھتری ان ملعونوں کے حلق میں گھونس دیں یا ہینڈ بیگ منہ پر دے ماریں مگر بے کار کے فضیحتے سے ڈر لگتا ہے، ا س لئے مجبوراً خاموش رہنا پڑتا ہے۔۔۔ کوئی موٹر پاس سے گزرتی ہے تو اس کے اندر بیٹھے ہوئے تمام صاحبان گھورنا شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ حضرت یہ آپ کو کیا خبط سمایا۔ آپ کی موٹر جا رہی ہے، ہم بھی جا رہے ہیں، اس نظربازی کا فائدہ؟\n\nموٹر والوں کو چھوڑیئے، یہ کم بخت ڈلیا والے مزدور (جنہیں دہلی میں جھلی والے اور بمبئی میں پاٹیا والے کہتے ہیں) بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ ’’میم صاحب، لایئے یہ پارسل میں اٹھا لوں۔۔۔ یہ مرتبان مجھے دے دیجئے، میں اٹھا لیتا ہوں۔۔۔‘‘ ان سے کہا جاتا ہے، ’’نہیں بھائی، میں اتنی چھوٹی چیز کے لئے مزدور نہیں چاہتی۔‘‘ جواب ملتا ہے، ’’میم صاحبہ میں آپ سے پیسے تھوڑے ہی مانگتا ہوں۔‘‘ اب بتایئے ان الو کے پٹھوں کو کیا جواب دیا جائے۔ سو سو آفتوں میں ہر وقت جان پڑی رہتی ہے۔۔۔ کوئی ٹھکانا ہے اس عذاب کا۔ خدا کرے نہ رہیں ایسے لوگ اس دنیا کے تختے پر۔ ناک میں دم کر رکھا ہے نابکاروں نے۔۔۔ چھیڑ چھاڑ کو ناپسند کرنے کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہ ایک نہایت ہی لغو اور بیہودہ حرکت ہے کہ جس کا سر ہے نہ پیر، ہمیں آخر کیا سمجھ لیا گیا ہے۔\n\nان نو لڑکیوں میں سے ایک نے کہا۔ مجھے اس چھیڑ چھاڑ سے اتنی ہی نفرت ہے جتنی چوہوں سے بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ۔ ایک اور نے کہا، ’’میں ا س لئے یہ چھیڑ چھاڑ ناپسند کرتی ہوں کہ عورت اس کا جواب تھپڑ مارنے یا گالی دینے کے سوا کسی اور طریقے سے دے ہی نہیں سکتی۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں چیزیں ہم سے نہیں ہو سکتیں۔ اسی واسطے ہم اس سے نفرت کرتی ہیں۔ راہ چلتے چھیڑا جائے تو اور بھی مصیبت ہے۔ اب کیا بیچ بازار کے تو تو میں میں شروع کر دی جائے۔ اصل میں عورت شروع سے دبی ہوئی ہے۔ ا س لئے بیچاری کچھ بھی نہیں کر سکتی، ورنہ ایسے بدنیت مردوں کا علاج ہو سکتا ہے۔\n\nباقی تین لڑکیوں میں سے دو نے اسی سوال کے جواب میں کہا۔ ہمیں یہ چھیڑ چھاڑ ناپسند نہیں مگر وہ چھیڑ چھاڑ یقیناً ناپسند ہے جو بالکل تہذیب سے گری ہوئی ہو۔ یعنی جس میں انتہا درجے کا بھونڈا پن ہو۔ آنکھیں مارنا، کندھے رگڑنا، سلام کرنا، دور سے اشارہ بازی کرنا، فحش مذاق کرنا، یہ سب ہمیں ناپسند ہے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک آنکھ میچ لینے سے کیا ہوتا ہے۔ چھیڑنے کا یہ طریقہ بہت ہی بازاری اور عامیانہ ہے۔ اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے، ’’کیوں، تمہاری کیا صلاح ہے؟‘‘ یہ مذاق نہیں بلکہ ایک نہایت ہی ادنیٰ کاروباری سوال ہے۔ ایسا بھدا اشارہ ہے جو خوش ذوق آدمیوں کو ہر گز استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔ اس میں بنیاپن ہے اور کندھے رگڑنا یا دھکے مارنا اکھاڑوں میں ہونا چاہیئے۔ چھیڑ چھاڑ کشتی گیری نہیں۔\n\nاور بھئی کیا پتا ہے دھکے سے کوئی اوندھے منہ گر پڑے، کوئی جوڑ نکل جائے، کوئی ہڈی ٹوٹ جائے، ہنسی میں کھنسی ہو جائے اور جناب سلام کا تو کوئی مطلب ہی نہیں۔ یہ کیا ہے کہ بار بار ہاتھ جوڑے جا رہے ہیں۔ ماتھے کی طرف ہاتھ لے جایا جا رہا ہے۔ اس فعل میں قابلِ رحم بچپن ہے۔ فحش مذاق کے متعلق کچھ کہنا ہی فضول ہے۔ مذاق شائستہ ہونا چاہیئے، کوئی اس میں بات ہو نہ کہ صرف چھیڑنے کی خاطر چھیڑ دیا جائے۔ کوئی پتھر اٹھا کر سر پر مار دیا جائے۔ پسلیوں میں ٹھونکا دے دیا جائے۔۔۔ کوئی ذائقہ دار بات ہونی چا ہیئے، جس سے دل و دماغ کو فرحت حاصل ہو۔ شگفتگی سی پیدا ہو۔ آدمی ایک دو گھڑی کے لئے خوش ہو جائے۔ ایسی چھیڑ چھاڑ ہمیں پسند ہے اور خدا کرے کہ یہ ہمیشہ جاری رہے۔ اس سے بڑا لطف حاصل ہوتا ہے۔ جوانی کی داستان میں اس قسم کے چٹکلے ضرور ہونے چاہئیں۔ یہ نہ ہوں تو کہانی بالکل خشک اور بے مزہ ہوگی۔\n\nان دو لڑکیوں میں سے ایک نے یہ بھی کہا، ’’بدصورت اور کریہہ النظر مردوں کو تو چھیڑنے کا کوئی حق ہی نہیں، اگر وہ چھیڑنا ہی چاہتے ہیں تو ایسی عورتوں کو منتخب کیا کریں جو ان کا جوڑ ہوں یا بدصورتی میں ان سے کچھ زیادہ ہی نمبر لیتی ہوں۔ بدصورت مردوں کا خوش شکل عورتوں کو چھیڑنا میرے نزدیک ایک بہت بڑا جرم ہے۔ میں خوبصورت نہیں ہوں (یہ لڑکی خوبصورت تھی۔) لیکن وہ صدمہ جو خوش شکل عورتوں کو ایسے مردوں کی چھیڑ چھاڑ سے ہوتا ہے اچھی طرح سمجھ سکتی ہوں۔‘‘\n\nبارہویں یعنی آخری لڑکی نے اس سوال کے جواب میں کہا، مردوں کی چھیڑ چھاڑ کے متعلق میرا خیال بہت اچھا ہے۔ مجھے یہ چیز پسند ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ میں بہت شریر ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ مرد مجھے چھیڑیں تاکہ جواب میں ان کو میں بھی چھیڑ سکوں۔ وہ عورتیں جو سمجھتی ہیں کہ مردوں کو چھیڑ ہی نہیں سکتیں، بیوقوف ہیں۔ وہ سوچتی ہی نہیں کہ مردوں کو اتنی سہولتیں میسر نہیں جتنی کہ ہمیں ہیں۔ ہمارا جوابی حملہ انہیں بوکھلا سکتا ہے، ان کی سٹّی گُم کر سکتا ہے۔ انہیں لاجواب کر سکتا ہے اس لئے کہ ہم عورتیں ہیں۔ ان کو اس کا ہر حالت میں لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ مرد عورت کو کمزور، کم زبان اور کم عقل سمجھتا ہے۔ اس کے اس نظریئے سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ عورت کمزور سہی لیکن وہ کم زبان اور کم عقل تو نہیں۔ اپنی عقل اور اپنی زبان سے کیوں نہ فائدہ اٹھایا جائے۔\n\nمیں سمجھتی ہوں کہ مردوں کے مقابلے میں ہم عورتیں کہیں زیادہ ذہین اور طباع ہیں۔ ہم اگر چاہیں تو مردوں کی زبان بند کر سکتی ہیں۔ ان کی ساری چالاکی ختم کر سکتی ہیں۔۔۔ عورت کے سامنے مرد حیثیت ہی کیا رکھتا ہے۔ عورت سے دور مرد سب کچھ ہے، پر جب وہ عورت کے سامنے آتا ہے تو کشکول اٹھانے والا بھکاری بن جاتا ہے کیونکہ عورت سے وہ سوائے خیرات کے اور مانگتا ہی کیا ہے۔ مرد کے لئےعورت دلچسپ چیز ہے، عورت کے لئے مرد بھی کم دلچسپ چیز نہیں، اور میرا تو یہ خیال ہے کہ ایسی دلچسپ چیز خدا نے پیدا ہی نہیں کی۔۔۔ اکثر عورتیں مرد کو ان آنکھوں سے دیکھتی ہیں جن سے وہ اپنے باپ اور بھائیوں کو دیکھنے کی عادی ہیں۔ یہ غلطی ہے، سب مرد، باپ اور بھائی تو نہیں ہوتے۔\n\nدوسرے سوال کا جواب پہلی نو میں سے پانچ لڑکیوں نے اس طور پر دیا، ’’ہم نفرت سے منہ پھیر لیتی ہیں۔ یادل ہی دل میں ان کو کوس کر خاموش ہو جاتی ہیں۔‘‘ نو میں سے باقی چار لڑکیوں نے کہا، ’’اگر اکیلی ہوں، یعنی ساتھ کوئی مرد نہ ہو تو مجبوراً خاموش ہو جانا پڑتا ہے لیکن اگر کوئی ساتھ مرد ہو تو اس کی مدد لے لی جاتی ہے۔ ایسے موقعوں پر ساتھ والے مرد اکثر یہی کہا کرتے ہیں۔ ’تمہیں شرم نہیں آتی۔۔۔ کیا تمہاری ماں بہن نہیں۔‘ یوں شرم دلانے پر ہماری تسلی ظاہر ہے کہ خاک بھی نہیں ہوتی مگر کیا کیا جائے، سر بازار جھگڑا کرنے سے تو ہم رہیں۔‘‘\n\nان چار لڑکیوں میں سے ایک نے کہا، ’’نہیں بابا میں تو خاموش نہیں رہ سکتی، اگر کوئی مرد میرے ساتھ ایسی حرکت کرے تو میں لڑنے مرنے پر اتر آتی ہوں۔ مجھ میں ذرہ بھر برداشت کا مادہ نہیں ہے۔ میں تو گالیوں کا تانتا باندھ دیا کرتی ہوں اور کیا مجال ہے کہ چھیڑنے والا چوں بھی کر جائے۔ شریف عورتوں سے دل لگی کرنا خالہ جی کا گھر تو نہیں اور بھئی اپنے دل کی بھڑاس تو ضرور نکال لینی چاہیئے۔ چاہے اس میں اپنی بدنامی ہی کیوں نہ ہو۔‘‘\n\n۱۔ اگر چھیڑ چھاڑ شستہ اور تہذیب کے دائر ے کے اندر ہو تو میں مسکرا دیا کرتی ہوں، بس ذرا سی مسکراہٹ جس سے صرف داد کا اظہار ہو، ہونٹوں اور آنکھوں میں پیدا کی اور چل دیئے۔ مردوں کو زیادہ منہ نہیں لگانا چاہیئے کیونکہ زیادہ منہ لگانے سے یہ اکثر بگڑ جاتے ہیں، اگر کسی نے تہذیب سے گرا ہوا مذاق کیا تو حقارت کے آثار چہرے پر خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں۔ چھیڑ چھاڑ کرنے والا یقینی طور پر عورت کے چہرے کی طرف دیکھتا ہے، جب اسے اپنی حماقت کا جواب مل جاتا ہے تو دل ہی دل میں خجل ہو کر ایک طرف سمٹ جاتا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ مرد خواہ کتنا ہی ذلیل ہو اس کے اندر شرم و حیا کا مادہ ضرور ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب کوئی عورت اس کو شرمندہ کرنے کی کوشش کرے تو وہ ضرور شرمندہ ہو جاتا ہے۔\n\n۲۔ اگر چھیڑ چھاڑ نہایت ہی عامیانہ اور بازاری قسم کی ہو تو میں نہ چھیڑنے والے کی طرف غور کرتی ہوں نہ اس کے فعل کی طرف۔ ایسے بدذوق لوگوں کو اہمیت دینا بہت بڑی غلطی ہے۔ البتہ خوش ذوق مردوں کی چھیڑ چھاڑ کی رسید ضرور دینی چاہیئے۔ صرف رسید، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ بد شکل مردوں کی چھیڑ چھاڑ کا جواب میں اپنی زبان نکال کر یا ٹھینگا دکھا کر دیا کرتی ہوں۔ میں نے بہت کوشش کی کہ نفرت اور حقارت کا کوئی اور اچھا ذریعہ اظہار مل جائے مگر ٹھینگا دکھانے سے زیادہ آسان، بااثر اور قریب ذریعہ اظہار مجھے ابھی تک نہیں ملا۔ دراصل کہنا یہ ہوتا ہے، ’’یہ مُنہ اور مسور کی دال۔۔۔ ذرا آئینے میں رخِ مبارک تو د یکھیئے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے Gig saw puzzle نہایت بھونڈے پن سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔‘‘ بہت کچھ کہنے کو جی چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خودبخود ٹھینگا ان کی جانب اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور دل کو تھوڑی سی تسکین حاصل ہو جاتی ہے۔۔۔ یہ میں ابھی تک نہیں سمجھ سکی کہ انگوٹھے کو ان جذبات سے کیا تعلق ہے۔\n\n۳۔ میں مرد کے ہر حملے کا جواب دینے کی قائل ہوں، خواہ وہ کتنا ہی اوچھا کیوں نہ ہو۔ میں چاہتی ہوں کہ ہر عورت اسے اپنا اصول بنا لے۔\n\nتیسرے سوال یعنی، ’’آپ کو کیوں چھیڑا جاتا ہے؟‘‘ کے جواب میں پہلی نو لڑکیوں اور عورتوں نے کہا، ’’جانے ہماری بلا۔۔۔ بری عادت جو ہوئی۔ جن لوگوں کے اخلاق بگڑ جائیں ایسی حرکتیں ہی تو کرتے ہیں۔ ایک دفعہ اگر ان کا دماغ جوتوں سے پلپلا کر دیا جائے تو آئندہ کبھی ان کو جرأت نہ ہو۔‘‘\n\nباقی تین لڑکیوں نے ترتیب وار اس سوال کے جواب میں یہ کہا،\n\n۱۔ ہم عورتوں اور مردوں کے درمیان ایک نہایت ہی لطیف پردہ حائل ہے۔ اس شفاف پردے میں سے مرد اکثر ہماری طرف تعجب آمیز دلچسپی کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ شیشے کی الماری میں رکھی ہوئی چیزیں خواہ مخواہ دلچسپ ہو جاتی ہیں۔ ہم شیشے کی الماریوں میں رکھی ہوئی نمائشی چیزیں ہیں مگر لطف یہ ہے کہ ہمیں ان الماریوں میں خود مردوں ہی نے بند کر رکھا ہے۔\n\n۲۔ جس پنچ پر یہ لکھا ہو، ’’روغن گیلا ہے۔‘‘ اس کو انگلی سے چھو کر ضرور دیکھا جائے گا۔ جس دیوار پر حکم امتناعی لکھا ہو، ’’یہاں اشتہار لگانے منع ہیں۔‘‘ اس پر اشتہار ضرور چسپاں کئے جائیں گے۔ جس راستے پر ’’یہ شارع عام نہیں۔‘‘ کا بورڈ لگا ہو،اس راستے سے لوگ ضرور گزریں گے۔۔۔ عورت بھی ایک قسم کا گیلا روغن ہے، وہ دیوار ہے جس پر اشتہار لگانا منع ہے، یا وہ سڑک ہے جس پر یہ ’’شارع عام نہیں‘‘ کا بورڈ لگا ہے۔\n\n۳۔ ہمیں ا س لئے چھیڑا جاتا ہے کہ ہم چھیڑنے کی چیز ہیں۔ اگر مرد ہمیں نہ چھیڑیں تو کسے چھیڑیں۔۔۔ گھوڑیوں کو؟\n\nچوتھا سوال یہ تھا، ’’کیا آپ مردوں کو چھیڑتی ہیں؟‘‘ اس کا جواب میں نے پہلی نو لڑکیوں سے پوچھنا مناسب خیال نہ کیا۔ باقی تین لڑکیوں میں سے پہلی دو نے کہا، ’’ہم نے آج تک اس معاملے میں کبھی پہل نہیں کی۔ در اصل ہم ڈرپوک ہیں۔ کئی دفعہ جی چاہا ہے کہ چھیڑخانی کی جائے مگر ہمت نہیں پڑی۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ پہل مردوں ہی کی طرف سے ہونی چاہیئے۔‘‘\n\nآخری لڑکی نے کہا، ’’کیوں نہیں، میں ضرور چھیڑتی ہوں۔ جب موقع ملے چھیڑتی ہوں، اگر موقع نہ ملے تو موقع پیدا کر لیتی ہوں۔ موقعے پیدا کرنے عورت کے لئے کیا مشکل ہیں۔ مرد کو تو موقع کی تلاش میں گھنٹوں ضائع کرنے پڑتے ہیں۔ اپنے اندرجرأت پیدا کرنی پڑتی ہے۔ ساری اونچ نیچ پر غور کرنا پڑتا ہے، مگر عورت یہ ابتدائی مرحلے طے کئےبغیر اپنا کام کر سکتی ہے۔ مرد کے چہرے پر ان ابتدائی تیاریوں کے آثار نظر آ جاتے ہیں، یعنی وہ کچھ مضطرب سا، کچھ بے وقوف سا دکھائی دیتا ہے۔ جونہی یہ آثار نظر آئیں عورت کو فوراً اپنا پستول چلا دینا چاہیئے۔ اس کی ساری تیاریاں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ میں تو اکثر یہی کیا کرتی ہوں۔ یوں میں نے کئی شکاری شکار کرنے سے پہلے شکار کئے ہیں۔‘‘\n\nآخری سوال کے جواب میں پہلی نو لڑکیوں اور عورتوں میں سے صرف چار مندرجہ ذیل واقعات بیان کر سکیں۔ ایک نے کہا، میں اسکول میں پڑھتی تھی اور ہر روز تانگے پر جاتی تھی۔ ایک دن میں نے تانگہ اسٹیشنری کی دکان پر ٹھہرایا کیونکہ مجھے کوہ نور پنسل لینا تھی۔ مجھے معلوم نہیں، سائیکل پر ایک لڑکا میرے پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔ جب میں نے پنسل نکالنے کے لئے دکاندار سے کہا تو وہ جھٹ سے آگے بڑھا اور دکاندار سے کہنے لگا، ’’ایک پنسل کوہ نور میرے لئے بھی۔‘‘ دکاندار دو پنسلیں نکال کر لے آیا۔ ’’کتنے پیسے؟‘‘ اس لڑکے نے پوچھا۔ دکاندار نے جواب دیا، ’’ساڑھے تین آنے۔‘‘ لڑکے نے پنسل پھینک دی اور کہا، ’’تم نے تو صریحاً لوٹ مچا رکھی ہے۔ دوسری دکان پر یہ پنسل تین آنے میں ملتی ہے۔‘‘ پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوا، ’’آیئے میں آپ کو وہ دکان دکھا دوں۔‘‘\n\nمیرے جواب کا انتظار کئے بغیر اس نے سائیکل کے پیڈل پر پیر رکھا اور کوچوان کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر کے چل پڑا۔ میں نے دل میں سوچا، یہ دکاندار واقعی بہت گراں فروش ہے، ضرور اس پنسل میں یہ دو پیسے زیادہ منافع لے رہا ہے۔ چنانچہ تانگہ اس لڑکے کی سائیکل کے پیچھے پیچھے چلا۔ تھوڑی ہی دور چل کر وہ سائیکل پر سے اترا اور مجھ سے کہنے لگا، ’’یہ دکان ہے۔‘‘ پھر اس نے دکاندار سے بڑی بے تکلفی کے ساتھ کہا، ’’مولوی صاحب کوہ نور کی دو پنسلیں نکا لئے گا۔‘‘ دکاندار فوراً دو پنسلیں نکال کر لے آیا۔ اس پر لڑکے نے مجھ سے کہا، ’’اس کو تین آنے دے دیجئے۔‘‘ میں نے تین آنے ادا کر دیے۔ لڑکا سامنےا سکول میں داخل ہو گیا اور میں آگے چل دی۔\n\nاسکول جا کر میں نے ایک سہیلی سے بات کی۔ اس نے کہا، ’’کوہ نور کی پنسل تو ہر جگہ ساڑھے تین آنے میں ملتی ہے، اس دکاندار نے تین آنے میں کیسے دے دی۔‘‘ میں نے کہا، ’’تم میرے ساتھ چلو۔ میں تمہیں اس سے لے دوں گی۔‘‘ اسکول کا ٹائم ختم ہونے سے پہلے پہلے چار لڑکیاں میرے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئیں۔ ہم سب اس دکان پر گئیں۔ میں نے چار پنسلیں ان کو اسی دام پر لے دیں۔ دوسرے روز چھ میں نے اپنے بھائی جان کے لئے خریدیں۔ شام کو جب میں اپنی استانی کے لئے بارہ پنسلیں خریدنے کے لئے اس دکان پر پہنچی تو دکاندار نے کہا، ’’وہ صاحب جو اس روز آپ کے ساتھ آئے تھے، چھ آنے جمع کرا گئے تھے، ایک پنسل انہوں نے لے لی تھی، اس کے پورے دام انہوں نے دے دیے تھے۔ گیارہ پنسلیں آپ نے لیں۔ تین آنے کے حساب سے چھ آنے میں سے جو انہوں نے یہ کمی پوری کرنے کے لئے جمع کرائے تھے، دو پیسے باقی بچتے ہیں۔ آپ ایک پنسل لے جا سکتی ہیں۔‘‘ یہ سن کر مجھے بے حد شرم آئی اور غصہ بھی بہت آیا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس نے یہ شرارت کیوں کی۔ یہ واقعہ اسی وجہ سے مجھے اب تک یاد ہے۔\n\nدوسری نے کہا، ’’میرے پیٹ میں تھا۔ ہم لوگ پہلی مرتبہ قطب دیکھنے گئے تھے اور میں آہستہ آہستہ ان کے پیچھے سیڑھیاں طے کر رہی تھی۔ ایک اندھیرا تھا، دوسرے میری طبیعت خراب تھی۔ قدم پھونک پھونک کے رکھنا پڑتا تھا۔ دم پھول رہا تھا اور سر چکرا رہا تھا۔ ان تمام مصیبتوں کے باوجود میں نے تہیہ کر رکھا تھا کہ آخری منزل تک ضرور پہنچوں گی، خواہ راستے ہی میں دم نکل جائے، لیکن دوسری منزل تک پہنچتے پہنچتے میری طبیعت اتنی خراب ہوئی کہ مجھے دیوار کا سہارا لے کر رکنا پڑا۔ دو نوجوان لڑکے میرے پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے مخاطب ہو کر کہا،’اگر قطب الدین ایبک کو اس بات کی خبر ہوتی تو لاٹھ کے بجائے اس نے یقیناً میٹرنٹی ہوم تعمیر کرایا ہوتا۔‘ دانت پیس کر ہی تو رہ گئی۔ ان اللہ کے ماروں کو مذاق بھی کب سوجھتا ہے۔‘‘\n\nتیسری نے کہا، ’’پتا جی کی تبدیلی لاہور ہوئی تو ہم نے۔۔۔ میں ایک مکان کرائے پر لے کر رہنا شروع کیا۔ سردیوں کا موسم آیا تو میں پہلی مرتبہ دھوپ سینکنے کے لئے کوٹھے پر چڑھی۔ سامنے ہی ایک اور کوٹھا تھا۔ وہاں ایک لڑکا کھڑا تھا۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی ہاتھ جوڑ کر نمستے کی۔ مجھے اس کی اس حرکت پر بہت غصہ آیا چنانچہ میں نے فوراً آواز دی، ’’ماتا جی!‘‘ لڑکے نے جب یہ آواز سنی تو جوڑے ہوئے ہاتھ کھول دیےاور بازو پھیلا کر ورزش شروع کر دی۔ بانہوں کے بعد اس نے ٹانگوں کی ورزش کی اور دس منٹ کے بعد مجھے دیکھتا ہُوا نیچے اتر گیا۔ اس کی اس دلچسپ حرکت پر مجھے بے حد ہنسی آئی۔ اس واقعے کو چار برس گزر چکے ہیں مگر جب کبھی میں اس لڑکے کے بستہ ہاتھوں کا تصور کرتی ہوں جو میرے ’’ماتا جی‘‘ کہنے پر ورزشی انداز میں کھل گئے تھے تو مجھے بے اختیار ہنسی آتی ہے۔‘‘\n\nچوتھی نے کہا، ’’ہم ہر روز اسکول سے فارغ ہو کر ایک قطار میں واپس آیا کرتی تھیں۔ اسکول پرائیویٹ قسم کا تھا۔ ہمارے ساتھ ہیڈماسٹر بھی ہوا کرتا تھا۔ ایک روز اسی طرح ہم واپس آ رہی تھیں کہ ہال بازار میں ہماری چار لڑکوں سے مڈ بھیڑ ہوئی جو غالباً ہاکی کھیلنے جا رہے تھے کیونکہ ہر ایک کے ہاتھ میں اسٹک تھی۔ ان لڑکوں میں سے ایک نے ہم سب کوگھورگھور کے دیکھا۔ ہم میں کچھ بہت چھوٹی بھی تھیں۔ ان کی طرف اس نے غور نہ کیا۔ جو جوان تھیں ان کو اس نے بلند آواز میں گننا شروع کر دیا، ’’ایک۔۔۔ دو۔۔۔ تین۔۔۔ چار۔۔۔‘‘ ہیڈ ماسٹر صاحب، یہ دیکھ کر فوراً آگے بڑھے، ’’تمہیں شرم آنی چاہیئے۔‘‘\n\nلڑکے نے جیسے ہیڈ ماسٹر صاحب کی بات سنی ہی نہیں، کہنے لگا ’’پانچ، چھ، سات، آٹھ، نو، دس۔۔۔ دس گول۔۔۔ ہاف ٹائم میں دس گول کون یقین کرے گا۔‘‘ ہیڈ ماسٹر صاحب خاموش ہو گئے۔ انہوں نے دل میں سوچا ہوگا کہ چلو اچھا ہوا، جو اس نے میری بات نہ سنی ورنہ خواہ مخواہ جھگڑا ہو جاتا۔۔۔ مجھے اس لڑکے کی یہ چالاکی کبھی نہیں بھولے گی۔ بات کا کانٹا بدلتے وقت اس کے چہرے پر مجال ہے جو ذرا بھر گھبراہٹ نظر آئی ہو۔‘‘\n\nباقی تین لڑکیوں نے آخری سوال کے جواب میں ترتیب وار ذیل کے واقعات بیان کئے۔\n\n۱۔ یہ بمبئی کی بات ہے، میں اور میری سہیلی دونوں بس میں ماہم کا میلہ دیکھنے جا رہی تھیں۔ موسم بہت اچھا تھا۔ شام کا وقت تھا۔ ہم بالائی منزل پر تھیں۔ ا س لئے ہوا کے جھونکے خوب مزا دے رہے تھے۔ جب بس دادر کے پل پر چڑھی تو ادھر ادھر ریلوے لائنوں کا ایک جال سا بکھرا نظر آیا۔ میرے اس طرف دوسری رو میں ایک خوش شکل لڑکا بیٹھا تھا۔ سگریٹ کے دھوئیں کے چھلے بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اس نے کھڑکی میں سے باہر جھانک کر دیکھا اور اپنے ساتھی سے کہا، ’’ہاتھی، سفید ہاتھی۔‘‘ میں نے اپنی سیٹ پر سے ذرا اٹھ کر اس طرف دیکھا، مگر مجھے ہاتھی نظر نہ آیا۔ اس پر اس لڑکے نے مجھ سے مخاطب ہو کر بڑے فلسفیانہ انداز میں کہا، ’’اسے تخیل کی فسوں کاری کہتے ہیں۔۔۔‘‘\n\nبات بڑی معمولی ہے مگر یہ واقعہ میرے دل و دماغ میں ہمیشہ کے لئے مرتسم ہو چکا ہے۔ ’’اسے تخیل کی فسوں کاری کہتے ہیں۔‘‘ اس گورے چٹے لڑکے نے یہ فقرہ ایسے دلکش انداز میں کہا کہ میں بے حد متاثر ہُوئی۔ اس کی آنکھوں میں مصنوعی شاعرانہ پن تھا۔ چہرے پر ایک عجیب قسم کی قلندرانہ متانت تھی۔ پھر مجھے مسکراتا دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر جو تبسم پیدا ہوا، اس میں اچھی بنی ہوئی چائے کی سی گھلاوٹ تھی۔\n\n۲۔ سردیوں کا موسم تھا۔ رگوں میں خون منجمد ہوا جاتا تھا۔ انہی دنوں میں ہمارا ایک دور کا رشتہ دار ملازمت کی تلاش میں آیا اور کچھ دیر ہمارے پاس ٹھہرا۔ یہ لڑکا جس کی عمر بائیس برس کے قریب ہوگی، اچھے ڈیل ڈول کا تھا۔ بھرا بھرا جسم جو کسی حد تک موٹاپے کی طرف مائل تھا۔ گال سرخ، رنگ سفید جیساکہ عام طور پر کشمیریوں کا ہوتا ہے۔ دودھ پینے کا بہت قائل تھا۔ آتے ہی اس نے امی جان سے کہا، ’’آپ کو تکلیف تو ضرور ہوگی مگر میں ناشتے پر ایک گلاس دودھ اور دو کچے انڈے ضرور پیا کرتا ہوں۔ کھاتا بھی خوب ہوں۔‘‘\n\nاس کو ورزش کا بھی شوق تھا۔ چنانچہ صبح اٹھ کر ڈمبلوں سے اکسرسائز کرتا تھا اور اس کے بعد ٹھنڈے پانی سے نہانا فخر سمجھتا تھا۔ ایک روز میں نے اس سے پوچھا، ’’اتنی سردی میں ٹھنڈے برف پانی سے نہانا کیا ضروری ہے اور پھر ہر روز۔‘‘ اس کے جواب میں اس نے اپنی چھاتی چوڑی کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے تو بالکل سردی محسوس نہیں ہوتی۔ خدا جانے آپ لوگوں کے دانت کیوں بجتے رہتے ہیں۔ ادھر میری طرف دیکھئے صرف ایک قمیص پہنے ہوں، نیچے بنیان بھی نہیں، بہت زیادہ سردی ہو تو چند دنوں کے لئے یہ تکلف کرنا پڑتا ہے ورنہ کبھی نہیں۔‘‘\n\nتین چار روز تک اس نے ہم سب پر اس طرح رعب گانٹھا۔ جب ملازمت نہ ملی تو مایوس ہو کر وہ میری طرف متوجہ ہوا اور کچھ چھیڑ چھاڑ شروع کی۔ مجھے چونکہ ہر روز نہانے سے اور دودھ پینے سے سخت نفرت ہے۔ اس لئے میں نے اس سے بدلہ لینے کی ٹھانی۔ اس کے اور میرے درمیان جو باتیں ہوئیں، میں بیان کرنا نہیں چاہتی۔ قصّہ مختصر یہ ہے کہ ہم نے ایک رات کوٹھی کے باہر اصطبل میں ملنا طے کر لیا۔ اب کچھ اصطبل کے متعلق۔ یہ ایک چھوٹی سی کوٹھری ہے جسے ابا جی اصطبل کہا کرتے ہیں۔ اس میں ایک عدد گائے بندھی رہتی ہے۔ رات کے بارہ بجے یعنی مقررہ وقت پر وہ اپنے کمرے سے کھسک کر اصطبل کے پاس آ گیا۔ میں بھی کسی نہ کسی طریقے سے وہاں پہنچ چکی تھی۔ جونہی وہ آیا میں نے اسے اصطبل کے اندر داخل کر دیا۔ آپ کچھ دیر یہاں کھڑے رہیں۔ میں کوٹھی کے اندر جا کر اپنا اطمینان کر آؤں۔ ممکن ہے کوئی جاگتا ہو۔ اس نے جب گائے کو دیکھا تو ٹھٹکا۔ میں نے مسکرا کر کہا، ’’آپ کو تو اس کے دودھ سے بہت پیار ہے۔ ڈرتے کیوں ہیں میں ابھی آئی۔‘‘ میں نے اس کو اندر داخل کیا اور باہر سے دروازہ بند کر کے کنڈی چڑھا دی۔\n\nصبح چھ بجے کے قریب اتفاقاً جب میری آنکھ کھلی تو مجھے اس کا دھیان آیا۔ میرا دل دھک دھک کرنے لگا۔ دوڑی دوڑی گئی۔ کواڑ کے ایک سوراخ سے میں نے اندر دیکھا۔ وہ گائے کا کالا اور کھردرا کمبل اوڑھے گائے پر بیٹھا تھا۔ میں نے دروازہ کھولا اور اس سے کہا، ’’معاف کیجئے گا۔ میں نے واپس آنے کی بہت کوشش کی مگر امی جان نے مجھے اپنے ساتھ لٹا لیا۔ انہیں بہت سردی لگ رہی تھی۔ میں کیسے آپ سے معافی مانگوں۔ آپ کو بہت تکلیف ہوئی ہوگی۔‘‘ اس نے میری کسی بات کا جواب نہ دیا۔ شکر ہے کہ گھر میں کسی کو اس واقعے کی خبر نہ ہوئی۔ آٹھ بجے کے قریب اس نے نوکر کو بلایا اور کہا، ’’آج میں گرم پانی سے نہاؤں گا۔‘‘ پھر نو بجے جب ناشتہ چنا گیا تو اس نے دودھ پینے سے انکار کر دیا، ’’میں آج چائے پیوں گا۔‘‘ مجھے اس قدر مسرت حاصل ہوئی کہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ اب اس سے میری باقاعدہ خط و کتابت جاری ہے۔\n\n۳۔ دو برس پہلے کی بات ہے جس کا میری شرارت پسندیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ یوں تو میری زندگی میں ایسے بہت سے واقعے ہیں جو یاد رکھنے کے قابل ہیں، لیکن یہ واقعہ جو میں اب بیان کروں گی، ایسا ہے جو مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔ میں بہت شریر ہوں۔ حاضر جواب تو بلا کی ہوں۔ میں کبھی پریشان نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی میں پہلی مرتبہ جب مجھے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تو عجیب و غریب لطف کا احساس ہوا۔ جیساکہ آپ کو واقعے کے بیان سے معلوم ہوگا۔ میری پریشانی کا باعث کسی مرد کی چالاکی یا ہوشیاری نہیں تھی بلکہ محض ایک حادثے کی وجہ سے مجھے بے حد خفیف ہونا پڑا۔\n\nمیں نے ٹریم میں کبھی سفر نہیں کیا تھا لیکن مجبوراً ایک روز مجھے اس میں سوار ہونا پڑا۔ مجھے جلدی پہنچنا تھا۔ بس آنے میں پانچ منٹ باقی تھے۔ ٹریم سامنے کھڑی تھی، چنانچہ میں اس میں بیٹھ گئی۔ میرے سامنے ایک بہت ہی موٹا پارسی بیٹھا تھا۔ اس کی توند اس قدر بڑھی تھی اور اس کی گردن جس پر کلف لگا کالر چڑھا تھا، اس قدر موٹی تھی کہ اگر وہ نیچے فرش کی طرف دیکھنا چاہتا تو اسے لیٹنا پڑتا۔ مجھے سخت زکام ہو رہا تھا۔ میرے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ریشمی رومال تھا جس سے میں بار بار اپنی ناک صاف کر رہی تھی۔ جب ٹریم چلی تو لال باغ کے قریب ہوا کا ایک زبردست جھونکا آیا۔ رومال میرے ہاتھ سے اڑا اور اس موئے پارسی کی ران پر جا گرا۔ کچھ دیر تک میں نے دل ہی دل میں کئی طریقے یہ رومال حاصل کرنے کے لئے سوچے۔ یہ بھی خیال آیا کہ اسے مخاطب کر کے کہوں، میرا رومال گرگیا ہے، براہ مہربانی مجھے دے دیجئے۔ لیکن سوچا کہ وہ گردن جھکا کر کیسے دیکھ سکے گا۔ میں نے خود اس کو بتا کر وہاں سے رومال اٹھانا نہیں چاہتی تھی، چنانچہ میں نے ارادہ کر لیا کہ چپ چاپ آنکھ بچا کر دو انگلیوں کی مدد سے بالکل آہستگی کے ساتھ اسے اٹھا لوں گی۔ میں نے کئی مرتبہ کوشش کی لیکن ہر بار اس ڈر کے مارے کہ ٹریم میں بیٹھا ہوا کوئی اور آدمی دیکھ لے گا۔ مجھے اپنا ہاتھ کھینچنا پڑا۔\n\nمجھے غیر معمولی طور پر مضطرب دیکھ کر پارسی کو ایسا محسوس ہوا کہ فضا میں کچھ گڑبڑ سی ہے، مجھے کھڑکی میں سے باہر جھانکتے دیکھ کر کئی مرتبہ اسے بھی اپنی اکڑی ہوئی گردن موڑ کر باہر جھانکنا پڑا۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ میں اس رومال کو وہیں چھوڑ دیتی اور بازار سے ایک اور خرید لیتی مگر وہ ایک دوست کا تحفہ تھا اس لئے مجھے بے حد عزیز تھا۔ میں نے آخری بار ارادہ کر کے جب ہاتھ اس طرف بڑھایا تو پارسی بے چین ہو گیا۔ میں اس کی طرف خدا معلوم کن نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کو اب پکا یقین ہو گیا کہ میرے اضطراب کا باعث اس کا کوئی ایسا نقص ہے جس سے وہ ابھی تک غافل ہے۔ اس نے بڑی وقت سے اپنی گردن جھکائی۔ موٹے موٹے گدگدے ہاتھ رانوں پر ادھر ادھر پھیرے، ایک ہاتھ کے نیچے میرا رومال آیا۔ ایک دم اس کا چہرہ لال سرخ ہو گیا۔\n\nجلدی سے بڑی پھرتی کے ساتھ اس نے انگلیوں کی مدد سے میرے اس ننھے سے رومال کو اپنی پتلون کے اندر داخل کر لیا۔۔۔ کم بخت نے یہ خیال کیا کہ اس کی قمیص کا دامن باہر نکلا ہوا ہے۔ ادھر اس کا چہرہ لال ہو رہا تھا ادھر میرا۔ ہم دونوں اپنی اپنی جگہ پر شرم محسوس کرتے رہے۔ میں تو اس حادثے کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکی۔ جونہی ٹریم ٹھہری میں اس پارسی کی طرف دیکھے بغیر اتر گئی۔ میں اس واقعے کو قریب قریب بھول چکی تھی کہ چھ یا سات مہینے کے بعد کرا فورڈ مارکیٹ کے پاس جب کہ میں ایک دکان سے بھنا ہوا پستہ لے رہی تھی۔ ایک خوش پوش نوجوان میرے قریب آیا۔ اس نے اپنی جیب میں سے باریک کاغذ میں لپٹی ہوئی ایک چیز نکالی اور مجھ سے کہا، ’’معاف فرمایئے گا۔ آپ کی ایک چیز گُم ہو گئی تھی جو مجھے مل گئی۔ آج حاضر کر رہا ہوں۔‘‘\n\nمیں نے باریک کاغذ کھول کر دیکھا تو میرا چہرہ کانوں تک سرخ ہو گیا۔۔۔ وہی رومال تھا جو اس موئے پارسی نے اپنی پتلون میں داخل کر لیا تھا۔۔۔ مجھے بے حد شرم محسوس ہوئی۔ غصّہ بھی بہت آیا۔ تھوڑی سی ہنسی بھی آئی اور میں حیران ہوں کہ ایک دم میری آنکھوں میں آنسو بھی آ گئے۔۔۔ شاید ا س لئے کہ میں نے اس نوجوان کو اب پہچان لیا تھا۔ ٹریم میں یہ اس روز دور ایک کونے میں بیٹھا تھا۔۔۔ مجھے کوئی بات نہ سوجھی۔۔۔ ٹھیک طور پر میں اپنے کھسیانے پن کا بھی اظہار نہ کر سکی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D9%88%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "کچھ وقت سے ایک بیج شجر ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کچھ وقت سے ایک بیج شجر ہوتا ہے\nکچھ روز میں ایک قطرہ گہر ہوتا ہے\nاے بندۂ نا صبور تیرا ہر کام\nکچھ دیر میں ہوتا ہے مگر ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%DB%8C%D8%AC_%D8%B4%D8%AC%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کچھ چپ ہیں آئنہ جو وہ ہر بار دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ چپ ہیں آئنہ جو وہ ہر بار دیکھ کر\nکڑھتے ہیں اپنی چشم کو بیمار دیکھ کر\n\nآساں نہیں معاملہ اس پختہ کار سے\nلیتا ہے جنس دل کو بھی سو بار دیکھ کر\n\nنازاں ہے اپنی قوت بازو پہ کس قدر\nپیکاں کی جا وہ سینے میں سوفار دیکھ کر\n\nروتے ہیں اپنے حال پہ پھر کیوں یہ نا سپاس\nکہتا ہے مری چشم گہر بار دیکھ کر\n\nعارفؔ بھرے ہوئے ہیں مضامین درد و غم\nخوش ہووے کیا کوئی مرے اشعار دیکھ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%86%D9%BE_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D9%88%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کچھ کام نہیں گبرو مسلماں سے ہمیں", "poet_page": "مصنف:جارج پیش شور", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کچھ کام نہیں گبرو مسلماں سے ہمیں\nہے کفر سے کچھ بحث نہ ایماں سے ہمیں\nرہنے کے لیے دیر و حرم ہیں یکساں\nاک روز سفر کرنا ہے پھر یاں سے ہمیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کچھ کرو فکر مجھ دیوانے کی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ کرو فکر مجھ دیوانے کی\nدھوم ہے پھر بہار آنے کی\n\nدل کا اس کنج لب سے دے ہے نشاں\nبات لگتی تو ہے ٹھکانے کی\n\nوہ جو پھرتا ہے مجھ سے دور ہی دور\nہے یہ تقریب جی کے جانے کی\n\nتیز یوں ہی نہ تھی شب آتش شوق\nتھی خبر گرم اس کے آنے کی\n\nخضر اس خط سبز پر تو موا\nدھن ہے اب اپنے زہر کھانے کی\n\nدل صد چاک باب زلف ہے لیک\nباؤ سی بندھ رہی ہے شانے کی\n\nکسو کم ظرف نے لگائی آہ\nتجھ سے مے خانے کے جلانے کی\n\nورنہ اے شیخ شہر واجب تھی\nجام داری شراب خانے کی\n\nجو ہے سو پائمال غم ہے میرؔ\nچال بے ڈول ہے زمانے کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%D8%B1%D9%88_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "کچھ کم تو ہوا رنج فراوان تمنا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ کم تو ہوا رنج فراوان تمنا\nآغاز جنوں گو نہیں پایان تمنا\n\nپھر یاس نے رکھا ہے قدم خانۂ دل میں\nیعنی ہے اب اللہ نگہبان تمنا\n\nگو چاک ہوا دل مگر ارمان نہ نکلے\nبے فائدہ کھولا در زندان تمنا\n\nافسانہ مرا خواب زلیخائے محبت\nجلوہ ہے ترا یوسف کنعان تمنا\n\nجز وعدۂ باطل نہیں بنیاد کچھ اس کی\nدل کانپ اٹھا دیکھ کے ایوان تمنا\n\nاک جان ہے وہ خیر سے وارفتۂ غم ہے\nاک دل ہے سو ہے سوختہ سامان تمنا\n\nفانیؔ کا دم اک دن ترے قدموں پہ نکل جائے\nدل کی یہ تمنا ہے اب اے جان تمنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%D9%85_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%88%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7"} {"title": "کچھ کم نہیں ہیں شمع سے دل کی لگن میں ہم", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ کم نہیں ہیں شمع سے دل کی لگن میں ہم\nفانوس میں وہ جلتی ہے یاں پیرہن میں ہم\n\nہیں تفتہ جاں مفارقت گل بدن میں ہم\nایسا نہ ہو کہ آگ لگا دیں چمن میں ہم\n\nگم ہوں گے بوئے زلف شکن در شکن میں ہم\nقبضہ کریں گے چین کو لے کر ختن میں ہم\n\nگر یہ ہی چھیڑ دست جنوں کی رہی تو بس\nمر کر بھی سینہ چاک کریں گے کفن میں ہم\n\nمحو خیال زلف بتاں عمر بھر رہے\nمشہور کیوں نہ ہوں کہو دیوانہ پن میں ہم\n\nہوں گے عزیز خلق کی نظروں میں دیکھنا\nگر کر بھی اپنے یار کے چاہ ذقن میں ہم\n\nچھکے ہی چھوٹ جائیں گے غیروں کے دیکھنا\nآ نکلے ہاں کبھی جو تری انجمن میں ہم\n\nاے عندلیب دعوی بیہودہ پر کہیں\nایک آدھ گل کا منہ نہ مسل دیں چمن میں ہم\n\nعاشق ہوئے ہیں پردہ نشیں پر بس اس لیے\nرکھتے ہیں سوز عشق نہاں جان و تن میں ہم\n\nظالم کی سچ مثل ہے کہ رسی دراز ہے\nمصداق اس کا پاتے ہیں چرخ کہن میں ہم\n\nعنقا کا عیشؔ نام تو ہے گو نشاں نہیں\nیاں وہ بھی کھو چکے ہیں تلاش دہن میں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%DA%AF%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "کچھ کہوں کہنا جو میرا کیجیے", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ کہوں کہنا جو میرا کیجیے\nچاہنے والے کو چاہا کیجیے\n\nحوصلہ تیغ جفا کا رہ نہ جائے\nآئیے خون تمنا کیجیے\n\nفتنۂ روز قیامت ہے وہ چال\nآج وہ آتے ہیں دیکھا کیجیے\n\nکس کو دیکھا ان کی صورت دیکھ کر\nجی میں آتا ہے کہ سجدا کیجیے\n\nفتنے سب برپا کئے ہیں حسن نے\nمیری الفت کو نہ رسوا کیجیے\n\nحور جنت ان سے کچھ بڑھ کر سہی\nایک دل کیا کیا تمنا کیجیے\n\nکر دیا حیرت نے مجھ کو آئنہ\nبے تکلف منہ دکھایا کیجیے\n\nجوش میں آ جائے رحمت کی طرح\nایک اک قطرہ کو دریا کیجیے\n\nنام اگر درکار ہے مثل نگیں\nایک گھر میں جم کے بیٹھا کیجیے\n\nمل چکے اب ملنے والے خاک کے\nقبر پر جا جا کے رویا کیجیے\n\nکون تھا کل باعث بے پردگی\nآپ مجھ سے آج پردا کیجیے\n\nکل کی باتوں میں تو کچھ نرمی سی ہے\nآج پھر قاصد روانا کیجیے\n\nراہ تکتے تکتے آسیؔ چل بسا\nکیوں کسی سے آپ وعدا کیجیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%8C%DB%92"} {"title": "کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا\nمرتے مرتے ہوش باقی تیرے دیوانے میں تھا\n\nہائے وہ خود رفتگی الجھے ہوئے سب سر کے بال\nوہ کسی میں اب کہاں جو تیرے دیوانے میں تھا\n\nجس طرف جائے نظر اپنا ہی جلوہ تھا عیاں\nجسم میں ہم تھے کہ وحشی آئینہ خانے میں تھا\n\nبوریا تھا کچھ شبینہ مے تھی یا ٹوٹے سبو\nاور کیا اس کے سوا مستوں کے ویرانے میں تھا\n\nہنستے ہنستے رو دیا کرتے تھے سب بے اختیار\nاک نئی ترکیب کا درد اپنے افسانے میں تھا\n\nسن چکے جب حال میرا لے کے انگڑائی کہا\nکس غضب کا درد ظالم تیرے افسانے میں تھا\n\nدون کی لیتا تو ہے زاہد مگر میں کیا کہوں\nمتقی ساقی سے بڑھ کر کون مے خانے میں تھا\n\nپاس تھا زنجیر تک کا طوق پر کیا منحصر\nوہ کسی میں اب کہاں جو تیرے دیوانے میں تھا\n\nدیر تک میں ٹکٹکی باندھے ہوئے دیکھا کیا\nچہرۂ ساقی نمایاں صاف پیمانے میں تھا\n\nہائے پروانے کا وہ جلنا وہ رونا شمع کا\nمیں نے روکا ورنہ کیا آنسو نکل آنے میں تھا\n\nخود غرض دنیا کی حالت قابل عبرت تھی شادؔ\nلطف ملنے کا نہ اپنے میں نہ بیگانے میں تھا\n\nشادؔ کچھ پوچھو نہ مجھ سے میرے دل کے داغ کو\nٹمٹماتا سا چراغ اک اپنے ویرانے میں تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%BA%D8%B1%D9%82_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کچھوا اور خرگوش", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ایک کچھوے کے آ گئی جی میں\nکیجئے سیر و گشت خشکی کی\nجا رہا تھا چلا ہوا خاموش\nاس سے ناحق الجھ پڑا خرگوش\nمیاں کچھوے! تمہاری چال ہے یہ\nیا کوئی شامت اور وبال ہے یہ\nیوں قدم پھونک پھونک دھرتے ہو\nگویا اتو زمیں پہ دھرتے ہو\nکیوں ہوئے چل کے مفت میں بد نام\nبے چلے کیا اٹک رہا تھا کام\nتم کو یہ حوصلہ نہ کرنا تھا\nچلو پانی میں ڈوب مرنا تھا\nیہ تن و توش اور یہ رفتار\nایسی رفتار پر خدا کی مار\nبولا کچھوا کہ ہوں خفا نہ حضور\nمیں تو ہوں آپ معترف بہ قصور\nاگر آہستگی ہے جرم و گناہ\nتو میں خود اپنے جرم کا ہوں گواہ\nمجھ کو جو سخت سست فرمایا\nآپ نے سب درست فرمایا\nمجھ کو غافل مگر نہ جانئے گا\nبندہ پرور برا نہ مانئے گا\nیوں زبانی جواب تو کیا دوں\nشرط بد کر چلو تو دکھلا دوں\nتم تو ہو آفتاب میں ذرہ\nپر مٹا دوں گا آپ کا غرہ\nسن کے خرگوش نے یہ تلخ جواب\nکہا کچھوے سے یوں زروئے عتاب\nتو کرے میری ہم سری کا خیال\nتیری یہ تاب یہ سکت یہ مجال\nچیونٹی کے جو پر نکل آئے\nتو یقیں ہے کہ اب اجل آئے\nارے بے باک! بد زباں منہ پھٹ\nتو نے دیکھی کہاں ہے دوڑ جھپٹ\nجب میں تیزی سے جست کرتا ہوں\nشہسواروں کو پست کرتا ہوں\nگرد کو میری باد پا نہ لگے\nلاکھ دوڑے مرا پتہ نہ لگے\nریل ہوں برق ہوں چھلاوا ہوں\nمیں چھلاوے کا بلکہ باوا ہوں\nتیری میری نبھے گی صحبت کیا\nآسماں کو زمیں سے نسبت کیا\nجس نے بھگتے ہوں ترکی و تازی\nایسے مریل سے کیا بدے بازی\nبات کو اب زیادہ کیا دوں طول\nخیر کرتا ہوں تیری شرط قبول\nہے مناسب کہ امتحاں ہو جائے\nتاکہ عیب و ہنر عیاں ہو جائے\nالغرض اک مقام ٹھہرا کر\nہوئے دونوں حریف گرم سفر\nبسکہ زوروں پہ تھا چڑھا خرگوش\nتیزی پھرتی سے یوں بڑھا خرگوش\nجس طرح جائے توپ کا گولا\nیا گرے آسمان سے اولا\nایک دو کھیت چوکڑی بھر کے\nاپنی چستی پہ آفریں کر کے\nکسی گوشہ میں سو گیا جا کر\nفکر کیا ہے چلیں گے سستا کر\nاور کچھوا غریب آہستہ\nچلا سینہ کو خاک پر گھستا\nسوئی گھنٹے کی جیسے چلتی ہے\nیا بہ تدریج چھاؤں ڈھلتی ہے\nیوں ہی چلتا رہا بہ استقلال\nنہ کیا کچھ ادھر ادھر کا خیال\nکام کرتا رہا جو پے در پے\nکر گیا رفتہ رفتہ منزل طے\nحیف خرگوش رہ گیا سوتا\nثمرہ غفلت کا اور کیا ہوتا\nجب کھلی آنکھ تو سویرا تھا\nسخت شرمندگی نے گھیرا تھا\nصبر و محبت میں ہے سرافرازی\nسست کچھوے نے جیت لی بازی\nنہیں قصہ یہ دل لگی کے لیے\nبلکہ عبرت ہے آدمی کے لیے\nہے سخن اس حجاب میں روپوش\nورنہ کچھوا کہاں کہاں خرگوش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%86%DA%BE%D9%88%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AE%D8%B1%DA%AF%D9%88%D8%B4"} {"title": "کھا لیتے ہیں غصے میں تلوار کٹاری کیا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھا لیتے ہیں غصے میں تلوار کٹاری کیا\nہم لوگ ہیں سودائی اوقات ہماری کیا\n\nبجلی سے لپٹ کر ہم بھسمنت ہوئے آخر\nاس کو ترے دامن کی سمجھے تھے کناری کیا\n\nجوں شمع سر شب سے میں رونے کو بیٹھا ہوں\nتا آخر شب دیکھوں دکھلائے یہ زاری کیا\n\nگھبرائی جو پھرتی ہے اس طور صبا ہر سو\nآتی ہے گلستاں کو اس گل کی سواری کیا\n\nرونا مری آنکھوں سے جب تک کہ نہ سیکھے گا\nجا بیٹھ تو رووے گا اے ابر بہاری کیا\n\nسوتے سے تو اٹھنے دو ٹک اس کو سحر ہوتے\nدیکھو گے کہ مچلے گی وہ چشم خماری کیا\n\nنرگس کی خجل آنکھیں اتنی تو نہ تھیں گاہے\nاس چشم مفتن سے بازی کوئی ہاری کیا\n\nاوقات مجرد کی کس طرح بسر ہووے\nجنگل ہے یہ بکتی ہے یاں نان نہاری کیا\n\nاے مصحفیؔ میں اس کو جی جان سے گو چاہا\nآخر کو ہوا حاصل جز ذلت و خواری کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D8%B5%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%B9%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کھا کے کل ہو پیچ و تاب اٹھا جو دل سے نالہ تھا", "poet_page": "مصنف:ممنونؔ نظام الدین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھا کے کل ہو پیچ و تاب اٹھا جو دل سے نالہ تھا\nجا کے گردوں پہ چمکتا شعلۂ جوالہ تھا\n\nخواب میں بوسہ لیا تھا رات بلب نازکی\nصبح دم دیکھا تو اس کے ہونٹھ پہ بتخالہ تھا\n\nواہ ری افسردگی اس خاطر دلگیر کی\nاشک کا قطرہ جو ٹپکا چشم سے سو ژالہ تھا\n\nتھی خیال مہ رخاں سے شب بغل لبریز نور\nآب سے خالی ولیکن مے بہ رنگ ہالہ تھا\n\nکل برنگ غنچہ تھی کس کو مجال گفتگو\nبات جب کرتا تھا منہ میں دل کا یک پرکالہ تھا\n\nبد گمانی سے ڈرا ورنہ لیا تیرا جو نام\nدیکھنا بوسہ کی خاطر میں لب دلالہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%84_%DB%81%D9%88_%D9%BE%DB%8C%DA%86_%D9%88_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کھل گیا ان کی مسیحائی کا عالم شب وصل", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھل گیا ان کی مسیحائی کا عالم شب وصل\nمیرا دم بند ہے دیتے ہیں مجھے دم شب وصل\n\nجیب کے پرزے اڑے پھٹ گئی محرم شب وصل\nمیرے ان کے رہا کچھ اور ہی عالم شب وصل\n\nجی میں ہے کہئے موذن سے یہ ہمدم شب وصل\nیوں نہ چیخا کرو اے قبلۂ عالم شب وصل\n\nوہ نہ سوئے ہوں جدا یا نہ لڑے ہوں ہم سے\nاس طرح کی ہوئی صحبت تو بہت کم شب وصل\n\nصبح ہوتے ہی مجھے اشکوں سے منہ دھونا ہے\nمجھ سے آنکھیں نہ چرا دیدۂ پر نم شب وصل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B3%DB%8C%D8%AD%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84"} {"title": "کھلا ہے جلوۂ پنہاں سے از بس چاک وحشت کا", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھلا ہے جلوۂ پنہاں سے از بس چاک وحشت کا\nمیں ڈرتا ہوں کہیں پردہ نہ پھٹ جائے حقیقت کا\n\nکہاں لے جائے گا یا رب سمند تند وحشت کا\nکہ پیچھے رہ گیا کوسوں دوراہا نار و جنت کا\n\nغبار رنگ پراں ہے پھریرا تیری رایت کا\nشکست قلب عاشق غلغلہ ہے تیری نصرت کا\n\nکیا ہے قصد کس کے کنگر ایوان رفعت کا\nکہ تھاما ہے ترے نالے نے پایہ عرش ہمت کا\n\nجھکا دی قدسیوں نے بے تکلف گردن طاعت\nزہے رتبہ کف خاک در والائے دولت کا\n\nکھلے کس طرح پردہ پردۂ گوش تحیر پر\nکہ بے صوت و صدا ہے پردہ ساز بزم وحدت کا\n\nصنم طاق حرم سے دفعتاً نیچے اتر آئے\nادب تھا بس کہ واجب دوست کے قاصد کے طلعت کا\n\nحجاب تن کساد رونق کالائے یوسف ہے\nتردد کیا ہے زنداں خانۂ ہجراں سے ہجرت کا\n\nسلاطیں کو نہیں پاتا مزاج ان کے فقیروں کا\nکہ عنقائے فلک پرواز ہے قاف قناعت کا\n\nلب اصنام ہیں قند سخن سے سر بہ مہر اب تک\nخموشی سے مزہ پوچھے کوئی تیری فصاحت کا\n\nمزے ملتے ہیں کیا کیا عشق کے لذت شناسوں کو\nہمیں دامان زخم دل عوض ہے خوان نعمت کا\n\nترے حیرت کدے میں فرش ہے آئینہ کیا او بت\nکہ خاصان در دولت کو ہی کھٹکا ہے ذلت کا\n\nنگہ بے حس خط ساغر کی صورت ہے کہ ساقی نے\nدیا ہے مردم چشم جہاں کو جام حیرت کا\n\nتلاش جلوۂ معنی میں ٹکرایا کئے سجدے\nنہ ٹوٹا دست خشک زہد سے بت خانہ صورت کا\n\nقیامت برہمی ڈالی تو ہجراں کی گھڑی گزری\nزمیں ہے گرد شیشہ آسماں شیشہ ہے ساعت کا\n\nبتوں پر لات ماری مہر و مہ سے پھیر لیں آنکھیں\nبیاںؔ اللہ رے غمزہ مرے حسن عقیدت کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D9%BE%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B2_%D8%A8%D8%B3_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کھلایا پرتو رخسار نے کیا گل سمندر میں", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "کھلایا پرتو رخسار نے کیا گل سمندر میں\nحباب آ کر بنے ہر سمت سے بلبل سمندر میں\n\nہمارے آہ و نالہ سے زمانہ ہے تہ و بالا\nکبھی ہے شور صحرا میں کبھی ہے غل سمندر میں\n\nکسی دن مجھ کو لے ڈوبے گا ہجر یار کا صدمہ\nچراغ ہستیٔ موہوم ہوگا گل سمندر میں\n\nنہ چھیڑو مجھ کو میں غواص ہوں دریائے معنی کا\nنہ ڈھونڈو مجھ کو مستغرق ہوں میں بالکل سمندر میں\n\nتمہیں دریائے خوبی کہہ دیا غرق ندامت ہوں\nکہاں یہ ناز و غمزہ عارض و کاکل سمندر میں\n\nپڑا تھا عکس روئے نازنیں عرصہ ہوا اس کو\nپر اب تک تیرتا پھرتا ہے شکل گل سمندر میں\n\nاٹھی موج صبا جنباں سے شاخ آشیاں پیہم\nچلی جاتی ہے گویا کشتی بلبل سمندر میں\n\nوہ پائیں باغ میں پھرتے ہیں میں فکروں میں ڈوبا ہوں\nتماشا ہے کہ گل گلشن میں ہے بلبل سمندر میں\n\nابھی تو سیر کو جانا لب دریا وہ سیکھے ہیں\nابھی تو دیکھیے کھلتے ہیں کیا کیا گل سمندر میں\n\nخیال یار کیوں کر آ گیا طوفان گریہ میں\nخدا معلوم کس شے کا بنایا پل سمندر میں\n\nکبھی گریہ کا طوفاں ہے کبھی حیرت کا سناٹا\nکبھی بالکل ہوں صحرا میں کبھی بالکل سمندر میں\n\nوہ ظالم عاشق آزاری کی پرویںؔ مشق کرتا ہے\nدکھا کر بلبلوں کو ڈالتا ہے گل سمندر میں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%AA%D9%88_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D9%84_%D8%B3%D9%85%D9%86%D8%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کھلتا نہیں ہے راز ہمارے بیان سے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھلتا نہیں ہے راز ہمارے بیان سے\nلیتے ہیں دل کا کام ہم اپنی زبان سے\n\nکیا لذت وصال ادا ہو بیان سے\nسب حرف چپکے جاتے ہیں میری زبان سے\n\nمشہور راز عشق ہے کس کے بیان سے\nمیری زبان سے کہ تمہاری زبان سے\n\nفتنہ بنا زمین پہ ہر ذرہ خاک کا\nنکلے ہیں بہر سیر وہ جس دم مکان سے\n\nاس دن سے مجھ کو نیند نہ آئی تمام عمر\nاک شب ملی تھی آنکھ ترے پاسبان سے\n\nیہ خاک میں ملائے تو وہ ہو ستم شریک\nمجھ کو زمیں سے لاگ انہیں آسمان سے\n\nلینا سنبھالنا کہ مرے ہوش اڑ چلے\nآتا ہے کوئی مست قیامت کی شان سے\n\nمجھ سے نظر ملا کے تم ابرو میں بل نہ دو\nسیدھا چلے گا تیر نہ ٹیڑھی کمان سے\n\nبازار عشق میں ہیں بہت دل جگہ جگہ\nدیکھیں وہ مول لیتے ہیں کس کی دکان سے\n\nشوریدہ سر وہ ہوں کہ اسے سر سے توڑ دوں\nگر سنگ حادثہ بھی گرے آسمان سے\n\nارزاں کرے فروخت اگر مے فروش عشق\nلینے لگیں فرشتے بھی اس کی دکان سے\n\nگزری ہے آزمائش مہر و وفا میں عمر\nفرصت مجھے ملی نہ کبھی امتحان سے\n\nدل بھی بچا جگر بھی بچا خیر ہو گئی\nتیر نگاہ پار ہوا درمیان سے\n\nمیں تم کو ناگوار ہوں دل مجھ کو ناگوار\nتم مجھ سے تنگ اور ہوں میں تنگ جان سے\n\nہاں ہاں ترا رقیب سے بے شک ہے ربط ضبط\nرتبہ یقین کا ہے زیادہ گمان سے\n\nمہر و وفا کا نام ہے اب بات بات پر\nیہ سن لیا ہے آپ نے کس کی زبان سے\n\nکیسا کھلا ہے پھول جب آیا بہار پر\nپوچھے تو کوئی لطف جوانی جوان سے\n\nدانستہ آتے جاتوں سے لڑتا ہے رات دن\nپھر ہو پڑی تھی آج ترے پاسبان سے\n\nاس خوبرو کو بزم حسیناں میں دیکھیے\nکرتا ہے آن بان بڑی آن تان سے\n\nاے داغؔ اس کی خیر مناتا ہے آدمی\nکوئی عزیز بڑھ کے نہیں اپنی جان سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کھلی ہے آنکھ جوش انتظار یار جانی ہے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھلی ہے آنکھ جوش انتظار یار جانی ہے\nبہ مشکل دیدۂ زنجیر خواب پاسبانی ہے\n\nلبوں پر آ چکا دم کوئی دم کی زندگانی ہے\nچل اٹھ او بے وفا پہلو سے اب کیوں مہربانی ہے\n\nلگا دوں آگ اف کرنے میں وہ شعلہ زبانی ہے\nبہ شکل شمع سارے جسم میں سوز نہانی ہے\n\nکلام حضرت واعظ نصیب دشمناں باشد\nانڈیلو مے پیو ساغر کہاں پھر نوجوانی ہے\n\nامنگیں ہیں طبیعت میں بھری ہیں مستیاں دل میں\nہوئی جاتی ہیں آنکھیں بند کیف نوجوانی ہے\n\nعذاب غفلت قاتل سے رنج کش مکش میں ہوں\nمدد اے مرگ بے تقصیر ذوق جاں فشانی ہے\n\nخبر کیا پوچھتا ہے ہم نفس کیوں کر گزرتی ہے\nجگر جلتا ہے دل بھنتا ہے اشکوں کی روانی ہے\n\nادا و ناز ایما چشم غمزہ گو وہ کوئی ہو\nتعلق جس سے ہو جائے بلائے ناگہانی ہے\n\nپسند آئی ہے اس درجہ اذیت دوستی ہم کو\nنظر میں دھوپ بھی دشت مصیبت کے سہانی ہے\n\nخیال میرزائی اے نسیمؔ دہلوی کب تک\nجھکو بڈھے ہوئے اب رخصت لطف جوانی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کھلے گا ناخن شمشیر سے عقدہ مرے دل کا", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھلے گا ناخن شمشیر سے عقدہ مرے دل کا\nکسی قاتل سے ہے آسان ہونا میری مشکل کا\n\nپس مردن بھی یہ منظور ہے نظارہ قاتل کا\nچراغ گور میں عالم ہوا ہے چشم بسمل کا\n\nغبار دہر سے اک لحظہ بھی خالی نہیں ہوتا\nالٰہی شیشۂ ساعت ہے کیا شیشہ مرے دل کا\n\nیہی گر زندگی بھر طبع عالی کا رہا عالم\nبنے گا مر گئے پر آسماں دسواں مرے گل کا\n\nنہ توڑے رشتۂ دام اور اپنا یار دم توڑے\nہے بہتر اس بھڑکنے سے تڑپنا طائر دل کا\n\nجہاں میں کاملوں کو قدر ہے ہم خاکساروں کی\nشکست دل گدا کو ٹوٹنا ہے ساغر گل کا\n\nعجب ہے روئے جاناں پر نہ ہونا ایک بھی تل کا\nعدم کرتا نہیں تاروں کو جلوہ ماہ کامل کا\n\nقیامت لائے گا گلزار میں نالہ عنادل کا\nجگانا فتنۂ خوابیدہ ہے صیاد غافل کا\n\nمیں مجنوں دیکھتے ہی مر گیا اس رشک لیلیٰ کو\nکفن کے واسطے گویا پھٹا تھا پردہ محمل کا\n\nکیا لبریز مروارید چشم گوہر افشاں سے\nگماں گزرا جو دریا پر مجھے دامان ساحل کا\n\nمرا خواب العزیز و غیرت خواب زلیخا ہے\nتصور رات بھر تھا مجھ کو اک یوسف شمائل کا\n\nمیں ایسا ناتواں ہوں سر اٹھانا مجھ کو مشکل ہو\nبرائے طوق گردن چاہیئے چھلا انامل کا\n\nکفن مثل کتاں ہے ٹکڑے ٹکڑے عرشؔ مدفن میں\nتصور مر گئے پر بھی ہے یہ اس ماہ کامل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D8%AE%D9%86_%D8%B4%D9%85%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D9%82%D8%AF%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کھلے گُل سبزہ نزہت بار ہے کیا کیا بہاریں ہیں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھلے گُل سبزہ نزہت بار ہے کیا کیا بہاریں ہیں\nصبا ہے رنگ و بو ہے یار ہے کیا کیا بہاریں ہیں\n\nہجوم ابر ہے چمکے ہے برق اُور مینہ برستا ہے\nنشہ ہے تازگی ہے یار ہے کیا کیا بہاریں ہیں\n\nصدائے بلبلاں ہے آب جُو ہے صحن گُلشن ہے\nسمن ہے سرو ہے گلنار ہے کیا کیا بہاریں ہیں\n\nصنم کہ لب میں پان ہاتھوں میں مہندی پیر ہیں رنگیں\nکناری ہے دھنک ہے ہار ہے کیا کیا بہاریں ہیں\n\nنظیرؔ اب عیش کی پیتا ہے مے ہر دم یہ کہہ کہہ کر\nچمن ہے گُل ہے گُل رخسار ہے کیا کیا بہاریں ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%92_%DA%AF%D9%8F%D9%84_%D8%B3%D8%A8%D8%B2%DB%81_%D9%86%D8%B2%DB%81%D8%AA_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کھنڈر", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "نہ یہ فنا ہے نہ یہ بقا ہے\nمیان بود و عدم یہ کیسا طویل وقفہ ہے\nجو نوشتہ ہماری قسمت کا بن گیا ہے\nکنار دریا کبھی یہ بستی تھی\nلیکن اب نیستی و ہستی کے درمیان اک مقام برزخ ہے\nایسا برزخ کہ جس میں صدیوں سے کاخ و کو بام و در مسلسل\nشکستگی خستگی خرابی میں خیرہ سر ہیں\n\nحدود ہستی سے ہم نکل کر کھنڈر بنے تھے\nمگر کھنڈر بن کے مٹ بھی جاتے\nکہ یہ غم زندگی کے رسیا\nہماری ہستی کو اپنی یادوں سے محو کر دیتے بھول جاتے\nنہ یہ کہ ہم کو تماشہ گاہ جہاں بناتے\nہمارے عبرت کدوں کو محفوظ کر کے رکھتے\nنہ یہ کہ آبادیوں کی خاطر\nہماری بربادیوں کو تاریخی یادگاریں بنائے رکھتے\nوہ یادگاریں\nجہاں پہ یہ لوگ زندگی کے اجارہ دار آ سکیں تو آئیں\nدنوں کو راہوں کی خاک اڑائیں\nوہ بارگاہیں جو عرش پایہ تھیں ادب و آداب خسروی میں\nوہاں یہ دراز کھسکتے جائیں\nجہاں بھی جی چاہے اپنا نام اور شعر لکھیں\nمچائیں غوغا رقیق بے معنی گیت گائیں\nمگر نہ اوقات پنج گانہ میں\nایک بھی وقت سونی مسجد میں جھانک پائیں\nکسی کی تربت پہ فاتحہ کے لیے نہ یہ اپنے ہاتھ اٹھائیں\nدنوں کو یوں ہی فسردہ راہوں کی خاک اڑائیں\nدیے جلے پر گھروں کو جائیں\nہماری ویرانیوں کو ویران تر بنا کر چلے ہی جائیں\nیہاں پہ چھا جائے اندھی اندھیاریوں کا پھر وہ سکوت جامد\nکہ یوم و سپر ہی جس کے ہم راز و ہم نفس ہیں\nنہ دن کی وحشت میں کچھ کمی تھی\nکہ شب کی دہشت میں کچھ کسر ہو\nہمارے دن رات ایک سے ہیں\nہمارے دن رات اسی وجود و عدم کے اک وقفۂ مسلسل میں\nہستی و نیستی کے برزخ میں پا بہ گل ہیں\nہمارے دن رات اسی درائے زمان وقفے سے متصل ہیں\nمگر ہمیں کب ملے گی اس دام سے رہائی\nہمیں ملے گا عدم کی معدوم و بے نشاں گود کا سکون ابد خدایا\nہمیں ازل اور ابد کے چکر سے کب عطا ہوگی رستگاری\nخدائے قیوم و حی و قائم\nجناب باری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%86%DA%88%D8%B1"} {"title": "کھو دل کے مرض کو اے طبیب امت", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کھو دل کے مرض کو اے طبیب امت\nسکھلا آداب اے ادیب امت\nاللہ کے نور کو بعینہ دیکھیں\nگر ہو ترا دیدار نصیب امت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%B6_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%A8_%D8%A7%D9%85%D8%AA"} {"title": "کھو دیا نور بصیرت تو نے ما و من کے بیچ", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھو دیا نور بصیرت تو نے ما و من کے بیچ\nجلوہ گر تھا ورنہ وہ خورشید تیرے من کے بیچ\n\nپارۂ بےکار ہیں وحدت میں جب تک ہے دوئی\nراہ یکتائی ہے رشتہ کے تئیں سوزن کے بیچ\n\nصاف کر دل تاکہ ہو آئینۂ رخسار یار\nمانع روشن دلی ہے زنگ اس آہن کے بیچ\n\nظاہر و پنہاں ہے ہر ذرہ میں وہ خورشید رو\nآشکار و مختفی ہے جان جیسے تن کے بیچ\n\nدور ہو گر شامہ سے تیرے غفلت کا زکام\nتو اسی کی بو کو پاوے ہر گل و سوسن کے بیچ\n\nکوچہ گردی تا کجا جوں کاہ باد جرس سے\nگاڑ کر پا بیٹھ مثل کوہ تو مسکن کے بیچ\n\nکیوں عبث بھٹکا پھرے ہے جوں زلیخا شہر شہر\nجلوۂ یوسف ہے غافل تیرے پیراہن کے بیچ\n\nکب دماغ اپنا کہ کیجے جا کے گلگشت چمن\nاور ہی گل زار اپنے دل کے ہے گلشن کے بیچ\n\nمت مجھے تکلیف سیر باغ دے بیدارؔ تو\nگل سے رنگیں تر ہے یاں لخت جگر دامن کے بیچ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%B5%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%A7_%D9%88_%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%86"} {"title": "کھو نہ جا اس سحَر و شام میں اے صاحبِ ہوش", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کھو نہ جا اس سحَر و شام میں اے صاحبِ ہوش!\nاک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا ہے نہ دوش\n\nکس کو معلوم ہے ہنگامۂ فردا کا مقام\nمسجد و مکتب و میخانہ ہیں مُدّت سے خموش\n\nمَیں نے پایا ہے اُسے اشکِ سحَر گاہی میں\nجس دُرِ ناب سے خالی ہے صدف کی آغوش\n\nنئی تہذیب تکلّف کے سوا کچھ بھی نہیں\nچہرہ روشن ہو تو کیا حاجتِ گُلگُونہ فروش!\n\nصاحبِ ساز کو لازم ہے کہ غافل نہ رہے\nگاہے گاہے غَلط آہنگ بھی ہوتا ہے سروش", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%AD%D9%8E%D8%B1_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D9%90_%DB%81%D9%88%D8%B4"} {"title": "کھو کر تری گلی میں دل بے خبر کو میں", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھو کر تری گلی میں دل بے خبر کو میں\nفکر خودی سے چھوٹ گیا عمر بھر کو میں\n\nسازش بقدر ربط تھی طور و جمال میں\nسمجھا ہوں آج عقدۂ سنگ شرر کو میں\n\nاب ہے تو مستقل ہو فروغ شب وصال\nایسا نہ ہو چراغ جلاؤں سحر کو میں\n\nصحرا سے بار بار وطن کون جائے گا\nکیوں اے جنوں یہیں نہ اٹھا لاؤں گھر کو میں\n\nجھوما کیا سرور سے سیمابؔ رات بھر\nدیکھا کیا کسی کی نشیلی نظر کو میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کھو کے دل میرا تمہیں نا حق پشیمانی ہوئی", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھو کے دل میرا تمہیں نا حق پشیمانی ہوئی\nتم سے نادانی ہوئی یا مجھ سے نادانی ہوئی\n\nاللہ اللہ پھوٹ نکلا رنگ چاہت کا مری\nزہر کھایا میں نے پوشاک آپ کی دھانی ہوئی\n\nہم کو ہو سکتا نہیں دھوکا ہجوم حشر میں\nتیری صورت ہے ازل سے جانی پہچانی ہوئی\n\nاے صبا میں اور کیا دوں قبر مجنوں کے لئے\nخاک تھوڑی سی چڑھا دینا مری چھانی ہوئی\n\nیار کے ہاتھوں ہوا جو کچھ ہوا اے تیغ ناز\nتیری عریانی ہوئی یا میری قربانی ہوئی\n\nکر گئی دیوانگی ہم کو بری ہر جرم سے\nچاک دامانی سے اپنی چاک دامانی ہوئی\n\nباڑھ دی بانکی اداؤں نے جو خنجر کو جلیلؔ\nذبح کرنے میں مرے قاتل کو آسانی ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7_%D8%AD%D9%82_%D9%BE%D8%B4%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کھوئے ہوئے زمانے", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "کیوں یاد آ رہے ہیں بھولے ہوئے فسانے\nگزری ہوئی بہاریں کھوئے ہوئے زمانے\nیا ایک برگ گل کو آنکھیں ترس رہی ہیں\nیا اپنے دامنوں میں پھولوں کے تھے خزانے\nیا آج خاک و صرصر ہیں ان کی وجہ زینت\nیا تھے یہی گلستاں کل تک نگار خانے\nیا آج خار و خس بھی ہم کو نہیں میسر\nیا تھے کبھی گلوں کے جھرمٹ میں آشیانے\nاب تک وہی صدائیں کانوں میں آ رہی ہیں\nوہ چہچہے وہ نغمے وہ راگ وہ ترانے\nہے یاد ہم صفیرو تم کو وہ عہد اپنا\nبجتے تھے جب خوشی کے ہر وقت شادیانے\nجب تھیں مسرتوں کی لہریں ہر ایک دل میں\nہر وقت ڈھونڈھتے تھے تفریح کے بہانے\nحسن و شباب کے وہ پر کیف عہد زریں\nوہ عشق و عاشقی کے دلچسپ کارخانے\nوہ جشن عیش و راحت وہ ساز لطف و عشرت\nآنکھوں میں پھر رہے ہیں اب تک وہی زمانے\nناداں سمجھ کے ہم کو صیاد نے چمن میں\nدام ہوس بچھا کر ڈالے وہ چند دانے\nجن کے لئے ہم اب تک پچھتا رہے ہیں ہمدم\nکنج قفس کے اندر کھا کھا کے تازیانے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "کھوتا ہی نہیں ہے ہوس مطعم و ملبس", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھوتا ہی نہیں ہے ہوس مطعم و ملبس\nیہ نفس ہوس ناک و بد آموز و مہوس\n\nبے شبہ تری ذات خداوند خلائق\nاعلیٰ ہے تعالی ہے معلیٰ ہے مقدس\n\nوہ کام تو کر جس سے تری گور ہو گل زار\nکیا خانئہ دیوار کو کرتا ہے مقرنس\n\nمدفن کے تئیں آگے ہی منعم نہ بنا رکھ\nکیا جانیے واں دفن ہو یا کھائے گا کرگس\n\nہے وصل ترا جنت و دوزخ ہی جدا ہے\nجانے ہے کب اس باب کے تئیں ہر کس و ناکس\n\nتصویر ترے پنجۂ سیمیں کی طلا سے\nدیوان میں ہے میرے لکھی جائے مخمس\n\nکہنے کو مرے دل کے سن اے گلشن خوبی\nگر ہے تو ترے کو ہے یہ فردوس یہ مردس\n\nسن سن کے ترا شور وہ بیزار ہوا اور\nنالے کا اثر تیرے دلا دیکھ لیا بس\n\nاس جبہ و عمامہ سے رندوں میں نہ آؤ\nرسوا نہ کرو شیخ جی یہ شکل مقدس\n\nمانند کماں خم نہ کروں قد کو طمع سے\nگردش میں رکھے گو مجھے یہ چرخ مقدس\n\nہر رات ہے عاشق کو ترے روز قیامت\nہر روز جدائی میں اسے ہو ہے حندس\n\nتاباںؔ یہ غزل اہل شعوروں کے لیے ہے\nاحمق نہ کوئی سمجھے تو جانے مرا دھندس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%B3_%D9%85%D8%B7%D8%B9%D9%85_%D9%88_%D9%85%D9%84%D8%A8%D8%B3"} {"title": "کھول دو", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": null, "year": "1948", "text_ur": "امرتسر سے اسپیشل ٹرین دوپہر دو بجے کو چلی اور آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچی۔ راستے میں کئی آدمی مارے گیے۔ متعدد زخمی ہوئے اور کچھ ادھر ادھر بھٹک گیے۔\n\nصبح دس بجے۔۔۔ کیمپ کی ٹھنڈی زمین پر جب سراج الدین نے آنکھیں کھولیں اور اپنے چاروں طرف مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک متلاطم سمندر دیکھا تو اس کی سوچنے سمجھنے کی قوتیں اور بھی ضعیف ہوگئیں۔ وہ دیر تک گدلے آسمان کو ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا۔ یوں تو کیمپ میں ہر طرف شور برپا تھا۔ لیکن بوڑھے سراج الدین کے کان جیسے بند تھے۔ اسے کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔ کوئی اسے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ وہ کسی گہری فکر میں غرق ہے مگر ایسا نہیں تھا۔ اس کے ہوش و حواس شل تھے۔ اس کا سارا وجود خلا میں معلق تھا۔\n\nگدلے آسمان کی طرف بغیر کسی ارادے کے دیکھتے دیکھتے سراج الدین کی نگاہیں سورج سے ٹکرائیں۔ تیز روشنی اس کے وجود کے رگ و ریشے میں اتر گئی اور وہ جاگ اٹھا۔ اوپر تلے اس کے دماغ پر کئی تصویریں دوڑ گئیں۔ لوٹ۔۔۔ آگ۔۔۔ بھاگم بھاگ۔۔۔ اسٹیشن۔۔۔ گولیاں۔۔۔ رات اور سکینہ۔۔۔ سراج الدین ایک دم اٹھ کھڑا ہوا اور پاگلوں کی طرح اس نے اپنے چاروں طرف پھیلے ہوئے انسانوں کے سمندر کو کھنگالنا شروع کیا۔\n\nپورے تین گھنٹے وہ’’سکینہ، سکینہ‘‘ پکارتا کیمپ میں خاک چھانتا رہا۔ مگر اسے اپنی جوان اکلوتی بیٹی کا کوئی پتا نہ ملا۔ چاروں طرف ایک دھاندلی سی مچی تھی۔ کوئی اپنا بچہ ڈھونڈ رہا تھا، کوئی ماں، کوئی بیوی اور کوئی بیٹی۔ سراج الدین تھک ہار کر ایک طرف بیٹھ گیا اور حافظے پر زور دے کر سوچنے لگا کہ سکینہ اس سے کب اور کہاں جدا ہوئی۔ لیکن سوچتے سوچتے اس کا دماغ سکینہ کی ماں کی لاش پر جم جاتا۔ جس کی ساری انتڑیاں باہر نکلی ہوئی تھیں۔ اس سے آگے وہ اور کچھ نہ سوچ سکتا۔\n\nسکینہ کی ماں مر چکی تھی۔ اس نے سراج الدین کی آنکھوں کے سامنے دم توڑا تھا۔ لیکن سکینہ کہاں تھی جس کے متعلق اس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا تھا، ’’مجھے چھوڑو اور سکینہ کو لے کر جلدی یہاں سے بھاگ جاؤ۔‘‘\n\nسکینہ اس کے ساتھ ہی تھی۔ دونوں ننگے پاؤں بھاگ رہے تھے۔ سکینہ کا دوپٹہ گر پڑا تھا۔ اسے اٹھانے کے لیے اس نے رکنا چاہا تھا مگر سکینہ نے چلا کر کہا تھا، ’’ابا جی۔۔۔ چھوڑیے۔‘‘ لیکن اس نے دوپٹہ اٹھا لیا تھا۔۔۔ یہ سوچتے سوچتے اس نے اپنے کوٹ کی ابھری ہوئی جیب کی طرف دیکھا اور اس میں ہاتھ ڈال کر ایک کپڑا نکالا۔۔۔ سکینہ کا وہی دوپٹہ تھا۔۔۔ لیکن سکینہ کہاں تھی؟\n\nسراج الدین نے اپنے تھکے ہوئے دماغ پر بہت زور دیا مگر وہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکا۔ کیا وہ سکینہ کو اپنے ساتھ اسٹیشن تک لے آیا تھا۔۔۔؟ کیا وہ اس کے ساتھ ہی گاڑی میں سوار تھی۔۔۔؟ راستہ میں جب گاڑی روکی گئی تھی اور بلوائی اندر گھس آئے تھے تو کیا وہ بے ہوش ہوگیا تھا جو وہ سکینہ کو اٹھا کرلے گیے؟\n\nسراج الدین کے دماغ میں سوال ہی سوال تھے، جواب کوئی بھی نہیں تھا۔ اس کو ہمدردی کی ضرورت تھی لیکن چاروں طرف جتنے بھی انسان پھیلے ہوئے تھے سب کو ہمدردی کی ضرورت تھی۔ سراج الدین نے رونا چاہا مگر آنکھوں نے اس کی مدد نہ کی۔ آنسو جانے کہاں غائب ہوگیے تھے۔چھ روز کے بعد جب ہوش و حواس کسی قدر درست ہوئے تو سراج الدین ان لوگوں سے ملا جو اس کی مدد کرنے کے لیے تیار تھے۔ آٹھ نوجوان تھے۔ جن کے پاس لاری تھی، بندوقیں تھیں۔ سراج الدین نے ان کو لاکھ لاکھ دعائیں دیں اور سکینہ کا حلیہ بتایا، ’’گورارنگ ہے اور بہت ہی خوبصورت ہے۔۔۔ مجھ پر نہیں اپنی ماں پر تھی۔۔۔ عمر سترہ برس کے قریب ہے۔۔۔ آنکھیں بڑی بڑی۔۔۔ بال سیاہ، داہنے گال پر موٹا سا تل۔۔۔ میری اکلوتی لڑکی ہے۔ ڈھونڈ لاؤ۔ تمہارا خدا بھلا کرے گا۔‘‘\n\nرضا کار نوجوانوں نے بڑے جذبے کے ساتھ بوڑھے سراج الدین کو یقین دلایا کہ اگر اس کی بیٹی زندہ ہوئی تو چند ہی دنوں میں اس کے پاس ہوگی۔\n\nآٹھوں نوجوانوں نے کوشش کی۔ جان ہتھیلیوں پر رکھ کر وہ امرتسر گیے۔ کئی عورتوں، کئی مردوں اور کئی بچوں کو نکال نکال کر انھوں نے محفوظ مقاموں پر پہنچایا۔ دس روز گزر گیے مگر انھیں سکینہ کہیں نہ ملی۔\n\nایک روز وہ اسی خدمت کے لیے لاری پر امرتسر جارہے تھے کہ چھ ہرٹہ کے پاس سڑک پر انھیں ایک لڑکی دکھائی دی۔ لاری کی آواز سن کروہ بدکی اور بھاگنا شروع کردیا۔ رضا کاروں نے موٹر روکی اور سب کے سب اس کے پیچھے بھاگے۔ ایک کھیت میں انھوں نے لڑکی کو پکڑ لیا۔ دیکھا تو بہت خوبصورت تھی۔ داہنے گال پر موٹا تل تھا۔ ایک لڑکے نے اس سے کہا، ’’گھبراؤ نہیں۔۔۔ کیا تمہارا نام سکینہ ہے؟‘‘\n\nلڑکی کا رنگ اور بھی زرد ہوگیا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ لیکن جب تمام لڑکوں نے اسے دم دلاسا دیا تو اس کی وحشت دور ہوئی اور اس نے مان لیا کہ وہ سراج الدین کی بیٹی سکینہ ہے۔\n\nآٹھ رضا کار نوجوانوں نے ہر طرح سکینہ کی دلجوئی کی۔ اسے کھانا کھلایا۔ دودھ پلایا اور لاری میں بٹھا دیا۔ ایک نے اپنا کو ٹ اتار کر اسے دے دیا۔ کیونکہ دوپٹہ نہ ہونے کے باعث وہ بہت الجھن محسوس کررہی تھی۔ اور بار بار بانھوں سے اپنے سینے کو ڈھانکنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھی۔\n\nکئی دن گزر گیے۔۔۔ سراج الدین کو سکینہ کی کوئی خبر نہ ملی۔ وہ دن بھر مختلف کیمپوں اور دفتروں کے چکر کاٹتا رہتا۔ لیکن کہیں سے بھی اس کی بیٹی کا پتہ نہ چلا۔ رات کو وہ بہت دیر تک ان رضا کار نوجوانوں کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگتا رہتا۔ جنہوں نے اس کو یقین دلایا تھا کہ اگر سکینہ زندہ ہوئی تو چند دنوں ہی میں وہ اسے ڈھونڈ نکالیں گے۔\n\nایک روز سراج الدین نے کیمپ میں ان نوجوان رضا کاروں کو دیکھا۔ لاری میں بیٹھے تھے۔ سراج الدین بھاگا بھاگا ان کے پاس گیا۔ لاری چلنے ہی والی تھی کہ اس نے پوچھا، ’’بیٹا، میری سکینہ کا پتہ چلا؟‘‘\n\nسب نے یک زبان ہو کر کہا، ’’چل جائے گا، چل جائے گا۔‘‘ اور لاری چلا دی۔سراج الدین نے ایک بار پھر ان نوجوانوں کی کامیابی کے لیے دعا مانگی اور اس کا جی کسی قدر ہلکا ہوگیا۔\n\nشام کے قریب کیمپ میں جہاں سراج الدین بیٹھا تھا، اس کے پاس ہی کچھ گڑبڑسی ہوئی۔ چار آدمی کچھ اٹھا کر لارہے تھے۔ اس نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ایک لڑکی ریلوے لائن کے پاس بےہوش پڑی تھی۔ لوگ اسے اٹھا کر لائے ہیں۔ سراج الدین ان کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ لوگوں نے لڑکی کو ہسپتال والوں کے سپرد کیا اور چلے گیے۔ کچھ دیر وہ ایسے ہی ہسپتال کے باہر گڑے ہوئے لکڑی کے کھمبے کے ساتھ لگ کر کھڑا رہا۔ پھر آہستہ آہستہ اندر چلا گیا۔ کمرے میں کوئی بھی نہیں تھا۔ ایک اسٹریچر تھا جس پر ایک لاش پڑی تھی۔ سراج الدین چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھا۔ کمرے میں دفعتاً روشنی ہوئی۔ سراج الدین نے لاش کے زرد چہرے پر چمکتا ہوا تل دیکھا اور چلایا۔\n\n’’سکینہ!‘‘\n\nڈاکٹر نے جس نے کمرے میں روشنی کی تھی سراج الدین سے پوچھا، ’’کیا ہے؟‘‘\n\nسراج الدین کے حلق سے صرف اس قدر نکل سکا، ’’جی میں۔۔۔ جی میں۔۔۔ اس کا باپ ہوں!‘‘\n\nڈاکٹر نے اسٹریچر پر پڑی ہوئی لاش کی طرف دیکھا۔ اس کی نبض ٹٹولی اور سراج الدین سے کہا، ’’کھڑکی کھول دو۔‘‘\n\nسکینہ کے مردہ جسم میں جنبش پیدا ہوئی۔ بے جان ہاتھوں سے اس نے ازار بند کھولا اور شلوار نیچے سرکا دی۔\n\nبوڑھا سراج الدین خوشی سے چلایا، ’’زندہ ہے۔۔۔ میری بیٹی زندہ ہے۔۔۔‘‘\n\nڈاکٹر سر سے پیر تک پسینے میں غرق ہوگیا۔۔۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%AF%D9%88"} {"title": "کھول دی ہے زلف کس نے پھول سے رخسار پر", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھول دی ہے زلف کس نے پھول سے رخسار پر\nچھا گئی کالی گھٹا سی آن کر گلزار پر\n\nکیا ہی افشاں ہے جبین و ابروئے خم دار پر\nہے چراغاں آج کعبے کے در و دیوار پر\n\nنقش پا پنج شاخہ قبر پر روشن کرو\nمر گیا ہوں میں تمہاری گرمیٔ رفتار پر\n\nچشم بد دور آج ہے یہ کون گل رو جھانکتا\nچشم نرگس کا ہے عالم روزن دیوار پر\n\nناتواں کا بھلا کس منہ سے میں شکوہ کروں\nخال ہے یاں مہر خاموش لب گفتار پر\n\nہم ازل سے انتظار یار میں سوئے نہیں\nآفریں کہیے ہمارے دیدۂ بے دار پر\n\nکفر اپنا عین دیں داری ہے گر سمجھے کوئی\nاجتماع سبحہ یاں موقوف ہے زنار پر\n\nٹھوکریں کھائے گا اک دن سرکشی اتنی نہ کر\nاو سر بے مغز کیوں بھولا ہے اس دستار پر\n\nزلف اس کی اپنے حق میں دیکھیے کہتی ہی کیا\nہے ہمارا فیصلہ اب تو زبان مار پر\n\nگر چمن میں ہم سے بے برگوں کو جا دیتی نہیں\nخار کی مانند بٹھلا دیں سر دیوار پر\n\nہے اگر عرفاں کا طالب خاکساری کر شعار\nدیکھتے ہیں آئنہ اکثر لگا دیوار پر\n\nابرو و مژگاں سے اس کے دیکھیں دل کیوں کر بچے\nاب تو نوبت آ گئی ہے تیر اور تلوار پر\n\nانتہائے عشق میں دی جان میں نے اس لئے\nلالہ باصد داغ اگتا ہے مرے کہسار پر\n\nرابطہ گر غیر سے ہو یار کو چاہوں میں\nمیں نہ بلبل ہوں کہ مرتا ہوں گل بے خار پر\n\nدل جلا ایسا ہوں میرا نام لے بیٹھا جو وہ\nپڑ گئے چھالے زبان مرغ آتش خوار پر\n\nاٹھ کے بت خانے سے مسجد کو اگر جائے گا تو\nسیکڑوں ٹوٹیں گی تسبیحیں ترے زنار پر\n\nحیف کوئے یار تک پہنچی نہ میری استخواں\nمدتوں آ کر ہما بیٹھا رہا دیوار پر\n\nسوکھ جائیں گر ہماری آبلوں کی چھاگلیں\nپاس سے کانٹے نظر آئیں زبان خار پر\n\nبعد مردن بھی ہے باقی میری نالوں کا اثر\nتار مطرب کا ہے عالم ہر کفن کی تار پر\n\nتیری آب تیغ سے ظالم جو ہو طوفان بپا\nموت تڑپی مثل ماہی گنبد دوار پر\n\nخط اسے اتنے لکھے میں نے کہ واں بھر جواب\nبیٹھے رہتے ہیں کبوتر سیکڑوں دیوار پر\n\nحشر تک ممکن نہیں اب چمکی تیغ آفتاب\nباڑہ رکھواتا ہے ظالم مغربی تلوار پر\n\nکفش پا کی گل دکھا کر ہنس کے یوں کہنے لگا\nسیر کو کیوں جاؤں گلشن ہے مرے بیزار پر\n\nدیکھیو ضد میرے مرغ نامہ بر کے واسطے\nقینچیاں لگوائیں ہیں بے رحم نے دیوار پر\n\nیار کو معلوم ہوتا ہے ہجر میں سویا نہیں\nخط لکھوں گویا بیاض دیدۂ بیدار پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "کھولی جو ٹک اے ہم نشیں اس دل ربا کی زلف کل", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھولی جو ٹک اے ہم نشیں اس دل ربا کی زلف کل\nکیا کیا جتائے خم کے خم کیا کیا دکھائے بل کے بل\n\nآتا جو باہر گھر سے وہ ہوتی ہمیں کیا کیا خوشی\nگر دیکھ لیتے ہم اسے پھر ایک دم یا ایک پل\n\nدن کو تو بیم فتنہ ہے ہم اس سے مل سکتے نہیں\nآتا ہے جس دم خواب میں جب دیکھتے ہیں بے خلل\n\nکیا بے بسی کی بات ہے یارو نظیرؔ اب کیا کرے\nوہ آنے واں دیتا نہیں آتی نہیں یاں جی میں کل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D9%B9%DA%A9_%D8%A7%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DA%A9%D9%84"} {"title": "کھوویں ہیں نیند میری مصیبت بیانیاں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھوویں ہیں نیند میری مصیبت بیانیاں\nتم بھی تو ایک رات سنو یہ کہانیاں\n\nکیا آگ دے کے طور کو کی ترک سرکشی\nاس شعلے کی وہی ہیں شرارت کی بانیاں\n\nصحبت رکھا کیا وہ سفیہ و ضلال سے\nدل ہی میں خوں ہوا کیں مری نکتہ دانیاں\n\nہم سے تو کینے ہی کی ادائیں چلی گئیں\nبے لطفیاں یہی یہی نا مہربانیاں\n\nتلوار کے تلے ہی گیا عہد انبساط\nمر مر کے ہم نے کاٹی ہیں اپنی جوانیاں\n\nگالی سوائے مجھ سے سخن مت کیا کرو\nاچھی لگے ہیں مجھ کو تری بد زبانیاں\n\nغیروں ہی کے سخن کی طرف گوش یار تھے\nاس حرف ناشنو نے ہماری نہ مانیاں\n\nیہ بے قراریاں نہ کبھو ان نے دیکھیاں\nجاں کاہیاں ہماری بہت سہل جانیاں\n\nمارا مجھے بھی سان کے غیروں میں ان نے میرؔ\nکیا خاک میں ملائیں مری جاں فشانیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%88%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "کھویا ہوا سا رہتا ہوں اکثر میں عشق میں", "poet_page": "مصنف:ہادی مچھلی شہری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھویا ہوا سا رہتا ہوں اکثر میں عشق میں\nیا یوں کہو کہ ہوش میں آنے لگا ہوں میں\n\nیہ ابتدائے شوق کی حالت نہ ہو کہیں\nمحفل میں اس سے آنکھ چرانے لگا ہوں میں\n\nاب کیوں گلہ رہے گا مجھے ہجر یار کا\nبے تابیوں سے لطف اٹھانے لگا ہوں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%88%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B3%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کھویا ہوا پیار", "poet_page": "مصنف:اعظم کریوی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "درندر بابو آرام کرسی پر لیٹے ہوئے کوئی اخبار پڑھ رہے تھے۔اسی وقت ایک بوڑھے نوکر نے آکر گھبرائی ہوئی آواز میں کہا۔ ’’سرکار!‘‘\n\n’’کیا ہے؟‘‘\n\nصدر پھاٹک پر ایک بھکاری ۔۔۔ گھبراہٹ کے مارے اس کی آواز رک گئی۔\n\n’’کیا ہے جی۔ گھبرانے کی کیا بات ہے۔‘‘\n\n’’بیہوش ہوکر گر پڑا ہے‘‘ نوکر نے کسی طرح اپنی بات پوری کی۔\n\n’’تو میرے پاس کیوں دوڑے آئے اس کی کچھ مدد کرنی چاہیے تھی۔‘‘ اتنا کہہ کر درندر بابو تیزی سے پھاٹک کی طرف چلے۔ بھکاری کو دیکھتے ہی خداترس بابو روپڑے۔ وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئے اور بھکاری کے سر کو اپنے زانو پر رکھ کر کہا۔ جلدی سے پانی اور دوائی والا بکس اٹھالاؤ۔‘‘\n\nچند منٹ کے بعد بھکاری نے آنکھیں کھول دیں، ان میں حسرت و یاس کا چشمہ ابل رہا تھا۔ درندر بابو اسی میں ڈوبتے ہوئے بولے۔ ’’اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘\n\n’’اب اچھا ہوں‘‘ کہتا ہوا وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگا مگراٹھ نہ سکا۔\n\n’’کچھ کھاؤگے۔‘‘\n\nبھکاری کچھ نہ بولا لیکن اس کی آنکھیں سب کچھ کہہ گئیں۔\n\nنوکر کی گھبراہٹ اب تک دور نہ ہوئی تھی، اس کی طرف دیکھ کر درندر بابو نے کہا ، سکھو! اب کیوں کانپ رہے ہو۔ جاؤ فوراً کچھ کھانے کو لے آؤ ، اور ہاں ’’لکھنا‘‘ کہاں لاپتہ رہتاہے۔ اس سے کہو کہ پھاٹک والی کوٹھری میں ایک کھاٹ بچھادے۔‘‘\n\nلکھنا بابو صاحب کا خاص نوکر تھا اور اسی وجہ سے وہ کام تو کم کرتا تھا لیکن باتیں بہت بناتا تھا۔ دوسرے نوکر چاکر اس سے تنگ رہتے تھے۔ سکھو سیدھا سادا محنتی نوکر تھا لیکن لگھنا کی حرکتوں سے وہ بھی اب پریشان رہتا تھا۔ آج موقع پاکر کہنے لگا ۔ سرکار کے ڈر سے کہیں بھاگ کر چھپ گیا ہوگا ۔ اسی کے دھکے سے تو یہ بیچارا بھکاری گرا ہے ۔ اس کی بیہوشی سے تو میں بہت ڈر گیا تھا کہ کہیں جان نہ نکل گئی ہو ۔ بھگوان میں نے بچایا نہیں تو اس وقت سب گرفتار ہوجاتے۔‘‘ اتنا کہہ کر سکھو بھوجن لانے چلا گیااور بابو صاحب اپنا غصہ دباتے ہوئے بھکاری سے کہنے لگے ۔ اس کے لیے مجھے معاف کرنا بھائی۔ میرا نوکر لگھنا آدمی نہیں بلکہ راکشش ہے ۔ کہاں چوٹ لگی ہے؟‘‘\n\nبھکاری نے کمزور آواز میں جواب دیا ۔ ’’سرکار پریشان نہ ہوں میرے کہیں چوٹ نہیں لگی۔‘‘\n\n’’کیا لگھنا نے مارا پیٹا بھی ہے۔‘‘\n\n’’نہیں سرکار! اس کا کچھ قصور نہیں۔ فاقہ کرنے سے میں بہت کمزور ہوگیا تھا۔ میرے پاؤں ڈگمگا رہے تھے۔ آج وہ میرے بدن کا بوجھ نہ سنبھال سکے۔ بس اور کوئی بات نہیں۔‘‘\n\n’’تم مجھ سے چھپا رہے ہو۔ سچ بتاؤ کیا اس نے تم کو دھکا نہیں دیا۔‘‘\n\nبھکاری کی آنکھوں میں آنسو چھلکنے لگے، بڑی مشکل سے اس نے کہا، سرکار! وہ مجھ کو پھاٹک سے باہر نکال رہا تھا۔ اس کی ٹھوکر سے نہیں بلکہ اپنے پاپی پیٹ کی ٹھوکر سے میں گر پڑا۔ اسےآپ کچھ نہ کہیے گا۔‘‘\n\nدرندر کا دل بھر آیا وہ بھکاری کے سر پر محبت سے اپنا ہاتھ پھیرنے لگے۔\n\nسکھو نےآکر کہا ۔ سرکار! اب اس کو کوٹھری میں پہنچانا چاہئے۔ کچھ کھاپی کر آرام کرلے۔‘‘\n\nبھکاری شرماتا ہوا کھانا کھا رہا تھا اور سکھو محبت آمیز باتوں سے اس کاجی بہلا رہا تھا، اسی وقت لگھنا غصہ میں بھرا ہوا کوٹھری میں داخل ہوا اور کانپتی ہوئی آواز میں بولا ۔ سکھو دادا!مالک سے میری شکایت کرکے تم خوش نہیں رہ سکتے۔ یاد رکھنا یہ تم نے اپنے حق میں اچھا نہیں کیا ۔‘‘\n\nوہ بھکاری کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گیا اور کہنے لگاؤ ’’اب کبھی کسی کے ساتھ ایسا سلوک نہ کروں گا مجھے معاف کردو بھیا۔‘‘\n\nبھکاری اور سکھوں دونوں دنگ رہ گئے۔\n\nتین چار ہی دن کے آرام و آسایش سے بھکاری کا مرجھایا ہوا چہرہ کھل اٹھا۔ اس نے درندر بابو سے کہا ۔ ’’مالک! اب جانے کی اجازت دیجیے۔‘‘\n\nکہاں جانا چاہتے ہو سنتو! درندر بابو نے محبت آمیز لہجہ میں دریافت کیا۔\n\n’’یہ پیٹ جہاں لے جائے۔‘‘\n\n’’کیا تم کو یہاں کوئی تکلیف ہے؟‘‘\n\n’’تکلیف تو کچھ بھی نہیں سرکار ، مگر اس طرح مفت کی روٹی کھانا میں پسند نہیں کرتا۔ میں نوکری کی تلاش میں جانا چاہتا ہوں۔‘‘\n\nاگر میں تم کو نہ جانے دوں؟\n\nسنتو سرجھکائے کھڑا رہا کچھ بولا نہیں۔\n\n’’کیا تم میرے یہاں نوکری نہیں کرسکتے۔‘‘\n\nسنتو کا دل خوشی کے مارے اچھل پڑا۔ اس نے احسان بھری نظروں سے بابو کو دیکھا اور پھر سرجھکالیا۔\n\n’’چوکیداری کا کام کرسکتے ہو۔‘‘\n\n’’جی ہاں‘‘\n\n’’کیا تنخواہ لوگے؟‘‘\n\n’’اس کی کیا ضرورت ہے سرکار! اس دنیا میں میرا اپنا کوئی نہیں۔ کھانے بھر کو دے دیجیے گا۔ کبھی کبھی تن ڈھانکنے کو پھٹے پرانے کپڑوں کا انتظام کردیجیے گا۔ بس اس کے علاوہ مجھے اور کچھ نہ چاہیے۔‘‘\n\n’’کپڑے اور خوراک کے علاوہ میں تم کو دس روپے مہینہ دوں گا۔ اپنی اسی کوٹھری میں رہنا اور رات کو چوکیداری کا کام کرنا۔‘‘\n\nسنتو خوشی کے مارے بابو صاحب کے قدموں پر گر پڑا اور بولا ’’سرکار! اس احسان کا بدلہ میں کبھی نہیں دے سکتا۔‘‘\n\nاس کے کچھ ہی دنوں کے بعد کا ذکر ہے۔ ساون کی اندھیری رات تھی، چاروں طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ سنتو ’’جاگتے رہو‘‘ کا نعرہ بلند کرتا ہوا درندر بابو کی کوٹھی کے چاروں طرف گھوم گھوم کر پہرہ دے رہا تھا۔ یکبارگی وہ ایک کھڑی کے سامنے چپ چاپ کھڑا ہوگیا۔ وہاں سے اس نے دیکھا ۔ کمرہ میں ایک سندری گھٹنے ٹیکے پرارتھنا کر رہی ہے، اس کی آنکھیں بند تھیں لیکن بہتے ہوئے آنسو اس کے گالوں پر جھلک رہے تھے ۔ ہاتھ جوڑ کر وہ جانے کیا دعا مانگ رہی تھی ۔\n\nحسن و شباب کی اس جیتی جاگتی تصویر کے سامنے جوان چوکیدار خود کو بھول گیا ۔ سب کچھ بھول کر وہ وہیں کھڑا رہا، تھوڑی دیر میں اس نے دیکھا کہ ایک اور دوسری حسینہ اس پرارتھنا کرنے والی لڑکی کے پیچھے آکر کھڑی ہوگئی ۔ کچھ دیر خاموش رہ کر اس نے کےکہا ’’مایا تم کو کیا ہوگیا ہے؟‘‘\n\nچوکیدار کی چھاتی رنج و غم سے دھڑکنے لگی ۔ دعا میں محو مایا چونک پڑی، اس نے اپنے دل کو سنبھالتے ہوئے کہا ۔ ’’مالکن، کچھ تو نہیں!‘‘\n\n’’نہیں میری پیاری مایا ۔‘‘ مالکن، نے اٹھاکر اسے اپنی چھاتی سے لگاتے ہوئے پوچھا ۔ سچ بتا تو اس طرح کس خیال میں ڈوبی رہتی ہے۔‘‘\n\nمایا اس کا کوئی جواب نہ دے سکی۔ ہجوم جذبات سے اس کی زبان بند تھی۔\n\n’’تجھے میرے سر کی قسم! سچ بتا تو ابھی کیوں رو رہی تھی؟‘‘\n\n’’اپنی قسمت پر! کہہ کرمایا سسکنے لگی۔‘‘\n\nمالکن کا دل بھر آیا اس نے محبت بھری آواز میں کہا ۔ بہن! تو اپنے دل کی بات مجھ سے نہ چھپا، صاف صاف بتادے، دھیان اور فکر کی گہرائی میں ڈوب کر تو کس کو تلاش کر رہی تھی۔‘‘\n\n’’کھویا ہوا پیار!‘‘ کہہ کر مایا مالکن سے اور بھی لپٹ گئی۔ دونوں وہاں سے چلی گئیں اور کمرہ خالی ہوگیا۔\n\nٹھیک اسی وقت بے خبر سنتو کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا، وہ چونک کر اچھل پڑا اور اپنی لاٹھی سنبھالتا ہوا بولا ۔ ’’کون؟‘‘\n\n’’میں ہوں اچھی طرح پہچان لو۔‘‘\n\n’’کون؟ لکھن۔‘‘\n\n’’جی ہاں۔‘‘\n\n’’اس وقت تم یہاں کیسے آئے۔‘‘\n\n’’تمہاری حرکتیں دیکھنے کو آیا ہوں۔‘‘\n\n’’میری حرکت۔‘‘\n\n’’جی ہاں، آدھی رات کے وقت کھڑکی کھول کر اندر کی عورتوں پر نظر ڈالنا آپ ہی کی حرکت ہے نہ؟‘‘\n\nسنتو کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکتی ہوئی معلوم ہوئی، وہ گھبراکر بول اٹھا ۔ لکھن بھیا! ایشور کے لیے ایسے تہمت نہ لگاؤ۔ بھلا مجھ غریب کو ستاکر کیا پاجاؤگے۔‘‘\n\nایسی چکنی چپڑی باتوں سے بڈھے سکھو ہی کو بیوقوف بنایا کرو۔ میں نے تو سچ کا ساتھ دینا سیکھا ہے۔ منھ میں رام رام اور بغل میں چھری۔ ’’میرا دستور نہیں۔ میں نے جو کچھ دیکھا ہے مالک سے جاکر صاف صاف کہہ دوں گا۔ اس کے بعد اس کی مرضی۔‘‘\n\nسہم کر سنتو نے پوچھا ۔ ’’آخر تم نے کیا دیکھا ہے؟‘‘\n\n’’یہی کہ تم ان کی عورت کو جو ہماری مالکن ہیں، بُری نظر سے دیکھ رہے تھے۔‘‘\nلکھن! ’’بھگوان سے ڈرو۔‘‘\n\n’’بھگوان سے ڈرے وہ جو اپنے اَن داتا (پرورش کرنے والے) کے ساتھ نمک حرامی کرے۔‘‘\n\n’’وہی تو میں کہہ رہا ہوں۔‘‘\n\n’’کہہ کس سے رہے ہو ۔ اپنےآپ ہی کو کیوں نہیں کہتے۔ دغاباز! چور! بے ایمان!!!‘‘\n\n’’بس اب چپ ہی رہنا لکھن!‘‘\n\n’’نہیں تو تم کیا کرلوگے؟‘‘\n\nٹھیک ٹھیک تو نہیں کہہ سکتا مگر کچھ نہ کچھ ضرور کر بیٹھوں گا۔‘‘\n\n’’اچھی بات ہے صبح ہونے دو حسرت نکال لینا۔‘‘\n\n’’پھانسی تیار کرالینا۔‘‘\n\n’’مالکن خود تمہاری بدمعاشی اور بری نظر کی شکایت مالک سے کر چکی ہیں۔ انھیں نے تو مجھ کو تمہاری دیکھ بھال کے لیے تعینات کیا تھا۔ تمہاری ساری قلعی کھل گئی۔ پھانسی اگر تیار نہ ملے گی تو لاتوں اور جوتوں کی کمی نہ رہے گی۔ گھبرانا نہیں۔‘‘\n\nسنتو کا سر چکرانے لگا کیونکہ دو ایک بار پہلے بھی وہ کھڑکی کی راہ سے اپنی نظر کمرہ تک پہنچا چکا تھا۔ ممکن ہے کہ مالکن یا ان کی نوکرانی نے دیکھ لیا ہو۔ وہ تھر تھراکر وہیں زمین پر بیٹھ گیا اور لکھن تیزی سے اپنے مالک کے کمرہ کی طرف بڑھا۔\nسنتو نے گھبراکر پکارا ۔ ’’لکھن بھیا!‘‘\n\nلکھن کھڑا ہوگیا۔ سنتو نے اس کے پاس جاکر کہا ۔ مجھے معاف کردو۔‘‘\n\nلکھن کی منھ مانگی مراد مل گئی۔ اکڑ کر بولا ۔ ’’میں کیا معاف کردو۔‘‘\n\n’’میری عزت اب تمہارے ہاتھ ہے تمہیں بچاسکتے ہو۔‘‘\n\n’’خیر مجھ کو تم پر رحم معلوم ہوتا ہے اب اگر تم اپنا بھلا چاہتے ہو یہاں سے بھاگ جاؤ ورنہ تمہاری خیریت نہیں۔‘‘\n\n’’کیا سچ مچ مالک اور مالکن کو مجھ پر شک ہوگیا ہے۔‘‘\n\nلکھن کا دل دھڑکنے لگا، اس نے سنبھل کر کہا ۔یقین نہ ہو تو رات بھر ٹھہر جاؤ۔ سویرے سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔‘‘\n\n’’اچھا میرا کہا سنا معاف کرنا‘‘۔ کہہ کر سنتو آہستہ آہستہ اپنے کمرہ کی طرف چلا گیا۔\n\nپہر دن چڑھ آیا تھا لیکن سنتو کی راہ پر گویا روشنی ہی نہ تھی۔ جب انسان کے بُرے دن آتے ہیں تو اسے چاروں طرف تاریکی ہی تاریکی دکھائی دیتی ہے۔ شہر کے باہر، سڑک سے ذرا دور ہٹ کر ایک پیڑ کے نیچے بیٹھا ہوا سنتو سوچ رہا تھا کہ اب اسے کہاں جانا چاہیے۔ یکبارگی شہر کی طرف سے کئی پولیس کے سوار آتے دکھائی دیے۔ سنتو کانپ اٹھا اور بیہوش ہوکر زمین پر گرپڑا۔\n\nہوش آنے پر اس نے دیکھا کہ وہ پولیس والوں سے گھرا ہوا ہے۔ لکھن بھی موجود ہے اس کے علاوہ اس کے مالک درندر بابو اس کی طرف حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔\n\nداروغہ نے پوچھا ۔ ’’کیا تم کو معلوم ہے کہ تم کیوں گرفتار کیے گئے ہو۔‘‘\n\n’’جی نہیں‘‘\n\n’’سیندہ لگانے اور چوری کرنے کے جرم میں گرفتار کیے گئے ہو۔‘‘\n\n’’سنتو نے نیچی نگاہ سے درندر بابو کی طرف دیکھا اور کہا۔ ہاں سرکار!‘‘\n\n’’اس چالاکی سے اب کام نہیں چلے گا۔‘‘ داروغہ نے ہنٹر دکھاتے ہوئے کہا۔ تین ہزار کے زیورات چراکر اپنے بھولے پن کا ناٹک تم نہیں دکھا سکتے۔ بتاؤ تمہارے اور ساتھی کہاں گئے؟‘‘\n\n’’میرا کوئی ساتھی نہیں حضور!‘‘ سنتو نے رو کر جواب دیا۔\n\n’’تو بتاؤ سیندہ لگانے کے اوزار اور گہنوں کا صندوق کہاں چھپایا ہے۔‘‘\n\nسنتو ہکا بکا ہوکر درندر بابو کی طرف دیکھنےلگا گویا خود ان سے اس کا جواب دلوانا چاہتا ہے۔\n\nدرندر بابو نے بے رخی سے کہا۔ میری طرف تاکنےسے کیا فائدہ۔ تم مار آستین نکلے۔ اگر اپنی خیریت چاہتے ہو تو سچا حال بتادو۔\n\nسنتو نے مایوس ہوکر کہا ’’تو کیا سرکار کو بھی مجھ پر شک ہے؟‘‘\n\n’’جی نہیں ۔ میرے اوپر‘‘ کہہ کر داروغہ نے سنتو پر ایسا ہنٹر مارا کہ وہ تلملا اٹھا۔\n\n’’ایشور جانتا ہے ۔‘‘\n\nداروغہ نے قطع کلام کرکے ڈانٹ کر کہا۔ زیادہ بک بک کروگے تو مارتے مارتے کچومر نکال دوں گا۔ تم ایسے بدمعاشوں کو میں خوب پہچانتا ہوں۔‘‘\n\nجب میرے مالک خود مجھ کو چور سمجھتے ہیں ۔ سنتو نے آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔\n\n’’تو میرے لیے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ میں مجرم بن کر سب طرح کی تکلیفیں سہنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘\n\nدرندر بابو کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔ لیکن داروغہ نے ڈانٹ کر کہا ، مگر پہلے یہ تو بتادے کہ چوری کا مال کہاں ہے؟\n\nسنتو نے نڈر ہوکر جواب دیا ۔ کسی طرح بھی مجھ سےآپ اس بات کا پتہ نہیں چلا سکتے۔ آپ کا جو جی چاہے کیجیے۔ مارنے پیٹنے سے نہ کام چلے تو کوئی دوسری کارروائی کیجیے۔‘‘\n\n’’لے چلو اسے اندھیری کوٹھری میں۔‘‘ سپاہیوں کو حکم دے کر داروغہ جی کھڑے ہوگئے اور انھیں کے ساتھ درندر بابو سر جھکا کر چل دیے۔\n\nآدھی رات کا وقت رہا ہوگا سب سو رہے تھے لیکن لکھن کی آنکھیں بار بار کمرہ کے باہر جھانک رہی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا وہ کسی گہری فکر میں ہے، وہ باہر نکل آیا اور بڑی بے چینی کے ساتھ ٹہلنے لگا۔ دیر تک وہ اسی طرح دل بہلانے کی کوشش کرنے کے بعد پھر وہ اپنے کمرہ میں گھس گیا۔ کواڑ بند کرکے ایک لمبی سانس لی اور بستر پر لیٹ گیا۔ اسی وقت باہر کسی نے دروازہ پر تھپکی دی۔ اس کا دل دھڑکنے لگا لیکن فوراً ہی امید کا دامن تھام کر وہ اٹھ بیٹھا اور بولا ’’کون؟‘‘\n’’میں ہوں‘‘۔ ایک شیریں آواز نے جواب دیا۔\n\nلکھن کے جسم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ کواڑ کھول کر آہستہ سے کہا ۔ ’’بڑا انتظار دکھایا۔‘‘\n\n’’کیا تم ناامید ہوچکے تھے؟‘‘\n\n’’ہاں مایا! میں نے تو سمجھ لیا تھا کہ میری مراد پوری نہ ہوگی۔‘‘\n\nخیر اب اتنا تو سمجھ گئے کہ تمہاری مراد پوری ہوگئی۔ مایا نے مسکراکر کہا ۔ ’’مگر ۔۔۔‘‘\n\n’’اب اگر مگر کچھ نہیں‘‘ کہہ کر لکھن نے مایا کا ہاتھ پکڑنا چاہا۔\n\n’’وہ تیزی سے پیچھے ہٹ گئی اور بولی۔ ٹھہرو! ابھی مجھے اطمینان نہیں ہوا میں تمھیں آزمانا چاہتی ہوں۔‘‘\n\nلکھن سناٹے میں آگیا اور کہا ۔ اتنے دنوں کی پوجا کا کیا یہی پھل ملے گا؟ اب کیا آزمانا چاہتی ہو۔\n\nمایا نے تیوری چڑھاکر کہا کہ وعدہ کرو کہ بغیر میری اجازت کے تم مجھے چھونے کی کوشش نہ کرو گے۔\n\n’’اچھا سرکار وعدہ کرتا ہوں، اب تو خوش ہوئیں۔‘‘\n\n’’بس میں یہی چاہتی تھی۔‘‘ مایا نے آنکھیں مٹکاکر مسکراتے ہوئے کہا۔ لیکن جیسے ہی میں دیکھوں گی کہ تم وعدہ پر قایم نہیں رہے، میں تمہارا ساتھ چھوڑ دوں گی سمجھے۔؟\n\n’’جیسی سرکار کی مرضی‘‘۔ لکھن نے گھٹنے ٹیک کر کہا ۔ ’’لو اب اندر آجاؤ۔‘‘\nمایا نے کمرہ کے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔ ’’نیپال راج میں پہنچ کر تو پھر کوئی ڈر کی بات نہ رہے گی۔‘‘\n\n’’بالکل نہیں‘‘ لکھن نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔ ’’وہاں ہم دونوں چین کریں گے۔‘‘\n\n’’پردیس میں چین و آرام سے رہنے کے لیے بڑی محنت کی ضرورت پڑتی ہے۔‘‘\n\n’’اس سے بے فکر رہو، وہ محنت کا کام میں یہیں کرچکا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر لکھن نے مایا کے سامنے ایک چھوٹی سی گٹھری رکھ دی۔ ہمیں چین سے بسر کرنے کے لیے بہت کافی ہے۔\n\n’’اس میں کیا ہے‘‘ مایا نے گٹھری کو اٹھاکر پوچھا۔\n\n’’وہی‘‘ لکھن نے مسکراکر کہا ۔ جس کی مدد سے میں تم کو ساری عمر سُکھ کی رانی بناکر رکھوں گا۔\n\nخوشی کے مارے مایا کا چہرہ کھل اٹھا ۔ چلو اب دیر کرنے کی ضرورت نہیں۔\n\nمایا اور لکھن شہر کے اسٹیشن کو چھوڑ کر رات کے سناٹے میں شہر کے باہر والے چھوٹے اسٹیشن کی طرف جلدی جلدی قدم بڑھاتے ہوئے جارہے تھے۔ رات کی تاریکی گناہوں کی پردہ پوش ہوتی ہے۔ لکھن بڑے اطمینان سے چپ چاپ مایا کے آگے آگے چل رہا تھا۔ یکبارگی کوئی سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور ڈانٹ کر کہا ۔ ’’کہاں جا رہے ہو ٹھہرو۔‘‘\n\nلکھن کے ہوش ار گئے۔ گھبراکر بول اٹھا ۔ ’’تم سے کیا مطلب ہم کہیں بھی جاتے ہوں۔ بس سامنے سے ہٹ جاؤ۔‘‘\n\n’’اچھی بات ہے‘‘ کہہ کر راستہ روکنے والے نے سیٹی بجادی اور دیکھتے ہی دیکھتے ’’ٹارچ‘‘ کی روشنی سے سڑک پر اجالا ہوگیا۔ اب دونوں پولیس کے جوانوں سے گھرے تھے۔ لکھن نے انھیں کے ساتھ سکھو اور اپنے مالک درندر بابو کو بھی دیکھا۔ سکھو نے ڈر کر مایا کو گلے سے لگالیا اور محبت بھری آواز میں کہا ۔ ’’بیٹی! تو نے تو وہ کام کردکھایا جو کسی کے کیے نہ ہوتا۔‘‘\n\nبیٹی نے ادب سے جواب دیا۔ اگر تم مدد نہ کرتے تو دادا مجھ سے یہ کام ہرگز نہ ہوسکتا۔\n\nداروغہ نے لکھن کی گٹھری چھین کر اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دیں۔\n\nصبح ہوتے ہی درندر باتو تھانہ میں پہنچے اور سنتو کو حوالات سے چھڑالائے۔ معافی مانگتے ہوئے درندر بابو نے کہا۔ ’’ایشور جانتا ہے سنتو! اگر میرے بس کی بات ہوتی تو تم پر ہرگز مصیبت نہ آتی۔‘‘\n\n’’اب اس بات کو بھول جائیے بابوجی! انت بھلا تو سب بھلا۔ (انجام اچھا تو سب اچھا)۔ بھگوان کی یہی اِچھا (مرضی) تھی اسے کون روک سکتا تھا۔\n\n’’اچھا سنتو! یہ تو بتاؤ کہ تم اس رات کو چپکے سے بھاگ کیوں گئے؟‘‘\n\n’’لکھن کی شیطانی سے پریشان ہوکر۔‘‘ سنتو نے سر جھکاکر آہستہ سے جواب دیا۔\n\n’’تم میرے پاس کیوں نہیں چلے آئے۔‘‘\n\n’’مصیبت کے وقت عقل ماری جاتی ہے سرکار!‘‘\n\n’’ایشور چاہے گا تو اب کبھی ایسا موقع نہ آئے گا۔‘‘\n\n’’لیکن اب تو ۔۔۔‘‘\n\n’’یہاں نہیں رہوگے۔‘‘\n\n’’کبھی کبھی سرکار کے پاؤں چھونے آجایا کروں گا۔‘‘\n\n’’یہ کیوں؟‘‘\n\n’’میری قسمت میں خوشی نہیں لکھی۔‘‘\n\nدرندر بابو نے سمجھا کہ سنتو کا دل ٹوٹ گیا ہے، بولے ۔ ’’معلوم ہوتا ہے تم نے اب تک مجھے معاف نہیں کیا۔‘‘\n\nسنتو نے درندر بابو کے قدموں پر سررکھتے ہوئے کہا ’’آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں سرکار! میں تو آپ کو خواب میں بھی تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا ۔ لیکن افسوس ہے کہ میں یہاں نہیں رہ سکتا۔ جانے کے لیے مجبور ہوں۔‘‘\n\nسنتو کواٹھاتے ہوئے درندر بابو نے کہا ۔ ’’اصل بات کیا ہے کچھ بتاؤ تو سہی۔‘‘\n\n’’میرا دل قابو میں نہیں ہے۔ ڈرتا ہوں کہ کہیں مجھ سے کوئی غلطی نہ ہوجائے۔‘‘\n\n’’نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ میں تمہارے دل کو اب قابو میں رکھوں گی۔‘‘ یہ کہہ کر مایا یکبارگی آکر سنتو کے سامنے کھڑی ہوگئی۔\n\nسنتو کا سر جھک گیا اس کا بدن کانپنے لگا۔\n\nدرندر بابو حیرت سے ایک دوسرے کا منھ دیکھنے لگے۔ بوڑھا سکھو کھڑا کھڑا مسکرا رہا تھا۔\n\nمایا نے سنتو کے پاؤں پر سرجھکا کر کہا ’’ہردیشور! میری جیون ادھار! کیا اب بھی مجھے نہ اپناؤگے۔‘‘\n\nسنتو اسی طرح کھڑا رہا، بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ ’’مجھ پاپی کو چھوکر تو خود کو پاپن نہ بنا مایا! مجھے چھوڑ دے۔‘‘\n\n’’پرانی باتیں اب بھول جاؤ میرے دیوتا!‘‘ مایا نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا ۔ ’’ہم دونوں کو اپنی غلطیوں کی کافی سزا مل چکی۔‘‘\n\n’’تو تم نے مجھے معاف کردیا۔‘‘\n\n’’اور میری طرف سے تمہارا دل صاف ہوگیا۔‘‘\n\n’’ہاں‘‘ کہہ کر سنتو نے مایا کی طرف پیار کی نظروں سے دیکھا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ مایا کو چھاتی سے لگالے مگر درندر بابو کے ادب سے رک گیا۔\n\n’’میرے سوامی! کہہ کر مایا فرطِ خوشی سے روپڑی۔\n\nسکھو کا چہرہ خوشی کے مارے کھل اٹھا۔ اس نے کہا ۔ ’’جاؤ بیٹی! سنتو کے کھانے پینے کا انتظام کرو۔‘‘\n\nسکھو دادا کا پاؤں چھوکر مایا لجاتی ہوئی اندر چلی گئی۔\n\nسنتو نے خوش ہوکر کہا ۔ ’’اب کہیں نہ جاؤں گا سرکار!‘‘\n\nدرندر بابو جو تصویر حیرت بنے ہوئے تھے بولے۔ معاملہ کیا ہے؟ میں اب تک کچھ بھی نہیں سمجھ سکا سکھو!\n\n’’اب تک سرکار نے نہیں سمجھا؟‘‘ سکھو نے مسکراتے ہوئے کہا۔ سنتو میرا داماد ہے۔‘‘\n\n’’اوہو تو کیا مایا تمہاری بیٹی ہے۔‘‘\n\n’’میں نے جب اس کو گنگا مائی سے نکال کر پرورش کی تو وہ میری بیٹی ہی ہوئی۔‘‘\n\nسنتو نے احسان مند نظروں سے سکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔ کیا مایا گنگا میں ڈوب گئی تھی دادا!‘‘\n\n’’ہاں بھیا‘‘ بوڑھے نے کہا ۔ ’’اگر میری نظر نہ پڑتی تو یہ ڈوب ہی جاتی۔ پانی سے نکال کر بہت سمجھا بجھا کر یہاں لے آیا۔ میری مالکن اس کو اپیی چھوٹی بہن کی طرح رکھتی ہیں ۔ کیا تم دونوں میں کچھ لڑائی ہوگئی تھی بھیا ۔ بات کیا تھی؟‘‘\n\n’’کچھ نہیں دادا! بالکل معمولی بات تھی۔‘‘ سنتو نے شرماکر جواب دیا۔\n\n’’اس کی ایک غلطی پر مجھے مایا پر کچھ شک ہوگیا تھا۔‘‘\n\n’’اب کبھی ایسی غلطی نہ کرنا‘‘۔ درندر بابو نے کہا۔ ’’تمہاری عورت بڑی نیک چلن اور شریف ہے۔ سچ مچ دیوی ہے دیوی۔‘‘\n\n’’ہاں بھیا۔‘‘ سکھو نے بھی محبت آمیز لہجہ میں کہا۔ ’’اس کو یہاں رہتے آج پانچ برس ہوگئے ہیں لیکن کیا مجال کہ گھر سے باہر جھانکا ہو یا بُری نظروں سے کسی مرد کو تاکا ہو۔ ہاں مجھ کو البتہ اپنے باپ کی طرح مانتی ہے۔‘‘\n\n’’توآج سے میں بھی آپ کا بیٹا ہوا۔‘‘ کہہ کر سنتو، سکھو کے قدموں پر گر پڑا۔\n\n’’اور تم دونوں کو پاکر آج سے میں بھی بھکاری سے خوش قسمت ہوگیا۔ بوڑھے نے سنتو کو اٹھاکر گلے سے لگاتے ہوئے کہا، مجھ لٹے ہوئے بدقسمت بڈھے کے اب تمہیں سب کچھ ہو۔‘‘\n\nدرندر بابو خوش خوش اپنی بیوی کے پاس پہنچے اور بولے ’’ایسی خوش خبری سناؤں کہ پھڑک جاؤ۔‘‘\n\nتارانے پیار کی نظروں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھ کر کہا ’’کیا؟‘‘\n\n’’مایا کہاں گئی۔‘‘\n\n’’کیوں؟ کیا اسی کے متعلق کوئی بات ہے؟‘‘\n\n’’ہاں! سنتو اس کا شوہر ہے۔‘‘\n\n’’سچ کہنا ۔ مذاق تو نہیں کر رہے ہو۔‘‘\n\n’’تمہارے قدموں کی قسم۔ سچ کہہ رہا ہوں۔‘‘\n\nتارا لپکتی ہوئی بغل والے کمرے میں گئی۔ مایا بالوں میں کنگھی کر رہی تھی۔ مالکن کو دیکھتے ہی نیچی نظروں سے مسکرانے لگی۔ تارا نے فرطِ محبت سے مایا کی کلائی پکڑ کر پوچھا ۔ اوہو! آج تو بہت خوش دکھائی دیتی ہو۔ کچھ مل گیا ہے کیا؟‘‘\n’’اپنا کھویا ہوا دھن! بھولا ہوا پیار!‘‘ اس کی آنکھوں سے موتیوں کی جھڑی لگ گئی۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%88%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1"} {"title": "کھُلا جب چمن میں کتب خانۂ گُل", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "کھُلا جب چمن میں کتب خانۂ گُل\nنہ کام آیا مُلّا کو علمِ کتابی\nمتانت شکن تھی ہوائے بہاراں\nغزل خواں ہُوا پیرکِ اندرابی\nکہا لالۂ آتشیں پیرہن نے\nکہ اَسرارِ جاں کی ہوں مَیں بے حجابی\nسمجھتا ہے جو موت خوابِ لَحد کو\nنہاں اُس کی تعمیر میں ہے خرابی\nنہیں زندگی سلسلہ روز و شب کا\nنہیں زندگی مستی و نیم خوابی\nحیات است در آتشِ خود تپیدن\nخوش آں دم کہ ایں نکتہ را بازیابی\nاگر زآتشِ دل شرارے بگیری\nتواں کرد زیرِ فلک آفتابی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%8F%D9%84%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%AA%D8%A8_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%82_%DA%AF%D9%8F%D9%84"} {"title": "کھُلے جاتے ہیں اسرارِ نہانی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کھُلے جاتے ہیں اسرارِ نہانی\nگیا دَورِ حدیثِ ’لن ترانی‘\nہوئی جس کی خودی پہلے نمودار\nوہی مہدی، وہی آخر زمانی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%8F%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%D9%90_%D9%86%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "کھٹک نے دل کی دیا زخم بے نشاں کا پتا", "poet_page": "مصنف:بیتاب عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھٹک نے دل کی دیا زخم بے نشاں کا پتا\nنہ اس دہن میں فغاں تھی نہ تھا زباں کا پتا\n\nسر نیاز جھکانے کی خو تو پیدا کر\nجبین شوق لگا لے گی آستاں کا پتا\n\nستم دبا نہ سکا آپ کے شہیدوں کو\nجفا مٹا نہ سکی خون بے کساں کا پتا\n\nرگ بریدہ پکارے گی نام قاتل کا\nکفن بتائے گا اس تیغ خوں چکاں کا پتا\n\nاسی قدر تو ہے سرمایۂ تجسس عقل\nکہ کچھ زمیں کی خبر ہے کچھ آسماں کا پتا\n\nدل تپاں تھا کہیں چشم خونفشاں تھی کہیں\nقدم قدم پہ ملا کوچۂ بتاں کا پتا\n\nاسیر دام محبت سے پوچھئے بیتابؔ\nکمند طرۂ مشکین دلستاں کا پتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%B9%DA%A9_%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کھٹکتے ہیں نگاہ باغباں میں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھٹکتے ہیں نگاہ باغباں میں\nجو ہیں دو چار تنکے آشیاں میں\n\nہر اک سختی میں عالم نزع کا تھا\nہماری عمر گزری امتحاں میں\n\nچھڑا لے سجدہ کرنے میں نہ کوئی\nلگے ہیں لال سنگ آستاں میں\n\nشرارے ہیں مرے نالوں کے قائم\nکہ تارے جڑ دیے ہیں آسماں میں\n\nقریب اب فصل گل شاید ہے صیاد\nمزا آنے لگا میری فغاں میں\n\nترس آتا نہیں مجھ پر کسی کو\nمیں فریاد جرس ہوں کارواں میں\n\nاثر مے کا ہے یا توبہ کا ناصح\nکہ تلخی سی ہے کچھ اب تک زباں میں\n\nتڑپنے والوں میں بھی تفرقہ ہے\nقفس میں ہم ہیں بجلی آشیاں میں\n\nکسی سے چھوٹ کر عالم ہے کچھ اور\nپڑا ہے تفرقہ سا جسم و جاں میں\n\nریاضؔ استاد نے رتبہ یہ بخشا\nہماری دھوم ہے ہندوستاں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%D9%B9%DA%A9%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%BA%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کھڑا نہ سن کے صدا میری ایک یار رہا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھڑا نہ سن کے صدا میری ایک یار رہا\nمیں رہروان عدم کو بہت پکار رہا\n\nقفس سے چھوڑے ہے اب مجھ کو کیا تو اے صیاد\nچمن کے بیچ کہاں موسم بہار رہا\n\nپس از وفات بھی اپنی ہوئیں نہ آنکھیں بند\nزبس کہ تیرے ہی آنے کا انتظار رہا\n\nخدا کے واسطے اب اس سے ہاتھ اٹھا کہ مرے\nجگر میں نم نہیں اے چشم اشکبار رہا\n\nہوا تو غیر سے جب ہمکنار میرے ساتھ\nکہاں وہ وعدہ رہا اور کہاں قرار رہا\n\nکروں جو چاک گریباں کو اپنے ہوں مجبور\nکہ میرے ہاتھ میں میرا نہ اختیار رہا\n\nنہ سیر لالہ و گل ہم کو کچھ نظر آئی\nکہ نوک ہر مژہ پر یاں دل فگار رہا\n\nگلی میں اس کی گئے اور وہاں سے پھر آئے\nتمام عمر یہی اپنا کاروبار رہا\n\nغزل اک اور بھی اے مصحفیؔ سنا دے تو\nکوئی کہے نہ کہ بندہ امیدوار رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%DA%91%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B5%D8%AF%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "کھڑے ہیں موسیٰ اٹھاؤ پردا دکھاؤ تم آب و تاب عارض", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھڑے ہیں موسیٰ اٹھاؤ پردا دکھاؤ تم آب و تاب عارض\nحجاب کیوں ہے کہ خود تجلی بنی ہوئی ہے حجاب عارض\n\nنہ رک سکے گی ضیائے عارض جو سد رہ ہو نقاب عارض\nوہ ہوگی بے پردہ رکھ کے پردا غضب کی چنچل ہے تاب عارض\n\nچھپا نہ منہ دونوں ہاتھ سے یوں تڑپتی ہے برق تاب عارض\nلگا نہ دے آگ انگلیوں میں یہ گرمیٔ اضطراب عارض\n\nجو ان کو لپٹا کے گال چوما حیا سے آنے لگا پسینہ\nہوئی ہے بوسوں کی گرم بھٹی کھنچے نہ کیوں کر شراب عارض\n\nپری جو دیکھے کہے تڑپ کر جو حور دیکھے کہے پھڑک کر\nتمہارا گیسو جواب گیسو تمہارا عارض جواب عارض\n\nحضور گھونگھٹ اٹھا کے آئیں بڑی چمک کس میں ہے دکھائیں\nادھر رہے آفتاب محشر ادھر رہے آفتاب عارض\n\nچھپانا کیا ایک کا تھا منظور آج تک ہیں جو چار مشہور\nزبور توریت مصحف انجیل پانچویں ہے کتاب عارض\n\nنہ کیوں ہو دعویٰ برابری کا وہاں ملا تل یہاں سویدا\nیہ نقطۂ انتخاب دل ہے وہ نقطۂ انتخاب عارض\n\nپڑا ہوں غش میں مجھے سنگھا دو پسینہ چہرے کا زلف کی بو\nنہیں ہے کم لخلخے سے مجھ کو یہ مشک گیسو گلاب عارض\n\nجو شعلہ رو منہ چھپا کے نکلا دھواں سر راہ کچھ کچھ اٹھا\nلگی وہ آتش بنے ہے جل کر نقاب عارض کباب عارض\n\nنہ جھیپو صبح وصال دیکھو تم آنکھ سے آنکھ تو ملاؤ\nلیے ہیں گن گن کے میں نے بوسے زبان پر ہے حساب عارض\n\nکرو نہ غصے سے لال چہرا بھوؤں میں ڈالو نہ بل خدارا\nنہیں مجال‌ جلال ابرو نہیں ہے تاب عتاب عارض\n\nجو گال پر گال ہم رکھیں گے شب وصال ان کے ہاتھ اٹھیں گے\nطمانچے ماریں گے پیار سے وہ بجیں گے چنگ و رباب عارض\n\nکمر کو گردن کو دست و لب کو وصال میں لطف دے رہا ہے\nشباب زانو شباب بازو شباب سینہ شباب عارض\n\nجناب مائلؔ یہ کودک دل بتوں کی الفت میں ہوگا کامل\nپڑھاؤ قرآں کے بدلے اس کو بیاض گردن کتاب عارض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%B0_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A4_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%D8%A7_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A4_%D8%AA%D9%85_%D8%A2%D8%A8_%D9%88_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D8%B6"} {"title": "کھیل جاتے ہیں جان پر عاشق", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھیل جاتے ہیں جان پر عاشق\nجان دیتے ہیں آن پر عاشق\n\nکوئی ان گالیوں سے ٹلتے ہیں\nہم ہیں تیری زبان پر عاشق\n\nخواری ان عاشقوں کی وے جو ہوئے\nتجھ سے ناقدردان پر عاشق\n\nتازہ آفت تو ایک یہ ہے کہ ہم\nہوئے اس نوجوان پر عاشق\n\nجان دینے کو سود جانتے ہیں\nہم ہیں اپنے زیان پر عاشق\n\nاس قدر گرتی ہے کہے تو یہ برق\nہے مرے آشیان پر عاشق\n\nمصحفیؔ گر تو مرد کامل ہے\nدل نہ رکھ اس جہان پر عاشق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82"} {"title": "کھینچ کر اس ماہ رو کو آج یاں لائی ہے رات", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھینچ کر اس ماہ رو کو آج یاں لائی ہے رات\nیہ خدا نے مدتوں میں ہم کو دکھلائی ہے رات\n\nچاندنی ہے رات ہے خلوت ہے صحن باغ ہے\nجام بھر ساقی کہ یہ قسمت سے ہاتھ آئی ہے رات\n\nبے حجاب اور بے تکلف ہو کے ملنے کے لیے\nوہ تو ٹھہراتے تھے دن پر ہم نے ٹھہرائی ہے رات\n\nجب میں کہتا ہوں کسی شب کو تو کافر یاں بھی آ\nہنس کے کہتا ہے میاں ہاں وہ بھی بنوائی ہے رات\n\nکیا مزہ ہو ہاتھ میں زلفیں ہوں اور یوں پوچھیے\nاے مری جاں سچ کہو تو کتنی اب آئی ہے رات\n\nجب نشے کی لہر میں بال اس پری کے کھل گئے\nصبح تک پھر تو چمن میں کیا ہی لہرائی ہے رات\n\nدور میں حسن بیاں کے ہم نے دیکھا بارہا\nرخ سے گھبرایا ہے دن زلفوں سے گھبرائی ہے رات\n\nہے شب وصل آج تو دل بھر کے سووے گا نظیرؔ\nاس نے یہ کتنے دنوں میں عیش کی پائی ہے رات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%AC_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "کھینچ کر تلوار جب ترک ستم گر رہ گیا", "poet_page": "مصنف:انوری جہاں بیگم حجاب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھینچ کر تلوار جب ترک ستم گر رہ گیا\nہائے رے شوق شہادت میں تڑپ کر رہ گیا\n\nملتے ملتے رہ گئی آنکھ اس کی چشم مست سے\nہوتے ہوتے لب بہ لب ساغر سے ساغر رہ گیا\n\nآپ ہی سے بے خبر کوئی رہا وعدہ کی شب\nکیا خبر کس کی بغل میں کب وہ دلبر رہ گیا\n\nلے لیا میں نے کنارہ شوق میں یوں دفعتاً\nشوخیاں بھولا وہ خلوت میں جھجک کر رہ گیا\n\nتجھ سے قاتل کہہ دیا تھا دل کا یہ ارمان ہے\nدیکھ لے آخر مرے سینہ میں خنجر رہ گیا\n\nمدتوں سے سینۂ بسمل ہے جس قاتل کا گھر\nکیا ہوا دل میں اگر آج اس کا خنجر رہ گیا\n\nچل دیئے ہوش و خرد تو میکشوں کے چل دیئے\nرہ گیا ہاں میکدے میں دور ساغر رہ گیا\n\nسخت خجلت ہوگی دیکھ اے شوق عریانی مجھے\nآج اگر اک تار بھی باقی بدن پر رہ گیا\n\nکون کہتا ہے مکان غیر پر تم کیوں رہ گئے\nعرض تو یہ ہے کہ رستے میں مرا گھر رہ گیا\n\nپارسائی شیخ صاحب کی دھری رہ جائے گی\nدست ساقی میں اگر دم بھر بھی ساغر رہ گیا\n\nجس کے آنے کی خوشی میں کل سے وارفتہ تھے تم\nآج بھی آتے ہی آتے وہ ستم گر رہ گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کھینچ کر یوں لے چلی وحشت بیاباں کی طرف", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھینچ کر یوں لے چلی وحشت بیاباں کی طرف\nلائیں جیسے طفل بد خو کو دبستاں کی طرف\n\nفیض وحشت کا ادائے شکر جب واجب ہوا\nسر جھکایا ہم نے محراب گریباں کی طرف\n\nحاصل جوش جنوں ہے ماتم ہوش و خرد\nخاک اڑاتے جاتے ہیں وحشی بیاباں کی طرف\n\nعقل کے تیغ جنون تیز سے کوچے کٹے\nکون آئے جادۂ چاک گریباں کی طرف\n\nکر چکا جوش جنوں جنس خرد پر ہاتھ صاف\nلوٹ اب آتی ہے بازار گریباں کی طرف\n\nعشق کے مکتب میں جب آیا پئے درس جنوں\nپہلے ہی انگلی اٹھی نون گریباں کی طرف\n\nمائل زیور ہوا جب وہ حسین جامہ زیب\nچاند آیا چرخ سے طوق گریباں کی طرف\n\nہوش میں آتے ہیں دیوانے گئی فصل بہار\nدشت وحشت چھپ رہے پشت گریباں کی طرف\n\nناخن غم کا نشاں دل پر ہے مثل ماہ نو\nانگلیاں اٹھتی ہیں اس زخم نمایاں کی طرف\n\nجب کسی عاشق نے کچھ حال پریشانی کہا\nہنس دئے منہ پھیر کر زلف پریشاں کی طرف\n\nضعف میں جی کھول کر رونے کی حسرت ہے مجھے\nدیکھتا ہے یاس سے ہر اشک داماں کی طرف\n\nشمع کے شعلے ستم کرتے ہیں مثل برق طور\nدیکھتا ہوں جب نظرؔ بزم حسیناں کی طرف", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86_%DA%A9%D8%B1_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%84%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%8C_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "کھینچی ہے تصور میں تصویر ہم آغوشی", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کھینچی ہے تصور میں تصویر ہم آغوشی\nاب ہوش نہ آنے دے مجھ کو مری بے ہوشی\n\nپا جانا ہے کھو جانا کھو جانا ہے پا جانا\nبے ہوشی ہے ہشیاری ہشیاری ہے بے ہوشی\n\nمیں ساز حقیقت ہوں دم ساز حقیقت ہوں\nخاموشی ہے گویائی گویائی ہے خاموشی\n\nاسرار محبت کا اظہار ہے نا ممکن\nٹوٹا ہے نہ ٹوٹے گا قفل در خاموشی\n\nہر دل میں تجلی ہے ان کے رخ روشن کی\nخورشید سے حاصل ہے ذروں کو ہم آغوشی\n\nجو سنتا ہوں سنتا ہوں میں اپنی خموشی سے\nجو کہتی ہے کہتی ہے مجھ سے مری خاموشی\n\nیہ حسن فروشی کی دوکان ہے یا چلمن\nنظارہ کا نظارہ روپوشی کی روپوشی\n\nیاں خاک کا ذرہ بھی لغزش سے نہیں خالی\nمے خانۂ دنیا ہے یا عالم بے ہوشی\n\nہاں ہاں مرے عصیاں کا پردہ نہیں کھلنے کا\nہاں ہاں تری رحمت کا ہے کام خطا پوشی\n\nاس پردے میں پوشیدہ لیلائے دو عالم ہے\nبے وجہ نہیں بیدمؔ کعبے کی سیہ پوشی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%BA%D9%88%D8%B4%DB%8C"} {"title": "کھینچے مجھے موت زندگانی کی طرف", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کھینچے مجھے موت زندگانی کی طرف\nغم خود لے جائے شادمانی کی طرف\nتیرا جو کرم ہو تو مثال مہ نو\nپیری سے پہنچ جاؤں جوانی کی طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%AA_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجو", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجو\nمجھے نزدیک سے اپنے کبھو تو دور مت کیجو\n\nہوئے سنگ جفا سے شیشۂ دل کے کئی ٹکڑے\nبس اب اس سے زیادہ اور چکناچور مت کیجو\n\nمرے مرہم گزار اس شوخ بے پروا سے یہ کہیو\nکہ ظالم زخم تازہ ہے اسے ناسور مت کیجو\n\nحقارت اپنے عاشق کی نہیں معشوق کو بھاتی\nبیاںؔ سعی اپنی رسوائی میں تا مقدور مت کیجو\n\nکہا تھا سارباں کے کان میں لیلیٰ نے آہستہ\nکہ مجنوں کی خرابی کا کہیں مذکور مت کیجو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D9%88"} {"title": "کہا اقبالؔ نے شیخِ حرم سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "کہا اقبالؔ نے شیخِ حرم سے\nتہِ محرابِ مسجد سو گیا کون\nنِدا مسجد کی دیواروں سے آئی\nفرنگی بُت کدے میں کھو گیا کون؟", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%94_%D9%86%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D8%AE%D9%90_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کہا تھا ہم نے تجھے تو اے دل کہ چاہ کی مے کو تو نہ پینا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہا تھا ہم نے تجھے تو اے دل کہ چاہ کی مے کو تو نہ پینا\nجو اس کو پی کر تو ایسا بہکا کہ ہم کو مشکل ہوا ہے جینا\n\nجو آنکھیں چنچل کی دیکھیں ہم نے تو نوک مژگاں نے دل کو چھیدا\nنگہ نے ہوش و خرد کو لوٹا ادا نے صبر و قرار چھینا\n\nکہا جو ہم نے کہ آن لگیے ہمارے سینے سے اس دم اے جاں\nتو سن کے اس نے حیا کی ایسی کہ آیا منہ پر وہیں پسینہ\n\nکیا ہے غصہ میں ہاتھ لا کر مرا گریباں جو ٹکڑے اس نے\nپھٹا ہی رہنا ہے اب تو بہتر نہیں مناسب کچھ اس کو سینا\n\nکہا تھا آؤں گا دو ہی دن میں ولے نہ آیا وہ شوخ اب تک\nگنا جو ہم نے نظیرؔ دل میں تو اس سخن کو ہوا مہینہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%81_%DA%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "کہا جب تم سے چارہ درد دل کا ہو نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہا جب تم سے چارہ درد دل کا ہو نہیں سکتا\nتو جھنجھلا کر کہا تیرا کلیجا ہو نہیں سکتا\n\nوہ اپنی ضد کے پورے ہٹ کے پورے آن کے پورے\nفقط اتنی کمی ہے قول پورا ہو نہیں سکتا\n\nکہاں کی چارہ فرمائی عیادت تک نہیں کرتے\nمسیحائی پہ مرتے ہیں اور اتنا ہو نہیں سکتا\n\nسر طور ان کے جلوے نے پکارا خود نما ہو کر\nکہ اپنے چاہنے والے سے پردا ہو نہیں سکتا\n\nکہا جب ان سے میری زندگی تم ہو کہا ہنس کر\nمیں سمجھا اب تمہیں میرا بھروسا ہو نہیں سکتا\n\nمرا گھر غیر کا گھر تو نہیں کیوں کر وہ کھل کھیلیں\nنگاہیں اٹھ نہیں سکتیں اشارا ہو نہیں سکتا\n\nشرفؔ اور رشکؔ کے کہنے سے کچھ تک بندیاں کر لیں\nحسنؔ افکار میں ہم سے دو غزلا ہو نہیں سکتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھا", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھا\nتو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھا\n\nشب وصال بھی وہ شوخ بے حجاب نہ تھا\nنقاب الٹ کے بھی دیکھا تو بے نقاب نہ تھا\n\nلپٹ کے چوم لیا منہ مٹا دیا ان کا\nنہیں کا ان کے سوا اس کے کچھ جواب نہ تھا\n\nمرے جنازے پہ اب آتے شرم آتی ہے\nحلال کرنے کو بیٹھے تھے جب حجاب نہ تھا\n\nنصیب جاگ اٹھے سو گئے جو پاؤں مرے\nتمہارے کوچے سے بہتر مقام خواب نہ تھا\n\nغضب کیا کہ اسے تو نے محتسب توڑا\nارے یہ دل تھا مرا شیشۂ شراب نہ تھا\n\nزمانہ وصل میں لیتا ہے کروٹیں کیا کیا\nفراق یار کے دن ایک انقلاب نہ تھا\n\nتمہیں نے قتل کیا ہے مجھے جو تنتے ہو\nاکیلے تھے ملک الموت ہم رکاب نہ تھا\n\nدعائے توبہ بھی ہم نے پڑھی تو مے پی کر\nمزہ ہی ہم کو کسی شے کا بے شراب نہ تھا\n\nمیں روئے یار کا مشتاق ہو کے آیہ تھا\nترے جمال کا شیدا تو اے نقاب نہ تھا\n\nبیان کی جو شب غم کی بیکسی تو کہا\nجگر میں درد نہ تھا دل میں اضطراب نہ تھا\n\nوہ بیٹھے بیٹھے جو دے بیٹھے قتل عام کا حکم\nہنسی تھی ان کی کسی پر کوئی عتاب نہ تھا\n\nجو لاش بھیجی تھی قاصد کی بھیجتے خط بھی\nرسید وہ تو مرے خط کی تھی جواب نہ تھا\n\nسرور قتل سے تھی ہاتھ پاؤں کو جنبش\nوہ مجھ پہ وجد کا عالم تھا اضطراب نہ تھا\n\nثبات بحر جہاں میں نہیں کسی کو امیرؔ\nادھر نمود ہوا اور ادھر حباب نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%D9%88%D8%B3%D9%81_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کہا جو ہم نے ”ہمیں در سے کیوں اٹھاتے ہو”", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہا جو ہم نے ”ہمیں در سے کیوں اٹھاتے ہو”\nکہا کہ اس لیے تم یاں جو غل مچاتے ہو”\n\nکہا ”لڑاتے ہو کیوں ہم سے غیر کو ہمدم”\nکہا کہ ”تم بھی تو ہم سے نگہ لڑاتے ہو”\n\nکہا جو حال دل اپنا تو اس نے ہنس ہنس کر\nکہا ”غلط ہے یہ باتیں جو تم بناتے ہو”\n\nکہا ”جتاتے ہو کیوں ہم سے روز ناز و ادا”\nکہا کہ ”تم بھی تو چاہت ہمیں جتاتے ہو”\n\nکہا کہ ”عرض کریں ہم پہ جو گزرتا ہے؟”\nکہا ”خبر ہے ہمیں کیوں زباں پہ لاتے ہو”\n\nکہا کہ ”روٹھے ہو کیوں ہم سے کیا سبب اس کا”\nکہا ”سبب ہے یہی تم جو دل چھپاتے ہو”\n\nکہا کہ ”ہم نہیں آنے کے یاں” تو اس نے نظیرؔ\nکہا کہ ”سوچو تو کیا آپ سے تم آتے ہو”", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%E2%80%9D%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%E2%80%9D"} {"title": "کہا مانو محبت میں ضرر ہے", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہا مانو محبت میں ضرر ہے\nطبیعت کو سنبھالو دل کدھر ہے\n\nخدا جانے کہا غیروں سے کیا آج\nنہ وہ دل ہے نہ وہ ان کی نظر ہے\n\nعجب منزل پہ مجھ کو عشق لایا\nنہ رستا ہے نہ کوئی راہ بر ہے\n\nوہ کاہے کو یہاں آئیں گے اے دل\nیوں ہی کہتے ہیں سب جھوٹی خبر ہے\n\nنہ آؤ اس طرف اے حضرت عشق\nچلے جاؤ غریبوں کا یہ گھر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B6%D8%B1%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "کہا کس نے کہ تم یہ وو نہ بولو", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہا کس نے کہ تم یہ وو نہ بولو\nمیں جاؤں اور نہیں جی دو نہ بولو\n\nمرا گل رو بنا ہے عشق و بو کو\nہو عاشق یا نہ ہو بولو نہ بولو\n\nنہ دن دکھلاوے حق جانے کی راتیں\nنہیں کا چوچلا بھولو نہ بولو\n\nکہیں جو نیک و بد تم بے دلوں کو\nدر اشک اپنے جب رولو نہ بولو\n\nسنو شعر اظفریؔ کا اہل مدراس\nتم اردو بیچ اسے بھولو نہ بولو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%85_%DB%8C%DB%81_%D9%88%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%88%D9%84%D9%88"} {"title": "کہا کل میں نے اے سرمایۂ ناز", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہا کل میں نے اے سرمایۂ ناز\nتلون سے ہے تم کو مدعا کیا\n\nکبھی مجھ پر عتابِ بے سبب کیوں\nکبھی بے وجہ غیروں سے وفا کیا\n\nکبھی محفل میں وہ بے باکیاں کیوں\nکبھی خلوت میں یہ شرم و حیا کیا\n\nکبھی تمکینِ صولت آفریں کیوں\nکبھی الطافِ جرات آزما کیا\n\nکبھی وہ طعنہ ہائے جاں گزا کیوں\nکبھی یہ غمزہ ہائے جاں فزا کیا\n\nکبھی شعروں سے میرے نغمہ سازی\nکبھی کہنا کہ یہ تم نے کہا کیا\n\nکبھی بے جرم یہ آزردہ ہونا\nکہ کیا طاقت جو پوچھوں میں “خطا کیاً\n\nکبھی اس دشمنی پر بہرِ تسکیں\nپئے ہم جلوہ ہائے دلربا کیا\n\nیہ سب طول اس نے سن کر بے تکلف\nجواب اک مختصر مجھ کو دیا کیا\n\nابھی اے شیفتہ واقف نہیں تم\nکہ باتیں عشق میں ہوتی ہیں کیا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D9%85%D8%A7%DB%8C%DB%82_%D9%86%D8%A7%D8%B2"} {"title": "کہا یہ آج ہمیں فہم نے سنو صاحب", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہا یہ آج ہمیں فہم نے سنو صاحب\nیہ باغ دہر غنیمت ہے دیکھ لو صاحب\n\nجو رنگ و بو کے اٹھانے میں حظ اٹھا لیجے\nمبادا پھر کف افسوس کو ملو صاحب\n\nیہ وہ چمن ہے نہیں ایک سے نہیں جس میں\nتبدل اس کا ہر اک گل سے سوچ لو صاحب\n\nکہ تھا جو صبح شگفتہ نہ تھا وہ شام کے وقت\nجو شام تھا سو نہ دیکھا وہ صبح کو صاحب\n\nپس اس مثال سے ظاہر ہے یہ سخن یعنی\nاسی طریق سے عالم میں تم بھی ہو صاحب\n\nجو سر نوشت ہے ہوگا اسی طرح سے نظیرؔ\nقضا قضا نہیں ہونے کی کچھ کرو صاحب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D8%AC_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%86%D9%88_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8"} {"title": "کہا یہ کس نے کہ وعدے کا اعتبار نہ تھا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہا یہ کس نے کہ وعدے کا اعتبار نہ تھا\nوہ اور بات تھی جس سے مجھے قرار نہ تھا\n\nشب وصال وہ کس ناز سے یہ کہتے ہیں\nہمارے ہجر میں سچ مچ تجھے قرار نہ تھا\n\nبگھارتا ہے جو اب شیخ زہد کی باتیں\nتو کیا یہ عہد جوانی میں بادہ خوار نہ تھا\n\nفقط تھی ایک خموشی مرے سخن کا جواب\nنہیں نہیں تجھے کہنا ہزار بار نہ تھا\n\nیہ مجھ کو دیکھتے ہی تو نے کیوں چرائی آنکھ\nنگاہ لطف کا کیا میں امیدوار نہ تھا\n\nوہی تھیں عیش کی راتیں وہی تھے لطف کے دن\nکسی کی یاد کسی کا جب انتظار نہ تھا\n\nہزار شکر کہ نکلا وہ صادق الاقرار\nتمہیں حفیظؔ کی باتوں کا اعتبار نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کہانی", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "بچو، ہم پر ہنسنے والو، آؤ، تمہیں سمجھائیں\nجس کے لیے اس حال کو پہنچے، اس کا نام بتائیں\n\nروپ نگر کی اک رانی تھی، اس سے ہوا لگاؤ\nبچو، اس رانی کی کہانی سن لو اور سو جاؤ\n\nاس پر مرنا، آہیں بھرنا، رونا، کڑھنا، جلنا\nآب و ہوا پر زندہ رہنا، انگاروں پر چلنا\n\nہم جنگل جنگل پھرتے تھے اس کے لیے دیوانے\nرشی بنے، مجنوں کہلائے، لیکن ہار نہ مانے\n\nبرسوں کیا کیا چنے چبائے، کیا کیا پاپڑ بیلے\nلہروں کو ہم راز بنایا، طوفانوں سے کھیلے\n\nدفتر بھولے، بستر بھولے، پینے لگے سراب\nپل بھر آنکھ لگے، تو آئیں الٹے سیدھے خواب\n\nنیند میں کیا کیا دیکھیں، تڑپیں، روئیں، اٹھ اٹھ جائیں\nسو جانے کی گولی کھائیں، انجکشن لگوائیں\n\nآخر وہ اک خواب میں آئی سن کے ہمارا حال\nکوئل جیسی بات تھی اس کی، ہرنی جیسی چال\n\nکہنے لگی، کوئی جی، تیرا حال نہ دیکھا جائے\nمیں نے کہا کہ رانی اپنی پرجا کو بہلائے\n\nکہنے لگی کہ تو کیا لے گا: سونا، چاندی، ہار\nمیں نے کہا کہ رانی، تیرے مکھڑے کی تلوار\n\nپھر دل کے آنگن میں اترا اس کا سارا روپ\nاس چہرے کی شیتل کرنیں، اس مکھڑے کی دھوپ\n\nدھوپ پڑی، تو کھل گئی آنکھیں، کھل گیا سارا بھید\nغش کھایا، تو دوڑے آئے منشی، پنڈت، وید\n\nوہ دن ہے اور آج کا دن ہے چھٹ گیا کھانا پانی\nچھٹ گیا کھانا پانی، بچو، ہو گئی ختم کہانی\n\nمیری کہانی میں لیکن اک بھید ہے، اس کو پاؤ\nچاند کو دور ہی دور سے دیکھو چاند کے پاس نہ جاؤ\n\nنہ اپنے گھر ہی اس کو بلاؤ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "کہانی رات تھی آل نبی کی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "کہانی رات تھی آل نبی کی\nمراد جان زہرا دل جلی کی\nمصیبت دیدگی ابن علی کی\nگئی سن نیند یک باری سبھی کی\n\nپدر شاہ ولا اور اس کا نانا\nمحمدؐ جس کو دو عالم نے جانا\nفلک نے خاک کو یک عمر چھانا\nتب اس محبوب نے جلوہ گری کی\n\nکہ اک تھا بادشا مغرب زمیں میں\nعلم تھا اہل ایمان و یقیں میں\nامامت تھی اسے احمدؐ کے دیں میں\nدر اس کا سجدہ گہ تھی ہر ولی کی\n\nتمامی جود تھا سب دست ہمت\nسراپا دل ہمہ تن تھا مروت\nسراسر جرأت و یک لخت غیرت\nدیا سر پر نہ ان نے آشتی کی\n\nمزاج اس کا نہایت ہی کڑا تھا\nسر رہ طور پر اپنے کھڑا تھا\nگذار کارواں اپنا پڑا تھا\nنگہ ان نے ادھر اک سرسری کی\n\nخیال اس کو کیا ہر اک نے مفتر\nکہا سب نے اسے خود راے خود سر\nگلہ سن کر کیا ان نے سخن سر\nکہ رسم اپنی نہیں کبر و منی کی\n\nنہ اس کو کبر سمجھو کبریا ہے\nہمیں یہ مرتبہ حق نے دیا ہے\nتکبر ترک ہم سب نے کیا ہے\nرہ و رسم اپنے ہاں ہے بیکسی کی\n\nجو ہوں پامال تو ہم دم نہ ماریں\nہمارے جسم ہیں گویا مزاریں\nہم اپنی قدر کو کیوں کر بساریں\nکہ ہے خاک اصل طینت آدمی کی\n\nولے وہ مالک ملک حقیقت\nرہا تھا بیٹھ کر ترک خلافت\nاباً جداً جنھوں نے کی خصومت\nانھوں نے ابتدا پھر بے تہی کی\n\nیہ شہ تھا کم سپہ ساتھ ان کے لشکر\nیہ بیکس اور وہ مغرور و مفتر\nادھر اسباب ظاہر جمع یکسر\nفقط اک اس کنے ہمت شہی کی\n\nلگے آزار پر پہنچانے آزار\nلے آئے بیچ میں بیعت کی گفتار\nکھنچی پرخاش کو آخر یہ تکرار\nنہ اک گمرہ نے اس کی ہمرہی کی\n\nغم و رنج و الم جب دیکھے وافر\nکہا مجھ کو نہ دیں گے چین کافر\nہوا آخر مدینہ سے مسافر\nبراے خواہش دل مدعی کی\n\nکہ یاں جاتا نہ تھا اس کا ستم پیش\nتدارک بھی ہوا جاتا تھا کم بیش\nاگرچہ مرگ حیدر سے تھا دل ریش\nحسن کے غم نے کیا کم کوتہی کی\n\nوطن مالوف کو القصہ چھوڑا\nنبیؐ کی گور سے ناچار توڑا\nزمانے نے یکایک منھ کو موڑا\nنہ یک دم آسماں نے ہمدمی کی\n\nچلا راضی رضاے مالک اوپر\nعمل کر کل شئی ہالک اوپر\nکہا پھر رہ میں جو ہو سالک اوپر\nخدا سے چشم رکھے یاوری کی\n\nپس از طیِّ منازل کوفہ آیا\nبھروسا جس کا تھا خوب آزمایا\nاسے دشمن سے بھی کچھ آگے پایا\nمروت دیکھ لی سب اس دنی کی\n\nہوا دشت بلا کو جب روانہ\nپھرا حد سے زیادہ پھر زمانہ\nملا اس کو وہاں پانی نہ دانہ\nفلک نے اس کی مہمانی بڑی کی\n\nمخالف جوق جوق اودھر سے دھائے\nسنان و تیغ و خنجر لے کے آئے\nعزیزوں نے گلے اپنے کٹائے\nنہ پوچھو شامیوں نے جو بدی کی\n\nبھتیجے بھائی بیٹے سارے مارے\nجلائے آگ دے کر خیمے سارے\nموئے ناچار ہو اکثر بچارے\nبہت اوقات نے اس سے کمی کی\n\nہوئے اکبر ہم اصغر دونوں بھائی\nگیا قاسم تھی جس کی کدخدائی\nمروت ظالموں سے بن نہ آئی\nتسلی بھی نہ ٹک آکر کبھی کی\n\nگلے اصغر کو بہتیرا لگایا\nلیے خیمے تلک ہاتھوں میں آیا\nولے اس کو نہ جینے والا پایا\nبہت دلجوئی کی اس رفتنی کی\n\nپھر اس مظلوم کو بھی مار ڈالا\nکیا سر معرکہ میں نیزہ بالا\nنہ چھوڑا اک کفن کا دینے والا\nرہا عابد سو اس سے کیا بھلی کی\n\nنکالا کانپتا اس ناتواں کو\nچلے لے شام لوٹے کارواں کو\nکیا غارت سب اسباب زناں کو\nہر اک واحد کی خوش بے چادری کی\n\nنکالیں عورتیں بے روئیاں کر\nنہ چھوڑا پردگی کے سر پہ معجر\nبٹھائیں اشتروں پر تس کے اوپر\nقطار اونٹوں کی رستے پر کھڑی کی\n\nزمام اونٹوں کی لے کر ہاتھ میں دی\nمراعات اس کی بیماری کی یہ کی\nچلاچل کہتے کہتے جان بھی لی\nپدر مردہ کی کیا کیا دلبری کی\n\nوہ کہتا تھا پدر منھ تیں جو پھیرا\nسبھوں نے مجھ کو کھینچا اور گھیرا\nنہ نکلا آہ مرغ روح میرا\nکہوں کس سے اس اپنی بے پری کی\n\nتمامی دار و دستہ کٹ کے مرنا\nسر آگے باپ کا نیزے پہ دھرنا\nحرم کے لوگ بے ناموس کرنا\nوہی جانے یہ جن نے غم کشی کی\n\nبس اب سو میرؔ رکھ لے ٹک زباں کو\nیہیں سے چھوڑ دے اس داستاں کو\nرلاوے گا کہاں تک مردماں کو\nنہیں طاقت رہی مژگاں تری کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D9%84_%D9%86%D8%A8%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "کہانی کا سماں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مری پیاری انا میری انا جانی\nسنا دے مجھے کوئی ایسی کہانی\nکہ جس میں پرستان کا سا سماں ہو\nزمیں پھول کی چاند کا آسماں ہو\nستارے برستے ہوں جس کی فضا میں\nہو خوشبو کا طوفان جس کی ہوا میں\nجہاں شہد و شربت کی نہریں رواں ہوں\nجہاں ہیرے یاقوت کی کشتیاں ہوں\nاور ان میں کوئی گیت گاتی ہوں پریاں\nشعاعوں کے بربط بجاتی ہوں پریاں\nپہاڑ اس میں جتنے ہوں سارے طلائی\nاور ان کے سہانے نظارے طلائی\nاندھیرا نہ ہو نام کو بھی جہاں میں\nہو اک چاند روشن ہر اک شمع داں میں\nمحل ہو ہر اک سنگ مرمر کا جس میں\nہر اک طاق ہو لعل و گوہر کا جس میں\nنہ بوڑھا ہو کوئی نہ کوئی جواں ہو\nفقط میں ہوں اور میری انا وہاں ہو\nمرے پر ہوں اڑتا پھروں میں ہوا میں\nحکومت ہو میری وہاں کی فضا میں\nغرض میری انا مری انا جانی\nسنا دے مجھے کوئی ایسی کہانی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA"} {"title": "کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے\nنہ دے شراب ڈبو کر کوئی کباب تو دے\n\nبجھے گا سوز دل اے گریہ پل میں آب تو دے\nدگر ہے آگ میں دنیا یوں ہی عذاب تو دے\n\nگزرنے گر یہ مرے سر سے اتنا آب تو دے\nکہ سر پہ چرخ بھی دکھلائی جوں حباب تو دے\n\nہزاروں تشنہ جگر کس سے ہوئیں گے سیراب\nخدا کے واسطے تیغ ستم کو آب تو دے\n\nتمہارے مطلع ابرو پہ یہ کہے ہے خال\nکہ ایسا نقطہ کوئی وقت انتخاب تو دے\n\nدر قبول ہے درباں نہ بند کر در یار\nدعائے خیر مری ہونے مستجاب تو دے\n\nکھلے ہے ناز سے گلشن میں غنچۂ نرگس\nذرا دکھا تو اسے چشم نیم خواب تو دے\n\nبلا سے آپ نہ آئیں پہ آدمی ان کا\nتسلی آ کے مجھے وقت اضطراب تو دے\n\nہوا بگولے میں ہے کشتگان زلف کی خاک\nکہ بعد مرگ بھی معلوم پیچ و تاب تو دے\n\nبلا سے کم نہ ہو گریہ سے میرا سوز جگر\nبجھا پر ان کی ذرا آتش عتاب تو دے\n\nشہید کیجیو قاتل ابھی نہ کر جلدی\nٹھہرنے مجھ کو تہ تیغ اضطراب تو دے\n\nشکار بستۂ فتراک کو ترے مقدور\nہوا نہ یہ بھی کہ بوسہ سر رکاب تو دے\n\nدل برشتہ کو میرے نہ چھوڑو مے خوارو\nجو لذت اس میں ہے ایسا مزا کباب تو دے\n\nنشے میں ہوش کسے جو گنے حساب کرے\nجو تجھ کو دینا ہیں بوسے بلا حساب تو دے\n\nجواب نامہ نہیں گر تو رکھ دو نامۂ یار\nجو پوچھیں قبر میں عاشق سے کچھ جواب تو دے\n\nرکھے ہے حوصلہ دریا کب اہل ہمت کا\nنہیں یہ اتنا کہ بھر کاسۂ حباب تو دے\n\nکہاں بجھی ہے تہ خاک میری آتش دل\nکہو ہوا سے ہلا دامن سحاب تو دے\n\nخنک دلوں کی اگر آہ سرد دوزخ میں\nپڑے تو واقعی اک بار آگ داب تو دے\n\nکرے گا قتل وہ اے ذوقؔ تجھ کو سرمے سے\nنگہ کی تیغ کو ہونے سیاہ تاب تو دے\n\nپہنچ رہوں گا سر منزل فنا اے ذوقؔ\nمثال نقش قدم کرنے پا تراب تو دے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D9%84%D8%A7_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%92"} {"title": "کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے\nجوانی جو رہتی تو پھر ہم نہ رہتے\n\nلہو تھا تمنا کا آنسو نہیں تھے\nبہائے نہ جاتے تو ہرگز نہ بہتے\n\nوفا بھی نہ ہوتا تو اچھا تھا وعدہ\nگھڑی دو گھڑی تو کبھی شاد رہتے\n\nہجوم تمنا سے گھٹتے تھے دل میں\nجو میں روکتا بھی تو نالے نہ رہتے\n\nمیں جاگوں گا کب تک وہ سوئیں گے تا کے\nکبھی چیخ اٹھوں گا غم سہتے سہتے\n\nبتاتے ہیں آنسو کہ اب دل نہیں ہے\nجو پانی نہ ہوتا تو دریا نہ بہتے\n\nزمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا\nہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے\n\nکوئی نقش اور کوئی دیوار سمجھا\nزمانہ ہوا مجھ کو چپ رہتے رہتے\n\nمری ناؤ اس غم کے دریا میں ثاقبؔ\nکنارے پہ آ ہی لگی بہتے بہتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%81%D8%AA%DB%92"} {"title": "کہاں تک غیر جاسوسی کے لینے کو لگا آوے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں تک غیر جاسوسی کے لینے کو لگا آوے\nالٰہی اس بلائے ناگہاں پر بھی بلا آوے\n\nرکا جاتا ہے جی اندر ہی اندر آج گرمی سے\nبلا سے چاک ہی ہو جاوے سینہ ٹک ہوا آوے\n\nترا آنا ہی اب مرکوز ہے ہم کو دم آخر\nیہ جی صدقے کیا تھا پھر نہ آوے تن میں یا آوے\n\nیہ رسم آمد و رفت دیار عشق تازہ ہے\nہنسی وہ جائے میری اور رونا یوں چلا آوے\n\nاسیری نے چمن سے میری دل گرمی کو دھو ڈالا\nوگرنہ برق جا کر آشیاں میرا جلا آوے\n\nامید رحم ان سے سخت نافہمی ہے عاشق کی\nیہ بت سنگیں دلی اپنی نہ چھوڑیں گر خدا آوے\n\nیہ فن عشق ہے آوے اسے طینت میں جس کی ہو\nتو زاہد پیر نا بالغ ہے بے تہ تجھ کو کیا آوے\n\nہمارے دل میں آنے سے تکلف غم کو بے جا ہے\nیہ دولت خانہ ہے اس کا وہ جب چاہے چلا آوے\n\nبرنگ بوئے غنچہ عمر اک ہی رنگ میں گزرے\nمیسر میرؔ صاحب گر دل بے مدعا آوے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%B3%D9%88%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D8%A2%D9%88%DB%92"} {"title": "کہاں رکیں گے مسافر نئے زمانوں کے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں رکیں گے مسافر نئے زمانوں کے\nبدل رہا ہے جنوں زاویے اڑانوں کے\n\nیہ دل کا زخم ہے اک روز بھر ہی جائے گا\nشگاف پر نہیں ہوتے فقط چٹانوں کے\n\nچھلک چھلک کے بڑھا میری سمت نیند کا جام\nپگھل پگھل کے گرے قفل قید خانوں کے\n\nہوا کے دشت میں تنہائی کا گزر ہی نہیں\nمرے رفیق ہیں مطرب گئے زمانوں کے\n\nکبھی ہمارے نقوش قدم کو ترسیں گے\nوہی جو آج ستارے ہیں آسمانوں کے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D9%86%D8%A6%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92"} {"title": "کہاں طاقت یہ روسی کو کہاں ہمت یہ جرمن کو", "poet_page": "مصنف:اقبال سہیل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں طاقت یہ روسی کو کہاں ہمت یہ جرمن کو\nکہ دیکھے چشم کج سے بھی مری شاخ نشیمن کو\n\nوفا دشمن یہ عالم اب تو ہے تیری نوازش سے\nکہ رحم آنے لگا میری زبوں حالی پہ دشمن کو\n\nنہ اب صیاد کا کھٹکا نہ اب گلچیں کا اندیشہ\nکرم نے باغباں کے پھونک ڈالا میرے گلشن کو\n\nبھلا ان بجلیوں کی شعلہ سامانی کو کیا کہئے\nجنہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہو دشت ایمن کو\n\nاٹھائے ہیں یہ فتنے نرگس غماز نے ورنہ\nنہ بت سے شیخ کو ضد ہے نہ کعبے سے برہمن کو\n\nلگاوٹ کا یہ فن باد سحر نے مجھ سے سیکھا ہے\nگلوں کو گدگدایا اور نہ لپٹے خار دامن کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B7%D8%A7%D9%82%D8%AA_%DB%8C%DB%81_%D8%B1%D9%88%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%85%D8%AA_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D8%B1%D9%85%D9%86_%DA%A9%D9%88"} {"title": "کہاں لے جائے گی دیکھوں یہ میری آرزو مجھ کو", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں لے جائے گی دیکھوں یہ میری آرزو مجھ کو\nلیے پھرتی ہے ہر جانب تمہاری جستجو مجھ کو\n\nبر آتی آرزو مدت پہ مجھ برگشتہ قسمت کی\nبلاتے اپنی محفل میں اگر تم روبرو مجھ کو\n\nمحبت ایسی شے ہے جس سے باز آئے کوئی عاشق\nپسند آتی نہیں ناصح تمہاری گفتگو مجھ کو\n\nتڑپ کر جسم خاکی سے نکل جاتی یہ جاں اپنی\nنہ سمجھاتی شب فرقت جو تیری آرزو مجھ کو\n\nمحبت میں کسی گل کے جلا جاتا ہے دل اپنا\nجمیلہؔ مثل شبنم ہو گئی رونے کی خو مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88"} {"title": "کہاں ممکن ہے پوشیدہ غم دل کا اثر ہونا", "poet_page": "مصنف:انوری جہاں بیگم حجاب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں ممکن ہے پوشیدہ غم دل کا اثر ہونا\nلبوں کا خشک ہو جانا بھی ہے آنکھوں کا تر ہونا\n\nغضب مل کر جدا مجھ سے ترا او فتنہ گر ہونا\nستم نالوں کا پر تاثیر ہو کر بے اثر ہونا\n\nجگر میں درد لب پر نالۂ وحشت اثر ہونا\nعیاں کرتا ہے اک رشک پری کا دل میں گھر ہونا\n\nغضب نالہ کشی اک صاحب عصمت کے کوچہ میں\nستم اے دل کسی پردہ نشیں کا پردہ در ہونا\n\nوہ ان کا چپکے چپکے مسکرانا خون رونے پر\nوہ میرا دل ہی دل میں واصف رنگ اثر ہونا\n\nجو تنہا پاس منزل دل کو شایاں ہے محبت میں\nتو آنکھوں کو ہے لازم دیدۂ حسرت نگر ہونا\n\nقیامت تھا ستم تھا قہر تھا خلوت میں او ظالم\nوہ شرما کر ترا میری بغل میں جلوہ گر ہونا\n\nستم کی جور کی بیداد کی کافی شہادت ہے\nجدائی میں مرا بیتاب بے خود بے خبر ہونا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D9%85%DA%A9%D9%86_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "کہاں نصیب زمرد کو سرخ روئی یہ", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں نصیب زمرد کو سرخ روئی یہ\nسمجھ میں لعل کی اب تک حنا نہیں آئی\n\nخجل ہے آنکھوں سے نرگس گلاب گالوں سے\nوہ کون پھول ہے جس کو حیا نہیں آئی\n\nامڈ رہا ہے پڑا دل میں شوق زلفوں کا\nیہ جھوم جھوم کے کالی گھٹا نہیں آئی\n\nہو جس سے آگے وہ بت ہم سے ہم سخن واعظ\nکہیں حدیث میں ایسی دعا نہیں آئی\n\nزباں پہ اس کی ہے ہر دم مری بلا آئے\nبلا بھی آئے تو سمجھو بلا نہیں آئی\n\nشب فراق کا چھایا ہوا ہے رعب ایسا\nبلا بلا کے تھکے ہم قضا نہیں آئی\n\nنظر ہے یار کی شہبازؔ کیمیا تاثیر\nپر اپنے حصے میں یہ کیمیا نہیں آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8_%D8%B2%D9%85%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%B1%D8%AE_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%8C%DB%81"} {"title": "کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے\nچلی ہے کیسی ہوا الٰہی کہ ہر طبیعت میں برہمی ہے\n\nمری وفا میں ہے کیا تزلزل مری اطاعت میں کیا کمی ہے\nیہ کیوں نگاہیں پھری ہیں مجھ سے مزاج میں کیوں یہ برہمی ہے\n\nوہی ہے فضل خدا سے اب تک ترقی کار حسن و الفت\nنہ وہ ہیں مشق ستم میں قاصر نہ خون دل کی یہاں کمی ہے\n\nعجیب جلوے ہیں ہوش دشمن کہ وہم کے بھی قدم رکے ہیں\nعجیب منظر ہیں حیرت افزا نظر جہاں تھی وہیں تھمی ہے\n\nنہ کوئی تکریم باہمی ہے نہ پیار باقی ہے اب دلوں میں\nیہ صرف تحریر میں ڈیر سر ہے یا جناب مکرمی ہے\n\nکہاں کے مسلم کہاں کے ہندو بھلائی ہیں سب نے اگلی رسمیں\nعقیدے سب کے ہیں تین تیرہ نہ گیارہویں ہے نہ اسٹمی ہے\n\nنظر مری اور ہی طرف ہے ہزار رنگ زمانہ بدلے\nہزار باتیں بنائے ناصح جمی ہے دل میں جو کچھ جمی ہے\n\nاگرچہ میں رند محترم ہوں مگر اسے شیح سے نہ پوچھو\nکہ ان کے آگے تو اس زمانے میں ساری دنیا جہنمی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DA%A9%D9%85%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کہاں کا ننگ رہا اور اور کہاں رہا ناموس", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں کا ننگ رہا اور اور کہاں رہا ناموس\nالجھ گئی جو محبت میں دختر طیموس\n\nمزا جو وصل کا چاہے تو بار ہجر اٹھا\nپھر انتقام ہو آخر کے تئیں کنار و بوس\n\nمجازی ہو کہ حقیقی صریح عشق کا نام\nلطیف تحفہ پیارا عجیب نام عروس\n\nمجھے بھی عشق کا ہے مرض کیا کروں یارو\nمعالجے سے مرے عاجز آیا جالینوس\n\nدل ہی میں قاسمؔ علی شمع عشق کر روشن\nبچا لے باد مخالف سے تن کا کر فانوس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D9%86%DA%AF_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B3"} {"title": "کہاں ہم اور کہاں اب شراب خانۂ عشق", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں ہم اور کہاں اب شراب خانۂ عشق\nنہ وہ دماغ نہ وہ دل نہ وہ زمانۂ عشق\n\nہوا ہے شہر خموشاں میں جب گزر میرا\nسنا کیا ہوں لب گور سے فسانۂ عشق\n\nخیال رخ پہ ہے موقوف دل کی آبادی\nکبھی نہ گل ہو الٰہی چراغ خانۂ عشق\n\nبھرے ہوئے ہیں حسینان سیم تن دل میں\nخدا کرے کبھی خالی نہ ہو خزانۂ عشق\n\nگئی دماغ میں جس کے کیا اسیر اسے\nعجب کمند ہے بوئے شراب خانۂ عشق\n\nکہیں ہے داغ کا مضموں کہیں ہے سوز کا ذکر\nسنو نہ تم کہ بہت گرم ہے فسانۂ عشق\n\nغلط ہے صاحب دولت کو گر غنی کہیے\nغنی وہ ہے جسے اللہ دے خزانۂ عشق\n\nجو بحر غم میں گرا ہاتھ دھو کے جینے سے\nاسی کے ہاتھ بھی آیا در یگانۂ عشق\n\nتمام عمر اسی صحرا کی خاک چھانی ہے\nجو تم سنو تو سناؤں کوئی فسانۂ عشق\n\nبنے ہیں جب سے وہ یوسف ہر ایک گاہک ہے\nکھلا ہوا ہے یہاں بھی در خزانۂ عشق\n\nکسی پہ دل کا تھا آنا کہ بے خودی چھائی\nسمند ہوش کو آفت ہے تازیانۂ عشق\n\nجب ان کے دل میں یہ آتی ہے کچھ سنیں نالے\nتو مجھ سے کہتے ہیں چھیڑو کوئی ترانۂ عشق\n\nچمک کے داغ یہ کہتا ہے دل کی آہوں سے\nہوا سے بجھ نہیں سکتا چراغ خانۂ عشق\n\nیہ جانیے کہ لگی ہاتھ دولت کونین\nملے جو خرمن ہستی سے ایک دانۂ عشق\n\nیہاں ایازؔ ہے آقا غلام ہے محمودؔ\nجلیلؔ کیا میں کہوں تم سے کارخانۂ عشق", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "کہاں ہم رہے پھر کہاں دل رہے گا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں ہم رہے پھر کہاں دل رہے گا\nاسی طرح گر تو مقابل رہے گا\n\nکھلی جب گرہ بند ہستی کی تجھ سے\nتو عقدہ کوئی پھر نہ مشکل رہے گا\n\nدل خلق میں تخم احساں کے بو لے\nیہی کشت دنیا کا حاصل رہے گا\n\nحجاب خودی اٹھ گیا جب کہ دل سے\nتو پردہ کوئی پھر نہ حائل رہے گا\n\nنہ پہنچے گا مقصد کو کم ہمتی سے\nجو سالک طلب گار منزل رہے گا\n\nنہ ہوگا تو آگاہ عرفان حق سے\nگر اپنی حقیقت سے غافل رہے گا\n\nخفا مت ہو بیدارؔ اندیشہ کیا ہے\nملا گر نہ وہ آج کل مل رہے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کہاں ہے تو کہاں ہے اور میں ہوں", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں ہے تو کہاں ہے اور میں ہوں\nانا الحق کا بیاں ہے اور میں ہوں\n\nلب جاں بخش جاناں کا ہوں کشتہ\nحیات جاوداں ہے اور میں ہوں\n\nوصال دائمی کا ہے تصور\nبہار بے خزاں ہے اور میں ہوں\n\nنہیں ہر اک کو اس میخانے میں بار\nبس اک پیر مغاں ہے اور میں ہوں\n\nمزا دیتا ہے تنہائی میں رونا\nکہ اک دریا رواں ہے اور میں ہوں\n\nاٹھا دو دن کو اور شب کو بدستور\nیہ سنگ آستاں ہے اور میں ہوں\n\nتحمل کی نہیں اب تاب زنہار\nنبرد آسماں ہے اور میں ہوں\n\nگل گلچیں کہاں فصل خزاں میں\nپرانا آشیاں ہے اور میں ہوں\n\nشب ہجراں میں ہو کون اور دم ساز\nفقط اک قصہ خواں ہے اور میں ہوں\n\nولایت کا سفر مشکل ہے ناظمؔ\nیہی ہندوستاں ہے اور میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "کہاں ہے وہ گل خنداں ہمیں نہیں معلوم", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں ہے وہ گل خنداں ہمیں نہیں معلوم\nنہ پوچھ بلبل نالاں ہمیں نہیں معلوم\n\nفراق ہی میں بسر ہو گئی ہماری عمر\nہے کون وصل سے شاداں ہمیں نہیں معلوم\n\nہمیں تو ایک صدائے جرس ہی آتی ہے\nہوا ہے کون ہدیٰ خواں ہمیں نہیں معلوم\n\nتلاش خضر طریقت ہے اس لئے سالک\nکہاں ہے چشمۂ حیواں ہمیں نہیں معلوم\n\nتلاش یار میں ساقیؔ ہوئے ہیں سر گرداں\nکہاں ہے منزل جاناں ہمیں نہیں معلوم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D9%84_%D8%AE%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85"} {"title": "کہاں ہے گل بدن موہن پیارا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں ہے گل بدن موہن پیارا\nکہ جیوں بلبل ہے نالاں دل ہمارا\n\nبساط عشق بازی میں مرا دل\nمتاع صبر و نقد و ہوش ہارا\n\nتغافل ترک کر اے شوخ بے باک\nتلطف کر نوازش کر مدارا\n\nہزارے کا نہیں ہے ذوق مجھ کوں\nکیا ہوں جب سیں تجھ مکھ کا نظارا\n\nسنا ہے جب سیں تیرے حسن کا شور\nلیا زاہد نے مسجد کا کنارا\n\nشب ہجرت میں اس مہتاب رو کی\nہر اک آنسو ہوا روشن ستارا\n\nسراجؔ اس شمع رو نے ان دنوں میں\nلیا ہے سب پتنگوں کا اجارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%84_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D9%85%D9%88%DB%81%D9%86_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کہاں یہ تاب کہ چکھ چکھ کے یا گرا کے پیوں", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہاں یہ تاب کہ چکھ چکھ کے یا گرا کے پیوں\nملے بھرا ہوا ساغر تو ڈگڈگا کے پیوں\n\nہزار تلخ ہو پیر مغاں نے جب دی ہے\nخدا نہ کردہ جو میں منہ بنا بنا کے پیوں\n\nمزا ہے بادہ کشی کا وہیں تو اے ساقی\nپیوں جو اب تو ترے آستاں پہ آ کے پیوں\n\nبغیر جلوہ دکھائے رہے نہ یہ معشوق\nجو سات پردے کے اندر اسے چھپا کے پیوں\n\nمیں وہ نہیں کہ خود اپنے قدح کی خیر مناؤں\nپیوں تو بزم میں دس پانچ کو پلا کے پیوں\n\nزمیں پہ جام کو رکھ دے ذرا ٹھہر ساقی\nمیں تجھ پہ ہوں لوں تصدق تو پھر اٹھا کے پیوں\n\nوہ مے کدہ ہے نہ ساقی ہے کچھ نہ پوچھو شادؔ\nمیں کس کے گھر میں پیوں کس کے گھر سے لا کے پیوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%DA%86%DA%A9%DA%BE_%DA%86%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D9%88%DA%BA"} {"title": "کہتا نہ تھا میں اے دل تو اس سے جی لگا نہ", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتا نہ تھا میں اے دل تو اس سے جی لگا نہ\nاس کا تو کیا گیا اب تیرا ہی جی گیا نہ\n\nسو بار میں نے جھانکا چلمن سے اس کو لیکن\nاتنا کہا نہ اس نے کیا دیکھتا ہے آ نہ\n\nمیں خوب رو چکا ہوں ظالم بس اور مجھ کو\nآزردگی کی باتیں کہہ کہہ کے تو رلا نہ\n\nجاتے ہی یار کے تو کہتا تھا مر رہوں گا\nوقت وداع اے دل آخر تو مر گیا نہ\n\nکل میں نے ہنستے ہنستے پوچھا کہ کوئی دم یاں\nفرمائیے تو میں بھی بیٹھا رہوں کہ یا نہ\n\nتیوری چڑھا کے بولا چل چل خبر لے اپنی\nجی لگ رہا ہے تیرا جیدھر تو اپنے جا نہ\n\nکہتا نہ تھا کہ ہر دم اس کی گلی میں مت جا\nاس بات کا اب آخر چرچا حسنؔ ہوا نہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81"} {"title": "کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہے\nخاموشی میں دل کو سخت کد ہوتی ہے\nدنیا طلبی ضرور ہے انساں کو\nلیکن ہر شے کی ایک حد ہوتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%AA%DB%81%D9%85%D8%AA_%D8%AD%D8%B3%D8%AF_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کہتا ہوں خدا لگتی عقیدے کے خلاف", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کہتا ہوں خدا لگتی عقیدے کے خلاف\nہے تیرا خطاوار سزاوار معاف\nہے رحم ہی شایان خدائی تجھ کو\nانصاف یہی ہے کہ نہ کرنا انصاف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%84%DA%AF%D8%AA%DB%8C_%D8%B9%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%81"} {"title": "کہتا ہے کون ہجر مجھے صبح و شام ہو", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتا ہے کون ہجر مجھے صبح و شام ہو\nپر وصل میں بھی لطف نہیں جو مدام ہو\n\nشکوہ کیا ہو میرے لب زخم نے کبھو\nتو مجھ پہ آب تیغ الٰہی حرام ہو\n\nصاحب تم اپنے منہ کو چھپاتے ہو مجھ سے کیوں\nہے اس سے کیا حجاب جو اپنا غلام ہو\n\nمنہ لگنے سے رقیب کے اب سر چڑھے ہیں سب\nکر ڈالے اس کو ذبح ابھی انتظام ہو\n\nمت درد دل کو پوچھ بہ قول فغاںؔ بیاںؔ\nاک عمر چاہیے مرا قصہ تمام ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88"} {"title": "کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو\nاس چپ میں بھی ہے جی کا زیاں بولتے رہو\n\nہر یاد ہر خیال ہے لفظوں کا سلسلہ\nیہ محفل نوا ہے یہاں بولتے رہو\n\nموج صدائے دل پہ رواں ہے حصار زیست\nجس وقت تک ہے منہ میں زباں بولتے رہو\n\nاپنا لہو ہی رنگ ہے اپنی تپش ہی بو\nہو فصل گل کہ دور خزاں بولتے رہو\n\nقدموں پہ بار ہوتے ہیں سنسان راستے\nلمبا سفر ہے ہم سفراں بولتے رہو\n\nہے زندگی بھی ٹوٹا ہوا آئنہ تو کیا\nتم بھی بطرز شیشہ گراں بولتے رہو\n\nباقیؔ جو چپ رہوگے تو اٹھیں گی انگلیاں\nہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D9%85%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%B1%DB%81%D9%88"} {"title": "کہتا ہے یہ اپنی آنکھوں دیکھیں گے فقیر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کہتا ہے یہ اپنی آنکھوں دیکھیں گے فقیر\nبینش نہیں رکھتے کیا جواں ہوں کیا پیر\nاندھے ہیں جہاں کے لوگ سارے اے میرؔ\nسوجھے نہ جسے اسے یہ کہتے ہیں بصیر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%B1"} {"title": "کہتی ہے نماز صبح کی بانگ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتی ہے نماز صبح کی بانگ\nاٹھ صبح ہوئی ہے کچھ دعا مانگ\n\nدیکھا میں چہار دانگ عالم\nپر ہاتھ لگا نہ کچھ بھی اک دانگ\n\nسیمیں بدن اس کا چاندنی میں\nڈرتا ہوں پگھل نہ جاوے جوں رانگ\n\nٹوٹا جو ہمارا شیشۂ دل\nپہنچے گی فلک تک اس کی گلبانگ\n\nبہروپ ہے یہ جہاں کہ جس میں\nہر روز نیا بنے ہے اک سانگ\n\nکرتا ہوں سوال جس کے در پر\nآتی ہے یہی صدا کہ پھر مانگ\n\nدلی میں پڑیں نہ کیوں کے ڈاکے\nچوروں کی ہر ایک گھر میں ہے تھانگ\n\nاے شوخ یہ خون مصحفیؔ ہے\nچل بچ کے نہ آتے جاتے یوں لانگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D9%86%DA%AF"} {"title": "کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے\nیک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی “کہ وو آئے”\n\nہوں کشمکشِ نزع میں ہاں جذبِ محبّت\nکچھ کہہ نہ سکوں، پر وہ مرے پوچھنے کو آئے\n\nہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالم\nآنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں، گو آئے\n\nظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرین\nہاں منہ سے مگر بادۂ دوشینہ کی بو آئے\n\nجلاّد سے ڈرتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتے\nہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے\n\nہاں اہلِ طلب! کون سنے طعنۂ نا یافت\nدیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے\n\nاپنا نہیں وہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں\nاس در پہ نہیں بار تو کعبے ہی کو ہو آئے\n\nکی ہم نفسوں نے اثرِ گریہ میں تقریر\nاچّھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے\n\nاس انجمنِ ناز کی کیا بات ہے غالبؔ\nہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D8%BA%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81_%D9%85%D9%88_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "کہتے ہو اب مرے مظلوم پہ بیداد نہ ہو", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے ہو اب مرے مظلوم پہ بیداد نہ ہو\nستم ایجاد ہو پھر کیوں ستم ایجاد نہ ہو\n\nنہیں پیمان وفا تم نے نہیں باندھا تھا\nوہ فسانہ ہی غلط ہے جو تمہیں یاد نہ ہو\n\nتم نے دل کو مرے کچھ ایسا کیا ہے ناشاد\nشاد کرنا بھی جو اب چاہو تو یہ شاد نہ ہو\n\nجو گرفتار تمہارا ہے وہی ہے آزاد\nجس کو آزاد کرو تم کبھی آزاد نہ ہو\n\nمیرا مقصد کہ وہ خوش ہوں مری خاموشی سے\nان کو اندیشہ کہ یہ بھی کوئی فریاد نہ ہو\n\nمیں نہ بھولوں غم عشق کا احساں وحشتؔ\nان کو پیمان محبت جو نہیں یاد نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%B8%D9%84%D9%88%D9%85_%D9%BE%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو\nہاں کہو اعتماد ہے ہم کو\n\nشوق ہی شوق ہے نہیں معلوم\nاس سے کیا دل نہاد ہے ہم کو\n\nخط سے نکلے ہے بے وفائی حسن\nاس قدر تو سواد ہے ہم کو\n\nآہ کس ڈھب سے روئیے کم کم\nشوق حد سے زیاد ہے ہم کو\n\nشیخ و پیر مغاں کی خدمت میں\nدل سے اک اعتقاد ہے ہم کو\n\nسادگی دیکھ عشق میں اس کے\nخواہش جان شاد ہے ہم کو\n\nبد گمانی ہے جس سے تس سے آہ\nقصد شور و فساد ہے ہم کو\n\nدوستی ایک سے بھی تجھ کو نہیں\nاور سب سے عناد ہے ہم کو\n\nنامرادانہ زیست کرتا تھا\nمیرؔ کا طور یاد ہے ہم کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا\nدل کہاں کہ گم کیجے؟ ہم نے مدعا پایا\n\nہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یا رب\nہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا\n\nبے دماغِ خجلت ہوں رشکِ امتحاں تا کے\nایک بے کسی تجھ کو عالم آشنا پایا\n\nسادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری\nحسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا\n\nخاکبازیِ امید، کارخانۂ طفلی\nیاس کو دو عالم سے لب بخندہ وا پایا\n\nکیوں نہ وحشتِ غالبؔ باج خواہِ تسکیں ہو\nکشتۂ تغافل کو خصمِ خوں بہا پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کہتے ہو کہ کر لیں گے ہم اس کام کو کل", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کہتے ہو کہ کر لیں گے ہم اس کام کو کل\nایسا نہ ہو کہ کل بھی ہاتھ سے جائے نکل\nجس کل سے بنے آج ہی فرصت کر لو\nکل چاہے چلے یا نہ چلے کام کی کل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D9%84"} {"title": "کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیں\nہم کنج قفس میں ہیں دل سینوں میں جلتے ہیں\n\nاب ایک سی بے ہوشی رہتی نہیں ہے ہم کو\nکچھ دل بھی سنبھلتے ہیں پر دیر سنبھلتے ہیں\n\nوہ تو نہیں اک چھینٹا رونے کا ہوا گاہے\nاب دیدۂ تر اکثر دریا سے ابلتے ہیں\n\nان پاؤں کو آنکھوں سے ہم ملتے رہے جیسا\nافسوس سے ہاتھوں کو اب ویسا ہی ملتے ہیں\n\nکیا کہیے کہ اعضا سب پانی ہوئے ہیں اپنے\nہم آتش ہجراں میں یوں ہی پڑے گلتے ہیں\n\nکرتے ہیں صفت جب ہم لعل لب جاناں کی\nتب کوئی ہمیں دیکھے کیا لعل اگلتے ہیں\n\nگل پھول سے بھی اپنے دل تو نہیں لگتے ٹک\nجی لوگوں کے بے جاناں کس طور بہلتے ہیں\n\nہیں نرم صنم گو نہ کہنے کے تئیں ورنہ\nپتھر ہیں انھوں کے دل کاہے کو پگھلتے ہیں\n\nاے گرم سفر یاراں جو ہے سو سر رہ ہے\nجو رہ سکو رہ جاؤ اب میرؔ بھی چلتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DA%AF%D9%84_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کہتے ہیں تیری لاش پہ آیا نہ جائے گا", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں تیری لاش پہ آیا نہ جائے گا\nتو ان سے خاک میں بھی ملایا نہ جائے گا\n\nرحمت پہ تجھ کو ناز ہے عصیاں پہ مجھ کو ناز\nسر تیرے سامنے تو جھکایا نہ جائے گا\n\nنظروں سے گرنے والے کو کافی ہے اک نظر\nکچھ نقش پا نہیں کہ اٹھایا نہ جائے گا\n\nتکلیف کر تبسم پنہاں سے پوچھ لے\nزخم نہاں کو مجھ سے دکھایا نہ جائے گا\n\nمٹتا ہے کوئی ہستئ موہوم کا خیال\nوہ پردہ پڑ گیا کہ اٹھایا نہ جائے گا\n\nوارفتگئ شوق میں لذت یہی ہے گر\nبیخودؔ سے اپنے آپ میں آیا نہ جائے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%84%D8%A7%D8%B4_%D9%BE%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو\nجاتی ہے جس پہ جان مری جاں تمہیں تو ہو\n\nمطلب کی کہہ رہے ہیں وہ دانا ہمیں تو ہیں\nمطلب کی پوچھتے ہو وہ ناداں تمہیں تو ہو\n\nآتا ہے بعد ظلم تمہیں کو تو رحم بھی\nاپنے کیے سے دل میں پشیماں تمہیں تو ہو\n\nپچھتاؤ گے بہت مرے دل کو اجاڑ کر\nاس گھر میں اور کون ہے مہماں تمہیں تو ہو\n\nاک روز رنگ لائیں گی یہ مہربانیاں\nہم جانتے تھے جان کے خواہاں تمہیں تو ہو\n\nدل دار و دل فریب دل آزار و دل ستاں\nلاکھوں میں ہم کہیں گے کہ ہاں ہاں تمہیں تو ہو\n\nکرتے ہو داغؔ دور سے بت خانے کو سلام\nاپنی طرح کے ایک مسلماں تمہیں تو ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AD%D9%88%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88"} {"title": "کہتے ہیں جس کو نظیرؔ سنئے ٹک اس کا بیاں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں جس کو نظیرؔ سنئے ٹک اس کا بیاں\nتھا وُہ معلم غریب بزدل و ترسندہ جاں\n\nکوئی کتاب اس کہ تئیں صاف نہ تھی درس کی\nآئے تُو معنی کہے ورنہ پڑھائی رواں\n\nفہم نہ تھا علم سے کچھ عربی کہ اسے\nفارسی میں ہاں مگر سمجھے تھا کچھ این و آں\n\nلکھنے کی یہ طرز تھی کچھ جُو لکھے تھا کبھی\nپختگی و خامی کہ اس کا تھا خط درمیاں\n\nشعر و غزل کہ سوا شوق نہ تھا کچھ اسے\nاپنے اسی شغل میں رہتا تھا خوش ہر زماں\n\nسست روش پست قد سانولا ہندی نژاد\nتن بھی کچھ ایسا ہی تھا قد کہ موافق عیاں\n\nماتھے پہ اِک خال تھا چھوٹا سا مسے کہ طور\nتھا وُہ پڑا آن کر ابرووں کے درمیاں\n\nوضع سبک اس کی تھی تس پہ نہ رکھتا تھا ریش\nموچھیں تھیں اور کانوں پر پٹے بھی تھے پنبہ ساں\n\nپیری میں جیسی کے تھی اس کو دِل افسردگی\nویسی ہی تھی ان دنوں جن دنوں میں تھا جواں\n\nجتنے غرض کام ہیں اُور پڑھانے سوا\nچاہئے کچھ اِس سے ہوں اتنی لیاقت کہاں\n\nفضل نے اللہ کک اِس کو دیا عُمر بھر\nعزت و حرمت کہ ساتھ پارچہ و آب و ناں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%B3%D9%86%D8%A6%DB%92_%D9%B9%DA%A9_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "کہتے ہیں جس کو نظیرؔ سنیے ٹک اس کا بیاں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں جس کو نظیرؔ سنیے ٹک اس کا بیاں\nتھا وہ معلم غریب بزدل و ترسندہ جاں\n\nکوئی کتاب اس کے تئیں صاف نہ تھی درس کی\nآئے تو معنی کہے ورنہ پڑھائی رواں\n\nفہم نہ تھا علم سے کچھ عربی کے اسے\nفارسی میں ہاں مگر سمجھے تھا کچھ این و آں\n\nلکھنے کی یہ طرز تھی کچھ جو لکھے تھا کبھی\nپختگی و خامی کے اس کا تھا خط درمیاں\n\nشعر و غزل کے سوا شوق نہ تھا کچھ اسے\nاپنے اسی شغل میں رہتا تھا خوش ہر زماں\n\nسست روش پست قد سانولا ہندی نژاد\nتن بھی کچھ ایسا ہی تھا قد کے موافق عیاں\n\nماتھے پہ اک خال تھا چھوٹا سا مسے کے طور\nتھا وہ پڑا آن کر ابرووں کے درمیاں\n\nوضع سبک اس کی تھی تس پہ نہ رکھتا تھا ریش\nموچھیں تھیں اور کانوں پر پٹے بھی تھے پنبہ ساں\n\nپیری میں جیسی کہ تھی اس کو دل افسردگی\nویسی ہی رہی تھی ان دنوں جن دنوں میں تھا جواں\n\nجتنے غرض کام ہیں اور پڑھانے سوا\nچاہئے کچھ اس سے ہوں اتنی لیاقت کہاں\n\nفضل نے اللہ کے اس کو دیا عمر بھر\nعزت و حرمت کے ساتھ پارچہ و آب و ناں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%B3%D9%86%DB%8C%DB%92_%D9%B9%DA%A9_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "کہتے ہیں جو اہل عقل ہیں دور اندیش", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں جو اہل عقل ہیں دور اندیش\nمخلوق کو ہے عدم کا رستہ درپیش\nمخلوق بھلا عدم سے نکلی کب تھی\nموجود تو ہے وہی جو کم ہو نے بیش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%B9%D9%82%D9%84_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%B4"} {"title": "کہتے ہیں سبھی مسدام اللہ اللہ", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں سبھی مسدام اللہ اللہ\nکرتے ہیں برائے نام اللہ اللہ\nیہ نام و نشان بھی نقاب رخ ہیں\nکیا خوب ہے انتظام اللہ اللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D8%B3%D8%AF%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "کہتے ہیں سن کے تذکرے مجھ غم رسیدہ کے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں سن کے تذکرے مجھ غم رسیدہ کے\nافسانے کون سنتا ہے حال شنیدہ کے\n\nکیا اپنی مشت خاک کی ہم جستجو کریں\nملتے نہیں نشان غبار پریدہ کے\n\nمیں خاک بھی ہوا نہ گئی پر کشیدگی\nغصے وہی رہے مرے دامن کشیدہ کے\n\nجو تم میں بات ہے وہ کسی اور میں کہاں\nجلوے کچھ اور ہی ہیں گل نو دمیدہ کے\n\nسیلاب چشم تر سے زمانہ خراب ہے\nشکوے کہاں کہاں ہیں مرے آب دیدہ کے\n\nکچھ انتہا نہیں ہے کہاں تک سنائیے\nقصے دراز ہیں دل نا آرمیدہ کے\n\nقطرے ملے جو تیرے پسینے کے گل بدن\nخواہاں رہے نہ لوگ گلاب چکیدہ کے\n\nآہوں کی دھوم ہے کہیں نالوں کے گلگلے\nساماں نئے ہیں روز ترے غم کشیدہ کے\n\nآرام گاہ اشک ہے ویران اے جنوں\nدامن ہیں تار تار قبائے دریدہ کے\n\nاو مست ناز کیف یہ تیرے سخن میں ہے\nدھوکے کلام پر ہیں شراب چکیدہ کے\n\nلو آشیان تن کی طرف میل تک نہیں\nدیکھو مزاج طائر رنگ پریدہ کے\n\nدیواں میں وصف ہے عرق جسم یار کا\nمضموں کہاں کہاں ہیں گلاب چکیدہ کے\n\nمژگاں سے بچ نسیمؔ کہ ابرو کے پاس ہیں\nیہ تیر بے خطا ہیں کمان کشیدہ کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%B0%DA%A9%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%BA%D9%85_%D8%B1%D8%B3%DB%8C%D8%AF%DB%81_%DA%A9%DB%92"} {"title": "کہتے ہیں سن کے ماجرا میرا", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں سن کے ماجرا میرا\nتم سے کس روز ربط تھا میرا\n\nنامہ بر اس نے تو کہا سب کچھ\nتو نے بھی حال کچھ کہا میرا\n\nاب تو خواہاں وصال کا بھی نہیں\nکچھ عجب ہے معاملہ میرا\n\nاور کس کو سناتے ہو مجھ کو\nاور کس کا یہ ذکر تھا میرا\n\nیہ بھی کیا بات آئی اس دن کی\nیہ بھی کہیے قصور تھا میرا\n\nمجھ سے پھر پوچھنے سے کیا حاصل\nگر سمجھتے ہو مدعا میرا\n\nکچھ کسی بات کا خیال بھی ہے\nغیر کے سامنے گلا میرا\n\nدیکھ کر اس کا پھیرا لینا منہ\nاور حسرت سے دیکھنا میرا\n\nکچھ تو باعث ہے میرے آنے کا\nکچھ تو تم سے ہے واسطا میرا\n\nبے وفا کہتے ہیں سبھی تم کو\nکہیے اس میں قصور کیا میرا\n\nایسی باتیں تو غیر کی ہوں گی\nآپ نے نام لے لیا میرا\n\nحال سن کے مرا نہ یہ تو کہہ\nایک ہی حال ہے ترا میرا\n\nبے قراری سے شب کٹی ہوگی\nایسا کس دن خیال تھا میرا\n\nکس نے بے تاب کر دیا مجھ کو\nکون آرام لے گیا میرا\n\nدم مرگ آ کے پوچھتے ہیں نظامؔ\nاب تو بخشا کہا سنا میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%AC%D8%B1%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی", "poet_page": "مصنف:غلام بھیک نیرنگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی\nہم کو اگر میسر جاناں کی دید ہوتی\n\nقیمت میں دید رخ کی ہم نقد جاں لگاتے\nبازار ناز لگتا دل کی خرید ہوتی\n\nکچھ اپنی بات کہتے کچھ میرا حال سنتے\nناز و نیاز کی یوں گفت و شنید ہوتی\n\nجلوے دکھاتے جاتے وہ طرز دلبری کے\nاور دل میں یاں ہوائے ناز مزید ہوتی\n\nتیغ نظر سے دل پر وہ وار کرتے جاتے\nاور لب پہ یاں صدائے ھل من مزید ہوتی\n\nابرو سے ان کے غمزہ تیر ادا لگاتا\nیہ دل قتیل ہوتا یہ جاں شہید ہوتی\n\nکچھ حوصلہ بڑھاتا انداز لطف جاناں\nکچھ دغدغہ سا ہوتا کچھ کچھ امید ہوتی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C"} {"title": "کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا\nتیغا سا کچھ نظر میں ہماری سڑک گیا\n\nمیں کیا کروں ادائے غضب ناک کا بیاں\nبجلی سا میرے سامنے آ کر کڑک گیا\n\nنالے سے میرے گل تو ہوا چاک پیرہن\nبلبل ترا جگر نہ یہ سن کر تڑک گیا\n\nکوئی گیا نہ خوف سے قاتل کے سامنے\nمیں ہی تھا اس کے رو بہ رو جو بے دھڑک گیا\n\nمشکل پڑے گا پھر تو بجھانا جہان کا\nجو ٹک زیادہ عشق کا شعلہ بھڑک گیا\n\nسوداؔ چرا چکا ہی تھا گلشن میں گل کو میں\nقسمت کو اپنی کیا کہوں پتا کھڑک گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D9%88%DA%AF_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%D9%BE%DA%BE%DA%91%DA%A9_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کہتے ہیں نالۂ حزیں سن کے", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں نالۂ حزیں سن کے\nسو دل گداز ہیں دھن کے\n\nسر اگر کاٹنا ہے چن چن کے\nآستین چڑھاؤ چن چن کے\n\nشمع و پروانہ شب کو تھے دل سوز\nرہ گئے صبح تک وہ جل بھن کے\n\nگھن لگا موت کا جو اعضا میں\nاستخواں خاک ہو گئے گھن کے\n\nمیں وہ نالاں ہوں جس کے ہم سایہ\nکوستے ہیں فغاں مری سن کے\n\nکٹ سکا کوہ غم نہ آخر کار\nکوہ کن سر کو رہ گیا دھن کے\n\nنام آور جو میرؔ تھے اے شادؔ\nاب ہمیں اک نشان ہیں ان کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%AD%D8%B2%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92"} {"title": "کہتے ہیں کہ اب وہ مردم آزار نہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیں\nعُشّاق کی پُرسش سے اُسے عار نہیں\nجو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہو گا\nکیونکر مانوں کہ اُس میں تلوار نہیں!", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%AF%D9%85_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کہتے ہیں کہ دے میری بلا داد کسی کی", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں کہ دے میری بلا داد کسی کی\nکانوں کو مزہ دیتی ہے فریاد کسی کی\n\nرونا ہے ترا کام مگر دیدۂ تر دیکھ\nتصویر خیالی نہ ہو برباد کسی کی\n\nکرتا ہوں گلہ ان سے جو ویرانئ دل کا\nکہتے ہیں یہ بستی نہیں آباد کسی کی\n\nآباد خدا رکھے تجھے کوئے محبت\nمٹی نہیں ہوتی یہاں برباد کسی کی\n\nکچھ اور تو ہم پاس مبارکؔ نہیں رکھتے\nرکھتا ہے تمنا دل ناشاد کسی کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "کہتے ہیں کہ رونق جمالی ہوں میں", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں کہ رونق‌ جمالی ہوں میں\nشہرہ ہے کہ جلوۂ جلالی ہوں میں\nجو نام پسند آئے پکارو مجھ کو\nکچھ بھی نہیں تصویر خیالی ہوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%B1%D9%88%D9%86%D9%82_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کہتے ہیں یاں کہ ”مجھ سا کوئی مہ جبیں نہیں”", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہتے ہیں یاں کہ ”مجھ سا کوئی مہ جبیں نہیں”\nپیارے جو ہم سے پوچھو تو یاں کیا کہیں نہیں\n\nتجھ سا تو کوئی حسن میں یاں نازنیں نہیں\nیوں نازنیں بہت ہیں یہ ناز آفریں نہیں\n\nساقی کو جام دینے میں اس خوش نگہ کو آہ\nہر دم اشارتیں ہیں کہ اس کے تئیں نہیں\n\nجب اس نہیں کے کہنے سے مانے ہے وہ برا\nآپھی پھر اس کو کہتا ہوں ہنس کر نہیں نہیں\n\nاتنا تو چھیڑتا ہوں کہ کہتا ہے جب وہ شوخ\nبندہ تو میرا مول خریدا نہیں نہیں\n\nساقی تجھے قسم ہے دیے جا مجھے تو جام\nیاں دم میں دم ہے ہوتی نہیں جب نہیں نہیں\n\nپوچھے ہے اس سے جب کوئی قتل نظیرؔ کو\nکہتا ہے ہم نے مارا ہے ہاں ہاں نہیں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%E2%80%9D%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%DB%81_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA%E2%80%9D"} {"title": "کہنا بڑوں کا مانو", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت\nہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت\nکڑوی نصیحتوں میں ان کی بھرا ہے امرت\nچاہو اگر بڑائی تو کہنا بڑوں کا مانو\nماں باپ کا عزیزو مانا نہ جس نے کہنا\nدشوار ہے جہاں میں عزت سے اس کا رہنا\nڈر ہے پڑے نہ صدمہ ذلت کا اس کا سہنا\nچاہو اگر بڑائی تو کہنا بڑوں کا مانو\nتم کو خبر نہیں کچھ اپنے بھلے برے کی\nجتنی ہے عمر چھوٹی اتنی ہے عقل چھوٹی\nہے بہتری اسی میں ہے جو بڑوں کی مرضی\nچاہو اگر بڑائی تو کہنا بڑوں کا مانو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7_%D8%A8%DA%91%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88"} {"title": "کہنا ترے منہ پر تو نپٹ بے ادبی ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہنا ترے منہ پر تو نپٹ بے ادبی ہے\nزاہد جو صفت تجھ میں ہے سوزن جلبی ہے\n\nاس دشت میں اے سیل سنبھل ہی کے قدم رکھ\nہر سمت کو یاں دفن مری تشنہ لبی ہے\n\nہر اک سے کہا نیند میں پر کوئی نہ سمجھا\nشاید کہ مرے حال کا قصہ عربی ہے\n\nعزلت سے نکل شیخ کہ تیرے لیے تیار\nکوئی ہفت گزی میخ کوئی دہ وجبی ہے\n\nاے چرخ نہ تو روز سیہ میرؔ پہ لانا\nبیچارہ وہ اک نعرہ زن نیم شبی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D9%86%D9%BE%D9%B9_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AF%D8%A8%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کہنا نہ مانا کوچۂ قاتل میں رہ گیا", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہنا نہ مانا کوچۂ قاتل میں رہ گیا\nاچھا ہوا جو دل کسی مشکل میں رہ گیا\n\nکیا پوچھتے ہو ایسے مسافر کی سرگزشت\nجس کو کہ دل بھی چھوڑ کے منزل میں رہ گیا\n\nنکلا تھا بن سنور کے بہت چودھویں کا چاند\nپھر بھی وہ تیرے رخ کے مقابل میں رہ گیا\n\nقاتل نے تیغ میان میں کچھ سوچ کر رکھی\nتھوڑا سا جب کہ دم تن بسمل میں رہ گیا\n\nدرہم ملا بھی منعم کج خلق سے اگر\nاک داغ بن کے وہ کف سائل میں رہ گیا\n\nاتنا بتا دے اس کے اٹھانے سے فائدہ\nتصویر بن کے جو تری محفل میں رہ گیا\n\nکیا جانے بحر عشق کی حالت وہ بد نصیب\nدم توڑ کر جو دامن ساحل میں رہ گیا\n\nفکر اس کی رنج اس کا امید اس کی کچھ نہ پوچھ\nجو سر جھکا کے کوچۂ قاتل میں رہ گیا\n\nتعبیر خواب زلف مسلسل تھی کیا یہی\nعالمؔ جکڑ کے میں جو سلاسل میں رہ گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%82_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کہنے اس شوخ سے دل کا جو میں احوال گیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہنے اس شوخ سے دل کا جو میں احوال گیا\nواں نہ تفصیل گئی پیش نہ اجمال گیا\n\nدام کاکل سے گلا کیا یہ جو ہے طائر دل\nآپ اپنے یہ پھنسانے کو پر و بال گیا\n\nدل بے تاب کی کیا جانے ہوئی کیا صورت\nپیچھے اس شوخ ستمگر کے جو فی الحال گیا\n\nلے گیا ساتھ لگا وہ بت قاتل گھر تک\nیا اسے مار کے رستے میں کہیں ڈال گیا\n\nخیر وہ حال ہوا یا یہ ہوئی شکل نظیرؔ\nکچھ تأسف نہ کرو جانے دو جنجال گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کہنے بھی کچھ نہ پائے تھے آہ رسا سے ہم", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہنے بھی کچھ نہ پائے تھے آہ رسا سے ہم\nسننا پڑا کہ آج لڑیں گے ہوا سے ہم\n\nضد آپ کو اثر سے اثر کو دعا سے لاگ\nفرمائیے تو ہاتھ اٹھا لیں دعا سے ہم\n\nپیسیں کسے یہ کہتے ہیں فتنے دم خرام\nاتنی بڑے حضور قیامت ذرا سے ہم\n\nمحشر میں پائی جام بکف حور زاہدو\nاچھے رہے یہاں بھی تمہاری دعا سے ہم\n\nسوتے میں کام آئی نہ کچھ چشم نیم باز\nکھل کھیلے آج یار کے بند قبا سے ہم\n\nہم جانتے ہیں خوب اداؤں کی شوخیاں\nہم ہیں ادا شناس ڈریں کیا قضا سے ہم\n\nاٹھ جائے بار شرم تو سو فتنے ہم اٹھائیں\nکہتی ہے وہ نگاہ دبے ہیں حیا سے ہم\n\nحوروں کے بدلے ہوں بت کافر ہمیں نصیب\nتم کو اگر ستائیں تو پائیں خدا سے ہم\n\nکرتے نہ ہم وفا تو نہ بڑھتے جفا و جور\nشرمندہ وہ جفا سے تو اپنی دعا سے ہم\n\nممکن ہے جا کے عرصۂ محشر میں سر اٹھائیں\nتیری گلی میں دب کے رہے نقش پا سے ہم\n\nان کے لئے مزے کی سزا ہے یہی ریاضؔ\nمحشر میں مانگ لیں گے بتوں کو خدا سے ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%A2%DB%81_%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "کہنے سننے سے مری ان کی عداوت ہو گئی", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہنے سننے سے مری ان کی عداوت ہو گئی\nجو نہ ہونی تھی وہ غیروں کی بدولت ہو گئی\n\nروز آتی ہے مگر اک روز بھی آتی نہیں\nاے اجل تو بھی مرے حق میں قیامت ہو گئی\n\nمیرے ان کے اب کہاں پہلا تپاک عاشقی\nچلتے پھرتے مل گئے صاحب سلامت ہو گئی\n\nسمجھے تھے دشت جنوں میں کچھ بہل جائے گا دل\nدیکھ کر سنسان جنگل دونی وحشت ہو گئی\n\nشکل دکھلاتی نہیں شیشہ سے آ کے جام میں\nدختر رز تو تو ابھی سے بے مروت ہو گئی\n\nمرگ عاشق کا عبث ہے سوگ ہر دم اس قدر\nچھٹ گیا وہ قید غم سے تم کو فرصت ہو گئی\n\nفصل گل آئی بڑھے جوش جنوں کے ولولے\nپھر وحی تسلیمؔ اپنی غیر حالت ہو گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%86%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D9%88%D8%AA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کہنے سے نہ منع کر کہوں گا", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہنے سے نہ منع کر کہوں گا\nتو میری نہ سن مگر کہوں گا\n\nتم آپ ہی آئے یوں ہی سچ ہے\nنالے کو نہ بے اثر کہوں گا\n\nگر کچھ بھی سنیں گے وہ شب وصل\nکیا کیا نہ میں تا سحر کہوں گا\n\nکہتے ہیں جو چاہتے ہیں دشمن\nمیں اور تمہیں فتنہ گر کہوں گا\n\nکہتے تو یہ ہو کہ تو ہے اچھا\nمانو گے برا اگر کہوں گا\n\nیوں دیکھ کے مجھ کو مسکرانا\nپھر تم کو میں بے خبر کہوں گا\n\nاک بات لکھی ہے کیا ہی میں نے\nتجھ سے تو نہ نامہ بر کہوں گا\n\nکب تم تو کہو گے مجھ سے پوچھو\nمیں باعث درد سر کہوں گا\n\nتجھ سے ہی چھپاؤں گا غم اپنا\nتجھ سے ہی کہوں گا گر کہوں گا\n\nمعلوم ہے مجھ کو جو کہو گے\nمیں تم سے بھی پیشتر کہوں گا\n\nحیرت سے کچھ ان سے کہہ سکوں گا\nبھولوں گا کا ادھر ادھر کہوں گا\n\nکچھ درد جگر کا ہوگا باعث\nکیوں تجھ سے میں چارہ گر کہوں گا\n\nاب حال نظامؔ کچھ نہ پوچھو\nغم ہوگا تمہیں بھی گر کہوں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%86%D8%B9_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کہنے میں نہیں ہیں وہ ہمارے کئی دن سے", "poet_page": "مصنف:مرزا شوقؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہنے میں نہیں ہیں وہ ہمارے کئی دن سے\nپھرتے ہیں انہیں غیر ابھارے کئی دن سے\n\nجلوے نہیں دیکھے جو تمہارے کئی دن سے\nاندھیرے ہیں نزدیک ہمارے کئی دن سے\n\nبے صبح نکلتا نہیں وو رات کو گھر سے\nخورشید کے انداز ہیں سارے کئی دن سے\n\nہم جان گئے آنکھ ملاؤ نہ ملاؤ\nبگڑے ہوئے تیور ہیں تمہارے کئی دن سے\n\nکس چاک گریباں کا کیا آپ نے ماتم\nکپڑے بھی نہیں تم نے اتارے کئی دن سے\n\nدیوانہ ہے سودائی ہے فرماتے ہیں اکثر\nان ناموں سے جاتے ہیں پکارے کئی دن سے\n\nدل پھنس گیا ہے آپ کی زلفوں میں ہمارا\nہیں بندۂ بے دام تمہارے کئی دن سے\n\nمنہ گال پے رکھ دیتے ہیں سوتے میں چمٹ کر\nکچھ کچھ تو حیا کم ہوئی بارے کئی دن سے\n\nمہندی بھی ہے مسی بھی ہے لاکھا بھی ہے لب پر\nکچھ رنگ ہیں بے رنگ تمہارے کئی دن سے\n\nڈر سے ترے کاکل کے نہیں چلتے ہیں رستہ\nدم بند ہیں اس سانپ کے مارے کئی دن سے\n\nآخر مری آہوں نے اثر اپنا دکھایا\nگھبرائے ہوئے پھرتے ہو پیارے کئی دن سے\n\nکس کشتۂ کاکل کا رکھا سوگ مری جاں\nگیسو نہیں کیوں تم نے سنوارے کئی دن سے\n\nپامال کرو گے کسی وارفتہ کو اپنے\nاٹکھیلیاں ہیں چال میں پیارے کئی دن سے\n\nاک شب مرے گھر آن کے مہمان رہے تھے\nآئے نہیں اس شرم کے مارے کئی دن سے\n\nپھر شوقؔ سے کیا اس بت عیار سے بگڑی\nہوتے نہیں باہم جو اشارے کئی دن سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کہو بتوں سے کہ ہم طبع سادہ رکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہو بتوں سے کہ ہم طبع سادہ رکھتے ہیں\nپھر ان سے عرض وفا کا ارادہ رکھتے ہیں\n\nیہی خطا ہے کہ اس گیر و دار میں ہم لوگ\nدل شگفتہ جبین کشادہ رکھتے ہیں\n\nخدا گواہ کہ اصنام سے ہے کم رغبت\nصنم گری کی تمنا زیادہ رکھتے ہیں\n\nدکان بادہ فروشاں کے صحن میں عابدؔ\nفرشتے خلد کا اک در کشادہ رکھتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%88_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%B7%D8%A8%D8%B9_%D8%B3%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کہو بلبل کو لے جاوے چمن سے آشیاں اپنا", "poet_page": "مصنف:آفتاب شاہ عالم ثانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہو بلبل کو لے جاوے چمن سے آشیاں اپنا\nپڑھے گر صد ہزار افسوں نہ ہوگا باغباں اپنا\n\nچلی جب باغ سے بلبل لٹا کر خانماں اپنا\nنہ چھوڑا ہائے بلبل نے چمن میں کچھ نشاں اپنا\n\nنہ تو نے گل کیا اپنا نہ بلبل باغباں اپنا\nچمن میں کس طرح سیتی بنایا خانماں اپنا\n\nاٹھا کر لے چلی بلبل چمن سے آشیاں اپنا\nکہا گل سے کہ لے یہ بے وفا ہم سے مکاں اپنا\n\nہوئی جب باغ سے رخصت کہا رو رو کے یا قسمت\nلکھا تھا یوں کہ فصل گل میں چھوڑیں خانماں اپنا\n\nارے صیاد یوں چاہے تو جی اور جان سے حاضر\nولیکن طوق قمری کی طرح کر کے نشاں اپنا\n\nمرا جلتا ہے جی اس بلبل بیکس کی غربت پر\nکہ گل کے آسرے پر یوں لٹایا یاں خانماں اپنا\n\nالم کر اس طرح روئی کہ رسوا ہو گئی بلبل\nڈبایا ہائے آنکھوں نے تمامی خانماں اپنا\n\nمگر دل سے بنا رکھنا علی گوہر سے پیارے کو\nوہ شاہی گو کہ رکھتا ہے ولے ہے مہرباں اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%88_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%92_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "کہو تم کس سبب روٹھے ہو پیارے بے گنہ ہم سیں", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہو تم کس سبب روٹھے ہو پیارے بے گنہ ہم سیں\nچرانے کیوں لگی ہیں یوں تری انکھیاں نگہ ہم سیں\n\nاتی نامہربانی کیوں کری ناحق غریبوں پر\nکیا کیا ہم نیں ظالم اپنے جی کی بات کہہ ہم سیں\n\nکیا تھا نقد جاں اپنا نثار اس واسطے تم پر\nکہ بے تقصیر یوں دل میں رکھو گے تم گرہ ہم سیں\n\nتغافل چھوڑنا ظالم بے تکلف ہو ستم مت کر\nکپٹ کی آشنائی یہ نہیں سکتی نبہ ہم سیں\n\nتمہاری طرح ملنا چھوڑ کر بے درد ہو رہنا\nکہو کیوں کر یہ سکتا ہے جیتے جیو یہ گنہ ہم سیں\n\nلگے ہیں غیر فرزیں کی طرح مل کج روی کرنے\nہمیشہ جو کہ کھا جاتے ہیں سب باتوں میں شہ ہم سیں\n\nمیں اپنی جان سیں حاضر ہوں لیکن آبروؔ تو رکھ\nخدا کے واسطے ایتا بھی روکھا تو نہ رہ ہم سیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%D8%A8%D8%A8_%D8%B1%D9%88%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DB%92_%DA%AF%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کہو تو آج دل بے قرار کیسے ہو", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہو تو آج دل بے قرار کیسے ہو\nشب الم کے ستائے نزار کیسے ہو\n\nہوس یہی ہے کہ پوچھے وہ آ کے ہم سے کبھی\nہماری دید کے امیدوار کیسے ہو\n\nتڑپ رہے ہو لحد میں کہ چین و راحت ہے\nکہو تو مجھ سے کہ اہل مزار کیسے ہو\n\nنہ اس طرح کرو پامال دل کو عاشق کے\nسمند ناز کو روکو سوار کیسے ہو\n\nہماری راہ نہ کھوٹی کرو خدا کے لیے\nہمیں ستاؤ نہ صحرا کے خار کیسے ہو\n\nکنارا خواب کو ہے چشم تر سے عاشق کے\nخیال جلوۂ دیدار یار کیسے ہو\n\nجمیلہؔ میری زباں سے نہ کچھ نکل جائے\nوہ مجھ سے پوچھتے ہیں بار بار کیسے ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D8%AC_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "کہو دیر و حرم یا نام اپنا آستاں رکھ دو", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہو دیر و حرم یا نام اپنا آستاں رکھ دو\nسر تسلیم خم ہے تم جہاں چاہو وہاں رکھ دو\n\nگھٹا کر قید آزادی بڑھا دو غم اسیری کا\nقفس کو آشیاں میں یا قفس میں آشیاں رکھ دو\n\nتسلی دینے والو ہم تہی دستان قسمت ہیں\nسر دامن جو ممکن ہو تو دل کی دھجیاں رکھ دو\n\nضرورت جان کی دل کو میں بے پروائے ہستی ہوں\nجہاں دل ہے وہیں اب میری جان ناتواں رکھ دو\n\nخدا کہلاؤ یا کچھ اور سب کچھ مجھ کو کہنا ہے\nادھر آؤ مرے منہ میں تمہیں اپنی زباں رکھ دو\n\nوفا کا راز اس مجمع میں کھولا جا نہیں سکتا\nسوا محشر کے کوئی اور روز امتحاں رکھ دو\n\nمحبت اور تسلی اس پہ ہوش زندگی کیفیؔ\nنہیں اٹھتا اگر کاندھے سے یہ بار گراں رکھ دو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%A2%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%D9%88"} {"title": "کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہوں جو حال تو کہتے ہو “مدعا کہیے ”\nتمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے؟\n\nنہ کہیو طعن سے پھر تم کہ “ہم ستمگر ہیں ”\nمجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو “بجا” کہیے\n\nوہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوے\nنگاہِ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے\n\nنہیں ذریعۂ راحت جراحتِ پیکاں\nوہ زخمِ تیغ ہے جس کو کہ دلکشا کہیے\n\nجو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیے\nجو نا سزا کہے اس کو نہ نا سزا کہیے\n\nکہیں حقیقتِ جانکاہیِ مرض لکھیے\nکہیں مصیبتِ نا سازیِ دوا کہیے\n\nکبھی شکایتِ رنجِ گراں نشیں کیجے\nکبھی حکایتِ صبرِ گریز پا کہیے\n\nرہے نہ جان تو قاتل کو خونبہا دیجے\nکٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے\n\nنہیں نگار کو الفت، نہ ہو، نگار تو ہے!\nروانیِ روش و مستیِ ادا کہیے\n\nنہیں بہار کو فرصت، نہ ہو بہار تو ہے!\nطرواتِ چمن و خوبیِ ہوا کہیے\n\nسفینہ جب کہ کنارے پہ آ لگا غالبؔ\nخدا سے کیا ستم و جورِ ناخدا کہیے!", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "کہوں میں کیا کہ کیا درد نہاں ہے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہوں میں کیا کہ کیا درد نہاں ہے\nتمہارے پوچھنے ہی سے عیاں ہے\n\nشکایت کی بھی اب طاقت کہاں ہے\nنگاہ حسرت آہ ناتواں ہے\n\nنشان پائے غیر اس آستاں پر\nنہیں ہے میرے مرقد کا نشاں ہے\n\nاجل نے کی ہے کس دم مہربانی\nکہ جب پہلو میں وہ نامہرباں ہے\n\nتجھے بھی مل گیا ہے کوئی تجھ سا\nاب آئینے سے وہ صحبت کہاں ہے\n\nیہ کس گل رو کا عالم یاد آیا\nدم سرد اک نسیم بوستاں ہے\n\nہوئی بیتابی بلبل مؤثر\nکہ گھبرایا ہوا کچھ باغباں ہے\n\nسحر ان کو ارادہ ہے سفر کا\nقیامت آنے میں شب درمیاں ہے\n\nکوئی یاں لاؤ اس عیسیٰ نفس کو\nکہ مرتا شیفتہؔ نام اک جواں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "کہوں کیا آرزوئے بے دلی مُجھ کو کہاں تک ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "کہوں کیا آرزوئے بے دلی مُجھ کو کہاں تک ہے\nمرے بازار کی رونق ہی سودائے زیاں تک ہے\n\nوہ مے کش ہوں فروغِ مے سے خود گُلزار بن جاؤں\nہوائے گُل فراقِ ساقیِ نا مہرباں تک ہے\n\nچمن افروز ہے صیّاد میری خوش‌نوائی تک\nرہی بجلی کی بے تابی، سو میرے آشیاں تک ہے\n\nوہ مُشتِ خاک ہوں، فیضِ پریشانی سے صحرا ہوں\nنہ پُوچھو میری وسعت کی، زمیں سے آ سماں تک ہے\n\nجرَس ہوں، نالہ خوابیدہ ہے میرے ہر رگ و پے میں\nیہ خاموشی مری وقتِ رحیلِ کارواں تک ہے\n\nسکُونِ دل سے سامانِ کشودِ کار پیدا کر\nکہ عقدہ خاطرِ گرداب کا آبِ رواں تک ہے\n\nچمن زارِ محبّت میں خموشی موت ہے بُلبل!\nیہاں کی زندگی پابندیِ رسمِ فغاں تک ہے\n\nجوانی ہے تو ذوقِ دید بھی، لُطفِ تمنّا بھی\nہمارے گھر کی آبادی قیامِ میہماں تک ہے\n\nزمانے بھر میں رُسوا ہوں مگر اے وائے نادانی!\nسمجھتا ہوں کہ میرا عشق میرے رازداں تک ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%D9%8F%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%DB%81%DB%92"} {"title": "کہوں کیا اضطراب دل زباں سے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہوں کیا اضطراب دل زباں سے\nرہے جاتے ہیں سب پہلو بیاں سے\n\nانہیں چہکا رہا ہوں چاند کہہ کر\nعوض لینا ہے مجھ کو آسماں سے\n\nہم ایسے ناتواں وہ ایسے نازک\nاٹھائے کون پردہ درمیاں سے\n\nشمیم گل نے بڑھ کر حال مارا\nقدم باہر جو رکھا آشیاں سے\n\nتڑپ میری ترقی کر رہی ہے\nزمیں ٹکرا نہ جائے آسماں سے\n\nخدا رکھے چمن کا پھول ہو تم\nہنسو کھیلو نسیم بوستاں سے\n\nنگاہ گل سے بلبل یوں گری ہے\nگرے جس طرح تنکا آشیاں سے\n\nزمین شعر ہم کرتے ہیں آباد\nچلے آتے ہیں مضموں آسماں سے\n\nبڑا لنگر تھا شعر و شاعری کا\nاٹھا کیوں کر جلیلؔ ناتواں سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کہوں کیا دل اڑانے کا ترا کچھ ڈھب نرالا تھا", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہوں کیا دل اڑانے کا ترا کچھ ڈھب نرالا تھا\nوگرنہ ہر طرح سے اب تلک تو میں سنبھالا تھا\n\nکہاں اب کھل کے وہ رونا کدھر وہ اشک کی شورش\nکبھو کچھ پھوٹ بہتا ہے جگر پر وہ جو چھالا تھا\n\nہوا آوارۂ دشت و بیاباں دیکھتے اپنے\nوہ طفل اشک جو الفت سے آنکھوں بیچ پالا تھا\n\nترا غم کھا گیا میرا کلیجہ دل سبھی یک بار\nہوا ہوگا کہاں سے سیر یہ تو اک نوالہ تھا\n\nابھی تو لگ نہ چلنا تھا اثرؔ اس گل بدن کے ساتھ\nکوئی دن دیکھنا تھا زخم دل بے طرح آلا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%DA%91%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%88%DA%BE%D8%A8_%D9%86%D8%B1%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے\nگر مے نہیں دے زہر ہی کا جام بلا سے\n\nجو کچھ ہے سو ہے اس کے تغافل کی شکایت\nقاصد سے ہے تکرار نہ جھگڑا ہے صبا سے\n\nدلالہ نے امید دلائی تو ہے لیکن\nدیتے نہیں کچھ دل کو تسلی یہ دلاسے\n\nہے وصل تو تقدیر کے ہاتھ اے شہ خوباں\nیاں ہیں تو فقط تیری محبت کے ہیں پیاسے\n\nپیاسے ترے سرگشتہ ہیں جو راہ طلب میں\nہونٹوں کو وہ کرتے نہیں تر آب بقا سے\n\nدر گزرے دوا سے تو بھروسے پہ دعا کے\nدر گزریں دعا سے بھی دعا ہے یہ خدا سے\n\nاک درد ہو بس آٹھ پہر دل میں کہ جس کو\nتخفیف دوا سے ہو نہ تسکین دعا سے\n\nحالیؔ دل انساں میں ہے گم دولت کونین\nشرمندہ ہوں کیوں غیر کے احسان و عطا سے\n\nجب وقت پڑے دیجیے دستک در دل پر\nجھکئے فقرا سے نہ جھمکیے امرا سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AF%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%85_%D9%85%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%92"} {"title": "کہہ دو کہ میں خوش ہوں رکھوں گر آپ کو خوش", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کہہ دو کہ میں خوش ہوں رکھوں گر آپ کو خوش\nبجلی چمکاؤں اور کروں بھاپ کو خوش\nسیکھوں ہر علم و فن مگر فرض یہ ہے\nہر حال میں رکھوں اپنے ماں باپ کو خوش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AF%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%B1_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%B4"} {"title": "کہہ گیا کچھ تو زیر لب کوئی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہہ گیا کچھ تو زیر لب کوئی\nجان دیتا ہے بے سبب کوئی\n\nجاوے قاصد ادھر تو یہ کہیو\nراہ تکتا ہے روز و شب کوئی\n\nگو کہ آنکھوں میں اپنی آوے جان\nمنہ دکھاتا ہے ہم کو کب کوئی\n\nبن گیا ہوں میں صورت دیوار\nسامنے آ گیا ہے جب کوئی\n\nگرچہ ہم سائے اس پری کے رہے\nنہ ملا جھانکنے کا ڈھب کوئی\n\nحد خوش آیا یہ شعر میرؔ مجھے\nکر کے لایا تھا منتخب کوئی\n\nاب خدا مغفرت کرے اس کی\nمیرؔ مرحوم تھا عجب کوئی\n\nاے فلک اس کو تو غنیمت جان\nمصحفیؔ سا نہیں ہے اب کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D9%84%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کہیں بیٹھنے دے دِل اب مُجھے جُو حواس ٹک میں بجا کروں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہیں بیٹھنے دے دِل اب مُجھے جُو حواس ٹک میں بجا کروں\nنہیں تاب مُجھ میں کے جب تلک تُو پھرے تُو میں بھی پھرا کروں\n\nتُو ہزار مُجھ کو ستا پری تری چاہ مُجھ سے نہ چھوٹے گی\nمیرے دِل کی تُو ہے یہی خُوشی تُو جفا کرے میں وفا کروں\n\nجوں ہی بوسہ میں نے طلب کیا تُو کہا تُجھے تُو نہیں ہے ڈر\nمُجھے خوف ہے کے مبادا گر کوئی دیکھ لے تُو میں کیا کروں\n\nمُجھے مدتوں سے ہے درد دِل جُو کہا کچھ اس کا علاج کر\nتُو کہا کے اس کی دوا ہے یہ تُو کہا کرے میں سنا کروں\n\nجُو نگہ سے چاہ کی دیکھیے تُو چڑھا کہ تیوری یہ کہتا ہے\nتری اس نگہ کی سزا ہے یہ کے بس اب میں تُجھ سے چھپا کروں\n\nکبھی اِس کہ کوچے میں جا ملے جُو بہ کام دِل گھڑی دو گھڑی\nتُو مُجھے ہیں یاد وُہ مکر و فن پھر اِسی کہ دِل میں میں جا گروں\n\nکوئی بولا تم نے نظیرؔ کو نہ جھڑک دیا تُو کہا میاں\nدِل و جاں سے مُجھ پہ فدا ہے وُہ اسے کس طرح میں خفا کروں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%92_%D8%AF%D9%90%D9%84_%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D9%8F%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D9%8F%D9%88_%D8%AD%D9%88%D8%A7%D8%B3_%D9%B9%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "کہیں جو دل نہ لگاویں تو پھر اداس پھریں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہیں جو دل نہ لگاویں تو پھر اداس پھریں\nوگر لگاویں تو مشکل کہ بے حواس پھریں\n\nہمیں بھی ہووے اجازت کہ شمع رو تجھ پر\nپتنگ کی نمط اک دم تو آس پاس پھریں\n\nتری گلی میں بھلا اتنی تو ہمیں ہو راہ\nکہ جب تک اپنا وہاں جی ہو بے ہراس پھریں\n\nاٹھا دے ہم سے جو بیٹھے ہوؤں کو اب کی فلک\nتو آرزو ہے یہ جی میں کہ بے قیاس پھریں\n\nنہ خط کسی کا پڑھے ہے حسنؔ نہ وہ عرضی\nکہاں تلک لئے ہم اپنا التماس پھریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%88%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کہیں سر پٹکتے دیوانے کہیں پر جھلستے پروانے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہیں سر پٹکتے دیوانے کہیں پر جھلستے پروانے\nجو ہو بے شعور کیا جانے یہ ہیں زندگی کے افسانے\n\nیہ نئی نئی ہر اک صورت یہ طلسمی آئینہ خانے\nہے غضب کی شعلہ سامانی کہ بھٹک رہے ہیں پروانے\n\nسبھی اپنے اور بیگانے چلے آ رہے ہیں سمجھانے\nمجھے کیا ہوا خدا جانے میں سڑی ہوں یا یہ دیوانے\n\nکوئی آ رہا ہے سمجھانے مگر اس طرح کہ بے جانے\nہیں اسی کے غم میں دیوانے ابھی سن لے تو برا مانے\n\nللک ایک سی نہ اے کوئل نہ ترا سا دل ہے میرا دل\nتری کوک کو میں کیا سمجھوں مری ہوک کو تو کیا جانے\n\nتری بے رخی نے اے ساقی ہوس طلب بڑھا دی ہے\nہوا چور ایک پیمانہ تو بنے ہزار پیمانے\n\nہے ادھر خمار آنکھوں میں ادھر انتظار آنکھوں میں\nابھی دور مے کشی ہے دور ابھی بن رہے ہیں میخانے\n\nہوا بھولے پن پہ جو بسمل وہ تو اپنا آپ ہے قاتل\nیہ سمجھ کا پھیر ہے اے دل ستم و جفا وہ کیا جانے\n\nنئی کروٹیں زمانے کی ہیں بڑی ہی انقلاباتی\nکہیں بستیوں میں ویرانی کہیں بس رہے ہیں ویرانے\n\nیہ ابھرتی مٹتی تحریریں یہ بگڑتی بنتی تصویریں\nکسی حسن کی ہیں تنویریں کوئی دیکھے ہو تو پہچانے\n\nتو ہے جان حسن یہ سن کے تو پسینہ چھوٹا ماتھے سے\nمرا نام آرزوؔ سن لے تو وہ اور بھی برا مانے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%D9%B9%DA%A9%D8%AA%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%DA%BE%D9%84%D8%B3%D8%AA%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "کہیں ظاہر یہ تیری چاہ نہ کی", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہیں ظاہر یہ تیری چاہ نہ کی\nمرتے مرتے بھی ہم نے آہ نہ کی\n\nتو نگہ کی نہ کی خدا جانے\nہم تو ڈر سے کبھو نگاہ نہ کی\n\nسب کے جی میں یہ نالہ ہو گزرا\nایک تیرے ہی دل میں راہ نہ کی\n\nآہ مر گئے پہ ناتوانی\nایک بھی آہ سربراہ نہ کی\n\nوہ کسو اور سے کرے گا کیا\nجن نے تجھ سے اثرؔ نباہ نہ کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "کہیں مرنے والے کہا مانتے ہیں", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہیں مرنے والے کہا مانتے ہیں\nوہی کر گزرتے ہیں جو ٹھانتے ہیں\n\nکوئی کھیل ہے جان پر کھیل جانا\nوہ یہ کہہ کے اکثر ہمیں تانتے ہیں\n\nملا یہ جواب آج رشک عدو پر\nجو مانے ہمیں اس کو ہم مانتے ہیں\n\nتڑپ کر ادھر ہو گیا کوئی ٹھنڈا\nادھر آپ دامن ہی گردانتے ہیں\n\nکہیں کیا شب ہجر کٹتی ہے کیوں کر\nجو دل پر گزرتی ہے ہم جانتے ہیں\n\nمرے دل کی کچھ قدر ہوگی انہیں کو\nجو کھوٹا کھرا خوب پہچانتے ہیں\n\nیہ فقرے یہ چالیں یہ گھاتیں یہ باتیں\nتجھے او دغاباز ہم جانتے ہیں\n\nعدو سے بھی ہے صلح منظور اچھا\nجو اب تک نہ مانی تھی اب مانتے ہیں\n\nحفیظؔ اس کی جس پر ہوئی مہربانی\nاسی کو زمانے میں سب مانتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کہیں مغز اس کے میں صبح دم تری بوئے زلف رسا گئی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہیں مغز اس کے میں صبح دم تری بوئے زلف رسا گئی\nترے کوچے سے جو چمن تلک گل اڑاتی خاک صبا گئی\n\nمرض اک جہاں سے نرالا تھا مری جان تیرے مریض کا\nنہ ہوا کسی سے علاج جب اجل اس کی کرنے دوا گئی\n\nغرض اس نباہ کے صدقے میں غرض ایسی چاہ کے صدقے میں\nنہ ترا ہی جور و جفا گیا نہ مری ہی مہر و وفا گئی\n\nیہ بہار ہووے گی سب خزاں نہ سمن نہ لالہ نہ ارغواں\nدم گرم کی مرے دوستاں کبھو باغ میں جو ہوا گئی\n\nجو فدائے صورت خوب ہیں انہیں تب کہوں گا کہ دیکھیے\nکوئی شکل اپنی ہی چشم میں کبھو سیر کرتی جو آ گئی\n\nمیں ہوا بہ خاک سیہ فرو ترے کوچے میں بہ صد آرزو\nرہا شرمگیں ہی ہمیشہ تو تری اب تلک نہ حیا گئی\n\nسر اٹھاؤں کیوں کے میں مصحفیؔ نہیں مجھ میں تاب و تواں ذری\nکہ خرام اس بت شوخ کی مجھے خاک ہی میں ملا گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%BA%D8%B2_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%AF%D9%85_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B1%D8%B3%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کہیں وہ صورت خوباں ہوا ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہیں وہ صورت خوباں ہوا ہے\nکہیں وہ عاشق حیراں ہوا ہے\n\nکہیں گل ہے کہیں بلبل کہیں باغ\nکہیں درد و کہیں درماں ہوا ہے\n\nکہیں مست و کہیں ہشیار ہے وہ\nکہیں دانا کہیں ناداں ہوا ہے\n\nکہیں خاک و کہیں باد و کہیں آب\nکہیں وہ آتش سوزاں ہوا ہے\n\nکہیں لفظ و کہیں معنی کہیں حرف\nکہیں پوتھی کہیں قرآں ہوا ہے\n\nکہیں نور و کہیں ایمن کہیں طور\nکہیں موسیٰ کہیں عمراں ہوا ہے\n\nکہیں مسجد کہیں بت خانہ ہے وہ\nکہیں کفر و کہیں ایماں ہوا ہے\n\nکہیں خلق او کہیں خلاق عالم\nکہیں ظاہر کہیں پنہاں ہوا ہے\n\nکہیں حاتمؔ کہیں جاں بخش حاتمؔ\nکہیں حاتمؔ کا جا مہماں ہوا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک\nکہ پہنچا شمع ساں داغ اب جگر تک\n\nکچھ اپنی آنکھ میں یاں کا نہ آیا\nخذف سے لے کے دیکھا در تر تک\n\nجسے شب آگ سا دیکھا سلگتے\nاسے پھر خاک ہی پایا سحر تک\n\nترا منہ چاند سا دیکھا ہے شاید\nکہ انجم رہتے ہیں ہر شب ادھر تک\n\nجب آیا آہ تب اپنے ہی سر پر\nگیا یہ ہاتھ کب اس کی کمر تک\n\nہم آوازوں کو سیر اب کی مبارک\nپر و بال اپنے بھی ایسے تھے پر تک\n\nکھنچی کیا کیا خرابی زیر دیوار\nولے آیا نہ وہ ٹک گھر سے در تک\n\nگلی تک تیری لایا تھا ہمیں شوق\nکہاں طاقت کہ اب پھر جائیں گھر تک\n\nیہی درد جدائی ہے جو اس شب\nتو آتا ہے جگر مژگان تر تک\n\nدکھائی دیں گے ہم میت کے رنگوں\nاگر رہ جائیں گے جیتے سحر تک\n\nکہاں پھر شور شیون جب گیا میرؔ\nیہ ہنگامہ ہے اس ہی نوحہ گر تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D9%88_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%A8%DB%92_%D9%BE%D8%A7_%D9%88_%D8%B3%D8%B1_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "کہیں کیا تم سوں بے درد لوگو کسی سے جی کا مرم نہ پایا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہیں کیا تم سوں بے درد لوگو کسی سے جی کا مرم نہ پایا\nکبھی نہ بوجھی یتھا ہماری برہ نیں کیا اب ہمیں ستایا\n\nلگا ہے برہا جگر کوں کھانے ہوئے ہیں تیروں کے ہم نشانے\nدیویں ہیں سوتیں ہمن کوں طعنے کہ تجھ کو کبہوں نہ منہ لگایا\n\nرکھے نہ دل میں کسی کی چنتا گلے میں ڈالے برہ کی کنٹھا\nدرس کی خاطر تمہارے منتا بھکارن اپنا برن بنایا\n\nلگی ہیں جی پر برہ کی گھاتیں تلف تلف کر بہائیں راتیں\nتمہاری جن نیں بنائیں باتیں اکارت اپنا جنم گنوایا\n\nگلا ممولا یہ سب عبث ہے اپس کے اوچھے کرم کا جس ہے\nہمارا پیارے کہو کیا بس ہے تمہارے جی میں اگر یوں آیا\n\nجو دکھ پڑے گا سہا کروں گی جسے کہو گے رہا کروں گی\nتمن کوں نس دن دعا کروں گی سکھی سلامت رہو خدایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B1%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کہیں کیا کہ کیا کیا ستم دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہیں کیا کہ کیا کیا ستم دیکھتے ہیں\nلکھا ہے جو قسمت میں ہم دیکھتے ہیں\n\nکبھی آہ نعرہ کبھی کھینچتے ہیں\nہم اس ساز کا زیر و بم دیکھتے ہیں\n\nخط سر نوشت اپنا ہم پڑھ رہے ہیں\nتمہارا جو نقش قدم دیکھتے ہیں\n\nمرے رو بہ رو وہ بہم غیر سے ہیں\nنہ دیکھے کوئی جو کہ ہم دیکھتے ہیں\n\nرہی گر تلاش کمر یوں ہی ہم کو\nکوئی دم میں ملک عدم دیکھتے ہیں\n\nہزاروں گماں دل میں ہوتے ہیں پیدا\nترے ہاتھ میں جب قلم دیکھتے ہیں\n\nنہیں جانا کس دن تو غیروں کے گھر پر\nصریحاً تو آنکھوں سے ہم دیکھتے ہیں\n\nنہیں آرزو کچھ بھی بوسے کی ہم کو\nمگر ہم تمہارا کرم دیکھتے ہیں\n\nجو عالم کہ دیکھا ہے کوئے بتاں میں\nخدا کی خدائی میں کم دیکھتے ہیں\n\nنظر آتے ہو سحرؔ عاشق کسی پر\nتمہیں ہر گھڑی چشم نم دیکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کہیے کیا اور فیصلے کی بات", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہیے کیا اور فیصلے کی بات\nوصل ہے اک معاملے کی بات\n\nاس کے کوچے میں لاکھ سر گرداں\nایک یوسف کے قافلے کی بات\n\nگیسوئے حور اور زاہد بس\nذکر کاکل ہے سلسلے کی بات\n\nغیر سے ہم کو رشک صل علیٰ\nکہیے کچھ اپنے حوصلے کی بات\n\nایک عالم کو کر دیا پامال\nیہ بھی ہے کوئی مشغلے کی بات\n\nکیا بگڑنا انہیں نہیں آتا\nصلح بھی ہے مجادلے کی بات\n\nدیکھ کیا کہتے ہیں خدا سے ہم\nاک ذرا ہے مقابلے کی بات\n\nاس قدر اور قریب خاطر تو\nعقل سے ہے یہ فاصلے کی بات\n\nداور حشر سے بھی حال کہا\nنہیں رکتی کہیں گلے کی بات\n\nنہ چلے پاؤں اور نہ سر ہی چلے\nبے سر و پا ہے آبلے کی بات\n\nکوئی مضموں کبھی نہ پیش آیا\nشعر میں کی ہے پھر صلے کی بات\n\nہم نشیں عرش ہل گیا شب ہجر\nپوچھ مت جی کے زلزلے کی بات\n\nاے قلق دل کو سوچ کر دینا\nکچھ نہیں ٹھیک ولولے کی بات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%81%DB%8C%D8%B5%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "کہیے گر ربط مدعی سے ہے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہیے گر ربط مدعی سے ہے\nکہتے ہیں دوستی تجھی سے ہے\n\nدیکھیے آگے آگے کیا کچھ ہو\nدل کی حرکت یہ کچھ ابھی سے ہے\n\nاس کی الفت میں جیتے جی مرنا\nفائدہ یہ بھی زندگی سے ہے\n\nضد ہے گر ہے تو ہو سبھی کے ساتھ\nیا نہ ملنے کی ضد مجھی سے ہے\n\nخوف سے تم سے کہہ نہیں سکتے\nدل میں اک آرزو کبھی سے ہے\n\nمجھ سے پوچھو ہو کس سے الفت ہے\nتم سمجھتے نہیں کسی سے ہے\n\nرنجش غیر سے نہیں مطلب\nکام ہم کو تری خوشی سے ہے\n\nاس قدر آپ ہم پہ ظلم کریں\nاس کا انصاف آپ ہی سے ہے\n\nرشک دشمن نہ سہہ سکے گا نظامؔ\nیہ بھی ناچار اپنے جی سے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%D8%B1%D8%A8%D8%B7_%D9%85%D8%AF%D8%B9%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "کہے کوئی شیخ سے یہ جا کر", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "کہے کوئی شیخ سے یہ جا کر\nکہ دیکھیے آ کے بزم سید\nیہ رونق اور چہل پہل ہو\nتو کیا برا ہے گناہ کرنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کہے ہے کوہ کن کر فکر میری خستہ حالی میں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہے ہے کوہ کن کر فکر میری خستہ حالی میں\nالٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میں\n\nمیں وہ پژمردہ سبزہ ہوں کہ ہو کر خاک سے سرزد\nیکایک آ گیا اس آسماں کی پائمالی میں\n\nتو سچ کہہ رنگ پاں ہے یہ کہ خون عشق بازاں ہے\nسخن رکھتے ہیں کتنے شخص تیرے لب کی لالی میں\n\nبرا کہنا بھی میرا خوش نہ آیا اس کو تو ورنہ\nتسلی یہ دل ناشاد ہوتا ایک گالی میں\n\nمرے استاد کو فردوس اعلیٰ میں ملے جاگا\nپڑھایا کچھ نہ غیر از عشق مجھ کو خوردسالی میں\n\nخرابی عشق سے رہتی ہے دل پر اور نہیں رہتا\nنہایت عیب ہے یہ اس دیار غم کے والی میں\n\nنگاہ چشم پر خشم بتاں پر مت نظر رکھنا\nملا ہے زہر اے دل اس شراب پرتگالی میں\n\nشراب خون بن تڑپوں سے دل لبریز رہتا ہے\nبھرے ہیں سنگ ریزے میں نے اس مینائے خالی میں\n\nخلاف ان اور خوباں کے سدا یہ جی میں رہتا ہے\nیہی تو میرؔ اک خوبی ہے معشوق خیالی میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%DB%81_%DA%A9%D9%86_%DA%A9%D8%B1_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AE%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کہے یہ کون مکاں اپنا لا مکاں اپنا", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کہے یہ کون مکاں اپنا لا مکاں اپنا\nازل کے بعد سے ملتا ہے کچھ نشاں اپنا\n\nہے کچھ تو بات کہ دعویٰ ہے اک جہاں کا یہی\nکہ تو ہے اپنا زمیں اپنی آسماں اپنا\n\nہر ایک گام پہ ہر سمت ہے سجود نیاز\nدیار یار کو جاتا ہے کارواں اپنا\n\nنظر بھی دفتر اعمال پر وہ کر نہ سکے\nتھا اپنا حال زباں اپنی اور بیاں اپنا\n\nدر رقیب پہ سجدے میں آہ دم توڑیں\nہو جن کا قول سر اپنا ہے آستاں اپنا\n\nعدم سے پہلے کی حالت عدم کے بعد کا حال\nمجھی سے پوچھ کہ میں خود ہوں رازداں اپنا\n\nیہ پوچھتا ہے کہ کیوں دل میں ہے اک آگ لگی\nیہ دیکھتا نہیں جلتا ہے آشیاں اپنا\n\nنہیں خیال نشیمن ملال ہے تو یہ ہے\nکہ ہم نے آپ اجاڑا ہے آشیاں اپنا\n\nہر ایک شعلہ لرزتا ہے اور ہم چپ ہیں\nقفس کے سامنے جلتا ہے آشیاں اپنا\n\nگری تھی کوند کے بجلی کبھی نشیمن پر\nیہ دیکھتا ہوں کہ جلتا ہے آشیاں اپنا\n\nابھی جمال سے پردے ہزار باقی ہیں\nحریم یار میں بیخودؔ گزر کہاں اپنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%84%D8%A7_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "کی آہ ہم نے لیکن اس نے ادھر نہ دیکھا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کی آہ ہم نے لیکن اس نے ادھر نہ دیکھا\nاس آہ میں تو ہم نے کچھ بھی اثر نہ دیکھا\n\nکیا کیا بہاریں آئیں کیا کیا درخت پھولے\nنخل دعا کو لیکن میں بارور نہ دیکھا\n\nہرگز ہوا نہ یارو وہ شوخ یار اپنا\nزیں پیش ورنہ ہم نے کیا کیا کہ کر نہ دیکھا\n\nرہتے ہیں کیا بھلا واں آفت زدے ہی سارے\nاس کوچے میں کسی کا آباد گھر نہ دیکھا\n\nپہنچا گلی تک اس کے آگے کھڑا رہا میں\nآگے قدم کے رکھتے پھر نامہ بر نہ دیکھا\n\nدو دو پہر تک اس کے آگے کھڑا رہا میں\nپر اس نے ضد کے مارے بھر کر نظر نہ دیکھا\n\nکیا فائدہ رکھے ہے بس اب زیادہ مت رو\nرونا ترا کسی نے اے چشم تر نہ دیکھا\n\nکل یار کی گلی میں ڈھونڈا جو مصحفیؔ کو\nاک لاش تو پڑی تھی پر اس کا سر نہ دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%DB%81_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کی حسن نے تجھ سے بے وفائی آخر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کی حسن نے تجھ سے بے وفائی آخر\nخوبی نہ رہی نہ میرزائی آخر\nرونق نہ رہی غبار خط سے منھ پر\nاس سبزقدم نے خاک اڑائی آخر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%D8%AE%D8%B1"} {"title": "کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمّازی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمّازی\nگُستاخ ہے، کرتا ہے فطرت کی حِنابندی\n\nخاکی ہے مگر اس کے انداز ہیں افلاکی\nرومی ہے نہ شامی ہے، کاشی نہ سمرقندی\n\nسِکھلائی فرشتوں کو آدم کی تڑپ اس نے\nآدم کو سِکھاتا ہے آدابِ خداوندی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D8%B1%D8%B4%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%94_%DA%A9%DB%8C_%D8%BA%D9%85%D9%91%D8%A7%D8%B2%DB%8C"} {"title": "کی شب حشر مری شام جوانی تم نے", "poet_page": "مصنف:مختار صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کی شب حشر مری شام جوانی تم نے\nچھیڑی کس دور کی کس وقت کہانی تم نے\n\nمعنی و لفظ میں جو ربط ہے میں جان گیا\nکھولے اس طرح سے اسرار معانی تم نے\n\nمیری آنکھوں ہی میں تھے ان کہے پہلو اس کے\nوہ جو اک بات سنی میری زبانی تم نے\n\nمیری تاریخ نے دائم تمہیں باقی سمجھا\nرکھا ہر دور میں دائم مجھے فانی تم نے\n\nمیں تو ہر دھوپ میں سایوں کا رہا ہوں جویا\nمجھ سے لکھوائی سرابوں کی کہانی تم نے\n\nمیری ہر بات میں سو عیب تھے ہر عیب میں شاخ\nیہ غنیمت ہے مری قدر بھی جانی تم نے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A8_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92"} {"title": "کی طلب اک شہہ نے کچھ پند از حکیم نکتہ داں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کی طلب اک شہہ نے کچھ پند از حکیم نکتہ داں\nاس نے سن کے یوں کہا اے صاحب اقبال و شاں\n\nیاد رکھ اور پاس رکھ اور سخت رکھ اور جمع کر\nکھا چھپا، کاٹ اور اٹھا، دے لے، بخوبی ہر زماں\n\nاس نے اس مجمل کے تفصیلات جب پوچھے تو پھر\nلطف سے اس نکتہ رس نے یوں کیا اس کا بیاں\n\nیاد رکھ ہر دم خدا کو پاس رکھ حسن وفا\nسخت رکھ دیں کو مدام اور جمع کر علم اے جواں\n\nکھا غضب غصہ چھپا عیب رفیق و آشنا\nکاٹ ربط ہم نشین بد کہ ہے اس میں زیاں\n\nاور اٹھا ہر دم ضعیف و ناتواں سے ظلم و جور\nداد مظلوموں کی دے اور لے بہشت جاوداں\n\nنثر میں مجھ کو نظیرؔ آئے تھے یہ نکتے نظر\nمیں نے نظم ان کو کیا تو دل ہو ہر دم شادماں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D8%A7%DA%A9_%D8%B4%DB%81%DB%81_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%BE%D9%86%D8%AF_%D8%A7%D8%B2_%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85_%D9%86%DA%A9%D8%AA%DB%81_%D8%AF%D8%A7%DA%BA"} {"title": "کی میرے تڑپنے کی نہ تدبیر کسی نے", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کی میرے تڑپنے کی نہ تدبیر کسی نے\nاس کی نہ دکھائی مجھے تصویر کسی نے\n\nکھانوں سے منوں غم کے بھی سیری نہیں ہوتی\nکیا مجھ کو کھلا دی کہیں اکسیر کسی نے\n\nیہ کوہ کن و قیس یوں ہی مر گئے آخر\nدیکھی نہ کبھی آہ کی تاثیر کسی نے\n\nشاد اس نگہ یار کے دھوکے میں ہوا ہوں\nمارا ہے میرے سینے میں جب تیر کسی نے\n\nیہ ریختہ وہ ہے کہ کوئی ڈھا نہیں سکتا\nعارفؔ کہیں دیکھی ہے یہ تعمیر کسی نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AA%DA%91%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%86%DB%92"} {"title": "کی مے سے ہزار بار توبہ", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کی مے سے ہزار بار توبہ\nرہتی نہیں برقرار توبہ\n\nتم مے سے کرو ہزار بار توبہ\nتم سے یہ نبھے قرار توبہ\n\nبندوں کو گنہ تباہ کرتے\nہوتی نہ جو غم گسار توبہ\n\nہوتی ہے بہار میں معطل\nکرتے ہیں جو میگسار توبہ\n\nمقبول ہو کیوں نہ گر کریں ہم\nبا دیدۂ اشک بار توبہ\n\nہوگی کبھی مشرقیؔ نہ قبول\nپیری میں کرو ہزار توبہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81"} {"title": "کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کی وفا ہم سے تو غیر اِس کو جفا کہتے ہیں\nہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں\n\nآج ہم اپنی پریشانیِ خاطر ان سے\nکہنے جاتے تو ہیں، پر دیکھئے کیا کہتے ہیں\n\nاگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، انہیں کچھ نہ کہو\nجو مے و نغمہ کو اندوہ رُبا کہتے ہیں\n\nدل میں آ جائے ہے، ہوتی ہے جو فرصت غش سے\nاور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں\n\nہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا مسجود\nقبلے کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے ہیں\n\nپائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہے\nخارِ رہ کو ترے ہم مہرگیا کہتے ہیں\n\nاک شرر دل میں ہے اُس سے کوئی گھبرائے گا کیا\nآگ مطلوب ہے ہم کو، جو ہَوا کہتے ہیں\n\nدیکھیے لاتی ہے اُس شوخ کی نخوت کیا رنگ\nاُس کی ہر بات پہ ہم “نامِ خدا” کہتے ہیں\n\nوحشت و شیفتہ اب مرثیہ کہویں شاید\nمر گیا غالبؔ آشفتہ نوا، کہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کی وفا یار سے ایک ایک جفا کے بدلے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کی وفا یار سے ایک ایک جفا کے بدلے\nہم نے گن گن کے لیے خون وفا کے بدلے\n\nکی سپرد در بت خانہ اجل نے مری خاک\nکس کو سونپا مجھے ظالم نے خدا کے بدلے\n\nلطف بیداد حیا غصہ تغافل شوخی\nرنگ کیا کیا نہ تلون نے ادا کے بدلے\n\nہائے میں کشتۂ انداز ہوں یا رب کس کا\nحور آئی مجھے لینے کو قضا کے بدلے\n\nتیر سے تیغ سے خنجر سے سناں سے مارا\nکئی پہلو مرے قاتل نے قضا کے بدلے\n\nکفن اے گرد لحد دیکھ نہ میلا ہو جائے\nآج ہی ہم نے یہ کپڑے ہیں نہا کے بدلے\n\nعشق اللہ بچائے وہ مرض ہے فانیؔ\nزہر بیمار کو دیتے ہیں دوا کے بدلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%92"} {"title": "کی گود میں بِلّی دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "تجھ کو دُزدیدہ نگاہی یہ سِکھا دی کس نے\nرمز آغازِ محبّت کی بتا دی کس نے\n\nہر ادا سے تری پیدا ہے محبّت کیسی\nنیلی آنکھوں سے ٹپکتی ہے ذکاوت کیسی\n\nدیکھتی ہے کبھی ان کو، کبھی شرماتی ہے\nکبھی اُٹھتی ہے، کبھی لیٹ کے سو جاتی ہے\n\nآنکھ تیری صفَتِ آئنہ حیران ہے کیا\nنُورِ آگاہی سے روشن تری پہچان ہے کیا\n\nمارتی ہے انھیں پونہچوں سے، عجب ناز ہے یہ\nچھیڑ ہے، غُصّہ ہے یا پیار کا انداز ہے یہ؟\n\nشوخ تُو ہوگی تو گودی سے اُتاریں گے تجھے\nگِر گیا پھُول جو سینے کا تو ماریں گے تجھے\n\nکیا تجسّس ہے تجھے، کس کی تمنّائی ہے\nآہ! کیا تُو بھی اسی چیز کی سودائی ہے\n\nخاص انسان سے کچھ حُسن کا احساس نہیں\nصُورتِ دل ہے یہ ہر چیز کے باطن میں مکیں\n\nشیشۂ دہر میں مانندِ مئے ناب ہے عشق\nرُوح خورشید ہے، خونِ رگِ مہتاب ہے عشق\n\nدلِ ہر ذرّہ میں پوشیدہ کسک ہے اس کی\nنور یہ وہ ہے کہ ہر شے میں جھلک ہے اس کی\n\nکہیں سامانِ مسرّت، کہیں سازِ غم ہے\nکہیں گوہر ہے، کہیں اشک، کہیں شبنم ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D9%88%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%90%D9%84%D9%91%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کیا آ کے جہاں میں کر گئے ہم", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا آ کے جہاں میں کر گئے ہم\nاک داغ جگر پہ دھر گئے ہم\n\nمہمان جہاں تھے ایک شب کے\nشام آئے تھے اور سحر گئے ہم\n\nجوں شمع تمام عمر روئے\nہر بزم سے چشم تر گئے ہم\n\nاپنی ہی نظر نہیں وگرنہ\nتو ہی تھا ادھر جدھر گئے ہم\n\nنالے میں اثر تو کیوں نہ ہوتا\nپر تیرا لحاظ کر گئے ہم\n\nہم جانتے ہیں کہ تو ہے ہم میں\nگو ڈھونڈنے در بہ در گئے ہم\n\nجھگڑا تھا جو دل پہ اس کو چھوڑا\nکچھ سوچ کے صلح کر گئے ہم\n\nاس دشت کے خار و خس سے بچ کر\nجوں باد سبک گزر گئے ہم\n\nتھیں لطف سے دل میں جرأتیں کچھ\nپر تیرے غضب سے ڈر گئے ہم\n\nحسرت ہی سے ہم بنے تھے گویا\nآنکھ اٹھتے ہی اٹھتے مر گئے ہم\n\nدیرینہ رفیق تھا قلقؔ ہائے\nوہ کیا ہی موا کہ مر گئے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "کیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعد", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعد\nسینے میں ہوگی سانس اڑی دو گھڑی کے بعد\n\nکیا روکا اپنے گریے کو ہم نے کہ لگ گئی\nپھر وہ ہی آنسوؤں کی جھڑی دو گھڑی کے بعد\n\nکوئی گھڑی اگر وہ ملایم ہوئے تو کیا\nکہہ بیٹھیں گے پھر ایک کڑی دو گھڑی کے بعد\n\nاس لعل لب کے ہم نے لیے بوسے اس قدر\nسب اڑ گئی مسی کی دھڑی دو گھڑی کے بعد\n\nاللہ رے ضعف سینہ سے ہر آہ بے اثر\nلب تک جو پہنچی بھی تو چڑھی دو گھڑی کے بعد\n\nکل اس سے ہم نے ترک ملاقات کی تو کیا\nپھر اس بغیر کل نہ پڑی دو گھڑی کے بعد\n\nتھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بگھارتے\nساری وہ شیخی ان کی جھڑی دو گھڑی کے بعد\n\nکہتا رہا کچھ اس سے عدو دو گھڑی تلک\nغماز نے پھر اور جڑی دو گھڑی کے بعد\n\nپروانہ گرد شمع کے شب دو گھڑی رہا\nپھر دیکھی اس کی خاک پڑی دو گھڑی کے بعد\n\nتو دو گھڑی کا وعدہ نہ کر دیکھ جلد آ\nآنے میں ہوگی دیر بڑی دو گھڑی کے بعد\n\nگو دو گھڑی تک اس نے نہ دیکھا ادھر تو کیا\nآخر ہمیں سے آنکھ لڑی دو گھڑی کے بعد\n\nکیا جانے دو گھڑی وہ رہے ذوقؔ کس طرح\nپھر تو نہ ٹھہرے پاؤں گھڑی دو گھڑی کے بعد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%85_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%D8%AF%D9%88_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "کیا ادا کیا ناز ہے کیا آن ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ادا کیا ناز ہے کیا آن ہے\nیاں پری کا حسن بھی حیران ہے\n\nحور بھی دیکھے تو ہو جاوے فدا\nآج اس عالم کا وہ انسان ہے\n\nاس کے رنگ سبز کی ہے چیں میں دھوم\nکیوں نہ ہو آخر کو ہندوستان ہے\n\nجان و دل ہم نذر کو لائے ہیں آج\nلیجئے یہ دل ہے اور یہ جان ہے\n\nدل بھی ہے دل سے تصدق آپ پر\nجان بھی جی جان سے قربان ہے\n\nدل کہاں پہلو میں جو ہم دیں تمہیں\nیہ تو گھر اک عمر سے ویران ہے\n\nعقل و ہوش و صبر سب جاتے رہے\nہاں مگر اک آدھ موئی سی جان ہے\n\nوہ بھی گر لینی ہوں تو لے جائیے\nخیر یہ بھی آپ کا احسان ہے\n\nآن کر مل تو نظیرؔ اپنے سے جان\nاب وہ کوئی آن کا مہمان ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا اس کی صفت میں گفتگو ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا اس کی صفت میں گفتگو ہے\nجیسا تھا وہی ہے جو تھا سو ہے\n\nآنکھیں ہیں تو دیکھ لے کہوں کیا\nحاضر ناظر ہے روبرو ہے\n\nیک بین کی نظر میں ایک ہے گا\nاحوال کی نگہ میں گو کہ دو ہے\n\nتو سیر کرے ہے جس چمن کی\nہر گل میں صبا اسی کی بو ہے\n\nوہ تجھ میں ہے تو ہے اسی میں ہر دم\nکیا اس کا سراغ و جستجو ہے\n\nاے شیخ تو اس کی کچھ حقیقت\nمت پوچھ یہ سر گو مگو ہے\n\nاپنی اپنی سی سب کہیں ہیں\nکب عقدہ یہ حل کسو سے ہو ہے\n\nیہ مسئلہ لا جواب ہے گا\nچپ رہنا یہاں ہماری خو ہے\n\nچالیس برس ہوئے کہ حاتمؔ\nمشاق قدیم و کہنہ گو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%81%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا ان کو دل کا حال سنانے سے فائدہ", "poet_page": "مصنف:حاجی لق لق", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "کیا ان کو دل کا حال سنانے سے فائدہ\nہوگا تو ہوگا نوٹ دکھانے سے فائدہ\n\nنوک مژہ جو دل میں چبھی دل پھڑک اٹھا\nکچھ تو ہوا ہے ٹیکہ کرانے سے فائدہ\n\nدل گم ہے اپنا چور کا لیکن پتہ نہیں\nعاشق کو کیا پولیس کے تھانے سے فائدہ\n\nمعلوم ہے دکھاتے ہیں وہ ہم کو سبز باغ\nلارنس باغ شام کو جانے سے فائدہ\n\nاب بھی وہ کہہ رہے ہیں کہ میرے بزرگ ہو\nکچھ بھی ہوا نہ شیو کرانے سے فائدہ\n\nجو نیچے جیب کے ہے مری جاں اسے چرا\nعاشق کا فاؤنٹین چرانے سے فائدہ\n\nلق لقؔ زمانہ ہم سے اٹھاتا ہے فائدے\nہم نے بھی کچھ اٹھایا زمانے سے فائدہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D8%A7%D8%A6%D8%AF%DB%81"} {"title": "کیا اٹھ گیا ہے دیدۂ اغیار سے حجاب", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا اٹھ گیا ہے دیدۂ اغیار سے حجاب\nٹپکا پڑے ہے کیوں نگہ یار سے حجاب\n\nلا و نَعَم نہیں جو تمنائے وصل پر\nانکار سے حجاب ہے، اقرار سے حجاب\n\nتقلیدِ شکل چاہئے سیرت میں بھی تجھے\nکب تک رہے مجھے ترے اطوار سے حجاب\n\nدشنام دیں جو بوسے میں ابرام ہم کریں\nطبعِ غیور کو ہے پر اصرار سے حجاب\n\nرندی میں بھی گئی نہ یہ مستوری و صلاح\nآتا ہے مجھ کو محرمِ اسرار سے حجاب\n\nوہ طعنہ زن ہے زندگیِ ہجر پر عبث\nآتا ہے مجھ کو حسرتِ دیدار سے حجاب\n\nجوشِ نگاہِ دیدۂ حیراں کو کیا کہوں\nظاہر ہے روئے آئینہ رخسار سے حجاب\n\nروز و شبِ وصال مبارک ہو شیفتہ\nجورِ فلک کو ہے ستمِ یار سے حجاب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8"} {"title": "کیا بات ہے کارساز تیری میں کون", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا بات ہے کارساز تیری میں کون\nکیا شان ہے بے نیاز تیری میں کون\nرکھوں کیا حوصلہ پڑھوں کیا مقدور\nروزہ تیرا نماز تیری میں کون", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%B2_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D9%86"} {"title": "کیا بتاؤں بے ترے کیسا رہا", "poet_page": "مصنف:رفیع احمد عالی", "kind": "poetry", "section": "غزل > یادگار عالی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "کیا بتاؤں بے ترے کیسا رہا\nیہ سمجھ مر مر کے میں جیتا رہا\n\nچودھویں کی رات میں نکلا جو چاند\nمجھ کو پہروں آپ کا دھوکا رہا\n\nبھول کر بھی تم کو کچھ آیا نہ دھیان\nمرنے والا مر گیا جیتا رہا\n\nکس لئے اوروں سے ہو تم پوچھتے\nدیکھ لو اب آ کے مجھ میں کیا رہا\n\nجی گیا تو میں یہ سمجھا جی گیا\nجیتے جی کا روگ تھا جاتا رہا\n\nکیا لگایا ہاتھ دھڑ سے آپ نے\nپاؤں پر سر کٹ کے دھڑ سے آ رہا\n\nرکھ گئے دو پھول میرے ڈھیر پر\nمر گئے پر بوجھ یہ ان کا رہا\n\nمیں ہی اک کانٹا تھا سو میں بھی نہیں\nسچ ہے اب کس کا انہیں کھٹکا رہا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "کیا بتاؤں دل کہاں ہے اور کس جا درد ہے", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا بتاؤں دل کہاں ہے اور کس جا درد ہے\nمیں سراپا دل ہوں دل میرا سراپا درد ہے\n\nیہ سمجھ لیں پہلے آپ اے حضرت عیسیٰ ذرا\nکس کے دل میں درد ہے یہ اور کس کا درد ہے\n\nجو چلا دنیا سے وہ رکھے ہوئے سینے پہ ہاتھ\nمیں سمجھتا ہوں کہ سب کے دل میں تیرا درد ہے\n\nمیرے چپ رہنے سے تو غافل ہے او ظاہر پرست\nظرف بھی اتنا ہی میں رکھتا ہوں جتنا درد ہے\n\nہر تڑپ پر قالب مردہ میں آ جاتی ہے روح\nمجھ مریض ناتواں کی جان گویا درد ہے\n\nبچ گئے تو انتہائے عشق میں لطف آئے گا\nاور ابھی تو ابتدا میں انتہا کا درد ہے\n\nاپنا اپنا حال کہہ لینے دو ناطقؔ سب کو تم\nجانتا ہے وہ کہ کس کے دل میں کتنا درد ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B3_%D8%AC%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا بتائیں تمہیں کہاں دل ہے", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "کیا بتائیں تمہیں کہاں دل ہے\nرونگٹا رونگٹا یہاں دل ہے\n\nلے چکے دل تو ہنس کے فرمایا\nکہئے اب آج کل کہاں دل ہے\n\nایک غنچہ ہے دیکھنے میں مگر\nغور کیجئے تو گلستاں دل ہے\n\nہے وہ ناوک فگن شرف جس کے\nناوک آہ کی کماں دل ہے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا بدگمانیاں ہیں مری جان لیجئے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا بدگمانیاں ہیں مری جان لیجئے\nیہ دل تو ہے وہی اسے پہچان لیجئے\n\nہم سے تو یہ کبھی نہیں ہونے کا ناصحو\nسنئے تمہاری بات کو اور مان لیجئے\n\nنے عیش کی طلب ہے نہ عشرت کی آرزو\nاے چرخ کس لیے ترا احسان لیجئے\n\nگر حکم ہو تو کاٹ کے سر آگے لا رکھوں\nلینے کا اس کے رکھئے نہ ارمان لیجئے\n\nآیا ہوں تنگ شہر میں وحشت کے ہاتھ سے\nجی چاہتا ہے راہ بیابان لیجئے\n\nگر امتحان عشق ہو منظور تو ابھی\nکرتا ہوں میں نیاز دل و جان لیجئے\n\nمنہ دیکھ نو خطوں کا یہی آئے ہے خیال\nدے کر کے نقد جان یہ قرآن لیجئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%AF%DA%AF%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%84%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہے\nدل ادھر ہوتا ہے ظالم نہ ادھر ہوتا ہے\n\nہم نے کیا کچھ نہ کیا دیدۂ دل کی خاطر\nلوگ کہتے ہیں دعاؤں میں اثر ہوتا ہے\n\nدل تو یوں دل سے ملایا کہ نہ رکھا میرا\nاب نظر کے لیے کیا حکم نظر ہوتا ہے\n\nمیں گنہ گار جنوں میں نے یہ مانا لیکن\nکچھ ادھر سے بھی تقاضائے نظر ہوتا ہے\n\nکون دیکھے اسے بیتاب محبت اے دل\nتو وہ نالے ہی نہ کر جن میں اثر ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہے\nکہ مرے دل میں آ کھٹکتی ہے\n\nزلف کی شان مکھ اوپر دیکھو\nکہ گویا عرش میں لٹکتی ہے\n\nاب تلک گرچہ مر گیا فرہاد\nروح پتھر سیں سر لٹکتی ہے\n\nدل کبابوں میں کون کچا ہے\nعشق کی آگ کیوں چٹکتی ہے\n\nآبروؔ جا پہنچ کہ پیاسی زلف\nناگنی کی طرح بھٹکتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%A8%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%D9%B9%DA%A9%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا بلا سحر ہیں سجن کے نین", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا بلا سحر ہیں سجن کے نین\nہے خجل جس انگے ہرن کے نین\n\nمجھ پہ کرتے ہیں یار کا جادو\nاس ستم گار سحر فن کے نین\n\nگردش مے سوں آج فارغ ہے\nجن نے دیکھے ہیں خوش نین کے نین\n\nآرزو میں تری اے نور نظر\nمنتظر ہوں کھلے ہیں من کے نین\n\nشور ڈالے ہیں سارے عالم میں\nدلبر شکریں سخن کے نین\n\nگل نرگس اگر نہیں دیکھا\nدیکھ یکبار گل بدن کے نین\n\nکیوں نہ ہوئے ہجر بے خبر سوں سراجؔ\nہوش کھوتے ہیں من ہرن کے نین", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%AC%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%8C%D9%86"} {"title": "کیا بلا کا ہے نشہ عشق کے پیمانے میں", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا بلا کا ہے نشہ عشق کے پیمانے میں\nکوئی ہوشیار نہیں عقل کے کاشانے میں\n\nڈوب جاتا ہے مرا جی جو کہوں قصۂ درد\nنیند آتی ہے مجھی کوں مرے افسانے میں\n\nدل مرا زلف کی زنجیر سیں ہے بازی میں\nاپنے اس کام کا کیا ہوش ہے دیوانے میں\n\nکیا مزے کا ہے ترے سیب زنخداں کا خال\nلذت میوۂ فردوس ہے اس دانے میں\n\nاس ادب گاہ کوں توں مسجد جامع مت بوجھ\nشیخ بے باک نہ جا گوشۂ مئے خانے میں\n\nآنکھ اٹھاتے ہی مرے ہاتھ سیں مجھ کوں لے گئے\nخوب استاد ہو تم جان کے لے جانے میں\n\nخوش ہوں میں صحبت مجنوں سیں نہ لیو عقل کا نام\nآشنائی کی کہاں باس ہے بیگانے میں\n\nشعلہ ہے آب حیات دل مشتاق سراجؔ\nاس سمندر سیں بڑا فرق ہے پروانے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%B4%DB%81_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا بلبل اسیر ہے بے بال و پر کہ ہم", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا بلبل اسیر ہے بے بال و پر کہ ہم\nگل کب رکھے ہے ٹکڑے جگر اس قدر کہ ہم\n\nخورشید صبح نکلے ہے اس نور سے کہ تو\nشبنم گرہ میں رکھتی ہے یہ چشم تر کہ ہم\n\nجیتے ہیں تو دکھا دیں گے دعواے عندلیب\nگل بن خزاں میں اب کے وہ رہتی ہے مر کہ ہم\n\nیہ تیغ ہے یہ طشت ہے یہ ہم ہیں کشتنی\nکھیلے ہے کون ایسی طرح جان پر کہ ہم\n\nتلواریں تم لگاتے ہو ہم ہیں گے دم بخود\nدنیا میں یہ کرے ہے کوئی درگزر کہ ہم\n\nاس جستجو میں اور خرابی تو کیا کہیں\nاتنی نہیں ہوئی ہے صبا در بہ در کہ ہم\n\nجب جا پھنسا کہیں تو ہمیں یاں ہوئی خبر\nرکھتا ہے کون دل تری اتنی خبر کہ ہم\n\nجیتے ہیں اور روتے ہیں لخت جگر ہے میرؔ\nکرتے سنا ہے یوں کوئی قیمہ جگر کہ ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%84_%D9%88_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%85"} {"title": "کیا بنائے صانع قدرت نے پیارے ہاتھ پاؤں", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا بنائے صانع قدرت نے پیارے ہاتھ پاؤں\nنور کے سانچے میں ڈھالے ہیں تمہارے ہاتھ پاؤں\n\nضعف پیری چھا گیا زور جوانی چل بسا\nاب چلیں بتلائیے کس کے سہارے ہاتھ پاؤں\n\nمچھلیاں بازو پہ ابھریں ساق پا شمعیں بنیں\nخوب صاحب نے نکالے اب تو بارے ہاتھ پاؤں\n\nفوق ہیرے سے نہیں ہے میری جاں یاقوت کو\nکیوں رنگے ہیں آپ نے مہندی سے سارے ہاتھ پاؤں\n\nمانی و بہزاد نے ملک عدم کی راہ لی\nوہ کمر مطلق نہ پائی لاکھ مارے ہاتھ پاؤں\n\nہم نہ کہتے تھے کہ ہر دم شوخیاں اچھی نہیں\nآخرش مہندی نے باندھے لو تمہارے ہاتھ پاؤں\n\nہاتھا پائی میں بھی ہم چوکے نہ اپنے کام سے\nوصل کی شب یار نے کیا کیا نہ مارے ہاتھ پاؤں\n\nہے ضعیفی میں بھی ہم کو نوجوانی کا خیال\nدل نہیں ہارا ہے اب تک گو کہ ہارے ہاتھ پاؤں\n\nغیر کی دھمکی سے ہم ڈر جائیں یہ ممکن نہیں\nایسے بودے بھی نہیں ہیں کچھ ہمارے ہاتھ پاؤں\n\nمعدن یاقوت کو دریا بنایا آپ نے\nمہندی مل کر دھوئے جب دریا کنارے ہاتھ پاؤں\n\nاس بڑھاپے میں بھی آغاؔ سو جواں میں ایک ہے\nگو ضعیفی آ گئی پر ہیں کرارے ہاتھ پاؤں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B5%D8%A7%D9%86%D8%B9_%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AA_%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA"} {"title": "کیا بچے دل جان لیوا اس کا ہر انداز ہے", "poet_page": "مصنف:نشتر چھپروی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نشتر (1930)", "year": "1930", "text_ur": "کیا بچے دل جان لیوا اس کا ہر انداز ہے\nغمزہ ہے عشوہ ہے شوخی ہے ادا ہے ناز ہے\n\nمحفل عشرت میں میرا دل نوا پرداز ہے\nنالۂ حسرت مرا گویا صدائے ساز ہے\n\nتوبہ بھی کر لیں گے ہم جب وقت اس کا آئے گا\nحضرت واعظ در توبہ ابھی تو باز ہے\n\nہوگی پھر بے اعتنائی ہے ابھی تو التفات\nپھر وہی انجام ہوگا پھر وہی آغاز ہے\n\nدیکھ تو اس بت کو زاہد اور کہہ ایمان سے\nتیری حوروں میں یہ رعنائی ہے یہ انداز ہے\n\nدل جگر چھد جاتے ہیں اور کچھ خبر ہوتی نہیں\nوہ نگاہ ناز گویا تیر بے آواز ہے\n\nمیری ہستی اک معمہ ہے جسے سمجھا نہ میں\nیا خدا یہ بھی تری قدرت کا کوئی راز ہے\n\nدر قفس کا کھول دے صیاد اطمینان سے\nتیرے صید شوق کو کب خواہش پرواز ہے\n\nسن کے میرا قصۂ غم ان کا کہنا ناز سے\nواہ کیا طرز بیاں ہے واہ کیا انداز ہے\n\nدل لگاتے ہی مجھے لالے پڑے ہیں جان کے\nاس کا کیا انجام ہوگا جس کا یہ آغاز ہے\n\nہائے نشترؔ وہ مرا ہمدرد دل غم خوار دل\nاب کہاں ہے ہم نشیں کوئی کہاں ہم راز ہے", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DA%86%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%84%DB%8C%D9%88%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا بھلا شیخ جی تھے دیر میں تھوڑے پتھر", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "کیا بھلا شیخ جی تھے دیر میں تھوڑے پتھر\nکہ چلے کعبہ کے تم دیکھنے روڑے پتھر\n\nاے بسا کہنہ عمارات مقابر جن کے\nلوگوں نے چوب و چگل کے لیے توڑے پتھر\n\nجاؤ اے شیخ و برہمن حرم و دیر کو تم\nبھائی بیزار ہیں ہم ہم نے یہ چھوڑے پتھر\n\nکبھی دل ہائے بتاں تجھ سے پسیجیں اے اشک\nتو یہ ہم جانیں کہ بس تو نے نچوڑے پتھر\n\nنہ چرے نوک سے نشتر کے عیاذاً باللہ\nکوئی عشاق کے تھے چھاتی کے پھوڑے پتھر\n\nکوس بیٹھیں فقرا اہل دول کو تو ابھی\nان کے ہاتھی ہوں پہاڑ اور یہ گھوڑے پتھر\n\nگر سگ گرسنہ لے شوم کے مطبخ کی باس\nتو بھلا ہڈی کی جا کیا وہ بھنبوڑے پتھر\n\nنہ ہنسا میں جو ہنسانے سے شب ان کی تو کہا\nتجھے قربان کروں ہائے نگوڑے پتھر\n\nایک غزل اور سنا دے ہمیں انشاؔ ہر چند\nتو نے اس میں بھی کسی ڈھب کے نہ چھوڑے پتھر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%AC%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%92_%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1"} {"title": "کیا ترے دل میں اے بت ہوں دل و جاں محفوظ", "poet_page": "مصنف:راجہ نوشاد علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ترے دل میں اے بت ہوں دل و جاں محفوظ\nنہ کوئی دین ہے محفوظ نہ ایماں محفوظ\n\nبند دروازے بھی اس کے لئے کھل جاتے ہیں\nموت کے واسطے ہے کاخ نہ ایواں محفوظ\n\nچشم کافر نے تری کھو دئے سب کے ایمان\nکیا زمانے میں رہے کوئی مسلماں محفوظ\n\nموسم گل میں قسم ہے تجھے اے دست جنوں\nرہنے پائے نہ کوئی جیب و گریباں محفوظ\n\nاشک کیوں محفل اغیار میں برباد کئے\nتیرے موتی نہ رہے دیدۂ گریاں محفوظ\n\nموسم گل میں ہم اے باد خزاں سمجھے تھے\nتیرے جھونکوں سے رہے گا نہ گلستاں محفوظ\n\nان کے دیوانوں کی وحشت کا جو عالم ہے یہی\nرہنے پائے گا نہ دامان بیاباں محفوظ\n\nدے گئی باد صبا ہم سے پریشانوں کو\nتیری نگہت نہ رہی گیسوئے جاناں محفوظ\n\nہم سے دیوانے بھی آئے ہیں خدا خیر کرے\nاے قیامت نہ رہے گا ترا داماں محفوظ\n\nاے خدا تیری خدائی میں یہ کیا کیا کرتا\nموت کے خوف سے ہوتا اگر انساں محفوظ\n\nنام رہ جائے گا نوشادؔ جہاں میں کچھ دن\nبعد میرے جو رہے گا مرا دیواں محفوظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%88%D8%B8"} {"title": "کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے\nپہلے کوئی مرے نغموں کی زباں تک پہنچے\n\nجب ہر اک شورش غم ضبط فغاں تک پہنچے\nپھر خدا جانے یہ ہنگامہ کہاں تک پہنچے\n\nآنکھ تک دل سے نہ آئے نہ زباں تک پہنچے\nبات جس کی ہے اسی آفت جاں تک پہنچے\n\nتو جہاں پر تھا بہت پہلے وہیں آج بھی ہے\nدیکھ رندان خوش انفاس کہاں تک پہنچے\n\nجو زمانے کو برا کہتے ہیں خود ہیں وہ برے\nکاش یہ بات ترے گوش گراں تک پہنچے\n\nبڑھ کے رندوں نے قدم حضرت واعظ کے لیے\nگرتے پڑتے جو در پیر مغاں تک پہنچے\n\nتو مرے حال پریشاں پہ بہت طنز نہ کر\nاپنے گیسو بھی ذرا دیکھ کہاں تک پہنچے\n\nان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں\nمیرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے\n\nعشق کی چوٹ دکھانے میں کہیں آتی ہے\nکچھ اشارے تھے کہ جو لفظ و بیاں تک پہنچے\n\nجلوے بیتاب تھے جو پردۂ فطرت میں جگرؔ\nخود تڑپ کر مری چشم نگراں تک پہنچے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%AD_%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%92"} {"title": "کیا تم سے کہوں میرؔ کہاں تک روؤں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا تم سے کہوں میرؔ کہاں تک روؤں\nروؤں تو زمیں سے آسماں تک روؤں\nجوں ابر جہاں جہاں بھرا ہوں غم سے\nشائستہ ہوں رونے کا جہاں تک روؤں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D8%B1%D9%88%D8%A4%DA%BA"} {"title": "کیا تم سے کہیں جہاں کو کیسا پایا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا تم سے کہیں جہاں کو کیسا پایا\nغفلت ہی میں آدمی کو ڈوبا پایا\nآنکھیں تو بے شمار دیکھیں لیکن\nکم تھیں بخدا کہ جن کو بینا پایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتا\nآتا ہے پر اس طرح کہ گویا نہیں آتا\n\nہو جاتی تھی تسکین سو اب فرط الم سے\nاس بات کو روتے ہیں کہ رونا نہیں آتا\n\nتم ہو کہ تمہیں وعدہ وفائی کی نہیں خو\nمیں ہوں کہ مجھے تم سے تقاضا نہیں آتا\n\nہے پاس یہ کس کی نگہ محو حیا کا\nلب تک جو مرے حرف تمنا نہیں آتا\n\nان کی نگہ مست کے جلوے ہیں نظر میں\nبھولے سے بھی ذکر مے و مینا نہیں آتا\n\nشوخی سے وہ معنائے ستم پوچھ رہے ہیں\nاب لفظ جفا بھی انہیں گویا نہیں آتا\n\nمیں درد کی لذت سے رضامند ہوں حسرتؔ\nمجھ کو ستم یار کا شکوا نہیں آتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے\nجس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے\n\nہے کائنات کو حَرَکت تیرے ذوق سے\nپرتو سے آفتاب کے ذرّے میں جان ہے\n\nحالانکہ ہے یہ سیلیِ خارا سے لالہ رنگ\nغافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے\n\nکی اس نے گرم سینۂ اہلِ ہوس میں جا\nآوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے\n\nکیا خوب! تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا\nبس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے\n\nبیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوارِ یار میں\nفرماں روائے کشورِ ہندوستان ہے\n\nہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیا\nکس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے\n\nہے بارے اعتمادِ وفاداری اس قدر\nغالبؔ ہم اس میں خوش ہیں کہ نا مہربان ہے\n\nدلّی کے رہنے والو اسدؔ کو ستاؤ مت\nبے چارہ چند روز کا یاں میہمان ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%DB%81%D9%85_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%B2%D8%AF%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا تھا نور جب اللہ نے پیدا محمد کا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "کیا تھا نور جب اللہ نے پیدا محمد کا\nاسی دن سے ہوا ہے عاشق شیدا محمد کا\n\nنہ ہو ذکر مبارک آپ کا درد زباں کیونکر\nمیں ہوں روز اول سے عاشق محمد کا\n\nفرشتے قبر میں پوچھیں گے گر مجھ سے تو کہہ دوں گا\nکہ ہوں بندہ خدا کا اور ہوں شیدا محمد کا\n\nخدایا جب مری اس قالب خاکی سے جاں نکلے\nزباں پر اس گھڑی جاری رہے کلمہ محمد کا\n\nخیال مہرومہ دل سے تو فورا بھول جائے گا\nنظر آجائے گا جس دم تجھے روضہ محمد کا\n\nبشر کی تاب و طاقت کیا جو لکھے نعت احمد کی\nخدا ہی جانتا ہے خوب بس رتبہ محمد کا\n\nخدا نے ذات احمد کو وہ اعلی مرتبہ بخشا\nکہ دم بھرتے ہیں ہر دم حضرت عیسٰی محمد کا\n\nملائک نے کیا تھا اس سبب سے سجدہ آدم کو\nکہ پیشانی سے ان کی نور تھا پیدا محمد کا\n\nخدا بھی حشر میں پوچھے گا گر عاشق تو کس کا ہے\nتو کہہ دوں گا محمد کا محمد کا محمد کا\n\nتمنا ہے کہ فورا جاں بحق تسلیم ہو جاوں\nنظر آئے جو مجھ کو شیفتہ محمد کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کیا جانو جو اثر ہے دم شعلہ تاب میں", "poet_page": "مصنف:مفتی صدر الدین خان آزردہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا جانو جو اثر ہے دم شعلہ تاب میں\nیہ وہ ہے برق آگ لگا دے نقاب میں\n\nحال اس نگہ کا اس کے سراپے میں کیا کہوں\nمور ضعیف پھنس گئی جا شہد ناب میں\n\nذکر وفا وہ سنتے ہی مجلس سے اٹھ گئے\nکچھ گفتگو ہی ٹھیک نہ تھی ایسے باب میں\n\nکیا پوچھتے ہو چارۂ ہو از خویش رفتگاں\nسو جا سے چاک جامہ ہے سوزن خلاب میں\n\nآواز صور تیرے شہیدوں کو روز حشر\nلگتی تھی اک بھنک سی تو کانوں کو خواب میں\n\nجو دیکھتے ہی اس سے یہ گزرا کبھو نہیں\nیعقوب کے خیال و زلیخا کے خواب میں\n\nہر ہر روئیں سے خرقہ کے میرے ہے خونچکاں\nغوطے تو سو دیے اسے زمزم کے آب میں\n\nاس چشم اشکبار کے کیونکر ہو سامنے\nرونے کا مادہ ہی نہیں ہے سحاب میں\n\nقسمت تو دیکھ کھولی گرہ کچھ تو رہ گئے\nناخن ہمارے ٹوٹ کے بند نقاب میں\n\nہر وقت آرزوئے عذاب جحیم ہے\nہاتھوں سے ہجر کے ہوں میں کیا کیا عذاب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%85_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا جانیے الفت کا ہے کس سے آغاز", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا جانیے الفت کا ہے کس سے آغاز\nجاں پر نہیں ہوتا کوئی اس کا جاں باز\nحاصل نہیں کچھ دوست کی کوشش سے قلقؔ\nدشمن کے سوا کوئی نہیں محرم راز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2"} {"title": "کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک\nسمجھے نہ کہ سیدھی ہے مری راہ کہاں تک\n\nمنطق بھی تو اک چیز ہے اے قبلہ و کعبہ\nدے سکتی ہے کام آپ کی واللہ کہاں تک\n\nافلاک تو اس عہد میں ثابت ہوئے معدوم\nاب کیا کہوں جاتی ہے مری آہ کہاں تک\n\nکچھ صنعت و حرفت پہ بھی لازم ہے توجہ\nآخر یہ گورنمنٹ سے تنخواہ کہاں تک\n\nمرنا بھی ضروری ہے خدا بھی ہے کوئی چیز\nاے حرص کے بندو ہوس جاہ کہاں تک\n\nتحسین کے لائق ترا ہر شعر ہے اکبرؔ\nاحباب کریں بزم میں اب واہ کہاں تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%92_%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%AD%D9%82_%D8%A2%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "کیا جانیے منزل ہے کہاں جاتے ہیں کس سمت", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا جانیے منزل ہے کہاں جاتے ہیں کس سمت\nبھٹکی ہوئی اس بھیڑ میں سب سوچ رہے ہیں\n\nبھیگی ہوئی اک شام کی دہلیز پہ بیٹھے\nہم دل کے سلگنے کا سبب سوچ رہے ہیں\n\nٹوٹے ہوئے پتوں سے درختوں کا تعلق\nہم دور کھڑے کنج طرب سوچ رہے ہیں\n\nبجھتی ہوئی شمعوں کا دھواں ہے سر محفل\nکیا رنگ جمے آخر شب سوچ رہے ہیں\n\nاس لہر کے پیچھے بھی رواں ہیں نئی لہریں\nپہلے نہیں سوچا تھا جو اب سوچ رہے ہیں\n\nہم ابھرے بھی ڈوبے بھی سیاہی کے بھنور میں\nہم سوئے نہیں شب ہمہ شب سوچ رہے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%92_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%D9%85%D8%AA"} {"title": "کیا جب صبر فرقت میں تو پھر ذکر بتاں کیسا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا جب صبر فرقت میں تو پھر ذکر بتاں کیسا\nبہ آہ و زاریاں کیسی ہیں یہ شور فغاں کیسا\n\nبگولے کی طرح سے خاک اڑانا ہے مقدر میں\nوطن کیا خانماں برباد کا تیرے مکاں کیسا\n\nہوا فکر و تصور سے وہ تصویر صنم جب تو\nبگڑ جانا ہے اب مجھ سے دل نا مہرباں کیسا\n\nقفس میں بند ہوں میں گو قفس ہو شاخ توبہ پر\nیہ میرے واسطے قید محن ہے بوستاں کیسا\n\nیہ ثابت ہو چکا تم پر نہیں ڈرتے یہ مرنے سے\nلیا کرتے ہو جاں بازوں کا پھر تم امتحاں کیسا\n\nلحد میں چین ملتا ہے کہاں زحمت نصیبوں کو\nجھپکتی ہی نہیں آنکھیں مری خواب گراں کیسا\n\nقدم رکھنا زمیں پر ضعف سے مجھ کو ہوا مشکل\nکیا درد جگر نے آہ مجھ کو ناتواں کیسا\n\nاندھیرے ہو گئے ہیں دونوں عالم میری نظروں میں\nزمیں کیسی ہے میرے واسطے اور آسماں کیسا\n\nجمیلہؔ عالموں سے صاف کہہ دے تجھ کو ڈر کس کا\nمکان دل مقام کبریا ہے لا مکاں کیسا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7"} {"title": "کیا جلد دن بہار کے یارب گزر گئے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا جلد دن بہار کے یارب گزر گئے\nبجلی ہوا سے پوچھ رہی ہے کدھر گئے\n\nشاید اسی غرض سے چڑھے تھے نگاہ پر\nوہ راہ پا کے آنکھ سے دل میں اتر گئے\n\nوعدے کا نام لب پہ نہ آئے پیام بر\nکہنا فقط یہی کہ بہت دن گزر گئے\n\nاچھوں کا ہے بگاڑ بھی بہتر بناؤ سے\nبکھرے تو اور بھی ترے گیسو سنور گئے\n\nاک جلوہ گاہ حسن تھی محشر نہ تھا جلیلؔ\nکیا کیا حسیں ہماری نظر سے گزر گئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D8%AF_%D8%AF%D9%86_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "کیا حال اب اس سے اپنے دل کا کہئے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا حال اب اس سے اپنے دل کا کہئے\nمنظور نہیں یہ بھی کہ بے جا کہئے\nمشکل ہے مہینوں میں نہ جاوے جو کہا\nپھر ملیے جو ایک دم تو کیا کیا کہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "کیا حسن ہے یوسف بھی خریدار ہے تیرا", "poet_page": "مصنف:چندر بھان کیفی دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا حسن ہے یوسف بھی خریدار ہے تیرا\nکہتے ہیں جسے مصر وہ بازار ہے تیرا\n\nتقدیر اسی کی ہے نصیبہ ہے اسی کا\nجس آنکھ سے کچھ وعدۂ دیدار ہے تیرا\n\nتا زیست نہ ٹوٹے وہ مرا عہد وفا ہے\nتا حشر نہ پورا ہو وہ اقرار ہے تیرا\n\nبرچھی کی طرح دل میں کھٹکتی ہیں ادائیں\nانداز جو قاتل دم رفتار ہے تیرا\n\nکیا تو نے کھلائے چمن بزم میں کیفیؔ\nکیا رنگ گل افشائی گفتار ہے تیرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D9%88%D8%B3%D9%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشق", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشق\nحق شناسوں کے ہاں خدا ہے عشق\n\nدل لگا ہو تو جی جہاں سے اٹھا\nموت کا نام پیار کا ہے عشق\n\nاور تدبیر کو نہیں کچھ دخل\nعشق کے درد کی دوا ہے عشق\n\nکیا ڈبایا محیط میں غم کے\nہم نے جانا تھا آشنا ہے عشق\n\nعشق سے جا نہیں کوئی خالی\nدل سے لے عرش تک بھرا ہے عشق\n\nکوہ کن کیا پہاڑ کاٹے گا\nپردے میں زور آزما ہے عشق\n\nعشق ہے عشق کرنے والوں کو\nکیسا کیسا بہم کیا ہے عشق\n\nکون مقصد کو عشق بن پہنچا\nآرزو عشق مدعا ہے عشق\n\nمیرؔ مرنا پڑے ہے خوباں پر\nعشق مت کر کہ بد بلا ہے عشق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "کیا حنا خوں ریز نکلی ہائے پس جانے کے بعد", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا حنا خوں ریز نکلی ہائے پس جانے کے بعد\nبن گئی تلوار ان کے ہاتھ میں آنے کے بعد\n\nجام جم کی دھوم ہے سارے جہاں میں ساقیا\nمانتا ہوں میں بھی لیکن تیرے پیمانے کے بعد\n\nشکریہ واعظ جو مجھ کو ترک مے کی دی صلاح\nغور میں اس پر کروں گا ہوش میں آنے کے بعد\n\nشمع معشوقوں کو سکھلاتی ہے طرز عاشقی\nجل کے پروانے سے پہلے بجھ کے پروانے کے بعد\n\nآشنا ہو کر بتوں کے ہو گئے حق آشنا\nہم نے کعبے کی بنا ڈالی ہے بت خانے کے بعد\n\nمیں کروں کس کا نظارہ دیکھ کر تیرا جمال\nمیں سنوں کس کا فسانہ تیرے افسانے کے بعد\n\nشمع محفل کا ہوا یہ رنگ ان کے سامنے\nپھول کی ہوتی ہے صورت جیسے مرجھانے کے بعد\n\nسچ یہ کہتے ہیں کہ ہنسنے کی جگہ دنیا نہیں\nچشم عبرت ہیں چمن کے پھول مرجھانے کے بعد\n\nفکر و کاوش ہو تو نکلیں معنیٔ رنگیں جلیلؔ\nلعل اگلتی ہے زباں خون جگر کھانے کے بعد", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D9%86%D8%A7_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%B1%DB%8C%D8%B2_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%8C_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%BE%D8%B3_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "کیا خاک کہوں مطلب دل دار کے آگے", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا خاک کہوں مطلب دل دار کے آگے\nسو اور سنائے گا وہ اغیار کے آگے\n\nبولا تھا جو آغاز محبت میں بڑا بول\nآیا وہی آخر دل بیمار کے آگے\n\nروکا ہی کیا ضبط محبت سر محفل\nسر جھک ہی گیا اس بت عیار کے آگے\n\nپیدا نہیں دنیا میں دوائے مرض عشق\nکیا لوگ نہ ہوتے تھے اس آزار کے آگے\n\nفریادئ بیداد جفا جان کے مجھ کو\nمحشر میں وہ چلتے ہوئے للکار کے آگے\n\nمرتا ہے کسی اور پہ اب غیر سنا ہے\nبولوں گا کبھی جھوٹ نہ سرکار کے آگے\n\nآ جائے نسیمؔ اس کو ترحم تو عجب کیا\nچل لے تو چلیں تجھ کو ترے یار کے آگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92"} {"title": "کیا خبر تھی راز دل اپنا عیاں ہو جائے گا", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا خبر تھی راز دل اپنا عیاں ہو جائے گا\nکیا خبر تھی آہ کا شعلہ زباں ہو جائے گا\n\nحشر ہونے دے ستم گر ہم دکھا دیں گے تجھے\nپیارا پیارا یہ گریباں انگلیاں ہو جائے گا\n\nرات بھر کی ہیں بہاریں شمع کیا پروانہ کیا\nصبح ہوتے ہوتے رخصت کارواں ہو جائے گا\n\nحشر میں انصاف ہوگا بس یہی سنتے رہو\nکچھ یہاں ہوتا رہا ہے کچھ وہاں ہو جائے گا\n\nاس کو کہتے ہیں جہاں میں لوگ سچی الفتیں\nتیر جب دل سے کھچے گا تو کماں ہو جائے گا\n\nآڑی سیدھی پڑتی ہیں نظریں تمہیں پر آج تو\nمجمع تار نظر کیا بدھیاں ہو جائے گا\n\nہے یہی رنگ سخن تو شاعرؔ شیریں زباں\nتو بھی اک دن طوطئ ہندوستاں ہو جائے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کیا خبر تھی کوئی رسوائے جہاں ہو جائے گا", "poet_page": "مصنف:شیر سنگھ ناز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا خبر تھی کوئی رسوائے جہاں ہو جائے گا\nکچھ نہ کہنا بھی مرا حسن بیاں ہو جائے گا\n\nاپنے دیوانے کا تم جوش جنوں بڑھنے تو دو\nآستیں دامن گریباں دھجیاں ہو جائے گا\n\nعاشق جانباز ہیں ہم منہ نہ موڑیں گے کبھی\nتم کماں سے تیر چھوڑو امتحاں ہو جائے گا\n\nٹوٹی پھوٹی قبر بھی کر دو برابر شوق سے\nیہ بھی اپنی بے نشانی کا نشاں ہو جائے گا\n\nشادیانے بج رہے ہیں آج جس جا نازؔ کل\nدم زدن میں دیکھ لینا کیا سماں ہو جائے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کیا خبر تھی یار کے آتے ہی آفت آئے گی", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا خبر تھی یار کے آتے ہی آفت آئے گی\nقامت زیبا میں پوشیدہ قیامت آئے گی\n\nپہلوئے ویراں کو اپنے دیکھ کر کہتا ہوں میں\nدل نہ ڈھونڈھوں گا یہاں ان کی ندامت آئے گی\n\nغم نہیں مونس نہ ہو کوئی ترے بیمار کا\nوادئ غربت میں اس کے ساتھ ہمت آئے گی\n\nاس تصور میں نہ دیکھا آئینہ اس یار نے\nبن کے جان مبتلا مرأت میں حیرت آئے گی\n\nمارتے ہیں بے گنہ وہ روز اک ناشاد کو\nرفتہ رفتہ ایک دن اپنی بھی نوبت آئے گی\n\nدشمنوں نے یہ سمجھ کر بزم سے روکا مجھے\nدیکھ کر شاید مجھے ان کو مروت آئے گی\n\nمیری بیتابی کی حالت سے انہیں آگہ کیا\nحیف تجھ میں نامہ بر کب آدمیت آئے گی\n\nگو غریب بے وطن ہوں بعد مردن دیکھنا\nآہ و زاری کو مری تربت پہ حسرت آئے گی\n\nہے دم مردن تصور اے بت زیبا ترا\nموت آئے گی تو بن کر تیری صورت آئے گی\n\nاے جمیلہؔ اس دل وحشی کی حالت دیکھ کر\nقیس کو فرہاد کو وامق کو عبرت آئے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "کیا دخل کسی سے مرض عشق شفا ہو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا دخل کسی سے مرض عشق شفا ہو\nممکن ہے کہ اس درد کی دنیا میں دوا ہو\n\nبالوں کا گھرس رکھنا ہے پگڑی ہی میں بہتر\nکیا فائدہ اک خلق گرفتار بلا ہو\n\nمغرور نہ رہ ہستئ موہوم پہ غافل\nیاں آنکھ جھپکتے ہی خدا جانیے کیا ہو\n\nاے مشت غبار تن فرسودۂ عاشق\nاس کو میں زمیں گیر ہے گیو اب تو ہوا ہو\n\nگر چرخ پہ جاوے تو شفق ہووے مرا خوں\nور خاک میں پنہاں ہو تو واں رنگ حنا ہو\n\nہے صبح سے کچھ آج مرے دل کو بشاشت\nاس کوچے سے قاصد تو نہ خط لے کے چلا ہو\n\nکیا دور ہے گر روح مری بعد فنا بھی\nپھرتی رہے کوچے میں ترے باد صبا ہو\n\nپردہ میں اٹھاتا نہیں زنہار کسی کا\nاس ڈر سے کہیں تو ہی نہ پردے میں چھپا ہو\n\nہے آئینے میں عکس ترا تیری ہی صورت\nتو اس پہ فدا اور وہ تیرے پہ فدا ہو\n\nچلتے ہی ترے بام پہ آیا ہے وہ کافر\nکیوں اتنے قدم جلد اٹھاتا ہے کھڑا ہو\n\nاے مصحفیؔ اس کوچے سے تو سر کو جھکائے\nکیا جاوے ہے کم بخت ذرا رو بہ قفا ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D8%AE%D9%84_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%B6_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B4%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "کیا دست مژہ کو ہاتھ آئی تسبیح", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا دست مژہ کو ہاتھ آئی تسبیح\nسبحان اللہ کیا بنائی تسبیح\nآنسو نہیں رکتے ہیں غم شہ میں انیسؔ\nآنکھوں سے لگی ہے کربلائی تسبیح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%D9%85%DA%98%DB%81_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%B3%D8%A8%DB%8C%D8%AD"} {"title": "کیا دل ہے اگر جلوہ گہہ یار نہ ہووے", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا دل ہے اگر جلوہ گہہ یار نہ ہووے\nہے طور سے کیا کام جو دیدار نہ ہووے\n\nکچھ رنگ نہیں نغمہ و آہنگ میں اس کے\nبلبل جو بہاراں میں گرفتار نہ ہووے\n\nدل جل جو گیا خوب ہوا سوختہ بہتر\nوہ جنس کوئی جس کا خریدار نہ ہووے\n\nشمشاد کو دیوے ہے قضا وار کے تجھ پر\nجو جامہ ترے قد پہ سزا وار نہ ہووے\n\nنیں باغ محبت میں یقیںؔ اس کو کہیں جا\nجس دل میں کہ داغوں ستی گلزار نہ ہووے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%DB%81%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92"} {"title": "کیا دم نزع کوئی اور تمنا کرتے", "poet_page": "مصنف:سید ہمایوں میرزا حقیر", "kind": "poetry", "section": "غزل > چمنستان فصاحت (1940)", "year": "1940", "text_ur": "کیا دم نزع کوئی اور تمنا کرتے\nجب تلک دم نہ نکلتا اسے دیکھا کرتے\n\nدرد دوری کا بجز مرگ نہیں کوئی علاج\nایسے بیمار کی ہم کوئی دوا کیا کرتے\n\nایسے بھولے کہ کبھی پھر کے نہ پوچھا تم نے\nکچھ تو اے راحت جاں پاس وفا کا کرتے\n\nجور سب ہم نے سہے جتنے کیے گردوں نے\nدوریٔ یار کو کس طرح گوارہ کرتے\n\nچشم مخمور سے بے خود جو نہ ہو جاتے ہم\nدل کو آتش کدہ اور چشم کو دریا کرتے\n\nکر کے بسمل جو ہمیں چھوڑ دیا قاتل نے\nہم تڑپتے کہ اسے دیکھتے کیا کیا کرتے\n\nوہ عیادت کو حقیرؔ آپ کی آتے جو کبھی\nکرتے احسان اگر آپ کو اچھا کرتے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%85_%D9%86%D8%B2%D8%B9_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "کیا دن تھے جب چھپ چھپ کر تم پاس ہمارے آتے تھے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا دن تھے جب چھپ چھپ کر تم پاس ہمارے آتے تھے\nکانپتے تھے بدنامی کے ڈر سے آنسو پی پی جاتے تھے\n\nہائے جوانی کیا موسم تھا اب وہ دن یاد آتے ہیں\nروٹھتے تھے ہم ہر دم ان پہ اور وہ آ کے مناتے تھے\n\nہائے غضب ہے مجھ وحشی کو اس موسم میں قید کیا\nسن جب شور فصل بہاراں مرغ قفس گھبراتے تھے\n\nذکر کیا میں آپ کا کس سے کس کے آگے نام لیا\nدشمن تھے وہ لوگ مرے جو آپ کے تئیں بہکاتے تھے\n\nہائے وہ پہلے چاہ کا عالم کس سے میں اظہار کروں\nمیں تو حجاب سے آپ خجل تھا وہ مجھ سے شرماتے تھے\n\nاس سے ہوسؔ ملنا مشکل تھا پر وہ ہم سے دور نہ تھے\nان کی ہی تصویر سے ہر دم اپنا جی بہلاتے تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%86_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%DA%86%DA%BE%D9%BE_%DA%86%DA%BE%D9%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D9%85_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "کیا دن تھے وہ جو واں کرم دلبرانہ تھا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا دن تھے وہ جو واں کرم دلبرانہ تھا\nاپنا بھی اس طرف گزر عاشقانہ تھا\n\nمل بیٹھنے کے واسطے آپس میں ہر گھڑی\nتھا کچھ فریب واں تو ادھر کچھ بہانہ تھا\n\nچاہت ہماری تاڑتے ہیں واں کے تاڑ باز\nتس پر ہنوز خوب طرح دل لگا نہ تھا\n\nکیا کیا دلوں میں ہوتی تھی بن دیکھے بے کلی\nہے کل کی بات حیف کہ ایسا زمانہ تھا\n\nاب اس قدر ہوا وہ فراموش اے نظیرؔ\nکیا جانے وہ معاملہ کچھ تھا بھی یا نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%86_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا\nرو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھا\n\nقاصد جو واں سے آیا تو شرمندہ میں ہوا\nبیچارہ گریہ ناک گریباں دریدہ تھا\n\nاک وقت ہم کو تھا سر گریہ کہ دشت میں\nجو خار خشک تھا سو وہ طوفاں رسیدہ تھا\n\nجس صید گاہ عشق میں یاروں کا جی گیا\nمرگ اس شکار گہ کا شکار رمیدہ تھا\n\nکوری چشم کیوں نہ زیارت کو اس کی آئے\nیوسف سا جس کو مد نظر نوردیدہ تھا\n\nافسوس مرگ صبر ہے اس واسطے کہ وہ\nگل ہائے باغ عشرت دنیا نچیدہ تھا\n\nمت پوچھ کس طرح سے کٹی رات ہجر کی\nہر نالہ میری جان کو تیغ کشیدہ تھا\n\nحاصل نہ پوچھ گلشن مشہد کا بوالہوس\nیاں پھل ہر اک درخت کا حلق بریدہ تھا\n\nدل بے قرار گریۂ خونیں تھا رات میرؔ\nآیا نظر تو بسمل در خوں تپیدہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%86_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%88%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کیا ذکر وفا جفا کسی سے نہ بنی", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا ذکر وفا جفا کسی سے نہ بنی\nگر دوست ملا تو مدعی سے نہ بنی\nآخر کو قلقؔ نے زہر کھایا ناچار\nاب کس سے بنی جب اپنے جی سے نہ بنی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%DB%8C"} {"title": "کیا رفو کرنے لگا ہے جا بھی ناداں یک طرف", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا رفو کرنے لگا ہے جا بھی ناداں یک طرف\nپھٹ چلی چھاتی کوئی دم میں گریباں یک طرف\n\nچاندنی میں کل نکل بیٹھا تھا وہ خورشید رو\nدیکھتا تھا میں کھڑا گوشے میں پنہاں یک طرف\n\nطرفہ حالت تھی کبھی ہم نے نہ دیکھا تھا حضورؔ\nماہ تاباں یک طرف مہر درخشاں یک طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D9%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DB%8C%DA%A9_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "کیا روز حشر دوں تجھے اے داد گر جواب", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا روز حشر دوں تجھے اے داد گر جواب\nاعمال نامہ کا تو ہے پیشانی پر جواب\n\nرک رک کے ہنس کے یوں ہی تو دے فتنہ گر جواب\nدیتا ہے اور لطف مجھے تیرا ہر جواب\n\nکس سے مثال دوں تری زلف دراز کو\nعمر‌ طویل خضر ہے اک مختصر جواب\n\nمشکل کے وقت دل ہی سے کچھ مشورہ کریں\nکیوں دیں کسی کو غیر سے ہم پوچھ کر جواب\n\nکرتے ہیں سجدہ نقش قدم کو تمام لوگ\nہے خانۂ خدا کا تری رہ گزر جواب\n\nمنکر نکیر پوچھتے ہیں ڈانٹ ڈانٹ کر\nہوں منتشر حواس تو کیا دے بشر جواب\n\nخلد و سقر کے بیچ میں ہے کوئی عشق یار\nہے پل صراط کا یہ مری رہ گزر جواب\n\nکیوں سر جھکا رہا ہے ذرا آنکھ تو ملا\nدے گی مرے سوال کا تیری نظر جواب\n\nغصہ میں یوں نہ آؤ کہ غصہ حرام ہے\nتم بات ہی سے بات کا دو سوچ کر جواب\n\nذروں کی طرح خاک میں ہیں عاشقوں کے دل\nگر تو کرے سوال تو دے رہ گزر جواب\n\nمیں نے کیا سلام تو چلمن میں چھپ گئے\nدر پردہ دے گی اب نگہ پردہ در جواب\n\nہنگامہ حشر کا صفت گرد رہ گیا\nتیرے خرام کا نہ ہوا فتنہ گر جواب\n\nکیا اپنے بھولے پن سے کہیں دم میں آئے ہو\nہر بات کا جو دیتے ہو اب سوچ کر جواب\n\nکیا ہوگا خاک ہو کے سر چرخ جائے گا\nیہ زیر پا سوال وہ بالائے سر جواب\n\nلکھا ہے مجھ کو ہو گیا تیرا لہو سفید\nمیں بھی لکھوں گا خون سے سر پھوڑ کر جواب\n\nبے ہوش کر کے پوچھتے ہو دل کا مدعا\nدیتا بھی ہے حضور کہیں بے خبر جواب\n\nغصہ سے کچھ کہوں تو وہ کس طرح چپ رہے\nاک بات کا جو شام سے دے تا سحر جواب\n\nچتون سے تاڑ جاتے ہیں مائلؔ کا مدعا\nدل میں ادھر سوال ہے لب پر ادھر جواب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8"} {"title": "کیا روکے قضا کے وار تعویذ", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا روکے قضا کے وار تعویذ\nقلعہ ہے نہ کچھ حصار تعویذ\n\nچوٹی میں ہے مشک بار تعویذ\nیا فتنۂ روزگار تعویذ\n\nدونوں نے نہ درد دل مٹایا\nگنڈے کا ہے رشتہ دار تعویذ\n\nکیا نام علی میں بھی اثر ہے\nچاروں ٹکڑے ہیں چار تعویذ\n\nڈرتا ہوں نہ صبح ہو شب وصل\nہے مہر وہ زرنگار تعویذ\n\nہم کو بھی ہو کچھ امید تسکیں\nکھوئے جو تپ خیار تعویذ\n\nپتاں کو جڑ ہماری پہنچی\nگاڑا تہہ پائے یار تعویذ\n\nحاجت نہیں ان کو نورتن کی\nبازو پہ ہیں پانچ چار تعویذ\n\nکھٹکے وہ نہ آئے فاتحے کو\nدیکھا جو سر مزار تعویذ\n\nپی جائیں گے گھول کر کسے آپ\nہے نقش نہ خاکسار تعویذ\n\nاے ترک ٹلیں بلائیں سر سے\nاک تیغ کا خط ہزار تعویذ\n\nڈر ہے تمہیں کنکنوں سے لازم\nلایا تو ہے سادہ کار تعویذ\n\nاکسیر کا نسخہ اس کو سمجھوں\nکھوئے جو ترا غبار تعویذ\n\nمجمع ہے امیرؔ کی لحد پر\nمیلے کا ہے اشتہار تعویذ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D9%88%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%B9%D9%88%DB%8C%D8%B0"} {"title": "کیا ستاتے ہو رہو بندہ نواز", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ستاتے ہو رہو بندہ نواز\nکہ نہیں خوب یہ خو بندہ نواز\n\nبے سبب بے وجہ و بے تقصیر\nاس قدر غصہ نہ ہو بندہ نواز\n\nظلم ناحق نہ کرو کوئی دن\nجیو اور جیونے دو بندہ نواز\n\nمے کشو بیچ نہ بیٹھو ہرگز\nخون میرا نہ پیو بندہ نواز\n\nعطر کو مل کے نہ آؤ ہم پاس\nذبح کرتی ہے یہ بو بندہ نواز\n\nکب تلک اپنی کہے جاؤ گے\nبات میری بھی سنو بندہ نواز\n\nواجب القتل تمہارا میں ہوں\nاور کا نام نہ لو بندہ نواز\n\nگو کہ سب مجھ کو برا کہتے ہیں\nتم زباں سیں نہ کہو بندہ نواز\n\nکس کا منہ ہے جو ترے سنمکھ ہو\nہو نہ ہو آئینہ ہو بندہ نواز\n\nجا تری چشم میں میری ہے جا\nسرو ہو ہے لب جو بندہ نواز\n\nوصف کاکل میں سدا گویا ہے\nجو زباں ہر سر مو بندہ نواز\n\nدل سے حاتمؔ بخدا بندہ ہے\nدور خدمت سے ہے گو بندہ نواز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%D9%88_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%81_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2"} {"title": "کیا سلام جو ساقی سے ہم نے جام لیا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا سلام جو ساقی سے ہم نے جام لیا\nپڑھے درود جو پیر مغاں کا نام لیا\n\nچہ ذقن میں گرا چاہتا تھا دل میرا\nدراز عمر ہو زلف رسا نے تھام لیا\n\nکسی کا زور زبردست پر نہیں چلنا\nفلک نے ظلم کیا کس نے انتقام لیا\n\nنصیب ور تھی زلیخا جو پایا یوسف کو\nکنیز ہو گئی اس شکل کا غلام لیا\n\nبھرا لبوں نے برابر دم مسیحائی\nجب اس کے ابروؤں نے حکم قتل عام لیا\n\nمزاج پوچھا کسی کا تو ان کا منہ دیکھا\nکسک سے ہاتھ میں آئے اگر سلام لیا\n\nلگایا تھا کہیں دل ہم نے وہ مزا چکھا\nزباں نے پھر نہ کبھی عاشقی کا نام لیا\n\nبھرا ہے آنکھ میں جادو کھلا اشارے سے\nزبان کا مژہ بے زباں سے کام لیا\n\nبہت کمر کے لچکنے کا ہے خیال ان کو\nجو دو قدم بھی چلے پائینچوں کو تھام لیا\n\nچڑھا خمار جو سر پر اتر گئی عزت\nعمامہ رکھ کے گرو ساغر مدام لیا\n\nاٹھا کے داغ لیا حق سعی کا پیسا\nنہ مرتشی کی طرح ہم نے زر حرام لیا\n\nہوا کو جان دی میں نے زمین کو مٹی\nادا کیا دم رخصت جو قرض دام لیا\n\nمعاف کی ہے خدا نے ضعیف پر تکلیف\nستم کیا اگر اب دست و پا سے کام لیا\n\nقسم نہ کھاؤں گا تیسوں کلام کی اے بحرؔ\nکسی کا خواب میں بوسہ تو لا کلام لیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کیا سہل سمجھے ہو کہیں دھبا چھٹا نہ ہو", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "کیا سہل سمجھے ہو کہیں دھبا چھٹا نہ ہو\nظالم یہ میرا خون ہے رنگ حنا نہ ہو\n\nیا رب مجھے ہے داغ تمنا بہت عزیز\nپہلو سے دل جدا ہو مگر یہ جدا نہ ہو\n\nراہیں نکالتا ہے یہی سوز و ساز کی\nپہلو میں دل نہ ہو تو کوئی حوصلہ نہ ہو\n\nتم اور وفا کرو یہ نہ مانوں گا میں کبھی\nاس کو فریب دو جو تمہیں جانتا نہ ہو\n\nکیا کیا شررؔ ذلیل ہوئے آبرو گئی\nایسا بھی عاشقی کا کسی کو مزا نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%81%D9%84_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%BE%D8%A8%D8%A7_%DA%86%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "کیا شوخ اچپلے ہیں تیرے نین ممولا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا شوخ اچپلے ہیں تیرے نین ممولا\nجن کوں نرکھ جلے ہیں سب من ہرن ممولا\n\nبر میں خیال کے بھی کیوں کر کے آ سکے دل\nنازک ہے جان سیتی تیرا بدن ممولا\n\nجو اک نگہ کرو تم کرتے ہو کام سو تم\nسیکھے کہاں سیں ہو تم یہ مکر و فن ممولا\n\nآزاد سب جگت کے آ کر غلام ہوویں\nجب بودلی بناوے اپنا برن ممولا\n\nقد سرو چشم نرگس رخ گل دہان غنچہ\nکرتا ہوں دیکھ تم کوں سیر چمن ممولا\n\nہر رات شمع کے جوں جلتی ہے جان میری\nجب سیں لگی ہے تم سیں دل کی لگن ممولا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%A7%DA%86%D9%BE%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%86%DB%8C%D9%86_%D9%85%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7"} {"title": "کیا ضرورت بے ضرورت دیکھنا", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ضرورت بے ضرورت دیکھنا\nتم نہ آئینے کی صورت دیکھنا\n\nپھر گئیں بیمار غم کو دیکھ کر\nاپنی آنکھوں کی مروت دیکھنا\n\nہم کہاں اے دل کہاں دیدار یار\nہو گیا تیری بدولت دیکھنا\n\nہے وہ جب دل میں تو کیسی جستجو\nڈھونڈنے والوں کی غفلت دیکھنا\n\nسامنے تعریف پیچھے گالیاں\nان کی منہ دیکھی محبت دیکھنا\n\nجن کو باقی ہی نہ ہو امید کچھ\nایسے مایوسوں کی حسرت دیکھنا\n\nمرا خط یہ کہہ کے غیروں کو دیا\nاک ذرا اس کی عبارت دیکھنا\n\nاور کچھ تم کو نہ آئے گا نظر\nدل میں رہ کر دل کی حسرت دیکھنا\n\nصبح اٹھ کر دیکھنا احسنؔ کا منہ\nایسے ویسوں کی نہ صورت دیکھنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%A8%DB%92_%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنا\nیا تو بیگانے ہی رہیے ہوجیے یا آشنا\n\nپائمال صد جفا نا حق نہ ہو اے عندلیب\nسبزۂ بیگانہ بھی تھا اس چمن کا آشنا\n\nکون سے یہ بحر خوبی کی پریشاں زلف ہے\nآتی ہے آنکھوں میں میری موج دریا آشنا\n\nرونا ہی آتا ہے ہم کو دل ہوا جب سے جدا\nجائے رونے ہی کی ہے جاوے جب ایسا آشنا\n\nنا سمجھ ہے تو جو میری قدر نئیں کرتا کہ شوخ\nکم بہت ملتا ہے پھر دل خواہ اتنا آشنا\n\nبلبلیں پائیز میں کہتی تھیں ہوتا کاشکے\nیک مژہ رنگ فراری اس چمن کا آشنا\n\nکو گل و لالہ کہاں سنبل سمن ہم نسترن\nخاک سے یکساں ہوئے ہیں ہائے کیا کیا آشنا\n\nکیا کروں کس سے کہوں اتنا ہی بیگانہ ہے یار\nسارے عالم میں نہیں پاتے کسی کا آشنا\n\nجس سے میں چاہی وساطت ان نے یہ مجھ سے کہا\nہم تو کہتے گر میاں ہم سے وہ ہوتا آشنا\n\nیوں سنا جا ہے کہ کرتا ہے سفر کا عزم جزم\nساتھ اب بیگانہ وضعوں کے ہمارا آشنا\n\nشعر صائبؔ کا مناسب ہے ہماری اور سے\nسامنے اس کے پڑھے گر یہ کوئی جا آشنا\n\nتا بجاں ما ہمرہیم و تا بہ منزل دیگراں\nفرق باشد جان ما از آشنا تا آشنا\n\nداغ ہے تاباں علیہ الرحمہ کا چھاتی پہ میرؔ\nہو نجات اس کو بچارا ہم سے بھی تھا آشنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%92_%DA%AF%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7"} {"title": "کیا طرز کلام ہو گئی ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا طرز کلام ہو گئی ہے\nہر بات پیام ہو گئی ہے\n\nکچھ زہر نہ تھی شراب انگور\nکیا چیز حرام ہو گئی ہے\n\nآگے تو نہیں نہیں سنی تھی\nاب تکیہ کلام ہو گئی ہے\n\nجاتے جاتے پیام بر کو\nہر صبح سے شام ہو گئی ہے\n\nاب دیکھیے مشق پائمالی\nتعریف خرام ہو گئی ہے\n\nپہنچے ہیں جب اس کی بزم میں ہم\nمجلس ہی تمام ہو گئی ہے\n\nعالم کو ہے دعوی محبت\nیہ خاص بھی عام ہو گئی ہے\n\nاس بت کے ہمیں نہیں ہیں بندے\nمخلوق غلام ہو گئی ہے\n\nبرباد نہ ہوگی تیری الفت\nتجویز مقام ہو گئی ہے\n\nجاگیر جنوں کی قیس کے بعد\nاب داغؔ کے نام ہو گئی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B7%D8%B1%D8%B2_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا\nکیا عشق پائدار سے ناپائدار کا\n\nوہ عشق جس کی شمع بُجھا دے اجل کی پھُونک\nاُس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا\n\nمیری بساط کیا ہے، تب و تابِ یک نفَس\nشُعلے سے بے محل ہے اُلجھنا شرار کا\n\nکر پہلے مجھ کو زندگیِ جاوداں عطا\nپھر ذوق و شوق دیکھ دلِ بے قرار کا\n\nکانٹا وہ دے کہ جس کی کھٹک لازوال ہو\nیا رب، وہ درد جس کی کسک لازوال ہو!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C%D9%90_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے\nلاکھوں سے تشنہ کام لڑے کام کر گئے\nامت کی مغفرت کا سر انجام کر گئے\nفیض اپنا مثلِ ابر کرم عام کر گئے\nپڑھتے ہیں سب درود جو ذکر ان کے ہوتے ہیں\nایسے بشر وہ تھے کہ ملک جن کو روتے ہیں\n\nدیندار و سرفروش و شجاع و خوش اعتقاد\nہاتھوں میں تیغیں اور دلوں میں خدا کی یاد\nزخموں کو نخلِ قد پہ وہ سمجھے گلِ مراد\nمرادنگی یہ پیاس میں فاقوں میں یہ جہاد\nتیغوں سے بند کون سا ان کا کٹا نہ تھا\nپر معرکے سے پاؤں کسی کا ہٹا نہ تھا\n\nبرسوں رہے گا چرخ میں، گر آسمانِ پیر\nلیکن نظر نہ آئے گا ان کا کہیں نظیر\nگورے نہ ان کے پاؤں، نہ روئے مہِ منیر\nخورشید جن کے سامنے اک ذرۂ حقیر\nپرخوں قبائیں جسم میں، سینے تنے ہوئے\nپہنچے ریاضِ خلد میں دولہا بنے ہوئے\n\nرستم اٹھا نہ سکتا تھا سر ان کے سامنے\nشیروں کے کانپتے تھے جگر ان کے سامنے\nپھیکی تھی روشنیِٔ قمر ان کے سامنے\nاڑتا تھا رنگ روئے سحر، ان کے سامنے\nبخشا تھا نور، حق نے ہر اک خوش صفات کو\nہوتا تھا دن، جو گھر سے نکلتے تھے رات کو\n\nپیشانیوں پہ جلوہ نما اختر سجود\nدیکھیں جو ان کا نور تو قدسی پڑھیں درود\nرخ سے عیاں جلال و جوانمردی و نمود\nشیدائے آل، شیفتۂ واجب الوجود\nجینے کی شاہ دیں کو دعا دے کے مر گئے\nایماں کے آئینہ کو جِلا دے کے مر گئے\n\nتاثیر کر گئی تھی انہیں صحبتِ امام\nتھا نزع میں بھی خشک لبوں پہ خدا کا نام\nلبریز تھے محبت حیدرؔ سے دل کے جام\nذی قدر، ذی شعور، دلاور خجستہ کام\nلشکر جو ان پہ ٹوٹ پڑے شام و روم کے\nتلواریں کھائیں جسم پہ کیا جھوم جھوم کے\n\nلاکھوں میں انتخاب ہزاروں میں لا جواب\nتھا خشک و تر پہ جن کا کرم صورتِ سحاب\nوہ نور، وہ جلال، وہ رونق، وہ آب و تاب\nزہراؔ کے گھر کے چاند، زمانے کے آفتاب\nبس یک بہ یک جہاں میں اندھیرا سا چھا گیا\nدن بھی ڈھلا نہ تھا کہ زوال ان پہ آ گیا\n\nگل ہو گئے عقیلؔ کی تربت کے جب چراغ\nجعفر کے لاڈلوں نے دیئے شہ کے دل کو داغ\nماتم سے بھانجوں کے ہوا تھا نہ انفراغ\nپامال ہو گیا، حسنِؔ مجتبیٰ کا باغ\nلاشے اٹھائے جنگ کرے یا بکا کرے\nجس پر گریں یہ کوہ مصیبت وہ کیا کرے\n\nصدمہ یہ تھا کہ لٹنے لگی دولتِ پدر\nنکلے نبرد کو اسد اللہ کے پسر\nمارے گئے جہاد میں جس دم وہ شیر نر\nرخصت ہوئے حسینؔ سے عباسِؔ نام ور\nددریا بہے لہو کے بڑا کشت و خوں ہوا\nڈھلتی تھی دوپہر کہ علم سر نگوں ہوا\n\nپیری میں قہر ہے، خبر مرگ نوجواں\nریتی پہ تھر تھرا کے گرے شاہِ انس و جاں\nنکلیں سروں کو پیٹتی، خیمے سے بیبیاں\nتھا خانۂ علی میں تلاطم کہ الا ماں\nیوں گھر الٹ پلٹ تھا امامِ حجاز کا\nجس طرح ٹوٹ جاتا ہے لنگر جہاز کا\n\nغل تھا کہ خوں میں بھر گیا سقائے اہل بیت\nدنیا سے کوچ کر گیا، سقائے اہل بیت\nہم لٹ گئے گذر گیا سقائے اہل بیت\nفریاد ہے کہ مر گیا، سقائے اہل بیت\nہے ہے کہاں سے اپنے بہشتی کو لائیں گے\nسوکھی زبان، اب کسے بچے دکھائیں گے\n\nہلتا تھا خیمہ روتے تھے یوں اہل بیت شاہ\nصدمے سے حالِ زوجۂ عباسؔ تھا تباہ\nچلاتی تھی کہ نہر کی مجھ کو بتاؤ راہ\nلوٹی گئی میں دشت پُر آفت میں آہ آہ\nخم تھے گرا تھا کوہِ مصیبت حسینؔ پر\nماتم تھا بیبیوں میں سکینہؔ کے بین پر\n\nماتم ادھر تھا، جشن میں تھے اہل شر اُدھر\nبجتے تھے شادیانۂ فتح و ظفر اُدھر\nانعام بانٹتا تھا ہر اک کو عمر ادھر\nروتے تھے دیکھ دیکھ کے حضرت اِدھر اُدھر\nغل تھا کہ بس حسینؔ بہت روئے بھائی کو\nکوئی جواں ہو اور تو بھیجو لڑائی کو\n\nباقی نہیں کوئی تو وِغا کو خود آیئے\nحیدرؔ کی ذوالفقار کے جوہر دکھایئے\nزخمِ سنان و خنجر و شمشیر کھایئے\nگرمی بڑی ہے آج لہو میں نہایئے\nآمادہ ہم تو دیر سے بہرِ ستیز ہیں\nتیغیں بھی ہیں اُپی ہوئی خنجر بھی تیز ہیں\n\nکاٹے ہیں جس نے بازوئے لخت دلِ امیر\nہے خوب آبدار، وہ شمشیرِ بے نظیر\nچھیدا ہے جس سے مشک کو موجود ہے وہ تیر\nہر گرز وہ ہے، ضرب سے جس کی ہوئے اخیر\nتڑپے تھے جس سے مشک کو دانتوں سے چھوڑ کر\nبرچھی یہ ہے جو نکلی تھی پہلو کو توڑ کر\n\nصابر بڑے ہیں آپ تو یا شاہِ انس و جاں\nاک بھائی کے فراق میں یہ نالہ و فغاں\nرونے سے جی اٹھیں گے نہ عباسِ نوجواں\nحضرت پکارتے ہیں کسے، بھائی اب کہاں\nملتا ہے کب جہاں میں بھلا جو گزر گیا\nاب فکر اپنی کیجئے وہ شیر مر گیا\n\nاکبر نے کی غضب کی نظر سوئے فوج شام\nکانپے یہ غیظ سے کہ اگلنے لگی حسام\nکی عرض ہاتھ جوڑ کے اے قبلۂ انام\nسنتے ہیں آپ لشکرِ اعدا کا یہ کلام\nخوں تن میں جوش کھاتا ہے ہنگام جنگ ہے\nمولا بس اب تو حوصلۂ صبر تنگ ہے\n\nان کے کلام سننے کی کس کے جگر میں ہے تاب\nخادم زبانِ تیغ سے دے گا انہیں جواب\nکیا اپنے دل میں سمجھے ہیں، یہ خانماں خراب\nنعرہ کروں تو شیر کا زہرہ ہو آب آب\nآداب شاہ سے نہیں ہم بول سکتے ہیں\nزخمِ جگر پہ اب تو نمک یہ چھڑکتے ہیں\n\nہم کو یہ طعن و طنز کی باتیں نہیں پسند\nکوفے میں لیں گے دم جو اٹھائیں گے پھر سمند\nہونٹوں پہ غم سے اب ہے، یہاں جانِ دردمند\nکاٹیں تبر سے، تیغ سے خنجر سے بند بند\nہنس ہنس کے جسم پر، تبر و تیر کھائیں گے\nتیغِ زباں کے زخم اٹھائے نہ جائیں گے\n\nگھبرا کے دیکھنے لگے بیٹے کے منہ کو شاہ\nفرمایا خیر کہہ لیں جو کہتے ہیں روسیاہ\nکیوں کانپتے ہو غیظ سے، اے میرے رشک ماہ\nلازم ہے صبر و شکر کہ راضی رہے الٰہ\nغصہ اسی طرح اگر آئے گا آپ کو\nخنجر کے نیچے دیکھو گے کس طرح باپ کو\n\nبرہم نہ ہو تمہیں، سر شبیرؔ کی قسم\nلو گھر میں جاؤ خیر سمجھ لیں گے ان سے ہم\nدیکھو ہمیں کہ بھائی کے بازو ہوئے قلم\nتلوار، دل پہ چل گئی، مارا نہ ہم نے دم\nسب جل کے خاک ہوں جو ابھی بد دعا کروں\nپر امت نبی ہے، بجز صبر کیا کروں\n\nیہ سن کے زرد ہو گئے ہم شکلِ مصطفی\nرو کر کہا یہ کرتے ہیں ارشاد آپ کا\nوہ وقت، وہ گھڑی، نہ دکھائے ہمیں خدا\nبابا نہ ہو تو بیٹے کے جینے کا کیا مزہ\nآمادۂ فنا ہیں، خوشی دل سے فوت ہے\nپھر خضرؔ کی حیات ملے گر تو موت ہے\n\nکیا پہلے سر کٹایئے گا یا شہِ زماں\nکس اشتیاق سے شہ دیں نے کہا کہ ہاں\nآگے جو کچھ رضائے خدا، اے پدر کی جاں\nجیتے ہیں پیر، سامنے مرتے ہیں نوجواں\nدیکھو کہ چھوٹے بھائی کے ماتم میں روتے ہیں\nپالا تھا جن کو ہم نے وہ دریا پہ سوتے ہیں\n\nیہ کہہ کے اٹھ کھڑے ہوئے سلطانِ بحر و بر\nپٹکے سے باندھنے لگے، ٹوئی ہوئی کمر\nقدموں یہ گر پڑے، علیؔ اکبر بہ چشمِ تر\nکی عرض رحم کیجئے، مر جائے گا پسر\nآگے مرے جو ہو گی شہادت امام کی\nدنیا میں آبرو نہ رہے گی غلام کی\n\nچھوٹے تھے جو کہ سِن میں بڑے کر گئے وہ کام\nیا شاہ کیا لڑائی کے قابل نہیں غلام\nعمو کے خوں کا لیں گے لعینوں سے انتقام\nہم نے بھی تیغ باندھی ہے بچپن سے یا امام\nعزت ملی ہے خلق میں صدقے سے آپ کے\nبیٹا وہی جو رنج میں کام آئے باپ کے\n\nانصاف آپ کیجئے یا سرورِ عرب\nبیٹا تو گھر میں بیٹھے، لڑے باپ تشنہ لب\nمارا گیا نہ آج، تو کل یہ کہیں گے سب\nکیسا لہو سفید ہے، دنیا کا ہے غضب\nسر کو کٹا کے باپ جہاں سے گزر گیا\nبیٹا جوان، باپ کے آگے نہ مر گیا\n\nبہرِ رسول رن کی رضا دیجئے مجے\nصدقہ علی کا، اذن وغا دیجئے مجھے\nمرتا ہوں یا امام، جلا دیجئے مجھے\nیادِ خدا میں دل سے بھلا دیجئے مجھے\nکھولیں کمر، حضور تو دل کو قرار ہو\nکہہ دیجئے کہ جا! علیؔ اکبر نثار ہو\n\nشہ نے کہا تمہیں مرے دل کی نہیں خبر\nپیارے کہاں سے لاؤں میں اس طرح کا جگر\nہے باپ کو عصائے ضعیفی، جواں پسر\nجب تم نہ ہو گے پاس تو مر جائے گا پدر\nایسے ہنسے نہ تھے کہ ہمیں تم رلاتے ہو\nشادی کے دن جو آئے، تو مرنے کو جاتے ہیں\n\nراتیں یہ عیش کی ہیں مرادوں کے ہیں یہ دن\nپورے جواں نہیں، ابھی کیا ہے تمہارا سِن\nاکبرؔ تری جوانی پہ روئیں گے انس و جن\nکیوں کر قرار آئے گا ماں کو تمہارے بن\nکیسی ہوا چلی، چمن روزگار میں\nسید کا باغ لٹتا ہے فصلِ بہار میں\n\nدیتا اگر تمہیں کوئی فرزند زوالجلال\nہوتی پدر کی قدر سمجھتے ہمارا حال\nرخصت کا آپ سے یوں ہی کرتا وہ جب سوال\nتب جانتے کہ دیتے اسے رخصتِ جدال\nکیا جانے وہ مزاج سے اس کا ملا نہیں\nاچھا سدھارو تم سے ہمیں کچھ گلا نہیں\n\nتسلیم کر کے بولے علیؔ اکبرِ غیور\nلاکھوں برس جہاں میں سلامت رہیں حضور\nفرمایا شہ نے خیر اجل بھی نہیں ہے دور\nبرچھی لگا کے دل پہ خوشامد یہ کیا ضرور\nتقریر میں پدر کو نہ اب بند کیجیے\nخیمے میں جا کے ماں کو رضامند کیجیے\n\nہیں مبتلائے رنج بھلا کیا ہمارا پیار\nتم سے جو پسر ہوں تو اس راہ میں نثار\nہر دم خدا سے خیر کا ہوں میں امیدوار\nہاں ماں نہ جانے دے تو مرا کیا ہے اختیار\nسینے میں دل ہلے گا بدن تھرتھرائے گا\nرخصت کا نام سنتے ہی غش اس کو آئے گا\n\nسب جانتے ہیں جو ہے پھوپھی کو تمہاری چاہ\nمعلوم ہو گا جاؤ گے جب سوئے خیمہ گاہ\nباہیں گلے میں ڈالے گی زینبؔ بہ اشک و آہ\nقدموں پہ گر کے آپ کی ماں ہوگی سَدِ راہ\nیہ مرحلہ بھی کم نہیں زنجیر و طوق سے\nدونوں رضا جو دیں تو چلے جاؤ شوق سے\n\nروتے ہوئے چلے علیؔ اکبر سوئے خیام\nکانپا یہ دل کہ بیٹھ گئے خاک پر امام\nروتا ہوا جو ڈیوڑھی سے آیا وہ نیک نام\nدوڑی پسر کو دیکھ کے بانوئے تشنہ کام\nدامن سے آ کے بالی سکینہؔ چمٹ گئی\nزینبؔ بلائیں لے کے گلے سے لپٹ گئی\n\nماں گرد پھر کے بولی کہ اے میرے گلعذار\nتم صبح سے گئے تھے اب آئے یہ ماں نثار\nدر پر تڑپ تڑپ کے میں جاتی تھی بار بار\nکھولو بس اب کمر کہ مرا دل ہے بے قرار\nگرمی یہ اور قحط کئی دن سے آب کا\nرخ تمتما گیا ہے مرے آفتاب کا\n\nتر ہے قبا پسینے میں پنکھا کوئی بلاؤ\nسونلا گئے ہو دھوپ میں، واری ہوا میں آؤ\nجھاڑوں ردا سے گرد میں، زلفوں کی، بیٹھ جاؤ\nگھٹ جائے گا لہو مرا آنسو نہ تم بہاؤ\nصدمہ جو دل پہ ہو اسے کچھ منہ سے کہتے ہیں\nکیا ہے جو اشک نرگسی آنکھوں سے بہتے ہیں\n\nصغراؔ کی تو وطن سے کچھ آئی نہیں خبر\nجلدی کہو کہ منھ سے نکلتا ہے اب جگر\nاکبرؔ نے عرض کی کہ ہیں سب خیر سے مگر\nلٹتا ہے کوئی آن میں خیر النسا کا گھر\nملتی نہیں رضا ہمیں آنسو بہاتے ہیں\nبابا گلا کٹانے کو میداں میں جاتے ہیں\n\nاس وقت کس سے دردِ دل اپنا کہوں میں آہ\nتم بھی ہو سدّ راہ پھوپھی بھی ہیں سدّ راہ\nچھائی ہے واں گھٹا کی طرح شام کی سپاہ\nاماں مدد کرو کہ کمر باندھتے ہیں شاہ\nاب زندگی ہے تلخ بہت دق ہیں جان سے\nالفت نے آپ کی ہمیں کھویا جہان سے\n\nدیتے نہیں رضا جو امامِ فلک اساس\nخاطر فقط یہ آپ کی ہے اور پھوپھی کا پاس\nاب غیرِ یاس کوئی نہیں ان کے آس پاس\nناطاقتی ہے ضعف ہے فاقہ ہے اور پیاس\nکیوں کر لڑیں گے وہ کہ سراپا ضعیف ہیں\nپیری ہے دل ضعیف ہے اعضا ضعیف ہیں\n\nعباس جب سے مر گئے روتے ہیں دم بہ دم\nرخ زرد ہے کماں کی طرح ہو گئے ہیں غم\nچلوں میں تیر جوڑے ہیں واں بانیٔ ستم\nقرباں ہوں کس طرح پسرِ خاطر فاطمہؔ پہ ہم\nسب روکتے ہیں رن کی طرف جائیں کس طرح\nماں کو پھوپھی کو بہنوں کو سمجھائیں کس طرح\n\nبابا کا حکم ہے کہ رضا جا کے ماں سے لاؤ\nراضی پھوپھی ہوں جب تو لڑو اور زخم کھاؤ\nمرضی ہے آپ کی کہ مرے پاس سے نہ جاؤ\nیا فاطمہؔ تمہیں علیؔ اکبر کے کام آؤ\nچلنے لگیں نہ تیر شہِ مشرقین پر\nنرغہ ہے ظالموں کا تمہارا حسینؔ پر\n\nدیکھی گئی نہ ماں سے یہ بیتابیِٔ پسر\nوارث کی بے کسی پہ لگا کانپنے جگر\nہاتھوں سے دل کو تھام کے بولی وہ نوحہ گر\nدولت پہ فاطمہؔ کی تصدق تمام گھر\nپہلے نہ کچھ کہا تھا نہ اب روکتی ہوں میں\nروتے ہو کس لیے تمہیں کب روکتی ہوں میں\n\nزہراؔ کے لال پر مرے مادر پدر نثار\nعابدؔ نثار اصغرِؔ تشنہ جگر نثار\nجانیں ہزار ہوں تو فدا لاکھ سر نثار\nقربان گھر، کنیز تصدق، پسر نثار\nکِسرائی گو کہ ہوں پہ بہو میں علیؔ کی ہوں\nمانگو گے جو وہ دوں گی کہ لونڈی سخی کی ہوں\n\nمجھ پر حوالہ کرتے ہیں گر شاہِ خوش خصال\nرخصت نہ تم کو دوں یہ بھلا ہے مری مجال\nصدقہ انہیں کا ہے کہ ملا تم سا نونہال\nرخصت کا صدقے جاؤں پھوپھی سے کرو سوال\nہم سب کنیزیں بنتِ امیر عرب کی ہیں\nاصغرؔ ہو یا کہ تم وہی مختار سب کی ہیں\n\nکہنے کو یوں ہیں چاہنے والے تمہارے سب\nلیکن ہے ان کے عشق سے نسبت کسی کو کب\nدن کو انہوں نے دن کبھی جانا نہ شب کو شب\nلیجے انہیں سے آپ کو جس شے کی ہے طلب\nمجھ سے نہ کچھ نہ سید عالی سے پوچھیے\nگر پوچھیے تو پالنے والی سے پوچھیے\n\nروتے ہوئے گئے علیؔ اکبر پھوپھی کے پاس\nدیکھا کہ غش پڑی ہے زمیں پر وہ حق شناس\nزانو پہ سر لیے ہوئے کبراؔ ہے بے حواس\nاس حال میں بھی لب پہ یہی ہے کلام یاس\nاب تاب و طاقت جسد و روح و دل گئی\nکیوں صاحبو! رضا علیؔ اکبر کو مل گئی\n\nاکبرؔ سے مجھ کو یہ نہ توقع تھی ہے غضب\nاتنا نہیں خیال کہ ہے کون جاں بہ لب\nاس گُل نے ہائے میری ریاضت بھلائی سب\nنامِ خدا جواں ہوئے کیا ہم سے کام اب\nہیں محو رن کے شوق میں رخصت کے دھیان میں\nسچ ہے کسی کا کون ہوا ہے جہان میں\n\nیا بے ہمارے چین نہ آتا تھا کوئی دم\nمالک اب اور ہو گئے کوئی ہوئے نہ ہم\nکیا دخل تھا جو ڈیوڑھی سے باہر رکھیں قدم\nہے ہے وہ میرا دردِ مصیبت وہ رنج و غم\nجاگی ہوں میں جو چونک کے راتوں کو روئے ہیں\nپوچھو تو کس کی چھاتی پہ بچپن میں سوئے ہیں\n\nکنگھی کسی کے ہاتھ کی بھاتی نہ تھی کبھی\nبے میرے لیٹے نیند انہیں آتی نہ تھی کبھی\nبے ان کی ماں کی قبر پہ جاتی نہ تھی کبھی\nروئیں پسر، پہ ان کو رلاتی نہ تھی کبھی\nمیرے سوا کسی کو کبھی جانتے نہ تھے\nجو تھی سو میں تھی ماں کو تو پہچانتے نہ تھے\n\nہر چند دونوں تھے مرے فرزند خورد سال\nپر اِن کے آگے اُن کا مجھے کچھ نہ تھا خیال\nراتوں کو جب لپٹتے تھے مجھ سے وہ نونہال\nمیں کہتے تھی ہٹو علیؔ اکبر ہے میرا لال\nوہ دونوں مرنے والے تو پہلو میں ہوتے تھے\nپھیلا کے پاؤں یہ مری چھاتی پہ سوتے تھے\n\nچھوٹا تو ضد بھی کرتا تھا راتوں کو بارہا\nپرعونؔ کیا عقیلؔ تھا بخشے اسے خدا\nدن رات تھی خوشامدِ ہم شکل مصطفا\nسینے پہ جب یہ سوئے تو اس نے یہی کیا\nآقا کے نور عین ہیں عالی مقام ہیں\nاماں یہ شاہزادے ہیں اور ہم غلام ہیں\n\nرہتے تھے پاس باپ کے وہ غیرتِ قمر\nالفت میں ان کی مجھ کو کچھ ان کی نہ تھی خبر\nقرآن پڑھنے بیٹھتی تھی جب دمِ سحر\nصورت پہ تھی انہیں کی تلاوت میں بھی نظر\nغافل نہ ان کے پیار سے میں ایک آن تھی\nقرآں تو رحل پر تھا حمائل میں جان تھی\n\nمیں نے انہیں پہ صدقے کئے اپنے دونوں لال\nتسکین تھی کہ باقی ہے اکبر سا نونہال\nمانگے تو آگے مجھ سے بھلا رخصتِ جدال\nنکلوں گی ساتھ خیمے سے بکھرا کے سر کے بال\nکیا خوب جیتے جی مَرے جائیں گے مرنے کو\nتلوار باندھ لی ہے ہمیں ذبح کرنے کو\n\nبچپن میں تھا نہ ہم سے زیادہ کسی کا پیار\nاب کیا غرض گزر گئی وہ فصل وہ بہار\nبھیگیں مسیں نمود ہوا سبزۂ عذار\nمالک ہیں خود بھلا مرا اب کیا ہے اختیار\nثابت ہوا اِدھر سے اُدھر مرنے جائیں گے\nمیں مر بھی جاؤں گی تو وہ یاں تک نہ آئیں گے\n\nباہر سدھارے یا ابھی ہیں ماں سے کچھ کلام\nبھابی نے کیوں لیا تھا ابھی رو کے میرا نام\nسینے پہ منہ کو رکھ کے یہ بولا وہ لالہ فام\nآنکھیں تو آپ کھولیے حاضر ہے یہ غلام\nخادم جدا نہ تھا شہِ گردوں سریر سے\nکس جرم پہ حضور خفا ہیں حقیر سے\n\nکیا ہے قصور جس پہ یہ غصہ ہے یہ عتاب\nکرتا ہوں بات میں کوئی بے مرضیِٔ جناب\nروتا ہوں اب کہ صبر کی مجھ کو نہیں ہے تاب\nشکوہ یہ خاکسار کا اے بنتِ بوتراب\nہر دکھ میں ہر بلا میں مددگار آپ ہیں\nپالا ہے مجھ کو مالک و مختار آپ ہیں\n\nپیدا ہوا تو آپ کی صحبت مجھے ملی\nکرتی ہے روح شکر وہ راحت مجھے ملی\nیوسف کو کب ملی تھی جو دولت مجھے ملی\nرکھا عزیز آپ نے عزت مجھے ملی\nصدقہ ہے اس قدم کا جو سر تا فلک گیا\nکی مہر آفتاب نے، ذرہ چمک گیا\n\nمرضی نہ ہو تو رن کو بھی جائے نہ یہ غلام\nبندے ہیں ہم اطاعتِ مالک سے ہم کو کام\nتکرار کی مجال نہ اصرار کا مقام\nمرتے اگر تو اس میں بھی تھا آپ ہی کا نام\nروتی ہیں آپ کس لیے اچھا نہ جائیں گے\nپر یاد رکھیے منہ نہ کسی کو دکھائیں گے\n\nیہ کہہ کے جھک گیا جو قدم پر وہ ذی وقار\nبس ہو گئیں محبتِ قلبی سے بے قرار\nپھیلا کے دونوں ہاتھوں کو اٹھیں بحال زار\nشکوے کے بدلے منہ سے یہ نکلا کہ میں نثار\nامڈا یہ دل کہ چشم کے ساغر چھلک پڑے\nدیکھا جو آفتاب کو آنسو ٹپک پڑے\n\nلے کر بلایں بولیں کہ واری خفا نہ ہو\nصدقے ہے تم پہ جان ہماری خفا نہ ہو\nباتیں تھیں یہ تو پیار کی ساری خفا نہ ہو\nروتے ہو کیوں منگاؤ سواری خفا نہ ہو\nآئے بلا حسینؔ پہ جو اس کو رد کرو\nاچھا سدھارو دکھ میں پدر کی مدد کرو\n\nالفت کے جوش میں تو یہ منہ سے کہا مگر\nاٹھا یہ دل میں درد کہ تھرا گیا جگر\nکبراؔ کو روتے دیکھ کے بولی وہ نوحہ گر\nکیا ماجرا ہوا مجھے مطلق نہیں خبر\nمیں روکنے نہ پائی کہ وار ان کا چل گیا\nکیا میں نے کہہ دیا کہ کلیجہ نکل گیا\n\nکیا جا کے اب نہ آئے گا گھر میں یہ نونہال\nہے ہے مری کمائی پہ آ جائے گا زوال\nجس وقت سے شہید ہوئے رن میں دونوں لال\nبیہوش ہوں، حواس میں ہے میرے اختلال\nایسا ہے اضطراب کہ کچھ جس کی حد نہیں\nجو آپ میں نہ ہو سخن اس کا سند نہیں\n\nمیں ہوش میں نہ تھی یہ قدم پر گرے تھے جب\nمیں بھی کہوں، یہ پاؤں پہ گرنے کا کیا سبب\nلو مجھ پہ اب کھلا کہ یہ رخصت کی تھی طلب\nاکبرؔ کو میں نے ہاتھ سے کھویا تھا ہے غضب\nاِصلا خبر نہیں مرے دلبر نے کیا کہا\nمیں نے جواب کیا دیا اکبرؔ نے کیا کہا\n\nکیا کہہ دیا تھا مرنے کو جائے یہ گل بدن\nراضی ہوئی تھی میں کہ خزاں ہو مرا چمن\nبیخود ہوں جب سے رن میں سدھارے شہِ زمن\nکہتی ہوں کچھ زباں سے نکلتا ہے کچھ سخن\nاتنی خبر نہیں علیؔ اکبر کے پیار میں\nقابو میں ہے نہ دل نہ زباں اختیار میں\n\nزندوں میں ہوتی گر تو یہ کہتی کہ مرنے جائیں\nاس پیاس میں شہید ہوں فاقوں میں زخم کھائیں\nاٹھا رواں برس ہے دلھن تو مجھے دکھائیں\nپالا ہے منتوں سے، مُرادیں مری برآئیں\nمرتی ہوں اشتیاق میں سہرا تو دیکھ لوں\nسہرے کے نیچے چاند سا چہرا تو دیکھ لوں\n\nرخصت کے نام سے مرا پھٹتا ہے اب جگر\nایسا نہ ہو کہ بانوئے بے کس کو ہو خبر\nگر سن لیا تو دل میں کہے گی وہ نوحہ گر\nپیارا ہوا نہ بنتِ علیؔ کو مرا پسر\nسمجھیں تھیں کیا جو دی اسے رخصت جدال کی\nزینبؔ نے ہائے قدر نہ کی میرے لال کی\n\nسچ ہے کہ اس کی چاہ سے نسبت مجھے کہاں\nہوں لاکھ ان کی چاہنے والی وہ پھر ہے ماں\nآنکھوں کا نور قلب کی طاقت بدن کی جاں\nآنچ آتما کی ہے وہ قیامت کہ، الاماں\nکیا سوچتے ہو صاحبو کچھ تم کو خیر ہے\nماں ہے تو ماں ہے خلق میں پھر غیر غیر ہے\n\nماں کی نہ کم توجہی اور نہ کسی کا پیار\nغصہ ہو، یا کہ سخت کہے دل میں ہے نثار\nبلبل فدا ہے گل پہ، شکایت کرے ہزار\nدنیا میں عاشقوں کے دلوں کو کہاں قرار\nدیں ماں کا ساتھ نامِ خدا اب جوان ہیں\nمیرا ہے جب یہ حال، پھر اس کی تو جان ہیں\n\nجس دم سنے یہ دُور سے بانو نے سب کلام\nآئی قریب حضرت زینب وہ نیک کام\nکی غرض ہاتھ جوڑ کے اے خواہر امام\nمیں ہوں کنیز آپ کی اور یہ پسر غلام\nکس کی مجال ہے جو کہے گا یہ کیا کیا\nبی بی نے دی غلام کو رخصت، بجا کیا\n\nلونڈی ہے فاطمہ کی کنیزوں میں با وفا\nہو قطع وہ زباں جو کرے آپ کا گلا\nحضرت کو ان کے سر پہ سلامت رکھے خدا\nمالک ہیں آپ اس میں کسی کو ہے دخل کیا\nکچھ جائے گفتگو ہے نہ ماں کو نہ باپ کو\nہے دخل اذن دینے نہ دینے کا آپ کو\n\nغم کھائیے نہ خونِ جگر آپ پیجئے\nعابدؔ کو بھیج دیجیے اصغرؔ کو بھیجئے\nہے اختیار دیجیے رخصت نہ دیجیے\nقربان جاؤں جو ہو مناسب وہ کیجیے\nشادی ہو یا کہ غم ہو شریکِ ثواب ہوں\nہر طرح سے میں تابع حکمِ جناب ہوں\n\nگھر میرا جب سے لٹ گیا اس گھر میں آئی ہوں\nشکوے کا کوئی حرف کبھی لب پہ لائی ہوں\nکسریٰ کی گو کہ پوتی ہوں سلطاں کی جائی ہوں\nلونڈی ہوں آپ کی علیؔ اکبر کی دائی ہوں\nصدقہ یہ آپ کا ہے جو شہ کو عزیز ہوں\nبھاوج نہ جانیے مجھے ادنیٰ کنیز ہوں\n\nآپ اس کی ماں ہیں آپ کا فرزند ہے یہ لال\nدخل اس معاملہ میں کوئی دے یہ کیا مجال\nیہ عازم جدال ہے اور آپ کا یہ حال\nقدموں کو چھوڑتا نہ کبھی یہ نکو خصال\nآپ اس کو چاہتی ہیں یہ صدقے ہے آپ پر\nپر کیا کرے کہ آج مصیبت ہے باپ پر\n\nقسمت بری ہے اس میں کسی کا قصور کیا\nاچھا رہیں کہ جائیں ہمارا بھی ہے خدا\nپروا ہماری ہے نہ خیال ان کو آپ کا\nتابع ہم آپ کے بھی ہیں ان پر بھی ہیں فدا\nعابدؔ ہوں یا کہ یہ سبھی، آنکھوں کے تارے ہیں\nپر اب تو یہ نہ آپ کے ہیں، نہ ہمارے ہیں\n\nیہ سن کے کانپنے لگی زینبؔ جگر فگار\nآئی صدائے فاطمہؔ بیٹی یہ ماں نثار\nاللہ یہ محبتِ فرزند اور یہ پیار\nتنہا ستم کی فوج میں ہے میرا گل عذار\nرخصت نہ دے گی تو اگر اس نور عین کو\nکون اب بچائے گا مرے بیکس حسینؔ کو\n\nآواز سن کے کانپ گئی بنتِ مرتضا\nبانوؔ کے منہ کو دیکھ کے اکبرؔ سے یہ کہا\nواری سدھارو خیر جو کچھ مرضیِٔ خدا\nترکِ ادب ہے تم کو اگر اب نہ دوں رجا\nیاں والدہ بہشت سے تشریف لائی ہیں\nبنتِ نبی تمہاری سفارش کو آئی ہیں\n\nتسلیم کرکے خیمے سے وہ سیم بر چلا\nپیچھے حرم کا قافلہ سب ننگے سر چلا\nبانوؔ پکارتی تھی کہ پیارا پسر چلا\nچلاتی تھی پوپھی مرا لختِ جگر چلا\nلٹتے ہیں اہلِ بیت دہائی امام کی\nتصویر گھر سے جاتی ہے خیر الانام کی\n\nبھائی کے غم سے عابدِ بیکس تھے بے قرار\nاٹھتے تھے اور زمین پہ گرتے تھے باربار\nبہنیں پکارتی تھیں کہ بھیا ترے نثار\nسینوں کو پیٹتی تھیں خواصیں بہ حال زار\nاک حشر تھا جدا علیؔ اکبر جو ہوتے تھے\nجھولے میں پھوٹ پھوٹ کے اصغرؔ بھی روتے تھے\n\nہلتا تھا خیمہ رانڈوں میں تھی، یہ دھڑا دھڑی\nآہوں کی بجلیاں تھیں تو اشکوں کی تھی جھڑی\nکوئی ادھر کو غش تھی کوئی تھی اُدھر پڑی\nآفت کا وقت تھا تو قیامت کی تھی گھڑی\nماتم تھا یہ حسینؔ کے تازہ جوان کا\nجاتا ہے گھر سے جیسے جنازہ جوان کا\n\nنکلا حرم سرا سے جو وہ نورِ حق کا نور\nخادم نے دی صدا کہ برآمد ہوئے حضور\nحضرت کھڑے تھے خیمے کی ڈیوڑھی سے کچھ جو دور\nدستِ ادب کو جوڑ کے بولا وہ ذی شعور\nرخصت ہوں اب جو حکم شہ نامدار ہو\nرو کر کہا حسینؔ نے اچھا سوار ہو\n\nگھوڑے پہ شاہزادۂ عالم ہوا سوار\nگویا چلے جہاد کو محبوب کردگار\nتھا ثانیِٔ براق فلک سیر راہوار\nصرصر سے تند و تیز تو بجلی سے بے قرار\nیوں سامنے سے وہ دمِ جولاں نکل گیا\nگویا ہوا پہ تختِ سلیماں نکل گیا\n\nحضرت تو یاں زمیں پہ گرے تھام کر جگر\nجاسوس نے یہ لشکر اعدا کو دی خبر\nآتا ہے اک جوانِ حسیں غیرت قمر\nچہرہ پہ اس کے نور محمد ہے جلوہ گر\nشان و شکوہ سب اسدِ کبریا کی کی ہے\nکہتے ہیں سب بشر نہیں قدرت خدا کی ہے\n\nہے دھوم ذرے ذرے میں اس آفتاب کی\nخوشبو ہے زلف و جسم میں مشک و گلاب کی\nسر تا قدم ہے شان رسالت مآب کی\nتصویر ہے رسولِ خدا کے شباب کی\nگھوڑے کے گرد جن و ملک کا ہجوم ہے\nصلّو علی النبی کی بیاباں میں دھوم ہے\n\nروشن کیا ہے روئے منور نے راہ کو\nرخ پر نہیں ٹھہرنے کا یارا نگاہ کو\nحیراں ہے عقل دیکھ کے زلفِ سیاہ کو\nآغوش میں لیے ہے شبِ قدر ماہ کو\nچہرے کے نور سے شبِ مہتاب ماند ہے\nخالق گوا ہ ہے کہ اندھیرے کا چاند ہے\n\nیہ ذکر تھا کہ نورِ خدا جلوہ گر ہوا\nگویا رسولِ پاک کا رن میں گذر ہوا\nچلائے اہلِ شام کہ طالع قمر ہوا\nہنگامِ ظہر تھا پہ گمانِ سحر ہوا\nجلوہ دکھایا برق تجلیِٔ طور نے\nخورشید کو چھپا دیا چہرے کے نور نے\n\nغش کھا گیا کوئی کوئی گر کر سنبھلا گیا\nصلِّ علیٰ کسی کی زباں سے نکل گیا\nخجلت سے آفتاب کا نقشبہ بدل گیا\nچمکا جو نور دھوپ کا جو بن بھی ڈھل گیا\nدریائے نور حق کا فقط اوج موج تھا\nسب پست تھے زمیں کے ستارے کا اوج تھا\n\nصحرا کو شمعِ حسن نے تابند کر دیا\nجو مردہ دل تھے دم میں انہیں زندہ کر دیا\nذروں کو آفتاب درخشندہ کر دیا\nگردوں کو اس زمین نے شرمندہ کر دیا\nپایہ زمیں کا عرش کے ہم دست ہو گیا\nجادے سے اوجِ کاہکشاں پست ہو گیا\n\nاللہ رے نبیرۂ مشکل کشا کی شان\nتھی جس کے عضو عضو سے پیدا خدا کی شان\nحیراں تھے لوگ دیکھ کے اس مہ لقا کی شان\nحمزہ کا رعب زورِ علی مصطفی کی شان\nپاکیزگی نسب میں بزرگی صفات میں\nشیرینیٔ کلام حسنؔ بات بات میں\n\nکچھ حسن بچپنے کا تو کچھ آمد شباب\nوہ گل سا جسم اور وہ چہرے کی آب و تاب\nاپنی جگہ یہ خال کے نقطے ہیں انتخاب\nپتلی کا نور جن کی سیاہی سے بہرہ یاب\nگردن کی ضو میں طَور تجلیٔ طُور کے\nسب عضو تن ڈھلے ہوئے سانچے میں نور کے\n\nدل پاک روح پاک نطر پاک جسم پاک\nطینت میں آبِ خلد تھا اور کربلا کی خاک\nغرفوں سے جس کے حسن کی حوروں کو جھانک تاک\nیوسف جو دیکھ لیں تو کہے روحنا فداک\nنام اس کا لوح پر جو قلم نے رقم کیا\nسو بار پڑھ کے سورۂ نور اس پہ دم کیا\n\nکیا دخل، چار ہو، جو کسی بے ادب کی آنکھ\nرکھتی تھی رعب یہ، نہ عجم نہ عرب کی آنکھ\nلاکھوں تھے اس طرف پہ جھپکتی تھی سب کی آنکھ\nغصہ ستم کا، قہر کی چتون غضب کی آنکھ\nپانی تھا، خوف جاں سے جگر، ہر دلیر کا\nآہو شکار کرتے تھے میداں میں شیر کا\n\nغل تھا رسولِ پاک کے ثانی کو دیکھنا\nحسنِ بہار باغ جوانی کو دیکھنا\nکھلتے ہیں گل شگفتہ بیانی کو دیکھنا\nیہ سب تو ہے پہ غنچہ دہانی کو دیکھنا\nنازک لب اس صفت کے دہن اس طریق کا\nخاتم پہ جڑ دیا ہے نگینہ عقیق کا\n\nکچھ عمر بھی نہیں ابھی اٹھارواں ہے سال\nیہ باغ کس بہار میں ہوتا ہے پائمال\nقامت یہ ہے کہ سروِ گلستانِ اعتدال\nماں باپ دیکھ دیکھ کے کیوں کر نہ ہوں نہال\nآنکھوں کے سامنے جو یہ قامت نہ ہوئے گی\nبتلاؤ ماں کہ دل پہ قیامت نہ ہوئے گی\n\nزخمی جو ہوگی تیر سے یہ چاند سی جبیں\nپٹکے گی سر کو خاک پہ بانوئے دل حزیں\nتیغوں سے جب کٹیں گے یہ رخسار نازنیں\nپیٹیں گے دونوں ہاتھوں سے منہ اپنا شاہِ دیں\nسینہ چھدے پسر کا تو کیا دل کو کل پڑے\nایوبؔ بھی جو ہوں تو کلیجہ نکل پڑے\n\nناگاہ فوج کیں سے عمرؔ نے کیا کلام\nیہ وقت کار زار ہے اے ساکنانِ شام\nبس ہے یہی بساط شہنشاہِ خاص و عام\nمارا گیا یہ شیر تو مر جائیں گے امام\nلُوٹو جناب فاطمہؔ زہرا کے باغ کو\nٹھنڈا کرو حسینؔ کے گھر کے چراغ کو\n\nتصویر مصطفی کی مٹائے گا آج جو\nکہتا ہوں میں کہ صاحب جاگیر ہوگا وہ\nمحبوب کبریا کے مشابہ ہے گر تو ہو\nاب مصلحت یہی ہے کہ مہلت اسے نہ دو\nہے اس سے کیا مراد حسیں ہے کہ نیک ہے\nدو لاکھ اس طرف ہیں دلاور وہ ایک ہے\n\nدنیا نہ جائے دین کا گر ہو تو ہو ضرر\nٹکڑے کرو اسے کہ یہ دشمن کا ہے پسر\nتم آب دیدہ ہو لبِ خشک اس کے دیکھ کر\nقطرہ نہ دوں میں گھٹنیوں اصغرؔ بھی آئے گر\nغیر از یزیدؔ اور کوئی حکمراں نہ ہو\nاولاد مرتضیٰ میں کسی کا نشاں نہ ہو\n\nہاں غازیو نہ اس کی جوانی کا غم کرو\nنیزے پہ نیزے مارو ستم پر ستم کرو\nبرچھی اٹھاؤ ہاتھوں پہ تیغیں علم کرو\nنخلِ مرادِ سبطِ نبی کو قلم کرو\nبیٹا نہ جب رہا تو کدھر جائیں گے حسینؔ\nگھوڑے سے یہ گرے گا تو مرجائیں گے حسینؔ\n\nچھد جائے گا سناں سے جو اس شیر کا جگر\nتڑپیں گے کیا زمیں پہ شہنشاہ بحر و بر\nڈیوڑھی سے ماں پکارے گی ہے ہے مرا پسر\nنکلے گی خیمہ گاہ سے زینبؔ برہنہ سر\nحضرت تو پیٹتے ہوئے لاشے پہ آئیں گے\nہم لوٹنے کو خیمۂ اقدس میں جائیں گے\n\nیہ گل عذار دخترِ حیدرؔ کی جان ہے\nبہنوں کی زندگی ہے برادر کی جان ہے\nبابا کی روح ہے تنِ مادر کی جان ہے\nبے جاں کرو اسے کہ یہ سب گھر کی جان ہے\nجوشن یہی ہے بازوئے برناوپیر کا\nبعد اس کے خاتمہ ہے صغیر و کبیر کا\n\nیہ سن کے فوجِ کیں ہوئی آمادۂ نبرد\nدردِ دل حسین کا تھا ایک کو نہ درد\nغل سن کے ہو گیا شہ والا کا رنگ زرد\nکانپے جو پاؤں بیٹھ گئے بھر کے آہ سرد\nماں گر پڑی زمیں پہ پھوپھی بلبلا گئی\nبدلی ستم کی واں علیؔ اکبر پہ چھا گئی\n\nقرنا پھکی سپاہ میں طبلِ وغا بجا\nباندھے پرے سواروں نے بڑھ بڑھ کے جابجا\nپیدل، چلے نبرد کو باجے بجابجا\nچلاے اہلِ بیت کہ ہے ہے یہ کیا بجا\nحضرت پکارے لال پہ اعدا کے ریلے ہیں\nرانڈو دعا کرو علیؔ اکبر اکیلے ہیں\n\nلڑنے کو اس طرف سے عدو سب کے سب بڑھے\nتنہا ادھر سے اکبرؔ عالی نسب بڑھے\nچومے قدم نہیب نے جھک کر یہ جب بڑھے\nگویا پئے جہاد امیر عرب بڑھے\nدہشت سے فوج شام کی بدلی سمٹ گئی\nقدرت خدا کی دن جو بڑھا رات گھٹ گئی\n\nڈھالوں کو رکھ کے چہروں پہ گر گر پڑے حسود\nگو تھے کئی ہزار پہ کیا ان کی ہست و بود\nتھرا گیا تمام جنودِ سقر و رود\nنورِ خدا کے سامنے ظلمت کی کیا نمود\nعبرت سپاہ شام پہ دِہ چند ہو گئی\nباجوں کی فوجِ کیں کے صدا بند ہو گئی\n\nجرار کی زرہ پہ لگے جب کئی خدنگ\nصفدر نے پڑھ کے فاتحہ، لی تیغ شعلہ رنگ\nچمکا اک آئینہ کہ ہوئی فوجِ شام دنگ\nدکھلائے تیغ تیز نے بجلی کے رنگ ڈھنگ\nتھی کس کو تاب صاعقۂ شعلہ بار کی\nیاد آ گئی ہر اک کو چمک ذوالفقار کی\n\nتھم تھم کے یوں گیا صفِ اعدا پہ وہ دلیر\nجاتا ہے داؤں کر کے غزالوں پہ جیسے شیر\nغازی جو بھوک پیاس میں تھا زندگی سے سیر\nکشتوں کے پشتے ہو گئے دم میں سروں کے ڈھیر\nاک سیل زور شور سے آئی گذر گئی\nثابت نہ یہ ہوا صفِ اول کدھر گئی\n\nجب یہ بڑھے لہو تنِ اعدا کا گھٹ گیا\nباقی تھا جو حساب وہ لاشوں سے پٹ گیا\nلشکر میں فرد فرد کا چہرا جو کٹ گیا\nپس دفعتاً سپاہ کا دفتر الٹ گیا\nسر داخلِ خزانۂ سرکار ہوگئے\nپہلا ہی جائزہ تھا کہ بیکار ہوگے\n\nچہرے پہ ایک کے نہ بحالی نظر پڑی\nجو صف بھری ہوئی تھی وہ خالی نظر پڑی\nسر پر سبھوں کے تیغ ہلالی نظر پڑی\nسوئے جنوب فوجِ شمالی نظر پڑی\nغل تھا کہ تیغ تیز نہیں موت آتی ہے\nکیوں کر قدم تھمیں کہ زمیں سرکی جاتی ہے\n\nٹکڑے پڑے تھے خاک پہ بھالے اِدھر اُدھر\nچھپتے تھے ڈر کے برچھیوں والے اِدھر اُدھر\nپیشِ نظر تھے خون کے تھالے اِدھر اُدھر\nابتر تھے دشتِ کیں میں رسالے اِدھر اُدھر\nملتا تھا فصل کا نہ ٹھکانا نہ باب کا\nشیرازہ کھل گیا تھا ستم کی کتاب کا\n\nبڑھ کر کسی نے وار جو روکا سپر کٹی\nچار آئینہ کٹا زرہِ خیرہ سر کٹی\nنیزے کی ہرگرہ صفتِ نیشکر کٹی\nسینہ کٹا جگر ہوا زخمی کمر کٹی\nرہوار بھی دو نیم میانِ مصاف تھا\nان سب کے بعد منہ کو جو دیکھا تو صاف تھا\n\nوہ گھاٹ باڑھ اور وہ اس کی چمک دمک\nکانپی کبھی زمیں کبھی تھرا گئے فلک\nشعلے میں یہ چمک تھی نہ بجلی میں یہ لپک\nہر ضرب میں سما سے تلاطم تھا تا سمک\nکونین میں حواس بجا تھے نہ ایک کے\nگاوِ زمیں سمٹتی تھی گھنٹوں کو ٹیک کے\n\nسیدھی چلی وہ جب صفِ دشمن الٹ گئی\nباقی تھی جتنی عمر تہِ تیغ کٹ گئی\nآ کر زمیں پہ جب سوئے گردن پلٹ گئی\nبجلی سے رعد رعد سے بجلی لپٹ گئی\nگرتے تھے جن، زمین پہ منہ ڈھانپ ڈھانپ کے\nہٹتے تھے جبرئیل امیں کانپ کانپ کے\n\nملتا نہ تھا صفوں میں عَلم کا نشاں کہیں\nچلے کہیں تھے شست کہیں اور کماں کہیں\nنیزے کہیں تھے ڈانڈ کہیں اور سناں کہیں\nجمدھر کہیں کمند کہیں برچھیاں کہیں\nاک اک سیاہ رو کا جگر داغ داغ تھا\nجنگل تمام ڈھالوں کے پھولوں سے باغ تھا\n\nچمکی گری اٹھی ادھر آئی اُدھر گئی\nخالی کیے پرے تو صفیں خوں میں بھر گئی\nکاٹے کبھی قدم کبھی بالائے سر گئی\nندی غضب کی تھی کہ چڑھی اور اتر گئی\nاک شور تھا یہ کیا ہے جو قہر صمد نہیں\nایسا تو رودِ نیل میں بھی جزر و مد نہیں\n\nسر خود سروں کے چنبر گردن سے اڑ گئے\nہاتھ آستیں سے اڑ گئے سر تن سے اڑ گئے\nڈر ڈر کے سب پرند نشیمن سے اڑ گئے\nپائی جو راہ طائرِ جاں سَن سے اڑ گئے\nتھے قتلِ عام پر علیؔ اکبر تلے ہوئے\nرستے تھے بند زخموں کے کوچے کھلے ہوئے\n\nاللہ رے دو زبانیٔ تیغ دو دم کا کاٹ\nآفت تھی جس کی باڑھ قیامت تھا جس کا گھاٹ\nمقتل سے تا بہ نہر تھا دریائے خوں کا پاٹ\nہر دم تھی اس کو تازہ لہو چاٹنے کی چاٹ\nسختی کو جوڑ بند کے کب مانتی تھی وہ\nہر استخواں کو مغز قلم جانتی تھی وہ\n\nآئی جدھر پلٹ کے صفوں کو بچھا گئی\nتن سے اڑا دیا وہی سر جس کو پا گئی\nہر اک کڑی کو نرم سمجھ کر چبا گئی\nفولاد کی زرہ کو اشارے میں کھا گئی\nچار آئینہ کا کاٹ بھی اس پر حوالہ تھا\nذکر اس کا کیا ہے خود تو منہ کا نوالہ تھا\n\nیارا قرار کا تھا نہ صورت فرار کی\nپیدل کی موت تھی تو خرابی سوار کی\nروئیں تنوں کو، تاب نہ تھی ایک وار کی\nٹکڑے تھے دو کے ہاتھ یہ گھائی تھی چار کی\nآگے بڑھے تو منہ وہیں کٹ جائے گیو کا\nبجلی کی تھی کڑک کہ طمانچہ تھا دیو کا\n\nاتری زمیں پہ وہ سر دشمن پہ جب چڑھی\nدم بھر میں آبِ تیغ کی ندی غضب چڑھی\nاک شور تھا صفوں میں کب اتری یہ کب چڑھی\nسب کو بخارِ تیغ سے لرزے کی تپ چڑھی\nمقتل سے بھاگنے پہ تنک ظرف تُل گئے\nکانپے یہ نیزہ باز کہ سب بند کُھل گئے\n\nزندہ کسی کو تیغ دو دم چھوڑتی نہ تھی\nپیاسی یہ تھی کہ جسم میں دم چھوڑتی نہ تھی\nبے دم کیے گلا کوئی دم چھوڑتی نہ تھی\nبھاگیں کہاں کہ موت قدم چھوڑتی نہ تھی\nخود وہ دبے جو لڑتے تھے گھوڑوں کو داب کے\nبیڑی قدم میں بن گئے، حلقے رکاب کے\n\nقعرِ سقر میں کشتۂ ضربِ نخست تھے\nبے سر ہوئے بہت جو لڑائی میں چست تھے\nقبضہ میں تھا نہ زور نہ بازو درست ھے\nکھینچیں کسے کمانوں کے بازو بھی سست تھے\nہر کج نہاد تیر اجل کا نشانہ تھا\nشانے بھی تھے قلم یہ نیا شاخسانہ تھا\n\nتیغوں کو ڈر کے عربدہ جو پھینکنے لگے\nمغفر سروں سے مثل سبو پھینکنے لگے\nحلقے کماں کے سب لب جو پھینکنے لگے\nتنکا سمجھ کے تیر عدو پھینکنے لگے\nترکش بھی اہل ظلم کے آفت رسیدہ تھے\nچلّے بھی کشمکش میں کماں سے کشیدہ تھے\n\nکرتے تھے فتح جنگ کو جو ایک آن میں\nرعشہ تھا ان کے ہاتھ میں لکنت زبان میں\nالجھاتے تھے کمند کمینے کمان میں\nترکش میں تیغیں رکھتے تھے تیروں کو میان میں\nتلوار رکھ کے ہاتھ سے منہ ڈھانپ لیتے تھے\nآتی تھی تیغ جب تو سپر پھینک دیتے تھے\n\nبڑھتے تھے جو پرے سے بڑے بول بول کے\nپہلے انہیں کو مار لیا رول رول کے\nحملہ کیا جو تیغِ دو دم تول تول کے\nہتھیار سب نے پھینک دیے کھول کھول کے\nاس شان سے کبھی نہ عجم نہ عرب لڑے\nدو دن کی پیاس میں علیؔ اکبر غضب لڑے\n\nدہشت سے کتنے ڈوب کے دریا میں مر گئے\nاس گھاٹ پر جو آئے سر ان کے اتر گئے\nرستہ تھا ایک اِدھر وہ گئے یا اُدھر گئے\nہر پھر کے ہر طرف سے میانِ سقر گئے\nنار ان کے اشتیاق میں آب ان کی لاگ میں\nپھینکا ہوا نے آب میں پانی نے آگ میں\n\nوہ حرب وہ شکوہ وہ شان پیمبری\nنعرے وہ زور و شور کے وہ ضرب حیدریؔ\nوہ تیغ خوں چکاں وہ جلالِ غضنفری\nراکب جو رشکِ حور تو رہوار بھی پری\nچالاک آہوانِ ختن اس قدر نہ تھے\nاڑ جاتا تھا ہما کی طرح اور پر نہ تھے\n\nباریک جلد وہ کہ نظر آئے تن کا خوں\nکنڈے کو دیکھ کر مہِ نو ہووے سرنگوں\nرفتار میں وہ سحر کہ پریوں کو ہو جنوں\nغنچے بھی کچھ بڑے ہیں کنوتی کو کیا کروں\nقرباں ہزار جان، فرس بے نظیر پر\nپیکان دو چڑھے ہوئے ہیں ایک تیر پر\n\nکوتاہ و گرد و صاف کنوتی کمر کفل\nکیا خوشنما کشادگیِٔ سینہ و بغل\nسیماب کی طرح نہیں آرام ایک پل\nپھرتا تھا اس طرح کہ پھرے جس طرح سے کَل\nراکب نے سانس لی کہ وہ کوسوں روانہ تھا\nتارِ نفس بھی اس کے لیے تازیانہ تھا\n\nوہ جست خیز سرعتِ چالاکیِٔ سمند\nسانچے میں تھے ڈھلے ہوئے سب اس کے جوڑ بند\nسُم قرص ماہتاب سے روشن ہزار چند\nنازک مزاج و شوخ و سیہ جسم سر بلند\nگر ہل گئی ہوا سے ذرا باگ اڑ گیا\nپُتلی سوار کی نہ پھری تھی کہ مُڑ گیا\n\nآہو کی جست شیر کی آمد پری کی چال\nکبکِ دری خجل پر طاؤس پائمال\nسبزہ سبک روی میں قدم کے تلے نہال\nاک دو قدم میں بھول گئے چوکڑی غزال\nجو آ گیا قدم کے تلے گرد برد تھا\nچھل بل غضب کی تھی کہ چھلاوا بھی گرد تھا\n\nبجلی کبھی بنا کبھی رہوار بن گیا\nآیا عرق تو ابر گہر بار بن گیا\nگہ قطب، گاہ گنبد دوّار بن گیا\nنقطہ کبھی بنا کبھی پرکار بن گیا\nتیراں تھے اس کے گشت پہ لوگ اس ہجوم کے\nتھوڑی سی جا میں پھرتا تھا کیا جھوم جھوم کے\n\nجب اس جری نے قتل کیے پانچ سو جواں\nہر صف سے ہر پرے سے اٹھا شور الاماں\nچلایا ابن سعدِ سیہ قلب و سخت جاں\nنکلیں وہ دس ہزار کماندار ہیں کہاں\nبرچھی کا اب ہے کام نہ تلوار چاہیے\nاس نوجواں پہ تیروں کی بوچھار چاہیے\n\nیہ سن کے تشنہ لب پہ چلے چار سو سے تیر\nپتھر عقب سے پڑنے لگے رو برو سے تیر\nآتے تھے فوج فوج، سپاہِ عدو سے تیز\nسب سرخ تھے شبیہ نبی کے لہو سے تیر\nمقتل میں کیا ہجوم تھا اس نور عین پر\nپروانے گر رہے تھے چراغِ حسینؔ پر\n\nسینے پہ تیر کھا کے اٹھایا جو راہوار\nبجلی چمک کے ہو گئی گویا فلک کے پار\nسر خاک پر گرانے لگی تیغِ آبدار\nتیروں کو پھینک پھینک کے بھاگے خطا شعار\nحملہ کیا تھا جن پہ رخ ان کے تو پھر گئے\nپر یہ پلٹ کے برچھیوں والوں میں گھر گئے\n\nیوں آ گیا سنانوں میں وہ آسماں جناب\nہو جس طرح خطوطِ شعاعی میں آفتاب\nسوکھی زباں میں پڑ گئے کانٹے بغیر آب\nطاقت بھی فرط ضعف سے دینے لگی جواب\nآمد ہوئی جو غش کی سرِ پاک جھک گیا\nواحسرتا کہ ہاتھ بھی لڑنے سے رک گیا\n\nاس حال میں بھی تیغ سے کیں برچھیاں قلم\nلیکن جگر پہ لگ گیا اک نیزۂ ستم\nزخمِ جگر سے بہنے لگا خون دم بہ دم\nنکلے ہوئے رکابوں سے تھراتے تھے قدم\nکھینچا جو اس نے سینے سے نیزہ تکاں کے ساتھ\nدو پارۂ جگر نکل آئے سناں کے ساتھ\n\nنیزہ لگا کے بھاگ چلا تھا وہ نابکار\nقربان جرأتِ پسرِ شاہِ نامدار\nزخمِ سناں تھا سینۂ انور کے وار پار\nماری شقی کو دوڑ کے اک تیغ آبدار\nپہونچوں سے اس کے ہاتھ قلم ہو کے گر پڑے\nلیکن فرس سے آپ بھی خم ہو کے گر پڑے\n\nگرنا تھا بس کہ سر پہ لگا گرز ہے ستم\nیوں جھک گئے کہ ہوتے ہیں سجدے میں جیسے خم\nرکھ دی گلے پر شیثؔ نے شمشیر تیز دم\nتلوار اک پڑی کہ ہوئیں پسلیاں قلم\nغل تھا کرو نہ رحم تنِ پاش پاش پر\nدوڑا دو گھوڑے اکبرؔ مہرو کی لاش پر\n\nحضرت کھڑے تھے خیمے کی پکڑے ہوئے طناب\nسن کر یہ غل رہی نہ دلِ ناتواں کو تاب\nناگاہ رن سے آئی صدا اے فلک جناب\nبیٹا جہاں سے جاتا ہے اب آئیے شتاب\nلاشے پہ ظلم و جور بد افعال کرتے ہیں\nگھوڑوں سے اہل کیں ہمیں پامال کرتے ہیں\n\nسن کر یہ استغاثۂ فرزند خوش خصال\nسید نے آہ کی کہ ہلا عرش ذو الجلال\nکھولے جناب فاطمہؔ کی بیٹیوں نے بال\nبانوؔ پکاری خیر تو ہے اے علیؔ کے لال\nہے ہے پسر سے کون سی مادر بچھڑ گئی\nصاحب بتاؤ کیا مری بستی اجڑ گئی\n\nنیزے سے کس کے لال کا زخمی ہوا جگر\nکرتے ہیں کس کی لاش کو پامال اہلِ شر\nکہتا ہے کون رن میں تڑپ کر پدرپدر\nاب گھر سے میں نکلتی ہوں ہے ہے مرا پسر\nپردہ نہ مجھ سے کیجیے سب جانتی ہوں میں\nآواز یہ اسی کی ہے پہچانتی ہوں میں\n\nبانوؔ کو قسمیں دے کے چلے شاہِ نامدار\nوہ پیاس اور وہ دھوپ کا صدمہ وہ اضطرار\nدل تھا الٹ پلٹ تو کلیجہ تھا بے قرار\nاٹھتے تھے اور زمین پہ گرتے تھے باربار\nچلاتے تھے شبیہ پیمبر ہم آتے ہیں\nگھبرائیو نہ اے علیؔ اکبر ہم آتے ہیں\n\nبیٹا پکارو پھر کہ بصارت میں فرق ہے\nاے نور عین جسم کی طاقت میں فرق ہے\nتم یہ نہ جانیو کہ محبت میں فرق ہے\nزخمی ہے قلب روح کی راحت میں فرق ہے\nداغِ جگر ملا ہمیں گودی میں پال کے\nکس کو دکھاؤں اپنا کلیجہ نکال کے\n\nآؤں کدھر کو اے علیؔ اکبر جواب دو\nچلا رہی ہے ڈیوڑھی پہ مادر جواب دو\nاکبرؔ برائے خالقِ اکبر جواب دو\nبیٹا جواب دو مرے دلبر جواب دو\nگرتے ہیں ہم ثواب کا ہاتھوں سے کام لو\nبیٹا ضعیف باپ کے بازو کو تھام لو\n\nکچھ سوجھتا نہیں کہ کدھر جاؤں کیا کروں\nاے نورِ چشم تجھ کو کہاں پاؤں کیا کروں\nمضطر ہے جان و دل کسے سمجھاؤں کیا کروں\nکیوں کر پسر کو ڈھونڈھ کے میں لاؤں کیا کروں\nپایا تھا مدتوں میں جسے خاک چھان کے\nوہ لال ہم نے کھو دیا جنگل میں آن کے\n\nبس اب خبر حسینؔ کی لے جلد اے اجل\nاے جسم زار، زیست کا باقی نہیں محل\nاے جانِ ناتواں تنِ مجروح سے نکل\nہاں اے نفس چھری کی طرح سے گلے پہ چل\nچھوٹے نہ اس کا ہاتھ جو پیری کی آس ہو\nلاشہ بھی لاشۂ علیؔ اکبر کے پاس ہو\n\nجنگل سے بے حواس پھرے نہر پر گئے\nواں بھی جو وہ گہر نہ ملا سوئے بر گئے\nدوڑے کسی طرف تو کسی جا ٹھہر گئے\nتھالے ملے لہو کے برابر جدھر گئے\nٹپکا ہوا زمیں پہ جگر کا لہو ملا\nلیکن کہیں نہ وہ پسر ماہ رو ملا\n\nجا کر صفوں کے پاس پکارے باشکِ آہ\nہے کس طرف مرے علیؔ اکبر کی قتل گاہ\nاے ظالمو، یہ شب ہے کہ دن ہو گیا سیاہ\nکس ابر میں چھپا ہے مرا چودھویں کا ماہ\nبتلاؤ جان ہے کہ نہیں جسم زار میں\nزخمی پڑا ہے شیر مرا کس کچھار میں\n\nلاش پسر کو ڈھونڈھتے تھے شاہِ بحر و بر\nسر پیٹنے کی جا ہے کہ ہنستے تھے اہل شہر\nکہتا تھا شمر اے پسر سید البشر\nکس کو حضور ڈھونڈھتے ہیں مر گیا پسر\nخود ڈھونڈھ لیجیے جسد پاش پاش کو\nبتلائیں گے نہ ہم علیؔ اکبر کی لاش کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D8%A7%D8%B2%DB%8C%D8%A7%D9%86%D9%90_%D9%81%D9%88%D8%AC%D9%90_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے\nان کا بندہ ہوں جو بندے ہیں محبت والے\n\nچاہیں گر چارہ جراحت کا محبت والے\nبیچیں الماس و نمک سنگ جراحت والے\n\nگئے جنت میں اگر سوز محبت والے\nتو یہ جانو رہے دوزخ ہی میں جنت والے\n\nساقیا ہوں جو صبوحی کی نہ عادت والے\nصبح محشر کو بھی اٹھیں نہ ترے متوالے\n\nدختر رز کو نہیں چھیڑتے ہیں متوالے\nحذر اس فاحشہ سے کرتے ہیں حرمت والے\n\nرہے جوں شیشۂ ساعت وہ مکدر دونوں\nکبھی مل بھی گئے دو دل جو کدورت والے\n\nکس مرض کی ہیں دوا یہ لب جاں بخش ترے\nجاں بہ لب ہیں ترے آزار محبت والے\n\nحرص کے پھیلتے ہیں پاؤں بہ قدر وسعت\nتنگ ہی رہتے ہیں دنیا میں فراغت والے\n\nہائے رے حسرت دیدار مری ہائے کو بھی\nلکھتے ہیں ھائے دو چشمی سے کتابت والے\n\nنہیں جز شمع مجاور مری بالین مزار\nنہیں جز کثرت پروانہ زیارت والے\n\nنہ شکایت ہے کرم کی نہ ستم کی خواہش\nدیکھ تو ہم بھی ہیں کیا صبر و قناعت والے\n\nکیا تماشا ہے کہ مثل مہ نو اپنا فروغ\nجانتے اپنی حقارت کو ہیں شہرت والے\n\nدل سے کچھ کہتا ہوں میں مجھ سے ہے کچھ کہتا دل\nدونوں اک حال میں ہیں رنج و مصیبت والے\n\nتو گر آ جائے تو اے درد محبت کی دوا\nمرے ہمدرد ہوں بے درد فضیحت والے\n\nچھوڑ دیتے ہیں قلم جوں قلم آتش باز\nمری شرح طپش دل کی کتابت والے\n\nکبھی افسوس ہے آتا کبھی رونا آتا\nدل بیمار کے ہیں دو ہی عیادت والے\n\nتو مرے حال سے غافل ہے پر اے غفلت کیش\nتیرے انداز تغافل نہیں غفلت والے\n\nہم نے دیکھا ہے جو اس بت میں نہیں کہہ سکتے\nکہ مبادا کہیں سن پائیں شریعت والے\n\nناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوقؔ\nاس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "کیا غضب ہے کہ چار آنکھوں میں", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "کیا غضب ہے کہ چار آنکھوں میں\nدل چراتا ہے یار آنکھوں میں\n\nچشم کیفی کے سرخ ڈوروں سے\nچھا رہی ہے بہار آنکھوں میں\n\nگر پڑا طفل اشک یہ مچلا\nمیں نے روکا ہزار آنکھوں میں\n\nنہیں اٹھتی پلک نزاکت سے\nسرمہ ہوتا ہے بار آنکھوں میں\n\nاتنی چھانی ہے خاک تیرے لیے\nچھا رہا ہے غبار آنکھوں میں\n\nجب سے اپنا لقب ہوا ہے سرورؔ\nروز و شب ہے خمار آنکھوں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا غم نے سرایت بے نہایت", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا غم نے سرایت بے نہایت\nکروں کس سیں شکایت بے نہایت\n\nہمارے قتل پر مفتی نے غم کے\nنکالا ہے روایت بے نہایت\n\nتو اپنے غمزۂ خونیں کی ظالم\nعبث مت کر حمایت بے نہایت\n\nترے رخ پر ہجوم خال و خط نئیں\nکہ ہیں مصحف میں آیت بے نہایت\n\nکیا ہے عشق کے ہادی نے مجھ کوں\nمحبت کی ہدایت بے نہایت\n\nشکر لب نے نگاہ دلبری سیں\nکیا مجھ پر عنایت بے نہایت\n\nسراجؔ اب داستان شوق بس کر\nکہ بے جا ہے حکایت بے نہایت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%D8%A8%DB%92_%D9%86%DB%81%D8%A7%DB%8C%D8%AA"} {"title": "کیا غم ہجر اٹھا کر کوئی مر جائے گا", "poet_page": "مصنف:جگرؔ بسوانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا غم ہجر اٹھا کر کوئی مر جائے گا\nجس طرح رات کٹی دن بھی گزر جائے گا\n\nان کے دیدار کی حسرت ہے دم آخر بھی\nدم نکل کر مری آنکھوں میں ٹھہر جائے گا\n\nتم ہمارے دل مضطر کو سنبھالو نہ ابھی\nخوب جی بھر کے تڑپ لے تو ٹھہر جائے گا\n\nصورت نقش قدم بیٹھ چکا کوچے میں\nدر جاناں سے کہاں اٹھ کے جگرؔ جائے گا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کیا غیر تھا کہ شب کو نہ تھا جلوہ گر چراغ", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا غیر تھا کہ شب کو نہ تھا جلوہ گر چراغ\nرہتا ہے ورنہ گھر میں ترے تا سحر چراغ\n\nکیا لطفِ آہ، صبحِ شبِ ہجرِ مہروش\nکیا فائدہ جو کیجئے روشن سحر چراغ\n\nپروانہ گر نہ جائے تو بے جا ہے لافِ عشق\nروشن ہے میرے نالوں سے افلاک پر چراغ\n\nحربا کرے طریقۂ پروانہ اختیار\nاُس تابِ رخ سے کیجئے روشن اگر چراغ\n\nپروانہ ہو گیا ہے رقیبِ کتاں کہ ہے\nاُس مہر وش کے جلوے کے آگے قمر چراغ\n\nگستاخیوں کی تاب کسے اس کی بزم میں\nبے باکیِ نسیم سے ہرگز نہ ڈر چراغ\n\nہے شمعِ انجمن وہ مہِ آتشیں عذار\nگھی کے جلیں گے آج تو دشمن کے گھر چراغ\n\nکرتا ہوں فکرِ شعر جو میں شب کو شیفتہ\nرہتا ہے خواب گہ میں مری رات بھر چراغ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA"} {"title": "کیا فائدہ نصیحتِ نا سود مند کا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا فائدہ نصیحتِ نا سود مند کا\nکیا خوب پند گو بھی ہے محتاج پند کا\n\nجب میں نہیں پسند تو پھر اور آ چکے\nعاشق ہوں اس کی خاطرِ مشکل پسند کا\n\nاے بادِ صبح تا بہ کجا اہتزازِ گل\nگوشہ الٹ دے یار کے منہ سے پرند کا\n\nاُس ماہ وش کو غیرِ سیہ رو سے کام کیا\nہے فیض اپنے اخترِ بختِ نژند کا\n\nاس کوچے میں ہے عزتِ خسرو گدا سے کم\nکیوں ناز مستمند سہے ارجمند کا\n\nنالہ تو نارسا نہیں کیوں کر گلہ کروں\nمیں شکوہ سنج ہوں ترے کاخِ بلند کا\n\nدیوان کو ہمارے، بتوں کی نگاہ میں\nاے شیفتہ وہ رتبہ ہے جو بید و ژند کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%81%D8%A7%D8%A6%D8%AF%DB%81_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%AD%D8%AA%D9%90_%D9%86%D8%A7_%D8%B3%D9%88%D8%AF_%D9%85%D9%86%D8%AF_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کیا فروغ بزم اس مہ رو کا شب صد رنگ تھا", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا فروغ بزم اس مہ رو کا شب صد رنگ تھا\nشمع نہیں شرمندہ اور مہ دیکھ رخ کو دنگ تھا\n\nکیوں نہ رکھوں داغ دل پر جیسے لالہ در چمن\nخال غیر فام اس رخسار پر گل رنگ تھا\n\nشرمگیں آنکھوں سے جس جانب کو پڑتی ہے نظر\nنازکی شمشیر سے بسمل پہ عرصہ تنگ تھا\n\nقتل میں عاشق کے شب کو کیا تجھے تاخیر ہے\nشور غل تھا دھوم تھی اور اژدہام آہنگ تھا\n\nآہ زاری پر کسی کی وہ نہ کرتا تھا خیال\nگوش زد آواز اس دم ڈھولک و مردنگ تھا\n\nہو گیا محو تماشا غیر کی محفل میں کیوں\nغیر تیرے دل مرا جیوں شیشہ وقف سنگ تھا\n\nآفریدیؔ عشق کے باعث حیا جاتی رہی\nکیا ہوا تیرے تئیں دعویٰ جو نام و ننگ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%BA_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%81_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%D8%A8_%D8%B5%D8%AF_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کیا فقط طالب دیدار تھا موسیٰ تیرا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا فقط طالب دیدار تھا موسیٰ تیرا\nوہی شیدا تھا ترا میں نہیں شیدا تیرا\n\nدیدۂ شوق سے بے وجہ ہے پردا تیرا\nکس نے دیکھا نہیں ان آنکھوں سے جلوا تیرا\n\nخود نزاکت پہ نہ کیوں بوجھ ہو پردا تیرا\nکیا کسی آنکھ نے دیکھا نہیں جلوا تیرا\n\nمٹ گئی شورش طوفان حوادث اے موج\nاب وہی تو وہی بہتا ہوا دریا تیرا\n\nچین سے شہر خموشاں میں ہر اک سوتا ہے\nآسرا سب کو ہے اے وعدۂ فردا تیرا\n\nمنزلت ایک کی بھی ہوگی نہ ویسی بہ خدا\nحشر میں آئے گا جس شان سے رسوا تیرا\n\nزندگی کہتی ہے ارماں کوئی اب ہے نہ امید\nکب تلک ساتھ کروں میں تن تنہا تیرا\n\nبے سبب میری خموشی نہیں اے شاہد حسن\nدامن صبر سے ڈھنکتا نہیں پردا تیرا\n\nیوں حبابوں کا نہ دل توڑ خدارا اے موج\nانہیں قطروں کے تو ملنے سے ہے دریا تیرا\n\nوہی رنگت وہی خوشبو وہی نازک بدنی\nپھول نے نقش اتارا ہے سراپا تیرا\n\nتجھ سے ملنے کا جو ہے شوق تو در در نہ پھرے\nپانو توڑے ہوئے بیٹھا رہے شیدا تیرا\n\nاے گل آتی ہے خزاں باغ میں ٹھہرا نہ مجھے\nدیکھوں ان آنکھوں سے اترا ہوا چہرا تیرا\n\nکاش زاہد رخ روشن سے اٹھا لیں وہ نقاب\nپھر تو کچھ رند کی رندی ہے نہ تقویٰ تیرا\n\nاپنے مے خانے سے گھبرا کے میں باہر آیا\nجب حرم سے کوئی نکلا نہ شناسا تیرا\n\nاس پہ کیا زور بھلا جس پہ ہو اس کا قابو\nچشم شوق اپنی سہی دل تو ہے شیدا تیرا\n\nجستجو شرط ہے مل جائے گا زینہ بھی ضرور\nسامنے ہے نظر شوق کے مکھڑا تیرا\n\nوسعت قدرت حق ہوگی نہ محدود کبھی\nنہیں ملنے کا سرا زلف چلیپا تیرا\n\nبزم آخر ہے تقاضہ نہ کر اے محفل شوق\nاب کہاں صاف بھلا ساغر و صہبا تیرا\n\nشادؔ غزلیں نہیں آیات زبور ان کو سمجھ\nلحن داؤد سے کچھ کم نہیں نغما تیرا\n\nاب جوانی کی امنگیں نہ امنگوں کی خوشی\nشادؔ کو ہے فقط اے موج سہارا تیرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%81%D9%82%D8%B7_%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%85%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%B0_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کیا قامت احمد نے ضیا پائی ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا قامت احمد نے ضیا پائی ہے\nچہرے میں عجب نور کی زیبائی ہے\nمصحف پہ نہ کیوں فخر ہو اس صورت کو\nقرآن سے پہلے یہ کتاب آئی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D9%86%DB%92_%D8%B6%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا لائقِ زکوٰۃ کوئی بے نوا نہ تھا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا لائقِ زکوٰۃ کوئی بے نوا نہ تھا\nانفاسِ باد میں نفسِ آشنا نہ تھا\n\nاس قوم کی سرشت میں ہے کم محبتی\nشکوہ جو اس سے تھا مجھے ہرگز بجا نہ تھا\n\nتاثیرِ نالہ نکتۂ بعد الوقوع ہے\nیاں غیرِ رسم اور کوئی مدعا نہ تھا\n\nوحشت تھی مجھ کو پہلے بھی، پر یہ تپش نہ تھی\nشورش تھی مجھ کو پہلے بھی، پر یہ مزا نہ تھا\n\nان کی نگاہِ ناز عجب تازیانہ تھی\nمقدور پھر اُدھر نظرِ شوق کا نہ تھا\n\nافسوس وہ مظاہرِ کونی میں پھنس گیا\nجو عالمِ عقول سے نا آشنا نہ تھا\n\nشرماتے اس قدر رہے کیوں آپ رات کو\nمدت سے گو ملے تھے مگر میں نیا نہ تھا\n\nبے پردہ ان کے آنے سے حیرت ہوئی مجھے\nوصلِ عدو کی رات تھی روزِ جزا نہ تھا\n\nنان و نمک کی تھی ہمیں توفیق شیفتہ\nساز و نوا کے واسطے برگ و نوا نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%84%D8%A7%D8%A6%D9%82%D9%90_%D8%B2%DA%A9%D9%88%D9%B0%DB%83_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کیا لڑکے دلی کے ہیں عیار اور نٹ کھٹ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا لڑکے دلی کے ہیں عیار اور نٹ کھٹ\nدل لیں ہیں یوں کہ ہرگز ہوتی نہیں ہے آہٹ\n\nہم عاشقوں کو مرتے کیا دیر کچھ لگے ہے\nچٹ جن نے دل پہ کھائی وہ ہو گیا ہے چٹ پٹ\n\nدل ہے جدھر کو اودھر کچھ آگ سی لگی تھی\nاس پہلو ہم جو لیٹے جل جل گئی ہے کروٹ\n\nکلیوں کو تو نے چٹ چٹ اے باغباں جو توڑا\nبلبل کے دل جگر کو ظالم لگی ہے کیا چٹ\n\nجی ہی ہٹے نہ میرا تو اس کو کیا کروں میں\nہر چند بیٹھتا ہوں مجلس میں اس سے ہٹ ہٹ\n\nدیتی ہے طول بلبل کیا نالہ و فغاں کو\nدل کے الجھنے سے ہیں یہ عاشقوں کی پھٹ پھٹ\n\nمردے نہ تھے ہم ایسے دریا پہ جب تھا تکیہ\nاس گھاٹ گاہ و بیگہ رہنے لگا تھا جمگھٹ\n\nرک رک کے دل ہمارا بے تاب کیوں نہ ہووے\nکثرت سے درد و غم کی رہتا ہے اس پہ جھرمٹ\n\nشب میرؔ سے ملے ہم اک وہم رہ گیا ہے\nاس کے خیال مو میں اب تو گیا بہت لٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%84%DA%91%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%D9%B9_%DA%A9%DA%BE%D9%B9"} {"title": "کیا لینے سوئے جاہ و حشم جائیں گے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا لینے سوئے جاہ و حشم جائیں گے\nکیا دینے سر کوئے کرم جائیں گے\nآخر تو کہیں دیر کی نکلے گی راہ\nجائیں گے تو کعبے ہی کو ہم جائیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DB%81_%D9%88_%D8%AD%D8%B4%D9%85_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "کیا لیے جاتے ہو چپکے سے چھپا کر ہاتھ میں", "poet_page": "مصنف:منشی بنواری لال شعلہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا لیے جاتے ہو چپکے سے چھپا کر ہاتھ میں\nدل نہیں ہے گر تو کیا ہے بندہ پرور ہاتھ میں\n\nتل ہتھیلی کا ہے دانہ اور لکیریں دام ہیں\nطائر رنگ حنا آتا ہے اڑ کر ہاتھ میں\n\nجذبۂ دل نے جو گھبرایا پہن کر چل دئے\nہاتھ کا پاؤں میں اور پاؤں کا زیور ہاتھ میں\n\nلے اڑا کیا اضطراب جستجوئے نامہ بر\nمیں جو اچھلا آ گئے جبریل کے پر ہاتھ میں\n\nہوں وہ دیوانہ ترا صحرا میں جس کی دھوم تھی\nدیکھ کر مجنوں اٹھا لیتا تھا پتھر ہاتھ میں\n\nکل کسی کا خون ہوگا شہر میں مشہور ہے\nشعلہؔ مہندی لگ رہی ہے آج گھر گھر ہاتھ میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%86%D9%BE%DA%A9%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا مجھ عشق نے ظالم کوں آب آہستہ آہستہ", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا مجھ عشق نے ظالم کوں آب آہستہ آہستہ\nکہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ\n\nوفاداری نے دل بر کی بجھایا آتش غم کوں\nکہ گرمی دفع کرتا ہے گلاب آہستہ آہستہ\n\nعجب کچھ لطف رکھتا ہے شب خلوت میں گل رو سوں\nخطاب آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ\n\nمرے دل کوں کیا بے خود تری انکھیاں نے آخر کوں\nکہ جیوں بے ہوش کرتی ہے شراب آہستہ آہستہ\n\nہوا تجھ عشق سوں اے آتشیں رو دل مرا پانی\nکہ جیوں گلتا ہے آتش سوں گلاب آہستہ آہستہ\n\nادا و ناز سوں آتا ہے وو روشن جبیں گھر سوں\nکہ جیوں مشرق سوں نکلے آفتاب آہستہ آہستہ\n\nولیؔ مجھ دل میں آتا ہے خیال یار بے پروا\nکہ جیوں انکھیاں منیں آتا ہے خواب آہستہ آہستہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%92_%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%A2%D8%A8_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81"} {"title": "کیا مرے آنے پہ تو اے بت مغرور گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا مرے آنے پہ تو اے بت مغرور گیا\nکبھی اس راہ سے نکلا تو تجھے گھور گیا\n\nلے گیا صبح کے نزدیک مجھے خواب اے وائے\nآنکھ اس وقت کھلی قافلہ جب دور گیا\n\nگور سے نالے نہیں اٹھتے تو نے اگتی ہے\nجی گیا پر نہ ہمارا سر پر شور گیا\n\nچشم خوں بستہ سے کل رات لہو پھر ٹپکا\nہم نے جانا تھا کہ بس اب تو یہ ناسور گیا\n\nناتواں ہم ہیں کہ ہیں خاک گلی کی اس کی\nاب تو بے طاقتی سے دل کا بھی مقدور گیا\n\nلے کہیں منہ پہ نقاب اپنے کہ اے غیرت صبح\nشمع کے چہرۂ رخشاں سے تو اب نور گیا\n\nنالۂ میرؔ نہیں رات سے سنتے ہم لوگ\nکیا ترے کوچے سے اے شوخ وہ رنجور گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%D9%85%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کیا مزا ہو جو کسی سے تجھے الفت ہو جائے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا مزا ہو جو کسی سے تجھے الفت ہو جائے\nجی کڑھے فکر رہے میری سی حالت ہو جائے\n\nتیرا بیمار دم نزع یہ مانگے تھا دعا\nدیکھ لوں پھر اسے گر تھوڑی سی مہلت ہو جائے\n\nجائیو مت تو صبا باغ سے زنداں کی طرف\nمجھ کو ڈر ہے نہ اسیروں پہ قیامت ہو جائے\n\nاے دل اک دن تو گزر کر طرف اہل قبور\nتاکہ دیکھے سے انہوں کے تجھے عبرت ہو جائے\n\nدیکھ تصویر کو مجنوں کی ہوسؔ رشک نہ کر\nچاہئے عشق میں تیری بھی یہ صورت ہو جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B2%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھا\nکون سے درد و ستم کا یہ طرف دار نہ تھا\n\nآدم خاکی سے عالم کو جلا ہے ورنہ\nآئینہ تھا یہ ولے قابل دیدار نہ تھا\n\nدھوپ میں جلتی ہیں غربت وطنوں کی لاشیں\nتیرے کوچے میں مگر سایۂ دیوار نہ تھا\n\nصد گلستاں تا یک بال تھے اس کے جب تک\nطائر جاں قفس تن کا گرفتار نہ تھا\n\nحیف سمجھا ہی نہ وہ قاتل ناداں ورنہ\nبے گنہ مارنے قابل یہ گنہ گار نہ تھا\n\nعشق کا جذب ہوا باعث سودا ورنہ\nیوسف مصر زلیخا کا خریدار نہ تھا\n\nنرم تر موم سے بھی ہم کو کوئی دیتی قضا\nسنگ چھاتی کا تو یہ دل ہمیں درکار نہ تھا\n\nرات حیران ہوں کچھ چپ ہی مجھے لگ گئی میرؔ\nدرد پنہاں تھے بہت پر لب اظہار نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%D8%B2%D8%AF%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کیا مفت زاہدوں نے الزام لیا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا مفت زاہدوں نے الزام لیا\nتسبیح کے دانوں سے عبث کام لیا\nیہ نام وہ تھا جس کو بے گنتی لیتے\nکیا لطف جو گن گن کے ترا نام لیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D9%81%D8%AA_%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%85_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کیا ملا تم کو مرے عشق کا چرچا کر کے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ملا تم کو مرے عشق کا چرچا کر کے\nتم بھی رسوا ہوئے آخر مجھے رسوا کر کے\n\nمجھ پہ تلوار کا احساں نہ ہوا خوب ہوا\nمار ڈالا تری آنکھوں نے اشارا کر کے\n\nنگہ شوق کو مانع نہیں پردہ کوئی\nآپ جائیں گے کہاں آنکھ سے پردا کر کے\n\nتم نے کی وعدہ خلافی تو کوئی بات نہیں\nسبھی معشوق مکر جاتے ہیں وعدا کر کے\n\nہر مرض کے لیے خالق نے دوا پیدا کی\nمجھ کو بیمار کیا تجھ کو مسیحا کر کے\n\nاڑ گیا رنگ جو مہندی کا تو کیا غم ان کو\nپھر جما لیں گے ابھی خون تمنا کر کے\n\nشکر اس بندہ نوازی کا ادا کیا ہو جلیلؔ\nمرے سرکار نے رکھا مجھے اپنا کر کے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D9%84%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%DA%86%D8%B1%DA%86%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92"} {"title": "کیا ملا ہم کو تیری یاری میں", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ملا ہم کو تیری یاری میں\nرہے اب تک امیدواری میں\n\nہاتھ گہرا لگا کوئے قاتل\nزور لذت ہے زخم کاری میں\n\nدل جو بے خود ہوا صبا لائی\nکس کی بو نگہت بہاری میں\n\nٹک ادھر دیکھ تو بھلا اے چشم\nفائدہ ایسی اشک باری میں\n\nچٹ لگا دیتے ہیں مرے آنسو\nسلک گوہر کے آب داری میں\n\nروٹھ کر اس سے میں جو کل بھاگا\nناگہاں دل کی بے قراری میں\n\nآ لیا اس نے دوڑ کر مجھ کو\nتاک کے اوچھل ایک کیاری میں\n\nیوں لگا کہنے بس دوانہ نہ بن\nپاؤں رکھ اپنا ہوشیاری میں\n\nکب تلک میں بھلا رہوں شب و روز\nتیری ایسی مزاج داری میں\n\nہے سمایا ہوا جو لڑکا پن\nآپ کی وضع پیاری پیاری میں\n\nاپنی بکری کا منہ چڑاتے وقت\nکیا خوش آتی ہے یہ تمہاری میں\n\nبندۂ بو تراب ہے انشاؔ\nشک نہیں اس کی خاکساری میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D9%84%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا ملے آپ کی محفل میں بھلا ایک سے ایک", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ملے آپ کی محفل میں بھلا ایک سے ایک\nرشک ایسا ہے کہ بیٹھا ہے جدا ایک سے ایک\n\nدل ملے ہاتھ ملے اٹھ کے نگاہیں بھی ملیں\nوصل بھی عید ہے ملنے کو بڑھا ایک سے ایک\n\nایسے ویسوں کو تو منہ بھی نہ لگایا ہم نے\nماہ رو ہم کو تو اچھا ہی ملا ایک سے ایک\n\nکان سے دل نے لیا دل سے رگوں نے چھینا\nلے رہا ہے تری باتوں کا مزا ایک سے ایک\n\nظرف دیکھا یہ مئے عشق کے سرشاروں کا\nبے خودی میں بھی تو بیخودؔ نہ کھلا ایک سے ایک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D9%84%DB%92_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%8C%DA%A9"} {"title": "کیا ملے گا کوئی حسیں نہ کہیں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ملے گا کوئی حسیں نہ کہیں\nجی بہل جائے گا کہیں نہ کہیں\n\nہے کدورت بھری ہوئی اس میں\nآسماں پر بھی ہو زمیں نہ کہیں\n\nحال پہلو بچا کے لکھا ہے\nتاڑ جائے وہ نکتہ چیں نہ کہیں\n\nآپ کی گفتگو کا کیا کہنا\nچار باتیں بھی دل نشیں نہ کہیں\n\nغیر دیتا ہے کیوں مجھے ساغر\nسانپ ہو زیر آستیں نہ کہیں\n\nتیرے عاشق ہیں کافر و دیں دار\nایک ہو جائے کفر و دیں نہ کہیں\n\nداغؔ پھر تاک جھانک کرتے ہیں\nاب گھرے اب پھنسے کہیں نہ کہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D9%84%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ\nجی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ\n\nرات مجلس میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے\nجیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ\n\nمر گئے پر بھی کھلی رہ گئیں آنکھیں اپنی\nکون اس طرح موا حسرت دیدار کے ساتھ\n\nشوق کا کام کھنچا دور کہ اب مہر مثال\nچشم مشتاق لگی جائے ہے طومار کے ساتھ\n\nراہ اس شوخ کی عاشق سے نہیں رک سکتی\nجان جاتی ہے چلی خوبی رفتار کے ساتھ\n\nوے دن اب سالتے ہیں راتوں کو برسوں گزرے\nجن دنوں دیر رہا کرتے تھے ہم یار کے ساتھ\n\nذکر گل کیا ہے صبا اب کہ خزاں میں ہم نے\nدل کو ناچار لگایا ہے خس و خار کے ساتھ\n\nکس کو ہر دم ہے لہو رونے کا ہجراں میں دماغ\nدل کو اک ربط سا ہے دیدۂ خوں بار کے ساتھ\n\nمیری اس شوخ سے صحبت ہے بعینہ ویسی\nجیسے بن جائے کسو سادے کو عیار کے ساتھ\n\nدیکھیے کس کو شہادت سے سرافراز کریں\nلاگ تو سب کو ہے اس شوخ کی تلوار کے ساتھ\n\nبیکلی اس کی نہ ظاہر تھی جو تو اے بلبل\nدم کش میرؔ ہوئی اس لب و گفتار کے ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D9%88%D8%A7%D9%81%D9%82_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D9%88%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "کیا میرؔ تجھے جان ہوئی تھی بھاری", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا میرؔ تجھے جان ہوئی تھی بھاری\nجو اس بت سنگ دل سے کی تھی یاری\nبیمار بھلا کوئی بھی ہووے اس کا\nپرہیز کرے جس سے خدائی ساری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "کیا میرؔ کا مذکور کریں سب ہے جہل", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا میرؔ کا مذکور کریں سب ہے جہل\nپایا ہم نے اسے نہایت ہی سہل\nایسوں سے نہیں مزاج اپنا مانوس\nوحشی بے طور بد زبان و نااہل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B0%DA%A9%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DB%81%D9%84"} {"title": "کیا میکدہ ہے عشق حقیقت میں یار کا", "poet_page": "مصنف:وحیدالدین احمد وحید", "kind": "poetry", "section": "غزل > انتخاب وحید (1939)", "year": "1939", "text_ur": "کیا میکدہ ہے عشق حقیقت میں یار کا\nبے خود کا ہے جو حال وہی ہوشیار کا\n\nکیا محو عشق ہوں مجھے اتنی نہیں خبر\nفرقت کی شب ہے روز ہے یا وصل یار کا\n\nجو چاہے وہ سلوک کرے حسرت بقا\nمیں اور ساتھ زندگئ مستعار کا\n\nپہلو میں اب کہاں ہے وہ دل وہ ہجوم یاس\nکیا جلد مٹ گیا ہے نشان اس دیار کا\n\nباتیں بھی ہیں تو وہ ہیں کہ ہو اور غم سوا\nکیا جانیں کس طرف کو ہے دل غم گسار کا\n\nگلشن میں منتشر تو ہیں اوراق گل تمام\nکیسا تھا کچھ نہ پوچھو زمانہ بہار کا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%A9%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کیا میں بھی پریشانیٔ خاطر سے قریں تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا میں بھی پریشانیٔ خاطر سے قریں تھا\nآنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا\n\nکس رات نظر کی ہے سوئی چشمک انجم\nآنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا\n\nآیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن\nہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا\n\nاب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ\nجو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا\n\nجانا نہیں کچھ جز غزل آ کر کے جہاں میں\nکل میرے تصرف میں یہی قطعۂ زمیں تھا\n\nنام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کا\nجن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیر نگیں تھا\n\nمسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سے\nکل تک تو یہی میرؔ خرابات نشیں تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%94_%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%82%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کیا میں جاتا ہوں صنم چھٹ ترے در اور کہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا میں جاتا ہوں صنم چھٹ ترے در اور کہیں\nلے قسم مجھ سے جو میرا ہو گزر اور کہیں\n\nرفتگی کا ہے یہ عالم کہ ترے وقت خرام\nپاؤں جاتے ہیں کہیں اور کمر اور کہیں\n\nصبح پر وصل کی ٹھہری ہے شب ہجر ترے\nجاویں جلدی سے گزر چار پہر اور کہیں\n\nوادیٔ قیس میں جو لے گئی مجھ کو وحشت\nدل کے بہلانے کی جا تھی نہ مگر اور کہیں\n\nاس کے کوچے کو تو اے آہ غنیمت ہی سمجھ\nسچ تو یہ ہے نہیں اتنا بھی اثر اور کہیں\n\nہم ہیں اور خوشۂ پرویں کا تماشا ہمہ شب\nجا کے جھمکائیے یہ عقد گہر اور کہیں\n\nلاابالی مری دیکھے ہے تو آئینہ کہاں\nدل ترا اور کہیں ہے تو نظر اور کہیں\n\nوعدۂ وصل دیا عید کی شب ہم کو صنم\nاور تم جا کے ہوئے شیر و شکر اور کہیں\n\nسامنے اس کے لگوں رونے تو جھنجھلا کے کہے\nیاں سے لے جائیے یہ دیدۂ تر اور کہیں\n\nچمن لالہ ستاں میں مجھے جانے دے صبا\nچنگے ہوں گے نہ مرے داغ جگر اور کہیں\n\nتفرقہ باد خزاں نے یہ چمن میں ڈالا\nگل کہیں اور پڑا ہے تو ثمر اور کہیں\n\nبرگ و بر یہ ترے کوچے میں تو لاتا ہی نہیں\nجا کے بٹھلاویں گے خواہش کا شجر اور کہیں\n\nایسے گھبرائے کہ حالت نہ رہی کچھ باقی\nدیکھ آئے جو اسے شمس و قمر اور کہیں\n\nگر میں بد نام ہوا اس کی گلی میں تو ہوا\nیارو اب یاں سے نہ جاوے یہ خبر اور کہیں\n\nمصحفیؔ میں ہوں وہ سرگشتہ کہ خورشید کی طرح\nشام گر اور کہیں کی تو سحر اور کہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%86%DA%BE%D9%B9_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا میں نے رو کر فشار گریباں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا میں نے رو کر فشار گریباں\nرگ ابر تھا تار تار گریباں\n\nکہیں دست چالاک ناخن نہ لاگے\nکہ سینہ ہے قرب و جوار گریباں\n\nنشاں اشک خونیں کے اڑتے چلے ہیں\nخزاں ہو چلی ہے بہار گریباں\n\nجنوں تیری منت ہے مجھ پر کہ تو نے\nنہ رکھا مرے سر پہ بار گریباں\n\nزیارت کروں دل سے خستہ جگر کی\nکہاں ہوگی یا رب مزار گریباں\n\nکہیں جائے یہ دور دامن بھی جلدی\nکہ آخر ہوا روزگار گریباں\n\nپھروں میرؔ عریاں نہ دامن کا غم ہو\nنہ باقی رہے خار خار گریباں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D9%81%D8%B4%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA"} {"title": "کیا میں کیا اعتبار میرا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا میں کیا اعتبار میرا\nخواری بس افتخار میرا\n\nناصح بولے ہے یوں کہ گویا\nدل پر ہے کچھ اختیار میرا\n\nاے شاہ سوار اند کے جہد\nزخمی ہے نپٹ شکار میرا\n\nٹک بچیو صبا کہ ہر قدم پر\nاس کوچہ میں ہے غبار میرا\n\nوہ کشتئ مے دے اب کے ساقی\nجس میں کھیوا ہو پار میرا\n\nصد بحر در آستیں ہے جو ابر\nوہ جیب ہے یا کنار میرا\n\nقائمؔ ہوں اگرچہ ہیچ لیکن\nکیا کیا کچھ ہے اعتبار میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کیا نام خدا اپنی بھی رسوائی ہے کمبخت", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا نام خدا اپنی بھی رسوائی ہے کمبخت\nرسوائی مجنوں بھی تماشائی ہے کمبخت\n\nلڑنے کو لڑے اس سے پر اب کرتے ہیں افسوس\nافسوس عجب اپنی بھی دانائی ہے کمبخت\n\nاک بات بھی مل کر نہ کریں اس سے ہم اے چرخ\nکیا تجھ کو یہی بات پسند آئی ہے کمبخت\n\nہمدم تو یہی کہتے ہیں چل بزم میں اس کی\nکیا کہئے اسے اپنی جو خود رائی ہے کمبخت\n\nوہ تو نہیں واقف پہ ہمیں دل میں خجل ہیں\nکس منہ سے کہیں ہم نے قسم کھائی ہے کمبخت\n\nیارو ہمیں تکلیف نہ دو سیر چمن کی\nآنے دو بلا سے جو بہار آئی ہے کمبخت\n\nرہنے دو ہمیں کنج قفس میں کہ ہمارے\nقسمت میں یہی گوشۂ تنہائی ہے کمبخت\n\nاس جام نگوں سے مئے راحت نہ طلب کر\nیاں بادہ نہیں بادیہ پیمائی ہے کمبخت\n\nتوڑے ہیں بہت شیشۂ دل جس نے نظیرؔ آہ\nپھر چرخ وہی گنبد بینائی ہے کمبخت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%85%D8%A8%D8%AE%D8%AA"} {"title": "کیا نحس تھا دن روز سفر ہائے حسینا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "کیا نحس تھا دن روز سفر ہائے حسینا\nناموس کو نے گھر ہے نہ در ہائے حسینا\nاعوان ترے جو تھے انھیں کھا گئی تلوار\nانصار ترے سب گئے مر ہائے حسینا\nواماندہ ترے کہتے ہیں سر دیکھ کے تیرا\nہم کیونکے کریں عمر بسر ہائے حسینا\nمدت تئیں کر یاد زمانے کو ترے ہم\nروتے رہیں گے آٹھ پہر ہائے حسینا\nہم شام کو قیدی ہوچلے دیکھیے بارے\nہوتی ہے یہ شب کیونکے سحر ہائے حسینا\nتجھ بن کمریں ٹوٹی ہی جاتی ہیں اگرچند\nہم باندھتے ہیں کس کے کمر ہائے حسینا\nدل سوختگی اپنی کی کیا شرح کریں ہائے\nآنسو تو ہوئے جیسے شرر ہائے حسینا\nجوں نقش قدم خاک میں ہم ملتے ہیں تجھ بن\nپیدا نہیں کچھ تیرا اثر ہائے حسینا\nمنظور نجابت نہ شرافت نہ سیادت\nاب عیب ہوئے سارے ہنر ہائے حسینا\nوارث نہیں جو پانی دے تم پیاسے موؤں کو\nباقی ہے سو بیمار پسر ہائے حسینا\nتیرا ہی جگر تھا کہ ستم تونے یہ دیکھے\nسب ٹکڑے ہوئے تیرے جگر ہائے حسینا\nاس دشت میں یہ منفعت آکر کے اٹھائی\nتو کھینچ گیا جی کا ضرر ہائے حسینا\nجز جور و ستم کچھ نہیں دیتا ہے دکھائی\nجاتی ہے جدھر اپنی نظر ہائے حسینا\nکیا خانہ خرابی کا بیاں کرتے ترے ساتھ\nاٹھتے ہی ترے لٹ گیا گھر ہائے حسینا\nلالا کے بٹھاتے ہیں ہمیں راہگذر میں\nتو جی سے گیا ہے جو گذر ہائے حسینا\nاکبر کو کہ اصغر کو کہ قاسم کو کڑھیں ہم\nکیا خاک برابر ہیں گہر ہائے حسینا\nایسا تو گیا اٹھ کے کہاں گھر سے کہ ہم تک\nپھر آئی نہ کچھ خیرخبر ہائے حسینا\nنے سایہ جہاں بیٹھیے نے سر پہ ہے چادر\nہے حال نہایت ہی بتر ہائے حسینا\nہم دست تلطف کے ترے اٹھتے ہی سارے\nہر خس کے ہوئے دست نگر ہائے حسینا\nاس قوم سیہ رو نے زیادہ دہنی سے\nکچھ کسر میں چھوڑی نہ کسر ہائے حسینا\nکیا اکبر و قاسم ہیں سبھی حلق بریدہ\nیہ پودے عجب لائے ثمر ہائے حسینا\nبے خوف و خطر لوٹتے ہیں گھر کو مخالف\nتو ہو تو ترا ہووے بھی ڈر ہائے حسینا\nہر سمت کو سر مارتے جنگل میں پھریں ہیں\nاب جا کے تجھے ڈھونڈیں کدھر ہائے حسینا\nٹھہرے ہے کوئی جن و ملک تیری جگہ پر\nیہ صبر نہ تھا حد بشر ہائے حسینا\nلب خشک عزیز اپنے جو سب مارے پڑے ہیں\nہر لحظہ مژہ ہوتی ہے تر ہائے حسینا\nکیا کیا نہ اذیت ہمیں دیتے ہیں گزندے\nحیدر نہیں جس کا ہو خطر ہائے حسینا\nانواع ستم دیکھتے ہیں تیرے موئے پر\nکھول آنکھ ٹک انصاف تو کر ہائے حسینا\nآگے بھی کہیں میرؔ جو کچھ بات رہی ہو\nہے لب پہ یہی شام و سحر ہائے حسینا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%AD%D8%B3_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%D9%86_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "کیا وصف لکھوں زلف سیہ کی لٹ کا", "poet_page": "مصنف:جارج پیش شور", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا وصف لکھوں زلف سیہ کی لٹ کا\nہر پیچ میں اک دل کو لیا ہے لٹکا\nاے شانہ زہے قسمت عالی تیری\nکیا خوب ترے ہاتھ لگا ہے لٹکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%88%D8%B5%D9%81_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%D9%B9_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کیا وصل کی امید مرے دل کو کبھی ہو", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا وصل کی امید مرے دل کو کبھی ہو\nاس شوخ کی تصویر بھی جب مجھ سے کھنچی ہو\n\nمجھ کو نہ بلاتے ہیں نہ آتے ہیں مرے گھر\nافسوس ہے ان سے نہ یہی ہو نہ وہی ہو\n\nاے پیر مغاں مجھ کو ترے سر کی قسم ہے\nتوبہ تو کہاں توبہ کی نیت بھی جو کی ہو\n\nوہ مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ محشر کو ملوں گا\nمیں ان سے یہ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہو ابھی ہو\n\nاے نوحؔ ہمیں عشق میں پروا نہیں اس کی\nآزار ہو یا لطف ہو غم ہو کہ خوشی ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88"} {"title": "کیا وصل کے اقرار پہ مجھ کو ہو خوشی آج", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا وصل کے اقرار پہ مجھ کو ہو خوشی آج\nاس کی بھی یہ صورت ہے کبھی کل ہے کبھی آج\n\nوہ ہاتھ میں تلوار لئے سر پہ کھڑے ہیں\nمرنے نہیں دیتی مجھے مرنے کی خوشی آج\n\nملنا جو نہ ہو تم کو تو کہہ دو نہ ملیں گے\nیہ کیا کبھی پرسوں ہے کبھی کل ہے کبھی آج\n\nکیا بات ہے چھپتی ہی نہیں بات ہماری\nجو ان سے کہی تھی وہ رقیبوں سے سنی آج\n\nسرخی بھی ہے آنکھوں میں قدم کو بھی ہے لغزش\nچھپ کر کہیں اے نوحؔ ضرور اپنے پی آج", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "کیا وہ اب نادم ہیں اپنے جور کی روداد سے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا وہ اب نادم ہیں اپنے جور کی روداد سے\nلائے ہیں میرٹھ جو آخر مجھ کو فیض آباد سے\n\nسیر گل کو آئی تھی جس دم سواری آپ کی\nپھول اٹھا تھا چمن فخر مبارک باد سے\n\nہر کس و ناکس ہو کیونکر کامگار بے خودی\nیہ ہنر سیکھا ہے دل نے اک بڑے استاد سے\n\nاک جہاں مست محبت ہے کہ ہر سو بوئے انس\nچھائی ہے ان گیسوؤں کی نکہت برباد سے\n\nاب تلک موجود ہے کچھ کچھ لگا لائے تھے ہم\nوہ جو اک لپکا کبھی نہ خاک جہاں آباد سے\n\nدعوی تقوی کا حسرتؔ کس کو آتا ہے یقیں\nآپ اور جاتے رہیں پیر مغاں کی یاد سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D9%86%D8%A7%D8%AF%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا\nاور کچھ نشہ چڑھا ہے اپنا\n\nکان پڑتی نہیں آواز کوئی\nدل میں وہ شور بپا ہے اپنا\n\nاب تو ہر بات پہ ہوتا ہے گماں\nواقعہ کوئی سنا ہے اپنا\n\nہر بگولے کو ہے نسبت ہم سے\nدشت تک سایہ گیا ہے اپنا\n\nخود ہی دروازے پہ دستک دی ہے\nخود ہی در کھول دیا ہے اپنا\n\nدل کی اک شاخ بریدہ کے سوا\nچمن دہر میں کیا ہے اپنا\n\nکوئی آواز کوئی ہنگامہ\nقافلہ رکنے لگا ہے اپنا\n\nاپنی آواز پہ چونک اٹھتا ہے\nدل میں جو چور چھپا ہے اپنا\n\nکون تھا مد مقابل باقیؔ\nخود پہ ہی وار پڑا ہے اپنا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "کیا چاک‌ کیا تو نے مری جاں مرے دل کو", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا چاک‌ کیا تو نے مری جاں مرے دل کو\nمیرا ہی بنایا ہے گریباں مرے دل کو\n\nتجھ کو ہے قسم درد محبت مرے دل کی\nتو چین نہ دینا کسی عنواں مرے دل کو\n\nیا اس بت گمراہ کو لا راہ وفا پر\nیا پھیر دے اے گردش دوراں مرے دل کو\n\nاچھی کہی اچھا نہیں کچھ دل کا لگانا\nیہ لگ گئی اے ناصح ناداں مرے دل کو\n\nتاثیر دکھا جائے محبت تو عجب کیا\nسینے سے لگا آج مری جاں مرے دل کو\n\nکچھ دور نہیں بت کدہ و کعبہ سمجھ لیں\nکافر تری آنکھوں کو مسلماں مرے دل کو\n\nہے لطف تو یہ تجھ کو ہو محشر میں بھی انکار\nاور داغؔ کہے تو نے لیا ہاں مرے دل کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DA%A9%E2%80%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88"} {"title": "کیا چرخِ کج رو، کیا مہر، کیا ماہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "کیا چرخِ کج رو، کیا مہر، کیا ماہ\nسب راہرو ہیں واماندۂ راہ\nکڑکا سکندر بجلی کی مانند\nتجھ کو خبر ہے اے مرگِ ناگاہ\nنادر نے لُوٹی دِلّی کی دولت\nاک ضربِ شمشیر، افسانہ کوتاہ\nافغان باقی، کُہسار باقی\nاَلْحُکْمُ لِلّٰہ! اَلْمُلْکُ لِلّٰہ!\nحاجت سے مجبور مردانِ آزاد\nکرتی ہے حاجت شیروں کو رُوباہ\nمحرم خودی سے جس دم ہُوا فقر\nتُو بھی شہنشاہ، مَیں بھی شہنشاہ!\nقوموں کی تقدیر وہ مردِ درویش\nجس نے نہ ڈھُونڈی سُلطاں کی درگاہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%D8%B1%D8%AE%D9%90_%DA%A9%D8%AC_%D8%B1%D9%88%D8%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%A7%DB%81"} {"title": "کیا چمکے اب فقط مری نالے کی شاعری", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا چمکے اب فقط مری نالے کی شاعری\nاس عہد میں ہے تیغ کی بھالے کی شاعری\n\nسامان سب طرح کا ہو لڑنے کا جن کے پاس\nہے آج کل انہیں کی مسالے کی شاعری\n\nشاعر رسالہ دار نہ دیکھے نہ میں سنے\nایجاد ہے انہیں کا رسالے کی شاعری\n\nمرد گلیم پوش کو یاں پوچھتا ہے کون\nگر گرم ہے تو شال دوشالے کی شاعری\n\nیہ شعر گرم گرم پڑھے جاتے یوں نہیں\nمنہ بولتی ہے گرم نوالے کی شاعری\n\nنخرہ بھی شعر میں ہو تو ہاں سوزؔ کا سا ہو\nکس کام کی وگرنہ چھنالے کی شاعری\n\nدیوان جن کے کفش سے افزوں نہیں ذرا\nکرتے ہیں کیا وہ لوگ کسالے کی شاعری\n\nچونے کے کاغذوں پہ جھڑیں ہیں جو اپنے شعر\nیعنی کہ آ رہی ہے دوالے کی شاعری\n\nکیسا ہی بڑھ چلے وہ کلام شریف پر\nسرسبز ہو کبھی نہ رزالے کی شاعری\n\nبعضوں نے تب تو شعر پہ حسرتؔ کے یوں کہا\nکیا دال موٹھ بیچنے والے کی شاعری\n\nہوں مصحفیؔ میں تاجر ملک سخن کہ ہے\nخسروؔ کی طرح یاں بھی اٹالے کی شاعری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%D9%85%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D9%81%D9%82%D8%B7_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C"} {"title": "کیا چھپاتے کسی سے حال اپنا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا چھپاتے کسی سے حال اپنا\nجی ہی جب ہو گیا نڈھال اپنا\n\nہم ہیں اس کے خیال کی تصویر\nجس کی تصویر ہے خیال اپنا\n\nوہ بھی اب غم کو غم سمجھتے ہیں\nدور پہنچا مگر ملال اپنا\n\nتو نے رکھ لی گناہ گار کی شرم\nکام آیا نہ انفعال اپنا\n\nدیکھ دل کی زمیں لرزتی ہے\nیاد جاناں قدم سنبھال اپنا\n\nباخبر ہیں وہ سب کی حالت سے\nلاؤ ہم پوچھ لیں نہ حال اپنا\n\nموت بھی تو نہ مل سکی فانیؔ\nکس سے پورا ہوا سوال اپنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "کیا چیز ہے یہ سعئ پیہم کیا جذبۂ کامل ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا چیز ہے یہ سعئ پیہم کیا جذبۂ کامل ہوتا ہے\nاللہ کو اگر منظور نہ ہو ہر مقصد باطل ہوتا ہے\n\nاک ٹیس سی پیہم پاتا ہوں کیا اس کو محبت کہتے ہیں\nمحسوس مجھے میٹھا میٹھا کچھ درد سا اے دل ہوتا ہے\n\nتسکین کو دھوکا دیتے ہیں ناکام تمنا یہ کہہ کر\nہر گام پہ منزل ہوتی ہے ہر موج میں ساحل ہوتا ہے\n\nیہ رنج و الم ہی میرے لئے اب زیست کا عنواں ہیں ہمدم\nاس دنیا میں پہلے پہلے ہر کام ہی مشکل ہوتا ہے\n\nتسکین سی کیوں مل جاتی ہے مضراب دست شوق مجھے\nہر تار گریباں کیا وحشت کے ساز کا حامل ہوتا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%86%DB%8C%D8%B2_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%B9%D8%A6_%D9%BE%DB%8C%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%82_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا ڈھونڈنے آئے ہو نظر میں", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ڈھونڈنے آئے ہو نظر میں\nدیکھا ہے تمہیں کو عمر بھر میں\n\nمعیار جمال و رنگ و بو تھے\nوہ جب تک رہے میری چشم تر میں\n\nاب خواب و خیال بن گئے ہو\nاب دل میں رہو، رہو نظر میں\n\nوہ رنگ تمہارے کام آیا\nاڑتا ہے جو غم کی دوپہر میں\n\nہائے یہ طویل و سرد راتیں\nاور ایک حیات مختصر میں\n\nاب صورت حال بن گیا ہوں\nملتا ہوں نگاہ چارہ گر میں\n\nیا اور ستارے اور شبنم\nیا مر رہیں دامن سحر میں\n\nیا منزل مہر و ماہ بھی ہے\nیا راہ فرار ہے سفر میں\n\nوہ بھی تو ظفرؔ سے خوش نہیں ہیں\nرہتے ہیں جو دیدۂ ظفرؔ میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%D9%86%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میں", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میں\nفردا کو میں نے دیکھا گرد و غبار دی میں\n\nتھے محو لالہ و گل کس کیف بے خودی میں\nزخم جگر کے ٹانکے ٹوٹے ہنسی ہنسی میں\n\nیاران بزم عشرت ڈھونڈوں کہاں میں تم کو\nتاروں کی چھاؤں میں یا پچھلے کی چاندنی میں\n\nہر عقدہ میں جہاں کے پوشیدہ ہے کشاکش\nہے موج خندۂ گل پنہاں کلی کلی میں\n\nزخموں میں خود چمک ہے اور اس پہ یہ ستم ہے\nرنگ پریدہ سے میں رہتا ہوں چاندنی میں\n\nہم کس شمار میں تھے پرسش جو ہم سے ہوتی\nیہ امتیاز پایا آشوب آگہی میں\n\nحکم قضا ہو جیسا سرزد ہو فعل ویسا\nبندہ کا دخل بھی ہے پھر اس کہی بدی میں\n\nرفتار سایہ کو ہے پست و بلند یکساں\nٹھوکر کبھی نہ کھائے راہ فروتنی میں\n\nوجد آ گیا فلک کو غش آ گیا زمیں کو\nدو طرح کے اثر تھے اک صوت سرمدی میں\n\nتعبیر اس کی شاید ایک واپسیں نفس ہو\nجو خواب دیکھتے تھے ہم ساری زندگی میں\n\nلائی حباب تک کو سیل فنا بہا کر\nاک آہ کھینچنے کو اک دم کی زندگی میں\n\nمحشر کی آفتوں کا دھڑکا نہیں رہا اب\nسو حشر میں نے دیکھے دو دن کی زندگی میں\n\nپہلو میں تو ہو اے دل پھر حسرتیں ہزاروں\nکس بات کی کمی ہے تیری سلامتی میں\n\nپرسان حال وہ ہو اور سامنے بلا کر\nکیا جانیے زباں سے کیا نکلے بے خودی میں\n\nتو ایک ظل ہستی پھر کیسی خود پرستی\nسایہ کی پرورش ہے دامان بے خودی میں\n\nحائل بس اک نفس ہے محشر میں اور ہم میں\nپردہ حباب کا ہے فردا میں اور دی میں\n\nآنکھیں دکھا رہی ہے دن سے مجھے شب غم\nآثار تیرگی کے ہیں دن کی روشنی میں\n\nتو نے تو اپنے در سے مجھ کو اٹھا دیا ہے\nپرچھائیں پھر رہی ہے میری اسی گلی میں\n\nسجدہ کا حکم مجھ کو تو نے تو اب دیا ہے\nپہلے ہی لکھ چکا ہوں میں خط بندگی میں\n\nاے نظمؔ چھیڑ کر ہم تجھ کو ہوئے پشیماں\nکیا جانتے تھے ظالم رو دے گا دل لگی میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D8%A7_%D8%B1%D9%88%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا کاسۂ مے لیجئے اس بزم میں اے ہم نشیں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کاسۂ مے لیجئے اس بزم میں اے ہم نشیں\nدور فلک سے کیا خبر پہنچے گا لب تک یا نہیں\n\nیہ کاسۂ فیروز گوں ہے شیشہ باز پر فنوں\nجتنے حیل ہیں اور فسوں سب اس کے ہیں زیر نگیں\n\nہو اعتماد اس کا کسے ہے شیشہ بازی یاد اسے\nرکھتا ہے شاد اک دم جسے کرتا ہے پھر اندوہگیں\n\nکل دامن صحرا میں ہم گزرے جو وقت صبح دم\nاک کاسۂ سر پر الم آیا نظر اپنے وہیں\n\nبولا بہ فریاد و فغاں کیا دیکھتا ہے او میاں\nتھے ہم بھی سر بر آسماں گو اب تو ہیں زیر زمیں\n\nگلبرگ سے نازک بدن سر پاؤں سے رشک چمن\nزریں و سیمیں پیرہن دل کش مکانوں کے مکیں\n\nدن رات ناز و نعمتیں مہ طلعتوں کی صحبتیں\nعیش و نشاط و عشرتیں ساقی قراں مطرب قریں\n\nباغ و چمن پیش نظر بزم طرب شام و سحر\nہر سو بہ کثرت جلوہ گر حسن بتان نازنیں\n\nایک آسماں کے دور سے اک گردش فی الفور سے\nاب سوچیے گا غور سے در لحظہ آں در لحظہ ایں\n\nسنتے ہی جی تھرا گیا رخسار پر اشک آ گیا\nدل عبرتوں سے چھا گیا خاطر ہوئی بس سہمگیں\n\nاس میں سر اپنا ناگہاں ہر مو ہوا مثل زباں\nبولا نظیرؔ آگہ ہو ہاں من نیز روزے ہم چنیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D8%B3%DB%82_%D9%85%DB%92_%D9%84%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا کام انہیں پرسش ارباب وفا سے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کام انہیں پرسش ارباب وفا سے\nمرتا ہے تو مر جائے کوئی ان کی بلا سے\n\nمجھ سے بھی خفا ہو مری آہوں سے بھی برہم\nتم بھی ہو عجب چیز کہ لڑتے ہو ہوا سے\n\nدامن کو بچاتا ہے وہ کافر کہ مبادا\nچھو جائے کہیں پاکئ خون شہدا سے\n\nدیوانہ کیا ساقئ محفل نے سبھی کو\nکوئی نہ بچا اس نظر ہوش ربا سے\n\nاک یہ بھی حقیقت میں ہے شان کرم ان کی\nظاہر میں وہ رہتے ہیں جو ہر وقت خفا سے\n\nآگاہ غم عشق نہیں وہ شہ خوباں\nاور یہ بھی جو ہو جائے فقیروں کی دعا سے\n\nقائل ہوئے رندان خرابات کے حسرتؔ\nجب کچھ نہ ملا ہم کو گروہ عرفا سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%B4_%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کیا کبھی تم پر بھی کوئی عاشق ہوا ہے؟", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "ایک تو وہ لوگ ہیں جن کو خوبصورت ترین ہستی یعنی خدانے اپنےہاتھ سے بنایا ہے جیسے رسالوں کے ایڈیٹر۔ یا شیطان کے کان بہرے، خود ہماری گھر والی اور دوسرے وہ لوگ ہیں جن کو شاید خدائے تعالیٰ نے فرشتوں سے ٹھیکے پر بنوایا ہے اور ان ٹھیکیداروں نے ہم کو اس تیزی سے بنا بنا کر پھینکا ہے کہ کہیں کسی افسانہ نگار کے پتلے پر کسی سیٹھ صاحب کا پتلا گرا تو کسی وکیل پر گاما کا پتلا گرا، تو افسانہ نگار صاحب اور وکیل صاحب کی ناک کہیں پہنچی، ہونٹ کہیں پہنچے اور جب روح پھونکی گئی تو اچھے خاصے ’’حلوقہ‘‘ بن گئے۔\n\nپھر اس پر طرہ یہ کہ بہ ایں شکل و صورت خدائے تعالیٰ نےان کے مختصر سینے کو محبت کے نور سے کوہ سینا بنا دیا۔ اب جو جوانی پر پہنچے ہیں تو دل کا یہ حال کہ ہر ایک کو دینے کو تیار ہیں۔ مصیبت یہ کہ حلیہ شریف کو دیکھتے ہوئے کوئی کانی کھتری بھی محبت کی روادار نہیں۔ نتیجہ یہ کہ کوئی لڑکی ان پرعاشق نہیں ہوتی۔ سنتے ہیں کہ فلاں عورت فلاں شخص پر عاشق ہوگئی۔ فلاں لڑکی فلاں کے ساتھ بھاگ گئی۔۔۔ مگر کوئی نہیں بھاگتی تو ہمارے ساتھ۔ کوئی نہیں عاشق ہوتی تو ہم پر، مجبور ہوکر دغا فریب سے گھر والی کو ڈھونڈتے ہیں اور پھر دن رات اسی کوشش میں رہتے ہیں کہ کہیں گھر والی کے دل سے بھی نہ اترجائیں۔\n\n(۱)\n\nایک روز کا ذکر ہے کہ میں ایک مقدمے کی بحث تیار کر رہا تھا کہ اتنے میں گھر والی دوڑی ہوئی آئی۔ بدحواسی کا عالم اور مجھ سے گھبرا کر کہا کہ جمیا فجو خاں سپاہی کے ساتھ بھاگ گئی۔ اب میں کیا عرض کروں کہ اس خبر کو سنتے ہی مجھ پر کیا گزری۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ فجو خاں کو خوش قسمت خیال کروں یا محترمہ جمیا کے انتخاب کی داد دوں۔ پہلے یہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو یہ بتلا دوں کہ یہ جمیا کون تھی۔\n\nگندمی رنگ، کتابی چہرہ، کھڑی ناک اور پتلے ہونٹوں والی ایک پندرہ برس کی لڑکی تھی۔ میں اکثر دیکھتا کہ سامنے سڑک پر بل کھاتی گھومتی، نہایت چلبلے پن سے گنگناتی بالکل اپنی رنگ برنگی اوڑھنی میں ایک رنگین تتلی کی طرح ہوا میں چٹکیاں سی بجاتی چلی جا رہی ہے۔ برخلاف اس کے فجو خاں ایک ۴۵ برس کے بھوت۔ اس سے زیادہ ان کے سپاہیانہ حسن کی نہ تو میں تعریف کر سکتا ہوں اور نہ کرنا چاہتا ہوں۔ معاً مجھے خیال ہوا کہ دیکھو تو اس جمیا کو کہ پڑوس میں اول تو ہم خود رہتے ہیں۔ گو خوبصورت تو نہیں ہیں مگر بھوت بھی نہیں ہیں۔ علاوہ ہمارے عبد العزیز رہتے ہیں اور ایک سے ایک خوبصورت جوان رہتا ہے مگر اس کمبخت چھوکری نے ہم لوگوں میں سے کسی کو پوچھا تک نہیں۔ اس سے یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اگر وہ کہتی تو میں اس کے ساتھ بھاگ جاتا یا کسی طرح بھی اس کو اپنے اوپر عاشق ہو جانے کی اجازت دے دیتا۔\n\nمطلب میرا در اصل یہ ہے کہ اسے تو کم سے کم ایسا نہ کرنا چاہیے تھا اور گوہم راضی نہ ہوتے پھر بھی یہ کیسے ممکن ہے کہ ہماری طبیعت خوش نہ ہوتی۔ سو پکڑے گئے اور مجھے وکیل کیا۔ اب اس مقدمے کی بحث تیار ہو رہی تھی۔ ہمارے ملزم کی طرف سے عذر یہ تھا کہ صاحب لڑکی تو ہم نے ضرور بھگائی مگر واقعہ یوں ہے کہ خود لڑکی اپنی راضی خوشی سے ملزم پر عاشق ہو کر اور زور دے کر اس کے ساتھ چل دی۔ ملزم نے اپنی داستان عشق اپنے اقبالی بیان میں بڑی دلچسپی سے بیان کی تھی۔ کس طرح لڑکی اسے ملی، کس طرح لیلیٰ کی طرح وہ ان حضرت پر عاشق ہوگئی اور پھر کس طرح ع ’’کچھ ایسا دونوں طرف عشق کا اثر پھیلا۔۔۔‘‘ کہ میرے مؤکل صاحب اپنی محبوبہ کو لے کر فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔\n\nمیں صحیح عرض کرتا ہوں کہ میرے مؤکل صاحب نے جب گھر پر یہ قصہ بیان کیا اور سچ سچ حال بتایا تو میں نے اول تو ان کی صورت دیکھی بہت غور سے، یہ دیکھنے کو کہ یا اللہ میں زیادہ خوبصورت ہو ں یا یہ؟ کالا ہونا اول تو کوئی جرم نہیں اور پھر یہ واقعہ ہے کہ خوبصورتی اور بدصورتی سے اسے گو تعلق قطعی نہیں ہے، لیکن جب دوسرے اعضا یعنی آنکھ، ناک، ہونٹ وغیرہ بغاوت پر آمادہ ہوں تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ سیاہی سونے پر سہاگے کا کام دیتی ہے۔ چنانچہ میں نےغور سے اپنے مؤکل کے چہرے کو دیکھا اور کچھ مشکوک نگاہوں سے دیکھ کر ان سے کہا کہ دیکھو بھئی وکیل سے تو سچ سچ دل کا حال بیان کرتے ہیں۔ تم سچ سچ بات بتاؤ۔ یہ سن کر مؤکل صاحب نے مجھے اچھی طرح سمجھا کر کہا کہ جو واقعہ بیان کیا ہے اس میں قطعی شک کی گنجائش نہیں اور یہ کہہ کر اور بھی تفصیل کے ساتھ مفرورہ کے معاشقے کی داستان سنائی۔\n\nقصے پر میں نے یقین کر لیا۔ مفرورہ سے جرح کی تو اس سے بھی یہی اندزہ لگاکہ ضرور بالضرور لڑکی ملزم پر عاشق ہوئی۔ واقعات مقدمے سے بھی اس کی تائید ہوئی اور وہ بھی اس طرح کہ مقدمہ میں کامیابی کی قطعی امید ہوگئی اور بحث اب تیار ہو رہی تھی۔ یہ تو سب کچھ ہوگیا، لیکن جس روز سے یہ مقدمہ آیا، میں خود ایک رنج و فکر میں پڑ گیا۔ ممکن نہیں ہے ورنہ میں اپنا اورملزم کا فوٹو پیش کر کے ثابت کر دیتا کہ حضرت میں اپنےمؤکل سے ہزار درجہ خوبصورت ہوں۔ وہ ادھیڑ ہے او رمیں نوعمر ہوں۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ بدقسمتی کچھ اس طرح شامل حال رہی ہے اور رہے گی کہ دنیا زمانہ پر، کانے کھتروں پر، نکٹے کانوں پر تو ایک پری نژاد اور حور شمائل لڑکی عاشق ہو جائے اور نہ ہو تو ہم پر۔ جب کبھی بھی اس بات پر غور کیا افسوس ہی کرنا پڑا۔\n\nبجائے اس کے کہ کوئی خدا کی بندی عاشق واشق ہوتی، اپنی زندگی کا تجربہ بدقسمتی سے یہ رہا کہ خوبصورت اور بدصورت لڑکیوں کے تلخ اور کٹے چھنے جملے ہی سننے میں آئے ہیں اور وہ بھی ایسے کہ جی تو ہمیشہ یہی چاہا کیا کہ آئینے میں اپنی صورت دیکھ کر ایک پانچ۔۔۔ روزانہ مارے جائیں۔ آپ کسی سے پوچھیے کہ کیوں بھئی کبھی تم پر کوئی عاشق ہوا ہے؟ تو جواب میں آپ ایک سے ایک دلچسپ داستان سنیں گے۔ ہم نے بھی دیکھا دیکھی اسی قسم کے بالکل جھوٹے قصے گڑھ گڑھ کر دل سے اپنے یار دوستوں کو سنائے ہیں۔ وہ بات اور تھی، لیکن اب یہاں اس مضمون میں مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اگر جھوٹ لکھوں گا توآپ لوگوں کا تو کچھ نہیں، کہیں کوئی ’’اور‘‘ اس قصے کو سچ نہ مان لے تو لینے کے دینے پڑ جائیں۔ لہٰذا سچ سچ کہوں گا۔ یہ بھی سن لیجیے کہ کس طرح اس سچ بولنے کی ضرورت پڑ گئی۔\n\n(۲)\n\nجمیا کے قصہ پر جب رد و قدح ہو چکی تو کام کے بارے میں خانم نے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو۔ میں نے اس کے جواب میں ہنس کر کہا کہ ’’ذرا اسے سنو۔‘‘ اور یہ کہہ کر ملزم کی طرف سے جو بیان تحریری میں نے داخل کیے تھے، وہ پڑھ کر خانم کو سنانا شروع کیے۔ یہ بیان سات صفحوں پر تھے اور شاید ایک افسانہ نویس وکیل کے قلم کے ہونے کی وجہ سے اس میں اور بھی دلچسپی آگئی ہوگئی۔ خانم نے جو بیان غور سے سنے تو کہنے لگی کہ یہ کسی رسالے کے لیے مضمون لکھا ہے یا سچ مچ مقدمے کے بیان ہیں۔\n\nقصہ مختصر، یہ بیان خانم نے بڑے غور اور شاید ’’عبرت‘‘ سے سنے۔ میں ان بیانات کو سنا کر خانم کو غور سے دیکھنے لگا۔ وہ بھی مجھے غور سے دیکھنے لگی۔ میں اپنے دل میں کیا سوچ رہا ہوں گا؟ بخدا اندازہ لگائیے اور میں نے دل میں یہ سوچا کہ یہ کیا سوچ رہی ہوگی۔ میں اسی سوچ میں تھا کہ ان بیانات پر مفرورہ اور ملزم کی صورت شکل پر خانم نے بحث شروع کر دی۔ یہ بحث ختم ہوگئی تو میں نے کامیابی کے ساتھ خانم کو احتیاطاً یہ بھی سمجھا دیا کہ مردوں کے لیے سچ مچ یہ قطعی ضروری نہیں ہے کہ ان پر عاشق ہونے کی تیاری کرنے سے پہلے خوبصورت لڑکیاں یہ دیکھیں کہ مرد خوبصورت ہے یا بدصورت۔ کانا ہے یا کھترا۔ بس انہیں تو تہیہ کرکے عاشق ہو جانا چاہیے۔ خانم نے یہ قصہ سن کر اپنی آنکھوں میں ایک ایسی دلچسپی کی چمک پیدا کر کے مجھ سے ہنس کر کہا کہ ایک بات تم سے قسم دے کر پوچھیں گے۔ سچ سچ بتاؤ گے یا نہیں؟\n\nمیں نے کہا، ’’وہ کیا؟‘‘ وہ بولی، ’’پہلے وعدہ کرو۔ قسم کھاؤ۔‘‘ میں نے فوراً خدا کی ایک موٹی سی قسم کھائی تو وہ بولی کہ ’’یوں نہیں۔ ہماری قسم کھا کر وعدہ کرو۔‘‘ مجبوراً یہ قسم بھی کھائی۔ ویسے تو نہ کھاتے مگر اس وقت سوال معلوم کرنے کی کرید پڑ گئی۔ جب قسم کھالی تو اس نے ذیل کا ’’ہنگامہ پرور‘‘ سوال کر دیا، ’’سچ سچ بتانا۔ کبھی تم پر بھی کوئی لڑکی عاشق ہوئی ہے یا نہیں؟‘‘\n\nمندرجہ بالا سوال نےمجھ کو کس شش و پنج میں ڈال دیا ہوگا! ذرا اندازہ لگائیے۔ اپنی رفیق زندگی کی قسم کھا کر جھوٹ بولنا ناممکن، اگر سچ سچ کہتا ہوں تو معاملہ بگڑا جاتا ہے۔ کیونکہ صحیح اور امر واقعی جو پوچھیے تو وہ ہمیشہ اسی تمنا میں رہے کہ کوئی ہم پر عاشق تو ہو۔ مگر یہ تمنا کبھی پوری نہ ہوئی اور قسمت میں خوبصورت اور ’’بے صورت‘‘ لڑکیوں کے اپنے مردانہ حسن کے بارے میں تلخ ریمارک اور تکلیف پہنچانے والے جملے ہی اس تمنائے عشق کی مکمل و مفصل روئداد ہو کر رہ گئے جو اب بھی کانوں میں گونجتے رہتے ہیں۔ مگر نہیں۔ میں نے شاید یہاں غلطی کی۔ واقعہ یہ ہے کہ میرے اوپر بھی تین لڑکیاں عاشق ہوئی ہیں۔ ایک تو خود سر پکڑ کر قسمت کو رو رہی ہے یعنی صاحبہ سوال۔ تو اس کا ذکر ہی جانے دیجیے کہ وہ عاشق نہ ہو تو کرے بھی کیا۔ وہ مضمون ہے کہ کھاؤ تو بیگن کا بھرتہ اور نہیں کھاؤ تو بیگن کا بھرتہ۔ پچاس دفعہ عرض پڑے تو عاشق ہو ورنہ جانے دو۔ اس جھگڑے ہی کو چھوڑو۔ لہٰذا اس کو چھوڑیے۔\n\nدوسری جو عاشق ہوئی تھی اس کے بارے میں عرض ہے کہ اس کی یاد میرے دل سے کبھی نہیں مٹ سکتی۔ اس کی دلچسپ یا داب بھی دل میں تازہ ہے اور رہے گی تا وقتیکہ شریر بچے مچلنا اور ضد کرنا بالکل چھوڑ دیں کیونکہ صحیح عرض ہے کہ کچھ کچھ اسی کا حلیہ اور نقشہ بیان کرکے شریر بچوں کو ڈرایا جاتا ہے، جب کہیں جاکے شریر قابو میں آتے ہیں! اب رہ گئی تیسری نیک بخت جو میرے اوپر عاشق ہوئی تو بدقسمتی سے اس کا قصہ اس لائق نہیں کہ کسی اور کو یا بیوی کو سچ سچ سنایا جائے۔\n\nچنانچہ مندرجہ بالا امور کو مدنظر رکھتے ہوئے میں خانم کے سوال سے کچھ چکرا سا گیا۔ کیا جواب دوں؟ یہ فکر دامن گیر ہوئی۔ سچ کہنا نہیں چاہتا تھا اور جھوٹ ناممکن تھا۔ لہٰذا میں نے موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے وقت گزاری کے لیے بجائے جواب دینے کے یہی سوال الٹا خانم سے کر دیا کہ پہلے تم بتاؤ کہ تم پر بھی کوئی عاشق ہوا ہے یا نہیں۔\n\nیہ سوال سن کر خانم کو ہنسی اور غصہ بیک وقت آیا۔ اس نے برا ماننے کی کوشش کی، مگر میں نے آڑے ہاتھوں لیا، یہ کہہ کر تمہیں ضرور بتانا پڑے گا ورنہ میں بھی نہ بتاؤں گا۔ جب میں نے زور دیا تو اس نے صاف صاف کہہ دیا کہ خدا نہ کرے میرے اوپر کوئی عاشق کیوں ہوتا، مگر حضرت میں نے جرح شروع کردی اور ایک درجن سوال نہ کیے ہوں گے کہ خانم کو کہنا پڑا کہ میری شادی سے پہلے تین جگہ سے پیغام اور آئے تھے۔ ان میں سے دو کا تو خیر کچھ نہیں کیونکہ ان کو انکار کردیا تو وہ مان گئے، لیکن ایک ان میں سے روپے پیسے والے بڈھے صاحب تھے جنہوں نے زیادہ کوشش کی، لیکن ان کو نہایت سختی سے انکار کیا گیا اور ان کی ہزاروں کی جائداد کے لالچ کو ہمارے خسر صاحب نے بڑی سختی سے ٹھکرا دیا۔ چنانچہ قصہ سن کر میں نے بڈھے ہی کو پکڑا اور جناب واقعہ بھی یہی ہے کہ اکثر بڈھوں کا قاعدہ ہے کہ اِدھر پڑوس میں لڑکی پیدا ہوئی نہیں کہ انہوں نے چھٹی میں اس کی شرکت کرکے اس کو دیکھا اور عاشق ہوگئے۔ پھر ٹھیک چودہ برس بعد آپ دیکھ لیجیے گا کہ بڑے میاں دھر دھر کے شادی کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب اس بڈھے والا قصہ ختم ہو گیا تو مجبوراً مجھے اپنا قصہ بے کم و کاست سنانا پڑا۔ آپ بھی سن لیجیے۔\n\n(۳)\n\nعرض ہے کہ بعض اوقات لوگوں کو گھر سے بھاگ جانا پڑتا ہے۔ تعلیم و الیم سب کو خیرباد کہہ کر یہ خاکسار بمبئی میں اسی ضروری کام کے لیے گیا ہوا تھا۔ گھر سے بھاگنے والے بمبئی کو نہ معلوم کیا سمجھتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر پتہ چلتا ہے کہ گھر سے بھاگنا سراسر حماقت ہے، چنانچہ یہ اسی زمانے کا ذکر ہے کہ اس خاکسار کو بھی پتہ چل رہا تھا۔ یعنی ہوٹل کی نوکری سے کان پکڑ کر جو نکالے گئے تھے اس کو پندرہ دن گزرنے کو آئے تھے اور روپیہ جو کچھ بھی تھا، وہ ختم ہونے والا ہی تھا۔ شام کو روزانہ کا میں نے یہ دستور بنا لیا تھا کہ چوپاٹی چلے گئے اور وہاں سے سیدھے مالابار ہل پر پہنچ گئے جس کو ہینگنگ گارڈن یعنی باغ معلق کہہ سکتے ہیں۔ آئیے میں پہلے اس باغ کی آپ کو سیر کراؤں۔\n\nیہ باغ ایک مصنوعی اور کچھ غیر مصنوعی پہاڑی پر قائم ہے۔ یہ پہاڑی کیا ہے کہ سرسبزی اور شادابی کا گہوارہ ے۔ اس کے دامن میں خوبصورت باغیچہ لگا ہوا ہے اور یہ باغیچہ پہاڑی کی ڈھلوان سطح پر برابر چوٹی تک اس خوبصورتی سے چلا گیا ہے کہ انسانی کاریگری کی داد نہیں دی جا سکتی۔ اس طرح نینی تال، شملہ اور دوسرے ہل اسٹیشنوں پر چکر دار سڑکیں بنی ہوئی ہیں، جن پر ہوکر اوپر پہنچ جاتے ہیں۔ کچھ کچھ اس نمونے کی پتلی پتلی سڑکیں یا روشیں پہاڑ کے اردگرد کمر پیٹی کی طرح کی کسی ہوئی ہیں۔ راستے میں جگہ جگہ بنچیں رکھیں ہوئی ہیں۔ پھولوں کی بھرمار ہے اور ان پر فضا پتلی پتلی سبزہ اور پھولوں سے لدی پھندی سڑکوں پر ہوتے ہوئے آپ چوٹی پر پہاڑ کی پہنچ جائیے۔\n\nہر سڑک نیچے والی سڑک سے اونچی ہوتی گئی ہے۔ جگہ جگہ سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں تاکہ اوپر والی سڑک پر آسانی سے پہنچ جائیں۔ شام کے وقت چوپاٹی سے کھڑے ہوکر مالابار ہل کی طرف نظر ڈالیے۔ نیچے سے لے کر چوٹی تک خوشنما پھولوں اور جھاڑیوں میں رنگین اور چمکیلے لباس والی عورتوں اور مردوں کی آمد و رفت یہ معلوم ہوتی ہے کہ گویا رنگا رنگ کے پھول کھلے ہیں یا متحرک پتلیاں سبزے پر ناچ رہی ہیں۔ سامنے سمندر لہریں مار رہا ہے، خوشگوار ہوا چل رہی ہے اور دیکھنے والا محسوس کرتا ہے کہ مالابار ہل پر ابدی نیکی اور خوشی کا دیوتا رہتا ہے جو اپنے پجاری کو مقناطیسی قوت کے ساتھ اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔\n\nمیں نے بھی چوپاٹی پہنچ کر یہی محسوس کیا اور مالابار ہل پر پہنچا۔ ہرقدم پر بہار تھی اور ایک دلچسپ میلہ تھا کہ نازک اندامان بمبئی، خوش خرامان بمبئی، حسینان بمبئی کے ساتھ ساتھ، پہلو بہ پہلو، اس دلچسپ پہاڑی پر خوش فعلیوں، شرارتوں اور زندگی کی دلچسپیوں کا خاموش مطالعہ کرتے ہوئے ہم بھی چڑھے چلے جا رہے تھے۔ ہر قوم کی اور ہر عمر کی عورتیں اور مرد، ایک سے ایک خوبصورت، ایک سے ایک شوخ اور ایک سے ایک پری زاد اور معصوم، اس تفریح کے وقت پہاڑ پر چلی جا رہی تھی اور ہم بھی تھے پانچوں سواروں میں۔ خاموش طبیعت اندر ہی اندر سے باوجود اس تمام تفریح کے کچھ مردہ سی تھی۔ کوئی جان پہچان نہیں۔ کوئی یار دوست بات کرنے والا نہیں۔\n\nقصہ مختصر خاموشی کے ساتھ میں پہاڑ پر پہنچا۔ پہاڑ کی چوٹی ویسی نہیں ہے جیسی ہمالیہ کی چوٹی پر پہنچئے تو ایک لق و دق، بلکہ سبزے کا میدان ہے۔ ایک باغ لگا ہوا ہے۔ پھول کھلے ہوئے ہیں۔ روشوں پر لوگ ٹہل رہے ہیں۔ سبزے پر خوش فعلیاں ہو رہی ہیں۔ بس معلوم ہو رہا ہے کہ قا آنی نے اسی موقع کے لئے کہا تھا، یکے بر لالہ پا کو بد کہ ہے، ہے رنگ می دارد۔ جگہ جگہ یورپین، پارسی، مرہٹہ، گجراتی وغیرہ وغیرہ اقوام کی لڑکیاں اور عورتیں کچھ کھیل رہی تھیں، کچھ بچوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھیں۔ یہاں سرکار کی طرف سے جھولے پڑے ہوئے ہیں۔ جگہ جگہ دو دو چار چار کی ٹولیاں سبزے پر خوش فعلیوں میں مشغول تھیں۔ ہمارے جیسے شاید دو ایک احمق اور بھی تھے جو علیحدہ ایک بنچ یا سبزے پر بیٹھے ہوئے خوبصورت لڑکیوں کو بڑے غور سے دیکھے چلے جا رہے تھے۔ ادھر قریب سے کوئی خوبصورت لڑکی گزری نہیں کہ انہوں نے کوشش کی کہ کسی طرح جاذب نظر بن جائیں۔\n\n(۴)\n\nادھر ادھر گھوم پھر کر میں اب تنہائی کے مقام پر پہنچا اورایک بنچ پر سر جھکا کر اس طرح غافل ہوکر بیٹھ گیا کہ تھوڑی دیر کے لیے آنکھیں بند جو کیں تو یہ بھی خیال نہ رہا کہ کہاں ہوں۔ میں اسی طرح بیٹھا ہوا تھا کہ کچھ آہٹ سی ہوئی۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو پارسی لڑکیاں آپس میں باتیں کرتی میری ہی طرف چلی آرہی تھیں۔ میری بنچ کے قریب آکر ایک نے مجھ سے کہا، ’’اگر کوئی مضائقہ نہ ہو تو کیا ہم بھی اس بنچ پر بیٹھ سکتے ہیں۔‘‘\n\nمیں چونک سا پڑا اور میں نے کہا، ’’ضرور۔ ضرور۔ بڑے شوق سے بلکہ میں خود ہی اٹھ جاتا ہوں اور آپ ضرور بیٹھیے۔‘‘ یہ کہتا ہوا میں اٹھا۔ میرا اٹھنا تھا کہ ایک ’’نہیں نہیں‘‘ کہتی ہوئی بڑے اخلاق سے مجھے روکنے کو بڑھی اور بولی، ’’آپ بیٹھیے ہم خود چلے جائیں گے۔‘‘ فوراً ہی دوسری بولی، ’’ہم نے آپ کو تکلیف دی۔ آپ بیٹھیے۔‘‘ اس پر میں نے اور بھی اصرار کیا۔ نتیجہ یہ کہ وہ مضمون ہوگیا کہ ’’واللہ آپ واللہ آپ۔‘‘ نتیجہ یہ کہ ان میں سے جو ذرا بڑی عمر والی یعنی اٹھارہ انیس برس کی تھی، اس نے بڑے اخلاق سے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی، ’’اچھا نہ آپ جائیے نہ ہم جائیں۔ آپ بھی بیٹھیے اور ہم بھی بیٹھتے ہیں۔‘‘\n\nمیں نے اس پسندیدہ تجویز پر دل میں خوش ہوتے ہوئے کہا، ’’مگر شاید آپ دونوں کے تخلیے میں مخل ہوں گا۔‘‘ اس پر چھوٹی عمر والی بولی، ’’ہرگز نہیں بلکہ آپ کی موجودگی ہمارے لیے باعث دلچسپی ہوگی۔ کیا آپ ہماری بات چیت ناپسند کریں گے؟‘‘ میں نے کہا، ’’ہرگز نہیں۔‘‘\n\nقصہ مختصر وہ بھی بیٹھ گئیں اور میں بھی بیٹھ گیا اور اس کے بعد ہی انہوں نے بڑے اخلاق اور بڑے تپاک سے مجھ سے تعارف حاصل کیا۔ مجھے یاد نہیں میں نے ان سے کیا جھوٹ سچ ملایا، جس کا لب لباب یہ تھا کہ محض بمبئی میں سیر و تفریح کے لیے آیا ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا تعارف خود مجھ سے کرایا اور مجھے معلوم ہوا کہ بڑی عمر والی لڑکی بیوہ ہے اور چھوٹی لڑکی اس کی دوست ہے جو کنواری ہے۔ بڑی نے اپنا نام مسز لمجی بتایا اور چھوٹی کا نام مس رستم جی تھا۔ دونوں بہت خوش اخلاق، خوش پوشاک اور خوبصورت تھیں۔ مگر لمجی کو دیکھ کر اتنا ضرور کہنا پڑتا تھا کہ حضرت ڈارون کا مسئلہ ارتقاء تو ضرور صحیح ہے مگر ایک بات ہے، وہ یہ کہ اگر حضرت انسان بندر کی اولاد کہے جا سکتے ہیں تو کچھ گھوڑے کی اولاد بھی ثابت کیے جا سکتے ہیں۔ بہت دیر تک یہ صحبت قائم رہی۔ آخرش میں خود ہی ان دونوں سے رخصت ہو کر دوسری طرف چل دیا۔\n\n(۵)\n\nشام ہو رہی تھی اور لوگ پہاڑ سے اتر رہے تھے۔ میری طبیعت حسب معمول کند تھی چنانچہ بھیڑ بھڑکے کو چھوڑ کر میں قصداً اس طرف چلا جدھر کوئی بھی نہیں اتر رہا تھا اور روشوں کی تین منزلیں اتر کر میں چوتھی پر پہنچا اور پھولوں اور جھاڑیوں کے گنجان راستے طے کرتا ہوا بالکل ہی تنہائی کے راستہ پر پہنچا اور وہاں سے میں پانچویں روش پر اترا تو کیا دیکھتا ہوں کہ مسز لمجی ایک گملے کے پاس ایک پیر جھکائے اور دوسرا پیر ایک جھاڑی میں پھنسائے اس طرح کھڑی ہی کہ منڈیر ہاتھ سے پکڑے ہوئےاور چہرے سے تکلیف ظاہر ہو رہی ہے۔ میں ایک دم سے اسے دیکھ کر جھجک گیا اور وہ بولی کہ خدا کے واسطے میری مدد کیجیے۔\n\nمیں فوراً اس کے پاس پہنچا تو اس نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا اور مجھے اس وقت یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوا کہ نہ تو اس کا کسی چیز میں کپڑا اٹکا ہے اور نہ پیر اٹکا ہے، لیکن فوراً ہی اس نے لنگڑاتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کی اور گویا درد سے بیتاب ہوکر کہنے لگی، ’’میرا پیر ٹوٹ گیا۔‘‘ میں نے استفسار کرتے ہوئے تسلی دینا چاہی تو اس نے بالکل ہی بے تکلف اور آزادی سے اپنا داہنا ہاتھ میرے گلے میں اچھی طرح حمائل کر کے اور مجھ پر لد کر اپنا پورا بوجھ ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’براہ کرم جس طرح بھی بن پڑے، مجھے نیچے تک پہنچا دیجیے۔‘‘\n\nآپ خود خیال فرمائیں کہ میں کس طرح انکار کرتا۔ جب کہ یہ کہنے کے ساتھ ہی اس نےاسی شان سے کہ مجھ سے چمٹی ہوئی ہے اور گلے میں ہاتھ حمائل ہے، لنگڑا کرمیرے ساتھ چلنا شروع کر بھی دیا اور چار چھ قدم چلنے کے بعدہی مجھے یہ معلوم ہوا کہ یہ نسوانی بوجھ اس طرح گھسیٹنا میرے بس کا روگ نہیں، لیکن اس عجیب و غریب تجربہ میں آپ سے کیا عرض کروں کہ میرے دل میں کیسے لڈو پھوٹ رہے تھے۔\n\nقصہ طویل ہے۔ مختصر اس کو یوں سمجھیے کہ تھوڑی ہی دیر بعد ہم دونوں بنچ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میری معلومات میں ایک نیا اضافہ ہو چکا تھا یعنی یہ کہ مسز لمجی مجھ پر بری طرح عاشق ہو چکی تھیں۔ نہ صرف انہوں نے مجھ کو مطلع کر دیا بلکہ خود پتہ چل گیا تھا کہ غریب میرے عشق میں بری طرح عاشق ہو چکی تھیں۔ اب اس کا علاج صرف یہی ہے کہ اس کی خواہش کے مطابق اس کے گھر چلوں یعنی اس کے مرحوم شوہر کے گھر جس کی اب وہ سولہ آنے خود مالک و مختار ہے اور اب اس مال و دولت میں اپنا شریک مجھے بنانا چاہتی ہے۔\n\nاب ایسے موقع پر یہ سوال نہیں ہے کہ آپ ہوتے تو کیا کرتے یا کوئی اور ہوتا تو کیا کرتا بلکہ یہاں تعلق اس سے ہے کہ میں نے کیا کیا۔ میں نے یہ کیا کہ اسے ساتھ لے کر نیچے اترا۔ چوپاٹی پر عجیب بہار تھی۔ ہمیں اس سے کیا مطلب تھا۔ ہم نے تو جلدی سے ایک موٹر کرائے پر لیا اور اس کے گھر کی طرف چلے۔ ایک عالیشان بلڈنگ کے پاس اس نے موٹر کو رکوایا۔ ہم دونوں اترے۔ اس کے پیر کا درد قریب قریب غائب تھا۔ تیسری منزل پر پہنچے۔ مگر اس نے ایک کمرے کے دروازے کا تالا ہاتھ میں لے کر کہا، ’’اب کیا کروں۔ نوکر تالا دے کر چل دیا۔‘‘ چارو ناچار ہم دونوں کو لوٹنا پڑا کیونکہ اس نے بتلایا کہ نوکر دو گھنٹے بعد آئے گا۔ میں نے پوچھا کہ آپ اب کہاں چلیں گی۔ تو اس نے کہا کچھ چائے اور آئیس کریم کھا کر سینما چلیے۔\n\nمجھے بھلا کیا انکار ہو سکتا تھا۔ نیچے آکر میں نے پھر موٹر کرائے پر لیا اور سیدھے اس کی فرمائش کے مطابق اس کی ایک ملنے والی کے یہاں چلے۔ وہاں سے تین لڑکیاں اور ہمارے ساتھ ہولیں اور سب مل کر ایک ہوٹل میں پہنچے۔ کچھ کھا پی کر سیدھے سینما دیکھنےکے بعد صبح کا وعدہ کرکے ہم سب رخصت ہوئے۔ اب میں جائے قیام پر پہنچ کر اپنی جیب کا جائزہ لیتا ہوں تو پیر تلے سے زمین نکل گئی۔ مطلب یہ کہ بمشکل دو ڈھائی روپے رہ گئے۔\n\n(۶)\n\nدوسرے دن پہلا کام یہ کیا گیا کہ ساٹھ روپے کے قمیص کے بٹن پچاس روپے میں بیچے نہیں لیکن پینتیس روپے میں رہن رکھ دیے۔ یہ کیوں؟ محض اس لیے کہ عشق سےسابقہ ذرا اچھی طرح نباہنا چاہیے۔ بدقسمتی سے یا خوش قسمتی سے یہ سمجھے ہوئے تھے کہ بمبئی کے سیٹھ کی بیوہ سے شادی کریں گے اور سیٹھ کی دولت پر قبضہ جمائیں گے۔ چنانچہ ۳۵ روپے جیب میں ڈال کر چلنے کی تیاری کی۔ آئینے میں دیکھ دیکھ کر وہ سنگھار کیے کہ آپ سے ہم کیا بتائیں۔ بڑی دیر تک آئینے میں اپنی صورت دیکھتے رہے۔ اِدھر سے دیکھا۔ اُدھر سے دیکھا اور ہر طرح اپنے کو قبول صورت اور صاحب جمال پایا۔\n\nدل نے فوراً کہا کہ بھیا مرزا در اصل تو بہت خوبصورت ہے اور یہ شوخ اور خوبصورت چھوکریاں جن کے دماغ مغربی تعلیم نے خراب کر دیے ہیں، تجھ کو چمرخ، پھٹیچر، پنکی، تنکا افیونی اور سنیکیا پہلوان وغیرہ وغیرہ کہتی رہتی ہیں تو اصل میں جھک مارتی ہیں۔ اب تو تمہارے اوپر عاشق ہونے کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور اگرتم کچھ دنوں اور بمبئی رہ گئے تو تعجب نہیں کہ حسینان بمبئی تمہیں تبرک کر کے بانٹ لیں۔ ہم نے کہا، ’’اے بھیا دل! اللہ تمہارا بھلا کرے۔ ہم تو کچھ کہتے سنتے نہیں ہیں، مگر ہاں اتنا ہم بھی جانتے ہیں کہ بمبئی میں پرکھ والیاں کچھ ہیں ورنہ اپنی طرف کا تو حال یہ ہے کہ اچھوتوں کو چھوڑ کر ہمیشہ عاشق ہونے والیاں امیروں ہی کو ڈھونڈتی ہیں۔‘‘\n\nمسز لمجی کے گھر پر جو میں پہنچا تو اس کو سڑک کے کنارے اپنا منتظر پایا۔ میں اترنے لگا تو وہ مسکراتی ہوئی خود موٹر پر چڑھ آئی اور شوفر سے کہا کہ رانی باغ چلو۔ شوفر نے موٹر کو پوری تیزی کے ساتھ چھوڑ دیا اور ہم دونوں باتوں میں مشغول ہوگئے۔ وہ وہ تجویزیں کیں اور وہ وہ خوشگوار خواب میں نے دیکھے کہ بیان نہیں کر سکتا۔ مسز لمجی کے عشق حقیقی کی قدم قدم پر تصدیق ہوتی تھی۔\n\nرانی باغ گئے اور سیر کی۔ وہاں سے واپس ہوئے تو وہ اپنی ملنے والیوں کے یہاں لے گئی اور شام تک وہی پروگرام رہا جو گزشتہ دن رہا تھا اور اس پروگرام میں بائیس روپے ختم ہوگئے اور اب مجھے فکر ہوئی کہ روپے کا کچھ انتظام کرنا چاہیے۔ بمبئی میں میرے یار غار اور ہمدرد صرف ایک تھے۔ بڑے یار باش۔ ضرورت سے زیادہ زندہ دل اور بڑے سچے ہمدرد۔ یہ حضرت اودھ کے رہنے والے ایک نوجوان سید تھے اور ریلوے میں نوکر تھے۔ چنانچہ میں اسٹیشن پر پہنچا تو ان کو ریسٹ روم میں یار دوستوں کے ساتھ غپ شپ کرتے پایا۔ فوراً ان کو ساتھ لے کر پشت والے کمرے میں تنہائی میں لے جا کر اپنی رام کہانی شروع کی۔ بہت تھوڑی سی سنا پایا تھا کہ وہ ہنس کر بولے کہ ’’پھر آگے وہ لنگڑاتے ہوئے بھی تمہیں ملی یا نہیں اور اس کو تم نے چلنے میں مدد دی یا نہیں۔‘‘\n\nظاہر ہے کہ مجھے کتنا تعجب ہوا ہوگا کہ میں نے ان سے کہا بھی نہیں اور انہیں معلوم ہو گیا۔ چنانچہ میں یہ سمجھا کہ شاید انہوں نے اس کے ساتھ مجھے دیکھ لیا ہے، چنانچہ ہنس کر میں نے کہا، ’’تم کو کیسے معلوم ہوا۔‘‘ اس کے جواب میں انہوں نے ایک زبردست قہقہہ لگایا اور ہنسی سے بیتاب ہو کر کرسی سے باوجود میرے پکڑنے اور روکنے کے اٹھ کھڑے ہوئےاور بڑے کمرے میں جہاں لوگ بیٹھے تھے، پہنچ کر چلا کر کہا، ’’ارے میاں فاروق کچھ نئی سنو۔‘‘ فاروق ہنس کر بولے، ’’کیوں بھئی کیا معاملہ ہے۔‘‘ انہوں نےمیری پیٹھ پر زور سے ہاتھ مار کر ایک قہقہہ لگا کر کہا، ’’ان پر بھی مالا بار ہل والی نے الو کی لکڑی پھیر دی۔‘‘\n\nان کا یہ کہنا تھا کہ کمرے کا کمرہ مارے ہنسی کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ بھڑوں کی طرح سب مجھ سے چمٹ پڑے۔ کوئی پوچھتا تھا کتنے روپے کھو بیٹھے، کوئی کہتا تھا ان کا وہ حال ہوا کہ مفلسی میں آٹا گیلا۔ کوئی کہنے لگا کہ میرے یار تم نے اپنی صورت تو دیکھی ہوتی۔ آئینہ میں کہ کوئی اس پر عاشق ہو ہی نہیں سکتا۔ کوئی اور بولا کہ ان کے کان میں شیطان یہ کہہ گیا ہے کہ بھیا تجھ سے زیادہ حسین کوئی نہیں وغیرہ وغیرہ۔ پھر ساتھ ہی حاضرین میں سے جو خود میری طرح تختہ مشق بن چکے تھے، وہ بھی طرح طرح کی مسخری باتیں کرنے لگے۔ نتیجہ یہ کہ جب اطمینان سے بیٹھ کر مجھ سے احوال مفصل پوچھا گیا تو میں نے مجبوراً اپنی مصیبت گھٹانے کے لیے نقصان کی میزان صرف سات روپے بتلائی۔ اس کے بعد معلوم ہوا کہ اس چالاک عورت کا پیشہ یہی ہے کہ کسی احمق پر روز عاشق ہونا اور اپنا الو سیدھا کرنا۔\n\nیہ وہ داستان ہے کہ ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم پر بھی عمر میں ایک لڑکی عاشق ہوئی۔ اب یہ اور بات کہ خود ہم نے ہی سلسلہ عشق کو توڑ دیا اور پھر جتنے دن بمبئی میں رہے کبھی اس طرف کا رخ نہ کیا۔ اب دیکھیں اور کوئی بھی ہے جو اس مضمون کے عنوان نما سوال کا جواب دے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92%D8%9F"} {"title": "کیا کر رہے ہو ظلم کرو راہ راہ کا", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کر رہے ہو ظلم کرو راہ راہ کا\nکہتے ہیں بے جگر ہے بڑا تیر آہ کا\n\nیوں رونگٹے لرزتے ہیں پوچھیں گے روز حشر\nکیوں ایک دن بھی خوف نہ آیا گناہ کا\n\nحالت پہ میری ان کے بھی آنسو نکل پڑے\nدیکھا گیا نہ یاس میں عالم نگاہ کا\n\nکسریٰ کا طاق کعبے کے بت منہ کے بل گرے\nشہرہ سنا جو اشہد ان لا الہ کا\n\nشاعرؔ عجیب رنگ سے گزری ہے اپنی عمر\nدنیا میں نام بھی نہ سنا خیر خواہ کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%B8%D9%84%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D9%88_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کیا کروں شرح خستہ جانی کی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کروں شرح خستہ جانی کی\nمیں نے مر مر کے زندگانی کی\n\nحال بد گفتنی نہیں میرا\nتم نے پوچھا تو مہربانی کی\n\nسب کو جانا ہے یوں تو پر اے صبر\nآتی ہے اک تری جوانی کی\n\nتشنہ لب مر گئے ترے عاشق\nنہ ملی ایک بوند پانی کی\n\nبیت بحثی سمجھ کے کر بلبل\nدھوم ہے میری خوش زبانی کی\n\nجس سے کھوئی تھی نیند میرؔ نے کل\nابتدا پھر وہی کہانی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%D8%AD_%D8%AE%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "کیا کریں جا کے گلستاں میں ہم", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کریں جا کے گلستاں میں ہم\nہیں بہ کنج قفس فغاں میں ہم\n\nجانتے آپ سے جدا تجھ کو\nکرتے گر فرق جسم و جاں میں ہم\n\nہیں تجلیٔ ذات کے تیری\nایک پردہ سا درمیاں میں ہم\n\nگل کا یہ رنگ ہے تو اب اک دن\nآگ رکھ دیں گے آشیاں میں ہم\n\nواں تغافل نے اپنا کام کیا\nیاں رہے مہر کے گماں میں ہم\n\nآسماں کو نشانہ کرتے ہیں\nتیر رکھتے ہیں جب کماں میں ہم\n\nمر کے نکلے قفس سے خوب ہوا\nتنگ آئے تھے اس مکاں میں ہم\n\nگر یہی آہ ہے تو دیکھو گے\nرخنے کر دیں گے آسماں میں ہم\n\nشاخ گل کے گلے سے لگ لگ کر\nروتے ہیں موسم خزاں میں ہم\n\nباغ تک جاتے ہاں اگر پاتے\nطاقت اس جسم ناتواں میں ہم\n\nمصحفیؔ عشق کر کے آخر کار\nخوب رسوا ہوئے جہاں میں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "کیا کریں کیوں کر رہیں دنیا میں یارو ہم خوشی", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کریں کیوں کر رہیں دنیا میں یارو ہم خوشی\nہم کو رہنے ہی نہیں دیتا ہے ہرگز غم خوشی\n\nہم تو اپنے درد اور غم میں نپٹ محظوظ ہیں\nہم کو کیا اس بات سے رہتا ہے گر عالم خوشی\n\nاے عزیزو اس خوشی کو کوئی خوشی نہیں پہونچتی\nعاشق اور معشوق جب ہوتے ہیں مل باہم خوشی\n\nاے فلک جس جس طرح کا غم تو چاہے مجھ کو دے\nمیں کبھی نالاں نہ ہوں ہرگز رہوں ہر دم خوشی\n\nیار ہے مے ہے چمن ہے کیوں نہ ہم خوش وقت ہوں\nاس طرح کی ہوگی اے تاباںؔ کسی کو کم خوشی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C"} {"title": "کیا کریے بیاں مصیبت اپنی پیارے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا کریے بیاں مصیبت اپنی پیارے\nدن عمر کے میرے غم میں گذرے سارے\nرنج و ضعف و بلا اذیت محنت\nپنپا ہی نہ میں تو ان دکھوں کے مارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "کیا کرے گا جا کے بیت اللہ تو", "poet_page": "مصنف:راسخ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کرے گا جا کے بیت اللہ تو\nدل ہی سے کر اپنی پیدا راہ تو\n\nڈوب جا بحر عمیق عشق میں\nیوں نہ ہرگز لے سکے گا تھاہ تو\n\nگھر سے نکلے گا وہ اپنی رات کو\nمت نکلیے دیکھیو اے ماہ تو\n\nکعبہ ڈھ جاوے تو بن سکتا ہے پھر\nدیکھیے دل ہے اسے مت ڈھاہ تو\n\nحال دل تھوڑا سا سن کر بول اٹھا\nبس اب اس قصہ کو کر کوتاہ تو\n\nیار کے دل تک اثر کے ساتھ جا\nآسماں تک جا نہ جا اے ماہ تو\n\nواجب‌ التعذیر ہے راسخؔ پہ حیف\nقدر سے اس کی نہیں آگاہ تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%AA_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%AA%D9%88"} {"title": "کیا کرے گی یہ تری کاکل پیماں میرا", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کرے گی یہ تری کاکل پیماں میرا\nحال کچھ اس سے بھی افزوں ہے پریشاں میرا\n\nپاس آنے بھی نہ دیوے کبھو پروانے کو\nدیکھ لے حال اگر شمع فروزاں میرا\n\nجی میں ہے دیکھیے مر کر بھی کہ کیا ہوتا ہے\nجیتے جی تک تو نہ نکلا کوئی ارماں میرا\n\nشکر صد شکر کہ تم آئے ہو میرے گھر میں\nآج آباد ہوا خانۂ ویراں میرا\n\nرخ جاناں کا جو رہتا ہے تصور عارفؔ\nکوکب بخت ہے یہ دیدۂ حیراں میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%DA%A9%D9%84_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کیا کشش حسن بے پناہ میں ہے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کشش حسن بے پناہ میں ہے\nجو قدم ہے اسی کی راہ میں ہے\n\nمے کدہ میں نہ خانقاہ میں ہے\nجو تجلی دل تباہ میں ہے\n\nہائے وہ راز غم کہ جو اب تک\nتیرے دل میں مری نگاہ میں ہے\n\nعشق میں کیسی منزل مقصود\nوہ بھی اک گرد ہے جو راہ میں ہے\n\nمیں جہاں ہوں ترے خیال میں ہوں\nتو جہاں ہے مری نگاہ میں ہے\n\nحسن کو بھی کہاں نصیب جگرؔ\nوہ جو اک شے مری نگاہ میں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B4%D8%B4_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A8%DB%92_%D9%BE%D9%86%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا کوفت تھی دل کے لخت کوٹے نکلے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا کوفت تھی دل کے لخت کوٹے نکلے\nٹکڑے جو ہوئے جگر کے ٹوٹے نکلے\nچھاتی جو پھٹی ندان جلتے جلتے\nاس میں کے پھپھولے سارے پھوٹے نکلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D9%81%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%AE%D8%AA_%DA%A9%D9%88%D9%B9%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے\nکچھ کرتے ہیں ایسا بخدا کچھ نہیں کرتے\n\nاپنے مرض غم کا حکیم اور کوئی ہے\nہم اور طبیبوں کی دوا کچھ نہیں کرتے\n\nمعلوم نہیں ہم سے حجاب ان کو ہے کیسا\nاوروں سے تو وہ شرم و حیا کچھ نہیں کرتے\n\nگو کرتے ہیں ظاہر کو صفا اہل کدورت\nپر دل کو نہیں کرتے صفا کچھ نہیں کرتے\n\nوہ دلبری اب تک مری کچھ کرتے ہیں لیکن\nتاثیر ترے نالے دلا کچھ نہیں کرتے\n\nدل ہم نے دیا تھا تجھے امید وفا پر\nتم ہم سے نہیں کرتے وفا کچھ نہیں کرتے\n\nکرتے ہیں وہ اس طرح ظفرؔ دل پہ جفائیں\nظاہر میں یہ جانو کہ جفا کچھ نہیں کرتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "کیا کھا گئے", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دوڑا دوڑا چوہا آیا\nاور خرگوش کو بیٹھا پایا\nبولا یوں آیا ہوں بھائی\nبات ضروری اک یاد آئی\nجانتے ہو کیا کر بیٹھے ہو\nتم جو ابھی کھا کر بیٹھے ہو\nوہ چھوٹی سی سنہری پڑیا\nیہ بھی سمجھے اصل میں تھی کیا\nچونکا کچھ کچھ کانوں والا\nکچھ تو ضرور ہے دال میں کالا\nبولا چوہے کیا کہتا ہے\nآخر تیرے جی میں کیا ہے\nبولا چولا ہو کہ چھلاوا\nتم ہو نرے بچھیا کے باوا\nدیکھ کے کھاتے ہیں چیزیں بھیا\nتم جو کھا گئے تھا وہ تتیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "کیا کھینچے ہے خود کو دور اللہ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کھینچے ہے خود کو دور اللہ\nاللہ رے ترا غرور اللہ\n\nحسن ایسا کہاں ہے مہر و مہ میں\nکچھ اور ہی ہے یہ نور اللہ\n\nہم نے تو بچشم خویش دیکھا\nہر شے میں ترا ظہور اللہ\n\nہم ہیں ترے بندے میرے صاحب\nگو شیخ کو دیوے حور اللہ\n\nپہلو سے مرے نکل گیا بت\nکیا مجھ سے ہوا قصور اللہ\n\nجس دم میں کروں ہوں نالہ دل سے\nاٹھتا ہے کتنا شور اللہ\n\nاے مصحفیؔ حق نہیں سمجھتا\nکتنا ہوں میں بے شعور اللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "کیا کہئے", "poet_page": "مصنف:م حسن لطیفی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "غیروں کا تو کہنا کیا محرم سے نہیں کہتا\nمیں عالم غم اپنا عالم سے نہیں کہتا\nپڑھ لیتی ہیں کیفیت کچھ تڑپی ہوئی نظریں\nدکھ اپنا میں ہر چشم پر نم سے نہیں کہتا\nرہ گیر ہوں میں ایسا ہر خم سے گزرتا ہے\nدعوت پہ جو رندان خرم سے نہیں کہتا\nموسم ہمہ گردش ہے پس ماندۂ گردش میں\nلب تشنہ کوئی یہ شے کیوں جم سے نہیں کہتا\nکسب متحرک سے پابستہ نسب طغرے\nیہ کیا ہے کوئی اہل خاتم سے نہیں کہتا\nآ داغ محبت کے سانچے میں تجھے ڈھالوں\nخاتم سے میں کہتا ہوں درہم سے نہیں کہتا\nکچھ بات تھی کہنے کی کچھ بھول گیا اب میں\nفطرت سے نہیں کہتا آدم سے نہیں کہتا\nکہئے تو نہیں باور نا کہئے تو کافر تر\nکہنے کی قسم مجھ کو کو میں ذم سے نہیں کہتا\nکہلانے میں خود ان کا کچھ تکملہ نا رس ہے\nالٹے انہیں شکوے ہیں کیوں ہم سے نہیں کہتا\nہاں میری یہ الجھن تو ہر دل میں کھٹکتی ہے\nکچھ مڑ کے کوئی زلف برہم سے نہیں کہتا\nکیوں ہو نہ جنوں کم گو جب ہوتا ہے یہ زیرک\nدہراتی ہوئی باتیں محروم سے نہیں کہتا\nکہنے سے ہوا گہرا کچھ اور غم پنہاں\nمیں سائے سے کہتا ہوں ہمدم سے نہیں کہتا\nجس لمحے سے دیکھا ہے اک شعر سراپا کو\nدانستہ کوئی مصرع اس دم سے نہیں کہتا\nدیتے ہیں وہ محفل میں یوں داد لطیفیؔ کو\nاشعار یہ کیا اکثر مبہم سے نہیں کہتا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "کیا کہئے داستان تمنا بدل گئی", "poet_page": "مصنف:دل شاہ جہانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہئے داستان تمنا بدل گئی\nان کی بدلتے ہی دنیا بدل گئی\n\nیہ دور انقلاب ہے خود نوشیوں کا دور\nہر میکدے میں گردش مینا بدل گئی\n\nہر پھول ہر کلی پہ برستا ہے اب لہو\nرنگینیٔ بہار چمن کیا بدل گئی\n\nنکھری ہوئی بہار میں چھالے ہیں خونچکاں\nاپنے قدم سے قسمت صحرا بدل گئی\n\nپیہم ٹپک پڑے جو بہ حسرت حضور دوست\nان آنسوؤں سے شرح تمنا بدل گئی\n\nآزادیٔ جنوں کا یہی کیا مآل تھا\nزنداں سے دلفریبیٔ صحرا بدل گئی\n\nوہ خواب زندگی تھا جو ہم دیکھتے رہے\nاے دلؔ کھلی جب آنکھ تو دنیا بدل گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D8%A8%D8%AF%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کیا کہا پھر تو کہو دل کی خبر کچھ بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:محمد علی تشنہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہا پھر تو کہو دل کی خبر کچھ بھی نہیں\nپھر یہ کیا ہے خم گیسو میں اگر کچھ بھی نہیں\n\nآنکھ پڑتی ہے کہیں پاؤں کہیں پڑتا ہے\nسب کی ہے تم کو خبر اپنی خبر کچھ بھی نہیں\n\nشمع ہے گل بھی ہے بلبل بھی ہے پروانہ بھی\nرات کی رات یہ سب کچھ ہے سحر کچھ بھی نہیں\n\nحشر کی دھوم ہے سب کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے\nفتنہ ہے اک تری ٹھوکر کا مگر کچھ بھی نہیں\n\nنیستی کی ہے مجھے کوچۂ ہستی میں تلاش\nسیر کرتا ہوں ادھر کی کہ جدھر کچھ بھی نہیں\n\nشمع مغرور نہ ہو بزم فروزی پہ بہت\nرات بھر کی یہ تجلی ہے سحر کچھ بھی نہیں\n\nایک آنسو بھی اثر جب نہ کرے اے تشنہؔ\nفائدہ رونے سے اے دیدۂ تر کچھ بھی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا کہتے ہیں اس میں مفتیان اسلام", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا کہتے ہیں اس میں مفتیان اسلام\nجب بیع مساجد سے نہیں چلتا کام\nتو وجہ کفاف کے لئے مومن کو\nجائز بھی ہے یا نہیں خدا کا نیلام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%81%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "کیا کہوں اپنے چمن سے مَیں جُدا کیونکر ہوا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "کیا کہوں اپنے چمن سے مَیں جُدا کیونکر ہوا\nاور اسیرِ حلقۂ دامِ ہَوا کیونکر ہوا\n\nجائے حیرت ہے بُرا سارے زمانے کا ہوں میں\nمجھ کو یہ خلعت شرافت کا عطا کیونکر ہوا\n\nکچھ دکھانے دیکھنے کا تھا تقاضا طُور پر\nکیا خبر ہے تجھ کو اے دل فیصلا کیونکر ہوا\n\nہے طلب بے مدّعا ہونے کی بھی اک مدّعا\nمرغِ دل دامِ تمنّا سے رِہا کیونکر ہوا\n\nدیکھنے والے یہاں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے\nپھر یہ وعدہ حشر کا صبر آزما کیونکر ہوا\n\nحُسنِ کامل ہی نہ ہو اس بے حجابی کا سبب\nوہ جو تھا پردوں میں پنہاں، خود نما کیونکر ہوا\n\nموت کا نسخہ ابھی باقی ہے اے دردِ فراق!\nچارہ گر دیوانہ ہے، مَیں لا دوا کیونکر ہوا\n\nتُو نے دیکھا ہے کبھی اے دیدۂ عبرت کہ گُل\nہو کے پیدا خاک سے رنگیں قبا کیونکر ہوا\n\nپُرسشِ اعمال سے مقصد تھا رُسوائی مری\nورنہ ظاہر تھا سبھی کچھ، کیا ہوا، کیونکر ہوا\n\nمیرے مِٹنے کا تماشا دیکھنے کی چیز تھی\nکیا بتاؤں اُن کا میرا سامنا کیونکر ہوا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%8E%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%8F%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "کیا کہوں تجھ سے مری جان میں شب کا احوال", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہوں تجھ سے مری جان میں شب کا احوال\nتجھ پہ روشن ہے دل وصل طلب کا احوال\n\nہوں میں اک عاشق بے باک و خراباتی و رند\nمجھ سے مت پوچھ مرے علم و ادب کا احوال\n\nدل کو خالی کروں رو رو کے مگر میں بے کس\nکون سنتا ہے مرے رنج و تعب کا احوال\n\nمحرم راز نہیں ملتا کوئی درد ہے یہ\nکیا طبیبوں سے کہوں عشق کے تب کا احوال\n\nلطف ہے سب سے سزاوار غضب ایک ہوں میں\nخوب دیکھا جو ترے لطف و غضب کا احوال\n\nاے میاں آج تو دو بات مری بھی سن لے\nکہا چاہوں ہوں میں تجھ سے بھلا کب کا احوال\n\nزور ہے جیسے کہ نسبت نمک و ریش کے بیچ\nمیں ہی سمجھوں تری کیفیت لب کا احوال\n\nنہیں دم مارنے کی مجھ کو ترے آگے مجال\nہائے سنتا ہے تو کس طرح سے سب کا احوال\n\nکیا کوئی خوش ہو مرے شعر کو سن کے حسرتؔ\nدرد دل ہے یہ نہیں عیش و طرب کا احوال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84"} {"title": "کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق\nجان کا روگ ہے بلا ہے عشق\n\nعشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو\nسارے عالم میں بھر رہا ہے عشق\n\nعشق ہے طرز و طور عشق کے تئیں\nکہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق\n\nعشق معشوق عشق عاشق ہے\nیعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق\n\nگر پرستش خدا کی ثابت کی\nکسو صورت میں ہو بھلا ہے عشق\n\nدل کش ایسا کہاں ہے دشمن جاں\nمدعی ہے پہ مدعا ہے عشق\n\nہے ہمارے بھی طور کا عاشق\nجس کسی کو کہیں ہوا ہے عشق\n\nکوئی خواہاں نہیں محبت کا\nتو کہے جنس ناروا ہے عشق\n\nمیرؔ جی زرد ہوتے جاتے ہو\nکیا کہیں تم نے بھی کیا ہے عشق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "کیا کہوں تم سے میں یارو کون ہوں", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "کیا کہوں تم سے میں یارو کون ہوں\nہوں سراپا قیس صحرائے جنوں\n\nچشم خوں افشاں مری رو دیں اگر\nدشت ہو جاوے ابھی دریائے خوں\n\nدار پر رکھیں مجھیں منصور وار\nفاش کر دوں میں اگر راز دروں\n\nعشق ہے گنجینۂ اصرار حق\nپا نہیں سکتی اسے عقل زبوں\n\nکون کر سکتا ہے مجھ دیوانہ کون\nقید جز زنجیر و زلف پر فسوں\n\nروبرو مستان جام عشق کے\nدین کیا ہے اور کیا دنیائے دوں\n\nاب تو آثمؔ عشق خادم شاہ میں\nہوں سراپا قیس صحرائے جنوں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "کیا کہوں حسرت دیدار نے کیا کیا کھینچا", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہوں حسرت دیدار نے کیا کیا کھینچا\nکبھی دامن ترا کھینچا کبھی پردا کھینچا\n\nنقش امید مرے شوق نے الٹا کھینچا\nمجھ سے کھنچتے ہی گئے وہ انہیں جتنا کھینچا\n\nوہ ترے دل میں ہماری بھی جگہ کر دے گا\nجس نے اس آنکھ کے تل میں ترا نقشا کھینچا\n\nخواب اس دل پہ تری آنکھ نے ڈورے ڈالے\nخوب کاجل نے تری آنکھ میں ڈورا کھینچا\n\nتان لیں دونوں بھویں ڈال کے نظریں اس نے\nتیر چھوڑے تو کمانوں نے بھی چلا کھینچا\n\nضبط فریاد سے مضطرؔ مری سانسیں الجھیں\nرسم فریاد نے اوپر کو کلیجا کھینچا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%D8%A7"} {"title": "کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا\nیہ بھلا چنگا گرفتار بلا کیونکر ہوا\n\nجن کو محراب عبادت ہو خم ابروئے یار\nان کا کعبے میں کہو سجدہ ادا کیونکر ہوا\n\nدیدۂ حیراں ہمارا تھا تمہارے زیر پا\nہم کو حیرت ہے کہ پیدا نقش پا کیونکر ہوا\n\nنامہ بر خط دے کے اس نو خط کو تو نے کیا کہا\nکیا خطا تجھ سے ہوئی اور وہ خفا کیونکر ہوا\n\nخاکساری کیا عجب کھووے اگر دل کا غبار\nخاک سے دیکھو کہ آئینہ صفا کیونکر ہوا\n\nجن کو یکتائی کا دعویٰ تھا وہ مثل آئینہ\nان کو حیرت ہے کہ پیدا دوسرا کیونکر ہوا\n\nتیرے دانتوں کے تصور سے نہ تھا گر آبدار\nجو بہا آنسو وہ در بے بہا کیونکر ہوا\n\nجو نہ ہونا تھا ہوا ہم پر تمہارے عشق میں\nتم نے اتنا بھی نہ پوچھا کیا ہوا کیونکر ہوا\n\nوہ تو ہے نا آشنا مشہور عالم میں ظفرؔ\nپر خدا جانے وہ تجھ سے آشنا کیونکر ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%AF%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "کیا کہوں غنچۂ گل نیم دہاں ہے کچھ اور", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہوں غنچۂ گل نیم دہاں ہے کچھ اور\nلا کلامی ہے وہاں بات یہاں ہے کچھ اور\n\nبجھ گئی آتش گل دیکھ تو اے دیدۂ تر\nکیا سلگتا ہے جو پہلو میں دھواں ہے کچھ اور\n\nپانی اس میں سے بھریں اس میں گریں یوسف دل\nچشمۂ چاہ ذقن اور کنواں ہے کچھ اور\n\nجیتے جی موت کا ڈر بعد فنا خوف عذاب\nجز غم و رنج یہاں ہے نہ وہاں ہے کچھ اور\n\nحسن صورت پہ نہ جا دیکھ وہیں معنی کو\nایک ہیں کعبہ و بت خانہ کہاں ہے کچھ اور\n\nتم سمجھتے ہو مری بے ذہنی میں ہے کلام\nلب گویا کی قسم ذکر یہاں ہے کچھ اور\n\nبادہ کش وہ ہوں کروں شیشے کے شیشے خالی\nپر لگاؤں یہی رٹ نشہ میں ہاں ہے کچھ اور\n\nقسمت شادؔ میں جز غم جو یہاں کچھ بھی نہیں\nاے ہوس لے چل ادھر کو کہ جہاں ہے کچھ اور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%82_%DA%AF%D9%84_%D9%86%DB%8C%D9%85_%D8%AF%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا\nقافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا\n\nبے کسی مدت تلک برسا کی اپنی گور پر\nجو ہماری خاک پر سے ہو کے گزرا رو گیا\n\nکچھ خطرناکی طریق عشق میں پنہاں نہیں\nکھپ گیا وہ راہرو اس راہ ہو کر جو گیا\n\nمدعا جو ہے سو وہ پایا نہیں جاتا کہیں\nایک عالم جستجو میں جی کو اپنے کھو گیا\n\nمیرؔ ہر یک موج میں ہے زلف ہی کا سا دماغ\nجب سے وہ دریا پہ آ کر بال اپنے دھو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کیا کہوں ہم نشیں یہ میرا بھاگ", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہوں ہم نشیں یہ میرا بھاگ\nایک جان اور سیکڑوں ہیں کھڑاگ\n\nپھر کبھی مے سے توبہ کر لوں گا\nاب تو بوتل کا کھل گیا ہے کاگ\n\nدیدہ و دل کی نبھ نہیں سکتی\nاس میں پانی ہے اور اس میں آگ\n\nکر کے وہ ذکر جور ڈھائیں گے\nتار بولا کہ ہم نے بوجھا راگ\n\nاب خزاں میں کہاں وہ رنگ چمن\nجلد تر لٹ گیا دلہن کا سہاگ\n\nمفلسی میں ہے دل امیروں کا\nہم لنگوٹی میں کھیلتے ہیں پھاگ\n\nدل ہمارا بتوں کو بھول گیا\nاب نہ کاشی نظر میں ہے نہ پراگ\n\nچور سے کہہ رہے ہیں چوری کر\nاور وہ کہہ رہے ہیں شاہ سے جاگ\n\nشعلہ رو میں نے کیوں کہا ان کو\nاور بھی ہو گئے وہ سن کر آگ\n\nبزم عیش و نشاط ہو گئی ختم\nاب کہاں راگنی کہاں وہ راگ\n\nکیوں سنبھلتا نہیں مزاج اپنا\nہے دوا و مرض میں شاید لاگ\n\nسب ترے دوست سب مرے دشمن\nاک مرا بخت ایک تیرا بھاگ\n\nکوئی لحظے کو بھی نہیں رکتا\nتوسن عمر کی ہے ڈھیلی باگ\n\nقول دے کر ترا مکر جانا\nمجھ سے اتنا لگاؤ اتنی لاگ\n\nہے جدھر میری منزل مقصود\nمیں ادھر جا رہا ہوں بھاگا بھاگ\n\nمیں نے دیکھا یہ بزم عالم میں\nاپنی ڈفلی ہے اور اپنا راگ\n\nموسم گل ابھی نہیں آیا\nچل دئے گھر میں ہم لگا کر آگ\n\nروز ملتے ہیں منہ پر اپنے بھبھوت\nعشق میں ہم نے لے لیا بیراگ\n\nدل لگا کر مجھے ہوا معلوم\nعشق میں ہیں بڑے بڑے سے کھڑاگ\n\nان کو طوفان خلق سے کیا ڈر\nحضرت نوحؔ ہیں پرانے گھاگ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%DA%AF"} {"title": "کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے\nکیا کچھ ہوا ہے دل پہ اثر کچھ نہ پوچھئے\n\nوہ دیکھنا کسی کا کنکھیوں سے بار بار\nوہ بار بار اس کا اثر کچھ نہ پوچھئے\n\nرو رو کے کس طرح سے کٹی رات کیا کہیں\nمر مر کے کیسے کی ہے سحر کچھ نہ پوچھئے\n\nاخترؔ دیار حسن میں پہنچے ہیں مر کے ہم\nکیوں کر ہوا ہے طے یہ سفر کچھ نہ پوچھئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A6%DB%92"} {"title": "کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں\nچھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں\n\nگوہر گوش کسو کا نہیں جی سے جاتا\nآنسو موتی سے مرے منہ پہ ڈھلے جاتے ہیں\n\nیہی مسدود ہے کچھ راہ وفا ورنہ بہم\nسب کہیں نامہ و پیغام چلے جاتے ہیں\n\nبار حرمان و گل و داغ نہیں اپنے ساتھ\nشجر باغ وفا پھولے پھلے جاتے ہیں\n\nحیرت عشق میں تصویر سے رفتہ ہی رہے\nایسے جاتے ہیں جو ہم بھی تو بھلے جاتے ہیں\n\nہجر کی کوفت جو کھینچے ہیں انہیں سے پوچھو\nدل دیے جاتے ہیں جی اپنے ملے جاتے ہیں\n\nیاد قد میں ترے آنکھوں سے بہیں ہیں جوئیں\nگر کسو باغ میں ہم سرو تلے جاتے ہیں\n\nدیکھیں پیش آوے ہے کیا عشق میں اب تو جوں سیل\nہم بھی اس راہ میں سر گاڑے چلے جاتے ہیں\n\nپر غبارئ جہاں سے نہیں سدھ میرؔ ہمیں\nگرد اتنی ہے کہ مٹی میں رلے جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا کہیں اپنی اس کی شب کی بات", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہیں اپنی اس کی شب کی بات\nکہیے ہووے جو کچھ بھی ڈھب کی بات\n\nاب تو چپ لگ گئی ہے حیرت سے\nپھر کھلے گی زبان جب کی بات\n\nنکتہ دانان رفتہ کی نہ کہو\nبات وہ ہے جو ہووے اب کی بات\n\nکس کا روئے سخن نہیں ہے ادھر\nہے نظر میں ہماری سب کی بات\n\nظلم ہے قہر ہے قیامت ہے\nغصے میں اس کے زیر لب کی بات\n\nکہتے ہیں آگے تھا بتوں میں رحم\nہے خدا جانیے یہ کب کی بات\n\nگو کہ آتش زباں تھے آگے میرؔ\nاب کی کہیے گئی وہ تب کی بات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "کیا کہیں تجھ سے ہم وفا کیا ہے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہیں تجھ سے ہم وفا کیا ہے\nسوچ کچھ دل میں پوچھتا کیا ہے\n\nدل ہے یہ یا کہ آبلہ کیا ہے\nکیوں ہے اتنا بھرا ہوا کیا ہے\n\nکیسے کیسے جواں کیے برباد\nعشق کیا شے ہے یہ بلا کیا ہے\n\nدل کو دینا تھا دے دیا ظالم\nاور ہم نے ترا لیا کیا ہے\n\nگر رقابت تمہیں نہیں مجھ سے\nپھر یہ آئینہ دیکھنا کیا ہے\n\nپہلے رکھ لے تو اپنے دل پر ہاتھ\nپھر مرے خط کو پڑھ لکھا کیا ہے\n\nاب وہ آنکھیں نہیں ہیں پہلی سی\nسچ کہو تم کو ہو گیا کیا ہے\n\nشوق عاشق کشی بھلا ہی سہی\nرحم کرنا بھی پر برا کیا ہے\n\nکیا کہیں ہم برا کہ خو ہی نہیں\nپر کہو تم ہی یہ جفا کیا ہے\n\nجب کہ گردن پہ خوں رہا اس کی\nنام مت لو کہ خوں بہا کیا ہے\n\nمیری اور آرزو کو تو پوچھے\nسوچتا ہوں کہ مدعا کیا ہے\n\nجانے کیا کیا ہوا ہے رزق خاک\nگل و لالہ کو دیکھتا کیا ہے\n\nدل عجب چیز ہے تو تم سے عزیز\nرہنے بھی دو معاملہ کیا ہے\n\nآگے آگے ہیں پارہ ہائے جیب\nمجھ کو درکار رہنما کیا ہے\n\nکم نگاہی بھی شرط حسن ہے پر\nدیکھ تو ہم میں اب رہا کیا ہے\n\nقتل ہوتے رہے ہیں ہم سے پوچھ\nلے کے شمشیر سوچتا کیا ہے\n\nپی گئی خوں زمیں ہزاروں کی\nمفت پھر شوخئ حنا کیا ہے\n\nدونوں عالم کو کیوں کیا پامال\nنقش پا پر یہ نقش پا کیا ہے\n\nاے قلقؔ کیوں قلندری چھوڑی\nیہ عبا کیا ہے یہ قبا کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا کہیں دنیا میں ہم انسان یا حیوان تھے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہیں دنیا میں ہم انسان یا حیوان تھے\nخاک تھے کیا تھے غرض اک آن کے مہمان تھے\n\nکر رہے تھے اپنا قبضہ غیر کی املاک پر\nغور سے دیکھا تو ہم بھی سخت بے ایمان تھے\n\nاور کی چیزیں دبا رکھنا بڑی سمجھی تھی عقل\nچھین لیں جب اس نے جب جانا کہ ہم نادان تھے\n\nایک دن اک استخواں اوپر پڑا میرا جو پاؤں\nکیا کہوں اس دم مجھے غفلت میں کیا کیا دھیان تھے\n\nپاؤں پڑتے ہی غرض اس استخواں نے آہ کی\nاور کہا غافل کبھی تو ہم بھی صاحب جان تھے\n\nدست و پا زانو سر و گردن شکم پشت و کمر\nدیکھنے کو آنکھیں اور سننے کی خاطر کان تھے\n\nابرو و بینی جبیں نقش و نگار و خال و خط\nلعل و مروارید سے بہتر لب و دندان تھے\n\nرات کو سونے کو کیا کیا نرم و نازک تھے پلنگ\nبیٹھنے کو دن کے کیا کیا کوٹھے اور دالان تھے\n\nکھل رہا تھا روبرو جنت کے گلشن کا چمن\nنازنین محبوب گویا حور اور غلمان تھے\n\nلگ رہا تھا دل کئی چنچل پری زادوں کے ساتھ\nکچھ کسی سے عہد تھے اور کچھ کہیں پیمان تھے\n\nگل بدن اور گلعذاروں کے کنارو بوس سے\nکچھ نکالی تھی ہوس کچھ اور بھی ارمان تھے\n\nمچ رہے تھے چہچہے اور اڑ رہے تھے قہقہے\nساقی و ساغر صراحی پھول عطر و پان تھے\n\nایک ہی چکر دیا ایسا اجل نے آن کر\nجو نہ ہم تھے اور نہ وہ سب عیش کے سامان تھے\n\nایسی بے دردی سے ہم پر پاؤں مت رکھ اے نظیرؔ\nاو میاں تیری طرح ہم بھی کبھی انسان تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "کیا کہیں ملتا ہے کیا خوابوں میں", "poet_page": "مصنف:عبدالعزیز فطرت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہیں ملتا ہے کیا خوابوں میں\nدل گھرا رہتا ہے مہتابوں میں\n\nہر تمنائے سکون ساحل\nالجھی الجھی رہی سیلابوں میں\n\nدل انساں کی سیاہی توبہ\nظلمتیں بس گئیں مہتابوں میں\n\nآپ کے فیض سے تنویریں ہیں\nکعبۂ عشق کی محرابوں میں\n\nاپنا ہر خواب تھا اک موج سرور\nیوں ہوئی عمر بسر خوابوں میں\n\nحسن قسمت سے ہمیشہ فطرتؔ\nبخت بیدار رہا خوابوں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا کہیں پوچھ مت کہیں ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہیں پوچھ مت کہیں ہیں ہم\nتو جہاں ہے غرض وہیں ہیں ہم\n\nکیا کہیں اپنا ہم نشیب و فراز\nآسماں گاہ گہ زمیں ہیں ہم\n\nوہم میں اپنے تھے بہت کچھ لیک\nخوب دیکھا تو کچھ نہیں ہیں ہم\n\nہم کو ناکارہ جان مت لے لے\nتیرے ہی نام کے نگیں ہیں ہم\n\nمیں جو پوچھا کہاں ہو تم تو کہا\nتجھ کو کیا کام ہے کہیں ہیں ہم\n\nاپنے عقدے کسی طرح نہ کھلے\nکس دل آزار کی جبیں ہیں ہم\n\nہم نہ تیر شہاب ہیں نہ سموم\nنالہ و آہ آتشیں ہیں ہم\n\nبود و نابود میں غرض اپنے\nجس طرح سے کہ ہم نشیں ہیں ہم\n\nکیا کہیں پوچھ مت بقول ضیاؔ\nایک دم ہیں سو واپسیں ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE_%D9%85%D8%AA_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "کیا کہیں ہم تھے کہ یا دیدۂ تر بیٹھ گئے", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہیں ہم تھے کہ یا دیدۂ تر بیٹھ گئے\nقلزم اشک میں جوں لخت جگر بیٹھ گئے\n\nناتواں ہم یوں تری بزم سے نکلے کیونکر\nکسے معلوم ہے ہم آ کے کدھر بیٹھ گئے\n\nآپ کو خون کے آنسو ہی رلانا ہوگا\nحال دل کہنے کو ہم اپنا اگر بیٹھ گئے\n\nکس کو اک دم کا بھروسہ ہے کہ مانند حباب\nبحر ہستی میں ادھر آئے ادھر بیٹھ گئے\n\nدور سمجھا ہے رقیبوں کو یہاں سے عارفؔ\nیار کے پاس جو بے خوف و خطر بیٹھ گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%AA%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "کیا کہیے ادا بتوں سے کیا ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا کہیے ادا بتوں سے کیا ہوتی ہے\nجو دل زدگاں پہ یہ جفا ہوتی ہے\nیہ کیا کہ سجود میں نہ دیکھا بگڑے\nاک وقت نماز بھی قضا ہوتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا کہیے خراب ہوتے ہم کیسے پھرے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا کہیے خراب ہوتے ہم کیسے پھرے\nدیکھا یہ بھی کہ سب کی نظروں سے گرے\nچپ ایسے ہیں گویا کہ نہیں منھ میں زباں\nجب نام ترا لیں تو زباں اپنی پھرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%92"} {"title": "کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی\nاونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتی\n\nشاید ہی کوئی آ سکے اس موڑ سے آگے\nاس موڑ سے آگے تو قضا تک نہیں آتی\n\nوہ گل نہ رہے نکہت گل خاک ملے گی\nیہ سوچ کے گلشن میں صبا تک نہیں آتی\n\nاس شور تلاطم میں کوئی کس کو پکارے\nکانوں میں یہاں اپنی صدا تک نہیں آتی\n\nخوددار ہوں کیوں آؤں در اہل کرم پر\nکھیتی کبھی خود چل کے گھٹا تک نہیں آتی\n\nاس دشت میں قدموں کے نشاں ڈھونڈ رہے ہو\nپیڑوں سے جہاں چھن کے ضیا تک نہیں آتی\n\nیا جاتے ہوئے مجھ سے لپٹ جاتی تھیں شاخیں\nیا میرے بلانے سے صبا تک نہیں آتی\n\nکیا خشک ہوا روشنیوں کا وہ سمندر\nاب کوئی کرن آبلہ پا تک نہیں آتی\n\nچھپ چھپ کے سدا جھانکتی ہیں خلوت گل میں\nمہتاب کی کرنوں کو حیا تک نہیں آتی\n\nیہ کون بتائے عدم آباد ہے کیسا\nٹوٹی ہوئی قبروں سے صدا تک نہیں آتی\n\nبہتر ہے پلٹ جاؤ سیہ خانۂ غم سے\nاس سرد گپھا میں تو ہوا تک نہیں آتی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D8%AF%D8%A7_%D8%AA%DA%A9_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C"} {"title": "کیا کہیے کہ بیداد ہے تیری بیداد", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہیے کہ بیداد ہے تیری بیداد\nطوفان محبت کی ہے زد میں فریاد\n\nدل محشر بے خودی ہے اللہ اللہ\nیاد اور کسی بھول جانے والے کی یاد\n\nپابندی رسم بر طرف کیوں اے موت\nان کے بھی کیے ہیں تو نے قیدی آزاد\n\nاللہ یہ بجلیاں نہ کام آئیں گی\nآندھی ہی سے کیوں ہو آشیانہ برباد\n\nدنیا جسے کہتا ہے زمانہ فانیؔ\nہے ایک طلسم اجتماع اضداد", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%AF"} {"title": "کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا\nان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا\n\nجلوہ ہے اسی کا سب گلشن میں زمانے کے\nگل پھول کو ہے ان نے پردہ سا بنا رکھا\n\nجوں برگ خزاں دیدہ سب زرد ہوئے ہم تو\nگرمی نے ہمیں دل کی آخر کو جلا رکھا\n\nکہیے جو تمیز اس کو کچھ اچھے برے کی ہو\nدل جس کسو کا پایا چٹ ان نے اڑا رکھا\n\nتھی مسلک الفت کی مشہور خطرناکی\nمیں دیدہ و دانستہ کس راہ میں پا رکھا\n\nخورشید و قمر پیارے رہتے ہیں چھپے کوئی\nرخساروں کو گو تو نے برقع سے چھپا رکھا\n\nچشمک ہی نہیں تازی شیوے یہ اسی کے ہیں\nجھمکی سی دکھا دے کر عالم کو لگا رکھا\n\nلگنے کے لیے دل کے چھڑکا تھا نمک میں نے\nسو چھاتی کے زخموں نے کل دیر مزہ رکھا\n\nکشتے کو اس ابرو کے کیا میل ہو ہستی کی\nمیں طاق بلند اوپر جینے کو اٹھا رکھا\n\nقطعی ہے دلیل اے میرؔ اس تیغ کی بے آبی\nرحم ان نے مرے حق میں مطلق نہ روا رکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کیا کہیے کیا رکھیں ہیں ہم تجھ سے یار خواہش", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کہیے کیا رکھیں ہیں ہم تجھ سے یار خواہش\nیک جان و صد تمنا، یک دل ہزار خواہش\n\nلے ہاتھ میں قفس ٹک صیاد چل چمن تک\nمدت سے ہے ہمیں بھی سیر بہار خواہش\n\nنے کچھ گنہ ہے دل کا نے جرم چشم اس میں\nرکھتی ہے ہم کو اتنا بے اختیار خواہش\n\nحالانکہ عمر ساری مایوس گزری تس پر\nکیا کیا رکھیں ہیں اس کے امیدوار خواہش\n\nغیرت سے دوستی کی کس کس سے ہو جے دشمن\nرکھتا ہے یاری ہی کی سارا دیار خواہش\n\nہم مہر و رز کیوں کر خالی ہوں آرزو سے\nشیوہ یہی تمنا فن و شعار خواہش\n\nاٹھتی ہے موج ہر یک آغوش ہی کی صورت\nدریا کو ہے یہ کس کا بوس و کنار خواہش\n\nصد رنگ جلوہ گر ہے ہر جادہ غیرت گل\nعاشق کی ایک پاوے کیوں کر قرار خواہش\n\nیک بار بر نہ آئے اس سے امید دل کی\nاظہار کرتے کب تک یوں بار بار خواہش\n\nکرتے ہیں سب تمنا پر میرؔ جی نہ اتنی\nرکھے گی مار تم کو پایان کار خواہش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B4"} {"title": "کیا کیا اجل نے جان چرائی تمام شب", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کیا اجل نے جان چرائی تمام شب\nکوئی بھی آرزو نہ بر آئی تمام شب\n\nدل سوز کب ہوئے ہیں کہ جب خاک ہو گیا\nتربت پہ میری شمع جلائی تمام شب\n\nاے وائے تلخ کامیٔ‌ روز بد فراق\nناصح نے جان غم زدہ کھائی تمام شب\n\nاز بس یقین وعدۂ دیدار خواب تھا\nکیا خوش ہوئے کہ نیند نہ آئی تمام شب\n\nاک آہ دل نشیں سے وہ بت منفعل ہوا\nواللہ کیا ندامت اٹھائی تمام شب\n\nلگتے ہی آنکھ دیکھ لیا جلوۂ نہاں\nپیش نظر تھی شان خدائی تمام شب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%AC%D9%84_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D8%A8"} {"title": "کیا کیا اے عاشقی ستایا تونے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا کیا اے عاشقی ستایا تونے\nکیسا کیسا ہمیں کھپایا تونے\nاول کے سلوک میں کہیں کا نہ رکھا\nآخر کو ٹھکانے ہی لگایا تونے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88%D9%86%DB%92"} {"title": "کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے\nچپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے وہ ہیں آئے گئے\n\nاٹھے نقاب جہاں سے یا رب جس سے تکلف بیچ میں ہے\nجب نکلے اس راہ سے ہو کر منہ تم ہم سے چھپائے گئے\n\nکب کب تم نے سچ نہیں مانیں جھوٹی باتیں غیروں کی\nتم ہم کو یوں ہی جلائے گئے وے تم کو وہ ہیں لگائے گئے\n\nصبح وہ آفت اٹھ بیٹھا تھا تم نے نہ دیکھا صد افسوس\nکیا کیا فتنے سر جوڑے پلکوں کے سائے سائے گئے\n\nاللہ رے یہ دیدہ درائی ہوں نہ مکدر کیونکے ہم\nآنکھیں ہم سے ملائے گئے پھر خاک میں ہم کو ملائے گئے\n\nآگ میں غم کی ہو کے گدازاں جسم ہوا سب پانی سا\nیعنی بن ان شعلہ رخوں کے خوب ہی ہم بھی تائے گئے\n\nٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بھی حد ایک آخر ہوتی ہے\nکشتے اس کی تیغ ستم کے گور تئیں کب لائے گئے\n\nخضر جو مل جاتا ہے گاہے آپ کو بھولا خوب نہیں\nکھوئے گئے اس راہ کے ورنہ کاہے کو پھر پائے گئے\n\nمرنے سے کیا میرؔ جی صاحب ہم کو ہوش تھے کیا کریے\nجی سے ہاتھ اٹھائے گئے پر اس سے دل نہ اٹھائے گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%A8%DA%AF%DA%91_%D8%A8%DA%AF%DA%91_%D8%AA%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میں", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میں\nان کی طرف سے آپ لکھے خط جواب میں\n\nکیا جانیں کیا سکھائیں گے ان کو صلاح کار\nہر روز گفتگو ہے نئی میرے باب میں\n\nپیر مغاں کی دل شکنی کا رہا خیال\nداخل ہوا ہوں توبہ سے پہلے ثواب میں\n\nرکھنا قدم تصور جاناں سنبھال کر\nکائی ہے جا بہ جا مری چشم پر آب میں\n\nاے شیخ جو بتائے مے عشق کو حرام\nایسے کے دو لگائے بھگو کر شراب میں\n\nاے داغؔ کوئی مجھ سا نہ ہوگا گناہ گار\nہے معصیت سے میری جہنم عذاب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا کیا مزے سے رات کی عہد شباب میں", "poet_page": "مصنف:میر تسکینؔ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کیا مزے سے رات کی عہد شباب میں\nچھوڑوں نہ عمر رفتہ گر آ جائے خواب میں\n\nاک دل کے واسطے یہ پھنسے وہ عذاب میں\nرہتے ہیں اپنی زلف ہی کے پیچ و تاب میں\n\nہے شوق وصل تجھ سے لپٹتا ہوں بار بار\nورنہ یہ مستیاں تو نہیں تھیں شراب میں\n\nاتنی نہ کیجے جانے کی جلدی شب وصال\nدیکھے ہیں میں نے کام بگڑتے شتاب میں\n\nہو جائے چاک سینہ کہ دل گھٹ کے مر چلا\nاے چارہ جو کسی کو پھنسا مت عذاب میں\n\nکر بحر و بر کی ہستئ موہوم پر نظر\nتھوڑی سی خاک ڈال دی چشم پر آب میں\n\nتب قتل گہہ میں قتل عدو کو چلے ہیں وہ\nمیرا لہو ملا کے پیا جب شراب میں\n\nکن محنتوں سے وصل پہ راضی ہوئے ہیں وہ\nسو نامہ بر ہوئے جو سوال و جواب میں\n\nاختر شماریوں میں نکلتا ہے دم کہیں\nتسکیںؔ تمہیں کو دخل نہیں ہے حساب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B2%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا کیا نظر کو شوق ہوس دیکھنے میں تھا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کیا نظر کو شوق ہوس دیکھنے میں تھا\nدیکھا تو ہر جمال اسی آئینے میں تھا\n\nقلزم نے بڑھ کے چوم لیے پھول سے قدم\nدریائے رنگ و نور ابھی راستے میں تھا\n\nاک موج خون خلق تھی کس کی جبیں پہ تھی\nاک طوق فرد جرم تھا کس کے گلے میں تھا\n\nاک رشتۂ وفا تھا سو کس نا شناس سے\nاک درد حرز جاں تھا سو کس کے صلے میں تھا\n\nصہبائے تند و تیز کی حدت کو کیا خبر\nشیشے سے پوچھئے جو مزا ٹوٹنے میں تھا\n\nکیا کیا رہے ہیں حرف و حکایت کے سلسلے\nوہ کم سخن نہیں تھا مگر دیکھنے میں تھا\n\nتائب تھے احتساب سے جب سارے بادہ کش\nمجھ کو یہ افتخار کہ میں مے کدے میں تھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%D9%88%D9%82_%DB%81%D9%88%D8%B3_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کیا کیا نہ تیرے صدمہ سے باد خزاں گرا", "poet_page": "مصنف:شیخ علی بخش بیمار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کیا نہ تیرے صدمے سے باد خزاں گرا\nگل برگ سرو فاختہ کا آشیاں گرا\n\nلکھنے لگی قضا جو ہماری فتادگی\nسو بار ہاتھ سے قلم دو زباں گرا\n\nجب پہنچے ہم کنارۂ مقصود کے قریب\nتب ناخدا جہاں سے اٹھا بادباں گرا\n\nموباف سرخ چوٹی سے کیا ان کی کھل پڑا\nایک صاعقہ سا دل پہ مرے ناگہاں گرا\n\nتا آسماں پہنچ کے ہوئی آہ سرنگوں\nیا رب ہو خیر فوج الم کا نشاں گرا\n\nاٹھ کر چلا جو پاس سے ان کے تو گھر تلک\nہر ہر قدم پہ ضعف سے میں ناتواں گرا\n\nدیکھا جو دشت نجد میں حال تباہ قیس\nمحمل سے لیلیٰ کود پڑی سارباں گرا\n\nدوزخ پہ کیوں نہ ہو دل بیمارؔ طعنہ زن\nآتش سے عشق کی ہے پتنگا یہاں گرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B5%D8%AF%D9%85%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کیا کیا نہ رنگ تیرے طلب گار لا چکے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا کیا نہ رنگ تیرے طلب گار لا چکے\nمستوں کو جوش صوفیوں کو حال آ چکے\n\nہستی کو مثل نقش کف پا مٹا چکے\nعاشق نقاب شاہد مقصود اٹھا چکے\n\nکعبے سے دیر دیر سے کعبے کو جا چکے\nکیا کیا نہ اس دوراہے میں ہم پھیر کھا چکے\n\nگستاخ ہاتھ طوق کمر یار کے ہوئے\nحد ادب سے پاؤں کو آگے بڑھا چکے\n\nکنعاں سے شہر مصر میں یوسف کو لے گئے\nبازار میں بھی حسن کو آخر دکھا چکے\n\nپہنچے تڑپ تڑپ کے بھی جلاد تک نہ ہم\nطاقت سے ہاتھ پاؤں زیادہ ہلا چکے\n\nہوتی ہے تن میں روح پیام اجل سے شاد\nدن وعدۂ وصال کے نزدیک آ چکے\n\nپیمانہ میری عمر کا لبریز ہو کہیں\nساقی مجھے بھی اب تو پیالہ پلا چکے\n\nدیوانہ جانتے ہیں ترا ہوشیار انہیں\nجامے کو جسم کے بھی جو پرزے اڑا چکے\n\nبے وجہ ہر دم آئنہ پیش نظر نہیں\nسمجھے ہم آپ آنکھوں میں اپنی سما چکے\n\nاس دل ربا سے وصل ہوا دے کے جان کو\nیوسف کو مول لے چکے قیمت چکا چکے\n\nاٹھا نقاب چہرۂ زیبائے یار سے\nدیوار درمیاں جو تھی ہم اس کو ڈھا چکے\n\nزیر زمیں بھی تڑپیں گے اے آسمان حسن\nبیتاب تیرے گور میں بھی چین پا چکے\n\nآرائش جمال بلا کا نزول ہے\nاندھیر کر دیا جو وہ مسی لگا چکے\n\nدو ابرو اور دو لب جاں بخش یار کے\nزندوں کو قتل کر چکے مردے جلا چکے\n\nمجبور کر دیا ہے محبت نے یار کی\nباہر ہم اختیار سے ہیں اپنے جا چکے\n\nصدموں نے عشق حسن کے دم کر دیا فنا\nآتشؔ سزا گناہ محبت کی پا چکے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%84%D8%A7_%DA%86%DA%A9%DB%92"} {"title": "کیا کیا ہیں سلوک بد فقط غم ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیا کیا ہیں سلوک بد فقط غم ہی نہیں\nپھر ہم سے جنوں میں ضعف سے دم ہی نہیں\nاک عمر چلی گئی جفاے شب و روز\nاب وہ تو نہیں شام و سحر ہم ہی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9_%D8%A8%D8%AF_%D9%81%D9%82%D8%B7_%D8%BA%D9%85_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا گردوں نے فتنے کو اشارہ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "کیا گردوں نے فتنے کو اشارہ\nبلا کو کربلا میں لا اتارا\nہوا آخر طلب سید ہمارا\nلٹا ناموس پیغمبرؐ کا سارا\n\nمروت شامیوں سے بن نہ آئی\nہوئی یہ چشم و روے بے وفائی\nستم کی تیغ سب نے آزمائی\nحسین ابن علی کو جس سے مارا\n\nرہا جو عابدیں سو زار و بیمار\nاٹھانا یک قدم کا جس پہ دشوار\nبلا کا مبتلا غم کا گرفتار\nغریب و بیکس و بے یار و یارا\n\nخطاب اس کا تھا ہر دم آسماں کو\nکہ ہم بے طالعوں غم دیدگاں کو\nدکھایا تونے تیرہ کر جہاں کو\nمگر رکھتے نہ تھے ہم سب ستارہ\n\nفلک تونے عجب چوپڑ بچھائی\nسمجھ میں چال تیری کچھ نہ آئی\nامام دیں نے جاں بازی لگائی\nموا لیکن نہ اپنے جی کو ہارا\n\nچلا وہ قافلہ لوٹا ہوا سب\nانھوں کا پیش رو عابد جسے تب\nکوئی روتا کسو کے نالہ بر لب\nکسو کی زندگانی ناگوارا\n\nپڑی راہ اس طرف اس کارواں کی\nجہاں لاشیں پڑی تھیں کشتگاں کی\nہر اک نے خونچکاں لب سے فغاں کی\nہوا آشوب محشر آشکارا\n\nکوئی رو رو کے زہرا کو پکاری\nکہ دیکھو خوار ہے اولاد ساری\nنہیں لیتیں خبر جو تم ہماری\nہوا شاید جگر پتھر تمھارا\n\nکیا ہے چرخ نے ناشاد ہم کو\nدیا ہے اس طرح برباد ہم کو\nنہیں کرتیں جو مطلق یاد ہم کو\nمگر تم نے ہمیں دل سے بسارا\n\nضرورت ہے کہ ہو ٹک تم بھی آگہ\nمصیبت پڑ گئی ہے ہم پہ ناگہ\nہمارا حال ہے رونے کی جاگہ\nکرے امت کھڑی ہوکر نظارہ\n\nجگر ہم سب کے اس غم سے پھٹے ہیں\nشجر اس باغ کے سارے کٹے ہیں\nگل و بوٹے بھی ماٹی میں اٹے ہیں\nجفا کا ہر طرف چلتا ہے آرا\n\nنہیں بھائی بھتیجوں کا ٹھکانا\nمیسر سب کو آیا جی سے جانا\nکسو کا تن ہے تیروں کا نشانہ\nکسو کا سر ہوا ہے چارپارہ\n\nجہاں ہم کو اسیروں کا کوا ہے\nہمارا تشنہ لب صاحب موا ہے\nستم آگے کہیں ایسا ہوا ہے\nٹک اک انصاف سے دیکھو خدارا\n\nفرات اوپر کسو کا تھا کنایہ\nکہ اے بے تہ نہ تھا کیا اتنا پایہ\nحسین ابن علی پیاسا کھپایا\nگیا تو بیچ میں سے کر کنارہ\n\nکوئی رو رو کے کہتی تھی زمیں سے\nکہ تجھ کو بھی کدورت تھی ہمیں سے\nاگر تو چاک ہو جاتی یہیں سے\nنہ ہوسکتا ترے اوپر گذارا\n\nحسین آکر نہ اس جا خیمہ کرتا\nنہ اس کا دار و دستہ کٹ کے مرتا\nنہ سر اس کا کوئی نیزے پہ دھرتا\nنہ ہوتی خاک میداں خوں سے گارا\n\nنہ پھرتا اس طرح ہم سے زمانہ\nنہ ہوتے شام کو ہم یوں روانہ\nنہ لگتا عابدیں کو تازیانہ\nنہ ہوتی حشر دنیا میں دوبارہ\n\nکوئی بے تاب تھی اور کوئی مضطر\nنہ تھی اک پردگی کے سر پہ معجر\nہوا روے سخن سوے پیمبرؐ\nکہ زین العابدیں رو کر پکارا\n\nگلے میں طوق کرتا ہے گرانی\nہوئی ہے سخت مشکل زندگانی\nکہوں کس سے غم و درد نہانی\nنہیں اس درد کا مجھ پاس چارہ\n\nرہے ہیں ہم جو پیچھے کشمکش ہے\nتنوں کو رنج ہے جانوں کو غش ہے\nموا قرباں ہو جو اس پر وہ خوش ہے\nنہ تھا جینے میں ایسے اس کا وارا\n\nنہیں جلتا ہے ہم پر دل کسی کا\nنہیں رکھتے ہیں پاس اب تجھ نبیؐ کا\nرہا تھا رو کچھ اک ابن علی کا\nسو اپنے ساتھ سر کے لے سدھارا\n\nوہ سید کشتۂ شمشیر نامرد\nپڑا ہے خاک میں جس پر منوں گرد\nعلی کا نورعین و نازپرورد\nتمھاری آنکھوں کی پتلی کا تارا\n\nنہیں فرصت کہ سونپوں خاک کے تیں\nتسلی دوں دل غمناک کے تیں\nمگر سونپوں خداے پاک کے تیں\nکہ وارث کون ہے اس بن ہمارا\n\nگیا وہ قافلہ آخر سوے شام\nدلوں پر داغ و ناامید و ناکام\nولیکن عابد بیمار ہر گام\nجگر کرتا تھا مثل سنگ خارا\n\nبھلی غم سے نہیں ہے گرم جوشی\nکروں میرؔ اختیار اب میں خموشی\nکہوں کیا شامیوں کی چشم پوشی\nدعا گفتند آں مردم حیا را", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D9%81%D8%AA%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81"} {"title": "کیا گزر کیجئے صیاد دل آزار کے پاس", "poet_page": "مصنف:عبد الہادی وفا", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وفا (1923)", "year": "1923", "text_ur": "کیا گزر کیجئے صیاد دل آزار کے پاس\nبرگ گل پھینکتا ہے مرغ گرفتار کے پاس\n\nتیرے بیمار کی بالیں پہ کھڑی ہے حسرت\nموت بیٹھی نظر آتی ہے وہ غم خوار کے پاس\n\nبار بار آ کے وہ ٹھہراتے ہیں سودا دل کا\nگھر انہوں نے جو بنایا ہے تو بازار کے پاس\n\nشاخ گل دیکھ کے سامان خلش یاد آیا\nرکھ دیا پارۂ دل دل کو ہر خار کے پاس\n\nتیرے دروازہ پہ فتنوں نے لیا دم آ کر\nتھک کے بیٹھی ہے قیامت تری دیوار کے پاس\n\nزاہدا رحمت باری بھی برنگ توبہ\nآ گئی ٹوٹ کے رندان قدح خوار کے پاس\n\nمیری خواری ہی قیامت میں مرے کام آئی\nکوئی آیا نہ وفاؔ مجھ سے گنہ گار کے پاس", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D8%B5%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3"} {"title": "کیا گلہ اس کا جو میرا دل گیا", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا گلہ اس کا جو میرا دل گیا\nمل گئے تم مجھ کو سب کچھ مل گیا\n\nجس کو آنکھیں ڈھونڈھتی تھیں پا گئیں\nدل کو جس کی جستجو تھی مل گیا\n\nاس گل رعنا نے ہنس کر بات کی\nغنچۂ خاطر ہمارا کھل گیا\n\nچھوڑ کر تو اس کو غیروں سے ملا\nخاک میں جو تیری خاطر مل گیا\n\nبن گئی ہر موج اک موج سراب\nتشنہ لب جب میں لب ساحل گیا\n\nعرض حال چاک دل کیوں کر کروں\nسامنے ان کے گیا منہ سل گیا\n\nغیر ہی کیا بے رخی سے آپ کی\nآج بیدمؔ بھی بہت بیدل گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%AF%D9%84%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کیا ہو تسکین جو ہو تیری سکونت دل میں", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ہو تسکین جو ہو تیری سکونت دل میں\nرہے آغوش میں یا پیار کی صورت دل میں\n\nموت چاہوں تو کروں سوز محبت کا علاج\nکیا رہے گا نہ رہے گی جو حرارت دل میں\n\nدل نشیں ہے جو مجھے طالب عزت ہونا\nچھپ کے بیٹھا ہے کوئی صاحب عزت دل میں\n\nدل کو سب لوگ یہ کہتے ہیں خدا کا گھر ہے\nمیں سمجھتا ہوں کہ ہے تیری امانت دل میں\n\nسن رہا ہوں وہ عیادت کے لئے آتے ہیں\nآج ہے پرسش اعمال کی ہیبت دل میں\n\nتوبہ توبہ میں سمجھتا تھا کہ دل ہے بیتاب\nخود وہ بیتاب ہے جس کی ہے سکونت دل میں\n\nدل میں رہنے کا تجھے حق تو ہے لیکن اے شوخ\nکاش ہوتی ترے چہرے کی متانت دل میں\n\nجانتے ہیں مری بے راہروی کے اسباب\nمانتے ہیں مجھے یاران طریقت دل میں\n\nٹھن گئی تھی ترے اخلاق کی بے جا تعریف\nاب نہ آتا تو یہ آئی تھی شرارت دل میں\n\nہے ابھی تک تو فقط شکوۂ دشمن اے دوست\nکہیں پیدا نہ ہو کچھ اور شکایت دل میں\n\nچاہتا ہوں جسے بن جائے اگر وہ ساقی\nبڑھتی جائے ہوس کوثر و جنت دل میں\n\nذوق دیدار بھی کیا چیز ہے اللہ اللہ\nمیری آنکھوں میں بصارت ہے بصیرت دل میں\n\nکاش من جملۂ آزار محبت نکلے\nکار فرما نظر آتی ہے جو قوت دل میں\n\nہیں ابھی تک تمہیں دنیا کے مزے یاد صفیؔ\nعاشقی کرتے ہو رکھ کر یہ ملامت دل میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D8%B3%DA%A9%DB%8C%D9%86_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DA%A9%D9%88%D9%86%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا ہوئی میری جوانی جوش پر آئی ہوئی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ہوئی میری جوانی جوش پر آئی ہوئی\nہائے وہ نازک گلابی میری چھلکائی ہوئی\n\nجلوہ گہ میں آج یہ کس کی تماشائی ہوئی\nطور سے ہم لے کے آئے آنکھ پتھرائی ہوئی\n\nحشر میں فتنوں سے اچھی بزم آرائی ہوئی\nآ کے دنیا خود تماشا خود تماشائی ہوئی\n\nیہ بھی شامت تھی مرے اعمال کی لائی ہوئی\nسب سے پہلے حشر کے دن میری رسوائی ہوئی\n\nمیں چلا دوزخ کو لیکن اس کی رحمت دیکھ لے\nآنکھ میری سوئے کوثر آج للچائی ہوئی\n\nاس کی ٹھوکر کے نشاں سب بن گئے داغ سجود\nیہ جبیں ہے کس بت کافر کی ٹھکرائی ہوئی\n\nحشر میں قاتل نے دیکھی ہے لہو کی کوئی چھینٹ\nسوئے دامن کیوں جھکی ہے آنکھ شرمائی ہوئی\n\nتازگی سی آ گئی ان کا تبسم دیکھ کر\nکھل اٹھیں کلیاں مرے مدفن کی مرجھائی ہوئی\n\nرہ گئی یاد جوانی وہ جوانی اب کہاں\nداغ دامن ہے مٹے سرجوش چھلکائی ہوئی\n\nدیکھتے وہ بھی تو آ جاتے ضرور آنکھوں میں اشک\nدل سے رخصت اس طرح دل کی شکیبائی ہوئی\n\nاے قیامت آ بھی تیرا ہو رہا ہے انتظار\nان کے در پر لاش اک رکھی ہے کفنائی ہوئی\n\nنیم عریاں کچھ نمائش حسن کی تھی وصل میں\nچھیڑنے کو رات حیلہ ان کی انگڑائی ہوئی\n\nخاک پھانکی مسجدوں میں جا رہے جب ہم کبھی\nمے کدوں میں آ رہے تو بادہ پیمائی ہوئی\n\nہر لحد سے صاف ملتا ہے قیامت کا جواب\nخاک در در چھانتی ہے ان کی ٹھکرائی ہوئی\n\nمنزلوں پیچھے ہیں راہ عشق میں فرہاد و قیس\nیہ ہنسیں اس کو اب ایسی میری رسوائی ہوئی\n\nرات دن انگڑائیاں وہ لیں مری آغوش میں\nجن حسینوں کے لئے پیدا یہ انگڑائی ہوئی\n\nوہ بھی گھبرائے ہوئے تھی بات بھی تھی شرم کی\nرہ گئی ہونٹھوں میں دب کر ہونٹھ تک آئی ہوئی\n\nنام ہے مے بو نہیں تلخی نہیں تیزی نہیں\nمدتوں زاہد نے پی ہے میری کھنچوائی ہوئی\n\nہے نمایاں آج سب مینا پرستوں میں ریاضؔ\nجام جم سے بڑھ کے قدر جام بینائی ہوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کیا ہوئے عاشق اس شکر لب کے", "poet_page": "مصنف:عیش دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ہوئے عاشق اس شکر لب کے\nطعنے سہنے پڑے ہمیں سب کے\n\nبھولنا مت بتوں کی یاری پر\nہیں یہ بدکیش اپنے مطلب کے\n\nقیس و فرہاد چل بسے افسوس\nتھے وہ کمبخت اپنے مشرب کے\n\nشیخیاں شیخ جی کی دیں گے دکھا\nمل گئے وہ اگر کہیں اب کے\n\nیاد رکھنا کبھی نہ بچئے گا\nمل گئے آپ وقت گر شب کے\n\nاس میں خوش ہوویں آپ یا ناخوش\nیار تو ہیں سنا اسی ڈھب کے\n\nیار بن عیشؔ مےکشی توبہ\nہے یہ اپنے خلاف مذہب کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%D9%84%D8%A8_%DA%A9%DB%92"} {"title": "کیا ہوا گر شیخ یارو حاجی الحرمین ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ہوا گر شیخ یارو حاجی الحرمین ہے\nطوف دل کا حق میں اس کے دین فرض عین ہے\n\nرات دن جاری ہیں کچھ پیدا نہیں ان کا کنار\nمیرے چشموں کا دو آبا مجمع البحرین ہے\n\nغیر جاوے اس کے گھر اور وہ نہ آوے گھر مرے\nدونوں باتیں دوستاں حق میں مرے خبرین ہے\n\nوقت فرصت دے تو مل بیٹھیں کہیں باہم دو دم\nایک مدت سے دلوں میں حسرت طرفین ہے\n\nآؤ اے ساقی شتابی آ کے شمع بزم ہو\nساری مجلس انتظاری میں تری بے چین ہے\n\nدو قرن گزرے اسی فکر سخن میں روز و شب\nریختے کے فن میں حاتمؔ آج ذوالقرنین ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%AF%D8%B1_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D8%AD%D8%A7%D8%AC%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%B1%D9%85%DB%8C%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا ہی رہ رہ کے طبیعت مری گھبراتی ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ہی رہ رہ کے طبیعت مری گھبراتی ہے\nموت آتی ہے شب ہجر نہ نیند آتی ہے\n\nوہ بھی چپ بیٹھے ہیں اغیار بھی چپ میں بھی خموش\nایسی صحبت سے طبیعت مری گھبراتی ہے\n\nکیوں نہ ہو اپنی لگاوٹ کی نظر پر نازاں\nجانتے ہو کہ دلوں کو یہ لگا لاتی ہے\n\nبزم عشرت کہیں ہوتی ہے تو رو دیتا ہوں\nکوئی گزری ہوئی صحبت مجھے یاد آتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%B1%DB%81_%D8%B1%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیا ہیں شیدائے قد یار درخت", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ہیں شیدائے قد یار درخت\nہیں جو شبنم سے اشک بار درخت\n\nدیکھیں گر سرو قد یار درخت\nخاک پر لوٹیں سایہ دار درخت\n\nاشک بار ان پہ ہیں جو مرغ چمن\nپہنے ہیں موتیوں کا ہار درخت\n\nسرکشی کی ہے کیا ترے قد سے\nکاٹے جاتے ہیں بے شمار درخت\n\nکیا ترے قد سے دوں مثال اسے\nکہ ہے انگشت زینہار درخت\n\nترے جلوے سے نخل طور بنے\nہیں جو بالائے کوہسار درخت\n\nبید مجنوں کو دیکھ او لیلیٰ\nہے یہ مجنوں کا یادگار درخت\n\nدیکھ کر تجھ کو بھول جائیں گے\nگل کھلائیں گے بے بہار درخت\n\nزندگی میں نہ میں نے پھل پایا\nہو نہ میرے سر مزار درخت\n\nفائدہ بھی یہاں تو نقصاں ہے\nسنگ کھاتے ہیں بار دار درخت\n\nداغ تن کھل رہے ہیں صورت گل\nہم ہیں گویا شگوفہ دار درخت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%82%D8%AF_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D8%AA"} {"title": "کیا ہے تو نے تو جان جہاں جہاں تسخیر", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ہے تو نے تو جان جہاں جہاں تسخیر\nہوا ہے حسن کا شہرہ ترا تو عالم گیر\n\nنہا کے بال جو سرکائے گورے چہرہ سے\nتو جیسے چاند نکل آیا کالی بدری چیر\n\nنہ خوب رو تجھے کہہ سکتے ہیں نہ مہر نہ ماہ\nعجب گڑھی ید قدرت نے کچھ تری تصویر\n\nجہاں پڑا ترا سایہ اگا وہاں گل زار\nقدم دھرا ہے تو جس جا بنا ہے مشک و عبیر\n\nشکار کر لیا سارا جہاں شکار انداز\nہوا ہے پار نگہ سے تری نگاہ کا تیر\n\nہوے نہ ذبح نہ فتراک تک یہ جا پہنچے\nادھر ادھر ہیں تڑپتے یہ نیم جاں نخچیر\n\nہے اظفریؔ وہ سیہ بخت سانپ کاٹا بھی\nپڑی ہے زلف کی آ جس کے پاؤں میں زنجیر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D8%B1"} {"title": "کیا ہے دیں دار اس صنم کو ہزاروں طوفاں اٹھا اٹھا کر", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ہے دیں دار اس صنم کو ہزاروں طوفاں اٹھا اٹھا کر\nلگائیں وہ تہمتیں کہ بولا خدا خدا کر خدا خدا کر\n\nتری محبت نے مار ڈالا ہزار ایذا سے مجھ کو ظالم\nرلا رلا کر گھلا گھلا کر جلا جلا کر مٹا مٹا کر\n\nشراب خانہ ہے یہ تو زاہد طلسم خانہ نہیں جو ٹوٹے\nکہ توبہ کرتے گئی ہے توبہ ابھی یہاں سے شکست پا کر\n\nنگہ کو بیباکیاں سکھاؤ حجاب شرم و حیا اٹھاؤ\nبھلا کے مارا تو خاک مارا لگاؤ چوٹیں جتا جتا کر\n\nنہ ہر بشر کا جمال ایسا نہ ہر فرشتے کا حال ایسا\nکچھ اور سے اور ہو گیا تو مری نظر میں سما سما کر\n\nالٰہی قاصد کی خیر گزرے کہ آج کوچہ سے فتنہ گر کے\nصبا نکلتی ہے لڑکھڑا کر نسیم چلتی ہے تھرتھرا کر\n\nجناب سلطان عشق وہ ہے کرے جو اے داغؔ اک اشارہ\nفرشتے حاضر ہوں دست بستہ ادب سے گردن جھکا جھکا کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B7%D9%88%D9%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بند", "poet_page": "مصنف:بہرام جی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بند\nمرا ہو کس طرح سے درد سر بند\n\nنہیں ہیں تیرے دام زلف میں دل\nلٹکتے ہیں ہزاروں مرغ پر بند\n\nنہیں بت خانہ و کعبہ پہ موقوف\nہوا ہر ایک پتھر میں شرر بند\n\nرقیبوں سے ہوئی ہے بزم خالی\nکرو دروازہ بے خوف و خطر بند\n\nتماشا بند آنکھوں میں ہے مجھ کو\nہوئی میری بظاہر چشم تر بند\n\nنہیں دنیا میں آزادی کسی کو\nہے دن میں شمس اور شب کو قمر بند\n\nدکھاؤ مے کشو اب زور مستی\nکیا زاہد نے مے خانے کا در بند\n\nدر جاناں بھی اک مرجع ہے بہرامؔ\nہجوم عاشقاں ہے رہ گزر بند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B5%D9%86%D8%AF%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%86%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D8%A8%D9%86%D8%AF"} {"title": "کیا ہے عشق نے آزاد دو جہاں سے ہمیں", "poet_page": "مصنف:پیارے لال رونق دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ہے عشق نے آزاد دو جہاں سے ہمیں\nنہ کچھ یہاں سے غرض ہے نہ کچھ وہاں سے ہمیں\n\nخودی کو بھول کے مست الست ہو جانا\nملا ہے فیض یہ خم خانۂ مغاں سے ہمیں\n\nاذاں حرم میں ہے ناقوس ہے کنشت میں تو\nصدائیں آتی ہیں تیری کہاں کہاں سے ہمیں\n\nپھر آج اٹھا ہے وہ پردۂ حجاب کہیں\nشعاعیں سی نظر آتی ہیں کچھ یہاں سے ہمیں\n\nمثال شمع ہیں سب رات بھر کے یہ جلوے\nسحر کو اٹھنا ہے اس محفل جہاں سے ہمیں\n\nمٹا کے ہستئ موہوم تجھ کو پایا ہے\nپتہ ملا ہے ترا خاک بے نشاں سے ہمیں\n\nچمن سے اٹھ گیا رونقؔ جب آشیاں اپنا\nنہ پھر بہار سے مطلب نہ کچھ خزاں سے ہمیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%92_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%D8%AF%D9%88_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سے\nدیکھو ادھر نگاہ ملا کر نگاہ سے\n\nشرم جفا سے چھپتے ہو تم دادخواہ سے\nعذر گنہ تمہارا ہے بدتر گناہ سے\n\nان کی حیا و شرم نے رکھی ہے دل کی شرم\nکیا ہوگا جب نگاہ ملے گی نگاہ سے\n\nانصاف بھی یہی ہے یہی شان حسن بھی\nہاں ہاں نظر چراؤ قتیل نگاہ سے\n\nبیت الصنم سے دور نہیں ہے حرم کی راہ\nکیوں راہ پوچھیں زاہد گم کردہ راہ سے\n\nکیوں شکوہ ہم کریں عدم التفات کا\nوہ پوچھتے تو ہیں نگہ گاہ گاہ سے\n\nزاہد ہزار حیف کہ پہنچا نہ کوئی فیض\nرندوں کے مے کدے کو تری خانقاہ سے\n\nپروانوں کا ہجوم ہے شمع جمال پر\nجیتا پھرے گا کون تری جلوہ گاہ سے\n\nشکوہ کروں تمہاری جفا کا تو رو سیاہ\nدیکھو نہ تم مجھے نگہ عذر خواہ سے\n\nخوشحالئ رقیب سے وہ شاد شاد ہیں\nیعنی ہیں بے خبر مرے حال تباہ سے\n\nگردن جھکی ہوئی ہے اٹھاتے نہیں ہیں سر\nڈر ہے انہیں نگاہ لڑے گی نگاہ سے\n\nنکلا نہ کوئی حیف یہاں قابل شکار\nصیاد خالی ہاتھ پھرا صید گاہ سے\n\nہر چند وحشتؔ اپنی غزل تھی گری ہوئی\nمحفل سخن کی گونج اٹھی واہ واہ سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%D8%AC_%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سے\nمرتا ہے تو مر جائے کوئی ان کی بلا سے\n\nمجھ سے بھی خفا ہو ، میری آہوں سے بھی برہم\nتم بھی عجب چیز ہو، کہ لڑتے ہو ہوا سے\n\nدامن کو بچاتا ہے وہ کافر کہ مبادا\nچھو جائے کہیں پاکی خون شہدا سے\n\nدیوانہ کیا ساقی محفل نے سبھی کو\nکوئی نہ بچا اس نظر ہوش ربا سے\n\nاک یہ بھی حقیقت میں ہے شان کرم ان کی\nظاہر میں وہ رہتے ہیں جو ہر وقت خفا سے\n\nآگاہ غم عشق نہیں ، وہ شہ خوباں\nاور یہ بھی جو ہو جائے فقیروں کی دعا سے\n\nقائل ہوئے رندان خرابات کے حسرتؔ\nجب کچھ نہ ملا ہم کو گروہ عرفا سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%B4%D9%90_%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%A8%D9%90_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھا", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھا\nکچھ بھی نہ تھا ہوا تھی کہانی تھی خواب تھا\n\nاب عطر بھی ملو تو تکلف کی بو کہاں\nوہ دن ہوا ہوئے جو پسینہ گلاب تھا\n\nمحمل نشیں جب آپ تھے لیلیٰ کے بھیس میں\nمجنوں کے بھیس میں کوئی خانہ خراب تھا\n\nتیرا قصوروار خدا کا گناہ گار\nجو کچھ کہ تھا یہی دل خانہ خراب تھا\n\nذرہ سمجھ کے یوں نہ ملا مجھ کو خاک میں\nاے آسمان میں بھی کبھی آفتاب تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کیا یہ بت بیٹھیں گے خدا بن کر", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا یہ بت بیٹھیں گے خدا بن کر\nاللہ اللہ اے برہمن کر\n\nہوگا برباد مثل کاغذ باد\nسر کو کھینچا فلک پہ گر تن کر\n\nخنجر و تیغ کر گلے پہ رواں\nپھیر کر آنکھ کج نہ چتون کر\n\nاے تری شان ہو گیا انساں\nایک مشت غبار بن ٹھن کر\n\nپاک دامن ہے مریم ثانی\nچشم تر طفل اشک کو جن کر\n\nدل کے ڈسنے میں ہے یہ کالا ناگ\nزلف پیچاں سے بل نہ ناگن کر\n\nتو اگر ہڈیوں کا مالا ہے\nاسم اعظم کی درد سمرن کر\n\nہے یہ چھلنی مزار شادؔ غریب\nدھوپ آتی ہے لاش پر چھن کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کیا یہی ہے جس پہ ہم دیتے ہیں جاں", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیا یہی ہے جس پہ ہم دیتے ہیں جاں\nیا کوئی دنیائے فانی اور ہے\n\nیوں تو ہر انسان گویا ہے مگر\nشیوۂ شیوا بیانی اور ہے\n\nچل رہی ہے جس سے جسمانی مشین\nکوئی پوشیدہ کمانی اور ہے\n\nدل نے پیدا کی کہاں سے یہ ترنگ\nکوئی تحریک نہانی اور ہے\n\nغیر سمجھا ہے کسے اے ہم نشیں\nمیرے دل میں بد گمانی اور ہے\n\nتم نے کب دیکھا ہے بے رنگی کا رنگ\nبے نشانی کی نشانی اور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%D9%BE%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%DA%BA"} {"title": "کیتا کہیں پکار اے غافل بیا بیا", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "کیتا کہیں پکار اے غافل بیا بیا\nپھرتا ہے کیوں تو بھول اپس کا پیا پیا\n\nبوجھا ہے کیوں اجل کو اپس سے بعید کر\nغفلت میں چپ عمر کو تو ضائع کیا کیا\n\nاب تو سمجھ ٹک ایک ترا جان کون ہے\nپاپا ہے جی کو جس نے موا نہیں جیا جیا\n\nلیکن نہیں ہے کام ہر اک خام کا یہاں\nعاشق وہی ہوا ہے کہ جو سر دیا دیا\n\nپہنچا ہے جو کہ عشق میں منزل کو وصل کی\nبے شک سکل جہاں میں ہوا بے ریا ریا\n\nجو کوئی قدم کو اپنے رکھا راہ عشق میں\nکہتے ہیں عاشقاں کی وہ منزل لیا لیا\n\nدونوں جہاں سے کام نہیں مجھ کو اے علیمؔ\nبس ہے مجھے کریم دیا سو ہیا ہیا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%D8%A8%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کیجئے رندی کا پیشہ شیشہ شیشہ ہے شراب", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیجئے رندی کا پیشہ شیشہ شیشہ ہے شراب\nلیجئے اک گھونٹ شیشہ شیشہ شیشہ ہے شراب\n\nشیشۂ خالی نہ دیکھا ساقیا کچھ غم نہیں\nتاک کے ریشہ بہ ریشہ شیشہ شیشہ ہے شراب\n\nجلوۂ مستانہ سے شیریں کے ہر اک انگ میں\nغور سے ٹک دیکھ تیشہ شیشہ شیشہ ہے شراب\n\nاس شکار افگن کی چشم مست سے لے مے کشو\nہو گیا مے خانہ بیشہ شیشہ شیشہ ہے شراب\n\nمصرع ثروتؔ نے ؔجوشش مست و دیوانہ کیا\nدشت در دشت بیشہ بیشہ شیشہ شیشہ ہے شراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D9%86%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "کیجئے نہ اسیری میں اگر ضبط نفس کو", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیجئے نہ اسیری میں اگر ضبط نفس کو\nدے آگ ابھی شعلۂ آواز قفس کو\n\nبہہ جاوے لہو ہو کے دل قافلہ سالار\nتعلیم دے نالہ جو مرا بانگ جرس کو\n\nپہنچے ہے نم داغ جگر تا سر مژگاں\nشاداب میں رکھتا ہوں سدا آگ سے خس کو\n\nپھرتا ہے ادھر زلف میں شانہ تو ادھر دل\nیہ دزد نہ لایا کبھو خاطر میں عسس کو\n\nاے عشق نہ فرہاد بچا تجھ سے نہ پرویز\nبا خاک برابر تو کیا ناکس و کس کو\n\nلے سکتے نہیں سانس تری کو کے مقید\nتا خون جگر بیچ نہ غوطہ دیں نفس کو\n\nترغیب نہ کر سیر چمن کی ہمیں سوداؔ\nہر چند ہوا خوب ہے واں لیک ہوس کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B6%D8%A8%D8%B7_%D9%86%D9%81%D8%B3_%DA%A9%D9%88"} {"title": "کیجیے ظلم سزا وار جفا ہم ہی ہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیجیے ظلم سزا وار جفا ہم ہی ہیں\nکھینچیے تیغ کہ مدت سے فدا ہم ہی ہیں\n\nتفتہ دل سوختہ جاں چاک جگر خاک بسر\nکیا کہیں مصدر صد گونہ بلا ہم ہی ہیں\n\nنہیں موقوف دعا اپنی تو کچھ بعد نماز\nبیٹھتے اٹھتے جو مانگیں ہیں دعا ہم ہی ہیں\n\nیہ بھی کوئی طور سے ٹک جلوہ دکھا چھپ جانا\nاور بھی لوگ ہیں ترسانے کو کیا ہم ہی ہیں\n\nوہ جو کہلاتے تھے زیں پیش ترے یاروں میں\nجان من اب تو ہمیں بھول گیا ہم ہی ہیں\n\nنہ برہمن کی مشیخت ہے نہ رہبان کی قدر\nاب تو اس مے کدے میں نام خدا ہم ہی ہیں\n\nعشوہ و ناز ترا ہم سے یہی کہتا ہے\nنہیں کرتے جو کبھی تیر خطا ہم ہی ہیں\n\nبے نواؤں کی طرح آ کے ترے کوچے میں\nوہ جو کر جاتے ہیں اک روز صدا ہم ہی ہیں\n\nآدھی رات آئے ترے پاس یہ کس کا ہے جگر\nچونک مت اتنا کہ اے ہوش ربا ہم ہی ہیں\n\nمصحفیؔ ٹل گئے سب معرکۂ عشق کے بیچ\nوہ جو ٹھہرے رہے ہیں ایک ذرا ہم ہی ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%8C%DB%92_%D8%B8%D9%84%D9%85_%D8%B3%D8%B2%D8%A7_%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیدھر کی خوشی کہاں کی شادی", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیدھر کی خوشی کہاں کی شادی\nجب دل سے ہوس ہی سب اڑا دی\n\nتا ہاتھ لگے نہ کھوج دل کا\nعیار نیں زلف ہی اٹھا دی\n\nپل مارتے خاک میں ملایا\nٹک ہنس کے جدھر نظر ملا دی\n\nیا رب سوا لقائے وجہک\nلا مقصودی و لا مرادی\n\nدیتے ہو کسے یہ بد دعائیں\nکیا پیارے اثرؔ نیں پھر دعا دی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C"} {"title": "کیسا احساں ہے خلق عالم کرنا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیسا احساں ہے خلق عالم کرنا\nپھر عالم ہستی میں مکرم کرنا\nتھا کار کرم ہی اے کریم مطلق\nناچیز کف خاک کو آدم کرنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%84%D9%82_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7"} {"title": "کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال\nپرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال\n\nمشکل ہے مٹ گئے ہوئے نقشوں کی پھر نمود\nجو صورتیں بگڑ گئیں ان کا نہ کر خیال\n\nمو کو عبث ہے تاب کلی یوں ہی تنگ ہے\nاس کا دہن ہے وہم و گمان و کمر خیال\n\nرخسار پر ہمارے ڈھلکنے کو اشک کے\nدیکھے ہے جو کوئی سو کرے ہے گہر خیال\n\nکس کو دماغ شعر و سخن ضعف میں کہ میرؔ\nاپنا رہے ہے اب تو ہمیں بیشتر خیال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84"} {"title": "کیسا ہی دوست ہو نہ کہے راز دل کوئی", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیسا ہی دوست ہو نہ کہے راز دل کوئی\nنکلی جو بات منہ سے تو پھیلی جہان میں\n\nسچ سچ کہو یہ بات بنانا نہیں پسند\nکیا کہہ رہے تھے غیر ابھی چپکے سے کان میں\n\nپوچھا ہے حال زار تو سن لو خطا معاف\nکچھ بات میرے ہونٹوں میں ہے کچھ زبان میں\n\nعاشق سے پوچھیے نہ سر بزم حال دل\nپردے کی بات سنتے ہیں چپکے سے کان میں\n\nفرقت میں کیا بتاؤں کہ دن ہے کہ رات ہے\nآنکھوں کو سوجھتا نہیں رونے کے دھیان میں\n\nقصر جہاں ہے تیرے فقیروں کا جھونپڑا\nمحلوں سے بڑھ کے چین ہے اپنے مکان میں\n\nدو دن کی زندگی میں جو چاہے کوئی کرے\nرہ جاتی ہے بھلائی برائی جہان میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کیسی کیسی بستیاں دو دن میں ویراں ہو گئیں", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیسی کیسی بستیاں دو دن میں ویراں ہو گئیں\nدیکھتے ہی دیکھتے گرد پریشاں ہو گئیں\n\nشغل مے کب تک یہ ساقی آنکھیں جھک آئیں بہت\nرات بھیگی اور زلفیں بھی پریشاں ہو گئیں\n\nپھرتی ہیں آنکھوں میں ساقی شب کی وہ کیفیتیں\nدیکھتے ہی دیکھتے خواب پریشاں ہو گئیں\n\nطاقت مجنوں کجا نظارۂ لیلی کجا\nپردۂ محمل اٹھا اور آنکھیں حیراں ہو گئیں\n\nعرصۂ قید حیات اب وحشیوں پر تنگ ہے\nچار دیوار عناصر مل کے زنداں ہو گئیں\n\nراس آئی ہے نہ آئے گی زمانے کی ہوا\nیاسؔ کیا کیا صحبتیں گرد پریشاں ہو گئیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D9%88_%D8%AF%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیسی ہے آہ اپنی طبیعت بھری ہوئی", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیسی ہے آہ اپنی طبیعت بھری ہوئی\nآنکھوں میں اشک اشک میں حسرت بھری ہوئی\n\nاٹکھیلیاں نہ کر تو نسیم سحر کہ ہے\nرگ رگ میں ان گلوں کی نزاکت بھری ہوئی\n\nکیوں بے سبب ہجوم تمنا و یاس سے\nہے اس دل حزیں کی عمارت بھری ہوئی\n\nکس جا کرے گا میت عشاق دفن تو\nیاں ہے شہید ناز کی تربت بھری ہوئی\n\nگر جام تو پلائے تو پینا حلال ہے\nتجھ میں تو ساقیا ہے ملاحت بھری ہوئی\n\nکیوں کر گدا نہ تیرے غنی ہوں صنم کہ ہے\nدست کرم میں تیرے سخاوت بھری ہوئی\n\nافشائے راز عشق نہ ہو خوف ہے یہی\nچھپتی نہیں ہے آنکھ محبت بھری ہوئی\n\nتم دیکھ لو جمیلہؔ کہ دل غم ہوا نہ ہو\nآنکھوں میں ان کے کیوں ہے ندامت بھری ہوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A2%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھا", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھا\nاس لیے پھر آئے کعبے سے کہ مے خانہ نہ تھا\n\nتم نے دیکھی ہی نہیں تقدیر کی تاریکیاں\nاک اندھیری گور تھی فرقت میں کاشانہ نہ تھا\n\nمجمع بیت الحرم کی دھوم سنتے تھے مگر\nجا کے جب دیکھا تو ان میں کوئی فرزانہ نہ تھا\n\nحشر میں اس شوخ کا طرز تغافل دیکھنا\nمجھ کو پہچانا نہیں حالانکہ بیگانہ نہ تھا\n\nحشر میں آخر اسے بھی چھوڑتے ہی بن پڑی\nخانۂ مدفن بھی گویا اپنا کاشانہ نہ تھا\n\nایسی کیا بیتی کہ مضطرؔ ان بتوں پر مر مٹا\nجان دے دیتا وہ کچھ ایسا تو دیوانہ نہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%84%DA%AF%D8%AA%D8%A7_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروں", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروں\nدل کی تپش کو کیا کروں، سوزِ جگر کو کیا کروں\n\nغیر ہے گرچہ ہمنشیں، بزم میں ہے تو وہ حسیں\nپھر مجھے لے چلا وہیں، ذوقِ نظر کو کیا کروں\n\nشورشِ‌ عاشقی کہاں، اور مری سادگی کہاں\nحُسن کو تیرے کیا کہوں، اپنی نظر کو کیا کروں\n\nغم کا نہ دل میں‌ ہو گزر، وصل کی شب ہو یوں بسر\nسب یہ قبول ہے مگر، خوفِ سحر کو کیا کروں\n\nحال میرا تھا جب بتر، تب نہ ہوئی تمہیں خبر\nبعد مرے ہوا اثر، اب میں‌ اثر کو کیا کروں\n\nدل کی ہوس مٹا تو دی، ان کی جھلک دکھا تو دی\nپر یہ کہو کہ شوق کی “بارِ دگر” کو کیا کروں\n\nحسرتِ نغز گو ترا، کوئی نہ قدرداں ملا\nاب یہ بتا کہ میں ترے ، عرضِ ہنر کو کیا کروں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%B2%D9%90_%D8%BA%D9%85%D8%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%AA%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "کیف مستی میں عجب جلوۂ یکتائی تھا", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیف مستی میں عجب جلوۂ یکتائی تھا\nتو ہی تو تھا نہ تماشا نہ تماشائی تھا\n\nحسن بے واسطۂ ذوق خود آرائی تھا\nعشق بے واہمۂ لذت رسوائی تھا\n\nتیری ہستی میں نہ کثرت تھی نہ وحدت پیدا\nہمہ و بے ہمہ و با ہمہ یکجائی تھا\n\nپردہ در کوئی نہ تھا اور نہ در پردہ کوئی\nغیرت عشق نہ تھی عالم تنہائی تھا\n\nلا فنا تیری صفت تھی تیری ہستی کا ثبوت\nبے نشاں تیرا نشاں صورت بینائی تھا\n\nحال تھا حال نہ ماضی تھا نہ تھا مستقبل\nاز ازل تا بہ ابد جلوہ بہ رعنائی تھا\n\nذات قائم تھی بذات اور صفت تھی معدوم\nکن نہ تھا معرکۂ انجمن آرائی تھا\n\nبزم میں تو نے جو الٹا رخ روشن سے نقاب\nایک عالم تیرے جلوہ کا تماشائی تھا\n\nفتنہ زا حسن ہوا عشق ہوا شور فگن\nرم ہوا شوق فزا شوق تمنائی تھا\n\nکوئی ثابت کوئی سیارہ کوئی متحیر\nکوئی عاشق کوئی مجنوں کوئی سودائی تھا\n\nحرف اور صوت میں آتا ہے کسی کا ہو کلام\nساحرؔ آغاز میں کن غایت پیدائی تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%81_%D9%85%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%DB%8C%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کیفیت دل اور ہے احوال جگر اور", "poet_page": "مصنف:عنایت اللہ روشن بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیفیت دل اور ہے احوال جگر اور\nاک درد کی صورت ہے ادھر اور ادھر اور\n\nقد سرو ہے گل چہرہ ہے نارنج ہیں پستاں\nکیا لطف ہے پھل اور ہے پھول اور شجر اور\n\nہر عضو بدن ہے ترا نایاب زمانہ\nموہوم دہن سے بھی زیادہ ہے کمر اور\n\nشاہوں کو فقیروں پہ شرف ہو نہیں سکتا\nہاں عزت ذاتی ہے جدا عزت زر اور\n\nسختی بھی سہو ظلم بھی اندھیر بھی دیکھو\nروشنؔ یوں ہیں دنیا میں کرو چندے بسر اور", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%81%DB%8C%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "کیفیت و ذوق اور ذکر و اوراد", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیفیت و ذوق اور ذکر و اوراد\nدین و اسلام اور کفر و الحاد\nہر رنگ ہے محو ہر تعلق برباد\nہے فقر تمام علتوں سے آزاد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%81%DB%8C%D8%AA_%D9%88_%D8%B0%D9%88%D9%82_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%A7%D8%AF"} {"title": "کیفیت کیا تھی یہاں عالم غم سے پہلے", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیفیت کیا تھی یہاں عالم غم سے پہلے\nکون آیا تھا تری بزم میں ہم سے پہلے\n\nسب کرم ہے ترے انداز ستم سے اے دوست\nذوق غم دل کو نہ تھا تیرے ستم سے پہلے\n\nبندگی تیری خدائی سے بہت ہے آگے\nنقش سجدہ ہے ترے نقش قدم سے پہلے\n\nقلب انساں کو ہے اب پھر اسی عالم کی تلاش\nتیری محفل تھی جہاں دیر و حرم سے پہلے\n\nہم سے منصور زمانے میں کہاں ہیں اخترؔ\nدار تک آ نہیں سکتا کوئی ہم سے پہلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%81%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92"} {"title": "کیونکر اس بت سے رکھوں جان عزیز", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیونکر اس بت سے رکھوں جان عزیز\nکیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز\n\nدل سے نکلا پہ نہ نکلا دل سے\nہے ترے تیر کا پیکان عزیز\n\nتاب لائے ہی بنے گی غالبؔ\nواقعہ سخت ہے اور جان عزیز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2"} {"title": "کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور\nدیکھو زمیں فلک سے فلک ہے زمیں سے دور\n\nپروانہ وصل شمع پہ دیتا ہے اپنی جاں\nکیونکر رہے دل اس کے رخ آتشیں سے دور\n\nمضمون وصل و ہجر جو نامہ میں ہے رقم\nہے حرف بھی کہیں سے ملے اور کہیں سے دور\n\nگو تیر بے گماں ہے مرے پاس پر ابھی\nجائے نکل کے سینۂ چرخ بریں سے دور\n\nوہ کون ہے کہ جاتے نہیں آپ جس کے پاس\nلیکن ہمیشہ بھاگتے ہو تم ہمیں سے دور\n\nحیران ہوں کہ اس کے مقابل ہو آئینہ\nجو پر غرور کھنچتا ہے ماہ مبیں سے دور\n\nیاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میں\nوہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور\n\nمنظور ہو جو دید تجھے دل کی آنکھ سے\nپہنچے تری نظر نگہ دور بیں سے دور\n\nدنیائے دوں کی دے نہ محبت خدا ظفرؔ\nانساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%81%D9%84_%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1"} {"title": "کیونکہ دیوانہ بیڑیاں توڑے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیونکہ دیوانہ بیڑیاں توڑے\nاس کو جانے ہے پاؤں کے توڑے\n\nسب نے موڑا ہے منہ خدا نہ کرے\nتیری تروار ہم سے منہ موڑے\n\nتیرے کوچے میں سر شہیدوں کے\nہیں پڑے جیسے باٹ کے روڑے\n\nظرف ٹوٹا تو وصل ہوتا ہے\nدل کوئی ٹوٹا کس طرح جوڑے\n\nایک پرواز میں دکھاؤں پر\nجو وہ صیاد میرے تئیں چھوڑے\n\nکوہ کن جاں کنی ہے مشکل کام\nورنہ بہتیرے ہیں پتھر پھوڑے\n\nہر گھڑی ہم کو آزمانا کیا\nچاہنے والے اور ہیں تھوڑے\n\nقتل کرتا ہے تو جو حاتمؔ کو\nکون اٹھاوے گا تیرے نکتوڑے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%8C%DA%91%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%88%DA%91%DB%92"} {"title": "کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں\nاک سبب کیا بھید واں کا سب کا سب کھلتا نہیں\n\nپوچھتا ہے حال بھی گر وہ تو مارے شرم کے\nغنچۂ تصویر کے مانند لب کھلتا نہیں\n\nشاہد مقصود تک پہنچیں گے کیونکر دیکھیے\nبند ہے باب تمنا ہے غضب کھلتا نہیں\n\nبند ہے جس خانۂ زنداں میں دیوانہ تیرا\nاس کا دروازہ پری رو روز و شب کھلتا نہیں\n\nدل ہے یہ غنچہ نہیں ہے اس کا عقدہ اے صبا\nکھولنے کا جب تلک آوے نہ ڈھب کھلتا نہیں\n\nعشق نے جن کو کیا خاطر گرفتہ ان کا دل\nلاکھ ہووے گرچہ سامان طرب کھلتا نہیں\n\nکس طرح معلوم ہووے اس کے دل کا مدعا\nمجھ سے باتوں میں ظفرؔ وہ غنچہ لب کھلتا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B3%D8%A8%D8%A8_%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیوں آ گئے ہیں بزم ظہور و نمود میں", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں آ گئے ہیں بزم ظہور و نمود میں\nآزاد مرد ہو کے رہے ہم قیود میں\n\nسالک ہے کیوں تخیل ترک وجود میں\nنقش صور کا رنگ ہے تیرے شہود میں\n\nجو آ گئے تجلیٔ تنزیہہ ذات میں\nمحدود کس طریق سے ہوں گے حدود میں\n\nراز دردن پردہ ز رندان مست پرس\nسالک ہے کیوں حجاب شہود و وجود میں\n\nارنی و لن ترانی کا سب راز کھل گیا\nکیا نشۂ غریب ہے شرب الیہود میں\n\nاے گل جہاں میں جن کو ترا عشق ہو گیا\nوہ خار سے کھٹکتے ہیں چشم حسود میں\n\nمشہور خلق جو ہے وہ مقبول حق نہیں\nکیوں احمقوں کو ناز ہوا ہے نمود میں\n\nطاعت نہیں ہے وہ کہ جو ہو بے حضور قلب\nاے شیخ کیا دھرا ہے رکوع و سجود میں\n\nہے بو العجب یہ زمزمۂ صوت سرمدی\nکس طرح آئے معرض گفت و شنود میں\n\nصوفی یہ سہو محو ہوئے سد باب انس\nکیا انبساط کار گہہ ہست و بود میں\n\nتار نفس سے ہے تن خاکی بسا ہوا\nہے عنکبوت لپٹی ہوئی تار و پود میں\n\nصوفی یہی ہے نور سواد حجاب قلب\nظلمت ہوئی جو سینۂ سوزاں کے دود میں\n\nفیض نگاہ رہبر کامل کا ہے اثر\nساقیؔ ہے محو طاعت رب ودود میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A2_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D9%86%D9%85%D9%88%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیوں آئینے میں دیکھا تو نے جمال اپنا", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں آئینے میں دیکھا تو نے جمال اپنا\nدیکھا تو خیر دیکھا پر دل سنبھال اپنا\n\nاس کا ہو جب تصور کب ہو خیال اپنا\nکیسی مصیبت اپنی کیسا خیال اپنا\n\nکھویا غم رفاقت دیکھو کمال اپنا\nبہکا دیا ہے سب کو دکھلا کے حال اپنا\n\nبن دیکھے تیری صورت جینا وبال اپنا\nبن آئے تیرے ظالم مرنا محال اپنا\n\nخرمن تو دیکھ لیتے بجلی بلا سے گرتی\nہوتا تھا کھیت عارفؔ یوں پائمال اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "کیوں آپ کو خلوت میں لڑائی کی پڑی ہے", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں آپ کو خلوت میں لڑائی کی پڑی ہے\nملنے کی گھڑی ہے کہ یہ لڑنے کی گھڑی ہے\n\nکیا چشم عنایت کا تری مجھ کو بھروسہ\nلڑ لڑ کے ملی ہے کبھی مل مل کے لڑی ہے\n\nکیا جانئے کیا حال ہمارا ہو شب ہجر\nاللہ ابھی چار پہر رات پڑی ہے\n\nتلوار لیے وہ نہیں مقتل میں کھڑے ہیں\nاس وقت مرے آگے مری موت کھڑی ہے\n\nجینے نہیں دیتے ہیں وہ مرنے نہیں دیتے\nاے نوحؔ مری جان کشاکش میں پڑی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DA%91%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%DA%91%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیوں اسیر گیسوئے خم دار قاتل ہو گیا", "poet_page": "مصنف:ابو الکلام آزاد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں اسیر گیسوئے خم دار قاتل ہو گیا\nہائے کیا بیٹھے بٹھائے تجھ کو اے دل ہو گیا\n\nکوئی نالاں کوئی گریاں کوئی بسمل ہو گیا\nاس کے اٹھتے ہی دگر گوں رنگ محفل ہو گیا\n\nانتظار اس گل کا اس درجہ کیا گل زار میں\nنور آخر دیدۂ نرگس کا زائل ہو گیا\n\nاس نے تلواریں لگائیں ایسے کچھ انداز سے\nدل کا ہر ارماں فداے دست قاتل ہو گیا\n\nقیس مجنوں کا تصور بڑھ گیا جب نجد میں\nہر بگولہ دشت کا لیلیٰ محمل ہو گیا\n\nیہ بھی قیدی ہو گیا آخر کمند زلف کا\nلے اسیروں میں ترے آزادؔ شامل ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%85_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "کیوں اے خیال یار تجھے کیا خبر نہیں", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں اے خیال یار تجھے کیا خبر نہیں\nمیں کیوں بتاؤں درد کدھر ہے کدھر نہیں\n\nنشتر کا کام کیا ہے اب اچھا ہے درد دل\nصدقے ترے نہیں نہیں اے چارہ گر نہیں\n\nکہتی ہے اہل ذوق سے بیتابیٔ خیال\nجس میں یہ اضطراب کی خو ہو بشر نہیں\n\nہستی کا قافلہ سر منزل پہنچ گیا\nاور ہم کہا کیے ابھی وقت سفر نہیں\n\nدیوان گان عشق پہ کیا جانے کیا بنی\nوارفتگیٔ حسن کو اپنی خبر نہیں\n\nدنیائے درد دل ہے تو دنیائے شوق روح\nہوں اور بھی جہاں مجھے کچھ بھی خبر نہیں\n\nصحرائے عشق و ہستئ موہوم و راز حسن\nان منزلوں میں دل سا کوئی راہبر نہیں\n\nہر ذرہ جس سے اک دل مضطر نہ بن سکے\nوہ کوئی اور چیز ہے تیری نظر نہیں\n\nاس بے دلی سے کہنے کا بیخودؔ مآل کیا\nالفاظ کچھ ہیں جمع معانی مگر نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیوں بات چھپاؤں رند مے نوش ہوں میں", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیوں بات چھپاؤں رند مے نوش ہوں میں\nدنیا کہتی کہ دین فراموش ہوں میں\nحسرت سے گروں تو پائے ساقی پہ گروں\nجب خوب شراب پی کے مدہوش ہوں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%B1%D9%86%D8%AF_%D9%85%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیوں بند سب کھلے ہیں کیوں چیر اٹپٹا ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں بند سب کھلے ہیں کیوں چیر اٹپٹا ہے\nکیا قتل کوں ہمارے اب ٹھاٹھ یوں ٹھٹھا ہے\n\nاس وقت میں پیارے ہم کوں شراب دیجے\nدیکھو تو کیا ہوا ہے ریجھو تو کیا گھٹا ہے\n\nبرہن کے نین رو رو جوگی برن ہوئے ہیں\nکاجر بھبھوت انجھو مالا پلک جٹا ہے\n\nخواہ لاٹھیوں سیں مارو خواہ خاک میں لتھاڑو\nعاشق کا دل پیارے چوگان کا بٹا ہے\n\nلب کوں انکھیوں کوں مکھ کوں بر کوں کمر کوں قد کوں\nان سب کو چاہتا ہے ٹکڑے ہو دل بٹا ہے\n\nسامان عیش ہم کوں اسباب غم ہوئے ہیں\nخون جگر ہے صہبا بخت سیہ گھٹا ہے\n\nکیا رنگ ہے تمہارے رخسار کا سریجن\nجس پر نظر کرے سیں گل کا جگر پھٹا ہے\n\nعاشق کی آبروؔ ہے خواری میں جان دینا\nنامرد وہ کہاوے جو عشق سیں ہٹا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%86%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%D9%BE%D9%B9%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیوں ترے گیسو کوں گیسو بولناں", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں ترے گیسو کوں گیسو بولناں\nدل میں آتا ہے کہ شبو بولناں\n\nپیچ کھا کر دل مرا چکرت میں ہے\nزلف کوں تیری چکابو بولناں\n\nبھول گئی آہو کوں اپنی چوکڑی\nتجھ نگہ کوں دام آہو بولناں\n\nیا فلک کی آرسی میں ہے ہلال\nیا کسی کا عکس ابرو بولناں\n\nسیکھ گئی گلشن میں تیرے قد ستی\nسرو پر قمری نے کو کو بولناں\n\nکان میں ہے تیرے موتی آب دار\nیا کسی عاشق کا آنسو بولناں\n\nسامنے اس چہرۂ گلفام کے\nہر گل خوشبو کوں خود رو بولناں\n\nحسن کے لشکر کے راوت ہیں دو چشم\nزلف و لب شب خوں کا قابو بولناں\n\nاب چراغ عقل گل کرنی سراجؔ\nسوز دل سیں ایک یاہو بولناں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%D8%A8%D9%88%D9%84%D9%86%D8%A7%DA%BA"} {"title": "کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر\nجلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر\n\nآتش پرست کہتے ہیں اہلِ جہاں مجھے\nسرگرمِ نالہ ہائے شرر بار دیکھ کر\n\nکیا آبروئے عشق، جہاں عام ہو جفا\nرکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر\n\nآتا ہے میرے قتل کو پَر جوشِ رشک سے\nمرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر\n\nثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلق\nلرزے ہے موجِ مے تری رفتار دیکھ کر\n\nوا حسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ\nہم کو حریصِ لذّتِ آزار دیکھ کر\n\nبِک جاتے ہیں ہم آپ، متاعِ سخن کے ساتھ\nلیکن عیارِ طبعِ خریدار دیکھ کر\n\nزُنّار باندھ، سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال\nرہرو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر\n\nان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں\nجی خوش ہوا ہے راہ کو پُر خار دیکھ کر\n\nکیا بد گماں ہے مجھ سے، کہ آئینے میں مرے\nطوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر\n\nگرنی تھی ہم پہ برقِ تجلّی، نہ طور پر\nدیتے ہیں بادہ’ ظرفِ قدح خوار’ دیکھ کر\n\nسر پھوڑنا وہ! ‘غالبؔ شوریدہ حال’ کا\nیاد آگیا مجھے تری دیوار دیکھ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%B1%D8%AE_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "کیوں خال رخ محبوب کا احساں ہوتا", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں خال رخ محبوب کا احساں ہوتا\nدل جلا تھا تو چراغ شب ہجراں ہوتا\n\nعید ہوتی ترے دیوانے کی آتی جو بہار\nجھک کے دامن سے ہم آغوش گریباں ہوتا\n\nشب مہتاب میں وہ رخ سے الٹتے جو نقاب\nگرد پھر پھر کے تصدق مہ تاباں ہوتا\n\nخیر گزری کہ تری بزم میں بے ہوش تھے سب\nورنہ جو ہوش میں آتا وہ پشیماں ہوتا\n\nواسطے میں نے شب وصل خدا کے بھی دئے\nمان ہی جاتا وہ کافر جو مسلماں ہوتا\n\nاے جنوں مجھ سے قسم لے کہ بہت مفلس ہوں\nکیا کفن کے لئے رکھا جو گریباں ہوتا\n\nٹھوکریں وادئ غربت کی نہ کھاتا صفدرؔ\nاے فلک اس کا بھرا گھر جو نہ ویراں ہوتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%D9%84_%D8%B1%D8%AE_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کیوں خرابات میں لاف ہمہ دانی واعظ", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں خرابات میں لاف ہمہ دانی واعظ\nکون سنتا ہے تری ہرزہ بیانی واعظ\n\nدفتر وعظ کے نقطے بھی نہ ہوں گے اتنے\nجتنے ہیں دل میں مرے داغ نہانی واعظ\n\nسچ سہی جنت و دوزخ کا فسانہ لیکن\nکس طرح مان لوں میں تیری زبانی واعظ\n\nبے وضو پائے خم بادہ کو چھو لیتا ہے\nخاک آتی ہے تجھے مرتبہ دانی واعظ\n\nنرم بھی دل سخن گرم سے اب تک نہ ہوا\nدیکھ لی ہم نے تری شعلہ بیانی واعظ\n\nنیک و بد خوب سمجھتا ہوں کروں کیا کہ ابھی\nسننے دیتا نہیں آشوب جوانی واعظ\n\nرندی و زہد ریائی میں ہیں دونوں یکتا\nمثل میرا ہے نہ تیرا کوئی ثانی واعظ\n\nیہ خرابات ہے جا خیر سے اپنے گھر کو\nمنہ کی کھلوائے نہ پھر تیز زبانی واعظ\n\nآج سمجھا گئی کیا تجھ کو عبادت تیری\nنہ رہا مشغلۂ اشک فشانی واعظ\n\nاس قدر ہے جو دم نزع ہوس دنیا کی\nساتھ لے جائے گا کیا عالم فانی واعظ\n\nرند ہوں دے مجھے جام مئے اطہر کی خبر\nتجھ کو کوثر کا مبارک رہے پانی واعظ\n\nزرد ہو جاتا ہے سن کر رخ گلگوں میرا\nتری تقریر ہے یا باد خزانی واعظ\n\nنقشہ فردوس کا باتوں میں دکھا دیتا ہے\nیہ زباں ہے تری یا خامۂ مانی واعظ\n\nچلتے پھرتے نہیں بے وجہ یہ رونا میرا\nساتھ پھرتا ہوں لیے غم کی نشانی واعظ\n\nکیا رکے خامۂ تسلیمؔ دم فکر سخن\nطبع میں آج ہے دریا کی روانی واعظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%A7%D9%81_%DB%81%D9%85%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "کیوں خفا تو ہے کیا کہا میں نے", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں خفا تو ہے کیا کہا میں نے\nمر کہا تو نے مرحبا میں نے\n\nکیوں صراحی مے کو دے پٹکا\nتو نے توڑا یا بے وفا میں نے\n\nناتوانی میں یہ توانائی\nدل کو تجھ سے اٹھا دیا میں نے\n\nدے کے یہ تجھ کو یہ لیا کہ دیا\nگوہر بے بہا لیا میں نے\n\nکیوں خم مے کو محتسب توڑا\nکیا کیا میں نے کیا کیا میں نے\n\nکیوں نہ رک رک کے آئے دم میرا\nتجھ کو دیکھا رکا رکا میں نے\n\nگل ہزاروں میں شمع عیش احساںؔ\nجیسے اس گل کو دل دیا میں نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92"} {"title": "کیوں خفا رشک حور ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں خفا رشک حور ہوتا ہے\nآدمی سے قصور ہوتا ہے\n\nمئے الفت سے پھر گیا جو دل\nصورت شیشہ چور ہوتا ہے\n\nخاک عاشق سے جو درخت اگا\nطور ہوتا ہے نور ہوتا ہے\n\nجس کو دیکھا وہ اس زمانے میں\nاپنے نزدیک دور ہوتا ہے\n\nخاکساری وہ ہے کہ ذروں پر\nروز باران نور ہوتا ہے\n\nکس کی لیتا نہیں خبر رزاق\nآلودگی ناصبور ہوتا ہے\n\nاے ہوس نان داغ بس نہ لگا\nگرم طوفاں تنور ہوتا ہے\n\nکشتیٔ مے نہیں تو اے ساقی\nبحر غم سے عبور ہوتا ہے\n\nباغ میں جاؤ جاتے ہو جو نسیمؔ\nصبح کو وہ ضرور ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D8%AD%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیوں خفا ہو کیوں ادھر آتے نہیں", "poet_page": "مصنف:عزیز حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں خفا ہو کیوں ادھر آتے نہیں\nدیکھتا ہوں تم نظر آتے نہیں\n\nوہ یہ کہہ کر داغ دیتے ہیں مجھے\nپھول سے پہلے ثمر آتے نہیں\n\nہم ہیں وہ مے نوش پی کر بھی کبھی\nمیکدے سے بے خبر آتے نہیں\n\nدیکھتا ہوں ان کی صورت دیکھ کر\nدھوپ میں تارے نظر آتے نہیں\n\nنیند تو کیا نیند کے جھونکے عزیزؔ\nہجر میں وقت سحر آتے نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیوں خود بخود پھری نگہ یار کیا سبب", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "کیوں خود بخود پھری نگہ یار کیا سبب\nکیوں سرنگوں ہے ابروئے خمدار کیا سبب\n\nقسمت پلٹ گئی کہ نصیبہ الٹ گیا\nکیوں خود بخود پھری نگہ یار کیا سبب\n\nکیا آ گیا قریب زمانہ وصال کا\nکیوں بے قرار ہے یہ دل زار کیا سبب\n\nطاقت کہاں سے آ گئی اس ناتواں میں آج\nدم توڑتا جو ہے دل بیمار کیا سبب\n\nکس سے لڑی نگاہ یہ کس پر عتاب ہے\nہوتے ہیں بند روزن دیوار کیا سبب\n\nفرقت کی رات روز قیامت کہیں نہ ہو\nہوتی نہیں جو صبح شب تار کیا سبب\n\nانجمؔ گئے تھے ان کو سنانے کی واسطے\nپھر حال دل کیا جو نہ اظہار کیا سبب", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A8%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DA%AF%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%A8%D8%A8"} {"title": "کیوں دیکھتے ہی نقش بہ دیوار بن گئے", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "کیوں دیکھتے ہی نقش بہ دیوار بن گئے\nتم آئنے میں کس کے خریدار بن گئے\n\nبجلی چھلاوا فتنہ قیامت غضب بلا\nمیں کیا کہوں وہ کیا دم رفتار بن گئے\n\nبازار دہر کا تو یہی کاروبار ہے\nدو چار اگر بگڑ گئے دو چار بن گئے\n\nاک سیر تھی مزے کی یہ آرائشوں کے وقت\nسو بار وہ بگڑ گئے سو بار بن گئے\n\nہاں ہاں انہیں کے پیچھے تو دی ہے شرفؔ نے جان\nآ کر ہنسی خوشی جو عزا دار بن گئے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D8%A8%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D9%86_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "کیوں دیکھیے نہ حسن خداداد کی طرف", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں دیکھیے نہ حسن خداداد کی طرف\nلازم نظر ہے گلشن ایجاد کی طرف\n\nپائے جو تیرے گوشۂ دستار کی ہوا\nقمری اڑی نہ طرۂ شمشاد کی طرف\n\nبے اصل اے فلک نظر آتا ہے تو مجھے\nکرتا ہوں غور جب تری بنیاد کی طرف\n\nگلشن میں کون بلبل نالاں کو دے پناہ\nگلچیں و باغباں بھی ہیں صیاد کی طرف\n\nمظلوم ہوں مگر نہیں ملتا کوئی گواہ\nہیں اہل حشر اس ستم ایجاد کی طرف\n\nناداں کہیں پناہ نہیں موت سے تجھے\nکیا دیکھتا ہے قلعۂ فولاد کی طرف\n\nہم جنس کو ضرور ہے ہم جنس کا خیال\nرغبت نہ ہو بشر کو پری زاد کی طرف\n\nمضموں کمر کا ہاتھ نہ آیا جو دہر میں\nجانا پڑا مجھے عدم آباد کی طرف\n\nتکلیف جوئے شیر کی دے کر جو تھی خجل\nشیریں نہ دیکھ سکتی تھی فرہاد کی طرف\n\nدیوانگی کا زور تماشا ہے اے پری\nفصاد کی نگاہ ہے حداد کی طرف\n\nگردن جھکائے شوق شہادت میں ہوں رواں\nدل لے چلا ہے کوچۂ جلاد کی طرف\n\nامیدوار چشم عنایت کا ہے غریب\nدیکھو تو اک نظر دل ناشاد کی طرف\n\nناصح اگر ستم نہ سہیں ہم تو کیا کریں\nدل دوڑتا ہے یار کی بیداد کی طرف\n\nبلبل سمجھ رہی ہے کہ گلہائے خندہ رو\nرکھتے ہیں کان نالہ و فریاد کی طرف\n\nفضل خدا سے اپنی طبیعت ہے بے نیاز\nروئے طلب کبھی نہ ہوا داد کی طرف\n\nواعظ سے سن کے قامت توبہ کی خوبیاں\nدوڑا خیال اک قد آزاد کی طرف\n\nبھولے ہوئے ہیں سارے زمانے کی نعمتیں\nمیلان دل جنہیں ہے تیری یاد کی طرف\n\nیا شاہ جن و انس اثرؔ پر بھی اک نظر\nرکھتا ہے آنکھ آپ کی امداد کی طرف", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "کیوں رنگ سرخ تیرا اب زرد ہو گیا ہے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں رنگ سرخ تیرا اب زرد ہو گیا ہے\nتو ہی مگر ہمارا ہمدرد ہو گیا ہے\n\nوے دن گئے کہ دل میں رہتا تھا درد اپنے\nاب دل نہیں سراپا اک درد ہو گیا ہے\n\nاتنا تو فرق مجھ میں اور دل میں ہے کہ تجھ بن\nمیں خاک ہو گیا ہوں وہ گرد ہو گیا ہے\n\nہے چاک چاک سینہ کیوں کر چھپے تو دل میں\nیہ تو مکان سارا بے پرد ہو گیا ہے\n\nکس طرح شیخ چھیڑے اب دخت رز کو آ کر\nاس طرف سے بچارا نامرد ہو گیا ہے\n\nیاں کیا نہ تھا جو واں کی رکھے حسنؔ توقع\nدونوں جہاں سے اپنا دل سرد ہو گیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%B3%D8%B1%D8%AE_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D8%B2%D8%B1%D8%AF_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیوں زرد ہے رنگ کس لیے آنسو لال", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیوں زرد ہے رنگ کس لیے آنسو لال\nکس واسطے ہر گھڑی رہے ہے تو نڈھال\nکیا شکل پہ بن گئی ہے تیری مومنؔ\nکیا ہو گیا تجھ کو کیوں ہے تیرا یہ حال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B2%D8%B1%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%A9%D8%B3_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%D9%84%D8%A7%D9%84"} {"title": "کیوں شوق بڑھ گیا رمضاں میں سنگار کا", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں شوق بڑھ گیا رمضاں میں سنگار کا\nروزہ نہ ٹوٹ جائے کسی روزہ دار کا\n\nان کا وہ شوخیوں سے پھڑکنا پلنگ پر\nوہ چھاتیوں پہ لوٹنا پھولوں کے ہار کا\n\nحور آئے خلد سے تو بٹھاؤں کہاں اسے\nآراستہ ہو ایک تو کونا مزار کا\n\nشیشوں نے طرز اڑائی رکوع و قیام کی\nکیا ان میں ہے لہو کسی پرہیزگار کا\n\nکیوں غش ہوئے کلیم تجلی طور پر\nوہ اک چراغ تھا مرے دل کے مزار کا\n\nبعد فنا بھی صاف نہیں دل رقیب سے\nگنبد کھڑا ہوا ہے لحد پر غبار کا\n\nکثرت کا رنگ شاہد وحدت کا ہے بناؤ\nوہ ایک ہی سے نام ہے ہژدہ ہزار کا\n\nناقوس بن کے پوچھنے جاؤں اگر مزاج\nبت بھی کہیں گے شکر ہے پروردگار کا\n\nدولہا کی یہ برات ہے رسمیں ادا کرو\nدر پر جنازہ آیا ہے اک جاں نثار کا\n\nکیا کیا تڑپ تڑپ کے سرافیل گر پڑے\nدم آ گیا جو صور میں مجھ بے قرار کا\n\nسرمہ کے ساتھ پھیل کے کیا وہ بھی مٹ گیا\nکیوں نام تک نہیں تری آنکھوں میں پیار کا\n\nکیا رات سے کسی کی نظر لگ گئی اسے\nاچھا نہیں مزاج دل بے قرار کا\n\nآنکھیں مری فقیر ہوئیں شوق دید میں\nتسمہ کمر میں ہے نگۂ انتظار کا\n\nلوٹوں مزے جو بازیٔ شطرنج جیت لوں\nاس کھیل میں تو وعدہ ہے بوس کنار کا\n\nاللہ مرا غفور محمد مرے شفیع\nمائلؔ کو خوف کچھ نہیں روز شمار کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D9%85%D8%B6%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلط", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلط\nگل غلط غنچے غلط خار غلط\n\nہم نواؤں کی نہیں کوئی کمی\nبات کیجے سر بازار غلط\n\nوقت الٹ دے نہ بساط ہستی\nچال ہم چلتے ہیں ہر بار غلط\n\nدل کے سودے میں کوئی سود نہیں\nجنس ہے خام خریدار غلط\n\nہر طرف آگ لگی ہے باقیؔ\nمشورہ دیتی ہے دیوار غلط", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D8%BA%D9%84%D8%B7"} {"title": "کیوں غمزۂ جاں ستاں کو خنجر نہ کہیں", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیوں غمزۂ جاں ستاں کو خنجر نہ کہیں\nکیوں عشوۂ دل نشیں کو نشتر نہ کہیں\nکہتے ہو کہ کچھ شان میں میری نہ کہو\nیوں ظلم کرو اور ستم گر نہ کہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%BA%D9%85%D8%B2%DB%82_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D9%86%D8%AC%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیوں مرا حال قصہ خواں سے سنو", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں مرا حال قصہ خواں سے سنو\nیہ کہانی مری زباں سے سنو\n\nغم ہی غم ہے مرے فسانے میں\nدکھ ہی دکھ ہے اسے جہاں سے سنو\n\nمجھ سے پوچھو تم اپنے جی کا حال\nراز کی بات راز داں سے سنو\n\nغم مرے دل میں تم ہو پردے میں\nسچ تو ہے تم اسے کہاں سے سنو\n\nچھپ گیا ہے فسانۂ بیخودؔ\nکبھی تم بھی تو قصہ خواں سے سنو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%82%D8%B5%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%86%D9%88"} {"title": "کیوں مشت خاک پر کوئی دل داغ دار ہو", "poet_page": "مصنف:شاہ دین ہمایوں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں مشت خاک پر کوئی دل داغ دار ہو\nمر کر بھی یہ ہوس کہ ہمارا مزار ہو\n\nبڑھ جائے غم کا سلسلہ کہسار کی طرح\nطولانی گر یہ زندگئ مستعار ہو\n\nاس صید گاہ میں وہی نکلے گا بچ کے صاف\nجو صید سب سے پہلے اجل کا شکار ہو\n\nاس بوالہوس کی موت کے قربان جائیے\nجو پھر دوبارہ جینے کا امیدوار ہو\n\nہستی کا طوق تو ہے قیامت پس وفات\nیارب کہیں یہ میرے گلے کا نہ ہار ہو\n\nیکساں ہے اہل دل کے لیے انبساط و غم\nباغ جہاں میں آئے خزاں یا بہار ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%B4%D8%AA_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88"} {"title": "کیوں مطلب ہستی و عدم کھل جاتا", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیوں مطلب ہستی و عدم کھل جاتا\nکیوں راز طلسم کیف و کم کھل جاتا\nکانوں نے جو سن لیا وہی کیا کم ہے\nآنکھیں کھلتیں تو سب بھرم کھل جاتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%88_%D8%B9%D8%AF%D9%85_%DA%A9%DA%BE%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہ", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہ\nلگ چکا اب چھوٹنا مشکل ہے اس کا دل ہے یہ\n\nبے قراری سیں نہ کر ظالم ہمارے دل کوں منع\nکیوں نہ تڑپے خاک و خوں میں اس قدر بسمل ہے یہ\n\nعشق کوں مجنوں کے افلاطوں سمجھ سکتا نہیں\nگو کہ سمجھاوے پہ سمجھے گا نہیں عاقل ہے یہ\n\nکون سمجھاوے مرے دل کوں کوئی منصف نہیں\nغیر حق کو چاہتا ہے کیوں ایتا باطل ہے یہ\n\nکون ہے انساں کا کوئی دوست ایسا جو کہے\nموت اس کی فکر میں لاگی ہے اور غافل ہے یہ\n\nعاشقی کے فن میں ہے دل سیں جھگڑنا بے حساب\nکچھ نہیں باقی رکھا اس علم میں فاضل ہے یہ\n\nہم تو کہتے تھے کہ پھر پانے کے نہیں جانے نہ دو\nاب گئے پر آبروؔ پھر پائیے مشکل ہے یہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81"} {"title": "کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا\nکیا ہوا کہیے مجھ میں کیا نہ رہا\n\nان کی محفل میں اس کے چرچے ہیں\nمجھ سے اچھا مرا فسانہ رہا\n\nواعظ و محتسب کا جمگھٹ ہے\nمیکدہ اب تو میکدہ نہ رہا\n\nاف رے نا آشنائیاں اس کی\nچار دن بھی تو آشنا نہ رہا\n\nلاکھ پردے میں کوئی کیوں نہ چھپے\nراز الفت تو اب چھپا نہ رہا\n\nاتنی مایوسیاں بھی کیا بیخودؔ\nکیا خدا کا بھی آسرا نہ رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "کیوں ناصحا ادھر کو نہ منہ کر کے سوئیے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں ناصحا ادھر کو نہ منہ کر کے سوئیے\nدل تو کہے ہے ساتھ ہی دل بر کے سوئیے\n\nگھبرا کے اس کا کہنا وہ ہائے شب وصال\nبس بس ذرا اب آپ تو ہٹ کر کے سوئیے\n\nمیں آپ سے خفا ہوں کہ تم روٹھے ہو پڑے\nبہتان میرے سر پہ نہ یوں دھر کے سوئیے\n\nسوتے میں بھی جو دیکھیے تو چونک ہی اٹھے\nکس طرح ساتھ ایسے ستم گر کے سوئیے\n\nتم لطف نشہ دیکھو ذرا تم کو دیکھیں ہم\nکیا لطف ہے کہ لیتے ہی ساغر کے سوئیے\n\nمشہور ہے کہ سولی پہ بھی نیند آتی ہے\nیارب شب فراق میں کیوں کر کے سوئیے\n\nتکیہ تو آپ سر کے تلے روز رکھتے ہیں\nاب ہاتھ میرے رکھ کے تلے سر کے سوئیے\n\nوہ مسکرا رہے ہو لو وہ آنکھ کھل گئی\nیوں کون مانتا ہے کہ جگ کر کے سوئیے\n\nپاس عدو تو دیکھو ہمیں حکم ہے نظامؔ\nشب کو کہیں نہ پاس مرے گھر کے سوئیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD%D8%A7_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "کیوں نہ اڑ جائے مرا خواب ترے کوچے میں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں نہ اڑ جائے مرا خواب ترے کوچے میں\nفرش ہے مخمل و کمخواب ترے کوچے میں\n\nدولتِ حسن یہاں تک تو لٹائی ظالم\nاشک ہے گوہرِ نایاب ترے کوچے میں\n\nجوششِ گریۂ عشاق سے اک دم میں ہوا\nشجرِ سوختہ، شاداب ترے کوچے میں\n\nہوش کا پاؤں جو یاں آ کے پھسل جاتا ہے\nکیا لنڈھائی ہے مئے ناب ترے کوچے میں\n\nہے کفِ پائے عدو، پا سے ترے رنگیں تر\nبس کہ ہم روتے ہیں خوناب ترے کوچے میں\n\nگوشہ گیری سے بھی گردش نہ گئ طالع کی\nپھرتے ہیں صورتِ دولاب ترے کوچے میں\n\nغیر نے سنگ جو پھینکے وہ ہوئے بالشِ سر\nچین سے کرتے ہیں ہم خواب ترے کوچے میں\n\nوہ بھی محروم نہیں جن کو نہیں بزم میں بار\nتیرے رخسار کی ہے تاب ترے کوچے میں\n\nچل دیا شیفتہ سودے میں خدا جانے کہاں\nڈھونڈتے پھرتے ہیں احباب ترے کوچے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DA%91_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیوں نہ جہاں میں ہو عیاں عیب و ہنر الگ الگ", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں نہ جہاں میں ہو عیاں عیب و ہنر الگ الگ\nدیکھتے ہیں بہ چشم غور اہل نظر الگ الگ\n\nراہ میں ان کو وہم تھا کوئی نہ بد گمان ہو\nآئے تو ساتھ ساتھ وہ مجھ سے مگر الگ الگ\n\nکس کا یقین کیجیے کس کا یقیں نہ کیجیے\nلائے ہیں اس کی بزم سے یار خبر الگ الگ\n\nمیں ہوں ادھر تو وہ ادھر میں ہوں یہاں تو وہ وہاں\nرہتے ہیں مجھ سے دور دور آٹھ پہر الگ الگ\n\nرنج فراق یار بھی صدمۂ روزگار بھی\nایک دل اور اتنے غم چاہئے گھر الگ الگ\n\nان کو یہ وہم ہے کہیں ایک سے ایک مل نہ جائیں\nلوگ بہت ہیں بزم میں سب ہیں مگر الگ الگ\n\nحشر کو اس نے چن لئے داغؔ گناہ گار عشق\nتاڑ گئی ہزار میں اس کی نظر الگ الگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B9%DB%8C%D8%A8_%D9%88_%DB%81%D9%86%D8%B1_%D8%A7%D9%84%DA%AF_%D8%A7%D9%84%DA%AF"} {"title": "کیوں نہ لے گلشن سے باج اس ارغواں سیما کا رنگ", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں نہ لے گلشن سے باج اس ارغواں سیما کا رنگ\nگل سے ہے خوش رنگ تر اس کے حنائی پا کا رنگ\n\nجوں ہی منہ پر سے اٹھا دی باغ میں آ کر نقاب\nاڑ گیا رنگ چمن دیکھ اس رخ زیبا کا رنگ\n\nسر پہ دستار بسنتی بر میں جامہ قرمزی\nکھب گیا دل میں ہمارے اس گل رعنا کا رنگ\n\nآج ساقی دیکھ تو کیا ہے عجب رنگین ہوا\nسرخ مے کالی گھٹا اور سبز ہے مینا کا رنگ\n\nدے تو اس ابر سیہ میں جام جلدی سے مجھے\nدل بھرا آتا ہے میرا دیکھ کر صہبا کا رنگ\n\nجس طرف دیکھوں ہوں اب بیدارؔ تیرے اشک سے\nہو رہا ہے سرخ یکسر دامن صحرا کا رنگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%84%DB%92_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AC_%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D8%B1%D8%BA%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D9%86%DA%AF"} {"title": "کیوں نہ نیرنگ جنوں پر کوئی قرباں ہو جائے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں نہ نیرنگ جنوں پر کوئی قرباں ہو جائے\nگھر وہ صحرا کہ بہار آئے تو زنداں ہو جائے\n\nبرق دم لینے کو ٹھہرے تو رگ جاں ہو جائے\nفتنۂ حشر مجسم ہو تو انساں ہو جائے\n\nجوہر آئینہ دل ہے وہ تصویر ہے تو\nدل وہ آئینہ کہ تو دیکھ کے حیراں ہو جائے\n\nغم وہ راحت جسے قسمت کے دھنی پاتے ہیں\nدم وہ مشکل ہے کہ موت آئے تو آساں ہو جائے\n\nعشق وہ کفر کہ ایمان ہے دل والوں کا\nعقل مجبور وہ کافر جو مسلماں ہو جائے\n\nذرہ وہ راز بیاباں ہے جو افشا نہ ہوا\nدشت وحشت ہے وہ ذرہ جو بیاباں ہو جائے\n\nغم محسوس وہ باطل جسے کہتے ہیں مجاز\nدل کی ہستی وہ حقیقت ہے جو عریاں ہو جائے\n\nخلد مے خانہ کو کہتے ہیں بقول واعظ\nکعبہ بت خانے کو کہتے ہیں جو ویراں ہو جائے\n\nسجدہ کہتے ہیں در یار پہ مر جانے کو\nقبلہ وہ سر ہے جو خاک رہ جاناں ہو جائے\n\nموت وہ دن بھی دکھائے مجھے جس دن فانیؔ\nزندگی اپنی جفاؤں پہ پشیماں ہو جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%86%DB%8C%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "کیوں نہ کہیں بشر کو ہم آتش و آب و خاک و باد", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں نہ کہیں بشر کو ہم آتش و آب و خاک و باد\nقدرت حق سے ہیں بہم آتش و آب و خاک و باد\n\nاخگر غنچہ آب جو گرد چمن نسیم صبح\nہیں یہ گرہ کشائے غم آتش و آب و خاک و باد\n\nحقے کو اہل معرفت کیوں کہ نہ سمجھیں ہمدم اب\nیہ بھی رکھے ہے بیش و کم آتش و آب و خاک و باد\n\nسوزش داغ و آبلہ گرد الم شمار دم\nہجر میں چاروں ہیں بہم آتش و آب و خاک و باد\n\nبرق و سحاب و گرد باد دشت جنوں میں ساتھ ہیں\nہیں یہ مرے رفیق دم آتش و آب و خاک و باد\n\nرو و عرق غبار خط جنبش زلف کی ہوا\nچاروں ہیں دل کے حق میں سم آتش و آب و خاک و باد\n\nچشم میں آتشیں ہیں اشک دل میں غبار آہ سرد\nدونوں سے لیتے ہیں جنم آتش و آب و خاک و باد\n\nمجھ کو خدائی کی قسم رکھتے ہیں گھیرے دم بدم\nتیرے یہ عشق میں صنم آتش و آب و خاک و باد\n\nکیوں نہ حواس خمسہ گم اہل سخن کے ہوں نصیرؔ\nتجھ ہی سے بس ہوئے رقم آتش و آب و خاک و باد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B4%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D9%88_%D8%A2%D8%A8_%D9%88_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%AF"} {"title": "کیوں نہ ہو بام پہ وہ جلوہ نما تیسرے دن", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں نہ ہو بام پہ وہ جلوہ نما تیسرے دن\nماہ بھی چھپ کے نکلتا ہے دلا تیسرے دن\n\nہاتھ سے اب تو قلم رشک مسیحا رکھ دے\nنسخے بدلے ہیں جہاں کے حکما تیسرے دن\n\nغرق دریائے محبت کی نہیں ملتی لاش\nورنہ ڈوبا ہوا نکلے ہے سنا تیسرے دن\n\nدل بیمار رہے عشق میں کیوں کر سر سبز\nخاک سے دانے کو ہے نشو و نما تیسرے دن\n\nچھوڑ مت زلف کے مارے کو تو دریا میں ہنوز\nسانپ کے کاٹے کو دیتے ہیں بہا تیسرے دن\n\nاب ذرا چشم کے بیمار کا کر اپنے علاج\nہوتی معلوم ہے تاثیر دوا تیسرے دن\n\nلوگ کہتے ہیں کہ ہیں پھول ترے کشتے کے\nمہندی ہاتوں میں تو قاتل لگا تیسرے دن\n\nعمر اک ہفتہ نہیں باغ میں اے گل مت پھول\nرنگ بدلے ہے زمانے کی ہوا تیسرے دن\n\nچار حرف اس بت پر خوں کے اوپر بھیج نظیرؔ\nآپ سے آپ جو ہو جائے خفا تیسرے دن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D9%85_%D9%BE%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%86%D9%85%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%86"} {"title": "کیوں نہ ہو شوق ترے در پہ جبیں سائی کا", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں نہ ہو شوق ترے در پہ جبیں سائی کا\nاس میں جوہر ہے مری آئینہ سیمائی کا\n\nطور کشتہ ہے اسی ناز خود آرائی کا\nبرق کی لہر ہے نقشہ تری انگڑائی کا\n\nعشق اک تبصرہ ہے حسن کی رعنائی پر\nحسن اک فلسفہ ہے عشق کی رسوائی کا\n\nآج اک خاک کا ذرہ بھی نہیں باقی ہے\nدل برباد یہ حاصل ہے خود آرائی کا\n\nیاد ایام کہ تھی لب پہ مرے مہر سکوت\nاب تو ماتم ہے بپا دل میں شکیبائی کا\n\nموج در موج رواں بادۂ سرجوش شباب\nعالم کیف ہے عالم تری انگڑائی کا\n\nحسرت و یاس کا انبوہ مگر میں بیکس\nایسے مجمع میں یہ عالم مری تنہائی کا\n\nتیرگی شام لحد کی ہے بھیانک لیکن\nہے یہ اترا ہوا جامہ شب تنہائی کا\n\nجزر و مد حسن کے دریا میں نظر آتا ہے\nقابل دید ہے عالم تری انگڑائی کا\n\nتیرے دیدار سے محروم رہیں جب آنکھیں\nکوئی مصرف ہی نہیں پھر مری بینائی کا\n\nعالم گور غریباں کا یہ غم ناک سکوت\nاک نمونہ ہے مرے دل کی شکیبائی کا\n\nنیند ان کی اگر اڑ جائے تو کچھ دور نہیں\nسو گیا جاگنے والا شب تنہائی کا\n\nشعر دل کش ہو اگر صفحۂ کاغذ پہ عزیزؔ\nاک مرقع ہے کمال سخن آرائی کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B4%D9%88%D9%82_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں نہ ہو چشمِ بُتاں محوِ تغافل، کیوں نہ ہو؟\nیعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے\n\nمرتے مرتے، دیکھنے کی آرزُو رہ جائے گی\nوائے ناکامی! کہ اُس کافر کا خنجر تیز ہے\n\nعارضِ گُل دیکھ، رُوئے یار یاد آیا، اسدؔ!\nجوششِ فصلِ بہاری اشتیاق انگیز ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AD%D9%88_%D8%AA%D8%BA%D8%A7%D9%81%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "کیوں نہ ہوں حیراں تری ہر بات کا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں نہ ہوں حیراں تری ہر بات کا\nحسن مرقع ہے طلسمات کا\n\nروؤں تو خوش ہو کے پیے ہے وہ مے\nسمجھے ہے موسم اسے برسات کا\n\nاٹھتی جوانی جو ہے تو دن بہ دن\nاور ہی عالم ہے کچھ اس گات کا\n\nگھر میں بلایا ہے تو کچھ منہ سے دو\nسیکھو یہ ڈھب ہم سے مدارات کا\n\nشیخ جواں ہوگا تو پی دیکھ اسے\nشیشے میں پانی ہے کرامات کا\n\nہم نہ ملیں تم سے تو نکلے ہے جاں\nاور تمہیں عالم ہے مساوات کا\n\nاس نے کی اب کم سخنی اختیار\nجس کو مزہ تھا مری ہر بات کا\n\nآنکھ بھی ملتی ہے تو نا آشنا\nاب وہ کہاں لطف اشارات کا\n\nرونے کی جا ہے سن اسے ہم نشیں\nتو تو ہے محرم مرے اوقات کا\n\nحکم ہوا رات کو آؤ نہ یاں\nدن کو رکھو طور ملاقات کا\n\nدل کے اٹکتے ہی ہوا ہے ستم\nفرق ملاقات میں دن رات کا\n\nبات نئی سوجھے ہے جرأتؔ تجھے\nمیں تو ہوں عاشق تری اس بات کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "کیوں وصل میں بھی آنکھ ملائی نہیں جاتی", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں وصل میں بھی آنکھ ملائی نہیں جاتی\nوہ فرق دلوں کا وہ جدائی نہیں جاتی\n\nکیا دھوم بھی نالوں سے مچائی نہیں جاتی\nسوتی ہوئی تقدیر جگائی نہیں جاتی\n\nکچھ شکوہ نہ کرتے نہ بگڑتا وہ شب وصل\nاب ہم سے کوئی بات بنائی نہیں جاتی\n\nدیکھو تو ذرا خاک میں ہم ملتے ہیں کیونکر\nیہ نیچی نگہ اب بھی اٹھائی نہیں جاتی\n\nکہتی ہے شب ہجر بہت زندہ رہوگے\nمانگا کرو تم موت ابھی آئی نہیں جاتی\n\nوہ ہم سے مکدر ہیں تو ہم ان سے مکدر\nکہہ دیتے ہیں صاف اپنی صفائی نہیں جاتی\n\nہم صلح بھی کر لیں تو چلی جاتی ہے ان میں\nباہم دل و دلبر کی لڑائی نہیں جاتی\n\nخود دل میں چلے آؤ گے جب قصد کرو گے\nیہ راہ بتانے سے بتائی نہیں جاتی\n\nچھپتی ہے جلالؔ آنکھوں میں کب حسرت دیدار\nسو پردے اگر ہوں تو چھپائی نہیں جاتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C"} {"title": "کیوں چپ ہیں وہ بے بات سمجھ میں نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں چپ ہیں وہ بے بات سمجھ میں نہیں آتا\nیہ رنگ ملاقات سمجھ میں نہیں آتا\n\nکیا داد سخن ہم تمہیں دیں حضرت ناصح\nہے سو کی یہ اک بات سمجھ میں نہیں آتا\n\nشیخ اور بھلائی سے کرے تذکرہ تیرا\nاے پیر خرابات سمجھ میں نہیں آتا\n\nسایہ بھی شب ہجر کی ظلمت میں چھپا ہے\nاب کس سے کریں بات سمجھ میں نہیں آتا\n\nمشتاق ستم آپ ہیں مشتاق اجل ہم\nپھر کیوں یہ رکا ہات سمجھ میں نہیں آتا\n\nروکا انہیں جانے سے سر شام تو بولے\nکیوں کرتے ہو تم رات سمجھ میں نہیں آتا\n\nدل ایک ہے اور اس کے طلب گار ہزاروں\nدیں کس کو یہ سوغات سمجھ میں نہیں آتا\n\nکیوں کر کہوں احسنؔ کہ عدو دوست ہے میرا\nہو نیک وہ بد ذات سمجھ میں نہیں آتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%86%D9%BE_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کیوں کر بھلا لگے نہ وہ دل دار دور سے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کر بھلا لگے نہ وہ دل دار دور سے\nدونی بہار دیوے ہے گلزار دور سے\n\nنزدیک ہی سے شرم ہے اتنا تو ہو بھلا\nدیکھا کریں کبھی کبھی دیدار دور سے\n\nجی تو بھرا نہ اپنا کسی طرح کیا ہوا\nدیکھا اگر اسے سر بازار دور سے\n\nبے اختیار اٹھتی ہے بنیاد بے خودی\nآتی ہے جب نظر تری دیوار دور سے\n\nنزدیک ٹک بٹھا کے حسنؔ کا تو حال دیکھ\nآیا ہے قصد کر کے یہ بیمار دور سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D9%84%DA%AF%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کیوں کر دل غمزدہ نہ فریاد کرے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیوں کر دل غمزدہ نہ فریاد کرے\nجب ملک کو چرخ پیر برباد کرے\nمانگو یہ دعا کہ پھر خداوند کریم\nاجڑی ہوئی مملکت کو آباد کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%BA%D9%85%D8%B2%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%81_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "کیوں کر شکار حسن نہ کھیلیں یہاں کے لوگ", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کر شکار حسن نہ کھیلیں یہاں کے لوگ\nپریوں کو پھانس لیتے ہیں ہندوستاں کے لوگ\n\nآپس میں ایک دوسرے سے آشنا نہیں\nزیر زمیں بھرے ہیں الٰہی کہاں کے لوگ\n\nباغ جہاں سے جاتے نہیں جانب بہشت\nناحق طمانچے کھاتے ہیں باد خزاں کے لوگ\n\nشہر وفا کا سجدۂ شکرانہ ہے یہی\nپتھر سے سر پٹکتے ہیں شہر بتاں کے لوگ\n\nزنار سے ہے کم رگ جاں جس کے سامنے\nبندہ ہوئے ہیں اس بت نا مہرباں کے لوگ\n\nاپنی خبر لے اوروں سے کیا کام اے منیرؔ\nکس کا زمانہ کون سی بستی کہاں کے لوگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D9%88%DA%AF"} {"title": "کیوں کر نہ ایسے جینے سے یا رب ملول ہوں", "poet_page": "مصنف:باقر آگاہ ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کر نہ ایسے جینے سے یا رب ملول ہوں\nجب اس طرح عدم کا بھی میں ناقبول ہوں\n\nکیا خوب میرے بخت کی منڈوے چڑھی ہے بیل\nنا باغ نہ بہار نہ کانٹا نا پھول ہوں\n\nاس عشق میں ہی کٹ گئی سب عمر پر ہنوز\nنا لائق فراق نا باب وصول ہوں\n\nطالع کی میرے دیکھیے پھولی ہے کیا بہار\nانواع خار خار سے میں جوں ببول ہوں\n\nآگاہؔ اب کسی کی شکایت میں کیا کروں\nدیکھا جو خوب آپ ہی اپنا میں مول ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8_%D9%85%D9%84%D9%88%D9%84_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "کیوں کر نہ خوش ہو سر مرا لٹکا کے دار میں", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کر نہ خوش ہو سر مرا لٹکا کے دار میں\nکیا پھل لگا ہے نخل تمنائے یار میں\n\nچاہا بہت ولی نہ موا ہجر یار میں\nمحبوب کیا اجل بھی نہیں اختیار میں\n\nموباف سرخ کیوں نہ ہو گیسوئے یار میں\nشبخون یعنی لاتے ہیں شبہائے تار میں\n\nموباف ہے کنارے کا زلف نگار میں\nیا برف کوندتی ہے یہ ابر بہار میں\n\nراحت کے ساتھ رنج بھی ہے روزگار میں\nہنسنے پہ گل کے روتی ہے شبنم بہار میں\n\nپنہاں ہوا ہے خال خط مشک بار میں\nملتا نہیں ہے ڈھونڈھے سے نافہ تتار میں\n\nمر جاؤں گا خیال رخ و زلف یار میں\nآ جائے گی اجل اسی لیل و نہار میں\n\nلپٹی ہے چوٹی یار کی پھولوں کے ہار میں\nسنبل نے گل کھلائے ہیں فصل بہار میں\n\nآؤں نہ آپ میں جو وہ آئے کنار میں\nرکھوں میں اپنی طرح اسے انتظار میں\n\nسبزہ تک اپنی قبر کا خوابیدہ ہو گیا\nپر ہم کو نیند آئی نہ اک دم مزار میں\n\nاو برق طور تا بہ کجا لن ترانیاں\nپتھرا گئیں ہیں آنکھیں مرے انتظار میں\n\nجائیں کب آشنا تری دریا کی سیر کو\nاشک رواں سے رکھتی ہیں دریا کنار میں\n\nیہ کس نے آ کے قبر پہ بے چین کر دیا\nکیا سو رہی تھی چین سے کنج مزار میں\n\nآیا ہے خواب بھی شب وعدہ اگر ہمیں\nآنکھیں کھلی رہی ہیں ترے انتظار میں\n\nخاک چمن سے کیا ہے مرا کالبد بنا\nداغوں سے گل جو کھلتے ہیں فصل بہار میں\n\nبعد از فنا بھی حسن پرستی سے کام ہے\nآئینہ ساں صفائی ہے سنگ مزار میں\n\nآنسو بہاؤں آنکھوں سے اس کو لگا کے میں\nموتی پروؤں یار کی پھولوں کے ہار میں\n\nکیوں منہ سے بولتا نہیں نکلا ہے اب تو خط\nدروازہ بند باغ کا مت کر بہار میں\n\nروتے ہیں یاد گوہر دندان میں ان دن\nموتی بھرے ہیں مثل صدف یاں کنار میں\n\nکہیے وہ لعل لب خط مشکیں میں دیکھ کر\nپیدا ہوا ہے لعل بدخشاں تتار میں\n\nفرہاد کی یہ آنکھیں ہیں شیریں کو ڈھونڈھتے\nاب دل غزال پھرتی نہیں کوہسار میں\n\nموذی ہے چرخ اس سے نہیں کج روی بعید\nسچ یوں ہے راستی نہیں رفتار میں\n\nتجھ بن نہیں یہ جلوہ نما شب کو ماہتاب\nچشم فلک سفید ہوئے انتظار میں\n\nتو سن کے ساتھ دوڑوں جو میں منع کروں\nظالم عنان صبر نہیں اختیار میں\n\nپھولوں کا ہار بن گیا ہے موتیوں کا ہار\nایسا خوشی سے پھول گیا دست یار میں\n\nنفرت یہ ان گلوں کو ہے مرنے کے بعد بھی\nہوتا نہیں ہے گل مرے شمع مزار میں\n\nگیسو کو اس کی کچھ نہیں پروائے نقد دل\nیہ مال وہ ہے جو ہے سب چشم یار میں\n\nدیتی ہے ناتوانی اگر رخصت چمن\nپھنستا ہوں دام موج نسیم بہار میں\n\nکرتا ہے کوئی ترک دلا نیزہ بازیاں\nدنبالہ سرمے کا یہ نہیں چشم یار میں\n\nپیسے گا استخواں اثر اضطراب دل\nعالم اب آسیا کا ہے سنگ مزار میں\n\nباغ جہاں میں عیش کے فرصت بہت ہے کم\nلبریز جام عمر ہے گل کا بہار میں\n\nکس ماہ وش سے رات ہم آغوش ہم ہوئے\nعالم ہلال کا ہے ہمارے کنار میں\n\nمثل حنا ہے غیر کی ہاتھوں مرے بہار\nسرسبز اگرچہ ہوں چمن روزگار میں\n\nآتا ہے جب وہ تن میں مرے جان آتی ہے\nجانے میں مثل عمر نہیں اختیار میں\n\nاللہ رے صفائی رخ یار دیکھنا\nحیران ہے آئینہ کف آئینہ دار میں\n\nاپنے گلے کے ہار کے گر وہ چڑھائے پھول\nپھولا نہ پھر سماؤں میں کنج مزار میں\n\nگر پیشوائے خلق ہے زاہد تو کیا ہوا\nتسبیح کا امام نہیں ہے شمار میں\n\nمضمون تری کمر کا ہے کیا آج بندہ گیا\nعنقا پھنسا ہے ان کی دام شکار میں\n\nجھڑتی ہیں منہ سے پھول جو کرتا ہے بات تو\nتجھ سا نہیں ہے گل چمن روزگار میں\n\nقاصد تو صاف کہہ دی مکدر ہے مجھ سے کیا\nلکھا جو نامہ یار نے خط غبار میں\n\nتلوار لے جو ہاتھ میں بن جائے شاخ گل\nسوسن کا پھول ہوئے سپر دست یار میں\n\nیہ کس نے آ کے قبر کو روندا ہے پاؤں سے\nآتی ہے بوئے گل مری خاک مزار میں\n\nبعد از فنا بھی خواہش دیدار یار ہے\nروزن کوئی ضرور ہے میرے مزار میں\n\nجب رات ہوتی ہے تو ستارے نکلتے ہیں\nافشاں ضرور چاہئے تھے زلف یار میں\n\nکس کو یہ ہوش ہے جو کرے چاک جیب کو\nباہر ہوں اپنے جامے سے فصل بہار میں\n\nفرمائش اپنی دیکھنے والوں پہ کرتی ہیں\nآنکھوں کے ڈورے ہوں مرے پھولوں کے ہار میں\n\nپاؤں سے اپنے آئے گی صحرا میں بھی بہار\nچھالے ہمارے پھول پروئیں گے خار میں\n\nواجب ہے آب تیغ سے کر لیجئے وضو\nسجدہ جو کیجئے خم ابروئے یار میں\n\nدریا میں اس کی تیر مژہ کا پڑے جو عکس\nسوراخ ہو ہر اک گہر آب دار میں\n\nآیا کبھی نہ یار نہ آیا میں آپ میں\nاپنے اور اس کے شکوے کیے انتظار میں\n\nناسور پڑ گئی ترے دانتوں کے رشک سے\nروزن نہیں ہیں یہ گہر آبدار میں\n\nکھا کھا کے گل موا ہوں جو میں میرے خاک کے\nطاؤس بنتے ہیں چمن روزگار میں\n\nآتے ہی فصل گل مجھے جوش جنوں ہوا\nزنجیر در سے باغ کے باندھو بہار میں\n\nکرتے ہی صاف آئینے کو خاک دیکھ لے\nجوہر نہ پوچھ جو ہیں ہر اک خاکسار میں\n\nرکھتے نہیں غرور سے وہ پاؤں عرش پر\nچلتے ہیں سر کے بل جو رہ کوئے یار میں\n\nبتلاؤں کیا وہ کیسی ہے آرام کی جگہ\nسو جائیں پاؤں جاؤں اگر کوئے یار میں\n\nاپنے سوا نہیں ہے کوئی اپنا آشنا\nدریا کی طرح آپ ہیں اپنے کنار میں\n\nگویاؔ کبھی ہے یاس کبھی انتظار یار\nکیا کیا ہیں رنج زندگئ مستعار میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%88_%D8%B3%D8%B1_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%84%D9%B9%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "کیوں کر نہ رہے غم نہانی تیرا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیوں کر نہ رہے غم نہانی تیرا\nدنیا میں بتا کون ہے ثانی تیرا\nہم لے کے عصا دور تلک ڈھونڈ آئے\nکوسوں نہیں نام اے جوانی تیرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے\nگاتے ہیں راگ مرغ خوش الحاں نئے نئے\n\nشاعر نئے نئے ہیں سخنداں نئے نئے\nپیدا ہوئے ہیں اب تو غزل خواں نئے نئے\n\nدلبر متاع دل کے ہیں خواہاں نئے نئے\nکرتا ہے حسن عشق کے ساماں نئے نئے\n\nآسیب عشق سر سے اترتا نہیں مرے\nلکھتا ہے نقش روز پری خواں نئے نئے\n\nبہکا کے تم کو کوئی لگا لے نہ راہ پر\nنکلے ہو آج گھر سے مری جاں نئے نئے\n\nزوروں پہ ہیں جنوں کی بدولت ہمارے ہاتھ\nہوتے ہیں تار تار گریباں نئے نئے\n\nہر روز ایک وادیٔ نو سیرگاہ ہے\nوحشت دکھا رہی ہے بیاباں نئے نئے\n\nکس درجہ تنگ ہوں ترے ہاتھوں سے اے جنوں\nلاؤں کہاں سے روز گریباں نئے نئے\n\nغم کا گزر ہے گاہ گہے خرمی کا دخل\nآتے ہیں روز گھر مرے مہماں نئے نئے\n\nصورت سے اک پری کی ہمیں عشق تازہ ہے\nدیوانے ہم ہوئے ہیں سلیماں نئے نئے\n\nہر مرتبہ زمانے کو ہوتا ہے انقلاب\nلاتی ہے سوانگ گردش دوراں نئے نئے\n\nملک عدم ہے یا کوئی ننگوں کا شہر ہے\nہر روز واں سے آتے ہیں عریاں نئے نئے\n\nاک تازہ گل کا سامنا ہوتا ہے ہر برس\nدیتا ہے داغ دل پہ گلستاں نئے نئے\n\nپابند اک مقام کے ہوتے نہیں ہیں مرد\nشیروں کے واسطے ہیں نیستاں نئے نئے\n\nاس زلف کے خیال میں آنکھیں تو بند کر\nدکھلائی دیں گے خواب پریشاں نئے نئے\n\nکس کس طرح سے چہرے پہ لہرا کے آتی ہے\nکرتی ہے ناز زلف پریشاں نئے نئے\n\nآٹھوں پہر ہے اب تو تباہی کا سامنا\nاٹھتے ہیں روز اشک کے طوفاں نئے نئے\n\nروئے گا کہنہ سالی میں عہد شباب کو\nجب ٹوٹ کر نہ نکلیں گے دنداں نئے نئے\n\nپھرتا نہیں وہ دست نگاریں کسی طرح\nکرتا ہے زور پنجۂ مرجاں نئے نئے\n\nکر سیر چشم غور سے جو ذوق شعر ہے\nمضموں دکھائے گا مرا دیواں نئے نئے\n\nہنس ہنس کے بار بار نہ کیوں کر دکھائیں آپ\nنام خدا نکالے ہیں دنداں نئے نئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D8%A6%DB%92_%D9%86%D8%A6%DB%92"} {"title": "کیوں کر نہ ہو مومن کو تمنائے مدینہ", "poet_page": "مصنف:دل شاہ جہانپوری", "kind": "poetry", "section": "نعت", "year": null, "text_ur": "کیوں کر نہ ہو مومن کو تمنائے مدینہ\nہیں مالک جنت چمن آرائے مدینہ\n\nتنویر سے معمور ہے ہر ذرہ یثرب\nدیکھو تو سہی رونق صحرائے مدینہ\n\nمداح رہا آپ کا ہر کافر و مومن\nمجموعہ اخلاق تھے مولائے مدینہ\n\nافسردہ دلوں پر نظر فیض و عطا ہو\nاے بحر کرم اے چمن آرائے مدینہ\n\nتقدیر چمک جائے گی یثرب کی فضا میں\nہے نور فزا شدت سودائے مدینہ\n\nروضے کی زیارت سے شرف پائیں گے زائر\nکھینچے لئے جاتی ہے تمنائے مدینہ\n\nسر چشمۂ توحید ہے یہ شہر مقدس\nیکتا نظر آئی ہمیں دنیائے مدینہ\n\nفقرہ ہے چمن میں یہ عنادل کی زباں پر\nہر پھول سے خوش رنگ ہیں گلہائے مدینہ\n\nجتنا بھی بڑھوں شوق لقا اور سوا ہو\nہے راحت دل جوش تمنائے مدینہ\n\nاس راہ میں درکار ہے اخلاص و عقیدت\nگلشن نظر آیا ہمیں صحرائے مدینہ\n\nہو نوک قلم صفحہ کاغذ پہ گل افشاں\nمقصود ہے مدح چمن آرائے مدینہ\n\nپایا لقب اے دلؔ یہ فقط حب نبی میں\nکہتے ہیں فرشتے مجھے شیدائے مدینہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%81"} {"title": "کیوں کر چبھے نہ آنکھ میں گل خار کی طرح", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کر چبھے نہ آنکھ میں گل خار کی طرح\nبھائی ہے دل کو ایک طرحدار کی طرح\n\nحالت تلاش یار میں یہ ہو گئی مری\nجاتا ہوں بیٹھ بیٹھ دل زار کی طرح\n\nکیا دل میں خار رشک رخ یار کا چبھا\nبگڑی ہوئی ہے کیوں گل گلزار کی طرح\n\nہے کچھ نہ کچھ وہاں بھی اثر درد عشق کا\nآنکھ ان کی بھی ہے اس دل بیمار کی طرح\n\nاے کاش میرے تار رگ جاں کو توڑ دے\nقاتل کی تیغ یار کے اقرار کی طرح\n\nکیفیؔ بٹھائیں آنکھوں پہ کیوں آپ کو نہ لوگ\nچبھتی ہوئی ہے آپ کے اشعار کی طرح", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%DA%86%D8%A8%DA%BE%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "کیوں کر گلی میں اس کی میں اے ہم رہاں رہوں", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کر گلی میں اس کی میں اے ہم رہاں رہوں\nاس آرزوئے دل پہ ہے واں تو نہ ہاں نہ ہوں\n\nپاتا ہوں میں جہاں اسے ہوتے ہیں واں مخل\nحیراں ہوں اب کہ راز دل اس سے کہاں کہوں\n\nبس بند کر زباں کہ سنے اے زباں دراز\nکب تک تری زباں سے کوئی کم زباں زبوں\n\nشہر طرب سے شکل گنہ گار دل مرا\nآخر ہوا بہ دوستیٔ دل براں بروں\n\nظاہر ہے قتل عاشق مضطر کہ خوں سے سرخ\nہے قصر خانہ کا ترے اے دل ستاں ستوں\n\nقائل بہ دل ہوں تب عمل حب کا میں کہ جب\nاس شوخ سے بہ جد و کد عاملاں ملوں\n\nبے یار جب لگے مجھے زنداں سے گھر بتر\nبرباد کیونکہ عشق میں پھر خانداں نہ دوں\n\nکیا خاک آب داریٔ تیغ اس سے ہو کہ ہے\nوہ چشم سرمہ سا جو بہ سنگ فساں فسوں\n\nجرأتؔ ز بس ہیں اہل جہاں حرف نا شنو\nداخل سخن میں کیونکہ بہ گوش گراں کروں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B1%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "کیوں کرتے ہو اعتبار میرا", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کرتے ہو اعتبار میرا\nمعلوم ہے تم کو پیار میرا\n\nیہ خیر ہے آج کچھ تو کہیے\nکیوں ذکر ہے بار بار میرا\n\nاک بات میں فیصلہ ہے تم سے\nرنجیدہ ہے دل ہزار میرا\n\nتیرا نہیں اعتبار مجھ کو\nتو بھی نہ کر اعتبار میرا\n\nشاید کہ نہ ہو تم اپنے بس کے\nدل پر تو ہے اختیار میرا\n\nمجھ کو نہ ہو رشک غیر ممکن\nتو اور ہو دوست دار میرا\n\nکچھ سمجھے ہوئے ہیں اپنے دل میں\nسنتے نہیں حال زار میرا\n\nوہ ہائے بگڑ کے اس کا جانا\nرونا وہیں زار زار میرا\n\nکل تک تو نظامؔ یہ نہ تھا حال\nدل آج ہے بے قرار میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "کیوں کرتے ہو دنیا کی ہر اک بات سے توبہ", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کرتے ہو دنیا کی ہر اک بات سے توبہ\nمنظور تو ہے میری ملاقات سے توبہ\n\nزاہد نے چھپایا ہے اسے گوشۂ دل میں\nبھاگی تھی کسی رند خرابات سے توبہ\n\nیہ فصل اگر ہوگی تو ہر روز پئیں گے\nہم مے سے کریں توبہ کہ برسات سے توبہ\n\nدنیا کی کوئی بات ہی اچھی نہیں زاہد\nاس بات سے توبہ کبھی اس بات سے توبہ\n\nمسجد نہیں دربار ہے یہ پیر مغاں کا\nدروازے کے باہر رہے اوقات سے توبہ\n\nیہ داغؔ قدح خوار کے کیا جی میں ہے آئی\nسنتے ہیں کئے بیٹھے ہیں وو رات سے توبہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81"} {"title": "کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا\nموج دریا خود لگا لیتی ہے ساحل کا پتا\n\nہے نشان لیلیٰ مقصود محمل کا پتا\nدل ربا ہاتھ آ گیا پایا جہاں دل کا پتا\n\nراہ الفت میں سمجھ لو دل کو گونگا رہ نما\nساتھ ہے اور دے نہیں سکتا ہے منزل کا پتا\n\nکہتا ہے ناصح کہ واپس جاؤ اور میں سادہ لوح\nپوچھتا ہوں خود اسی سے کوئے قاتل کا پتا\n\nراہبر رہزن نہ بن جائے کہیں اس سوچ میں\nچپ کھڑا ہوں بھول کر رستے میں منزل کا پتا\n\nآئی اک آواز تیر اور نکلی دل سے اف\nپھر نہ قاتل کا نشاں پایا نہ بسمل کا پتا\n\nبانکی چتون والے محشر میں ہزاروں ہیں تو ہوں\nمل ہی جائے گا کسی صورت سے قاتل کا پتا\n\nاس جگہ بسمل نے دم توڑا جہاں کی خاک تھی\nیوں لگاتے ہیں لگانے والے منزل کا پتا\n\nپوچھنے والے نے یہ پوچھا کہ کیوں بیدل ہو کیوں\nاور مجھ کو مل گیا کھوئے ہوئے دل کا پتا\n\nموجیں ٹکرائی ہوئیں دشمن بھی نکلیں دوست بھی\nپیچھے کشتی کو ڈھکیلا دے کے ساحل کا پتا\n\nرہ گیا ہے ٹوٹ کر زخم جگر میں تیر ناز\nاب لگا لینا نہیں دشوار قاتل کا پتا\n\nسوختہ پروانے کشتہ شمع فرش داغ دار\nدے رہے ہیں رات کی گرمئ محفل کا پتا\n\nمیں وفا کیش آرزوؔ اور وہ وفا نا آشنا\nپڑ گیا مشکل میں پا کر اپنی مشکل کا پتا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%B1%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%AA%D8%A7"} {"title": "کیوں کسی سے وفا کرے کوئی", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کسی سے وفا کرے کوئی\nدل نہ مانے تو کیا کرے کوئی\n\nنہ دوا چاہیے مجھے نہ دعا\nکاش اپنی دوا کرے کوئی\n\nمفلسی میں مزاج شاہانہ\nکس مرض کی دوا کرے کوئی\n\nدرد ہو تو دوا بھی ممکن ہے\nوہم کی کیا دوا کرے کوئی\n\nہنس بھی لیتا ہوں اوپری دل سے\nجی نہ بہلے تو کیا کرے کوئی\n\nموت بھی آ سکی نہ منھ مانگی\nاور کیا التجا کرے کوئی\n\nدرد دل پھر کہیں نہ کروٹ لے\nاب نہ چونکے خدا کرے کوئی\n\nعشق بازی کی انتہا معلوم\nشوق سے ابتدا کرے کوئی\n\nکوہ کن اور کیا بنا لیتا\nبن کے بگڑے تو کیا کرے کوئی\n\nاپنے دم کی ہے روشنی ساری\nدیدۂ دل تو وا کرے کوئی\n\nشمع کیا شمع کا اجالا کیا\nدن چڑھے سامنا کرے کوئی\n\nغالب اور میرزا یگانہؔ کا\nآج کیا فیصلہ کرے کوئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "کیوں کسی سے وفا کرے کوئی (ظہیر دہلوی)", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کسی سے وفا کرے کوئی\nخود برے ہوں تو کیا کرے کوئی\n\nجان دینے پہ جان دیتا ہوں\nایسے جینے کو کیا کرے کوئی\n\nنامہ بر کی زباں سے ڈرتا ہوں\nکچھ نہ پوچھے خدا کرے کوئی\n\nلطف جب آئے شکوہ سنجی کا\nہم کہیں اور سنا کرے کوئی\n\nحاصل مدعائے دل معلوم\nکیوں کہیں التجا کرے کوئی\n\nموت کا نام بے وفائی ہے\nہائے کب تک وفا کرے کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%28%D8%B8%DB%81%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%DB%81%D9%84%D9%88%DB%8C%29"} {"title": "کیوں کنج لحد کے متصل جاؤں گا", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "کیوں کنج لحد کے متصل جاؤں گا\nکہنے کے لیے مطلب دل جاؤں گا\nپیری سے بنوں گا منکسر اور رشیدؔ\nجھکتے جھکتے زمیں سے اور مل جاؤں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%86%D8%AC_%D9%84%D8%AD%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AA%D8%B5%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "کیوں کہ کہیے کہ ادا بندی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کہ کہیے کہ ادا بندی ہے\nشاعری کیا ہے ہوا بندی ہے\n\nخم گیسو کو چھوا تھا کس کے\nشب سے گلشن میں صبا بندی ہے\n\nکیونکہ ہم خون نہ روئیں شب عید\nیار مشغول حنا بندی ہے\n\nدر پہ بیٹھے ہیں ترے بے زنجیر\nیہ عجب طرح کی پابندی ہے\n\nنہیں پڑھتا مرا نسخہ عطار\nبسکہ مصروف دوا بندی ہے\n\nشوخ مضموں سے حذر کرتے ہیں\nشعر میں جن کے حیا بندی ہے\n\nمژدہ اے حسرت نظارہ کہ واں\nگرد چلمن کے ردا بندی ہے\n\nہر نفس تازہ غزل کہتے ہیں\nہر نفس تازہ نوا بندی ہے\n\nمصحفیؔ شعر میں تو یاد ہمیں\nزور صورت کی ادا بندی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "کیوں کہا یہ کسی سے کیا مطلب", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کہا یہ کسی سے کیا مطلب\nاسی کہنے سے کھل گیا مطلب\n\nبات پوری نہیں کہی میں نے\nکہ وہ طرار لے اڑا مطلب\n\nمیں کہے جاؤں تم سنے جاؤ\nایک کے بعد دوسرا مطلب\n\nہے مرا درد آپ کی راحت\nہے مرے پاس آپ کا مطلب\n\nکبھی کہتا ہوں دل سے خوب کیا\nکبھی کہتا ہوں کیوں کہا مطلب\n\nدل میں گھٹ گھٹ کے رہ گئی حسرت\nلب پر آ آ کے رہ گیا مطلب\n\nحضرت داغؔ توبہ کرتے ہیں\nکاش پورا کرے خدا مطلب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8"} {"title": "کیوں کہتے ہو کیا میری جفا کو نہیں دیکھا", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کہتے ہو کیا میری جفا کو نہیں دیکھا\nآتے ہوئے کہہ کہہ کے قضا کو نہیں دیکھا\n\nآئینۂ کونین ہیں دونوں مری آنکھیں\nتم کو نہیں دیکھا کہ خدا کو نہیں دیکھا\n\nدیکھے تو کوئی تیز روی عمر رواں کی\nپھر کر کبھی نقش کف پا کو نہیں دیکھا\n\nہر خار سے یوں پوچھتی ہے دشت میں لیلیٰ\nتم نے تو کسی آبلہ پا کو نہیں دیکھا\n\nکس غش پہ تمہیں ناز ہے اے حضرت موسیٰ\nان کی نگۂ ہوشربا کو نہیں دیکھا\n\nآئینۂ وحدت ہے دل صاف ہمارا\nکس بت میں نظر شان خدا کو نہیں دیکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "کیوں کہوں قامت کو تیرے اے بت رعنا الف", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کہوں قامت کو تیرے اے بت رعنا الف\nاور کچھ خوبی نہیں رکھتا ہے اک سیدھا الف\n\nجیسا ہے اس برہمن زادے کے قشقے کا الف\nلکھ نہیں سکتا ہے کوئی خوش نویس ایسا الف\n\nجب سے دی تعلیم گریہ اوستاد عشق نے\nتختۂ سینہ پہ طفل اشک نے کھینچا الف\n\nوصف بینی میں یہ کیا مصرع زباں پر آ گیا\nاس کی بینی ہے بلند اور اس سے ہے چھوٹا الف\n\nگرد ہے نقش و نگار چین ان کے رو بہ رو\nہیں ردائے فقر پر اس طرح کے زیبا الف\n\nقتل کو عاشق کے انگشت اشارت کر بلند\nتیری انگشت اشارت ہے شہادت کا الف\n\nسرکشی کرتا ہے یوں ہر آن میرا نفس شوم\nجس طرح سے دم بہ دم ہو جائے ہے گھوڑا الف\n\nاتنے پر بھی ذات واحد سے ہیں غافل ناقصاں\nکھنچ رہا ہے موئے تن سے تن پہ سر تا پا الف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%D8%B1%D8%B9%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%81"} {"title": "کیوں کہہ رہے ہو نزع میں ہم سے خفا نہ ہو", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کہہ رہے ہو نزع میں ہم سے خفا نہ ہو\nاس کو فریب دو جو تمہیں جانتا نہ ہو\n\nیہ چاہتے ہیں ہم کہ کوئی دوسرا نہ ہو\nخلوت ہو ہم ہوں تم ہو تمہاری حیا نہ ہو\n\nاے دل خدا کے واسطے ہم سے خفا نہ ہو\nحسن آشنا تو تھا ہی ستم آشنا نہ ہو\n\nوہ ہو جو تیری شان کے شایاں ہو اے کریم\nمیں کیا کہوں زباں سے کہ اب کیا ہو کیا نہ ہو\n\nیہ اور بات ہے کہ نیا آسمان ہے\nجو ہو چکے بہت ہیں ستم اب نیا نہ ہو\n\nگزرے مزے سے حشر کا دن انتظار میں\nمیں بھی یہ چاہتا ہوں کہ وعدہ وفا نہ ہو\n\nمیں سخت جان دور اجل تیغ نازنیں\nیہ کام آپ سے کہیں تنہا ہوا نہ ہو\n\nاتنا ہی تو کہا تھا کہ جاگے ہو رات کے\nیہ روٹھنے کی بات نہیں ہے خفا نہ ہو\n\nناوک فگن ٹھہر کہ ذرا دل سنبھال لوں\nڈرتا ہوں میں کہ پھر کہیں ناوک خطا نہ ہو\n\nاب آئنوں کی خیر نہیں ہے دلوں کی طرح\nوہ چاہتے ہیں ہم سا کوئی دوسرا نہ ہو\n\nاپنی زباں سے ہم اسے بے درد کیوں کہیں\nیہ اور بات ہے کہ وہ درد آشنا نہ ہو\n\nلطف کلام یہ کہ حسیں سن کے ہوں فدا\nصفدرؔ وہ شعر کیا ہے کہ جس میں مزہ نہ ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%88_%D9%86%D8%B2%D8%B9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "کیوں کہہ کے دل کا حال اسے بد گماں کروں", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کہہ کے دل کا حال اسے بد گماں کروں\nیہ راز وہ نہیں ہے جسے میں بیاں کروں\n\nمجھ کو یہ ضد کہ وصل کا اقرار تم سے لوں\nتم کو یہ ہٹ کہ میں نہ کبھی تجھ سے ہاں کروں\n\nیہ کہہ رہی ہے مجھ سے کسی کی نگاہ شرم\nفرصت اگر حیا سے ملے شوخیاں کروں\n\nتو مجھ کو آزما کے وفاداریوں میں دیکھ\nمیں بے وفائیوں میں ترا امتحاں کروں\n\nاکتا گیا ہے شرع کی پابندیوں سے جی\nدل چاہتا ہے بیعت پیر مغاں کروں\n\nبیخودؔ رفیق ہے نہ کوئی ہم طریق ہے\nدل پر جو کچھ گزرتی ہے کس سے بیاں کروں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%AF_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "کیوں کیا کرتے ہیں آہیں کوئی ہم سے پوچھے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں کیا کرتے ہیں آہیں کوئی ہم سے پوچھے\nکر گئیں کیا وہ نگاہیں کوئی ہم سے پوچھے\n\nلے کے دل ان کے مکرنے کی ادا کیا کہیے\nکیوں پلٹتی ہیں نگاہیں کوئی ہم سے پوچھے\n\nدوست دشمن کو بنانا کوئی تم سے سیکھے\nدوستی کیسی نباہیں کوئی ہم سے پوچھے\n\nنیچی نظریں کیے آتے ہو جہاں سے سمجھے\nجھینپتی کیوں ہیں نگاہیں کوئی ہم سے پوچھے\n\nدل میں آنے کے مبارکؔ ہیں ہزاروں رستے\nہم بتائیں اسے راہیں کوئی ہم سے پوچھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%DB%92"} {"title": "کیوں ہو بہانہ جو نہ قضا سر سے پاؤں تک", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں ہو بہانہ جو نہ قضا سر سے پاؤں تک\nظالم ہیں آپ کی ہے ادا سر سے پاؤں تک\n\nساکت ہیں بعد مرگ قویٰ سر سے پاؤں تک\nمہریں لگا گئی ہے قضا سر سے پاؤں تک\n\nگھیرے تھی تجھ کو برق ادا سر سے پاؤں تک\nکیوں نخل طور جل نہ گیا سر سے پاؤں تک\n\nزنجیر بن گئی ہے قضا سر سے پاؤں تک\nگویا رگیں ہیں دام بلا سر سے پاؤں تک\n\nمیں خود زبان شکر بنا سر سے پاؤں تک\nڈوبے نہ کیوں اثر میں دعا سر سے پاؤں تک\n\nمنہ چاند اس پہ زلف رسا سر سے پاؤں تک\nکیوں لوٹ پوٹ ہو نہ ادا سر سے پاؤں تک\n\nصدق و صفا سکھاتا ہے نظارہ باز کو\nآئینۂ جمال ترا سر سے پاؤں تک\n\nقاصد کہے گیا مری زردی رخ کا حال\nاس داستاں کو خوب رنگا سر سے پاؤں تک\n\nاے شمع تجھ سے صاف میں کہتا ہوں دل کا حال\nجلنا ہی تھا تو جل نہ گیا سر سے پاؤں تک\n\nپیری میں کانپنے لگے اعضائے جسم سب\nہشیار ہل گئی یہ بنا سر سے پاؤں تک\n\nشاید خزاں صبا کا فسانہ سنا گئی\nہر نخل باغ کانپ گیا سر سے پاؤں تک\n\nدریائے عشق میں مجھے رکھنا نہ تھا قدم\nڈوبا تو خوب ڈوب گیا سر سے پاؤں تک\n\nلی نخل طور کی نہ خبر تم نے اے کلیم\nتم دیکھتے رہے وہ جلا سر سے پاؤں تک\n\nآغاز ہی میں آپ نے کر دی زبان بند\nقصہ ہمارا سن نہ لیا سر سے پاؤں تک\n\nپھیلائیں یا نہ ہاتھ کو پھیلائیں شرم سے\nدست طلب ہیں تیرے گدا سر سے پاؤں تک\n\nتیرا کہاں جمال کہاں جلوہ گاہ طور\nموسیٰ نہ پھر نہ دیکھ لیا سر سے پاؤں تک\n\nاللہ شادؔ غیر کی یہ عیب جوئیاں\nتو خود پہ کر نگاہ ذرا سر سے پاؤں تک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D9%86%DB%81_%D9%82%D8%B6%D8%A7_%D8%B3%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "کیوں ہو نہ ہمیں عشق صنم اور زیادہ", "poet_page": "مصنف:نواب امراوبہادر دلیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں ہو نہ ہمیں عشق صنم اور زیادہ\nدیتا ہے مزہ عشق کا غم اور زیادہ\n\nدل تو عوض بوسہ دیا تم نے جگر بھی\nلی مفت میں یہ ایک رقم اور زیادہ\n\nلکھتا ہوں تجھے تیری رکاوٹ کا جو شکوہ\nچلتا ہے مرا رک کے قلم اور زیادہ\n\nدیتا ہوں تری شوخ نگاہوں سے ہی تشبیہ\nرم کرتے ہیں آہوئے حرم اور زیادہ\n\nپسپا نہ ہوا قیس سے میدان وفا میں\nبڑھتا ہی رہا اپنا قدم اور زیادہ\n\nہو جاتے ہیں جب ہم سے کشیدہ ترے ابرو\nکھینچتی ہے تری تیغ دو دم اور زیادہ\n\nہوتا ہوں دلیرؔ ان سے جو میں لطف کا خواہاں\nوہ کرتے ہیں رہ رہ کے ستم اور زیادہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B2%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DB%81"} {"title": "کیوں ہے کہہ آئینہ اس درجہ تو حیراں مجھ سے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیوں ہے کہہ آئینہ اس درجہ تو حیراں مجھ سے\nاپنی روداد کو مت کیجیو پنہاں مجھ سے\n\nہوں ہوا خواہ میں اے گل ترا جیوں موج نسیم\nغنچہ ساں کب ہے گرہ کا ترے نقصاں مجھ سے\n\nچشم مست اس کی نے دل توڑ کے پھیری ہے نظر\nکہ نہ مانگے کہیں اس شیشہ کا تاواں مجھ سے\n\nتیر نے خواب میں ہمدرد جو پایا اپنا\nدرد دل کہنے لگا ہو کے وہ گریاں مجھ سے\n\nرم کا ہرنوں کے بگولے کی بھی بیتابی کا\nراز سب واز کیا پھاڑ گریباں مجھ سے\n\nگرم رکھتا تھا کہا مدرسہ جب وادی کا\nعلم وحشت کئے تحصیل غزالاں مجھ سے\n\nسر پر اب خاک اڑاتا ہوا پھرتا ہوں عشقؔ\nصاف دیکھا تو نہ تھی خاطر یاراں مجھ سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D8%B1%D8%AC%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92"} {"title": "کیے سجدے ہوئے کافر نہ کچھ دل میں ذرا سمجھے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "کیے سجدے ہوئے کافر نہ کچھ دل میں ذرا سمجھے\nہمیں بندہ بنایا اے بتو تم سے خدا سمجھے\n\nکلام نا سزا بھی جو ہوا سرزد سزا سمجھے\nوہ گوتم نے کہا بے جا مگر ہم سب بجا سمجھے\n\nنہ دشمن دوست ہوں میں اور نہ بیگانہ یگانہ ہوں\nجو وہ سمجھے تو کیا سمجھے تو یہ سمجھے تو کیا سمجھے\n\nکہا میں نے اٹھا دو ہاتھ تم بھی میری مشکل پر\nتو بولے ہم سے استدعا دعا کی مدعا سمجھے\n\nحباب آسا کوئی لحظہ ثبات عمر فانی ہے\nجو عاقل ہو وفائے زندگانی بے وفا سمجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%DB%92_%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "گئی جو طفلی تو پھر عالم شباب آیا", "poet_page": "مصنف:مردان علی خاں رانا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گئی جو طفلی تو پھر عالم شباب آیا\nگیا شباب تو اب موسم خضاب آیا\n\nمیں شوق وصل میں کیا ریل پر شتاب آیا\nکہ صبح ہند میں تھا شام پنچ آب آیا\n\nکٹا تھا روز مصیبت خدا خدا کر کے\nیہ رات آئی کہ سر پہ مرے عذاب آیا\n\nکہاں ہے دل کو عبث ڈھونڈھتے ہو پہلو میں\nتمہارے کوچے میں مدت سے اس کو داب آیا\n\nکسی کی تیغ تغافل کا میں وہ کشتہ ہوں\nنہ جاگا نیزے پہ سو بار آفتاب آیا\n\nنظر پڑی نہ مری رعب حسن سے رخ پر\nاگرچہ سامنے میرے وو بے نقاب آیا\n\nہمیشہ صورت انجم کھلی رہیں آنکھیں\nفراق یار میں کس روز مجھ کو خواب آیا\n\nہوا یقیں کہ زمیں پر ہے آج چاند گہن\nوو ماہ چہرہ پہ جب ڈال کر نقاب آیا\n\nہوئے جو دیدۂ گریہ سے اپنے اشک رواں\nگماں ہوا کہ برستا ہوا سحاب آیا\n\nبنا تصور لیلیٰ بہ صورت تصویر\nکبھی جو قیس کی آنکھوں میں شب کو خواب آیا\n\nوہ زود رنج ہے اس کو نہ چھیڑنا رعناؔ\nملو گے ہاتھ اگر بر سر عتاب آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%B7%D9%81%D9%84%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گئی فصل بہار گلشن سے", "poet_page": "مصنف:مردان علی خاں رانا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گئی فصل بہار گلشن سے\nبلبلوں اڑ چلو نشیمن سے\n\nفاتحہ بھی پڑھا نہ تربت پر\nجا کے لوٹ آئے میری مدفن سے\n\nمجھ کو کافی تھی قید حلقۂ زلف\nبیڑیاں کیوں بنائیں آہن سے\n\nزلف کے پیچ سے نہ رہ غافل\nدوستی کر دلا نہ دشمن سے\n\nہو گریباں کا چاک خاک رفو\nتار ہاتھ آئے جب نہ دامن سے\n\nناز و عشوہ نیا نہیں سیکھا\nشوخ طرار ہے لڑکپن سے\n\nچھوڑ کر تم اگر گئے تنہا\nجی نکل جائے گا مرے تن سے\n\nہے کئی دن سے منتظر رعناؔ\nجلوہ دکھلاؤ آ کے چلمن سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D9%81%D8%B5%D9%84_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D8%B3%DB%92"} {"title": "گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوںکر ہو\nکہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیوں کر ہو\n\nہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصال\nکہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں؟ ہو تو کیوں کر ہو\n\nادب ہے اور یہی کشمکش، تو کیا کیجے\nحیا ہے اور یہی گومگو تو کیوں کر ہو\n\nتمہیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کا\nبتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیوں کر ہو\n\nالجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہ\nجو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیوں کر ہو\n\nجسے نصیب ہو روزِ سیاہ میرا سا\nوہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیوں کر ہو\n\nہمیں پھر ان سے امید، اور انہیں ہماری قدر\nہماری بات ہی پوچھیں نہ وو تو کیوں کر ہو\n\nغلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلّی کا\nنہ مانے دیدۂ دیدار جو، تو کیوں کر ہو\n\nبتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قرار\nیہ نیش ہو رگِ جاں میں فِرو تو کیوں کر ہو\n\nمجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بہ قولِ حضور\n“فراقِ یار میں تسکین ہو تو کیوں کر ہو”", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%88"} {"title": "گئی چھاؤں اس تیغ کی سر سے جب کی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گئی چھاؤں اس تیغ کی سر سے جب کی\nجلے دھوپ میں یاں تلک ہم کہ تب کی\n\nپڑی خرمن گل پہ بجلی سی آخر\nمرے خوش نگہ کی نگاہ اک غضب کی\n\nکوئی بات نکلے ہے دشوار منہ سے\nٹک اک تو بھی تو سن کسی جاں بہ لب کی\n\nتو شملہ جو رکھتا ہے خر ہے وگرنہ\nضرورت ہے کیا شیخ دم اک وجب کی\n\nیکایک بھی آ سر پہ واماندگاں کے\nبہت دیکھتے ہیں تری راہ کب کی\n\nدماغ و جگر دل مخالف ہوئے ہیں\nہوئی متفق اب ادھر رائے سب کی\n\nتجھے کیونکے ڈھونڈوں کہ سوتے ہی گزری\nتری راہ میں اپنے پیے طلب کی\n\nدل عرش سے گزرے ہے ضعف میں بھی\nیہ زور آوری دیکھو زاری شب کی\n\nعجب کچھ ہے گر میرؔ آوے میسر\nگلابی شراب اور غزل اپنے ڈھب کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے\nکروں اس ستم کو میں کیا بیاں مرا غم سے سینہ فگار ہے\n\nیہ رعایۂ ہند تبہ ہوئی کہوں کیا جو ان پہ جفا ہوئی\nجسے دیکھا حاکم وقت نے کہا یہ بھی قابل دار ہے\n\nیہ کسی نے ظلم بھی ہے سنا کہ دی پھانسی لوگوں کو بے گناہ\nوہی کلمہ گویوں کی سمت سے ابھی دل میں ان کے بخار ہے\n\nنہ تھا شہر دہلی یہ تھا چمن کہو کس طرح کا تھا یاں امن\nجو خطاب تھا وہ مٹا دیا فقط اب تو اجڑا دیار ہے\n\nیہی تنگ حال جو سب کا ہے یہ کرشمہ قدرت رب کا ہے\nجو بہار تھی سو خزاں ہوئی جو خزاں تھی اب وہ بہار ہے\n\nشب و روز پھول میں جو تلے کہو خار غم کو وہ کیا سہے\nملے طوق قید میں جب انہیں کہا گل کے بدلے یہ ہار ہے\n\nسبھی جادہ ماتم سخت ہے کہو کیسی گردش بخت ہے\nنہ وہ تاج ہے نہ وہ تخت ہے نہ وہ شاہ ہے نہ دیار ہے\n\nجو سلوک کرتے تھے اور سے وہی اب ہیں کتنے ذلیل سے\nوہ ہیں تنگ چرخ کے جور سے رہا تن پہ ان کے نہ تار ہے\n\nنہ وبال تن پہ ہے سر مرا نہیں جان جانے کا ڈر ذرا\nکٹے غم ہی، نکلے جو دم مرا مجھے اپنی زندگی بار ہے\n\nکیا ہے غم ظفرؔ تجھے حشر کا جو خدا نے چاہا تو برملا\nہمیں ہے وسیلہ رسول کا وہ ہمارا حامیٔ کار ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%DB%81_%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%BE%D9%84%D9%B9_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "گئیں یاروں سے وہ اگلی ملاقاتوں کی سب رسمیں", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گئیں یاروں سے وہ اگلی ملاقاتوں کی سب رسمیں\nپڑا جس دن سے دل بس میں ترے اور دل کے ہم بس میں\n\nکبھی ملنا کبھی رہنا الگ مانند مژگاں کے\nتماشہ کج سرشتوں کا ہے کچھ اخلاص کے بس میں\n\nتوقع کیا ہو جینے کی ترے بیمار ہجراں کے\nنہ جنبش نبض میں جس کی نہ گرمی جس کے ملمس میں\n\nدکھائے چیرہ دستی آہ بالادست گر اپنی\nتو مارے ہاتھ دامان قیامت چرخ اطلس میں\n\nجو ہے گوشہ نشیں تیرے خیال مست ابرو میں\nوہ ہے بیت الصنم میں بھی تو ہے بیت المقدس میں\n\nکرے لب آشنا حرف شکایت سے کہاں یہ دم\nترے محزون بے دم میں ترے مفتون بیکس میں\n\nہوائے کوے جاناں لے اڑے اس کو تعجب کیا\nتن لاغر میں ہے جاں اس طرح جس طرح بو خس میں\n\nمجھے ہو کس طرح قول و قسم کا اعتبار ان کے\nہزاروں دے چکے وہ قول لاکھوں کھا چکے قسمیں\n\nہوئے سب جمع مضموں ذوقؔ دیوان دو عالم کے\nحواس خمسہ ہیں انساں کے وہ بند مخمس میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%A7%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%A8_%D8%B1%D8%B3%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سے\nیہی بات ہم چاہتے تھے خدا سے\n\nوہ اپنی ہی خوبی پہ رہتا ہے نازاں\nمرو یا جیو کوئی اس کی بلا سے\n\nکوئی ہم سے کھلتے ہیں بند اس قبا کے\nیہ عقدے کھلیں گے کسو کی دعا سے\n\nپشیمان توبہ سے ہوگا عدم میں\nکہ غافل چلا شیخ لطف ہوا سے\n\nنہ رکھی مری خاک بھی اس گلی میں\nکدورت مجھے ہے نہایت صبا سے\n\nجگر سوئی مژگاں کھنچا جائے ہے کچھ\nمگر دیدۂ تر ہیں لوہو کے پیاسے\n\nاگر چشم ہے تو وہی عین حق ہے\nتعصب تجھے ہے عجب ماسوا سے\n\nطبیب سبک عقل ہرگز نہ سمجھا\nہوا درد عشق آہ دونا دوا سے\n\nٹک اے مدعی چشم انصاف وا کر\nکہ بیٹھے ہیں یہ قافیے کس ادا سے\n\nنہ شکوہ شکایت نہ حرف و حکایت\nکہو میرؔ جی آج کیوں ہو خفا سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%88%D9%B9%DB%92_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92"} {"title": "گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیے", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیے\nزباں حیرت سے میری ہو گئی بے کار کیا کہیے\n\nتبسم میں جو اس کا منہ کھلا دل بندھ گیا ووہیں\nمرا دل لے گیا ہنستے ہی ہنستے یار کیا کہیے\n\nاگر اس کی جگہ پہلو میں ہوتا خار بہتر تھا\nبہت دیتا ہے میرا دل مجھے آزار کیا کہیے\n\nجلا کر آشیاں اس فصل گل میں باغباں میرا\nجہنم تو نے مجھ پر کر دیا گلزار کیا کہیے\n\nیقیںؔ کے واقعے کی سن خبر وہ بد گماں بولا\nیہ دیوانہ تو کچھ ایسا نہ تھا بیمار کیا کہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DB%92"} {"title": "گئے وہ دن کہ نادانستہ غیروں کی وفاداری", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "گئے وہ دن کہ نادانستہ غیروں کی وفاداری\nکیا کرتے تھے تم تقریر ہم خاموش رہتے تھے\nبس اب بگڑے پہ کیا شرمندگی جانے دو ہل جاؤ\nقسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں کیوں ہم نہ کہتے تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C"} {"title": "گئے ہم جو الفت کی واں راہ کرنے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گئے ہم جو الفت کی واں راہ کرنے\nارادے سے چاہت کے آگاہ کرنے\n\nکہا اس نے آنا ہوا کس سبب سے\nکہا آپ کے دل کو ہم راہ کرنے\n\nبٹھایا اور اک چٹکی لی ایسی جس سے\nلگے منہ بنا ہم وہیں آہ کرنے\n\nجو یہ شکل دیکھی تو چٹکی بجا کر\nکہا یوں نظیرؔ اور لگا واہ کرنے\n\nمیاں ایک چٹکی سے کی آہ رک کر\nاسی منہ سے آئے ہو تم چاہ کرنے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92"} {"title": "گائے اک روز ہوئی اُونٹ سے یوں گرمِ سخن", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "گائے اک روز ہوئی اُونٹ سے یوں گرمِ سخن\nنہیں اک حال پہ دنیا میں کسی شے کو قرار\n\nمَیں تو بدنام ہُوئی توڑ کے رسّی اپنی\nسُنتی ہوں آپ نے بھی توڑ کے رکھ دی ہے مہار\n\nہند میں آپ تو از رُوئے سیاست ہیں اہم\nریل چلنے سے مگر دشتِ عرب میں بیکار\n\nکل تلک آپ کو تھا گائے کی محفل سے حذَر\nتھی لٹکتے ہُوئے ہونٹوں پہ صدائے زنہار\n\nآج یہ کیا ہے کہ ہم پر ہے عنایت اتنی\nنہ رہا آئنۂ دل میں وہ دیرینہ غبار\n\nجب یہ تقریر سُنی اونٹ نے، شرما کے کہا\nہے ترے چاہنے والوں میں ہمارا بھی شمار\n\nرشکِ صد غمزۂ اُشترُ ہے تری ایک کُلیل\nہم تو ہیں ایسی کُلیلوں کے پُرانے بیمار\n\nترے ہنگاموں کی تاثیر یہ پھیلی بَن میں\nبے زبانوں میں بھی پیدا ہے مذاقِ گفتار\n\nایک ہی بَن میں ہے مدّت سے بسیرا اپنا\nگرچہ کچھ پاس نہیں، چارا بھی کھاتے ہیں اُدھار\n\nگوسفند و شُتَر و گاو و پلنگ و خِرلنگ\nایک ہی رنگ میں رنگیں ہوں تو ہے اپنا وقار\n\nباغباں ہو سبَق آموز جو یکرنگی کا\nہمزباں ہو کے رہیں کیوں نہ طیورِ گُلزار\n\nدے وہی جام ہمیں بھی کہ مناسب ہے یہی\nتُو بھی سرشار ہو، تیرے رُفَقا بھی سرشار\n\n“دلقِ حافظؔ بچہ ارزد بہ میَش رنگیں کُن\nوانگہش مست و خراب از رہِ بازار بیار”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%8F%D9%88%D9%86%D9%B9_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%D9%85%D9%90_%D8%B3%D8%AE%D9%86"} {"title": "گالی سہی ادا سہی چین جبیں سہی", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "گالی سہی ادا سہی چین جبیں سہی\nیہ سب سہی پر ایک نہیں کی نہیں سہی\n\nمرنا مرا جو چاہے تو لگ جا گلے سے ٹک\nاٹکا ہے دم مرا یہ دم واپسیں سہی\n\nگر نازنیں کے کہنے سے مانا برا ہو کچھ\nمیری طرف کو دیکھیے میں نازنیں سہی\n\nکچھ پڑ گیا ہے آنکھ میں رونا کہے ہے تو\nکیوں میں عبث کو بحثوں یہی دل نشیں سہی\n\nآگے بڑھے جو جاتے ہو کیوں کون ہے یہاں\nجو بات ہم کو کہنی ہے تم سے یہیں سہی\n\nمنظور دوستی جو تمہیں ہے ہر ایک سے\nاچھا تو کیا مضایقہ انشاؔ سے کیں سہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%B3%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%81%DB%8C_%DA%86%DB%8C%D9%86_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی\nعاشقوں کے گھر مٹھائی لب شکر بٹ جائے گی\n\nروبرو گر ہوگا یوسف اور تو آ جائے گا\nاس کی جانب سے زلیخا کی نظر بٹ جائے گی\n\nرہزنوں میں ناز و غمزہ کی یہ جنس دین و دل\nجوں متاع بردہ آخر ہم دگر بٹ جائے گی\n\nہوگا کیا گر بول اٹھے غیر باتوں میں مری\nپھر طبیعت میری اے بیداد گر بٹ جائے گی\n\nدولت دنیا نہیں جانے کی ہرگز تیرے ساتھ\nبعد تیرے سب یہیں اے بے خبر بٹ جائے گی\n\nکر لے اے دل جان کو بھی رنج و غم میں تو شریک\nیہ جو محنت تجھ پہ ہے کچھ کچھ مگر بٹ جائے گی\n\nمونگ چھاتی پہ جو دلتے ہیں کسی کی دیکھنا\nجوتیوں میں دال ان کی اے ظفرؔ بٹ جائے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%86%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A8%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "گاندھی", "poet_page": "مصنف:اقبال سہیل", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وہ حدیث روح پیام جاں جسے ہم نے سن کے بھلا دیا\nوہ حریم غیب کا ارمغاں جسے پا کے ہم نے گنوا دیا\n\nوہ ملک و ملت جاں بہ لب جسے اس نے آب بقا دیا\nاسی نا سپاس نے ہائے اب اسے جام مرگ پلا دیا\n\nہمیں جس نے فتح دلائی تھی اسے خاک و خوں میں ملا دیا\nہمیں جس نے راہ دکھائی تھی اسے راستے سے ہٹا دیا\n\nاسے اتباع مسیح نے وہ عجیب دست شفا دیا\nجو گرے تھے ان کو اٹھا دیا جو مرے تھے ان کو جلا دیا\n\nجو اٹھا تھا شعلۂ شور و شر اسے اپنے خوں سے بجھا دیا\nجو پڑا تھا پردہ نگاہوں میں اسے آپ اٹھ کے اٹھا دیا\n\nوہ خمیدہ قد خم ماہ نو وہ نظر فریب خنک سی ضو\nوہ نگاہ برق عمل کی رو کہ دلوں کو جس نے ہلا دیا\n\nوہ فروغ بخش ہر انجمن کہ زمانہ بھر میں تھا ضو فگن\nوہ چراغ بزم گہ وطن کسی تیرہ دل نے بجھا دیا\n\nوہ کتاب صلح کا سر ورق کہ مٹائی کشمکش فرق\nوہ قتیل خنجر صبر و حق کہ وطن پہ خود کو مٹا دیا\n\nوہ بودھ اور کرشن کا جا نشیں ہمہ تن عمل ہمہ تن یقیں\nوہ تبسم سحر آفریں کہ چمن لبوں سے کھلا دیا\n\nوہ برنگ آئینہ صاف دل وہ فروغ فطرت آب و گل\nکہ جہاد نفس نے مستقل اسے اور حسن جلا دیا\n\nوہ جلال شیوۂ سادگی وہ جمال صورت زندگی\nوہ زلال چشمۂ آگہی کہ زمانہ بھر کو جگا دیا\n\nوہ شرارہ برق حیات کا وہ ستارا راہ نجات کا\nوہ منارہ عزم و ثبات کا جسے فتنہ ساز نے ڈھا دیا\n\nاثر اس کا اب ہے وسیع تر کہ ہر ایک دل میں ہے اس کا گھر\nیہ سمجھ کے خوش نہ ہوں فتنہ گر کہ اسے پیام فنا دیا\n\nتری شان کون گھٹا سکے اسے خود خدا نے بڑھا دیا\nکہ تجھے بقائے دوام دی تجھے منصب شہدا دیا\n\nتری خامشی وہ زبان تھی کہ دلوں کو جوش نوا دیا\nتن فاقہ کش میں وہ جان تھی کہ حصار کبر ہلا دیا\n\nوطن عزیز کو شان دی اسے قید غم سے چھڑا دیا\nرہ اتحاد میں جان دی جو کہا وہ کر کے دکھا دیا\n\nجنہیں زیر کر نہ سکا ستم ہوئے صید سلسلۂ کرم\nتری نیکیوں نے تری قسم سر خود سری کو جھکا دیا\n\nیہ عروس کشور ہند تھی ہمہ بیکسی ہمہ بد دلی\nاسے تو نے غازۂ خرمی ترے خوں نے رنگ حنا دیا\n\nتجھے مندروں نے صدائیں دیں کہ ترے کرم سے اماں ملی\nتجھے مسجدوں نے دعائیں دیں کہ تباہیوں سے بچا دیا\n\nیہ کمال پیروی علی یہ فراخ حوصلگی تری\nکہ خود اپنے دشمن جاں کو بھی وہی ارمغان دعا دیا\n\nتجھے بیکسی نے سپاہ دی تجھے مشکلات نے راہ دی\nتجھے بجلیوں نے پناہ دی تجھے تلخیوں نے مزا دیا\n\nیہی دھرم ہے یہی اصل دیں کہ ہو قول سچ تو عمل حسیں\nحق و اہل حق پہ رہے یقیں یہ پیام سب کو سنا دیا\n\nہمہ روشنی تری ذات تھی ہمہ سوز تیری حیات تھی\nتری روح شمع تھی گل ہوئی ترے تن کو پھول بنا دیا\n\nترا فیض دہر میں عام ہو یہ غبار اٹھ کے غمام ہو\nتری خاک تیرا پیام ہو یہ سمجھ کے اس کو بہا دیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%8C"} {"title": "گاندھیؔ جی کی یاد میں!", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وہی ہے شور ہائے و ہو، وہی ہجوم مرد و زن\nمگر وہ حسن زندگی، مگر وہ جنت وطن\n\nوہی زمیں، وہیں زماں، وہی مکیں، وہی مکاں\nمگر سرور یک دلی، مگر نشاط انجمن\n\nوہی ہے شوق نو بہ نو، وہی جمال رنگ رنگ\nمگر وہ عصمت نظر، طہارت لب و دہن\n\nترقیوں پہ گرچہ ہیں، تمدن و معاشرت\nمگر وہ حسن سادگی، وہ سادگی کا بانکپن\n\nشراب نو کی مستیاں، کہ الحفیظ و الاماں\nمگر وہ اک لطیف سا سرور بادۂ کہن\n\nیہ نغمۂ حیات ہے کہ ہے اجل ترانہ سنج\nیہ دور کائنات ہے کہ رقص میں ہے اہرمن\n\nہزار در ہزار ہیں اگرچہ رہبران ملک\nمگر وہ پیر نوجواں، وہ ایک مرد صف شکن\n\nوہی مہاتما وہی شہید امن و آشتی\nپریم جس کی زندگی، خلوص جس کا پیرہن\n\nوہی ستارے ہیں، مگر کہاں وہ ماہتاب ہند\nوہی ہے انجمن، مگر کہاں وہ صدر انجمن", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%94_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA%21"} {"title": "گاہ بسمل ہوں گہے تکبیر ہوں", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "گاہ بسمل ہوں گہے تکبیر ہوں\nاپنی میں تدبیر کا تقدیر ہوں\n\nمیرے دم سے ہے جنوں کی آبرو\nپاسبان خانۂ زنجیر ہوں\n\nبے رخی پر ہے کماں تقدیر کی\nگو سراپا ناوک تدبیر ہوں\n\nدشمنوں کے ہوں ضرر کا سر نوشت\nدوستوں کے نفع کی تقریر ہوں\n\nہے خرابی رخنہ انداز بنا\nقصر بربادی کا میں تعمیر ہوں\n\nقد تواضع میں ہے خم مثل کماں\nراست کاری میں مثال تیر ہوں\n\nمیں ہوں اک نقاش شاعر اے وقارؔ\nکھینچتا اشعار کی تصویر ہوں", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DB%81%DB%92_%D8%AA%DA%A9%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "گاہے تو کرم ہم پہ بھی فرمائیں آپ", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گاہے تو کرم ہم پہ بھی فرمائیں آپ\nآ جائیں یہاں بھی جو کہیں جائیں آپ\nدکھلائیے تو چاہنے والوں کی شکل\nغیروں ہی کے ہم راہ کبھی آئیں آپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%DB%81%D9%85_%D9%BE%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "گاہے گاہے جو ادھر آپ کرم کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "گاہے گاہے جو ادھر آپ کرم کرتے ہیں\nوہ ہیں اٹھ جاتے ہیں یہ اور ستم کرتے ہیں\n\nجی نہ لگ جائے کہیں تجھ سے اسی واسطے بس\nرفتہ رفتہ ترے ہم ملنے کو کم کرتے ہیں\n\nواقعی یوں تو ذرا دیکھیو سبحان اللہ\nتیرے دکھلانے کو ہم چشم یہ نم کرتے ہیں\n\nعشق میں شرم کہاں ناصح مشفق یہ بجا\nآپ کو کیا ہے جو اس بات کا غم کرتے ہیں\n\nگالیاں کھانے کو اس شوخ سے ملتے ہیں ہاں\nکوئی کرتا نہیں جو کام سو ہم کرتے ہیں\n\nہیں طلب گار محبت کے میاں جو اشخاص\nوہ بھلا کب طلب دام و درم کرتے ہیں\n\nعین مستی میں ہمیں دید فنا ہے انشاؔ\nآنکھ جب موندتے ہیں سیر عدم کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گجرات کی رات", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آج قسمت سے نظر آئی ہے برسات کی رات\nکیا بگڑ جائے گا رہ جاؤ یہیں رات کی رات\n\nان کی پا بوسی کو جائے تو صبا کہہ دینا\nآج تک یاد ہے وہ آپ کے گجرات کی رات\n\nجس میں سلمیٰ کے تصور کے ہیں تارے روشن\nمیری آنکھوں ہے وہ عالم جذبات کی رات\n\nہائے وہ مست گھٹا ہائے وہ سلمیٰ کی ادا\nآہ وہ رود چناب آہ وہ گجرات کی رات\n\nمیرے سینے میں ادھر زلف معطر کا ہجوم\nآہ وہ زلف کہ آوارہ خرابات کی رات\n\nسطح دویا پہ ادھر نشہ میں لہرائی ہوئی\nرنگ لائی ہوئی چھائی ہوئی برسات کی رات\n\nاف وہ سوئی ہوئی کھوئی ہوئی فطرت کی بہار\nاف وہ مہکی ہوئی بہکی ہوئی برسات کی رات\n\nپھر وہ ارمان ہم آغوشی کا جذب گستاخ\nآہ وہ رات وہ سلمیٰ سے ملاقات کی رات\n\nکیوں نہ ان دونوں پہ مٹنے کی ہو حسرت اختر\nاف وہ اس رات کی بات آہ وہ اس بات کی رات", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%AC%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں\nہم اپنا ہی دم اور قدم دیکھتے ہیں\n\nنہ دیکھا جو کچھ جام میں جم نے اپنے\nسو یک قطرۂ مے میں ہم دیکھتے ہیں\n\nیہ رنجش میں ہم کو ہے بے اختیاری\nتجھے تیری کھا کر قسم دیکھتے ہیں\n\nغرض کفر سے کچھ نہ دیں سے ہے مطلب\nتماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں\n\nحباب لب جو ہیں اے باغباں ہم\nچمن کو ترے کوئی دم دیکھتے ہیں\n\nنوشتے کو میرے مٹاتے ہیں رو رو\nملائک جو لوح و قلم دیکھتے ہیں\n\nمٹا جائے ہے حرف حرف آنسوؤں سے\nجو نامہ اسے کر رقم دیکھتے ہیں\n\nاکڑ سے نہیں کام سنبل کی ہم کو\nکسی زلف کا پیچ و خم دیکھتے ہیں\n\nخدا دشمنوں کو نہ وہ کچھ دکھائے\nجو کچھ دوست سے اپنے ہم دیکھتے ہیں\n\nستم سے کیا تو نے ہم کو جو خوگر\nکرم سے ترے ہم ستم دیکھتے ہیں\n\nمگر تجھ سے رنجیدہ خاطر ہے سوداؔ\nاسے تیرے کوچے میں کم دیکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%AF%D8%A7_%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%D8%A7%DB%81%D9%84_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گدائی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "مے کدے میں ایک دن اک رندِ زِیرک نے کہا\nہے ہمارے شہر کا والی گدائے بے حیا\nتاج پہنایا ہے کس کی بے کُلاہی نے اسے\nکس کی عُریانی نے بخشی ہے اسے زرّیں قبا\nاس کے آبِ لالہ گُوں کی خُونِ دہقاں سے کشید\nتیرے میرے کھیت کی مٹی ہے اس کی کیمیا\nاس کے نعمت خانے کی ہر چیز ہے مانگی ہُوئی\nدینے والا کون ہے، مردِ غریب و بے نَوا\nمانگنے والا گدا ہے، صدقہ مانگے یا خراج\nکوئی مانے یا نہ مانے، مِیرو سُلطاں سب گدا!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "گدائی کی ترغیب", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "اک مرد توانا کو جو سائل پایا\nکی میں نے ملامت اور بہت شرمایا\nبولا کہ ہے اس کا ان کی گردن پہ وبال\nدے دے کے جنہوں نے مانگنا سکھلایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D8%BA%DB%8C%D8%A8"} {"title": "گدائے دولت دیدار یار ہم بھی ہیں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گدائے دولت دیدار یار ہم بھی ہیں\nہمیں نہ بھولیو امیدوار ہم بھی ہیں\n\nجو بندہ پرور و ذرہ نواز یار ہو تم\nتو یہ بھی دھیان رہے خاکسار ہم بھی ہیں\n\nجگہ دو ہم کو بھی رہنے کو طور پر موسیٰ\nبشر ہیں بندۂ پروردگار ہم بھی ہیں\n\nہزار شکر قلم بند ہیں شہیدوں میں\nزہے شرف کہ ترے جاں نثار ہم بھی ہیں\n\nپسند آئی ہے پروانوں کی جو بیتابی\nادھر بھی دیکھ لو تم بے قرار ہم بھی ہیں\n\nتمام عمر ہماری نہ آنکھ جھپکے گی\nجوان معرکۂ انتظار ہم بھی ہیں\n\nانہیں کی بو سے معطر دماغ ہے اپنا\nوہ رشک گل ہیں تو باغ و بہار ہم بھی ہیں\n\nلپٹ ہی جاؤ گلے سے ہمارے خلوت میں\nاکیلے تم بھی ہو اس وقت یار ہم بھی ہیں\n\nجہاں میں تھے رخ روشن کے تیرے پروانے\nامیدوار چراغ مزار ہم بھی ہیں\n\nکبھی نہ لکھیو اشارہ بھی ہم کو چشمک کا\nجواب لکھنے میں جادو نگار ہم بھی ہیں\n\nخبر ہے حسن پرستوں کو وہ نوازیں گے\nہزار شکر کہ امیدوار ہم بھی ہیں\n\nغبار دن کو ہیں شب کو چمن میں ہیں خوشبو\nعجب دورنگیٔ لیل و نہار ہم بھی ہیں\n\nنشانہ تاکے گا کوئی تو دل پکارے گا\nکسی کے تیر کے قابل شکار ہم بھی ہیں\n\nبہار گل میں شہیدوں کی روحیں کہتی ہیں\nشرفؔ مٹے ہوے نقش و نگار ہم بھی ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گداز دل سے پروانہ ہوا خاک", "poet_page": "مصنف:حکیم محمد اجمل خاں شیدا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گداز دل سے پروانہ ہوا خاک\nجیا بے سوز میں تو کیا جیا خاک\n\nکسی کے خون ناحق کی ہے سرخی\nرنگیں گی دست قاتل کو حنا خاک\n\nنگہ میں شرم کے بدلے ہے شوخی\nکھلے پھر رات کا کیا ماجرا خاک\n\nلبوں تک آ نہیں سکتا تو پھر میں\nکہوں کیا اپنے دل کا مدعا خاک\n\nبلندی سے ہے اس کی ڈر کہ اک روز\nکرے گی آشیاں برق بلا خاک\n\nنہ دیکھا جن کا چہرہ گرد آلود\nپڑی ہے ان پہ اب بے انتہا خاک\n\nبیاباں میں پھرا کرتے ہیں شیداؔ\nحقیقت میں ہے الفت کی دوا خاک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%DA%A9"} {"title": "گذرا یہ کہ شکوہ و شکایت کیجے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گذرا یہ کہ شکوہ و شکایت کیجے\nیا آگے سخن اور حکایت کیجے\nخوب اتنی تو مجھ پر اب رعایت کیجے\nدل میرا مرے تئیں عنایت کیجے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81_%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81_%D9%88_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92"} {"title": "گر ابر گھرا ہوا کھڑا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر ابر گھرا ہوا کھڑا ہے\nآنسو بھی تلا ہوا کھڑا ہے\n\nحیران ہے کس کا جو سمندر\nمدت سے رکا ہوا کھڑا ہے\n\nہے موسم گل چمن میں ہر نخل\nپھولوں سے لدا ہوا کھڑا ہے\n\nشمشاد برابر اس کے قد کے\nدہشت سے بچا ہوا کھڑا ہے\n\nہے چاک کسی کا جیب و داماں\nکوئی خستہ لٹا ہوا کھڑا ہے\n\nتو آ کے تو دیکھ در پہ تیرے\nکیا سانگ بنا ہوا کھڑا ہے\n\nخلوت ہو کبھو تو یوں کہے وہ\nکوئی در سے لگا ہوا کھڑا ہے\n\nمیں خیر ہے گر کہوں تو بولے\nوہ دیکھ چھپا ہوا کھڑا ہے\n\nخونیں کفن شہید الفت\nدولہا سا بنا ہوا کھڑا ہے\n\nتیرا ہی ہے انتظار اس کو\nناقہ تو کسا ہوا کھڑا ہے\n\nاے جان نکل کہ مصحفیؔ کا\nاسباب لدا ہوا کھڑا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%DA%91%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "گر اسی طرح سج بنائیے گا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر اسی طرح سج بنائیے گا\nمحشر آباد کر دکھائیے گا\n\nعمر وعدوں ہی میں گنوائیے گا\nآئیے گا بھی یا نہ آئیے گا\n\nمہرباں قدر جانیے میری\nمجھ سا مخلص کہیں نہ پائیے گا\n\nیہی قامت ہے گر یہی رفتار\nحشر برپا ہی کر دکھائیے گا\n\nیہی رونا اگر ہے اے انکھیوں\nخانۂ مردماں ڈبائیے گا\n\nماہ رویاں کہاں تلک ہم کو\nآتش ہجر میں جلائیے گا\n\nضبط گریہ نہ ہووے گا جوں شمع\nسوز دل گر تمہیں سنایئے گا\n\nحسن جاتا ہے خط کی آمد ہے\nہاں ہمیں کیوں نہ اب منائیے گا\n\nمغتنم جانو ہم سے مخلص کو\nڈھونڈئیے گا تو پھر نہ پائیے گا\n\nیہ نہ ہوگا کہ یاں سے اٹھ جاویں\nایسی سو باتیں گر سنائیے گا\n\nایک دو کیا ہزار سے بھی ہم\nنہیں ڈرتے اگر بلائیے گا\n\nآج جو ہو سو ہو یہی ہے عزم\nتم کو ہر طرح لے کے جائیے گا\n\nجس نے بیدارؔ دل لیا میرا\nایک دن تجھ کو بھی دکھایئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B3%D8%AC_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "گر انہیں ہے اپنی صورت پر گھمنڈ", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "گر انہیں ہے اپنی صورت پر گھمنڈ\nہم کو ہے اپنی محبت پر گھمنڈ\n\nمیرے ان کے پھر بھلا کیوں کر بنے\nختم ہے دونوں کی خصلت پر گھمنڈ\n\nکیا نہیں دیکھی بلندی آہ کی\nکیوں فلک کرتا ہے رفعت پر گھمنڈ\n\nکام قاروں کے نہ آیا مال و زر\nمنعمو بے جا ہے دولت پر گھمنڈ\n\nبادشاہ ہفت کشور ہے تو کیا\nکر نہ دو دن کی حکومت پر گھمنڈ\n\nدیکھ کر آئینہ مجھ کو دنگ ہے\nمجھ کو بھی ہے اپنی حیرت پر گھمنڈ\n\nان کو اپنی صبح محشر پر ہے ناز\nہم کو اپنی شام فرقت پر گھمنڈ\n\nچھپ چھپا کر دیکھ بھی لیں گے تمہیں\nہم کو بھی ہے اپنی جرأت پر گھمنڈ\n\nکچھ نہیں کر سکتا انجمؔ آپ کا\nآسماں کو ہے جو حسرت پر گھمنڈ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%D9%85%D9%86%DA%88"} {"title": "گر اور بھی مری تربت پہ یار ٹھہرے گا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر اور بھی مری تربت پہ یار ٹھہرے گا\nتو زیر خاک نہ یہ بے قرار ٹھہرے گا\n\nنہ بولو کوئی مرے جھگڑے میں سمجھ لوں گا\nمرے اور اس کے جو دار و مدار ٹھہرے گا\n\nاگر یہ ہے ترے دامن کی حشر و نشر میاں\nزمیں پہ خاک ہمارا غبار ٹھہرے گا\n\nچلی بھی جا جرس غنچہ کی صدا پہ نسیم\nکہیں تو قافلۂ نوبہار ٹھہرے گا\n\nتمہارے ناوک مژگاں کے سامنے خوباں\nکہاں تلک یہ دل داغ دار ٹھہرے گا\n\nیہی ہے لوٹ تو شانے کے ہاتھ سے پیارے\nنہ ایک بھی تری زلفوں کا تار ٹھہرے گا\n\nتمہارے وعدوں پہ ہم کو تو اب نہیں ٹھہراؤ\nمگر نیا کوئی امیدوار ٹھہرے گا\n\nجو سیر کرنی ہے کر لے کہ جب خزاں آئی\nنہ گل رہے گا چمن میں نہ خار ٹھہرے گا\n\nخدنگ خوردہ دل آگے سے اس کے جاتا ہے\nخبر نہیں کہ کہاں یہ شکار ٹھہرے گا\n\nشتاب آئیو ٹھہرا رکھیں گے ہم اس کو\nجو جاں لبوں پہ شب انتظار ٹھہرے گا\n\nاسے نہ دفن کرو سمجھو تو کوئی یارو\nزمیں میں مصحفیٔؔ بے قرار ٹھہرے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D8%A8%D8%AA_%D9%BE%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "گر ایک رات گزر یاں وہ رشک ماہ کرے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر ایک رات گزر یاں وہ رشک ماہ کرے\nعجب نہیں کہ گدا پر کرم جو شاہ کرے\n\nدکھاوے آئنہ کس منہ سے اس کو منہ اپنا\nکہ آفتاب کو جوں شمع صبح گاہ کرے\n\nمقابل آتے ہی یوں کھینچ لے ہے دل وہ شوخ\nکہ جیسے کاہ ربا جذب برگ کاہ کرے\n\nحواس و ہوش کو چھوڑ آپ دل گیا اس پاس\nجب اہل فوج ہی مل جائیں کیا سپاہ کرے\n\nستم شعار وفا دشمن آشنا بیزار\nکہو تو ایسے سے کیونکر کوئی نباہ کرے\n\nکئی تڑپتے ہیں عاشق کئی سسکتے ہیں\nاس آرزو میں کہ وہ سنگ دل نگاہ کرے\n\nمحبت ایسے کی بیدارؔ سخت مشکل ہے\nجو اپنی جان سے گزرے وہ اس کی چاہ کرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%85%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "گر بڑے مرد ہو تو غیر کو یاں جا دیجے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر بڑے مرد ہو تو غیر کو یاں جا دیجے\nاس کو کہہ دیکھیے کچھ یا مجھے اٹھوا دیجے\n\nکون ایسا ہے جو چھیڑے ہے تمہیں راہ کے بیچ\nمیں سمجھ لوں گا ٹک اس کو مجھے بتلا دیجے\n\nدل و جان و خرد و دیں پہلے ہی دن دے بیٹھے\nآج حیراں ہوں کہ آتا ہے اسے کیا دیجے\n\nکیا ہوا حال بھلا دیکھ تو مجھ بے دل کا\nنہ کبھی دلبری کیجے نہ دلاسہ دیجے\n\nدعویٔ رستمی کرتے تو ہیں پر اک دم میں\nچھین لوں تیغ و سپر ان کی جو فرما دیجے\n\nگم ہوا ہے ابھی یاں گوہر دل اے خوباں\nہاتھ لگ جاوے تمہارے تو مجھے پا دیجے\n\nبے وفا دشمن مہر آفت جاں سنگیں دل\nحیف بیدارؔ کہ ایسے کو دل اپنا دیجے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%A8%DA%91%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%AF_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AC%DB%92"} {"title": "گر بھلا مانس ہے تو خندوں سے تو مل مل نہ ہنس", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر بھلا مانس ہے تو خندوں سے تو مل مل نہ ہنس\nمسکرا جوں غنچہ پر گل کی طرح کھل کھل نہ ہنس\n\nرو روا چاہے جتا رونے سے جا ہے دل سے دنگ\nزنگ ہو ہے دل اوپر ہنسنے سے آ اے دل نہ ہنس\n\nتو ہنسے ہے موت کو اور موت ہنستی ہے تجھے\nموت کو ہنسنا نہیں ہے خوب اے غافل نہ ہنس\n\nعقل سے ہے دور ہنسنا دم بدم عاقل کے تئیں\nعقل ہے تو تو کسی بے عقل پر عاقل نہ ہنس\n\nہنس جتا چاہے اکیلا ہنس تو دیوانے کی طرح\nپر ہنسی میں تو کسی ہنستے سے ہو شامل نہ ہنس\n\nجو ہنسی ہے اور کو اس نے ہنسایا آپ کو\nاس ہنسی میں کچھ نہیں حاصل ہے بے حاصل نہ ہنس\n\nہنستے ہنستے میں کئی کے گھر لگے ہیں خالصے\nضبط کر اپنی ہنسی حاتمؔ تو اب یک تل نہ ہنس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AE%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D9%84_%D9%85%D9%84_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%86%D8%B3"} {"title": "گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے\nدل دار تو ہوا تو دل آزار کون ہے\n\nنالاں ہوں مدتوں سے ترے سایہ کے تلے\nپوچھا نہ یہ کبھو پس دیوار کون ہے\n\nہر شب شراب خوار ہر اک دن سیاہ ہے\nآشفتہ زلف و لٹپٹی دستار کون ہے\n\nہر آن دیکھتا ہوں میں اپنے صنم کو شیخ\nتیرے خدا کا طالب دیدار کون ہے\n\nسوداؔ کو جرم عشق سے کرتے ہیں آج قتل\nپہچانتا ہے تو یہ گنہ گار کون ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D9%81%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ\nیعنی بغیر یک دل بے مدعا نہ مانگ\n\nآتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد\nمجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ\n\nاے آرزو شہید وفا خوں بہا نہ مانگ\nجز بہر دست و بازوئے قاتل دعا نہ مانگ\n\nبرہم ہے بزم غنچہ بہ یک جنبش نشاط\nکاشانہ بسکہ تنگ ہے غافل ہوا نہ مانگ\n\nمیں دور گرد عرض رسوم نیاز ہوں\nدشمن سمجھ ولے نگۂ آشنا نہ مانگ\n\nیک بخت اوج نذر سبک باری اسدؔ\nسر پر وبال سایۂ بال ہما نہ مانگ\n\nگستاخی وصال ہے مشاطہ نیاز\nیعنی دعا بجز خم زلف دو تا نمانگ\n\nعیسی طلسم حسن تغافل ہے زینہار\nجز پشت چشم نسخہ عرض دوا نمانگ\n\nنظارۂ دیگر و دل خونیں نفس دگر\nآئینہ دیکھ جوہر برگ دعا نمانگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86_%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D8%A8%D8%AA_%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF"} {"title": "گر تعلی پر ہے وہم امتحان مے فروش", "poet_page": "مصنف:منشی خیراتی لال شگفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر تعلی پر ہے وہم امتحان مے فروش\nبے نشاں ہو کر نکالیں گے نشان مے فروش\n\nسجدے کرتے ہیں خم مے کو وفور نشہ میں\nصورت مینائے مے مداح شان مے فروش\n\nجام و مینا و صراحی و سبو سے بے گماں\nساقیٔ مشفق پہ ہوتا ہے گمان مے فروش\n\nبھٹیوں پر جا کے پوچھیں گے بہار آنے تو دو\nعالم مستی میں مستوں سے بیان مے فروش\n\nشیشہ و جام و صراحی و سبو کیا مال ہیں\nبخش دیں گے جوش مستی میں دوکان مے فروش\n\nمیکدے میں دخت رز کو لا بٹھائیں گے ضرور\nپہلوئے مینائے دل میں میہمان مے فروش\n\nجام آنکھیں ہیں تو بادہ اشک ہے شیشہ ہے دل\nدیکھ او مے نوش میں بھی ہوں لبان مے فروش\n\nکس قدر چمکا ہوا ہے بادۂ گلگوں کا دور\nایک عالم آج کل ہے مہمان مے فروش\n\nمیں بھی ہوں اک ساقی مے نوش تیرے دور میں\nکفش بردار شریک خادمان مے فروش\n\nخم کے خم کر دوں تہی دم بھر میں وہ مے نوش ہوں\nاے شگفتہؔ ہاتھ آئے گر دکان مے فروش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%92_%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%B4"} {"title": "گر جفا کی نہ ہو وفا مانع", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "گر جفا کی نہ ہو وفا مانع\nکوئی ظالم نہیں ترا مانع\n\nچارہ گر کے الٰہی ٹوٹیں ہاتھ\nہو گئی درد کی دوا مانع\n\nسامنے تیرے دم نہ نکلا ہائے\nحسرتوں کی ہوئی قضا مانع\n\nکیوں نہ الٹی نقاب چہرے سے\nحشر کی کیوں ہوئی حیا مانع\n\nکیوں نہ پھیری چھری رکا کیوں ہاتھ\nتیرا جلاد کون تھا مانع\n\nچھوڑ کر پردہ ہٹ گیا وہ شوخ\nنالہ دیدار کا ہوا مانع\n\nآسمانؔ اس قمر کے آنے کا\nہوا اظہار مدعا مانع", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%B9"} {"title": "گر جنوں کر مجھے پابند سلاسل جاتا", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر جنوں کر مجھے پابند سلاسل جاتا\nپاؤں رکھنے کا ٹھکانا تو کہیں مل جاتا\n\nمر بھی جاتا تو نہ میرا مرض سل جاتا\nغم اصنام کی چھاتی پہ دھرے سل جاتا\n\nخط عارض جو ترشنے سے مٹے ہے یہ محال\nچھیلنے سے نہیں قسمت کا لکھا چھل جاتا\n\nچھوٹتا عید کے دن بھی نہ گرفتاروں کو\nصورت طوق گلو گیر گلے مل جاتا\n\nجب چمکتی ہے تری تیغ تبسم اے گل\nدہن زخم ہے غنچے کی طرح کھل جاتا\n\nدل میں ہوتا نہ مرے دخل بلاے کاکل\nسایہ رہتا نہ کبھی گریہ مکاں کل جاتا\n\nرعشہ اندام ہوں یہ خوف خدا سے اے شادؔ\nکوئی مجرم ہو کلیجہ ہے مرا ہل جاتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D8%B3%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "گر جور و جفا کرے تو انعام سمجھ", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گر جور و جفا کرے تو انعام سمجھ\nجس کام سے وہ خوش ہو اسے کام سمجھ\nگر کفر کی راہ سے رسائی ہو وہاں\nاس کفر کو تو جادۂ اسلام سمجھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%86%D8%B9%D8%A7%D9%85_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE"} {"title": "گر جوہر امتیاز ہوتا ہم میں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گر جوہر امتیاز ہوتا ہم میں\nرسوا کرتے نہ آپ کو عالم میں\nہیں نام و نگیں کمیں گہ نقب شعور\nیہ چور پڑا ہے خانۂ خاتم میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%B1_%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے\nخوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے\n\nکس کو سناؤں حسرتِ اظہار کا گلہ\nدل فردِ جمع و خرچِ زباں ہائے لال ہے\n\nکس پردے میں ہے آئینہ پرداز اے خدا\nرحمت کہ عذر خواہ لبِ بے سوال ہے\n\nہے ہے خدا نہ خواستہ وہ اور دشمنی\nاے شوقِ منفعل! یہ تجھے کیا خیال ہے\n\nمشکیں لباسِ کعبہ علی کے قدم سے جان\nنافِ زمین ہے نہ کہ نافِ غزال ہے\n\nوحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا\nدریا زمین کو عرقِ انفعال ہے\n\nہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ\nعالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%D9%85%D8%B4%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%81%D8%A7%D8%A6%D8%AF%DB%81_%D8%A7%D8%AE%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "گر دوستو تم نے اسے دیکھا نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر دوستو تم نے اسے دیکھا نہیں ہوتا\nکہنے کا تمہارے مجھے شکوا نہیں ہوتا\n\nگر کہیے کہ جی ملنے کو تیرا نہیں ہوتا\nکہتا ہے کہ ہاں ہاں نہیں ہوتا نہیں ہوتا\n\nقاصد کے بھی گر آنے کی امید نہ ہوتی\nاک دم بھی تو جینے کا بھروسا نہیں ہوتا\n\nیوں ہی سہی ہم ہجر میں مر جاتے بلا سے\nبس اور تو کچھ اس سے زیادہ نہیں ہوتا\n\nکیوں کہتے ہو تم مجھ سے کہ آنا نہیں منظور\nیہ کس لیے کہتے ہو کہ آنا نہیں ہوتا\n\nگو غیر برائی سے کریں ذکر ہمارا\nاتنا بھی تو واں ذکر ہمارا نہیں ہوتا\n\nلب تک بھی کبھی حرف تمنا نہیں آیا\nایسا کوئی محروم تمنا نہیں ہوتا\n\nبیماریٔ ہجراں سے تو مرنا ہی بھلا تھا\nاچھا جو میں ہوتا تو کچھ اچھا نہیں ہوتا\n\nگر غیر سے کچھ تم کو محبت نہیں ہوتی\nتو ہم کو یہ رشک قلق افزا نہیں ہوتا\n\nیہ سچ ہے کہ تم آؤ گے پر دل کو کروں کیا\nکہنے کا یقیں آپ کے اصلا نہیں ہوتا\n\nہوتا ہے وہ سب کچھ جو سنا ہو کبھی تم نے\nاک تیرے نہ ہونے سے یہاں کیا نہیں ہوتا\n\nاب سمجھے کہ یوں ہم کو بلاتے نہ کبھی تم\nگر آپ کی محفل کا یہ نقشا نہیں ہوتا\n\nگو جھوٹ ہو دھوکا ہو تسلی تو ہے دل کو\nہوتا ہے قلق اور جو وعدہ نہیں ہوتا\n\nمقبول تمنا تو نظامؔ اپنی کہاں ہو\nمقبول وہاں عذر تمنا نہیں ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "گر روح نہ پابند تعین ہوتی", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گر روح نہ پابند تعین ہوتی\nیوں درد فراق سے نہ ہر دم روتی\nجب تک کہ ہے درمیاں صدف کا پردہ\nدریا میں بھی دریا سے جدا ہے موتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%AD_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%AA%D8%B9%DB%8C%D9%86_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C"} {"title": "گر عدو تقدیر ہے تدبیر رہنے دیجئے", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "گر عدو تقدیر ہے تدبیر رہنے دیجئے\nدوست کا دل میں ہمارے تیر رہنے دیجئے\n\nہیں جو عاشق کام مزدوروں کا وہ کرتے نہیں\nذمۂ فرہاد جوئے شیر رہنے دیجئے\n\nلیلیٰ و مجنوں کی اک کاغذ پہ ہوتی ہے شبیہ\nروبرو اس کے مری تصویر رہنے دیجئے\n\nہے جنوں فصلی کرو زنجیر تار اشک سے\nطور پر میرے مری تدبیر رہنے دیجئے\n\nسیم و زر بنتا ہے خاک کشتۂ دل سے آپ کے\nپاس اپنے جان کر اکسیر رہنے دیجئے\n\nآستیں سے ہاتھ باہر ہو نہ اے جان جہاں\nبس میاں اندر ہی یہ شمشیر رہنے دیجئے\n\nتیر بے پیکاں نشانہ توڑتا ہے کب وقارؔ\nمنہ کی منہ میں آہ بے تاثیر رہنے دیجئے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "گر عشق سے واقف مرے محبوب نہ ہوتا", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر عشق سے واقف مرے محبوب نہ ہوتا\nہوتا نہ میں مہجور وہ محجوب نہ ہوتا\n\nآفت طلب اپنے جو دل و دیدہ نہ ہوتے\nطالب میں ترا تو مرا مطلوب نہ ہوتا\n\nمیری سی طرح عشق سے ہوتا کبھی بیتاب\nاعجاز نما صبر کا ایوب نہ ہوتا\n\nنامے کا مرے یہ تھا جواب اے مہ نو خط\nیہ قاعدۂ قاصد و مکتوب نہ ہوتا\n\nترغیب وفا کرنا تجھے مجھ پہ روا تھا\nگر شیوہ جفا کا ترا مرغوب نہ ہوتا\n\nحسرتؔ نہ اگر اس کا قد و زلف بناتے\nدنیا میں کہیں فتنہ و آشوب نہ ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%82%D9%81_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "گر عشق ہے تو دیکھنے پیو کو شتاب آ", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "گر عشق ہے تو دیکھنے پیو کو شتاب آ\nلا شک ہو حق کی رہ میں چلا بے حجاب آ\n\nاس حسن بے نظیر کے درسن کو دیکھنے\nسب خانماں سوں ہو کے اپس کے خراب آ\n\nدریا میں دل کے عشق سوں ہونے کے تئیں محیط\nخالی ہو سب خودی سوں نکل جوں حباب آ\n\nکیا دیکھتا ہے صورت خورشید اور چندر\nہر اک نظر میں دیکھ ہزار آفتاب آ\n\nہر دم علیمؔ دل کے نظر کو دیا ہے تاب\nاپنے کرم سوں قبلۂ والا جناب آ", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D9%88_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A2"} {"title": "گر عقل و شعور کی رسائی ہوتی", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گر عقل و شعور کی رسائی ہوتے\nواعظ کی سمجھ میں بات آئی ہوتی\nکوثر پہ صلاۓ جام مے کیوں دیتے\nمے پینے میں کچھ اگر برائی ہوتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%B9%D9%82%D9%84_%D9%88_%D8%B4%D8%B9%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C"} {"title": "گر عیش سے عشرت میں کٹی رات تو پھر کیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر عیش سے عشرت میں کٹی رات تو پھر کیا\nاور غم میں بسر ہو گئی اوقات تو پھر کیا\n\nجب آئی اجل پھر کوئی ڈھونڈا بھی نہ پایا\nقصوں میں رہے حرف و حکایات تو پھر کیا\n\nحد بوس و کنار اور جو تھا اس کے سوا آہ\nگر وہ بھی میسر ہوا ہیہات تو پھر کیا\n\nدو دن اگر ان آنکھوں نے دنیا میں مری جاں\nکی ناز و اداؤں کی اشارات تو پھر کیا\n\nپھر اڑ گئی اک آن میں سب حشمت و سب شان\nلے شرق سے تا غرب لگا ہات تو پھر کیا\n\nاسپ و شتر و فیل و خر و نوبت و لشکر\nگر قبر تلک اپنے چلا سات تو پھر کیا\n\nجب آئی اجل پھر وہیں اٹھ بھاگے شتابی\nرندوں میں ہوئے اہل خرابات تو پھر کیا\n\nدو دن کو جو تعویذ و فتیلہ و عمل سے\nتسخیر کیا عالم جنات تو پھر کیا\n\nاس عمر دو روزہ میں اگر ہو کے نجومی\nسب چھان لیے ارض و سماوات تو پھر کیا\n\nاک دم میں ہوا ہو گئے سب عملی و نظری\nتھے یاد جو اسباب و علامات تو پھر کیا\n\nاس نے کوئی دن بیٹھ کے آرام سے کھایا\nوہ مانگتا در در پھرا خیرات تو پھر کیا\n\nدولت ہی کا ملنا ہے بڑی چیز نظیرؔ آہ\nبالفرض ہوئی اس سے ملاقات تو پھر کیا\n\nآخر کو جو دیکھا تو ہوئے خاک کی ڈھیری\nدو دن کی ہوئی کشف و کرامات تو پھر کیا\n\nجب آئی اجل ایک ریاضت نہ گئی پیش\nمر مر کے جو کی کوشش و طاعات تو پھر کیا\n\nجب آئی اجل آہ تو اک دم میں گئے مر\nگر یہ بھی ہوئی ہم میں کرامات تو پھر کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%B9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا\nدم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا\n\nمیں وہم سے مرتا ہوں وہاں رعب سے اس کے\nقاصد کی زباں سے نہیں پیغام نکلتا\n\nکرتے جو مجھے یاد شب وصل عدو تم\nکیا صبح کہ خورشید نہ تا شام نکلتا\n\nجب جانتے تاثیر کہ دشمن بھی وہاں سے\nاپنی طرح اے گردش ایام نکلتا\n\nہر ایک سے اس بزم میں شب پوچھتے تھے نام\nتھا لطف جو کوئی مرا ہم نام نکلتا\n\nکیوں کام طلب ہے مرے آزار سے گردوں\nناکام سے دیکھا ہے کہیں کام نکلتا\n\nتھی نوحہ زنی دل کی جنازے پہ ضروری\nشاید کہ وہ گھبرا کے سر بام نکلتا\n\nکانٹا سا کھٹکتا ہے کلیجے میں غم ہجر\nیہ خار نہیں دل سے گل اندام نکلتا\n\nحوریں نہیں مومنؔ کے نصیبوں میں جو ہویں\nبت خانے ہی سے کیوں یہ بد انجام نکلتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "گر میرے بت ہوش ربا کو نہیں دیکھا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر میرے بت ہوش ربا کو نہیں دیکھا\nاس دیکھنے والے نے خدا کو نہیں دیکھا\n\nرہبر سے غرض کیا ہے جو منزل نظر آئے\nکعبے میں کہے قبلہ نما کو نہیں دیکھا\n\nجس شکل سے ہنستے ہیں مرے حال پہ احباب\nروتے ہوئے یوں اہل عزا کو نہیں دیکھا\n\nاتنا تو بتا دے مجھے اے ناصح مشفق\nدیکھا ہے کہ اس ماہ لقا کو نہیں دیکھا\n\nجب داغؔ کو ڈھونڈھا کسی بت خانے میں پایا\nگھر میں کبھی اس مرد خدا کو نہیں دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "گر میرے بیٹھنے سے وہ آزار کھینچتے", "poet_page": "مصنف:میر تسکینؔ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر میرے بیٹھنے سے وہ آزار کھینچتے\nتو اپنے در کی آ کے وہ دیوار کھینچتے\n\nناز و ادا و غمزہ سے یوں دل لیا مرا\nلے جائیں جیسے مست کو ہشیار کھینچتے\n\nوا حسرتا ہوئی انہیں آنے کی تب خبر\nلائے جب اس گلی میں مجھے یار کھینچتے\n\nآئے گا ان کے کہنے سے وہ گل یہاں تلک\nکانٹوں پہ کیوں ہیں اب مجھے اغیار کھینچتے\n\nواں شوق جالیوں کا ہے اس جامہ زیب کو\nیاں اپنے پیرہن سے ہیں ہم تار کھینچتے\n\nہیں تیغ نگاہ یار اچٹتی لگی ہے پھر\nبرسوں گزر گئے مجھے آزار کھینچتے\n\nکہتے ہیں شب وہ کہتے تھے آتا ہے جی گھٹا\nنالے جو ہم رہے پس دیوار کھینچتے\n\nآزردہ ان کو دیکھتے ہی جاں نکل گئی\nوہ دیکھ مجھ کو رہ گئے تلوار کھینچتے\n\nتسکینؔ کا چاک چاک ہوا دل جو شانے کو\nدیکھا کسی کا طرۂ طرار کھینچتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%D8%AA%DB%92"} {"title": "گر میرے لہو رونے کا باران بنے گا", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر میرے لہو رونے کا باران بنے گا\nکوچہ ترا رشک چمنستان بنے گا\n\nگر اس قد موزوں کا تمنا میں اثر ہے\nبرجستہ مری باتوں کا دیوان بنے گا\n\nاس زلف کی گر لیل برات آوے مرے ہات\nدل کے مرے داغوں کا چراغان بنے گا\n\nعزلتؔ تو کر اس زلف پریشاں سے یہ دل جمع\nزنار کا شیرازۂ قرآن بنے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%84%DB%81%D9%88_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D9%86%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "گر نشے میں کوئی بے فکر و تامل باندھے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر نشے میں کوئی بے فکر و تامل باندھے\nچشم مے گوں کو تری جام پر از مل باندھے\n\nذکر‌ قامت میں اگر فکر ترقی نہ کرے\nرشک طوبی تو لکھے گو بہ‌ تنزل باندھے\n\nطبع کی سلسلہ جنباں جو پریشانی ہو\nگیسوئے‌ غالیہ سا کو ترے سنبل باندھے\n\nنالہ تو وہ ہے کہ گھبرا کے اٹھا دے پردہ\nلیک نظارہ کی ہمت بھی تحمل باندھے\n\nکچھ نہ بن آئے گی جب لوٹ مچائے گی خزاں\nغنچہ ہر چند گرہ کس کے زر گل باندھے\n\nروبرو اس کے لب عرض تمنا نہ ہلے\nزور‌ افسون نظر سے گئے بالکل باندھے\n\nہیں ترے بند قبا عقدۂ دشوار مرے\nکہ جو کھولے نہ کھلے اور جو گئے کھل باندھے\n\nنہ بچے پر نہ بچے سیل فنا سے نہ بچے\nگر کوئی کنگرۂ‌ چرخ پہ بھی پل باندھے\n\nآنکھ کھلنے بھی نہ پائی تھی کہ اس نے فوراً\nبند برقعے کے بہ انداز تغافل باندھے\n\nہائے وہ صید کہ صیاد کے پیچھے لپکے\nسر کو فتراک پہ ہر دم بہ‌ تفاول باندھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D9%86%D8%B4%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D9%88_%D8%AA%D8%A7%D9%85%D9%84_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%92"} {"title": "گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر نہ “اندوہِ شبِ فرقت” بیاں ہو جائے گا\nبے تکلف، داغِ مہ مُہرِ دہاں ہو جائے گا\n\nزہرہ گر ایسا ہی شامِ ہجر میں ہوتا ہے آب\nپرتوِ مہتاب سیلِ خانماں ہو جائے گا\n\nلے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ، مگر\nایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا\n\nدل کو ہم صرفِ وفا سمجھے تھے، کیا معلوم تھا\nیعنی یہ پہلے ہی نذرِ امتحاں ہو جائے گا\n\nسب کے دل میں ہے جگہ تیری، جو تو راضی ہوا\nمجھ پہ گویا، اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا\n\nگر نگاہِ گرم فرماتی رہی تعلیمِ ضبط\nشعلہ خس میں، جیسے خوں رگ میں، نہاں ہو جائے گا\n\nباغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر\nہر گلِ تر ایک “چشمِ خوں فشاں” ہو جائے گا\n\nوائے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو\nاب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا\n\nگر وہ مستِ ناز دیوے گا صلائے عرضِ حال\nخارِ گُل، بہرِ دہانِ گُل زباں ہو جائے گا\n\nفائدہ کیا؟ سوچ، آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ\nدوستی ناداں کی ہے، جی کا زیاں ہو جائے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%DB%81_%D8%B4%D8%A8_%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "گر نیک دلی سے کچھ بھلائی کی ہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گر نیک دلی سے کچھ بھلائی کی ہے\nیا بد منشی سے کچھ برائی کی ہے\nاپنے ہی لئے ہے سب نہ اوروں کے لئے\nاپنے ہاتھوں نے جو کمائی کی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%84%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "گر پڑے دانت ہوئے موئے سر اے یار سفید", "poet_page": "مصنف:امانت لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر پڑے دانت ہوئے موئے سر اے یار سفید\nکیوں نہ ہو خوف اجل سے یہ سیہ کار سفید\n\nدو قدم فرط نزاکت سے نہیں چل سکتا\nرنگ ہو جاتا ہے اس کا دم رفتار سفید\n\nاس مسیحا کی جو آنکھیں ہوئیں گلزار میں سرخ\nہو گئی خوف سے بس نرگس بیمار سفید\n\nگل نسریں کو نہیں جوش چمن میں بلبل\nہے نزاکت کے سبب چہرۂ گلزار سفید\n\nگھر مرے شب کو جو وہ رشک قمر آ نکلا\nہو گئے پرتو رخ سے در و دیوار سفید\n\nلب و دنداں کے تصور میں جو رویا میں کبھی\nاشک دو چار بہے سرخ تو دو چار سفید\n\nہوئی سرسبز جو صحبت میں امانتؔ کی غزل\nرنگ دشمن کا ہوا رشک سے اک بار سفید", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%D9%BE%DA%91%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D9%81%DB%8C%D8%AF"} {"title": "گر کوئی کاٹ لے سر بھی ترے دیوانے کا", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر کوئی کاٹ لے سر بھی ترے دیوانے کا\nپر یہ سودائے محبت ہے نہیں جانے کا\n\nمست رکھ یاد میں اس چشم کی تا روز جزا\nمنہ نہ دکھلا مجھے یارب کسی مے خانے کا\n\nمیرے دل کو بھی نہ ہووے ہوس بوسہ اگر\nآشنا لب سے ترے لب نہ ہو پیمانے کا\n\nحسن اور عشق کا مذکور نہ ہووے جب تک\nمجھ کو بھاتا نہیں سننا کسی افسانے کا\n\nکیوں نہ مضطر ہوں اسے دیکھ کے دیکھو تو سہی\nشمع کے سامنے کیا حال ہے پروانے کا\n\nہاتھ اٹھتا نہیں اے یار جو سلجھانے سے\nدل تری زلف سے الجھا ہے مگر شانے کا\n\nگو کہ مر جائے ترے عشق میں ؔجوشش لیکن\nشکوۂ جور و جفا منہ پہ نہیں لانے کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%B9_%D9%84%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "گر کچھ ہو درد آئینہ یوں چرخ زشت میں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر کچھ ہو درد آئینہ یوں چرخ زشت میں\nان صورتوں کو صرف کرے خاک و خشت میں\n\nرکھتا ہے سوز عشق سے دوزخ میں روز و شب\nلے جائے گا یہ سوختہ دل کیا بہشت میں\n\nآسودہ کیونکے ہوں میں کہ مانند گرد باد\nآوارگی تمام ہے میری سرشت میں\n\nکب تک خراب سعی طواف حرم رہوں\nدل کو اٹھا کے بیٹھ رہوں گا کنشت میں\n\nماتم کے ہوں زمین پہ خرمن تو کیا عجب\nہوتا ہے نیل چرخ کی اس سبز کشت میں\n\nسرمست ہم ہیں آنکھوں کے دیکھے سے یار کی\nکب یہ نشہ ہے دختر رز تجھ پلشت میں\n\nرندوں کے تئیں ہمیشہ ملامت کرے ہے تو\nآجائیو نہ شیخ کہیں ہشت بہشت میں\n\nنامے کو چاک کر کے کرے نامہ بر کو قتل\nکیا یہ لکھا تھا میرؔ مری سرنوشت میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D8%B2%D8%B4%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گر کہوں غیر سے پھر ربط ہوا تجھ کو کیا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر کہوں غیر سے پھر ربط ہوا تجھ کو کیا\nکیا برا مان کے کہتا ہے بھلا تجھ کو کیا\n\nسر اٹھانا تجھے بالیں سے جو دشوار ہے اب\nکیوں دلا بیٹھے بٹھائے یہ ہوا تجھ کو کیا\n\nپوچھوں رنجش کا سبب اس سے تو جھنجھلا کے کہے\nگر خفا ہوں تو میں ہوں آپ کو، جا تجھ کو کیا\n\nہم اسیران قفس کیا کہیں خاموش ہیں کیوں\nراہ لے اپنی چل اے باد صبا تجھ کو کیا\n\nگر کیا اس سے جدا مجھ کو تو کہہ دے یہ فلک\nمیرے اور اس کے نہ ملنے سے ملا تجھ کو کیا\n\nہاتھ اٹھاتا نہیں گر عشق سے میں اے ناصح\nتو نصیحت سے مری ہاتھ اٹھا تجھ کو کیا\n\nگر کہو نام خدا لگتے ہو تم کیا ہی بھلے\nتو یہ کہتا ہے بھلا ہوں تو بھلا، تجھ کو کیا\n\nکیوں دلا بستر غم پر ہے تو خاموش پڑا\nکچھ تو کہہ مجھ سے کسی نے یہ کہا تجھ کو کیا\n\nاب وہ موقوف ہوا نامہ و پیغام بھی آہ\nحرف غیروں کا اثر کر ہی گیا تجھ کو کیا\n\nمیرے ملنے سے کیا منع کسی نے جو تجھے\nتو نے اس بات کو سن کر نہ کہا تجھ کو کیا\n\nپیک اشک آنکھوں سے چل نکلے جو خط پڑھتے ہی\nجرأتؔ اب کچھ تو بتا اس نے لکھا تجھ کو کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B1%D8%A8%D8%B7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گر کہوں مطلب تمہارا کھل گیا", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر کہوں مطلب تمہارا کھل گیا\nکہتے ہیں اچھا ہوا کیا کھل گیا\n\nغیر کی قسمت کی کھانی ہے قسم\nبند تھا دروازہ ان کا کھل گیا\n\nتم کھلے بندوں ملو اغیار سے\nشکر پاؤں اب تمہارا کھل گیا\n\nآ گئی بے پردہ وہ صورت نظر\nآنکھ کی جب بند پردا کھل گیا\n\nغیر سے اب بند ہو کس بات پر\nگالیوں پر منہ تمہارا کھل گیا\n\nکھل گیا حال اس دل بے تاب کا\nمنہ دوپٹے سے جو ان کا کھل گیا\n\nہوں اشارے غیر سے اور دیکھوں میں\nبیت ابرو کا بھی معنا کھل گیا\n\nنامہ بر! تیرے چھپانے سے مجھے\nاپنی قسمت کا نوشتہ کھل گیا\n\nدل کی بے تابی نے رسوا کر دیا\nہائے سب پر راز اپنا کھل گیا\n\nنامہ بر! گر غیر نے دیکھا نہیں\nکیسے پھر خط کا لفافا کھل گیا\n\nقدرت حق سے بڑھی عشرت کی شب\nشب جو اس کافر کا جوڑا کھل گیا\n\nدیکھیے کیا دل سے دل کو راہ ہے\nراز جو تم نے چھپایا کھل گیا\n\nجو نہ کہنا تھا کہا سب کچھ نظامؔ\nراز باتوں میں وہ ایسا کھل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DA%BE%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گر کہیں اس کو جلوہ گر دیکھا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر کہیں اس کو جلوہ گر دیکھا\nنہ گیا ہم سے آنکھ بھر دیکھا\n\nنالہ ہر چند ہم نے گر دیکھا\nآہ اب تک نہ کچھ اثر دیکھا\n\nآج کیا جی میں آ گیا تیرے\nمتبسم ہو جو ادھر دیکھا\n\nآئینہ کو تو منہ دکھاتے ہو\nکیا ہوا ہم نے بھی اگر دیکھا\n\nدل ربا اور بھی ہیں پر ظالم\nکوئی تجھ سا نہ مفت پر دیکھا\n\nاور بھی سنگ دل ہوا وہ شوخ\nتیرا اے آہ بس اثر دیکھا\n\nمنت و عاجزی و زاری و آہ\nتیرے آگے ہزار کر دیکھا\n\nتو بھی تو نے نہ اے مہ بے مہر\nنظر رحم سے ادھر دیکھا\n\nسچ ہے بیدارؔ وہ ہے آفت جان\nہم نے بھی قصہ مختصر دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "گر کہے حلول ہے وہ اک امر قبیح", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گر کہے حلول ہے وہ اک امر قبیح\nایسا ہے کچھ اتحاد باطل ہے صریح\nجب ممکن واجب میں ہوئے عینیت\nکیوں کر نہ کہوں کہ ہے ہمہ و است صحیح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%81%DB%92_%D8%AD%D9%84%D9%88%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%D9%85%D8%B1_%D9%82%D8%A8%DB%8C%D8%AD"} {"title": "گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میں", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میں\nخط آتے ہی سب چل گئے اب آپ ہیں یا میں\n\nتم جن کی ثنا کرتے ہو کیا بات ہے ان کی\nلیکن ٹک ادھر دیکھیو اے یار بھلا میں\n\nرکھتا ہے کچھ ایسی وہ برہمن بچہ رفتار\nبت ہو گیا دھج دیکھ کے جس کی بہ خدا میں\n\nیارو نہ بندھی اس سے کبھو شکل ملاقات\nملنے کو تو اس شوخ کے ترسا ہی کیا میں\n\nجب میں گیا اس کے تو اسے گھر میں نہ پایا\nآیا وہ اگر میرے تو در خود نہ رہا میں\n\nکیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سوداؔ\nساغر کو مرے ہاتھ سے لیجو کہ چلا میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%B5%D8%A7%D9%81_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D9%88%D8%B1_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گر ہم سے نہ ہو وہ دل ستاں ایک", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر ہم سے نہ ہو وہ دل ستاں ایک\nکر دیجے زمیں و آسماں ایک\n\nعاشق کا ترے ہمارے غم نے\nچھوڑا نہ بدن میں استخواں ایک\n\nہم چھوٹ کے جب قفس سے آئے\nدیکھا نہ چمن میں آشیاں ایک\n\nکہتی تھی خلق رہ اے زلیخا\nکنعاں سے چلا ہے کارواں ایک\n\nیک رنگی کہیں ہیں کس کو، یعنی\nدو شخص کا ہووے جسم و جاں ایک\n\nسازش کسی ڈھب سے کر بھی لیجے\nاس در پہ جو ہووے پاسباں ایک\n\nہے واں تو نیا رقیب ہر دم\nہونے پاتے ہیں ہم کہاں ایک\n\nحسرت ہے کہ یوں لٹے چمن اور\nگل ہم کو نہ دیوے باغباں ایک\n\nآہستہ کہ قافلے کے پیچھے\nآتا ہے غریب ناتواں ایک\n\nہم کرتے ہیں سو زباں سے باتیں\nیوں کہنے کو منہ میں ہے زباں ایک\n\nاس پر بھی اے مصحفیؔ ہمارا\nقصہ ایک اور ہے داستاں ایک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9"} {"title": "گر ہم نے دل صنم کو دیا پھر کسی کو کیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر ہم نے دل صنم کو دیا پھر کسی کو کیا\nاسلام چھوڑ کفر لیا پھر کسی کو کیا\n\nکیا جانے کس کے غم میں ہیں آنکھیں ہماری لال\nاے ہم نے گو نشہ بھی پیا پھر کسی کو کیا\n\nآپھی کیا ہے اپنے گریباں کو ہم نے چاک\nآپھی سیا سیا نہ سیا پھر کسی کو کیا\n\nاس بے وفا نے ہم کو اگر اپنے عشق میں\nرسوا کیا خراب کیا پھر کسی کو کیا\n\nدنیا میں آ کے ہم سے برا یا بھلا نظیرؔ\nجو کچھ کہ ہو سکا سو کیا پھر کسی کو کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گر ہو طمنچہ بند وہ رشک فرنگیاں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر ہو طمنچہ بند وہ رشک فرنگیاں\nبانکے مغل بچے نہ کریں خانہ جنگیاں\n\nشوخی مزاج اس کے سے اب تک گئی نہیں\nویسے ہی بانکپن ہیں وہی غولہ دنگیاں\n\nبلبل کے اشک سرخ نے یہ کیا غضب کیا\nجو تیلیاں قفس کی سبھی خوں میں رنگیاں\n\nگردوں اگرچہ دن کو غزال سیاہ ہے\nپر شب کو میرے ساتھ کرے ہے پلنگیاں\n\nدیکھا نہ ہوگا وہ کبھی بیژنؔ نے چاہ میں\nجو دن مجھے دکھاتی ہیں قسمت کی تنگیاں\n\nعارض پہ تیرے جوشش خط سیاہ ہے\nیا روم پر چڑھ آئی ہے یہ فوج زنگیاں\n\nکیا جانے کس سے بگڑی ہے دریا میں مصحفیؔ\nلہروں کے ہاتھوں میں ہیں جو تلواریں ننگیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%B7%D9%85%D9%86%DA%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D9%88%DB%81_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%81%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "گر ہو نہ خفا تو کہہ دوں جی کی", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر ہو نہ خفا تو کہہ دوں جی کی\nاس دم تمہیں یاد ہے کسی کی\n\nجو سامنے ہو کہے اسی کی\nمنہ دیکھی ہے بات آرسی کی\n\nپھولوں کا کبھی نہ ہار پہنا\nبدھی جو پڑی تری چھڑی کی\n\nگلگیر نے کاٹ کر سر شمع\nپروانے سے شب کٹی جلی کی\n\nتسبیح میں بھی ہو تار زنار\nخاطر نہ شکستہ کر کسی کی\n\nآیا شب مہ میں وہ جو تا فرش\nچادر ہوئی گرد چاندنی کی\n\nصیاد کبھی تو ذبح کر ڈال\nمڑ جائے گی باڑ کیا چھری کی\n\nآئینہ برق میں ہے لازم\nتصویر کھینچے تری ہنسی کی\n\nترتیب کہن کی وضع اے عرشؔ\nہم نے دیوان میں نئی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "گر یاد میں ساقی کی ساغر نظر آ جائے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر یاد میں ساقی کی ساغر نظر آ جائے\nپیمانۂ دل چھلکے منہ کو جگر آ جائے\n\nعکس رخ ساقی کو گر دیکھ لوں ساغر میں\nکچھ دل کے بہلنے کی صورت نظر آ جائے\n\nتیار رہو ہر دم مرنے پہ کمر باندھے\nدر پیش خدا جانے کب یہ سفر آ جائے\n\nہاں سیر تو کر غافل اس گور غریباں کی\nانجام تجھے اپنا شاید نظر آ جائے\n\nپھر جائیں ہمیشہ کو دنیا سے مری آنکھیں\nمرتے دم اگر جلوہ تیرا نظر آ جائے\n\nشور نفس بلبل سے ہوش اڑیں سب کے\nگر زمزمہ سنجی پر یہ مشت پر آ جائے\n\nبیمار محبت کی اب ہے یہ دعا ہر دم\nپھر شام نہ ہو جس کی ایسی سحر آ جائے\n\nبہتر ہے خم و ساغر آنکھوں سے رہیں اوجھل\nایسا نہ ہو شیشے پر دل ٹوٹ کر آ جائے\n\nیاسؔ آپ کی بے جرمی آڑے نہیں آ سکتی\nگر بات پر اپنی وہ بیداد گر آ جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "گر یار سے ہر روز ملاقات نہیں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گر یار سے ہر روز ملاقات نہیں\nاور ہو بھی گئی تو پھر مدارات نہیں\nدل دے چکے اب قدر ہو یا بے قدری\nجو کچھ ہو سو ہو بس کی تو کچھ بات نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گر یار کے سامنے میں رویا تو کیا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گر یار کے سامنے میں رویا تو کیا\nمژگاں میں جو لخت دل پرویا تو کیا\nیہ دانۂ اشک سبز ہونا معلوم\nاس شور زمیں میں تخم بویا تو کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گر یہی ہے عادت تکرار ہنستے بولتے", "poet_page": "مصنف:امیر اللہ تسلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گر یہی ہے عادت تکرار ہنستے بولتے\nمنہ کی اک دن کھائیں گے اغیار ہنستے بولتے\n\nتھی تمنا باغ عالم میں گل و بلبل کی طرح\nبیٹھ کر ہم تم کہیں اے یار ہنستے بولتے\n\nمیری قسمت سے زبان تیر بھی گویا نہیں\nورنہ کیا کیا زخم دامن دار ہنستے بولتے\n\nدل لگی میں حسرت دل کچھ نکل جاتی تو ہے\nبوسے لے لیتے ہیں ہم دو چار ہنستے بولتے\n\nآج عذر اتقا تسلیمؔ کل تک یار سے\nآپ کو دیکھا سر بازار ہنستے بولتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA_%D8%AA%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%86%D8%B3%D8%AA%DB%92_%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%AA%DB%92"} {"title": "گرائیں گی یہ بجلی جس طرف ان کا گزر ہوگا", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرائیں گی یہ بجلی جس طرف ان کا گزر ہوگا\nمری آہوں میں بھی ان کی نگاہوں کا اثر ہوگا\n\nنہ سننا تم یہ ٹکڑے ہیں مرے افسانۂ غم کے\nمری جاں ٹکڑے ٹکڑے سننے والوں کا جگر ہوگا\n\nبتا دے اے فلک ایسی بھی کوئی رات آئے گی\nمری آغوش میں وہ ہوں گے ہالے میں قمر ہوگا\n\nتلاش چارہ گر میں عمر اپنی مفت کیوں کھوتا\nخبر کیا تھی کہ درد دل مرا خود چارہ گر ہوگا\n\nیہ صفدرؔ کہہ رہی ہے عشق میں وارفتگی میری\nمٹا لو پہلے گھر اپنا تو ان کے دل میں گھر ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%AC%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "گرجا میں گئے تو پارسائی دیکھی", "poet_page": "مصنف:جارج پیش شور", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گرجا میں گئے تو پارسائی دیکھی\nاور دیر میں جا کے خود نمائی دیکھی\nجب چھوڑا خودی کو غور کر کے اے شورؔ\nدیکھا تو ہر اک سمت خدائی دیکھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D8%AC%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C"} {"title": "گرد باد افسوس کا جنگل سے ہے پیدا ہنوز", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرد باد افسوس کا جنگل سے ہے پیدا ہنوز\nہات ملتا ماتم مجنوں سے ہے صحرا ہنوز\n\nجوں صدف ہے گرچہ آنکھوں میں سجن بستا ہنوز\nکھولتا نیں عقدۂ دل وہ در یکتا ہنوز\n\nجب پتا پوچھوں میں گھر کا یار ہرجائی سیتی\nدو دلا کرنے کوں کہتا ہے مجھے جا جا ہنوز\n\nطوق و پیچ زلف لیلہ ہے بگھولے سے عیاں\nخاک مجنوں سے نیاز و ناز ہے رسوا ہنوز\n\nگرچہ مثل شبنم گل دل دیا ہوں پی کے ہات\nوہ رنگیلا کھولتا نیں عقدۂ سیما ہنوز\n\nجان شیریں سے شرر تن میں جلاتا ہے مدام\nطاعن کم ظرفئ فرہاد ہے خارا ہنوز\n\nداغ دل عزلتؔ کو جوں لالہ ہے بلبل بن بہار\nان گلوں سے جی کسی رنگوں نہیں لگتا ہنوز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%86%DA%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%86%D9%88%D8%B2"} {"title": "گردش جام نہیں رک سکتی", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گردش جام نہیں رک سکتی\nجو بھی اے گردش دوراں گزرے\n\nصبح محشر ہے بلائے ظاہر\nکسی صورت شب ہجراں گزرے\n\nکوئی برسا نہ سر کشت وفا\nکتنے بادل گہر افشاں گزرے\n\nابن آدم کو نہ آیا کوئی راس\nکئی آذر کئی یزداں گزرے\n\nاے غم یار تری راہوں سے\nعمر بھر سوختہ ساماں گزرے\n\nوہ جو پروانے جلے رات کی رات\nمنزل عشق سے آساں گزرے\n\nغم ہستی کے بیابانوں سے\nکچھ ہمیں تھے جو غزلخواں گزرے\n\nغم کے تاریک افق پر عابدؔ\nکچھ ستارے سر مژگاں گزرے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DA%A9_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%8C"} {"title": "گردش دوراں سے یہاں کس کو فراغ آیا ہے ہاتھ", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گردش دوراں سے یہاں کس کو فراغ آیا ہے ہاتھ\nہاں مگر آیا تو اک حسرت کا داغ آیا ہے ہاتھ\n\nنوحہ سنجی کی بھی مہلت عندلیبوں میں نہیں\nباغباں قسمت سے کیا ہے بے دماغ آیا ہے ہاتھ\n\nعمر گزری جستجوے کوچۂ دلدار میں\nوائے ناکامی پس از مردن سراغ آیا ہے ہاتھ\n\nدل کے داغوں نے کیا ہم کو چمن سے بے نیاز\nمنتیں مانی ہیں برسوں تب یہ باغ آیا ہے ہاتھ\n\nداغ دل پر نالہ لب پر چشم گریاں سینہ ریش\nعاشقؔ شوریدہ کو کس دم فراغ آیا ہے ہاتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "گردش چرخ سے قیام نہیں", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گردش چرخ سے قیام نہیں\nصبح گھر میں ہوں میں تو شام نہیں\n\nکبھی تو منہ سے بولئے صاحب\nبے دہن ہو تو کچھ کلام نہیں\n\nجاں بہ لب ہوں فراق دلبر میں\nصبح جیتا رہا تو شام نہیں\n\nکس کے زلفوں کے بال بکھرے ہیں\nمیرے نبضوں میں انتظام نہیں\n\nروز و شب ذکر زلف و عارض ہے\nیہ کہانی کبھی تمام نہیں\n\nکیا رقیبوں سے میں جہاد کروں\nمیرے ہم راہ وہ امام نہیں\n\nتیرا دیوانہ مر گیا شاید\nآج گلیوں میں ازدحام نہیں\n\nہجر میں یہ شراب ہے تیزاب\nہاتھ پر آبلہ ہے جام نہیں\n\nکیا سمجھ کر یہ ناز کرتے ہیں\nامردوں کا کوئی غلام نہیں\n\nولولے تھے شباب تک اپنے\nاب ہماری وہ دھوم دھام نہیں\n\nاس طرف سے ہیں سجدے پر سجدے\nاس طرف سے کبھی سلام نہیں\n\nدل کو لے کر الگ ہوئے ایسے\nکہ کبھی تم کو ہم سے کام نہیں\n\nموج دریائے پائمالی ہے\nاس جفاکار کا خرام نہیں\n\nبوسہ لے کر مزا ملا مجھ کو\nحنظل اس کا ذقن ہے آم نہیں\n\nکس کے بل پر وہ شوخ ہے مغرور\nخط شب رنگ فوج شام نہیں\n\nبحرؔ بہکے ہوئے ہیں اہل دل\nنشۂ آب زر مدام نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D8%B3%DB%92_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گردش چشم ہے پیمانے میں", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گردش چشم ہے پیمانے میں\nتم گئے ہو کبھی میخانے میں\n\nایک جلوہ سا نظر آتا ہے\nکوئی تو ہے مرے غم خانے میں\n\nیوں ہے سینے میں دل پر حسرت\nقبر جیسے کسی ویرانے میں\n\nساز نیرنگ ہے میری زنجیر\nنئی آواز ہے ہر دانے میں\n\nدیکھ اے دل نہ مجھے چھوڑ کے جا\nفرق آ جائے گا یارانے میں\n\nجل کے عاشق ہوئے معشوق صفت\nشمع کا سوز ہے پروانے میں\n\nجان اس بت میں لگی رہتی ہے\nاپنے کو پاتے ہیں بیگانے میں\n\nبے خودی نے نہ کہیں کا رکھا\nہم ہیں بستی میں نہ ویرانے میں\n\nسنگ در تک ترے جب سر پہنچا\nلاکھ سجدے کئے شکرانے میں\n\nنہیں معلوم گیا کس جانب\nدل لگا ہے ترے دیوانے میں\n\nقصۂ حضرت یوسف نہ سنو\nطرفہ عبرت ہے اس افسانے میں\n\nحال پرسی نہیں کرتا کوئی\nبیکسی ہے مرے غم خانے میں\n\nاس طرح دل میں ہے آہوں کا دھواں\nجیسے خاک اڑتی ہے ویرانے میں\n\nبرکت کس کے قدم کی ہے رشیدؔ\nکہ اذاں ہوتی ہے بت خانے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%DA%86%D8%B4%D9%85_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گردش چشم یار نے مارا", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گردش چشم یار نے مارا\nدور لیل و نہار نے مارا\n\nمر رہا ہوں مگر نہیں مرتا\nخلش انتظار نے مارا\n\nسخت جانی مری جو سن پائی\nدم نہ پھر تیغ یار نے مارا\n\nوصل میں بھی یہ مضطرب ہی رہا\nاس دل بے قرار نے مارا\n\nہم تو جیتے ابھی مگر بیخودؔ\nستم روزگار نے مارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4_%DA%86%D8%B4%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "گردن شیشہ جھکا دے مرے پیمانے پر", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گردن شیشہ جھکا دے مرے پیمانے پر\nسن برستا رہے ساقی ترے میخانے پر\n\nگرمیٔ حسن بڑھی سرد ہوا عاشق زار\nشمع کے پھول سے بجلی گری پروانے پر\n\nگرمیاں ہیں تو مرا دیدۂ تر حاضر ہے\nچھوٹے مژگاں کا ہزارا ترے خس خانے پر\n\nغش ہوا گردن ساقی پہ کبھی آنکھ پہ لوٹ\nکبھی شیشہ پہ گرا میں کبھی پیمانے پر\n\nوہ بھی اے قدرؔ تھا اک نقش قدم حیدر کا\nرکھتے تھے مہر نبوت جو نبیؐ شانے پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D9%86_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%AC%DA%BE%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "گردن کو جھکا دیتا ہے ادنیٰ احسان", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گردن کو جھکا دیتا ہے ادنیٰ احسان\nکس طرح سے دکھلائیں گے منہ نا احسان\nرزاق ہے تو اور غفورالعصیاں\nمے دیتا ہے ہم جیسوں کو تیرا احسان", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%DA%BE%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%AF%D9%86%DB%8C%D9%B0_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86"} {"title": "گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہ\nابن علی کو جن نے اس گھاٹ لا اتارا\nدریا کے خاک سر پر جو کر رہا کنارہ\nدنیا سے خشک لب یہ سید گیا ہمارا\n\nکر بند سب کا پانی پھر آگ آ لگائی\nچھاتی مسافروں کی سو رنگ سے جلائی\nگھٹنے کی بات یاں کی کس مرتبہ بڑھائی\nکیا کیا ہوئی چڑھائی کیا کیا دیا اتارا\n\nسید کے آنکھ مندتے کچھ اور تھا زمانہ\nعابد رہا سو اس کو موجود ہی نہ جانا\nناموس احمدی کی عزت نہ کی نہ مانا\nگھر بار لوٹ سارا ان کو کیا اساریٰ\n\nوارث یہی رہا تھا بے چارہ دل شکستہ\nسو درمیاں کھڑا تھا ناچار دست بستہ\nکیا وارثی کرے وہ دل چاک سینہ خستہ\nیاری گر و نہ یاور جس کا نہ یار و یارا\n\nتھے لوگ سب حرم کے جوں بید سربرہنہ\nان میں سکینہ جیسے خورشید سر برہنہ\nتھی شہر بانو یکسر نومید سربرہنہ\nنوحے سے جس کے جنگل تھا زلزلے میں سارا\n\nخاک سیاہ سے تھا قوم و قبیلہ یکساں\nمنھ نوچتی تھی زینب کلثوم موپریشاں\nقاسم کی ماں بچاری اس واقعے سے حیراں\nمرنا تھا زندگی پر ان سب کے تیں گوارا\n\nکہتی تھی خوب دیکھی بیٹے کی کدخدائی\nکیا دھوم ہورہی تھی جس دم برات آئی\nکون آوے ہو براتی سب مر گئے تھے بھائی\nیا دولھا آن اترا یا مرنے کو سدھارا\n\nشادی رچی ہے ایسی کاہے کو کوئی آگے\nدولھا کے دست و پا میں لوہو کی مہندی لاگے\nبزم عروسی میں سے ہم روتے کڑھتے بھاگے\nنوشہ کا گھوڑا کہیے یا اس کے تیں کنوارا\n\nاس جمع کا تھا ازبس احوال اضطراری\nتھی فرط درد و غم سے ہر اک کو بے قراری\nمنھ آسماں کی جانب کلثوم کر پکاری\nکاے چرخ ہم سبھوں کا کیا جل گیا ستارہ\n\nشہ آفتاب جو تھا اس پر زوال آیا\nسر پر رہا نہ اس کے ختم رسلؐ کا سایہ\nاکبر نے چاند سا منھ وو خاک میں چھپایا\nاصغر تھا طفل ہالہ بے وقت اس کو مارا\n\nہے عابدیں جو باقی بیمار و ناتواں ہے\nدرپیش پھر سفر ہے ساتھ اس کے کارواں ہے\nدلجوئی سکینہ کیا ہوسکے عیاں ہے\nشور اک اٹھا جو ان نے بابا کے تیں پکارا\n\nدادا کی اور منھ کر رویا یہ کہہ کے پوتا\nکاے جد پاک سایہ تیرا جو سر پہ ہوتا\nتو جان اپنی اکبر یوں رائیگاں نہ کھوتا\nہم پر ستم نہ ہوتا اس طرح آشکارا\n\nکاہے کو یہ قیامت سر پر ہمارے ہوتی\nپھوپھی نہ سر کو اپنے یوں پیٹ پیٹ روتی\nروتی بلکتی پھرتی اس طور سے نہ پوتی\nغلطاں نہ خاک و خوں میں ہوتا حسین پیارا\n\nشش ماہہ طفل اصغر ایسا ستم نہ سہتا\nیہ سہل باتیں ہم کو ہر اک نہ منھ پہ کہتا\nجوش و خروش سے یوں دریاے خوں نہ بہتا\nلوہو سے اقربا کے ہوتی نہ خاک گارا\n\nاب یانصیب میں نے سر پر بلا اٹھائی\nمشکل گذار اس میں گو راہ پیش آئی\nکریے بیاں سو کس سے بابا رہا نہ بھائی\nیا ہے نظر خدا پر یا آسرا تمھارا\n\nاس طرز گفتگو کر چپکا ہوا وہ مغموم\nناگفتہ میرؔ بہتر آگے جو کچھ ہے معلوم\nروتا چلا جو واں سے خاطرشکستہ مظلوم\nاحوال دیکھ اس کا مشکل ہوا گذارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81"} {"title": "گرفتاری کی لذت اور نرا آزاد کیا جانے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرفتاری کی لذت اور نرا آزاد کیا جانے\nخوشی سے کاٹنا غم کا دل ناشاد کیا جانے\n\nاسی غفلت سے لذت ہے گی حاصل خواب شیریں میں\nہماری تلخ کامی کا مزا فرہاد کیا جانے\n\nتصور صورت معنی کا باندھے ہے قصور دل\nحقیقت کی یہ صنعت مانی و بہزاد کیا جانے\n\nتردد میں ہے میرے ذبح کے اے عشقؔ وہ اب تک\nنگاہ ناز سے بسمل ہوا جلاد کیا جانے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%D8%B1%D8%A7_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92"} {"title": "گرم ان روزوں میں کچھ عشق کا بازار نہیں", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرم ان روزوں میں کچھ عشق کا بازار نہیں\nبیچتا دل کو ہوں میں کوئی خریدار نہیں\n\nدیکھنا تیرا میسر ہے کسے او ظالم\nورنہ وہ کون ہے جو طالب دیدار نہیں\n\nاب مسلط غزل اک کہہ کے سنا اے رنگیںؔ\nشعر یہ پڑھنے کے لائق ترے زنہار نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D8%A7%D9%86_%D8%B1%D9%88%D8%B2%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گرم تلاش و جستجو اب ہے تری نظر کہاں", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرم تلاش و جستجو اب ہے تری نظر کہاں\nخون ہے کچھ جما ہوا قلب کہاں جگر کہاں\n\nہے یہ طریق عاشقی چاہیئے اس میں بے خودی\nاس میں چناں چنیں کہاں اس میں اگر مگر کہاں\n\nزلف تھی جو بکھر گئی رخ تھا کہ جو نکھر گیا\nہائے وہ شام اب کہاں ہائے وہ اب سحر کہاں\n\nکیجیے آج کس طرح دوڑ کے سجدۂ نیاز\nیہ بھی تو ہوش اب نہیں پاؤں کہاں ہے سر کہاں\n\nہائے وہ دن گزر گئے جوشش اضطراب کے\nنیند قفس میں آ گئی اب غم بال و پر کہاں\n\nہوش و خرد کے پھیرے میں عمر عزیز صرف کی\nرات تو کٹ گئی یہاں دیکھیے ہو سحر کہاں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B4_%D9%88_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "گرم رفتار ہے تیری یہ پتا دیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرم رفتار ہے تیری یہ پتا دیتے ہیں\nدم بہ دم لو ترے نقش کف پا دیتے ہیں\n\nہجر سے کرتے ہیں ناشاد ہمیں وصل سے شاد\nخود مرض دیتے ہیں اور آپ شفا دیتے ہیں\n\nدل کی تم بات سمجھتے ہو زباں گو نہ ہلے\nخوب سنتے ہو جو چپکے سے صدا دیتے ہیں\n\nکم نہ سمجھیں مری آہوں کے شراروں کو حضور\nآگ ابھی سارے زمانے میں لگا دیتے ہیں\n\nتم نے احسان کیا ہے کہ نمک چھڑکا ہے\nاب مجھے زخم جگر اور مزا دیتے ہیں\n\nان کی تقدیر میں ہے میرے لہو میں بھرنا\nخون کی بو ترے دامان قبا دیتے ہیں\n\nصاف کرتے ہیں ابھی غیر یہ وہ تیغ ادا\nدوست آ کے مجھے پیغام قضا دیتے ہیں\n\nجاگو اے مملکت عشق کے سونے والو\nشب کو دربان در یار صدا دیتے ہیں\n\nجتنے شاعر ہیں انہوں نے ہمیں عزت دی ہے\nہم رشیدؔ ان کو شب و روز دعا دیتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%D9%BE%D8%AA%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گرم سوٹ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "دھواں", "year": "1941", "text_ur": "سنگھ نے چونکہ ایک زمانے سے اپنے کپڑے تبدیل نہیں کیے تھے۔ اس لیے پسینے کے باعث ان میں ایک عجیب قسم کی بو پیدا ہوگئی تھی جو زیادہ شدّت اختیار کرنے پر اب گنڈا سنگھ کو کبھی کبھی اداس کردیتی تھی۔ اس کو اس بدبو نے کبھی اتنا تنگ نہیں کیا تھا جتناکہ اب اس کے گرم سوٹ نے اسے تنگ کر رکھا تھا۔\n\nاپنے کسی دوست کے کہنے پر وہ امرتسر چھوڑ کر دہلی چلا آیا تھا۔ جب اس نے امرتسر کو خیرباد کہا تو گرمیوں کا آغاز تھا، لیکن اب کے گرمی اپنے پورے جوبن پر تھی، گنڈا سنگھ کو یہ گرم سوٹ بہت ستارہا تھا۔\n\nاس کے پاس صرف چار کپڑے تھے۔ گرم پتلون، گرم کوٹ، گرم واسکٹ اور ایک سوتی قمیص۔ یہ گرم سوٹ اسے اس لیے دہلی کی شدید گرمیوں میں پہننا پڑتا تھا کہ اس کے پاس اور کوئی کپڑا ہی نہیں تھا اور سوٹ کے ساتھ کی واسکٹ اسے اس لیے پہننا پڑتی تھی کہ اس کے پاس کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں وہ اسے احتیاط یا بداحتیاطی سے رکھ سکتا۔ یوں تو وہ اس واسکٹ کو یا کوٹ ہی کو دریبہ کلاں میں اپنے دوست کی دکان میں رکھ دیتا مگر وہاں اس نے پہلے روز ہی کئی چوہے دیکھے تھے۔ دہلی آنے کے دوسرے روز چاندنی چوک میں اس نے رس گلے کھائے تھے۔ ان کا شیرہ جابجا کوٹ اور واسکٹ پر گر پڑا تھا۔ اگر وہ یہ دونوں چیزیں اس دکان میں رکھ دیتا تو ظاہر ہے کہ جہاں شیرہ گرا تھا، چوہے کپڑا کتر جاتے اور گنڈا سنگھ نہیں چاہتا تھا کہ یہ سوٹ جو اسے تین ستمبر1939ء یعنی اس جنگ کے ابتدائی روز ملا تھا یوں بیکار چوہوں کی نذر ہو جائے۔ اس سوٹ کے ساتھ اتفاقیہ طور پر ایک ایسا دن منسوب ہوگیا تھا جو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔\n\nگنڈا سنگھ کو چنانچہ اس لیے بھی اپنا سوٹ عزیزتھا کہ امرتسر میں جب اس نے اپنا یہ تاریخی سوٹ پہنا تھا تو دربار صاحب کے آس پاس اس کے جتنے ہاتھی دانت کا کام کرنے والے دوست رہتے تھے، متحیر ہوگئے تھے۔ بلبیر نے جب اسے بازار میں دیکھا تھا تو متحرک خراد کو روک کر زور سے آواز دی تھی، ’’گنڈا سیاں گنڈا سیاں ذرا ادھر تو آ۔۔۔ یہ آج تجھے کیا ہوگیا ہے؟‘‘\n\nگنڈا سنگھ لباس کے معاملے میں از حد بے پروا تھا بلکہ یوں کہیے کہ اپنے لباس کی طرف اس نے کبھی توجہ ہی نہ دی تھی۔ وہ پتلون اسی طرح پہنا کرتا تھا جس طرح کَچھ پہنی جاتی ہے یعنی بغیر کسی تکلف کے۔ اس کے متعلق اس کے دوستوں میں یہ بات عام مشہور تھی کہ اگر تن ڈھکنا ضروری نہ ہوتا تو گنڈا سنگھ بالکل ننگا رہتا۔\n\nچھ چھ مہینے تک وہ نہاتا نہیں تھا۔ بعض اوقات اس کے پیروں پر اس قدر میل جم جاتا تھا کہ اور میل جمنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی تھی۔ دور سے اگر آپ اس کے میلے پیروں کو دیکھتے تو یہی معلوم ہوتا کہ گنڈا سنگھ نے موزے پہن رکھے ہیں۔گنڈا سنگھ کی غلاظت پسندی کی انتہا یہ تھی کہ وہ صبح کا ناشتہ منہ ہاتھ دھوئے بغیر کرتا تھا اور سردیوں میں ایک ایسا لحاف اوڑھ کر سوتا تھا کہ اگر کوئی اسے کوڑے پر پھینک دے تو صبح جب بھنگی کوڑا کرکٹ اٹھانے آتا تو یہ لحاف دیکھ کر اس کو بھی گِھن آجاتی، پر لطف یہ ہے کہ اس کی ان تمام غلاظتوں کے باوجود لوگ اس سے محبت کرتے تھے اور امرتسر میں تو آپ کو ایسے کئی آدمی مل جائیں گے جو اس کو محبت کی حد تک پسند کرتے ہیں۔\n\nگنڈا سنگھ کی عمر زیادہ سے زیادہ پچیس برس ہے۔ داڑھی اور مونچھوں کے بھوسلے بال اس کے چہرے کے دو تہائی حصے پر موبل آئل میں بھیگے ہوئے چیتھڑے کی طرح پھیلے رہتے ہیں۔ پگڑی کے نیچے اس کے کیسوں کی بھی یہی حالت رہتی ہے۔ کبھی کبھی جب اس کی پنڈلیاں کپڑا اٹھ جانے کے باعث ننگی ہو جاتی ہیں تو ان پر میل کھرنڈوں کی شکل میں جا بجا نظر آتا ہے، مگر لوگ ان تمام میلی اور گندی حقیقتوں سے با خبر ہونے پر بھی گنڈا سنگھ کو اپنے پاس بٹھاتے ہیں اور اس سے کئی کئی گھنٹے باتیں کرتے ہیں۔\n\nامرتسر چھوڑ کرجب گنڈا سنگھ اپنے گرم سوٹ سمیت دہلی آیا تو اسے غیر شعوری طور پر معلوم تھا کہ یہاں بھی خود بخود اس کے دوست پیدا ہو جائیں گے۔ اگر اس کو اپنی غلاظت پسندیوں کا احساس ہوتا تو بہت ممکن ہے یہ احساس رکاوٹ بن جاتا اور دہلی میں اس کا کوئی دوست نہ بنتا۔\n\nچند ہی دنوں میں بظاہر کسی وجہ کے بغیر آٹھ دس آدمی گنڈا سنگھ کے دوست بن گئے اور گنڈا سنگھ کو اس بات کا مطلق احساس نہ ہوا کہ اگر یہ آٹھ دس آدمی اس کے دوست نہ بنتے تو شہر دہلی میں وہ بھوکوں مرتا۔ روٹی کے مسئلے پر دراصل گنڈا سنگھ نے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا اور نہ اس نے کبھی یہ جاننے کی تکلیف کی تھی کہ دوسرے اس کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں۔ کھانا، پینا اور سونا، یہ تین چیزیں ایسی تھیں جو گنڈا سنگھ کو چلتے پھرتے کہیں نہ کہیں ضرور مل جاتی تھیں اور ایک زمانے سے چونکہ یہ چیزیں اسے بڑی باقاعدگی کے ساتھ مل رہی تھیں اس لیے ان کے متعلق وہ کبھی سوچتا ہی نہیں تھا۔\n\nچاوڑی میں ہربنس سے ملنے گیا تو وہاں صبح کا ناشتہ مل گیا۔ ہربنس کے یہاں سے آیا تو راستے میں احمد علی نے اپنی دکان پر ٹھہرا لیا اور کہا، ’’گنڈا سنگھ، بھئی تم خوب وقت پر آئے، میں نے دھنّا مل سے کچھ چاٹ منگوائی ہے، کھاکے جانا۔‘‘ احمد علی کی دکان پر چاٹ کھانے کے بعد گنڈا سنگھ کے دل میں خیال آیا کہ چلو ہیم چندر سے ملنے چلیں۔ ہیم چندر بہت اچھا افسانہ نگار ہے اور گنڈا سنگھ کے دل میں اس کی بہت عزت ہے۔ چنانچہ جب اس سے ملاقات ہوئی تو باتوں باتوں میں دوپہر کے کھانے کا وقت آگیا۔ دعوت دینے اور دعوت قبول کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوا۔ کھانا آیا اور دونوں نے مل کر کھالیا۔ یہاں سے جب گنڈا سنگھ تمار پور کی طرف روانہ ہوا تو راستے میں باغ آگیا۔ دھوپ چونکہ بہت کراری تھی، اس لیے گنڈا سنگھ جب کچھ دیر سستانے کے لیے نکلسن باغ کے ایک بنچ پر لیٹا تو پانچ بجے تک وہیں سویا رہا۔ آنکھیں مل کر اٹھا اور آہستہ آہستہ تمار پور کا رخ کیا جہاں اس کا دوست عبدالمجید رہتا تھا۔\n\nچھ بجے کے قریب گنڈا سنگھ عبدالمجید کے گھر پہنچا۔ وہاں جنگ کی باتیں شروع ہوئیں، چنانچہ آٹھ بج گئے۔ عبدالمجید بہت ہوشیار آدمی تھا۔ ہندوستان کے ترقی پسند لٹریچر کے بارے میں اس کی معلومات کافی وسیع تھیں مگرجنگ کے متعلق اسے کچھ معلوم نہیں تھا۔ کوشش کرنے کے باوجود وہ چین اور جاپان، جاپان اور روس، روس اور جرمنی، جرمنی اور فرانس کے جغرافیائی رشتے کو نہ سمجھ سکا تھا۔ جب کبھی وہ دنیا کا نقشہ کھول کر اپنے سامنے رکھتا تو اس کی نگاہوں میں نقشے پر پھیلے ہوئے شہر اور ملک ایسے الجھاؤ کی صورت اختیار کرلیتے جو اکثر اوقات پتنگ اڑانے کے دوران میں اس کی ڈور میں پیدا ہو جایاکرتے تھے مگر گنڈا سنگھ کو دنیا کے جغرافیہ پر کافی عبور حاصل تھا۔ ایک بار اخبار پڑھ لینے کے بعد جنگ کا صحیح نقشہ اس کے ذہن میں آجاتا تھا اور وہ بڑے سہل انداز میں لوگوں کو سمجھا سکتا تھا کہ جنگ کے میدان میں کیا ہورہا ہے۔\n\nعبدالمجید طبعاً نفاست پسند تھا، اس کو گنڈا سنگھ کی غلاظتیں بہت کُھٹکتی تھیں، مگر وہ مجبور تھا اس لیے کہ گنڈا سنگھ ہی ایک ایسا آدمی تھاجو اسے جنگ کے تازہ حالات سمجھا سکتا تھا۔ اگر عبدالمجید کوجنگی خبریں سننے اور ان پر تفصیلی بحث کرنے کی عادت نہ ہوتی جو ایک بہت بڑی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی تھی تو وہ یقیناً اس آدمی سے کبھی ملنا پسند نہ کرتا جو کھانا کھانےکے بعد سالن سے بھرے ہوئے ہاتھ اس کے کمرے میں لٹکے ہوئے پردوں سے صاف کرتا تھا۔ ایک دفعہ عبدالمجید نے پردوں کواس کے حملے سے محفوظ رکھنے کی خاطر اپنا تولیہ آگے بڑھا دیا اور کہا، ’’لو گنڈا سنگھ، اس سے ہاتھ صاف کرلو۔ کچھ دیر اگر ٹھہر سکو تو پانی اور صابن آرہا ہے۔‘‘\n\nگنڈا سنگھ نے اس انداز سے تولیہ عبدالمجید سے لیا جیسے اس کی ضرورت ہی نہیں تھی اور ایک منٹ میں اپنا منہ ہاتھ صاف کرکے اسے ایک طرف پھینک دیا، ’’پانی وانی کی کوئی ضرورت نہیں، ہاتھ صاف ہی تھے۔‘‘ عبدالمجید نے جب زہر کے گھونٹ پی کر اپنے تولیے کی طرف دیکھا تو اسے ایسا معلوم ہوا کہ منہ ہاتھ صاف کرنے کے بجائے کسی نے اس کے ساتھ سائیکل کی چین صاف کی ہے۔\n\nعبدالمجید کی بیوی کو گنڈا سنگھ کی یہ مکروہ عادات سخت ناپسند تھیں۔ مگر وہ بھی مجبور تھی اس لیے کہ جس روز گنڈا سنگھ نہیں آتا تھا عبدالمجید اسے اپنے پاس بٹھا کر جنگ کے تازہ حالات پر ایک طویل لیکچر دینا شروع کردیتا تھا، جو اس امن پسند عورت کو طوعاً و کرہاً سارے کا سارا سننا ہی پڑتا تھا۔\n\nگنڈا سنگھ ذہین آدمی تھا۔ ادب اور سیاست کے بارے میں اس کی معلومات اوسط آدمی سے بہت زیادہ تھیں۔ امرتسر میں اس کے اس گرم سوٹ کا سودا بھی ان معلومات کے ذریعے ہی سے ہوا تھا۔ محمد عمر ٹیلر ماسٹر کو جنگی خبریں سننے کا خبط تھا، چنانچہ گنڈا سنگھ نے جنگ کے ابتدائی حالات سنا سنا کر محمد عمر کو اس قدر مرعوب کیا کہ اس نے یہ گرم سوٹ (جو کسی گاہک نے37ء میں تیارکرایا تھا اور دو برس سے اس کے پاس بیکار پڑا تھا چونکہ اس گاہک نے پھر کبھی شکل ہی نہیں دکھائی تھی) گنڈا سنگھ کے جسم پر فٹ کردیا اور اس کے ساتھ پانچ روپے ماہوار کی چھ قسطیں مقرر کرلیں۔\n\nان چھ قسطوں میں سے صرف تین قسطیں گنڈا سنگھ نے ادا کی تھیں، باقی تین قسطوں کے لیے محمد عمر کئی بار تقاضا کر چکا تھا مگر ان رسمی تقاضوں کے علاوہ محمد عمر نے گنڈا سنگھ پر کبھی دباؤ نہیں ڈالا تھا۔ اس لیے کہ جنگ کے حالات دن بدن دلچسپ ہوتے جارہے تھے۔ گنڈا سنگھ نے امرتسر کیوں چھوڑا، ایک لمبی کہانی ہے۔ دہلی میں جو اس کے نئے دوست بنے تھے ان کو صرف اتنا معلوم تھا کہ امرتسر میں ایک پرانے دوست کے کہنے پر وہ یہاں چلا آیا تھا کہ ملازمت تلاش کرے۔\n\nدہلی آکر گنڈا سنگھ ملازمت کی جستجو کرتا مگر یہ کم بخت گرم سوٹ اسے چین نہیں لینے دیتا تھا۔ اس قدر گرمی پڑ رہی تھی کہ چیل انڈا چھوڑ دے۔ کچھ دنوں سے گرمی کی انتہا ہوگئی تھی۔ لوگ سن اسٹروک سے مررہے تھے۔ گنڈا سنگھ کو موت کا اتنا خیال ہی نہیں تھا جتنا کہ اسے اس تکلیف کا خیال تھا جو گرمی کی شدت کے باعث اسے اٹھانا پڑ رہی تھی۔ بازاروں میں دھوپ پگھلی ہوئی اگنی کی طرح پھیلی رہتی تھی۔ لو اس غضب کی چلتی تھی کہ منہ پر آگ کے چانٹے سے پڑتے تھے۔ لُک پھری سڑکیں توے کے مانند تپتی رہتی تھیں۔ ان سب کے اوپر فضا کی وہ گرم گرم اداسی تھی جو گنڈا سنگھ کو بہت پریشان کرتی تھی۔\n\nاگر اس کے پاس یہ گرم سوٹ نہ ہوتا تو الگ بات تھی، شدید گرمیوں کا یہ موسم کسی نہ کسی حیلے کٹ ہی جاتا پر اس سوٹ کی موجودگی میں جس کا رنگ اس کی بھوسلی داڑھی سے بھی زیادہ گہرا تھا۔ اب ایک دن بھی دہلی میں رہنا اسے دشوار معلوم ہوتا تھا۔ اس سوٹ کارنگ سردیوں میں بہت خوشگوار معلوم ہوتا تھا پر اب گنڈا سنگھ کو اس سے ڈر لگتا تھا۔\n\nسوٹ کا کپڑا بہت کھردرا تھا، کوٹ کا کالر گھسنے کے باعث بالکل ریگ مار کی صورت اختیار کرگیا تھا۔ اس سے گنڈا سنگھ کو بہت تکلیف ہوتی تھی۔ یہ گھسا ہوا کالر ہر وقت اوپر نیچے ہو کراس کی گردن کے بال مونڈتا رہتا تھا۔ایک دو دفعہ جب غضب کی گرمی پڑی تو گنڈا سنگھ کے جی میں آئی کہ یہ گرم سوٹ اتار کر کسی ایسی جگہ پھینک دے کہ پھر اسے نظر نہ آئے مگر یہ سوٹ اگر وہ اتار دیتا تو اس کی جگہ پہنتا کیا۔ اس کے پاس تو اس سوٹ کے سوا اورکوئی کپڑا ہی نہیں تھا۔ یہ مجبوری گرمی کے احساس میں اور زیادہ اضافہ کردیتی تھی اور بے چارہ گنڈا سنگھ تلملا کے رہ جاتا تھا۔\n\nدہلی میں اس کے چند دوستوں نے اس سے پوچھا تھا، ’’بھئی گنڈا سنگھ! تم یہ گرم سوٹ کیوں نہیں اتارتے کیا تمہیں گرمی نہیں لگتی؟‘‘ گنڈا سنگھ چونکہ ذہین آدمی تھا، اس لیے اس نے یوں جواب دیا تھا، ’’گرم کپڑا گرمی کی شدت کو روکتا ہے اسی لیے میں یہ گرم سوٹ پہنتا ہوں۔ سن اسٹروک کا اثر ہمیشہ گردن کے نچلے حصہ پر پڑتا ہے جہاں حرام مغز ہوتا ہے۔ اگرجسم کے اس حصے پر گرم کپڑے کی ایک موٹی سی تہہ جمی رہے تو سورج کے اس حملے کا بالکل خدشہ نہیں رہتا۔ افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں انگریز وغیرہ سولر ہیٹ کے پچھلے حصے کے ساتھ ایک کپڑا لٹکا دیتے ہیں کہ لو سے بچے رہیں۔ عرب میں سر کے لیے ایک خاص پہناوا مروج ہے۔ ایک بڑا سا رومال ہوتا ہے جو گردن کو ڈھانپے رہتا ہے۔\n\nہندوستان کے ان حصوں میں جہاں شدید گرمی پڑتی ہے پگڑی کا استعمال اب تک چلا آرہا ہے۔ شملہ چھوڑنے کا دراصل مطلب یہی تھا کہ گردن لو سے محفوظ رہے۔ مگر اب لوگوں نے شملہ چھوڑنا قریب قریب ترک کردیا ہے اس لیے کہ اسے فضول سمجھا گیا ہے۔ اور بغیر شملہ چھوڑے پگڑی باندھنا جدید فیشن بن گیا ہے۔ میں خود اس فیشن کا شکار ہوں۔‘‘\n\nیہ فاضلانہ جواب سن کر اس کے دوست بہت مرعوب ہوئے تھے، چنانچہ پھر کبھی انھوں نے گنڈا سنگھ سے اس کے سوٹ کے بارے میں استفسار نہ کیا تھا۔ گنڈا سنگھ جس کو اپنی معلومات کا مظاہرہ کرنے کا شوق تھا اس وقت یہ جواب دے کر بہت مسرور ہوا تھا مگر یہ مسرت فوراً ہی اس سوٹ کی تکلیف دہ گرمی نے غائب کردی تھی۔\n\nعبدالمجید تمار پور یعنی شہر کے مضافات میں رہتا تھا جہاں کھلی فضا میسر آسکتی ہے۔ ایک رات جب تازہ جنگی حالات پر تبصرہ کرتے کرتے دیر ہوگئی تو عبدالمجید نے گنڈا سنگھ کے لیے برآمدے کے باہر ایک چارپائی بچھوا دی۔ کوٹ اور واسکٹ اتار کر وہ پتلون سمیت اس چارپائی پر صبح چھ بجے تک سویا رہا۔ رات بڑے آرام میں کٹی۔ کھلی فضا تھی اس لیے ساری رات خنک ہوا کے جھونکے آتے رہے۔ گنڈا سنگھ کو یہ جگہ پسند آئی چنانچہ اس نے شام کو دیر سے آنا شروع کردیا۔\n\nعبدالمجید کی بیوی نے دس بارہ روز تک گنڈا سنگھ کا وہاں سونا برداشت کیا۔ لیکن اس کے بعد اس سے رہا نہ گیا۔ عبدالمجید سے اس نے صاف صاف کہہ دیا، ’’اصغر کے ابا۔ اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ میں اس موئے گنڈا سنگھ کا آنا یہاں بالکل پسند نہیں کرتی۔ مکان ہے یا سرائے ہے۔۔۔؟ یعنی وہ عین کھانے کے وقت آجاتا ہے، ادھر ادھر کی باتیں آپ سے کرتا ہے اور چارپائی بچھوا کر سو جاتا ہے۔۔۔ میں اس کی غلاظتیں برداشت کرسکتی ہوں مگر اس کا یہاں سونا بالکل برداشت نہیں کرسکتی۔ سنا آپ نے۔ اگر کل وہ یہاں آیا تو میں خود اس سے کہہ دوں گی کہ سردار صاحب، جنگ کے متعلق آپ باتیں کرنا چاہتے ہیں، شوق سے کیجیے، کھانا حاضر ہے، تولیے، دروازوں کے پردے،گدیوں کے غلاف، یہ تمام چیزیں بڑے شوق سے منہ پونچھنے کے لیے استعمال کیجیے مگررات کو آپ یہاں ہرگز نہیں سو سکتے۔۔۔ اصغر کے ابا، میں خدا کی قسم کھا کے کہتی ہوں میں بہت تنگ آگئی ہوں۔‘‘\n\nعبدالمجید کو خود گنڈا سنگھ کا وہاں سونا برا معلوم ہوتا تھا اس لیے کہ اس کی بیوی پرلی طرف آنگن میں اکیلی پڑی رہتی تھی مگر وہ کیا کرتا جبکہ جنگ کی دلچسپ باتیں کرتے کرتے دیر ہو جاتی تھی اور گنڈا سنگھ بغیر کسی تکلیف کے جیسے کہ اس کا روزانہ کا معمول ہو، اس سے کہہ دیتا تھا، ’’بھائی عبدالمجید اب تم سو جاؤ۔ صبح اٹھ کر تازہ اخبار دیکھیں گے تو نئے حالات کا کچھ پتہ چلے گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ برآمدے میں سے چارپائی نکالتا اور باہر بچھا کر سوجاتا۔\n\nجب عبدالمجید کی بیوی اس پر بہت برسی تو اس نے کہا، ’’جانِ من، میں خود حیران ہوں کہ اس کو کس طرح منع کروں۔ یہاں دہلی میں اس کا کوئی ٹھور ٹھکانہ نہیں۔ مجھے تو اب اس بات کا خوف لاحق ہورہا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے میرے مکان کو اپنا اڈا بنا لے گا۔ آدمی بے حد اچھا ہے، یعنی لائق ہے، ذہین ہے پر۔۔۔ کوئی ایسی ترکیب سوچو کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔‘‘\n\nیہ سن کر عبدالمجید کی بیوی نے کہا، ’’تو یہ ترکیب تم ہی سوچو۔۔۔ میں تو صاف گو ہوں، اگر مجھ سے کہو گے تو میں کھلے لفظوں میں اس سے کہہ دوں گی کہ تمہارا یہاں رہنا مجھے بہت ناگوار معلوم ہوتا ہے۔‘‘\n\nعبدالمجید نے اسی وقت تہیہ کرلیا کہ وہ گنڈا سنگھ سے اپنی مشکلات اور مجبوریاں صاف لفظوں میں بیان کردے گا۔ چنانچہ جب شام کو گنڈا سنگھ آیا تو جنگ کے تازہ حالات پر بحث شروع کرنے کے بجائے عبدالمجید نے اس سے کہا، ’’ گنڈا سنگھ میں تم سے ایک بات کہوں۔ برا تو نہیں مانو گے۔‘‘\n\nگنڈا سنگھ نے ہمہ تن گوش ہو کر جواب دیا، ’’برا ماننے کی بات ہی کیا ہے۔ آپ کہیے۔‘‘\n\nاس پر عبدالمجید نے ایک مختصر سی رسمی تمہید شروع کی، پھر اس کے آخر میں کہا، ’’بات یہ ہے کہ سردیوں میں ایک سے زیادہ آدمیوں کی رہائش کا انتظام کیا جاسکتا ہے اس لیے کہ اس موسم میں گنجائش نکل آتی ہے مگر ان گرمیوں میں بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ مردوں کو اتنی نہیں ہوتی جتنی کہ مستورات کو ہوتی ہے ،تم خود سمجھ سکتے ہو۔‘‘\n\nگنڈا سنگھ مطلب سمجھ گیا۔ چنانچہ اس نے پہلی مرتبہ اپنی تکلیفیں بیان کرنا شروع کیں، ’’بھائی عبدالمجید میں تمہاری مہربانیوں کا بہت شکر گزار ہوں۔ رات کاٹنے کے لیے یوں تو مجھے بہت جگہیں مل سکتی ہیں مگر مصیبت یہ ہے کہ ایسی کھلی ہوا کہیں نہیں ملتی۔ سارا دن اس گرم سوٹ میں پگھلتا رہتا ہوں۔ چند راتیں جو میں نے تمہارے یہاں بسر کی ہیں، میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ مجھے تمہاری مجبوریوں اور تکلیفوں کا احساس اب ہوا ہے اس لیے کہ جو آرام مجھے یہاں رات کو ملتا تھا اس قدر خوشگوار تھا کہ میں نے دوسرے پہلو پر کبھی غور ہی نہ کیا۔۔۔ تم میرے دوست ہو ،کوئی ایسی ترکیب نکا لوکہ اس گرم سوٹ سے مجھے نجات مل جائے، اس طور پر کہ یہ گرم سوٹ بھی میرے پاس رہے اور گرمیوں کا موسم بھی کٹ جائے۔ کیونکہ دو تین مہینے کے بعد پھر سردیاں آنے والی ہیں اور مجھے پھر اس سوٹ کی ضرورت ہوگی۔۔۔ سچ پوچھو تو اب میں دیوانگی کی حد تک اس سوٹ کی گرمی سے بیزار ہوگیا ہوں۔۔۔ تم خود سمجھتے ہو!‘‘\n\nعبدالمجید سب سمجھ گیا، گنڈا سنگھ رخصت ہوا تو عبدالمجید نے اپنی بیوی سے بات چیت کی۔ دونوں دیر تک اس مسئلے پر گفتگو کرتے رہے۔ آخر میں اس کی بیوی نے کہا، ’’صرف ایک بات میرے ذہن میں آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ گنڈا سنگھ کو کسی ایسی جگہ بھیج دیا جائے جہاں گرمی نہ ہو۔‘‘ یہ سن کر عبدالمجید نے کہا، ’’ٹھیک ہے پر اس کے لیے رقم کی ضرورت ہے، اگر میرے پاس فالتو روپے ہوتے تو کیا میں نے اسے ٹھنڈے کپڑے نہ بنوا دیے ہوتے۔‘‘\n\nاس پر عبدالمجید کی بیوی نے کہا، ’’تم پوری بات تو سن لیا کرو۔ میں نے یہ سوچا ہے کہ اسے شملہ بھیج دیا جائے۔ میرا بھائی نصیر کل آنے والا ہے۔ اس سے کہہ دیں گے وہ گنڈا سنگھ کو بغیر ٹکٹ کے وہاں پہنچا دے گا۔۔۔ ایک دوبار وہ تمہیں بھی تو شملہ لے گیا تھا۔‘‘\n\nعبدالمجید یہ بات سن کر اس قدر خوش ہوا کہ اس نے اپنی بیوی کا منہ چوم لیا، ’’بھئی کیا ترکیب سوچی ہے۔۔۔ یعنی سوٹ گنڈا سنگھ کے جسم پر ہی رہے گا اور وہ شملے پہنچ جائے گا۔۔۔ اس سے بہتر اور کیا چیز ہو سکتی ہے۔‘‘\n\nدوسرے روز شام کو گنڈا سنگھ آیا تو عبدالمجید نے شملہ جانے کی رائے پیش کی۔ یہ سن کر وہ بہت خوش ہوا۔ اس نے قطعاً نہ سوچا کہ شملے جا کر وہ بغیر روپے پیسے کے کس طرح گزارہ کرے گا۔ دراصل ایسی باتوں پر اس نے کبھی غورہی نہیں کیا تھا۔\n\nتیسرے دن نصیر نے گنڈا سنگھ کو گاڑی میں سوار کردیا اور گارڈ سے جو اس کا دوست تھا کہہ دیا تھا کہ وہ اسے بحفاظت تمام شملے پہنچا دے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D8%B3%D9%88%D9%B9"} {"title": "گرم فریاد رکھا شکل نہالی نے مجھے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے\nتب اماں ہجر میں دی بردِ لیالی نے مجھے\n\nنسیہ و نقدِ دو عالم کی حقیقت معلوم\nلے لیا مجھ سے مری ہمّتِ عالی نے مجھے\n\nکثرت آرائیِ وحدت ہے پرستاریِ وہم\nکر دیا کافر ان اصنامِ خیالی نے مجھے\n\nہوسِ گل کے تصوّر میں بھی کھٹکا نہ رہا\nعجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D9%86%DB%81%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہُو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ارمغان حجاز (1938)", "year": "1938", "text_ur": "گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہُو\nتھرتھراتا ہے جہانِ چار سوُے و رنگ و بو\nپاک ہوتا ہے ظن و تخمیں سے انساں کا ضمیر\nکرتا ہے ہر راہ کو روشن چراغِ آرزو\nوہ پُرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیں\nعشق سِیتا ہے اُنھیں بے سوزن و تارِ رَفو\nضربتِ پیہم سے ہو جاتا ہے آخر پاش پاش\nحاکمیّت کا بُتِ سنگیں دل و آئینہ رُو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%88%D9%85_%D9%82%D9%88%D9%85%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%84%DB%81%D9%8F%D9%88"} {"title": "گرم ہیں شور سے تجھ حسن کے بازار کئی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرم ہیں شور سے تجھ حسن کے بازار کئی\nرشک سے جلتے ہیں یوسف کے خریدار کئی\n\nکب تلک داغ دکھاوے گی اسیری مجھ کو\nمر گئے ساتھ کے میرے تو گرفتار کئی\n\nوے ہی چالاکیاں ہاتھوں کی ہیں جو اول تھیں\nاب گریباں میں مرے رہ گئے ہیں تار کئی\n\nخوف تنہائی نہیں کر تو جہاں سے تو سفر\nہر جگہ راہ عدم میں ملیں گے یار کئی\n\nاضطراب و قلق و ضعف میں کس طور جیوں\nجان واحد ہے مری اور ہیں آزار کئی\n\nکیوں نہ ہوں خستہ بھلا میں کہ ستم کے تیرے\nتیر ہیں پار کئی وار ہیں سوفار کئی\n\nاپنے کوچے میں نکلیو تو سنبھالے دامن\nیادگار مژۂ میرؔ ہیں واں خار کئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A6%DB%8C"} {"title": "گرمئ عشق کے بغیر لطف حیات رائیگاں", "poet_page": "مصنف:نہال سیوہاروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرمئ عشق کے بغیر لطف حیات رائیگاں\nعشق ہے زندگی کا روپ عشق سے زندگی جواں\n\nہائے وہ چند ساعتیں گزریں جو تیرے قرب میں\nرشک سے دیکھتی رہی جن کو حیات جاوداں\n\nاف ری منازل بلند تیرے حریم ناز کی\nپائے طلب کو کتنے طے کرنے پڑے ہیں آسماں\n\nبرق کی دسترس سے دور عصر نو کے اے طیور\nاور بلند آشیاں اور بلند آشیاں\n\nگرم حصول جوئے شیر ہاں یوں ہی مرد تیشہ گیر\nتیشہ زنی ہے دہر میں اصل حیات کامراں\n\nمحتسب شراب تو بزم جہاں میں ہیں بہت\nیہ بھی کہو کہ ہے کوئی محتسب غم نہاں\n\nجذبۂ ہمت اے نہالؔ جب ہو مرا شریک حال\nمیرے لبوں پہ آئے کیوں شکوۂ گردش زماں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85%D8%A6_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%AF%D8%A7%DA%BA"} {"title": "گرمِ فغاں ہے جَرس، اُٹھ کہ گیا قافلہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "گرمِ فغاں ہے جَرس، اُٹھ کہ گیا قافلہ\nوائے وہ رَہرو کہ ہے منتظرِ راحلہ!\n\nتیری طبیعت ہے اور، تیرا زمانہ ہے اور\nتیرے موافق نہیں خانقہی سلسلہ\n\nدل ہو غلامِ خرد یا کہ امامِ خرد\nسالکِ رہ، ہوشیار! سخت ہے یہ مرحلہ\n\nاُس کی خودی ہے ابھی شام و سحَر میں اسیر\nگردشِ دَوراں کا ہے جس کی زباں پر گِلہ\n\nتیرے نفَس سے ہوئی آتشِ گُل تیز تر\nمُرغِ چمن! ہے یہی تیری نوا کا صِلہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85%D9%90_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%8E%D8%B1%D8%B3%D8%8C_%D8%A7%D9%8F%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%82%D8%A7%D9%81%D9%84%DB%81"} {"title": "گرمی امسال کس قیامت کی پڑی", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گرمی امسال کس قیامت کی پڑی\nایک ایک گھڑی ہوئی قیامت کی گھڑی\nامڈا یہ پسینہ یہ پڑی دھوپ کڑی\nبیساکھ میں لگ رہی ہے ساون کی جھڑی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C_%D8%A7%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%B3_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%DA%91%DB%8C"} {"title": "گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیا\nراتوں کو روتے روتے ہی جوں شمع گل گیا\n\nہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی نازک مزاج تر\nتیوری چڑھائی تو نے کہ یاں جی نکل گیا\n\nگرمئ عشق مانع نشوونما ہوئی\nمیں وہ نہال تھا کہ اگا اور جل گیا\n\nمستی میں چھوڑ دیر کو کعبے چلا تھا میں\nلغزش بڑی ہوئی تھی ولیکن سنبھل گیا\n\nساقی نشے میں تجھ سے لنڈھا شیشۂ شراب\nچل اب کہ دخت تاک کا جوبن تو ڈھل گیا\n\nہر ذرہ خاک تیری گلی کی ہے بے قرار\nیاں کون سا ستم زدہ ماٹی میں رل گیا\n\nعریاں تنی کی شوخی سے دیوانگی میں میرؔ\nمجنوں کے دشت خار کا داماں بھی چل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%DA%AF%DA%BE%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گرمی مرے کیوں نہ ہو سخن میں", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرمی مرے کیوں نہ ہو سخن میں\nاک آگ سی پھنک رہی ہے تن میں\n\nوہ رشک گل آئے گر پس از مرگ\nپھولا نہ سماؤں میں کفن میں\n\nہشیاری میں کب ہے ایسی لذت\nجو کچھ ہے مزا دوانہ پن میں\n\nخواری کا مری وہ لطف سمجھے\nکامل ہو جو عاشقی کے فن میں\n\nگردش جنہیں مثل آسیا ہے\nدائم انہیں ہے سفر وطن میں\n\nناصح میں رفو کو تب کہوں آہ\nحالت ہو جو کچھ بھی پیرہن میں\n\nاے باد خزاں وہ کیا ہوئے گل\nخاک اڑنے لگی ہے کیوں چمن میں\n\nبیتابیٔ دل کرے ہے رسوا\nکیا جائیے اس کی انجمن میں\n\nہے ترا ہی دھیان اور کچھ اب\nباقی نہیں تیرے خستہ تن میں\n\nجلد اس کو دکھا دے شکل اے جاں\nرہ جائے گی ورنہ من کی من میں\n\nگھر میں جو نہیں وہ یار جرأتؔ\nگھبرائے ہے اپنی جان تن میں\n\nہے جی میں کہ خانہ کر کے ویراں\nجا بیٹھیے اک اجاڑ بن میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گرمی میں غم لبادہ نازیبا ہے", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گرمی میں غم لبادہ نازیبا ہے\nمستی میں خیال بادہ نازیبا ہے\nکافی ہے ضرورت کے مطابق دنیا\nدنیا حد سے زیادہ نازیبا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D9%85_%D9%84%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%B2%DB%8C%D8%A8%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "گرمی کا موسم", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مئی کا آن پہنچا ہے مہینہ\nبہا چوٹی سے ایڑی تک پسینا\nبجے بارہ تو سورج سر پہ آیا\nہوا پیروں تلے پوشیدہ سایا\nچلی لو اور تڑاقے کی پڑی دھوپ\nلپٹ ہے آگ کی گویا کڑی دھوپ\nزمیں ہے یا کوئی جلتا توا ہے\nکوئی شعلہ ہے یا پچھوا ہوا ہے\nدر و دیوار ہیں گرمی سے تپتے\nبنی آدم ہیں مچھلی سے تڑپتے\nپرندے اڑ کے ہیں پانی پہ گرتے\nچرندے بھی ہیں گھبرائے سے پھرتے\nدرندے چھپ گئے ہیں جھاڑیوں میں\nمگر ڈوبے پڑے ہیں کھاڑیوں میں\nنہ پوچھو کچھ غریبوں کے مکاں کی\nزمیں کا فرش ہے چھت آسماں کی\nنہ پنکھا ہے نہ ٹٹی ہے نہ کمرہ\nذرا سی جھونپڑی محنت کا ثمرہ\nامیروں کو مبارک ہو حویلی\nغریبوں کا بھی ہے اللہ بیلی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85"} {"title": "گرمی کی چھٹیاں", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "مشکل سے پھر اسکول نہ جانے کے دن آئے\nبے فکری سے پھر وقت گنوانے کے دن آئے\n\nپھر رات کو چھپ چھپ کے ڈرانے کے دن آئے\nسہمے ہوئے لوگوں کو بنانے کے دن آئے\n\nپھر بیٹھ کے طبلہ سا بجانے کے دن آئے\nپھر لیٹ کے تنہائی میں گانے کے دن آئے\n\nہر صبح کو پھر باغ میں جانے کے دن آئے\nتو کہہ کے وہ کوئل کو چڑھانے کے دن آئے\n\nپھر عام کا اچار بنانے کے دن آئے\nپھر چھپ کے کہیں کیریاں کھانے کے دن آئے\n\nکر دی تھی کتابوں نے ہماری تو زباں بند\nگھر بھر میں پھر اک شور مچانے کے دن آئے\n\nوہ دن گئے خوش رہنے کو جب بھولے ہوئے تھے\nہنسنے کے دن آئے ہیں ہنسانے کے دن آئے\n\nاب وقت کا رونا نہیں اب وقت بہت ہے\nہر کام میں پھر دیر لگانے کے دن آئے\n\nگھر پر بھی تھے گھیرے ہوئے اسکول کے دھندے\nآزادی سے اب موج اڑانے کے دن آئے\n\nبہنوں کو ستایا کبھی بھائی کو چڑھایا\nلڑنے کے دن آئے ہیں لڑانے کے دن آئے\n\nپھر پھولوں سے لدنے لگا ہر بیلے کا پورا\nپودوں میں سے پھر پھول چرانے کے دن آئے\n\nکھولے گئے پھر گرد سے لپٹے ہوئے پردے\nدوپہر کو پھر رات بنانے کے دن آئے\n\nپھر لوٹیں گے ہم چاندنی راتوں کی بہاریں\nپھر چھت پہ پلنگوں کے بچھانے کے دن آئے\n\nکیوں اب بھی پسینے میں شرابور ہو افسرؔ\nندی پہ کہیں جا کے نہانے کے دن آئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "گرمیاں شوخیاں کس شان سے ہم دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرمیاں شوخیاں کس شان سے ہم دیکھتے ہیں\nکیا ہی نادانیاں نادان سے ہم دیکھتے ہیں\n\nغیر سے بوسہ زنی اور ہمیں دشنامیں\nمنہ لیے اپنا پشیمان سے ہم دیکھتے ہیں\n\nفصل گل اب کی جنوں خیز نہیں صد افسوس\nدور ہاتھ اپنا گریبان سے ہم دیکھتے ہیں\n\nآج کس شوخ کی گلشن میں حنا بندی ہے\nسرو رقصاں ہیں گلستان سے ہم دیکھتے ہیں\n\nاخترؔ زار بھی ہو مصحف رخ پر شیدا\nفال یہ نیک ہے قرآن سے ہم دیکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B4%D9%88%D8%AE%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%B4%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گرنے کا بہت ڈر ہے اے دل نہ پھسل جانا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرنے کا بہت ڈر ہے اے دل نہ پھسل جانا\nاس بام محبت پر مشکل ہے سنبھل جانا\n\nدل میری سنے کیوں کر سمجھاؤں اسے کیا میں\nوحشت نے سکھایا ہے قابو سے نکل جانا\n\nوہ تیرے فقیروں کو آنکھوں سے ذرا دیکھے\nجس نے نہیں دیکھا ہے قسمت کا بدل جانا\n\nدکھلاؤ رخ زیبا تا مجھ کو قرار آئے\nآساں نہیں عاشق کا باتوں میں بہل جانا\n\nکمزور کیا مجھ کو اب ضعف نقاہت نے\nاے عشق ذرا میرے پہلو کو بدل جانا\n\nجلنا تمہیں اس دل کا میں آج دکھاؤں گا\nتم نے نہیں دیکھا ہے اک پرچے کا جل جانا\n\nعاشق تری محفل سے اٹھتا ہے یہی کہہ کر\nیاں مجمع دشمن ہے اب چاہیے ٹل جانا\n\nسر گشتگئ عاشق کیا تم کو بتاؤں میں\nتقدیر بدلنا ہے آنکھوں کا بدل جانا\n\nنادان طبیبوں کو کیا نبض دکھاؤں میں\nآزار محبت کو سودا کا خلل جانا\n\nوحشت ہے فزوں دل کی تنہا نہ چلا جائے\nلازم ہے جمیلہؔ اب صحرا کو نکل جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DA%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DA%BE%D8%B3%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "گرو نانک", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہیں کہتے نانک شاہ جنہیں وہ پورے ہیں آگاہ گرو\nوہ کامل رہبر جگ میں ہیں یوں روشن جیسے ناہ گرو\nمقصود مراد امید سبھی بر لاتے ہیں دل خواہ گرو\nنت لطف و کرم سے کرتے ہیں ہم لوگوں کا نرباہ گرو\nاس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو\nسب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو\nہر آن دلوں وچ یاں اپنے جو دھیان گرو کا دھرتے ہیں\nاور سیوک ہو کر ان کے ہی ہر صورت بیچ کہاتے ہیں\nگرد اپنی لطف و عنایت سے سکھ چین انہیں دکھلاتے ہیں\nخوش رکھتے ہیں ہر حال انہیں سب من کا کاج بناتے ہیں\nاس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو\nسب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو\nدن رات جنہوں نے یاں دل وچ ہے یاد گرو سے کام لیا\nسب من کے مقصد بھر پائے خوش وقتی کا ہنگام لیا\nدکھ درد میں اپنے دھیان لگا جس وقت گرو کا نام لیا\nپل بیچ گرو نے آن انہیں خوش حال کیا اور تھام لیا\nاس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو\nسب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو\nالطاف جنہوں پر ہیں ان کے سو خوبی حاصل ہے ان کو\nہر آن نظیرؔ اب یاں تم بھی تو بابا نانک شاہ کہو\nاس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو\nسب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%D9%88_%D9%86%D8%A7%D9%86%DA%A9"} {"title": "گرچہ اس بنیاد ہستی کے عناصر چار ہیں", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرچہ اس بنیاد ہستی کے عناصر چار ہیں\nلیکن اپنے نیست ہو جانے میں سب ناچار ہیں\n\nدوستی اور دشمنی ہے ان بتاں کی ایک سی\nچار دن ہیں مہرباں تو چار دن بیزار ہیں\n\nجی کوئی منصور کے جوں جان کرتے ہیں فدا\nوے سپاہی عاشقوں کی فوج کے سردار ہیں\n\nیہ جو سجتی ہے کٹاری دار مشروع کی ازار\nمارنے کے وقت عاشق کے ننگی تروار ہیں\n\nدوستی اور پیار کی باتوں پے خوباں کی نہ بھول\nشوخ ہوتے ہیں نپٹ عیار کس کے یار ہیں\n\nجو نشہ جوانی کا اترے گا تو کھینچیں گے خمار\nاب تو خوباں سب شراب حسن کے سرشار ہیں\n\nکس طرح چشموں سیتی جاری نہ ہو دریائے خوں\nتھل نہ پیرا آبروؔ ہم وار اور وے پار ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%B1_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گرچہ اے دل عاشق شیدا ہے تو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرچہ اے دل عاشق شیدا ہے تو\nلیکن اپنے کام میں یکتا ہے تو\n\nعاشق و معشوق کرتا ہے جدا\nاے فلک یہ کام بھی کرتا ہے تو\n\nلاکھ پردے گر ہوں تیرے حسن پر\nکوئی پردوں میں چھپا رہتا ہے تو\n\nحال دل کہنے لگوں ہوں میں تو شوخ\nمجھ سے یوں کہتا ہے \"کیا بکتا ہے تو\"\n\nپاس بیٹھا اس کے میں رویا کیا\nیوں نہ پوچھا مجھ سے \"کیوں روتا ہے تو\"\n\nرات دن تو ہے مری آغوش میں\nمیں ترا ساحل مرا دریا ہے تو\n\nبزم میں اس تند خو کی دوڑ دوڑ\nکام کیا؟ کیوں؟ کس لیے جاتا ہے تو\n\nواں نہیں مطلق ترا مذکور بھی\nمصحفیؔ کس بات پر بھولا ہے تو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88"} {"title": "گرچہ تُو زندانیِ اسباب ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "گرچہ تُو زندانیِ اسباب ہے\nقلب کو لیکن ذرا آزاد رکھ\n\nعقل کو تنقید سے فرصت نہیں\nعشق پر اعمال کی بنیاد رکھ\n\nاے مسلماں! ہر گھڑی پیشِ نظر\nآیۂ ’لاَ یُخلِفُ الْمِیْعَاد‘ رکھ\n\nیہ ’لِسان العصر‘ کا پیغام ہے\n“اِنَّ وعْد اللہِ حقٌ یاد رکھ”", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%AA%D9%8F%D9%88_%D8%B2%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%90_%D8%A7%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "گرچہ دل میں ہی سدا جان جہاں رہتے ہو", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرچہ دل میں ہی سدا جان جہاں رہتے ہو\nپر بظاہر نہیں معلوم کہاں رہتے ہو\n\nشکر للہ کہ ابھی کام تمہیں باقی ہے\nلے چکے دل تو ولے درپئے جاں رہتے ہو\n\nآ نکلتے ہو کدھر بھول کے بے خواہش دل\nاب بھی جاؤ وہیں ہر روز جہاں رہتے ہو\n\nاے خوش ابرو کوئی پھر ڈھب پہ چڑھا تازہ شکار\nیوں جو ہر وقت لیے تیر و کماں رہتے ہو\n\nگر کبھی آئے اثرؔ پاس ہوئے ووہیں اداس\nخوش شب و روز پڑے اوروں کے ہاں رہتے ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%D8%AF%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "گرچہ کب دیکھتے ہو پر دیکھو", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرچہ کب دیکھتے ہو پر دیکھو\nآرزو ہے کہ تم ادھر دیکھو\n\nعشق کیا کیا ہمیں دکھاتا ہے\nآہ تم بھی تو اک نظر دیکھو\n\nیوں عرق جلوہ گر ہے اس منہ پر\nجس طرح اوس پھول پر دیکھو\n\nہر خراش جبیں جراحت ہے\nناخن شوق کا ہنر دیکھو\n\nتھی ہمیں آرزو لب خنداں\nسو عوض اس کے چشم تر دیکھو\n\nرنگ رفتہ بھی دل کو کھینچے ہے\nایک شب اور یاں سحر دیکھو\n\nدل ہوا ہے طرف محبت کا\nخون کے قطرے کا جگر دیکھو\n\nپہنچے ہیں ہم قریب مرنے کے\nیعنی جاتے ہیں دور اگر دیکھو\n\nلطف مجھ میں بھی ہیں ہزاروں میرؔ\nدیدنی ہوں جو سوچ کر دیکھو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%DA%A9%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D9%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88"} {"title": "گرچہ کچھ رنگ اس کا کالا ہے", "poet_page": "مصنف:عظمت اللہ خاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرچہ کچھ رنگ اس کا کالا ہے\nمیرا محبوب ہے نرالا ہے\n\nتجھ کو ملتا ہے خوب وائٹ میٹ\nتیری آنکھوں میں جو اجالا ہے\n\nجو اکڑتا مثال سرو رہے\nایسے افسر کا بول بالا ہے\n\nجس کو رشوت کی رہ گزر کہیے\nہم نے وہ راستہ نکالا ہے\n\nچیونٹیوں کی طرح ہیں چمٹی ہوئی\nتیری یادوں نے مار ڈالا ہے\n\nتم جو بیٹھی ہو ساس کے نزدیک\nزلزلہ کوئی آنے والا ہے\n\nچھپ کے اپنی بہن سے مل جائے\nمیرا عظمت وہی تو سالا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "گرچہ گل کی سیج ہو تس پر بھی اڑ جاتی ہے نیند", "poet_page": "مصنف:ماہ لقا بائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرچہ گل کی سیج ہو تس پر بھی اڑ جاتی ہے نیند\nسر رکھوں قدموں پہ جب تیرے مجھے آتی ہے نیند\n\nدیکھ سکتا ہی نہیں آنکھوں سے ٹک آنکھیں ملا\nمنتظر سے مثل نرگس تیرے شرماتی ہے نیند\n\nجب سے یہ مژگاں ہوئے در پر ترے جاروب کش\nروبرو تب سے مری آنکھوں کے ٹل جاتی ہے نیند\n\nدھیان میں گل رو کے چین آتا نہیں افسانہ گر\nلے صبا سے گاہ بوئے یار بہلاتی ہے نیند\n\nاشک تو اتنے بہے چنداؔ کہ چشم خلق سے\nقرۃالعین علیؓ کے غم میں بہہ جاتی ہے نیند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%AC_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D8%B3_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%DA%91_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%AF"} {"title": "گرہ جو پڑ گئی رنجش میں وہ مشکل سے نکلے گی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرہ جو پڑ گئی رنجش میں وہ مشکل سے نکلے گی\nنہ ان کے دل سے نکلے گی نہ میرے دل سے نکلے گی\n\nنہیں دشوار کچھ اپنے مکاں سے لا مکاں جانا\nوہیں پہنچائے گی جو راہ جس منزل سے نکلے گی\n\nمری کشتی اگر چھوٹے گی دریائے محبت میں\nتو سب سے پہلے بسم اللہ لب ساحل سے نکلے گی\n\nبڑی سختی سے میری جان نکلی ہے کئی دن میں\nیکایک لاش کیوں کر کوچۂ قاتل سے نکلے گی\n\nترشتے ہیں قیامت کے غضب کے رات دن فقرے\nنئی جب بات نکلے گی تری محفل سے نکلے گی\n\nرموز عاشقی کو عاشقو تم داغؔ سے پوچھو\nکہ باریکی میں باریکی اسی کامل سے نکلے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%DA%91_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%D9%86%D8%AC%D8%B4_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "گرہ جو کام میں ڈالے ہے پنجۂ تقدیر", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرہ جو کام میں ڈالے ہے پنجۂ تقدیر\nمجال کیا کہ کھلے وہ بہ ناخن تدبیر\n\nدلا تڑپھ کے تو نکلا پڑے ہے سینے سے\nیہ گھر اجاڑ نہ اے گھر بسے پکڑ ٹک دھیر\n\nشب فراق میں جاناں کی میں رہا جیتا\nکہ سخت جان ہے مجھ کو حجاب دامن گیر\n\nلب اس کے دیکھو تو ہے ظلم و خوں خوری کی دلیل\nسیہ مسی پہ نہیں سرخ پان کی تحریر\n\nیہ پھینک تیر نگہ جی سے مار ڈالیں ہیں\nبتاؤ کر سکے بے جاں ستم کی کیا تقریر\n\nٹک آنکھ اٹھا کے جو دیکھا نظر سے دے پٹکا\nنہ تھی یہ اظفریؔ اتنی گناہ کی تعزیر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D9%86%D8%AC%DB%82_%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1"} {"title": "گرہ لب پہ جو مدعا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گرہ لب پہ جو مدعا ہو گیا\nوہ دل میں مرے آبلہ ہو گیا\n\nسمجھتے ہیں وہ فرض اس کی شکست\nمرا دل بھی عہد وفا ہو گیا\n\nکہوں کیا نہ دیکھیں جو میری طرف\nتغافل شریک حیا ہو گیا\n\nوہ کرتے ہیں سن کر ستم اور بھی\nمرا نالہ شکر جفا ہو گیا\n\nقیامت ہوئی اس کی رفتار سے\nیہ ہنگامہ ہنگامہ زا ہو گیا\n\nبد و نیک کا ان پہ کیا اعتراض\nجو چاہا کیا جو کیا ہو گیا\n\nشب وصل ہونے کی ہے یہ دلیل\nشب ہجر سے دن سوا ہو گیا\n\nاثر سب کھچا اس کی گفتار میں\nمرا نالہ بھی نارسا ہو گیا\n\nوہ صورت ہے دل کش کہ اس ظلم پر\nزمانہ ترا مبتلا ہو گیا\n\nملا دے جگر کو بھی دل میں خدا\nکہ اب شوق حد سے سوا ہو گیا\n\nغم و رنج و حرمان و اندوہ کو\nمرا سینہ ملک بقا ہو گیا\n\nمحبت میں الزام کیا دل کو دوں\nیہ گمراہ تھا مجھ کو کیا ہو گیا\n\nہجوم بلا ہاے ہجراں نہ پوچھ\nتجھے کیا جو کچھ ہو گیا ہو گیا\n\nانا العشق کہنا نہ آیا مگر\nکہ منصور انا الحق سرا ہو گیا\n\nیہ تقویٰ جوانی میں سالکؔ مگر\nبرے وقت میں پارسا ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DB%81_%D9%84%D8%A8_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گری گر کر اٹھی پلٹی تو جو کچھ تھا اٹھا لائی", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گری گر کر اٹھی پلٹی تو جو کچھ تھا اٹھا لائی\nنظر کیا کیمیا تھی رنگ چہروں سے اڑا لائی\n\nخدا کے واسطے سفاکیاں یہ کس سے سیکھی ہیں\nنظر سے پیار مانگا تھا وہ اک خنجر اٹھا لائی\n\nنہ حسرت ہی نکلتی ہے نہ دل کو آگ لگتی ہے\nمری ہستی مرے دامن میں کیا کانٹا لگا لائی\n\nوہ سب بدمستیاں تھیں زر کی اب زر ہے نہ پیتے ہیں\nہماری مفلسی خود راہ پر ہم کو لگا لائی\n\nمٹانے کو ہمارے یہ زمین و آسماں دونوں\nہمیشہ مل کے چلتے ہیں بہ ایں پستی و بالائی\n\nجو کچھ دیکھا نہ دیکھا جو سنی وہ ان سنی شاعرؔ\nنہ آئے ہم یہاں یہ زندگی مفت خدا لائی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%D9%84%D9%B9%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "گریباں سے ترے کس نے نکالا صبح خنداں کو", "poet_page": "مصنف:وحید الدین سلیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گریباں سے ترے کس نے نکالا صبح خنداں کو\nکیا کس نے نہاں دامن کی کلیوں سے گلستاں کو\n\nاڑایا چٹکیوں میں میرے ذرے نے بیاباں کو\nمرے قطرے نے پانی کر دیا ہر موج طوفاں کو\n\nمری کشتی بھنور سے کھیلنے کا شوق رکھتی ہے\nیہ کس نے کر دیا خاموش یا رب موج طوفاں کو\n\nیہ کیا نغمہ تھا چھیڑا جو یکایک قلب مضطر نے\nکہ میری نے نے رقصاں کر دیا سارے گلستاں کو\n\nمیں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ چمکا تیرے پرتو سے\nلگی ہیں کھینچنے کرنیں مری مہر درخشاں کو\n\nمرے ذوق فنا پر زندگی ہے خضر کی قرباں\nمرے تلخانۂ غم میں ڈبو دو آب حیواں کو\n\nکلیم طور معنی ہوں ید بیضا ہے میرا دل\nمنور کر دیا جس نے مرے چاک گریباں کو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%AE%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88"} {"title": "گریباں پھاڑتے ہیں دیکھ خوبان چمن کیوں کر", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گریباں پھاڑتے ہیں دیکھ خوبان چمن کیوں کر\nنہ کیجے چاک ناصح اس ہوا میں پیرہن کیوں کر\n\nکرے محنت کوئی لذت اٹھاوے یار سے کوئی\nکہو اپنے تئیں ضائع نہ کرتا کوہ کن کیوں کر\n\nنہ دو اے گل رخاں تکلیف مجھ کو شعر خوانی کی\nکہو بن فصل گل کوئی کرے دیوانہ پن کیوں کر\n\nہوا جاتا ہوں گز سایہ پہ پڑتی ہے نظر میری\nتیری سج دیکھ کر احباب جیتے ہیں سجن کیوں کر\n\nتعجب سخت رہتا ہے یقیںؔ اس بات کا مجھ کو\nکہ اتنا بولتے ہیں تلخ یہ شیریں دہن کیوں کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%A7%DA%91%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%A7%D9%86_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "گریباں چاک مجنوں بن سے نکلا", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "گریباں چاک مجنوں بن سے نکلا\nمیں لے کر دھجیاں دامن سے نکلا\n\nکہیں جلوہ بھی پردے میں رہا ہے\nوہ دیکھو نور اک چلمن سے نکلا\n\nجنوں نے راہ یہ اچھی نکالی\nگریباں پہاڑ کر دامن سے نکلا\n\nبہار آئی چمن میں کھل گئے پھول\nکوئی ہنستا ہوا گلشن سے نکلا\n\nروانی اشک کی ہوتی نہیں بند\nعجب دریا مرے دامن سے نکلا\n\nخزاں آئی مدینے کے چمن میں\nشرفؔ روتا ہوا گلشن سے نکلا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "گریباں چاک ہیں گل بوستاں میں", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گریباں چاک ہیں گل بوستاں میں\nاثر کتنا ہے بلبل کی فغاں میں\n\nقفس صیاد کا خالی پڑا ہے\nنہ ہوں بے چین کیوں کر آشیاں میں\n\nدعائے وصل جا اب تو اثر تک\nکئے نالوں نے روزن آسماں میں\n\nسنے گر طالع خفتہ کا قصہ\nتو نیند آ جائے چشم پاسباں میں\n\nزلیخا کی مچی جاتی ہیں آنکھیں\nکہیں یوسف نہ ہو اس کارواں میں\n\nتمام اسباب دنیاوی کے بدلے\nہے اک بے رونقی اپنی دکاں میں\n\nسنا حال دل مجروحؔ شب کو\nکوئی حسرت سی حسرت تھی بیاں میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%D8%A8%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گریباں کو جنوں میں تا بہ دامن چاک ہونا تھا", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گریباں کو جنوں میں تا بہ دامن چاک ہونا تھا\nجواب جادۂ صحرائے وحشت ناک ہونا تھا\n\nتغافل کے گلے سن کر جھکا لیں تم نے کیوں آنکھیں\nمرے شرمندہ کرنے کو ذرا بے باک ہونا تھا\n\nنگاہ گرم کی بجلی سے جلنا تھا مقدر میں\nکسی کو آگ ہونا تھا کسی کو خاک ہونا تھا\n\nجو آنکھیں پوچھتیں اس کی تو دل میرا بتا دیتا\nیہاں شرما کے جھکنا تھا یہاں بے باک ہونا تھا\n\nتڑپ دل کی دکھانا تھا جلالؔ ان شوخ چشموں کو\nوہیں کی بخت نے سستی جہاں چالاک ہونا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%A7_%D8%A8%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "گریباں ہاتھ میں ہے پاؤں میں صحرا کا داماں ہے", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گریباں ہاتھ میں ہے پاؤں میں صحرا کا داماں ہے\nبس اب پاؤں ہیں اپنے اور سر خار مغیلاں ہے\n\nہوائے‌ دشت وحشت ہم کو لے اڑتی ہے بستی سے\nہمارا عنصر خاکی مگر ریگ بیاباں ہے\n\nسبق کو دیکھتا ہوں رات بھر اور پھر الجھتا ہوں\nمطول مختصر وہ شرح شعر زلف پیچاں ہے\n\nجلاتا ہے یہ پروانوں کو وصف‌ شعلہ رویاں سے\nزبان خامہ بھی اب تو زبان شمع سوزاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "گریز", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہ جا کر کوئی بزم خوباں میں کہہ دو\nکہ اب درخور بزم خوباں نہیں میں\n\nمبارک تمہیں قصر و ایواں تمہارے\nوہ دلدادۂ قصر و ایواں نہیں میں\n\nجوانی بھی سرکش محبت بھی سرکش\nوہ زندانی زلف پیچاں نہیں میں\n\nتڑپ میری فطرت تڑپتا ہوں لیکن\nوہ زخمیٔ پیکان مژگاں نہیں میں\n\nدھڑکتا ہے دل اب بھی راتوں کو لیکن\nوہ نوحہ گر درد ہجراں نہیں میں\n\nبہ ایں تشنہ کامی بہ ایں تلخ کامی\nرہین لب شکر افشاں نہیں میں\n\nشراب و شبستاں کا مارا ہوں لیکن\nوہ غرق شراب شبستاں نہیں میں\n\nقسم نطق کی شعلہ افشانیوں کی\nکہ شاعر تو ہوں اب غزل خواں نہیں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2"} {"title": "گریز پا", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دھیرے دھیرے گر رہی تھیں نخل شب سے چاندنی کی پتیاں\nبہتے بہتے ابر کا ٹکڑا کہیں سے آ گیا تھا درمیاں\nملتے ملتے رہ گئی تھیں مخملیں سبزہ پہ دو پرچھائیاں\nجس طرح سپنے کے جھولے سے کوئی اندھے کنویں میں جا گرے\nناگہاں کجلا گئے تھے شرمگیں آنکھوں کے نورانی دیے\nجس طرح شور جرس سے کوئی واماندہ مسافر چونک اٹھے\nیک بیک گھبرا کے وہ نکلی تھی میرے بازوؤں کی قید سے\nاب سلگتے رہ گئے تھے، چھن گیا تھا جام بھی\nاور میری بے بسی پر ہنس پڑی تھی چاندنی\n\nآج تک احساس کی چلمن سے الجھا ہے یہ مبہم سا سوال\nاس نے آخر کیوں بنا تھا بہکی نظروں سے حسیں چاہت کا جال", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2_%D9%BE%D8%A7"} {"title": "گریہ تو اکثر رہا پیہم رہا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گریہ تو اکثر رہا پیہم رہا\nپھر بھی دل کے بوجھ سے کچھ کم رہا\n\nقمقمے جلتے رہے بجھتے رہے\nرات بھر سینے میں اک عالم رہا\n\nاس وفا دشمن سے چھٹ جانے کے بعد\nخود کو پا لینے کا کتنا غم رہا\n\nاپنی حالت پر ہنسی بھی آئی تھی\nاس ہنسی کا بھی بڑا ماتم رہا\n\nاتنے ربط اتنی شناسائی کے بعد\nکون کس کے حال کا محرم رہا\n\nپتھروں سے بھی نکل آیا جو تیر\nوہ مرے پہلو میں آ کر جم رہا\n\nذہن نے کیا کچھ نہ کوشش کی مگر\nدل کی گہرائی میں اک آدم رہا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%DB%81%D9%85_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "گریہ دل کو نہ سوے چشم بہاؤ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گریہ دل کو نہ سوے چشم بہاؤ\nڈوبتی ہے بھنور میں جا کر ناؤ\n\nنہ گلی اپنی واں کبھی کھچڑی\nنت پکاتے رہے خیالی پلاؤ\n\nدل ہے اے نالہ جوں کباب ورق\nآنچ کم دے یہ کھا نہ جائے تاؤ\n\nبوسہ لیتے میں کاٹ کھاتے ہو\nکیا تمہارا برا پڑا ہے سبھاؤ\n\nجی پہ یاں بن رہی ہے یہ تو کہو\nآج کیدھر چلے ہو کر کے بناؤ\n\nکیوں کے رکھوں قدم گلی میں تری\nواں تو پڑتا نہیں ہے اپنا ہواؤ\n\nآتش معدہ کو نہیں سیری\nجوں جہنم کرے ہے لاؤ ہی لاؤ\n\nدل جو میں گم کیا تو تم کو کیا\nیارو اس بات کا کرو نہ چواؤ\n\nتھی شب وصل پر خیال کے ساتھ\nہم نے دل سے نکالے کیا کیا چاؤ\n\nدہ دل ہے تعلقے میں ترے\nخواہ اوجڑ کر اس کو خواہ بساؤ\n\nمرہم لطف منہ نہ موڑیو تو\nابھی آلے ہیں سب جگر کے گھاؤ\n\nیہ زمیں بھی ہے طرفہ معنی خیز\nمصحفیؔ اک غزل تو اور سناؤ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%88%DB%92_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%A4"} {"title": "گزارش کر صبا خدمت میں تو اس لاابالی کے", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گزارش کر صبا خدمت میں تو اس لاابالی کے\nترے جانے سے گل مرجھا گئے ہیں نقش قالی کے\n\nمرے آغوش جب سے اٹھ گیا ہے تو میں روتا ہوں\nنہیں تھمتے ہیں اشک چشم تصویر نہالی کے\n\nمیں بے خود ہوں مجھے معذور رکھ رونے میں اے ساقی\nمری چھاتی بھری ہے درد سے مینائے خالی کے\n\nتصور میں تصدق میں ہوں میں اس شمع رو اوپر\nہیں گویا عشقؔ ہم تصویر فانوس خیالی کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D8%B4_%DA%A9%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%AE%D8%AF%D9%85%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D9%84%D8%A7%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%92"} {"title": "گزارے ہجر میں برسوں ہی وصل یار کے بعد", "poet_page": "مصنف:نواب امراوبہادر دلیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گزارے ہجر میں برسوں ہی وصل یار کے بعد\nاٹھایا جبر بہت ہم نے اختیار کے بعد\n\nنہ دشمنوں کے لئے تھی زمین کوچۂ دوست\nبنی نہ پھر کوئی تربت مرے مزار کے بعد\n\nکس آسرے پہ گزاروں زمانۂ فرقت\nکہ ناامید ہوا ہوں اک انتظار کے بعد\n\nخزاں کے بعد الٰہی بہار پھر دیکھیں\nخزاں تو دیکھ چکے موسم بہار کے بعد\n\nمرے شباب کی یاد آ رہی ہے پیری میں\nکہ قدر نشہ کی ہوتی ہے کچھ خمار کے بعد\n\nملا جو قیس سا ہم رنگ دشت وحشت میں\nہوا سکون طبیعت کو انتشار کے بعد\n\nوہ مشق تیر تھی ان کی ہمارے ہی دل تک\nملا نہ پھر کوئی نخچیر اس شکار کے بعد\n\nپس فنا ہے تباہی کی ابتدا مجھ سے\nبہت سی آندھیاں اٹھیں گی اس غبار کے بعد\n\nہم ان کے بس میں ہیں قابو میں تھے جو اپنی دلیرؔ\nیہ بے بسی نہ کسی کو ہو اختیار کے بعد", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B2%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "گزر اس حجرۂ گردوں سے ہو کیدھر اپنا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گزر اس حجرۂ گردوں سے ہو کیدھر اپنا\nقید خانہ ہے عجب گنبد بے در اپنا\n\nشکل رہنے کی ہے بستی میں یہ اس بن اپنی\nجیسے جنگل میں بناتا ہے کوئی گھر اپنا\n\nشب کی بے تابیاں کیا کہیے کہ دیکھا جو سحر\nٹکڑے ٹکڑے نظر آیا ہمیں بستر اپنا\n\nہم نشیں اس کو جو لانا ہے تو لا جلد کہ ہم\nتھامے بیٹھے رہیں کب تک دل مضطر اپنا\n\nوہ گئے دن کہ سدا مے کدۂ ہستی میں\nبادۂ عیش سے لبریز تھا ساغر اپنا\n\nتاب نظارہ تری لائے نہ خورشید ذرا\nہاتھ جب تک کہ نہ رکھ لے وہ جبیں پر اپنا\n\nدیں گے سر عشق کے سودے میں اگرچہ ہم کو\nاس میں نقصاں نظر آتا ہے سراسر اپنا\n\nہے زمیں خوب غزل در غزل اس کو کہیے\nبس کہ معمول ہے جرأتؔ یہی اکثر اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%D8%AD%D8%AC%D8%B1%DB%82_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں\nرہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں\n\nہے اب کام دل جس پہ موقوف تو\nوہ نالہ کہ جس میں اثر کچھ نہیں\n\nہوا مائل اس سرو کا دل مرا\nبجز جور جس سے ثمر کچھ نہیں\n\nنہ کر اپنے محووں کا ہرگز سراغ\nگئے گزرے بس اب خبر کچھ نہیں\n\nتری ہو چکی خشک مژگاں کی سب\nلہو اب جگر میں مگر کچھ نہیں\n\nحیا سے نہیں پشت پا پر وہ چشم\nمرا حال مد نظر کچھ نہیں\n\nکروں کیونکے انکار عشق آہ میں\nیہ رونا بھلا کیا ہے گر کچھ نہیں\n\nکمر اس کی رشک رگ جاں ہے میرؔ\nغرض اس سے باریک تر کچھ نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%88%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گزر کو ہے بہت اوقات تھوڑی", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گزر کو ہے بہت اوقات تھوڑی\nکہ ہے یہ طول قصہ رات تھوڑی\n\nجو مے زاہد نے مانگی مست بولے\nبہت یا قبلۂ حاجات تھوڑی\n\nکہاں غنچہ کہاں اس کا دہن تنگ\nبڑھائی شاعروں نے بات تھوڑی\n\nاٹھے کیا زانوے غم سے سر اپنا\nبہت گزری رہی ہیہات تھوڑی\n\nخیال ضبط گریہ ہے جو ہم کو\nبہت امسال ہے برسات تھوڑی\n\nپلائے لے کے نقد ہوش ساقی\nتہی دستوں کی ہے اوقات تھوڑی\n\nوہی ہے آسماں پر گنج انجم\nملی تھی جو تری خیرات تھوڑی\n\nترا اے دخت رز واصف ہے واعظ\nپئے حرمت ہے اتنی بات تھوڑی\n\nچلو منزل امیرؔ آنکھیں تو کھولو\nنہایت رہ گئی ہے رات تھوڑی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D9%82%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%8C"} {"title": "گزر گیا انتظار حد سے یہ وعدۂ ناتمام کب تک", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گزر گیا انتظار حد سے یہ وعدۂ ناتمام کب تک\nنہ مرنے دے گی مجھے ستم گر تری تمنائے خام کب تک\n\nاجل مرا اتنا کام کر دے کہ کام میرا تمام کر دے\nرہے کوئی زندگی کے ہاتھوں جہاں میں رسوائے عام کب تک\n\nوہ آئے یا وعدے پر نہ آئے بلا سے قسمت جو کچھ دکھا دے\nمگر ہمیں دیکھنا تو یہ ہے کہ آج ہوتی ہے شام کب تک\n\nیہ بحث و تکرار چھوڑ دے آ یہ زہد کا عہد توڑ دے\nرہے گی اے مدعی حرمت شراب دنیا حرام کب تک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%D8%AD%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%82_%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "گزرا اپنا پس مردن ہی سہی", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گزرا اپنا پس مردن ہی سہی\nکوچۂ یار میں مدفن ہی سہی\n\nخیر جو رنگ نہیں ہے تو نہ ہو\nتیغ کھینچو مری گردن ہی سہی\n\nقبر بلبل پہ چلوں رونے کو\nآج گلزار میں شیون ہی سہی\n\nبت تو واللہ بنا لیں گے کبھی\nشور ناقوس برہمن ہی سہی\n\nجوش وحشت ہے دلا نجد کو چل\nسیر کرنے کے لیے بن ہی سہی\n\nشمع تو یار چڑھاتا ہی نہیں\nداغ دل قبر میں روشن ہی سہی\n\nحال کچھ مرے گریباں میں نہیں\nاے جنوں دشت کا دامن ہی سہی\n\nکوئی ہم چشم تو ہو زنداں میں\nحیرتی دیدۂ روزن ہی سہی\n\nمسی مالیدہ دہن میں ہے کلام\nبوسۂ ہائے غنچۂ سوسن ہی سہی\n\nناصحا اس کی برائی تو نہ کر\nنہ سہی دوست وہ دشمن ہی سہی\n\nگل رخوں سے تو ہوئی قطع امید\nمہرؔ نظارہ گلشن ہی سہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%BE%D8%B3_%D9%85%D8%B1%D8%AF%D9%86_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "گزرا بنائے چرخ سے نالہ پگاہ کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گزرا بنائے چرخ سے نالہ پگاہ کا\nخانہ خراب ہو جیو اس دل کی چاہ کا\n\nآنکھوں میں جی مرا ہے ادھر دیکھتا نہیں\nمرتا ہوں میں تو ہائے رے صرفہ نگاہ کا\n\nصد خانماں خراب ہیں ہر ہر قدم پہ دفن\nکشتہ ہوں یار میں تو ترے گھر کی راہ کا\n\nیک قطرہ خون ہو کے پلک سے ٹپک پڑا\nقصہ یہ کچھ ہوا دل غفراں پناہ کا\n\nتلوار مارنا تو تمہیں کھیل ہے ولے\nجاتا رہے نہ جان کسو بے گناہ کا\n\nبدنام و خوار و زار و نزار و شکستہ حال\nاحوال کچھ نہ پوچھیے اس رو سیاہ کا\n\nظالم زمیں سے لوٹتا دامن اٹھا کے چل\nہوگا کمیں میں ہاتھ کسو داد خواہ کا\n\nاے تاج شہ نہ سر کو فرو لاؤں تیرے پاس\nہے معتقد فقیر نمد کی کلاہ کا\n\nہر لخت دل میں صید کے پیکان بھی گئے\nدیکھا میں شوخ ٹھاٹھ تری صید گاہ کا\n\nبیمار تو نہ ہووے جیے جب تلک کہ میرؔ\nسونے نہ دے گا شور تری آہ آہ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D9%BE%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "گزرا ہوا زمانہ", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "برس کی اخیر رات کو ایک بڈھا اندھیرے گھر میں اکیلا بیٹھا ہے۔ رات بھی ڈراونی اور اندھیری ہے۔ گھٹا چھا رہی ہے۔ بجلی تڑپ تڑپ کر کڑکتی ہے۔ آندھی بڑے زور سے چلتی ہے، دل کانپتا ہے اور دم گھبراتا ہے۔ بڈھا نہایت غمگین ہے مگر اس کا غم نہ اندھیرے گھر پر ہے، نہ اکیلے پن پر اور نہ اندھیری رات اور بجلی کی کڑک اور آندھی کی گونج پر۔ اور نہ برس کی اخیر رات پر۔ وہ اپنے پچھلے زمانے کو یاد کرتا ہے اور جتنا زیادہ یاد آتا ہے اتنا ہی غم بڑھتا ہے۔ ہاتھوں سے ڈھکے ہوئے منہ پر آنکھوں سے آنسو بھی بہے چلے جاتے ہیں۔\n\nپچھلا زمانہ اس کی آنکھوں کے سامنے پھرتا ہے۔ اپنا لڑکپن اس کو یاد آتا ہے جبکہ اس کو کسی چیز کا غم اور کسی بات کی فکر دل میں نہ تھی۔ روپیے اشرفی کے بدلے ریوڑی اور مٹھائی اچھی لگتی تھی۔ سارا گھر، ماں باپ، بھائی بہن اس کو پیار کرتے تھے۔ پڑھنے کے لیے چھٹی کا وقت جلد آنے کی خوشی میں کتابیں بغل میں لے مکتب میں چلا جاتا تھا۔ مکتب کا خیال آتے ہی اس کو اپنے ہم مکتب یاد آتے تھے۔ وہ اور زیادہ غمگین ہوتا تھا اور بے اختیار چلا اٹھتا تھا، ’’ہائے وقت، ہائے وقت، ہائے گزرے ہوئے زمانے۔ افسوس کہ میں نے تجھے بہت دیر میں یاد کیا۔‘‘\n\nپھر وہ اپنی جوانی کا زمانہ یاد کرتا تھا۔ اپنا سرخ سفید چہرہ، سڈول ڈیل، بھرا بھرا بدن رسیلی آنکھیں، موتی کی لڑی سے دانت، امنگ میں بھرا ہوا دل۔ جذبات انسانی کے جوشوں کی خوشی اسے یاد آتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں اندھیرا چھائے ہوئے زمانے میں ماں باپ جو نصیحت کرتے تھے اور نیکی اور خدا پرستی کی بات بتاتے تھے اور یہ کہتا تھا، ’’آہ ابھی بہت وقت ہے۔‘‘ اور بڑھاپے آنے کا کبھی خیال بھی نہیں کرتا تھا۔ اس کو یاد آتا تھا اور افسوس کرتا تھا کہ کیا اچھا ہوتا اگر جب ہی میں اس وقت کا خیال کرتا اور خدا پرستی اور نیکی سے اپنے دل کو سنوارتا اور موت کے لئے تیار رہتا۔ آہ وقت گزر گیا۔ آہ وقت گزر گیا۔ اب پچھتائے کیا ہوتا ہے۔ افسوس میں نے آپ اپنے تئیں ہمیشہ یہ کہہ کر برباد کیا کہ ’’ابھی وقت بہت ہے۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور ٹٹول ٹٹول کر کھڑکی تک آیا۔ کھڑکی کھولی، دیکھا کہ رات ویسی ہی ڈراؤنی ہے، اندھیری گھٹا چھا رہی ہے۔ بجلی کی کڑک سے دل پھٹا جاتا ہے۔ ہولناک آندھی چل رہی ہے۔ درختوں کے پتے اڑتے ہیں اور ٹہنے ٹوٹتے ہیں۔ تب وہ چلا کر بولا، ’’ہائے ہائے، میری گزری ہوئی زندگی بھی ایسی ہی ڈراؤنی ہے جیسی یہ رات۔‘‘ یہ کہہ کر پھر اپنی جگہ آبیٹھا۔\n\nاتنے میں اس کو اپنے ماں باپ، بھائی بہن، دوست، آشنا یاد آئے جن کی ہڈیاں قبروں میں گل کر خاک ہو چکی تھیں۔ ماں گویا محبت سے اس کو چھاتی سے لگائے آنکھوں میں آنسو بھرے کھڑی ہے یہ کہتی ہوئی کہ ہائے بیٹا وقت گزر گیا۔ باپ کا نورانی چہرہ اس کے سامنے ہے اور اس میں یہ آواز آتی ہے کہ کیوں بیٹا ہم تمہارے ہی بھلے کے لئے نہ کہتے تھے۔ بھائی بہن دانتوں میں انگلی دیئے ہوئے خاموش ہیں اور ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جا ری ہے۔ دوست، آشنا سب غمگین کھڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب ہم کیا کر سکتے ہیں۔\n\nایسی حالت میں اس کو اپنی وہ باتیں یاد آتی تھیں جو اس نے نہایت بے پروائی اور بے مروتی اور کج خلقی سے اپنے ماں باپ، بھائی بہن، دوست، آشنا کے ساتھ برتی تھیں۔ ماں کو رنجیدہ رکھنا، باپ کو ناراض کرنا، بھائی بہن سے بے مروت رہنا، دوست، آشنا کے ساتھ ہمدردی نہ کرنا یاد آتا تھا۔ اور اس پر ان گلی ہڈیوں میں سے ایسی محبت کا دیکھنا اس کے دل کو پاش پاش کرتا تھا۔ اس کا دم چھاتی میں گھٹ جاتا تھا اور یہ کہہ کر چلا اٹھتا تھا کہ ’’ہائے وقت نکل گیا، ہائے وقت نکل گیا۔ اب کیوں کر اس کا بدل ہو۔‘‘\n\nوہ گھبرا کر پھر کھڑکی کی طرف دوڑا اور ٹکراتا لڑتا کھڑکی تک پہنچا۔ اس کو کھولا اور دیکھا کہ ہوا کچھ ٹھہری ہے اور بجلی کی کڑک کچھ تھمی ہے پر رات ویسی ہی اندھیری ہے۔ اس کی گھبراہٹ کچھ کم ہوئی اور پھر اپنی جگہ آبیٹھا۔\n\nاتنے میں اس کو اپنا ادھیڑ پنا یاد آیا جس میں نہ وہ جوانی رہی تھی اور نہ وہ جوانی کا جوبن۔ نہ وہ دل رہا تھا اور نہ دل کے ولولوں کا جوش۔ اس نے اپنی اس نیکی کے زمانہ کو یاد کیا جس میں وہ بہ نسبت بدی کے نیکی کی طرف زیادہ مائل تھا۔ وہ اپنا روزہ رکھنا، نمازیں پڑھنی، حج کرنا، زکوٰۃ دینی، بھوکوں کو کھلانا، مسجدیں اور کنوئیں بنوانا یاد کر کے اپنے دل کو تسلی دیتا تھا۔ فقیروں اور درویشوں کی جن کی خدمت کی تھی، اپنے پیروں کو جن سے بیعت کی تھی، اپنی مدد کو پکارتا تھا۔ مگر دل کی بے قراری نہیں جاتی تھی۔ وہ دیکھتا تھا کہ اس کے ذاتی اعمال کا اسی تک خاتمہ ہے۔ بھوکے پھر ویسے ہی بھوکے ہیں۔ مسجدیں ٹوٹ کر یا تو کھنڈر ہیں اور پھر ویسے ہی جنگل ہیں۔ کنوئیں اندھے پڑے ہیں۔ نہ پیر اور نہ فقیر۔ کوئی اس کی آواز نہیں سنتا اور نہ مدد کرتا ہے۔ اس کا دل پھر گھبراتا ہے اور سوچتا ہے کہ میں نے کیا کیا جو تمام فانی چیزوں پر دل لگایا۔ پچھلی سمجھ پہلے ہی کیوں نہ سوجھی۔ اب کچھ بس نہیں چلتا اور پھر یہ کہہ کر چلا اٹھا،\n\n’’ہائے وقت، ہائے وقت، میں نے تجھ کو کیوں کھودیا۔‘‘\n\nوہ گھبرا کر پھر کھڑکی کی طرف دوڑا۔ اس کے پٹ کھولے تو دیکھا کہ آسمان صاف ہے۔ آندھی تھم گئی ہے۔ گھٹا کھل گئی ہے تارے نکل آئے ہیں۔ ان کی چمک سے اندھیرا بھی کچھ کم ہو گیا ہے۔ وہ دل بہلانے کے لئے تاروں بھری رات کو دیکھ رہا تھا کہ یکایک اس کو آسمان کے بیچ میں ایک روشنی دکھائی دی اور اس میں ایک خوبصورت دلہن نظر آئی۔ اس نے ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھنا شروع کیا۔ جوں جوں وہ اسے دیکھتا تھا وہ قریب ہوتی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ وہ اس کے بہت پاس آگئی۔ وہ اس کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیران ہو گیا اور نہایت پاک دل اور محبت کے لہجے سے اس سے پوچھا،\n\n’’کہ تم کون ہو۔‘‘\n\nوہ بولی کہ ’’میں ہمیشہ زندہ رہنے والی نیکی ہوں۔‘‘\n\nاس نے پوچھا کہ’’تمھاری تسخیر کا بھی کوئی عمل ہے۔‘‘\n\nوہ بولی، ’’ہاں ہے۔ نہایت آسان، پر بہت مشکل۔ جو کوئی خدا کے فرض اس بدوی کی طرح جس نے کہا، ’’واللہ لا ایزید ولا انقص۔‘‘ ادا کر کہ انسان کی بھلائی اور اس کی بہتری میں سعی کرے۔ اس کی میں مسخر ہوتی ہوں۔ دنیا میں کوئی چیز ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے۔ انسان ہی ایسی چیز ہے اخیر تک رہے گا۔ پس جو بھلائی کہ انسان کی بہتری کے لیے کی جاتی ہے وہی نسل در نسل اخیر تک چلی آتی ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اسی تک ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی موت ان سب چیزوں کو ختم کر دیتی ہے۔ مادی چیزیں بھی چند روز میں فنا ہو جاتی ہیں مگر انسان کی بھلائی اخیر تک جا رہی رہتی ہے۔ میں تمام انسانوں کی روح ہوں۔ جو مجھ کو تسخیر کرنا چاہے، انسان کی بھلائی میں کوشش کرے۔ کم سے کم اپنی قوم کی بھلائی میں دل و جان و مال سے ساعی ہو۔ یہ کہہ کر وہ دلہن غائب ہو گئی اور بڈھا پھر اپنی جگہ آبیٹھا۔‘‘\n\nاب پھر اس نے اپنا پچھلا زمانہ یاد کیا اور دیکھا کہ اس نے اپنی پچپن برس کی عمر میں کوئی کام بھی انسان کی بھلائی اور کم سے کم اپنی قومی بھلائی کا نہیں کیا تھا۔ اس کے تمام کام ذاتی غرض پر مبنی تھے۔ نیک کام جو کئے تھے ثواب کے لالچ اور گویا خدا کو رشوت دینے کی نظر سے کئے تھے۔ خاص قومی بھلائی کی خالص نیت سے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔\n\nاپنا حال سوچ کر وہ اس دل فریب دلہن کے ملنے سے مایوس ہوا۔ اپنا اخیر زمانہ دیکھ کر آئندہ کرنے کی بھی کچھ امید نہ پائی۔ تب تو نہایت مایوسی کی حالت میں بے قرار ہو کر چلا اٹھا،\n\n’’ہائے وقت، ہائے وقت، کیا پھر تجھے میں بلا سکتا ہوں۔ ہائے میں دس ہزار دیناریں دیتا اگر وقت پھر آتا اور میں جوان ہو سکتا۔‘‘\n\nیہ کہہ کر اس نے ایک آہ سرد بھری اور بے ہوش ہو گیا۔\n\nتھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ اس کے کانوں میں میٹھی میٹھی باتوں کی آواز آنے لگی۔ اس کی پیاری ماں اس کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ اس کو گلے لگا کر اس کی بلائیں لیں۔ اس کا باپ اس کو دکھائی دیا۔ چھوٹے چھوٹے بھائی بہن اس کے گرد آ کر کھڑے ہوئے۔ ماں نے کہا کہ بیٹا کیوں برس کے برس دن روتا ہے، کیوں تو بیقرار ہے۔ کس لئے تیری ہچکی بندھ گئی ہے۔ اٹھ منہ ہاتھ دھو، کپڑے پہن۔ نوروز کی خوشی منا، تیرے بھائی بہن تیرے منتظر کھڑے ہیں۔ تب وہ لڑکا جاگا اور سمجھا کہ میں نے خواب دیکھا اور خواب میں بڈھا ہو گیا تھا۔ اس نے اپنا سارا خواب اپنی ماں سے کہا۔ اس نے سن کر اس کو جواب دیا کہ بیٹا بس تو ایسا مت کر جیسا اس پشیمان بڈھے نے کیا بلکہ ایسا کر جیسا تیری دلہن نے تجھ سے کہا۔\n\nیہ سن کر وہ لڑکا پلنگ پر سے کود پڑا اور نہایت خوشی سے پکارا،\n\n’’او یہی میری زندگی کا پہلا دن ہے۔ میں کبھی اس بڈھے کی طرح نہ پچتھاؤں گا اور ضرور اس دلہن کو بیاہوں گا جس نے ایسا خوبصورت اپنا چہرہ مجھ کو دکھلایا اور ہمیشہ زندہ رہنے والی نیکی اپنا نام بتلایا۔ او خدا او خدا تو میری مدد کر۔ آمین۔\n\nپس اے میرے پیارے نوجوان ہم وطنو! اور اے میری قوم کے بچو! اپنی قوم کی بھلائی پر کوشش کرو تاکہ اخیر وقت میں اس بڈھے کی طرح نہ پچھتاؤ۔ ہمارا زمانہ تو اخیر ہے اب خدا سے یہ دعا ہے کہ کوئی نوجوان اٹھے اور اپنی قوم کی بھلائی میں کوشش کرے۔ آمین", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "گزرے وعدے کو وہ خود یاد دلا دیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گزرے وعدے کو وہ خود یاد دلا دیتے ہیں\nدل کی سوئی ہوئی حسرت کو جگا دیتے ہیں\n\nنو گرفتار قفس ہیں نہیں کرتے فریاد\nجان کو تیری یہ صیاد دعا دیتے ہیں\n\nطالب جلوۂ دیدار سمجھ کر مجھ کو\nاک جھلک سی رخ روشن کی دکھا دیتے ہیں\n\nذبح کرتے ہیں تڑپنے نہیں دیتے مجھ کو\nتہہ زانو مری گردن کو دبا دیتے ہیں\n\nاپنے موقع پہ ہر اک بات بھلی ہوتی ہے\nشب فرقت میں یہ صدمے بھی مزا دیتے ہیں\n\nغیر کے کہنے سے در گور کہا کرتے ہیں\nجیتے جی وہ مجھے پیغام قضا دیتے ہیں\n\nمیں وہ قیدی ہوں کہ سونے نہیں دیتے مجھ کو\nآنکھ لگتی ہے تو زنجیر ہلا دیتے ہیں\n\nلے لیا بوسۂ رخسار تو کیا جرم کیا\nپیار کی بات پہ ناحق وہ سزا دیتے ہیں\n\nشمع محفل ہوں نہ عاشق نہ میں بوئے گل ہوں\nمہ جبیں کیوں مجھے آنچل کی ہوا دیتے ہیں\n\nان کے قبضہ میں ہے کونین کی شاہی عاشقؔ\nشاہ وہ دے نہیں سکتے جو گدا دیتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%92_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%AF%D9%84%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گزک کی اس قدر اے مست تجھ کو کیا شتابی ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گزک کی اس قدر اے مست تجھ کو کیا شتابی ہے\nہمارا بھی دل صد لخت دوکان کبابی ہے\n\nنہیں جز قرص مہر و ماہ کچھ گردوں کے مطبخ میں\nسو وہ بھی ایک نان سوختہ اور ایک آبی ہے\n\nچھڑا مشاطہ زلف یار کو شانے کے نیچے سے\nکہ اس کی کشمکش سے دل کو میرے پیچ و تابی ہے\n\nبدن پر کچھ مرے ظاہر نہیں اور دل میں سوزش ہے\nخدا جانے یہ کس نے راکھ اندر آگ دابی ہے\n\nشکست آتی ہے اس میں موج مے سے دیکھیو ساقی\nبچانا ٹھیس سے شیشہ مرے دل کا حبابی ہے\n\nرہے ہے کام ہم کو روز و شب قرآن و مسجد سے\nکہ ابرو اس کی ہے محراب اور چہرا کتابی ہے\n\nکسو کے ابلق ایام چڑھنے کا نہیں راضی\nازل سے حاتمؔ اس توسن میں عیب بدر کابی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B2%DA%A9_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "گشت نہ کر ادھر ادھر بے خبری جہاں میں ہے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گشت نہ کر ادھر ادھر بے خبری جہاں میں ہے\nاپنے ہی دل میں غور کر دیکھ مکیں مکاں میں ہے\n\nرات تمام کھو چکا نیند سے سیر ہو چکا\nجاگ کہ خوب سو چکا کوس اجل فغاں میں ہے\n\nکس سے مثال تجھ کو دوں غیر کہاں جو نام لوں\nحال کہوں تو کیا کہوں قفل ادب زباں میں ہے\n\nپاؤں بہت تھکا چکا شام کا قرب آ چکا\nدوڑ کہ وقت جا چکا تو پس کارواں میں ہے\n\nدیکھ کہیں دغا نہ ہو جسم سے جاں جدا نہ ہو\nجلد سنبھل خطا نہ ہو تیر اجل کماں میں ہے\n\nمنزل گور تنگ ہے پائے فراغ لنگ ہے\nتجھ کو ابھی امنگ ہے اور ہی کچھ گماں میں ہے\n\nتجھ کو نسیمؔ کیا ہوا دید جہاں سے دل اٹھا\nرنگ فریب جا بہ جا ہر گل بوستاں میں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D8%B4%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "گفتگو ہو دبی زبان بہت", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گفتگو ہو دبی زبان بہت\nہیں لگائے رقیب کان بہت\n\nکیوں نہ گردش اٹھائے جان بہت\nایک میں اور آسمان بہت\n\nگالیوں کی روش کو کم کیجے\nآپ کی چلتی ہے زبان بہت\n\nدل کلیجہ دماغ سینہ و چشم\nان کے رہنے کے ہیں مکان بہت\n\nماہ سا رخ سخیؔ کو دکھلایا\nآج تو تھے وہ مہربان بہت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D8%A8%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%A8%DB%81%D8%AA"} {"title": "گل افشانی کے دم بھرتی ہے چشم خوں فشاں کیا کیا", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل افشانی کے دم بھرتی ہے چشم خوں فشاں کیا کیا\nہمارے زیب دامن ہے بہار گلستاں کیا کیا\n\nکشود مطلب عاشق کے ہیں لب پر گماں کیا کیا\nادائے خامشی میں بھر دیا رنگ بیاں کیا کیا\n\nفقط اک سادگی پر شوخیوں کے ہیں گماں کیا کیا\nنگاہ شرمگیں سے ہے نہاں کیا کیا عیاں کیا کیا\n\nدل خوں گشتہ حسرت نے کیا کچھ گل کھلائے ہیں\nبہار آگیں ہے کچھ اب کی برس فصل خزاں کیا کیا\n\nجنوں سے کم نہیں ہے کچھ ہجوم شادمانی بھی\nہوائے گل میں ہے جامہ سے باہر باغباں کیا کیا\n\nتصور میں وصال یار کے سامان ہوتے ہیں\nہمیں بھی یاد ہیں حسرت کی بزم آرائیاں کیا کیا\n\nچلی آتی ہے اترائی ہوئی کچھ کوئے جاناں سے\nبسی ہے رشک کی بو میں نسیم بوستاں کیا کیا\n\nقدم رکھتے نہیں ہیں وہ زمیں پر بے نیازی سے\nبڑھا جاتا ہے یاں شوق سجود آستاں کیا کیا\n\nظہیرؔ خستہ جاں سچ ہے محبت کچھ بری شے ہے\nمجازی میں حقیقی کے ہوئے ہیں امتحاں کیا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%D8%A7%D9%81%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D9%81%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گل بھی خوش طلعت ہے پر اے ماہ تو کچھ اور ہے", "poet_page": "مصنف:میر شیر علی افسوس", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل بھی خوش طلعت ہے پر اے ماہ تو کچھ اور ہے\nباس اس میں اور کچھ ہے تجھ میں بو کچھ اور ہے\n\nکہنے سننے کا نہیں یہ وقت جا واعظ کہیں\nعالم مستی میں اپنی گفتگو کچھ اور ہے\n\nحور و غلماں کی ہوس کافر ہو جس کو ٹک بھی ہو\nعاشقوں کے دل کی زاہد آرزو کچھ اور ہے\n\nٹوکتا تو میں نہیں پر ان دنوں نام خدا\nخوب چمکے ہو تمہارا رنگ رو کچھ اور ہے\n\nطشت و خنجر گردن و سر جمع ہیں مت دیر کر\nقصد گر دل میں ترے اے جنگجو کچھ اور ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%B7%D9%84%D8%B9%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "گل ترے مکھ کی فکر میں بیمار", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل ترے مکھ کی فکر میں بیمار\nجیو بلبل کا تجھ قدم پہ نثار\n\nگل کوں اے شوخ مکھ تنک دکھلا\nکہ خزاں کر دکھا دے اس کوں بہار\n\nمست سے دل کوں ہے حذر لازم\nنین تیرے بہت ہوئے سرشار\n\nاس گلی میں قدم کرم سوں دھر\nکہ کروں ہر قدم پہ جیو نثار\n\nمارتی مجھ کوں اے کماں ابرو\nیہ پلک تیر و یہ نگہ تلوار\n\nہجر میں تیرے آہ کرتا ہے\nدل عاشق نہیں ہے ٹک بے کار\n\nکیا کرے تجھ سے پاپی سوں فائزؔ\nسینہ غم سوں ہے تیرے آبلہ دار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%85%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1"} {"title": "گل رخوں نے کئے ہیں سیر کا ٹھاٹ", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل رخوں نے کئے ہیں سیر کا ٹھاٹ\nگلشن آباد کا بھرا ہے ہاٹ\n\nتیغ ابرو سیں میں شہید ہوا\nاس سروہی کا کیا بلا ہے کاٹ\n\nدل میں آ راہ چشم حیراں سیں\nکھل رہے ہیں مری پلک کے پاٹ\n\nزہر ہیں اس کوں نعمت الوان\nلذت عشق کی جسے ہے چاٹ\n\nنہیں اثر تیر آہ کوں اس میں\nدل سنگیں ترا ہے لوہا لاٹ\n\nپنجۂ عشق کے شکنجہ سیں\nمیں ہوا شش جہت میں بارہ باٹ\n\nاے سراجؔ اشک کے چراغوں کوں\nنئے مژگاں سیں ہم نے باندھے ٹھاٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%B9"} {"title": "گل رہے نہیں نام کو سرکش ہیں خاراں العیاذ", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل رہے نہیں نام کو سرکش ہیں خاراں العیاذ\nکھٹکے ہے آنکھوں میں یہ سونا گلستاں العیاذ\n\nخاک سر پر کر بگولے سے غم مجنوں میں ہائے\nپھاڑتا ہے دامن صحرا گریباں العیاذ\n\nبسکہ ہر کانٹے سے دل چھید ایک بلبل مر رہے\nہو گیا گلشن خزاں میں بلبلستاں العیاذ\n\nڈالتے ہیں اہل دنیا خیمے اب صحرا کے بیچ\nفوت مجنوں سے ہے بے وارث بیاباں العیاذ\n\nنکلے ہے جیب جنون صبح سے جوں آفتاب\nداغ ہے چاکوں سے عزلت کا گریباں العیاذ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%B4_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%84%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%B0"} {"title": "گل زار میں جو دور گل لالہ رنگ ہو", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل زار میں جو دور گل لالہ رنگ ہو\nوہ بے حجابیاں ہوں کہ نرگس بھی دنگ ہو\n\nصیاد و باغباں میں بہت ہوتی ہے صلاح\nایسا نہ ہو کہیں گل و بلبل میں جنگ ہو\n\nافسوس موت بھی نہیں آتی شب فراق\nوہ کیا کرے غریب جو جینے سے تنگ ہو\n\nکافی ہے بوریا ہی فقیروں کے واسطے\nمعیوب ہے جو شیروں کے گھر میں پلنگ ہو\n\nلڑنے کو دل جو چاہے تو آنکھیں لڑائیے\nہو جنگ بھی اگر تو مزے دار جنگ ہو\n\nجو دوست ہیں وہ مانگتے ہیں صلح کی دعا\nدشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپس میں جنگ ہو\n\nکوئی مرے کسی کو خوشی ہو خدا کی شان\nماتم کسی جگہ ہو کہیں ناچ رنگ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DA%AF%D9%84_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DB%81%D9%88"} {"title": "گل زار میں یہ کہتی ہے بلبل گل تر سے", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل زار میں یہ کہتی ہے بلبل گل تر سے\nدیکھے کوئی معشوق کو عاشق کی نظر سے\n\nلو اور سنو کہتے ہیں وہ ہم سے بگڑ کر\nدیکھو ہمیں دیکھو نہ محبت کی نظر سے\n\nوہ اٹھی وہ آئی وہ گھٹا چھا گئی ساقی\nمے خانے پہ اللہ کرے ٹوٹ کے برسے\n\nمے خانہ پہ گھنگھور گھٹا چھائی ہے بیکار\nکھلنا ہو تو کھل جائے برسنا ہو تو برسے\n\nکیا عشق ہے کیا شوق ہے کیا رشک ہے کیا لاگ\nدل جلوہ گاہ ناز میں آگے ہے نظر سے\n\nاس خوف سے مل لیتے ہیں وہ نوحؔ سے اکثر\nطوفاں نہ اٹھائے کہیں یہ دیدۂ تر سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D8%AA%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "گل زار ہے داغوں سے یہاں تن بدن اپنا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل زار ہے داغوں سے یہاں تن بدن اپنا\nکچھ خوف خزاں کا نہیں رکھتا چمن اپنا\n\nاشکوں کے تسلسل نے چھپایا تن عریاں\nیہ آب رواں کا ہے نیا پیرہن اپنا\n\nکس طرح بنے ایسے سے انصاف تو ہے شرط\nیہ وضع مری دیکھو وہ دیکھو چلن اپنا\n\nانکار نہیں آپ کے گھر چلنے سے مجھ کو\nمیں چلنے کو موجود جو چھوڑو چلن اپنا\n\nمسکن کا پتہ خانہ بدوشوں سے نہ پوچھو\nجس جا پہ کہ بس گر رہے وہ ہے وطن اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%BA%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%86_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "گل شرم سے بہہ جائے گا گلشن میں ہو کر آب سا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل شرم سے بہہ جائے گا گلشن میں ہو کر آب سا\nبرقعے سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا\n\nگل برگ کا یہ رنگ ہے مرجاں کا ایسا ڈھنگ ہے\nدیکھو نہ جھمکے ہے پڑا وہ ہونٹ لعل ناب سا\n\nوہ مایۂ جاں تو کہیں پیدا نہیں جوں کیمیا\nمیں شوق کی افراط سے بیتاب ہوں سیماب سا\n\nدل تاب ہی لایا نہ ٹک تا یاد رہتا ہم نشیں\nاب عیش روز وصل کا ہے جی میں بھولا خواب سا\n\nسناہٹے میں جان کے ہوش و حواس و دم نہ تھا\nاسباب سارا لے گیا آیا تھا اک سیلاب سا\n\nہم سرکشی سے مدتوں مسجد سے بچ بچ کر چلے\nاب سجدے ہی میں گزرے ہے قد جو ہوا محراب سا\n\nتھی عشق کی وہ ابتدا جو موج سی اٹھی کبھو\nاب دیدۂ تر کو جو تم دیکھو تو ہے گرداب سا\n\nبہکے جو ہم مست آ گئے سو بار مسجد سے اٹھا\nواعظ کو مارے خوف کے کل لگ گیا جلاب سا\n\nرکھ ہاتھ دل پر میرؔ کے دریافت کر کیا حال ہے\nرہتا ہے اکثر یہ جواں کچھ ان دنوں بیتاب سا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%D8%B4%D8%B1%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%81%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%A2%D8%A8_%D8%B3%D8%A7"} {"title": "گل مرقع ہیں ترے چاک گریبانوں کے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل مرقع ہیں ترے چاک گریبانوں کے\nشکل معشوق کی انداز ہیں دیوانوں کے\n\nنہ رکیں گے در و دیوار سے زندانوں کے\nخود بخود پاؤں اٹھے جاتے ہیں دیوانوں کے\n\nپینگ وحشت میں بڑھے ہیں ترے دیوانوں کے\nاب بیاباں بھی انہیں صحن ہیں زندانوں کے\n\nایک کیا جن کے ہر اک ذرے میں گم ہوں سو حشر\nہم بگولے بنے ایسے کئی میدانوں کے\n\nکعبہ و دیر میں ہوتی ہے پرستش کس کی\nمے پرستو یہ کوئی نام ہیں مے خانوں کے\n\nکچھ اس انداز سے آ بیٹھے ہیں وہ شمع کے پاس\nدیکھ کر دور سے پر جلتے ہیں پروانوں کے\n\nلے گیا آپ کے دیوانوں کو سودائے بہار\nدر و دیوار ہیں ٹوٹے ہوئے زندانوں کے\n\nجام ہے توبہ شکن توبہ مری جام شکن\nسامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے\n\nہاتھ کیوں کھینچ لیا پھیر کے خنجر تو نے\nسر جگہ سے نہیں اٹھتے ہیں گراں جانوں کے\n\nدر سے بڑھنے نہیں دیتا ہے مجھے ذوق سجود\nمیں ہوں نقش کف پا ہیں تری دربانوں کے\n\nنہیں گنتی میں مگر بزم سخن ہے روشن\nآج میں شمع ہوں مجمع میں سخن دانوں کے\n\nقطرے ہیں کوثر و تسنیم کف ساقی میں\nخم افلاک تو پیمانے ہیں مے خانوں کے\n\nوسعت ذات میں گم وحدت و کثرت ہے ریاضؔ\nجو بیاباں ہیں وہ ذرے ہیں بیابانوں کے\n\nواہ کیا نامۂ اعمال ہیں دیوانوں کے\nکہ فرشتے لیے ٹکڑے ہیں گریبانوں کے\n\nہوش اڑتے ہوئے دیکھے نہیں انسانوں کے\nلطف مے خانوں میں آتے ہیں پری خانوں کے\n\nنقش پا رہ نہیں سکتے ترے دیوانوں کے\nاے جنوں صحن بہت تنگ ہے زندانوں کے\n\nپر پرواز بنے خود شرر شمع کبھی\nشرر شمع بنے پر کبھی پروانوں کے\n\nاپنے کوچے میں جو دیکھا تو وہ ہنس کر بولے\nچھاننے والے کہاں آئے بیابانوں کے\n\nذکر کیا اہل جنوں کا کہ جب آتی ہے بہار\nوہ تو وہ رنگ بدل جاتے ہیں زندانوں کے\n\nآج بت بیٹھے ہیں تقدیر کے مالک بن کر\nاب جو لکھا ہو مقدر میں مسلمانوں کے\n\nبام تک تیرے ذریعہ ہے رسائی کی یہی\nدور سے جھک کے قدم لوں ترے دربانوں کے\n\nان کے بکھرے ہوئے گیسو نہیں ہٹتے رخ سے\nآج نکلے ہیں وہ جھرمٹ میں نگہبانوں کے\n\nساتھ والوں میں مرے کوہ کن و قیس بھی ہیں\nمیرے قصے نہیں ٹکڑے کوئی افسانوں کے\n\nچشم یعقوب بنے حلقۂ زنجیر کی آنکھ\nکبھی تقدیر سے دن پھرتے ہیں زندانوں کے\n\nغیرت حق کو ہو کیا جوش جب اعمال یہ ہیں\nکم ہے جو کچھ ہو مقدر میں مسلمانوں کے\n\nدور سے دیکھ کے پھرنا وہ مرا الٹے پاؤں\nاف وہ بدلے ہوئے تیور ترے دربانوں کے\n\nمہ و انجم سے ٹپکتا ہے یہی راتوں کو\nان میں ٹوٹے ہوئے ساغر بھی ہیں مے خانوں کے\n\nانہیں ٹھکراتے چلو حشر میں لطف آئے گا\nانہیں قبروں میں ہیں مارے ہوئے ارمانوں کے\n\nنکلی جاتی ہے زمیں پاؤں کے نیچے سے ریاضؔ\nکیوں دعا کو نہ اٹھیں ہاتھ مسلمانوں کے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%B9_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92"} {"title": "گل و بلبل بہار میں دیکھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل و بلبل بہار میں دیکھا\nایک تجھ کو ہزار میں دیکھا\n\nجل گیا دل سفید ہیں آنکھیں\nیہ تو کچھ انتظار میں دیکھا\n\nجیسا مضطر تھا زندگی میں دل\nووہیں میں نے قرار میں دیکھا\n\nآبلے کا بھی ہونا دامن گیر\nتیرے کوچے کے خار میں دیکھا\n\nتیرہ عالم ہوا یہ روز سیاہ\nاپنے دل کے غبار میں دیکھا\n\nذبح کر میں کہا تھا مرتا ہوں\nدم نہیں مجھ شکار میں دیکھا\n\nجن بلاؤں کو میرؔ سنتے تھے\nان کو اس روزگار میں دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%D9%88_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "گل ویرانہ ہوں کوئی نہیں ہے قدرداں میرا", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل ویرانہ ہوں کوئی نہیں ہے قدرداں میرا\nتو ہی دیکھ اے مرے خلاق حسن رائیگاں میرا\n\nیہ کہہ کر روح نکلی ہے تن عاشق سے فرقت میں\nمجھے عجلت ہے بڑھ جائے نہ آگے کارواں میرا\n\nہوا اس کو اڑا لے جائے اب یا پھونک دے بجلی\nحفاظت کر نہیں سکتا مری جب آشیاں میرا\n\nزمیں پر بار ہوں اور آسمان سے دور اے مالک\nنہیں معلوم کچھ آخر ٹھکانا ہے کہاں میرا\n\nمجھے نغمے کا لطف آتا ہے راتوں کی خموشی میں\nدل بشکستہ ہے اک ساز آہنگ فغاں میرا\n\nوہیں سے ابتدائے کوچۂ دلدار کی حد ہے\nقدم خود چلتے چلتے آ کے رک جائے جہاں میرا\n\nذرا دور اور ہے اے کشتئ عمر رواں ساحل\nکہ اس بحر جہاں میں ہر نفس ہے بادباں میرا\n\nہوئی جاتی ہے تنہائی میں لذت روح کی ضائع\nلٹا جاتا ہے ویرانے میں گنج شائگاں میرا\n\nعناصر ہنستے ہیں دنیا کی وسعت مسکراتی ہے\nکسی سے پوچھتے ہیں اہل بینش جب نشاں میرا\n\nمرے بعد اور پھر کوئی نظر مجھ سا نہیں آتا\nبہت دن تک رکھیں گے سوگ اہل خانداں میرا\n\nغنیمت ہے نفس دو چار جو باقی ہیں اب ورنہ\nکبھی کا لٹ چکا سرمایۂ سود و زیاں میرا\n\nابھی تک فصل گل میں اک صدائے درد آتی ہے\nوہاں کی خاک سے پہلے جہاں تھا آشیاں میرا\n\nرواںؔ سچ ہے محبت کا اثر ضائع نہیں ہوتا\nوہ رو دیتے ہیں اب بھی ذکر آتا ہے جہاں میرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی\nاے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی\n\nکیا ضد ہے مرے ساتھ خدا جانے وگرنہ\nکافی ہے تسلی کو مری ایک نظر بھی\n\nاے ابر قسم ہے تجھے رونے کی ہمارے\nتجھ چشم سے ٹپکا ہے کبھو لخت جگر بھی\n\nاے نالہ صد افسوس جواں مرنے پہ تیرے\nپایا نہ تنک دیکھنے تیں روئے اثر بھی\n\nکس ہستئ موہوم پہ نازاں ہے تو اے یار\nکچھ اپنے شب و روز کی ہے تج کو خبر بھی\n\nتنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش\nرہتا ہے سدا چاک گریبان سحر بھی\n\nسوداؔ تری فریاد سے آنکھوں میں کٹی رات\nآئی ہے سحر ہونے کو ٹک تو کہیں مر بھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%A8%D9%84%DA%A9%DB%81_%D8%AB%D9%85%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "گل کا کیا جو چاک گریباں بہار نے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل کا کیا جو چاک گریباں بہار نے\nدست جنوں لگے مرے کپڑے اتارنے\n\nچھوڑا کہیں نہ مجھ کو نسیم بہار نے\nکنج قفس میں بھی مجھے آئی ابھارنے\n\nاب دل کی لاج مشق تصور کے ہاتھ ہے\nشیشہ میں اس پری کو چلا ہے اتارنے\n\nساقی تو ساقی بادہ پرستوں کے پاؤں پر\nسجدے کرائے لغزش مستانہ وار نے\n\nاب تو نظر میں دولت کونین ہیچ ہے\nجب تجھ کو پا لیا دل امیدوار نے\n\nچشم ادا شناس کو حیران کر دیا\nحسن اپنا ذرے ذرے میں دکھلا کے یار نے\n\nبیدمؔ تمہاری آنکھیں ہیں کیا عرش کا چراغ\nروشن کیا ہے نقش کف پائے یار نے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D8%A7%DA%A9_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92"} {"title": "گل کو محبوب ہم قیاس کیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل کو محبوب ہم قیاس کیا\nفرق نکلا بہت جو پاس کیا\n\nدل نے ہم کو مثال آئینہ\nایک عالم کا روشناس کیا\n\nکچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن\nشوق نے ہم کو بے حواس کیا\n\nعشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے\nقیس کی آبرو کا پاس کیا\n\nدور سے چرخ کے نکل نہ سکے\nضعف نے ہم کو مورطاس کیا\n\nصبح تک شمع سر کو دھنتی رہی\nکیا پتنگے نے التماس کیا\n\nتجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں\nسو ترے ظلم نے نراس کیا\n\nایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں\nمیرؔ کو تم عبث اداس کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8_%DB%81%D9%85_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گل کی اور بلبل کی صحبت کو چمن کا شانہ ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل کی اور بلبل کی صحبت کو چمن کا شانہ ہے\nسرو ہے جوں شمع تس پر فاختہ پروانہ ہے\n\nروز و شب یا نوحہ یا زاری ہے یا آہ و فغاں\nیا الٰہی یہ کوئی دل ہے کہ ماتم خانہ ہے\n\nتن کر اس کی تیغ کے آگے ہوا ہے سر بکف\nہے قیامت ہے غضب یہ دل ہے یا دیوانہ ہے\n\nبلبل تصویر کی مانند صید دل کے تئیں\nنے ہوا اڑنے کی نے پروائے آب و دانہ ہے\n\nایک حالت پر نہ دیکھا اس کو ہم نے ایک آن\nگہ گل و گہ بلبل و گہ شمع و گہ پروانہ ہے\n\nمعتکف ہو شیخ اپنے دل میں مسجد سے نکل\nصاحب دل کی بغل میں دل عبادت خانہ ہے\n\nمے کشو مجھ کو تمہاری بزم کی حسرت نہیں\nپاس میرے دیدہ و دل شیشہ و پیمانہ ہے\n\nخواب میں تھے جب تلک تھا دل میں دنیا کا خیال\nکھل گئیں آنکھیں تو دیکھا ہم نے سب افسانہ ہے\n\nشعر استادانہ و حاتمؔ ہے بے باکانہ وضع\nطبع آزادانہ و اوقات درویشانہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D9%85%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "گل کی خونیں جگری یاد آئی", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل کی خونیں جگری یاد آئی\nپھر نسیم سحری یاد آئی\n\nآج فرمان رہائی پہنچا\nآج بے بال و پری یاد آئی\n\nدشمن آباد رہیں جن کے طفیل\nاپنی عالی گہری یاد آئی\n\nجب کسی نے مری آنکھیں سی دیں\nتب مجھے دیدہ وری یاد آئی\n\nساز جب ٹوٹ گئے ہم نفسو\nاب تمہیں نغمہ گری یاد آئی\n\nکبھی روشن جو ہوئی شمع بہار\nباغ کی بے بصری یاد آئی\n\nکم نہ تھے گردش دوراں کے گلے\nکیوں تری کم نظری یاد آئی\n\nپہلے معلوم نہ تھا دل کا مقام\nاب تمہیں شیشہ گری یاد آئی\n\nآج ارباب خرد کو عابدؔ\nمیری شوریدہ سری یاد آئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DA%AF%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے", "poet_page": "مصنف:ماہ لقا بائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے\nہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہے\n\nکبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوف خزاں\nبلبل اب جان ہتھیلی پہ لیے بیٹھی ہے\n\nتیر و شمشیر سے بڑھ کر ہے تری ترچھی نگاہ\nسیکڑوں عاشقوں کا خون کیے بیٹھی ہے\n\nتیرے رخسار سے تشبیہ اسے دوں کیوں کر\nشمع تو چربی کو آنکھوں میں دیئے بیٹھی ہے\n\nتشنہ لب کیوں رہے اے ساقیٔ کوثر چنداؔ\nیہ ترے جام محبت کو پیے بیٹھی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D9%82%D8%B9_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "گل ہوا یہ کس کی ہستی کا چراغ", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل ہوا یہ کس کی ہستی کا چراغ\nمدعی کے گھر جلا گھی کا چراغ\n\nخیر سے رہتا ہے روشن نام نیک\nحشر تک جلتا ہے نیکی کا چراغ\n\nوہ حقیقت ہے دل افسردہ کی\nٹمٹمائے جیسے سردی کا چراغ\n\nہم سے روشن ہے تمہاری بزم یوں\nناگوارا جیسے گرمی کا چراغ\n\nہو قناعت تجھ کو تو بس ہے ظہیرؔ\nخانہ آرائی کو دمڑی کا چراغ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA"} {"title": "گل ہے زخمی بہار کے ہاتھوں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گل ہے زخمی بہار کے ہاتھوں\nدل ہے صد چاک یار کے ہاتھوں\n\nدم بدم قطع ہوتی جاتی ہے\nعمر لیل و نہار کے ہاتھوں\n\nجاں بلب ہو رہا ہوں مثل حباب\nمیں ترے انتظار کے ہاتھوں\n\nایک دم بھی ملا نہ ہم کو قرار\nاس دل بے قرار کے ہاتھوں\n\nاپنی سرگشتگی کبھی نہ گئی\nگردش روزگار کے ہاتھوں\n\nاک شگوفہ اٹھے ہے روز نیا\nاس دل داغدار کے ہاتھوں\n\nدل پہ کیا کیا ہوے ہیں نقش و نگار\nناوک دل فگار کے ہاتھوں\n\nہو رہا ہے خراب خانۂ دل\nدیدۂ اشک بار کے ہاتھوں\n\nگر کبھی لگ گیا ترا دامن\nمیری مشت غبار کے ہاتھوں\n\nچھوٹنا ہے پھر اس کا امر محال\nاس ترے خاکسار کے ہاتھوں\n\nاک دل خار خار ہوں میں حسنؔ\nاپنے اس گلعذار کے ہاتھوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D8%AE%D9%85%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA"} {"title": "گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا\nجگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا\n\nسمند ناز نے اس کے جہاں کیا پامال\nوہی ہے اب بھی اسے شوق ترک تازی کا\n\nستم ہیں قہر ہیں لونڈے شراب خانے کے\nاتار لیتے ہیں عمامہ ہر نمازی کا\n\nالٹ پلٹ مری آہ سحر کی کیا ہے کم\nاگر خیال تمہیں ہووے نیزہ بازی کا\n\nبتاؤ ہم سے کوئی آن تم سے کیا بگڑی\nنہیں ہے تم کو سلیقہ زمانہ سازی کا\n\nخدا کو کام تو سونپے ہیں میں نے سب لیکن\nرہے ہے خوف مجھے واں کی بے نیازی کا\n\nچلو ہو راہ موافق کہے مخالف کے\nطریق چھوڑ دیا تم نے دل نوازی کا\n\nکسو کی بات نے آگے مرے نہ پایا رنگ\nدلوں میں نقش ہے میری سخن طرازی کا\n\nبسان خاک ہو پامال راہ خلق اے میرؔ\nرکھے ہے دل میں اگر قصد سرفرازی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D8%AF%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "گلاب تمہارا کیکر ہمارا", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ان سب شاعروں کو سامنے سے ہٹاؤ جو گلاب کے پھول پر مرتے ہیں۔ سینکڑوں برس سے ایک ہی چہرے کے طلب گار ہیں۔ یہ سب لکیر کے فقیر ہیں ، مقلد ہیں، سنی سنائی تقلیدی باتوں پر جان دیتے ہیں۔\n\nمیں کچھ اور دیکھتا ہوں۔ مجھ کو ایک اور آنکھ ملی ہے جو ان سب سے اونچی ہے۔ میرے دل کی ہم نشینی وہم سری کے ان میں ایک بھی قابل نہیں ہے۔ میں بندہ ہوں، سب بندوں کی مثل ہوں۔ میں بشر ہوں ۔ تمام بنی آدم کے برابر درجہ لے کر آیا ہوں۔ میں نبی نہیں ہوں ولی نہیں ہوں۔ مہدی اورعیسیٰ نہیں ہوں۔ دعویٰ خودنمائی و خود ستائی سے بھی انکار ہے مگر میں عام تعین اور ہستی مثالی کی ایک تصویر ہوں جس میں رنگ فطرت کی قلم کاریاں ہیں ۔اس واسطے میں خود اپنے وجود کا طلبگار ہوں اور اسی لیے یہ تعلی اور یہ خود آرائی ہے تاکہ میں خود کو اپنی خودی دکھاؤں اور خطاب کروں کہ جتنے یہ تک جوڑنے والے شاعر ہیں، سب نے گلاب کے پھول کو تختہ مشق بنایا ہے۔\n\nکوئی اس کی بھینی بھینی بو پر فدا ہے ۔ کوئی اس کی نازک نازک پتیوں پر نثار ہے۔ کسی کو اس کے رنگ سے رخسار محبوب کی یاد پیدا ہوتی ہے۔ کسی کا دل اس کے کھلنے اور مر جانے کے انقلاب میں اسیر ہے۔ بعض ہیں جو گلاب کے خار سے خار کھائے بیٹھے ہیں۔ خیر یہ جتنی باتیں ہیں، ان میں تو شکایت کا کوئی موقع نہیں ہے۔ کہنا یہ ہے انہوں نے خدا کی بے شمار مخلوقات کی حق تلفی کی۔ ایک ہی دروازے پر ڈیرے ڈال دیے۔ ایک ہی آئینہ کی دید میں مدہوش ہو کر رہ گئے اور ان بے شمار جلوؤں کو نہ دیکھا جو ان کے لیے صفحہ ہستی پر نمودار کیے گئے تھے۔ یہ انہوں نے بہت بڑا گناہ کیا۔ اس میں ان سے ایسی خطا سرزد ہوئی ہے جس کی سزا نہایت ہولناک ہونی چاہیے۔ گلاب کی الفت میں باغ لگائے، چمن بنائے، مالی محافظ بسائے، پانی کھنچوائے اور زمین کے تختوں کو سیراب کیا۔ پھولوں کی ٹہنیوں کے سامنے اپنے تخیل کے ذوق کو سجدے کرائے مگر اپنے تصور کو اتنی آزادی نہ دی کہ وہ اس کائنات کے ہر پھول تک جاتا۔ ان لوگوں کو یہ نصیب نہ ہوا کہ جنگل میں نکل جاتے۔ خودرو پھولوں کو دیکھتے جن کا مالی خدا ہے۔ جن کا چمن صحرا ہے، جن کی سیرابی قدرتی سیرابی سے ہے۔ ان میں ایک کیکر تھا۔\n\nکیا چپ چاپ تھا۔ کیا مضبوط و توانا تھا۔ اس کی شاخیں دیکھی ہوتیں ، اس کی پتیوں پر غور کیا ہوتا۔ گلاب کی ٹہنی میں کیا رکھا ہے۔ ایک کمزور، لچکنے اور ٹوٹ جانے والی شاخ ہے جس کو آج کل کے شہ زور زمانہ میں بقول ڈراون رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ وقت ان کی زندگی کا ہے جو حوادثِ ایام کا مقابلہ کر سکتے ہیں، جن کے اعضاء دوسروں کے کام آتے ہیں۔ کیکر کی چھال مفید جس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں اور مختلف رنگ تیار ہوتے ہیں۔ کیکر کی لکڑیاں جلنے میں انسان کی مدد کرتی ہیں۔ کیکر کی پتیاں بکریاں کھاتی ہیں اور آدمی کو دودھ دیتی ہیں۔ کیکر کی پھلیاں بھی چارہ اور رنگ بنانے میں کام آتی ہیں۔\n\nیہ میاں گلاب کس مرض کی دوا ہیں ۔ پیٹ میں درد ہو تو گل قند کھلاؤ۔ ہیضہ ہو تو گلاب پلاؤ۔ مر جاؤ قبر پر چڑھاؤ اور بھی کوئی کام اس منحوس وجود سے نکلتا ہے۔ گلاب کے کانٹوں کو دیکھو کیسے دھوکہ باز ہیں۔ دکھائی نہیں دیتے۔ ہاتھ لگاتے ہی چبھ جاتے ہیں۔ کیکر کے کانٹے دور سے نظر آتے ہیں ۔ کیا مجال کہ بے خبری میں کسی کو ستائیں۔ گلاب کے کانٹے سوکھ جائیں تو پھینک دینے کے قابل ۔ کیکر کے کانٹے سوکھ کر گھروں اور کھیتوں کی حفاظت کریں۔اس پر طرہ یہ کہ کیکرکا کانٹا کیسا سیدھا سادا اور نکیلا ہوتا ہے۔ رنگ دیکھو تو وہ بھی انوکھا نرالا۔ شاعروں کے گلاب کو یہ بات کہاں میسر؟\n\nگلاب کے درخت میں پتے بالکل بدشکل اور بیکار۔ کیکر کی پتیوں کے کیا کہنے۔ کیسی چھوٹی چھوٹی اور ننھی ننھی پتیاں ہیں کہ بے اختیار پیار کرنے کو جی چاہتا ہے۔ کیکر کا پھول گلاب کے پھول سے لاکھ درجہ اچھا ہے۔ گلاب کا پھول ایک دن کی تیز دھوپ میں کملا اور مرجھا جاتا ہے اور کیکر کا پھول ہفتوں سورج کا مقابلہ کرتا ہے اور آج کل تعریف اسی کی ہے جو دشمن کے مقابلہ میں زندہ سلامت رہے۔\n\nگلاب کا پھول سرخ یا سرخی مائل اور ایسا کچا کہ مالیوں کی استادی سے رنگ بدل دیتا ہے۔ مالی جس کو چاہیں سرخ رکھیں، جس کو چاہیں سفید بنادیں۔\n\nکیکر کا پھول اپنے رنگ میں پختہ۔ سارے جہاں میں ایک ہی زرد رنگ۔ کیا مجال جو کوئی شخص اس کے رنگ کو بگاڑ سکے۔\n\nشاعر کہتے ہیں گلاب کے پھول سے معشوق یاد آتا ہے۔ میں کہتا ہوں کیکر کے پھول سے عشق یاد آتا ہے جس سے انسان کی رنگت زرد ہو جاتی ہے۔\n\nاب بتاؤ عشق اچھا یا معشوق۔ عشق نہ ہوتا تو نہ عاشق کو کوئی پوچھتا نہ معشوق کی کوئی وقعت ہوتی۔ یہ عشق ہی کی بدولت سب بستیاں آباد ہیں۔\n\nارے نادان تجھے شاعروں سے کیا کام۔ پہلے اپنے وجود کے تخیلات کو درست کر۔ان میں فطرت شناسی کا ملکہ نمودار ہونے دے۔ آج گلاب کو چھوڑ کر کیکر کے آگے جھومتا ہے۔ کل اس کو بھی چھوڑیو۔ کسی اور پیکر کے جلوہ میں دھیان جمائیو۔ ساری دنیا میں کانٹے پھیلے ہوئے ہیں، کس کس جگہ جھاڑو دے گا۔ خود جوتی پہن لے اور راستہ چلنے لگ۔ ہاں تو حق پرہے۔ ہاں یہی صراط مستقیم ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو منزل جاناں تک جاتی ہے۔ من و تو کا حجاب اٹھا۔ اس کے بعد خود اپنی خودی کا پردہ کھول کر اندر گھس جا۔ پھر یہ آواز نہ آئے گی کہ،\n\nگلاب تمہارا اور کیکر ہمارا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%DA%A9%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "گلبانگ تھی گلوں کی ہمارا ترانہ تھا", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلبانگ تھی گلوں کی ہمارا ترانہ تھا\nاپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا\n\nکوچہ میں اس کے نالہ میرا بے کسانہ تھا\nاپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا\n\nجب کوئی زلف میں بھی نہ کچھ دخل شانہ تھا\nسودائی تھا مزاج میرا عاشقانہ تھا\n\nبلبل کو اپنا نالہ موزوں ترانہ تھا\nہر گل بھی مائل غزل عاشقانہ تھا\n\nنالوں میں بلبلوں کی جو رنگ ترانہ تھا\nفصل بہار تھی وہ گلوں کا زمانہ تھا\n\nالجھا ہوا جو گیسوئے جاناں میں شانہ تھا\nسنبل میں ایک اور نیا شاخ شانہ تھا\n\nسودائیوں کو تھی تری الجھن بلا کی رات\nزلف دوتا کا طول و طویل اک فسانہ تھا\n\nجاتے ہیں آپ اور برا حال ہے مرا\nآتی جو اب تو موت کو اچھا بہانہ تھا\n\nتیر نگاہ کی جو کمان تھی جڑی ہوئی\nاپنا جگر کبھی تو کبھی دل نشانہ تھا\n\nدریاۓ مے کی گھات اتاریں گے ہم انہیں\nشیریں کا جوئے شیر کا اگلا زمانہ تھا\n\nاپنی شب وصال کا اللہ رے اہتمام\nشبنم کی شبنمی تھی فلک شامیانہ تھا\n\nکملی کو اپنا تان کے سویا فقیر مست\nکیا پشم تھا امیروں کا جو شامیانہ تھا\n\nکعبہ کا احترام خدا ساز ہو گیا\nاس وقت میں کہاں یہ ترا آستانہ تھا\n\nدیر و حرم میں کیا تھا اگر ہم سے پوچھئے\nشایان سجدۂ یار ترا آستانہ تھا\n\nکنج قفس میں شکوۂ صیاد کیا کروں\nاس کا قصور کیا ہے میرا آب و دانہ تھا\n\nروزی ہوا ہے دانۂ زنجیر و آب تیغ\nقسمت کا عاشقوں کی یہ ہے آب و دانہ تھا\n\nلوہے کے تھے چنے ترے چھینٹے غضب کے تھی\nصیاد خوب اپنے لیے آب و دانہ تھا\n\nہو مجھ سا عندلیب خوش الحان اسیر دام\nصیاد کا نصیب میرا آب و دانہ تھا\n\nگندم جو خلد میں تو یہاں تھی شراب ناب\nاک میں تھا دو جگہ پہ مرا آب و دانہ تھا\n\nرند شراب خار رہا میں تمام عمر\nانگور کا نصیب مجھے آب و دانہ تھا\n\nمیں وہ صدف ہوں جس کے ہے دریا دلی کا شور\nجو ہنس چگ رہا ہے مرا آب و دانہ تھا\n\nبلبل کے آگے اپنی بڑی بات رہ گئی\nغنچہ سے تو کہیں تیرا چھوٹا دیا نہ ہاتھ\n\nرنگیں خیالیاں دم فکر سخن نہ تھیں\nزیب تن عروس لباس شہانہ تھا\n\nمسی کبھی ملی کبھی گیسو بنا کئے\nشب بھر شب وصال میں حیلہ بہانہ تھا\n\nتجھ سے سوا تو اے صنم اللہ کا ہی نام\nاچھا تھا ہاں حسین تھا یوسف برا نہ تھا\n\nیاران رفتگاں کا نشاں خاک ڈھونڈیئے\nریگ رواں کا قافلہ تھا جو روانہ تھا\n\nمنہ دیکھی ان کے سامنے کہتے نہیں ہیں ہم\nاپنی زبان پہ وصف دہن غائبانہ تھا\n\nباد بہار جا کے اوڑا لائی باغ میں\nکیا گنج شائیگان زر گل کا خزانہ تھا\n\nاپنا سمند عمر جما جم کے اڑ گیا\nشاید ہمارا راز نفس تازیانہ تھا\n\nراز نہاں کسی پہ نہ اپنا عیاں ہوا\nنا آشنائے گوش ہمارا فسانہ تھا\n\nپہچانئے تو خاک کے پتلوں کی خاک کو\nبیگانہ کون کون سا ان میں یگانہ تھا\n\nاس شعلہ رو کی تھی جو دل صاف میں جگہ\nآتش کدہ یہ مہرؔ کا آئینہ خانہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86%DA%AF_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "گلخن شرر اہتمام بستر ہے آج", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گلخن شرر اہتمام بستر ہے آج\nیعنی تب عشق شعلہ پرور ہے آج\nہوں درد ہلاک نامہ بر سے بیمار\nقارورہ مرا خون کبوتر ہے آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%AE%D9%86_%D8%B4%D8%B1%D8%B1_%D8%A7%DB%81%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "گلزار جہاں سے باغ جنت میں گئے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گلزار جہاں سے باغ جنت میں گئے\nمرحوم ہوئے جوار رحمت میں گئے\nمداح علی کا مرتبہ اعلیٰ ہے\nغالبؔ اسداللہ کی خدمت میں گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D8%AC%D9%86%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہم\nکہتی ہے یہ ہنس کر صبح خزاں سب ناز عبث اک خواب ہیں ہم\n\nکس ماہ لقا کے عشق میں یوں بے چین ہیں ہم بیتاب ہیں ہم\nکرنوں کی طرح آوارہ ہیں ہم تاروں کی طرح بے خواب ہیں ہم\n\nمٹ جانے پہ بھی مسرور ہیں ہم مرجھانے پہ بھی شاداب ہیں ہم\nشہبائے شباب و عشق کا اک بھولا ہوا رنگیں خواب ہیں ہم\n\nفطرت کے جمال رنگیں سے ہم نے بھی اٹھائے ہیں پردے\nبربط ہے اگر فردوس جہاں تو اس کے لئے مضراب ہیں ہم\n\nخوش وقتی ہے وجہ رنج و الم گلزار جہاں میں اے ہمدم\nطائر نہ پکاریں شاد ہیں ہم غنچے نہ کہیں شاداب ہیں ہم\n\nملنے پہ گر آئیں کوئی مکاں خالی نہیں اپنے جلووں سے\nاور گوشہ نشیں ہو جائیں اگر کم یاب نہیں نایاب ہیں ہم\n\nدو دن کے لئے ہم آئے ہیں اک شب کی جوانی لائے ہیں\nفردوس سرائے ہستی میں ہم رنگ گل مہتاب ہیں ہم\n\nرسوائی شعر و عشق نے وہ رتبہ ہمیں اخترؔ بخشا ہے\nفخر دکن و بنگال ہیں ہم ناز اودھ و پنجاب ہیں ہم", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DA%AF%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "گلزار نسیم", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "ہر شاخ میں ہے شگوفہ کاری\nثمرہ ہے قلم کا حمد باری\n\nکرتا ہے یہ دو زباں سے یکسر\nحمد حق و مدحت پیمبر\n\nپانچ انگلیوں میں یہ حرف زن ہے\nیعنی کہ مطیع پنج تن ہے\n\nختم اس پہ ہوئی سخن پرستی\nکرتا ہے زباں کی پیش دستی\n\nخواستگاری جناب باری سے مثنوی گلزار نسیم کی ترتیب کے واسطے\nیارب! میرے خامے کو زباں دے\n\nمنقار ہزار داستاں دے\nافسانہ گل بکاولی کا\n\nافسوں ہو بہار عاشقی کا\nہر چند سنا گیا ہے اس کو\n\nاردو کی زباں میں سخن گو\nوہ نثر ہے، داد نظم دوں میں\n\nاس مے کو دو آتشہ کروں میں\nہر چند اگلے جو اہل فن تھے\n\nسلطان قلمروسخن تھے\nآگے ان کے فروغ پانا:\n\nسورج کو چراغ ہے دکھانا\nپر، عجز سخن سدا ہے باقی\n\nدریا نہیں کار بند ساقی\nطعنے سے زبان نکتہ چیں روک\n\nرکھ لے مری اہل خامہ میں نوک\nخوبی سے کرے دلوں کو تسخیر\n\nنیرنگ نسیم باغ کشمیر\nنقطے، ہوں سپند خوش بیانی\n\nجدول، ہو حصار بحر خوانی\nجو نکتہ لکھوں کہیں نہ حرف آئے\n\nمرکز پہ کشش مری پہنچ جائے\nداستان تاج الملوک شاہ زادے اور زین الملوک باشاہ مشرق کی\n\nروداد زمان پاستانی\nیوں نقل ہے خامے کی زبانی\n\nپورب میں ایک تھا شہنشاہ\nسلطان زین الملوک ذی جاہ\n\nلشکر کش و تاج دار تھا وہ\nدشمن کش و شہر یار تھا وہ\n\nخالق نے دیے تھے چار فرزند\nدانا، عاقل، ذکی، خردمند\n\nنقشہ ایک اور نے جمایا\nپس ماندہ کا پیش خیمہ آیا\n\nامید کے نخل نے دیا بار\nخورشید حمل ہوا نمودار\n\nوہ نور کہ صدقے مہرانور\nوہ رخ کہ نہ ٹھہرے آنکھ جس پر\n\nنور آنکھ کا کہتے ہیں پسر کو\nچشمک تھی نصیب اس پدر کو\n\nخوش ہوتے ہی طفل مہ جبیں سے\nثابت یہ ہوا ستارہ بیں سے\n\nپیارا یہ وہ ہے کہ دیکھ اسی کو\nپھر دیکھ نہ سکیے گا کسی کو\n\nنظروں سے گرا وہ طفل ابتر\nمانند سر شک دیدہ تر\n\nپردے سے نہ دایہ نے نکالا\nپتلی سا نگاہ رکھ کے پالا\n\nتھا افسر خسرواں وہ گل فام\nپالا، تاج الملوک رکھ نام\n\nجب نام خدا جواں ہوا وہ\nمانند نظرواں ہوا وہ\n\nآتا تھا شکار گاہ سے شاہ\nنظارہ کیا پدرنے ناگاہ\n\nصاد آنکھوں کے دیکھ کے پسر کی\nبینائی کے چہرے پر نظر کی\n\nمہر لب شہ ہوئی خموشی\nکی نور بصر سے چشمک پوشی\n\nدی آنکھ جو شہ نے رونمائی\nچشمک سے نہ بھائیوں کے بھائی\n\nہر چند کے بادشاہ نے ٹالا\nاس ماہ کو شہر سے نکالا\n\nگھر یہی ذکر تھا یہی شور\nخارج ہوا نور دیدہ کور\n\nآیا کوئی لے کے نسخہ نور\nلایا کوئی جاکے سرمۂ طور\n\nتقدیر سے چل سکا نہ کچھ زور\nبینہ نہ ہوا وہ دیدہ کور\n\nہوتا ہے وہی خدا جو چاہے\nمختار ہے، جس طرح نبا ہے\n\nجانا چاروں شاہ زادوں کا بہ تجویز کحال تلاش گل بکاولی کو\nپایا جو سفید چشم صفحا\n\nیوں میل قلم نے سرمہ کھینچا\nتھا اک کحال پیر دیریں\n\nعیسی کی تھیں اس نے آنکھیں دیکھیں\nوہ مرد خدا بہت کراہا\n\nسلطاں سے ملا، کہا کہ شاہا!\nہے باغ بکاولی میں اک گل\n\nپلکوں سے اسی پہ مار چنگل\nخورشید میں یہ ضیا کرن کی\n\nہے مہر گیا اسی چمن کی\nاس نے تو گل ارم بتایا\n\nلوگوں کو شگوفہ ہاتھ آیا\nشہ زادے ہوئے وہ چاروں تیار\n\nرخصت کیے شہ نے چار ناچار\nشاہانہ چلے وہ لے کے ہمراہ\n\nلشکر، اسباب، خیمے، خرگاہ\nوہ بادیہ گرد خانہ برباد\n\nیعنی تاج الملوک ناشاد\nمیدان میں خاک اڑا رہا تھا\n\nدیکھا تو وہ لشکر آرہا تھا\nپوچھا تم لوگ خیل کے خیل\n\nجاتے ہو کدھر کو صورت سیل؟\nبولا لشکر کا اک سپاہی\n\nجاتی ہے ارم کو فوج شاہی\nسلطاں زین الملوک شہ زور\n\nدیدار پسر سے ہوگیا کور\nمنظور علاج روشنی ہے\n\nمطلوب گل بکاولی ہے\nگل کی جو خبر سنائی اس نے\n\nگلشن کی ہوا سمائی اس کو\nہمرہ کسی لشکری کے ہوکر\n\nقسمت پہ چلا یہ نیک اختر\nغلام ہونا چاروں شاہ زادوں کا چوسر کھیل کر دلبر بیسوا سے\n\nنقطوں سے قلم کی مہر ہ بازی\nیوں لاتی ہے رنگ بد طرازی\n\nیک چند پھرا کیا وہ انبوہ\n\nصحرا صحرا و کوہ در کوہ\nبلبل ہوئے سب ہزار جی سے\n\nگل کا نہ پتا لگا کسی سے\nوارد ہوئے ایک جگہ سر شام\n\nفردوس تھا اس مقام کا نام\nاک نہر تھی شہر کے برابر\n\nٹھٹکے سیارے کہکشاں پر\nاک باغ تھا نہر کے کنارے\n\nجویاے گل اس طرف سدھارے\nدلبر نام ایک بیسوا تھی\n\nاس ماہ کی واں محل سرا تھی\nدروازے سے فاصلے پہ گھر تھا\n\nنقارہ چو بدار در تھا\nبے جا و بجا نہ سمجھے ان جان\n\nنقارہ بجا کے ٹھہرے نادان\nآواز پہ وہ لگی ہوئی تھی\n\nآپ آن کے ٹھاٹھ دیکھتی تھی\nجس شخص کو مال دار پاتی\n\nباہر سے اسے لگا کے لاتی\nبٹھلا کے، جوے کا ذکر اٹھا کر\n\nچوسر میں وہ لوٹتی سراسر\nجیت اس کی تھی، ہاتھ جو کچھ آتا\n\nاس کا کوئی ہتکھنڈا نہ پاتا\nبلی کا سر چراغ داں تھا\n\nچوہا پاسے کا پاسباں تھا\nالٹاتے اڑی پہ، قسمت آسا\n\nبلی، جو دیا موش، پاسا\nجیتے ہوئے بندے تھے ہزاروں\n\nقسمت نے پھنسائے یہ بھی چاروں\nصیادنی لائی پھانس کر صید\n\nکرسی پہ بٹھائے نقش امید\nگھاتیں ہوئیں دل ربائیوں کی\n\nباتیں ہوئیں آشانائیوں کی\nرنگ اس کا جما، تو لا کے چوسر\n\nکھیلی وہ کھلاڑ بازی بد کر\nوہ چھوٹ پہ تھی، یہ میل سمجھے\n\nبازی چوسر کی کھیل سمجھے\nمغرور تھے مال و زر پہ کھیلے\n\nساماں ہارے تو سر پہ کھیلے\nبدبختی سے آخر جوا تھا\n\nبندہ ہونا بدا ہوا تھا\nدو ہاتھ میں چاروں اس نے لوٹے\n\nپنچے میں پھنسے تو چھکے چھوٹے\nایک ایک سے رات بھر نہ چھوٹا\n\nپوپھٹتے ہی جگ ان کا ٹوٹا\nزنداں کو چلے مچل مچل کر\n\nنردوں کی طرح پھرے نہ چل کر\nلشکر میں سے جوگیا سوئے شہر\n\nپانی سا پھرا نہ جانب نہر\nجیتنا تاج الملوک کا دلبر بیسوا کو اور چھوڑ کر روانہ ہونا تلاش گل بکاولی میں\n\nلانا زر گل جو ہے ارم سے\nیوں صفحے سے نقش ہے قلم سے\n\nوہ ریگ رواں کا گرد لشکر\nیعنی تاج الملوک ابتر\n\nحیران ہوا کہ یا الٰہی!\nلشکر پہ یہ کیا پڑی تباہی\n\nاٹھا کہ خبر تو لیجے چل کر\nگزرا در باغ بیسوا پر\n\nحیران تھا یہ بلند پایہ\nنکلی اندر سے ایک دایہ\n\nلڑکا کوئی گھو گیا تھا اس کا\nہم شکل یہ مہ لقا تھا اس کا\n\nبولی وہ کہ نام کیا ہے تیرا\nفرزند اسی شکل کا تھا میرا\n\nبولا وہ کہ نام تو نہیں یاد\nطفلی میں ہوا ہوں خانہ برباد\n\nلیکن یہ میں جانتا ہوں دل گیر\nمادر تھی مری بھی ایسی ہی پیر\n\nبیٹا وہ سمجھ کے جی سے اس کو\nگھر لائی ہنسی خوشی سے اس کو\n\nچلتے تھے ادھر سے دو جواری\nایک ایک کی کر رہا تھا خواری\n\nکہتے تھے: فریب دو گے کیا تم\nشہ زادے نہ ہم، نہ بیسوا تم\n\nذکر اپنے برادروں کا سن کر\nبولا وہ عزیز، سن تو مادر!\n\nکون ایسی کھلاڑ بیسوا ہے\nشہ زادوں کو جس نے زچ کیا ہے؟\n\nبولی وہ کہ ہاں جوا ہے بدکام\nدلبر اک بیسوا ہے خود کام\n\nبلی پہ چراغ رکھ کےشب کو\nچوسر میں وہ لوٹتی ہے سب کو\n\nپاسے کی ہے کل چراغ کے ساتھ\nوہ بلی کے سر، یہ چوہے کے ہاتھ\n\nشہ زادے کہیں کے تھے بد اقبال\nبندے ہوئے، ہار کر زر و مال\n\nبھائی، جوش خوں کہاں جائے\nصدمہ ہوا، درد سے کہا ہائے!\n\nپاسے کا، چراغ کا الٹ پھیر\nسوجھا نہ اانھیں، یہ دیکھو اندھیر\n\nسوچا وہ کہ اب تو ہم ہیں آگاہ\nجیتے ہیں، تو جیت لیں گے ناگاہ\n\nاک بلی جھپٹی چوہے کو بھانپ\nنیولے تے بھگا دیا دکھا سانپ\n\nسمجھا وہ کہ ہے شگوں نرالا\nنیولا پکڑ آستیں میں پالا\n\nچوسر ہی کے سیکھنے کو اکثر\nگھوما وہ بہ رنگ نرد گھر گھر\n\nاک روز اسے مل گیا امیر ایک\nوہ صاحب جاہ دل سے تھا نیک\n\nاشراف سجمھ کے لے گیا گھر\nبخشا اسے اسپ و جامہ و زر\n\nاس گل کے ہاتھ میں جو زر آیا\nجاں بازی کو سوے دلبر آیا\n\nملتی تھی کھلاڑ ڈنکے کی چوٹ\nنقارہ و چوب میں چلی چوٹ\n\nآواز وہ سن کے در پر آئی\nہمرہ اسے لے کے اندر آئی\n\nکام اس کا تھا بس کہ کھیل کھانا\nچوسر کا جما وہ کارخانہ\n\nوہ چشم و چراغ بیسوا کے\nکرنے لگے تاک جھانک آ کے\n\nنیولا، کہ وہ مار آستیں تھا\nچٹکی کے بجاتے ہی وہیں تھا\n\nبلی تو چراغ پا تھی خاموش\nبل ہو گیا موش کو فراموش\n\nہنس ہنس کے حریف نے رلایا\nمانند چراغ اسے جلایا\n\nبارے بہ ہزار بددماغی\nلی خضر نے غول سے چراغی\n\nپا سے چلی نہ جعل سازی\nاجڑی وہ، بسا بسا کے بازی\n\nسب ہار کے نقد و جنس، بارے\nجیتے ہوئے بندے بد کے ہارے\n\nبنیاد جو کچھ تھی، جب گنوائی\nتب خود وہ کھلاڑ، مہرے آئی\n\nپھر پاسے کی نہ پاس داری\nہمت کی طرح وہ دل سے ہاری\n\nپاسے کی بدی ہے آشکارا\nراجانل سلطنت ہی ہارا\n\nدانا تو کرے کب اس طرف میل\nہارا ہے جوے کے نام سے بیل\n\nہارے، دیکھا جو بیسوا نے\nبندہ کیا غیر کا خدا نے\n\nسوچی کہ نہ اب بھی چال رہیے\nشادی کا مزہ نکال رہیے\n\nبولی نہ ہزار عجز و زاری\nتم جیتے میاں میں تم سے ہاری\n\nلونڈی ہوں، نہیں عدول مجھ کو\nخدمت میں کرو قبول مجھ کو\n\nبولا وہ کہ سن، یہ ہتکھنڈے چھوڑ\nنقارہ در کو چوب سے توڑ\n\nیہ مال، یہ زر، یہ جیتے بندے\nیوں ہی یہیں رکھ بجنس چندے\n\nبالفعل ارم کو جاتے ہیں ہم\nانشاء اللہ آتے ہیں ہم\n\nبولی وہ۔ سنو تو بندہ پرور!\nگلزار ارم ہے پریوں کا گھر\n\nانسان و پری کا سامنا کیا!\nمٹھی میں ہوا کا تھا منا کیا!\n\nشہ زادہ ہنسا، کہا کہ دلبر!\nکچھ بات نہیں، جو رکھیے دل پر\n\nانسان کی عقل اگر نہ ہو گم\nہے چشم پری میں جاے مردم\n\nیہ کہہ کے اٹھا، کہا کہ لو جان!\nجاتے ہیں، کہا: خدا نگہ بان!\n\nدولت تھی اگر چہ اختیاری\nپا مردی سے اس پہ لات ماری\n\nجز جیب، نہ مال پر پڑا ہاتھ\nجز سایہ، نہ کوئی بھی لیا ساتھ\n\nدرویش تھا بندۂ خدا وہ\nاللہ کے نام پر چلا ہو\n\nپہنچنا تاج الملوک کا سرنگ کھدواکر باغ بکاولی میں اور گل لے کر پھرنا\nکرتا ہے جو طے سواد نامہ\n\nیوں حرف، ہیں نقش پاے خامہ\nوہ دامن دشت شوق کا خار\n\nیعنی تاج الملوک دل زار\nاک جنگلے میں جا پڑا جہاں گرد\n\nصحراے عدم بھی تھا جہاں، گرو\nسایے کو پتا نہ تھا شجر کا\n\nعنقا تھا، نام جانور کا\nمرغان ہوا تھے ہوش راہی\n\nنقش کف پا تھے ریگ ماہی\nوہ دشت کہ جس میں پر تگ و دو\n\nیا ریگ رواں تھی یا وہ رہ رو\nڈانڈا تھا ارم کے بادشاہ کا\n\nاک دیو تھا پاسباں بلا کا\nدانت اس کے: گور کن قضا کے\n\nدو نتھنے: رہ عدم کے ناکے\nسر پر پایا بلا کو اس نے\n\nتسلیم کیا قضا کو اس نے\nبھوکا کئی دن کا تھا وہ ناپاک\n\nفاقوں سے رہا تھا پھانک کر خاک\nبے ریشہ یہ طفل نوجواں تھا\n\nحلوا بے دود بے گماں تھا\nبولا کہ چھکوں گاہیں یہ انساں\n\nاللہ اللہ! شکر، احساں!\nشہ زادہ کہ منہ میں تھا اجل کے\n\nاندیشے سے رہ گیا دہل کے\nپل مارنے کی ہوئی جو دیری\n\nسبحان اللہ شان تیری!\nاشتر کئی جاتے تھے ادھر سے\n\nپر آردو روغن و شکر سے\nوہ دیو لپک کے مار لایا\n\nغراتے ہوئے شکار لایا\nاونٹوں کی جو لو تھیں دیو لایا\n\nدم اس کا نہ اس گھڑی سمایا\nتیورا کے وہیں وہ بار بر دوش\n\nبیٹھا تو گرا، گرا تو بے ہوش\nچاہا اس نے کہ مار ڈالو\n\nیا بھاگ سکو تو راستہ لو\nوہ اونٹ تھے کاروانیوں کے\n\nسب ٹھاٹھ تھے میہانیوں کے\nمیدہ بھی، شکر بھی، گھی بھی پایا\n\nخاطر میں یہ اس بشر کی آیا\nمیٹھا اس دیو کو کھلاؤ\n\nگڑ سے جو مرے، تو زہر کیوں دو\nحلوے کی پکا کے اک کڑھائی\n\nشیرینی دیو کو چڑھائی\nہر چند کہ تھا وہ دیو کڑوا\n\nحلوے سے کیا منہ اس کا میٹھا\nکہنے لگا: کیا مزہ ہے دل خواہ!\n\nاے آدمی زاد واہ وا واہ!\nچیز اچھی کھلائی تو نے مجھ کو\n\nکیا اس کے عوض میں دوں میں تجھ کو\nبولا وہ کہ پہلے قول دیجے\n\nپھر جو میں کہوں، قبول کیجے\nوہ ہاتھ پر اس کے مار کر ہاتھ\n\nبولا کہ ہے قول جان کے ساتھ\nبولا وہ کہ قول اگر یہی ہے\n\nبد عہدی کی پر نہیں سہی ہے\nگلزار ارم کی ہے مجھے دھن\n\nبولا وہ: ارے بشر وہ گلبن!\nخورشید کے ہم نظر نہیں ہے\n\nاندیشے کا واں گزر نہیں ہے\nواں موج ہوا: ہوا پہ اژدر\n\nواں ریگ زمیں: زمیں پہ اخگر\nہوتا نہ جو قول کا سہارا\n\nبچتانہ یہیں تو خیر، ہارا\nرہ جا، میرا بھائی ایک ہے اور\n\nشاید کچھ اس سے بن پڑے طور\nاک ٹیکرے پر گیا، بلایا\n\nوہ مثل صدائے کوہ آیا\nحال اس سے کہا کہ قول ہارا\n\nہے پیر، یہ نوجواں ہمارا\nمشتاق ارم کی سیر کا ہے\n\nکوشش کرو، کم خیر کا ہے\nحمالہ نام دیونی ایک\n\nچھوٹی بہن اس کی تھی بڑی نیک\nخط اس کو لکھا بہ ایں عبارت\n\nاے خواہر مہرباں! سلامت\nپیارا ہے یہ میرا آدمی زاد\n\nرکھیو اسے، جس طرح مری یاد\nانسان ہے، چاہے کچھ جو سازش\n\nمہمان ہے، کیجیو نوازش\nخط لے کے، بشر کو لے اڑا دیو\n\nپہنچا حمالہ پاس بے ریو\nبھائی کا جو خط بہن نے پایا\n\nبھیجے ہوئے کو گلے لگایا\nاس دیونی پاس اک حسیں تھی\n\nزنبور کے گھر میں انگبیں تھی\nمحمودہ نام، دخت آدم\n\nلے ائی تھی دیونی دے کے دم\nجوڑا ہم جنس کے ہاتھ آیا\n\nمحمودہ کے گلے لگایا\nدن بھر تو الگ تھلگ ہی تھے وہ\n\nدو وقت سے شام کو ملے وہ\nتھے ضببط و حیا کے امتحاں میں\n\nپردہ رہا ماہ میں، کتاں میں\nآپس میں کھلے نہ شرم سے وہ\n\nخاطر کی طرح گرہ رہے وہ\nبولا وہ فسردہ دل سحر گاہ\n\nکیا سرد ہوا ہے واہ وا واہ!\nبولی وہ کہ ہونے کو ہوا ہے\n\nجو غنچے کو گل کرے، صبا ہے\nبولا وہ، یہی تو چاہتا ہوں\n\nگل پاؤں، تو میں ابھی ہوا ہوں\nپیراہن گل کی بو، تھی مطلوب\n\nیوسف نے کہا وہ حال یعقوب\nاول کہی بد نگاہی اپنی\n\nبعد اس کے وہ سب تباہی اپنی\nکھولی تھی زبان منہ اندھیرے\n\nکہتے سنتے اٹھے سویرے\nپوچھا حمالہ نے: میری جان!\n\nہم جنس ملا، نکالے ارمان\nبولی وہ کہ کہتے آتی ہے شرم\n\nدل سرد رہا، بغل ہوئی گرم\nناکامی کے جب وہ طور سمجھی\n\nوہم اس کو ہوا، کچھ اور سمجھی\nپوچھا کہ بتا تو درد، لیکن\n\nتم چاہو، تو ہے دوا بھی ممکن\nوہ بولی: جو تو کہے زباں سے\n\nتارے لے آؤں آسماں سے\nچہرے کو چھپا کے زیر چادر\n\nمحمودہ نے کہا کہ مادر!\nباپ اس کا ہے اندھے پن سے مجہول\n\nمطلوب بکاولی کا ہے پھول\nدل داغ اس کا براے گل ہے\n\nنرگس کے لیے ہواے گل ہے\nساعی تھی بہ دل یہ کہنے والی\n\nراہ اس نے سرنگ کی نکالی\nدیووں کہا کہ چوہے بن جاؤ\n\nتا باغ ارم سرنگ پہنچاؤ\nسن حاجت نقب بہر گل گشت\n\nکترا چوہوں نے دامن دشت\nپوشیدہ زمیں کے دل میں کی راہ\n\nحد باندھ کے، خوش پھرے اسی راہ\nجب مہر تہ زمیں سمایا\n\nاس نقب کی رہ وہ آدم آیا\nصحن چمن ارم میں اک جا\n\nبوٹا سا تہ زمیں سے نکلا\nکھٹکا جو نگاہ بانوں کا تھا\n\nدھڑکا یہی دل کا کہہ رہا تھا\nگوشے میں کوئی لگا نہ ہووے!\n\nخوشہ کوئی تاکتا نہ ہووے!\nگو باغ کے پاسباں غضب تھے\n\nخوابیدہ بہ رنگ سبزہ سب تھے\nنرگس کی کھلی نہ آنکھ یک چند\n\nسو سن کی زباں خدانے کی بند\nخوش قدر وہ چلا گل وہ سمن میں\n\nشمشاد رواں ہوا چمن میں\nایوان بکاولی جدھر تھا\n\nحوض آئنہ دار بام و در تھا\nرکھتا تھا وہ آب سے سوا تاب\n\nچندے خورشید، چندے مہتاب\nپھول اس کا، اندھے کی دوا تھا\n\nرشک جام جہاں نما تھا\nپانی کے جو بلبلوں میں تھا گل\n\nپہنچا لب حوض سے نہ چنگل\nپوشاک اتار، اتر کے لایا\n\nپھولا نہ وہ جامے میں سمایا\nگل لے کے بڑھا ایاغ برکف\n\nچوری سے چلا چراغ برکف\nبالا دری واں جو سوتے کی تھی\n\nسو خواب گہہ بکاولی تھی\nگول اس کے ستوں: تھے ساعد حور\n\nچلمن: مژگان چشم مخمور\nدکھلاتا تھا وہ مکان جادو\n\nمحراب سے ، درسے چشم و ابرو\nپردہ جو حجاب سا اٹھایا\n\nآرام میں اس پری کو پایا\nبند اس کی وہ چشم نرگسی تھی\n\nچھاتی کچھ کچھ کھلی ہوئی تھی\nسمٹی تھی جو محرم اس قمر کی\n\nبرجوں پہ سے چاندنی تھی سر کی\nلپٹے تھے جو بال کروٹوں میں\n\nبل کھا گئی تھی کمر، لٹوں میں\nچاہا کہ بلا گلے لگائے\n\nسوتے ہوئے فتنے کو جگائے\nسوچا کہ یہ زلف کف میں لینی\n\nہے سانپ کے منہ میں انگلی دینی\nیہ پھول، انھی اژدہوں کا ہے من\n\nیہ کالے، چراغ کے ہیں دشمن\nگل چھن کے، ہنسی نہ ہوئے بلکل\n\nخندہ نہ ہو برق حاصل گل\nپھر سمجھیں گے، ہے جو زندگانی\n\nکچھ نام کو رکھ چلو نشانی\nانگشتری اپنی اس سے بدلی\n\nمہر خط عاشقی سندلی\nآہستہ پھر وہ سر و بالا\n\nسایہ بھی نہ اس پری پہ ڈالا\nہیبت سا زمیں کے دل میں آیا\n\nاندیشے کی طرح سے سمایا\nجب نقب افق سے مہر تاباں\n\nنکلا، تو وہ ماہ روشتاباں\nگل ہاتھ میں مثل دست انساں\n\nدونوں تھیں اس کی منتظرواں\nگل لے کے جب آملا وہ گل چیں\n\nاس نقب کی رخنہ بندیاں کیں\nآوارہ ہونا بکاولی کا تاج الملوک گل چیں کی تلاش میں\n\nگل کا جو الم چمن چمن ہے\nیوں بلبل خامہ نعرہ زن ہے\n\nکل چیں نے وہ پھول جب اڑایا\nاور غنچہ صبح کھل کھلایا\n\nوہ سبزہ باغ خواب آرام\nیعنی وہ بکاولی گل اندام\n\nجاگی مرغ سحر کے غل سے\nاٹھی نکہت سی فرش گل سے\n\nمنہ دھونے جو آنکھ ملتی آئی\nپرآب وہ چشم حوض پائی\n\nدیکھا، تو وہ گل ہوا ہوا ہے\nکچھ اور ہی گل کھلا ہوا ہے\n\nگھبرائی کہ ہیں! کدھر گیا گل!\nجھنجلائی کہ کون دے گیا جل\n\nہے ہے مرا پھول لے گیا کون!\nہے ہے مجھے خار دے گیا کون\n\nہاتھ اس پہ اگر پڑا نہیں ہے\nبو ہو کے تو پھول اڑا نہیں ہے\n\nنرگس! تو دکھا کدھر گیا گل؟\nسوسن! تو بتا کدھر گیا گل؟\n\nسنبل! مرا تازیانہ لانا\nشمشاد! انھیں سولی پر چڑھانا\n\nتھرائیں خواصیں صورت بید\nایک ایک سے پوچھنے لگی بھید\n\nنرگس نے نگاہ بازیاں کیں\nسوسن نے زباں درازیاں کیں\n\nپتا بھی پتے کو جب نہ پایا\nکہنے لگیں: کیا ہوا خدایا!\n\nاپنوں میں سے پھول لے گیا کون\nبیگانہ تھا سبزے کو سوا کون!\n\nشبنم کے سوا چرانے والا\nاوپر کا تھا کون آنے والا\n\nجس کف میں وہ گل ہو، داغ ہو جائے\nجس گھر میں ہو، گل چراغ ہو جائے\n\nبولی وہ بکاولی کہ افسوس!\nغفلت سے یہ پھول پر پڑی اوس\n\nآنکھوں سے عزیز گل مرا تھا\nپتلی وہی چشم حوض کا تھا\n\nنام اس کا صبا! نہ لیتی تھی میں\nاس گل کو ہوا نہ دیتی تھی میں\n\nگل چیں کا جو ہائے ہاتھ ٹوٹا\nغنچے کے بھی منہ سے کچھ نہ پھوٹا\n\nاوخار! پڑا نہ تیرا چنگل\nمشکیں کس لیں نہ تو نے سنبل!\n\nاو باد صبا! ہوا نہ بتلا\nخوش بو ہی سنگھا، پتا نہ بتلا\n\nبلبل! تو چہک، اگر خبر ہے\nگل! تو ہی مہک، بتا کدھر ہے؟\n\nلرزاں تھی زمیں یہ دیکھ کہرام\nتھی سبزے سے راست مو بر اندام\n\nانگلی لب جو پہ رکھ کے شمشاد\nتھا دم بہ خود، اس کی سن کے فریاد\n\nجو نخل تھا، سوچ میں کھڑا تھا\nجو برگ تھا، ہاتھ مل رہا تھا\n\nرنگ اس کا عرض لگا بدلنے\nگل برگ سے کف لگی ہو ملنے\n\nبدلے کی انگوٹھی ڈھیلی پائی\nدست آویز اس کے ہاتھ آئی\n\nخاتم، تھی نام کی نشانی\nانسان کی دست برد جانی\n\nہاتھوں کو ملا، کہا کہ ہیہات!\nخاتم بھی بدل گیا ہے بدذات\n\nجس نے مجھے ہاتھ ہے لگایا\nوہ ہاتھ لگے کہیں خدایا!\n\nعریاں مجھے دیکھ کر گیا ہے\nکھال اس کی جو کھینچے، سزا ہے\n\nیہ کہہ کے، جنون میں غضب ناک\nخوں روئی، لباس کو کیا چاک\n\nگل کا سا لہو بھرا گریباں\nسبزے کا سا تار تار داماں\n\nدکھلا کے کہا سمن پری کو\nاب چین کہاں بکاولی کو\n\nتھی بس کہ غبار سے بھری وہ\nآندھی سی اٹھی، ہوا ہوئی وہ\n\nکہتی تھی پری کہ اڑکے جاتی\nگل چیں کا کہیں پتا لگاتی\n\nہر باغ میں پھولتی پھری وہ\nہر شاخ پہ جھولتی پھری وہ\n\nجس تختے میں مثل باد جاتی\nاس رنگ کے گل کی بو نہ پاتی\n\nبے وقت کسی کو کچھ ملا ہے!\nپتا کہیں حکم بن ہلا ہے!\n\nپہنچنا تاج الملوک کا ایک اندھے فقیر کے تکیے پر اور آزمانا گل کا\nپھر نا جو وطن کا، مدعا ہے\n\nاب صفحے پہ یو ں قلم پھرا ہے\nوہ گلشن مدعا کا گل چیں\n\nیعنی تاج الملوک حق بیں\nجس وقت گل اس چمن سے لایا\n\nمحمودہ خوش ہوئی کہ آیا\nکہنے لگی: لو مراد پائی\n\nبولا وہ: جو یاں سے ہو رہائی\nگل کی وہ عرض کر آشکارا\n\nجوبن کی طرح اسے ابھارا\nجب دیو سیاہ شب سے ماہتاب\n\nرخصت ہوا، جیسے چشم سے خواب\nاور گل لیے آفتاب تاباں\n\nہنگام سحر ہوا شتاباں\nوہ مہر وش اور اوہ ماہ پیکر\n\nاس دیونی پاس آتے مضطر\nگل کی وہ عرض جتائی اس کو\n\nرخصت کی طلب سنائی اس کو\nکیا کہتی وہ دیونی، کہا: جاؤ\n\nدیووں سے کہا کہ تخت لے آؤ\nبولے کہ کدھر چلو گے، کہہ دو\n\nفردوس کے رخ، کہا، ادھر کو\nوہ مڑ کے، ادھر کو اڑاکے آئے\n\nگلزار میں بیسوا کے لائے\nوقت سحر اور خنک ہوا تھی\n\nگل گشت چمن مین بیسوا تھی\nچار آنکھیں ہوئیں تو تھی شناسا\n\nقدموں پہ گری وہ سایہ آسا\nصدقے ہو کر کہا: خوش آئے\n\nجس گل کی ہوا لگی تھی، لائے؟\nہمراہ یہ کون دوسری ہے؟\n\nسایہ ہے کہ ہم قدم پری ہے!\nبولا شہ زادہ: شکر ہے، ہاں\n\nپر ہے گل آرزو سے داماں\nمحمودہ نام یہ جو ہیں ساتھ\n\nپھول ان کے سبب سے آگیا ہاتھ\nجیتا جو پھرا وہ رشک شمشاد\n\nقیدی کیے بیسوا نے آزاد\nجھوٹوں اس نے تھا ان کو تایا\n\nسچوں، کھوٹوں نے داغ کھایا\nدغا، تو چلے تفنگ سے وہ\n\nچھوٹے قید فرنگ سے وہ\nچھوڑا ہوس گل و چمن کو\n\nچاروں داغی پھرے وطن کو\nبندوں کو کشتیوں پہ کر بار\n\nسونپا سب ناخدا کو گھر بار\nجب متصل آگیا وطن کے\n\nخندے یاد آئے مرد و زن کے\nسوچا کہ میں خود ہوں خانہ برباد\n\nکیا جانیے کیا پڑے گی افتاد\nلازم ہے گل اپنے ہاتھ رکھیے\n\nموقع نہیں بھیڑ ساتھ رکھیے\nلنگر کا انہیں کیا اشارہ\n\nخود کشتی سے کر گیا کنارہ\nوہ پوربی، کر کے جو گیا بھیس\n\nجنگلے کی راہ سے چلا دیس\nتکیے پہ فقیر، پیر، اندھا\n\nاک گوشے میں آنکھیں مانگتا تھا\nتھا نقش قدم سا خاک رہ پر\n\nٹھہرا وہ مسافر اس جگہ پر\nبے تجربہ تھی نمایش گل\n\nواجب تھی آزمایش گل\nپتلی پہ زر گل آزمایا\n\nسونے کو کسوٹی پر چڑھایا\nگل سے ہوئیں چشم کور تاباں\n\nہو جیسے چراغ سے چراغاں\nمنہ دیکھ کے اس نے دیں دعائیں\n\nپنجے سے مژہ کے لیں بلائیں\nگل کے جو اثرسے شادماں تھا\n\nگل چیں وہ ہوا سے ہم عناں تھا\nملنا چاروں شہ زادوں کا اور چھن جانا گل بکاولی کا\n\nتاج الملوک سے اور بینا ہونا چشم زین الملوک کا\nہے بس کہ یہ چرخ جور پیشہ\n\nیوں خار رہ قلم ہے ریشہ\nیہ جا کے، اسی جگہ پہ ناگاہ\n\nآپہنچے وہ چاروں غول گم راہ\nکہتے تھے کہ واہ رے مقدر!\n\nکس شک سے پھر کے جاتے ہیں گھر\n\nکیا رنگ زمانے نے دکھائے!\nگل لینے گئے تھے، داغ لائے\n\nکس منہ سے پدر کے آگے جائیں\nکیوں کر بے پھول منہ دکھائیں\n\nٹھہرائی کہ اور پھول لے جایئں\nکحال کو بے وقوف بنایئں\n\nاک باد ہوائی توڑ کر پھول\nکہنے لگے پھول پھول کر غول\n\nکیا پھول ہے! کیا اثر ہے اس میں!\nہو جاتی ہیں روشن اندھی آنکھیں\n\nوہ کور کہ ہو چکا تھا بینا\nدیکھا اس نے جو یہ قرینا\n\nبولا کہ یہ گل، وہ گل نہیں ہے\nاس پھول کی اور گل زمیں ہے\n\nوہ جوگی جو جاتے ہیں، اگر آئیں\nدکھلائیں وہ گل، تو آنکھیں کھل جائیں\n\nمیں کور، ابھی ہو چکا ہوں بینا\nاندھا نہیں اب ہوا ہوں بینا\n\nچاروں کو تھی حسرت گل تر\nچو بائی ہوا کی طرح چل کر\n\nاس جوگی کے جب برابر آئے\nباہم کہا: دیکھو پھول لائے\n\nگل ہے کہ علاج نور ہے یہ!\nگل ہے کہ چراغ طور ہے یہ!\n\nجوگی، یعنی وہ شاہ زادہ\nبولا کہ بکو نہیں زیادہ\n\nپاتے اگر اس درخت کی چھاؤں\nرکھتے ہی نہ تم زمین پر پاؤں\n\nڈینگ آپ کی سب فضول ہے یہ\nوہ گل یہ نہیں، وہ پھول ہے یہ\n\nیہ کہہ کے، جو جیب سے نکالا\nان مفت بروں نے ہاتھ ڈالا\n\nقوت میں وہ چارتھے، یہ بے کس\nشورش میں وہ چار، موج، یہ خس\n\nغولوں نے بہ زور پھول اڑایا\nاس خضر کو راستہ بتایا\n\nگل پانے سے بس کہ سرخ رو تھے\nگھوڑوں پہ ہوا کے مثل بو تھے\n\nتعجیل سے رو بہ راہ آئے\nگل لے کے حضور شاہ آئے\n\nگل لائے جو نور دیدہ دل خواہ\nآنکھوں کی طرح پھڑک گیا شاہ\n\nپنجے سے پلک کے پھول اٹھایا\nاندھے نے گل آنکھوں سے لگایا\n\nنور آ گیا چشم آرزو میں\nآیا پھر آب رفتہ جو میں\n\nخورشید بصر گہن سے چھوٹا\nخیرات کے در کا قفل ٹوٹا\n\nدولت جو پاس تھی، لٹائی\nزر بخشا گل کی رونمائی\n\nایک ایک کو اس قدر دیا زر\nمحتاج، گدا، ہوئے تو نگر\n\nسجوائے طرب کے کار خانے\nبجوائے خوشی کے شادیانے\n\nپہنچنا بکاولی کا دارالخلافت زین الملوک میں اور وزیر ہو کر تاج الملوک کی تلاش میں رہنا\nگل چیں کا جو اب پتا ملا ہے\n\nیو شاخ قلم سے گل کھلا ہے\nوہ باد چمن چمن خراماں\n\nیعنی وہ بکاولی پریشاں\nگلشن سے جو خاک اڑاتی آئی\n\nاس شہر میں آتی آتی آئی\nدیکھا تو خوشی کے چہچہے تھے\n\nگل چیں کے شگوفے کھل رہے تھے\nگلبانگ زناں تھا، جو جہاں تھا\n\nایک ایک، ہزار داستاں تھا\nپاتے ہی پتا، خوشی سے پھولی\n\nشاد ایسی ہوئی کہ رنج بھولی\nجادو سے بنی وہ آدمی زاد\n\nانسانوں میں آ ملی پری زاد\nسلطاں کی سواری آرہی تھی\n\nصورت جو نگاہ کی، پری تھی\nپوچھا: اے آدم پری رو!\n\nانساں ہے، پری ہے، کون ہے تو؟\nکیا نام ہے اور وطن کدھر ہے؟\n\nہے کون سا گل، چمن کدھر ہے؟\nدی اس نے دعا، کہا بہ صد سوز\n\nفرخ ہو شہا! میں ابن فیروز\nگل ہوں، تو کوئی چمن بتاؤں!\n\nغربت زدہ کیا وطن بتاؤں!\nگھر بار سے کیا فقیر کو کام\n\nکیا لیجیے چھوڑے گاؤں کا نام\nپوچھا کہ سبب؟ کہا کہ قسمت\n\nپوچھا کہ طلب؟ کہا: قناعت\nباتوں پہ فدا ہوا شہنشاہ\n\nلایا بہ صد امتیاز ہمراہ\nچہرے سے امیرزادہ پایا\n\nگھر لا کے، وزیر اسے بنایا\nنذریں لیے بندگان درگاہ\n\nدستور سے آملے بہ صد جاہ\nدربار میں چاروں شاہ زادے\n\nدیکھے، تو کھلے وہ دل کے سادے\nچاہا، گل چیں کا امتحاں لے\n\nپوچھا کہ نگیں جو لے، کہاں لے؟\nبتلانے لگے وہ چاروں ناداں\n\nکوئی یمن اور کوئی بدخشاں\nجانا کہ جو گل یہ لائے ہوتے\n\nخاتم کے نگیں بتائے ہوتے\nتجویز میں تھا یہ صاحب فکر\n\nآیا تاج الملوک کا ذکر\nنقش اس کو ہوا کہ بس وہی ہے\n\nان سادوں سے کندہ کب ہوئی ہے\nظاہر نہ کیا بطون اپنا\n\nطالع سے لیا شگون اپنا\nمنزل گہ رہ رواں بنا کے\n\nشام و سحر اس میں آپ آکے\nرہ رو کو دیا بہ لطف و اکرام\n\nآتے آرام، جاتے پیغام\nآباد ہونا تاج الملوک کا گلشن نگاریں بنوا کے اور شہرہ ہونا\n\nتعمیر مکاں کے ہیں جو آثار\nیوں خامہ ہے بہر بیت، معمار\n\nشہ زادہ کہ عازم وطن تھا\nگل پانے سے خوش چمن چمن تھا\n\nاندھے کو کیا جب اس نے بینا\nاور داغیوں نے وہ پھول چھینا\n\nسوچا کہ خوشی خدا کی، غم کھاؤ\nحمالہ دیونی کو بلواؤ\n\nنقل ارم ایک مکاں بنا کے\nرکھوں پریوں کو اپنی لاکے\n\nبال آگ پہ رکھتے، آندھی آئی\nوہ دیونی بال باندھی آئی\n\nتنہا اسے دیکھ کر کہا: ہیں!\nمحمودہ کیا ہوئیں؟ کہا: ہیں\n\nدریا پہ ہوں ان کو چھوڑ آیا\nمسکن کے لیے تمھیں بلایا\n\nلیکن وہ مکاں، وہ حوض، وہ باغ\nجو باغ بکاولی کو دے داغ\n\nحمالہ نے دیووں کو کیا یاد\nآئے تو کہا: یہ بن، ہو آباد\n\nویرانے کو گل زمیں بناؤ\nگلزار جو اہریں بناؤ\n\nصناع طلسم کار تھے وہ\nگلشن کے لیے بہار تھے وہ\n\nدیووں نے ادھر محل بنایا\nکشتی سے وہ دخت رز کو لایا\n\nحمالہ اس کی مادر پیر\nمحمودہ سے ہوئی بغل گیر\n\nکچھ دیووں کو چھوڑ کر وہیں پر\nرخصت ہو کر چلی گئی گھر\n\nگلشن میں سمن بڑوں کو لایا\nنسریں بدنوں سے گھر بسایا\n\nدونوں کو محل میں لا کے رکھا\nپھل نخل مواصلت کا چکھا\n\nدیووں کو کہا کہ بہر تمکیں\nآباد ہو گلشن نگاریں\n\nدیو، آدمی بن کے بن میں آئے\nآتے جاتے کو گھیر لائے\n\nجو سن کے خبر، گیا ادھر کو\nجنت سے وہ پھر پھرا نہ گھر کو\n\nازبس کہ قریب شہر تھا باغ\nخورشید افق نظر پڑا باغ\n\nمفلس، زردار، امیر، قلاش\nنوکر، تاجر، فقیر، خوش باش\n\nگھر چھوڑ کے چل بسے سب انساں\nپھر تن میں نہ آئے صورت جاں\n\nملاقات ٹھہرنی زین الملوک اور تاج الملوک کی آپس میں\nگلشن جو بنا جواہر آگیں\n\nیوں صفحہ قلم سے ہے نگاریں\nساعد نام ایک مہ لقا تھا\n\nدلبر کا غالام با وفا تھا\nصحرا سے جو سیر کر کے آیا\n\nلکڑی کے چکا کے بو جھ لایا\nدلوائے ہر ایک کو پے قوت\n\nالماس و عقیق و لعل و یاقوت\nتھی بس کہ وہ جا خلاصہ دہر\n\nکچھ ٹھہرے، کچھ آئے جانب شہر\nکف میں جو وہ لعل بے بہا تھے\n\nمن پاتے ہی، لوگ اژدہا تھے\nشحنے نے سنا، پکڑ بلایا\n\nلے کر اظہار، ساتھ آیا\nدیکھا تو وہ جلوہ گاہ امید\n\nاک دائرہ تھا بہ رنگ خورشید\nدروازے پہ دیووں کا تھا پہرا\n\nبھجوا کے خبر، وہ شحنہ ٹھہرا\nجب واں سے طلب ہوا، تو درباں\n\nلائے اسے پیشگاہ سلطاں\nآداب کیا، ادب سے ٹھہرا\n\nہیبت زدہ دور سب سے ٹھہرا\nان لوگوں کو لے گیا تھا ہمراہ\n\nمعروض کیا کہ یا شہنشاہ!\nکم مایہ یہ لوگ ہیں بہ ظاہر\n\nچوری کے تو یہ نہیں جواہر\nساعد نے کہا کہ ہے یہ حاسد\n\nنیت ہوئی ہوگی اس کی فاسد\nحضرت! یہ وہی تو تبردار\n\nجا، ان سے نہ بولیو، خبردار!\nپھر کر انھی پاؤں شحنہ بے آس\n\nآیا زین الملوک کے پاس\nکی عرض کہ باغ اک بنا ہے\n\nیہ شہر اجڑا ہے، وہ بسا ہے\nجو کوئی ہے اس جگہ پہ جاتا\n\nڈھیروں ہے جواہرات پاتا\nحضرت نے کہا کہ بک نہ خیرہ\n\nقاروں کا وہیں ہے کیا ذخیرہ!\nفرخ کہ وزیر باخرد تھا\n\nسلطاں مشیر نیک و بد تھا\nبولا کہ شہا! یہ بات کیا ہے\n\nنیرنگ و فسوں کا گھر بڑا ہے\nہر چند کہ طرفہ حال ہے یہ\n\nکچھ دور نہیں، مثال ہے یہ\nحکایت ایک عورت کے مرد بن جانے کی دیو کے جادو سے\n\nاک ملک میں ایک صاحب فوج\nرکھتا تھا محل میں بارور زوج\n\nتھا داغ پسر مقدر اس کو\nجننی تھی ہمیشہ دختر اس کو\n\nاز بس کہ وہ شاہ تھا بد اختر\nکرتا تھا حسد سے قتل دختر\n\nاک بار محل میں پھر حمل تھا\nوہ شاہ کہ ظلم میں مثل تھا\n\nکھا بیٹھا قسم کہ اب کی باری\nبیٹا جو نہ دے جناب باری\n\nاقبال کا کچھ نہ جانے اوج\nکر ڈالیے ذبح دختر و زوج\n\nکنیا تھی غرض کہ راس اس کی\nپوری نہ ہوئی وہ آس اس کی\n\nسلطاں کا جو عہد بے خلل تھا\nگھر والوں کو خوف کا محل تھا\n\nملحوظ بہ دل تھا پردہ راز\nسیارہ شناسوں سے کیا ساز\n\nہر چند ستارہ مال کا تھا ماند\nتھی چاندنی، شہرہ کر دیا چان\n\nبیٹے کا وہ زائچہ بنا کے\nگویا ہوئے دست بستہ آ کے\n\nحضرت! یہ پسر ہے نیک اختر\nبدیمن مگر ہے ایک اختر\n\nجب تک نہ چلے یہ اپنے پاؤں\nحضرت نہ پسر کے سامنے ہوں\n\nحلیہ کر کے چھپا کے یک چند\nبے تاب ہوا جب آرزومند\n\nوہ گندم جو نما تھی بالی\nمردانہ لباس سے نکالی\n\nخوش ہو کے پدر نے بہر شادی\nٹھہرائی کہیں کی شاہ زادی\n\nبن ٹھن کے عروس شک داماد\nشادی کو چلی بہ جان ناشاد\n\nاک شب کسی دشت میں تھے ڈیرے\nاور روز نکاح تھا سویرے\n\nخیمے سے وہ بے قرار نکلی\nاس چھالے سے مثل خار نکلی\n\nدیکھا تو اندھیری رات سنسان\nاک عالم ہو ہے اور بیابان\n\nایک دیو وہاں پہ گشت میں تھا\nجویاے شکار دشت میں تھا\n\nدیکھا تو کہا: خضر ملے، آؤ\nمنہ کھولو، عدم کی راہ بتلاؤ\n\nبولا وہ کہ سن تو آدمی زاد!\nکیوں تنگ ہے جی سے، کیا ہے بیداد؟\n\nاے مرد خدا! خدا کی سوگند\nکہہ، جس لیے تو ہے آرزو مند\n\nبولی وہ کہ یہ خیال، ہے خام\nخنجر کا ہو کیا نیام سے کام\n\nکہہ کر کھلے بندوں جی کی تنگی\nبے ننگ، ہوئی وہ شوخ، ننگی\n\nآنکھیں جھپکا کے دیو بولا\nتو کیا کھلی، پردہ تو نے کھولا\n\nخاطر تری، لے طلسم دکھلاؤں\nتو مجھ سی بنے، میں تجھ سا بن جاؤں\n\nموند آنکھ کہا، تو موند لی آنکھ\nکھول آنکھ کہا، تو کھول دی آنکھ\n\nپائے مردانگی کے پر تو\nدامن میں سے دی چراغ نے لو\n\nتھا لے میں یہاں اگا صنوبر\nواں شیشہ، رہا ترش کے، ساغر\n\nاب یاں سے ہے قصہ مختصر طول\nفرخ کہ وہ تھا وزیر معقول\n\nبولا کہ شہا! جو یہ ہوا ہے\nاس بات کا پھر وجود کیا ہے\n\nشہ نے کہا: سن وزیر دانا\nبے دیکھے، سنے کو کس نے مانا\n\nیاد آئی مجھے بھی اک روایت\nیہ کہہ کے، بیان کی حکایت\n\nحکایت نصیحت گری مرغ اسیر و نافہمی صیاد کی\nاک مرغ ہوا اسیر صیاد\n\nدانا تھا وہ طاہر چمن زاد\nبولا جب اس نے باندھے بازو\n\nکھلتا نہیں کس طمع پہ ہے تو\nبیجا، تو ٹکے کا جانور ہوں\n\nگر ذبح کیا، تو مشت پر ہوں\nپالا، تو مفارقت ہے انجام\n\nدانا ہو، تو مجھ سے لے مرے دام\nبازو میں نہ تو مرے گرہ باندھ\n\nسمجھاؤں جو پند، اسے گرہ باندھ\nسن، کوئی ہزار کچھ سنائے\n\nکیجے وہی جو سمجھ میں آئے\nقابو ہو، تو کیجئے نہ غفلت\n\nعاجز ہو، تو ہاریے نہ ہمت\nآتا ہو، تو ہاتھ سے نہ دیجے\n\nجاتا ہو، تو اس کا غم نہ کیجے\nطائر کے یہ سن کلام، صیاد\n\nبن داموں ہوا غلام صیاد\nبازو کے جو بند کھول ڈالے\n\nطائر نے تڑپ کے پر نکالے\nاک شاخ پہ جا، چہک کے بولا\n\nکیوں، پر مرا کیا سمجھ کے کھولا؟\nہمت نے مری، تجھے اڑایا\n\nغفلت نے تری، مجھے چھڑایا\nدولت نہ نصیب میں تھی تیرے\n\nتھا لعل نہاں شگم میں میرے\nدے کر صیاد نے دلاسا\n\nچاہا، پھر کچھ لگائے لاسا\nبولا وہ کہ دیکھ، کر گیا جعل\n\nطائر بھی کہیں نگلتے ہیں لعل!\nارباب عرض کی بات سن کر\n\nکر لیجیے یک بہ یک نہ باور\nفرخ! یہ وہی مثل نہ ہوئے!\n\nدیکھ آ، جو تجھے دہل نہ ہوئے\nمشتاق تو تھا، چلا وہ دستور\n\nدکھلائی دیا وہ بقعہ نور\nنقشے میں وہ گلشن نگاریں\n\nگلزار ارم سے تھا خوش آئیں\nحیرت تھی کہ یہ طلسم کیا ہے!\n\nپردیس میں ہوں کہ گھر مرا ہے!\nاس سوچ میں تخت گہ تک آیا\n\nحیراں وہ وزیر، شہ تک آیا\nآداب اک کر کے حسب دستور\n\nٹھہرا، تو وہ بادشاہ مستور\nسمجھا کہ حسین آدمی ہے\n\nکیا جانے کہ خود بکاولی ہے\nپوچھا کہ کدھر سے آئے، کیا نام؟\n\nبولا وہ کہ نام سے ہے کیا کام\nانسان ہوں، بندہ خدا ہوں\n\nبھیجا زین الملوک کا ہوں\nگستاخی معاف، آپ آئے\n\nبن گھیر لیا، مکاں بنائے\nبہکا کے بسائے مردم شہر\n\nحضرت کا بڑا ہے آپ پر قہر\nدعویٰ یہ ہے، یاں زمیں دابی\n\nآبادی میں آئی ہے خرابی\nخیر، اب بھی رفع شر جو چاہو\n\nسر آنکھوں سے چل کے جبہہ سا ہو\nبولا وہ کہ فتنہ گر نہیں ہم\n\nشرجن سے ہو، وہ بشر نہیں ہم\nدرویشی میں دل کے بادشا ہیں\n\nمسند کے تکیے پر گدا ہیں\nدستور کہ عرض کر چکا تھا\n\nمثل دل بد گماں رکا تھا\nبولا: چلو صلح درمیاں ہو\n\nباہم مہ و مہر کا قراں ہو\nبولا وہ: فقیر کی بلا جائے\n\nمشتاق جو ہو، وہ شوق سے آئے\nبولا وہ کہ خیر، تابہ فردا\n\nاٹھ جائے گا درمیاں سے پردا\nیہ کہہ کے پھرا وزیر، آیا\n\nپہنچا تو وہ شہر خالی پایا\nشہ زادہ و شہ محل میں تھے واں\n\nبر ہم زدہ بزم کے چراغاں\nشہ نے جو وزیر آتے دیکھا\n\nفرخ، فرخ پکار اٹھا\nسلطاں کے نثار ہو کے دستور\n\nبولا کہ بلاے شاہ ہو دور!\nدیکھ آیا میں وہ مکان یاقوت\n\nہے معدن لعل و کان یاقوت\nتختہ ہے زمردیں کہ مینو!\n\nگلشن ہے جواہریں کہ جادو!\nنقشہ کہوں کیا، نگار خانہ!\n\nجادو کا تمام کار خانہ!\nدیووں کی بنائی ہے وہ بنیاد\n\nرہنے والے ہیں آدمی زاد\nواں صاحب تاج و تخت جو ہے\n\nدرویش ہے، شاہ نام کو ہے\nدیو اس کے عمل میں آگئے ہیں\n\nجادو کے محل بنا گئے ہیں\nکل آپ بھی چل کے کیجئے سیر\n\nوعدہ کر آیا ہوں، کہا: خیر\nبھید کھلنا چھپے ہوؤں کا ایک ایک پر\n\nاب خامے سے وا شگاف یوں ہے\nدل ملنے کی راہ صاف یوں ہے\n\nفرخ جو گیا، تو شاہ زادہ\nسوچا کہ ہوں ٹھاٹھ کل زیادہ\n\nرکھا آتش پہ دوسرا بال\nحاضر ہوئی دیونی قوی بال\n\nدعوت کی اسے خبر سنائی\nدیووں کے رخ اس نے آنکھ اٹھائی\n\nہم چشموں نے چتون اس کی تاڑی\nپلکوں سے زمین بن کی جھاڑی\n\nغولوں سے بھرا جو تھا بیاباں\nپھولوں سے بنا دیا خیاباں\n\nصناعی انھوں نے رات بھر کی\nمشتاق نے واں وہ شب سحر کی\n\nبجتے ہی گجر وہ شاہ ذی جاہ\nچاروں شہ زادے لے کے ہمراہ\n\nجو جو امرا تھے، سب بلا کے\nفرخ کو خواصی میں بٹھا کے\n\nمشرق سے رواں ہوا دلاور\nجس طرح افق سے شاہ خاور\n\nبجلی سے جو زرق برق آئے\nفرش، ابر کی طرح بچھتے پائے\n\nدیکھا تو تمام دشت گلزار\nدائیں بائیں دورستہ بازار\n\nشہ کہتے تھے: دشت پر خسک تھا\nفرخ کہتا تھا: کل تلک تھا\n\nغافل تھے کہ سبز باغ ہے یہ\nاپنے ہی جگر کا داغ ہے یہ\n\nتجویز رہے تھے سب کے سب دنگ\nجادو، افسوں، طلسم، نیرنگ\n\nکیا لشکر اور کیا شہنشاہ\nسناٹے میں تھے کہ اللہ اللہ!\n\nدیکھے جو جواہرات کے ڈھیر\nسب من کی ہوس سے ہو گئے سیر\n\nشہ زادے نے آمد ان کی پائی\nکی تادر خانہ پیشوائی\n\nدونوں میں ہوئیں جو چار آنکھیں\nدولت کی کھلی ہزار آنکھیں\n\nایوان جواہریں میں آئے\nالماس کی شبہ نشیں میں آئے\n\nوہ چتر کے زیر سایہ بیٹھے\nافسر سب پایہ پایہ بیٹھے\n\nجو جو کہ تو اضعات ہیں عام\nلے آئے خواص نازک اندام\n\nچکنی ڈلی، عطر، الائچی، پان\nنقل و مے و جام و خوان انوان\n\nرغبت سے انہیں کھلا پلا کے\nبولا شہ زادہ مسکرا کے\n\nاس تاج شہی میں کے نگیں ہیں؟\nکے نام و نشان دل نشیں ہیں؟\n\nسلطاں نے کہا بہ صد لطافت\nیہ چار ہیں عنصر خلافت\n\nایک اور ہوا تھا قابل خشم\nوہ نور بصر، تھا دشمن چشم\n\nجب لائے یہ گل بکاولی کا\nنکلا تب خار روشنی کا\n\nپوچھا اس نے: وہ اب کدھر ہے؟\nسلطاں نے کہا کہ کیا خبر ہے!\n\nایک ان میں سے چشم آشنا تھا\nکو کہ اسی شاہ زادے کا تھا\n\nبولا کہ حضور ادھر تو دیکھیں\nدیکھا، تو کہا: مری نظر میں\n\nصورت وہی، رنگ رو وہی ہے\nلہجہ وہی، گفتگو وہی ہے\n\nیہ سنتے ہی، اس نے خندہ کر کے\nسر، پاؤں پہ رکھ دیا پدر کے\n\nسر، قدموں سے شاہ نے اٹھایا\nفرزند کو چھاتی سے لگایا\n\nلے لے کے بلائیں کاکلوں کی\nپیشانی چومی، پیٹھ ٹھونکی\n\nعرض اس نے کیا کہ دو پرستار\nپا بوسی شہ کی ہیں طلب گار\n\nحضرت نے کہا: بلائیے خیر\nاٹھ جائیں، جو بیٹھے ہوں یہاں غیر\n\nشہ زادے نے اک مکاں بتایا\nایک ایک اٹھا، ادھر کو آیا\n\nسب اٹھ گئے، پر وہ چاروں باغی\nبیٹھے رہے فرش گل پہ داغی\n\nشہ زادہ اٹھا، محل میں آیا\nپردے تلک ان کو ساتھ لایا\n\nدلبر سے کہا: میں جب کہوں، آؤ\nتو کہیو، یہ چاروں داغی اٹھواؤ\n\nدرپردہ سکھا کے، باہر آیا\nبے پردہ حضور شہ بلایا\n\nدلبر نے کہا: لجاؤں گی میں\nقربان گئی، نہ آؤں گی میں\n\nاٹھ جائیں یہ چاروں سست بنیاد\nداغے ہوئے ہیں غلام، آزاد\n\nچاروں کا، جو سنتے ہی، اڑا رنگ\nیک بار گی شاہ ہوگیا دنگ\n\nدکھلائی دیے جو بیٹے بے رخ\nدیکھا تاج الملوک کے رخ\n\nیاں دل پہ تھے داغ، واں سریں پر\nیاں نام پہ حرف، واں نگیں پر\n\nوہ جعل، وہ ہار، وہ غلامی\nوہ گھات، وہ جیتنا تمامی\n\nوہ دسترس اور وہ پائے مردی\nوہ بے کسی اور وہ دشت گردی\n\nوہ دیو کی بھوک اور وہ تقریر\nوہ حلوے کی چاٹ اور وہ تحریر\n\nوہ سعی، وہ دیونی کی صحبت\nمحمودہ کی وہ آدمیت\n\nتجویز کے وہ سرنگ کی راہ\nاور موش دوانیاں وہ دل خواہ\n\nوہ سیر چمن، وہ پھول لینا\nوہ عزم وطن، وہ داغ دینا\n\nوہ کور کے حق میں خضر ہونا\nوہ غولوں سے مل کے پھول کھونا\n\nوہ بال کو آگ کا دکھانا\nوعدے پہ وہ دیونی کا آنا\n\nوہ نزہت گلشن نگاریں\nوہ دعوت بادشا، وہ تمکیں\n\nگزرا تھا جو کچھ، بیاں کیا سب\nپنہاں تھا جو کچھ، عیاں کیا سب\n\nانگشتری پری دکھا کر\nکھلوئی سریں کی مہر محضر\n\nپہلے تو بہت وہ منہ چڑھے ڈھیٹھ\nآخر داغی دکھا گئے پیٹھ\n\nاٹھوا کے انہیں، وہ دو خوشی آئیں\nپا بوسی شہ کو سر سے آئیں\n\nحضرت نے سمجھ کے حسن خدمت\nدونوں کو دیے خطاب و خلعت\n\nنذریں ان دونوں نے دکھائیں\nرخصت ہو کر محل میں آئیں\n\nمسند سے شہ اٹھ کے بے محابا\nبولا بیٹے سے: جان بابا!\n\nروشن کیا دیدہ ٔپدر کو\nمادر کے بھی چل کے آنسو پوچھو\n\nمشتاق کو روبہ راہ پایا\nہمراہ اسے تابہ خانہ لایا\n\nماں نے دیکھا جو وہ دلاور\nاشکوں کے گہر کیے نچھاور\n\nوہ طفل بھی گر پڑا قدم پر\nمانند سر شک چشم مادر\n\nہر خویش ویگانہ سے ملا وہ\nپھر اپنی جگہ پہ آگیا وہ\n\nغائب ہو جانا فرخ یعنی بکاولی کا اور بلوانا تاج الملوک\nکو گلشن نگاریں سے اور متفق ہو کر گلزار ارم میں رہنا\n\nکھلنے پہ جو ہے طلسم تقدیر\nاب خامے نے یو کیا ہے تحریر\n\nفرخ، وہ بادشا کا دستور\nیعنی وہ بکاولی مستور\n\nمطلوب کا سن سمجھ کے سب حال\nچاہی کہ نکالے کچھ پر وبال\n\nسوچی کو دلا! شتاب کیا ہے\nپھر سمجھیں گے، اضطراب کیا ہے\n\nاس وضع کا پاس کر گئی وہ\nتغیر لباس کر گئی وہ\n\nفرخ کہنے تک آدمی تھی\nپھر وہ ہی بکاولی پری تھی\n\nغربت سے چلی، وطن میں آئی\nصحرا سے اڑی، چمن میں آئی\n\nپژ مردہ خواصوں پڑی جان\nصدقے ہوئی کوئی، کوئی قربان\n\nاس غنچے میں اک سمن پری تھی\nوہ ہم نفس بکاولی تھی\n\nبولی: کہو کیا کیا، کہا: خوب\nبے کچھ کیے پھر بھی آئی، کیا خوب!\n\nمانگا کاغذ، دوات، خامہ\nلکھا گل چیں کے نام نامہ\n\nاے یوسف چشم زخم یعقوب!\nوے رشک برادران منکوب!\n\nاے دل بر دلبرد غل باز!\nوے دیو سوار عرش پرواز!\n\nاے آب تہ زمین نیرنگ!\nوے نقب دوان باغ گل رنگ!\n\nاے پردہ کشاے بے حجابی!\nوے دزد حناے دست یابی!\n\nاے رہ رو رو بہ رہ نہادہ!\nوے صر صر گل بہ باد دادہ!\n\nاے بے سر و برگ گلشن آرا!\nوے لعل نماے سنگ خارا!\n\nاے بے خبر طلسم صورت!\nوے بے بصر رخ ضرورت!\n\nاے باعث عزم میہمانی!\nوے صاحب بزم میزبانی!\n\nاے آئنہ دار خود نمائی!\nوے سرمہ چشم آشنائی!\n\nاے پردہ کشاے روے پنہاں!\nوے داغ نماے پشت اخواں!\n\nتو باغ ارم سے لے گیا گل\nتو مجھ سی پری کو دے گیا جل\n\nبے رخ ترے واسطے ہوئی میں\nفرخ ترے واسطے ہوئی میں\n\nتجھ کو ترے باپ سے ملایا\nمجھ کو یہ ملا کہ تجھ کو پایا\n\nجو جو اسرار تھے نہانی\nسب تجھ سے سنے تری زبانی\n\nکیا لطف جو غیر پردہ کھولے\nجادو ہو جو سر پہ چڑھ کے بولے\n\nچاہا تھا، کروں سرے سے پامال\nکر شکر، سمجھ کہ تھا خوش اقبال\n\nکیا کہیے کہ صورت اور کچھ تھی\nوقت اور، ضرورت اور کچھ تھی\n\nاب تک ہیں وہ خارجی کے جی میں\nجلد آ کہ ہے مصلحت اسی میں\n\nآئے گا، تو در گذر کروں گی\nورنہ میں بہت ساشر کروں گی\n\nداغوں پہ دیے ہیں داغ تو نے\nدکھلائے ہیں سبز باغ تو نے\n\nکانٹوں میں اگر نہ ہو الجھنا\nتھوڑا لکھا بہت سمجھنا\n\nپھر خط کی نہ ہو امیدواری\nالقط ہے قلم کی دوست واری\n\nیہ لکھ کے، کہا سمن پری کو\nچالاک ہے تو ہی قاصدی کو\n\nیہ خط، یہ انگوٹھی لے، ابھی جا\nپورب کی سمت کو چلی جا\n\nرستے میں ہے گلشن نگاریں\nرہتا ہے وہیں مرا وہ گل چیں\n\nخاتم کے نشاں سے نامہ دیجو\nٹھہری رہیو، جواب لیجو\n\nخط، خاتم لے کے وہ ہوائی\nپتا ہوئی اور پتے پہ آئی\n\nوہ باغ کہ تھا جواہر آگیں\nثابت ہوا گلشن نگاریں\n\nوہ آدم حوروش، پری رو\nیعنی تاج الملوک خوش خو\n\nگل گشت میں تھا کسی روش پر\nمحمودہ دائیں، بائیں دلبر\n\nقاصد نے جو رخ پری دکھایا\nدھیان اس کو بکاولی کا آیا\n\nپہچانتے ہی نگین خاتم\nبے شبہ ہوا یقیں کا عالم\n\nپر تو پہ وہ یوں چلا تڑپ کے\nانگارے پہ جیسے کبک لپکے\n\nدھوکا تھا فقط بکاولی کا\nقاصد نے دیا وہ خط پری کا\n\nگو سرمہ خموشی نے کھلایا\nتحریر کو آنکھوں سے لگایا\n\nقاصد سے کلام لطف بولا\nخط صورت چشم شوق کھولا\n\nوہ نامہ کہ عنبریں رقم تھا\nقسمت کا نوشتہ یک قلم تھا\n\nتحریر تھی سر گذشت ساری\nکچھ یاس تھی، کچھ امیدواری\n\nمنگوا کے وہیں دوات و خامہ\nتحریر کیا جواب نامہ\n\nاے شاہ ارم کی دخت گل فام!\nفرخ لقب و بکاولی نام\n\nاس نام کے، اس لقب کے صدقے\nاس نامے کے، اس طلب کے صدقے\n\nمیں نے جو غرض سے جی چرایا\nتو نے کیوں آ کے منہ چھپایا؟\n\nمیری جو بدی ہوئی تھی کچھ یوں\nتو نیک ہے، بے ملے گئی کیوں؟\n\nتو جائے، تو کیوں نہ آئے افسوس\nافسوس، افسوس، ہاے افسوس!\n\nتقدیر پھری، پھری نہیں تو،\nامید گئی، گئی نہیں تو\n\nاے کاش! میں کچھ بھی سانس پاتا\nجی کھول کے داغ دل دکھاتا\n\nمعلوم تو ہے کہ شوق کیا تھا\nجو کھینچ کے یاں سے لے گیا تھا\n\nاب مجھ میں وہ دم اجی کہاں ہے\nوہ دل، وہ جگر، وہ جی کہاں ہے\n\nمر جاؤں اگر طلب میں تیری\nمیں کیا، کہ خبر نہ پہنچے میری\n\nقابل واں آنے کے کہاں ہوں\nیاں بھی جو رہا، تو نیم جاں ہوں\n\nتجھ سے میری خاطر اب کہاں جمع\nتو نشتر شعلہ، میں رگ شمع\n\nتو برق دماں، میں خرمن خار\nتو سیل رواں، میں خستہ دیوار\n\nتو جوشش یم، میں مور بے پر\nمیں نقش قدم، تو باد صرصر\n\nدھڑکا ہے یہی، تو جان دوں گا\nمرجاؤں گا، اب نہ میں جیوں گا\n\nہو تجھ سی پری جو خصم جانی\nانساں کی ہے مرگ، زندگانی\n\nمنظور جو ہو حیات میری\nتو مان لے ایک بات میری\n\nحمالہ کو بھیج، آ کے لے جائے\nشاید مجھے زندہ پا کے پہنچائے\n\nبھیجا نہ اسے، تو جان لینا\nآسان ہے یاں بھی جان دینا\n\nیہ لکھ کے، جو خط سے ہاتھ اٹھایا\nقاصد نے لیا جو اب، لایا\n\nمطلوب کا خط وہ پڑھ رہی تھی\nدیکھا تو وہ دیونی کھڑی تھی\n\nپوچھا کہ اری! تجھے خبر ہے\nگل چیں مرا کون سا بشر ہے؟\n\nوہ صدقے ہوئی، کہا: بلا لوں\nبے دیکھے کسی کا نام کیا لوں!\n\nیہ سن کے، وہ شعلہ، ہو بھبوکا\nبولی کہ تجھے لگاؤں لوکا\n\nتیرا ہی تو ہے فساد مردار!\nداماد کو گل دیا، مجھے خار\n\nگل نقب کی راہ لے گیا چور\nزندہ کروں اس موئے کو درگور\n\nحمالہ! جلی ہوں، کیا کہوں میں\nداماد کو لا، تو ٹھنڈی ہوں میں\n\nآگاہی جو دیونی نے پائی\nبگڑی ہوئی بات یوں بنائی\n\nمحمودہ ہے کنیز زادی\nانساں سے ہوئی ہے اس کی شا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85"} {"title": "گلزار وطن", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "پھولوں کا کنج دل کش بھارت میں اک بنائیں\nحب وطن کے پودے اس میں نئے لگائیں\nپھولوں میں جس چمن کے ہو بوئے جاں نثاری\nحب وطن کی قلمیں ہم اس چمن سے لائیں\nخون جگر سے سینچیں ہر نخل آرزو کو\nاشکوں سے بیل بوٹوں کی آبرو بڑھائیں\nایک ایک گل میں پھونکیں روح شمیم وحدت\nاک اک کلی کو دل کے دامن سے دیں ہوائیں\nفردوس کا نمونہ اپنا ہو کنج دل کش\nسارے جہاں کی جس میں ہوں جلوہ گر فضائیں\nچھایا ہو ابر رحمت کاشانۂ چمن میں\nرم جھم برس رہی ہوں چاروں طرف گھٹائیں\nمرغان باغ بن کر اڑتے پھریں ہوا میں\nنغمے ہوں روح افزا اور دل ربا صدائیں\nحب وطن کے لب پر ہوں جاں فزا ترانے\nشاخوں پہ گیت گائیں پھولوں پہ چہچہائیں\nچھائی ہوئی گھٹا ہو موسم طرب فزا ہو\nجھونکے چلیں ہوا کے اشجار لہلہائیں\n\nاس کنج دل نشیں میں قبضہ نہ ہو خزاں کا\nجو ہو گلوں کا تختہ تختہ ہو اک جناں کا\nبلبل کو ہو چمن میں صیاد کا نہ کھٹکا\nخوش خوش ہو شاخ گل پر غم ہو نہ آشیاں کا\nحب وطن کا مل کر سب ایک راگ گائیں\nلہجہ جدا ہو گرچہ مرغان نغمہ خواں کا\nایک ایک لفظ میں ہو تاثیر بوئے الفت\nانداز دل نشیں ہو ایک ایک داستاں کا\nمرغان باغ کا ہو اس شاخ پر نشیمن\nپہنچے نہ ہاتھ جس تک صیاد آسماں کا\nموسم ہو جوش گل کا اور دن بہار کے ہوں\nعالم عجیب دل کش ہو اپنے گلستاں کا\nمل مل کے ہم ترانے حب وطن کے گائیں\nبلبل ہیں جس چمن کے گیت اس چمن کے گائیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%88%D8%B7%D9%86"} {"title": "گلستان", "poet_page": "مصنف:سجاد حیدر یلدرم", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "آج سے دس پندرہ برس کا ماجرا ہے، بحر ہند میں ایک جزیرہ تھا جو اب ناپید ہے، چاندنی رات تھی، سطح آب پر سکون مطلق طاری تھا اور اس سکون پر چاند اپنی شعاعیں ڈال رہا تھا، فضا میں خاموشی، بے پایاں سمندر، ڈراؤنی تنہائی، وحشت انگیز سکوت، کوئی صدا نہیں، کوئی اثر حیات نہیں، ایک غیر محدود مگر روشن تنہائی، ایک محشر سکون۔\n\nیہ عالم ہے، چاند خاموشی کے ساتھ گویا سوچ رہا ہے، موجیں بھی سوچ رہی ہیں، چاند کی کرنوں کے سیلان سے بچا ہوا سایہ سوچ رہا ہے، بادلوں کے منتشر ٹکڑے سوچ رہے ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہوا، اس خاموشی کا بھید چپکے چپکے سمندر کے کان میں کہنا چاہتی ہے اور نہیں کہہ سکتی، سمندر کا سینہ سانس لینے کی کوشش کرنا چاہتا ہے۔ تمام موجودات میں گویا ایک کروٹ لینے خواہش معلوم ہوتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس بے پایاں سستی اور سکوت میں اگر کہیں سے ذرا سی صدا بھی آجائے تو دنیا ہنس پڑے گی، اچھل پڑے گی۔\n\nنسریں نوش جزیرے کے دامن میں، سمندر کی ریت پر ایک سرد زرّیں کی طرح جو زمین پر گر پڑا ہو، لیٹی ہوئی تھی کہ موجوں میں کچھ حرکت پیدا ہوئی، اور وہ نسرین نوش کے عریاں جسم، چاند جیسے عریاں جسم پر، گردن پر، بالوں میں گزرنے لگیں، ادھر سلسبیل قمر اس کے بدن پر پڑ رہی تھی، ادھر چھوٹی چھوٹی موجیں ایک دوسرے کو ہٹاتی آتی تھیں اور اس سیمیں تن کے کبھی بالوں میں سے گزرتی تھیں، کبھی اس کے گورے بازوؤں سے لپٹتی تھیں، اور اس کے بوسے لے لے کر آگے چلی جاتی تھیں اور پھر لوٹ کر آتی تھیں اور بحر سے موتی لا لا کر اس کے پاؤں پر نثار کر کے نہایت تعظیم اور احترام کے ساتھ واپس جاتی تھیں۔\n\nنسریں نوش ایک پر لطف تھکن سے، ایک بیہوش نشہ سے آہستہ آہستہ بیدار ہوئی، اس کے چاروں طرف جو پریاں ہالہ بنائے کھڑی تھیں، ان پر نظر ڈالی اور اپنے لال لبوں سے برق تبسم گرا کے کہا، ’’میری پیٹھ ملو۔‘‘ اس پر چند خدامہ تعمیل ِ حکم میں مصروف ہوئیں، اور اس کے بعد چند اور پریاں جو ریشمی تولیا، چادر وغیرہ لئے کھڑی تھیں، انھوں نے اس کے بازؤوں، سینہ اور پاؤں کو پوچھنا اور بالوں کو سکھانا شروع کیا، نسریں نوش اس شاہراہ زرّیں کو جو چاند نے اس تک بنا رکھی تھی، دیکھنے اور موجوں کی ارگن کو سننے لگی۔\n\nاتنے میں ایک قسم کی چھوٹی پریاں، صدف بحر کی بنی ہوئی نفیر یاں اور دف اور سارنگی اور ستار غرضیکہ پورا ساز لئے ہوئے نسریں نوش کے گرد اڑنے اور ستار بجانے لگی، نسریں نوش، اٹھ کھڑی ہوئی اور ماہتاب کی طرف ہاتھ بڑھا کے اس رات کے لئے اسے’’خدا حافظ‘‘ کہا اور اپنی سہیلیوں کے کبھی کندھوں پر ہاتھ رکھ کے، کبھی ہاتھ میں ہاتھ ڈال کے، پھولوں سے چھپے ہوئے راستے پر نسیم کی طرح خرام ناز سے چلنا شروع کیا۔ اس وقت پھول جھک جھک کے سلام کرتے تھے، اور ایک دوسرے سے مل کر گویا تالیاں بجاتے، بنفشہ اس کے پاؤں چومنے اور روندے جانے کی تمنّا سے راستہ میں آ پڑتا تھا، نسریں نوش پانچ منٹ تک چلی ہوگی کہ ایک کاشانہ بلوّر میں داخل ہوئی۔\n\nچاند کا عکس اس محل کی کل دیواروں اور صحن کے فوارے پر پڑتا تھا، اور اس فوارہ نور سے ایک زمزمہ، روح نواز پیدا ہو رہا تھا، حوض کے کنارے لیمو، نارنگی، ترنج کے پودے پھولوں سے لدے ہوئے دماغ کو فرحت دے رہے تھے، یہ سب ایک دستر خوان پر بیٹھ گئیں، زبر جد کے طباقوں میں طرح طرح کے کھانے اور میوے لائے گئے، خرمے، انار، انگور، سیب، شکارکے گوشت، مچھلیاں لائی گئیں، لالے کے پیالوں میں شراب، شربت گلاب پئے گئے۔ حوض کے دوسری طرف، ناچنے والیوں، گانے والیوں نے ایک حلقہ باندھا اور رباب، نرمار، بربط، ستار پر نسریں نوش کی حسن اور ادا کی تعریف میں قصیدے، غزلیں، ٹھمریاں، گانی شروع کیں۔\n\nگانا جو ایک جوئے رواں کی طرح مسلسل تھا۔ ادھر سہیلیوں نے چھیڑ خانی شروع کی، رفتہ رفتہ لالوں، اور پھولوں کو پھینک کے لڑائی شروع ہوئی، اور تھوڑی دیر میں پھولوں سے زخم کھا کھا کے پریاں گرنے لگیں۔ لذیز شراب کے نشہ سے، نسریں نوش ہنستی ہوئی ایک سہیلی کی گود میں گر پڑی اور اپنے ہونٹ چوس چوس کر نظر اس طرح دور دور ڈالنے لگی گویا عالم خیال میں ہے، سہیلیاں اپنی مالکہ کے ہاتھ چوم چوم کے اس کے بالوں کی خوشبو سے دماغ معطر کر کر کے شراب کا ایک ایک گھونٹ پیتی تھیں۔ نشہ کا خمار چڑھنا شروع ہوا تھا کہ ناچنے والیوں کو پھر حکم ہوا۔ ساز پر پریوں کا ایک خاص ناچ، ایک رقیق، نازک، نورانی ناچ ناچا گیا۔\n\nوہ گلابی، چمپئی، دھانی، ریشمی ساڑیاں جو پریوں کے سڈول جسموں سے لپٹی ہوئی تھیں، وہ ناچ کے چکروں میں مل کر طرح طرح کے نئے رنگ پیدا کرتی تھیں، پریاں تیزی ہلکی پرواز کی طرح اُدھر اُدھر سے اِدھر ٹھمک ٹھمک کے آتی جاتی تھیں، کبھی وہ ایک دوسرے سے ملیں کبھی علیحدہ ہوجائیں، کبھی دو کے درمیان میں سے تیسری گزر جائے، کبھی حلقہ بندھ جائے، کبھی ٹوٹ جائے، اس ملنے، جدا ہونے، چکر کھانے سے رنگ اور نور کا انحلال اور اجتماع ایسا مختلف ہوتا جیسے ہشت پہلو شیشےمیں آفتاب کی کرنیں گزر رہی ہوں، ان پریوں کا تھرک تھرک کر ملنا، پھر تتر بتر ہوجانا، شانوں کا ملنا، بالوں کا سحرِ سنبل کی طرح لہرانا، نازک کمروں کا لچکے کھانا، جھک جھک کے دہرا ہوجانا، یہ سب باتیں سلیس و بلیغ گتوں سے (جو سازندے پریاں بجا رہی تھیں) مل کر ایک نشہ آور نظر پیش کرتی تھیں کہ کان موسیقی اور رقص میں تمیز نہیں کر سکتے تھے اور آنکھ نہیں بتا سکتی تھی کہ آیا موسیقی رقص کر رہی ہے، یا رقص نغمہ ساز ہے، کیا ہو رہا ہے۔\n\nنسریں نوش ان تمام تموجات رقص و آہنگ کو ایک سہیلی صبح خنداں کے زانو پر سر رکھے ہوئے ایک بے پروا، لاابالیانہ نگاہ سے دیکھ رہی تھی، اور ایسا نظر آتا تھا کہ وہ ان چیزوں کی طرف زیادہ ملتفت نہیں، کیونکہ اس کی نگاہ کسی دور نقطہ پر گڑی ہوئی تھی، یہ ٹیپ ٹاپ، یہ ناچ گانا، وہ رات دن دیکھتی تھی، اس لئے اس کی روح خفتہ کو جگانے یا اس کے دل میں حرکت پیدا کرنے کے لئے یہ کافی نہ تھا۔\n\nاس رات محل میں داخل ہونے کو اس کا دل نہ چاہا! اس کی طبیعت میں چاند کو دیکھ دیکھ کر یہ امنگ پیدا ہوئی تھی کہ اس کے عریاں جسم سے جا کر لپٹ جائے۔ وہ اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی، سہیلیوں نےاس کی طبیعت کے بہلانے کے لئے لطیفے، کہاوتیں، بوجھ، پہیلیاں کہنی شروع کیں کہ چاند اور سورج میں کیسی دوستی ہے، شہد کی مکھیاں، پھولوں سے کیا کہا کرتی ہیں، بھونرا چنبیلی کے کان میں کیا بھنبھنایا کرتا ہے، یہاں تک کہ آہستہ آہستہ ان نورانی آنکھوں میں نیند آنی شروع ہوئی۔ اس کے نرم جسم کو سہلا سہلا کے، اس کے دماغ کو تھپکا تھپکا کر، ہلکے بادلوں کے نیچے بھاگتے ہوئے چاند کو پیش نظر کر کے، غرض کہ عجب عجب دھوکے دے دے کے، نیند اس کی آنکھوں میں چپکے سے آگئی اور ان گھنی پلکوں کو ملا دیا۔\n\nنسریں نوش کا نیند میں جانا تھا کہ ناچ بند کر دیا گیا، لطیفے، پہیلیاں ختم ہوگئیں، نہ صرف یہ بلکہ فوارے بند ہوگئے، وہ عندلیب جو پنجرے میں بیٹھی گا رہی تھی، چپ ہو گئی، ہوا کی سنسناہٹ بند ہوگئی تاکہ نسریں نوش آرام سے سوئے، تمام رات رامش گر پریاں، سہیلیاں دبے پاؤں علیحدہ ہوگئیں، گھو نگرو آہستہ آہستہ اتار ڈالے گئے، اتنے میں سفید بازؤوں والی چھوٹی چھوٹی پریاں حلقے باندھ کے آئیں اور نسریں نوش کے گرد اڑنے لگیں۔ ان کے پروں سے کوئی آواز نہ نکلتی تھی، یہ پریاں نسریں نوش کی نگہبان تھیں۔\n\nدو تین منٹ کے بعد ایک بڑھیا درختوں سے نکل کے جریب پٹکتی ہوئی آہستہ آہستہ نسریں نوش کے پاس آئی اور نسریں نوش کے بدن پر جو چادر ڈال دی گئی تھی، اسے چہرے پر سے ہٹا کر غور سے دیکھنے لگی، اس کے سوکھے چہرے پر آثارِ اطمینان ظاہر ہوئے، اور ’’الحمداللہ‘‘ کہہ کے جیسی آئی تھی ویسی ہی غائب ہو گئی۔ یہ نسریں نوش کی ماں تھی، اپنی لڑکی کو نہایت احتیاط، اور بدگمانی سے رکھتی تھی، اور اس طرح ہر شام کو آکر تحقیقات کرتی تھی۔\n\nیہ معمر عورت سو چا کرتی تھی کہ ’’میرے بالوں کو سفید کرنے والے، میرے دانتوں کو گرانے والے، میرے چہرے کو خراب کرنے والے یہ مرد ہی تو ہیں، ان کے ظلم ہی تو ہیں، اپنی اولاد کو ان مصیبتوں سے بچاؤں گی، اسی لئے میں اس لڑکی کو اس جزیرے میں لائی ہوں، اسے کھیل تماشہ دل بہلاوے، ہنسی دل لگی، آرائش و نمائش سب کچھ دوں گی، لیکن مرد کیا شے ہے، یہ نہ جاننے دوں گی۔ وہ فلاکت جس کا نام مرد ہے اس کے قریب نہ جانے دوں گی۔ لیکن اگر ڈر ہے تو اتنا کہ مجھے اطلاع ہوئے بغیر اس جزیرے میں کوئی مرد نہ آ جائے، بہر حال اس وقت تو میری کل تدبیریں مکمل ہیں اور میرے دل کو اطمینان ہے۔‘‘\n\nماہتاب، دھیما ہو ہوکے غائب ہوگیا، مگر نسریں نوش کے جسم نازک کو طلوع آفتاب کے سپرد کرتا گیا، سفید بازؤوں والی نگہبان پریاں ہٹ گئیں اور ان کے بجائے سہیلیاں اور گانے والیاں آگئیں جنھوں نے نرم و نازک آواز سے اسے جگانے کے لئے پیاری راگنیاں گانا شروع کیں، تھوڑی دیرمیں نسریں نوش نے اپنی مخمور آنکھیں کھول دیں، اور انگڑائیاں لیتی ہوئی اور اپنے پریشان بالوں کو سنوارتی ہوئی اٹھ بیٹھی، پھر ایک صاف شفاف نہر کے کنارے نیلوفر کے پھولوں کی ایک چوکی پر جاکر بیٹھ گئی۔ پریاں بھی آکر اس کے گرد جمع ہوگئیں۔ مشاطہ پریوں نے نسریں نوش کا سنگار کیا، نسریں نوش نہر کے صاف پانی میں اپنے عکس جمال کو دیکھ رہی تھی، تیتریاں ایک دوسرے کا پیچھا کرتی ہوئی اڑ رہی تھیں، نہر کی روانی سے نرم صدا پیدا ہو رہی تھی، سہیلیوں نے پھر ہنسی کی باتیں شروع کیں، جن کو سن سن کر وہ پیارے باریک ہونٹ تبسم میں کھل کھل جاتے تھے۔\n\nسہیلیوں اور خادمہ پریوں کے نام گلؔ چکاں، زہرہ جبیں، نازؔ آفریں، موجؔ نور، بعضوں کے نام پھولوں پر مثلاً نیلوفر، سوسنؔ وغیرہ، بعضوں کے پرندوں کے اوپر، مثلاً طاؤسؔ خرام، کبکؔ ادا وغیرہ تھے۔ اور ان سب کے نام اور عنوان کے مناسب ان کا لباس تھا۔\n\nسنگار کے بعد، اس صبح کے لئے ایک خاص رنگ کا لباس پہن کر نسریں نوش نیلوفر کے پتوں کی کشتی میں بیٹھ کر سہیلیوں کے ساتھ تھوڑی دور تک نہر میں گئی، پھر یہ سب کناریں پر پہنچیں، جہاں بّلور اور پھولوں کی ایک بگھی تیار کھڑی تھی، اس بگھی میں دو مادہ سیمرغ جتی ہوئی تھیں اور اس انتظار میں کہ ان کی مالکہ بگھی پر سوار ہوگی آمادہ روانگی کھڑی تھیں۔ جوئے رواں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نسریں نوش گاڑی میں سوار ہوئی، اور بوئے رواں کو اپنے پاس بٹھا کر ’’دیار گل‘‘ کو چلنے کا حکم دیا۔ اس حکم کے سنتے ہی چند چھوٹی چھوٹی پریوں نے جو چھوٹے چھوٹے بگل لئے کھڑی تھیں، کوچ کا بگل بجایا۔ اور اس تزک و احتشام کے ساتھ سواری روانہ ہوئی۔ سامنے طاؤس، کبوتر، قمریاں، طوطی ناچتے، ہوا میں اڑان بھرتے، گاتے چہچہاتے اور طرح طرح کے تماشہ کرتے جاتے تھے۔ سڑک پر پھول کی پتیاں، گلال اور چاندی کے ذرّے بکھرے ہوئے تھے جو پہیوں کے چلنے سے اڑ اڑ کر گاڑی کے بلوّری پہیوں میں پرندوں کے پروں میں جم جاتے تھے، اور اس قافلے پر قوس قزح کا رنگ پیدا ہو جاتا تھا۔\n\nآفتاب افق سے اپنے نورانی بالوں کو سنوارتا ہوا، کچھ اونچا ہوا تھا، کہ یہ قافلہ اس بلدہ شعر و خیال میں جسے نسریں نوش نے ’’دیارِ گل‘‘ کہا تھا، پہنچا۔ یہاں کی وادی حقیقتاً وادی گل تھی، نسریں نوش کی تشریف آوری کی خوشی میں تمام غنچے ایک دم کھل گئے اور ان کی خوشبو نکل نکل کے اس کےجسم کو، کندھوں کو، چہرے کو احاطہ کرکے چومنے لگی۔ نسریں نوش گاڑی پر سے اتری۔ اتنے میں سہیلیاں، نوکرانیاں، اور ساز ندے وغیرہ بھی پہنچ گئے۔ اب نسریں نوش نے اس زمان و مکانِ لطافت میں آہستہ آہستہ چلنا شروع کیا، سہیلیاں تعظیم اور احترام کے انداز سے اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھیں، اونچے درخت بھی اس ملکہ ملاحت کے سامنے جھک جھک کر اس کی خدمت میں پھول پیش کرتے تھے، اور نسریں نوش ان پھولوں کو اپنے ان پیارے ہاتھوں سے (جن میں اور پھولوں میں صرف اس قدر فرق تھا کہ یہ پھولوں سے زیادہ خوبصورت تھے) چھو چھو کر سہیلیوں کو ایک عظمت آمیز نیم غمزہ سے حکم کرتی تھی کہ’’انھیں توڑو۔‘‘ زہرہؔ جبیں، گل چکاں کی گودان پھولوں سے بھر گئی، ان پھولوں کا ایک تاج بنایا گیا، جسے نسریں نوش نے پہنا۔\n\nغرضیکہ اس طرح، نسیم صبح کے ساتھ اور نسیم صبح کی مانند سب آہستہ آہستہ چل کے ایک اونچے موقع پر پہنچیں جو مطلع آفتاب کے مقابل تھا۔ نسریں نوش کھڑی ہوکر آفتاب کی طرف جھکی اور سیدھی ہو گئی۔ زاں بعد اپنے ہاتھ کو چوم کر گویا ایک بوسہ بھیجا، یہ ایک آئین آفتاب پرستی تھا۔ اس بوسہ کے بھیجتے ہی سہیلیاں ہنس ہنس کے، دوڑ دوڑ کر، ایک دوسرے سے لپٹ لپٹ کے، بالوں میں پھول لگا کے، ہاتھوں میں پھولوں کے پنکھے ہلا ہلا کے، نازک کمروں میں بل دے دے کر، آنکھوں کو شرارت سے پھر پھرا کے، نسریں نوش کے گرد چکر لگانے لگیں۔ پھر کھڑی ہوکر آفتاب کی شان میں گانے گانے لگیں، پھر ان سب نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کبھی ہوا میں اڑ کر، کبھی زمین پر پاؤں مار کے آفتاب کے لئے ایک مستانہ ناچ ناچا، اور ایک دل ربا گانا گایا، اس گلبانگ رقص و آہنگ کی لطافت میں درخت بھی جھوم جھوم کے، نسیم آہستہ آہستہ چل کے شریک ہوئی، پھول، درخت، ہوا، سب حالتِ وجد میں آگئے۔\n\nنسریں نوش اس نشہ شعر کی کیفیت سے لذت یاب معلوم ہوتی تھی، اور اس آئین آفتاب پرستی میں دل سے شریک تھی، آخر میں اس کو ختم کیا، لیکن ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے ختم کرنے پر پریاں دل سے راضی نہیں تھیں کیونکہ آئین ختم ہوتے ہی درختوں کی شاخوں میں پھولوں میں بنے ہوئے جھولے ڈالے، اور اڑ اڑ کے ایک جھولے سے دوسرے جھولے پر جانا، جھولنا، ہنسنا اور کودنا اچھلنا شروع کیا۔ ایک مدت تک اس طریقہ سے وقت گذرا۔ آخر کار نسریں نوش پھر گاڑی پر سوار ہوئی اور اسی انتظام کے ساتھ واپس ہو کر کا شانہ بلور میں جو دسترخوان کھانوں سے حاضر تھا، اس پر معہ سہیلیوں کے بیٹھی۔\n\nغرضیکہ دن اس طرح گذرتے تھے۔ اکثر نسریں نوش صبح کے کھانے کے بعد قیلولہ کرتی تھی، اور تیسرے پہر کو شکار کے لئے نکلتی تھی، نازک پیارے ہاتھوں میں تیر کمان لے کر کبھی کبھی مشق تیر اندازی کرتی تھی، کبھی غروب آفتاب کے قریب ساحل بحر پر غسل کے لئے جاتی تھی اور تیر اندازی کے بعد تھکن اتارنے کے لئے گلاب یا بنفشہ کا ابٹن مل کے سمندر میں نہاتی تھی، رات کو سہیلیوں کو بلاکے گانا، پہیلیاں، کہانی وغیرہ سے دل بہلاتی تھی، کبھی کوئی بحث شروع ہو جاتی اور یہ زمزمہ مکالمہ کبھی پر حدت ہو جاتا، گویا ساز زور سے بجا، کبھی آہستہ آہستہ باتیں ہوتے ہوتے خاموشی طاری ہوجاتی، گویا بادِ نسیم پھولوں میں ہلکے ہلکے چل کے رک گئی، چاندنی رات ہوتی تو ایک دو سہیلیاں ساتھ لے کر سیر کو نکل جاتی، اس وقت نسریں نوش کا چلنا، اس لہر کے پانی کی مانند ہوتا تھا، جو بلوّر کی زمین پر بہہ رہی ہو اور جس کے پانی معطؔر نسیم جنبش دے رہی ہو، جس کے کنارے پھول کھلے ہوں، اور بلبلیں اڑ رہی ہوں۔\n\nنسریں نوش پانچ برس کی تھی جب اس جزیرے میں پہلے پہل آئی، تیرہ برس سے اس طرح، خوشبوؤں میں، آرام میں، ناز و نعم میں، بے فکریوں میں لاڈپیار میں، زندگی بسر کر رہی ہے، اور مجہول غیر تبسم خیالات میں مستغرق رہ کر، دن ہنسی کے ساتھ، اور رات متبسم خواب میں گذارتی ہے۔ لیکن ایک صبح خلاف معمول اس کے دل میں ایک جلن محسوس ہوئی، اٹھی، کا شانہ بلوّر کے قریب جو نہر بہتی تھی اس تک گئی، اور نہر کے اندر جا کر لیٹ گئی اور دیر تک اس میں بے حرکت پڑی رہی، پھر نکل کے اور بدن کو سکھا کے سفید ریشمی بستر پر جا لیٹی۔\n\nنسریں نوش پر ایک سخت نیند غالب ہوئی اور وہ شام تک سوتی رہی، یہاں تک کہ سورج ڈھلا، سورج کی شعاعیں اس پرآکر پڑیں اور وہ جاگی، اس وقت اس کی طبیعت ایک ایسی شے چاہتی تھی، ایک ایسے مبہم وجود کی آرزو کر رہی تھی جو اس کے بازؤوں کو پکڑے، کمر کو سنبھالے، اس کے جسم کو اٹھا لے، ایک غیر معنی تمنّا اس کے دل میں پیدا ہو رہی تھی، اور اس کا دل چاہتا تھا کہ ایک ذات، ایک وجود آئے، جو اس پر قادر ہو، جو اس پر حاوی ہو۔\n\nاس نے دیکھا کہ اس کے پاس ایک سفید براق ہنس پھر رہا ہے، اسے ہی اس نے گود میں لے لیا، اور اس کے سفید سینے کو اپنے دھڑکتے ہوئے سینے سے لگا لیا، اور اس کی گردن کو اپنی گردن سے ملا دیا، اور اپنی تمام قوت سے اسے بھیچنا شروع کیا، اور اس طرح پرندے کے نرم پروں میں اپنی آنکھوں کو کچھ کھولے، کچھ بند کئے بدن کو جھکائے دیر تک بے حرکت پڑی رہی۔\n\nنسریں نوش ان خوشبوؤں سے، ان رنگوں سے، ان پھولوں سے، ان کھیل تماشوں سے اکتا گئی تھی، اور ان سے چھٹکارا چاہتی تھی، اب پھولوں کا اس پر نثار ہونا، اس کی روح کو مشغول نہ کرتا تھا۔ ناچنے والیوں کے ناچاور عشوے اور غمزے اس کے دل کو نہ بہلاتے تھے، سہیلیوں کا اس کے بدن کو ملنا، اسے آرام نہ دیتا تھا، وہ ایک شے تلاش کرتی تھی، اسے وہ نہیں جانتی تھیکہ وہ کیا ہوگی اور کیا نہ ہوگی۔ ایک مبہم چیز چاہتی تھی جو اسے دکھ دے، اس کے دل میں درد پیدا کرے، احساس پیدا کرے، اسے مسل ڈالے، ایک ایسی پر قوت، پر جراتؔ شے کے باوجود اس کے حسن و جمال کے، باوجود اس کے کہ وہ جزیرے کی ملکہ تھی، اس سے نہ دبے، اس کے رعب میں نہ آئے، بلکہ اسے پکڑے، اسے مارے، ٹکڑے کر ڈالے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"} {"title": "گلشن امید کی بہار", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "انسان کی طبیعت کو خدا نے انواع و اقسام کی کیفیتیں عطا کی ہیں مگر زمین جس قدر تخم امید کو پرورش کرتی ہے اس کثرت سے کسی کیفیت کو سرسبز نہیں کرتی اور کیفیتیں خاص خاص وقت پر اپنا اثر کر اٹھتی ہیں یا بمتقضائے سن خاص عمروں میں ان کے اثر ظاہر ہوتے ہیں۔ مگر امید کایہ حال ہے کہ جس وقت سے اس بات کی تمیز ہونے لگی کہ حالت موجودہ ہماری خوش حالی یا بدحالی بھی ہو سکتی ہے، اسی وقت اس کی تاثیر شروع ہو جاتی ہے۔امید ایک رفیق ہمدم ہے کہ ہرحال اور ہر زمانہ میں ہمارے دم کے ساتھ رہتا ہے۔ دم بدم دلوں کو بڑھاتا ہے اور سینے کو پھیلاتا ہے۔ خیالات کو وسعت دیتا ہے۔ اور نئی نئی کامیابیوں کی ترغیبیں دیتا ہے، غرض ہمیشہ کسی نہ کسی خوش حالی کا باغ پیش نظر رکھتا ہے کہ یا اس سے کوئی کلفت رفع ہو یا کچھ فرحت زیادہ ہو۔ خدائی کی نعمتیں اور ساری خوش نصیبی کی دولتیں حاصل ہو جائیں، پھربھی یہ جادو نگار مصور ایک نہ ایک ایسی تصویر سامنے کھینچ دیتا ہے جسے دیکھ کر یہی خیال آتا ہے کہ بس یہ بات ہو جائےگی توساری ہوسیں پوری ہوجائیں گی اور پھر سب آرزوؤں سے جی سیر ہو جائےگا۔اس میں بھی شک نہیں کہ امید کا ہونا ہرحال میں ضروری ہے۔ مفلسی، بیماری، قید، مسافرت بہت سے دنیا کے دکھ درد ہیں کہ امید نہ ہو تو ہرگز نہ جھیلے جائیں۔ آسا جئے، نراسا مرے۔ یہ نعمت جو بظاہر ہر کس وناکس میں عام ہو رہی ہے وہ ضروری شے ہے کہ دنیا کی بہتر سے بہتر حالت بھی ہم کو اس صورت سے بے نیاز نہیں کر سکتی کیوں کہ حقیقت میں یہ مشغلہ زندگی کے بہلاوے ہیں۔ اگر ان کا سہارا ہمارا دل نہ بڑھاتا رہے تو ایک دم گزارنا مشکل ہو جائے اور زندگی وبال معلوم ہونے لگے،ایک دم بھی ہم کو جینا ہجر میں تھا ناگوارپر امید وصل پر برسوں گوارا ہو گیااس میں شک نہیں کہ امید دھوکے بہت دیتی ہے اور ان باتوں کی توقع پیدا کرتی ہے جو انسان کو حاصل نہیں ہو سکتیں۔ مگر وہ دھوکے اصلی نعمتوں سے سو امزہ دیتے ہیں اور موہوم وعدے قسمت کی لکھی ہوئی دولتوں سے گراں بہا اور خوشنما معلوم ہوتے ہیں۔ اگر کسی معاملہ میں ناکام بھی کرتی ہے تو اسے ناکامی نہیں کہتی بلکہ قسمت کی دیر کہہ کر ایک اس سے بھی اعلیٰ یقین سامنے حاضر کر دیتی ہے۔ میں ایک رات انہی خیالات میں حیران تھا اور سوچ رہا تھا کہ انسان کے دل میں یہ شوق کہاں سے پیدا ہو جاتا ہے، جس سے اپنے تئیں آپ دھوکے دیتا ہے اور زمانہ آئندہ پررنگ آمیزیاں چڑھا کر خود اپنے لئے امید و بیم اور نفع و نقصان کے سامان تیار کر لیتا ہے۔ یکایک آنکھ لگ گئی۔ دیکھتا ہوں کہ میں ایک باغ و بہار میں ہوں جس کی وسعت کی انتہا نہیں۔ امید کے پھیلاؤ کا کیا ٹھکانہ ہے۔ آس پاس سے لے کر جہاں تک نظر کام کرتی ہے تمام عالم رنگین و شاداب ہے۔ ہر چمن رنگ روپ کی دھوپ سے چمکتا، خوشبو سے مہکتا، ہوا سے لہکتا نظر آتا ہے۔ زمین فصل بہار کی طرح گلہائے گو ناگوں سے بو قلموں ہو رہی ہے اور رنگارنگ کے جانور درختوں پر چہچہے بھر رہے ہیں۔ یہ سماں بہار کا دیکھ کر دل پر ایک عالم طاری ہوا کہ سرتا پا محو ہو گیا۔ جب ذرا ہوش آیا تو ان چمن ہائے دلکشا کو نظرغور سے دیکھنے لگا اور ایسا معلوم ہوا کہ اگر آگے چلوں تو شگفتگی اور تفریح کا لطف زیادہ ہو۔ 1پھر دیکھا کہ تھوڑی ہی دور آگے رنگیلے چمکیلے پھول کھلے ہیں۔ آب زلال کے چشمے دھوپ کی چمک سے جھلمل جھلمل کر رہے ہیں۔ اونچے اونچے درخت جھنڈ کے جھنڈ چھائے ہوئے ہیں۔ جو جانور دھیمی دھیمی آواز سے بولتے سنائی دیتے تھے یہاں خوب زور شور سے چہکار رہے ہیں۔ چاروں طرف ہرے ہرے درخت لہلہاتے ہیں اور پھول اپنی خوشبو سے مہک پھیلاتے ہیں۔ مگر پھر یہاں سے جو نظر اٹھائی تو اور ہی طلسمات نظر آیا۔ یعنی دیکھا کہ سامنے جو درخت جھوم رہے ہیں ان کے تیار میوے زمین کو چوم رہے ہیں۔ اس لطف نے اور آگے بڑھنے کو للچایا۔ چنانچہ قدم اٹھایا۔ مگرجوں جوں آگے بڑھتا گیا زیادہ حیران ہوتا گیا۔ کیونکہ جوہر یاول سامنے سے لہلہاتی دکھائی دیتی تھی، پاس پہنچ کر اس کی رنگت پھیکی پڑ گئی 2 اورمیوے تو گرہی چکے تھے۔ بلبلیں جو چہچہے بھر رہی تھیں وہ آگے آگے اڑتی چلی جاتی تھیں۔ اگرچہ میں بہت پھرتی سے پہنچا تھا اور جو بہاریں تھیں وہ ہر قدم پر سامنے ہی تھیں۔ مگر تو بھی ہاتھ نہ آ سکیں۔ 3 گویا میرے شوق آرزو کو ڈہکاتی تھیں کہ جوں جوں میں آگے بڑھتا تھا وہ اوربھی آگے بڑھتی جاتی تھیں۔اگرچہ باربار خوش اور دم بدم غم گین ہوتے ہوتے میں دق ہو گیا تھا مگر دل کے کان میں کوئی یہی کہے جاتا تھا کہ چلے چلو، جونعمتیں ڈہکار ہی ہیں کبھی نہ کبھی ہاتھ بھی آئیں گی۔ آخر چلتے چلتے ایک جمگھٹا نظر آیا جس میں زن ومرد، خورد و کلاں بہت سے آدمی اچھلتے کودتے چلے جاتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ سب کسی مجلس یا میلے میں جاتے ہیں یا کسی نشاط عام کے جشن میں شامل ہوتے ہیں کیوں کہ ہر ایک کے منہ پر یقین کا رنگ چمک رہا تھا اور ایک ایک کی آنکھ سرمہ شوق سے روشن نظر آتی تھی۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا تھا کہ ہر ایک کی خوشی کچھ خاص قسم کی ہے کہ وہ اسی کے دل میں ہے۔ سب ملے جلے ساتھ ہی چلے جاتے ہیں۔ مگرنہ کوئی اپنا ارادہ دوسرے کو بتانا چاہتا تھا، نہ اپنے فکر کا راز دوسرے کو جتانا گوارا کرتا تھا۔ 4بہت لوگوں کی گرمی رفتار سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اگر کوئی آرزومند شوق کی پیاس سے تڑپتا ہو تو انہیں اس کے بجھانے کی فرصت نہیں۔ 5 اس واسطے ان کے روکنے کو جی چاہا۔ اورتھوڑی دیرتک غور سے دیکھا کیا۔ آخر ایک بڈھا نظر آیا کہ باوجود بڑھاپے کے انہی میں شامل تھا۔ ہاتھ پاؤں بہت مارتا تھا مگر کچھ نہ ہو سکتا۔ 6 میں نے خیال کیا کہ بڈھے کواب کیا ہوس ہوگی، اسے تو شاید کچھ جواب دینے کی فرصت ہو۔ چنانچہ اسے سلام کیا۔ بڈھے نے تیوری بدل کرمنہ پھیر لیا اور کہا، صاحب دق نہ کیجئے، آپ جانتے بھی ہیں، جس وقت کی ہم عمروں سے آرزو کر رہے تھے وہ وقت آن پہنچا ہے۔ اب ایک عہد آیا ہے کہ تمام عالم فارغ البالی سے مالا مال ہو جائےگا، افلاس زدہ اور طالب روزگار، بیچارے ٹیکس اور محصولوں کے مارے آئے دن کی جان کنی سے خلاص ہو جائیں گے بلکہ فلک کے سیمرغ جو اہل عالم کے کاروبار میں رات دن سرگرداں ہیں وہ بھی بازو ڈال کر آرام سے بیٹھ جائیں گے۔میں نے بڈھے کو اس کی خشکی دماغ کے حوالے کیا اور وہیں ٹھہر گیا۔ اتنے میں ایک شخص سامنے آیا جس کی ملائمت شکل اور آہستگی رفتار سے معلوم ہوا کہ شاید کچھ اخلاق سے پیش آئے مگر جب میں اس کی طرف بڑھا تو اس نے جھک کر ایک سلام کیا اور کہا، اگر آپ کی خدمت کی فرصت ہوتی، تومیں بہت خوش ہوتا۔ مگر اب اس خوشی کا ہوش نہیں کیوں کہ بیس برس سے میں ایک عہدہ کی امیدواری کر رہا تھا۔ اب وہ خالی ہوا چاہتا ہے۔ میں نے اسے بھی چھوڑا اور ایک اور کو جا لیا۔ وہ گھبرایا ہوا جاتا تھا کہ چچا کی میراث پر قبضہ کرے کیونکہ اس کی بیماری کی خبر سننے میں آئی تھی۔ اس کے پیچھے ایک اور شخص کو دیکھا کہ بے تحاشہ بھاگا چلا آتا تھا۔ اس نے ایک غوطہ خوری کی کل ایجاد کی تھی۔ اس کے دریا سے منافع میں غوطہ مارا چاہتا تھا۔ یعنی اگر کچھ اور نہ ہو تو ایجاد کا انعام ہی ہاتھ آ جائے۔ ایک شخص کو دیکھا کہ تھوڑی دور چلتا ہے اور ٹھہر جاتا ہے۔ معلوم ہواکہ وہ طول بلد اورعرض بلد کے خیالات پھیلا رہا ہے اور سرکار علم سے انعام کا امیدوار ہے۔جب جا بجا سے ٹکریں کھائیں، تو سوچا کہ اوروں سے دریافت کرنا بے حاصل ہے۔ اب جو اپنی آنکھ کہے وہ ٹھیک ہے۔ آگے بڑھو اور آپ دیکھو کہ اتنے میں ایک نوجوان شوقین بے پروا سا نظرآیا۔ وہ آزادی کے عالم میں مسکراتا چلا جاتاہے۔ اسے دیکھ دل میں کہا کہ بھلا ایک دفعہ تو اسے بھی ٹٹولنا چاہئے۔ چنانچہ معمولی سوال کا سبق اسے بھی سنایا۔ وہ ہنسا اور کہا، صاحب، جہاں آ پ کھڑے ہیں یہ ملکہ امید کا باغ ہے۔ وہ ملکہ آرزو کی بیٹی ہے۔ ذرا سامنے دیکھو بہت سی پریاں خوشنما اور نفیس نفیس چیزیں لئے کھڑی ہیں۔ جن لوگوں کوتم نے زور شور مچاتے دیکھا، یہ انہی کے اشاروں پر للچائے ہوئے دوڑے جاتے ہیں۔آنکھ اٹھا کر دیکھوں، توفی الحقیقت سامنے ایک ایوان عالیشان ہے اور اس کے صدر میں ایک پری جس کا گلزار جوانی عین بہار پرہے، سرتخت جلوہ گر ہے۔ مسکراہٹ اس کے زیر لب پارہ کی طرح لوٹتی ہے۔ لعل و جواہر، تاج مرصع، موتیوں کے ہار، خلعت زرنگار، کشتیوں میں چنے آگے دھرے ہیں۔ قسمت اور نصیب جہاں کی نعمتیں سجائے اس کے دائیں بائیں دست بستہ حاضرہیں اور بہار زندگی کے پھولوں کا فرش سامنے بچھا ہے۔ عیش مدام اور فرحت دوام سے چہرہ روشن ہے۔ اس کے لبوں کی مسکراہٹ اور آنکھ کی لگاوٹ عام سے خاص تک برابر سب کی حق شناسی کر رہی ہے۔ اس سے ہرشخص یہی سمجھ رہا ہے کہ ملکہ میری ہی طرف متوجہ ہے اور اسی بھروسہ پر ہر ایک فخر اور ناز کے مارے پھولا نہیں سماتا۔ رستہ کے دونوں طرف کہیں کہیں ایک آدھ جھونپڑی نظر آتی تھی۔ وہ دیکھنے میں پست اور بے حقیقت تھی۔ مگر ہرے درختوں نے سایہ کیا ہوا، دیواریں لپی ہوئیں، دروازہ پر روشن حرفوں میں لکھا تھا، ’’قناعت کا آرام گھر۔‘‘بعضے تھکے ماندے ان میں چلے جاتے اور پاؤں پھیل اکر بیٹھ جاتے۔ رستہ والے دیکھ دیکھ کر غل مچاتے کہ بھاگ گئے اور ہمت میدان ہار گئے۔باغ امید کے دودروازے۔ یہ 7 دیکھ کر میں ایک ٹیلے پر چڑھ گیا کہ وہاں سے ہرجگہ نظر پہنچ سکتی تھی اور اس جمگھٹ کے بھی ایک ایک آدمی کا حال خوب خیال میں آتا تھا۔ وہاں سے معلوم ہوا کہ باغ امید کے اندر جانے کے دودروازے ہیں۔ ایک داروغہ دانش کے اختیار میں ہے، دوسرا داروغہ خیال کے تحت میں ہے۔ داروغہ دانش ایک تند مزاج اور وسواسی شخص ہے کہ جب تک بہت سے سوال اور الٹی سیدھی حجتیں نہیں کر لیتا تب تک قفل کی کنجی کوجنبش نہیں دیتا۔ مگر داروغہ خیال خلیق اور ملنسار شخص ہے۔ وہ اپنا دروازہ کھلا ہی رکھتا ہے۔ بلکہ جو اس کی حد میں جائے اس سے بڑی عزت و توقیر کے ساتھ پیش آتا ہے۔ چنانچہ جو لوگ داروغہ دانش کی حجتوں سے گھبراتے تھے یا جنہیں اس نے جانے نہیں دیا تھا، ان لوگوں کی بھیڑ اس دروازے پر لگ رہی تھی۔داروغہ دانش کے دروازے سے ملکہ کی تخت گاہ خاص کو رستہ جاتا تھا۔ مگر اس راہ کی زمین پھسلنی، سڑک پتھریلی، رستے ایسے ایچ پیچ کے تھے کہ کٹھن گھاٹی اسی کو کہتے ہیں۔ جب کسی قسمت والے کو داروغہ سے اجازت مل جاتی تھی تو اس کٹھن گھاٹی میں دکھ بھرنے پڑتے تھے، اگرچہ چڑھنے والے پہلے سے بھی رستہ کے ایچ پیچ اچھی طرح جانچ لیتے تھے اور جو جو بچاؤ کے مقام تھے ان میں قدم قدم پرنشان کر لیتے تھے۔ مگر پھر بھی اکثر ایسی مشکلیں پیش آتی تھیں جن کا سان گمان بھی نہ ہوتا تھا۔ بلکہ جہاں صاف سیدھا راستہ سمجھے ہوئے تھے وہاں کچھ ایسا تہلکہ پیش آتا تھا کہ یکایک تھم جانا پڑتا تھا۔ ہزاروں الجھاؤں میں الجھتے تھے۔ صدہارپٹنوں میں رپٹتے تھے۔ بہتیرے ٹھوکریں کھا کھا کر گرتے تھے۔ اکثر خس پوش گڑھوں میں جا پڑتے تھے۔غرض ایسی ایسی خطرناک وارداتیں اور ناکامی کے صدمے تھے کہ بہت آدمی تو پہلے ہی دھاوے میں الٹے پھر آتے تھے۔ بہتیرے رستے میں غش کھاکر رہ جاتے تھے۔ بعض بعض ایسے بھی تھے کہ ان کی استقلال سے راہ تھی۔ وہ اس کی دستگیری سے ملکہ کے ایوان تک جا پہنچتے تھے۔ ان میں اکثر ایسے ہوتے تھے جو صلہ کو دیکھ کر پچھتاتے تھے کہ ہائے ہماری محنت تو اس سے بہت زیادہ تھی، یہ تو کامیابی نہیں ہوئی، حق تلفی ہوئی ہے۔ باقی جو لوگ کہ اخیرانعام لے کر پھرتے تھے ان کاانجام یہ ہوتا تھا کہ دانائی، داروغہ دانش کی بی بی، ملکہ کی مصاحب تھی، وہ ان کا ہاتھ پکڑتی تھی، اس کی رہنمائی سے وہ لوگ گوشہ قناعت میں جا بیٹھتے تھے۔اے راہ امید کے مسافرو! چونکہ داروغہ دانش کی حجتیں اوران کے رستہ کی مشکلیں مجھے بہت سخت معلوم ہوئیں، اس لئے میں نے داروغہ خیا ل کی طرف رخ کیا۔ یہاں بارگاہ کی طرف جانے کو کوئی معمولی سڑک نظر نہ آئی، مگر ملکہ صاف سامنے کھڑی تھی۔ وہ یہاں سے سرتاپا ساری نظر آتی تھی اور اپنی عجائب غرائب، نایاب اور بیش قیمت پر سب کو برابر حسن طلب کے انداز دکھاتی تھی۔ پھر بھی لطف یہ تھا کہ ایک ایک دل کو اپنی ہوا میں جداجدا انداز سے اڑا رہی تھی، جس سے ہر شحص یہ جانتا تھا کہ جو نگاہ مجھ پر ہے وہ کسی پر نہیں اور مجھ سے زیادہ کسی کو کامیابی کی امید نہیں۔ اسی واسطے بجائے خود کسی کا دماغ پایا نہ جاتا تھا۔ پہاڑ اس خیالی رستے کی طرف سے ایسا ڈھلوان تھا کہ قدم نہ ٹھہر سکتا تھا، کیوں کہ وہمی باتوں میں پایہ داری کہاں؟ باوجود اس کے آمدورفت کے نشان بہت کثرت سے تھے کیوں کہ اس رستہ میں چلنے والے بہت ہیں۔ اس کی سڑک سایہ دار درختوں سے ایسی چھائی ہوئی تھی کہ کسی کو جانا مشکل نہ معلوم ہوتا تھا۔ ساتھ ہی اس کے ہر شخص یہ جانتا تھا کہ جو رستہ میں نے پایا ہے وہ کسی کو ہاتھ ہی نہیں آیا۔یہ ملا نصیب لوگ بہتیرے جتن کر رہے تھے۔ بعضے توایسے کلدار پر لگانے کی فکر میں تھے جن کی حرکت کبھی تھمے ہی نہیں۔ بعضے کہتے تھے ’’جو ہوا سو ہوا، انہی قدموں چلے جاؤ، بلا سے مرجاؤ۔‘‘ یہ سب حکمتیں کرتے تھے۔ اس پر بھی زمین سے اٹھ نہیں سکتے تھے اور اٹھے تو وہیں گرپڑے۔ مگریہاں پڑے تھے، تاک ادھر ہی لگی تھی اوراس حال تباہ پر خودپسندی کایہ عالم تھا کہ جو لوگ سامنے عقل کی کٹھن منزل میں ہاتھ پاؤں مار رہے تھے ان پر پڑے پڑے ہنستے تھے۔اکثرخیال کے پیارے اور وہم کے بندے ایسے بھولے بھالے تھے جنہوں نے اس باغ میں آکر اوروں کی طرح چڑھنے کاارادہ بھی نہ کیا تھا۔ یوں ہی ایک جگہ پڑ رہے تھے۔ یہ مقام کاہل گھاٹی کہلاتا تھا اور ایک سنسان اور بے آزار موقع پر تھا۔ مگر ملکہ یہاں سے بھی سامنے تھی۔ یہ اسی یقین میں خوش پڑے تھے کہ کوئی دم میں وہ خود یہاں آیا چاہتی ہیں۔ اگرچہ اور لوگ ان وہمیوں کو احمق اور کاہل وجود سمجھتے تھے مگر انہیں کچھ پروا بھی نہ تھی، بلکہ یہ غم غلط لوگ اسی دعوے میں خوش بیٹھے تھے کہ سب سے پہلے ہم پر نظرعنایت ہوگی۔انہی بے پرواؤں میں میں بھی پڑا پھرتا تھا۔ ان میں اتنا لطف پایا کہ اگر کوئی بات کرے تواس کا جواب دیتے تھے اور اپنی باتوں سے بھی دل خوش کرتے تھے۔ اسی خیال میں یکایک نظر پھیر کرجو دیکھا تو معلوم ہواکہ دو دیو ڈراؤنی صورت، بھیانک مورت، اس گھاٹی میں چلے آتے ہیں کہ ان کی کسی کو خبر نہیں۔ ایک کوتو میں جانتا ہوں کہ عمر ہے مگر دوسرا افلاس تھا۔ ان کے دیکھتے ہی سارے باغ اور چمن آنکھوں میں خاک سیاہ ہوگئے اور یہ معلوم ہوا کہ بس عیش وآرام کا خاتمہ ہو گیا۔ دلوں پر خوف و ہراس چھا گیا۔ لوگ جوڈر کے مارے چیخیں مارمار کر چلائے تو گویا عالم میں ایک کہرام مچ گیا۔ اسی سے میں بھی چونک پڑا اور دیکھا تو کچھ بھی نہ تھا۔حاشیے(۱) دیکھ لو دنیا میں جوں جوں انسا ن کامیاب ہوتا ہے، اس سے آگے کی کامیابیوں کی ہوس دل میں پیدا ہوتی جاتی ہے۔(۲) انسان کی طبیعت کا عجیب حال ہے۔ جو ہوس پوری ہو جاتی ہے وہ مزہ نہیں دیتی، اس سے آگے کے لطف دل میں ارمان اور ذوق و شوق پیدا کرتے ہیں۔(۳) جوں جوں حصول مراد میں دیر لگتی ہے شوق زیادہ ہوتا جاتا ہے اور امید بھی اس کے ملنے کے سامان سامنے دکھاتی جاتی ہے۔(۴) انسان جس مقصد کے لئے کوشش کرتا ہے، کسی سے کب کہتا ہے، اندرہی اندر تدبیریں کرتا ہے۔(۵) اپنے کام کے آگے کسی اور کی احتیاج کی کون پروا کرتا ہے!(۶) سچ ہے، بڈھوں کو جوان سے زیادہ ہوس ہوتی ہے۔(۷) یہ باتیں ہم پر روز گزرتی ہیں مگر کوئی خیال نہیں کرتا۔ دیکھو یہاں انہیں کس خوبصورتی سے رنگ دے کر بیان کیا ہے۔ عقل جب تک سب تدبیروں اور تجویزوں کے پورے بندوبست نہیں کر لیتی تب تک کسی امید پر کوشش کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ وہم وگمان کے بندے ذرا سا سہارا دیکھتے ہیں اور اٹھ دوڑتے ہیں، وہیں ٹکراتے ہیں اور ناکام ہوتے ہیں۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1"} {"title": "گلشن جگ میں ذرا رنگ محبت نیں ہے", "poet_page": "مصنف:داؤد اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلشن جگ میں ذرا رنگ محبت نیں ہے\nبلبل دل کوں کسی ساتھ اب الفت نیں ہے\n\nآشنائی سیتی مردم کے ہوں از بس بیزار\nرخ درپن کی طرف چشم کوں رغبت نیں ہے\n\nکیا عجب ہے جو دیا جان کو یکبار پتنگ\nتا سحر شمع کوں جلنے سیتی فرصت نیں ہے\n\nکیوں گریباں کوں کیا چاک ز سر تا داماں\nگل کوں بلبل سوں اگر طرز مروت نیں ہے\n\nمجھ کوں باور نہیں پیغام زبانی قاصد\nکیا سبب ہے کہ ترے ہاتھ کتابت نیں ہے\n\nمنتخب کر کے ورق دل پہ لکھے ہیں احباب\nگرچہ ظاہر میں مرے شعر کی شہرت نیں ہے\n\nناتوانی ستی برجا ہے علامت نہ کرو\nرنگ داؤدؔ کوں پرواز کی طاقت نیں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D8%AC%DA%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D9%86%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلشن میں بندوبست بہ رنگِ دگر ہے آج\nقمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در ہے آج\n\nمعزولیِ تپش ہوئی افراطِ انتظار\nچشمِ کشادہ حلقۂ بیرونِ در ہے آج\n\nحیرت فروشِ صد نگَرانی ہے اضطرار\nہر رشتہ تارِ جَیب کا تارِ نظر ہے آج\n\nاے عافیت! کنارہ کر، اے انتظام! چل\nسیلابِ گریہ در پئے دیوار و در ہے آج\n\nآتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ\nتارِ نفس کمندِ شکارِ اثر ہے آج\n\nہوں داغِ نیم رنگیِ شامِ وصالِ یار\nنورِ چراغِ بزم سے جوشِ سحر ہے آج\n\nکرتی ہے عاجزی سفرِ سوختن تمام\nپیراہنِ خَسَک میں غبارِ شرر ہے آج\n\nتا صبح ہے بہ منزلِ مقصد رسیدنی\nدودِ چراغِ خانہ غبارِ سفر ہے آج\n\nدور اوفتادۂ چمنِ فکر ہے اسدؔ\nمرغِ خیالِ بلبلِ بے بال و پر ہے آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%A8%D8%B3%D8%AA_%D8%A8%DB%81_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AF%DA%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "گلشن میں صبا کو جستجو تیری ہے", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گلشن میں صبا کو جستجو تیری ہے\nبلبل کی زبان پہ گفتگو تیری ہے\nہر رنگ میں جلوہ ہے تیری قدرت کا\nجس پھول کو سونگھتا ہوں بو تیری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "گلشن میں پھروں کہ سیر صحرا دیکھوں", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گلشن میں پھروں کہ سیر صحرا دیکھوں\nیا معدن و کوہ و دشت و دریا دیکھوں\nہر جا تری قدرت کے ہیں لاکھوں جلوے\nحیران ہوں دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA"} {"title": "گلشن میں کبھی ہم سنتے تھے وہ کیا تھا زمانہ پھولوں کا", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلشن میں کبھی ہم سنتے تھے وہ کیا تھا زمانہ پھولوں کا\nکلیوں سے کہانی کلیوں کی پھولوں سے فسانہ پھولوں کا\n\nکیا موسم گل پر اترا کر ہم گائیں ترانہ پھولوں کا\nدو روز میں آنے والا ہے اک روز زمانہ پھولوں کا\n\nایام خزاں میں اہل چمن صرصر کو ستم سے کیا روکیں\nبیگانہ ہوا جب سبزہ بھی تو کون یگانہ پھولوں کا\n\nپھر باد صبا وہ آ پہنچی پھر رنگ کھلا نکہت پھیلی\nاے لوٹنے والو اب لوٹو معمور خزانہ پھولوں کا\n\nنازاں ہے جو اپنی قسمت پر گلچیں کو یہ کیا معلوم نہیں\nجائے گی بہار آئے گی خزاں بدلے گا زمانہ پھولوں کا\n\nگلچیں سے کبھی میں سنتا ہوں بلبل سے کبھی میں کہتا ہوں\nاس درد سری کا باعث ہے دلچسپ فسانہ پھولوں کا\n\nشاخیں بھی بلائیں لیتی ہیں پتے بھی نچھاور ہوتے ہیں\nاللہ رے جوانی گلشن کی اف اف رے زمانہ پھولوں کا\n\nایام خزاں میں اے بلبل تکلیف بہت بڑھ جائے گی\nپھولوں کی قسم دیتا ہوں تجھے چھیڑ اب نہ ترانہ پھولوں کا\n\nجب اہل چمن سو جاتے ہیں تو حسن کے ڈاکو آتے ہیں\nکچھ رات گئے کچھ رات رہے لٹتا ہے خزانہ پھولوں کا\n\nمرغان قفس کو نیند کہاں نیند آئے یہی امید کہاں\nگلچیں سے انہیں سنواتا ہے صیاد فسانہ پھولوں کا\n\nکیا ذکر چمن کیا فکر چمن کیا ذوق چمن کیا شوق چمن\nداغوں سے ہمارا خانۂ دل ہے دولت خانہ پھولوں کا\n\nکیا خوب ملی گل کھانے کی یہ داد ہمیں مر جانے پر\nپھولوں میں ہمارے چھیڑ دیا بلبل نے ترانہ پھولوں کا\n\nفطرت کے مسافر کو بس میں رکھ سکتے نہیں اشجار چمن\nآتا ہے زمانہ پھولوں کا جاتا ہے زمانہ پھولوں کا\n\nاے نوحؔ اثر اتنا تو کیا تم پر بھی چمن کے منظر نے\nطوفان اٹھانا بھول گئے لے بیٹھے فسانہ پھولوں کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%B3%D9%86%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے\nہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے\n\nواں کنگر استغنا ہر دم ہے بلندی پر\nیاں نالے کو اور الٹا دعواۓ رسائی ہے\n\nاز بس کہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے\nجو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%A7%D8%B2_%D8%A8%D8%B3_%DA%A9%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "گلعذار اور بھی یوں رکھتے ہیں رنگ اور نمک", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلعذار اور بھی یوں رکھتے ہیں رنگ اور نمک\nپر مرے یار کے چہرے کا سا ڈھنگ اور نمک\n\nحسن اس شوخ کا ہے بس کہ ملیح اس کی نگاہ\nدل پہ کرتے ہیں مرے کار خدنگ اور نمک\n\nغنچۂ گل میں و بلبل میں ہوئی بے مزگی\nدیکھ گلشن میں دہن یار کا تنگ اور نمک\n\nدرد ہجراں سے بتنگ آپی ہوں ناصح سے کہو\nزخم پر میرے نہ چھڑکے یہ دبنگ اور نمک\n\nسخن وعظ و نصیحت دل پر خوں کو حضورؔ\nیوں ہے جیوں شیشۂ مے کے لئے سنگ اور نمک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%D9%85%DA%A9"} {"title": "گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹ", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹ\nخزاں مچائے گی آتے ہی اس دیار میں لوٹ\n\nکشود کار کی کوشش میں دے نہ حرص کو دخل\nشکست دیتی ہے فوجوں کو کارزار میں لوٹ\n\nلبھائے سیکڑوں دل ان کے خال عارض نے\nمچائے زنگیوں نے وادیٔ تتار میں لوٹ\n\nوہ منتظم ہے رہے جس کی جز و کل پہ نظر\nنہ کر سکے کوئی گونگیر کاروبار میں لوٹ\n\nجہاں میں ہوتی ہے احسان کی جزا احسان\nثواب نیکیوں کے دور اختیار میں لوٹ\n\nعبث ہے بوند کا چوکا اگر گھڑے ڈھلکائے\nہمیشہ نقد میں وارا ہے یاں ادھار میں لوٹ\n\nکئے ہیں شیب نے سب جسم کے قویٰ کمزور\nشروع ہو گئی ہر سمت اس حصار میں لوٹ\n\nہجوم یاس میں چھوڑ اے امید کشور دل\nہے قتل عام کا غل شہر میں جوار میں لوٹ\n\nبنے وہ فاتح کونین خوش ہو تو جس سے\nزیادہ گنج کواکب سے ہو شمار میں لوٹ\n\nدیار دل میں ہے پھر داغ عشق کا توڑا\nجنوں متاع ہوس موسم بہار میں لوٹ\n\nبھری ہے تازہ ہر ایک سر میں شور و شر کی ہوا\nعجب نہیں جو مچے باغ روزگار میں لوٹ\n\nحبیبؔ مشق ریاضت سے کھو کے زنگ دوئی\nمزے وصال کے ہر دم فراق یار میں لوٹ", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84_%D9%85%D8%B2%DB%92_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D9%88%D9%B9"} {"title": "گلوں کی خوں شدگی کو شگفتگی نہ سمجھ", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلوں کی خوں شدگی کو شگفتگی نہ سمجھ\nہجوم رنگ سے اندازۂ بہار نہ کر\n\nکچھ احترام بھی کر غم کی وضع داری کا\nگراں ہے عرض تمنا تو بار بار نہ کر\n\nوہ اور پرسش اہل وفا فریب نہ کھا\nدل اور ترک غم یار اعتبار نہ کر\n\nخزاں کے سینکڑوں منظر ہیں اے فریب خیال\nطلوع صبح بہاراں کا اعتبار نہ کر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D9%88%DA%BA_%D8%B4%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE"} {"title": "گلوں کے پردے میں شکلیں ہیں مہ جبینوں کی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلوں کے پردے میں شکلیں ہیں مہ جبینوں کی\nیہ ڈالیاں ہیں کہ ہیں ڈولیاں حسینوں کی\n\nیہ آستینیں نہیں ہیں چنی ہوئی ظالم\nبلائیں لی ہیں نگاہوں سے آستینوں کی\n\nکسی کے جلوے سر عرش چھپ نہیں سکتے\nکہ دور رسن ہیں نگاہیں بلند بینوں کی\n\nپس فنا بھی نہ خالی رہیں یہ قصر رفیع\nنہ ہوں مکین تو قبریں رہیں مکینوں کی\n\nکس انتہا کی نزاکت ہے میرے شعروں میں\nنظر لگے نہ کہیں ان کو نکتہ چینوں کی\n\nجو نیند آئے تو یوں آئے موت آئے تو یوں\nہمارے سامنے شکلیں ہوں مہ جبینوں کی\n\nہم اپنے ملک سخن کو وسیع کرتے ہیں\nہمیں تلاش ہے ہر دم نئی زمینوں کی\n\nانہیں غرض مری باتیں کھڑے کھڑے سن لیں\nسنیں گے بیٹھ کے وہ اپنے ہم نشینوں کی\n\nکہاں وہ چاندنی راتیں وہ چاند کے ٹکڑے\nنہ اب وہ ہم ہیں نہ شکلیں ہیں مہ جبینوں کی\n\nاترتے ہیں نئے مضموں جو آسماں سے ریاضؔ\nتلاش رہتی ہے ہم کو نئی زمینوں کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%DA%A9%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%81_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "گلہ اے دل ابھی سے کرتا ہے", "poet_page": "مصنف:محمد علی جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلہ اے دل ابھی سے کرتا ہے\nعشق کا دم اسی پہ بھرتا ہے\n\nجان دیتا ہے عیش فانی پر\nبس اسی زندگی پہ مرتا ہے\n\nراحت جاوداں کو بھول گیا\nکوئی دنیا میں یہ بھی کرتا ہے\n\nعشق بن کر جئے تو خاک جیے\nزندہ وہ ہے جو ان پہ مرتا ہے\n\nنام پر اس کے سب جو دے بیٹھا\nوہی اک ہے جو نام کرتا ہے\n\nوقف مومن ہے آزمائش عشق\nاس میں پورا وہی اترتا ہے\n\nجس کو دنیا نے نامراد کیا\nوہی ناکام کام کرتا ہے\n\nہے مسلماں کی بس یہی پہچان\nکہ فقط اک خدا سے ڈرتا ہے\n\nقول مومن ہے اس کے فعل کی شرح\nوہ جو کہتا ہے کر گزرتا ہے\n\nمطمئن رہ دلا وہ جان جہاں\nوعدہ کر کے کہیں مکرتا ہے\n\nمیرے رنگ کفن کی شوخی دیکھ\nیوں ہی عاشق ترا سنورتا ہے\n\nآج کر لو جو کر سکو کل تک\nکون جیتا ہے کون مرتا ہے\n\nقلزم عشق میں گرا سو گرا\nاس کا ڈوبا کہیں ابھرتا ہے\n\nاس قدر احتیاط اے صیاد\nکہ قفس میں بھی پر کترتا ہے\n\nوہی دن ہے ہماری عید کا دن\nجو تری یاد میں گزرتا ہے\n\nمئے اسلام کا بھلا جوہرؔ\nنشہ چڑھ کر کہیں اترتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%DB%81_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیِ جا کا\nگہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا\n\nیہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخِ مکتوب!\nمگر ستم زدہ ہوں ذوقِ خامہ فرسا کا\n\nحنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے یہی\nدوامِ کلفتِ خاطر ہے عیش دنیا کا\n\nملی نہ وسعتِ جولانِ یک جنوں ہم کو\nعدم کو لے گئے دل میں غبارِ صحرا کا\n\nمرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہے\nمیں مدّعا ہوں تپش نامۂ تمنّا کا\n\nغمِ فراق میں تکلیفِ سیرِ باغ نہ دو\nمجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا\n\nہنوز محرمیِ حسن کو ترستا ہوں\nکرے ہے ہر بُنِ مو کام چشمِ بینا کا\n\nدل اس کو، پہلے ہی ناز و ادا سے، دے بیٹھے\nہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا\n\nنہ کہہ کہ گریہ بہ مقدارِ حسرتِ دل ہے\nمری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا\n\nفلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اُس کو یاد اسدؔ\nجفا میں اُس کی ہے انداز کارفرما کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D9%88%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%86%DA%AF%D8%A6_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "گلی اکیلی ہے پیارے اندھیری راتیں ہیں", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلی اکیلی ہے پیارے اندھیری راتیں ہیں\nاگر ملو تو سجن سو طرح کی گھاتیں ہیں\n\nبتاں سیں مجھ کوں تو کرتا ہے منع اے زاہد\nرہا ہوں سن کہ یہ بھی خدا کی باتیں ہیں\n\nازل سیں کیوں یہ ابد کی طرف کوں دوڑیں ہیں\nوہ زلف دل کے طلب کی مگر براتیں ہیں\n\nرقیب عجز سیں معقول ہو سکے ہیں کہیں\nعلاج ان کا مگر جھگڑیں ہیں و لاتیں ہیں\n\nکرو کرم کی نگاہاں طرف فقیروں کی\nنصاب حسن کی صاحب یہی زکاتیں ہیں\n\nرہیں فلک کے سدا ہیر پھیر میں نامرد\nیہ رنڈیاں ہیں کہ چرخا ہمیشہ کاتیں ہیں\n\nلکھوں گا آبروؔ اب خوش نین کوں میں ناما\nپلک قلم ہیں مری مردمک دواتیں ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D8%A7%DA%A9%DB%8C%D9%84%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گلی سے تری جو کہ اے جان نکلا", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلی سے تری جو کہ اے جان نکلا\nگریباں سے دست و گریبان نکلا\n\nتری آن پہ غش ہوں ہر آن ظالم\nتو اک آن لیکن نہ یاں آن نکلا\n\nیہی مجھ کو رہ رہ کے آتا ہے ارماں\nکہ تجھ سے نہ کچھ میرا ارمان نکلا\n\nمری آہ آتش فشاں دیکھتی ہے\nلیے گھر سے ہر آن قرآن نکلا\n\nمری جان شرط رفاقت نہیں یہ\nنکل جان تو بھی کہ پیکان نکلا\n\nکیا میں نے مجرا تو جھنجھلا کے بولا\nکہاں کا مرا جان پہچان نکلا\n\nعجب بے بہا ہے مرا اشک یارو\nیہ کمبخت لڑکا تو طوفان نکلا\n\nمجھے شیخ الفت سے مانع ہے احساںؔ\nولی جس کو سمجھا تھا شیطان نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "گلی سے تیری جو ٹک ہو کے آدمی نکلے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "گلی سے تیری جو ٹک ہو کے آدمی نکلے\nتو اس کے سایہ سے جھٹ بن کے اک پری نکلے\n\nخیال میں ترے چہرے کی مر گیا ہو جو شخص\nتو اس کی خاک سے سونے کی آرسی نکلے\n\nبعید شان سے عاشق کے آہ بھرنی تھی\nولی وہ کیا کرے جب اس کی جان ہی نکلے\n\nکسی کے ہوش کو کہہ دو اگر چلا چاہے\nتو اپنے گھر سے کمر باندھ کر ابھی نکلے\n\nنشان آہ لیے چھاؤں چھانو تاروں کے\nچلے گی فوج سرشک آج چاندنی نکلے\n\nکجی طبیعت کج فہم سے ہو تب منفک\nکسی دوا سے دم سگ کے گر کجی نکلے\n\nہزار شکر کہ انشاؔ کسی کی محفل میں\nخفا سے آئے تھے پر ہو ہنسی خوشی نکلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D9%B9%DA%A9_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%AF%D9%85%DB%8C_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "گلی میں بخت کے ان کا بھی کچھ قصہ نکل آیا", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلی میں بخت کے ان کا بھی کچھ قصہ نکل آیا\nہوئی تھی صلح کس مشکل سے پھر جھگڑا نکل آیا\n\nمیں اپنے شور کے صدقے کہ دیکھا آج تو اس کو\nبھرا غصے میں گھر سے شوخ بے پروا نکل آیا\n\nندامت جو ہوئی دیں گالیاں افسانہ گویوں کو\nوہ سنتے تھے کہانی ذکر کچھ میرا نکل آیا\n\nکسی کا گھر نہیں یہ تو گلی ہے سوچ او ظالم\nگھر اکتا کس لیے ہے بھول کر اس جا نکل آیا\n\nمری تقدیر بدلی ضعف سے آواز کیا بدلی\nوہ اپنے دل میں دشمن کی صدا سمجھا نکل آیا\n\nجو سچ پوچھو تو صدقے میں تمہارے عکس عارض کے\nکنول پھولے دلوں کے رنگ غنچوں کا نکل آیا\n\nنسیمؔ ان کو جو اپنا جذب خاطر اس طرف لایا\nگلے مل مل کے روئے حوصلہ دل کا نکل آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%82%D8%B5%DB%81_%D9%86%DA%A9%D9%84_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گلے سے دل کے رہی یوں ہے زلف یار لپٹ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلے سے دل کے رہی یوں ہے زلف یار لپٹ\nکہ جوں سپیرے کی گردن میں جائے مار لپٹ\n\nمزے اٹھاتے کمر بند کی طرح سے اگر\nکمر سے یار کی جاتے ہم ایک بار لپٹ\n\nہمارے پاس وہ آیا تو کھول کر آغوش\nیہ چاہا جاویں ہم اس سے بہ انکسار لپٹ\n\nوہیں وہ دور سرک کر عتاب سے بولا\nہمارے ساتھ نہ ہو کر تو بے قرار لپٹ\n\nہمیں جو چاہیں تو لپٹیں نظیرؔ اب ورنہ\nتو چاہے لپٹے سو ممکن نہیں ہزار لپٹ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%8C_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%84%D9%BE%D9%B9"} {"title": "گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریں", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریں\nجو بات مانو تو منت ہزار بار کریں\n\nیہ ہاتھ کیسے ہیں بیکار کچھ تو کار کریں\nبہار آئی گریبان تار تار کریں\n\nکہاں سے لائیں اب اس کو جو ہمکنار کریں\nتسلی کیا تری او جان بے قرار کریں\n\nوہ ربط تم سے بڑھائیں وہ تم کو یار کریں\nہزار طرح کے جو جبر اختیار کریں\n\nگرائے سیل عناصر کی چار دیواری\nخراب خانۂ تن چشم اشکبار کریں\n\nتمہارے در سے نہ مایوس جائیں حاجت مند\nقبول ہووے جو توبہ گناہ گار کریں\n\nکفن بھی ہو گیا میلا دھرے دھرے اے موت\nتمام عمر ہوئی کب تک انتظار کریں\n\nبرنگ غنچہ زباں ہے دہاں میں زیر زباں\nتمہارے قول کا کیا خاک اعتبار کریں\n\nگدا ترے در دولت کے ہیں یہ مستغنی\nجو سلطنت بھی ملے تو نہ اختیار کریں\n\nغرور حسن سے ہرگز سنے گا ایک نہ گل\nچمن میں نالے اگر بلبلیں ہزار کریں\n\nسنائے رکھتا ہوں سب کو مری وصیت ہے\nکہ تا اسی پہ عمل میرے غم گسار کریں\n\nچراغ زیست جب اس ننگ دودماں کا ہو گل\nعزیز شمع نہ روشن سر مزار کریں\n\nترے سوا ہے کریم اور رحیم کس کی ذات\nنجات کس سے طلب ہم گناہ گار کریں\n\nبجائے سرمہ لگائیں غبار کوچۂ یار\nیہی علاج ترا چشم اشکبار کریں\n\nستم شعار جفا پیشہ بے مروت ہے\nسراہیے جگر ان کے جو تجھ کو پیار کریں\n\nبڑھا کے لکھیں نہ شاعر حدیث زلف رسا\nہوا ہے طول مناسب ہے اختصار کریں\n\nدر کریم سے آتی ہے متصل یہ صدا\nوہ کیوں نہ پائے جسے ہم امیدوار کریں\n\nیہ بت اٹھائیں جو قرآں بھی کعبے میں اے رندؔ\nخدا سے ہم تو ہوں منکر جو اعتبار کریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دن", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دن\nادھر تو آؤ مرے گلعذار عید کے دن\n\nغضب کا حسن ہے آرائشیں قیامت کی\nعیاں ہے قدرت پروردگار عید کے دن\n\nسنبھل سکی نہ طبیعت کسی طرح میری\nرہا نہ دل پہ مجھے اختیار عید کے دن\n\nوہ سال بھر سے کدورت بھری جو تھی دل میں\nوہ دور ہو گئی بس ایک بار عید کے دن\n\nلگا لیا انہیں سینہ سے جوش الفت میں\nغرض کہ آ ہی گیا مجھ کو پیار عید کے دن\n\nکہیں ہے نغمۂ بلبل کہیں ہے خندۂ گل\nعیاں ہے جوش شباب بہار عید کے دن\n\nسویاں دودھ شکر میوہ سب مہیا ہے\nمگر یہ سب ہے مجھے ناگوار عید کے دن\n\nملے اگر لب شیریں کا تیرے اک بوسہ\nتو لطف ہو مجھے البتہ یار عید کے دن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%DB%92_%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%86"} {"title": "گلے مجھ کو لگا لو اے مرے دل دار ہولی میں", "poet_page": "مصنف:بھارتیندو ہریش چندر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلے مجھ کو لگا لو اے مرے دل دار ہولی میں\nبجھے دل کی لگی بھی تو اے میرے یار ہولی میں\n\nنہیں یہ ہے گلال سرخ اڑتا ہر جگہ پیارے\nیہ عاشق کی ہے امڑی آہ آتش بار ہولی میں\n\nگلابی گال پر کچھ رنگ مجھ کو بھی جمانے دو\nمنانے دو مجھے بھی جان من تیوہار ہولی میں\n\nرساؔ گر جام مے غیروں کو دیتے ہو تو مجھ کو بھی\nنشیلی آنکھ دکھلا کر کرو سرشار ہولی میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DA%AF%D8%A7_%D9%84%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا\nہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا\n\nستارے سسکیاں بھرتے تھے اوس روتی تھی\nفسانۂ جگر لخت لخت ایسا تھا\n\nذرا نہ موم ہوا پیار کی حرارت سے\nچٹخ کے ٹوٹ گیا دل کا سخت ایسا تھا\n\nیہ اور بات کہ وہ لب تھے پھول سے نازک\nکوئی نہ سہہ سکے لہجہ کرخت ایسا تھا\n\nکہاں کی سیر نہ کی توسن تخیل پر\nہمیں تو یہ بھی سلیماں کے تخت ایسا تھا\n\nادھر سے گزرا تھا ملک سخن کا شہزادہ\nکوئی نہ جان سکا ساز و رخت ایسا تھا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیں", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیں\nسحر ہوئی تو وہ آنکھیں نہ وہ نگاہیں تھیں\n\nنکل کے چہرے پہ میدان صاف خط نے کیا\nکبھی یہ شہر تھا ایسا کہ بند راہیں تھیں\n\nفراق میں ترے عاشق کو جا کے کل دیکھا\nکہ وہ تو ہیچ تھا کچھ اشک تھے کچھ آہیں تھیں\n\nبگولے اب ہیں کہ غربت ہے گور شاہاں پر\nسروں پہ چتر جلو میں کبھی سپاہیں تھیں\n\nہزاروں لوٹ گئے کل اٹھی جو وہ چلمن\nخدنگ موئے مژہ برچھیاں نگاہیں تھیں\n\nکیا یہ شوق نے اندھا مجھے نہ سوجھا کچھ\nوگرنہ ربط کی اس سے ہزار راہیں تھیں\n\nیہ ضعف ہے کہ نکلتی نہیں ہیں اب دل سے\nکبھی فلک سے بھی اونچی ہماری آہیں تھیں\n\nجگر میں ہجر کی کل چبھ رہی تھیں کچھ پھانسیں\nمگر جو غور سے دیکھا تری نگاہیں تھیں\n\nپہنچ گئے سر منزل چلے جو چال نئی\nانہیں میں پھیر تھا دیکھی ہوئی جو راہیں تھیں\n\nفلک کے دور سے دنیا بدل گئی ورنہ\nجہاں بنے ہیں یہ مے خانے خانقاہیں تھیں\n\nیہ ضعف اب ہے کہ ہلنا گراں ہے قدموں کو\nسبک روی میں کبھی ان کو دستگاہیں تھیں\n\nمشاعرے سے حسیں کیوں نہ چھین لے جاتے\nرباعیاں مری چو گو شبہ کلاہیں تھیں\n\nحسین زر کے ہیں طالب کہ اب ہیں گرد امیرؔ\nغریب ہم تھے تو یہ پیار تھا نہ چاہیں تھیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%84%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گم انہیں میں ہوں ان کا دھیان کب نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:علی منظور حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نمود زندگی (1940)", "year": "1940", "text_ur": "گم انہیں میں ہوں ان کا دھیان کب نہیں آتا\nیاد انہیں بھلانے کا کوئی ڈھب نہیں آتا\n\nضبط گریہ کی تلقیں ختم کر بس اے ہمدم\nبات بات پر رونا بے سبب نہیں آتا\n\nکس پہ جان دیتا ہوں راز ہی میں رہنے دے\nنام اس دل آرا کا تا بہ لب نہیں آتا\n\nکیا کہوں اسے پہلے دیکھتا تھا کس ڈھب سے\nجو حسیں نظر مجھ کو آہ اب نہیں آتا\n\nجتنے بادہ خوار آئے طالب نشاط آئے\nساقیا کوئی مجھ سا حق طلب نہیں آتا\n\nاتنے غمگساروں سے شاد کیا ہو وہ غمگیں\nغم بھی جس کے حصے میں سب کا سب نہیں آتا\n\nتیری کم نگاہی کا طلب کھینچ لاتا ہے\nسامنے ترے میں خود بے سبب نہیں آتا\n\nرشک غیر اے منظورؔ ایسے وقت آتا ہے\nدوست کے تصور میں دوست جب نہیں آتا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%85_%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "گم کر دیا ہے دید نے یوں سر بہ سر مجھے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گم کر دیا ہے دید نے یوں سر بہ سر مجھے\nملتی ہے اب انہیں سے کچھ اپنی خبر مجھے\n\nنالوں سے میں نے آگ لگا دی جہان میں\nصیاد جانتا تھا فقط مشت پر مجھے\n\nاللہ رے ان کے جلوے کی حیرت فزائیاں\nیہ حال ہے کہ کچھ نہیں آتا نظر مجھے\n\nمانا حریم ناز کا پایہ بلند ہے\nلے جائے گا اچھال کے درد جگر مجھے\n\nایسا کہ بت کدے کا جسے راز ہو سپرد\nاہل حرم میں کوئی نہ آیا نظر مجھے\n\nکیا درد ہجر اور یہ کیا لذت وصال\nاس سے بھی کچھ بلند ملی ہے نظر مجھے\n\nمست شباب وہ ہیں میں سرشار عشق ہوں\nمیری خبر انہیں ہے نہ ان کی خبر مجھے\n\nجب اصل اس مجاز و حقیقت کی ایک ہے\nپھر کیوں پھرا رہے ہیں ادھر سے ادھر مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%85_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%D9%86%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D8%B1_%D8%A8%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "گماں مہر درخشاں کا ہوا ہے روئے روشن پر", "poet_page": "مصنف:نواب شاہجہاں بیگم شاہجہاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گماں مہر درخشاں کا ہوا ہے روئے روشن پر\nتعجب ایک عالم کو ہے کیا کیا ان کے جوبن پر\n\nپڑھی جب فاتحہ تو پڑھتے پڑھتے ہنس دیا گویا\nگرائی آپ نے بجلی جب آئے میرے مدفن پر\n\nہمارا دل دکھانا کچھ ہنسی یا کھیل سمجھے ہو\nسمجھ پکڑو جواں ہو اب نہ جاؤ تم لڑکپن پر\n\nسخن کو آپ کے اے حضرت دل کس طرح مانوں\nکسی کو اعتبار آتا نہیں ہے قول دشمن پر\n\nہماری آنکھ سے گرتے نہیں یہ اشک کے قطرے\nنچھاور کرتے ہیں موتی تمہارے روئے روشن پر\n\nنظر میں جیسے شیریںؔ کے تمہارا روئے روشن ہے\nنہیں پڑتی ہے آنکھ اس کی گل شاداب گلشن پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "گماں نہ کیونکہ کروں تجھ پہ دل چرانے کا", "poet_page": "مصنف:ممنونؔ نظام الدین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گماں نہ کیونکہ کروں تجھ پہ دل چرانے کا\nجھکا کے آنکھ سبب کیا ہے مسکرانے کا\n\nیہ سینہ ہے یہ جگر ہے یہ دل ہے بسم اللہ\nاگر خیال ہے تلوار آزمانے کا\n\nکسی کے ہونٹھ کے ملتے ہی ہم تمام ہوئے\nمزا ملا نہ ہمیں گالیاں بھی کھانے کا\n\nمجھے یہ درد ہے معلوم حکم بلبل بن\nنہ میری خاک پہ کر قصد پھول لانے کا\n\nکیا فریفتہ کہہ کہہ کے حال دل اس کو\nاثر فسوں سے نہیں کچھ کم اس فسانے کا\n\nغموں کی گر یہی بالیدگی ہے تو آخر\nدل گرفتہ نہیں سینے میں سمانے کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "گناہ کا خوف", "poet_page": "مصنف:چودھری محمد علی ردولوی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "عبدالمغنی صاحب نے مختاری کے پیشے میں وہ نام پیدا کیا تھا کہ ڈپلوما والے وکیل بیرسٹر کیا کریں گے۔ بڑے بڑے زمیندار، تعلقدار، مہاجن خوشامدیں کرتے تھے۔ کمشنری بھر میں کون ابتدائی مقدمہ ایسا ہوتا تھا جس میں عبدالمغنی صاحب دو فریق میں سے ایک کے مددگار نہ ہوں۔ ان کی ترتیب دی ہوئی مسل دیکھ کر چوٹی کے وکلا دنگ رہ جاتے تھے اکثروں کو یہ کہتے سنا ہے کہ اگر اس شخص نے وکالت کا امتحان پاس کرلیا ہوتا تو یہ ہائی کورٹ کے بہترین ایڈوکیٹس میں سے ہوتا۔\n\nعبدالمغنی صاحب نے بلا کا دماغ پایا تھا۔ پر نہیں کٹے تھے۔ صوبہ بھر میں کہیں کا مقدمہ ہو اور کیسے ہی پیچیدہ معاملات ہوں۔ اگر فریق مقدمہ ان تک پہنچ گیا تو سب مشکلیں حل ہو گئیں۔ زبان میں نہ معلوم کیا جادو تھا اور نہ معلوم کیسے انچھر یاد تھے کہ آدمی کو رام کر لینا کوئی بات ہی نہیں تھی۔ جہاں صلح کا موقعہ ہوا دوسرے فریق کے دل میں جگہ کر کے صلح کرادی۔ جہاں لڑائی کا موقع ہوا مخالف فریق کے بہترین آدمی توڑ لیے۔ کوئی دوسرا ہزار دو ہزار میں کال نکالے یہ سو دوسو میں کامیاب ہو جائیں۔\n\nوکیل نہ ہونے کا خود ان کو کبھی افسوس کرتے نہیں سن۔ اور افسوس کرنے کا موقعہ ہی کہاں تھا۔ کام اتنا تھا کہ فضول خیالی گھوڑے دوڑانے کا موقعہ بھی نہیں ملتا تھا۔ وکیلوں کے یہاں ایک محرر ہوتا ہے۔ کوئی ایسا ہی بڑاہوا جس کے یہاں دو ہوئے۔ ہائی کورٹ کے اونچے اونچے وکلاء کے ساتھ دو تین جونیئر لگے رہتے ہیں۔ ان کے یہاں بیس کام کرنے والے تھے اور پھر نہ جونیئر کا سوال نہ سینئر کا۔ خالی ہر شخص کی فطری قابلیت دیکھ کر کام سپر د کیا جاتا تھا۔ جو اپنا کام سمجھ کر کرتاتھا۔ ان کے جلسے میں مقدمہ کے ہر پہلو کے اسپیشلسٹ موجود تھے۔ حسب حیثیت باموقع اعتبار کرنے والے دیدارو چشم دیدگواہ مہیا ہو سکتے تھے۔ ان کے جلسے میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو سو پچاس برس کا سادہ کرم خوردہ کاغذ نکال دیں۔ دھواں دے کر نئے کاغذ کو پرانا بنا دیں۔ تین دن کے اندر حاشیہ کو دیمک سے چٹوا دیں، متن ویسے کا ویسا ہی رہے\n\nدستاویزوں میں سے الفاظ غائب کردیں اور عبارتیں اس طرح داخل کردیں کہ بڑے سے بڑا تحریر شناس دھوکہ کھا جائے۔ ان کے ملنے والوں میں ایک منشی صاحب تھے جو بائیں ہاتھ سے اور پاؤں سے بھی لکھ لیتے تھے اور شان خط بدل دیتے تھے۔ ہفت قلم تھے۔ اس معنی میں نہیں کہ نسخ نستعلیق شکستہ وغیرہ وغیرہ لکھ لیتے تھے بلکہ اس رو سے کہ مختلف لوگوں کے انداز خط کی ایسی نقل اتارتے تھے کہ خود لکھنے والا اگر کچھ دن بعد دیکھے تو نہ جانے۔\n\nان کے علاوہ ایسے لوگ بھی تھے جو اکثر ضرورت ہو تو مسل گھوما دیں ریل پر سے، کچہری کے احاطے سے، گھر سے یا جہاں سے بہترین موقع ہو۔ بستے سے ضروری کاغذ غائب ہو جائے، باقی ویسے ہی رکھے رہیں۔ بالکل اسی طرح کا بستہ رکھ دیا گیا اور گواہ گھر سے کاجل کا چور اصلی بستہ لے گیا۔ اپنے یہاں کے اٹھنے بیٹھنے والوں میں سے ایک شخص کی خود تعریف کرتے تھے کہ انہوں نے وہ جرات کی اور صفائی کا وہ کمال دکھایا کے دوسرا ہوتا تو پاؤں کانپ جاتے اور دھر لیا جاتا۔ ایک بہت بوڑھے فریق مخالف عبا قبا پہنے۔ جاڑوں کے دن، بغل میں بستہ دبائے اپنے وکیل کے پیچھے کھڑے بحث سن رہے تھے ان کی بغل سے بستہ نکل گیا اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔ اس کے علاوہ ایسے لوگ بھی لگے رہتے تھے جو لڑائی بھڑائی میں بند نہ تھے مگر یہ سب دوسروں کے لیے کرتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں مقدمہ بازی میں اور عشق بازی میں سب کچھ جائز تھا۔\n\nمگر خود اپنے لیے عبدالمغنی صاحب ان تمام باتوں سے علیحدہ رہتے تھے۔ مقدمات معاملات کی اور بات ہے۔ مثلاً بیان ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک نوجوان زمیندار تھا جو بالغ ہونے کے بعد اپنے بڑے بھائی پر مقدمہ چلانے والا تھا، سب سامان لیس تھا۔ صرف دعویٰ داخل کرنا تھا۔ اسٹامپ خرید لیا گیا تھا۔ میعاد میں صرف تین دن باقی تھے اگر وہ دعویٰ ہو جاتا بڑے بھائی کا دیوالیہ نکل جاتا اور یہ بھی زیر بار ہو جاتا۔ بڑا بھائی ان کے پاس آیا۔ عبدالمغنی نے شکار کے بہانے سے اس لونڈے کو پھانسا اور تین دن کے بجائے چار دن کے لیے اس کو نہ جانے کہاں الوپ کردیا۔ کسی کو خبر تک نہ لگی۔ میعاد نکا جانے کے بعد چھوڑ دیا اور کچھ ایسی چالیں چلے کہ وہ لونڈا حبس بے جا کا دعویٰ کرنا کیسا ان واقعات کا ذکر کرتے ڈرتا تھا۔ یوں بلاوجہ کسی کارواں کبھی نہیں ستایا۔ نہ اپنے ذاتی معاملات میں ان کو کسی کے ساتھ زیادتی کرتے دیکھا۔ محلہ میں ہر شخص سے یگانگی کا برتاؤ تھا اور کون ایسا تھا جس کی خدمت انہوں نے نہ کی ہو، اپنی بات کے دھنی تھے اور ارادے کے ایسے مضبوط تھے کہ جس بات پر قائم ہو گئے پھر اس سے نہیں ہٹتے تھے چاہے کچھ ہو جائے۔\n\nایک مرتبہ طاعون آیا۔ بیماروں کی خبر گیری، غریبوں کی تیمارداری، میتوں کا دفن کروانا، سب اپنے ذمے لے لیا۔ طاعون کے نام سے لوگ گھبراتے ہیں مگر یہ ہر جگہ پل پڑتے تھے۔ نہ معلوم کتنے مردے خود اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارے، لوگوں نے کہا انجکشن لے لو مگر انہوں نے پرواہ بھی نہ کی۔ اس کے مرشد نے ایک تعویذ بھیجا تھا وہ تو ضرور کرتے کے نیچے گلے میں ڈال لیاتھا۔ اور سورۂ تغابن کی مزاولت رکھتے تھے اور بس۔ طاعون کی بلا ختم ہونے کے بعد عبدالمغنی کا اثر ارد گرد اچھا خاصا بڑھ گیا تھا۔ اول تو ایسے آڑے وقت میں لوگوں کے کام آئے تھے۔ دوسرے رفتہ رفتہ کچھ جائیداد بھی پیدا کر لی تھی، بہت سی دوکانیں بنوالی تھیں، جن میں کرایہ دار بساتے وقت کرایہ کا خیال اس قدر نہیں کیا جاتا تھا جتنا اثر بڑھانے اور لوگوں کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کا چنانچہ میونسپل اور ڈسٹرکٹ بورڈ وغیرہ کے الیکشن میں ان کا کنڈیڈیٹ اور ان کی پارٹی ہمیشہ جیتتی تھی۔ انہیں وجوہ سے اگر مختار صاحب کسی سے کوئی بات کہہ دیں تو اس کو ٹالنا مشکل ہو۔ چنانچہ ان کے مکان کے قریب ایک زمین تھی جو ایک شخص نے مول لی تھی۔ عبدالمغنی اس کے خواہش مند تھے۔ یہ اراضی ان کے بھی موقع کی تھی اور اس کے بھی مگران کے رعب کی وجہ سے وہ انکار نہ کرسکا۔ اسی زمین پر انہوں نے ایک مختصر سا مکان بنوایا تھا جو ابھی ابھی تیار ہوا تھا، اور خیال تھا کہ مہمانوں کے لیے وقف رہے گا۔ نماز روزے کے بڑے پابند تھے مگر اسی کے ساتھ زاہد خشک بھی نہ تھے۔ دوست احباب کے ساتھ چوک بھی چلے جاتے تھے۔ خود ان کے گھر پر بھی اس طرح کی صحبتیں آراستہ ہو جاتی تھیں۔ ان کے کمرہ میں کونے میں بایال او ر تان پورہ بھی رکھا رہتاتھا مگر یہ سب دوسروں کی خاطر اور آشنا پرستی میں گوارا کرتے تھے۔ خود ہمیشہ بے لوث رہتے تھے حس پرستی تککو جائزہ جانتے تھے۔ مگر تردامنی میں کبھی مبتلا نہیں ہوئے تھے۔ وضع داری کا یہ حال تھا کہ ریاست پور میں کسی زمانہ میں مختار تھے اس سلسلہ کو منقطع ہوئے برسوں گزر گئے تھے لیکن ان کے نام کا مختار نامہ آج تک پڑا تھا۔ ریئس صاحب کی جائیداد چوتھائی نہیں رہ گئی تھی کچھ اسی وجہ سے، اور کچھ اس وجہ سے کہ ان کی مصروفیتیں بہت بڑھ گئی تھیں۔ انہوں نے رئیس صاحب کو مشورہ دیا کہ مختار نامہ صاحبزادے کے نام ہو جائے۔ یہ سب کچھ تھا، مگر آج تک رئیس کو اپنا آقا ہی سمجھتے تھے، اور جو کام ہوتا تھا اپنا سمجھ کر کرتے تھے۔ رئیس صاحب کے بیٹے اور یہ قریب قریب ہم سن تھے جس وقت کا یہ واقعہ بیان کرتا ہوں، عبدالمغنی صاحب چالیس اکتالیس برس کے رہے ہوں گے اور شہامت علی رئیس صاحب کے بیٹے کا سن ۳۵ برس کے قریب ہوگا۔ آدمی ذرا شوقین مزاج تھے مقدمات کی پیروی میں بہت آیا کرتے تھے،\n\nفکر بازاری بھی، ہر وقت ہی درباری بھیاک مصیبت ہے جوانی بھی زمینداری بھی اور چونکہ عبدالمغنی صاحب کی وجہ سے کھانے اور قیام کی جگہ سے بے فکر تھے، اس لیے شوق بھی آزادی سے پورا ہوتا تھا۔ عبدالمغنی صاحب کے گھر میں ان کا کمرہ علیحدہ تھا جو سڑک کی طرف کھلتا تھا۔ اس لیے اگر رات کو انہوں نے کسی کو بلایا بھی تو کسی کو خبر نہ ہوتی تھی۔ عبدالمغنی صاحب سے کوئی تکلف نہ تھا خود ان کا دل چاہا یا شہامت علی کی خاطر سے منٹ دو منٹ کو چلے بھی آئے اور یہ دیکھ کر کہ خاصدان میں پان اور لوٹا، گلاس پانی کا، گھڑا سب موجود ہے چلے گئے۔\n\nشہامت علی جب مقدمہ کے سلسلہ میں آتے تھے تو عموماً دو تین دن رہتے تھے اور جب شہر کے قیام کا کوئی عذر معقول نہ رہ جاتا تھا تو چلے جاتے تھے۔ ایک مرتبہ خلاف عادت کئی دن رہے چہرے کی کچھ پریشانی کچھ فکر مندی سے عبدالمغنی کو پتہ چلا، پوچھنے لگے خیر تو ہے۔\n\nشہامت علی۔ یار کیا کہیں، یہ سامنے درزی کی دکان نہیں ہے اس کوٹھے پر ایک رنڈی آئی ہوئی ہے۔ کہیں باہر کی ہے۔ میں نے ابکی ہی دورے میں دیکھا ہے۔ بھئی ہم تو کھیت رہے مگر وہ ظالم کسی طرح رنگ پر آتی ہی نہیں۔ کچھ ہم نے بھی حماقت کی کہ اپنے دل کا راز اس پر ظاہر کردیا۔ اس کے بعد اب تو اس کے مزاج ہی نہیں ملتے۔ گھمن خان کو درمیان میں ڈالا مگر وہ پابندی کا عذر کرتی ہے۔ اور یہاں یہ حال ہے کہ خواب و خور حرام ہے۔ رات کی نیندیں اڑ گئی ہیں او ر جو ہم کوشش کرتے ہیں وہ اورکھنچتی جاتی ہے۔\n\nعبدالمغنی۔ ان اونچی رنڈیوں میں یہی تو خرابی ہوتی ہے کہ یوں خاطر مدارات میں لگاوٹ سب کچھ کریں گی مگر معاملے کی بات پر عجیب مزاج کی لینے لگتی ہیں۔ اور اگر کہیں جھوٹ موٹ کی نتھ پہنے ہوئیں تو آشنائی نہ ہوئی قلعہ ہی فتح کرنا سمجھئے۔ چھوٹتے ہی بی نائکہ صاحب کہتی ہیں۔ ناصاحب، ابھی مری بچی کم سن ہے کچھ دن آئیے جائیے، اٹھئے بیٹھیے، لڑکی سے مانوس ہو جائیے، آپ اس کی طبیعت پہچان لیں وہ آپ کے مزاج سے واقف ہوجائے پھرلونڈی کو عذر ہی کیا ہو سکتا ہے۔\n\nاگر پیشے میں آچکی ہے تو نوکری کا سوال پہلے ہی دھرا ہے مستقل تعلق کیجئے، پابند کیجئے اور خود بھی پابند ہو جائیے۔ پھر سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ادھر تعلق ہوا نہیں، ادھر عیاشی کے گزٹ میں نام چھپا نہیں۔ اگر بڑے بڑے لوگوں کے نام سے یہ اپنے کو نہ منسوب کریں تو اعلیٰ طبقے والی کہلائیں کیوں کر اگر چوری چھپے تعلق کیجئے تو اس میں بھی جب تک مہینوں حاضری نہ دیجئے اور ایک کی جگہ چار خرچ نہ کیجئے کام نہیں چلتا۔ تمہارے معاملے میں اتنا غنیمت ہے کہ تم یہاں کے رہنے والے نہیں ہو۔ باہر والے کی رسائی چوری چھپے کبھی کبھی ہو جاتی ہے کیونکہ اس میں دام بھلے چنگے ہاتھ آجاتے ہیں اور عام طورسے کمانے کا نام بھی نہیں ہوتا۔ خیر چلو ذرا ہم بھی دیکھیں۔ اسی طرف سے نیا مکان بھی دیکھتے آئیں گے۔ آج کئی دن سے نہیں گئے۔ تخت، پلنگ، کرسیاں وغیرہ تو پہنچ گئی ہیں ذرا دیکھنا ہے کہ کس طرح سے سجا جائے اس طرف سے کھڑے کھڑے وہاں بھی چلنا مکان کی آرائش وغیرہ میں تمہارے سلیقے کے ہم ہمیشہ سے قائل ہیں۔\n\nاس رنڈی کے یہاں پہنچ کر میاں عبدالمغنی صاحب نے منہ سے توکچھ نہ کہا، مگر شہامت علی کا ایسا ادب و لحاظ کیا گویا یہ ان کے ادنیٰ ملازم ہیں۔ ایک ایک گلوری نوش کی اور رئیس صاحب کی طرف سے کچھ دے کر دونوں آدمی اٹھ آئے۔ لیجئے صاحب وہاں رنگ ہی بدل گیا ادھر یہ لوگ رخصت ہوئے اور ادھر نائکہ نے استاد گھمن خاں کو بلایا کچھ سرگوشیاں ہوئیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاملہ روبراہ ہو گیا۔ پیغام بھیجا کہ لونڈی کو حکم میں کبھی عذر تھا نہ ہے۔ صرف بات یہ ہے کہ رات میں دوسرے کی پابندی ہے، دن کو جب چاہے گھڑی دو گھڑی کے لیے طلب کر لیجئے۔\n\nاب دقت یہ آن پڑی کہ رات کے لیے تو ان کا کمرہ مناسب تھا مگر دن کے لیے بالکل ناموزوں تھا۔ عبدالمغنی کے اعزاء، نوکر چاکر، لڑکے سب ہی موجود تھے۔ مناسب یہی معلوم ہوا کہ وہی نو نعمیر مکان تخلیہ کے لیے کام میں لایا جائے۔\n\nعبدالمغنی کچہری جا چکے تھے۔ چنانچہ شہامت علی نے ایک لڑکے کو دوڑایا کہ عبدالمغنی سے اس مکان کی کنجی مانگ لائے، یہ بھی کہلا بھیجا کہ جب فرصت ہو توخود بھی چلے آئیں۔ کنجی تو انہوں نے بھجوا دی اور خود تھوڑی دیر میں آنے کو کہا۔ کلید مراد ہاتھ آگئی، اب عبدالمغنی کو کون یاد کرتا ہے۔ انہوں نے نوکر کو تو اس رنڈی کے یہاں بھیجا اور خود کنجی جیب میں لے کر اس نئے مکان کی طرف چلے۔ سب سے پہلے نل کھول کر دیکھا کہ پانی آرہا ہے۔ اس کے بعد پلنگ کی طرف متوجہ ہوئے۔ نواڑ کی پلنگڑیاں متعدد بچھی ہوئی تھیں۔ اونھ، تکیہ بچھونا نہیں ہے نہ سہی، لوٹا بھی نہیں ہے۔ مگر شیشے کی الماری میں جگ او ر گلاس تو ہیں۔ یار کچھ پان منگوانے چاہییں۔ نوکر جب آئے گا تو وہ ہی لے آئے گا۔ شہامت علی صاحب کی بے تابی بیان کرکے اپنے پڑھنے والوں پر ناتجربہ کاری کا اتہام لگانا نہیں چاہتا۔\n\nقصہ مختصر کچھ انتظار کے بعد معشوقہ محبوبہ تشریف لائیں۔ انہوں نے دھڑکتے دل سے استقبال کیا۔ نوکر کو گلوریاں، برف، لیمنڈ، لینے کو بھیجا اور پاس تو بٹھا لیا مگر نوکر کی واپسی کے انتظار میں دست ہوس اور زیادہ نہ بڑھایا۔ ہاں جو باتیں اظہار شوق کی بالکل پیش پا افتادہ تھیں ان کا ذکر نہیں مگر نگاہ نوکرکے دھڑکے میں درہی سے لڑی رہی۔ اتنے میں نوکر بھی آگیا او اس کے ساتھ میاں عبدالمغنی بھی دھر دھمکے ان کو دیکھ کر شہامت علی صاحب کے چہرے پر مسرت، خلوص اور شکر گزاری کا اشتہار لگ گیا۔ مگر عبدالمغنی صاحب کے چہرے پر خلاف بعید اور سنجیدگی متانت بلکہ اس سے بھی بالاتر وہ کیفیت ظاہر تھی جو اس وقت ہوتی ہے۔ جبکہ آدمی مروت کو توڑ کر کسی دوست کے خلاف دو ٹوک فیصلہ کرلیتا ہے۔ شہامت علی کا دل دھک سے ہوگیا۔ رنڈی کے دوسرے پہلو میں بیٹھنے کی دعوت دی مگر عبدالمغنی نہ بیٹھے۔ ایک دو سیکنڈ چپ کھڑے رہے اس کے بعد کہنے لگے۔ یار سنو۔ تم جانتے ہو کہ ہماری چیز جان مال دوستوں کے لیے وقف ہے مگر ابھی مکان میں یہ کام نہیں ہو سکتا۔ ابھی اس گھر میں میلاد شریف نہیں ہوا ہے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D9%81"} {"title": "گناہ کی بیٹیاں، گناہ کے باپ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "برس یا ڈیڑھ برس پیچھے کی بات ہے۔ کراچی سے یہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ وہاں عورتوں کی جسم فروشی قانوناً ممنوع قرار دے دی گئی ہے۔ اس پر مختلف اخباروں نے الحاج خواجہ شہاب الدین صاحب کے مجلاو مطہر جذبے کی بہت تعریف و توصیف کی تھی۔ میں نے اس وقت بھی سوچا تھا اور آج بھی سوچتا ہوں کہ وہ چیز جسے ممنوع کیا گیا ہے اس کی تعریف قانونی نقطۂ نظر سے کیا کی گئی ہو گی، اتنا سنا تھا کہ گزور ؔ صاحب نے، ’’پروسٹی چیوٹ‘‘ یعنی قحبہ کی تعریف ان لفظوں میں کی تھی۔ وہ عورت جو روپے کے عوض بازار میں اپنی عصمت فروخت کرے۔\n\nمیں اس تعریف کا مضحکہ اڑانا نہیں چاہتا۔ حالانکہ یہ بات کچھ عجیب سی معلوم ہوتی ہے کہ عصمت بار بار کیسے فروخت کی جا سکتی ہے۔ یہ تو ویسے ہی ہوا، اگر کہا جائے کہ میں تلوار تو نہیں بیچتا، پر اس کی آب آپ جب چاہیں مقررہ دام دے کر حاصل کر سکتے ہیں۔ عصمت جہاں تک میں سمجھتا ہوں، ایک ایسی آب ہے جو ایک ہی دفعہ فروخت کرنے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معدوم ہو جاتی ہے اور وہ بھی صرف اس وقت اگر ہم اسے ٹھٹھ قسم کی گھریلو عورت کی پاکیزگی کردار سے تعبیر کریں۔ ورنہ یہ ایک اضافی صفت ہے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کسبیوں کے ہاں وہ عورت باعصمت متصور کی جاتی ہو، جو اپنے کاروباری اصول کی پکی ہو۔ جو اپنا جسم مفت نذر نہ کرتی ہو۔ لیکن میں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ بہت سی ایسی باتیں نکل آنے کا اندیشہ ہے جو نیم رس اذہان کو اشتعال دلانے کا باعث ہو سکتی ہیں۔\n\nہم اگر گزور صاحب کی تعریف کو پیش نظر رکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ عورت امتناعی قانون کی زد میں نہیں آئے گی جو اپنا جسم نہ بیچتی ہو۔ وہ اپنی ادائیں بیچ سکتی ہے، ناز نخرے، عشوے اور غمزے فروخت کر سکتی ہے، مگر اس کو اپنے جسم کا خاص حصہ بیچنے کی ممانعت ہے۔ دنیا میں ایسا کون سا شعبہ ہے جہاں لین دین نہیں ہوتا، لیکن یہ پھر ایک ایسا مبحث ہے کہ سیکڑوں تلخ اور ترش باتیں پیدا ہو جائیں گی جن سے میں فی الحال دور ہی رہنا چاہتا ہوں۔ ایک بڑا گستاخ سا سوال اور بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ امتناعی قانون صرف عورتوں ہی کے لئے کیوں مخصوص ہے۔ مرد اس سے کیوں مستثنیٰ ہیں۔ کیا صنف مخالف میں ایسے افراد موجود نہیں جو انہیں معنوں میں اپنا جسم بیچتے ہیں جن معنوں میں یہ عورتیں، جن پر پابندی عائد کی گئی ہے۔۔۔ اس سوال پر، میرا خیال ہے کہ آپ میری مدد کے بغیر ہی غور کیجئے۔\n\nگزور صاحب کی متذکرہ صدر تعریف اور امتناعی قانون کا جو رد عمل ہونا تھا وہ ظاہر تھا۔ کراچی میں چنانچہ یہ ہوا کہ متعدد کسبیوں نے رقاصاؤں کا روپ دھار لیا۔ جو پہلے مجرے نہیں کرتی تھیں، انہوں نے طبلے اور ہارمونیم منگوا لئے جو ڈھال کا کام دینے لگے، اب وہ قانون کی زد سے باہر تھیں۔ کیونکہ وہ ان سازوں کی گواہی پیش کر سکتی تھیں کہ ان کا پیشہ تو صرف گانا بجانا ہے جو ممنوع نہیں ہے۔ کراچی میں اس چولا بدلی سے جو دلچسپ باتیں ظہور پذیر ہوئیں ان میں سے چند یہ ہیں، بہت سی کسبیاں تو شہر چھوڑ کر ایسے مقامات پر چلی گئیں جہاں اس قانون کا ہاتھ نہیں پہنچتا تھا۔ بعض شریف محلوں میں اقامت پذیر ہو گئیں کہ پولیس کے چھاپوں سے محفوظ رہیں، بعض جو ثابت قدم تھیں اپنے اپنے اڈے پر جمی رہیں۔ ان کے سرخ لالٹین والے بازار میں پولیس راؤنڈ لگاتی رہتی اور اوپر کوٹھوں میں بظاہر مجرے ہو رہے ہیں، لیکن اندرونی طور پر ان کا کاروبار باقاعدہ چل رہا ہے۔\n\nسنا ہے کہ ان کے گاہکوں کو بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کسی کوٹھے کا رخ کر رہے ہیں کہ پولیس کے سپاہی نے پوچھ گچھ شروع کر دی۔ اس کی نیت پر جائز یا ناجائز شبہ کیا جا رہا ہے کہ نہیں، تم گانا سننے نہیں کسی اور غرض سے جا رہے ہو، اب وہ غریب اگراسی غرض سے جا رہا تھا، جس کی طرف پولیس کے سپاہی نے اشارہ کیا تھا تو وہ اسے قبولے کیسے اور اگر وہ واقعی گانا سننے ہی کے لئے آیا تھا تو وہ اس کا یقین کیونکر دلائے۔ جو کچھ میں اب کہنے والا ہوں، از برائے خدا اس کا مطلب نکالنے کی کوشش نہ کیجئے گا۔ مسجدوں میں جوتیاں عام چرائی جاتی ہیں، اگر اس کے احتساب کے لئے پولیس پوچھ گچھ شروع کر دے تو ذرا سوچئے نمازیوں کو کتنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ جوتی چور کب مانے گا کہ وہ خدا کو یاد کرنے نہیں، اس کے بندوں کی جوتیاں چرانے آیا ہے اور خدا کو پوری نیک نیتی سے یاد کرنے والے کیونکر یقین دلائیں گے کہ وہ جوتی چور نہیں ہیں۔\n\nایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ پولیس والے سے کہا جائے۔۔۔ کہ بھائی زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔ تم ساتھ ہی آ جاؤ اور دیکھتے رہو کہ میں گانا سنتا ہوں، یا کچھ اور کرتا ہوں مگر ایسی تفریح میں محتسب کی موجودگی۔۔۔؟ اس کی کڑی نگرانی۔۔۔؟ آدمی کیا خاک لطف اٹھائے گا اور یہ تو ظاہر ہے کہ جو بھی وہاں جائے گا اپنے داموں کے عوض چند گھڑیوں کا لطف ضرور چاہے گا۔ میں نے سنا ہے کئی بار کراچی میں ایسا ہوا کہ طوائف مجرا کر رہی ہے۔ گاہک گاؤ تکیےکا سہارا لیئے بیٹھا ہے اور اس کے پاس ہی پولیس کا سپاہی طوائف اور اس کے گاہک کی ہر حرکت ناپ تول رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ سارا تماشہ مفت دیکھ رہا ہے۔\n\nبعض رنڈیوں کو یہ ترکیب سوجھی کہ گاہک کو اپنا نزدیک یا دور کا رشتہ دار بنا لیا اور محتسب سے یہ کہہ دیا کہ وہ فلاں فلاں شہر سے آیا ہے اور دو تین روز ہمارے پاس رہے گا۔۔۔ یہ قانون شکنی ہے، مگر دنیا کا وہ کون سا قانون ہے جس کی شکنی نہیں ہوئی۔ ایک عام کہاوت ہے کہ قانون بنایا ہی اس لئے جاتا ہے کہ توڑا جائے، لیکن یہ قانون کیسا ہے جو کراچی میں رائج العمل ہے لیکن اس کی حدود سے باہر جس کا کچھ مطلب ہی نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ حکومت نے اپنے اس ایک بٹا آٹھ قسم کے اقدار میں کچھ مصلحت دیکھی ہو لیکن سچ پوچھئے تو مجھے تو ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی جسے مصلحت کہا جا سکتا ہے۔ ایک بازار کا کوڑا کرکٹ نکال کر سارے شہر میں پھیلا دینا یا اسے اٹھا کر اس کی حدود سے باہر ڈھیر کر دینا کہ وہ ہو اسے یا کسی اور ذریعے سے جہاں چاہے چلا جائے کہاں کی مصلحت ہے؟\n\nپھر یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قسم کی صفائی، پاکیزگی اور طہارت صرف ایک ہی شہر کے لئے کیوں مخصوص کی گئی۔ کسی جگہ کوئی متعدی مرض نمودار ہو تو اس میں باہر سے آنے والوں اور اندر سے باہر جانے والوں پر کڑی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تاکہ اس کی روک تھام بطریق احسن ہو سکے لیکن حفاظتی تدابیر اگر یوں اختیار کی جائے کہ مرض کے شکاروں کو چن چن کر شہر بدر کر دیا جائے تو بتایئے اس کا کیا مطلب ہوگا؟ قانون بنانے والے جاہل نہیں ہو سکتے، لیکن سمجھ میں نہیں آتا قوانین میں اکثر مضحکہ خیز خامیاں کیوں رہ جاتی ہیں۔۔۔ یہاں لاہور میں گداگری قانوناً ممنوع قرار دی گئی ہے، لیکن پیشہ ور بھک منگوں نے کشکول کے بجائے دو ماچس، تین لیموں یا چار اخبار پاس رکھ لئے اور خود کو محفوظ کر لیا۔ ان بازاوں کو چھوڑ دیا جہاں نظر احتساب پڑتی تھی۔ یا شہر چھوڑ کر دوسری جگہ چلے گئے۔\n\nکوئی بیماری دور کرنا ہو تو عام طور پر اس کی جڑ پکڑی جاتی ہے۔ وہ بنیادی نقائص دور کئے جاتے ہیں جو مرض کا اصل باعث ہوتے ہیں۔ جسم پر کوئی پھوڑا ہو تو فاسد مادہ خارج کرنے کے لئے اسے چیرا پھاڑا جاتا ہے۔ انسانی جسم کے عارضے اور انسانی معاشرت کے عارضے میں جہاں تک میں سمجھتا ہوں کوئی فرق نہیں، اس کا علاج بھی اسی طرح ہونا چا ہیئے جس طرح کہ انسانی جسم کا کیا جاتا ہے۔ ایک شہر میں گداگری ممنوع قرار دی جاتی ہے۔ دوسرے میں کسبی عورتوں کا کاروبار، ایک صوبے میں شراب نوشی پر پابندیاں عائد ہیں دوسرے میں کھلے بندوں اس کی اجازت ہے۔ یہ کیسے قانون ہیں اور کیسی معاشرت ہے؟\n\nیہ راز کس سے چھپا ہے کہ ہمارے صوبے میں جہاں شراب پینے کی ممانعت ہے ہزاروں آدمیوں نے ڈاکٹروں کی ’’فیسیں‘‘ ادا کرکے سرٹیفیکٹ حاصل کر رکھے ہیں اور یوں قانونی زد سے محفوظ بڑے آرام اور اطمینان سے ہر روز اپنا شوق پورا کرتے ہیں اور یہ بھی کسے معلوم نہیں کہ سیکڑوں پرمٹ یافتہ شراب فروشی کا باقاعدہ کاروبار کر رہے ہیں۔ گداگری قانوناً بند کر دی جاتی ہے، مگر وہ اسباب و علل دور کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی جو انسان کو اس فعل پر مجبور کرتے ہیں۔ عورتوں کو سر بازار جسم فروشی کے کاروبار سے روکا جاتا ہے مگر اس کے محرکات کے استیصال کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔\n\nشراب نوشی، گداگری اور عرف عام میں عصمت فروشی کوئی خلاف عقل یا خلاف فطرت فعل نہیں۔ ہبوط آدم سے لے کر اب تک یہ افعال ہمارے ساتھ چلے آ رہے ہیں۔ ان کا مکمل انسداد گزشتہ انسانی تاریخ کے کسی دور میں بھی نہیں ہوا اور نہ کسی آئندہ دور میں ہوگا۔ ہم انسان کی فطری کمزوریاں دبا سکتے ہیں، ان کو کسی حد تک روک سکتے ہیں، مگر ان کا قطعی انسداد نہیں کر سکتے۔\n\nجس طرح انسان کے جسم میں بیماری کے جراثیم علاج کی مدافعت کرتے ہیں، اسی طرح معاشرے میں انسان کے عیوب بھی اپنی زندگی کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور پوری قوت سے ان حملوں کا مقابلہ کرتے ہیں جو ان کے خلاف کئے جاتے ہیں۔ سانپ بڑا موذی جانور ہے لیکن جب اس کی جان پر حملہ ہوتا ہے تو وہ اسے بچانے کیلئے ضرور کوشش کرتا ہے۔ ہم اس کوشش کو قابل مواخذہ قرار نہیں دے سکتے۔ پچھلے دنوں موگے سے ایک اطلاع آئی تھی کہ وہاں کے دس نمبریوں نے ایک انجمن بنائی ہے تاکہ وہ ان کے حقوق کی حفاظت کرے، بظاہر یہ بڑی عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے، لیکن اکثریتوں اور اقلیتوں کی صف آرائیوں کے اس زمانے میں ہمیں اس انجمن کے قیام پر متعجب نہیں ہونا چاہیئے۔ ہر برائی کے بھی چند اچھے پہلو ہوتے ہیں اور معاشرے میں جب اچھے اور برے پہلو بہ پہلو موجود ہیں تو اچھوں کے مقابلے میں بروں کے بھی حقوق چاہئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو ان کی حفاظت کےلئے انجمن قائم کرنے کی سوجھی۔\n\nآج سے چالیس پچاس برس پیچھے اگر بھنگی اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے تو یقیناً لوگ ان کو دیوانہ یقین کرتے، مگر اب ان کے حقوق کی حقیقت سب پر واضح ہو چکی ہے۔ اسی طرح دور زمانہ کے ساتھ ممکن ہے دس نمبریوں کے حقوق بھی ایک دن تسلیم کرلئے جائیں۔ پچھلے دنوں جب کراچی میں، عصمت فروشی کے انسداد کے لئے قانون نافذ ہوا تھا اور یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ طوائفوں اور کسبیوں کا ایک وفد حکومت کے ذمہ دار ارکان کے پاس اپنی شکایات لے کر پہنچا تھا اور اس نے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا تھا۔ غالباً اسے ٹال دیا گیا تھا، لیکن میں سمجھتا ہوں اگر وفد سے بالمشافہ گفتگو کی جاتی اور مسئلے کے تمام عواقب و عواطف پر اچھی طرح غور کیا جاتا تو اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آتا۔ غور کرتے وقت یہ حقیقت ضرور پیش نظر رکھی جاتی کہ گناہ کی ان کھیتیوں میں تخم ریزی کرنے والے ہم خود ہی ہیں۔ یہ طبقہ جسے ہم ملعون و مطعون قرار دینا چاہتے ہیں خود رو نہیں۔ ہم اس کے بیج بوتے ہیں، خود ہی ان کو پانی دیتے ہیں، لیکن جب یہ نشوونما پا جاتے ہیں تو پھر اس کی کاشت سے گھبراتے ہیں۔\n\nیہ حقیقت بھی کسی سے مخفی نہیں کہ ان محلوں میں جس پر گناہ کے فعل کا بورڈ آویزاں کیا جاتا ہے ہمیں معاشرے کی بڑی بڑی بزرگ شخصیتوں کے نطفے نظر آ سکتے ہیں۔ میں ان کی ذات پر کوئی حملہ کرنا نہیں چاہتا۔ بڑے سے بڑا انسان بھی نفسیاتی خواہشات کا شکار ہو سکتا ہے اور وہ شغل جو وہ ایک لمحاتی جذبے کے تحت اختیار کرتا ہے، اس کے دور رس نتائج کے بارے میں اس کو اس وقت کچھ علم نہیں ہوتا۔ کسی جگہ کھڑے ہو کر پیشاب کر دینا بالکل دوسری چیز ہے۔ اسے آپ پرلے درجے کی بدتمیزی کہہ لیں گے لیکن کسی رنڈی کے کوٹھے پر دام دے کر چند لمحات کے لئے اسے اپنی خواہشات پوری کرنے کے لئے خرید لینا بظاہر ایک معمولی سا سودا ہے، لیکن اس کے نتائج بہت اہم بھی ہو سکتے ہیں۔ آپ کو کیا معلوم ہے کہ آپ کا پھینکا ہوا فضلہ اس گھوری میں آپ کے خون کی نخل بندی کر رہا ہے یا نہیں۔ ہم اسے بدتمیزی کہہ کر نہیں ٹال سکتے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری ہمارے سر ہوگی۔\n\nزمین کسی کی بھی ہو، کیسی بھی ہو، مگر بیج تو آپ ہی کا ہوگا۔ زمین کا پٹہ آپ کے پاس نہیں تھا۔ یہ بھی کوئی عذر نہیں۔ اسی طرح آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ فلاں رنڈی جس کے بطن سے آپ کے خون کا قطرہ لڑکی یا لڑکا بن کر پیدا ہوا ہے، آپ کی اولاد نہیں، اس کی تخلیق و تولید کی ذمہ داری یکسر آپ کی ہے۔ آپ اس کے وجود سے انحراف نہیں کر سکتے۔\n\nگورنمنٹ نام نہاد عصمت فروشی کے انسداد کی تدبیریں سوچتی ہے۔ اندھا دھند وہ اس عمارت کو ڈھانے کے لئے ہتھوڑے چلاتی ہے۔ جس کی بنیادوں کو معاشرے کے بڑے بڑے اونچے ستونوں نے سیسہ پلایا ہے۔ اس عمارت میں، اگر بنظر غور دیکھا جائے تو ہمیں بڑی بڑی تقدس مآب ہستیوں کے ماتھے کی محرابیں مل جائیں گی اور گناہ کی ان بیٹیوں کی شکل و صورت میں کئی جانے پہچانے ناک نقشے ابھر آئیں گے۔ کیوں نہ مردم شماری کی طرح ان منڈیوں میں جہاں گناہ کی خرید و فروخت ہوتی ہے دیگر اجناس کی طرح باقاعدہ حساب کتاب رکھا جائے، کیوں نہ ایک رجسٹر میں ان لوگوں کا نام درج ہو جو وہاں محض عیاشی کے لئے جاتے ہیں، جو بیویوں کے ہوتے ہوئے اور صاحب اولاد ہونے کے باوصف ان کسبیوں کو اپنی عورتیں بناتے ہیں اور بچے پیدا کرتے ہیں، پھر ان بچوں کو انہی سے کیوں نہ موسوم کیا جائے تاکہ سب کو معلوم ہو کہ قحبہ خانوں میں کون سی رنڈی کس کی بیٹی ہے۔\n\nنکاح کے کاغذ کو، ایجاب و قبول کو، سہرے جلوؤں کو، چھوہاروں کو، باجے گاجے کو، حق مہر کو، نان و نفقے کو، ان سب کو فی الحال برطرف رکھیئے اور سوچئے کہ رنڈی کی کوکھ میں اگر کسی نام نہاد شریف و نجیب کا نطفہ ٹھہرتا ہے تو اس میں اس نطفے کا کیا قصور۔۔۔ اگر اسے مقررہ میعاد کے بعد لڑکے یا لڑکی میں تبدیل ہو کر کوکھ سے باہر آنا ہے، تو ظاہر ہے کہ اس تذکیر و تانیث میں بھی اس کا کوئی دوش نہیں اور رنڈی کی گود میں جو یقیناً ماں ہی کی گود ہوگی، یہ لڑکی یا لڑکا کس قسم کی پرورش اور تعلیم پائے گا، وہ ظاہر ہے۔ ایسے سیکڑوں لڑکے لڑکیاں جن کے باپ بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں اور معاشرے میں بڑے احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے ہیں، گناہ کی ان منڈیوں میں موجود ہیں، اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے؟ مگر سوال ہے کہ ان کے خالقوں کے لئے حکومت نے کیا قانون وضع کیا ہے؟\n\nبہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا، مگر یہ امر واقع ہے کہ ہیرا منڈی میں۔۔۔ لاہور کی سب سے بڑی قحبوں کی بستی میں ایک ایسی ناچنے گانے والی موجود ہے جس کا باپ کسی زمانے میں امرتسر کے جلیانوالہ باغ کا ایک ہیرو تھا۔ ایک اور کسبی موجود ہے۔ جس کا باپ ایک بہت اہم عہدے پر فائز ہے اور کراچی میں ایک مشہور و معروف اور تاریخی ہستی ایسی بھی ہے جس کی ایک نہیں مختلف طوائفوں کے بطن سے کئی لڑکیاں ایک زمانے سے داد عیش دے رہی ہیں اور غالباً اس کو اس بات کا ناز ہے کہ اس نے ارباب نشاط کو اتنے قابل قدر تحفے عنایت کئے ہیں۔\n\nحال ہی میں راولپنڈی سے جہاں قائد ملت خان لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا تھا، یہ خبر آئی تھی کہ وہاں کی طوائفیں مل کر ایک ٹریڈ یونین قائم کر رہی ہیں۔ ہو سکتا ہے بعض اصحاب یہ خبر سن کر ہنس دیے ہوں یا زیرلب مسکرا دیے ہوں، مگر میں اس خبر کو بہت اہمیت دیتا ہوں۔ کیونکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ طبقہ معاشی اور سیاسی طور پر بیدار ہو رہا ہے اور بیداری خواہ وہ طوائف کی ہو یا کسی گھریلو عورت کی۔ شرابی کی ہو یا صوفی کی، حاکم کی ہو یا محکوم کی، میرے نزدیک ایک نیک فال ہے۔ راولپنڈی کی طوائفیں کم از کم اپنا نقطۂ نظر تو پیش کریں گی جو خالصتاً ان کا اپنا نقطۂ نظر ہوگا اور جو خود انہی کے دماغ سے اور انہی کے منہ سے نکلے گا۔\n\nمجھے نام نہاد کمیونسٹوں سے بڑی چڑ تھی۔ وہ لوگ مجھے بہت کھلتے تھے جو نرم نرم صوفوں پر بیٹھ کر درانتی اور ہتھوڑے کی ضربوں کی باتیں کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ چاندی کی لٹیا سے دودھ پینے والا کامریڈ سجاد ظہیر میری نظروں میں ہمیشہ ایک مسخرا رہا۔ محنت کش مزدوروں کی صحیح نفسیات کچھ ان کا اپنا پسینہ ہی بطریق احسن بیان کر سکتا ہے۔ اس کو دولت کے طور پر استعمال کر کے اس کے پسینے کی روشنائی میں قلم ڈبو ڈبو کر گرانڈیل لفظوں میں منشور لکھنے والے، ہو سکتا ہے بڑے مخلص آدمی ہوں، مگر معاف کیجئے میں اب بھی انہیں بہروپئے سمجھتا ہوں۔\n\nکسی مرض کا حتمی علاج کرنے کے لئے اس کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ معالج کو ایک بہت بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ مرض خود نہیں بولتا۔ صرف اس کی خارجی علامات سے اس کو اپنی تشخیص مرتب کرنا پڑتی ہے، مگر یہاں مرض خود بولنا چاہتا ہے۔ رنڈیاں خود اپنا احوال بتانا چاہتی ہیں۔ کیوں نہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ میں تو سمجھتا ہوں حکومت کو ان کی ٹریڈ یونین کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔ اس لئے کہ معاشرے میں ان کا وجود مسلم ہے۔ ان کو اپنے طبقے کی نمائندگی کا موقع دینا چا ہیئے تاکہ وہ جن کے سپرد ان کی بیخ کنی ہے، خود ان ہی کے بتائے ہوئے ذرائع پر عمل کریں۔\n\nلاہور سے پچھلے دنوں چند مشہور طوائفوں نے ایک ہفتہ وار پرچہ ’’رقص و سرود‘‘ جاری کیا تھا۔ اس کے چند شمارے میں نے دیکھے تھے۔ مجھے اس کے اجرا پر بہت خوشی ہوئی تھی، لیکن میں نے دیکھا کہ اس کے صفحات پر اکثر و بیشتر انہیں لوگوں کے رشحات قلم تھے جو ان طوائفوں کے گاہکوں کی فہرست میں آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پرچہ جس سے بڑی امیدیں وابستہ کی جا سکتی تھیں صالح خون کی کمی کے باعث مر گیا۔\n\nعام گاہک دکاندار کی نفسیات نہیں جان سکتے، لیکن اچھا دکاندار ہر قسم کے گاہک کی نفسیات بخوبی سمجھتا ہے، اس لئے کہ اسے بطور خاص اس کی تعلیم دی گئی ہوتی ہے۔ سودا کس طرح خریدنا ہے، کس موقع پر خریدنا ہے، کہاں سے خریدنا ہے۔۔۔ اس کی باقاعدہ تدریس ہم لوگوں کو نہیں ملتی۔ ہماری طلب اکثر بلاآور د ہوتی ہے۔ لیکن دکاندار تو ہر وقت گاہک کی آس لگائے بیٹھا رہتا ہے۔ اس لئے اگر گاہک، دکاندار کی وکالت کرے تو ظاہر ہے کہ وہ بہت بری طرح ناکام ہوگا، لیکن دکاندار اگر چاہے تو گاہک کا کیس بہت حد تک صحیح طور پر پیش کر سکتا ہے۔\n\nمیری خواہش ہے کہ ’رقص و سرود‘ پھر جاری ہو اور اس کے عنان ادارت صرف اسی طبقے کے ہاتھوں میں ہو جس کی نمائندگی کے لئے اس کا اجراء عمل میں آیا تھا اور راولپنڈی کے علاوہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی طوائفوں کی انجمنیں قائم ہوں تا کہ گاہک اور دکاندار دونوں کا نقطۂ نظر پیش ہوتا رہے اور قانون سازوں سے کوئی حماقت سرزد نہ ہو۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA%D8%8C_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%BE"} {"title": "گناہ کی رات", "poet_page": "مصنف:حکیم احمد شجاع", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "(۱)\n\nممتاز اپنے دفتر کے خوبصورت اور آراستہ کمرے میں، ایک نرم نازک اور نیچے صوفے پر بیٹھاتھا، اس کا دایاں ہاتھ، جس میں ایک جلتا ہوا سگریٹ تھا،صوفے کے دائیں بازو کی بلندی پر سہارا لیے ہوئے تھا۔ اس کا بایاں ہاتھ جس کی درمیانی انگلی میں ایک ہیرے کی بیش قیمت انگوٹھی درخشاں تھی،بار بار اس کی پیشانی سےاوپر کی طرف حرکت کرتا اور رہ رہ کے اس کے لمبے اور گھنے بالوں میں چھپ جاتا تھا۔ اس کی آنکھیں سامنے کی دیوار میں گڑی ہوئی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس دیوار میں کوئی مقناطیسی کشش ہے جواس کی نگاہ کو ہٹنے نہیں دیتی، اس کاجسم بظاہر آرام و اطمینان کے مزے لے رہاتھامگر اس کا دماغ ایک مسلسل، ایک مرتعش، ایک متحرک خیال کے ساتھ ساتھ بے قرار تھا۔\n\nوہ شریف تھا، ذہین تھا، عقل مند تھا مگر اس وقت وہ اس رات کی یاد میں محو تھا جس رات کو اس کی شرافت ایک مرگ ناگہاں کا شکار ہوگئی تھی۔ جس رات اس کاذہن ایک خاص نقطۂ خیال کے ارد گرد گھومنے کے سوا، اور ہر ادراک سے قاصر ہوگیا تھا۔ جس رات اس کی عقل خلاف معمول اس بات کے حق میں رائے دے رہی تھی جس کو وہ اس رات سے پہلے نامناسب ،مکروہ اور ناجائز خیال کرتا تھا۔\n\nآہ! وہ رات تھی یا دنیا بھر کے طلسموں کا ایک زندہ مظاہرہ، جس کی ایک ایک ساعت کے ایک ایک غیرممکن التقسیم حصے کے ساتھ اس کی امید، اس کی حسرت، اس کی خوشی کی یاد وابستہ تھی۔ اس نے اس رات اپنی عمر بھر میں پہلی مرتبہ موسیقی کو ایک زندہ عورت کی شکل میں تبدیل ہوتے دیکھا تھا جس کے نغمے کی ہر اٹھتی ہوئی لے ہوا کے ذروں کو حسین بنارہی تھی۔ اس نے اس رات ایک عورت کے پاؤں کی حرکت کو ایک شعرکی کیفیت اختیار کرتے دیکھا تھا جس سے بے جان زمین میں جان پیدا ہوگئی تھی۔\n\nوہ رات ممتاز کے لیے ایک عجیب رات تھی۔ اس رات جو کچھ اس کی آنکھوں نے دیکھا تھا، اس کا ذہن نہ سمجھ سکتا تھا۔ جو کچھ اس کا ذہن محسوس کر رہا تھا اس کی آنکھیں نہ دیکھ سکتی تھیں۔ ایک عورت ایک بے باک کیفیت ۔۔۔ میں انسانی جذبات سے کھیل رہی تھی۔ اس کی نگاہیں دلوں میں امیدیں پیدا کر کرکے ان کو ایک خشمگیں دلوی کی طرح پامال کر رہی تھیں۔ اسی رات کو اس نے دیکھا کہ پارساؤں کی پارسائی، عقل مندوں کی عقل، ایک عورت کے نازوانداز کی قربان گاہ پر مجروح ہوگئی۔ اسی رات کو اس نے مرد کی کمزوری، عورت کی طاقت، ضمیر کی بزدلی اور اخلاق کی شکست کا مشاہدہ کیا۔\n\nرات گو دنیا کے لیے وقت کی غیرمحدود مسافت میں اپنی معمولی منزل طے کرکے ختم ہوگئی مگر ممتاز کے لیے یہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والی رات تھی۔ اس وقت بھی وہ اس رات کو اپنے دماغ میں، اپنی آنکھوں میں محسوس کر رہا تھا۔ اس کی زندگی کا ۔۔۔اسی رات تک چل کر رک جاتا تھا۔ اس کی یاد، اس کے سوا اور تمام واقعات کو فراموش کرسکتی تھی۔\n\nاس رات کو گزرے ایک مہینہ ہوچکا تھا۔ اس ایک مہینے میں اس نے دن رات کی ان تھک کوششوں، دولت کے اندھادھند صرف اور اپنے ہمدردوں کے دماغ کی لگاتار کاوشوں سے اس خوبصورت رقاصہ کے گھر تک رسائی حاصل کی۔ آہ!جس گھر کے دروازے ہر دوسرے شخص کے لیے دن رات کھلے رہتے تھے۔ ایک پرفن دماغ کی غباری سے ممتاز کے لیے بند ہوگئے تھے۔ حسن نے عشق کی چنگاری کو ایک روح سوزشعلے میں مشتعل کرنےکے لیے اپنا پرانا محرب اور کامیاب نسخہ استعمال کیا تھا۔\n\nہرکوشش کی ناکامیابی، ہر امید کی ناکامی نے ممتاز کو پہلے سے زیادہ شائق کردیا۔ آخر کار اس وقت جب زندگی اور موت صرف ایک اقرار یا انکار پر منحصر تھی، عقل اور جنون صرف ایک ہاں اور نا کے درمیان پناہ ڈھونڈھ رہا تھا، اس کی فریاد سنی گئی۔ اس کی کوششیں بارور ہوئیں۔ ہاں اس نے اس وقت دولت کی طاقت کو محسوس کیا۔ اور خدا کا شکر ادا کیا کہ وہ اس قدر دولت مند تھا۔\n\nاس کے بعد اس کی کھوئی ہوئی صحت دوبارہ عود کرآئی۔ اس کو دنیا پھر ہنستی ہوئی نظرآئی۔ اس کو زندگی پھر جینے کے قابل معلوم ہوئی۔ مگر آخرکار اس کا سارا کاروبار ایک مسلسل بے توجہی سے بگڑگیا۔ اس کے بوڑھے باپ، اس کی پیار کرنے والی بیوی، اس کی معصوم بہن کے دل کا آرام اجڑ گیا۔ اب اس کا وقت زیادہ تر اپنے دفتر کے کمرے میں گزرنا تھاجو اس کے گھر سے دور ایک پرفضا مقام پر واقع تھا۔ وہ جب کبھی گھر جاتا تو اس طرح جیسے کوئی اجنبی زیادہ سے زیادہ ایک عارضی مہمان کی حیثیت سے کسی غیر کے مکان پر گھڑی دو گھڑی وقت گزارنے کے لیے جاتا ہے۔\n\nاس کے ضعیف باپ پر فالج گرا۔ وہ ایک دفعہ اس کو دیکھنے کے لیے گیا۔ مگر جب اس نے ایک نقاہت، آزردگی اور افسردگی سے بھری ہوئی آواز کو اس رقاصہ کے خلاف نصیحت کرتے ہوئے سنا جو اب اس کی انتہائی حسرتوں کا آخری مقصد تھی تو وہ بیزار ہوگیا۔ جب ایک پرانے ملازم نے جس نے ممتاز کو گود میں کھلایا تھا، اس کے کانوں تک ڈرتے ڈرتے یہ اطلاع پہنچائی کہ اس کی بیوی دن رات رو رو کر اپنے حسن، اپنی جوانی، اپنی زندگی کو ایک قبل از وقت موت کی آغوش میں سپرد کر رہی ہے تو اس نے ایک فخر، ایک تمسخر سے قہقہہ لگایا اور اپنی آزادی کو ایسی کمزور زنجیروں میں یانہ پاکر بڑی مسرت، بڑی طمانیت کااظہار کیا۔\n\nممتاز نے سگریٹ کو ایک آخری کش لے کر پھینک دیا اور بائیں ہاتھ سے ایک تپائی پر سے جو صوفے کے قریب بائیں طرف رکھی تھی، ایک گلاس اٹھایا۔ اس میں زعفرانی رنگ کی شراب برف اور سوڈے کے پرجوش بخارات سے دست و گریباں ہو رہی تھی۔ اس نے اس گلاس کو کسی مدت کے پیاسے کی نگاہوں سے دیکھا اور پھر بغیر رکے، بغیر سوچے سمجھے منھ میں الٹا اور حلق سے اتار دیا۔ گویا وہ اتنا بے صبر تھا کہ کام و دہان کی وساطت کو بھی برداشت نہ کرسکتا تھا۔ خدا جانے اس آب آتشیں نے اس کے اندرونی نظام پر کیا اثر کیا کہ اس کی پیاس بجھنے کی جگہ بھڑکی اور اس نے پے درپے گاس کو بھرنا اور اسی طرح خالی کرنا شروع کردیا۔\n\nاب میز پر ایک خالی بوتل نظر آرہی تھی اور ایک بھرا ہوا گلاس جو اس بوتل کا آخری سرمایہ تھا، اس کے ہاتھ میں تھا۔ مگر اب اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس کا چہرہ سرخ تھا۔ اس کی آنکھ کے سرخ ڈورے آگ کی روشن تحریریں بن کر پتلیوں کی سطح سے ابھرے ابھرے دکھائی دیتے تھے۔ اس کی سانس میں ایک غیرمعمولی گرمی محسوس ہو رہی تھی۔ بے شمار جلے ہوئے سگریٹوں کا ایک انبار اس کے خاکسترداں میں جمع ہوگیا تھا۔ وہ اٹھا اور بجلی کے پنکھے کی کارگزاری سے غیرمطمئن ہوکر اس کی رفتار میں اور زیادہ تیزی پیدا کرنے کے لیے دیوار پر لگے ہوئے میٹر کی طرف بڑھا۔ وہ اٹھنے کو تو اٹھ چکا تھا مگر اس کے پاؤں کی لغزش اس کی عصبی کمزوری کاپتہ دے رہی تھی۔ وہ ادھر ادھر رکھی ہوئی کرسیوں، تپائیوں اور الماریوں کا سہارا لے کراپنی نشست تک پہنچنے کے لیے چلا۔ مگر اس سے پیشترکہ وہ اس جگہ تک پہنچے، اس کی آنکھ ایک قدآدم آئینہ پر رکی جو اس کمرے کے آتش دان کی دیوار کے ساتھ آویزاں تھا۔\n\nاس نے ذرا بڑھ کر اپنے آپ کو اس آئینہ میں دیکھنا شروع کیا۔ اس نے اپنے آپ کو پہچاننے میں ضرورت سے زیادہ دیر لگائی۔ وہ سنبھل کر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہاتھا۔ ا س کی جدوجہد اپنی آنکھوں کو آئینہ کی شفاف سطح کے کسی ایک مرکز پر جمانے کی سعی میں سرگرم تھی۔ وہ اپنے دماغ کو آئینہ میں اپنے عکس کی موجودگی کا یقین دلانے پر اصرار کر رہاتھا۔ پھر جب اس نے اپنے آپ کو پہچان لیا تو اس کے چہرے پر ایک مغرور فاتح کی سی، ایک حسین عورت کی سی طمانیت بخش مسرت ظاہر ہوئی۔ آج اس نے اپنے لبا س کے مختلف اجزا کو ایک پورا دن صرف کرکے منٹکب کیا تھا۔اور اس وقت اپنےجسم کے تناسب پر اس دن بھر کی محنت کو بارور ہوتے دیکھ کر وہ بہت مسرور ہوا۔ پھر کچھ سوچ کر اپنی گردن پھرائی اور شراب کی خالی بوتل کو دیکھا۔ پھر آئینہ کی طرف متوجہ ہوا۔ وہ اس چیز کو جس سے بوتل خالی ہوچکی تھی اپنی آنکھوں کے عکس کی گہرائی میں تلاش کر رہا تھا۔ اس گم گشتہ سیلاب آتشیں کو اپنی آنکھوں میں ایک زندہ کیفیت میں موجزن پاکر اس نے اطمینان، امید زندگی کی ایک سانس لی اور پھر اپنی حرکت کو اپنی نشست کی طرف جاری رکتے ہوئے معمول سے زیادہ زور سے اپنے ملازم کو آواز دی۔\n\nملازم بڑی تیزی سے کمرے میں داخل ہوا اور ابھی اس نے مشکل سے ’’جی سرکار‘‘ کہا ہی تھا کہ ممتاز نے اس کو موٹر تیار کرنے کے لیے حکم دیا۔ ابھی ملازم نے پیٹھ ہی پھرائی تھی کہ اس پر ’’جلدی بہت جلدی‘‘ کا تحکمانہ تازیانہ پڑا۔ جس کام کےلیے وہ آج صبح سے تیاریاں کر رہاتھا۔ اس کو تکمیل تک پہنچانے کا وقت آپہنچا تھا۔ اس کے سامنے گوشدانی پر رکھا ہوا کلاک آٹھ بجارہا تھا۔ اور اب وہ ذرا سی دیر کا متحمل نہ ہوسکتا تھا۔ آہ یہ وقت،یہ رات اسے کتنی محنتوں، کتنی کاوشوں، کتنی حسرتوں کے بعد میسر آئی تھی۔ اس نے اس رات کو اپنے موعودہ وقت سے پہلے لانے کے لیے کتنی پر اضطراب، پرآرزو، اور پرآلام کوششیں کی تھیں۔ آج کے سورج کو اپنے ہی دوران حیات میں ڈوبتے ہوئے دیکھنے کا شوق اس کی زندگی کے کتنےدنوں کو تاریک سے تاریک رات سے زیادہ تاریک بناچکا تھا۔\n\nیہ وہی رات تھی جس کی آرزو کی خاکستر میں ہزاروں عشاق دفن ہوگیے۔ یہ وہی رات تھی جس کے حصول کی تمنا عشق کی تربیت کا موجب ہوتی ہے۔ یہ وہی رات تھی جس کاشوق کڑی سے کڑی منزل کوآن واحد میں طے اور مشکل سے مشکل مہم کو ایک اشارے میں سرکرادیتا ہے۔ یہ وہی رات تھی جس کی امید زندگی کی تلخیوں کو شیریں، درد ہجر کی مصیبتوں کو خوبصورت، شوق کی ناکامیوں کو خوشگوار بنادیتی ہے۔ یہ وہی رات تھی جو خداوندی قانون کی پابندیوں کے ساتھ قدرت کا بہترین تحفہ، ایک عورت اور مرد کی محبت کا خوشترین ثمر، ارتباط جسمانی کا اعلیٰ ترین معراج ہے۔ یہ وہی رات تھی جو حکم جوار کے بغیر شیطان کا سب سے مہیب آلہ، اخلاقی ذلت کی سب سے اسفل گہرائی، عورت اور مرد کی کمزوری کی سب سےبڑی دلیل ہے۔\n\nآج ممتاز اسی محنت کے زندہ اور متحرک بت کو اپنے پہلو میں محسوس کرنے، اپنے شوق کے پیکر بے قرار کو اپنی آنکھوں سےدیکھنے اور اس جذبے کو تکمیل تک پہنچانے جارہا تھا، جس نے اس کی نظر میں دنیا کے سب سے بڑے گناہ کو ثواب، سب سے بڑی برائی کوایک نیکی، سب سے بڑی اخلاقی کمزوری کو ایک اخلاقی جرأت کر دکھایا تھا۔\n\n(۲)\n\nوہ موٹر کے انتظار میں اپنے مخملی دیوان پر جس کو اس نے ترکی وضع کی تقلید میں اپنےکمرے کی سب سے حسین زینت بنارکھا تھا، لیٹ گیا۔ اب وہ اس بڑی کشمکش کے بعد جس سے وہ تھک گیا تھا، ذرا آرام کرنا چاہتا تھا۔ یہ چند لمحوں کی فرصت غنیمت تھی۔ اس نے اپنے پاؤں سامنے کی کرسی پر رکھ کے اپنے سر کو ایک نرم اور روئیں دار مخمل کے گاؤ تکیےکا سہارا دیا۔ رونے کے بعد بچہ بہت جلد سوجاتا ہے۔ جسمانی درد کے بعد دماغ بہت جلد تسکین پاتا ہے۔ طوفان کے بعد سمندر کی سطح پر غیر معمولی سکون نظر آتا ہے۔ اس کا دماغ بہت سی تکلیفیوں سے تھک چکا تھا۔ اس کاجسم آج دن بھر کی محنت سے تنگ آچکا تھا۔ اس کے اعصاب شراب کےجوش اور حدت سے اپنی انتہائی کشاکش کرچکے تھے۔ اس نے اس وقت یہ دیوان معمول سے زیادہ آرام دہ، گاؤ تکیہ ضرورت سے زیادہ نرم،یہ چند لمحے بہت سے دنوں سے زیادہ کارآمد محسوس کیے۔ وہ اپنی آنکھیں بند کرکے دل ہی دل میں دیوان، گاؤتکیہ اور مخمل کے ایجاد کرنے والے دماغوں کی ذہانت کی تعریف کر رہا تھا۔ اس ملازم کی سستی کو جسے موٹر تیار کرنے کے لیے حکم دیا گیا تھا کچھ زیادہ معتوب، سمجھنے کے لیے بہانے سوچ رہا تھا۔\n\nاتنے میں اس نے ملازم کو دروازے سے داخل ہوتے ہوئے دیکھا اور اس کے کانوں نے ’’سرکار موٹر تیار ہے‘‘ کی آواز سنی۔ وہ جلدی سے اٹھااور دروازے سے باہر نکل کر موٹر پر سوا ر ہوگیا۔ اس وقت اس کی عجیب حالت تھی۔ اس نے محسوس تک نہ کیا کہ اس کے سر پر ٹوپی اور ہاتھ میں لکڑی ہے یا نہیں، یہ ایک خلاف معمول بات تھی۔ کیونکہ آج تک ان دو چیزوں کے بغیر وہ کبھی گھر سے باہر نہ نکلا تھا۔ اس کو اس امر کا احساس ضرور ہوا کہ شاید آج وہ ملازم کو اپنے سامنے سے ہٹائے یا بند دروازے کو کھولے بغیر ان میں سے گزر گیا۔ آج ہر ایک چیز نے کچھ ایسی شفاف آبی بخارات کی سی لطیف کیفیت اختیار کرلی تھی۔\n\nموٹر منزل مقصود پر پہنچ گیا۔ مگر آج خدا جانے کیا بات تھی کہ وقت اور فاصلہ اپنے فطری خواص کےاستعمال سے عاجز تھا۔ وہ یہ نہ جان سکا کہ وہ کب چلا اور کب پہنچا۔ یا یہ راستہ کیسے طے ہوا۔ اس کو موٹر پربیٹھے اور پھر موٹر سے اترنے کے سوا کچھ یاد نہ رہا۔ کیا ان دونوں حرکتوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہ تھا، کچھ وقت صرف نہ ہوا تھا۔ یا اس کا دماغ اس وقت فاصلہ اور وقت کی سی کثیف اور مادی اشیاء کے نقوش کو اخذ کرنےسے قاصر تھا؟\n\nوہ موٹر سے اترا۔ اور ایک بہت سی روشنیوں سے روشن بازار میں تھوڑی دور چل کر ایک خوبصورت اور وسیع مکان کے دروازے پر رکا۔ وہ دروازے کے اندر پاؤں رکھنے ہی کو تھاکہ کسی آواز نےجو اس کے دماغ سے، با دل سے یا جسم کے ہر روئیں روئیں سے نکلی، اس کے متحرک جسم کو ایک لمحہ کے لیے ساکن کردیا۔ انسان کی فطری نیکی نے اپنی موت سے پہلے زندگی کے لیے آخری کشمکش کی۔ اخلاق نے اپنے وقار کی حفاظت کے لیے آخری تدبیر کی، حو اس نے اپنی صحت کا آخری ثبوت دیا، ضمیر نےاس راستہ کو ٹوٹتے دیکھ کر جو بندے کی گردن کو مالک کی مرضی کے ساتھ وابستہ رکھتا تھا، اس کو بچانے کے لیے آخری جدوجہد کی، مجروح شرافت نے آخری سانس لی، وضعداری سربازار ،بے شمار دیکھنے والوں کی نگاہوں کے سامنے ذلیل ہوکر تڑپی۔ اس کے نظام عصبی نے، اس کے قوائے جسمانی نے ایک زلزلہ محسوس کیا۔ اس کے دماغ کی سلطنت میں بغاوت ہوگئی۔ ممتاز نے سب کچھ دیکھا سب کچھ سنا اور پھر اپنی آنکھوں پر خواہشوں کی پٹی باندھ کر، اپنے کانوں میں ہوس کا پگھلا ہوا سیسہ ڈال کر، اپنے ضمیر کا، گناہ کے آہنی پنجہ سے گلاگھونٹ کر، ایک جست بھری۔ اور اس برقی روشنی سے روشن، موسیقی کے نغموں سے لبریز، حسن کے کرشموں سے مسحور مکان کے اندر داخل ہوگیا۔\n\nاس مکان کی منور و درخشاں فضا میں ایک برقی روشنی سے زیادہ روشن بجلی چمکی۔ ممتاز کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ اس نے اپنے آپ کو یک لخت کسی بڑے تصادم سے رکتے ہوئے یا شایداس کے زور اور رعب سے مرعوب ہوکر ایک قدم پیچھے ہٹ کر سنبھلتے ہوئے محسوس کیا۔ایک حسن سے زیادہ حسین، نور سے زیادہ منور، خوشبو سے زیادہ معطر چہرہ اس کے حسرت مندلبوں کے قریب ایک خطرناک قربت پر آکے رک گیا تھا۔ سفید رنگ کے نازک، شفاف اور نرم ریشم کی باریک تہ میں سے جھلملاتے ہوئے دو بازو جن پر سیاہ اور سنہری رنگ کی آمیزش سے بکھرے ہوئے لمبے اور پرپیچ بال بےقرار تھے، اس کی آغوش میں الجھ گیے تھے۔ اور دو روشن، بڑی اور نیم وا آنکھیں مسکرا مسکراکر اس کی آنکھوں سے ایک خاموش مگر عام فہم زبان میں کچھ ایسی باتیں کر رہی تھیں جن کو اس کا دل سن سن کر سمجھ سمجھ کر مسرور ہو رہا تھا۔\n\nانہی آنکھوں کے پر کیف جذب سے کھنچ کر، انہیں بازوؤں کے الجھے ہوئے جال میں پھنس کر، انہیں باتوں کی کشش سے متاثر ہوکر، وہ ایک کمرے میں جس کے کھلے ہوئے دروازے درمیانی صحن کے دائیں کونے میں لاکھوں دلربائیوں کے جادو جگاکر ہرتشنہ لب ارمان کو تکمیل حسرت کی دعوت دے رہے تھے ،پہنچ گیا۔\n\nاس رات کے بعد کئی راتیں آئیں اور گزر گئیں، کئی دن پیدا ہو ہو کر کم عدم میں چھپ گئے۔ دن مہینو ں میں، مہینے برسوں میں تبدیل ہوگیے، بچے جوان، جوان بوڑھے ہوگیے۔\n\nزمانے کے ساتھ اہل زمانہ کے خیالات، وقت کے ساتھ لوگوں کی صفات تبدیل ہوگئیں۔ پیدا ہوہو کے فنا ہونے والی ،فنا ہوہو کے زندہ ہونے والی، دنیا کے ساتھ سلسلہ حیات و ممات بدل گیا۔ مگر ممتاز کے جذبات میں کوئی تبدیلی، کوئی تغیر رونما نہ ہوا۔ وہ اسی طرح اس ساحرہ کے سحر سے مسحور، اس قاہرہ کے حکم سے مجبور ہوکر اپنی جوانی، اپنی صحت، اپنی دولت، حسن و ناز کی چوکھٹ پر بھینٹ چڑھاتا رہا۔\n\nاس عرصہ میں ایسا زمانہ بھی آیا جب ممتاز نے دنوں تک، مہینوں تک اس مکان کی اندرونی دنیا کے سوائے بیرونی دنیا کی کسی چیز کو نہ دیکھا۔ کیا اس نے ساری دنیا کا ماحصل اس محدود چاردیواری کے اندر حاصل کرلیا تھا۔ یا دنیا نے اس کو اپنی وسیع نعمتوں کے خلاف بغاوت کرتے دیکھ کر اس زندن میں محبوس کردیا تھا۔\n\nاس تمام عرصہ میں وہ اگر سوتا تو صرف اس لیے کہ وہ غارت گردین و ایمان اس کو خواب میں نظر آئے۔ اگر بیدار ہوتا تو محض اس لیے کہ اس بیدادگر کو اپنی آنکھوں کے سامنے مشق ستم کرتے دیکھے۔ جب وہ کسی بات پر بگڑ جاتی تو وہ اپنے دل کی حسرتوں کو، اپنی جوانی کے ولولوں کو ،اپنی زندگی کی امیدوں کو آنسو کے ایک قطرے میں منجمد کرکے اس کے قدموں پر گرادیتا۔ جب وہ من جاتی تو اپنےشوق کو، اپنے اضطراب کو، اپنی خودفراموش عقیدت کو، اپنے سر کی ایک جنبش میں متشکل کرکے اس کے پاؤں پر نچھاور کردیتا۔\n\nایک شب وہ اس حسن فروش کی آغوش میں بے خبر پڑا تھا کہ اس نے اپنی بیوی کی ناگہانی موت کی خبر سنی۔ اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور اس کو جس نے مرنے والی کے جائز حق کو ایک جابر ملک گیر کی طرح غصب کرلیا تھا، فاتحانہ مسرت سے مسرور دیکھ کر مطمئن ہوگیا۔\n\nایک دن جب وہ اس مکان کی ہر پابندی سے بے پروا آزادی سے بیزار ہوکر اس عورت کے لیے، جس پر اب وہ ایک واحد مالک کی حیثیت سے قبضہ کرنے کا متمنی تھا، جس کو اب وہ اپنے سوا کسی اور کی آنکھوں سے دیکھا جانا بھی پسند نہ کرتا تھا، ایک علیحدہ عشرت منزل بنانے کی فکر میں تھا۔ اس کے لیے بہت سے نقشوں پر جو اس کے دماغ کے منظرگاہ پر باری باری منقش ہو ہو کر محو ہوجاتے تھے، غور کر رہا تھا اور ان نعمتوں کی تکمیل کے لیے اپنے محاصل کو ناکافی پاکر خیال ہی خیال میں اپنے باپ کی جمع کی ہوئی دولت کو ایک خودغرض لالچی کی نظروں سے دیکھ رہاتھا، اس نے ایک بند اور سربمہر لفافے کو کھول کر جس کو ابھی ابھی ڈاکیے نے اس کے ہاتھ میں دے کر رسید حاصل کی تھی، اپنی آنکھوں سے یہ پڑھا کہ اس کے باپ نے اس کی روزافزوں بدکاریوں سے تنگ آکر، اس کو ایک دن بھی پہلے سے بہتر نہ پاکر اپنی جائداد سے محروم کردیا ہے۔ اس کے دماغ پر ایک دھکا سالگا مگر جب اس نے آنکھیں اٹھاکر اس عورت کو جس کے استعمال کے لیے وہ اس دولت کو تیار کرتا تھا، اسی طرح مسرور، اسی طرح مطمئن، اسی طرح اپنے قبضہ میں پایا تو وہ ایک بوڑھے شخص کے کمزور ارادے پر، ایک باپ کے بہت جلد فروہوجانے والے غصہ پر ہنسا اور باتوں میں مشغول ہوگیا۔\n\nابھی اس کے پاس اپنی محنت سے کمائی ہوئی، اپنے مصارف سے بچاکر جمع کی ہوئی دولت تھی۔ اگرچہ وہ کئی بار یہ سمجھنے کی بے کار کوشش کرنا چاہتا تھا کہ یہ دولت بہت دیر تک اس کے موجودہ اخراجات کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ ابھی اس کو اس بات کی تسلی تھی کہ اس کا مایوس باپ اس کے لیے اس خوبصورت اور آراستہ مکان کے دروازے بند نہیں کرسکتا جس کو وہ ہمیشہ ’’میرا خوبصورت دفتر‘‘ کہہ کر پکارتا تھا اور جس کو اس نےاپنے روپے سے اپنے نام پر خریدا تھا۔ اس کو بیوی کی موت، دولت کے نقصان، باپ کے غصے، بہن کی مایوسی کا کچھ احساس نہ ہوا۔ کیونکہ وہ عورت جس کی محبت سے بھری ہوئی ایک نظر میں وہ اپنےدل کی تمام جذبات کو مرکوز کیے ہوئے تھا۔ اس پر مہربان تھی، اس کے پہلو میں تھی، اس کی تھی، وہ دنیا کے تمام رشتوں کو، تمام تعلقات کو، تمام چیزوں کو صرف اسی ایک عورت کی وساطت سے محسوس کرسکتا تھا۔ وہ عورت ایک رنگین مجسمہ تھی۔ جس نے ممتاز کی نگاہ میں دنیا کی ہر چیز کو اپنے ہی رنگ میں رنگ دیا تھا۔\n\n(۳)\n\nآخر ایک دن وہ بھی آیا جو قانون فطرت کے ہر گنہگار کے لیے موت سے زیادہ یقینی ہے۔ جب اس کا تمام سرمایہ توقعات سے بہت پہلے ختم ہوگیا۔ جب اس کے لیے اس کے ’’خوبصورت دفتر‘‘ کے دروازے اگر باپ کے غصے نے نہیں تو قرض خواہوں کی قرقی نےبند کردیے۔ آہ! اس دن کو اگر آنا ہی تھا تو ذرا پہلے آیا ہوتا۔ جب ممتاز تندرست تھا، جب اس کا دماغ صحیح تھا، جب وہ کام کرکے دولت کمانے کی قابلیت رکھتا تھا، مگر اس وقت وہ شہر کی سب سے زیادہ غریب پرور سرائے کے ایک تنگ و تار کمرے میں ایک شکستہ چارپائی پر لیٹا تھا۔ شراب نے، جس کی کثرت اسی رقاصہ کی کوششوں کی شرمندہ احساں تھی۔ پانی، چائے، طعام اور ہر قسم کی خوراک کی جس کا وہ عادی تھا، جگہ لے لی تھی۔ دختررز نے ممتازکو اپنی اداؤں کا اس قدر متوالا بنادیا تھا کہ وہ پیاس، بھوک، درد،غرض قوائے جسمانی کے ہر مطالبے کاعلاج اسی کی عشوہ گریوں سے کرتا تھا اور اب جب کہ اس کے پاس اس قیمت کے بغیر نہ ہاتھ آنے والے پانی کو خریدنے کے لیے حبہ تک نہ تھا، اب جب کہ اعصابی نسخ کے دردانگیز دردوں کی شدت کو مٹانےکے لیے اس کو اس کی پہلے سے زیادہ ضرورت تھی، وہ اس کی غیرموجودگی میں درد سے کراہ رہا تھا۔\n\nاس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ مگر وہ اردگرد کے منظر کو سمجھنے سے قاصر تھیں، وہ رات کو اسی کمرے میں سویا تھا جس میں آج سے بارہ سال پہلے ایک رات کو وہ بے شمار امیدوں کو آغوش میں لیے داخل ہوا تھا۔ مگر آج صبح بیدار ہوکر اس نے آپ کو اس سرائے کے کمرے میں اس بے کسی اور بے بسی کی حالت میں دیکھا۔ اس نے کچھ سمجھنے کی کوشش کی مگر جب اس کو اس خوب صورت رقاصہ کی وفا کاخیال آیا جس کے پاؤں کی ایک حرکت نے بارہ سال گزرے ،اس کی آیندہ زندگی کا دستورالعمل تحریر کردیا تھا۔ اور جو ابھی ابھی یعنی اس وقت جس وقت کی یاد اس کے مختل دماغ میں سب سے زیادہ محفوظ تھی، اس کو پنکھا کرکرکے پیار سے بھری ہوئی تسلی دے دے کر سلانےکی کوشش کر رہی تھی تو وہ یہ تمام درد وتکلیف، یہ تمام احتیاج و افلاس ،یہ تمام مایوسی و ذلت بھول گیا۔\n\nاس نے کسی قدر حیرت، کسی قدر مسرت اورکسی قدر نفرت سے ایک بند لفافے کو دیکھا جو اس کے دائیں ہاتھ کے قریب اس کی آنکھوں کے سامنے ایک نمایاں جگہ پر رکھا تھا۔ حیرت اس لیے کہ آج اتنے طویل عرصہ کے بعد ایک خط کی موجودگی نے اس کو اس امر کاپتہ دیا کہ وہ اب تک اسی دنیا میں زندہ ہے جس کے رہنے والوں کے ساتھ اس کو کبھی تعلق تھا۔ کیا کسی دل میں اس کی یاد اب تک باقی تھی کہ اس کا اظہار اس خاموش طریق سے کیا گیا تھا۔ مسرت اس لیے کہ شاید باپ نے بیٹے کی مصیبتوں کا حال سن کر اپنے فطری جذبے سے کام لیا ہے اور اس دولت کو جسے اس کے غصے نے چھین لیا تھا،اس کی شفقت نے واپس کردیا ہے۔ نفرت اس لیے کہ آہ !یہ دولت اس وقت مل رہی ہے جب وہ اس کو استعمال کرکے حصول لذات کی قابلیت نہیں رکھتا۔\n\nاس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اس لفافےکو اٹھایا۔ ہاتھوں سے زیادہ کانپتی ہوئی انگلیوں سےاسے کھولا اور انگلیوں سے زیادہ کانپتی ہوئی نظروں سے اسے پڑھنا شروع کیا۔\n\n’’میں صرف دولت کو پیار کرتی ہوں۔ جب تک تمہارے پاس دولت تھی، تمہاری تھی اور اب ان کی خاطر جن کے پاس دولت ہے تمہیں ہمیشہ کے لیے چھوڑتی ہوں۔‘‘\n\nجو دماغ بیوی کی موت، باپ کی مایوسی، دولت کے نقصان سے نہ گھبرایا تھا۔ اس عورت کی دائمی جدائی کی خبر سن کر جس کی موجودگی میں دنیا بھر کی تکلیفیں راحتوں سے زیادہ دل پسند تھیں،، ٹکرے ٹکڑے ہوگیا۔ اس نے ایک چیخ ماری۔ آنکھیں کھول دیں اور ایک انتہائی اضطراب سے مضطرب ہوکر کچھ سمجھنےکی کوشش کی۔اس کی آنکھوں سےایک ہولناک خواب کی جانکاہ کاوش ظاہر تھی۔ اس نے آنکھوں کو اور زیادہ کھول کر کلاک کو دیکھا۔ گیارہ بج رہے تھے۔ ملازم نے ذرا آگے برھ کر پھر یاد دلایا، ’’سرکار موٹر تیار ہے۔‘‘\n\nآہ! ان تین گھنٹوں کی غفلت میں اس نے کیا کیا دیکھ لیا۔ کیا یہ سب کچھ ایک خواب تھا۔ اس نےاپنے آرام دہ دیوان کو، اپنے دفتر کے آراستہ کمرے کو،اپنے ملازم کی مودب یاددہانی کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے دماغ پر زور دیا۔۔۔اور پھر کسی جائے نماز کی ضرورت کو محسوس کرنے کے بغیر، کسی مسجد کو تلاش کرنے کے بغیر اس نے اسی کمرے کے فرش پر گر کر سرِسجود کو اس فیاض درگاہ پر جھکا دیا جس پر سرسجود خم کرنے والے کبھی ناامید نہیں رہتے۔ اس کی آنکھوں سے شکریہ اور احسان مندی سے بھرے ہوئے دو بڑے بڑے آنسو نکلے۔\n\nوہ اٹھا، بہت سنجیدگی سے اپنی ٹوپی سر پر رکھی، لکڑی ہاتھ میں لی اور دروازے سے نکل کر موٹر پر سوار ہوگیا۔ جب موٹر ڈرائیور نے منتظر اور متجسس نگاہوں سے منزل مقصود کا پتہ دریافت کرنے کے لیے اس کی طرف دیکھا تو اس نے صرف یہی کہا،’’گھر چلو، جلدی بہت جلدی۔‘‘ آج وہ پورے ایک مہینے کے بعد ایک افسردہ باپ، ایک مایوس بہن،ایک منتظر بیوی کے پاس جارہا تھا۔ وہ گھر میں داخل ہوا، اس کی رفتار سے کچھ پریشانی اور بہت زیادہ خوشی ظاہر تھی۔ اندر جاتے ہی اس نےاپنی بیوی کو جو شاید اس وقت بھی اسی کے انتظار میں بیدار اور اسی کی یاد میں اشکبار تھی، سینہ سے لپٹالیا۔ آنسو بہ بہ کر گناہ کے داغوں اور دل کے شکووں کو دھو رہے تھے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "گناہ گار", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے سوگوار یاد بھی ہے تجھ کو یا نہیں\nوہ رات جب حیات کی زلفیں دراز تھیں\nجب روشنی کے نرم کنول تھے بجھے بجھے\nجب ساعت ابد کی لویں نیم باز تھیں\nجب ساری زندگی کی عبادت گزاریاں\nتیری گناہ گار نظر کا جواز تھیں\n\nاک ڈوبتے ہوئے نے کسی کو بچا لیا\nاک تیرہ زندگی نے کسی کو نگاہ دی\nہر لمحہ اپنی آگ میں جلنے کے باوجود\nہر لمحہ زمہریر محبت کو راہ دی\nہم نے تو تجھ سے دور کی ہمدردیاں دکھائیں\nتو نے کسی سے رسم وفا بھی نباہ دی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%AF%D8%A7%D8%B1"} {"title": "گناہ گاروں کی عذر خواہی ہمارے صاحب قبول کیجے", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گناہ گاروں کی عذر خواہی ہمارے صاحب قبول کیجے\nکرم تمہارے کی کر توقع یہ عرض کیتے ہیں مان لیجے\n\nغریب عاجز جفا کے مارے فقیر بے کس گدا تمہارے\nسو ویں ستم سیں مریں بچارے اگر جو ان پر کرم نہ کیجے\n\nپڑے ہیں ہم بیچ میں بلا کے کرم کرو واسطے خدا کے\nہوئے ہیں بندے تری رضا کے جو کچھ کے حق میں ہمارے کیجے\n\nبپت پڑی ہے جنہوں پے غم کی جگر میں آتش لگی الم کی\nکہاں ہے طاقت انہیں ستم کی کہ جن پہ ایتا عتاب کیجے\n\nہمارے دل پہ جو کچھ کہ گزرا تمہارے دل پر اگر ہو ظاہر\nتو کچھ عجب نہیں پتھر کی مانند اگر یتھا دل کی سن پسیجے\n\nاگر گنہ بھی جو کچھ ہوا ہے کہ جس سیں ایتا ضرر ہوا ہے\nتو ہم سیں وہ بے خبر ہوا ہے دلوں سیں اس کوں بھلائے دیجے\n\nہوئے ہیں ہم آبروؔ نشانے لگے ہیں طعنے کے تیر کھانے\nترا برا ہو ارے زمانے بتا تو اس طرح کیوں کہ جیجے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%AF%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%B0%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%DB%8C_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%D9%82%D8%A8%D9%88%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92"} {"title": "گناہوں سے نشوونما پا گیا دل", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گناہوں سے نشوونما پا گیا دل\nدر پختہ کاری پہ پہنچا گیا دل\n\nاگر زندگی مختصر تھی تو پھر کیا\nاسی میں بہت عیش کرتا گیا دل\n\nیہ ننھی سی وسعت یہ نادان ہستی\nنئے سے نیا بھید کہتا گیا دل\n\nنہ تھا کوئی معبود پر رفتہ رفتہ\nخود اپنا ہی معبود بنتا گیا دل\n\nنہیں گریہ و خندہ میں فرق کوئی\nجو روتا گیا دل تو ہنستا گیا دل\n\nبجائے دل اک تلخ آنسو رہے گا\nاگر ان کی محفل میں آیا گیا دل\n\nپریشاں رہا آپ تو فکر کیا ہے\nملا جس سے بھی اس کو بہلا گیا دل\n\nکئی راز پنہاں ہیں لیکن کھلیں گے\nاگر حشر کے روز پکڑا گیا دل\n\nبہت ہم بھی چالاک بنتے تھے لیکن\nہمیں باتوں باتوں میں بہکا گیا دل\n\nکہی بات جب کام کی میراجیؔ نے\nوہیں بات کو جھٹ سے پلٹا گیا دل", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%B4%D9%88%D9%88%D9%86%D9%85%D8%A7_%D9%BE%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%84"} {"title": "گنبد مدفن ہے یا ہے آسماں بالائے سر", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گنبد مدفن ہے یا ہے آسماں بالائے سر\nیہ مکیں رکھتے ہیں سب اپنے مکاں بالائے سر\n\nیوں لئے ہوں حشر میں بار گراں بالائے سر\nدوش پر خم ہے گنہ کی گٹھریاں بالائے سر\n\nچھوٹی سی کشتی بنا ہے آسماں بالائے سر\nسیل اشک اس طرح چشم خوں فشاں بالائے سر\n\nزیر مسجد مے کدہ میں میکدے میں مست خواب\nچونک اٹھا جب دی موذن نے اذاں بالائے سر\n\nہم ہیں سوئے سایۂ گل میں نہیں اتنا خیال\nاے عنادل اس طرح شور فغاں بالائے سر\n\nنخل گل کی طرح دیوانوں سے بھی مانوس ہیں\nلیتے ہیں بلبل جگہ اے باغباں بالائے سر\n\nیہ نرالی تیری خلقت شمع اس پر حسن بھی\nہم نے دیکھی ایک تیری ہی زباں بالائے سر\n\nخوش کیا یوں باغ میں لا کر مجھے صیاد نے\nشاخ کے نیچے قفس ہے آشیاں بالائے سر\n\nبیچتے پھرتے ہیں مے ہم اس طرح رستے گلی\nجائے خم چھوٹی سی ہے مے کی دکاں بالائے سر\n\nرحم کر مالک کہ میں دو دو فرشتے بھی لدے\nاور پھر عصیاں کا بھی بار گراں بالائے سر\n\nپیچھے پیچھے کارواں کے ہم تھکے ماندے ہیں یوں\nپاؤں میں چھالے ہیں گرد کارواں بالائے سر\n\nپاؤں کے نیچے سے نکلی جاتی ہے یا رب زمیں\nکھا رہے ہیں چکر اتنے آسماں بالائے سر\n\nمیں وہ ہوں محشر کے پیاسوں کو پلاؤں تو سہی\nحوض کوثر ہوگا اے پیر مغاں بالائے سر\n\nآتش رنگ حنا و زلف پیچاں دیکھیے\nآگ تلووں میں لگی نکلا دھواں بالائے سر\n\nلینے جاتا ہے حرم سے کیا کہیں تم کو ریاضؔ\nطاق پر رکھی ہے بوتل مہرباں بالائے سر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%86%D8%A8%D8%AF_%D9%85%D8%AF%D9%81%D9%86_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B3%D8%B1"} {"title": "گنجائش کلام کہاں خیر و شر میں ہے", "poet_page": "مصنف:کیفی حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گنجائش کلام کہاں خیر و شر میں ہے\nجب تم بشر میں ہو تو سبھی کچھ بشر میں ہے\n\nیوں تو ذلیل و خوار ہر اک کی نظر میں ہے\nبندے کی شان چشم حقیقت نگر میں ہے\n\nغم خوار بن گئے ہیں چھڑکتے تھے جو نمک\nکچھ ایسی چاشنی مرے زخم جگر میں ہے\n\nارض و سما ہے وقف نگاہ امید و یاس\nدنیا کی اونچ نیچ ہماری نظر میں ہے\n\nکیفیؔ ہے سو بروں کا برا پھر بھی سچ کہو\nایسا بھی کوئی شخص تمہاری نظر میں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%B4_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%D9%88_%D8%B4%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "گندی لڑکی", "poet_page": "مصنف:کیفی حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "گندی لڑکی پری ہو یا وہ حور\nکرتے ہیں سب لوگ اس کو دور دور\nمنہ لگا کر بات تو کرتے نہیں\nگندی کو پیار کرتے ہیں کہیں\nمانجھ کر منجن سے دانت اپنے نہ دھوئے\nضد کرے ہر بات پر ہر لحظہ روئے\nرینٹ اپنی آستین سے پوچ لے\nبال سر کے آپ اپنے نوچ لے\nآج پہنے کل کرے میلا لباس\nاس کو آنے دے کوئی کیوں اپنے پاس\nایسی لڑکی کی بھلا کیا آبرو\nچیپڑ آنکھوں میں ہو جس کے منہ میں بو\nکنگھی بالوں میں نہ سر میں تیل ہے\nبد تمیزی رات دن کا کھیل ہے\nدھوپ میں کھیلے نہ آئے چھاؤں میں\nسر پہ ٹوپی ہے نہ جوتا پاؤں میں\nاچھی خاصی اپنے پڑھنے کی کتاب\nجا بجا کر دے لکیروں سے خراب\nروشنائی کے ہیں دھبے جا بجا\nکرتے کا ہے آگا پیچھا ایک سا\nکھانا کھا کر پوچ لے دامن سے ہاتھ\nکپڑے بھر جائیں کبھی سالن سے ہاتھ\nایسی لڑکی کو کرے گا کون پیار\nپاس جس کے جائے اس کو آئے عار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D9%84%DA%91%DA%A9%DB%8C"} {"title": "گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا\nبہت گراں تھا یہ سودا مگر خرید لیا\n\nامین عشق نے دل بے خطر خرید لیا\nیہ آئنہ مع آئینہ گر خرید لیا\n\nغضب تھا عشق کا سودا کہ اہل ہوش نے بھی\nجو کچھ نصیب تھا سب بیچ کر خرید لیا\n\nبھلا ہو غم کی تنک ظرفیٔ طبیعت کا\nاگرچہ بات گنوا دی اثر خرید لیا\n\nرہ رضا میں ہے خونی کفن سے شان شہید\nتو جان بیچ کے رخت سفر خرید لیا\n\nجو دل کہے نہ کہوں وہ جو تو کہے وہ کہوں\nتو کیا ضمیر بھی اے حیلہ گر خرید لیا\n\nتلاش عیش میں اے آرزوؔ ہے رنج ہی رنج\nستم نصیب یہ کیا درد سر خرید لیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%86%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D8%A7_%DA%AF%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%B3%D8%B1_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گنگا", "poet_page": "مصنف:سرور جہاں آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے آب رود گنگا اف ری تری صفائی\nیہ تیرا حسن دلکش یہ طرز و دلربائی\nتیری تجلیاں ہیں جلوہ فروش معنی\nتنویر میں ہے تیری اک شان کبریائی\nجمنا تری سہیلی گو ساتھ کی ہے کھیلی\nاس میں مگر کہاں ہے تیری سی جاں فزائی\nبے لوث تیرا دامن ہے داغ معصیت سے\nموزوں ہے تیرے قد پر ملبوس پارسائی\nدل بند ہم ہیں تیرے لخت جگر ہیں تیرے\nنخل مراد ہے تو اور ہم ثمر ہیں تیرے\n\nمینو سواد تجھ سے ہیں وادیاں ہماری\nاور کشت آرزو ہے رشک جناں ہماری\nوہ دن بھی ہوگا ہوں گے جب ہم غریق رحمت\nاور تیری نذر ہوں گی یہ ہڈیاں ہماری\nگنگا میں پھینک آنا بعد فنا اٹھا کر\nبرباد ہو نہ مٹی او آسماں ہماری\nیا رب نہ دفن کر کے احباب بھول جائیں\nلے کر ہمارے خوش خوش گنگا کو پھول جائیں\n\nاو پاک نازنین او پھولوں کے گہنے والی\nسرسبز وادیوں کے دامن میں بہنے والی\nاو ناز آفریں او صدق و صفا کی دیوی\nاو عفت مجسم پربت کی رہنے والی\nصل علیٰ یہ تیری موجوں کا گنگنانا\nوحدت کا یہ ترانہ او چپ نہ رہنے والی\nحسن غیور تیرا ہے بے نیاز ہستی\nتو بحر معرفت ہے او پاکباز ہستی\n\nہاں تجھ کو جستجو ہے کس بحر بیکراں کی\nہم پر تو کچھ حقیقت کھلتی نہیں جہاں کی\nاے پردہ سوز امکاں اے جلوہ ریز عرفاں\nتو شمع انجمن ہے کس بزم دلستاں کی\nکیوں جادۂ طلب میں پھرتی کشاں کشاں ہے\nتجھ کو تلاش ہے کس گم گشتہ کارواں کی\nجاتی ہے تو کہاں کو آتی ہے تو کہاں سے\nدل بستگی ہے تجھ کو کس بحر بے نشاں سے\n\nآئی نظر تجلی جب شاہد ازل کی\nذروں میں جا کے چمکی پھولوں میں جا کے جھلکی\nہندوستان ہے اک دریائے حسن قدرت\nاور اس میں پنکھڑی ہے تو خوش نما کنول کی\nنکلی ہمالیہ سے محو خروش ہو کر\nتو آہ تشنہ لب تھی وہ جلوۂ ازل کی\nکرتی ہوئی زمیں پر موتی نثار آئی\nدرشن کو آہ ہر کے تو ہریدوار آئی\n\nیہ جوش سبزۂ گل یہ تیری آب باری\nقدرت کے چپے چپے پر یہ شگوفہ کاری\nہندوستاں کو تو نے جنت نشاں بنایا\nنہریں کہاں کہاں ہیں تیرے کرم کی جاری\nاے آب رود گنگا موجوں میں تیرے مل کر\nموج سراب ہستی ہو بے نشاں ہماری\nبعد فنا ہمارے پھولوں میں بو ہو تیری\nگم ہوں رہ طلب میں تو جستجو ہو تیری\nآئے اجل کی ضو پر جب اپنی عمر فانی\nاور ختم رفتہ رفتہ ہو سیل زندگانی\nدنیا سے آہ جب ہو اپنی سفر کا ساماں\nبالیں پہ اقرباں ہوں سرگرم نوحہ خوانی\nجب ہونٹ خشک ہوں اور دشوار ہو تنفس\nاحباب اپنے منہ میں ٹپکائیں تیرا پانی\nہنستے ہوئے جہاں سے ہم شاد کام جائیں\nدنیا سے پی کے تیری الفت کا جام جائیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%86%DA%AF%D8%A7"} {"title": "گنی ہیں سال کے رشتے میں بیس بار گرہ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "گنی ہیں سال کے رشتے میں بیس بار گرہ\nابھی حساب میں باقی ہیں سو ہزار گرہ\nگرہ کی ہے یہی گنتی کہ تا بروز شمار\nہوا کرے گی ہر اک سال آشکار گرہ\nیقین جان برس گانٹھ کا جو تاگا ہے\nیہ کہکشاں ہے کہ ہیں اس میں بے شمار گرہ\nگرہ سے اور گرہ کی امید کیوں نہ بڑھے\nکہ ہر گرہ کی گرہ میں ہیں تین چار گرہ\nدکھا کے رشتہ کسی جوتشی سے پوچھا تھا\nکہ دیکھ کتنی اٹھا لاے گا یہ تار گرہ\nکہا کہ چرخ پہ ہم نے گنی ہیں نو گرہیں\nجو یاں گنیں گے تو پاویں گے نو ہزار گرہ\nخود آسماں ہے مہا راؤ راجہ پر صدقے\nکرے گا سینکڑوں اس تار پر نثار گرہ\nوہ راؤ راجہ بہادر کہ حکم سے جن کے\nرواں ہو تار پہ فی الفور دانہ وار گرہ\nانھیں کی سال گرہ کے لیے سال بسال\nکہ لائے غیب سے غنچوں کی نو بہار گرہ\nانھیں کی سالگرہ کے لیے بناتا ہے\nہوا میں بوند کو ابر تگرگ بار گرہ\nانھیں کی سالگرہ کی یہ شادمانی ہے\nکہ ہو گئے ہیں گہر ہاے شاہوار گرہ\nانھیں کی سالگرہ کے لیے ہے یہ توقیر\nکہ بن گئے ہیں ثمر ہاے شاخسار گرہ\nسن اے ندیم برس گانٹھ کے یہ تاگے نے\nپئے دعاے بقاے جناب فیض مآب\nلگے گی اس میں ثوابت کی استوار گرہ\nہزار دانے کی تسبیح چاہتا ہے بنے\nبلا مبالغہ درکار ہے ہزار گرہ\nعطا کیا ہے خدا نے وہ جاذبہ اس کو\nکہ چھوڑتا ہی نہیں رشتہ زینہار گرہ\nکشادہ رخ نہ پھرے کیوں کہ اس زمانے میں\nبچی نہ از پئے بند نقاب یار گرہ\nمتاع عیش کا ہے قافلہ چلا آتا\nکہ جادہ رشتہ ہے اور ہے شتر قطار گرہ\nخدا نے دی ہے وہ غالبؔ کو دستگاہ سخن\nکڑوڑوں ڈھونڈھ کے لاتا یہ خاکسار گرہ\nکہاں مجال سخن سانس لے نہیں سکتا\nپڑی ہے غم کی مرے دل میں پیچ دار گرہ\nگرہ کا نام لیا پر نہ کر سکا کچھ بات\nزباں تک آ کے ہوئی اور استوار گرہ\nکھلے یہ گانٹھ تو البتہ دم نکل جاوے\nبری طرح سے ہوئی ہے گلے کا ہار گرہ\nادھر نہ ہوگی توجہ حضور کی جب تک\nکبھی کسی سے کھلے گی نہ زینہار گرہ\nدعا یہ ہے کہ مخالف کے دل میں از رہ بغض\nپڑی ہے یہ جو بہت سخت نابکار گرہ\nدل اس کا پھوڑ کے نکلے بہ شکل پھوڑے کے\nخدا کرے کہ کرے اس طرح ابھار گرہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D8%B3_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D8%B1%DB%81"} {"title": "گو اس کی نہیں لطف و عنایت باقی", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گو اس کی نہیں لطف و عنایت باقی\nہے اس سے ہمیں ایک حکایت باقی\nرنجیدہ ہوا وہ بد گمانی سے تو ہو\nہے شکوہ نہ کرنے کی شکایت باقی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D9%88_%D8%B9%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "گو ایک بادشاہ کے سب خانہ زاد ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "گو ایک بادشاہ کے سب خانہ زاد ہیں\nدربار دار لوگ بہم آشنا نہیں\nکانوں پہ ہاتھ دھرتے ہیں کرتے ہوئے سلام\nاس سے ہے یہ مراد کہ ہم آشنا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%B4%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گو بہ نام اک زبان رکھتی ہے شمع", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گو بہ نام اک زبان رکھتی ہے شمع\nکب ترا سا بیان رکھتی ہے شمع\n\nتیرے مکھڑے کا سا نمک معلوم\nایک پھیکی سی آن رکھتی ہے شمع\n\nسرفروشی کے مخترع ہم ہیں\nگو اب اونچی دکان رکھتی ہے شمع\n\nداغ پر داغ اٹھائے دل کی طرح\nکب یہ تاب و توان رکھتی ہے شمع\n\nرووے گو تودہ تودہ کب ایسے\nدیدۂ خوں فشان رکھتی ہے شمع\n\nآہ اس داغ دل سے جس سے کہ دست\nنت سوئے آسمان رکھتی ہے شمع\n\nکیونکہ پروانہ رشک سے نہ جلے\nسب کے آگے فلان رکھتی ہے شمع\n\nکھول مکھڑا کہ ہے یہ مجھ کو یقیں\nتجھ سے دعویٰ گمان رکھتی ہے شمع\n\nیہ دل افسردہ وائے قسمت بد\nسوز تا استخوان رکھتی ہے شمع\n\nراتوں جاگی ہے مثل قائمؔ کی\nتب یہ سوز نہان رکھتی ہے شمع", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88_%D8%A8%DB%81_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%A7%DA%A9_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D9%85%D8%B9"} {"title": "گو جوانی میں تھی کج رائی بہت", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گو جوانی میں تھی کج رائی بہت\nپر جوانی ہم کو یاد آئی بہت\n\nزیر برقع تو نے کیا دکھلا دیا\nجمع ہیں ہر سو تماشائی بہت\n\nہٹ پہ اس کی اور پس جاتے ہیں دل\nراس ہے کچھ اس کو خود رائی بہت\n\nسرو یا گل آنکھ میں جچتے نہیں\nدل پہ ہے نقش اس کی رعنائی بہت\n\nچور تھا زخموں میں اور کہتا تھا دل\nراحت اس تکلیف میں پائی بہت\n\nآ رہی ہے چاہ یوسف سے صدا\nدوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت\n\nوصل کے ہو ہو کے ساماں رہ گئے\nمینہ نہ برسا اور گھٹا چھائی بہت\n\nجاں نثاری پر وہ بول اٹھے مری\nہیں فدائی کم تماشائی بہت\n\nہم نے ہر ادنیٰ کو اعلیٰ کر دیا\nخاکساری اپنی کام آئی بہت\n\nکر دیا چپ واقعات دہر نے\nتھی کبھی ہم میں بھی گویائی بہت\n\nگھٹ گئیں خود تلخیاں ایام کی\nیا گئی کچھ بڑھ شکیبائی بہت\n\nہم نہ کہتے تھے کہ حالیؔ چپ رہو\nراست گوئی میں ہے رسوائی بہت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%AC_%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%AA"} {"title": "گو روکش ہفتاد و دو ملت ہم ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گو روکش ہفتاد و دو ملت ہم ہیں\nمرآت بدن نماے وحدت ہم ہیں\nبے اپنے نمود اس کی اتنی معلوم\nمعنی محبوب ہے تو صورت ہم ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88_%D8%B1%D9%88%DA%A9%D8%B4_%DB%81%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%AF_%D9%88_%D8%AF%D9%88_%D9%85%D9%84%D8%AA_%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گو سدھ نہیں اس شوخ ستم گر نے سنبھالی", "poet_page": "مصنف:آفتاب شاہ عالم ثانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گو سدھ نہیں اس شوخ ستم گر نے سنبھالی\nتس پر بھی کوئی بات ادا سے نہیں خالی\n\nکچھ ہوش نہیں مجھ میں رہا جب سے پلائی\nاس نرگس مخمور کی ساقی نے پیالی\n\nشبنم کے عرق میں ہوا خجلت سیتی گل تر\nدیکھی جو لب لعل کی اس شوخ کے لالی\n\nوے غیر ہی ہیں جن کی ہر اک بات ہو سنتے\nہم نے تو جو کچھ عرض کی سو سنتے ہی ٹالی\n\nتوصیف کوئی کر سکے کیا اے شہ عالمؔ\nرتبہ ہے تیرے شعر کا گفتار سے عالی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88_%D8%B3%D8%AF%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%86%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "گو سیہ بخت ہوں پر یار لبھا لیتا ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گو سیہ بخت ہوں پر یار لبھا لیتا ہے\nشکل سایہ کے مجھے ساتھ لگا لیتا ہے\n\nگو ملاقات نہیں عالم بیداری میں\nخواب میں پر وہ ہمیں ساتھ سلا لیتا ہے\n\nاشک کو ٹک بن مژگاں میں ٹھہرنے دے دلا\nیہ ترا دیکھ تو ہاں دیکھ تو کیا لیتا ہے\n\nراہیٔ ملک عدم سے نہ کر اتنی کاوش\nدم مسافر یہ تہ نخل ذرا لیتا ہے\n\nشیشۂ دل میں مرے تیرے خیال خط سے\nآ گیا بال ہے تو مول اسے کیا لیتا ہے\n\nیہ مثل اے بت مے نوش سنی ہے کہ نہیں\nلے ہے برتن جو کوئی اس کو بجا لیتا ہے\n\nتو وہ ہے نام خدا اے بت کافر کہ ترے\nزاہد گوشہ نشیں بھی قدم آ لیتا ہے\n\nدل پہ تلوار سی کچھ لگتی ہے جب غیر کو تو\nپاس ابرو کے اشارے سے بلا لیتا ہے\n\nکیوں نہ پھولے دل صد چاک ہمارا یارو\nگل سمجھ کر وہ اسے سر پہ چڑھا لیتا ہے\n\nموج دریا تو کب اٹکھیلی سے یوں چلتی ہے\nپر تری کبک دری چال اڑا لیتا ہے\n\nزلف مشکیں کو نہ چھیڑ اس کی دلا مان کہا\nاپنے کیوں سر پہ بلا اہل خطا لیتا ہے\n\nہوک سی اٹھتی ہے کچھ دل میں مرے آہ نصیرؔ\nجب وہ پہلو میں رقیبوں کو بٹھا لیتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88_%D8%B3%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%84%D8%A8%DA%BE%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "گو شمع ہوں پہ محفل جاناں سے دور ہوں", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گو شمع ہوں پہ محفل جاناں سے دور ہوں\nمیں عندلیب ہوں پہ گلستاں سے دور ہوں\n\nبرگ خزاں رسیدہ بنایا ہے عشق نے\nمیں موسم بہار میں بستاں سے دور ہوں\n\nاے یار جستجو میں تری صورت غبار\nسرگشتہ ہوں پہ گردش دوراں سے دور ہوں\n\nپروانہ وار گو کہ جلایا ہے عشق نے\nلیکن چراغ گور غریباں سے دور ہوں\n\nگھلتا ہے دل کہ رہرو الفت کے واسطے\nمیں خضر ہوں پہ چشمۂ حیواں سے دور ہوں\n\nکہتا ہے یہ پکار کے خون شہید ناز\nقاتل میں تیرے گوشۂ داماں سے دور ہوں\n\nبندہ ہوں عشق کا مرا مذہب نہ پوچھئے\nآزاد ہو کے گبرو مسلماں سے دور ہوں\n\nموج نسیم صبح ستاتی ہے کیا مجھے\nمیں بوئے گل کی طرح گلستاں سے دور ہوں\n\nکہتا ہے اس کی زلف میں پھنس کر یہ مرغ دل\nقیدی تو ہوں جمیلہؔ پہ زنداں سے دور ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "گو میرؔ کہ احوال نہایت ہے سقیم", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گو میرؔ کہ احوال نہایت ہے سقیم\nکہتے ہیں اسے شافی و کافی و حکیم\nوہ غیر کرم بندے کے حق میں نہ کرے\nیہ بابت مکرمت ہے اللہ کریم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84_%D9%86%DB%81%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%82%DB%8C%D9%85"} {"title": "گو کچھ بھی وہ منہ سے نہیں فرماتے ہیں", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "گو کچھ بھی وہ منہ سی نہیں فرماتے ہیں\nشیریں سخنی کا ہم مزا پاتے ہیں\nالفاظ کچھ ان کے منہ میں گرانی ہیں\nلب کھل نہیں سکتے بند ہو جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گو کہ محتاج ہیں گدا ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گو کہ محتاج ہیں گدا ہیں ہم\nبے نیازی کے بادشا ہیں ہم\n\nچشم تحقیر سے ہمیں مت دیکھ\nخاک تو ہیں پہ توتیا ہیں ہم\n\nآہ اس عمر بے بقا کی طرح\nرہرو کشور فنا ہیں ہم\n\nایسا بے برگ و بے نواہی کون\nجیسے بے برگ و بے نوا ہیں ہم\n\nگو ہمیں تو کبھی نہ یاد کرے\nپر تری یاد میں سدا ہیں ہم\n\nمبتلا اس بلا میں کوئی نہ ہو\nجس بلا میں کہ مبتلا ہیں ہم\n\nمار کر بھی ہمیں پہ پچھتایا\nبے وفا تو کہ بے وفا ہیں ہم\n\nجبہہ سائی سے دشمنی ہے جسے\nاسی کے در پہ جبہہ سا ہیں ہم\n\nکون رہبر ہو عشق کی رہ میں\nآپ ہی اپنے رہنما ہیں ہم\n\nہیں تو صورت پرست آئینہ دار\nنیک معنی سے آشنا ہیں ہم\n\nاور دیوانہ کون ہے ؔجوشش\nیا دوانا تھا قیس یا ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%AA%D8%A7%D8%AC_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "گو ہوں وحشی پہ ترے در سے نہ ٹل جاؤں گا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گو ہوں وحشی پہ ترے در سے نہ ٹل جاؤں گا\nہاں مگر دشت عدم ہی کو نکل جاؤں گا\n\nطائر نامہ بر اپنا یہی کہتا ہے کہ آہ\nرقم شوق کی گرمی سے میں جل جاؤں گا\n\nجلد اے کاش جتاوے اسے جوبن اس کا\nپھر ہو کس کام کے تم جب کہ میں ڈھل جاؤں گا\n\nآج گو اس نے بہ رسوائی نکالا مجھ کو\nگر یہی دل ہے تو پھر آپ سے کل جاؤں گا\n\nمشورہ کر کے یہ دل کوچۂ جاناں کو چلا\nعزم تو لانے کا کیجو میں مچل جاؤں گا\n\nگر یہی آتش الفت ہے تو مانند سپند\nآہ میں مجمر ہستی سے اچھل جاؤں گا\n\nتو گرفتار محبت ہوں مری وضع سے تم\nاتنا گھبراؤ نہ پیارے میں سنبھل جاؤں گا\n\nوائے قسمت کہے جب صبر سا مونس یہ بات\nتجھ پہ دیکھوں گا برا وقت تو ٹل جاؤں گا\n\nجلد خو اپنی بدل ورنہ کوئی کر کے طلسم\nآ کے دل اپنا ترے دل سے بدل جاؤں گا\n\nجی کہیں تو نہ پھنسا ورنہ ترے دام سے میں\nآب غربال کی مانند نکل جاؤں گا\n\nجوں حنا اپنے وہ قدموں سے نہ لگنے دیں گے\nاس تمنا میں اگر خاک میں رل جاؤں گا\n\nجاتے جاتے کف افسوس اسی حسرت میں\nاشک بھر لا کے دم نزع بھی مل جاؤں گا\n\nجن کے نزدیک ہے انداز غزل میرؔ پہ ختم\nان کو جرأتؔ میں سنانے یہ غزل جاؤں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%88%D8%AD%D8%B4%DB%8C_%D9%BE%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%B9%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "گو یاں نہ کسی کو آئے افسوس", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گو یاں نہ کسی کو آئے افسوس\nحالت تو ہے اپنی جائے افسوس\n\nدیتے تو دیا میں دل کو لیکن\nچارہ نہیں اب سوائے افسوس\n\nہوں کشتہ میں واں کہ جس جگہ میں\nکوئی نہ کسی پہ کھائے افسوس\n\nجوں شمع اگر نہ سر دھنوں میں\nکیا کام کروں ورائے افسوس\n\nچلتے ہوئے اہل بزم نے یاں\nچھوڑا ہے مجھے برائے افسوس\n\nقائمؔ وہ عمل کہ بعد تیرے\nاک خلق کہے کہ ہائے افسوس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3"} {"title": "گو یہ رکھتی نہیں انسان کی حالت اچھی", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گو یہ رکھتی نہیں انسان کی حالت اچھی\nپھر بھی سو کام سے دنیا کے محبت اچھی\n\nکیا وہ اچھا ہے اگر صرف ہے صورت اچھی\nصورت اچھی جو خدا دے تو ہو سیرت اچھی\n\nوصل میں یہ جو ہوں بے باک تو نکلے مطلب\nایسے موقع پہ حسینوں کی شرارت اچھی\n\nجس میں شوخی نہ شرارت نہ کرشمہ نہ ادا\nایسے معشوق سے مٹی کی ہے مورت اچھی\n\nدوست ان کا جو ہے برباد تو دشمن ہے خراب\nلطف اچھا نہ حسینوں کی عداوت اچھی\n\nشکوہ وہ خوب ہے جس سے ہو لگاوٹ ظاہر\nشکر کا جس میں ہو پہلو وہ شکایت اچھی\n\nنہ ہوئی قدر مقدر کی برائی سے حفیظؔ\nکیا ہوا آپ نے پائی جو طبیعت اچھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%AA_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C"} {"title": "گو یہ غم ہے کہ وہ حبیب نہیں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گو یہ غم ہے کہ وہ حبیب نہیں\nپر خوشی ہے کوئی رقیب نہیں\n\nکیوں نہ ہوں طفل اشک آوارہ\nکہ معلم نہیں ادیب نہیں\n\nکل تصور میں آئی جو شب گور\nشب فرقت سے وہ مہیب نہیں\n\nہیں سواری کے ساتھ فریادی\nکوئی اور آپ کا نقیب نہیں\n\nمدتوں سے ہوں جانتا ہوں وطن\nدشت غربت میں میں غریب نہیں\n\nتجھ سے اے دل خدا تو ہے اقرب\nغم نہیں بت اگر قریب نہیں\n\nجان کیوں کر بچے گی فرقت میں\nہیں عدو سیکڑوں حبیب نہیں\n\nزندگانی مرض ہے موت شفا\nجز اجل کوئی اب طبیب نہیں\n\nجیتے جی پاؤں دوست کا دیدار\nناسخؔ ایسے مرے نصیب نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%BA%D9%85_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AD%D8%A8%DB%8C%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گواہ وصل عدو سر جھکا کے دیکھ نہ لو", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گواہ وصل عدو سر جھکا کے دیکھ نہ لو\nیہ بند بند جدا ہیں قبا کے دیکھ نہ لو\n\nکسی کے عشق میں تکلیف کچھ نہیں ہوتی\nکسی سے چار گھڑی دل لگا کے دیکھ نہ لو\n\nدل و جگر کا تڑپنا ہماری بیتابی\nجو دیکھنا ہے تو صورت دکھا کے دیکھ نہ لو\n\nہماری آہ کا کیا دیکھنا جو دیکھو گے\nوہی تو بات ہے جھونکے ہوا کے دیکھ نہ لو\n\nاگر محبت مضطرؔ کے تم نہیں قائل\nتو ایک کام کرو آزما کے دیکھ نہ لو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88%D8%A7%DB%81_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%D8%B3%D8%B1_%D8%AC%DA%BE%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D9%84%D9%88"} {"title": "گوتم بدھ", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "حسن جب افسردہ پھولوں کی طرح پامال تھا\nجب محبت کا غلط دنیا میں استعمال تھا\nبے خودی کے نام پر جب دور جام بادہ تھا\nجب تجلیٔ حقیقت سے ہر اک دل سادہ تھا\nزیست کا اور موت کا ادراک دنیا کو نہ تھا\nظلم کا احساس جب بے باک دنیا کو نہ تھا\nبند آنکھیں کر کے اس دنیا کے مکروہات سے\nتو نے حاصل کی ضیائے دل، تجلیات سے\nبرف زاروں کو ترے انفاس نے گرما دیا\nتیرے استغنا نے تخت سلطنت ٹھکرا دیا\nیاد تیری آج بھی ہندستاں میں تازہ ہے\nچین، جاپان اور تبت تک ترا آوازہ ہے\nروشنی جس کی نہ ہوگی ماند وہ مشعل ہے تو\nسر زمین ہند کا عرفانیٔ اول ہے تو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88%D8%AA%D9%85_%D8%A8%D8%AF%DA%BE"} {"title": "گور غریباں", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "وداع روز روشن ہے گجر شام غریباں کا\nچرا گاہوں سے پلٹے قافلے وہ بے زبانوں کے\nقدم گھر کی طرف کس شوق سے اٹھتا ہے دہقاں کا\nیہ ویرانہ ہے میں ہوں اور طائر آشیانوں کے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88%D8%B1_%D8%BA%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA"} {"title": "گور میں یادِ قدِ یار نے سونے نہ دیا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گور میں یادِ قدِ یار نے سونے نہ دیا\nفتنۂ حشر کو رفتار نے سونے نہ دیا\n\nواہ اے طالعِ خفتہ کہ شبِ عیش میں بھی\nوہم بے خوابیِ اغیار نے سونے نہ دیا\n\nوا رہیں صورتِ آغوش، سحر تک آنکھیں\nشوقِ ہم خوبیِ دلدار نے سونے نہ دیا\n\nیاس سے آنکھ بھی جھپکی تو توقع سے کھلی\nصبح تک وعدۂ دیدار نے سونے نہ دیا\n\nطالعِ خفتہ کی تعریف کہاں تک کیجے\nپاؤں کو بھی خلشِ خار نے سونے نہ دیا\n\nدردِ دل سے جو کہا نیند نہ آئی؟ تو کہا\nمجھ کو کب نرگسِ بیمار نے سونے نہ دیا\n\nشبِ ہجراں نے کہا قصۂ گیسوئے دراز\nشیفتہ تو بھی دلِ زار نے سونے نہ دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF%D9%90_%D9%82%D8%AF%D9%90_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گورستانِ شاہی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "آسماں، بادل کا پہنے خرقۂ دیرینہ ہے\nکچھ مکدّر سا جبینِ ماہ کا آئینہ ہے\nچاندنی پھیکی ہے اس نظّارۂ خاموش میں\nصُبحِ صادق سو رہی ہے رات کی آغوش میں\nکس قدر اشجار کی حیرت فزا ہے خامشی\nبربطِ قُدرت کی دھیمی سی نوا ہے خامشی\nباطنِ ہر ذرّۂ عالم سراپا درد ہے\nاور خاموشی لبِ ہستی پہ آہِ سرد ہے\n\nآہ! جولاں گاہِ عالم گیر یعنی وہ حصار\nدوش پر اپنے اُٹھائے سیکڑوں صدیوں کا بار\nزندگی سے تھا کبھی معمور، اب سنسان ہے\nیہ خموشی اس کے ہنگاموں کا گورستان ہے\nاپنے سُکاّنِ کُہن کی خاک کا دلدادہ ہے\nکوہ کے سر پر مثالِ پاسباں اِستادہ ہے\n\nابر کے روزن سے وہ بالائے بامِ آسماں\nناظرِ عالم ہے نجمِ سبز فامِ آسماں\nخاک بازی وسعتِ دنیا کا ہے منظر اسے\nداستاں ناکامیِ انساں کی ہے ازبر اسے\nہے ازل سے یہ مسافر سُوئے منزل جا رہا\nآسماں سے انقلابوں کا تماشا دیکھتا\nگو سکُوں ممکن نہیں عالم میں اختر کے لیے\nفاتحہ خوانی کو یہ ٹھہرا ہے دم بھر کے لیے\nرنگ و آبِ زندگی سے گل بدامن ہے زمیں\nسینکڑوں خُوں گشتہ تہذیبوں کا مدفن ہے زمیں\n\nخواب گہ شاہوں کی ہے یہ منزلِ حسرت فزا\nدیدۂ عبرت! خراجِ اشکِ گُلگُوں کر ادا\nہے تو گورستاں مگر یہ خاک گردُوں پایہ ہے\nآہ! اک برگشتہ قسمت قوم کا سرمایہ ہے\nمقبروں کی شان حیرت آفریں ہے اس قدر\nجنبشِ مِژگاں سے ہے چشمِ تماشا کو حذر\nکیفیت ایسی ہے ناکامی کی اس تصویر میں\nجو اُتر سکتی نہیں آئینۂ تحریر میں\n\nسوتے ہیں خاموش، آبادی کے ہنگاموں سے دُور\nمضطرب رکھتی تھی جن کو آرزوئے ناصبور\nقبر کی ظُلمت میں ہے اُن آفتابوں کی چمک\nجن کے دروازوں پہ رہتا تھا جبیں گستر فلک\nکیا یہی ہے اُن شہنشاہوں کی عظمت کا مآل\nجن کی تدبیرِ جہاں بانی سے ڈرتا تھا زوال\nرعبِ فغفوری ہو دنیا میں کہ شانِ قیصری\nٹل نہیں سکتی غنیمِ موت کی یورش کبھی\nبادشاہوں کی بھی کشتِ عمر کا حاصل ہے گور\nجادۂ عظمت کی گویا آخری منزل ہے گور\n\nشورشِ بزمِ طرب کیا، عُود کی تقریر کیا\nدرد مندانِ جہاں کا نالۂ شب گیر کیا\nعرصۂ پیکار میں ہنگامۂ شمشیر کیا\nخُون کو گرمانے والا نعرۂ تکبیر کیا\nاب کوئی آواز سوتوں کو جگا سکتی نہیں\nسینۂ ویراں میں جانِ رفتہ آ سکتی نہیں\n\nروح، مُشتِ خاک میں زحمت کشِ بیداد ہے\nکوچہ گردِ نَے ہُوا جس دم نفَس، فریاد ہے\nزندگی انساں کی ہے مانندِ مرغِ خوش نوا\nشاخ پر بیٹھا، کوئی دم چہچہایا، اُڑ گیا\nآہ! کیا آئے ریاضِ دہر میں ہم، کیا گئے!\nزندگی کی شاخ سے پھُوٹے، کھِلے، مُرجھا گئے\nموت ہر شاہ و گدا کے خواب کی تعبیر ہے\nاس ستم گر کا ستم انصاف کی تصویر ہے\n\nسلسلہ ہستی کا ہے اک بحرِ نا پیدا کنار\nاور اس دریائے بے پایاں کی موجیں ہیں مزار\nاے ہوَس! خُوں رو کہ ہے یہ زندگی بے اعتبار\nیہ شرارے کا تبسّم، یہ خسِ آتش سوار\nچاند، جو صورت گرِ ہستی کا اک اعجاز ہے\nپہنے سیمابی قبا محوِ خرامِ ناز ہے\nچرخِ بے انجم کی دہشت ناک وسعت میں مگر\nبے کسی اس کی کوئی دیکھے ذرا وقتِ سحَر\nاک ذرا سا ابر کا ٹُکڑا ہے، جو مہتاب تھا\nآخری آنسو ٹپک جانے میں ہو جس کی فنا\n\nزندگی اقوام کی بھی ہے یونہی بے اعتبار\nرنگ ہائے رفتہ کی تصویر ہے ان کی بہار\nاس زیاں خانے میں کوئی ملّتِ گردُوں وقار\nرہ نہیں سکتی ابد تک بارِ دوشِ روزگار\nاس قدر قوموں کی بربادی سے ہے خُوگر جہاں\nدیکھتا بے اعتنائی سے ہے یہ منظر جہاں\nایک صورت پر نہیں رہتا کسی شے کو قرار\nذوقِ جدّت سے ہے ترکیبِ مزاجِ روزگار\nہے نگینِ دہر کی زینت ہمیشہ نامِ نو\nمادرِ گیتی رہی آبستنِ اقوامِ نو\n\nہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ رہ گزر\nچشمِ کوہِ نُور نے دیکھے ہیں کتنے تاجور\nمصر و بابِل مٹ گئے، باقی نشاں تک بھی نہیں\nدفترِ ہستی میں ان کی داستاں تک بھی نہیں\nآ دبایا مہرِ ایراں کو اجل کی شام نے\nعظمتِ یُونان و روما لُوٹ لی ایّام نے\nآہ! مسلم بھی زمانے سے یونہی رخصت ہوا\nآسماں سے ابرِ آذاری اُٹھا، برسا، گیا\n\nہے رگِ گُل صبح کے اشکوں سے موتی کی لڑی\nکوئی سُورج کی کرن شبنم میں ہے اُلجھی ہوئی\nسینۂ دریا شُعاعوں کے لیے گہوارہ ہے\nکس قدر پیارا لبِ جُو مہر کا نظّارہ ہے\nمحوِ زینت ہے صنوبر، جوئبار آئینہ ہے\nغنچۂ گُل کے لیے بادِ بہار آئینہ ہے\nنعرہ زن رہتی ہے کوئل باغ کے کاشانے میں\nچشمِ انساں سے نہاں، پتّوں کے عُزلت خانے میں\nاور بُلبل، مطربِ رنگیں نوائے گُلِستاں\nجس کے دم سے زندہ ہے گویا ہوائے گُلِستاں\nعشق کے ہنگاموں کی اُڑتی ہوئی تصویر ہے\nخامۂ قُدرت کی کیسی شوخ یہ تحریر ہے\nباغ میں خاموش جلسے گُلِستاں زادوں کے ہیں\nوادیِ کُہسار میں نعرے شباں زادوں کے ہیں\nزندگی سے یہ پُرانا خاک‌داں معمور ہے\nموت میں بھی زندگانی کی تڑپ مستور ہے\nپتّیاں پھولوں کی گرتی ہیں خزاں میں اس طرح\nدستِ طفلِ خُفتہ سے رنگیں کھلونے جس طرح\nاس نشاط آباد میں گو عیش بے اندازہ ہے\nایک غم، یعنی غمِ ملّت ہمیشہ تازہ ہے\n\nدل ہمارے یادِ عہدِ رفتہ سے خالی نہیں\nاپنے شاہوں کو یہ اُمّت بھولنے والی نہیں\nاشک باری کے بہانے ہیں یہ اُجڑے بام و در\nگریۂ پیہم سے بینا ہے ہماری چشمِ تر\nدہر کو دیتے ہیں موتی دیدۂ گریاں کے ہم\nآخری بادل ہیں اک گزرے ہوئے طوفاں کے ہم\nہیں ابھی صدہا گُہر اس ابر کی آغوش میں\nبرق ابھی باقی ہے اس کے سینۂ خاموش میں\nوادیِ گُل، خاکِ صحرا کو بنا سکتا ہے یہ\nخواب سے اُمّیدِ دہقاں کو جگا سکتا ہے یہ\nہو چُکا گو قوم کی شانِ جلالی کا ظہور\nہے مگر باقی ابھی شانِ جمالی کا ظہور", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C"} {"title": "گورمکھ سنگھ کی وصیت", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "یزید", "year": "1951", "text_ur": "پہلے چھرا بھونکنے کی اکا دکا واردات ہوتی تھیں، اب دونوں فریقوں میں باقاعدہ لڑائی کی خبریں آنے لگیں جن میں چاقو چھریوں کے علاوہ کرپانیں، تلواریں اور بندوقیں عام استعمال کی جاتی تھیں۔ کبھی کبھی دیسی ساخت کے بم پھٹنے کی اطلاع بھی ملتی تھی۔\n\nامرتسر میں قریب قریب ہر ایک کا یہی خیال تھا کہ یہ فرقہ وارانہ فسادات دیر تک جاری نہیں رہیں گے۔ جوش ہے، جونہی ٹھنڈا ہوا، فضا پھر اپنی اصلی حالت پر آجائے گی۔ اس سے پہلے ایسے کئی فساد امرتسر میں ہو چکے تھے جو دیر پا نہیں تھے۔ دس سے پندرہ روز تک مار کٹائی کا ہنگامہ رہتا تھا، پھر خود بخود فرو ہو جاتا تھا۔ چنانچہ پرانے تجربے کی بنا پر لوگوں کا یہی خیال تھا کہ یہ آگ تھوڑی دیر کے بعد اپنا زور ختم کرکے ٹھنڈی ہو جائے گی۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ بلووں کا زور دن بدن بڑھتا ہی گیا۔\n\nہندوؤں کے محلے میں جو مسلمان رہتے تھے بھاگنے لگے۔ اسی طرح وہ ہندو جو مسلمانوں کے محلے میں تھے اپنا گھر بار چھوڑ کے محفوظ مقاموں کا رخ کرنے لگے۔ مگر یہ انتظام سب کے نزدیک عارضی تھا، اس وقت تک کے لیے جب فضا فسادات کے تکدر سے پاک ہو جانے والی تھی۔\n\nمیاں عبدالحئی ریٹائرڈ سب جج کو تو سو فی صدی یقین تھا کہ صورتحال بہت جلد درست ہو جائے گی، یہی وجہ ہے کہ وہ زیادہ پریشان نہیں تھے۔ ان کا ایک لڑکا تھا گیارہ برس کا۔ ایک لڑکی تھی سترہ برس کی۔ ایک پرانا ملازم تھا جس کی عمر ستر کے لگ بھگ تھی۔ مختصر سا خاندان تھا۔ جب فسادات شروع ہوئے تو میاں صاحب نے بطور حفظِ ماتقدم کافی راشن گھر میں جمع کرلیا تھا۔ اس طرح سے وہ بالکل مطمئن تھے کہ اگر خدانخواستہ حالات کچھ زیادہ بگڑ گئے اور دکانیں وغیرہ بند ہوگئیں تو انھیں کھانے پینے کے معاملے میں تردو نہیں کرنا پڑے گا۔ لیکن ان کی جوان لڑکی صغریٰ بہت متردد تھی۔ ان کا گھر تین منزلہ تھا۔ دوسری عمارتوں کے مقابلے میں کافی اونچا۔ اس کی ممٹی سے شہر کا تین چوتھائی حصہ بخوبی نظر آتا تھا۔ صغریٰ اب کئی دنوں سے دیکھ رہی تھی کہ نزدیک دور کہیں نہ کہیں آگ لگی ہوتی ہے۔ شروع شروع میں تو فائر بریگیڈ کی ٹن ٹن سنائی دیتی تھی پر اب وہ بھی بند ہوگئی تھی، اس لیے کہ جگہ جگہ آگ بھڑکنے لگی تھی۔\n\nرات کو اب کچھ اور ہی سماں ہوتا۔ گھپ اندھیرے میں آگ کے بڑے بڑے شعلے اٹھتے جیسے دیو ہیں جو اپنے منہ سے آگ کے فوارے سے چھوڑ رہے ہیں۔ پھر عجیب عجیب سی آوازیں آتیں جو ہر ہر مہادیو اور اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ مل کر بہت ہی وحشت ناک بن جاتیں۔\n\nصغریٰ باپ سے اپنے خوف و ہراس کا ذکر نہیں کرتی تھی۔ اس لیے کہ وہ ایک بار گھر میں کہہ چکے تھے کہ ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ سب ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا۔ میاں صاحب کی باتیں اکثر درست ہوا کرتی تھیں۔ صغریٰ کو اس سے ایک گونہ اطمینان تھا۔ مگرجب بجلی کا سلسلہ منقطع ہوگیا اور ساتھ ہی نلوں میں پانی آنا بند ہوگیا تو اس نے میاں صاحب سے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور ڈرتے ڈرتے رائے دی تھی کہ چند روز کے لیے شریف پورے اٹھ جائیں جہاں اڑوس پڑوس کے سارے مسلمان آہستہ آہستہ جارہے تھے۔ میاں صاحب نے اپنا فیصلہ نہ بدلا اور کہا، ’’بیکار گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حالات بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘\n\nمگر حالات بہت جلدی ٹھیک نہ ہو ئے اور دن بدن بگڑتے گئے۔ وہ محلہ جس میں میاں عبدالحئی کا مکان تھا مسلمانوں سے خالی ہوگیا۔ اور خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میاں صاحب پر ایک روز اچانک فالج گرا جس کے باعث وہ صاحبِ فراش ہوگئے۔ ان کا لڑکا بشارت بھی جو پہلے اکیلا گھرمیں اوپر نیچے طرح طرح کے کھیلوں میں مصروف رہتا تھا اب باپ کی چارپائی کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا اور حالات کی نزاکت سمجھنے لگا۔\nوہ بازار جو ان کے مکان کے ساتھ ملحق تھا سنسنان پڑا تھا۔ ڈاکٹر غلام مصطفےٰ کی ڈسپنسری مدت سے بند پڑی تھی۔ اس سے کچھ دور ہٹ کر ڈاکٹر گوراندتامل تھے۔ صغریٰ نے شہ نشین سے دیکھا تھا کہ ان کی دکان میں بھی تالے پڑے ہیں۔ میاں صاحب کی حالت بہت مخدوش تھی۔ صغریٰ اس قدر پریشان تھی کہ اس کے ہوش و حواس بالکل جواب دے گئے تھے۔ بشارت کو الگ لے جا کر اس نے کہا، ’’خدا کے لیے،تم ہی کچھ کرو۔ میں جانتی ہوں کہ باہر نکلنا خطرے سے خالی نہیں، مگر تم جاؤ۔۔۔ کسی کو بھی بلا لاؤ۔ اباجی کی حالت بہت خطرناک ہے۔‘‘\n\nبشارت گیا، مگر فوراً ہی واپس آگیا۔ اس کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد تھا۔ چوک میں اس نے ایک لاش دیکھی تھی، خون سے تر بتر۔۔۔ اور پاس ہی بہت سے آدمی ٹھاٹے باندھے ایک دکان لوٹ رہے تھے۔ صغریٰ نے اپنے خوفزدہ بھائی کو سینے کے ساتھ لگایا اور صبر شکر کرکے بیٹھ گئی۔ مگر اس سے اپنے باپ کی حالت نہیں دیکھی جاتی تھی۔ میاں صاحب کے جسم کا داہنا حصہ بالکل سن ہوگیا تھا جیسے اس میں جان ہی نہیں۔ گویائی میں بھی فرق پڑ گیا تھا اور وہ زیادہ تر اشاروں ہی سے باتیں کرتے تھے جس کا مطلب یہ تھا کہ صغریٰ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ خدا کے فضل وکرم سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔\n\nکچھ بھی نہ ہوا۔ روزے ختم ہونے والے تھے۔ صرف دو رہ گئے تھے۔ میاں صاحب کا خیال تھا کہ عید سے پہلے پہلے فضا بالکل صاف ہو جائےگی مگر اب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ شاید عید ہی کا روز روزِ قیامت ہو، کیونکہ ممٹی پر سے اب شہر کے قریب قریب ہر حصے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیتے تھے۔ رات کو بم پھٹنے کی ایسی ایسی ہولناک آوازیں آتی تھیں کہ صغریٰ اور بشارت ایک لحظے کے لیے بھی سو نہیں سکتے تھے۔ صغریٰ کو یوں بھی باپ کی تیمارداری کے لیے جاگنا پڑتا تھا، مگر اب یہ دھماکے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے دماغ کے اندر ہورہے ہیں۔ کبھی وہ اپنے مفلوج باپ کی طرف دیکھتی اور کبھی اپنے وحشت زدہ بھائی کی طرف۔۔۔ ستر برس کا بڈھا ملازم اکبر تھا جس کا وجود ہونے نہ ہونے کے برابر تھا۔ وہ سارا دن اور ساری رات اپنی کوٹھری میں کھانستا کھنکارتا اور بلغم نکالتا رہتا تھا۔ ایک روز تنگ آکر صغریٰ اس پر برس پڑی، ’’ تم کس مرض کی دوا ہو۔ دیکھتے نہیں ہو، میاں صاحب کی کیا حالت ہے۔ اصل میں تم پرلے درجے کے نمک حرام ہو۔ اب خدمت کا موقعہ آیا ہے تو دمے کا بہانہ کرکے یہاں پڑے رہتے ہو۔۔۔ وہ بھی خادم تھے جو آقا کے لیے اپنی جان تک قربان کردیتے تھے۔‘‘\n\nصغریٰ اپنا جی ہلکا کرکے چلی گئی۔ بعد میں اس کو افسوس ہوا کہ ناحق اس غریب کو اتنی لعنت ملامت کی۔رات کا کھانا تھال میں لگا کر اس کی کوٹھری میں گئی تو دیکھا خالی ہے۔ بشارت نے گھر میں ادھر ادھر تلاش کیا مگر وہ نہ ملا۔ باہر کے دروازے کی کنڈی کھلی تھی جس کا یہ مطلب تھا کہ وہ میاں صاحب کے لیے کچھ کرنے گیا ہے۔ صغریٰ نے بہت دعائیں مانگیں کہ خدا اسے کامیاب کرے لیکن دو دن گزر گئے اور وہ نہ آیا۔\n\nشام کا وقت تھا۔ ایسی کئی شامیں صغریٰ اور بشارت دیکھ چکے تھے۔ جب عید کی آمد آمد کے ہنگامے برپا ہوتے تھے، جب آسمان پر چاند دیکھنے کے لیے ان کی نظریں جمی رہتی تھیں۔ دوسرے روز عید تھی۔ صرف چاند کو اس کا اعلان کرنا تھا۔ دونوں اس اعلان کے لیے کتنے بے تاب ہوا کرتے تھے۔ آسمان پر چاند والی جگہ پر اگر بادل کا کوئی ہٹیلا ٹکڑہ جم جاتا توکتنی کوفت ہوتی تھی انھیں مگر اب چاروں طرف دھوئیں کے بادل تھے۔ صغریٰ اور بشارت دونوں ممٹی پر چڑھے۔ دور کہیں کہیں کوٹھوں پر لوگوں کے سائے دھبوں کی صورت میں دکھائی دیتے تھے،مگر معلوم نہیں یہ چاند دیکھ رہے تھے یا جگہ جگہ سلگتی اور بھڑکتی ہوئی آگ۔\n\nچاند بھی کچھ ایسا ڈھیٹ تھا کہ دھوئیں کی چادر میں سے بھی نظر آگیا۔ صغریٰ نے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی کہ خدا اپنا فضل کرے اور اس کے باپ کو تندرستی عطا فرمائے۔ بشارت دل ہی دل میں کوفت محسوس کررہا تھا کہ گڑ بڑ کے باعث ایک اچھی بھلی عید غارت ہوگئی۔\n\nدن ابھی پوری طرح ڈھلا نہیں تھا۔ یعنی شام کی سیاہی ابھی گہری نہیں ہوئی تھی۔ میاں صاحب کی چارپائی چھڑکاؤ کیے ہوئے صحن میں بچھی تھی۔وہ اس پر بے حس و حرکت لیٹے تھے اور دور آسمان پر نگاہیں جمائے جانے کیا سوچ رہے تھے۔ عید کا چاند دیکھ کر جب صغریٰ نے پاس آکر انھیں سلام کیا تو انہوں نے اشارے سے جواب دیا۔ صغریٰ نے سر جھکایا تو انہوں نے وہ بازو جو ٹھیک تھا اٹھایا اور اس پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔ صغریٰ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے تو میاں صاحب کی آنکھیں بھی نمناک ہوگئیں، مگر انھوں نے تسلی دینے کی خاطر بمشکل اپنی نیم مفلوج زبان سے یہ الفاظ نکالے، ’’اللہ تبارک و تعالیٰ سب ٹھیک کردے گا۔‘‘\n\nعین اسی وقت باہر دروازے پر دستک ہوئی۔ صغریٰ کا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ اس نے بشارت کی طرف دیکھا۔ جس کا چہرہ کاغذ کی طرح سفید ہوگیا تھا۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ میاں صاحب صغریٰ سے مخاطب ہوئے، ’’دیکھو، کون ہے!‘‘\n\nصغریٰ نے سوچا کہ شاید بڈھا اکبر ہو۔ اس خیال ہی سے اس کی آنکھیں تمتما اٹھیں۔ بشارت کا بازو پکڑ کر اس نے کہا، ’’جاؤ دیکھو۔۔۔ شاید اکبر آیا ہے۔‘‘ یہ سن کر میاں صاحب نے نفی میں یوں سر ہلایا جیسے وہ یہ کہہ رہے ہیں۔’’نہیں۔۔۔ یہ اکبر نہیں ہے۔‘‘ صغریٰ نے کہا۔ ’’تو اور کون ہو سکتا ہے ابا جی؟‘‘\n\nمیاں عبدالحئی نے اپنی قوتِ گویائی پر زور دے کر کچھ کہنے کی کوشش کی کہ بشارت آگیا۔ وہ سخت خوفزدہ تھا۔ ایک سانس اوپر، ایک نیچے، صغریٰ کو میاں صاحب کی چارپائی سے ایک طرف ہٹا کر اس نے ہولے سے کہا، ’’ایک سکھ ہے!‘‘ صغریٰ کی چیخ نکل گئی۔ ’’سکھ؟ کیا کہتا ہے؟‘‘ بشارت نے جواب دیا، ’’کہتا ہے دروازہ کھولو۔‘‘\n\nصغریٰ نے کانپتے ہوئے بشارت کو کھینچ کر اپنے ساتھ چمٹا لیا اور باپ کی چارپائی پر بیٹھ گئی اور اپنے باپ کی طرف ویران نظروں سے دیکھنے لگی۔\n\nمیاں عبدالحئی کے پتلے پتلے بے جان ہونٹوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ پیدا ہو گئی۔’’جاؤ۔۔۔ گورمکھ سنگھ ہے!‘‘\n\nبشارت نے نفی میں سر ہلایا، ’’کوئی اور ہے؟‘‘\n\nمیاں صاحب نے فیصلہ کن انداز میں کہا، ’’جاؤ صغریٰ وہی ہے!‘‘\n\nصغریٰ اٹھی۔ وہ گورمکھ سنگھ کو جانتی تھی۔ پنشن لینے سے کچھ دیر پہلے اس کے باپ نے اس نام کے ایک سکھ کا کوئی کام کیا تھا۔ صغریٰ کو اچھی طرح یاد نہیں تھا۔شاید اس کو ایک جھوٹے مقدمے سے نجات دلائی تھی۔ جب سے وہ ہر چھوٹی عید سے ایک دن پہلے رومالی سویوں کا ایک تھیلا لے کر آیا کرتا تھا۔ اس کے باپ نے کئی مرتبہ اس سے کہا تھا، ’’سردار جی، آپ یہ تکلیف نہ کیا کریں۔‘‘ مگر وہ ہاتھ جوڑ کر جواب دیا کرتا تھا، ’’میاں صاحب واہگورو جی کی کرپا سے آپ کے پاس سب کچھ ہے۔ یہ تو ایک تحفہ ہے جو میں جناب کی خدمت میں ہر سال لے کر آتا ہوں۔ مجھ پر جو آپ نے احسان کیا تھا اس کا بدلہ تو میر ی سو پشت بھی نہیں چکا سکتی۔۔۔ خدا آپ کوخوش رکھے۔‘‘\n\nسردار گورمکھ سنگھ کو ہر سال عید سے ایک روز پہلے سویوں کا تھیلا لاتے اتنا عرصہ ہوگیا تھا کہ صغریٰ کو حیرت ہوئی کہ اس نے دستک سن کر یہ کیوں خیال نہ کیا کہ وہی ہوگا، مگر بشارت بھی تو اس کو سیکڑوں مرتبہ دیکھ چکا تھا، پھر اس نے کیوں کہا کوئی اور ہے۔۔۔ اور کون ہو سکتا ہے۔ یہ سوچتی صغریٰ ڈیوڑھی تک پہنچی۔ دروازہ کھولے یا اندر ہی سے پوچھے، اس کے متعلق وہ ابھی فیصلہ ہی کررہی تھی کہ دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ صغریٰ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ بمشکل تمام اس نے حلق سے آواز نکالی ہے، ’’کون ہے؟‘‘ بشارت پاس کھڑا تھا۔ اس نے دروازے کی ایک درز کی طرف اشارہ کیا اور صغریٰ سے کہا، ’’اس میں سے دیکھو؟‘‘\n\nصغریٰ نے درز میں سے دیکھا۔ گورمکھ سنگھ نہیں تھا۔ وہ تو بہت بوڑھا تھا، لیکن یہ جو باہر تھڑے پر کھڑا تھا جوان تھا۔ صغریٰ ابھی درز پر آنکھ جمائے اس کا جائزہ لے رہی تھی کہ اس نے پھر دروازہ کھٹکھٹایا۔ صغریٰ نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں کاغذ کا تھیلا تھا ویسا ہی جیسا گورمکھ سنگھ لایا کرتا تھا۔\n\nصغریٰ نے درز سے آنکھ ہٹائی اور ذرا بلند آواز میں دستک دینے والا سے پوچھا۔ ’’کون ہیں آپ؟‘‘ باہر سے آواز آئی، ’’جی۔۔۔ جی میں۔۔۔ میں سردار گورمکھ سنگھ کا بیٹا ہوں۔۔۔ سنتو کھ!‘‘\n\nصغریٰ کا خوف بہت حد تک دور ہوگیا۔ بڑی شائستگی سے اس نے پوچھا، ’’فرمائیے۔ آپ کیسے آئے ہیں؟‘‘ باہرسے آواز آئی، ’’ جی۔۔۔ جج صاحب کہاں ہیں۔‘‘ صغریٰ نے جواب دیا ، ’’بیمار ہیں۔‘‘ سردار سنتوکھ سنگھ نے افسوس آمیز لہجے میں کہا، ’’اوہ۔۔۔ پھر اس نے کاغذ کا تھیلا کھڑکھڑایا۔ ’’جی یہ سویاں ہیں۔۔۔ سردار جی کا دیہانت ہو گیا ہے۔۔۔ وہ مر گئے ہیں!‘‘ صغریٰ نے جلدی سے پوچھا، ’’مر گئے ہیں؟‘‘ باہر سے آواز آئی، ’’جی ہاں، ایک مہینہ ہوگیا ہے۔ مرنے سے پہلے انھوں نے مجھے تاکید کی تھی کہ دیکھو بیٹھا، میں جج صاحب کی خدمت میں پورے دس برسوں سے ہر چھوٹی عید پر سویاں لے جاتا رہا ہوں۔ یہ کام میرے مرنے کے بعد اب تمہیں کرنا ہوگا۔ میں نے انھیں بچن دیا تھا۔ جو میں پورا کررہا ہوں۔ لے لیجئے سویاں۔‘‘\n\nصغریٰ اس قدر متاثر ہوئی کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے تھوڑا سا دروازہ کھولا۔ سردار گورمکھ سنگھ کے لڑکے نے سویوں کا تھیلا آگے بڑھادیا جو صغریٰ نے پکڑ لیا اور کہا، ’’خدا سردار جی کو جنت نصیب کرے۔‘‘ گورمکھ سنگھ کا لڑکا کچھ توقف کے بعد بولا۔’’جج صاحب بیمار ہیں؟‘‘ صغریٰ نے جواب دیا۔’’جی ہاں!‘‘\n\n’’کیا بیماری ہے؟‘‘\n\n’’فالج‘‘\n\n’’اوہ۔۔۔ سردار جی زندہ ہوتے تو یہ انھیں یہ سن کر بہت دکھ ہوتا۔۔۔ مرتے دم تک انھیں جج صاحب کا احسان یاد تھا۔ کہتے تھے کہ وہ انسان نہیں دیوتا ہے۔۔۔ اللہ میاں انھیں زندہ رکھے۔۔۔ انھیں میرا سلام۔‘‘\n\nاور یہ کہہ کر وہ تھڑے سے اتر گیا۔۔۔ صغریٰ سوچتی ہی رہ گئی کہ وہ اسے ٹھہرائے اور کہے کے جج صاحب کے لیے کسی ڈاکٹر کا بندوبست کردے۔\n\nسردار گورمکھ سنگھ کا لڑکا سنتوکھ جج صاحب کے مکان کےتھڑے سے اتر کر چند گز آگے بڑھا تو چار ٹھاٹا باندھے ہوئے آدمی اس کے پاس آئے۔ دوکے پاس جلتی مشعلیں تھیں اور دو کے پاس مٹی کے تیل کے کنستر اور کچھ دوسری آتش خیز چیزیں۔ ایک نے سنتوکھ سے پوچھا، ’’کیوں سردار جی، اپنا کام کر آئے؟‘‘\n\nسنتوکھ نے سر ہلا کر جواب دیا، ’’ہاں کر آیا۔‘‘\n\nاس آدمی نے ٹھاٹے کے اندر ہنس کر پوچھا، ’’تو کردیں معاملہ ٹھنڈا جج صاحب کا۔‘‘\n\n’’ہاں۔۔۔ جیسے تمہاری مرضی!‘‘ یہ کہہ کر سردار گورمکھ سنگھ کا لڑکا چل دیا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88%D8%B1%D9%85%DA%A9%DA%BE_%D8%B3%D9%86%DA%AF%DA%BE_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%D8%B5%DB%8C%D8%AA"} {"title": "گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیں", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیں\nدیکھ کے جن کو نیند آ جائے وہ متوالی آنکھیں ہیں\n\nمنہ سے پلا کیا سرکانا اس بادل میں بجلی ہے\nسوجھتی ہے ایسی ہی نہیں جو پھوٹنے والی آنکھیں ہیں\n\nچاہ نے اندھا کر رکھا ہے اور نہیں تو دیکھنے میں\nآنکھیں آنکھیں سب ہیں برابر کون نرالی آنکھیں ہیں\n\nبے جس کے اندھیر ہے سب کچھ ایسی بات ہے اس میں کیا\nجی کا ہے یہ باؤلا پن یا بھولی بھالی آنکھیں ہیں\n\nآرزوؔ اب بھی کھوٹے کھرے کو کر کے الگ ہی رکھ دیں گی\nان کی پرکھ کا کیا کہنا ہے جو ٹکسالی آنکھیں ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88%D8%B1%DB%92_%DA%AF%D9%88%D8%B1%DB%92_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%86%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گوش کر فریاد عاشق جان کر", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گوش کر فریاد عاشق جان کر\nنالۂ بلبل پہ اے گل کان کر\n\nجب بدل کپڑے کفن کا دھیان کر\nغسل میت جان جب اشنان کر\n\nکھال مجھ محو مژہ کی جان کر\nرکھ دیا چھلنی کا سینہ چھان کر\n\nمٹ گئے اس کی چقوں کو دیکھ کر\nبلبلے ابھرے جو سینہ تان کر\n\nسخت جاں وہ ہوں جو ہو مجھ پر رواں\nاسلحے رہ جائیں لوہا مان کر\n\nآگ میں اپنے مثال شمع جل\nپر زبان سے اف نہ اے نادان کر\n\nنشتر مژگاں ہو بوندی کی کٹار\nبوند بھر پانی پلا احسان کر\n\nاے در یکتا جناب خضر نے\nاک مجھے پایا زمانہ چھان کر\n\nجسم زار قیس کا پوچھا جو حال\nرکھ دیا مکڑی نے جالا تان کر\n\nغم گناہوں کا نہ کھا شادؔ حزیں\nرحمۃ للعالمیں پر دھیان کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88%D8%B4_%DA%A9%D8%B1_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "گولی", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "ٹھنڈا گوشت", "year": "1950", "text_ur": "شفقت دوپہرکو دفتر سے آیا تو گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے۔ عورتیں تھیں جو بڑے کمرے میں بیٹھی تھیں۔ شفقت کی بیوی عائشہ ان کی مہمان نوازی میں مصروف تھی۔ جب شفقت صحن میں داخل ہوا تو اس کی بیوی باہر نکلی اور کہنے لگی، ’’عزیز صاحب کی بیوی اور ان کی لڑکیاں آئی ہیں۔‘‘\n\nشفقت نے ہیٹ اتار کر ماتھے کا پسینہ پونچھا، ’’کون عزیز صاحب؟‘‘\n\nعائشہ نے آواز دبا کر جواب دیا، ’’ہائے، آپ کے ابا جی کے دوست۔‘‘\n\n’’اوہ۔۔۔ عزیز چچا۔‘‘\n\n’’ہاں، ہاں وہی۔‘‘\n\nشفقت نے ذرا حیرت سے کہا، ’’مگر وہ تو افریقہ میں تھے۔‘‘\n\nعائشہ نے منہ پر انگلی رکھی، ’’ذرا آہستہ بات کیجیے۔ آپ تو چلانا شروع کردیتے ہیں۔۔۔ وہ افریقہ ہی میں تھے، لیکن جو افریقہ میں ہو کیا واپس نہیں آسکتا۔‘‘\nلو، اب تم لگیں مین میخ کرنے۔‘‘\n\n’’آپ تو لڑنے لگے، عائشہ نے ایک نظر اندر کمرے میں ڈالی، عزیز صاحب افریقہ میں ہیں، لیکن ان کی بیوی اپنی لڑکی کی شادی کرنے آئی ہیں۔ کوئی اچھابر ڈھونڈ رہی ہیں۔‘‘\n\nاندر سے عزیز کی بیوی کی آواز آئی، ’’عائشہ تم نے روک کیوں لیا شفقت کو۔ آنے دو۔۔۔ آؤ شفقت بیٹا، آؤ۔۔۔ تمہیں دیکھے اتنی مدت ہوگئی ہے۔‘‘\n\n’’آیا چچی جان‘‘شفقت نے ہیٹ اسٹینڈ کی کھونٹی پر رکھا اور اندرکمرے میں داخل ہوا، ’’آداب عرض چچی جان۔‘‘\n\nعزیز کی بیوی نے اٹھ کر اس کو دعائیں دیں، سر پر ہاتھ پھیرا اور بیٹھ گئی۔ شفقت بیٹھنے لگا تو اس نے دیکھا کہ سامنے صوفے پر دو گوری گوری لڑکیاں بیٹھی ہیں۔ ایک چھوٹی تھی، دوسری بڑی۔ دونوں کی شکل آپس میں ملتی تھی۔ عزیز صاحب بڑے وجیہہ آدمی تھے۔ ان کی یہ وجاہت ان لڑکیوں میں بڑے دلکش طور پر تقسیم ہوئی تھی۔\n\nآنکھیں ماں کی تھیں نیلی۔ بال بھورے اور کافی لمبے۔ دونوں کی دو چوٹیاں تھیں۔ چھوٹی کا چہرہ بڑی کے مقابلے میں زیادہ نکھرا ہوا تھا۔ بڑی کا چہرہ ضرورت سے زیادہ سنجیدہ تھا۔\n\nان کی ماں ان سے مخاطب ہوئی، ’’بیٹا سلام کرو بھائی کو۔‘‘\n\nچھوٹی نے اٹھ کر شفقت کو آداب عرض کیا۔بڑی نے بیٹھے بیٹھے ذرا جھک کر کہا، ’’تسلیمات۔‘‘\n\nشفقت نے مناسب و موزوں جواب دیا۔ اس کے بعد عزیز صاحب اور افریقہ کے متعلق باتوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ نیروبی، ٹانگانیکا، د ارالسلام، کراتینا، یوگنڈا، ان سب کی باتیں ہوئیں۔ کہاں کا موسم اچھا ہے، کہاں کا خراب ہے، پھل کہاں اچھے ہوتے ہیں۔۔۔ پھلوں کا ذکر چھیڑا تو چھوٹی نے کہا، ’’یہاں ہندوستان میں تو نہایت ہی ذلیل پھل ملتے ہیں۔‘‘\n\n’’جی نہیں، بڑے اچھے پھل ملتے ہیں، بشرطیکہ موسم ہو۔‘‘ شفقت نے اپنے ہندوستان کی آبرو بچانا چاہی۔\n\n’’غلط ہے۔‘‘ چھوٹی نے ناک چڑھائی، ’’امی جان، یہ جو کل آپ نے مارکٹ سے مالٹے لیے تھے، کیا وہاں کے مچنگوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔‘‘\n\nلڑکیوں کی ماں بولی، ’’شفقت بیٹا ،یہ صحیح کہتی ہے۔ یہاں کے مالٹے وہاں کے مچنگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔‘‘\n\nعائشہ نے چھوٹی سے پوچھا، ’’طلعت، یہ مچنگا کیا ہوتا ہے۔۔۔ نام تو بڑا عجیب و غریب ہے۔‘‘\n\nطلعت مسکرائی، ’’آپا، ایک پھل ہے،مالٹے اور میٹھے کی طرح۔۔۔ اتنا لذیذ ہوتا ہے کہ میں بیان نہیں کرسکتی۔۔۔ اور رس۔۔۔ ایک نچوڑیئے۔۔۔یہ گلاس جو تپائی پر پڑا ہے، لبالب بھر جائے۔‘‘\n\nشفقت نے گلاس کی طرف دیکھا اوراندازہ لگانے کی کوشش کی کہ وہ پھل کتنا بڑا ہوگا، ’’ایک مچنگے سے اتنا بڑا گلاس بھر جاتا ہے؟‘‘\n\nطلعت نے بڑے فخریہ انداز میں جواب دیا، ’’جی ہاں!‘‘\n\nشفقت نے یہ سن کر کہا، ’’تو پھل یقیناً بہت بڑا ہوگا۔‘‘\n\nطلعت نے سر ہلایا، ’’جی نہیں۔۔۔ بڑا ہوتا ہے نہ چھوٹا۔۔۔ بس آپ کے یہاں کے بڑے مالٹے کے برابر ہوتا ہے۔۔۔یہی تو اس کی خوبی ہے کہ رس ہی رس ہوتا ہے اس میں۔۔۔ اور امی جان وہاں کا انناس۔۔۔ بڑی روٹی کے برابر اس کی ایک قاش ہوتی ہے۔‘‘\nدیر تک انناس کی باتیں ہوتی رہیں۔ طلعت بہت باتونی تھی۔ افریقہ سے اس کو عشق تھا۔ وہاں کی ہر چیز اس کو پسند تھی۔ بڑی جس کا نام نگہت تھا،بالکل خاموش بیٹھی تھی۔ اس نے گفتگو میں حصہ نہ لیا۔ شفقت کو جب محسوس ہوا کہ وہ خاموش بیٹھی رہی ہے تو وہ اس سے مخاطب ہوا، ’’آپ کو غالباً ان باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘\n\nنگہت نے اپنے ہونٹ کھولے، ’’جی نہیں۔۔۔ سنتی رہی ہوں بڑی دلچسپی سے۔‘‘\n\nشفقت نے کہا، ’’لیکن آپ بولیں نہیں۔‘‘\n\nعزیز کی بیوی نے جواب دیا، ’’شفقت بیٹا اس کی طبیعت ہی ایسی ہے۔‘‘\n\nشفقت نے ذرا بے تکلفی سے کہا، ’’چچی جان۔۔۔ اس عمر میں لڑکیوں کو خاموشی پسند نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی کوئی بات ہے کہ منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے رہو۔پھر وہ نگہت سے مخاطب ہوا،’’جناب آپ کو بولنا پڑے گا۔‘‘\n\nنگہت کے ہونٹوں پر ایک شرمیلی مسکراہٹ پیدا ہوئی، ’’بول تو رہی ہوں بھائی جان۔‘‘\n\nشفقت مسکرایا، ’’تصویروں سے دلچسپی ہے آپ کو۔‘‘\n\nنگہت نے نگاہیں نیچی کرکے جواب دیا، ’’جی ہے۔‘‘\n\n’’تو اٹھیے میں آپ کو اپنا البم دکھاؤں۔۔۔ دوسرے کمرے میں ہے۔یہ کہہ کر شفقت اٹھا، ’’چلیے۔‘‘\n\nعائشہ نے شفقت کا ہاتھ دبایا۔ پلٹ کر اس نے اپنی بیوی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کوئی اشارہ کیا جسے شفقت نہ سمجھ سکا۔ وہ متحیر تھا کہ خدا معلوم کیا بات تھی کہ اس کی بیوی نے اس کا ہاتھ دبایا اور اشارہ بھی کیا۔ وہ سوچ ہی رہا تھا کہ طلعت کھٹ سے اٹھی، ’’چلیے بھائی جان۔۔۔ مجھے دوسروں کے البم دیکھنے کا شوق ہے۔۔۔ میرے پاس بھی ایک کولکشن ہے۔‘‘\nشفقت، طلعت کے ساتھ دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ نگہت، خاموش بیٹھی رہی۔ شفقت، طلعت کو تصویریں دکھاتا رہا، حسب عادت طلعت بولتی رہی۔شفقت کا دماغ کسی اور طرف تھا۔ وہ نگہت کے متعلق سوچ رہا تھا کہ وہ اس قدر خاموش کیوں ہے۔ تصویریں دیکھنے اس کے ساتھ کیوں نہ آئی۔ جب اس نے اس کو چلنے کے لیے کہا تو عائشہ نے اس کا ہاتھ کیوں دبایا۔ اس اشارے کا کیا مطلب تھا جو اس نے آنکھوں کے ذریعے کیا تھا۔\n\nتصویریں ختم ہوگئیں۔ طلعت نے البم اٹھایا اور شفقت سے کہا، ’’باجی کو دکھاتی ہوں۔ ان کو بہت شوق ہے تصویریں جمع کرنے کا۔‘‘\n\nشفقت پوچھنے ہی والا تھا کہ اگر ان کو شوق ہے تو وہ اس کے ساتھ کیوں نہ آئیں مگر طلعت البم اٹھا کر کر کمرے سے نکل گئی۔شفقت بڑے کمرے میں داخل ہوا تو نگہت بڑی دلچسپی سے البم کی تصویریں دیکھ رہی تھی۔ ہر تصویر اس کو مسرت پہنچاتی تھی۔\n\nعائشہ لڑکیوں کی ماں سے باتیں کرنے میں مشغول تھی۔ شفقت کنکھیوں سے دیکھتا رہا۔ اس کا چہرہ جو پہلے ضرورت سے زیادہ سنجیدگی کی دھند میں لپٹا تھا، اب بشاش تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ تصویریں جو آرٹ کا بہترین نمونہ تھیں اس کو راحت بخش رہی ہیں۔ اس کی آنکھوں میں اب چمک تھی۔ لیکن جب ایک گھوڑے اور صحت مند عورت کی تصویر آئی تو یہ چمک ماند پڑ گئی۔ ایک ہلکی سی آہ اس کے سینے میں لرزی اور وہیں دب گئی۔ تصویریں ختم ہوئیں تو نگہت نے شفقت کی طرف دیکھا اور بڑے پیارے انداز میں کہا، ’’بھائی جان شکریہ!‘‘\n\nشفقت نے البم نگہت کے ہاتھ سے لیا اور مینٹل پیس پر رکھ دیا۔ اس کے دماغ میں کھد بد ہورہی تھی۔ اس کو ایسا لگتا تھا کہ کوئی بہت بڑا اسرار اس لڑکی کی زندگی کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس نے سوچا، شاید کوئی نامکمل رومان ہو، یا کوئی نفسیاتی حادثہ۔\n\nچائے آئی تو شفقت، نگہت سے مخاطب ہوا، ’’اٹھیے، چائے بنائیے۔۔۔ یہ پرولج لیڈیز کا ہے۔‘‘\n\nنگہت خاموش رہی لیکن طلعت پھدک کر اٹھی، ’’بھائی جان میں بناتی ہوں۔‘‘\n\nنگہت کا چہرہ پھر دھند میں ملفوف ہوگیا۔ شفقت کا تجسس بڑھتا گیا۔ ایک بار جب اس نے غیر ارادی طور پر نگہت کو گھور کے دیکھا تو وہ سٹپٹا سی گئی۔ شفقت کو دل ہی دل میں اس بات کا افسوس ہوا کہ اس نے کیوں ایسی نازیبا حرکت کی۔\n\nچائے پر ادھر ادھر کی بے شمار باتیں ہوئیں۔ طلعت نے ان میں سب سے زیادہ حصہ لیا۔ ٹینس کا ذکر آیا تو اس نے شفقت کوبڑے فخریہ انداز میں جو شیخی کی حد تک جا پہنچا تھا، بتایا کہ وہ نیروبی میں نمبرون ٹینس پلیئر تھی اور پندرہ بیس کپ جیت چکی تھی۔۔۔ نگہت بالکل خاموش رہی، اس کی خاموشی بڑی اداس تھی۔ صاف عیاں تھا کہ اس کو اس بات کا احساس ہے کہ وہ خاموش ہے۔\n\nایک بات جو شفقت نے خاص طور پر نوٹ کی ،یہ تھی کہ عزیز کی بیوی کی ممتا کا رخ زیادہ ترنگہت کی طرف تھا۔ اس نے خود اٹھ کر بڑے پیار محبت سے اس کو کریم رول دیے۔ منہ پونچھنے کے لیے اپنا رومال دیا۔ اس سے کوئی بات کرتی تھی تو اس میں پیار بھی ہوتا تھا۔ ایسا لگتا تھاکہ وہ باتوں کے ذریعے سے بھی اس کے سر پر محبت بھرا ہاتھ پھیر رہی ہے یا اس کو چمکا رہی ہے۔رخصت کا وقت آیا تو عزیز کی بیوی اٹھی، برقع اٹھایا، عائشہ سے گلے ملی۔ شفقت کو دعائیں دیں اور نگہت کے پاس جا کر آنکھوں میں آنسو لا دینے والے پیار سے کہا، ’’چلو بیٹا چلیں۔‘‘\n\nطلعت پھدک کر اٹھی۔ عزیز کی بیوی نے نگہت کا ایک بازو تھاما، دوسرا بازو طلعت نے پکڑا۔ اس کو اٹھایا گیا۔۔۔ شفقت نے دیکھا کہ اس کا نچلا دھڑ بالکل بے جان ہے۔۔۔ ایک لحظے کے لیے شفقت کا دل و دماغ ساکت ہوگیا جب وہ سنبھلا تو اسے اپنے اندر ایک ٹیس سی اٹھتی محسوس ہوئی۔\n\nلڑکھڑاتی ہوئی ٹانگوں پرماں اور بہن کا سہارا لیے نگہت غیر یقینی قدم اٹھا رہی تھی۔ اس نے ماتھے کے قریب ہاتھ لے جا کر شفقت اور عائشہ کو آداب عرض کیا۔ کتنا پیارا انداز تھا۔ مگر اس کے ہاتھ نے شفقت کے دل پر جیسے گھونسہ مارا۔۔۔ سارا اسرار اس پر واضح ہوگیا تھا۔ سب سے پہلا خیال اس کے دماغ میں یہ آیا، ’’قدرت کیوں اتنی بے رحم ہے۔۔۔ ایسی پیاری لڑکی اور اس کے ساتھ اس قدر ظالمانہ بہیمانہ سلوک۔۔۔ اس معصوم کا آخر گناہ کیا تھا۔ جس کی سزا اتنی کڑی دی گئی؟‘‘\n\nسب چلے گئے۔ عائشہ ان کو باہر تک چھوڑنے گئی۔ شفقت ایک فلسفی بن کر سوچتا رہ گیا، اتنے میں شفقت کے دوست آگئے اور وہ بھی اپنی بیوی سے نگہت کے بارے میں کوئی بات نہ کرسکا۔۔۔ اپنے دوستوں کے ساتھ تاش کھیلنے میں ایسا مشغول ہوا کہ نگہت اور اس کے روگ کو بھول گیا۔ جب رات ہوگئی اور عائشہ نے اسے نوکر کے ذریعے سے کھانے پر بلوایا تو اسے افسوس ہوا کہ اس نے محض ایک کھیل کی خاطر نگہت کوفراموش کردیا، چنانچہ اس کا ذکر اس نے عائشہ سے بھی کیا، لیکن اس نے کہا، ’’آپ کھانا کھائیے، مفصل باتیں پھر ہو جائیں گی۔‘‘\n\nمیاں بیوی دونوں اکٹھے سوتے تھے۔ جب سے ان کی شادی ہوئی تھی وہ کبھی رات کو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئے تھے، اور ان کی شادی کو قریب قریب چھ برس ہوگئے تھے، مگر اس دوران میں کوئی بچہ نہ ہوا تھا۔ ڈاکٹروں کا یہ کہنا تھاکہ عائشہ میں کچھ قصور ہے جو صرف آپریشن سے دور ہوسکتا ہے، مگر وہ اس سے بہت خائف تھی۔ میاں بیوی بہت پیار محبت کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے درمیان کوئی رنجش نہیں تھی۔\n\nرات کو وہ اکٹھے لیٹتے۔ حسب معمول جب ایک دوسرے کے ساتھ لیٹے تو شفقت کو نگہت یاد آئی۔ اس نے ایک آہ بھر کر اپنی بیوی سے پوچھا،’ ’عائشہ، نگہت بے چاری کو کیا روگ ہے؟‘‘عائشہ نے بھی آہ بھری اور بڑے افسوس ناک لہجے میں کہا، ’’تین برس کی ننھی منی بچی تھی کہ تپِ محرقہ ہوا۔ نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا۔‘‘\n\nشفقت کے دل میں نگہت کے لیے ہمدردی کا بے پناہ جذبہ پیدا ہوا۔ اس نے اپنی بیوی کی پیٹھ کو اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا اور کہا، ’’عائشہ، خدا کیوں اتنا ظالم ہے؟‘‘\nعائشہ نے کوئی جواب نہ دیا۔ شفقت کو دن کے واقعات یاد آنے لگے۔ جب میں نے اس سے کہا تھا کہ چلو، میں تمہیں البم دکھاتا ہوں تو تم نے میرا ہاتھ اسی لیے دبایا تھا کہ۔۔۔‘‘\n\n’’ہاں ہاں،اور کیا۔۔۔؟ آپ تو بار بار۔۔۔‘‘\n\n’’خدا کی قسم مجھے معلوم نہ تھا۔‘‘\n\n’’اس کو اس کا بہت احساس ہے کہ وہ اپاہج ہے۔‘‘\n\n’’تم نے یہ کہا ہے تو مجھے ایسا معلوم ہوا ہے کہ میرے سینے میں کسی نے تیر مارا ہے۔‘‘\n\n’’جب وہ آئی، تو خدا کی قسم مجھے بہت دکھ ہوا۔۔۔ بے چاری کو پیشاب کرنا تھا۔ ماں اور چھوٹی بہن ساتھ گئیں۔ ازار بند کھولا۔۔۔۔ پھر بند کیا۔۔۔ کتنی خوب صورت ہے۔۔۔ بیٹھی ہو۔۔۔‘‘\n\n’’تو خدا کی قسم بالکل پتا نہیں چلتا کہ فالج زدہ ہے۔‘‘\n\n’’بڑی ذہین لڑکی ہے۔‘‘\n\n’’اچھا؟‘‘\n\n’’ماں کہتی تھی کہ اس نے کہا تھا کہ امی جان میں شادی نہیں کروں گی، کنواری رہوں گی۔‘‘\n\nشفقت تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوگیا۔ اس کے بعد اس نے انتہائی دکھ محسوس کرتے ہوئے کہا، ’’تو اس کو اس بات کا احساس ہے کہ اس سے شادی کرنے کے لیے کوئی رضا مند نہیں ہوگا۔‘‘\n\nعائشہ نے شفقت کی چھاتی کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرتے ہوئے کہا،’’شفقت صاحب کون شادی کرے گا ایک اپاہج سے؟‘‘\n\n’’نہیں نہیں، ایسا نہ کہو عائشہ!‘‘\n\n’’اتنی بڑی قربانی کون کرسکتا ہے شفقت صاحب؟‘‘\n\n’’تم ٹھیک کہتی ہو۔‘‘\n\n’’خوبصورت ہے، اچھے کھاتے پیتے ماں باپ کی لڑکی ہے۔۔۔ سب ٹھیک ہے، مگر۔۔۔‘‘\n\n’’میں سمجھتا ہوں۔۔۔ لیکن۔۔۔‘‘\n\n’’ مردوں کے دل میں رحم کہاں؟‘‘\n\nشفقت نے کروٹ بدلی،’’ ایسا نہ کہو، عائشہ!‘‘\n\nعائشہ نے بھی کروٹ بدلی۔ دونوں روبرو ہوگئے، ’’میں سب جانتی ہوں، کوئی ایسا مرد ڈھونڈیے جو اس بیچاری سے شادی کرنے پر آمادہ ہو۔‘‘\n\n’’مجھے معلوم نہیں، لیکن۔۔۔‘‘\n\n’’بڑی بہن ہے، غریب کوکتنا بڑا دکھ ہے کہ اس کی چھوٹی بہن کی شادی کی بات چیت ہورہی ہے۔‘‘\n\n’’صحیح کہتی ہو تم۔‘‘\n\nعائشہ نے ایک لمبی آہ بھری، ’’کیا بے چاری اسی طرح ساری عمر کڑھتی رہے گی۔‘‘\n\n’’نہیں!‘‘ یہ کہہ کر شفقت اٹھ کر بیٹھ گیا۔\n\nعائشہ نے پوچھا، ’’کیا مطلب؟‘‘\n\n’’تمہیں اس سے ہمدردی ہے؟‘‘\n\n’’کیوں نہیں؟‘‘\n\n’’خدا کی قسم کھا کرکہو۔‘‘\n\n’’ہائے، یہ بھی کوئی قسم کھلوانے کی بات ہے، ہر انسان کو اس سے ہمدردی ہونی چاہیے۔‘‘\n\nشفقت نے چند لمحات خاموش رہنے کے بعد کہا، ’’تو میں نے ایک بات سوچی ہے؟‘‘\n\nعائشہ نے خوش ہو کرکہا، ’’کیا؟‘‘\n\n’’مجھے ہمیشہ اس بات کا احساس رہا ہے تم بہت بلند خیال عورت ہو۔ آج تم نے میرے اس خیال کو ثابت کردیا ہے۔۔۔ میں نے۔۔۔ خدا میرے اس ارادے کو استقامت بخشے۔۔۔ میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ میں نگہت سے شادی کروں گا۔۔۔ سارا ثواب تمہیں ملے گا۔‘‘\n\nتھوڑی دیر خاموشی رہی، پھر ایک دم جیسے گولہ سا پھٹا۔۔۔۔\n\n’’شفقت صاحب! میں گولی مار دوں گی اسے،اگر آپ نے اس سے شادی کی۔‘‘\n\nشفقت نے ایسا محسوس کیا کہ اسے زبردست گولی لگی ہے۔اور وہ مر کر اپنی بیوی کی آغوش میں دفن ہو گیا ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88%D9%84%DB%8C"} {"title": "گونجتا ہے نالۂ مہتاب آدھی رات کو", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گونجتا ہے نالۂ مہتاب آدھی رات کو\nٹوٹ جاتے ہیں سہانے خواب آدھی رات کو\n\nبھاگتے سایوں کی چیخیں ٹوٹتے تاروں کا شور\nمیں ہوں اور اک محشر بے خواب آدھی رات کو\n\nشام ہی سے بزم انجم نشۂ غفلت میں تھی\nچاند نے بھی پی لیا زہراب آدھی رات کو\n\nاک شکستہ خواب کی کڑیاں ملانے آئے ہیں\nدیر سے بچھڑے ہوئے احباب آدھی رات کو\n\nدولت احساس غم کی اتنی ارزانی ہوئی\nنیند سی شے ہو گئی نایاب آدھی رات کو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88%D9%86%D8%AC%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D9%85%DB%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D8%AF%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D9%88"} {"title": "گوہر اشک سے لبریز ہے سارا دامن", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گوہر اشک سے لبریز ہے سارا دامن\nآج کل دامن دولت ہے ہمارا دامن\n\nاے جنوں باد بہاری سے نہیں جنبش میں\nکچھ گریبان سے کرتا ہے اشارا دامن\n\nوصل کی رات ہے بگڑو نہ برابر تو رہے\nپھٹ گیا میرا گریبان تمہارا دامن\n\nجامہ چین نے نہیں یہ پھول چنے نرگس کے\nسیکڑوں آنکھوں سے کرتا ہے نظارا دامن\n\nبہت اے دست جنوں تنگ نظر آتا ہے\nباندھ دے دامن صحرا سے ہمارا دامن\n\nخوب پہونچا دیا اے دست جنوں ہاتھوں ہاتھ\nمل گیا آج گریبان سے سارا دامن\n\nآمد آمد مرے اشکوں کی مگر سن لی ہے\nجھاڑ کر گرد جو صحرا نے سنوارا دامن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88%DB%81%D8%B1_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D9%84%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D8%B2_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86"} {"title": "گوہر مقصود", "poet_page": "مصنف:راشد الخیری", "kind": "prose", "section": null, "year": null, "text_ur": "== فہرست کتاب ==\n* خیالستان کی پری\n* لال کی تلاش", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88%DB%81%D8%B1_%D9%85%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%AF"} {"title": "گویا زبان حال تھی ساحرؔ خموش تھا", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گویا زبان حال تھی ساحرؔ خموش تھا\nیہ سعئ ضبط تھی وہ تقاضائے جوش جوش تھا\n\nپردے میں لن ترانی تھی رگ رگ میں جوش تھا\nچمکی جو برق حسن نہ میں تھا نہ ہوش تھا\n\nمیخانۂ‌ خیال میں مستی کا جوش تھا\nگل تھا چراغ عقل میں گم کردہ ہوش تھا\n\nوصوت تھا میرا نظارہ و کلام\nراز و نیاز بے اثر چشم و گوش تھا\n\nکیفیتیں ہیں کچھ مجھے جوش جنوں کی یاد\nبیٹھا جو کوئی نیش رگ جاں میں نوش تھا\n\nتیرے قتیل غمزہ کو تن تھا وبال جاں\nتیرے شہید ناز کو سربار دوش تھا\n\nدل کان‌ معرفت کا تھا اک جوہر‌ لطیف\nگو عنصری وجود میں یہ خاک پوش تھا\n\nکیا مستیاں تھیں شب نگہ‌ مست ناز سے\nساقی بہ غمزہ بغچہ‌ مے فروش تھا\n\nمینا نے گوش‌‌ ام میں جھک کر کہا یہ راز\nحق حق‌ نوید وصل‌ و پیام سروش تھا\n\nکیا کیا تھیں حسن و عشق میں باہم اشارتیں\nتھا کوئی سخت گیر کوئی سخت کوش تھا\n\nصرف نظارہ چشم تھی وقف کلام‌ گوش\nدل جلوہ‌ مست اور لب ساحرؔ خموش تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%D8%A7%D8%AD%D8%B1%D8%94_%D8%AE%D9%85%D9%88%D8%B4_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "گُل پژمردہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "کس زباں سے اے گُلِ پژمردہ تُجھ کو گُل کہوں\nکس طرح تجھ کو تمنّائے دلِ بُلبل کہوں\nتھی کبھی موجِ صبا گہوارۂ جُنباں ترا\nنام تھا صحنِ گُلستاں میں گُلِ خنداں ترا\nتیرے احساں کا نسیمِ صُبح کو اقرار تھا\nباغ تیرے دم سے گویا طبلۂ عطّار تھا\n\nتجھ پہ برساتا ہے شبنم دیدۂ گریاں مرا\nہے نہاں تیری اُداسی میں دلِ ویراں مرا\nمیری بربادی کی ہے چھوٹی سی اک تصویر تُو\nخواب میری زندگی تھی جس کی ہے تعبیر تُو\nہمچو نَے از نیستانِ خود حکایت می کنم\nبشنو اے گُل! از جُدائی ہا شکایت می کنم", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%8F%D9%84_%D9%BE%DA%98%D9%85%D8%B1%D8%AF%DB%81"} {"title": "گُلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "گُلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ\nہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ\n\nآیا ہے تُو جہاں میں مثالِ شرار دیکھ\nدَم دے نہ جائے ہستیِ نا پائدار دیکھ\n\nمانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں\nتُو میرا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ\n\nکھولی ہیں ذوقِ دید نے آنکھیں تری اگر\nہر رہ گزر میں نقشِ کفِ پائے یار دیکھ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%8F%D9%84%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%90_%DB%81%D8%B3%D8%AA_%D9%88_%D8%A8%D9%88%D8%AF_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE"} {"title": "گُلِ رنگیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "تُو شناسائے خراشِ عُقدۂ مشکل نہیں\nاے گُلِ رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں\nزیبِ محفل ہے، شریکِ شورشِ محفل نہیں\nیہ فراغت بزمِ ہستی میں مجھے حاصل نہیں\nاس چمن میں مَیں سراپا سوز و سازِ آرزو\nاور تیری زندگانی بے گدازِ آرزو\n\nتوڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئِیں نہیں\nیہ نظر غیر از نگاہِ چشمِ صورت بیں نہیں\nآہ! یہ دستِ جفا جُو اے گُلِ رنگیں نہیں\nکس طرح تجھ کو یہ سمجھاؤں کہ مَیں گُلچیں نہیں\nکام مجھ کو دیدۂ حِکمت کے اُلجھیڑوں سے کیا\nدیدۂ بُلبل سے مَیں کرتا ہوں نظّارہ ترا\n\nسَو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے\nراز وہ کیا ہے ترے سینے میں جو مستور ہے\nمیری صورت تُو بھی اک برگِ ریاضِ طُور ہے\nمَیں چمن سے دُور ہوں، تُو بھی چمن سے دُور ہے\nمُطمئن ہے تُو، پریشاں مثلِ بُو رہتا ہوں میں\nزخمیِ شمشیرِ ذوقِ جُستجو رہتا ہوں میں\n\nیہ پریشانی مری سامانِ جمعیّت نہ ہو\nیہ جگر سوزی چراغِ خانۂ حکمت نہ ہو\nناتوانی ہی مری سرمایۂ قوّت نہ ہو\nرشکِ جامِ جم مرا آئینۂ حیرت نہ ہو\nیہ تلاشِ متصّل شمعِ جہاں افروز ہے\nتَوسنِ ادراکِ انساں کو خرام آموز ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%8F%D9%84%D9%90_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گِلہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "معلوم کسے ہند کی تقدیر کہ اب تک\nبیچارہ کسی تاج کا تابِندہ نگیں ہے\nدہقاں ہے کسی قبر کا اُگلا ہوا مُردہ\nبوسیدہ کفن جس کا ابھی زیرِ زمیں ہے\nجاں بھی گِرَوِ غیر، بدن بھی گِرَوِ غیر\nافسوس کہ باقی نہ مکاں ہے نہ مکیں ہے\nیورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تُو\nمجھ کو تو گِلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%D9%90%D9%84%DB%81"} {"title": "گڑگانویں کی ہے جتنی رعیت وہ یک قلم", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "گڑگانویں کی ہے جتنی رعیت وہ یک قلم\nعاشق ہے اپنے حاکم عادل کے نام کی\nسویہ نظر فروز قلم دان نذر ہے\nمسٹر کوان صاحب عالی مقام کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%91%DA%AF%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%AA%D9%86%DB%8C_%D8%B1%D8%B9%DB%8C%D8%AA_%D9%88%DB%81_%DB%8C%DA%A9_%D9%82%D9%84%D9%85"} {"title": "گڑیا کی شادی", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "گڑیا ہماری جوان ہے\nاب اس کی شادی کا دھیان ہے\nاچھا سا گڈا دکھاؤ جی\nرشتہ کوئی اچھا لاؤ جی\nگڑیا ہے اٹھارہ سال کی\nمالک ہے حسن و جمال کی\nتعلیم بھی اس نے پائی ہے\nاور محنتی انتہائی ہے\nگڈا ہو اکیس سال کا\nخوش خلق اچھے خیال کا\nگورا ہو یا سانولا ہو وہ\nکیا دیکھنا اس کے رنگ کو\nکرتا نہ ہو وہ نشہ کوئی\nکرتا ہو دھندہ یا نوکری\nپاؤں پہ اپنے کھڑا ہو وہ\nاچھا سنبھالے جو بیوی کو\nہو فکر اس کو سماج کی\nاور اپنے بھی کام کاج کی\nلالچ کبھی نہ ہو جہیز کی\nایسا کوئی گڈا لاؤ جی\nگڑیا کا حق جو ادا کرے\nاپنے برابر کا درجہ دے\nہر بات اگر تم نے مان لی\nٹھہرا لو تاریخ عقد کی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%91%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C"} {"title": "گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر\nجانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟\n\nکہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقتِ سخن\n“جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر”\n\nکام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں\nلیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر\n\nجی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم\nسر جائے یا رہے، نہ رہیں پر کہے بغیر\n\nچھوڑوں گا میں نہ اس بتِ کافر کا پوجنا\nچھوڑے نہ خلق گو مجھے کافَر کہے بغیر\n\nمقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کام\nچلتا نہیں ہے دُشنہ و خنجر کہے بغیر\n\nہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو\nبنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر\n\nبہرا ہوں میں۔ تو چاہیے، دونا ہوں التفات\nسنتا نہیں ہوں بات مکرّر کہے بغیر\n\nغالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرض\nظاہر ہے تیرا حال سب اُن پر کہے بغیر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%A8_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%BA%DB%8C%D8%B1"} {"title": "گھر سے برقعہ جو الٹ وہ مہ تاباں نکلا", "poet_page": "مصنف:نواب سلیمان شکوہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھر سے برقعہ جو الٹ وہ مہ تاباں نکلا\nچونک اٹھی خلق کہ ایں مہر درخشاں نکلا\n\nمہ کو اور تجھ کو جو میزان خرد میں تولا\nاس سے تو حسن میں اے یار دو چنداں نکلا\n\nرہ گئے ہوش و حواس و خرد و طاقت سب\nیوں ترے کوچے سے میں بے سر و ساماں نکلا\n\nیاں تلک تیر مژہ کھائے ہیں میں نے اس کے\nجائے سبزہ مرے مرقد پہ نیستاں نکلا\n\nتیرے بیمار کی سنتے ہیں یہ حالت ہے کہ اب\nجو گیا اس کی خبر کو سو وہ گریاں نکلا\n\nواہ کیا توڑ تری تیر نگہ کا ہے کہ یار\nجس کے سینہ میں لگا پشت سے پیکاں نکلا\n\nسوزش دل کو بھی میرے نہ بجھایا تم نے\nکام اتنا بھی نہ اے دیدۂ گریاں نکلا\n\nفتح دیجو تو اسے یا شہ مرداں کہ ترا\nملک گیری کو جو ہے اب یہ سلیماںؔ نکلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D9%82%D8%B9%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D9%88%DB%81_%D9%85%DB%81_%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیا", "poet_page": "مصنف:آفتاب شاہ عالم ثانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیا\nجی سینے سے نکل گیا دل ہات سے گیا\n\nمیں جان سے گیا تری خاطر ولیک حیف\nتو مجھ سے ظاہری بھی مدارات سے گیا\n\nیا سال و ماہ تھا تو مرے ساتھ یا تو اب\nبرسوں میں ایک دن کی ملاقات سے گیا\n\nدیکھا جو بات کرتے تجھے رات غیر سے\nدل میرا ہاتھ سیتی اسی بات سے گیا\n\nاس رشک مہ کی بزم میں جاتے ہی آفتابؔ\nدل سا رفیق میرا مرے سات سے گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گھر میں باشندے تو اک ناز میں مر جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھر میں باشندے تو اک ناز میں مر جاتے ہیں\nاور جو ہم سایے ہیں آواز میں مر جاتے ہیں\n\nکبک و طاؤس کو چلتا ہے تو ٹھہرا کے تو ہم\nتیری رفتار کے انداز میں مر جاتے ہیں\n\nمژدہ اے یاس کہ یاں کنج قفس کے قیدی\nیک بیک موسم پرواز میں مر جاتے ہیں\n\nہیں ترے رمز تبسم کے ادا فہم جو شخص\nجنبش لعل فسوں ساز میں مر جاتے ہیں\n\nلب ہلانے نہیں پاتا وہ کہ ہم نادیدہ\nبس وہیں بات کے آغاز میں مر جاتے ہیں\n\nتوسن ناز کو پھینکے ہے وہ جس دم سرپٹ\nلوگ کیا کیا نہ تگ و تاز میں مر جاتے ہیں\n\nمصحفیؔ دشت بلا کا سفر آسان ہے کیا\nسیکڑوں بصرہ و شیراز میں مر جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B4%D9%86%D8%AF%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا\nوہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%A7%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7"} {"title": "گھر میں ساقیٔ مست کے چل کے", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھر میں ساقیٔ مست کے چل کے\nآج ساغر شراب کا چھلکے\n\nسوگ میں میرے مہندی کے بدلے\nلال کرتے ہیں ہاتھ مل مل کے\n\nچھوڑیئے اب طواف کعبہ کا\nدیر کی گرد ڈھونڈھئے چل کے\n\nدل ہے پتھر سا ان کا بھاری ہے\nورنہ ہیں کان کے بہت ہلکے\n\nتلوا کھجلا رہا ہے پھر میرا\nیاد کرتے ہیں خار جنگل کے\n\nآج مردہ سخیؔ کا روئے گا\nاس جنازے کو دیکھنا چل کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D9%94_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84_%DA%A9%DB%92"} {"title": "گھر میں نظر آتی نہیں غم خوار کی صورت", "poet_page": "مصنف:محمود رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھر میں نظر آتی نہیں غم خوار کی صورت\nتکتے ہیں پڑے ہم در و دیوار کی صورت\n\nچھپتی ہی نہیں عشق کے بیمار کی صورت\nکچھ اور ہی ہوتی ہے اس آزاد کی صورت\n\nوعدے پہ بنائی تو ہے اقرار کی صورت\nآنکھوں سے عیاں ہے مگر انکار کی صورت\n\nجب وصل میں کچھ ہوتی ہے تکرار کی صورت\nدل بیچ میں آ جاتا ہے دیوار کی صورت\n\nکرتے ہیں کچھ اس شان سے وہ وصل کا وعدہ\nاقرار کی صورت ہے نہ انکار کی صورت\n\nکی دید کی خواہش تو وہ منہ پھیر کے بولے\nدیکھے تو کوئی طالب دیدار کی صورت\n\nمحمودؔ کرم دیکھ کے زاہد نے سر حشر\nیہ چاہا کہ بن جاؤں گنہ گار کی صورت", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "گھر کے گھبراتے نہ تھے ہجر کے آزاروں میں", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھر کے گھبراتے نہ تھے ہجر کے آزاروں میں\nجب کہ طاقت تھی کبھی آپ کے بیماروں میں\n\nلے کے ہم دل گئے کہتے یہ جفا کاروں میں\nکون لیتا ہے اسے اتنے خریداروں میں\n\nدی رہائی مجھے صیاد نے اے وائے نصیب\nدخل جب فصل خزاں کا ہوا گلزاروں میں\n\nمیرے مرنے کا ہوا رنج ہر اک قیدی کو\nکہ ہے کہرام بپا تیرے گرفتاروں میں\n\nدست نازک سے مجھے جام دیا ساقی نے\nآبرو بڑھ گئی اور آج سے مے خواروں میں\n\nآتش ہجر سے کیا ڈر جو تری مرضی سے\nرات کر دیں گے بسر لوٹ کے انگاروں میں\n\nپھینک دینا نہ کہیں بھول کے ہنگام سحر\nدل بھی لپٹا ہے انہیں سوکھے ہوئے ہاروں میں\n\nنالۂ بلبل شیدا نہ جسے پھاند سکے\nیہ بلندی تو نہیں باغ کی دیواروں میں\n\nنکلا وہ تیر نگہ بھی تو یہ کہہ کر نکلا\nمیرا دامن نہ الجھ جائے کہیں خاروں میں\n\nیوں سنائی گئی ہے اس کو خبر عالمؔ کی\nمر گیا کوئی ترے تازہ گرفتاروں میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%AA%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا\nبحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا\n\nتنگیِ دل کا گلہ کیا؟ یہ وہ کافر دل ہے\nکہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا\n\nبعد یک عمرِ وَرع بار تو دیتا بارے\nکاش رِضواں ہی درِ یار کا درباں ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B1%D9%88%D8%AA%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ\nہو گئی ایک اک گھڑی تجھ بن پہاڑ\n\nآج تک قصر عمل ہے ناتمام\nبندھ چکی ہے بارہا کھل کھل کے پاڑ\n\nہے پہنچنا اپنا چوٹی تک محال\nاے طلب نکلا بہت اونچا پہاڑ\n\nکھیلنا آتا ہے ہم کو بھی شکار\nپر نہیں زاہد کوئی ٹٹی کی آڑ\n\nدل نہیں روشن تو ہیں کس کام کے\nسو شبستاں میں اگر روشن ہیں جھاڑ\n\nعید اور نوروز ہے سب دل کے ساتھ\nدل نہیں حاضر تو دنیا ہے اجاڑ\n\nکھیت رستے پر ہے اور رہرو سوار\nکشت ہے سرسبز اور نیچی ہے باڑ\n\nبات واعظ کی کوئی پکڑی گئی\nان دنوں کمتر ہے کچھ ہم پر لتاڑ\n\nتم نے حالیؔ کھول کر ناحق زباں\nکر لیا ساری خدائی سے بگاڑ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D8%AE%DB%8C%D8%B2_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%A7%D8%AC%D8%A7%DA%91"} {"title": "گھر یار کا ہم سے دور پڑا گئی ہم سے راحت ایک طرف", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھر یار کا ہم سے دور پڑا گئی ہم سے راحت ایک طرف\nدل ایک طرف آہ ایک طرف ملنے کی حسرت ایک طرف\n\nہے موت کا رنگ مرا جیونا جیوں دھندلا چراغ ہوں میں\nسکرات کی ظلمت ایک طرف ہستی کی تہمت ایک طرف\n\nجی آ رہا دیدۂ تر میں مجھے دم لینے کی تاب نہیں\nضعف ایک طرف درد ایک طرف اور کاہش طاقت ایک طرف\n\nجوں مشت سپند مرے اعضا جل دل کے انگارے سے اڑتے ہیں\nداغوں کا محشر ایک طرف نالوں کی قیامت ایک طرف\n\nدل ہات دے یار کے کیونکے لیوں پھیر آہ جہاں کی ملامت سے\nجی لیوے ہے غیرت ایک طرف مارے ہے مروت ایک طرف\n\nغل ہے پتھراؤ ہے لڑکوں کا اک آہ کا لٹھ ہے ہات مرے\nہے سارا عالم ایک طرف دیوانۂ عزلتؔ ایک طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%BE%DA%91%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی\nآدھی چھٹنے کی ہوئی تدبیر آدھی رہ گئی\n\nنیم بسمل ہو کے میں تڑپا تو وہ کہنے لگے\nچوک تجھ سے ہو گئی تعزیر آدھی رہ گئی\n\nشام سے تھی آمد آمد نصف شب کو آئے وہ\nیاوری کر کے مری تقدیر آدھی رہ گئی\n\nنصف شہر اس گیسوئے مشکیں نے دل بستہ کیا\nخسرو تاتار کی توقیر آدھی رہ گئی\n\nچودھویں شب نا مبارک ماہ کامل کو ہوئی\nنصف منصب ہو گیا جاگیر آدھی رہ گئی\n\nتیز کب تک ہوگی کب تک باڑھ رکھی جائے گی\nاب تو اے قاتل تری شمشیر آدھی رہ گئی\n\nآدھے دھڑ کا دم نکلتا تھا کہ آیا خط شوق\nپڑھتے پڑھتے مر گئے تحریر آدھی رہ گئی\n\nرنگ پھرنے بھی نہ پایا تھا کہ خود رفتہ ہوا\nبن کے مانیؔ سے تری تصویر آدھی رہ گئی\n\nنصف شب تک دی تسلی پھر وہ یوسف اٹھ گیا\nخواب حسرت کی مری تعبیر آدھی رہ گئی\n\nخود کہا قاتل سے میں نے پھر دوبارہ ذبح کر\nکٹ کے جب گردن دم تکبیر آدھی رہ گئی\n\nدوپہر رات آ چکی جب گفتگو کی عشق کی\nیار سے آدھی ہوئی تقریر آدھی رہ گئی\n\nامتحان میں کندنی رنگ ان کا دونا ہو گیا\nاڑتے اڑتے سرخیٔ اکسیر آدھی رہ گئی\n\nاے پری رو جلد زنداں میں شرفؔ کی لے خبر\nٹکڑے کر کے پھینک دی زنجیر آدھی رہ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D8%B3%D8%AA%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B3%D8%AA%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%86%D8%AC%DB%8C%D8%B1_%D8%A2%D8%AF%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "گھستے گھستے پانو میں زنجیر آدھی رہ گئی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "مخمس", "year": null, "text_ur": "گھستے گھستے پانو میں زنجیر آدھی رہ گئی\nمر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئی\nسب ہی پڑھتا کاش کیوں تکبیر آدھی رہ گئی\nکھنچ کے قاتل جب تری شمشیر آدھی رہ گئی\nغم سے جان عاشق دلگیر آدھی رہ گئی\n\nبیٹھ رہتا لے کے چشم پر نم اس کے رو برو\nکیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے رو برو\nبات کرنے میں نکلتا ہے دم اس کے رو برو\nکہہ سکے ساری حقیقت ہم نہ اس کے رو برو\nہم نشیں آدھی ہوئی تقریر آدھی رہ گئی\n\nتو نے دیکھا مجھ پہ کیسی بن گئی اے راز دار\nخواب و بیداری پہ کب ہے آدمی کو اختیار\nمثل زخم آنکھوں کو سی دیتا جو ہوتا ہوشیار\nکھینچتا تھا رات کو میں خواب میں تصویر یار\nجاگ اٹھا میں کھینچنی تصویر آدھی رہ گئی\n\nغم نے جب گھیرا تو چاہا ہم نے یوں اے دلنواز\nمستی چشم سیہ سے چل کے ہو ویں چارہ ساز\nتو صداے پا سے جاگا تھا جو محو خواب ناز\nدیکھتے ہی اے ستمگر تیری چشم نیم باز\nکی تھی پوری ہم نے جو تدبیر آدھی رہ گئی\n\nاس بت مغرور کو کیا ہو کسی پر التفات\nجس کے حسن روز افزوں کی یہ اک ادنی ہے بات\nماہ نو نکلے پہ گزری ہوں گی راتیں پان سات\nاس رخ روشن کے آگے ماہ یک ہفتہ کی رات\nتابش خرشید پر تنویر آدھی رہ گئی\n\nتا مجھے پہنچائے کاہش بخت بد ہے گھات میں\nہاں فراوانی اگر کچھ ہے تو ہے آفات میں\nجز غم و رنج و الم گھاٹا ہے ہر یک بات میں\nکم نصیبی اس کو کہتے ہیں کہ میرے ہات میں\nآتے ہی خاصیت اکسیر آدھی رہ گئی\n\nسب سے یہ گوشہ کنارے ہے گلے لگ جا مرے\nآدمی کو کیوں پکارے ہے گلے لگ جا مرے\nسر سے گر چادر اتارے ہے گلے لگ جا مرے\nمانگ کیا بیٹھا سنوارے ہے گلے لگ جا مرے\nوصل کی شب اے بت بے پیر آدھی رہ گئی\n\nمیں یہ کیا جانوں کہ وہ کس واسطے ہوں پھر گئے\nپر نصیب اپنا انھیں جاتا سنا جوں پھر گئے\nدیکھنا قسمت وہ آئے اور پھر یوں پھر گئے\nآکے آدھی دور میرے گھر سے وہ کیوں پھر گئے\nکیا کشش میں دل کی اب تاثیر آدھی رہ گئی\n\nناگہاں یاد آگئی ہے مجھ کو یارب کب کی بات\nکچھ نہیں کہتا کسی سے سن رہا ہوں سب کی بات\nکس لیے تجھ سے چھپاؤں ہاں وہ پرسوں شب کی بات\nنامہ بر جلدی میں تیری وہ جو تھی مطلب کی بات\nخط میں آدھی ہو سکی تحریر آدھی رہ گئی\n\nہو تجلی برق کی صورت میں ہے یہ بھی غضب\nہاں چھ گھنٹے کی تو ہوتی فرصت عیش و طرب\nشام سے آتے تو کیا اچھی گزرتی رات سب\nپاس میرے وہ جو آئے بھی تو بعد از نصف شب\nنکلی آدھی حسرت تقریر آدھی رہ گئی\n\nتم جو فرماتے ہو دیکھ اے غالبؔ آشفتہ سر\nہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے گیا کیوں اس کے گھر\nجان کی پاؤں اماں باتیں یہ سب سچ ہیں مگر\nدل نے کی ساری خرابی لے گیا مجھ کو ظفر\nواں کے جانے میں مری توقیر آدھی رہ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D8%B3%D8%AA%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B3%D8%AA%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D9%86%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%86%D8%AC%DB%8C%D8%B1_%D8%A2%D8%AF%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "گھوگا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "برقعے", "year": "1955", "text_ur": "میں جب ہسپتال میں داخل ہوا تو چھٹے روز میری حالت بہت غیر ہوگئی۔ کئی روز تک بے ہوش رہا۔ ڈاکٹر جواب دے چکے تھے لیکن خدا نے اپنا کرم کیا اور میری طبیعت سنبھلنے لگی۔\n\nاس دوران کی مجھے اکثر باتیں یاد نہیں۔ دن میں کئی آدمی ملنے کے لیے آتے لیکن مجھے قطعاً معلوم نہیں، کون آتا تھا، کون جاتا تھا۔ میرے بسترِ مرگ پر ،جیسا کہ مجھے اب معلوم ہوا، دوستوں اور عزیزوں کا جمگھٹا لگا رہتا، بعض روتے، بعض آہیں بھرتے، میری زندگی کے بیتے ہوئے واقعات دہراتے اور افسوس کا اظہار کرتے۔\n\nجب میری طبیعت کسی قدر سنبھلی اور مجھے ذرا ہوش آیا تو میں نے آہستہ آہستہ اپنے گردوپیش کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ میں جنرل وارڈ میں تھا۔ دروازے کے اندر داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ کا پہلا بیڈ میرا تھا۔ دیوار کے ساتھ لوہے کی الماری تھی۔ جس میں خاص خاص دوائیں اور آلاتِ جراحی تھے، دیگر سامان بھی تھا۔ مثلاً گرم پانی اور برف کی ربڑ کی تھیلیاں، تھرما میٹر، بستر کی چادریں، کمبل اور روئی وغیرہ۔ اس کے علاوہ اور بے شمار چیزیں تھیں، جن کا مصرف میری سمجھ میں نہیں آتا تھا۔\nکئی نرسیں تھیں، صبح سات بجے سے دو بجے دوپہر تک۔ دو بجے سے شام کے سات بجے تک، چار چار نرسوں کی ٹولی اس وارڈ میں کام کرتی۔ رات کو صرف ایک نرس ڈیوٹی پر ہوتی تھی۔ رات کو مجھے نیند نہیں آتی تھی۔ یوں تو اکثر آنکھیں بند کیے لیٹا رہتا لیکن کبھی کبھی نیم مُندی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھ لیتا کہ کیا ہورہا ہے۔\n\nان دنوں جو نرس رات کی ڈیوٹی پر ہوتی تھی، وہ اس قدر مختصر تھی کہ اسے کوئی بھی اپنے بٹوے میں ڈال سکتا تھا۔ گہرا سانولا رنگ، ہر عضو ایک خلاصہ، ہر خدوخال تمہید کی فوری تمت، انتہا درجے کی غیر نسوانی لڑکی تھی، معلوم نہیں، قدرت نے اس کے ساتھ اس قسم کا غیر شاعرانہ سلوک کیوں کیا تھا کہ وہ شعر تھی نہ رباعی، نہ قطعہ۔۔۔ البتہ استاد امام دین کی تُک بندی معلوم ہوتی تھی۔\n\nہر نرس کا کوئی نہ کوئی چاہنے والا موجود تھا،مگر اس غریب کا کوئی بھی نہیں تھا۔ میں نرسنگ کے پیشے کو باوجود اس کی موجودہ گراوٹوں کے احترام کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ اس لیے مجھے اس نرس سے جس کا نام مس جیکب تھا، بڑی ہمدردی تھی۔ اس سے کوئی مریض دلچسپی نہیں لیتا تھا۔\n\nایک شام کو جب وہ آئی اورمیرے بستر کے پاس سے گزری تو میں نے اپنی نحیف آواز میں اس سے کہا،’’السلام علیکم مس جیکب۔ ‘‘اس نے میری آواز سن لی۔ فوراً رک کر اس نے جواب دیا، ’’سلاما الیکم۔‘‘ بس اس کے بعد میرا یہ دستور ہوگیا کہ جب وہ شام کو ڈیوٹی پر آتی تو وارڈ میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے اس کو میری السلام علیکم سنائی دیتی۔ مجھے نیند آنا شروع ہوگئی تھی، لیکن صبح ساڑھے پانچ بجے جاگ جاتا۔مس جیکب رات بھر کی جاگی ہوئی، مریضوں کے ٹمپریچر لینے میں مصروف ہوتی۔ جب میرے بستر کے پاس آتی تو میں پھر اسے سلام کرتا۔\n\nالسلام علیکم کایہ سلسلہ بڑا دلچسپ ہوگیا، وہ اس لحاظ سے چڑ گئی کہ پہل میں کیوں کرتا ہوں۔ چنانچہ اس نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ وہ مجھ سے مسابقت لے جائے، مگر اسے ناکامی ہوئی، لیکن ایک روز صبح سویرے جب کہ زیادہ دیر تک جاگنے کے باعث میری آنکھ لگ گئی تھی۔ جب وہ میرا ٹمپریچر لینے کے لیے آئی، تو اس نے اپنی مہین پتلی آواز کو زور داربنا کر کہا، ’’سلاما الیکم۔‘‘\n\nمیں چونک پڑا۔۔۔ آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ مِس جیکب کا مختصر وجود میرے سامنے کھڑا مسکرا رہا ہے۔ میں نے بڑی فراخ دلی سے اپنی شکست تسلیم کی اور اس کے مطابق مناسب و موزوں مسکراہٹ اپنے ہونٹوں پر پیدا کرکے جواب دیا،’’وعلیکم السلام مس جیکب۔۔۔ آج تو آپ نے کمال کردیا۔‘‘وہ بے حد خوش ہوئی، چنانچہ اس خوشی میں اس نے میرا دو مرتبہ ٹمپریچر لیا کہ پہلی دفعہ اس نے تھرما میٹر اچھی طرح جھٹکا نہیں تھا۔\n\nایک رات جبکہ مجھے بالکل نیند آرہی تھی اور میں بار بار اپنی گھڑی دیکھ رہا تھا کہ دن ہونے میں کتنی دیر ہے۔ بارہ بجے کے قریب میں نے اپنی دھندلی آنکھوں سے دیکھا کہ وارڈ کے وسط میں جو میز پڑا ہے، اس کے ساتھ کرسی پر مس جیکب اپنے تمام اختصار کے ساتھ بیٹھی ہے۔ اور ایک مریض جو موٹا تھا، اس سے ہم کلام ہونے کی کوشش کررہا ہے۔\n\nچونکہ خاموشی تھی، اس لیے میں اس کی گفتگو سن سکتا تھا، وہ نرس سے بڑے یتیمانہ قسم کے عشق کا اظہار کرنے کی سعی کررہا تھا۔ پہلے وہ کچھ دیر چپراسیوں کے مانند جن کا صاحب اپنی مسند پر موجود ہو، کھڑا رہا۔ پھر وہ اس سے مخاطب ہوا، ’’نرس صاحبہ۔۔۔ کیا اس وقت آپ مجھے اسپرین کی گولی دے سکتی ہیں؟‘‘\nمس جیکب غالباً رپورٹ لکھنے میں مصروف تھی۔ اس نے اس موٹے مریض کی طرف دیکھا۔ قلم میز پر رکھ کراٹھی اور اس الماری میں سے جو میرے بستر کے قریب تھی، اسپرین کی ایک گولی نکال کر اس کے حوالے کردی۔رات کے دو بج گئے۔ میں جاگ رہا تھا لیکن میری آنکھیں بند تھیں۔ آہٹ ہوئی تو میں نے کروٹ بدل کر دیکھا کہ وہی موٹا مریض الماری کھول کر اسپرین کی گولیاں نکال رہا ہے، بالکل اس طرح جیسے کوئی چوری کررہا ہے۔ میں نے کوئی مداخلت نہ کی۔\n\nمیں نے دوسرے دن نرس نعیمہ حق سے جو ہر صبح میرا بدن چھوٹے چھوٹے تولیوں سے کنکنے پانی میں صابن کے ساتھ صاف کیا کرتی تھی، اور پرلے درجے کی شریر تھی، پوچھا کہ ’’انیس نمبر کے بیڈ کا مریض کون ہے؟‘‘ اس کا سانولا چہرہ سوال بن گیا، ’’آپ اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘ میں نے اس سے کہا، ’’تم جانتی ہو، میں افسانہ نگار ہوں، مجھے ہر شخص سے دلچسپی ہے، خواہ وہ مریض ہی کیوں نہ ہو؟‘‘\n\n’’اس میں کیا بات ہے؟‘‘\n\n’’جو تم میں ہے۔۔۔ تم شریر ہو، وہ چور ہے۔‘‘نعیمہ حق کو میری یہ بات ناگوار معلوم ہوئی، ’’شرارت اور چوری کو آپ ایک ہی بات سمجھتے ہیں۔‘‘\n\nوہ میرے بالوں بھرے سینے پر تولیہ پھیر رہی تھی۔ میں نے اپنے کمزور ہاتھ سے اس کے گال پر ہولے سے چپت لگائی اور کہا،’’میرا یہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ تم میرے سوال کا جواب دو کہ انیس نمبر کے بیڈ کا جو مریض ہے اس کا کیا نام ہے؟‘‘ نعیمہ نے جواب دیا، ’’گھوگا۔‘‘\n\n’’یہ کیا نام ہے؟‘‘\n\n’’بس ہے۔۔۔ ہم نے رکھ دیا ہے۔‘‘\n\nمیں اس سے کچھ اور پوچھنے ہی والا تھا کہ نعیمہ نے ابالی ہوئی سرنج پکڑی اور اس میں ایک سی سی وٹامن بی کمپلیکس ڈال کر سوئی میرے سوکھے ہوئے بازو میں کھبو دی، مجھے سخت درد ہوا، اس لیے میں گھوگا کو بھول گیا۔ مگر اتنے میں عذرا آگئی۔ یہ نرس نعیمہ سے چار سی سی آگے تھی۔ ان دونوں میں جو گفتگو ہوئی، اس سے مجھے معلوم ہوا کہ انیس نمبر کے بیڈ کے مریض کا نام ان دونوں نے مل کر تجویز کیا ہے۔\n\nعذرا نے پہلے میری خیریت پوچھی، پھر کہا، ’’خیریت تو ہے آپ گھوگے کے متعلق پوچھ رہے تھے؟‘‘ میں نے درد کے باعث ذرا تلخ لہجے میں کہا، ’’گھوگا جائے جہنم میں۔۔۔ اور تم بھی اس کے ساتھ۔۔۔‘‘عذرا مسکرائی،’’میں تو اس کے ساتھ جہنم کی آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہوں۔‘‘\n\nنعیمہ نے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘\n\nعذرا نے جواب دیا، ’’وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، میں اس سے محبت کرتی ہوں۔‘‘\n\nنعیمہ نے عذرا کے چٹکی لی، اور بڑے زور سے کہا، ’’وہ تو مجھ سے محبت کرتا ہے ۔۔۔ چلو آؤ۔۔۔ ابھی فیصلہ کرلیں۔ گھوگا سے پوچھ لو، ابھی کل ہی مجھ سے کہہ رہا تھا کہ وہ اپنے دو مکان میرے نام لکھ دے گا۔‘‘ عذرا نے مکھی مار چھڑی نعیمہ کے سر پر ماری، ’’وہ دو مکان کیا، دو اینٹیں بھی تمہارے نام نہیں لکھے گا۔۔۔ وہ گھوگا ہے۔۔۔ بہت بڑا گھوگا۔۔۔ تم اس کو ابھی تک نہیں پہچانی ہو۔‘‘\n\nاس کے بعد مجھے چند روز میں اس موٹے مریض کے متعلق عجیب و غریب باتیں معلوم ہوئیں۔ جس کو نعیمہ اور عذرا نے گھوگے کا نام دے رکھا تھا،اس کا نام غلام محمد تھا۔ ماسٹر غلام محمد۔ بی اے، بی ٹی، کسی مڈل سکول کا ہیڈ ماسٹر، اس کو دمے کا مرض تھا، بڑی شدید قسم کا دمہ تھا۔ جب اسے دورہ پڑتا تو سارا وارڈ اس کے دھونکنی ایسے چلتے ہوئے سانسوں کے زیرو بم سے گھنٹوں گونجتا رہتا۔ لیکن اس حا لت میں بھی وہ نظر بازی سے نہ ٹلتا۔\n\nاس کی عمر چالیس سے کچھ اوپر ہوگئی، مگر کنوارا تھا۔ میری اس سے ملاقات ہوئی تو اس نے مجھے بتایا کہ اس نے شادی اس لیے نہیں کی کہ وہ دمے کا مریض ہے۔ کسی لڑکی کی زندگی کیوں خراب کرے۔اس کی دو بہنیں تھیں جو عمر میں اس سے کچھ چھوٹی تھیں۔ یہ بھی کنواری تھیں۔ ان کے متعلق مجھے صرف اتناہی معلوم ہوا کہ بڑی ہیلتھ وزیٹر ہے اور چھوٹی استانی۔ یہ دونوں بلاناغہ آتیں اور گھوگے کے پاس اپنے برقعوں سمیت ایک آدھ گھنٹہ بیٹھ کر چلی جاتیں۔ وہ اس کے ناشتے اور دو وقت کے کھانے کے لیے پراٹھے اور سالن وغیرہ لایا کرتی تھیں۔\n\nاس کو ایسے ٹیکے لگ رہے تھے جن سے اشتہا بڑھ جاتی ہے۔ لیکن اس بات کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے کہ مریض زیادہ نہ کھائے تاکہ اس کا وزن نہ بڑھے مگر گھوگا بلاخور تھا۔ گھر سے جو آتا چٹ کر جاتا۔ پھر اس کے ساتھ والے بیڈ پر ایک بنگالی نوجوان تھا جو عرصے سے ٹائی فائیڈ میں گرفتار تھا۔ اس کو بھوک نہیں لگتی تھی۔ گھوگا اس کا کھانا بھی اپنے پیٹ میں ڈال لیتا۔ مگر نعیمہ نے مجھے بتایا کہ ہسپتال سے جو اسے مفت کھانا ملتا ہے، اس کے علاوہ وہ ادھر ادھر سے اور اکٹھا کرتا ہے اور اپنی بہنوں کے حوالے کردیتا ہے۔\n\nایک رات جبکہ مجھے نیند آنے ہی والی تھی، میں نے دیکھا کہ گھوگا دبے پاؤں چلا آرہا ہے۔ رات کی نرس کسی دوسرے وارڈ کی نرس سے باتیں کرنے میں مشغول تھی۔ گھوگے نے الماری کھولی اور اس میں کئی چیزیں نکال کر اپنی جیب میں ڈال لیں۔ مجھے اس کی یہ حرکت بہت بری معلوم ہوئی لیکن میں اس سے کچھ نہ کہہ سکا، اس لیے کہ مجھے کوئی فیصلہ کرنے میں دیر ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہر روز الماری میں سے چیزیں چراتا اور میں اسے ٹوک نہ سکتا۔\n\nمیری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ جب اسے دوائیں برابر ملتی ہیں تو وہ اور دوائیاں جو اس کے مرض دمے کا علاج نہیں تھیں، کیوں اس طریقے سے حاصل کرتا ہے؟نعیمہ حق سے میں نے پوچھا تو اس نے مخصوص انداز میں گردن کو ایک خفیف سی جنبش دے کر اور اپنے سانولے ہونٹوں پر ان سے زیادہ گہرے رنگ کی مسکراہٹ پیدا کرکے کہا،’’جناب اتنے بڑے رائٹر بنے پھرتے ہیں، آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ جتنی دوائیاں اور انجکشن چراتا ہے، اپنی بہن کو جو کہ ہیلتھ وزیٹر ہے، دے دیتا ہے۔۔۔ اس کو روزانہ بیڈ کے لیے ایک روپیہ دینا پڑتا ہے۔۔۔ بہت بڑا گھوگا ہے، اس لیے وہ اس خرچ کی کسر یوں پوری کرلیتا ہے۔ بلکہ اس کو کچھ پروفٹ ہی ہوتا ہے۔‘‘\n\nنعیمہ کا یہ کہنا درست تھا، اس لیے کہ میری بیوی کے بیان سے اس کی تصدیق ہوگئی۔ اس کو گھوگے سے سخت نفرت تھی۔ ہسپتال سے جو کچھ ملتا تو وہ اپنی بہن کے سپرد کردیتا، کھانا بھی۔ ایک اور نرس رفیقہ تھی۔ وہ اس مریض کا نام بھی نہیں لینا چاہتی تھی۔شکل صورت کی معمولی مگر جوان تھی۔ ہر وقت اپنے سفید فراک کو پیٹی کے نیچے کھینچتی اور پھر اپنے سینے کے ابھاروں کو پسندیدہ نگاہوں سے دیکھتی مگر کردار کے لحاظ سے وہ دوسری نرسوں کے مقابلے میں بہت زیادہ مضبوط تھی، اس کو گھوگے سے اس لیے نفرت تھی کہ وہ اس سے بے معنی باتیں کرتا تھا۔\n\nدراصل وہ ہر نرس سے بے معنی یا با معنی باتیں کرنے کا عادی تھا۔ میں نے کئی بار دیکھا کہ پہلے اس نے کسی نرس سے رسمی بات چیت کی۔ اس کے بعد بستر پر سے اٹھ کر اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ کچھ اس بھونڈے طور پر کہ وہ غریب اکتا گئی، اور اس نے جو دوا مانگی، الماری میں سے نکال کر اس کو دے دی کہ چھٹکارا ملے۔\n\nقریب قریب ہر نرس اس سے متنفّر تھی۔۔۔ مجھے خود وہ بہت ناپسند تھا، میرے بستر کی طرف رخ کرتا تو میں چادر اوڑھ لیتا کہ اس کو یہ معلوم ہو کہ میں سو رہا ہوں۔ اس کا بات چیت کا انداز مجھے کَھلتا تھا، یہی وجہ ہے کہ میں نے اسے کبھی برداشت نہ کیا۔مجھ سے دو تین مرتبہ اس نے چند روپے بطور قرض لیے اور واپس نہ دیے۔ مجھے اس کا کوئی خیال نہ تھا۔ لیکن جب یہ معلوم ہوا کہ یہ پندرہ روپے اس نے مجھ سے اس لیے حاصل کیے تھے کہ اس کو دس ایک خاص دوا کے لیے خرچ کرنا پڑے تھے جو ہسپتال میں نہیں تھی، تو میری طبیعت بہت مکدر ہوئی اور میں نے دل ہی دل میں اس کو سیکڑوں گالیاں دیں۔ پھر تمام ڈ اکٹروں پر اس کے ذلیل کردار کی وضاحت کردی۔\n\nوہ پہلے میری بتائی ہوئی باتیں نہ مانے۔ انہوں نے کبھی ایسا مریض دیکھا تھا نہ سنا۔ مگر نرسوں سے پوچھ گچھ کے بعد ان کو حقیقت معلوم ہوگئی اور انہوں نے گھوگے کورخصت کردینے کا فیصلہ کرلیا۔ مجھے اس کا علم تھا۔ چنانچہ میں نے محض اپنا دل ٹھنڈا کرنے کی خاطر اس کو اپنے پاس بلایا اور کہا،’’سنا ہے آپ کل پرسوں جانے والے ہیں۔‘‘\n\nگھوگے نے اپنے نیم گنجے سر پر ہاتھ پھیرا اور تعجب کا اظہار کیا، ’’بڑے ڈاکٹر صاحب نے تو مجھ سے کہا تھا کہ چھٹی لے لو۔۔۔ اور میں ایک مہینے کی لے چکا ہوں۔‘‘ میرا دل ڈوبنے سا لگا۔۔۔ ایک مہینہ اور۔۔۔ تیس دن مزید۔۔۔ چوریوں کے۔۔۔ نرسوں کے پیچھے چلنے اور ہاتھ مَل مَل کے دوائیں مانگنے کے۔\n\nبڑے ڈاکٹر صاحب بہت نرم دل تھے۔ میں نے سوچا یقیناً گھوگے نے اپنے مخصوص، لسوڑے کی لیس ایسے انداز میں ان کی منت خوشامد کی ہوگی اور انہوں نے اپنا پیچھا چھڑانے کے لیے اس کو ایک ماہ اور ہسپتال میں رہنے کی اجازت دے دی ہوگی۔ مگر اسی دن گھوگا انتہائی افسردگی کے عالم میں میرے پاس آیا اور کہنے لگا، ’’میں کل جارہا ہوں‘‘ مجھے بڑی خوشی ہوئی، ’’مگر ماسٹر صاحب آپ نے تو ایک مہینے کی چھٹی لی ہے، ابھی ابھی۔‘‘\n\nاس نے آہ بھر کر جواب دیا، ’’ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کہ تمہارا کافی علاج ہو چکا ہے۔ اب تم گھرمیں آرام کرو۔‘‘ میں نے کہا، ’’یہ بہتر ہے‘‘ لیکن گھوگے کا چہرہ بتا رہا تھا کہ گھرمیں اسے چرانے کے لیے دوائیں نہیں ملیں گی۔ نرسیں بھی نہ ہوں گی، جھک مارے گا وہاں۔میں صبح چار ساڑھے چار بجے کے قریب سویا۔ دس بجے آنکھ کُھلی۔ نعیمہ حق میرے پاس کھڑی تھی، دراصل اسی نے مجھے جگایا تھا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ مجھے کوئی خبر سنانا چاہتی ہے۔ مجھے زیادہ دیر تک انتظار نہ کرنا پڑا۔\n\nمکھی مار چھڑی سے میرے بستر پر چند غیر مرئی مکھیاں مارنے کے بعد اس نے مجھ سے کہا: ’’گھوگا گیا‘‘ میں نے کہا، ’’ہاں سنا تھا کہ وہ جارہا ہے۔‘‘ نعیمہ کے سانولے ہونٹوں پر سکڑتی ہوئی مسکراہٹ نمودار ہوئی، ’’اور وہ بھی گئی۔۔۔‘‘ میں نے پوچھا، ’’کون؟‘‘ نعیمہ نے جواب دیا، ’’وہ۔۔۔ مس جیکب۔۔۔ جس کے متعلق آپ کہا کرتے تھے کہ اتنی مختصر ہے کہ بٹوے میں سما سکتی ہے۔۔۔ لیکن گھوگے کے پاس تو کوئی بٹوہ نہیں تھا۔‘‘\n\nمجھے بڑی حیرت ہوئی کہ مس جیکب کو گھوگے میں کیا نظر آیا، یا گھوگے کومس جیکب میں کیا خوبی دکھائی دی۔۔۔ لیکن تیسرے روز جیکب نائٹ ڈیوٹی پر تھی۔ جب وہ صبح میرے بستر کے قریب آئی تومیں نے زور سے السلام علیکم کہا۔ اس نے چونک کر دھیمی آواز میں اس سلام کا جواب دیا اور میرا ٹمپریچر لیے بغیر چلی گئی۔\n\nسات بجے جب دوسری نرسیں آئیں تو نعیمہ نے میرا بدن پونچھنے کے لیے گرم پانی تیار کرتے ہوئے اپنے سانولے ہونٹوں پر کنکنی مسکراہٹ پیدا کرتے ہوئے کہا،’’گھوگے کے پاس بٹوہ نہیں تھا، اس لیے آپ کی مس جیکب واپس تشریف لے آئی ہیں۔ ‘‘میں نے پوچھا،’’ کیا ہوا؟ ‘‘نعیمہ نے گرم گرم پانی میں تر کیا ہوا تولیہ میرے بازو پر رکھ دیا،’’ کچھ خاص تو نہیں ہوا۔۔۔ صرف مِس جیکب کے کانوں کی دو سونے کی بالیاں گم ہوگئی ہیں۔۔۔ شاید گھوگے کی بہن کے کان بُچے ہوں گے۔‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "گھٹا اٹھی ہے کالی اور کالی ہوتی جاتی ہے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھٹا اٹھی ہے کالی اور کالی ہوتی جاتی ہے\nصراحی جو بھری جاتی ہے خالی ہوتی جاتی ہے\n\nجفا ہر چند دنیا سے نرالی ہوتی جاتی ہے\nگلا کس منہ سے کیجے ہونے والی ہوتی جاتی ہے\n\nوداع جاں ہے تن سے دل سے ارمانوں کی رخصت ہے\nبھری محفل ہماری آج خالی ہوتی جاتی ہے\n\nمبارکؔ میں تصدق اپنے اس مشق تصور کے\nمجسم اب وہ تصویر خیالی ہوتی جاتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "گھٹا دیا رتبہ ہر حسیں کا مٹا دیا رنگ حور عین کا", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھٹا دیا رتبہ ہر حسیں کا مٹا دیا رنگ حور عین کا\nنہیں ہے یہ چاند چودھویں کا شباب کا میرے مہ جبیں کا\n\nیہ رات ہے وصل کی مری جاں بھرے ہیں دل میں ہزاروں ارماں\nنہیں نہ نکلے زباں سے ہاں ہاں ارے یہ موقع نہیں نہیں کا\n\nتباہ وحشت میں ہوں میں در در ابھی بگڑ جائے یہ بنا گھر\nجو دل میں رکھوں تجھے ستم گر تو دل نہ رکھے مجھے کہیں کا\n\nنہ قتل سے میرے ہاتھ کھینچو لہو بہا کر بہار دیکھو\nپڑے گی اڑ کر جو چھینٹ اس کی بنے گی وہ پھول آستیں کا\n\nستم تھا بچپن کا وہ زمانہ غضب وہ دل کا پسند آتا\nوہ گود میں میری لوٹ جانا مچل مچل کر کسی حسیں کا\n\nتمہیں سے روئے زمیں معطر تمہیں سے سطح فلک منور\nتمہیں تو ہو پھول یاسمیں کا تمہیں تو ہو چاند چودھویں کا\n\nادھر صبا نے یہ گل کھلایا چمن میں کلیوں کو گدگدایا\nادھر ہنسی نے ستم یہ ڈھایا کہ منہ لیا چوم اس حسیں کا\n\nیہ رات اتنی جو بڑھ گئی ہے سیاہی اتنی جو چڑھ گئی ہے\nکہیں کھلا ہے ضرور جوڑا کسی کے گیسوئے عنبریں کا\n\nجو غیر سے یار تو ملا ہے تو دیکھ کیسا ڈبو رہا ہے\nتجھے مرے آنسوؤں کا دریا مجھے پسینہ تری جبیں کا\n\nنہ بحر جاری سحاب سے ہے نہ چاہ لبریز آب سے ہے\nوہ دامن تر کا اک لقب ہے یہ نام ہے میری آستیں کا\n\nجو دیکھ لے اس کی صورت انسان اگر ہو کافر تو لائے ایماں\nجمال کیا ہے بت حسیں کا کمال ہے صورت آفریں کا\n\nنہ شوق نظارہ مجھ سے پوچھو یہ کہہ کے سوتا ہوں روز شب کو\nاٹھوں جو میں صبح کو الٰہی تو منہ دکھانا کسی حسیں کا\n\nکچھ ایسی کی میں نے جبہہ سائی کہ مٹ گئی بخت کی برائی\nملا جو اس در سے داغ سجدہ ستارہ چمکا مری جبیں کا\n\nزباں سے ہو شکر ادا کہاں تک بڑا ہی تھا دل نواز ناوک\nکچھ اس ادا سے جگر پہ بیٹھا مزہ ملا یار ہم نشیں کا\n\nپھرا عدم سے نہ کوئی ہمدم کہ حال یاروں کا پوچھتے ہم\nعجیب دلچسپ ہے دو عالم کہ جو گیا ہو گیا وہیں کا\n\nعرق عرق ہے جو روئے گلگوں یہ خوب موقع ہے اب نہ چونکوں\nمیں سر نوشت اپنی دھو ہی ڈالوں پسینہ لے کر تری جبیں کا\n\nجلیلؔ کیا بات اس سخن کی غزل میں ہے تازگی چمن کی\nجو شعر ہے شاخ نسترن کی جو لفظ ہے پھول یاسمیں کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%B9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AD%D9%88%D8%B1_%D8%B9%DB%8C%D9%86_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "گھٹا ہو باغ ہو پہلو میں اپنے یار جانی ہو", "poet_page": "مصنف:وفا لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نغمۂ ہزار (1911)", "year": "1911", "text_ur": "گھٹا ہو باغ ہو پہلو میں اپنے یار جانی ہو\nجو یہ ساماں میسر ہو تو لطف زندگانی ہو\n\nمزہ کیا خضر کی صورت جو عمر جاودانی ہو\nہم اس جینے سے باز آئے جو تنہا زندگانی ہو\n\nگھٹا ہے ساقیا سامان وصل یار جانی ہو\nلبالب ہر صراحی میں شراب ارغوانی ہو\n\nخزاں میں کہتے ہیں پیر مغاں سے رند مشرب یوں\nبہار آئی کہیں دور شراب ارغوانی ہو\n\nکسی یوسف لقا پر دل جو آئے عہد پیری میں\nنئے سر سے زلیخا کی صفت پھر نوجوانی ہو\n\nمجھے شوق شہادت تشنہ لب لایا ہے مقتل میں\nپلا دے آب خنجر پیاس اگر قاتل بجھانی ہو\n\nوہ مجرم ہوں کہوں گا حشر میں اللہ سے رو کر\nجہنم سے میں بچ جاؤں جو تیری مہربانی ہو\n\nمحبت ان بتان سنگ دل سے دیکھ کر کرنا\nشب فرقت کی ایذا گر تجھے اے دل اٹھانی ہو\n\nتری تصویر اے جاں کھینچ لے کیا تاب رکھتا ہے\nنظر بھر کر اگر دیکھے تجھے بے ہوش مانی ہو\n\nپئے جاتا ہوں خم کے خم وہ مے خانے میں مے کش ہوں\nپلائے جا مجھے ساقی جہاں تک مے پلانی ہو\n\nحباب بحر کی صورت نہیں دم بھر ثبات اس کو\nمری نظروں میں پھر دنیائے دوں کیونکر نہ فانی ہو\n\nکھڑا ہوں طور پر کب سے مجھے دیدار دکھلا دو\nکلیم اللہ جب آئیں تو ان سے لن ترانی ہو\n\nوفاؔ بہر خدا چھوڑو محبت ان حسینوں کی\nبتوں کے ہجر میں ایسا نہ ہو ضائع جوانی ہو", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%DB%81%D9%88_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88"} {"title": "گھٹے گا تیرے کوچے میں وقار آہستہ آہستہ", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھٹے گا تیرے کوچے میں وقار آہستہ آہستہ\nبڑھے گا عاشقی کا اعتبار آہستہ آہستہ\n\nبہت نادم ہوئے آخر وہ میرے قتل ناحق پر\nہوئی قدر وفا جب آشکار آہستہ آہستہ\n\nجلائے شوق سے آئینہ تصویر خاطر میں\nنمایاں ہو چلا روئے نگار آہستہ آہستہ\n\nمحبت کی جو پھیلی ہے یہ نکہت باغ عالم میں\nہوئی ہے منتشر خوشبوئے یار آہستہ آہستہ\n\nدل و جان و جگر صبر و خرد جو کچھ ہے پاس اپنے\nیہ سب کر دیں گے ہم ان پر نثار آہستہ آہستہ\n\nعجب کچھ حال ہو جاتا ہے اپنا بے قراری سے\nبجاتے ہیں کبھی جب وہ ستار آہستہ آہستہ\n\nاثر کچھ کچھ رہے گا وصل میں بھی رنج فرقت کا\nدل مضطر کو آئے گا قرار آہستہ آہستہ\n\nنہ آئیں گے وہ حسرتؔ انتظار شوق میں یوں ہی\nگزر جائیں گے ایام بہار آہستہ آہستہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%D9%B9%DB%92_%DA%AF%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D9%82%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81"} {"title": "گھڑی بھر آج وہ مجھ سے رہا خوش", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گھڑی بھر آج وہ مجھ سے رہا خوش\nخدا رکھے اسے اس سے سوا خوش\n\nیہ میں جو ہر طرح ناشاد و ناخوش\nپھر ایسے سے رہے ان کی بلا خوش\n\nکبھی خوش ہے کبھی وہ مجھ سے نا خوش\nہمیشہ کون دنیا میں رہا خوش\n\nتمہیں تم خوش تو پھر کے لطف صحبت\nمزہ ملنے کا ہے ہو دوسرا خوش\n\nتمہیں تم خوش تو پھر کیا لطف صحبت\nمزہ ملنے کا ہے ہو دوسرا خوش\n\nخوشی کی مل گئیں دو چار سانسیں\nکہ وہ بد عہد آیا خوش گیا خوش\n\nجو وہ باتوں سے خوش کرنے پہ آتے\nتو ہوتے بندۂ درگاہ کیا خوش\n\nسمجھتے ہیں کہ یہ گستاخ بھی ہے\nذرا نا خوش ہیں وہ مجھ سے ذرا خوش\n\nکہاں تک ضبط اب کرتا ہوں نالہ\nستم گر خوش رہے مجھ سے کہ نا خوش\n\nدر دولت پہ تھے لاکھوں بھکاری\nنہ پلٹا کوئی محروم اور نا خوش\n\nالٰہی بخت تو بیدار بادہ\nعدو نا خوش رہیں اور آشنا خوش\n\nسنی ہے بارہا میری تمنا\nکیا ہے اس نے مجھ کو بارہا خوش\n\nخوشی سے آج اس نے بات کر لی\nطبیعت ہو گئی بے انتہا خوش\n\nکرو وہ کام جو کل کام آئے\nچلو وہ چال جس سے ہو خدا خوش\n\nالٰہی دور عثمانی ہو دائم\nکہ ہے اس عہد میں چھوٹا بڑا خوش\n\nخوشی میری کسی کے ہاتھ میں ہے\nہوا خوش جو کسی نے کر دیا خوش\n\nصفیؔ میری خوشی و ناخوشی کیا\nرکھا جس حال میں اس نے رہا خوش", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%AC_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%B4"} {"title": "گھڑی گھڑی ہے ہمیں اپنے مہرباں کا خیال", "poet_page": "مصنف:رنج حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل > مخبر عشق (1895)", "year": "1895", "text_ur": "گھڑی گھڑی ہے ہمیں اپنے مہرباں کا خیال\nنہ کچھ زمیں کی خبر ہے نہ آسماں کا خیال\n\nیہ بے خودی ہے کہ جس دن سے دل لگا بیٹھے\nکہاں کا ہوش کہاں کی خبر کہاں کا خیال\n\nاڑے ہوئے ہیں رقیبوں کے ہوش پہ اب تک\nجو دل میں آپ کے آیا تھا امتحاں کا خیال\n\nعدو سے ہنستے رہے رات بھر سر محفل\nکیا نہ تم نے مرے چشم خوں فشا کا خیال\n\nکسی کو دو نہ سر بزم بے دھڑک گالی\nخدا کے واسطے رکھو ذرا زباں کا خیال\n\nقدم جو بھول کے رکھیں رہ محبت میں\nتو خضر کو بھی نہ ہو عمر جاوداں کا خیال\n\nلگا نہ خلد میں بھی دل میں کیا بیاں کروں\nوہاں بھی مجھ سے نہ چھوٹا ترے مکاں کا خیال\n\nمیں اس طرف کبھی رخ بھول کر نہیں کرتا\nمیں کیا بتاؤں جب آتا ہے پاسباں کا خیال\n\nخدا کے واسطے مانو مرا کہا اے رنجؔ\nخدا کے واسطے چھوڑو یہ ہے کہاں کا خیال", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84"} {"title": "گہ سرگزشت ان نے فرہاد کی نکالی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "گہ سرگزشت ان نے فرہاد کی نکالی\nمجنوں کا گاہے قصہ بیٹھا کہا کرے ہے\nایک آفت زماں ہے یہ میرؔ عشق پیشہ\nپردے میں سارے مطلب اپنے ادا کرے ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DB%81_%D8%B3%D8%B1%DA%AF%D8%B2%D8%B4%D8%AA_%D8%A7%D9%86_%D9%86%DB%92_%D9%81%D8%B1%DB%81%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "گہ پیر شیخ گاہ مرید مغاں رہے", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گہ پیر شیخ گاہ مرید مغاں رہے\nاب تک تو آبرو سے نبھی ہے جہاں رہے\n\nدنیا میں ہم رہے تو کئی دن پہ اس طرح\nدشمن کے گھر میں جیسے کوئی میہماں رہے\n\nاے دیدہ دل کو روتے ہو کیا تم ہمیں تو یاں\nیہ جھینکنا پڑا ہے کسی طرح جاں رہے\n\nقسمت تو دیکھ بار بھی اپنا گرا تو واں\nجس دشت پر خطر میں کئی کارواں رہے\n\nصحبت کی گرمی ہم سے کوئی سیکھے مثل شمع\nسارے ہوئے سفید پہ تد بھی جواں رہے\n\nمسجد سے گر تو شیخ نکالا ہمیں تو کیا\nقائمؔ وہ مے فروش کی اپنے دکاں رہے\n\nقائمؔ اسی زمیں کو تو پھر کہہ پر اس طرح\nسن کر جسے کہ چرخ میں نت آسماں رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%B1_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AF_%D9%85%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "گہ ہم سے خفا وہ ہیں گہے ان سے خفا ہم", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گہ ہم سے خفا وہ ہیں گہے ان سے خفا ہم\nمدت سے اسی طرح نبھی جاتی ہے باہم\n\nکرتے ہیں غلط یار سے اظہار وفا ہم\nثابت جو ہوا عشق کجا یار کجا ہم\n\nکچھ نشۂ مے سے نہیں کم نشۂ نخوت\nتقویٰ میں بھی صہبا کا اٹھاتے ہیں مزا ہم\n\nموجود ہے جو لاؤ جو مطلوب ہے وہ لو\nمشتاق وفا تم ہو طلب گار جفا ہم\n\nنے طبع پریشاں تھی نہ خاطر متفرق\nوہ دن بھی عجب تھے کہ ہم اور آپ تھے باہم\n\nکیا کرتے ہیں کیا سنتے ہیں کیا دیکھتے ہیں ہائے\nاس شوخ کے جب کھولتے ہیں بند قبا ہم\n\nیہ طرز ترنم کہیں زنہار نہ ڈھونڈو\nاے شیفتہؔ یا مرغ چمن رکھتے ہیں یا ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%D9%88%DB%81_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%DB%81%D9%85"} {"title": "گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیں\nبشر کے ہیں جو مبصر بشر کو دیکھتے ہیں\n\nنہ خوب و زشت نہ عیب و ہنر کو دیکھتے ہیں\nیہ چیز کیا ہے بشر ہم بشر کو دیکھتے ہیں\n\nوہ دیکھیں بزم میں پہلے کدھر کو دیکھتے ہیں\nمحبت آج ترے ہم اثر کو دیکھتے ہیں\n\nوہ اپنی برش تیغ نظر کو دیکھتے ہیں\nہم ان کو دیکھتے ہیں اور جگر کو دیکھتے ہیں\n\nجب اپنے گریہ و سوز جگر کو دیکھتے ہیں\nسلگتی آگ میں ہم خشک و تر کو دیکھتے ہیں\n\nرفیق جب مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں\nتو چارہ گر انہیں وہ چارہ گر کو دیکھتے ہیں\n\nنہ طمطراق کو نے کر و فر کو دیکھتے ہیں\nہم آدمی کے صفات و سیر کو دیکھتے ہیں\n\nجو رات خواب میں اس فتنہ گر کو دیکھتے ہیں\nنہ پوچھ ہم جو قیامت سحر کو دیکھتے ہیں\n\nوہ روز ہم کو گزرتا ہے جیسے عید کا دن\nکبھی جو شکل تمہاری سحر کو دیکھتے ہیں\n\nجہاں کے آئینوں سے دل کا آئینہ ہے جدا\nاس آئینے میں ہم آئینہ گر کو دیکھتے ہیں\n\nبنا کے آئینہ دیکھے ہے پہلے آئینہ گر\nہنر ور اپنے ہی عیب و ہنر کو دیکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DB%81%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%B1%DB%8C_%D8%B5%D8%B1%D8%A7%D9%81_%D8%B2%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "گیا اب آفتاب حشر کا بھی جلوہ گر ہونا", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گیا اب آفتاب حشر کا بھی جلوہ گر ہونا\nشب فرقت ہماری ہے یہ کیا جانے سحر ہونا\n\nوہاں جا کر مرے نالوں کا یا رب بے اثر ہونا\nقیامت تھا کسی کا رات کو دشمن کے گھر ہونا\n\nبہت اچھے ہیں جن پر ظلم ہوتے ہیں زمانے کے\nاسی کو اہل دل کہتے ہیں منظور نظر ہونا\n\nخیال اک نازنیں کا دل میں پھر رہ رہ کے آتا ہے\nذرا سینے میں اب تھم تھم کے او درد جگر ہونا\n\nہزاروں نیشتر پیوست ہوں جس کی رگ جاں میں\nاسے دشوار ہے مرہون سعیٔ چارہ گر ہونا\n\nیہ کیا کم ہے ملی قید قفس سے مجھ کو آزادی\nمیرے کام آ گیا آخر مرا بے بال و پر ہونا\n\nبہت ہی عبرت انگیز اور حسرت خیز منظر ہے\nلحد پر ایک بے کس کے کسی کا نوحہ گر ہونا\n\nارادے خشک زاہد حوض مے ہو جائیں گے خالی\nکوئی آساں ہے اے صفدرؔ تیرے دامن کا تر ہونا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%AD%D8%B4%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "گیا جوانی کا ساتھ سب کچھ وہ گرمئ عشق اب کہاں ہے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گیا جوانی کا ساتھ سب کچھ وہ گرمئ عشق اب کہاں ہے\nجو میں نے اس وقت آہ کی ہے بجھی ہوئی آگ کا دھواں ہے\n\nلگے بجھاتا نہیں وہ دشمن جلن یہ ہے پھینک رہا ہے تن من\nچراغ سا داغ دل ہے روشن دیا سلائی ہے استخواں ہے\n\nطبیعت اپنی ہے کیوں مکدر نہیں سمجھتا نہ سمجھے دل بر\nکرے گا دشمن بھی رحم ہم پر اگر خدا اپنا مہرباں ہے\n\nکھلے ہیں داغوں کے پھول تن پر بہار تازہ ہے اے گل تر\nکبھی تو میری طرف نظر کر چمن میں کیا شاخ زعفران ہے\n\nکبھی ہے مانند موج دریا کبھی ہے مثل غبار صحرا\nکہوں میں کیا حال اپنے دل کا بچھڑ کے مجھ سے رواں دواں ہے\n\nتلف ہوئے جس میں زندگانی بسر ہوئے جس میں نوجوانی\nوہ میری بیتی ہوئی کہانی سنو اگر شوق داستاں ہے\n\nیہی ہیں معنی عشق کامل کہ سو بلاؤں سے ہوں مقابل\nبلند ہے اب جو نالۂ دل سپاہ اندوہ کا نشاں ہے\n\nخدا نہ دکھلائے اچھی صورت ابھی تو آ جاتی ہے حرارت\nپڑے گی بے شک نگاہ الفت ضعیف گو میں ہوں دل جواں ہے\n\nہزار افسوس عمر کھوئی نہ دیکھا دین دار ہم نے کوئی\nہے واعظوں میں فسانہ گوئی مدرسوں میں چنیں چناں ہے\n\nبرائے زر متقی بنے ہیں حصول کے مسئلے چھنے ہیں\nمرید جو ہیں وہ بت بنے ہیں متاع اسلام رائیگاں ہے\n\nکوئی تو سوداؔ کا ہے موصف کوئی تقیؔ میر کا معرف\nبتاؤ اے دوستان منصف کئی ہمارا بھی قدرداں ہے\n\nسنے ہے میں نے فغان بلبل بہار میں ہے مجھے تامل\nچٹک رہا ہے جو غنچۂ گل صدائے نقارۂ خزاں ہے\n\nکیا ہے کیوں بحرؔ سے کنارا تری جدائی نے مجھ کو مارا\nارے بت سنگ دل خدا را بلا لے مجھ کو بھی تو جہاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1%D9%85%D8%A6_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "گیا سب اندوہ اپنے دل کا تھمے اب آنسو قرار آیا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گیا سب اندوہ اپنے دل کا تھمے اب آنسو قرار آیا\nنصیب جاگے ستارہ چمکا پھرے دن اپنے وہ یار آیا\n\nکہو یہ ساقی سے آ خدارا کرے نہ کشتیٔ مے کنارا\nخدا کی رحمت نے جوش مارا برستا ابر بہار آیا\n\nاٹھائی کیا کیا نہ میں نے زحمت مگر نہ کی ترک اس کی الفت\nرہا ہمیشہ میں صاف طینت کبھی نہ دل پر غبار آیا\n\nہوا ہے کیا طور شعلہ افشاں بھڑک اٹھی آتش گلستاں\nجلائے دیتا ہے داغ ہجراں کہاں سے اڑ کر شرار آیا\n\nخدا نباہے یہ آشنائی ہمیں یہ الفت کے لاگ بھائی\nکسی دن اس پر جو دھوپ آئی یہاں قلق سے بخار آیا\n\nکٹے تڑپنے میں زندگانی نہ لی کسی نے خبر ہماری\nیہ حال پوچھا کہ عرش تک بھی ہمارا نالہ پکار آیا\n\nکھٹک ہے آنکھوں میں میری اب تک دل اس کا بھی ہو رہا ہے دھک دھک\nنہ دید مجھ کو ہوئی مبارک نہ راس اس کو سنگار آیا\n\nکمند زلف رسا سے بارے بچے تو مژگاں نے تیر مارے\nغضب ہے پیش نظر تمہارے جو کوئی آیا شکار آیا\n\nبچھایا کمرے میں فرش جھٹ پٹ درست کی سیج کی سجاوٹ\nسنی جو میں نے کسی کے آہٹ گمان گزرا کہ یار آیا\n\nکبھی جو باجے کی لہر آئے حواس اڑائے وہ شب بجائے\nفسوں کے بولوں پہ گت بنائے چھلاوا بن کر ستار آیا\n\nچلے جو عاشق پہ تیر و خنجر ہوا وہ سر سبز سرخ ہو کر\nچڑھا سر اس کا اگر سناں پر نہال الفت میں یار آیا\n\nاسے سمجھتے ہیں جو ہیں غازی کہ سر کٹانا ہے سرفرازی\nکرے گا کیا کوئی عشق بازی میں جان بد کے بدھار آیا\n\nہوئی یہ برباد زندگانی رہی نہ ہستی کی کچھ نشانی\nصبا نے ہر چند خاک چھانی نہ ہاتھ مشت غبار آیا\n\nیہ چاہنے والے چاہتے تھے گلے کا ہار اپنا کر کے رکھئے\nدیے نہ کس کس نے اس کو دھاگے نہ دم میں وہ گلعذار آیا\n\nوصال محبوب کی تمنا کسی پر اظہار کی نہ اصلاً\nقران سعدین میں نے پوچھا جو کوئی اختر شمار آیا\n\nچہک رہے ہیں چمن میں بلبل مہک رہے ہیں کھلے ہوئے کل\nچھلک رہے ہیں پیالہ‌ٔ مل خوشی ہے ابر بہار آیا\n\nبتاؤ اے بحرؔ اپنی جب کی کسی سے تم نے بھی دل لگی کی\nخوش آئی صورت کسی پری کی کسی پہ تم کو بھی پیار آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%A8_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%DB%81_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D9%85%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گیا سب رنج و غم کنج قفس کا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گیا سب رنج و غم کنج قفس کا\nترحم ہو گیا فریاد رس کا\n\nرہے ثابت قدم راہ وفا میں\nشکستہ دل ہوا پائے ہوس کا\n\nحضوری ہو گئی غیبت میں ہم کو\nترنم دل میں ہے بانگ جرس کا\n\nکریں اس شوخ سے ہم قطع الفت\nنہیں یہ کام ساقیؔ اپنے بس کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%A8_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D9%86%D8%AC_%D9%82%D9%81%D8%B3_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "گیا شباب نہ پیغام وصل یار آیا", "poet_page": "مصنف:مرزارضا برق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گیا شباب نہ پیغام وصل یار آیا\nجلا دو کاٹ کے اس نخل میں نہ بار آیا\n\nقدم عدم میں یہ کہہ کر رکھوں گا اے قاتل\nہزار شکر کہ میں بار سر اتار آیا\n\nمثال مہر وہ قاتل شعاع عارض سے\nہزار تیغ قضا کھینچے ایک بار آیا\n\nاذاں دی کعبہ میں ناقوس دیر میں پھونکا\nکہاں کہاں تجھے عاشق ترا پکار آیا\n\nتری تلاش میں اے ماہ مثل ریگ رواں\nنہ میری خاک کو بعد از فنا قرار آیا\n\nپھنسا جو زلف میں چھوٹا وہ قید ہستی سے\nرہا ہوا جو ترے دام میں شکار آیا\n\nہمیشہ دیکھ کے مجنوں کو خلق کہتی تھی\nعدم سے برقؔ کی آمد ہے پیشکار آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "گیا ہے جب سے دکھا جلوہ وہ پری رخسار", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گیا ہے جب سے دکھا جلوہ وہ پری رخسار\nنہ خواب دیدۂ گریاں میں ہے نہ دل کو قرار\n\nہزار رنگ سے پھولے چمن میں گو گل زار\nپر اس بغیر خوش آتی نہیں مجھے یہ بہار\n\nبرنگ لالۂ سر مے کشی نہیں تجھ بن\nکہ خون دل سے میں ہر روز توڑتا ہوں خمار\n\nگلوں کے منہ پہ نہ یہ رنگ آب و تاب رہے\nوہ رشک باغ کرے گر ادھر کو آ کے گزار\n\nعجب نہیں کہ بہا دیوے خانۂ مردم\nرہے گر اشک فشاں یوں ہی دیدۂ خوں بار\n\nرہائی کیونکہ ہو یارب میں اس میں حیراں ہوں\nکہ ایک دل ہے مرا تس پہ درد و غم ہے ہزار\n\nکہا میں اس بت ابرو کماں کی خدمت میں\nخدنگ جبر نے تیرے کیا ہے مجھ کو نگار\n\nنہ رحم تیرے دل سخت میں ہے غیر از ظلم\nنہ میرے نالۂ جاں سوز میں اثر اے یار\n\nنہ تاب ہجر کی رکھتا ہوں نے امید وصال\nخدا ہی جانے کہ کیا ہوگا اس کا آخر کار\n\nہر ایک دن مجھے یوں سوجھتا ہے جی تن سے\nنکل ہی جائے گا ہم راہ آہ آتش بار\n\nنہ تو مزار پہ آوے گا تا دم محشر\nرہے گی دیدۂ گریاں کو حسرت دیدار\n\nعبث تو مجھ کو ڈراتا ہے اپنے مرنے سے\nہزار تجھ سے مرے مر گئے ہیں عاشق زار\n\nیہ سن کے کہنے لگا وہ ستم گر بے رحم\nمری بلا سے جو مر جائے گا تو اے بیدارؔ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%88%DB%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1"} {"title": "گیسو سے عنبری ہے صبا اور صبا سے ہم", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "گیسو سے عنبری ہے صبا اور صبا سے ہم\nمہکی ہوئی ہے آج ہوا اور ہوا سے ہم\n\nشوخی سے ایک جا تجھے دم بھر نہیں قرار\nبے چین تجھ سے تیری ادا اور ادا سے ہم\n\nآرائشوں سے کشتن عاشق مراد ہے\nہوتی ہے پائمال حنا اور حنا سے ہم\n\nہم سے وصال میں بھی ہوئے وہ نہ بے حجاب\nلپٹی رہی بدن سے ردا اور ردا سے ہم\n\nکس منہ سے ہاتھ اٹھائیں فلک کی طرف ظہیرؔ\nمایوس ہے اثر سے دعا اور دعا سے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D9%86%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "گیسوئے تاب‌دار کو اور بھی تاب‌دار کر\nہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کر\n\nعشق بھی ہو حجاب میں، حُسن بھی ہو حجاب میں\nیا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر\n\nتُو ہے محیطِ بےکراں، میں ہُوں ذرا سی آبُجو\nیا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر\n\nمیں ہُوں صدَف تو تیرے ہاتھ میرے گُہر کی آبرو\nمیں ہُوں خزَف تو تُو مجھے گوہرِ شاہوار کر\n\nنغمۂ نَو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو\nاس دمِ نیم سوز کو طائرکِ بہار کر\n\nباغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں\nکارِ جہاں دراز ہے، اب مرا انتظار کر\n\nروزِ حساب جب مرا پیش ہو دفترِ عمل\nآپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھی شرمسار کر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے\nجن سے امید تھی اور آگ لگانے آئے\n\nدرد مندوں کی یوں ہی کرتے ہیں ہمدردی لوگ\nخوب ہنس ہنس کے ہمیں آپ رلانے آئے\n\nخط میں لکھتے ہیں کہ فرصت نہیں آنے کی ہمیں\nاس کا مطلب تو یہ ہے کوئی منانے آئے\n\nآنکھ نیچی نہ ہوئی بزم عدو میں جا کر\nیہ ڈھٹائی کہ نظر ہم سے ملانے آئے\n\nطعنے بے صبر یوں کے ہائے تشفی کے عوض\nاور دکھتے ہوئے دل کو وہ دکھانے آئے\n\nاور تو سب کے لیے ہے تیری محفل میں جگہ\nہم جو بیٹھیں ابھی دربان اٹھانے آئے\n\nچٹکیاں لینے کو پہلو میں رہا ایک نہ ایک\nتو نہیں تو تیرے ارمان ستانے آئے\n\nبیکسی کا تو جلا دل مری تربت پہ حفیظؔ\nکیا ہوا وہ نہ اگر شمع جلانے آئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہائے اس برقِ جہاں سوز پر آنا دل کا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہائے اس برقِ جہاں سوز پر آنا دل کا\nسمجھے جو گرمیِ ہنگامہ جلانا دل کا\n\nہے ترا سلسلۂ زلف بھی کتنا دل بند\nپھنسنے سے پہلے بھی مشکل تھا چھٹانا دل کا\n\nدیکھتے ہم بھی کہ آرام سے سوتے کیوں کر\nنہ سنا تم نے کبھی ہائے فسانہ دل کا\n\nہم سے پوچھیں کہ اسی کھیل میں کھوئی ہے عمر\nکھیل جو لوگ سمجھتے ہیں لگانا دل کا\n\nعاقبت چاہِ ذقن میں خبر اس کی پائی\nمدتوں سے نہیں لگتا تھا ٹھکانا دل کا\n\nکس طرح دردِ محبت میں جتاؤں اس کو\nبھید لڑکوں سے نہیں کہتے ہیں دانا دل کا\n\nہم یہ سمجھے تھے کہ آرام سے تم رکھو گے\nلائیے تم کو ہے منظور ستانا دل کا\n\nہم بھی کیا سادے ہیں کیا کیا ہے توقع اس سے\nآج تک جس نے ذرا حال نہ جانا دل کا\n\nجلوہ گاہِ غم و شادی، دل و شادی کم یاب\nکیوں نہ ہو شکوہ سرا ایک زمانہ دل کا\n\nشکل مانندِ پری اور یہ افسونِ وفا\nآدمی کا نہیں مقدور بچانا دل کا\n\nشیفتہ ضبط کرو ایسی ہے کیا بے تابی\nجو کوئی ہو تمہیں احوال سنانا دل کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%B1%D9%82%D9%90_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہائے اس بے خود شباب کا رنگ", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہائے اس بے خود شباب کا رنگ\nلال انگارہ سا شراب کا رنگ\n\nہو گیا خون حسرت دیدار\nدے دیا اشک نے شہاب کا رنگ\n\nاس کی خوش بو گلاب کی خوش بو\nرنگ اس شوخ کا گلاب کا رنگ\n\nستیاناس ہو گیا دل کا\nکیا کہوں اس جلے کباب کا رنگ\n\nبجلیاں دشمنوں پہ گرتی ہیں\nدیکھ کر میرے اضطراب کا رنگ\n\nوہ سر شام سیر کو نکلے\nپڑ گیا زرد آفتاب کا رنگ\n\nاس کے رخ پر نکھر گئی سرخی\nاللہ اللہ اس حجاب کا رنگ\n\nماند ہے رات دن ترے آگے\nماہتاب اور آفتاب کا رنگ\n\nاتنی شوخی صفیؔ کسی میں کہاں\nرنگ میں رنگ تو شراب کا رنگ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D9%86%DA%AF"} {"title": "ہائے اس شوخ کا انداز سے آنا شب وصل", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہائے اس شوخ کا انداز سے آنا شب وصل\nاور رہ رہ کے وہ احسان جتانا شب وصل\n\nقہر ہے زہر ہے اغیار کو لانا شب وصل\nایسے آنے سے تو بہتر ہے نہ آنا شب وصل\n\nدور کوسوں میری بالیں سے اڑی پھرتی ہے\nکیا کوئی ڈھونڈ لیا اور ٹھکانا شب وصل\n\nحاصل اس ذکر تغافل سے گزشت انچہ گزشت\nفائدہ فتنۂ خفتہ کو جگانا شب وصل\n\nیہ لگاوٹ تو رقیبوں کے رقیبوں سے رہے\nاب کبھی آ کے مجھے منہ نہ دکھانا شب وصل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%86%D8%A7_%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D9%84"} {"title": "ہائے جوانی", "poet_page": "مصنف:عظیم الدین احمد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آہ کسے دکھ درد بتاؤں\nکس کو اپنا حال سناؤں\nدل سے ہوتی راہ ہے دل کو\nگھائل کی ہو خبر گھائل کو\nکون ہے میری سننے والا\nکون ہے اب سر دھننے والا\nکون افسوس کرے اب مجھ پر\nکون ہو مجھ کو دیکھ کے مضطر\nاس سن میں یہ درد نہانی\nہائے جوانی ہائے جوانی\nآہ امیدیں خاک ہوئیں سب\nجینا اب اک قہر ہے یا رب\nدنیا سے اللہ اٹھا لے\nمجھ کو اس کے پاس بلا لے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "ہائے دم بھر بھی دل ٹھہر نہ سکا (I)", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہائے دم بھر بھی دل ٹھہر نہ سکا\nہاتھ سینے پہ کوئی دھر نہ سکا\n\nآئینہ کس سے دیکھا جاتا ہے\nرشک کے مارے وہ سنور نہ سکا\n\nرہ گیا آنکھ میں نزاکت سے\nدل میں نقشہ ترا اتر نہ سکا\n\nوسعت ظرف سے رہا محروم\nجام میرا کسی سے بھر نہ سکا\n\nاس جہاں سے گزر گئے لاکھوں\nاس گلی سے کوئی گزر نہ سکا\n\nمےکشی سے نجات مشکل ہے\nمے کا ڈوبا کبھی ابھر نہ سکا\n\nاشک جاری تھے یاد گیسو میں\nرات بھر قافلہ ٹھہر نہ سکا\n\nموسم گل میں بھی جلیلؔ افسوس\nدامن اپنا گلوں سے بھر نہ سکا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D8%A7_%28I%29"} {"title": "ہائے دم بھر بھی دل ٹھہر نہ سکا (II)", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہائے دم بھر بھی دل ٹھہر نہ سکا\nہاتھ سینے پہ کوئی دھر نہ سکا\n\nآئینہ کس سے دیکھا جاتا ہے\nرشک کے مارے وہ سنور نہ سکا\n\nرہ گیا آنکھ میں نزاکت سے\nدل میں نقشہ ترا اتر نہ سکا\n\nاس جہاں سے گزر گئے لاکھوں\nاس گلی سے کوئی گزر نہ سکا\n\nمے کشی سے نجات مشکل ہے\nمے کا ڈوبا کبھی ابھر نہ سکا\n\nمیرا نامہ خط مقدر تھا\nکہ نظر سے تری گزر نہ سکا\n\nجو ترے عشق میں تباہ ہوا\nکوئی اس کو تباہ کر نہ سکا\n\nآگ ایسی لگی تھی سینے میں\nآنکھ سے دل میں وہ اتر نہ سکا\n\nموسم گل میں بھی جلیلؔ افسوس\nدامن اپنا گلوں سے بھر نہ سکا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%85_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D8%A7_%28II%29"} {"title": "ہائے شرم دلبری اس دل ربا کے ہاتھ ہے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہائے شرم دلبری اس دل ربا کے ہاتھ ہے\nاس وفا کی آبرو اوس بے وفا کے ہاتھ ہے\n\nجانتا ہے کام بندے کا خدا کے ہاتھ ہے\nدل مرا کھلنا ترے بند قبا کے ہاتھ ہے\n\nآہ گریہ ساتھ ہوں غربت میں جب آتا ہے دھیان\nبیکسی کہتی ہے یہ آب و ہوا کے ہاتھ ہے\n\nکب تک آؤ گے عدم میں پوچھتے ہیں راہرو\nکس سے کہئے اس طرف آنا قضا کے ہاتھ ہے\n\nہاتھ اٹھاتا ہوں خدا کے سامنے میں اے رشیدؔ\nڈھونڈھنا باب اجابت کو دعا کے ہاتھ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D9%85_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D8%B1%D8%A8%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہائے لایا نہ کوئی قاصد دلبر کاغذ", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہائے لایا نہ کوئی قاصد دلبر کاغذ\nہو گیا غم سے ہمارا تن لاغر کاغذ\n\nنامۂ یار کے لکھنے کو مجھے ارزاں ہے\nتول دے گر کوئی سونے کے برابر کاغذ\n\nیوں لفافے میں ہمارا ہے کلام شیریں\nجس طرح باندھتے ہیں قند کے اوپر کاغذ\n\nناتوانی سے نہیں ہے مجھے ممکن حرکت\nمیں ہوں حرفوں کی طرح میرا ہے بستر کاغذ\n\nحال لکھا ہے جو میں نے بدن لاغر کا\nلے اڑا تنکے کی مانند کبوتر کاغذ\n\nمیں نے لکھا ہے جو اپنا یہ مصیبت نامہ\nمہر کرنے کو کروں اشک سے اب تر کاغذ\n\nمیرے نامے کو اگر دست حنائی میں وہ لے\nورق گل سے بھی ہو رنگ میں بہتر کاغذ\n\nحال سوز غم فرقت کروں تحریر تو ہو\nکبک کی چونچ قلم بال سمندر کاغذ\n\nاس قدر مثل قلم میں نے جبیں سائی کی\nبن گیا گھس کے در یار کا پتھر کاغذ\n\nیار نے خط میں جو لکھا ہے کہ نہ آنا ہرگز\nہو گیا میرے لیے سد سکندر کاغذ\n\nساتھ نامے کے گئی جان بھی سوئے جاناں\nہو گیا طائر جاں کے لیے شہ پر کاغذ\n\nنہیں تحفہ خط جاناں کے برابر کوئی\nہے مجھے قند و ذقن سے کہیں بہتر کاغذ\n\nجائے جراح کہ اب نامہ بر آ پہنچا ہے\nبدلے پھاہے کے رکھوں داغ جگر پر کاغذ\n\nکیا میں افلاس میں خط یار کو لکھوں ناسخؔ\nنہ قلم ہے نہ سیاہی نہ میسر کاغذ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0"} {"title": "ہائے کافر ترے ہم راہ عدو آتا ہے", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہائے کافر ترے ہم راہ عدو آتا ہے\nکیا کہوں پاس یہ تیرا ہے کہ تو آتا ہے\n\nنکہت عطر میں بس بس کے جو تو آتا ہے\nاپنے ہم راہ لیے رشک کی بو آتا ہے\n\nناتوانی سے نہیں آہ و فغاں کی طاقت\nنالہ تھم تھم کے مرا تابہ گلو آتا ہے\n\nچونک پڑتا ہوں شب وعدہ ترے دھوکے میں\nہر قدم پر یہی کھٹکا ہے کہ تو آتا ہے\n\nدختر رز کے قدم تک تو رسائی معلوم\nمحتسب سنگ در مے کدہ چھو آتا ہے\n\nزخم دل پر کبھی ٹانکا نہ لگایا تم نے\nہم تو سمجھے تھے تمہیں خوب رفو آتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہاتھ آیا ہے ستم گر تو بڑی گھات کے بعد", "poet_page": "مصنف:ماسٹر باسط بسوانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہاتھ آیا ہے ستم گر تو بڑی گھات کے بعد\nسب بتا دوں گا میں تجھ کو مگر اک بات کے بعد\n\nبوسۂ چشم طلب میں نے کیا رو رو کر\nہنس کے فرمایا کہ منظور ہے برسات کے بعد\n\nان سے کہتا ہوں سحر ہوتی ہے گھبراؤ نہیں\nدل میں کہتا ہوں نہ ہو دن کبھی اس رات کے بعد\n\nگلگلے شوخ کے منہ لگ گئے ملا کے ضرور\nہونٹ کیوں چاٹتا پھرتا ہے خدا رات کے بعد\n\nآدمی ہے کہ ہے آسیب یہ کمبخت رقیب\nکہہ دے آیا کرے گھر تیرے جمعرات کے بعد", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DA%91%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "ہاتھ رکھتے ہی تھا حال قلب مضطر آئینہ", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہاتھ رکھتے ہی تھا حال قلب مضطر آئینہ\nدست نازک ہے حسینوں کا مقرر آئینہ\n\nبن گیا غماز شکل ان کی دکھا کر آئینہ\nجو ہمارا راز دل تھا اب ہے ان پر آئینہ\n\nتوڑ کر دل تم نے کھویا امتیاز حسن بھی\nاک تمہارے پاس تھا یا اب ہے گھر گھر آئینہ\n\nدیکھنا ہے کس میں اچھی شکل آتی ہے نظر\nاس نے رکھا ہے مرے دل کے برابر آئینہ\n\nآئنہ رکھو لو کہ دونا لطف آئے وقت رنج\nاس طرف تم اس طرف کھینچے ہو خنجر آئینہ\n\nعکس سے اپنے کسی کے گرم جوشی قہر تھی\nرہ گیا آخر پسینے میں نہا کر آئینہ\n\nشوق خود بینی ستم نیندیں جوانی کی غضب\nبے خبر سوتے ہیں وہ رکھا ہے منہ پر آئینہ\n\nشوخیوں سے بن گیا بجلی کسی کا عکس بھی\nاب تو ہاتھوں سے نکلتا ہے تڑپ کر آئینہ\n\nیوں کہاں ممکن تھا حسن خاص کا دیدار عام\nبن گئی آخر سراپا صبح محشر آئینہ\n\nدیکھ لیں شاید نظرؔ وہ دیدۂ انصاف سے\nلے چلو ٹوٹے ہوئے دل کا بنا کر آئینہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%82%D9%84%D8%A8_%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81"} {"title": "ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو\nاک نظر دل سے ادھر دیکھ لو گر دیکھتے ہو\n\nہے دم باز پسیں دیکھ لو گر دیکھتے ہو\nآئینہ منہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو\n\nناتوانی کا مری مجھ سے نہ پوچھو احوال\nہو مجھے دیکھتے یا اپنی کمر دیکھتے ہو\n\nپر پروانہ پڑے ہیں شجر شمع کے گرد\nبرگ ریزی محبت کا ثمر دیکھتے ہو\n\nبید مجنوں کو ہو جب دیکھتے اے اہل نظر\nکسی مجنوں کو بھی آشفتہ بسر دیکھتے ہو\n\nشوق دیدار مری نعش پہ آ کر بولا\nکس کی ہو دیکھتے راہ اور کدھر دیکھتے ہو\n\nلذت ناوک غم ذوقؔ سے ہو پوچھتے کیا\nلب پڑے چاٹتے ہیں زخم جگر دیکھتے ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%D9%BE%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "ہاتھ سے کچھ نہ ترے اے مہ کنعاں ہوگا", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہاتھ سے کچھ نہ ترے اے مہ کنعاں ہوگا\nہاتھ جو ہوگا تو مری موت کا ساماں ہوگا\n\nساقیا ہجر میں مے خانہ بیاباں ہوگا\nدور ساغر بھی رم چشم غزالاں ہوگا\n\nاے جنوں پھر مجھے خوش آنے لگی عریانی\nاب نہ دامن ہی رہے گا نہ گریباں ہوگا\n\nپھر چلیں گے ترا قد دیکھ کے گلزاروں میں\nپھر ہر اک سرو و سمن سرو چراغاں ہوگا\n\nگھر میں دل پھر مرا گھبرانے لگا آپ سے آپ\nاے جنوں پھر یہ مکاں خانۂ زنداں ہوگا\n\nپھر خوش آتی ہے مرے دل کو شب ماہ کی سیر\nعشق پھر چاند سے مکھڑے کا دو چنداں ہوگا\n\nان دنوں پھر تجھے گویاؔ جو ہے چپکی سی لگی\nپھر ارادہ طرف ملک خموشاں ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%81_%DA%A9%D9%86%D8%B9%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ہاتھ سے ہیہات کیا جاتا رہا", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہاتھ سے ہیہات کیا جاتا رہا\nمرنے جینے کا مزا جاتا رہا\n\nزندگی کا آسرا جاتا رہا\nہائے جینے کا مزا جاتا رہا\n\nلے گیا سرمایۂ صبر و قرار\nمایہ دار اب صبر کا جاتا رہا\n\nعمر بھر کی سب کمائی لٹ گئی\nزیست کا برگ و نوا جاتا رہا\n\nدل اگر باقی رہا کس کام کا\nچین دل کا اے خدا جاتا رہا\n\nزندگانی کی حلاوت اٹھ گئی\nدانہ پانی کا مزا جاتا رہا\n\nجو سہارا تھا دم درماندگی\nوہ بڑھاپے کا عصا جاتا رہا\n\nکیجیے کس بات کی اب آرزو\nآرزو کا مدعا جاتا رہا\n\nگل ہوا اپنا چراغ آرزو\nنور گھر کا اے خدا جاتا رہا\n\nہائے کیسا لٹ گیا باغ مراد\nکیا شجر پھولا پھلا جاتا رہا\n\nروئیے کیا زندگانی کو ظہیرؔ\nموت کا بھی اب مزا جاتا رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C%DB%81%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "ہاتھ ملواتی ہیں حوروں کو تمہاری چوڑیاں", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہاتھ ملواتی ہیں حوروں کو تمہاری چوڑیاں\nپیاری پیاری ہے کلائی پیاری پیاری چوڑیاں\n\nبند کر دیتی ہیں سب کو پیاری پیاری چوڑیاں\nبولتی ہیں لاکھ میں بڑھ کر تمہاری چوڑیاں\n\nاے بتو سرکش اگر ہو آتش رنگ حنا\nشعلۂ جوالہ بن جائیں تمہاری چوڑیاں\n\nبرہمی حلقہ بگوشوں کی انہیں منظور ہے\nپھوٹ ڈلواتی ہیں لاکھوں میں تمہاری چوڑیاں\n\nحوروں کی آنکھوں کے حلقے اے پری موجود ہیں\nان بتانوں سے چڑھاؤ پیاری پیاری چوڑیاں\n\nدل میں چھید کر خون کی بوندوں سے ہر ریزہ بھرے\nٹوٹ کر بن جائیں بوندے کی کٹاری چوڑیاں\n\nسرو قامت ہیں ہزاروں دام الفت میں اسیر\nطوق قمری ہیں تمہاری پیاری پیاری چوڑیاں\n\nصدقے ہوتی ہیں برابر ان کلائی پہنچوں پر\nگرد پھرتی ہیں خوشی سے باری باری چوڑیاں\n\nدست نازک نے زمانے کو کیا حلقہ بگوش\nکیا کھلے بندوں نظر آئیں تمہاری چوڑیاں\n\nاے فلک ان کو نہیں بھاتا ستاروں کا بھی جوڑ\nکہتے ہیں میری بلا پہنے کنواری چوڑیاں\n\nروئے روشن پر جو تم نے ہاتھ رکھا ناز سے\nچاند کا ہالہ نظر آئیں تمہاری چوڑیاں\n\nحوریں بھیجیں گی تجھے اے رشک گل فردوس سے\nلائے گی مشاطہ فصل بہاری چوڑیاں\n\nکیوں نہ نکلے نوک خوں ریزی کے ہر انداز میں\nلوٹ کر بھی دل میں چبھتی ہیں تمہاری چوڑیاں\n\nبل نکالا سیکڑوں بانکوں کا دست ناز سے\nبانک کے فن میں ہوئیں یکتا تمہاری چوڑیاں\n\nخون کی بوندیں بنی ہیں چننیاں یاقوت کی\nدل میں چبھ کر دے رہی ہیں زخم کاری چوڑیاں\n\nکیوں نہ ہوں حلقہ بگوش آ کر حسینان بہشت\nحوروں کے کانوں کی بالی ہیں تمہاری چوڑیاں\n\nمیں نے ہاتھا پائی جب کی سرد مہرے سے کہا\nگرم جوشی سے ہوئیں ٹھنڈی ہماری چوڑیاں\n\nدیکھ لو اے گل رخو مرغان دل پابند ہیں\nبال کے پھندے کی صورت ہیں تمہاری چوڑیاں\n\nکرتے ہیں اپنے زبانوں میں ترے ہاتھوں کا وصف\nبولتی ہیں ایک منہ ہو کر ستاری چوڑیاں\n\nہر ستارے کی چمک نور جہان حسن ہے\nرکھتی ہیں حکم جہانگیری تمہاری چوڑیاں\n\nجان پڑ جاتی ہے دست ناز سے ہر چیز میں\nرنگ بن کر چڑھتی ہیں ہاتھوں میں ساری چوڑیاں\n\nگو گہر ہو اے پری ناز نگاہ حور کا\nعینک رضواں کی حلقہ ہیں تمہاری چوڑیاں\n\nکر کے ہاتھا پائی ڈولی میں کیا ان کو سوار\nصاف ٹھنڈی ہو گئیں وقت سواری چوڑیاں\n\nبوندوں کے حلقے نہیں پڑتے ہیں اے گل نہر میں\nڈالتا ہے ہندو ابر بہاری چوڑیاں\n\nخون لاکھوں کا کیا کرتے ہیں ہر جھنکار سے\nخوب سچا جوڑ چلتی ہیں تمہاری چوڑیاں\n\nغیر ڈیوڑھی پر کیا کرتے ہیں آرائش کا ذکر\nحلقۂ بیرون در ٹھہری تمہاری چوڑیاں\n\nناز سے فرماتے ہیں لوں کس طرح تیرا سلام\nہاتھ اٹھ سکتے نہیں ایسی ہیں بھاری چوڑیاں\n\nاتری پڑتی ہیں پھسل کر دست نازک سے مدام\nکس طرح ٹھہریں کلائی میں تمہاری چوڑیاں\n\nمار ڈالا آتش غم نے جلا کر اے منیرؔ\nٹھنڈی کر دیں سوگ میں اس گل نے ساری چوڑیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%86%D9%88%DA%91%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "ہاتھ میں لے کے نہ خنجر بیٹھیے", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہاتھ میں لے کے نہ خنجر بیٹھیے\nقتل کرنا ہے تو بس کر بیٹھیے\n\nبار در تک بھی نہیں اور شوق یہ\nبزم میں ان کے برابر بیٹھیے\n\nاٹھیے اے شور فغاں پر اس طرح\nنقش کی مانند دل پر بیٹھیے\n\nہو چکی تعظیم دشمن کی کہیں\nاے زیارت گاہ محشر بیٹھیے\n\nضعف طاری ہو تو کیوں کر لوٹیے\nجان مضطر ہو تو کیوں کر بیٹھیے\n\nیہ کوئی دفتر نہیں سن لیجئے\nحال دل کہتا ہوں دم بھر بیٹھیے\n\nحضرت دل کوچۂ قاتل کا عزم\nروئیے گا سر پکڑ کر بیٹھیے\n\nروئے جنگل میں بہت اب جی میں ہے\nگھر بٹھانے کے لئے گھر بیٹھیے\n\nکھینچ مارا ایک پتھر بات میں\nاس صنم کے پاس پتھر بیٹھیے\n\nخاک چھانی عشق میں سالکؔ بہت\nپیر و مرشد کوئی دن گھر بیٹھیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AE%D9%86%D8%AC%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%8C%DB%92"} {"title": "ہاتھ نکلے اپنے دونوں کام کے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہاتھ نکلے اپنے دونوں کام کے\nدل کو تھاما ان کا دامن تھام کے\n\nگھونٹ پی کر بادۂ گلفام کے\nبوسے لے لیتا ہوں خالی جام کے\n\nرات دن پھرتا ہے کیوں اے چرخ پیر\nتیرے دن ہیں راحت و آرام کے\n\nاس نزاکت کا برا ہو بزم سے\nاٹھتے ہیں وہ دست دشمن تھام کے\n\nچشم مست یار کی اک دھوم ہے\nآج کل ہیں دور دور جام کے\n\nیا جگر میں یا رہے گا دل میں تیر\nیہ ہی دو گوشے تو ہیں آرام کے\n\nوہ کریں عذر وفا اچھی کہی\nمجھ پہ ردے رکھتے ہیں الزام کے\n\nجب قدم کعبے سے رکھا سوئے دیر\nتار الجھے جامۂ احرام کے\n\nخوش ہیں وہ دور فلک سے آج کل\nدن پھرے ہیں گردش ایام کے\n\nآ گیا ہے بھول کر خط اس طرف\nوہ تو عاشق ہیں مرے ہم نام کے\n\nہاتھ سے صیاد کے گر کر چھری\nکٹ گئے حلقے ہمارے دام کے\n\nقاصدوں کے منتظر رہنے لگے\nپڑ گئے ان کو مزے پیغام کے\n\nکیا کسی درگاہ میں جانا ہے آج\nصبح سے سامان ہیں حمام کے\n\nپوچھتے ہیں حضرت زاہد سے رند\nدام کیا ہیں جامۂ احرام کے\n\nلب اتر آئے ہیں وہ تعریف پر\nہم جو عادی ہو گئے دشنام کے\n\nدعویٰ عشق و وفا پر یہ کہا\nسب بجا لیکن مرے کس کام کے\n\nبن سنور کر کب بگڑتا ہے بناؤ\nصبح تک رہتے ہیں جلوے شام کے\n\nجور سے یا لطف سے پورا کیا\nآپ پیچھے پڑ گئے جس کام کے\n\nہے گدائے مے کدہ بھی کیا حریص\nبھر لیے جھولی میں ٹکڑے جام کے\n\nنالہ و فریاد کی طاقت کہاں\nبات کرتا ہوں کلیجا تھام کے\n\nخوگر بیداد کو راحت ہے موت\nبھاگتا ہوں نام سے آرام کے\n\nداغؔ کے سب حرف لکھتے ہیں جدا\nٹکڑے کر ڈالے ہمارے نام کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92"} {"title": "ہاتھوں سے اپنے دامن دُنیا نکل گیا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ہاتھوں سے اپنے دامنِ دُنیا نکل گیا\nرُخصت ہُوا دلوں سے خیالِ معاد بھی\n\nقانونِ وقف کے لیے لڑتے تھے شیخ جی\nپُوچھو تو، وقف کے لیے ہے جائداد بھی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D8%AF%D9%8F%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہاتھوں میں آج کی شب مہندی لگایئے گا", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہاتھوں میں آج کی شب مہندی لگایئے گا\nسمجھے یہ رنگ ہم بھی کچھ رنگ لائیے گا\n\nیہ شوخیاں تمہاری لکھی ہوئی ہیں دل پر\nآخر کبھی تو میرے قابو میں آئیے گا\n\nپھر میں بھی کچھ کہوں گا دیکھو زبان روکو\nپھر منہ چھپا کے مجھ سے آنسو بہائیے گا\n\nذات شریف ہو تم میں خوب جانتا ہوں\nطوفان اور کوئی مجھ پر اٹھائیے گا\n\nہاں شمع کا میں گل ہوں ناصح کی گفتگو ہوں\nبڑھ جاؤں گا جہاں تک مجھ کو گھٹائیے گا\n\nامیدوار باقی کچھ اور رہ گئے ہیں\nپھر بھی نقاب گیسو منہ سے ہٹائیے گا\n\nبے وجہ یہ نہیں ہے انداز گفتگو کا\nپھر کل کی طرح اے جاں باتیں سنائیے گا\n\nمیں ہوں مزاج قاتل لازم ہے خوف مجھ سے\nجھوٹی قسم نہیں ہوں ہر دم جو کھائیے گا\n\nیہ کیوں ہے ناامیدی درگاہ کبریا سے\nجو کچھ کہ آرزو ہے ویسا ہی پائیے گا\n\nمشتاق نے تو جاں دی گلگو لباس کیوں ہو\nیہ رنگ نو عروسی کس کو دکھائیے گا\n\nدیکھو رقیب آئے دیکھو رقیب آئے\nکیا منہ اب آپ کا ہے جو منہ چھپائیے گا\n\nہم خوب جانتے ہیں استادیاں تمہاری\nمحفل میں بیٹھے بیٹھے آنکھیں ملایئے گا\n\nآخر کچھ انتہا بھی بے رحمیوں کی صاحب\nکہیے تو عاشقوں کو کب تک ستائیے گا\n\nممکن نہیں جو نیت بدلے تمہاری اے جاں\nکیا قہر آج کی شب ہم پر نہ لائیے گا\n\nکچھ لحظہ اور ٹھہرو تا روح تن سے نکلے\nآئے گی اور آفت گر آپ جائیے گا\n\nسمجھے ہوئے ہیں جو کچھ دل میں بھرے ہوئے ہے\nکاہے کو آئیے گا کاہے کو آئیے گا\n\nآؤ تو جلد آؤ دم بھر کے بعد اے جاں\nمجھ کو نہ پائیے گا مجھ کو نہ پائیے گا\n\nسن لیجئے گا جو کچھ مدت سے آرزو ہے\nفرصت ہو گر میسر دم بھر کو آئیے گا\n\nکچھ دور میں نہیں ہوں لازم ہے یاد کرنی\nمانند دل مجھے بھی پہلو میں پائیے گا\n\nٹھنڈی کبھی نہ ہوں گی کیا گرمیاں تمہاری\nآخر نسیمؔ کا دل کب تک جلائیے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A8_%D9%85%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D9%84%DA%AF%D8%A7%DB%8C%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ہاتھوں کو اٹھا جان سے آخر کو رہوں گا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہاتھوں کو اٹھا جان سے آخر کو رہوں گا\nپر دل ہے رفیق اس کو کبھی تجھ کو نہ دوں گا\n\nبے بوسۂ لب کے تو کبھی میں نہ ٹلوں گا\nگو گالیاں تو دے گا تو بن جاؤں گا گونگا\n\nگر وصل کی ٹھہرے گی نہ تجھ سے تو مروں گا\nپر بار جدائی کی مصیبت نہ سہوں گا\n\nمیں غیر کو کب پاس ترے بیٹھنے دوں گا\nگر وہ نہیں اٹھنے کا تو لاحول پڑھوں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ہادی ہوں میں کام ہے ہدایت میرا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہادی ہوں میں کام ہے ہدایت میرا\nدم بھرتے ہیں ارباب بلاغت میرا\nمیں شہر میں رہتا ہوں سند ہیں میرے شعر\nمنہ چومتی ہے آب فصاحت میرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%AF%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "ہار بنا ان پارۂ دل کا مانگ نہ گجرا پھولوں کا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہار بنا ان پارۂ دل کا مانگ نہ گجرا پھولوں کا\nاور کہاں سے عاشق مفلس لائے یہ گہنہ پھولوں کا\n\nدیکھے ہے وہ صحن چمن میں جا کے تماشا پھولوں کا\nداغوں سے بن جائے یہ سینہ کاش کہ تختہ پھولوں کا\n\nکاش دل صد چاک یہ بن کر بیچنے والا پھولوں کا\nکوئے بتاں میں جا کے پکارے لو کوئی گجرا پھولوں کا\n\nحرف نہیں ہے دیدۂ تر ٹکڑوں سے جگر کے لائق پر\nسیل اشک کو دریا سمجھو اس کو نواڑا پھولوں کا\n\nصبح نہیں بے وجہ جلائے لالے نے گلشن میں چراغ\nدیکھ رخ گلنار صنم نکلا ہے وہ لالہ پھولوں کا\n\nمجھ کو نہ لے چل باد بہاری رنگ چمن ہے وحشت خیز\nجیب سے لے کر دامن تک سو ٹکڑے کرتا پھولوں کا\n\nتو نے لٹایا انگاروں پر صبح تلک اے وعدہ خلاف\nتیری خاطر ہم نے کیا تھا شب کو بچھونا پھولوں کا\n\nسلک سرشک سرخ زمیں تک تجھ کو دکھاوے مژگاں سے\nپھلجھڑی ایسی چھوڑ کوئی ہوں میں بھی لچھا پھولوں کا\n\nکان سے تیرے جھک جھک کر یہ لیتا ہے بوسے عارض کے\nیا تو ہمارے ٹکڑے کر یا توڑ یہ بالا پھولوں کا\n\nدھوپ میں اس کا ہائے قفس صیاد ستم ایجاد رکھے\nرہتا تھا جس مرغ چمن کے سر پر سایا پھولوں کا\n\nجھل کھائے اغیار نہ کیوں کر کل چلون سے ہات نکال\nمارا تھا اس پردہ نشیں نے مجھ کو پنکھا پھولوں کا\n\nعشق میں تیرے گل کھا کر جاں اپنی دی ہے نصیرؔ نے آہ\nاس کے سر مرقد پر گل رو لا کوئی دونا پھولوں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%82_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%AC%D8%B1%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہار جیت", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میری بن جانے پہ آمادہ ہے وہ جان حیات\nجو کسی اور سے پیمان وفا رکھتی ہے\nمیرے آغوش میں آنے کے لئے راضی ہے\nجو کسی اور کو سینے میں چھپا رکھتی ہے\n\nشاعری ہی نہیں کچھ باعث عزت مجھ کو\nاور بہت کچھ حسد و رشک کے اسباب میں ہے\nمجھ کو حاصل ہے وہ معیار شب و روز کہ جو\nاس کے محبوب کے ہاتوں میں نہیں خواب میں ہے\n\nکون جیتے گا یہ بازی مجھے معلوم نہیں\nزندگی میں مجھے کیا اور اسے کیا مل جائے\nکاش وہ زینت آغوش کسی کی بن جائے\nاور مجھے گرمئ پیمان وفا مل جائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%DB%8C%D8%AA"} {"title": "ہارتا چلا گیا", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "نمرود کی خدائی", "year": "1950", "text_ur": "لوگوں کو صرف جیتنے میں مزا آتا ہے لیکن اسے جیت کر ہار دینے میں لطف آتا ہے۔جیتنے میں اسے کبھی اتنی دقت محسوس نہیں ہوئی لیکن ہارنے میں البتہ اسے کئی دفعہ کافی تگ و دو کرنا پڑی۔ شروع شروع میں بینک کی ملازمت کرتے ہوئے جب اسے خیال آیا کہ اس کے پاس بھی دولت کے انبار ہونے چاہئیں تو اس کے عزیز و اقارب اور دوستوں نے اس خیال کا مضحکہ اڑایا تھا مگر جب وہ بینک کی ملازمت چھوڑ کر بمبئی چلا گیا تو تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اس نے اپنے دوستوں اور عزیزوں کی روپے پیسے سے مدد کرنا شروع کردی۔\n\nبمبئی میں اس کے لیے کئی میدان تھے مگر اس نے فلم کے میدان کو منتخب کیا۔ اس میں دولت تھی۔ شہرت تھی۔ اس میں چل پھر کر وہ دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹ سکتا تھااور دونوں ہی ہاتھوں سے لٹا بھی سکتا تھا۔ چنانچہ ابھی تک اسی میدان کا سپاہی ہے۔ لاکھوں نہیں کروڑوں روپیہ اس نے کمایا اور لٹا دیا۔ کمانے میں اتنی دیر نہ لگی جتنی لٹانے میں۔ ایک فلم کے لیے گیت لکھے۔ لاکھ روپے دھروا لیے لیکن ایک لاکھ روپوں کو رنڈیوں کے کوٹھوں پر، بھڑووں کی محفلوں میں، گھوڑ دوڑ کے میدانوں اور قمار خانوں میں ہارتے ہوئے اسے کافی دیر لگی۔\n\nایک فلم بنایا۔ دس لاکھ کا منافع ہوا۔ اب اس رقم کو ادھر ادھر لٹانے کا سوال پیدا ہوا۔ چنانچہ اس نے اپنے ہر قدم میں لغزش پیدا کرلی۔ تین موٹریں خریدلیں۔ ایک نئی اور دو پرانی جن کے متعلق اسے اچھی طرح علم تھا کہ بالکل ناکارہ ہیں۔ یہ اس کے گھر کے باہر گلنے سڑنے کے لیے رکھ دیں۔ جو نئی تھی اس کو گیراج میں بند کرادیا۔ اس بہانے سے کہ پٹرول نہیں ملتا۔ اس کے لیے ٹیکسی ٹھیک تھی۔ صبح لی، ایک میل کے بعد رکوا لی، کسی قمار خانے میں چلے گئے۔ دوڈھائی ہزارروپے ہار کر دوسرے روز باہر نکلے، ٹیکسی کھڑی تھی۔ اس میں بیٹھے اور گھر چلے گئے اور جان بوجھ کر کرایہ ادا کرنا بھول گئے۔ شام کو باہر نکلے اور ٹیکسی کھڑی دیکھ کر کہا، ’’ارے نابکار، تو ابھی تک یہیں کھڑا ہے۔۔۔ چل میرے ساتھ دفتر۔ تجھے پیسے دلوادوں۔۔۔ دفتر پہنچ کر پھر کرایہ چکانا بھول گئے اور۔۔۔\n\nاوپر تلے دو تین فلم کامیاب ہوئے جتنے ریکارڈ تھے سب ٹوٹ گئے۔ دولت کے انبار لگ گئے۔ شہرت آسمان تک جا پہنچی۔ جھنجھلا کر اس نے اوپر تلے دو تین ایسے فلم بنائے۔ جن کی ناکامی اپنی مثال آپ ہو کے رہ گئی۔ اپنی تباہی کے لیے کئی دوسروں کو بھی تباہ کردیا۔ لیکن فوراً ہی آستینیں چڑھائیں۔ جو تباہ ہوگئے ان کو حوصلہ دیا۔ اور ایک ایسا فلم تیار کردیا جو سونے کی کان ثابت ہوا۔\n\nعورتوں کے معاملے میں بھی ان کی ہار جیت کا یہی چکر کار فرما رہا ہے۔ کسی محفل سے یا کسی کوٹھے پر سے ایک عورت اٹھائی۔ اس کو بنا سنوار کر شہرت کی اونچی گدی پر بٹھا دیا اور اس کی ساری نسوانیت مسخر کرنے کے بعد اسے ایسے موقعے بہم پہنچائے کہ وہ کسی دوسرے کی گردن میں اپنی باہیں حمائل کردے۔\nبڑے بڑے سرمایہ داروں اور بڑے بڑے عشق پیشہ خوبصورت جوانوں سے مقابلہ ہوا۔ سردھڑ کی بازیاں لگیں۔ سیاست کی بساطیں بچھیں۔ لیکن وہ ان تمام خار دار جھاڑیوں میں ہاتھ ڈال کر اپنا پسندیدہ پھول نوچ کرلے آیا۔ دوسرے دن ہی اس کو اپنے کوٹ میں لگایا اور کسی رقیب کو موقع دے دیا کہ وہ جھپٹا مار کر لے جائے۔\n\nان دنوں جب وہ فارس روڈ کے ایک قمار خانے میں لگا تار دس روز سے جارہا تھا، اس پر ہارنے ہی کی دھن سوار تھی۔ یوں تو اس نے تازہ تازہ ایک بہت ہی خوبصورت ایکٹرس ہاری تھی اور دس لاکھ روپے ایک فلم میں تباہ کردیے تھے۔ مگر ان دو حادثوں سے اس کی طبیعت سیر نہیں ہوئی تھی۔ یہ دو چیزیں بہت ہی اچانک طور پر اس کے ہاتھ سے نکل گئی تھیں۔ اس کا اندازہ اس دفعہ غلط ثابت ہوا تھا چنانچہ یہی وجہ ہے کہ وہ روز فارس روڈ کے قمار خانے میں ناپ تول کر ایک مقررہ رقم ہار رہا تھا۔\n\nہر روز شام کو اپنی جیب میں دو سو روپے ڈال کروہ پون پل کا رخ کرتا۔ اس کی ٹیکسی ٹکھپائیوں کی جنگلہ لگی دکانوں کی قطار کے ساتھ ساتھ چلتی اور وہ جا کر بجلی کے ایک کھمبے کے پاس رک جاتی۔ اپنی ناک پر موٹے موٹے شیشوں والی عینک اچھی طرح جماتا۔ دھوتی کی لانگ ٹھیک کرتا اور ایک نظر دائیں جانب دیکھ کر جہاں لوہے کے جنگلے کے پیچھے ایک نہایت ہی بد شکل عورت ٹوٹا ہوا آئینہ رکھے سنگار میں مصروف ہوتی اوپر بیٹھک میں چلا جاتا۔\n\nدس روز سے وہ متواتر فارس روڈ کے اس قمار خانے میں دو سو روپیہ ہارنے کے لیے آرہا تھا۔ کبھی تو یہ روپے دو تین ہاتھوں ہی میں ختم ہو جاتے اور کبھی ان کو ہارتے ہارتے صبح ہو جاتی۔\n\nگیارھویں روز بجلی کے کھمبے کے پاس جب ٹیکسی رکی تو اس نے اپنی ناک پر موٹے موٹے شیشوں والی عینک جما کر اور دھوتی کی لانگ ٹھیک کرکے ایک نظر دائیں جانب دیکھا تو اسے ایک دم محسوس ہوا کہ وہ دس روز سے اس بدشکل عورت کو دیکھ رہا ہے۔ حسب دستور ٹوٹا ہوا آئینہ سامنے رکھے لکڑی کے تخت پر بیٹھی سنگار میں مصروف تھی۔\n\nلوہے کے جنگلے کے پاس آکر اس نے غور سے اس ادھیڑ عمر کی عورت کو دیکھا۔ رنگ سیاہ، جلد چکنی، گالوں اور ٹھوڑی پر نیلے رنگ کے چھوٹے چھوٹے سوئی سے گندھے ہوئے دائرے جو چمڑی کی سیاہی میں قریب قریب جذب ہوگئے تھے۔ دانت بہت ہی بدنما، مسوڑھے پان اور تمباکو سے گلے ہوئے۔ اس نے سوچا اس عورت کے پاس کون آتا ہوگا؟\n\nلوہے کے جنگلے کی طرف جب اس نے ایک قدم اور بڑھایا تو وہ بدشکل عورت مسکرائی۔ آئینہ ایک طرف رکھ کر اس نے بڑے ہی بھونڈے پن سے کہا، ’’کیوں سیٹھ رہے گا؟‘‘\n\nاس نے اور زیادہ غور سے اس عورت کی طرف دیکھا جسے اس عمر میں بھی امیدتھی کہ اس کے گاہک موجود ہیں۔ اس کو بہت حیرت ہوئی۔ چنانچہ اس نے پوچھا، ’’بائی تمہاری کیا عمر ہوگی؟‘‘\n\nیہ سن کر عورت کے جذبات کو دھکا سا لگا۔ منہ بسور کر اس نے مراٹھی زبان میں شاید گالی دی۔ اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ چنانچہ اس نے بڑے خلوص کے ساتھ اس سے کہا، ’’بائی مجھے معاف کردو۔ میں نے ایسے ہی پوچھا تھا۔ لیکن میرے لیے بڑے اچنبھے کی بات ہے۔ ہر روز تم سج دھج کر یہاں بیٹھتی ہو۔ کیا تمہارے پاس کوئی آتا ہے؟‘‘ عورت نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے پھر اپنی غلطی محسوس کی اور اس نے بغیر کسی تجسس کے پوچھا، ’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘\n\nعورت جو پردہ ہٹا کر اندر جانے والی تھی رک گئی، ’’گنگوبائی۔‘‘\n\n’’گنگو بائی،تم ہر روز کتنا کما لیتی ہو؟‘‘ اس کے لہجے میں ہمدردی تھی۔ گنگو بائی لوہے کے سلاخوں کے پاس آگئی، ’’چھ سات روپے۔۔۔ کبھی کچھ بھی نہیں۔‘‘\n\n’’چھ سات روپے اور کبھی کچھ بھی نہیں۔‘‘ گنگو بائی کے یہ الفاظ دہراتے ہوئے ان دو سو روپوں کا خیال آیا جو اس کی جیب میں پڑے تھے اور جن کو وہ صرف ہار دینے کے لیے اپنے ساتھ لایا تھا۔ اسے معاً ایک خیال آیا، ’’دیکھو گنگو بائی، تم روزانہ چھ سات روپے کماتی ہو۔ مجھ سے دس لے لیا کرو۔‘‘\n\n’’رہنے کے؟‘‘\n\n’’نہیں۔۔۔ لیکن تم یہی سمجھ لینا کہ میں رہنے کے دے رہا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور دس روپے کا ایک نوٹ نکال کر سلاخوں میں سے اندر گزار دیا، ’’یہ لو۔‘‘\n\nگنگو بائی نے نوٹ لے لیا۔ لیکن اس کا چہرہ سوال بنا ہوا تھا۔\n\n’’دیکھو گنگو بائی، میں تمہیں ہر روز اسی وقت دس روپے دے دیا کروں گا لیکن ایک شرط پر۔‘‘\n\n’’سرت؟‘‘\n\n’’شرط یہ ہے کہ دس روپے لینے کے بعد تم کھانا وانا کھا کر اندر سو جایا کرو۔۔۔ رات کو میں تمہاری بتی جلتی نہ دیکھوں۔‘‘\n\nگنگو بائی کے ہونٹوں پر عجیب و غریب مسکراہٹ پیدا ہوئی، ’’ہنسو نہیں۔ میں اپنے وچن کا پکارہوں گا۔‘‘\n\nیہ کہہ کر وہ اوپر قمار خانے میں چلا گیا۔ سیڑھیوں میں اس نے سوچا مجھے تو یہ روپے ہارنے ہی ہوتے ہیں۔ دو سو نہ سہی ایک سو نوے سہی۔‘‘\n\nکئی دن گزر گئے۔ ہر روز حسبِ دستور اس کی ٹیکسی شام کے وقت بجلی کے کھمبے کے پاس رکتی۔ دروازہ کھول کروہ باہر نکلتا۔ موٹے شیشوں والی عینک میں سے دائیں جانب گنگو بائی کو آہنی سلاخوں کے پیچھے تخت پر بیٹھی دیکھتا۔ اپنی دھوتی کی لانگ ٹھیک کرتا ،جنگلے کے پاس پہنچتا اور دس روپے کا ایک نوٹ نکال کر گنگو بائی کو دے دیتا۔ گنگو بائی اس نوٹ کو ماتھے سے چھو کر سلام کرتی اور وہ ایک سو نوے ہارنے کے لیے اوپر کوٹھے پر چلا جاتا۔ اس دوران میں دو تین مرتبہ روپیہ ہارنے کے بعد جب وہ رات کو گیارہ بجے یا دو تین بجے نیچے اترا تو اس نے گنگو بائی کی دکان بند پائی۔\n\nایک دن حسبِ معمول دس روپے دے کر جب وہ کوٹھے پر گیا تو دس بجے ہی فارغ ہوگیا۔ تاش کے پتے کچھ ایسے پڑے کہ چند گھنٹوں ہی میں ایک سو نوے روپوں کا صفایا ہوگیا۔ کوٹھے سے نیچے اتر کر جب وہ ٹیکسی میں بیٹھنے لگا تو اس نے کیا دیکھا کہ گنگو بائی کی دکان کھلی ہے اور وہ لوہے کے جنگلے کے پیچھے تخت پر یوں بیٹھی ہے جیسے گاہکوں کا انتظار کررہی ہے ٹیکسی میں سے باہر نکل کروہ اس کی دکان کی طرف بڑھا۔ گنگو بائی نے اسے دیکھا تو گھبرا گئی لیکن وہ پاس پہنچ چکا تھا۔\n\n’’گنگو بائی یہ کیا؟‘‘\n\nگنگو بائی نے کوئی جواب نہ دیا۔\n\n’’بہت افسوس ہے تم نے اپناوچن پورا نہ کیا۔۔۔ میں نے تم سے کہا تھا۔۔۔ رات کو میں تمہاری بتی جلتی نہ دیکھوں۔۔۔ لیکن تم یہاں اس طرح بیٹھی ہو۔‘‘اس کے لہجے میں دکھ تھا۔ گنگو بائی سوچ میں پڑ گئی۔\n\n’’تم بہت بری ہو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ واپس جانے لگا۔\n\nگنگو بائی نے آواز دی، ’’ٹھہرو سیٹھ۔‘‘\n\nوہ ٹھہر گیا۔ گنگو بائی نے ہولے ہولے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کرتے ہوئے کہا، ’’میں بہت بری ہوں۔ پر یہاں چانگلی بھی کون ہے۔۔۔؟ سیٹھ تم دس روپے دے کر ایک کی بتی بجھاتے ہو۔۔۔ ذرا دیکھو تو کتنی بتیاں جل رہی ہیں۔‘‘ اس نے ایک طرف ہٹ کر گلی کے ساتھ ساتھ دوڑتی ہوئی جنگلہ لگی دکانوں کی طرف دیکھا۔ ایک نہ ختم ہونے والی قطار تھی اور بے شمار بتیاں رات کی کثیف فضا میں سلگ رہی تھیں۔\n\n’’کیا تم یہ سب بتیاں بجھا سکتے ہو؟‘‘\n\nاس نے اپنی عینک کے موٹے موٹے شیشوں میں سے پہلے گنگو بائی کے سر پر لٹکتے ہوئے روشن بلب کو دیکھا،پھر گنگو بائی کے مٹ میلے چہرے کو اور گردن جھکا کر کہا، ’’نہیں،گنگو بائی نہیں۔‘‘\n\nجب وہ ٹیکسی میں بیٹھا تو اس کی جیب کی طرح اس کا دل بھی خالی تھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DA%86%D9%84%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہارون کی آخری نصیحت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ہاروں نے کہا وقتِ رحِیل اپنے پِسر سے\nجائے گا کبھی تُو بھی اسی راہ گزر سے\nپوشیدہ ہے کافر کی نظر سے ملَکُ الموْت\nلیکن نہیں پوشیدہ مسلماں کی نظر سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%D8%B1%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C_%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%AD%D8%AA"} {"title": "ہاں اے دل ایذا طلب آرام نہ لے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہاں اے دل ایذا طلب آرام نہ لے\nبدنام نہ ہو مفت کا الزام نہ لے\nہاتھ آنا سکے پھول تو کانٹے ہی سہی\nناکام پلٹنے کا کبھی نام نہ لے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%DB%8C%D8%B0%D8%A7_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%84%DB%92"} {"title": "ہاں جسے عاشقی نہیں آتی", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہاں جسے عاشقی نہیں آتی\nلذت زندگی نہیں آتی\n\nجیسے اس کا کبھی یہ گھر ہی نہ تھا\nدل میں برسوں خوشی نہیں آتی\n\nجب سے بلبل اسیر دام ہوئی\nکسی گل کو ہنسی نہیں آتی\n\nسب شرابی مجھے کہیں تجھ کو\nشرم اے بے خودی نہیں آتی\n\nیوں تو آتی ہیں سیکڑوں باتیں\nوقت پر ایک بھی نہیں آتی\n\nسوچتا کیا ہے پی بھی لے زاہد\nکچھ قیامت ابھی نہیں آتی\n\nانتہا غم کی اس کو کہتے ہیں\nزخم کو بھی ہنسی نہیں آتی\n\nکوندتی ہے ہزار رنگ سے برق\nپھر بھی شوخی تری نہیں آتی\n\nصرف جب تک نہ خون دل ہو جلیلؔ\nرنگ پر شاعری نہیں آتی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C"} {"title": "ہاں جہل تمہیں سے رنگ لایا پھر کیوں", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہاں جہل تمہیں سے رنگ لایا پھر کیوں\nلایا تو گلا زباں پر آیا پھر کیوں\nگر جانتے تھے خانہ خرابی کے سبب\nمہماں کو میزباں بنایا پھر کیوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%DB%81%D9%84_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA"} {"title": "ہاں درد نہاں رنگ کی تعبیر سے پوچھو", "poet_page": "مصنف:عبد الہادی وفا", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وفا (1923)", "year": "1923", "text_ur": "ہاں درد نہاں رنگ کی تعبیر سے پوچھو\nدل پر جو لگی چوٹ وہ تاثیر سے پوچھو\n\nآئین وفا طوق گلو گیر سے پوچھو\nتمکین جنوں پاؤں کی زنجیر سے پوچھو\n\nناموس محبت کی قیامت کو خبر کیا\nتم میری تباہی مری تقدیر سے پوچھو\n\nلو سحر نظر مدعی غارت دل ہے\nکیا پوچھتے ہو شوخیٔ تقریر سے پوچھو\n\nمانا کہ مجھے زہر پلانے کی ہے تدبیر\nپہلے مری محرومیٔ تقدیر سے پوچھو\n\nکچھ ناز ہے اک تازہ ہوس پر مجھے دیکھو\nکچھ یاس ہے بگڑی ہوئی تدبیر سے پوچھو\n\nتم چین سے بیٹھے ہو حوادث کی خبر کیا\nنیرنگ جہاں گردش تقدیر سے پوچھو\n\nشوخی سے وہاں رنگ سخن جم نہیں سکتا\nتمکیں میں ہے جو بات وہ تصویر سے پوچھو\n\nکافی ہے وہاں راز محبت کو اشارا\nتقریر نہیں پردۂ تحریر سے پوچھو\n\nکیا جانے کوئی زلزلہ ساعت محشر\nلو آؤ ادھر عاشق دلگیر سے پوچھو\n\nبیگانہ و بے درد ہیں ارباب تماشا\nتو حلقۂ فتراک کو نخچیر سے پوچھو\n\nپھر میں ہوں وفا اور وہی آغاز تمنا\nانجام کو ناکامی تقدیر سے پوچھو", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B9%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D9%88"} {"title": "ہاں دید کا اقرار اگر ہو تو ابھی ہو", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہاں دید کا اقرار اگر ہو تو ابھی ہو\nاور یوں ہو کہ دیدار اگر ہو تو ابھی ہو\n\nتقدیر سے ڈرتا ہوں کہ پھر مت نہ پلٹ جائے\nتم دل کے خریدار اگر ہو تو ابھی ہو\n\nدیدار کو کل کہہ کے قیامت پہ وہ ٹالیں\nاور شوق کا اصرار اگر ہو تو ابھی ہو\n\nبدلا ہوا ہر عہد نیا لاتا ہے پیغام\nیہ کیا کہ ہر اقرار اگر ہو تو ابھی ہو\n\nآ لینے تو دو آرزوؔ آزار میں لذت\nتم نام سے بیزار اگر ہو تو ابھی ہو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88"} {"title": "ہاں ساقیٔ مستانہ بھر دے مرا پیمانہ", "poet_page": "مصنف:آغا حشر کاشمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہاں ساقیٔ مستانہ بھر دے مرا پیمانہ\nگھنگھور گھٹا ہے یا اڑتا ہوا مے خانہ\n\nہوتی ہیں شب غم میں یوں دل سے مری باتیں\nجس طرح سے سمجھائے دیوانے کو دیوانہ\n\nکیا تم نے کہا دل سے کیا دل نے کہا ہم سے\nبیٹھو تو سنائیں ہم اک روز یہ افسانہ\n\nغصہ میں جو دی گالی منہ چوم لیا میں نے\nظالم نے کہا یہ کیا میں نے کہا جرمانہ\n\nمطرب سے یہ کہتا تھا حشرؔ اپنی غزل سن کر\nہے میری جوانی کا بھولا ہوا افسانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C%D9%94_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "ہاں مہ نو سنیں ہم اس کا نام", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قصیدہ", "year": null, "text_ur": "ہاں مہ نو سنیں ہم اس کا نام\nجس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام\nدو دن آیا ہے تو نظر دم صبح\nیہی انداز اور یہی اندام\nبارے دو دن کہاں رہا غائب\nبندہ عاجز ہے گردش ایام\nاڑ کے جاتا کہاں کہ تاروں کا\nآسماں نے بچھا رکھا تھا دام\nمرحبا اے سرور خاص خواص\nحبذا اے نشاط عام عوام\nعذر میں تین دن نہ آنے کے\nلے کے آیا ہے عید کا پیغام\nاس کو بھولا نہ چاہیے کہنا\nصبح جو جائے اور آئے شام\nایک میں کیا کہ سب نے جان لیا\nتیرا آغاز اور ترا انجام\nراز دل مجھ سے کیوں چھپاتا ہے\nمجھ کو سمجھا ہے کیا کہیں نمام\nجانتا ہوں کہ آج دنیا میں\nایک ہی ہے امید گاہ انام\nمیں نے مانا کہ تو ہے حلقہ بگوش\nغالبؔ اس کا مگر نہیں ہے غلام\nجانتا ہوں کہ جانتا ہے تو\nتب کہا ہے بہ طرز استفہام\nمہر تاباں کو ہو تو ہو اے ماہ\nقرب ہر روزہ بر سبیل دوام\n\nتجھ کو کیا پایہ روشناسی کا\nجز بہ تقریب عید ماہ صیام\nجانتا ہوں کہ اس کے فیض سے تو\nپھر بنا چاہتا ہے ماہ تمام\nماہ بن ماہتاب بن میں کون\nمجھ کو کیا بانٹ دے گا تو انعام\nمیرا اپنا جدا معاملہ ہے\nاور کے لین دین سے کیا کام\nہے مجھے آرزوے بحشش خاص\nگر تجھے ہے امید رحمت عام\nجو کہ بخشے گا تجھ کو فر فروغ\nکیا نہ دے گا مجھے مئے گلفام\nجب کہ چودہ منازل فلکی\nکرچکے قطع تیری تیزی گام\nتیرے پر تو سے ہوں فروغ پذیر\nکوے و مشکوے و صحن و منظر و بام\nدیکھنا میرے ہاتھ میں لبریز\nاپنی صورت کا ایک بلوریں جام\nپھر غزل کی روش پہ چل نکلا\nتوسن طبع چاہتا تھا لگام\nزہر غم کر چکا تھا میرا ...\nتجھ کو کس نے کہا کہ ہو بدنام\nمے ہی پھر کیوں نہ میں پیے جاؤں\nغم سے جب ہو گئی ہو زیست حرام\nبوسہ کیسا یہی غنیمت ہے\nکہ نہ سمجھیں وہ لذت دشنام\nکعبے میں جا بجائیں گے ناقوس\nاب تو باندھا ہے دیر میں احرام\nاس قدح کا ہے دور مجھ کو نقد\nچرخ نے لی ہے جس سے گردش وام\nبوسہ دینے میں ان کو ہے انکار\nدل کے لینے میں جن کو تھا ابرام\nچھیڑتا ہوں کہ ان کو غصہ آے\nکیوں رکھوں ورنہ غالب اپنا نام\nکہہ چکا میں تو سب کچھ اب تو کہہ\nاے پری چہرہ پیک تیز خرام\nکون ہے جس کے در پہ ناصبہ سا\nہیں مہ و مہر و زہرہ و بہرام\nتو نہیں جانتا تو مجھ سے سن\nنام شاہنشہ بلند مقام\nقبلۂ چشم و دل بہادر شاہ\nمظہر ذوالجلال و الاکرام\nشہسوار طریقۂ انصاف\nنو بہار حدیقۂ اسلام\nجس کا ہر فعل صورت اعجاز\nجس کا ہر قول معنی الہام\nبزم میں میزبان قیصر و جم\nرزم میں اوستاد رستم و سام\nاے ترا لطف زندگی افزا\nاے ترا عہد فرخی فرجام\nچشم بد دور خسروانہ شکوہ\nلؤحش اللہ عارفانہ کلام\nجاں نثاروں میں تیرے قیصر روم\nجرعہ خواروں میں تیرے مرشد جام\nوارث ملک جانتے ہیں تجھے\nایرج و تور و خسرو و بہرام\nزور بازو میں مانتے ہیں تجھے\nگیو و گودرز و بیژن و رہام\nمرحبا موشگافی ناوک\nآفریں آب داری صمصام\nتیر کو تیرے تیر غیر ہدف\nتیغ کو تیری تیغ خصم نیام\nرعد کا کررہی ہے کیا دم بند\nبرق کو دے رہا ہے کیا الزام\nتیرے فیل گراں جسد کی صدا\nتیرے رخش سبک عناں کا خرام\nفن صورت گری میں تیرا گزر\nگر نہ رکھتا ہو دست گاہ تمام\nاس کے مضروب کے سر و تن سے\nکیوں نمایاں ہو صورت ادغام\nجب ازل میں رقم پذیر ہوئے\nصفحہ ہاے لیالی و ایام\nاور ان اوراق میں بہ کلک قضا\nمجملاً مندرج ہوئے احکام\nلکھ دیا شاہدوں کو عاشق کش\nلکھ دیا عاشقوں کو دشمن کام\nآسماں کو کہا گیا کہ کہیں\nگنبد تیز گرد نیلی فام\nحکم ناطق لکھا گیا کہ لکھیں\nخال کو دانہ اور زلف کو دام\nآتش و آب و باد و خاک نے لی\nوضع سوز و نم و رم و آرام\nمہر رخشاں کا نام خسرو روز\nماہ تاباں کا اسم شحنۂ شام\nتیری توقیع سلطنت کو بھی\nدی بدستور صورت ارقام\nکاتب حکم نے بموجب حکم\nاس رقم کو دیا طراز دوام\nہے ازل سے روائی آغاز\nہو ابد تک رسائی انجام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%81_%D9%86%D9%88_%D8%B3%D9%86%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85"} {"title": "ہاں نفس باد سحر شعلہ فشاں ہو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "ہاں نفس باد سحر شعلہ فشاں ہو\nاے دجلۂ خوں چشم ملائک سے رواں ہو\nاے زمزمۂ قم لب عیسی پہ فغاں ہو\nاے ماتمیان شہ مظلوم کہاں ہو\nبگڑی ہے بہت بات بنائے نہیں بنتی\nاب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی\nتاب سخن و طاقت غوغا نہیں ہم کو\nماتم میں شہ دیں کے ہیں سودا نہیں ہم کو\nگھر پھونکنے میں اپنے محابا نہیں ہم کو\nگر چرخ بھی جل جائے تو پروا نہیں ہم کو\nیہ خرگہ نہ پایۂ جو مدت سے بپا ہے\nکیا خیمۂ شبیر سے رتبے میں سوا ہے\nکچھ اور ہی عالم ہے دل و چشم و زباں کا\nکچھ اور ہی نقشا نظر آتا ہے جہاں کا\nکیسا فلک اور مہر جہاں تاب کہاں کا\nہو گا دل بیتاب کسی سوختہ جاں کا\nاب صاعقہ و مہر میں کچھ فرق نہیں ہے\nگرتا نہیں اس رو سے کہو برق نہیں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D9%81%D8%B3_%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81_%D9%81%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88"} {"title": "ہاں کبھی ہے کبھی ہے یار نہیں", "poet_page": "مصنف:منشی ٹھاکر پرساد طالب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان طالب مانکپوری (1933)", "year": "1933", "text_ur": "ہاں کبھی ہے کبھی ہے یار نہیں\nہاں نہیں کا کچھ اعتبار نہیں\n\nسر میں سودا عبث ہے دنیا کا\nگھر کچھ ایسا یہ پائیدار نہیں\n\nقاتل ابرو سے تیرے ڈرتے ہیں\nورنہ تیغ ایسی آبدار نہیں\n\nسنگ طفلاں سے اس لئے ڈر ہے\nسر شوریدہ پائیدار نہیں\n\nچلے جاتے ہیں رہروان عدم\nساتھ والوں کا اعتبار نہیں\n\nپھر کسی زلف کا ہوا سودا\nبے سبب دل کو انتشار نہیں\n\nہم پئیں خود پلائے گر ساقی\nعہد یاں ایسا استوار نہیں\n\nان کے قول و قرار کے ہاتھوں\nکون دل ہے جو بے قرار نہیں\n\nدیکھ کر تجھ کو ہے یہ سناٹا\nدل بھی پہلو میں بے قرار نہیں\n\nمشعل داغ ساتھ جائے گی\nخوف تاریکیٔ مزار نہیں\n\nدیکھیں کیا ہو میں ہوں برہنہ پا\nبے خلش کوئی نوک خار نہیں\n\nکس کے کہنے سے ترک مے طالبؔ\nخام ہے شیخ پختہ کار نہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہتک", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے افسانے", "year": "1940", "text_ur": "دن بھر کی تھکی ماندی وہ ابھی ابھی اپنے بستر پر لیٹی تھی اور لیٹتے ہی سو گئی۔ میونسپل کمیٹی کا داروغہ صفائی، جسے وہ سیٹھ جی کے نام سے پکارا کرتی تھی، ابھی ابھی اس کی ہڈیاں پسلیاں جھنجھوڑ کر شراب کے نشے میں چور، گھر واپس گیا تھا۔ وہ رات کو یہیں پر ٹھہر جاتا مگر اسے اپنی دھرم پتنی کا بہت خیال تھا، جو اس سے بے حد پریم کرتی تھی۔\n\nوہ روپے جو اس نے اپنی جسمانی مشقت کے بدلے اس داروغہ سے وصول کیے تھے، اس کی چست اور تھوک بھری چولی کے نیچے سے اوپر کو ابھرے ہوئے تھے۔ کبھی کبھی سانس کے اتار چڑھاؤ سے چاندی کے یہ سکے کھنکھنانے لگتے اور اس کی کھنکھناہٹ اس کے دل کی غیر آہنگ دھڑکنوں میں گھل مل جاتی۔ ایسا معلوم ہوتا کہ ان سکوں کی چاندی پگھل کر اس کے دل کے خون میں ٹپک رہی ہے۔\n\nاس کا سینہ اندر سے تپ رہا تھا۔ یہ گرمی کچھ تو اس برانڈی کے باعث تھی جس کا ادّھا دروغہ اپنے ساتھ لایا تھا۔ اور کچھ اس ’بیوڑا‘ کا نتیجہ تھی جس کا سوڈا ختم ہونے پر دونوں نے پانی ملا کر پیا تھا۔\n\nوہ ساگوان کے لمبے اور چوڑے پلنگ پر اوندھے منہ لیٹی تھی۔ اس کی باہیں جو کاندھوں تک ننگی تھیں، پتنگ کی اس کانپ کی طرح پھیلی ہوئی تھیں جو اوس میں بھیگ جانے کے باعث پتلے کاغذ سے جدا ہو جائے۔ دائیں بازو کی بغل میں شکن آلود گوشت ابھرا ہوا تھا۔ جو بار بار موڑنےکے باعث نیلی رنگت اختیار کرگیا تھا۔ جیسے نچی ہوئی مرغی کی کھال کا ایک ٹکڑا وہاں پر رکھ دیا گیا ہے۔\n\nکمرہ بہت چھوٹا تھا جس میں بے شمار چیزیں بے ترتیبی کے ساتھ بکھری ہوئی تھیں۔ تین چار سوکھے سڑے چپل پلنگ کے نیچے پڑے تھے جن کے اوپر منہ رکھ کر ایک خارش زدہ کتا سورہا تھا۔ اور نیند میں کسی غیر مرئی چیز کو منہ چڑا رہا تھا۔ اس کتے کے بال جگہ جگہ سے خارش کے باعث اڑے ہوئے تھے۔ دور سے اگرکوئی اس کتے کو دیکھتاتو سمجھتا کہ پیر پونچھنے والا پرانا ٹاٹ دوہرا کرکے زمین پررکھا ہے۔\n\nاس طرف چھوٹے سے دیوار گیر پرسنگار کا سامان رکھا تھا۔ گالوں پر لگانے کی سرخی، ہونٹوں کی سرخ بتی، پاؤڈر، کنگھی اور لوہے کے پِن جو وہ غالباً اپنے جوڑے میں لگایا کرتی تھی۔ پاس ہی ایک لمبی کھونٹی کے ساتھ سبز طوطے کا پنجرہ لٹک رہا تھا، جو گردن کو اپنی پیٹھ کے بالوں میں چھپائے سو رہا تھا۔ پنجرہ کچے امرود کے ٹکڑوں اور گلے ہوئے سنگترے کے چھلکوں سے بھرا پڑا تھا۔ ان بدبودار ٹکڑوں پر چھوٹے چھوٹے کالے رنگ کے مچھر یا پتنگ اڑ رہے تھے۔\n\nپلنگ کے پاس ہی بید کی ایک کرسی پڑی تھی جس کی پشت، سر ٹیکنے کے باعث بے حد میلی ہورہی تھی۔ اس کرسی کے دائیں ہاتھ کو ایک خوبصورت تپائی تھی جس پر ہِز ماسٹر زوائس کا پورٹ ایبل گرامو فون پڑا تھا، اس گراموفون پر منڈھے ہوئے کالے کپڑے کی بہت بری حالت تھی۔زنگ آلود سوئیاں تپائی کے علاوہ کمرے کے ہر کونے میں بکھری ہوئی تھیں۔ اس تپائی کے عین اوپر دیوار پر چار فریم لٹک رہے تھے جن میں مختلف آدمیوں کی تصویریں جڑی تھیں۔\n\nان تصویروں سے ذرا ہٹ کر یعنی دروازے میں داخل ہوتے ہی بائیں طرف کی دیوار کے کونے میں گنیش جی کی شوخ رنگ کی تصویر جو تازہ اور سوکھے ہوئے پھولوں سے لدی ہوئی تھی۔ شاید یہ تصویر کپڑے کے کسی تھان سے اتار کر فریم میں جڑائی گئی تھی۔اس تصویر کے ساتھ چھوٹے سے دیوار گیر پر جو کہ بے حد چکنا ہورہا تھا، تیل کی ایک پیالی دھری تھی۔ جو دیے کو روشن کرنے کے لیے رکھی گئی تھی۔ پاس ہی دِیا پڑا تھا۔ جس کی لو ہوا بند ہونے کے باعث ماتھے کے تلک کے مانند سیدھی کھڑی تھی۔ اس دیوار گیر پر روئی کی چھوٹی بڑی مروڑیاں بھی پڑی تھیں۔\n\nجب وہ بوہنی کرتی تھی تو دور سے گنیش جی کی اس مورتی سے روپے چھوا کر اور پھر اپنے ماتھے کے ساتھ لگا کر انھیں اپنی چولی میں رکھ لیا کرتی تھی۔ اس کی چھاتیاں چونکہ کافی ابھری ہوئی تھیں اس لیے وہ جتنے روپے بھی اپنی چولی میں رکھتی محفوظ پڑے رہتے تھے۔ البتہ کبھی کبھی جب مادھو پونے سے چھٹی لے کر آتا تو اسے اپنے کچھ روپے پلنگ کے پائے کے نیچے اس چھوٹے سے گڑھے میں چھپانا پڑتے تھے جو اس نے خاص اس کام کی غرض سے کھودا تھا۔ مادھو سے روپے محفوظ رکھنے کا یہ طریقہ سو گندھی کورام لال دلال نے بتایا تھا۔ اس نے جب یہ سنا کہ مادھو پونے سے آکر سو گندھی پر دھاوے بولتا ہے تو کہا تھا، ’’اس سالے کو تو نے کب سے یار بنایا ہے؟ یہ بڑی انوکھی عاشقی معشوقی ہے۔‘‘\n\n’’ایک پیسہ اپنی جیب سے نکالتا نہیں اور تیرے ساتھ مزے اڑاتا رہتا ہے، مزے الگ رہے، تجھ سے کچھ لے بھی مرتا ہے۔۔۔ سوگندھی! مجھے کچھ دال میں کالا نظر آتا ہے۔ اس سالے میں کچھ بات ضرور ہے جو تجھے بھا گیا ہے۔ سات سال سے یہ دھندا کررہا ہوں۔ تم چھوکریوں کی ساری کمزوریاں جانتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر رام لال دلال نے جو بمبئی شہر کے مختلف حصوں میں دس روپے سے لے کرسو روپے تک والی ایک سو بیس چھوکریوں کا دھندا کرتا تھا، سوگندھی کو بتایا؛ ’’سالی اپنا دھن یوں نہ برباد کر۔تیرے انگ پر سے یہ کپڑا بھی اتار کر لے جائے گا۔ وہ تیری ماں کا یار۔۔۔ اس پلنگ کے پائے کے نیچے چھوٹا سا گڑھا کھود کر اس میں سارے پیسے دبا دیا کر اور جب وہ یار آیا کرے تو اس سے کہا کر۔۔۔ تیری جان کی قسم مادھو، آج صبح سے ایک دھیلے کا منہ نہیں دیکھا۔ باہر والے سے کہہ کر ایک کپ چائے اور افلاطون بسکٹ تو منگا۔ بھوک سے میرے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔۔۔۔ سمجھیں! بہت نازک وقت آگیا ہے میری جان۔۔۔ اس سالی کانگرس نے شراب بند کرکے بازار بالکل مندا کردیا ہے۔ پر تجھے تو کہیں نہ کہیں سے پینے کو مل ہی جاتی ہے، بھگوان کی قسم، جب تیرے یہاں کبھی رات کی خالی کی ہوئی بوتل دیکھتا ہوں اور دارو کی باس سونگھتا ہوں تو جی چاہتا ہے تیری جون میں چلا جاؤں۔‘‘\n\nسو گندھی کو اپنے جسم میں سب سے زیادہ اپنا سینہ پسند تھا۔ ایک بار جمنا نے اس سے کہا تھا، ’’نیچے سے ان بمب کے گولوں کو باندھ کے رکھا کر، انگیا پہنے گی تو ان کی سختائی ٹھیک رہے گی۔‘‘ سو گندھی یہ سن کر ہنس دی۔ ’’جمنا تو سب کو اپنے سری کا سمجھتی ہے۔ دس روپے میں لوگ تیری بوٹیاں توڑ کر چلے جاتے ہیں۔ تو تو سمجھتی ہے کہ سب کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہوگا۔ کوئی موا لگائے تو ایسی ویسی جگہ ہاتھ۔۔۔ ارے ہاں، کل کی بات تجھے سناؤں: رام لال رات کے دوبجے ایک پنجابی کو لایا۔ رات کا تیس روپے طے ہوا۔ جب سونے لگے تو میں نے بتی بجھا دی۔ ارے وہ تو ڈرنے لگا۔ سنتی ہو جمنا؟ تیری قسم اندھیرا ہوتے ہی اس کا سارا ٹھاٹھ کرکرا ہوگیا۔ وہ ڈرگیا۔میں نے کہا چلو چلو دیر کیوں کرتے ہو۔ تین بجنے والے ہیں، اب دن چڑھ آئے گا۔ بولا۔۔۔ روشنی کرو، روشنی کرو۔۔۔ میں نے کہا، یہ روشنی کیا ہوا، بولا ؛ لائٹ۔۔۔ لائٹ۔۔۔ اس کی بھینچی ہوئی آواز سن کر مجھ سے ہنسی نہ رکی۔\n\n’’بھئی میں تو لائٹ نہ کروں گی!‘‘ اور یہ کہہ کر میں نے اس کی گوشت بھری ران کی چٹکی لی۔ تڑپ کر اٹھ بیٹھا اور لائٹ اون کردی میں نے جھٹ سے چادر اوڑھ لی، اور کہا، تجھے شرم نہیں آتی مردوے۔۔۔ وہ پلنگ پر آیا تو میں اٹھی اور لپک کر لائٹ بجھا دی۔۔۔ وہ پھر گھبرانے لگا۔تیری قسم بڑے مزے میں رات کٹی، کبھی اندھیرا کبھی اجالا، کبھی اجالا، کبھی اندھیرا۔۔۔ ٹرام کی کھڑکھڑ ہوئی تو پتلون و تلون پہن کر وہ اٹھ بھاگا۔۔۔ سالے نے تیس روپے سٹے میں جیتے ہوں گے۔ جو یوں مفت دے گیا۔۔۔ جمنا تو بالکل الھڑ ہے۔ بڑے بڑے گُر یاد ہیں مجھے ان لوگوں کو ٹھیک کرنے کے لیے!‘‘\n\nسو گندھی کو واقعی بہت سے گر یاد تھے جو اس نے اپنی ایک دو سہیلیوں کو بتائے بھی تھے۔ عام طور پر وہ یہ گرسب کو بتایا کرتی تھی، ’’اگر آدمی شریف ہو، زیادہ باتیں نہ کرنے والا ہو تو اس سے خوب شرارتیں کرو، ان گنت باتیں کرو، اسے چھیڑو ستاؤ، اس کے گدگدی کرو۔ اس سے کھیلو۔۔۔ اگر داڑھی رکھتا ہو تو اس میں انگلیوں سے کنگھی کرتے کرتے دو چار بال بھی نوچ لو، پیٹ بڑا ہو تو تھپتھپاؤ۔۔۔ اس کو اتنی مہلت ہی نہ دو کہ اپنی مرضی کے مطابق کچھ کرنے پائے۔ وہ خوش خوش چلا جائے گا اور رقم بھی بچی رہے گی۔ ایسے مرد جو گُپ چپ رہتے ہیں بڑے خطرناک ہوتے ہیں بہن۔۔۔ ہڈی پسلی توڑ دیتے ہیں اگر ان کا داؤ چل جائے۔‘‘\n\nسوگندھی اتنی چالاک نہیں تھی جتنی خود کو ظاہرکرتی تھی۔اس کے گاہک بہت کم تھے۔ غایت درجہ جذباتی لڑکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام گر جو اسے یاد تھے اس کے دماغ سے پھسل کر اس کے پیٹ میں آجاتے تھے جس پر ایک بچہ پیدا کرنے کے باعث کئی لکیریں پڑ گئی تھیں۔۔۔ ان لکیروں کو پہلی مرتبہ دیکھ کر اسے ایسا لگا تھا کہ اس کے خارش زدہ کتے نے اپنے پنجے سے یہ نشان بنا دیے ہیں۔\n\nسوگندھی دماغ میں زیادہ رہتی تھی لیکن جونہی کوئی نرم نازک بات، کوئی کومل بول اس سے کہتا تو جھٹ پگھل کر وہ اپنے جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل جاتی۔ گو مرد اور عورت کے جسمانی ملاپ کو اس کا دماغ بالکل فضول سمجھتا تھا مگر اس کے جسم کے باقی اعضا سب کے سب، اس کے بہت بری طرح قائل تھے؛ وہ تھکن چاہتے تھے۔۔۔ ایسی تھکن جو انھیں جھنجھوڑ کر۔۔۔ انہیں مارکر سلانے پر مجبور کردے۔۔۔ایسی نیند جو تھک کر چور چور ہو جانے کے بعد آئے، کتنی مزےدار ہوتی ہے۔ وہ بے ہوشی جو مار کھا کر بند بند ڈھیلے ہو جانے پر طاری ہوتی ہے، کتنا آنند دیتی ہے! کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تم ہو اور کبھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نہیں ہو،اور اس ہونے اور نہ ہونے کے بیچ میں کبھی کبھی ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ تم ہوا میں بہت اونچی جگہ لٹکی ہوئی ہو۔ اوپر ہوا، نیچے ہوا، دائیں ہوا، بائیں ہوا، بس ہوا ہی ہوا ! اور پھر اس ہوا میں دم گھٹنا بھی ایک خاص مزا دیتا ہے۔\n\nبچپن میں جب وہ آنکھ مچولی کھیلا کرتی تھی، اور اپنی ماں کا بڑا صندوق کھول کر اس میں چھپ جایا کرتی تھی، تو ناکافی ہوا میں دم گھٹنے کے ساتھ ساتھ پکڑے جانے کے خوف سے وہ تیز دھڑکن جو اس کے دل میں پیدا ہوجایا کرتی تھی، کتنا مزا دیا کرتی تھی۔\n\nسوگندھی چاہتی تھی کہ اپنی ساری زندگی کسی ایسے ہی صندوق میں چھپ کر گزار دے جس کے باہر ڈھونڈنے والے پھرتے رہیں۔ کبھی کبھی اس کو ڈھونڈ نکالیں تاکہ وہ بھی ان کو ڈھونڈنے کی کوشش کرے۔ یہ زندگی جو وہ پانچ برس سے گزاررہی تھی آنکھ مچولی ہی تو تھی۔کبھی وہ کسی کو ڈھونڈ لیتی تھی اور کبھی کوئی اسے ڈھونڈ لیتا تھا۔\n\nبس یونہی اس کا جیون بیت رہا تھا۔ وہ خوش تھی اس لیے کہ اس کو خوش رہنا پڑتا تھا۔ ہر روز رات کو کوئی نہ کوئی مرد اس کے چوڑے ساگوانی پلنگ پر ہوتا تھا اور سوگندھی جس کو مردوں کے ٹھیک کرنے کے لیے بے شمار گُر یاد تھے، اس بات کا بار بار تہیہ کرنے پر بھی کہ وہ ان مردوں کی کوئی ایسی ویسی بات نہیں مانے گی اور ان کے ساتھ بڑے روکھے پن کے ساتھ پیش آئے گی، ہمیشہ اپنے جذبات کے دھارے میں بہہ جایا کرتی تھی اور فقط ایک پیاسی عورت رہ جایا کرتی تھی۔\n\nہرروز رات کو اس کا پرانا یا نیا ملاقاتی اس سے کہا کرتا تھا، ’’سوگندھی میں تجھ سے پریم کرتا ہوں۔‘‘ اور سوگندھی یہ جان بوجھ کر بھی کہ وہ جھوٹ بولتا ہے بس موم ہو جاتی تھی اور ایسا محسوس کرتی تھی جیسے سچ مچ اس سے پریم کیا جارہا ہے۔۔۔\n\nپریم۔۔۔ کتنا سندر بول ہے! وہ چاہتی تھی، اس کو پگھلا کر اپنے سارے انگوں پر مل لے اس کی مالش کرے تاکہ یہ سارے کا سارا اس کے مساموں میں رچ جائےیا پھر وہ خود اس کے اندر چلی جائے۔ سمٹ سمٹا کر اس کے اندر داخل ہو جائے اور اوپر سے ڈھکنا بند کردے۔ کبھی کبھی جب پریم کیے جانے کا جذبہ اس کے اندر بہت شدت اختیار کرلیتا تو کئی بار اس کے جی میں آتا کہ اپنے پاس پڑے ہوئے آدمی کو گود ہی میں لے کر تھپتھپانا شروع کردے اور لوریاں دے کر اسے گود ہی میں سلا دے۔\n\nپریم کر سکنے کی اہلیت اس کے اندر اس قدر زیادہ تھی کہ ہر اس مرد سے جو اس کے پاس آتا تھا، وہ محبت کرسکتی تھی اور پھر اس کو نباہ بھی سکتی تھی۔ اب تک چار مردوں سے اپنا پریم نباہ ہی تو رہی تھی جن کی تصویریں اس کے سامنے دیوار پرلٹک رہی تھیں۔ ہروقت یہ احساس اس کے دل میں موجود رہتا تھا کہ وہ بہت اچھی ہے لیکن یہ اچھا پن مردوں میں کیوں نہیں ہوتا۔ یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ ایک بار آئینہ دیکھتے ہوئے بے اختیار اس کے منہ سے نکل گیا تھا، ’’سو گندھی۔۔۔ تجھ سے زمانے نے اچھا سلوک نہیں کیا!‘‘\n\nیہ زمانہ یعنی پانچ برسوں کے دن اور ان کی راتیں، اس کے جیون کے ہر تار کے ساتھ وابستہ تھے۔ گو اس زمانے سے اس کو خوشی نصیب نہیں ہوئی تھی جس کی خواہش اس کے دل میں موجود تھی۔ تاہم وہ چاہتی تھی کہ یونہی اس کے دن بیتتے چلے جائیں، اسے کون سے محل کھڑے کرنا تھے جو روپے پیسے کا لالچ کرتی۔ دس روپے اس کا عام نرخ تھا جس میں سے ڈھائی روپے رام لال اپنی دلالی کے کاٹ لیتا تھا۔ ساڑھے سات روپے اسے روز مل ہی جایا کرتے تھے جو اس کی اکیلی جان کے لیے کافی تھے۔ اور مادھو جب پونے سے بقول رام لال دلال، سوگندھی پر دھاوے بولنے کے لیے آتا تھا تو وہ دس پندرہ روپے خراج بھی ادا کرتی تھی! یہ خراج صرف اس بات کا تھا کہ سوگندھی کو اس سے کچھ وہ ہوگیا تھا۔\n\nرام لال دلال ٹھیک کہتا تھا :اس میں ایسی بات ضرور تھی جو سوگندھی کو بہت بھا گئی تھی۔ اب اس کو چھپانا کیا، بتا ہی کیوں نہیں دیں! سوگندھی سے جب مادھو کی پہلی ملاقات ہوئی تو اس نے کہا تھا، ’’تجھے لاج نہیں آتی اپنا بھاؤ کرتے! جانتی ہے تو میرے ساتھ کس چیز کا سودا کررہی ہے۔ اور میں تیرے پاس کیوں آیا ہوں۔۔۔؟ چھی چھی چھی۔۔۔ دس روپے اور جیسا کہ تو کہتی ہے ڈھائی روپے دلال کے، باقی رہے ساڑھے سات، رہے نا ساڑھے سات؟ اب ان ساڑھے سات روپوں پر تو مجھے ایسی چیز دینے کا وچن دیتی ہے جو تو دے ہی نہیں سکتی اور میں ایسی چیز لینے آیا جو میں لے ہی نہیں سکتا۔۔۔\n\nمجھے عورت چاہیے پر تجھے کیا اس وقت اسی گھڑی مرد چاہیے۔۔۔؟\n\nمجھے تو کوئی عورت بھی بھا جائے گی پر کیا میں تجھے جچتا ہوں! تیرا میرا ناطہ ہی کیا ہے کچھ بھی نہیں۔۔۔ بس یہ دس روپے، جن میں سے ڈھائی، دلالی میں چلے جائیں گے اور باقی ادھر ادھر بکھر جائیں گے۔تیرے اورمیرے بیچ میں بج رہے ہیں، تو بھی ان کا بجنا سن رہی ہے اور میں بھی۔ تیرا من کچھ اور سوچتا ہے میرا من کچھ اور۔۔۔کیوں نہ کوئی ایسی بات کریں کہ تجھے میری ضرورت ہو اور مجھے تیری۔۔۔ پونے میں حوالدار ہوں، مہینے میں ایک بار آیا کروں گا۔ تین چار دن کے لیے۔۔۔ یہ دھندا چھوڑ۔۔۔ میں تجھے خرچ دے دیا کروں گا۔ کیا بھاڑا ہے اس کھولی کا۔۔۔؟‘‘\n\nمادھو نے اور بھی بہت کچھ کہا تھا جس کا اثر سوگندھی پر اس قدر زیادہ ہوا تھا کہ وہ چند لمحات کے لیے خود کو حوالدارنی سمجھنے لگی تھی۔ باتیں کرنے کے بعد مادھو نے اس کے کمرے کی بکھری ہوئی چیزیں قرینے سے رکھی تھیں اور ننگی تصویریں جو سوگندھی نے اپنے سر ہانے لٹکا رکھی تھیں، بنا پوچھے گچھے پھاڑ دی تھیں اور کہا تھا، ’’سوگندھی بھئی میں ایسی تصویریں یہاں نہیں رکھنے دوں گا۔ اور پانی کا یہ گھڑا۔۔۔ دیکھنا کتنا میلا ہے اور یہ۔۔۔ یہ چیتھڑے۔۔۔ یہ چندیاں۔۔۔ اف کتنی بری باس آتی ہے، اٹھا کے باہر پھینک ان کو۔۔۔ اور تو نے اپنے بالوں کا ستیاناس کر رکھا ہے۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔‘‘\n\nتین گھنٹے کی بات چیت کے بعد سوگندھی اور مادھو آپس میں گھل مل گیے تھے اور سوگندھی کو تو ایسا محسوس ہوا تھا کہ برسوں سے حوالدار کو جانتی ہے، اس وقت تک کسی نے بھی کمرے میں بدبودار چیتھڑوں، میلے گھڑے اور ننگی تصویروں کی موجودگی کا خیال نہیں کیا تھا اور نہ کبھی کسی نے اس کو یہ محسوس کرنے کا موقع دیا تھا کہ اس کا ایک گھر ہے جس میں گھریلو پن آسکتا ہے۔ لوگ آتے تھے اور بستر تک کی غلاظت کو محسوس کیے بغیر چلے جاتے تھے۔ کوئی سوگندھی سے یہ نہیں کہتا تھا، ’’دیکھ تو آج تیری ناک کتنی لال ہورہی ہے کہیں زکام نہ ہو جائے تجھے۔ ٹھہر میں تیرے واسطے دوا لاتا ہوں۔‘‘\n\nمادھو کتنا اچھا تھا۔ اس کی ہر بات باون تولہ اور پاؤ رتی کی تھی۔ کیا کھری کھری سنائی تھیں اس نے سو گندھی کو۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ اسے مادھو کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ان دونوں کا سمبندھ ہوگیا۔\n\nمہینے میں ایک بار مادھو پونے سے آتا تھا اور واپس جاتے ہوئے ہمیشہ سوگندھی سے کہا کرتا تھا، ’’دیکھ سوگندھی! اگر تو نے پھر سے اپنا دھندا شروع کیاتو بس تیری میری ٹوٹ جائے گی۔۔۔ اگر تو نے ایک بار بھی کسی مرد کو اپنے یہاں ٹھہرایا تو چٹیا سے پکڑ کر باہر نکال دوں گا۔ دیکھ اس مہینے کا خرچ میں تجھے پونا پہنچتے ہی منی آرڈر کردوں گا۔ ہاں کیا بھاڑا ہے اس کھولی کا۔۔۔‘‘\n\nنہ مادھو نے کبھی پونا سے خرچ بھیجا تھا اور نہ سوگندھی نے اپنا دھندا بند کیا تھا۔ دونوں اچھی طرح جانتے تھے کہ کیا ہورہا ہے۔ نہ سوگندھی نے کبھی مادھو سے یہ کہا تھا، ’’تویہ کیا ٹرٹرکیا کرتا ہے، ایک پھوٹی کوڑی بھی دی ہے کبھی تو نے؟‘‘ اور نہ مادھو نے کبھی سو گندھی سے پوچھا تھا، ’’یہ مال تیرے پاس کہاں سے آتا ہے جب کہ میں تجھے کچھ دیتا ہی نہیں۔‘‘ دونوں جھوٹے تھے۔ دونوں ایک ملمع کی ہوئی زندگی بسر کررہے تھے۔ لیکن سوگندھی خوش تھی۔ جس کو اصل سونا نہ ملے وہ ملمع کیے ہوئے گہنوں ہی پر راضی ہو جایا کرتا ہے۔\n\nاس وقت سوگندھی تھکی ماندی سو رہی تھی۔ بجلی کا قمقمہ جسے اوف کرنا وہ بھول گئی تھی، اس کے سر کے اوپر لٹک رہا تھا۔ اس کی تیز روشنی اس کی مندی ہوئی آنکھوں کے سامنے ٹکرا رہی تھی۔ مگروہ گہری نیند سو رہی تھی۔\n\nدروازے پر دستک ہوئی۔۔۔ رات کے دو بجے یہ کون آیا تھا؟\n\nسوگندھی کے خواب آلود کانوں میں دستک بھنبھناہٹ بن کر پہنچی۔ دروازہ جب زور سے کھٹکھٹایا گیا تو چونک کر اٹھ بیٹھی۔۔۔ دو ملی جلی شرابوں اور دانتوں کے ریخوں میں پھنسے ہوئے مچھلی کے ریزوں نے اس کے منہ کے اندر ایسا لعاب پیدا کردیا تھا جو بے حد کسیلا اور لیس دار تھا۔ دھوتی کے پلّو سے اس نے یہ بدبو دار لعاب صاف کیا اور آنکھیں ملنے لگی۔ پلنگ پر وہ اکیلی تھی۔ جھک کر اس نے پلنگ کے نیچے دیکھا تو اس کا کتا سوکھے ہوئے چپلوں پر منہ رکھے سو رہا تھا اور نیند میں کسی غیر مرئی چیز کو منہ چڑا رہا تھا اور طوطا پیٹھ کے بالوں میں سر دیے سورہا تھا۔\n\nدروازے پر دستک ہوئی۔ سو گندھی بستر پر سے اٹھی۔ سردرد کے مارے پھٹا جارہا تھا۔ گھڑے سے پانی کا ایک ڈونگا نکال کر اس نے کلی کی اور دوسرا ڈونگا غٹا غٹ پی کر اس نے دروازے کا پٹ تھوڑا سا کھولا اور کہا، ’’رام لال؟‘‘\n\nرام لال جو باہر دستک دیتے ہوئے تھک گیا تھا۔ بھنا کر کہنے لگا، ’’تجھے سانپ سونگھ گیا تھا یا کیا ہوگیا تھا۔ ایک کلاک (گھنٹے) سے باہر کھڑا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہوں کہاں مر گئی تھی۔۔۔؟‘‘ پھر آواز دبا کر اس نے ہولے سے کہا، ’’اندر کوئی ہے تو نہیں؟‘‘\n\nجب سوگندھی نے کہا، ’’نہیں۔۔۔ تو رام لال کی آواز پھر اونچی ہوگئی۔’’تو دروازہ کیوں نہیں کھولتی۔۔۔؟ بھئی حد ہوگئی ہے کیا نیند پائی ہے۔ یوں ایک ایک چھوکری اتارنے میں دو دو گھنٹے سر کھپانا پڑے تو میں اپنا دھندا کرچکا۔۔۔ اب تو میرا منہ کیا دیکھتی ہے۔ جھٹ پٹ یہ دھوتی اتار کروہ پھولوں والی ساڑھی پہن، پوڈر ووڈر لگا اور چل میرے ساتھ۔۔۔ باہر موٹر میں ایک سیٹھ بیٹھے تیرا انتظار کررہے ہیں۔ چل چل ایک دم جلدی کر۔‘‘\n\nسو گندھی آرام کرسی پر بیٹھ گئی اور رام لال آئینے کے سامنے اپنے بالوں میں کنگھی کرنے لگا۔سوگندھی نے تپائی کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا اور بام کی شیشی اٹھا کر اس کا ڈھکنا کھولتے ہوئے کہا، ’’رام لال آج میرا جی اچھا نہیں۔‘‘\n\nرام لال نے کنگھی دیوار گیر پر رکھ دی اور مڑ کرکہا، ’’تو پہلے ہی کہہ دیا ہوتا۔‘‘ سو گندھی نے ماتھے اور کنپٹیوں پر بام ملتے ہوئے غلط فہمی دور کردی۔\n\n’’وہ بات نہیں رام لال۔۔۔! ایسے ہی میرا جی اچھا نہیں۔۔۔ بہت پی گئی۔‘‘\n\nرام لال کے منہ میں پانی بھر آیا، ’’تھوڑی بچی ہو تو لا۔۔۔ ذرا ہم بھی منہ کا مزا ٹھیک کرلیں۔‘‘\n\nسو گندھی نے بام کی شیشی تپائی پر رکھ دی اور کہا، ’’بچائی ہوتی تو یہ موا سر میں درد ہی کیوں ہوتا۔ دیکھ رام لال! وہ جو باہر موٹر میں بیٹھا ہے اسے اندر ہی لے آؤ۔‘‘\n\nرام لال نے جواب دیا، ’’نہیں بھئی وہ اندر نہیں آسکتے۔ جنٹلمین آدمی ہیں۔ وہ تو موٹر کو گلی کے باہر کھڑی کرتے ہوئے گھبراتے تھے۔۔۔ تو کپڑے وپڑے پہن لے اور ذرا گلی کے نکڑ تک چل۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘\n\nساڑھے سات روپے کا سودا تھا۔ سوگندھی اس حالت میں جب کہ اس کے سر میں شدت سے درد ہورہا تھا، کبھی قبول نہ کرتی مگر اسے روپوں کی سخت ضرورت تھی۔ اس کی ساتھ والی کھولی میں ایک مدراسی عورت رہتی تھی جس کا خاوند موٹر کے نیچے آکر مر گیا تھا۔ اس عورت کو اپنی جوان لڑکی سمیت وطن جانا تھا۔ لیکن اس کے پاس چونکہ کرایہ ہی نہیں تھا اس لیے وہ کسمپرسی کی حالت میں پڑی تھی۔ سوگندھی نے کل ہی اس کو ڈھارس دی تھی اور اس سے کہا تھا، ’’بہن تو چنتا نہ کر۔ میرا مرد پونے سے آنے ہی والا ہے، میں اس سے کچھ روپے لے کرتیرے جانے کا بندوبست کردوں گی۔‘‘\n\nمادھو پونا سے آنے والا تھا مگر روپوں کا بندوبست تو سوگندھی ہی کو کرنا تھا۔ چنانچہ وہ اٹھی اور جلدی جلدی کپڑے تبدیل کرنے لگی۔ پانچ منٹوں میں اس نے دھوتی اتار کر پھولوں والی ساڑھی پہنی اور گالوں پر سرخی پوڈر لگا کر تیار ہوگئی۔ گھڑے کے ٹھنڈے پانی کا ایک اور ڈونگا پیا اور رام لال کے ساتھ ہولی۔\n\nگلی جو کہ چھوٹے شہروں کے بازار سے بھی کچھ بڑی تھی، بالکل خاموش تھی۔ گیس کے وہ لیمپ جو کھمبوں پر جڑے تھے، پہلے کی نسبت بہت دھندلی روشنی دے رہے تھے۔ جنگ کے باعث ان کے شیشوں کو گدلا کردیا گیا تھا۔ اس اندھی روشنی میں گلی کے آخری سرے پر ایک موٹر نظر آرہی تھی۔کمزور روشنی میں اسے سیاہ رنگ کی موٹر کا سایہ سا نظر آیا اوررات کے پچھلے پہر کی بھیدوں بھری خاموشی۔۔۔ سو گندھی کو ایسا لگا کہ اس کے سر کا درد فضا پر بھی چھا گیا ہے۔ ایک کسیلا پن اسے ہوا کے اندر بھی محسوس ہوتا تھا جیسے برانڈی اور بیوڑا کی باس سے وہ بوجھل ہو رہی ہے۔\n\nآگے بڑھ کر رام لال نے موٹر کے اندر بیٹھتے ہوئے آدمیوں سے کچھ کہا۔ اتنے میں جب سو گندھی موٹر کے پاس پہنچ گئی تو رام لال نے ایک طرف ہٹ کرکہا، ’’لیجیے وہ آگئی۔‘‘\n\n’’بڑی اچھی چھوکری ہے تھوڑے ہی دن ہوئے ہیں اسے دھندا شروع کیے۔‘‘ پھر سوگندھی سے مخاطب ہو کر کہا، ’’سوگندھی، ادھر آؤ سیٹھ جی بلاتے ہیں۔‘‘\n\nسوگندھی ساڑھی کا ایک کنارہ اپنی انگلی پر لپیٹتی ہوئی آگے بڑھی اور موٹر کے دروازے کے پاس کھڑی ہوگئی۔ سیٹھ صاحب نے بیٹری اس کے چہرے کے پاس روشن کی۔ ایک لمحے کے لیے اس روشنی نے سوگندھی کی خمار آلود آنکھوں میں چکا چوند پیدا کی۔ بٹن دبانے کی آواز پیدا ہوئی اور بجھ گئی۔ ساتھ ہی سیٹھ کے منہ سے’’اونہہ‘‘ نکلا۔ پھر ایک دم موٹر کا انجن پھڑپھڑایا اور کار یہ جا وہ جا۔۔۔\n\nسوگندھی کچھ سوچنے بھی نہ پائی تھی کہ موٹر چل دی۔ اس کی آنکھوں میں ابھی تک بیٹری کی تیز روشنی گھسی ہوئی تھی۔ وہ ٹھیک طرح سے سیٹھ کا چہرہ بھی تو نہ دیکھ سکی تھی۔ یہ آخر ہوا کیا تھا۔ اس’’اونہہ‘‘ کا کیا مطلب تھا۔ جو ابھی تک اس کے کانوں میں بھنبھنا رہی تھی۔ کیا۔۔۔؟ کیا؟\n\nرام لال دلال کی آواز سنائی دی، ’’پسند نہیں کیا تجھے۔۔۔اچھا بھئی میں چلتا ہوں۔ دو گھنٹے مفت میں ہی برباد کیے۔‘‘\n\nیہ سن کر سوگندھی کی ٹانگوں میں، اس کی بانہوں میں، اس کے ہاتھوں میں ایک زبردست حرکت کا ارادہ پیدا ہوا۔ کہاں تھی وہ موٹر۔۔۔ کہاں تھا وہ سیٹھ۔۔۔ تو ’’اونہہ‘‘ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے مجھے پسند نہیں کیا۔۔۔اس کی۔۔۔\n\nگالی اس کے پیٹ کے اندر سے اٹھی اور زبان کی نوک پر آکر رک گئی۔ وہ آخرگالی کسے دیتی، موٹر تو جا چکی تھی۔ اس کی دم کی سرخ بتی اس کے سامنے بازار کے اندھیارے میں ڈوب رہی تھی اور سوگندھی کو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ یہ لال لال انگارہ’’اونہہ‘‘ ہے جو اس کے سینے میں برمے کی طرح اترا چلا جارہا ہے۔ اس کے جی میں آیا کہ زور سے پکارے۔’’او سیٹھ۔ ذرا موٹر روکنا اپنی۔۔۔ بس ایک منٹ کے لیے۔‘‘پر وہ سیٹھ، تھُڑی ہےاس کی ذات پر، بہت دور نکل چکا تھا۔\n\nوہ سنسان بازار میں کھڑی تھی۔ پھولوں والی ساڑھی جو وہ خاص خاص موقعوں پر پہنا کرتی تھی، رات کے پچھلے پہر کی ہلکی ہلکی ہوا سے لہرا رہی تھی۔ یہ ساڑھی اور اس کی ریشمی سرسراہٹ سوگندھی کو کتنی بری معلوم ہوتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ اس ساڑھی کے چیتھڑے اڑا دےکیونکہ ساڑھی ہوا میں لہرا لہرا کر ’’اونہہ اونہہ‘‘ کر رہی تھی۔\n\nگالوں پر اس نے پوڈر لگایا تھا اور ہونٹوں پرسرخی۔ جب اسے خیال آیا کہ یہ سنگار اس نے اپنے آپ کو پسند کرانے کے واسطے کیا تھا تو شرم کے مارے اسے پسینہ آگیا۔ یہ شرمندگی دور کرنے کے لیے اس نے کچھ سوچا۔۔۔میں نے اس موئے کو دکھانے کے لیے تھوڑی اپنے آپ کو سجایا تھا۔ یہ تو میری عادت ہے۔۔۔ میری کیا سب کی یہی عادت ہے۔۔۔ پر۔۔۔پر۔۔۔ یہ رات کے دو بجے اور رام لال دلال اور۔۔۔یہ بازار۔۔۔ اور وہ موٹر اور بیٹری کی چمک۔۔۔ یہ سوچتے ہی روشنی کے دھبے اس کی حدِ نگاہ تک فضا میں ادھر ادھر تیرنے لگے اور موٹر کے انجن کی پھڑپھڑاہٹ اسے ہوا کے ہر جھونکے میں سنائی دینے لگی۔\n\nاس کے ماتھے پر بام کا لیپ جو سنگار کرنے کے دوران میں بالکل ہلکا ہوگیا تھا، پسینہ آنے کے باعث اس کے مساموں میں داخل ہونے لگا۔ اور سوگندھی کو اپنا ماتھا کسی اور کا ماتھا معلوم ہوا۔ جب ہوا کا ایک جھونکا اس کے عرق آلود ماتھے کے پاس سے گزرا تو اسے ایسا لگا کہ سرد سردٹین کا ٹکڑا کاٹ کر اس کے ماتھے کے ساتھ چسپاں کردیا گیا ہے۔ سر میں درد ویسے کا ویسا موجود تھا مگر خیالات کی بھیڑ بھاڑ اور ان کے شور نے اس درد کو اپنے نیچے دبا رکھا تھا۔ سو گندھی نے کئی بار اس درد کو اپنے خیالات کے نیچے سے نکال کر اوپر لانا چاہا مگر ناکام رہی۔ وہ چاہتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح اس کا انگ انگ دکھنے لگے، اس کے سر میں درد ہو، اس کی ٹانگوں میں درد ہو، اس کے پیٹ میں درد ہو، اس کی بانہوں میں درد ہو۔ ایسا درد کہ وہ صرف درد ہی کا خیال کرے اور سب کچھ بھول جائے۔ یہ سوچتے سوچتے اس کے دل میں کچھ ہوا۔۔۔ کیا یہ درد تھا؟ایک لمحے کے لیے اس کا دل سکڑا اور پھر پھیل گیا۔۔۔ یہ کیا تھا۔۔۔؟ لعنت! یہ تو وہی’’اونہہ‘‘ تھی جو اس کے دل کے اندر کبھی سکڑتی تھی اور کبھی پھیلتی تھی۔\n\nگھر کی طرف سوگندھی کے قدم اٹھے ہی تھے کہ رک گیے اور وہ ٹھہر کر سوچنے لگی، رام لال دلّال کا خیال ہے کہ اسے میری شکل پسند نہیں آئی۔ شکل کا تو اس نے ذکر نہیں کیا۔ اس نے تو یہ کہا تھا، ’’سوگندھی تجھے پسند نہیں کیا !‘‘ اسے۔۔۔ اسے۔۔۔ صرف میری شکل ہی پسند نہیں آئی تو کیا ہوا؟ مجھے بھی تو کئی آدمیوں کی شکل پسند نہیں آتی۔۔۔ وہ جو اماوس کی رات کو آیا تھا۔ کتنی بری صورت تھی اس کی۔۔۔ کیا میں نے ناک بھوں نہیں چڑھائی تھی؟ جب وہ میرے ساتھ سونے لگا تھا تو مجھے گھن نہیں آئی تھی؟ کیامجھے ابکائی آتے آتے نہیں رک گئی تھی؟ ٹھیک ہے، پر سوگندھی۔۔۔ تو نے اسے دھتکارا نہیں تھا۔ تو نے اس کو ٹھکرایا نہیں تھا۔۔۔ اس موٹر والے سیٹھ نے تو تیرے منہ پر تھوکا ہے۔۔۔\n\nاونہہ۔۔۔\n\nاس’’اونہہ‘‘ کا اور مطلب ہی کیا ہے۔۔؟ یہی کہ اس چھچھوندر کے سر میں چنبیلی کا تیل۔۔۔ اونہہ۔۔۔ یہ منہ اور مسور کی دال۔۔۔ ارے رام لال تو یہ چھپکلی کہاں سے پکڑ کرلے آیا ہے۔۔۔ اس لونڈیا کی اتنی تعریف کررہا ہے تو۔۔۔ دس روپے اور یہ عورت۔۔۔ خچّر کیا بری ہے۔۔۔\n\nسوگندھی سوچ رہی تھی اور اس کے پیر کے انگوٹھے سے لے کر سر کی چوٹی تک گرم لہریں دوڑ رہی تھیں۔ اس کو کبھی اپنے آپ پر غصہ آتا تھا، کبھی رام لال دلال پر جس نے رات کے دو بجے اسے بے آرام کیا لیکن فوراً ہی دونوں کو بے قصور پا کر وہ سیٹھ کا خیال کرتی تھی۔ اس خیال کے آتے ہی اس کی آنکھیں، اس کے کان، اس کی بانہیں، اس کی ٹانگیں، اس کا سب کچھ مڑتا تھا کہ اس سیٹھ کو کہیں دیکھ پائے۔۔۔ اس کے اندر یہ خواہش بڑی شدت سے پیدا ہورہی تھی کہ جو کچھ ہوچکا ہے ایک بار پھر ہو۔۔۔صرف ایک بار۔۔۔ وہ ہولے ہولے موٹر کی طرف بڑھے۔ موٹر کے اندر سے ایک ہاتھ بیٹری نکالے اور اس کے چہرے پرروشنی پھینکے۔’’اونہہ‘‘ کی آواز آئے اور وہ۔۔۔ سوگندھی اندھا دھند اپنے دونوں پنجوں سے اس کا منہ نوچنا شروع کردے۔ وحشی بلی کی طرح جھپٹے اور۔۔۔ اور اپنی انگلیوں کے سارے ناخن جو اس نے موجودہ فیشن کے مطابق بڑھا رکھے تھے۔ اس سیٹھ کے گالوں میں گاڑ دے۔۔۔ بالوں سے پکڑ کر اسے باہر گھسیٹ لے اور دھڑا دھڑ مکے مارنا شروع کردے اور جب تھک جائے۔۔۔ جب تھک جائے تو رونا شروع کردے۔\n\nرونے کا خیال سوگندھی کو صرف اس لیے آیا کہ اس کی آنکھوں میں غصے اور بے بسی کی شدت کے باعث تین چار بڑے بڑے آنسو بن رہے تھے۔ ایکا ایکی سوگندھی نے اپنی آنکھوں سے سوال کیا، ’’تم روتی کیوں ہو؟ تمہیں کیا ہوا ہے کہ ٹپکنے لگی ہو۔۔۔؟‘‘\n\nآنکھوں سے کیا ہوا سوال چند لمحات تک ان آنسوؤں میں تیرتا رہا جو اب پلکوں پر کانپ رہے تھے۔ سوگندھی ان آنسوؤں میں سے دیرتک اس خلا کو گھورتی رہی جدھر سیٹھ کی موٹر گئی تھی۔\n\nپھڑپھڑپھڑ۔۔۔ یہ آواز کہاں سے آئی؟ سوگندھی نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا لیکن کسی کو نہ پایا۔۔۔ ارے یہ تو اس کا دل پھڑپھڑایا تھا۔ وہ سمجھی تھی موٹر کا انجن بولا ہے۔۔۔ اس کا دل۔۔۔ یہ کیا ہوگیا تھا اس کے دل کو! آج ہی روگ لگ گیا تھا اسے۔۔۔ اچھا بھلا چلتا چلتا ایک جگہ رک کر دھڑ دھڑ کیوں کرتا تھا۔۔۔ بالکل اس گھسے ہوئے ریکارڈ کی طرح جو سوئی کے نیچے ایک جگہ آکے رک جاتا تھا:’’ رات کٹی گن گن تارے۔۔۔‘‘کہتا کہتا تارے تارے کی رٹ لگا دیتا تھا۔\n\nآسمان تاروں سے اٹا ہوا تھا۔سوگندھی نے ان کی طرف دیکھا اور کہا کتنے سندر ہیں۔۔۔ وہ چاہتی تھی کہ اپنا دھیان کسی اور طرف پلٹ دے۔ پر جب اس نے سندر کہا تو جھٹ سے یہ خیال اس کے دماغ میں کوندا، ’’یہ تارے سندر ہیں پر تو کتنی بھونڈی ہے۔۔۔ کیا بھول گئی ابھی ابھی تیری صورت کو پھٹکارا گیا ہے؟‘‘\n\nسوگندھی بدصورت تو نہیں تھی۔ یہ خیال آتے ہی وہ تمام عکس ایک ایک کرکے اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگے۔ جو ان پانچ برسوں کے دوران میں وہ آئینے میں دیکھ چکی تھی۔ اس میں شک نہیں کہ اس کا رنگ روپ اب وہ نہیں رہا تھا جو آج سے پانچ سال پہلے تھا، جب کہ وہ تمام فکروں سے آزاد اپنے ماں باپ کے ساتھ رہا کرتی تھی لیکن وہ بدصورت تو نہیں ہوگئی تھی۔ اس کی شکل و صورت ان عام عورتوں کی سی تھی جن کی طرف مرد گزرتے گزرتے گھور کے دیکھ لیا کرتے ہیں۔ اس میں وہ تمام خوبیاں موجود تھیں جو سوگندھی کے خیال میں ہر مرد اس عورت میں ضروری سمجھتا ہے جس کے ساتھ اسے ایک دو راتیں بسر کرنا ہوتی ہیں۔ وہ جوان تھی، اس کے اعضا متناسب تھے۔ کبھی کبھی نہاتے وقت جب اس کی نگاہیں اپنی رانوں پر پڑتی تھیں تو وہ خود ان کی گولائی اور گدگداہٹ کو پسند کیا کرتی تھی۔ وہ خوش خلق تھی۔\n\nان پانچ برسوں کے دوران میں شاید ہی کوئی آدمی اس سے ناخوش ہو کر گیا ہو۔۔۔ بڑی ملنسار تھی، بڑی رحم دل تھی۔ پچھلے دنوں کرسمس میں جب وہ گول پیٹھا میں رہا کرتی تھی، ایک نوجوان لڑکا اس کے پاس آیا تھا۔ صبح اٹھ کر جب اس نے دوسرے کمرے میں جا کر کھونٹی سے کوٹ اتارا تو بٹوہ غائب پایا۔سوگندھی کا نوکر یہ بٹوہ لے اڑا تھا۔ بے چارہ بہت پریشان ہوا۔ چھٹیاں گزارنے کے لیے حیدر آباد سے بمبئی آیا تھا۔ اب اس کے پاس واپس جانے کے لیے دام نہ تھے۔سوگندھی نے ترس کھا کر اسے اس کے دس روپے واپس دے دیے تھے۔۔۔\n\n’’مجھ میں کیا برائی ہے؟‘‘\n\nسوگندھی نے یہ سوال ہر اس چیز سے کیا جو اس کی آنکھوں کے سامنے تھی۔ گیس کے اندھے لیمپ، لوہے کے کھمبے، فٹ پاتھ کے چوکور پتھر اور سڑک کی اکھڑی ہوئی بجری۔۔۔ ان سب چیزوں کی طرف اس نے باری باری دیکھا، پھر آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائیں۔ جو اس کے اوپر جھکا ہوا تھا مگرسوگندھی کو کوئی جواب نہ ملا۔\n\nجواب اس کے اندرموجود تھا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ بری نہیں اچھی ہے، پر وہ چاہتی تھی کہ کوئی اس کی تائید کرے۔۔۔ کوئی۔۔۔ کوئی۔۔۔ اس وقت اس کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر صرف اتنا کہہ دے، ’’سوگندھی! کون کہتا ہے، تو بری ہے، جو تجھے برا کہے وہ آپ برا ہے۔۔۔‘‘ نہیں یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ کسی کا اتنا کہہ دینا کافی تھا، ’’سوگندھی تو بہت اچھی ہے!‘‘\n\nوہ سوچنے لگی کہ وہ کیوں چاہتی ہے کوئی اس کی تعریف کرے۔ اس سے پہلے اسے اس بات کی اتنی شدت سے ضرورت محسوس نہ ہوئی تھی۔ آج کیوں وہ بے جان چیزوں کو بھی ایسی نظروں سے دیکھتی ہے جیسے ان پر اپنے اچھے ہونے کا احساس طاری کرنا چاہتی ہے، اس کے جسم کا ذرہ ذرہ کیوں ’’ماں‘‘بن رہا ہے۔۔۔ وہ ماں بن کر دھرتی کی ہر شے کو اپنی گود میں لینے کے لیے کیوں تیار ہورہی تھی۔۔۔؟ اس کا جی کیوں چاہتا تھا کہ سامنے والے گیس کے آہنی کھمبے کے ساتھ چمٹ جائے اور اس کے سرد لوہے پر اپنے گال رکھ دے۔۔۔ اپنے گرم گرم گال اور اس کی ساری سردی چوس لے۔\n\nتھوڑی دیر کے لیے اسے ایسا محسوس ہوا کہ گیس کے اندھے لیمپ، لوہے کے کھمبے، فٹ پاتھ کے چوکور پتھر اور ہر وہ شے جو رات کے سناٹے میں اس کے آس پاس تھی۔ ہمدردی کی نظروں سے اسے دیکھ رہی ہے اور اس کے اوپر جھکا ہوا آسمان بھی جو مٹیالے رنگ کی ایسی موٹی چادرمعلوم ہوتا تھا جس میں بے شمار سوراخ ہو رہے ہوں، اس کی باتیں سمجھتا تھا اور سوگندھی کو بھی ایسا لگتا تھا کہ وہ تاروں کا ٹمٹمانا سمجھتی ہے لیکن اس کے اندر یہ کیا گڑ بڑ تھی۔۔۔؟ وہ کیوں اپنے اندر اس موسم کی فضا محسوس کرتی تھی جو بارش سے پہلے دیکھنے میں آیا کرتا ہے۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ اس کے جسم کا ہر مسام کھل جائے اور جو کچھ اس کے اندر ابل رہا ہے ان کے رستے باہر نکل جائے۔ پر یہ کیسے ہو۔۔۔ کیسے ہو؟\n\nسوگندھی گلی کے نکڑ پر خط ڈالنے والے لال بھبکے کے پاس کھڑی تھی۔ ہوا کے تیز جھونکے سے اس بھبکے کی آہنی زبان جو اس کے کھلے ہوئے منہ میں لٹکتی رہتی ہے، لڑکھڑائی تو سوگندھی کی نگاہیں یک بیک اس کی طرف اٹھیں جدھر موٹر گئی تھی مگر اسے کچھ نظر نہ آیا۔۔۔ اسے کتنی زبردست آرزو تھی کہ موٹرپھر ایک بار آئے اور۔۔۔ اور۔۔۔\n\n’’نہ آئے۔۔۔ بلاسے۔۔۔ میں اپنی جان کیوں بےکار ہلکان کروں۔ گھر چلتے ہیں اور آرام سے لمبی تان کر سوتے ہیں۔ ان جھگڑوں میں رکھا ہی کیا ہے۔ مفت کی دردسری ہی تو ہے۔۔۔ چل سوگندھی گھر چل۔۔۔ ٹھنڈے پانی کا ایک ڈونگا پی اور تھوڑا سا بام مل کر سو جا۔۔۔ فسٹ کلاس نیند آئے گی اور سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ سیٹھ اور اس کی موٹر کی ایسی تیسی۔۔۔‘‘\n\nیہ سوچتے ہوئے سوگندھی کا بوجھ ہلکا ہوگیاجیسے وہ کسی ٹھنڈے تالاب سے نہا دھو کر باہر نکلی ہے۔ جس طرح پوجا کرنے کے بعد اس کا جسم ہلکا ہو جاتا تھا، اسی طرح اب بھی ہلکا ہوگیا تھا۔ گھر کی طرف چلنے لگی تو خیالات کا بوجھ نہ ہونے کے باعث اس کے قدم کئی بارلڑکھڑائے۔\n\nاپنے مکان کے پاس پہنچی تو ایک ٹیس کے ساتھ پھر تمام واقعہ اس کے دل میں اٹھا اور درد کی طرح اس کے روئیں روئیں پر چھا گیا۔ قدم پھر بوجھل ہوگیے اور وہ اس بات کو شدت کے ساتھ محسوس کرنے لگی کہ گھر سے بلا کر، باہر بازار میں منہ پرروشنی کا چانٹا مار کر ایک آدمی نے اس کی ابھی ابھی ہتک کی ہے۔ یہ خیال آیا تو اس نے اپنی پسلیوں پر کسی کے سخت انگوٹھے محسوس کیے جیسے کوئی اسے بھیڑ بکری کی طرح دبا دبا کردیکھ رہا ہے کہ آیا گوشت بھی ہے یا بال ہی بال ہیں۔۔۔ اس سیٹھ نے۔۔۔ پرماتما کرے۔۔۔ سوگندھی نے چاہا کہ اس کو بددعا دے، مگر سوچا، بددعا دینے سے کیا بنے گا۔ مزا تو جب تھا کہ وہ سامنے ہوتا اور وہ اس کے وجود کے ہر ذرے پر لعنتیں لکھ دیتی۔۔۔ اس کے منہ پر کچھ ایسے الفاظ کہتی کہ زندگی بھر بے چین رہتا۔۔۔ کپڑے پھاڑ کر اس کے سامنے ننگی ہو جاتی اور کہتی، ’’یہی لینے آیا تھا نا تو۔۔۔؟ لے دام دیے بنا لے جا اسے۔۔۔ یہ جو کچھ میں ہوں، جو کچھ میرے اندر چھپاہوا ہے وہ تو کیا، تیرا باپ بھی نہیں خرید سکتا۔۔۔‘‘\n\nانتقام کے نئے نئے طریقے سوگندھی کے ذہن میں آرہے تھے۔ اگر اس سیٹھ سے ایک بار۔۔۔ صرف ایک بار۔۔۔ اس کی مڈبھیڑ ہو جائے تو یہ کرے۔ نہیں، یہ نہیں، یہ کرے۔۔۔ یوں اس سے انتقام لے، نہیں یوں نہیں، یوں۔۔۔ لیکن جب سوگندھی سوچتی کہ سیٹھ سے اس کا دوبارہ ملنا محال ہے تو وہ اسے ایک چھوٹی سی گالی دینے ہی پر خود کو راضی کرلیتی۔۔۔ بس صرف ایک چھوٹی سی گالی، جو اس کی ناک پر چپکو مکھی کی طرح بیٹھ جائے اور ہمیشہ وہیں جمی رہے۔\n\nاسی ادھیڑ بن میں وہ دوسری منزل پر اپنی کھولی کے پاس پہنچ گئی۔ چولی میں سے چابی نکال کرتالا کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو چابی ہوا ہی میں گھوم کر رہ گئی! کنڈے میں تالا نہیں تھا۔سوگندھی نے کواڑ اندر کی طرف دبائے تو ہلکی سی چڑچڑاہٹ پیدا ہوئی۔ اندر سے کنڈی کھولی گئی اوردروازے نے جمائی لی، سوگندھی اندر داخل ہوگئی۔\n\nمادھو مونچھوں میں ہنسا اور دروازہ بند کرکے سوگندھی سے کہنے لگا، ’’آج تو نے میرا کہا مان ہی لیا۔۔۔ صبح کی سیر تندرستی کے لیے بڑی اچھی ہوتی ہے۔ ہر روز اس طرح صبح اٹھ کر گھومنے جایا کرے گی تو تیری ساری سستی دور ہو جائے گی اور وہ تیری کمر کا درد بھی غائب ہو جائے گا، جس کی بابت تو آئے دن شکایت کیا کرتی ہے۔۔۔ وکٹوریہ گارڈن تک ہو آئی ہوگی تو۔۔۔؟کیوں؟‘‘\n\nسوگندھی نے کوئی جواب نہ دیا اور نہ مادھو نے جواب کی خواہش ظاہر کی۔ دراصل جب مادھو بات کیا کرتا تھا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا تھا کہ سوگندھی ضرور اس میں حصہ لے اورسوگندھی جب کوئی بات کیا کرتی تھی یہ ضروری نہیں ہوتا تھا کہ مادھو اس میں حصہ لے۔۔۔ چونکہ کوئی بات کرنا ہوتی تھی، اس لیے وہ کہہ دیا کرتے تھے۔\n\nمادھو بید کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ جس کی پشت پر اس کے تیل سے چپڑے ہوئے سر نے میل کا ایک بہت بڑا دھبہ بنا رکھا تھا۔ اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر اپنی مونچھوں پر انگلیاں پھیرنے لگا۔سوگندھی پلنگ پر بیٹھ گئی۔ اور مادھو سے کہنے لگی، ’’میں آج تیرا انتظار کررہی تھی۔‘‘\n\nمادھو بڑا سٹپٹایا:’’انتظار۔۔۔؟ تجھے کیسے معلوم ہوا کہ میں آج آنے والا ہوں۔‘‘\n\nسوگندھی کے بھنچے ہوئے لب کھلے۔ ان پر ایک پیلی مسکراہٹ نمودار ہوئی، ’’میں نے رات تجھے سپنے میں دیکھا تھا۔۔۔ اٹھی تو کوئی بھی نہ تھا۔ سوجی نے کہا، چلو کہیں باہر گھوم آئیں۔۔۔ اور۔۔۔‘‘\n\nمادھو خوش ہوکر بولا، ’’اورمیں آگیا۔۔۔ بھئی بڑے لوگوں کی باتیں بڑی پکی ہوتی ہیں۔ کسی نے ٹھیک کہا ہے، دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔۔۔ تو نے یہ سپنا کب دیکھا تھا؟‘‘\n\nسوگندھی نے جواب دیا، ’’چار بجے کے قریب۔‘‘\n\nمادھو کرسی سے اٹھ کر سوگندھی کے پاس بیٹھ گیا، ’’اورمیں نے تجھے ٹھیک دو بجے سپنے میں دیکھا۔۔۔ جیسے تو پھولوں والی ساڑھی۔۔۔ ارے بالکل یہی ساڑھی پہنے میرے پاس کھڑی ہے تیرے ہاتھوں میں۔۔۔ کیا تھا تیرے ہاتھوں میں۔۔۔! ہاں تیرے ہاتھوں میں روپوں سے بھری ہوئی تھیلی تھی۔ تو نے یہ تھیلی میری جھولی میں رکھ دی۔ اور کہا، ’’مادھو تو چنتا کیوں کرتا ہے۔۔۔؟ لے یہ تھیلی۔ ارے تیرے میرے روپے کیا دو ہیں۔۔۔؟ سوگندھی تیری جان کی قسم فوراً اٹھا اور ٹکٹ کٹا کر ادھر کا رخ کیا۔۔۔ کیا سناؤں بڑی پریشانی ہے! بیٹھے بٹھائے ایک کیس ہوگیاہے اب بیس تیس روپے ہوں تو انسپکٹر کی مٹھی گرم کرکے چھٹکارا ملے۔۔۔ تھک تو نہیں گئی تو؟ لیٹ جا میری طرف پیر کرکے لیٹ جا۔‘‘\n\nسوگندھی لیٹ گئی۔ دونوں بانہوں کا تکیہ بنا کر وہ ان پر سر رکھ کر لیٹ گئی۔ اور اس لہجے میں جو اس کا اپنا نہیں تھا، مادھو سے کہنے لگی، ’’مادھو یہ کس موئے نے تجھ پر کیس کیا ہے۔۔۔؟ بیل ویل کا ڈر ہو تو مجھ سے کہہ دے، بیس تیس کیا، سو پچاس بھی ایسے موقعوں پر پولیس کے ہاتھ میں تھما دیے جائیں تو فائدہ اپنا ہی ہے۔۔۔ جان بچی لاکھوں پائے۔۔۔ بس بس اب جانے دے۔ تھکن کچھ زیادہ نہیں ہے۔۔۔ مٹھی چاپی چھوڑ اور مجھے ساری بات سنا۔۔۔ کیس کا نام سنتے ہی میرا دل دھک دھک کرنے لگا ہے۔۔۔ واپس کب جائے گا تو؟‘‘\n\nمادھو کو سوگندھی کے منہ سے شراب کی باس آئی تو اس نے یہ موقع اچھا سمجھا اور جھٹ سے کہا، ’’دوپہرکی گاڑی سے واپس جانا پڑے گا۔۔۔ اگر شام تک سب انسپکٹر کو سو پچاس نہ تھمائے تو۔۔۔ زیادہ دینے کی ضرورت نہیں۔ میں سمجھتا ہوں پچاس میں کام چل جائے گا۔‘‘\n\n’’پچاس!‘‘ یہ کہہ کر سوگندھی بڑے آرام سے اٹھی اور ان چار تصویروں کے پاس آہستہ آہستہ گئی۔ جو دیوار پر لٹک رہی تھیں۔ بائیں طرف سے تیسرے فریم میں مادھو کی تصویر تھی۔ بڑے بڑے پھولوں والے پردے کے آگے کرسی پر وہ دونوں رانوں پر اپنے ہاتھ رکھے بیٹھا تھا۔ ایک ہاتھ میں گلاب کا پھول تھا۔ پاس ہی تپائی پر دو موٹی موٹی کتابیں دھری تھیں۔ تصویر اترواتے وقت، تصویر اتروانے کا خیال مادھو پر اس قدر غالب تھا کہ اس کی ہر شے تصویر سے باہر نکل نکل کرپکار رہی تھی: ’’ہمارا فوٹو اترے گا۔ ہمارا فوٹو اترے گا!‘‘\n\nکیمرے کی طرف مادھو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ فوٹو اترواتے وقت اسے بہت تکلیف ہورہی تھی۔\n\nسوگندھی کھکھلا کر ہنس پڑی۔۔۔ اس کی ہنسی کچھ ایسی تیکھی اور نوکیلی تھی کہ مادھو کے سوئیاں سی چبھیں۔ پلنگ پر سے اٹھ کروہ سوگندھی کے پاس گیا، ’’کس کی تصویر دیکھ کر تو اس قدر زور سے ہنسی ہے؟‘‘\n\nسوگندھی نے بائیں ہاتھ کی پہلی تصویر کی طرف اشارہ کیا جو میونسپلٹی کے داروغۂ صفائی کی تھی، ’’اس کی۔۔۔ منشی پالٹی کے داروغہ کی۔۔۔ ذرا دیکھ تو اس کا تھوبڑا۔۔۔ کہتا تھا، ایک رانی مجھ پر عاشق ہوگئی تھی۔۔۔ اونہہ! یہ منہ اور مسور کی دال۔ ‘‘ یہ کہہ کرسوگندھی نے فریم کو اس زور سے کھینچا کہ دیوار میں سے کیل بھی پلستر سمیت اکھڑ آئی!\n\nمادھو کی حیرت ابھی دور نہ ہوئی تھی کہ سوگندھی نے فریم کو کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ دو منزلوں سے فریم نیچے زمین پر گرا اور کانچ ٹوٹنے کی جھنکار سنائی دی۔ سوگندھی نے اس جھنکار کے ساتھ کہا، ’’رانی بھنگن کچرا اٹھانے آئے گی۔ تو میرے اس راجہ کو بھی ساتھ لے جائے گی۔‘‘\n\nایک بار پھر اسی نوکیلی اور تیکھی ہنسی کی پھوار سوگندھی کے ہونٹوں سے گرنا شروع ہوئی جیسے وہ ان پر چاقو یا چھری کی دھار تیز کر رہی ہے۔ مادھو بڑی مشکل سے مسکرایا۔ پھر ہنسا۔ ’’ہی ہی ہی۔۔۔‘‘\n\nسوگندھی نے دوسرا فریم بھی نوچ لیا اور کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔’’اس سالے کا یہاں کیا مطلب ہے۔۔۔؟ بھونڈی شکل کا کوئی آدمی یہاں نہیں رہے گا۔۔۔ کیوں مادھو؟‘‘\n\nمادھو پھر بڑی مشکل سے مسکرایا اور پھر ہنسا، ’’ہی ہی ہی۔‘‘\n\nایک ہاتھ سے سوگندھی نے پگڑی والے کی تصویر اتاری اور دوسرا ہاتھ اس فریم کی طرف بڑھایا جس میں مادھو کا فوٹو جڑا تھا۔ مادھو اپنی جگہ پر سمٹ گیا، جیسے ہاتھ اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایک سیکنڈ میں فریم کیل سمیت سوگندھی کے ہاتھ میں تھا۔\n\nزور کا قہقہہ لگا کر اس نے’’اونہہ‘‘ کی اور دونوں فریم ایک ساتھ کھڑکی میں سے باہر پھینک دیے۔ دو منزلوں سے جب فریم زمین پر گرے اور کانچ ٹوٹنے کی آواز آئی تو مادھو کو ایسا معلوم ہوا کہ اس کے اندر کوئی چیز ٹوٹ گئی ہے۔ بڑی مشکل سے اس نے ہنس کر کہا، ’’اچھا کیا۔۔۔؟ مجھے بھی یہ فوٹو پسند نہیں تھا۔‘‘\n\nآہستہ آہستہ سوگندھی مادھو کے پاس آئی اور کہنے لگی، ’’تجھے یہ فوٹو پسند نہیں تھا۔ پر میں پوچھتی ہوں تجھ میں ایسی کون سی چیز ہے جو کسی کو پسند آسکتی ہے۔۔۔ تیری پکوڑا ایسی ناک، یہ تیرا بالوں بھرا ماتھا، یہ تیرے سوجے ہوئے نتھنے، یہ تیرے بڑھے ہوئے کان، یہ تیرے منہ کی باس، یہ تیرے بدن کا میل۔۔۔؟ تجھے اپنا فوٹو پسند نہیں تھا، اونہہ۔۔۔ پسند کیوں ہوتا، تیرے عیب جو چھپا رکھے تھے اس نے۔۔۔ آج کل زمانہ ہی ایسا ہے جو عیب چھپائے وہی برا۔۔۔‘‘\n\nمادھو پیچھے ہٹتا گیا۔ آخر جب وہ دیوار کے ساتھ لگ گیا تو اس نے اپنی آواز میں زور پیدا کرکے کہا، ’’دیکھ سوگندھی، مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تو نے پھر سے اپنا دھندا شروع کردیا ہے۔۔۔ اب میں تجھ سے آخری بار کہتا ہوں۔۔۔‘‘\n\nسوگندھی نے اس سے آگے مادھو کے لہجے میں کہنا شروع کیا، ’’اگر تو نے پھر سے دھندا شروع کیا تو بس تیری میری ٹوٹ جائے گی۔ اگر تو نے پھر کسی کو اپنے یہاں بلایا تو چٹیا سے پکڑ کر تجھے باہر نکال دوں گا۔۔۔ اس مہینے کا خرچ میں تجھے پونا سے ہی منی آرڈر کردوں گا۔۔۔ ہاں کیا بھاڑا ہے اس کھولی کا؟‘‘\n\nمادھو چکرا گیا۔\n\nسوگندھی نے کہنا شروع کیا، ’’ میں بتاتی ہوں۔۔۔ پندرہ روپیہ بھاڑا ہے اس کھولی کا۔۔۔ اور دس روپیہ بھاڑا ہے میرا۔۔۔ اور جیسا تجھے معلوم ہے۔ ڈھائی روپے دلال کے۔ باقی رہے ساڑھے سات۔ ہے نا ساڑھے سات؟ ان ساڑھے سات روپیوں میں میں نے ایسی چیز دینے کا وچن دیا تھا جو میں دے ہی نہیں سکتی تھی۔ اور تو ایسی چیز لینے آیا تھا جو تو لے ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔ تیرا میرا ناتا ہی کیا تھا۔ کچھ بھی نہیں۔ بس یہ دس روپے تیرے اور میرے بیچ میں بج رہے تھے، سو ہم دونوں نے مل کر ایسی بات کی کہ تجھے میری ضرورت اور مجھے تیری۔۔۔ پہلے تیرے اور میرے بیچ میں دس روپے بجتے تھے، آج پچاس بج رہے ہیں۔ تو بھی ان کا بجنا سن رہا ہے اور میں بھی ان کا بجنا سن رہی ہوں۔۔۔ یہ تونے اپنے بالوں کا کیا ستیاناس کر رکھا ہے؟‘‘\n\nیہ کہہ کر سوگندھی نے مادھو کی ٹوپی انگلی سے ایک طرف اڑا دی۔ یہ حرکت مادھو کو بہت ناگوار گزری۔ اس نے بڑے کڑے لہجے میں کہا، ’’سوگندھی!‘‘\n\nسوگندھی نے مادھو کی جیب سے رومال نکال کر سونگھا اور زمین پر پھینک دیا۔ یہ’’چیتھڑے، یہ چندیاں۔۔۔ اف کتنی بری باس آتی ہے، اٹھا کے باہر پھینک ان کو۔۔۔‘‘\n\nمادھو چلایا، ’’سوگندھی!‘‘\n\nسوگندھی نے تیز لہجے میں کہا، ’’سوگندھی کے بچی تو آیا کس لیے ہے یہاں؟ تیری ماں رہتی ہے اس جگہ جو تجھے پچاس روپے دے گی؟ یا تو کوئی ایسا بڑا گبرو جوان ہے جو میں تجھ پر عاشق ہوگئی ہوں، کتے، کمینے، مجھ پر رعب گانٹھتا ہے؟ میں تیری دبیل ہوں کیا۔۔۔؟ بھک منگے تو اپنے آپ کو سمجھ کیا بیٹھا ہے؟ میں کہتی ہوں تو ہے کون؟ چوریا گٹھ کترا۔۔۔؟ اس وقت تومیرے مکان میں کرنے کیا آیا ہے؟ بلاؤں پولیس کو۔ پونے میں تجھ پر کیس ہو نہ ہو، یہاں توتجھ پر ایک کیس کھڑا کردوں۔۔۔‘‘\n\nمادھو سہم گیا۔ دبے ہوئے لہجے میں وہ صرف اس قدر کہہ سکا، ’’سوگندھی، تجھے کیا ہوگیا ہے؟‘‘\n\n’’تیری ماں کا سر۔۔۔ تو ہوتا کون ہے مجھ سے ایسے سوال کرنے والا۔۔۔ بھاگ یہاں سے، ورنہ۔۔۔‘‘سوگندھی کی بلند آواز سن کر اس کا خارش زدہ کتا جو سوکھے ہوئے چپلوں پر منہ رکھے سو رہا تھا، ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور مادھو کی طرف منہ اٹھا کر بھونکنا شروع کردیا۔ کتے کے بھونکنے کے ساتھ ہی سوگندھی زور سے ہنسنے لگی۔\n\nمادھو ڈر گیا۔ گری ہوئی ٹوپی اٹھانے کے لیے وہ جھکا تو سوگندھی کی گرج سنائی دی، ’’خبردار۔۔۔ پڑی رہنے دے وہیں۔۔۔ تو جا، تیرے پونا پہنچتے ہی میں اس کو منی آرڈر کردوں گی۔‘‘یہ کہہ کر وہ اور زور سے ہنسی اور ہنستی ہنستی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس کے خارش زدہ کتے نے بھونک بھونک کرمادھو کو کمرے سے باہر نکال دیا۔ سیڑھیاں اتار کر جب کتا اپنی ٹنڈ منڈدم ہلاتاسوگندھی کے پاس آیا اور اس کے قدموں کے پاس بیٹھ کر کان پھڑپھڑانے لگا۔ تو سوگندھی چونکی۔۔۔ اس نے اپنے چاروں طرف ایک ہولناک سناٹا دیکھا۔۔۔ ایسا سناٹا جو اس نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ اسے ایسا لگا کہ ہر شے خالی ہے۔ جیسے مسافروں سے لدی ہوئی ریل گاڑی سب اسٹیشنوں پر مسافر اتار کر اب لوہے کے شیڈ میں بالکل اکیلی کھڑی ہے۔ یہ خلا جو اچانک سوگندھی کے اندر پیدا ہوگیا تھا، اسے بہت تکلیف دے رہا تھا۔ اس نے کافی دیر تک اس خلا کو بھرنے کی کوشش کی۔ مگر بے سود، وہ ایک ہی وقت میں بے شمار خیالات اپنے دماغ میں ٹھونستی تھی مگر بالکل چھلنی کا سا حساب تھا۔ ادھر دماغ کو پر کرتی تھی ادھر وہ خالی ہو جاتا تھا۔\n\nبہت دیر تک وہ بید کی کرسی پر بیٹھی رہی۔ سوچ بچار کے بعد بھی جب اس کو اپنا دل پرچانے کا کوئی طریقہ نہ ملا تو اس نے اپنے خارش زدہ کتے کو گود میں اٹھایا اور ساگوان کے چوڑے پلنگ پر اسے پہلو میں لٹا کر سوگئی۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AA%DA%A9"} {"title": "ہجر", "poet_page": "مصنف:عظیم الدین احمد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "تو پاس تھا جی کو چین کچھ تھا\nتیرا جانا کہ آفت آئی\nنظروں سے چھپا جو تیرا چہرا\nمیرے سر پر قیامت آئی\n\nباقی تھوڑا سا دن تھا لیکن\nمیری آنکھوں میں تھا اندھیرا\nکیونکر ہو صبر مجھ سے ممکن\nدل کو ہر دم ہے دھیان تیرا\n\nاے ظلم کے اور ستم کے بانی\nاے شوخ جفا شعار عیار\nمجھ کو دوبھر ہے زندگانی\nمیری آنکھوں میں ہے جہاں تار\n\nاے برق مثال اے طرحدار\nاے ماہ جبیں غزال سیرت\nمجھ پر تار نفس ہے اک بار\nمجھ سے کوسوں پرے ہے راحت\n\nگھر بھر سوتا ہے ایک بیتاب\nآہیں بھر کر تڑپ رہا ہے\nبھولے بھی آنکھ کو نہیں خواب\nظلمت شب کی عجب بلا ہے\n\nہرگز ہرگز مجھے میسر\nآئی کوئی گھڑی نہ راحت\nکیسا کیسا رہا ہوں مضطر\nکتنی کتنی اٹھائی زحمت\n\nدل کو ہے سخت بے قراری\nجینے کے پڑ گئے ہیں لالے\nدل کی حالت نہ یہ مٹے گی\nجب تک تو ہی نہ پھر سنبھالے\n\nمجھ کو تنہائی گو ستائے\nتجھ کو عیش و طرب ہو میموں\nمجھ پر آفت ہزار آئے\nتجھ سے خوش طالعی ہو مقروں\n\nتجھ سے چھٹنا ہے سخت مشکل\nجب تک ہے حافظے میں قدرت\nتیرا تیرا رہے گا یہ دل\nجب تک نہ ملائے تجھ سے قسمت", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D8%B1"} {"title": "ہجر جاناں میں جی سے جانا ہے", "poet_page": "مصنف:مردان علی خاں رانا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہجر جاناں میں جی سے جانا ہے\nبس یہی موت کا بہانہ ہے\n\nکیوں نہ برسائیں اشک دیدۂ تر\nآتش عشق کا بجھانا ہے\n\nہو عدو جس پہ کیجیئے احسان\nکچھ عجب طرح کا زمانہ ہے\n\nیاد دلوا کے داستان وصال\nعاشق زار کو رلانا ہے\n\nرکھ دلا روز و شب امید وصال\nرنج فرقت اگر بھلانا ہے\n\nجان جاتی ہے جس جگہ سب کی\nاسی کوچے میں اپنا جانا ہے\n\nکوئی دم میں عدم کو ہوں راہی\nآ اگر تجھ کو اب بھی آنا ہے\n\nخاک ساری نہ چھوڑنا رعناؔ\nایک دن خاک ہی میں جانا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہجر میں جب خیال یار آیا", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہجر میں جب خیال یار آیا\nلب پہ نالہ ہزار بار آیا\n\nپھر صفائی کی کون سی صورت\nآپ کے دل میں جب غبار آیا\n\nکیجئے ذبح کھینچیے خنجر\nلیجئے یہ گناہ گار آیا\n\nبولے ٹھکرا کے میرے مرقد کو\nاب تجھے کس طرح قرار آیا\n\nتو نے حاصل نسیمؔ کچھ نہ کیا\nکچھ بھی تجھ کو نہ میرے یار آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہجر میں غم کش کوئی مجھ سا نہیں", "poet_page": "مصنف:بیتاب عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہجر میں غم کش کوئی مجھ سا نہیں\nآج تک میں نے اسے دیکھا نہیں\n\nکہنے والے نے تو سب کچھ کہہ دیا\nسننے والا ایک بھی سمجھا نہیں\n\nماہ میں کس کو سناؤں حال زار\nخواب میں بھی وہ نظر آیا نہیں\n\nجب نظر ہو منزل مقصود پر\nروک سکتی راہ کی ایذا نہیں\n\nآرزو ہی اس کی دل میں رہ گئی\nہاتھ دامن تک کبھی پہونچا نہیں\n\nبزم ساقی میں ہوئے وہ سرفراز\nجام جن کے ہاتھ میں چھلکا نہیں\n\nوعدۂ فردا کی پھر تفصیل کر\nکیا کہا تو نے کوئی سمجھا نہیں\n\nہے غضب پھر صور نے چونکا دیا\nنیند بھر کر میں ابھی سویا نہیں\n\nاپنا سا منہ لے کے شانہ رہ گیا\nپیچ گیسو کا کوئی سلجھا نہیں\n\nکسب ہر دم کچھ نہ کچھ کرتی ہے روح\nجیسا کل تھا آج میں ویسا نہیں\n\nجو نہیں مست شراب بے خودی\nاس نے لطف زندگی پایا نہیں\n\nجیتے جی اپنے کو کر دیتا تھا خاک\nموت سے مرنا کوئی مرنا نہیں\n\nیاد اے بیتابؔ رکھنا یار کو\nپار ہے بیڑا اگر بھولا نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D8%B4_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہجر میں غم کی چڑھائی ہے الٰہی توبہ", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "ہجر میں غم کی چڑھائی ہے الٰہی توبہ\nکیا نصیبے کی برائی ہے الٰہی توبہ\n\nکتنے کانوں کے وہ کچے ہیں کہ اللہ کی پناہ\nکیا رقیبوں کی بن آئی ہے الٰہی توبہ\n\nنالہ ہو آہ ہو فریاد ہو یا زاری ہو\nیار تک سب کی رسائی ہے الٰہی توبہ\n\nہو چکا قتل جہاں تیغ بھی اٹھنے کی نہیں\nکس قدر نرم کلائی ہے الٰہی توبہ\n\nشیخ صاحب بھی نہیں بچ کے یہاں سے نکلے\nکس قدر ان کو پلائی ہے الٰہی توبہ\n\nدل لگی آپ سے کی خلق میں بدنام ہوئے\nنیک نامی یہ کمائی ہے الٰہی توبہ\n\nچاہ کر تم کو بھلا اور کو کیوں کر چاہوں\nواہ کیا دل میں سمائی ہے الٰہی توبہ\n\nلے گئے چھین کے دل میل نہیں چتون پر\nکتنی دیدہ میں صفائی ہے الٰہی توبہ\n\nبوسہ مانگا تو کہا شکر خدا اچھا ہوں\nبات کیا جلد اڑائی ہے الٰہی توبہ\n\nنہیں معلوم کہ کس شخص کا منہ دیکھا ہے\nآج پھر غم کی چڑھائی ہے الٰہی توبہ\n\nکوچۂ عشق کی سچ پوچھو تو ہم نے پرویںؔ\nکس قدر خاک اڑائی ہے الٰہی توبہ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%DA%91%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81"} {"title": "ہجر میں ناشاد دنیا سے دل مضطر گیا", "poet_page": "مصنف:منشی نوبت رائے نظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہجر میں ناشاد دنیا سے دل مضطر گیا\nآج اپنے ساتھ کا اک مرنے والا مر گیا\n\nسننے والے خوب روئے میرے حال زار پر\nیوں ہی اپنی عمر کا پیمانہ آخر بھر گیا\n\nبازوئے قاتل تھکائے سخت جانی نے مری\nبارہا اس ہاتھ سے اس ہاتھ میں خنجر گیا\n\nہم وہی گلشن وہی محفل وہی ساماں وہی\nایک ساقی کیا گیا لطف مے و ساغر گیا\n\nہو گئی غیروں کو بھی ناکام مرنے کی ہوس\nمیں کسی پر جان دے کر کام اپنا کر گیا\n\nروح پرور ہے نگاہ ناز قاتل کا اثر\nجس کو دیکھا جی اٹھا جس کو نہ دیکھا مر گیا\n\nمیں کبھی رویا تو وہ بولے ڈبویا نام عشق\nاور اگر آنسو پی لئے تو دل میں دریا بھر گیا\n\nایسی ہی غفلت رہی گر میرے حال زار پر\nایک دن احباب سن لیں گے نظرؔ بھی مر گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہجر میں ہو گیا وصال کا کیا", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہجر میں ہو گیا وصال کا کیا\nخواب ہی بن گیا خیال کا کیا\n\nخود نمائی پہ خاک ڈالو تم\nدیکھنا شکل بے مثال کا کیا\n\nتیری فرقت کے دن خدا کاٹے\nہو رہے گا کبھی وصال کا کیا\n\nدل کے دینے میں عذر کس کو ہے\nجان ہی دے رہے ہیں مال کا کیا\n\nحال اس نے ہمارا پوچھا ہے\nپوچھنا اب ہمارے حال کا کیا\n\nوصل کی التجا پہ بگڑے کیوں\nسن کے چپ ہو رہو سوال کا کیا\n\nدور کی عاشقی گناہ نہیں\nدیکھ لیتے ہیں دیکھ بھال کا کیا\n\nزلف کو کیوں جکڑ کے باندھا ہے\nاس نے بوسہ لیا تھا گال کا کیا\n\nآج تم کیوں ملول بیٹھے ہو\nوصل دن ہے مرے وصال کا کیا\n\nجب کہا تم سے روز ملتا ہوں\nہنس کے کہنے لگے خیال کا کیا\n\nقول کے وقت شرط فرصت کیوں\nدخل وعدے میں احتمال کا کیا\n\nرنج دے کر جو خوش ہو اے مضطرؔ\nاس کو صدمہ مرے ملال کا کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہجر کی آگ میں عذاب میں نہ دے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہجر کی آگ میں عذاب میں نہ دے\nمثل سیماب اضطراب نہ دے\n\nصندلی حسن ہے ترا درکار\nدرد سر کوں مرے گلاب نہ دے\n\nبس ترا دور چشم اے ساقی\nہوش کھونے مجھے شراب نہ دے\n\nزاہد خشک کوں شراب نہ دے\nآگ دے خار و خس کو آب نہ دے\n\nاپنے ماروں کو مت پریشاں کر\nزلف مشکیں کوں پیچ و تاب نہ دے\n\nعاشقوں کوں ہے لذت دشنام\nہر کمینے کوں یہ خطاب نہ دے\n\nکس نے اے بحر حسن تجھ کوں کہا\nکہ کسی تشنہ لب کوں آب نہ دے\n\nکام جاہل کا ہے سخن چینی\nاے سراجؔ اس کوں تو جواب نہ دے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%DA%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%92"} {"title": "ہجر کی رات یاد آتی ہے", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہجر کی رات یاد آتی ہے\nپھر وہی بات یاد آتی ہے\n\nتم نے چھیڑا تو کچھ کھلے ہم بھی\nبات پر بات یاد آتی ہے\n\nتم تھے اور ہم تھے چاند نکلا تھا\nہائے وہ رات یاد آتی ہے\n\nصبح کے وقت ذرے ذرے کی\nوہ مناجات یاد آتی ہے\n\nہائے کیا چیز تھی جوانی بھی\nاب تو دن رات یاد آتی ہے\n\nمے سے توبہ تو کی عزیزؔ مگر\nاکثر اوقات یاد آتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہجر کی راتیں", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہجر کی راتیں کالی کالی\nاس پر یاد کسی کی جاری\nایسے گہرے سناٹے میں\nکس سے کہیں ہم غم کی کہانی\nدنیا ساری سوتی ہے\nتارے گننا بے چینی میں\nآہیں بھرنا بیتابی میں\nآہ ہماری سونے والو\nاس حالت میں لاچاری میں\nرات بسر یوں ہوتی ہے\nکشتۂ غم کی اب تربت پر\nحسرت روتی ہے حسرت پر\nایک اداسی کا عالم ہے\nسونے والے کی قسمت پر\nشمع بالیں روتی ہے\nجس میں حسرت کی بستی ہے\nجس کی بلندی ہر پستی ہے\nیعنی جس کو دل کہتے ہیں\nجس پر سب دنیا ہنستی ہے\nایک انوکھا موتی ہے\nچرخ نے بیدردی بے رحمی\nسچ تو یہی ہے اس سے سیکھی\nآؤ عالمؔ کچھ تو بتاؤ\nسب کچھ ہے پر یاس کسی کی\nیاد بھلا کیوں کھوتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے\nسننے والے رات کٹنے کی دعا دینے لگے\n\nآئیے حال دل مجروح سنیے دیکھیے\nکیا کہا زخموں نے کیوں ٹانکے صدا دینے لگے\n\nکس نظر سے آپ نے دیکھا دل مجروح کو\nزخم جو کچھ بھر چلے تھے پھر ہوا دینے لگے\n\nسننے والے رو دئیے سن کر مریض غم کا حال\nدیکھنے والے ترس کھا کر دعا دینے لگے\n\nجز زمین کوئے جاناں کچھ نہیں پیش نگاہ\nجس کا دروازہ نظر آیا صدا دینے لگے\n\nباغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے\nجن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے\n\nمٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن\nزندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے\n\nآئنہ ہو جائے میرا عشق ان کے حسن کا\nکیا مزہ ہو درد اگر خود ہی دوا دینے لگے\n\nسینۂ سوزاں میں ثاقبؔ گھٹ رہا ہے وہ دھواں\nاف کروں تو آگ دنیا کی ہوا دینے لگے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A8_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%AF%D9%84_%D9%88%DB%81_%D8%B5%D8%AF%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں\nدرد اک اور اٹھا آہ نیا سینے میں\n\nخون دل پینے سے جو کچھ ہے حلاوت ہم کو\nیہ مزا اور کسی کو نہیں مے پینے میں\n\nدل کو کس شکل سے اپنے نہ مصفا رکھوں\nجلوہ گر یار کی صورت ہے اس آئینے میں\n\nاشک و لخت جگر آنکھوں میں نہیں ہیں میرے\nہیں بھرے لعل و گہر عشق کے گنجینے میں\n\nشکل آئینہ ظفرؔ سے تو نہ رکھ دل میں خیال\nکچھ مزا بھی ہے بھلا جان مری لینے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%BE%DA%91%DB%92_%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہجر ہے اب تھا یہیں میں زار ہم پہلوئے دوست", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہجر ہے اب تھا یہیں میں زار ہم پہلوئے دوست\nمیرے بستر پر مجھے تڑپا رہی ہے بوئے دوست\n\nختم زینت ہو گئی مشاطہ نے لے لیں بلائیں\nگیسوئے پر خم نے چومے شانہ و بازوئے دوست\n\nامتحاں قوت کا ہے تلوار اٹھائی جاتی ہے\nاب تو اس قابل ہوئے ہیں پنجہ و بازوئے دوست\n\nزخم کھاتا بڑھ کے میں اور وہ لگاتا بڑھ کے تیغ\nدل مرا بڑھتا تو بڑھتی قوت بازوئے دوست\n\nگھٹ گیا یاں خون اور واں فصد کا ساماں ہوا\nآ گیا غش مجھ کو جب باندھا گیا بازوئے دوست\n\nجان آدھی رہ گئی دیکھی جو غصے کی نظر\nدل پہ اک بجلی گری جب ہل گئے ابرئے دوست\n\nمجھ کو جن سے عشق ہے ان کو ہے مجھ سے دشمنی\nیاں وہ آتے تھے کہ الجھے پاؤں گیسوئے دوست\n\nکعبہ جس کو لوگ کہتے ہیں مکاں ہے یار کا\nعرش اعظم نام رکھتے ہیں زمین کوئے دوست\n\nمیرے سینے میں ہوئی کیوں خانۂ دل کی بنا\nیہ مکاں بننے کے قابل تھی زمین کوئے دوست\n\nزخمیٔ الفت ہوں میں صحت نہیں ہوگی مجھے\nبھر رہی ہے دل کے زخموں میں ہوائے کوئے دوست\n\nبخشتی ہے روح کو ہر مرتبہ اک تازگی\nمجھ کو مرنے ہی نہیں دیتی ہوائے کوئے دوست\n\nطالب دیدار ہیں ہے صاف آنکھوں سے عیاں\nگو کہ منہ سے کچھ نہیں کہتے گدائے کوئے دوست\n\nدشمن ایذا دیتے ہیں ہر مرتبہ مجھ کو رشیدؔ\nغصہ آتا ہے مگر میں دیکھتا ہوں سوئے دوست", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DB%8C%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA"} {"title": "ہجراں میں کیا سب نے کنارہ آخر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہجراں میں کیا سب نے کنارہ آخر\nاسباب گیا جینے کا سارا آخر\nنے تاب رہی نہ صبر و یارا آخر\nآخر کو ہوا کام ہمارا آخر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%A8_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%A2%D8%AE%D8%B1"} {"title": "ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیں\nسر مار مار یعنی اب ہم بھی سو چلے ہیں\n\nجویں رہیں گی جاری گلشن میں ایک مدت\nسائے میں ہر شجر کے ہم زور رو چلے ہیں\n\nلبریز اشک آنکھیں ہر بات میں رہا کیں\nرو رو کے کام اپنے سب ہم ڈبو چلے ہیں\n\nپچھتائیے نہ کیونکر جی اس طرح سے دے کر\nیہ گوہر گرامی ہم مفت کھو چلے ہیں\n\nقطع طریق مشکل ہے عشق کا نہایت\nوے میرؔ جانتے ہیں اس راہ جو چلے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D9%81%D8%AA_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%86%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہجوم رنج و الم ہے یہ نیم جاں کے لیے", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہجوم رنج و الم ہے یہ نیم جاں کے لیے\nجفا وہ کرتے ہیں عاشق پہ امتحاں کے لیے\n\nبتوں کے جور و جفا پر میں صبر کرتا ہوں\nیہاں کے واسطے کچھ ہے تو کچھ وہاں کے لیے\n\nخدا کے واسطے رہنے دے اپنے در پہ اسے\nبنا ہے سنگ یہ دل تیرے آستاں کے لیے\n\nہمارے پہلوئے غمگیں میں حیف یہ دل زار\nنزاکتوں سے پلا الفت بتاں کے لیے\n\nٹپک کے دیدۂ پر نم سے کیوں نہ گر جاتا\nبنا لہو مرا دل چشم خونچکاں کے لیے\n\nہوائے تند خدا کے لیے نہ چھیڑ مجھے\nغبار راہ بنا ہوں میں کارواں کے لیے\n\nکیا ہے درد دل زار نے اسے عاجز\nلبوں پہ جان حزیں آئی ہے فغاں کے لیے\n\nجمیلہؔ تا در محبوب کس طرح جاؤں\nقدم اٹھانا ہے دشوار ناتواں کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D9%88%D9%85_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D8%A7%D9%84%D9%85_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D9%86%DB%8C%D9%85_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہجومِ غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے\nکہ تارِ دامن و تارِ نظر میں فرق مشکل ہے\n\nہوا ہے مانعِ عاشق نوازی نازِ خود بینی\nتکلّف بر طرف، آئینۂ تمیز حایل ہے\n\nبہ سیلِ اشک لختِ دل ہے دامن گیر مژگاں کا\nغریقِ بحر جویائے خس و خاشاکِ ساحل ہے\n\nبہا ہے یاں تک اشکوں میں غبارِ کلفتِ خاطر\nکہ چشمِ تر میں ہر یک پارۂ دل پائے در گِل ہے\n\nنکلتی ہے تپش میں بسملوں کی برق کی شوخی\nغرض اب تک خیالِ گرمیِ رفتار قاتل ہے\n\nرفوئے زخم سے مطلب ہے لذّت زخمِ سوزن کی\nسمجھیو مت کہ پاسِ درد سے دیوانہ غافل ہے\n\nوہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالبؔ\nچٹکنا غنچۂ گل کا صدائے خندۂ دل ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D9%88%D9%85_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%A9_%D8%B3%D8%B1%D9%86%DA%AF%D9%88%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہجومِ نالہ، حیرت عاجزِ عرضِ یک افغاں ہے\nخموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بدنداں ہے\n\nتکلف بر طرف، ہے جانستاں تر لطفِ بدخویاں\nنگاہِ بے حجابِ ناز تیغِ تیزِ عریاں ہے\n\nہوئی یہ کثرتِ غم سے تلف کیفیّتِ شادی\nکہ صبحِ عید مجھ کو بدتر از چاکِ گریباں ہے\n\nدل و دیں نقد لا، ساقی سے گر سودا کیا چاہے\nکہ اس بازار میں ساغر متاعِ دست گرداں ہے\n\nغم آغوشِ بلا میں پرورش دیتا ہے عاشق کو\nچراغِ روشن اپنا قلزم صرصر کا مرجاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%AC%D9%88%D9%85_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D8%A7%D8%AC%D8%B2_%D8%B9%D8%B1%D8%B6_%DB%8C%DA%A9_%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر آرزو میں رنگ ہے باغ و بہار کا", "poet_page": "مصنف:چندر بھان کیفی دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر آرزو میں رنگ ہے باغ و بہار کا\nکانٹا بھی ایک پھول ہے اس خار زار کا\n\nکچھ اس طرح سے آؤ کہ دل کو خبر نہ ہو\nکچھ وصل میں بھی لطف رہے انتظار کا\n\nبوئے وفا نہ ڈھونڈھئے لالہ کے داغ میں\nکیا یہ بھی کوئی دل ہے کسی دل فگار کا\n\nلغزش ہوئی تو پاؤں پہ ساقی کے گر پڑے\nبے ہوشیوں سے کام لیا ہوشیار کا\n\nسر چشمۂ سراب فریب مجاز ہے\nکیا اعتبار زندگئ مستعار کا\n\nعرفاں کی روشنی سے کدورت چلی گئی\nآئینہ بن گیا مرے مشت غبار کا\n\nدور شباب کی وہ ترنگیں کہاں گئیں\nخمیازہ دیکھتا ہے یہ کیفیؔ خمار کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہر آشنا سے اس بن بیگانہ ہو رہا ہوں", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر آشنا سے اس بن بیگانہ ہو رہا ہوں\nمجلس میں شمع رو کی پروانہ ہو رہا ہوں\n\nمجھ کو ملامت خلق خاطر میں ناہیں ہرگز\nزلفاں کی فکر میں میں دیوانہ ہو رہا ہوں\n\nساقی شراب و ساغر اب چاہتا نہیں ہوں\nاس کے خیال سوں میں مستانہ ہو رہا ہوں\n\nاس کے خیال سوں میں تنہا نشیں ہوں دائم\nوحشی سا میں سبن سوں بیگانہ ہو رہا ہوں\n\nدیکھ اس کی لٹ کا پھاندا بھولا ہوں آب و دانہ\nفائزؔ اسیر اس کا بے دانہ ہو رہا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D9%86_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "ہر آن تمہارے چھپنے سے ایسا ہی اگر دکھ پائیں گے ہم", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر آن تمہارے چھپنے سے ایسا ہی اگر دکھ پائیں گے ہم\nتو ہار کے اک دن اس کی بھی تدبیر کوئی ٹھہرائیں گے ہم\n\nبیزار کریں گے خاطر کو پہلے تو تمہاری چاہت سے\nپھر دل کو بھی کچھ منت سے کچھ ہیبت سے سمجھائیں گے ہم\n\nگر کہنا دل نے مان لیا اور رک بیٹھا تو بہتر ہے\nاور چین نہ لینے دیوے گا تو بھیس بدل کر آئیں گے ہم\n\nاول تو نہیں پہچانو گے اور لو گے بھی پہچان تو پھر\nہر طور سے چھپ کر دیکھیں گے اور دل کو خوش کر جائیں گے ہم\n\nگر چھپنا بھی کھل جاوے گا تو مل کر افسوں سازوں سے\nکچھ اور ہی لٹکا سحر بھرا اس وقت بہم پہنچائیں گے ہم\n\nجب وہ بھی پیش نہ جاوے گا اور شہرت ہووے گی پھر تو\nجس صورت سے بن آوے گا تصویر کھنچا منگوائیں گے ہم\n\nموقوف کرو گے چھپنے کو تو بہتر ورنہ نظیرؔ آسا\nجو حرف زباں پر لائیں گے پھر وہ ہی کر دکھلائیں گے ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A2%D9%86_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%DA%A9%DA%BE_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "ہر آن جلوہ نئی آن سے ہے آنے کا", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر آن جلوہ نئی آن سے ہے آنے کا\nچلن یہ چلتے ہو عاشق کی جان جانے کا\n\nقسم قدم کی ترے جب تلک ہے دم میں دم\nمیں پاؤں پر سے ترے سر نہیں اٹھانے کا\n\nہماری جان پہ گرتی ہے برق غم ظالم\nتجھے تو سہل سا ہے شغل مسکرانے کا\n\nقسم خدا کی میں کچھ کھا کے سو رہوں گا صنم\nجو ساتھ اپنے نہیں مجھ کو تو سلانے کا\n\nنصیب اس کے شراب بہشت ہووے مدام\nہوا ہے جو کوئی موجد شراب خانے کا\n\nبہت سے خون خرابے مچیں گے خانہ خراب\nیہی ہے رنگ اگر تیرے پان کھانے کا\n\nہماری چھاتی پہ پھرتا ہے سانپ یاں احساںؔ\nوہاں ہے شغل اسے زلف کے بنانے کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A2%D9%86_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہر اک ذرّے میں ہے شاید مکیں دل", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ہر اک ذرّے میں ہے شاید مکیں دل\nاسی جلوَت میں ہے خلوَت نشیں دل\nاسیرِ دوش و فردا ہے و لیکن\nغلامِ گردشِ دوراں نہیں دل", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D8%B0%D8%B1%D9%91%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%AF_%D9%85%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84"} {"title": "ہر اک صورت میں تجھ کو جانتے ہیں", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر اک صورت میں تجھ کو جانتے ہیں\nہم اس بہروپ کو پہچانتے ہیں\n\nہے قادر تو خدا لیکن بتاں بھی\nوہ کر چکتے ہیں جو کچھ ٹھانتے ہیں\n\nتو ناصح مان یا مت مان لیکن\nتری باتیں کوئی ہم جانتے ہیں\n\nگئے گوہر کے تاجر جس طرف سے\nہم ان رستوں کی ماٹی چھانتے ہیں\n\nنہ سنبھلا آسماں سے عشق کا بوجھ\nہمیں ہیں جو یہ مگدر بھانتے ہیں\n\nمرید خاندان عشق جو ہے\nہم اپنا پیر اسے گردانتے ہیں\n\nکلی ماریں ہیں دو رکعت پہ زاہد\nنہ ڈنڈ پیلیں نہ مگدر بھانتے ہیں\n\nبہت جاگے ہم اس محفل میں قائمؔ\nکوئی دم اب تو چادر تانتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہِ نو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہِ نو\nکمال کس کو میّسر ہُوا ہے بے تگ و دَو!\n\nنفَس کے زور سے وہ غُنچہ وا ہُوا بھی تو کیا\nجسے نصیب نہیں آفتاب کا پرتَو\n\nنگاہ پاک ہے تیری تو پاک ہے دل بھی\nکہ دل کو حق نے کِیا ہے نگاہ کا پَیرو\n\nپنَپ سکا نہ خیاباں میں لالۂ دل سوز\nکہ ساز گار نہیں یہ جہانِ گندم و جَو\n\nرہے نہ ایبک و غوری کے معرکے باقی\nہمیشہ تازہ و شیریں ہے نغمۂ خسروؔ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%81%D9%90_%D9%86%D9%88"} {"title": "ہر اک نے کہا کیوں تجھے آرام نہ آیا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر اک نے کہا کیوں تجھے آرام نہ آیا\nسنتے رہے ہم لب پہ ترا نام نہ آیا\n\nدیوانے کو تکتی ہیں ترے شہر کی گلیاں\nنکلا تو ادھر لوٹ کے بد نام نہ آیا\n\nمت پوچھ کہ ہم ضبط کی کس راہ سے گزرے\nیہ دیکھ کہ تجھ پر کوئی الزام نہ آیا\n\nکیا جانیے کیا بیت گئی دن کے سفر میں\nوہ منتظر شام سر شام نہ آیا\n\nیہ تشنگیاں کل بھی تھیں اور آج بھی زیدیؔ\nاس ہونٹ کا سایہ بھی مرے کام نہ آیا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہر اک یہ کہتا ہے اب کار دیں تو کچھ بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر اک یہ کہتا ہے اب کار دیں تو کچھ بھی نہیں\nیہ سچ بھی ہے کہ مزا بے یقیں تو کچھ بھی نہیں\n\nتمام عمر یہاں خاک اڑا کے دیکھ لیا\nاب آسمان کو دیکھوں زمیں تو کچھ بھی نہیں\n\nمری نظر میں تو بس ہے انہیں سے رونق بزم\nوہی نہیں ہیں جو اے ہم نشیں تو کچھ بھی نہیں\n\nحرم میں مجھ کو نظر آئے صرف زاہد خشک\nمکان خوب ہے لیکن مکیں تو کچھ بھی نہیں\n\nترے لبوں سے ہے البتہ اک حلاوت زیست\nنبات قند شکر انگبیں تو کچھ بھی نہیں\n\nدماغ اب تو مسوں کا ہے چرخ چارم پر\nبڑھا دیا مری خواہش نے تھیں تو کچھ بھی نہیں\n\nبہ قول حضرت محشرؔ کلام شاعر کا\nپسند آئے تو سب کچھ نہیں تو کچھ بھی نہیں\n\nوہ کہتے ہیں کہ تمہیں ہو جو کچھ ہو اے اکبرؔ\nہم اپنے دل میں ہیں کہتے ہمیں تو کچھ بھی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہر ایک بات تری بے ثبات کتنی ہے", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر ایک بات تری بے ثبات کتنی ہے\nپلٹنا بات کو دم بھر میں بات کتنی ہے\n\nابھی تو شام ہوئی ہے ابھی تو آئے ہو\nابھی سے پوچھ رہے ہو کہ رات کتنی ہے\n\nوہ سنتے سنتے جو گھبرائے حال دل بولے\nبیان کتنی ہوئی واردات کتنی ہے\n\nترے شہید کو دولہا بنا ہوا دیکھا\nرواں جنازے کے پیچھے برات کتنی ہے\n\nکسی طرح نہیں کٹتی نہیں گزر چکتی\nالٰہی سخت یہ قید حیات کتنی ہے\n\nہماری جان ہے قیمت تو دل ہے بیعانہ\nگراں بہا لب نازک کی بات کتنی ہے\n\nجو شب کو کھلتے ہیں غنچے وہ دن کو جھڑتے ہیں\nبہار باغ جہاں بے ثبات کتنی ہے\n\nمہینوں ہو گئے دیکھی نہیں ہے صبح امید\nکسے خبر یہ مصیبت کی رات کتنی ہے\n\nعدو کے سامنے یہ دیکھنا ہے ہم کو بھی\nکدھر کو ہے نگہ التفات کتنی ہے\n\nغزل لکھیں بھی تو کیا خاک ہم لکھیں بیخودؔ\nزمین دیکھیے یہ واہیات کتنی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D8%AB%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%AA%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے\nتمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے\n\nنہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا\nکوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے\n\nیہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے\nوگرنہ خوف بد آموزی عدو کیا ہے\n\nچپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن\nہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے\n\nجلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا\nکریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے\n\nرگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل\nجب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے\n\nوہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز\nسوائے بادۂ گلفام مشک بو کیا ہے\n\nپیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار\nیہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے\n\nرہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی\nتو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے\n\nہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا\nوگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر ایک جلوۂ رنگیں مری نگاہ میں ہے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر ایک جلوۂ رنگیں مری نگاہ میں ہے\nغم فراق کی دنیا دل تباہ میں ہے\n\nکسی کی یاد کرم اف ارے معاذ اللہ\nتباہ ہو کے بھی ظالم دل تباہ میں ہے\n\nہزار پردوں میں او چھپنے والے یہ سن لے\nترا جمال مرے دامن نگاہ میں ہے\n\nجہاں میں مجھ سے بھی ناکام آرزو کم ہیں\nنہ رنگ آہ میں ہے اور نہ سوز آہ میں ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر ایک سر زمین اور اس کے موسموں کی بہار انشا پردازی پر کیا اثر کرتی ہے", "poet_page": "مصنف:محمد حسین آزاد", "kind": "prose", "section": "نثر > مضمون", "year": null, "text_ur": "عزیزان وطن! میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ ہر ایک انشا پردازی اپنے ملک کی سر زمین، آب و ہوا اور پیداواری بلکہ اس کے جغرافیہ کو آئینہ کی طرح دکھاتی ہے۔ کیونکہ جو چیزیں انشا پر داز کو اس کے آس پاس نظر آتی ہیں، انہی کو وہ ادائے مطلب کے سامان میں خرچ کرتا ہے۔\n\nایک خوش رنگ خیال ہے۔ ذرا غور کر کے دیکھو۔ ہر ملک میں جو رنگ رنگ کی اشیا، مختلف اجناس اور مخلوقات ہیں، وہ حقیقت میں مختلف کیفیتیں ہیں کہ اس سر زمین کی طبیعت یا مزاج نے باہر نکالی ہیں۔ اسی طرح ہر ملک کی زبان ایک سر زمین ہے کہ بیان کو وہیں کے اجناس و اشیا کے استعاروں میں جلوہ دیتی ہے۔ دیکھو جس طرح کسی سر زمین کی طبیعت مجبور ہے کہ قدرتی پیداواروں کو باہر نکالے بغیر نہیں رہ سکتی اسی طرح اس کی زبان کی طبیعت مجبور ہے کہ وہیں کے تشبیہ و استعاروں میں مطلب کو رنگ دیتی ہے۔ ہر سر زمین اپنی تاثیر میں مجبور ہے، اس کی زبان اپنی خاصیت میں مجبور ہے۔\n\nاس خیال کو میری تقریر نے پیچیدہ کر دیا۔ اچھا اب یوں سمجھو کہ کسی ملک کا انشا پرداز جب کوئی مطلب بیان کرنے لگتا ہے تو وہاں کے اشیا و اجناس وغیرہ جو آس پاس، ادھر ادھر سامنے ہیں وہ ہجوم کر کے اس کے دل و زبان پر امنڈ کر آتے ہیں اور مجبور کرتے ہیں کہ جو کہنا ہے ہمارے استعاروں اور ہماری ہی تشبیہوں میں ادا کرو۔ چنانچہ اسے مجال نہیں ہوتی بجز اس کے کہ انہی کو اپنے ادائے مطلب کا سامان بنائے۔ جب بیان میں صفائی کے ساتھ لطف آئے۔ لطیفہ، تین شخص ہم سفر تھے۔ سنار، پنیر والا، نان بائی، شام کو ایک جگہ جنگل میں اترے۔ بستر ایسے مقام پر ہوئے کہ سامنے کوسوں تک کھلا میدان تھا۔ منہ ہاتھ دھوئے۔ کھانے کھائے۔ جب کچھ رات گئی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔ دل شگفتہ ہوئے۔ 13-14 تاریخ تھی۔ چاند نے سامنے سے سر نکالا۔ سنار نے کہا آہا کندن ڈلک ڈلک کرتا ہے۔ ابھی کٹھالی سے نکالا ہے۔ پنیر والا بولا ثابت چکتی ہے۔ ابھی چاکو تک نہیں چھوایا۔ نان بائی نے کہا یہ تو میرے تنور سے پھڑ پھڑاتی روٹی نکلی ہے۔ دیکھو جو شخص جس جس حال میں تھا ویسے ہی خیال اس کے دل میں پیدا ہوئے۔ گر خیالت گلشن است تو گلشنیور خیالت گلخن است تو گلخنیہر ایک ملک کی سرزمین میں اکثر پیداواریں ایسی بھی ہوتی ہے جن سے دوسرا ملک محروم ہے۔ اسی واسطے ہر ایک زبان میں ادائے خیالات کے انداز جدا جدا ہوتے ہیں۔ بلکہ اشیا مذکورہ صاحب زبان کو مجبور کرتی ہیں اور اپنے ہی خیالات زبان پر لاتی ہیں۔ اکثر چیزیں دو ملکوں میں مشترک ہیں، اس لئے اکثر خیالات بھی مشترک ہیں۔ بعض ایسے خیالات ہیں کہ غیر ملکوں سے آئے ہیں مگر اپنی خوبی یا دوسری قوم کے شدت ارتباط سے زبان میں داخل ہو گئے ہیں۔ بہر حال مناسب ہے کہ آج فارس کی ملکی حالت بیان کروں اور دکھادوں کہ یہ خیالات، یہ ترکیبیں یا اصطلاحیں یا محاورے جو اس کی انشاپردازی میں ہیں کیونکر اپنے قدرتی زور سے انشا پرداز کی زبان پر آئے ہیں۔ اور ان کی نزاکت، لطافت اور رنگینی جو اور زبانوں میں سفید و سیاہ کا امتیاز رکھتی ہے۔ یہ حقیقت میں اصل سر زمین کی حالت اور اس کی لطافت اور نفاست کا نقشہ کھینچتی ہے۔ عرب کا ملک ریگستان اور کوہستان ہے۔ پتھریلی، خاکی، مخلوط، ہموار، نا ہموار، سہل، دشوار گزار، بادرخت، بے درخت وغیرہ وغیرہ اقسام کی زمینیں تھیں، جن میں رات دن رہنا سہنا، خانہ بدوش پھرنا ان کا کام تھا۔ اس واسطے ہر ایک کے لئے جدا جدا لفظ تھے۔ درخت تھے تو اسل، طلح، کھجور کے اور اکثر سوکھی روکھی قسم کے درخت نظر آتے تھے۔ اونٹ، شتر مرغ، جنگلی گائیں، پہاڑی بکرے، ہرنیاں، بکریاں، بھیڑیں وغیرہ جانور آنکھوں کے سامنے پھرتے تھے۔ چنانچہ اونٹوں اور کھجوروں کے متعلق بہتیرے لفظ ہیں۔ بادشاہت اور امارت کی شان و شکوہ سے وہ ملک محروم تھا۔ بس عیش و عشرت اور تکلف کے سامان بھی اسی حیثیت بموجب سمجھ لو۔ لوگ بیاباں گرد اور صحرا نشین تھے۔ لطافت اور نزاکت کے تکلفات کا وہاں کچھ کام نہ تھا۔ پھر بھی طبیعت میں قدرتی فصاحت کا جوش تھا۔ جن چیزوں کی وہاں بہتات تھی اور ہر وقت آنکھوں کے سامنے نظر آتی تھیں انہیں کی تشبیہوں اور استعاروں میں بے تکلف طور سے اپنے مطالب ادا کرتے تھے۔ اور فصاحت کے زور او ر کلام کے سحر کا پورا اثر دلوں پر پہنچاتے تھے۔ فصیح عرب معشوق کی تعریف کرتا ہے تو آنکھ کو، ہرن یا گاووشتی کی آنکھ کہتا ہے۔ زلف کو کولا یعنی زغال کہتا ہے اور جب بالوں کی رنگ و بو کو زیادہ چمکاتا ہے تو لونگیں بھی پیس کر ڈالتا ہے مگر مشک و عنبر کی خوشبو سے بھی غافل نہیں ہے۔ ہونٹوں کا سیاہی مائل ہونا قابل تعریف سمجھتا ہے۔ ملک گرم ہے رنگ کالے ہیں۔ دانتوں کو کبھی اولا کبھی گل بابونہ کہتا ہے۔ انہیں چمکاتا ہے مگر مسوڑوں پر سرمہ چھڑک کر سیاہ کرتا ہے۔ گردن کو بت کی گردن سے تشبیہ دیتے تھے۔ پیغمبر صاحب کے حلیہ میں لکھتے ہیں جیدہ کجید میۃ۔ ہند کا انشاپرداز زلف کی تشبیہ میں بھونرے اڑاتا ہے اور سانپ کے پھن بھی لہراتا ہے۔ مگر پہلی تشبیہ خاص ہندوستان کی ہے اور ملک کے لوگوں کو خبر ہی نہیں وہ کیونکر کہتے اور کہتے تو سننے والے کیا مزا لیتے۔ آنکھ کے لئے کنول کے پھول دکھاتا ہے۔ ممولے کی اچپلاہٹ دکھاتا ہے کہ ہندوستان کے لئے خاص ہیں۔ جی چاہتا ہے تو ہرن سے بھی آنکھ لڑا لیتا ہے۔ دانت موتی کی لڑیاں ہیں۔ یہ تشبیہ مشترک ہے۔ ناک کو طوطے کی چونچ سے تشبیہ دیتا ہے کہ خاص ہند کا جانور ہے۔ رفتار میں کبھی ہنس، کبھی ہتنی کی چال دکھاتا ہے۔ یہ بھی خاص ہند کا حسن ہے۔ بدن کی نرمی اور صفائی کو کیلے کے گابھے اور نیلوفر کے پھول سے تشبیہ دیتا ہے۔ یہ بھی یہیں کی لطافت ہے۔ رنگ سانولا ہو تو سیکھ برن، کھلا ہو تو چنپئی، یا کندن کا سارنگ۔ پہلے دوونو رنگ خاص ہندوستان کا حق ہیں۔ ملک کی گرمی پر خیال کرو۔ خوش آوازی کے لئے کوئل، کوکلے، پپیہے کی کوک سناتا ہے۔ یہ جانور ہندوستان کے سوا کہیں نہیں۔ رنگ کی صفائی کے لئے ابٹنا ملتے ہیں کہ سانولے رنگ کا یہی بناؤ ہے۔ فارس والے گلگونہ ملتے ہیں کہ گوری رنگت کا سنگار ہے۔ یہ کاجل لگاتے ہیں، وہاں سرمہ۔ غرض ہر ملک کا انشا پرداز اپنی اپنی چیزوں سے اپنے کلام کوسنوارتا ہے۔ اور چونکہ مطلب ان استعاروں میں ادا ہوتا ہے جو ہر وقت آنکھوں کے سامنے ہیں اور ہر جگہ عام ہیں۔ اس لئے ان کے استعارے کلام میں مزہ اور سمجھنے میں آسانی اور صفائی پیدا کرتے ہیں نہ کہ کلفت یا دشواری۔ قد کی خوبی کو بان اور اسل اور ارنڈ کی لچکتی ٹہنی سے تشبیہ دیتا ہے۔ معشوق کا گندمی یا چنپئی رنگ عام تعریفی رنگ ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ گرمی کے سبب سے ملک کالا ہے۔ وہاں ذرا سا اجالا بھی غنیمت ہے اور گوری رنگت کا تو کیا کہنا۔ اس کی سبحان اللہ کیوں نہ ہو۔ تم نے دیکھا ہوگا بعض ہونٹوں پر ایک قدرتی تحریر سیاہی کی ہوتی ہے اور خوشنما ہوتی ہے۔ وہ عرب کے جمال کا جز اعظم ہے۔ یہ بھی ملک کی گرمی کا سبب ہے۔ حقائق زبان کا ماہر صفحہ کو الٹ کر دیکھےگا تو اور مضمون نظر آئےگا۔ وہ ان خیالات کو دیکھ کر صاف کہہ دےگا کہ یہ ملک گرم ہوگا جو وہاں کے لوگ ان وصفوں کو غنیمت سمجھتے ہیں اور ان ہی کی تعریفیں کر کے خوش ہوتے ہیں۔ عرب کا شاعر گھٹا گھنگور کو بہت پسند کرتا ہے۔ منہ کے پھوار سے خوش ہوتا ہے اور بجلی کے کوندنے کو کہتا ہے گویا سخی کے ہاتھ سیاہ چادر سے نکل کر بخشش کر رہے ہیں۔ ہائے تہی دست ہی جانتا ہے کہ سخاوت کی کیا قدر کرنی چاہئے۔ اونٹ، کھجوریں، میدان، میدانی پہاڑیاں، ہرنیاں، شتر مرغ، قطا وغیرہ وغیرہ ان کے معمولی مضمون ہیں۔ مثالی اشعار کہاں تک لکھوں۔ منخل شاعر کے قصیدہ میں سے چند شعر لکھتا ہوں۔ واذا سکرت فاننی رب الخورنق والسدیرواذا صحوت فاننی رب الشویہۃ والبعیر(جب میں مست ہوتا ہوں تو خورنق اور سدیر کا مالک ہوتا ہوں۔ ہوش میں آؤں تو بکریوں والا ہوں اور اونٹ والا) ولقد دخلت علی الفتاۃ الخذر فی یوم المطیر(میں اس بل کے کجاوے میں گھس گیا، اور اس دن بدلی چھائی ہوئی تھی) الکاعب الحسناء ترفل فی الد مقس و فی الحریر(وہ جوبن والی اس کی چھاتیاں ابھری ہوئی، اطلس کے کپڑوں اور ریشم کے لچھوں میں لہراتی ہوئی) فدفعتہا فتدافعتمشی القطاۃ الی القدیر(میں نے اسے دھکیلا اس نے مجھے، جیسے قطا تلاؤ کی طرف جائے) ولثمتہا فتنفستکتنفس الظبی الغریر(میں نے اسے لپٹا لیا تو ہانپنے لگی، جیسے کوئی پیاری ہرنی ہانپتی ہے) و احبہا و تحبنیویحب ناقتہا بعیر(میں اسے چاہتا ہوں وہ مجھے چاہتی ہے، اور میرا اونٹ اس کی اونٹنی کو چاہتا ہے) مسافرت میں استعارہ کرتا ہے تو کہتا ہے اقتعدت سنام الغربۃ، سوار ہوا میں کہان غربت پر۔ اللہ کی شان دیکھو۔ اس کا عظمت و جلال دیکھو اور ان صنائع قدرت کو دیکھو جن میں عقل عاجز ہے۔ باوجود اس کے فرماتا ہے۔ افلا تنظرون الی الابل کیف خلقت۔ فارس میں گدہوں کی سواری اور بارداری بہت ہے اس لئے انشا پردازوں کے بوجھ بھی وہی اٹھاتے ہیں۔ ایک قصیدہ کی تمہید میں متنبی کہتا ہے کہ ایران قدیم کے گھر ویران پڑے ہیں وہ چلے گئے اور غیر آن بسے۔ خلا وفیہ اہل و اوحشناوفیہ صرم مروح ابلہ(وہ گھر یاروں سے خالی ہیں۔ حالانکہ رہنے والے موجود ہیں کیونکہ اونٹوں کے گلے شام کو چرا کر آتے ہیں۔ مگر ہمارے دل کو اچاٹ کرتے ہیں کہ ہمارے یار نہیں) اب طبیعت کی لطافت دیکھو۔ اسی مضمون کو شاعر فارس کہتا ہے۔ سرغ یک نگاہ آشنا در کس نمی یابمجہاں چوں نرگستاں بے تو شہر کو رمی باشدفصیح فرنگ ایک پہاڑی جزیرہ کا رہنے والا ہے۔ وہ جب بہار کا سماں اور صبح کی بہار دیکھتا ہے تو اور رنگ سے لطف اٹھاتا ہے۔ سمندر کا کنارہ، پانی پر ہوا کا لوٹنا، موجوں کا لہرانا، جہاز دور سے نمودار ہوتا ہے، بادبان ہوا میں فراٹے لیتے ہیں، پاس پاس کشتیاں دوڑتی پھرتی ہیں۔ دام دار جال پھینک رہے ہیں، مچھلیوں کے شکار ہوتے ہیں۔ پھر شفق میں سورج کا کنارہ افق سے نمودار ہوتا ہے۔ اس کی کرنوں سے پانی جگمگاتا ہے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر دھوپ سنہری رنگ دکھاتی ہے۔ کہیں دھوپ ہے کہیں چھانو ہے۔ سبزے لہلہاتے ہیں۔ چشمے بہتے ہیں۔ پانی لہراتے چلے جاتے ہیں۔ دیکھو! سمجھنے والے انہی اشاروں کو دیکھتے ہیں اور انشاپردازی سے ملک کی جغرافیائی کیفیت دریافت کر لیتے ہیں۔ یہ اختلا ف ضرور ہے کہ حسن میں ہمارے ہاں سیہ چشم کی تعریف ہے۔ ان کے ہاں کبو دچشم یا سبز چشم تعریف ہے۔ ہمارے ہاں بالوں کی سیاہی پسند ہے، وہاں سرخی یا بھورا پن۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ملک کا شاعر جو اپنی تشبیہیں اور استعارے کام میں لاتا ہے اسے اس کا قصداً ارادہ نہ سمجھو۔ بلکہ اشیا وہاں کی جو ہر دم سامنے ہیں، مجبور کرتی ہیں کہ ہم ہی کو کام میں لا۔ اور ہم ہی میں مطالب ادا کر اور وہ بھی جانتا ہے کہ اسی طرح اپنے مطلب پر جلد کامیاب ہوگا۔ کیونکہ اشیا موجودہ کے پیرایہ میں جو باتیں ادا کی جاتی ہیں، سننے والوں کے دلوں پر فوراً اثر کرتی ہیں۔ طبیعتیں لطف اٹھاتی ہیں۔ اسی کے چٹخارے زبانوں سے واہ وا کے غل مچواتے ہیں۔ جو بات سمجھ میں نہ آئے اس کا دل کیا مزا اٹھائے اور زبان کیا واہ واہ کرے۔ فارس میں گوری رنگت عام ہے۔ سستی چیز کی کوئی قدر نہیں کرتا۔ اسی واسطے اس کی انشا پردازی میں تعریف نہیں۔ ہاں اس کی سرخی و صفائی پر مرتے ہیں کہ آئینہ رخسار کے صدقے اور گل رخسار کے قربان۔ ان میں جو کہیں سانولا رنگ ہوتا ہے تو غضب ہی ہوتا ہے۔ اس کے لئے نظر بازوں نے حسن سبز اور حسن سبزینہ کے الفاظ رکھے ہیں۔ ہندوستان کی سانولی رنگت کا خیال کرتے ہیں اور مزے لیتے ہیں۔ ع کشتہ ہندم و سبزان گلابی پوشش۔ کشمیر کا نازک خیال کہتا ہے۔ حسن سبزے بہ خط سبز مراکرد اسیردامِ ہمرنگ زمیں بود گرفتار شدمآنکھوں کی خوبیاں جو ہند میں ہیں وہی وہاں ہیں کیونکہ ایک دادا کی اولاد ہیں۔ البتہ ترکوں کے حسن نے جب انداز دکھایا تو چشم تنگ کی بھی تعریف ہونے لگی۔ مے و مرغ و ریحان و آواز چنگبتِ تنگ چشم اندر آغوش تنگاس کا کیا سبب؟ وہی اصول عام یاد کرو۔ انشا پرداز جو سامنے دیکھتا ہے اسی کو سامان انشا پرداری میں داخل کرتا ہے۔ عزیزان وطن! حقیقت یہ ہے کہ زمین مذکور، قدرت کا گلزار ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ روئے زمین پر جو ہوا کا اختلاف اور موسموں کا فرق ملکوں میں ہوتا ہے وہ فرق اس کے قطعہ قطعہ میں آشکارا ہے۔ چنانچہ بعض جگہ سخت گرم ہے۔ بعض جگہ معتدل ہے یا سرد ہے۔ اضلاع جنوبی میں کرمان، یزد، لارستان وغیرہ اضلاع گرم ہیں۔ اور بعضے عرب کی طرح ریگستان ہیں۔ گرمی میں سخت گرمی ہوتی ہے اور اول کے دو مہینوں میں آندھیاں چلتی رہتی ہیں۔ جنگل کے جنگل ریت کے اڑتے ہیں۔ مگر جاڑہ اور بہار ایسے شگفتہ ہیں کہ دل شگفتہ ہوتے ہیں۔ فارس یعنی شیراز اور اس کے تمام متعلقات میں نہایت لطیف اور شگفتہ آب و ہوا ہے۔ نہ سخت گرمی ہے نہ سخت سردی۔ چھوٹی چھوٹی نہریں جاری ہیں۔ یاد کرو خواجہ حافظ کے کلام میں چشمہ اللہ اکبر اور آب رکنا باد کا کنارہ۔ پہاڑوں کے دامن ہرے ہیں اور پھولوں سے بھرے۔ سعدی اور حافظ جیسی بلبلیں جہاں زمزمے کریں، وہ خدائی باغ ایسا ہی ہونا چاہئے۔ سر سبز پہاڑ اور لہلہاتے مرغزار، صحرا نشین مخلوقات کو پالتے ہیں اور ان کے مویشی کو فربہ کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں غلے اور میوے دانے کی بہتات ہے۔ جوں جوں شمال کو چڑھتے جاؤ، آب و ہوا اچھی ہی ہوتی جاتی ہے۔ اصفہان ایک زمانہ میں پایہ تخت سلاطین صفویہ کا تھا۔ اب ویران کہلاتا ہے مگر سب آبادیوں سے زیادہ رونق دکھاتا ہے۔ گرمی شیراز سے نرم ہے۔ جاڑا زیادہ ہے۔ سال بھر میں فقط کئی ہفتہ برف ہے باقی آسمان صاف۔ برف بھی ایسی نرم کہ پڑی اور پانی ہوئی۔ مینہ بھی کچھ سخت نہیں۔ ہوا دیکھنے میں صاف اور اثر میں خشک۔ صیقل دار چیز کو جہاں چاہو رکھ دو۔ زنگ نہیں لگتا۔ چاروں فصلیں شگفتہ بہار۔ آذربائجان اور اس کے متعلقات مثلاً تبریز وغیرہ میں ایسا جاڑا پڑتا ہے کہ تھرمومیٹر 14 درجہ پر آ جاتا ہے۔ اکتوبر میں شدت سے برف پڑنے لگتی ہے۔ جنوری میں یہ عالم ہوتا ہے کہ ابھی کٹورے میں پانی ڈالا، ابھی جم گیا۔ بخاری کے پاس لکھنے پڑھنے کا سامان رکھتے ہیں۔ اس پر بھی دم بدم دوات جم جاتی ہے۔ شیشوں کے منہ بند ہوتے ہیں اس پر شربت اور عرق جم جاتے ہیں۔ انڈے ہانڈیوں اور قطیوں میں رکھتے ہیں مگر مارے سردی کے پھٹ پھٹ جاتے ہیں۔ تانبے کا آفتابہ رات کو باہر رہ جائے تو صبح ترق جاتا ہے۔ کھیتی کا یہ حال ہے کہ ہندوستان میں فروری میں کٹ جاتی ہے پنجاب میں آکر مارچ اور اپریل میں۔ وہاں 15 جولائی کو کٹتی ہے۔ ہمدان میں بھی برف بہت ہے۔ کردستان اگر چہ جنوبی ملک ہے مگر زمین بلند ہے اس لئے سرد ہے۔ شمالی ایران میں مازندان، گیلان وغیرہ گرم بھی ہیں اور سیراب بھی ہیں (جیسا ہند میں بنگالہ۔) خراسان نہایت سرد ہے مگر جو علاقہ سیستان سے ملا ہوا ہے وہ نہایت گرم ہے۔ گرمی میں کئی کئی دن باد سموم کے ڈر سے باہر نہیں نکلتے۔ ممالک مذکور کا ہر شخص بلکہ حیوان بھی بالطبع سردی کو پسند کرتے ہیں اور سردی ہی ان کی طبیعت کے موافق ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ زمان قدیم میں کبھی بلخ کبھی اصفہان دارالسلطنت تھا۔ وہ برفانی ملک ہے اور رؤسا اور اہل دول اور ان کے سبب سے فرقہ فرقہ کے لوگ دارالسلطنت سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ اہل ملک سیاحت پسند اور اکثر تجارت پیشہ ہیں اس لئے گرم ملکوں کے رہنے والے بھی اگر کچھ قدرت رکھتے ہیں تو اپنے کاروبار کی تقسیم اس طرح کر لیتے ہیں کہ گرمی ان کی سرد ملکوں میں کٹتی ہے۔ اب کہ 40-50 برس سے طہران دارالسلطنت ہے۔ 1885 کا جاڑا میں نے وہیں بسر کیا۔ سردی موذی نہیں۔ تمام فصل میں 3-4 دفع برف پڑی۔ لوگ کہتے تھے کہ گرمی زیادہ ہوتی ہے اس لئے 4-5 مہینے بادشاہ طہران کو چھوڑ دیتا ہے۔ وامن کوہ الوند میں کئی کوس تک برابر باغستان اور قدرتی سبزہ زار چلے جاتے ہیں وہ ان کا شملہ اور کوہ مری ہے۔ جب تک گرمی رہتی ہے شاہ، ارکان دولت اور خاندان شاہی سمیت وہیں رہتا ہے۔ جیسی ہمارے ملک کے لوگوں کو سردی کی برداشت نہیں ویسی ہی انہیں گرمی کی برداشت نہیں۔ سردی میں خوش رہتے ہیں اور جو ایرانی کہلاتے ہیں ٹھنڈے ہی ملک کے لوگ سمجھے جاتے ہیں۔ گویا ٹھنڈا ہی ملک ان کا وطن ہے۔ یہی سبب ہوگا کہ مزاج پرسی کے فقروں میں کہتے ہیں۔ مزاج مقدس؟ احوال بخیر؟ دماغ چاق؟ کیونکہ سردی میں رہنے سے زکام وغیرہ عوارض کی کی شکایتیں رہتی ہیں۔ ہندوستان میں حکمائے ہند نے دو دو مہینے کا ایک ایک موسم کر کے سال کے چھ موسم کئے ہیں 1 بسنت۔ گریکھم۔ برکھا۔ سرت۔ ہمنت۔ سسر۔ ایران میں چار موسم ہیں۔ (۱) بہار 21 مارچ سے اپریل۔ مئی۔ 21 جون تک۔ حمل ثور جوزا(۲) تابستان21 جون سے جولائی۔ اگست۔ 21 ستمبر تک۔ سرطان اسدسنبلہ(۳) پائیز21 ستمبر سے اکتوبر۔ نومبر۔ 21 دسمبر تک۔ میزان عقربقوس(۴) زمستان21 دسمبر سے جنوری۔ فروری۔ 21 مارچ تک۔ جدید لوحوتبہار نوروزآفتاب آخر حوت پر پہنچا اور موسم میں تبدیلی نظر آئی۔ دل گھبرانے لگتے ہیں۔ آمد بہار کی تاثیر سے زمین سانس لیتی ہے۔ درو دیوار کے مسامات سے گرمی نکلتی معلوم ہوتی ہے۔ اسے کہتے ہیں کہ’’زمین نفس و زدہ میگیرد‘‘۔ پھر چند روز کے بعد کچھ اس سے زیادہ ہوتا ہے کہ درو دیوار میں پسینا سا بہتا ہے۔ تب کہتے ہیں کہ ’’زمین نفس آشکار میگیرد‘‘۔ ساتھ ہی بہار کا موسم شروع ہو جاتا ہے۔ 21 یا 22 مارچ کو نو روز ہوتا ہے۔ یا تو درختوں پر پتوں کا نام نہ تھا۔ سب شاخِ بلور بنے کھڑے تھے اور زمین آسمان برف ہی برف نظر آتے تھے۔ یا برف باری موقوف ہو جاتی ہے۔ 8-10 دن کے بعد کبھی ایک آدھ دفعہ کوئی ہلکا سا جھالا پڑ گیا پڑ گیا۔ ورنہ برف بر طرف۔ زمستان موقوف۔ جہاں ہوتی ہے پانی ہوتی جاتی ہے۔ نہریں، حوض، تلاؤ وغیرہ بلکہ اکثر دریا کہ جم کر آئینہ ہو گئے تھے وہ پگھلنے لگتے ہیں۔ نہروں کی نالیوں میں چپکے چپکے پانی سر سرانے لگتاہے۔ پھر حوضوں کے اوپر کا تختہ کنارے کنارے سے پگھل جاتا ہے۔ گویا حوض نے دہن کھول دیا۔ کناروں پر سبزہ اور سبزہ میں کلیاں آ جاتی ہیں۔ نظامی، دہن نا کشادہ لبِ آبگیرکہ آید لبِ غنچہ را بوے شیرمیرے دوستو! جب تک ایسے ملکوں میں جا کر حالت مذکور کو آنکھوں سے نہ دیکھے تب تک شعر مذکور اور اس قسم کے اشعار کوئی کیا سمجھ سکتا ہے۔ اکثر شارح اور محشیوں نے صفحے سیاہ کئے ہیں اور اصل مطلب کے سایہ تک نہیں پہنچے۔ پھر دیکھ لو! انشای پردازی نے اپنے ملک کی حالت اور موسم کی کیفیت کو کیونکر ظاہر کیا ہے۔ زمیندار اپنے کھیتوں میں آتے ہیں۔ باغ والے باغوں میں پہنچتے ہیں۔ باغیچہ سب کے پاس ہیں۔ بعض کے گھروں میں چھوٹے چھوٹے خانہ باغ ہیں۔ غریب اپنے دوست آشناؤں کو لے کرانگوروں کی دار بستیں باندھتے ہیں۔ درختوں کو چھانٹتے ہیں۔ کیا ریاں صاف کرتے ہیں۔ درخت جو سوکھی جھاڑیاں نظر آتے تھے ان میں پھر جان آتی ہے۔ اس طرح کہ آج صبح کو دیکھا ٹہنیوں پر برف نہیں رہی۔ کل صبح کو دیکھا تو سبزی کی تحریر معلوم ہوئی۔ دوسرے دن دیکھا تو ہری ہری کونپلیں مگر سبزی بھی ایسی صاف شفاف کہ آنکھوں میں طراوت آئے۔ جس درخت کی طرف دیکھو زمرد کی ٹہنیاں بن گئیں۔ 8-10 دن میں ہرا بھرا درخت لہلہا رہا ہے۔ باغ وگلزار میں بلکہ گھر گھر کی کیاریوں میں گلاب کھل گیا ہے۔ درو دیوار پر سبزہ خود رو بھی اگا تو ایک گل خود رو لئے اگا۔ لوگ گھروں میں سکڑے بیٹھے تھے، نکل کھڑے ہوئے۔ بند کام جاری ہو گئے۔ آسودہ حال لوگ گھوڑوں پر چڑھے۔ دوست آشناؤں کو لے کر باغوں میں گئے۔ بہاریں منائیں۔ عورتیں بھی باغوں اور کھیتوں میں گئیں اور دل خوش کرنے لگیں۔ جس شخص کے دل پر یہ خیالات چھائے ہیں، خاقانی کے بہاریہ قصیدہ کا اسی کو مزہ آئےگا۔ نو روز برقع از رخ زیبا برافگندبر گستواں بہ دُلدُلِ شہبا بر افگندنوروز اپنے رخ رنگین سے برف کا برقع الٹ دیتا ہے۔ یا پری رویوں کے رخ زیبا سے کہ جو برف کے سبب سے لحافوں میں دبکے بیٹھے تھے۔ ہر طرح لطف زیاد بر زیاد ہے۔ ادھر گلاب کھلا ادھر بلبل ہزار داستاں اس کی شاخ پر بیٹھی نظر آئی۔ بلبل نہ فقط پھول کی ٹہنی پر بلکہ گھر گھر درختوں پر بولتی ہے اور چہچہے کرتی ہے۔ اور گلاب کی ٹہنی پر تو یہ عالم ہوتا ہے کہ بولتی ہے۔ بولتی ہے۔ بولتی ہے۔ حد سے زیادہ مست ہوتی ہے تو پھول پر منہ رکھ دیتی ہے اور آنکھیں بند کر کے زمزمہ کرتے رہ جاتی ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ شاعروں نے جو اس کے اور بہار کے اور گل و لالہ کے مضمون باندھے ہیں وہ کیا ہیں۔ او ر کچھ اصلیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ وہاں گھروں میں نیم کیکر کے درخت تو ہیں نہیں۔ سیب، ناشپاتی، بہ، انگور کے درخت ہیں۔ چاندنی رات میں کسی ٹہنی پر آن بیٹھتی ہے اور اس جوش و خروش سے بولنا شروع کرتی ہے کہ رات کا کالا گنبد پڑا گونجتا ہے۔ وہ بولتی ہے اور اپنے زمزمے میں تانیں لیتی ہے اور اس زور و شور سے بولتی ہے کہ بعض موقع پر جب چہ چہ چہ کر کے جوش و خروش کرتی ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سینہ پھٹ جائےگا۔ اہل درد کے دلوں میں سن کر درد پیدا ہوتا اور جی بے چین ہو جاتے ہیں۔ میں ایک فصل بہار میں اسی ملک میں تھا۔ چاندنی رات میں صحن کے درخت پر آن بیٹھتی تھی۔ اور چہکارتی تھی تو دل پر ایک عالم گزر جاتا تھا۔ کیفیت بیان میں نہیں آ سکتی۔ کئی دفعہ یہ نوبت ہوئی کہ میں نے دستک دے دے کر اڑا دیا۔ یہ موسم دلوں میں جوش پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ جب چاندنی رات ہوتی ہے تو چند آشنا ہم طبع، ہم نفس زندہ دلی کی امنگ میں آ کر کہتے ہیں، بیائید امشب شب گل کنیم۔ باغ جاتے ہیں۔ رات کو وہیں رہتے ہیں۔ بہار مناتے ہیں اور زندگی کی بہار لوٹتے ہیں۔ نگار خانہ قدرت کے دیکھنے والے دیکھیں گے کہ ہمارے ہندوستان کی بہار کا موسم برسات ہے۔ جو لطف وہاں بہار میں ہوتے ہیں یہاں برسات میں ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں بلبل کازمزمہ نہیں۔ کوئل کی کوک اور پپیہے کی ہوک دلوں پر آفت لاتی ہے۔ تلاؤ پڑے چھلکتے ہیں۔ جھیلیں موجیں مارتی ہیں۔ دریاؤں کے چڑھاؤ مستیاں دکھاتے چلے جاتے ہیں۔ گل اور لالہ ان دنوں میں نہیں پھولتا مگر چنپا موتیا رائے بیل وغیرہ وغیرہ پھولوں کی خوشبو سے عالم مہک جاتا ہے۔ دلوں پر بھی جو اثر شگفتگی کے برسات میں ہوتے ہیں، بہار میں نہیں ہوتے۔ گھٹا گھنگور چھائی ہے۔ کبھی مینہ برس رہا ہے۔ کبھی پھوار پڑتی ہے۔ بادل گرجتے ہیں۔ بجلیاں چمکتی ہیں۔ مور بولتے ہیں۔ باغوں میں جاتی ہیں، پنکھے چڑھتے ہیں۔ آموں کی سیریں ہو رہی ہیں۔ ٹپکا لگا ہوا ہے۔ درختوں میں جھولے پڑے ہیں۔ شاعروں نے بھی جو برسات کے گیتوں میں مزے لئے ہیں وہ بسنت میں نہیں لئے۔ وجہ اس کی یہی ہے کہ قدرتی بہار بسنت کی ہندوستان میں سوائے سرسوں کے اور کچھ نہیں۔ اس کے علاوہ عمر بھی تھوڑی ہے۔ دو تین ہفتہ میں گرمی آتی ہے اور سارا لطف خاک میں ملا دیتی ہے۔ ہند کے انشا پردازوں نے جب کسی باغ کا لطف یا عیش کا سما باندھا ہے تو اکثر برسات ہی کا موسم لیا ہے۔ ایران ایک قدرتی بہشت ہے۔ وہاں جن چیزوں کی بہتات ہے وہی اس کی انشا پردازی کا سامان ہے۔ گل، بلبل، سبزہ، شبنم، برف، اولے، مرغزار، آب رواں، گلشن، چمن، درخت، جوانان چمن، مرغان چمن، نغمہ سنجان چمن ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ ان ترکیبوں میں ہزاروں نازک اور لطیف خیالات ادا کرتے ہیں۔ گلاب کے پھول میں جو زردی ہے اسے زر گل کہتے ہیں۔ گل اپنا خزانہ لٹاتا ہے اور ہنستا ہے۔ مگر غنچہ مٹھی بند کر کے اپنی زرداری پر خوش ہوتا ہے اور مسکراتا ہے۔ شبنم بے ثباتی پر روتی ہے۔ جس طرح بلبل گل کی عاشق ہے قمری سرو کی شیدا ہے۔ اس کا گیروا لباس ہے۔ نغمے لالہ زار میں، مگر سبزہ بیگانہ ہے۔ زمزموں کی کثرت سے اس کا نام ہزار ہزار داستان، ہزار آواز رکھا ہے۔ بیسیوں صفتیں خوشنما و خوش آئندہ نکالی ہیں۔ مرغ شب خواں، خوش آہنگ آتش نوا وغیرہ وغیرہ ایک ترکیب سے کئی کئی مضمون شاعرانہ جدا گانہ پیدا کئے ہیں۔ کوہ، صحرا، مرغزار، چشمے، آب رواں کہ قدرت کے عجائب خانے ہیں، ان سے ہزار در ہزار خیالات زبان میں پرواز کرتے پھرتے ہیں۔ اہل عرب نے کھجور سے۔ انہوں نے شراب و انگور سے بلکہ اس کی تازگی، کہنگی، مستی، سیہ مستی، بد مستی، سر خوشی، خمار، سر گرانی میں، خندہ جام، گریہ شیشہ، قلقل مینا، قہقہ میان وغیرہ وغیرہ سے سرور کئے ہیں۔ انہی کی بہتات ہے کہ انشا پرداز کو اپنے رنگین مضمونوں اور استعاروں سے نکلنے نہیں دیتی۔ ایک گل کو دیکھو، کتنی عمدہ عمدہ اصطلاحیں رنگی ہیں۔ گل کردن (ظاہر ہونا) گلگشت (گلزار میں پھرنا) گل زمین (قطعہ زمین) گلک (طنز کی بات) وغیرہ سینکڑوں اصطلاحیں ہیں، کہاں تک سنوگے۔ آب رواں کی کثرت اور زمین کی شادابی اور سر سبزی نے صدہا نہیں، ہزار وں اصطلاحیں اور کنائے سرسبز کئے ہیں۔ فقط آب کی ترکیب سے جو سیراب اور خوشنما معنی پیدا ہوئے ہیں اگر لکھوں تو ایک رسالہ بنتا ہے۔ سبزہ کی خوشنمائی نے اپنی فراوانی کے سبب سے مختلف ترکیبوں میں لہلہاتے معنی پیدا کئے۔ مثلاً گنبد سبز، پل سبز، دریا ئے سبز (آسمان) سبز آخور (خوشحالی میں رہنے والا گھوڑا) سبز بخت (خوش نصیب) سبز کار، سبز گر (جو اچھے کام کرے) آغا سبز کردہ شما ہستیم (تمہارے پرورش کئے ہوئے ہیں ہم) سبزہ رنگ (سانولا معشوق) سبز تہ گلگوں۔ ان کا تعریفی رنگ اور ایک راگ بھی نام ہے۔ وغیرہ وغیرہ کیا کیا کہوں۔ شیخ نے کہا۔ برو مند بادش درخت امیدسرش سبز و رویش برحمت سفیداب تم عرب، فارس اور ہند کی انشا پردازی کو پہلو بہ پہلو ترتیب دے کر دیکھو۔ ہر ملک کے محاورے اور اصطلاحیں تمہیں بتا رہی ہیں کہ اس ملک کی کیا حالت ہے۔ سر زمین کی کیا کیفیت ہے۔ آب و ہوا کا کیاعالم ہے۔ پیداواروں کی کیا صورت ہے۔ اور لوگوں کی طبیعتوں پر اس کا اثر کیا ہے، جو زبانوں سے ظاہر ہوا ہے۔ تابستانگرمی کا موسم آیا۔ رستے برف سے بند پڑے تھے، سب کھل گئے۔ کاروان تیار ہوئے۔ سوداگروں نے دساور باندھے۔ کاریگروں کے کارخانے جاری ہوئے۔ درختوں پر میوے دانے ہرے دکھائی دینے لگے۔ پہاڑوں پر برفیں پگھلتی ہیں۔ جہاں باتی ہیں۔ سبز مخمل پر سفید چادریں بچھی ہیں۔ چشمے بہہ نکلتے ہیں۔ دریا چڑھاؤ پر آ کر زور شور دکھاتے ہیں اور موجیں مارتے چلے جاتے ہیں۔ نہریں بہتی ہیں۔ پانی کی چادریں اس زور سے گرتی ہیں کہ کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی۔ جگہ جگہ پن چکیاں چلنے لگتی ہیں۔ پانی آگے بڑھ کر آبادیوں میں آتے ہیں۔ گھر گھر گنگا بہتی ہے۔ کھیتیاں دھوپ کی گرمی سے روز بروز زرد ہوتی ہیں۔ ہوا کی قدرتی خشکی دنوں کی جگہ گھڑیوں میں سکھاتی ہے اور جھٹ پٹ کاٹنے کے قابل کر دیتی ہے۔ باہر کسان کھیت کاٹ اناج نکال کر ٹھکانے لگاتے ہیں۔ آپ چند روز دم لیتے ہیں اور زمین کو بھی دم لینے دیتے ہیں کہ آئندہ فصل کے مسافروں کے لئے تازہ دم ہو جائے۔ باغوں میں میوے پک کر تیار ہو جاتے ہیں۔ بازاروں میں با سلیقہ دکاندار ایسی خوبصورتی سے دکانیں سجاتے ہیں گویا نعمت الہی کا نگار خانہ کھلا۔ سیب، ناشپاتی، بہی، انگور، رنگا رنگ بو قلموں، گھروں میں کوئی گھر خالی نہیں دو دو چار چار قسم کے درخت موجود ہیں۔ آپ میوے توڑتے ہیں کھاتے ہیں کھلاتے ہیں۔ باغ والوں کے گھروں میں باغوں سے کٹ کر میوے آتے ہیں۔ میوہ خانہ کے حجروں میں انگور خربوزے تربوز لٹکاتے ہیں کہ قندیلیں قمقمے نظر آتے ہیں۔ سیب، بہی، ناشپاتیاں اتنی ہوتی ہیں کہ دنبے اور بکریاں بھی نہیں کھا سکتیں۔ زمین کھود کھود کر ایک ایک تہ بھس کی دیتے جاتے ہیں اور تہ بتہ جماتے جاتے ہیں۔ ہوا کی لطافت اور پاکیزگی یہ ہے کہ سڑنے نہیں دیتی بلکہ پرورش کرتی ہے۔ گرم ملکوں کے لوگ اپنے اپنے اجناس لے کر ٹھنڈے ملکوں کی طرف بیچنے کو نکل جاتے ہیں۔ کیونکہ سیاحت وہاں کی فقط رسم ملکی ہی نہیں باعث زندگی ہو گئی ہے۔ شہروں میں بازار گرم ہوتے ہیں۔ بھیڑ بھاڑ سے رونق ہو جاتی ہے۔ جا بجا مرزا منش خوش پوشاک، خوش وضع خوبصورت خوبصورت لوگ پھرتے ہیں۔ گرمی کا موسم اس ولایت میں بند کاموں کو کھولتا ہے۔ منافع کو پھیلاتا ہے۔ اورعموماً گرمی آسائش اور آرام کا سامان ہے۔ دیکھو! اسی واسطے لفظ گرم نے مختلف لفظوں کے ساتھ ترکیب پا کر خوبی و خوشنمائی یاتیزی اور شوخی پیدا کی ہے۔ مثلاً حسن گرم، شعر گرم، گرم نفس (صاحب تاثیر آدمی) ، گرم صحبت (جوش محبت والا) ، گرمی ہنگامہ، گرمی بازار، گرمی صحبت، گرمی اختلاط، گرم کردن نظر (حسن یاخوشنما چیز سے نظر کا لطف اٹھانا) گرم کردن دماغ، گرمی گفتار، گرمی رفتار وغیرہ بیسیوں محاورے پیدا ہو گئے ہیں کہ معنوں میں لطف، شوخی یا زور بڑھاتے ہیں۔ اگرچہ وہاں کی گرمی ایسی ہے جیسے یہاں کا گلابی جاڑا لیکن اکثر گرم میوے اور دنبوں کے گوشت کھاتے ہیں۔ یخنیاں اور چائیں پیتے ہیں اس لئے مزاجوں کو گرمی برداشت نہیں۔ تھوڑی دیر چلتے پھرتے ہیں۔ پسینے پسینے ہو جاتے ہیں۔ دکاندار پہاڑوں سے برف ڈھیمے کے ڈھیمے کاٹ کر لاتے ہیں۔ فالودہ کی دکانیں سجاتے ہیں۔ تم نے پیسا دو پیسے دئے۔ اس نے کٹورے میں تھوڑا شربت انگور تھوڑا برف کا لچھا ڈالا اور حوالہ کیا۔ جام ازدستش گرفتیم و بسر کشیدیم۔ شکر خدا کر دیم و راہ خود گرفتیم۔ بہر حال الفاظ مذکورہ کی ترکیبوں کو دیکھو اور سمجھو کہ وہ کیونکر ملک کی حالت بتاتے ہیں۔ یا یہ کہو کہ ملک کی حالت نے محاورات مذکورہ پیدا کر دیے۔ پائینرآفتاب میزان میں آیا۔ جاڑے کا پیام لایا۔ یخ بندیاں شروع ہو گئیں۔ پہاڑوں پر چشمے بند ہو گئے۔ دریا اترنے لگے۔ نہریں سوکھنے لگیں۔ کہیں پانی ہے تو اتنا کہ اوپر انگل دو انگل برف کی پپڑی۔ نیچے پانی بہتا چلا جاتا ہے۔ اول اول پپڑی کو مکا مار کر توڑا۔ پانی بھر کر لے گئے۔ پھر محلوں میں حوض بھر لیتے ہیں۔ وہ سب یخ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان سے اور آب انباروں کے پانی سے کام چلتے ہیں۔ یخ بندیاں دیکھتے ہی کسان زمینیں جوت کر بیج بو دیتے ہیں۔ اسی عرصہ میں برف کے آثار نظر آنے لگتے ہیں۔ سب کھیتوں اور باغوں کو چھوڑ گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ جو بیج بوئے تھے۔ خدا کے سپرد یا برف کے حوالے۔ وہ قدرتی دائی آپ ہی بچے نکالے گی۔ آپ ہی پالے گی۔ فردوسی نے اسی خیال میں بڑھاپے کی آمد دکھائی ہے۔ بگستر و کافور بر جا ئے مشکگل ارغواں شد بہ پائینر خشکعزیزان وطن! جب تک ممالک سر وسیر میں رہ کر موسموں کی حالتیں آنکھوں سے نہ دیکھی ہوں، اکثر کتابوں کے خاص خاص مقاموں کا مزہ نہیں آتا بلکہ سمجھ میں نہیں آتے۔ کوئی کیا جانے عکدیور شد از باغ بر خاصتہ۔ کا کیا مطلب ہے۔ اور موسم خزاں میں کھیتوں اور باغوں میں اداسی کا کیا عالم ہوتا ہے۔ غرض باہر کے کام والے شہروں میں آئے پوستین، لحاف، توشک، انگیٹھیاں، آتش دان گھر گھر میں موجود ہیں۔ ضروری سامانوں کے ذخیرے بھرے ہیں۔ میوہ خانوں میں تر و خشک میوے دھرے ہیں۔ دنبے کے دنبے یلمہ کئے ہیں اور نمک سوو کر لٹکا دیے ہیں۔ گوشت قاق تیار ہیں۔ یخنیاں اور شبدیگیں پکائیں گے۔ پلاؤ دم دیں گے اور گھروں میں بیٹھے کھائیں گے۔ اتنے میں ہوا جاڑے کی سواری لائی۔ سناٹے چلنے لگے۔ دیکھتے دیکھتے کیا باغ کیا جنگل تمام درخت زرد ہو گئے اور زردی بھی وہ کہ گویا عالم زعفرانی ہو گیا اور بعض درختوں کے پتے تو سرتا پا ایسے سرخ ہو جاتے ہیں جیسے تپا یا ہوا تانبا۔ میں ایک دن دیوان انوری پڑھا رہا تھا۔ ایک قصیدہ کے دعائیہ دو شعر آئے۔ تا ہوائے خزاں بہ بہمن ودے زر گر باغ و بوستاں باشدباغ ملک ترا بہار ے بادنہ چناں کر بپیش خزاں باشدایک طالب علم نے پوچھا کہ خزاں کو زر گر کیوں کر کہہ سکتے ہیں۔ جب میں نے اس کے سامنے کیفیت مذکورہ کا رنگ دکھایا تو اس کے چہرے پر سمجھ کا رنگ چمکا۔ خاقانی نے بھی اسی مضمون کا رنگ دیا ہے۔ سخا ہنگام درویشی فزوں تر کن کہ شاخ رزچو درویش از خزاں گردوں فزوں گرودرزرفشانشپہلے مصرع میں شاخ رز، شاخ انگور ہے اور زرافشانی، اس کی برگ ریزی ہے فصل خزاں میں۔ بہر حال ایسے مضامین بار بار میرے اس خیال کی تصدیق کرتے ہیں کہ کسی زبان کا شائق جب تک برس دو برس تک خود اس ملک میں جا کر نہ رہےگا تب تک نہ رمز سخن کو پا سکےگا نہ زبان کا لطف حاصل کر سکےگا۔ زمستاندفعتاً ہوا بند ہوئی۔ ابر سا گھر آیا۔ دنیا دھواں دھار ہو گئی۔ پھر سفید غبار سا برستا معلوم ہوا۔ تھوڑی دیر بعد دیکھا تو زمین پر کوٹھوں پر، دیواروں پر، منڈیروں پر کوئی سفید سفید آٹا سا چھڑک گیا۔ غرض کہ ایک جھکولا برف کا اور پڑا۔ رات گزری۔ صبح کو دیکھا تو تمام درختوں پر برگ ریز کا حکم پہنچ گیا۔ دوسرے دن ایک جھکولا اور ساتھ ہی ایک سناٹا ہوا کاآیا۔ پھر جو دیکھا تو درخت پر پتے کا نام نہیں۔ جو درخت ہفتہ بھر پہلے پتوں سے بھرے تھے اب خالی بھاڑیاں کھڑے ہیں، جیسے کسی نے کپڑے اتار لئے۔ وہ بھی سیاہ رنگ جیسے بجلی مارا لوہا۔ ایک دو دن بعد برف برسنی شروع ہوئی مگر کس طرح؟ جیسے کوئی آسمان پر بیٹھا روئی دھنک رہا ہے۔ ایک دن رات جو برف کا تار لگا تو درو دیوار، زمین آسمان تمام سفید۔ وہ سیاہ جھاڑیاں برف جم کربلور کے درخت اور شیشہ کی شاخیں ہو گئیں۔ دیکھنا انشا پردازی نے کیونکر جغرافیہ ملک کا نقشہ کھینچا ہے۔ بر آمد زکوہ ابر کافور بارمزاج زمیں گشت کافور خواراور شیخ سعدی نے ہنسی ہنسی میں سب کچھ کہہ دیا۔ چہ حرامزادہ مرد مانند کہ سنگہارا بستہ اند و سگہارا کشادہ۔ پہاڑوں پر برف کے پہاڑ چڑھ گئے۔ جنگلوں میں برف سے رستے رک گئے۔ سوداگر جہاں کے تہاں بیٹھ رہے۔ میدان کھیت گلی کوچہ میں گھر گھر قد آدم برفیں چڑھ گئیں۔ بازاروں میں سناٹا، کار خانے بند، غریب کاریگروں کا کاروبار ان کے ہاتھوں سے بھی سوا ٹھنڈے، کوٹھوں پر برف کے انبار ہیں، جلدی گراؤ نہیں تو گھر بیٹھا۔ امرا کے غلام، نوکر، مزدور لکڑی کے پنچ شاخے اور پھاوڑیاں لئے ہیں، برف گرا رہے ہیں۔ غریب غربا اپنا کام آپ ہی کرتے ہیں، پھر گھروں میں آ گھستے ہیں۔ آگ بغیر گزارہ نہیں۔ انگیٹھی بیچ میں لے بیٹھتے ہیں۔ جن کو خدا نے دیا ہے ان کے ہاں آتشدان اور بخاریاں روشن ہوتی ہیں، 2 کمروں کے دروازے بند ہوتے ہیں۔ وہ گھروں میں دنبے کاٹتے ہیں، مرغ ذبح کرتے ہیں۔ نہیں تو گوشت قاق کے پلاؤ دم دیتے ہیں۔ اس کی یخنیاں پیتے ہیں۔ کلے پائے اور شبدیگیں پکا پکا کر کھاتے ہیں۔ اور چائیں اڑاتے ہیں لیکن باہر تمام عالم ویرانہ ہے۔ کھیت اور باغ سب سنسان، گیدڑ لومڑی خرگوش بلکہ چوہا تک جنگل میں نظر نہیں آتا۔ اپنے اپنے بھٹوں اور بلوں میں گھس رہتے ہیں۔ اس وقت نظامی کا دیباچہ اور اس کے خزاں کے مضمون مزا دیتے ہیں۔ گرگ آشتی بھیڑیوں کو اس موسم میں سخت مشکل ہوتی ہے۔ وہ گوشت کے سوا اور کچھ کھاتے نہیں، اور کسی قسم کا ذخیرہ رکھتے نہیں۔ باہر برف کی کثرت سے کتا تک نہیں نظر آتا۔ گلے سب بند ہو جاتے ہیں۔ یہ دس دس بیس بیس جمع ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ مگر ہر بھیڑیا اس طرح بیٹھتا ہے کہ اس کی آنکھ سب پر پڑے۔ ہر چند بھوک، پیاس، تھکن سے تنگ ہوتے ہیں مگر ایک کو دوسرے پر اعتبار نہیں، اس لئے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بیٹھے رہتے ہیں۔ آخر نیند تو ظالم ہے، کسی کی ذرا آنکھ جھپکی اور جتنے بیٹھے تھے جھٹ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ فوراً پھاڑ چیر تکا بوٹی کر کے کھا ہی جاتے ہیں۔ اسی سے اہل ملک نے اصطلاح نکالی ہے گرگ آشتی یعنی اس بد ذات جانور کے ملاپ کا بھی اعتبار نہیں۔ ملک کے لوگ اسی برف کے کیڑے ہیں۔ انہیں یہ سردی کچھ بہت دکھ نہیں دیتی۔ اس لئے بازار چلتے رہتے ہیں۔ حاجت مند بچارے یا اکثر مصیبت کے مارے سفر بھی کرتے ہیں۔ ان کے نمدی چغوں پر برف پڑی ہوئی، پلکوں پر برف جمی ہوئی، موچھیں اور ڈاڑھی میں گویا شیشہ کی سلائیاں لٹکتی ہیں۔ اس عالم میں پرند جانور بھی کم نکلتے ہیں۔ البتہ خاص قسم کے کوے اور بعض بعض جانور اڑتے پھرتے ہیں۔ ان کے پیٹھ اور بازوؤں پر برف جمی ہوتی ہے۔ اس وقت نظامی کی تشبیہ کا مزا آتا ہے کہ، مرا برف بارید بر پر زاغ، اورا نہی لوگوں کو مزا بھی آتا ہے جن کی آنکھوں کے سامنے یہ سب چیزیں ہیں کیونکہ تشبیہ اور استعارہ جتنا قریب کا ہو اتنا ہی قریب الفہم ہوتا ہے۔ اسی واسطے زیادہ مزا دیتا ہے۔ اس حالت میں کبھی جھکڑ چلنے لگتا ہے اور جو برف پڑی ہوئی تھی وہ خاک کی طرح اڑتی ہے۔ بدن اور چہرے پر چھرے کا کام کرتی ہے۔ اور کوئی ذرہ آنکھ میں پڑ جاتا ہے تو بڑی تکلیف دیتا ہے۔ اسے بادروبہ کہتے ہیں۔ ایک سال یہ جاڑے کا موسم تھا اور میں اسی ملک میں تھا۔ برفیں پڑ رہی تھیں۔ دو مہینے برابر سفر کرنا پڑا۔ دریائے سیحون رستہ میں ملا۔ اس پار سے اس پار تک ایک تختہ آئینہ کا تھا۔ شتری اور اسپی قافلے پیادہ اور سوار برابر چلے جاتے تھے۔ میں ایک بلند کنارہ پر کھڑ ادیکھتا تھا۔ چونٹیوں کی سی قطار عجب بہار دیتی تھی۔ رستہ میں کئی منزلیں ایسی ملیں کہ جہاں سرایا مکان کچھ نہ تھا جس میں ذرا سر تو چھپا بیٹھیں۔ زمین پر کمر کمر برف چڑھی تھی اور ادھر ادھر پہاڑ برف سے سفید دکھائی دیتے تھے۔ ہم نے ایک پتھر کی آڑ میں برف ہٹا کر زمین نکالی۔ ادھر ادھر سے دو چار لکڑ گھسیٹ لائے، ان میں آگ سلگائی۔ بستر کر کے پڑے اور گٹھری ہو کر سکڑ رہے۔ غنیمت یہ ہے کہ رات کو ہوا بند ہوتی ہے۔ ہم گھنٹے دو گھنٹے بعد اٹھ کر چائے بناتے ہیں۔ ایک ایک پیالی پی کر سینے گرم کرتے اور پھر پڑ رہتے تھے۔ خدا خدا کر کے صبح ہوئی۔ اس وقت شاہ ناصر خسرو کی رباعی سمجھ میں آئی کہ ایسے ہی موقع پر کہنی پڑی ہوگی۔ رباعیدو شینہ شبے کہ برف تا دوشم بودزانو چو عروس نو در آغوشم بودپوشید نی نہ بود غیر از چشمچیزیں کہ بزیر سر نہم گوشم بودلطیفہجاڑے کا موسم زور پر تھا۔ ایک قلندر مشرب کے پاس جاڑے کا کپڑا کچھ نہ تھا۔ سردی کے مارے مرنے لگا۔ کسی سے پوچھا غضب سردی ہے۔ آفتاب کس برج میں ہے؟ اس نے کہا’’عقرب میں۔‘‘ قلندر نے کہا کہ’’خدا کی لعنت عقرب پر، زمین پر بھی دکھ، آسمان پر بھی دکھ۔‘‘ تم نے دیکھ لیا۔ جب آفتاب عقرب میں ہوتا ہے تو عین جاڑے کی جوانی ہوتی ہے۔ وہاں ہاتھ پانو باہر نہیں نکال سکتے۔ یہاں ان دنوں میں ایک چادرے کا جاڑا ہوتا ہے۔ اس خیال کا لطیفہ پیدا ہوگا تو اسی ملک میں پیدا ہوگا۔ اس ملک کے لوگ سنتے ہیں چپکے ہو رہتے ہیں۔ زبان اپنی اصطلاحوں یا استعاروں کے علاوہ ادائے مطالب میں بھی ملک کے موسم سے آگاہ کرتی ہے۔ دیکھو فصیح فارس اپنی مضمون آفرینی میں ملک کی سردی کو کس طرح دکھاتا ہے۔ عجب جائیست ایں کاخ دل آویزکہ چوں جا گرم کردی گفت بر خیزجب تم تھوڑی دیر کہیں بیٹھتے ہو تو جگہ گرم ہو جاتی ہے۔ گرم ملک میں ٹھنڈی جگہ پر بیٹھنا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ ٹھنڈے ملک میں گرم جگہ پر بیٹھنے سے آرام آتا ہے۔ پس شاعر کہتا ہے کہ دنیا عجب مقام ہے، جہاں ذرا ٓرام سے بیٹھنے کا موقع آیا اور حکم ہوا کہ اٹھ کھڑے ہو۔ آگ ایسے موقع پر فقط باعث آرام نہیں بلکہ چشمہ بہت سے منافع کا ہوتی ہے۔ نہیں نہیں اکثر موقع پر باعث زندگی ہو جاتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ انشائے فارسی نے اس سے بیسیوں لفظ ترکیب دیے ہیں جن سے تیزی، چستی، رونق، قدر و مرتبہ وغیرہ کے خیالات روشن ہوتے ہیں مثلاً آتش زبان، آتش بیان، آتش سخن (تیز کلام آدمی) آتش مزاج (تیز مزاج) آتش کار (چالاک) آتش لباس، سرخ لباس، آتش و آب، آتش و آب پرور، آتش مجسم (تلوار) آتش پر آب، آتش بے باد، آتش توبہ سوز، آتش سرد (شراب) آتش بے دود (سورج شراب یا غصہ) آتش پیکر، آتش زمزم، آتش بید (سورج) آتش ہندی (تیغ ہندی) وغیرہ وغیرہ بیسوں لفظ ہیں کہ خوبیٔ معنی سے مختلف کاموں اور مختلف چیزوں میں رونق اور خوبی پیدا کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ گائے وغیرہ بہت سی سفید چیزیں جو انسان کی آسائش اور زندگی میں مدد دیتی ہیں، ہندوؤں میں واجب التعظیم ہوئیں۔ یہاں تک کہ لوگ رفتہ رفتہ انہیں دیوتا ماننے لگے۔ کیا عجب ہے کہ ا ٓگ سے ان ملکوں میں بہت سی تکلیفیں رفع ہوتی تھیں اور اکثر قسم کے فائدے حاصل ہوتے تھے۔ شائد اول تعلیم کے لئے حکم ہوا ہو پھر رفتہ رفتہ عبادت ہونے لگی۔ بر خلاف اس کے سردی سے لوگوں کے کاروبار رک جاتے ہیں۔ فوائد میں نقصان آتے ہیں۔ پھرتے چلتے، بیٹھتے اٹھتے تکلیف اٹھاتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ جن الفاظ سے سردی ترکیب پاتی ہے معنوں میں بھی کمی، بے لطفی اور خرابی پیدا کرتی ہے۔ مثلا وعدۂ سرد، گریہ ٔ سرد، آہ سرد، ناز خنک، نوائے خنک، گفتار خنک، سرد شدن اختلاط (کمی محبت) ، سرد حرف، سرد بیان، سرد گوے، سرد مہر، سر د نفس، سرد رو، خنک طبع، خنک ادا، خنک گفتار، خنک روے وغیرہ وغیرہ بہت سے الفاظ ہیں۔ بر خلاف اس کے عرب کا ملک گرم ہے۔ اسی واسطے سردی سب کو عزیز ہے۔ جب کہتے ہیں، وکان الہواء بارد، تو ہوا کی خوش آئندگی مراد ہوتی ہے اور پانی کی برودہ سے اس کی لطافت و گوارائی مراد لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ خوش بیان فصیحوں نے عیش بارد، آرام کی زندگی، اور غنم بارد یعنی عمدہ نعمت بھی کہہ دیا۔ اور برد امرنا یعنی ہمارا کام بن گیا۔ تم ضرور کہوگے کہ فارس میں بھی خنکی چشم بمعنی راحت و آرام بولتے ہیں نہ کہ بے آرامی۔ آزاد کہتا ہے کہ یہ درست ہے لیکن اگر میرا قیاس غلط نہیں تو یہ محاورہ عرب سے آیا ہے۔ اور ترجمہ ہے قرۃ العیون کا۔ ایران میں بہت محاورے عرب سے آئے ہیں۔ انہی میں یہ بھی آیا ہوگا۔ (دیکھو صفحہ 234) تم کہوگے کہ اس محاورہ کی خصویت نہیں خنکی زبان فارسی میں اور جگہ بھی لطف و خوبی پیدا کرتی ہے۔ شیخ سعدی نے کہا ہے، خنک روز محشر تن دادگرکہ در سایۂ عرش دارو مقرمیرے دوستو! غور کرو یہ محاورہ نہیں بلکہ ایک مذہبی روئداد کا بیان ہے۔ تم جانتے ہو کہ قیامت کے دن گرمی کی شدت کس درجہ پر ہوگی۔ تابش آفتاب سے سر کا بھیجا پگھل کر ناک سے ٹپک جائےگا۔ اور زمین تانبے کی طرح تپے گی۔ شاعر کہتا ہے کہ جس دن گرمی کا یہ عالم ہوگا، اس دن داد گر کا تن بدن خنک ہوگا اور وہ عرش کے سایہ میں ہوگا۔ زبان ایران یہ بھی کہتی ہے کہ میری سر زمین تمام کوہستان ہے جو بے شمار خلقت سے ا ٓباد ہے۔ یہی سبب ہے کہ پہاڑ کے متعلق بہت سے محاورے استعارہ اور خیالات ان کی انشا پردازی میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً کوہ پشت (کوز پشت کو کہتے ہیں اس کے کب کی شباہت کے سبب سے) کوہ جگر (شجاع)، کوہئہ آب (موج آب۔ اسے اپنے دریا یا نہروں کی لہر نہ سمجھو۔ سمندر اور اس کے طوفانوں کی طرف خیال کرو) اور عموماً بلندی کا اشارہ بھی اسی لفظ سے کرتے ہیں۔ مثلاً کوہئہ زمین۔ یا پیش کوہہ اور پس کوہہ یعنی اس کے آ گے کی بلندی اور پیچھے کی بلندی۔ فصیح فارس اپنے سرور میں آتا ہے تو کہتا ہے درعا لم یکہ کوہ بنگ از سر پریدہ بود۔ کبھی کہتا ہے، کوہ تا کوہ بنگ از سر پریدہ بود اور کوہ کوہ کیف از سر سیگذشت۔ یہ استعارے بھی ملک کی سر سبزیوں نے زبان کو دیے ہیں۔ کمر اور چوتڑوں کی تعریف میں شاعر نے کہا، کوئی معشوق سے پوچھو۔ ’’کوہ را با تار ہوئے بستیٔ آخر چہ ساں؟‘‘ اور جلد پھر آنے کے موقع پر کہا۔ چوں صدا از کوہ برگشت اور چوں سیل از کوہ بزیر آمد۔ پہاڑ کے مختلف حصوں کے نام اس کی صورت حال کے بموجب تراشے ہیں۔ اور ضرور ایسا ہونا چاہئے تھا کیونکہ وہیں کا رہنا سہنا ہے۔ کام کاج آنے جانے میں اور ہر موقع اتا پتا بتانے میں جدا جدا جگہ کے واسطے جدا جدا نام چاہئے ہیں۔ اس سے زبان کی وسعت معلوم ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کاروبار میں ہرج ہوتے۔ مثلا کمر کوہ، دامن کوہ، تیزئے کوہ، تیغ کوہ، بینیٔ کوہ، قلۂ کوہ، درہ کوہ، کوہ پایہ۔ اسی صورت حال کو اور موسم کی کیفیت کو دیکھ کر ملک کے شاعر نے کہا، بر آمد زکوہ ابر کافور بارمزاج زمیں گشت کافور خوارآفتاب از کوہ سر بر میزندمہ من انگشت بر در میزندملا محتشم کاشی نے مرثیہ میں کہا، چوں شد بہ نوک نیزہ سر آں بزرگوارخورشید سر برہنہ بر آمد زکوہساردیکھو وہ ایک صاحب زبان کا خیال تھا جو کہ خالص خیال بند تھا۔ میر انیس مرحوم ہند کے شاعر تھے انہوں نے اسی خیال کو رنگین کیا۔ تھا بسکہ روز قتل شہ آسماں جنابنکلا تھا خون ملے ہوئے چہرہ پہ آفتاباور کسی اہل زبان نے بڑھاپے کے سر کو دیکھ کر کہا۔ آفتاب بر سر کوہ است۔ یاد کرو شعر مذکورۂ بالا۔ مرا برف بارید بر پرزاغ۔ تم نے دیکھا اس طرح ایک زبان بتاتی ہے کہ میرے بولنے والے کن خیالات کے لوگ ہیں؟ اور میں کس ملک کا سبزہ خود رو ہوں؟ اگر چہ چار موسم اپنا اپنا لطف جدا جدا رنگوں میں دکھاتے ہیں مگر عموماً ہر موسم میں زمین سر سبز و شاداب ہی دکھائی دیتی ہے۔ خشک یا شورزار قطعہ بہت کم نظرآتا ہے۔ جدھر دیکھو ہر یاول لہلہاتی ہے۔ اور سبزہ ہوا سے پانی کی طرح لہریں مارتا ہے۔ سبزی جتنی تیز ہے اس سے سوا گلریز ہے۔ درخت جتنے ہرے ہیں اس سے زیادہ پھولے پھلے ہیں۔ جو ہوا آتی ہے صبا ہے یا نسیم ہے۔ بو آتی ہے تو نگہت ہے یا شمیم ہے۔ آسمان بھی یہ آسمان نہیں، جب دیکھو رنگ نکھرا ہوا ہے۔ اسی کو دیکھ کر کہتے ہیں۔ چرخ فیروزی، چرخ مینائی، فلک مینا رنگ، چرخ آئینہ فام، آبگون، آبگینہ رنگ، چرخ نیلی، چرخ نیلگوں، گوے لاجورہ اور گنبد لاجوری۔ حق پوچھو تو یہ الفاظ اسی آسمان کے لئے زیبا ہیں نہ کہ فلک ہند جس کے نیچے سدا خاک اڑے۔ بلبل ہزار داستان کا زمزمہ اور تدرو کا قہقہہ ناحق مشہو رہو گیا ہے۔ وہاں ہزاروں جانور ہیں۔ جو ہے اپنی اپنی ٹہنی پر بل بل اور آشیانہ پر ہزار داستان ہی ہے۔ خوش رنگ ایسے ہیں کہ شوخی آنکھوں کو قوت دیتی ہے۔ وہاں کی چڑیا کا رنگ بھی ڈہڈہاتا ہے، نہ کہ ہندوستان کی چڑیا جس کے بھوسلے رنگ سے خاک جھڑتی ہے۔ چرندوں کو دیکھو تو غزال و آہو۔ ہرنیاں گوزن، گورخر نیلہ گاؤ وغیرہ خوشنما جانور دامن دشت اور دامن کوہ میں قلاچیں مارتے پھرتے ہیں۔ اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ حافظ نے کیا کہا ہے، اور کس عالم میں کہا ہے۔ صبا بہ لطف بگو آن غزال رعنا راکہ سر بکوہ و بیاباں تو دادہ ماراپہاڑوں کے چشمے میدانوں میں نہریں بہاتے ہیں اور شہروں میں پانی پہنچاتے ہیں۔ گھر گھر گنگا بہہ رہی ہے۔ کوئی مکان ایسا نہیں جہاں پانی جاری نہ ہو۔ ان کی انشا پردازی سے ٹپکتا ہے کہ قدرتی خوشنمائیاں ہر وقت سامنے ہیں۔ اور وہی لوگ ہیں کہ مزے لے لے کر ان پہاڑوں کے لطف اٹھاتے ہیں۔ شستہ الفاظ، عمدہ ترکیبیں، لطیف اشتقاق، نازک خیالات، پاک تشبیہیں اور استعارے تراشتے ہیں مثلاً۔ آب رو (عزت) اکنوں معاملہ اش آبے برروئے کار آوردہ (اب اس کے کام نے ذرا رونق بہم پہنچائی ہے) اور کہتے ہیں پیش فلافی رفتیم۔ دیدیم در عالم آبست۔ پشیما ں شدیم و برگشتیم (یعنی شغل شر ابخواری میں تھا یا مست تھا) آبش از سر گذشتہ است (خرابی حد تدارک سے گذر گئی ہے) آب دردیدہ ندارد (بے حیا ہے) آب در جوال میکو بد۔ آب بہ غربال می پیماید۔ آب در سبد میکند۔ میخواہد آب بر سیماں بندو (بے فائدہ کام کرتا ہے۔ تم جانتے ہو پانی پر تیل ڈالتے ہیں تو اوپر آ جاتا ہے۔ اسی بنا پر جب کوئی ظاہر میں دوستی دکھاتا ہے اور چکنی چپڑی باتیں بنا کر مطلب نکالنا چاہتا ہے تو کہتے ہیں بازی نخوری آغا۔ ایں روغنے است کہ بر روئے آب پاشیدہ۔ معاملہ اش آب درمیان دارد (اس میں کچھ دغا ہے) پر حذر باشی از فلانی کہ آبے است در زیر کاہ۔ تم نے بھی اکثر برسات میں دیکھا ہوگا۔ میدان میں پانی پھیلا ہوتا ہے۔ تم ایک ہری گھاس پر قدم رکھتے ہو، نیچے زمین ہے۔ پاؤں رکھا تو غڑپ پانی میں جا پڑا۔ اسی واسطے جس شخص کا ظاہر خوشنما اور باطن خراب ہوتاہے کہتے ہیں آب زیر کاہ است۔ تنک آب (کم ظرف) دریا سے جلد عبور کر جانے کے موقع پر کہتے ہیں۔ ہمچو باد از روئے آب گذشت۔ پانی کی بہتات نے بہت سے عمدہ وصف اپنے موصوفوں کے لئے پیدا کئے اور انشا پرداز نے کہا۔ شعر تر، نغمۂ تر (مزہ دار شعر یا نغمہ) گوہر تر (آبدار موتی) تر دست (صنعت گر کامل یا سخی تر زبان (فصیح) وغیرہ وغیرہ۔ پانی کی مختلف حالتوں اور کاموں کے سبب سے بہت کہاوتیں نکل آئیں۔ مثلاً آب آمد تیمم بر خاست۔ آب ندیدہ موزہ کشیدہ وغیرہ وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ پانی کی کثرت نے انہیں قدرتی چشموں کی طرح زبان سے جاری کیا ہے جس سے ہماری طبیعتیں بالکل محروم ہیں۔ بابر نے اپنی توزک میں یہ نکتہ خوب کھولا۔ لکھتا ہے ’’اہل ہند کے دل ان کیفیتوں سے ایسے بے مذاق ہیں کہ ا گر سیر و سفر میں ہوں اور اتفاقاً آب رواں کے کنارے آن اتریں تو ادھر خیمہ کی پشت کرتے ہیں۔‘‘ وہ شگفتہ مزاج لوگ اپنے دلوں کو ہمیشہ انہی گلزاروں میں شگفتہ رکھتے ہیں۔ اسی واسطے طبیعت بات بات میں شگفتگی دکھاتی رہتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ خوشی نے اپنے اصلی معنوں سے بڑھ کر بہت سے معنوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں۔ کباب خوش نمک۔ اور طعام خوش نمک (جس میں اعتدال سے نمک ہو، اور خوب اور اچھا۔ خوش انگشت۔ خوش نواز (اچھا ستار بجانے ولا) خوش خواہش، خوش کام، معشوق خوش کنار، گوہر خوش آب، خوشنما، خوش جلا، خوش نظر، خوش طینت، خوش نہاد، خوشرو، اسی طرح شاداب، شادبہر، شاد کام وغیرہ وغیرہ اس طرح کی بیسیوں ترکیبیں ہیں۔ لطیفہشاہ طہماسپ کے حضور میں حکیم حسن گیلانی اول روز باریاب ہوا تو نوجوان اور نہایت حسین تھا۔ بادشاہ نے حال پوچھا اور مسکرا کر کہاع۔ خوش طبیبے است بیاتا ہمہ بیمار شویم۔ اور کثرت کے معنی بھی پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ مرد خوش برگ (بسیار سامان۔ درخت خوش ثمر۔ باغ خوش حاصل، زمین خوش حاصل، اور سر خوش، اور دل خوش میں اور ہی لطف پیدا ہوتا ہے۔ خوش دوا، خوش حساب، خوش معاملہ اور ہی معنی دیتا ہے۔ خوش غلاف وہ تلوار کہ ذرا سے اشارہ میں میان سے نکل آئے۔ خورم مرکب ہے، خور رم سے، اس کے معنی سر سبز و شاداب کے ہو گئے۔ اسی سے عہد قدیم میں خورم روز ایک عید کا نام تھا۔ پھر خورم گاہ اور مکان خورم اور فضائے خورم اور گلستان خورم و دلکش اور خورم روئے بصورت وغیرہ وغیرہ بہت سی ترکیبیں پیدا کیں۔ اور اسی طرح شگفتہ رو، شگفتہ مزاج، شگفتہ طبع، شگفتہ کلام، اور زمین شگفتہ اور جبین شگفتہ وغیرہ وغیرہ۔ انہوں نے شہر شہر لطف و خوبی کی حالت او ر وقت کی لطافت کو انتخاب کر کے کیا ہے اور شعرا نے ضرب المثل کر کے نظم کیا ہے کہ زبان زد خاص و عام ہے۔ علی الصباح نشاپور و خفتن بغدادنماز دیگر مروونماز شام ہراتاور ہندوستان میں اس کے مقابل صبح بنارس اور شام اودھ ہے۔ غریب سے غریب ہوگا مگر گھر میں ہوگا توگھر کو قدرتی سنگاروں سے سجائے گا۔ باہر جائے گا تو آب رواں کی سیرا در گلگشت سے جی بہلائے گا۔ لفظ گلگشت کی ترکیب دلالت کرتی ہے کہ ان کی چہل قدمی گلزاروں میں واقع ہوتی ہے۔ یہی شگفتگی ان کے مزاجوں کو شگفتہ رکھتی ہے کہ ہفتہ دو ہفتہ بعد ملا، شاعر سوداگر، پیشہ ور غرض اپنے اپنے ڈھنگ کے ہم طبع اور ہم نفس باغوں میں جاتے ہیں۔ گھروں سے سامان لے جاتے ہیں۔ درختوں کے نیچے آب رواں کے کنارے چبوترے بنے ہوتے ہیں۔ ان پر یا جہاں موقع کی جگہ پاتے ہیں فرش بچھاتے ہیں۔ سامنے مرغزار ہرے ہیں۔ دامن کوہ لالہ و گل سے بھرے ہیں۔ پہلو میں پلاؤ دم ہو رہا ہے۔ ایک طرف کباب لگے ہوئے۔ چائے کی پیالی چل رہی ہے۔ شعر خوانیاں ہو رہی ہیں۔ زمزمے اڑ رہے ہیں۔ دو تین دن زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں او رچلے آتے ہیں۔ عرفی کہتا ہے، فصل گل رفت عبث حیف شرابے نہ زویمبہ کباب جگر خود نمک آبے نہ زویماشک خوں گشت سر چشمہ چشم بہ امیدخیمہ بر آب رواں ہمچو حبابے نہ زویمجن لوگوں نے دامن کوہ نہ دیکھا، اس میں چشمہ کار ساؤ نہ دیکھا، دامن صحرا میں بہاؤ نہ دیکھا، انہیں کیا مزا آئےگا کہ اشک کا آنکھ سے بہنا اور چشمہ سے پانی کا رسنا کیسی تشبیہ ہوئی۔ میووں کی آبداری اور شادابی کا یہ عالم ہے کہ منہ میں ڈالو تو شربت ہوئے جاتے ہیں۔ پھوگ کا نام نہیں۔ خربوزہ کا ٹو تو شیرہ اور شربت پڑا بہتا ہے۔ نزاکت کا یہ حال ہے کہ پکی ہوئی فالیز کے برابر سے سوار گھوڑا مارے نکلتا ہے تو دہقان بچارا ہاتھ باندھے دوڑاآتا ہے کہ برائے خدا گھوڑا نہ دوڑاؤ، دھمک سے میرے خربوزہ پھٹ جائیں گے۔ انگوروں کے خوشے جب درخت سے کاٹتے ہیں تو دانے پھوٹ پھوٹ کر رس کے سراتے بہتے ہیں۔ وہاں کے چقندر یہاں کے شلجموں سے بڑے ہوتے ہیں۔ جوش کر لیتے ہیں یا بھوبل میں دبا دیتے ہیں۔ صبح کو چنگیریوں میں رکھ کر گلی کوچوں میں پھانکیں کاٹ کاٹ کر بیچتے ہیں۔ مٹھاس کا یہ عالم ہوتاہے کہ ان کے عرق کا قند بناتے ہیں۔ سفیدی میں برف اور لطافت میں ہمارے قند سے بہتر ہوتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی سی کلہاڑیاں ہوتی ہیں ان سے توڑتے ہیں۔ رات کے وقت اس پر چوٹ لگاتے ہیں تو آگ کے پتنگے اڑتے ہیں۔ اسی بنیاد پر صدہا محاورے اور اصطلاحیں شیرینی کی پیدا ہو گئی ہیں۔ ہر ایک نایاب اور خوشنما اور خوش آئندہ چیز کو شیریں کہتے ہیں۔ خوش حرکات اور خوش مزاج بچہ کو کہتے ہیں۔ عجب بچہ شیر ینی است۔ اور خواب شیریں، میٹھی نیند، معشوقہ کا نام شیریں، معشوقہ کی صفہ میں شیریں حرکات، شیریں شمائل، شیریں کار، شیریں خرام، شیریں بہانہ، شیریں ادا، شیریں کلام، شیریں مقال وغیرہ وغیرہ بہت سی ترکیبیں پیدا کی ہیں۔ اور دہنش شیریں کن (یعنی کچھ رشوت دو) شیریں کار (جو شخص اچھے اچھے کام کرے) شیریں باف (ایک بہت اچھا کپڑا ہوتا ہے۔ شکر و قندمی شکند (عجب میٹھی میٹھی باتیں کرتا ہے۔) صحبت ہمدگر شیرو شکر است (ان کی خوب مزے میں گزرتی ہے) شکر خواب (خواب خوش) شکر ریز (دلہن کا نچھاور، اور وہ اکثر شگون کے طور پر مٹھاس کی قسم سے ہوتی ہے) غرض کی قند اور شکر کی ترکیب سے سیکڑوں میٹھی میٹھی اصطلاحیں اور محاورے نکالے ہیں۔ زبان میں مہارت پیدا کرو اور اہل زبان کے کلام پر عبور کرو۔ پھر ان بیانوں کو ان سے مطابقت دو تو لطف حاصل ہو۔ اس ملک کو نگار خانہ قدت کہیں یا صنعت خانہ الہی سمجھیں۔ قلمدان میں جس قدر آب و رنگ الفاظ و عبارت کے تھے اس کے نقشہ میں لگا دیے مگر دل کا ارمان نہیں نکلا۔ خیر۔ مجھے ملک کا زبان ملک سے تعلق دکھانا ہے۔ اس کے لئے اتنا کافی ہے۔ اب اس نقشہ کو لپیٹنا چاہئے۔ اور اس مضمون پر خیال لگانا چاہئے کہ اس رنگین زبان کی طرز کو اور زبانوں کی طرز سے کیا نسبت ہے۔\n\nحاشیے(۱) ہند کی انشا پردازی میں جب کوئی مہمان یا مسافر کہیں پہنچا ہے تو اس کی تعظیم و تواضع کے سامانوں میں کھٹرس بھوہن یا ششرس بھوجن ضرور کھلایا جاتا ہے۔ میں حیران تھا کہ اگر ایک کھانے میں چھ مزے دیں تو وہ کھانا کیا کھانا ہوگا؟ بہت لوگوں سے پوچھا مگر خاطر جمع نہ ہوئی۔ ایک دن استاد مرحوم سے ذکر آیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہندوستان میں سال بھر کے چھ موسم ہیں۔ ہر موسم اپنی بہار کا لطف الگ رکھتا ہے اور اس کے میوے دانے بھی الگ الگ لطف و لذت رکھتے ہیں۔ اس سے یہ مراد ہے کہ صاحب خانہ نے اپنی محبت یا اعتقاد یا صفائی دل کے کمال سے مہمان کو وہ لطف دکھایا کہ آگے چھٹوں فصلوں کی لذتیں حاصل ہو گئیں اور حقیقت میں عمر انسان کی انہی چھ فصلوں میں گذرتی ہے۔ پس گویا لطف زندگی سے کامیاب کر دیا۔ اب خیال کرو ملک کی موسمی تقسیم نے یہ خیال ہند میں پیدا کیا۔ جن ملکوں میں یہ تقسیم نہیں وہاں یہ خیال پیدا کیوں کر ہو سکتا ہے اور لوگوں کو اس سے کیا لطف حاصل ہو سکتا ہے۔ (۲) آتش دان کے سامنے آتشگیر (دسپناہ) آتش کش، قبر، خاکریز وغیرہ کئی چیزیں موجود رہتی ہیں۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B3%D8%B1_%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%86%D8%B4%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر ایک سے سنا نیا فسانہ ہم نے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر ایک سے سنا نیا فسانہ ہم نے\nدیکھا دنیا میں ایک زمانہ ہم نے\nاول یہ تھا کہ واقفیت پہ تھا ناز\nآخر یہ کھلا کہ کچھ نہ جانا ہم نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92"} {"title": "ہر ایک کا حامی وہ مصیبت میں ہوا ہے", "poet_page": "مصنف:عنایت اللہ روشن بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر ایک کا حامی وہ مصیبت میں ہوا ہے\nجس کا کوئی دنیا میں نہیں اس کا خدا ہے\n\nخاموش ہوں میں دیکھ کے رفتار زمانہ\nحیرت صفت دیدۂ نقش کف پا ہے\n\nاچھے ہو تو اچھے ہو برے ہو تو برے ہو\nسنتے ہو جو آواز وہ گنبد کی صدا ہے\n\nاک عمر ہوئی دیکھتے نیرنگ زمانہ\nوہ اختر قسمت ہوں جو گردش میں رہا ہے\n\nکیوں خون جگر کھائیے تکمیل ہنر میں\nہر ناقص فن آج امیر الشعرا ہے\n\nاچھا نہیں ہوتا کبھی بیمار محبت\nالفت وہ مرض ہے کہ اجل جس کی دوا ہے\n\nبہتر ہے کہ باز آ ستم ایجاد و جفا سے\nاے چرخ برے کام کا انجام برا ہے\n\nآساں نہیں اے جان سفر ملک عدم کا\nسنتا ہوں کہ دشوار بہت راہ فنا ہے\n\nروشن ہے جہاں نور سے اس پردہ نشیں کے\nخورشید میں ذرہ رخ روشن کی ضیا ہے\n\nارباب کرم پھولتے پھلتے ہیں ہمیشہ\nسرسبز نہال کرم اہل سخا ہے\n\nناقص کے موافق ہے خلاف اہل ہنر کے\nبدلی ہوئی روشنؔ یہ زمانہ کی ہوا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر ایک کو نوکری نہیں ملنے کی", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر ایک کو نوکری نہیں ملنے کی\nہر باغ میں یہ کلی نہیں کھلنے کی\nکچھ پڑھ کے تو صنعت و زراعت کو دیکھ\nعزت کے لیے کافی ہے اے دل نیکی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%A9%D9%88_%D9%86%D9%88%DA%A9%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ہر ایک کو ہر مرتبہ حاصل نہیں ہوتا", "poet_page": "مصنف:عبد الہادی وفا", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وفا (1923)", "year": "1923", "text_ur": "ہر ایک کو ہر مرتبہ حاصل نہیں ہوتا\nآئینہ سکندر کے مقابل نہیں ہوتا\n\nبے لطف ہے وہ کام مصیبت نہیں جس میں\nبے قدر ہے وہ عقدہ جو مشکل نہیں ہوتا\n\nتم وصل میں دیوانگئ شوق سے ڈرنا\nمیں کشمکش ناز سے بیدل نہیں ہوتا\n\nکس کام کا اے قیس ترا چاک گریباں\nلیلیٰ کا اگر پردۂ محمل نہیں ہوتا\n\nمیں خرمن امید ہوں تو برق غضب ہے\nتجھ سے بجز افسوس کے حاصل نہیں ہوتا\n\nکیا ظلم ہے بے پردہ اسے غیر نے دیکھا\nکیوں پردہ مری آنکھ کا حائل نہیں ہوتا\n\nنالے سے نہ کیوں درد جگر اور بھی بڑھتا\nدشنے سے سوا زخم کے حاصل نہیں ہوتا\n\nہوں مثل حباب اور کہیں قطرہ ہوں کہیں موج\nمیں ذوق فنا سے کبھی غافل نہیں ہوتا\n\nکہتے ہیں مرے زخم یہ ہنس ہنس کے مزہ میں\nایسا نمکیں خندۂ قاتل نہیں ہوتا\n\nہاں غیر بھی کیا دعویٔ الفت میں ہے جھوٹا\nکہتے ہو کسی پر کوئی مائل نہیں ہوتا\n\nکھویا تمہیں عشاق کی بے حوصلگی نے\nمحشر میں تمہارا کوئی سائل نہیں ہوتا\n\nجادہ پہ چلے جاتے ہیں جو راست قدم ہیں\nیہ خضر جدا تا سر منزل نہیں ہوتا\n\nاندازہ ہمت سے کوئی شے نہیں بڑھتی\nیعنی خط ساغر خط ساحل نہیں ہوتا\n\nہر خال سیہ داغ جگر بن نہیں سکتا\nہر قطرۂ خوناب کبھی دل نہیں ہوتا\n\nتجھ کو ہی مگر آگ لگانی نہیں آتی\nکیا طور سے اچھا بھی کوئی دل نہیں ہوتا\n\nدنیا سے وفاؔ سرد یہاں تک ہے مرا دل\nمیں سوز جہنم کا بھی قائل نہیں ہوتا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D8%B1_%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ہر تبسم کو چمن میں گریہ ساماں دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر تبسم کو چمن میں گریہ ساماں دیکھ کر\nجی لرز جاتا ہے ان غنچوں کو خنداں دیکھ کر\n\nآخر آخر ہوش ہی وحشت بھی تھا حیرت بھی تھا\nدل کو عالم آفریں صحرا بداماں دیکھ کر\n\nشیوہ اپنا غم پرستی قبلہ اپنا خاک دل\nروح غم کو پیکر خاکی میں انساں دیکھ کر\n\nہر تسلی سے سوا ہوتی گئی دل کی تڑپ\nدرد کچھ سے کچھ ہوا سامان درماں دیکھ کر\n\nاس کو انعام خودی اور اس پر لطف بے خودی\nوہ کرم کرتے ہیں ظرف اہل عرفاں دیکھ کر\n\nمعنی صورت میں ہم نے تیری صورت دیکھ لی\nتیری قدرت دیکھ لی انساں کو انساں دیکھ کر\n\nقبر فانیؔ پر میں وہ برچیدہ دامن اے نسیم\nمنتشر کر خاک لیکن ان کا داماں دیکھ کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%AA%D8%A8%D8%B3%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی", "poet_page": "مصنف:عزیز الحسن غوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی\nاب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی\n\nوہ ریا جس پر تھے زاہد طعنہ زن\nپہلے عادت پھر عبادت ہو گئی\n\nجی رہا ہوں موت کی امید میں\nمر ہی جاؤں گا جو صحت ہو گئی\n\nلاکھ جھڑکو اب نہیں پھرتا ہے دل\nہو گئی اب تو محبت ہو گئی\n\nمنع شے واعظ ہے وجہ حرص شے\nاب تو مے سے اور رغبت ہو گئی\n\nیا تو مسجد رات دن یا مے کدہ\nکیا سے کیا اللہ حالت ہو گئی\n\nکر چکے رندی بس اب مجذوبؔ تم\nایک چلو میں یہ حالت ہو گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش\nکس کا ہے راز بحر میں یا رب کہ یہ ہیں جوش\n\nابروئے کج ہے موج کوئی چشم ہے حباب\nموتی کسی کی بات ہے سیپی کسی کا گوش\n\nان مغبچوں کے کوچے ہی سے میں کیا سلام\nکیا مجھ کو طوف کعبہ سے میں رند درد نوش\n\nحیرت سے ہووے پرتو مہ نور آئینہ\nتو چاندنی میں نکلے اگر ہو سفید پوش\n\nکل ہم نے سیر باغ میں دل ہاتھ سے دیا\nاک سادہ گل فروش کا آ کر سبد بہ دوش\n\nجاتا رہا نگاہ سے جوں موسم بہار\nآج اس بغیر داغ جگر ہیں سیاہ پوش\n\nشب اس دل گرفتہ کو وا کر بزور مے\nبیٹھے تھے شیرہ خانے میں ہم کتنے ہرزہ کوش\n\nآئی صدا کہ یاد کرو دور رفتہ کو\nعبرت بھی ہے ضرور ٹک اے جمع تیز ہوش\n\nجمشید جس نے وضع کیا جام کیا ہوا\nوے نصیحتیں کہاں گئیں کیدھر وے ناؤ نوش\n\nجز لالہ اس کے جام سے پاتے نہیں نشاں\nہے کوکنار اس کی جگہ اب سبو بہ دوش\n\nجھومے ہے بید جائے جوانان میگسار\nبالائے خم ہے خشت سر پیر مے فروش\n\nمیرؔ اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نے\nپر اے زباں دراز بہت ہو چکی خموش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%AC%D8%B2%D8%B1_%D9%88_%D9%85%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%D9%88_%D8%A8%D8%BA%D9%84_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%B1%D9%88%D8%B4"} {"title": "ہر جفا ان کی ہوئی ہم کو وفا سے بڑھ کر", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "ہر جفا ان کی ہوئی ہم کو وفا سے بڑھ کر\nاب نکالیں وہ کوئی ظلم جفا سے بڑھ کر\n\nسر تسلیم ہے خم تیری رضا کے آگے\nدے وہ رتبہ جو ہے تسلیم و رضا سے بڑھ کر\n\nکمسنی جن کی ہمیں یاد ہے اور کل کی ہی بات\nآج انہیں دیکھیے کیا ہو گئے کیا سے بڑھ کر\n\nاللہ اللہ خصوصیت ذات حسنین\nساری امت کے ہیں پوتوں سے نواسے بڑھ کر\n\nتجربہ کر لیا اور دیکھ لیا سب کو شرفؔ\nکوئی ہمدرد نہیں یاد خدا سے بڑھ کر", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%91%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہر حال میں آبروئے فن لازم ہے", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر حال میں آبروئے فن لازم ہے\nتقلید فصیحان وطن لازم ہے\nدریوزہ گری ہے عیب سن لیں احباب\nآپ اپنی زبان میں سخن لازم ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%81%D9%86_%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر حال میں رہا جو ترا آسرا مجھے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر حال میں رہا جو ترا آسرا مجھے\nمایوس کر سکا نہ ہجوم بلا مجھے\n\nہر نغمے نے انہیں کی طلب کا دیا پیام\nہر ساز نے انہیں کی سنائی صدا مجھے\n\nہر بات میں انہیں کی خوشی کا رہا خیال\nہر کام سے غرض ہے انہیں کی رضا مجھے\n\nرہتا ہوں غرق ان کے تصور میں روز و شب\nمستی کا پڑ گیا ہے کچھ ایسا مزا مجھے\n\nرکھیے نہ مجھ پہ ترک محبت کی تہمتیں\nجس کا خیال تک بھی نہیں ہے روا مجھے\n\nکافی ہے ان کے پائے حنابستہ کا خیال\nہاتھ آئی خوب سوز جگر کی دوا مجھے\n\nکیا کہتے ہو کہ اور لگا لو کسی سے دل\nتم سا نظر بھی آئے کوئی دوسرا مجھے\n\nبیگانۂ ادب کیے دیتی ہے کیا کروں\nاس محو ناز کی نگۂ آشنا مجھے\n\nاس بے نشاں کے ملنے کی حسرتؔ ہوئی امید\nآب بقا سے بڑھ کے ہے زہر فنا مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%A2%D8%B3%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "ہر حرف آرزو پہ کرے تھا وہ یار بحث", "poet_page": "مصنف:ممنونؔ نظام الدین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر حرف آرزو پہ کرے تھا وہ یار بحث\nایک ایک بات پر تھی اسے شب ہزار بحث\n\nلائے ہے کھینچ آرزوئے زخم دور سے\nکہو وار پر نہ قاتل خنجر گزار بحث\n\nحیرت زدوں کو محفل تصویر کی طرح\nنے ہے شعار رمز و کنایہ نہ کار بحث\n\nیا ذکر دوست یا ہے زباں پر حدیث عشق\nجوں اہل مدرسہ نہیں اپنا شعار بحث\n\nتکرار سے دل اپنا جو مانگا کہا کہ چل\nملتا ہے کوئی یہ نہ عبث بار بار بحث\n\nکیجے اگر گلہ تو طرف دار یار ہو\nآپ ہی لگائے مجھ سے دل بے قرار بحث\n\nممنوںؔ مجھے نصیحت صائبؔ یہ یاد ہے\nتا صلح ممکن است مکن زینہار بحث", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%AD%D8%B1%D9%81_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%92_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%88%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%AD%D8%AB"} {"title": "ہر حقیقت کو بانداز تماشا دیکھا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر حقیقت کو بانداز تماشا دیکھا\nخوب دیکھا ترے جلووں کو مگر کیا دیکھا\n\nجستجو میں تری یہ حاصل سودا دیکھا\nایک اک ذرہ کا آغوش طلب وا دیکھا\n\nآئینہ خانۂ عالم میں کہیں کیا دیکھا\nتیرے دھوکے میں خود اپنا ہی تماشا دیکھا\n\nہم نے ایسا نہ کوئی دیکھنے والا دیکھا\nجو یہ کہہ دے کہ ترا حسن سراپا دیکھا\n\nدل آگاہ میں کیا کہیے جگرؔ کیا دیکھا\nلہریں لیتا ہوا اک قطرے میں دریا دیکھا\n\nکوئی شائستہ و شایان غم دل نہ ملا\nہم نے جس بزم میں دیکھا اسے تنہا دیکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ہر خواہش و عرض و التجا سے توبہ", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر خواہش و عرض و التجا سے توبہ\nہر فکر سے ذکر سے دعا سے توبہ\nاز بس کہ محال ہے سمجھنا اس کا\nجو آئے سمجھ میں اس خدا سے توبہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B4_%D9%88_%D8%B9%D8%B1%D8%B6_%D9%88_%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%AC%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81"} {"title": "ہر دم دعائیں دینا ہر لحظہ آہیں بھرنا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر دم دعائیں دینا ہر لحظہ آہیں بھرنا\nان کا بھی کام کرنا اپنا بھی کام کرنا\n\nہاں کس کو ہے میسر یہ کام کر گزرنا\nاک بانکپن سے جینا اک بانکپن سے مرنا\n\nجو زیست کو نہ سمجھیں جو موت کو نہ جانیں\nجینا انہیں کا جینا مرنا انہیں کا مرنا\n\nتیری عنایتوں سے مجھ کو بھی آ چلا ہے\nتیری حمایتوں میں ہر ہر قدم گزرنا\n\nساحل کے لب سے پوچھو دریا کے دل سے پوچھو\nاک موج تہ نشیں کا مدت کے بعد ابھرنا\n\nاے شوق تیرے صدقے پہنچا دیا کہاں تک\nاے عشق تیرے قرباں جینا ہے اب نہ مرنا\n\nہر ذرہ آہ جس کا لبریز تشنگی ہے\nاس خاک کی بھی جانب اے ابر تر گزرنا\n\nدریا کی زندگی پر صدقے ہزار جانیں\nمجھ کو نہیں گوارا ساحل کی موت مرنا\n\nرنگینیاں نہیں تو رعنائیاں بھی کیسی\nشبنم سی نازنیں کو آتا نہیں سنورنا\n\nاشکوں کو بھی یہ جرأت اللہ ری تیری قدرت\nآنکھوں تک آتے آتے پھر دل میں جا ٹھہرنا\n\nاے جان ناز آ جا آنکھوں کی راہ دل میں\nان خشک ندیوں سے مشکل ہو کیا گزرنا\n\nہم بے خودان غم سے یہ راز کوئی سیکھے\nجینا مگر نہ جینا مرنا مگر نہ مرنا\n\nکچھ آ چلی ہے آہٹ اس پائے ناز کی سی\nتجھ پر خدا کی رحمت اے دل ذرا ٹھہرنا\n\nخون جگر کا حاصل اک شعر تر کی صورت\nاپنا ہی عکس جس میں اپنا ہے رنگ بھرنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7_%DB%81%D8%B1_%D9%84%D8%AD%D8%B8%DB%81_%D8%A2%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D9%86%D8%A7"} {"title": "ہر دم شگفتہ تر جو ہنسی میں دہن ہوا", "poet_page": "مصنف:منشی بہاری لال مشتاق دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر دم شگفتہ تر جو ہنسی میں دہن ہوا\nغنچہ سے پہلے گل ہوا گل سے چمن ہوا\n\nزاہد ہوا اسام ہوا برہمن ہوا\nاس رہ میں رہنما جو بنا راہزن ہوا\n\nصورت بدل گئی کوئی پہچانتا نہیں\nعاشق ترا وطن میں غریب الوطن ہوا\n\nقد سرو نرگس آنکھ دہن غنچہ گل عذار\nجلوہ سے اس کے خانۂ ویراں چمن ہوا\n\nغیروں نے بیٹھنے نہ دیا جب کہیں مجھے\nمیں انجمن میں منتظم انجمن ہوا\n\nطبع جفا شعار کی تفریح کے لئے\nنالہ مرا ترانۂ مرغ چمن ہوا\n\nمشتاقؔ صوفیوں میں تو تائب ہوا تھا کل\nسنتا ہوں آج رندوں میں توبہ شکن ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%D8%B4%DA%AF%D9%81%D8%AA%DB%81_%D8%AA%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%81%D9%86_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کا\nٹکڑا مرا جگر ہے کہو سنگ سخت کا\n\nسبزان ان رو کی جہاں جلوہ گاہ تھی\nاب دیکھیے تو واں نہیں سایہ درخت کا\n\nجوں برگ ہائے لالہ پریشان ہو گیا\nمذکور کیا ہے اب جگر لخت لخت کا\n\nدلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں\nتھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا\n\nخاک سیہ سے میں جو برابر ہوا ہوں میرؔ\nسایہ پڑا ہے مجھ پہ کسو تیرہ بخت کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC_%DA%A9%D8%B1%D8%AE%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہر ذرے پہ فضل کبریا ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر ذرے پہ فضل کبریا ہوتا ہے\nاک چشم زدن میں کیا سے کیا ہوتا ہے\nاصنام دبی زباں سے یہ کہتے ہیں\nوہ چاہے تو پتھر بھی خدا ہوتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B0%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D9%81%D8%B6%D9%84_%DA%A9%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا\nنکلے ہے جی ہی اس کے لیے کائنات کا\n\nبکھری ہے زلف اس رخ عالم فروز پر\nورنہ بناؤ ہووے نہ دن اور رات کا\n\nدر پردہ وہ ہی معنی مقوم نہ ہوں اگر\nصورت نہ پکڑے کام فلک کے ثبات کا\n\nہیں مستحیل خاک سے اجزائے نو خطاں\nکیا سہل ہے زمیں سے نکلنا نبات کا\n\nمستہلک اس کے عشق کے جانیں ہیں قدر مرگ\nعیسیٰ و خضر کو ہے مزہ کب وفات کا\n\nاشجار ہوویں خامہ و آب سیہ بحار\nلکھنا نہ تو بھی ہو سکے اس کی صفات کا\n\nاس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور\nشمع حرم ہو یا کہ دیا سومنات کا\n\nبالذات ہے جہاں میں وہ موجود ہر جگہ\nہے دید چشم دل کے کھلے عین ذات کا\n\nہر صفحے میں ہے محو کلام اپنا دس جگہ\nمصحف کو کھول دیکھ ٹک انداز بات کا\n\nہم مذنبوں میں صرف کرم سے ہے گفتگو\nمذکور ذکر یاں نہیں صوم و صلٰوۃ کا\n\nکیا میرؔ تجھ کو نامہ سیاہی کا فکر ہے\nختم رسل سا شخص ہے ضامن نجات کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B0%DB%8C_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A8%D8%A8_%D8%AC%D9%88_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہر روز خوشی ہے شب غم سے پامال", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر روز خوشی ہے شب غم سے پامال\nخالی کا ہے چاند بعد شہر شوال\nکس طرح قلقؔ عمر نہ روتے گزرے\nہوتا ہے محرم سے شروع ہر سال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%84"} {"title": "ہر روز نیا ایک تماشا دیکھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر روز نیا ایک تماشا دیکھا\nہر کوچے میں سو جوان رعنا دیکھا\nدلی تھی طلسمات کہ ہر جاگہ میرؔ\nان آنکھوں سے ہم نے آہ کیا کیا دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ہر روز ہمیں گھر سے صحرا کو نکل جانا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر روز ہمیں گھر سے صحرا کو نکل جانا\nکھیتوں کا مزہ لینا جنگل کو نکل جانا\n\nجی کیوں نہ بھلا ان کی پھر بھوں پہ لگے اپنا\nاک وسعت مشرب کے ہے ساتھ یہ ویرانا\n\nسطح پہ زمیں کی ہے تاحد نظر سبزہ\nکیا سیر کا عالم ہے اپنا ہے نہ بیگانا\n\nہم عشق حقیقی کے یہ رنگ سمجھتے ہیں\nنے لیلیٰ نہ مجنوں ہے نے شمع نہ پروانا\n\nجس حسن کے جلوے ہیں عارف کی نگاہوں میں\nوہ حسن بناوے ہے کعبے کو صنم خانا\n\nدیوانۂ شہری تو دیوار کا سایہ لے\nسائے میں مغیلاں کے بیٹھے گا یہ دیوانا\n\nغربت کے بیاباں میں ہے مصحفیؔ آوارا\nاے خضر خجستہ پے ٹک راہ تو بتلانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DA%A9%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "ہر زباں پر ہے گفتگو تیری", "poet_page": "مصنف:رادھے شیام رستوگی احقر", "kind": "poetry", "section": "غزل > نقشہاے رنگ رنگ (1929)", "year": "1929", "text_ur": "ہر زباں پر ہے گفتگو تیری\nہے ہر اک دل میں آرزو تیری\n\nمہر و مہ دونوں تجھ سے ششدر ہیں\nیہ تجلی ہے چار سو تیری\n\nمے سے اے شیخ گر طہارت کر\nآبرو ہو دم وضو تیری\n\nزلف سنبل ہے اور کمر رگ گل\nہے یہ تعریف مو بہ مو تیری\n\nگل نہ پھولیں سمائے جامہ میں\nگر صبا سے وہ پائیں بو تیری\n\nلائی آہو کو دام میں گویا\nآنکھ پر زلف مشکبو تیری\n\nدر دنداں پہ تو فدا احقرؔ\nچشم گریاں ہے آبرو تیری", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ہر زخم جگر کھایا ہے دل پر تن کر", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر زخم جگر کھایا ہے دل پر تن کر\nچھلنی کہ ہوا شکل کلیجا چھن کر\nپھر دیدۂ وحشی سے نظر ملتی ہے\nاب خاک مری اڑتی ہے ہرنی بن کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%D9%86_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہر سانس کے ساتھ جا رہا ہوں", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر سانس کے ساتھ جا رہا ہوں\nمیں تیرے قریب آ رہا ہوں\n\nیہ دل میں کراہنے لگا کون\nرو رو کے کسے رلا رہا ہوں\n\nاب عشق کو بے نقاب کر کے\nمیں حسن کو آزما رہا ہوں\n\nاسرار جمال کھل رہے ہیں\nہستی کا سراغ پا رہا ہوں\n\nتنہائی شام غم کے ڈر سے\nکچھ ان سے جواب پا رہا ہوں\n\nلذت کش آرزو ہوں فانیؔ\nدانستہ فریب کھا رہا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%AC%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہ", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہ\nکس درجہ دکھے دل کا رنگین ہے افسانہ\n\nجو کچھ تھا نہ کہنے کا سب کہہ گیا دیوانہ\nسمجھو تو مکمل ہے اب عشق کا افسانہ\n\nدو زندگیوں کا ہے چھوٹا سا یہ افسانہ\nلہرایا جہاں شعلہ اندھا ہوا پروانہ\n\nان رس بھری آنکھوں سے مستی جو ٹپکتی ہے\nہوتی ہے نظر ساقی دل بنتا ہے پیمانہ\n\nویرانے میں دیوانہ گھر چھوڑ کے آیا تھا\nجب ہوگا نہ دیوانہ گھر ڈھونڈھے گا ویرانہ\n\nافسانہ غم دل کا سننے کے نہیں قابل\nکہہ دیتے ہیں سب ہنس کر دیوانہ ہے دیوانہ\n\nجب عشق کے ماروں کا پرساں ہی نہیں کوئی\nپھر دونوں برابر ہیں بستی ہو کہ ویرانہ\n\nیہ آگ محبت کی پانی سے نہیں بجھتی\nپھر شمع سے جا لپٹا جلتا ہوا پروانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D8%BA%D9%85%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D9%86%D8%BA%D9%85%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "ہر سانس ہے شرح ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرے", "poet_page": "مصنف:دل شاہ جہانپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر سانس ہے شرح ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرے\nتکمیل وفا ہے مٹ جانا جینے کی تمنا کون کرے\n\nجو غافل تھے ہشیار ہوئے جو سوتے تھے بیدار ہوئے\nجس قوم کی فطرت مردہ ہو اس قوم کو زندہ کون کرے\n\nہر صبح کٹی ہر شام کٹی بیداد سہی افتاد سہی\nانجام محبت جب یہ ہے اس جنس کا سودا کون کرے\n\nحیراں ہیں نگاہیں دل بے خود محجوب ہے حسن بے پروا\nاب عرض تمنا کس سے ہو اب عرض تمنا کون کرے\n\nفطرت ہے ازل سے پابندی کچھ قدر نہیں آزادی کی\nنظروں میں ہیں دل کش زنجیریں رخ جانب صحرا کون کرے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D8%AD_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "ہر سخن میں وہ سحر کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:حسن بریلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر سخن میں وہ سحر کرتے ہیں\nمردے جیتے ہیں زندے مرتے ہیں\n\nدیکھ کر مجھ کو بولے دشمن سے\nایک دلبر پہ یہ بھی مرتے ہیں\n\nجو جواب سلام ان سے دلائے\nہم اسے سو سلام کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%AD%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہر سر میں یہ سودا ہے کہ میں ہی میں ہوں", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر سر میں یہ سودا ہے کہ میں ہی میں ہوں\nہر دل میں سمایا ہے کہ میں ہی میں ہوں\nاس نفس نے سب کو کر دیا ہے گمراہ\nعرفاں یہ دکھاتا ہے کہ میں ہی میں ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B3%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا\nموسیٰ نہیں کہ سیر کروں کوہ طور کا\n\nپڑھیے درود حسن صبیح و ملیح پر\nجلوہ ہر ایک پر ہے محمد کے نور کا\n\nتوڑوں یہ آئنہ کہ ہم آغوش عکس ہے\nہووے نہ مج کو پاس جو تیرے حضور کا\n\nبیکس کوئی مرے تو جلے اس پہ دل مرا\nگویا ہے یہ چراغ غریباں کی گور کا\n\nہم تو قفس میں آن کے خاموش ہو رہے\nاے ہم صفیر فائدہ ناحق کے شور کا\n\nساقی سے کہہ کہ ہے شب مہتاب جلوہ گر\nدے بسمہ پوش ہو کے تو ساغر بلور کا\n\nسوداؔ کبھی نہ مانیو واعظ کی گفتگو\nآوازۂ دہل ہے خوش آیند دور کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہر شب خیال غیر کے مارے الگ تھلگ", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر شب خیال غیر کے مارے الگ تھلگ\nآتے ہیں خواب میں وہ ہمارے الگ تھلگ\n\nگر غیر ساتھ سایہ کے صورت نہ تھا تو کیوں\nمثل صبا چمن سے سدھارے الگ تھلگ\n\nبلبل وہ ہوں کہ فصل کے پہلے ہی باغباں\nلیتا ہے باغ جس کا اجارے الگ تھلگ\n\nدام بلا میں پھنستے ہیں آپ آ کے سیکڑوں\nوہ بت ہزار بال سنوارے الگ تھلگ\n\nاے گل تجھے کسی کی نہ مطلق خبر ہوئی\nغنچے چٹک چٹک کے پکارے الگ تھلگ\n\nخلوت میں بھی جو آئے ہیں جلوت کا ذکر کیا\nبیٹھے ہوئے ہیں شرم کے مارے الگ تھلگ\n\nپیش نظر شبیہ خیالی ہے اپنی شادؔ\nنقشے جمے ہوئے ہیں ہمارے الگ تھلگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B4%D8%A8_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D9%84%DA%AF_%D8%AA%DA%BE%D9%84%DA%AF"} {"title": "ہر شجر کے تئیں ہوتا ہے ثمر سے پیوند", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر شجر کے تئیں ہوتا ہے ثمر سے پیوند\nآہ کو کیوں نہیں ہوتا ہے اثر سے پیوند\n\nدیکھنا زور ہی گانٹھا ہے دل یار سے دل\nسنگ و شیشے کو کیا ہے میں ہنر سے پیوند\n\nمژۂ خون دل آلودہ پہ یہ ہے قطرۂ اشک\nیوں ہے جیوں شاخ ہو مرجاں کی گہر سے پیوند\n\nمل رہا ہے ترے عارض سے خط مورچہ یہ\nجیسے آئینے کے جوہر ہو جگر سے پیوند\n\nسوزش اشک سے معلوم یہ ہوتا ہے مجھے\nقطرۂ آب بھی ہوتا ہے شرر سے پیوند\n\nتھان زربفت کے ہوتے تھے جہاں قطع حضورؔ\nجن کی پوشاک سدا ہوتی تھی زر سے پیوند\n\nاب پھٹا جامہ گزی کا نہیں گر ہے بھی کوئی\nتو نکالے کو نکلتا نہیں گھر سے پیوند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B4%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AB%D9%85%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%86%D8%AF"} {"title": "ہر شے مسافر، ہر چیز راہی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ہر شے مسافر، ہر چیز راہی\nکیا چاند تارے، کیا مرغ و ماہی\n\nتُو مردِ میداں، تُو میرِ لشکر\nنوری حضوری تیرے سپاہی\n\nکچھ قدر اپنی تُو نے نہ جانی\nیہ بے‌سوادی، یہ کم نگاہی!\n\nدنیائے دُوں کی کب تک غلامی\nیا راہبی کر یا پادشاہی\n\nپیرِ حرم کو دیکھا ہے میں نے\nکِردار بے سوز، گُفتار واہی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B4%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1%D8%8C_%DB%81%D8%B1_%DA%86%DB%8C%D8%B2_%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C"} {"title": "ہر صبح آوتا ہے تیری برابری کو", "poet_page": "مصنف:سراج الدین خان آرزو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر صبح آوتا ہے تیری برابری کو\nکیا دن لگے ہیں دیکھو خورشید خاوری کو\n\nدل مارنے کا نسخہ پہونچا ہے عاشقوں تک\nکیا کوئی جانتا ہے اس کیمیا گری کو\n\nاس تند خو صنم سے ملنے لگا ہوں جب سے\nہر کوئی جانتا ہے میری دلاوری کو\n\nاپنی فسوں گری سے اب ہم تو ہار بیٹھے\nباد صبا یہ کہنا اس دل ربا پری کو\n\nاب خواب میں ہم اس کی صورت کو ہیں ترستے\nاے آرزو ہوا کیا بختوں کی یاوری کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%A2%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D9%88"} {"title": "ہر صبح غموں میں شام کی ہے ہم نے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر صبح غموں میں شام کی ہے ہم نے\nخونابہ کشی مدام کی ہے ہم نے\nیہ مہلت کم کہ جس کو کہتے ہیں عمر\nمر مر کے غرض تمام کی ہے ہم نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%BA%D9%85%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92"} {"title": "ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذری", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذری\nہر شام نئی ایک مصیبت گذری\nپامال کدورت ہی رہا یاں دن رات\nیوں خاک میں ملتے مجھ کو مدت گذری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%DB%81_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DA%AF%D8%B0%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ہر صدائے عشق میں اک راز ہے", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر صدائے عشق میں اک راز ہے\nنالۂ دل غیب کی آواز ہے\n\nعشق نے دل کو پکارا اس طرح\nمیں یہ سمجھا آپ کی آواز ہے\n\nان سے مل کر میں انہیں میں کھو گیا\nاور جو کچھ ہے وہ آگے راز ہے\n\nحسن کے جلووں کو اپنے دل میں دیکھ\nلن ترانی دور کی آواز ہے\n\nوسعت تنظیم قدرت دیکھنا\nایک دل میں دو جہاں کا راز ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%A9_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر طرح سے ضائع ہے یہاں ہر اوقات", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر طرح سے ضائع ہے یہاں ہر اوقات\nمافات تلافی ہے تلاف مافات\nمعدوم ہے موجود تو موجود عدم\nاثبات نفی میں بھی ہے نفیٔ اثبات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B3%DB%92_%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D8%B9_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D9%82%D8%A7%D8%AA"} {"title": "ہر طرح کی دل میں چاہ کر کے چھوڑے", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر طرح کی دل میں چاہ کر کے چھوڑے\nمشغول فغاں و آہ کر کے چھوڑے\nیارب کبھی اس کا گھر نہ کرنا آباد\nجو غیر کا گھر تباہ کر کے چھوڑے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%92"} {"title": "ہر طرف انبساط ہے اے دل", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر طرف انبساط ہے اے دل\nاور ترے گھر میں رات ہے اے دل\n\nعشق ان ظالموں کی دنیا میں\nکتنی مظلوم ذات ہے اے دل\n\nمیری حالت کا پوچھنا ہی کیا\nسب ترا التفات ہے اے دل\n\nاور بیدار چل کہ یہ دنیا\nشاطروں کی بساط ہے اے دل\n\nصرف اس نے نہیں دیا مجھے سوز\nاس میں تیرا بھی ہات ہے اے دل\n\nمندمل ہو نہ جائے زخم دروں\nیہ مری کائنات ہے اے دل\n\nحسن کا ایک وار سہہ نہ سکا\nڈوب مرنے کی بات ہے اے دل", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%A7%D9%86%D8%A8%D8%B3%D8%A7%D8%B7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84"} {"title": "ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے\nراہ رو کوئی نہ ٹھوکر کھائے\n\nزندگی حرف غلط ہی نکلی\nہم نے معنی تو بہت پہنائے\n\nدامن خواب کہاں تک پھیلے\nریگ کی موج کہاں تک جائے\n\nتجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے\nاونچی دیوار کے لمبے سائے\n\nبند کلیوں کی ادا کہتی ہے\nبات کرنے کے ہیں سو پیرائے\n\nبام و در کانپ اٹھے ہیں باقیؔ\nاس طرح جھوم کے بادل آئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%A8%DA%A9%DA%BE%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہر طرف سوز کا انداز جداگانہ ہے", "poet_page": "مصنف:باسط بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر طرف سوز کا انداز جداگانہ ہے\nمطمئن شمع ہے یا رقص میں پروانہ ہے\n\nبرتر از وہم و تصور مرا مے خانہ ہے\nزندگی کیا ہے مری لغزش مستانہ ہے\n\nوہ جو اک شوق جنوں ساز کا افسانہ ہے\nآنکھ شاید کہے دل تو ابھی دیوانہ ہے\n\nہوش آیا نہ کبھی میں نے جنوں کو سمجھا\nداور حشر یہیں تک مرا افسانہ ہے\n\nاب نگہ ان کی نگاہوں سے ملے یا نہ ملے\nخود ہی پہنچے گا جو تقدیر کا پیمانہ ہے\n\nآپ سن لیں تو کچھ آ جائے اثر بھی شاید\nیوں تو ہر طرح مکمل مرا افسانہ ہے\n\nحسن اک پھول سہی نازک و رنگیں لیکن\nعشق سے دور ہے جب تک گل ویرانہ ہے\n\nکثرت فہم نے اتنا بھی سمجھنے نہ دیا\nمیں ہوں افسانہ کہ دنیا مرا افسانہ ہے\n\nاے خوشا طالع بیدار محبت باسطؔ\nآج ان کی بھی نظر میں مرا افسانہ ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر طرف مجمع عاشقاں ہے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر طرف مجمع عاشقاں ہے\nتیرے دم کا یہ سارا سماں ہے\n\nاتنا مغرور کیوں باغباں ہے\nیہ چمن چار دن میں خزاں ہے\n\nعشق میں بے خبر ہو گیا ہوں\nکس سے پوچھوں مرا دل کہاں ہے\n\nکچھ نہیں سوجھتی سیر گلشن\nمیری آنکھوں سے وہ گل نہاں ہے\n\nدھیان آٹھوں پہر ہے اسی کا\nمیں یہاں ہوں مرا دل وہاں ہے\n\nسینے پر رکھ کے سوتا ہوں اس کو\nاس کی تصویر آرام جاں ہے\n\nآنسو بہنے لگے دیکھتے ہی\nزلف محبوب ہے یا دھواں ہے\n\nجان پروانہ ہے اس پری پر\nشمع سوزاں ہر اک استخواں ہے\n\nبے مروت ہے وہ بے وفا ہے\nساری محنت مری رائیگاں ہے\n\nکیا تڑپتے گزرتے ہی اپنے\nدرد دل میں ہے لب پر فغاں ہے\n\nہجر میں کیوں نہیں موت آتی\nہائے کیا داغ دل مرض جاں ہے\n\nڈھونڈھتا ہوں میں یوسف کو اپنے\nخاک میرے پس کارواں ہے\n\nجام مل ہاتھ میں وہ بغل میں\nبحرؔ اپنی یہ قسمت کہاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D9%85%D8%AC%D9%85%D8%B9_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر طرف ہے اس سے میرے دل کے لگ جانے میں دھوم", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر طرف ہے اس سے میرے دل کے لگ جانے میں دھوم\nبلبل و گل میں ہے چہ چہ شمع و پروانے میں دھوم\n\nفتنہ گر ہے ناز و عشوہ اس کی چشم شوخ میں\nجوں مچاویں پی کے مے بدمست مے خانے میں دھوم\n\nیاد میں اپنی ہے شاید وہ فرامش کار بھی\nدل کرے ہے مجھ سے اس کی یاد دلوانے میں دھوم\n\nجس طرح باد خزاں دیدہ میں آتی ہے بہار\nشہر میں ہوتی ہے اس کے میرے گھر آنے میں دھوم\n\nنوبت اوروں کی تو اے ساقی سبو پرداز ہے\nکیا مچائی ہے ہمارے ایک پیمانے میں دھوم\n\nجوں بلندی سے گرے ہے خاک پر کوئی ضعیف\nہے مری اس شوخ کی نظروں سے گر جانے میں دھوم\n\nدیکھ تو لے سیر ہو کر تجھ کو یہ خانہ خراب\nآتے ہی کیا ہے تری اتنی بھی گھر جانے میں دھوم\n\nبرہمن ہونے کو آتا ہے نیا شیخ آج کون\nہو رہی ہے ہر طرف حسرتؔ صنم خانے میں دھوم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DA%AF_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%85"} {"title": "ہر طرف یار کا تماشا ہے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر طرف یار کا تماشا ہے\nاس کے دیدار کا تماشا ہے\n\nعشق اور عقل میں ہوئی ہے شرط\nجیت اور ہار کا تماشا ہے\n\nخلوت انتظار میں اس کی\nدر و دیوار کا تماشا ہے\n\nسینۂ داغ داغ میں میرے\nصحن گل زار کا تماشا ہے\n\nہے شکار کمند عشق سراجؔ\nاس گلے ہار کا تماشا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر طلب گار کو محنت کا صلہ ملتا ہے", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر طلب گار کو محنت کا صلہ ملتا ہے\nبت ہیں کیا چیز کہ ڈھونڈھے سے خدا ملتا ہے\n\nوقت پر کام نہ آیا دل ناشاد کبھی\nٹوٹ کر یہ بھی اسی شوخ سے جا ملتا ہے\n\nوہ جو انکار بھی کرتے ہیں تو کس ناز کے ساتھ\nمجھ کو ملنے میں نہ ملنے کا مزا ملتا ہے\n\nیہ کدورت یہ عداوت یہ جفا خوب نہیں\nمجھ کو مٹی میں ملا کر تمہیں کیا ملتا ہے\n\nنوحؔ ہم کو نظر آیا نہ یہاں بت بھی کوئی\nلوگ کہتے تھے کہ کعبہ میں خدا ملتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%AD%D9%86%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B5%D9%84%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر طور ہر طرح کی جو ذلت مجھی کو ہے", "poet_page": "مصنف:کیفی حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر طور ہر طرح کی جو ذلت مجھی کو ہے\nدنیا میں کیا کسی سے محبت مجھی کو ہے\n\nخود میں نے اپنے آپ کو بد نام کر دیا\nثابت ہوا کہ مجھ سے عداوت مجھی کو ہے\n\nتم بھی تو روز دیکھتے رہتے ہو آئینہ\nسچ بولو کیا پسند یہ صورت مجھی کو ہے\n\nتم کو تو کچھ ضرور نہیں پاس دوستی\nہاں یہ ضرور ہے کہ ضرورت مجھی کو ہے\n\nجب لطف تھا کہ اس کو بھی ہوتا مرا خیال\nکیفیؔ غضب تو یہ ہے محبت مجھی کو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D8%B1_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%B0%D9%84%D8%AA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر عداوت کی ابتدا ہے عشق", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر عداوت کی ابتدا ہے عشق\nکہ محبت کی انتہا ہے عشق\n\nلو زلیخا کو کب ہوا ہے عشق\nکس قدر طاقت آزما ہے عشق\n\nفلک و مدعی و یار و اجل\nسب بھلے ہیں مگر برا ہے عشق\n\nدیکھیے اس کا ہوگا کیا انجام\nاب خدا سے ہمیں ہوا ہے عشق\n\nہو چکا ہم سے کچھ جو ہونا تھا\nتو نے یہ حال کیا کیا ہے عشق\n\nوامق و قیس و کوہ کن کیا تھے\nاجل و آفت و بلا ہے عشق\n\nدیکھنا شوق و شرم کا شیوہ\nحسن خود بیں ہے خود نما ہے عشق\n\nکون جانے تھا اس کا نام و نمود\nمیری بربادی سے بنا ہے عشق\n\nدل کرو خوں تو کیا ہے دل داری\nجان جاتی رہے تو کیا ہے عشق\n\nغم زدائی میں غم فزا کیا کچھ\nدل ربا یا نہ جاں ربا ہے عشق\n\nبا وفا وہ ہیں بے وفا ہے حسن\nبے وفا ہم ہیں با وفا ہے عشق\n\nغمزہ سا غمزہ غم میں کرتا ہے\nکچھ سے کچھ اب تو ہو گیا ہے عشق\n\nکیسے کیسوں کی اس نے لی ہے جان\nدیکھنا کیا ہی خوش ادا ہے عشق\n\nکیوں کے ماتم نہ اب وفا کا رہے\nمیرے مرتے ہی مر مٹا ہے عشق\n\nدیکھنا مرگ و زیست کے جھگڑے\nجاں فزا حسن و جاں گزا ہے عشق\n\nویسا ہی ہے فرشتہ جیسی روح\nاے قلقؔ تیرا آشنا ہے عشق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D9%88%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "ہر عضو مسافر ہے نہیں کچھ سفری آنکھ", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر عضو مسافر ہے نہیں کچھ سفری آنکھ\nہے آخر شب عمر چراغ سحری آنکھ\n\nکیا کرتی ہے دل کش سخن اے رشک پری آنکھ\nلو سیکھ گئی طرز کلام بشری آنکھ\n\nان آنکھوں میں صانع نے بھرے کوٹ کے موتی\nقسمت یہ ہماری ہے کہ اشکوں سے بھری آنکھ\n\nباتیں جو کرو ناز سے تم منہ کو چھپا کر\nسننے کے لئے کان ہو اے رشک پری آنکھ\n\nآیا ہے مرے دل کا غبار آنسوؤں کے ساتھ\nلو اب تو ہوئی مالک خشکی و تری آنکھ\n\nاب تک وہی رونا ہے وہی حسرت دیدار\nہم مر گئے اس پر بھی یہ کافر نہ مری آنکھ\n\nتیار کیا خامۂ مو اپنے مژہ سے\nکھینچیں گے مگر نقشۂ نازک کمری آنکھ\n\nنرگس پہ نظر کیجے دوبارہ کہ وہ کٹ جائے\nہو جائے نظر ثانی میں اس کی نظری آنکھ\n\nصحبت کا اثر صاحب بینش کو ہو کیونکر\nعینک ہو اگر سبز نہ ہو جائے ہری آنکھ\n\nباتوں کو زباں مثل سخن منہ سے نکل جائے\nنظارے کو ہو پائے نگہ سے سفری آنکھ\n\nتیر مژہ یار کو مژگاں ہی سمجھتے\nکس آنکھ سے لڑتے ہی سدا بل بے جری آنکھ\n\nرفتار تو دکھلا کے زخود رفتہ بنا دو\nنرگس کی طرح ہے ہمہ تن کبک دری آنکھ\n\nدامن کی طرح چاک ہوے آنکھ کے پردے\nاو دست جنوں سے کہ گئی جامہ دری آنکھ\n\nجو اہل نظر میں کبھی خود بیں نہیں ہوتی\nدیکھو کہ ہے اس عیب نمایاں سے بری آنکھ\n\nکیا قہر سوا آیت ابرو ہوئی نازل\nڈر ہے نہ کرے دعویٔ پیغامبری آنکھ\n\nکشتی وہ لیے نوح کی مانند چلے آئیں\nطوفان بپا کر شب فرقت میں اری آنکھ\n\nرہتے ہیں وزیرؔ اشک کی جا ٹکڑے جگر کے\nان روزوں ہوئی کان عقیق جگری آنکھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%B9%D8%B6%D9%88_%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B3%D9%81%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE"} {"title": "ہر غم میں کریم ہے ہمارا", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر غم میں کریم ہے ہمارا\nاللہ رحیم ہے ہمارا\n\nکہتا ہے رحم کھا کے معبود\nیہ عبد یتیم ہے ہمارا\n\nصحت ہے مرض قضا شفا ہے\nاللہ حکیم ہے ہمارا\n\nتو خوش ہو کہ ہے دہان خنداں\nدل غم سے دو نیم ہے ہمارا\n\nقسمت میں جو ہے وہی ملے گا\nمقسوم قسیم ہے ہمارا\n\nدل غیرت گل ہے داغ غم سے\nدم رشک شمیم ہے ہمارا\n\nثابت ہے کہ دم میں کچھ کا کچھ ہے\nنادم جو ندیم ہے ہمارا\n\nمخلوق نہ سمجھے گناہ خالق\nاللہ حلیم ہے ہمارا\n\nحادث تیرے بت ہیں سب برہمن\nاللہ قدیم ہے ہمارا\n\nعادل ہے تو ارث حد میں کیا کیا\nگھر باغ نعیم ہے ہمارا\n\nآنکھیں نہیں پر ہے شوق دیدار\nدل عین کلیم ہے ہمارا\n\nکیا پیش نظر ہیں شبنم و گل\nگویا زر و سیم ہے ہمارا\n\nہر لحظہ ہے عرشؔ امید رحمت\nاللہ رحیم ہے ہمارا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D9%85_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7"} {"title": "ہر غنچے سے شاخ گل ہے کیوں نذر بکف", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر غنچے سے شاخ گل ہے کیوں نذر بکف\nہے روز خلافت شہنشاہ نجف\nحیدر ہوئے جانشین خاص نبوی\nہے آج طلوع نیر برج شرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D8%A7%D8%AE_%DA%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%D8%B0%D8%B1_%D8%A8%DA%A9%D9%81"} {"title": "ہر فصل میں ہوتے ہیں جواں سارے شجر", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر فصل میں ہوتے ہیں جواں سارے شجر\nہر سال نئے پھولتے پھلتے ہیں ثمر\nانساں کی کوئی فصل نہ پھر کر آئے\nاول ہی کا جھوکا ہے بہار آخر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D9%81%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B4%D8%AC%D8%B1"} {"title": "ہر قدم دورئ منزل ہے نمایاں مجھ سے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر قدم دورئ منزل ہے نمایاں مجھ سے\nمیری رفتار سے بھاگے ہے، بیاباں مجھ سے\n\nدرسِ عنوانِ تماشا، بہ تغافلِ خُوشتر\nہے نگہ رشتۂ شیرازۂ مژگاں مجھ سے\n\nوحشتِ آتشِ دل سے، شبِ تنہائی میں\nصورتِ دُود، رہا سایہ گُریزاں مجھ سے\n\nغمِ عشاق نہ ہو، سادگی آموزِ بُتاں\nکِس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے\n\nاثرِ آبلہ سے، جادۂ صحرائے جُنوں\nصُورتِ رشتۂ گوہر ہے چراغاں مجھ سے\n\nبیخودی بسترِ تمہیدِ فراغت ہو جو!\nپُر ہے سائے کی طرح، میرا شبستاں مجھ سے\n\nشوقِ دیدار میں، گر تُو مجھے گردن مارے\nہو نگہ، مثلِ گُلِ شمع، پریشاں مجھ سے\n\nبیکسی ہائے شبِ ہجر کی وحشت، ہے ہے!\nسایہ خُورشیدِ قیامت میں ہے پنہاں مجھ سے\n\nگردشِ ساغرِ صد جلوۂ رنگیں، تجھ سے\nآئینہ داریِ یک دیدۂ حیراں، مُجھ سے\n\nنگہِ گرم سے ایک آگ ٹپکتی ہے، اسدؔ!\nہے چراغاں، خس و خاشاکِ گُلستاں مجھ سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D9%82%D8%AF%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A6_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%86%D9%85%D8%A7%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے\nمنزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیے\n\nکیا مجھے خوش آئے یہ حیرت سرائے بے ثبات\nہوش اڑنے کے لیے ہے جان جانے کے لیے\n\nدل نے دیکھا ہے بساط قوت ادراک کو\nکیا بڑھے اس بزم میں آنکھیں اٹھانے کے لیے\n\nخوب امیدیں بندھیں لیکن ہوئیں حرماں نصیب\nبدلیاں اٹھیں مگر بجلی گرانے کے لیے\n\nسانس کی ترکیب پر مٹی کو پیار آ ہی گیا\nخود ہوئی قید اس کو سینے سے لگانے کے لیے\n\nجب کہا میں نے بھلا دو غیر کو ہنس کر کہا\nیاد پھر مجھ کو دلانا بھول جانے کے لیے\n\nدیدہ بازی وہ کہاں آنکھیں رہا کرتی ہیں بند\nجان ہی باقی نہیں اب دل لگانے کے لیے\n\nمجھ کو خوش آئی ہے مستی شیخ جی کو فربہی\nمیں ہوں پینے کے لیے اور وہ ہیں کھانے کے لیے\n\nاللہ اللہ کے سوا آخر رہا کچھ بھی نہ یاد\nجو کیا تھا یاد سب تھا بھول جانے کے لیے\n\nسر کہاں کے ساز کیسا کیسی بزم سامعین\nجوش دل کافی ہے اکبرؔ تان اڑانے کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D9%82%D8%AF%D9%85_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "ہر قطرے میں بحر معرفت مضمر ہے", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر قطرے میں بحر معرفت مضمر ہے\nہر اک ذرے میں کچھ نہ کچھ جوہر ہے\nہو چشم بصیرت تو ہر چیز اچھی\nگر آنکھ نہ ہو تو لعل بھی پتھر ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D9%82%D8%B7%D8%B1%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%AD%D8%B1_%D9%85%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%AA_%D9%85%D8%B6%D9%85%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر قلب پہ بجلیاں گراتی آئی", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر قلب پہ بجلیاں گراتی آئی\nایک آگ سی ہر طرف لگاتی آئی\nکھلتے جاتے ہیں زخم ہائے کہنہ\nپھر صبح بہار مسکراتی آئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D9%82%D9%84%D8%A8_%D9%BE%DB%81_%D8%A8%D8%AC%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ہر لحظہ رلاتا ہے کڑھاتا ہے مجھے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر لحظہ رلاتا ہے کڑھاتا ہے مجھے\nہر آن ستاتا ہے کھپاتا ہے مجھے\nکل میں جو کہا رنج سے حاصل میرے\nبولا ترا آزار خوش آتا ہے مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D9%84%D8%AD%D8%B8%DB%81_%D8%B1%D9%84%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DA%91%DA%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "ہر لمحہ عطا کرتا ہے پیمانہ سا اک شخص", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر لمحہ عطا کرتا ہے پیمانہ سا اک شخص\nآنکھوں میں لیے بیٹھا ہے مے خانہ سا اک شخص\n\nاور اس کے سوا انجمن ناز میں کیا ہے\nہے شمع سا اک شخص تو پروانہ سا اک شخص\n\nخاموش نگاہوں میں قیامت کا اثر تھا\nگزرا ہے سناتا ہوا افسانہ سا اک شخص\n\nاک حسن مکمل ہے تو اک عشق سراپا\nہشیار سا اک شخص ہے دیوانہ سا اک شخص\n\nہم جلوۂ اصنام سے بیزار ہیں لیکن\nملتا ہے وہاں روح صنم خانہ سا اک شخص", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D9%84%D9%85%D8%AD%DB%81_%D8%B9%D8%B7%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B3%D8%A7_%D8%A7%DA%A9_%D8%B4%D8%AE%D8%B5"} {"title": "ہر محفل سے بہ حال خستہ نکلا", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر محفل سے بہ حال خستہ نکلا\nہر بزم طرب سے دل شکستہ نکلا\nمنزل ہی نہیں یہاں مسافر کے لیے\nسمجھا تھا جسے مقام رستہ نکلا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AE%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "ہر مصیبت بھی شادمانی تھی", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر مصیبت بھی شادمانی تھی\nاک بلا تھی کہ نوجوانی تھی\n\nالفت اک کاوش نہانی تھی\nکسی صورت سے موت آنی تھی\n\nجستجو نے ملا دیا تجھ سے\nراز جوئی بھی راز دانی تھی\n\nوہ تھے اور خواب عیش کی لذت\nہم تھے اور درد کی کہانی تھی\n\nجس سے تسکین ہو گئی دل کی\nنامہ بر کی غلط بیانی تھی\n\nروح پرور تھا درد دل اپنا\nمیہمانی بھی میزبانی تھی\n\nہم بھی رہتے تھے ان کی نظروں میں\nکبھی ہم پر بھی مہربانی تھی\n\nکس نے کھویا ہمیں زمانہ سے\nکیا کہیں کس کی مہربانی تھی\n\nاس کے ہاتھوں منیرؔ مرنا تھا\nپھر تو یہ موت زندگانی تھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "ہر چشم سے چشمے کی روانی ہو جائے", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر چشم سے چشمے کی روانی ہو جائے\nپھر تازہ مری مرثیہ خوانی ہو جائے\nفضل باری سے ہوں یہ آنسو جاری\nساون کی گھٹا شرم سے پانی ہو جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D8%B4%D9%85%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہر چند امردوں میں ہے اک راہ کا مزا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر چند امردوں میں ہے اک راہ کا مزا\nغیر از نسا ولے نہ ملا چاہ کا مزا\n\nخطرے سے اس کے کر نہیں سکتا میں آہ بھی\nلیتا ہوں جی ہی جی میں سدا آہ کا مزا\n\nاپنی تو عمر روز سیہ میں گزر گئی\nدیکھا کبھی نہ ہم نے شب ماہ کا مزا\n\nباللہ کہہ کے اس نے قسم کھائی تھی کہیں\nواللہ بھولتا نہیں باللہ کا مزا\n\nبوسے کے جو سوال پہ اس نے کہا تھا واہ\nاب تک پھرے ہے دل میں وہی واہ کا مزا\n\nلذت کو اس کے سمجھیں ہیں کیا صاحب ورع\nکوئی پوچھے اہل فسق سے تو باہ کا مزا\n\nکیا وہ بھی دن تھے خوب کہ لوٹیں تھے مصحفیؔ\nہم بھی نظارۂ گہہ و بے گاہ کا مزا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D8%A7%D9%85%D8%B1%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B2%D8%A7"} {"title": "ہر چند بھرے دل میں ہیں لاکھوں ہی گلے پر", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر چند بھرے دل میں ہیں لاکھوں ہی گلے پر\nکیا کہئے کہ کھلتا نہیں منہ وقت ملے پر\n\nبے درد وہ ایسا ہے کہ مرہم کی جگہ ہائے\nچھڑکے ہے نمک میرے ہر اک زخم چھلے پر\n\nتا دل کو نہ واشد ہو تو کیا لطف ملے ہائے\nکھلتی ہے جو بو غنچۂ گل کی تو کھلے پر\n\nمشہور جوانی میں ہو وہ کیوں نہ جگت باز\nمیلان طبیعت تھا لڑکپن سے ضلے پر\n\nہم گلشن حیرت میں ہیں پرواز کہاں کی\nجوں بلبل تصویر کبھی ٹک نہ ہلے پر\n\nسن وصف دہن دیجئے کچھ منہ سے پیارے\nمجھ شاعر مفلس کی ہے گزران صلے پر\n\nکس منہ سے بیاں کیجئے وہ لطف کہ جرأتؔ\nدشنام جو واں ملتی ہیں ٹک آنکھ ملے پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%92_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "ہر چند بہار و باغ ہے یہ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر چند بہار و باغ ہے یہ\nپر کس کو دل و دماغ ہے یہ\n\nہے بوند عرق کی زلف کے بیچ\nیا گوہر شب چراغ ہے یہ\n\nکیا لالے کو نسبت اپنے دل سے\nیعنی کہ تمام داغ ہے یہ\n\nدر گزرے ہم ایسی زندگی سے\nدنیا میں اگر فراغ ہے یہ\n\nپھر اتنی درنگ کیا ہے ساقی\nمے ہے یہ اور ایاغ ہے یہ\n\nایسا گیا مصحفیؔ جہاں سے\nیارو مرے دل پہ داغ ہے یہ\n\nجو پھر نہ کہا کسو نے اتنا\nاس گم شدہ کا سراغ ہے یہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81"} {"title": "ہر چند دکھ دہی سے زمانے کو عشق ہے", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر چند دکھ دہی سے زمانے کو عشق ہے\nلیکن مرے بھی تاب کے لانے کو عشق ہے\n\nآشفتہ سر ہیں یاں دل صد چاک بھی کئی\nتنہا نہ تیری زلف سے شانے کو عشق ہے\n\nافلاک بیٹھے جائیں تھے جس بوجھ کے تلے\nآدم کے ویسے بار اٹھانے کو عشق ہے\n\nوحشت کو اپنی شہر و بیاباں میں جا نہیں\nعاقل کو اب دعا و دوانے کو عشق ہے\n\nیارب بن آئی آدمی مر جائے پر نہ ہو\nوہ رنج بد بلا جو کہانے کو عشق ہے\n\nدل کو چھٹا وہیں سے پھنسایا تو زلف میں\nاے عشق تیرے بات بڑھانے کو عشق ہے\n\nقائمؔ ہوس سے گو کہ کہی سب نے یہ غزل\nلیکن ترے ردیف بٹھانے کو عشق ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D8%AF%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%DB%81%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر چند لطف و مہربانی پیش آئے", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر چند لطف و مہربانی پیش آئے\nہرگز کوئی اس شوخ کو ساقی نہ بنائے\nمحفل میں شراب کس کو پہنچی جب جام\nرخنہ گریٔ مژہ سے چھلنی بن جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D9%88_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%B4_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہر چند کہ اب مجھ سے ستم اٹھ نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر چند کہ اب مجھ سے ستم اٹھ نہیں سکتا\nلیکن ترے کوچے سے قدم اٹھ نہیں سکتا\n\nکیا ضعف نے شرمندہ کیا صبر کے آگے\nفرقت میں جو یہ بار الم اٹھ نہیں سکتا\n\nجو کعبہ میں ہے ہے وہی بت خانے میں جلوہ\nاک پردہ ہے سو شیخ حرم اٹھ نہیں سکتا\n\nتو ہووے خفا اور نہ در سے ترے اٹھوں\nسر ہی ترے قدموں کی قسم اٹھ نہیں سکتا\n\nعالم میں لٹائی ہے بڑی حسن کی دولت\nمیری ہی طرف دست کرم اٹھ نہیں سکتا\n\nگو پیچ تو ہے کوچۂ دل دار میں یا رب\nاٹھا تو قدم سوئے ارم اٹھ نہیں سکتا\n\nعارفؔ کو جو دیکھا ہے تو چلنے میں ہوا ہے\nلیکن ترے کوچے سے قدم اٹھ نہیں سکتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ہر چند کہ بات اپنی کب لطف سے خالی ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر چند کہ بات اپنی کب لطف سے خالی ہے\nپر یار نہ سمجھیں تو یہ بات نرالی ہے\n\nآغوش میں ہے وہ اور پہلو مرا خالی ہے\nمعشوق مرا گویا تصویر خیالی ہے\n\nکیا ڈر ہے اگر اس نے در سے مجھے اٹھوایا\nکہتے ہیں تغیری میں عاشق کی بحالی ہے\n\nبالیں پہ جب آیا ہے بیمار کی تو اپنے\nتب روح کے قابض نے جان اس کی نکالی ہے\n\nمیں حال بیاں اپنا کرتا ہوں غزل کہہ کے\nاس واسطے اب میرا جو شعر ہے حالی ہے\n\nمہندی کے لگانے میں پھرتی یہ نہیں دیکھی\nظالم نے ہتھیلی پر سرسوں سی جما لی ہے\n\nہر چند کہ پروانہ جل جانے میں ہے آندھی\nپر شمع بھی آتش میں جی جھونکنے والی ہے\n\nمانی نے شبیہ اس کی کیا سوچ کے کھینچی تھی\nموئے کمر اس کے کی تصویر خیالی ہے\n\nظاہر ہے کہ جاگے ہو تم رات کہیں رہ کر\nآنکھوں میں نشے کی تو کچھ تھوڑی سی لالی ہے\n\nمقدور مگر کب تھا قربان ہیں ہم اس کے\nدامن کی ترے جس نے یہ جھونک سنبھالی ہے\n\nاے مصحفیؔ ہے تیرا اتنا جو سخن چسپاں\nکیا تو نے جواں درزن گھر میں کوئی ڈالی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A8_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہر چند کہ خستہ و حزیں ہے آواز", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر چند کہ خستہ و حزیں ہے آواز\nپر تعزیہ دار شاہ دیں ہے آواز\nنکلے نہ اگر کنج دہن سے تو بجا\nماتم کے ہیں دن سوگ نشیں ہے آواز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%81_%D8%AE%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D9%88_%D8%AD%D8%B2%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2"} {"title": "ہر چند کہ دوستی میں کامل ہونا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر چند کہ دوستی میں کامل ہونا\nممکن نہیں یک زبان و یک دل ہونا\nمیں تجھ سے اور مجھ سے تو پوشیدہ\nہے مفت نگاہ کا مقابل ہونا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%84_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "ہر چند کہ دیکھے ہے وہ پیار کی آنکھوں سے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر چند کہ دیکھے ہے وہ پیار کی آنکھوں سے\nپر نکلے ہے بے رنگی اس پار کی آنکھوں سے\n\nشدت سے لگا ہنسنے احوال پہ گر میرے\nآنسو بھی کبھی ٹپکے مکار کی آنکھوں سے\n\nبے طاقتیٔ دل کا کیا شرح و بیاں کیجئے\nبیماری نمایاں ہے بیمار کی آنکھوں سے\n\nہے تیغ نگہ کھینچے شمشیر بکف مژگاں\nاب جیتے نہیں بچتے خوں خار کی آنکھوں سے\n\nلاکھوں ہی کی آنکھوں سے آنکھوں تری بہتر ہیں\nکیا اچھی ہیں اے پیاسے وہ چار کی آنکھوں سے\n\nمت اہل دلوں سے کر ہم چشمی اے آئینے\nغافل نہ ملا آنکھیں بیدار کی آنکھوں سے\n\nہر طرح سے دیکھا وہ دیکھ ہی لیتا ہے\nتیاری کرے کیا کوئی عیار کی آنکھوں سے\n\nاتنی بھی رسائی ہو ؔجوشش تو غنیمت ہے\nخاک کف پا ملئے دل دار کی آنکھوں سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ہر چند کہ وہ جواں نہیں ہم", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر چند کہ وہ جواں نہیں ہم\nاتنے بھی تو ناتواں نہیں ہم\n\nقیمت ہے ہماری اک تبسم\nاس نرخ پہ کچھ گراں نہیں ہم\n\nہیں کنج قفس کے رہنے والے\nپروردۂ آشیاں نہیں ہم\n\nکیوں در پہ رہیں ہمیشہ بیٹھے\nکچھ آپ کے پاسباں نہیں ہم\n\nتصویر کسی کی دیکھتے ہیں\nمحو گل و بوستاں نہیں ہم\n\nگر آنکھ ذرا بھی تو نے پھیری\nتو گردش آسماں نہیں ہم\n\nہاتھوں سے ترے بہار خوبی\nشرمندۂ برگ پاں نہیں ہم\n\nتم تک بھی پہنچ رہیں گے آخر\nکچھ دور تو ہمرہاں نہیں ہم\n\nکس روز جراحتوں پہ دل کی\nاشکوں سے نمک فشاں نہیں ہم\n\nمجلس سے کرے ہے ہم کو باہر\nگویا کہ مزاج داں نہیں ہم\n\nسائے سے ہمارے اتنی نفرت\nکافر بھی تو اے بتاں نہیں ہم\n\nہے چار طرف ہمارا جلوہ\nڈھونڈے جو کوئی کہاں نہیں ہم\n\nیعنی کہ برنگ نکہت گل\nپردے میں ہیں اور نہاں نہیں ہم\n\nملتا ہے ہر اک سے مصحفیؔ یار\nسمجھے ہے کہ بد گماں نہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "ہر چند کہ ہو مریض محتاط", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر چند کہ ہو مریض محتاط\nکیا کر سکے با فساد اخلاط\n\nادریس کی سالہا رہی ہے\nکوچے میں ترے دکان خیاط\n\nرخ پر ترے دیکھ سبزۂ خط\nحیران ہیں سب جہاں کے خطاط\n\nجتنی مرے دل میں ہے تیری چاہ\nکم ہوگی نہ اس سے نیم قیراط\n\nخوں سے ترے بسملوں کے دیکھی\nکوچے میں ترے بچھی سقرلاط\n\nقد اس کا نہیں اگرچہ کوتہ\nہے جسم کی لاغری بہ افراط\n\nاے یارو نہ مصحفیؔ کو کوئی\nسمجھو نہ کم از رشید وطواط", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%B6_%D9%85%D8%AD%D8%AA%D8%A7%D8%B7"} {"title": "ہر چند گدا ہوں میں ترے عشق میں لیکن", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "ہر چند گدا ہوں میں ترے عشق میں لیکن\nان بو الہوسوں میں کوئی مجھ سا بھی غنی ہے\nہر اشک مرا ہے در شہوار سے بہتر\nہر لخت جگر رشک عقیق یمنی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%DA%AF%D8%AF%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86"} {"title": "ہر چند گناہوں سے ہوں میں نامہ سیاہ", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہر چند گناہوں سے ہوں میں نامہ سیاہ\nرحمت ہے کثیر اس کی مصحف ہے گواہ\nزاہد ناجی ہوا اور مجرم ناری\nلا حول ولا قوۃ الا باللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81"} {"title": "ہر چیز میں عکس رخ زیبا نظر آیا", "poet_page": "مصنف:عزیز الحسن غوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر چیز میں عکس رخ زیبا نظر آیا\nعالم مجھے سب جلوہ ہی جلوہ نظر آیا\n\nتو کب کسی طالب کو سراپا نظر آیا\nدیکھا تجھے اتنا جسے جتنا نظر آیا\n\nکیں بند جب آنکھیں تو مری کھل گئیں آنکھیں\nکیا تم سے کہوں پھر مجھے کیا کیا نظر آیا\n\nجب مہر نمایاں ہوا سب چھپ گئے تارے\nتو مجھ کو بھری بزم میں تنہا نظر آیا\n\nگردوں کو بھی اب دیکھ کے ہوتی ہے تسلی\nغربت میں یہی ایک شناسا نظر آیا\n\nسب دولت کونین جو دی عشق کے بدلے\nاس بھاؤ یہ سودا مجھے سستا نظر آیا\n\nناکام ہی تا عمر رہا طالب دیدار\nہر جلوہ ترا بعد کو پردا نظر آیا\n\nجو دور نگاہوں سے سر عرش بریں ہے\nوہ نور سر گنبد خضرا نظر آیا\n\nمجذوبؔ کبھی سوز کبھی ساز ہے تجھ میں\nتو میرؔ کبھی اور کبھی سوداؔ نظر آیا\n\nمجذوبؔ کے جذبے کی جو سمجھے نہ حقیقت\nان عقل کے اندھوں کو یہ سودا نظر آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%DB%8C%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%D8%B1%D8%AE_%D8%B2%DB%8C%D8%A8%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہر چیز ہے محوِ خود نمائی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ہر چیز ہے محوِ خود نمائی\nہر ذرّہ شہیدِ کبریائی\n\nبے ذوقِ نمود زندگی، موت\nتعمیرِ خودی میں ہے خدائی\n\nرائی زورِ خودی سے پربت\nپربت ضعفِ خودی سے رائی\n\nتارے آوارہ و کم آمیز\nتقدیرِ وجُود ہے جُدائی\n\nیہ پچھلے پہر کا زرد رُو چاند\nبے راز و نیازِ آشنائی\n\nتیری قندیل ہے ترا دل\nتُو آپ ہے اپنی روشنائی\n\nاک تُو ہے کہ حق ہے اس جہاں میں\nباقی ہے نُمودِ سِیمیائی\n\nہیں عقدہ کُشا یہ خارِ صحرا\nکم کر گِلۂ برہنہ پائی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%86%DB%8C%D8%B2_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AD%D9%88%D9%90_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ہر کسی کوں گزر عشق میں آناں مشکل", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر کسی کوں گزر عشق میں آناں مشکل\nراہ سیدھی ہے ولے راہ کوں پاناں مشکل\n\nکس طرح کیجئے فکر شرر افشانی اشک\nجب کہ پانی میں لگی آگ بجھاناں مشکل\n\nخوب لگتی ہے ترے چیرۂ نکدار کی سج\nجس طرح دل میں چبھی ہے سو بتاناں مشکل\n\nپھول میرے کوں اگر پھول کہوں بھولے سیں\nپھول کوں پھول کے پھولوں میں سماناں مشکل\n\nآتشیں رو سیں نہاں کیونکہ رکھوں سوز جگر\nجان جاتا ہے سراجؔ اب تو چھپاناں مشکل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84"} {"title": "ہر گل اس باغ کا نظروں میں دہاں ہے گویا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر گل اس باغ کا نظروں میں دہاں ہے گویا\nصورت غنچہ جو دیکھوں تو زباں ہے گویا\n\nتاک کی طرح سبھی مست پڑے اینڈیں ہیں\nمے کدہ اب گرو بادہ کشاں ہے گویا\n\nچشم ہے ترک نگہ نیزہ و مژگاں ترکش\nزلف پر پیچ کا ہر حلقہ کماں ہے گویا\n\nجا بھڑاتا ہے ہمیشہ مجھے خوں خواروں سے\nدل بغل بیچ مرا دشمن جاں ہے گویا\n\nحاتمؔ اب اس کی سبھی منہ کی طرف دیکھے ہیں\nشیشہ مجلس میں یہاں پیر مغاں ہے گویا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہر گھڑی انقلاب میں گزری", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر گھڑی انقلاب میں گزری\nزندگی کس عذاب میں گزری\n\nشوق تھا مانع تجلی دوست\nان کی شوخی حجاب میں گزری\n\nکرم بے حساب چاہا تھا\nستم بے حساب میں گزری\n\nورنہ دشوار تھا سکون حیات\nخیر سے اضطراب میں گزری\n\nراز ہستی کی جستجو میں رہے\nرات تعبیر خواب میں گزری\n\nکچھ کٹی ہمت سوال میں عمر\nکچھ امید جواب میں گزری\n\nکس خرابی سے زندگی فانیؔ\nاس جہان خراب میں گزری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ہر گھڑی مت روٹھ اس سے پھیر پل میں مل نہ جا", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر گھڑی مت روٹھ اس سے پھیر پل میں مل نہ جا\nگر بھلا مانس ہے اس کوچہ میں تو اے دل نہ جا\n\nاول عشق ان بتوں کا لطف ہے دام فریب\nاس کی مہر و دلبری پر اے دل مائل نہ جا\n\nتیغ کیں سے خاک و خوں میں کر لیا ہائے مجھے\nرقص بسمل کا تماشا دیکھ اے قاتل نہ جا\n\nہم سری کا اس قد موزوں سے تو دعویٰ نہ کر\nاپنی حد سے باہر اے شمشاد پادر گل نہ جا\n\nعشق کے کو میں کہ ہے جائے ملامت بے خبر\nآنا پھر واں سے سلامت ہے بہت مشکل نہ جا\n\nزاہدا رندوں کی گستاخی کو خاطر میں نہ لا\nہم سے دیوانوں کی باتوں پر تو اے عاقل نہ جا\n\nہاتھ ملتا ہی رہا حسرتؔ دل اس کو دے کے حیف\nہاتھ سے ایسی طرح یارب کسی کا دل نہ جا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%D9%85%D8%AA_%D8%B1%D9%88%D9%B9%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "ہر گھڑی چلتی ہے تلوار ترے کوچے میں", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر گھڑی چلتی ہے تلوار ترے کوچے میں\nروز مر رہتے ہیں دو چار ترے کوچے میں\n\nحال سر کا مرے ظاہر ہے ترے کیا کیجے\nکوئی ثابت بھی ہے دیوار ترے کوچے میں\n\nشکل کو کیونکہ نہ ہر دفعہ بدل کر آؤں\nہیں مری تاک میں اغیار ترے کوچے میں\n\nغم سے بدلی ہے مری شکل تو بے خوف و خطر\nدن کو بھی آتے ہیں سو بار ترے کوچے میں\n\nنہ کرے سوئے چمن بھول کے بھی رخ ہرگز\nآن کر بلبل گل زار ترے کوچے میں\n\nنرگستاں نہ سمجھ کھولی ہوئی آنکھوں کو\nہیں ترے طالب دیدار ترے کوچے میں\n\nلائے جب گھر سے تو بے ہوش پڑا تھا عارفؔ\nہو گیا آن کے ہشیار ترے کوچے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہر ہر ورق پہ کیوں کہ لکھوں داستان ہجر", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہر ہر ورق پہ کیوں کہ لکھوں داستان ہجر\nآتا نہیں زبان قلم پر بیان ہجر\n\nظاہر اگرچہ تازہ و تر مثل لالہ ہوں\nمجھ دل میں جانشین ہے داغ نہان ہجر\n\nپژمردہ کیوں نہ ہوئے گل امید عاشقاں\nبہتی ہے دل کے باغ میں باد خزان ہجر\n\nآب حیات وصل سیں دے عمر جاوداں\nہے بے قرار غم سیں ترے نیم جان ہجر\n\nوہ عاشقی کی مثل میں منظور ہے مدام\nچلے میں غم کے بیٹھ جو کھینچا کمان ہجر\n\nنیں سیر لالہ زار کی عاشق کوں آرزو\nاز بس ہے داغ سینہ گل بوستان ہجر\n\nجاری بہ راہ چشم ستی خون دل سراجؔ\nجب سیں مرے جگر میں لگی ہے سنان ہجر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1_%DB%81%D8%B1_%D9%88%D8%B1%D9%82_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%DB%81%D8%AC%D8%B1"} {"title": "ہرجائی", "poet_page": "مصنف:قاضی عبدالغفار", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "مشرب رندانہ، مزاج محرور، طبیعت آزاد، عقائد لامذہبی کی طرف مائل اور پیشہ اخبار نویسی۔ جنگ یورپ شروع ہو چکی تھی۔ میرا اخبار بمبئی سے شائع ہوتا تھا۔ اور اس زمانہ میں بہت مقبول تھا۔ حکومت کی ٹیڑھی نظریں مجھ پر پڑ رہی تھیں۔ میں بھی چھیڑ سے باز نہ آتا ، اور کچھ نہیں تو میدان جنگ کی خبروں پر سرخیاں ایسی ہی لکھتا تھا جیسے سانپ بچھوؤں کے ڈنک اتحادیوں کی فتح کو بھی شکست بنادیتا تھا اور دشمن کی شکست بھی میرے اخبار کے کالموں میں ’’شاندار مدافعت‘‘ کے نام سے یاد کی جاتی تھی!۔۔۔ پھر کیا تعجب ہے کہ حکومت مجھ سے حددرجہ ناخوش تھی۔\n\nغضب یہ ہو ا کہ اسی زمانہ میں افغانستان کی طرف سے خطرات پیدا ہونے لگے۔ افغانوں سے میرے تعلقات وسیع تھے لہٰذا اب تو خفیہ پولیس کی نگرانی مجھ پر اتنی سخت ہوگئی کہ اگر گھر میں بیٹھ کر روٹی بھی کھاتا تو نوالوں کی صحیح تعداد پولیس کے رجسٹر میں درج ہو جاتی تھی!۔۔۔ یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے۔\n\nمیرا معمول یہ تھا کہ ہر شنبہ کی شام کو چند دوستوں کے ساتھ شہر کے باہرایک لکھ پتی دوست کے باغ کی صحبت عیش میں شریک ہوا کرتا تھا،یک شنبہ کا پورا یوم تعطیل وہیں گذرتا تھا، دوشنبہ کی صبح کو میں شہر واپس آتاتھا۔ یہ باغ ایک نوجوان بوہرے سوداگر کا تھا اور اس صحبت احباب میں میرے ایک خاص ہم نفس کلکتہ کے ایک نوجوان بیرسٹر تھے جواب ایک بڑے عہدے پر فائز ہیں۔ ہر ہفتہ کم از کم ۲۴ گھنٹہ، اس طرح بسر ہوتے کہ کچھ موسیقی کا شغل ہے کچھ لطیف اغذیہ ہیں اگر چاندنی رات ہے تو باغ کے وسط میں مرمریں حوض کا کنارہ ہے، کبھی قوالی ہے، کبھی ناچ اور گانا ہے، ہو حق ہے اور اس کے تمام یا اکثر محقات!!\n\nاس طرح شنبہ کی شام کو ایک دفعہ ہم سب وہاں گئے، یک شنبہ کو دن بھر شطرنج اور تاش کا شغل ہوتا رہا، رات کو ایک مشہور مغنیہ نے اس محفل کو اپنی موجودگی سے نوازا، دو بجے تک گانا ہوتا رہا جوانوں کی محفل میں اگر شام سے صبح تک طبلہ نہ کھڑکے تو پھر وہ محفل ننگ جوانی ہے!! مگر ’’بی صاحبہ‘‘ تھکی ہوئی تھیں، دوہی بجے گھر چلی گئیں۔ کچھ دیر توہم سب لب حوض پڑے ہوئے خود ہی گایا بجایاکیے اس کے بعد جوانی پر نیند غالب آئی، صبح سب کوشہر واپس جاناتھا، اس لیے اپنے اپنے بستر پر جا پڑے۔۔۔\n\nاکی چھوٹا ساپہلوکاکمرہ تھا ، جس میں دوبستر لگے ہوئے تھے، ایک پر میں اور ایک پر میرے دوست بیرسٹر صاحب، موسم قدرے گرم تھا اس لیے کمرہ کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا گیا۔ لیمپ کی بتی نیچی کر کے اس کو فرش پر رکھ دیا، ہم دونوں سو گئے!۔۔۔۔\nصبح کو تین اور چار بجے کے درمیان میری آنکھ دفعتاً کھلی اور یہ محسوس ہوا کہ گویا کوئی تیسرا شخص کمرہ میں داخل ہوا ہے۔ صبح کاذب کی روشنی کمرے میں لیمپ کی دھیمی روشنی سے مل کر ایک عجب قسم کا غیر قدرتی نور پیدا کررہی ہو۔۔۔ میں نے دیکھا کہ بالکل سفید۔۔۔ ازسرتاپا۔۔۔ لباس پہنے کوئی صاحب کمرہ کے اندر داخل ہورہے ہیں، وہ آہستہ آہستہ میرے پلنگ کی طرف بڑھتے آتے تھے۔ ان کا حلیہ اور ان کی وضع قطع ذہن نشین کر لیجئے۔\n\nلمبی اور گھنی داڑھی۔۔۔ سفید براق۔۔۔چہرہ نہایت نورانی ۔۔۔ سرخ وسفید۔۔۔چہرہ کا انداز مغلئی۔۔۔ سفید لانبا کرتا، کمر سے ایک سفید پٹکا بندھا ہوا۔۔۔ سفید شلوار ، پاؤں میں۔۔۔ مجھے یاد نہیں کہ کس رنگ کا۔۔۔ پنجابی جوتا۔۔۔ قدمیانہ بلکہ میانہ سے بھی کچھ کم۔۔۔ اس وضع قطع کا انسان۔۔۔ بالکل خواجہ خضر!۔۔۔ اور پھر ہمار ے گھر میں!! ہمارے تمام تخیلات سے کس قدر دور اور بعید تھا!۔۔۔ میں ذرا چونکا اور ایک لمحہ ان کو اپنی طرف بڑھتے دیکھارہا، پھر ذرا گھبرایا اور گھبراکر چلایا، ’’کون ہے؟ کون ہے؟’’ اتنے زور سے میری آواز بلند ہوئی کہ کمرہ گونج گیا اور برابر پلنگ پر نوجوان بیرسٹر صاحب گھبرا کر اٹھ بیٹھے۔ ’’کیاہے؟ خیریت تو ہے؟‘‘ انہوں نے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے مجھ سے سوال کیا۔۔۔ اس سوال و جواب میں دو منٹ بھی بہ مشکل صرف ہوئے ہوں گے لیکن وہ سفید پوش پیر مرد جہاں کھڑے تھے وہیں غائب ہوگئے۔ میں نے نہیں دیکھا کہ وہ کب گئے، کدھر گئے، کیونکر گئے۔ بہرحال ایک عکس کی طرح وہ میری نظروں سے غائب ہو گئے۔ میں نے جب یہ ماجرا نوجوان بیرسٹرصاحب سے کہا تو وہ جھنجھلا گئے۔\n\n’’لاحول ولاقوۃ، نیند خراب کر ڈالی، جب ہی تو تم سے کہتا ہوں کہ ذرا کم کھایا کرو، اناڑی کی بندوق کی طرح پیٹ بھر لیتے ہو، بدخوابی ہوتی ہے تو دوسروں کو بھی بے آرام کرتے ہو!‘‘\n\nمیں نے جب اصرار کیا کہ میری نظر نے دھوکہ نہیں کھایا تو وہ اور بگڑے:۔\n\n’’کہیں تمہارے دادا صاحب تو قبر سے اٹھ کر تشریف نہ لائے ہوں! پوتے کے دیدار کے لیے ترس رہے ہوں گے بچارے! خدا جانے کہاں کہاں ڈھونڈ کر یہاں تک پہنچے۔۔۔ جاؤ دیکھو باہر باغ میں نے رہے ہوں!!‘‘\n\nمیں نے پھرکچھ کہنا چاہا تو انہوں نے زانو کا ایک تکیہ نکال کر میرے سر پر مارا ’’الو!!‘‘ اور یہ کہہ کر کروٹ لے لی۔\n\nصبح کوہم لوگ شہر آگئے، میں دس بجے اپنے دفتر میں آیا۔ یہ وقت میری، تنہائی مصروفیت کا وقت ہوتا تھا اس لیے کہ ۱۲ بجے اخبار کی آخری کاپی پریس کو جاتی تھی۔ لہٰذا دفتر کے اہلکاروں کو عام ہدایت تھی کہ کوئی بھی مجھ سے ملنے آئے، میرے کمرہ میں نہ بھیجا جائے۔۔۔ ۱۱ بج چکے تھے اور ابھی مجھے ایک ضروری نوٹ لکھنا باقی تھا کہ چپراسی نے اندر آکر اطلاع دی کہ کوئی صاحب ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے اس کو جھڑکا:\n\n’’تمہیں معلوم نہیں کہ میں اس وقت کسی سے نہیں مل سکتا؟‘‘\n\nچپراسی نے عذر کیا کہ باوجود منع کردینے کے وہ صاحب ملاقات پر مصر ہیں۔ بہت ہی جھلا کر میں نے کہا اچھا بلاؤ۔۔۔ دروازہ کا پردہ اٹھا اور کیا دیکھتاہوں کہ وہی رات والے ’’خواجہ خضر‘‘ مسکراتے ہوئے تشریف لارہے ہیں۔۔۔ بیک لمحہ میں غرق حیرت ہو کر بدحواس ہوگیا، پھر گھبرا کر کھڑا ہوگیا۔ ’’آئیے، آئیے، تشریف لائیے‘‘ میں نے بہت ہی ذوق و شوق کے ساتھ ان کا خیرمقدم کیا۔\n\n’’معاف کیجئے میں اس وقت حرج کا ر کرنا نہیں چاہتا۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ بہت مصروف ہیں، صرف یہ بتادیجئے کہ مکان پر آپ سے کب اور کس وقت ملاقات ہو سکے گی، تخلیہ میں کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ انہوں نے بہت آہستہ آہستہ اور نہایت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ یہ الفاظ اداکئے مگرمیں تواب ان سے باتیں کرنے کے لیے بے تاب تھا۔ ’’نہیں صاحب! مجھے فرصت ہے، تشریف تو رکھئے‘‘ میں نے کہا۔ انہوں نے فرمایا ’’جی نہیں، اس وقت تو میں نہ ٹھہروں گا صرف ملاقات کا وقت مقرر کرنے آیا تھا۔‘‘\n\nغرض یہ کہ تقریباً پانچ منٹ تک میری طرف سے اصرار اور ان کی طرف سے انکار ہوتا رہا۔ بالآخر طے یہ ہوا کہ وہ بعد مغرب میرے مکان پر تشریف لائیں۔۔۔\n\nاس دن بعد مغرب میری بے چینی اور بے تابی انتظار ناقابل بیان تھی۔ سات بجے، آٹھ بجے، نو بجے، دس بج گئے، دروازے پر کھٹکا ہوتا تھا تو میں اوپر کی منزل سے سڑک تک دوڑتا ہواآتا تھا ۔ ایک دفعہ، دو دفعہ، شاید دس دفعہ اسی طرح اوپر کی منزل سے اترا اور چڑھا!!کبھی اخبار اٹھا کر پڑھنے لگتا۔ کبھی کوئی کتاب اٹھائی، کبھی کمرہ میں ٹہلنے لگتا۔ آنکھیں دریچہ کے باہر، کان آواز پر لگے ہوئے۔۔۔ رات کے ۱۲ بج گئے مگر وہ نہ آئے ! مایوس ہو کر بستر پر لیٹ گیا، پھر بھی نوکروں سے کہہ دیا کہ دروازہ کاخیال رکھیں کوئی آواز دے تو فوراً کھول دیں۔۔۔۔\n\nساری رات گزر گئی، وہ نہ آئے ، صبح کو میں دفتر میں گیا۔ یہ امید تھی کہ شاید دفتر میں پھر تشریف لائیں۔ دن بھر انتظار کے پیچ و تا ب میں دل لگا کر کام بھی نہ کرسکا۔۔۔ لیکن وہ نہ آئے! پھر شام کو گھر پرانتظار رہا، ایک دوست کے یہاں جاکر کھانا کھانے کا وعدہ کر چکا تھا، مگر معذرت کہلا بھیجی، دوچار بے فکرے ہی ہی ہاہا کرنے کے لیے آئے ، ان کو ٹال دیا۔ لیکن وہ حضرت پھر بھی نہ آئے!۔۔۔دوتین چار اسی طرح دس پندرہ دن گذر گئے۔ پیشہ کے کاموں اور یاروں کی صحبت میں بڑے میاں کا تصور دھندلا ہو چلا۔۔۔ دس پانچ دن میں بالکل ہی بھول جاتا اگر ایک عجیب تر واقعہ پیش نہ آجاتا ۔ جسں نے اس معمہ کو اور بھی زیادہ الجھا دیا۔۔۔\n\nدس پندرہ دن بعد، ایک روز شام کو میں اپنے دوہم پیشہ دوستوں سے ملنے گیا۔ ایک ان میں سے بمبئی کے بہت مشہوراور مقدس ’’حضرت مولانا‘‘ اور ’’پیرومرشد‘‘ تھے۔ اور دوسرے ایک جدید قسم کے ایڈیٹر۔ میں جب ان ’’حضرت مولانا‘‘ کے مکان پر پہنچا تو وہ دوسرے دوست بھی وہاں موجود تھے۔۔۔\n\nادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں، ہوتے ہوتے کچھ روحانیت کا تذکرہ چھڑ گیا، باتوں باتوں میں مجھے وہ باغ والا واقعہ یادآگیا میں نے کہا ’’آپ دونوں صاحبوں کو ایک عجیب واقعہ سناتا ہوں ایک عجیب واردات ہے مگر مجھ پر ہنسیے گا نہیں، واقعہ بالکل سچا ہے، دماغ میرا بالکل صحیح ہے۔۔۔‘‘ اس تمہید کے ساتھ میں نے وہ واقعہ بیان کرنا شروع کر دیا۔ جب میں نے صبح کے قریب پییرمرد کا کمرہ میں آنا بیان کیا تو ایڈیٹر صاحب نے قطع کلام کر کے مجھ سے سوال کیا۔\n\n’’بتائے، کس دن اور کس وقت ، ٹھیک ٹھیک بتائیے‘‘۔\n\nمیں نے ان کو دن اور وقت بتایا اور پھر اپنا قصہ شروع کیا، پیرمرد کا غائب ہو جانا، صبح کو دفتر میں آنا پھر شام کو آنے کا وعدہ کرکے جانا اور پھر کبھی نہ آنا۔ جب میں یہ قصہ بیان کر رہا تھا تو دیکھ رہا تھا کہ وہ دونوں صاحب حیران ہوہوکر ایک دوسرے کی صورت دیکھتے جاتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ اشارے بھی ہوتے جاتے ہیں۔\n\n’’کس وقت وہ دفتر میں آئے تھے اور کیا گفتگو کی تھی انہوں نے؟ ذرا مفصل فرمائیے‘‘۔ حضرت مولانا نے سوال کیا۔ میں نے وقت بھی بتا دیا اور لفظ بہ لفظ گفتگو بھی دہرا دی۔\n\n’’ذراان کا حلیہ تو پھر بیان کیجئے‘‘۔ ایڈیٹر صاحب نے فرمائش کی۔\n\nمیں نے حلیہ بھی مفصل دہرایا۔\n\n’’کیا سمجھے آپ‘‘۔ مولانا نے ایڈیٹر صاحب سے مخاطب ہو کر کہا۔\n\n’’آپ کیا سمجھے؟‘‘ ایڈیٹر صاحب نے مولانا سے مخاطب ہو کر کہا۔\n\n’’عجیب!‘‘ مولانا نے فرمایا۔\n\n’’عجیب؟‘‘ ایڈیٹر صاحب نے فرمایا۔\n\nمیں حیران ہو کر دونوں کا منہ تک رہا تھا، اور سوچ رہا تھا کہ اگر مجھے شب میں بدہضمی کی وجہ سے خلل دماغ کا دورہ ہوتا ہے تو ان دونوں کو دن میں بھی یہ شکایت لاحق ہو جاتی ہے!!۔۔۔\n\nمیں نے کہا ’’کچھ تو فرمائیے، یہ اشارے کنائے کیسے؟‘‘\n\n’’کہہ دو!‘‘ مولانا نے ایڈیٹر صاحب سے کہا۔\n\n’’کہہ دوں؟‘‘ ایڈیٹر صاحب نے مولانا کو جواب دیا۔\n\nایڈیٹر صاحب سنبھل بیٹھے، انہوں نے کہا ’’سنیئے جناب یہ عجیب و غریب واقعہ ہے ۔جو واقعہ آپ نے سنایا بالکل یہی واقعہ مجھ پر گذر چکا ہے، مگر سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میرے پاس بھی وہ پیر مرد ٹھیک اسی شب میں اسی وقت آئے تھے جس وقت وہ آپ کے پاس آئے تھے، اور پھر اسی طرح کمرہ کے اندر داخل ہوتے ہی ہوتے غائب بھی ہوگئے تھے۔۔۔ مگر عجیب تر جو بات ہے وہ یہ ہے کہ صبح کو بھی وہ میرے دفتر میں ٹھیک اسی وقت اور اسی طرح آپ کے دفتر میں، وہی باتیں جو انہوں نے مجھ سے کیں جو آپ سے کیں، اسی طرح مجھ سے وقت مقرر کرا کے گئے جس طرح آپ سے۔۔۔ اور یہ تو ارد تو دیکھئے کہ میں نے بھی اسی دن وہی وقت مقرر کیا جو آپ نے مقرر کیا تھا۔۔۔ مگر وہ پھر آج تک ٹوٹ کو نہ آئے جس طرح آپ منتظر ہیں میں بھی سراپا انتظار ہوں!۔۔۔ اتنا کہہ کر ایڈیٹر صاحب نے رومال سے چہرہ کا پسینہ خشک کیا پھر فرمانے لگے:۔\n\n’’یہ واقعہ دوسرے ہی دن میں نے مولانا سے بیان کر دیا تھا۔۔۔پوچھیے مولانا سے۔۔۔ میرے آپ کے درمیان ایک خفیف جزو کا بھی کوئی اختلاف نہیں!۔۔۔عجیب، عجیب!!\nہم تینوں بہت دیر تک خاموش بیٹھے رہے۔۔۔۔\n\nمیں نے کہا ’’تصوراور توہم کے توارد کی یہ ایک عجیب مثال ہے‘‘۔\n\n’’تصور اور توہم؟‘‘ مولانا نے تعجب کے لہجہ میں فرمایا۔\n\n’’تصور اور توہم! آپ اس واقعہ کو تصور او ر توہم سمجھ رہے ہیں۔ نہیں صاحب! نہیں! نہ یہ تصورہے اورنہ توہم نہ توارد! روحانیت کی ایک ماورائے عقل و فہم کارفرمائی ہے! آپ تو مادہ پرست ہیں روح کے ان معجزات اور تصرفات کوکیا خاک سمجھیں گے، لیکن آپ کو قائل ہو جانا چاہیے۔ ۔۔ اب تو قائل ہو جانا ہی چائیے کہ اس عالم ظاہر کے علاوہ کوئی باطن بھی ہے جہاں ایسی باتیں بالکل ناممکن ہیں۔۔۔‘‘\n\nمیں نے کہا ’’مولانا! دماغ کے اندرونی دنیا میں ایسے عجائبات کا ظہور ناممکن نہیں۔ اس علم کے ماہرین ، اس قسم کے واقعات پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔۔۔‘‘\n\n’’خدا کے لیے حضرت !‘‘ مولانا نے بگڑ کر فرمایا۔۔۔ ’’ماہرین اور مبصرین کا ذکر چھوڑئیے۔ ان کم بختوں نے زندگی تلخ کر دی ہے، روز کلیات قائم کرتے ہیں، روز ان کو توڑتے ہیں، دیواریں بناتے ہیں اور گراتے ہیں۔ عقل کے چکر نے ان کو گھن چکر بنا دیا ہے۔ ’’روحانیت‘‘ کی لطیف دنیا میں جو کچھ ہوا کرتا ہے اور ہو سکتا ہے اس کو یہ احمق کیا جانیں۔۔۔‘‘\n\nمیں نے کہا’’خاک ڈالیے اس بحث پر، مگر یہ تو بتائیے کہ وہ خواجہ خضر جنہوں نے مجھے بھی سونے سے جگایا اور ایڈیٹر صاحب کو بھی بیک وقت۔۔۔ حالانکہ میں اور ایڈیٹر صاحب اس وقت ایک دوسرے سے کم از کم ۱۵ میل کے فاصلہ پر سورہے تھے۔۔۔ اور پھر وہ دن میں بھی بیک وقت دونوں کے پاس آئے تھے، کوئی ان کا مقصود بھی تھا یا محض دل لگی تھی؟۔۔۔\n\n’’کوئی پیام لائے ہوں گے، کوئی بات کہنا چاہتے ہوں گے، یا محض اپنی صورت دکھا کر تمہیں متنبہ کرنا چاہتے ہوں گے۔۔۔ یاکوئی اور منشا ہوگا۔۔۔ کیا معلوم کسی کو!‘‘ مولانا نے میرے اعتراض کا۔۔۔ اپنے خیال میں بہت ہی مختتم جواب دیا!!\n\nبحث کچھ اور بڑھتی لیکن پاس کی مسجد سے اذان کی آواز آئی اور مولانا نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔\n\nمیں اور ایڈیٹر صاحب راستے بھر یہی ذکر کرتے ہوئے آئے۔۔۔ وہ بھی حیران، میں بھی حیران! ’’کچھ بھی ہو‘‘ میں نے کہا ’’وہ پیر مرد ہیں بہت ہرجائی!‘‘۔۔۔۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ہرنام کور", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "نمرود کی خدائی", "year": "1950", "text_ur": "نہال سنگھ کو بہت ہی الجھن ہورہی تھی۔ سیاہ و سفید اور پتلی مونچھوں کا ایک گچھا اپنے منہ میں چوستے ہوئے وہ برابر دو ڈھائی گھنٹے سے اپنے جوان بیٹے بہادر کی بابت سوچ رہا تھا۔\n\nنہال سنگھ کی ادھیڑ مگر تیز آنکھوں کے سامنے وہ کھلا میدان تھا جس پر وہ بچپن میں برنٹوں سے کبڈی تک تمام کھیل کھیل چکا تھا۔ کسی زمانے میں وہ گاؤں کا سب سے نڈر اور جیالا جوان تھا۔ کماد اور مکئی کے کھیتوں میں اس نے کئی ہٹیلی مٹیاروں کو کلائی کے ایک ہی جھٹکے سے اپنی مرضی کا تابع بنایا۔ تھوک پھینکتا تھا تو پندرہ گز دور جا کے گرتی تھی۔ کیا رنگیلا سجیلا جوان تھا۔ لہریا پگڑی باندھ کر اور ہاتھ میں چھوی لے کر جب میلے ٹھیلے کو نکلتا تو بڑے بوڑھے پکار اٹھتے، ’’کسی کو سندر جاٹ دیکھنا ہے تو سردار نہال سنگھ کو دیکھ لے۔‘‘\n\nسندر جاٹ تو ڈاکو تھا،بہت بڑا ڈاکو جس کے گانے ابھی تک لوگوں کی زبان پر تھے لیکن نہال سنگھ ڈاکو نہیں تھا۔ اس کی جوانی میں دراصل کرپان کی سی تیزی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ عورتیں اس پر مرتی تھیں۔ ہرنام کور کا قصہ تو ابھی تک گاؤں میں مشہور تھا کہ اس بجلی نے کیسے ایک دفعہ سردار نہال سنگھ کو قریب قریب بھسم کر ڈالا تھا۔\n\nنہال سنگھ نے ہرنام کور کے متعلق سوچا تو ایک لحظے کے لیے اس کی ادھیڑ ہڈیوں میں بیتی ہوئی جوانی کڑکڑا اٹھی۔ کیا پتلی چھمک جیسی نار تھی۔ چھوٹے چھوٹے لال ہونٹ جن کو وہ ہر وقت چوستی رہتی۔۔۔ ایک روز جب کہ بیریوں کے بیر پکے ہوئے تھے،سردار نہال سنگھ سے اس کی مڈبھیڑ ہوگئی۔۔۔ وہ زمین پر گرے ہوئے بیر چن رہی تھی اور اپنے چھوٹے چھوٹے لال ہونٹ چوس رہی تھی۔ نہال سنگھ نے آوازہ کسا۔۔۔ کیہڑے یار دا تتا ددھ پیتا۔۔۔ سڑگیاّں لال بُلّیاں؟\n\nہرنام کور نے پتھر اٹھایا اور تان کر اس کو مارا۔ نہال سنگھ نے چوٹ کی پروا نہ کی اور آگے بڑھ کر اس کی کلائی پکڑ لی۔ لیکن وہ بجلی کی سی تیزی سے مچھلی کی طرح تڑپ کر الگ ہوگئی اور یہ جا وہ جا۔ نہال سگھ کو جیسے کسی نے چاروں شانے چت گرادیا۔ شکست کا یہ احساس اور بھی زیادہ ہوگیا جب یہ بات سارے گاؤں میں پھیل گئی۔\n\nنہال سنگھ خاموش رہا۔ اس نے دوستوں دشمنوں سب کی باتیں سنیں پر جواب نہ دیا۔ تیسرے روز دوسری بار اس کی مڈبھیڑ گوردوارہ صاحب سے کچھ دور بڑکی گھنی چھاؤں میں ہوئی۔ہر نام کور اینٹ پر بیٹھی اپنی گرگابی کی کیلیں اندر ٹھونک رہی تھی۔ نہال سنگھ کو پاس دیکھ کر وہ بدکی۔ پر اب کے اس کوئی پیش نہ چلی۔\n\nشام کو جب لوگوں نے نہال سنگھ کو بہت خوش خوش اونچے سروں میں۔ نی ہر نام کورے، اونارے۔۔۔ گاتے سنا تو ان کو معلوم ہوگیا کون سا قلعہ سر ہوا ہے۔۔۔ لیکن دوسرے روز نہال سنگھ زنا بالجبر کے الزام میں گرفتار ہوا اور تھوڑی سی مقدمے بازی کے بعد اسے چھ سال کی سزا ہوگئی۔\n\nچھ سال کے بجائے نہال سنگھ کو ساڑھے سات کی قید بھگتنی پڑی کیونکہ جیل میں اسکا دو دفعہ جھگڑا ہوگیا تھا۔ لیکن نہال سنگھ کو اس کی کچھ پروا نہ تھی۔ قید کاٹ کر جب گاؤں روانہ ہوا اور ریل کی پٹری طے کرکے مختلف پگڈنڈیوں سے ہوتا ہوا گوردوارے کے پاس سے گزر کر بڑکے گھنے درخت کے قریب پہنچا تو اس نے کیا دیکھا کہ ہرنام کور کھڑی ہے۔۔۔ اور اپنے ہونٹ چوس رہی ہے۔ اس سے پیشتر کہ نہال سنگھ کچھ سوچنے یا کہنے پائے۔ وہ آگے بڑھی اور اس کی چوڑی چھاتی کے ساتھ چمٹ گئی۔\n\nنہال سنگھ نے اس کو اپنی گود میں اٹھا لیا اور گاؤں کے بجائے کسی دوسری طرف چل دیا۔۔۔ ہر نام کور نے پوچھا، ’’کہاں جارہے ہو؟‘‘\n\nنہال سنگھ نے نعرہ لگایا، ’’جو بولے سو نہال ست سری اکال۔‘‘ دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔\n\nنہال سنگھ نے ہرنام کور سے شادی کرلی اور چالیس کوس کے فاصلے پر دوسرے گاؤں میں آباد ہوگیا۔ یہاں بڑی منتوں سے چھ برس کے بعد بہادر پیدا ہوا اور بیساکھی کے روز جب کہ وہ ابھی پورے ڈھائی مہینے کا بھی نہیں ہوا تھا، ہر نام کور کے ماتا نکلی اور وہ مر گئی۔ نہال سنگھ نے بہادر کی پرورش اپنی بیوہ بہن کے سپرد کردی جس کی چار لڑکیاں تھیں چھوٹی چھوٹی۔۔۔ جب بہادر آٹھ برس کا ہوا تو نہال سنگھ اسے اپنے پاس لے آیا۔چار برس ہو چکےتھے کہ بہادر اپنے باپ کی نگرانی میں تھا۔ شکل صورت میں وہ بالکل اپنی ماں جیسا تھا، اسی طرح دبلا پتلا اور نازک۔ کبھی کبھی اپنے پتلے پتلے لال لال ہونٹ چوستا تو نہال سنگھ اپنی آنکھیں بند کرلیتا۔\n\nنہال سنگھ کو بہادر سے بہت محبت تھی۔ چار برس اس نے بڑے چاؤ سے نہلایا دھلایا۔ ہر روز دہی سے خود اس کے کیس دھوتا، اسے کھلاتا، باہر سیر کے لیے لے جاتا، کہانیاں سناتا، ورزش کراتا مگربہادر کو ان چیزوں سے کوئی رغبت نہ تھی۔ وہ ہمیشہ اداس رہتا۔ نہال سنگھ نے سوچا اتنی دیر اپنی پھوپھی کے پاس جو رہا ہے،اس لیے اداس ہے۔ چنانچہ پھر اس کو اپنی بہن کے پاس بھیج دیا اور خود فوج میں بھرتی ہو کر لام پر چلا گیا۔\n\nچار برس اور گزر گئے۔ لڑائی بند ہوئی اور نہال سنگھ جب واپس آیا تو وہ پچاس برس کے بجائے ساٹھ باسٹھ برس کا لگتا تھا۔ اس لیےکہ اس نے جاپانیوں کی قید میں ایسے دکھ جھیلے تھے کہ سن کر آدمی کے رونگٹے کھڑے ہوتے تھے۔\n\nاب بہادر کی عمر نہال سنگھ کے حساب کے مطابق سولہ کے لگ بھگ تھی مگر وہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا چار برس پہلے تھا۔۔۔ دبلا پتلا۔۔۔ لیکن خوبصورت۔\n\nنہال سنگھ نے سوچا کہ اس کی بہن نے بہادر کی پرورش دل سے نہیں کی۔ اپنی چار لڑکیوں کا دھیان رکھا جو بچھیریوں کی طرح ہر وقت آنگن میں کڈکڑے لگاتی رہتی ہیں۔ چنانچہ جھگڑا ہوا اور وہ بہادر کو وہاں سے اپنے گاؤں لے گیا۔\n\nلام پر جانے سے اس کے کھیت کھلیان اور گھر بار کا ستیاناس ہوگیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے نہال سنگھ نے ادھر دھیان دیا اور بہت ہی تھوڑے عرصہ میں سب ٹھیک ٹھاک کرلیا، اس کے بعد اس نے بہادر کی طرف توجہ دی۔ اس کے لیے ایک بھوری بھینس خریدی۔ مگر نہال سنگھ کو اس بات کا دکھ ہی رہا کہ بہادر کو دودھ، دہی اور مکھن سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جانے کیسی اوٹ پٹانگ چیزیں اسے بھاتی تھیں۔ کئی دفعہ نہال سنگھ کو غصہ آیا مگر وہ پی گیا، اس لیے کہ اسے اپنے لڑکے سے بے انتہا محبت تھی۔\n\nحالانکہ بہادر کی پرورش زیادہ تر اس کی پھوپھی نے کی تھی مگر اس کی بگڑی ہوئی عادتیں دیکھ کر لوگ یہی کہتے تھے کہ نہال سنگھ کے لاڈ پیار نے اسے خراب کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہم عمر نوجوانوں کی طرح محنت مشقت نہیں کرتا۔ گو نہال سنگھ کی ہرگز خواہش نہیں تھی کہ اس کا لڑکا مزدوروں کی طرح کھیتوں میں کام کرے اور صبح سے لے کر دن ڈھلنے تک ہل چلائے۔ واہگوروجی کی کرپا سے اس کے پاس بہت کچھ تھا۔ زمینیں تھیں، جن سے کافی آمدن ہو جاتی تھی۔ سرکار سے جو اب پنشن مل رہی تھی، وہ الگ تھی۔ لیکن پھر بھی اس کی خواہش تھی۔۔۔ دلی خواہش تھی کہ بہادر کچھ کرے۔۔۔ کیا؟ یہ نہال سنگھ نہیں بتا سکتا تھا۔\n\nچنانچہ کئی بار اس نے سوچا کہ وہ بہادر سے کیا چاہتا ہے۔ مگر ہر بار بجائے اس کے کہ اسے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملتا، اس کی بیتی ہوئی جوانی کے دن ایک ایک کرکے اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگتے اور وہ بہادر کو بھول کر اس گزرے ہوئے زمانے کی یادوں میں کھو جاتا۔\n\nلام سے آئے نہال سنگھ کو دو برس ہو چکےتھے۔ بہادر کی عمر اب اٹھارہ کے لگ بھگ تھی۔۔۔ اٹھارہ برس کا مطلب یہ ہے کہ بھرپور جوانی۔۔۔ نہال سنگھ جب یہ سوچتا تو جھنجھلا جاتا۔ چنانچہ ایسے وقتوں میں کئی دفعہ اس نے اپنا سر جھٹک کر بہادر کو ڈانٹا، ’’نام تیرا میں نے بہادر رکھا ہے۔۔۔ کبھی بہادری تو دکھا۔‘‘ اور بہادر ہونٹ چوس کر مسکرا دیتا۔\n\nنہال سنگھ نے ایک دفعہ سوچا کہ بہادر کی شادی کردے۔ چنانچہ اس نے اِدھر اُدھر کئی لڑکیاں دیکھیں۔ اپنے دوستوں سے بات چیت بھی کی۔ مگر جب اسے جوانی یاد آئی تو اس نے فیصلہ کرلیا کہ نہیں، بہادر میری طرح اپنی شادی آپ کرے گا۔ کب کرے گا؟ یہ اس کو معلوم نہیں تھا۔ اس لیے کہ بہادر میں ابھی تک اس نے وہ چمک نہیں دیکھی تھی جس سے وہ اندازہ لگاتا کہ اس کی جوانی کس مرحلے میں ہے۔۔۔ لیکن بہادر خوبصورت تھا۔ سندر جاٹ نہیں تھا،لیکن سندر ضرور تھا۔ بڑی بڑی کالی آنکھیں، پتلے پتلے لال ہونٹ، ستواں ناک، پتلی کمر، کالے بھونرا ایسے کیس مگر بال بہت ہی مہین۔۔۔ گاؤں کی جوان لڑکیاں دور سے اسے گھور گھور کے دیکھتیں۔ آپس میں کانا پھوسی کرتیں مگر وہ ان کی طرف دھیان نہ دیتا۔\n\nبہت سوچ بچار کے بعد نہال سنگھ اس نتیجے پر پہنچا۔ شاید بہادر کو یہ تمام لڑکیاں پسند نہیں اور یہ خیال آتے ہی اس کی آنکھوں کے سامنے ہرنام کور کی تصویر آگئی۔ بہت دیر تک وہ اسے دیکھتا رہا۔ اس کے بعد اس کو ہٹا کر اس نے گاؤں کی لڑکیاں لیں۔ ایک ایک کرکے وہ ان تمام کو اپنی آنکھوں کے سامنے لایا مگر ہر نام کور کے مقابلے میں کوئی بھی پوری نہ اتری۔۔۔ نہال سنگھ کی آنکھیں تمتما اٹھیں، ’’بہادر میرا بیٹا ہے۔ ایسی ویسیوں کی طرف تو وہ آنکھ اٹھا کربھی نہیں دیکھے گا۔‘‘\n\nدن گزرتے گئے۔ بیریوں کے بیر کئی دفعہ پکے۔ مکئی کے بوٹے کھیتوں میں کئی دفعہ نہال سنگھ کے قد کے برابر جوان ہوئے۔ کئی ساون آئے مگر بہادر کی یاری کسی کے ساتھ نہ لگی اور نہال سنگھ کی الجھن پھر بڑھنے لگی۔\n\nتھک ہار کر نہال سنگھ دل میں ایک آخری فیصلہ کرکے بہادر کی شادی کے متعلق سوچ ہی رہا تھا کہ ایک گڑ بڑ شروع ہوگئی۔ بھانت بھانت کی خبریں گاؤں میں دوڑنے لگیں۔ کوئی کہتا انگریز جارہا ہے۔ کوئی کہتا روسیوں کا راج آنے والا ہے۔ ایک خبر لاتا کانگریس جیت گئی ہے۔ دوسرا کہتا نہیں،ریڈیو میں آیا ہے کہ ملک بٹ جائے گا۔ جتنے منہ، اتنی باتیں۔ نہال سنگھ کا تو دماغ چکرا گیا۔ اسے ان خبروں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ سچ پوچھئے تو اسے اس جنگ سے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی جس میں وہ پورے چار برس شامل رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ آرام سے بہادر کی شادی ہو جائے اور گھرمیں اس کی بہو آجائے۔\n\nلیکن ایک دم جانے کیا ہوا۔ خبر آئی کہ ملک بٹ گیا ہے۔ ہندو مسلمان الگ الگ ہوگئے ہیں۔ بس پھر کیا تھا چاروں طرف بھگدڑ سی مچ گئی۔ چل چلاؤ شروع ہوگیا اور پھر سننے میں آیا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارے جارہے ہیں۔ سیکڑوں لڑکیاں اغواکی جارہی ہیں۔ لاکھوں کا مال لوٹا جارہا ہے۔\n\nکچھ دن گزر گئے تو پکی سڑک پر قافلوں کا آنا جانا شروع ہوا۔ گاؤں والوں کو جب معلوم ہوا تو میلے کا سماں پیدا ہوگیا۔ لوگ سو سو، دو دو سو کی ٹولیاں بنا کر جاتے۔ جب لوٹتے تو ان کے ساتھ کئی چیزیں ہوتیں۔ گائے، بھینس، بکریاں، گھوڑے، ٹرنک، بستر اور جوان لڑکیاں۔\n\nکئی دنوں سے یہ سلسلہ جاری تھا۔ گاؤں کا ہر جوان کوئی نہ کوئی کارنامہ دکھا چکا تھا حتیٰ کہ مکھیا کا ناٹا اور کبڑا لڑکا دریام سنگھ بھی۔۔۔ اس کی پیٹھ پر بڑا کوہان تھا۔ ٹانگیں ٹیڑھی تھیں، مگر یہ بھی چار روز ہوئے پکی سڑک پر سے گزرنے والے ایک قافلے پر حملہ کرکے ایک جوان لڑکی اٹھا لایا تھا۔ نہال سنگھ نے اس لڑکی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ خوبصورت تھی۔ بہت ہی خوبصورت تھی لیکن نہال سنگھ نے سوچا کہ ہرنام کور جتنی خوبصورت نہیں ہے۔\n\nگاؤں میں کئی دنوں سے خوب چہل پہل تھی۔ چاروں طرف جوان شراب کے نشے میں دھت بولیاں گاتے پھرتے تھے۔ کوئی لڑکی بھاگ نکلتی تو سب اس کے پیچھے شور مچاتے دوڑتے، کبھی لوٹے ہوئے مال پر جھگڑا ہو جاتا تو نوبت مرنے مارنے پر آجاتی۔ چیخ و پکار تو ہرگھڑی سنائی دیتی تھی۔ غرضیکہ بڑا مزیدار ہنگامہ تھا۔ لیکن بہادر خاموش گھر میں بیٹھا رہتا۔\n\nشروع شروع میں تو نہال سنگھ بہادر کی اس خاموشی کے متعلق بالکل غافل رہا۔ لیکن جب ہنگامہ اور زیادہ بڑھ گیا اور لوگوں نے مذاقیہ لہجے میں اس سے کہنا شروع کیا، ’’کیوں سردار نہال سیاں، تیرے بہادر نے سنا ہے بڑی بہادریاں دکھائی ہیں؟‘‘ تو وہ پانی پانی ہوگیا۔\n\nچوپال پر ایک شام کو یرقان کے مارے ہوئے حلوائی بشیشر نے دون کی پھینکی اور نہال سنگھ سے کہا، ’’دو تو میرا گنڈا سنگھ لایا ہے۔۔۔ ایک میں لایا ہوں بند بوتل، اور یہ کہتے ہوئے بشیشر نے زبان سے پٹاخے کی آواز پیدا کی جیسے بوتل میں سے کاگ اڑتا ہے، ’’نصیبوں والا ہی کھولتا ہے ایسی بند بوتلیں سردار نہال سیاں۔‘‘\n\nنہال سنگھ کا جی جل گیا۔ کیا تھا بشیشر اور کیا تھا گنڈا سنگھ؟ ایک یرقان کا مارا ہوا، دوسرا تپ دق کا۔۔۔ مگر جب نہال سنگھ نے ٹھنڈے دل سے سوچا تو اس کو بہت دکھ ہوا۔ کیونکہ جو کچھ بشیشر نے کہا حقیقت تھی۔ بشیشر اور اس کا لڑکا گنڈا سنگھ کیسے بھی تھے۔ مگر تین جوان لڑکیاں، ان کے گھر میں واقعی موجود تھیں اور چونکہ بشیشر کا گھر اس کے پڑوس میں تھا۔اس لیے کئی دنوں سے نہال سنگھ ان تینوں لڑکیاں کے مسلسل رونے کی آواز سن رہا تھا۔\n\nگوردوارے کے پاس ایک روز دو جوان باتیں کررہے تھے اور ہنس رہے تھے۔\n\n’’نہال سنگھ کے بارے میں تو بڑی باتیں مشہور ہیں۔‘‘\n\n’’ارے چھوڑ۔ بہادر تو چوڑیاں پہن کر گھر میں بیٹھا ہے۔‘‘\n\nنہال سنگھ سے اب نہ رہا گیا۔ گھر پہنچ کر اس نے بہادر کو بہت غیرت دلائی اور کہا،’’تو نے سنا لوگ کیا کہتے پھرتے ہیں۔۔۔ چوڑیاں پہن کر گھر میں بیٹھا ہے تو۔۔۔ قسم واہگوروجی کی، تیری عمر کا تھا توسیکڑوں لڑکیاں میری ان ٹانگوں۔۔۔‘‘\n\nنہال سنگھ ایک دم خاموش ہوگیا۔ کیونکہ شرم کے مارے بہادر کا چہرہ لال ہوگیا تھا۔ باہر نکل کر وہ دیر تک سوچتا چلا گیا اور سوچتا سوچتا کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گیا۔۔۔ اس کی ادھیڑ مگر تیز آنکھوں کے سامنے وہ کھلا میدان تھا جس پر برنٹوں سے لے کر کبڈی تک تمام کھیل کھیل چکا تھا۔\n\nبہت دیر تک نہال سنگھ اس نتیجے پر پہنچا کہ بہادر شرمیلا ہے اور یہ شرمیلا پن اس میں غلط پرورش کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ اس نے دل ہی دل میں اپنی بہن کو بہت گالیاں دیں اور فیصلہ کیا کہ بہادر کے شرمیلے پن کو کسی نہ کسی طرح توڑا جائے اور اس کے لیے نہال سنگھ کے ذہن میں ایک ہی ترکیب آئی۔\n\nخبر آئی کہ رات کو کچی سڑک پر سے ایک قافلہ گزرنے والا ہے۔ اندھیری رات تھی۔ جب گاؤں سے ایک ٹولی اس قافلے پر حملہ کرنے کے لیے نکلی تو نہال سنگھ بھی ٹھا ٹھا باندھ کر ان کے ساتھ ہولیا۔حملہ ہوا۔ قافلے والے نہتے تھے۔ پھر بھی تھوڑی سی جھپٹ ہوئی۔ لیکن فوراً ہی قافلے والے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ حملہ کرنے والی ٹولی نے اس افراتفری سے فائدہ اٹھایا اور لوٹ مار شروع کردی۔ لیکن نہال سنگھ کو مال و دولت کی خواہش نہیں تھی۔ وہ کسی اور ہی چیز کی تاک میں تھا۔\n\nسخت اندھیرا تھا، گو گاؤں والوں نے مشعلیں روشن کی تھیں مگر بھاگ دوڑ اور لوٹ کھسوٹ میں بہت سی بجھ گئی تھیں۔ نہال سنگھ نے اندھیرے میں کئی عورتوں کے سائے دوڑتے دیکھے مگر فیصلہ نہ کرسکا کہ ان میں سے کس پر ہاتھ ڈالے۔ جب کافی دیر ہوگئی اور لوگوں کی چیخ و پکار مدھم پڑنے لگی تو نہال سنگھ نے بے چینی کے عالم میں ادھر ادھر دوڑنا شروع کیا۔ ایک دم تیزی سے ایک سایہ بغل میں گٹھری دبائے اس کے سامنے سے گزرا۔\n\nنہال سنگھ نے اس کا تعاقب کیا۔ جب پاس پہنچا تو اس نے دیکھا کہ لڑکی ہے اور جوان۔۔۔ نہال سنگھ نے فوراً اپنے گاڑھے کی چادر نکالی اور اس پر جال کی طرح پھینکی۔ وہ پھنس گئی۔ نہال سنگھ نے اسے کاندھوں پر اٹھا لیا اور ایک ایسے راستے سے گھر کا رخ کیا کہ اسے کوئی دیکھ نہ لے۔\n\nمگر گھر پہنچاتو بتی گل تھی۔ بہادر اندر کوٹھری میں سو رہا تھا۔ نہال سنگھ نے اسے جگانا مناسب خیال نہ کیا۔ کواڑ کھولا۔ چادر میں سے لڑکی نکال کر اندر دھکیل، باہر سے کنڈی چڑھا دی۔ پھر زور زور سے کواڑ پیٹے۔ تاکہ بہادر جاگ پڑے۔جب نہال سنگھ نے مکان کے باہر کھٹیا بچھائی اور بہادر اور اس لڑکی کی مڈبھیڑ کی کپکپاہٹ پیدا کرنے والی باتیں سوچنے کےلیےلیٹنے لگا تو اس نے دیکھا کہ بہادر کی کوٹھڑی کے روشن دانوں میں دیے کی روشنی ٹمٹما رہی ہے۔ نہال سنگھ اچھل پڑا۔ اور ایک لحظے کیلیے محسوس کیا کہ وہ جوان ہے۔ کماد کے کھیتوں میں مٹیاروں کو کلائی سے پکڑنے والا نوجوان۔\n\nساری رات نہال سنگھ جاگتا رہا اور طرح طرح کی باتیں سوچتا رہا۔ صبح جب مرغ بولنے لگے تو وہ اٹھ کر کوٹھری میں جانے لگا۔ مگر ڈیوڑھی سے لوٹ آیا۔ اس نے سوچا کہ دونوں تھک کر سو چکے ہوں گے اور ہوسکتا ہے۔۔۔ نہال سنگھ کے بدن پر جھرجھری سی دوڑ گئی اور وہ کھاٹ پر بیٹھ کر مونچھوں کے بال منہ میں ڈال کر چوسنے اور مسکرانے لگا۔\n\nجب دن چڑھ گیا اور دھوپ نکل آئی تو اس نے اندرجا کر کنڈی کھولی۔ سٹرپٹر کی آوازیں سی آئیں۔کواڑ کھولے تو اس نے دیکھا کہ لڑکی چارپائی پر کیسری دوپٹہ اوڑھے بیٹھی ہے۔ پیٹھ اس کی طرف تھی۔ جس پر یہ موٹی کالی چٹیا سانپ کی طرح لٹک رہی تھی۔ جب نہال سنگھ نے کوٹھری کے اندر قدم رکھا تو لڑکی نے پاؤں اوپر اٹھا لیے اور سمٹ کربیٹھ گئی۔\n\nطاق میں دیا ابھی تک جل رہا تھا۔ نہال سنگھ نے پھونک مار کر اسے بجھایا اور دفعتاًاسے بہادر کا خیال آیا۔۔۔ بہادر کہاں ہے۔۔۔؟اس نے کوٹھری میں ادھر ادھر نظر دوڑائی مگر وہ کہیں نظر نہ آیا۔ دوقدم آگے بڑھ کر اس نے لڑکی سے پوچھا، ’’بہادر کہاں ہے؟‘‘\n\nلڑکی نے کوئی جواب نہ دیا۔ ایک دم سٹرپٹرسی ہوئی اور چارپائی کے نیچے سے ایک اور لڑکی نکلی۔۔۔ نہال سنگھ ہکّا بکّا رہ گیا۔۔۔ لیکن اس نے دیکھا۔ ۔۔اس کی حیرت زدہ آنکھوں نے دیکھا کہ جو لڑکی چارپائی سے نکل کربجلی کی سی تیزی کے ساتھ باہر دوڑ گئی تھی۔ اس کے داڑھی تھی، منڈی ہوئی داڑھی۔ نہال سنگھ چارپائی کی طرف بڑھا۔ لڑکی جو کہ اس پر بیٹھی تھی اور زیادہ سمٹ گئی مگر نہال سنگھ نے ہاتھ کے ایک جھٹکے سے اس کا منہ اپنی طرف کیا۔ ایک چیخ نہال سنگھ کے حلق سے نکلی اور دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔\n\n’’ہرنام کور!‘‘\n\nزنانہ لباس، سیدھی مانگ، کالی چٹیا۔۔۔ اور بہادر ہونٹ بھی چوس رہا تھا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88%D8%B1"} {"title": "ہرچند کہ اے مہ اب تمامی ہے گی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہرچند کہ اے مہ اب تمامی ہے گی\nپر ہم جو گلہ کریں تو خامی ہے گی\nبندے ہیں ترے کیونکے کریں سرتابی\nخدمت تیری ہمیں غلامی ہے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1%DA%86%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%DB%92_%D9%85%DB%81_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "ہرچند کہ طاعت میں ہوا ہے تو پیر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہرچند کہ طاعت میں ہوا ہے تو پیر\nپر بات مری سن کہ نہیں بے تاثیر\nتسبیح بہ کف پھرنے سے کیا کام چلے\nمنکے کی طرح دل نہ پھرے جب تک میرؔ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1%DA%86%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%81_%D8%B7%D8%A7%D8%B9%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D8%B1"} {"title": "ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا", "poet_page": "مصنف:اشرف علی فغاں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا\nوہ صبح کو ہے یار مرا شام کسی کا\n\nاس ہستئ موہوم میں ہرگز نہ کھلی چشم\nمعلوم کسی کو نہیں انجام کسی کا\n\nاتنا کوئی کہہ دے کہ مرا یار کہاں ہے\nباللہ میں لینے کا نہیں نام کسی کا\n\nہونے دے مرا چاک گریباں مرے ناصح\nنکلے مرے ہاتھوں سے بھلا کام کسی کا\n\nناحق کو فغاںؔ کے تئیں تشہیر کیا ہے\nدنیا میں نہ ہووے کوئی بدنام کسی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1%DA%AF%D8%B2_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D9%88%D8%AD%D8%B4%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہرگز نہ مرے محرم ہمراز ہوئے تم", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہرگز نہ مرے محرم ہمراز ہوئے تم\nآئینے میں اپنے ہی نظر باز ہوئے تم\n\nشکوہ نہ مجھے غیر سے نے یار کی خو سے\nدشمن مرے اے طالع ناساز ہوئے تم\n\nخمیازہ کشان مے الفت کی بن آئی\nمے پی کے جو کل مست سر انداز ہوئے تم\n\nمیں تم کو نہ کہتا تھا کہ آئینہ نہ دیکھو\nآخر ہدف چشم فسوں ساز ہوئے تم\n\nدکھ پہنچے جو کچھ تم کو تمہاری یہ سزا ہے\nکیوں اس کے ہوسؔ عاشق جانباز ہوئے تم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1%DA%AF%D8%B2_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85_%DB%81%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%85"} {"title": "ہرگز کبھی کسی سے نہ رکھنا دلا غرض", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہرگز کبھی کسی سے نہ رکھنا دلا غرض\nجب کچھ غرض نہیں تو زمانے سے کیا غرض\n\nپھیلا کے ہاتھ مفت میں ہوں گے ذلیل ہم\nمحروم تیرے در سے پھرے گی دعا غرض\n\nدنیا میں کچھ تو روح کو اس جسم سے ہے کام\nملتا ہے ورنہ کون کسی سے بلا غرض\n\nوصل و فراق و حسرت و امید سے کھلا\nہم راہ ہے ہر ایک بقا کے فنا غرض\n\nاک پھر کے دیکھنے میں گئی سیکڑوں کی جاں\nتیری ہر اک ادا میں بھری ہے جفا غرض\n\nدیکھا تو تھا یہی سبب حسرت و الم\nمجبور ہو کے ترک کیا مدعا غرض\n\nکیونکر نہ روح و جسم سے ہو چند دن ملاپ\nاس کو جدا غرض ہے تو اس کو جدا غرض\n\nالزام تاکہ سر پہ کسی طرح کا نہ ہو\nاے شادؔ ڈھونڈتی ہے بہانے قضا غرض", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B1%DA%AF%D8%B2_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%84%D8%A7_%D8%BA%D8%B1%D8%B6"} {"title": "ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیں", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیں\nتمہاری تیر نگہ کے شکار ہم بھی ہیں\n\nازل سے داخل فرد شمار ہم بھی ہیں\nتمہارے چاہنے والوں میں یار ہم بھی ہیں\n\nہمیشہ ہم سے کدورت رہی حسینوں کو\nنہ دل سے نکلے کبھی وہ غبار ہم بھی ہیں\n\nمسافروں کی تواضع سے نام ہوتا ہے\nکرم کرو کہ غریب الدیار ہم بھی ہیں\n\nشراب پیتے ہیں تو جاگتے ہیں ساری رات\nمدام عابد شب زندہ دار ہم بھی ہیں\n\nہزار بار حسینوں سے ہم نے نوک کی لی\nگلوں کی آنکھ میں کھٹکے وہ خار ہم بھی ہیں\n\nعجیب رتبہ عنایت کیا ہے قنبر کو\nغلام یا شہ دلدل سوار ہم بھی ہیں\n\nجنوں کے ہاتھ سے ہے ان دنوں گریباں تنگ\nقبا پکارتی ہے تار تار ہم بھی ہیں\n\nبڑے ہی چالیے ہیں چال چلتے ہیں ہر دم\nوہ چوکتے نہیں پر ہوشیار ہم بھی ہیں\n\nرقیب کو بھی ہے بار ان کی بزم میں آغاؔ\nشریک صحبت بوس و کنار ہم بھی ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہزار حیف چھٹا ساتھ ہم نشینوں کا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہزار حیف چھٹا ساتھ ہم نشینوں کا\nمکاں تو ہے پہ ٹھکانا نہیں مکینوں کا\n\nکھلا جو باغ میں غنچہ ستارہ دار کھلا\nگلوں نے نقش اتارا ہے مہ جبینوں کا\n\nہے اپنی اپنی طبیعت پہ حسن شے موقوف\nمیں کیوں ہوں بندۂ بے دام ان حسینوں کا\n\nنظر کا کیا ہے بھروسہ نظر پہ ہیں پردے\nخیال عرش پہ جاتا ہے دوربینوں کا\n\nزمین شور ہو یا ہو زمین شعر اے دل\nنہیں ہے کوئی خریدار ان زمینوں کا\n\nبہشت دہر ہے اپنا وطن خدا کی قسم\nجدا جدا ہے ترانہ سبھی مہینوں کا\n\nکسی کو مان لیا دل نے جب تو مان لیا\nنہ دخل دو یہی مسلک ہے خوش یقینوں کا\n\nجو ہو مصور فطرت مثال کیا اس کی\nگماں نہ چاہیے انساں پہ آبگینوں کا\n\nذرا نکل کے تو دنیا سے دیکھ اے انساں\nپتا نہ دن کا نہ انداز ہے مہینوں کا\n\nسکھا دیا مجھے بچ بچ کے راستہ چلنا\nخدا بھلا کرے اے شادؔ نکتہ چینوں کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AD%DB%8C%D9%81_%DA%86%DA%BE%D9%B9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B4%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہزار خاک کے ذروں میں مل گیا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:ہادی مچھلی شہری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہزار خاک کے ذروں میں مل گیا ہوں میں\nمآل شوق ہوں آئینہ وفا ہوں میں\n\nکہاں یہ وسعت جلوہ کہاں یہ دیدۂ تنگ\nکبھی تجھے کبھی اپنے کو دیکھتا ہوں میں\n\nشہید عشق کے جلوے کی انتہا ہی نہیں\nہزار رنگ سے عالم میں رونما ہوں میں\n\nمرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکا\nفنا کی شکل میں سرچشمۂ بقا ہوں میں\n\nہے تیری آنکھ میں پنہاں مرا وجود و عدم\nنگاہ پھیر لے پھر دیکھ کیا سے کیا ہوں میں\n\nمرا وجود بھی تھا کوئی چیز کیا معلوم\nاس اعتبار سے پہلے ہی مٹ چکا ہوں میں\n\nشمار کس میں کروں نسبت حقیقی کو\nخدا نہیں ہوں مگر مظہر خدا ہوں میں\n\nمرا نشاں نگہ حق نگر پہ ہے موقوف\nنہ خود شناس ہوں ہادیؔ نہ خود نما ہوں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%DB%92_%D8%B0%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق\nیہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق\n\nہجوم کیوں ہے زیادہ شراب‌خانے میں\nفقط یہ بات کہ پیرِ مغاں ہے مردِ خلیق\n\nعلاجِ ضعفِ یقیں ان سے ہو نہیں سکتا\nغریب اگرچہ ہیں رازی کے نکتہ ہائے دقیق\n\nمُریدِ سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب\nخدا کرے کہ مِلے شیخ کو بھی یہ توفیق\n\nاُسی طلسمِ کُہن میں اسیر ہے آدم\nبغَل میں اس کی ہیں اب تک بُتانِ عہدِ عتیق\n\nمرے لیے تو ہے اقرار بالِلّساں بھی بہت\nہزار شُکر کہ مُلّا ہیں صاحبِ تصدیق\n\nاگر ہو عشق تو ہے کُفر بھی مسلمانی\nنہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D9%81_%DB%81%D9%88_%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D9%81%DB%8C%D9%82"} {"title": "ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہے", "poet_page": "مصنف:مخمور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہے\nخیال پست نہ ہو حوصلہ بلند رہے\n\nغم فراق میں دل کیوں نہ درد مند رہے\nبہار آ کے گئی ہم قفس میں بند رہے\n\nخدا کی یاد میں دنیا کو بھول جا اے دل\nوہ کام کر کہ ہر اک طرف سود مند رہے\n\nملے کہ کچھ نہ ملے مانگنے سے کام رکھوں\nتری جناب میں دست دعا بلند رہے\n\nدکھائیں گردش دوراں نے صورتیں کیا کیا\nمگر مجھے تو اکیلے تمہیں پسند رہے\n\nغرور حسن انہیں انکسار شیوۂ عشق\nوہ بے نیاز رہے ہم نیاز مند رہے\n\nجناب شیخ بھی مخمورؔ شب کو رندوں میں\nعجیب حال سے مصروف وعظ و پند رہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%DB%81%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%85%D9%86%D8%AF_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "ہزار شرم کرو وصل میں ہزار لحاظ", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "ہزار شرم کرو وصل میں ہزار لحاظ\nنہ نبھنے دے گا دل زار و بے قرار لحاظ\n\nنہ گد گداؤ مجھے میں بھی تم کو چھیڑوں گا\nمیں کر چکا ہوں تمہارا ہزار بار لحاظ\n\nنقاب اٹھنے کی جرأت کہیں نہ کر بیٹھے\nبڑھائے کیوں دل مضطر کا اضطرار لحاظ\n\nشراب پی چکے بے چارہ کو اجازت دو\nکھڑا ہے دیر سے رخصت کو اے نگار لحاظ\n\nمیں مدح سنج ہوں دل سے ترے تلون کا\nنہ پائیدار ہے الفت نہ پائیدار لحاظ\n\nبتاؤ تو یہ رہے گا وصال میں کب تک\nہمارے ہاتھ کے بدلے گلے کا ہار لحاظ\n\nکریں جو آپ تجاہل تو کیوں نہ سمجھاؤں\nکرے حضور کہاں تک وفا شعار لحاظ\n\nوہ اپنے سر کو ذرا بھی اٹھا نہیں سکتے\nجھکی ہوئی ہے جو گردن تو ہے سوار لحاظ\n\nجو ان سے پوچھو تو ان کے خلاف ہے شوخی\nجو ہم سے پوچھو تو ہم کو ہے ناگوار لحاظ\n\nتکلف اٹھتے ہی پرویںؔ وہ خوب کھل کھیلے\nہوا ہے شوخیوں سے کتنا بے وقار لحاظ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%D8%B1%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D9%88_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%84%D8%AD%D8%A7%D8%B8"} {"title": "ہزار شکر کہ سید غلام بابا نے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "ہزار شکر کہ سید غلام بابا نے\nفراز مسند عیش و طرب جگہ پائی\nزمیں پہ ایسا تماشا ہوا برات کی رات\nکہ آسماں پہ کواکب بنے تماشائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%DB%81_%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A8%D8%A7%D8%A8%D8%A7_%D9%86%DB%92"} {"title": "ہزار مرتبہ دیکھا ستم جدائی کا", "poet_page": "مصنف:کرامت علی شہیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہزار مرتبہ دیکھا ستم جدائی کا\nہنوز حوصلہ باقی ہے آشنائی کا\n\nپری اٹھی مرے پہلو سے بارہا ناکام\nفریفتہ ہوں تری طرز دل ربائی کا\n\nمجھے عذاب جہنم کہ بت پرست ہوں میں\nوہ بت بہشت میں دعویٰ جسے خدائی کا\n\nفضائے باغ سے ہے گوشۂ قفس خوش تر\nگر اپنے دل میں نہ ہو دغدغہ رہائی کا\n\nادب نہ وادئ وحشت کے مجھ سے ترک ہوئے\nجنوں میں ہوش رہا ہے برہنہ پائی کا\n\nنگاہ خندہ تغافل عتاب کہنہ ہوئے\nنکال طرز نیا کوئی دل ربائی کا\n\nبتوں کا سجدہ مری سر نوشت میں کب تھا\nکہ عزم کعبہ کے در پر ہو جبہ سائی کا\n\nاچک رہا ہے کھڑا بام عرش پر کم بخت\nقلق ہے مجھ کو شہیدیؔ کی نارسائی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہزار وعدے کیے ہیں تم نے کبھی کسی کو وفا نہ کرنا", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہزار وعدے کیے ہیں تم نے کبھی کسی کو وفا نہ کرنا\nچلو اسی پر جو غیر کہہ دیں کہیں ہمارا کہا نہ کرنا\n\nاگر نہ سنتے ہو بات میری تو صبر آ جائے جی کو میرے\nستم ہے ان کو خموش رہنا غضب ہے سن کر سنا نہ کرنا\n\nخوشی ہے ان کو یہ جانتا ہوں مگر میں رکھنے کو بات اپنی\nکہوں یہ ان سے کہ بعد مردن تم آ کے ماتم مرا نہ کرنا\n\nوہ جانیں عشق و ہوس کو جب تک حیات دشمن کی ہے غنیمت\nبڑھے گی اس سے ہی قدر اپنی کہ غارت اس کو خدا نہ کرنا\n\nسبب مرض کا ہے ترک عادت یہاں یہاں ہیں درد و الم کی خوگر\nیہی سمجھنا دوا ہماری کہ چارہ سازو دوا نہ کرنا\n\nاگر ہے آنا تو اب بھی آؤ نہ تنگ آ کر وہ کچھ کریں ہم\nکہ جس کو سن کر کہے زمانہ کیا وہ اس نے جو تھا نہ کرنا\n\nیہ ایک مدت کی ہے توقع مٹا نہ دینا الٰہی اس کو\nاگر ہے منظور پاس اس کا ظہور روز جزا نہ کرنا\n\nہمیں تو مرنا ہے آخر اک دن تمہارے سر ہو کے مر رہیں گے\nستائے جانا تمہیں قسم ہے کمی نہ کرنا خطا نہ کرنا\n\nبتا رہے ہیں فلک کو دشمن وہ منتقم ہے کرے جو چاہے\nاٹھے ہوئے ہیں جو ہاتھ اپنے تصور اس کو دعا نہ کرنا\n\nکہیں عدو کی برائیاں کیا ملے ہو اس سے ملو ولیکن\nبتائے دیتے ہیں اس لیے ہم کہ ہم سے آ کر گلا نہ کرنا\n\nلبوں پہ رہنا کہ جب تک امید آمد اس کی ہے مجھ کو باقی\nکرے نہ وعدہ وفا اگر وہ تو مجھ سے اے جاں وفا نہ کرنا\n\nیہیں ہو اپنا سا حال دشمن ملے نہ دوزخ بلا سے اس کو\nنہ نکلے جب تک یہ حسرت اپنی الٰہی محشر بپا نہ کرنا\n\nحیا کا پردہ ہے ورنہ تم تو ہوئے پشیمان جنگ دشمن\nنہیں ہو فکر مصالحت میں تو ہم سے مل کر حیا نہ کرنا\n\nسہیں گے جو کچھ پڑے گی ہم پر بلا میں پھنستے ہو کس لیے تم\nاگر ہے منظور خیر سالکؔ تو ذکر ان سے مرا نہ کرنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%92_%DA%A9%DB%8C%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7"} {"title": "ہزار پھول لیے موسم بہار آئے", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہزار پھول لیے موسم بہار آئے\nجو دل ہو سوکھ کے کانٹا تو کیا قرار آئے\n\nجواب لے کے پھری شکر نزع کی ہچکی\nوہ اب پکارتے ہیں ہم جنہیں پکار آئے\n\nسلجھ سکیں نہ مری مشکلیں مگر دیکھا\nالجھ گئے تھے جو گیسو انہیں سنوار آئے\n\nفلک کو دیکھ کے ہنستے یہ گل تو اچھا تھا\nجو ابر آئے وہ گلشن پہ اشک بار آئے\n\nبہت سے یاد ہیں محفل میں بیٹھنے والے\nکبھی تو بھول کے کوئی سر مزار آئے\n\nابھی ہے غنچۂ دل کی شگفتگی ممکن\nہزار بار اگر موسم بہار آئے\n\nیہ بے مروتیاں دیکھیے کہ لب نہ ہلے\nجو پاس تھے ہم انہیں دور تک پکار آئے\n\nجواب مل تو گیا گو وہ دل شکن ہی سہی\nیہی صدا مرے مالک پھر ایک بار آئے\n\nاندھیری رات تھی اچھا کیا جو اے ثاقبؔ\nچراغ لے کے سوئے ظلمت مزار آئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہزاروں آرزوئیں ساتھ ہیں اس پر اکیلی ہے", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہزاروں آرزوئیں ساتھ ہیں اس پر اکیلی ہے\nہماری روح بے بوجھی ہوئی اب تک پہیلی ہے\n\nبڑھاپا ہو تو ہو اس ربط میں کیوں کر خلل آئے\nمری یاس و تمنا بچپنے سے ساتھ کھیلی ہے\n\nاجل بھی ٹل گئی دیکھی گئی حالت نہ آنکھوں سے\nشب غم میں مصیبت سی مصیبت ہم نے جھیلی ہے\n\nعدم کا تھا سفر جب اور کچھ توشہ نہ ہاتھ آیا\nبہت سی آرزو چلتے چلاتے ساتھ لے لی ہے\n\nذرا دیکھو تو ان اترے ہوئے چہروں کو پھولوں کے\nمعاذ اللہ جھونکا ہے خزاں کا یا کہ سیلی ہے\n\nکبھی جمنے نہ دیتی بے خودی خاطر پہ نقش ان کا\nبہ مشکل میں نے یہ تصویر اسی عیار سے لی ہے\n\nہماری اور گلوں کی ایک ہے نشوونما لیکن\nوہاں مٹھی میں زر ہے اور یہاں خالی ہتھیلی ہے\n\nنہ پوچھو شادؔ ویرانی کو دل کی کیا بتاؤں میں\nتمنا جا چکی حسرت غریب اس میں اکیلی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%DB%8C%D9%84%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے\nبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے\n\nڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر\nوہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے\n\nنکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن\nبہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے\n\nبھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا\nاگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے\n\nمگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے\nہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے\n\nہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی\nپھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے\n\nہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی\nوہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے\n\nمحبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا\nاسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے\n\nکہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ\nپر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B4_%D9%BE%DB%81_%D8%AF%D9%85_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "ہزاروں راز نہاں ہیں دہن کے پردے میں", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہزاروں راز نہاں ہیں دہن کے پردے میں\nکروڑوں نکتہ ہیں اک اک سخن کے پردے میں\n\nنہاں ہے شاہد مطلب سخن کے پردے میں\nزبان بول رہی ہے دہن کے پردے میں\n\nبسا ہے عطر محبت سے جامۂ ہستی\nچھپا ہے کون گل اس پیرہن کے پردے میں\n\nنکال لایا انہیں شوق خود نمائی کا\nوہ ایسی شان سے بیٹھے تھے بن کے پردے میں\n\nغضب کا پردہ نشیں ہے وہ شوخ ہرجائی\nہر انجمن میں ہے ہر انجمن کے پردے میں\n\nکھلا سبب ہمیں لیلیٰ کی جامہ زیبی کا\nکہ روح قیس ہے اس پیرہن کے پردے میں\n\nدردن پہ جن کے تھے زربفت کے پڑے پردے\nاس اس مکاں کے مکیں ہیں کفن کے پردے میں\n\nجو دیکھا اہل بصیرت نے دونوں کو تو کہا\nحضور ہی ہیں حسین و حسن کے پردے میں\n\nنجات اہل گناہ کو کہیں نہیں اکبرؔ\nعبث چھپا ہے تو جا کر کفن کے پردے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%81%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیں", "poet_page": "مصنف:آسی الدنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیں\nمگر تصویر کو ہر حال میں تصویر پاتے ہیں\n\nبجھا دے اے ہوائے تند مدفن کے چراغوں کو\nسیہ بختی میں یہ اک بد نما دھبہ لگاتے ہیں\n\nمرتب کر گیا اک عشق کا قانون دنیا میں\nوہ دیوانے ہیں جو مجنوں کو دیوانہ بتاتے ہیں\n\nاسی محفل سے میں روتا ہوا آیا ہوں اے آسیؔ\nاشارے میں جہاں لاکھوں مقدر بدلے جاتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہزاروں کی جان لے چکا ہے یہ چہرہ زیر نقاب ہو کر", "poet_page": "مصنف:آسی غازی پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہزاروں کی جان لے چکا ہے یہ چہرہ زیر نقاب ہو کر\nمگر قیامت کرو گے برپا جو نکلو گے بے حجاب ہو کر\n\nشناخت اوس کی ہو سہل کیوں کر کہ جب نہ تب بھیس اک نیا ہو\nوہ دن کو خورشید ہو کے نکلے تو رات کو ماہتاب ہو کر\n\nمیں دل سے اس شیخ کا ہوں قائل کہ میکدے میں پڑھے تہجد\nلگائے مسجد میں نعرے ہو حق کے محو دور شراب ہو کر\n\nفراق میں اس قدر تردد ابھی تمہیں کچھ خبر نہیں ہے\nبڑھے گی کچھ اور بے قراری وصال میں کامیاب ہو کر\n\nنہ کر تو اتنی مذمت اس کی بہشت کی چیز ہے یہ واعظ\nیہ بلکہ ہے جوش بحر رحمت اگرچہ آیا شراب ہو کر\n\nوہ تھا بدن یا کوئی گل تر پھر اوس کی خوشبو وہ روح پرور\nجدھر سے گزرے بسا وہ رستہ بہا پسینہ گلاب ہو کر\n\nجناب ناسخؔ کی یہ ہدایت ہے یاد رکھنا تم اس کو آصیؔ\nغزل میں ایسے ہوں شعر جن میں کمی نہ ہو انتخاب ہو کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%84%DB%92_%DA%86%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%81_%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D9%86%D9%82%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہستی اپنی حباب کی سی ہے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "prose", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہستی اپنی حباب کی سی ہے\n\nیہ نمائش سراب کی سی ہے\n\nنازکی اُس کے لب کی کیا کہئیے\n\nپنکھڑی اِک گلاب کی سی ہے\n\nبار بار اُس کے در پہ جاتا ہوں\n\nحالت اب اضطراب کی سی ہے\n\nمیں جو بولا، کہا کہ یہ آواز\n\nاُسی خانہ خراب کی سی ہے\n\nمیر اُن نیم باز آنکھوں میں\n\nساری مستی شراب کی سی ہے", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہستی کو اپنی شعلہ بداماں کریں گے ہم", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہستی کو اپنی شعلہ بداماں کریں گے ہم\nزنداں میں بھی گئے تو چراغاں کریں گے ہم\n\nبرہم ہوں بجلیاں کہ ہوائیں خلاف ہوں\nکچھ بھی ہو اہتمام گلستاں کریں گے ہم\n\nدامن کی کیا بساط گریباں ہے چیز کیا\nنذر بہار نقد دل و جاں کریں گے ہم\n\nظلمت سے بے کراں تو اجالے بھی کم نہیں\nہر داغ دل کو آج فروزاں کریں گے ہم\n\nاب دیکھتے ہیں کون اڑاتا ہے رنگ و بو\nاپنا لہو شریک بہاراں کریں گے ہم\n\nجن کو فریب شوق میں آنا تھا آ چکے\nاب تو ترے کرم کو پشیماں کریں گے ہم", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81_%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارت", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارت\nکافی ہے مرے نالے کو بلبل کی اشارت\n\nفتویٰ طلب اے یار نہ قاضی سے کروں میں\nتوبہ شکنی کو ہے مری مل کی اشارت\n\nمل بیٹھ میری آنکھوں میں ہے ساعت نیک آج\nیہ چشم ترازو ہیں ترے تل کی اشارت\n\nہے باعث جمعیت دل ایک جہاں کی\nاے شوخ پریشانیٔ کاکل کی اشارت\n\nتقویٰ کے نہیں بار سے قد خم ترا اے شیخ\nاک خلق میں مشہور ہے اس پل کی اشارت\n\nیاد آئے تری زلف نہ مجھ کو جو چمن میں\nدے تاب مرے دل کو نہ سنبل کی اشارت\n\nعشاق کو تجھ چشم کے حاجت نہیں مے کی\nبے ہوش کرے سوداؔ کو قلقل کی اشارت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D8%AA"} {"title": "ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دے\nاے بے خبری حاصل مے خانہ بنا دے\n\nطالب ہوں میں اس ایک نگاہ دو اثر کا\nجو ہوش میں لا کر مجھے دیوانہ بنا دے\n\nاے برہمن اک دن بت پندار کو اپنے\nتوڑ اور چراغ در بت خانہ بنا دے\n\nکہہ دو کہ بہار آئے تو بیکار نہ بیٹھے\nدیوانہ بنے یا مجھے دیوانہ بنا دے\n\nدیوانگیٔ عشق بڑی چیز ہے سیمابؔ\nیہ اس کا کرم ہے جسے دیوانہ بنا دے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%A6_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%AF%DB%92"} {"title": "ہستی کی قید سے اے دل آزاد ہوئیے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہستی کی قید سے اے دل آزاد ہوئیے\nصحرا میں جا کے خوب سا ہنس ہنس کے روئیے\n\nدونوں جہاں کا شادی و غم دل سے بھول کر\nپاؤں دراز کر کے فراغت سے سوئیے\n\nاے چشم از برائے خدا گر مدد کرے\nاعمال نامہ اپنا تو رو رو کے دھویئے\n\nحاتمؔ کسی سے اپنی مصیبت کو تو نہ کہہ\nکیا فائدہ جو اپنا بھرم مفت کھوئیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C%DB%92"} {"title": "ہستی ہے عدم مری نظر میں", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہستی ہے عدم مری نظر میں\nسوجھی ہے یہ ایک عمر بھر میں\n\nاو آنکھ چرا کے جانے والے\nہم بھی تھے کبھی تری نظر میں\n\nپھیلاتی ہے پاؤں حسرت دید\nٹھنڈک جو ملی ہے چشم تر میں\n\nکوئی نہ حجاب کام آیا\nدیکھا تو وہ تھے مری نظر میں\n\nکم ظرف تھے سارے غنچہ و گل\nکیا پھولے ہیں ایک مشت زر میں\n\nاتنا بھی نہ ہو کوئی حیا دار\nدیکھا تو سما گئے نظر میں\n\nتارے یہ نہیں ہیں آخر شب\nکچھ پھول ہیں دامن سحر میں\n\nہے عمر رواں کا شمع میں رنگ\nگھر بیٹھے گزرتی ہے سفر میں\n\nدنیا ہے جلیلؔ ہاتھ اٹھائے\nبیٹھے ہیں کسی کی رہ گزر میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%AF%D9%85_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہستیٔ نیست نما دیدۂ حیراں سمجھا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہستیٔ نیست نما دیدۂ حیراں سمجھا\nتجھ کو دوران بقا خواب پریشاں سمجھا\n\nکفر و ایماں کا عجب رنگ ہے نیرنگی میں\nیہ وہ نیرنگ ہے کافر نہ مسلماں سمجھا\n\nلیلیٔ شوخ ادا عین تصور جو بنی\nقیس کو دامن صحرا میں ہدیٰ خواں سمجھا\n\nوسعت مشرب رنداں کا نہیں ہے محرم\nزاہد سادہ ہمیں بے سر و ساماں سمجھا\n\nرنگ فطرت نے بنایا ہے جو مخذوب قماش\nمنظر عالم نیرنگ بیاباں سمجھا\n\nسالک راہ طلب آپ ہوئے راہ غلط\nجادۂ منزل دشوار کو آساں سمجھا\n\nجام سرشار سے مسرور رہے گا ساقیؔ\nتیرا مستانہ بھی اے ساقیٔ دوراں سمجھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C%D9%94_%D9%86%DB%8C%D8%B3%D8%AA_%D9%86%D9%85%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ہسپانیہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ہسپانیہ تُو خُونِ مسلماں کا امیں ہے\nمانندِ حرم پاک ہے تُو میری نظر میں\nپوشیدہ تری خاک میں سجدوں کے نشاں ہیں\nخاموش اذانیں ہیں تری بادِ سحَر میں\nروشن تھیں ستاروں کی طرح ان کی سنانیں\nخیمے تھے کبھی جن کے ترے کوہ و کمر میں\nپھر تیرے حسینوں کو ضرورت ہے حِنا کی؟\nباقی ہے ابھی رنگ مرے خُونِ جگر میں!\nکیونکر خس و خاشاک سے دب جائے مسلماں\nمانا، وہ تب و تاب نہیں اس کے شرر میں\nغرناطہ بھی دیکھا مری آنکھوں نے و لیکن\nتسکینِ مسافر نہ سفر میں نہ حضَر میں\nدیکھا بھی دِکھایا بھی، سُنایا بھی سُنا بھی\nہے دل کی تسلّی نہ نظر میں، نہ خبر میں!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B3%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81"} {"title": "ہشیار ہے سب سے با خبر ہے جب تک", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہشیار ہے سب سے با خبر ہے جب تک\nبیدار ہے عالم پہ نظر ہے جب تک\nپیدا ہے صریر کلک سے یہ آواز\nکر فکر سخن زبان تر ہے جب تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "ہفت بند در مدح حضرت علیؓ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "منقبت", "year": null, "text_ur": "بند اول\n\nالسلام اے رازدار داور جاں آفریں\nالسلام اے لامکاں کے حاکم مسندنشیں\nذات تیری جوں خدا کی ذات ہے والاصفات\nبے شریک و بے عدیل و بے نظیر و بے قریں\nیہ شرافت یہ سیادت یہ تقدس یہ کمال\nیہ تنزہ یہ تعلی یہ تفوق ہے کہیں\nتو ولی ہے تو وصی ہے تو علی ہے تو وہ ہے\nجس سے بالاتر تصور کیجیے تو کچھ نہیں\nکیا تعقل کیا تحمل کیا تبختر کیا وقار\nطفل مکتب درس گہ کا تیرے عقل اولیں\nسید برحق شریف النفس فخر روزگار\nباعث عز سپہر و موجب وقر زمیں\nپیشواے پیشوایاں سجدہ گاہ مومناں\nزینت بطحا و یثرب رونق اسلام دیں\nمظہر صدہا عجائب مصدر لطف و کرم\nزیب منبر جانشین رحمۃ للعالمیں\nمقصد دل آشنایاں مدعاے عاشقاں\nآرزوے اہل عرفاں مطلب اہل یقیں\nوارث دیں داور عادل شفیع روز حشر\nحافظ عرش بریں و حامی شرع متیں\nمالک ملک ولایت حاکم عالم پسند\nبادشاہ صاحب استقلال امیرالمومنیں\nعہد تیرا عدل ہے سب ملک ہے تیرا سرور\nمجرم و اندوہ گیں ہوں ملتفت ہونا ضرور\n\nبند دوم\n\nاے مرے سرمایۂ دنیا و عقبیٰ لطف کر\nاے مرے مولا مرے صاحب ادھر بھی کر نظر\nلطف ترا مس سے میری کیمیاسازی کرے\nمکرمت یک گونہ کر یہ خاک ہوجاتی ہے زر\nرحم پر موقوف ہیں سب کام اس ناکام کے\nنے مجھے کچھ مکر آوے ہے نہ مجھ میں کچھ ہنر\nسر فرو لانے کو جی کب چاہتا ہے سب کے پاس\nہے دماغ بے دماغان محبت عرش پر\nوقت جب آتا ہے خاص اے خاص رب العالمیں\nمیل کلی دل کا ہوتا ہے تری جانب مگر\nتو نہ پہنچے داد کو تو ہائے کیا بیداد ہے\nگوش زد تیرے نہ ہو فریاد تو ہے بے اثر\nوقت خوش وہ تھا مسرت بخش کتنا خلق کا\nدیکھنے کو بھی نہ آتی تھی میسر چشم تر\nشاہد عدل آنکھ میلی گر کرے تو خوب رو\nاپنی پلکوں سے سئیں عشاق کے زخم جگر\nکیا بیاں اب کریے شرم آتی ہے عرض حال سے\nقدر تیری ایسی والا حاجت اپنی کس قدر\nاب تو وحشت ہے طبیعت میں بسان گردباد\nخاک بر سر زندگانی کب تلک کریے بسر\nآبیاری تیری یہ اور باغ سب سرسبز ہے\nایک شاخ آرزو اپنی نہیں لاتی ثمر\nبارے بے برگی گراں ہے اور میں ہوں ناتواں\nبے نسیم فیض تیرے اس چمن میں میں کہاں\n\nبند سوم\n\nاے شہ خوبی نسب والاحسب عالی تبار\nجملہ تن عزت سراپا وقر و یکسر اعتبار\nاللہ اللہ زور بازو قدر و قدرت دیدنی\nریجھنے کی جاے حشمت سیر قابل اقتدار\nقدس کے باشندگاں کا ناز تیری ذات پر\nنوع انساں کا تمامی تیرے اوپر افتخار\nقلع خیبر مرگ اژدر کھینچنا خورشید کا\nہیں فسانے زور کے تیرے جہاں میں یادگار\nجھک گئے گردن کشوں کے سر جہاں میں نے کہا\nلافتیٰ الا علی لاسیف الا ذوالفقار\nتوکہے جاروب تھی میدان کیں کی تیری تیغ\nجس کے نکلے نے خس و خاشاک نے گرد و غبار\nتونے چھیڑا ہے اگر مرکب کو اپنے کہہ کے ہاں\nتو ہوا ہے اس روش اس بادپیما کا گذار\nجوں کوئی بجلی چمک جاتی ہے گاہے پیش چشم\nپھر کھلے پر آنکھ کے رہ جاتے ہیں حیران کار\nگوشۂ محراب میں راتوں کے تیں رونے سے کام\nروز میداں سایۂ شمشیر میں ہنسنا شعار\nکیا چھپی ہے کچھ یہ شخصیت جو میں ظاہر کروں\nپر ترے اوصاف سے ہیں قریہ و شہر و دیار\nہے گہربخشی سے تیری ابر نیساں یک طرف\nہے کف ہمت کے آگے تیرے دریا یک کنار\nمہرباں ہو یک نظر اس چشم نم کی اور دیکھ\nدیکھ مت میری طرف اپنے کرم کی اور دیکھ\n\nبند چہارم\n\nکیا گدا کیا شاہ دونوں تیرے در سے کامیاب\nسجدہ گاہ خلق و عالم ہے تری عالی جناب\nکوئی بیگانہ تری تقلید کیوں کر کرسکے\nتھا تو ایسا جب پیمبرؐ کی ہوا خویشی کا باب\nحیف وہ بے تہ نہ رکھے جو کہ تیری دوستی\nاک ولا کے ضمن میں تیری ہزاروں ہیں ثواب\nعقل کا معقولہ تو ہے خلق کا مقبول تو\nذات تیری فرد اعلیٰ بات تیری یک کتاب\nتجھ سے روے بحث کس کو غیر علام الغیوب\nاس جگہ جبریل ساکت عقل اول لاجواب\nجب کوئی ساقی کہیں تجھ سا بہشتی رو ملے\nجن کو ہے کچھ ہوش وے تیرے بنیں مست و خراب\nعنبریں گیسو ترے وا ہوں تو کھل جاتا ہے جی\nمدعی کھاتے ہیں آپ ہی آپ یوں ہی پیچ و تاب\nتو توقع کی جگہ سب کی تجھی سے چشم داشت\nتو پناہ دہر و تو امیدگاہ شیخ و شاب\nلطف بے پایاں ہے تیرا سایہ گستر خلق کا\nایک تابش اپنے ذرے پر بھی کر اے آفتاب\nہے جہاں تیری سخا واں بحر و بر کا کیا شمار\nجب برسنے تو لگے گنتی میں آوے کب سحاب\nشرح وسعت دامن دولت کی تیرے کیا کروں\nبخش دے ہے جوہر تر پھینک دے ہے لعل ناب\nتیری ہمت تیری جرأت تیری طاقت تیرا زور\nتو ہی ریجھے توہی بوجھے توہی دیکھے اپنی اور\n\nبند پنجم\n\nاے بسان کعبہ تیرے طوف میں روحانیاں\nنام تیرا حاملان عرش کا ورد زباں\nجوش مارے فیض کا چشمہ ترا تو بحر ہے\nزمزم و تسنیم پھر ہیں ایک دو چقر کہاں\nآب شرم رشک سے تیرے ستارہ صبح کا\nخاک تیرے آستانے کی جبین راستاں\nکیا بلندی قدر کی اللہ کیا شان رفیع\nجس جگہ تو ہے نہیں ہرگز رہ وہم و گماں\nزور ایسا کاہے کو بالقوت انسان ہے\nبے مزہ ہو تو ملا دیوے زمیں و آسماں\nگرچہ عالم دیدہ حضرت خضر بھی ہیں آدمی\nپر نہیں ہے ان کو مطلق یاں کی صحبت کا دھیاں\nتجھ پہ ظل اللہ کا اطلاق شاہا راست ہے\nچتر ہے خورشید تیرا چرخ تیرا سائباں\nشیر ہونا تیرا کیا سمجھے بز اخفش ہے شیخ\nقشعریرے میں سدا رہتا ہے یاں ببر ژیاں\nبس طلسمات جہاں کے سب عیاں ہیں تجھ پہ راز\nحاصل کون و مکاں تو واقف راز نہاں\nنور سے تو ماہ کامل قدر سے چرخ بریں\nحلم تیرا کوہ تیرا علم بحر بیکراں\nکیا تسلط کیا تحمل کیا تمول کیا شکوہ\nتو جہاں ہو ایک واں گویا کہ ہیں دونوں جہاں\nیہ طرح پاتے ہیں تجھ میں سب رسول اللہؐ کی\nشبہ ہے نام خدا تو اب رسول اللہؐ کی\n\nبند ششم\n\nاے چراغ جملہ نور خاندان مصطفےٰ\nاے مرے والی مرے مقصود ہم نام خدا\nہے تو تو مخلوق لیکن عقل میں آتا نہیں\nدیکھ کر اندیشہ تجھ کو عرش پر جاتا رہا\nتو جہاں ہے اس جگہ کیا آسماں کی قدر ہے\nقدر تیری ہے جہاں واں گفتگو کو قدر کیا\nگاہ احمدؐ گہ احد گاہے علی پایا تجھے\nہر زماں میں ہر مکاں میں شان تھی تیری جدا\nفرط عشق اپنے سے کیا حرف و سخن اے کام جاں\nتو ہماری آرزو ہے تو ہمارا مدعا\nمطلب اپنا مقصد اپنا حاصل اپنی زیست کا\nعشق تیرا دوستی تیری فقط تیری ولا\nتجھ سے ہم خواہان مطلب تجھ سے ہم جویاے کام\nتوہی یاں حاجت روا ہے تو ہی یاں مشکل کشا\nتجھ سا حاکم تجھ سا داور تجھ سا یاور چھوڑ کر\nکس سے کہیے کس کنے لے جایئے پھر التجا\nتو ہے وارث تو ہے مالک تو ہے صاحب تجھ سے چشم\nاپنے ہاں جو ہے سو تو اے شافع روز جزا\nاعتقاد اپنا یہی یارب رہے ہنگام مرگ\nہوں زبان و دل موافق جس گھڑی پہنچے قضا\nدم بہ دم ہونٹھوں کے اوپر یاعلی ہو یاعلی\nہے رضامندی تو اپنی اس میں آگے جو رضا\nہم یہی فردوس سمجھے ہیں اسی کے تیں نجات\nرفتگان شوق سے بس اور کیا پوچھو ہو بات\n\nبند ہفتم\n\nاے امام واجب التعظیم و باب احترام\nاے سزاے عزت و مسجود انبوہ انام\nتیری قدر و منزلت ختم رسلؐ سے پوچھیے\nتیری قدر و منزلت میں ہے کسی کو کیا کلام\nتجھ رخ پرنور سے نسبت نہیں ہے بدر کو\nشہرگرد ایسے بہت دیکھے ہیں پھرتے ناتمام\nدے جہاں عرض تجمل حشمت و شوکت تری\nقیصر و فغفور واں ہوں بندگی میں جوں غلام\nجب تری زورآوری کی معرکے میں دھوم ہو\nسام کو تب پوچھتا ہے کون رستم ہے کدام\nتجھ سوا جور فلک کا کس سے بدلہ چاہیے\nتو ملیک مقتدر ہے تو عزیز ذی انتقام\nدست بستہ اقتدا ہم سے کسو کی کب ہوئی\nتو ہی اپنا پیشوا ہے تو ہی اپنا پیش امام\nگرچہ کہتا ہے زبان ہند میں یہ منقبت\nلیک حسان عرب سے کم نہیں کچھ میرا نام\nاس ادا سے گفتگو اس حسن سے طرز سخن\nاس فصاحت سے عبارت اس بلاغت سے کلام\nہیں متاع نیک یاں اشعار مولاناحسن\nیمن مدحت سے ترے پڑھتا ہے عالم صبح و شام\nتو خریداری کرے ٹک بھی تو قیمت ہو دوچند\nیعنی ہووے جنس کاسد کا قبول خاص و عام\nسو خدا ناکردہ ہم چشمی نہیں کرتا فقیر\nآرزو ہوتی نہیں ہے غیبت ایمان میرؔ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%81%D8%AA_%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%93"} {"title": "ہلاک تیغ جفا یا شہید ناز کرے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہلاک تیغ جفا یا شہید ناز کرے\nترا کرم ہے جسے جیسے سرفراز کرے\n\nہر ایک ذرہ ہے عالم کا گوش بر آواز\nتو پھر کہاں پہ کوئی گفتگوئے راز کرے\n\nتجلیاں جسے گھیرے ہوں تیرے جلوہ کی\nوہ دیر و کعبہ میں کیا خاک امتیاز کرے\n\nمحال ترک خیال نجات ہے لیکن\nوہ بے نیاز جسے چاہے بے نیاز کرے\n\nمرے کریم جو بے مانگے تجھ سے پاتا ہو\nوہ جا کے کیوں کہیں دست طلب دراز کرے\n\nیہ حسن و عشق کا ہے اتحاد یک رنگی\nوہی ہے مرضئ محمود جو ایاز کرے\n\nبنائے زندۂ جاوید یا رکھے بیدمؔ\nمرے سر آنکھوں پہ جو کچھ نگاہ ناز کرے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%84%D8%A7%DA%A9_%D8%AA%DB%8C%D8%BA_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%DB%81%DB%8C%D8%AF_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "ہلتی ہے زلف جنبش گردن کے ساتھ ساتھ", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہلتی ہے زلف جنبش گردن کے ساتھ ساتھ\nناگن بھی ہے لگی ہوئی رہزن کے ساتھ ساتھ\n\nکس کی کدورتوں سے یہ مٹی خراب ہے\nکس کا غبار ہے ترے دامن کے ساتھ ساتھ\n\nاٹھا تھا منہ چھپائے ہوئے میں ہی صبح کو\nجاتا تھا میں ہی رات کو دشمن کے ساتھ ساتھ\n\nکوچے میں اس صنم کے خدائی کا لطف ہے\nناحق پھرا میں شیخ و برہمن کے ساتھ ساتھ\n\nدل کی تپش نے خاک اڑائی یہ بعد مرگ\nلاشہ پھرا کیا مرا مدفن کے ساتھ ساتھ\n\nاللہ اپنے رشک کا درجہ بھی اب نہیں\nکس کس جگہ گیا بت پر فن کے ساتھ ساتھ\n\nجھونکا قفس میں آیا جو باد بہار کا\nپہلو سے دل نکل چلا سن سن کے ساتھ ساتھ\n\nاشکوں کے ساتھ ساتھ تو موجیں غموں کی ہیں\nآنکھوں کے شعلے ہیں مرے شیون کے ساتھ ساتھ\n\nجس راہ سے گزرتے ہیں وہ، مجھ سے سیکڑوں\nہو لیتے ہیں جنوں زدہ بن بن کے ساتھ ساتھ\n\nزنجیر میرے پاؤں کے پیچھے پڑی ہے یوں\nپھرتا ہے رشتہ جس طرح سوزن کے ساتھ ساتھ\n\nکب تک کسی کو کھولیں کسی کو کریں وہ بند\nپھرتی ہے یاں نگاہ تو روزن کے ساتھ ساتھ\n\nیوں ساتھ روح کے ہے تن زار اب نظامؔ\nپھرتا ہے جیسے سایہ مرا تن کے ساتھ ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%AC%D9%86%D8%A8%D8%B4_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "ہم آج کل ہیں نامہ نویسی کی تاؤ پر", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم آج کل ہیں نامہ نویسی کی تاؤ پر\nدن بھر کبوتروں کو بھگاتے ہیں باؤ پر\n\nرندوں کو ایک روز تو دریا دلی دکھا\nکشتیٔ مے کو چھوڑ دے ساقی بہاؤ پر\n\nلکھوں وہ شعر عارض رنگیں کی وصف بیں\nتختہ چمن کا صدقے ہوں کاغذ کی ناؤ پر\n\nکچھ حاجت کباب نہیں کیف عشق میں\nسیخیں دل و جگر کی لگیں ہیں الاؤ پر\n\nبے منت جہان تنک ظرف اگر ملے\nواللہ پھر تو چرب ہے خشکا پلاؤ پر\n\nقانع کی منہ سے نعمت دنیا خفیف ہے\nبھاری ہے پاؤ نان پر مری نان پاؤ پر\n\nآفت نشان ہیں دیدۂ فتاں کی پتلیاں\nتشہیر سامری کو کریں گے یہ گاؤ پر\n\nبازیچہ گاہ عشق میں وہ ہوں قمار باز\nدونوں جہان رکھ دیے ہیں ایک داؤ پر\n\nکیوں کر براتیوں سے نہ گھونگھٹ کرے دلہن\nساری سبھا مٹی ہے تمہارے بناؤ پر\n\nگل گشت کی ہوس چمنستاں کی آرزو\nاے بے قراریو مرے دل کو لگاؤ پر\n\nکرتا ہوں میں جو مرہم کافور کی تلاش\nکرتی ہے چاندنی مری سینے کے گھاؤ پر\n\nکشتیٔ مے لگی رہی ساقی لبوں کے گھاٹ\nہم مے کشوں کا قافلہ ہے چل چلاؤ پر\n\nمیں جل میں آ گیا وہ نہ آیا فریب میں\nمیں زد پہ چڑھ گیا وہ نہ ٹھیرا لگاؤ پر\n\nپروانے کی طرح نہ بجھا دے چراغ حسن\nطوطیٔ خط کے آتش رخ سے جلاؤ پر\n\nعلم سفینہ اس کو تجھے علم سینہ بحرؔ\nتو پل پر اور شیخ ہے کاغذ کی ناؤ پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81_%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%A4_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "ہم آج کھائیں گے اک تیر امتحاں کے لیے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم آج کھائیں گے اک تیر امتحاں کے لیے\nکہ وقف کرنا ہے دل ناز جاں ستاں کے لیے\n\nجلا کے دل کو لپک سے ڈرو نہ شعلے کی\nزباں دراز ہے لیکن نہیں فغاں کے لیے\n\nاسی چمن میں کہ وسعت ہے جس کی نامحدود\nنہیں پناہ کی جا ایک آشیاں کے لیے\n\nکیا تھا ضبط نے دعویٰ رازدارئ عشق\nاٹھا ہے درد کلیجے میں امتحاں کے لیے\n\nکسی کو ڈھونڈے نہ ملتا نظر کی چوٹ کا نیل\nنہ ہوتا دل میں سویدا اگر نشاں کے لیے\n\nسوائے دل کے جو سرمایۂ دو عالم ہے\nنہ کچھ یہاں کے لیے ہے نہ کچھ وہاں کے لیے\n\nنہ عشق جرم ہے کوئی نہ دل کی بات ہے راز\nبرا ہو شرم کا اک قفل ہے زباں کے لیے\n\nخلاف اپنے رہی وضع ساز و برگ چمن\nقفس بنے ہیں جو تنکے تھے آشیاں کے لیے\n\nلرز رہے ہیں فلک آرزوؔ کہ آہ رسا\nچلی ہے تیغ بکف فتح ہفت خواں کے لیے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%AC_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "ہم آپ کو تو عشق میں برباد کریں گے", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم آپ کو تو عشق میں برباد کریں گے\nتاثیر وفا پر تجھے کیا یاد کریں گے\n\nیاں سخت دلوں میں نہیں ہم دم کوئی اپنا\nجا کوہ میں فرہاد کو فریاد کریں گے\n\nمحروم نہ رکھے گا ہمیں عشق بتاں سے\nگو داد نہ دیں کشتۂ بیداد کریں گے\n\nاے دور فلک مجھ کو قسم سر کی ہے اپنے\nہم شاد کبھی یہ دل ناشاد کریں گے\n\nگر سلسلۂ عشق میں فرزند خلف ہیں\nہم خانہ خرابی کا گھر آباد کریں گے\n\nکب پیروی قیس کریں عشق و جنوں میں\nاس فن میں کچھ اپنا ہی ہم ایجاد کریں گے\n\nہو حلقہ بگوش آہ و فغاں کا مری مجنوں\nجب کان پکڑ یاد ہم استاد کریں گے\n\nحسرتؔ یوں ہی آخر ہوئی یہ فصل بھی گل کی\nکب کنج قفس سے ہمیں آزاد کریں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں\nاپنے سوائے کس کو موجود جانتے ہیں\n\nعجز و نیاز اپنا اپنی طرف ہے سارا\nاس مشت خاک کو ہم مسجود جانتے ہیں\n\nصورت پذیر ہم بن ہرگز نہیں وے مانے\nاہل نظر ہمیں کو معبود جانتے ہیں\n\nعشق ان کی عقل کو ہے جو ماسوا ہمارے\nناچیز جانتے ہیں نا بود جانتے ہیں\n\nاپنی ہی سیر کرنے ہم جلوہ گر ہوئے تھے\nاس رمز کو ولیکن معدود جانتے ہیں\n\nیا رب کسے ہے ناقہ ہر غنچہ اس چمن کا\nراہ وفا کو ہم تو مسدود جانتے ہیں\n\nیہ ظلم بے نہایت دشوار تر کہ خوباں\nبد وضعیوں کو اپنی محمود جانتے ہیں\n\nکیا جانے داب صحبت از خویش رفتگاں کا\nمجلس میں شیخ صاحب کچھ کود جانتے ہیں\n\nمر کر بھی ہاتھ آوے تو میرؔ مفت ہے وہ\nجی کے زیان کو بھی ہم سود جانتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A2%D9%BE_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%85%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%AF_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم آہوان شب کا بھرم کھولتے رہے", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم آہوان شب کا بھرم کھولتے رہے\nمیزان دلبری پہ انہیں تولتے رہے\n\nعکس جمال یار بھی کیا تھا کہ دیر تک\nآئینے قمریوں کی طرح بولتے رہے\n\nکیا کیا تھا حل مسئلۂ زندگی میں لطف\nجیسے کسی کا بند قبا کھولتے رہے\n\nپوچھو نہ کچھ کہ ہم سے غزالان بزم شب\nکس شہر دلبری کی زباں بولتے رہے\n\nکل شب تھا ذکر حور بھی ذکر بتاں کے ساتھ\nزہد و صفا ادھر سے ادھر ڈولتے رہے\n\nاپنا بھی وزن کر نہ سکے لوگ اور ہم\nروح ورائے روح کو بھی تولتے رہے\n\nسرمایۂ ادب تھی ہماری غزل ظفرؔ\nاشعار نغز تھے کہ گہر رولتے رہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A2%DB%81%D9%88%D8%A7%D9%86_%D8%B4%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D9%85_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "ہم اجل کے آنے پر بھی ترا انتظار کرتے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم اجل کے آنے پر بھی ترا انتظار کرتے\nکوئی وعدہ سچ جو ہوتا تو کچھ اعتبار کرتے\n\nجو نہ صبر اور دم بھر ترے بے قرار کرتے\nابھی برق کا طریقہ فلک اختیار کرتے\n\nاگر اتنی بات سنتے کہ ہے عشق میں مصیبت\nکبھی ہم نہ تیری خاطر دل بے قرار کرتے\n\nدل زار بے خبر تھا کیا قتل تو مزا کیا\nیہ سپہ گری ہے پہلے اسے ہوشیار کرتے\n\nیہی چاہتے ہیں اے جاں مٹے غم کہ جان جائے\nابھی موت اگر نہ آتی ترا انتظار کرتے\n\nغم و درد و رنج سہہ کے تجھے دیتے ہم دل اپنا\nانہیں بے وفائیوں پر ترا اعتبار کرتے\n\nجو سفر کا وقت آیا نہ پکارے ساتھ والے\nابھی آنکھ لگ گئی تھی ہمیں ہوشیار کرتے\n\nجو خلاف امید کے ہو تو شکستہ خاطری ہے\nکئی ٹکڑے دل کے ہوتے جو تم ایک وار کرتے\n\nوہ نہ آئے مر گئے ہم اگر آتے بھی تو کیا تھا\nیہی جان صدقے کرتے یہی دل نثار کرتے\n\nہمیں جان دے کے مارا ہمیں دے کے دل مٹایا\nنہ غم فراق ہوتا نہ خیال یار کرتے\n\nوہ ادا تھی قتل گہہ میں کہ بیان سے ہے باہر\nمرے دل پہ زخم پڑتا وہ کسی پہ وار کرتے\n\nتری سمت کی توجہ نہ کبھی جہان فانی\nجو ذرا ثبات پاتے تو کچھ اعتبار کرتے\n\nخبر اس کی پہلے ہوتی کہ نہ آئے گا یہ ہم کو\nتو رشیدؔ شعر کا فن نہ ہم اختیار کرتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%AC%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "ہم اس کی جفا سے جی میں ہو کر دلگیر", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہم اس کی جفا سے جی میں ہو کر دلگیر\nرک بیٹھے تو ہیں ولے کریں کیا تقریر\nدل ہاتھ سے جاتا ہے بغیر اس سے ملے\nاب جو نہ پڑیں پاؤں تو پھر کیا تدبیر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D9%84%DA%AF%DB%8C%D8%B1"} {"title": "ہم اشک غم ہیں اگر تھم رہے رہے نہ رہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم اشک غم ہیں اگر تھم رہے رہے نہ رہے\nمژہ پہ آن کے ٹک جم رہے رہے نہ رہے\n\nرہیں وہ شخص جو بزم جہاں کی رونق ہیں\nہماری کیا ہے اگر ہم رہے رہے نہ رہے\n\nمجھے ہے نزع وہ آتا ہے دیکھنے اب آہ\nکہ اس کے آنے تلک دم رہے رہے نہ رہے\n\nبقا ہماری جو پوچھو تو جوں چراغ مزار\nہوا کے بیچ کوئی دم رہے رہے نہ رہے\n\nملو جو ہم سے تو مل لو کہ ہم بہ نوک گیاہ\nمثال قطرۂ شبنم رہے رہے نہ رہے\n\nیہی ہے عزم کہ دل بھر کے آج رو لیجے\nکہ کل یہ دیدۂ پر نم رہے رہے نہ رہے\n\nتمہارے غم میں غرض ہم تو دے چکے ہیں جی\nبلا سے تم کو بھی اب غم رہے رہے نہ رہے\n\nیہی سمجھ لو ہمیں تم کہ اک مسافر ہیں\nجو چلتے چلتے کہیں تھم رہے رہے نہ رہے\n\nنظیرؔ آج ہی چل کر بتوں سے مل لیجے\nپھر اشتیاق کا عالم رہے رہے نہ رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%BA%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D9%85_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "ہم ان کی نظر میں سمانے لگے", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم ان کی نظر میں سمانے لگے\nمگر جب نظر بھی نہ آنے لگے\n\nیہ تیری سخن سازیاں ہیں ندیم\nکسی پر وہ کیوں رحم کھانے لگے\n\nنہ دی غیر نے داد طرز ستم\nستم گر کو ہم یاد آنے لگے\n\nنہ دانش درست اور بینش بجا\nدل و دیدہ دونوں ٹھکانے لگے\n\nگیا تھا کہ ان کی خوشامد کروں\nوہ الٹا مجھی کو بنانے لگے\n\nکبھی خیر مقدم کبھی مرحبا\nزباں پر یہ الفاظ لانے لگے\n\nکبھی میرے قربان ہوتے رہی\nکبھی مجھ کو پنکھا ہلانے لگے\n\nکبھی لیٹ کر پاؤں پھیلا دیئے\nکبھی دیکھ کر مسکرانے لگے\n\nکیا میں نے جب عزم بوس و کنار\nتو اٹھ بیٹھے اور منہ چڑھانے لگے\n\nکہیں پھر دوپٹا سنبھلنے لگا\nکہیں آدمی کو بلانے لگے\n\nخدایا کیا کس نے ان پر ستم\nالٰہی یہ کیوں غل مچانے لگے\n\nوہ دم میں کب آتے تھے دیتے تھے دم\nکہ سمجھوں مرے دم میں آنے لگے\n\nوہ محفل میں آئیں تو ناظمؔ ضرور\nمغنی یہ اشعار گانے لگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "ہم اور ہمارا امتحان", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "جناب ایڈیٹر صاحب۔ السلام علیکم ذوق مرحوم فرما گئے ہیں،اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک راتہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دےبعض انسان دنیا کے تاریک پہلو کو دیکھتے ہیں اور بعض روشن پہلو کو۔ ایک ہی چیز ایک کو بری معلوم ہوتی ہے اور دوسرے کو اچھی۔ امتحان ایک کے لئے آفت جان ہوتا ہے اور دوسرے کے لئے دل فریب۔ ان ہی دو رخوں کو دو صاحبوں نے اپنی اپنی سر گزشت میں دکھایا ہے۔ اس کے روشن رخ کا کچھ حصہ رسالہ افادہ میں چھپا تھا مگر وہ رسالے کے حق میں غالب کا قصیدہ ہو گیا اور اس کی اشاعت کے ساتھ ہی رسالہ افادہ کا خاتمہ با لخیر ہو گیا۔ اب یہ دونوں رخ رسالہ نمائش کے لئے بھیجتا ہوں۔ دونوں کو کو ایک ہی پرچہ میں چھاپ دیجئے تاکہ آپ کے رسالے کا حشر بھی اس کی نحوست سے کہیں وہ نہ ہو جو رسالہ افادہ کا ہوا۔ اگر چھاپنے کی ہمت نہ ہو تو مضمون واپس کر دیجئے۔ جو ایڈیٹر صاحب اپنے رسالے کی بنیاد کو بہت قوی سمجھتے ہیں ان کو بھیج دوں گا۔ دیکھوں وہ بھی اس ٹکر کی تاب لاتے ہیں یا نہیں۔ والسلام(مرزا الم نشرح ) تصویر کا ایک رخ 1 نہ ہوئی گر میرے پر چوں سے تسلی نہ سہیامتحاں اور بھی باقی ہے تو یہ بھی نہ سہیلوگ امتحان کے نام سے گھبراتے ہیں لیکن مجھے ان کے گھبرانے پر ہنسی آتی ہے۔ آخر امتحان ایسا کیا ہوا ہے۔ دو ہی صورتیں ہیں’فیل یا پاس‘ اس سال کامیاب نہ ہوئے آئندہ سال سہی۔ میں اپنے دوستوں اور ہم جماعتوں کو دیکھتا تھا کہ جوں جوں امتحان کے دن قریب آتے جاتے ان کے حواس پراں، ان کا دماغ مختل اور ان کی صورت اتنی سی نکلتی آتی تھی۔ بندۂ درگاہ پر امتحان کا نہ رتی برابر اثر پہلے تھا اور نہ اب ہے۔ گو امتحان سے فارغ ہو چکا ہوں لیکن اب بھی اس کے ختم ہو جانے کا افسوس ہے۔ امیدواروں کا مجمع، نئی نئی صورتیں، عجیب عجیب خیالات، یہ ایسی چیزیں ہیں جن سے کبھی دل سیر نہیں ہو سکتا۔ جی چاہتا ہے کہ تمام عمر امتحان ہوئے جائے لیکن پڑھنے اور یاد کرنے کی شرط اٹھا دی جائے۔ میری سنئے کہ دو سال میں لا کلاس کا کورس پورا کیا۔ مگر کس طرح؟ شام کو یاروں کے ساتھ ٹہلنے نکلتا، واپسی کے وقت لا کلاس میں بھی جھانک آتا۔ منشی صاحب دوست تھے اور لکچرار صاحب پڑھانے میں مستغرق۔ حاضری کی تکمیل میں کچھ دشواری نہ تھی۔ اب آپ ہی بتائیے کہ لا کلاس میں شریک ہونے سے میرے کس مشغلے میں فرق آ سکتا تھا؟ والد صاحب قبلہ خوش تھے کہ بیٹے کو قانون کا شوق ہو چلاہے۔ کسی زمانے میں بڑے بڑے وکیلوں کے کان کترے گا۔ ہم بھی بے فکر تھے کہ چلو دو برس تک تو کوئی محنت کے لئے کہہ نہیں سکتا۔ بعد میں دیکھئے کون جیتا ہے اور کون مرتا ہے۔ لیکن زمانہ آنکھ بند کئے گزرتا ہے۔ دو سال ایسے گزر گئے جیسے ہوا۔ لا کلاس کا صداقت نامہ بھی مل گیا۔ اب کیا تھا والدین امتحان وکالت کی تیاری کے لئے سر ہو گئے مگر میں بھی ایک ذات شریف ہوں۔ ایک بڑھیا اور ایک بڑھے کو دھوکا دینا کیا بڑی بات ہے۔ میں نے تقاضا کیاکہ علاحدہ کمرہ مل جائے تو محنت کروں۔ بال بچوں کی گڑبڑ میں مجھ سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ چند روز اسی حیلے سے ٹال دیے۔ لیکن تابکے! بڑی بی نے اپنے سونے کا کمرہ خالی کر دیا۔ اب میں دوسری چال چلا۔ دروازوں میں جو شیشے تھے ان پر کاغذ چپکا دیا۔ لمپ روشن کر کے آرام سے سات بجے سو جاتا اور صبح نو بجے اٹھتا۔ اگر کسی نے آواز دی اور آنکھ کھل گئی تو ڈانٹ دیا کہ خواہ مخواہ میری پڑھائی میں خلل ڈالا جاتا ہے۔ اگر آنکھ نہ کھلی اور صبح کو سونے کا الزام لگایا گیا تو کہہ دیا کہ میں پڑھتے وقت کبھی جواب نہ دوں گا، آئندہ کوئی مجھے دق نہ کرے۔ بعض وقت ایسا ہوا کہ لمپ بھڑک کر چمنی سیاہ ہو گئی اور میری زیادہ محویت اور محنت کا نتیجہ سمجھی گئی۔ بعض وقت والد، والدہ کہتے بھی تھے کہ اتنی محنت نہ کیا کرو لیکن میں زمانے کی ترقی کا نقشا کھینچ کر ان کا دل خوش کر دیا کرتا تھا۔ خدا خدا کر کے یہ مشکل بھی آسان ہوگئی اور امتحان کا زمانہ قریب آیا۔ میں نے گھر میں بہت کہا کہ ابھی میں امتحان کے لئے جیسا چاہئے ویسا تیار نہیں ہوں لیکن میری مسلسل حاضری، لا کلاس اور شبانہ روز کی محنت نے ان کے دلوں پر سکہ بٹھا رکھا تھا۔ وہ کب ماننے والے تھے۔ پھر بھی احتیاطاً اپنے بچاؤ کے لئے ان سے کہہ دیا اگر میں فیل ہو جاوں تو اس کی ذمے داری مجھ پر نہ ہوگی۔ کیونکہ میں ابھی اپنے آپ کو امتحان کے قابل نہیں پاتا۔ لیکن والد صاحب مسکرا کے بولے کہ امتحان سے کیوں ڈرے جاتے ہو، جب محنت کی ہے تو شریک بھی ہو جاؤ، کامیابی و ناکامیابی خدا کے ہاتھ ہے۔ مرد باید کہ ہراساں نشودمیں نے بھی تقدیر اور تدبیر پر ایک چھوٹا سا لکچر دے کر ثابت کر دیا کہ تدبیر کوئی چیز نہیں۔ تقدیر سے تمام دنیا کے کام چلتے ہیں۔ قصہ مختصر درخواست شرکت دی گئی اور منظور ہوگئی اور ایک دن وہ آیا کہ ہم ہال ٹکٹ لئے ہوئے مقام امتحان پر پہنچ ہی گئے، گو یاد نہیں کیا تھا لیکن دو وجہ سے کامیابی کی امید تھی۔ اول تو امداد غیبی، دوسرے پرچوں کی الٹ پھیر۔ شاید وہ حضرات جو امتحان میں کبھی شریک نہیں ہوئے، اس مضمون کو نہ سمجھیں اس لئے ذرا وضاحت سے عرض کرتا ہوں۔ ’’امداد غیبی‘‘ سے مراد امیدواران امتحان کی اصطلاح میں وہ مدد ہے جو ایک کو دوسرے سے یا کسی نیک ذات نگراں کار سے یا عند الموقع کتاب سے پہنچ جاتی ہے۔ پرچوں کی الٹ پھیر گو بظاہر مشکل معلوم ہوتی ہے لیکن تقدیر سب کچھ آسان کر دیتی ہے۔ بعض شریف کم حیثیت ملازم ایسے بھی نکل آتے ہیں جو بہ امید انعام پرچے بدل دیتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ اس سے ایک محنت کرنے والے کو نقصان پہنچ جاتا ہے لیکن تدبیر و تقدیر کا مسئلہ جیسا اس کا رروائی میں حل ہوتا ہے، دوسری کسی صورت میں حل نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ اور بھی صورتیں ہیں لیکن وہ بہت کم پیش آتی ہیں۔ اس لئے ان پر بھروسہ کرنا نادانی ہے۔ خیر آمدم بر سر مطلب! پونے دس بجے گھنٹی بجی اور ہم بسم اللہ کہہ کر کمرۂ امتحان میں داخل ہوئے۔ یہاں ایک بہت خلیق اور ہنس مکھ نگراں کار تھے۔ مجھے جگہ نہیں ملتی تھی۔ میں نے ان سے کہا۔ وہ میرے ساتھ ہو لئے، جگہ بتائی اور بڑی دیر تک ہنس ہنس کر باتیں کرتے رہے۔ میں سمجھا چلو بیڑا پار ہے اللہ دے اور بندہ لے۔ ٹھیک دس بجے پرچہ تقسیم ہوا۔ میں نے پرچہ لیا۔ سر سری نظر ڈالی اور میز پر رکھ دیا۔ لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ پرچہ پڑھنے کے بعد جیسا میرے چہرے پر اطمینان تھا شاید ہی کسی کے چہرے پر ہوگا۔ خود تو اس پرچے کے متعلق اندازہ نہ کر سکا لیکن نگراں کار صاحب کو یہ کہتے ضرور سنا کہ پرچہ مشکل ہے۔ میں کئی مرتبہ اول سے آخر تک اس کو پڑھ گیا لیکن نہ معلوم ہوا کس مضمون کا ہے۔ جوابات کی کاپی دیکھی۔ اس کے آخر کی ہدایتیں پڑھیں۔ صفحہ اول کی خانہ پری کی اور کھڑا ہو گیا۔ گارڈ صاحب فوراً ہی آئے۔ میں نے ان سے کہا جناب! یہ پرچہ کس مضمون کا ہے۔ وہ مسکرائے، زبان سے تو کچھ نہ بولے مگر پرچے کے عنوان پر انگلی رکھ دی۔ اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ’’اصول قانون‘‘ کا پرچہ ہے۔ دل کھل گیا۔ اب کیا تھا میں نے بھی قلم اٹھا کر لکھنا شروع کر دیا۔ کیونکہ اصول کے لئے کسی کتاب کے پڑھنے کی ضرورت تو ہے ہی نہیں۔ اس مضمون پر ہر شخص کو رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ ایک مقنن ایک اصول قائم کرتا ہے۔ دوسرا اس کو توڑ دیتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی رائے کو کسی دوسرے کی تجویز کا پابند کریں۔ میں نے اپنے برابر والے سے پوچھنے کی کوشش بھی کی۔ کچھ ادھر ادھر نگاہ بھی دوڑائی مگر وہ گارڈ صاحب میری حالت کو کچھ ایسا تاڑ گئے تھے کہ ہر وقت بلائے ناگہانی کی طرح سر پر ہی کھڑے رہتے تھے۔ ذرا میں نے ادھر ادھر گردن پھیری اور انہوں نے آواز دی کہ، ’’جناب اپنے پرچے پر نظر رکھئے۔‘‘ جب دوسروں سے مدد ملنے کی توقع منقطع ہو گئی تو میں نے دل میں سوچا کہ چلو ان گارڈ صاحب ہی سے پوچھیں۔ میں کھڑا ہو گیا۔ وہ آئے، میں نے دریافت کیا کہ، ’’جناب والا اس دوسرے سوال کا کیا جواب ہے۔‘‘ وہ مسکرائے اور کہا کہ ’’مجھے معلوم نہیں۔‘‘ میں نے کہا کہ یہ برابر والے بڑے زور سے لکھ رہے ہیں ان سے پوچھ دیجئے اور اگر آپ کو دریافت کرتے ہوئے لحاظ آتا ہے تو ذرا ادھر ٹہلتے ہوئے تشریف لے جائیے میں خود پوچھ لوں گا۔‘‘ مگر وہ کب ہلنے والے تھے۔ قطب ہو گئے۔ ان کا مسکرانا پہلے تو بہت اچھا معلوم ہوتا تھا لیکن پھر آخر میں تو زہر ہو گیا۔ میں واللہ سچ کہتا ہوں کہ اگر تمام عمر میں قلبی نفرت مجھے کسی سے ہوئی ہے تو انہیں صاحب سے ہوئی ہے۔ ان کا وہ مسکراتے ہوئے ٹہلنا مجھے ایسا برا معلوم ہوتا تھا کہ کئی دفعہ میں نے ارادہ کیا کہ اگر میرے برابر کھڑے ہو کر یہ مسکرائے تو ضرور گلخپ ہو جاؤں لیکن پھر سوچا کہ سرکاری معاملہ ہے۔ کہیں اینچن چھوڑ کر گھسیٹن میں نہ پڑ جاؤں۔ اس لئے چپکا ہو رہا۔ غرض اس طرح یہ تمام دن امتحان کے گزر گئے۔ لیکن آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ایسے ظالم کے ساتھ ایسی حالت میں کہ ایک حرف بھی یاد نہ ہو، پورے چھ گھنٹے گزارنے کیسے مشکل ہوں گے۔ میں تو ہر روز آدھ گھنٹے کے بعد ہی کمرے سے نکل آتا لیکن مصیبت یہ آن پڑی کہ والد صاحب روز گیارہ بجے سے آ جاتے اور نیچے صحن میں بیٹھے رہتے۔ اب میں جلدی باہر آ جاتا تو جو رعب میں نے دو سال کے عرصے میں قائم کیا تھا وہ سب ہوا ہو جاتا۔ اس لئے قہر درویش بر جان درویش آخری وقت تک کمرہ امتحان میں بیٹھا رہتا اور جب نیچے اترتا تو والد صاحب سے پرچے کی سختی کی ضرور شکایت کرتا۔ وہ بھی میری تشفی کے لیے ممتحن کو بہت برا بھلا کہتے لیکن ان کو یہ خیال ہو گیا تھا کہ کچھ ہی کیوں نہ ہو میرا بیٹا کامیاب ضرور ہوگا۔ امتحان ختم ہوا اور امید نمبر ایک اور دو کا خون ہو گیا۔ اب ممتحنوں کے پاس کوشش کی سوجھی۔ والد صاحب ایک زبر دست چٹھی سفارش کی لے کر ایک صاحب کے ہاں پہنچے۔ وہ چٹھی دیکھ کر بہت اخلاق سے ملے۔ آنے کی وجہ دریافت کی۔ والد نے عرض کیا کہ خادم زادہ اس سال امتحان میں شریک ہوا ہے۔ اگر آپ کچھ کوشش فرمائیں تو یہ خانہ زاد ہمیشہ ممنون احسان رہے گا۔ وہ بہت ہنسے اور دوسرے لوگوں سے جو سلام کو حاضر ہوئے تھے فرمانے لگے۔ یہ عجیب درخواست ہے۔ ان کا بیٹا تو امتحان دے اور کوشش میں کروں۔ بندہ خدا اپنے لڑکے سے کہو وہ خود کوشش کرے۔ بے چارے بڑے میاں ایسے نادم ہوئے کہ پھر کسی کے پاس نہ گئے۔ کچھ عرصے بعد نتیجہ بھی شائع ہو گیا اور کم ترین جملہ مضامین میں بدرجہ اعلیٰ فیل ہوا۔ خبر نہیں کہ وہ کون سے بھلے مانس ممتحن تھے کہ انہوں نے دو نمبر بھی دیے۔ باقی نے تو صفر ہی پر ٹالا۔ والد صاحب کو بہت رنج ہوا۔ نمبروں کی نقل حاصل کی اور بالآخر یہی رائے قرار پائی کہ کسی بد معاش چپراسی نے پرچے بدل دیے۔ ورنہ ممکن تھا کہ برابر تین گھنٹے لکھا جاتا اور صفر ملتا۔ مجھے بھی تعجب تھا کیوں کہ میں نے پرچے کچھ ایسے برے نہیں کئے تھے۔ فیصلے کےدو پرچوں کے جوابات تو مجھے کچھ یاد ہیں۔ وہ ناظرین کے سامنے پیش کر کے ان سے انصاف کا طالب ہوں۔ بقیہ پرچوں کے متعلق مجھے خود یاد نہیں رہا کہ سوال کیا تھا اور میں نے جواب کیا لکھا۔ لیکن میرے فیصلے سے دوسرے جوابات کا اندازہ ہو جائے گا۔ فیصلہ دیوانی میں یہ مقدمہ دیا گیا تھا کہ ایک مکان گروی ہے۔ مرتہن کہتا ہے کہ مکان رہن بالوفا تھا، مدت ختم ہو گئی اس لئے مکان اب میرا ہو گیا۔ راہن کہتا ہے کہ مرتہن کا قبضہ غاصبانہ ہے۔ دونوں طرف سے شہادت پیش ہوئی ہے۔ مرتہن کے گواہوں کے بیانات سے میرے رائے میں رہن بالوفا ثابت تھا اور راہن کی شہادت سے قبضہ غاصبانہ۔ میں نے اس کا تصفیہ یہ کیا کہ مکان منہدم کر کے زمین اور عملہ آدھا آدھا دونوں میں تقسیم کر دیا جائے اور چونکہ یہ تمام خرابی گواہوں کے پیچیدہ بیانات سے پڑی ہے اس لئے مکان کے منہدم کرنے اور مقدمے کا خرچہ ان سے دلایا جائے۔ میں اب بھی نہایت زور سے کہتا ہوں کہ اس سے زیادہ صاف کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ نہ مرتہن کو شکایت کہ میرا مقدمہ خارج ہوا، اور نہ راہن کو شکایت کہ اس کا مکان مفت میں دوسروں کو دے دیا گیا۔ اب اس فیصلے پر بھی اگر ممتحن صاحب نمبر نہ دیں تو وہ جانیں اور ان کا دین ایمان جانے۔ فوج داری کے مقدمے کی یہ صورت تھی کہ ایک جوان عورت کے خاوند کو ملزم نے مار ڈالا تھا۔ بے چاری کے دو چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے۔ شہادت میں جو گواہ پیش ہوئے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے ملزم کو قتل کرتے ہوئے خود دیکھا ہے۔ ایک بیان کرتا ہے کہ اس کا منہ شمال کی طرف تھا۔ دوسرا کہتا ہے کہ میرا منہ جنوب کی طرف تھا۔ ذرا انصاف کیجئے کہ جب یہ صورت ہے تو اس کا لازمی نتیجہ ہوا کہ ان دونوں کی پیٹھ ملزم اور مقتول کی طرف تھی۔ اول تو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسا بڑا واقعہ ہو رہا ہو اور یہ لوگ پیٹھ پھیرے کھڑے رہیں۔ دوسرے جب یہ پیٹھ پھیرے کھڑے تھے تو کیا ان کی آنکھیں پیٹھ پر تھیں، جو انہوں نے اس واقعے کو دیکھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں جھوٹے ہیں۔ اس لئے میں نے یہ تجویز کی کہ ان دونوں گواہوں کو دو دو سال سزائے قید با مشقت اور سو سو روپیہ جرمانہ کی سزا دے کر ملزم کو بری کر دیا جائے۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ بے چاری مستغیثہ بیوہ ہو گئی۔ اس لئے اس کے متعلق یہ حکم دیاکہ سرکاری طور پر مستغیثہ کا نکاح ملزم سے کر دیا جائے اور جو رقم جرمانہ گواہوں سے وصول ہو وہ اس نکاح میں صرف کی جائے۔ اب رہے بچے تو ان کے متعلق یہ تجویز کی گئی کہ ملزم کو ان کے رکھنے اور پرورش کرنے میں تامل ہوگا۔ اس لئے دونوں یتیم خانے میں بھیج دیے جائیں۔ اب آپ ہی فرمائیے کہ اس سے زیادہ اور کیا انصاف ہو سکتا ہے۔ اس پر بھی اگر ممتحن صاحب مجھ کو فیل کر دیں تو اس کو ظلم نہ کہیں تو اور کیا کہیں گے۔ انصاف آپ ناظرین کے ہاتھ میں ہے۔ میں نے یہ جوابات والد صاحب کو بھی سنائے۔ انہوں نے بہت تعریف کی۔ ممتحنوں کو بہت برا بھلا کہا۔ میری بہت اشک شوئی کی اور فرمایا بیٹا گھبرانے کی بات نہیں۔ اس سال نہیں آئندہ سال سہی۔ آخر کہا ں تک بے ایمانی ہوگی۔ سو دن چور کے ایک دن شاہ کا۔ خیر۔ رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشتجو کچھ ہوا سو ہوا، ایک سال کی فرصت تو مل گئی۔\n\nحاشیہ\n\n(1) یہ دو مضامین ’تصویر کا ایک رخ اور تصویر کا دوسرا رخ‘ کے عنوان سے شائع ہوئے تھے، اول الذکر چونکہ زیادہ دل چسپ ہے اس لئے انتخاب میں صرف اسی کو جگہ دی گئی ہے۔\n\n(مرتب)", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%86"} {"title": "ہم اپنا جو قصہ سنانے لگے", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم اپنا جو قصہ سنانے لگے\nوہ بولے کہ پھر سر پھرانے لگے\n\nکہا تھا اٹھا پردۂ شرم کو\nوہ الٹا ہمیں کو اٹھانے لگے\n\nذرا دیکھیے ان کی صناعیاں\nمجھے دیکھ کر منہ بنانے لگے\n\nکہا میں نے مل یا مجھے مار ڈال\nوہ جھٹ آستینیں چڑھانے لگے\n\nمجھے آتے دیکھا جوں ہی دور سے\nقدم وار جلدی اٹھانے لگے\n\nاٹھے وہ تو اک حشر برپا کیا\nجو بیٹھے تو فتنہ اٹھانے لگے\n\nغذا غم میں تھی میری خون جگر\nاب اعدا کا بھی رشک کھانے لگے\n\nکمال تعشق نہیں ہے ہنوز\nابھی سے وہ منہ کو چھپانے لگے\n\nخفا ہو کے جب بے بلائے گیا\nمجھے دیکھ کر مسکرانے لگے\n\nغنیمت ہے اتنا تو اٹھا حجاب\nکہ اب خواب میں بھی وہ آنے لگے\n\nوہ دل کے اڑانے سے واقف نہ تھے\nہمیں تو یہ گھاتیں بتانے لگے\n\nمگر ان پہ راز محبت کھلا\nجو مجروحؔ سے بچ کے جانے لگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%82%D8%B5%DB%81_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "ہم اپنی جان سے اے بت بہت بیزار بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:ماسٹر باسط بسوانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم اپنی جان سے اے بت بہت بیزار بیٹھے ہیں\nبھری برسات میں آکر پس دیوار بیٹھے ہیں\n\nکریں کیا عرض مطلب خوف سے یاں جان جاتی ہے\nلئے وہ ہاتھ میں کچھ اس طرح تلوار بیٹھے ہیں\n\nپلٹ کر بستیوں سے یوں کہا دایہ نے شیریں سے\nسنا کچھ اور اے بٹیا وہ تیشہ مار بیٹھے ہیں\n\nہوئے ہیں کارزار عشق میں ہم بے طرح زخمی\nکہ شکل تیغ دل پر ابروئے خم دار بیٹھے ہیں\n\nہماری خوش نصیبی سے ہوا کچھ دال میں کالا\nرقیب رو سیہ کو آج وہ پھٹکار بیٹھے ہیں\n\nستم گر دیکھ لینا پھٹ پڑیں گے غیر کے سر پر\nنہیں بے وجہ ہم یوں صورت دیوار بیٹھے ہیں\n\nکہا یہ آخری ہفتہ نے ہنس کر اہلکاروں سے\nذرا دیکھو مرے پیچھے میاں اتوار بیٹھے ہیں\n\nسر محفل جو اس بت سے کبھی عرض تمنا کی\nکہا چپکے سے چپ رہئے ابھی اغیار بیٹھے ہیں\n\nاٹھا کر چوک میں سر شیخ جی نے ہنس کے فرمایا\nبہت سے دشمن ایماں سر بازار بیٹھے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%AA_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%A8%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم اپنے ہی سر لیں گے مصیبت ہو کسی کی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم اپنے ہی سر لیں گے مصیبت ہو کسی کی\nآئے گی اسی جان پہ آفت ہو کسی کی\n\nہم لطف کے رتبے کو ابھی جانچ رہے ہیں\nدل دیں اگر ایسی ہی عنایت ہو کسی کی\n\nکیوں وصل کی شب ہاتھ لگانے نہیں دیتے\nمعشوق ہو یا کوئی امانت ہو کسی کی\n\nاے نامہ بر احوال غم ہجر تو لکھ دوں\nایسا نہ ہو میری ہی سی حالت ہو کسی کی\n\nلڑنا کبھی ملنا کبھی آنا کبھی جانا\nتم شوخ ہو یا شوخ طبیعت ہو کسی کی\n\nلو رہنے دو تسکیں کے لئے غیر کی تصویر\nشاید جو نہ ہوں میں تو ضرورت ہو کسی کی\n\nیہ داغؔ ہماری نہیں سنتا نہیں سنتا\nایسی بھی الہی نہ بری مت ہو کسی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%B3%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ہم ایسے کب تھے کہ خود بدولت یہاں بھی کرتے قدم نوازش", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم ایسے کب تھے کہ خود بدولت یہاں بھی کرتے قدم نوازش\nمگر یہ اک اک قدم پر اے جاں فقط عنایت کرم نوازش\n\nکہاں یہ گھر اور کہاں یہ دولت جو آپ آتے ادھر کو اے جاں\nجو آن نکلے ہو بندہ پرور تو کیجے اب کوئی دم نوازش\n\nلگا کے ٹھوکر ہمارے سر پر بلا تمہاری کرے تأسف\nکہ ہم تو سمجھے ہیں اس کو دل سے تمہارے سر کی قسم نوازش\n\nجواب مانگا جو نامہ بر سے تو اس نے کھا کر قسم کہا یوں\nزباں قلم ہو جو جھوٹ بولے کہ واں نہیں یک قلم نوازش\n\nاٹھاویں نازاں کے ہم نہ کیوں کر نظیرؔ دل سے کہ جن کے ہوویں\nجفا تلطف عتاب شفقت غضب توجہ ہتم نوازش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%A8%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%D9%82%D8%AF%D9%85_%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2%D8%B4"} {"title": "ہم بن غم یار بھی جئے ہیں", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم بن غم یار بھی جئے ہیں\nمرنے کے بڑے جتن کئے ہیں\n\nمخفی تجھ سے بھی ہیں غم یار\nکچھ وار جو دل نے سہہ لیے ہیں\n\nدل سے بھی چھپا کے ہم نے رکھے\nکچھ چاک جو عمر بھر سئے ہیں\n\nکچھ خون وفا سے کچھ حنا سے\nکیا رنگ بہار نے لیے ہیں\n\nافسوس ہماری سخت جانی\nاحباب نے بھی گلے کئے ہیں\n\nگلشن میں عجب ہوا چلی ہے\nپھولوں نے ہونٹ سی لیے ہیں\n\nدل باختگی و شعر خوانی\nدو کام تو عمر بھر کئے ہیں\n\nکہتے تھے تجھی کو جان اپنی\nاور تیرے بغیر بھی جئے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A8%D9%86_%D8%BA%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AC%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم بھی دیکھیں گے کہ آنا ترا کیونکر نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:مرزا رحیم الدین حیا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم بھی دیکھیں گے کہ آنا ترا کیونکر نہ ہوا\nیہ بھی اک کھیل ہوا فتنۂ محشر نہ ہوا\n\nہم ہی تھے خاک کے پتلے کہ ہوئے جل کر خاک\nاے فلک اور کوئی تجھ کو میسر نہ ہوا\n\nوائے ناکامئ قسمت کہ کبھی حلق اپنا\nقابل خنجر و شمشیر ستم گر نہ ہوا\n\nہم نہ کہتے تھے کیا کر نہ سدا شور‌ و فغاں\nانہیں باتوں سے ٹھکانا دل مضطر نہ ہوا\n\nمیری وحشت نے کیا حشر میں ہنگامہ سا\nچاک سو جائے سے کم دامن محشر نہ ہوا\n\nحسرت اس عاشق ناشاد پہ جس کا یہ حال\nنہ ہوا وصل بتاں اور اسے دوبھر نہ ہوا\n\nہم تو کہتے تھے دلا جی کا لگانا ہے برا\nآخرش آگے وہ آیا نہ کہ بہتر نہ ہوا\n\nآب شمشیر ترا کام نہ آیا اپنے\nدہن خشک و لب تشنہ گلو تر نہ ہوا\n\nقسمت غیر ہی اچھی ہے کہ ہر دم ہے وصال\nہم سے تو حشر کا بھی وعدہ مقرر نہ ہوا\n\nسختیاں تھیں میرے قسمت کی تری الفت میں\nپیٹنا جاں کا کسی دن بت کافر نہ ہوا\n\nہیں یہ سامان شب عیش کے ناحق طعنے\nکب تم آئے تھے کہ کچھ مجھ کو میسر نہ ہوا\n\nجرم یک بوسہ ابرو پہ کئے دو ٹکڑے\nظلم یہ شکوہ یہ باقی کہ برابر نہ ہوا\n\nگھر میں جاتی نہیں پہچانی تری شکل حیاؔ\nاس پہ حسرت کہ در یار پہ بستر نہ ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%D9%86%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "ہم بھی پئیں تمہیں بھی پلائیں تمام رات", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم بھی پئیں تمہیں بھی پلائیں تمام رات\nجاگیں تمام رات جگائیں تمام رات\n\nان کی جفائیں یاد دلائیں تمام رات\nوہ دن بھی ہو کہ ان کو ستائیں تمام رات\n\nزاہد جو اپنے روزے سے تھوڑا ثواب دے\nمیکش اسے شراب پلائیں تمام رات\n\nاے قیس بیقرار ہے کچھ کوہ کن کی روح\nآتی ہیں بے ستوں سے صدائیں تمام رات\n\nتا صبح میکدے سے رہی بوتلوں کی مانگ\nبرسیں کہاں یہ کالی گھٹائیں تمام رات\n\nخلوت ہے بے حجاب ہیں وہ جل رہی ہے شمع\nاچھا ہے اس کو اور جلائیں تمام رات\n\nشب بھر رہے کسی سے ہم آغوشیوں کے لطف\nہوتی رہیں قبول دعائیں تمام رات\n\nدابے رہی پروں سے نشیمن کو رات بھر\nکیا کیا چلی ہیں تیز ہوائیں تمام رات\n\nکاٹا ہے سانپ نے ہمیں سونے بھی دو ریاضؔ\nان گیسوؤں کی لی ہیں بلائیں تمام رات", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "ہم بھی پھرتے ہیں یک حشم لے کر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم بھی پھرتے ہیں یک حشم لے کر\nدستۂ داغ و فوج غم لے کر\n\nدست کش نالہ پیش رو گریہ\nآہ چلتی ہے یاں علم لے کر\n\nمرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے\nیعنی آگے چلیں گے دم لے کر\n\nاس کے اوپر کہ دل سے تھا نزدیک\nغم دوری چلے ہیں ہم لے کر\n\nتیری وضع ستم سے اے بے درد\nایک عالم گیا الم لے کر\n\nبارہا صید گہ سے اس کی گئے\nداغ یاس آہوئے حرم لے کر\n\nضعف یاں تک کھنچا کہ صورت گر\nرہ گئے ہاتھ میں قلم لے کر\n\nدل پہ کب اکتفا کرے ہے عشق\nجائے گا جان بھی یہ غم لے کر\n\nشوق اگر ہے یہی تو اے قاصد\nہم بھی آتے ہیں اب رقم لے کر\n\nمیرؔ صاحب ہی چوکے اے بد عہد\nورنہ دینا تھا دل قسم لے کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DA%A9_%D8%AD%D8%B4%D9%85_%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہم بھی ہیں ترے حسن کے حیران ادھر دیکھ", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم بھی ہیں ترے حسن کے حیران ادھر دیکھ\nکیا آئینہ دیکھے ہے مری جان ادھر دیکھ\n\nآنکھیں نہ چرا مجھ سے مری جان ادھر دیکھ\nاے میں تری اس چشم کے قربان ادھر دیکھ\n\nترسوں ہوں تری یک نگہ لطف کو پیارے\nاتنا بھی تو مجھ کو نہ کڑا مان ادھر دیکھ\n\nعاشق تو ہزاروں ہی غرض گزرے ہیں لیکن\nیوں چاک ہوا کس کا گریبان ادھر دیکھ\n\nآنکھیں نہ چرا مصحفیٔؔ ریختہ گو سے\nاک عمر سے تیرا ہے ثنا خوان ادھر دیکھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE"} {"title": "ہم بے نشان اور وفا کا نشاں ہنوز", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم بے نشان اور وفا کا نشاں ہنوز\nہے خاکِ تن ہوا و ہوا خوں فشاں ہنوز\n\nبیت الحزن میں نغمۂ شادی بلند ہے\nنکلا ہی بابِ مصر سے ہے کارواں ہنوز\n\nصبحِ شبِ وصال نیِ صبح ہے، مگر\nپرویں ہنوز جلوہ گر و کہکشاں ہنوز\n\nہرگز ابھی شکایتِ دشمن نہ چاہئے\nہم پر بھی یار خوب نہیں مہرباں ہنوز\n\nکیوں کر کہیں کہ چھٹ گئے ہم بندِ جسم سے\nاس زلفِ پیچ پیچ میں الجھی ہے جاں ہنوز\n\nجو بات میکدے میں ہے اک اک زبان پر\nافسوس مدرسے میں ہے بالکل نہاں ہنوز\n\nضبط و شکیب یاں ہے نقابِ جمال میں\nبے وجہ واں نہیں ہے سرِ امتحاں ہنوز\n\nمدت ہوئی بہارِ جہاں دیکھتے ہوئے\nدیکھا نہیں کسی نے گلِ بے خزاں ہنوز\n\nاکثر ہوا ہے مجھ کو سفر در وطن مگر\nلایا نہ دوستوں کے لئے ارمغاں ہنوز\n\nاک شب ہوا تھا جلوہ نما چرخ پر وہ ماہ\nمدہوش ہیں ملائکۂ آسماں ہنوز\n\nنا آشنا رقیب سے ہے آشنا ابھی\nنا آشنا ہے لب سے ہمارے فغاں ہنوز\n\nآشفتہ زلف، چاک قبا، نیم باز چشم\nہیں صحبتِ شبانہ کے ظاہر نشاں ہنوز\n\nاے موجۂ نسیم ذرا اور ٹھہر جا\nہے خاک پر ہماری وہ دامن فشاں ہنوز\n\nمے خانے میں تمام جوانی بسر ہوئی\nلیکن ملا نہ منصبِ پیرِ مغاں ہنوز\n\nاے تابِ برق تھوڑی سی تکلیف اور بھی\nکچھ رہ گئے ہیں خار و خسِ آشیاں ہنوز\n\nآتا ہوں میں وہیں سے ذرا صبر شیفتہ\nسونے کے قصد میں بھی نہیں پاسباں ہنوز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%A8%DB%92_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%86%D9%88%D8%B2"} {"title": "ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں\nدل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریں\n\nمٹ جائیں ایک آن میں کثرت نمائیاں\nہم آئنے کے سامنے جب آ کے ہو کریں\n\nتر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو\nدامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں\n\nسر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو کہ ہم\nپر یہ کہاں مجال جو کچھ گفتگو کریں\n\nہر چند آئنہ ہوں پر اتنا ہوں ناقبول\nمنہ پھیر لے وہ جس کے مجھے رو بہ رو کریں\n\nنے گل کو ہے ثبات نہ ہم کو ہے اعتبار\nکس بات پر چمن ہوس رنگ و بو کریں\n\nہے اپنی یہ صلاح کہ سب زاہدان شہر\nاے دردؔ آ کے بیعت دست سبو کریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%DB%81%D9%88%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم تری خاطر نازک سے خطر کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم تری خاطر نازک سے خطر کرتے ہیں\nورنہ نالے تو یہ پتھر میں اثر کرتے ہیں\n\nدل و دیں تھا سو لیا اور بھی کچھ مطلب ہے\nبار بار آپ جو ایدھر کو نظر کرتے ہیں\n\nفائدہ کیا ہے اگر شرق سے تا غرب پھرے\nراہرو وے ہیں جو ہستی سے سفر کرتے ہیں\n\nہم تو ہر شکل میں یاں آئنہ خانے کی مثال\nآپ ہی آتے ہیں نظر سیر جدھر کرتے ہیں\n\nکیا ہو گر کوئی گھڑی یاں بھی کرم فرماؤ\nآپ اس راہ سے آخر تو گزر کرتے ہیں\n\nتیرے ایام فراق اے صنم مہر گسل\nآہ مت پوچھ کہ کس طرح بسر کرتے ہیں\n\nدن کو پھرتے ہیں تجھے ڈھونڈنے اور رات تمام\nشمع کی طرح سے رو رو کے سحر کرتے ہیں\n\nبس نہیں خوب کہ ایسے کو دل اپنا دیجے\nآگے تو جان میاں ہم تو خبر کرتے ہیں\n\nیہ وہی فتنۂ آشوب جہاں ہے بیدارؔ\nدیکھ کر پیر و جواں جس کو حذر کرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D8%B2%DA%A9_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%B7%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم تم ہیں جو ایک پھر جدائی کیسی", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم تم ہیں جو ایک پھر جدائی کیسی\nدل ہی نہ ملا تو آشنائی کیسی\n\nکافر نہ گھمنڈ رکھ خود آرائی کا\nسب کچھ ہوں جو بت تو پھر خدائی کیسی\n\nنیت میں تو ہے کہ پاؤں صہبائے طہور\nاے شیخ یہ تیری پارسائی کیسی\n\nکہتا تھا وہ بد زبان ہے مت چھیڑ نسیمؔ\nچپتی تو نہ ہوگی کیوں سنائی کیسی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AA%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C"} {"title": "ہم تو اس کوچے میں گھبرا کے چلے آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم تو اس کوچے میں گھبرا کے چلے آتے ہیں\nدو قدم جاتے ہیں پھر جا کے چلے آتے ہیں\n\nہم کو اے شرم ٹک اب اس کی طرف جانے دے\nحال اپنا اسے دکھلا کے چلے آتے ہیں\n\nدن کو زنہار ٹھہرتے نہیں ہم اس کو میں\nرات کو ملنے کی ٹھہرا کے چلے آتے ہیں\n\nوہ ادا کشتہ ٹھہرتا نہیں پھر مقتل میں\nلاش کو جس کی وہ ٹھکرا کے چلے آتے ہیں\n\nمیں بھروسے ہی میں رہتا ہوں تری زلفوں میں\nیار میرے مجھے پھنسوا کے چلے آتے ہیں\n\nوہ جو ملتا نہیں ہم اس کی گلی میں دل کو\nدر و دیوار سے بہلا کے چلے آتے ہیں\n\nجاتے ہیں کوچے میں ہم اس کے تو واں غیر کو دیکھ\nپھر نہ آنے کی قسم کھا کے چلے آتے ہیں\n\nقیدی مر جاتے ہیں جب آپ کبھی زنداں کے\nقفل دروازے کو لگوا کے چلے آتے ہیں\n\nچھٹتے ہیں جو اسیران قفس گلشن میں\nکیا ہی پر شوق سے پھیلا کے چلے آتے ہیں\n\nغیر جب وصل کا کرتا ہے سوال ان سے تو وے\nکیسے محجوب ہو دم کھا کے چلے آتے ہیں\n\nرہ روان سفر بادیۂ عشق اے وائے\nقافلے راہ میں لٹوا کے چلے آتے ہیں\n\nمیں تو سمجھا تھا بجھاویں گے کچھ آنسو تف دل\nیہ تو اور آگ کو بھڑکا کے چلے آتے ہیں\n\nساتھ میت کے مری وہ نہیں چلتے دو قدم\nبس وہیں نعش کو اٹھوا کے چلے آتے ہیں\n\nدل کی بیتابی سے جاتے تو ہیں ہم اس کو میں\nلیک اس جانے سے پچھتا کے چلے آتے ہیں\n\nبدرقہ گر نہیں احباب تو پھر کیوں پس مرگ\nتا بہ منزل مجھے پہنچا کے چلے آتے ہیں\n\nمصحفیؔ کے تئیں دیکھیں ہیں جو وہ کشتہ پڑا\nپاس جاتے نہیں شرما کے چلے آتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم تو قصوروار ہوئے آنکھ ڈال کے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم تو قصوروار ہوئے آنکھ ڈال کے\nپوچھو کہ نکلے کیوں تھے وہ جوبن نکال کے\n\nآنکھوں سے خواب کا ہو گزر کیا مجال ہے\nپہرے بٹھا دیے ہیں کسی کے خیال کے\n\nدل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہ\nآپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے\n\nصد شکر وصف قد پہ وہ اتنا تو پھول اٹھے\nمضموں بلند ہیں مرے عالی خیال کے\n\nلذت یہی کھٹک کی جو ہے راہ عشق میں\nرکھ لوں گا دل میں پاؤں کے کانٹے نکال کے\n\nدل رہ گیا الجھ کے نگاہوں کے تار میں\nاچھا وہ جان ڈال گئے آنکھ ڈال کے\n\nسنیے تو اک ذرا مرے اشعار دردناک\nلایا ہوں میں کلیجے کے ٹکڑے نکال کے\n\nآئینہ ہے جو ان کا مصاحب تو کیا ہوا\nہم بھی کبھی تھے دیکھنے والے جمال کے\n\nلکھی ہے کھا کے خون جگر یہ غزل جلیلؔ\nمصرع نہیں ہیں شعر کے ٹکڑے ہیں لال کے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AA%D9%88_%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%DA%88%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%92"} {"title": "ہم تو کہتے تھے دم آخر ذرا سستا نہ جا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم تو کہتے تھے دم آخر ذرا سستا نہ جا\nلے، چلے ہم جان سے، مختار ہے اب جا نہ جا\n\nلے دل بے تاب آتا ہے وہ کر لے عرض حال\nدیکھتے ہی اس کی صورت اس قدر گھبرا نہ جا\n\nتنگ ہو کر کس ادا سے وصل کی شب کو وہ شوخ\nمجھ سے کہتا تھا کہ ہے ہے اس قدر لپٹا نہ جا\n\nپاس آنا گر نہیں منظور تو آ آ کے شکل\nاز رہ شوخی مجھے تو دور سے دکھلا نہ جا\n\nجاؤں جاؤں کیا کہے ہے بس لڑائی ہو چکی\nپیار سے میرے گلے اب جان جاں لگ جا نہ جا\n\nکیا سماں رکھتا ہے وہ محفل سے اٹھنا یار کا\nاور اشاروں سے مرا کہنا کہ آ جانا، نہ جا\n\nکہتے ہیں آتا ہے وہ اے جان بر لب آمدہ\nتو خدا کے واسطے ٹک اور بھی رہ جا نہ جا\n\nروٹھ کر جب مجھ سے وہ جاتا ہے تو کر ضبط آہ\nپہلے تو کہتا ہوں میں تو جان اب جا یا نہ جا\n\nلیک اٹھ کر جب وہ جاتا ہے تو بے تابی سے میں\nووں ہی کہتا ہوں ترے قربان جاؤں آ، نہ جا\n\nلوٹتا ہے جرأتؔ بیتاب جانے سے ترے\nیوں اسے تڑپا کے تو اے شوخ بے پروا، نہ جا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%AF%D9%85_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%D8%B0%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D8%B3%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "ہم تو یاں مرتے ہیں واں اس کو خبر کچھ بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم تو یاں مرتے ہیں واں اس کو خبر کچھ بھی نہیں\nاے وہ سب کچھ ہی سہی عشق مگر کچھ بھی نہیں\n\nتم کو فریاد ستم کش کا خطر کچھ بھی نہیں\nکچھ تو الفت کا اثر ہے کہ اثر کچھ بھی نہیں\n\nعافیت ایک اور آزار ہزاروں اس میں\nجس کو کچھ سود نہیں اس کو ضرر کچھ بھی نہیں\n\nخلوت راز میں کیا کام ہے ہنگامے کا\nہے خبردار وہی جس کو خبر کچھ بھی نہیں\n\nتو اور اک شان کہ عالم کی نظر میں کیا کچھ\nمیں اور اک جان کہ پھرتے ہی نظر کچھ بھی نہیں\n\nرحم ہے اس کا ہی آشوب قیامت کی دلیل\nجس سے بیزار ہے وہ اس کو خطر کچھ بھی نہیں\n\nہم کو اس حوصلے پہ کیوں کہ فلک دے ساماں\nشکوۂ بار ہے اور منت سر کچھ بھی نہیں\n\nراہیٔ ملک عدم ہیں نہیں فکر منزل\nقصد رکھتے ہیں ادھر کا کہ جدھر کچھ بھی نہیں\n\nزیست افسون تماشا ہے توہم کے لئے\nہوتی ہے جلوہ نما مثل شرر کچھ بھی نہیں\n\nخود پرستی کے سبب شیخ و برہمن کو ہے خبط\nسب ادھر ہی کی بناوٹ ہے ادھر کچھ بھی نہیں\n\nعاقبت بیں کو ہے ہر بزم کی شادی ماتم\nشمع روتی ہے کہ ہوتے ہی سحر کچھ بھی نہیں\n\nروز فرقت کی درازی سے نہ دیکھے شب ہجر\nحسرت شام میں تشویش سحر کچھ بھی نہیں\n\nجانتے ہیں کہ نہ بھٹکے گا جہاں کیا کیا کچھ\nدیکھتے ہیں کہ انہیں مد نظر کچھ بھی نہیں\n\nاے قلقؔ پیتے ہی مسجد میں چلے آتے ہو\nبے خبر کتنے ہو تم بھی کہ خبر کچھ بھی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر\nبہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر\n\nآ کر گرا تھا کوئی پرندہ لہو میں تر\nتصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر\n\nپوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ\nدیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر\n\nیارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں\nسایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر\n\nکتنے ہی زخم ہیں مرے اک زخم میں چھپے\nکتنے ہی تیر آنے لگے اک نشان پر\n\nجل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی\nپانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر\n\nملبوس خوش نما ہیں مگر جسم کھوکھلے\nچھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر\n\nسایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک\nبکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر\n\nحق بات آ کے رک سی گئی تھی کبھی شکیبؔ\nچھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AC%D9%86%D8%B3_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D9%84%DB%92_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "ہم جو مست شراب ہوتے ہیں", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم جو مست شراب ہوتے ہیں\nذرے سے آفتاب ہوتے ہیں\n\nہے خرابات صحبت واعظ\nلوگ ناحق خراب ہوتے ہیں\n\nکیا کہیں کیسے روز و شب ہم سے\nعمل ناثواب ہوتے ہیں\n\nبادشہ ہیں گدا، گدا سلطان\nکچھ نئے انقلاب ہوتے ہیں\n\nہم جو کرتے ہیں مے کدے میں دعا\nاہل مسجد کو خواب ہوتے ہیں\n\nوہی رہ جاتے ہیں زبانوں پر\nشعر جو انتخاب ہوتے ہیں\n\nکہتے ہیں مست رند سودائی\nخوب ہم کو خطاب ہوتے ہیں\n\nآنسوؤں سے امیرؔ ہیں رسوا\nایسے لڑکے عذاب ہوتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم جوں چکور غش ہیں اجی ایک یار پر", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم جوں چکور غش ہیں اجی ایک یار پر\nبلبل کی طرح جی نہیں دیتے ہزار پر\n\nگر جی میں کچھ نہیں ہے تو دیکھے ہے کیوں مجھے\nانگلی کو پھیر پھیر کے تیغے کی دھار پر\n\nپا بوس یار کی ہمیں حسرت ہے اے نسیم\nآہستہ آئیو تو ہمارے مزار پر\n\nرخسار پر نمود ہوا خط خبر بھی ہے\nیعنی کمر کسی ہے خزاں نے بہار پر\n\nرنگیںؔ تو لے کے بیٹھے ہیں اسباب عیش سب\nآوے بشرط یار بھی اپنے قرار پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%DA%86%DA%A9%D9%88%D8%B1_%D8%BA%D8%B4_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AC%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "ہم خزاں کی اگر خبر رکھتے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم خزاں کی اگر خبر رکھتے\nآشیانے میں پھول بھر رکھتے\n\nہم اگر عشق میں اثر رکھتے\nامردوں کو غلام کر رکھتے\n\nمیرے دل کو سمجھتے عرش بریں\nیہ ستارے اگر نظر رکھتے\n\nکیا خبر تھی کہ دام ہے وہ زلف\nہم بھی فولاد کا جگر رکھتے\n\nساتھ رنگ چمن کے اڑ جاتے\nآج ہم بھی جو بال و پر رکھتے\n\nراہ دیتا جو اس کے آنے کی\nزاغ کے آگے ہم جگر رکھتے\n\nیار کی دونوں آنکھیں قاتل تھیں\nاک نظر ہم کدھر کدھر رکھتے\n\nبھید اپنا دیا نہ اس دل نے\nہم بھی کچھ اپنی فکر کر رکھتے\n\nیہی شکوہ ہے بے وفاؤں سے\nہم نہ مرتے جو یہ خبر رکھتے\n\nسنگ دل تجھ کو جانتے ہم اگر\nصبر کی سل کلیجے پر رکھتے\n\nگوندھتے وہ کھجور سے جوٹے آج\nہاتھ اپنے جو کچھ ہنر رکھتے\n\nآنکھیں رو رو کے کیوں سجاتے ہو\nبحرؔ آنسو نہیں اثر رکھتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92"} {"title": "ہم دل زہرہ وشاں میں خالق اندیشہ ہیں", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم دل زہرہ وشاں میں خالق اندیشہ ہیں\nگو خراباتی سہی جبریل کے ہم پیشہ ہیں\n\nپیرویٔ واعظان شہر میں بزدل ہیں ہم\nاور غزالوں کا تعاقب ہو تو شیر بیشہ ہیں\n\nجانیے کیا کیا مدارج اور بھی کرنے ہیں طے\nہم ابھی ذہن‌ خدا وندی میں اک اندیشہ ہیں\n\nخشت و سنگ نا تراشیدہ سے ابھرا خد حسن\nمے گساروں کی نگاہیں ہیں کہ ضرب تیشہ ہیں\n\nہم نہیں ہیں کوہ کن لیکن ہماری یادگار\nوقت کے کوہ گراں پر کچھ نقوش تیشہ ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%DB%81%D8%B1%DB%81_%D9%88%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%D9%84%D9%82_%D8%A7%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%B4%DB%81_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم دل سے جو چاہتے ہیں اے جان تمہیں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہم دل سے جو چاہتے ہیں اے جان تمہیں\nبے کل ہوں اگر نہ دیکھیں ایک آن تمہیں\nتم پاس بٹھاؤ تو ذرا بیٹھیں ہم\nمشکل ہے ہمیں تو اور ہے آسان تمہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم دل کو لیے بر سر بازار کھڑے ہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم دل کو لیے بر سر بازار کھڑے ہیں\nحیران تمنائے خریدار کھڑے ہیں\n\nغیروں سے وہ خلوت میں ہے مشغول ظرافت\nہم رشک کے مارے پس دیوار کھڑے ہیں\n\nان شرم زدوں کو بھی بلا سامنے اپنے\nجو شرم کے مارے پس دیوار کھڑے ہیں\n\nاز بہر خدا بام پر آ اے بت کافر\nکوچے میں ترے طالب دیدار کھڑے ہیں\n\nڈھب پاؤں تو میں اس سے کہوں حال دل اپنا\nاس بت کو تو گھیرے ہوئے اغیار کھڑے ہیں\n\nہے اس کی سواری کی خبر سیر چمن کو\nاور اہل تماشا سر بازار کھڑے ہیں\n\nجوں نقش قدم بیٹھنے کی جا نہیں ملتی\nاس کوچے میں ہم اس لیے ناچار کھڑے ہیں\n\nکوچہ ہے ترا وعدہ گہ خلق کہ جس میں\nدو چار جو بیٹھے ہیں تو دو چار کھڑے ہیں\n\nہو عزم سفر تجھ کو تو اے مصحفیؔ اب بھی\nچلنے کے لیے قافلے تیار کھڑے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم دیکھ کے تم سے رخ آرام میاں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہم دیکھ کے تم سے رخ آرام میاں\nخوش رہتے ہیں دل میں سحر و شام میاں\nدیوانے تمہارے جب ادا کے ٹھہرے\nپھر حسن پری سے ہمیں کیا کام میاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D8%AE_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "ہم دیکھیں کس دن حسن اے دل اس رشک پری کا دیکھیں گے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم دیکھیں کس دن حسن اے دل اس رشک پری کا دیکھیں گے\nوہ قد وہ کمر وہ چشم وہ لب وہ زلف وہ مکھڑا دیکھیں گے\n\nمت دیکھ بتوں کی ابرو کو ہٹ یاں سے تو اے دل ورنہ تجھے\nایک آن میں بسمل کر دیں گے اور آپ تماشا دیکھیں گے\n\nدل دے کر ہم نے آج اسے ہی دیکھی صورت تیوری کی\nیہ شکل رہی تو اے ہمدم کل دیکھیں کیا کیا دیکھیں گے\n\nجب دیکھی اس کی چین جبیں یوں ہم نے نظیرؔ اس بت سے کہا\nخیر آپ تو ہم سے ناخوش ہیں اب اور کو ہم جا دیکھیں گے\n\nکیا لطف رہا اس چاہت میں جو ہم چاہیں اور تم ہو خفا\nیہ بات سنی تو وہ چنچل یوں ہنس کر بولا دیکھیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%AF%D9%86_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "ہم ذرے ہیں خاک رہ گزر کے", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم ذرے ہیں خاک رہ گزر کے\nدیکھو ہمیں بام سے اتر کے\n\nچپ ہو گئے یوں اسیر جیسے\nجھگڑے تھے تمام بال و پر کے\n\nوعدہ نہ دلاؤ یاد ان کا\nنادم ہوں خود اعتبار کر کے\n\nاے باد سحر نہ چھیڑ ہم کو\nہم جاگے ہوئے ہیں رات بھر کے\n\nشبنم کی طرح حیات کے خواب\nکچھ اور نکھر گئے بکھر کے\n\nجب ان کو خیال وضع آیا\nانداز بدل گئے نظر کے\n\nیوں موت کے منتظر ہیں باقیؔ\nمل جائے گا چین جیسے مر کے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B0%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%DA%A9%DB%92"} {"title": "ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہے", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہے\nمیرے لیے دنیا میں عذاب آیا ہے\nطفلی میں پڑی تھی دونوں ہاتھوں پر مار\nاب دل کی ہے باری کہ شباب آیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%B9%D8%AF%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے\nمرتے ہیں، ولے، اُن کی تمنا نہیں کرتے\n\nدر پردہ اُنھیں غیر سے ہے ربطِ نہانی\nظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے\n\nیہ باعثِ نومیدیِ اربابِ ہوس ہے\nغالبؔ کو بُرا کہتے ہو، اچھا نہیں کرتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا\nطوفان باد ہے مجھے جھونکا نسیم کا\n\nچھوڑا نہ کچھ بھی سینے میں طغیان اشک نے\nاپنی ہی فوج ہو گئی لشکر غنیم کا\n\nیاران نو کے واسطے مجھ سے خفا ہوئے\nتم کو نہیں ہے پاس نیاز قدیم کا\n\nیاد آئی کافروں کو مری آہ سرد کی\nکیونکہ نہ کانپنے لگے شعلہ جحیم کا\n\nازبسکہ ثبت نامہ ہے سوز تپ دروں\nقاصد کا ہاتھ ہے ید بیضا کلیم کا\n\nواعظ کبھی ہلا نہیں کوئے صنم سے میں\nکیا جانوں کیا ہے مرتبہ عرش عظیم کا\n\nمارا ہے وصل غیر کے شکوہ پہ چاہیئے\nمدفن جدا جدا مری لاش دو نیم کا\n\nکہتا ہے بات بات پہ کیوں جان کھا گئے\nگویا کہ پک گیا ہے کلیجہ ندیم کا\n\nواعظ بتوں کو خلد میں لے جائیں گے کہیں\nہے وعدہ کافروں سے عذاب الیم کا\n\nمومنؔ تجھے تو وہب ہے مومن ہی وہ نہیں\nجو معتقد نہیں تری طبع سلیم کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%84%D8%A7%D8%BA%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D9%85%DB%8C%D9%85_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہم رہے یاں تلک ترے غم میں", "poet_page": "مصنف:میر مظفر حسین ضمیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم رہے یاں تلک ترے غم میں\nکہ ترا غم سما گیا ہم میں\n\nکیوں نہ ہو عشق حسن گندم گوں\nمیں بھی آخر ہوں نسل آدم میں\n\nہے عرق میں بھی اس کے نکہت عطر\nگل کی بو آ گئی ہے شبنم میں\n\nمیرے اشکوں کے روبرو دریا\nہے بڑا فرق قطرہ و یم میں\n\nجیسا جام جہاں نما ہے دل\nسیر وہ کب ہے ساغر جم میں\n\nدل کا ناسور دل کے ساتھ چلا\nکیے مرہم تلاش مرہم میں\n\nجو پھنسا پھر کبھی رہا نہ ہوا\nہے یہی پیچ زلف کے خم میں\n\nنزع کے وقت بھی فریب رہا\nوہ جو آیا دم آ گیا دم میں\n\nاس میں بیم ہلاک اس میں ہلاک\nہے یہی فرق ہم میں اور غم میں\n\nشمع سے رات یہ کہا میں نے\nکہہ تو روتی ہے کس کے ماتم میں\n\nبولی اے فخر عاشقان جہاں\nکیا کہوں میں کہ دم نہیں دم میں\n\nہو گیا خاک جل کے پروانہ\nرہی میں آہ بزم عالم میں\n\nشب جو اک دوست اپنا یعنی دل\nپھنس گیا اس کی زلف پر خم میں\n\nاپنا کچھ بس نہ چل سکا لیکن\nاشک بھر آئے چشم پر نم میں\n\nتو چراغ مزار غیر رہا\nہم گھلے شمع ساں ترے غم میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم زاد ہے غم اپنا شاداں کسے کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم زاد ہے غم اپنا شاداں کسے کہتے ہیں\nواقف نہیں عشرت کا ساماں کسے کہتے ہیں\n\nبیمار محبت ہیں ہم تارک راحت ہیں\nناواقف صحت ہیں درماں کسے کہتے ہیں\n\nمدت سے یہ ساماں ہے تن شعلۂ عریاں ہے\nکیا چیز گریباں ہے داماں کسے کہتے ہیں\n\nماتھے پہ پسینہ ہے قدرت کا تماشا ہے\nتاروں کی جھمک کیا ہے افشاں کسے کہتے ہیں\n\nدل دے کے جفا سہیے آفت میں پھنسے رہیے\nدانا جو ہمیں کہیے ناداں کسے کہتے ہیں\n\nجب یار نے دیکھا ہے اک زخم لگایا ہے\nسو تیروں کا دستا ہے مژگاں کسے کہتے ہیں\n\nاس ترک کی پلکوں سے محفوظ خدا رکھے\nبر کٹتے ہیں تیروں کی پیکاں کسے کہتے ہیں\n\nدل کی جو زراعت ہے خار و خس زحمت سے\nاک قطرے کی حسرت ہے باراں کسے کہتے ہیں\n\nسچ کہتے ہیں یہ زیرک ہے عشق جنوں بے شک\nواقف نہ تھے ہم گل تک زنداں کسے کہتے ہیں\n\nہر وقت ہے بے زاری ہر دم ہے جفاکاری\nدل جوئی و دل داریٔ جاناں کسے کہتے ہیں\n\nرخسار کا شیدا ہوں کیا گل کو سمجھتا ہوں\nمحو خط زیبا ہوں ریحاں کسے کہتے ہیں\n\nمدت سے ہے دل برہم صحبت سے نہیں محرم\nآزاد ہیں گھر سے ہم مہماں کسے کہتے ہیں\n\nجاتے ہیں کبھی درگاہ شیوالے میں بھی ہے راہ\nمذہب سے نہیں آگاہ ایماں کسے کہتے ہیں\n\nحیدر سے تولا‌ ہے رحمت کا بھروسا ہے\nاے بحرؔ خطا کیا ہے عصیاں کسے کہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B2%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرا", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرا\nلام کا خوب الف مد مقابل ٹھہرا\n\nدیدۂ تر سے جو دامن میں گرا دل ٹھہرا\nبہتے بہتے یہ سفینہ لب ساحل ٹھہرا\n\nکی نظر روئے کتابی پہ تو کچھ دل ٹھہرا\nمکتب شوق بھی قرآن کی منزل ٹھہرا\n\nنگہت گل سے پریشان ہوا اس کا دماغ\nخندۂ گل نہ ہوا شور عنادل ٹھہرا\n\nنجد سے قیس جو آیا مرے زنداں کی طرف\nدیر تک گوش بر آواز سلاسل ٹھہرا\n\nحسن جس طفل کا چمکا وہ ہوا باعث قتل\nجس نے تلوار سنبھالی مرا قاتل ٹھہرا\n\nخط جو نکلا رخ جاناں پہ ملا بوسۂ خال\nیہی دانہ فقط اس کشت کا حاصل ٹھہرا\n\nعلم اک نقطہ جو مشہور تھا اے جوش جنوں\nغور سے کی جو نظر نقطۂ باطل ٹھہرا\n\nدور جب تک تھے تڑپتا تھا میں کیسا کیسا\nپاس آ کر وہ جو ٹھہرے تو مرا دل ٹھہرا\n\nکثرت داغ سے گلدستہ بنا دل تو کیا\nزینت باغ نہ آرائش محفل ٹھہرا\n\nدوڑتا قیس بھی آتا ہے نہایت ہی قریب\nاک ذرا ناقے کو اے صاحب محمل ٹھہرا\n\nدم جو بیتاب تھا مدت سے مرے سینے میں\nتیغ قاتل کے تلے کچھ دم بسمل ٹھہرا\n\nہم بڑی دور سے آئے ہیں تمہارا ہے یہ حال\nگھر سے دروازے تک آنا کئی منزل ٹھہرا\n\nاب تک آتی ہے صدا تربت لیلیٰ سے امیرؔ\nساربان اب تو خدا کے لیے محمل ٹھہرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%D8%B1_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%82%D8%AF_%D8%AD%D9%88%D8%B1_%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1%D8%A7"} {"title": "ہم سلامت ہیں تو اپنا گھر بھی ہے", "poet_page": "مصنف:ابومحمد سید حسین سیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل > منتخب دیوان سیفی (1934)", "year": "1934", "text_ur": "ہم سلامت ہیں تو اپنا گھر بھی ہے\nزر بھی ہے زر گر بھی ہے زیور بھی ہے\n\nابر نیساں آئے اور برسے تو پھر\nگل بھی ہے گلشن بھی ہے گوہر بھی ہے\n\nدید کی قوت ہو جب تک آنکھ میں\nمہر بھی ہے مہ بھی ہے اختر بھی ہے\n\nبخت جب تک برسر اقبال ہو\nتخت بھی ہے تاج بھی ہے سر بھی ہے\n\nساقئ مہوش اگر ہو مہرباں\nمے بھی ہے مینا بھی ہے ساغر بھی ہے\n\nموت کی آنکھوں سے جب تک دور ہیں\nچلقد آہن بھی ہے مغفر بھی ہے\n\nوقت پر قائم رہے ہمت اگر\nلٹ بھی ہے پتھر بھی ہے خنجر بھی ہے\n\nعقل جب تک پاسباں ہے جان کی\nخوف بھی ہے ترس بھی ہے ڈر بھی ہے\n\nقوت پرواز کچھ بھی ہے تو پھر\nپر بھی ہے بازو بھی ہے شہ پر بھی ہے\n\nشوق اگر ہے منزل مقصود کا\nرہ بھی ہے رہرو بھی ہے رہبر بھی ہے", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو\nعذر کچھ چاہیئے ستانے کو\n\nسنگ در سے ترے نکالی آگ\nہم نے دشمن کا گھر جلانے کو\n\nصبح عشرت ہے وہ نہ شام وصال\nہاے کیا ہو گیا زمانے کو\n\nبوالہوس روئے میرے گریہ پہ اب\nمنہ کہاں تیرے مسکرانے کو\n\nبرق کا آسمان پر ہے دماغ\nپھونک کر میرے آشیانے کو\n\nسنگ سودا جنوں میں لیتے ہیں\nاپنا ہم مقبرہ بنانے کو\n\nشکوہ ہے غیر کی کدورت کا\nسو مرے خاک میں ملانے کو\n\nروز محشر بھی ہوش گر آیا\nجائیں گے ہم شراب خانے کو\n\nسن کے وصف اس پہ مر گیا ہمدم\nخوب آیا تھا غم اٹھانے کو\n\nکوئی دن ہم جہاں میں بیٹھے ہیں\nآسماں کے ستم اٹھانے کو\n\nنقش پائے رقیب کی محراب\nنہیں زیبندہ سر جھکانے کو\n\nچل کے کعبے میں سجدہ کر مومنؔ\nچھوڑ اس بت کے آستانے کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88"} {"title": "ہم سوچتے ہیں رات میں تاروں کو دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم سوچتے ہیں رات میں تاروں کو دیکھ کر\nشمعیں زمین کی ہیں جو داغ آسماں کے ہیں\n\nجنت میں خاک بادہ پرستوں کا دل لگے\nنقشے نظر میں صحبت پیر مغاں کے ہیں\n\nاپنا مقام شاخ بریدہ ہے باغ میں\nگل ہیں مگر ستائے ہوئے باغباں کے ہیں\n\nاک سلسلہ ہوس کا ہے انساں کی زندگی\nاس ایک مشت خاک کو غم دو جہاں کے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%D9%88%DA%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہم سے تو بتوں کی وہ حیا کی باتیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہم سے تو بتوں کی وہ حیا کی باتیں\nوہ طرز کلام اس ادا کی باتیں\nدیکھیں قرآں میں فال غیروں کے لیے\nکیا ان سے کہیں یہ ہیں خدا کی باتیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم سے تو کسی کام کی بنیاد نہ ہووے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم سے تو کسی کام کی بنیاد نہ ہووے\nجب تک کہ ادھر ہی سے کچھ امداد نہ ہووے\n\nہم کو بھی نہیں چین ترے غمزوں سے دلبر\nجب تک کہ نیا اک ستم ایجاد نہ ہووے\n\nاے آہ ذرا اٹھیو تو آہستہ کہ وہ جو\nتھوڑا سا اثر ہے کہیں برباد نہ ہووے\n\nدی تھی یہ دعا کس نے مرے دل کو الٰہی\nاجڑے یہ گھر ایسا کہ پھر آباد نہ ہووے\n\nدیکھا نہ کسی وقت میں ہنستے ہوے اس کو\nیہ بھی کوئی دل ہے جو کبھی شاد نہ ہووے\n\nبھولے سے بھی بھولو نہ کبھی غیروں کا تم نام\nاور نام ہمارا ہی تمہیں یاد نہ ہووے\n\nکیوں دیکھو ہو اس کا قد و رو بلبل و قمری\nکیا سمجھے ہو تم یہ گل و شمشاد نہ ہووے\n\nمر جائیں قفس میں یوں ہی ہم آہ تڑپ کر\nاتنی جو خبر لینے کو صیاد نہ ہووے\n\nدل جل کے جہاں سرمہ ہوا قیس کا اب تک\nاس جا پہ جرس پہنچے تو فریاد نہ ہووے\n\nمیرے لئے قاتل بھی اگر ہووے تو ہووے\nپر غیر کے حق میں تو وہ جلاد نہ ہووے\n\nوارستہ جو ہو قید سے ہستی کے تو بہتر\nپر دام سے تیرے حسنؔ آزاد نہ ہووے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92"} {"title": "ہم سے جو عہد تھا وہ عہد شکن بھول گیا", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم سے جو عہد تھا وہ عہد شکن بھول گیا\nاپنے عشاق کو وہ غنچہ دہن بھول گیا\n\nقیس کا جلوۂ لیلیٰ جو ہوا ہوش ربا\nوہ سراسیمہ ہوا نجد کا بن بھول گیا\n\nکیا کرشمہ یہ تری چشم سخن گو نے کیا\nکس کی جانب تھا مرا روئے سخن بھول گیا\n\nخار خار غم الفت نے کیا راہ غلط\nتیرا مدہوش نظر راہ چمن بھول گیا\n\nنگہ شوق نے دیوانہ بنایا مجھ کو\nکچھ خبر اپنی نہیں ہے ہمہ تن بھول گیا\n\nہو گیا ہوش ربا حسن فریب عالم\nنل جو بازی میں لگا عشق دمن بھول گیا\n\nشوق و رم تیرے جو دیکھے ہیں غزال رعنا\nچوکڑی اپنی بیاباں میں ہرن بھول گیا\n\nسیر گلزار میں ہے محو تماشا وہ گل\nبلبل شیفتہ کو غنچہ دہن بھول گیا\n\nسبزۂ خط نے ترے راہ میں گھیرا مجھ کو\nغرق میں ہو نہ سکا چاہ ذقن بھول گیا\n\nمحو ہوتا ہی نہیں اس کا کبھی دل سے خیال\nیاد کرتا ہی نہیں مشفق من بھول گیا\n\nشاہد مست نے سرمست کیا ہے ساقیؔ\nہم وہ مدہوش ہوئے رنگ سخن بھول گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%B9%DB%81%D8%AF_%D8%B4%DA%A9%D9%86_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہم سے دو چار بزم میں دھیان اور کی طرف", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم سے دو چار بزم میں دھیان اور کی طرف\nآنکھ اس طرف لگائی ہے کان اور کی طرف\n\nابرو سے ہم شہید مژہ سے رقیب ہوں\nتلوار ادھر لگائیے بان اور کی طرف\n\nصید زبوں وہ ہوں جو رواں تیر ادھر ہوا\nاس کی قضا نے بولی کمان اور کی طرف\n\nہم بیکسوں کی قبر سوا ہرگز اے فلک\nنم گیر کو نہ ابر کے تان اور کی طرف\n\nیا رب کرے جو حسن کی خیرات وہ صنم\nمیرے سوا کرے نہیں دان اور کی طرف\n\nاترے نہ کس طرح مری آنکھوں میں خون شادؔ\nدیتا مجھے دکھا کے ہے پان اور کی طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "ہم سے قائم جنون الفت ہے", "poet_page": "مصنف:جلال الدین اکبر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم سے قائم جنون الفت ہے\nیعنی سرگشتۂ وفا ہیں ہم\n\nایک عالم کے دل میں بستے ہیں\nیعنی اک دل نشیں ادا ہیں ہم\n\nعشق سے ہے فروغ رنگ جہاں\nابتدا ہم ہیں انتہا ہیں ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%85_%D8%AC%D9%86%D9%88%D9%86_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہم سے نہ ہوگی ترک وفا یہ اور کسی کو سنائیں آپ", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "ہم سے نہ ہوگی ترک وفا یہ اور کسی کو سنائیں آپ\nہم نہ سنیں گے حضرت ناصح لاکھ ہمیں سمجھائیں آپ\n\nشرم و حیا کے پردے میں کرتے تھے ہم پہ جفائیں آپ\nآپ کو ہم پہچان گئے منہ آنچل سے نہ چھپائیں آپ\n\nزلف کا تیرے ان سے کوئی مضموں جو رقم ہو جاتا ہے\nفرط خوشی سے لے لیتا ہوں ہاتھوں کی اپنے بلائیں آپ\n\nواہ جی وا بس دیکھ لیا کیا وضع کی ہے یہی پابندی\nکہتے اس کو ہیں شرم و حیا ہم جاں سے جائیں نہ آئیں آپ\n\nسن چکے حال پرسش محشر وعظ کی انجمؔ حد بھی ہے\nیہ تو نہیں ہے حکم خدا روز ایک قیامت ڈھائیں آپ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "ہم سے وارفتہ الفت ہیں بہت کم پیدا", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم سے وارفتہ الفت ہیں بہت کم پیدا\nہاتھ سے کھو نہ ہمیں ہوں گے نہ پھر ہم پیدا\n\nالتیام اس کا جو ہے لطف بتاں پر موقوف\nزخم دل کا مرے ہوتا نہیں مرہم پیدا\n\nبد نہ کہہ بد کو کہ صناع بد و نیک ہے ایک\nخار و گل ہوتے ہیں اک شاخ سے باہم پیدا\n\nنہیں ابرو ترے رخسار کے سجدے کے لیے\nعکس انگشت شہادت نے کیا خم پیدا\n\nمیں بھی ہوں باعث ایجاد ہوسؔ اک شے کا\nمیری خاطر مرے خالق نے کیا غم پیدا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%81%D8%AA%DB%81_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DA%A9%D9%85_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7"} {"title": "ہم سے وفا کریں کہ وہ ہم پر جفا کریں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم سے وفا کریں کہ وہ ہم پر جفا کریں\nپائیں خدا سے ہم جو بتوں سے دغا کریں\n\nصیاد اڑا دیا مجھے سر سے اتار کر\nصدقے ترے ہما ترے سر پر اڑا کریں\n\nوہ دن خدا دکھائے کہ ہم بھی انہیں ستائیں\nیہ نازنیں حسین ہمارا گلا کریں\n\nآنکھوں میں اشک آئے تو ہنسنے کا لطف کیا\nاتنا نہ گد گداؤ کہ ہم رو دیا کریں\n\nسمجھا دے جا کے تو ہی انہیں اے نگاہ یاس\nاب کوسنے کا وقت نہیں ہے دعا کریں\n\nرکھ لیں ہم آپ لاؤ دل بے قرار میں\nایسا نہ ہو کہ تیر تمہارے خطا کریں\n\nہم لاکھ پارساؤں کے اک پارسا سہی\nموقع سے تم کو پائیں تو بتلاؤ کیا کریں\n\nپژمردہ پھول بن کے رہے نا مراد دل\nکھل کر تمہارے ہار کی کلیاں ہنسا کریں\n\nوہ دن کہاں ریاضؔ وہ راتیں کہاں ریاضؔ\nبیٹھے ہوئے کسی کی بلائیں لیا کریں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم سے کر تو کہ یا نہ کر اخلاص", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم سے کر تو کہ یا نہ کر اخلاص\nہم کو ہے تجھ سے یار پر اخلاص\n\nاپنے مخلص کی بات کا ہرگز\nمت برا مان ہے اگر اخلاص\n\nمیرے اور اس کے کیونکہ صحبت ہو\nپنبہ سے کب رکھے شرر اخلاص\n\nخون ہو کر بھی تیری طرف بہے\nتجھ سے رکھے تھے دل جگر اخلاص\n\nہے غنیمت رہے جو کوئی دن\nہم میں اور اس میں یک دگر اخلاص\n\nوہ نہیں وقت اب کہ ہر یک میں\nدیکھتے تھے جدھر تدھر اخلاص\n\nاس زمانہ میں اے حسنؔ مت پوچھ\nہے محبت کہاں کدھر اخلاص", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D8%B5"} {"title": "ہم سے کرتا ہے عبث گفتار کج", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم سے کرتا ہے عبث گفتار کج\nراست بازوں سے نہ ہو اے یار کج\n\nعشق ابرو سے تری اے کج کلاہ\nباندھتا ہے ماہ نو دستار کج\n\nہے تواضع بھی بزرگی کا نشاں\nکیوں نہ ہو پیری میں جسم زار کج\n\nکج روی اس زلف کا ہے خاصہ\nجس طرح ہے مار کی رفتار کج\n\nہات یوں قاتل جبینوں کا لگا\nجس طرح پہنے صنم زنار کج\n\nراستی اک بات میں اس کی نہیں\nکج روا کج مج زباں گفتار کج\n\nقصر تن پیری میں جھک کر کیا رکے\nگر پڑے کہنہ جو ہو دیوار کج\n\nجائے نظارہ ہے پھرتے ہیں حسیں\nٹوپیاں رکھ کر سر بازار کج\n\nکج نما آئینۂ عالم ہے عرشؔ\nبے سبب ٹیڑھے عبث ہیں یار کج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%A8%D8%AB_%DA%AF%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%AC"} {"title": "ہم سے کرتے ہو بیاں غیروں کی یاری آن کر", "poet_page": "مصنف:محمد عیسیٰ تنہا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم سے کرتے ہو بیاں غیروں کی یاری آن کر\nرہ گئی ہے آپ کی یہ دوست داری آن کر\n\nہم کو آنے سے تمہاری بزم کے کیا تھا حصول\nدیکھ لیتے تھے مگر صورت تمہاری آن کر\n\nروٹھنے پر میرے کیا لازم تھا ہو جانا خفا\nبلکہ کرنی تھی تمہیں خاطر ہماری آن کر\n\nطعن بد خواہاں سے تو اک دم نہ پاوے گا قرار\nکی جو تیرے در پہ ہم نے بے قراری آن کر\n\nتھا اگرچہ غش میں مجنوں لیکن آنکھیں کھل گئیں\nسر پہ اس کے جس گھڑی لیلیٰ پکاری آن کر\n\nجس جگر کشتہ کا تیرے لاشہ تھا خوں میں پڑا\nخوب سا رویا وہاں ابر بہاری آن کر\n\nمیں بھی کیا برگشتہ طالع ہوں کہ تنہاؔ رات کو\nپھر گئی در تک مرے اس کی سواری آن کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہم سے کنارہ کیوں ہے ترے مبتلا ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:حاتم علی مہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم سے کنارہ کیوں ہے ترے مبتلا ہیں ہم\nاے بحر حسن آ ادھر آ آشنا ہیں ہم\n\nناقوس میکدے میں بجایا تو یہ کہا\nبندے گناہ گار ترے اے خدا ہیں ہم\n\nپروا نہیں ہے تم کو تو ہے تم پہ کیوں مریں\nدوبھر نہ زندگی ہے نہ گھر سے سوا ہیں ہم\n\nہم سے کسی کے غمزۂ بے جا اٹھیں گے کیا\nنازک مزاج لوگ ہیں ہم میرزا ہیں ہم\n\nاب کیا بنے گی ان سے طبیعت بگڑ گئی\nاب خوش رہیں وہ جان سے اپنی خفا ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "ہم سے کچھ آگے زمانے میں ہوا کیا کیا کچھ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم سے کچھ آگے زمانے میں ہوا کیا کیا کچھ\nتو بھی ہم غافلوں نے آ کے کیا کیا کچھ\n\nدل جگر جان یہ بھسمنت ہوئے سینے میں\nگھر کو آتش دی محبت نے جلا کیا کیا کچھ\n\nکیا کہوں تجھ سے کہ کیا دیکھا ہے تجھ میں میں نے\nعشوہ و غمزہ و انداز و ادا کیا کیا کچھ\n\nدل گیا ہوش گیا صبر گیا جی بھی گیا\nشغل میں غم کے ترے ہم سے گیا کیا کیا کچھ\n\nآہ مت پوچھ ستم گار کہ تجھ سے تھی ہمیں\nچشم لطف و کرم و مہر و وفا کیا کیا کچھ\n\nنام ہیں خستہ و آوارہ و بدنام مرے\nایک عالم نے غرض مجھ کو کہا کیا کیا کچھ\n\nطرفہ صحبت ہے کہ سنتا نہیں تو ایک مری\nواسطے تیرے سنا میں نے سنا کیا کیا کچھ\n\nحسرت وصل و غم ہجر و خیال رخ دوست\nمر گیا میں پہ مرے جی میں رہا کیا کیا کچھ\n\nدرد دل زخم جگر کلفت غم داغ فراق\nآہ عالم سے مرے ساتھ چلا کیا کیا کچھ\n\nچشم نمناک و دل پر جگر صد پارہ\nدولت عشق سے ہم پاس بھی تھا کیا کیا کچھ\n\nتجھ کو کیا بننے بگڑنے سے زمانے کے کہ یاں\nخاک کن کن کی ہوئی صرف بنا کیا کیا کچھ\n\nقبلہ و کعبہ خداوند و ملاذ و مشفق\nمضطرب ہو کے اسے میں نے لکھا کیا کیا کچھ\n\nپر کہوں کیا رقم شوق کی اپنے تاثیر\nہر سر حرف پہ وہ کہنے لگا کیا کیا کچھ\n\nایک محروم چلے میرؔ ہمیں عالم سے\nورنہ عالم کو زمانے نے دیا کیا کیا کچھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE"} {"title": "ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم سے کھل جاؤ بوقتِ مے پرستی ایک دن\nورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عُذرِ مستی ایک دن\n\nغرّۂ اوجِ بِنائے عالمِ امکاں نہ ہو\nاِس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن\n\nقرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں\nرنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن\n\nنغمہ ہائے غم کو بھی، اے دل! غنیمت جانیے\nبے صدا ہو جائے گا یہ سازِ ہستی ایک دن\n\nدَھول دَھپّا اُس سراپا ناز کا شیوہ نہیں\nہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%BE%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A4_%D8%A8%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%85%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%86"} {"title": "ہم شان نجف نہ عرش انور ٹھہرا", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہم شان نجف نہ عرش انور ٹھہرا\nمیزان میں یہ بھاری وہ سبک تر ٹھہرا\nاس پلے میں تھا نجف اور اس پلے میں عرش\nپہنچا وہ فلک پہ یہ زمیں پر ٹھہرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B4%D8%A7%D9%86_%D9%86%D8%AC%D9%81_%D9%86%DB%81_%D8%B9%D8%B1%D8%B4_%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B1_%D9%B9%DA%BE%DB%81%D8%B1%D8%A7"} {"title": "ہم عاشق فاسق تھے ہم صوفی صافی ہیں", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم عاشق فاسق تھے ہم صوفی صافی ہیں\nپی لیں جو کہیں اب بھی در خورد معافی ہیں\n\nبیگار بھی ململ بھی گرمی میں شب فرقت\nکام آئیں گے جاڑے میں فردیں جو لحافی ہیں\n\nعقلوں کو بنا دے گا، دیوانہ جمال ان کا\nچھا جائیں گی ہوشوں پر آنکھیں وہ غلافی ہیں\n\nہم شکر ستم کرتے ، کیوں شکوہ کیا ان سے\nآئین محبت کے شیوے یہ منافی ہیں\n\nجھوٹی بھی گورا تہی باقی بھی غنیمت ہے\nدو گھونٹ بھی ساقی سے مل جائیں تو کافی ہیں\n\nہم ان کی جفا سے بھی راضی تھے مگر نا حق\nاب ہو کے وہ خود نادم سرگرم تلافی ہیں\n\nجدت میں ہے لاثانی حسرت کی غزل خوانی\nکیا طرفہ مطالب ہیں، کیا تازہ قوانی ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D9%81%D8%A7%D8%B3%D9%82_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C_%D8%B5%D8%A7%D9%81%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم عالم خواب میں ہیں یا ہم ہیں خواب", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہم عالم خواب میں ہیں یا ہم ہیں خواب\nہم خود وسائل ہیں خود سوال اور جواب\nآئی نہیں کوئی شے کہیں باہر سے\nہم خود ہیں مسبب اور خود ہیں اسباب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8"} {"title": "ہم عشق سوا کم ہیں کسی نام سے واقف", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم عشق سوا کم ہیں کسی نام سے واقف\nنہ کفر کے محرم ہیں نہ اسلام سے واقف\n\nتلقین کرے عرض تمنا ہمیں اس سے\nمحرم نہیں ہے اس بت خودکام سے واقف\n\nوہ دور وصال آہ کدھر ہے کہ ہم اور وہ\nدنیا میں نہ تھے نامہ و پیغام سے واقف\n\nکیا پوچھو ہو ہم روش باغ و چمن کو\nہم تو رہے کنج قفس و دام سے واقف\n\nشیرینیٔ بوسہ سے مذاق اس کا ہو پھر تلخ\nعاشق جو ہوا لذت دشنام سے واقف\n\nبد نام نہ کر عشق کو جا کام کر اپنا\nہے اہل ہوس تو نہیں اس کام سے واقف\n\nآغاز محبت کے مزے نے کیا غافل\nاب تک نہ تھے ہم اس کے بد انجام سے واقف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DA%A9%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%82%D9%81"} {"title": "ہم عشق میں ان مکاروں کے بے فائدہ جلتے بھنتے ہیں", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم عشق میں ان مکاروں کے بے فائدہ جلتے بھنتے ہیں\nمطلب جو ہمارا سن سن کر کہتے ہیں ہم اونچا سنتے ہیں\n\nہم کچھ نہ کسی سے کہتے ہیں ہم کچھ نہ کسی کی سنتے ہیں\nبیٹھے ہوئے بزم دل کش میں بس دل کے ٹکڑے چنتے ہیں\n\nالفت کے فسانے پر دونوں سر اپنا اپنا دھنتے ہیں\nہم سنتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم کہتے ہیں وہ سنتے ہیں\n\nدل سا بھی کوئی ہم درد نہیں ہم سا بھی کوئی دل سوز نہیں\nہم جلتے ہیں تو دل جلتا ہے دل بھنتا ہے تو ہم بھنتے ہیں\n\nتقدیر کی گردش سے نہ رہا محفوظ ہمارا دامن بھی\nچنتے تھے کبھی ہم لالہ و گل اب کنکر پتھر چنتے ہیں\n\nآج آئیں گے کل آئیں گے کل آئیں گے آج آئیں گے\nمدت سے یہی وہ کہتے ہیں مدت سے یہی ہم سنتے ہیں\n\nآہیں نہ کبھی منہ سے نکلیں نالے نہ کبھی آئے لب تک\nہو ضبط تپ الفت کا برا ہم دل ہی دل میں بھنتے ہیں\n\nمرغان چمن بھی میری طرح دیوانے ہیں لیکن فرق یہ ہے\nمیں دشت میں تنکے چنتا ہوں وہ باغ میں تنکے چنتے ہیں\n\nہو بزم طرب یا بزم الم ہر مجمع میں ہر موقع پر\nہم شمع کے شعلے کی صورت جلتے بھی ہیں سر بھی دھنتے ہیں\n\nگلزار جہاں کی نیرنگی آزار جنہیں پہنچاتی ہے\nکانٹوں کو ہٹا کر دامن میں وہ پھول چمن کے چنتے ہیں\n\nآزار و ستم کے شکوؤں کا جھگڑا بھی چکے قصہ بھی مٹے\nتم سے جو کہے کچھ بات کوئی کہہ دو اسے ہم کب سنتے ہیں\n\nگھبرا کے جو میں ان کے در پر دیتا ہوں کبھی آواز انہیں\nتو کہتے ہیں وہ ٹھہرو دم لو آتے ہیں اب افشاں چنتے ہیں\n\nاے نوحؔ کہاں وہ جوش اپنا وہ طور اپنے وہ بات اپنی\nطوفان اٹھاتے تھے پہلے اب حسرت سے سر دھنتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%D9%85%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%81%D8%A7%D8%A6%D8%AF%DB%81_%D8%AC%D9%84%D8%AA%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D9%86%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میں", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میں\nبیٹھے ہوئے جا رہے ہیں گھر میں\n\nہم لٹ گئے تیری رہ گزر میں\nیہ ایک ہوئی ہے عمر بھر میں\n\nاب کون رہا کہ جس کو دیکھوں\nاک تو تھا سو آ گیا نظر میں\n\nحسرت کو ملا ہے خانۂ دل\nتقدیر کھلی غریب گھر میں\n\nآنکھیں نہ چراؤ دل میں رہ کر\nچوری نہ کرو خدا کے گھر میں\n\nاب وصل کی رات ہو چکی ختم\nلو چھپ رہو دامن سحر میں\n\nمیں آپ ہی ان سے بولتا ہوں\nبیٹھا ہوں زبان نامہ بر میں\n\nمضطرؔ کرو دل ہی دل میں شکوے\nرہ جائے گی بات گھر کی گھر میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم غریبوں پر جفا اچھی نہیں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم غریبوں پر جفا اچھی نہیں\nبیکسوں کی بد دعا اچھی نہیں\n\nموت آئے یہ دعا اچھی نہیں\nہجر میں بھی موت کیا اچھی نہیں\n\nدل لگی میں بھی تو بگڑی ہے بہت\nبات یہ زلف رسا اچھی نہیں\n\nہاتھ رنگنے کا لہو سے ہو گماں\nشوخ اتنی بھی حنا اچھی نہیں\n\nکیوں اڑاتی خاک آتی ہے بہار\nچھیڑ اسیروں سے صبا اچھی نہیں\n\nکام میخانے کا ہو جائے گا بند\nچشم ساقی کی حیا اچھی نہیں\n\nبوسۂ لب سے نہیں چلتا ہے کام\nگالیوں کی یہ سزا اچھی نہیں\n\nشیخ یہ کہتا گیا پیتا گیا\nہے بہت ہی بد مزا اچھی نہیں\n\nدل وہ سب کے لیں یہ ہے اچھی ادا\nجان لینے کی ادا اچھی نہیں\n\nغم غلط کرنے کو میں کتنی پیوں\nرات دن غم کی گھٹا اچھی نہیں\n\nایک کافر مجھ سے یہ کہتا گیا\nرات دن یاد خدا اچھی نہیں\n\nمیکدے کو چھوڑ کعبے جا ریاضؔ\nغفلت اے مرد خدا اچھی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%BA%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم غلط احتمال رکھتے تھے", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم غلط احتمال رکھتے تھے\nتجھ سے کیا کیا خیال رکھتے تھے\n\nنہ سنا تو نے کیا کہیں ظالم\nورنہ ہم عرض حال رکھتے تھے\n\nنہ رہا انتظار بھی اے یاس\nہم امید وصال رکھتے تھے\n\nجوہر آئینہ نیں دکھلایا\nسادہ رو جو کمال رکھتے تھے\n\nنہ سنا تھا کسو نے یہ تو غرور\nسبھی دلبر جمال رکھتے تھے\n\nآہ وہ دن گئے کہ ہم بھی اثرؔ\nدل کو اپنے سنبھال رکھتے تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D8%BA%D9%84%D8%B7_%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "ہم قتل ہو گئے نہیں تجھ کو خبر ہنوز", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم قتل ہو گئے نہیں تجھ کو خبر ہنوز\nباندھے پھرے ہے ہم پہ میاں تو کمر ہنوز\n\nسو سو طرح کے وصل نے مرہم رکھے ولے\nزخم فراق ہیں مرے ویسے ہی تر ہنوز\n\nکھولی تھی خواب ناز سے کس نے یہ اٹھ کے زلف\nلاتی ہے بوئے ناز نسیم سحر ہنوز\n\nوعدوں پہ تیرے کام بھی میرا ہوا تمام\nباتیں ہی تو بنایا کیا یار پر ہنوز\n\nجو دودھ کا جلا ہو پئے چھاچھ پھونک پھونک\nہوں وصل میں پہ ہجر سے ہے مجھ کو ڈر ہنوز\n\nبھولے سے تو نے پیار کی اک دن کہی جو بات\nروتا ہوں دل ہی دل میں اسے یاد کر ہنوز\n\nاجڑے ہزار شہر حسنؔ اور پھر بسے\nآباد پر ہوا نہ یہ دل کا نگر ہنوز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%82%D8%AA%D9%84_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DB%81%D9%86%D9%88%D8%B2"} {"title": "ہم لوگ", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آؤ اس یاد کو سینے سے لگا کر سو جائیں\nآؤ سوچیں کہ بس اک ہم ہی نہیں تیرہ نصیب\nاپنے ایسے کئی آشفتہ جگر اور بھی ہیں\n\nایک بے نام تھکن ایک پر اسرار کسک\nدل پہ وہ بوجھ کہ بھولے سے بھی پوچھے جو کوئی\nآنکھ سے جلتی ہوئی روح کا لاوا بہہ جائے\n\nچارہ سازی کے ہر انداز کا گہرا نشتر\nغم گساری کی روایات میں الجھے ہوئے زخم\nدردمندی کی خراشیں جو مٹائے نہ مٹیں\n\nاپنے ایسے کئی آشفتہ جگر اور بھی ہیں\nلیکن اے وقت وہ صاحب نظراں کیسے ہیں\nکوئی اس دیس کا مل جائے تو اتنا پوچھیں\n\nآج کل اپنے مسیحا نفساں کیسے ہیں\nآندھیاں تو یہ سنا ہے کہ ادھر بھی آئیں\nکونپلیں کیسی ہیں شیشوں کے مکاں کیسے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%84%D9%88%DA%AF"} {"title": "ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہے\nواں کنڑ سب بلّوری ہیں یاں ایک پُرانا مٹکا ہے\n\nاس دَور میں سب مٹ جائیں گے، ہاں! باقی وہ رہ جائے گا\nجو قائم اپنی راہ پہ ہے اور پکّا اپنی ہَٹ کا ہے\n\nاے شیخ و برہمن، سُنتے ہو! کیا اہلِ بصیرت کہتے ہیں\nگردُوں نے کتنی بلندی سے ان قوموں کو دے پٹکا ہے\n\nیا باہم پیار کے جلسے تھے، دستورِ محبّت قائم تھا\nیا بحث میں اُردو ہندی ہے یا قربانی یا جھٹکا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%85%D8%B4%D8%B1%D9%82_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%DA%A9%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%BA%D8%B1%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%D8%A7%D9%B9%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہم معنی ہوس نہیں اے دل ہوائے دوست", "poet_page": "مصنف:محمد علی جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم معنی ہوس نہیں اے دل ہوائے دوست\nراضی ہو بس اسی میں ہو جس میں رضائے دوست\n\nطغرائے امتیاز ہے خود ابتلائے دوست\nاس کے بڑے نصیب جسے آزمائے دوست\n\nیاں جنبش مژہ بھی گناہ عظیم ہے\nچپ چاپ دیکھتے رہو جو کچھ دکھائے دوست\n\nملتی نہیں کسی کو سند امتحاں بغیر\nدار و رسن کے حکم کو سمجھو صلائے دوست\n\nیعقوب پر فضول ہوئے لوگ خندہ زن\nیاں لا مکاں سے آتی ہے بوئے قبائے دوست\n\nکیا کم تھا ہجر یار ہی پھر اس پہ رشک غیر\nدشمن کو بھی خدا نہ کرے مبتلائے دوست\n\nہے روح بھی نثار بدن بھی نثار یار\nدل بھی فدائے دوست جگر بھی فدائے دوست\n\nجوہرؔ وہ صبر آپ ہی دے گا اگر ہمیں\nہے امتیاز وعدۂ صبر آزمائے دوست", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%B3_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA"} {"title": "ہم موئے پھرتے ہیں اور خواہش جاں ہے اس کو", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم موئے پھرتے ہیں اور خواہش جاں ہے اس کو\nاب تلک بھی وہی جینے کا گماں ہے اس کو\n\nاے دل افسردگیٔ داغ سے کیوں ہے تو ملول\nجو گل اس باغ میں آیا ہے خزاں ہے اس کو\n\nقصۂ برہنہ پائی کو مرے اے مجنوں\nخار سے پوچھ کہ سب نوک زباں ہے اس کو\n\nآگے اس گل کے نہ مارا کبھو غنچے نے تو دم\nچاہے بلبل سو کہے تاب بیاں ہے اس کو\n\nاے فلک بوجھ دو عالم کا تو قائمؔ پہ نہ ڈال\nاپنی ہستی بھی کچھ ان روزوں گراں ہے اس کو\n\nکر کے ہے ہے اے نم اشک تو رووے مجھ کو\nآج اگر سیل میں خوں کے نہ ڈبووے مجھ کو\n\nخاک جوں آئنہ ملنا مجھے رکھتا ہے شگوں\nتیرہ تر ہوں میں جو پانی سے تو دھووے مجھ کو\n\nفائدہ گل کا نہ مجھ سے ہے نہ سائے کی امید\nکہہ دو دہقاں سے کہ بے ہودہ نہ بووے مجھ کو\n\nگرمئ نالہ سے میں آج جلا جاتا ہوں\nکو دم سرد کہ آ کر وہ سمووے مجھ کو\n\nساتھ ہے سنگ و شرر کا یہ کہو اس بت سے\nکیا ہو آغوش میں گر لے کے وہ سووے مجھ کو\n\nنہ ملاقات نہ اشفاق نہ وعدہ نہ پیام\nکیوں کہ تسکین ترے ہجر میں ہووے مجھ کو\n\nخاتم دست سلیماں سے ہوں قائمؔ میں عزیز\nسخت پچھتائے وہ جو ہاتھ سے کھووے مجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%85%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B4_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88"} {"title": "ہم موت بھی آئے تو مسرور نہیں ہوتے", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم موت بھی آئے تو مسرور نہیں ہوتے\nمجبور غم اتنے بھی مجبور نہیں ہوتے\n\nدل ہی میں نہیں رہتے آنکھوں میں بھی رہتے ہو\nتم دور بھی رہتے ہو تو دور نہیں ہوتے\n\nپڑتی ہیں ابھی دل پر شرمائی ہوئی نظریں\nجو وار وہ کرتے ہیں بھرپور نہیں ہوتے\n\nامید کے وعدوں سے جی کچھ تو بہلتا تھا\nاب یہ بھی ترے غم کو منظور نہیں ہوتے\n\nارباب محبت پر تم ظلم کے بانی ہو\nیہ ورنہ محبت کے دستور نہیں ہوتے\n\nکونین پہ بھاری ہے اللہ رے غرور ان کا\nاتنے بھی ادا والے مغرور نہیں ہوتے\n\nہے عشق ترا فانیؔ تشہیر بھی شہرت بھی\nرسوائے محبت یوں مشہور نہیں ہوتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%85%D9%88%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92"} {"title": "ہم میرؔ برے اتنے ہیں وہ اتنا خوب", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہم میرؔ برے اتنے ہیں وہ اتنا خوب\nمتروک جہاں ہم ہیں وہ سب کا محبوب\nہم ممکن اسے وجوب کا ہے رتبہ\nہے کچھ بھی مناسبت کا باہم اسلوب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%A8%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%A8"} {"title": "ہم میرؔ سے کہتے ہیں نہ تو رویا کر", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہم میرؔ سے کہتے ہیں نہ تو رویا کر\nہنس کھیل کے ٹک چین سے بھی سویا کر\nپایا نہیں جانے کا وہ در نایاب\nکڑھ کڑھ کے عبث جان کو مت کھویا کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہم میکدے سے مر کے بھی باہر نہ جائیں گے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم میکدے سے مر کے بھی باہر نہ جائیں گے\nمیکش ہماری خاک کے ساغر بنائیں گے\n\nوہ اک کہیں گے ہم سے تو ہم سو سنائیں گے\nمنہ آئیں گے ہمارے تو اب منہ کی کھائیں گے\n\nکچھ چارہ سازی نالوں نے کی ہجر میں مری\nکچھ اشک میرے دل کی لگی کو بجھائیں گے\n\nوہ مثل اشک اٹھ نہیں سکتا زمین سے\nجس کو حضور اپنی نظر سے گرائیں گے\n\nجھونکے نسیم صبح کے آ آ کے ہجر میں\nاک دن چراغ ہستیٔ عاشق بجھائیں گے\n\nصحرا کی گرد ہوگی کفن مجھ غریب کا\nاٹھ کر بگولے میرا جنازہ اٹھائیں گے\n\nاب ٹھان لی ہے دل میں کہ سر جائے یا رہے\nجیسے اٹھے گا بار محبت اٹھائیں گے\n\nگردش نے میری چرخ کا چکرا دیا دماغ\nنالوں سے اب زمیں کے طبق تھرتھرائیں گے\n\nبیدمؔ وہ خوش نہیں ہیں تو اچھا یوں ہی سہی\nناخوش ہی ہو کے غیر مرا کیا بنائیں گے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%A9%D8%AF%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "ہم میں بھی اور انہوں میں پہلے جو یاریاں تھیں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم میں بھی اور انہوں میں پہلے جو یاریاں تھیں\nدونوں دلوں میں کیا کیا امیدواریاں تھیں\n\nوہ منتظر کہ آویں ہم پر تپش کہ جاویں\nاس ڈھب کی ہر دو جانب بے اختیاریاں تھیں\n\nنہ ضبط ہے نگہ کا نہ رک سکے نظارہ\nکیا شوق ورزیاں تھیں کیا بے قراریاں تھیں\n\nاٹھنے میں بیٹھنے میں ہنسنے میں بولنے میں\nکچھ بے شعوریاں تھیں کچھ ہوشیاریاں تھیں\n\nجس جا نظیرؔ آ کر ہوتی ہیں الفتیں تو\nواں ایسی ایسی کتنی عشرت شعاریاں تھیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%86%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم ناقصوں کے دور میں کامل ہوئے تو کیا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم ناقصوں کے دور میں کامل ہوئے تو کیا\nاجڑے ہوئے علاقے کے عامل ہوئے تو کیا\n\nہم کو تو افتخار ہے پیغام یار پر\nجبریل آسمان سے نازل ہوئے تو کیا\n\nمدت سے پھر رہی ہے چھری جان زار پر\nہم آج تیغ یار سے بسمل ہوئے تو کیا\n\nداغوں میں اس کے داغ محبت کی بو کہاں\nلالے کے پھول ہم سے مقابل ہوئے تو کیا\n\nراحت نصیب ہم کو ہوئی رحمت اے کریم\nٹکرا کے سر بہشت میں داخل ہوئے تو کیا\n\nپھولوں میں زر لٹا نہ گل سرخ کا کبھی\nبے فیض لوگ رونق محفل ہوئے تو کیا\n\nاس کی صفت یہی ہے کہ بے مانگے دی مراد\nدرگاہ میں کریم کے سائل ہوئے تو کیا\n\nآسان ہیں جو ناخن تقدیر تیز ہے\nمطلب ہمارے عقدۂ مشکل ہوئے تو کیا\n\nمردوں کو زندہ کیجیے نام آوری یہ ہے\nعیسیٰ بناؤ آپ کو قاتل ہوئے تو کیا\n\nہر دم چراغ دل کی ادھر لو لگی رہے\nہم اپنی یادگار سے غافل ہوئے تو کیا\n\nہوگا نہ ایک رنگ خزان و بہار کا\nبوڑھے اگر جوانوں کے شامل ہوئے تو کیا\n\nاپنے مآل کار سے جب بے خبر ہوئے\nحافظ ہوئے تو خاک جو فاصل ہوئے تو کیا\n\nتن سے مفارقت نہیں کرتی تب فراق\nتعویذ بھی گلے میں حمائل ہوئے تو کیا\n\nاے بحرؔ باغبان کی منت بلا کرے\nدو چار پھول باغ سے حاصل ہوئے تو کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%B5%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہم نشیں ان کے طرف دار بنے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نشیں ان کے طرف دار بنے بیٹھے ہیں\nمیرے غم خوار دل آزار بنے بیٹھے ہیں\n\nبات کیا ان سے کروں ان کے اٹھاؤں کیوں کر\nمدعی بیچ میں دیوار بنے بیٹھے ہیں\n\nناتوانی نے ادھر پاؤں پکڑ رکھے ہیں\nوہ نزاکت سے گراں بار بنے بیٹھے ہیں\n\nکیا بری شے ہے محبت بھی الٰہی توبہ\nجرم ناکردہ خطاوار بنے بیٹھے ہیں\n\nبے وفائی کے گلے جن کے ہوئے تھے کل تک\nآج دنیا کے وفادار بنے بیٹھے ہیں\n\nوہ ہیں اور غیر ہیں اور عیش کے سامان ظہیرؔ\nہم الگ سب سے گنہ گار بنے بیٹھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D9%86%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم نشیں تارے ہیں اور چاند شہاب الدین خاں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "سہرا", "year": null, "text_ur": "ہم نشیں تارے ہیں اور چاند شہاب الدین خاں\nبزم شادی ہے فلک کاہ کشاں ہے سہرا\nان کو لڑیاں نہ کہو بحر کی موجیں سمجھو\nہے تو کشتی میں ولے بحر رواں ہے سہرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%D8%B4%DB%81%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D8%AE%D8%A7%DA%BA"} {"title": "ہم نفسو اجڑ گئیں مہر و وفا کی بستیاں", "poet_page": "مصنف:عبد المجید سالک", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نفسو اجڑ گئیں مہر و وفا کی بستیاں\nپوچھ رہے ہیں اہل مہر و وفا کو کیا ہوا\n\nعشق ہے بے گذار کیوں حسن ہے بے نیاز کیوں\nمیری وفا کہاں گئی ان کی جفا کو کیا ہوا\n\nیہ تو بجا کہ اب وہ کیف جام شراب میں نہیں\nساقی مے کے غمزۂ ہوش ربا کو کیا ہوا\n\nاب نہیں جنت مشام کوچہ یار کی شمیم\nنکہت زلف کیا ہوئی باد صبا کو کیا ہوا\n\nتھم گیا دورۂ حیات رک گئی نبض کائنات\nعشق و جنوں کی گرمئ ہمہمہ زا کو کیا ہوا\n\nدشت جنوں میں ہو گئی منزل یار بے سراغ\nقافلہ کس طرف گیا بانگ درا کو کیا ہوا\n\nنالۂ شب ہے نارسا آہ سحر ہے بے اثر\nمیرا خدا کہاں گیا میرے خدا کو کیا ہوا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%D9%81%D8%B3%D9%88_%D8%A7%D8%AC%DA%91_%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D9%88_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "ہم نہ بت خانے میں نے مسجد ویراں میں رہے", "poet_page": "مصنف:بہرام جی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نہ بت خانے میں نے مسجد ویراں میں رہے\nحسرت و آرزوئے جلوۂ جاناں میں رہے\n\nخوں ہے وہ جس سے کہ ہو دامن قاتل رنگیں\nخون فاسد ہے جو خالی سر مژگاں میں رہے\n\nہم نے مصنوع سے صانع کی حقیقت پائی\nبے سبب ہم نہیں نظارۂ خوباں میں رہے\n\nصبح خورشید کو دیکھا ہوس عارض میں\nشام سے روشنیٔ شمع شبستاں میں رہے\n\nتوڑا زنار کو تسبیح کو پھینکا ہم نے\nعشق رخ تھا ہوس نور درخشاں میں رہے\n\nجا بجا ہم کو رہی جلوۂ جاناں کی تلاش\nدیر و کعبہ میں پھرے صحبت رہباں میں رہے\n\nخلوت دل کی نہ کچھ قدر کو سمجھے حاجی\nطوف کعبہ کے لیے دشت و بیاباں میں رہے\n\nان اسیروں کو ہوئی قید تعین سے نجات\nجو کہ پابند ترے گیسوئے پیچاں میں رہے\n\nاس زمیں میں غزل اک اور بھی لکھو بہرامؔ\nیہ دو غزلہ تو بھلا آپ کے دیواں میں رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%AA_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF_%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "ہم نہ تنہا اس گلی سے جاں کو کھو کر اٹھ گئے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نہ تنہا اس گلی سے جاں کو کھو کر اٹھ گئے\nسیکڑوں یاں زندگی سے ہاتھ دھو کر اٹھ گئے\n\nدیکھنے پائے نہ ہم اشکوں کا اپنے کچھ ثمر\nتخم گویا یاس کے یہ تھے جو بو کر اٹھ گئے\n\nکل ترے بن باغ میں کچھ دل نہ اپنا جو لگا\nاشک خونیں میں گلوں کو ہم ڈبو کر اٹھ گئے\n\nلوٹتے ہیں اس ادا و ناز پر اور غش میں ہم\nتھے وہ احمق جو کہ تیری کھا کے ٹھوکر اٹھ گئے\n\nجان و دل ہم اک جگہ بیٹھے تھے کوچہ میں ترے\nپاسباں کے ہاتھ سے آوارہ ہو کر اٹھ گئے\n\nتو گیا تھا ڈھونڈھنے ان کو کہاں وے تو حسنؔ\nتیرے گھر میں آئے بیٹھے لیٹے سو کر اٹھ گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DA%BE%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہم نہ محظوظ ہوئے ہیں کسی شے سے ایسے", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نہ محظوظ ہوئے ہیں کسی شے سے ایسے\nجیسے مسرور ہیں پینے ستے مے سے ایسے\n\nنہ ہمیں کام ہے حشمت ستے جمشید کے کچھ\nبوریا بس ہے بہ از مسند کے سے ایسے\n\nچھوڑ دنیا کو بہ دنیا ز حقیقت دنیا\nخوب واقف ہوں رگ و ریشہ و پے سے ایسے\n\nدین دنیا کی محبت میں اگر غور کرو\nہے تنفر مجھے جس طرح سے کے سے ایسے\n\nنے میں طاقت نہیں نائے کا کرشمہ ظاہر\nبوجھ نائے کی سدا جو سنے نے سے ایسے\n\nخوبرو اگلے زمانے کے ہیں اب تک موجود\nآفت جان جو تھے ہیں وہی ویسے ایسے\n\nتو جو آوارہ ہے افریدیؔ بتا کس جا پر\nدل لیا کس نے ترا کون سی لے سے ایسے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%B8%D9%88%D8%B8_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B4%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92"} {"title": "ہم نہ نکہت ہیں نہ گل ہیں جو مہکتے جاویں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نہ نکہت ہیں نہ گل ہیں جو مہکتے جاویں\nآگ کی طرح جدھر جاویں دہکتے جاویں\n\nاے خوشا مست کہ تابوت کے آگے جس کے\nآب پاشی کے بدل مے کو چھڑکتے جاویں\n\nجو کوئی آوے ہے نزدیک ہی بیٹھے ہے ترے\nہم کہاں تک ترے پہلو سے سرکتے جاویں\n\nغیر کو راہ ہو گھر میں ترے سبحان اللہ\nاور ہم دور سے در کو ترے تکتے جاویں\n\nوقت اب وہ ہے کہ اک ایک حسنؔ ہو کے بتنگ\nصبر و تاب و خرد و ہوش کھسکتے جاویں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%86%DA%A9%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%81%DA%A9%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم نہ وحشت کے مارے مرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:منتظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نہ وحشت کے مارے مرتے ہیں\nتیری دہشت کے مارے مرتے ہیں\n\nمار مت بے مروتی سے انہیں\nجو مروت کے مارے مرتے ہیں\n\nشکوہ کیا کیجے شام غربت کا\nاپنی شامت کے مارے مرتے ہیں\n\nکیا رقیبوں کو ماریے وہ آپ\nسب رقابت کے مارے مرتے ہیں\n\nیار سے دور ہیں وطن سے جدا\nاس مصیبت کے مارے مرتے ہیں\n\nسیکڑوں اس سے ہیں گے ہم آغوش\nلاکھوں حسرت کے مارے مرتے ہیں\n\nکچھ ہماری نہ پوچھئے صاحب\nہم تو غیرت کے مارے مرتے ہیں\n\nہے عجب زیست منتظرؔ ان کی\nجو کہ الفت کے مارے مرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%81_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم نہ چھوڑیں گے محبت تری اے زلف سیاہ", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نہ چھوڑیں گے محبت تری اے زلف سیاہ\nسر چڑھایا ہے تو کیا دل سے گرائیں تجھ کو\n\nچھوڑ کر ہم کو ملا شمع رخوں سے جا کر\nاسی قابل ہے تو اے دل کہ جلائیں تجھ کو\n\nدرد دل کہتے ہوئے بزم میں آتا ہے حجاب\nتخلیہ ہو تو کچھ احوال سنائیں تجھ کو\n\nاپنے معشوق کی سنتا ہے برائی کوئی\nکیوں نہ ہم بگڑیں جو اغیار بنائیں تجھ کو\n\nروٹھتا ہوں جو کبھی میں تو یہ کہتا ہے وہ شوخ\nکیا غرض ہم کو پڑی ہے جو منائیں تجھ کو\n\nتو نے اغیار سے آئینہ منگا کر دیکھا\nدل میں آتا ہے کہ اب منہ نہ دکھائیں تجھ کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%DB%92_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81"} {"title": "ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہے", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہے\nلیکن کبھو نہ دیکھا کیتا ہے اور کہاں ہے\n\nڈھونڈا ہزار تو بھی تیرا نشاں نہ پایا\nلشکر میں گل رخاں کے تیری مثل کہاں ہے\n\nاب تشنگی کا روزہ شاید کھلے ہمارا\nشام و شفق سجن کا مسی و رنگ پاں ہے\n\nدل میں کیا ہے دعوا انکھیاں ہوئی ہیں منکر\nتیری کمر کا جھگڑا ان دو کے درمیاں ہے\n\nرہتا ہوں اے پیارے قدموں تلے تمہارے\nجس راہ آوتے ہو عاجز کا وہیں مکاں ہے\n\nتجھ خط پشت لب میں تس کا سخن ہوا سبز\nاس کی زباں دہن میں مانند برگ پاں ہے\n\nپیری سیں قد کماں ہے ہر چند آبروؔ کا\nاس نوجواں کی خاطر دل اب تلک کشاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%AC%D9%86_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہم نے باندھے ہیں اس پہ کیا کیا جوڑ", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نے باندھے ہیں اس پہ کیا کیا جوڑ\nپر چلا ایک بھی نہ فقرا جوڑ\n\nجوڑتا ہے جو تو محبت کا\nہم سے زنار دار رشتا جوڑ\n\nسر دشمن نہ توڑیئے کب تک\nمجھ پہ چلتا ہے وہ ہمیشہ جوڑ\n\nاے رفو گر جو ٹانک جامۂ تن\nتار تار اور پرزہ پرزہ جوڑ\n\nذوالفقار علی کی تجھ کو قسم\nسر جدا جس سے ہو وہ فقرا جوڑ\n\nنسبت زلف جیسے سنبل کو\nویسے نافہ کا مشک نافہ جوڑ\n\nہم اسی کو کہیں گے آئینہ ساز\nدے ہمارا جو دل شکستہ جوڑ\n\nمظہرہ بے کا شادؔ اردو میں\nجانتا ہوں الف ہی ہے کا جوڑ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88%DA%91"} {"title": "ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا\nتو بھی نہ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا\n\nکیا ہوگا رفوگر سے رفو میرا گریبان\nاے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا\n\nدیں دے کے گیا کفر کے بھی کام سے عاشق\nتسبیح کے ساتھ اس نے تو زنار بھی چھوڑا\n\nگوشہ میں تری چشم سیہ مست کے دل نے\nکی جب سے جگہ خانۂ خمار بھی چھوڑا\n\nاس سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے\nمفلس کو جو مارا تو نہ زردار بھی چھوڑا\n\nٹیڑھے نہ ہو ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا\nتم پیار سے رکتے ہو تو لو پیار بھی چھوڑا\n\nکیا چھوڑیں اسیران محبت کو وہ جس نے\nصدقے میں نہ اک مرغ گرفتار بھی چھوڑا\n\nپہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر اس کو\nاس شوخ نے تو دیکھنا اخبار بھی چھوڑا\n\nکرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرار\nمدت سے ظفرؔ اس نے وہ اقرار بھی چھوڑا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7"} {"title": "ہم نے تو اجاڑ اور بستی دیکھی", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نے تو اجاڑ اور بستی دیکھی\nدنیا کی سبھی بلند اور پستی دیکھی\n\nصورت پہ خیال اپنی آیا جس دم\nیک لحظہ حباب وار پستی دیکھی\n\nکتنوں کے معاش کی درستی دیکھی\nکتنوں کی بہ خانہ فاقہ مستی دیکھی\n\nدنیا ہے بسان قحبہ خوش دل غمگیں\nروتی ہے کبھی کبھی تو ہنستی دیکھی\n\nجس دست کی میں دراز دستی دیکھی\nاس دست کی آخرش شکستی دیکھی\n\nجس نے بستم کیا مکاں کو تعمیر\nدیوار پھر اس مکاں کی کھسکتی دیکھی\n\nبا وصف عیاں ہے لیک بعضی خلقت\nاس شوخ کی دید کو ترستی دیکھی\n\nیہ طرفہ ہے ماجرا کہ کعبۂ دل میں\nآفریدیؔ کی ہم نے بت پرستی دیکھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D8%AC%D8%A7%DA%91_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C"} {"title": "ہم نے تو خاک بھی دیکھا نہ اثر رونے میں", "poet_page": "مصنف:عشق عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نے تو خاک بھی دیکھا نہ اثر رونے میں\nعمر کیوں کھوتے ہو اے دیدۂ تر رونے میں\n\nرات کب آئے تم اور کب گئے معلوم نہیں\nجان اتنی نہ رہی ہم کو خبر رونے میں\n\nجب تلک اشک تھمیں بیٹھ اگر آیا ہے\nتیری صورت نہیں آتی ہے نظر رونے میں\n\nتجھ کو اے دیدۂ تر شغل ہے رونا لیکن\nڈوبا جاتا ہے یہاں دل کا نگر رونے میں\n\nعالم عشق میں مجنوں بھی بڑا گاڑھا تھا\nیار مجنوں سے بھی ہم گاڑے ہیں پر رونے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم نے جانا تھا سخن ہوں گے زباں پر کتنے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نے جانا تھا سخن ہوں گے زباں پر کتنے\nپر قلم ہاتھ جو آئی لکھے دفتر کتنے\n\nمیں نے اس اس صناع سے سر کھینچا ہے\nکہ ہر اک کوچے میں جس کے تھے ہنر ور کتنے\n\nکشور عشق کو آباد نہ دیکھا ہم نے\nہر گلی کوچے میں اوجڑ پڑے تھے گھر کتنے\n\nآہ نکلی ہے یہ کس کی ہوس سیر بہار\nآتے ہیں باغ میں آوارہ ہوئے پر کتنے\n\nدیکھیو پنجۂ مژگاں کی ٹک آتش دستی\nہر سحر خاک میں ملتے ہیں در تر کتنے\n\nکب تلک یہ دل صد پارہ نظر میں رکھیے\nاس پر آنکھیں ہی سیے رہتے ہیں دلبر کتنے\n\nعمر گزری کہ نہیں دو آدم سے کوئی\nجس طرف دیکھیے عرصے میں ہیں اب خر کتنے\n\nتو ہے بیچارہ گدا میرؔ ترا کیا مذکور\nمل گئے خاک میں یاں صاحب افسر کتنے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%AA%D9%86%DB%92"} {"title": "ہم نے سو سو طرح بنائی بات", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نے سو سو طرح بنائی بات\nسامنے اس کے بن نہ آئی بات\n\nسچ تو کہتا ہے دوست دشمن ہے\nہم نے ناصح کی آزمائی بات\n\nبات کے کاٹنے کا شکوہ کیا\nہو جہاں قطع آشنائی بات\n\nوعدے پر اس سے کیوں قسم مانگے\nمفت بگڑی بنی بنائی بات\n\nہم کو دشمن سے ہو گئی معلوم\nدوست نے ہم سے جو چھپائی بات\n\nکیا شب وصل کو گھٹانا ہے\nغم ہجراں کی کیوں بڑھائی بات\n\nیہ بھی ان کے دہن کی خوبی ہے\nکہ سمجھ میں مری نہ آئی بات\n\nشہر سے کیوں کریں وہ عزم سفر\nہم نشیں تو نے کیا اڑائی بات\n\nواں سے جا کر خبر نہیں لایا\nہے کہیں کی سنی سنائی بات\n\nبھید اپنوں سے بھی نہ کہہ ناظمؔ\nمنہ سے نکلی ہوئی پرائی بات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%88_%D8%B3%D9%88_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "ہم نے پائی لذت دیدار لیکن دور سے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نے پائی لذت دیدار لیکن دور سے\nان کی صورت دیکھ لی سو بار لیکن دور سے\n\nوہ دکھاتے ہیں ہمیں رخسار لیکن دور سے\nاس کا مطلب ہے کہ کر لو پیار لیکن دور سے\n\nاس نے جانچا میرا درد دل مگر آیا نہ پاس\nاس نے دیکھا میرا حال زار لیکن دور سے\n\nروزن دیوار سے حسرت بھری آنکھیں لڑیں\nہو گئیں ان سے نگاہیں چار لیکن دور سے\n\nاس نے آنے کا کیا ہے قول لیکن تا بہ در\nاس نے ملنے کا کیا اقرار لیکن دور سے\n\nپاس مضطرؔ کس طرح جاتے ہجوم یاس میں\nہو گیا ان کا ہمیں دیدار لیکن دور سے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%84%D8%B0%D8%AA_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ہم نے کس دن ترے کوچے میں گزارا نہ کیا", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نے کس دن ترے کوچے میں گزارا نہ کیا\nتو نے اے شوخ مگر کام ہمارا نہ کیا\n\nایک ہی بار ہوئیں وجہ گرفتارئ دل\nالتفات ان کی نگاہوں نے دوبارا نہ کیا\n\nمحفل یار کی رہ جائے گی آدھی رونق\nناز کو اس نے اگر انجمن آرا نہ کیا\n\nطعن احباب سنے سرزنش خلق سہی\nہم نے کیا کیا تری خاطر سے گوارا نہ کیا\n\nجب دیا تم نے رقیبوں کو دیا جام شراب\nبھول کر بھی مری جانب کو اشارا نہ کیا\n\nروبرو چشم تصور کے وہ ہر وقت رہے\nنہ سہی آنکھ نے گر ان کا نظارا نہ کیا\n\nگر یہی ہے ستم یار تو ہم نے حسرتؔ\nنہ کیا کچھ بھی جو دنیا سے کنارا نہ کیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%AF%D9%86_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا\nپر اسے آہ کچھ اثر نہ کیا\n\nسب کے ہاں تم ہوئے کرم فرما\nاس طرف کو کبھو گزر نہ کیا\n\nکیوں بھویں تانتے ہو بندہ نواز\nسینہ کس وقت میں سپر نہ کیا\n\nکتنے بندوں کو جان سے کھویا\nکچھ خدا کا بھی تو نے ڈر نہ کیا\n\nدیکھنے کو رہے ترستے ہم\nنہ کیا رحم تو نے پر نہ کیا\n\nآپ سے ہم گزر گئے کب کے\nکیا ہے ظاہر میں گو سفر نہ کیا\n\nکون سا دل ہے وہ کہ جس میں آہ\nخانہ آباد تو نے گھر نہ کیا\n\nتجھ سے ظالم کے سامنے آیا\nجان کا میں نے کچھ خطر نہ کیا\n\nسب کے جوہر نظر میں آئے دردؔ\nبے ہنر تو نے کچھ ہنر نہ کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہم وفا کرتے ہیں ہم پر جور کوئی کیوں کرے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم وفا کرتے ہیں ہم پر جور کوئی کیوں کرے\nجب ہے بے غوری تو یہ بھی غور کوئی کیوں کرے\n\nالتجائے وصل پر محشر میں وہ کہنے لگے\nاپنے وعدے کی وفا فی الفور کوئی کیوں کرے\n\nبات کس کی بات میری کون مضطرؔ دھیان دے\nحال کس کا حال میرا غور کوئی کیوں کرے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%DB%92"} {"title": "ہم وہ نالاں ہیں بولی ٹھولی میں", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم وہ نالاں ہیں بولی ٹھولی میں\nبلبلوں کو جو لیں ٹھٹھولی میں\n\nجامہ زیبوں سے اس کو نسبت کیا\nلاکھ ٹکڑے ہیں گل کی چولی میں\n\nرنج غم کھانے کو خدا نے دیا\nکیا نہیں مجھ گدا کی جھولی میں\n\nالف لیلیٰ سنے وہ گل تو سنائیں\nبلبلیں اک ہزار بولی میں\n\nخون ناحق ہمارا اچھلے گا\nرنگ لایا جو شوخ ہولی میں\n\nچشم عبرت سے دیکھ پردہ نشیں\nشکل تابوت کی ہے ڈولی میں\n\nسبزۂ خط ہو کیوں نہ جوہر خال\nزہر تریاک کی ہے گولی میں\n\nبوسہ اس سرو قد سے ہم آزاد\nمانگ لیتے ہیں بولی ٹھولی میں\n\nشادؔ رو رو دیا ہے شبنم نے\nجب گلوں نے لیا ٹھٹھولی میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%A7%D9%84%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%8C_%D9%B9%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں\nاِک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں\n\nکس منہ سے شکر کیجیے اس لطف خاص کا\nپرسش ہے اور پائے سخن درمیاں نہیں\n\nہم کو ستم عزیز، ستم گر کو ہم عزیز\nنا مہرباں نہیں ہے اگر مہرباں نہیں\n\nبوسہ نہیں، نہ دیجیے دشنام ہی سہی\nآخر زباں تو رکھتے ہو تم، گر دہاں نہیں\n\nہر چند جاں گدازیِ قہر و عتاب ہے\nہر چند پشت گرمیِ تاب و تواں نہیں\n\nجاں مطربِ ترانہ ھَل مِن مَزِید ہے\nلب پر دہ سنجِ زمزمۂ الاَماں نہیں\n\nخنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیم\nدل میں چُھری چبھو مژہ گر خونچکاں نہیں\n\nہے ننگِ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہو\nہے عارِ دل نفس اگر آذر فشاں نہیں\n\nنقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب\nسو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں\n\nکہتے ہو “کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں”\nگویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں\n\nپاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کی\nرُوح القُدُس اگرچہ مرا ہم زباں نہیں\n\nجاں ہے بہائے بوسہ ولے کیوں کہے ابھی\nغالبؔ کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم پر ہے التفات ہمارے حبیب کا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم پر ہے التفات ہمارے حبیب کا\nگیرا مگر نہیں ہے نفس عندلیب کا\n\nاب وہ ہے جلوہ ریز لباسِ سپاس میں\nجو عہدِ کودکی میں گلہ تھا ادیب کا\n\nاچھا جو اس کو سونگھے تو آ جائے اس کو غش\nاچھا اثر ہے زلفِ معنبر کی طیب کا\n\nتیری گلی سے آگے نہ ہرگز ہوا چلے\nکوچے سے تیرے پاؤں نہ اٹھے غریب کا\n\nمصروف ہے بہت وہ ہمارے علاج میں\nہم بھی ذرا علاج کریں گے طبیب کا\n\nتسلیم سے وفاق، رضا سے ہے اتفاق\nنے چرخ کا گلہ، نہ گلہ ہے نصیب کا\n\nہم پاؤں پھونک پھونک کے رکھتے ہیں کیا کریں\nاس بزم میں ہے دخل سراسر رقیب کا\n\nہو جائے کاسہ لیس شگرفانِ میکدہ\nجس کو کہ اشتیاق ہے حالِ عجیب کا\n\nسنتے ہی نام دشمنِ صد سالہ ہو گیا\nپوچھا جو مجھ سے نام کسی نے حبیب کا\n\nاس رشکِ گل نے لی ہے جو بلبل تو شیفتہ\nدیکھے چمن میں شور کوئی عندلیب کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%84%D8%AA%D9%81%D8%A7%D8%AA_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AD%D8%A8%DB%8C%D8%A8_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہم پھڑک کر توڑتے ساری قفس کی تیلیاں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم پھڑک کر توڑتے ساری قفس کی تیلیاں\nپر نہیں اے ہم صفیرو! اپنے بس کی تیلیاں\n\nبہر ایواں اور بنوا چلمن اے پردہ نشیں\nہو گئی بد رنگ ہیں اگلے برس کی تیلیاں\n\nخاک میں نا جنس رہتے ہیں نہ اہل امتیاز\nاے فلک بنتی نہیں جاروب خس کی تیلیاں\n\nعین فصل گل میں ہی صیاد بے پروا نے آہ\nدس کے پر کترے تو کیں آنکھوں میں دس کی تیلیاں\n\nحرص دنیا چاہتی ہے یہ کہ سیم و زر کی ہوں\nیہ چراغ خانۂ اہل ہوس کی تیلیاں\n\nامتیاز نیک و بد خود ہو نہ جس کو اے نصیرؔ\nاس کے نزدیک ایک ہیں خاشاک و خس کی تیلیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%BE%DA%BE%DA%91%DA%A9_%DA%A9%D8%B1_%D8%AA%D9%88%DA%91%D8%AA%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D9%81%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "ہم پہ جور و ستم کے کیا معنی", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم پہ جور و ستم کے کیا معنی\nترک رحم و کرم کے کیا معنی\n\nعیش و عشرت سے غم کے کیا معنی\nفربہی ہے درم کے کیا معنی\n\nرات فرقت کی کس کو کہتے ہیں\nروز ہجر صنم کے کیا معنی\n\nگر نہیں اس کا ساغر مے ناب\nکہئے پھر جام جم کے کیا معنی\n\nپوجنا بت کا ہے یہ کیا مضمون\nاور طواف حرم کے کیا معنی\n\nکوچۂ گل رخاں کو کہتے ہیں\nاور باغ ارم کے کیا معنی\n\nیوں ہی وعدہ کرو یقیں ہو جائے\nکیوں قسم لوں قسم کے کیا معنی\n\nماجرا چشم نم کا تو سمجھے\nلیکن ابر و کرم کے کیا معنی\n\nبوسے وعدہ سے کم نہیں منظور\nدم نہ دو ہم کو دم کے کیا معنی\n\nایک دو تین چار پانچ چھ سات\nیوں ہی گن لیں گے کم کے کیا معنی\n\nاے سخیؔ یار نے دکھائی کمر\nشب جو پوچھا عدم کے کیا معنی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D9%88%D8%B1_%D9%88_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C"} {"title": "ہم پہ سو ظلم و ستم کیجئے گا", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم پہ سو ظلم و ستم کیجئے گا\nایک ملنے کو نہ کم کیجئے گا\n\nبھاگتے خلق سے کچھ کام نہیں\nقصد ہے آپ سے رم کیجئے گا\n\nگر یہی زلف و یہی مکھڑا ہے\nغارت دیر و حرم کیجئے گا\n\nگر رہی یوں ہی گل فشانیٔ اشک\nجا بہ جا رشک ارم کیجئے گا\n\nجی میں ہے آج بجائے مکتوب\nیہی بیت اس کو رقم کیجئے گا\n\nمہربانی سے پھر اے بندہ نواز\nکہیے کس روز کرم کیجئے گا\n\nنیند آوے گی نہ تنہا بیدارؔ\nتا نہ خواب اس سے بہم کیجئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%D9%BE%DB%81_%D8%B3%D9%88_%D8%B8%D9%84%D9%85_%D9%88_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ہم ڈھونڈتے ہیں باغ میں اس گلعذار کو", "poet_page": "مصنف:منشی بہاری لال مشتاق دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم ڈھونڈتے ہیں باغ میں اس گلعذار کو\nجلوہ نے جس کے رنگ دیا ہے بہار کو\n\nتم جاتے ہو تو جاؤ خدا کے لئے مگر\nلے جاؤ اپنے ساتھ نہ صبر و قرار کو\n\nہم حسن اعتقاد سے سمجھے چڑھائے پھول\nگل کر دیا جو اس نے چراغ مزار کو\n\nدی کس نے اس کو جا کے نوید قدوم یار\nہے ناگوار باغ سے جانا بہار کو\n\nاس بت میں نور قدرت خالق ہے مستتر\nپتھر نے کیا چھپایا ہے دل میں شرار کو\n\nمشتاقؔ غم کو پاس نہ آنے دے زینہار\nخوش خوش گزار زندگئ مستعار کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88"} {"title": "ہم کب از خود ترے گھر یار چلے آتے ہیں", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم کب از خود ترے گھر یار چلے آتے ہیں\nرہ نہیں سکتے تو ناچار چلے آتے ہیں\n\nلے خبر اس کی شتابی سے کہ عاشق کو ترے\nغش پہ غش شوخ ستم گار چلے آتے ہیں\n\nمیں تو حیراں ہوں مطب ہے کہ در یار ہے یہ\nیاں تو بیمار پہ بیمار چلے آتے ہیں\n\nگھر میں گھبراتے ہیں بے یار تو ہم وحشی سے\nسر برہنہ سر بازار چلے آتے ہیں\n\nکھڑے رہ سکتے نہیں در پہ تو حیران سے واں\nبیٹھ کر ہم پس دیوار چلے آتے ہیں\n\nکس کے نالوں کی یہ آندھی ہے کہ شکل پر کاہ\nآج اڑتے ہوئے کہسار چلے آتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DA%A9%D8%A8_%D8%A7%D8%B2_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%86%D9%84%DB%92_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم کو اس شوخ نے کل در تلک آنے نہ دیا", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم کو اس شوخ نے کل در تلک آنے نہ دیا\nدر و دیوار کو بھی حال سنانے نہ دیا\n\nپردۂ چشم میں ہر دم تو چھپائے آنسو\nبے قراری نے مجھے راز چھپانے نہ دیا\n\nمجھ کو آلودہ رکھا اس مری گمراہی نے\nعرق شرم گنہ بھی تو بہانے نہ دیا\n\nتیرے کہنے سے میں اب لاؤں کہاں سے ناصح\nصبر جب اس دل مضطر کو خدا نے نہ دیا\n\nمنع ہے بس کہ خور و خواب ہمیں غم میں تیرے\nمر کے سونے نہ دیا زہر بھی کھانے نہ دیا\n\nہوں ستم گر میں جفاؤں سے تری شرمندہ\nناتوانی نے مجھے سر بھی اٹھانے نہ دیا\n\nدم کا آنا تو بڑی بات ہے لب پر عارفؔ\nضعف نے حرف شکایت کبھی آنے نہ دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%84_%D8%AF%D8%B1_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہم کو دکھا دکھا کے غیروں کے عطر ملنا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم کو دکھا دکھا کے غیروں کے عطر ملنا\nآتا ہے خوب تم کو چھاتی پہ مونگ دلنا\n\nمحشر بپا کیا ہے رفتار نے تمہاری\nاس چال کے تصدق یہ بھی ہے کوئی چلنا\n\nغیروں کے گھر تو شب کو جاتے ہو بارہا تم\nبھولے سے میرے گھر بھی اک روز آ نکلنا\n\nہٹ کی کچھ انتہا ہے ضد کی بھی کوئی حد ہے\nیہ بات بات پر تو اچھا نہیں مچلنا\n\nجلتا ہے غیر ہم سے تو کیا خطا ہماری\nتم یہ سمجھ لو اس کی تقدیر میں ہے جلنا\n\nجب تک ہیں تیرے در پر دل بستگی سی ہے کچھ\nیہ آستاں جو چھوٹا مشکل ہے جی بہلنا\n\nدیکھو حفیظؔ اپنے جی کی جو خیر چاہو\nبستے جدھر حسیں ہوں وہ راستہ نہ چلنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D8%B7%D8%B1_%D9%85%D9%84%D9%86%D8%A7"} {"title": "ہم کو شب وصال بھی رنج و محن ہوا", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم کو شب وصال بھی رنج و محن ہوا\nقسمت خلاف طبع ہوا جو سخن ہوا\n\nپھر آنے کی ہوس میں سحر کس خوشی کے ساتھ\nہم راہ نالہ درد جگر بھی معن ہوا\n\nگردش بھی اس کے کوچے میں ہے اور قرار بھی\nقسمت تو دیکھیے کہ سفر میں وطن ہوا\n\nقاتل ادائے شکر کو یا شکوؤں کے لیے\nجو زخم جسم پر ہوا گویا دہن ہوا\n\nثابت قدم ہوا نہ رہ عشق میں کوئی\nمجنوں کوئی ہوا تو کوئی کوہ کن ہوا\n\nکچھ مجھ سے شب کو غیر کے اظہار کے لیے\nیہ عشق بازی کی تھی کہ اپنا یہ فن ہوا\n\nدشمن سے اور ہوتیں بہت باتیں پیار کی\nشکر خدا یہ ہے کہ وہ بت کم سخن ہوا\n\nلب پر ہنسی وہ آئی وہ چین جبیں گئی\nکہتا تو ہوں خطا ہوئی دیوانہ پن ہوا\n\nآئینہ دیکھ دیکھ کے کیا دیکھتے ہو تم\nچھونا بھی یاں نصیب تمہارا بدن ہوا\n\nاب بوسہ دینے میں تمہیں کس بات کا ہے عذر\nگالی کے دینے سے ہمیں ثابت دہن ہوا\n\nحق بات تو یہ ہے کہ اسی بت کے واسطے\nزاہد کوئی ہوا تو کوئی برہمن ہوا\n\nتقدیر کی یہ بات ہے اب کیا کرے کوئی\nراضی ہوئے وہ بوسے پہ تو گم دہن ہوا\n\nپھر میرے اضطراب میں کیوں شک ہے آپ کو\nالفت کا جب یقیں تمہیں اے جان من ہوا\n\nلب تک نہ آیا حرف تمنا کبھی نظامؔ\nگویا مرا سخن بھی تمہارا دہن ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%D9%86%D8%AC_%D9%88_%D9%85%D8%AD%D9%86_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں\nہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں\n\nبے فائدہ الم نہیں بے کار غم نہیں\nتوفیق دے خدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں\n\nمیری زباں پہ شکوۂ اہل ستم نہیں\nمجھ کو جگا دیا یہی احسان کم نہیں\n\nیا رب ہجوم درد کو دے اور وسعتیں\nدامن تو کیا ابھی مری آنکھیں بھی نم نہیں\n\nشکوہ تو ایک چھیڑ ہے لیکن حقیقتاً\nتیرا ستم بھی تیری عنایت سے کم نہیں\n\nاب عشق اس مقام پہ ہے جستجو نورد\nسایہ نہیں جہاں کوئی نقش قدم نہیں\n\nملتا ہے کیوں مزہ ستم روزگار میں\nتیرا کرم بھی خود جو شریک ستم نہیں\n\nمرگ جگرؔ پہ کیوں تری آنکھیں ہیں اشک ریز\nاک سانحہ سہی مگر اتنا اہم نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%B9%D8%A7_%D8%B3%DA%A9%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم کو کب انتظار ہے فصل بہار ہو نہ ہو", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم کو کب انتظار ہے فصل بہار ہو نہ ہو\nداغ جگر شگفتہ باد گل بہ کنار ہو نہ ہو\n\nدرد تو میرے پاس سے مرتے تلک نہ جائیو\nطاقت صبر ہو نہ ہو تاب و قرار ہو نہ ہو\n\nصبح تو ہوئی ہے دیر کیا تیری بلا سے ساقیا\nجام شراب تو تو دے ہم کو خمار ہو نہ ہو\n\nتیر نگہ لگا کے تم کہتے ہو پھر لگا نہ خوب\nمیرا تو کام ہو گیا سینہ کے پار ہو نہ ہو\n\nطالب یک نظارہ ہوں اتنا بھی مجھ سے بیر کیا\nمنہ تو مری طرف کو ہو گو کہ دو چار ہو نہ ہو\n\nحلقۂ در ہے حلقہ زن کوئی بھلا خبر تو لو\nدل مرا شادی مرگ ہے ہے وہی یار ہو نہ ہو\n\nحاتمؔ اگر گناہ کرے شکوہ نہ کر خدا سے ڈر\nفدوی جاں نثار ہے تو بھی ہزار ہو نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%A8_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%81%D8%B5%D9%84_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "ہم کو ہوس جلوہ گاہ طور نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم کو ہوس جلوہ گاہ طور نہیں ہے\nاس حسن کی کیا قدر جو مستور نہیں ہے\n\nافسانۂ مجنوں سے نہیں کم مرا قصہ\nاس بات کو جانے دو کہ مشہور نہیں ہے\n\nکعبے کو چلے جائیں در دوست سے اٹھ کر\nپر اس کا ستانا ہمیں منظور نہیں ہے\n\nوہ میری عیادت کو ضرور آئیں گی ہمدم\nکہتے ہیں کہ مکار ہے رنجور نہیں ہے\n\nکھلنے سے بھلا اس کے دکھے کیوں دل بلبل\nہے غنچۂ گل زخم کا انگور نہیں ہے\n\nدعوت سے مسخر ہو نہ طاعت سے میسر\nہوں جس پہ فدا وہ پری و حور نہیں ہے\n\nمشرک کہے عاشق کو جو لے نام خدا کا\nسچ کہتے ہو اس شوخ سے کچھ دور نہیں ہے\n\nہو رات تو جیتے رہیں امید سحر پر\nیہ روز سیہ ہی شب دیجور نہیں ہے\n\nناظمؔ میں پڑھاتا اسے غالبؔ کے قصائد\nافسوس کہ خاقانیٔؔ مغفور نہیں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%B3_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D8%B7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہم کو ہے جس کی طلب وہ یار ملتا ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:عزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی", "kind": "poetry", "section": "غزل > چشمۂ کوثر (1934)", "year": "1934", "text_ur": "ہم کو ہے جس کی طلب وہ یار ملتا ہی نہیں\nدل چرا کے لے گیا دل دار ملتا ہی نہیں\n\nمیری جانب سے خدا جانے عدو نے کیا کہا\nاس قدر جو ہو گیا بیزار ملتا ہی نہیں\n\nزلف جاناں کی بلائیں لوں کبھی رخ پر نثار\nکاش مل جائے کہیں اک بار ملتا ہی نہیں\n\nملتا جلتا رہتا تھا ہر وقت وہ اب تو عزیزؔ\nآہ ایسی ہو گئی تکرار ملتا ہی نہیں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D9%84%D8%A8_%D9%88%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم کو یاں در در پھرایا یار نے", "poet_page": "مصنف:شاہ نیاز احمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم کو یاں در در پھرایا یار نے\nلا مکاں میں گھر بنایا یار نے\n\nآپ اپنے دیکھنے کے واسطے\nہم کو آئینہ بنایا یار نے\n\nاپنے اک ادنیٰ تماشے کے لئے\nہم کو سولی پر چڑھایا یار نے\n\nآپ چھپ کے ہم کو کر کے روبرو\nخوب ہی رسوا کرایا یار نے\n\nآپ تو بت بن کے کی جلوہ گری\nاور ہمیں کافر بنایا یار نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D8%B1_%D8%AF%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92"} {"title": "ہم کون ہیں اہتمام کرنے والے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہم کوں ہیں اہتمام کرنے والے\nہر کام میں صبح و شام کرنے والے\nکیا وعدہ و پیغام ہمارے تیرے\nوہ آپ ہیں اپنا کام کرنے والے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88%D9%86_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%81%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "ہم کہاں آئنہ لے کر آئے", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم کہاں آئنہ لے کر آئے\nلوگ اٹھائے ہوئے پتھر آئے\n\nدل کے ملبے میں دبا جاتا ہوں\nزلزلے کیا مرے اندر آئے\n\nجلوہ جلوے کے مقابل ہی رہا\nتم نہ آئینے سے باہر آئے\n\nدل سلاسل کی طرح بجنے لگا\nجب ترے گھر کے برابر آئے\n\nجن کے سائے میں صبا چلتی تھی\nپھر نہ وہ لوگ پلٹ کر آئے\n\nشعر کا روپ بدل کر باقیؔ\nدل کے کچھ زخم زباں پر آئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہم گرچہ بنے سلام کرنے والے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہم گرچہ بنے سلام کرنے والے\nکرتے ہیں درنگ کام کرنے والے\nکہتے ہیں کہیں خدا سے اللہ اللہ\nوہ آپ ہیں صبح و شام کرنے والے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "ہم گرچہ دل و جان سے بیزار ہوئے ہیں", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم گرچہ دل و جان سے بیزار ہوئے ہیں\nخوش ہیں کہ ترے غم کے سزا وار ہوئے ہیں\n\nاٹھے ہیں ترے در سے اگر صورت دیوار\nرخصت بھی تو جوں سایۂ دیوار ہوئے ہیں\n\nکیا کہئے نظر آتی ہے کیوں خواب یہ دنیا\nکیا جانیے کس خواب سے بیدار ہوئے ہیں\n\nآنکھوں میں ترے جلوے لیے پھرتے ہیں ہم لوگ\nہم لوگ کہ رسوا سر بازار ہوئے ہیں\n\nکچھ دیکھ کے پیتے ہیں لہو اہل تمنا\nمے خوار کسی بات پہ مے خوار ہوئے ہیں\n\nزنجیر حوادث کی ہے جھنکار بہر گام\nکیا جرم کیا تھا کہ گرفتار ہوئے ہیں\n\nاظہار غم زیست کریں کیا کہ ظفرؔ ہم\nوہ غم ہیں کہ شرمندۂ اظہار ہوئے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے\nاس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے\n\nجن کی خاطر کی استخواں شکنی\nسو ہم ان کے نشان تیر ہوئے\n\nنہیں آتے کسو کی آنکھوں میں\nہو کے عاشق بہت حقیر ہوئے\n\nآگے یہ بے ادائیاں کب تھیں\nان دنوں تم بہت شریر ہوئے\n\nاپنے روتے ہی روتے صحرا کے\nگوشے گوشے میں آب گیر ہوئے\n\nایسی ہستی عدم میں داخل ہے\nنے جواں ہم نہ طفل شیر ہوئے\n\nایک دم تھی نمود بود اپنی\nیا سفیدی کی یا اخیر ہوئے\n\nیعنی مانند صبح دنیا میں\nہم جو پیدا ہوئے سو پیر ہوئے\n\nمت مل اہل دول کے لڑکوں سے\nمیرؔ جی ان سے مل فقیر ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہم ہی تنہا نہ تری چشم کے بیمار ہوئے", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم ہی تنہا نہ تری چشم کے بیمار ہوئے\nاس مرض میں تو کئی ہم سے گرفتار ہوئے\n\nسینۂ خستہ ہمارے سے ہے غربال کو رشک\nناوک غم جگر و دل سے زبس پار ہوئے\n\nبکنے موتی لگے بازار میں کوڑی کوڑی\nیاد میں تیری زبس چشم گہر بار ہوئے\n\nروز اول کہ تم آ مصر محبت کے بیچ\nیوسف عصر ہوئے رونق بازار ہوئے\n\nنقد جان و دل و دیں دے کے لیا ہم نے تمہیں\nسیکڑوں اہل ہوس گرچہ خریدار ہوئے\n\nگھر میں لے آئے تمہیں چاہ سے کرنے شادی\nکہ تم اس غم کدہ میں شمع شب تار ہوئے\n\nرخ تاباں سے تمہارے کہ ہے خورشید مثال\nدر و دیوار سبھی مطلع انوار ہوئے\n\nڈھونڈھتے تم کو پڑے پھرتے تھے ہم شہر بہ شہر\nخوار و رسوائے سر کوچہ و بازار ہوئے\n\nللہ الحمد کہ مدت میں تم اے نور نگاہ\nباعث روشنیٔ دیدۂ خوں بار ہوئے\n\nخانۂ چشم میں رکھتے تھے شب و روز کہ تم\nقرۃالعین ہوئے راحت دیدار ہوئے\n\nدیکھ کر مہر و وفا و کرم و لطف کو ہم\nجانتے یوں تھے کہ تم یار وفادار ہوئے\n\nجس میں تم ہوتے خوشی سو ہی تو ہم کرتے تھے\nپر نہیں جانتے کس واسطے بیزار ہوئے\n\nاب ہمیں چھوڑ کے یوں زار و نزار و غمگیں\nتم کہیں اور ہی جا یاں سے نمودار ہوئے\n\nیہ تو ہرگز ہی نہ تھی تم سے توقع ہم کو\nکہ ستم گار دل آزار جفا کار ہوئے\n\nنہ وہ اخلاص و محبت ہے نہ وہ مہر و وفا\nشیوۂ جور و جفا و ستم اظہار ہوئے\n\nیا وہ الطاف و کرم تھا کہ سدا رہتے تھے\nاے گل اندام ہمارے گئے کے ہار ہوئے\n\nاس میں حیراں ہیں کہ کیا ایسی ہوئی ہے تقصیر\nقتل کرنے کے تئیں پھرتے ہو تیار ہوئے\n\nتیغ خوں ریز بکف خنجر براں بہ میاں\nہر گھڑی سامنے آ جاتے ہو خونخوار ہوئے\n\nپھر تو کیا ہے سنتے ہو اٹھو بسم اللہ\nکھینچ کر تیغ کو آؤ جو ستم گار ہوئے\n\nورنہ دل کھول کے لگ جاؤ گلے سے پیارے\nگو کہ ہم قتل ہی کرنے کے سزا وار ہوئے\n\nاتنی ہی بات کے کہنے میں کہ اک بوسہ دو\nآہ اے شوخ جو ایسے ہی گناہ گار ہوئے\n\nتوبہ کرتے ہیں قسم کھاتے ہیں سنتے ہو تم\nپھر نہیں کہنے کے آگے کو خبردار ہوئے\n\nپوچھتا کیا ہے تو بیدارؔ ہمارا احوال\nدام خوباں میں پھر اب آئے گرفتار ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C_%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DA%86%D8%B4%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہم ہی کرتے نہیں زلفوں کو تری ہار پسند", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم ہی کرتے نہیں زلفوں کو تری ہار پسند\nشیخ صاحب کو بھی آتا ہے یہ زنار پسند\n\nسبزۂ خط رہے اس چہرۂ گل رنگ سے دور\nزخم دل کو نہیں یہ مرہم زنگار پسند\n\nجاؤں کعبے کو میں کس طرح سے اے واعظ شہر\nآ گیا مجھ کو تو اب خانۂ خمار پسند\n\nگو کہ سو رنگ گلستان میں دکھلائے بہار\nنہ کریں گل کو ترے طالب دیدار پسند\n\nجو کوئی درد سے ٹک چاشنی رکھتا ہوگا\nاسی کو آئیں گے ؔجوشش مرے اشعار پسند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%84%D9%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF"} {"title": "ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہے\nکیا حقیقی ہے کیا مجازی ہے\n\nدختر رز نکل کے مینا سے\nکرتی کیا کیا زباں درازی ہے\n\nخط کو کیا دیکھتے ہو آئنے میں\nحسن کی یہ ادا طرازی ہے\n\nہندوئے چشم طاق ابرو میں\nکیا بنا آن کر نمازی ہے\n\nنذر دیں نفس کش کو دنیا دار\nواہ کیا تیری بے نیازی ہے\n\nبت طناز ہم سے ہو ناساز\nکارسازوں کی کارسازی ہے\n\nسچ کہا ہے کسی نے یہ اے ذوقؔ\nمال موذی نصیب غازی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B4%D8%BA%D9%84_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہم ہیں اے یار چڑھائے ہوئے پیمانۂ عشق", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم ہیں اے یار چڑھائے ہوئے پیمانۂ عشق\nترے متوالے ہیں مشہور ہیں مستانۂ عشق\n\nدشمنوں میں بھی رہا ربط محبت برسوں\nخوش نہ آیا کسی معشوق کو یارانۂ عشق\n\nمجھ کو جو چاہ محبت کی ہے مجنوں کو کہاں\nاس کو لیلیٰ ہی کا سودا ہے میں دیوانۂ عشق\n\nجان لیں گے کہ وہ دل لیں گے جنہیں چاہا ہے\nدیکھیے کرتے ہیں کیا آ کے وہ جرمانۂ عشق\n\nجا بہ جا چاہنے والوں کا جو مجمع دیکھا\nکوچۂ یار کو سمجھا میں جلو خانۂ عشق\n\nسالہا سال سے خوش باش جو ہوں صحرا میں\nعالم ہو کو سمجھتا ہوں میں ویرانۂ عشق\n\nدل پسا چاہتا ہے جا کے حنا پر اس کی\nخرمن حسن ہوا چاہتا ہے دانۂ عشق\n\nدل کا ہے قصد تری بزم میں اڑ کر جاؤں\nکیا ہی بے پر کی اڑاتا ہے یہ پروانۂ عشق\n\nہر پری زاد کی ہے جلوہ نما اک تصویر\nشیشۂ دل ہے ہمارا کہ پری خانۂ عشق\n\nدل مرا خاص مکاں ہے جو تری الفت کا\nکہتی ہے ساری خدائی اسے کاشانۂ عشق\n\nکون کس کا شب معراج میں ہوگا معشوق\nکی ہے کس شوخ نے یہ محفل شاہانۂ عشق\n\nتو کرے ناز تجھے یار زمانہ چاہے\nتا ابد یہ رہے آباد ترا خانۂ عشق\n\nاس پری رو نے جو دیکھا مرے دل کو صدچاک\nاپنی زلفوں میں کیا نام ہوا شانۂ عشق\n\nعالم نور تری شکل کا پروانہ ہے\nحسن کی جان ہے تو اور ہے جانانۂ عشق\n\nسر بکف گنج شہیداں میں چلے جاتے ہیں\nامتحاں سے نہیں ڈرتے ترے فرزانۂ عشق\n\nنزع میں سورۂ یوسف کوئی للہ پڑھے\nدم بھی نکلے تو مروں سن کے میں افسانۂ عشق\n\nڈبڈبائیں مری آنکھیں تو وہ کیا کہتے ہیں\nدیکھو لبریز ہیں چھلکیں گے یہ پیمانۂ عشق\n\nاے شرفؔ کون مرے دل کے مقابل ہوگا\nاک یہی ساری خدائی میں ہے مردانۂ عشق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%86%DA%91%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "ہم ہیں بے دل دل اپنے پاس نہیں", "poet_page": "مصنف:میر اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم ہیں بے دل دل اپنے پاس نہیں\nآہ اس کا بھی تجھ کو پاس نہیں\n\nبے وفا کچھ نہیں تری تقصیر\nمجھ کو میری وفا ہی راس نہیں\n\nقتل میرا ہے تیری بد نامی\nجان کا ورنہ کچھ ہراس نہیں\n\nتو ہی بہتر ہے ہم سے آئینے\nہم تو اتنے بھی روشناس نہیں\n\nیوں خدا کی خدائی برحق ہے\nپر اثرؔ کی ہمیں تو آس نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم ہیں جنہوں نے نام چمن بو نہیں کیا", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم ہیں جنہوں نے نام چمن بو نہیں کیا\nآئی صبا جدھر سے ادھر رو نہیں کیا\n\nہم ہیں ہوائے وصل میں اس گل کی در بہ در\nجس کا صبا نے طوف سر کو نہیں کیا\n\nوہ خوب رو ہے کون سا جگ میں فرشتہ وش\nدو روز مل کے ہم جسے بد خو نہیں کیا\n\nاے نزع پھر قریب ہے شام شب فراق\nیہ مجہلہ تو اب تئیں یکسو نہیں کیا\n\nقائمؔ کو اس طرح سے تو دیتا ہے گالیاں\nجس کو کسی نے آج تلک تو نہیں کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%86%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%86%D9%85%D9%86_%D8%A8%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہم ہیں سر تا بہ پا تمنا", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم ہیں سر تا بہ پا تمنا\nکیسی امید کیا تمنا\n\nہو کتنی ہی خوش گوار پھر بھی\nہے دل کے لیے بلا تمنا\n\nدیتے ہو پیام آرزو تم\nجب ترک میں کر چکا تمنا\n\nدنیا کو فریب دے رہی ہے\nجلوہ ہے سراب کا تمنا\n\nاپنی منزل پہ ہم نہ پہنچے\nجب تک رہی رہنما تمنا\n\nمابین نگاہ و جلوۂ حسن\nہے ایک حجاب سا تمنا\n\nالجھا رہا آرزو میں غافل\nکیوں خود ہی نہ بن گیا تمنا\n\nآواز تو دو کسے پکاروں\nتم ہو مرے دل میں یا تمنا\n\nسیمابؔ مآل شوق معلوم\nام للانسان ما تمنیٰ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%B1_%D8%AA%D8%A7_%D8%A8%DB%81_%D9%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7"} {"title": "ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ\nوہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ\n\nآگ تھے ابتدائے عشق میں ہم\nاب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ\n\nبود آدم نمود شبنم ہے\nایک دو دم میں پھر ہوا ہے یہ\n\nشکر اس کی جفا کا ہو نہ سکا\nدل سے اپنے ہمیں گلہ ہے یہ\n\nشور سے اپنے حشر ہے پردہ\nیوں نہیں جانتا کہ کیا ہے یہ\n\nبس ہوا ناز ہو چکا اغماض\nہر گھڑی ہم سے کیا ادا ہے یہ\n\nنعشیں اٹھتی ہیں آج یاروں کی\nآن بیٹھو تو خوش نما ہے یہ\n\nدیکھ بے دم مجھے لگا کہنے\nہے تو مردہ سا پر بلا ہے یہ\n\nمیں تو چپ ہوں وہ ہونٹ چاٹے ہے\nکیا کہوں ریجھنے کی جا ہے یہ\n\nہے رے بیگانگی کبھو ان نے\nنہ کہا یہ کہ آشنا ہے یہ\n\nتیغ پر ہاتھ دم بہ دم کب تک\nاک لگا چک کہ مدعا ہے یہ\n\nمیرؔ کو کیوں نہ مغتنم جانے\nاگلے لوگوں میں اک رہا ہے یہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%AC%D8%B1%D9%88%D8%AD_%D9%85%D8%A7%D8%AC%D8%B1%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81"} {"title": "ہم ہیں مشتاق جواب اور تم ہو الفت سیں بعید", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم ہیں مشتاق جواب اور تم ہو الفت سیں بعید\nنقد دل گر تم کوں پہونچا ہے تو بھجوا دیو رسید\n\nباغ میں ہم مر گئے محروم وصل گل بدن\nہیں ہمارے آج پھول اور بلبلوں کے حق میں عید\n\nلشکر قلب صف عشاق میں ہے غلغلہ\nیکہ تاز آہ کوں کس نے کیا ہے نا رسید\n\nحسن کوں ہے نقد ناز اور عشق کوں جنس نیاز\nپھر عبث شکوہ ہے یہ سودا ہوا ہے خوش خرید\n\nباغ سیں گلچیں چلا تب بلبلوں نے غل کیا\nحضرت گل کوں کیا جاتا ہے یہ کافر شہید\n\nرہروان جنوں کوں فتحیاب فیض ہے\nآبلوں کے قفل کو خار بیاباں ہے کلید\n\nبت پرستوں کوں ہے ایمان حقیقی وصل بت\nبرگ گل ہے بلبلوں کوں جلد قرآن مجید\n\nنور جاں فانوس جسمی سیں جدا کب ہے سراجؔ\nشعلہ تار شمع سیں کہتا ہے من حبل الورید", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D9%82_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B9%DB%8C%D8%AF"} {"title": "ہم یار کی غیروں پہ نظر دیکھ رہے ہیں", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم یار کی غیروں پہ نظر دیکھ رہے ہیں\nگو منہ پہ نہ لائیں گے مگر دیکھ رہے ہیں\n\nمنہ میری طرف ہے تو نظر غیر کی جانب\nکرتے ہیں کدھر بات کدھر دیکھ رہے ہیں\n\nکے روز رقیبوں سے نبھی رسم محبت\nہم بھی یہی اے رشک قمر دیکھ رہے ہیں\n\nقاصد سے جو بیمار بہت مجھ کو سنا تھا\nاخبار میں مرنے کی خبر دیکھ رہے ہیں\n\nپرساں نہیں کوئی بھی نسیمؔ اہل ہنر کا\nدنیا کی ہوا شام و سحر دیکھ رہے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے\nپر جو سبب غم ہے وہ ہم کہہ نہیں سکتے\n\nہم دیکھتے ہیں تم میں خدا جانے بتو کیا\nاس بھید کو اللہ کی قسم کہہ نہیں سکتے\n\nرسوائے جہاں کرتا ہے رو رو کے ہمیں تو\nہم تجھے کچھ اے دیدۂ نم کہہ نہیں سکتے\n\nکیا پوچھتا ہے ہم سے تو اے شوخ ستم گر\nجو تو نے کئے ہم پہ ستم کہہ نہیں سکتے\n\nہے صبر جنہیں تلخ کلامی کو تمہاری\nشربت ہی بتاتے ہیں سم کہہ نہیں سکتے\n\nجب کہتے ہیں کچھ بات رکاوٹ کی ترے ہم\nرک جاتا ہے یہ سینہ میں دم کہہ نہیں سکتے\n\nاللہ رے ترا رعب کہ احوال دل اپنا\nدے دیتے ہیں ہم کر کے رقم کہہ نہیں سکتے\n\nطوبائے بہشتی ہے تمہارا قد رعنا\nہم کیونکر کہیں سرو ارم کہہ نہیں سکتے\n\nجو ہم پہ شب ہجر میں اس ماہ لقا کے\nگزرے ہیں ظفرؔ رنج و الم کہہ نہیں سکتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%92"} {"title": "ہم یہ کہتے تھے کہ احمق ہو جو دل کو دیوے", "poet_page": "مصنف:خواجہ میر درد", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "ہم یہ کہتے تھے کہ احمق ہو جو دل کو دیوے\nدیکھیں تو چھین لے دل ہم سے وہ کون ایسا ہے\nسو اب اک شخص کے ہے زیر قدم سر اپنا\nسچ کہا ہے کہ بڑے بول کا سر نیچا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D9%82_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D9%88%DB%92"} {"title": "ہمارا جذب صادق شوق کامل دیکھتے جاؤ", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمارا جذب صادق شوق کامل دیکھتے جاؤ\nیہیں کھنچ کر چلی آئے گی منزل دیکھتے جاؤ\n\nوفا آموز ہے رشک شہادت آج مقتل میں\nہزاروں ہوں گے بسمل گرد بسمل دیکھتے جاؤ\n\nدم آخر ہے ٹھہرو کرب خود تسکین بنتا ہے\nہوئی جاتی ہے اب آسان مشکل دیکھتے جاؤ\n\nجن آنکھوں سے ابھی تصویر راحت تم نے دیکھی ہے\nانہیں آنکھوں سے خون حسرت دل دیکھتے جاؤ\n\nدلم شد خون خوں شد اشک اشک از دیدہ بیروں شد\nمحبت کا ثمر الفت کا حاصل دیکھتے جاؤ\n\nتمہیں دشمن سمجھ کر بھی تمہیں پر جان دیتا ہوں\nمری ہمت مری جرأت مرا دل دیکھتے جاؤ\n\nکوئی بد ظن نہ ہو اور خاتمہ با لخیر ہو جائے\nبہ انداز تغافل سوئے بسمل دیکھتے جاؤ\n\nنہ گم کر دے کہیں وارفتگی اے قافلہ والو\nمجھے ہر گام پر منزل بمنزل دیکھتے جاؤ\n\nانہیں بے چین کر دیں گی فلک کو بھی جلا دیں گی\nمنیرؔ آہوں کا اپنی زعم باطل دیکھتے جاؤ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D8%B0%D8%A8_%D8%B5%D8%A7%D8%AF%D9%82_%D8%B4%D9%88%D9%82_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%84_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A4"} {"title": "ہمارا جھنڈا", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "شیر ہیں چلتے ہیں دراتے ہوئے\nبادلوں کی طرح منڈلاتے ہوئے\n\nزندگی کی راگنی گاتے ہوئے\nآج جھنڈا ہے ہمارے ہاتھ میں\n\nہم وہ ہیں جو بے رخی کرتے نہیں\nہم وہ ہیں جو موت سے ڈرتے نہیں\n\nہم وہ ہیں جو مر کے بھی مرتے نہیں\nآج جھنڈا ہے ہمارے ہاتھ میں\n\nچین سے محلوں میں ہم رہتے نہیں\nعیش کی گنگا میں ہم بہتے نہیں\n\nبھید دشمن سے کبھی کہتے نہیں\nآج جھنڈا ہے ہمارے ہاتھ میں\n\nجانتے ہیں ایک لشکر آئے گا\nتوپ دکھلا کر ہمیں دھمکائے گا\n\nپر یہ جھنڈا بھی یوں ہی لہرائے گا\nآج جھنڈا ہے ہمارے ہاتھ میں\n\nکب بھلا دھمکی سے گھبراتے ہیں ہم\nدل میں جو ہوتا ہے کہہ جاتے ہیں ہم\n\nآسماں ہلتا ہے جب گاتے ہیں ہم\nآج جھنڈا ہے ہمارے ہاتھ میں\n\nلاکھ لشکر آئیں کب ہلتے ہیں ہم\nآندھیوں میں جنگ کی کھلتے ہیں ہم\n\nموت سے ہنس کر گلے ملتے ہیں ہم\nآج جھنڈا ہے ہمارے ہاتھ میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%DA%BE%D9%86%DA%88%D8%A7"} {"title": "ہمارا حسن تعلق وفا بنے نہ بنے", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمارا حسن تعلق وفا بنے نہ بنے\nوہ عشوہ سنج ہے فرخ لقا بنے نہ بنے\n\nچلے ہیں شوق میں ہم یا خدا بنے نہ بنے\nوہ کیا سلوک کرے دل ربا بنے نہ بنے\n\nکیا تصور مقصود نے ہمیں حیراں\nیہ منتہائے نظر مدعا بنے نہ بنے\n\nسفینہ بحر تعشق میں اب تو ڈال چکا\nجو آشنا ہے مرا نا خدا بنے نہ بنے\n\nفریب جلوہ ہے نقش و نگار فطرت میں\nجو محو دید ہو حیرت ادا بنے نہ بنے\n\nشہید کیف تمنا ہے عاشق بیتاب\nبہار حسن صفا ہم نوا بنے نہ بنے\n\nفسوں خیال ہے تحریک شوق رعنائی\nوہ مست ناز مرا خود نما بنے نہ بنے\n\nبندھی ہے خندۂ زیر لبی سے کچھ امید\nوہ زود رنج ہے زود آشنا بنے نہ بنے\n\nوہ جذب قلب کے نیرنگ کا ہوا قائل\nہمارا آئنہ حیرت نما بنے نہ بنے\n\nکبھی تو جام عنایت کا ہو غنی ساقیؔ\nیہ بے نیاز ترا بے نوا بنے نہ بنے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AA%D8%B9%D9%84%D9%82_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D8%A8%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%DB%92"} {"title": "ہمارا دل بر گلفام آیا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمارا دل بر گلفام آیا\nقرار جان بے آرام آیا\n\nکمند پیچ و تاب زلف کوں کھول\nشکار دل کوں لے کر دام آیا\n\nشتابی ہوش کوں سر سیں بدر کر\nجنوں کا مجھ طرف پیغام آیا\n\nکرے تا بلبل دل کوں غزل خواں\nبہار عشق کا ہنگام آیا\n\nاے زاہد بھاگ اس زلف سیہ سیں\nیہ کافر دشمن اسلام آیا\n\nبرہ کے محکے سیں قتل دل پر\nپیادہ غم کا لے اعلام آیا\n\nہوئی جوش محبت سیں زباں بند\nصنم کا درمیاں جب نام آیا\n\nبلا ہے تجھ نگہ کی سیف کا وار\nدل بے تاب آخر کام آیا\n\nسراجؔ آنے میں اس جادو نظر کے\nشکیب و طاقت و آرام آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%B1_%DA%AF%D9%84%D9%81%D8%A7%D9%85_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہمارا دل وہ گل ہے جس کو زلف یار میں دیکھا", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمارا دل وہ گل ہے جس کو زلف یار میں دیکھا\nجو زلفیں ہو گئیں برہم گلے کے ہار میں دیکھا\n\nبھلا گل کیا ترا ہم سر ہو جس کی یہ حقیقت ہے\nابھی گلشن میں دیکھا تھا ابھی بازار میں دیکھا\n\nبصیرت جب ہوئی پیدا ہمیں مشق تصور سے\nجو کچھ خلوت میں دیکھا تھا ابھی بازار میں دیکھا\n\nچمن میں اک بت نازک ادا محو تماشا ہے\nنیا گل آج ہم نے دامن گلزار میں دیکھا\n\nجلیلؔ اک ناز کی قیمت دل و جاں دین و ایماں ہے\nعجب انداز ہم نے حسن کے بازار میں دیکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%B2%D9%84%D9%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ہمارا دیس", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جگ سے بھلا سنسار سے پیارا\nدل کی ٹھنڈک آنکھ کا تارا\nسب سے انوکھا سب سے نیارا\nدنیا کے جینے کا سہارا\nپیارا بھارت دیس ہمارا\n\nکتنی پر کیف اس کی ادائیں\nکتنی دل کش اس کی فضائیں\nمشک سے بڑھ کر اس کی ہوائیں\nخلد سے بہتر اس کا نظارا\nپیارا بھارت دیس ہمارا\n\nملک کو حاصل ہو آزادی\nختم ہو دور ستم ایجادی\nدور ہو اس کی سب بربادی\nچرخ پہ چمکے بن کے تارا\nپیارا بھارت دیس ہمارا\n\nہم میں پیدا ہو یک جائی\nسب ہوں باہم بھائی بھائی\nہندو مسلم، سکھ، عیسائی\nگائیں مل کر گیت یہ پیارا\nپیارا بھارت دیس ہمارا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%B3"} {"title": "ہمارا ذکر دشمن کی زبانی دیکھتے جاؤ", "poet_page": "مصنف:پنڈت ہری چند اختر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمارا ذکر دشمن کی زبانی دیکھتے جاؤ\nفسانہ بن گئی ساری کہانی دیکھتے جاؤ\n\nذرا اک چھیڑ دو زاہد سے قصے حور و غلماں کے\nپھر اس کم بخت کی رنگیں بیانی دیکھتے جاؤ\n\nٹپک لے خون ارمانوں کا آنکھوں سے ذرا ٹھہرو\nمری لٹتی ہوئی رنگیں جوانی دیکھتے جاؤ\n\nکمال سوز غم ہائے نہانی ڈھونڈنے والو\nمآل سوز غم ہائے نہانی دیکھتے جاؤ\n\nبہت چرچے تھے یاروں میں مری جادو بیانی کے\nحضور دوست میری بے زبانی دیکھتے جاؤ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%A4"} {"title": "ہمارا سجن خوش نظر باز ہے", "poet_page": "مصنف:محمد قلی قطب شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمارا سجن خوش نظر باز ہے\nتو اس دل میں سب عشق کا راز ہے\n\nگلے ہاتھ دے کھیلے ناریاں سوں کھیل\nجسوں کھیلے پیو او سرافراز ہے\n\nادھر رنگ بھرے سہتے مانک نمن\nکہ یاقوت رنگ ان تھے ورساز ہے\n\nسکیاں سائیں چھند سوں پنواے اپس\nتمن حسن کے تیں سو او ناز ہے\n\nسنوارے ہیں مجلس پیا روپ سوں\nمدن مطرب اس میں خوش آواز ہے\n\nسنوانریا ہے من موہنیاں اپنے تیں\nپیا کوں اینو سوں ترک تاز ہے\n\nنبی صدقے قطباؔ پہ آنند دار\nعلی کی میا تھے سدا باز ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%B3%D8%AC%D9%86_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B2_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہمارا وطن دل سے پیارا وطن", "poet_page": "مصنف:برج نرائن چکبست", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہ ہندوستاں ہے ہمارا وطن\nمحبت کی آنکھوں کا تارا وطن\nہمارا وطن دل سے پیارا وطن\n\nوہ اس کے درختوں کے تیاریاں\nوہ پھل پھول پودے وہ پھلواریاں\nہمارا وطن دل سے پیارا وطن\n\nہوا میں درختوں کا وہ جھومنا\nوہ پتوں کا پھولوں کا منہ چومنا\nہمارا وطن دل سے پیارا وطن\n\nوہ ساون میں کالی گھٹا کی بہار\nوہ برسات کی ہلکی ہلکی پھوار\nہمارا وطن دل سے پیارا وطن\n\nوہ باغوں میں کوئل وہ جنگل کے مور\nوہ گنگا کی لہریں وہ جمنا کا زور\nہمارا وطن دل سے پیارا وطن\n\nاسی سے ہے اس زندگی کی بہار\nوطن کی محبت ہو یا ماں کا پیار\nہمارا وطن دل سے پیارا وطن", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%88%D8%B7%D9%86_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%88%D8%B7%D9%86"} {"title": "ہماری آنکھوں میں اشکوں کا آ کے رہ جانا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہماری آنکھوں میں اشکوں کا آ کے رہ جانا\nجھکا کے سر کو ترا مسکرا کے رہ جانا\n\nدلا بہت نہ الجھ نامہ بر کو کیا میں نے\nسکھا دیا تھا کہ جانا تو جا کے رہ جانا\n\nشہید ناز کی بھولی نہیں مجھے صورت\nتری طرف کو نگاہیں پھرا کے رہ جانا\n\nوہ بزم غیر وہ ہر بار اضطراب مرا\nبہ مصلحت وہ ترا مسکرا کے رہ جانا\n\nٹھہر تو جا رخ جاناں پہ اے نگہ کچھ دیر\nسند نہیں فقط آنسو بہا کے رہ جانا\n\nنگاہ ناز سے ساقی کا دیکھنا مجھ کو\nمرا وہ ہاتھ میں ساغر اٹھا کے رہ جانا\n\nجو پوچھیں حشر میں کچھ وہ تو ہاں دلا شاباش\nوہاں بھی تو یوں ہی باتیں بنا کے رہ جانا\n\nاگر تھا نشہ تو گرنا تھا پائے خم پہ مجھے\nمجھے پسند نہیں لڑکھڑا کے رہ جانا\n\nنہیں یہ حسن نہیں بخت کی ہے کوتاہی\nسوال وصل کا ہونٹوں تک آ کے رہ جانا\n\nکسی طرح تو یہ جسم کثیف پاک ہو شاد\nگلی میں یار کی جانا تو جا کے رہ جانا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B4%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "ہماری آنکھوں کی پتلیوں میں ترا مبارک مقام ہے گا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہماری آنکھوں کی پتلیوں میں ترا مبارک مقام ہے گا\nپلک کے پٹ ہم نے کھول دیکھے تو عین ماہ تمام ہے گا\n\nارے شراب خرد کے کیفی نہ کر توں دعوائے پختہ مغزی\nمے محبت کا جام پی توں کہ اب تلک ظرف خام ہے گا\n\nخیال ابروئے قبلہ رویاں ہوا ہے محراب سجدۂ دل\nنماز شرط نیاز کی پڑھ صف جنوں کا امام ہے گا\n\nاگرچہ ہر سرو راست قامت چمن میں مغرور سرکشی ہے\nمقابل اس قد خوش ادا کے مری نظر میں غلام ہے گا\n\nسراجؔ اس شعلہ رو سیں ہرگز گلہ روا نیں ہے عاشقوں کوں\nتمام جلتی ہے شمع ہر شب عبث پتنگوں کا نام ہے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%D8%AA%D9%84%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9_%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ہماری اس سے جو صورت ہوئی صفائی کی", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہماری اس سے جو صورت ہوئی صفائی کی\nہجوم غم نے عدو پر بڑی چڑھائی کی\n\nفقیر مست ترے حال وصل کیا جانیں\nکہ اوڑھے بیٹھے ہیں کملی شب جدائی کی\n\nگدائے کوچۂ جاناں ہوں مرتبہ ہے بڑا\nکہ میرے نام ہے جاگیر بے نوائی کی\n\nہمیں تو عالم ہستی میں اک نکمے ہیں\nتمہیں میں آ گئیں سب خوبیاں خدائی کی\n\nملے نہ کیوں تمہیں شاہوں کا مرتبہ عاشقؔ\nبہت دنوں در خواجہ پہ ہے گدائی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ہماری اس وفا پر بھی دغا کی", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہماری اس وفا پر بھی دغا کی\nقسم کھائی تھی او کافر خدا کی\n\nوہ مشت استخواں ہوں اے سگ یار\nاگر کھائے سعادت ہے ہما کی\n\nلب شیریں کا جو بوسہ لیا تھا\nمری اس کی شکر رنجی رہا کی\n\nوفا سے میں نے بھی اب ہاتھ اٹھایا\nقسم ہے مجھ کو اپنے بے وفا کی\n\nہوئی گر صلح بھی تو بھی رہے جنگ\nملا جب دل تو آنکھ اس سے لڑا کی\n\nفقیروں کے قدم لیتے ہیں سلطاں\nیہ ہے تاثیر نقش بوریا کی\n\nتصور بندھ گیا جب اس مژہ کا\nتو پہروں دل پہ برچھی سی لگا کی\n\nخدا یوں جس کو چاہے دے سعادت\nوگرنہ سگ میں خصلت ہے ہما کی\n\nنہیں اٹھتا ہے سر سجدے سے میرا\nمگر ہے سجدہ گاہ اس خاک پا کی\n\nکہوں جب میں کہ بے تیرے ہوں مرتا\nتو کہتا ہے وہ بت مرضی خدا کی\n\nنہ آیا منتوں سے یار جس دم\nتو پھر کیا کیا اجل کے التجا کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%BE%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D8%BA%D8%A7_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہے\nنہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میں\nکہا جو چاہے کوئی میں تو کہتا ہوں کہ اے اکبرؔ\nخدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہماری جب ہماری اب ہماری کب سے کیا مطلب", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہماری جب ہماری اب ہماری کب سے کیا مطلب\nغرض ان کو غرض سے کیا غرض مطلب سے کیا مطلب\n\nعزیز و اقربا پر بے سبب وہ ظلم ڈھاتا ہے\nخطاوار محبت تو ہمیں ہیں سب سے کیا مطلب\n\nاگر ہم جان دیتے ہیں تو ان کے حسن صورت پر\nہمیں برتاؤ سے انداز سے یا ڈھب سے کیا مطلب\n\nخدا کا نام بھی لیتے ہوئے میں ہچکچاتا ہوں\nوہ پوچھیں گے تمہارا نعرۂ یا رب سے کیا مطلب\n\nوفائیں کیجئے پچھلی جفائیں بھول جائیں گی\nاگر مطلب ہے تو اب سے ہمیں ہے جب سے کیا مطلب\n\nالگ آنا الگ جانا الگ رہنا الگ پھرنا\nرہ الفت میں سب کو ہم سے ہم کو سب سے کیا مطلب\n\nجو مضمون خط پر شوق میرا وہ نہیں پڑھتا\nیہ مطلب ہے کہ مجھ کو معنی و مطلب سے کیا مطلب\n\nاگر میں پوچھتا ہوں آپ میرے گھر کب آئیں گے\nتو وہ کہتے ہیں آئیں گے مگر اس کب سے کیا مطلب\n\nنہ مذہب ہے نہ مشرب ہے کوئی ہم بادہ خواروں کا\nہمیں مشرب سے کیا نسبت ہمیں مذہب سے کیا مطلب\n\nامیر خود غرض ہی کو غرض مطلب سے مطلب ہے\nفقیر بے غرض کو ہے غرض مطلب سے کیا مطلب\n\nزمانہ غرق بحر غم جو ہوتا ہے تو ہونے دو\nتم اپنی خیر مانگو نوحؔ تم کو سب سے کیا مطلب", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A8_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8"} {"title": "ہماری روح جو تیری گلی میں آئی ہے", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہماری روح جو تیری گلی میں آئی ہے\nاجل کے صدقے میں یہ راہ دیکھ پائی ہے\n\nوہاں پہنچ نہیں سکتیں تمہاری زلفیں بھی\nہمارے دست طلب کی جہاں رسائی ہے\n\nلہو مرا تری تلوار سے ملا ایسا\nکہ ناگوار پس ذبح بھی جدائی ہے\n\nنہ پوچھئے کہ تو جلتا ہے کیوں رقیبوں سے\nوہی یہ آگ ہے جو آپ نے لگائی ہے\n\nنثار حضرت آغا علی حسنؔ خاں ہوں\nزیادہ حد سے مری آبرو بڑھائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%AD_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہماری زبان", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یا رب رہے سلامت اردو زباں ہماری\nہر لفظ پر ہے جس کے قربان جاں ہماری\nمصری سی تولتا ہے شکر سی گھولتا ہے\nجو کوئی بولتا ہے میٹھی زباں ہماری\nہندو ہو پارسی ہو عیسائی ہو کہ مسلم\nہر ایک کی زباں ہے اردو زباں ہماری\nدنیا کی بولیوں سے مطلب نہیں ہمیں کچھ\nاردو ہے دل ہمارا اردو ہے جاں ہماری\nدنیا کی کل زبانیں بوڑھی سی ہو چکی ہیں\nلیکن ابھی جواں ہے اردو زباں ہماری\nاپنی زبان سے ہے عزت جہاں میں اپنی\nگر ہو زباں نہ اپنی عزت کہاں ہماری\nاردو کی گود میں ہم پل کر بڑے ہوئے ہیں\nسو جاں سے ہم کو پیاری اردو زباں ہماری\nآزادؔ و میرؔ و غالبؔ آئیں گے یاد برسوں\nکرتی ہے ناز جن پر اردو زباں ہماری\nایفریقا ہو عرب ہو امریکہ ہو کہ یورپ\nپہنچی کہاں نہیں ہے اردو زباں ہماری\nمٹ جائیں گے ہم مٹنے نہ دیں گے اس کو\nہے جان و دل سے پیاری ہم کو زباں ہماری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86"} {"title": "ہماری سیر کو گلشن سے کوئے یار بہتر تھا", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہماری سیر کو گلشن سے کوئے یار بہتر تھا\nنفیر بلبلوں سے نالہ ہائے زار بہتر تھا\n\nانا الحق کی حقیقت کو جو ہو منصور سو جانے\nکہ اوس کو آسماں چڑھنے سے چڑھنا دار بہتر تھا\n\nکبھو بیمار سن کر وہ عیادت کو تو آتا تھا\nہمیں اپنے بھلے ہونے سے وہ آزار بہتر تھا\n\nتو اپنے من کا منکا پھیر زاہد ورنہ کیا حاصل\nتجھے اس مکر کی تسبیح سے زنار بہتر تھا\n\nنہ کہتا میں کہ عاشق ہوں ترا تو کیوں وہ رم کرتا\nمجھے اقرار اب کرنے سے وہ انکار بہتر تھا\n\nہماری عقل میں گھر کی گرفتاری سے حاتمؔ کو\nکہو دیوانہ پھرنا کوچہ و بازار بہتر تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ہماری عقل بے تدبیر پر تدبیر ہنستی ہے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہماری عقل بے تدبیر پر تدبیر ہنستی ہے\nاگر تدبیر ہم کرتے ہیں تو تقدیر ہنستی ہے\n\nاسیروں کا نہیں کچھ شور و غل یہ آج زنداں میں\nمرے دیوانہ پن کو دیکھ کر زنجیر ہنستی ہے\n\nکبھو پہنچی نہ اس کے دل تلک رہ ہی میں تھک بیٹھی\nبجا اس آہ بے تاثیر پر تاثیر ہنستی ہے\n\nتو صورت اس کی کیا کھینچے گا اپنی دیکھ تو صورت\nمصور اس تری تصویر پر تصویر ہنستی ہے\n\nوہی ہے مرد جو ہو رو بہ رو تروار کے حاتمؔ\nکہ منہ کے پھیرتے نامرد پر شمشیر ہنستی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B9%D9%82%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D8%AA%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%86%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہماری کیف سزاوار احتساب نہیں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہماری کیف سزاوار احتساب نہیں\nخیال چشم ہے کچھ ساغر شراب نہیں\n\nوہ بے نقاب ہوا ہے تو یہ تماشا ہے\nدو چار ہونے کی آنکھوں میں اپنی تاب نہیں\n\nیہ مجھ کو اس کے تغافل سے ہے یقین کہ ہائے\nجواب نامے سو اے نامے کا جواب نہیں\n\nسما رہا ہے یہاں تک پری رخوں کا جمال\nہماری آنکھوں میں خالی مقام خواب نہیں\n\nبتوں کے پردے میں ہم دیکھتے ہیں نور خدا\nخدا کے دیکھنے کی اے کلیم تاب نہیں\n\nوفور اشک سے کیوں ہے گلے تلک پانی\nہمارا کاسۂ سر کاسۂ حباب نہیں\n\nمیں بزم شاہد و ساقی میں کیوں نہ وجد کروں\nبرائے زہد و ورع عالم شباب نہیں\n\nکیا ہے داغ نے کیوں اس کو منزل خورشید\nہمارا دل ہے یہ کچھ برج آفتاب نہیں\n\nہوا ہے مانع دیدار یار پردۂ چشم\nکھلی جو آنکھ تو کچھ درمیاں حجاب نہیں\n\nیہ ضبط گریہ میں عالم ہے بے قراری کا\nکہ برق کوندتی ہے بارش سحاب نہیں\n\nبشر کے جسم میں ہے جان مایۂ غفلت\nسو اے دیدۂ تصویر کس کو خواب نہیں\n\nدلا ہے موسم پیری محل جام شراب\nبغیر صبح کوئی وقت آفتاب نہیں\n\nمیں غش سے اس کے چھڑکتے ہی ہوشیار ہوا\nکسی صنم کا پسینہ ہے یہ گلاب نہیں\n\nبہت فریب سے ہم وحشیوں کو وحشت ہے\nہمارے دشت میں ناسخؔ کہیں سراب نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D9%81_%D8%B3%D8%B2%D8%A7%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D8%B3%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہماری گائے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "رب کا شکر ادا کر بھائی\nجس نے ہماری گائے بنائی\nاس مالک کو کیوں نہ پکاریں\nجس نے پلائیں دودھ کی دھاریں\nخاک کو اس نے سبزہ بنایا\nسبزے کو پھر گائے نے کھایا\nکل جو گھاس چری تھی بن میں\nدودھ بنی اب گائے کے تھن میں\nسبحان اللہ دودھ ہے کیسا\nتازہ گرم سفید اور میٹھا\nدودھ میں بھیگی روٹی میری\nاس کے کرم نے بخشی سیری\nدودھ دہی اور میٹھا مسکا\nدے نہ خدا تو کس کے بس کا\nگائے کو دی کیا اچھی صورت\nخوبی کی ہے گویا مورت\nدانہ دنکا بھوسی چوکر\nکھا لیتی ہے سب خوش ہو کر\nکھا کر تنکے اور ٹھیٹھرے\nدودھ ہے دیتی شام سویرے\nکیا ہی غریب اور کیسی پیاری\nصبح ہوئی جنگل کو سدھاری\nسبزے سے میدان ہرا ہے\nجھیل میں پانی صاف بھرا ہے\nپانی موجیں مار رہا ہے\nچرواہا چمکار رہا ہے\nپانی پی کر چارا چر کر\nشام کو آئی اپنے گھر پر\nدوری میں جو دن ہے کاٹا\nبچے کو کس پیار سے چاٹا\nگائے ہمارے حق میں ہے نعمت\nدودھ ہے دیتی کھا کے بنسپت\nبچھڑے اس کے بیل بنائے\nجو کھیتی کے کام میں آئے\nرب کی حمد و ثنا کر بھائی\nجس نے ایسی گائے بنائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا\nدل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا\n\nقسم جو کھائیے تو طالع زلیخا کی\nعزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا\n\nخراب رہتے تھے مسجد کے آگے مے خانے\nنگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا\n\nوہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھی\nنہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا\n\nمزا دکھاویں گے بے رحمی کا تری صیاد\nگر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا\n\nمرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں\nتمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا\n\nاگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ\nپہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%D8%B3%D9%88_%D9%86%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D9%84%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہمارے دل میں کوئی آرزو نہیں باقی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمارے دل میں کوئی آرزو نہیں باقی\nہمارے پھول میں اب رنگ و بو نہیں باقی\n\nبہت کہی دل ناداں عدو نہیں باقی\nمرا عدو مرے پہلو میں تو نہیں باقی\n\nتمہارے تیر کی اب آرزو نہیں باقی\nہوا ہے پیپ کلیجہ لہو نہیں باقی\n\nیہ مے کدہ ہے کہ مسجد یہ آب ہے کہ شراب\nکوئی بھی ظرف برائے وضو نہیں باقی\n\nدھرا ہے کیا مرے گھر میں کہ محتسب لے گا\nپر از شراب وہ جام و سبو نہیں باقی\n\nوہ رہ کے غیر کی صحبت میں ہو گئے کچھ اور\nوہ بات پچھلی سی اگلی سی خو نہیں باقی\n\nتھکا پڑا ہوں تو واماندگی یہ کہتی ہے\nانہیں کسی کی بھی اب جستجو نہیں باقی\n\nجو مے کی بوند نہ نکلی تو پڑ گیا پانی\nبحال خویش سبو اب سبو نہیں باقی\n\nہماری آپ کی بات اٹھ رہی ہے محشر پر\nہماری آپ کی کچھ گفتگو نہیں باقی\n\nجو نکلے خار تو دامن سے سوئیاں الجھیں\nجگہ ذرا سی کہیں بے رفو نہیں باقی\n\nبڑھی ہے بات قیامت میں جھوٹے وعدے پر\nوہ منفعل ہے تو کچھ گفتگو نہیں باقی\n\nیہ محتسب ہے عبث گھر کو سونگھتا پھرتا\nکہ بوند بھر بھی مے مشک بو نہیں باقی\n\nہوا ہے آئنے کے ساتھ عکس کو سکتا\nکسی میں جان ترے روبرو نہیں باقی\n\nبہیں شراب کے دریا تو ہم کو لطف نہیں\nکہ سبزہ کچھ بھی لب آب جو نہیں باقی\n\nبڑھی ہے پاک نہادی یہ بادہ نوشوں کی\nکہ اب نماز میں قید وضو نہیں باقی\n\nہماری آنکھ میں تاریک بزم عالم ہے\nجو زیب بزم تھے وہ شمع رو نہیں باقی\n\nریاضؔ موت کو کیوں موت آئی جاتی ہے\nہمیں تو موت کی بھی آرزو نہیں باقی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "ہمارے زخم کی کیا فکر چارہ جو کرتے", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمارے زخم کی کیا فکر چارہ جو کرتے\nتمہیں نے چاک کیا ہے تمہیں رفو کرتے\n\nچمن میں آپ سے وہ کھل کے گفتگو کرتے\nیہ منہ گلوں کا کہ دعوائے رنگ و بو کرتے\n\nملا کے آنکھ وہ ہم سے جو گفتگو کرتے\nتو ہم بھی کھل کے ذرا شرح آرزو کرتے\n\nہمارے آئنۂ دل سے کوئی بحث نہ تھی\nتم اپنے مد مقابل سے گفتگو کرتے\n\nیہ بات ایسی تھی ہم منہ بھی چومتے جاتے\nوہ پاس بیٹھ کے یوں شکوۂ عدو کرتے\n\nخیال غیر سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا\nہمارے سامنے دامن اگر رفو کرتے\n\nیہ لفظ وہ ہے معمہ کبھی نہ حل ہوتا\nتمام عمر اگر شرح آرزو کرتے\n\nتلاش یار میں مجھ سے بھی دو قدم آگے\nنکل گئے ہیں مرے اشک جستجو کرتے\n\nقیامت آئے نہ کیوں قبر پر سبو بر دوش\nازل کے مست اٹھے ہیں سبو سبو کرتے\n\nگرے ہوئے تھے ہماری ہی آنکھ سے صفدرؔ\nان آنسوؤں کی وہ کیا خاک آبرو کرتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہوگا", "poet_page": "مصنف:آغا اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہوگا\nبشر ہیں ہم بھی صاحب دیکھیے ناحق کا شر ہوگا\n\nنہ مڑ کر تو نے دیکھا اور نہ میں تڑپا نہ خنجر\nنہ دل ہووے گا تیرا سا نہ میرا سا جگر ہوگا\n\nمیں کچھ مجنوں نہیں ہوں جو کہ صحرا کو چلا جاؤں\nتمہارے در سے سر پھوڑوں گا سودا بھی اگر ہوگا\n\nچمن میں لائی ہوگی تو صبا مشاطگی کر کے\nجو گل سے آگے لپٹا ہے کسی بلبل کا پر ہوگا\n\nتری کا بھی وہی مالک ہے جو مالک ہے خشکی کا\nمددگار اپنا ہر مشکل میں شاہ بحر و بر ہوگا\n\nتصور زلف کا گر چھوڑ دوں مژگاں کا کھٹکا ہے\nجو سر کے درد سے فرصت ملی درد جگر ہوگا\n\nطبیبو تم عبث آئے میں کشتہ ہوں فرنگن کا\nمری تدبیر کرنے کو مقرر ڈاکٹر ہوگا\n\nکسی کو کوستے کیوں ہو دعا اپنے لیے مانگو\nتمہارا فائدہ کیا ہے جو دشمن کا ضرر ہوگا\n\nمزا آئے گا دیوانوں کی باتوں میں پری زادو\nجو آغاؔ کا کسی دن دشت مجنوں میں گزر ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B0%DA%A9%D8%B1_%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامن", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامن\nلگا پھیکا سواد اس کا نہیں لگتی بھلی جامن\n\nسراپا آج نمکینی و نرمی و گدازی سوں\nہوا یہ سانولا گویا نمک میں کی گلی جامن\n\nلگے ہے ترش ظاہر میں پے ہے یہ سانولا میٹھا\nمزے داری میں ہے گویا یہ مصری کی ڈلی جامن\n\nتمہارے رنگ کی تمثیل اس کوں دوں تو کھل جاوے\nخوشی سیں سانوری ہو کر کے کوئل کی کلی جامن\n\nکیا رم سانورے نیں آبروؔ کوں دیکھ کر پانی\nلگا برسات کا موسم دیکھو یارو چلی جامن", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%86%D9%88%D9%84%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%AC%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D9%85%D9%86"} {"title": "ہمارے واسطے ہر آرزو کانٹوں کی مالا ہے", "poet_page": "مصنف:تنویر نقوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمارے واسطے ہر آرزو کانٹوں کی مالا ہے\nہمیں تو زندگی دے کر خدا نے مار ڈالا ہے\n\nادھر قسمت ہے جو ہر دم نیا غم ہم کو دیتی ہے\nادھر ہم ہیں کہ ہر غم کو ہمیشہ دل میں پالا ہے\n\nابھی تک اک کھٹک سی ہے ابھی تک اک چبھن سی ہے\nاگرچہ ہم نے اپنے دل سے ہر کانٹا نکالا ہے\n\nغلط ہی لوگ کہتے ہیں بھلائی کر بھلا ہوگا\nہمیں تو دکھ دیا اس نے جسے دکھ سے نکالا ہے\n\nتماشا دیکھنے آئے ہیں ہم اپنی تباہی کا\nبتا اے زندگی اب اور کیا کیا ہونے والا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%B9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہمارے پاس جاناں آن پہنچا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمارے پاس جاناں آن پہنچا\nدل بے جان کوں اب جان پہنچا\n\nنہ ہووے کیوں شور دل کی بانسلی میں\nملاحت کا سلونا کان پہنچا\n\nکماں ابرو کی ہر ترچھی نگہ سیں\nجگر کے توڑنے کوں بان پہنچا\n\nدکھایا مصحف رخسار اپناں\nہمارا دین اور ایمان پہنچا\n\nمجھے کہہ کاکریزی چیرے والے\nکہ وقت سیر نا فرمان پہنچا\n\nمے و جام و گل مطرب ہے موجود\nبہار وصل کا سامان پہنچا\n\nدل مفلس نے پایا وصل کا گنج\nبھکاری کوں درس کا دان پہنچا\n\nسراجؔ اب گھر ترا روشن ہوا ہے\nمگر وو شمع رو مہمان پہنچا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%D9%86_%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7"} {"title": "ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں\nہمارے قدموں پہ کس روز ماہتاب نہیں\n\nجہاں میں اب کوئی صورت پئے ثواب نہیں\nوہ مے کدے نہیں ساقی نہیں شراب نہیں\n\nشب بہار میں زلفوں سے کھیلنے والے\nترے بغیر مجھے آرزوئے خواب نہیں\n\nچمن میں بلبلیں اور انجمن میں پروانے\nجہاں میں کون غم عشق سے خراب نہیں\n\nغم آہ عشق کے غم کا کوئی نہیں موسم\nبہار ہو کہ خزاں کب یہ اضطراب نہیں\n\nامید پرسش احوال ہو تو کیوں کر ہو\nسلام کا بھی تری بزم میں جواب نہیں\n\nوطن کا چھیڑ دیا کس نے تذکرہ اخترؔ\nکہ چشم شوق کو پھر آرزوئے خواب نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہمالہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اے ہمالہ! اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں\nچُومتا ہے تیری پیشانی کو جھُک کر آسماں\nتجھ میں کُچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں\nتُو جواں ہے گردشِ شام و سحَر کے درمیاں\nایک جلوہ تھا کلیمِ طُورِ سینا کے لیے\nتُو تجلّی ہے سراپا چشمِ بینا کے لیے\n\nامتحانِ دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے تُو\nپاسباں اپنا ہے تو، دیوارِ ہندُستاں ہے تُو\nمطلعِ اوّل فلک جس کا ہو وہ دِیواں ہے تُو\nسُوئے خلوت گاہِ دل دامن کشِ انساں ہے تُو\nبرف نے باندھی ہے دستارِ فضیلت تیرے سر\nخندہ زن ہے جو کُلاہِ مہرِ عالم تاب پر\n\nتیری عمرِ رفتہ کی اک آن ہے عہدِ کُہن\nوادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زن\nچوٹیاں تیری ثریّا سے ہیں سرگرمِ سخن\nتُو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطن\nچشمۂ دامن ترا آئینۂ سیّال ہے\nدامنِ موجِ ہوا جس کے لیے رُومال ہے\n\nابر کے ہاتھوں میں رہوارِ ہوا کے واسطے\nتازیانہ دے دیا برقِ سرِ کُہسار نے\nاے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تُو بھی، جسے\nدستِ قُدرت نے بنایا ہے عناصِر کے لیے\nہائے کیا فرطِ طرب میں جھُومتا جاتا ہے ابر\nفیلِ بے زنجیر کی صُورت اُڑا جاتا ہے ابر\n\nجُنبشِ موجِ نسیمِ صبح گہوارہ بنی\nجھُومتی ہے نشّۂ ہستی میں ہر گُل کی کلی\nیوں زبانِ برگ سے گویا ہے اس کی خامشی\nدستِ گُلچیں کی جھٹک مَیں نے نہیں دیکھی کبھی\nکہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مرا\nکُنجِ خلوت خانۂ قُدرت ہے کاشانہ مرا\n\nآتی ہے ندّی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی\nکوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئی\nآئنہ سا شاہدِ قُدرت کو دِکھلاتی ہوئی\nسنگِ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئی\nچھیڑتی جا اس عراقِ دل نشیں کے ساز کو\nاے مُسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو\n\nلیلیِ شب کھولتی ہے آ کے جب زُلفِ رسا\nدامنِ دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا\nوہ خموشی شام کی جس پر تکلّم ہو فدا\nوہ درختوں پر تفکّر کا سماں چھایا ہُوا\nکانپتا پھرتا ہے کیا رنگِ شفَق کُہسار پر\nخوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رُخسار پر\n\nاے ہمالہ! داستاں اُس وقت کی کوئی سُنا\nمسکنِ آبائے انساں جب بنا دامن ترا\nکچھ بتا اُس سیدھی سادی زندگی کا ماجرا\nداغ جس پر غازۂ رنگِ تکلّف کا نہ تھا\nہاں دکھا دے اے تصوّر پھر وہ صبح و شام تُو\nدوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایّام تُو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%D9%84%DB%81"} {"title": "ہمایوں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "اے ہمایوں! زندگی تیری سراپا سوز تھی\nتیری چنگاری چراغِ انجمن افروز تھی\n\nگرچہ تھا تیرا تنِ خاکی نزار و دردمند\nتھی ستارے کی طرح روشن تری طبعِ بلند\n\nکس قدر بے باک دل اس ناتواں پیکر میں تھا\nشعلۂ گردُوں نَورد اک مُشتِ خاکستر میں تھا\n\nموت کی لیکن دلِ دانا کو کچھ پروا نہیں\nشب کی خاموشی میں جُز ہنگامۂ فردا نہیں\n\nموت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی\nہے یہ شامِ زندگی، صبحِ دوامِ زندگی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%A7%DB%8C%D9%88%DA%BA"} {"title": "ہمت مرداں", "poet_page": "مصنف:احمق پھپھوندوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "نئی تہذیب نے برباد غارت کر دیا بالکل\nہم اپنے ملک سے اب اس کو غارت کر کے چھوڑیں گے\nہمارے علم و فن سب اس نے رخصت کر دیے ہم سے\nہم اب ہندوستاں سے اس کو رخصت کر کے چھوڑیں گے\nغلامی نے ہمارے سارے جوہر خاک کر ڈالے\nہم اپنے ملک سے دور اب یہ لعنت کر کے چھوڑیں گے\nہم اپنے ملک پر قبضہ کریں گے جس طرح ہوگا\nزبان بے کسی سے ختم حجت کر کے چھوڑیں گے\nفنا کر دیں گے اہل جبر و استبداد کی ہستی\nزمیں میں دفن رسم جہل و وحشت کر کے چھوڑیں گے\nمٹا ڈالیں گے ہم ہر خود سر و مغرور کا غرہ\nتہ و بالا نظام کبر و نخوت کر کے چھوڑیں گے\nہٹا دیں گے ہر اک سنگ گراں کو اپنے رستے سے\nنمایاں اپنی شان استقامت کر کے چھوڑیں گے\nاگر کوہ گراں بھی ہوگا اپنی راہ میں حائل\nاسے بھی پائمال عزم و ہمت کر کے چھوڑیں گے\nغرض اب یہ تہیہ کر لیا ہے مستقل ہم نے\nفنا اک دن یہ طاغوتی حکومت کر کے چھوڑیں گے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%AA_%D9%85%D8%B1%D8%AF%D8%A7%DA%BA"} {"title": "ہمدرد ہوں سب یہ لطف آبادی ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہمدرد ہوں سب یہ لطف آبادی ہے\nہمسایہ بھی ہو شریک تب شادی ہے\nتسکین ہے جبکہ ہو خدا پر تکیہ\nقانون بنا سکیں تب آزادی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D8%A8_%DB%8C%DB%81_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہمدردی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا\nبُلبل تھا کوئی اُداس بیٹھا\n\nکہتا تھا کہ رات سر پہ آئی\nاُڑنے چُگنے میں دن گزارا\n\nپہنچوں کِس طرح آشیاں تک\nہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا\n\nسُن کر بُلبل کی آہ و زاری\nجُگنو کوئی پاس ہی سے بولا\n\nحاضر ہُوں مدد کو جان و دل سے\nکِیڑا ہوں اگرچہ مَیں ذرا سا\n\nکیا غم ہے جو رات ہے اندھیری\nمَیں راہ میں روشنی کروں گا\n\nاللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل\nچمکا کے مجھے دِیا بنایا\n\nہیں لوگ وہی جہاں میں اچھّے\nآتے ہیں جو کام دوسرں کے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%AF%D8%B1%D8%AF%DB%8C"} {"title": "ہمدردی (سید احمد خان)", "poet_page": "مصنف:سید احمد خان", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ہر کوئی اپنی آپ ہمدردی کرتا ہے۔\n\nکیا دھوکے کی چیز ہے! کیا بھلاوے میں پڑے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی مصیبت میں مدد کرنا ہمدردی کرنا ہے۔ کیا قدرت کا کوئی کام بے فائدہ ہے؟ نہیں، گو ہم بہتوں کے سمجھنے سے عاجز ہیں۔ کیا ہم اس فائدہ میں شریک نہیں؟ نہیں۔ بیشک واسطہ یا بلا واسطہ یا واسطہ در واسطہ شریک ہیں۔ پھر دوسرے کی مدد کرنا کہاں رہا؟ بلکہ اپنی آسائش کے کسی وسیلے سے اپنی مدد آپ کرنا ہوا، اس لئے جو لوگ ہمدردی کرتے ہیں، وہ حقیقت میں اپنی مدد آپ کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے وہ خود اپنی آسائش کے وسیلے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہمدردی کا لفظ ہمارے خیال کو ایسے امداد کی طرف لے جاتا ہے جو رنج اور مصیبت کی حالت میں ہو لیکن اگر ہم مصیبت کے لفظ کی اصلی مراد پر غور نہ کریں تو ضرور غلطی میں پڑیں۔عام مفہوم مصیبت کا جو اس لفظ سے ہماری سمجھ میں آتا ہے کوئی مستقل مفہوم نہیں ہے، بلکہ نسبتی مفہوم معلوم ہوتاہے۔ جو چیز کہ ایک کے لئے مصیبت ہو ممکن ہے کہ دوسرے کے لئے نہ ہو۔ وہ عادت اور استعمال سے ایسی مختلف ہو جاتی ہے کہ مصیبت معلوم نہیں ہوتی۔ وہ کسی جوش کے سبب سے ایسی بدل جاتی ہے کہ بالکل راحت سمجھ میں آتی ہے۔ بیشک یہ تمام مفہوم نسبتی ہیں اور جو اصلی مفہوم ہے وہ ایسی حالت کا ہونا یا واقع ہونا ہے جو قدرتی فرحت اور راحت کے بر خلاف ہو۔اس حالت کا ہونا غیر اختیاری حالتوں کا ہونا ہے اور واقع ہونا اختیاری حالتوں کا، مگر پچھلی حالت اگر نتیجے کی لا علمی یا نقصان غیر متعدی کے سبب سے ہے تو مجازاً وہ پہلی سی ہے ورنہ حقیقت میں وہ مصیبت نہیں ہے، بلکہ سزا ہے اور اس لئے اس میں ہمدردی نہیں، پس اصلی یا اصلی سی مصیبت میں کسی کی مدد کرنا البتہ سچی ہمدردی ہے۔ رحم اور موانست اور ہمدردی شاید نتیجے میں متحد ہوں، مگر ہر ایک کا منشا مختلف ہے۔ رحم ایک فطرتی نیکی ہے جو ہم جنس اور غیر ہم جنس دونوں کے ساتھ برتی جاتی ہے۔ موانست کا اثر صرف ہم جنسوں میں پایا جاتا ہے۔ ہمدردی جو عقل کے نتیجوں میں سے ہے ذی عقل ہی میں ہو سکتی ہے اور اس لیے صرف انسان ہی میں منحصر ہے۔ پس جس میں ہمدردی نہیں اس میں انسانیت کا نقصان ہے۔قدرتی قاعدے کے مطابق ہمدردی کے بقدر تفاوت اپنی آسائش کے وسیلوں کے متفاوت درجے ہیں، جس طرح کہ باپ، بھائی، جورو، بچے پھر اور درجہ بدرجہ کے رشتہ مند، پھر اپنے ملک کے، پھر اپنے ہمسایہ ملک کے، پھر اس دور کے ملک کے باشندے درجہ بدرجہ ہماری آسائش کے وسیلے ہیں۔ اسی طرح قادر مطلق کی کامل قدرت نے ہمدردی کے رشتے کی مضبوطی اور استواری کو بھی درجہ بدرجہ بنایا ہے۔ باپ کو بیٹے سے جو جوش ہمدردی ہے وہ پوتے سے نہیں ہے اور جو پوتے سے وہ پڑپوتے سے نہیں۔ اسی طرح یہ رشتہ جتنا کہ بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی گھٹتا جاتا ہے اور جب وہ اپنے ملک یا اپنے ہمسایہ ملک یا اس سے دور کے ملک تک پہونچتا ہے تو اور بھی پتلا ہو جاتا ہے۔بعضے کہتے ہیں کہ ’’یہ ایک دھوکہ ہے اور اگر یہ دھوکہ نہیں ہے اور یہ متفاوت درجے قدرتی ہیں تو انجان بیٹے اور ان پہچان باپ میں کیوں وہ ہمدردی نہیں۔ حقیقت میں یہ صرف ایک خیال ہے جس سے موانست پیدا ہوتی ہے اور وہی باعث ہمدردی ہے۔ نفرت جو اس کی ضد ہے اس کا بخوبی ثبوت کرتی ہے کہ جب وہ پیداہوتی ہے تو باوجود موجود ہونے قدرتی رشتے کے کچھ بھی ہمدردی نہیں رہتی۔‘‘بیشک ایسا یا ایسا سا ہوتا ہے، مگر اس میں کچھ غلطی بھی ہے۔ قریب رشتہ والا بہ نسبت دور کے رشتے والے کے بلا شبہ ہم سے زیادہ تر جزئیت رکھتا ہے اور اسی طرح بعید بہ نسبت ابعد کے، پھر اگر وہ جزئیت قدرتی ہے وہ ہمدردی بھی قدرتی ہے۔ ہاں موانست اس کو نہایت تیز کر دیتی ہے اور کبھی کبھی ایسی جو قدرتی معلوم ہوتی ہے، نفرت اس کی تیزی کو دباتی ہے اور کبھی ایسا کر دیتی ہے جو بجھی ہوئی سی معلوم ہوتی ہے۔ انجان بیٹے اور ان پہچان باپ میں جو وہ چمکتی نہیں، نہ اس لئے کہ وہ نہیں ہے، مگر تعجب یہ ہے کہ جو ہمدردی اعلٰی ہے وہ مذمت میں اعلیٰ اور صفت میں ادنی ٰ ہے وہ مذمت میں ادنی ٰ اور صفت میں اعلی ہے، اس لیے کہ ایک میں کھونا قدرتی صفت کا اور دوسری میں متصف ہونا قدرتی صفت میں ہے۔قریبوں سے ہمدردی نہ کرنی نہایت بد خصلت قابل سزا کے ہے۔ اس لیے کہ قدرت کے نہایت مستحکم قاعدے کو توڑنا ہے اور کرنی کچھ بڑی صفت نہیں، کیونکہ قدرت نے اس کے کرنے پر مجبور کر رکھا ہے، بعیدوں سے ویسی نہ کرنی کچھ سخت مذمت نہیں، اس لیے کہ قدرت کے کسی مستحکم قاعدے کی بر خلافی نہیں اور کرنی نہایت عمدہ صفت ہے، کیونکہ قدرت کے منشا کو بدرجہ اتم کامل کرنا ہے۔ افسوس ہے کہ یہ عمدہ صفت کبھی دھوکہ کھاکر معیوب بھی کر دی جاتی ہے جب کہ پہلی کو ادنیٰ صفت سمجھ کر چھوڑتے ہیں اور دوسری کو اعلیٰ صفت سمجھ کر پکڑ تے ہیں، مگر پہلی کے چھوڑنے کی برائی دوسری کی بھلائی کو بھی لے ڈوبتی ہے۔ پس سچی ہمدردی وہی ہے جو قدرت کے قانون کے مطابق اور قدرت کے منشا کی تکمیل کے لیے ہو۔کیا عمدہ اور سہل طور پر عام عمل در آمد کے لائق کر دیا ہے اس مضمون کو بڑی قدرت والے اور معاشرت و تمدن کے زبردست قانون جاننے والے نے، جب کہ ہم سے یوں کہا، 1 ’’لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من آمن باللہ والیوم الآخر والملائکۃ والکتاب والنبیین واٰ تی المال علی حبہ ذوی القربی والیتامی والمساکین وابن السبیل والسائلین و فی الرقاب۔‘‘ جو عمدہ ترتیب ہمدردی کی اس میں بتائی ہے وہ بالکل قانون قدرت کے مطابق ہے جس سے یقین ہوتا ہے کہ جس نے قدرت کے قانون کو بنایا ہے اسی نے یہ عملی قانون ہم کو دیا ہے۔ بے شک دونوں کا بانی ایک ہی ہے جس کے فعل اور قول دونوں کا ایک ہی مقصد ہے۔\n\nحاشیہ\n\n(۱) نیکی یہی نہیں کہ منہ کرو اپنے مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف، لیکن نیکی وہ ہے جو کوئی ایمان لاوے اللہ پر اور پچھلے دن پر اور فرشتوں پر اور کتاب پر اور نبیوں پر اور دیوے مال اس کی محبت پر قرابت والوں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور رہ کے مسافر کو اور مانگنے والے کو اور گردنیں چھڑانے میں۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%AF%D8%B1%D8%AF%DB%8C_%28%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%AE%D8%A7%D9%86%29"} {"title": "ہمدمو لطف شبانہ ہو چکا", "poet_page": "مصنف:خوشی محمد ناظر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمدمو لطف شبانہ ہو چکا\nعیش و عشرت کا زمانہ ہو چکا\n\nاب غم و شادی سے آزادی ملی\nرنج و راحت کا زمانہ ہو چکا\n\nنجد میں آوارہ کیوں پھرتا ہے قیس\nمحمل لیلیٰ روانہ ہو چکا\n\nمنزل دل میں تھیں کیا کیا حسرتیں\nقافلہ یہ بھی روانہ ہو چکا\n\nزندگی غم کی کہانی رہ گئی\nعیش کا رنگیں فسانہ ہو چکا\n\nہو گئی ویراں وہ بزم مے کدہ\nدور ساغر کا زمانہ ہو چکا\n\nاب نہیں بزم چمن رنگیں نوا\nعندلیبوں کا ترانہ ہو چکا\n\nمطرب ایام نے بدلا ہے ٹھاٹھ\nشوق کا چنگ و چغانہ ہو چکا\n\nموج مضطر کو ہوا آخر قرار\nشور طوفاں کا زمانہ ہو چکا\n\nناظرؔ اب ذوق نظر بیکار ہے\nمنظر ہستی پرانا ہو چکا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%AF%D9%85%D9%88_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہمدمو کیا مجھ کو تم ان سے ملا سکتے نہیں", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمدمو کیا مجھ کو تم ان سے ملا سکتے نہیں\nمیں تو جا سکتا ہوں واں گر یاں وہ آ سکتے نہیں\n\nشرم ہے ان کو بہت ہر دم چمٹنے سے مرے\nوہ تڑپتے ہیں ولیکن غل مچا سکتے نہیں\n\nہاتھ میں ہے ہاتھ اور کوئی نہیں ہے آس پاس\nوہ تو ہیں قابو میں پر ہم جی چلا سکتے نہیں\n\nچودھویں ہے رات اور چھٹکی ہوئی ہے چاندنی\nہم کمند اب ان کے کوٹھے پر لگا سکتے نہیں\n\nکیوں میاں رنگیںؔ بھلا اب اس زمیں میں سوچ سے\nکیا غزل تم حسب حال اپنی سنا سکتے نہیں\n\nبس میں ہیں وہ غیر کے ہم کو بلا سکتے نہیں\nاور ہم اس جا کسی صورت سے جا سکتے نہیں\n\nہم کو ان سے ان کو ہم سے جتنی الفت ہے اسے\nوہ گھٹا سکتے ہیں لیکن ہم گھٹا سکتے نہیں\n\nغیر سے ہم کو دلاتے ہیں وہ لاکھوں گالیاں\nپچھلی باتیں یاد ہم ان کو دلا سکتے نہیں\n\nبت بنے ہیں یوں تو ہم باتیں بناتے ہیں ہزار\nبات لیکن وصل کی اصلاً بتا سکتے نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%D8%AF%D9%85%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%D9%85_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہمیشہ تمنا و حسرت کا جھگڑا ہمیشہ وفا و محبت کا ہلڑ", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمیشہ تمنا و حسرت کا جھگڑا ہمیشہ وفا و محبت کا ہلڑ\nتھمے کیا طبیعت رکے کس طرح دل یہ آفت وہ فتنہ یہ آندھی وہ جھکڑ\n\nجو راز محبت کو جانے گا کوئی تو یہ جان لے وہ مچا دے گا گڑبڑ\nنظر کی طرح بڑھ نظر کی طرح رک نظر کی طرح مل نظر کی طرح لڑ\n\nمرے دل کے ہاتھوں سے ہجر وفا میں مری زندگی میں نہ ہو جائے گڑبڑ\nکبھی کثرت رنج و غم کا تھپیڑا کبھی جوش امید و حسرت کی اوجھڑ\n\nکہاں میں ہوں ایسا کہ تو مہرباں ہو کہاں قسمت ایسی کہ آساں ہو مشکل\nاگر اور گاہک نہیں کوئی تیرا تو اے خنجر ناز میرے گلے پڑ\n\nبشر کیا فرشتے جو پیٹیں ڈھنڈھورا تو کیوں کر چھپے راز کم بخت دل کا\nادھر آہ نکلی ہماری زباں سے ادھر مچ گیا ساری دنیا میں ہلڑ\n\nسر ہم سری حسن و ناز و ادا میں نہ رکھتا تھا کوئی نہ رکھے گا کوئی\nترا عکس آئینہ ہے اور تو ہے جو لڑنا ہے تجھ کو تو اپنے ہی سے لڑ\n\nبہار جوانی حیات جوانی نہ یہ غیر فانی نہ وہ غیر فانی\nعروس چمن کا اترتا ہے گہنا خزاں کے زمانے میں ہوتی ہے پت جھڑ\n\nہزاروں مرے ہیں ہزاروں مرے ہیں ہزاروں مریں گے ہزاروں مٹیں گے\nوہ انساں نہیں اس کو سمجھو فرشتہ جو برداشت کر لے محبت کی اوجھڑ\n\nوہ عرض تمنا کو فریاد سمجھے وہ فریاد کو غم کی روداد سمجھے\nذرا سی مری بات تھی لیکن اس کا ہوا رفتہ رفتہ کہاں تک بتنگڑ\n\nادھر عیش و عشرت ادھر یاس و حسرت جہاں والے دیکھیں جہاں کی دو رنگی\nکہیں کوئی پیہم بچاتا ہے بغلیں کوئی پیٹتا ہے کہیں سر دھڑا دھڑ\n\nمحبت نے چھوڑا یہ طرفہ شگوفہ بہار جوانی بھی دل نے نہ دیکھی\nابھی پھولنے پھلنے کے دن کہاں تھے مگر کٹ گئی نخل امید کی جڑ\n\nجو اک جنگ جو ادراک صلح جو ہو تو جھگڑا نہ اٹھے بکھیڑا نہ اٹھے\nدل و دل ربا میں نبھے کیا محبت ادھر وہ بھی ضدی ادھر یہ بھی اکھڑ\n\nکیے سیکڑوں عہد و پیمان الفت مگر خیر سے کوئی سچا نہ نکلا\nوہ کہتے ہیں ملنے کو اب حشر کے دن کہیں ہو نہ جائے کچھ اس دن بھی گڑبڑ\n\nمقدر میں لکھا تھا ہن کر بگڑنا کوئی کیوں نہ مرتا کوئی کیوں نہ اٹھتا\nزمیں دوز اہل زمیں ہو گئے سب پڑی آسماں سے وہ سر پر دو ہتھڑ\n\nجو ناوک چلے اور تلوار نکلی تو قائم رہا میں ہی عہد وفا پر\nکسی نے کسی کو بھی پھر کر نہ دیکھا پڑی امتحاں گھر میں کچھ ایسی بھاگڑ\n\nسمجھتے ہیں آغاز و انجام اپنا مہ و مہر کیا آئیں گے تیرے آگے\nادھر سے ادھر ان کا پھر جائے گا منہ لگائے گی شرمندگی ایسا تھپڑ\n\nخیال و تصور میں ہرگز نہ لانا ہنسی دل لگی میں ہمیشہ اڑانا\nمرے دعویٔ عشق کی قدر کیا ہو وہ اس کو سمجھتے ہیں مجذوب کی بڑ\n\nجہاں دیکھتا ہوں وہاں دیکھتا ہوں جدھر دیکھتا ہوں ادھر دیکھتا ہوں\nمحبت کی شورش محبت کی اودھم محبت کا غوغا محبت کا ہلڑ\n\nمزا جب ہے آپس میں کچھ جنگ بھی ہو مزا جنگ میں جب ہے کچھ صلح بھی ہو\nدکھا دے تلون کا اپنے تماشا ادھر لڑ ادھر مل ادھر مل ادھر لڑ\n\nبہایا مضامین کا تم نے دریا غزل میں بہت خوب اشعار لکھے\nزمانے کو اے نوحؔ حیرت نہ کیوں ہو کہ طوفان ایسا زمین ایسی گڑبڑ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DA%BE%DA%AF%DA%91%D8%A7_%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%88_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%84%DA%91"} {"title": "ہمیشہ جوش گریہ سے رہا پانی میں اے آتش", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمیشہ جوش گریہ سے رہا پانی میں اے آتش\nکبھی تازہ نہ لیکن اپنے دل کا یہ کنول پایا\n\nمری آنکھوں کے آگے آئے گا کیا جوش میں دریا\nہمیشہ صورت ساحل ہے یاں آغوش میں دریا\n\nوہ حد کم ظرف ہیں جو ایک ساغر میں بہکتے ہیں\nنہیں قطہ بھی یاں ہنگام نوشا نوش میں دریا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%AC%D9%88%D8%B4_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%A2%D8%AA%D8%B4"} {"title": "ہمیشہ دل میں جو اپنے خیال زلف و کاکل ہے", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمیشہ دل میں جو اپنے خیال زلف و کاکل ہے\nتو سینے میں نفس ہر ایک موج بوئے سنبل ہے\n\nفساں ہے سخت جانی میری تیغ ناز قاتل کو\nکہ یاں جتنا ہے رنج نزع اتنا واں تغافل ہے\n\nمجھی کو کچھ تو اپنے کوچے میں آنے نہیں دیتا\nوگرنہ اے ستم ایجاد ہر گلشن میں بلبل ہے\n\nتری میناۓ گردن کی صفت کی ہے جو اے ساقی\nمری آواز کو کہتے ہیں سب آواز قلقل ہے\n\nوہی دل ہے بھرا ہو نشہ جس میں جام وحدت کا\nکہ ہے چھاتی کا پتھر بزم میں شیشہ جو بے مل ہے\n\nمرے جو سوز غم سے جل کے ہو وہ نیک نام آخر\nچراغ مردہ کو اکثر یہی کہتے ہیں سب گل ہے\n\nدیا سامان گلشن ہم کو ہجر رشک گلشن نے\nپریشانی ہے سنبل نالہ بلبل داغ دل گل ہے\n\nلکھی ہیں وصف یاں تک نرگس مخمور ساقی کی\nہے خامہ گردن مینا صریر خامہ قلقل ہے\n\nبڑھا کر ربط کیونکر کم نہ منہ دکھلائے وہ مہ رو\nہوا جب ماہ کامل دن پہ دن اس کو تنزل ہے\n\nبہاتی ہے کہیں بھی موج نقش بوریا خس کو\nنہ دے گا ناتواں کو رنج جو صاحب تحمل ہے\n\nکہا اس گل نے کل سامان گلشن میں بھی رٹتا ہوں\nجو عاشق ہے مرا نالوں سے وہ ہم چشم بلبل ہے\n\nخط و رخسار و چشم و زلف دکھلا کر لگا کہنے\nیہ ریحاں ہے یہ گل ہے اور یہ نرگس ہے یہ سنبل ہے\n\nخیال زلف جاناں میں جو روؤں تو اگے سنبل\nوزیرؔ آنسو مرا ہر ایک گویا تخم سنبل ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D9%88_%DA%A9%D8%A7%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہمیشہ سیر گل و لالہ زار باقی ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "ہمیشہ سیر گل و لالہ زار باقی ہے\nاگر بغل میں دل داغدار باقی ہے\n\nطفیل روح مرا جسم زار باقی ہے\nہوا کے دم سے یہ مشت غبار باقی ہے\n\nبغیر روح رواں جسم زار باقی ہے\nنکل گئی ہے سواری غبار باقی ہے\n\nبہار میں تجھے نالے سناؤں گا بلبل\nاگر یہ زندگئ مستعار باقی ہے\n\nکہوں گا یار سے اک روز ہاتھ پھیلا کے\nمجھے بھی حسرت بوس و کنار باقی ہے\n\nجہاں کو چشم حقیقت سے دیکھ او غافل\nکھلی ہے آنکھ ابھی اختیار باقی ہے\n\nامید ہے ہمیں فردا ہو یا پس فردا\nضرور ہوئے گی صحبت وہ یار باقی ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%DA%AF%D9%84_%D9%88_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہمیں آمد میرؔ کل بھا گئی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمیں آمد میرؔ کل بھا گئی\nطرح اس میں مجنوں کی سب پا گئی\n\nکہاں کا غبار آہ دل میں یہ تھا\nمری خاک بدلی سی سب چھا گئی\n\nکیا پاس بلبل خزاں نے نہ کچھ\nگل و برگ بے درد پھیلا گئی\n\nہوئی سامنے یوں تو ایک ایک کے\nہمیں سے وہ کچھ آنکھ شرما گئی\n\nجگر منہ تک آتے نہیں بولتے\nغرض ہم بھی کرتے ہیں کیا کیا گئی\n\nنہ ہم رہ کوئی نا کسی سے گیا\nمری لاش تا گور تنہا گئی\n\nگھٹا شمع ساں کیوں نہ جاؤں چلا\nطبع غم جگر کو مرے کھا گئی\n\nکوئی رہنے والی ہے جان عزیز\nگئی گر نہ امروز فردا گئی\n\nکیے دست و پا گم جو میرؔ آ گیا\nوفا پیشہ مجلس اسے پا گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%85%D8%AF_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%DA%A9%D9%84_%D8%A8%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ہمیں دیکھے سے وہ جیتا ہے اور ہم اس پہ مرتے تھے", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمیں دیکھے سے وہ جیتا ہے اور ہم اس پہ مرتے تھے\nیہی راتیں تھیں اور باتیں تھیں وہ دن کیا گزرتے تھے\n\nوہ سوز دل سے بھر لاتا تھا اشک سرخ آنکھوں میں\nاگر ہم جی کی بے چینی سے آہ سرد بھرتے تھے\n\nکسی دھڑکے سے روتے تھے جو باہم وصل کی شب کو\nوہ ہم کو منع کرتا تھا ہم اس کو منع کرتے تھے\n\nملی رہتی تھیں آنکھیں غلبۂ الفت سے آپس میں\nنہ خوف اس کو کسی کا تھا نہ ہم لوگوں سے ڈرتے تھے\n\nسو اب صد حیف اس خورشید رو کے ہجر میں جرأتؔ\nیہی راتیں ہیں اور باتیں ہیں وہ دن کیا گزرتے تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AC%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "ہمیں زاہد جو کافر جانتا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "ہمیں زاہد جو کافر جانتا ہے\nتو پھر پتھر کو تو کیوں مانتا ہے\n\nنہ پوچھا اس نے مجھ کو کون ہے تو\nہوا ثابت کہ وہ پہچانتا ہے\n\nنہ مجھ سے پھیر منہ کافر خدارا\nارے قرآن کیوں گردانتا ہے\n\nکہوں کس سے کہ کیا ہے یار میرا\nاسے کچھ میرا جی ہی جانتا ہے\n\nبہت چاہا نہ بولوں یار تجھ سے\nمگر ظالم یہ دل کب مانتا ہے\n\nنہیں چھلنی ہمارا دل نہ ہوگا\nہماری بات کیوں تو چھانتا ہے\n\nنہ دیں گے جان ہم کہنے پہ اس کے\nرقیب رو سیہ کیوں تانتا ہے\n\nبھلا کیوں کر اسے سمجھائے کوئی\nوہ کافر کب کسی کی مانتا ہے\n\nغضب ہے چھیڑنا اس فتنہ گر کو\nیہ انجمؔ دل میں کیا تو ٹھانتا ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہمیں ناشاد نظر آتے ہیں دل شاد ہیں سب", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمیں ناشاد نظر آتے ہیں دل شاد ہیں سب\nہمیں اس دور میں برباد ہیں آباد ہیں سبب\n\nخاکساروں سے بھلا اتنی کدورت کیا ہے\nایک دامن کے جھٹکنے میں تو برباد ہیں سبب\n\nشکوہ اب کیا ہے تجھے کہتے نہ تھے ہم اے دل\nجن کے تلوار سے ابرو ہیں وہ جلاد ہیں سب\n\nعقدے کھل جائیں گے اغیار کے رفتہ رفتہ\nہمیں زلفوں کے گرفتار ہیں آزاد ہیں سب\n\nان حسینوں میں برا کس کو کہوں کس کو بھلا\nمجھے دیوانہ بنانے کو جو تیار ہیں سب\n\nآستیں دیدۂ گریاں سے جدا ہو کیوں کر\nنہیں بھولے کسی چتون کے مزے یاد ہیں سب\n\nکس کے کاکل نہیں شانوں پہ کھلے رہتے ہے\nدام بر دوش مرے واسطے صیاد ہیں سبب\n\nکوئی سنتا نہیں فریاد کسی کے بلبل\nکہنے کو جتنے ہیں گل گوش بے فریاد ہیں سب\n\nدشت گردی ہی دوا مجھ کو اگر سودا ہے\nخار جنگل کے نہیں نشتر فصاد ہیں سب\n\nشمع روتی ہے تو اس بزم میں سر کٹتا ہے\nدادرس کوئی نہیں بر سر بیداد ہیں سب\n\nنہ تو رفتار برے اور نہ گفتار برے\nجتنی اس شب میں ادائیں ہیں خدا داد ہیں سب\n\nصدقے رخ پر ہوں کہ قربان قد زیبا پر\nغیرت گل میں یہ بت غیرت شمشاد ہیں سب\n\nنسبتاً فرق نہیں ایک ہیں ابنائے جہاں\nایک ہے ان کی اور اک باپ کی اولاد ہیں سب\n\nاس کی دیوار سے سر پھوڑ رہے ہیں عاشق\nرشک شیریں ہے وہ بت غیرت فرہاد ہیں سب\n\nدل لگی کس سے کروں بحرؔ کہ جی چھوٹ گیا\nمہر پیشہ نہیں کوئی ستم ایجاد ہیں سب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8"} {"title": "ہمیں نت اسیر بلا چاہتا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمیں نت اسیر بلا چاہتا ہے\nہماری خوشی کب خدا چاہتا ہے\n\nشب و روز رویا کریں خون آنکھیں\nیہی تو وہ رنگ حنا چاہتا ہے\n\nوہ کرتا ہے اپنے ہی جی میں برائی\nکسی کا کوئی گر برا چاہتا ہے\n\nدلا بیٹھ رہ رکھ کے دنداں جگر پر\nتوکل کا گر تو مزا چاہتا ہے\n\nاسے آپ سے دھیان آنے کا تیرے\nوہ گل تجھ کو باد صبا چاہتا ہے\n\nمرے استخواں سے بھی ہے اس کو نفرت\nمرے فاقہ کر کے ہما چاہتا ہے\n\nنہیں خواہش اس کی کھلی ہم پہ اب تک\nوہ کیا مانگتا ہے وہ کیا چاہتا ہے\n\nمگر یہ کہ ان روزوں پھر مصحفیؔ کو\nترے غم میں سودا ہوا چاہتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%AA_%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہمیں وقف غم سر بسر دیکھ لیتے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمیں وقف غم سر بسر دیکھ لیتے\nوہ تم کچھ نہ کرتے مگر دیکھ لیتے\n\nنہ کرتے کبھی خواہش سیر جنت\nجو واعظ ترا رہ گزر دیکھ لیتے\n\nرسائی کہاں بزم دشمن میں اپنی\nکہ ہم بھی انہیں اک نظر دیکھ لیتے\n\nتمنا کو پھر کچھ شکایت نہ رہتی\nجو تم بھول کر بھی ادھر دیکھ لیتے\n\nنہ رہتی خبر دین و دنیا کی حسرتؔ\nجو سوتے انہیں بے خبر دیکھ لیتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D9%82%D9%81_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%D8%B1_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92"} {"title": "ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیا\nکہ بزم مے میں کوئی پارسا اب تک نہیں آیا\n\nستم بھی لطف ہو جاتا ہے بھولے پن کی باتوں سے\nتجھے اے جان انداز جفا اب تک نہیں آیا\n\nدم آخر تھے بالیں پہ جو آنے کو وہ آئے بھی\nتو ہنس کر کہہ گئے وقت دعا اب تک نہیں آیا\n\nسحر ہوتے بجھائے کون اے شمع لحد تجھ کو\nکوئی جھونکا نسیم صبح کا اب تک نہیں آیا\n\nخدا جانے ہوا کیا کوچۂ جاناں میں دل جا کر\nمرا بھولا ہوا بھٹکا ہوا اب تک نہیں آیا\n\nگیا تھا کہہ کے یہ قاصد کہ الٹے پاؤں آتا ہوں\nکہاں کمبخت جا کر مر رہا اب تک نہیں آیا\n\nجسے تم کوستے ہو عمر اس کی اور بڑھتی ہے\nتمہیں سب کچھ تو آیا کوسنا اب تک نہیں آیا\n\nستم کرنا دغا کرنا کہ وعدے کا وفا کرنا\nبتاؤ کیا تمہیں آیا ہے کیا اب تک نہیں آیا\n\nکسی نے کوئی دشمن میں چھپا ڈالا مٹا ڈالا\nگلی تو آئی ان کا نقش پا اب تک نہیں آیا\n\nیہ کیا انصاف ہے صیاد چھوڑے قید سے مجھ کو\nکہ ایسا کوئی مرغ خوش نوا اب تک نہیں آیا\n\nبتا دیں آ گیا کیا تم کو اس اٹھتی جوانی میں\nبتا دیں کان میں چپکے سے کیا اب تک نہیں آیا\n\nبتان نازنیں جب دیکھتے ہیں مجھ سے کہتے ہیں\nتمہاری جان پر قہر خدا اب تک نہیں آیا\n\nکیا حسرت سے رخصت صبح کے تاروں کو یہ کہہ\nکہ جس کا شام سے تھا آسرا اب تک نہیں آیا\n\nیہ غفلت ہے کہ محشر میں بھی آنکھیں بند ہیں میری\nسمجھتا ہوں یہی روز جزا اب تک نہیں آیا\n\nنہ پھوٹی کوئی کوپل تک مری شاخ نشیمن میں\nخزاں کے بعد موسم دوسرا اب تک نہیں آیا\n\nدیا ہو تو دیا ہو کچھ پیام شوق آنکھوں نے\nمرے لب پر تو حرف مدعا اب تک نہیں آیا\n\nاس ابھرے ابھرے جوبن پر یوں ہی وہ بیٹھے رہ جاتے\nانہیں اٹھتی جوانی کا مزا اب تک نہیں آیا\n\nوہ دن آئے مرے سرکار اہل بزم سے پوچھیں\nکہاں ہے کیوں ریاضؔ خوش نوا اب تک نہیں آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%BE%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B2%D8%A7_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہمیں چھوڑ کیدھر سدھارے پیارے", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمیں چھوڑ کیدھر سدھارے پیارے\nہیں مشتاق دیدے تمہارے پیارے\n\nان آنکھوں کو بادام و نرگس سے نسبت\nادھر ٹک تو دیکھو ہمارے پیارے\n\nیہ سرو سہی اور شمشاد سارے\nتمہارے قد اوپر سے وارے پیارے\n\nیہ خوبان ہندی و چین و چگل بھی\nتصدق گئے تجھ پہ آرے پیارے\n\nتجھے ٹکٹکی باندھ سب تک رہے ہیں\nفلک تک بھی بن آنکھ تارے پیارے\n\nلباس زر و گل کی حاجت نہیں ہے\nتجھے اے خدا کے سنوارے پیارے\n\nتری نیچی ان چتونوں کے ٹھگوں نے\nبدیسی بناؤ ہی مارے پیارے\n\nاسے سائی دینا اور اس کو بدھائی\nیہ چھل بل بتاؤ تو بارے پیارے\n\nپڑو پٹکی ایسے تمہارے گنوں پر\nتمہیں ہم تو سمجھا کے ہارے پیارے\n\nوہ مجلس کی مجلس جمی آن کر پھر\nہوئے ہم ہیں آخر کنارے پیارے\n\nہٹا طفل دل اظفریؔ کا ترے دیکھ\nوہ بادام و آم اور چھہارے پیارے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%DA%A9%DB%8C%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%D8%AF%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92"} {"title": "ہمیں کون پوچھے ہے صاحبو نہ سوال میں نہ جواب میں", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمیں کون پوچھے ہے صاحبو نہ سوال میں نہ جواب میں\nنہ تو کوئی آدمی جانے ہے نہ حساب میں نہ کتاب میں\n\nنہ تو علم اپنے میں ہے یہاں کہ خدا نے بھیجا ہے کس لیے\nاسی کو جو کہتے ہیں زندگی سو تو جسم کے ہے عذاب میں\n\nیہی شکل ہے جسے دیکھو ہو یہی وضع ہے جسے گھورو ہو\nجسے جان کہتے ہیں آدمی اسے دیکھا عالم خواب میں\n\nمیں خلاف تم سے نہیں کہا اسے مانو یا کہ نہ مانو تم\nمیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا میں کہ ملا ہوں اس کی جناب میں\n\nنہ سنوگے سوزؔ کی گفتگو جو پھروگے ڈھونڈنے کوبکو\nیہ نشہ ہے اس کے بیان میں کہ نہیں نشہ ہے شراب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہمیں کہتی ہے دنیا زخم دل زخم جگر والے", "poet_page": "مصنف:سائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمیں کہتی ہے دنیا زخم دل زخم جگر والے\nذرا تم بھی تو دیکھو ہم کو تم بھی ہو نظر والے\n\nنظر آئیں گے نقش پا جہاں اس فتنہ گر والے\nچلیں گے سر کے بل رستہ وہاں کے رہ گزر والے\n\nستم ایجادیوں کی شان میں بٹا نہ آ جائے\nنہ کرنا بھول کر تم جور چرخ کینہ ور والے\n\nجفا و جور گلچیں سے چمن ماتم کدہ سا ہے\nپھڑکتے ہیں قفس کی طرح آزادی میں پر والے\n\nالف سے تا بہ یا للہ افسانہ سنا دیجے\nجناب موسئ عمراں وہی حیرت نگر والے\n\nہمیں معلوم ہے ہم مانتے ہیں ہم نے سیکھا ہے\nدل آزردہ ہوا کرتے ہیں از حد چشم تر والے\n\nکٹانے کو گلا آٹھوں پہر موجود رہتے ہیں\nوہ دل والے جگر والے سہی ہم بھی ہیں سر والے\n\nتماشا دیکھ کر دنیا کا سائلؔ کو ہوئی حیرت\nکہ تکتے رہ گئے بد گوہروں کا منہ گہر والے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%AE%D9%85_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "ہمیں یاد آوتی ہیں باتیں اس گل رو کی رہ رہ کے", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہمیں یاد آوتی ہیں باتیں اس گل رو کی رہ رہ کے\nنہیں ہیں باغ میں مشتاق ہم بلبل کے چہ چہ کے\n\nکرے گا قتل کس کو دیکھیے وہ تیغ زن یارو\nچلا آتا ہے اپنے ہاتھ میں قبضے کو گہہ گہہ کے\n\nنشا ایسا ہوا اس کی نگہ کا جو نہیں تھمتے\nہمارے اشک جاتے ہیں چلے چشموں سے بہہ بہہ کے\n\nہم اس کا مسکرانا یاد کر رو رو کے ہنستے ہیں\nنہیں مشتاق اب بازار کے خندوں کے قہہ قہہ کے\n\nسخن میں فخر اپنا بن کیے رہتا نہیں ناجیؔ\nاسے سمجھائے حاتمؔ کس طرح اشعار کہہ کہہ کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%DB%81_%D8%B1%DB%81_%DA%A9%DB%92"} {"title": "ہند میں اہل تسنن کی ہیں دو سلطنتیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "ہند میں اہل تسنن کی ہیں دو سلطنتیں\nحیدرآباد دکن رشک گلستان ارم\nرامپور اہل نظر کی ہے نظر میں وہ شہر\nکہ جہاں ہشت بہشت آ کے ہوئے ہیں باہم\nحیدرآباد بہت دور ہے اس ملک کے لوگ\nاس طرف کو نہیں جاتے ہیں جو جاتے ہیں تو کم\nرام پور آج ہے وہ بقعہ معمور کہ ہے\nمرجع و مجمع اشراف نژاد آدم\nرام پور ایک بڑا باغ ہے از روے مثال\nدلکش و تازہ و شاداب و وسیع و خرم\nجس طرح باغ میں ساون کی گھٹائیں برسیں\nہے اسی طور پہ یاں دجلہ فشاں دست کرم\nابر دست کرم کلب علی خاں سے مدام\nدر شہوار ہیں جو گرتے ہیں قطرے پیہم\nصبح دم باغ میں آ جائے جسے ہو نہ یقیں\nسبزہ و برگ گل و لالہ پہ دیکھے شبنم\nحبذا باغ ہمایون تقدس آثار\nکہ جہاں چرنے کو آتے ہیں غزالان حرم\nمسلک شرع کے ہیں راہرو و راہ شناس\nخضر بھی یاں اگر آجائے تو لے ان کے قدم\nمدح کے بعد دعا چاہیے اور اہل سخن\nاس کو کرتے ہیں بہت بڑھ کے بہ اغراق رقم\nحق سے کیا مانگیے ان کے لیے جب ہو موجود\nملک و گنجینہ و خیل و سپہ و کوس و علم\nہم نہ تبلیغ کے مائل نہ غلو کے قائل\nدو دعائیں ہیں کہ وہ دیتے ہیں نواب کو ہم\nیا خدا غالبؔ عاصی کے خدا وند کو دے\nدو وہ چیزیں کہ طلبگار ہے جن کا عالم\nاولاً عمر طبیعی بہ دوام اقبال\nثانیاً دولت دیدار شہنشاہ امم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%AA%D8%B3%D9%86%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88_%D8%B3%D9%84%D8%B7%D9%86%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہند کی وہ زمیں ہے عشرت خیز", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہند کی وہ زمیں ہے عشرت خیز\nکہ نہ زاہد کریں جہاں پرہیز\n\nوجد کرتے ہیں پی کے مے صوفی\nمست سوتے ہیں صبح تک شب خیز\n\nرند کیا یاں تو شاہد و مے سے\nپارسا کو نہیں گزیر و گریز\n\nسخت مشکل ہے ایسی عشرت میں\nخطرِ حشر و بیمِ رستا خیز\n\nہے غریبوں کو جراتِ فرہاد\nہے فقیروں کو عشرتِ پرویز\n\nعیش نے یاں بٹھا دیا ناقہ\nغم نے کی یاں سے رخش کو مہمیز\n\nکوئی یاں غم کو جانتا بھی نہیں\nجز غمِ عشق سو ہے عیش آمیز\n\nبادِ صر صر یہاں نسیمِ چمن\nنارِ عنصر سے آتشِ گل تیز\n\nبوستاں کی طرح یہاں صحرا\nدل کشا، دل پذیر، دل آویز\n\nکوئی پامالِ جورِ چرخ نہیں\nکتنی ہے یہ زمین راحت خیز\n\nاثرِ زہرہ اس میں یاں پایا\nوہ جو مریخ ہے بڑا خوں ریز\n\nشیفتہ تھام لو عنانِ قلم\nیہ زمیں گرچہ ہے ہوس انگیز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%D8%AE%DB%8C%D8%B2"} {"title": "ہند کے جاں باز سپاہی", "poet_page": "مصنف:برق دہلوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "سر بکف ہند کے جاں باز وطن لڑتے ہیں\nتیغ نو لے صف دشمن میں گھسے پڑتے ہیں\nایک کھاتے ہیں تو دو منہ پہ وہیں جڑتے ہیں\nحشر کر دیتے ہیں برپا یہ جہاں اڑتے ہیں\nجوش میں آتے ہیں دریا کی روانی کی طرح\nخون دشمن کا بہا دیتے ہیں پانی کی طرح\n\nجب بڑھاتے ہیں قدم پیچھے پھر ہٹتے ہی نہیں\nحوصلے ان کے جو بڑھتے ہیں تو گھٹتے ہی نہیں\nدم پیکار حریفوں سے یہ کٹتے ہی نہیں\nالٹے قدموں پہ بلا فتح پلٹتے ہی نہیں\nہیچ ہیں ان کے لیے آہنی دیواریں بھی\nروک سکتی نہیں فولاد کی دیواریں بھی\n\nجذبۂ حب وطن دل میں نہاں رکھتے ہیں\nمثل خوں جوش یہ رگ رگ میں رواں رکھتے ہیں\nسر ہتھیلی پہ تو قبضے میں سناں رکھتے ہیں\nآنکھ جھپکانے کی بھی تاب کہاں رکھتے ہیں\nنکلی ہی پڑتی ہیں خود میان سے تیغیں ان کی\nڈھونڈھتی اپنا مقابل ہیں نگاہیں ان کی\n\nکھنچ کے دشمن سے گلے تیغ رواں ملتی ہے\nدم دفنا کرنے کو غارت گر جاں ملتی ہے\nخون کا بہتا ہے دریا یہ جہاں ملتی ہے\nموت کی گود میں دشمن کو اماں ملتی ہے\nتیغ کے گھاٹ اترتا ہے مقابل ان کا\nرن میں پانی بھی نہیں مانگتا بسمل ان کا\n\nوار بھولے سے بھی پڑتا نہیں اوچھا ان کا\nہاتھ ہوتا ہے زباں کی طرح سچا ان کا\nجس نے دیکھا کبھی منہ دیکھا نہ پیچھا ان کا\nموت بھی مانتی ہے رزم میں لوہا ان کا\nرن میں بپھرے ہوئے شیروں کی طرح لڑتے ہیں\nصاف کر دیتے ہیں جس صف پہ یہ جا پڑتے ہیں\n\nمنہ پہ تلوار کی چڑھتے ہیں سپر کی صورت\nتیغ کے پھل کو یہ کھاتے ہیں ثمر کی صورت\nحوصلے اور بڑھاتی ہے خطر کی صورت\nموت میں بھی نظر آتی ہے ظفر کی صورت\nچھلنی ہو جاتا ہے زخموں سے اگر تن ان کا\nتیغ کے سایہ میں بن جاتا ہے مدفن ان کا\n\nرزم کو بزم سمجھتے ہیں یہ مردان وطن\nشاہد مرگ ہے ان کے لیے چوتھی کی دلہن\nیہ وہ سر باز ہیں رکھتے ہیں بہم تیغ و کفن\nہاتھ دکھلاتے ہیں جب پڑتا ہے گھمسان کا رن\nان کی شمشیر دو پیکر پہ ظفر صدقے ہے\nان کا برطانیہ کے نام پہ سر صدقے ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%D9%BE%D8%A7%DB%81%DB%8C"} {"title": "ہندو اور مسلمان", "poet_page": "مصنف:افق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "فخر وطن ہیں دونوں اور دونوں مقتدر ہیں\nہیں پھول اک چمن کے اک نخل کے ثمر ہیں\nاے قوم تیرے دکھ کے دونوں ہی چارہ گر ہیں\nدونوں جگر جگر ہیں لیکن دگر دگر ہیں\nآپس کے تفرقوں سے ہیں آہ خار دونوں\nاغیار کی نظر میں ہیں بے وقار دونوں\nمل کر چلو کہ آخر دونوں ہو بھائی بھائی\nبھائی سے کیا لڑائی بھائی سے کیا برائی\nکب تک یہ خانہ جنگی کب تک یہ خودستائی\nدو بھائیوں کو ہرگز زیبا نہیں جدائی\nمل کر گلے نکالو دل کا غبار دونوں\nاس خاک کے ہو پتلے پایان کار دونوں\nرشک جناں بناؤ ہندوستاں کو مل کر\nخون جگر سے سینچو اس گلستاں کو مل کر\nلہراؤ آسماں پر قومی نشاں کو مل کر\nدو آب جاں نثاری نوک سناں کو مل کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86"} {"title": "ہندو مسلمانوں کا اتحاد", "poet_page": "مصنف:چندر بھان کیفی دہلوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جب ایک ہی چمن کی تم ہو بہار دونوں\nجب ایک ہی شجر کے ہو برگ و بار دونوں\n\nجب ایک ہی قلم کے ہو شاہکار دونوں\nجب ایک ہی وطن کے ہو افتخار دونوں\n\nآپس کی پھوٹ سے ہو کیوں دل فگار دونوں\nہاں چھوڑ دو یہ رنجش بن جاؤ یار دونوں\n\nفرزند ہو حقیقی تم مادر وطن کے\nپروان چڑھ رہے ہو میووں سے اس چمن کے\n\nیکساں ہیں جب قرینے رفتار کے چلن کے\nدونوں ہو چاند سورج اس گردش کہن کے\n\nمحتاج ہیں تمہارے لیل و نہار دونوں\nہاں چھوڑو یہ رنجش بن جاؤ یار دونوں\n\nآپس کی برہمی سے غیروں کی ہے غلامی\nکیوں ایک دوسرے سے کرتے ہو بد کلامی\n\nخواب و خیال ہے اک اب دور شاد کامی\nبربادیوں کا باعث تکرار ہے مقامی\n\nکر لوں یگانگت کے قول و قرار دونوں\nہاں چھوڑ دو یہ رنجش بن جاؤ یار دونوں\n\nمذہب پرستیوں نے دیوانہ کر دیا ہے\nاپنی برادری سے بیگانہ کر دیا ہے\n\nبرباد مرغ دل کا کاشانہ کر دیا ہے\nخالی مئے طرب سے پیمانہ کر دیا ہے\n\nجب ایک میکدے کے ہو بادہ خوار دونوں\nہاں چھوڑ دو یہ رنجش بن جاؤ یار دونوں\n\nرہنے میں کچھ ہے کیفیؔ برباد ہو کے رہنا\nکیا گوشۂ قفس میں ناشاد ہو کے رہنا\n\nسیکھو وطن میں اپنے آزاد ہو کے رہنا\nگلزار آرزو میں شمشاد ہو کے رہنا\n\nباہیں گلے میں ڈالو بے اختیار دونوں\nہاں چھوڑ دو یہ رنجش بن جاؤ یار دونوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D8%AF"} {"title": "ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست\nپوجوں میں اس کسی کو جو ہو آشنا پرست\n\nاس دور میں گئی ہے مروت کی آنکھ پھوٹ\nمعدوم ہے جہان سے چشم حیا پرست\n\nدیکھا ہے جب سے رنگ کفک تیرے پاؤں میں\nآتش کو چھوڑ گبر ہوئے ہیں حنا پرست\n\nچاہے کہ عکس دوست رہے تجھ میں جلوہ گر\nآئینہ دار دل کو رکھ اپنے صفا پرست\n\nآوارگی سے خوش ہوں میں اتنا کہ بعد مرگ\nہر ذرہ میری خاک کا ہوگا ہوا پرست\n\nخاک فنا کو تاکہ پرستش تو کر سکے\nجوں خضر مست کھائیو آب بقا پرست\n\nسوداؔ سے شخص کے تئیں آزردہ کیجیے\nاے خود پرست حیف نہیں تو ہوا پرست", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%AA_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA"} {"title": "ہندوستان", "poet_page": "مصنف:ظفر علی خان", "kind": "poetry", "section": "شاعری > نظم", "year": null, "text_ur": "ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہے\nمجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہے\n\nتہذیب ہند کا نہیں چشمہ اگر ازل\nیہ موج رنگ رنگ پھر آئی کہاں سے ہے\n\nذرے میں گر تڑپ ہے تو اس ارض پاک سے\nسورج میں روشنی ہے تو اس آسماں سے ہے\n\nہے اس کے دم سے گرمئی ہنگامۂ جہاں\nمغرب کی ساری رونق اسی اک دکاں سے ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"} {"title": "ہندوستان میں ہندوستانی", "poet_page": "مصنف:سید سلیمان ندوی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "آج کل بعض دوستوں نے پنجاب میں اردو اور دکن میں اردو لکھا ہے اورایک عزیز نے گجرات میں اردو لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لئے ضرورت تھی کہ غریب ہندوستان میں اردو کی داستان بھی کچھ سنائی جائے۔ خدا کے فضل سے اس میدان میں صوبہ متحدہ پنجاب اور دکن کے علمائے ادب نے اتنی تحقیقات کی ہے کہ’’آب حیات‘‘ کا قصہ اب افسانہ ہوکر رہ گیا ہے۔ہندوستان جیسا کہ اس وقت کی تاریخوں سے ظاہر ہے، سیکڑوں چھوٹی بڑی ریاستوں اور مملکتوں میں بٹا ہوا تھا، سلطان غزنوی کے فتوحات کے عہد میں اس ملک میں دواسلامی ریاستیں قائم تھیں، ایک ملتان میں دوسری منصورہ (یعنی بھکرواقع سندھ) میں، ان کے علاوہ صوبہ سرحد میں شالی حکومت تھی، جس کا پایۂ تخت وسیندتھا، کشمیر، اجمیر، دہلی، قنوج، مگدھ (بہار) بنگال، گجرات، مالوہ بہت سی ریاستیں تھیں جو ایک دوسرے سے باہم دست وگریباں رہتی تھیں، مسلمانوں نے آکر ان ملکوں کو ایک ملک اور ان ریاستوں کو ایک سلطنت بنایا، جس میں پشاور سے لے کر صورت تک ایک حکومت قائم ہو گئی تھی۔ہندوستان میں زبانوں کی کثرتزبان کے لحاظ سے اس میں بھانت بھانت کی بولیاں تھیں اور ہیں، چنانچہ پیمائش لسانی کے محققین کے نزدیک اس میں آج بھی تین سو سے زیادہ بولیاں مروّج ہیں۔ ان بولیوں کو چھوڑ کر یہاں کی صرف ممتاز زبانوں کو لیا جائے، تو بھی یہ تعداد دہائی سے کم نہ ہوگی۔ مسلمانوں نے جب سے اس ملک میں قدم رکھا، وہ یہاں کی زبانوں اور بولیوں کی کثرت کے شاکی نظر آئے، ۲۷۰ھ (۸۸۳ء) میں جبکہ سندھ کی اسلامی عربی حکومت پر پونے دو سو برس گزر چکے تھے، منصورہ (واقع سندھ) میں ایک ایسا عراقی مسلمان شاعر تھا جو ہندوسان کی مختلف زبانوں سے واقف تھا، اور اس نے الرا (الور سندھ) کے راجہ کی فرمائش سے قرآن کا ترجمہ ہندی (شاید سندھ کی کسی بولی) میں کیا تھا۔ 1 مسعودی جو۳۰۳ھ ۹۱۵ء میں ہندوستان آیا تھا، ہندوستان کی ملکی اور لسانی پریشان حالی کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتا ہے۔’’بعد ازیں ہند کے لوگوں کے خیالات مختلف ہو گئے اور مختلف گروہ پیدا ہو گئے اور ہر رئیس نے اپنی ریاست الگ کرلی، تو سندھ پر ایک راجہ بنا، اورقنوج پر دوسرا، اور کشمیر میں تیسرا اور مانگیر پر جو بڑا علاقہ ہے (گجرات، کاٹھیا واڑ) بلہرا (ولبھ رائے) کی حکومت ہوئی۔۔۔ اور ان ریاستوں میں باہم اختلاف 2 ہیں۔‘‘یہی مؤرخ آگے چل کر لکھتا ہے، ’’اور سندھ کی زبان ہندوستا ن سے الگ ہے۔۔۔ اورمانگیر (یعنی گجرات) کی زبان گیری ہے اور اس کے ساحلی شہروں جیسے چمبور، سوبارہ اور تھانہ (بمبئی) کی زبان لاری 3 ہے۔‘‘ابن ندیم بغدادی جس نے اپنی الفہرست ۳۷۷ھ ۹۸۷ء میں ترتیب دی ہے۔ ہند کی نسبت لکھتا ہے، ’’یہ لوگ مختلف زبانوں اور مختلف مذہبوں والے ہیں اور ان کے لکھنے کے خط بھی کئی ہیں، ایک شخص نے جو اس ملک میں خوب گھوما پھرا تھا، بتایا ہے کہ وہاں دو خط مستعمل ہیں۔‘‘ 4 ابو ریحان بیرونی نے جو سلطان محمود غزنوی کا معاصر تھا، اور جس نے ہندوستان میں سالہا سال رہ کر یہاں کے علوم وفنون اور زبانوں کو سیکھا تھا، ایک موقع پر ہندوستان کے رسم خطوں کے سلسلہ میں لکھا ہے، ’’ہندی خط بائیں طرف سے چلتا ہے، ان کے مشہور رسم خط کا نام سدھ ماترک ہے، جو کشمیر کی طرف عموماً منسوب ہے اور یہی بنارس میں جاری ہے، اور یہی مدھیہ پردیش یعنی صوبہ متوسط میں جو قنوج کے اطراف کا نام ہے، جس کوآریہ ورت کہتے ہیں، چلتا ہے۔ مالوہ کے حدود میں ایک خط جاری ہے جس کو ناگر کہتے ہیں اور اسی کے بعد اردھ ناگری خط ہے، یعنی آدھاناگر اور دوسرے خطوں سے ملا جلا ہے، اور یہ بھارتیہ اور کچھ (سندھ) میں مروج ہے، اس کے بعد ملواری خط ہے، جو ملوشا یعنی جنوبی سندھ میں رائج ہے، اور کنڑی کرناٹک میں، اورانتری (آندھری) انتر (آندھر) میں اور دراوڑی دراوڑ دیش میں اور لاری لاردیش (گجرات، کاٹھیا واڑ) میں اور گوڑی (بنگالی) پورب دیش میں اور سبکشک اودنپور میں اور یہ بوہول کا خط ہے۔‘‘ (ص۸۲)رسم خط کے اختلاف سے ہر صوبہ کی زبانوں کا اختلاف بھی ظاہر ہوتا ہے۔ یہ تو عربوں کے بیانات تھے، اب فارسی والوں کے لیجئے، امیر خسرو نے جو ساتویں صدی ہجری کے آخر اور آٹھویں صدی کے شروع میں تھے (یعنی تیرہویں صدی عیسوی کے آخر اور چودہویں صدی عیسوی کے شروع میں) اپنی مثنوی’’نُہ سپہر‘‘ میں ہندوستان کے مختلف صوبوں کی حسب ذیل بولیاں گنائی ہیں، سندھی، لاہوری، کشمیری، بنگالی، گوری (واقع بنگال) گجراتی، تلنگی، معبر ی، (کنڑی) دھور سمندری (کارومنڈل) اودھی اور دہلوی۔امیر خسرو کے تین سوبرس کے بعد اکبر کے زمانہ میں بھی یہی بولیاں تھیں، ابوالفضل آئین اکبری میں ان زبانوں کے نام یہ گناتاہے۔ دہلوی، بنگالی، ملتانی، مارواڑی، گجراتی، تلنگی، مرہٹی، کرناٹکی، سندھی، افغانی، شالی (جو سندھ، کابل اور قندھار کے بیچ میں ہے) بلوچستانی کشمیری، یہ زبانیں آج بھی موجود اور بولی جاتی ہیں، صرف ایک بمبئی کے احاط میں گجراتی، مرہٹی، کچھی، کنڑی، اردو، سندھی، چھ زبانیں رائج ہیں، مدراس میں اڑیا، ٹامل، تلنگو، ملیالم اور اردو پانچ زبانوں کارواج ہے، ایک حیدرآباد کی ریاست میں مرہٹی، کنڑی، ٹامل، تلنگی اور اردو پانچ زبانیں ایک ساتھ ہیں۔ بہار واڑیسہ میں اڑیا، اردو، ہندی، ترہتی اور بھوجپوری بولیاں ہی۔ پنجاب میں پنجابی اور اردو کا میل ہے اور صوبہ سرحد میں پشتو، پنجابی اور اردو تین زبانیں دوش بدوش ہیں۔ابھی حال میں مہا مہو اپادھیائے گوری شنکر ہیرا چنداوجھا نے ’’قرون وسطیٰ میں ہندوستانی تہذیب‘‘کے عنوان سے چند خطبے دیے ہیں، جن کو ہندوستانی اکیڈمی نے اردو میں ترجمہ کرکے شائع کیا ہے۔ فاضل موصوف نے اپنی دوسری تقریر کے خاتمہ میں سنسکرت کے بعد یہاں کی پراکرت زبانوں کا کچھ حال بیان کیا ہے ور ان کی حسب ذیل چھ قسمیں بتائی ہیں۔ ماگدھی شور سینی، مہارراشٹری، پیشاچی، اونٹک اور آپ۔ماگدھیمگدھ اور اس کے قر ب وجوار کے عوام کی زبان تھی۔ قدیم ماگدھی اشوک کتبوں میں ملتی ہے۔ عام طور پر سنسکرت کے ناٹکوں کے چھوٹے ملازم مثلاً دھیور، سپاہی، بدیسی، جین سادھو اور بچوں سے اسی زبان میں باتیں کرائی جاتی ہیں۔شورسینیشورسین یا متھرا کے قرب وجوار کے علاقہ کی زبان تھی، سنسکرت ناٹکوں میں عورتوں اور مسخروں کی بات چیت میں اس کا استعمال اکثر کیا گیا ہے۔مہاراشٹریمہاراشٹر یعنی مرہٹہ کی زبان، اس کا استعمال بالخصوص پراکرت زبان کی شاعرانہ تصانیف کے لیے کیا جاتا تھا۔پیشاچیپیشاچی زبان کشمیر اور ہندوستان کے مغربی وشمالی حصوں کی زبان تھی۔اونٹکاونٹی یعنی مالوہ کی عام زبان تھی، یہ زبان اجین اور مند سور میں رائج تھی۔اپ بھرنشاس زبان کا رواج گجرات، مارواڑ، جنوبی پنجاب، راجپوتانہ، اجین اور مندسور وغیرہ مقامات میں تھا۔ دراصل یہ کوئی زبان نہ تھی، بلکہ ماگدھی وغیرہ مختلف پراکرت بھاشاؤں کی بگڑی ہوئی مخلوط بھاشا کانام ہے۔ راجپوتانہ، مالوہ، کاٹھیا واڑ او ر کچھ وغیرہ مقامات کے بھاتوں کے ڈنکل بھاشا کے گیت ہی بھاشا کی بگڑی ہوئی صورت میں ہیں۔ قدیم ہندی بھی پیشتر اسی بھاشا سے نکلی ہے۔جنوبی ہند کی بھاشائیں ان کے علاوہ ہیں،ٹاملجنوبی ہند کی زبانوں میں سب سے قدیم اورفائق ٹامل ہے، اس زبان کا نشوونما زیادہ تر جینیوں کے ہاتھوں ہوا، اس کا رسم الخط سب سے لگ ہے۔ملیالمملیبارکی زبان ہے، مگر اس میں سنکرت الفاظ بکثرت مل گئے ہیں۔کنڑیاس زبان کے ادبیات کی پرورش وپرداخت بھی جینیوں نے کی۔تیلنگوآندھرا صوبہ میں مروج ہے۔مسلمانوں کی آمد اور زبانوں کی مشکلتفصیل بالا ایک ہندو فاضل کی تصنیف سے ماخوذ ہے۔ ان سوالوں سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ مسلمانوں کی آمد سے پہلے اس ملک میں بیسوں زبانیں مروج تھیں، جو زیادہ تر مختلف صوبوں، مختلف قوموں اور مختلف دھرموں کے زیر سایہ اپنی ہستی برقرار رکھے ہوئے تھیں۔ مسلمانوں نے جب اس ملک میں قدم رکھا، تو اس ملک کی زبانوں کی نیرنگی اور بھاشاؤں کی کثرت کو دیکھ کر متحیر رہ گئے، جیسے جیسے ان کا قدم اندرون ملک میں آگے بڑھتا گیا، ان کی حیرت میں اضافہ ہوتا گیا، وہ قدرتی طور پر اپنے ساتھ اپنی زبان بھی لائے تھے، عرب عربی، ایرانی فارسی اور ترک و مغل ترکی، مگر ان سب پر فارسی اثر غالب تھا۔ سندھ کے حکمراں گو عرب تھے، مگر ایران کے قرب اور فارسی تاجروں اور جہاز رانوں کی آمدورفت کے سبب سے عربی آمیز فارسی کی ہر جگہ کثرت تھی، اور ادھر درۂ خیبر سے جو قومیں آئیں، ان کی مادری زبان کچھ بھی ہو، مگر ان کی سلطنت کی شاہی اور دفتری زبان فارسی ہی تھی، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستانی کی شاہی و سرکاری زبان فارسی ہی رہی۔دیسی زبانوں میں مسلمانی لفظوں کا میللیکن ملکی بول چال اور عام زبانوں کے لئے نہ تو یہ ممکن تھا کہ ہندوستان کے کسی ایک صوبہ کی زبان کو اختیار کرکے اس کو پورے ملک پر محیط کردیا جائے۔ اس لئے قدرتی طورسے یہ ہوا کہ مسلمان جس صوبہ میں گئے، وہاں کی صوبہ دار زبان اختیار کی۔ ساتھ ہی مذہبی، سیاسی، تمدنی، صنعتی، تجارتی، اورعلمی ضرورتوں سے اپنی زبان کے سیکڑوں ہزاروں الفاظ اسی طرح اس ملک کی زبان میں مجبوراً بڑھائے، جیسے آج ہم انگریزی کے الفاظ واصطلاحات اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔مذہبی مصطلحاتاللہ، ایمان، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، دعا، خیرات، صدقات رسول، پیغمبر، وحی، کتاب الہٰی، دوزخ، بہشت وغیرہ بے شمار الفاظ ہیں، جن کے بعد ہندوستان کی ہر ملکی بولی میں وہ اضافہ پر مجبور ہوئے۔ اسی طرح بادشاہ، وزیر، میر عدل، صدر جہاں، مقطع دار، صوبہ دار، سپہ سالار، قاضی وغیرہ سیکڑوں سیاسی اصطلاحات تھے، جو ان کی سلطنت کے روزمرہ میں جاری تھے۔ وہ ہندوستان کی ان مختلف ملکی بولیوں میں بھی جاری ہو گئے۔ آج کل کی زمینداری میں خواہ وہ ہندوؤں کی ہو یامسلمانوں کی، جس قدر عہدے اور مالی اصطلاحات ہیں، وہ عموماً عربی فارسی آمیزش، مثلاً دیوان، نائب، تحصیلدار، ضلع دار، کارندہ، گماشتہ، سیاہہ نویس، تحویل دار، واصل باقی نویس، خزانچی، مقصدی، پیشکار، سرشتہ دار، محافظ دفتر، محرر وغیرہ۔اب اصطلاحات کو لیجئے، واصل باقی، جمع بندی، مالگزاری، جمع خرچ، گوشوارہ، فرد، بند، روز نامچہ، یادداشت، خلاصہ، کیفیت، وغیرہ، یہ الفاظ نہ صرف اردو اور سادہ ہندی میں بلکہ گجراتی، مرہٹی اور بنگالی زبانوں میں بھی بعینہ یا اس کے دوسرے مرادف مستعمل ہیں، مرہٹی بولنے والے مرہٹے اپنے وزیروں کو پیشوا اور عام ہندوریاستیں ان کو آج تک دیوان کہتے ہیں، اور یہ دونوں فارسی ہیں۔ اسی طرح مرہٹی، گجراتی اوربنگالی میں معاملہ مقدمہ کے اکثر الفاظ اور اصطلاحات عربی یا فارسی ہیں۔ ہم اپنے صوبہ کے دیہات کسانوں کے سردار کو چودھری کہتے ہیں، لیکن مہاراشٹر میں اسی کا نام مقدم ہے، کلرک کے لئے آپ محرر بولتے ہیں، مگر وہاں اس کو کارکن کہتے ہیں۔زراعت ہندوستان کاپیشہ تھا، مسلمانوں نے آکر اس پیشہ کو فن کی حیثیت سے جو ترقی دی، اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں، مختصراً اتنا کہنا ہے کہ کابل، ترکستان اور ایران کے بیسوں میوے اور پھل وہ ہندوستان لائے، اور ان کے ساتھ ساتھ ان کے نام بھی آئے اور یہ سارے ہندوستان میں ہر بولی بولنے والوں کی زبانوں پر بعینہ چڑھ گئے۔ انگور، انار، سیب، بہی، انجیر، نارنجی، خربزہ، بادام، منقی، کشمش، پستہ، شفتالو، ناشپاتی، آبجوش، خوبانی، چلغوزہ، فندق کے مزوں سے اہل ہند ایسے مانوس ہوئے کہ ان پھلوں کے ساتھ ساتھ ان کے ناموں سے بھی اپنی زبان کونئی لذت بخشی، پھولوں کے بہت سے اقسام مسلمان ہندوستان لائے مثلاً گلاب، سوسن، سنبل، ریحان، بنفشہ، خطمی، نرگس، نسرین، نسترن، گل (گولدہیر) گل شبو (گل شب لو) گل مخمل وغیرہ۔ آج یہ واقعہ تعجب سے سنا جائے گا کہ تغلقوں کے زمانہ میں دہلی اور اس کے نواح میں بارہ سوباغ تھے، جن میں نوقسم کے انگور تھے۔ (تاریخ فیروز شاہی)میوؤں کی تمہید سے مسلمانوں کے دستر خوان کے الوان نعمت یاد آئے۔ خشکہ، پلاؤ، قبولی، بریانی، زردہ، شیربرنج، قورمہ، قلیہ، شوربا، کباب، یخنی، دم پخت، کوفتہ، مزعفر، مطنجن، حلوا وغیرہ مسلمانوں نے پیش کیا، اور پورے ملک کے کام ودہن نے ان کے ناموں سے لذت پائی۔ ٹھنڈک کے لئے شربت، فالودہ، اور برف کاآبخورہ سامنے رکھا۔ ہندوستان نے ایک روٹی کو کبھی نان بنایا، کبھی شیر مال، کبھی آبی، اور کبھی باقر خانی اور کبھی روغنی، اور کبھی چپاتی، اور کبھی کاک، اور کبھی کلچہ۔ مٹھائی ہندوستان کی چیز ہے مگرصورت اور مادہ کے ساتھ ناموں کا تنوع اسلامی تہذیب نے بخشا، یہاں تک مٹھائی بنانے والے کے لئے عربی نام ’’حلوائی‘‘مہابرہمن کی پاک اور پوتر زبان کو بھی چھو لیتا ہے۔ اور حلوائی کے خوانچہ پر بالو شاہی جس کی اصل شاید والا شاہی ہو، قلاقند یا برفی، شکر پارے، نمک پارے، خرمے، نقل، گلاب جامن، حبشی زعفرانی وغیرہ ملیں گے۔کپڑوں کی نئی نئی صنعت کاریوں کی ایجادات کے ساتھ ان کے ناموں کو بھی ہندوستان کی زبانوں نے فروغ دیا، مخمل، قاقم، کاشانی، استبرق، زربفت، طاس، مقیس، شروانی، مشجر، کمخواب، دیبا، اطلس، تافتہ، بافتہ، مشروع، زری، گلبدن، تن زیب، شال باف، جامہ دار، محمودی، علی قلی خانی، زرتار، چار خانہ جامدانی، کامدانی۔ برہنہ تن ہندوستان کو ان کپڑوں کی بدولت کرتہ، اچکن، چکن، پیشواز، میرزائی، نیم آستین، جامہ، عبا، قبا، چوغہ، فرغل، کلاہ، دستار، کلغی، شال، دوشالہ، چادر، پوستین، شلوار، پاجامہ، ازار، توشک، لحاف، فرش، قالین مسند، بستر، رضائی، دولائی، تکیہ، غلاف، چادر، رومال، مندیل، موزے، ازار بند، کمر بند کے نام عربی، فارسی اور ترکی سے آئے۔ پان ہندوستان کی چیز تھی، مگر اس کے لئے پاندان، خاصدان اور اگالدان اسلامی تہذیب نے پیش کئے۔کھانا کس ملک میں پکایا اور کھایا نہیں جاتا، مگر ہندوستان کی قناعت پسند طبیعت مٹی کی ہانڈیوں اور کیلے کے پتوں سے آگے نہیں بڑھی۔ مسلمان آئے تو دیگ، دیگچی، کفگیر، چمچہ، رکابی، پیالہ، بادیہ، قاب، دستر خوان، آفتابہ، آبخورہ، سیلابچی، صابون، خلال، بکاول، باورچی، رکابدار، خانسا ماں اپنے ساتھ لائے۔ مسلمان جب یہاں آئے تو سرشام یہاں دیا اور دیپک جلتا پایا، انہوں نے برسرمحفل شمع جلائی، قندیل روشن کی اور جابجا فانوس، دیوار گیر، لالہ، مردنگ اورفتیلہ سوز رکھے، اور ان سے مشعلچی نے مشعل جلاکر راستہ کو پرنور کیا۔ ہندوستان ہمیشہ سے گرم ملک تھا، مگر شورہ لگا کر اور پہاڑوں سے برف منگا کر گرمی میں پانی کو ٹھنڈا مسلمانوں نے کیا، اور چق، چلمن اور پردے لٹکا کر کمروں کو محفوظ کیا اور ہندوستان ہی کی ایک گھاس کو خس کہہ کر پکارا اور اس کی ٹٹیاں بنواکر کھڑی کیں۔ 5گھوڑے کی سواری کہاں نہ تھی، مگر جب مسلمان یہاں آئے تو لگام، زین، تنگ، خوگیر، رکاب، نعل، نکتہ، جل جس کی خرابی جھول ہے۔ سئیس، سوار، شہ سوار، تازیانہ، قمچی سب ساتھ لائے۔ جواہرات میں درعمانی، عقیق، یمنی، لعل بدخشانی، زمرد، زبر جد، یشب، فیروزہ، سنگ، ستارہ سب ان کے لائے ہوئے ہیں۔ تعمیری پتھروں میں سنگ مرمر، سنگ سرخ، سنگ سماق، سنگ لرزاں، سنگ خارا سب ان کے نکالے ہوئے ہیں۔ زیوروں میں سرپیچ، مرزا بے پردہ، کلغی، طرہ، کانوں میں درہ، گوشوارے، ہاتھوں میں دست بند، جمال گیری، بازوبند، نگے، جوشن، پری بند، گلے میں ہیکل، طوق، تعویذ، گلوبند، زنجیر، کمر میں کمر بند اورپاؤں میں پاؤ زیب یہ ان بیسوں نام کو چھوڑ کر ہے، جو ہندی میں وضع کئے گئے۔ خوشبوؤں میں عطر ان کی ایجاد ہے اور خود عطر اور اس کے بیسیوں ہندی، فارسی اور عربی نام ان کے وضع کئے اور وہی ملک کی ہر زبان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ان مثالوں سے مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں نے جب یہاں قدم رکھا تو اپنے پورے تمدن ومعاشرت، سازو سامان اور اپنی اصطلاحات وایجادات کو ساتھ لے کر یہاں وارد ہوئے، اور ان سب کے نام اصطلاحات اور الفاظ میں اپنے ساتھ لائے، اور چونکہ یہ ہندوستان میں بالکل نئی چیزیں تھیں، اس لئے ہندوستان کی بولیوں میں ان کے مرادفات کی تلاش بیکار تھی اور وہی الفاظ ہندوستان میں رائج ہو گئے۔زبان کی ترتیب کے تین عناصرزبان کی ترکیب تین چیزوں سے ہوتی ہے۔ اسم، فعل اور حرف۔ مسلمانوں نے یہاں آکر جو زبان اختیار کی اس کے تمام فعل اور حروف ہندوستانیوں کی بولیوں کے اختیار کئے۔ البتہ آدھے اسماء جن میں بڑا حصہ نئی چیزوں اور نئے ناموں کاتھا، وہ اپنی زبان سے لائے، بقیہ اسماء بھی ہندوستان ہی کے ہیں، ایسی حالت میں ہندو مسلمانوں کے مسلمہ اصول تقسیم حقوق تہائی فی صدی سے زیادہ قبضہ تو مسلمانوں کااس زبان پر نہیں، پھر کیا یہ ظلم نہیں کہ اس سے بھی دست بردار ہونے پر ہم کو مجبور کیا جاتا ہے۔سندھ کی وادی ہماری متحدہ زبان کاپہلا گہوارہگزر چکا ہے کہ ہندوستان کے ہر صوبہ میں الگ الگ بولی تھی۔ مسلمان سب سے پہلے سندھ میں پہنچتے ہیں۔ اس لئے قرین قیاس یہی ہے کہ جس کو ہم آج اردو کہتے ہیں، اس کا ہیولا اسی وادی سندھ میں تیار ہوا ہوگا، عربی وفارسی بولنے والے مسلمان تاجر عراق بندرابلہ، سیراف او ر بصرہ سے نکل کر، سندھ کے بندروں سے گزر کر گجرات ہوکر، بحرہند کے کنارے کنارے سفر کرتے تھے، آخر پہلی صدی ہجری کے آخر یعنی ساتویں صدی عیسوی میں عرب مسلمانوں نے سندھ پر قبضہ کر لیا۔ یہ اسلامی لشکر شیراز وعراق سے مرتب ہوکر گیا تھا جس کے یہ معنی ہیں کہ اس لشکر کے لوگ فارسی اور عربی بولتے تھے۔ اس کے بعد جو سوداگر اور تاجر یہاں آکر بودوباش اختیار کرنے لگے تھے، وہ بھی عربی اور فارسی بولتے تھے، جہاز رانوں کی زبان بھی عربی وفارسی سے مرکب تھی، خود سندھیوں کی آمدورفت بھی عراق میں لگی رہتی تھی، خصوصاً جب ۱۳۳ھ ۷۵۱ء میں خلافت کا مرکز شام سے عراق کو منتقل ہوگیا اور سندھ کے پنڈت بغداد جاکر اپنی زبان سے عربی کتابوں کے ترجمہ میں مدد دینے اور وہاں کے مختلف علمی وطبی منصوبوں پر سرفراز ہونے لگے۔اس زمانے میں عربی میں ہندی کے بہت سے اصطلاحی لفظ اور دواؤں اور خوشبوؤں کے نام داخل ہوئے مثلاً بیڑہ جس کی عربی شکل بارجہ ہے، پلنگ جس کی عربی صورت بلنجہ ہے، جہاز کے خواب گاہ کے معنوں میں عرب ملاحوں نے اس کو استعمال کیا ہے۔ اس طرح خوشبوؤں میں صندل (چندن) کافور (کپور) قرنفل (کرن پھول) عود قماری (راس قماری کاعود) وغیرہ لفظ ہیں۔ دواؤں میں سب سے عجیب نام مجھے ’’بہط‘‘معلوم ہوتاہے، جس کو خوارزمی نے جوسلطان محمود کامعاصر تھا، مفاتیح العلوم میں نقل کیا ہے، جو ہمارے ’’ بھات‘‘ کی خرابی ہے، جو مریضوں کی غذا تجویز کی گئی تھی۔ پھلوں میں امبج (آنب) آم اور لیموں ہیں، جن کا ذکر ۳۰۴ھ ۹۱۵ء میں مسعودی نے کیا 6 ہے۔سندھ اور ملتان میں مسلمانوں کی ریاستیں تین سو برس تک قائم رہیں اور آخر سلطان محمود المتوفی ۴۲۱ھ۱۰۳ء کے ہاتھوں ان دونوں ریاستوں کاخاتمہ ہوا، ان ریاستوں کا مذہبی تعلق بغداد اور مصر سے تھا اور خراسان، عراق، یمن، ایران اور مصر سے یہاں آنے والے تاجروں او ر مسافروں کی برابر آمدورفت لگی رہتی تھی۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ سندھ او ر ملتان میں دیسی بولیوں کے ساتھ عربی وفارسی کامیل جو ل بڑھتا رہے، اور ایک نئی مرکب بولی کا ہیولیٰ تیار ہو، خوش قسمتی سے اس وقت ہمارے پاس بعض ایسی شہادتیں موجود ہیں، جن سے کچھ نہ کچھ اس خیال کی تائید ہوتی ہے۔ بزرگ بن شہر یار ملاح جو ۳۰۰ھ۹۱۲ء میں بحرہند کے سواحل سے گزرتا رہتا تھا، اس نے اپنے بحری سفر نامہ میں جس کا نام عجائب الہند ہے، کئی ہندی الفاظ استعمال کئے ہیں، وہ ۲۷۰ھ ۸۸۳ء کا ایک قصہ ہم کو سناتا ہے۔شہر الور واقع سندھ کے ایک ہندوراجہ نے منصورہ واقع سندھ کے مسلمان بادشاہ سے ایک ایسے مسلمان عالم کی درخواست کی جو اس کی زبان میں اسلام کی خوبیاں بتا سکے۔ بادشاہ نے ایک ایسے عراقی عالم کاانتخاب کیا جو ہندوستان کی بہت سی بولیاں جانتا تھا، چنانچہ وہ گیا اور سب سے پہلے راجہ کی خدمت میں اپنا ہندی قصیدہ پیش کیا اور پھر قرآن کا ترجمہ کیا۔ بغداد کاسیاح اصطخری ۳۴۰ھ۹۵۱ء میں سلطان محمود سے تقریباً ساٹھ برس پہلے سندھ اور ملتان آیاتھا، وہ کہتا ہے، منصورہ (یعنی موجودہ بھکر واقع سندھ) اور ملتان اور ان کے اطراف کی زبان عربی اور سندھی ہے اور مکران والوں کی زبان فارسی اور مکرانی ہے۔ (ص۷۷ طبع لائیڈن۔)اس کے بعد بغداد کا دوسرا سیاح ابن حوقل بھی جس کی سندھ اورملتان میں سیاحت کا زمانہ ۳۵۸ھ ۹۶۸ء ہے۔ یہی کہتا ہے کہ، منصورہ (بھکر) اور ملتان او ر اس کے اطراف میں عربی اور سندھی بولی جاتی ہے۔ (سفر نامہ ابن حوقل ص۲۳۲ لائیڈن۔) اس کے چند سال کے بعد ۳۷۵ط ۹۶۸ء میں بشاری مقدسی ملتان آیا، وہ لکھتا ہے، ’’اور یہاں فارسی زبان سمجھی جاتی ہے۔‘‘ (سفر نامہ بشاری ص۴۴۱ لائیڈن۔) پھرویبل یعنی ٹھٹھ واقع سندھ کے حال میں کہتا ہے، (ٹھٹھ) سمندر کے ساحل پر ہے، اس کے چاروں طرف سوگاؤں کے قریب ہیں، اکثر غیر مسلم ہندو ہیں، سمندر کا پانی شہر کی دیواروں سے آکر ٹکراتا ہے، یہ سب سودا گر ہیں۔ ان کی زبان سندھی اور عربی ہے۔ (ایضاً ص۴۷۹)ان معاصرانہ شہادتوں کی بنا پر ماننا پڑےگا کہ عربی وفارسی الفاظ کا میل جول ہندوستان کے جس حصہ میں پہلے واقع ہوا وہ سندھ ہے، جس کی حد اس زمانہ میں ملتان سے لے کر بھکراوت ٹھٹھ کے سواحل تک پھیلی تھی۔ اس زمانہ میں ایران، ترکستان اور خراسان سے ہندوستان آنے کاراستہ براہ راست ملتان ہوکر تھا، چنانچہ سلطان محمود غزنوی بھی اسی راستے سے ہندوستان آیا۔ اس کا اثر یہ تھا کہ ان ملکوں سے علم وفن کے کامل اور شعر وادب کے ماہر اسی راستے سے آکر ہندوستان کے جس شہر میں داخل ہوئے تھے، وہ ملتان تھا۔ چنانچہ سلطان ناصر الدین قباچہ کے زمانہ تک جو سلطان التمش کا معاصروحریف تھا، ملتان ہی اسلامی علوم وفنون کا مرکز اور اسلامی تعلیم کی درس گاہ تھا، اس کے بعد رفتہ رفتہ یہ مرکزملتان سے لاہور کو اور پھر لاہور سے دہلی کو منتقل ہو گیا۔اس تشریح سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ مسلمانوں کی عربی وفارسی سب سے پہلے ہندوستان کی جس دیسی زبان سے مخلوط ہو گئی، وہ سندھی اور ملتانی ہے پھر پنجابی اور بعد ازاں دہلوی۔ سندھی پر اس اختلاط کی شہادت آج بھی اسی طرح نمایاں ہے۔ چنانچہ ہماری اردو کی طرح سندھی بھی عربی وفارسی الفاظ سے اسی طرح گراں بارہے اور سب سے عجیب یہ کہ اس کا رسم الخط آج تک ٹھیٹھ عربی نسخ ہے اور عربی کے بہت سے خالص الفاظ مستعمل ہیں، مثلاً پہاڑ کو جبل اور پیاز کو بصل کہتے ہیں۔سندھی، ملتانی اور پنجابی آپس میں بالکل ملتی جلتی ہیں۔ تینوں میں بہت سے فارسی الفاظ کا اشتراک ہے۔ تینوں میں عربی وفارسی کا میل ہے، صیغوں کے طریق میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے، یہاں پر اس تاریخی غلط فہمی کا مٹانا ضروری ہے، جس کے روسے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ بولیاں موجودہ اردو کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ موجودہ اردو ان ہی بولیوں کی ترقی یافتہ اور اصلاح شدہ شکل ہے، یعنی ہم جس کو اردو کہتے ہیں اس کا آغاز ان ہی بولیوں میں عربی وفارسی کے میل سے ہوا، اور آگے چل کر دارالسلطنت دہلی کی بولی سے جس کو دہلوی کہتے ہیں مل کر معیاری زبان بن گئی او ر پھر دارالسلطنت دہلی کی بولی سے جس کو دہلوی کہتے ہیں مل کر معیاری زبان بن گئی اور پھر دارالسلطنت کی بولی معیاری زبان بن کر تمام صوبوں میں پھیل گئی، علامہ بیرونی المتوفی ۴۲۰ھ ۱۰۳۸ء جس نے ہندوستان میں شاید ملتان اورسندھ میں رہ کر کتاب الہند کا مسالہ مہیا کیاہے، اس نے اپنی کتاب میں جس لہجہ اور طرز ادا میں ہندی الفاظ لکھے ہیں، ان سے ماہرین ادب نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ وہ ملتانی اور سندھی شکل میں ہیں۔غزنوی دور میںبہرحال اب وہ زمانہ ہے جب غزنیں میں آل سبکتگین کی حکومت قائم ہے، اور سبکتگین اور اس کے فرزند ہندوستان پر پے درپے حملے کرتے ہیں، ان حملہ آوروں کی مادری زبان ترکی مگرعلمی وادبی وسرکاری زبان فارسی تھی۔ سلطان محمود غزنوی المتوفی ۴۲۱ھ ۴۳۰ء نے گوگجرات تک دھاوا کیا، مگر اس کی سلطنت بالآخر پنجاب وسندھ میں سمٹ کر رہ گئی۔ جہاں تقریباً دوسو برس تک وہ قائم رہی، اس میل جول کا اثر یہ ہوا کہ ترکستان، ایران اور کابل کے ہزاروں لاکھوں آدمی ہندوستان آکر بس گئے، اور ہزاروں ہندوستانی ان ملکوں میں جا پہنچے اور ہندی غلاموں اور کنیزوں کی گھر گھر فراوانی ہوئی۔ 7 غزنیوں کی فوج میں بہت سے ہندو افسر اور سپاہی نوکر تھے اور وہ حدو د سلطنت میں موقع بموقع بھیجے جاتے تھے۔سلطان محمود کے دربار میں ہندی کا مترجم تلک نام کا ایک ہندو تھا، جس کی تعلیم وتربیت کشمیر میں ہوئی تھی، اور اصفہان جاکر اس نے فارسی سیکھی تھی، سلطان مسعود کے زمانہ میں جو ۴۲۱ھ۱۰۳۰ء میں تخت پر بیٹھا تھا، اس عہدے پر ایک ہندو بیربل نام سرفراز تھا، سلطان پور کے دربار میں جہاں عرب وعجم کے ادباء رہتے تھے، فضلائے ہندبھی ان کے پہلو بہ پہلو تھے، کالنجر کے راجہ انندا نے ۴۱۳ھ۱۰۲۲ء میں ہندی میں بادشاہ کے لئے مدحیہ شعر لکھے، آنند ابزبان ہندی در مدح سلطان شعرائے گفتہ نزدا وفرستاد سلطان آنرا بفضلائے ہندو عرب وعجم کہ در ملازمت اوبودند نمودہ تحسین وآفریں کردند۔ آنند انے ہندی زبان میں سلطان محمود غزنوی کی تعریف میں اشعار کہہ کر بھیجے تھے۔ سلطان نے یہ اشعارہند عرب اور عجم کے ان فاضلوں کو دکھائے جو اس کے یہاں ملازم تھے، سب ہی نے ان کی تعریف وتحسین کی۔ تاریخ فرشتہ۔)اس اختلاط اورمیل جول کا قدرتی اثر یہ ہوا کہ اہل ولایت کی زبانوں پر فارسی الفاظ چڑھ گئے۔ چنانچہ یہی سبب ہے کہ غزنوی عہد کے بعض ان شعراء کی زبانوں سے بھی ہندی الفاظ ادا ہوئے ہیں، جنہوں نے ہندوستان کا منھ بھی نہیں دیکھا تھا، حکیم سنائی غزنوی ۴۶۴ھ۱۰۷۱ء تا۵۴۵ھ۱۱۵۰ء جو بہرام شاہ غزنوی کے معاصر تھے، اپنے ایک قصیدے میں زبانوں کے اختلاف کو غیر اہم بتا کر فرماتے ہیں، 8تو بے مرگ ہرگز بجائے نیابیزشک نعمتہائے اینی وآنیاسامی دریں عالم است ارنہ حاشاچہ آب وچہ ناں وچہ میدہ چہ پانیعہد غزنوی کا مشور شاعر مسعود سعد سلمان جو خاص لاہور میں پیدا ہوا تھا، اس کی نسبت عوفی اور امیرخسرو نے لکھا ہے کہ وہ عربی وفارسی کے علاوہ ہندی کا بھی شاعرتھا، اور اس زبان میں اپنا ایک دیوان بھی یادگار چھوڑا، اس کے دیوان میں ایک شعر کا دوسرا مصرع ہے، برآمدا زپس دیوار حصن مارامار۔ ان شعروں میں ’’پانی‘‘ اور ’’مارامار‘‘ اور شاید’’میدہ‘‘ ہندی لفظ ہیں۔ جو اہل ولایت کی زبانوں پر چڑھ گئے۔ اب ساتویں صدی ہجری کے آغاز میں غوریوں کا دور شروع ہوا، جنہوں نے بہت جلد لاہور اور ملتان سے آگے بڑھ کر اصل ہندوستان پر قبضہ کیا، اور دہلی کو اپنا پایۂ تخت بنایا۔ اب اس مشترکہ زبان کاقدم اور آگے بڑھا، ان کی حکومت پشاور سے گجرات اور بنگال تک قائم ہو گئی اور اس پورے ملک میں جہاں کہیں بھی بول چال کی ایک زبان نہ تھی ایک مشترکہ زبان کا ہیولی تیار ہو گیا۔ قاضی سراج منہاج جو ۶۲۴ھ ۱۲۲۶ء میں سندھ اور ملتان کی راہ سے ہندوستان آئے تھے، اپنی تاریخ میں کوچ بہار اور اس کے قرب ونواح کے فتوحات کے سلسلہ میں لکھتے ہیں، ’’وایں راز زبان دیگر است میاں لغت ہندوتبت۔‘‘ (ص۱۵۲ کلکتہ) کوچ بہار اور اس کے گردونواح کے باشندوں کی جداگانہ زبان ہے جو ہندوستان اور تبت کے بیچ کی زبان ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ہندوستان کی ایک زبان پنجاب سے لے کر بنگال تک پیدا ہوچلی تھی، جس کے برخلاف وہاں کی زبان ہندوستانی زبان اور تبت کی زبان کے بیچ میں تھی۔ یہیں خلیج فارس اور بحر ہند کے ذکر میں وہ لکھتے ہیں، ’’آب گویند چوں بدریائے ہندوستان درآید اور لغت ہندوی سمندر گویند۔‘‘ (ص۱۵۲ طبقات ناصری، منہاج کلکتہ)دہلی کے سب سے پہلے سلطان قطب الدین ایبک کو رعایا نے اس کے جودوکرم کے صلہ میں ’’لک بخش‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ (فرشتہ جلد اول ص۶۳) یعنی لاکھوں کا دینے والا۔ اس کے زمانہ کی تعریف اہل ہند ’’کال قطب الدین‘‘ کہتے تھے، ’’وکال زمانہ راگویند۔ (فرشتہ جلد اول ص۶۳ نول کشور) اس عہد کے سکوں پر بادشاہ کے نام کے ساتھ ’’ شری امیرالکھا ملتا ہے، شری کا لفظ آج بھی ہندوؤں میں شری مہراج کی ترکیب میں مستعمل ہے۔ مگر اس وقت کی اس ترکیب ’’شری امیر‘‘ پر ذرا غور کیجئے۔ملتان سے دہلیشمس الدین التمش نے اپنے خواجہ تاش لیکن حریف ناصرالدین قباچہ کو ۶۱۵ھ ء ۱۲۱۸ء میں شکست دے کر ملتان اور سندھ کو بھی دہلی سے ملالیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان اطراف کے بہت سے تاجر اور سودا گر دہلی آ گئے، بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ ’’ملتانیاں‘‘ کا لفظ اس زمانہ میں ’’سوداگران پارچہ کے ہم معنی ہوگیا تھا۔ 9 اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اب ملتان اور لاہور اور دہلی کی مشترکہ خدمات اس متحدہ زبان کے بنانے میں شامل ہوگئی تھیں، اس کی سند میں ایک بزرگ ہستی کا نام لینا ہے جس کی پیدائش اور تعلیم و تربیت تو ملتان اور سندھ میں ہوئی، مگر روحانی اکتساب فیض دہلی میں فرمایا اور آخری سکونت اور دائمی آسودگی لاہور کی مملکت میں اختیار فرمائی، یعنی حضرت بابا فرید شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ۔ہندوستان کے روحانی فاتحجن لوگوں کو ہندوستان کی سیاسی تاریخ کے ساتھ ساتھ یہاں کی روحانی تاریخ کا مطالعہ کا موقع ملا ہے، وہ یہ تسلیم کریں گے کہ ہندوستان میں غزنیں اور غور کے سلاطین ملکی فتوحات کے لئے جہاں جہاں بڑھتے جاتے تھے، ان سے پہلے یہ روحانی سلاطین اپنے روحانی فتوحات کے لئے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ اگر یہ کہنا صحیح ہے کہ ہندوستان کے ملک کو غزنیں اور غور کے بادشاہوں نے فتح کیا ہے تو اس سے زیادہ یہ کہنا درست ہے کہ ہندوستان کی روح کو خوانوادۂ چشت کے روحانی سلاطین نے فتح کیا۔ یہ ایک خود مستقل موضوع ہے اور کبھی فرصت سے یہ بڑی داستان بھی سننے کے لائق ہے۔یہ روحانی فاتح عوام سے ملتے ہیںہندوستان میں کسی ایک متحدہ زبان کی ضرورت جتنی سلطنت کو ہوتی تھی، اس سے کہیں زیادہ عوام کو اور ان سے زیادہ صوفیوں کو، جوہر بولی کے انسانوں تک پہنچنا فرض سمجھتے تھے۔ اب تک اردو کی تاریخ میں اکبر اور شاہجہاں اور ان کے مینابازار اور اردوئے معلیٰ کو اہمیت دی گئی ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ ان سے کہیں زیادہ صوفیہ کو اہمیت حاصل ہے جن کو ہندوستان کے عوام کی زبان کو اختیار کرنے میں نہ سلطنت کے رعب داب کا خیال مانع آ سکتا تھا، او ر نہ علم ظاہر کے جبہ ودستار کے وقار کا، بلکہ عوام کی اصلاح اور حق کی تبلیغ کی خاطر ان کو ہندوستان کے عوام کی دیسی زبان کو قبول کرنے میں کوئی تامل نہ تھا۔ ٹھیک جس طرح مسلمانوں سے پہلے ہندوستان کے عوام کی زبان کو بودھ نے اپنے دھرم کے پرچار کے خاطر اختیار کیا اور اسی میں اپنا اپدیش دیا، اور جس طرح مسلمانوں کے بعد عیسائی پادریوں اور مشنریوں نے یہاں کے عوام کی بولیوں کو بے تامل استعمال کیا، اس طرح ان صوفیوں نے اس وقت کے عوام کی دیسی زبان کے بولنے میں پیش دستی کی۔حضرات صوفیہ اور یہ نئی زبان، اس وقت تک اردو کے جتنے قدیم فقرے مل سکتے ہیں، وہ عموماً صوفیوں کے ملفوظات ہیں اور اردو کی پرانی تصنیفیں خواہ وہ دکھنی ہوں یا گجراتی، وہ سب صوفیوں کی لکھی ہیں۔ جس طرح ۱۸۵۷ء کے انقلاب سے کچھ پہلے دہلی کے علم و عرفان کے مشہور خانوادہ نے وقت کی اردو زبان کو جس کو ا س وقت ہندی زبان کہتے تھے، اپنے اصلاحی رسالوں اور تصنیفوں اور قرآن وحدیث کے ترجموں کے لئے فارسی کے بجائے پسند کیا اور عوام تک پہنچنے کی خاطر اردو ہی کو، جس میں اس وقت تک شمالی ہند میں لکھنا پڑھنا عیب سمجھا جاتا تھا، بے تکلف قبول کیا، اور اصلاح دین اور رد بدعات کا بڑا ذخیرہ اردو میں جمع کردیا، جس نے رفتہ رفتہ اہل علم سے اس نئی زبان میں لکھنے پڑھنے کا حجاب اٹھا دیا۔خواجہ فرید شکر گنج ملتانیخانوادۂ چشت کے فرد فرید شکر ستان معرفت کے مشہور گنج شکر سے کون واقف نہیں، حضرت خواجہ فرید گنج شکر کا خاندان اگرچہ کابل کا تھا مگر شہاب الدین غوری کے زمانہ میں ملتان آکر بس گیاتھا۔ اور خواجہ کی ولادت یہیں قصبہ کہنی وال مضافات ملتان میں ۵۸۴ھ۱۱۸۹ء میں ہوئی۔ خواجہ کی نشو ونما اور ان کی تعلیم وتربیت ملتان میں ہوئی۔ اٹھارہ برس کی عمر تھی، ملتان کے مدرسہ میں مولانا منہاج الدین ترمذی سے فقہ میں کتاب نافع کا درس لے رہے تھے کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا گزر ہوا اور ایک ہی نظر کیمیا اثر نے ان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ بہرحال ملتان سے نکل کر قندھار اور دوسرے ممالک سے اخذ فیض کے بعد پھر اپنے وطن واپس آئے اور بعد کو اپنے پیر کے حضور میں دہلی آئے اور یہاں سے پنجاب کے شہر اجودھن میں جاکر اقامت اختیار کی اور وہیں ۶۷۰ھ ۱۲۷۱ء میں آسودۂ خاک ہوئے۔ اس وقت تک اس زبان کی ابتدائی تاریخ کا جہاں تک پتہ لگ سکا ہے، اس سے یہی ظاہر ہوتاہے کہ وہ شیریں دہن جس کے منہ سے مصری کی یہ ڈلیاں پہلے نکلیں خواجہ فرید گنج شکر ہیں، چنانچہ ملفوظات اور تصوف کی کتابوں میں موصوف کے چند فقرے ملتے ہیں۔(۱) پہلا فقرہ وہ مکالمہ ہے جو حضرت خواجہ اور ان کے مریدشیخ جمال الدین مانسوی کی بیوہ کے درمیان ہوا، خواجہ نے شیخ جمال الدین کے خورد سال بچہ برہان الدین کو ان کے باپ کی وفات کے بعد اپنے حلقۂ بیعت میں لے لیا۔ اس پر ان کی والدہ نے کہا، ’’خواجہ برہان الدین بالا ہے۔‘‘ خواجہ نے فرمایا، ’’ پونوں کا چاند بالا ہوتا ہے، 10 یہ ’’بالا‘‘وہی لفظ ہے جو لڑکے بالے اور بچہ بالا کے ساتھ آج بھی بولا جاتا ہے۔ اب تک صوفیانہ ذکر اورمراقبہ میں عربی یا فارسی کے فقرے استعمال ہوتے تھے۔ خواجہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے ان کو ہندوستانی زبان میں ادا فرمایا۔ ہمارے کتب خانہ میں اورادو تصوف کی دوقلمی کتابیں ہیں جن میں حضرت کے یہ فقرے مذکور ہیں، فرمایا، 11(۲) درراستا مگوئی، ادہی ہی دورچپا بگوئی یہی ہی، در دل بگوئی اینہی ہی۔ دیگر زبان ہندی۔(۳) درراستہ ہمہ تون، ودرچپاہی تون ودردل ہمہ تون۔(۴) دیگر کو یداز طرف دل ہوں توں ودر آسماں تو ں ہوں۔ تون ہوں کی نسبت یہ کہا گیا ہے کہ یہ عربی فقرہ اناانت کا ترجمہ ہے۔تصوف کے افکار کے ایک اور رسالہ میں جس کا نام ’’جواہر خمسہ‘‘ ہے اورجس کا ۱۰۱۷ھ ۱۶۸۵ء کا لکھا ہوا نسخہ کتب خانہ دارالمصنفین میں ہے، یہ مذکورہے، ’’بندگی حضرت قطب الاقطاب حضرت شیخ فرید شکر گنج قدس اللہ سرہٗ ذکر بزبان ہندی وضع فرمودہ اند اور عمل آوردہ اند، ہونہہ تون اہونہہ تون اینہیں تون سوئے آسمان نگریستہ بزبان گویدا ہونہتوں۔۔۔ باز روئے سوئے زمین کردہ بہمان طریق زباں گوید اہونہہ توں۔۔۔ بعدہٗ نظر را بردارد، وبرخود گمار وپیاسہ کرت یا ہفتہ کرت اینہیں توں۔‘‘شیخ اپنے ایک دوست کو ’’بھیا‘‘ کہا کرتے تھے۔ 12 آپ سے پوچھا گیا، کہ ذہن کا مقام کہاں ہے؟ تو فرمایا’’بیچ سر 13 کے۔‘‘ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ بابا فرید اپنی آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے تھے، ان کے پیر خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے سبب پوچھا تو بابا نے ہندی زبان میں جواب دیا، ’’آنکھ آئی ہے‘‘ شیخ نے فرمایا، اگر آئی ہے ’’چرابستہ اید؟‘‘ سرسہ کے مقام پر بابا فرید ایک بزرگ کے مزار پر جایا کرتے تھے، کچھ لوگ ان کے راستہ میں چھپ کر بیٹھ گئے۔ جب آپ کو معلوم ہوا تو ناخوش ہوئے، اور ہندی میں فرمایا، سرسہ کبھی سرسہ، کبھی نرسہ۔ (۱۶)ہمارے وطن (دیسنہ ضلع پٹنہ) میں اردو کا ایک کتب خانہ ہے اس میں چند پریشان اوراق کا ایک پرانا مجموعہ ہے جس میں کسی صاحب نے حضرت بابا فرید کے کچھ فارسی اقوال لکھے ہیں، اور ساتھ ہی ذیل میں ایک نظم بھی ہے،وقتِ سحر وقتِ مناجات ہےخیز دراں وقت کہ برکات ہےنفس مبادا گر بگوید ترا!خسپ چہ خیزی کہ ابھی رات ہےبادمِ خود ہمدم وہشیار باشصحبتِ اغیاربوری بات ہےباتن تنہا چہ روی زیں زمیننیک عمل کن کہ وہی سات ہےپند شکر گنج بدل وجاں شنوضائع مکن عمر کہ ہیہات ہےاس نظم کو اردو کے ایک مشہور مؤلف نے حضرت شکر گنج کی طرف منسوب کیا ہے۔ حالانکہ میرے خیال میں یہ حضرت کے فارسی اقوال کے جامع کی نظم ہے، نہ کہ خود حضرت کی ہے۔ اخیر شعر میں شکر گنج کے توصیفی لقب کو تخلیق سمجھنا تعجب انگیز ہے، ظاہر ہے کہ خود حضرت اپنے آپ کو شکر گنج نہیں کہتے تھے، اتنا صحیح ہے کہ حضرت کی زبان مبارک سے بعض ہندی دوہے ادا ہوئے ہیں جن میں سب سے مقدم اور مستند وہ ہے جو میر خورد دہلوی نے سیرالاولیاء میں نقل کیا ہے، ’’ایں دوہرہ کہ بزبان مبارک حضرت شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین گزشتہ است مناسب ایں معنی است۔گنت نہوتین کارری ناکان ست منائےبس کندے مدھن گر ہو رین لہائے۔‘‘ 14بہرحال اس نظم سے قطع نظر کرکے فقروں میں ’’کا اور کے اضافت کی علامت’’ ہوتاہے‘‘ اور ’’آئی ہے‘‘ فعل اور ہوں۔ توں اوہی یہی ضمیر اور اینہی اور ہوان ظرف اور بالا، چاند، آنکھ بھیا اسماء اس میں موجود ہیں۔حضرت نظام الدین دہلویخواجہ فرید شکر گنج کے مرید حضرت نظام الدین سلطان الاولیاء المتوفی ۷۲۵ھ ۱۳۲۵ء کے ملفوظات فوائد الفوائد میں، جس میں حضرت کے ۷۲۲ھ ۱۳۲۲ء تک کے ملفوظات امیرخسرو کے دوست امیر حسن دہلوی نے جمع کئے ہیں، حسب ذیل ہندوی الفاظ ان کی زبان مبارک سے بے تکلف ادا ہوئے ہیں، پیاز (ص۹) لنگوڑ (ص۹) کھٹ (یعنی کھاٹ ص۵۱) کندوری (عرس ص۵۵) چھجہ (ص۶۸) لنگھن (فاقہ ص۸۶) دھاڑی (یعنی ڈاکو ص۱۲۸) لٹ (ص۱۶۳)حضرت سلطان الاولیاء کی زبان سے یہ شعر ادا ہوا ہے،لنگھت گر کند ترا فربہسیر خوردن تراز لنگھن بہ 15حضرت سلطان الاولیاء نے شیخ احمدنہر والی کے ذکر میں فرمایا کہ شیخ احمد بہت خوش آواز تھے۔ ’’ہندویہا خوش گفتہ، ہندوی می گفت۔‘‘ یعنی گایا کرتے تھے، جامع مسجد اجمیر کے امام، فقیہ مادھو (ذرا ایک ہندی عالم کے اس عالمانہ نام پر نظر رہے) نے ایک دفعہ ان کاہندی گانا سن کر فرمایا، ’’ چنیں آوازے کہ تو داری دریغ باشدکہ در سرود ہندوی خرچ کنی، شیخ احمد نے اسی وقت سے قرآن یاد کرنا شروع کر دیا۔ (ص۱۸۴مطبع اودھ اخبار)شیخ نصیرالدین اودھیشیخ نظا م الدین اولیاء کے مرید شیخ نصیر الدین اودھی چراغ دہلی (المتوفی ۷۵۶ھ۱۲۵۵ء نے جب اپنے ایک ساتھی شیخ اخی سراج کو بنگالہ رخصت کیا، تو انہوں نے عرض کی کہ اس مملکت پر توشیخ علاء الدین قل سرفراز ہیں، فرمایا ’’تم اوپر قل تلے۔‘‘خواجہ بندہ نواز دکنیشیخ نصیر الدین دہلوی کے دوسرے ممتاز مرید حضرت خواجہ بندہ نواز ہیں، جو ۸۱۵ھ میں دہلی سے بہمنیوں کی سلطنت گلبرگہ میں آ گئے اور یہیں ۸۲۵ھ میں وفات پائی، ان کا ایک فقرہ ان کے ایک مرید نے یہ نقل کیا ہے۔ بھوکوں موئے سوں خدا کچھ اپڑیتا ہے، خدا کو ن اپڑنے کی استعداد ہو رہے۔‘‘ 16 ان کا پورا ہندوی رسالہ معراج العاشقین چھپ چکا ہے۔ان بزرگوں کے ان مسلسل فقروں کو سن کر اب اس میں شک کی کیا گنجائش رہ گئی ہے کہ اس زبان کی عمر جتنی سمجھی جاتی ہے اس سے کہیں زیادہ ہے، یہ حقیقت میں ہندوستان ہی کی زبان تھی جس کو ان بزرگوں نے قبول کی نظر سے دیکھا، اور محبت کی شکر میں گھولا۔خلجی اور تغلق دورمیںیہ تغلق اورخلجی سلاطین کا دور ہے۔ ان بادشاہوں کے زمانہ کی دو یادگار تاریخیں ہمارے سامنے ہیں۔ تاریخ فیروز ضیائے برنی اور تاریخ فیروز شاہی سراج عفیف، ان دونوں تاریخوں میں، جن میں پہلی دہلی میں چھٹی صدی کے آخر اورساتویں صدی ہجری کے اوائل میں اور دوسری ساتویں صدی کے بیچ میں تصنیف ہوئی ہے، بہت سے ہندی الفاظ اور مصطلحات ملتے ہیں اور جو آج تک اس مشترکہ ہندوستان یزبان کا سرمایہ ہیں۔بحیرہ لکہہ (لاکھ) کہار (ص۸۶۱) ٹھگ (۱۸۹) لونڈی (ص۱۹۲) ٹیکۂ ہندواں (۲۲۰) منڈل (ص۲۱۷) گھٹی (ص۲۲۰) بہی بٹواریاں (ص۲۸۸) ڈھولک (۴۵۷) چبوتری (۳۲۰) مٹھ (۲۴۴) بسوہ چرائی، ڈیہہ قصبات (ص۲۸۸) منڈہ (منڈی غلہ) (ص۳۰۴) ماس، ہوٹھ (۳۵۰) منڈئی (ص۳۰۴) (ص۳۱۰) ریوڑی (۳۱۶) تھانہ (ص۳۳۰) دھاوگان (جمع فارسی دھاؤ بمعنی ڈاک دوڑیہ (۳۳۱) موڑہ (موڑھاص۳۷۳) چودھری (۳۸۸) بی بی (ص۳۷۳) بھٹی (ص۳۱۶) (تاریخ فیروز شاہی برنی۔)بی بی (ص۳۹) لک (لاکھ ص۴۸) لکھوک (جمع لکھوک) (ص۳۳۱) چونہ (چونہ پکانے والا) راج (معمار) سوندھار (سونا رص۳۳۱) بھیڑ چھتر (ص۱۰۸) کٹگرہ کٹرہ (ص۳۷۱) چودھریاں (ص۳۷) لت (لات ص۳۷) بھرکر (ص۳۹۳) گھڑیاں (ص۳۴) گھڑیال خانہ (ص۲۷۱) درخت سینبھل (ص۳۱۱) چونہ (ص۳۱۰)۔ (سراج عفیف)تاتار خاں اعظم نے عورتوں کی پردہ سواری کے لئے گرد و نہار است کنایندہ بود کہ آن رابزبان ہندی ’بھرکر‘ گویند‘‘ (۳۹۳) سراج عفیف) محمد تغلق کی زبان سے ایک دفعہ بے دینی کا فقرہ نکلتا ہے، مولانا عماد بر سردربار اس کے جواب میں کہتے ہیں، ’’گہ مخور‘‘ (اخبار الاخیارص۱۸۸) فیروز شاہ کے عہد میں سکندر حاکم بنگال ایک افسر ملک قبول سے پوچھتا ہے، ’’ چہ نام داری؟‘‘ ملک بزبان ہندی گفت، ’’توراباند۔‘‘ اب اس کو ’’تورابندھو‘‘سمجھئے یا’’تورابندہ۔‘‘ (شمس سراج عفیف ص۱۶۰) سلطان محمد تغلق نے جب سندھ کے حملہ میں جان دی اور سلطان فیروز شاہ نے ناکام حملہ کے بعد سندھ چھوڑ کر گجرات کا رخ کیا تو سندھیوں نے کہا، ’’برکت شیخ تھیا، ایک موا ایک نہا۔‘‘ (شمش سراج عفیف ص۲۳۱)امیر خسرو کا عہد، اب وہ زمانہ ہے جب کل ہندوستان ایک کے علم کے نیچے جمع ہو گیا تھا، اور ہندوستان کے اندر ایک متحدہ زبان کا پیکر تیار تھا، جس نے عوام کے بازارں سے اہل علم کے حلقوں تک رسائی حاصل کرلی اور امیر خسرو المتوفی ۷۲۵ھ ۱۳۲۵ءجیسے ہمہ گیرسلطان ادب نے اس کی سرپرستی کی اور اس کو عربی وفارسی منظومات کے پہلو بہ پہلو جگہ دی، امیر کی فارسی مثنویوں اور تاریخی تصنیفوں میں بے شمار ہندی الفاظ استعمال ہیں، ان کی ہندی نظمیں جو پہیلیوں اور مکرنیوں کی صورت میں ہیں، بہت مشہور ہیں، گو اس وقت ہمارے پاس ان کی ان ہندی منظومات کا کوئی مستند حصہ نہیں ہے، تاہم انہوں نے اپنے دیوان غرۃ الکمال کے خاتمہ میں جوطویل فارسی نثر لکھی اس میں اپنی ہندی نظم پر خود فخر کیا ہے۔ فرماتے ہیں،پیش ازیں از بادشاہان سخن کسے راسہ دیوان نہ بود، مگر مرا کہ خسرو ممالک کلامم، مسعود و سعد سلمان، اگرچہ ہست اما آں سہ دیوان او عبارت است از عربی و فارسی و ہندی امادر پارسی مجرد کسے سخن راسہ قسم نہ کردہ جزمن کہ دریں کار قسام عادلم\n\nقسمت چوچنیں بود چہ تدبیر کنم 17امیرخسرو کی اس عبارت کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے بھی مسعود سعد کی طرح عربی و فارسی اور ہندی کے تین الگ الگ دیوان تیار کئے تھے بلکہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مسعود سعد سلمان نے تینوں زبان میں الگ الگ تین مستقل دیوان تیار کئے تھے اور میں نے ایک زبان فارسی میں ہندی اور عربی میں ملاکر ایک سخن کا سراپا تیار کیا۔ امیرکو اپنے ہندی کلام پر جو ناز تھا، وہ ان کے اس شعر سے نمایاں ہے، جس کو انہوں نے اپنی اسی کتاب کے خاتمہ میں لکھا ہے،چومن طوطی ہندم ار راست پرسیزمن ہندوی پرس تا نغزگویماسی خاتمہ میں ایہام کی ایک نئی صفت پیدا کرنے پر فخر کیا ہے، باز ایہامے دیگر بربست کردہ ام کہ یک طرف ہمہ ہندوی خیزمی افتد و جانب دیگر پارسی خیزد۔آہی آئی ہماں پیاری آہیماری ماری 18 بر آئی موری ماہیامیر نے اپنی مثنوی نہ سپہر میں ہندوستان کی ایک فضیلت یہ بیان کی ہے کہ یہاں کے لوگ ہر ملک کی زبان بول سکتے ہیں، مگر بیرونی لوگ یہاں کی زبان نہیں بول سکتے، کہتے ہیں،ہست ودم آن کہ زہند آدمیاںجملہ بگویند زباں ہا بہ بیاںلیک از اقصائے دگر ہر کسےگفت نیار د سخن ہند لبےہست خطا ومغل وترک وعربدر سخن ہندوی مادوختہ لبغرض ہر جگہ وہ اپنی کو ہندوی کہتے ہیں اوراس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہندوی اس وقت کے ہندوستان کے بول چال میں 19 تھی۔شیخ شرف الدین یحییٰ منیری بہاریحضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری المتوفی ۷۸۲ھ۱۳۰۰ء جن کا وطن اور مسکن بہار ہے اور تعلیم وتربیت بنگال میں پائی تھی، اور بیعت دلی جاکر حاصل کی تھی، ان کے بہت سے ہندوی دوہے ہیں جن میں بعض بیماریوں کی مجرب دوائیں بتائی گئی ہیں، مثلاً،لودھ پھٹکری مردا سنگہلدی زیرا ایک ایک ٹنگافیون چنا بھر مرچیں چارارد پھر تھوتھا اس میں ڈارپوست کے پانی پوٹلی کرےنینا پیراپل میں سرے(شفاء الامراض حکیم محمدی دیسنوی مرحوم قلمی دیسنہ)حضرت شیخ کے ملفوظات کا مجموعہ معدن المعانی کے نام سے ان کی زندگی ہی میں زین بدر عربی نے فارسی میں لکھ کر نذر گزرانی تھی، اس میں ایک موقع پراردو کے دوفقرے استعمال ہوئے ہیں، خواجہ جلال الدین حافظ ملتانی نے عرض کی، بزبان ہندوی نیکو گفتہ اس ہر کہ گفتہ است’’باٹ بھلی برسانہ کرے۔‘‘ حضرت شیخ نے اس کی تائید میں فرمایا، بعد ازاں بندگی مخدوم عظمہ اللہ برزبان مبارک راند، دیس بھلا پردور۔ (معدن المعانی مطبوعہ شرف الاخبار بہار ۱۸۸۴ء ۱۳۰۱ء جلد اول ص۲۰۳)ہمارے وطن (دیسنہ ضلع پٹنہ) کے کتب خانہ اصلاح میں ایک فالنامہ کے دوصفحے پرانے کاغذ کے ہیں، جن میں اسی زبان میں مختلف اعداد کے جوابات بتائے گئے ہیں، اور اس کے سرنامہ پر اس فالنامہ کی نسبت حضرت مخدوم کی طرف کی گئی ہے، اس میں کل ستائیس فقرے ہیں، جن میں سے بعض یہ ہیں،۱۱۱۔ جومن کے منسی کیا ہوئی سوہوئی۔۱۱۲۔ ناہیں کچھ کرو نصیب لاگی بات ہے۔۱۳۱۔ ایہیں، ابھیں ناہیں۔۱۳۲۔ ابھیں ناہیں سوت رہو جائے۔۲۳۱۔ راج پاٹ چل کے دیاتم کون۔۲۳۲۔ آگے برے دن گئے اب سکھ پاوہ گے۔۲۳۲۔ ابھیں ناہیں آگو ہوپکا۔ 20۳۱۱۔ تورے دن کے اب سکھ سوجتا ناہیں۔مخدوم اشرف کچھوچھوی اودھیاسی طرح حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی المتوفی ۷۹۸ھ۱۳۹۵ء ہیں۔ ان کا بڑا حصہ بنگال بہار اور اودھ میں بسر ہوا، اور کچھوچھہ ضلع فیض آباد میں مدفون ہوئے۔ ان کے ملفوظات کے مشہور مجموعہ لطائف اشرفی میں الفاظ، دعائیں اور منتر اردو نما ہندی میں ملتے ہیں۔ اس کے مؤلف نظام حاجی غریب یمنی ۷۵۰ھ۱۳۴۹ء میں ان کے مرید ہوئے تھے، اس مجموعہ میں ایک حکایت ہے کہ سید اشرف جہانگیر رحمۃ اللہ علیہ ردولی کے پاس سے گزرے، اسی کے قریب ایک گاؤں میں مولانا کریم الدین دانشمند رہتے تھے، سید موصوف ان سے ملنے کے لئے چلے، کسی نے مولانا کو جاکر اطلاع دی، انہوں نے یہ خبر سن کر خاکساری کی راہ سے فرمایا، ’’مثل ہندوی فرمودند‘‘ چھیری کے منہ کھنڈ اسمائے 21 چھیری مشرقی اضلاع کے دیہاتوں میں بکری کو کہتے ہیں، اور کھنڈا چاولوں کے چورا کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ بکری کو کھنڈ ا کھانے کو ملے۔ یہ اس کی عزت افزائی ہے۔ سید اشرف کی زبان سے اس میں سانپ اور بچھو کے کاٹے کے کئی منتر لکھے ہیں، جو نسخ وکتابت کی غلطیوں سے مسخ ہو گئے ہیں، بچھو کے کاٹنے کا ایک منتر صاف ہے ’’دھربندھون، دھرکند ہوں، سوا لاکھ سپاری بندھوں۔ اپنے بھگت گرو کے سکت ہوں یکہ جو آگئیں (آگے) چڑھے۔دوسرا، انیکی لکڑی، پانی پرائی، آنکس بندھوں، نربس پرئی مری یکہ جو اگین جائے۔دوسرا، کالی کوفی جنگل کے کاجل دھکا ناتھ پانچ یز الخ 22شیخ علاء الدین بنگالیشیخ علاء الدین لاہوری پنڈوی بنگالی المتوفی ۸۰۰ھ ۱۳۹۷ء اور شیخ نور الحق پنڈوی بنگالی المتوفی ۸۱۳ھ ۱۴۱۰ء باپ بیٹے تھے۔ یہ تھے لاہوری مگر سکونت بنگال جاکر اختیار کی، شیخ نور الحق اپنے مکتوبات میں ایک فارسی شعر لکھ کر اس کے ہم معنی ہندی شعر لکھتے ہیں،ہمہ شب بزاریم شد کہ صبا نداد بوئےندمید صبح بختم چہ گنہ نہم صبارارین سب آئی سویا سیج نلدھا تھانوں پیونپو چھے پاتری مجھ سہاگن نون(ص۷ قلمی دارالمصنفین)اسی زمانہ کے ایک اور بزرگ شیخ الاسلام سعد اللہ لکھنوی اور ان کے بیٹے شیخ امین الدین لکھنوی المتوفی ۸۲۹ھ ۱۴۲۶ء ہیں۔ یہ دونوں ہندی کے شاعر تھے ان کے مکتوبات میں ہندی الفاظ دوہے اور ہنڈولے ملتے ہیں، لکھتے ہیں، ’’درشب روز تحریر جگرمی بخیال گزشتہ بنفشہ شدہ است ذوق خواہندگرفت جگری مذإور اینست، ہندوی۔کون پراجت دیا کیتوںشہ کل بانہہ نہ دئی کر سوتوںعقدہمجھ برہا، رین جگاوےہور مریتن چال بتاوےجی ہوں نپہیوں بھول کندھیائےجو بھنج تن جڑ کانٹ کنیائےعقدہجی ہوں سعد پیارے جسینوںسکھ دکھ پی کے بات کہیتوںامین الدین مادھی جودی پیو شہ کے درشن داری جیومخدوم عبدالحق ردولویمخدوم شیخ عبدالحق دہلوی ردولوی المتوفی ۸۳۰ھ۱۴۳۴ءکے ملفوظات میں بہتیرے فقرے ملتے ہیں، شیخ نے کچھ زمانہ سنّام (پنجاب) میں بسر کیاتھا، فرماتے ہیں کہ وہاں ایک زاہدہ بی بی رہتی تھی، جو بڑی عبادت گزار تھیں۔ رات کو تہجد میں شیخ سے پہلے اٹھتیں اور، ایں فقیر رابہ لطف فرمود ندبزبان ہندی بیٹا احمد آب گرم موجود است نباید کہ از آب سرد و ضو کنی۔ 23 شیخ کا ایک مرید شب وروز یہ چیختا تھا، آہ شیخ احمد ماریوماریو (ص۱۰۰) شیخ نے ایک مرتبہ یہ ہندی دوہرہ زبان مبارک سے ادا فرمایا،کنوا ہو تو پاٹوں سمندر کہ پاٹن جائےبارا ہو برجوں جھیل کہ برجن جائےشیح احمد عبدالحق ردولوی کے ملفوظات شیخ عبدالقدوس گنگوہی المتوفی ۹۴۵ھ۱۵۳۸ء نے جمع کئے ہیں۔ ردولی اور گنگوہ ہمارے صوبہ کے ابتدائی اور انتہائی کنارے کہے جا سکتے ہیں۔ اس مجموعہ میں حسب ذیل الفاظ نہایت بے تکلفی کے ساتھ استعمال کئے گئے ہیں۔ ہنڈولہ (ص۳۷) پلنگ (ص۳۸) اور اس سے بڑھ کر جھلنگہ چارپائی (ص۴۰) چبوترہ (ص۶۰) جنگل (ص۶۷) کھچڑی (ص۶۳) دھکا (ص۷۲) کنواڑ (ص۸۷) دب ادبالے سے (ص۹۰) پالکی (۹۵) دیپک (ص۹۹) کندوری کھانا (ص۱۰۰) مہاجن (ص۱۲۳)۔دکھنی اور گوجری وغیرہاب ہم اس زمانہ میں پہنچ گئے ہیں جب ہندوستان کی اس متحدہ زبان نے نظم کی زمین پر قبضہ کیا، شروع شروع میں یہ مذاقیہ اورتفریحی منظومات میں اسی طرح کام میں لائی گئی ہے، جیسے ہمارے عہد میں اکبر مرحوم نے انگریزی لفظوں اور جملوں کا استعمال اردو شعروں میں کیا، مگر یہ ظرافت بہت جلد سنجیدگی میں بدل گئی۔ محمد تغلق نے ہندوستان ودکن کو ایک کردیا، اور دولت آباد دکن کو اپنی حکومت کادارالسلطنت اور دلّی اجاڑ کر اہل دلّی کو دولت آباد میں لے جاکر بسایا۔ یہ پہلا دن تھا جس میں اس زبان کا تخم دکن کی سرزمین میں بویا گیا۔ یہاں کی آب وہوا اس کو ایسی راس آئی کہ تخم بڑھ کر پودا ہوا، اور پودا ایک عظیم الشان درخت بن گیا، اور حیرت سے سنا جائےگا کہ اس درخت نے شمال سے پہلے دکن میں پھل دیے۔ تصوف اور عوام کے مذہبی جذبات نے اس زبان کو اپنے فیوض سے مالا مال کرنا شروع کردیا، جس کی بڑی وجہ یہ ہوئی کہ دکن کے بہمنی بادشاہوں نے آٹھویں صدی ہجری میں دہلی سے الگ ہوکر گلبرگہ میں جب اپنی خود مختار حکومت قائم کی تو اپنا سرکاری دفتر فارسی کے بجائے ملک کی دیسی زبان میں رکھا۔اس کے قدرتی نتیجے دوہوئے۔ ایک تویہ کہ برہمنوں نے سرکاری دفاتر میں جگہ پائی، اور دوسرا یہ کہ دیسی زبان نے ترقی شروع کی، بہمنی مٹ کر جب عادل شاہی وقطب شاہی وغیرہ پیدا ہوئے تو انہوں نے بھی اسی زبان کی سرپرستی کی اور چونکہ شمالی ملک کے سلاطین کی طرح ان کے کابل وایران سے تازہ تازہ تعلقات نہ تھے اور نہ وہ خود اجنبی نسل ووطن پر فخر کرتے تھے، اس لئے ان کے دربار کی زبان فارسی کے بجائے ہندوستانی ہو گئی تھی بلکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہی ان کی مادری زبان تھی۔ہندوستانی مسلمانوں کی مادری زبانابراہیم عادل شاہ (۹۸۸ھ۱۵۸۰ء۔ ۱۰۰۴ھ۱۵۹۵ء) جو تخت نشینی کے وقت تک جاہل رہا تھا اور پھر رفتہ رفتہ اس نے پڑھنا سیکھا اور فارسی پڑھی، اس کے حال میں اس کے معاصر مؤرخ فرشتہ نے لکھا ہے، فارسی خواں گردیدوبنوعے فارسی را خوب می گفت کہ تا بہندوستانی متکلم نمی شد، ہیچ کس نمی توانست فہمید کہ غیر از فارسی بزبان دیگر آشنائی دارد۔ ج۲ص۸۰ نول کشور۔ فارسی داں ہوگیا اور ایسی ردانی سے فارسی بولتا کہ لوگ یہی سمجھتے کہ فارسی کے سوا دوسری کوئی زبان جانتا ہی نہیں ہے، مگر جب ہندوستانی زبان بولتا تو لوگوں کی غلط فہمی دور ہوجاتی۔) اس اہم فقرے سے دوباتیں ثابت ہوتی ہیں، ایک تو ہندوستانی زبان کا وجود اور دوسری یہ کہ ان بادشاہوں کی عام بول چال کی مادری زبان یہی ہندوستانی تھی، جس میں ان کے عہد کی تصانیف ملتی ہیں۔موجودہ صوبہ جات متحدہ کی مادری زبان بھی اس عہد میں اسی قسم کی ہندوی یا ہندوستانی تھی، بدایوں جو مغلوں سے پہلے ایک مرکزی حیثیت رکھتا تھا، وہاں کے عبدالقادر بدایونی جنہوں نے ۱۰۰۴ھ ۱۵۹۵ء میں اپنی تاریخ لکھی ہے، اس وقت کے نودسالہ ۱۹۱۴ء کی ولادت استاد شیخ عبداللہ بدایونی کا حال لکھتے ہیں کہ بچپن میں وہ استاد سے بوستاں پڑھ رہے تھے، شعر یہ آیا،محال است سعدی کہ راہِ صفا تواں یافت جزازپے مصطفیٰپرسید کہ معنی ایں بیت چیست، بزبان ہندی بیان کنید۔۔۔ چومعنی آں گفت۔ (ج۳ ص۵۴)اس سے صاف ظاہر ہے کہ بچوں کی مادری زبان ہندوی ہوچکی تھی۔ اکبر کی زبان میں ملا بدایونی وغیرہ نے پنڈتوں کی مدد سے جس ہندی سے فارسی میں سنسکرت کتابوں کے ترجمے کئے تھے، اس سے مراد یہی اس وقت کی اردو ہے۔ پنڈت سنسکرت سے اس وقت کی ہندوی میں اور ملاہندوی سے فارسی میں ترجمہ کرتے تھے، ورنہ ظاہر ہے کہ ملانے ہندی جاننے کا کہیں دعویٰ نہیں کیا ہے۔شیخ عبدالوہاب متقی جن کا وطن مالوہ تھا ۹۶۳ھ ۱۵۵۵ء میں ہجرت کرکے مکہ معظمہ چلے گئے تھے اور وہاں ممالک اسلامی کے طلبہ کو درس دیتے تھے، اس درس کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہر ملک کے طالب علموں سے ان ہی کی زبان میں تقریر فرماتے تھے، اس سلسلہ میں ہندیوں کو وہ ہندی میں پڑھاتے تھے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی جو ان کے شاگرد خاص تھے، ان کے حال میں لکھتے ہیں، وباہندیان در تقریر فارسی تکلف نکنند، وہم بزبان ہندی اکتفا فرمایند، 24 (ہندوستانی طلبا کے لئے وہ فارسی زبان میں پڑھاتے کی زحمت نہیں کرتے تھے بلکہ زبان ہندی پر اکتفا فرماتے۔) یہ واقعہ بھی اس دعوے کی شہادت ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی زبان ایک مدت سے ہندی ہو چکی تھی۔شیخ عبدالوہاب متقی کے استاد شیخ علی متقی مشہورمحدث ہیں۔ ان کاآبائی وطن تو جونپور تھا لیکن پیدائش برہان پور میں ہوئی، اور ابتدائی ملازمت شاہان مالوہ کے ہاں منڈو میں کی، شیخ باجن کے مرید اور ان کے لڑکے سے چشتی خرقہ پہنا، پھر ملتان جاکر شیخ حسام متقی کی صحبت اٹھائی، پھر ہندوستان سے ہجرت فرماکر مکہ معظمہ چلے گئے، کبھی کبھی سلاطین گجرات کے اصرار سے احمدآباد گجرات آجاتے تھے ۹۷۵ھ ۱۵۶۷ء میں مکہ معظمہ میں وفات پائی۔ غور کیجئے کہ ان کا تعلق ہندوستان کے کن کن صوبوں سے رہا۔ جونپور (پورب) برہان پور 25 (خاندیس) منڈو (مالوہ) ملتان (سندھ) (پنجاب) اور احمد آباد (گجرات) باین ہمہ جو ان کی زبان تھی وہ اس دوہرے سے ظاہر ہے جس کو انہوں نے اپنی موت سے کچھ دنوں پہلے مرض الموت کی حالت میں پڑھا تھا، فرمایا کہ کھانے کو پیس ڈالو۔ آں چناں بحق کن کہ ہمہ یکے شود دوئی نہ ماند، چنانچہ ایں دوہرہ خبرمی دہددمی گوید۔ 26سن سہیلی پریم کی باتایوں مل رہی ہے جیوں دودھ نباتادیکھئے کہ اردو کی پوری شان اس شعر میں موجود ہے۔تاہم اس میں شک نہیں کہ جب تک شمالی ہند میں حکومت کا رعب وداب قائم رہا، اس مادری زبان میں لکھنا پڑھنا اور تصنیف وتالیف معیوب بنی رہی اور اس کے برخلاف دکن اور گجرات میں خود صوفیہ نے اور شیعہ بادشاہوں نے پہل کی۔ صوفیہ نے اس زبان میں صوفیانہ رسالے لکھے اور بیجا پور اور گولکنڈہ کے بادشاہوں نے اس میں امام حسینؓ علیہ السلام کے مرثیے اور مناقب لکھے، اور رفتہ رفتہ شاعری کے دوسرے مضامین بھی بندھنے لگے اور اس طرح نثر کے ساتھ نظم نے بھی دکن اور گجرات میں ترتیب و تدوین کی عزت پہلے پائی۔ہم سب کو انجمن ترقی اردو اور دکن کے بعض دوسرے اہل قلم کا ممنون ہونا چاہیے جنہوں نے اس عہد کی دکھنی نظم و نثر کی کتابوں کو حلیہ طبع سے آراستہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ وہی ہندوستانی زبان ہے جس کو لوگ بعد میں دکھنی کے نام سے یاد کرنے لگے ہیں۔\n\nاس کے صوبہ دار نام\n\nحقیقت یہ ہے کہ نئی قوم کے اختلاط اور میل جول نے ہر صوبہ کو متاثر کیا اور اس طرح نئی زبان کو بھی مقامی اور صوبہ دار انہ اثرات نے داخل ہوکر مختلف بولیوں میں منقسم کردیا۔ دکھنی، گوجری، دہلوی، لکھنوی، بہاری، پنجابی، ہر صوبہ کی ہندوستانی بولی میں علیحدہ علیحدہ کچھ کچھ امتیازات پیدا ہو گئے تھے اور اس لئے اس نئی زبان کا نام ہر جگہ الگ الگ پڑا۔ مثلاً دہلوی، دکھنی، گوجری، ہندی، ہندوی یہ سب بتفاوت اسی ایک کے نام ہیں۔اردو نامتاہم یہ بات تعجب کے ساتھ یادرکھنے کے لائق ہے کہ شروع سے لے کر اب تک اس زبان کا نام کہیں ’’اردو‘‘ سننے میں نہیں آیا۔ حالانکہ ہم نے آج اس نام کے سوااس کے اور سب نام بھلا دیے ہیں۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ اردو ترکی لفظ ہے جس کے معنی لشکر شاہی یعنی لشکر گاہ اور کیمپ کے ہیں اور اس معنی میں اس کا استعمال بہت قدیم ہے۔ یہاں تک کہ تغلقوں کی تاریح میں بھی یہ لفظ ان معنوں میں بولا گیاہے، پھر تیموریوں اور خصوصاً شاہجہاں کے عہد میں ’’اردوئے معلیٰ‘‘ شاہی لشکر گاہ اور دہلی کے قلعہ معلی کو کہنے لگے۔ مغلیہ سلطنت کے ساتھ ساتھ فارسی کا شاعرانہ تسلط بھی کمزور ہوتا جا رہا تھا اور اس نئی زبان کی طاقت روز بروز ابھر رہی تھی۔ عام بازاروں، گلیوں اور معمولی گھروں سے نکل کر شاہی دربار تک اس کا اثر پھیل رہا تھا۔ اس لئے شروع شروع میں اس کو لوگوں نے ’’زبان اردوئے معلیٰ‘‘ کا خطاب دیا۔ چنانچہ بارہویں صدی ہجری کے اواخر کی تصنیفات تذکرۂ نکات الشعراء میر (ص۱) اور ذکر میر (۶۷) اور نوطرز مرصع مرقع رقم تحسین میں یہ نام یعنی ’’زبان اردوئے معلیٰ‘‘کی لغوی اضافت کے ساتھ استعمال پاتا ہے۔تیرہویں صدی ہجری کے اوائل سے کثرت استعمال کے سبب یہ اضافت جاتی رہتی ہے اور خود زبان کا نام اردو 27 ہوجاتا ہے۔ تذکرہ مخزن الغرائب میں جو ۱۲۱۸ء کی تالیف ہے، مرزا مظہر جان جاناں کے حال میں ہے، درزبان ہندی کہ مرا د از اردو است خیلے فصیح وبلیغ بود۔ باغ و بہار وغیرہ فورٹ ولیم کالج کی تصنیفات میں یہ لفظ زبان کے معنوں میں عام طور سے بولا گیا ہے۔ ان حوالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردو زبان کے نام کے طور پر آج سے صرف ڈیڑھ سو برس پہلے کی ایجاد ہے۔دہلی کے اردوئے معلیٰ پر جب تباہی آئی تو گو دہلی کے علم وادب اور شعروسخن کا خزانہ لٹ گیا، مگر اس کا اتنا فائدہ ہوا کہ جب استعداد حصہ رسدی کے مطابق تمام صوبوں میں، جہاں چھوٹی چھوٹی نوابیاں قائم ہوگئی تھیں، بزرگوں کایہ اندوختہ سرمایہ بٹ گا، اہل علم دہلی سے نکل کر پہلی منزل لکھنؤ میں، دوسری عظیم آباد میں اور تیسری مرشد آباد بنگال میں کرتے تھے، اور آخر میں ایک اور منزل فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں قائم ہوئی۔ بہت سے عزم وارادہ والے ایسے بھی تھے جو دکن وارکاٹ جاکر پناہ گزیں ہوئے اور اس طرح پورے ملک میں اردوئے معلیٰ کی زبان نے اشاعت پائی۔ عددشود سبب خیرگرخدا خواہد۔ یہ اس زبان کی مختصر تاریخ ہے جو آج ہماری ملکی اور قومی زبان ہے بلکہ جو آج اس پورے ملک کی واحد متحدہ زبان ہے۔چونکہ مسلمانوں سے پہلے یہ ملک بہت سے حصوں میں بٹا ہوا تھا، جن کی الگ الگ راجدھانیاں تھیں، اس لئے ان میں نہ کوئی ایک متحدہ زبان تھی اور نہ کسی متحدہ قومیت کا وجود تھا اور نہ ایک متحدہ مملکت تھی۔ مسلمانوں نے آکر اس براعظم کو ایک علم کے نیچے ایک مرکز کے ماتحت ایک ملک بنایا جس کا نام پہلے ہند اور پھر ہندوستان رکھا اور ایک زبان پیدا کی، جس کا نام زبان ہند، لغت ہند، ہندوی ہندی، زبان ہندوستان اور ہندوستانی رکھا۔ہندی لفظآج کل جس کو ہندی کہتے ہیں وہ پورب کی ایک صوبہ دار زبان ہے، جس کے لئے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ یہ پور ے ملک کی زبان یا بولی ہو جائے، مگر حقیقت میں اس کا ایسا نام جس کی معنویت کے دائرے میں سارا ہندوستان داخل ہوجائے خود بدیسی ہے، پھر بھی اس کے لئے ایسا نام اختیار کرنا اس لیے مناسب ہے کہ اس سے سارے ملک کا خیال سامنے آتا ہے، ورنہ اگر اس کو برج بھاشا یا پوربی بھاشا کہہ دیا جائے تو یہ ملک کے ایک محدود جغرافی حصہ کے ساتھ خاص ہو جائے۔اہل عرب یہاں کی قدیم زبانوں میں سے ہر ایک کو ہندی یا ہندیہ کہتے تھے۔ وہ سنسکرت، پالی، ہندی، ملتانی، گجراتی سب کو ہندی ہی کہتے تھے، چنانچہ بزرگ بن شہریار کی روایت کے مطابق ۲۷۰ھ۸۸۳ء میں جس زبان میں قرآن کا ترجمہ کیا گیاتھا اس کا نام مصنف نے ’’ہندیہ‘‘ بتایاہے۔ اَنْ یُفسِّرلہٗ شریعۃَ الاسلام بالہندیۃ (عجائب الہند ص۳۰۔) شریعت اسلام کا ہندی میں حال لکھے۔ان یفسر لہ القرآن بالہندیہ (عجائب الہند ص۲۳۔) قرآن کا ہندی میں مطلب بیان کرے۔اسی طرح الفہرست میں جو ۳۷۷ھ ۹۸۷ء کی تصنیف ہے، ہندوستان کی جس زبان سے عربی طب کی کتابیں ترجمہ ہوئیں، اس کے بیان میں ہندوستان کی زبان کا نام ہندی ہی رکھا گیا ہے۔ نقل من الہندی الی الفارسی (۴۲۱) ہندی سے فارسی میں نقل ہوا۔اس لئے مسلمانوں نے اپنی حکومت کے بعد اس زبان کو، جس کو ہندوستان میں آکر انہوں نے اختیار کیا، ہندی کا نام بخشا۔ انتہایہ ہے کہ مولانا شاہ رفیع الدین صاحب دہلوی اور مولانا شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی نے قرآن پاک کا جس زبان میں ترجمہ کیا اس کو بھی ہندی ہی فرمایا۔ اس سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ ہندی کی وسعت کہاں تک تھی اور اس میں ہندو اور مسلمان کاکوئی فرق نہ تھا، ایک ہی زبان تھی، جو پورے ملک میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک بولی اور سمجھی جاتی تھی۔اردو اور ہندی کی تقسیملیکن انگریزوں نے دہلی کے اردو ئے معلیٰ کو اجاڑ کر جب کلکتہ کے فورٹ ولیم میں اپنا نیا’’اردوئے معلیٰ‘‘ بناکر کھڑا کیا تو ان کو اپنے ہم قوم عہدہ داروں اور تعلیمی اداروں کی خاطر ملکی زبان کی طرف بھی توجہ کرنی پڑی، مگر ساتھ ہی ساتھ ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ ان کو ہندوستان میں حکومت کرنا ہے تو اس متحدہ قومیت کے درخت پر جو صدیوں کی لڑائیوں کے خون سے سینچ سینچ کر تیموریوں کے زیر سایہ تیار ہوئے تھے، پہلے کلہاڑی مارنا ضروری ہے۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ ہندو اور مسلمانوں کے امتیازات کے حدود کوجس قدر ممکن ہو، ابھارا جائے۔ چنانچہ فورٹ ولیم میں اردو اور ہندی کے نام سے دوشعبے قائم ہوئے، ایک کو مسلمانوں کے سرتھوپا اور دوسرے کو ہندوؤں کے سر مڑھا اور اس کا نام علمی قدردانی اور ادب نوازی رکھا اور دونوں زبانوں میں کتابیں لکھوا لکھوا کر لوگوں میں تقسیم کی گئیں، یہ ہے آغاز اس انجام کا جو آج اردو اور ہندی کے مہابھارت کی صورت میں ملک میں قائم ہے۔شاید آج لوگوں کو وہ واقعہ بھی نہ یاد ہو جس کا تعلق عظیم الشان درس گاہ کے پہلے بانی سے ہے۔ ہندی اردو کا جھگڑا 1867 سے شروع ہوا ہے۔ اسی سال بنارس میں بعض سربرآوردہ ہندوؤں نے یہ کوشش شروع کی کہ تمام سرکاری عدالتوں میں سے اردو زبان اور فارسی خط موقوف ہوکر ہندی بھاشا اور دیو ناگری خط جاری ہو۔ سر سید اس وقت سے لے کر مرنے سے نو دن پہلے تک اس کے خلاف قلمی جہاد میں مصروف رہے، اور انہی کی مخالفت کا اثر تھا کہ ان کی ز ندگی تک یہ تجویز سرکاری طور سے منظور نہ ہو سکی۔ ان کی وفات کے چند سال بعد غالباً 1902 میں سر میکڈانل صاحب لیفٹننٹ گورنرصوبہ متحدہ نے اس صوبہ میں ہندی کو قانوناً ممتاز حیثیت بخشی، اور اردو ہندی کی ناگوار بحث کا وہ تخم اس سرزمین میں بویا جس کو اس سے پہلے وہ بہار میں بو چکے تھے۔ لکھنؤ کے گنگا پرشاد ورما لائبریری ہال میں سرسید کے جانشین اور اس درس گاہ کے سکریٹری نوب محسن الملک مرحوم کی صدارت میں اردو کے ماتم کے لیے ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں مرحوم نے ایک دل گداز و مؤثر تقریر کے بعد اردو کے لیے یہ مصرع پڑھا تھا، عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔اور یہی وہ فضا ہے جس میں انجمن ترقی اردو کی بنیاد پڑی اور ہندی بھی پنڈت مالوی کی کوششوں کی زیر سرپرستی روز بروز ترقی پانے لگی۔ ہندی اخبار و رسائل اور تصنیفات کا انتظام ہوا، اور پورے ملک میں اردو اور ہندی دو حریف کی حیثیت سے صف آرا ہوئیں اور اب تک ہیں۔ اور اب انہوں نے ہندو مسلمان دونوں کی دو الگ الگ زبانوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔ جو حد درجہ افسوس ناک ہے۔علی گڑھ تحریک کا حصہ اردو زبان کی ترقی میں، اس سے کس کو انکار ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کی زندگی میں نئی تحریک اور نئے تعلیمی و ادبی انقلاب کی آواز اس درسگاہ کی چہار دیواری سے اٹھی۔ ایک مولوی محمد حسین آزاد کو چھوڑ کر جو ایک مستقل ادبی ریاست کے بانی ہیں، باقی اردو کے تمام علم بردار اسی کی ہمہ گیر سلطنت سے وابستہ تھے۔ اردو زبان کو قصص وحکایات اور قصائد وغزلیات کے تنگ کوچہ سے علوم وفنون کی شاہراہ پر جولایا وہ سرسید مرحوم ہی تھے۔ اردوئے معلیٰ اور عود ہندی والے غالب کے بعد جس نے عروس اردو کو سادگی کا گہنا پہنا کر تکلفات لاطائل کی گرانباری سے آزاد کیا وہ اسی درسگاہ کا بانی اول تھا۔ سرسید مرحوم کی اردو کی پہلی تصنیف آثار الصنادید ۱۸۵۷ء کے ہنگامہ سے پہلے مسجع ومرصع عبارت میں لکھی گئی، مگر اس کا دوبارہ ایڈیشن صاف ورواں عبارت میں شائع ہوا۔گویہ سچ ہے کہ مولانا شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے ساتھیوں نے سرسید کیا بلکہ غالبؔ سے بھی پہلے سادہ نگاری کا آغاز کیا، مگر وہ تحریک صرف مذہبی دائرہ میں سمٹ کررہ گئی۔ اسی طرح حیدرآبادمیں نواب شمس الامراء بہادر نے جدید علوم میں ستہ شمسیہ نام اردو رسالے تصنیف کئے، اور دہلی کالج کے ماسٹر رام چندر نے پولٹیکل اکانمی کے ترجمے کئے، مگر یہ افراد کی محدود کوششیں تھیں۔ سرسید نے ۱۸۶۳ء میں سائنٹفک سوسائٹی کے نام سے باقاعدہ ایک علمی انجمن اس غرض سے قائم کی کہ علوم وفنون کی نئی نئی کتابیں انگر یزی سے اردو میں ترجمہ کرکے شائع کی جائیں۔ آج جو مسلم یونیورسٹی پریس ہے اس کی بنیاد اول اسی سائنٹفک سوسائٹی کا پریس ہے جو پہلے سرسید کا ذاتی پریس تھا، اس سوسائٹی کی طرف سے چالیس کتابیں چھوٹی بڑی تاریخ اور سائنس کی چھپ کر شائع ہوئیں۔سرسید نے اپنی کشش اتصال سے علم وادب کے ایسے متعدد ستاروں کو اپنے گرد جمع کر لیا تھا، جن میں سے ہر ایک بجائے خود ایک نظام شمسی تھا، مولانا الطاف حسین حالیؔ، مولانا نذیر احمد، مولانا شبلی، نواب محسن الملک، نواب وقار الملک اور بہت سے اہل قلم جمع ہو گئے، جنہوں نے اپنی کوششوں سے اس بولی کو زبان کا درجہ دے دیا اور ہر قسم کی ادا سے مطلب کا اہل بنادیا۔ علی گڑھ کی درس گاہ کو اس زبان کی ترقی کی تاریخ میں بہت سے اولیات حاصل ہیں۔(۱) یہ پہلا ادارہ ہے جس نے سب سے پہلی دفعہ اس زبان کے لئے علمی وادبی ذخیرہ فراہم کیا۔(۲) یہ پہلا ادارہ ہے جس کے احاطہ میں اس زبان کے مسلّم ومستند مصنف اور اہل قلم پیدا ہوئے۔(۳) یہ پہلا ادارہ ہے جس نے سب سے پہلی دفعہ اس زبان کے معیاری ذخیرہ کو اہل نظر اور شائقین کے لئے فراہم کیا، ’’علی گڑھ کالج بک ڈپو‘‘ آج سے تیس برس پہلے اس زبان کا واحد ذخیرہ گاہ تھا، جہاں سے کم از کم ایک ہزار ماہوار کی کتابیں فروخت ہوتی تھیں۔(۴) اور سب سے آخر یہ ہے کہ یہ پہلا ادارہ ہے جس نے دہلی اور لکھنؤ، اہل زبان اور زبان داں اور شہری اور قصباتی کی دیرینہ جنگ کاخاتمہ کیا، اور جس طرح زبان خود ایک مشترکہ زبان کی حقیقت کی مدعی ہے، اسی طرح علی گڑھ نے اس کو مشترکہ ہندوستان کی ادبیت کا خزینہ دار بنا دیا، اور دہلی کے پرانے پیدائشی دعوؤں کو مٹا کر اہلیت واستعداد کی شرط کے مطابق حقیقی فضل وکمال کو زبان دانی کا معیار قرار دیا، اور ادبیات کی ایک آزاد ہندوستانی حکومت قائم کی، جس میں ہر صوبہ کے ہر شہر کے اہل قلم اور اہل علم برابر کے شریک ٹھہرے۔ سرسید دلّی کے تھے، محسن الملک اٹاوہ کے، مولانا حالیؔ پانی پت کے، مولانا نذیر احمد بجنور کے، مولانا شبلی اعظم گڑھ کے، مگر ان سب کی تصنیفات نے مل کر اس زبان کا ایک متحدہ معیار مقرر کر دیا۔سرسید مرحوم نے جس دن مولانا شبلی کی المامون پر یہ فقرے لکھے، ’’یہ کتاب اردو زبان میں لکھی گئی ہے اورایسی صاف وشستہ اور برجستہ عبارت ہے کہ دلّی والوں کو بھی اس پر رشک آتا ہوگا۔‘‘ (دیباچہ طبع دوم المامون) تودرحقیقت انہوں نے اس وقت اس زبان کو لکھنؤ اور دہلی کی گرفت سے آزاد ی کا خط فرمان لکھا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر شہر و دیار کے اہل قلم کو زبان کھولنے کی جرأت اور اپنی اپنی بساط کے مطابق عرض متاع کی ہمت ہوئی، اور کچھ ہی دنوں میں اس زبان کا خزانہ ہر قسم کے قیمتی سامانوں اور ذخیروں سے مالا مال ہونے لگا۔موانع کے باوجود اردو کی ترقیاس انقلاب نے ملک میں علوم وفنون اور سنجیدہ علوم کی تصانیف کا روز افزوں ذخیرہ فراہم کر دیا اور وہ زبان جو پہلے صرف چند دیوانوں اور کہانیوں کی مالک تھی وہ ہر قسم کے علم وہنر سے معمور ہوتی جاتی ہے، اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، اس میں حکومت و سلطنت کی ذرا بھی مدد شریک نہیں ہے، بلکہ لوکل سیلف گورنمنٹ کی تعلیمات کا جہاں تک تعلق ہے، اردو کو اپنی اشاعت میں ایک انگلی کا اشارہ بھی نہیں مل رہا ہے۔ حالانکہ ہم کو معلوم ہے کہ ہندی پرچارنی سبھا نہ صرف اس صوبہ کی گورنمنٹ کی مالی امداد سے بارہا مستفید ہوئی ہے بلکہ ڈسٹرکٹ بورڈوں اور میونسپلٹیوں کے تعلیمی نصابوں کے وسیع سلسلہ کے ذریعہ ہندی دیہاتی اور شہری رقبوں پر روز بروز قبضہ کرتی چلی جاتی ہے۔شاید یہ بیان تعجب سے سنا جائے کہ ہندو پبلشروں اور کتابوں کے انتخاب کی کمیٹیوں میں ہندو ممبروں کی کثرت کے سبب نصاب میں کسی ایسی کتاب کا داخل ہونا اور چلنا ممکن نہیں جس کی اردو ہندی نہ ہو۔ یہ واقعات شکایت کے طور پر نہیں کہے جا رہے ہیں بلکہ یہ کہنا ہے کہ باوجود اس کے کہ ہماری زبان کو گورنمنٹ اور گورنمنٹ کے کسی ادارہ سے کسی قسم کی امداد نہیں مل رہی ہے، پھر بھی اس کی ترقی جاری ہے۔اردو ایک اور امداد سے بھی قدرتاً محروم ہے۔ اس بات کی پرزور کوشش کی جا رہی ہے کہ آیندہ ہندی قومیت کی مشترکہ قومی زبان ہندی ہو جائے۔ اس خواہش کی تکمیل میں کانگریس سے لےکر ناگری پرچارنی سبھا تک یکساں شریک ہیں۔ کانگریس اور دوسرے پولیٹیکل جلسوں میں گو ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوں، ہندو نوجوان اپنی تقریر ایسی زبان میں کریں گے جن کو جلسہ کے نصف حاضرین سمجھ نہیں سکتے۔ اکثر ایسی تجویزوں کی تائیدوں کی عزت مسلمانوں کو حاصل کرنی پڑی اور کرنی پڑتی ہے جن کی ہندی پرستاؤ کا اردو ترجمہ اردو میں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری بات ایک اور چل گئی ہے کہ اردو نے جن ہندی لفظوں کو اپنے قالب میں ڈھال کر اپنے کینڈے کا بنا لیا ہے، کوشش کی جا رہی ہے کہ اب ان کو اصل ہندی تلفظ کے مطابق ادا کیا جائے۔دوسری طرف ہندو ریاستوں نے ایک ایک کرکے ہندی کو اپنی سرکاری زبان بنانا شروع کر دیا ہے۔ گجراتی والی ریاست بڑودہ اور اردو والی ریاست الور سے لے کرمارواڑ، کشمیر اور راجپوتانہ تک یہ تحریک عام ہو رہی ہے۔ ان سب کے جواب میں ہمارے پاس صرف ایک چیز ہے، وہ سرکار نظام خلداللہ ملکہ، لیکن میری پیشن گوئی یہ ہے کہ ان سب حالات کے باوجود ہندوستان کا مستقبل اردو کے ہاتھ میں ہے، ہندوستان میں جب تک مختلف قومیں باقی ہیں اور بیرونی دنیا سے اس کے تعلقات قائم ہیں، اس میں ایک ایسی زبان کا وجود، جیسی کہ اردو ہے، ناگزیر ہے۔ہندوستان کو اگر ایشیا کے دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے ہیں، تو اس کو اپنی جس زبان کے ذریعہ ان تعلقات کا رشتہ مضبوط کرنا ہوگا، وہ اردو ہے، اس کی ایک سمت میں کابل وبلوچستان سے لے کر بغداد تک فارسی حکمراں ہے، اور دوسری طرف سواحل عرب وافریقہ سے جبرالٹر تک عربی پھیلی ہے۔ ان تمام بیرونی قوموں کے لئے ہندوستان کی جس زبان کا سیکھنا نہایت آسان ہے وہ اردو ہے۔ یہی سبب ہے کہ یہ زبان ان تمام ملکوں اور جزیروں میں آسانی کے ساتھ پھیل گئی ہے، جہاں ہندوستانیوں کی آمدورفت ہے۔ برما، آسام، سیلون، (اب شری لنکا)، مالدیپ، انڈمان، ماریشس، سنگاپور، بورٹ بلیر اور افریقہ کے ان مختلف ملکوں میں جہاں جاکر ہندوستانی بسے ہیں، اس زبان کو اپنے سینے سے لگا کر ساتھ لے گئے ہیں، ادھر سواحل عرب میں عدن، جدہ، بلکہ مکہ معظمہ تک اس زبان میں بات چیت ہوتی ہے۔انتہا یہ ہے کہ پورٹ سعید کے ملاحوں اور مصر کے بازاروں تک میں اس کے بولنے والے ملے ہیں۔ کیا اس پر آپ کو حیرت نہ ہوگی کہ قسطنطنیہ میں اردو سیرۃ النبی اور سیرت عائشہ وغیرہ کے ترجمے براہ راست ترکی میں ہوئے ہیں، مکہ معظمہ میں میری ملاقات ماسکو کے ایک عالم موسیٰ جاراللہ سے ہوئی جو اردو تصنیف ’’ارض القرآن‘‘کو ہندوستانیوں سے پڑھتے تھے، ادھر عربی درس گاہوں اور مسافروں اور تاجروں کے ذریعہ یہ زبان یاغستان، افغانستان، بخارا بلکہ چینی کا شغر تک اپنا سلسلہ ملا چکی ہے۔ ہندوستان کے پورے طول وعرض میں جہاں بھی مسلمان آباد ہیں، خواہ ان کی مادری زبان کچھ ہو، اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے اور ان صوبوں میں اردو کی تعلیم کے مکتب اور اسکول قائم ہیں، اس لیے جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، یہ زبان اب تک ملک کی واحد مشترکہ زبان ہے۔ہندوستان کی اس زبان نے یہاں تک وسعت پائی ہے کہ یورپ کی یونیورسٹیوں اور لائبریریوں میں اس نے اپنی جگہ حاصل کرلی ہے، کیا ہمارے لئے یہ فخر کی بات نہیں ہے۔ ہماری زبان سے انگریزی، فرانسیسی، ترک اور فارسی میں اردوتصانیف کے ترجمے ہورہے ہیں، چند ہفتے ہوئے کہ پولسٹڈم واقع جرمنی سے میرے پاس ٹوٹی پھوٹی اردو میں ایک جرمن ڈاکٹر کاخط موصول ہوا۔ہندی کی اشاعت اردو کے لئے مفید بھی ہےہندوستان کے ان صوبوں میں جہاں ہندوؤں میں اردو بہت کم رائج ہے، جیسے مدراس اور بنگال، اگر وہاں ہندی کارواج دوسری زبان کی حیثیت سے ہوجائے تو میرے خیال میں یہ بھی ہندوستان کے لئے نہایت مفید ہے، اول یہ کہ کم از کم ایک زبا ن تو ہندوستان کے منہ میں ہوگی، دوسرے یہ کہ ہندی اردو کا ایک درمیانی زینہ ہے۔ مجھے ایک دفعہ مدراس جانے کا اتفاق ہوا، ریل میں ایک مدراسی ہندو بزرگ کے سوا کوئی رفیق نہ تھا، وہ ناگری پر چارنی سبھا کی مدراسی شاخ کے ذریعہ ہندی سیکھ رہے تھے۔ اتنے سہارے پر یہ ممکن ہوسکا کہ ہم انگریزی کی مدد لئے بغیر ایک دوسرے کی بات کچھ سمجھ سکیں۔انسان جانوروں کو تو لگام لگاکر اپنا تابع دار بناتے ہیں، لیکن جب ایک انسانی قوم دوسری انسانی قوم کو اپنا تابع دار بناتی ہے، تو گو اس کے منہ میں لوہے کی لگام نہیں لگاتی تاہم اس کے منہ میں ایک لگام لگادیتی ہے جس کا نام ’’بدیسی زبان‘‘ہے۔ انسان کے تمام اعمال اس کے خیالات کے ماتحت ہیں، خیالات کی روح الفاظ کے جسم میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ الفاظ زبان کا دوسرا نام ہے، اس لئے کسی دوسری قوم کی زبان کے معنی اس قوم کا تمدن تاریخ، مذہب، جذبات ہر چیز ہیں۔آپ جب انگریزی پڑھتے ہیں، یا انگریزی بولتے ہیں تو نادانستہ طور سے آپ کے جسم وجان او رارادہ وروح انگریز کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ زبان کے الفاظ، محاورات ضرب الامثال، استعارات ہر چیز اس زبان کی قومیت کی جیتی جاگتی تاریخ ہوتی ہے، اور یہ تاریخ اس قوم کی زندگی کی بجلیوں کا خزانہ ہوتی ہے۔ جب آپ انگریزی بول رہے ہوتے ہیں، غور کیجئے گا کہ اس وقت آپ اپنے اندر انگریزی تاریخ، انگریزی جذبات، انگریزی احساسات، انگریزی خیالات کاسرتاپا مجسمہ بن جاتے ہیں، اور خود اپنی تاریخ، اپنے قومی جذبات، اپنے مذہبی احساسات، اپنے ادبی خیالات سے یکسر عاری ہو جاتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ اس زبان کے آداب ومعاشرت، طرز تمدن، لباس وپوشاک، لب ولہجہ پر چیز میں اس بدیسی قوم کی نقالی کرنی پڑتی ہے۔ ا ب ایسی قوم جو قلباً و قالباً روح وجسم، ظاہر اور باطن دونوں میں دوسری قوم کی نقالی کر رہی ہے، خود اپنی قومیت کا وجود اس کے اندر کہاں رہا۔ اب وہ ایسے افراد بن گئے ہیں جو اپنی قومیت کے عناصر کو توفناکرچکے ہیں مگر دوسری قوم، جس کی وہ نقالی کررہے ہیں وہ اپنے اندر شمار کرنے سے رہی، اس لئے ان کی حیثیت’’معزز اچھوت‘‘سے بڑھ کر نہیں۔اس مقالے سے اقتباسات جو ۱۹۲۳ء میں انجمن اردوئے معلی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں پڑھا گیا۔(۱) عجائب الہند بزرگ بن شہر یار ص۳ پیریس(۲) مروج الذہب مسعودی جلد اوّل ص۱۶۲ پیریس(۳) ایضاً ص ۳۸۱(۴) کتاب الفہرست مصر ص۲۴(۵) اس کی تفصیلات بابر کی تزک میں ملیں گی۔(۶) اب ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر سید عبداللہ صاحب نے اورینٹل کالج میگزین مئی ۱۹۴۳ء میں قدیم عربی تصانیف میں ہندوستانی الفاظ پر مضمون شائع کیا ہے۔(۷) علاوہ تاریخوں کے دیکھو قاموس نامہ ’’بندہ خریدن‘‘(۸) کلیات سنائی بمبئی ص۹۶(۹) بحوالہ پنجاب میں اردو ص۹۶(۱۰) لفظ میدہ فارسی لغات میں گو ملتا ہے (موید الفضلاء) مگر خیال ہوتا ہے کہ یہ ہندی ہے، کیونکہ یہاں شاعر نے آب اور پانی کو جس طرح بالمقابل استعمال کیا ہے ویسے ہی نان اور میدہ کو بالمقابل شاید رکھا ہے بطور لف ونشر غیر مرتب۔(۱۱) دیکھو تاریخ فیروز شاہی۔(۱۲) سیرالاولیاءبحوالۂ پنجاب(۱۳) تاریخ اردوئے قدیم بحوالہ سیر الاولیاء ص۳(۱۴) ایضاً بحوالہ ٔجواہر فریدی ص۲۰۸(۱۵) پنجاب میں اردو بحوالہ جواہر فریدی(۱۶) سیر الاولیاء ص۳۶۳(۱۷) فوائد الفوائد ص۸۶، یہ شعر حکیم سنائی کی حدیقہ (ص۵۶۸) لکھنؤ میں بھی ہے۔(۱۸) پنجاب میں اردو بحوالہ جواہر فریدی۔(۱۹) تاریخ فرشتہ ۲ص۴۰۰ نول کشور۔(۲۰) تاریخ اردوئے قدیم نول کشورص۲۳ بحوالہ عشق نامہ عبداللہ بن عبدالرحمن چشتی۔(۲۱) خاتمہ غرق الکمال امیر خسرو قلمی درالمصنفین۔(۲۲) اس شعر کو میں پوری طرح سمجھ نہیں سکا۔(۲۳) نومبر ۱۹۲۹ء کے اورینٹل کالج میگزین میں امیر خسرو کی محتلف تصانیف سے ہندوستانی الفاظ تلاش کرکے لکھے گئے ہیں۔(۲۴) ان اشعار کو آزاد نے آب حیات میں امیر خسرو کی طرف منسوب کیا ہے۔(۲۵) لطائف اشرفی ص۳۸۴، نصرت المطابع دہلی۔(۲۶) ایضاً ص۳۹۶۔(۲۷) تاریخ اردوئے قدیم حکیم سید شمس الدین قادری نقلاً از زادالمتقین الی طریق سلوک الیقین شیح عبدالحق دہلوی۔(۲۸) برہان پور اب سی پی میں ہے۔(۲۹) اخبار الاخیار ص۲۴۹ طبع ہاشمی میرٹھ۔(۳۰) مزید تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اضافت کے بغیر یہ اردو نام بارہویں صدی ہجری کے اخیر ہی سے استعمال میں آ گی اتھا، پروفیسر شیرانی نے اس کے ثبوت میں مصحفی کا یہ شعر پیش کیا ہے،خدا رکھے زباں ہم نے سنی ہے میر مرزا کیکہیں کس منہ سے ہم اے مصحفی اردو ہماری ہےخدا رکھے سے ظاہر ہے کہ اس وقت میر ومرزا زندہ تھے، اس لیے یہ شعر مصحفی نے ۱۱۹۵ء سے پہلے کہا ہوگا۔ خواجہ میر درد کی شاگردی کے مدعی محشر کا بھی ایک شعر لکھا ہے،گفتگو اردو زبان کی کوئی ہم سے سیکھ جائے کیا ہوا دہلی میں محشرؔ اپنی پیدائش نہیں(اورینٹل کالج میگزین مئی ۱۹۴۱ء ص۳۴ وحاشیہ ص۶۲)محشتر ۱۲۰۸ء میں مارے گئے ہیں۔ (تذکرۂ ہندی مصحفی ص۲۴۴) محصفی نے اپنے اس تذکرہ میں بھی جو مخزن الغرائب کے بعد ۱۲۲۱ء۔ ۱۲۳۶ء کی تالیف ہے۔ نثار کے حال میں (ص۲۵۵) زبان اردو لکھا ہے، مگر اس وقت یہ نام عام ہو چکا تھا۔’’ختم مصحف‘‘ اس کی تاریخ ہے، جیسا کہ مصنف نے خاتمہ میں لکھا جس سے ۱۲۱۸ء نکلتا ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "ہندوستان کو لیڈروں سے بچاؤ", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے مضامین", "year": "1942", "text_ur": "ہم ایک عرصے سے یہ شور سن رہے ہیں، ہندوستان کو اس چیز سے بچاؤ، اس چیز سے بچاؤ، مگر واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان کو ان لوگوں سے بچانا چا ہیئے جو اس قسم کا شور پیدا کر رہے ہیں۔ یہ لوگ شور پیدا کرنے کے فن میں ماہر ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر ان کے دل اخلاص سے بالکل خالی ہیں۔ رات کو کسی جلسے میں گرما گرم تقریر کرنے کے بعد جب یہ لوگ اپنے پرتکلف بستروں میں سوتے ہیں تو ان کے دماغ بالکل خالی ہوتے ہیں۔ ان کی راتوں کا خفیف ترین حصہ بھی اس خیال میں نہیں گزرا کہ ہندوستان کس مرض میں مبتلا ہے۔ در اصل وہ اپنے مرض کے علاج معالجے میں اس قدر مصروف رہتے ہیں کہ انہیں اپنے وطن کے مرض کے بارے میں غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔\n\nیہ لوگ جو اپنے گھروں کا نظام درست نہیں کر سکتے، یہ لوگ جن کا کیریکٹر بے حد پست ہوتا ہے، سیاست کے میدان میں اپنے وطن کا نظام ٹھیک کرنے اور لوگوں کو اخلاقیات کا سبق دینے کے لئے نکلتے ہیں۔۔۔ کس قدر مضحکہ خیز چیز ہے! یہ لوگ جنہیں عرف عام میں لیڈر کہا جاتا ہے، سیاست اور مذہب کو لنگڑا، لولا اور زخمی آدمی تصور کرتے ہیں۔ جس کی نمائش سے ہمارے یہاں گداگر عام طور پر بھیک مانگتے ہیں۔ سیاست اور مذہب کی لاش ہمارے یہ نامور لیڈر اپنے کاندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں اور سیدھے سادے لوگوں کو جو ہر بات مان لینے کے عادی ہوتے ہیں جو اونچے سروں میں کہی جاتی ہے۔ یہ کہتے پھر تے ہیں کہ وہ اس لاش کو از سر نو زندگی بخش رہے ہیں۔\n\nمذہب جیسا تھا ویسا ہی ہے اور ہمیشہ ایک جیسا رہے گا۔ مذہب کی روح ایک ٹھوس حقیقت ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہو سکتی۔ مذہب ایک ایسی چٹان ہے جس پر سمندر کی خشمناک لہریں بھی اثر نہیں کر سکتیں۔ یہ لیڈر جب آنسو بہا کر لوگوں سے کہتے ہیں کہ مذہب خطرے میں ہے تو اس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ مذہب ایسی چیز ہی نہیں کہ خطرے میں پڑ سکے، اگر کسی بات کا خطرہ ہے تو وہ لیڈروں کا ہے جو اپنا اُلّو سیدھا کرنے کے لئے مذہب کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔\n\nہندوستان کو ان لیڈروں سے بچاؤ جو ملک کی فضا بگاڑ رہے ہیں اور عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ آپ نہیں جانتے مگر یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان کے یہ نام نہاد لیڈر اپنی اپنی بغل میں ایک صندوقچی دبائے پھرتے ہیں۔ جس میں ہر کسی کی جیبیں کتر کر روپیہ جمع کرتے ہیں۔ ان کی زندگی ایک لمبی دوڑ ہے۔ سرمائے کے پیچھے۔ ان کے ہر سانس میں آپ ریاکاری اور دغابازی کا تعفن محسوس کر سکتے ہیں۔ لمبے لمبے جلوس نکال کر، منوں بھاری ہاروں کے نیچے دب کر، چوراہوں پر طویل طویل تقریروں کے کھوکھلے الفاظ بکھیر کر، ہماری قوم کے یہ نام نہاد رہنما صرف اپنے لئے ایسا راستہ بناتے ہیں جو عیش و عشرت کی طرف جاتا ہے۔\n\nیہ لوگ چندے اکٹھے کرتے ہیں مگر کیا انہوں نے آج تک بے کاری کا حل پیش کیا ہے؟ یہ لوگ مذہب مذہب چلاتے ہیں مگر کیا انہوں نے خود کبھی مذہب کے احکام کی پیروی کی ہے؟ یہ لوگ جو خیرات میں دیے ہوئے مکانوں میں رہتے ہیں، چندوں سے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ جو مستعار اشیاء پر جیتے ہیں، جن کی روح لنگڑی، دماغ اپاہج، زبان مفلوج اور ہاتھ پیر شل ہیں، ملک و ملت کی راہبری کیسے کر سکتے ہیں۔ ہندوستان کو بے شمار لیڈروں کی ضرورت نہیں جو نئے سے نیا راگ الاپتے ہیں۔ ہمارے ملک کو صرف ایک لیڈر کی ضرورت ہے جو حضرت عمرؓ کا سا اخلاص رکھتا ہو، جس کے سینے میں اتاترک کا سپاہیانہ جذبہ ہو۔ جو برہنہ پا اور گرسنہ شکم آگے بڑھے اور وطن کے بے لگام گھوڑے کے منہ میں باگیں ڈال کر اسے آزادی کے میدان کی طرف مردانہ وار لئے جائے۔\n\nیاد رکھیئے وطن کی خدمت شکم سیر لوگ کبھی نہیں کر سکیں گے۔ وزنی معدے کے ساتھ جو شخص وطن کی خدمت کے لئے آگے بڑھے، اسے لات مار کر باہر نکال دیجئے۔ حریر و پرنیاں میں لپٹے ہوئے آدمی ان کی قیادت نہیں کر سکتے، جو سخت زمین پر سونے کے عادی ہیں اور جن کے بدن نرم و نازک پوشاک سے ہمیشہ ناآشنا رہے ہیں، اگر کوئی شخص ریشمی کپڑے پہن کر آپ کو غربت کا سدّباب بتانے کی جرأت کرے تو اس کو اٹھا کر وہیں پھینک دیجیئے جہاں سے نکل کر وہ آپ لوگوں میں آیا تھا۔\n\nیہ لیڈر کھٹمل ہیں جو وطن کی کھاٹ میں چولوں کے اندر گھسے ہوئے ہیں۔ ان کو نفرت کے ابلتے ہوئے پانی کے ذریعے باہر نکال دینا چاہیئے۔ یہ لیڈر جلسوں میں سرمائے اور سرمایہ داروں کے خلاف زہر اگلتے ہیں صرف ا س لئے کہ وہ خود سرمایہ اکٹھا کر سکیں۔ کیا یہ سرمایہ داروں سے بدترین نہیں؟ یہ چوروں کے چور ہیں، رہزنوں کے رہزن۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام ان پر اپنی بے اعتمادی ظاہر کر دیں۔\n\nضرورت ہے کہ پھٹی ہوئی قمیصوں والے نوجوان اٹھیں اور عزم کو خشم کو اپنی چوڑی چھاتیوں میں لئے ان نام نہاد لیڈروں کو اس بلند مقام پر سے اٹھا کر نیچے پھینک دیں، جہاں یہ ہماری اجازت لئے بغیر چڑھ بیٹھے ہیں۔ ان کو ہمارے ساتھ، ہم غریبوں کے ساتھ ہمدردی کا کوئی حق حاصل نہیں۔۔۔ یاد رکھیئے غربت لعنت نہیں ہے جو اسے لعنت ظاہر کرتے ہیں وہ خود ملعون ہیں۔ وہ غریب اس امیر سے لاکھ درجے بہتر ہے جو اپنی کشتی خود اپنے ہاتھوں سے کھیتا ہے۔۔۔ اپنی کشتی کے کھویا خود آپ بنئے۔۔۔ اپنا نفع و نقصان خود آپ سوچئے اور پھر ان لیڈروں، ان نام نہاد رہنماؤں کا تماشا دیکھئے کہ وہ زندگی کے وسیع سمندر میں اپنی زندگی کا وزنی جہاز کس طرح چلاتے ہیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D9%84%DB%8C%DA%88%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DA%86%D8%A7%D8%A4"} {"title": "ہندوستان کی بھی عجب سر زمین ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "ہندوستان کی بھی عجب سر زمین ہے\nجس میں وفا و مہر و محبت کا ہے وفور\nجیسا کہ آفتاب نکلتا ہے شرق سے\nاخلاص کا ہوا ہے اسی ملک سے ظہور\nہے اصل تخم ہند سے اور اس زمین سے\nپھیلا ہے سب جہان میں یہ میوہ دور دور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%D8%B1_%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہندوستانی بچوں کا قومی گیت", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "چشتیؒ نے جس زمیں میں پیغامِ حق سُنایا\nنانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا\nتاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا\nجس نے حجازیوں سے دشتِ عرب چھُڑایا\nمیرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے\n\nیُونانیوں کو جس نے حیران کر دیا تھا\nسارے جہاں کو جس نے علم و ہُنر دیا تھا\nمٹّی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا\nتُرکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا\nمیرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے\n\nٹُوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے\nپھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے\nوحدت کی لَے سُنی تھی دنیا نے جس مکاں سے\nمیرِ عربؐ کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے\nمیرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے\n\nبندے کلیم جس کے، پربت جہاں کے سِینا\nنوحِؑ نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینا\nرفعت ہے جس زمیں کی بام فلک کا زینا\nجنّت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا\nمیرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A8%DA%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C_%DA%AF%DB%8C%D8%AA"} {"title": "ہندوستانی صنعت فلم سازی پر ایک نظر", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے مضامین", "year": "1942", "text_ur": "۱۹۱۳ء میں مسٹر ڈی جی پھالکے نے ہندوستان کا پہلا فلم بنایا اور اس صنعت کا بیج بویا۔ دادا پھالکے نے آج سے پچیس برس پہلے اپنی دھرم پتنی کے زیورات بیچ کر جو خواب دیکھا تھا ان کی نگاہوں میں یقیناً پورا ہو گیا ہوگا، مگر وہ خواب جو ملک کے ترقی پسند نوجوان دیکھ رہے ہیں، ابھی تک ان کی تعبیر عملی شکل میں نظر نہیں آئی۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ملک کی اس لطیف صنعت کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جن کے دل و دماغ پر بڑھاپا طاری ہے، جو صرف گرد و بیش کی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے مطمئن ہو جاتے ہیں اور جن کو آگے بڑھنے کی خواہش ہی نہیں ہوتی۔ کسی صنعت کو بامِ رفعت تک پہنچانے کے لئے ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہوتی، جن کا تخیل زنگ آلود ہو اور جن کی زندگی ٹھہرا پانی بن کر رہ گئی ہو۔\n\nنوجوانانِ وطن\n\nجن کی میں نمائندگی کر رہا ہوں، ملک کے وہ نوجوان جو سازِ حیات کے ہر تار کو چھیڑ کر نغمے پیدا کرنا چاہتے ہیں، وطن کے وہ نوجوان جو بلندیوں میں پرواز کرنا چاہتے ہیں، ہندوستان کے باغ کے وہ پرندے جو اپنے کترے ہوئے پروں کے باوجود اڑنا چاہتے ہیں۔ اپنے ملک کی اس صنعت کی موجودہ رفتار سے مطمئن نہیں۔ وہ بے عقل بچے سہی، تجارتی رازوں سے ناواقف سہی، مفلس سہی لیکن جو تڑپ ان کے سینے میں ہے، جو خواہش ان کے دل میں کروٹیں لیتی ہے، جو اضطراب ان کے تمتماتے ہوئے چہروں پر کھیلتا ہے، یقیناً قابل احترام ہے اور تمام وزنی جیبوں والے سرمایہ داروں کو جو انڈین موشن پکچر کانگرس میں اپنی تجوریوں کی نمائش کرنے آئے تھے، ایک سیکنڈ کے لئے احتراماً ملک کے ان پاگل لونڈوں کے دیوانے جذبے کے آگے سر جھکا دینا چا ہیئے تھا۔\n\nہندوستان کے ان ترقی پسند نوجوانوں کو بیمار کہا جاتا ہے۔۔۔ وہ بیمار ہیں، اس میں کوئی شک نہیں، پر یہ بیماری وہ عشق ہے جو ان کو اپنے وطن کے ذرّے ذرّے سے ہے۔ ان کو دیوانہ کہا جاتا ہے، وہ دیوانے ہیں، ا س لئے کہ وہ اپنے وقت کے قائدین کی ہوشمندی سے مطمئن نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اپنے وطن کے رتھ میں سب کے سب جت کر اسے اس مقام پر پہنچا دیں، جہاں دوسرے ملک کھڑے ہیں اور اس کے لئے وہ اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ سرمایہ داروں کے ہر کھنکھناتے ہوئے سکے کے مقابلے میں وہ اپنی جوان رگوں کا چمکیلا خون پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ دیوانہ پن ہے، مگر اس دیوانگی کا احترام کرنا چا ہیئے۔ ہندوستان کی ہوشمندی، متانت اور سنجیدگی، ٹھٹھرے ہوئے بدن کو گرمانے کے لئے دیوانگی کی اس آگ کی ہر وقت ضرورت ہے۔\n\nہمیں اچھے فلم چاہئیں\n\nمیں ایسے بلند فلم چاہئیں، جو ہم غیر ممالک کے فلموں کے مقابلے میں پیش کر سکیں۔ ہم لوگوں کو یہ خبط ہے، اس بات کی دیوانگی ہے کہ ہمارے وطن کی ہر شے دوسروں کے مقابلے میں اچھی ہو۔ یہ خبط ہماری زندگی کی اصل گرمی ہے اور ہم اس گرمی کو علیحدہ نہیں کر سکتے۔ انقلاب سے پہلے روس کے حالات ہندوستان سے بدتر تھے، روس میں ادب اور شاعری کا نام و نشان تک نہ تھا، مگر اس نے ایک نہایت ہی قلیل عرصے میں ولی پیدا کئے۔ میرؔ اور غالبؔ پیدا کئے۔ صنعت فلم سازی میں بھی ان کی ترقی قابل رشک ہے۔ روس نے ایسے ایسے ڈائریکٹر پیدا کئے ہیں کہ ان پر فکر انسان ہمیشہ بجا طور پر نازاں رہے گا۔ پر ہمارے ملک نے ان پچیس برسوں میں جن کے نو ہزار ایک سو پچیس دن ہوتے ہیں، کیا کیا ہے؟\n\nکیا ہم ان پچیس برسوں کا حاصل ان ڈائریکٹروں کی شکل میں پیش کر سکتے ہیں، جو اپنے فلموں کا منہ مانگے ہوئے لقموں سے بھرتے ہیں؟ کیا ہم ان افسانہ نویسوں پر تھوڑی دیر کے لئے بھی فخر کر سکتے ہیں جو دوسروں کی چچوڑی ہوئی ہڈیوں پر ٹیڑھی بنگی لکیریں کھینچتے ہیں؟ کیا ہم ان فلموں کو دوسرے ممالک کے فلموں کے مقابلے میں پیش کر سکتے ہیں، جو امریکی فلموں کی ہزارویں کاربن کاپی معلوم ہوتی ہے؟ ہر گز نہیں۔ ہندوستان میں ٹھیٹ ہندوستانی فلم بننے چاہئیں۔ ہمارے وہ سوشل فلم جو آج کل سیکڑوں کی تعداد میں سینماؤں کے پردوں پر چلتے ہیں، کیا ہندوستانی تہذیب کے آئینہ دار ہیں؟ اس کا جواب موٹے قلم سے یہ ہونا چا ہیئے۔ ’’نہیں!‘‘ آپ ان فلموں میں کبھی ’’ہندوستانیت‘‘ کو امریکی لباس میں دیکھتے ہیں اور کبھی امریکی دھوتی کرتے میں نظر آتا ہے، جو بے حد مضحکہ خیز ہے، ان کو سوشل فلم کہا جاتا ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح ہر ایکٹر خود کو آرٹسٹ کہتا ہے۔\n\nہندوستان میں ابھی تک آرٹسٹ کے صحیح معانی پیش نہیں کئے گئے۔ آرٹ کو خدا معلوم کیا چیز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں آرٹ ایک رنگ سے بھرا ہوا برتن ہے جس میں ہر شخص اپنے کپڑے بھگو لیتا ہے، لیکن آرٹ یہ نہیں ہے اور نہ وہ تمام لوگ آرٹسٹ ہیں جو اپنے ماتھوں پر لیبل لگائے پھرتے ہیں۔ ہندوستان میں جس چیز کو آرٹ کہا جاتا ہے، ابھی تک میں اس کے متعلق فیصلہ نہیں کر سکا کہ کیا ہے؟ ہندوستانی صنعت فلم سازی میں جن دو لفظوں کے ساتھ بہت برا سلوک ہوتا ہے، ان میں سے ایک آرٹ یا آرٹسٹ ہے اور دوسرا شاہکار۔ ڈائریکٹر سے لے کر اسٹوڈیو میں تختے ٹھونکنے والے مزدور تک سب کے سب آرٹسٹ ہیں۔ ’’ہریش چندر‘‘ سے لے کر ’’ستارہ‘‘ تک جتنے فلم بنے ہیں، سب کے سب شاہکار ہیں۔ اس سے یہ ہوا ہے کہ آرٹ اپنی قدر و منزلت کھو بیٹھا ہے اور شاہکار شاہکار نہیں رہا۔\n\nفلم اور پروڈیوسر\n\nہندوستانی صنعت فلم سازی کی دگرگوں حالت کے متعلق آئے دن اخبارات اور رسائل میں تبصرے شائع ہوتے رہتے ہیں مگر پریس کی اس آواز سے ملک کی اس صنعت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کے اکثر و بیشتر اخبارات کے پیش نظر ترفیع صنعت کے جذبے کے بجائے جلب منعفت ہے۔ اس میں ایسے اخباروں اور اخبار نویسوں کا کوئی قصور نہیں، جن کے کاغذ اور جن کے قلم پروڈیوسروں کی میزانوں میں تلتے ہیں۔ در اصل ہر شخص کساد بازاری کے اس زمانے میں کسی نہ کسی حیلے سے اپنی روزی کمانا چاہتا ہے اور جب فلمی دنیا میں فلمی خداؤں کے آگے سر جھکانے سے چاندی کے سکے مل جاتے ہیں تو کورنشوں کو معیوب نہیں سمجھا جاتا۔\n\nہندوستان میں سیکڑوں کی تعداد میں اخبارات و رسائل چھپتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ صحافت اس سرزمین میں ابھی تک پیدا نہیں ہوئی، اگر ایسا ہوتا تو آج ہمیں متذکرہ صدر الفاظ میں اپنی کمزوریوں کا اظہار نہ کرنا پڑتا۔ صحافت اپنی فطری شکل خود بخود اختیار کرے گی جب ہمارے ملک سے جہالت دور ہو جائے گی اور جہالت صرف اسی صورت میں دور ہو سکتی ہے جب دانش گاہوں کے سب دروازے عوام پر کھول دیے جائیں گے۔\n\nعوام کو تعلیم یافتہ بنانے کے مختلف طریقے ہیں۔ ان سب میں سے فلم کو متفقہ طور پر بہت بااثر تسلیم کیا گیا ہے۔ سیلولائڈ کے فیتے کے ذریعے سے ہم پبلک تک اپنا پیغام بطریق احسن پہنچا سکتے ہیں۔ نصاب کی بھاری بھر کم کتابیں طلبا کے سینے پر بوجھ بن کر رہ جاتی ہیں، اسکول کے اوقات تعلیم میں ہمارے اکثر بچے دل سے سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے، لیکچر کالج کے بعض لڑکے لڑکیوں کے دماغ پر اثر کرنے کے بجائے ان کے اعصاب پر اثرانداز ہوتے ہیں، مگر یہ دیکھا گیا ہے کہ فلم سے بددلی کا اظہار بہت کم کیا جاتا ہے۔ جو بات مہینوں میں خشک تقریروں سے نہیں سمجھائی جا سکتی، چٹکیوں میں ایک فلم کے ذریعے سے ذہن نشین کرائی جا سکتی ہے۔\n\nفلم کے عالمگیر اور ہمہ رس اثر کے پیش نظر ہمارا خیال ہے کہ ہندوستانی عوام کے اذہان کو بیدار کرنے کے لئے ایسے فلموں کی ضرورت ہے جو کوئی نئی بات سکھائیں اور جن کو دیکھ کر تماشائی تفریح حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سینما ہال سے باہر نکلتے وقت اپنے دماغوں کی آغوش میں غوروفکر کے جراثیم بھی لیتے جائیں۔ جس طرح جسمانی صحت برقرار رکھنے کے لئے کسرت کی ضرورت ہے، ٹھیک اسی طرح ذہن کی صحت برقرار رکھنے کے لئے ذہنی ورزش کی ضرورت ہے۔\n\nمقام تاسف ہے کہ ہمارے فلمی پروڈیوسروں کے پیش نظر سوائے تجارت کے اور کچھ بھی نہیں۔ یہ درست ہے کہ تاجروں کو صرف حصولِ زر سے مطلب ہوتا ہے اور ہمیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں، مگر ہم کور ذوقی اور پست مذاقی کا گلہ کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ہمارے اکثر پروڈیوسر اپنے نگار خانوں میں تیسرے درجے کی فلم بنا کر پردے پر پیش کرتے ہیں۔ صرف اس خیال سے کہ اس قسم کے لچر فلم پبلک کی جیبوں سے زیادہ رقم وصول کر سکتے ہیں۔ یہ خیال بالکل غلط ہے۔ مذاق پیدا کیا جاتا ہے، خود بخود پیدا نہیں ہوتا، اگر پبلک میں پست مذاقی کے لوگ موجود ہیں تو اس کے ذمہ دار ہمارے پروڈیوسر ہیں جو مذاق کو پستی کی طرف لے جاتے ہیں۔\n\nجادو کے لایعنی قصے اور پریوں کی فرضی کہانیوں میں اتنی دلچسپی نہیں ہے جتنی کہ ہمارے پروڈیوسر سمجھتے ہیں۔ پبلک ایسے فلم چاہتی ہے جن کا تعلق براہ راست ان کے دل سے ہو۔ جسمانی حسیات سے متعلق چیزیں زیادہ دیرپا نہیں ہوتیں مگر جن چیزوں کا تعلق روح سے ہوتا ہے، دیر تک قائم رہتی ہیں۔ ماسٹر وٹھل کے اسسٹنٹ تماشائیوں کے ذہن سے بالکل نکل چکے ہیں۔ اب وہ روحانی خوراک کے لئےخالی ہیں۔\n\nہمیں اس وقت ایسے فلم درکار ہیں، جو ہمیں کچھ سکھائیں۔ ایسے فلم نہیں چاہئیں جو ہمیں سب کچھ بھلا دیں، جو ہمارے اذہان کو زنگ آلود کر دیں۔ ہمیں اپنی زبان سے پیار کرنا سکھایا جائے، ہمیں اپنے وطن سے پیار کرنے کا سبق دیا جائے، ہمیں محبت کے حقیقی معنوں سے آشنا کرایا جائے، ہمارے سامنے کتاب انسانیت کے اوراق کھولے جائیں۔ کیا ہمارے پروڈیوسر ایسا نہیں کر سکتے؟ کیا وہ اپنی تجارت کو ہماری مانگ کے ساتھ ساتھ اور زیادہ نہیں بڑھا سکتے۔\n\nاختصار کی ضرورت\n\nہمارے یہاں خاموش فلموں کے زمانے سے لے کر اب تک جتنے فلم بنے ہیں، ان کی غیر معمولی طوالت دیکھ کر خیال پیدا ہوتا ہے کہ شاید ہمارے پروڈیوسر یہ سمجھنے لگے ہیں کہ پبلک غیر معمولی طور پر لمبے فلم پسند کرتی ہے۔ ممکن ہے اس میں کچھ صداقت ہو۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ ایسے طول طویل فلموں کی نمائش سے جہاں صنعت فلم سازی کی ترفیع میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے، وہاں تماشائیوں کے اذہان پر بھی اس کا برا اثر پڑ رہا ہے۔ آج کل وہ زمانہ ہے جس میں اختصار کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ کم سے کم وقت میں مطلب حل کرنا آج کل ہر شخص کے پیش نظر ہے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے یہاں کے فلموں میں جو بات سات یا آٹھ ہزار فٹ سیلولائڈ میں کہی جا سکتی ہے، اسے پندرہ یا سولہ ہزار فٹ لمبے فیتے میں پھیلا دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ ظاہر ہے۔\n\nایک افسانے کو جس کے سارے ابواب آٹھ ہزار فٹ لمبے فلم میں سما سکتے ہیں اگر ربڑ کی طرح کھینچ کر سولہ ہزار فٹ لمبا بنا دیا جائے گا تو اس میں وہ بات نہ رہے گی جو اس کی فطری طوالت میں تھی۔ افسانے کی حدود سے جو کوئی باہر نکلنے کی کوشش کرے گا، اچھا افسانہ گو نہیں بن سکتا۔ جس طرح ربڑ کا فیتہ ایک خاص حد تک کھینچا جا سکتا ہے، اسی طرح افسانے بھی ایک خاص حد تک کھینچ کر بڑے کئے جا سکتے ہیں اور اگر ہم اس حد سے گزر جائیں گے تو بیچارے افسانے کی ساری ہڈیاں پسلیاں ٹوٹ جائیں گی اور سب کا سب منتشر ہو جائے گا۔\n\nغیر فطری طور پر لمبی فلم میں ڈائریکٹر خواہ کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو، افسانے کو اپنے محور پر قائم رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ فلم طویل ہوگا تو اس میں قدرتی طور پر ڈائیلاگ بھی لمبے لمبے ہوں گے اور ایکٹر ان کی ادائیگی میں یک آہنگی برتنے لگیں گے۔ فلم طویل ہوگا تو اس کے حادثات اور واقعات بھی طویل ہوں گے۔ جس کے باعث فلم کی رفتار میں لنگڑا پن پیدا ہو جائے گا، جو آنکھوں کو بہت برا معلوم ہوگا۔ طویل فلم کی تیاری میں زیادہ سیٹنگ استعمال ہوتے ہیں۔ جن پر کافی روپیہ خرچ آتا ہے۔ اس طرح وہ فلم جو اپنی صحیح شکل میں ساٹھ یا ستر ہزار روپے میں بن سکتا ہے، ایک لاکھ روپے میں تیار ہوگا اور ناکام رہنے کی صورت میں پروڈیوسروں کی کمر توڑ کے رکھ دے گا۔\n\nطویل فلم میں دلچسپی کا عنصر داخل کرنے کے لئے پروڈیوسروں اور ڈائریکٹروں کو بے موقعہ اور بے محل گیت گوانے اور ناچ نچوانے پڑتے ہیں، جو فلم کو خوبصورت بنانے کے بجائے نہایت بھدا بنا دیتے ہیں۔ روپیہ خرچ ہوتا ہے مگر خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اس کا باعث صرف یہ حقیقت ہے کہ ہر شے کے لئے ایک مناسب و موزوں جگہ ہوتی ہے، جس سے ہٹ کر وہ اپنی تمام خوبصورتی کھو دیتی ہے۔ تماشائیوں کو اگر ایسے طویل فلموں کا عادی بنا دیا گیا تو ان کے اذہان میں طوالت پسندی گھر کر جائے گی اور وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں بھی اس عادت کو داخل کرنے کی کوشش کریں گے۔ جس کے نتائج بہت تنزل آفریں ثابت ہوں گے۔\n\nمتذکرہ صدر امور کے پیشِ نظر یہ ضروری ہے کہ ہمارے پروڈیوسر اپنے فلموں کی تیاری میں اختصار سے کام لیں۔ آج کل سولہ سترہ ہزار فٹ لمبے پر جو کچھ وہ خرچ کر رہے ہیں، اگر وہی کچھ اس سے نصف طویل فلم پر خرچ کیا جائے تو ملک کی صنعت فلم سازی میں ایک انقلاب برپا ہو سکتا ہے اور ان لوگوں کی تمام شکایتیں دور ہو سکتی ہیں، جو اس وقت ہمارے فلموں کو نفرت کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔\n\nسینما ہال میں تماشائیوں کے لئے دو گھنٹہ کا پروگرام پیش کرنے کے لئے ہمارے پروڈیوسروں کو ان خطوط پر چلنا چاہیئے، جو ہالی ووڈ کے پروڈیوسروں کے پیش نظر ہیں۔ سات آٹھ ہزار فٹ لمبے فلم کے ساتھ کارٹون یا خبروں کے ایک چرخے یا دو چرخے فلم تیار کئے جائیں جیساکہ یورپ میں کئے جاتے ہیں۔ اس طرح پبلک جہاں قصے کہانیاں سنے گی اور دیکھے گی، وہاں دوسرے ممالک کے تازہ ترین حالات سے باخبر بھی رہے گی۔ ان لوگوں کے علم میں اضافہ ہوگا۔ اپنے ہمسایہ ممالک سینما ہال میں بیٹھے بیٹھے دیکھ لیں گے اور ان کے دل سے وہ تعجب دور ہو جائے گا جو عام طور پر فاصلہ پیدا کر دیا کرتا ہے۔ بیس پچیس سال تک ہم طول طویل فلم دیکھتے رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس بدعت کا خاتمہ کر دیا جائے اور بھاری بھر کم اور شیطان کی آنت کی طرح لمبے فلموں کے بجائے ایسے مختصر فلم پیش کئے جائیں جو ہمارے دماغوں پر وزن نہ ڈالیں۔ وطن کی اس صنعت کو رفعت بخشنے کے لئے اختصار کی بے حد ضرورت ہے۔\n\nستارے یا ستارہ شناس\n\nتیس برس سے ہالی ووڈ کے اربابِ فکر اس بات کا فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فلم سازی میں اسٹار کو زیادہ اہمیت حاصل ہے یا خود فلم کو۔ اس مسئلے پر اس قدر بحث کی جا چکی ہے کہ اب اس کے تصور ہی سے الجھن ہونے لگتی ہے۔ آخر متذکرہ صدر سوال کا فیصلہ کن جواب کیا ہو سکتا ہے۔ سوائے اس کے یہ سوال سن کر یوں کہہ دیا جائے، ’’کیا فرمایا آپ نے؟‘‘ مرغی پہلے پیدا ہوئی یا انڈا؟ اگر اس کا جواب کچھ ہو سکتا ہے تو یقیناً اس سوال کا جواب بھی مل جائے گا کہ اسٹار زیادہ اہمیت رکھتا ہے یا خود فلم۔\n\nفرینک کیپرا کولمبیا\n\nفلم کمپنی کے ماہرِ فن ڈائریکٹر نے حال ہی میں اس مسئلے پر اپنے افکار انگریزی اخبارات میں شائع کئے ہیں۔ مسٹر کیپرا کہتے ہیں، ’’میں ان لوگوں کا ہم خیال ہوں جو فلم کو سب سے اہم سمجھتے ہیں۔ فلم، اسٹار بناتے ہیں اور درخشاں سے درخشاں ستارہ کمزور یا برے فلم کو ناکامی سے بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔‘‘ تجربے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ فلم ستارہ ساز ہے اور ستارے کمزور فلم کو تابانی نہیں بخش سکتے، مگر ہمارے یا مسٹر کیپرا کے خیال سے سب متفق نہیں ہو سکتے۔ ایسے سیکڑوں اصحاب موجود ہوں گے جو اپنے نظریے کے جواز میں اور مسٹر کیپرا کے نظریےکے ابطال میں ٹھوس دلائل و براہین پیش کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ ستارے کیوں کر بنتے ہیں یا وہ کون سی چیز ہے جو ستارے بناتی ہے؟\n\nمسٹر کیپرا نے اس سوال کا جواب نہایت دلچسپ انداز میں دیا۔ آپ کہتے ہیں، ’’اگر دنیا کے تمام پروڈیوسر اپنا سرمایہ جمع کر کے میرے حوالے کر دیں (جو یقیناً کافی و وافی ہوگا) اور مجھ سے یہ کہیں کہ ہمارے فلمی آسمان کے لئےتین ستارے چن کر لا دو، تو میں یقیناً خالی الذہن ہو جاؤں گا۔ ا س لئے کہ مجھے وہ جگہ معلوم ہی نہیں۔ جہاں سے یہ ستارے مل سکتے ہیں۔‘‘\n\nخاموش فلموں کے زمانے میں ہالی ووڈ کے آسمان فلم کے لئےستارے عام طور پر ہوٹلوں، کارخانوں اور دفتروں وغیرہ سے آتے تھے، لیکن اب کہ فلموں کی خاموشی تکلم میں تبدیل ہو چکی ہے اور اس صنعت کو کافی فروغ حاصل ہو چکا ہے۔ ستاروں کی سپلائی بہت کم ہو گئی ہے۔ ہمارے یہاں صنعت فلم سازی کے آغاز میں قحبہ خانے تھیٹر اور چکلے ستارے مہیا کیا کرتے تھے اور اب کہ ہماری صنعت کو کسی قدر فروغ حاصل ہوا ہے، علمی طبقے نے بھی ہمارے فلمی آسمان کے لئے ستارے پیش کرنے شروع کئے ہیں اور مستقبل بعید یا مستقبل قریب میں ایک ایسا وقت آئے گا، جب ہالی ووڈ کی طرح یہاں بھی ستاروں کی سپلائی کم ہو جائے گی۔ مگر ہم یہ سوچ رہے تھے کہ وہ کون سی شے ہے جو ستارے بناتی ہے؟\n\nمسٹر فرینک کیپرا کی (جن کی ڈائریکشن میں ہالی ووڈ کے بڑے بڑے نامور ستارے کام کر چکے ہیں) رائے ہے کہ کرداروں کی صحیح تقسیم (یعنی موزوں و مناسب کاسٹ) ستارے بناتی ہے۔ ان کے نظریے کے اعتبار سے چینی آدمی کا روپ صرف چینی ہی بطریق احسن دھار سکتا ہے اور لنگڑے یا کبڑے آدمی کا پارٹ صرف لنگڑا یا کبڑا آدمی ہی خوبی سے ادا کر سکتا ہے۔ ہمیں مسٹر کیپرا کے اس نظریے سے اتفاق ہے۔ اسکرین پر کسی کیریکٹر کی ادائیگی کے لئے اتنا ہی زیادہ انہیں کامیابی کا موقع ملے گا، جس آسانی سے ہم اور آپ اپنے آپ یعنی اپنے اصل کو پیش کر سکتے ہیں۔ اس آسانی سے ہم کسی اور کی نقل نہیں کر سکتے جہاں تصنع اور بناوٹ کو دخل ہوگا وہاں اصلیت برقرار نہیں رہ سکتی۔\n\nاس نظریے کے جواز میں مسٹر فرینک کیپرا نے بہت سی مثالیں پیش کی ہیں، جن میں سے ایک گیری کو پرکی ہے۔ آپ کہتے ہیں، گیری کوپر اسکرین پر اپنے آپ کو اصلی رنگوں میں پیش کرتا ہے اور چونکہ وہ ایک خوش ذوق، عالی خیال اور صاحب فہم انسان ہے، اسی لئے وہ اپنی کوششوں میں کامیاب رہتا ہے۔\n\nہم یہ کہہ رہے تھے کہ موزوں و مناسب کاسٹ ستارے بناتی ہے، مگر یہ قطعی اور آخری فیصلہ نہیں ہے۔ ا س لئے کہ صرف کاسٹ کا موزوں و مناسب ہونا ہی کسی فلم کو کامیاب نہیں بنا سکتا۔ فلم کی کامیابی کے لئے اور بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے جن کو آپ بخوبی سمجھتے ہوں گے۔ مختصر الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ جب تک مشینری کے سب پرزے اپنی اپنی جگہ پر اچھا کام نہ کریں گے، فلم کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کرداروں اور ٹیکنیشینوں کا باہمی اتحاد پکچر کی صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔ جس طرح قیمتی سے قیمتی گھڑی ایک ٹک کرنے سے بھی انکار کر دیتی ہے، ا س لئے کہ اس کے کسی پرزے کے ساتھ میل کا ایک ننھا سا ذرہ چمٹا ہوتا ہے، ٹھیک اسی طرح قیمتی سے قیمتی فلم، ایک حقیر اور معمولی سی فروگزاشت یا غلطی کے باعث فیل ہو جاتے ہیں۔ صحیح کاسٹ ستارے بنانے میں دیگر عناصر سے کہیں زیادہ ممد و معاون ہے۔ آپ تھوڑی دیر کے غورو فکر کے بعد یقیناً ہمارے ہم نوا ہو جائیں گے، چنانچہ فلموں کو کامیاب بنانے اور ستارے پیدا کرنے کے لئے ہمیں ستارہ شناس نگاہوں کی ضرورت ہے۔\n\nاہل طرز ڈائریکٹر\n\nہندوستانی فلموں کی بے جانی کا سب سے بڑا سبب یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں اہلِ طرز یعنی اسٹائلسٹ ڈائریکٹروں کی کمی ہے۔ افسانہ نگاری اور شعر گوئی کے لئے ایک اسٹائل کی ضرورت ہے جو ادب کے جملہ لوازما ت میں امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اسٹائل ہی ایک افسانہ نگار کی کہانی کو دوسرے قصہ نویس کے افسانے کے مقابلے میں ایک جداگانہ حیثیت بخشتا ہے۔ اسی طرح فلموں کے ڈائریکٹر کے لئے اسٹائل کی بہت ضرورت ہے، اگر ڈائریکٹروں کا اپنا اپنا اسٹائل نہ ہوگا تو فلم متحرک تصاویر کے یک آہنگ فیتے بن کر رہ جائیں گے۔\n\nہندوستانی فلم ایک عرصے سے سکرین پر پیش ہو رہے ہیں۔ ان میں سے گنتی کے چند فلم ایسے ہیں، جن میں ہمیں ڈائریکٹروں کا اسٹائل نظر آتا ہے۔ اسی اسٹائل کے ذریعہ سے ہم ان کے تشخص کے بارے میں کچھ جان سکے ہیں، مگر دوسرے فلم دیکھ کر ہمیں ایک ہی طریقے سے جوڑی ہوئی اور ایک ہی نگاہ سے دیکھی ہوئی چیزیں نظر آتی ہیں۔ ان کے مشاہدے سے ہم صرف اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پبلک کی مانگ پر پروڈیوسروں نے چند نااہل ڈائریکٹر پکڑ کر اپنے سیلولائڈ کے اوپر بے معنی نقش بنوا لئے ہیں، جن کو نہ وہ خود سمجھ سکے اور نہ پبلک ہی سمجھ سکی۔\n\nہندوستان میں روزانہ سیکڑوں فلموں کی نمائش ہوتی ہے، مگر مقام تاسف ہے کہ ان میں سے بہت کم فلم، فلم ہوتے ہیں۔ در اصل جو ڈائریکٹر یہ فلم تیار کرتے ہیں، تخیل سے بالکل عاری ہوتے ہیں۔ وہ اسٹوری کو سامنے رکھ کر صرف کلوز اپ، مڈ شاٹ اور لانگ شاٹ میں کیمرہ رکھنے کا حکم دینا جانتے ہیں اور بس وہ کیمرے کو ہیروئن کے چہرے کے قریب بار بار لے آتے ہیں، مگر ان کو کلوز اپ کی اہمیت قطعی طور پر معلوم نہیں ہوتی۔ ایسے ڈائریکٹر ان نام نہاد ادیبوں کے مترادف ہیں جو بے ربط عبارت لکھتے ہیں اور جنہیں الفاظ کی نشست و برخواست کا کوئی سلیقہ نہیں ہوتا۔\n\nارنسٹ کیوبش کا فلم اگر اس کے نام کے بغیر پردے پر آئے تو آپ اس میں ٹھوس مزاح کے ٹچ اور معمولی سی معمولی اشیاء کے موزوں و مناسب استعمال کو دیکھ کر فوراً کہہ دیں گے، ارنسٹ کیوبش پردے پر چل پھر رہا ہے، دلکش بیرونی مناظر اور پھولوں میں ہیروئن کو تیتری کی طرح پھڑ پھڑاتا دیکھ کر آپ کو فوراً معلوم ہو جائے گا کہ پردے کے پیچھے ڈی، ڈبلیو گرفتھ کا دل دھڑک رہا ہے، جو نیچر کی سحرکاریوں کا دلدادہ ہے۔ اسی طرح ایرک خان مسٹر اہیم کی حقیقت پسندی چھپائے نہیں چھپ سکتی۔ اس جواز میں اور بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔\n\nہالی وڈ کے قریب قریب ہر ڈائریکٹر کا ایک طرز یا اسٹائل ہے اور یہی ان کی کامیابی کا راز ہے، مگر یہاں ہندوستان میں اہل طرز ڈائریکٹروں کا فقدان ہے۔ اس وقت صرف دو ڈائریکٹر ایسے ہیں، جنہیں صاحب طرز کہا جا سکتا ہے۔ دیو کی بوس اور شانتا رام، دیو کی بوس کی مثالیت ہی ایک ایسی چیز ہے، جو اسے دوسرے ڈائریکٹروں پر امتیاز بخشتی ہے۔ راج رانی میرا، پورن بھگت، آفٹر دی ارتھ کوئیک اور ودیاپتی میں آپ دیو کی بوس۔۔۔ خواب دیکھنے والے دیو کی بوس کو سیلو لائڈ کے ہرانچ میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کا اسٹائل اوریجنل ہے اور اسی وجہ سے وہ کامیاب ہے۔\n\nاشاریت اور عظمت پسندی\n\nشانتا رام کے اسٹائل کے دو بڑے جزو ہیں، جس فلم میں بھی آپ یہ دو چیزیں پہلو بہ پہلو دیکھیں گے، آپ کا خیال فوراً پربھات فلم کمپنی کے شانتا رام کی طرف چلا جائے گا۔ وہ اپنے اسٹائل میں اور کوئی ثانی نہیں رکھتا اور یہی وجہ ہے کہ اسے ہندوستان کے ڈائریکٹروں کی صف اول میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ نیتن بوس کے نام کا یہاں ا س لئے ذکر نہیں کیا گیا کہ وہ اہل طرز ڈائریکٹر نہیں۔ وہ ایک نہایت اچھا ’’نمائش کار‘‘ ہے۔ اس کو اپنے خیالات اور افکار کی نمائش کرنے کا ڈھنگ بہت اچھی طرح یاد ہے اور یہی اس کی قابل رشک کامیابی کا باعث ہے۔\n\nایکٹنگ\n\nایکٹنگ یا کردار نگاری اس فن کا نام ہے، جس کے ذریعے سے مختلف انسانوں کے جذبات و محسوسات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ مصوری، سنگ تراشی، شاعری، افسانہ نویسی اور موسیقی کی طرح کردار نگاری کو بھی فنون لطیفہ میں شمار کیا جاتا ہے، گو بعض منکراس سے اختلاف بھی رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر تمام لوگ جو روس کے مشہور معلم اخلاق مصنف تالسٹائی کے مدرسۂ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، اسٹیج اور اسکرین کو آرٹ کی شاخ تسلیم کرنے سے یکسر منکر ہوں گے۔ فنون لطیفہ کے متعلق تالسٹائی کا نظریہ قریب قریب ہر مفکر کے نظریے سے جداگانہ ہے۔ وہ غایت درجہ حقیقت پسند تھا اور چونکہ اسٹیج اور اسکرین پر حقیقت بہت کم نظر آتی ہے، اسی لئے اس کے نظریے کے مطابق فلم اور اسٹیج پر کھیلے ہوئے ناٹک آرٹ سے بہت دور ہیں۔\n\nاپنا اپنا خیال ہے۔۔۔ کردار نگاری کا فن افسانہ گوئی کی طرح ہبوط آدم سے چلا آ رہا ہے۔ دوسرے کے دل پر بیتے ہوئے واقعات بیان کرنا اور کسی دوسرے قلب کی گہرائیوں کا اظہار کرنا کردار نگاری ہے۔ جب آپ کا چھوٹا بھائی یا کمسن بچہ رات کو سوتے وقت آپ کو بتاتا ہے کہ کس طرح اس کی دادی اماں چوہے سے ڈر کر غسل خانے میں چھپ گئیں اور مارے خوف کے ان کا سارا جسم کانپنے لگا تو اس وقت دراصل وہ ایک ایکٹر کے فرائض ادا کر رہا تھا، اگر اس بچے کی قوت بیان کمزور نہیں اور وہ آپ پر اپنی دادی اماں پر بیتے ہوئے واقعات کو اس طرح بیان کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ آپ اپنے سامنے ایک تصویر سی دیکھنے لگتے ہیں اور آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ واقعی آپ کی آنکھوں کے سامنے بچے کی دادی اماں فرط خوف سے تھرتھر کانپ رہی ہیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ بچہ ایک کامیاب ایکٹر ہے اور اس کے اظہار میں تعدیہ بدرجہ اتم موجود ہے۔\n\nفلموں میں یہی چیز بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں آپ کے چھوٹے بھائی یا کمسن بچے نے صرف اپنے دل کی خواہش کی بنا پر اپنی دادی اماں کی کیفیت بیان کی تھی اور یہاں کئی بچے، جوان، بوڑھے، عورتیں اور مرد جمع ہو کر ایک کہانی سن کر کسی کے کہنے پر آپ لوگوں کو سنا دیتے ہیں۔ یہ فرق بظاہر معمولی ہے مگر چونکہ آپ کو بہت سی اندرونی باتیں معلوم نہیں، ا س لئے آپ نہیں جانتے کہ جب آپ کا بچہ یا بھائی اپنی دادی اماں کی داستان سنا رہا تھا تو اس کو اس امر کے لئے کسی اور شخص نے اکسایا نہیں تھا۔ یہ اکساہٹ خود بخود اس کے دل میں پیدا ہوئی تھی۔ اس کے برعکس فلم بنانے سے پہلے ہر ایکٹر کے ہاتھ میں اس کا پارٹ دے دیا جاتا ہے اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس کو بطریق احسن نبھائے گا۔\n\nایک بات اور۔۔۔ بچہ جب اپنی کہانی سنا رہا تھا تو اس وقت اس کے پاس کوئی ہدایت دینے والا موجود نہیں تھا، لیکن جب ایکٹر کسی افسانوی کردار کے جذبات کا چربہ اتارنے لگتے ہیں تو ان کے پاس ایک سے زیادہ ہدایت دینے والے موجود ہوتے ہیں، جو اپنے خیال کے مطابق ان سے کام لیتے ہیں۔ بچے نے جب کہانی سنائی تھی تو اس کی گفتگو اور اس کی جسمانی حرکات کے تسلسل میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی مگر یہاں کیمرے کے زاویے تبدیل کئے جاتے ہیں، روشنی میں کمی یا زیادتی کی جاتی ہے اور پھر ایکٹر کے لئے سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ اسے ایک خاص حد تک رہ کر اپنا کام کرنا پڑتا ہے۔ اسے جذبات نگاری کے دوران میں مندرجہ ذیل امور پیش نظر رکھنا پڑتے ہیں۔\n\n۱۔ اگر وہ مقررہ جگہ سے ایک انچ بھی ادھر سرک گیا تو کیمرے کی زد سے باہر ہو جائے گا۔\n\n۲۔ اگر اس نے منہ ادھر کو موڑ لیا تو کیمرہ مین اس کے ایکٹنگ کی تصویر میں وہ بات پیدا نہ کر سکے گا، جو اس کے دماغ میں ہے۔\n\n۳۔ اگر اس نے مدھم آواز میں مکالمے کی ادائیگی کی تو اس کی صدا بندی نہ ہو سکے گی۔\n\nاسی قسم کی اور بہت سی مشکلات ایکٹر کے راستے میں حائل رہتی ہیں۔ بہرحال کہنا یہ ہے کہ فلموں کے لئے ایکٹنگ یا کردار نگاری بہت مشکل کام ہے اور اس کے لئے ایک مخصوص ذہن اور جسم کی ضرورت ہے۔ ہالی وڈ میں جو صنعت فلمسازی کا باوا آدم ہے، کردار نگاری کے لئے بڑی چھان بین اور جستجو کے بعد ایسے آدمی تلاش کئے جاتے ہیں جو اپنے اندر ایک اعلیٰ کیریکٹر کی اہلیتیں اور خوبیاں پنہاں رکھتے ہوں۔\n\nاسٹاربنانے کے لئے جو کاوش ہالی وڈ کے پروڈیوسر کرتے ہیں، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ قریب قریب ہر کمپنی کے چند کارکن مختلف ممالک کی سیاحت میں مصروف رہتے ہیں۔ اس طرح چل پھر کر وہ اپنے نگار خانوں کے لئے تازہ دم ایکٹر فراہم کرتے ہیں، پھر ان کی تعلیم پر بے اندازہ روپیہ صرف کیا جاتا ہے اور جب وہ پردے پر لائے جاتے ہیں تو ایک ہی رات میں ان کی شہرت اکنافِ عالم میں پھیل جاتی ہے۔\n\nہندوستان میں جب صنعت فلمسازی کا آغاز ہوا تو میراثی، ربابی، طبلچی اور سارنگئے بطور ایکٹر اور بھنگنیں اور طوائفیں بطور ایکٹرس بھرتی کی گئیں۔ اتنے برس گزر جانے کے بعد بھی اس معیار میں کوئی خاص تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔ جس مرد کی آواز اچھی ہو اور وہ بازاری قسم کے گانے سریلی آواز میں گا لیتا ہو، اسے کامیاب ایکٹر متصور کر لیا جاتا ہے اور اس کو اسٹار بنا کر سال میں چھ چھ فلم تیار کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح عورت میں صرف حسن کو ایکٹنگ کے فن کا بہترین مظہر قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔\n\nہمارے ملک میں صنعت فلمسازی کی بنیاد چونکہ غلط اصولوں پر رکھی گئی ہے ا س لئے ایکٹنگ کا فن قریب قریب مفقود ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے ہاں اچھے ایکٹروں اور ایکٹرسوں کی کمی ہے۔ ہندوستان میں یقیناً ایسے افراد موجود ہیں جو مواقع بہم پہنچانے پر اپنے آپ کو اس فن کے استاد ثابت کر سکتے ہیں، مگر افسوس تو اس بات کا ہے کہ ایسا کیا ہی نہیں جاتا۔\n\nفلموں کا سادھو، اگر آپ فلموں کو غور سے دیکھنے کے عادی نہیں ہیں، تو بھی آپ نے اپنے ملک کے فلموں میں ایک چیز ضرور نوٹ کی ہوگی، جو بار بار دکھائی دیتی ہے۔ میری مراد اس فقیر یا سادھو سے ہے جسے ہمارے ڈائریکٹر کہیں نہ کہیں گوایا کرتے ہیں۔ منظر نامے میں یہ لکھا ہے کہ ہیروئن اداس بیٹھی ہے اور ڈائریکٹر صاحب کو یہ ظاہر کرنا ہے کہ وہ اداس ہے، غمگین ہے، اس پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ چونکہ کریکٹر کی ساری ذمہ داریاں ان کے سر پر ہیں۔ اس لئے لازمی طور پر انہیں ایسی فضا پیدا کرنی چا ہیئے جس سے تماشائیوں پر یہ واضح ہو جائے کہ ہیروئن اداس بیٹھی ہے۔۔۔ اداس!\n\nڈائریکٹر صاحب سوچتے ہیں، اپنے تخیل کی کتاب کے سارے ورق پلٹتے ہیں اور اچانک ان کے دماغ میں ایک خیال پیدا ہوتا ہے۔ نہایت ہی اچھوتا خیال۔ وہ سوچتے ہیں، ’’کیوں نہ بازار سے یا ساتھ والے باغ میں سے کوئی سادھو پر دردگیت چمٹے پر گاتا ہوا گزرے۔ سادھو فلاں فلم میں آ چکا ہے، مگر کیا ہوا۔۔۔ یہ سادھو نہ ہوگا کوئی بھیک مانگنے والا ہوگا اور کیا بھکاری گا کر بھیک نہیں مانگتے۔ ان کے گیت بھی تو اکثر اوقات درد ناک ہوتے ہیں اور کیا ان کے چہرے اداس نہیں ہوتے۔۔۔؟ یہ ٹچ حقیقت پر مبنی ہوگا۔۔۔ یہ ٹچ!‘‘\n\nڈائریکٹر صاحب نے اپنا سر ہلا کر چٹکی بجائی اور ایک بھک منگا گیت سمیت تیار ہو گیا۔ اسٹوڈیو میں ایک آدھ گویا عام طور پرا سٹاک میں ضرور ہوتا ہے، جسے جہاں چاہیں گوا دیا جاتا ہے۔ اس کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیوں گاتا ہے اور کس لئے گاتا ہے۔ وہ گانے کی ایک مشین ہے، جس کو صرف چابی کی ضرورت ہے اور یہ چابی ہمارے ڈائریکٹر صاحب کے پاس محفوظ ہوتی ہے۔ میں ایک ایسے گویے کو جانتا ہوں جو اسٹوڈیو کے ہر درخت کے نیچے بیٹھ کر ایک نہیں درجنوں گیت گا چکا ہے۔ سمندر کے پاس، دریا کے کنارے، گاڑی میں پیدل اور چل کر اس بیچارے نے خدا معلوم کتنے گیت گائے ہیں۔ کبھی اس کے چہرے پر ڈاڑھی تھی۔ دوبالشت لمبی، کبھی اس کے سر پر جٹیں تھیں، یہ بڑی بڑی، کبھی اس کے ہاتھ میں کشکول تھا اور کبھی چمٹا۔ کبھی اس کے بدن پر راکھ تھی اور کبھی پھٹے پرانے چیتھڑے۔\n\nاس قسم کے ایک سکہ بند گویے کو ڈائریکٹر صاحب نے میک اپ ایکسپرٹ کے حوالے کیا۔ جس نے اس کے بدن پر سالہا سال کے پرانے اور بدبودار چیتھڑے چپکا دیے، چہرے پر میک اپ کا روغن مل کر بڑھاپا پیدا کرنے کی خاطر چند ٹیڑھی بنگی لکیریں کھینچ دیں اور اسے آئینہ دکھلا کر سیٹ پر بھیج دیا۔ گیت کی ریہرسل ہوئی۔ ستار کے تار کی آواز بلند ہوئی اور ہمارے اس گویے کو کیمرے نے نگل لیا اور جب پروجیکٹر نے اس کو پردے پر اگلا تو ہم نے دیکھا کہ ہیروئن نے اپنی آنکھوں سے گوہر کی طرح کے ڈھائی آنسو بہائے۔ دفعتاً طبلے کی تھاپ سنائی دی اور کسی کے گانے کی ’’درد بھری آواز‘‘ بلند ہوئی۔\n\n’’دل ناصبور اداس ہے۔۔۔\n\nمجھے تیرے در کی پیاس ہے\n\nدل ناصبور۔۔۔ اداس ہے۔۔۔‘‘\n\nہیروئن نے دو آنسو اور بڑی مشکل سے نکالے۔ کٹ ہوا اور ہمیں ایک بازار میں وہی مصیبت کا مارا گویا بھکاری کے لباس میں راستہ ٹٹولتا اور گاتا دکھائی دیا۔ یہ گیت ساڑھے سات منٹ تک جاری رہا۔ اس دوران میں کبھی ہم نے ہیروئن کو آہیں بھرنے کی ناکام کوشش کرتے دیکھا اور کبھی اس بھکاری کو کن سری تانیں نکالتے ہوئے۔ جب گیت ختم ہوا تو ہیروئن کا باپ، جو دروازے کی اوٹ میں کھڑا یہ سب کچھ سن رہا تھا، اندر آیا اور کہنے لگا، ’’بیٹا تجھے کیا دکھ ہے؟‘‘\n\nمیں پوچھتا ہوں\n\nآخر یہ کیا حماقت ہے؟ کیا ہم جب اداس ہوتے ہیں تو ہماری اداسی کی خبر شہر کے بھکاری دوسروں تک پہنچایا کرتے ہیں؟ ایک دو مرتبہ ایسا ہو سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ ہم چھ سات ڈائریکٹروں کو اسی قسم کا خون معاف کر سکتے ہیں، مگر ہمارے ذوق کی رگیں یقیناً ایسے جھٹکوں کو مسلسل برداشت نہیں کر سکتیں۔ فلموں میں گویے سادھو اور بھکاری دیکھ کر ہم بیزار ہو گئے ہیں۔ میں، آپ سے سچ عرض کرتا ہوں کہ آج سے چار یا پانچ سال قبل جب میں ہندوستانی فلم دیکھنے کا عادی نہ تھا، مجھے سادھوؤں اور بھکاریوں سے بڑی دل چسپی تھی، مگر اب یہ حالت ہے کہ جب کبھی کسی سادھو یا بھکاری کو سڑک پر دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے فلموں کا گویا یا سادھو یاد آ جاتا ہے اور مجھے نفرت سے منہ پھیر لینا پڑتا ہے۔\n\nجہاں تک میں سمجھ سکا ہوں، ہمارے فلموں میں اس سادھو مہاراج کی ضرورت کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ ہمارے ڈائریکٹروں کے ذہن اتنے عقیم ہیں کہ وہ کوئی دوسرا راستہ، کوئی نیا اسلوب پیدا نہیں کر سکتے۔ فلم میں جہاں کہیں ان کے دماغ تصویروں کے ذریعے سے افسانہ سنانے سے انکار کر دیتے ہیں، وہ اس سادھو کو بلا کر گوا دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایک ہی پتھر سے دو شکار کر لیے ہیں۔۔۔ ایک گیت بھی پیش ہو گیا اور افسانے کا ایک پہلو بھی واضح ہو گیا، حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ سینمائی اصول کے پیش نظر یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ اس لئے کہ تماشائیوں کی توجہ افسانے کے تسلسل سے ہٹ کر اس سادھو کی طرف چلی جاتی ہے، جس کا افسانے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ چند منٹوں کے لئے پردے پر آتا ہے اور گا کر چلا جاتا ہے اور افسانہ ایک جگہ کھڑا ہو کر رہ جاتا ہے۔\n\nمیرا خیال ہے کہ یہاں کسی ایسے فلم نے ضرور غیر معمولی مقبولیت حاصل کی ہے جس میں اس قسم کا ایک سادھو گویا ہے اور ہمارے پروڈیوسروں نے فلموں کی مقبولیت اور کامیابی کا راز یہ سمجھ لیا ہے کہ ان میں سادھو اپنے گیت سمیت ضرور ہونا چا ہیئے، کتنی بڑی حماقت ہے، ممکن ہے کہ اس سادھو نے بڑا اچھا گایا ہو مگر یہ ضروری نہیں کہ اس فلم کی کامیابی کا سارا دار و مدار اسی پر اور اس کے گیت پر ہو۔ اس کے دوسرے محاسن چھوڑ کر صرف ایک اچھی چیز لے لینا جو صرف اسی میں اچھی دکھائی دے سکتی تھی، ہمارے ڈائریکٹروں اور پروڈیوسروں کے دماغی افلاس کا مظہر ہے۔\n\nکور ذوق پروڈیوسروں کو تو برطرف ر کھیئے۔ ہمارے یہاں کے اچھے اچھے باسلیقہ فلم ساز بھی اپنے فلموں میں اس سادھو کو پیش کر رہے ہیں۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس سادھو کی آہستہ آہستہ باکس آفس قدر و قیمت بہت بڑھ گئی ہے۔ بلکہ یوں کہنا چا ہیئے کہ اس کی اہمیت ان لوگوں نے اور بھی زیادہ کر دی ہے حالانکہ اگر یہ چاہیں تو چشمِ زدن میں یہ بدعت جو سارے فلموں پر ایک بدنما دھبے کی صورت اختیار کر گئی ہے، دور ہو سکتی ہے۔ یہ سادھو ان لوگوں ہی کی تخلیق ہے اور یہی لوگ اسے کفنا کر کسی گہری قبر میں دفن کر سکتے ہیں۔ وہ لوگ جو ذوق صحیح کے مالک ہیں، ان سادھوؤں سے تنگ آ گئے ہیں۔ گزشتہ برس ہمارے پروڈیوسر درجنوں کے حساب سے ایسے سادھو پردے پر پیش کر چکے ہیں۔ آئندہ جو فلم پیش کئے جائیں، ان سے پاک ہوں۔\n\nفلموں کے ولن\n\nہمارے فلموں پر پرانے امریکی فلموں کا رنگ اس قدر غالب ہے کہ اب بھی جبکہ ہندوستانی صنعت فلم سازی اپنا جشن سیمیں منانے والی ہے، ہم ان میں وہ چیزیں جو اب یعنی جدید خیالات و رجحانات کے اس دور میں عجیب و غریب اور نامانوس معلوم ہوتی ہیں، دیکھتے ہیں۔ صنعت فلم سازی کے آغاز میں جو خطوط یورپ میں اختیار کئے گئے تھے، ہم آج بھی انہیں ہندوستانی سیلولائڈ پر دیکھ رہے ہیں، جس سے ہماری طبیعتوں کے جمود کا پتہ چل سکتا ہے۔\n\nاب تک جس قدر فلم ہمارے یہاں تیار ہوئے ہیں، ان میں اکثر ایسے ہیں جو کولہو کے بیل معلوم ہوتے ہیں۔ ان سب کا محور ایک ہی ہے۔ راقم الحروف کو بیشتر اوقات ایسے کئی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے کہ اگر ان کے کیریکٹروں کے نام بدل دیے جائیں تو ان میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ ایک ہی افسانہ، ایک ہی مطلب اور ایک ہی تکنیک۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دو تین شخص ایک ہی قطار میں کھڑے ہو کر ایک کہانی بیان کر رہے ہیں۔ یہ یکسانیت، یہ یک آہنگی بالخصوص جدت پسند طبیعتوں پر ایک نہایت ہی ناگوار بوجھ ڈالتی ہے۔ جس کو دور کرنا از بس لازم ہے۔\n\nشروع شروع میں فلمی افسانے تین اہم کرداروں پر استوار کئے جاتے ہیں۔ ہیرو، ہیروئن اور ولن۔ یہ بدعت ابھی تک جاری ہے۔ پردے پر ابھی تک یہ تثلیث چپکی ہوئی ہے۔ ہوشمند سے ہوشمند پروڈیوسر فلم بنانے پر ہیرو کے ساتھ ہیروئن اور پھر ان کے جلو میں ولن ضرور ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیرینی کے ساتھ تلخی بھی ہونی چاہیئے اور روشنی کے ساتھ سائے بھی دکھانے چاہئیں، پر اس کا سلیقہ ہونا چا ہیئے۔\n\nمیں ہیرو، ہیروئن اور ولن کے وجود پر معترض نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ افسانے کے اہم جزئیات ہیں، پر مجھے ایسے ہیرو، ایسے ولن اور ایسی ہیروئن دیکھنے سے سخت نفرت ہے، جن کے ماتھوں پر پہلے ہی سے لیبل لگا دیے گئے ہوں اور ان کو علیحدہ علیحدہ کر کے بتا دیا گیا ہو۔ میں ادب اور فلم کو ایک ایسا مے خانہ سمجھتا ہوں جس کی بوتلوں پر کوئی لیبل نہیں ہوتا۔ میں ساری بوتلوں میں سے ایک ایک گھونٹ پی کر خود فیصلہ کرنے کا اختیار چاہتا ہوں کہ ان میں سے کون سی دو آتشہ ہے، اور کون سی سہ آتشہ ہے، اگر مجھ سے یہ اختیار چھین لیا جائے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ میرے مذاق کے تمام دروازوں پر تالے جڑ دیے گئے ہیں، جن کی کنجیاں میرے پاس نہیں ہیں۔\n\nپھر میں یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ ہمارے سب افسانوں کا ہیرو ایک ہی قسم کا ہو۔ خوبصورت، شکیل، نوجوان، بہادر، رحم دل وغیرہ وغیرہ، جو شروع سے لے کر آخر تک لڑتا رہے۔ اس کی تلوار میں ایسی طاقت ہو کہ بڑے بڑے جغادریوں کے گلے کاٹ کر رکھ دے۔ پر دوسروں کی تلواریں اس کے گلے پر چل ہی نہ سکیں۔ اس کا پریم، اس کی محبت سچی ہو اور بے چارے ولن کا عشق بالکل جھوٹا ہو۔ ایسے ہیرو میرے قیاس سے بہت بالاتر ہیں۔ میں پردے پر جب اس قسم کے لوگ دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں ایک بہت بڑی گپ سن رہا ہوں۔ میری طبیعت ایسی حقیقت سے بعید چیزوں کو قبول ہی نہیں کرتی۔\n\nمیری نظروں میں ہیرو وہی ہے، جسے میرا دل قبول کر لے۔ جس کے لئے میرے دل کی عمیق ترین گہرائیوں میں ہمدردی پیدا ہو۔ جس کے دل کی دھڑکنیں ایک بار میرے دل کی دھڑکنوں میں گھل مل جائیں۔ میرا ہیرو وہ ہے جو انسان ہو۔ انسانیت کا صحیح نمونہ برائیوں اور اچھائیوں سمیت۔ میرا ہیرو فرشتہ نہیں ہے، ا س لئے کہ میں زمین پر رہتا ہوں۔ میرا طائر فکر آسمان کی انتہائی بلندیوں پر پرواز کرے گا، لیکن تمام وقت اس کی نگاہیں اپنے آشیانے پر جمی رہیں گی۔ جو مٹی کی گود میں ہے وہ ستاروں کی تابانی کی طرف بڑھے گا، مگر صرف ا س لئے کہ وہ ان کو نوچ کر زمین کے ننگے سینے پر جڑ دے۔ مجھے بے کاخ و کو دنیا کے فرشتوں سے نفرت نہیں ہے، مگر مجھے اپنے بھائی انسانوں سے زیادہ محبت ہے، جو اس رنگ و بو کی دنیا میں رہتے ہیں۔\n\nاپنے یہاں کے فلموں میں نیکوکار اور فرشتہ سیرت ہیرو کو دیکھ دیکھ کر مجھے بعض اوقات سخت تعجب ہوتا ہے اور میں ان کو ایک ایسی دنیا کے باشندے سمجھنے لگتا ہوں، جو میری حد نظر سے بہت دور ہے اور جب میں ان کے ساتھ ساتھ ولن دیکھتا ہوں تو میرا تعجب اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہ مخلوق بھی مجھے اس دنیا کی معلوم نہیں ہوتی۔\n\nہمارے فلمی افسانوں میں جس قدر کیرکٹر بھی پیش کئے جاتے ہیں، ان میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جن کو حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ صرف ایک افسانہ بنانے کی خاطر مٹی کی ان ٹیلیوں کو جو چاہے شکل دے دی جاتی ہے اور ہیرو، ہیروئن اور ولن کے مختلف لیبل لگا دیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات عورت کو اس طور پر پینٹ کیا جاتا ہے کہ وہ آسمانی حور معلوم ہوتی ہے اور بعض اوقات اس کی تصویر کو اس قدر تاریک بنا دیا جاتا ہے کہ وہ چڑیل اور ڈائن معلوم ہوتی ہے۔ عورت جیسی کہ وہ ہے بہت کم افسانہ نگاروں کے تخیل میں ہے۔ اس کی وجہ اس حقیقت کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارے یہاں عورت اور مرد کے درمیان ایک زمانے سے موٹا پردہ حائل ہے۔\n\nہمارے افسانوی ادب میں جن عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں سے اسی فیصدی ایسی ہیں جو حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ ان میں اور اصل عورتوں میں وہی فرق ہے، جو ٹکسالی روپے اور جعلی روپے میں ہوتا ہے۔ دونوں کا وزن برابر ہو سکتا ہے۔ بادی النظر میں دونوں ایک جیسے ایک شکل کے معلوم ہوتے ہیں۔ پر وہ کھنکھناہٹ جو ٹکسالی روپے میں ہوتی ہے، اس روپے میں نہیں ہوتی۔ ہمارے ان افسانوں کی یہ عورتیں، عورتیں ہوتی ہیں، مگر ان میں وہ عورت پن نہیں ہوتا، جو عورت کو صحیح عورت بناتا ہے۔\n\nانسانوں میں بے شمار سیاہ کار ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اس دنیا میں لاکھوں بلکہ کروڑوں ایسے لوگ موجود ہیں جو بے رحم قصائیوں سے کہیں زیادہ بے رحم اور ظالم ہیں۔ پست سے پست ذہنیت کے لوگ موجود ہیں۔ اس دنیا میں گناہ گاروں کی بھی کمی نہیں، پر جو گناہ گار، جو سیاہ کار، جو ظالم ہم پردے پر ولن کی شکل میں دیکھتے ہیں، کم از کم میری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ یہ لوگ مجھے ایسے اذہان کی تخلیق معلوم ہوتے ہیں جو گناہ اور ثواب، سزا اور جزا، ظلم اور رحم میں تمیز ہی نہیں کر سکتے۔ ایک اور بات جو ان اذہان کی مخلوق دیکھ کر میرے ذہن میں آتی ہے، یہ ہے کہ جب وہ ایسے کردار تخلیق کرنے لگتے ہیں تو ان پر ایک قسم کا رعشہ طاری ہو جاتا ہے۔ وہ خوف کھانے لگتے ہیں، اگر انہیں اپنے کردار سے کوئی گناہ کرانا ہو تو وہ سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔ گویا وہ خود کوئی گناہ کر رہے ہیں۔\n\nیہ جھجک، یہ کرنے اور نہ کرنے کی درمیانی چیز جب ہم پردے پر دیکھتے ہیں، تو افسانہ نگار صاحب کا ولن ہمیں ایک نامکمل سا کھلونا نظر آتا ہے۔ پردے پر کرداروں کی بھاگ دوڑ کے علاوہ ہم افسانہ نگار کا ذہن بھی دیکھتے ہیں، چنانچہ جب متذکرہ صدر قسم کے کیریکٹر ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزرتے ہیں، تو ہمیں ان کے بنانے والے کا دماغ بھی ساتھ ساتھ نظر آتا ہے، جو ایک ایسی کل، ایک ایسی مشین معلوم ہوتا ہے جس کے پرزے صرف پرانی رسموں، پرانے عقیدوں اور کہنہ اخلاقیات کے گاڑھے تیل کے بغیر چلتے ہی نہیں۔ یہ تیل جس کولہو میں پیرا گیا تھا، اب اس کا وجود بھی باقی نہیں۔ کیا اب نئی چکناہٹ تلاش نہ کرنا چا ہیئے۔\n\nہمارے افسانہ نگاروں کی سب سے مضحکہ خیز تخلیق ولن ہے۔ جس کی ساری عمر گناہ میں بسر کرائی جاتی ہے اور آخر میں اسے نیکی کے سمندر میں غوطہ دے دیا جاتا ہے تاکہ ہمارے فاضل افسانہ نگار کا اخلاقی پہلو تنقید سے بچا رہے۔ ان کے پیش نظر اپنے کردار کے تشخص کے بجائے اپنا تشخص ہوتا ہے، اگر ان کا کوئی کیریکٹر برا کام کرے تو وہ سمجھتے ہیں کہ خود ان سے کوئی بری حرکت سرزد ہو گئی ہے، چنانچہ ہم ان کے افسانوں سے محسوس کر سکتے ہیں کہ انہوں نے اسے چھپانے کی کوشش بھی کی تھی۔ اسی طرح اگر ان کے کسی کیریکٹر سے کوئی اچھا کام ہو جائے تو وہ سمجھتے ہیں کہ خود انہوں نے کوئی اچھا کام کیا ہے، چنانچہ ان کی مسرت ہمیں ان کے کیریکٹر کے چہرے پر نظر آ سکتی ہے۔ اس قسم کا بچپن، اس قسم کی سستی جذباتی کیفیت اعلیٰ درجے کے ادب میں نہیں آنا چاہیئے۔\n\nافسانے کی بساط شطرنج کی بساط نہیں، جس پر صرف مقررہ مہرے چلتے ہیں۔ افسانے کی بساط اس وسیع دنیا کی بساط ہے، جس پر ان گنت مہرے چل رہے ہیں۔ افسانے، ہیرو، سائیڈ ہیرو، ہیروئن، سا ئیڈ ہیروئن، ولن، سائیڈ ولن، وہیمپ اور سائڈ وہیمپ کے بغیر بھی افسانے، افسانے ہو سکتے ہیں، پر ذرا سمجھ کی ضرورت ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%B5%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D9%81%D9%84%D9%85_%D8%B3%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%86%D8%B8%D8%B1"} {"title": "ہندوستانی کیا ہے؟", "poet_page": "مصنف:مولوی عبد الحق", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "(یہ تقریر۲۱/فروری ۱۹۳۹ء کوآل انڈیا ریڈیو اسٹیشن دہلی سے نشر کی گئی۔)\n\nہندستانی کا لفظ آج کل بھڑوں کا چھتا بنا ہوا ہے۔ اب آل انڈیا ریڈیو اسٹیشن نے اس چھتے کو چھیڑا ہے تو اسے ڈنگ سہنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ زبان کے معنوں میں ہندستانی کا لفظ ہمارے کسی مستند شاعر یا ادیب یا اہل زبان نے کبھی استعمال نہیں کیا۔ یہ یورپ والوں کی اپج ہے۔ یورپ کے سیاحوں نے جو سترہویں صدی سے اس ملک میں آنے شروع ہوئے، اس زبان کو جو شمالی ہند میں عام طورسے بولی جاتی تھی، اندستان، اندستانی اور بعدازاں ہندستانی کے نا م سے موسوم کیا۔ لیکن اس لفظ کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے میں اس وقت فروغ ہوا جب ۱۸۰۰ء میں کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج قائم ہوا۔ عجب بات یہ ہے کہ کالج کے انگریز استاد تو اس زبان کو جس میں میر امن کی’’ باغ وبہار‘‘، شیر علی افسوس کی ’’آرایش محفل‘‘، حیدری کا ’’طوطی نامہ‘‘، طپش کی ’’بہار دانش‘‘ وغیرہ لکھی گئیں، ہندستانی کہتے ہیں لیکن ان کتابوں کے لکھنے والے اپنی کتابوں کی زبان کو اردوئے معلیٰ، ریختہ یاہندی کہتے ہیں۔ مثلاً میرامن نے اپنی کتاب ’’باغ وبہار یاقصۂ چہار درویش‘‘ کو ایک عرضی کے ساتھ پیش کیا۔ جس میں وہ لکھتے ہیں کہ’’ اردو ئے معلیٔ کی زبان میں باغ و بہار بنایا‘‘ اسی عرضی کے آخر میں یہ شعر ہے۔ سو اردو کی آراستہ کرزباں کیا میں نے بنگالا ہندوستاں اس کتاب کے دیباچے میں زبان کی تاریخ بیان کرتے وقت یہ لکھتے ہیں، ’’حقیقت اردو زبان کی بزرگوں کے منہ سے یوں سنی۔‘‘ میر شیر علی افسوس ’’آرائش محفل‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’اس کے تمام مطالب کو اردو زبان میں لکھنا شروع کیا۔ مرزا طپش ’’شمس البیان‘‘ میں اپنی زبان کو روز مرہ فصحائے اردو معلیٰ کہتے ہیں اور اپنی بہار دانش ہندی میں اس زبان کو ایک ہی شعر کے مصرع میں تو ہندی زبان اور دوسرے میں اردو لکھا ہے۔ شرف اس نے ہندی زباں کو دیادیا نظم اردو کو یہ مرتبااور چند اشعار کے بعد اسے ریختہ کہتے ہیں۔ وقایق میں ہے ریختے کے تمامحیدر بخش حیدری’’قصۂ حاتم طائی‘‘ کی زبان کو ریختہ کہتا ہے۔ میرامن ’’گنج خوبی‘‘ میں گلکرائسٹ کو’’اردو کا قدردان‘‘ لکھتا ہے۔ مہر چند کھتری لاہوری اپنی کتاب ’’نوآئین ہندی‘‘ میں لکھتا ہے کہ اس نے قصۂ آذر شاہ اور ’’ سمن رخ‘‘ کو فارسی سے ہندی میں ترجمہ کیا۔ ڈاکٹر جان گلکرائسٹ اپنی تصانیف میں ہندستانی اور اردو دونوں لفظ اس ایک زبان کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ گارساں دتاسی کا بھی یہی حال ہے لیکن وہ زیادہ تر ہندستانی کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ بابو شیو پرشاد نے بھی ’’جام جہاں نما‘‘ کی زبان کو اردو بتایا ہے۔ کلکتہ بیپٹسٹ مشن نے جو انجیل مقدس کا ترجمہ چھاپا تھا، اس کے سرورق پر لکھا ہے، ’’یونانی زبان سے اردو زبان میں ترجمہ کیا گیا۔‘‘ لیکن اس کے نیچے انگریزی زبان میںIn the Hindustani Language لکھا ہے۔ بابو کاشی ناتھ بسواس کرانی اپنی کتاب قصہ سوہن مسمیّٰ بہ گلدستۂ انجمن کے سرورق پر لکھتے ہیں، ’’ انگریزی زبان سے اردو میں ترجمہ کیا۔‘‘ ڈاکٹر ای۔ جے لارنس ’’رابن سن کروسو‘‘ کے ترجمے اور مسٹر جیمس کورکورن اپنی ’’تاریخ چین‘‘ اور ڈاکٹر فریڈرک جان اپنی’’ اصول تشریح‘‘ کی زبان کو اردو ہی کہتے ہیں۔ اسی طرح دہلی کالج، علی گڑھ سائنٹفک سوسائٹی مرزاپور سیریز کی جتنی کتابیں چھپیں ان سب پر اردو ہی کا لفظ لکھا ہے۔ غرض وہ تمام کتابیں جن کے نام میں نے لیے ہیں، اسی زبان میں ہیں جسے آج کل اردو کہتے ہیں۔ انگریز اسے ہندستانی کہتے تھے۔ ہندستانی سے ان کی مراد وہ صاف اور فصیح زبان تھی جو بول چال میں آتی تھی۔ یعنی ایسی زبان جو مقفی اور پر تکلف نہ ہو، جس کا رواج اس زمانے کی بعض کتابوں میں پایا جاتا تھا۔ اردو، ریختہ، ہندی اس زمانے میں ہم معنی لفظ تھے۔ چنانچہ مرزا جان طپش نے اپنی کتاب’’شمس البیان‘‘ میں ہندی کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے، ’’ہندی عبارت از زبانِ موزونِ دہلی است۔‘‘ یعنی ہندی سے مراد دلی کی فصیح زبان ہے۔ جدید ہندی جس کی اشاعت کی آج کل کوشش کی جا رہی ہے، نئے زمانے کی پیداوار ہے۔ اس نے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں جنم لیا۔ دراصل یہ اردو کابچہ ہے۔ وہ اس طرح کہ عربی فارسی کے لفظ نکال کر ان کی جگہ سنسکرت لفظ بٹھا دیے تھے۔ مختصر یہ کہ ہمارا ادب، ہندستانی کے لفظ سے خالی ہے۔ اردو کے کسی مستند اہل زبان اور غالباً ہندی کے اہل زبان نے بھی اس لفظ کو زبان کے معنوں میں کبھی استعمال نہیں کیا۔ جب اس زمانے میں ہندی اردو کے جھگڑے نے زور پکڑ ا اور دونوں فریق ایک دوسرے کی مخالفت پر تلے ہوئے تھے تو انڈین نیشنل کانگریس نے رفع شر کے خیال سے ہندستانی کا لفظ اختیار کیا اور اس کو ہندستان کی عام زبان قرار دیا لیکن کانگریس نے اس کی کوئی تعریف نہیں کی اور نہ یہ بتایا کہ اس سے کیا مطلب ہے۔ وہ شاید اس جھگڑے میں پڑنا نہیں چاہتی تھی اور یہ اچھا ہی ہوا کیونکہ آج کے سیاسی لوگوں نے جہاں اور چیزوں کو سیاست میں سان لیا ہے، غریب زبان بھی ان کی نظر کرم فرما کا شکار بن گئی ہے۔ اب سوچ بچار کے بعد ہندستانی کے یہ معنی قرار پائے ہیں کہ وہ زبان جو شمالی ہند میں عا م طور پر بولی جاتی ہے اور جو ثقیل اور نامانوس سنسکرت اور عربی فارسی الفاظ سے پاک ہے۔ اصل میں ہندستانی کی یہ تعریف ڈاکٹر گریریسن کے بیان سے لی گئی ہے اور اس تعریف کو اکثر ان لوگوں نے قبول کر لیا ہے جو ہندستانی کے حامی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حقیقت میں یہ کوئی زبان ہے بھی؟ اگر اس سے مراد وہ زبان ہے جسے اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے انگریز ہندستانی کہتے تھے اور ہمارے اس وقت کے ادیب ریختہ، ہندی اور اردو سے موسوم کرتے تھے تو بے شک یہ ایک زبان ہے اور اب بھی ہندستان میں بولی اور لکھی پڑھی جاتی ہے۔ اور اگر اس سے مراد وہ زبان ہے جو آج کل بعض جدت پسند حضرات نے گڑھنی اور ڈھالنی شروع کی ہے تو وہ ہمارے ملک کی زبان نہیں ہے۔ اور اگر اس سے مراد وہ زبان لی جائے جودونوں ہندی اردو بولنے والوں میں مقبول ہوتو وہ ابھی وجود میں نہیں آئی ہے۔ بول چال کی زبان کی حد تک تو ٹھیک ہے، لیکن جہاں ادب کی سرحد آتی ہے تو وہ رہ جاتی ہے۔ گاندھی جی نے ہندی، ہندستانی کا لفظ ایجاد کیا تھا۔ چونکہ بے جوڑ تھا، مقبول نہ ہوا۔ نتیجہ یہ کہ آسان اردو کا نام ہندستانی ہوا۔ آپ فرمائیں گے کہ آسان ہندی کو ہندستانی کیوں نہ کہیں؟ ضرور کہیے، کیونکہ جیساکہ میں ابھی کہہ چکا ہوں، جدید ہندی اردو ہی کا تو بچہ ہے۔ رہی یہ بات کہ زبان سادہ اور آسان ہو تو بول چال میں تو عموماً سادہ ہی ہوتی ہے۔ جب بچوں یا معمولی پڑھے لکھوں کے لیے کوئی کتاب یا قصے کہانیاں لکھی جاتی ہیں تو بھی زبان سادہ رکھنی پڑتی ہے۔ یہ کچھ ہماری عادت پر موقوف نہیں، دنیا کی سب زبانوں کا یہی حال ہے۔ مگر جب کوئی اچھی نظم لکھنی ہوتی ہے یاعلمی یا ادبی بحث آ پڑتی ہے تو سادہ زبان کا نبھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ محض زبان کا آسان ہونا کافی نہیں۔ اس میں جان، اثر اور لطف بھی ہونا چاہیے اور یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ ایسی زبان صرف کامل ادیب ہی لکھ سکتے ہیں ورنہ ایسی تحریر سے کیا فائدہ جو سپاٹ، بےمزہ اور بھدی ہو۔ دوسرے ہر ایک کا طرز تحریر الگ ہوتا ہے۔ کسی کا کوئی رنگ ہے اور کسی کا کوئی ڈھنگ۔ یہ ہر ایک کے مزاج اور افتاد طبیعت پر منحصر ہے۔ ہم کسی کو مجبور نہیں کر سکتے کہ یوں نہیں یوں لکھو، اگر مجبور کریں بھی تو ممکن نہیں۔ وہ نیا ڈھنگ تو کیا اختیار کرےگا، اپنا بھی بھول جائےگا۔ میرے کہنے کا منشا یہ ہے کہ یہ جو آج کل چاروں طرف ’’آسان آسان‘‘ کا پرچار کیا جا رہا ہے، مجھے تو یہ کچھ بےجا سا معلوم ہوتا ہے۔ لفظ کوئی بے جان چیز تو ہے نہیں کہ جہاں چاہا اٹھایا رکھ دیا۔ اس کے گنوں کے پرکھنے والے مشاق ادیب ہی ہو سکتے ہیں۔ کسی اعلی درجے کے ادیب یا شاعر کا کلام اٹھاکر دیکھیے، ہر لفظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک نگینہ ہے جو اپنی جگہ جڑا ہوا ہے۔ اسے بدل کر کوئی دوسرا لفظ رکھ دیجیے، ساری لطافت اور نزاکت خاک میں مل جائےگی۔ علاوہ اس کے آسان اور مشکل اضافی لفظ ہیں یعنی ایک چیز جو مجھے مشکل معلوم ہوتی ہے دوسرا اسے آسان سمجھتا ہے، جسے میں آسان سمجھتا ہوں وہ دوسرے کے نزدیک مشکل ہے۔ اس سے آسان اور مشکل کی کوئی حد مقرر نہیں ہو سکتی۔ یہ ذوق کی بات ہے اور ادب میں یہی منزل بڑی کٹھن ہے۔ وہاں آسان اور مشکل کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا۔ وہاں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ لفظ موقع اور محل کے مناسب ہے یا نہیں۔ اگر آسان لفظ بھی بے محل آ گیا توایسا ہی برا ہے جیسا بے موقع مشکل لفظ۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ بیان پیچیدہ اور الجھا ہوانہ ہو۔ سادگی اور آسانی کے یہی ایک معنی ہو سکتے ہیں۔ گاندھی جی، بابو راجندر پرشاد اور ان کے ساتھیوں نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ہندی اور ہندستانی میں سنسکرت لفظ ملانے کی اس لیے ضرورت ہے کہ اسے بنگالی اور جنوبی ہند کے لوگ سمجھ سکیں۔ ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ جب بنگال اور جنوبی ہند میں جائیں تو ایسی ہی سنسکرت ملی زبان میں بات چیت یا تقریر کریں اور جب صوبہ سرحد اور پنجاب میں جائیں تو فارسی عربی ملی زبان میں تو ایسی صورت میں ہندستان کی ایک مشترکہ زبان کہاں رہی جس کے لیے یہ سب جتن کیے جا رہے ہیں؟ اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سنسکرت ملی ہی زبان کی وجہ سے جنوبی ہند والے ہندی یا ہندستانی کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کو بدگمانی ہے کہ ہندی کے حیلے سے سنسکرت زبان پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ہم ان کی زبان اور کلچر کو مٹانا چاہتے ہیں۔ ہماری زبان اگر زندہ زبان ہے تو اس میں نئے نئے الفاظ آتے ہی رہیں گے خواہ وہ کسی زبان کے ہوں۔ اس سے کوئی زندہ زبان نہیں بچ سکتی لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ جو لفظ مدت سے رائج چلے آ رہے ہیں انہیں خارج کر دیں اور ان کی جگہ ڈکشنریوں میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے بے ڈول، بے ڈھنگے اور کرخت الفاظ داخل کر دیں جن کے ادا کرنے میں زبان کئی کئی قلابازیاں کھائے اور کانوں کے پردے سے پھٹنے لگیں۔ جولفظ پہلے سے رائج ہیں اور ہماری زبان میں گھل مل گئے ہیں، خواہ کسی زبان کے ہوں وہ اب ہمارے ہیں، غیر نہیں۔ انہیں غیرسمجھ کر نکالنا سراسر حماقت ہے۔ جو ایسا کرتے ہیں وہ اپنی زبان کے دوست نہیں، دشمن ہیں۔ نئے لفظوں کے داخلے میں بھی زبان کی فطرت اور ذوق کو بڑا دخل ہے۔ اندھادھند اور زبردستی لفظ داخل نہیں کیے جا سکتے۔ جو بندھ گیا سوموتی، جو کھپ گیا وہ ہمارا اور جو نہیں کھپا وہ سو غیروں کا غیر۔ بہار گورنمنٹ نے ایک ہندستانی کمیٹی بنائی ہے اور ہندستانی زبان کی گرامر، لغت اور مدرسوں کے لیے ریڈریں لکھوانی تجویز کی ہیں۔ ابتدائی جماعتوں کے لیے ریڈریں اس زبان میں لکھنا تو کچھ مشکل نہ ہوگا لیکن اونچے درجوں کے لیے جہاں زبان کی ادبی شان بھی رکھنی ضروری ہوتی ہے، کتابیں لکھنے میں مشکل پڑےگی۔ اس سے زیادہ مشکل اصطلاحات کے بنانے میں ہوگی۔ اس کا انتظار کرنا چاہیے۔ اگر اس نے بیچ کا کوئی ایساراستہ نکال لیا جو مقبول ہو سکے تو یہ اس کی بڑی جیت ہوگی، کم سے کم آپس کی بات چیت اور کاروبار کے لیے بہت کارآمد ہوگی۔ اس کے بعد اگر کوئی مجھ سے پوچھےگا کہ ہندستانی زبان کسے کہتے ہیں تو میں اس کے جواب میں یہ کہوں گا کہ جس زبان میں میں نے آج تقریر کی ہے یہی ہندستانی ہے۔ ہماری تنقید کے لیے دوجمے دیے گئے ہیں۔ ایک جملہ یہ ہے، ’’فیڈرل لیجس لیچر کے لیے فہرست رائےدہندگان تیار کرانے کے سلسلے میں جو ابتدائی کاروائی کی جائےگی، اس کے بارے میں سراین این سرکار لاممبر نے آج اسمبلی میں روشنی ڈالی۔‘‘ اس جملے میں اگرچہ فیڈرل، لیجس لیچر، لاممبر اور اسمبلی کے لیے انگریزی لفظ استعما ل کیے گئے ہیں، لیکن جملے کا مطلب صاف سمجھ میں آتا ہے۔ روشنی ڈالنا انگریزی محاورے کا ترجمہ ہے لیکن اب ’’روشنی ڈالنا‘‘ اور ’’روشنی پڑنا‘‘ اردو میں استعمال ہونے لگے ہیں اور ان کا مفہوم کسی دوسرے لفظ سے اس خوبی سے ادا نہیں ہوتا۔ جس طرح پہلے فارسی محاوروں کے ترجمے داخل ہو گئے تھے، اب بعض انگریزی محاوروں کے ترجمے داخل ہو رہے ہیں۔ یہ کوئی عیب کی بات نہیں بشرطیکہ زبان میں کھپ جائیں۔ اس سے زبان میں وسعت ہوتی ہے۔ دوسرا جملہ یہ ہے، ’’سنیکت پرانتیہ ویوستھاپکا پریشد میں ایک پرشن کا اتر دیتے ہوئے نیائے منتری ڈاکٹر کاٹجو نے ان ادیوگ دھندوں کی سوچی دی جن کی انتی کے لیے سرکار نے سہایتا دینا سویکار کیا ہے۔‘‘ اس جملے میں سنسکرت لفظوں کی بھرمار ہے اور مطلب سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ ہماری زبان نہیں۔ یہ سراسر بناوٹی زبان ہے۔ بہ اجازتآل انڈیا ریڈیو، دہلی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92%D8%9F"} {"title": "ہندوستاں میں جزوِ حکومت ہیں کونسلیں", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "ہندوستاں میں جزوِ حکومت ہیں کونسلیں\nآغاز ہے ہمارے سیاسی کمال کا\n\nہم تو فقیر تھے ہی، ہمارا تو کام تھا\nسِیکھیں سلیقہ اب اُمَرا بھی ’سوال‘ کا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B2%D9%88%D9%90_%D8%AD%DA%A9%D9%88%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D9%86%D8%B3%D9%84%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہندی اردو کا جھگڑا", "poet_page": "مصنف:مولوی عبد الحق", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "شری رام شرما صاحب ہندی کے مشہور ماہانہ رسالہ وشال بھارت کے ایڈیٹر ہیں۔ یہ ہندی اردو دونوں زبانوں میں دست گاہ رکھتے ہیں۔ وہ خود لکھتے ہیں کہ ’’میں نے بھی اردو ہی پڑھی تھی، ہندی تو مجھے ویسے ہی آ گئی۔‘‘ ادبی لیاقت کے علاوہ ان میں رواداری بھی بہت ہے۔ ہندو مسلم ملاپ کے بڑے حامی ہیں۔ انھوں نے حال ہی میں اپنے رسالے میں ایک مضمون زبان اور رسم خط کے مسئلہ پر لکھا ہے۔ مضمون کے شروع میں انھوں نے اپنے پچھلے مہینے کے ایک نوٹ ’’اصلی اور فروعی مسئلے‘‘ سے ایک اقتباس دیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں،\n\n’’بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہندو مسلم اختلاف کی جڑ میں بھاشا کا سوال ہے اور مسلمانوں کے دلوں میں ہندوؤں کی طرف سے بدگمانی ہے۔ اس لیے ان کی یہ رائے ہے کہ ہندی، اردو کا جھگڑا مٹانے کے لیے ’’ہندوستانی‘‘ پر زور دیا جائے اور یک ساں زبان کے لیے کوشش کی جائے تو سب مشکلیں دور ہو جائیں گی۔ ہم ہندی اردو کے جھگڑے کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ اگر دونوں کا ایک رسم خط ہو جائے تو یہ جھگڑا بہت کچھ ہٹ جائے گا لیکن ہم اپنے بہکے ہوئے دوستوں سے پوچھتے ہیں کہ ڈھاکہ اور احمد آباد میں تو بھاشا کا کوئی جھگڑا نہ تھا پھر وہاں فرقہ وارانہ جھگڑے کیوں ہو گئے؟ ملک کی غلامی ہماری اصل مصیبت ہے۔ ہماری تقریباً تمام بلاؤں کا سرچشمہ یہی ہے۔ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو یہ فروعی جھگڑے اپنے آپ مٹ جائیں گے۔ جب جھگڑوں کی سوت سوکھ جائے گی تو زبان کے زہر کا نالہ خود ہی سوکھ جائےگا۔‘‘\n\nاس اقتباس میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ زبان کو ہندو مسلمانوں کے اختلاف میں کوئی زیادہ دخل نہیں۔ دلیل یہ پیش کی گئی ہے کہ ڈھاکہ اور احمدآباد میں فساد کیوں ہوئے وہاں تو زبان کا کوئی جھگڑا نہیں۔ دوسری بات یہ کہ فساد کی جڑ ملک کی غلامی ہے، اگر اس سے نجات مل جائے تو سب جھگڑے مٹ جائیں گے۔ تیسری بات یہ کہ دونوں (یعنی اردو ہندی) کا ایک رسم خط ہوجائے تو زبان کا کوئی جھگڑا نہیں رہےگا۔\n\nپہلی بات کے متعلق یہ عرض ہے کہ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہندو مسلم اختلاف کی جڑ میں زبان کا سوال ہے، انھوں نے ملک کی حالت کا بہت صحیح اندازہ کیا ہے اور وہ ہندو مسلم اختلاف کی حقیقت سے پورے طور پر واقف ہیں۔ اس کے برخلاف احمد آباداور ڈھاکہ کو جو ثبوت میں پیش کیا گیا ہے، وہ ایک بھولے پن کی بات ہے اور کسی بچے کے منھ سے نکلتی تو تعجب نہ ہوتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان صاحبوں نے ہندو مسلم نزاع کے اسباب پر کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور نہ کبھی ملک کے مختلف علاقوں میں سفر کر کے وہاں کے حالات کو گہری نظر سے دیکھا ہے۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ جن مقامات کی مادری زبان اردو نہیں یا جہاں اردو کا رواج کم ہے وہاں والوں کے دل میں اردو کا جو احترام ہے، وہ ان لوگوں میں نہیں پایا جاتا جن کی مادری زبان اردو ہے۔\n\nوہ اسے ایک طرح کی مقدس زبان خیال کرتے ہیں اور جب وہ یہ سنتے اور دیکھتے ہیں کہ اردو زبان کی مخالفت کی جا رہی ہے اور اس کے مٹانے کی کوششیں کی جارہی ہیں تو ان کے دلوں میں مخالفت اور نفرت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور صحیح یا غلط وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اردو کے مٹانے کی کوششیں نہیں بلکہ ان کی تہذیب اور مذہب کو مٹانے کی تجویزیں ہیں اور احمد آباد اور ڈھاکہ کی جو مثالیں پیش کی ہیں وہ بھی صحیح نہیں کیوں کہ ان مقامات میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کی مادری زبان اردو ہے اور ان سے کہیں زیادہ ایسے ہیں جو اردو جانتے اور بولتے ہیں۔\n\nغلامی کا جو اتار پھینکنے کا خیال بہت خوب ہے اور کوئی معقول شخص اس سے اختلاف نہیں کر سکتا اور یہ بھی صحیح ہے کہ جب ایک بار غلامی سے نجات مل گئی تو سب فروعی جھگڑے مٹ جائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ غلامی سے نجات کیوں کر ملے اور وہ کیا طریقہ ہے جو ہمیں اس سے نجات دلاسکتا ہے؟ کیا اس مقصد کے حاصل کرنے کے یہی ڈھنگ ہیں جو ہم آج کل دیکھ رہے ہیں کہ تقریباً ہر معاملے میں جھگڑا اور ہر مسئلے میں اختلاف اور بجائے اس کے کہ ان جھگڑوں کو کم کیا جائے، ان کو بڑھانے اور اکسانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر یہی لچھن ہیں تو کوئی توقع نہیں کہ غلامی کا طوق ہماری گردنوں سے اتر جائے۔\n\nیہ سچ ہے کہ ہم فروعی مسائل میں الجھے رہتے ہیں اور اصل کی طرف پوری توجہ نہیں کرتے اور بہ قول شرما صاحب کے ہندی اردو کا جھگڑا بھی فروعی مسائل میں سے ہے اور صحیح یہ ہے کہ جڑ اگر مضبوط رہی تو شاخیں اور تنے اور سارا درخت سرسبز اور شاداب رہےگا لیکن انھیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب فروعی جھگڑے شدت پکڑ جاتے ہیں تو وہی رفتہ رفتہ اصل ہوجاتے ہیں۔ ہمیشہ یہی نہیں ہوتا کہ جڑ کے کھوکھلے ہونے سے درخت بےکار ہو جاتا ہے بلکہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ تنے کی چھال اتار لینے سے درخت کا پنپنا بند ہو جاتا ہے اور وہ ٹھنٹھ ہوکے رہ جاتا ہے۔ ہماری بدقسمتی سے اور ہمارے رہ نماؤں کی غلطیوں سے اردو ہندی کا جھگڑا اب فروعی مسائل میں سے نہیں رہا، اصل مسئلہ ہو گیا ہے۔\n\nاس کے بعد وشال بھارت کے قابل ایڈیٹر نے اس جھگڑے کی اصل حقیقت پر نظر ڈالی ہے اور یہ سوال کیا ہے کہ ہندی اردو کا جھگڑا کہاں اور ان صوبوں میں ہے؟ اس کا جواب انھوں نے کسی قدر تفصیل سے دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنگال، آسام، گجرات، مدراس، اڑیسہ، سندھ، مہاراشٹر، کرناٹک اور ملیبار میں ہندی اردو کا کوئی جھگڑا نہیں۔ اب رہے سرحد، پنجاب، یوپی، بہار اور سی پی کے صوبے تو ان میں بھی صرف یوپی اور پنجاب ایسے دو صوبے ہیں جو ہندی اردو جھگڑے کا اکھاڑہ بنے ہوئے ہیں۔ بہار میں اردو کی کوئی حیثیت نہیں۔ مختصر یہ کہ یوپی کے صرف چند فی صدی شہری لوگ اردو بولتے ہیں۔ پنجاب میں پنجابی بولی جاتی ہے اور رسم خط اردو، ہندی، گورمکھی تینوں رائج ہیں، لہٰذا جھگڑا ہے تو انہی دو صوبوں میں۔\n\nکیا اچھا تبصرہ اور فیصلہ ہے۔ بہار کو صرف ایک فقرے میں اڑا دیا ہے کہ وہاں اردو کی کوئی اہمیت نہیں۔ حالانکہ ہندی اردو جھگڑے کی ابتدا وہیں سے ہوئی اور اب تک جاری ہے۔ بہار کے شہروں، قصبوں اور دیہات میں ایک کثیر آبادی ایسی ہے جس کی زبان اردو ہے۔ عظیم آباد، پٹنہ اردو زبان وادب کا ایسا ہی مشہور اور بڑا مرکز تھا، جیسے دلی اور لکھنؤ۔ بہار نے اردو کے ایسے نام ور ادیب اور شاعر پیدا کیے ہیں جو اردو ادب کی تاریخ میں یادگار رہیں گے۔ اردو کو تو خیر سری شرما نے یوپی کے شہروں کے چند ہزار (زیادہ سے زیادہ چند لاکھ) نفوس تک محدود رکھا ہے لیکن ہم ان سے باادب یہ پوچھتے ہیں کہ وہ نئی ہندی جس کے پرچار کے لیے طرح طرح کے جتن کیے جارہے ہیں، وہ کس علاقے، کس شہر اور قصبے اور کس گاوں کی بولی ہے؟ اور اس کے بولنے والے کس دیس میں بستے ہیں؟\n\nوہ اردو کو ہندی یا ہندی کی بعض شاخوں کی طرح مقامی خیال کرتے ہیں، حالانکہ یہ بات نہیں ہے۔ اردو ایک سرسے لے کر دوسرے سرے تک سارے ہندوستان پرچھائی ہوئی ہے۔ صوبہ سرحد، سندھ، خاندیس، کرناٹک، دھاروار، گجرات، سی پی اور مدراس میں ہزاروں لاکھوں آدمیوں کی مادری زبان اردو ہے اور ان مقامات میں بے شمار لوگ ایسے آباد ہیں جو اردو جانتے، بولتے اور لکھتے ہیں جس کی تفصیل میں اپنے دوروں کے ضمن میں بیان کر چکا ہوں۔ ان میں کے بعض مقام اردو زبان کے مرکز رہے ہیں اور قریب قریب ان میں سے ہر مقام میں اردو اخبار جاری ہیں اور شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔\n\nشرما صاحب نے ہندی اردو جھگڑے کو صرف یوپی اور پنجاب تک محدود کر دیا ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔ اردو کی وسعت غیر محدود ہے اور وہ ایک طرح سے کل ہند زبان ہے اور جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں جن مقامات کے مسلمانوں کی مادری زبان اردو نہیں یا جہاں اردو کا رواج نسبتاً کم ہے، وہاں کے مسلمان اردو کو ہم سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب اردو کو ذرا سی بھی ٹھیس لگتی ہے تو وہ بے چین ہو جاتے ہیں۔\n\nبے شک ایک زمانے میں ہندی اردو کا جھگڑا مقامی جھگڑا تھا لیکن جب سے گاندھی جی نے اس مسئلے کو اپنے ہاتھ میں لیا اور ہندی کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا اور یہ اعلان کیا کہ وہ ہندی کو ملک کی مشترکہ زبان بنا کے چھوڑیں گے، اسی وقت سے سارے ملک میں ایک آگ سی لگ گئی اور فرقہ واری عناد اور فساد کی مستحکم بنیاد پڑ گئی۔ کانگریس گورنمنٹ نے جو اصل میں مہاتما کی حکومت تھی، اس جلتی ہوئی آگ پر خوب تیل چھڑکا۔ اس معاملے میں حکومت کے بعض وزرا اور معزز ارکان کانگریس گورنمنٹ کے وزیر یا کانگریس کے ممبر نہیں رہے تھے بلکہ وہ ہندی زبان کے مشنری بن گئے تھے اور کانگریس کے گزشتہ فیصلوں اور قراردادوں اور کانگریس کے آئین کو بالائے طاق رکھ دیا تھا۔\n\nکانگریس گورنمنٹ نے اس جھگڑے کو اور بڑھایا اور پھیلایا اور ترقی دی۔ کیونکہ کانگریس کی آواز مہاتما کی آواز تھی اور مہاتما کی آواز اہل کانگریس اور کروڑوں عوام کے لیے بہ منزلۂ الٰہی آواز کے تھی۔ مہاتما گاندھی نے (خدا ان کو نیک ہدایت دے) اس معاملے میں ملک کے حق میں ایسے کانٹے بوئے ہیں اور وہ بِس پھیلایا ہے اور مختصر یہ کہ وہ کام کیا ہے جو اس ملک کا بڑا سے بڑا اور سخت سے سخت دشمن بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ہم ملک کی ابتری اور آئے دن کے جھگڑوں اور اختلافات کے لیے غیروں کو الزام دیتے ہیں مگر اپنے گریبان میں منھ ڈال کر کبھی نہیں دیکھتے۔\n\nہندو مسلمانوں میں جس چیز نے سب سے زیادہ بدگمانی، نفرت اور باہمی عناد کو بڑھایا وہ ہندی اردو کا جھگڑا ہے اور اس جھگڑے کے بانی اعظم ’’مہاتما‘‘ گاندھی ہیں۔ میں یہاں پنڈت سندر لال کی تقریر کے دو ایک فقرے نقل کرتا ہوں، ’’اردو ایک ہندوستانی زبان رہی ہے جسے ہندوؤں مسلمانوں نے مل کر بنایا اور ترقی دی اور اب بھی صوبہ متحدہ کے بہت سے ضلعوں میں، شہروں اور دیہات ہر جگہ کے ہندو اردو ہی بولتے ہیں اور موجودہ زمانے کی سنسکرت آمیز ہندی نہیں سمجھ سکتے۔۔۔ اس سنسکرت آمیز ہندی کو قومی زبان کی حیثیت سے رائج کرنے کی کوشش نہ صرف ہندی کے لیے بلکہ قومی اتحاد کے لیے سخت مضر ہے۔۔۔ اس کوشش نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک خلیج پیدا کرنے میں بڑا حصہ لیا ہے۔‘‘ پنڈت جی کا یہ قول حرف بہ حرف درست ہے۔\n\nاردو رسم خط کے متعلق شرما صاحب فرماتے ہیں کہ ’’علمی بحثا بحثی میں اردو لیپی (رسم خط) خود ہی مرےگی، اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنا مَرے کو مارے شاہ مدار کا حکم رکھتا ہے۔‘‘ یہ کلمہ بڑے غرور کا ہے اور ایسے بڑے بول صرف اکثریت کا غرور ہی بلوا سکتا ہے۔ زبان اور تہذیب کے مسائل، تعداد کی کمی بیشی، اوسط اور فی صدی کے حساب سے طے نہیں ہوا کرتے۔ اس کے لیے کسی قدر رواداری، ہم دردی اور انصاف کی بھی ضرورت ہے۔ اردو کا رسم خط ہندی کی طرح صرف ہندوستان کے ایک آدھ علاقے تک محدود نہیں بلکہ یہ ہندوستان کے باہر بھی بہت سے ملکوں میں رائج ہے۔ کہاں کہاں مٹائیں گے۔ یہاں یہ رسم خط اردو کی پیدائش کے ساتھ ساتھ آیا ہے۔ اس کا مٹانا آسان نہیں۔\n\nہندوستان میں ایک دو رسم خط نہیں بیسیوں ہیں۔ سب سے پہلے بنگالی، تامل، تلنگی، کنڑی، ملیالم وغیرہ زبانوں کو یہ مشورہ دینا چاہیے جن کی نسبت یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ سنسکرت سے بہت قریب بلکہ سنسکرت کے بچے ہیں۔ اس کے بعد اردو کی باری آئے گی۔ خطوں کے بدلنے سے دل نہیں بدلتے۔ اول دلوں کے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس کے لیے جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے رواداری، ہم دردی اور انصاف کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں سب سے بڑے شخص نے سب سے زیادہ دلوں کے بدلنے کا پرچار کیا اور اس کے لیے دعائیں مانگیں مگر افسوس کہ اس نے دلوں کو ایسا بدلا ہے کہ فی الحال ان کے ملنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔\n\nزبان کا مسئلہ معمولی نہیں، اس پر ہاتھ ڈالنا بہت خطرناک ہے۔ دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ جہاں کہیں ایسا کیا گیا وہاں صرف ناکامی ہی نہیں اٹھانی پڑی بلکہ اس کے ساتھ بہت سی بلائیں اور آفتیں نازل ہوئیں اور انقلاب رونما ہوئے اور باوجود شدید مظالم اور عذابوں کے زباں بندی اور نظربندی اور قانونی شکنجوں کے، ظالم مظلوں کی اور زبردست زیر دستوں کی زبانوں کو نہ مٹا سکے۔ برخلاف اس کے یہ ظلم اور عذاب اور سختیاں ان زبانوں کی ترقی کا باعث ہوئیں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DA%BE%DA%AF%DA%91%D8%A7"} {"title": "ہندی اور اردو", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "منٹو کے مضامین", "year": "1942", "text_ur": "’’ہندی اور اردو کا جھگڑا ایک زمانے سے جاری ہے۔ مولوی عبدالحق صاحب، ڈاکٹر تارا چند جی اور مہاتما گاندھی اس جھگڑے کو سمجھتے ہیں لیکن میری سمجھ سے یہ ابھی تک بالاتر ہے۔ کوشش کے باوجود اس کا مطلب میرے ذہن میں نہیں آیا۔ ہندی کے حق میں ہندو کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ مسلمان، اردو کے تحفظ کے لئے کیوں بے قرار ہیں۔۔۔؟ زبان بنائی نہیں جاتی، خود بنتی ہے اور نہ انسانی کوششیں کسی زبان کو فنا کر سکتی ہیں۔ میں نے اس تازہ اور گرما گرم موضوع پر کچھ لکھنا چاہا تو ذیل کا مکالمہ تیار ہو گیا۔‘‘\n\nمنشی نرائن پرشاد، اقبال صاحب یہ سوڈا آپ پئیں گے؟\n\nمرزا محمد اقبال، جی ہاں۔ میں پیوں گا۔\n\nمنشی، آپ لیمن کیوں نہیں پیتے۔\n\nاقبال، یونہی، مجھے سوڈا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے گھر میں سب سوڈا ہی پیتے ہیں۔\n\nمنشی، تو گویا آپ کو لیمن سے نفرت ہے۔\n\nاقبال، نہیں تو۔۔۔ نفرت کیوں ہونے لگی منشی نرائن پرشاد۔۔۔ گھر میں چونکہ سب یہی پیتے ہیں۔ ا س لئے عادت سی پڑ گئی ہے۔ کوئی خاص بات نہیں بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ لیمن سوڈے کے مقابلے میں زیادہ مزیدار ہوتا ہے۔\n\nمنشی، اسی لئے تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ میٹھی چیز چھوڑ کر آپ کھاری چیز کیوں پسند کرتے ہیں۔ لیمن میں نہ صرف یہ کہ مٹھاس گھلی ہوتی ہے بلکہ خوشبو بھی ہوتی ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔\n\nاقبال، آپ بالکل بجا فرماتے ہیں۔۔۔ پر۔۔۔\n\nمنشی، پر کیا؟\n\nاقبال، کچھ نہیں۔۔۔ میں یہ کہنے والا تھا کہ میں سوڈا ہی پیوں گا۔\n\nمنشی، پھر وہی جہالت۔۔۔ کوئی سمجھے میں آپ کو زہر پینے پر مجبور کر رہا ہو۔۔۔ ارے بھائی لیمن اور سوڈے میں فرق ہی کیا ہے۔۔۔ ایک ہی کارخانے میں یہ دونوں بوتلیں تیار ہوئیں۔ ایک ہی مشین نے ان کے اندر پانی بند کیا۔۔۔ لیمن میں سے مٹھاس اور خوشبو نکال دیجئے تو باقی کیا رہ جاتا ہے۔\n\nاقبال، سوڈا۔۔۔ کھاری پانی۔۔۔\n\nمنشی، تو پھر اس کے پینے میں حرج ہی کیا ہے۔\n\nاقبال، کوئی حرج نہیں۔\n\nمنشی، تو لو پیؤ۔\n\nاقبال، تم کیا پیؤ گے؟\n\nمنشی، میں دوسری بوتل منگوا لوں گا۔\n\nاقبال، دوسری بوتل کیوں منگواؤ گے۔۔۔ سوڈا پینے میں کیا حرج ہے؟\n\nمنشی، کو۔۔۔ کوئی حرج نہیں۔\n\nاقبال، تو لو پیو یہ سوڈا۔\n\nمنشی، تم کیا پیو گے؟\n\nاقبال، میں۔۔۔ میں دوسری بوتل منگوا لوں گا۔\n\nمنشی، دوسری بوتل کیوں منگواؤ گے۔۔۔ لیمن پینے میں کیا حرج ہے؟\n\nاقبال، کو۔۔۔ ئی۔۔۔ حر۔۔۔ ج۔۔۔ نہیں۔۔۔ اور سوڈا پینے میں کیا حرج ہے؟\n\nمنشی، کو۔۔۔ ئی۔۔۔ حر۔۔۔ ج۔۔۔ نہیں۔\n\nاقبال، بات یہ ہے کہ سوڈا ذرا اچھا رہتا ہے۔\n\nمنشی، لیکن میرا خیال ہے کہ لیمن۔۔۔ ذرا اچھا ہوتا ہے۔\n\nاقبال، ایسا ہی ہوگا۔۔۔ پر میں تو اپنے بڑوں سے سنتا آیا ہوں کہ سوڈا اچھا ہوتا ہے۔\n\nمنشی، اب اس کا کیا ہوگا۔۔۔ میں بھی اپنے بڑوں سے یہی سنتا آیا ہوں کہ لیمن اچھا ہوتا ہے۔\n\nاقبال، آپ کی اپنی رائے کیا ہے؟\n\nمنشی، آپ کی اپنی رائے کیا ہے؟\n\nاقبال، میری رائے۔۔۔ میری رائے۔۔۔ میری رائے تو یہی ہے کہ۔۔۔ لیکن آپ اپنی رائے کیوں نہیں بتاتے۔\n\nمنشی، میری رائے۔۔۔ میری رائے۔۔۔ میری رائے تو یہی ہے کہ۔۔۔ لیکن میں اپنی رائے کا اظہار پہلے کیوں کروں۔\n\nاقبال، یوں رائے کا اظہار نہ ہو سکے گا۔۔۔ اب ایسا کیجئے کہ اپنے گلاس پر کوئی ڈھکنا رکھ دیجئے۔ میں بھی اپنا گلاس ڈھک دیتا ہوں۔ یہ کام کر لیں تو پھر آرام سے بیٹھ کر فیصلہ کریں گے۔\n\nمنشی، ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ بوتلیں کھل چکی ہیں۔ اب ہمیں پینا ہی پڑیں گی۔ چلئے جلدی فیصلہ کیجئے۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی ساری گیس نکل جائے۔۔۔ ان کی ساری جان تو گیس ہی میں ہوتی ہے۔\n\nاقبال، میں مانتا ہوں۔۔۔ اور اتنا آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ لیمن اور سوڈے میں کچھ فرق نہیں۔\n\nمنشی، یہ میں نے کب کہا تھا کہ لیمن اور سوڈے میں کچھ فرق ہی نہیں۔۔۔ بہت فرق ہے۔۔۔ زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک میں مٹھاس ہے۔ خوشبو ہے۔ کھٹاس ہے۔ یعنی تین چیزیں سوڈے سے زیادہ ہیں۔ سوڈے میں تو صرف گیس ہی گیس ہے اور وہ بھی اتنی تیز کہ ناک میں گھس جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں لیمن کتنا مزیدار ہے۔ ایک بوتل پیو۔ طبیعت گھنٹوں بشاش رہتی ہے۔ سوڈا تو عام طور پر بیمار پیتے ہیں۔۔۔ اور آپ نے ابھی ابھی تسلیم بھی کیا ہے کہ لیمن سوڈے کے مقابلے میں زیادہ مزیدار ہوتا ہے۔\n\nاقبال، ٹھیک ہے۔ پر میں نے یہ تو نہیں کہا کہ سوڈے کے مقابلے میں لیمن اچھا ہوتا ہے۔ مزیدار کے معنی یہ نہیں کہ وہ مفید ہو گیا۔ اچار بڑا مزیدار ہوتا ہے مگر اس کے نقصان آپ کو اچھی طرح معلوم ہیں۔ کسی چیز میں کھٹاس یا خوشبو کا ہونا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ وہ بہت اچھی ہے۔ آپ کسی ڈاکٹر سے دریافت فرمایئے تو آپ کو معلوم ہو کہ لیمن معدے کے لئے کتنا نقصان دہ ہے۔ سوڈا البتہ چیز ہوئی نا۔۔۔ یعنی اس سے ہاضمے میں مدد ملتی ہے۔\n\nمنشی، دیکھئے اس کا فیصلہ یوں ہو سکتا ہے کہ لیمن اور سوڈا دونوں مکس کر لئے جائیں۔\n\nاقبال، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔\n\nمنشی، تو اس خالی گلاس میں آدھا سوڈا ڈال دیجئے۔\n\nاقبال، آپ ہی اپنا آدھا لیمن ڈال دیں۔۔۔ میں بعد میں سوڈا ڈال دوں گا۔\n\nمنشی، یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ پہلے آپ سوڈا کیوں نہیں ڈالتے۔\n\nاقبال، میں سوڈا لیمن مکسڈ پینا چاہتا ہوں۔\n\nمنشی، اور میں لیمن سوڈا مکسڈ پینا چاہتا ہوں۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88"} {"title": "ہندی مکتب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "اقبالؔ! یہاں نام نہ لے علمِ خودی کا\nموزُوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالات\nبہتر ہے کہ بیچارے ممولوں کی نظر سے\nپوشیدہ رہیں باز کے احوال و مقامات\nآزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سال\nکس درجہ گراں سَیر ہیں محکوم کے اوقات!\nآزاد کا ہر لحظہ پیامِ اَبدیّت\nمحکوم کا ہر لحظہ نئی مرگِ مفاجات\nآزاد کا اندیشہ حقیقت سے منوّر\nمحکوم کا اندیشہ گرفتارِ خُرافات\nمحکوم کو پِیروں کی کرامات کا سودا\nہے بندۂ آزاد خود اک زندہ کرامات\nمحکوم کے حق میں ہے یہی تربِیَت اچھی\nموسیقی و صُورت گری و علمِ نباتات!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D9%85%DA%A9%D8%AA%D8%A8"} {"title": "ہندی ہندوستانی", "poet_page": "مصنف:چندر بھان کیفی دہلوی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "صاف ستھری زبان ہندی ہے\nخوش بیانی کی جان ہندی ہے\n\nہندیوں کا نشان ہندی ہے\nاوج میں آسمان ہندی ہے\n\nروزمرہ جو بول چال کا ہے\nحسن وہ شوخیٔ خیال کا ہے\n\nاس کے پھولوں کی تیز ہے خوشبو\nہر طرف مشک ریز ہے خوشبو\n\nواقعی عطر بیز ہے خوشبو\nعشرت موج خیز ہے خوشبو\n\nشکل کیسی حسین ہے اس کی\nبرج بھاشا زمین ہے اس کی\n\nکیا ملنسار ہے مزاج اس کا\nصلح جوئی ہے کام کاج اس کا\n\nسارے سنسار میں ہے راج اس کا\nسکہ بیٹھا ہوا ہے آج اس کا\n\nمرہٹی کچھ ہے کچھ ہے پنجابی\nہے فصاحت میں نطق اعرابی\n\nفارسی کی سگھڑ سہیلی ہے\nاور ترکی کے ساتھ کھیلی ہے\n\nجو پسند آئی چیز لے لی ہے\nچیستاں ہے کہیں پہیلی ہے\n\nلال قلعے میں بیگماتی تھی\nساتھ شہزادیوں کے جاتی تھی\n\nدیس بھر کی یہ ایک ہے بانی\nہندنی ہے نہ یہ مسلمانی\n\nبول سکتے ہیں اس کو ایرانی\nسیکھ سکتے ہیں سب بہ آسانی\n\nکچھ ملی ہیں جو ان سے سوغاتیں\nلیڈیوں سے ہیں رات دن باتیں\n\nکس قدر بول چال ہے سادہ\nسورؔ تلسیؔ تھے اس کے دل دادہ\n\nکیف زا ہے یہ صورت بادہ\nپی رہا تھا کبیرؔ آزادہ\n\nرسؔ بہاریؔ تھے گل فشاں اس میں\nاب ہیں کیفیؔ سے خوش بیاں اس میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%DB%8C_%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "ہنر سے نیاریوں کے حال یہ ظاہر ہوا ہم کو", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہنر سے نیاریوں کے حال یہ ظاہر ہوا ہم کو\nمقدر میں جو دولت ہو تو زر ہو خاک سے پیدا\n\nسحر سے شام تک چلتی ہیں لاتیں وصل کی شب میں\nمحبت کی ہے کس گستاخ کس بیباک سے پیدا\n\nکیا ہے اپنے غنچے سے دہن میں تونے جو اس کو\nشمیم گل ہوئی ہے ریشہ مسواک سے پیدا\n\nعزیز از جان نہ رکھیں داغ زلف و خط کیوں کر\nیہ گل ہم نے کیے ہیں کس خس و خاشاک سے پیدا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DB%8C%DB%81_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88"} {"title": "ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری\nکیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری\n\nبعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری\nمیری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری\n\nمیں نے آغوش تصور میں بھی کھینچا تو کہا\nپس گئی پس گئی بے درد نزاکت میری\n\nآئینہ صبح شب وصل جو دیکھا تو کہا\nدیکھ ظالم یہ تھی شام کو صورت میری\n\nیار پہلو میں ہے تنہائی ہے کہہ دو نکلے\nآج کیوں دل میں چھپی بیٹھی ہے حسرت میری\n\nحسن اور عشق ہم آغوش نظر آ جاتے\nتیری تصویر میں کھنچ جاتی جو حیرت میری\n\nکس ڈھٹائی سے وہ دل چھین کے کہتے ہیں امیرؔ\nوہ مرا گھر ہے رہے جس میں محبت میری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%AA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ہنس کے پیمانہ دیا ظالم نے ترسانے کے بعد", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہنس کے پیمانہ دیا ظالم نے ترسانے کے بعد\nآج نازک سے لب ساقی ہیں پیمانے کے بعد\n\nخم کدوں میں کچھ نہ ہوگا ایک پیمانے کے بعد\nرہ نہیں سکتی کبھی مے‌ لب تک آ جانے کے بعد\n\nمیں ہوں ساقی ہے شب خلوت ہے دور جام ہے\nبوسہ پر بوسہ ہے پیمانہ ہے پیمانے کے بعد\n\nوقت ہے ایسا تھا رخصت ہو گئی ان کی حیا\nبات ہی ایسی تھی کھل کھیلے وہ شرمانے کے بعد\n\nچھیڑتے ہیں پا کے موقع ان کے اترے ہار بھی\nبنتے ہیں کیوں دل ہمارا پھول مرجھانے کے بعد\n\nحسن ہو یا عشق ہوتی ہے بری دل کی لگی\nجل بجھی رو رو کے آخر شمع پروانے کے بعد\n\nکہہ کے میں دل کی کہانی کس قدر کھویا گیا\nہیں فسانوں پر فسانے میرے افسانے کے بعد\n\nبے خودی گم گشتگی سکر و تحیر محویت\nکچھ مقامات اور بھی پڑتے ہیں میخانے کے بعد\n\nدور تک شہرت ہے اس کی طور کہتے ہیں جسے\nبے چراغ اک جلوہ گہ ہے میرے ویرانے کے بعد\n\nکوئی ہیرے کی کنی سے کم نہ تھا ہنگام ضبط\nکچھ ہمیں پینا پڑے آنسو بھی غم کھانے کے بعد\n\nعشق کی تاریخ دہرائی زمانے نے ضرور\nنام پایا قیس نے بھی تیرے دیوانے کے بعد\n\nشور ہے رہنا قیامت سے بہت ہی ہوشیار\nان کے کوچے سے اٹھی ہے ٹھوکریں کھانے کے بعد\n\nطبع ہو بھی تو کہیں دیوان میرا اے ریاضؔ\nدیکھنے کی چیز ہوگا یہ صنم خانے کے بعد", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AA%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "ہنستے تھے مرے حال کو جو یار دیکھ کر", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہنستے تھے مرے حال کو جو یار دیکھ کر\nان سب نے رو دیا مجھے بیمار دیکھ کر\n\nسب ہم صفیر چھوڑ کے تنہا چلے گئے\nکنج قفس میں مجھ کو گرفتار دیکھ کر\n\nکیا جانے کیا غضب ہے یہ جادو بھری نگاہ\nغش کر گیا ہوں میں جسے یک بار دیکھ کر\n\nخون جگر کے ساتھ کہیں جی چلا نہ جائے\nرونا ذرا تو دیدۂ خوں بار دیکھ کر\n\nاپنے ہوسؔ پہ جب سے کہ تو مہرباں ہوا\nجلتے ہیں رات دن اسے اغیار دیکھ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%B3%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہنستے ہو روتے دیکھ کر غم سے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہنستے ہو روتے دیکھ کر غم سے\nچھیڑ رکھی ہے تم نے کیا ہم سے\n\nمند گئی آنکھ ہے اندھیرا پاک\nروشنی ہے سو یاں مرے دم سے\n\nتم جو دل خواہ خلق ہو ہم کو\nدشمنی ہے تمام عالم سے\n\nدرہمی آ گئی مزاجوں میں\nآخر ان گیسوان درہم سے\n\nسب نے جانا کہیں یہ عاشق ہے\nبہہ گئے اشک دیدۂ نم سے\n\nمفت یوں ہاتھ سے نہ کھو ہم کو\nکہیں پیدا بھی ہوتے ہیں ہم سے\n\nاکثر آلات جور اس سے ہوئے\nآفتیں آئیں اس کے مقدم سے\n\nدیکھ وے پلکیں برچھیاں چلیاں\nتیغ نکلی اس ابروئے خم سے\n\nکوئی بیگانہ گر نہیں موجود\nمنہ چھپانا یہ کیا ہے پھر ہم سے\n\nوجہ پردے کی پوچھیے بارے\nملیے اس کے کسو جو محرم سے\n\nدرپئے خون میرؔ ہی نہ رہو\nہو بھی جاتا ہے جرم آدم سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%B3%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%AA%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگا", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگا\nچپکے چپکے بہا کر آنسو دل کے دکھ کو دھونا ہوگا\n\nبیرن ریت بڑی دنیا کی آنکھ سے جو بھی ٹپکا موتی\nپلکوں ہی سے اٹھانا ہوگا پلکوں ہی سے پرونا ہوگا\n\nکھونے اور پانے کا جیون نام رکھا ہے ہر کوئی جانے\nاس کا بھید کوئی نہ دیکھا کیا پانا کیا کھونا ہوگا\n\nبن چاہے بن بولے پل میں ٹوٹ پھوٹ کر پھر بن جائے\nبالک سوچ رہا ہے اب بھی ایسا کوئی کھلونا ہوگا\n\nپیاروں سے مل جائیں پیارے انہونی کب ہونی ہوگی\nکانٹے پھول بنیں گے کیسے کب سکھ سیج بچھونا ہوگا\n\nبہتے بہتے کام نہ آئے لاکھ بھنور طوفانی ساگر\nاب منجدھار میں اپنے ہاتھوں جیون ناؤ ڈبونا ہوگا\n\nجو بھی دل نے بھول میں چاہا بھول میں جانا ہو کے رہے گا\nسوچ سوچ کر ہوا نہ کچھ بھی آؤ اب تو کھونا ہوگا\n\nکیوں جیتے جی ہمت ہاریں کیوں فریادیں کیوں یہ پکاریں\nہوتے ہوتے ہو جائے گا آخر جو بھی ہونا ہوگا\n\nمیراجیؔ کیوں سوچ ستائے پلک پلک ڈوری لہرائے\nقسمت جو بھی رنگ دکھائے اپنے دل میں سمونا ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%B3%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE_%D8%A7%DA%A9%DB%8C%D9%84%DB%92_%D8%B1%D9%88%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ہنسوں جوں گل ترے زخموں سے الفت اس کو کہتے ہیں", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہنسوں جوں گل ترے زخموں سے الفت اس کو کہتے ہیں\nتو گالی دے دعاؤں میں محبت اس کو کہتے ہیں\n\nنہیں غم حشر کا ہر چند آفت اس کو کہتے ہیں\nپھروں یاروں کا منہ دیکھوں قیامت اس کو کہتے ہیں\n\nمرے سیلاب اشکوں میں بہے دنیا، پہ جوں سایا\nنہ سرکا میں جگہ سے استقامت اس کو کہتے ہیں\n\nعطا کر سیم شبنم جوں ہنسی صبح اپنے احساں پر\nگرہ ہوئی گل کی پیشانی پر عزت اس کو کہتے ہیں\n\nدم روشن دلی جو مارتے ہیں شمع سے زاہد\nکٹے سے ناک سرکش تر ہیں ذلت اس کو کہتے ہیں\n\nبگولے سا اڑاتا دھول عزلتؔ وجد کرتا ہے\nسر بازار رسوائی میں خلوت اس کو کہتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%B3%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D9%84_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B2%D8%AE%D9%85%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کر", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کر\nچھپا ہوا تھا جو راز دل میں کھلا وہ چہرہ کا رنگ ہو کر\n\nہمیشہ کوچ و مقام اپنا رہا ہے خضر رہ طریقت\nرکا تو میں سنگ میل بن کر چلا تو آواز چنگ ہو کر\n\nنہ توڑتے آرسی اگر تم تو اتنے یوسف نظر نہ آتے\nیہ قافلہ کھینچ لائی سارا شکست آئینہ زنگ ہو کر\n\nشباب و پیری کا آنا جانا غضب کا پر درد ہے فسانہ\nیہ رہ گئی بن کے گرد حسرت وہ اڑ گیا رخ سے رنگ ہو کر\n\nجو راز دل سے زباں تک آیا تو اس کو قابو میں پھر نہ پایا\nزباں سے نکلا کلام بن کر کماں سے چھوٹا خدنگ ہو کر\n\nغضب ہے بحر فنا کا دھارا کہ مجھ کو الجھا کے مارا مارا\nنفس نے موجوں کا جال بن کر لحد نے کام نہنگ ہو کر\n\nملا دل نا حفاظ مجھ کو تو کیا کسی کا لحاظ مجھ کو\nکہیں گریباں نہ پھاڑ ڈالیں جناب ناصح بھی تنگ ہو کر\n\nجو اب کی مینائے مے کو توڑا چلے گی تلوار محتسب سے\nلہو بھی رندوں کا دیکھ لینا بہا مئے لالہ رنگ ہو کر\n\nنہ ضبط سے شکوہ لب تک آیا نہ صبر نے آہ کھینچنے دی\nرہا دہن میں وہ قفل بن کر گرایا چھاتی پہ سنگ ہو کر\n\nسمجھ لے صوفی اگر یہ نکتہ ہے ایک بزم سماع ہستی\nتو نو پیالے یہ آسماں کے بجیں ابھی جل ترنگ ہو کر\n\nبھلا ہو افسردہ خاطری کا کہ حسرتوں کو دبا کے رکھا\nبچا لیا ہرزگی سے اس نے لحاظ ناموس و ننگ ہو کر\n\nجگر خراشی سے پائی فرصت نہ سینہ کاوی سے ناخنوں نے\nگلا گریباں نے گھونٹ ڈالا جنوں کی شورش سے تنگ ہو کر\n\nبدل کے دنیا نے بھیس صدہا اسے ڈرایا اسے لبھایا\nکبھی زن پیر زال بن کر کبھی بت شوخ و شنگ ہو کر\n\nاٹھے تھے تلوار کھینچ کر تم تو پھر تأمل نہ چاہئے تھا\nکہ رہ گئی میرے دل کی حسرت شہید تیغ درنگ ہو کر\n\nجو ولولے تھے وہ دب گئے سب ہجوم لیت و لعل میں حیدرؔ\nجو حوصلے تھے وہ دل ہی دل میں رہے دریغ و درنگ ہو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%81_%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%A2%D9%BE_%D8%AF%D9%86%DA%AF_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہنسے روئے پھرے رسوا ہوئے جاگے بندھے چھوٹے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہنسے روئے پھرے رسوا ہوئے جاگے بندھے چھوٹے\nغرض ہم نے بھی کیا کیا کچھ محبت کے مزے لوٹے\n\nکلیجے میں پھپھولے دل میں داغ اور گل ہیں ہاتھوں پر\nکھلے ہیں دیکھیے ہم میں بھی یہ الفت کے گل بوٹے\n\nتفاوت کچھ نہیں گلچیں میں اور بے درد خوباں میں\nجو اس کے ہاتھ گل ٹوٹے تو ان کے ہاتھ دل ٹوٹے\n\nہزاروں گالیاں دیں پھر ذرا ہنس کر ادھر دیکھا\nبھلا اتنی تسلی سے پھپھولے دل کے کب پھوٹے\n\nکچلتے ہو مجھے تم میں یہ مانگوں ہوں دعا دل میں\nکوئی دلبر مرے آگے تمہیں بھی خوب سا کوٹے\n\nزباں کی کر کے مقراض اور بنا دشنام کا کاغذ\nہمارے حق میں کیا کیا آپ نے کترے ہیں گل بوٹے\n\nیہ کہتے ہیں کہ عاشق چھوٹ جاتا ہے اذیت سے\nجب اس کی عمر کو لشکر اجل کا آن کر لوٹے\n\nہماری روح تو پھرتی ہے معشوقوں کی گلیوں میں\nنظیرؔ اب ہم تو مر کر بھی نہ اس جنجال سے چھوٹے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%92_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DA%AF%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%88%D9%B9%DB%92"} {"title": "ہنوز درد جدائیٔ یار باقی ہے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہنوز درد جدائیٔ یار باقی ہے\nکھٹک رہا تھا جو دل میں وہ خار باقی ہے\n\nنہ قیس ہے نہ وہ محمل سوار باقی ہے\nبس اک غبار فقط یادگار باقی ہے\n\nشراب عیش کسی شب ہوئی تھی مجھ کو نصیب\nاسی شراب کا اب تک خمار باقی ہے\n\nکبھی تو شام مصیبت کی صبح آئے گی\nاگر یہ گردش لیل و نہار باقی ہے\n\nنگاہ لطف سے ساقی ہمیں رہیں محروم\nادھر بھی دیکھ اک امیدوار باقی ہے\n\nبہار آئے گی پھر یاسؔ ناامید نہ ہو\nابھی تو گلشن ناپائیدار باقی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%D9%88%D8%B2_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%94_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہنگام نزع محو ہوں تیرے خیال کا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہنگام نزع محو ہوں تیرے خیال کا\nمشتاق ہوں فرشتۂ صاحب جمال کا\n\nپیراہن اس جواں نے جو پہنا ہے چھال کا\nملتا نہیں چمن میں مزاج اک نہال کا\n\nآلودہ بے گناہوں کے خوں سے ہے تیغ چرخ\nنا فہموں کو گماں ہے شفق میں ہلال کا\n\nشانہ بنیں گے بعد فنا اپنے استخواں\nعقدہ کھلے گا گیسوؤں کے بال بال کا\n\nبینی سہیل مشتری و زہرہ گوش ہیں\nقطب شمال حسن ہے تل تیرے گال کا\n\nکس کس بشر کو لائی ہے دنیا فریب میں\nکیا کیا جواں مرید ہے اس پیر زال کا\n\nلاتی ہے واں قضا و قدر مرغ روح کو\nپانی جہاں قفس کا ہے دانہ ہے جال کا\n\nامرد پرست ہے تو گلستاں کی سیر کر\nہر نونہال رشک ہے یاں خورد سال کا\n\nاک دم میں جا ملوں گا عزیزان رفتہ سے\nکیا عرصہ ہے زمانۂ ماضی سے حال کا\n\nسرخ و سفید رنگ سے ہوتا ہے آشکار\nوہ جسم نازنیں ہے عبیر و گلال کا\n\nاے دل قضا نہ آئے ادھر ٹکٹکی نہ باندھ\nگولی کا سامنا ہے یہ نظارہ خال کا\n\nبوسہ دیئے سے حسن میں ہوگی کمی نہ یار\nہوتا نہیں زکوٰۃ سے نقصان مال کا\n\nوہ چشم ہی نہیں دل وحشی کی فکر میں\nہر ترک کو ہے شوق شکار غزال کا\n\nزنجیر و طوق ہر برس آ کر پنہا گئی\nدیوانہ ہوں میں باد بہاری کی چال کا\n\nروز سیاہ ہجر میں میرے جلے چراغ\nپروانوں کو نصیب ہوا دن وصال کا\n\nرونے کے بدلے حال پر اپنے ہنسا کئے\nپردہ ہوا نہ فاش ہمارے ملال کا\n\nدکھلایا بے نقاب جسے بندہ ہو گیا\nوہ روئے سادہ نقش ہے صاحب کمال کا\n\nکرتی ہے یاں زبان کمر یار میں کلام\nمعدوم ہے جواب ہمارے سوال کا\n\nآتشؔ لحد سے اٹھوں گا کہتا یہ روز حشر\nمشتاق ہوں میں یار کے حسن و جمال کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%85_%D9%86%D8%B2%D8%B9_%D9%85%D8%AD%D9%88_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہنگام نزع گریہ یہاں بے کسی کا تھا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہنگام نزع گریہ یہاں بے کسی کا تھا\nتم ہنس پڑے یہ کون سا موقع ہنسی کا تھا\n\nاٹھا نہ میری گور سے دشمن بھی بیٹھ کر\nکیا عالم آج ہائے مری بیکسی کا تھا\n\nچھایا ہے آسماں کی طرح قبر غیر پر\nدل میں مرے غبار بھرا جو کبھی کا تھا\n\nدل نے مجھے خراب کیا کوئے یار میں\nدشمن پر اعتبار مجھے دوستی کا تھا\n\nصحرا میں پھر رہے تھے سلیماں بنے ہوئے\nجس کو جنون کہتے ہیں سایہ پری کا تھا\n\nدکھ جائے گا دل اس لئے جاری ہوئے نہ اشک\nدیکھو تو پاس نزع میں کتنا کسی کا تھا\n\nیہ اپنی وضع اور یہ دشنام سے فروش\nسن کر جو پی گئے یہ مزا مفلسی کا تھا\n\nجس انجمن میں بیٹھ گیا رونق آ گئی\nکچھ آدمی ریاضؔ عجب دل لگی کا تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%85_%D9%86%D8%B2%D8%B9_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%81_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ہنگامہ خیز دعوئ منصور ہو گیا", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہنگامہ خیز دعوئ منصور ہو گیا\nلب ہم نوائے خاطر مغرور ہو گیا\n\nبزم خیال یار میں ہے محو آرزو\nمجھ سے مرا خیال بہت دور ہو گیا\n\nمٹنا تھا کب تراوش زخم جگر کا رنگ\nہاں رستے رستے زخم سے ناسور ہو گیا\n\nتھا جلوہ گاہ یار مرا دامن نگاہ\nجس ذرہ پر نگاہ پڑی طور ہو گیا\n\nبس اے سکون یاس زیادہ ستم نہ کر\nوہ اضطراب شوق تو کافور ہو گیا\n\nناکامیٔ ازل کی ستم رانیاں نہ پوچھ\nمیں اپنے اختیار سے مجبور ہو گیا\n\nاف اضطراب شوق کی حسرت فروشیاں\nحسن حیا پرست بھی مجبور ہو گیا\n\nمیں اور یہ سر نوشت ملامت کی جا نہیں\nمیں اس کے انتخاب سے مجبور ہو گیا\n\nہنگامہ ہائے غلغلۂ ما و من نہ پوچھ\nبیخودؔ بھی اپنے عہد کا منصور ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%85%DB%81_%D8%AE%DB%8C%D8%B2_%D8%AF%D8%B9%D9%88%D8%A6_%D9%85%D9%86%D8%B5%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا\nشیوہ ستم کا تیرہ دلوں کو سکھا دیا\nخیمہ انھوں نے ابن علی کا جلا دیا\nپردہ سا رہ گیا تھا کچھ اک سو اٹھا دیا\n\nکیا تونے آنکھیں موندلیں اے تیرے سر پہ خاک\nماں اس کی فاطمہ گئی عالم سے دردناک\nباپ اس کا بوتراب ہوا کوفے میں ہلاک\nبھائی حسن کو زہر پلا کر سلا دیا\n\nہے نقش وہ جو کھینچ گیا ہے کدورتیں\nبیٹا بھتیجا دونوں تھے گویا کہ مورتیں\nتھیں آب و رنگ صفحۂ عالم وہ صورتیں\nسو بات کہتے تونے انھوں کو مٹا دیا\n\nآزار تیرے جور سے انواع پا گیا\nیاقوت پارے خاک میں اپنے ملا گیا\nکیا کیا زیاں حسین جہاں میں اٹھا گیا\nناموس دی بہ باد جدا سر جدا دیا\n\nمرنا حسین کا ہے فلک یوں نہ جائے گا\nحلق بریدہ سے جو وہ عرصے میں آئے گا\nہر گام ایک تازہ قیامت اٹھائے گا\nیہ وہ نہ ہو کہ خون کیا پھر دبا دیا\n\nآنکھوں میں اس کی ہو نہ جہاں کس طرح سیاہ\nکیا سوجھے اس کو چہرے پہ کس کے کرے نگاہ\nاکبر اندھیرے گھر کا اجالا تھا اس کے آہ\nباد ستم نے تس کو دیا سا بجھا دیا\n\nاصغر کو خیمہ گاہ سے لایا تھا تشنہ کام\nسو کام ایک تیر میں اس کا ہوا تمام\nپانی کا پھر حسین نے ہرگز لیا نہ نام\nدیکھا کہ طفل شیر کو لوہو چٹا دیا\n\nہمدم جو تھے حسین کے مارے گئے سبھی\nیاری کی یاوری کی نہ مہلت کسو کو دی\nعباس جس سے بازو امامت کا تھا قوی\nتیغ جفا سے بازو ہی اس کا کٹا دیا\n\nقاسم چراغ بھائی کا آیا بتنگ ہو\nکہنے لگا کہ میرے تئیں حکم جنگ ہو\nتاچند زندگانی وبال اور ننگ ہو\nافسردگی کہاں تئیں جیسے بجھا دیا\n\nبولا چچا کہ دل میں جو کرتا ہوں میں تمیز\nپاتا ہوں اپنے بیٹوں سے بھی تیرے تیں عزیز\nتیرے عوض جہاں کو اگر دیں تو کیا ہے چیز\nہونے نے تیرے بھائی کے غم کو بھلا دیا\n\nدل تنگ دیکھتا ہوں تو لاچار میں تجھے\nورنہ نہ دیکھوں بیکس و بے یار میں تجھے\nاس آگ میں نہ جانے دوں زنہار میں تجھے\nمت جان کو جلا تجھے کٹے لگا دیا\n\nاس ماجرے کو گرچہ دیا اس جواں نے طول\nپر بات اس کی آگے چچا کے نہ ہوئی قبول\nجب دیکھا مدعا نہیں ہوتا ہے یوں حصول\nبازو سے کھول باپ کا اپنے لکھا دیا\n\nپوچھا کہ کیا ہے یہ تو کہا کیجیے نظر\nلکھ دے گیا تھا مجھ کو دم مرگ یہ پدر\nپڑھتے ہی اس کے خون ہوا غم سے سب جگر\nمغموم ہو کے فرق مبارک جھکا دیا\n\nاس میں لکھا تھا یہ کہ سن اے مایۂ حیات\nمیں تو موا پہ یاد رہے تجھ کو میری بات\nایسا نہ کیجیوکہ کہے سن کے کائنات\nابن حسن نے ساتھ چچا کا بھلا دیا\n\nالقصہ پڑھ کے ساتھ بھتیجے کے تیں لیا\nاہل حرم کو خیمے میں جا ایک جا کیا\nاک جامہ بیش قیمتی اپنا اسے دیا\nرو رو نکاح بیٹی کا اس سے پڑھا دیا\n\nرسمیں ہنوز باقی تھیں جو آئی اک صدا\nکاے سیدو مگر نہیں تم میں کوئی رہا\nحاضر براے جنگ ہو قاسم جو اٹھ چلا\nچلنے نے ایسے اس کے سبھوں کو رلا دیا\n\nآیا دلھن سے حشر کا وعدہ جو درمیاں\nکہنے لگی کہ ڈھونڈھوں تو واں پاؤں میں کہاں\nبولا کہ پیش فاطمہ بولی کہ کچھ نشاں\nچاک آستیں کا ہاتھ اٹھا کر دکھا دیا\n\nنکلا جو خیمہ گاہ سے یہ مستعدکار\nاک ابر سامنے سے اٹھا اس کے فتنہ بار\nتیروں کی بارش اس سے تھی یا تیغ آبدار\nطوفاں ہوا کہ اس کو یکایک ڈبا دیا\n\nصرفہ کیا نہ شہ نے بھی پھر اپنی جان کا\nسینہ کے تیں سپر کیا تیغ و سنان کا\nجو تاج سر تھا فرق شہان جہان کا\nاس طرح تونے خاک میں اس کو ملا دیا\n\nپر بیکسانہ جی سے گیا ہے وہ بے وطن\nیار و رفیق سب کے ہیں بے سر پڑے بدن\nکوئی نہیں رہا ہے کہ دیوے اسے کفن\nسب دار و دستہ کاٹ کے اس کا گرا دیا\n\nکیا کیں تھا اہل شام کو اس آفتاب سے\nکرتے رہے مضائقہ اک چلو آب سے\nآخر کیا حجاب نہ کچھ بوتراب سے\nسر کاٹ کر غریب کا نیزے چڑھا دیا\n\nخیمہ جہاں تھا اس کا ہوئے خیمہ گاہ خصم\nاسباب عترتوں کا گئی لے سپاہ خصم\nتن اس کے دوستوں کے ہوئے فرش راہ خصم\nظلم و ستم سے مار کے سب کو بچھادیا\n\nمظلوم سیدوں کا نہ ثابت ہوا گناہ\nآل نبی کا پاس کیا خوب واہ واہ\nمارا جہاں کہ وھاں نہ ملا قطرہ آب آہ\nلوہو سے ان پیاسوں کے دریا بہا دیا\n\nناموس خاندان نبوت گئی بباد\nگھر بار لوٹ لے گئے اعداے بدنہاد\nواماندگاں پہ حد سے تعدی ہوئی زیاد\nان بیکسوں کا واہ رے انصاف کیا دیا\n\nاحوال عابدیں سے کریں ہم سو کیا مقال\nآگے ہی تھا بدن کا مرض سے تباہ حال\nقیدی جو راہ جاتے ہوا اور پائمال\nناموس کی خرابی نے دونا سکھا دیا\n\nغیرت رہا تھا جو حرم کبریا کی گھر\nباشندگاں کو واں کے نکالا برہنہ سر\nجاویں ادب سے جس کے کنے ہاتھ باندھ کر\nاس عابدیں کا ہاتھ رسن سے بندھا دیا\n\nناچار جس طرح سے گیا وہ نہ کوئی جائے\nدیکھا جو کچھ کہ ان نے کسو کو نہ حق دکھائے\nآیا جو اس نزار سے ایوبؑ سے نہ آئے\nہر ہر قدم پہ ضعف بدن نے اڑا دیا\n\nکیا کچھ کیا نہ تونے فلک اس کے باب میں\nزنداں میں اہل بیت رہے پیچ و تاب میں\nبیٹی نے اس کی دیکھا اسے واں جو خواب میں\nاس واقعے کی دھوم نے دشمن جگا دیا\n\nشورش کی وجہ سن کے برا اپنے دل میں مان\nاٹھ بیٹھ روسیاہ نے سوتے سے اس ہی آن\nرکھ کر سر بریدہ کو کسوایا ایک خوان\nسربستہ پھر وہ خوان اسے واں منگا دیا\n\nکھولا جو خوان کو تو ہر اک نیم جاں ہوئی\nازبسکہ گرم نالہ و آہ و فغاں ہوئی\nچلائی بیٹی ایسی کہ محشر عیاں ہوئی\nجی کو غم پدر میں پھر ان نے کھپا دیا\n\nکیا چال تھی سپہر جو تیں اختیار کی\nبنیاد کھود ڈالی حرم کے جدار کی\nکچھ فکر ہے تجھے بھی سرانجام کار کی\nظالم کسے بگاڑ کے کس کو بنا دیا\n\nگھر پر علیؓ کے ایسی مصیبت تھی جب پڑی\nہر پردگی نکل کے ہوئی بے ردا کھڑی\nکیدھر تھے تیرے دیدۂ مہر و مہ اس گھڑی\nمل کر زمیں سے تونے نہ ان کو چھپا دیا\n\nاس کم سپہ کو خصم سے آخر لڑا رکھا\nلاشے کو اس کے خاک میں بے سر پڑا رکھا\nسقف منقش اپنی کو تونے کھڑا رکھا\nگھر اہل بیت ختم رسلؐ کا بٹھا دیا\n\nخس کے لیے کوئی بھی الٹ دیوے ہے پہاڑ\nکس جا خزف کے واسطے دیں ہیں گہر کو گاڑ\nگلبن کو بہر خار کہاں ڈالے ہیں اکھاڑ\nویرانہ گھر علی کا کیا کعبہ ڈھا دیا\n\nبس میرؔ اب تو خامۂ آتش زباں کو تھام\nسوز جگر سے تیرے جلے جا ہیں دل تمام\nمانند شمع کشتہ خموشی سے کر کلام\nکیا کہیے گردش فلکی نے رجھا دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%85%DB%81_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا\nچشمک ہے برق کی کہ تبسم شرار کا\n\nمیں جو شہید ہوں لب خندان یار کا\nکیا کیا چراغ ہنستا ہے میرے مزار کا\n\nہو راز دل نہ یار سے پوشیدہ یار کا\nپردہ نہ درمیاں ہو جو دل کے غبار کا\n\nاس روئے تابناک پہ ہر قطرۂ عرق\nگویا کہ اک ستارہ ہے صبح بہار کا\n\nہے عین وصل میں بھی مری چشم سوئے در\nلپکا جو پڑ گیا ہے مجھے انتظار کا\n\nپہنچے گا تیرے پاس کبوتر سے پیشتر\nمکتوب شوق اڑا کے ترے بے قرار کا\n\nہو پاک دامنوں کو خلش گر سے کیا خطر\nکھٹکا نہیں نگاہ کو مژگاں کے خار کا\n\nبجھنے کی دل کی آگ نہیں زیر خاک بھی\nہوگا درخت گور پہ میری چنار کا\n\nدیکھ اپنے در گوش کو عارض سے متصل\nدیکھا نہ ہو ستارہ جو صبح بہار کا\n\nپوچھے ہے کیا حلاوت تلخابۂ سرشک\nشربت ہے باغ خلد بریں کے انار کا\n\nہے دل کی داؤ گھات میں مژگاں سے چشم یار\nہے شوق اس کی ٹٹی کی اوجھل شکار کا\n\nقاصد لکھوں لفافۂ خط کو غبار سے\nتا جانے وہ یہ خط ہے کسی خاکسار کا\n\nاے ذوقؔ ہوش گر ہے تو دنیا سے دور بھاگ\nاس مے کدے میں کام نہیں ہوشیار کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%85%DB%81_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%DB%81%D8%B3%D8%AA%D8%A6_%D9%86%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے\nڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے\n\nنا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں\nاس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے\n\nاس مے سے نہیں مطلب دل جس سے ہے بیگانہ\nمقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے\n\nاے شوق وہی مے پی اے ہوش ذرا سو جا\nمہمان نظر اس دم ایک برق تجلی ہے\n\nواں دل میں کہ صدمے دو یاں جی میں کہ سب سہہ لو\nان کا بھی عجب دل ہے میرا بھی عجب جی ہے\n\nہر ذرہ چمکتا ہے انوار الٰہی سے\nہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے\n\nسورج میں لگے دھبا فطرت کے کرشمے ہیں\nبت ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے\n\nتعلیم کا شور ایسا تہذیب کا غل اتنا\nبرکت جو نہیں ہوتی نیت کی خرابی ہے\n\nسچ کہتے ہیں شیخ اکبرؔ ہے طاعت حق لازم\nہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%85%DB%81_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D9%BE%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%8C_%D8%B3%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%DB%8C_%D9%84%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہو اگر مد نظر گلشن میں اے گلفام رقص", "poet_page": "مصنف:منشی خیراتی لال شگفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو اگر مد نظر گلشن میں اے گلفام رقص\nصورت بسمل دکھائے بلبل ناکام رقص\n\nخانہ مقتل میں ہوتا ہے گماں فردوس کا\nمور بن کر جب دکھاتی ہے تری صمصام رقص\n\nوہ ہوا خواہ نسیم زلف ہوں میں تیرہ بخت\nکیوں نہ مرقد پر کرے دود چراغ شام رقص\n\nآرزو ہے التفات بے قرار سے مجھے\nوصل میں اس کو دکھائے ہر رگ اندام رقص\n\nدم نہیں اپنا تڑپ کر لوٹتا ہے ہجر میں\nروح کو سکھلا رہا ہے موت کا پیغام رقص\n\nاے شگفتہؔ وہ پری رو مجھ سے فرماتا ہے یہ\nتم کو دکھلائیں گے اپنا آج زیر بام رقص", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AF_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%DA%AF%D9%84%D9%81%D8%A7%D9%85_%D8%B1%D9%82%D8%B5"} {"title": "ہو ترقی پر مرا درد جدائی اور بھی", "poet_page": "مصنف:فروغ حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو ترقی پر مرا درد جدائی اور بھی\nاور بھی اے بے وفا کر بے وفائی اور بھی\n\nہونے پایا تھا ابھی خوگر نہ درد ہجر کا\nآگ رشک غیر نے دل میں لگائی اور بھی\n\nدیکھیے مڑ کر نگاہ ناز کے قربان میں\nایک بار اے فتنہ گر جلوہ نمائی اور بھی\n\nفائدہ کیا ایسے ہرجائی سے ملنے میں فروغؔ\nہو گئی دنیا میں تیری جگ ہنسائی اور بھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%D8%AA%D8%B1%D9%82%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "ہو ترک کسی سے نہ ملاقات کسی کی", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو ترک کسی سے نہ ملاقات کسی کی\nیا رب نہ بگڑ جائے بنی بات کسی کی\n\nپاؤں کو جو پھیلا کے سر شام سے سوئے\nکیا جانے وہ کس طرح کئی رات کسی کی\n\nفرمائیے کیوں کر وہ سہے آپ کی گالی\nاٹھ سکتی نہ ہو جس سے کڑی بات کسی کی\n\nفرمائشیں تم روز کرو شوق سے لیکن\nیہ جان لو تھوڑی سی ہے اوقات کسی کی\n\nممکن ہے کہ سمجھے نہ حفیظؔ آپ کی چالیں\nشاعر سے بھی چلتی ہے کہیں گھات کسی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ہو جاتی ہے سہل پیش دانا مشکل", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہو جاتی ہے سہل پیش دانا مشکل\nدل نے نہ کسی امر کو جانا مشکل\nمدح شہہ دیں میں ہے مگر دل کا یہ قول\nہے بحر کا کوزے میں سمانا مشکل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B3%DB%81%D9%84_%D9%BE%DB%8C%D8%B4_%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84"} {"title": "ہو جدا اے چارہ گر ہے مجھ کو آزار فراق", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو جدا اے چارہ گر ہے مجھ کو آزار فراق\nبے وصال اچھا ہوا بھی کوئی بیمار فراق\n\nشوخیٔ پردہ نشیں کی عشوہ سازی دیکھنا\nدل ہے بدمست وصال اور دیدہ بیدار فراق\n\nایک نالے میں پھرے گا مہر و مہ کو ڈھونڈھتا\nاے فلک مت چھیڑ مجھ کو ہوں عزا دار فراق\n\nوصل تھی میری سزا ہجر انتقام غیر تھا\nکب ہوا خو کردۂ ہجراں گرفتار فراق\n\nکوئی کرتا ہے خطا اور کوئی پاتا ہے سزا\nغیر گستاخ وصال اور میں سزاوار فراق\n\nدم بہ دم بجلی گرے یا نہر خوں جاری رہے\nالتیام اس سینے کا کیا جو ہے افگار فراق\n\nآنکھ کب لگتی ہے حیلے سے جو تجھ سے لگ گئی\nداستان وصل کب سنتا ہے بیدار فراق\n\nدام میں صیاد کے کیوں کہ نہ بلبل مر رہے\nدامن ہر برگ گل میں تھا نہاں خار فراق\n\nسو بہار آئے مگر جاتا ہے کوئی داغ دل\nلالہ و گل کا نہیں مشتاق خوں بار فراق\n\nاب قلقؔ ٹھوکر سے تیری جی چکا مرنے کے بعد\nآشنائے وصل کب ہو ناز بردار فراق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%DB%92_%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82"} {"title": "ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت\nطائر کو قفس سے بھی کہیں ہو ہے محبت\n\nگو ظل ہما مت ہو رہے سر پہ ہمارے\nتا حشر تیرا سایۂ دیوار سلامت\n\nاطوار ترے باعث آفات جہاں ہیں\nآثار ترے ہیں گے سب آثار قیامت\n\nصیاد نہ اب بے پر و بالوں کو تو اب چھوڑ\nپھر حسرت گل دے گی ہمیں سخت اذیت\n\nاسباب جہاں کی تو دلا فکر نہ کر تو\nحاصل نہیں کچھ اس میں بجز رنج و مشقت\n\nچھوڑوں گا نہ میں تجھ کو ترے خط کے بھی آئے\nتو تب بھی نہ ہو یار تو یہ بھی مری قسمت\n\nتاباںؔ تو سدا سیر ہر اک گل کی کیا کر\nاس گلشن ہستی کا نظارا ہے غنیمت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%D8%B1%D9%88%D8%AD_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA"} {"title": "ہو رہا ہے ابر اور کرتا ہے وہ جانانہ رقص", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو رہا ہے ابر اور کرتا ہے وہ جانانہ رقص\nبرق گرد اس کے کرے ہے آ کے بے تابانہ رقص\n\nدور میں چشم گلابی کے ترے اے بادہ نوش\nبزم میں کرتا ہے مستوں کی طرح پیمانہ رقص\n\nاس قد و رخسار پر اے شمع رو اس حسن پر\nقمری و بلبل کرے ہے وجد اور پروانہ رقص\n\nگھنگرو جانے ہے پاؤں میں وہ زنجیروں کے تئیں\nکیوں نہ اس آواز پر بن بن کرے دیوانہ رقص\n\nجس کے گھر آوے وہ حاتمؔ ناز سے رکھتا قدم\nاٹھ کھڑا ہو کر کرے اس آن صاحب خانہ رقص", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B1%D9%82%D8%B5"} {"title": "ہو رہا ہے ٹکڑے ٹکڑے دل میرے غم خوار کا", "poet_page": "مصنف:انور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو رہا ہے ٹکڑے ٹکڑے دل میرے غم خوار کا\nہے مرے زخم جگر میں کاٹ تیغ یار کا\n\nشور ہے غل ہے جہاں میں مردن دشوار کا\nایک چلتا وار ہے ہیں تیغ نگاہ یار کا\n\nنغمہ دل کش ہے دشمن عندلیب زار کا\nہے قفس میں بند ہونا کھولنا منقار کا\n\nمست کچھ ایسا ہوں چشم نیم مست یار کا\nظرف خالی جانتا ہوں ساغر سرشار کا\n\nکیا کہوں کیا حال ہے مجھ ناتوان و زار کا\nہوں نگاہ واپسیں اپنی دل بیمار کا\n\nآسماں پھرتا ہے حسب مدعائے مدعی\nراہ پر لانا غضب ہے ایسے کج رفتار کا\n\nبل بے بد خوئی مزاج یار میں سو بل پڑے\nایک بل نکلا جو تار‌ گیسوئے خم دار کا\n\nدست ساقی پر لگائے آنکھ رہتا ہے مدام\nجام مے ہے دیدۂ حسرت کسی مے خوار کا\n\nکس قدر بشاش ہے اسرار سے خالی نہیں\nرنگ میرا اڑ گیا منہ دیکھ کر سوفار کا\n\nمیں گرفتار وفا ہوں چھٹ کے جاؤں گا کہاں\nبال باندھا چور ہوں ہر تار زلف یار کا\n\nکوئی اک گردش تو ہو ایسی بھی ہاں اے چشم یار\nشیخ پوچھے مجھ سے رستہ خانہ خمار کا\n\nواہ رے قسمت کہ وہ میرے مقدر میں پڑا\nآہ نے جو بل نکالا چرخ کج‌ رفتار کا\n\nلے چلو واعظ کو ہاتھوں ہاتھ اٹھائے مے کشو\nپاسباں چل کر بنا دو خانہ خمار کا\n\nجان سننے والوں کی واعظ لبوں پر آ گئی\nواہ کیا کہنا ہے حضرت آپ کی گفتار کا\n\nہے جو افتادوں سے کچھ نفرت تو نفرت ہی سہی\nکیوں زمیں پر گر پڑا سایہ تیری دیوار کا\n\nشکل مرہم دیکھ کر ڈرتا ہے میرا زخم دل\nکھول کر آنکھ اپنی دیکھا ہے جو منہ سوفار کا\n\nنالہ میرے لب پہ آتا ہے جو سو سو ناز سے\nکوئی پرتو لے اڑا شاید تری رفتار کا\n\nیہ تو ظاہر ہے کہ وصل ان کا کہاں اور ہم کہاں\nلیکن اس پیغام میں کچھ لطف ہے تکرار کا\n\nدل کو لے جا مجھ سے یا تو آپ لے یا بانٹ دے\nپر یہ حصہ ہے تیری گیسو کے اک اک تار کا\n\nالامان اس برش تیغ نظر سے الامان\nمانتی ہے برق بھی لوہا تیری تلوار کا\n\nہاتھ سنبھلا رکھیو اے مشاطۂ جادو طراز\nاک جہان دل ہے بستہ طرۂ طرار کا\n\nہوں تو دیوانہ ولے ہشیاریٔ مطلب تو دیکھ\nسر بھی پھوڑا ڈھونڈ کر پتھر تری دیوار کا\n\nکچھ ادھر سے عرض مطلب اور ادھر سے کچھ نہیں\nاک جداگانہ مزا ہے وصل میں تکرار کا\n\nکتنا گستاخی سے کھینچا ہے تجھے آغوش میں\nمیں گلے کا ہار ہوں تیرے گلے کے ہار کا\n\nکیوں نہیں گرتا مرے آفت زدوں پر ہائے ہائے\nآسماں بھی ہے مگر سایہ تری دیوار کا\n\nچھو گئی کافر ہوا کس کی نگاہ گرم سے\nپھول کملایا ہوا ہے کچھ گل رخسار کا\n\nملتی ہے آخیر کو کچھ کیفیت سوز و گداز\nصاعقہ حصہ ہے پہلا طالب دیدار کا\n\nایک جلوہ پر چمک اٹھتی ہے سب اقلیم عشق\nکون عالم ہے ہمارے دیدۂ بے دار کا\n\nآسماں رکھتا ہے آنکھیں مہر و مہ سے اس سے پوچھ\nکون عالم ہے ہمارے دیدۂ بے دار کا\n\nحسن میں خود رفتگی ہے تو نہیں مانع حجاب\nبوئے گل کو پھاندنا کیا باغ کی دیوار کا\n\nوہ ہی اپنی چال ہے کوئی مرے کوئی جئے\nلے اڑے سارا چلن تم چرخ کج رفتار کا\n\nناخن شمشیر قاتل کو دعا دیتے ہیں ہم\nعقدہ کھولا خوب انورؔ مردن دشوار کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%B9%DA%A9%DA%91%DB%92_%D9%B9%DA%A9%DA%91%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہو رہے ہیں نت نئے قانون جاری ان دنوں", "poet_page": "مصنف:رنجور عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "مزاحیہ", "year": null, "text_ur": "ہو رہے ہیں نت نئے قانون جاری ان دنوں\nچل رہی ہے دل پہ عالم کے کٹاری ان دنوں\n\nٹیکس کی بھر مار سے ماتم ہے سارے ہند میں\nکچھ سنی جاتی نہیں فریاد و زاری ان دنوں\n\nحاکمان ہند کو اپنی ہی عشرت سے ہے کام\nکون کرتا ہے ہماری غم گساری ان دنوں\n\nمال و عزت جاہ و منصب اپنے سب جاتے رہے\nرہ گئی ہے صرف ان کی یادگاری ان دنوں\n\nآفسوں میں سر کھلے بنگالیوں کی دھوم ہے\nمر رہے ہیں مارے فاقوں کے بہاری ان دنوں\n\nعلم حاصل کر کے بھی ملتی نہیں ہے نوکری\nرحم کے قابل ہے بس حالت ہماری ان دنوں\n\nہم فدا ہوں ان پہ اور وہ ہم سے یوں بد ظن رہیں\nکام آتی ہے نہیں کچھ جاں نثاری ان دنوں\n\nجور ان کے سہتے سہتے ناک میں دم آ گیا\nکیا کروں کرتا نہیں ہے بخت یاری ان دنوں\n\nپتا پتا انڈیا کے باغ کا مرجھا گیا\nکیوں ادھر آتی نہیں باد بہاری ان دنوں\n\nٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہوں اس پٹنہ جیسے شہر میں\nخلق ہے میونسپلٹی سے عاری ان دنوں\n\nہے یہ سطوت بات کرتے ملک برہما فتح تھا\nتیغ انگلستاں پہ ہے کیا آب داری ان دنوں\n\nخوش بیانی پر جو اپنی شاد رہتے تھے بہت\nان کی ہے رنج و الم سہنے کی باری ان دنوں\n\nسنتے ہیں اب تک نہیں آیا حماقت سے وہ باز\nسر پہ احمق کے ہے پھر جن کی سواری ان دنوں\n\nگلعذار پارسی ہر دم گلے کا ہار ہے\nلوٹتی ہے خاک پر مالن بچاری ان دنوں\n\nفارسی بھی ہو گئی اب تو زبان مادری\nقابلیت ہو گئی دونی دونی ہماری ان دنوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%AA_%D9%86%D8%A6%DB%92_%D9%82%D8%A7%D9%86%D9%88%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%86%D9%88%DA%BA"} {"title": "ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سے\nنہ نکلا کبھو عہدۂ مور سے\n\nبہت دور کوئی رہا ہے مگر\nکہ فریاد میں ہے جرس شور سے\n\nمری خاک تفتہ پر اے ابر تر\nقسم ہے تجھے ٹک برس زور سے\n\nترے دل جلے کو رکھا جس گھڑی\nدھواں سا اٹھا کچھ لب گور سے\n\nنہ پوچھو کہ بے اعتباری سے میں\nہوا اس گلی میں بتر چور سے\n\nنہیں سوجھتا کچھ جو اس بن ہمیں\nبغیر اس کے رہتے ہیں ہم کور سے\n\nجو ہو میرؔ بھی اس گلی میں صبا\nبہت پوچھیو تو مری اور سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D8%AC%D8%B2_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%B2%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ہو عاشقوں میں اس کے تو آؤ میرؔ صاحب", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "ہو عاشقوں میں اس کے تو آؤ میرؔ صاحب\nگردن کو اپنی مو سے باریک تر کرو تم\nکیا لطف ہے وگرنہ جس دم وہ تیغ کھینچے\nسینہ سپر کریں ہم قطع نظر کرو تم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D8%A4_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8"} {"title": "ہو عید یا محرم ہم غم کیا کریں گے", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "ہو عید یا محرم ہم غم کیا کریں گے\nدو روزہ دہر دوں میں ماتم کیا کریں گے\n\nمضمون درہمی کا گیسو کے باندھیں گے ہم\nہر دم مزاج اپنا برہم کیا کریں گے\n\nاس حرف نا شنو کی فرقت میں چپکے بیٹھے\nہم اپنے دل سے باتیں ہر دم کیا کریں گے\n\nکانوں تک اس کے پہنچے مانند زلف جب ہم\nسرگوشیاں سراسر باہم کیا کریں گے\n\nوہ زلف و رخ سے اپنے کافور و مشک لے کر\nتیار زخم دل کا مرہم کیا کریں گے\n\nگو تلخ وہ کہیں گے لب ہائے شکریں سے\nہر دم دعا مگر ہم ہم دم کیا کریں گے\n\nگو خوں کا قطرہ قطرہ دل سے وقارؔ کم ہو\nلیکن سخن سخن سے ہم ضم کیا کریں گے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85_%DB%81%D9%85_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آج", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آج\nناز کرتی ہے بے قراری آج\n\nاڑ گیا خاک پر غبار اپنا\nہو گئی خاک خاکساری آج\n\nنزع ہے اور روز وعدۂ وصل\nہے بہر طور دم شماری آج\n\nمانع قتل کیوں ہوا دشمن\nجان ہی جائے گی ہماری آج\n\nتیرے آتے ہی دم میں دم آیا\nہو گئی یاس امیدواری آج\n\nکوئی بھیجے ہے دل کو پہلو میں\nکس نے کی اس سے ہمکناری آج\n\nاس کے شکوہ سے ہے اثر ظاہر\nکچھ تو کہتی ہے آہ و زاری آج\n\nاک نئی آرزو کا خون ہوا\nہم ہیں اور تازہ سوگواری آج\n\nچھٹ گئے مر کے نیش ہجراں سے\nکام آئے ہے زخم کاری آج\n\nبیکسی کیوں ہے نعش پر مجمع\nکیا ہوئی تو مری پیاری آج\n\nبھولے حضرت نصیحت اے ناصح\nہے کسی کی تو یادگاری آج\n\nمومنؔ اس بت کو دیکھ آہ بھری\nکیا ہوا لاف دیں داری آجی آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "ہو نہ رسوائے زمانہ مہ کامل کی طرح", "poet_page": "مصنف:منشی شیو پرشاد وہبی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وہبی (1870)", "year": "1870", "text_ur": "ہو نہ رسوائے زمانہ مہ کامل کی طرح\nمیرے سینے میں رہو آ کے مرے دل کی طرح\n\nتیرے دروازے پہ اے غیرت لیلیٰ دن رات\nسر پٹکتے رہے ہم پردۂ محمل کی طرح\n\nاس قدر شوق شہادت نے مجھے دوڑایا\nتھک گئے پاؤں مرے بازوئے قاتل کی طرح\n\nسیر نیرنگی عالم کی نظر آ جائے\nمیری آنکھوں میں اگر آ کے رہو تل کی طرح\n\nاک نظر دیکھ لے منہ پھیر کے او صید افگن\nدل تڑپتا ہے مرا طائر بسمل کی طرح\n\nبے ترے اے یم خوبی جو لگے منہ سے شراب\nچھالے پڑ جائیں حباب لب ساحل کی طرح\n\nوحشت دل سے ہو کیا عاشق گیسو کو نجات\nجادۂ دشت لپٹتے ہیں سلاسل کی طرح\n\nقدر جانو گے محبت کی تب اے جان جہاں\nتم بھی جب رنج اٹھاؤ گے مرے دل کی طرح\n\nآپ کھل کھیلے اگر مجھ سے شب وصل تو کیا\nنہ کھلی دل کی گرہ عقدۂ مشکل کی طرح\n\nرنگ لائے جو مرا خون تمنا وہبیؔ\nدامن حشر بنے دامن قاتل کی طرح", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "ہو چکا جو کہ مقدر میں تھا درماں ہونا", "poet_page": "مصنف:میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو چکا جو کہ مقدر میں تھا درماں ہونا\nاب ترے ہاتھ ہے مشکل مری آساں ہونا\n\nتھا جو مقسوم میں شرمندۂ احساں ہونا\nغیر کے ہاتھ رہا دفن کا ساماں ہونا\n\nحسن کا عشق کی وادی میں نمایاں ہونا\nرمز تھا دن کو سر طور چراغاں ہونا\n\nلذت درد جراحت تو مرے دل سے نہ پوچھ\nپہلوئے زخم میں لازم تھا نمکداں ہونا\n\nاک قیامت کا سماں تھا ترا اے صبح وطن\nپردۂ شام غریباں کا نمایاں ہونا\n\nخانہ بربادیاں ہر سمت سے گھیرے ہیں مجھے\nدر و دیوار پہ لکھا ہے بیاباں ہونا\n\nامتحاں گاہ محبت میں نہ جانے کیا ہو\nقہر کا سامنا ہے تیغ کا عریاں ہونا\n\nآ رہی ہیں یہ امیدوں کی صدائیں پیہم\nگو سفر سخت ہے لیکن نہ ہراساں ہونا\n\nمیری تربت بھی بنی ایسی زمیں پہ عالمؔ\nجس کی تقدیر میں لکھا تھا بیاباں ہونا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "ہو چکا ناز منہ دکھائیے بس", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو چکا ناز منہ دکھائیے بس\nغصہ موقوف کیجے آئیے بس\n\nفائدہ کیا ہے یوں کھنچے رہنا\nمیری طاقت نہ آزمائیے بس\n\n\"دوست ہوں میں ترا\" نہ کہیے یہ حرف\nمجھ سے جھوٹی قسم نہ کھائیے بس\n\nآپ کو خوب میں نے دیکھ لیا\nتم ہو مطلب کے اپنے جائیے بس\n\nمصحفیؔ عشق کا مزہ پایا\nدل کسی سے نہ اب لگائیے بس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D9%85%D9%86%DB%81_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92_%D8%A8%D8%B3"} {"title": "ہو چکا وعظ کا اثر واعظ", "poet_page": "مصنف:بہرام جی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو چکا وعظ کا اثر واعظ\nاب تو رندوں سے در گزر واعظ\n\nصبح دم ہم سے تو نہ کر تکرار\nہے ہمیں پہلے درد سر واعظ\n\nبزم رنداں میں ہو اگر شامل\nپھر تجھے کچھ نہیں خطر واعظ\n\nوعظ اپنا یہ بھول جائے تو\nآوے گر یار سیم بر واعظ\n\nہے یہ مرغ سحر سے بھی فائق\nصبح اٹھتا ہے پیشتر واعظ\n\nمسجد و کعبہ میں تو پھرتا ہے\nکوئے جاناں سے بے خبر واعظ\n\nشور و غل بند تو نہیں کرتا\nہے تو انساں کہ کوئی خر واعظ\n\nظاہری وعظ سے ہے کیا حاصل\nاپنے باطن کو صاف کر واعظ\n\nبندۂ کوئے یار ہے بہرامؔ\nتیری مسجد سے کیا خبر واعظ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D8%B9%D8%B8_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8"} {"title": "ہو چکی باغ میں بہار افسوس", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو چکی باغ میں بہار افسوس\nآہ اے بلبلو ہزار افسوس\n\nقافلہ عمر کا ہے پا بہ رکاب\nزیست کا کیا ہے اعتبار افسوس\n\nمری راتوں کو دیکھ سوختگی\nنہ کیا ایک دن بھی یار افسوس\n\nشب سے پروانے کی لگن میں شمع\nصبح تک روئی زار زار افسوس\n\nسخت بے تابی سے کٹی کل رات\nآج بھی دل ہے بے قرار افسوس\n\nخال و خط کو سمجھ کے دانہ و دام\nمرغ دل ہو گیا شکار افسوس\n\nآہ دست جنوں سے اے ناصح\nہے گریبان تار تار افسوس\n\nجان ہونٹوں پہ آ گئی ہم دم\nلیکن اب تک پھرا نہ یار افسوس\n\nعمر غفلت میں کٹ گئی ہے نصیرؔ\nآہ افسوس صد ہزار افسوس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%86%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D9%88%D8%B3"} {"title": "ہو کاش وفا وعدۂ فردائے قیامت", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو کاش وفا وعدۂ فردائے قیامت\nآئے گی مگر دیکھیے کب آئے قیامت\n\nسنتا ہوں کہ ہنگامۂ دیدار بھی ہوگا\nایک اور قیامت ہے یہ بالائے قیامت\n\nہم دل کو ان الفاظ سے کرتے ہیں مخاطب\nاے جلوہ گہ انجمن آرائے قیامت\n\nاللہ بچائے غم فرقت وہ بلا ہے\nمنکر کی نگاہوں پہ بھی چھا جائے قیامت\n\nفانیؔ یہ مگر راہ محبت کی زمیں ہے\nہر ذرے میں ہے وسعت صحرائے قیامت", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D8%B4_%D9%88%D9%81%D8%A7_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%82_%D9%81%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA"} {"title": "ہو کس طرح نہ ہم کو ہر دم ہوائے مطلب", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو کس طرح نہ ہم کو ہر دم ہوائے مطلب\nدیکھا جو خوب ہم نے دنیا ہے جائے مطلب\n\nجو گل بدن کہ آیا آغوش میں ہمارے\nکچھ اور بو نہ نکلی اس میں سوائے مطلب\n\nعشاق کی بھی الفت خالی نہیں غرض سے\nمرتے ہیں یہ بھی اس پر جس سے برائے مطلب\n\nکوئی کسی کے اوپر ہم نے فدا نہ دیکھا\nمنہ پر فدا ہیں لیکن دل میں فدائے مطلب\n\nمطلب کے آشنا کو ہو کس سے آشنائی\nکب آشنا کسی کا ہو آشنائے مطلب\n\nگر بزم رقص دیکھی تو واں بھی گوش دل میں\nکوئی صدا نہ آئی غیر از صدائے مطلب\n\nزیر فلک تو ہم سے جاتی نہیں تمنا\nہاں پھر فلک پہ جاویں جب ہم سے جائے مطلب\n\nوہ آبرو کہ جس پر کرتے ہیں جاں تصدق\nاس کو بھی دے چکے ہیں اکثر برائے مطلب\n\nجب حرف آبرو تک پہونچا نظیرؔ پھر تو\nکیا کہئے ایسی جاگہ جزیہ کہ ہائے مطلب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8"} {"title": "ہو کچھ آسیب تو واں چاہئے گنڈا تعویذ", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو کچھ آسیب تو واں چاہئے گنڈا تعویذ\nاور جو ہو عشق کا سایہ تو کرے کیا تعویذ\n\nدل کو جس وقت یہ جن آن کے لپٹا پھر تو\nکیا کریں واں وہ جو لکھتے ہیں فلیتا تعویذ\n\nہم تو جب ہوش میں آویں جو کہیں سے پاویں\nیار کے ہاتھ کا بازو کا گلے کا تعویذ\n\nزور تعویذ کا چلتا تو عرب میں یارو\nکیا کوئی ایک بھی مجنوں کو نہ دیتا تعویذ\n\nکوہ کن کوہ کو کس واسطے کاٹا کرتا\nدیتے غم خوار نہ کیا اس کے تئیں لا تعویذ\n\nآخر اس کے بھی گیا دل کا دھڑکنا اس روز\nقبر کا تیشے نے جب اس کے تراشا تعویذ\n\nہم کو بھی کتنے ہی لوگوں نے دیئے آہ نظیرؔ\nپر کسی کا کوئی کچھ کام نہ آیا تعویذ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A2%D8%B3%DB%8C%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D9%86%DA%88%D8%A7_%D8%AA%D8%B9%D9%88%DB%8C%D8%B0"} {"title": "ہو کیوں نہ ترے کام میں حیران تماشا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو کیوں نہ ترے کام میں حیران تماشا\nیارب تری قدرت میں ہے ہر آن تماشا\n\nلے عرش سے تا فرش نئے رنگ نئے ڈھنگ\nہر شکل عجائب ہے ہر اک شان تماشا\n\nافلاک پہ تاروں کی جھلکتی ہے طلسمات\nاور روئے زمیں پر گل و ریحان تماشا\n\nجنات پری دیو ملک حور بھی نادر\nانسان عجوبہ ہے تو حیوان تماشا\n\nجب حسن کے جاتی ہے مرقع پہ نظر آہ\nکیا کیا نظر آتا ہے ہر اک آن تماشا\n\nچوٹی کی گندھاوٹ کہیں دکھلاتی ہے لہریں\nرکھتی ہے کہیں زلف پریشان تماشا\n\nگر عشق کے کوچے میں گزر کیجے تو واں بھی\nہر وقت نئی سیر ہے ہر آن تماشا\n\nمنہ زرد بدن خشک جگر چاک المناک\nغل شور تپش نالہ و افغان تماشا\n\nہم پست نگاہوں کی نظر میں تو نظیرؔ آہ\nسب ارض و سما کی ہے گلستان تماشا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7"} {"title": "ہو کے بس انسان حیراں سر پکڑ کر بیٹھ جائے", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو کے بس انسان حیراں سر پکڑ کر بیٹھ جائے\nکیا بن آئے اس گھڑی جب وہ بگڑ کر بیٹھ جائے\n\nتو وہ آفت ہے کوئی تجھ سے اٹھا سکتا ہے دل\nدیکھ لے کوئی جو تجھ کو دل پکڑ کر بیٹھ جائے\n\nوصل میں بھی اس سے کہہ سکتا نہیں کچھ خوف سے\nدور کھچ کر پاس سے میرے نہ مڑ کر بیٹھ جائے\n\nدوستو میری نہیں تقصیر دل دینے میں کچھ\nدل وہ لے کر ہی اٹھے جب پاس اڑ کر بیٹھ جائے\n\nاس خوشامد سے مرا کچھ مدعا ہی اور ہے\nچاہتے ہو تم یہ میرے پاؤں پڑ کر بیٹھ جائے\n\nاس کا بل کھا کر وہ اٹھنا پاس سے میرے غضب\nاور اک آفت ہے جو وہ کھچ کر اکڑ کر بیٹھ جائے\n\nمفت لے لیتے ہیں دل عاشق سے اپنے وہ نظامؔ\nلاکھ پھر مانگے کوئی تھک کر جھگڑ کر بیٹھ جائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B3_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%DA%A9%DA%91_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہو کے بیتاب بدل لیتے تھے اکثر کروٹ", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو کے بیتاب بدل لیتے تھے اکثر کروٹ\nاب یہ ہے ضعف کہ قابو سے ہے باہر کروٹ\n\nہجر سے بڑھ کے شب وصل اذیت ہے مجھے\nغیر کی یاد دلاتی ہے تری ہر کروٹ\n\nرند بیمار رہا محتسب شرع سے تیز\nاس قدر جلد ارے پھینک کے ساغر کروٹ\n\nچٹکیاں ہجر میں لیتی ہے شکن بستر کی\nمیرے پہلو میں چبھو دیتی ہے نشتر کروٹ\n\nشوخیاں ہیں کہ بنے ہجر کی شب وصل کی رات\nسو رہے پھیر کے منہ آپ بدل کر کروٹ\n\nبیٹھنا ان کا نزاکت سے دبا کر سینہ\nپھر یہ کہنا کہ نہ لینا تہ خنجر کروٹ\n\nتیری ٹھوکر سے نہ الٹے کہیں وہ تختۂ قبر\nلے نہ خوابیدہ کوئی فتنۂ محشر کروٹ\n\nہر طرف کانٹے بچھے ہیں شکن بستر کے\nہم کو مشکل ہے بدلنا سر بستر کروٹ\n\nانہیں منہ پھیر کے سونے نہیں دیتا ہوں ریاضؔ\nوصل کی رات مجھے کیوں نہ ہو دوبھر کروٹ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A8%D8%AF%D9%84_%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%88%D9%B9"} {"title": "ہو کے خوش ناز ہم ایسوں کے اٹھانے والا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو کے خوش ناز ہم ایسوں کے اٹھانے والا\nکوئی باقی نہ رہا اگلے زمانے والا\n\nخواب تک میں بھی نظر آتا نہیں اے چشم\nمیرے رو دینے پہ اشکوں کا بہانے والا\n\nآج کچھ شام سے چپ ہے دل محزوں کیا علم\nکیوں خفا ہے مرا راتوں کا جگانے والا\n\nبے خودی کیوں نہ ہو طاری کہ گیا سینے سے\nاشک خوں آٹھ پہر مجھ کو رلانے والا\n\nکب سمجھتا ہے کہ جینا بھی ہے آخر کوئی شے\nاپنی ہستی تری الفت میں مٹانے والا\n\nمحتسب خوش ہے بہت توڑ کے خم ہائے شراب\nغم نہیں سر پہ سلامت ہے پلانے والا\n\nہو گئے دیکھنے والے بھی جہاں سے نایاب\nاب دکھائے کسے حیراں ہے دکھانے والا\n\nتیرے بیمار محبت کی یہ حالت پہنچی\nکہ ہٹایا گیا تکیہ بھی سرہانے والا\n\nسامنا اس بت کافر کا ہے دیکھیں کیا ہو\nخود ہے ششدر مرا ایمان بچانے والا\n\nشادؔ اک بھیڑ لگی رہتی تھی جس گھر میں وہاں\nآنے والا ہے نہ اب کوئی نہ جانے والا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%DB%81%D9%85_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7"} {"title": "ہو کے عاشق جان مرنے سے چرائے کس لئے", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو کے عاشق جان مرنے سے چرائے کس لئے\nمرد میداں جو نہ ہو میداں میں آئے کس لئے\n\nجو دل و ایماں نہ دیں نذر ان بتوں کو دیکھ کر\nیا خدا وہ لوگ اس دنیا میں آئے کس لئے\n\nہے یہ انداز حیا اور طرز تمکیں کیوں نہیں\nجو نہ ہووے چور وہ آنکھیں چرائے کس لئے\n\nدیکھیے کس جنتی کے آج کھلتے ہیں نصیب\nتیغ کیوں تولے ہیں یہ چلے چڑھائے کس لئے\n\nانگلیاں اپنے پر اٹھوانی نہ ہوں منظور تو\nوہ کسی کو عام محفل سے اٹھائے کس لئے\n\nاس کے پیچ و خم سے جیتے جی نکلنا ہے محال\nحضرت کیفیؔ تم اس کوچے میں آئے کس لئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D9%85%D8%B1%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D9%84%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہو کے مجبور آہ کرتا ہوں", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو کے مجبور آہ کرتا ہوں\nتھام کر دل گناہ کرتا ہوں\n\nابر رحمت امنڈتا آتا ہے\nجب خیال گناہ کرتا ہوں\n\nمیرے کس کام کی ہے یہ اکسیر\nخاک دل وقف راہ کرتا ہوں\n\nدل سے خوف جزا نہیں مٹتا\nڈرتے ڈرتے گناہ کرتا ہوں\n\nدل میں ہوتے ہو تم تو اپنے پر\nغیر کے اشتباہ کرتا ہوں\n\nتو نہ دیکھے یہ دیکھنا میرا\nتجھ سے چھپ کر گناہ کرتا ہوں\n\nبندۂ عشق ہے ترا بیخودؔ\nتجھ کو یا رب گواہ کرتا ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AC%D8%A8%D9%88%D8%B1_%D8%A2%DB%81_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "ہو گئی شہر شہر رسوائی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو گئی شہر شہر رسوائی\nاے مری موت تو بھلی آئی\n\nیک بیاباں برنگ صوت جرس\nمجھ پہ ہے بیکسی و تنہائی\n\nنہ کھنچے تجھ سے ایک جا نقاش\nاس کی تصویر وہ ہے ہرجائی\n\nسر رکھوں اس کے پاؤں پر لیکن\nدست قدرت یہ میں کہاں پائی\n\nمیرؔ جب سے گیا ہے دل تب سے\nمیں تو کچھ ہو گیا ہوں سودائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر\nعشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں\n\nضبط سے مطلب بجز وارستگی دیگر نہیں\nدامن تمثال آب آئنہ سے تر نہیں\n\nباعث ایذا ہے برہم خوردن بزم سرور\nلخت لخت شیشۂ بشکستہ جز نشتر نہیں\n\nدل کو اظہار سخن انداز فتح الباب ہے\nیاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DA%AF%D8%B1"} {"title": "ہو گئے مضطر دیکھتے ہی وہ ہلتی زلفیں پھرتی نظر ہم", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو گئے مضطر دیکھتے ہی وہ ہلتی زلفیں پھرتی نظر ہم\nدیتے ہیں دل اک آفت جاں کو تھامے ہوئے ہاتھوں سے جگر ہم\n\nغیر کو گر وہ پیار کریں گے اپنے لہو میں ہوں گے تر ہم\nڈال ہی دیں گے ان کے قدم پر کاٹ کر اپنے ہاتھ سے سر ہم\n\nصلح ہوئی تو نالے کھینچے یوں کرتے ہیں سب کو خبر ہم\nپیٹتے ہیں سینے کا ڈھنڈھورا دیتے ہیں دل بار دگر ہم\n\nاور ملیں گے چھوڑ نہ دیں گے سن کے صدائے مرغ سحر ہم\nحلقہ دونوں ہاتھ کا اپنے ڈال رکھیں گے گرد کمر ہم\n\nدل کے اندر طور کے اوپر چشم صنم میں عین حرم میں\nتیری ہی صورت تیری ہی مورت پوجنے جائیں تجھ کو کدھر ہم\n\nراز چھپتے تو آغاز اچھا بھید کھلے تو انجام اچھا\nمثل سکندر بھیس بدل کر جاتے ہیں بن کر نامہ بر ہم\n\nاندازہ گو کر ہی چکے ہیں آ جاتی ہے مٹھی میں یہ\nآج مگر بے پردہ کریں گے دیکھیں گے پتلی سی کمر ہم\n\nلاتے ہی کچھ رنگ جوانی آنکھ سے یوں کیں آنکھ نے باتیں\nآؤ دکھائیں سب کو گھاتیں شعبدہ گر تم جادوگر ہم\n\nکہتی ہیں زلفیں مشکیں کس لیں کوئی جو ڈالے ہاتھ کمر میں\nپھیل کے سوؤ ڈر کیا تم کو گشت کریں گے گرد کمر ہم\n\nلطف بڑا ہو اور مزا ہو اس کے عوض گر آپ کو پائیں\nبیٹھ کے اپنے گھر کے اندر ڈھونڈھ رہے ہیں یار کا گھر ہم\n\nتم کو نزاکت اور خدا دے ہم کو لذت اور خدا دے\nپائنچے تم چٹکی سے اٹھا لو تھامے ہوئے چلتے ہیں کمر ہم\n\nاٹھتا جوبن جھکتی گردن دبتی باتیں رکتی گھاتیں\nہائے نہ کیوں سو جاں سے فدا ہوں ان چاروں پر اٹھ پھر ہم\n\nسایہ بن کر ساتھ چلیں گے ساتھ پھریں گے ساتھ رہیں گے\nاپنے گھر میں غیر کے دل میں جاؤ جدھر تم آئیں ادھر ہم\n\nجلد تم اٹھو دوڑ کے آؤ ہم کو تھامو ہم کو سنبھالو\nگرتے ہیں مثل اشک زمیں پر اٹھتے ہیں شکل درد جگر ہم\n\nسب سے چھڑا کر لائے اڑا کر کیا نہ رکھیں گے دل میں چھپا کر\nرہنے بسنے چلنے پھرنے تم کو خدا کا دیں گے گھر ہم\n\nمنہ جو کھلے گا رنج بڑھے گا ہم سے نہ بولو ہم کو نہ چھیڑو\nکاہیدہ تن آزردہ جان آشفتہ دل خستہ جگر ہم\n\nیہ تو چھپر کھٹ چھوٹا سا ہے پہلو میں تم سوؤ گے کیوں کر\nآؤ لٹا لیں سینے پر ہم تم کو سلا لیں چھاتی پر ہم\n\nرنج گر آیا ہو تو بھلا دے پیار بڑھا دے ہم سے ملا دے\nان کی نگہ سے تو گر تو چکے ہیں جائیں نہ یا رب دل سے اتر ہم\n\nدیکھ کے ان کا جوبن ابھرا میں نے کہا یہ مال ہے اچھا\nبولے وہ کیا تم لوٹ ہی لو گے گود میں یوں آ جائیں اگر ہم\n\nٹھہری ہے باہم لطف کی بازی پہلے جو پائے جیت اسی کی\nوصل کی شب ہے ڈھونڈ رہے ہیں دل وہ ہمارا ان کی کمر ہم\n\nروز نئے دل لائیں کہاں سے ایسے تحفے پائیں کہاں سے\nچاٹ پڑی ہے تم کو دلوں کی لوٹنے جائیں کس کا گھر ہم\n\nغیر کے بر میں ان کو دیکھا خاک میں جائے ایسا نظارہ\nہاتھ میں کمبخت آ نہیں سکتا توڑتے ورنہ تار نظر ہم\n\nنشو و نما پائی ہے دکن میں قدر ہماری کیوں کر ہوگی\nگھر کی مرغی دال برابر کس کو دکھائیں اپنا ہنر ہم\n\nکیوں نہ کرے دیوانہ کسی کو شرم کی عادت حسن کی شوخی\nہو گئے مائلؔ دیکھ کے مائل اٹھتا جوبن جھکتی نظر ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%84%D8%AA%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%81%D9%85"} {"title": "ہو گر ایسے ہی مری شکل سے بیزار بہت", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو گر ایسے ہی مری شکل سے بیزار بہت\nتم سلامت رہو بندے کے خریدار بہت\n\nہم دگر جب خفگی آئی تو جھگڑا کیا ہے\nتم کو خواہندہ بہت ہم کو طرح دار بہت\n\nآج کے رونے میں جی ڈوب چلا تھا لیکن\nنالۂ دل نے رکھا مجھ کو خبردار بہت\n\nشیخ مجھ کو نہ ڈرا گور کے اندھیارے سے\nہجر کی کاٹی ہیں میں نے تو شب تار بہت\n\nدیکھیے اب کی تب عشق سے کیوں کر بیتے\nغالب آیا ہے طبیعت پہ یہ آزار بہت\n\nسچ کہو قتل پہ کس کے یہ کمر باندھی ہے\nان دنوں ہاتھ میں تم رکھتے ہو تلوار بہت\n\nقائمؔ آتا ہے مجھے رحم جوانی پہ تری\nمر چکے ہیں اسی آزار کے بیمار بہت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%AA"} {"title": "ہو گیا ابرو کی سفاکی سے شہرا یار کا", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہو گیا ابرو کی سفاکی سے شہرا یار کا\nکام کر جائے سپاہی نام ہو سردار کا\n\nکوچۂ شہرگ سے کیا تیرا محل نزدیک ہے\nدم گلے میں آ کے اٹکا ہے ترے بیمار کا\n\nمثل عیسیٰ ان کی خدمت میں رسائی ہو گئی\nپڑھ گئے کوٹھے پہ ہم زینہ لگا کردار کا\n\nرات کو آنکھوں کے نیچے پھر گئی تصویر یار\nواہ کیا چمکا ستارہ دیدۂ بے دار کا\n\nقدرؔ کیا اصلاح غالبؔ سے مری شہرت ہوئی\nوہ مثل ہے باڑھ کاٹے نام ہو تلوار کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D9%81%D8%A7%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%DB%81%D8%B1%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہو ہند کا مدح خواں برس میں دو بار", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہو ہند کا مدح خواں برس میں دو بار\nہے عشرت رائیگاں برس میں دو بار\nنو روز اور اس کے بعد ناظمؔ برسات\nہے فصل بہار یہاں برس میں دو بار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88_%DB%81%D9%86%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AF%D8%AD_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%B1"} {"title": "ہوئی ایجاد نئی طرز خوشامد کہ نہیں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئی ایجاد نئی طرز خوشامد کہ نہیں\nکل کا آئین ہے اب تک سر مسند کہ نہیں\n\nآ گئی اے مرے سائے سے بھی بچنے والی\nرفتہ رفتہ ترے اقرار کی سرحد کہ نہیں\n\nنہر خوں ہو چکی، فرہاد کی مزدوری کو\nاب کے تیشے سے ملی قیمت ساعد کہ نہیں\n\nناصحا اس لیے میں گوش بر آواز نہ تھا\nتری آواز سے چھوٹا ہے ترا قد کہ نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%AF_%D9%86%D8%A6%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%B2_%D8%AE%D9%88%D8%B4%D8%A7%D9%85%D8%AF_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہوئی تاثیر آہ و زاری کی", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئی تاثیر آہ و زاری کی\nرہ گئی بات بے قراری کی\n\nشکوۂ دشمنی کریں کس سے\nواں شکایت ہے دوست داری کی\n\nمبتلائے شب فراق ہوئے\nضد سے ہم تیرہ روزگاری کی\n\nیاد آئی جو گرمجوشیٔ یار\nدیدۂ تر نے شعلہ باری کی\n\nکیوں نہ ڈر جاؤں دیکھ کر وہ زلف\nہے شب ہجر کی سی تاریکی\n\nیاس دیکھو کہ غیر سے کہہ دی\nبات اپنی امیدواری کی\n\nبس کہ ہے یار کی کمر کا خیال\nشعر کی سوجھتی ہے باریکی\n\nکر دے روز جزا شب دیجور\nظلمت اپنی سیاہ کاری کی\n\nتیرے ابرو کی یاد میں ہم نے\nناخن غم سے دل فگاری کی\n\nقتل دشمن کا ہے ارادہ اسے\nیہ سزا اپنی جاں نثاری کی\n\nکیا مسلماں ہوئے کہ اے مومنؔ\nحاصل اس بت سے شرمساری کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%AB%DB%8C%D8%B1_%D8%A2%DB%81_%D9%88_%D8%B2%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا\nآپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھا\n\nتم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ\nاس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا\n\nتو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں؟\nکبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا\n\nقید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد\nہاں! کچھ اک رنجِ گرانباریِ زنجیر بھی تھا\n\nبجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا!\nبات کرتے، کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا\n\nیوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے، خیر ہوئی\nگر بگڑ بیٹھے تو میں لائقِ تعزیر بھی تھا\n\nدیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا\nنالہ کرتا تھا، ولے طالبِ تاثیر بھی تھا\n\nپیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نام\nہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا\n\nہم تھے مرنے کو کھڑے، پاس نہ آیا، نہ سہی\nآخر اُس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا\n\nپکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق\nآدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟\n\nریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ\nکہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D8%A7%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%D8%A7%D8%B9%D8%AB_%D8%AA%D8%A7%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ہوئی تو جا دل میں اس صنم کی نماز میں سر جھکا جھکا کر", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئی تو جا دل میں اس صنم کی نماز میں سر جھکا جھکا کر\nحرم سے بت خانے تک تو پہنچا خدا خدا کر خدا خدا کر\n\nلحد میں کیا ذکر روشنی کا سر لحد بھی جو رحم کھا کر\nجلا کیا جب چراغ کوئی ہوا نے ٹھنڈا کیا بجھا کر\n\nنشان برباد گان عالم جو پوچھے صحرا میں ہم نے جا کر\nصبا سے اڑ اڑ کے گرد بیٹھی بگولے اٹھے ہوا میں آ کر\n\nجو چشم انجام بیں سے دیکھا بہار دو دن ہے پھر خزاں ہے\nمآل گلشن پہ روئی شبنم ہنسے گل تر جو کھل کھلا کر\n\nبتوں کی پر آب انکھڑیوں میں کھلا یہ دیکھا جو پتلیوں کو\nیہ وہ ہیں ہندو دھرم جمن سے پھرے جو گنگا چلے نہا کر\n\nخیال حج حرم کو چھوڑا سنا جو شہ رگ سے ہے قریں تر\nطواف دل ہی کیا کیے ہم گئے نہ کعبے کو پھیر کھا کر\n\nزمیں میں اے شادؔ مر گئے پر فلک دبائے تو کیا گلہ ہے\nمیان تربت ہمارے پہلو ہمیں دباتے ہیں مردہ پا کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%B1_%D8%AC%DA%BE%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DA%BE%DA%A9%D8%A7_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہوئی جب میرزا جعفر کی شادی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "ہوئی جب میرزا جعفر کی شادی\nہوا بزم طرب میں رقص ناہید\nکہا غالبؔ سے تاریخ اس کی کیا ہے\nتو بولا انشراح جشن جمشید", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%B2%D8%A7_%D8%AC%D8%B9%D9%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C"} {"title": "ہوئی سرگشتہ خاک اپنی غبار کارواں ہو کر", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئی سرگشتہ خاک اپنی غبار کارواں ہو کر\nمجھے قسمت ستاتی ہے رقیب کامراں ہو کر\n\nدل پژمردہ عاشق کو تم اپنے سامنے رکھنا\nتماشا رقص بسمل کا دکھائے گا تپاں ہو کر\n\nہمارے اس دل ویراں شدہ میں اے بت رعنا\nتمہاری آرزو گھبرا رہی ہے میہماں ہو کر\n\nاڑایا تیزئ باد صبا نے گر تو غم کیا ہے\nغبار اپنا بلندی پر رہے گا آسماں ہو کر\n\nمرے دل کی عمارت گو شکستہ حال ہے لیکن\nمکان خاص ہو جائے گا اس کا لا مکاں ہو کر\n\nانیس و مونس و ہمدم امیدیں ہو نہیں سکتیں\nکہاں جاتا ہے اے دل یوسف بے کارواں ہو کر\n\nکریں کیا گفتگو آنکھیں ملا کر ان رقیبوں سے\nتمہاری بزم میں بت بن گئے ہیں بے زباں ہو کر\n\nہمارے دیدۂ حیرت زدہ میں خواب کیا آئے\nکہ تیری آرزو بیٹھی ہے اس میں پاسباں ہو کر\n\nلگانا وار ہلکا قتل گہہ میں مجھ پہ اے قاتل\nکہ لطف رقص بسمل میں دکھاؤں نیم جاں ہو کر\n\nمری کاہیدگی اور ناتوانی پوچھتے کیا ہو\nغم ہجراں دباتا ہے مجھے بار گراں ہو کر\n\nخدا کے فضل سے اس بوستان نعت مدحت میں\nجمیلہؔ نغمہ زن ہے بلبل خوش داستاں ہو کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D8%B1%DA%AF%D8%B4%D8%AA%DB%81_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%BA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہوئی شکل اپنی یہ ہم نشیں جو صنم کو ہم سے حجاب ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئی شکل اپنی یہ ہم نشیں جو صنم کو ہم سے حجاب ہے\nکبھی اشک ہے کبھی آہ ہے کبھی رنج ہے کبھی تاب ہے\n\nذرا در پہ اس کے پہنچ کے ہم جو بلاویں اس کو تو دوستو\nکبھی غصہ ہے کبھی چھیڑ ہے کبھی حیلہ ہے کبھی خواب ہے\n\nجو اس انجمن میں ہیں بیٹھتے تو مزاج اس کے سے ہم کو واں\nکبھی عجز ہے کبھی بیم ہے کبھی رسم ہے کبھی داب ہے\n\nوہ ادھر سے جا کے جو آتا ہے اسے دونوں حال سے دل میں یاں\nکبھی سوچ ہے کبھی فکر ہے کبھی غور ہے کبھی تاب ہے\n\nجو وہ بعد بوسہ کے ناز سے ذرا جھڑکے ہے تو نظیرؔ کو\nکبھی مصری ہے کبھی قند ہے کبھی شہد ہے کبھی راب ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%DB%81%D9%85_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہوئی ہے زندگانی دشت غربت میں بسر میری", "poet_page": "مصنف:صفدر مرزا پوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئی ہے زندگانی دشت غربت میں بسر میری\nوطن میں جب نہ پہنچا میں تو کیا پہنچے خبر میری\n\nتڑپتا ہوں تو ہو جاتی ہے ظالم کو خبر میری\nبنی جاتی ہے خود آہ رسا پیغامبر میری\n\nبتائے دیتی ہے کیفیت درد جگر ان کو\nستم ہے مل گئی ان کی نگاہوں سے نظر میری\n\nترے انصاف کے صدقے تری تقسیم کے قرباں\nشب عشرت کی شام ان کی شب غم کی سحر میری\n\nوطن میں اس سے آنکھیں پھیر لوں یہ ہو نہیں سکتا\nرہی ہے بے کسی غربت میں برسوں ہم سفر میری\n\nجواب نامہ تو لایا مگر حیرت ہے دے کس کو\nکہ صورت ہی نہیں پہچانتا ہے نامہ بر میری\n\nچھپاؤں لاکھ لیکن پیار کی صورت نہیں چھپتی\nجو ہیں اہل نظر پہچان لیتے ہیں نظر میری\n\nنہ وہ آئے نہ موت آئی نہ جیتا ہوں نہ مرتا ہوں\nیہ عالم ہے مجھے بھی اب نہیں صفدرؔ خبر میری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D8%BA%D8%B1%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ہوئی ہے ہم میں اور اس گل میں کیا کیا مار پھولوں کی", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئی ہے ہم میں اور اس گل میں کیا کیا مار پھولوں کی\nگلے تک اٹھ گئی گلزار میں دیوار پھولوں کی\n\nبہار آئی ہے گلشن نے قبائے سبز بدلی ہے\nجوانان چمن کے سر پہ ہے دستار پھولوں کی\n\nچمن میں آج کل اس زور سے پانی برستا ہے\nہوئی ہے بلبلوں پر ہر طرف بوچھار پھولوں کی\n\nبکے ہیں کوڑیوں کے مول دعویٰ کر کے اس گل سے\nگئی ہے آبرو کیا کیا سر بازار پھولوں کی\n\nرسائی قدرؔ کی کیوں کر نہ ہو اس بزم رنگیں میں\nچمن میں رکھتے ہیں صحبت ہمیشہ خار پھولوں کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ہوئی یا مجھ سے نفرت یا کچھ اس میں کبر و ناز آیا", "poet_page": "مصنف:شوق قدوائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئی یا مجھ سے نفرت یا کچھ اس میں کبر و ناز آیا\nکبھی وہ مسکرا دیتا تھا اب اس سے بھی باز آیا\n\nنیا فتنہ جو نکلا کوئی تو تعلیم دلوانے\nزمانہ لے کے اس کو پیش چشم فتنہ ساز آیا\n\nبدلتی رہتی ہے ہر دم مری شکل اس قدر غم سے\nگیا جب میں تو سمجھا وہ نیا اک عشق باز آیا\n\nہوئی دل کی خبر دل کو کہ وہ بد ظن ہوا ورنہ\nنہ ٹپکے اشک آنکھوں سے نہ منہ تک حرف راز آیا\n\nبچایا درد سے مجبور کر کے ترک الفت پر\nوہ آیا دل شکن بن کر تو گویا دل نواز آیا\n\nترے ہاتھوں شکست دل میں لطف دل نوازی ہے\nیہ کیا کم ہے کہ پہلو تک ترا دست دراز آیا\n\nمگر تازہ ستم کو وہ مری صحت کا خواہاں ہے\nکہ کل زخمی کیا اور آج بن کر چارہ ساز آیا\n\nغبار راہ نے آنکھیں ملانے دیں نہ دل بھر کے\nوہ میرے گھر جو آیا لے کے چشم نیم باز آیا\n\nہوا ہے شوقؔ مے خانہ میں داخل کس تکلف سے\nبچھانے کے لئے مسجد سے لے کر جانماز آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D9%81%D8%B1%D8%AA_%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D9%88_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہوئے آج بوڑھے جوانی میں کیا تھے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے آج بوڑھے جوانی میں کیا تھے\nجب اٹھے تھے زانو سے ہاتھ آشنا تھے\n\nجہاں کی تو ہر چیز میں اک مزہ تھا\nنہ سمجھے کہ کس شے کے ہم مبتلا تھے\n\nنہ کافر سے خلعت نہ زاہد سے الفت\nہم اک بزم میں تھے پہ سب سے جدا تھے\n\nنہ تھا میرے جنگل میں آزاد کوئی\nبگولے بھی پابند زلف ہوا تھے\n\nمزار غریب تأسف کی جا ہے\nوہ سوتے ہیں پھرتے جو کل جا بہ جا تھے\n\nبنا کر بگاڑا ہمیں کیوں جہاں میں\nیہ سب حرف کیا سہو کلک قضا تھے\n\nکئے آخری نالہ دو چار میں نے\nوہی نالہ بانگ شکست درا تھے\n\nخدا جانے دنیا میں کس کو تھی راحت\nہوسؔ ہم تو جینے سے اپنے خفا تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D8%A8%D9%88%DA%91%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "ہوئے ایسے بہ دل ترے شیفتہ ہم دل و جاں کو ہمیشہ نثار کیا", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے ایسے بہ دل ترے شیفتہ ہم دل و جاں کو ہمیشہ نثار کیا\nرہ عشق سے پھر نہ ہٹائے قدم رہے محو ترے تجھے پیار کیا\n\nترے شوق میں دل کی تباہی ہوئی ترے ذوق کی اس پہ گواہی ہوئی\nکوئی دم بھی نہ لینے دیا مجھے دم مجھے دشمن صبر و قرار کیا\n\nگئی جاں قفس میں برائے چمن چلی لے کے جہاں سے ہوائے چمن\nکبھی ابر کرم نے کیا نہ کرم نہ کسی نے بیان بہار کیا\n\nجہاں مہکے مہک گیا سارا جہاں بھلا عطر کو بو یہ نصیب کہاں\nبہ خدا ہی خطا کہیں مشک بو ہم تری زلف پہ صدقے نثار کیا\n\nنہ لو عشق کا نام یہ کہتے ہو کیا جو ہو تیغ تلے بھی ہمارا گلا\nیہی ہم کہے جائیں خدا کی قسم تمہیں پیار کیا تمہیں پیار کیا\n\nترے ہاتھ سے میں جو شہید ہوا مری روح کا عشق مرید ہوا\nجو حیات رہا تو نہ چھوڑے قدم جو مرا تو طواف مزار کیا\n\nترے شوق نے ہم کو جو خاک کیا ترے ذوق نے خاک سے پاک کیا\nترے رنگ نے مجھ پہ کیا یہ کرم مجھے تیرے چمن کا غبار کیا\n\nترے تیر ہدف کی ہوس تھی مجھے بڑی حسرت کنج نفس تھی مجھے\nمجھے چوک کیا یہ غضب یہ ستم نہ اسیر کیا نہ شکار کیا\n\nتجھے چاہا تو رنگ یہ مٹ کے جمے ترے باغ میں خاک سے پاک ہوئے\nمرے تیرے چمن کی ہوس میں جو ہم تو غبار کو ابر بہار کیا\n\nنہ عدم کی جو مجھ کو سواری ملی کوئی تخت رواں نہ عماری ملی\nکئی دوستوں نے مرے ہو کے بہم مجھے دوش پر اپنی سوار کیا\n\nہمیں اس کی کہیں سے خبر نہ ملی ہوئی عمر تمام مگر نہ ملی\nکبھی اس نے بھی حال کیا نہ رقم خط شوق روانہ ہزار کیا\n\nترے روز ازل سے فریفتہ ہیں ترے حسن و جمال کے شیفتہ ہیں\nترے عشق میں ہو گئے کشتۂ غم وہی کر گئے قول جو یار کیا\n\nترے بس میں جو آئے تو خاک ہوے جو غبار ہوئے بھی تو خاک ہوئے\nرہے بعد فنا بھی نہ چین سے ہم ہمیں گردش لیل و نہار کیا\n\nکبھی سیر چمن کا نہ شوق ہوا کسی بزم کا ہم کو نہ ذوق ہوا\nترے کوچے کو جان کے باغ ارم یہیں بلبل جاں کو نثار کیا\n\nجسے چاہا دل اس پہ نثار کریں کبھی گود میں لیں کبھی پیار کریں\nیہ برائی نصیب کی وائے ستم وہ حریف ہوا جسے پیار کیا\n\nمجھے یار نے آ کے جو دیکھا حزیں کہا روئے ہو میں نے کہا کہ نہیں\nوہ کہے گئے آنکھوں پہ کیوں ہے ورم شرفؔ ان سے بہانہ ہزار کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%B4%DB%8C%D9%81%D8%AA%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81_%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہوئے بے خود تو بے خودی آئی", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہوئے بے خود تو بے خودی آئی\nخود شناسی ہوئی خود آرائی\nخود نمائی نہیں خدائی ہے\nخود تماشا و خود تماشائی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF%DB%8C_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ہوئے تھے بھاگ کے پردے میں تم نہاں کیونکر", "poet_page": "مصنف:میر تسکینؔ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے تھے بھاگ کے پردے میں تم نہاں کیونکر\nوہ پہلی وصل کی شب شوخیاں تھیں ہاں کیونکر\n\nفلک کو دیکھ کے کہتا ہوں جوش وحشت میں\nالٰہی ٹھہرے مری آہ کا دھواں کیونکر\n\nتمہارے کوچے میں اس ناتواں کا تھا کیا کام\nمجھے بھی سوچ ہے آیا ہوں میں یہاں کیونکر\n\nزباں ہے لذت بوسہ سے بند اے ظالم\nمزہ بھرا ہے جو دل میں کروں بیاں کیونکر\n\nشب وصال سے شکوے ہزاروں ہیں جی میں\nالٰہی بند رہے گی مری زباں کیونکر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D8%A7%DA%AF_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہوئے جناب میں اب تک نہ تیرے ہم گستاخ", "poet_page": "مصنف:ماہ لقا بائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے جناب میں اب تک نہ تیرے ہم گستاخ\nخدا کے واسطے ہم سے نہ ہو صنم گستاخ\n\nچھپایا راز محبت کو دل میں پر ہیہات\nکرے ہے نام مرا بد یہ چشم نم گستاخ\n\nجو آوے جی میں سو کہہ لے میں ہوں وہ اے پیارے\nرہوں ہزار حضوری میں پر ہوں کم گستاخ\n\nکہا گلے سے لگا لے تو التفات نہیں\nکہے ہے تس پہ مجھے کیوں تو دمبدم گستاخ\n\nیہی امید ہے چنداؔ کو خوب رویوں میں\nرکھے ہمیشہ تیرا یا علی کرم گستاخ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%AF%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AE"} {"title": "ہوئے خوش ہم ایک نگار سے ہوئے شاد اس کی بہار سے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے خوش ہم ایک نگار سے ہوئے شاد اس کی بہار سے\nکبھی شان سے کبھی آن سے کبھی ناز سے کبھی پیار سے\n\nہوئی پیرہن سے بھی خوش دلی کلی دل کی اور بہت کھلی\nکبھی طرے سے کبھی گجرے سے کبھی بدھی سے کبھی ہار سے\n\nوہ کناری ان میں جو تھی گندھی اسے دیکھ کر بھی ہوئی خوشی\nکبھی نور سے کبھی لہر سے کبھی تاب سے کبھی تار سے\n\nگئے اس کے ساتھ چمن میں ہم تو گلوں کو دیکھ کے خوش ہوئے\nکبھی سرو سے کبھی نہر سے کبھی برگ سے کبھی بار سے\n\nوہ نظیرؔ سے تو ملا کیا مگر اپنی وضع نیں اس طرح\nکبھی جلد سے کبھی دیر سے کبھی لطف سے کبھی عار سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%DB%81%D9%85_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ہوئے رونے سے مرے دیدۂ بے دار سفید", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے رونے سے مرے دیدۂ بے دار سفید\nبلکہ اشکوں نے کیا رنگ شب تار سفید\n\nآنکھیں خوش چشموں کی تجھ پر ہوئیں اے یار سفید\nجس طرح ضعف سے ہو چہرۂ بیمار سفید\n\nہو گیا ضعف سے میرا بدن زار سفید\nنظر آتا ہے صنم صورت زنار سفید\n\nہے فقط عالم بالا سے مدد مستوں کی\nکون جز ماہ کرے خانۂ خمار سفید\n\nگلعذاروں کی جو محفل میں گیا وہ گل تر\nہو گئے زرد جو دو چار تو دو چار سفید\n\nتو وہ یوسف ہے کہ اب منتظری میں اے جان\nمثل یعقوب ہوئی چشم خریدار سفید\n\nدود داغ سر سودا زدہ کرتا ہے سیاہ\nاے جنوں ہم کبھی رکھتے ہیں جو دستار سفید\n\nروشن اے ماہ کیا تو نے سیہ خانہ مرا\nتیرے جلوے سے ہوئے ہیں در و دیوار سفید\n\nواہ کیا رنگ حنا ہے کہ تری چٹکی سے\nسرخ ہو جائے اگر ہو لب سوفار سفید\n\nشاید ان کو نہیں اندر کی سیاہی کی خبر\nکر رہے ہیں جو مری قبر کو معمار سفید\n\nاڑ گیا رنگ شقائق ترے آگے جس دم\nلوگ سمجھے کہ ہوا برف سے کہسار سفید\n\nنقرئی پٹھے کا ڈالا نہیں تو نے موباف\nہے سیہ سارا بدن اور دم مار سفید\n\nوصف لکھے جو ترے گورے بدن کے میں نے\nہو گئی زاغ قلم کی وہیں منقار سفید\n\nشمع کافور سے تشبیہ بھلا دوں کیوں کر\nہے برنگ مہ تاباں بدن یار سفید\n\nبعد اک عمر کے ناسخؔ کی جو اب آمد ہے\nلکھنؤ کے ہوئے سب کوچہ و بازار سفید", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D9%81%DB%8C%D8%AF"} {"title": "ہوئے عازم ملک عدم جو ہوسؔ تو خوشی یہ ہوئی تھی کہ غم سے چھٹے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے عازم ملک عدم جو ہوسؔ تو خوشی یہ ہوئی تھی کہ غم سے چھٹے\nپر فراغ الم سے نہ واں بھی ملا واں غم یہ ہوا کہ وہ ہم سے چھٹے\n\nکبھی دیر میں تھے کسی بت پہ فدا کبھی کعبہ میں کرتے جا کے دعا\nترے کوچے میں بیٹھے تو خوب ہوا کہ کشاکش دیر و حرم سے چھٹے\n\nیہی کہتی تھی لیلیٔ پردہ نشیں کہ فراق کی اب اسے تاب نہیں\nملوں اس سے میں تا مرا قیس خزیں غم ہجر کے درد و الم سے چھٹے\n\nمیں ہوا بھی جو بسمل تیغ جفا ولے باقی ہے دل میں ابھی یہ وفا\nکہ یقیں ہے لہو مرا جائے‌ حنا جو لگے تو نہ پاۓ صنم سے چھٹے\n\nنہ ہو بستۂ چین کمند و رسن رہے بھاگتا ہے وہ بہ دشت ختن\nتری چشم ہو اس پہ جو سایہ فگن کبھی پاے غزال نہ رم سے چھٹے\n\nنہ کیوں شاکی ہوں بخت سیاہ سے ہم کہ وہ معدن شفقت و لطف و کرم\nکرے نالۂ شوق جو ہم کو رقم تو سیاہی نہ نوک قلم سے چھٹے\n\nمجھے رہ میں ملے تھے وہ باندھے کمر چلے جاتے تھے باغ کو وقت سحر\nانہیں لاتا پکڑ مجھے کس کا تھا ڈر پہ فریب کے قول و قسم سے چھٹے\n\nہوئے خوف سے گوشہ گزین عسس گیا سینہ پلنگ فلک کا جھلس\nشب ہجر میں یارو بغیر ہوسؔ مرے نالے جو شیر اجم سے چھٹے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B2%D9%85_%D9%85%D9%84%DA%A9_%D8%B9%D8%AF%D9%85_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%B3%D8%94_%D8%AA%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D8%BA%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%92"} {"title": "ہوئے عشق میں امتحاں کیسے کیسے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے عشق میں امتحاں کیسے کیسے\nپڑے مرحلے درمیاں کیسے کیسے\n\nرہے دل میں وہم و گماں کیسے کیسے\nسرا میں ٹکے کارواں کیسے کیسے\n\nگھر اپنا غم و درد سمجھے ہیں دل کو\nبنے میزباں میہماں کیسے کیسے\n\nشب ہجر باتیں ہیں دیوار و در سے\nملے ہیں مجھے رازداں کیسے کیسے\n\nدکھاتا ہے دن رات آنکھوں کو میری\nسیاہ و سفید آسماں کیسے کیسے\n\nجو کعبے سے نکلے جگہ دیر میں کی\nملے ان بتوں کو مکاں کیسے کیسے\n\nفرشتے بھی گھائل ہیں تیر ادا کے\nنشانہ ہوئے بے نشاں کیسے کیسے\n\nجو خنجر رکا چڑھ گئی ان کی تیوری\nوہ بگڑے دم امتحاں کیسے کیسے\n\nادھر موت ادھر وہ دم نزع آئے\nاکٹھا ہوئے مہرباں کیسے کیسے\n\nکبھی بجلی تڑپی کبھی آندھی آئی\nبڑھے دشمن آشیاں کیسے کیسے\n\nمرے جرم محشر میں کرتی ہے افشا\nمرے منہ پہ میری زباں کیسے کیسے\n\nمحبت کے ہاتھوں ہوئے ظلم کیا کیا\nگئے جان سے نوجواں کیسے کیسے\n\nنشاں مٹ گئے نام پھر بھی ہیں باقی\nجواں تھے تہہ آسماں کیسے کیسے\n\nکروں یاد کس کس کو کس کس کو روؤں\nحفیظؔ اٹھ گئے مہرباں کیسے کیسے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92"} {"title": "ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئے (I)", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئے\nجو گرے تو نقش قدم بنے جو اٹھے تو بانگ درا ہوئے\n\nجو ہوا سے زلف بکھر گئی نظر ان کی صاف بدل گئی\nجو اسیر حلقۂ ناز تھے وہ قتیل تیغ ادا ہوئے\n\nہوا بعد وصل عجب مزا کہ خموش بیٹھے جدا جدا\nہمہ تن میں صبر و سکوں ہوا ہمہ تن وہ شرم و حیا ہوئے\n\nاٹھے ہم جو خواب و خیال ہے لگے تکنے دیدۂ حال سے\nکہ وہ کب اٹھے وہ کدھر گئے ابھی پاس تھے ابھی کیا ہوئے\n\nجو نگہ ہے چشم سیاہ میں وہی برق طور ہے راہ میں\nتری آنکھ پر جو فدا ہوئے وہ شہید راہ خدا ہوئے\n\nبنے قدرؔ ایسے غبار ہم ہوئے گردشوں میں وہ خار ہم\nکہ مثال دائرۂ فلک جو اٹھے تو بے سر و پا ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%B1%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%28I%29"} {"title": "ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئے (II)", "poet_page": "مصنف:قدر بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئے\nجو گرے تو نقش قدم بنے جو اٹھے تو بانگ درا ہوئے\n\nکبھی داغ کھاتے ہی آہ کی کہیں آہ کرتے ہی رو دئے\nکبھی ہم چمن کی ہوا ہوئے کبھی ہم ہوا کی گھٹا ہوئے\n\nجو ہوائے درد بکھر گئی نظر ان کی صاف بدل گئی\nجو اسیر حلقۂ ناز تھے وہ قتیل تیغ ادا ہوئے\n\nہمہ تن کبھی ہوئے درد و غم ہمہ تن کبھی ہوئے صبر ہم\nکبھی آپ اپنا مرض ہوئے کبھی آپ اپنی دوا ہوئے\n\nہوا بعد وصل عجب مزا کہ خموش بیٹھے جدا جدا\nہمہ تن میں صبر و سکوں ہوا ہمہ تن و شرم و حیا ہوئے\n\nاٹھے ہم جو خواب و خیال سے لگے تکنے دیدۂ جال سے\nکہ وہ کب اٹھے وہ کدھر گئے ابھی پاس تھے ابھی کیا ہوئے\n\nیہ قدم قدم پہ جمیں گے پاؤں کہ بڑھ سکو گے نہ آگے تم\nہو تمہارے کوچے کی خاک میں کہیں دفن اہل وفا ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%B1%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D9%86%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%28II%29"} {"title": "ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے\nلگایا جی کو ناحق غم ابھی سے\n\nدلا ربط اس سے رکھنا کم ابھی سے\nجتا دیتے ہیں تجھ کو ہم ابھی سے\n\nترے بیمار غم کے ہیں جو غم خوار\nبرستا ان پہ ہے ماتم ابھی سے\n\nغضب آیا ہلیں گر اس کی مژگاں\nصف عشاق ہے برہم ابھی سے\n\nاگرچہ دیر ہے جانے میں تیرے\nنہیں پر اپنے دم میں دم ابھی سے\n\nبھگو رہوے گا گریہ جیب و دامن\nرہے ہے آستیں پر نم ابھی سے\n\nتمہارا مجھ کو پاس آبرو تھا\nوگرنہ اشک جاتے تھم ابھی سے\n\nلگے سیسہ پلانے مجھ کو آنسو\nکہ ہو بنیاد غم محکم ابھی سے\n\nکہا جانے کو کس نے مینہ کھلے پر\nکہ چھایا دل پہ ابر غم ابھی سے\n\nنکلتے ہی دم اٹھواتے ہیں مجھ کو\nہوئے بے زار یوں ہمدم ابھی سے\n\nابھی دل پر جراحت سو نہ دو سو\nدھرا ہے دوستو مرہم ابھی سے\n\nکیا ہے وعدۂ دیدار کس نے\nکہ ہے مشتاق اک عالم ابھی سے\n\nمرا جانا مجھے غیروں نے اے ذوقؔ\nکہ پھرتے ہیں خوش و خرم ابھی سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ہوئے ہم جب سے پیدا اپنے دیوانے ہوئے ہوتے", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے ہم جب سے پیدا اپنے دیوانے ہوئے ہوتے\nخدا کو ہم پہنچتے خود سے بیگانے ہوئے ہوتے\n\nمزا روشن دلی کا زندگانی ہے تجرد سے\nہم اپنے مثل شبنم آب اور دانے ہوئے ہوتے\n\nموئے ہم انتظار نشہ سے خوشوں کے جا یا رب\nہویدا تاک سے پر بادہ پیمانے ہوئے ہوتے\n\nہوئیں گے خاک وسعت مشربی کی رہ گئی حسرت\nہم اول ہی سے مثل دشت ویرانے ہوئے ہوتے\n\nرہے دنیا میں بے عیش اور شہود حق سے عقبیٰ میں\nہوئے زہاد کور اے کاش کے کانے ہوئے ہوتے\n\nمئے عرفاں کا ظرف آدم ہی کو تھا گر ملک دیتے\nتو سات ابلیس کے سرگرم یارانے ہوئے ہوتے\n\nعبث تم منزوی مسجد میں ہو زہاد کیا حاصل\nوہ صاحب اعتکاف کنج میخانے ہوئے ہوتے\n\nہوئے مستوں پہ گر تیغ زباں زن شیخ شیخی میں\nجو اپنے نفس پرور ہوتے مردانے ہوئے ہوتے\n\nاگر صدچاک ہو ہات اس کے لگتے عیش تھا عزلتؔ\nدل عشاق سارے کاش کے شانے ہوئے ہوتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92"} {"title": "ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کے", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کے\nستم گر بے مروت بے وفا بے رحم اچپل کے\n\nغزالوں کو تری آنکھیں سے کچھ نسبت نہیں ہرگز\nکہ یہ آہو ہیں شہری اور وے وحشی ہیں جنگل کے\n\nگرفتاری ہوئی ہے دل کو میرے بے طرح اس سے\nکہ آئے پیچ میں کہتے ہی ان کی زلف کے بل کے\n\nیہ دولت مند اگر شب کو نہیں یارو تو پھر کیا ہے\nکہ ہیں یہ چاندنی راتوں کو بھی محتاج مشعل کے\n\nتمہارے درد سر سے صندلی رنگو اگر جی دوں\nتو چھاپے قبر پر دینا مری تم آ کے صندل کے\n\nکوئی اس کو کہے ہے دام کوئی زنجیر کوئی سنبل\nہزاروں نام ہیں کافر تری زلف مسلسل کے\n\nبیاباں بن ہمیں الفت نہیں ہے شہر سے ہرگز\nطرح مجنوں کے تاباںؔ ہم تو دیوانے ہیں جنگل کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%86%D9%86%DA%86%D9%84_%DA%A9%DB%92"} {"title": "ہوئے ہیں رام پیتم کے نین آہستہ آہستہ", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے ہیں رام پیتم کے نین آہستہ آہستہ\nکہ جیوں پھاندے میں آتے ہیں ہرن آہستہ آہستہ\n\nمرا دل مثل پروانے کے تھا مشتاق جلنے کا\nلگی اس شمع سوں آخر لگن آہستہ آہستہ\n\nگریباں صبر کا مت چاک کر اے خاطر مسکیں\nسنے گا بات وو شیریں بچن آہستہ آہستہ\n\nگل و بلبل کا گلشن میں خلل ہووے تو برجا ہے\nچمن میں جب چلے وو گل بدن آہستہ آہستہ\n\nولیؔ سینے میں میرے پنجۂ عشق ستم گر نے\nکیا ہے چاک دل کا پیرہن آہستہ آہستہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%A7%D9%85_%D9%BE%DB%8C%D8%AA%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%86%DB%8C%D9%86_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81"} {"title": "ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گے\nرکھا ہے محروم جس نے ہم کو اسی کی ہم آرزو کریں گے\n\nگئے وہ دن جب کہ اس چمن میں ہوائے نشو و نما تھی ہم کو\nخزاں کو دیکھا نہیں ہے ہم نے کہ خواہش رنگ و بو کریں گے\n\nحکایت آرزو ہے نازک زبان کیا خاک کہہ سکے گی\nلب خموش و نگاہ حسرت سے دل کی ہم گفتگو کریں گے\n\nجگہ جو آنکھوں میں میں نے دی تھی تو ان سے تھی چشم راز داری\nیہ کیا خبر تھی کہ اشک میرے مجھی کو بے آبرو کریں گے\n\nابھی تو گم کردہ راہ خود ہیں مئے محبت کی بے خودی میں\nاگر کبھی آپ میں ہم آئے تو اس کی بھی جستجو کریں گے\n\nاس انجمن میں کہ چشم ساقی کفیل ہو عیش زندگی کی\nوہ بادہ خواری میں خام ہوں گے جو فکر جام و سبو کریں گے\n\nطہارت ظاہری سے حاصل نہ ہو سکے گی صفائے باطن\nبہا کے ہم خون توبہ وحشتؔ اسی سے اک دن وضو کریں گے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%85_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "ہوا اشک گلگوں بہار گریباں", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوا اشک گلگوں بہار گریباں\nبرنگ رگ گل ہے تار گریباں\n\nرہے ہے سدا چاک ماتم کدہ میں\nتحیر نہیں اختیار گریباں\n\nکبھو ہاتھ دامن تک اس کے نہ پہنچا\nچے جائے کہ قرب و جوار گریباں\n\nتری دیکھ آنکھیں خجل ہوگی نرگس\nجھکا چشم کو ہے دو چار گریباں\n\nبنے موج رو آستیں گر نچوڑوں\nہو گرداب ہر جا فشار گریباں\n\nصبا کب اٹھاتے ہیں جوں نکہت گل\nسبک روح گردن پہ بار گریباں\n\nسپرد ہم نے اب ناصحا کر دیا ہے\nبدست جنوں کاروبار گریباں\n\nجہاں میں ہے خورشید سے صبح روشن\nکہ آتا ہے تکمہ بکار گریباں\n\nگلے میں ہے چمپا کلی یا کسو کے\nہیں لخت جگر ہمکنار گریباں\n\nلگائی نہیں اس نے گوٹے کی مغزی\nہوئی برق آ کر نثار گریباں\n\nنہیں طوق پہنے ہے قمری کہ ہے اب\nیہ زیب گلوبند و ہار گریباں\n\nگلستاں میں یہ معتکف ہے جو اب ہے\nسر غنچہ صحبت برار گریباں\n\nنصیرؔ اب یہاں چشم سوزن ہے محرم\nز سر رشتہ ہائے وقار گریباں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%DA%AF%D9%84%DA%AF%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA"} {"title": "ہوا اور سورج کا مقابلہ", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اک مسافر اپنی دھن میں تھا رواں\nاس کو ان دونوں نے تاکا ناگہاں\nہو گئے آپس میں طے قول و قرار\nجو لبادہ لے مسافر کا اتار\nبس اسی کے نام کا ڈنکا بجے\nسر پہ دستار فضیلت وہ سجے\nپھر تو آندھی بن کے چل نکلی ہوا\nایسی بپھری کر دیا طوفاں بپا\nاونچے اونچے پیڑ تھرانے لگے\nجھوک سے جھوکوں کی چرانے لگے\nنونہالوں کی کمر بل کھا گئی\nپھول پتوں پر قیامت آ گئی\nکانپ اٹھے اس دشت کے کل وحش و طیر\nمانگتے تھے اپنے اپنے دم کی خیر\nہو گیا دامان صحرا گرد برد\nگھر گیا آفت میں وہ صحرا نورد\nچاہتی تھی لوں لبادے کو اچک\nمدعی کو دوں سر میدان زک\nجب ہوا لیتی تھی چکر میں لپیٹ\nبیٹھ جاتا تھا وہ دامن کو سمیٹ\nسینہ زوری سے نہ چوری سے ڈری\nکر سکی لیکن نہ کچھ غارتگری\nباندھ لی کس کر مسافر نے کمر\nتا ہوا کا ہو نہ کپڑوں میں گزر\nتھک گئی آخر نہ اس کا بس چلا\nٹل گئی سر سے مسافر کے بلا\nاب تھما جھکڑ تو نکلا آفتاب\nروئے نورانی سے سرکائی نقاب\nتمکنت چہرے سے اس کے آشکار\nچال میں اک برد باری اور وقار\nوہ ہوا کی سی نہ تھی یاں دھوم دھام\nکر رہا تھا چپکے چپکے اپنا کام\nدھیمی دھیمی کرنیں چمکانے لگا\nرفتہ رفتہ سب کو گرمانے لگا\nاس مسافر کو پسینہ آ گیا\nکھول ڈالے بند جی گھبرا گیا\nاور آگے کو بڑھا تو دھوپ سے\nتن بدن میں کچھ پتنگے سے لگے\nاب لبادے کو لیا کاندھے پہ ڈال\nبدلی یوں نوبت بہ نوبت چال ڈھال\nجب چڑھا خورشید سمت الراس پر\nبیٹھ کر سائے میں پھر تو گھاس پر\nدور پھینکا اس لبادے کو اتار\nواہ رے سورج لیا میدان مار\nتیزی و تندی کے گرویدہ ہیں سب\nکامیابی کا مگر ہے اور ڈھب\nاس کا گر ہے نرمی و آہستگی\nسرکشی کی رگ اسی سے ہے دبی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%81"} {"title": "ہوا جب سامنا اس خوب رو سے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوا جب سامنا اس خوب رو سے\nاڑا ہے رنگ گل کا پہلے بو سے\n\nیہ آنکھیں تر جو رہتی ہیں لہو سے\nوہ گزرے عشق کے دن آبرو سے\n\nاسے کہئے شہادت نامۂ عشق\nاسے لکھا ہے خط اپنے لہو سے\n\nدھواں بن کر اڑی مسی کی رنگت\nیہ کس نے جل کے تیرے ہونٹ چوسے\n\nرقیبوں کو تمنا ہے تو باشد\nتمہیں مطلب پرائی آرزو سے\n\nوہ گل تکیہ مرے مرقد میں رکھنا\nمعطر ہو جو زلف مشک بو سے\n\nنئی ضد ہے کہ دل ہم مفت لیں گے\nبھلا کیا فائدہ اس گفتگو سے\n\nعدو بھی تم کو چاہے اے تری شان\nلڑاتے ہیں ہم اپنی آرزو سے\n\nہوا ہے تو تو شاہد باز اے دل\nبچاؤں تجھ کو کس کس خوب رو سے\n\nلگا رکھی ہے خاک اس رہ گزر کی\nتیمم اپنا بڑھ کر ہے وضو سے\n\nہمارا دل اسے اب ڈھونڈتا ہے\nتھکے ہیں پاؤں جس کی جستجو سے\n\nخدا جانے چھلاوا تھا کہ بجلی\nابھی نکلا ہے کوئی روبرو سے\n\nہوا ہے داغؔ آصف کا نمک خوار\nگزر جائے الٰہی آبرو سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%B1%D9%88_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ہوا جو ان کی خاموشی سے کچھ ملال مجھے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوا جو ان کی خاموشی سے کچھ ملال مجھے\nجواب دینے لگی طاقت سوال مجھے\n\nکسی کے دل سے کسی کی نظر سے گرتا ہوں\nسنبھالنا ہے تو اے آسماں سنبھال مجھے\n\nامید بوسہ ہے پھر بھی اگرچہ یہ ہے یقیں\nبہت ذلیل کرے گا مرا سوال مجھے\n\nصدائے نالہ شب وصل بھی نہ دل سے گئی\nپکارتی تھی یہ حسرت مری نکال مجھے\n\nپلا دے بزم میں ساقی اسے شراب اتنی\nوہ مست ناز کہے مجھ سے تو سنبھال مجھے\n\nشکایتوں سے محبت کی اور کیا حاصل\nکچھ انفعال تمہیں ہو کچھ انفعال مجھے\n\nاسیر حلقہ کاکل نہ میں ہوا اے داغؔ\nمرے خدا نے بچایا ہے بال بال مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AE%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "ہوا جو وقف غم وہ دل کسی کا ہو نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوا جو وقف غم وہ دل کسی کا ہو نہیں سکتا\nتمہارا بن نہیں سکتا ہمارا ہو نہیں سکتا\n\nسنا پہلے تو خواب وصل پھر ارشاد فرمایا\nترے رسوا کئے سے کوئی رسوا ہو نہیں سکتا\n\nلگاوٹ اس کی نظروں میں بناوٹ اس کی باتوں میں\nسہارا مٹ نہیں سکتا بھروسا ہو نہیں سکتا\n\nتمنا میں تری مٹ جائے دل ہاں یہ تو ممکن ہے\nمرے دل سے مٹے تیری تمنا ہو نہیں سکتا\n\nنہ فرصت ہے نہ راحت ہے نہ بیخودؔ وہ طبیعت ہے\nغزل کیا خاک لکھیں شعر اچھا ہو نہیں سکتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%88%D9%82%D9%81_%D8%BA%D9%85_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا\nبس اب ارادہ نہیں کہیں کا کہ رہنے والا ہوں میں یہیں کا\n\nقریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر\nجو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا\n\nعجب مرقع ہے باغ دنیا کہ جس کا صانع نہیں ہویدا\nہزارہا صورتیں ہیں پیدا پتہ نہیں صورت آفریں کا\n\nہوائے مے میں ہوں محو ایسا چمن میں گھر کر جو ابر آیا\nسیاہ مستی میں میں یہ سمجھا جہاز ہے آب آتشیں کا\n\nامیرؔ دیکھا جو اس کا نقش تو نقش یوسف کا دل سے اترا\nکہ نقش ثانی کے آگے ہوتا فروغ کیا نقش اولیں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%86%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%D8%AF_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%AD%D8%B2%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہوا خورشید کے دیکھے سے دونا اضطراب اپنا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوا خورشید کے دیکھے سے دونا اضطراب اپنا\nکہ یہ نکلا سحر کو اور نہ نکلا آفتاب اپنا\n\nترے منہ کے جو ہر دم روبرو آنے کو کہتا ہے\nذرا آئینہ لے کر منہ تو دیکھے آفتاب اپنا\n\nنہ اتنا ظلم کر اے چاندنی بہر خدا چھپ جا\nتجھے دیکھے سے یاد آتا ہے مجھ کو ماہتاب اپنا\n\nخفا دیکھا ہے اس کو خواب میں دل سخت مضطر ہے\nکھلا دے دیکھیے کیا کیا گل تعبیر خواب اپنا\n\nسحر آسا عیاں ہوتے ہی لی راہ عدم ہم نے\nہوا آنا بھی اور جانا بھی ایسا کچھ شتاب اپنا\n\nنظیرؔ اس بحر میں فرصت کم اور عیش و طرب لاکھوں\nتو پھر اب حق بہ جانب ہے کرے کیا کیا حساب اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AE%D9%88%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ\nکہ جیوں گلشن میں آتی ہے بہار آہستہ آہستہ\n\nکیا ہوں رفتہ رفتہ رام اس کی چشم وحشی کوں\nکہ جیوں آہو کوں کرتے ہیں شکار آہستہ آہستہ\n\nجو اپنے تن کوں مثل جوئبار اول کیا پانی\nہوا اس سرو قد سوں ہم کنار آہستہ آہستہ\n\nبرنگ قطرۂ سیماب میرے دل کی جنبش سوں\nہوا ہے دل صنم کا بے قرار آہستہ آہستہ\n\nاسے کہنا بجا ہے عشق کے گل زار کا بلبل\nجو گل رویاں میں پایا اعتبار آہستہ آہستہ\n\nمرا دل اشک ہو پہنچا ہے کوچے میں سریجن کے\nگیا کعبے میں یہ کشتی سوار آہستہ آہستہ\n\nولیؔ مت حاسداں کی بات سوں دل کوں مکدر کر\nکہ آخر دل سوں جاوے گا غبار آہستہ آہستہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D8%AE%D8%B7_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81_%D8%A2%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%81"} {"title": "ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے\nغرور چھوڑ دو اے غافلو خدا کے لیے\n\nگرا دیا ہے ہمیں کس نے چاہ الفت میں\nہم آپ ڈوبے کسی اپنے آشنا کے لیے\n\nجہاں میں چاہیئے ایوان و قصر شاہوں کو\nیہ ایک گنبد گردوں ہے بس گدا کے لیے\n\nوہ آئینہ ہے کہ جس کو ہے حاجت سیماب\nاک اضطراب ہے کافی دل صفا کے لیے\n\nتپش سے دل کا ہو کیا جانے سینے میں کیا حال\nجو تیرے تیر کا روزن نہ ہو ہوا کے لیے\n\nطبیب عشق کی دکاں میں ڈھونڈتے پھرتے\nیہ دردمند محبت تری دوا کے لیے\n\nجو ہاتھ آئے ظفرؔ خاک پائے فخراؔلدین\nتو میں رکھوں اسے آنکھوں کے توتیا کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AD%D8%B1%D8%B5_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "ہوا پیری میں عشق اس نوجواں کا", "poet_page": "مصنف:ابراہیم عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاجز (1934)", "year": "1934", "text_ur": "ہوا پیری میں عشق اس نوجواں کا\nالٰہی مجھ میں زور آیا کہاں کا\n\nپڑا سایہ جو اس سرو رواں کا\nملا رتبہ زمیں کو آسماں کا\n\nارادہ جب ہوا مجھ کو فغاں کا\nدھواں بن کر اڑا رنگ آسماں کا\n\nسمجھتے ہیں گدا قند مکرر\nکلام اس خسرو شیریں دہاں کا\n\nدل اپنا بچ نہیں سکتا نظر سے\nنشانہ ہے وہ تیر بے کماں کا\n\nبہت ڈھونڈھی کمر آخر نہ پائی\nپتا ملتا کہیں ہے بے نشاں کا\n\nپڑی مجنوں کے پاؤں میں جو زنجیر\nاٹھانا ہی پڑا بار گراں کا\n\nمٹا ہوں اے ہما ان کی طلب میں\nتجسس چھوڑ میرے استخواں کا\n\nسفر ہے آخرت کا پیش عاجزؔ\nتجھے سامان لازم ہے وہاں کا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہوا چلی", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہونے کو آئی صبح تو ٹھنڈی ہوا چلی\nکیا دھیمی دھیمی چال سے یہ خوش ادا چلی\n\nلہرا دیا ہے کھیت کو ہلتی ہیں بالیاں\nپودے بھی جھومتے ہیں لچکتی ہیں ڈالیاں\n\nپھلواریوں میں تازہ شگوفے کھلا چلی\nسویا ہوا تھا سبزہ اسے تو جگا چلی\n\nسر سبز ہوں درخت نہ باغوں میں تجھ بغیر\nتیرے ہی دم قدم سے ہے بھاتی چمن کی سیر\n\nپڑ جائے اس جہان میں تیری اگر کمی\nچوپایہ کوئی زندہ بچے اور نہ آدمی\n\nچڑیوں کو یہ اڑان کی طاقت کہاں رہے\nپھر کائیں کائیں ہو نہ غٹرغوں نہ چہچہے\n\nبندوں کو چاہیے کہ کریں بندگی ادا\nاس کی کہ جس کے حکم سے چلتی ہے یہ سدا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%DA%86%D9%84%DB%8C"} {"title": "ہوا ہوں ان دنوں مائل کسی کا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوا ہوں ان دنوں مائل کسی کا\nنہ تھا میں اس قدر گھائل کسی کا\n\nدوانے دل کوں سمجھاتا ہوں لیکن\nکہاں لگ ہوئے کوئی حائل کسی کا\n\nہوا ہے دل دہی کا تم پہ تاواں\nنہیں آسان لینا دل کسی کا\n\nخم گیسو سیں اپنے تو گرہ کھول\nکھلے تا عقدۂ مشکل کسی کا\n\nکیا یک وار میں کئی دل کی پھانکیں\nلگا ہے ہات کیا کامل کسی کا\n\nگلی میں جس کی شور کربلا ہے\nسلونا شوخ ہے قاتل کسی کا\n\nکہو اس لالۂ گلزار جاں کوں\nکبھی تو دیکھ داغ دل کسی کا\n\nسراجؔ اب سوز دل میرا وو جانے\nجو ہے پروانۂ محفل کسی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہوا ہوں دل سیتی بندا پیا کی مہربانی کا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوا ہوں دل سیتی بندا پیا کی مہربانی کا\nفدا کرتا ہوں ہر دم جی کوں اپنے یار جانی کا\n\nدیے میں جوں بتی ہو یوں دہکتی ہے زباں مکھ میں\nکروں جس رات کے اندر بیاں سوز نہانی کا\n\nانجہو انکھیاں کے روغن ہیں ہمارے شعلۂ دل کوں\nبجھانا عشق کی آتش نہیں ہے کام پانی کا\n\nاثر کرتا ہے نالہ آبروؔ کا سنگ کے دل میں\nہنر سیکھا ہے شاید کوہ کن سوں تیشہ رانی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%D8%A8%D9%86%D8%AF%D8%A7_%D9%BE%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہوا ہے اہل مساجد پہ کام از بس تنگ", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "ہوا ہے اہل مساجد پہ کام از بس تنگ\nنہ شب کو جاگتے رہنے کا اضطراب کرو\nخدا کریم ہے اس کے کرم سے رکھ کر چشم\nدراز کھینچو کسو میکدے میں خواب کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%AC%D8%AF_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%B2_%D8%A8%D8%B3_%D8%AA%D9%86%DA%AF"} {"title": "ہوا ہے طور بربادی جو بے دستور پہلو میں", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوا ہے طور بربادی جو بے دستور پہلو میں\nدل بے تاب کو رہتا ہے نامنظور پہلو میں\n\nعجب دل کو لگی ہے لو عجب ہے نور پہلو میں\nکیا ہے عشق نے روشن چراغ طور پہلو میں\n\nکہا جو میں نے میرے دل کی اک تصویر کھنچوا دو\nمنگا کر رکھ دیا اک شیشہ چکناچور پہلو میں\n\nخوشی ہو ہو کے الفت میں جو بار غم اٹھاتا ہے\nدل شیدا ہے یا ہے عشق کا مزدور پہلو میں\n\nہوس ہے دل کو تیرے ہاتھ سے مجروح ہونے کی\nلگا دے اک چھری اے قاتل مغرور پہلو میں\n\nہم آغوشی سے جب سے یار نے پہلو تہی کی ہے\nاسی دن سے ہوئی ہے بے کلی مامور پہلو میں\n\nتری تصویر جب میں ڈھونڈنے اٹھتا ہوں جنت میں\nبٹھا لیتی ہے منت کر کے مجھ کو حور پہلو میں\n\nتڑپ جاتا ہے دل تیری جدائی یاد آتی ہے\nچمک جاتا ہے یارب کس پری کا نور پہلو میں\n\nتصدق تجھ پہ جس دم نجد میں ہو جائے گا مجنوں\nجگہ دے گا ترا دیوانۂ مغفور پہلو میں\n\nخدنگ ناز کی آمد پر آمد اس میں رہتی ہے\nیہ باب دلکشا ہے یا کہ ہے ناسور پہلو میں\n\nالٰہی میرے اس کے وہ ہم آغوشی کی صورت ہو\nکہ جیسے دل کی ہے پیچیدگی مشہور پہلو میں\n\nہوا اس درجہ غلبہ اس پہ ٹھنڈی ٹھنڈی سانسوں کا\nکہ آخر دل ہمارا ہو گیا کافور پہلو میں\n\nنئی تیر لب معشوق نے کی رخنہ پردازی\nتسلط تو کیا دل میں ہوا ناسور پہلو میں\n\nبرابر اپنے بیٹھے دیکھا ہے یوسف کو رویا میں\nخدا چاہے تو آ بیٹھے وہ رشک حور پہلو میں\n\nمسلم اس کے ہونے کی شرفؔ تدبیر بتلاؤ\nپڑا ہے مدتوں سے شیشۂ دل چور پہلو میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%AF%D8%B3%D8%AA%D9%88%D8%B1_%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہوا ہے عشق تازہ ابتدائی آہ ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوا ہے عشق تازہ ابتدائی آہ ہوتی ہے\nمبارک طفل دل کی آج بسم اللہ ہوتی ہے\n\nملا جب درہم داغ جنوں گھبرا کے دل بولا\nیہی کیا عشق کی سرکار میں تنخواہ ہوتی ہے\n\nبیاں کرتا نہیں دل وصف اس روۓ مخطط کا\nخدا کے گھر میں تفسیر کلام اللہ ہوتی ہے\n\nفروغ اپنا سوا ہوتا ہے ظلم چرخ گرداں سے\nجو دل جلتا ہے روشن اور شمع آہ ہوتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81_%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A2%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے\nخزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے\n\nگدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہے\nبلند آج نہایت غبار راہ میں ہے\n\nعدم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میں\nنہ کوئی شہر نہ کوئی دیار راہ میں ہے\n\nنہ بدرقہ ہے نہ کوئی رفیق ساتھ اپنے\nفقط عنایت پروردگار راہ میں ہے\n\nسفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے\nہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے\n\nمقام تک بھی ہم اپنے پہنچ ہی جائیں گے\nخدا تو دوست ہے دشمن ہزار راہ میں ہے\n\nتھکیں جو پاؤں تو چل سر کے بل نہ ٹھہر آتشؔ\nگل مراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%DA%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا\nنثار ہونے کی دو اجازت محل نہیں ہے نہیں نہیں کا\n\nاگر ہو ذوق سجود پیدا ستارہ ہو اوج پر جبیں کا\nنشان سجدہ زمین پر ہو تو فخر ہے وہ رخ زمیں کا\n\nصبا بھی اس گل کے پاس آئی تو میرے دل کو ہوا یہ کھٹکا\nکوئی شگوفہ نہ یہ کھلائے پیام لائی نہ ہو کہیں کا\n\nنہ مہر و مہ پر مری نظر ہے نہ لالہ و گل کی کچھ خبر ہے\nفروغ دل کے لیے ہے کافی تصور اس روئے آتشیں کا\n\nنہ علم فطرت میں تم ہو ماہر نہ ذوق طاعت ہے تم سے ظاہر\nیہ بے اصولی بہت بری ہے تمہیں نہ رکھے گی یہ کہیں کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D9%86%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%D9%81%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%B9%D8%B1%D9%88%D8%AC_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%81_%D9%85%D8%A8%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہوائے شب سے نہ بجھتے ہیں اور نہ جلتے ہیں", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوائے شب سے نہ بجھتے ہیں اور نہ جلتے ہیں\nکسی کی یاد کے جگنو دھواں اگلتے ہیں\n\nشب بہار میں مہتاب کے حسیں سائے\nاداس پا کے ہمیں اور بھی مچلتے ہیں\n\nاسیر دام جنوں ہیں ہمیں رہائی کہاں\nیہ رنگ و بو کے قفس اپنے ساتھ چلتے ہیں\n\nیہ دل وہ کارگہ مرگ و زیست ہے کہ جہاں\nستارے ڈوبتے ہیں، آفتاب ڈھلتے ہیں\n\nخود اپنی آگ سے شاید گداز ہو جائیں\nپرائی آگ سے کب سنگ دل پگھلتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B4%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%AC%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہوتا ہے یاں جہاں میں ہر روز و شب تماشا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوتا ہے یاں جہاں میں ہر روز و شب تماشا\nدیکھا جو خوب تو ہے دنیا عجب تماشا\n\nہر چند شور محشر اب بھی ہے در پہ لیکن\nنکلے گا یار گھر سے ہووے گا جب تماشا\n\nبھڑکے ہے آتش غم منظور ہے جو تجھ کو\nجلنے کا عاشقوں کے آ دیکھ اب تماشا\n\nطالع جو میرؔ خواری محبوب کو خوش آئی\nپرغم یہ ہے مخالف دیکھیں گے سب تماشا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D9%88_%D8%B4%D8%A8_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7"} {"title": "ہوتی نہیں فکر سے کوئی افزائش", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہوتی نہیں فکر سے کوئی افزائش\nچپکے رہنے میں ہے بڑی آسائش\nکہنا سننا تو ہے نہایت آساں\nکہنے سننے کی ہو اگر گنجائش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%D9%81%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D8%B4"} {"title": "ہوتی ہے طبیعت ہی خدا داد کسی کی", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوتی ہے طبیعت ہی خدا داد کسی کی\nالفت میں وفائیں نہیں ایجاد کسی کی\n\nناکام پھری عرش سے فریاد کسی کی\nکس در سے امیدیں ہوئیں برباد کسی کی\n\nاللہ رے پابندیٔ آداب محبت\nفریاد بھی گویا نہیں آزاد کسی کی\n\nآ اے غم دوراں تجھے سینہ سے لگا لوں\nبھولے سے بھی آتی نہیں اب یاد کسی کی\n\nعنوان محبت ہے نگاہ غلط انداز\nمستغنیٔ تمہید ہے روداد کسی کی\n\nمٹتے ہوئے اس طرح کسی کو نہیں دیکھا\nجس طرح سے ہستی ہوئی برباد کسی کی\n\nافسانۂ فرہاد کی تمہید اٹھائی\nہم راز مگر کہہ گیا روداد کسی کی\n\nگستاخ تمناؤں نے کیا چھیڑ دیا ہے\nشرمائی ہوئی دل میں ہے کیوں یاد کسی کی\n\nکس درد بھرے دل کی منیرؔ آہ صدا ہے\nاک پیکر بیتاب ہے فریاد کسی کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%DB%81%DB%8C_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات\nپر ہم سے تو تھنبے نہ کبھو منہ پر آئی بات\n\nجانے نہ تجھ کو جو یہ تصنع تو اس سے کر\nتس پر بھی تو چھپی نہیں رہتی بنائی بات\n\nلگ کر تدرو رہ گئے دیوار باغ سے\nرفتار کی جو تیری صبا نے چلائی بات\n\nکہتے تھے اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے لیک\nوہ آ گیا تو سامنے اس کے نہ آئی بات\n\nاب تو ہوئے ہیں ہم بھی ترے ڈھب سے آشنا\nواں تو نے کچھ کہا کہ ادھر ہم نے پائی بات\n\nبلبل کے بولنے میں سب انداز ہیں مرے\nپوشیدہ کب رہے ہے کسو کی اڑائی بات\n\nبھڑکا تھا رات دیکھ کے وہ شعلہ خو مجھے\nکچھ رو سیہ رقیب نے شاید لگائی بات\n\nعالم سیاہ خانہ ہے کس کا کہ روز و شب\nیہ شور ہے کہ دیتی نہیں کچھ سنائی بات\n\nاک دن کہا تھا یہ کہ خموشی میں ہے وقار\nسو مجھ سے ہی سخن نہیں میں جو بتائی بات\n\nاب مجھ ضعیف و زار کو مت کچھ کہا کرو\nجاتی نہیں ہے مجھ سے کسو کی اٹھائی بات\n\nخط لکھتے لکھتے میرؔ نے دفتر کیے رواں\nافراط اشتیاق نے آخر بڑھائی بات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D9%BE%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "ہوتی ہے ہار جیت پنہاں بات بات میں", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوتی ہے ہار جیت پنہاں بات بات میں\nچوپڑ بچھی ہے انجمن کائنات میں\n\nرکھ فکر جسم عاریتی کائنات میں\nچوری نہ جائیں مانگ کے کپڑے برات میں\n\nپیاسے مری لہو کے ہیں سب کائنات میں\nکشتی عمر چلتی ہے آب فرات میں\n\nبے عقل ہو کے آ گئے ہستی کی گھات میں\nدیوانے بن کے پھنس گئے قید حیات میں\n\nساقی سے کہہ دو سبزۂ تر میں بہا شراب\nٹانکے کدو کی بیل قبائے نبات میں\n\nکی تلخ گفتگو لب جاں بخش سے مدام\nافیون گھولی آپ نے آب حیات میں\n\nقائم مزاجیوں میں بھی غفلت محیط ہے\nہے خواب مرگ مخمل رنگ ثبات میں\n\nہونٹوں کا عشق تھا یہ رہے آبرو کی بات\nمردے کو غسل دیجئے آب حیات میں\n\nپہنچا جو تیرے کوچہ میں خود رفتہ ہو گیا\nجاتا رہا میں آپ سے راہ نجات میں\n\nملتے ہیں خوبرو ترے خیمے سے چھاتیاں\nانگیا کی ڈوریاں ہیں مقرر قنات میں\n\nہستی میں ترک کیجئے زلفوں کے عشق کو\nزنجیریں دوہری توڑیئے قید حیات میں\n\nموسیٰ و خضر نے ترے بٹنے کے واسطے\nگھولا ہے برق طور کو آب حیات میں\n\nغارت کیا اخیر جوانی میں دہر کو\nدنیا تمام لوٹ لی تھوڑی سی رات میں\n\nجز داغ زندگی میں نہیں اور کچھ سرور\nافیون کب ہے لالۂ رنگ ثبات میں\n\nمدت سے ڈھیر جادۂ باک نجف میں ہے\nتکیہ ہے اس فقیر کا راہ نجات میں\n\nشادی ہوئی جو رات کو کھیلے وہ گنجفہ\nروشن کیا غلام نے اکا برات میں\n\nکوچہ میں رکھ کے عاشق مضطر کی ہڈیاں\nمچھلی کے کانٹے بو دیے راہ نجات میں\n\nدل کی صفا ہو جامۂ ہستی میں جلوہ گر\nجیب سحر اگاؤں قبائے حیات میں\n\nساون کے بدلے گائیے حافظؔ کے شعر تر\nجھولا ضرور ڈالیے شاخ نبات میں\n\nہستی کی قید سے دل بے تاب چھپ گیا\nمچھلی نہ ٹھہری بازوئے شمع حیات میں\n\nمردے جلائے سیکڑوں ٹھکرا کر اے صنم\nدست مسیح کا ہے اثر تیری لات میں\n\nشیریں ادائیاں بھی ہوں رفتار ناز بھی\nکافور صبح حشر ہو قند و نبات میں\n\nہونٹوں کی مستی دور کی تو نے کھٹائی سے\nلیموں کی چاشنی ہے تری میٹھی بات میں\n\nاندھا بنائیں گے وہ رلا کر عتاب سے\nرہتے ہیں روز آنکھ چرانے کی گھات میں\n\nموت آئے مجھ کو ہجر میں احمدؐ کی اے منیرؔ\nواللہ کچھ مزا نہیں ایسی حیات میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%DB%8C%D8%AA_%D9%BE%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہوتے خدا کے اس بت کافر کی چاہ کی", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوتے خدا کے اس بت کافر کی چاہ کی\nاتنی تو بات مجھ سے ہوئی ہے گناہ کی\n\nسوز دروں کیا جو مرا شمع نے بیاں\nجل کر زبان کاٹ لی میرے گواہ کی\n\nبھرتا ہے آج خوب طرارے سمند ناز\nقمچی ہے ان کے ہاتھ میں زلف سیاہ کی\n\nدیکھا حضور کو جو مکدر تو مر گئے\nہم مٹ گئے جو آپ نے میلی نگاہ کی\n\nفرقت میں یاد آئے جو لطف شب و صال\nاک آہ بھر کے جانب گردوں نگاہ کی\n\nسنسان کر دیا مرے پہلو کو لے کے دل\nظالم نے لوٹ کر مری بستی تباہ کی\n\nوہ مجھ سے کہہ رہے ہیں اشاروں میں دیکھنا\nسب تاڑ جائیں گے سر محفل جو آہ کی\n\nہم وہ تھے دل ہی دل میں کیا ضبط راز عشق\nصدمے اٹھا کے مر گئے منہ سے نہ آہ کی\n\nافسوس ہے کہ میں تو پھروں در بدر خراب\nتم کو خبر نہ ہو مرے حال تباہ کی\n\nجوہرؔ خدا کے فضل سے ایسی غزل کہی\nشہرت مشاعرہ میں ہوئی واہ واہ کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئی", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئی\nآبرو بارے تری ابر بہاری رہ گئی\n\nآتے آتے اس طرف ان کی سواری رہ گئی\nدل کی دل میں آرزوئے جاں نثاری رہ گئی\n\nہم کو خطرہ تھا کہ لوگوں میں تھا چرچا اور کچھ\nبات خط آنے سے تیرے پر ہماری رہ گئی\n\nٹکڑے ٹکڑے ہو کے اڑ جائے گا سب سنگ مزار\nدل میں بعد از مرگ کچھ گر بے قراری رہ گئی\n\nاتنا ملیے خاک میں جو خاک میں ڈھونڈے کوئی\nخاکساری خاک کی گر خاکساری رہ گئی\n\nآؤ گر آنا ہے کیوں گن گن کے رکھتے ہو قدم\nاور کوئی دم کی ہے یاں دم شماری رہ گئی\n\nہو گیا جس دن سے اپنے دل پر اس کو اختیار\nاختیار اپنا گیا بے اختیاری رہ گئی\n\nجب قدم اس کافر بدکیش کی جانب بڑھے\nدور پہنچے سو قدم پرہیزگاری رہ گئی\n\nکھینچتے ہی تیغ ادا کے دم ہوا اپنا ہوا\nآہ دل میں آرزوئے زخم کاری رہ گئی\n\nاور تو غم خوار سارے کر چکے غم خوارگی\nاب فقط ہے ایک غم کی غم گساری رہ گئی\n\nشکوہ عیاری کا یاروں سے بجا ہے اے ظفرؔ\nاس زمانے میں یہی ہے رسم یاری رہ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ہوتے ہی جواں ہو گئے پابند حجاب اور", "poet_page": "مصنف:سائل دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوتے ہی جواں ہو گئے پابند حجاب اور\nگھونگھٹ کا اضافہ ہوا بالائے نقاب اور\n\nجب میں نے کہا کم کرو آئین حجاب اور\nفرمایا بڑھا دوں گا ابھی ایک نقاب اور\n\nپینے کی شراب اور جوانی کی شراب اور\nہشیار کے خواب اور ہیں مدہوش کے خواب اور\n\nگردن بھی جھکی رہتی ہے کرتے بھی نہیں بات\nدستور حجاب اور ہیں انداز حجاب اور\n\nپانی میں شکر گھول کے پیتا تو ہے اے شیخ\nخاطر سے ملا دے مری دو گھونٹ شراب اور\n\nساقی کے قدم لے کے کہے جاتا ہے یہ شیخ\nتھوڑی سی شراب اور دے تھوڑی سی شراب اور\n\nسائلؔ نے سوال اس سے کیا جب بھی یہ دیکھا\nملتا نہیں گالی کے سوا کوئی جواب اور", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا\nنہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا\n\nتجاہل پیشگی سے مدعا کیا\nکہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا؟\n\nنوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں\nشکایت ہائے رنگیں کا گلا کیا\n\nنگاہِ بے محابا چاہتا ہوں\nتغافل ہائے تمکیں آزما کیا\n\nفروغِ شعلۂ خس یک نفَس ہے\nہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا\n\nنفس موجِ محیطِ بیخودی ہے\nتغافل ہائے ساقی کا گلا کیا\n\nدماغِ عطر پیراہن نہیں ہے\nغمِ آوارگی ہائے صبا کیا\n\nدلِ ہر قطرہ ہے سازِ “انا البحر”\nہم اس کے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا\n\nمحابا کیا ہے، مَیں ضامن، اِدھر دیکھ\nشہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا\n\nسن اے غارت گرِ جنسِ وفا، سن\nشکستِ قیمتِ دل کی صدا کیا\n\nکیا کس نے جگر داری کا دعویٰ؟\nشکیبِ خاطرِ عاشق بھلا کیا\n\nیہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں؟\nیہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا؟\n\nبلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر بات\nعبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا!", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D8%B7_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہوس کی آنکھ سیں وو چہرۂ روشن نہ دیکھو گے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوس کی آنکھ سیں وو چہرۂ روشن نہ دیکھو گے\nتو چہرہ تو کہاں پن گوشۂ دامن نہ دیکھو گے\n\nچھپاتے ہو سو بے جا اس جمال حیرت افزا کوں\nمری آنکھوں سیں دیکھو گے تو پھر درپن نہ دیکھو گے\n\nاگر اس خوش دہن کے لب پہ دیکھو رنگ مسی کا\nتو پھر زنہار برگ غنچۂ سوسن نہ دیکھو گے\n\nاگر دیکھو گے عکس اس خط کا میری چشم گریاں میں\nلب جو پر بہار سبزۂ گلشن نہ دیکھو گے\n\nسراجؔ اپنے سیں کیوں وسواس ہے اے شمع رو تم کوں\nکسی عاشق کوں تم معشوق کا دشمن نہ دیکھو گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D9%88_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%82_%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88_%DA%AF%DB%92"} {"title": "ہوس کیجے نہ عمر جاوداں کی", "poet_page": "مصنف:عاشق اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوس کیجے نہ عمر جاوداں کی\nہے عمر خضر بھی ایسی کہاں کی\n\nکسے خواہش ہے عمر جاوداں کی\nکہاں تک ٹھوکریں کھائیں یہاں کی\n\nاڑا کر خاک وحشی نے تمہارے\nبنائے تازہ ڈالی آسماں کی\n\nبہت دور فلک نے رنگ بدلے\nنہ خو بدلی مگر اس بد گماں کی\n\nخریدارو چلو سودا خریدو\nسر بازار عاشقؔ نے دکاں کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%B3_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%88%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ہوس گل زار کی مثل عنادل ہم بھی رکھتے تھے", "poet_page": "مصنف:آغا حجو شرف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوس گل زار کی مثل عنادل ہم بھی رکھتے تھے\nکبھی تھا شوق گل ہم کو کبھی دل ہم بھی رکھتے تھے\n\nقضا بھی تیرے ہاتھوں چاہتے تھے تجھ کو کیا کیجے\nنہیں تو تیغ دم کے ساتھ قاتل ہم بھی رکھتے تھے\n\nخطائے عشق پر ہم پر نہ اتنا بھی ستم ڈھاؤ\nاگر چاہا تو چاہا کیا ہوا دل ہم بھی رکھتے تھے\n\nخدا کو علم ہے زندہ ہے یا جل بھن گیا شب کو\nدل اپنا تیرے پروانوں میں شامل ہم بھی رکھتے تھے\n\nمری جاں بازیوں پر گور میں رستم یہ کہتا ہے\nنہ تھے ایسے جری گو شیر کا دل ہم بھی رکھتے تھے\n\nعلاقہ عشق کا لیتے یہ سوچے ہوں گے بربادی\nوگرنہ نقد جان و سکۂ دل ہم بھی رکھتے تھے\n\nخدا کے سامنے ہوگی جو پرسش عشق بازوں کی\nکہیں گے ہم بھی اتنا عشق کامل ہم بھی رکھتے تھے\n\nتمنا تھی ہمیں بھی تیری صحبت دیکھ لینے کی\nکہ پروانے تھے شوق و ذوق محفل ہم بھی رکھتے تھے\n\nبڑے عقدہ کشا تھے تم تو حل اس کو بھی کرنا تھا\nمہم عشق سر کرنے کی مشکل ہم بھی رکھتے تھے\n\nتلاش یار میں خفیہ گئے عشاق دنیا سے\nخبر بھی کی نہ ہم کو شوق منزل ہم بھی رکھتے تھے\n\nکوئی لحظہ جدائی میں تڑپنے سے نہ فرصت تھی\nکبھی پہلو میں دل مانند بسمل ہم بھی رکھتے تھے\n\nجنوں کا زور تھا دل میں جگہ کر لی تھی وحشت نے\nغرض پیش نظر لیلیٰ و محمل ہم بھی رکھتے تھے\n\nجگہ دل کی طرح پہلو میں دی ہوتی ہمیں تم نے\nلیاقت اس سرافرازی کے قابل ہم بھی رکھتے تھے\n\nاسے کیوں کر نہ کہتے ہم کہ یکتا ہے خدائی میں\nشناسا تھے تمیز حق و باطل ہم بھی رکھتے تھے\n\nخدا نے جان چھڑوائی شرفؔ وہ خود بگڑ بیٹھا\nحقیقت میں عجب معشوق جاہل ہم بھی رکھتے تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%B3_%DA%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AB%D9%84_%D8%B9%D9%86%D8%A7%D8%AF%D9%84_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "ہوس یہ رہ گئی دل میں کہ مدعا نہ ملا", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوس یہ رہ گئی دل میں کہ مدعا نہ ملا\nبہت جہان میں ڈھونڈھا پر آشنا نہ ملا\n\nہوا ہے کون سا معشوق با وفا اے دل\nگلا عبث ہے اگر وہ ملا ملا نہ ملا\n\nعجیب قسمت بد تھی شب فراق میں ہم\nکمال ڈھونڈھ پھرے خانۂ قضا نہ ملا\n\nنہ دے تو ہاتھ سے ہوں ضعف سے میں رنگ حنا\nہواے شوق فنا میں جہاں اڑا نہ ملا\n\nجواب دے گی بھلا روز باز پرس تو کیا\nاڑا اڑا کے ہمیں خاک میں صبا نہ ملا\n\nوہ کشتہ نگہ قہر تھا کہ محشر میں\nمرے جلانے کو احکام دل ربا نہ ملا\n\nغریق بحر ستم عمر کی ہوئی کشتی\nبہت سا ہم نے پکارا پہ نا خدا نہ ملا\n\nکمال و عیش و جوانی و ملک و مال و طرب\nیہ سب ملے ہمیں پر یار با وفا نہ ملا\n\nعجیب جوش جنوں میں ہوئی تھی پامالی\nکہ ایک آبلہ تک دوست دار پا نہ ملا\n\nچبھے ہزار تمنا سے کیوں نہ بے کھٹکے\nکہ خار کو کوئی ہم سا برہنہ پا نہ ملا\n\nبہت سی کرتے رہے باغ دہر میں گل گشت\nپر اپنے بلبل دل کو نسیمؔ سا نہ ملا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%B3_%DB%8C%DB%81_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "ہوش آتے ہی حسینوں کو قیامت آئی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوش آتے ہی حسینوں کو قیامت آئی\nآنکھ میں فتنہ گری دل میں شرارت آئی\n\nکیا تصور ہے نہایت مجھے حیرت آئی\nآئنے میں بھی نظر تیری ہی صورت آئی\n\nاس ادا سے دم رفتار قیامت آئی\nایسے ہم کیوں نہ ہوئے ان کو یہ حسرت آئی\n\nروز محشر جو مری داد کی نوبت آئی\nیہ گئی وہ گئی کب ہاتھ قیامت آئی\n\nاب اسی پر تو ہے تاکید وفاداری کی\nجب گیا جان سے میں غیر کی شامت آئی\n\nکہہ گئے طعن سے وہ آ کے مرے مرقد پر\nسونے والے تجھے کس طرح سے راحت آئی\n\nبن سنور کر جو وہ آئے تو یہ میں جان گیا\nاب گئی جان گئی آئی طبیعت آئی\n\nرکھ دیا منہ پہ مرے ہاتھ شب وصل اس نے\nبے حجابی کے لیے کام شکایت آئی\n\nجب یہ کھاتا ہے مرا خون جگر کھاتا ہے\nدل بیمار کو کس چیز پہ رغبت آئی\n\nگرچہ از حد ہوں گنہ گار مسلمان تو ہوں\nپیچھے پیچھے مرے دوزح میں بھی جنت آئی\n\nمیں ہوا شیفتہ ان پر وہ عدو پر شیدا\nساتھ کے ساتھ ہی دونوں کی طبیعت آئی\n\nعمر بھر اس کو کلیجے سے لگائے رکھا\nتیرے بیمار کو جس درد میں لذت آئی\n\nہجر میں جان نکلتی نہیں کیا آفت ہے\nمار کر آج اجل کو شب فرقت آئی\n\nاپنے دیوانوں کو دیکھا تو کہا گھبرا کر\nیہ نئی وضع کی کس ملک سے خلقت آئی\n\nجذب دل کھینچ ہی لایا انہیں میرے در تک\nپاؤں پڑتی ہوئی ہرچند نزاکت آئی\n\nیوں تو پامال ہوئے سیکڑوں مٹنے والے\nپہلے گنتی میں جو آئی مری تربت آئی\n\nحشر کا وعدہ بھی کرتے نہیں وہ کہتے ہیں\nفرض کر لو جو کئی بار قیامت آئی\n\nداغؔ گھبراؤ نہیں اب کوئی دم کے دم میں\nلو مبارک ہو ترقی کی بھی ساعت آئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%B4_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C"} {"title": "ہوش و خرد کو کر دیا ترک اور شغل جو کچھ تھا چھوڑ دیا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوش و خرد کو کر دیا ترک اور شغل جو کچھ تھا چھوڑ دیا\nہم نے تمہاری چاہ میں اے جاں دیکھو تو کیا کیا چھوڑ دیا\n\nکوچے میں اس رشک چمن کے جا کے جو بیٹھا پھر اس نے\nباغ و چمن یاں جتنے ہیں سب کا سیر و تماشا چھوڑ دیا\n\nلوٹا ہوش اور لوٹا دیں کو دل کو بھی کچلا کیا کیا واہ\nناز کو اس نے آج تو کچھ بیداد پر ایسا چھوڑ دیا\n\nدن کو ہمارے پاس وہ چنچل کاہے کو آوے گا اے دل\nرات کو اک دم خواب میں آنا جس نے ادھر کا چھوڑ دیا\n\nطائر دل جب ہم سے گیا پھر فائدہ کیا جو پوچھیں نظیرؔ\nشوخ نے اس کو ذبح کیا یا قید رکھا یا چھوڑ دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%B4_%D9%88_%D8%AE%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B4%D8%BA%D9%84_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "ہوش و شکیب و تاب و صبر و قرار پانچوں", "poet_page": "مصنف:منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوش و شکیب و تاب و صبر و قرار پانچوں\nقربان کر چکا ہوں میں تجھ پہ یار پانچوں\n\nاک درد ہجر سے بس یہ پانچ عارضے ہیں\nبے ہوشی بے قراری غش تپ بخار پانچوں\n\nمطرب پسر کے غم میں بھاتے ہیں کس کے دل کو\nگوری ایمن البّا دیس اور ملار پانچوں\n\nایمان و دین و مال و دل اور نقد جاں بھی\nمیں کر چکا ہوں پیارے تجھ پر نثار پانچوں\n\nگر تو قسم بھی کھائے جھوٹے ہیں میرے پیارے\nپیمان و عہد و وعدہ قول و قرار پانچوں\n\nکرتے ہیں قتل عالم ظالم یہ عضو تیرے\nمژگان و چشم و ابرو زلف و عذار پانچوں\n\nکہسار و دشت و دریا گل زار و بزم عشرت\nہیں خار ساں نظر میں بے روئے یار پانچوں\n\nاس طرح میں غزل کا لکھنا ہے غیرممکن\nاے سحرؔ کوئی باندھے گو اب ہزار پانچوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%B4_%D9%88_%D8%B4%DA%A9%DB%8C%D8%A8_%D9%88_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%88_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%D9%88_%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86%D9%88%DA%BA"} {"title": "ہوشؔ اس پر کسی کا بس نہ چلا", "poet_page": "مصنف:ہوش بلگرامی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوشؔ اس پر کسی کا بس نہ چلا\nوقت جب آ گیا تو پھر نہ ٹلا\n\nسوز باطن کے ہیں یہ سب جلوے\nآگ روشن ہے لے چراغ جلا\n\nنہ چلا دل پہ زندگی کا فریب\nسخت لوہا اس آنچ سے نہ گلا\n\nکہہ رہا تھا گدائے راہ نشین\nجو بھلا تھا ہوا اسی کا بھلا\n\nوہ مرا مدعا سمجھ کے رہے\nضبط فریاد سے نہ کام چلا\n\nراز ہستی نہ کھل سکا اس پر\nدل جو اپنی ہی آگ میں نہ جلا\n\nکیا بہاروں کا اعتبار اے ہوشؔ\nہر نفس تاک میں ہے برق بلا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D8%B4%D8%94_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%B3_%D9%86%DB%81_%DA%86%D9%84%D8%A7"} {"title": "ہولی (اعظم کریوی)", "poet_page": "مصنف:اعظم کریوی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "کشن پور ٹھاکروں کی بستی تھی، جس کے زمیندار دلاور سنگھ اور رام سنگھ دونوں چچیرے بھائی تھے۔ پٹی دار ہوتے ہوئے بھی ان میں کوئی نفاق نہ تھا، دونوں امن پسند اور صلح کل واقع ہوئے تھے۔ زمینداری کے جھگڑوں کا فیصلہ آپس ہی میں کرلیتے تھے۔ کبھی کچہری عدالت جانے کی نوبت نہ آتی تھی۔ اسامی بھی ان سے بہت خوش تھے۔ حتی کہ زمینداروں کے اشارہ پر جان تک دینے کو تیار ہوجاتے تھے۔ گاؤں بھر میں صرف اہیروں کی برادری ہی زمینداروں سے ناراض تھی۔ جب دلاور سنگھ اور رام سنگھ کے والدین بقید حیات تھے تو ان اہیروں نے بڑا سر اٹھایا تھا، جس سے ساراگاؤں پریشان ہوگیا تھا۔ کیونکہ ان کی عادت تھی کہ جب رات کو گاؤں والے سو جاتے تو وہ اپنے مویشیوں سے ان کے کھیت چرالیتے اور صبح ہوتے ہی اپنےگھر واپس آجاتے۔ موقع ملنے پر وہ چوری کرنے سے بھی نہ چوکتے تھے، کئی مرتبہ وہ پکڑے گئے لیکن ہر مرتبہ معافی مانگنے پر گاؤں والوں نے انھیں چھوڑ دیا۔ پھر بھی جب وہ اپنی عادت سے باز نہ آئے تو زمینداروں نے اہیروں کو کاشتکاری سے بے دخل کرکے گاؤں سے نکال دیا۔ جس پر ان لوگوں نے کش پور سے کچھ فاصلے پر ایک جنگل میں اپنی بستی بسالی جو اہیروں کا پوروہ کہلانے لگے۔\n\nجب تک دلاور سنگھ اور رام سنگھ کے والدین زندہ رہے اہیروں نے کشن پور کی طرف رخ کرنے کی بھی ہمت نہ کی لیکن ان کے مرتے ہی وہ پھر کشن پور میں آنے جانے لگے اور نوجوان ناتجربہ کار زمینداروں سے بظاہر نہایت ادب سے ملتے تھے لیکن باطن میں ان سے نفرت کرتے تھے اور کشن پور کی خوش حالی دیکھ دیکھ کر دل ہی دل میں کڑھتے تھے۔ جب وہ اپنے شکستہ مکانات کو دیکھتے تو انہیں وہ دن یاد آجاتا جب وہ کشن پور سے بڑی بے عزتی کے ساتھ نکالے گئے تھے۔ جن زمینوں کے کبھی وہ مالک تھے اب ان پر دوسروں کا قبضہ تھا۔ گنپت ان سب کا سردار تھا اور اس کے تین لڑکے بڑے کسرتی اور لٹھ باز تھے، ان کی طاقت پر اور گنپت کی چالاکی پر اہیروں کو بڑا ناز تھا۔ دلاور سنگھ اور رام سنگھ سے دو ایک مرتبہ مل کر گنپت نے اندازہ کرلیا کہ دونوں ناتجربہ کار جوشیلے نوجوان ہیں جن کو بہت آسانی سے بیوقوف بنایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اب اس کا روزانہ کامعمول ہوگیا کہ دونوں سے مل کر اپنی خیرخواہی جتاتا اور باتوں ہی باتوں میں ایک دوسرے سے برائی کرتا لیکن اس خوبی کے ساتھ کہ کسی کو گنپت کی نیک نیتی پر شبہ نہ ہوتا۔ رفتہ رفتہ دونوں بھائی ایک دوسرے سے جلنے لگے۔ آخرکار گنپت کی شرارت اور چالبازی سے وہ دن بھی آگیا جب ایک بھائی اپنے دوسرے بھائی کی جان کا دشمن ہوگیا۔ پہلے ہنر اور خوبی کی تلاش تھی اب برائیوں پر نظر رہنے لگی۔ ذرا ذرا سی بات پر تھا نہ اور کچہری تک دوڑنے لگے۔ مقدمہ بازی میں دونوں جانب سے روپیہ پانی کی طرح بہایا جانے لگا۔ وکیلوں کی فیس، پولیس کی رشوت اور اہلکاروں کے حقوق میں ان کی جائدادیں بکنے لگیں۔\n\nدلاور سنگھ اور رام سنگھ کے زمانے میں کبھی تھانہ دار صاحب کو گاؤں تک آنے کی ضرورت نہ ہوئی تھی۔ اب پولیس کا معمولی کانسٹیبل اور چوکیدار بھی اپنا رعب جمانے لگا۔ جن اسامیوں کی طرف کسی نے ٹیڑھی نظر سے بھی دیکھنے کی ہمت نہ کی تھی اب وہ بیگار میں پکڑے جانے لگے۔ گنپت کا منشا پورا ہوگیا۔ اس نے زمینداروں سے اپنی برادری کی ذلت کا انتقام لے لیا۔ اب کشن پور میں اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ تھا۔ تمام اہیر جو جلاوطن کردیے گئے تھے پھر گنپت کے ساتھ کشن پور میں آکر رہنے لگے۔\n\nپہلے گنپت دلاور سنگھ کے یہاں زیادہ آمد و رفت رکھتا تھا لیکن اب اس کی بھنگ امرسنگھ کے دروازہ پر چھننے لگی۔ اس کی مکر و فریب کی باتیں دلاورسنگھ اور رام سنگھ کی نااتفاقی کی آگ میں ایندھن کا کام کرتی تھیں۔ کئی مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ گاؤں والوں نے دونوں زمینداروں میں صلح و صفائی کی کوشش کی لیکن گنپت کی ریشہ دوانیوں نے اس کا موقع ہی نہ آنے دیا۔ وہ خود صلح کی کارروائی میں شامل ہوجاتا۔ دیکھنے والے یہی سمجھتے کہ گنپت سے زیادہ صلح پسند اور کوئی نہ ہوگا مگر دراصل وہی شرارت اور نفاق کا باعث تھا اور اسی وجہ سے صلح نہ ہونے پاتی تھی۔ بہت دنوں تک گاؤں والے گنپت کی ذہنیت سے واقف نہ ہوسکے، لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ حلقہ کے تھانہ دار صاحب کی نظر عنایت گنپت کی طرف زیادہ رہتی ہے تو وہ گنپت سے کچھ بدگمان ہوگئے۔ لیکن اب پانی سر سے اونچا ہوچکا تھا۔ پہلے گنپت تنہا تھا اب تھانہ دار صاحب بھی اس کے طرفدار تھے۔\n\nجب وہ گاؤں میں آتے تو گنپت اپنی تمام برادری کا دودھ دہی ان کی خدمت میں حاضر کردیتا۔ تھانہ دار صاحب بھوکے بیل کی طرح موٹی ملائی اتار کر دودھ پیتے اور جو باقی رہتا کانسٹیبلوں کو بخش دیتے۔ ہاتھ دھونے پر بھی چکناہٹ دور نہ ہوتی تو مونچھوں پر پھیر دیتے ایسا عمدہ اور تازہ دودھ گاؤں بھر میں کسی کونصیب نہ ہوتا تھا۔ اس کے بدلہ میں گنپت اور اس کے خاندان والے گاؤں میں جھگڑا اور فساد کرتے اور داروغہ صاحب ان کی حرکتوں کو نظرانداز کرتے رہتے۔ پھاگن کا مہینہ تھا۔ ہولی کے دس دن اور باقی تھے۔ اس سال فصل اچھی ہوئی تھی، پھگوا کے راگ سے رات کے وقت گاؤں میں بڑی چہل پہل رہنےلگی۔ معمولی کاشتکاروں کی عورتوں نے بھی اپنے شوہروں کونئے نئے زیور بنوانے کے لیے آمادہ کرلیا تھا۔ کچھ کچھ کٹائی بھی شروع ہوگئی تھی۔ ہولی کے دن نئے گیہوں کی پوری کچوری بنے گی، اسی خیال میں چھوٹے بڑے سب مگن تھے، لیکن دلاور سنگھ اور ان کے گھروالوں کو اطمینان قلب حاصل نہ تھا، ان کے گیہوں کے کھیت پک گئے تھے۔ ان کھیتوں کی حالت سب کھیتوں سے اچھی تھی۔\n\nرات کو سردی میں ٹھٹھر کر دلاور سنگھ اپنے کھیت کے کسی کونے میں بیٹھ کر فصل کی رکھوالی کرتے تھے، ان کو ڈر تھا کہ کہیں گنپت اور رام سنگھ کوئی شرارت نہ کربیٹھیں۔ ادھر رام سنگھ بھلا دلاور سنگھ کی خوشحالی کس طرح ٹھنڈے دل سے دیکھ سکتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے گنپت کے مشورہ سے پٹواری کو ملایا اور دلاور سنگھ کے گیہوں والے کھیت کی کاشت اپنے نام لکھالی۔ ان کی یہ کارروائی جائز تھی یا ناجائز۔ اس سے کوئی مطلب نہیں، انسان جب جھگڑا کرنے پر آجاتا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈھ ہی لیتا ہے۔ دلاور سنگھ جنھوں نے کھیت کو دھوپ میں چوٹی سے ایڑی تک پسینہ بہاکر جوتا، بارش اور سردیوں کی تیز و تند ہواؤں کا مقابلہ کرکے جس کھیت کی رکھوالی کی، جس کی پیداوار پر ان کے بال بچے خوش تھے، جس سے گیہوں پر ہولی منائی جانے والی تھی، اسی کھیت پر گنپت اور رام سنگھ کی ٹیڑھی نظریں پڑ رہی تھیں اور دلاور سنگھ کو اس کی کوئی خبر نہ تھی۔ جس دن کھیت کٹنے والا تھا اس کی شام کو دلاورسنگھ نے گاؤں کے چماروں کو اطلاع دے دی تھی۔ جب رام سنگھ کو معلوم ہوا کہ کل دلاور سنگھ کا کھیت کٹے گا تو انھوں نے بھی اپنے آدمیوں کو ہوشیار کردیا۔ اس کے ساتھ ہی تھانہ میں بھی رپٹ لکھوادی کہ دلاور سنگھ کل ہمارے کھیت کو کاٹنے کا ارادہ رکھتا ہے، ضروری کارروائی کی جائے ورنہ بلوہ ہوجانے کا ڈر ہے۔\n\nصبح ہوتے ہی دونوں طرف کے آدمی کھیت پر پہنچ گئے۔ رام سنگھ کے ’’گہار‘‘ کو دیکھ کر دلاور سنگھ دنگ رہ گئے۔ وہ کچھ کہنے والے ہی تھے کہ رام سنگھ نے للکارا۔ ’’کاشت ہمارے نام لکھی ہے تم یہاں کیوں آئے ہو، اپنا بھلا چاہتے ہو تو سامنے سے ہٹ جاؤ۔ ہمارے آدمی کھیت کاٹیں گے۔‘‘ دلاور سنگھ عجیب کش مکش میں تھے۔ سامنے سے ہٹتے ہیں تو سال بھر کی کمائی جاتی ہے او رمقابلہ کرتے ہیں تو جان جاتی ہے کیونکہ فریق مخالف کی طاقت بڑھی ہوئی تھی۔ انھوں نے تھوڑی دیر کچھ سوچا اور پھر مرنے مارنے کو تیار ہوگئے۔ وہ مٹی کے پتلے نہ تھے، لڑکپن سے انھیں پہلوانی کا شوق تھا، اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے کھیت کی پامالی کیسے دیکھ سکتے تھے۔ راجپوتی خون نے جوش مارا اور وہ لاٹھی سنبھال کر آگے بڑھے، پھر کیا تھا دونوں طرف سے لاٹھیاں چلنے لگیں، گنپت کی دلی مراد برآئی، وہ بھس میں چنگاری لگاکر دور سے تماشہ دیکھنے والوں میں تھا۔ دور ہی سے چلا رہا تھا ’’بڑھے چلو ۔ واہ رہے جوانو! بس مار لیا ۔ جانے نہ پائے۔ گھبرانا نہیں۔ دلاورسنگھ کو اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ ہے۔ ان کی ساری ہیکڑی بھلادو۔ چاروں طرف سے دلاور سنگھ کو گھیر لیا، تنہا آدمی پورے ’’گہار‘‘ کا کہاں تک مقابلہ کرتا۔ زخموں سے چور ہوکر دلاورسنگھ زمین پر بیہوش ہوکر گرے، لیکن گرتے گرتے انھوں نے رام سنگھ کو بھی زمین پر لٹادیا۔ رام سنگھ کا خیال تھا کہ داروغہ جی موقع واردات پر ضرور پہنچ جائیں گے، مگر ایسا نہ ہوا، کیونکہ داروغہ جی کو اس کا تجربہ تھا کہ فوجداری کے بعد خود ہی لوگ ان کی چوکھٹ پر ناک رگڑنے آئیں گے۔\n\nلڑائی میں کودنا ان کی مصلحت کے خلاف تھا۔ چنانچہ ان کا خیال ٹھیک تھا۔ فوجداری کے بعد دونوں طرف والے دوڑتے ہوئے رپٹ لکھانے تھانہ میں پہنچے۔ لیکن وہاں صرف وہی کامیاب ہوسکتا ہے جو سب سے زیادہ بھینٹ دے، اور صرف داروغہ جی ہی کی نہیں بلکہ ادنیٰ سپاہیوں کی بھی پیٹ پوجا کا سامان مہیا کرے۔ غریبوں کو وہاں کوئی نہیں پوچھتا، امیروں کی قدر ہوتی ہے۔ داروغہ جی کو خوش کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ جب وہ تحقیقات کرنے کے لیے کشن پور میں پہنچے تو سارا گاؤں تھرا اٹھا ایسی بڑی فوجداری گاؤں میں کبھی نہ ہوئی تھی۔ داروغہ جی کے پہنچتے ہی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی جو فوجداری میں شریک تھے وہ بھی اور جو علیحدہ تھے وہ بھی پکڑ بلائے گئے۔ گنپت کی چاندی تھی، داروغہ جی نے اسی کے مکان پر ڈیرا جمایا۔ گھوڑے کے سامنے ہری ہری دوب ڈال دی گئی۔ گنپت کھڑا ہوکر داروغہ جی کو پنکھا جھلنے لگا۔ دودھ دہی اور ملائی کی افراط تھی، جن کانسٹیبلوں کو گڑ کاشربت بھی مشکل سے ملتا تھا وہ دودھ کے شربت پر منھ بنانے لگے۔ اس پکڑ دھکڑ کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ رام سنگھ نے ایک ہزار پر داروغہ جی کو راضی کرلیا۔ چونکہ دلاور سنگھ اس سے زیادہ نہ پیش کرسکے، وہ مظلوم ہوکر بھی ظالم ثابت کئے گئے۔ داروغہ جی کی کوشش سے ڈاکٹر نے رام سنگھ کو ‘ضرب شدید‘ کا سرٹیفیکٹ دے دیا لیکن دلاور سنگھ کو ’ضرب خفیف‘ ہی کا سرٹیفیکٹ نصیب ہوا۔ پولیس نے دلاور سنگھ کو حراست میں لے لیا اور بعد میں بڑی مشکل سے ضمانت پر رہا کیا۔\n\nمقدمہ چلا، تاریخیں بڑھنے لگیں، وہ زمیندار جو عدالت تک جانا اپنی کسر شان سمجھتے تھے انھیں کی اولاد اب اہلکاروں کی جوتیاں اٹھانے میں بھی کوئی بے عزتی نہ سمجھتی تھی۔ باپ داد کی کمائی مقدمہ بازی میں اڑنے لگی۔ فصلیں کھڑی تھیں لیکن ان کو اتنی فرصت ہی نہ ملتی تھی کہ وہ انھیں کاٹ سکیں۔ فوجداری سے پہلے رام سنگھ کے کچھ کھیت کٹ چکے تھے اور ان کا اناج کھلیان میں پڑا تھا، وہ اسے بھی گھر تک نہ لاسکے تھے۔ کھلیان میں اناج کا انبار دیکھ کر گنپت کے دل میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی اور اس نے اپنے ایک لڑکے کو کچھ اشارہ کردیا ۔ دوسرے دن ہولی جلنے کی مہورت تھی، گاؤں والے ’’پھگوا گانے میں محو تھے، گنپت کا لڑکا منھ چھپائے رام سنگھ کے کھلیان میں پہنچا، ایک مرتبہ ادھر ادھر دیکھا اور سوکھی بالیوں میں دیا سلائی دکھاکر بھاگ کھڑا ہوا۔ جب آگ خوب پھیلی اور شعلے بلند ہوئے تو گاؤں والے دوڑے مگر اب ان کا دوڑنا بے کار تھا، دیکھتے ہی دیکھتے سارا کھلیان جل کر راکھ ہوگیا۔ گنپت نے مخبری کی کہ یہ ساری شرارت دلاور سنگھ کی ہے، میں نے خود ان کو آگ لگاکر بھاگتے دیکھا ہے۔ رام سنگھ نے دانت پیس کر کہا ’’اچھی بات ہے، میں دلاور سنگھ کے گھر میں آگ نہ لگادوں تو میرا نام رام سنگھ نہیں۔‘‘\n\nصبح ہوتے ہی جب دلاور سنگھ نے رام سنگھ کی دھمکی کی خبر سنی تو وہ قابو سے باہر ہوگیا۔ اس نے اپنی لاٹھی اٹھائی اور مست ہاتھی کی طرح جھومتا ہوا رام سنگھ کے دروازے پر جاکر آواز دی ’’بہادر ہے تو باہر نکل۔ چوری چھپے وار کرنا بہادر راجپوتوں کا کام نہیں ہے۔‘‘ رام سنگھ بھی آخر راجپوت تھا، کوئی گھر پر آکر للکارے اور وہ اندر بیٹھا رہے۔ وہ اپنے گھر سے تڑپ کر نکلا اور باہر نکلتے ہی لاٹھی چلادی۔ تھوڑی دیر تک دونوں نے اپنی اپنی لاٹھیوں کے خوب خوب جوہر دکھائے اور پھر ایک ساتھ ہی خون میں نہائے ہوئے زمین پر گرے۔ کچھ دیر تک تڑپے اور پھر ان کی روحیں قید ہستی سے آزاد ہوگئیں۔ ہولی کا دن تھا۔ گاؤں والوں نے تو رنگ کی ہولی کھیلی، لیکن دو بھائیوں نے خون کی ہولی منائی۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%28%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D9%88%DB%8C%29"} {"title": "ہولی (شیخ ظہور الدین حاتم)", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "مہیا سب ہے اب اسباب ہولی\nاٹھو یارو بھرو رنگوں سے جھولی\n\nادھر یار اور ادھر خوباں صف آرا\nتماشہ ہے تماشہ ہے تماشہ\n\nچمن میں دھوم و غل چاروں طرف ہے\nادھر ڈھولک ادھر آواز دف ہے\n\nادھر عاشق ادھر معشوق کی صف\nنشے میں مست و ہر یک جام بکف\n\nگلال ابرق سے سب بھر بھر کے جھولی\nپکارے یک بہ یک ہولی ہے ہولی\n\nلگی پچکاریوں کی مار ہونے\nہر اک سوں رنگ کی بوچھار ہونے\n\nکوئی ہے سانوری کوئی ہے گوری\nکوئی چمپا برن عمروں میں تھوڑی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%28%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D8%AD%D8%A7%D8%AA%D9%85%29"} {"title": "ہولی (فائز دہلوی)", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "مثنوی", "year": null, "text_ur": "آج ہے روز وسنت اے دوستاں\nسرو قد ہے بوستاں کے درمیاں\n\nباغ میں ہے عیش و عشرت رات دن\nگل رخاں بن نئیں گزرتی ایک دن\n\nسب کے تن میں ہے لباس کیسری\nکرتے ہیں صد برگ سوں لب ہم سری\n\nخوب رو سب بن رہے ہیں لال زرد\nباغ کا بازار ہے اس وقت سرد\n\nچاند جیسا ہے شفق بھیتر عیاں\nچہرہ سب کا از گلال آتش فشاں\n\nہر چھبیلی از لباس کیسری\nتازہ کرتی ہے بہار جعفری\n\nناچتی گا گا کے ہولی دم بدم\nجیوں سبھا اندر کی در باغ ارم\n\nاز کبیر و رنگ کیسر اور گلال\nابر چھایا ہے سفید و زرد و لال\n\nجیوں جھڑی ہر سو ہے پچکاری کی دھار\nدوڑتی ہیں ناریاں بجلی کے سار\n\nجوش عشرت گھر بہ گھر ہے ہر طرف\nناچتی ہیں سب تکلف بر طرف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%28%D9%81%D8%A7%D8%A6%D8%B2_%D8%AF%DB%81%D9%84%D9%88%DB%8C%29"} {"title": "ہولی (نظیر اکبر آبادی, I)", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آ دھمکے عیش و طرب کیا کیا جب حسن دکھایا ہولی نے\nہر آن خوشی کی دھوم ہوئی یوں لطف جتایا ہولی نے\nہر خاطر کو خورسند کیا ہر دل کو لبھایا ہولی نے\nدف رنگیں نقش سنہری کا جس وقت بجایا ہولی نے\nبازار گلی اور کوچوں میں غل شور مچایا ہولی نے\n\nیا سوانگ کہوں یا رنگ کہوں یا حسن بتاؤں ہولی کا\nسب ابرن تن پر جھمک رہا اور کیسر کا ماتھے ٹیکا\nہنس دینا ہر دم ناز بھرا دکھلانا سج دھج شوخی کا\nہر گالی، مصری، قند بھری، ہر ایک قدم اٹکھیلی کا\nدل شاد کیا اور موہ لیا یہ، جوبن پایا ہولی نے\n\nکچھ طبلے کھٹکے تال بجے کچھ ڈھولک اور مردنگ بجی\nکچھ جھڑپیں بین ربابوں کی کچھ سارنگی اور چنگ بجی\nکچھ تار طنبوروں کے جھنکے، کچھ ڈھمڈھی اور منہ چنگ بجی\nکچھ گھنگرو کھٹکے جھم جھم جھم کچھ گت گت پر آہنگ بجی\nہے ہر دم ناچنے گانے کا یہ تار بندھایا ہولی نے\n\nہر جاگہ تھال گلالوں سے، خوش رنگت کی گل کاری ہے\nاور ڈھیر ابیروں کے لاگے، سو عشرت کی تیاری ہے\nہیں راگ بہاریں دکھلاتے اور رنگ بھری پچکاری ہے\nمنہ سرخی سے گل نار ہوئے تن کیسر کی سی کیاری ہے\nیہ روپ جھمکتا دکھلایا یہ رنگ دکھایا ہولی نے\n\nہر آن خوشی سے آپس میں سب ہنس ہنس رنگ چھڑکتے ہیں\nرخسار گلالوں سے گل گوں، کپڑوں سے رنگ ٹپکتے ہیں\nکچھ راگ اور رنگ جھمکتے ہیں کچھ مے کے جام چھلکتے ہیں\nکچھ کودے ہیں، کچھ اچھلے ہیں، کچھ ہنستے ہیں، کچھ بکتے ہیں\nیہ طور یہ نقشا عشرت کا ہر آن بنایا ہولی نے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%28%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%2C_I%29"} {"title": "ہولی (نظیر اکبر آبادی, II)", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "پھر آن کے عشرت کا مچا ڈھنگ زمیں پر\nاور عیش نے عرصہ ہے کیا تنگ زمیں پر\nہر دل کو خوشی کا ہوا آہنگ زمیں پر\nہوتا ہے کہیں راگ کہیں رنگ زمیں پر\nبجتے ہیں کہیں تال کہیں زنگ زمیں پر\nہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر\n\nگھنگرو کی پڑی آن کے پھر کان میں جھنکار\nسارنگی ہوئی بین طنبوروں کی مددگار\nطبلوں کے ٹھکے طبل یہ سازوں کے بجے تار\nراگوں کے کہیں غل کہیں ناچوں کے بندھے تار\nڈھولک کہیں جھنکارے ہے مردنگ زمیں پر\nہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر\n\nمستی میں اٹھا آنکھ جدھر دیکھو اہاہا\nناچے ہے طوائف کہیں مٹکے ہے بھویا\nچلتے ہیں کہیں جام کہیں سوانگ کا چرچا\nاو رنگ کو گلیوں میں جو دیکھو تو ہر اک جا\nبہتی ہیں امنڈ کر جمن و گنگ زمیں پر\nہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر\n\nبھاگے ہے کہیں رنگ کسی پر جو کوئی ڈال\nوہ پوٹلی مارے ہے اسے دوڑ کے فی الحال\nیہ ٹانگ گھسیٹے ہے تو وہ کھینچے پکڑ بال\nوہ ہاتھ مروڑے تو یہ توڑے ہے کھڑا گال\nاس ڈھب کے ہر اک جا پہ مچے ڈھنگ زمیں پر\nہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر\n\nبیٹھے ہیں سب آپس میں نہیں ایک بھی کڑوا\nپچکاری اٹھا کر کوئی جھمکاوے ہے کھڑوا\nبھرتے ہیں کہیں مشک کہیں رنگ کا گڑوا\nکیا شاد وہ ہوتا ہے جسے کہتے ہیں بھڑوا\nسننے میں یہاں تک نہیں اب ننگ زمیں پر\nہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر\n\nہولی کی نظیرؔ اب جو بہاریں ہیں اہاہا\nمحبوب رنگیلوں کی قطاریں ہیں اہاہا\nکپڑوں پہ جمی رنگ کی دھاریں ہیں اہاہا\nسب ہولی ہے ہولی ہی پکارے ہیں اہاہا\nکیا عیش ہے کیا رنگ ہے کیا ڈھنگ زمیں پر\nہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%28%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%2C_II%29"} {"title": "ہولی (نظیر اکبر آبادی, III)", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ملنے کا تیرے رکھتے ہیں ہم دھیان ادھر دیکھ\nبھاتی ہے بہت ہم کو تیری آن ادھر دیکھ\nہم چاہنے والے ہیں تجرے جان ادھر دیکھ\nہولی ہے صنم ہنس کہ تُو اک آن ادھر دیکھ\nاے رنگ بھرے نو گُل خنداں ادھر دیکھ\n\nہم دیکھنے ترا یہ جمال اس گھڑی اے جاں\nآئے ہیں یہی کرکہ خیال اس گھڑی اے جاں\nتُو دل میں نہ رکھ ہم سے ملال اس گھڑی اے جاں\nمکھڑے پہ تیرے دیکھ گلال اِس گھڑی اے جاں\nہولی بھی یہی کہتی ہے اے جان ادھر دیکھ\n\nاب زرد یہ چیرا جُو تیرے سر پہ جما ہے\nاور اس پہ یہ طرہ جُو زری کا بھی دھرا ہے\nنیما بھی تیرا رنگ سے کیسر کے بھرا ہے\nپوشاک پہ تری گل صد برگ فدا ہے\nنرگس تیری آنکھوں پہ ہے قربان ادھر دیکھ\n\nہولی کی طرب ہے جُو ہر اک جا میں نمودار\nسنتے ہیں کہیں راگ کہیں مے سے ہیں سرشار\nہے دل میں ہمیں تو تیری نظروں سے سروکار\nپچکاری ہمارے تو لگا یا نہ لگا یار\nہم کو تو فقط ہے یہی ارمان ادھر دیکھ\n\nہے دھوم سے ہولی کی کہیں شور کہیں غل\nہوتا نہیں کچھ رنگ چھڑکنے میں تأمل\nدف بجتے ہیں سب ہنستے ہیں اُور دھوم ہے بالکل\nہولی کی خوشی میں تو نہ کر ہم سے تغافل\nاے جان ہمارا بھی کہا مان ادھر دیکھ\n\nہے دید کی ہر آن طلب دل کو ہمارے\nجیتے ہیں فقط تیری نگاہوں کہ سہارے\nہیں یاں جو کھڑے آن کہ اس شوق کہ مارے\nہم ایک نگہ کہ تیرے مشتاق ہیں پیارے\nٹک پیار کی نظروں سے میری جان ادھر دیکھ\n\nہر چار طرف ہولی کی دھومیں ہیں اہا ہا\nدیکھو جدھر آتا ہے نظر روز تماشا\nہر آن جھمکتا ہے عجب عیش کا چرچا\nہولی کو نظیرؔ اب تُو کھڑا دیکھے ہے یاں کیا\nمحبوب یہ آیا ارے نادان ادھر دیکھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%28%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%2C_III%29"} {"title": "ہولی (نظیر اکبر آبادی, IV)", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میاں تُو ہم سے نہ رکھ کچھ غبار ہولی میں\nکے روٹھے ملتے ہیں آپس میں یار ہولی میں\nمچی ہے رنگ کی کیسی بہار ہولی میں\nہوا ہے زور چمن آشکار ہولی میں\nعجب یہ ہند کی دیکھی بہار ہولی میں\n\nاب اس مہینے میں پہنچی ہے یاں تلک یہ چال\nفلک کا جامہ پہن سرخیٔ شفق سے لال\nبنا کہ چاند کہ سورج کہ آسماں پر تھال\nفرشتے کھیلیں ہیں ہولی بنا عبیر و گلال\nتُو آدمی کا بھلا کیا شمار ہولی میں\n\nسنا کہ ہولی جو زہرہ بجاتی ہے طبنور\nتُو اس کہ راگ سے بارہ بروج ہیں معمور\nچھوؤں ستاروں کہ اوپر پڑا ہے رنگ کا نور\nسبھوں کہ سر پہ یہ ہر دم پکارتی ہے حور\n\nجو گھر کہ ابر کبھی اس مزے میں آتا ہے\nتُو بادلوں میں وُہ کیا کیا ہی رنگ لاتا ہے\nخُوشی سے رعد بھی ڈھولک کی گت لگاتا ہے\nہوا کو ہولیاں گا گا کہ کیا نچاتا ہے\nتمام رنگ سے پر ہے بہار ہولی میں\n\nچمن میں دیکھو تُو دِن رات ہولی رہتی ہے\nشراب ناب کی گلشن میں نہر بہتی ہے\nنسیم پیار سے غنچے کا ہاتھ گہتی ہے\nتُو باغبان سے بلبل کھڑی یہ کہتی ہے\nنہ چھیڑ مُجھ کو تُو اے بد شعار ہولی میں\n\nگلوں نے پہنے ہیں کیا کیا ہی جوڑے رنگ برنگ\nکے جیسے لڑکے یہ معشوق پہنتے ہیں تنگ\nہوا سے پتوں کہ بجتے ہیں تال اُور مردنگ\nتمام باغ میں کھیلیں ہیں ہولی گُل کہ سنگ\nعجب طرح کی مچی ہے بہار ہولی میں\n\nامیر جتنے ہیں سب اپنے گھر میں ہیں خوش حال\nقبائیں پہنے ہوئے تنگ تنگ گُل کی مثال\nبنا کے گہری طرح حوض مل کہ سب فی الحال\nمچائے ہولیاں آپس میں لے عبیر و گلال\nبنے ہیں رنگ سے رنگیں نگار ہولی میں\n\nیہ سیر ہولی کی ہم نے تُو برج میں دیکھی\nکہیں نہ ہووے گی اس لطف کی میاں ہولی\nکوئی تُو ڈوبا ہے دامن سے لے کہ تا چولی\nکوئی تُو مرلی بجاتا ہے کہہ کنہیا جی\nہے دھوم دھام پہ بے اختیار ہولی میں\n\nگھروں سے سانوری اُور گوریاں نکل چلیاں\nکسنبی اوڑھنی اور مست کرتی اچھلیاں\nجدھر کو دیکھیں ادھر مچ رہی ہیں رنگ رلیاں\nتمام برج کی پریوں سے بھر رہیں گلیاں\nمزا ہے سیر ہے در ہر کنار ہولی میں\n\nجُو کچھ کہانی ہے ابلا بہت پیا ماری\nچلی ہے اپنے پیا پاس لے کے پچکاری\nگلال دیکھ کہ پھر چھاتی کھول دی ساری\nپیا کی چھاتی سے لگتی وُہ چاؤ کی ماری\nنہ تاب دِل کو رہی نے قرار ہولی میں\n\nجُو کوئی سیانی ہے ان میں تُو کوئی ہے نا کند\nوُہ شور بور تھی سب رنگ سے نپٹ یک چند\nکوئی دلاتی ہے ساتھن کو یار کی سوگند\nکے اب تُو جامہ و انگیا کہ ٹولے ہیں سب بند\nپھر آ کے کھلیں گے ہو کر دو چار ہولی میں\n\nنظیرؔ ہولی کا موسم جُو جگ میں آتا ہے\nوُہ ایسا کون ہے ہولی نہیں مناتا ہے\nکوئی تُو رنگ چھڑکتا ہے کوئی گاتا ہے\nجُو خالی رہتا ہے وُہ دیکھنے کو جاتا ہے\nجُو عیش چاہو سو ملتا ہے یار ہولی میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%28%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%2C_IV%29"} {"title": "ہولی (نظیر اکبر آبادی, V)", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جب آئی ہولی رنگ بھری سو ناز و ادا سے مٹک مٹک\nاور گھونگھٹ کہ پٹ کھول دئے وُہ روپ دکھلا چمک چمک\nکچھ مکھڑا کرتا دمک دمک کچھ ابرن کرتا جھلک جھلک\nجب پاؤں رکھا خوش وقتی سے تب پائل باجی جھنک جھنک\nکچھ اچھلیں سنتیں ناز بھریں کچھ گودیں آئیں تھرک تھرک\n\nیہ روپ دکھا کر ہولی کہ جب مین رسیلے ٹک مٹکے\nمنگوائے تھال گلالوں کہ بھر ڈالے رنگوں سے مٹکے\nپھر سانگ بہت تیار ہوئے اُور ٹھاٹھ خُوشی کہ جھر مٹکے\nغل شور ہوئے خوشحالی کہ اور ناچنے گانے کہ کھٹکے\nمردنگیں باجیں تال بجے کچھ کھنک کھنک کچھ دھنک دھنک\n\nپوشاک چھڑکواں سے ہر جا تیاری رنگیں پوشوں کی\nاور بھیگی جاگہ رنگوں سے کر کنج گلی اور کوچوں کی\nہر جاگہ زرد لباسوں سے ہوئی زینت سب آغوشوں کی\nسو عیش و طرب کی دھویں میں اُور محفل میں مے نوشوں کی\nمے نکلی جام گلابی کچھ لہک لہک کچھ چھلک چھلک\n\nہر چار طرف خُوش وقتی سے دف باجے رنگ اُور رنگ ہوئی\nکچھ دھومیں فرحت عشرت کی کچھ عیش خُوشی کہ رنگ ہوئے\nدل شاد ہوئے خوشحالی سے اُور عشرت کہ سو ڈھنگ ہوئے\nیہ جھمکی رنگت ہولی کی جُو دیکھنے والے دنگ ہوئے\nمحبوب پری رو بھی نکلے کچھ جھجک جھجک کچھ ٹھٹھک ٹھٹھک\n\nجب خوباں آئے رنگ بھرے پھر کیا کیا ہولی جھمک اٹھی\nکچھ حُسن کی جھمکیں ناز بھریں کچھ شُوخی ناز اداؤں کی\nسب چومنے والے گرد دکھڑے نظارہ کرتے ہنسی خوشی\nمحبوب نشے کی خوبی میں پھر عاشق اوپر گھڑی گھڑی\nہیں رنگ چھڑکتے سرخی کہ کچھ لپک لپک کچھ جھپک جھپک\n\nہے دھوم خوشی کی ہر جانب اُور کثرت ہے خوش وقتی کی\nہیں چرچے ہوتے فرحت کہ اور عشرت کی بھی دھوم مچی\nخوباں کہ رنگیں چہروں پر ہر آن نگاہیں ہیں لڑتی\nمحبوب بھگوئیں عاشق کو اُور عاشق ہنس کر ان کو بھی\nخوش ہو کر ان کو بھگوویں ہیں کچھ اٹک اٹک کچھ ہمک ہمک\n\nوُہ شوخ رنگیلا جب آیا یاں ہولی کی کر تیاری\nپوشاک سنہری زیب بدن اُور ہاتھ چمکتی پچکاری\nکی رنگ چھڑکنے سے کیا کیا اِس شُوخ نے ہر دم عیاری\nہم نے بھی نظیرؔ اِس چنچل کو پھر خوب بھگویا ہر باری\nپھر کیا کیا رنگ بہے اِس دم کچھ ڈھلک ڈھلک کچھ چپک چپک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%28%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%2C_V%29"} {"title": "ہولی (نظیر اکبر آبادی, VI)", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "قاتِل جُو مرا اوڑھے اِک سرخ شال آیا\nکھا کھا کہ پان ظالم کر ہونٹھ لال آیا\nگویا نکل شفق سے بدر کمال آیا\nجب منہ سے وہ پری رو مل کر گلال آیا\nاِک دم تُو دیکھ اس کو ہولی کو حال آیا\n\nعیش و طرب کا سامان ہے آج سب گھر اس کہ\nاب تو نہیں ہے کوئی دنیا میں ہمسر اس کہ\nاز ماہ تاب ماہی بندے ہیں بے زر اس کہ\nکل وقت شام سورج ملنے کو منہ پر اس کہ\nرکھ کر شفق کہ سر پر طشت گلال آیا\n\nخالص کہیں سے تازی اِک زعفران منگا کر\nمشک و گلاب میں بھی مل کر اسے بسا کر\nشیشے میں بھر کہ نکلا چپکے لگا چھپا کر\nمدت سے آرزو تھی اک دم لگا چکا کر\nاِک دن صنم پہ جا کر میں رنگ ڈال آیا\n\nارباب بزم بھر تُو وہ شاہ اپنے لے کر\nسب ہم نشین حُسب دل خواہ اپنے لے کر\nچالاک چست کافر گمراہ اپنے لے کر\nدس بیس گُل رخوں کو ہم راہ اپنے لے کر\nیُوں ہیں بھگونے مُجھ کو وُہ خوش جمال آیا\n\nعشرت کا اس گھڑی تھا اسباب سب مہیا\nبہتا تھا حُسن کا بھی اس جا پہ ایک دریا\nہاتھوں میں دلبروں کہ ساغر کسی کے شیشہ\nکمروں میں جھولیوں میں سیروں گلال باندھا\nاور رنگ کی بھی بھر کر مشک و پکھال آیا\n\nعیارگی سے پہلے اپنے تئیں چھپا کر\nچاہا کہ میں بھی نکلوں ان میں سے چھٹ چھٹا کر\nدوڑے کئی یہ کہہ کر جاتا ہے دم چرا کر\nاتنے میں گھیر مُجھ کو اور شور و غل مچا کر\nاس دم کمر کمر تک رنگ و گلال آیا\n\nیہ چہل تُو کچھ اپنی قسمت سے مچ رہی تھی\nیہ آبرو کی پردہ حرمت سے بچ رہی تھی\nکیسا سماں تھا کیسی شادی سی رچ رہی تھی\nاس وقت مرے سر پر اِک دھوم مچ رہی تھی\nاُک دھوم میں بھی مُجھ کو جُو کچھ خیال آیا\n\nلازم نہ تھی یہ حرکت اے خوش صفیر تُجھ کو\nاظہر ہے سب کہے ہیں مل کر شریر تُجھ کو\nکرتے ہیں اب ملامت خرد و کبیر تُجھ کو\nلاحول پڑھ کہ شیطان بولا نظیرؔ تُجھ کو\nاب ہولی کھیلنے کا پورا کمال آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%28%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%2C_VI%29"} {"title": "ہولی (نظیر اکبر آبادی, VII)", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ہوا جُو آ کہ نشاں آشکار ہولی کا\nبجا رباب سے مِل کر ستار ہولی کا\nسرود رقص ہوا بے شمار ہولی کا\nہنسی خُوشی میں بڑھا کاروبار ہولی کا\nزباں پہ نام ہوا بار بار ہولی کا\n\nخوشی کی دھوم سے ہر گھر میں رنگ بنوائے\nگلال عبیر کہ بھر بھر کہ تھال رکھوائے\nنشوں کہ جوش ہوئے راگ رنگ ٹھہرائے\nجھمکتے روپ کہ بن بن کہ سوانگ دکھلائے\nہوا ہجوم عجب ہر کنار ہولی کا\n\nگلی میں کوچے میں غل شور ہو رہے اکثر\nچھڑکنے رنگ لگے یار ہر گھڑی بھر بھر\nبدن میں بھیگے ہیں کپڑے گلال چہروں پر\nمچی یہ دھوم تُو اپنے گھروں سے خوش ہو کر\nتماشا دیکھنے نکلے نگار ہولی کا\n\nبہار چھڑکواں کپڑوں کی جب نظر آئی\nہر عشق باز نے دِل کی مراد بھرپائی\nنگہ لڑا کہ پکارا ہر ایک شیدائی\nمیاں یہ تم نے جُو پوشاک اپنی دکھلائی\nخوش آیا اب ہمیں نقش و نگار ہولی کا\n\nتمہارے دیکھ کہ منہ پر گلال کی لالی\nہمارے دِل کو ہوئی ہر طرح کی خوشحالی\nنگہ نے دی مئے گُل رنگ کی بھری پیالی\nجُو ہنس کہ دو ہمیں پیارے تم اس گھڑی گالی\nتو ہم بھی جانیں کہ ایسا ہے پیار ہولی کا\n\nجُو کی ہے تم نے یہ ہولی کی طرفہ تیاری\nتُو ہنس کہ دیکھو ادھر کو بھی جان یک باری\nتمہاری آن بہت ہم کو لگتی ہے پیاری\nلگا دو ہاتھ سے اپنے جو ایک پچکاری\nتو ہم بھی دیکھیں بدن پر سنگار ہولی کا\n\nتمہارے ملنے کا رکھ کر ہم اپنے دِل میں دھیان\nکھڑے ہیں آس لگا کر کے دیکھ لیں اِک آن\nیہ خُوش دلی کا جُو ٹھہرا ہے آن کر سامان\nگلے میں ڈال کہ بانہیں خوشی سے تم اے جان\nپہناؤ ہم کو بھی اِک دم یہ ہار ہولی کا\n\nادھر سے رنگ لیے آؤ تم ادھر سے ہم\nگلال عبیر ملیں منہ پہ ہو کہ خوش ہر دم\nخُوشی سے بولیں ہنسیں ہولی کھیل کر باہم\nبہت دنوں سے ہمیں تُو تمہارے سر کی قسم\nاسی اُمید میں تھا انتظار ہولی کا\n\nبتوں کی گالیاں ہنس ہنس کہ کوئی سہتا ہے\nگلال پڑتا ہے کپڑوں سے رنگ بہتا ہے\nلگا کہ تاک کوئی منہ کو دیکھ رہتا ہے\nنظیرؔ یار سے اپنے کھڑا یہ کہتا ہے\nمزا دکھا ہمیں کچھ تُو بھی یار ہولی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%28%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%2C_VII%29"} {"title": "ہولی (نظیر اکبر آبادی, VIII)", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جدا نہ ہم سے ہو اے خوش جمال ہولی میں\nکے یار پھرتے ہیں یاروں کہ تال ہولی میں\nہر ایک عیش سے ہے گا بحال ہولی میں\nبہار اور کچھ اب کہ ہے سال ہولی میں\nمزا ہے سیر ہے ہر سو کمال ہولی میں\n\nسبھوں کہ عیش کو پھاگن کا یہ مہینہ ہے\nسفید و زرد میں لیکن کمال کینا ہے\nطلا کا زرد کنے سربسر خزینہ ہے\nسفید پاس فقط سیم کا دفینہ ہے\nہر ایک دِل میں ہے رستم و زال ہولی میں\n\nکہا سفید سے آخر کو زرد نے یہ پیام\nکے اے سفید تو اب چھوڑ دے جہاں کا مقام\nمیں آیا اب تو مرا بند و بست ہوگا تمام\nتو مجھ سے آن کہ مل چھوڑ اپنی ضد کا کلام\nوگرنہ کھینچے گا تُو انفعال ہولی میں\n\nملے گا مجھ سے تُو میں تُجھ کو پھر بڑھاؤں گا\nبنا کہ آپ سا پاس اپنے لے بٹھاؤں گا\nکہا سفید نے میں مطلقاً نہ آؤں گا\nتجھی کو بعد کئی دن کے میں بھگاؤں گا\nتُو اپنا دیکھیو کیا ہوگا حال ہولی میں\n\nیہ سن کے طیش میں آ زرد کا سپہ سالار\nچڑھ آیہ فوج کو لے کر سفید پر یک بار\nادھر سفید بھی لڑنے کو ہو کہ آیا سوار\nصف مقابلہ دونوں کی جب ہوئیں تیار\nہوا کرخت جواب و سوال ہولی میں\n\nملا ادھر سے سفید اور ادھر سے زرد بہار\nگھٹائیں رنگ برنگ فوجوں کی جھکیں سرشار\nپکھالیں مشکیں چھٹیں رنگ کی پڑی پوچھار\nاور چار طرف سے پچکاریوں کی مارا مارا\nاڑا زمیں سے زماں تک گلال ہولی میں\n\nیہاں تو دونوں میں آپس میں ہو رہی یہ جنگ\nادھر سے آیا جُو اک شوخ با رخ گل رنگ\nہزاروں نازنیں معشوق اور اس کے سنگ\nنشے میں مست کھلی زلف جوڑے رنگ برنگ\nکہا کہ پُوچھو تو کیا ہے یہ حال ہولی میں\n\nکہا کسی نے کے اے بادشاہ مہ رو یاں\nسفید و زرد یہ آپس میں لڑ رہے ہیں یہاں\nیہ سن کے آپ وہ دونوں کے آ گیا درمیاں\nادھر سے تھانبا اسے اُور ادھر اس کو کہ ہاں\nتم اس قدر نہ کرو اختلال ہولی میں\n\nکہا تمہاری خصومت کا ماجرا ہے کیا\nکہا سفید نے ناحق یہ زرد ہے لڑتا\nیہ سن کہ اس نے وہیں اپنا اک منگا جوڑا\nپھر اپنے ہاتھ سے جوڑے کو چھڑکواں رنگوا\nکہا کے دونوں رہو شامل حال ہولی میں\n\nپھر اپنے تن میں جُو پہنا وہ خلعت رنگیں\nسبھوں کو حکم کیا تم بھی پہنو اب یوں ہیں\nہزاروں لڑکوں نے پہنے وُہ جوڑنے پھر ووں ہیں\nپکاری خلق کے انصاف چاہئے یوں ہیں\nہوا پھر اُور ہی حُسن و جمال ہولی میں\n\nمیاں میں کیا کہوں پھر اس مزے کی ٹھہری بہار\nجدھر کو آنکھ اٹھا کر نظر کرو اک بار\nہزاروں باغ رواں ہیں کروڑوں ہیں گلزار\nچمن چمن پڑے پھرتے ہیں سرو گُل رخسار\nعجب بہار کہ ہیں نونہال ہولی میں\n\nجو نہر حسن کی ہے موج مار چلتی ہے\nعلم لئے ہوئے آگے بہار چلتی ہے\nاگاڑی مست صف گلعذار چلتی ہے\nپچھاڑی عاشقوں کی سب قطار چلتی ہے\nبھول کہ دِل میں خُوشی کا خیال ہولی میں\n\nگلال عبیر سے کتنے بھرے ہیں چوپائے\nتمام ہاتھوں میں گڑوے بھی رنگ کے لائے\nکوئی کہے ہے کسی سے کے ہم بھی لو آئے\nتُو اس سے کہتا وہ ہنس کر کے آ مرے جائے\nہنسی خُوشی کا ہے قال و مقال ہولی میں\n\nاسی بہار سے گوکل پورے میں جا پوہنچے\nاُور منڈی نائی کی اور سید خاں کی منڈی سے\nسب عالم گنج میں شاہ گنج و تاج گنج پھرے\nہیں شہر میں نہیں اُور گرد شہر کے رہتے\nہوا ہجوم کا بحر کمال ہولی میں\n\nسبھوں کو لے کہ کناری بزار میں آئے\nپھر موتی کٹرے پلٹھی کہ لوگ سب دھائے\nکے پیپل منڈی و پنی گلی کہ بھی آئے\nجہاں تہاں سے یہ گھر گھر کہ لوگ سب دھائے\nکے بے نواؤں کے دیکھیں جمال ہولی میں\n\nہوئی جُو سب میں شریف و رذیل میں ہولی\nتُو پہلے رنگ کی پچکاریوں کی مار ہوئی\nکسی کا بھر گیا جامہ کسی کی پگڑی بھری\nکسی کہ منہ پہ لگائی گلال کی مٹھی\nتُو رفتہ رفتہ ہوئی پھر یہ چال ہولی میں\n\nگھٹائیں مشک و پکھالوں کی جھوم کر آئیں\nسنہری بجلیاں پچکاریوں کی چمکائیں\nصبا نے رنگ کی بوچھاریں آ کہ برسائیں\nہوا نے آن کہ سانون کی جھڑیاں بنوائیں\nلگی برسنے کو مشک و پکھال ہولی میں\n\nادھر گلال کا بادل بھی چھا گیا گھنگھور\nصدائے رعد ہوئی ہر کسی کا غل اور شور\nیہ لڑکے نازنیں بولیں ہیں کوکلا جوں مور\nتمام رنگ کی بوچھار سے ہیں شورابور\nعجب ہے رنگ لگی برشگال ہولی میں\n\nلگا کہ چوک سے اُور چار سو تلک دیکھا\nکے جاگہ ایک بھی تل دھرنے کی نہیں ہے ذرا\nتمام بھیڑ سے ہر طرف بند ہے رستا\nتس اوپر رنگ کا بادل ہے اس قدر برسا\nکے ہر گلی میں بہا ڈھولی کھال ہولی میں\n\nنظیرؔ ہولی تُو ہے ہر نگر میں اچھی خوب\nولیک ختم ہوا آگرے پہ یہ اسلوب\nکہاں ہیں ایسے صنم اُور کہاں ہیں یہ محبوب\nجنہوں کہ دیکھے سے عاشق کا ہووے تازہ قلوب\nتیری نرالی ہے یاں چال ڈھال ہولی میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%28%D9%86%D8%B8%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%A8%D8%B1_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C%2C_VIII%29"} {"title": "ہولی کی بہاریں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی\nاور دف کے شور کھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی\nپریوں کے رنگ دمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی\nخم، شیشے، جام، جھلکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی\nمحبوب نشے میں چھکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی\n\nہو ناچ رنگیلی پریوں کا بیٹھے ہوں گل رو رنگ بھرے\nکچھ بھیگی تانیں ہولی کی کچھ ناز و ادا کے ڈھنگ بھرے\nدل بھولے دیکھ بہاروں کو اور کانوں میں آہنگ بھرے\nکچھ طبلے کھڑکیں رنگ بھرے کچھ عیش کے دم منہ چنگ بھرے\nکچھ گھنگھرو تال چھنکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی\n\nسامان جہاں تک ہوتا ہے اس عشرت کے مطلوبوں کا\nوہ سب سامان مہیا ہو اور باغ کھلا ہو خوابوں کا\nہر آن شرابیں ڈھلتی ہوں اور ٹھٹھ ہو رنگ کے ڈوبوں کا\nاس عیش مزے کے عالم میں ایک غول کھڑا محبوبوں کا\nکپڑوں پر رنگ چھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی\n\nگل زار کھلے ہوں پریوں کے اور مجلس کی تیاری ہو\nکپڑوں پر رنگ کے چھینٹوں سے خوش رنگ عجب گل کاری ہو\nمنہ لال، گلابی آنکھیں ہوں، اور ہاتھوں میں پچکاری ہو\nاس رنگ بھری پچکاری کو انگیا پر تک کر ماری ہو\nسینوں سے رنگ ڈھلکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی\n\nاس رنگ رنگیلی مجلس میں وہ رنڈی ناچنے والی ہو\nمنہ جس کا چاند کا ٹکڑا ہو اور آنکھ بھی مے کے پیالی ہو\nبد مست بڑی متوالی ہو ہر آن بجاتی تالی ہو\nمے نوشی ہو بے ہوشی ہو \"بھڑوے\" کی منہ میں گالی ہو\nبھڑوے بھی، بھڑوا بکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی\n\nاور ایک طرف دل لینے کو محبوب بھویوں کے لڑکے\nہر آن گھڑی گت بھرتے ہوں کچھ گھٹ گھٹ کے کچھ بڑھ بڑھ کے\nکچھ ناز جتاویں لڑ لڑ کے کچھ ہولی گاویں اڑ اڑ کے\nکچھ لچکے شوخ کمر پتلی کچھ ہاتھ چلے کچھ تن بھڑکے\nکچھ کافر نین مٹکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی\n\nیہ دھوم مچی ہو ہولی کی اور عیش مزے کا جھکڑ ہو\nاس کھینچا کھینچ گھسیٹی پر بھڑوے رنڈی کا پھکڑ ہو\nمعجون، شرابیں، ناچ، مزہ، اور ٹکیا سلفا ککڑ ہو\nلڑ بھڑ کے نظیرؔ بھی نکلا ہو، کیچڑ میں لتھڑ پتھڑ ہو\nجب ایسے عیش مہکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے", "poet_page": "مصنف:قابل اجمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے\nوحشت بڑے دلچسپ دوراہے پہ کھڑی ہے\n\nدل رسم و رہ شوق سے مانوس تو ہو لے\nتکمیل تمنا کے لیے عمر پڑی ہے\n\nچاہا بھی اگر ہم نے تری بزم سے اٹھنا\nمحسوس ہوا پاؤں میں زنجیر پڑی ہے\n\nآوارہ و رسوا ہی سہی ہم منزل شب میں\nاک صبح بہاراں سے مگر آنکھ لڑی ہے\n\nکیا نقش ابھی دیکھیے ہوتے ہیں نمایاں\nحالات کے چہرے سے ذرا گرد جھڑی ہے\n\nکچھ دیر کسی زلف کے سائے میں ٹھہر جائیں\nقابلؔ غم دوراں کی ابھی دھوپ کڑی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%86%D9%B9%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%81_%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D9%84%DA%91%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہوویں برعکس بھلا کیوں نہ وہ اغیار سے خوش", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوویں برعکس بھلا کیوں نہ وہ اغیار سے خوش\nکسی معشوق کو دیکھا نہ وفادار سے خوش\n\nہر دعا پر ہمیں دشنام میسر ہے کہاں\nشامت نفس ہے گر ہوویں نہ سرکار سے خوش\n\nنقد دل بھی جو کوئی دے کے نہ مانگے بوسہ\nوہ ہوا کرتے ہیں بس ایسے خریدار سے خوش\n\nغور سے میں نے جو دیکھا تو کہیں عالم میں\nکوئی ہوگا نہ زیادہ ترے بیمار سے خوش\n\nکیا عجب مجھ سے خفا ہووے اگر وہ عارفؔ\nکسی معشوق کو دیکھا نہ وفادار سے خوش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%88%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%B4"} {"title": "ہووے وہ شوخ چشم اگر مجھ سے چار چشم", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہووے وہ شوخ چشم اگر مجھ سے چار چشم\nقرباں کروں میں چشم پر اس کے ہزار چشم\n\nمدت ہوئی پلک سے پلک آشنا نہیں\nکیا اس سے اب زیادہ کرے انتظار چشم\n\nجس رنگ سے ہو ابر سفید و سیاہ و سرخ\nاس طرح کر رہے ہیں تمہارے بہار چشم\n\nسوتے سے نام سن کے مرا یار جاگ اٹھا\nبختوں کے کھل گئے مرے بے اختیار چشم\n\nجاگے ہو رات یا یہ نشے کا اتار ہے\nجو صبح کر رہے ہیں تمہارے خمار چشم\n\nظالم خدا کے واسطے حاتمؔ کو منہ دکھا\nمدت سے دیکھنے کے ہیں امیدوار چشم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%DA%86%D8%B4%D9%85"} {"title": "ہوٹل", "poet_page": "مصنف:رتن ناتھ سرشار", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "میاں آزاد، خانہ برباد، یہاں بستر جمانے یا کسی مکان کا قبالہ لکھوانے تو آئے تھے نہیں۔ راہ راہ آئے دو تین دن رہے، چلے گئے۔ لکھنؤ کے اسٹیشن پر پہنچے تو وہ چہل پہل، وہ بھیڑ بھڑکا، وہ دھکم دھکا کہ شانہ سے شانہ چھلتا تھا۔ برہمن دیوتا ڈول لئے کھٹ کھٹاتے چلے جاتے ہیں۔ جل ٹھنڈے، کٹورا الگ کھنک رہا ہے۔ میاں بہشتا مشک یا مشکیزہ لیے ہوئے چہل قدمی کر رہے ہیں۔ ایک سمت ساقی، دوسرا خمیرہ بھر کر گڑگڑی لئے گڑگڑا رہا ہے۔ وہ مشک بو کہ دماغ طبلہ عطار ہو جائے۔ چبوترے کے سامنے کمہار برتن چن کر بیٹھا بیچ رہا ہے۔ مٹی کے کھلونوں پر وہ جوبن کہ باہر والے بصد شوق خرید لے جاتے ہیں۔ خریداروں پر خریدار ٹوٹے پڑتے ہیں۔ پیسا پھینکا اور حقہ لیا۔ ادھر میاں بہشتا نے تازہ کر دیا اور ساقی نے چلم تیار کی، دھواں دھار اڑانے لگے۔\n\nکھٹک نے آواز لگائی۔ گلابی میوہ شہتوت، امرس ہے آم کے رسوں کا، قلمی آم کے رسوں کا۔ فقیر محمد خان کے باغ کا سفیدہ، بنارس کا لنگڑا، چار باغ کا بمبئی رنگترے، سنگ ترے، کوئے، انناس، نارنگیاں، شریفہ، امرود، سیب جو چاہے خرید لیجئے۔ ایک طرف حلوائی کی دکان، مٹھائی کے خوان، برفی کے تھال، ورق نقرہ لگے ہوئے پستے کی ہوائیاں۔ لوہے کے چراغ لٹکے ہوئے ہیں۔ دکان جھک جھک کر رہی ہے۔ اتنے میں آواز آئی، بسکٹ لے لوبسکٹ، کباب، کلچے۔ ادھر ادھر گھومے تو ٹوپی والا سامنے آن موجود ہوا۔ دوپلی ٹوپیاں، شربتی جامدانی، چکن، مری کے کام کی کڑھی، منڈیل گول ٹوپی، نئے نئے فیشن نرالی اور انوکھی وضع کی ٹوپیاں جھڑاجھڑ دکھا رہا ہے اور گاہک پر گاہک بہ بصد شوق دام چکا رہا ہے۔ دس پانچ ہاتھوں ہاتھ بک گئیں۔ دور دور تک مسافر بستر جمائے کوئی زین پوش، کوئی دری بچھائے، ریل کی راہ تک رہا ہے۔ کوئی گنوار اکڑوں بیٹھا اناپ شناپ بک رہا ہے۔ میاں آزاد اپنے دل میں سوچے کہ اللہ اللہ ریل کا اسٹیشن کیا ہے۔ خاصا میلہ ہے، کچھ ٹھکانا ہے۔ یہ بھیڑ، یہ دھوم، یہ رونق، بھئی واہ رے لکھنؤ، واللہ ایسا اسٹیشن بھی نہیں دیکھا۔ میاں آزاد ٹہلتے ہوئے اسٹیشن کے اندر گئے۔ ہوٹل دیکھا تو باچھیں کھل گئیں۔ اہوہوہو کیا صاف و شفاف ہے۔ ہر شے قرینے سے چنی ہوئی، در و دیوار سے صفائی برس رہی ہے۔ ہر سمت نور کا عالم ہے۔ اس سرے سے اس سرے تک میز اور اس کے ارد۔گرد کرسیاں۔ گلاس چنے ہوئے۔ لیمپ اور کنول ہر طرف روشن ہیں۔ میاں آزاد بھی کرسی پر جا کر ڈٹ گئے، کھانا لاؤ مگر شراب کا لگاؤ نہ ہو اور لحم خوک قریب نہ آنے پائے۔ایک چپراسی صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے چوبداروں کی سی پگڑی باندھے ہوئے سامنے آن کھڑا ہوا۔ حضور شراب تو نہ ہوگی مگر اور کیا آپ نے حکم دیا۔ میاں آزاد نے کہا لحم خوک (آہستہ سے) یعنی سور کا گوشت نہ ہو۔ (چپراسی) نا حضور کیا مجال۔ یہ کہہ کر چپراسی نہایت ہی قیمتی بیش بہا پلٹیوں میں طرح طرح کا انگریزی کھانا لایا۔ میاں آزاد نے چھری کانٹے سے خوب مزے سے چکھا اور سوڈا واٹر اور لیمونیڈ پیا اور باہر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ میاں خوجی بستر جمائے ہوئے پراٹھے اور کباب کلچے چکھ رہے ہیں۔ آزاد واہ استاد تم تو خوب مزے سے کباب اڑا رہے ہو۔ خوجی پھر کوئی شراب اڑائے، کوئی کباب کھائے۔ آزاد ایں! شراب! لاحول و لاقوۃ۔ اے میاں شراب کس نے منہ سے لگائی، یہ کس کی شامت آئی۔ یہاں دخت رز سے واسطہ ہی نہیں رکھتے، بنت العنب کے عاشق دلدادہ کوئی اور ہی ہوں گے۔ کردم زشراب ناب توبہ۔ خوجی اور آگے تو کہے، کردم زشراب ناب توبہ۔ اور آگے، وز کردہ ناصواب توبہ۔ آزاد قسم قرآن کی کس مردک نے شراب کا ایک قطرہ بھی چھوا ہو۔ شراب پی ہو تو سور ہی کا گوشت کھایا ہو! خوجی (مسکرا کر) تسلیم ایک نہ شد دو شد۔ آپ نے سور کا گوشت بھلا کب چھوڑا ہوگا۔ واللہ مانتا ہوں۔ کہنے لگے شراب پی ہو تو سور کا گوشت کھایا ہو۔ معقول! یہ تو آپ تب کہیں جب اس کو حرام یا مکروہ بھی سمجھیں۔ آپ دونوں کو حلال اور ان کے استعمال کو مستحسن سمجھتے ہیں۔ یار آج تو تم نے غضب ہی کر دیا۔ آزاد ارے بھئی، آخر کیا کیا، کچھ کہوگے بھی یا ملاحی سنائے جاؤگے۔ سبحان اللہ، قسم لو جو ہم نے شراب کو ہاتھ بھی لگایا ہو یا سور کے گوشت کی صورت بھی دیکھی ہو۔ خوجی ہاں یہ آپ نے خوب کہی کہ سور کے گوشت کی صورت نہیں دیکھی ہوگی مگر یار مزہ تو خوب چکھا ہوگا اور شراب کو ہاتھ آپ کیوں لگاتے، گلے لگائی ہوگی، گلے! اور آپ کی قسم کا کس مردود کو اعتبار ہے۔ قسم کو تو آپ مانتے ہی نہیں۔ مجھے آج تک یہی نہیں معلوم ہوا کہ آپ کا دین ایمان کیا ہے۔ تمہارا تو بابا آدم ہی نرالا ہے۔ خیر جی اپنی اپنی سب بھگت لیں گے، ہم کواس بکھیڑے سے کیا واسطہ۔آزاد نہ ہاری مانتے ہو نہ جیتی۔خوجی مانیں کیا خاک۔ مانیں کیا، ہم نے اپنی آنکھوں دیکھا چھری کانٹا کھٹا کھٹ چل رہا ہے۔آزاد تو بھائی چھری کانٹے سے کوئی شراب پیتا ہے۔ خوجی ہم کیا جانیں، ہماری جانے جوتی کہ شراب کیوں کر پیتے ہیں۔ یہ کسی اپنے ایسے مے گسار بادہ خوار سے تحقیقات کیجئے۔ افسوس، واللہ بس تم گئے گزرے۔ ہائے ستم خیر مضی ما مضی۔ آزاد آپ ایک کام کیجئے ہوٹل میں جاکر۔ خوجی اے لاحول۔ اے لاحول۔ خدا ایسی جگہ کسی سچے اور پکے مسلمان کو نہ لے جائے۔ توبہ توبہ (اپنے کان پکڑ کر) خداوند بچائیو۔ گنہگار بندہ ہوں۔ ارے توبہ۔ ہوٹل میں اور ہم جائیں۔ لاحول و لاقوۃ، بس آپ کی کو مبارک رہے قبلہ، بندہ در گزرا۔ میاں آزاد ٹہلنے لگے اور خوجی نے کباب اور کلچوں پر خوب ہتھے لگائے۔ جب صفا چٹ کر چکے تو حلوائی کی دکان سے برفی لائے اور افیون کے نشے میں ٹونگارنے لگے تو اتنے میں ایک صاحب باریش دراز ایک مشت و پنجاہ انگشت نے میاں آزاد کو مخاطب کر کے کہا کہ کیوں حضرت آپ کا اسم مبارک۔ یہ بولے میاں آزاد۔ وہ مسکرائے اور کہا ہاں واللہ۔ آپ کے قد و قامت اور وضع قطع پر یہ نام موزوں ہے۔ آزادی اور آزادہ روی صورت سے برستی ہے۔ ملت کیا ہے؟ آزاد نے کہا، از مذہبم مپرس نہ مومن نہ کافرممن رسم ایں دیار ندانم مسافرمحضرت بندہ مسلمان ہے اور مسلم ایمان ہے۔ پابند شرع۔ آپ کا اسم شریف جناب مولوی صاحب۔مولوی صاحب اسم شریف تو چھپر پر رکھئے، اس وقت مجھے افسوس کرنے دیجئے۔ آزاد بسم اللہ آپ افسوس کر لیجئے بلکہ رو دیجئے مگر سنیے تو سہی۔ محرم الحرام کے دن قریب ہیں، خوب پیٹ بھر کر رو لیجئےگا۔ ایسی بے تابی کیا ہے۔ مولوی صاحب آپ مسلمان اور پابند شرع اپنے آپ کو بتاتے ہیں اور ہوٹل میں جاکر شراب خانہ استعمال میں لاتے ہیں۔ عیاذاً باللہ۔ مرد خدا، آخر انجام کی بھی فکر ہے یا سگ دنیاہی بنے رہوگے۔ آزاد قبلہ بس اب کیا کہوں بجز سکوت کے اور کوئی کلمہ زبان پر نہیں آنے پاتا۔ لاحول و لاقوۃ۔ مولوی صاحب بے ادبی معاف۔ لاحول تو آپ اپنے ہی اوپر پڑھتے ہیں۔ آپ سے حرکت شیطانی ہی ایسی ہوئی مگر بحمد اللہ کہ آپ کا نفس لوامہ آپ کو ملامت تو کرتا ہے۔ آزاد مولانا خدا کی قسم۔ میں نے ہوٹل میں صرف کھانا کھایا مگر وہ اغذیہ جو شرع کی رو سے حرام نہیں۔ پس نظر انصاف سے دیکھئے تو اس میں قباحت ہی کیا ہے۔ آخر روم میں بھی تو صغیر و کبیر اور بڑے بڑے علماء تحریر عیسائیوں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ پھر یہاں ہندوستان کے مسلمان اس کو داخل گناہ کیوں سمجھنے لگے۔ میں نے کیا کفر کیا کہ مردود اور مطرود اور زندیق اور ملحد اور مرتد بنایا جاتا ہوں۔ مولوی صاحب مجھ سے سنئے میں عرض کروں نا، ہوٹل میں جانا اہل اسلام کے لئے مستحن نہیں۔ جو کھانا آپ نے ہوٹل میں چکھا ہے۔ اگر باہر منگوا کر اور فرش بچھوا کر چکھتے تو چنداں مضائقہ نہ تھا۔ گو یہ بھی معیوب تھا مگر اس درجہ نہیں، پھر آپ لاکھ قسمیں کھائیے۔ یقین کس ملعون کو آئے گا کہ آپ نے شراب نہیں پی یا سور کا گوشت نہیں کھایا۔ کاجل کی کوٹھی میں جو جائےگا، وہ منہ کالا کر کے آئےگا۔ کوئلوں کی دلالی میں ہاتھ کالے ہی ہوتے ہیں۔ رومی لاکھ عیسائیوں کے ساتھ لقمے لگائیں اور بے تکلفی سے کھائیں، ہم کو تو ایسا نہ چاہئے۔ ہمارے رسوم کے خلاف ہے۔ آپ کو روم میں رہنا ہے یا ہندوستان میں۔ روم کی بات روم کے ساتھ ہے، ہندوستان اور ہندوستانیوں کے خیالات کا تذکرہ ہے یا روم اور رومیوں کی عادات کا۔ آخر باہر بھی تو کباب کلچے، شیرمال، پراٹھے، باقرخانی، روغنی روٹی، بسکٹ سب ہی کچھ بکتا ہے، پھر وہاں کھانے میں کون سی بہتری تھی۔ مفت میں اپنے آپ کو نکو بنانا اور ہنسوانا کون سی دانائی ہے۔ آزاد حضرت وہاں اول تو کھانا عمدہ اور لذیذ۔ دوسرے مقام صاف و شفاف۔ جس لطف سے ہم نے وہاں کھانا کھایا، وہ یہاں کجا، قلی کھڑا، صاف ستھرا پنکھا جھل رہا ہے۔ پلیٹیں صاف، میز شفاف، چار چار چپراسی خدمت کے لئے کھڑے ہیں۔ یہاں یہ باتیں کجا، لاحول و لاقوۃ۔\n\nمولوی صاحب کھانا عمدہ تو آپ سمجھتے ہوں گے۔ باقی رہا پنکھا ایک پیسہ دے دیجئے، گھنٹہ بھر پنکھا جھلوا لیجئے اور صفائی کو مسافرت سے کیا کام۔ سوائے ازیں یہاں بھی کوئی غلیظ شئے نہیں ہے۔ یوں وحشت کی بات ہی کچھ اور ہے۔ خیر حضرت آپ جانیں آپ کا کام جانے، نصیحت گوش کن جاناں کہ از جاں دوست تر دارندجوانان سعادت مند پند پیر دانا رامانو یا نہ مانو، اس سے یہاں غرض نہیں۔ ماننا نہ آپ کے ہاتھ ہے، ہم نے کہہ دیا۔ میاں آزاد نے اپنے دل میں سوچا کہ آج سے ایسی حماقت نہ کریں گے کہ ڈنکے کی چوٹ پر ہوٹل میں جائیں اور مفت میں اپنے آپ کو ہنسوائیں۔ یوں تو ہمیں اختیار ہے کہ چاہے ہوٹل میں جائیں یا جو کھائیں مگر خاموشی کے ساتھ۔ یہ نہیں اسٹیشن بھر میں گھومتے پھریں کہ ہم بھی ہیں پانچویں سواروں میں۔ خوجی کیوں بھلا خیر۔ ایک ہمیں کو آپ الو بناتے تھے۔ اب تو ایک مولوی صاحب نے آپ کو قائل کر دیا۔ ہات تیرے کی اور ہوٹل میں کھاؤ۔", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%D9%B9%D9%84"} {"title": "ہوگی وہ دل میں جو ٹھانی جائے گی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوگی وہ دل میں جو ٹھانی جائے گی\nکیا ہماری بات مانی جائے گی\n\nڈھل چکی ہے اب جوانی جائے گی\nیہ شراب ارغوانی جائے گی\n\nبعد توبہ آتش سیال خم\nمیرے گھر سے ہو کے پانی جائے گی\n\nخضر یوں ہی گم رہیں گے عمر بھر\nیوں ہی عمر جاودانی جائے گی\n\nتیغ ہی کیا ہاتھ میں قاتل کے تھی\nاے حنا تو بھی تو سانی جائے گی\n\nآئے تارے ہجر کی شب کچھ نظر\nاب بلائے آسمانی جائے گی\n\nعرش پر ہے خوش جمالوں کا مزاج\nکیوں کر ان کی لن ترانی جائے گی\n\nخدمت میخانہ کر لے ورنہ شیخ\nرائیگاں یہ زندگانی جائے گی\n\nموت سے بد تر بڑھاپا آئے گا\nجان سے اچھی جوانی جائے گی\n\nشوخیاں کہتی ہیں کھل کھلیں گے وہ\nاب حیا کی پاسبانی جائے گی\n\nآگ بن کر جام میں آئے گی مے\nزمزمی میں ہو کے پانی جائے گی\n\nبوسۂ گیسو سے ہیں چیں بہ جبیں\nرات بھر کیا سرگرانی جائے گی\n\nبولے سن کر دل کے پامالی کا حال\nکس گلی کی خاک چھانی جائے گی\n\nجان سے بڑھ کر اسے رکھتے عزیز\nکیا سمجھتے تھے جوانی جائے گی\n\nساتھ لائے ہیں قفس سے ناتواں\nجاتے جاتے ناتوانی جائے گی\n\nنالے کرنا سیکھ لے اے عندلیب\nاب یہ طرز نغمہ خوانی جائے گی\n\nشیخ نے مانگی ہے اپنی عمر کی\nمیکدے سے اب پرانی جائے گی\n\nجا چکے ہیں آپ کل دشمن کے گھر\nآج مرگ ناگہانی جائے گی\n\nپینے آئیں تو فرشتہ خو ریاضؔ\nحور کے دامن میں چھانی جائے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "ہوں تیرے تصور میں مری جاں ہمہ تن چشم", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوں تیرے تصور میں مری جاں ہمہ تن چشم\nدل ہے مرا جوں آئینہ حیراں ہمہ تن چشم\n\nتا ایک نظر دیکھے تجھے اے مہ تاباں\nرہتا ہے سدا مہر درخشاں ہمہ تن چشم\n\nآنکھوں کو ملے تاکہ ترے پاؤں کے نیچے\nہر نقش قدم سے ہے بیاباں ہمہ تن چشم\n\nدیوانگی میری کے تحیر میں شب و روز\nہے حلقۂ زنجیر سے زنداں ہمہ تن چشم\n\nاس آئینہ رو کے ہے تصور میں نظیرؔ اب\nحیرت زدہ نظارہ پریشاں ہمہ تن چشم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%81_%D8%AA%D9%86_%DA%86%D8%B4%D9%85"} {"title": "ہوں دفن مر کے کوچۂ جاناں کے سامنے", "poet_page": "مصنف:منشی شیو پرشاد وہبی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کلیات وہبی (1870)", "year": "1870", "text_ur": "ہوں دفن مر کے کوچۂ جاناں کے سامنے\nبلبل کا آشیاں ہو گلستاں کے سامنے\n\nشرمائے اشک خوں سے گل تر بہار میں\nرنگ چمن اڑا مرے داماں کے سامنے\n\nقمری کو پا بہ گل نظر آتا ہے شرم سے\nشمشاد میرے سرو خراماں کے سامنے\n\nگر خط سبز لب پہ ترے خضر دیکھ پائے\nپھر منہ کرے نہ چشمۂ حیواں کے سامنے\n\nنظروں میں جوہری کے خذف ریزے بن گئے\nلعل جگر ترے لب و دنداں کے سامنے\n\nدیکھے جو اس پری سے مجھے گرم اختلاط\nبلقیس منہ کرے نہ سلیماں کے سامنے\n\nموسیٰ نہیں جو آنکھ جھپک جائے گی مری\nآئیں حضور دیدۂ حیراں کے سامنے\n\nروتے ہیں ہم ادھر وہ ادھر سنتے ہیں کھڑے\nبجلی چمک رہی ہے یہ باراں کے سامنے\n\nصدقے وہ سر کے ہوگا ابھی کیسی ہمسری\nکھولو تو بال سنبل پیچاں کے سامنے\n\nگھنڈی پہ ہو قبا کے نثار اختر فلک\nسجدے کرے ہلال گریباں کے سامنے\n\nآگے مرے رقیب کو دیتے ہو گالیاں\nفقرے یہ کیجئے کسی ناداں کے سامنے\n\nاے گل چمن میں بات کی بلبل کو کیا مجال\nغنچے نہ کھولیں منہ لب خنداں کے سامنے\n\nموسیٰ کی طرح تم کو بھی آئے نہ غش کہیں\nوہبیؔ نہ جاؤ عارض تاباں کے سامنے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%81%D9%86_%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%82_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92"} {"title": "ہوں شیخ مصحفی کا میں حیران شاعری", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوں شیخ مصحفی کا میں حیران شاعری\nاللہ مفلسی میں یہ کچھ شان شاعری\n\nروندا اسے تمام مرے رخش کلک نے\nسودا سے بچ رہا تھا جو میدان شاعری\n\nمیں اور لے کے سودہ نمک اس میں بھر دیا\nتھا اس کا کم نمک جو نمکدان شاعری\n\nہندوستاں کے گردن خورد و بزرگ پر\nہے سچ تو یہ مرا ہی ہے احسان شاعری\n\nپیرو ہیں میری طرز کے یاں چھوٹے اور بڑے\nملک سخن کا ہوں میں سلیمان شاعری\n\nرہتے ہیں اینچا تانی میں اب اس کے اور یار\nتھا ہاتھ میں مرے جو گریبان شاعری\n\nرکھتی ہے نوک خامۂ جادو رقم ہنوز\nمژگان تر سے تازہ گلستان شاعری\n\nموندی جو آنکھ میں نے تو چشم زمانہ سے\nچھپ جائے گا وونہی مہ تابان شاعری\n\nمیں ابتدائے عمر میں مدت تلک بہت\nچھانا ہے فارسی کا صفاہان شاعری\n\nبعد اس کے ریختے کی بھی رکھی ہے وہ بنا\nحیراں ہیں جس کے نقش طرازان شاعری\n\nکچھ کچھ کہے ہیں پھر عربی میں جو شعر و نظم\nاس میں بھی بن گیا ہوں میں سحبان شاعری\n\nدن رات میرے ناخن نوک قلم میں ہیں\nلاکھوں طریق و شیوہ و عنوان شاعری\n\nہر سفلہ کا دہن یہ نہیں ہے کہ ہو سکے\nمیرے سوائے شمع شبستان شاعری\n\nجس روز میرے جسم سے نکلے گی میری جاں\nیہ جانیو تو آج گئی جان شاعری\n\nلاکھوں ترانہ سنج ہوئے اس کے ریزہ چیں\nاے مصحفیؔ مرا ہی ہے وہ خوان شاعری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D9%85%D8%B5%D8%AD%D9%81%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ہوں میں بھی تماشائی نیرنگ تمنا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوں میں بھی تماشائی نیرنگ تمنا\nمطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%8C%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7"} {"title": "ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو\nجان دینے کو ہوں موجود کوئی بات تو ہو\n\nدل بھی حاضر سر تسلیم بھی خم کو موجود\nکوئی مرکز ہو کوئی قبلۂ حاجات تو ہو\n\nدل تو بے چین ہے اظہار ارادت کے لیے\nکسی جانب سے کچھ اظہار کرامات تو ہو\n\nدل کشا بادۂ صافی کا کسے ذوق نہیں\nباطن افروز کوئی پیر خرابات تو ہو\n\nگفتنی ہے دل پر درد کا قصہ لیکن\nکس سے کہیے کوئی مستفسر حالات تو ہو\n\nداستان غم دل کون کہے کون سنے\nبزم میں موقع اظہار خیالات تو ہو\n\nوعدے بھی یاد دلاتے ہیں گلے بھی ہیں بہت\nوہ دکھائی بھی تو دیں ان سے ملاقات تو ہو\n\nکوئی واعظ نہیں فطرت سے بلاغت میں سوا\nمگر انسان میں کچھ فہم اشارات تو ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%85%DA%AF%D8%B1_%D8%B4%D9%85%D8%B9_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88"} {"title": "ہوں وہ مومن جسے ایماں سے سروکار نہیں", "poet_page": "مصنف:شاہ اکبر داناپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوں وہ مومن جسے ایماں سے سروکار نہیں\nوہ برہمن ہوں جسے حاجت زنار نہیں\n\nگنگ وہ کان جو وقف سخن یار نہیں\nکور وہ آنکھ جسے حسرت دیدار نہیں\n\nکفر سے کام نہ ایمان سے مطلب ہے ہمیں\nدونوں عالم سے بجز تیرے سروکار نہیں\n\nکیا خبردار کرے گا تو ہمیں او زاہد\nآپ تو اپنی حقیقت سے خبردار نہیں\n\nکب ترے جلوۂ دیدار نے حیران کیا\nکون سا دن ہے کہ ہم نقش بہ دیوار نہیں\n\nسرفروشی صفت کوہ کن آخر میں ہے\nعشق پہلے تو بہت سہل ہے دشوار نہیں\n\nدہن گور سے آتی ہے صدا میت کو\nآج ہمدم نہیں تیرا کوئی غم خوار نہیں\n\nدیکھ کر اس کو یہ ہوں محو برنگ تصویر\nہے زباں منہ میں مگر طاقت گفتار نہیں\n\nچشم دل کھول اگر ہے طلب دید اکبرؔ\nنظر آئے گا ان آنکھوں سے وہ دیدار نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D8%B1%D9%88%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہوں کالبد خاک میں مہماں کوئی دن اور", "poet_page": "مصنف:نہال سیوہاروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوں کالبد خاک میں مہماں کوئی دن اور\nقسمت میں ہے پابندیٔ زنداں کوئی دن اور\n\nہے دفتر عالم کو ضرورت ابھی میری\nکرنی ہے مجھے خدمت عنواں کوئی دن اور\n\nآنے ہی کو ہے موسم گل خیر منا لے\nداماں کوئی دن اور گریباں کوئی دن اور\n\nاے ابر یوں ہی قطرۂ فشاں رہ ابھی کچھ روز\nمے خواروں پہ ہوتا رہے احساں کوئی دن اور\n\nآمادۂ رخصت ہے مرا عہد جوانی\nخاطر کا لہو چوس لے ارماں کوئی دن اور\n\nکچھ روز ٹھہر اور بھی اے شمع شب افروز\nپر نور رہے میرا شبستاں کوئی دن اور\n\nکیوں روکش عالم ہے نہال جگر افگار\nرہنا تھا نوا سنج غزلخواں کوئی دن اور", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%AF_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%81%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "ہوں کیوں نہ بتوں کی ہم کو دل سے چاہیں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہوں کیوں نہ بتوں کی ہم کو دل سے چاہیں\nہیں ناز و ادا میں ان کو کیا کیا راہیں\nدل لینے کو سینے سے لپٹ کر کیا کیا\nڈالے ہیں گلے میں پتلی پتلی باہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہوں گے دل و جگر میں نشاں دیکھ لیجئے", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہوں گے دل و جگر میں نشاں دیکھ لیجئے\nتیر نظر پڑے ہیں کہاں دیکھ لیجئے\n\nباغ جناں میں لطف اذیت بھلا کہاں\nدنیا میں سیر جور بتاں دیکھ لیجئے\n\nآہیں نکل رہی ہیں دل درد ناک سے\nفوج غم و الم کا نشاں دیکھ لیجئے\n\nپردے ہی سے نہ آئیں وہ باہر تو پھر انہیں\nکس طرح دیکھ لیجے کہاں دیکھ لیجئے\n\nہندوستاں سے چلئے سوئے کربلا نسیمؔ\nواں چل کے سیر باغ جناں دیکھ لیجئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہوے خلق جب سے جہاں میں ہم ہوس نظارۂ یار ہے", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "ہوے خلق جب سے جہاں میں ہم ہوس نظارۂ یار ہے\nٹھہر اے اجل کہ وہ آئیں گے دم واپسیں کا قرار ہے\n\nرہیں محو کیوں نہ ہر ایک دم کہ نظر میں جلوۂ یار ہے\nدل منتظر ہے جو آئنہ تو خیال آئنہ دار ہے\n\nیہ خطائے عشق کی دی سزا کہ مژہ سے مردم چشم نے\nمرا دل دکھا کے یہ کہہ دیا اسے لو یہ قابل دار ہے\n\nیہ خدا ہی جانے وہ کون تھا جو شہید ناز و ادا ہوا\nکہ اڑی ہے خاک رہ صنم تو خزاں میں رنگ بہار ہے\n\nہوئیں ترک ساری محبتیں مرے سر پہ ڈھائی ہیں آفتیں\nیہی دل کے لینے میں شرط تھی یہی مجھ سے قول و قرار ہے\n\nیہ جنوں کی دیکھیے پختگی جو کبھی کسی نے نہ ہو سنی\nمرے پیرہن کا جو تار ہے وہ ہر ایک ریشۂ خار ہے\n\nکوئی دل کی نکلی نہ آرزو ہوا رنج و غم سے جگر لہو\nپھرے خاک چھانتے کو بہ کو نہ تو صبر ہے نہ قرار ہے\n\nپس مرگ بھی ہیں وہی ستم ہیں جفائیں روح پہ دم بدم\nادھر آتے آتے وہ پھر گئے جو سنا کہ میرا مزار ہے\n\nمرے سینہ کو نہ ہدف کرو تپش جگر سے ڈرے رہو\nپر مرغ تیر نہ جل اٹھیں کہ لہو برنگ شرار ہے\n\nوہ خوشی دکھائی نہ چرخ نے کہ عوض میں جس کے نہ غم دئے\nکبھی فرش گل ہے جو ایک شب تو مہینوں بستر خار ہے\n\nجسے درد نالہ و آہ ہے جو شہید تیغ نگاہ ہے\nشب ہجر اس کی گواہ ہے وہ حبیبؔ سینہ فگار ہے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%88%DB%92_%D8%AE%D9%84%D9%82_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%B3_%D9%86%D8%B8%D8%A7%D8%B1%DB%82_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہُنَرورانِ ہند", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "عشق و مستی کا جنازہ ہے تخیّل ان کا\nان کے اندیشۂ تاریک میں قوموں کے مزار\nموت کی نقش گری ان کے صنَم خانوں میں\nزندگی سے ہُنَر ان برہَمنوں کا بیزار\nچشمِ آدم سے چھُپاتے ہیں مقاماتِ بلند\nکرتے ہیں رُوح کو خوابیدہ، بدن کو بیدار\nہند کے شاعِر و صُورت گر و افسانہ نویس\nآہ! بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%8F%D9%86%D9%8E%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%A7%D9%86%D9%90_%DB%81%D9%86%D8%AF"} {"title": "ہُوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ہُوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک\nاگرچہ مغربیوں کا جُنوں بھی تھا چالاک\n\nمئے یقیں سے ضمیرِ حیات ہے پُرسوز\nنصیبِ مدرسہ یا رب یہ آبِ آتش‌ناک\n\nعروجِ آدمِ خاکی کے منتظر ہیں تمام\nیہ کہکشاں، یہ ستارے، یہ نیلگُوں افلاک\n\nیہی زمانۂ حاضر کی کائنات ہے کیا\nدماغ روشن و دل تیرہ و نِگہ بےباک\n\nتُو بے بصر ہو تو یہ مانعِ نگاہ بھی ہے\nوگرنہ آگ ہے مومن، جہاں خس و خاشاک\n\nزمانہ عقل کو سمجھا ہُوا ہے مشعلِ راہ\nکسے خبر کہ جُنوں بھی ہے صاحبِ ادراک\n\nجہاں تمام ہے میراث مردِ مومن کی\nمیرے کلام پہ حجت ہے نکتۂ لولاک", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%8F%D9%88%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%B2%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%86%D8%A7%DA%A9"} {"title": "ہِندی اِسلام", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملّت\nوحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد\nوحدت کی حفاظت نہیں بے قُوّتِ بازو\nآتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خدا داد\nاے مردِ خدا! تجھ کو وہ قُوّت نہیں حاصل\nجا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد\nمسکینی و محکومی و نومیدیِ جاوید\nجس کا یہ تصّوف ہو وہ اسلام کر ایجاد\nمُلّا کو جو ہے ہِند میں سجدے کی اجازت\nناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%90%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D8%A7%D9%90%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85"} {"title": "ہِندی مسلمان", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "غدّارِ وطن اس کو بتاتے ہیں برہمن\nانگریز سمجھتا ہے مسلماں کو گداگر\nپنجاب کے اربابِ نبوّت کی شریعت\nکہتی ہے کہ یہ مومنِ پارینہ ہے کافر\nآوازۂ حق اُٹھتا ہے کب اور کِدھر سے\n’مسکیں وِلَکم ماندہ دریں کشمکش اندر‘!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%90%D9%86%D8%AF%DB%8C_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86"} {"title": "ہٹا دو چہرے سے گر دوپٹہ تم اپنے اے لالہ فام آدھا", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "ہٹا دو چہرے سے گر دوپٹہ تم اپنے اے لالہ فام آدھا\nتو ہو یہ ثابت کہ نکلا ابر سیہ سے ماہ تمام آدھا\n\nہوا تو ہے تیرے ہجر میں دل ہمارا جل کر کباب ساقی\nکسر اگر ہے تو اتنی ہی ہے کہ پختہ آدھا ہے خام آدھا\n\nیہاں تو دل کو مرے جلایا وہاں جلائیں گے جسم میرا\nیہ حشر پر کیوں اٹھا رکھا ہے حضور نے انتقام آدھا\n\nہماری الفت کا ذکر سن کر عدو نکالے بھی شق تو کیوں کر\nکہ لفظ شق میں بھی تو یہ شق ہے کہ ہے یہ عاشق کا نام آدھا\n\nیہ چرکے دے دے کے تو نے مجھ کو جو نیم جاں کر رکھا ہے ناحق\nحلال کر ڈال اب تو ظالم ہوا ہے جینا حرام آدھا\n\nیہ کیسی دریا دلی ہے ساقی ہوس بھی دل کی ہوئی نہ پوری\nجو کی عنایت بھی تو ادھوری اگر دیا بھی تو جام آدھا\n\nنظر جو پڑ جائے اس کے قامت پہ بس قیامت ہی آئے انجمؔ\nزمیں میں گڑ جائے سرو خجلت سے اس کی وقت خرام آدھا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%B9%D8%A7_%D8%AF%D9%88_%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D9%BE%D9%B9%DB%81_%D8%AA%D9%85_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%D9%81%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%AF%DA%BE%D8%A7"} {"title": "ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں\nتمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں\n\nتڑپ کے روح یہ کہتی ہے ہجر جاناں میں\nکہ تیرے ساتھ دل بے قرار ہم بھی ہیں\n\nرہے دماغ اگر آسماں پہ دور نہیں\nکہ تیرے کوچہ میں مست غبار ہم بھی ہیں\n\nکہو کہ نخل چمن ہم سے سرکشی نہ کریں\nانہیں کی طرح سے باغ و بہار ہم بھی ہیں\n\nہمارے آگے ذرا ہو سمجھ کے زمزمہ سنج\nکہ ایک نغمہ سرا اے ہزار ہم بھی ہیں\n\nکہاں تک آئنے میں دیکھ بھال ادھر دیکھو\nکہ اک نگاہ کے امیدوار ہم بھی ہیں\n\nشراب منہ سے لگاتے نہیں ہیں اے زاہد\nفراق یار میں پرہیزگار ہم بھی ہیں\n\nہمارا نام بھی لکھ لو جو ہے قلم جاری\nقدیم آپ کے خدمت گزار ہم بھی ہیں\n\nہما ہیں گرد مری ہڈیوں کے آٹھ پہر\nسگ آ کے کہتے ہیں امیدوار ہم بھی ہیں\n\nجو لڑکھڑا کے گرے تو قدم پہ ساقی کے\nامیرؔ مست نہیں ہوشیار ہم بھی ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%B9%D8%A7%D8%A4_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہٹے یہ آئنہ محفل سے اور تو آئے", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہٹے یہ آئنہ محفل سے اور تو آئے\nکوئی تو ہو جو کبھی دل کے روبرو آئے\n\nمرے لہو سے اگر ہو کے سرخ رو آئے\nملو تو برگ حنا میں وفا کی بو آئے\n\nوہ آنسوؤں کی صفائی سے بد گماں ہیں عبث\nدل و جگر میں رہا کیا ہے جو لہو آئے\n\nشب وصال بھی تا صبح مطمئن نہ رہا\nابھی تھی رات کہ پیغام آرزو آئے\n\nبیان برق تجلی چھڑا ہے اب سر طور\nعجب نہیں مرے دل کی بھی گفتگو آئے\n\nوصال و ہجر میں چھپتا ہے دل کا حال کہیں\nبجھے تو پیاس سوا ہو جلے تو بو آئے\n\nجو مے کے دینے میں پیر مغاں کو تھا انکار\nدلوں کو توڑنے کیوں شیشہ و سبو آئے\n\nعجب ہے اترے دم ذبح ان کی آنکھ میں خون\nکٹیں کہاں کی رگیں اور کہاں لہو آئے\n\nکیا سوال تو اس در سے یہ صدا آئی\nاسے جواب ہے جو لے کے آرزو آئے\n\nجہان میں ہیں سبکبار کب شگفتہ مزاج\nچمن کے پھول لئے بار رنگ و بو آئے\n\nمری زبان کو کانٹا سمجھتا ہے صیاد\nنکال لے کہ نہ یہ ہو نہ گفتگو آئے\n\nجھٹک رہی ہے مرا خون اپنے دامن سے\nتمہاری تیغ ہے پھر کیا وفا کی بو آئے\n\nمدد دے اتنی تڑپنے میں انقلاب جہاں\nجو میرے دل میں نہاں ہے وہ روبرو آئے\n\nبڑھا بڑھا کے مرا دل لگائیے تلوار\nجگہ جفا کی سوا ہو اگر نمو آئے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%D9%B9%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہ", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہ\nہیں داغ مرے سینے میں انجم سے زیادہ\n\nسو رمز کی کرتا ہے اشارے میں وہ باتیں\nہے لطف خموشی میں تکلم سے زیادہ\n\nجز صبر دلا چارہ نہیں عشق بتاں میں\nکرتے ہیں یہ ظلم اور تظلم سے زیادہ\n\nمے خانے میں سو مرتبہ میں مر کے جیا ہوں\nہے قلقل مینا مجھے قم قم سے زیادہ\n\nسو رقص سے افزوں ہے پری رو تری رفتار\nپاؤں کی صدا لاکھ ترنم سے زیادہ\n\nتکلیف تکلف سے کیا عشق نے آزاد\nموئے سر شوریدہ ہیں قاقم سے زیادہ\n\nمعشوقوں سے امید وفا رکھتے ہو ناسخؔ\nناداں کوئی دنیا میں نہیں تم سے زیادہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B4%DA%A9_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D9%84%D8%B2%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%B2%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DB%81"} {"title": "ہیں ایک حکیم جی بہ شکل طاعون", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہیں ایک حکیم جی بہ شکل طاعون\nہے رقص تقسیم مخل ان کا قانون\nپڑھتے ہیں نفیس اور خود ہیں وہ کثیف\nنسخے ہیں عجیب اور طرفہ معجون", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85_%D8%AC%DB%8C_%D8%A8%DB%81_%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%B7%D8%A7%D8%B9%D9%88%D9%86"} {"title": "ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک\nسوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک\n\nرنگینیٔ عشق اس کے ملے پر ہوئی معلوم\nصحبت نہ ہوئی تھی کسی خونخوار سے اب تک\n\nکب سے متحمل ہے جفاؤں کا دل زار\nزنہار وفا ہو نہ سکی یار سے اب تک\n\nابرو ہی کی جنبش نے یہ ستھراؤ کیے ہیں\nمارا نہیں ان نے کوئی تلوار سے اب تک\n\nوعدہ بھی قیامت کا بھلا کوئی ہے وعدہ\nپر دل نہیں خالی غم دیدار سے اب تک\n\nمدت ہوئی گھٹ گھٹ کے ہمیں شہر میں مرتے\nواقف نہ ہوا کوئی اس اسرار سے اب تک\n\nبرسوں ہوئے دل سوختہ بلبل کو موئے لیک\nاک دود سا اٹھتا ہے چمن زار سے اب تک\n\nکیا جانیے ہوتے ہیں سخن لطف کے کیسے\nپوچھا نہیں ان نے تو ہمیں پیار سے اب تک\n\nاس باغ میں اغلب ہے کہ سرزد نہ ہوا ہو\nیوں نالہ کسو مرغ گرفتار سے اب تک\n\nخط آئے پہ بھی دن ہے سیہ تم سے ہمارا\nجاتا نہیں اندھیر یہ سرکار سے اب تک\n\nنکلا تھا کہیں وہ گل نازک شب مہ میں\nسو کوفت نہیں جاتی ہے رخسار سے اب تک\n\nدیکھا تھا کہیں سایہ ترے قد کا چمن میں\nہیں میرؔ جی آوارہ پری دار سے اب تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%85%D8%B1%DA%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "ہیں بہت دیکھے چاہنے والے", "poet_page": "مصنف:سردار گینڈا سنگھ مشرقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں بہت دیکھے چاہنے والے\nپر ملے کم نباہنے والے\n\nہم تمہارے ہوں چاہنے والے\nتم اگر ہو نباہنے والے\n\nآب شمشیر کے پیاسے ہیں\nتیرے بسمل کراہنے والے\n\nآ کے دنیا میں اے دل ناداں\nکام مت کر الاہنے والے\n\nچاہے چاہے نہ چاہے چاہے وہ\nہم تو ہیں اس کے چاہنے والے\n\nنہیں وہ دوست بلکہ ہیں دشمن\nہیں جو تیرے سراہنے والے\n\nمشرقیؔ بس بگاڑ دیتے ہیں\nان بتوں کو سراہنے والے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92_%DA%86%D8%A7%DB%81%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "ہیں بہت سے عاشق دلگیر جمع", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں بہت سے عاشق دلگیر جمع\nتیرے ترکش میں ہیں کتنے تیر جمع\n\nاچھی صورت سے ہمیں بھی عشق ہے\nکرتے ہیں تصویر پر تصویر جمع\n\nکوچہ قاتل میں آفت آ گئی\nجب ہوئے دو چار بھی رہ گیر جمع\n\nیا لگا دو آگ یا لکھ دو جواب\nہو گیا ہے دفتر تحریر جمع\n\nتھوڑی تھوڑی ہی ملے اس در کی خاک\nچٹکی چٹکی ہم کریں اکسیر جمع\n\nخون دل کا چشم تر ٹھیکا نہ لے\nاس سے ہونے کی نہیں توفیر جمع\n\nکس طرح یکجا ہوں داغؔ اپنے عزیز\nہونے دیتی ہی نہیں تقدیر جمع", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%AF%D9%84%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D9%85%D8%B9"} {"title": "ہیں جانے بوجھے یار ہم، ہم ساتھ انجانی نہ کر", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں جانے بوجھے یار ہم، ہم ساتھ انجانی نہ کر\nدر سے ہمیں درکار نا جانی یہ نادانی نہ کر\n\nاک دل تھا جو تجھ کو دیا ہے اور دل جو اور لے\nہم چاہیں تجھ چھٹ اور کو یہ بات دیوانی نہ کر\n\nعرش الہ العالمیں جائے ادب ہے کھول جھڑ\nہے خانۂ دل غرق پر دیکھ اشک طغیانی نہ کر\n\nہیں جھونپڑیاں ہمسائے میں مت آگ ان کو لگ اٹھے\nنچلی تو رہ سینے میں ٹک، ٹک آہ جولانی نہ کر\n\nہم عشق تیرے ہاتھ سے کیا کیا نہ دیکھیں حالتیں\nدیکھ آب دیدہ خوں نہ ہو خون جگر پانی نہ کر\n\nآنسو کے ہے دریا پہ آ دل کا سفینہ تر رہا\nاب اظفریؔ مت آہ بھر کشتی یہ طوفانی نہ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%A8%D9%88%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%8C_%DB%81%D9%85_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہیں جلوۂ تن سے در و دیوار بسنتی", "poet_page": "مصنف:امانت لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں جلوۂ تن سے در و دیوار بسنتی\nپوشاک جو پہنے ہے مرا یار بسنتی\n\nکیا فصل بہاری نے شگوفے ہیں کھلائے\nمعشوق ہیں پھرتے سر بازار بسنتی\n\nگیندا ہے کھلا باغ میں میدان میں سرسوں\nصحرا وہ بسنتی ہے یہ گل زار بسنتی\n\nاس رشک مسیحا کا جو ہو جائے اشارہ\nآنکھوں سے بنے نرگس بیمار بسنتی\n\nگیندوں کے درختوں میں نمایاں نہیں گیندے\nہر شاخ کے سر پر ہے یہ دستار بسنتی\n\nمنہ زرد دوپٹے کے نہ آنچل سے چھپاؤ\nہو جائے نہ رنگ گل رخسار بسنتی\n\nکھلتی ہے مرے شوخ پہ ہر رنگ کی پوشاک\nاودی، اگری، چمپئی، گلنار، بسنتی\n\nہے لطف حسینوں کی دو رنگی کا امانتؔ\nدو چار گلابی ہوں تو دو چار بسنتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%82_%D8%AA%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%B1_%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%B3%D9%86%D8%AA%DB%8C"} {"title": "ہیں جو مروج مہر و وفا کے سب سر رشتے بھول گئے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں جو مروج مہر و وفا کے سب سر رشتے بھول گئے\nپھر گئے تم تو قول و قسم سے اپنے نوشتے بھول گئے\n\nجب دیکھو تب لاٹھی ٹھینگے کھٹ کھٹ کرتے پھرتے ہیں\nاڑتے ہیں کوئی شیخ جی صاحب ان کو فرشتے بھول گئے\n\nاہلے گہلے پھرتے ہو صاحب سیر چمن میں اور تمہیں\nاپنے تڑپتے زخمی سب خوں میں آغشتے بھول گئے\n\nقاضی جیو کے دونوں بیٹے ہم سے کہیں گے ہے وہ مثل\nگھر میں فرشتے کے خارشتے سو خارشتے بھول گئے\n\nنسل بڑی آدم کی انشاؔ کون کسی کو پہچانے\nباعث کثرت ہم دیگر کے ناتے رشتے بھول گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%B1%D9%88%D8%AC_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D9%88_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A8_%D8%B3%D8%B1_%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%92_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہیں دل جگر ہمارے یہ مہر و ماہ دونوں", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں دل جگر ہمارے یہ مہر و ماہ دونوں\nپہنچے ہیں آسماں پہ ہمراہ آہ دونوں\n\nہے بزم بے وفائی رونق پزیر ان سے\nروشن رہیں یہ تیری چشم سیاہ دونوں\n\nاے ترک چشم تیری خوں ریزیٔ مژہ سے\nپیٹیں ہیں سر گنہ گار اور بے گناہ دونوں\n\nبیمار دل کے ہم دم اک درد و غم تھے سو بھی\nبہر عیادت آتے ہیں گاہ گاہ دونوں\n\nکوئی زلف کو کہے زلف کاکل کو سمجھے کاکل\nاپنی نظر میں تو ہیں مار سیاہ دونوں\n\nتنہا کٹے گی کیوں کر اے سیل اشک کہہ تو\nہم دم دل و جگر تھے ہو گئے تباہ دونوں\n\nکیا شیخ کیا برہمن ہیں پھیر میں دوئی کے\nگمراہ ہو گئے ہیں بھولے ہیں راہ دونوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D9%88_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%AF%D9%88%D9%86%D9%88%DA%BA"} {"title": "ہیں دم کے ساتھ عشرت و عسرت ہزارہا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں دم کے ساتھ عشرت و عسرت ہزارہا\nوابستہ ایک تار نفس سے ہیں تار ہا\n\nکچھ صید زخم خوردۂ جاناں ہمیں نہیں\nہر صید گہ میں اس کی ہیں بسمل شکار ہا\n\nآیا وہ جب تو ہم نہ رہے آپ میں غرض\nدیکھا اسی طرح سے اسے ہم نے بارہا\n\nاس گل کے چاک جیب کی حسرت سے باغ میں\nہر صبح چاک ہوتی ہیں جیب و کنار ہا\n\nاس سوزن مژہ کے تصور میں شانہ ساں\nٹوٹے ہیں ایک خلق کے پہلو میں خار ہا\n\nکس کس کی دیکھیے چمن صنع میں بہار\nاپنی فقط دو چشم ہیں اور یاں بہار ہا\n\nتھے کل یہ خط عارض خوبان سبزہ رنگ\nکہتے ہیں آج خلق جنہیں سبزہ زار ہا\n\nتھے کل یہ شاہدان سہی سرو و سیم تن\nشاہد ہیں آج مرگ کے جن کے مزار ہا\n\nسب کو نظیرؔ سونا ہے ایک دن بہ زیر خاک\nسنگ مزار اس کے ہیں آئینہ دار ہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%D9%88_%D8%B9%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "ہیں دہن غنچوں کے وا کیا جانے کیا کہنے کو ہیں", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں دہن غنچوں کے وا کیا جانے کیا کہنے کو ہیں\nشاید اس کو دیکھ کر صل علیٰ کہنے کو ہیں\n\nوصف چشم و وصف لب اس یار کا کہنے کو ہیں\nآج ہم درس اشارات و شفا کہنے کو ہیں\n\nآج ان سے مدعی کچھ مدعا کہنے کو ہیں\nپر نہیں معلوم کیا کہویں گے کیا کہنے کو ہیں\n\nجو وہ قد قامت سدا کہنے کو ہیں\nاور عاشق وصف قد قامت ترا کہنے کو ہیں\n\nپوچھ آ قاتل سے تو وہ کب کرے گا ہم کو قتل\nآج ہم تاریخ مرگ آپ اے قضا کہنے کو ہیں\n\nمیں ترے ہاتھوں کے قرباں واہ کیا مارے ہیں تیر\nسب دہان زخم منہ سے مرحبا کہنے کو ہیں\n\nوہ جنازے پر مرے کس وقت آئے دیکھنا\nجب کہ اذن عام میرے اقربا کہنے کو ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%81%D9%86_%D8%BA%D9%86%DA%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہیں دیس بدیس ایک گزر اور بسر میں", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں دیس بدیس ایک گزر اور بسر میں\nبے آس کو کب چین ملا ہے کسی گھر میں\n\nچپ میں نے لگائی تو ہوا اس کا بھی چرچا\nجو بھید نہ کھلتا ہو وہ کھل جاتا ہے ڈر میں\n\nسورج کا گھمنڈ اور نہیں تارے کے برابر\nایسی ہی تو باتیں ہیں اس اندھیر نگر میں\n\nوہ ٹل نہیں سکتی جو پہنچنے کی گھڑی ہے\nچلتا رہے گلیوں میں کہ بیٹھا رہے گھر میں\n\nہوک اٹھی ادھر جی میں ادھر کوک اٹھی کوئل\nپوچھے کوئی تو کون ادھر میں نہ ادھر میں\n\nاے آرزوؔ آنکھوں ہی میں کٹ جاتے ہیں دن رات\nکوئی بھی گھڑی چین کی ہے آٹھ پہر میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D8%B3_%D8%A8%D8%AF%DB%8C%D8%B3_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہیں سات زمیں کے طبق اور سات ہیں افلاک", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں سات زمیں کے طبق اور سات ہیں افلاک\nاس راز کے محرم ہیں مگر صاحب ادراک\n\nبو ذوق بصر لمس سمع خاصۂ عنصر\nعنصر خلی باد آتش و آب و کرۂ خاک\n\nایزاد ہوئے چار طبق تب ہوئے چودہ\nصورتگری و حافظہ و دانش و ادراک\n\nکہتے ہیں جسے عرش وہ ہے جلوۂ پندار\nگردش میں ہیں جس سے طبقات ہمہ افلاک\n\nہے پاس ادب مانع ساحرؔ پے اظہار\nہے مطلع خورشید وگرنہ سر لولاک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%AA_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%B7%D8%A8%D9%82_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%81%D9%84%D8%A7%DA%A9"} {"title": "ہیں شہ میں صفات ذوالجلالی باہم", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہیں شہ میں صفاتِ ذوالجلالی باہم\nآثارِ جلالی و جمالی باہم\nہوں شاد نہ کیوں سافل و عالی باہم\nہے اب کے شبِ قدر و دِوالی باہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA_%D8%B0%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85"} {"title": "ہیں قید قفس میں تنگ یوں تو کب کے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہیں قید قفس میں تنگ یوں تو کب کے\nرہتے تھے گلے ہزار نیچے لب کے\nاس موسم گل میں میرؔ دیکھیں کیا ہو\nہے جان کو بے کلی نہایت اب کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%82%DB%8C%D8%AF_%D9%82%D9%81%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%A8_%DA%A9%DB%92"} {"title": "ہیں نکہت گل باغ میں اے باد صبا ہم", "poet_page": "مصنف:بیخود دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں نکہت گل باغ میں اے باد صبا ہم\nدم بھر میں نمودار ہیں دم بھر میں فنا ہم\n\nتشریف تو لے آئیں وہ روٹھے رہیں ہم سے\nجھگڑا تو مٹے صلح بھی ہو جائے گی باہم\n\nہم تیرے شناسا ہیں ہمیں غیر سے کیا کام\nآگاہ کسی سے بھی نہیں تیرے سوا ہم\n\nپوچھا تھا یہ میں نے کہ مٹائے گا مجھے کون\nقسمت ابھی خاموش تھی جو اس نے کہا ہم\n\nوہ کہتے ہیں دعویٰ ہے اسے ہوش و خرد کا\nبیخودؔ کو پلائیں گے مے ہوش ربا ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DA%A9%DB%81%D8%AA_%DA%AF%D9%84_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%DB%81%D9%85"} {"title": "ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق\nنہ ادھر کے ہیں الٰہی نہ ادھر کے عاشق\n\nہے وہی آنکھ جو مشتاق ترے دید کی ہو\nکان وہ ہیں جو رہیں تیری خبر کے عاشق\n\nجتنے ناوک ہیں کماندار ترے ترکش میں\nکچھ مرے دل کے ہیں کچھ میرے جگر کے عاشق\n\nبرہمن دیر سے کعبے سے پھر آئے حاجی\nتیرے در سے نہ سرکنا تھا نہ سرکے عاشق\n\nآنکھ دکھلاؤ انہیں مرتے ہوں جو آنکھوں پر\nہم تو ہیں یار محبت کی نظر کے عاشق\n\nچھپ رہے ہوں گے نظر سے کہیں عنقا کی طرح\nتوبہ کیجے کہیں مرتے ہیں کمر کے عاشق\n\nبے جگر معرکۂ عشق میں کیا ٹھہریں گے\nکھاتے ہیں خنجر معشوق کے چرکے عاشق\n\nتجھ کو کعبہ ہو مبارک دل ویراں ہم کو\nہم ہیں زاہد اسی اجڑے ہوئے گھر کے عاشق\n\nکیا ہوا لیتی ہیں پریاں جو بلائیں تیری\nکہ پری زاد بھی ہوتے ہیں بشر کے عاشق\n\nبے کسی درد و الم داغ تمنا حسرت\nچھوڑے جاتے ہیں پس مرگ یہ ترکے عاشق\n\nبے سبب سیر شب ماہ نہیں ہے یہ امیرؔ\nہو گئے تم بھی کسی رشک قمر کے عاشق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%B2%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82"} {"title": "ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیں", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیں\nاللہ رے ظالم کی مظلوم نما آنکھیں\n\nآفت میں پھنسائیں گی دیوانہ بنائیں گی\nوہ غالیہ سا زلفیں وہ ہوش ربا آنکھیں\n\nکیا جانیے کیا کرتا کیا دیکھتا کیا کہتا\nزاہد کو بھی میری سی دیتا جو خدا آنکھیں\n\nرحم ان کو نہ آیا تھا تو شرم ہی آ جاتی\nبیداد کے شکوے پر جھکتیں تو ذرا آنکھیں\n\nتم جان کو کھو بیٹھو یا آنکھوں کو رو بیٹھو\nبیخودؔ نہ ملائیں گے وہ تم سے ذرا آنکھیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D9%88%D8%AE%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF_%D8%AD%DB%8C%D8%A7_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہیں گوکہ سبھی تمھاری پیاری باتیں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہیں گوکہ سبھی تمھاری پیاری باتیں\nپر جی سے نہ جائیں گی تمھاری باتیں\nآنکھیں ہیں ادھر روے سخن اور طرف\nیاروں کی نظر میں ہیں یہ ساری باتیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%D9%88%DA%A9%DB%81_%D8%B3%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%85%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہیں ہم بھی خوب چاہ کا ساماں کیے ہوئے", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں ہم بھی خوب چاہ کا ساماں کیے ہوئے\nبیٹھے ہیں گھر کو پہلے ہی ویراں کیے ہوئے\n\nدھوکے میں آ کے باغ جہاں میں چلے گئے\nدل میں گمان کوچۂ جاناں کیے ہوئے\n\nبیٹھا ہوں روز ہجر میں ہر اک گھڑی پہ میں\nعزم شمار ریگ بیاباں کئے ہوئے\n\nپاس ان کو رہوے اپنے جو ناموس و ننگ کا\nہم بھی پھریں گے چاک گریباں کیے ہوئے\n\nعارفؔ بتا کہ سر ہے یہ کس دن کے واسطے\nپھرتا ہے آج تیغ وہ عریاں کیے ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%DA%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے\nکون مرتا ہے کسی کے واسطے\n\nآدمی سہتا ہے کیا کیا ذلتیں\nنفس مردود شقی کے واسطے\n\nہم بھی جائیں گے سلیماں تک کبھی\nعرض کرنے اک پری کے واسطے\n\nدر بدر کوچوں میں ہم بھی پھر چکے\nایک حسن خانگی کے واسطے\n\nکشت زار زعفراں سے کم نہیں\nرنگ زرد اپنا ہنسی کے واسطے\n\nکیوں دیے ہیں تو نے قسام ازل\nرنج لاکھوں ایک جی کے واسطے\n\nدو زکوٰۃ حسن کچھ درویش کو\nہیں بڑے رتبے سخی کے واسطے\n\nاک سے اک ہیں ایک سے لے لاکھ تک\nصف شکن مرد جری کے واسطے\n\nغم نے اس درجہ کیا دل میں ہجوم\nجا نہیں ہے خرمی کے واسطے\n\nاور کیا ہو یار کی آنکھوں سے کام\nخلق ہیں جادوگری کے واسطے\n\nیاد رکھنا شرط اور مشروط ہے\nآدمیت آدمی کے واسطے\n\nرنج و اندوہ و ملال و درد و غم\nصدمے ہیں یہ آدمی کے واسطے\n\nسبزۂ مدفن اگا تھا کیوں فلک\nآہوؤں کی کیا چری کے واسطے\n\nلڑ گئے وہ اک ذرا سی بات میں\nپہروں روٹھے اک گھڑی کے واسطے\n\nجی نہ گھبرائے ترا بے مشغلے\nعشق کر لے دل لگی کے واسطے\n\nکیا مجھے پیدا کیا ہے اے خدا\nان بتوں کی بندگی کے واسطے\n\nبے کسی میرے لیے پیدا ہوئی\nمیں بنا ہوں بے کسی کے واسطے\n\nبولا مرغ نامہ بر کو کر کے ذبح\nیہ سزا ہے ایلچی کے واسطے\n\nدھگدگی میں جان اٹکی ہے مری\nہائے کس چمپا کلی کے واسطے\n\nباریاب خلوت محبوب ہے\nکیا شرف ہے آرسی کے واسطے\n\nمرقد تیرہ میں کافی ہے مجھے\nداغ سودا روشنی کے واسطے\n\nکیجئے ہر دم عبث تن پروری\nاے اجل کس زندگی کے واسطے\n\nخامۂ قدرت نے کھینچیں وہ بھویں\nراستی یہ ہے کجی کے واسطے\n\nحشر کے دن رندؔ کو بخشائیو\nیا علی روح نبی کے واسطے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AC%DB%8C%D8%AA%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%92"} {"title": "ہے آئینہ خانے میں ترا ذوق فزا رقص", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے آئینہ خانے میں ترا ذوق فزا رقص\nکرتے ہیں بہت سے ترے ہم شکل جدا رقص\n\nبے زخم صدا دینے لگے ساز عجب کیا\nگر کرنے لگیں خود بخود آلات غنا رقص\n\nہو گر نہ تری باغ میں آنے کی توقع\nکیوں سرو کو تعلیم کرے باد صبا رقص\n\nواں قافلہ منزل پہ بھی پہنچا مگر اب تک\nہم کرتے ہیں صحرا میں با آواز درا رقص\n\nہے وادئ غم وہ کہ گر آ جائیں ادھر خضر\nرعشے سے کرے ہاتھ میں حضرت کے عصا رقص\n\nمعقول سہی وجد کا حیلہ مگر اے شیخ\nاچھا نہیں با ایں ہمہ تمکیں‌ و حیا رقص\n\nیوں ہی تو خرابات میں آؤ کہ سراسر\nیا بادہ ہے یا بنگ ہے یا نغمہ ہے یا رقص\n\nیاں تم کو یہ آواز دف و چنگ مبارک\nبے کشمکش خرقہ و تسبیح و ردا رقص\n\nناظمؔ ترے اشعار میں ہیں معنیٔ توحید\nاس زمزمے پر کرتے ہیں مردان خدا رقص", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%B0%D9%88%D9%82_%D9%81%D8%B2%D8%A7_%D8%B1%D9%82%D8%B5"} {"title": "ہے آرزو یہ جی میں اس کی گلی میں جاویں", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے آرزو یہ جی میں اس کی گلی میں جاویں\nاور خاک اپنے سر پر من مانتی اڑاویں\n\nشور جنوں ہے ہم کو اور فصل گل بھی آئی\nاب چاک کر گریباں کیوں کر نہ بن میں جاویں\n\nبے درد لوگ سب ہیں ہمدرد ایک بھی نہیں\nیارو ہم اپنے دکھ کو جا کس کے تئیں سناویں\n\nیہ آرزو ہماری مدت سے ہے کہ جا کر\nقاتل کی تیغ کے تئیں اپنا لہو چٹاویں\n\nخجلت سے خوں میں ڈوبے یا آگ سے لگے اٹھ\nلالہ کے تئیں چمن میں گر داغ دل دکھاویں\n\nبے اختیار سن کر محفل میں شمع رو دے\nہم بات سوز دل کی گر ٹک زباں پہ لاویں\n\nیہاں یار اور بردار کوئی نہیں کسی کا\nدنیا کے بیچ تاباںؔ ہم کس سے دل لگاویں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے\nصبحِ وطن ہے خندۂ دنداں نما مجھے\n\nڈھونڈے ہے اس مغنّیِ آتش نفس کو جی\nجس کی صدا ہو جلوۂ برقِ فنا مجھے\n\nمستانہ طے کروں ہوں رہِ وادیِ خیال\nتا باز گشت سے نہ رہے مدّعا مجھے\n\nکرتا ہے بسکہ باغ میں تو بے حجابیاں\nآنے لگی ہے نکہتِ گل سے حیا مجھے\n\nکھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ\nشعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%88%DB%81%D8%B4_%D8%A8%D8%AC%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "ہے آفتاب اور مرے دل کا داغ ایک", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے آفتاب اور مرے دل کا داغ ایک\nدیکھا تو بزم عشق میں ہے یہ چراغ ایک\n\nوحدت ہی سے ظہور ہے کثرت کا دیکھ لے\nہیں پھول سو طرح کے ولیکن ہے باغ ایک\n\nجس دن سے وہ خیال میں تیری کمر کے ہے\nعنقا کا اور دل کا مرے ہے سراغ ایک\n\nانصاف سے بعید ہے ساقیٔ روزگار\nاوروں کو جام سیکڑوں مجھ کو ایاغ ایک\n\nلائیں کہاں سے تیری سی فکر بلند ہم\nؔجوشش نہیں ہر ایک کا دل اور دماغ ایک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9"} {"title": "ہے آٹھ پہر تو جلوہ نما تمثال نظر ہے پرتو رخ", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "ہے آٹھ پہر تو جلوہ نما تمثال نظر ہے پرتو رخ\nعارض ہے قمر خورشید جبیں شب زلف سحر ہے پرتو رخ\n\nآنکھوں میں ہوا ہے گھر تیرا دل کہتا ہے رکھ ہر دم پردہ\nہو چشم تمنا کیوں کر وا عاشق کی نظر ہے پرتو رخ\n\nجب مد نظر اغیار تھے واں تاریک تھا یاں آنکھوں میں جہاں\nروشن ہے چراغ روح رواں کیا آج ادھر ہے پرتو رخ\n\nکی فکر مگر باعث نہ کھلا اے لالہ رخ بے مہر و وفا\nبتلا تو یہ دل کا درد ہے کیا گر داغ جگر ہے پرتو رخ\n\nغش کوئی کسی کو ہے سکتا ہے نور خدا تیرا جلوہ\nہو دخل ترے گھر میں کس کا یاں حاجب در ہے پرتو رخ\n\nاٹھ عاشق مضطر سجدے کر آئی ہے شب مقصد کی سحر\nوہ دیکھتے ہیں غرفے سے ادھر اے خاک بسر ہے پرتو رخ\n\nشہرہ ہے بہار عارض کا بلبل کی طرح عاشق ہیں فدا\nہے باغ جوانی روح افزا برگ گل تر ہے پرتو رخ\n\nجس سے ہو آنسو خون جگر بن جائے عقیق و لعل و گہر\nخورشید و قمر اور سیم و زر اے جان مگر ہے پرتو رخ\n\nبیتاب حبیبؔ مضطر ہے حیران کبھی گہ ششدر ہے\nپھرتا ہے گل خورشید صفت منہ اس کا جدھر ہے پرتو رخ", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A2%D9%B9%DA%BE_%D9%BE%DB%81%D8%B1_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D9%86%D9%85%D8%A7_%D8%AA%D9%85%D8%AB%D8%A7%D9%84_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AA%D9%88_%D8%B1%D8%AE"} {"title": "ہے اب تو وہ ہمیں اس سرو سیم بر کی طلب", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے اب تو وہ ہمیں اس سرو سیم بر کی طلب\nکہ طائران ہوا سے ہے بال و پر کی طلب\n\nجو کہئے حسن کو خواہش نہیں یہ کیا امکاں\nاسے بھی اہل نظر سے ہے اک نظر کی طلب\n\nکمال عشق بھی خالی نہیں تمنا سے\nجو ہے اک آہ تو اس کو بھی ہے اثر کی طلب\n\nپری رخوں کو غرض کیا تھی زیب و زینت سے\nنہ ہوتی گر انہیں اپنے نظارہ گر کی طلب\n\nطلب سے کس کو رہائی ہے بحر ہستی میں\nاگر صدف ہے تو اس کو بھی ہے گہر کی طلب\n\nچمن میں بلبل و گل بھی ہیں اپنے مطلب کے\nاسے ہے گل کی طلب اس کو مشت زر کی طلب\n\nجہاں وہ باغ تمنا ہے جس کے بیچ نظیرؔ\nجو اک شجر ہے تو اس کو بھی ہے ثمر کی طلب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%D9%88%DB%81_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D8%A8%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D9%84%D8%A8"} {"title": "ہے اب تو یہ دھن اس سے میں آنکھ لڑا لوں گا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے اب تو یہ دھن اس سے میں آنکھ لڑا لوں گا\nاور چوم کے منہ اس کا سینے سے لگا لوں گا\n\nگر تیر لگاوے گا پیہم وہ نگہ کے تو\nمیں اس کی جراحت کو ہنس ہنس کے اٹھا لوں گا\n\nدل جاتے ادھر دیکھا جب میں نے نظیرؔ اس کو\nروکا ارے وہ تجھ کو لے گا تو میں کیا لوں گا\n\nواں ابرو و مژگاں کے ہیں تیغ و سناں چلتے\nٹک سوچ تو میں تجھ کو کس کس سے بچا لوں گا\n\nپڑ جاوے گی جب شہہ وہ اے دل تو بھلا پھر میں\nکیا آپ کو تھاموں گا کیا تجھ کو سنبھالوں گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D8%AF%DA%BE%D9%86_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE_%D9%84%DA%91%D8%A7_%D9%84%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ہے اس کی زلف سے نت پنجۂ عدو گستاخ", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے اس کی زلف سے نت پنجۂ عدو گستاخ\nمرا غبار وہ دامن سے ہے کبھو گستاخ\n\nدھواں نکالوں میں حقے کا خون جام پیوں\nترے ہیں لب سے دونوں میرے روبرو گستاخ\n\nپلا ہے پانی سے پر سر چڑھا ہے پانی کے\nندی کے سات ہے کم ظرفی سے کدو گستاخ\n\nستاوے ہے دل خونیں کو حرف ناصح یوں\nکہ جیسے زخم سے ہووے ہے گل کی بو گستاخ\n\nہنسی سے غنچہ کا دل صبح توڑے ہے عزلتؔ\nتو ڈر جو تجھ سے کوئی ہووے خندہ رو گستاخ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D9%84%D9%81_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%AA_%D9%BE%D9%86%D8%AC%DB%82_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%DA%AF%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AE"} {"title": "ہے ان کی نزاکتوں کا پانا مشکل کیا کیجے بیاں", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے ان کی نزاکتوں کا پانا مشکل کیا کیجے بیاں\nسمجھے ہیں وہ پاؤں کا ہلانا مشکل یہ تاب کہاں\nفق ہو گیا رنگ میں نے گل رو جو کہا یعنی ان کو\nتشبیہ کا بار ہے اٹھانا مشکل نازک ہے میاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B2%D8%A7%DA%A9%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "ہے ان کی یہی خوشی کہ ہم غم میں رہیں", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے ان کی یہی خوشی کہ ہم غم میں رہیں\nہر وقت صدائے ارحم ارحم میں رہیں\nہے مقصد دم کہ دم نہ لیں ہم دم بھر\nجب تک دم ہے تلاش ہمدم میں رہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%BA%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہے اندھیرا تو سمجھتا ہوں شب گیسو ہے", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے اندھیرا تو سمجھتا ہوں شب گیسو ہے\nبند آنکھیں ہیں کہ اے یار نظر میں تو ہے\n\nدم بہ دم کہتے ہو کیوں فکر میں ناحق تو ہے\nغم کو کیا کام مرا سر ہے مرا زانو ہے\n\nاس لیے دل کے طلب کرنے پہ میں روتا ہوں\nتر نہ ہو آپ کا دامن کہ یہ اک آنسو ہے\n\nآج پھر کل کی طرح ہجر کی رات آتی ہے\nدیکھیے کیا ہو وہی دل ہے وہی پہلو ہے\n\nایک مدت کا ہے قصہ کسی جانب دل تھا\nیہ نہیں یاد یہ پہلو ہے کہ وہ پہلو ہے\n\nیاد ایام گذشتہ میں نہ تڑپوں کیوں کر\nکہ ابھی تک مرے بستر میں تمہاری لو ہے\n\nمجھ کو مانع ہے ادب ذبح میں کیوں کر تڑپوں\nاو ستم گر مرے سینے پہ ترا زانو ہے\n\nہے عیاں دل کے دھڑکنے سے کسی کی الفت\nآج کل آپ کے پہلو میں مرا پہلو ہے\n\nہو گیا ہے جو مرے دل کا ستانا منظور\nآج کل آپ کی ہر بات میں اک پہلو ہے\n\nترک الفت تو کچھ آساں نہیں مشکل ہے رشیدؔ\nروکو آہوں کو ذرا ان پہ اگر قابو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%B4%D8%A8_%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہے اپنے قتل کی دل مضطر کو اطلاع", "poet_page": "مصنف:پروین ام مشتاق", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان پروین (1914)", "year": "1914", "text_ur": "ہے اپنے قتل کی دل مضطر کو اطلاع\nگردن کو اطلاع نہ خنجر کو اطلاع\n\nبے پردہ آج نکلے گا پردہ نشیں مرا\nکر دے یہ کوئی مہر منور کو اطلاع\n\nچھپ چھپ کے اب جو نکلو تو معلوم ہو مزہ\nکر دی ہے میں نے آپ کے گھر بھر کو اطلاع\n\nبلبل نہ باز آئیو فریاد و آہ سے\nکب تک نہ ہوگی قلب گل تر کو اطلاع\n\nکس طرح کر دیا دل نازک کو چور چور\nاس واقعہ کی خاک ہے پتھر کو اطلاع\n\nکیا کام انقلاب کا کچھ بھی نہیں یہاں\nدور فلک کے دورۂ ساغر کو اطلاع\n\nہٹ جائے اک طرف بت کافر کی راہ سے\nدے کوئی جلد دوڑ کے محشر کو اطلاع\n\nچلنے بھی وہ نہ پائے تھے اپنے مقام سے\nپہلے سے ہو گئی دل مضطر کو اطلاع\n\nمیں سخت جاں ہوں قصد کرے دیکھ بھال کر\nپہلے سے ہو گئی ہے یہ خنجر کو اطلاع\n\nپرویںؔ ریاض خلد میں کس کس کو جام دیں\nپہلے سے ہے یہ ساقیٔ کوثر کو اطلاع", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%D9%82%D8%AA%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%B9"} {"title": "ہے بار خدا کہ عالم آرا تو ہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے بار خدا کہ عالم آرا تو ہے\nدانائے نہان و آشکارا تو ہے\nہر شخص کو ہے تیرے کرم کی امید\nہر قوم کا آسرا سہارا تو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A2%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہے بد بلا کسی کو غم جاوداں نہ ہو", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے بد بلا کسی کو غم جاوداں نہ ہو\nیا ہم نہ ہوں جہاں میں خدا یا جہاں نہ ہو\n\nآئین اہل عشق کہاں اور ہم کہاں\nاے آہ شعلہ بار نہ ہو خوں چکاں نہ ہو\n\nفعل حکیم عین صلاح و صواب ہے\nساقی اگر شراب نہ دے سرگراں نہ ہو\n\nتدبیر ترک دشمن جاں کی ہے رات دن\nکس طرح پھر مجھے گلۂ دوستاں نہ ہو\n\nکیا وہ متاع جس کی نہ ہو کوئی گھات میں\nڈرتا ہوں میں جو دزد پس کارواں نہ ہو\n\nجب تک فروغ مے سے نہ ہو سینہ نورزار\nہرگز حریف مے کدہ اسرارداں نہ ہو\n\nلازم ہے یار بھی تو ہو بیتاب ورنہ کیا\nوہ عشق ہے کہ رنج یہاں ہو وہاں نہ ہو\n\nناحق وہ جی جلاتے ہیں سودائے عشق پر\nجن کو یہ سوچ ہے کہ کچھ اس میں زیاں نہ ہو\n\nہم بوئے دوست تجھ کو سنگھائیں گے شیفتہؔ\nمحو شمیم طرۂ عنبر فشاں نہ ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%AF_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D8%AC%D8%A7%D9%88%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے\nتنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سے\n\nہے دورِ قدح وجہ پریشانیِ صہبا\nیک بار لگا دو خمِ مے میرے لبوں سے\n\nرندانِ درِ مے کدہ گستاخ ہیں زاہد\nزنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں سے\n\nبیدادِ وفا دیکھ کہ جاتی رہی آخر\nہر چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%A8%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D8%A2%D8%B2%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D9%84%D8%A8%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ہے بس کہ جوانی میں بڑھاپے کا غم", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے بس کہ جوانی میں بڑھاپے کا غم\nہر سانس سے آتی ہے صداۓ ماتم\nہم رنگ عجب کاہش و افزائش ہے\nبڑھتی ہے اگر عمر تو گھٹتے ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%B3_%DA%A9%DB%81_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7%D9%BE%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%BA%D9%85"} {"title": "ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور\nکرتے ہیں مَحبّت تو گزرتا ہے گماں اور\n\nیارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات\nدے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور\n\nابرو سے ہے کیا اس نگہِ ناز کو پیوند\nہے تیر مقرّر مگر اس کی ہے کماں اور\n\nتم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم، جب اٹھیں گے\nلے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور\n\nہر چند سُبُک دست ہوئے بت شکنی میں\nہم ہیں، تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور\n\nہے خونِ جگر جوش میں دل کھول کے روتا\nہوتے جو کئی دیدۂ خونبانہ فشاں اور\n\nمرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے\nجلاّد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ “ہاں اور”\n\nلوگوں کو ہے خورشیدِ جہاں تاب کا دھوکا\nہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغِ نہاں اور\n\nلیتا۔ نہ اگر دل تمھیں دیتا، کوئی دم چین\nکرتا، جو نہ مرتا، کوئی دن آہ و فغاں اور\n\nپاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے\nرُکتی ہے مری طبع۔ تو ہوتی ہے رواں اور\n\nہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھّے\nکہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%B3%DA%A9%DB%81_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "ہے بھی اور پھر نظر نہیں آتی", "poet_page": "مصنف:انور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے بھی اور پھر نظر نہیں آتی\nدھیان میں وہ کمر نہیں آتی\n\nمانگتا ہوں مگر نہیں آتی\nیہ اجل وقت پر نہیں آتی\n\nتیرے کشتوں کا روز حشر حساب\nغیرت او فتنہ گر نہیں آتی\n\nطبع اپنی بھی ایک آندھی ہے\nخاک اڑانی مگر نہیں آتی\n\nابر کس کس طرح برستا ہے\nشرم اے چشم تر نہیں آتی\n\nتم تو یوں محو ظلم ہو کہ ہمیں\nآہ کرنی مگر نہیں آتی\n\nنذر کچھ کر کے دل کو لے کہ یہ جنس\nمفت اے مفت بر نہیں آتی\n\nمختصر حال درد دل یہ ہے\nموت اے چارہ گر نہیں آتی\n\nیا رب آباد کوئے یار رہے\nکہ قیامت ادھر نہیں آتی\n\nنیند کا کام گرچہ آنا ہے\nمیری آنکھوں میں پر نہیں آتی\n\nبے طرح پڑتی ہے نظر ان کی\nخیر دل کی نظر نہیں آتی\n\nبے پری نے اڑا رکھا ہے مجھے\nحسرت بال و پر نہیں آتی\n\nسب کچھ آتا ہے تو نہیں آتا\nگر وفا سیم بر نہیں آتی\n\nاپنی اس آرزو کو کیا کوسوں\nآب وہاں تیغ پر نہیں آتی\n\nجان دینی تو ہم کو آتی ہے\nدل کو تسکین اگر نہیں آتی\n\nغیر کچھ مانگتا ہے دیکھیں تو\nہے تمہیں کس قدر نہیں آتی\n\nدل کی اپنے جگر پہ لوں لیکن\nایک کی ایک پر نہیں آتی\n\nدشمن اور اک نگہ میں لوٹ نہ جائے\nچوٹ پوری مگر نہیں آتی\n\nتیرا کوچہ ہے مصر نظارہ\nکہ پلٹ کر نظر نہیں آتی\n\nان کا آنا تو ایک آنا ہے\nموت بھی وقت پر نہیں آتی\n\nانورؔ اس شب کی دیکھ لو تاخیر\nصبح ہوتی نظر نہیں آتی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%DB%8C"} {"title": "ہے بے اثر ایسی ہی جو اپنی کشش دل", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے بے اثر ایسی ہی جو اپنی کشش دل\nجی لے ہی کے چھوڑے گی یہ اک دن خلش دل\n\nتھا مو مجھے آمد میں کوئی اس کی کہ ناگاہ\nلے جائے نہ گھر سے کہیں باہر تپش دل\n\nزہراب و ہلاہل سے جو کچھ کام نہ نکلا\nدے کر کے میں کی خون جگر پرورش دل\n\nکس طرح کوئی گزرے تری رہ سے کہ پیارے\nہر گام پہ اس کوچے میں ہے چپقلش دل\n\nکیا نقش کہ خاطر سے ہوئے مجھ کو مگر ایک\nہر نقش ترا آٹھ پہر منتقش دل\n\nہاتھوں سے دل و دیدہ کے آیا ہوں نپٹ تنگ\nآنکھوں کو روؤں یا میں کروں سرزنش دل\n\nدیجو نہ اسے اس بت بیباک کو قائمؔ\nزنہار کہ نازک ہے نہایت تپش دل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%B4%D8%B4_%D8%AF%D9%84"} {"title": "ہے بے خود وصل میں دل ہجر میں مضطر سوا ہوگا", "poet_page": "مصنف:رشید لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے بے خود وصل میں دل ہجر میں مضطر سوا ہوگا\nخوشی جس گھر کی ایسی ہے وہاں کا رنج کیا ہوگا\n\nابھی تو یار سے کہنے کی دل میں باتیں ہیں لاکھوں\nنہ کچھ یاد آئے گا اس وقت جس دم سامنا ہوگا\n\nمرے مدفن کی مٹی کا وہ کھچوائیں گے عطر اکثر\nاگر بوئے وفا کا ان کے دل میں کچھ مزا ہوگا\n\nوہ گیسو بڑھتے جاتے ہیں بلائیں ہوتی ہیں نازل\nقدم تک آ گئے جب حشر عالم میں بپا ہوگا\n\nغضب کرتے ہو میرے دل کو ابرو سے چھڑاتے ہو\nبھلا سمجھو تو کیوں کر گوشت ناخن سے جدا ہوگا\n\nعدم میں میرا کیا کیا دم رکے گا ایک مدت تک\nنئی بستی نئی پوشاک ہوگی گھر نیا ہوگا\n\nاتارا خون کے دریا سے ہوگا سرفروشوں کا\nبنے گی تیغ کشتی اور قاتل ناخدا ہوگا\n\nبیاں تھا روز اول یہ مرے دل کی اداسی کا\nبڑی اس گھر کی آبادی یہ ہے ماتم سرا ہوگا\n\nخبر لے باغباں ہے کس غضب کا حبس گلشن میں\nہوا ہے بند اسیران قفس کا دم رکا ہوگا\n\nمرے سینے سے دل کے ٹوٹنے کی کیوں صدا آئی\nمگر یاں ہاتھ سے ساقی کے شیشہ گر پڑا ہوگا\n\nستم گر آئے گا اکثر خبر لینے کو زنداں میں\nہمیں وہ بیڑیاں پہنا کے پابند وفا ہوگا\n\nرقیبوں کی امیدوں کو جگہ دیتے ہیں دل میں ہم\nکہ ان میں سے کوئی آخر ہمارا مدعا ہوگا\n\nنہیں ہے جس میں تیرا عشق وہ دل ہے تباہی میں\nوہ کشتی ڈوب جائے گی نہ جس میں ناخدا ہوگا\n\nرشیدؔ الفت سے جب واقف نہ تھے اکثر یہ کہتے تھے\nنہ دل سے ہم جدا ہوں گے نہ ہم سے دل جدا ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ہے بے لب و زباں بھی غل تیرے نام کا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے بے لب و زباں بھی غل تیرے نام کا\nمحرم نہیں ہے گوش مگر اس پیام کا\n\nخوش ہے ملامت اہل خرابات کے لئے\nاس سلسلے میں نام نہیں ننگ و نام کا\n\nنخوت ہے جس کے کاسۂ سر میں بھری ہوئی\nکب مستحق ہے محفل رنداں میں جام کا\n\nجاگیر درد پر ہمیں سرکار عشق نے\nتحریر کر دیا ہے وثیقہ دوام کا\n\nوادیٔ عشق میں نہ ملا کوئی ہم سفر\nسنتے تھے نام خضر علیہ السلام کا\n\nآسودگی نہ ڈھونڈ کہ جاتا ہے کارواں\nلے مستعار برق سے وقفہ قیام کا\n\nکھولا ہے مجھ پہ سر حقیقت مجاز نے\nیہ پختگی صلہ ہے خیالات خام کا\n\nکھاتا نہیں فریب تمنائے دو جہاں\nخوگر نہیں ہے توسن ہمت لگام کا\n\nمت رکھ طمع سے چشم تمتع کہ ہے یہاں\nدانہ ہر ایک مردمک دیدہ دام کا\n\nپہونچا دیا حدود دو عالم سے بھی پرے\nمطرب نے راگ چھیڑ دیا کس مقام کا\n\nظلمت میں کیا تمیز سفید و سیاہ کی\nفرقت میں کچھ حساب نہیں صبح و شام کا\n\nجس کی نظر ہے صنعت ابرونگار پر\nہے وہ قتیل تیغ نہ کشتہ نیام کا\n\nکھانے کو اے حریص غم عشق کم نہیں\nیہ ہو تو کچھ بھی فکر نہ کر قرض و وام کا\n\nمیں بے قرار منزل مقصود بے نشاں\nرستہ کی انتہا نہ ٹھکانا مقام کا\n\nگر دیکھیے تو خاطر ناشاد شاد ہے\nسچ پوچھئے تو ہے دل ناکام کام کا\n\nاٹھے تری نقاب تو اٹھ جائے ایک بار\nسب تفرقہ یہ روز و شب و صبح و شام کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%84%D8%A8_%D9%88_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%BA%D9%84_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہے ترا گال مال بوسے کا", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "ہے ترا گال مال بوسے کا\nکیوں نہ کیجے سوال بوسے کا\n\nمنہ لگاتے ہی ہونٹھ پر تیرے\nپڑ گیا نقش لال بوسے کا\n\nزلف کہتی ہے اس کے مکھڑے پر\nہم نے مارا ہے جال بوسے کا\n\nصبح رخسار اس کے نیلے تھے\nشب جو گزرا خیال بوسے کا\n\nانکھڑیاں سرخ ہو گئیں چٹ سے\nدیکھ لیجے کمال بوسے کا\n\nجان نکلے ہے اور میاں دے ڈال\nآج وعدہ نہ ٹال بوسے کا\n\nگالیاں آپ شوق سے دیجے\nرفع کیجے ملال بوسے کا\n\nہے یہ تازہ شگوفہ اور سنو\nپھول لایا نہال بوسے کا\n\nعکس سے آئنے میں کہتا ہے\nکھینچ کر انفعال بوسے کا\n\nبرگ گل سے جو چیز نازک ہے\nواں کہاں احتمال بوسے کا\n\nدیکھ انشاؔ نے کیا کیا ہے قہر\nمتحمل یہ گال بوسے کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%DA%AF%D8%A7%D9%84_%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%A8%D9%88%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہے ترے داغ سے تر سینۂ سوزاں میرا", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے ترے داغ سے تر سینۂ سوزاں میرا\nآب و رنگ آگ سے رکھتا ہے گلستاں میرا\n\nغم کے ہاتھوں نہ رہا کچھ بھی رفو کے قابل\nبسکہ سو بار ہوا چاک گریباں میرا\n\nموج دریا کی طرح ضبط میں آ سکتا نہیں\nکوئی کیوں کر کہے احوال پریشاں میرا\n\nرو اگر دیجئے اس کو بھی تو کچھ عیب نہیں\nآئنے سے بھی گیا کیا دل حیراں میرا\n\nمیں تو ظاہر نہ کروں اس کی جفا کو لیکن\nچھپ سکے کیوں کہ یقیںؔ زخم نمایاں میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D8%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%82_%D8%B3%D9%88%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "ہے تصور مجھے ہر دم تری یکتائی کا", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے تصور مجھے ہر دم تری یکتائی کا\nمشغلہ آٹھ پہر ہے یہی تنہائی کا\n\nعشق میں رشک ہمیشہ سے چلا آتا ہے\nدیکھو قابیل نے کیا حال کیا بھائی کا\n\nجام سائل کی طرح ہیں مری آنکھیں در در\nجب سے عاشق کسی کافر شیدائی کا\n\nعشق کامل جو ہوا ننگ کہاں عار کہاں\nدھیان بدمست کو رہتا نہیں رسوائی کا\n\nہجر میں گردش بیہودہ جو ہے اے ساقی\nجام کیا کاسۂ سر ہے کسی سودائی کا\n\nمیری آنکھوں نے تجھے دیکھ کے وہ کچھ دیکھا\nکہ زبان مژہ پر شکوہ ہے بینائی کا\n\nقدم اغیار کا رکھنا ہو گوارا کیوں کر\nتیرے در پر ہے مجھے شغل جبیں سائی کا\n\nمجھ سے رہتا ہے رمیدہ وہ غزال شہری\nصاف سیکھا ہے چلن آہوئے صحرائی کا\n\nہجر میں چٹکے جو غنچے ہوئی آواز تفنگ\nصحن گلزار ہے میدان صف آرائی کا\n\nجس نے دیکھا تجھے اے یار ہوا دیوانہ\nہے تماشا ترے ہر ایک تماشائی کا\n\nسبزہ رنگوں کا یہ ہے خاک مقرر ناسخؔ\nسبز رنگ اس لیے آتا ہے نظر کائی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D9%85_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہے تیری ہی کائنات جی میں", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے تیری ہی کائنات جی میں\nجی تجھ سے ہے تیری ذات جی میں\n\nتو نے کیا قتل گو بہ ذلت\nسمجھا میں اسے نجات جی میں\n\nکیوں غم یہ مجھی پہ مہرباں ہے\nسب شاد ہیں ذی حیات جی میں\n\nاس تنگ دہان کے سخن پر\nیاں گزرے ہیں سو نکات جی میں\n\nہر دم بہ ہزار جلوۂ نو\nدیکھوں ہوں تری صفات جی میں\n\nدم آنکھوں میں آ رہا ہے جرأتؔ\nگزرے ہے یہ آج رات جی میں\n\nآ جاوے تو حال دل سنا لیں\nرہ جائے نہ جی کی بات جی میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%A7%D8%AA_%D8%AC%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہے جان حزیں ایک لب روح فزا دو", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے جان حزیں ایک لب روح فزا دو\nاے کاش کہ اس ایک کی ہو جائیں دوا دو\n\nتھا خار جگر ہجر میں تنہا غم دوری\nہیں آفت جاں وصل میں اب شرم و حیا دو\n\nمستانہ روش کیوں نہ چلے وہ نگۂ ناز\nآنکھیں ہیں کہ ہیں جام مئے ہوش ربا دو\n\nجی تنگ ہے کیا کیجئے اور جوش بلا یہ\nدل ایک ہے کیا دیجئے اور زلف دوتا دو\n\nہے عین عنایت جو نشاں پوچھئے میرا\nیہ بھی نہیں منظور تو اپنا ہی پتا دو\n\nکیا دام فریب اس نے بچھایا ہے دل آویز\nدو آن پھنسیں اور جو ہو جائیں رہا دو\n\nگر ناز خود آرا کو ہے یکتائی کا دعویٰ\nکیوں آئینہ دیکھا کہ ہوئے جلوہ نما دو\n\nبے باکی و شوخی بھی ہے اور شرم و حیا بھی\nدو محرم اسرار ہیں تو پردہ کشا دو\n\nدو گیسو و دو زلف بلا خیز ہیں چاروں\nہاں کاکل خم دار بھی ہیں ان کے سوا دو\n\nوہ طرز و روش ہائے وہ انداز و ادا حیف\nکیا بچتے دل و جان کجا چار کجا دو\n\nسیریٔ نظر بھی نہ ہوئی ہائے میسر\nآنکھیں جو ہوئیں چار لگے تیر قضا دو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AD%D8%B2%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%84%D8%A8_%D8%B1%D9%88%D8%AD_%D9%81%D8%B2%D8%A7_%D8%AF%D9%88"} {"title": "ہے جب سے دست یار میں ساغر شراب کا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے جب سے دست یار میں ساغر شراب کا\nکوڑے کا ہو گیا ہے کٹورا گلاب کا\n\nصیاد نے تسلی بلبل کے واسطے\nکنج قفس میں حوض بھرا ہے گلاب کا\n\nدریائے خوں کیا ہے تری تیغ نے رواں\nحاصل ہوا ہے رتبہ سروں کو حباب کا\n\nجو سطر ہے وہ گیسوئے حور بہشت ہے\nخال پری ہے نقطہ ہماری کتاب کا\n\nنو آسماں ہیں صفحۂ اول کے نو لغت\nکونین اک دو ورقہ ہے اپنی کتاب کا\n\nاے موج بے لحاظ سمجھ کر مٹائیو\nدریا بھی ہے اسیر طلسم حباب کا\n\nبچھوائیے نہ چاندنی میں بام پر پلنگ\nمنحوس ہے قران مہ و آفتاب کا\n\nاک ترک شہسوار کی دیوانی روح ہے\nزنجیر میں ہمارے ہو لوہا رکاب کا\n\nحسن و جمال سے ہے زمانے میں روشنی\nشب ماہتاب کی ہے تو روز آفتاب کا\n\nاللہ رے ہمارا تکلف شب وصال\nروغن کے بدلے عطر جلایا گلاب کا\n\nمسجد سے میکدے میں مجھے نشہ لے گیا\nموج شراب جادہ تھی راہ صواب کا\n\nانصاف سے وہ زمزمہ میرا اگر سنے\nدم بند ہووے طوطیٔ حاضر جواب کا\n\nالفت جو زلف سے ہے دل داغدار کو\nطاؤس کو یہ عشق نہ ہوگا سحاب کا\n\nمعمور جو ہوا عرق رخ سے وہ ذقن\nمضمون مل گیا مجھے چاہ گلاب کا\n\nپاتا ہوں ناف کا کمر یار میں مقام\nچشمہ مگر عدم میں ہے گوہر کی آب کا\n\nآتشؔ شب فراق میں پوچھوں گا ماہ سے\nیہ داغ ہے دیا ہوا کس آفتاب کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%BA%D8%B1_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہے جس میں قفل خانۂ خمار توڑیئے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "ہے جس میں قفل خانۂ خمار توڑیئے\nیعنی در بہشت کو یکبار توڑیئے\n\nکیوں قید خم میں دختر رز ہی پڑی رہے\nیہ مہر ریسمان‌ سروکار توڑیئے\n\nشاگرد امیر‌ حمزۂ صاحب قراں کے ہیں\nکیوں کر بھلا نہ قلعۂ اشرار توڑیئے\n\nکیجے لقائے باختر بے بقا کو قید\nنجتک کے سر پہ گرز گراں بار توڑیئے\n\nچوٹی پکڑ کے نرگس جادو کی کھینچیے\nکلے کو اس کے ماریے للکار توڑیئے\n\nرستم سے چھین لیجئے دیو‌ سفید کو\nاور اس کی دہ مروڑ کے تلوار توڑیئے\n\nسد سکندری بھی جو چڑھ جائے دھیان تو\nووہیں طفیل حیدر کرار توڑیئے\n\nآ جاویں ہفت خوان طلسمات سامنے\nتو خیر سے انہیں بھی بہ تکرار توڑیئے\n\nحصن‌ زمردین عدو کوہ قاف پر\nہووے تو اس کو بھیج کے عیار توڑیئے\n\nزنبیل ہے عمرو کی دل فکر خیز یہ\nاس کو کسی طرح سے نہ زنہار توڑیئے\n\nہے عزم جزم یہ کہ زبردستی آج تو\nبند قبا ہے موسم گلزار توڑیئے\n\nیا چھیڑنے کو ابر کے اک جھٹکا مار کر\nشلوار بند برق شرربار توڑیئے\n\nجی چاہتا ہے لے کے بلائیں تمہاری آج\nپوریں ان انگلیوں کو سب اے یار توڑیئے\n\nانشاؔ دکھا کے اور بھی اک جلوۂ غزل\nبند نقاب شاہد اسرار توڑیئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D9%81%D9%84_%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%82_%D8%AE%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%88%DA%91%DB%8C%D8%A6%DB%92"} {"title": "ہے جس کی سرشت میں سفاہت کا میل", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے جس کی سرشت میں سفاہت کا میل\nلے جائے بہا کے گرچہ تعلیم کا سیل\nاور کھائے پڑا گرچہ برسوں غوطے\nنکلے گا تو ہوگا پھر وہی بیل کا بیل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D8%B1%D8%B4%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%81%D8%A7%DB%81%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D9%84"} {"title": "ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں\nاب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں\n\nہیں دور جام اول شب میں خودی سے دور\nہوتی ہے آج دیکھیے ہم کو سحر کہاں\n\nیا رب اس اختلاط کا انجام ہو بخیر\nتھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں\n\nاک عمر چاہیئے کہ گوارا ہو نیش عشق\nرکھی ہے آج لذت زخم جگر کہاں\n\nبس ہو چکا بیاں کسل و رنج راہ کا\nخط کا مرے جواب ہے اے نامہ بر کہاں\n\nکون و مکاں سے ہے دل وحشی کنارہ گیر\nاس خانماں خراب نے ڈھونڈا ہے گھر کہاں\n\nہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور\nعالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں\n\nہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کی\nدل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں\n\nحالیؔ نشاط نغمہ و مے ڈھونڈھتے ہو اب\nآئے ہو وقت صبح رہے رات بھر کہاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%DA%A9%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%AA%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "ہے جنبش مژگاں میں تری تیر کی آواز", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے جنبش مژگاں میں تری تیر کی آواز\nاس تیر میں ہے صید کی تکبیر کی آواز\n\nمشتاق ہوں تجھ لب کی فصاحت کا ولیکن\n'رانجھا' کے نصیبوں میں کہاں ہیر کی آواز\n\nتو خسرو خوباں ہے کہ لے ہند سیں تا روم\nپہنچی ہے ترے حسن جہانگیر کی آواز\n\nحیرت کے مقامات میں قانون نوا نہیں\nہے ساز خموشی لب تصویر کی آواز\n\nدیوانے کوں مت شور جنوں یاد دلاؤ\nہرگز نہ سناؤ اسے زنجیر کی آواز\n\nپیتا ہوں جدائی میں تری گھونٹ لہو کی\nسن غنچہ دہن عاشق دلگیر کی آواز\n\nاے جان سراجؔ آ کے پتنگوں کی خبر لیو\nسن جاؤ مرے نالۂ شب گیر کی آواز", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%86%D8%A8%D8%B4_%D9%85%DA%98%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2"} {"title": "ہے جو رنگ اس کی جلوہ گاہوں میں", "poet_page": "مصنف:شرف مجددی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان شرف مجددی (1937)", "year": "1937", "text_ur": "ہے جو رنگ اس کی جلوہ گاہوں میں\nدیکھتا ہوں وہی نگاہوں میں\n\nسیر کو آ گیا وہ جان جہاں\nپڑ گئی جان سیر گاہوں میں\n\nاب تو مے خانوں سے بھی کچھ بڑھ کر\nجام چلتے ہیں خانقاہوں میں\n\nمیرا دعویٰ ہے عشق میں سچا\nدیدۂ تر ہیں دو گواہوں میں\n\nبد گمانی نہ کر شرفؔ پہ کہ وہ\nدل سے ہے تیرے خیر خواہوں میں", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%A7%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہے جو صاحب کے کف دست پہ یہ چکنی ڈلی", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "ہے جو صاحب کے کف دست پہ یہ چکنی ڈلی\nزیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے\nخامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھیے\nناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے\nمہر مکتوب عزیزان گرامی لکھیے\nحرز بازوے شگرفان خود آرا کہیے\nمسی آلودہ سر انگشت حسیناں لکھیے\nداغ طرف جگر عاشق شیدا کہیے\nحاتم دست سلیماں کے مشابہ لکھیے\nسر پستان پریزاد سے مانا کہیے\nاختر سوختۂ قیس سے نسبت دیجیے\nخال مشکین رخ دلکش لیلا کہیے\nحجر الاسود دیوار حرم کیجیے فرض\nنافہ آہوے بیابان ختن کا کہیے\nوضع میں اس کو اگر سمجھیے قاف تریاق\nرنگ میں سبزۂ نوخیز مسیحا کہیے\nصومعے میں اسے ٹھہرائیے گر مہر نماز\nمیکدے میں اسے خشت خم صہبا کہیے\nکیوں اسے قفل در گنج محبت لکھیے\nکیوں اسے نقطۂ پرکار تمنا کہیے\nکیوں اسے گوہر نایاب تصور کیجیے\nکیوں اسے مردمک دیدۂ عنقا کہیے\nکیوں اسے تکمۂ پیراہن لیلیٰ لکھیے\nکیوں اسے نقش پئے ناقۂ سلما کہیے\nبندہ پرور کے کف دست کو دل کیجیے فرض\nاور اس چکنی سپاری کو سویدا کہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%81_%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%D9%BE%DB%81_%DB%8C%DB%81_%DA%86%DA%A9%D9%86%DB%8C_%DA%88%D9%84%DB%8C"} {"title": "ہے حال جائے گریہ جاں پر آرزو کا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے حال جائے گریہ جاں پر آرزو کا\nروئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کا\n\nجاتی نہیں اٹھائی اپنے پہ یہ خشونت\nاب رہ گیا ہے آنا میرا کبھو کبھو کا\n\nاس آستاں سے کس دن پر شور سر نہ پٹکا\nاس کی گلی میں جا کر کس رات میں نہ کوکا\n\nشاید کہ مند گئی ہے قمری کی چشم گریاں\nکچھ ٹوٹ سا چلا ہے پانی چمن کی جو کا\n\nاپنے تڑپنے کی تو تدبیر پہلے کر لوں\nتب فکر میں کروں گا زخموں کے بھی رفو کا\n\nدانتوں کی نظم اس کے ہنسنے میں جن نے دیکھی\nپھر موتیوں کی لڑ پر ان نے کبھو نہ تھوکا\n\nیہ عیش گا نہیں ہے یاں رنگ اور کچھ ہے\nہر گل ہے اس چمن میں ساغر بھرا لہو کا\n\nبلبل غزل سرائی آگے ہمارے مت کر\nسب ہم سے سیکھتے ہیں انداز گفتگو کا\n\nگلیاں بھری پڑی ہیں اے باد زخمیوں سے\nمت کھول پیچ ظالم اس زلف مشک بو کا\n\nوے پہلی التفاتیں ساری فریب نکلیں\nدینا نہ تھا دل اس کو میں میرؔ آہ چوکا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہے حرص و ہوس کے فن کی مجھ کو تکمیل", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے حرص و ہوس کے فن کی مجھ کو تکمیل\nغیرت نہیں میری بزم دانش میں دخیل\nہیں نفس کی خواہشیں بہت مجھ کو عزیز\nجب چاہیں کریں خوشی سے مجھ کو وہ ذلیل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AD%D8%B1%D8%B5_%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D9%81%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AA%DA%A9%D9%85%DB%8C%D9%84"} {"title": "ہے خاک بسر صبا مرے بعد", "poet_page": "مصنف:پیر شیر محمد عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > کرشمۂ عشق (1922)", "year": "1922", "text_ur": "ہے خاک بسر صبا مرے بعد\nگلشن کی پھر ہوا مرے بعد\n\nتھی جائے وصال منزل گور\nحاصل ہوا مدعا مرے بعد\n\nاے تپ نہ جلانا استخواں کو\nمایوس نہ ہو ہما مرے بعد\n\nقاتل نے بہائے لاش پر اشک\nتھا بس یہی خوں بہا مرے بعد\n\nیوں خاک میں میں ملا کہ اس نے\nپایا نہ مرا پتا مرے بعد\n\nکی داغ نے خاک سے تراوش\nگل قبر سے یہ کھلا مرے بعد\n\nاوروں پہ کرو گے جب جفائیں\nیاد آئے گی یہ وفا مرے بعد\n\nگو میں نہ رہا مگس کی صورت\nشہرہ تو رہا مرا مرے بعد\n\nاے غم مری جان کھا چکا تو\nکیا ہوگی تیری غذا مرے بعد\n\nبے جرم کیا جو قتل مجھ کو\nجلاد خجل ہوا مرے بعد\n\nروٹھا رہا یوں تو عمر بھر وہ\nتربت سے گلے لگا مرے بعد\n\nباقی نہ رہا جہاں میں عاجزؔ\nکچھ لطف زبان کا مرے بعد", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF"} {"title": "ہے خلق حسد قماش لڑنے کے لیے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے خَلقِ حسد قماش لڑنے کے لیے\nوحشت کدۂ تلاش لڑنے کے لیے\nیعنی ہر بار صُورتِ کاغذِ باد\nملتے ہیں یہ بدمعاش لڑنے کے لیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%84%D9%82_%D8%AD%D8%B3%D8%AF_%D9%82%D9%85%D8%A7%D8%B4_%D9%84%DA%91%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92"} {"title": "ہے خموشی ظلم چرخ دیو پیکر کا جواب", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے خموشی ظلم چرخ دیو پیکر کا جواب\nآدمی ہوتا تو ہم دیتے برابر کا جواب\n\nجو بگولا دشت غربت میں اٹھا سمجھا یہ میں\nکرتی ہے تعمیر دیوانی مرے گھر کا جواب\n\nساتھ خنجر کے چلے گی وقت ذبح اپنی زبان\nجان دینے والے دیتے ہیں برابر کا جواب\n\nسجدہ کرتا ہوں جو میں ٹھوکر لگاتا ہے وہ بت\nپاؤں اس کا بڑھ کے دیتا ہے مرے سر کا جواب\n\nابر کے ٹکڑے نہ الجھیں میری موج اشک سے\nخشک مغزوں سے ہے مشکل مصرعۂ تر کا جواب\n\nوہ کھنچا تھا میں بھی کھنچ رہتا تو بنتی کس طرح\nسر جھکا دیتا تھا قاتل تیرے خنجر کا جواب\n\nجیتے جی ممکن نہیں اس شوخ کا خط دیکھنا\nبعد میرے آئے گا میرے مقدر کا جواب\n\nشیخ کہتا ہے برہمن کو برہمن اس کو سخت\nکعبہ و بت خانہ میں پتھر ہے پتھر کا جواب\n\nروز دکھلاتا ہے گردوں کیسی کیسی صورتیں\nبت تراشی میں ہے یہ کافر بھی آذر کا جواب\n\nہر جگہ قبر گدا تکیے میں ہر جا گور شاہ\nایک گھر اس شہر میں ہے دوسرے گھر کا جواب\n\nجلوہ گر ہے نور حق ہونے سے یکتائی امیرؔ\nسایہ بھی ہوتا اگر ہوتا پیمبر کا جواب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%85%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D8%B8%D9%84%D9%85_%DA%86%D8%B1%D8%AE_%D8%AF%DB%8C%D9%88_%D9%BE%DB%8C%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8"} {"title": "ہے خموشیٔ انتظار بلا", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے خموشیٔ انتظار بلا\nاست ہے ایک چپ ہزار بلا\n\nدیکھ لے اک نظر کہ ہے منظور\nصد تباہی و صد ہزار بلا\n\nدلبری پر ہے جاں فزا بے داد\nدل دہی پر ہے جاں نثار بلا\n\nہجر میں آسماں مدارائی\nوصل میں ہے ستیزہ کار بلا\n\nکج کلاہی کا ہم نشیں فتنہ\nخم گیسو کی دوست دار بلا\n\nآ گئی سر پہ عاقبت آفت\nہو گئی چشم انتظار بلا\n\nہے فدا مجھ پہ آسماں گویا\nوار وار آئی بار بار بلا\n\nمجھ سا پامال روزگار ہے کون\nخجل آفت ہے شرم سار بلا\n\nداغ کا میرے درد کش صدمہ\nدرد کی میرے راز دار بلا\n\nصحن گلشن کی شمع بزم ہے برق\nنوجوانی کی ہے بہار بلا\n\nاے قلقؔ آسرے کا کیا جینا\nزندگی ہے مآل کار بلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AE%D9%85%D9%88%D8%B4%DB%8C%D9%94_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D9%84%D8%A7"} {"title": "ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کا", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کا\nروئے آتش ناک ہر شعلہ ہے میری آہ کا\n\nوصل کیا ہم خاکساروں کو ہو اس دل خواہ کا\nخاک میں آلودہ ہونا کب ہے ممکن ماہ کا\n\nنور افشاں جب سے ہے دل میں خیال اس ماہ کا\nطور کا شعلہ دھواں ہے میری شمع آہ کا\n\nقامت موزوں نظر آئے مجھے جائے الف\nتھا شروع عاشقی دن میری بسم اللہ کا\n\nسمجھے میکش دیکھ کر ابرو تری بالائے چشم\nمے کدے سے مرتبہ اعلیٰ ہے بیت اللہ کا\n\nآمد خط میں تو ہونے دے نگاہوں کا گزر\nدیکھ لے بچنے نہیں پاتا ہے سبزہ راہ کا\n\nخلق نے قرآن دیکھا جب ہوا ماہ رجب\nہم نے دیکھا مصحف رخسار اپنے ماہ کا\n\nآتے ہی اس طفل کے روشن سیہ خانہ ہوا\nشمع ساں جلوہ ہے اس کے قامت کوتاہ کا\n\nیار کا ناسخؔ پھٹا ہے پیرہن تو عیب کیا\nہے کتاں کو چاک کرنا کام نور ماہ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%D9%88%D8%B2%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہے دل میں خیال گل رخسار کسی کا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے دل میں خیال گل رخسار کسی کا\nداغوں سیں محبت کے ہے گل زار کسی کا\n\nجاتا ہے مرا جان نپٹ پیاس لگی ہے\nمنگتا ہوں ذرا شربت دیدار کسی کا\n\nسب پر ہے کرم مجھ پہ ستم کیا ہے دو رنگی\nدل دار کسی کا ہے دل آزار کسی کا\n\nزنجیر بھلی قید بھلی موت بھی جیوں تیوں\nپن حق نہ کرے کس کوں گرفتار کسی کا\n\nمیں ہوں تو دوانہ پہ کسی زلف کا نئیں ہوں\nواللہ کہ رکھتا نہیں یک تار کسی کا\n\nیک دم تو ہم آغوش کرو اے گل خوبی\nہو جاؤں گا اب نئیں تو گلے ہار کسی کا\n\nجھکتا ہے ذرا باد کے چلنے میں زمیں پر\nنرگس ہے مگر باغ ہے بیمار کسی کا\n\nلاتی ہے خبر یار کی موج دم شمشیر\nکاری ہے مگر دل میں مرے وار کسی کا\n\nہر رات سراجؔ آتش غم میں نہ جلے کیوں\nپروانۂ جاں سوز ہے بلہار کسی کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گے", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گے\nہم خاک میں ملنے کی تمنا نہ کریں گے\n\nکیونکر یہ کہیں منت اعدا نہ کریں گے\nکیا کیا نہ کیا عشق میں کیا کیا نہ کریں گے\n\nہنس ہنس کے وہ مجھ سے ہی مرے قتل کی باتیں\nاس طرح سے کرتے ہیں کہ گویا نہ کریں گے\n\nکیا نامے میں لکھوں دل وابستہ کا احوال\nمعلوم ہے پہلے ہی کہ وہ وا نہ کریں گے\n\nغیروں سے شکر لب سخن تلخ بھی تیرا\nہر چند ہلاہل ہو گوارا نہ کریں گے\n\nبیمار اجل چارہ کو گر حضرت عیسیٰ\nاچھا بھی کریں گے تو کچھ اچھا نہ کریں گے\n\nجھنجھلاتے ہو کیا دیجیے اک بوسہ دہن کا\nہو جائیں گے لب بند تو غوغا نہ کریں گے\n\nدیوار کے گر پڑتے ہی اٹھنے لگے طوفاں\nاب بیٹھ کے کونے میں بھی رویا نہ کریں گے\n\nگر سامنے اس کے بھی گرے اشک تو دل سے\nکیوں روز جزا خون کا دعوا نہ کریں گے\n\nکس وقت کیا مردمک چشم کا شکوہ\nاے پردہ نشیں ہم تجھے رسوا نہ کریں گے\n\nناصح کف افسوس نہ مل چل تجھے کیا کام\nپامال کریں گے وہ مجھے یا نہ کریں گے\n\nاس کو میں ٹھہرنے نہ دیا جوش قلق نے\nاغیار سے ہم شکوۂ بے جا نہ کریں گے\n\nگر ذکر وفا سے یہی غصہ ہے تو اب سے\nگو قتل کا وعدہ ہو تقاضا نہ کریں گے\n\nمومنؔ وہ غزل کہتے ہیں اب جس سے یہ مضمون\nکھل جائے کہ ترک در بت خانہ کریں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%BA%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "ہے دل ناکام عاشق میں تمہاری یاد بھی", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے دل ناکام عاشق میں تمہاری یاد بھی\nیہ بھی کیا گھر ہے کہ ہے برباد بھی آباد بھی\n\nدل کے مٹنے کا مجھے کچھ اور ایسا غم نہیں\nہاں مگر اتنا کہ ہے اس میں تمہاری یاد بھی\n\nکس کو یہ سمجھایئے نیرنگ کار عاشقی\nتھم گئے اشک مسلسل رک گئی فریاد بھی\n\nسینے میں درد محبت راز بن کر رہ گیا\nاب وہ حالت ہے کہ کر سکتے نہیں فریاد بھی\n\nپھاڑ ڈالوں گا گریباں پھوڑ لوں گا اپنا سر\nہے مرے آفت کدے میں قیس بھی فرہاد بھی\n\nکچھ تو اصغرؔ مجھ میں ہے قائم ہے جس سے زندگی\nجان بھی کہتے ہیں اس کو اور ان کی یاد بھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "ہے دل کو اس طرح سے مرے یار کی تلاش", "poet_page": "مصنف:میاں داد خاں سیاح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے دل کو اس طرح سے مرے یار کی تلاش\nجس طرح تھی کلیم کو دیدار کی تلاش\n\nہوں رند سر کھلا بھی جو ہووے تو ڈر نہیں\nزاہد نہیں کہ مجھ کو ہو دستار کی تلاش\n\nمیں ہوں کہیں پہ آٹھوں پہر ہے اسی کی فکر\nجاتی نہیں ہے دل سے مرے یار کی تلاش\n\nدل ہاتھوں ہاتھ بک گیا بازار عشق میں\nکرنی پڑی نہ مجھ کو خریدار کی تلاش\n\nاپنے ہی دل میں ڈھونڈھنا لازم تھا یار کو\nاتنے دنوں جو کی بھی تو بے کار کی تلاش\n\nبیعانہ نقد جاں کرو سیاحؔ پیش کش\nرہتی ہے ان کو ایسے خریدار کی تلاش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B4"} {"title": "ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی\nآنکھوں کے تلے پھرتی ہے تصویر کسی کی\n\nگریہ بھی ہے نالہ بھی ہے اور آہ و فغاں بھی\nپر دل میں ہوئی اس کے نہ تاثیر کسی کی\n\nہاتھ آئے ہے کیا خاک ترے خاک کف پا\nجب تک کہ نہ قسمت میں ہو اکسیر کسی کی\n\nیارو وہ ہے بگڑا ہوا باتیں نہ بناؤ\nکچھ پیش نہیں جانے کی تقریر کسی کی\n\nنازاں نہ ہو منعم کہ جہاں تیرا محل ہے\nہووے گی یہاں پہلے بھی تعمیر کسی کی\n\nمیری گرہ دل نہ کھلی ہے نہ کھلے گی\nجب تک نہ کھلے زلف گرہ گیر کسی کی\n\nآتا بھی اگر ہے تو وہ پھر جائے ہے الٹا\nجس وقت الٹ جائے ہے تقدیر کسی کی\n\nاس ابرو و مژگاں سے ظفرؔ تیز زیادہ\nخنجر نہ کسی کا ہے نہ شمشیر کسی کی\n\nجو دل سے ادھر جائے نظر دل ہو گرفتار\nمجرم ہو کوئی اور ہو تقصیر کسی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%BE%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ہے دل کو میرے عارض جاناں سے ارتباط", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "ہے دل کو میرے عارض جاناں سے ارتباط\nبلبل کو جس طرح ہو گلستاں سے ارتباط\n\nمجھ درد مند عشق کی تدبیر ہے عبث\nہوگا نہ میرے درد کو درماں سے ارتباط\n\nبندہ ہوں عشق کا نہیں مذہب سے مجھ کو کام\nکیوں کر کروں میں گبرو مسلماں سے ارتباط\n\nہے ربط مجھ کو کوچۂ جاناں سے روز و شب\nمجنوں کو جس طرح تھا بیاباں سے ارتباط\n\nمذہب ہے میرا عشق اور رندی ہے میرا کام\nہے کفر سے نہ مجھ کو نہ ایماں سے ارتباط\n\nہے ربط مجھ کو قامت جاناں سے جس طرح\nقمری کا ہووے سرو گلستاں سے ارتباط\n\nآثمؔ جہان میں شہ خادم کے میں سوا\nکافر ہوں گر کروں کسی انساں سے ارتباط", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D8%B6_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B7"} {"title": "ہے دل کو یوں ترے دمِ اعجاز اثر سے فیض", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے دل کو یوں ترے دمِ اعجاز اثر سے فیض\nغنچے کو جیسے موجۂ بادِ سحر سے فیض\n\nعشاق سے نگاہ نہ رکھو دریغ تم\nپاتے ہیں لوگ خدمتِ اہلِ نظر سے فیض\n\nہے عالمِ کبیر میں بھی یوں ہی جس طرح\nدل سے جگر کو فیض ہے، دل کو جگر سے فیض\n\nآزردہ جفائے “دے” و “تیر” کو نہیں\nیک ذرہ آب و آتشِ لعل و گہر سے فیض\n\nاپنی نہاد میں نہیں احساں فرامشی\nپایا ہے ہم نے صاعقے کا ابرِ تر سے فیض\n\nزر کسب کر کہ عشرتِ خسرو نصیب ہو\nفرہاد کو سنا ہے، ہوا جو ہنر سے فیض؟\n\nلگتے ہیں اس کے سینہ و بر سے مدام ہم\nہوتا ہے ہم کو روز مہِ سیم بر سے فیض\n\nاربابِ خانقاہ ہیں محتاجِ اغنیا\nکافی ہے ہم کو پیرِ مغاں! تیرے در سے فیض\n\nبلبل ہمارے گھر وہ خود آتے ہیں رحم سے\nافزوں ہے بے پری میں یہاں بال و پر سے فیض\n\nخرم نہادِ مے کش و زاہد شگفتہ دل\nہے شیفتہ ہر ایک کو وقتِ سحر سے فیض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%85%D9%90_%D8%A7%D8%B9%D8%AC%D8%A7%D8%B2_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%81%DB%8C%D8%B6"} {"title": "ہے دنیا میں زباں میری اگر بند", "poet_page": "مصنف:بشیر الدین احمد دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے دنیا میں زباں میری اگر بند\nمگر معنی کے مجھ پر کب ہیں در بند\n\nجو سب نامہ کیا آتا ہے دیکھیں\nلکھا نامہ دیا قاصد کو سر بند\n\nخدا جانے ہے اس میں مصلحت کیا\nکھلی ہے راہ لیکن ہے خبر بند\n\nرہائی جیتے جی ممکن نہیں ہے\nقفس ہے آہنی دربند پر بند\n\nکہیں بھی اب نہیں میرا ٹھکانا\nکہ اک اک گھر ہے بند ایک ایک در بند\n\nنہ کیوں تکلیف ہو ارماں کو دل میں\nکہاں جائے کدھر جائے ہے گھر بند\n\nمجھے آتا نہیں کیا کام کرنا\nمگر باب دعا بند اور اثر بند\n\nکہیں بھولے سے کوئی آ تو جائے\nہم اپنے دل میں رکھیں گے نظر بند\n\nدعا یہ ہے کہ یارب مطمئن ہوں\nہو الفت میں کسی صورت سے شر بند\n\nوہ رازق رزق پہنچاتا ہے سب کو\nکھلیں ستر اگر ہو ایک در بند\n\nبرادر قوت بازو ہے مانا\nمگر فرزند ہوتا ہے جگر بند\n\nمرا دل بھی طلسمی ہے خزانہ\nکہ اس میں خیر بھی ہے اور شر بند\n\nبشیرؔ اچھی زباں پائی ہے تو نے\nتری درج دہن میں ہیں گہر بند", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A8%D9%86%D8%AF"} {"title": "ہے دوستیٔ آل عبا رونے سے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے دوستیٔ آل عبا رونے سے\nہے درجۂ والاۓ ولا رونے سے\nتو دل کا غبار اپنے قلقؔ رو کے نکال\nیہ آئنہ ہوتا ہے صفا رونے سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C%D9%94_%D8%A2%D9%84_%D8%B9%D8%A8%D8%A7_%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92"} {"title": "ہے دھیان جو اپنا کہیں اے ماہ جبیں اور", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے دھیان جو اپنا کہیں اے ماہ جبیں اور\nجانا ہے کہیں اور تو جاتا ہوں کہیں اور\n\nجب تو ہی کرے دشمنی ہم سے تو غضب ہے\nتیرے تو سوا اپنا کوئی دوست نہیں اور\n\nمیں حشر کو کیا روؤں کہ اٹھ جاتے ہی تیرے\nبرپا ہوئی اک مجھ پہ قیامت تو یہیں اور\n\nوعدہ تو ترے آنے کا ہے سچ ہی ولیکن\nبازو کے پھڑکنے سے ہوا دل کو یقیں اور\n\nآخر تو کہاں کوچہ ترا اور کہاں ہم\nکر لیویں یہاں بیٹھ کے اک آہ حزیں اور\n\nتھا روئے زمیں تنگ زبس ہم نے نکالی\nرہنے کے لیے شعر کے عالم میں زمیں اور\n\nنام اپنا لکھاوے تو لکھا دل پہ تو میرے\nاس نام کو بہتر نہیں اس سے تو نگیں اور\n\nابرو کی تو تھی چین مرے دل پہ غضب پر\nمژگاں سے نمودار ہوئے خنجر کیں اور\n\nنکلے تو اسی کوچہ سے یہ گم شدہ نکلے\nڈھونڈھے ہے حسنؔ دل کو تو پھر ڈھونڈ وہیں اور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1"} {"title": "ہے رزم سراپا تو زباں اور ہی ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے رزم سراپا تو زباں اور ہی ہے\nاور بین کے مابین بیاں اور ہی ہے\nکس درجہ بلند ہے تیری فکر دبیرؔ\nکہتی ہے زمیں یہ آسماں اور ہی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%B2%D9%85_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہے رشک وصل سے غم دل دار ہی بھلا", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے رشک وصل سے غم دل دار ہی بھلا\nراحت سے ایسی ہم کو وو دل آزار ہی بھلا\n\nدنیا میں یارو یار وفادار ہی نہیں\nاور جو نہ ہو تو رہنا ہے بے یار ہی بھلا\n\nمعشوق کا نظارہ میسر ہو یا نہ ہو\nعاشق ہمیشہ طالب دیدار ہی بھلا\n\nزاری پہ میری رحم بھی کر آ خدا کو مان\nکافر رہے گا ہم سے تو بیزار ہی بھلا\n\nاطوار بد ہے غیر سے خلطہ مرے حضور\nاس کے عوض نہ کر تو ہمیں پیار ہی بھلا\n\nزخموں سے غم کے تیرا کلیجہ تو چھل گیا\nبلبل ہے ایسے گل سے تجھے خار ہی بھلا\n\nاک جرعہ درد مے پہ ہو اتنا نہ تلخ و تند\nساقی میں ایسے مست سے ہشیار ہی بھلا\n\nحسرتؔ برا کیا میں اٹھایا دل اس سے کیوں\nدل دار گر نہ تھا تو دل آزار ہی بھلا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D9%85_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7"} {"title": "ہے ساتھ عبادت کے عبا بھی تیری", "poet_page": "مصنف:فرحت کانپوری", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے ساتھ عبادت کے عبا بھی تیری\nشامل ہے ریاضت میں ریا بھی تیری\nاے شیخ یہ توضیح یہ تفسیر بلیغ\nپنہاں ہے بلاغت میں بلا بھی تیری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D8%A8%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ہے سبزہ زار ہر در و دیوار غم کدہ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے سبزہ زار ہر در و دیوار غم کدہ\nجس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ\n\nناچار بیکسی کی بھی حسرت اٹھائیے\nدشواری رہ و ستم ہم رہاں نہ پوچھ\n\nجز دل سراغ درد بہ دل خفتگاں نہ پوچھ\nآئینہ عرض کر خط و خال بیاں نہ پوچھ\n\nہندوستان سایۂ گل پاۓ تخت تھا\nجاہ و جلال عہد وصال بتاں نہ پوچھ\n\nغفلت متاع کفۂ میزان عدل ہوں\nیا رب حساب سختی خواب گراں نہ پوچھ\n\nہر داغ تازہ یک دل داغ انتظار ہے\nعرض فضاۓ سینۂ درد امتہاں نہ پوچھ\n\nکہتا تھا کل وہ محرم راز اپنے سے کہ آہ\nدرد جدائی اسدؔ اللہ خاں نہ پوچھ\n\nپرواز یک تپ غم تسخیر نالہ ہے\nگرمیٔ نبض خار و خس آشیاں نہ پوچھ\n\nتو مشق باز کر دل پروانہ ہے بہار\nبیتابیٔ تجلیٔ آتش بجاں نہ پوچھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A8%D8%B2%DB%81_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D8%B1_%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%D8%AF%DB%81"} {"title": "ہے سوئے فلک نظر تماشا کیا ہے", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے سوئے فلک نظر تماشا کیا ہے\nانصاف کرو دونوں میں کون اچھا ہے\nآنگن میں نکل کے چاند کیا دیکھتے ہو\nخود چاند تمہیں دیکھنے کو نکلا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہے شرم گنہ سے جاں کیسی بے تاب", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے شرم گنہ سے جاں کیسی بے تاب\nپر ذکر جہاں ہوا، ہوا جی ہے تاب\nیارب کہ مؤثر نہ ہو کہنا میرا\nیارب ہے ترا بندۂ عاصی بے تاب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%B1%D9%85_%DA%AF%D9%86%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8"} {"title": "ہے شکر درست اور شکایت زیبا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے شکر درست اور شکایت زیبا\nہے کفر درست اور ہدایت زیبا\nگیسوئے سیاہ اور جبین روشن\nدونوں کی بہار ہے نہایت زیبا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D8%B3%D8%AA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA_%D8%B2%DB%8C%D8%A8%D8%A7"} {"title": "ہے صاف عیاں حرم سرا کا مطلب", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے صاف عیاں حرم سرا کا مطلب\nبیگانوں کے واسطے ہے اک حد ادب\nممکن ہو اگر تو اس کو قائم رکھو\nعزت کے نشاں اور تو مٹ گئے سب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B5%D8%A7%D9%81_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AD%D8%B1%D9%85_%D8%B3%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8"} {"title": "ہے طرفہ تماشہ سر بازار محبت", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے طرفہ تماشہ سر بازار محبت\nسر بیچتے پھرتے ہیں خریدار محبت\n\nاللہ کرے تو بھی ہو بیمار محبت\nصدقہ میں چھٹیں تیرے گرفتار محبت\n\nاس واسطے دیتے ہیں وہ ہر روز نیا داغ\nاک درد کے خوگر نہ ہوں بیمار محبت\n\nکچھ تذکرہ عشق رہے حضرت ناصح\nکانوں کو مزہ دیتی ہے گفتار محبت\n\nواعظ کی زباں پر تو وہ کلمہ ہے کہ گویا\nبخشے ہی نہ جائیں گے گنہ گار محبت\n\nدیکھا ہے زمانے کو ان آنکھوں نے تو اے داغؔ\nاس رنگ پر اس ڈھنگ پر انکار محبت", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B7%D8%B1%D9%81%DB%81_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA"} {"title": "ہے عجب کچھ معاملہ دل کا", "poet_page": "مصنف:ابراہیم عاجز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاجز (1934)", "year": "1934", "text_ur": "ہے عجب کچھ معاملہ دل کا\nکبھی نکلا نہ حوصلہ دل کا\n\nتیری الفت کی راہ میں اے شوخ\nلٹ گیا ہائے قافلہ دل کا\n\nرشتۂ عشق جا ملاتا جا\nتیری زلفوں سے سلسلہ دل کا\n\nکیا بتاؤں کہ سامنے ان کے\nزور کچھ بھی نہیں چلا دل کا\n\nوصل کی شب نہ تم ملے کھل کر\nرہ گیا دل میں ولولہ دل کا\n\nہر قدم پر شکست ہے واللہ\nعشق سے کیا مقابلہ دل کا\n\nجان دوں گا طلب میں اے عاجزؔ\nآخری ہے یہ فیصلہ دل کا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%85%D9%84%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہے عرش بھی یک فرش قدم کا تیرے", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے عرش بھی یک فرش قدم کا تیرے\nتقدیر نوشتہ ہے ہے قلم کا تیرے\nرحمت کے بقیہ سے بنا ہے دوزخ\nاللہ رے شعبدہ کرم کا تیرے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B1%D8%B4_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%DA%A9_%D9%81%D8%B1%D8%B4_%D9%82%D8%AF%D9%85_%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92"} {"title": "ہے عشق تو پھر اثر بھی ہوگا", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے عشق تو پھر اثر بھی ہوگا\nجتنا ہے ادھر ادھر بھی ہوگا\n\nمانا یہ کہ دل ہے اس کا پتھر\nپتھر میں نہاں شرر بھی ہوگا\n\nہنسنے دے اسے لحد پہ میری\nاک دن وہی نوحہ گر بھی ہوگا\n\nنالہ مرا گر کوئی شجر ہے\nاک روز یہ بارور بھی ہوگا\n\nناداں نہ سمجھ جہان کو گھر\nاس گھر سے کبھی سفر بھی ہوگا\n\nمٹی کا ہی گھر نہ ہوگا برباد\nمٹی ترے تن کا گھر بھی ہوگا\n\nزلفوں سے جو اس کی چھائے گی رات\nچہرے سے عیاں قمر بھی ہوگا\n\nگالی سے نہ ڈر جو دیں وہ بوسہ\nہے نفع جہاں ضرر بھی ہوگا\n\nرکھتا ہے جو پاؤں رکھ سمجھ کر\nاس راہ میں نذر سر بھی ہوگا\n\nاس بزم کی آرزو ہے بے کار\nہم سوں کا وہاں گزر بھی ہوگا\n\nشہبازؔ میں عیب ہی نہیں کل\nایک آدھ کوئی ہنر بھی ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "ہے عشق سے حسن کی صفائی ظاہر", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے عشق سے حسن کی صفائی ظاہر\nرندی سے ہوئی ہے پارسائی ظاہر\nوحدت کا ثبوت ہے ظہور کثرت\nبندہ ہی کے دم سے ہے خدائی ظاہر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1"} {"title": "ہے عشق میں ابرو کے جو کاہیدہ تن اپنا", "poet_page": "مصنف:منشی بنواری لال شعلہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے عشق میں ابرو کے جو کاہیدہ تن اپنا\nسایہ تری تلوار کا ہوگا کفن اپنا\n\nاس منہ کی کریں بات ذرا منہ کو تو بنوائیں\nغنچوں سے کہو صاف تو کر لیں دہن اپنا\n\nپر کھولے ہوئے کرتی ہیں پریاں مرا ماتم\nاندر کا اکھاڑا ہے یہ بیت الحزن اپنا\n\nکیا کہتے ہیں سن سن کے مرے شعر کو شعلہ\nاعدا کے لئے تیغ ہے گویا سخن اپنا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%A7%DB%81%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%AA%D9%86_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7"} {"title": "ہے عکس آئینہ دل میں کسی بلقیس ثانی کا", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے عکس آئینہ دل میں کسی بلقیس ثانی کا\nتصور ہے مرا استاد بہزاد اور مانی کا\n\nغنیمت سمجھو یہ مل بیٹھنا یاران جانی کا\nبھروسا کیا ہے دنیا میں دو روزہ زندگانی کا\n\nنزاکت ہو گئی ضرب المثل ان کی زمانے میں\nبھلا ہو یا الوہی اس ہماری سخت جانی کا\n\nہے عکس اس چشم پر نم میں کسی آبی دوپٹے کا\nبنایا ہے مکاں ہم نے عجب پانی میں پانی کا\n\nغضب کا کاٹ کر کرتی ہیں ادائیں اس پری وش کی\nابھاروں پر ہے جوبن اور عالم ہے جوانی کا\n\nامنگوں کی کسک بے چین کرتی ہے انہیں لیکن\nنزاکت روک دیتی ہے ارادہ نوجوانی کا\n\nشب فرقت جو ٹھنڈے ٹھنڈے ہو جائے وصال اپنا\nگماں ہو موت پر اپنی حیات جاودانی کا\n\nیہ دل کیوں بجھ گیا سوز فراق شعلہ رویاں میں\nتماشا ہے کیا ہے آگ نے یاں کام پانی کا\n\nخیال اک چشم میگوں کا سدا مسرور رکھتا ہے\nیہاں کیا کام ہے ساقی شراب ارغوانی کا\n\nیہی ہیں دیکھ لو وہ شاعر معجز بیاں کیفیؔ\nزمانے میں ہے چرچا آج جن کی خوش بیانی کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B9%DA%A9%D8%B3_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%D9%84%D9%82%DB%8C%D8%B3_%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "ہے عیاں روئے یار آنکھوں میں", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "ہے عیاں روئے یار آنکھوں میں\nچھائی ہے کیا بہار آنکھوں میں\n\nشعلے اٹھتے ہیں بار بار عجیب\nکون ہے شمع وار آنکھوں میں\n\nکون ہے شہسوارتوسن حسن\nجس کا ہے یہ غبار آنکھوں میں\n\nکیسی مے تو نے دی پلا مجھ کو\nاب تلک ہے خمار آنکھوں میں\n\nدل ہے بلبل صفت بنالہ و آہ\nکون ہے گلعذار آنکھوں میں\n\nشوق میں کس کی ہے نکل آیا\nدل پر اضطرار آنکھوں میں\n\nابل آتا ہے کس کی شوق میں آہ\nخون دل بار بار آنکھوں میں\n\nہر طرف ہے عیاں رخ دل دار\nہے خزاں نوبہار آنکھوں میں\n\nفیض خادم صفی سے ہے آثمؔ\nجلوہ گر حسن یار آنکھوں میں", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہے عید لاؤ مے لالہ فام اٹھ اٹھ کر", "poet_page": "مصنف:منیرؔ شکوہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے عید لاؤ مے لالہ فام اٹھ اٹھ کر\nگلے لگاتے ہیں شیشوں کو جام اٹھ اٹھ کر\n\nہوا چلی مری افتادگی کی اے ساقی\nگریں گے نشہ میں سب خوش خرام اٹھ اٹھ کر\n\nزمین و عرش و فلک پائمال ہوتے ہیں\nنہ جاؤ صحن سے بالائے بام اٹھ اٹھ کر\n\nکوئی بشر نہ ہو مغرور جسم خاکی پر\nکہ بیٹھتے ہیں بہت قصر خام اٹھ اٹھ کر\n\nدم سحر نظر آیا ہے کس کا منہ یا رب\nصنم جو کرتے ہیں مجھ کو سلام اٹھ اٹھ کر\n\nذرا اٹھائیے تابوت اپنے عاشق کا\nخدا کی راہ کا کرتے ہیں کام اٹھ اٹھ کر\n\nقیامت آئی ہے ہلچل ہے آسمانوں پر\nنہ پھریے بہر خدا بام بام اٹھ اٹھ کر\n\nپڑے ہیں پاؤں کی صورت زبان میں گھٹے\nیہ قاصدوں کو دئے ہیں پیام اٹھ اٹھ کر\n\nبنے گی شعلۂ جوالہ گردش قسمت\nتمہارے گرد پھرے گا غلام اٹھ اٹھ کر\n\nبڑھے گی بات نہ بیٹھیں گے چپکے ہم اے بت\nرقیب سے جو کرو گے کلام اٹھ اٹھ کر\n\nرہے گی عاشقوں کے دست و پا میں جب تک حس\nتمہاری لیں گے بلائیں مدام اٹھ اٹھ کر\n\nخدا بٹھائے اگر کربلا میں مجھ کو منیرؔ\nپھروں میں گرد مزار امام اٹھ اٹھ کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%B9%DB%8C%D8%AF_%D9%84%D8%A7%D8%A4_%D9%85%DB%92_%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81_%D9%81%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی\nہم نے بھی طبع آزمائی کی\n\nاس کے ایفائے عہد تک نہ جیے\nعمر نے ہم سے بے وفائی کی\n\nوصل کے دن کی آرزو ہی رہی\nشب نہ آخر ہوئی جدائی کی\n\nاسی تقریب اس گلی میں رہے\nمنتیں ہیں شکستہ پائی کی\n\nدل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر\nآہ نے آہ نارسائی کی\n\nکاسۂ چشم لے کے جوں نرگس\nہم نے دیدار کی گدائی کی\n\nزور و زر کچھ نہ تھا تو بار میرؔ\nکس بھروسے پر آشنائی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%BA%D8%B2%D9%84_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%DB%8C%DB%81_%D8%B4%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%94_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ہے غلط گر ترے دانتوں کو کہوں تارے ہیں", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے غلط گر ترے دانتوں کو کہوں تارے ہیں\nکہ دہن مصحف ناطق ہے یہ سیپارے ہیں\n\nاپنی ہستی میں تو آثار فنا سارے ہیں\nشام کو ذرے ہیں اور صبح کو ہم تارے ہیں\n\nکیا ہی ہرجائی حسینان جہاں سارے ہیں\nیہ وہ اختر ہیں کہ ثابت نہیں سیارے ہیں\n\nذائقہ ہونٹوں کا بدلے گا نہ مسی ملیے\nہوں گی یہ قند سیہ اب تو شکر پارے ہیں\n\nبادشاہوں کی طرح پھرتے ہیں ڈنکے دیتے\nخار پا چوب ہیں اور آبلے نقارے ہیں\n\nچھپ چلے ہیں خط شب رنگ سے رخسار صبیح\nدن ہے کم شام کے آثار عیاں سارے ہیں\n\nساغر چشم کے سو دینے پڑیں گے بوسے\nشیشۂ دل کبھی توڑا تو یہ کفارے ہیں\n\nخط پہ خط روز بہا کر اسے پہنچاتے ہیں\nاشک کاہے کو ہیں یہ ڈاک کے ہرکارے ہیں\n\nآب جاری کیا اعجاز سے اے بہر کرم\nانگلیاں کاہے کو ہیں نور کے فوارے ہیں\n\nمصحف رخ کو وہ دکھلائیں اگر تیسوں دن\nنئی پھبتی مجھے سوجھی کہوں سیپارے ہیں\n\nہاتھ اگر چھونے سے جل جائے ید بیضا ہو\nلعل لب اس بت کافر کے وہ انگارے ہیں\n\nرونگٹے کب ہیں ان آئینوں میں ہیں پڑ گئے بال\nہاتھ زانو پہ کبھی یار نے دے مارے ہیں\n\nپشت پر ہے جو سپر خم ہوئے ہو تیغ کی طرح\nچار پھول اس کے تمہیں پھولوں کے پشتارے ہیں\n\nروبرو رہتی ہے تصویر تصور شب و روز\nاب تو بے منت خلق آپ کے نظارے ہیں\n\nدیکھ کر تجھ کو حسیں کٹتے ہیں بھولے ہیں بناؤ\nکنگھیاں کرتے نہیں سر پہ رواں آرے ہیں\n\nدل پہ جو گزری خبر اشکوں نے دی آ کے وزیرؔ\nلائق خلعت رومال یہ ہرکارے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%BA%D9%84%D8%B7_%DA%AF%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%AA%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہے غلط گر عشق ہے یاری کا نام", "poet_page": "مصنف:نبی بخش نایاب", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان نایاب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "ہے غلط گر عشق ہے یاری کا نام\nعاشقی ہے دل کی بیماری کا نام\n\nان کو بھی مجھ سے محبت ہے بہت\nگر محبت ہے دل آزاری کا نام\n\nبچ کے چلنا اس پیمبر گاہ میں\nشیخ ہے ابلیس بازاری کا نام\n\nہم کو جس ہر دل عزیزی پر تھا ناز\nتھا ہماری ہی سبکساری کا نام\n\nدور ہی نایابؔ یاروں سے رہو\nآج کل یاری ہے عیاری کا نام", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D8%BA%D9%84%D8%B7_%DA%AF%D8%B1_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D9%85"} {"title": "ہے فنا بسم اللہ دیوان عشق", "poet_page": "مصنف:شاہ آثم", "kind": "poetry", "section": "غزل > بہ دیوان آثم (1866)", "year": "1866", "text_ur": "ہے فنا بسم اللہ دیوان عشق\nآفرینہا بر سبق خوانان عشق\n\nزہرۂ دوزخ ہے آگے اس کے آب\nالامان از آتش سوزان عشق\n\nہے رہا قید غم کونین سے\nپائے تا سر قیدیٔ زندان عشق\n\nتنگ رکھتا ہے دوا کے نام سے\nمبتلائے درد بے درمان عشق\n\nخون دل پیتا ہے اور ہے جانتا\nنعمت عظمی اسے مہمان عشق\n\nغور کر دیکھا تو ہفت اقلیم میں\nحکمراں ہے بے گماں سلطان عشق\n\nکشتیٔ گردوں سراپا ڈوب جائے\nجوش میں آوے اگر طوفان عشق\n\nبندہ کو مولا بناتا ہے مدام\nکس قدر ہے یے عیاں احسان عشق\n\nبھول جاوے زہد و تقویٰ زاہدا\nگر کرے تو سیر کفرستان عشق\n\nفیض سے آثمؔ شہ خادم کے ہے\nسیر میں اپنی بہارستان عشق", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D9%81%D9%86%D8%A7_%D8%A8%D8%B3%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86_%D8%B9%D8%B4%D9%82"} {"title": "ہے ماہ کہ آفتاب کیا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے ماہ کہ آفتاب کیا ہے\nدیکھو تو تہ نقاب کیا ہے\n\nمیں نے تجھے تو نے مجھ کو دیکھا\nاب مجھ سے تجھے حجاب کیا ہے\n\nآئے ہو تو کوئی دم تو بیٹھو\nاے قبلہ یہ اضطراب کیا ہے\n\nاس بن ہمیں جاگتے ہی گزری\nجانا بھی نہ یہ کہ خواب کیا ہے\n\nمجھ کو بھی گنے وہ عاشقوں میں\nاس بات کا سو حساب کیا ہے\n\nسیپارۂ دل کو دیکھ اس نے\nپوچھا بھی نہ یہ کتاب کیا ہے\n\nاس مے کدۂ جہاں میں یارو\nمجھ سا بھی کوئی خراب کیا ہے\n\nقسمت میں ہماری مصحفیؔ ہائے\nکیا جانے ثواب عذاب کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%81_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہے مجھ کو ربط بسکہ غزالان رم کے ساتھ", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "ہے مجھ کو ربط بسکہ غزالان رم کے ساتھ\nچونکوں ہوں دیکھ سائے کو اپنے قدم کے ساتھ\n\nہے ذات حق جواہر و اغراض سے بری\nتشبیہ کیا ہے اس کو وجود و عدم کے ساتھ\n\nکیا این و ملک و وضع و اضافت کا دخل واں\nہے انفعال و فعل متیٰ کیف و کم کے ساتھ\n\nدیکھا میں ساتھ ڈھول کے سولی پر ان کا سر\nفخریہ وہ جو پھرتے تھے طبل و علم کے ساتھ\n\nدیکھی یہ چاہ ان کی اندھیرے کنویں کے بیچ\nپھینکا لپیٹ کشتہ کو اپنے گلم کے ساتھ\n\nکوئے بتاں سے طوف حرم کو چلے تو ہم\nلیکن کمال حسرت و حرمان و غم کے ساتھ\n\nتھیں اپنی آنکھیں حلقۂ زنجیر کی نمط\nپیوستہ ہل رہی در بیت الصنم کے ساتھ\n\nکہتے ہو ووں سے ہوکے ادھر آؤ ووں چلیں\nکیا خوب کیوں نہ دوڑ پڑوں ایسے دم کے ساتھ\n\nتم اور بات مانو اجی سب نظر میں ہے\nدانتوں تلے زبان دبانی قسم کے ساتھ\n\nاب چھیڑ چھاڑ کی غزل انشاؔ اک اور لکھ\nہیں لاکھ شوخیاں تری نوک قلم کے ساتھ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D8%A8%D8%B7_%D8%A8%D8%B3%DA%A9%DB%81_%D8%BA%D8%B2%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%86_%D8%B1%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "ہے محبت سب کو اس کے ابروئے خم دار کی", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے محبت سب کو اس کے ابروئے خم دار کی\nہند میں کیا آبرو باقی رہی تلوار کی\n\nوصل کی شب چاندنی دیوار سے جانے نہ پائے\nمنتیں کرتا ہوں ہر خار سر دیوار کی\n\nاسترا پھرنے سے روئے یار پر ہے دور خط\nچال اس کم بخت نے سیکھی ہے کیا پرکار کی\n\nنشۂ مے کا گماں کرنے لگا وہ بدگماں\nدیکھ کر سرخی ہمارے دیدۂ خوں بار کی\n\nگھر بھی میرا منتظر ہے یار کا میری طرح\nروزن در میں ہے صورت دیدۂ بیدار کی\n\nکہتے ہو ہم خواب میں آتے جو تو سوتا کبھی\nخوب کی برباد محنت دیدۂ بیدار کی\n\nباغ عالم میں کہاں ہے کوئی مجھ سا رحم دل\nروز کرتا ہوں عیادت نرگس بیمار کی\n\nداغ سر ہیں جوش سودا میں برنگ گل مجھے\nمثل گلبن پاؤں میں کب ہے شکایت خار کی\n\nوہ خدا کا دوست ہے اور دوست ہے اس کا خدا\nکیوں نہ ہو ناسخؔ محبت حیدر کرار کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AE%D9%85_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "ہے مرا تار نفس تار قفس", "poet_page": "مصنف:میر کلو عرش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے مرا تار نفس تار قفس\nرشتہ برپا ہوں گرفتار قفس\n\nمرغ دل کو ذبح اے صیاد کر\nاور طائر ہیں سزاوار قفس\n\nشوق بلبل کو اسیری کا جو ہو\nہو زر گل سے خریدار قفس\n\nکیوں نہ میں رنگیں بیاں ہوں قید رنج\nمرغ خوش خواں ہے سزاوار قفس\n\nزندگی سے قید میں بھی ہوں سبک\nگاہ بار دام گہہ بار قفس\n\nمجھ سا بلبل قید ہو کر چھوٹ جائے\nسو گئے کیا بخت بیدار قفس\n\nچشم عالم میں اسیر دام ہے\nروح ہے تن میں سزاوار قفس\n\nپھاند کر آیا تھا دیوار چمن\nپھاند جاؤں کیوں کہ دیوار قفس\n\nکیا ہے داغ خون بلبل کی بہار\nدیکھ اے صیاد گلزار قفس\n\nکب کسی بلبل کو ملتا ہے گلاب\nخون دل پیتا ہے بیمار قفس\n\nذبح کرنے کو اتارا نخل سے\nسر مرا تھا پائے رفتار قفس\n\nپوچھتا ہے کیا دل بلبل کا حال\nدیکھ ظالم جسم افگار قفس\n\nاشک کو ہے دام گیسو کی تلاش\nطفل ہوتا ہے خریدار قفس\n\nتا بہ کے ہوگا اسیر دام فکر\nعرشؔ کر موقوف اشعار قفس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%86%D9%81%D8%B3_%D8%AA%D8%A7%D8%B1_%D9%82%D9%81%D8%B3"} {"title": "ہے مرے پیش نظر چاند سی صورت تیری", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "حالت تو دیکھ لی مری چشم پر آب کی\nساقی نہیں ہوس مجھے جام شراب کی\n\nدل کو شرار شعلۂ غم نے جلا دیا\nپہلو سے آ رہی ہے جو خوشبو کباب کی\n\nکس کی شمیم نے اسے ایسا بسا دیا\nآتی ہے اپنی خاک سے خوشبو گلاب کی\n\nافسانۂ گذشتہ یہ کہتا ہے مجھ سے دل\nکیا ذکر ان کا بھولیے باتیں ہیں خواب کی\n\nاس بارگاہ احمد مرسل کے سامنے\nوقعت نہیں ہے کچھ بھی فلک سے حباب کی\n\nاز فرش تا بہ عرش منور اسی سے ہے\nایسی چمک ہے روضۂ عالی جناب کی\n\nکیوں کر نہ ہوں میں نغمہ سرا ان کی نعت میں\nبلبل ہوں بوستان رسالت مآب کی\n\nاس دہر بے بقا سے لگاؤں میں دل کو کیا\nہستی ہے ایک وسعت موج سراب کی\n\nعزت نہ تیرے عرش پہ کیوں کر ملک کریں\nتو ہے جمیلہؔ خاک قدم بو تراب کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%B4_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%D8%B3%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی\nاک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی\n\nجو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھل کھیلو\nپر ہم سے قسم لے لو کی ہو جو شکایت بھی\n\nدشوار ہے رندوں پر انکار کرم یکسر\nاے ساقئ جاں پرور کچھ لطف و عنایت بھی\n\nدل بسکہ ہے دیوانہ اس حسن گلابی کا\nرنگیں ہے اسی رو سے شاید غم فرقت بھی\n\nخود عشق کی گستاخی سب تجھ کو سکھا دے گی\nاے حسن حیاپرور شوخی بھی شرارت بھی\n\nبرسات کے آتے ہی توبہ نہ رہی باقی\nبادل جو نظر آئے بدلی میری نیت بھی\n\nعشاق کے دل نازک اس شوخ کی خو نازک\nنازک اسی نسبت سے ہے کار محبت بھی\n\nرکھتے ہیں مرے دل پر کیوں تہمت بیتابی\nیاں نالۂ مضطر کی جب مجھ میں ہو قوت بھی\n\nاے شوق کی بیباکی وہ کیا تیری خواہش تھی\nجس پر انہیں غصہ ہے انکار بھی حیرت بھی\n\nہر چند ہے دل شیدا حریت کامل کا\nمنظور دعا لیکن ہے قید محبت بھی\n\nہیں شادؔ و صفیؔ شاعر یا شوقؔ و وفاؔ حسرتؔ\nپھر ضامنؔ و محشرؔ ہیں اقبالؔ بھی وحشتؔ بھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B4%D9%82_%D8%B3%D8%AE%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DA%86%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B4%D9%82%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "ہے مفت دل کی قیمت اگر اک نظر ملے", "poet_page": "مصنف:مفتی صدر الدین خان آزردہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے مفت دل کی قیمت اگر اک نظر ملے\nیہ وہ متاع ہے کہ نہ لیں مفت اگر ملے\n\nانصاف کر کہ لاؤں میں پھر کون سا وہ دن\nمحشر کے روز بھی نہ جو داد جگر ملے\n\nپروانہ وار ہے حد پرواز شعلہ تک\nجلنے ہی کے لیے مجھے یہ بال و پر ملے\n\nآنے سے خط کے جاتے رہے وہ بگاڑ سب\nبن آئی اب تو حضرت دل لو خضر ملے\n\nکیا شکر کا مقام ہے مرنے کی جاہے دل\nکچھ مضطرب سے آج وہ بیرون در ملے\n\nعالم خراب ہے نہ نکلنے سے آپ کے\nنکلو تو دیکھو خاک میں کیا گھر کے گھر ملے\n\nہے شام ہجر آج او ظالم او فلک\nگردش وہ کر کہ شام سے آ کر سحر ملے\n\nگو پاس ہو پہ چین تو ہے اس بگاڑ میں\nکیا لطف تھا لڑے وہ ادھر اور ادھر ملے\n\nدل نے ملا دیں خاک میں سب وضع داریاں\nجوں جوں رکے وہ ملنے سے ہم بیشتر ملے\n\nٹوٹے یہ بخیہ زخم کا ہمدم کہیں سے لا\nخنجر ملے کٹار ملے نیشتر ملے\n\nتھا اصل میں مراد ڈبونا جہان کا\nقابل سمجھ کے گویا ہمیں چشم تر ملے\n\nاس کی گلی میں لے گئے آزردہؔ کو اسے\nدی تھی دعا یہ کس نے کہ جنت میں گھر ملے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%81%D8%AA_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%DB%8C%D9%85%D8%AA_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%D9%84%DB%92"} {"title": "ہے مہر کرم گناہ گاری میری", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے مہر کرم گناہ گاری میری\nامضائے نوید امیدواری میری\nکر رحم نہ انصاف کہ سب جانتے ہیں\nرحمت تیری تباہ کاری میری", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%81%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D9%85_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "ہے نقش درم جو نقش پا ہے", "poet_page": "مصنف:خواجہ محمد وزیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے نقش درم جو نقش پا ہے\nآپ آتے تو گھر درم سرا ہے\n\nدل جلوہ ترا دکھا رہا ہے\nشیشہ یہ مرا پری نما ہے\n\nسلطان جہاں ہے جو گدا ہے\nتیمور ہر اک شکستہ پا ہے\n\nانساں بھی قدرت خدا ہے\nکیا سنگ کو بت بنا دیا ہے\n\nشیریں ہے دہن کرو شکر خند\nہنسنے میں تمہاری اک مزا ہے\n\nمضمون پروانے بن کے آئیں\nشبدیز قلم چراغ پا ہے\n\nیاران گزشت گاں سے ہے انس\nزندہ مردوں پہ مر رہا ہے\n\nآیا نہیں خود فروش میرا\nگویا مجھے مول لے لیا ہے\n\nوہ رشک بہار و غیرت گل\nگلگشت چمن کو جو گیا ہے\n\nگلزار ہوا ہے پانی پانی\nبلبل پانی کا بلبلا ہے\n\nجو چاہئے عشق میں کیا وہ\nہم مر گئے کہئے مرحبا ہے\n\nہے جھوٹا کہوں جو راست ہے قد\nیہ توسن حسن الف ہوا ہے\n\nمنہ جس نے دیا وہ رزق دے گا\nگویا یہ دہاں آسیا ہے\n\nتوبہ کا نہ در ہو بند یا رب\nجب تک در میکدہ کھلا ہے\n\nہے شیشۂ سبز گرم قلقل\nطوطی مستوں کا بولتا ہے\n\nکیا جسم ہے صاف اس پری کا\nگویا قد آدم آئنہ ہے\n\nبیگانہ کوئی نظر نہ آیا\nآئنہ بھی صورت آشنا ہے\n\nکیا خوف گنہ وزیرؔ کو ہو\nحامی سلطان انبیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D8%AF%D8%B1%D9%85_%D8%AC%D9%88_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہے نو جوانی میں ضعف پیری بدن میں رعشہ کمر میں خم ہے", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "ہے نو جوانی میں ضعف پیری بدن میں رعشہ کمر میں خم ہے\nزمیں پہ سایہ ہے اپنے قد کا کہ جادۂ منزل عدم ہے\n\nیہی ہے رسم جہان فانی اسی میں کٹتی ہے زندگانی\nکبھی ہے سامان عیش و راحت کبھی ہجوم غم و الم ہے\n\nبتاؤ کیوں چپ ہو منہ سے بولو گہر فشاں ہو دہن تو کھولو\nعزیز رکھتے ہو جس کو دل سے اسی کے سر کی تمہیں قسم ہے\n\nہٹاؤ آئینہ کو خدارا لبوں پہ آیا ہے دم ہمارا\nبناؤ تم دیکھتے ہو اپنا یہاں ہے دھڑکا کہ رات کم ہے\n\nتمہارے کوچہ میں جب سے بیٹھے بھلائے دل سے سبھی طریقے\nخدا ہی شاہد جو جانتے ہوں کہاں کلیسا کہاں حرم ہے\n\nعبث ہے کوشش حصول زر میں خیال فاسد کو رکھ نہ سر میں\nوہی ملے گا ازل سے جو کچھ ہر ایک کے نام پر رقم ہے\n\nفرشتے جنت کو لے چلے تھے پہ تیرے کوچہ میں ہم جو پہنچے\nمچل گئے ان سے کہہ کے چھوڑو ہمیں یہی گلشن ارم ہے\n\nجدا ہو جب یار اپنا ساقی کہاں کی صحبت شراب کیسی\nپلائیں گر خضر آب حیواں ہم اس کو سمجھیں یہی کہ سم ہے\n\nجلائے یا ہم کو کوئی مارے بہشت دے یا سقر میں ڈالے\nرہے گا اس بت کا نام لب پر ہمارے جب تک کہ دم میں دم ہے\n\nحبیبؔ تا چند فکر دولت کبھی تو کر دل سے شکر نعمت\nکریم کو ہے کرم کی عادت مگر یہ غفلت تری ستم ہے", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D9%86%D9%88_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B6%D8%B9%D9%81_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%B9%D8%B4%DB%81_%DA%A9%D9%85%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہے نگہباں رخ کا خال روئے دوست", "poet_page": "مصنف:حبیب موسوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان حبیب (1900)", "year": "1900", "text_ur": "ہے نگہباں رخ کا خال روئے دوست\nحافظ قرآں ہوا ہندوئے دوست\n\nہم نہ ہوں پتھر ہو ہم پہلوئے دوست\nآئینہ لوٹے بہار روئے دوست\n\nپھر گئی جب نرگس جادوئے دوست\nسب مسلماں ہو گئے ہندوئے دوست\n\nبھا گئی ہے دل کو ایسی خوئے دوست\nآتی ہے ہر گل سے مجھ کو بوئے دوست\n\nہے خیال عارض و گیسوئے دوست\nگہ مسلمان ہوں کبھی ہندوئے دوست\n\nسو بلائیں آ گئیں عشاق پر\nجب کمر تک آ گئے گیسوئے دوست\n\nہڈیاں میری نہ کھانا اے ہما\nدانت رکھتے ہیں سگان کوئے دوست\n\nآگ بھڑکے کیوں نہ پہلو میں مرے\nغیر ہیں واں آج ہم پہلوئے دوست\n\nاصل یہ ہے نقل محراب حرم\nسجدہ واجب ہے تہہ ابروئے دوست\n\nتیغ ابرو پر کٹے لاکھوں گلے\nبن گیا گنج شہیداں کوئے دوست\n\nدل ہوا مفتوں نگاہ یار کا\nشیر افگن ہیں مگر آہوئے دوست\n\nبعد مردن قبر میں آٹھوں پہر\nآئے گا مجھ کو خیال روئے دوست\n\nپھر رہا ہے آج پتلی کی طرح\nمیری آنکھوں میں قد دل جوئے دوست\n\nہے خیال خال مشکیں رات دن\nدل کو میرے جان لو مشکوئے دوست\n\nاب وہی سر ہے کہ ٹکراتا ہوں میں\nوصل میں یہ تھا سر زانوئے دوست\n\nکیا کوئی آفت ابھی باقی ہے اور\nلے چلا ہے دل مجھے پھر سوئے دوست\n\nلے اڑی بے ساختہ دل کو مرے\nآ گئی جس دم ہوائے کوئے دوست\n\nرنگ الفت سے مٹا زنگ دوئی\nہو گئی ہے مجھ میں پیدا بوئے دوست\n\nغیرت منصور ہوں میں اے حبیبؔ\nہر گھڑی ہوں صرف ہا و ہوئے دوست", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D9%86%DA%AF%DB%81%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D8%AE_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D9%84_%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA"} {"title": "ہے وصف ترا محیط اعظم", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے وصف ترا محیط اعظم\nیاں تاب کسے شناوری کی\n\nدی زندگی اور اس کا ساماں\nکیا شان ہے بندہ پروری کی\n\nشاہنشہ وقت ہے وہ جس نے\nتیرے در کی گداگری کی\n\nبد تر ہوں ولے کرم سے تیرے\nامید قوی ہے بہتری کی\n\nکیا آنکھ کو تل دیا کہ جس میں\nوسعت ہے چرخ چنبری کی\n\nدیکھا تو وہی ہے راہ و رہرو\nپھر اس نے ہے آپ رہبری کی\n\nہر شکل میں تھا وہی نمودار\nہم نے ہی نگاہ سرسری کی\n\nکیا بات ہے گر کیا ترحم\nہیہات جو تو نے داوری کی\n\nکی بعد خزاں بہار پیدا\nسوکھی ٹہنی ہری بھری کی\n\nجھوٹ اور مبالغہ نے افسوس\nعزت کھو دی سخنوری کی\n\nلکھی تھی غزل یہ آگرہ میں\nپہلی تاریخ جنوری کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D9%88%D8%B5%D9%81_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%AD%DB%8C%D8%B7_%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85"} {"title": "ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں\nمعشوق شوخ و عاشق دیوانہ چاہیے\n\nاس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں\nشوق فضول و جرأت رندانہ چاہیے\n\nعاشق نقاب جلوۂ جانانہ چاہیے\nفانوس شمع کو پر پروانہ چاہیے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D9%88%D8%B5%D9%84_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AA%D9%85%DA%A9%DB%8C%D9%86_%D9%88_%D8%B6%D8%A8%D8%B7_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہے وہی ناز آفریں آئینہ نیاز میں", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے وہی ناز آفریں آئینہ نیاز میں\nجس کی ضیا ہے سوز میں جس کی صدا ہے ساز میں\n\nاپنے نیاز مند ہے پردے کی رسم و راہ ہے\nورنہ حجاب کو کہاں دخل حریم ناز میں\n\nسجدے میں مر گیا اگر پھر نہ اٹھے گا حشر تک\nقید نہ رکھیے وقت کی میرے لیے نماز میں\n\nناز کو نور کر دیا سرور کائنات نے\nوہ جو لگی تھی طور پر آ کے بجھی حجاز میں\n\nناطقؔ سوختہ جگر دل پہ تو ہاتھ رکھ ذرا\nاب کے بھی کچھ چمک سی تھی نالۂ جاں گداز میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%A2%D9%81%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہے چار شنبہ آخر ماہ صفر چلو", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "ہے چار شنبہ آخر ماہ صفر چلو\nرکھ دیں چمن میں بھر کے مئے مشکبو کی ناند\nجو آئے جام بھر کے پیے اور ہو کے مست\nسبزے کو روندتا پھرے پھولوں کو جائے پھاند\nغالبؔ یہ کیا بیاں ہے بجز مدح بادشاہ\nبھاتی نہیں ہے اب مجھے کوئی نوشت خواند\nبٹتے ہیں سونے روپے کے چھلے حضور میں\nہے جن کے آگے سیم و زر مہر و ماہ ماند\nیوں سمجھیے کہ بیچ سے خالی کیے ہوئے\nلاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%B4%D9%86%D8%A8%DB%81_%D8%A2%D8%AE%D8%B1_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D8%B5%D9%81%D8%B1_%DA%86%D9%84%D9%88"} {"title": "ہے چاہ نے اس کی جب سے کی جا دل میں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "ہے چاہ نے اس کی جب سے کی جا دل میں\nکیا کیا کہئے جو ہے مہیا دل میں\nجاتی ہے جدھر نگاہ اللہ اللہ\nآتا ہے نظر عجب تماشا دل میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%DA%86%D8%A7%DB%81_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہے چمن میں رحم گلچیں کو نہ کچھ صیاد کو", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے چمن میں رحم گلچیں کو نہ کچھ صیاد کو\nاب خدا ہی شاد رکھے بلبل ناشاد کو\n\nسوجھتی تھی کوہ و صحرا میں یہی ہر دم مجھے\nکیجئے غم قیس کا اور روئیے فرہاد کو\n\nہچکیاں آتی ہیں پر لیتے نہیں وہ میرا نام\nدیکھنا ان کی فراموشی کو میری یاد کو\n\nیاد میں ان کے حواس خمسہ دے دیتے ہیں ہم\nآہ کو نالہ کو غل کو شور کو فریاد کو\n\nجائے گی گلشن تلک اس گل کی آمد کی خبر\nآئے گی بلبل مرے گھر میں مبارک باد کو\n\nنزع کے دم بھی انہیں ہچکی نہ آئے گی کبھی\nیوں ہی گر بھولے رہیں گے وہ سخیؔ کی یاد کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%DA%86%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%D8%AD%D9%85_%DA%AF%D9%84%DA%86%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B5%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D9%88"} {"title": "ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُل\nبُلبُل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گُل\n\nآزادیِ نسیم مبارک کہ ہر طرف\nٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دامِ ہوائے گُل\n\nجو تھا، سو موجِ رنگ کے دھوکے میں مر گیا\nاے وائے، نالۂ لبِ خونیں نوائے گُل!\n\nخوش حال اُس حریفِ سیہ مست کا، کہ جو\nرکھتا ہو مثلِ سایۂ گُل، سر بہ پائے گُل\n\nایجاد کرتی ہے اُسے تیرے لیے بہار\nمیرا رقیب ہے نَفَسِ عطر سائے گُل\n\nشرمندہ رکھتے ہیں مجھے بادِ بہار سے\nمینائے بے شراب و دلِ بے ہوائے گُل\n\nسطوت سے تیرے جلوۂ حُسنِ غیور کی\nخوں ہے مری نگاہ میں رنگِ ادائے گُل\n\nتیرے ہی جلوے کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک\nبے اختیار دوڑے ہے گُل در قفائے گُل\n\nغالبؔ! مجھے ہے اُس سے ہم آغوشی آرزو\nجس کا خیال ہے گُلِ جیبِ قبائے گُل", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%DB%81%D9%84%D8%A7%DA%A9_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D9%84"} {"title": "ہے کہے دیتے ہیں زحمت خوردہ ہے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے کہے دیتے ہیں زحمت خوردہ ہے\nدل تو حاضر ہے مگر پژمردہ ہے\n\nتو ہی آتا ہے نہ آتی ہے قضا\nدیکھتے ہیں جس کو وہ آزردہ ہے\n\nجس طرح جی چاہے رکھیں میرا دل\nجانتے ہیں وہ کہ مال مردہ ہے\n\nمنزل الفت میں رکھیں تو قدم\nرستم و سہراب کا کیا گردہ ہے\n\nکون سنتا ہے تمہاری اے نسیمؔ\nکس کو پاس خاطر افسردہ ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%D8%AD%D9%85%D8%AA_%D8%AE%D9%88%D8%B1%D8%AF%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھی", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھی\nتیرا غم بھی ہے مجھے اور غم تنہائی بھی\n\nدشت وحشت میں بہ جز ریگ رواں کوئی نہیں\nآج کل شہر میں ہے لالۂ صحرائی بھی\n\nمیں زمانے میں ترا غم ہوں بہ عنوان وفا\nزندگی میری سہی ہے تری رسوائی بھی\n\nآج تو نے بھی مرے حال سے منہ پھیر لیا\nآج نم ناک ہوئی چشم تماشائی بھی\n\nاب کھلا ہے کہ ترا حسن تغافل تھا کرم\nگرچہ کچھ دیر طبیعت مری گھبرائی بھی\n\nجز غم دہر مجھے کوئی نہ پہچان سکا\nترے کوچے میں تری یاد مجھے لائی بھی\n\nان کی محفل میں ظفرؔ لوگ مجھے چاہتے ہیں\nوہ جو کل کہتے تھے دیوانہ بھی سودائی بھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%DA%AF%D9%84%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%BE%DB%81%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "ہے ہمن کا شام کوئی لے جا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے ہمن کا شام کوئی لے جا\nکہ مجھے آ کے ٹک درس دے جا\n\nبو الہوس کوں ہوا ہے تب سیں مغز\nجب سیں تم نے اسے بلا بھیجا\n\nتم سوا ہم کوں اور جاگہ نہیں\nاے سجن ہم سیں مت لڑو بے جا\n\nآبروؔ چاہتا ہے تو مت اڑ\nبو الہوس اس گلی سیں سن بے جا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "ہے ہے کوئی دل دینے کے قابل نہیں ملتا", "poet_page": "مصنف:کشن کمار وقار", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان وقار (1878)", "year": "1878", "text_ur": "ہے ہے کوئی دل دینے کے قابل نہیں ملتا\nارمان تڑپتے ہیں کہ قاتل نہیں ملتا\n\nہو عقل تو ہو تل کی جگہ آنکھ میں لیلی\nجھک قیس کی ہے صاحب محمل نہیں ملتا\n\nگل کی ترے رخسار سے رنگت نہیں ملتی\nنالہ سے مرے شور عنادل نہیں ملتا\n\nاپنا بھی تو ملتا نہیں دل مجھ سے پھر اے یار\nکس منہ سے کہوں تجھ سے ترا دل نہیں ملتا\n\nبوسہ نہیں دیتے ہیں شب وصل میں بھی آپ\nمزروعۂ امید کا حاصل نہیں ملتا\n\nملتا نہیں عارض سے ترے مہر درخشاں\nپیشانی سے تیری مہ کامل نہیں ملتا\n\nچمکے نہ وقارؔ آگے رخ یار کے خورشید\nسمجھے رہے حق سے کبھی باطل نہیں ملتا\n\nیا رب تمکیں دہر میں قاتل نہیں ملتا\nپھیکے کسی دلبر سے مرا دل نہیں ملتا\n\nوہ عشق کا دریا ہے کہ الیاس کو جس کا\nکہنے کو پئے نام بھی ساحل نہیں ملتا\n\nموجود ہے فلفل مجھے غم اس کا نہیں ہے\nگر دیکھنے کو رخ کا ترے تل نہیں ملتا\n\nمشق ستم و جور کا چورنگ ہوں اس سے\nعاشق کوئی مجھ سا انہیں بے دل نہیں ملتا\n\nاشعار وقارؔ ایسی غزل میں کہوں کیا خاک\nمشکل تو یہ ہے قافیہ مشکل نہیں ملتا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7"} {"title": "ہے یاد تجھ سے میرا وہ شرح حال دینا", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے یاد تجھ سے میرا وہ شرح حال دینا\nاور سن کے تیرا اس کو ہنس ہنس کے ٹال دینا\n\nکر کر کے یاد اس کی بے حال ہوں نہایت\nفرصت ذرا تو مجھ کو تو اے خیال دینا\n\nاس زلف کج کے عقدے ہرگز کھلے نہ مجھ پر\nکیوں اس کو شانہ کر کے ایک ایک بال دینا\n\nمیں مدعا کو اپنے محمل کہوں ہوں تجھ سے\nگوش دل اپنا ایدھر صاحب جمال دینا\n\nاس عمر بھر میں تجھ سے مانگا ہے ایک بوسہ\nخالی پڑے نہ پیارے میرا سوال دینا\n\nہم سے رکھائیاں اور منہ جھلسے مدعی کا\nبوسہ پہ بوسہ ہر دم دوں بے سوال دینا\n\nیارب کسی پہ ہرگز عاشق کوئی نہ ہو جو\nدل ہاتھ دلبروں کے ہے بد مآل دینا\n\nوہ مہرباں کہ ہم کو الطاف بر محل سے\nپاس اپنے سے تھا اس کو اٹھنے محال دینا\n\nدیکھے ہے دور سے تو کہتا ہے بے مروت\nیہ کون آ گھسا ہے اس کو نکال دینا\n\nقابو ہے تیرا حسرتؔ مت چھوڑ مدعی کو\nدشمن کو مصلحت نیں ہرگز مجال دینا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%B4%D8%B1%D8%AD_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7"} {"title": "ہے یاد مجھے نکتۂ سلمانِ خوش آہنگ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ہے یاد مجھے نکتۂ سلمانِ خوش آہنگ\nدنیا نہیں مردانِ جفاکش کے لیے تنگ\n\nچیتے کا جگر چاہیے، شاہیں کا تجسّس\nجی سکتے ہیں بے روشنیِ دانش و فرہنگ\n\nکر بُلبل و طاؤس کی تقلید سے توبہ\nبُلبل فقط آواز ہے، طاؤس فقط رنگ!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%86%DA%A9%D8%AA%DB%82_%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%A2%DB%81%D9%86%DA%AF"} {"title": "ہے یاد یار سے اک آگ مشتعل دل میں", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے یاد یار سے اک آگ مشتعل دل میں\nعجب ہے خلد و جہنم ہیں متصل دل میں\n\nجو چپکے چپکے ہمیں کچھ کہے وہ اپ سنے\nپڑے اسی کو جو کوسے گا ہم کو دل دل میں\n\nکرو گے اب بھی برائی مئے مغاں کی شیخ\nنہ کہئے منہ سے مگر ہو گے تو خجل دل میں\n\nگئے وہ پانی تو ملتان اب گنو موجیں\nکہاں وہ جوش اب اے اشک پا بہ گل دل میں\n\nعلو یہ خوب ہوا آپ تم چلے آئے\nمیں کہتا ہی تھا کہ آج ان سے جا کے مل دل میں\n\nپکڑ جو کل لیا چسکی لگاتے زاہد کو\nبتاؤں کیا کہ ہوا کیسا منفعل دل میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DA%A9_%D8%A2%DA%AF_%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B9%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر", "poet_page": "مصنف:الطاف حسین حالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر\nوہی اصرار ہے خطاؤں پر\n\nرہیں نا آشنا زمانہ سے\nحق ہے تیرا یہ آشناؤں پر\n\nرہروو با خبر رہو کہ گماں\nرہزنی کا ہے رہنماؤں پر\n\nہے وہ دیر آشنا تو عیب ہے کیا\nمرتے ہیں ہم انہیں اداؤں پر\n\nاس کے کوچہ میں ہیں وہ بے پر و بال\nاڑتے پھرتے ہیں جو ہواؤں پر\n\nشہسواروں پہ بند ہے جو راہ\nوقف ہے یاں برہنہ پاؤں پر\n\nنہیں منعم کو اس کی بوند نصیب\nمینہ برستا ہے جو گداؤں پر\n\nنہیں محدود بخششیں تیری\nزاہدوں پر نہ پارساؤں پر\n\nحق سے درخواست عفو کی حالیؔ\nکیجے کس منہ سے ان خطاؤں پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AA%DA%A9%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%B9%D8%B7%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "ہے یہ گل کی اور اس کی آب میں فرق", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "ہے یہ گل کی اور اس کی آب میں فرق\nجیسے پانی میں اور گلاب میں فرق\n\nلب خوباں کہاں وہ لعل کہاں\nہے بہت شربت اور شراب میں فرق\n\nلاکھ گالی کہی ہے کم مت دے\nمیں گنوں گا نہ ہو حساب میں فرق\n\nزاہدا زہد تو پڑھا، میں عشق\nہے مری اور تری کتاب میں فرق\n\nاے شرابی گزک تو کرتا ہے\nکچھ تو کر دل میں اور کباب میں فرق\n\nآنکھ جب سے کھلی نہ دیکھا کچھ\nزندگانی میں اور حباب میں فرق\n\nکچھ نہیں کرتے تم جو شعلے میں\nاور اس روئے پر عتاب میں فرق\n\nہے زمیں آسمان کا یارو\nذرے میں اور آفتاب میں فرق\n\nکیونکہ جرأتؔ ہو شیخ تجھ سا کہ ہے\nپیری اور عالم شباب میں فرق", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%A2%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%B1%D9%82"} {"title": "یا الٰہی مجھ کو یہ کیا ہو گیا", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یا الٰہی مجھ کو یہ کیا ہو گیا\nدوستی کا تیری سودا ہو گیا\n\nدوستی کیا ہم سری کا دھیان ہے\nقید سے آزاد اتنا ہو گیا\n\nکیسی آزادی اسیری چیز کیا\nجب فنا رنگ تمنا ہو گیا\n\nجب تمنا اور ڈر جاتا رہا\nتو ہر اک شے سے مبرا ہو گیا\n\nیوں مبرا ہو گئی جب کوئی ذات\nبند پھر نغمہ صفت کا ہو گیا\n\nجب ہوا اوصاف سے کوئی بری\nعیب کیونکر اس میں پیدا ہو گیا\n\nخود پرستی اس کو یا جو کچھ کہو\nاب تو یہ عالم ہمارا ہو گیا\n\nبے خودی نے محو حیرت کر دیا\nآپ میں اپنا تماشا ہو گیا\n\nجس کو دیکھا آپ ہی آیا نظر\nرنگ اب کیفیؔ یہ اپنا ہو گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "یا الٰہی مرا دل دار سلامت باشد", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یا الٰہی مرا دل دار سلامت باشد\nوہ ولی نعمت دیدار سلامت باشد\n\nنیک و بد سے ہے مری خاطر ناشاد آزاد\nغم گسار اپنا غم یار سلامت باشد\n\nنہ رکھی دل میں ہمارے طمع خام وصال\nرشک اغیار کا آزار سلامت باشد\n\nگر نہ دے شربت عناب مجھے وہ لب لعل\nعشوۂ نرگس بیمار سلامت باشد\n\nخاکساروں کا کوئی گو نہ ہوئے پشت پناہ\nسر پہ وہ سایۂ دیوار سلامت باشد\n\nاس سگ کو کی نہیں کچھ مجھے مدت سے خبر\nوہ مرا یار وفادار سلامت باشد\n\nقتل عاشق کے تئیں گو ہووے یک شہر گواہ\nوہ ترا ناز سے انکار سلامت باشد\n\nمرد حق کا رہے دنیا میں علم نام بلند\nنہیں منصور اگر دار سلامت باشد\n\nیار کی مہر و مروت پہ نہ رکھ دل حسرتؔ\nیہ ترا عشق کا اظہار سلامت باشد", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D9%84_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA_%D8%A8%D8%A7%D8%B4%D8%AF"} {"title": "یا تھی ہوس وصال دن رات", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یا تھی ہوس وصال دن رات\nیا رہنے لگا ملال دن رات\n\nبے چین رکھے ہے میرے دل کو\nکافر یہ ترا خیال دن رات\n\nرہتا ہے مری زباں پہ تجھ بن\nافسانۂ زلف و خال دن رات\n\nدیکھوں ہوں بہ نقطۂ تصور\nملنے کی ترے ہی فال دن رات\n\nآنکھوں میں پھرے ہے جوں مہ عید\nابرو کا ترے ہلال دن رات\n\nوہ صید ہوں میں رہے ہے جس کے\nاندیشے کا سر پہ جال دن رات\n\nآنکھوں کے تلے مری پھرے ہے\nاب تک وہی بول چال دن رات\n\nجس سبزۂ مرغزار میں تھا\nرقصندہ مرا غزال دن رات\n\nجولانیٔ درد و غم سے اب یاں\nوہ سبزہ ہے پائمال دن رات\n\nگر تو ہی نہیں تو کیوں جیوں میں\nہے زیست مجھے وبال دن رات\n\nفرقت میں تری ہے مصحفیؔ کو\nلکھنا یہی حسب حال دن رات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%B3_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%86_%D8%B1%D8%A7%D8%AA"} {"title": "یا دور مرا حجاب کر دے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یا دور مرا حجاب کر دے\nیا اپنے کو بے نقاب کر دے\n\nسو بار بسے یہ دل کی بستی\nسو بار کوئی خراب کر دے\n\nدیکھیں تری ہم پسند زاہد\nاک حور تو انتخاب کر دے\n\nناداں کو دے دیا مبارکؔ\nدل کو نہ کہیں خراب کر دے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%B1_%D8%AF%DB%92"} {"title": "یا رب جو خار غم ہیں جلا دے انہوں کے تئیں", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یا رب جو خار غم ہیں جلا دے انہوں کے تئیں\nجو غنچۂ طرب ہیں کھلا دے انہوں کے تئیں\n\nانکار حشر جن کو ہے اے سرو خوش خرام\nیک بار اپنے قد کو دکھا دے انھوں کے تئیں\n\nکہتے ہیں ابرو و مژہ خوں ریز ہیں تری\nظالم کبھی ہمیں بھی بتا دے انہوں کے تئیں\n\nاس شمع رو کا مجھ سے جو کرتے ہیں سرد دل\nاے آہ سوز ناک جلا دے انہوں کے تئیں\n\nسوزاں ہے داغ ہجر مرے دل میں مثل شمع\nاے یاد وصل یار بجھا دے انہوں کے تئیں\n\nکرتے ہیں سرکشی جو کف پا سے آبلے\nاے خار دشت عشق بٹھا دے انہوں کے تئیں\n\nجو صاف و بے غبار ہیں بیدارؔ آشنا\nجوں سرمہ اپنی چشم میں جا دے انہوں کے تئیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8_%D8%AC%D9%88_%D8%AE%D8%A7%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%84%D8%A7_%D8%AF%DB%92_%D8%A7%D9%86%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%A6%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یا رب سراب اہل ہوس سے نجات دے", "poet_page": "مصنف:سراج الدین ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یا رب سراب اہل ہوس سے نجات دے\nمجھ کو شراب دے انہیں آب حیات دے\n\nآ ہم بھی رقص شوق کریں رقص مل کے ساتھ\nاے گردش زماں میرے ہاتھوں میں ہات دے\n\nاپنا سبو بھی آئنۂ جم سے کم نہیں\nرکھیں جو رو بہ رو خبر شش جہات دے\n\nاے دست راز مرکب دوراں ہے سست رو\nلا میرے ہاتھ میں رسن کائنات دے\n\nکچھ تو کھلے کہ کیا ہے پس پردۂ حیات\nکوئی پتا تو آئنۂ حسن ذات دے\n\nاے دوست اس زمان و مکاں کے عذاب میں\nدشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے\n\nاٹھ رہ گزر سے اے در مے خانہ کے گدا\nمسند پہ بیٹھ فیصلۂ کائنات دے\n\nاس موجۂ سرور کی ہے آرزو ظفرؔ\nجو طبع کو روانیٔ نیل و فرات دے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8_%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%DB%81%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%AA_%D8%AF%DB%92"} {"title": "یا رب مرے دل میں ہے اجالا تیرا", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یا رب مرے دل میں ہے اجالا تیرا\nآئینے کی ہے بغل میں جلوا تیرا\nمائلؔ کیوں آپ منہ نہ دیکھے اپنا\nیاں بھی تو چمک رہا ہے چہرا تیرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "یا رب نہ ہند ہی میں یہ ماٹی خراب ہو", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یا رب نہ ہند ہی میں یہ ماٹی خراب ہو\nجا کر نجف میں خاک در بو تراب ہو\n\nسایہ کرے وہ لطف سے سایہ جسے نہ تھا\nجس وقت روز حشر میں گرم آفتاب ہو\n\nحاصل ہو اس نفس کو صفت مطمئنہ کی\nپیش اس سے ارجعی کا ادھر سے خطاب ہو\n\nجب چشم بستگی ہو مجھے اس جہان میں\nآنکھوں کے سامنے وہی عالی جناب ہو\n\nاے یار یاں تو منہ نہ دکھایا کبھو ہمیں\nایسا نہ ہو کہ واں بھی بیاںؔ سے حجاب ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%86%D8%AF_%DB%81%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%A7%D9%B9%DB%8C_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DB%81%D9%88"} {"title": "یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے\nمر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے\n\nزنداں میں پھنسے طوق پڑے قید میں مر جائے\nپر دام محبت میں گرفتار نہ ہووے\n\nاس واسطے کانپوں ہوں کہ ہے آہ نپٹ سرد\nیہ باؤ کلیجے کے کہیں پار نہ ہووے\n\nصد نالۂ جانکاہ ہیں وابستہ چمن سے\nکوئی بال شکستہ پس دیوار نہ ہووے\n\nپژمردہ بہت ہے گل گلزار ہمارا\nشرمندۂ یک گوشۂ دستار نہ ہووے\n\nمانگے ہے دعا خلق تجھے دیکھ کے ظالم\nیا رب کسو کو اس سے سروکار نہ ہووے\n\nکس شکل سے احوال کہوں اب میں الٰہی\nصورت سے مری جس میں وہ بیزار نہ ہووے\n\nہوں دوست جو کہتا ہوں سن اے جان کے دشمن\nبہتر تو تجھے ترک ہے تا خوار نہ ہووے\n\nخوباں برے ہوتے ہیں اگرچہ ہیں نکورو\nبے جرم کہیں ان کا گنہ گار نہ ہووے\n\nباندھے نہ پھرے خون پر اپنی تو کمر کو\nیہ جان سبک تن پہ ترے بار نہ ہووے\n\nچلتا ہے رہ عشق ہی اس پر بھی چلے تو\nپر ایک قدم چل کہیں زنہار نہ ہووے\n\nصحرائے محبت ہے قدم دیکھ کے رکھ میرؔ\nیہ سیر سر کوچہ و بازار نہ ہووے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92"} {"title": "یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دے", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دے\nدل بیچتا ہوں کوئی خریدار بھیج دے\n\nاپنی بساط میں تو یہی دل ہے میری جاں\nلیتا نہیں تو کیا کروں اے یار بھیج دے\n\nدعویٰ جو برشگال کو آنکھوں سے ہے مری\nایسا کوئی جو ابر گہربار بھیج دے\n\nدیتے ہیں عقد حسن میں عاشق عروس جاں\nآتا نہیں جو آپ تو تلوار بھیج دے\n\nسوداؔ سے غم گسار کا تھا دل یہ تیں لیا\nاس کے عوض بھلا کوئی غم خوار بھیج دے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B1%D9%85%D8%A6_%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AC_%D8%AF%DB%92"} {"title": "یا رب! یہ جہانِ گُزَراں خوب ہے لیکن", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "یا رب! یہ جہانِ گُزَراں خوب ہے لیکن\nکیوں خوار ہیں مردانِ صفا کیش و ہُنرمند\n\nگو اس کی خُدائی میں مہاجن کا بھی ہے ہاتھ\nدنیا تو سمجھتی ہے فرنگی کو خداوند\n\nتو برگِ گِیاہے ندہی اہلِ خرد را\nاو کِشتِ گُل و لالہ بہ بخشد بخرے چند\n\nحاضر ہیں کلیسا میں کباب و مئے گُلگوں\nمسجد میں دھرا کیا ہے بجز مَوعظہ و پند\n\nاحکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسّر\nتاویل سے قُرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند\n\nفردوس جو تیرا ہے، کسی نے نہیں دیکھا\nافرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند\n\nمُدّت سے ہے آوارۂ افلاک مرا فکر\nکر دے اسے اب چاند کی غاروں میں نظربند\n\nفطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر مَلکوتی\nخاکی ہُوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند\n\nدرویشِ خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی\nگھر میرا نہ دِلّی، نہ صفاہاں، نہ سمرقند\n\nکہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق\nنے اَبلہِ مسجد ہُوں، نہ تہذیب کا فرزند\n\nاپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش\nمیں زہرِ ہَلاہِل کو کبھی کہہ نہ سکا قند\n\nمشکل ہے کہ اک بندۂ حق بین و حق اندیش\nخاشاک کے تودے کو کہے کوہِ دماوند\n\nہُوں آتشِ نمرود کے شُعلوں میں بھی خاموش\nمیں بندۂ مومن ہوں، نہیں دانۂ اسپند\n\nپُر سوز و نظرباز و نِکوبین و کم آزار\nآزاد و گرفتار و تہی کِیسہ و خورسند\n\nہر حال میں میرا دلِ بے قید ہے خُرّم\nکیا چھینے گا غُنچے سے کوئی ذوقِ شکر خند!\n\nچُپ رہ نہ سکا حضرتِ یزداں میں بھی اقبالؔ\nکرتا کوئی اس بندۂ گستاخ کا مُنہ بند!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8%21_%DB%8C%DB%81_%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86%D9%90_%DA%AF%D9%8F%D8%B2%D9%8E%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%DB%81%DB%92_%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86"} {"title": "یا سجن ترک ملاقات کرو", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یا سجن ترک ملاقات کرو\nیا ملو دو میں سے اک بات کرو\n\nسب بتاں رشک سیں ہو جاں مال\nناز کا اسپ اگر لات کرو\n\nپاؤں پڑنے کوں سعادت سمجھو\nیار کے دل کوں اگر ہات کرو\n\nجنگ کا وقت نہیں یہ پیارے\nگھر میں آئے ہیں مدارات کرو\n\nجن کو مضمون کا دعویٰ ہے انہیں\nآبروؔ سیں کہو دو ہات کرو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%D8%AC%D9%86_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "یا شاہ نجف تھام لو اس کشور کو", "poet_page": "مصنف:مرزا سلامت علی دبیر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یا شاہ نجف تھام لو اس کشور کو\nآباد رکھو اہل عزا کے گھر کو\nیوں کھودو مخالف کے عمل کی بنیاد\nجس طرح اکھاڑا ہے در خیبر کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D9%86%D8%AC%D9%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%85_%D9%84%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D8%B4%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D9%88"} {"title": "یا صبر ہو ہمیں کو اس طرف جو نہ نکلیں", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یا صبر ہو ہمیں کو اس طرف جو نہ نکلیں\nیا اپنے گھر سے بن بن یہ خوبرو نہ نکلیں\n\nہوتی نہیں تسلی دل کو ہمارے جب تک\nدو چار بار اس کے کوچہ سے ہو نہ نکلیں\n\nدل ڈھونڈھنے چلے ہیں کوچہ میں تیرے اپنا\nڈرتے ہیں آپ کو بھی ہم واں سے کھو نہ نکلیں\n\nکوئی بھی دن نہ گزرا ایسا کہ اس گلی سے\nزخمی ہو مبتلا ہو جو ایک دو نہ نکلیں\n\nدل اور جگر لہو ہو آنکھوں تلک تو پہنچے\nکیا حکم ہے اب آگے نکلیں کہو نہ نکلیں\n\nبستی میں تو دل اپنا لگتا نہیں کہو پھر\nصحرا کی طرف کیوں کر اے ناصحو نہ نکلیں\n\nگر وہ نقاب اٹھا دے چہرے سے تو حسنؔ پھر\nکچھ غم نہیں مہ و مہر عالم میں گو نہ نکلیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D8%B5%D8%A8%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D9%81_%D8%AC%D9%88_%D9%86%DB%81_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یا علی کہہ کر بت پندار توڑا چاہئے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یا علی کہہ کر بت پندار توڑا چاہئے\nنفس امارہ کی گردن کو مروڑا چاہئے\n\nتنگ آ کر جسم کو اے روح چھوڑا چاہئے\nطفل طبعوں کے لیے مٹی کا گھوڑا چاہئے\n\nزلف کے سودے میں اپنے سر کو پھوڑا چاہئے\nجب بلا کا سامنا ہو منہ نہ موڑا چاہئے\n\nگھورتی ہے تم کو نرگس آنکھ پھوڑا چاہئے\nگل بہت ہنستے ہیں کان ان کے مروڑا چاہئے\n\nآج کل ہوتا ہے اپنا عشق پنہاں آشکار\nپک چکا ہے خوب اب پھوٹے یہ پھوڑا چاہئے\n\nمانگتا ہوں میں خدا سے اپنے دل سے داغ عشق\nبادشاہ حسن کے سکے کا توڑا چاہئے\n\nان لبوں کے عشق نے ہے جیسے دیوانہ کیا\nبڑ اپنی ہے اک لالوں کا جوڑا چاہئے\n\nدے رہا ہے گیسوئے مشکین سودے کو جگہ\nکس کے آگے جا کے اپنے سر کو پھوڑا چاہئے\n\nبادۂ گلگوں کے شیشہ کا ہوں سائل ساقیا\nساتھ کیفیت کے اڑتا مجھ کو گھوڑا چاہئے\n\nیہ صدا آتی ہے رفتار سمند عمر سے\nوہ بھی گھوڑا ہے کوئی جس کو کہ کوڑا چاہئے\n\nقطع مقراض خموشی سے زباں کو کیجئے\nقفل دے کر گنج پر مفتاح توڑا چاہئے\n\nاپنے دیوانہ کا دل لے کر یہ کہتا ہے وہ طفل\nیہ کھلونا ہے اسی قابل کہ توڑا چاہئے\n\nزلفیں روئے یار پر بے وجہ لہراتی نہیں\nکچھ نہ کچھ زہر اگلے یہ کالے کا جوڑا چاہئے\n\nباغباں سے چھپ کے گل چینی جو کی تو کیا کیا\nآنکھ بلبل کی بچا کر پھول توڑا چاہئے\n\nفصل گل میں بیڑیاں کاٹی ہیں میرے پاؤں کی\nہاتھ میں حداد کے سونے کا توڑا چاہئے\n\nباغ عالم میں یہی میری دعا ہے روز و شب\nخار خار عشق گل رخسار توڑا چاہئے\n\nعشق کی مشکل پسندی سے ہوا یہ آشکار\nخوب صورت کو غرور حسن تھوڑا چاہئے\n\nزمزمے سن کر مرے صیاد گل رو نے کہا\nذبح کیجے ایسے بلبل کو نہ چھوڑا چاہئے\n\nپیر ہو آتشؔ کفن کا سامنا ہے عن قریب\nتوبہ کیجے دامن تر کو نچوڑا چاہئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%D8%AA_%D9%BE%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%88%DA%91%D8%A7_%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%92"} {"title": "یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا\nیا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا\n\nاپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تو نے\nکیوں خرد مند بنایا نہ بنایا ہوتا\n\nخاکساری کے لیے گرچہ بنایا تھا مجھے\nکاش خاک در جانانہ بنایا ہوتا\n\nنشۂ عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کو\nعمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا\n\nدل صد چاک بنایا تو بلا سے لیکن\nزلف مشکیں کا ترے شانہ بنایا ہوتا\n\nصوفیوں کے جو نہ تھا لائق صحبت تو مجھے\nقابل جلسۂ رندانہ بنایا ہوتا\n\nتھا جلانا ہی اگر دورئ ساقی سے مجھے\nتو چراغ در مے خانہ بنایا ہوتا\n\nشعلۂ حسن چمن میں نہ دکھایا اس نے\nورنہ بلبل کو بھی پروانہ بنایا ہوتا\n\nروز معمورۂ دنیا میں خرابی ہے ظفرؔ\nایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "یا وصل میں رکھیے مجھے یا اپنی ہوس میں", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "یا وصل میں رکھیے مجھے یا اپنی ہوس میں\nجو چاہئے سو کیجیے ہوں آپ کے بس میں\n\nیہ جائے ترحم ہے اگر سمجھے تو صیاد\nمیں اور پھنسوں اس طرح اس کنج قفس میں\n\nآتی ہے نظر اس کی تجلی ہمیں زاہد\nہر چیز میں ہر سنگ میں ہر خار میں خس میں\n\nہر رات مچاتے پھریں ہیں شوق سے دھومیں\nیہ مست مئے عشق ہیں کب خوف عسس میں\n\nکیا پوچھتے ہو عمر کٹی کس طرح اپنی\nجز درد نہ دیکھا کبھو اس تیس برس میں\n\nہر بات میں یہ جلدی ہے ہر نکتے میں اصرار\nدنیا سے نرالی ہیں غرض تیری تو رسمیں\n\nدشمن کو ترے گاڑوں میں اے جان جہاں بس\nتو مجھ کو دلایا نہ کر اس طور کی قسمیں\n\nانشاؔ ترے گر گوش اصم ہوں نہ تو آوے\nآواز ترے یار کی ہر بانگ جرس میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7_%D9%88%D8%B5%D9%84_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یاد", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "آئی جب ان کی یاد تو آتی چلی گئی\nہر نقش ماسوا کو مٹاتی چلی گئی\n\nہر منظر جمال دکھاتی چلی گئی\nجیسے انہیں کو سامنے لاتی چلی گئی\n\nہر واقعہ قریب تر آتا چلا گیا\nہر شے حسین تر نظر آتی چلی گئی\n\nویرانۂ حیات کے ایک ایک گوشہ میں\nجوگن کوئی ستار بجاتی چلی گئی\n\nدل پھنک رہا تھا آتش ضبط فراق سے\nدیپک کو مے گسار بناتی چلی گئی\n\nبے حرف و بے حکایت و بے ساز و بے صدا\nرگ رگ میں نغمہ بن کے سماتی چلی گئی\n\nجتنا ہی کچھ سکون سا آتا چلا گیا\nاتنا ہی بے قرار بناتی چلی گئی\n\nکیفیتوں کو ہوش سا آتا چلا گیا\nبے کیفیوں کو نیند سی آتی چلی گئی\n\nکیا کیا نہ حسن یار سے شکوے تھے عشق کو\nکیا کیا نہ شرمسار بناتی چلی گئی\n\nتفریق حسن و عشق کا جھگڑا نہیں رہا\nتمئیز قرب و بعد مٹاتی چلی گئی\n\nمیں تشنہ کام شوق تھا پیتا چلا گیا\nوہ مست انکھڑیوں سے پلاتی چلی گئی\n\nاک حسن بے جہت کی فضائے بسیط میں\nاڑتی گئی مجھے بھی اڑاتی چلی گئی\n\nپھر میں ہوں اور عشق کی بیتابیاں جگرؔ\nاچھا ہوا وہ نیند کی ماتی چلی گئی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "یاد (شکیب جلالی)", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "رات اک لڑکھڑاتے جھونکے سے\nناگہاں سنگ سرخ کی سل پر\nآئنہ گر کے پاش پاش ہوا\nاور ننھی نکیلی کرچوں کی\nایک بوچھاڑ دل کو چیر گئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%28%D8%B4%DA%A9%DB%8C%D8%A8_%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%8C%29"} {"title": "یاد (مصطفٰی زیدی)", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "رات اوڑھے ہوئے آئی ہے فقیروں کا لباس\nچاند کشکول گدائی کی طرح نادم ہے\nایک اک سانس کسی نام کے ساتھ آتی ہے\nایک اک لمحۂ آزاد نفس مجرم ہے\n\nکون یہ وقت کے گھونگھٹ سے بلاتا ہے مجھے\nکس کے مخمور اشارے ہیں گھٹاؤں کے قریب\nکون آیا ہے چڑھانے کو تمناؤں کے پھول\nان سلگتے ہوئے لمحوں کی چتاؤں کے قریب\n\nوہ تو طوفان تھی، سیلاب نے پالا تھا اسے\nاس کی مدہوش امنگوں کا فسوں کیا کہئے\nتھرتھراتے ہوئے سیماب کی تفسیر بھی کیا\nرقص کرتے ہوئے شعلے کا جنوں کیا کہیے\n\nرقص اب ختم ہوا موت کی وادی میں مگر\nکسی پائل کی صدا روح میں تابندہ ہے\nچھپ گیا اپنے نہاں خانے میں سورج لیکن\nدل میں سورج کی اک آوارہ کرن زندہ ہے\n\nکون جانے کہ یہ آوارہ کرن بھی چھپ جائے\nکون جانے کہ ادھر دھند کا بادل نہ چھٹے\nکس کو معلوم کہ پائل کی صدا بھی کھو جائے\nکس کو معلوم کہ یہ رات بھی کاٹے نہ کٹے\n\nزندگی نیند میں ڈوبے ہوئے مندر کی طرح\nعہد رفتہ کے ہر اک بت کو لیے سوتی ہے\nگھنٹیاں اب بھی مگر بجتی ہیں سینے کے قریب\nاب بھی پچھلے کو، کئی بار سحر ہوتی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%28%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%D9%B0%DB%8C_%D8%B2%DB%8C%D8%AF%DB%8C%29"} {"title": "یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کو", "poet_page": "مصنف:جلالؔ لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کو\nدل ہی نہیں سینہ میں تو بہلائے گی کس کو\n\nدم کھنچتا ہے کیوں آج یہ رگ رگ سے ہمارا\nکیا جانے ادھر دل کی کشش لائے گی کس کو\n\nاٹھنے ہی نہیں دیتی ہے جب یاس بٹھا کر\nپھر شوق کی ہمت کہیں لے جائے گی کس کو\n\nجب مار ہی ڈالا ہمیں بے تابئ دل نے\nکروٹ شب فرقت میں بدلوائے گی کس کو\n\nمر جائیں گے بے موت غم ہجر کے مارے\nآئے گی تو اب زندہ اجل پائے گی کس کو\n\nاچھا رہے تصویر کسی کی مرے دل پر\nکمبخت نہ ٹھہرے گا تو ٹھہرائے گی کس کو\n\nکچھ بیٹھ گیا دل ہی یہاں بیٹھ کے اپنا\nغیرت تری محفل سے اب اٹھوائے گی کس کو\n\nاس وعدہ خلافی نے اگر جان ہی لے لی\nپھر جھوٹی تسلی تری تڑپائے گی کس کو\n\nکیوں لیں گے جلالؔ آ کے مرے دل میں وہ چٹکی\nجھپکے گی پلک کاہے کو نیند آئے گی کس کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%D9%88"} {"title": "یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو\nاپنی اور میری جوانی کو نہ برباد کرو\n\nشرم رونے بھی نہ دے بیکلی سونے بھی نہ دے\nاس طرح تو مری راتوں کو نہ برباد کرو\n\nحد ہے پینے کی کہ خود پیر مغاں کہتا ہے\nاس بری طرح جوانی کو نہ برباد کرو\n\nیاد آتے ہو بہت دل سے بھلانے والو\nتم ہمیں یاد کرو تم ہمیں کیوں یاد کرو\n\nآسماں رتبہ محل اپنے بنانے والو\nدل کا اجڑا ہوا گھر بھی کوئی آباد کرو\n\nہم کبھی آئیں ترے گھر مگر آئیں گے ضرور\nتم نے یہ وعدہ کیا تھا کہ نہیں یاد کرو\n\nچاندنی رات میں گل گشت کو جب جاتے تھے\nآہ عذرا کبھی اس وقت کو بھی یاد کرو\n\nمیں بھی شائستۂ الطاف ستم ہوں شاید\nمیرے ہوتے ہوئے کیوں غیر پہ بیداد کرو\n\nصدقے اس شوخ کے اخترؔ یہ لکھا ہے جس نے\nعشق میں اپنی جوانی کو نہ برباد کرو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%A4_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%84%D9%84%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D9%88"} {"title": "یاد آتا ہے تو کیا پھرتا ہوں گھبرایا ہوا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد آتا ہے تو کیا پھرتا ہوں گھبرایا ہوا\nچمپئی رنگ اس کا اور جوبن وہ گدرایا ہوا\n\nبات ہی اول تو وہ کرتا نہیں مجھ سے کبھی\nاور جو بولے ہے کچھ منہ سے تو شرمایا ہوا\n\nجا کے پھر آؤں نہ جاؤں اس گلی میں دوڑ دوڑ\nپر کروں کیا میں نہیں پھرتا ہے دل آیا ہوا\n\nبے سبب جو مجھ سے ہے وہ شعلہ خو سرگرم جنگ\nمیں تو حیراں ہوں کہ یہ کس کا ہے بھڑکایا ہوا\n\nوہ کرے عزم سفر تو کیجیے دنیا سے کوچ\nیہ ارادہ ہم نے بھی دل میں ہے ٹھہرایا ہوا\n\nنوک مژگاں پر دل پژمردہ ہے یوں سرنگوں\nشاخ سے جھک آئے ہے جوں پھول مرجھایا ہوا\n\nجاؤں جاؤں کیا لگایا ہے میاں بیٹھے رہو\nہوں میں اپنی زیست سے آگے ہی اکتایا ہوا\n\nتیری دوری سے یہ حالت ہو گئی اپنی کہ آہ\nعنقریب مرگ ہر اک اپنا ہمسایہ ہوا\n\nکیا کہیں اب عشق کیا کیا ہم سے کرتا ہے سلوک\nدل پہ بے تابی کا اک پیادہ ہے بٹھلایا ہوا\n\nہے قلق سے دل کی یہ حالت مری اب تو کہ میں\nچار سو پھرتا ہوں اپنے گھر میں گھبرایا ہوا\n\nچپکے چپکے اپنے اپنے دل میں سب کہتے ہیں لوگ\nکیا بلا وحشت ہوئی ہے اس کو یا سایا ہوا\n\nحکم بار مجلس اب جرأتؔ کو بھی ہو جائے جی\nیہ بچارہ کب سے دروازے پہ ہے آیا ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "یاد آتی ہیں جب ہمیں وہ پہلی چاہیں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یاد آتی ہیں جب ہمیں وہ پہلی چاہیں\nافسوس کرے ہے دل میں کیا کیا راہیں\nتھے شور جو قہقہ کے سو ان کے بدلے\nاب شور مچا رہی ہیں جی میں آہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یاد آتی ہیں ہمیں جان تمہاری باتیں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد آتی ہیں ہمیں جان تمہاری باتیں\nہائے وہ پیار کی آواز وہ پیاری باتیں\n\nپہروں چپ رہتے ہیں ہم اور اگر بولتے ہیں\nوہی پھر پھر کے الٹتی ہیں تمہاری باتیں\n\nغیر ہر دم مجھے باتیں جو سنا جاتے ہیں\nجانتا ہوں یہ میں اے جان تمہاری باتیں\n\nیاد آتا ہے ترا کیا کے عوض کا کہنا\nہائے پھر کب میں سنوں گا وہ گنواری باتیں\n\nہے بری بات یہ اغیار سے باتیں کرنی\nورنہ اے جان تری اچھی ہیں ساری باتیں\n\nاس طرح بول نکلتے نہ سنے تھے ہم نے\nکرتی ہے صاف صنم تیری ستاری باتیں\n\nتو وہ اعجاز بیاں ہے کہ مسیحا سمجھیں\nسن لیں اے جان کسی دن جو جواری باتیں\n\nاس لیے اشک بہاتا ہوں دم فکر سخن\nکہ ہمیشہ رہیں دنیا میں یہ جاری باتیں\n\nتو وہ گل ہے کہ اگر کان دھرے گلشن میں\nہو زباں موج کرے باد بہاری باتیں\n\nکیجیے سحر بیانی سے مسخر کیوں کر\nکبھی سنتا نہیں ناسخؔ وہ ہماری باتیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یاد آتی ہے مجھے جب خوش بیانی آپ کی", "poet_page": "مصنف:ناصری لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نذر احباب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "یاد آتی ہے مجھے جب خوش بیانی آپ کی\nکچھ نئے لفظوں میں کہتا ہوں کہانی آپ کی\n\nآپ نے پروا نہ کی میں قید ہستی سے چھٹا\nمہربانی ہو گئی نا مہربانی آپ کی\n\nقتل کی ضد ہے نزاکت سے نہیں اٹھتی ہے تیغ\nدیدنی ہے آج تو شان جوانی آپ کی\n\nجاننے والوں سے پردہ اس قدر بیکار ہے\nحسن ظاہر سب پہ اور یہ لن ترانی آپ کی\n\nمرنے والے کر کے آنکھیں بند قبروں میں گئے\nواہ وا کس شان سے آئی جوانی آپ کی\n\nداغ الفت اس لیے سینے میں رکھا ہے نہاں\nکوئی میرے پاس کیوں دیکھے نشانی آپ کی", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A2%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%A2%D9%BE_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "یاد ایام عشرت فانی", "poet_page": "مصنف:مرزا فرحت اللہ بیگ", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اپر پرائمری سے کیا نکلے گویا بچوں سے نکل بڑوں میں آ گئے۔ یہاں کی دنیا ہی نئی ہے۔ جو لڑکا ہے آفت کا پر کالہ ہے، جو سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے، جو کر گزرتے ہیں اس کا اب خیال کر کے ہنسی آتی ہے۔ غرض مدرسہ نیا، ماسٹر نئے، ہم نئے، ساتھی نئے، زمین نئی، آسمان نیا۔ جس مدرسے میں اب داخل ہوئے اس میں کسی زمانے میں شاہی کتب خانہ تھا۔ عمارت کیا ہے ایک جہاز ہے۔ سیدھی یہاں سے وہاں تک چلی گئی ہے۔ کمرے اتنے بڑے بڑے ہیں کہ کسی اسپتال کے بھی کیا ہوں گے۔ عمارت کے دو طرف باغ ہیں اور دو طرف سڑکیں۔ باغ سے گزرے تو کرکٹ کے میدان، ایک بہت بڑا، تین ذرا چھوٹے۔ غرض مدرسے نے کوئی دو میل کا رقبہ گھیر رکھا ہے۔ جیسا مدرسہ شاندار ہے ویسے ہی یہاں کے طالب علم بھی لا ثانی ہیں۔ پڑھنے میں نہیں بد معاشی میں۔ دماغ سے اتار اتار کر وہ بد معاشیاں کرتے ہیں کہ شیطان بھی پناہ مانگے۔ اپنی سلطنت علاحدہ قائم کر رکھی ہے۔ باقاعدہ تخت نشینی ہوتی ہے۔ سلطان وقت کی عدولی حکمی قیامت ہے۔ جب میں اس مدرسے میں داخل ہوا تو اس وقت میرے ہی ہم نام حاکم وقت تھے۔ پھر میں ہی ان کا جانشین ہوا۔ اس لئے ان کے بعض واقعات قلم بند کرنا میرا فرض عین ہے۔ ان کے حالات کا تذکرہ موقع موقع پر کروں گا۔ فی الحال مدرسے کا نقشا اور ماسٹروں کی شکلیں ذہن نشین کر لیجئے۔ مدرسے کا ایک بڑا دروازہ تھا۔ لڑکوں کو ادھر سے آنے میں ذرا چکر پڑتا تھا اس لئے یاروں نے احاطہ کی دیوار کی اینٹیں نکال نکال کر دوسرا راستہ بنا لیا۔ کئی دفعہ مرمت کرائی گئی۔ مگر ہر دفعہ دو تین روز کے بعد ہی وہ دیوار خود بخود گر گرا کر راستہ بن گئی۔ آخر ناچار ہو وہاں چھوٹا سا دروازہ قائم کر دیا۔ دروازہ کیوں کہو دیوار میں اتنی جگہ کر دی کہ ایک آدمی گذر جائے۔ بس یہی راستہ چلتا تھا۔ صدر دروازہ کا راستہ برائے نام تھا۔ ادھر سے کوئی چلتا چلاتا نہیں تھا۔ اس چھوٹے سے دروازے سے نکل کرذرا آگے بڑھے تو مدرسے کی عمارت شروع ہو گئی۔ کرسی ذرا اونچی ہے۔ چونکہ اس رخ پر مدرسے کی چوڑان ہے اس لئے کمرے میں جانے کے لئے سیڑھیاں نہیں ہیں۔ قلانچ مار کر چبوترہ چڑھنا ہوتا ہے۔ چبوترہ پر چاروں طرف بر آمدہ ہے۔ بر آمدے سے گذر کر جس کمرے میں آتے ہیں اس کی لمبان چوڑان کچھ نہ پوچھو۔ بس یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی ٹینس کورٹ پر چھت ڈال دی ہے۔ اس کمرے میں تین جماعتیں بیٹھتی ہیں۔ شروع میں فارسی کی جماعت، اس کے بعد حساب کی، اس کے بعد عربی کی۔ اس کمرے سے ملا ہوا جو کمرہ ہے اس میں ہیڈ ماسٹر صاحب بیٹھتے ہیں۔ یہ کمرہ بھی بہت بڑا ہے۔ دیواروں سے لگی ہوئی کتابوں کی بڑی الماریاں کھڑی ہیں۔ ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرے کے بعد انٹرنس کی جماعت کے، اس کے بعد مڈل کی، اس کے بعد ساتویں کی اور اس کے بعد چھٹی جماعت کے کمرے ہیں۔ ان چاروں کمروں کے سامنے بر آمدہ اور بر آمدے کے آگے چھوٹا سا صحن ہے۔ صحن کے کنارے پر کٹہرا لگا ہو اہے۔ اس بر آمدے اور صحن کی کرسی کوئی چار پانچ گز کی ہوگی۔ کرسی کی وجہ سے نیچے جو جگہ نکل آئی ہے اس میں پیاؤ کرکٹ کے سامان اور کاچھی کی کوٹھریاں ہیں۔ ماسٹروں کے حقے بھی یہیں رکھے رہتے ہیں، کوئی گھنٹہ خالی ہوا اور آ کر د م مار گئے۔ چھٹی جماعت کے کمرے سے ملا ہوا سائنس کا کمرہ ہے اور اس کے برابر دو کمرے انسپکٹر صاحب مدارس نے رہنے کے لئے لے رکھے ہیں۔ اس کے بعد سیڑھیاں دے کر عمارت کو نیچا کر دیا ہے۔ اس حصے میں دو کمرے ہیں۔ ایک میں اسپیشل کلاس اور دوسرے میں پنڈت جی بیٹھتے ہیں۔ پنڈت جی کے کمرے کے سامنے کرکٹ کا چھوٹا میدان اور اس میدان سے ملا ہوا، بورڈنگ ہاؤس ہے۔ میرے مدرسے چھوڑنے کے بعد ان عمارتوں میں بہت رد و بدل ہو گیا ہے۔ کرکٹ اور ٹینس کے تین چھوٹے چھوٹے میدانوں اور باغ کو برابر کر کے کئی اور عمارتیں بنا دی ہیں۔ اس طرح گنجائش تو بہت نکل آئی مگر اصل عمارت کی رونق بر باد ہو گئی۔ پڑھانے کا طریقہ یہ تھا کہ ہر گھنٹے کے بعد بلحاظ مضمون بجائے ماسٹروں کے تبدیل ہونے کے جماعتیں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں لین باندھ کر جاتی تھیں۔ جو کمرے جماعتوں کے نام سے موسوم تھے ان کا صرف یہ مطلب تھا کہ وہاں انگریزی کے مدرس بیٹھے تھے، اور وہی اس جماعت کے ذمے دار سمجھے جاتے تھے۔ فارسی کے مولوی صاحب چھٹی جماعت سے لگا کر انٹرنس تک کو فارسی اور اسی طرح عربی کے مولوی صاحب مدرسے بھر کے عربی پڑھنے والے طالب علموں کو عربی پڑھاتے تھے۔ پہلے میں ماسٹروں کے حالات لکھ دوں اس کے بعد دوسرے واقعات سناؤں گا کیونکہ جب تک ہر ماسٹر کی حالت معلوم نہ ہو جائے، واقعات سن کر مزا آنا مشکل ہے۔ جس سلسلے سے میں نے کمروں کا تذکرہ کیا ہے اسی سلسلے سے ماسٹروں کے حالات بھی لکھتا ہوں۔ فارسی کے مولوی صاحب ایک تماشا تھے۔ کوئی 60 سال کی عمر ہوگی۔ چھوٹا سا قد، لمبا چہرہ، سرخ و سفید رنگت، نیچی سفید داڑھی، بڑی بڑی سرمہ آلود آنکھیں، ان پر موٹے موٹے تالوں کی عینک، چوڑا دہانہ، ہر وقت پان کھائے رہتے تھے۔ بڑھاپے کی وجہ سے دانت نہیں رہے تھے اس لئے پیک منہ سے بہہ بہہ کر ٹھوڑی اور ڈاڑھی کی خبر لاتی تھی۔ سر پر چھوٹا سا عمامہ یا گول چندوے کی ٹوپی، جسم پر اچکن، اس کے اوپر کالی مخمل کا چغہ، شرعی سفید پیجامہ پاؤں، میں لال نری کی جوتی، بڑی بے چین طبیعت پائی تھی۔ پڑھانے میں ہر وقت ادھرسے ادھر اور ادھر سے ادھر پھدکتے تھے۔ باتیں بھی کچھ عجیب طرح کی کرتے تھے۔ ایک بات کی اور تالی بجائی، پینترا بدل سیدھا ہاتھ آگے بڑھایا اور الٹا ہاتھ پیچھے لے گئے۔ پھر کوئی بات کی اور پھر وہی تالی اور وہی پینترا۔ غرض ان کی جماعت میں پڑھنے پڑھانے کی اتنی آواز نہیں ہوتی تھی جتنی تالیوں کی پھٹاپھٹ۔ اپنی اس خاص حرکت کی وجہ سے مدرسہ تو مدرسہ، شہر بھر میں ہیجڑے مولوی صاحب کے نام سے مشہور ہو گئے تھے۔ صوفی مشرب آدمی تھے اگرخدا نخواستہ کسی نے کسی بزرگ کی شان میں ذرا بھی گستاخی کی تو اس طرح بپھر جاتے کہ سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اس کمرے کی بیچ کے حصے میں حساب کے مولوی صاحب بیٹھتے تھے۔ بڑے مضبوط او رگٹھیلے آدمی تھے۔ پہلے حساب سکھاتے تھے، پھر عربی کے مولوی صاحب ہو گئے۔ گول چہرہ، سانولی رنگت، چھوٹی چھوٹی آنکھیں، سرخ بھرواں ڈاڑھی، سر پر کالی مخمل کی چوگوشیہ ٹوپی، جسم پر کشمیرے کی اچکن، اس پر کشمیری کام کا چغہ، شاعر تھے اس لئے مذہب سے لا پروا تھے۔ ہر وقت گنگناتے رہتے تھے۔ بعض وقت تو ایسے محو ہو جاتے تھے کہ ساری جماعت کی جماعت اٹھ کر چلی جاتی اور ان کو خبر بھی نہ ہوتی۔ بلا کے ہوشیار آدمی تھے۔ متین اور سنجیدہ ایسے تھے کہ خدا کی پناہ۔ ان کے کمرکے نیچے کا حصہ بھاری ہو کر چکتی کی شکل ہو گیا تھا، اس وجہ سے طالب علموں نے ان کو مولوی دنبہ کا خطاب عطا کیا تھا۔ میں پانچ برس اس مدرسے میں رہا۔ اس کے بعد بھی کئی برس تک ان سے ملنے کا اتفاق رہا لیکن جو اچکن اور چغہ میں نے پہلے دن ان کو پہنے دیکھا تھا وہ ان سے نہ چھوٹنا تھا نہ چھوٹا۔ سنتا ہوں اب ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ شاید اسی اچکن و چغہ میں دفن ہوئے ہوں۔ اس کمرے کے دوسرے کونے پر عربی کے مولوی صاحب کی جماعت بیٹھتی تھی۔ بڑے اللہ والے آدمی تھے۔ تھوڑے ہی دنوں بعد ان کی پنشن ہو گئی۔ ان سے زیادہ واسطہ بھی نہیں پڑا۔ اس لئے ان کے متعلق کچھ لکھنا بھی فضول ہے۔ اس کمرے سے ملا ہوا دوسرا کمرہ ہیڈ ماسٹر صاحب کا تھا۔ یہ جتنے بد صورت تھے اتنے ہی لائق اور ہوشیار تھے۔ مگر شراب نے ان کی بڑی بری حالت کر دی تھی۔ ہر وقت غین رہتے تھے اور ہر دوسرے تیسرے روز چپراسیوں کو ان کی پتلون بدلوانے کی ضرورت پڑتی تھی۔ کرسی پر سے گر پڑنا تو معمولی بات تھی۔ مگر باوجود ان تمام باتوں کے جب پڑھانے بیٹھتے تو اس طرح پڑھاتے تھے کہ پھر اس کو بھولنا مشکل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ یونیور سٹی میں ہمیشہ ان کی جماعت کا کوئی نہ کوئی طالب علم انگریزی میں اول رہتا تھا۔ ان خاص ماسٹروں کا ذکر کر کے اب میں واقعات کو لیتا ہوں۔ بقیہ ماسٹروں کے حالات موقع موقع سے بیان کروں گا۔ سب سے پہلے میں طالب علموں کے بادشاہ بے تاج و ملک کے حالات لکھتا ہوں تاکہ اس مدرسے کے لڑکوں کا کچھ رنگ معلوم ہو جائے۔ آپ کا قد کوئی پونے پانچ فٹ کا تھا۔ ایسے سوکھے تھے کہ پھونک مارو تو اڑ جائیں۔ مگر اثر اور رعب ایسا تھا کہ لڑکے تو لڑکے ماسٹروں کا دم نکلتا تھا۔ ہر سال مڈل کے امتحان میں بیٹھتے اور فیل ہو تے۔ فیل کیوں نہ ہوتے، پورا امتحان ہی نہ دیتے تھے۔ اس زمانے میں مڈل کا امتحان دسمبر میں ہوتا تھا۔ دسمبر کرکٹ کا خاص مہینہ ہے۔ یہ کرکٹ کے عاشق تھے۔ خود تو نہیں کھیلتے تھے، ہاں سیر دیکھنے کا شوق تھا۔ یہ امتحان دے رہے ہیں کہ کسی نے جھوٹ موٹ آ کر کہہ دیا کہ آج تو باغ میں علی گڑھ والوں کا میچ ہے۔ بس اتنا سن لینا ان کے لئے کافی تھا۔ امتحان چھوڑ چھاڑ باغ کا راستہ لیا۔ واپس آتے آتے ایک پرچہ نکل گیا۔ چلو فیل ہو گئے۔ دوسرا سال آیا اور پھر کوئی نہ کوئی پرچہ غائب۔ ان کے امتحان کے وہ وہ واقعات ہیں کہ خیال کرنے سے ہنسی آتی ہے۔ ایک دفعہ آ پ نے ایک کوا خریدا پیٹی باندھ ہاتھ پر بٹھا اس کو امتحان میں لے گئے۔ خیر یہیں تک ہوتا تو غنیمت تھا۔ یہ تھوڑی دیر کے بعد پیٹی کو جھٹکا دیتے، وہ ایسی کائیں کائیں کرتا سارا کمرہ گونج جاتا۔ بچارے گارڈوں نے منع کیا مگر یہ کب سننے والے تھے۔ آخر جب غل شور بہت بڑھا تو دوسرے کمرے سے امتحان کے سپرنٹنڈنٹ صاحب دیکھنے آئے کہ آخر یہ کیا قیامت مچی ہوئی ہے۔ دیکھتے کیا ہیں کہ ایک صاحب بائیں ہاتھ پر کوا بٹھائے دائیں ہاتھ سے پرچہ لکھ رہے ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب انگریز تھے اور بڑے غصیلے تھے۔ یہ رنگ دیکھ کر آگ بگولہ ہو گئے۔ آتے ہی ان کو ڈانٹا۔ یہ چپکے بیٹھے اپنا کام کئے گئے۔ جب صاحب نے بہت غل مچایا تو یہ بھی نہایت متانت سے اٹھے۔ پوچھا، ’’فرمائیے کیا فرماتے ہیں۔‘‘ صاحب نے کہا، ’’امتحان کے کمرے میں کوا لانے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘ آ پ نے امتحان کی ہدایتوں کا پرچہ نکالا، ان کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ، ’’براہ کرم وہ ممانعت بتا دیجئے کہ کہاں لکھی ہوئی ہے۔ کتاب یا کوئی پرچہ امتحان کے کمرے میں لانا منع ہے۔ کوا لانا منع نہیں ہے۔ پہلے قواعد میں ترمیم کرا دیجئے اس کے بعد اعتراض کیجئے۔ ورنہ اس طرح فضول باتیں کر کے جو میرا وقت ضائع کیا جاتا ہے، اطلا ع میں یونیور سٹی میں کر دوں گا۔‘‘ خیر بچارے صاحب تو چپکے ہو کر چلےآئے۔ مگر خود کوے نے اپنا چھٹکارا کرا لیا۔ انگوٹھے پر اس زور سے ٹھونک ماری کہ ان کو لاچار اڑا دینا پڑا۔ ایک دفعہ کیا کیا کہ امتحان میں بانسری لے کر پہنچے۔ تھوڑی دیر تک تو پرچہ لکھتے رہے۔ اس کے بعد بانسری نکال کر بجانی شروع کی۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب نے منع کیا۔ انہوں نے وہی قواعد کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ، ’’تم کو حق نہیں ہے کہ بانسری بجا کر دوسروں کا دماغ پریشا کرو۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’بہت اچھا، مجھے کسی دوسرے کمرے میں بٹھا دیجئے۔ میں اس وقت اپنا دماغ ہلکا کرنا چاہتا ہوں۔ طبیعت بحال ہو جائے گی، اس کے بعد پرچہ لکھوں گا۔‘‘ خیر بڑی مشکل سے سمجھا بجھا کر ان سے بانسری لے لی گئی۔ ان کے امتحان کا ایک واقعہ ایسا ہے کہ جب کبھی خیال آتا ہے تو ہنستے ہنستے پیٹ میں بل پڑ جاتے ہیں۔ مڈل کا امتحان ہے۔ تاریخ کا پرچہ ہے۔ یہ نہایت اطمینان سے بیٹھے مولوی ذاکر حسین کا خلاصہ تاریخ ہند سامنے رکھے نقل کر رہے ہیں۔ ہیجڑے مولوی صاحب اس حصہ کے گارڈ ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ ہیں یہ کیا ہو رہا ہے۔ امتحان اور یہ دیدہ دلیری۔ بڑے لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے ان کے پاس آئے۔ جو گفتگو ان میں ہوئی وہ لفظ بلفظ لکھتا ہوں۔ پڑھنے میں جب مزہ آئے گا کہ جہاں میں ’’تالی‘‘ لکھوں وہاں مولوی صاحب کی طرح آپ بھی پینترا بدل کر تالی بجائیں اور ایک ہاتھ سامنے اور دوسرا پیچھے لے جائیں۔ یہیں نہیں جہاں کہیں مولوی صاحب کی گفتگو آئے، وہاں اس طرح کیجئے اور پھر دیکھئے کہ ہمارے مولوی صاحب کیا طرفہ معجون تھے۔ اچھا تو اب دونوں میں یہ گفتگو شروع ہوئی۔ مولوی صاحب۔ ہیں، یہ کیا ہو رہا ہے (تالی) یہ۔ کچھ نہیں نقل ہو رہی ہے۔ مولوی صاحب۔ نکا ل دیے جاؤ گے (تالی) یہ۔ ہم کو کوئی نہیں نکال سکتا۔ مولوی صاحب۔ نہیں نکال سکتا (تالی) ہم نکال سکتے ہیں (تالی) امتحان ہے (تالی) کوئی مذاق ہے۔ (تالی) یہ۔ جایئے جائیے اپنا کام کیجے۔ ہمارے نقل کرنے میں ہرج ہوتا ہے۔ وقت کم رہ گیا ہے۔ پرچہ بڑا ہے۔ مولوی صاحب۔ چلو (تالی) اٹھو (تالی) صاحب کے پاس چلو (تالی) یہ۔ چلئے۔ ہم بھی دیکھیں آپ کے صاحب ہمارا کیا کر لیتے ہیں۔ الغرض یہ اٹھے، کتاب ہاتھ میں لی، آگے آگے مولوی صاحب اور پیچھے پیچھے یہ، دوسرے کمرے میں پہنچے۔ صاحب بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے۔ مولوی صاحب نے جاتے ہی تالی بجائی۔ انہوں نے گردن اٹھا کر دیکھا۔ مولوی صاحب۔ غضب ہے (تالی) نقل ہو رہی ہے (تالی) بڑے گستاخ ہو گئے ہیں (تالی) ہم سے نہیں ڈرتے (تالی) آپ سے بھی نہیں ڈرتے (تالی) کتاب کھولے بیٹھے ہیں (تالی) نقل کر رہے ہیں (تالی) کہتے ہیں (تالی) صاحب ہمارا کیا کر لیں گے (تالی) بڑی مشکل سے لایا ہوں (تالی) سخت سزا دی جائے۔ (تالی) صاحب نے ان کی طرف دیکھا۔ انہوں نے کہا، ’’جناب یہ مولوی صاحب میرے دشمن ہیں۔ غدر کے پہلے سے ان کے اور ہمارے خاندان میں دشمنی چلی آ رہی ہے۔ زبردستی پرچہ لکھتے لکھتے مجھ کو یہاں گھسیٹ لائے کہ چلو میں صاحب سے کہہ کر تم کو نکلوا دیتا ہوں۔ خواہ مخواہ کا الزام ہے۔ آپ میری تلاشی لے لیں۔ کوئی میں دیوانہ تھا جو اس طرح سامنے کتاب رکھ کر نقل کرتا۔ نقل کرتے ہیں تو چھپ چھپا کر نقل کرتے ہیں۔ نہ اس طرح کہ سامنے کتاب کھولے بیٹھے ہیں، نقل کر رہے ہیں، صاحب کو بھی یہ بات خدا لگتی معلوم ہوئی۔ ان کی خوب اچھی طرح تلاشی لے لی گئی۔ کتاب تو کتاب ایک کاغذ کا پرزہ بھی نہ نکلا۔ آخر صاحب نے بچارے مولوی صاحب کو بہت ڈانٹا کہ آپ فضول امیدواروں کا وقت ضائع کرتے ہیں۔ آئندہ ایسا کیا تو کمرے سے نکال دوں گا۔ بہر حال مولوی صاحب شرمندہ شکل وہاں سے واپس ہوئے۔ آگے آگے مولوی صاحب اور پیچھے پیچھے یہ۔ مولوی صاحب پریشان تھے کہ یا اللہ آتے وقت کتاب اس کے ہاتھ میں تھی۔ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں آتے آتے کہاں غائب ہو گئی۔ آخر نہ رہا گیا اور خود ان سے پوچھا۔ مولوی صاحب۔ کتاب کہاں ہے (تالی) آتے وقت تمہارے ہاتھ میں تھی (تالی) راستے میں کہاں غائب کر دی (تالی)یہ۔ کچھ نہیں راستے میں ایک ایک صفحہ کر کے کھا گیا۔ یہ سننا تھا کہ مولوی صاحب نے وہیں سے دے تالی پہ تالی بجانی شروع کی۔ مولوی صاحب۔ غضب ہے (تالی) کھا گیا (تالی) ساری کتاب کھا گیا (تالی) صاحب نے جو یہ تالیوں کی آواز سنی تو یہ بھی نہ پوچھا کہ کیا معاملہ ہے۔ حکم دے دیا کہ مولوی صاحب کو کمرے سے باہر کر دیا جائے۔ خیر بچارے نکال دیے گئے۔ اس واقعہ کو بیان کر کے برا بھلا کہا کرتے تھے۔ مولوی صاحب سے غلطی یہ ہوئی کہ دونوں آگے پیچھے چلے تو بجائے اس کے کہ کتاب خود لے لیتے، کتاب امیدوار صاحب ہی کے ہاتھ میں رہنے دی۔ کتاب تھی بہت چھوٹے چھوٹے بارہ ورق کی۔ وہ راستہ میں چٹ کر گئے۔ بھلا تلاشی میں کیا نکلتا۔ اچھے رہے خود آپ مگر ان کو ڈبو آئےایک زمانہ تھا کہ ہندوستان پر روسیوں کے حملے کا بڑا غل تھا۔ عجیب عجیب خبریں روز اڑا کرتی تھیں۔ کوئی کہتا روسی لاہور میں آ گئے، کوئی کہتا میرٹھ لے لیا۔ غرض کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ کہتا۔ انہی دنوں میں ہمارے دوست او ر مڈل کی جماعت کے ماسٹر صاحب میں ان بن ہو گئی۔ یہ ماسٹر صاحب بڑے افعی تھے۔ ہوشیار بھی بہت تھے۔ مگر ذرا چندھے تھے۔ آپ نےپٹاس کا یک بڑا گولہ لا کر ماسٹر صاحب کی کرسی کے پائے کے برابر رکھ دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد کہا، ’’ماسٹر صاحب۔ ابھی جو آپ نے سمجھایا تھا۔ ذرا پھر سے سمجھا دیجئے۔‘‘ وہ بچارے چاک لے سمجھانے بورڈ پر چلے۔ کرسی کا پایہ لگا گولہ میں، گولہ دن سے اڑا۔ ماسٹر صاحب ایک طرف گرے اور کرسی اتنی دور اڑ کر گئی۔ انہوں نے غل مچایا روسی۔ تمام مدرسے میں روسی، روسی کا ہنگامہ مچ گیا۔ جوہے کمروں سے نکل روسی، روسی پکارتا بھاگا چلا جاتا ہے۔ بڑی دیر کے بعد سب کے اوسان درست ہوئے لیکن آخر تک کسی کو معلوم نہیں ہوا کہ آخر یہ واقعہ کیا تھا۔ لڑکوں میں تو کیا ہمت تھی جو ان کے خلاف ایک حرف بھی زبان سے نکالتے۔ ماسٹر بچارے کیا سمجھ سکتے تھے کہ یہ آواز کیا ہوئی اور کیوں ہوئی۔ چند روز بڑی گڑ بڑ رہی۔ اس کے بعد گئی گذری بات ہوئی۔ مگر روسی، روسی کے غل کا زور بہت دنوں تک چلا۔ جہاں کہیں ذرا گڑ بڑ ہوئی او ر لونڈوں نے غل مچایا روسی، روسی۔ ان بادشاہ سلامت کے دو وزیر با تدبیر بھی تھے۔ ایک مسلمان دوسرے ہندو۔ مسلمان وزیر توتلے اور بڑے آفت کے پر کالہ تھے۔ ہندو وزیر بنگال کے رہنے والے تھے مگر غضب کےلڑاکا۔ ایک دفعہ تو ان دونوں نے ایسا ظلم کیا کہ کچھ بیان نہیں ہو سکتا۔ جمنا پر تیراکی کا میلہ تھا۔ ہیڈ ماسٹر سے کہا گیا کہ چھٹی دی جائے۔ انہوں نے انکار کیا۔ بادشاہ نے اپنے وزیروں کو حکم دیا کہ چھٹی کا کوئی بندو بست کیا جائے۔ ان دونوں بد معاشوں نے وہ کیا کہ خیال کرنے سے رونگٹے کھڑے ہو تے ہیں۔ مدرسے کے سامنے باغ تھا۔ باغ میں آم کے ایک درخت میں بڑی شہد کی مکھیوں کا چھتہ لگا ہوا تھا۔ ان دونوں نے جا غلیلوں سے چھتے پر غلے برسانے شروع کئے۔ مکھیوں نے مدرسے کا رخ کیا۔ تمام لڑکوں اور ماسٹروں کو کاٹ کاٹ سوجا دیا۔ دو لڑکوں کو اتنی مکھیاں لپٹیں کہ دونوں وہیں ڈھیر ہو گئے۔ ایک دن کیا چار روز تک مدرسہ بند رہا۔ کمال یہ ہوا کہ باوجود یہ سب کچھ ہونے کے کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ یہ مکھیاں کیوں اڑیں اور کس نے اڑائیں۔ یہ رموز سلطنت تھے جو اب تیس برس بعد پبلک پرظاہرکئے جا رہے ہیں۔ مولوی دنبہ سے ہمارے بادشاہ سلامت بھی بہت چکراتے تھے۔ ان کی متانت، ان کے ڈنڑ قبضے اور ان کی چٹکی کے مقابلے میں تو سب کی ہمت پست تھی۔ چٹکی ایسی لیتے تھے کہ واہ واہ جس کے چٹکی لینی ہوئی، اس کے پاس آ کر کھڑے ہوئے۔ ہاتھ میں کنجی لی۔ انگوٹھے اور کنجی کے بیچ میں لونڈے کے ڈنٹر کی مچھلی دبا کر مسلنا شروع کیا۔ اب یہ کھڑے نہایت اطمینان سے گوشت مسل رہے ہیں، لڑکا ہے کہ تلملا رہا ہے۔ جب بچارہ تکلیف سے زمین پر لوٹنے ہی لگتا، اس وقت کہیں جا کر اس چٹکی سے چھٹکارا ملتا۔ ایک دن شامت اعمال سے مولوی صاحب نے ان کو بھی چٹکا دیا۔1 بھلا ان کی توہین ہو اور یہ خاموش رہیں۔ جاڑے کا موسم تھا۔ مولوی صاحب ٹھنڈک سے بچنے کے لئے دھسہ لے کر آئے تھے۔ دھسہ بچھا کر کرسی کو نرم اور گرم کر لیا تھا۔ مولوی صاحب تو حساب سمجھانے بورڈ پر گئے۔ یہ چپکے چپکے کنی کاٹتے بچتے بچاتے اپنی جگہ سے اتر کرسی تک پہنچے۔ مولوی صاحب کے دھسہ کی اینڈ دی 2 بنائی اور وہیں سب کے سامنے کھڑے ہو کر نہایت اطمینان سے اس میں پیشاب کیا۔ اس کام سے فارغ ہو کر پیجامہ باندھ اپنی جگہ آ بیٹھے۔ مولوی صاحب کی ادھر پیٹھ تھی۔ ان بچارے کومعلوم بھی نہیں ہوا کہ کیا ہو اور کیا نہ ہوا۔ بھلا لڑکوں کی کیا ہمت تھی جو کچھ زبان سے نکالتے یا ہنستے۔ غرض مولوی صاحب حساب سمجھا کر کرسی پر آ بیٹھے۔ تھوڑی دیر کے بعد سیلن پہنچی۔ اب کبھی یہ پہلو بدلتے ہیں کبھی وہ۔ غضب یہ تھا کہ کچھ پوچھ بھی نہیں سکتے تھے۔ ڈرتے تھے کہ کہیں لونڈے یہ نہ اڑا دیں کہ مولوی صاحب کا پیشاب خطا ہو گیا۔ آخر گھنٹہ بج گیا۔ جماعت اٹھ گئی اور مولوی صاحب سوچتے کے سوچتے ہی رہ گئے۔ اب اس سے ہمارے سلطان وقت کے رعب کا اندازہ کر لیجئے کہ یہ معاملہ ساری جماعت کی جماعت کو معلوم تھا مگر راز سلطنت بنا رہا او رکسی کے منہ سے بھاپ تک نہ نکلی۔ جس سال میں اس مدرسہ کی چھٹی جماعت میں پہنچا، اسی سال انہوں نے اسکول چھوڑ ا او رمجھ کو اپنا جانشین مقرر کر کے تخت نشینی کا علان کر دیا۔ ایک چھٹی جماعت والے لڑکے کا والی مدرسہ ہونا تعجب خیز امر ہے۔ بات یہ تھی کہ سلطنت مجھے ارثاً پہنچی۔ سلطان سابق میرے والد کے بیٹے بنے ہوئے تھے۔ ا س لحاظ سے انہوں نے تخت سے دست برداری کر کے اپنے چھوٹےبھائی کو تخت پر بٹھا دیا۔ اور مدرسے کے ہر چھوٹے بڑے کو اچھی طرح سمجھا دیا کہ اگر اس لڑکے کے حکم کی خلاف ورزی کی یا اس کی مخالفت میں علم بغاوت بلند کیا تو مجھے دور نہ سمجھنا، جب تک یہ حکومت کے قابل ہو اس وقت تک میں اس کا ایجنٹ ہوں۔ جینا مشکل کر دوں گا۔ مجھے بھی راز ہائے سلطنت سے آگاہ کیا او ر ہدایت کی کہ اگر کوئی مشکل ایسی پڑ جائے جس کا حل کرنا دشوار ہوتو بلاتکلف مجھ سے مشورہ کرنا۔ میں تمہاری مدد کو ہر وقت تیار ہوں۔ لیجئے گیارہ برس کی عمر میں ہم پر سلطنت کا بار پڑ گیا۔ میرا زمانہ حکومت گو ایسا درخشاں تو نہ تھا جیسا میرے پیش رو کا تھا لیکن یہ ضرو ر ہے کہ میں بھی کسی سے دب کر نہیں رہا۔ مجھ میں اور سلطان سابق میں صرف یہ فرق تھا کہ ان میں صرف شرارت ہی شرارت تھی۔ میں جتنا شرارت میں تیز تھا اتنا ہی پڑھنے لکھنے میں بھی تیز تھا۔ پانچویں جماعت میں بھی مجھے سرکاری وظیفہ ملا تھااور جب تک میں اس مدرسے میں رہا ہمیشہ وظیفہ لیتا رہا۔ جماعت میں کبھی کسی کو اپنے سے بڑھنے نہیں دیا۔ چنانچہ اب تک میرے تعلیمی کارنامے ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرے میں لکھے ہوئے موجود ہیں، جاکر دیکھ لیجئے، ثبت است بر جریدہ عالم دوام مامیں نے حکومت کا چارج لیا ہی تھا کہ ٹھوکر کھائی۔ میری جماعت میں ایک لونڈا تھا۔ اپنےکو بڑا ہی خوبصورت سمجھتا اور بڑی چٹک مٹک سے چلتا تھا۔ خیر اس سے تو مجھے کیا غرض تھی مگر اس میں چغلیاں کھانے کا بڑا مرض تھا۔ اس کے دو چار گہرے دوست بھی تھے۔ یہ چغلی کھاتا وہ گواہی دیتے۔ ان لوگوں نے دو تین لڑکوں کو بلا وجہ پٹوا دیا۔ ہماری جماعت کے ماسٹر ایک بنگالی بابو تھے۔ کالی رنگت، وحشت زدہ شکل، فقیروں کا لباس، بڑی بڑی پریشان سفید مونچھیں، حقہ بہت پیتے تھے۔ اس لئے موچھیں زرد ہو گئی تھیں، آگے سے اتنی جھکی ہوئی تھیں کہ ہمیشہ آدھی موچھیں ان کے منہ میں رہتی تھیں۔ بڑے بے وقوف آدمی تھے۔ اس لڑکے نے جو کچھ جا کر کہا وہ انہوں نے مان لیا۔ پھر کسی سے نہ پوچھتے نہ گچھت، ے اٹھ دوسرے لڑکوں کی مرمت کر دیتے۔ لڑکوں نے مجھ سے آ کر شکایت کی۔ مجھے خود اس لونڈے کی باتوں سے نفرت تھی۔ میں نے اس کو حکم دیا کہ یا تو وہ اس طریقہ عمل کو چھوڑے یا مدرسے سے نکل جائے۔ اس نے دوستوں سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ابے بکنے دے، وہ دن گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑاتے تھے۔ اب ہم خود ان کو ٹھوک دیں گے۔‘‘ خیر کچھ دن یونہی گذر گئے۔ اس لونڈے نے اپنے یاروں کے بل پر اور ہاتھ پاؤں نکالے۔ اس کی چغلیوں پر دو چار لڑکے اور پٹ گئے۔ یہ صریحی بغاوت تھی اور مجھے اس کا انتظام کرنا ضرورتھا۔ ایک دن صبح کے وقت مدرسے کے سارے لڑکے میدان میں جمع تھے۔ میں اپنی فوج کے دو افسروں کو لے کر پہنچا اور اس لڑکے کی ایسی درگت بنائی کہ اس کی ساری چٹک مٹک ناک کے رستے نکل گئی۔ مدرسے کا گھنٹہ بجا۔ سب اپنی اپنی جماعتوں میں چلے گئے۔ اس لڑکے نے جا کر بابو جی سے شکایت کی۔ اس کے دوستوں نے گواہی دی۔ بابو جی آگ بگولہ ہو گئے۔ بیت اٹھا میری طرف بڑھے۔ میں نے ڈانٹ کر کہا، ’’بس! اب ایک قدم آگے بڑھایا تو اچھا نہ ہوگا۔‘‘ بابوجی وہیں ٹھٹک کر رہ گئے۔ کہنے لگے، ’’تو ہم سے غدر کرتا ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’ہاں غدر کرتا ہوں۔ آپ کو جو کچھ کرنا ہے قلم سے کیجئے۔ اگر ہاتھ اٹھایا تو ہاتھ توڑ ڈالوں گا۔‘‘ بابو جی منہ میں بڑ بڑاتے، بکتے، جھکتے، ہیڈ ماسٹر صاحب کے پاس پہنچے۔ وہاں جا کر خبر نہیں کیا سمجھایا بجھایا کہ ہیڈ ماسٹر صاحب نے میرا نام مدرسے سے خارج کر دیا۔ لیجئے سر منڈاتے ہی اولے پڑے سچ ہے۔ یہ ایسی مصیبت تھی کہ اس کا حل کرنا میری طاقت سے باہر ہے۔ میں سیدھا ایجنٹ کے پاس پہنچا۔ انہوں نے کہا’’انھ یہ کیا بڑی بات ہے، ابھی نام داخل ہوا جاتا ہے۔‘‘ خیروہ مجھ کو لے کر مدرسے آئے، خود مدرسے کی دیوار پر بیٹھ گئے اور مجھ سے کہا، ’’دیکھو تین بجے ہیڈ ماسٹر صاحب پیخانہ جانے کے لئے اپنے کمرے سے نکلیں گے۔ وہ سامنے ان کا پیخانہ ہے۔ جب کرکٹ کے اس چھوٹے میدان کے بیچ میں پہنچیں اس وقت ان کا راستہ روک لینا۔ قلم دوات کاغذ اپنے پاس رکھو۔ جب تک ان سے اپنے داخلے کا حکم نہ لکھوا لو، اس وقت تک ان کو نہ چھوڑنا، اگر چھوڑ دیا تو تمام عمر داخل نہ ہو سکو گے۔‘‘ میں نے کہا، ’’آپ خاطر جمع رکھئے اور دیکھتے رہیئے۔ میں حرف بحرف آپ کے حکم کی تعمیل کروں گا۔‘‘ یہ کہہ کر میں بورڈنگ میں گیا۔ وہاں سے کاغذ قلم دوات لایا اور مدرسے کی دیوار پر اپنے محسن کے برابر ہو بیٹھا۔ تھوڑی دیر کے بعد چپراسی لوٹا لے کر نکلا، وہ پیخانے میں لوٹا رکھ کر واپس جا رہا تھا کہ اس کو میرے ایجنٹ نے پکارا۔ ان کی صورت دیکھے ہی وہ بھاگا ہوا آیا ور کہا، ’’حضور۔ آج آپ کہاں؟‘‘ انہوں نے میری طرف اشارہ کر کے کہا، ’’ان کے ایک کام سے آیا ہوں۔ آج ہیڈ ماسٹر صاحب کے پیخانہ تک کون جائے گا؟‘‘ چپراسی نے کہا، ’’میں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’تم پیچھے رہ جاؤ، ہیڈ ماسٹر صاحب پکاریں بھی تو نہ جانا۔ خیر یہ کیوں کرو۔ میرے پاس کھڑے رہو جب میں کہوں اس وقت جانا۔‘‘ وہ بے چارہ وہیں کھڑا ہو گیا۔ اتنے میں ہیڈ ماسٹر صاحب اپنے کمرے سے نکلے۔ خوب پئے ہوئے تھے۔ جھومتے جھامتے آہستہ آہستہ جوں کی چال چلتے میدان میں آئے۔ وہ بیچ میدان میں پہنچے تھے کہ میں بھاگتا ہوا گیا اور ان کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔ کہنے لگے، ’’بھئی تم کون ہو؟‘‘ میں نے کہا، ’’جناب میں اسی مدرسے میں ہوں۔ چھٹی جماعت میں پڑھتا ہوں۔ آج آپ نے بابو جی کے کہنے سے میرا نام خارج کر دیا ہے۔ میرا نام پھر داخل کرلیجئے، نہیں تو میری پڑھائی کا ستیا ناس ہو جائے گا۔‘‘ کہنے لگے، ’’اچھا بھئی۔ اب تو تم جاؤ، میں آ کر بابو جی سے پوچھوں گا۔ گھبراؤ نہیں۔ تمہارا نام داخل ہو جائے گا۔‘‘ میں نے کہا، ’’تو ابھی لکھ دیجئے۔‘‘ کہنے لگے، ’’جلدی کیا ہے۔ ابھی دو منٹ میں آتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر ذرا کترا کر نکلنے لگے۔ میں نے ذرا ہٹ پھر ان کا راستہ روک دیا۔ اس پر انہوں نے ذرا غصہ ہو کر کہا، ’’تم بڑے شریر معلوم ہوتے ہو، جاؤ اب کبھی تمہارا نام اس مدرسے میں نہیں لکھا جائے گا۔‘‘ میں نے عرض کیا کہ’’اگر نام نہیں لکھا جائے گا تو میں آپ کو یہاں سے ہلنے بھی نہیں دوں گا۔‘‘ انہوں نے چپراسی کو پکارا۔ بھلا چپراسی وہاں کہاں۔ وہ تو دوسری جگہ قید تھا۔ جب اندرونی دباؤ زیادہ پڑنے لگا تو ذرا نرم ہوئے اور کہنے لگے، ’’اچھا بھئی، میں ابھی لکھ دیتا مگر یہاں کاغذ قلم دوات کہاں رکھی ہے۔‘‘ میں نے جھٹ لکھنے کا سامان نکال کاغذ اور قلم ان کے ہاتھ میں دیا، دوات سامنے پیش کی۔ انہوں نے یہ لکھ کر کہ’اس دفعہ معاف کیا جاتا ہے نام داخل کر لیا جائے۔ آئندہ ایسا ہواتو پھر کبھی معاف نہ کیا جائےگا۔ ‘کاغذ قلم مجھے دے دیا۔ میں نے کہا، ’’جناب اب دو بارہ داخل ہونے کے لئے میں ایک روپیہ داخلہ فیس کہاں سے لاؤں؟‘‘ کہنے لگے، ’’تو پھر تم نہ دو گے تو کیا تمہاری طرف سے میں دوں گا۔‘‘ میں نے عرض کیا، ’’اگر ایک روپیہ عنایت ہو تو بڑی مہربانی ہوگی۔‘‘ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اندرونی حالت کچھ ایسی نہ گفتہ بہ ہو رہی تھی کہ انہوں نے زیادہ حجت کرنا خلاف مصلحت سمجھا۔ جیب سے ایک روپیہ نکال میرے ہاتھ میں رکھا اور سمجھے کہرسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشتمیں کاغذ لے سیدھا ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرے میں پہنچا۔ وہاں جو منشی جی تھے ان کو دیا۔ اپنا نام لکھوا جماعت میں آ بیٹھا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب تو پیخانے سے واپس آتے آتے سب کچھ گئے۔ ہاں بابوجی ضرور کچھ رنگ لاتے۔ ان کا کفر میرے استاد نے توڑ دیا۔ آ کر کہا بابو جی یہ میرا بھائی ہے۔ اگر اس کے خلاف آپ نے کچھ کیا تو میں آپ کی خدمت میں پھر حاضر ہو ں گا۔ یہ تو مدرسے سے نہیں نکلے گا۔ ہاں آپ کو اپنا بوریا بدھنا سنبھالنا پڑے گا۔‘‘ بابو جی کے منہ سے بس یہی نکلا، ’’آبا۔ با۔ با۔ با۔ با۔ ظلم۔ ظلم۔ تو گیا۔ تیرا بھائی آ گیا۔‘‘ اس کے بعد بابو جی کی ہمت نہ ہوئی کہ میرے خلاف کوئی کارروائی کرتے۔ مارنا کجا، سختی سے کچھ بولنے سے بھی گھبراتے تھے۔ یہاں تک دب گئے تھے کہ ایک دن خود ان کے لڑکے کو میں نے ٹھوک دیا تو مجھ ہی کو بلا کر کہنے لگے، ’’بابا تونے مارا۔ اچھا کیا۔ تیرا بھائی ہے۔ اب نہ ماریو۔‘‘۔ بہر حال میرے جماعت میں دوبارہ آ جانے کے بعد ان میاں چغل خور میں کیا دم تھا جو مدرسے میں ٹکتے۔ دوسرے تیسرے روز ہی نام کٹوا دوسرے مدرسے میں داخل ہو گئے۔ چلو خس کم جہاں پاک۔ ان تمام باتوں کا یہ اثر ہوا کہ میں بھی اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگا۔ اور دوسرے لڑکے بھی جان گئے کہ یہ پلپلا لونڈا نہیں ہے۔ اگر کچھ سر اٹھایا تو ٹھوک ہی دے گا۔ میں نے مدرسے میں حکومت ضرور کی مگر خدا بہتر جانتاہے کہ میری شرارت نے میری شرافت کو کبھی نہیں دبایا۔ گڑ بڑ ہمیشہ مچائی مگر شرافت کا پہلو کبھی نہیں چھوڑا۔ اور یہ ہمیشہ پیش نظر رکھا کہ صرف شرارت کرنے ہم یہاں نہیں آئے ہیں، کچھ پڑھنے بھی آئے ہیں۔ اگر کسی مدرسے میں باغ ہو تو سمجھ لو کہ باغ کی بھی تباہی ہے اور باغبانوں کی بھی تباہی۔ یہی چیز مدرسے میں سب سے بڑا جھگڑے کا جھونپڑا ہوتی ہے۔ ہمارے مدرسے کے سامنے جو قطعہ تھا، اس میں ہزار ہا امردود کے درخت اور کرکٹ کے میدان سے ملا ہو اجو حصہ تھا اس میں سینکڑوں آم کے درخت تھے۔ میدان کی لمبان میں شہتوت ہی شہتوت لگے ہوئے تھے۔ یہ سارے کا سارا باغ ٹھیکے پر دیا جاتا تھا۔ کوئی دن نہ جاتا ہوگا جو باغبانوں اور لڑکوں میں مار پیٹ نہ ہوتی ہو۔ لڑائی کا یہ طریقہ تھا کہ سلطان وقت کمانڈر ان چیف بنتے اور دس دس بارہ بارہ لڑکوں کی ٹولیاں بنا کر چاروں طرف سے باغ کو گھیر لیتے۔ سیٹی بجی اور ایک ٹولی امرود کے کسی درخت پر گری۔ باغبانوں نے ادھر کا رخ کیا۔ ادھر ان کا منہ پھرا اور دوسری سیٹی بجی۔ سیٹی کا بجنا تھا کہ دوسری ٹولی نے دوسرے تختے پر چھاپہ مارا۔ کچھ باغبان ادھر رہے کچھ ادھر آئے کہ تیسرے پہلو سے حملہ ہوا۔ غرض تھوڑی سی دیر میں اودھم مچ گیا۔ جب دیکھا کہ فوج دب رہی ہے یا کافی مال غنیمت ہاتھ آ چکا ہے تو اس وقت واپسی کا بگل بجا۔ سب حملہ آور امرود جھولیوں میں بھرے ایک جگہ جمع ہوئے۔ کچے امرود پھینک دیے گئے۔ پکے پکے سب میں برابر تقسیم ہوگئے۔ ضرر رسیدوں کی مرہم پٹی کی گئی، اور دو ایک روز کے لئے لڑائی موقوف ہوئی۔ پھر ذرا ا مرود گدرائے اور پھر دوسرے حملے کی تیاری ہوئی۔ مجھے لڑکوں کا یہ جوش تو بہت پسند تھا اور لڑانے میں مزا بھی بہت آتا تھا مگر غریب باغبانوں کے نقصان سے رنج ہوتا تھا۔ شروع عہد حکومت میں چند حملے تو میں نے کئے لیکن پھر اس لوٹ کھسوٹ سے دل بیزار ہو گیا۔ آخر ایک تجویز سوجھی۔ چند ذرا کھاتے پیتے لڑکوں کو بلا کر کونسل کی اور کہا، ’’بھائیوں ان حملوں کو تو روکنا اچھا نہیں کیونکہ اس سے ہم طالب علموں میں جرأت بڑھتی ہے۔ جوش بڑھتا ہے اور پٹنے پٹانے کی مشق بھی ہو جاتی ہے مگر ان بچارے باغبانوں کا دیوالہ نکل جاتا ہے۔ غریب پٹتے بھی ہیں اور رقم کا نقصان بھی اٹھاتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ان لوگوں سے کچھ سمجھوتہ کر لیا جائے۔ ہم حملہ کریں۔ یہ مقابلہ کریں، آخر میں جو ان کا نقصان ہو وہ ہم آپس میں چندہ کر کے ادا کر دیں۔ ایک صاحب بڑے منطقی تھے۔ کہنے لگے، ’’جناب اگر یہ بد معاش سارا باغ لٹوا کر ہم سے پیسے مانگ بیٹھیں تو کیا ہو۔ لڑنے کا لطف نہ آئے اور پیسے مفت جائیں۔‘‘ بات واقعی معقول تھی۔ سب نے تائید کی۔ آخر بہت کچھ بحث مباحثے کے بعد یہ طے پیایا کہ اگر باغبان جیسا اب کرتے ہیں، ویسا نہ کریں تو ایک پیسے کے حق دار نہیں۔ ہاں پوری لڑائی کے بعد جو نقصان ہوگا وہ ادا کر دیا جائےگا۔ مدرسے بھر سے یہ تجویز پوشیدہ رکھنے کا عہد لیا گیا اور ملک کو بلا کر سب کچھ سمجھا دیا گیا۔ لڑکے جب حملہ کرتے تو یہ سمجھتے کہ ہم مالیوں کا مال لوٹ رہے ہیں۔ مالی یہ سمجھتے کہ ہمارا مالی نقصان ہو رہا ہے اس لئے کسی نہ کسی طرح ان لڑکوں کو باغ سے نکالنے کی کوشش کرتے۔ ملک سمجھتا کہ جو نقصان ہوگا وہ مجھ کو مل جائے گا۔ اس طرح لڑائی ہوتی اور خوب ہوتی۔ آخر میں ملک سے جب حساب ہوتا تو زیادہ سے زیادہ آٹھ دس آنے پیسے دینے پڑتے۔ آپس میں ایک ایک دو دو آنے چندہ کیا، دے دیے۔ اگر کسی لڑکے نے بلا وجہ کچے امردو توڑے یا بلا ضرورت درختوں کو ہلا ہلا کر امردوں کا ستیا ناس کیا تو اس پر جرمانہ ہو گیا اور آئندہ کے لیے کچھ عرصے تک اس کو حملہ آوروں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا۔ آم کے درخت اونچے تھے۔ وہاں جو حملہ ہوتا وہ پتھروں سے ہوتا۔ وہ زنازن پتھر چلتے کہ خدا کی پناہ۔ مالیوں کے پاس گوپن تھے، ان سے لڑکوں کی خبر لیتے۔ گوپن سے پتھر چلا اور لڑکے درختوں کی آڑ میں ہوئے۔ پتھر کسی درخت کے تنے پر کھٹ سے بیٹھا اور پھر حملہ شروع ہوا۔ لطف تو اس وقت آتا تھا جب کوئی زرد زرد آم ٹپ سے گرتا تھا۔ ادھر سے لڑکے بڑھتے اور ادھر سے مالی۔ اب نہ لڑکے آم تک جا سکتے ہیں اورنہ مالی صاحب۔ پینترے کٹ رہے ہیں۔ اس درخت کے پیچھے سے نکلے، اس درخت کے پیچھے جا چھپے۔ کوئی مالی ہمت کر کے ذرا سامنے آیا اور پتھر پڑا۔ اسی طرح چھپتے چھپاتے بچتے بچاتے آم تک پہنچ ہی جاتے۔ آپ پر کسی کا ہاتھ پڑا اور آم غائب ہوا۔ گیند کی طرح ہاتھوں ہاتھ کہیں کا کہیں پہنچ جاتا۔ شہتوت کا معاملہ ان سب سے مختلف اور مشکل تھا۔ درخت نہ اتنے پتلے تھے کہ ان کو ہلا کر شہتوت جھاڑ سکیں اور نہ اتنے نیچے تھے کہ ہاتھ سے توڑ سکیں۔ جو شہتوت زمین پر گر جاتے وہ کھانے کے قابل نہ رہتے۔ اس لئے درختوں پر چڑھ کر اور وہیں توڑ کر کھانا پڑتا۔ جب دیکھو کوئی نہ کوئی لڑکا کسی نہ کسی درخت پر ٹنگا ہے۔ ان درختوں کی رکھوالی پر کوئی باغبان نہ رہتا تھا۔ کرکٹ کے میدان کے دوسری طرف آموں کے درختوں کے نیچے ان کی جھوپڑیاں تھیں۔ جہاں انہوں نے دیکھا کہ کوئی لڑکا کسی درخت پر چڑھا اور ان میں سے کوئی نہ کوئی لپکا۔ اس کے میدان پار کرتے کرتے لڑکے نے اچھی طرح اپنا پیٹ بھر لیا۔ یہ قریب آیا اور لڑکا درخت پر سے کود یہ جا وہ جا۔ سامنے سڑک تھی۔ سڑک پر کیا پہنچے کہ سرحد پار ہو گئے۔ باغبان اس کا پیچھا چھوڑ درختوں کے نیچے آکھڑا ہوا۔ لڑکا کہیں ادھر ادھر چھپا رہا۔ ادھر یہ بلا دفع ہوئی اور ادھر وہ لڑکا پھر درخت پر آ موجود ہوا۔ غرض شہتوت کے درختوں کا تو برائے نام ہی ٹھیکہ تھا۔ اللہ کے فضل سے سارے شہتوت لڑکے ہی کھا کھا درختوں کو خالی کر دیتے۔ ان ہی دن رات کی لڑائیوں نے ہمارے مدرسے کے لڑکوں کواتنا ہمت والا کر دیا تھا کہ کسی دوسرے مدرسے والوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ میں مڈل میں تھا کہ ایک مدرسے سے بڑا زبر دست مقابلہ ہو گیا۔ ہمارے مدرسے سے شہر کو جانے کے لئے ریل کے پل پر سے گذرنا پڑتا تھا۔ ایک دوسرا بڑا مدرسہ شہر میں تھا۔ وہاں کے لڑکوں کو اپنے بورڈنگ ہاؤس آنے کے لئے اس پل کو دوسری طرف سے عبور کرنا ہوتا۔ دونوں مدرسوں میں ایک ہی وقت چھٹی ہوتی اور لڑکوں کی یہ مخالف روئیں اکثر پل کے بیچ میں ملتیں۔ کبھی کبھی کچھ نوک جھوک بھی ہو جاتی۔ مگر باقاعدہ لڑائی کی نوبت نہ آتی۔ خدا معلوم یہ اتفاق تھا یا شرارت کہ ایک دن ان لوگوں نے ہمارے مدرسے کے ایک لڑکے کی ٹوپی پل پر اتار فٹ بال بنا دی۔ ٹوپی پل کے نیچے جا پڑی۔ اس لڑکے نے آ کر مجھ سے شکایت کی۔ یہ مدرسے کی عزت کا معاملہ تھا۔ فوراً کونسل آف وار ہوئی۔ پچیس تیس لڑکوں کی ایک پلٹن مخالفین کی تنبیہہ کے لیے بنائی گئی۔ صبح کے مدرسے تھے۔ بارہ بجے چھٹی ہوئی اور پل کے عین وسط میں دشمنوں پر ہلہ بول دیا گیا۔ وہ اس حملے کے لئے بالکل تیار نہ تھے۔ بری طرح پٹ گئے۔ دوسرے دن اس مدرسے کے ہیڈ ماسٹر ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب کے پاس آئے۔ دونوں انگریز تھے۔ اس لئے ڈر ہوا کہ کوئی آفت نہ آ جائے۔ جب وہ چلے گئے تو صاحب نے مجھ کو بلایا۔ واقعہ پوچھا۔ میں نے صحیح صحیح حال کہہ دیا۔ کہنے لگے، ’’میں تمہاری کارروائی سے بہت خوش ہوا۔ ابھی صاحب سے میں نے کہہ دیا ہے کہ میں ایسی باتوں سے اپنے مدرسے کے لڑکوں کو نہیں روک سکتا۔ اپنے مدرسے والوں سے کہہ دو کہ اگر ہمت ہے تو مقابلہ پر آئیں، نہیں تو پل کے نیچے کھڑے رہیں۔ جب ہمارا مدرسہ گذر جائے اس وقت پل پر قدم رکھیں اور دیکھو میں تم سے کہے دیتا ہوں کہ ا گر پٹ کر آئے تو مدرسے سے نکال دوں گا۔ لڑو او ر خوب لڑو۔ ہارے تو مجھے منہ نہ دکھانا۔‘‘ ہیڈ ماسٹر کے اتنے کہنے نے ہم کو اور شیر بنا دیا۔ اس وقت سارے لڑکے جمع ہوئے، باقاعدہ فوج مرتب ہوئی، عہدے تقسیم ہوئے، حملے کی ترتیب قائم ہوئی۔ بارہ بجے چھٹی کا گھنٹہ بجا، اور مدرسے کے دروازے سے سلسلے وار فوج نکلنی شروع ہوئی۔ خدا بہتر جانتا ہے کہ ا س وقت وہ نقشا میری آنکھوں میں پھر رہا ہے۔ لڑکوں میں وہ جوش تھا کہ بیان نہیں ہو سکتا۔ آگے آگے ہر دستے کے افسر تھے۔ سامنے مضبوط مضبوط لڑکے، ان کے پیچھے ذرا کمزور لونڈے۔ مگر کمزوروں کا بھی یہ حال تھا کہ بپھرے جاتے تھے۔ آہستہ آہستہ یہ سیلاب پل کی طرف بڑھا اور اس طرح بڑھا کہ پل پر چلنے کا راستہ بالکل بند کر دیا۔ لڑائی کا یہ نقشا قائم کیا گیا تھا کہ پہلے دشمنوں کو دھکیل کر پل کے اس طرف اتار دیا جائے جدھر سے وہ آئے ہیں کیونکہ پل بہت پتلا اور بہت اونچا تھا۔ ڈر تھا کہ کوئی اس لڑائی میں نیچے نہ جا گرے۔ سب سے آگے میں اور میرے دو کپتان تھے۔ ہم کوئی آدھے پل تک پہنچے ہوں گے کہ دوسرے مدرسے والے بھی پوری تیاری کےساتھ پل کے دوسرے کنارہ پر نمودار ہوئے۔ ہم نے ترتیب کے ساتھ ذرا قدم بڑھایا کہ پل کے کنارے ہی پر ان کو روک دیں۔ وہ پل کے کوئی بیس، پچیس قدم ادھر آئے ہوں گے کہ دونوں فوجیں بالمقابل ہو گئیں۔ میں آگے بڑھا ور کہا، ’’دیکھئے حضرت! لڑائی کی ابتدا پرسوں آپ نے کی ہے اگر آپ معافی مانگ لیتے ہیں تو لڑائی ابھی ختم ہو جاتی ہے نہیں تو فیصلہ قسمت کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ ان کے ایک کالے سے ماسٹر سامنے آئے اور کہنے لگے کہ، ’’یہ سرکاری پل ہے، اس کو روکنے کا آپ کو کوئی حق نہیں ہے۔ ہم پولیس میں رپورٹ کر دیں گے۔‘‘ میں نے کہا، ’’آپ شوق سے پولیس میں جائیے مگر آپ کے پولیس میں جانے سے پہلے آپ کی یہ دستار مبارک پل کے نیچے جاتی ہے۔‘‘ میں نے یہ کہہ کر ان کی پگڑی اچھال دی۔ اور وہ تھوڑی ہی دیر میں ٹھوکریں کھاتی خدا جانے کہاں کی کہاں پہنچ گئی۔ اب کیا تھا دونوں فریق لڑنے کا ارادہ کر کے پہلے سے آئے تھے۔ اتنی سی کارروائی آگ لگا دینے کے لئے بہت کافی تھی۔ بس چل گئی۔ وہ آگے بڑھنے کی کوشش کرتے اور ہم پیچھے ہٹانے کی۔ ہاتھا پائی کا دونوں میں سے کسی کو خیال بھی نہ تھا۔ صرف فٹ بال کے نمونوں کے حملے ہو رہے تھے۔ کوئی دس منٹ کی دھکا پیل کے بعد دشمن نے جگہ چھوڑی۔ اس کا جگہ سے ہٹنا تھا کہ پیچھے سے ریلا پڑا، ا ور ریلے کے ساتھ ہی ان کے پاؤں اکھڑ گئے۔ پل سے اتر کر انہوں نے سڑک پر پھر پرا جمایا۔ اور باقاعدہ جنگ شرو ع ہوئی۔ مکے بھی چلے، کشتیاں بھی ہوئیں، ہاتھا پائی بھی ہوئی، غرض ساری سڑک میدان جنگ بن گئی۔ تعداد سے دیکھا جائے تو وہ لوگ ہم سے کہیں زیادہ تھے لیکن تعداد ایک جدا چیز ہے اور ہمت اور استقلال دوسری چیز۔ پندرہ بیس ہی منٹ میں دشمن کے پاؤں اکھڑ گئے اور سب اسی طرح بے تحاشا بھاگے کہ بہت سی کتابیں، جوتے اور ٹوپیاں وہیں چھوڑ گئے۔ مال غنیمت جمع کیا گیا۔ زخمیوں کی دیکھ بھال ہوئی اور سب ایک فتح مندانہ جوش کے ساتھ اپنے اپنے گھروں کو چل دیے۔ ہاں یہ کہنا بھول گیا۔ ادھر تو لڑکوں میں مقابلہ ہو رہا تھا اور ادھر دونوں مدرسوں کے ماسٹروں میں لڑائی شرو ع ہو گئی۔ ہمارے تھرڈ ماسٹر صاحب بڑے تگڑے تھے، کشتی بھی جانتے تھے۔ ان کا مقابلہ ایک بڑی لمبی ڈاڑھی والے ماسٹر سے ہو گیا۔ خیر انہوں نے اس بچارے کو جو پٹخنے دیے، سو دیے۔ اس لپاڈ کی میں اس کی آدھی ڈاڑھی بھی نوچ لائے اور یہ ڈاڑھی مال غنیت کا یک جز قرار پائی۔ دوسرے روز صبح کو ہیڈ ماسٹر صاحب نے مجھے بلایا اور لڑائی کا حال پوچھا۔ میں نے تمام واقعات از الف تا ے ان سے بیان کر کے جو مال اس جنگ میں ملا تھا، سامنے رکھ دیا۔ ڈاڑھی کو دیکھ کر وہ بہت ہنسے اور ان سب چیزوں کو ایک چٹھی کے ساتھ اس مدرسے کے ہیڈ ماسٹر صاحب کے پاس بھیج دیا۔ ہم کوبہت کچھ شاباشی دی اور ہم سمجھے کہ چلو چھٹی ہوئی۔ اس روز جو ہم پھر اسی طرح فوج کا سلسلہ قائم کر کے پل پر آئے تو کسی مخالف کو وہاں نہ پایا۔ معلوم ہوا کہ وہاں والوں کو ہدایت کردی گئی ہے کہ جب تک ہمارا مدرسہ پل سے نہ گزر جائے اس وقت تک پل پر قدم نہ رکھیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ شرافت کی کہ پولیس میں اس واقعے کی رپورٹ کر دی۔ لڑائی کے شاید چوتھے روز اس مدرسے کے ہیڈ ماسٹر ہمارے مدرسے میں آئے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب ان کے ساتھ تھے۔ آتے ہی دونوں کے دونوں ہمارے ہیڈ ماسٹر کے کمرے میں گئے۔ وہاں بڑی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ہم سب کو اور خاص کر تھرڈ ماسٹر صاحب کو بڑی تشویش تھی کہ دیکھئے اب کیا ہوتا ہے کوئی گھنٹے پون گھنٹے کی گفتگو کے بعدمیری اور میرے دو تین ساتھیوں کی طلبی ہوئی اور جاتے ہی ڈپٹی کمشنر صاحب نے سوال کرنے شروع کر دیے۔ میں نے جو کچھ واقعہ ہوا تھا بے کم و کاست بیان کر دیا۔ ڈپٹی کمشنر صاحب ہنستے اور مسکراتے رہے۔ آخر میں اس مدرسے کے ہیڈ ماسٹر کہنے لگے، ’’مسٹر! کیا اگر یہی لڑائی ولایت کے دو مدرسوں میں ہوتی تو اس کی رپورٹ پولیس میں کی جاتی اور کیا اس طرح فوج داری مقدمہ چلانے کی استدعا کی جاتی۔ اس کا آپس میں تصفیہ ہو جائے تو بہترہے۔‘‘ ہمارے کپتان صاحب بولے، ’’صاحب اس طرح تصفیہ نہیں ہوگا۔ پہلے یہ ہار مان لیں، اس وقت ہم ان کو چھوڑ دیں گے۔ ہمارا مدرسہ کسی سے دب کر ہرنے والا نہیں ہے۔‘‘ ان کے جوش پر سب ہنس پڑے اور ہم سے کہا گیا کہ اب تم لوگ جاؤ۔ ہم چلے آئے۔ معلوم نہیں کہ آپس میں کیا باتیں ہوئیں۔ آخر یہ قرار پایا کہ جب تک ہمارا مدرسہ پل پر سے نہ گذر جائے، اس وقت تک دوسرے مدرسے والے پل کے دوسری طرف لین باندھے کھڑے رہیں۔ ہم جب ان کے پاس سے گذرتے تو اس شان سے اینٹھتے ہوئے گویا ایک فاتح قوم ایک مفتوح قوم کو نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہوئی گذر رہی ہے۔ کچھ دنوں یہی رنگ رہا۔ اس کے بعد ٹورنمنٹ کے زمانے میں آپس میں میل ملاپ ہو گیا۔ اب کبھی کبھی اس لڑائی کا خیال آتا ہے اور سوچتا ہوں کہ اگر اسی طرح کی پھر کوئی جنگ ہو جائے تو تعزیرات کی دفعہ 147 کاخیال آتے ہی انشاء اللہ سب سے پہلے میں وہاں سے بھاگوں۔ ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب کا رنگ تو آ پ نے دیکھ لیا۔ اب ان کی پڑھائی کا ڈھنگ بھی ملاحظہ ہو۔ ان کا خیال تھا کہ وہ طالب علم ہی نہیں جس کے پاس ڈکشنری اور اٹیلس نہ ہو۔ جماعت میں گھستے ہی پہلا کام ان کا یہی ہوتا تھا کہ ہر لڑکے کے پاس یہ دونوں چیزیں دیکھ لیں۔ میں حلف لینے کو تیارہوں کہ میں نے ان سے دو سال تک پڑھا اور کبھی یہ چیزیں نہیں خریدیں۔ لطف یہ ہے کہ کبھی صاحب کو پتہ نہیں چلا کہ میں دوسروں سے ڈکشنری اور اٹیلس لے کر کام چلا رہا ہوں۔ ہوتا یہ تھا کہ صاحب نے ایک سرے سے تنقیح کرنی شروع کی۔ اور وہ کتابیں ایک سے دوسرے پر کمر کے پیچھے ہی پیچھے منتقل ہونی شروع ہوئیں۔ شاید ہی کوئی بد قسمت لڑکا ہوتا ہوگا جس کے پاس ان کویہ دونوں چیزیں موجود نہ ملتی ہوں۔ اور مزا یہ تھا کہ پچاس ساٹھ لڑکوں کی جماعت میں صرف دس یا گیارہ کے پاس یہ کتابیں تھیں۔ بہر حال اپنا اطمینان کرنے کے بعد انہوں نے پڑھانا شروع کیا۔ جغرافیہ خوب پڑھاتے تھے اور بورڈ پر چاک سے نقشا تو ایسا بناتے تھے کہ ہاتھ چوم لینے کو جی چاہتا تھا۔ اب رہی انگریزی تو وہ ان کی مادری زبان تھی لیکن پڑھانے میں ولایت کا ذکر حد سے زیادہ کرتے تھے۔ جب کوئی مثال دیتے تو انگریزوں ہی کی مثال دیتے۔ ایک دن ایک صاحب زادے صاحب ان سے سوال کر بیٹھے کہ صاحب آپ ولایت کا تو اتنا ذکر کرتے ہیں، کبھی آپ ولایت گئے بھی ہیں یا نہیں۔ کیا کہوں یہ سن کر ان کو کتنا غصہ آیا۔ اور غصہ آنے کی وجہ بھی تھی۔ کیونکہ یہ دیسی صاحب تھے۔ یعنی تھے تو ولایتی ماں باپ کے بیٹے مگر ہندوستان ہی میں پیدا ہوئے تھے۔ ہندوستان ہی میں پرورش پائی تھی اور آخر ہندوستان ہی میں مرے۔ سوال کا جواب تو کیا دیتے، ہاں ہوا یہ کہ غصہ کے مارے جماعت سے باہر نکل گئے اور برابر گھنٹہ بھر باہر ٹہلتے رہے۔ ان کے غصے کی کچھ نہ پوچھو۔ ہر وقت ناک پر دھرا رہتا تھا۔ مدرسے سے ملا ہوا ہی باغ تھا۔ جانور آتے، درختوں پر بیٹھتے اور چہچہاتے تھے۔ ان کے نازک دماغ پر جانوروں کا بولنا گراں گذر تا تھا۔ دو چپراسی ان جانوروں کے اڑانے پر متعین تھے۔ ایک روڑے جمع کرتا، دوسرا پتھر مارنے کو تیار بیٹھا رہتا۔ ادھر کوئی جانور درخت پر آکے بیٹھا اور ادھر اس نے پتھر مارا۔ اگر کہیں خدا نخواستہ کوئی جانور کسی درخت پر بول گیا تو چپراسیوں کی شامت آ گئی۔ صاحب اس قدر غل مچاتے کہ خدا کی پناہ۔ برا بھلا کہا، جرمانہ کیا ا ور زیادہ غصہ آیا تو کسی نہ کسی چپراسی کو معطل کر دیا۔ غرض ان چپراسیوں کا صاحب کے ہاتھ سے ناک میں دم تھا۔ انہوں نے لڑکوں کو مارنے کا طریقہ مدرسے میں بالکل مسدود کر دیا تھا۔ ممکن نہ تھا کہ کوئی ماسٹر کسی لڑکے پر ہاتھ اٹھا سکے، البتہ ڈکار لینے سے ان کو سخت نفرت تھی۔ آپ جانتے ہیں جو لوگ ماش کی دال کھائیں وہ ڈکار نہ لیں تو اور کیا کریں۔ باسی ماش کی دال کھانے والے لڑکے جماعت میں بہت سے تھے۔ جہاں کسی نے ڈکار لی اور انہوں نے آ کرمنہ پر کتاب ماری۔ لڑکوں میں مستعدی پیدا کرنے کے لئے ان کی جماعت میں بنچ ذرا دیوار سے ہٹا کر بچھا دیےگئے تھے تاکہ کوئی لڑکا دیوار کا سہار ا نہ لے سکے۔ ایک دن یہ ہوا کہ یہ جماعت میں ٹہلتے ہوئے پڑھا رہے تھے۔ ایک لڑکے کے پاس سے جو گذرنے لگے تو اس کو اسی وقت ڈکار آئی اور اس نے ’’ہاڈ‘‘ کر کے ایسا بڑا منہ کھولا کہ حلق کا کوا بھی دکھائی دینے لگا۔ صاحب نے اسی طرح ٹہلتے ٹہلتے اس کے منہ پر کتاب ماری۔ وہ بچارہ اپنی ڈکار کی دھن میں ذرا ڈھیلا بیٹھا تھا۔ بنچ پر سے قلا بازی کھا کر نیچے جا پڑا لیکن ان حضرت نے کچھ پروا نہ کی۔ یہ بھی نہ دیکھا کہ کہیں ٹھاہ بے ٹھاہ چوٹ تو نہیں لگ گئی۔ اس طرح پڑھانے میں مشغول رہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ صبح کا جب مدرسہ ہوتا ہے تو اکثر لڑکے پنجوں پر بیٹھے اونگھا کرتے ہیں۔ صاحب بہادر کو ان کی یہ حرکت بہت نا پسند تھی۔ جہاں دیکھا کہ کوئی لڑکا ذرا اونگھ رہا ہے اور انہوں نے چپراسی کو آواز دے کر حکم دیا کہ اس لڑکے کو لے جا کر کرکٹ فیلڈ کے پانچ چکر دلاؤ، پانچ چکر دینے کے معنی یہ سمجھو کہ پورا سو میل ہو گیا۔ ان چکروں کے بعد جو یہ لڑکا آتا تو بالکل ’’پٹخن‘‘ ہوتا۔ میں نے اوپر کہا ہے کہ مارتے بالکل نہ تھے مگر ایک لڑکے کو انہوں نے ایسا مارا ہے کہ توبہ ہی بھلی۔ ہوا یہ کہ کہ انٹرنس کلاس میں ایک لڑکا تھا اور بڑا ہوشیار تھا مگر خدا جانے کیوں اس کو مدرسے سے بھاگنے کا مرض پڑ گیا تھا۔ گھر سے کہہ کر آتا کہ مدرسے جا رہا ہوں اور خبر نہیں سارے دن کہاں رہتا۔ آخر یہ ہوا کہ نام کٹ گیا۔ نام کٹنے کی خبر اس کے والد کو دی گئی۔ وہ ایک دن اپنے صاحب زادے کو لے کر ہیڈ ماسٹر صاحب کے پاس آئے اور کہا، ’’سرکار یہ تو روز مدرسے آتا ہے، پھر اس کا نام کیوں کاٹ دیا گیا۔‘‘ صاحب نے رجسٹر منگا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک دو دن نہیں پورے تین مہینے سے مدرسے سے غائب ہے۔ جب ڈانٹ ڈپٹ ہوئی تو یہ حضرت بھی قبولے۔ صاحب نے ان کے باپ سے پوچھا کہ اب آپ اس کو سزا دیتے ہیں یا میں دوں۔ اس بچارے نے کہا کہ آپ ہی دیجئے۔ کہا کہ کل صبح اس کو لے کر آؤ۔ اس کے جانے کے بعد صاحب نے ایک بیت منگوائی۔ رات بھر اس کو ناند میں ڈبو کر رکھا۔ صبح کو وہ لڑکا ا ور ان کے والد صاحب پھر آئے۔ تمام اسکول جمع کیا گیا۔ ان صاحب زادے کو بینچ پر اوندھا لٹا کر باندھ دیا گیا۔ اور اس کے بعد جو میرے شیر نے بیت لے کر سوتنا شروع کیا ہے تو بس یہ معلوم ہوتا تھا کہ اس کو جان سے مارے بغیر نہ چھوڑے گا۔ سارے لڑکوں کا یہ حال تھا کہ کانپ رہے تھے۔ ماسٹروں کے ہوش پر ان تھے۔ آخر جب وہ بے ہوش ہی ہو گیا، اس وقت کہیں جا کر انہوں نے ہاتھ روکا۔ مگر صاحب اس لڑکے کا باپ بھی اس بلا کا تھا کہ کیا کہوں۔ دیکھ رہا تھا کہ بچے کا دم نکلے جاتا ہے اور کہے جاتا تھا کہ مارو اور مارو۔ ایسے بد معاش کی یہی سزا ہے۔ اس مار کے کہیں پندرہ روز کے بعد وہ بچارہ اس قابل ہوا کہ مدرسے آئے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب سے خود میرے دو مقابلے ہوئے۔ میں ایک میں جیتا اور ایک میں یہ جیتے۔ پہلا واقعہ تو یہ ہے کہ انہوں نے ایک سال حکم حاصل کر لیا کہ گرمیوں میں صبح مدرسہ نہ کیا جائے۔ لڑکوں نے خوشامدیں کیں، ماسٹروں نے بہت کچھ کہا مگر ہمارے صاحب بہادر کیا ماننے والے تھے۔ ا ٓخر جب کچھ بن نہ پڑی تو اسٹرائک کی سوجھی۔ یہ 1900ء کا واقعہ ہے۔ اس زمانے میں اسٹرائک کو کوئی جانتا بھی نہ تھا۔ میں اس زمانے میں نویں جماعت (پری میٹرک) میں پڑھتا تھا۔ میں نے اپنی جماعت کے سارے لڑکوں کو جمع کر کے کہا کہ کل اگر کوئی مدرسے آیا تو میرے سے برا کوئی نہیں۔ کل ساڑھے نو بجے سب کی حاضری کمپنی باغ میں لی جائے گی۔ اس تجویز کی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔ دوسرے دن اول وقت کے تین گھنٹے ہیڈ ماسٹر صاحب کےتھے۔ سارے مدرسے کی حاضری انہی کے کمرے کے سامنے لڑکوں کو لین سے کھڑا کر کے ٹھیک دس بجے لی جاتی تھی۔ اس روز جو سب جمع ہوئے تو پوری کی پوری ایک جماعت غائب۔ تمام مدرسے میں غل مچ گیا۔ صاحب کو خبر ہوئی، وہ بھی کمرے سے نکل کر باہر آئے۔ ماسٹروں سے پوچھا کہ نویں جماعت کہاں ہے۔ سب نے لا علمی ظاہر کی۔ ایک ماسٹر صاحب نے کہا کہ میں نے تیس چالیس لڑکوں کو کمپنی باغ کے کنوئیں پر بیٹھے دیکھا ہے۔ یہ سن کر صاحب کمرے میں چلے گئے۔ اب ہماری سنئے۔ ہم لوگ نو بجے سے باغ میں جمع ہونے شرو ع ہوئے۔ ایک آیا۔ دو آئے۔ تین آئے۔ غرض ساڑھے نو بجے تک پورے انچاس لڑکے جمع ہو گئے۔ جب یہ اطمینان ہو گیا کہ جماعت بھر کا کوئی لڑکا مدرسے نہیں گیا ہے تو اس کے بعد فٹ بال شروع ہوئی۔ ساڑھے گیارہ بجے تک یہ شغل رہا۔ جب اس سے بھی فراغت پائی تو خیال آیا کہ اب کیا کریں۔ سب نے کہا چلو اب مدرسے چلیں۔ غرض سب کے سب لائن باندھے، غل مچاتے مدرسے آئے۔ ابھی صاحب کا یک گھنٹہ باقی تھا۔ تصفیہ طلب یہ امر تھا کہ کون جماعت میں پہلے جائے۔ سب نے مجھ سے کہا کہ حضرت یہ مصیبت آپ ہی کی لائی ہوئی ہے، پہلے آپ ہی جائیے خیر میں بھی جی کڑا کر کے کمرے میں گھس ہی گیا۔ صاحب بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے۔ میں آہستہ آہستہ قدم ڈالتا اپنی سیٹ تک آیا اور بیٹھ گیا۔ دوسرے لڑکے سامنے کی کھڑکی میں سے یہ جھانک رہے تھے۔ جب یہ دیکھ لیا کہ میں اپنی جگہ جا بیٹھا اور صاحب نے کچھ نہیں کہا تو دوسرے صاحب کمرے میں داخل ہوئے اور میرے برابر آ بیٹھے۔ غرض اسی طرح کوئی ساتھ آٹھ منٹ میں پوری جماعت اندر آ گئی۔ صاحب بھی کن انکھیوں سے یہ تماشا دیکھتے رہے۔ جب سارے پنچ بھر گئے تو انہوں نے قلم ہاتھ سے رکھا۔ جماعت پر ایک نظر ڈالی۔ اور پوچھا، ’’سب آ گئے۔‘‘ میں نے کہا، ’’جی ہاں!‘‘ پوچھا، ’’کس مضمون کا گھنٹہ ہے؟‘‘ میں نے کہا، ’’جغرافیہ کا۔‘‘ انہوں نے میز کی دراز کھول جغرافیہ نکالا۔ اپنی کرسی سے اٹھے اور ٹہل ٹہل کر اس طرح پڑھانے لگے گویا کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ گھنٹہ ختم ہونے کے بعد جب جماعت چلنے لگی تو مجھ سے کہا، ’’تم ٹھہر جاؤ۔‘‘ میں سمجھا کہ میاں فرحت آج خیر نہیں۔ وہ مار پڑے گی کہ ساری حکومت ناک کے رستے نکل جائے گی۔ کبھی سوچتا کہ بھاگ جاؤں کبھی خیال آتا کہ نہیں۔ جب دوسروں کو مصیبت میں ڈالا ہے تو یہ شرافت سے بعید ہے کہ وقت پر دغا دی جائے۔ صاحب اگر ہاتھ اٹھائیں تو تو بھی مارنے مرنے کو تیار ہو جا۔ دو ماریں گے تو کم سے کم ایک تو کھائیں گے۔ بہر حال میں اسی دھیڑ بن میں تھا کہ صاحب کرسی پر جا بیٹھے اور مجھ سے کہا کہ پاس آؤ، میں قریب گیا لیکن اتنے قریب بھی نہیں کہ میرا ہاتھ پکڑ سکیں۔ دل کہتا تھا کہ اب جنگ ہوئی لیکن بجائے اس کے کہ وہ ہاتھ پکڑ نے کا ارادہ کرتے نہایت نرم آواز میں بولے کہ، ’’اب تک تم کہاں رہے؟‘‘ میں نے کہا، ’’کمپنی باغ میں۔‘‘ کہا، ’’کیوں؟‘‘ میں نے کہا، ’’دیکھئے صاحب! اگر آپ صبح کا مدرسہ نہ کریں گے تو آج ایک جماعت گئی ہے اور کل سے سارا مدرسہ غائب ہے۔ آپ نے دیکھ لیا ہوگا کہ اس بارے میں سارے کا سارا اسکول ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ کہنے لگے، ’’میں تمہاری اسپرٹ سے بہت خوش ہوا۔ اگر تمام دنیا میرے سر ہوتی تو صبح کا مدرسہ نہ کرتا۔ لیکن تمہاری جرأت دیکھنے کے بعد میں اپنا اردارہ بدل دیتا ہوں۔ جاو، سب سے کہہ دو کل سے صبح کا مدرسہ ہے، سرکار سے حکم بعد میں حاصل کر لیا جائے گا۔‘‘ میں سچ کہتا ہوں کہ انکی باتوں سے میرے آنسو نکل آئےاور میں نے دل میں کہا کہ’’فرحت۔ خدا کسی کو ہیڈ ماسٹر دے تو ایسا دے۔‘‘ میں شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا مگر منہ سے ایک حرف نہ نکلا۔ وہ بھی سمجھ گئے اور کہنے لگے، ’’جاؤ تمہاری حالت ایسی ہے کہ الفاظ میں کسی شکریہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ کمرے سے باہر آنے کے بعد جس جوش و محبت سے لڑکوں نے گھیر کر مجھ سے ہاتھ ملائے ہیں، اس کی خوشی کو کچھ میرا دل ہی جانتا ہے۔ اب تک دنیا میں ہزاروں خوشیاں دیکھیں مگر وہ خوشی ایسی تھی کہ جس کا نہ جواب ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ اب دوسری لڑائی کا قصہ سنیئے۔ لڑکوں میں کھیل کود کا شوق پیدا کرنے کے لئے ہیڈ ماسٹر صاحب نے ٹورنمنٹ مقرر کی۔ جتنے مدرسے ہائی اسکول کے ما تحت تھے وہ سب جمع ہوتے۔ ہر طرح کے مقابلے ہوتے اور آخر میں جیتنے والوں کو مٹھائی بٹتی۔ میں اس زمانے میں انٹرنس میں تھا۔ خدا معلوم یہ خیال میرے دل میں کیوں پیدا ہوا کہ ایسے ٹورنمنٹ میں شریک ہونا اور بچوں کے ساتھ بھاگنا دوڑنا انٹرنس والوں کی توہین ہے۔ ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ ساری جماعت والے میرے ہم خیال ہو گئے۔ اور ہم سب نے شرکت سے انکار کر دیا۔ اس پر صاحب نے یہ سزا مقرر کی کہ جو لوگ ٹورنمنٹ میں شریک نہ ہوں وہ سو گز کی دوڑ دوڑیں۔ یہ ہم نے منظور کر لیا۔ ہر مہینہ سو گز بھاگتے اور چھٹی پا جاتے۔ ہماری دیکھا دیکھی نویں جماعت والوں نے بھی ٹورنمنٹ کی شرکت چھوڑ دی۔ صاحب کو یہ خیال ہوا کہ کہیں یہ مرض پھیل کر میری اسکیم کو بے کار نہ کر دے۔ اس لئے انہوں نے یہ کیا کہ میدان میں بنچ بچھوا دیےاور بنچوں پر پہلی دوسری جماعت کے لڑکوں کو بٹھا کر ہمیں حکم دیا کہ اب تم لوگ سو گز بھاگو اور ان بنچوں کے نیچے سے لوٹ کر نکلو۔ پہلے نویں جماعت والوں کو لیا گیا وہ بھاگے مگر جب بنچوں کے نیچے سے نکلنے لگے تو جو بچے اوپر بیٹھے تھے انہوں نے خوب لاتیں چلائیں۔ چار قطاروں میں یہ بینچ بچھائے گئے، بچاروں کو ہر جگہ یہی مصیبت پیش آئی۔ بہر حال یہ سب اسی طرح لوٹتے لٹاتے، لاتیں کھاتے رسی تک پہنچ ہی گئے۔ میں نے جو یہ حالت دیکھی تو اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ’’بھئی۔ تمہارا جو چاہے سو کرو۔ میں تو مر بھی جاؤں گا تو اس طرح نہ دوڑوں گا۔‘‘ سب نے کہا کہ ’’ہم تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘ میں نے کہا کہ ’’تو چلو۔ میرے ساتھ آؤ۔‘‘ غرض ساری جماعت وہاں سے چل مدرسے کے دوسرے میدان میں جا بیٹھی۔ پہلے ہمارے پاس تھرڈ ماسٹر صاحب آئے اور کہا، ’’چلو صاحب بلاتے ہیں۔‘‘ ہم نے کہا، ’’جائیے ہم نہیں آتے، اگر سیدھی طرح سو گز دوڑائیں تو ہم آتے ہیں۔ یہ نہیں تو ہمیں دوڑنے سے انکار ہے۔‘‘ انہوں نے جا کر صاحب سے کہہ دیا۔ اس کے بعد سکنڈ ماسٹر صاحب آئے ان کو یہی جواب دے دیا۔ آخر میں سائنس ماسٹر صاحب آئے۔ ان کی ہم لوگ بڑی عزت کرتے تھے اور صاحب بھی ان کا بہت کہا مانتے تھے۔ انہوں نے آ کر ہمیں سمجھایا۔ اور کہا، ’’چلو جی۔ میں بنچوں کے نیچے لوٹنا معاف کرا دیتاہوں۔‘‘ ان کی بات پر یقین کر کے ہم سب کے سب پھر اس میدان میں آئے اور لائین باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ خدا اس سائنس ماسٹر کو سمجھے۔ اس نے ایک حرف ہمارے لئے نہیں کہا۔ صاحب کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو رہی تھیں۔ کہنے لگے، ’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ ارادہ یہ تھا کہ ہم سب خاموش رہیں اور سائنس ماسٹر صاحب ہماری وکالت کریں۔ مگرے میرے ادھر ادھر جو حضرات کھڑے تھے، انہوں نے اپنے شانوں سے مجھے کچھ اس طرح دھکیلا کہ میں کوئی دو قدم آگے بڑھ گیا۔ اب صاحب بجائے اس کے کہ ساری جماعت سے کوئی سوال کرتے، مجھ سے سوال کرنے لگے۔ میں نے بھی دیکھا کہ اب خاموش رہنا ٹھیک نہیں ہے، ان سے حجت کرنی شروع کر دی۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ اس طرح باتوں سے کام نہیں چلے گا تو حجت قطع کرنے کے لئے یہ کہا کہ میں صرف دو منٹ دیتا ہوں، جن کو اس طرح بھاگنا ہے وہ آگے نکل آئیں اور باقی یہاں سے چلے جائیں۔ وہ گھڑی نکال کر وقت دیکھنے لگے اور سوائے دو لڑکوں کے ہم سب وہاں سے چل دیے۔ ان دو لڑکوں میں ایک تو تھرڈ ماسٹر کے صاحب زادے تھے اور دوسرے ایک کشمیری پنڈت کے لڑکے جو حال ہی میں داخل ہوئے تھے۔ غرض یہ دونوں دوڑے اور دونوں نے خوب ہی لاتیں کھائیں۔ ٹورنمنٹ ختم ہوئی اور اب ہم کو فکر ہوا کہ دیکھئے اب صاحب کیا کرتے ہیں۔ دوسرے روز جو ہم سکنڈ ماسٹر صاحب کے کمرے میں گئے تو انہوں نے ذرا مسکرا کر کہا کہ، ’’تم لوگوں نے کل بہت زیادتی کی۔ صاحب تم سے خفا ہیں ان سے جاتے ہی معافی مانگ لو وہ ضرور معاف کر دیں گے۔‘‘ ہم نے کہا، ’’بہت اچھا۔‘‘ دوسرا ہی گھنٹہ صاحب کا تھا۔ جماعت جا کر بیٹھی۔ وہ منتظر تھے کہ پہلے معافی مانگی جائے، اس کے بعد پڑھانا شروع ہو۔ میں نے اس لڑکے کو اشارہ کیا جو ٹورنمنٹ میں ہم سے الگ ہو کر دوڑا تھا اور جو بچوں کی خوب لاتیں کھا چکا تھا اس نے کھڑے ہو کر کہا، ’’جناب والا۔ کل جو قصور ہم سے ہوا ہے وہ معاف فرمایا جائے۔ ہم اپنے کئے پر نادم ہیں۔‘‘ اب جو میں غور کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ واقعی معافی کے اس طریقے سے صاحب کی بڑی توہین ہوئی۔ غضب خدا کا، قصور تو کرے کوئی اور معافی وہ مانگے جس نے قصور نہیں کیا۔ اس لڑکے کا معافی مانگنا تھا کہ صاحب بگڑ ہی تو گئے۔ کہنے لگے، ’’تم کیوں معافی مانگتا ہے۔ معافی وہ مانگے جس نے قصور کیا ہے۔‘‘ میں نے دل میں کہا کہ آج نہیں کل معافی مانگ لیں گے۔ جلدی ہی کیا ہے کوئی ہم یا صاحب بھاگے تھوڑی جاتے ہیں۔ جب صاحب نے دیکھا کہ کوئی معافی کے لئے نہیں اٹھتا تو انہوں نے کتاب بند کر میز کے خانے میں رکھی اور کچھ بڑ بڑاتے ہوئے چلے گئے اور جب تک ہماری جماعت وہاں رہی، کمرے کے اندر نہ آئے۔ ہمارا تیسرا گھنٹہ تھرڈ ماسٹر کے ہاں تھا۔ ابھی جا کر بیٹھے ہی تھے کہ مدرسے کی آڈر بک آئی۔ لکھا تھا کہ’’فرحت اللہ کو ہدایت کر دی جائے کہ وہ آج سے میرے کمرے میں نہ آئے۔‘‘ یہ حکم سن کر آگ ہی تو لگ گئی۔ فوراً جماعت سے اٹھا۔ ماسٹر صاحب نے کہا، ’’میاں۔ بیٹھو۔ صاحب کے ہاں نہ جایا کرو۔ وہاں کا سبق میں پڑھا دیا کروں گا۔ تھوڑے دنوں میں صاحب کا غصہ بھی دھیما پڑ جائے گا۔‘‘ میں نے کہا، ’’حضرت معاف کیجئے۔ میں اس مدرسے ہی میں نہیں پڑھتا۔‘‘ وہاں سے نکل کر دفتری کے پاس آیا۔ درخواست لکھی کہ میرا نام کاٹ دیا جائے اور صداقت نامہ حاضری دیا جائے۔ چپراسی کے ہاتھ یہ درخواست صاحب کو پہنچی۔ اس پر حکم ہوا کہ ’’طالب علم کو ایسی درخواست دینے کا حق نہیں ہے۔ اس کے ولی کی جانب سے درخواست پیش ہونی چاہئے۔‘‘ ہم اس وقت گھر آئے۔ واقعہ بیان کیا اور بڑی مشکل سے والد صاحب قبلہ کے دستخط اس درخواست پر لئے۔ بھاگے بھاگے پھر مدرسے گئے اور درخواست اندر پہنچوائی۔ حکم ہوا، ’’نا منظور۔‘‘ اور ساتھ ہی دوسرا حکم جاری کیا کہ فرحت اللہ کو بلا تعین مدت معطل (Suspand) کیا گیا۔ اب تماشا دیکھئے کہ انٹرنس کا امتحان سر پر آ گیا۔ نہ مدرسے میں پڑھنے کی اجازت دی جاتی ہےاور نہ نام کاٹا جاتا ہے اور یہ نا ممکن تھا کہ بغیر سارٹیفکٹ کے کوئی دوسرا مدرسہ مجھ کو لے لیتا۔ غرض کچھ عجیب آفت میں مبتلا ہو گیا۔ اور اس میرے یار نے اپنے حکم میں ذرا تبدیلی نہ کی۔ انیس روز تک یونہی ادھر میں لٹکائے رکھا۔ گھر میں سب پریشان تھےکہ لڑکے کا ایک سال ضائع ہوا۔ ہوتے ہوتے سب کی نظر میرے ایک چچا پر پڑی کہ ان کو صاحب کےپاس بھیجنا چاہئے۔ ہمارے یہ چچا بھی کچھ عجیب رنگ کے چچا تھے۔ نہایت اچھی انگریزی جانتے تھے اور شکل دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ ان کو انگریزی کا ایک حرف بھی آتا ہے۔ بہت علم فاضل تھے۔ لیکن صورت سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ بالکل گنوار کا لٹھ ہیں۔ اللہ کا دیا گھر میں سب کچھ موجود تھا لیکن کپڑوں کی حالت، ڈاڑھی موچھوں کی کیفیت، بالوں کی پریشانی اور ان کے رہنے سہنے کے طریقے سےیہ معلوم ہوتا تھا کہ مفلس قلاش شخص ہے۔ غرض ان کو بلا کر سارا معاملہ سمجھا یا گیا۔ ہم اور وہ دونوں مدرسے پہنچے۔ صاحب کو اطلاع کرائی گئی۔ انہوں نے صرف ان کو بلا لیا۔ اندر پہنچ کر معلوم ہوا کہ صاحب اور یہ دونوں ساتھ کے پڑھے ہوئے ہیں۔ پھر تو دونوں میں وہ گھٹی کہ دو گھنٹے گذر گئے۔ باتیں ہو رہی ہیں اور کسی طرح ختم ہی نہیں ہوتیں اور ہم ہیں کہ پریشان صورت باہر کھڑے چچا صاحب کا انتظار کر رہے ہیں۔ خدا خدا کر کے یہ باہر آئے۔ مجھے ساتھ لے کر گھر کی طرف چلے۔ میں نے پوچھا کہ، ’’بتائیے تو آخر کیا ہوا؟‘‘ انہوں نے کہا، ’’ گھر چل بتاؤں گا۔‘‘ غرض گھر پر آئے۔ سب گھر والوں نے ان کو گھیر لیا۔ پہلے تو مذاق کرتے رہے کہ صاحب نہیں مانتے۔ آخر میں کہا کہ ’’کل جاؤ اور صاحب سے معافی مانگ لو، تم کو مدرسے میں شریک کر لیا جائے گا۔ صاحب تم سے بہت خوش ہیں۔ اور نہیں چاہتے کہ تم ان کے مدرسے سے نکلو۔ ان کو تمہارے ٹورنمنٹ میں شریک ہونے کے متعلق بھی شکایت نہیں ہے۔ ان کو شکایت ہے تو یہ ہے کہ تم نے ایسے شخص سے معافی منگوائی جو بے قصور تھا۔ اگر تم اس وقت کھڑے ہو کر معافی مانگ لیتے تو معاملہ وہیں ختم ہو جاتا۔‘‘ خیر صاحب دوسرے روز ہم مدرسے پہنچے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ سارا مدرسہ صاحب کے کمرے کے سامنے جمع ہے۔ ہمارے پہنچتے ہی سکنڈ ماسٹر صاحب نے ایک تحریری معافی نامہ ہم کو دیا اور کہا کہ ’’جب صاحب باہر نکلیں۔ تم اس کو پڑھ دو۔ میں کیا بتاؤں کہ اس وقت میری کیا حالت تھی۔ پسینہ یں شرابور تھا۔ غصے کے مارے آنکھیں جلنے لگی تھیں۔ جسم کانپ رہا تھا اور جی چاہتا تھا کہ پڑھنے لکھنے کو لعنت بھیج اور یہاں سے چل دے۔ اتنی دیر میں صاحب بھی کمرے سے باہر آئے میری حالت دیکھ کر سمجھ گئے کہ اس وقت اس سے کچھ پڑھوانا ٹھیک نہیں کہنے لگے، ’’تم معافی مانگتا ہے؟‘‘ میں نے نہایت دھیمی آواز میں کہا، ’’جی ہاں!‘‘ میرا یہ کہنا تھا کہ وہ آگے بڑھے اور میرے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لئے اور سب سے کہا، ’’اب جاؤ۔‘‘ جماعتیں رخصت ہوئیں اور وہ مجھے بڑی دیر تک سمجھاتے اور دلاسا دیتے رہے۔ ان کی محبت کی باتوں میں میرا دل بھر آیا۔ اور میں نے واقعی رو کر ان سے اپنی غلطی کی معافی مانگی، اور انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ اس طرح بنچوں پر چھوٹے بچوں کو بٹھا کر اونچی جماعت والوں کو لاتیں کھلوانا کسی طرح مناسب نہ تھا۔ ’’ تم نے جو کچھ کیاوہ اپنی (Self respect) خود داری کی وجہ سے کیا۔ اس لئے تم بالکل بے قصور ہو۔‘‘ بہر حال اس کے بعد صاحب نے مجھ پر وہ وہ عنایتیں کی ہیں کہ بیان نہیں ہو سکتیں۔ ان کا ذکر انشاء اللہ کبھی آئندہ کروں گا۔ فی الحال خدا حافظ۔\n\nحاشیے\n\n(1) اس کا پہلا حصہ مضامین فرحت کی جلد سوم میں طبع ہوا ہے۔\n\n(2) چٹکا دینا اس کمترین کا ایجنا کردہ لفظ ہے۔ چٹکی لینا سے بنایا ہے۔ افسوس ہے مولوی سلیم مر گئے وہ اس لفظ کی تعریف کرتے تھے (مصنف)\n\n(3) حیدر آباد میں اینڈ دی کو چٹا کہتے ہیں۔ اینڈ دی کپڑے کا وہ گول حلقہ ہوتا ہے جو پنہاریاں پانی کا گھڑا یا مٹکا اٹکانے کے لئے سر پر رکھتی ہیں۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%D9%81%D8%A7%D9%86%DB%8C"} {"title": "یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "وسوخت", "year": null, "text_ur": "یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی\nسرمہ و آئینہ کی اور نظر تجھ کو نہ تھی\nفکر آراستگی شام و سحر تجھ کو نہ تھی\nزلف آشفتہ کی سدھ دو دو پہر تجھ کو نہ تھی\nشانہ تھا نابلد کوچۂ گیسو تیرا\nآئینہ کاہے کو تھا حیرتی رو تیرا\n\nآگہی حسن سے اپنے تجھے زنہار نہ تھی\nاپنی مستی سے تری آنکھ خبردار نہ تھی\nپاؤں بے ڈول نہ پڑتا تھا یہ رفتار نہ تھی\nہر دم اس طور کمر میں ترے تلوار نہ تھی\nخون یوں کاہے کو کوچے میں ترے ہوتے تھے\nدل زدے کب تری دیواروں تلے روتے تھے\n\nخواہش دل کی ملا کرتی تھی ہر ساعت داد\nطبع میں تیرے تصرف تھا ہمیں حد سے زیاد\nمطلقاً تجھ سے نہ مربوط تھے ارباب عناد\nکاہے کو رہتے تھے کوچے میں ترے شور و فساد\nطور پر اپنے ترے پاس ہم آجاتے تھے\nحسب خواہش تجھے ہر شام و سحر پاتے تھے\n\nبند جامے کا جو وا ہوتا تو وا رہتا تھا\nبے تکلف مرے گھر رات کو آ رہتا تھا\nتھوڑی رنجش میں گلے ہی سے لگا رہتا تھا\nٹک جدا رہتے تو دیر آنکھ ملا رہتا تھا\nاس قدر قدر نہ تھی اپنی تری آنکھوں میں\nلعب بازی میں بھی رہتا تھا مری آنکھوں میں\n\nآستینوں میں نہ تھے چاک نہ زہ دامن میں\nتکمے کاہے کے تئیں لگتے تھے پیراہن میں\nیہ طرح کب تھی دوپٹے کے تلے چتون میں\nپھرتے کس روز تھے یوں کپڑے پہن آنگن میں\nبند ہلتے ہوئے ہر دم نہ کھڑے رہتے تھے\nپیچ پگڑی کے گلے میں نہ پڑے رہتے تھے\n\nکس دن اتنا تھا پراگندگی مو کا خیال\nدو دو دن چہرے پہ بکھرے ہی رہا کرتے بال\nلعل جاں بخش نہ رہتے تھے کبھو اتنے لال\nخوبی خندہ نہ لوگوں کے جیوں کی تھی وبال\nپان سے شوق نہ تھا کیسا مسی کا مذکور\nغصے ہوجاتے تھے سن ایسے کسی کا مذکور\n\nتنگ پوشی سے نہ محظوظ تمھیں پاتے تھے\nتنگ جامے جو سیے جاتے تو گھبراتے تھے\nمسکی چولی سے نہ تم در پہ کبھو آتے تھے\nلپٹے دامن سے الٹ گھر ہی میں پھر جاتے تھے\nیا تو اب کہنی پھٹی مونڈھے چسے رہتے ہیں\nباہر اندر ہو کہیں بند کسے رہتے ہیں\n\nشوق زینت سے نہ تھا ربط نہ رعنائی سے\nدل نہ اتنا تھا لگا خوبی مرزائی سے\nاب تو سو بار کمر بندھتی ہے اکلائی سے\nدیکھتے رہتے ہو ترکیب سے خود رائی سے\nروسیہ آئینہ سے تم کو فراغت ہی نہیں\nسرمۂ تیرہ دروں سے کہیں فرصت ہی نہیں\n\nشانہ اب ہاتھ میں ہے زلف بنا کرتی ہے\nمسی دانتوں میں کئی بار لگا کرتی ہے\nپاس سرمے کے سلائی بھی رہا کرتی ہے\nآنکھ رعنائی پہ اپنی ہی پڑا کرتی ہے\nجان آنکھوں میں کسی کی ہو نظر تم کو نہیں\nغش کرے کوئی ستم دیدہ خبر تم کو نہیں\n\nکب گلی کوچوں میں پھرتے تھے لیے تم تلوار\nپرتلا کاہے کو رہتا تھا گلے کا یوں ہار\nساتھ خونخوار نہ پھرتے تھے نہ تم تھے خونخوار\nدم میں ناحق کبھو یوں جان نہ رکھتے تھے مار\nمایۂ فتنہ و پرخاش ہوئے ہو اب تو\nشوخ و شلتاقی و اوباش ہوئے ہو اب تو\n\nپیشتر ہم سے کوئی تیرا طلبگار نہ تھا\nایک بھی نرگس بیمار کا بیمار نہ تھا\nجنس اچھی تھی تری لیک خریدار نہ تھا\nہم سوا کوئی ترا رونق بازار نہ تھا\nکتنے سودائی جو تھے دل نہ لگا سکتے تھے\nآنکھیں یوں موند کے وے جی نہ چلا سکتے تھے\n\nیا تو ہم ہی تھے کہ اب ہم سے نہیں کچھ یاری\nمفت برباد گئی عزت و حرمت ساری\nبار خاطر رہے اب ہم کو بھی ہے بیزاری\nیعنی اس شہر سے اٹھ جانے کی ہے تیاری\nرتبۂ غیر نہیں آنکھوں سے دیکھا جاتا\nطاقت اب یہ دل بے تاب نہیں ٹک لاتا\n\nکوئی نادیدہ محب سادہ لگا لیں گے ہم\nسادہ نامرتکب بادہ لگا لیں گے ہم\nبوس و آغوش کا آمادہ لگا لیں گے ہم\nبند خودرائی سے آزادہ لگا لیں گے ہم\nاس کو آغوش تمنا میں اب اپنی لیں گے\nاس سے داد دل ناکام سب اپنی لیں گے\n\nاس کی کھینچیں گے علی الرغم ترے مرزائی\nاس کو سکھلائیں گے طرز و روش رعنائی\nمجلسوں میں اسے لاویں گے بصد زیبائی\nصحبت اے دشمن جاں اس سے اگر بر آئی\nتو تجھے دیکھیو کس طور کڑھاتے ہیں ہم\nچھیڑیں کیا رکھتے ہیں کس ڈھب سے ستاتے ہیں ہم\n\nچہرے کو اس کے کر آراستہ دلخواہ کریں\nآرسی اس کو دکھا حسن سے آگاہ کریں\nراہ خوبی کی بتاکر اسے گمراہ کریں\nتو سہی ضد سے ترے ایسا ہی شتاہ کریں\nکہ تجھے سدھ نہ رہے خوبی و رعنائی کی\nدھجیاں لے تری اس جامۂ زیبائی کی\n\nدست افشاں ہو تو عزت تری سب ہاتھ سے جائے\nچشم مکحول کو دکھلائے تو تو آنکھ چھپائے\nمار ٹھوکر چلے دامن کو تو تو سر نہ ہلائے\nجس طرف اس کا گذر ہووے تو اودھر کو نہ جائے\nچھیڑے گالی دے اشارت کرے چشمک مارے\nعشوہ و غمزہ و انداز بھلادے سارے\n\nزندگانی ہو تجھے ہاتھ سے اس کے دشوار\nکوئی دن تو بھی پھرے جان سے اپنی بیزار\nپہنچیں ہر آن میں اس سے تجھے سو سو آزار\nطنز و تعریض و کنایہ کی رہے اک بوچھار\nجاکے ٹک سامنے اس کے تو بہت تر آوے\nعرق شرم میں ڈوبا ہوا سب گھر آوے\n\nدل واسوختہ کو اپنے لیے جاتے ہیں\nغصے سے خون جگر اپنا پیے جاتے ہیں\nاپنی جا غیروں کو ناچار دیے جاتے ہیں\nاب کے یوں جاتے نہیں عہد کیے جاتے ہیں\nآوے گا تو بھی منانے تو نہ آویں گے ہم\nجان سے جاویں گے پیماں سے نہ جاویں گے ہم\n\nبازگشت اب کی کسو طرح نہیں ہے منظور\nگوکہ درپیش ہمیں آوے رہ دور از دور\nجانا ٹھانا تو پھر آنے کا ہے یھاں کیا مذکور\nجی سے اپنے بھی گذر جایئے پر تا مقدور\nمنھ ادھر کریے نہ جس جا سے بنے اٹھ جانا\nقدر کھو دیوے ہے ہر بار کا جانا آنا\n\nمیرؔ اعراض بھی لوگوں نے کیا ہے آگے\nدل کے واسوز سے لوہو بھی پیا ہے آگے\nخلق عالم سے کنارہ بھی کیا ہے آگے\nعزت و وقر بھی برباد دیا ہے آگے\nپر کنھوں نے نہیں اس ڈھب سے زباں بازی کی\nیہ بھی ظالم ہے کوئی طرز سخن سازی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A8%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C"} {"title": "یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھے", "poet_page": "مصنف:تعشق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھے\nباغبان چمن محفل جاناں ہم تھے\n\nقابل قتل نہ اے لشکر مژگاں ہم تھے\nدل کی اجڑی ہوئی بستی کے نگہباں ہم تھے\n\nدھجیاں جیب کی ہاتھوں میں ہیں آج اے وحشت\nجامہ زیبوں سے کبھی دست و گریباں ہم تھے\n\nجان لی گیسوؤں نے الفت رخ میں آخر\nکافروں نے ہمیں مارا کہ مسلماں ہم تھے\n\nغیر کے گھر کی طرف کے جو اٹھے تھے پردے\nعطر بالوں میں وہ ملتے تھے پریشاں ہم تھے\n\nقفس تنگ میں گھٹ گھٹ کے نہ مرتے کیوں کر\nناز پروردۂ آغوش گلستاں ہم تھے\n\nروح تڑپی ہے پئے لالۂ صحرا کیا کیا\nفصل گل جوش پہ تھی قیدئ زنداں ہم تھے\n\nدل کے دینے میں تأمل ہمیں ہوتا کیوں کر\nیہ حسینوں کی امانت تھی نگہباں ہم تھے\n\nآج تھی شب کو بہت داغ جگر میں سوزش\nکہتی تھی ان کی ملاحت نمک افشاں ہم تھے\n\nشعلۂ حسن سے تھا دود دل اپنا اول\nآگ دنیا میں نہ آئی تھی کہ سوزاں ہم تھے\n\nہر طرف دہر میں تھا زلف کی زنجیر کا گل\nمگر اے جوش جنوں سلسلہ جنباں ہم تھے\n\nقافلے رات کو آتے تھے ادھر جان کے آگ\nدشت غربت میں جدھر اے دل سوزاں ہم تھے\n\nکہتے ہیں عارض محبوب کہ تھی رات جو گرم\nچاند پر اوس پڑی تھی عرق افشاں ہم تھے\n\nطوق منت کے گلے میں تھے وہ دن یاد کرو\nتم پر اس عہد میں بھی چاک گریباں ہم تھے\n\nدیتے پھرتے تھے حسینوں کی گلی میں آواز\nکبھی آئینہ فروش دل حیراں ہم تھے\n\nڈوب جاتے ہیں جو رہ رہ کے تعشقؔ تارے\nمثل ابر آخر شب وصل میں گریاں ہم تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%82_%D8%B1%D8%B6%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "یاد ایام کہ یاں ترک شکیبائی تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد ایام کہ یاں ترک شکیبائی تھا\nہر گلی شہر کی یاں کوچۂ رسوائی تھا\n\nاتنی گزری جو ترے ہجر میں سو اس کے سبب\nصبر مرحوم عجب مونس تنہائی تھا\n\nتیرے جلوے کا مگر رو تھا سحر گلشن میں\nنرگس اک دیدۂ حیران تماشائی تھا\n\nیہی زلفوں کی تری بات تھی یا کاکل کی\nمیرؔ کو خوب کیا سیر تو سودائی تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%81_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%D8%B4%DA%A9%DB%8C%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یاد تیری یاد ہے نام خدا", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد تیری یاد ہے نام خدا\nورنہ ہم کیا اور ہماری یاد کیا\n\nصدر آرا تو جہاں ہو صدر ہے\nآگرہ کیا اور الہ آباد کیا\n\nمبدائے فیاض کے شاگرد کو\nحاجت آموزش استاد کیا\n\nاک کسوٹی ہے ترے کردار کی\nمرتبہ کیا مال کیا اولاد کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%85_%D8%AE%D8%AF%D8%A7"} {"title": "یاد خدا سے آیا نہ ایماں کسی طرح", "poet_page": "مصنف:یاسین علی خاں مرکز", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان مرکز (1926)", "year": "1926", "text_ur": "یاد خدا سے آیا نہ ایماں کسی طرح\nکافر بنے نہ ہم نہ مسلماں کسی طرح\n\nکرتے ہو وعدہ آنے کا ہے آنکھ منتظر\nکب تک گزارے دن یہ ہے مہماں کسی طرح\n\nآزاد عشق یار نے ہم کو بنا دیا\nمال و متاع کا ہوں نہ میں خواہاں کسی طرح\n\nپیتے رہو شراب جہاں تک کہ ہو سکے\nشاغل نہ چھوٹے ساقی کا داماں کسی طرح\n\nآ جاویں گر نصیب سے عالم ہے نزع کا\nنکلے ہمارے دل کے بھی ارماں کسی طرح\n\nمر جاؤں ان کے تیر نگہ سے نجات ہو\nگردن پہ میرے ان کا ہو احساں کسی طرح\n\nزنداں ہیں پھنس گیا دل مضطر نگاہ کے\nبیٹھے ہیں پاسباں بنے مژگاں کسی طرح\n\nبعد فنا بھی قبر کو مسمار کر دیا\nاظہار رنج کا نہ ہو ساماں کسی طرح\n\nادوار میں اگرچہ ہے مرکزؔ گھرا ہوا\nچھوڑے نہ تجھ کو رحمت سبحاں کسی طرح", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "یاد خدا کر بندے یوں ناحق عمر کوں کھونا کیا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد خدا کر بندے یوں ناحق عمر کوں کھونا کیا\nحق چاہا سوئی کچھ ہوگا ان لوگوں سیں ہونا کیا\n\nکوئی شاہ کوئی گدا کہاوے جیسا جس کا بنا نصیب\nجو کچھ ہوا تسی پے خوش رہ ناں ان لوگوں سیں ہونا کیا\n\nسیر سفر کر دیکھ تماشا قدرت کا سب عالم کا\nگھر کوں جھونک بھاڑ کے بھیتر عاشق ہو کر کونا کیا\n\nجان ممولا جگت پیارا جن دیکھا سو ٹھٹھک رہا\nچنچل نپٹ اچیلے نیناں تن کے آگے مرگ چھونا کیا\n\nداغ کے ہیکل انجہواں کی مالا زینت عشق کی یہی نشانی\nپھریں مست جو برہ کے تن کوں موتی لال پرونا کیا\n\nآج آبروؔ دل کوں ہمارے شوق نے اس کے مگن کیا ہے\nجاگ اناڑی دیکھ تماشا عشق لگا تب سونا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%D8%A7%D8%AD%D9%82_%D8%B9%D9%85%D8%B1_%DA%A9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "یاد میں اس سرو قد کے دل مرا", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد میں اس سرو قد کے دل مرا\nصورت سرو چراغاں جل گیا\n\nشمع ساں بھڑکی جو میرے دل کی آگ\nاشک کے قطروں سے داماں جل گیا\n\nپھل دیا کیا خاک رونے نے نسیمؔ\nآنسوؤں سے نخل مژگاں جل گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D9%82%D8%AF_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%B1%D8%A7"} {"title": "یاد میں اپنے یار جانی کی", "poet_page": "مصنف:واجد علی شاہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد میں اپنے یار جانی کی\nہم نے مر مر کے زندگانی کی\n\nدوستوں کو عدو کیا ہم نے\nکر کے تعریف یار جانی کی\n\nکیوں نہ رسوا کرے زمانے میں\nیہ کہانی غم نہانی کی\n\nروح ہوے گی حشر میں صاحب\nاک نشانی سرائے فانی کی\n\nخاکساری سے بڑھ گیا انساں\nارض پر سیر آسمانی کی\n\nزرد صورت پہ ہجر میں نہ ہنسو\nشرح ہے رنگ زعفرانی کی\n\nآج کل لکھنؤ میں اے اخترؔ\nدھوم ہے تیری خوش بیانی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں", "poet_page": "مصنف:آغا حشر کاشمیری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں\nبھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں\n\nایک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں\nاب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں\n\nاو وفا نا آشنا کب تک سنوں تیرا گلہ\nبے وفا کہتے ہیں تجھ کو اور شرماتا ہوں میں\n\nآرزوؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہائے ہائے\nجب بہار آئے گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں\n\nحشرؔ میری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق\nاپنا غم دل کی زباں میں دل کو سمجھاتا ہوں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%AA%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یاد وطن", "poet_page": "مصنف:شاکر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "ان شاندار محلوں کو کیا کروں میں لے کر\nلگتا نہیں ہے میرا دل آہ ان میں دم بھر\nان میں نہیں ہے میری دل بستگی کا منظر\nدل کش کہیں ہے اس سے اجڑا ہوا مرا گھر\nمل جائے کاش مجھ کو گھر آہ! میرا پیارا\nغربت میں مجھ کو رہنا دم بھر نہیں گوارا\nہیں برکتیں اترتی جس گھر میں آسماں سے\nپیارا ہے آہ وہ گھر میرے لیے جہاں سے\nاے گھر سوا ہے دلکش تو روضۂ جناں سے\nہاں تو عزیز تر ہے مجھ کو ہزار جاں سے\nمل جائے کاش مجھ کو گھر آہ! میرا پیارا\nغربت میں مجھ کو رہنا دم بھر نہیں گوارا\nآوارۂ وطن ہوں گم کردہ خانماں ہوں\nصحرا میں مدتوں سے میں گرد کارواں ہوں\nرو رو کے آہ کرتا مثل جرس فغاں ہوں\nغربت میں میں رگڑتا برسوں سے ایڑیاں ہوں\nمل جائے کاش مجھ کو گھر آہ! میرا پیارا\nغربت میں مجھ کو رہنا دم بھر نہیں گوارا\nتھا چھوٹی چھوٹی چڑیوں کو میں جہاں بلاتا\nاور گیت تھا خوشی کے مقدم میں ان کے گاتا\nوہ گھر میں تھیں چہکتی میں گھر میں گنگناتا\nتانیں سناتی تھیں وہ میں لوریاں سناتا\nمل جائے کاش مجھ کو گھر آہ! میرا پیارا\nغربت میں مجھ کو رہنا دم بھر نہیں گوارا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D9%88%D8%B7%D9%86"} {"title": "یاد کر وہ حسن سبز اور انکھڑیاں متوالیاں", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد کر وہ حسن سبز اور انکھڑیاں متوالیاں\nکاٹتے ہیں رو ہی رو ساون کی راتیں کالیاں\n\nشب تصور باندھ کر اس جنبش مژگاں کا واہ\nخود بخود کس کس مزے سے ہم نے چھڑیاں کھا لیاں\n\nدیکھیں کیا ان کی لچک اس ساعد نازک بغیر\nکھینچتی ہیں کیوں ہمیں کانٹوں میں گل کی ڈالیاں\n\nکچھ نہ کچھ کر بیٹھتا ہوں بات اس کے بر خلاف\nتا کسی صورت وہ دے جھنجھلا کے مجھ کو گالیاں\n\nمہ اسیر ہالہ اس کا دیکھ بالا کیوں نہ ہو\nخندہ زن ہوں مہر پر جس کی جڑاؤ بالیاں\n\nشب کو جو اس کا تصور بندھ گیا تو ہم نے بس\nاس کے مکھڑے کی بلائیں صبح تک کیا کیا لیاں\n\nوقت اظہار وفا محفل میں اس کی جس سے آنکھ\nمل گئی تو بس وہ سب باتیں اسی پر ڈھالیاں\n\nبرگ گل ان کو کہوں یا پارۂ یاقوت واہ\nدیکھیو بن پان کھائے ان لبوں کی لالیاں\n\nکوچۂ قاتل کو گر مسلخ کہوں تو ہے بجا\nجب نہ تب دیکھو تو بہتی ہیں لہو کی نالیاں\n\nخون دل آنکھوں میں بھر آتا ہے جب آتی ہے یاد\nوہ مئے گل رنگ کی بھر بھر کے دینی پیالیاں\n\nتاک جھانک اس کی کہوں کیا میں کہ طفلی میں بھی تھیں\nاس کے ہاتھوں گھر کی دیواروں میں ہر سو جالیاں\n\nکاش جرأتؔ وصل کا دن ہووے جلدی سے نصیب\nہجر کی تو کھائے جاتی ہیں یہ راتیں کالیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B3%D8%A8%D8%B2_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%86%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%85%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "یاد کر وہ دن کہ تیرا کوئی سودائی نہ تھا", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد کر وہ دن کہ تیرا کوئی سودائی نہ تھا\nباوجود حسن تو آگاہ رعنائی نہ تھا\n\nعشق روزافزوں پہ اپنے مجھ کو حیرانی نہ تھی\nجلوۂ رنگیں پہ تجھ کو ناز یکتائی نہ تھا\n\nدید کے قابل تھی میرے عشق کی بھی سادگی\nجبکہ تیرا حسن سرگرم خود آرائی نہ تھا\n\nکیا ہوئے وہ دن کہ محو آرزو تھے حسن و عشق\nربط تھا دونوں میں گو ربط شناسائی نہ تھا\n\nتو نے حسرتؔ کی عیاں تہذیب رسم عاشقی\nاس سے پہلے اعتبار شان رسوائی نہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1_%D9%88%DB%81_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا", "poet_page": "مصنف:ولی دکنی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا\nہے وظیفہ مجھ دل بیمار کا\n\nآرزوئے چشمۂ کوثر نئیں\nتشنہ لب ہوں شربت دیدار کا\n\nعاقبت کیا ہووے گا معلوم نئیں\nدل ہوا ہے مبتلا دل دار کا\n\nکیا کہے تعریف دل ہے بے نظیر\nحرف حرف اس مخزن اسرار کا\n\nگر ہوا ہے طالب آزادگی\nبند مت ہو سبحہ و زنار کا\n\nمسند گل منزل شبنم ہوئی\nدیکھ رتبہ دیدۂ بیدار کا\n\nاے ولیؔ ہونا سریجن پر نثار\nمدعا ہے چشم گوہر بار کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%DB%81%D8%B1_%DA%AF%DA%BE%DA%91%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزے", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزے\nدل ابھی بھولا نہیں، آغازِ الفت کے مزے\n\nوہ سراپا ناز تھا ،بے گانۂ رسمِ جفا\nاور مجھے حاصل تھے لطفِ بے نہایت کے مزے\n\nحسن سے اپنے وہ غافل تھا، میں اپنے عشق سے\nاب کہاں سے لاؤں وہ نا واقفیت کے مزے\n\nمیری جانب سے نگاہِ شوق کی گُستاخیاں\nیار کی جانب سے آغازِ شرارت کے مزے\n\nیاد ہیں وہ حسن و الفت کی نرالی شوخیاں\nالتماسِ عذر و تمہیدِ شکایت کے مزے\n\nصحتیں لاکھوں مری بیماریِ غم پر نثار\nجس میں اٹھے بار ہا ان کی عیادت کے مزے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%B9%DB%8C%D8%B4%D9%90_%D8%A8%D8%A7_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%BA%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B2%DB%92"} {"title": "یاد ہیں وے دن تجھے ہم کیسے آواروں میں تھے", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد ہیں وے دن تجھے ہم کیسے آواروں میں تھے\nخار تھے ہر آبلوں میں آبلے خاروں میں تھے\n\nاے گلابی مست پھر منہ لگ کے اس کے اس قدر\nلعل لب کے ایک دن ہم بھی پرستاروں میں تھے\n\nلب تلک بھی آ نہیں سکتے ہیں مارے ضعف کے\nآہ فوج غم کے جو جانے حولداروں میں تھے\n\nسامنے کل خوش نگاہوں کے جو آیا مر گیا\nدیکھا ٹک کیا ہی جواہر ان کی ترواروں میں تھے\n\nمیرے اس کے درمیاں حرف آیا جب انصاف کا\nپھر گئے اک مرتبہ جتنے طرف داروں میں تھے\n\nنالہ و آہ و فغاں درد و الم سوز و گداز\nآہ کیسے کیسے ؔجوشش اپنے غم خواروں میں تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%DB%92_%D8%AF%D9%86_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "یاد ہے آہ کا وہ رنگ نوا ہو جانا", "poet_page": "مصنف:محمد صادق ضیا", "kind": "poetry", "section": "غزل > صبح مشرق (1938)", "year": "1938", "text_ur": "یاد ہے آہ کا وہ رنگ نوا ہو جانا\nیوں فضاؤں میں سمٹنا کہ گھٹا ہو جانا\n\nاس قدر کیف کہ مدہوش فضا ہو جانا\nدیکھنا ساز کو اور نغمہ سرا ہو جانا\n\nحسن کی فطرت معصوم تھی پابند حجاب\nعشق سے سیکھ لیا جلوہ نما ہو جانا\n\nرسم آداب و محبت کا وہ پابند کہاں\nجس کی تقدیر میں ہو نذر وفا ہو جانا\n\nحسن اک عشق کی سوئی ہوئی کیفیت ہے\nعشق ہے حسن کا بیدار وفا ہو جانا\n\nنئی زنجیر ہے دنیا کا ہر اک ہنگامہ\nاصل میں قید ہے زنداں سے رہا ہو جانا\n\nمست پندار سہی ساز خودی کیوں چھیڑوں\nبے خودی کو مری آتا ہے خدا ہو جانا\n\nیاد ہے مجھ کو وہ گہوارۂ ظلمت کی فضا\nاتنا تاریکی میں پھر تاکہ ضیاؔ ہو جانا", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%A2%DB%81_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%86%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "یاد ہے روز ازل اس نے کہا کیا کیا کچھ", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "یاد ہے روز ازل اس نے کہا کیا کیا کچھ\nبر خلاف اس کے یہاں تو نے کیا کیا کیا کچھ\n\nحور دی خلد دیا قصر دیا رہنے کو\nمجھ گنہ گار کو خالق نے دیا کیا کیا کچھ\n\nسالہا سال بہار چمن عالم نے\nرنگ دکھلائے ہیں ہم کو بخدا کیا کیا کچھ\n\nگہ خزاں آئی گلستاں میں کبھی باد بہار\nسامنے آنکھوں کے بندے کے ہوا کیا کیا کچھ\n\nتہمت جرم و خطا حرص و ہوا غفلت دل\nہم نے بازار سے ہستی کے لیا کیا کیا کچھ\n\nآسمان مہر فلک روئے زمیں عرش بریں\nپیشتر اس سے خدا جانے ہوا کیا کیا کچھ\n\nباب فردوس و در روضۂ رضواں زاہد\nبند ان آنکھوں کے ہوتے ہی کھلا کیا کیا کچھ\n\nنزع کے وقت میں پوچھومثال کسی منعم سے\nساتھ کیا اپنے لیا اور رہا کیا کیا کچھ\n\nوقت دل جانے کے ہرگز نہ خبردار کیا\nاب سمجھاتی ہے یہ فکر رسا کیا کیا کچھ\n\nشدت رنج و الم صدمۂ دل سوز جگر\nفرقت یار میں مجھ پر نہ ہوا کیا کیا کچھ\n\nدیر کو پوجا حرم کو کئے گاہے سجدے\nکر لیا زیست میں بے جا و بجا کیا کیا کچھ\n\nجو تلافی نہ ہو محشر میں عجب ہے اس کا\nخود ہیں معقول کہ یاں ہم نے کیا کیا کیا کچھ\n\nگوش پر جام کے منہ رات کو رکھ کر اپنا\nکس کو معلوم ہے شیشے نے کہا کیا کیا کچھ\n\nداغ دل خون جگر آتش غم درد فراق\nہم کو بھی عشق کی دولت سے ملا کیا کیا کچھ\n\nمنتہیؔ زور بدن قوت دل چالاکی\nایک آنے سے ضعیفی کے گیا کیا کیا کچھ", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%A7%D8%B2%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DA%86%DA%BE"} {"title": "یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد ہے شادی میں بھی، ہنگامۂ یا رب، مجھے\nسُبحۂ زاہد ہوا ہے، خندہ زیرِ لب مجھے\n\nہے کُشادِ خاطرِ وابستہ دَر، رہنِ سخن\nتھا طلسمِ قُفلِ ابجد، خانۂ مکتب مجھے\n\nیارب! اِس آشفتگی کی داد کس سے چاہیے!\nرشک، آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے\n\nطبع ہے مشتاقِ لذت ہائے حسرت کیا کروں!\nآرزو سے، ہے شکستِ آرزو مطلب مجھے\n\nدل لگا کر آپ بھی غالبؔ مُجھی سے ہو گئے\nعشق سے آتے تھے مانِع، میرزا صاحب مجھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%85%DB%82_%DB%8C%D8%A7_%D8%B1%D8%A8_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "یاد ہے پہلے پہل کی وہ ملاقات کی بات", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاد ہے پہلے پہل کی وہ ملاقات کی بات\nوہ مزے دن کے نہ بھولے ہیں نہ وہ رات کی بات\n\nکبھی مسجد میں جو واعظ کا بیاں سنتا ہوں\nیاد آتی ہے مجھے پیر خرابات کی بات\n\nیاد پیری میں کہاں اب وہ جوانی کی ترنگ\nصبح ہوتے ہی ہمیں بھول گئی رات کی بات\n\nشیخ جی مجمع رنداں میں نصیحت کیسی\nکون سنتا ہے یہاں قبلۂ حاجات کی بات\n\nہائے پھر چھیڑ دیا ذکر عدو کا تم نے\nپھر نکالی نہ وہی ترک ملاقات کی بات\n\nجب لیا عہد شب وصل کہا اس نے حفیظؔ\nصبح کو یاد رہے گی یہ ہمیں رات کی بات", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D9%88%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA"} {"title": "یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا\nشعر و شباب و حسن کا دریا بہا گیا\n\nجب عشق اپنے مرکز اصلی پہ آ گیا\nخود بن گیا حسین دو عالم پہ چھا گیا\n\nجو دل کا راز تھا اسے کچھ دل ہی پا گیا\nوہ کر سکے بیاں نہ ہمیں سے کہا گیا\n\nناصح فسانہ اپنا ہنسی میں اڑا گیا\nخوش فکر تھا کہ صاف یہ پہلو بچا گیا\n\nاپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل\nہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا\n\nدل بن گیا نگاہ نگہ بن گئی زباں\nآج اک سکوت شوق قیامت ہی ڈھا گیا\n\nمیرا کمال شعر بس اتنا ہے اے جگرؔ\nوہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF%D8%B4_%D8%A8%D8%AE%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D8%A8_%D9%88%DB%81_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "یادگار زمانہ ہیں ہم لوگ", "poet_page": "مصنف:منتظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یادگار زمانہ ہیں ہم لوگ\nسن رکھو تم فسانہ ہیں ہم لوگ\n\nخلق سے ہو گئے ہیں بیگانے\nشاید اس کے یگانہ ہیں ہم لوگ\n\nکیوں نہ ہر گل پہ ہوویں زمزمہ سنج\nبلبل خوش ترانہ ہیں ہم لوگ\n\nسب کے مخدوم ہیں ولے تیرے\nخادم آستانہ ہیں ہم لوگ\n\nتیر مژگاں ہے کیا بلا جس کے\nجان و دل سے نشانہ ہیں ہم لوگ\n\nیار آگے نکل گئے ہیں کئی\nپیچھے ان کے روانہ ہیں ہم لوگ\n\nاپنے جی میں سمجھ تو زلف دراز\nقابل تعزیانہ ہیں ہم لوگ\n\nمنتظرؔ شکل بلبل وحشی\nدشمن آشیانہ ہیں ہم لوگ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D9%84%D9%88%DA%AF"} {"title": "یادگار گزشتگاں ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یادگار گزشتگاں ہیں ہم\nخوب دیکھا تو پھر کہاں ہیں ہم\n\nشمع کی طرح بزم گیتی میں\nداغ بیٹھے ہیں اور رواں ہیں ہم\n\nرہے جاتے ہیں پیچھے یاروں سے\nگرد دنبال کارواں ہیں ہم\n\nرکھ نہ خنجر کو ہاتھ سے قاتل\nتیرے کشتوں میں نیم جاں ہیں ہم\n\nآبیار سخن ہے اپنی زباں\nلفظ و معنی کے باغباں ہیں ہم\n\nتو ہی تو ہے جو خوب غور کریں\nایک دھوکا سا درمیاں ہیں ہم\n\nدعوت تیغ کے تو قابل ہیں\nگو کہ یک مشت استخواں ہیں ہم\n\nرنگ رخ پر ہمارے، زردی سی\nنظر آتی ہے، کیا خزاں ہیں ہم\n\nگو کیا ہم کو سرد پیری نے\nپر ابھی طبع میں جواں ہیں ہم\n\nاور بھی ہم کو رہنے دے چندے\nگو تری طبع پر گراں ہیں ہم\n\nباغباں اب چمن سے جاویں کہاں\nبلبل کہنہ آشیاں ہیں ہم\n\nمصحفیؔ شاعری رہی ہے کہاں\nاب تو مجلس کے روضہ خواں ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D8%B2%D8%B4%D8%AA%DA%AF%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "یار آیا ہے احوال دل زار دکھاؤ", "poet_page": "مصنف:رند لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار آیا ہے احوال دل زار دکھاؤ\nعیسیٰ کو ذرا حالت بیمار دکھاؤ\n\nآ جاؤ بس اب راہ نہ اے یار دکھاؤ\nمشتاق ہوں مشتاق ہوں دیدار دکھاؤ\n\nعالم ہے سو ہے ہجر میں یاں جوش جنوں کا\nصحرا مجھے دکھلاؤ کہ گل زار دکھاؤ\n\nفرداے قیامت کا نہ اقرار کرو جاں\nلو حشر سہی آج ہی دیدار دکھاؤ\n\nعاشق ہیں بہت ایک تو چن کر کوئی مجھ سا\nپشتے کی طرح پشت بہ دیوار دکھاؤ\n\nعالم نظر آ جائے بہار اور خزاں کا\nہم زرد ہوں تم پھول سے رخسار دکھاؤ\n\nتلوار لگاؤ مجھے گولی سے نہ مارو\nتل ڈھانک لو اور ابروئے خم دار دکھاؤ\n\nہر دم متقاضی ہے یہی حسرت دیدار\nپھر ایک نظر جلوۂ دل دار دکھاؤ\n\nفرماتے ہو عاشق ہیں مرے تجھ سے ہزاروں\nاے جان زیادہ نہیں دو چار دکھاؤ\n\nعشق ابرو و مژگاں کا بتو ساتھ ہے دم کے\nخنجر مجھے دکھلاؤ کہ تلوار دکھاؤ\n\nمیں قبر سے بھی رندؔ یہی کہتا اٹھوں گا\nمشتاق ہوں مشتاق ہوں دیدار دکھاؤ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A4"} {"title": "یار ابتدائے عشق سے بے زار ہی رہا", "poet_page": "مصنف:حسرتؔ عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار ابتدائے عشق سے بے زار ہی رہا\nبے درد دل کے در پئے آزار ہی رہا\n\nجس دن سے دوست رکھتا ہوں اس کو حجاب حسن\nاپنا ہمیشہ دشمن دیدار ہی رہا\n\nیہ عشق پردہ در نہ چھپایا چھپا دریغ\nسیتا ہمیشہ میں لب اظہار ہی رہا\n\nقید فرنگ زلف نہ کافر کو ہو نصیب\nجو واں پھنسا ہمیشہ گرفتار ہی رہا\n\nجاں بخش تھا جہاں کا مسیحائے لب ترا\nلیکن میں اس کے دور میں بیمار ہی رہا\n\nگر قتل بے گناہ تھا منظور یار کو\nمرنے پہ اپنے میں بھی تو تیار ہی رہا\n\nدوران لطف میں ترے اے مبہوس نواز\nمحروم وصل سے یہ گنہ گار ہی رہا\n\nحسرتؔ ہمیشہ اس کی شب انتظار میں\nجوں طالع رقیب میں بیدار ہی رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "یار اٹھ گئے دنیا سے اغیار کی باری ہے", "poet_page": "مصنف:ولی عزلت", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار اٹھ گئے دنیا سے اغیار کی باری ہے\nگل سیر چمن کر گئے اب خار کی باری ہے\n\nزاہد نے عبادت چھوڑ اس زلف سے الجھا ہے\nتسبیح کی شیخی گئی زنار کی باری ہے\n\nاس کاکل مشکیں کی بو ہوئی ہے پریشاں آ\nسب شہر ختن لٹ گئے تاتار کی باری ہے\n\nگلشن میں خراماں ہو اب برقعہ اٹھایا ہے\nسب گر گیا سروستاں گل زار کی باری ہے\n\nکر زخمی نگاہوں سے اب دل پہ اٹھایا ہاتھ\nنیزوں کی گئی نوبت تروار کی باری ہے\n\nدل پر ہیں جہاں کے سب باہم کی کدورت سے\nآئینوں کی صافی گئی زنگار کی باری ہے\n\nجھڑ گئے وہ تبسم سے گل غنچے کھڑے ہیں سرو\nتمکیں نے چمن لوٹا رفتار کی باری ہے\n\nان زلفوں کے عقرب نے دل میرا ڈسا عزلتؔ\nپیچھے پڑی ہے چوٹی اب مار کی باری ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "یار بن گھر میں عجب صحبت ہے", "poet_page": "مصنف:قزلباش خاں امید", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار بن گھر میں عجب صحبت ہے\nدر و دیوار سے اب صحبت ہے\n\nدل ہمارا اسے کرتا ہے رات\nغیر سے جو سر شب صحبت ہے\n\nدرد دل اس سے جو ہم نے نہ کہا\nایسی حاصل ہوئی کب صحبت ہے\n\nدہر میں پاس نفس لازم ہے\nشیشہ و سنگ یہ سب صحبت ہے\n\nدست اغیار ہے زیر سر یار\nآج امیدؔ کڈھب صحبت ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D9%86_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "یار جب نینوں میں آیا ہو بہ ہو", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "یار جب نینوں میں آیا ہو بہ ہو\nجیوں سنا تیوں اس میں پایا ہو بہ ہو\n\nقال کاں ہوتا مقابل حال کے\nنور کا سب امر چھایا ہو بہ ہو\n\nمطرب ذاتی اپس کے عشق سوں\nتار سرّی کا بجایا ہو بہ ہو\n\nحسن جو رکھتا تھا اپنی ذات میں\nسات صفتاں میں دکھایا ہو بہ ہو\n\nجو اتھا مخفی و باطن میں تمام\nوہ نکل اپنے سوں پایا ہو بہ ہو\n\nجوں شجر میں تخم حاصل ہے کمال\nتیوں علیمؔ اللہ بتایا ہو بہ ہو", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A8_%D9%86%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%A8%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "یار جب پیش نظر ہوتا ہے", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار جب پیش نظر ہوتا ہے\nدل مرا زیر و زبر ہوتا ہے\n\nہو خجل باغ میں گل آب ہوا\nجب سیں گل رو کا گزر ہوتا ہے\n\nداغ دل کوں مرے نہیں بہرۂ وصل\nگرچہ ہر گل کوں ثمر ہوتا ہے\n\nگرد غم دلبر خوش چشم بغیر\nسرمۂ چشم جگر ہوتا ہے\n\nدل لیا نرگس ساحر نے تری\nسچ کہ جادو کوں اثر ہوتا ہے\n\nتیغ ابرو سیں تری خوف نہیں\nدل مرا جائے سپر ہوتا ہے\n\nشمع رو کی شب ہجراں میں سراجؔ\nآگ غم داغ شرر ہوتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A8_%D9%BE%DB%8C%D8%B4_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "یار جب ہم کنار ہووے گا", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار جب ہم کنار ہووے گا\nدل کو میرے قرار ہووے گا\n\nگزرا مجھ خاک سے جو دامن کش\nیہ وہی شہسوار ہووے گا\n\nتاب کیا ماہ چار دہ کو جو ٹک\nاس پری سے دو چار ہووے گا\n\nمہر اس رخ کے آگے افسردہ\nجوں چراغ مزار ہووے گا\n\nگل نزاکت کے آگے اس رو کے\nچشم بلبل میں خار ہووے گا\n\nسرو اس قد راست کے آگے\nبندۂ چوب دار ہووے گا\n\nگرچہ عالم میں ہر کوئی تیرا\nعاشق غم گسار ہووے گا\n\nیاد کر ہم سا پر نہ کوئی پیارے\nفدویٔ جاں نثار ہووے گا\n\nاے جہاں دارؔ کب وہ آئنہ رو\nدیکھو مجھ سے دو چار ہووے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%AC%D8%A8_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "یار روٹھا ہے مرا اس کو مناؤں کس طرح", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار روٹھا ہے مرا اس کو مناؤں کس طرح\nمنتیں کر پاؤں پڑ اس کے لے آؤں کس طرح\n\nجب تلک تم کو نہ دیکھوں تب تلک بے چین ہوں\nمیں تمہارے پاس ہر ساعت نہ آؤں کس طرح\n\nدل دھڑکتا ہے مبادا اٹھ کے دیوے گالیاں\nیار سوتا ہے مرا اس کو جگاؤں کس طرح\n\nبلبلوں کے حال پر آتا ہے مج کو رحم آج\nدام سے صیاد کے ان کو چھڑاؤں کس طرح\n\nیار بانکا ہے مرا چھٹ تیغ نئیں کرتا ہے بات\nاس سے اے تاباںؔ میں اپنا جی بچاؤں کس طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A4%DA%BA_%DA%A9%D8%B3_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "یار روٹھا ہے ہم سیں منتا نہیں", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار روٹھا ہے ہم سیں منتا نہیں\nدل کی گرمی سیں کچھ او پہنتا نہیں\n\nتجھ کو گہنا پہنا کے میں دیکھوں\nحیف ہے یہ بناؤ بنتا نہیں\n\nجن نیں اس نوجوان کو برتا\nوہ کسی اور کو برتتا نہیں\n\nکوفت چہرے پہ شب کی ظاہر ہے\nکیوں کے کہیے کہ کچھ چنتا نہیں\n\nشوق نہیں مجھ کوں کچھ مشیخت کا\nجال مکڑی کی طرح تنتا نہیں\n\nتیرے تن کا خمیر اور ہی ہے\nآب و گل اس صفا سیں سنتا نہیں\n\nجیو دنیا بھی کام ہے لیکن\nآبروؔ بن کوئی کرنتا نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%D9%88%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%86%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یار سے اب کے گر ملوں تاباںؔ", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار سے اب کے گر ملوں تاباںؔ\nتو پھر اس سے جدا نہ ہوں تاباںؔ\n\nیا بھرے اب کے اس سے دل میرا\nعشق کا نام پھر نہ لوں تاباںؔ\n\nمجھ سے بیمار ہے مرا ظالم\nیہ ستم کس طرح سہوں تاباںؔ\n\nآج آیا ہے یار گھر میرے\nیہ خوشی کس سے میں کہوں تاباںؔ\n\nمیں تو بیزار اس سے ہوں لیکن\nدل کے ہاتھوں سے کیا کروں تاباںؔ\n\nوہ تو سنتا نہیں کسی کی بات\nاس سے میں حال کیا کہوں تاباںؔ\n\nبعد مدت کے ماہرو آیا\nکیوں نہ اس کے گلے لگوں تاباںؔ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%DA%AF%D8%B1_%D9%85%D9%84%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA%D8%94"} {"title": "یار سے دست و گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا", "poet_page": "مصنف:منتظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار سے دست و گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا\nکبھی اتنا میں پشیماں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nواقعی جائے ندامت تو یہی ہے کہ کبھو\nمجھ سے جو کام عزیزاں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nتجھ کو دیکھے کوئی اور اس سے خفا ہونا ہائے\nکیا کروں اے دل ناداں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nکر کے نظارہ تن صاف کا اس کے ہیہات\nشکل آئینہ جو حیراں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nہنستے ہنستے نہ سنا تھا کہیں ہو خانہ خراب\nرؤو اب دیدۂ گریاں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nبال وے بکھرے ہوئے دیکھ کے رخ پر اس کے\nکبھو کافر جو مسلماں نہ ہوا تھا سو ہوا\n\nمنتظرؔ اس دل بیتاب کے ہاتھوں شب وصل\nکیا کہیں تم سے میاں جو نہ ہوا تھا سو ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%D9%88_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B3%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "یار عجب طرح نگہ کر گیا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار عجب طرح نگہ کر گیا\nدیکھنا وہ دل میں جگہ کر گیا\n\nتنگ قبائی کا سماں یار کی\nپیرہن غنچہ کو تہ کر گیا\n\nجانا ہے اس بزم سے آیا تو کیا\nکوئی گھڑی گو کہ تو رہ کر گیا\n\nوصف خط و خال میں خوباں کے میرؔ\nنامۂ اعمال سیہ کر گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D9%86%DA%AF%DB%81_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "یار میرا بہت ہے یار فریب", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار میرا بہت ہے یار فریب\nمکر ہے عہد سب قرار فریب\n\nراہ رکھتے ہیں اس کے دام سے صید\nہے بلا کوئی وہ شکار فریب\n\nعہدے سے نکلیں کس طرح عاشق\nایک ادا اس کی ہے ہزار فریب\n\nالتفات زمانہ پر مت جا\nمیرؔ دیتا ہے روزگار فریب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8"} {"title": "یار میرا میان گلشن ہے", "poet_page": "مصنف:فائز دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار میرا میان گلشن ہے\nغرق خوں پھول تا بہ دامن ہے\n\nدل لبھاتا ہے سب کا وہ ساجن\nدل فریبی میں اس کو کیا فن ہے\n\nتارے جیوں در ہے جس کے حلقہ بگوش\nوو بنا گوش صبح روشن ہے\n\nاس نظارے سے سب شہید ہوئے\nوو نین کیا بلائے رہ زن ہے\n\nکیا بیاں کر سکوں میں گت اس کی\nفائزؔ ات خوش ادا سریجن ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%DB%81%DB%92"} {"title": "یار نکلا ہے آفتاب کی طرح", "poet_page": "مصنف:شیخ ظہور الدین حاتم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار نکلا ہے آفتاب کی طرح\nکون سی اب رہی ہے خواب کی طرح\n\nچشم مست سیہ کی یاد مدام\nشیشۂ دل میں ہے شراب کی طرح\n\nکبھو خاموش ہوں کبھو گویا\nسر نوشت ہے مری کتاب کی طرح\n\nپست ہو چل مثال دریا کے\nخیمہ برپا نہ کر حباب کی طرح\n\nپا بوسی کوں اس کا ہے گر شوق\nقد کوں اپنے بنا رکاب کی طرح\n\nصاف دل ہے تو آ کدورت چھوڑ\nمل ہر اک رنگ بیچ آب کی طرح\n\nپیو پیوے ہے شراب حاتمؔ ساتھ\nکیوں نہ دشمن جلے کباب کی طرح", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D8%AD"} {"title": "یار نے اس دل ناچیز کو بہتر جانا", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار نے اس دل ناچیز کو بہتر جانا\nداغ کو پھول تو قطرے کو سمندر جانا\n\nکٹ گئے دیکھتے ہی ہم تو تری چشم غضب\nجنبش ابروئے خم دار کو خنجر جانا\n\nسچ ہے یکساں ہے عدم اور وجود دنیا\nایسے ہونے کو نہ ہونے کے برابر جانا\n\nآنکھ ہم بادہ کشوں سے نہ ملا اے جمشید\nاپنے چلو کو ترے جام سے بڑھ کر جانا\n\nکب زمانے میں ہے محتاج مکاں خانہ خراب\nہو گئی دل میں کسی کے جو جگہ گھر جانا\n\nسمجھے جوہرؔ کو برا اس کی شکایت کیا ہے\nوہی اچھا ہے جسے آپ نے بہتر جانا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%DA%86%DB%8C%D8%B2_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7"} {"title": "یار نے ہم سے بے ادائی کی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار نے ہم سے بے ادائی کی\nوصل کی رات میں لڑائی کی\n\nبال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ\nاب توقع نہیں رہائی کی\n\nکلفت رنج عشق کم نہ ہوئی\nمیں دوا کی بہت شفائی کی\n\nطرفہ رفتار کے ہیں رفتہ سب\nدھوم ہے اس کی رہ گرائی کی\n\nخندۂ یار سے طرف ہو کر\nبرق نے اپنی جگ ہنسائی کی\n\nکچھ مروت نہ تھی ان آنکھوں میں\nدیکھ کر کیا یہ آشنائی کی\n\nوصل کے دن کو کار جاں نہ کھنچا\nشب نہ آخر ہوئی جدائی کی\n\nمنہ لگایا نہ دختر رز کو\nمیں جوانی میں پارسائی کی\n\nجور اس سنگ دل کے سب نہ کھنچے\nعمر نے سخت بے وفائی کی\n\nکوہ کن کیا پہاڑ توڑے گا\nعشق نے زور آزمائی کی\n\nچپکے اس کی گلی میں پھرتے رہے\nدیر واں ہم نے بے نوائی کی\n\nاک نگہ میں ہزار جی مارے\nساحری کی کہ دل ربائی کی\n\nنسبت اس آستاں سے کچھ نہ ہوئی\nبرسوں تک ہم نے جبہہ سائی کی\n\nمیرؔ کی بندگی میں جاں بازی\nسیر سی ہو گئی خدائی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "یار نے ہم کو اگر رسوا کہا اچھا کہا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار نے ہم کو اگر رسوا کہا اچھا کہا\nہم تو رسوا ہیں ہی کیا بے جا کہا اچھا کہا\n\nوصف اس کے حسن کا کلی ہوا کس سے گر\nجس کے جتنا فہم میں آیا کہا اچھا کہا\n\nآپ سے جب آپ کو ہم نے ملایا خاک میں\nپھر تو جس جس نے جو کچھ چاہا کہا اچھا کہا\n\nیار کے آگے پڑھا یہ ریختہ جا کر نظیرؔ\nسن کے بولا واہ واہ اچھا کہا اچھا کہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7"} {"title": "یار کا دھیان ہم نہ چھوڑیں گے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار کا دھیان ہم نہ چھوڑیں گے\nاپنی یہ آن ہم نہ چھوڑیں گے\n\nجب تلک دم میں ہے ہمارے دم\nتجھ کو اے جان ہم نہ چھوڑیں گے\n\nتیرے ہاتھوں سے اے جنوں ثابت\nیہ گریبان ہم نہ چھوڑیں گے\n\nہے بڑا کفر ترک عشق بتاں\nاپنا ایمان ہم نہ چھوڑیں گے\n\nبعد مجنوں کے شور سے خالی\nیہ بیابان ہم نہ چھوڑیں گے\n\nدل میں اور ہم میں ہے یہ قول و قرار\nاس کو ہر آن ہم نہ چھوڑیں گے\n\nدل نہ چھوڑے گا تیرا دامن اور\nدل کا دامان ہم نہ چھوڑیں گے\n\nبن لئے بوسہ آج تو تجھ کو\nمان مت مان ہم نہ چھوڑیں گے\n\nہے حسنؔ واں یہی جو بے قرنی\nکب تلک شان ہم نہ چھوڑیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "یار کب دل کی جراحت پہ نظر کرتا ہے", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار کب دل کی جراحت پہ نظر کرتا ہے\nکون اس کوچے میں جز تیرے گزر کرتا ہے\n\nاب تو کر لے نگہ لطف کہ ہو توشۂ راہ\nکہ کوئی دم میں یہ بیمار سفر کرتا ہے\n\nاپنی حیرانی کو ہم عرض کریں کس منہ سے\nکب وہ آئینے پہ مغرور نظر کرتا ہے\n\nعمر فریاد میں برباد گئی کچھ نہ ہوا\nنالہ مشہور غلط ہے کہ اثر کرتا ہے\n\nیار کی بات ہمیں کون سناتا ہے یقیںؔ\nکون کب گل کی دوانوں کو خبر کرتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D8%AA_%D9%BE%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "یار کو بے حجاب دیکھا ہوں", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار کو بے حجاب دیکھا ہوں\nمیں سمجھتا ہوں خواب دیکھا ہوں\n\nیہ عجب ہے کہ دن کوں تاریکی\nرات کوں آفتاب دیکھا ہوں\n\nنسخۂ حسن میں ترے قد کوں\nمصرع انتخاب دیکھا ہوں\n\nکس ستی اب امید لطف رکھوں\nتجھ نگہ سیں عتاب دیکھا ہوں\n\nاب ہوا سب سیں فارغ التحصیل\nبے خودی کی کتاب دیکھا ہوں\n\nلشکر عشق جب سیں آیا ہے\nملک دل کوں خراب دیکھا ہوں\n\nمجلس چشم مست ساقی میں\nدور جام شراب دیکھا ہوں\n\nاے سراجؔ آتش محبت میں\nدل کوں اپنے کباب دیکھا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%DB%92_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "یار کو رغبت اغیار نہ ہونے پائے", "poet_page": "مصنف:شبلی نعمانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار کو رغبت اغیار نہ ہونے پائے\nگل تر کو ہوس خار نہ ہونے پائے\n\nاس میں در پردہ سمجھتے ہیں وہ اپنا ہی گلہ\nشکوۂ چرخ بھی زنہار نہ ہونے پائے\n\nفتنۂ حشر جو آنا تو دبے پاؤں ذرا\nبخت خفتہ مرا بیدار نہ ہونے پائے\n\nہائے دل کھول کے کچھ کہہ نہ سکے سوز دروں\nآبلے ہم سخن خار نہ ہونے پائے\n\nباغ کی سیر کو جاتے تو ہو پر یاد رہے\nسبزہ بیگانہ ہے دو چار نہ ہونے پائے\n\nجمع کر لیجئے غمزوں کو مگر خوبئ بزم\nبس وہیں تک ہے کہ بازار نہ ہونے پائے\n\nآپ جاتے تو ہیں اس بزم میں لیکن شبلیؔ\nحال دل دیکھیے اظہار نہ ہونے پائے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D8%BA%D8%A8%D8%AA_%D8%A7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "یار کو محرومِ تماشا کیا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار کو محرومِ تماشا کیا\nمرگِ مفاجات نے یہ کیا کیا\n\nآپ جو ہنستے رہے شب بزم میں\nجان کو دشمن کی میں رویا کیا\n\nعرضِ تمنا سے رہا بے قرار\nشب وہ مجھے، میں اسے چھیڑا کیا\n\nسرد ہوا دل، وہ ہے غیروں سے گرم\nشعلے نے الٹا مجھے ٹھنڈا کیا\n\nمہرِ قمر کا ہے اب ان کو گمان\nآہِ فلک سیر نے یہ کیا کیا\n\nان کو محبت ہی میں شک پڑ گیا\nڈر سے جو شکوہ نہ عدو کا کیا\n\nدیکھئے اب کون ملے خاک میں\nیار نے گردوں سے کچھ ایما کیا\n\nحسرتِ آغوش ہے کیوں ہم کنار\nغیر سے کب اس نے کنارا کیا\n\nچشمِ عنایت سے بچی جاں مجھے\nنرگسِ بیمار نے اچھا کیا\n\nغیر ہی کو چاہیں گے اب شیفتہ\nکچھ تو ہے جو یار نے ایسا کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%88%D9%85%D9%90_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا\nرات بھر طالع بیدار نے سونے نہ دیا\n\nخاک پر سنگ در یار نے سونے نہ دیا\nدھوپ میں سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا\n\nشام سے وصل کی شب آنکھ نہ جھپکی تا صبح\nشادیٔ دولت دیدار نے سونے نہ دیا\n\nایک شب بلبل بے تاب کے جاگے نہ نصیب\nپہلوئے گل میں کبھی خار نے سونے نہ دیا\n\nجب لگی آنکھ کراہا یہ کہ بد خواب کیا\nنیند بھر کر دل بیمار نے سونے نہ دیا\n\nدرد سر شام سے اس زلف کے سودے میں رہا\nصبح تک مجھ کو شب تار نے سونے نہ دیا\n\nرات بھر کیں دل بے تاب نے باتیں مجھ سے\nرنج و محنت کے گرفتار نے سونے نہ دیا\n\nسیل گریہ سے مری نیند اڑی مردم کی\nفکر بام و در و دیوار نے سونے نہ دیا\n\nباغ عالم میں رہیں خواب کی مشتاق آنکھیں\nگرمیٔ آتش گلزار نے سونے نہ دیا\n\nسچ ہے غم خواریٔ بیمار عذاب جاں ہے\nتا دم مرگ دل زار نے سونے نہ دیا\n\nتکیہ تک پہلو میں اس گل نے نہ رکھا آتشؔ\nغیر کو ساتھ کبھی یار نے سونے نہ دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D9%88%D9%86%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "یار کو ہم نے برملا دیکھا", "poet_page": "مصنف:بہرام جی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار کو ہم نے برملا دیکھا\nآشکارا کہیں چھپا دیکھا\n\nلن ترانی کہا کھلا دیکھا\nکنتُ کنرًا کہا چھپا دیکھا\n\nکہیں خالق ہوا کہیں مخلوق\nکہیں بندہ کہیں خدا دیکھا\n\nباغ میں ہے وہ ہر جگہ موجود\nکہیں غنچہ کہیں صبا دیکھا\n\nکہیں عابد ہے وہ کہیں معبود\nگہہ معابد میں جبہہ سا دیکھا\n\nکہیں لیلیٰ بنا کہیں مجنوں\nکہیں محبوب خوش ادا دیکھا\n\nکہیں عاشق بنا کہیں معشوق\nکہیں ان دونوں سے جلا دیکھا\n\nکہیں خورشید میں منور ہے\nکہیں مہتاب میں ضیا دیکھا\n\nنظر آیا وہ مے کدے میں مست\nکہیں مسجد میں پارسا دیکھا\n\nکہیں نا آشنا ہے عاشق سے\nکہیں عالم سے آشنا دیکھا\n\nکہیں بنتا ہے عاشق بیتاب\nکہیں خوباں کا پیشوا دیکھا\n\nکہیں عاشق صفت دیا ہے دل\nکہیں معشوق دل ربا دیکھا\n\nکہیں بلبل بنا کہیں قمری\nگہہ گل و سرو خوش نما دیکھا\n\nگہہ منزہ ہے یار وحدت میں\nگاہ کثرت میں جا بجا دیکھا\n\nگاہ ممکن ہے گاہ ہے لا شے\nیار کا ماجرا نیا دیکھا\n\nجلوہ اس کا ہے ہر طرف روشن\nاپنے جلوے پہ خود فدا دیکھا\n\nعقل حیران ہو گئی بہرامؔ\nیہ تماشا جو یار کا دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D8%B1%D9%85%D9%84%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یار کو ہم نے جا بجا دیکھا", "poet_page": "مصنف:شاہ نیاز احمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار کو ہم نے جا بجا دیکھا\nکہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا\n\nکہیں ممکن ہوا کہیں واجب\nکہیں فانی کہیں بقا دیکھا\n\nدید اپنے کی تھی اسے خواہش\nآپ کو ہر طرح بنا دیکھا\n\nصورتِ گُل میں کھل کھلا کے ہنسا\nشکل بلبل میں چہچہا دیکھا\n\nشمع ہو کر کے اور پروانہ\nآپ کو آپ میں جلا دیکھا\n\nکر کے دعویٰ کہیں انالحق کا\nبر سرِ دار وہ کھنچا دیکھا\n\nتھا وہ برتر شما و ما سے نیاز\nپھر وہی اب شما و ما دیکھا\n\nکہیں ہے بادشاہ تخت نشیں\nکہیں کاسہ لئے گدا دیکھا\n\nکہیں عابد بنا کہیں زاہد\nکہیں رندوں کا پیشوا دیکھا\n\nکہیں وہ در لباسِ معشوقاں\nبر سرِ ناز اور ادا دیکھا\n\nکہیں عاشق نیاز کی صورت\nسینہ بریاں و دل جلا دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7_%D8%A8%D8%AC%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یار کہتا ہے تجلئ لقا تھی میں نہ تھا", "poet_page": "مصنف:جمیلہ خدا بخش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار کہتا ہے تجلئ لقا تھی میں نہ تھا\nطور سینا پر وہی جلوہ نما تھی میں نہ تھا\n\nگنبد افلاک پر جس کا ہوا اکثر گزر\nوہ دل بیمار غم کی اک دعا تھی میں نہ تھا\n\nہر طرف تھی عالم امکاں میں جو پھیلی ہوئی\nمیرے اسرار حقیقت کی ضیا تھی میں نہ تھا\n\nمثل بوئے گل ترے کوچہ میں تھا جس کا گزر\nاے صنم وہ میری جان مبتلا تھی میں نہ تھا\n\nبوستاں میں طالب دیدار تھی جو آپ کی\nوہ گل نرگس کی چشم با ضیا تھی میں نہ تھا\n\nبعد مردن قبر میں مجھ کو سلا کر یہ کہا\nدرد تھا بیتابیاں تھیں اور قضا تھی میں نہ تھا\n\nاک جھلک دکھلا کے اپنی کس ادا سے کہہ گیا\nجس کو دیکھا وہ بھی شان کبریا تھی میں نہ تھا\n\nجس نے چوما وقت پامالی قدوم ناز کو\nخون دل با شوخئ رنگ حنا تھی میں نہ تھا\n\nدرگزر کر آئنے سے آپ نے موڑا ہے منہ\nاس میں میری حسرت حیرت فزا تھی میں نہ تھا\n\nزاری و شیون ہماری کب سنی ہیں آپ نے\nبوستاں میں بلبل نغمہ سرا تھی میں نہ تھا\n\nاڑ کے جو پہنچی صبا کے ساتھ گلیوں میں تری\nمشت خاک کشتۂ تیغ ادا تھی میں نہ تھا\n\nدیکھ کر ان کو جو میں فرط مسرت سے مرا\nوہ لگے کہنے کہ یہ اس کی قضا تھی میں نہ تھا\n\nتھا میں تصویر خیالی ہستئ موہوم میں\nوہ بھی شان عشق شاہ دو سرا تھی میں نہ تھا\n\nاے جمیلہؔ بوستان عشق میں وقت سحر\nنکہت گل سی جو پہنچی وہ صبا تھی میں نہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%81%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%AC%D9%84%D8%A6_%D9%84%D9%82%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یار کی تصویر ہی دکھلا دے اے مانی مجھے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار کی تصویر ہی دکھلا دے اے مانی مجھے\nکچھ تو ہو اس نزع کی مشکل میں آسانی مجھے\n\nاف بھی کر سکتا نہیں اب کروٹیں لینا کجا\nزخم پہلو سے ہے وہ تکلیف روحانی مجھے\n\nزاہد مغرور رونے پر مرے ہنستا ہے کیا\nبخشوائے گا یہی اشک پشیمانی مجھے\n\nدل کو اس پردہ نشیں سے غائبانہ لاگ ہے\nکھینچ لے گا اک نہ اک دن جذب روحانی مجھے\n\nیا رب آغاز محبت کا بخیر انجام ہو\nدل لگا کر ہو رہی ہے کیا پشیمانی مجھے\n\nلو لگی ہے یار سے اپنی طرف کھینچے گا کیا\nجلوۂ نقش و نگار عالم فانی مجھے\n\nوحشیوں کے واسطے قید لباس اچھی نہیں\nزیب دیتا ہے یہی تشریف عریانی مجھے\n\nجوش وحشت میں زمیں پر پاؤں پڑھنے کا نہیں\nلے اڑے گی نکہت گل کی پریشانی مجھے\n\nخاک ہو جانے پہ بھی ممکن نہ ہوگا دسترس\nہاتھ ملوائے گی تیری پاک دامانی مجھے\n\nدرد کا ساغر بھی ساقی میری قسمت میں نہ تھا\nشوق میں کرنا پڑا آخر لہو پانی مجھے\n\nمرد جاہل ہوں کجا میں اور کجا اہل کمال\nیاسؔ کیا معلوم انداز غزل خوانی مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%8C_%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7_%D8%AF%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "یار کے بن بہار کیا کیجے", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار کے بن بہار کیا کیجے\nگل نہ ہووے تو خار کیا کیجے\n\nکام میرا تو ہو چلا آخر\nاے مرے کردگار کیا کیجے\n\nکوئی وعدہ وفا نہیں کرتا\nوہ تغافل شعار کیا کیجے\n\nمثل آئینہ خود نما میرا\nسب سے ہو ہے دو چار کیا کیجے\n\nسوز دل میرا مجھ کو دے ہے جلا\nآہ مثل چنار کیا کیجے\n\nعشق نے کر دیا مجھے مجبور\nاب نہیں اختیار کیا کیجے\n\nمثل زلف بتاں فسانۂ دل\nہے طویل اختصار کیا کیجے\n\nگزری جو دل پہ میرے ہو گزری\nاس کا اب اشتہار کیا کیجے\n\nدل تو گلچیں ہے تیرے گلشن کا\nلے کے گل رو ہزار کیا کیجے\n\nوہ تو آتا نہیں ہے میرے پاس\nاے دل بے قرار کیا کیجے\n\nبے طرح ہے مجھے یہ مشکل عشق\nصاحب ذوالفقار کیا کیجے\n\nاے جہاں دارؔ سب جہاں ڈھونڈا\nنئیں کوئی غم گسار کیا کیجے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D9%86_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92"} {"title": "یار کے تیر کا نشانہ ہوں", "poet_page": "مصنف:جوشش عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار کے تیر کا نشانہ ہوں\nاپنے طالع کا میں دوانا ہوں\n\nناتوانی بھی دیکھ کر مجھ کو\nلگی رونے میں وہ توانا ہوں\n\nدیکھ دیکھ اس کی زلف ابتر کو\nدل یہی چاہتا ہے شانہ ہوں\n\nمو پریشاں ہے چشم زار و طرار\nشجر بید ہی سے مانا ہوں\n\nاس سے چشم وفا رکھوں ؔجوشش\nمیں بھی تیری طرح دوانا ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "یار کے درسن کے خاطر جان اور تن بھول جا", "poet_page": "مصنف:علیم اللہ", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان علیم اللہ غزلیات مسکین شاہ (1920)", "year": "1920", "text_ur": "یار کے درسن کے خاطر جان اور تن بھول جا\nمکھ منور دیکھ اس کا رنگ گلشن بھول جا\n\nچڑھ کے تازی عشق کا نت 'مَن عَرَف' کا سیر کر\n'قد عرف' کا پہنچ اے دل محل و مسکن بھول جا\n\nترک دے اسلام کو اور کفر سارا دور کر\nچھوڑ دے حرص و ہوا فرزند اور زن بھول جا\n\nآرسی میں دل کے ہر دم دیکھ مکھڑا روح کا\nجام کو جمشید کے اور فکر درپن بھول جا\n\nدم بہ دم دل کے نظر سوں پی کے درسن کا شراب\nاے علیمؔ اللہ جہاں کے مکر اور فن بھول جا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D8%B1%D8%B3%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D9%86_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "یار گرم مہربانی ہو گیا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار گرم مہربانی ہو گیا\nدشمن جانی تھا جانی ہو گیا\n\nاس شکر لب کی ملاحت دیکھ کر\nمنفعل ہونٹوں سے پانی ہو گیا\n\nتوپ خانے سیں ہماری آہ کے\nقلعۂ دل دھول دھانی ہو گیا\n\nکیسری جامہ بدن میں اس کے دیکھ\nرنگ میرا زعفرانی ہو گیا\n\nدیکھ اس خورشید رو کوں اے سراجؔ\nچاند کا رنگ آسمانی ہو گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D8%B1%D9%85_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "یار ہیں چیں بر جبیں سب مہرباں کوئی نہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار ہیں چیں بر جبیں سب مہرباں کوئی نہیں\nہم سے ہنس کر بولنے والا یہاں کوئی نہیں\n\nقسمت اک شب لے گئی مجھ کو جو باغ وصل میں\nدیکھتا کیا ہوں کہ اس کا باغباں کوئی نہیں\n\nبرق گلشن میں پڑی کس کے تبسم سے صبا\nجو نہ جھلسا ہووے ایسا آشیاں کوئی نہیں\n\nوائے ناکامی کہ فریادی ہیں ہم اس شہر میں\nجز خموشی داد رس اپنا جہاں کوئی نہیں\n\nصبح ہوتے خواب غفلت سے جو چونکے ہم تو ہائے\nآنکھ کے کھلتے ہی دیکھا کارواں کوئی نہیں\n\nاے دل بے جرأت اتنی بھی نہ کر بے جرأتی\nجز صبا اس گل کا اس دم پاسباں کوئی نہیں\n\nدو گھڑی مل بیٹھیں ہم تم ایک دم جو چین سے\nہائے زیر آسماں ایسا مکاں کوئی نہیں\n\nمیں جو پوچھوں ہوں ترے گھر میں بھی آتا ہے کوئی\nیوں کہے ہے پھیر کر منہ میں زباں کوئی نہیں\n\nمنہ اٹھائے جاتے ہیں یوں دشت غربت میں چلے\nنابلد ہیں سب ہی ہم میں راہ داں کوئی نہیں\n\n\"ٹھہریو ٹک ٹھہریو\" کی آئے ہے آواز سی\nدیکھیو پیچھے تو آج اے ہمرہاں کوئی نہیں\n\nخواب گہ سے کیا اڑا کر لے گئی اس کو صبا\nاور سب زیور ہے اس کا عطرداں کوئی نہیں\n\nمصحفیؔ کیا خاک ہم شعر و سخن پر جی لگائیں\nشاعری یہ کچھ ہے لیکن قدرداں کوئی نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A8_%D9%85%DB%81%D8%B1%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یار ہے آئنہ ہے شانہ ہے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار ہے آئنہ ہے شانہ ہے\nچشم بد دور کیا زمانہ ہے\n\nجھانکنے تاکنے کا وقت گیا\nاب وہ ہم ہیں نہ وہ زمانہ ہے\n\nوحشت انگیز ہے نسیم بہار\nکیا جنوں خیز یہ زمانہ ہے\n\nساقیا عرش پر ہے اپنا دماغ\nسر ہے اور تیرا آستانہ ہے\n\nداغ حسرت سے دل ہو مالامال\nیہی دولت یہی خزانہ ہے\n\nمحشرستان آرزوئے وصال\nدل ہے کیا ایک کارخانہ ہے\n\nلو بجھا چاہتا ہے دل کا کنول\nختم اب عشق کا فسانہ ہے\n\nکیا کہیں اڑ کے جا نہیں سکتے\nوہ چمن ہے وہ آشیانہ ہے\n\nیاسؔ اب آپ میں نہ آئیں گے\nوصل اک موت کا بہانہ ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%A6%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "یار ہے تو جس کو سمجھا غیر ہے", "poet_page": "مصنف:دیا شنکر نسیم", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یار ہے تو جس کو سمجھا غیر ہے\nغیر اپنا کون اپنا غیر ہے\n\nغیر کا احوال سنتے ہیں وہ خوب\nاس لئے احوال میرا غیر ہے\n\nہے تری تیغ نگہ میں کیا اثر\nوار ہو ہم پر تو کٹتا غیر ہے\n\nغیر سمجھا ہے یہاں تک ہم کو یار\nبوسہ مانگیں ہم تو پاتا غیر ہے\n\nاگلے یاروں میں تمہارے تھا نسیمؔ\nآج سمجھے ہم کہ اگلا غیر ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "یاران رسول یعنی اصحاب کبار", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یاران رسول یعنی اصحاب کبار\nہیں گرچہ بہت خلیفہ ان میں ہیں چار\nان چار میں ایک سے ہو جس کو انکار\nغالبؔ وہ مسلمان نہیں ہے زنہار", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84_%DB%8C%D8%B9%D9%86%DB%8C_%D8%A7%D8%B5%D8%AD%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A8%D8%A7%D8%B1"} {"title": "یاران نبی سے رکھ تولّا باللہ", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یاران نبی سے رکھ تولّا باللہ\nہر یک ہے کمال دیں میں یکتا باللہ\nوہ دوست نبی کے اور تم ان کے دشمن\nلا حول ولا قوۃ الا باللہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D9%86%D8%A8%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D8%AA%D9%88%D9%84%D9%91%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81"} {"title": "یاران نبی میں تھی لڑائی کس میں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یاران نبی میں تھی لڑائی کس میں\nالفت کی نہ تھی جلوہ نمائی کس میں\nوہ صدق وہ عدل وہ حیا اور وہ علم\nبتلاؤ کوئی کہ تھی برائی کس میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D9%86%D8%A8%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D9%84%DA%91%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یاران نجد", "poet_page": "مصنف:خوشی محمد ناظر", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "اے باد صبح گاہی دل کی کلی کھلا دے\nویرانہ میرے دل کا رشک چمن بنا دے\nاس بزم جاں فزا کا نظارہ پھر دکھا دے\nگلزار آرزو میں پھر تازہ گل کھلا دے\nیہ کارزار ہستی ہے رنج و غم کی بستی\nپھر یاد بزم جم میں اک جام جم پلا دے\nاب شام زندگی کی ظلمت ہے چھانے والی\nوہ صبح دل کشا کا نظارہ پھر دکھا دے\nپستی میں پا بہ گل ہے عمر رواں کا دریا\nپھر اونچی وادیوں کے منظر اسے دکھا دے\nوہ عہد شادمانی وہ عطر زندگانی\nاے دور آسمانی واپس کہیں سے لادے\nاے باغباں ہو تجھ کو تخت چمن مبارک\nمجھ کو وہ ہم نوا دے وہ میرا گھونسلہ دے\nکن حسرتوں سے ناظرؔ اس انجمن سے نکلے\nمیلا سا لگ رہا ہے جب ہم چمن سے نکلے\nاحوال بزم گلشن اے نامہ بر سنانا\nوہ داستاں ہے دل کش رنگیں ہے وہ فسانہ\nاس بزم دل کشا میں الفت کی اس فضا میں\nتاروں کی روشنی میں یاروں کا مل کے گانا\nکانوں میں رچ رہی ہے کوئل کی کوک اب تک\nناظرؔ کا ہے وظیفہ اس دھن میں گنگنانا\nکالج کی سرزمیں تھی یا نقش دل نشیں تھی\nدل سے خیال اس کا ممکن نہیں بھلانا\nدریا میں مل کے جیسے ہوں ندیاں ہم آغوش\nبیگانہ کل جو آیا وہ آج تھا یگانہ\nبہر طواف جانا پیر مغاں کے در پر\nاور اس کی اک نگہ سے سرمست ہو کے آنا\nاس چشم مست میں تھی یہ طرفہ اک کرامت\nپھرتی وہ جس طرف کو پھرتا ادھر زمانا\nاے وقت رفتہ آ جا پھر وہ سماں دکھا جا\nایسا بھی کیا تھا جانا پھر لوٹ کر نہ آنا\nاے ناخدا بھنور سے کشتی میری بچا کر\nیاران آشنا سے بہر خدا ملانا\nدر فصل گل کہ گلشن نقش و نگار بندو\nناظرؔ خیال خود را اور بزم یار بندو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D9%86%D8%AC%D8%AF"} {"title": "یارب آباد ہوویں گھر سب کے", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یارب آباد ہوویں گھر سب کے\nپھریں خط لے کے نامہ بر سب کے\n\nکس کی مژگان ہیں کہ سینوں میں\nیک بیک چھن گئے جگر سب کے\n\nشب کی شب گل چمن کے ہیں مہمان\nبرگ جھڑ جائیں گے سحر سب کے\n\nایک عاشق پہ التفات نہ کر\nحال پر رکھ میاں نظر سب کے\n\nدیجو پیغام ہی مرا قاصد\nلے چلا ہے تو خط اگر سب کے\n\nجتنے ہیں گرد و پیش ہمسائے\nگھر ڈبوئے گی چشم تر سب کے\n\nہم رہے پیچھے وائے گرم رواں\nپہنچے منزل پہ پیشتر سب کے\n\nمیرے سوز جنوں کی دہشت سے\nبند رہتے ہیں دن کو گھر سب کے\n\nدل ہی اپنا ہے چینیٔ مو دار\nحصے آئے نہ وہ کمر سب کے\n\nہاتھ اٹھتے تھے پیٹنے کے لیے\nتیرے کشتے کی لاش پر سب کے\n\nگر یہی ہے رسائی صیاد\nایک دن باندھے گا یہ پر سب کے\n\nکیا دکھاوے صفائی طبع مری\nجس جگہ ہوں خذف گہر سب کے\n\nدوستی کر دلا نہ ان سے کہ ہیں\nدشمن جاں یہ سیم بر سب کے\n\nتھے جو سلطان بحر و بر آخر\nگئے برباد تاج زر سب کے\n\nوائے دنیا کہ رلتے پھرتے ہیں\nخاک میں کاسہ ہائے سر سب کے\n\nمصحفیؔ یہ جو ہیں امیر و فقیر\nدل میں ہے موت کا خطر سب کے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF_%DB%81%D9%88%D9%88%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%92"} {"title": "یارب تجھے فکر پائے بندی کیا ہے", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یا رب تجھے فکر پائے بندی کیا ہے\nنا چار کی و نیاز مندی کیا ہے\nہے خالقی اور عاشقی ہے اور\nپوچھ ہم ہی سے درد و درد مندی کیا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%81%DA%A9%D8%B1_%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "یارب شب وصال یہ کیسا گجر بجا", "poet_page": "مصنف:امیر مینائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یارب شب وصال یہ کیسا گجر بجا\nاگلے پہر کے ساتھ ہی پچھلا پہر بجا\n\nآواز صور سن کے کہا دل نے قبر میں\nکس کی برات آئی یہ باجا کدھر بجا\n\nکہتے ہیں آسماں جو تمہارے مکاں کو ہم\nکہتا ہے آفتاب درست اور قمر بجا\n\nجاگو نہیں یہ خواب کا موقع مسافرو\nنقارا تک بھی کوچ کا وقت سحر بجا\n\nتعمیر مقبرے کی ہے لازم بجائے قصر\nزر داروں سے کہو کہ کریں صرف زر بجا\n\nہیں ہم تو شادماں کہ ہے خط میں پیام وصل\nبغلیں خوشی سے تو بھی تو اے نامہ بر بجا\n\nتجھ کو نہیں جو ان سے محبت کہاں مجھے\nتالی نہ ایک ہاتھ سے اے بے خبر بجا\n\nنفرت ہے یہ خوشی سے کہ اشک اپنے گر پڑے\nہمراہ تعزیہ کے بھی باجا اگر بجا\n\nجائے قیام منزل ہستی نہ تھی امیرؔ\nاترے تھے ہم سرا میں کہ کوس سفر بجا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8_%D8%B4%D8%A8_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DA%AF%D8%AC%D8%B1_%D8%A8%D8%AC%D8%A7"} {"title": "یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا", "poet_page": "مصنف:چراغ حسن حسرت", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا\nجو ہاتھ جگر پر ہے وہ دست دعا ہوتا\n\nاک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت\nیا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا\n\nناکام تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے\nیوں ہوتا تو کیا ہوتا یوں ہوتا تو کیا ہوتا\n\nامید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی\nوعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا\n\nغیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے\nکچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8_%D8%BA%D9%85_%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "یارب مری اس بت سے ملاقات کہیں ہو", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یارب مری اس بت سے ملاقات کہیں ہو\nجس بات کو جی چاہے ہے وہ بات کہیں ہو\n\nگر قرب سخن اس سے نہیں دور سے اے کاش\nنظروں ہی میں ٹک حرف و حکایت کہیں ہو\n\nپھرتا ہے حسینوں سے بہت آنکھیں لڑاتا\nڈرتا ہوں نہ دل مصدر آفات کہیں ہو\n\nہوتے ہوئے دشمن کے کہوں کیوں کے میں کچھ بات\nمجلس سے تری دفعہ یہ بد ذات کہیں ہو\n\nکاغذ پہ شب و روز تری کھینچوں ہوں تصویر\nیعنی اسی صورت بسر اوقات کہیں ہو\n\nہے آج کی شب وعدۂ وصل اس کا مرے ساتھ\nیارب کہ شتابی سے یہ دن رات کہیں ہو\n\nدے ڈالو دل مصحفیؔ تم ورنہ مری جان\nرسوائی ہے وہ تم پہ گر اثبات کہیں ہو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88"} {"title": "یارب مرے دل کو کر عطا صدق و صفا", "poet_page": "مصنف:ساحر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یارب مرے دل کو عطا صدق و صفا\nہو نقش صداقت سے فنا وہم ریا\nصیقل سے صفا کی صاف آ جائے نظر\nآئنۂ پر ضیا میں جلوہ تیرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%B1_%D8%B9%D8%B7%D8%A7_%D8%B5%D8%AF%D9%82_%D9%88_%D8%B5%D9%81%D8%A7"} {"title": "یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر", "poet_page": "مصنف:میر انیس", "kind": "poetry", "section": "مرثیہ", "year": null, "text_ur": "یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر\nاے ابرِ کرم خشک زراعت پہ کرم کر\nتو فیض کا مبدا ہے توجہ کوئی دَم کر\nگمنام کو اعجاز بیانوں میں رقم کر\nجب تک یہ چمک مہر کے پر تو سے نہ جائے\nاقلیم سخن میرے قلم رَو سے نہ جائے\n\nاس باغ میں چشمے ہیں ترے فیض کے جاری\nبلبل کی زباں پر ہے تری شکر گزاری\nہر نخل برومند ہے یا حضرتِ باری\nپھل ہم کو بھی مل جائے ریاضت کا ہماری\nوہ کل ہوں عنایت چمن طبعِ نِکو کو\nبلبل نے بھی سونگھا نہ وہ جن پھولوں کی بو کو\n\nغواص طبیعت کو عطا کر وہ لالیٰ\nہو جن کی جگہ تاجِ سرِ عرش پہ خالی\nایک ایک لڑی نظمِ ثریا سے ہو عالی\nعالم کی نگاہوں سے گرے قطبِ شمالی\nسب ہوں دریکتا نہ علاقہ ہو کسی سے\nنذر ان کی یہ ہوں گے جنہیں رشتہ ہے نبی سے\n\nبھر دے درِ مقصود سے اس درجِ وہاں کو\nدریائے معانی سے بڑھا طبع رواں کو\nآگاہ کر اندازِ تکلم سے زباں کو\nعاشق ہو فصاحت بھی وہ دے حسن بیاں کو\nتحسیں کا سموت سے غل تابہ سمک ہو\nہرگوش بنے کانِ ملاحت وہ نمک ہو\n\nتعریف میں چشمے کو سمندر سے ملا دوں\nقطرے کو جو دوں آپ تو گوہر سے ملا دوں\nذرے کی چمک مہرِ منور سے ملا دوں\nخاروں کو نزاکت میں گلِ تر سے ملا دوں\nگلدستۂ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں\nاک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں\n\nگر بز کی جانب ہو توجہ دمِ تحریر\nکھنچ جائے ابھی گلشنِ فردوس کی تصویر\nدیکھے نہ کبھی صحبت انجم فلک پیر\nہوجائے ہوا بزمِ سلیماں کی بھی توقیر\nیوں تختِ حسینان معانی اتر آئے\nہر چشم کو پریوں کا اکھاڑا نظر آئے\n\nساقی کے کرم سے ہو وہ دور اور چلیں جام\nجس میں عوضِ نشہ ہو کیفیت انجام\nہر مست، فراموش کرے گردشِ ایام\nصوفی کی زباں بھی نہ رہے فیض سے ناکام\nہاں بادہ کشو پوچھ لو میخانہ نشیں سے\nکوثر کی یہ موج آ گئی ہے خلدِ بیرں سے\n\nآؤں طرفِ رزم ابھی چھوڑ کے جب بزم\nخیبر کی خبر لائے مری طبعِ اولو العزم\nقطعِ سرِ اعداد کا ارادہ ہو جو بالجزم\nدکھلائے یہں سب کو زباں معرکۂ رزم\nجل جائیں عدد آگ بڑھکتی نظر آئے\nتلوار پہ تلوار چمکتی نظر آئے\n\nمصرع ہوں صف آرا سفتِ لشکرِ جرار\nالفاظ کی تیزی کو نہ پہونچے کوئی تلوار\nنقطے ہوں جو ڈھالیں تو الفِ خنجر خونخوار\nمَد آگے بڑھیں برچھیوں کو تول کے اک بار\nغل ہو کبھی یوں فوج کو لڑتے نہیں دیکھا\nمقتل میں رن ایسا کبھی پڑتے نہیں دیکھا\n\nہو ایک زباں ماہ سے تامسکن ماہی\nعالم کو دکھا دے برشِ سیفِ الہٰی\nجرأت کا دھنی تو ہے یہ چلائیں سپاہی\nلاریب ترے نام پہ ہے سکۂ شاہی\nہر دم یہ اشارہ ہو دوات اور قلم کا\nتو مالک و مختار ہے اس طبل و علم کا\n\nتائید کا ہنگام ہے یا حیدرؑ صفدر\nامداد ترا کام ہے یا حیدرؑ صفدر\nتو صاحبِ اکرام ہے یا حیدرؑ صفدر\nتیرا بھی کرم عام یا حیدرؑ صفدر\nتنہا ترے اقبال سے شمشیر بکف ہوں\nسب ایک طرف جمع ہوں میں ایک طرف ہوں\n\nنا قدریئ عالم کی شکایت نہیں مولا\nکچھ دفترِ باطل کی حقیقت نہیں مولا\nباہم گل و بلبل میں محبت نہیں مولا\nمیں کیا ہوں کسی روح کو راحت نہیں مولا\nعالم ہے مکدر، کوئی دل صاف نہیں ہے\nاس عہد میں سب کچھ ہے پر انصاف نہیں ہے\n\nنیک و بدِ عالم کا تامل نہیں کرتے\nعارف کبھی اتنا بھی تجاہل نہیں کرتے\nخاروں کے لئے رخ طرفِ گل نہیں کرتے\nتعریف خوش الحانی بلبل نہیں کرتے\nخاموش ہیں، گو شیشہ دل چور ہوئے ہیں\nاشکوں کے ٹپک پڑنے سے مجبور ہوئے ہیں\n\nالماس سے بہتر یہ سمجھتے ہیں خذف کو\nدر کو تو گھٹاتے ہیں، بڑھاتے ہیں صدف کو\nاندھیر یہ ہے چاند بتاتے ہیں کلف کو\nکھو دیتے ہیں شیشے کے لئے درِ نجف کو\nضائع ہیں درو لعل بد خشاں و عدن کے\nمٹی میں ملاتے ہیں جواہر کو سخن کے\n\nہے لعل و گہر سے یہ دہن کانِ جواہر\nہنگامِ سخن کھلتی ہے، دکانِ جواہر\nہیں بد مرضع تو ورق خواں جواہر\nدیکھے اسے، ہاں ہے کوئی خواہانِ جواہر\nبینائے رقومات ہنر چاہئے اس کو\nسودا ہے جواہر کا، نظر چاہئے اس کو\n\nکیا ہو گئے وہ جو ہریانِ سخن اک بار\nہر وقت جو اس جنس کے رہتے تھے طلب گار\nاب ہے کوئی طالب نہ شناسا نہ خریدار\nہے کون دکھائیں کسے یہ گوہرِ شہوار\nکس وقت یہاں چھوڑ کے ملکِ عدم آئے\nجب اٹھ گئے بازار سے گاہک تو ہم آئے\n\nخواہاں نہیں یا قوتِ سخن کا کوئی، گو آج\nہے آپ کی سرکا تو یا صاحبِ معراج\nاے باعثِ ایجادِ جہاں، خلق کے سرتاج\nہوجائے گا دم بھر میں غنی بندۂ محتاج\nامید اسی گھر کی، وسیلہ اسی اسی گھر کا\nدولت یہی میری، یہی توشہ ہے سفر کا\n\nمیں کیا ہوں مری طبع ہے کیا اے شبہ ساہان\nحسان و فرزدق ہیں یہاں عاجز وحیراں\nشرمندہ زمانے سے گئے وامل و سحباں\nقاصر ہیں سخن فہم و سخن سنج و سخن داں\nکیا مدح کفِ خاک سے ہو نور خدا کی\nلکنت یہیں کرتی ہیں زبایں فصحا کی\n\nلا یعلم ولا علم کی کیا سحر بیانی\nحضرت پہ ہویدا ہے، مری ہیچ مدانی\nنہ ذہن میں جودت، نہ طبیعت میں روانی\nگویا ہوں، فقط ہے یہ تری فیض رسانی\nمیں کیا ہوں فرشتوں کی طلاقت ہے تو کیا ہے\nوہ خاص یہ بندے ہیں کہ مداح خدا ہے\n\nتھا جوش کچھ ایسا ہی جو دعویٰ کیا میں نے\nخود سربہ گریباں ہوں کہ، یہ کیا کیا میں نے\nاک قطرۂ نا چیز کو دریا کیا میں نے\nتقصیر بحل کیجئے، بے جا کیا میں نے\nہاں سچ ہے کہ اتنی بھی تعلّی نہ روا تھی\nمولا یہ کلیجے کے پھپھولوں کی دوا تھی\n\nمجرم ہوں، کبھی ایسی خطا کی نہیں میں نے\nبھولے سے بھی آپ اپنی ثنا کی نہیں میں نے\nدل سے کبھی مدحِ اُمرا کی نہیں میں نے\nتقلید کلامِ جہلا کی نہیں میں نے\nنازاں ہوں محبت پہ امامِ ازلی کی\nساری یہ تعلّی ہے حمایت سے علیؑ کی\n\nہر چند زباں کیا مری اور کیا مری تقریر\nدن رات وظیفہ ہے ثنا خوانئ شبیرؑ\nمنظور ہے اک باب میں دو فصل کی تحریر\nمولا کی مدد کا متمنی ہے یہ دل گیر\nیہ فصل نئے رنگ سے کاغذ پہ رقم ہو\nاک بزم ہو شادی کی تو اک صحبتِ غم ہو\n\nشعباں کی ہے تاریخِ سویم روزِ ولادت\nاور ہے دہم ماہِ عزا یوم شہادت\nدونوں میں بہر حال ہے تحصیلِ سعادت\nوہ بھی عملِ خیر ہے یہ بھی ہے عبادت\nمدّاح ہوں کیا کچھ نہیں اس گھر سے ملا ہے\nکوثر ہے صلا اس کا بہشت اس کا صلا ہے\n\nمقبول ہوئی غرض، گنہ عفو ہوئے سب\nامید بر آئی مرا حاصل ہوا مطلب\nشامل ہوا افضالِ محمدؐ کرمِ رب\nہوتے ہیں علم فوجِ مضامیں کے نشاں اب\nپستی پہ ہیں سب رکنِ رکیں دینِ متیں کے\nڈنکے سے ہلا دیتا ہوں طبقوں کو زمیں کے\n\nنازاں ہوں عنایت پہ شہنشاہِ زمن کی\nبخشی ہے رضا جائزہ فوجِ سخن کی\nچہرے کی بحالی سے قبا چست ہے تن کی\nلو برطرفی پڑ گئی مضمون کہن کی\nاک فرد پرائی نہیں دفتر میں ہمارے\nبھرتی ہے نئی فوج کی لشکر میں ہمارے\n\nہاں اے فلکِ پیر نئے سر سے جواں ہو\nاے ماہِ شبِ چار دہم نور فشاں ہو\nاے ظلمتِ غم دیدۂ عالم سے نہاں ہو\nاے روشنیِ صبح شبِ عید عیاں ہو\nشادی ہے ولادت کی یداللہ کے گھر میں\nخورشید اترتا ہے شہنشاہ کے گھر میں\n\nاے شمس و قمر، اور قمر ہوتا ہے پیدا\nنخلِ چمنِ دیں کا ثمر، ہوا ہے پیدا\nمخدومۂ عالم کا پسر، ہوتا ہے پیدا\nجو عرش کی ضو ہے، وہ گہر ہوتا ہے پیدا\nہر جسم میں جاں آتی ہے مذکور سے جس کے\nنو نورِ خدا ہوں گے عیاں، نور سے جس کے\n\nاے کعبۂ ایماں، تری حرمت کے دن آئے\nاے رکنِ یمانی، تری شوکت کے دن آئے\nاے بیتِ مقدس، تری عزت کے دن آئے\nاے چشمۂ زمزم، تری چاہت کے دن آئے\nاے سنگِ حرم، جلوہ نمائی ہوئی تجھ میں\nاے کوہِ صفا، اور صفائی ہوئی تجھ میں\n\nاے یثرب و بطحا، ترے والی کی ہے آمد\nاے رتبۂ اعلیٰ، شہہ عالی کی ہے آمد\nعالم کی تغیری پہ بحالی کی ہے آمد\nکہتے ہیں چمن، ماہِ جلالی کی ہے آمد\nیہ خانۂ کعبہ کے مباہات کے دن ہیں\nیعقوبؑ سے یوسفؑ کی ملاقات کے دن ہیں\n\nاے ارضِ مدینہ، تجھے فوق اب ہے فلک پر\nرونق جو سما پر ہے، وہ اب ہوگی سمک پر\nخورشید ملا، تیرا ستارہ ہے، چمک پر\nصدقے گلِ تر ہے تری پھولوں کی مہک پر\nپر جس پہ فرشتوں کے بچھیں فرش وہی ہے\nجس خاک پہ ہو نورِ خدا عرش وہی ہے\n\nیا ختمِ رسل گوہرِ مقصود مبارک\nیا نورِ خدا رحمتِ معبود مبارک\nیا شاہِ نجف شادیِ مولود مبارک\nیا خیرالنساؑ ، اخترِ مسعود مبارک\nرونق ہو سدا نور دوبالا رہے گھر میں\nاس ماہِ دو ہفتہ کا اجالا رہے گھر میں\n\nاے امتیو ہے یہ دم شکر گزاری\nہر بار کرو سجدۂ شکریہِّ باری\nاللہ نے حل کردیا مشکل کو تمہاری\nفردیں عملِ زشت کی اب چاک ہیں ساری\nلکھے گئے بندوں میں ولی ابن ولی کے\nناجی ہوئے صدقے سے حسینؓ ابن علیؓ کے\n\nاے ماہِ معظم ترے اقبال کے صدقے\nشوکت کے فدا عظمت و اجلال کے صدقے\nاتری برتک، فاطمہ کے لال کے صدقے\nجس سال یہ پیدا ہوئے اس سال کے صدقے\nقرباں سحر عید آگر ہو تو بجا ہے\nنو روز بھی اس شب کی بزرگی پر فدا ہے\n\nقربان شبِ جمعہ، شعبانِ خوش انجام\nپیدا ہوا جس شب کو محمدؐ کا گل اندام\nقائم ہوا دیں اور بڑھی رونقِ اسلام\nہم پلّۂ صبحِ شبِ معراج تھی وہ شام\nخورشید کا اجلال و شرف بدر سے پوچھو\nکیا قدر تھی اس شب کی شبِ قدر سے پوچھو\n\nوہ نورِ قمر اور در افشانیئ انجم\nتھے جس کے سبب روشنی دیدۂ مردم\nوہ چہچہے رضواں کے، وہ حوروں کا تبسم\nآپس میں وہ ہنس ہنس کے فرشتوں کا تکلم\nمیکال شگفتہ ہوئے جاتے تھے خوشی سے\nجبریل تو پھولوں نہ سماتے تھے خوشی سے\n\nروشن تھا مدینے ک اہر اک کوچہ و بازار\nجو راہ تھی خوشبو، جو محلہ تھا وہ گلزار\nکھولے ہوئے تھا آہوئے شب نافۂ تاتار\nمعلوم یہ ہوتا تھا کہ پھولو کا ہے انبار\nگردوں کو بھی اک رشک تھا زینت پہ زمیں کی\nہر گھر میں ہوا آتی تھی فردوس بریں کی\n\nکیا شب تھی وہ سعود و ہمایون و معظم\nرخ رحمتِ معبود کا تھ جانبِ عالم\nجبریل و سرافیل کو مہلت نہ تھی اک دم\nبالائے زمیں آتے تھے اور جاتے تھے باہم\nباشندوں کی یثرب کے خبر تھی نہ گھروں کی\nسب سنتے تھے آواز فرشتوں کے پروں کی\n\nتھیں فاطمہؓ بے چین ادھر دردِ شکم سے\nمنہ فق تھا اور آنسو تھے رواں دیدۂ نم سے\nوابستہ تھی راحت جو اسی بی بی کے دم سے\nمضطر تھے علیؓ بنتِ پیمبرؐ کے الم سے\nآرام تھا اک دم نہ شہِ قلعہ شکن کو\nپھرتے تھے لگائے ہوئے چھاتی سے حسنؑ کو\n\nکرتے تھے دعا بادشہِ یثرب و بطحا\nراحم ہے تری ذاتِ مقدس مرے مولا\nزہرا ہے کنیز اور مرا بچہ ترا بندا\nآسان کر اے بار خدا مشکل زہرا\nنادار ہے اور فاقہ کش و زار و حزیں ہے\nمادر بھی تشفی کے لئے پاس نہیں ہے\n\nناگاہ درِ حجرہ ہوا مطلع انوار\nدکھلانے لگے نو تجلی در و دیوار\nاسما نے علی سے یہ کہا دوڑ کے اک بار\nفرزند مبارک تمہیں یا حیدر کرار\nاسپند کرو فاطمہ کے ماہِ جبیں پر\nفرزند نہیں چاند یہ اترا ہے زمیں پر\n\nدیکھا نہیں اس طرح کا چہرا کبھی پیارا\nنقشہ ہے محمدؐ سے شہنشاہ کا سارا\nماتھے پہ چمکتا ہے جلالت کا ستارا\nاللہ نے اس گھر میں عجب چاند اتارا\nتصویرِ رسولِ عربیؐ دیکھ رہے ہیں\nآنکھوں کی ہے گردش کہ بنی دیکھ رہے ہیں\n\nمژدہ یہ سنا احمدؐ مختار نے جس دم\nپس شکر کے سجدے کو گرے قبلۂ عالم\nآئے طرفِ خانۂ زہرا خوش و خرم\nفرمایا مبارک پسرائے ثانیِ مریم\nچہرہ مجھے دکھلادو مرے نورِ نظر کا\nٹکڑا ہے یہ فرزندِ محمدؐ کے جگر کا\n\nکی عرض یہ اسما نے کہ اے خاصۂ داور\nنہلا لوں تو لے آؤں اسے حجرے سے باہر\nارشاد کیا احمدِؐ مختار نے ہنس کر\nلے آ کہ نواسا ہے مرا طاہر و اطہر\nاس چاند کو تاجِ سرِ افلاک کیا ہے\nیہ وہ ہے، خدا نے جسے خود پاک کیا ہے\n\nمیں اس سے ہوں اور مجھ سے ہے یہ تو نہیں باہر\nیہ نورِ الہٰی ہے یہ ہے طیب و طاہر\nاسرار جو مخفی ہیں وہ اب ہوئیں گے ظارہ\nیہ آیتِ ایماں ہے یہ ہے حجتِ باہِر\nبڑھ کر مدد سید لولاک کرے گا\nکفار کے قصے کو یہی پاک کرے گا\n\nجس دم یہ خبر مخبر صادق نے سنائی\nاسما اسے اک پارچۂ نرم پہ لائی\nبو اس گلِ تازہ کی محمدؐ نے جو پائی\nہنسنے لگ، سرخی رخِ پرنور پہ آئی\nمنہ چاند سا دیکھا جو رسولِؐ عربی نے\nلپٹا لیا چھاتی سے نواسے کو نبیؐ نے\n\nجاں اغئی یعقوبؑ نے یوسفؑ کو جو پایا\nقرآں کی طرح رحلِ دو زانو پہ بٹھایا\nمنہ ملنے لگے منہ سے بہت پیار جو آیا\nبوسے لئے اور ہاتھوں کو آنکھوں سے لگایا\nدل ہل گیا کی جب کہ نظر سینہ و سر پر\nچوما جو گلا، چل گئی تلوار جگر پر\n\nجوش آیا تھا رونے کا مگر تھام کے رقت\nاس کان میں فرمائی اذاں اس میں اقامت\nحیدر سے یہ فرمایا کہ اے شاہِ ولایت\nکیوں تم نے بھی دیکھی مرے فرزند کی صورت\nپر نور ہے گھر، تو کو ملا ہے قمر ایسا\nدنیا میں کسی نے نہیں پایا پسر ایسا؂\n\nکیوں کر نہ ہو تم سا پدر اور فاطمہؓ سی ماں\nدو شمس و قمر کا ہے یہ اک نیر تاباں\nکی عرض یہ حیدر نے کہ اے قبلۂ ایماں\nحق اس پہ رکھے سایۂ پیغمبر ذی شاں\nاعلیٰ ہے وہ سب سے جو مقامِ شہ دیں ہے\nبندہ ہوں میں اور یہ بھی غلامِ شہ دیں ہے\n\nعالم میں ہے یہ سب برکت آپ کے دم سے\nسرسبزی دنیا ہے اسی ابر کرم سے\nتا عرش پہونچ جاتا ہے سر فیضِ قدم سے\nعزت ہے غلاموں کی شہنشاہ امم سے\nکچھ اس میں نہ زہرا کا ہے باعث نہ علی کا\nسب ہے یہ بزرگی کہ نواسا ہے نبی کا\n\nفرمانے لگے ہنس کے شہِ یثرب و بطحا\nبھائی کہو فرزند کا کچھ نام بھی رکھا\nکی عرض یہ حیدر نے کہ اے سید والا\nسبقت کروں میں حضرت پہ، یہ مقدور ہے میرا\nفرمایا کہ موقوف ہے یہ ربِّ عُلا پر\nمیں بھی سبقت کر نہیں سکتا ہوں خدا پر\n\nبس اتنے میں نازل ہوئے جبریل خوش انجام\nکی عرض کہ فرماتا ہے یہ خالقِ علام\nپیارا ہے نہایت ہمیں زہرا کا گل اندام\nیا ختمِ رسل ہم نے ’’حسین‘‘ اس کا رکھا نام\nیہ حسن میں سردار حسینانِ زمن ہے\nمشتق ہے تو احسان سے تصغیر حسن ہے\n\nح سے یہ اشارہ کہ یہ ہے حامیِ امت\nسمجھیں گے اسی سین کو سب سینِ سعادت\nیَ اس کی بزرگی میں یٰسین کی آیت\nہے نون سے ظاہر کہ یہ ہے نورِ نبوت\nناجی ہے وہ اس نام کو لے\nیہ حسن میں دس حصے زیادہ ہے حسن سے\n\nدو نور کے دریا کو جو ہم نے کیا اک جا\nتب اس سے ہوا گوہرِ نایاب یہ پیدا\nتوقیر میں بے مثل، شجاعت میں ہے یکتا\nاب اور نہ ہو گا کوئی اس حسن کا لڑکا\nہم جانتے ہیں جو نہیں ظاہر ہے کسی پر\nکام اس سے جو لینا ہے وہ ہے ختم اسی پر\n\nفیاض نے کونین کی دولت اسے دی ہے\nدی ہے جو علیؓ کو وہ شجاعت اسے دی ہے\nصبر اس کو عنایت کیا، عزت اسے دی ہے\nان سب کے سوا اپنی محبت اسے دی ہے\nاعلیٰ ہے، معظم ہے، مکرم ہے، ولی ہے\nہادی ہے، وفادار ہے، زاہد ہے سخی ہے\n\nجب کر چکے ذکرِ کرم مالکِ تقدیر\nجبریلؑ نے پاس آن کے دیکھا رخِ شپیرؐ\nکی صلِّ علیٰ کہہ کے محمدؐ سے یہ تقریر\nیا شاہ، یہ مہرو تو ہے صاف آپ کی تصویر\nجب کہ ہے زیارت پئے تسلیم جھکے ہیں\nاس نور کو ہم عرش پہ بھی دیکھ چکے ہیں\n\nہے اس پہ ازل سے نظرِ رحمتِ معبود\nیہ پیشتر آدم سے بھی تھا عرش پہ موجود\nہے ذاتِ خدا صاحبِ فیض و کرم وجود\nتھا خلق دو عالم سے یہی مطلب و مقصود\nمظلومی و غربت ہے عجب نام پہ اس کے\nسب روتے ہیں اور روئیں گے انجام پہ اس کے\n\nیہ ہے سبب تہنیت و تعزیت اس دم\nہے شادی و غم گلشن ایجاد میں توام\nلپٹائے ہیں چھاتی سے جسے قبلۂ عالم\nبے جرم و خطا ذبح کریں گے اسے اظلم\nگر حشر بھی ہوگا تو یہ آفت نہ ٹلے گی\nسجدے میں چھری حلقِ مبارک پہ چلے گی\n\nہوگا یہ محرم میں ستم اے شہہ ذی جاہ\nچھپ جائے گا آنکھوں سے اسی چاند میں یہ ماہ\nتاریخ دہم جمعہ کے دن عصر کے وقت آہ\nنیزے پہ چڑھائیں گے سرِ پاک کو گمراہ\nکٹ جائے جب سر تو ستم لاش پہ ہوں گے\nگھوڑوں کے قدم سینۂ صد پاش پہ ہوں گے\n\nچلائے محمد کہ میں بسمل ہوا بھائی\nاے وائے اخی کیا یہ خبر مجھ کو سنائی\nدل ہل گیا برچھی سی کلیجے میں در آئی\nیہ واقعہ سن کر نہ جئے گی مری جائی\nممکن نہیں دنیا میں دوا زخمِ جگر کی\nکیوں کر کہوں زہرا سے خبر مرگِ پسر کی\n\nجس وقت سنی فاطمہؓ نے یہ خبرِ غم\nشادی میں دلادت کی بپا ہوگیا ماتم\nچلاتی تھی سرپیٹ کے وہ ثانیِ مریم\nبیٹی پہ چھری چل گئی یا سیدِ عالم\nخنجر کے تلے چاندسی تصویر کی گردن\nکٹ جائے گی ہے ہے مرے شپیر کی گردن\n\nہے ہے کئی دن تک نہ ملے گا اسے پانی\nہے ہے یہ سہے گا تعبِ تشنہ دہانی\nہو جائیں گے اِک جان کے سب دشمنِ جانی\nہے ہے مرا محبوب، مرا یوسفِ ثانی\nپیراہنِ صد چاک کفن ہووے گا اس کا\nسر نیزہ پہ اور خاک پہ تن ہوے گا اس کا\n\nصبر اپنا دکھانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں\nیوں خلق سے جانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں\nجنگل کے بسانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں\nاماں کے رلانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں\nہم چاند سی صورت پہ نہ شیدا ہوئے ہوتے\nاے کاش مرے گھر میں نہ پیدا ہوئے ہوتے\n\nدنیا مجھے اندھیر ہے اس غم کی خبر سے\nشعلوں کی طرح آہ نکلتی ہے جگر سے\nدامن پہ ٹپکتا ہے لہو دیدۂ تر سے\nبس آج سفر کر گئی شادی مرے گھر سے\nجس وقت تلک جیتی ہوں ماتم میں رہوں گی\nمظلوم حسینؓ آج سے اس کو میں کہوں گی\n\nبیٹی کو یہ معلوم نہ تھا یا شہِ عالم\nبچھے گی زچہ خانے کے اندر صفِ ماتم\nاب دن ہے چھٹی کا مجھے عاشورِ محرم\nتارے بھی نہ دیکھے تھے کہ ٹوٹا فلک غم\nپوشاک نہ بدلوں گی نہ سر دھوؤں گی بابا\nچلے میں بھی چہلم کی طرح روؤں کی بابا\n\nحیدر ہے کہاں آ کے دلاسا نہیں دیتے\nزہراؓ کا برا حال ہے سمجھا نہیں دیتے\nاس زخم کا مرہم مجھے بتلا نہیں دیتے\nہے ہے مجھے فرزند کا پرسا نہیں دیتے\nحجرے میں الگ بیٹھے ہیں کیوں چھوڑ کے گھر کو\nآواز تو سنتی ہوں کہ روتے ہیں پس کو\n\nپھر دیکھ کے فرزند کی صورت یہ پکاری\nاے میرے شہید اے مرے بیکس ترے واری\nہاں بعد مرے ذبح کریں گے تجھے ناری\nبنتی ہوں ابھی سے میں عزادار تمہاری\nدل اور کسی شغل میں مصروف نہ ہو گا\nبس آج سے رونا مرا موقوف نہ ہو گا\n\nمرجائیگا تو تشنہ دہن ہائے حسینا\nہو جائے گا ٹکڑے یہ بدن ہاے حسینا\nاک جان پپہ یہ رنج و محن ہائے حسینا\nکوئی تجھے دے گا نہ کفن ہائے حسینا\nگاڑیں گے نہ ظالم تنِ صد پاش کو ہے ہے\nرہواروں سے روندیں گے تری لاش کو ہے ہے\n\nفرمایا محمدؐ نے کہ اے فاطمہؓ زہرا\nکیا مرضیِ معبود سے بندے کا ہے چارہ\nخالق نے دیا ہے اسے تہ رتبۂ اعلیٰ\nجبریل سوا کوئی نہیں جاننے والا\nمیں بھی ہوں فدا اس پہ کہ یہ فدیۂ رب ہے\nیہ لال ترا بخشش امت کا سبب ہے\n\nاس بات کا غم ہے اگر اے جانِ پیمبرؐ\nبے دفن و کفن رن میں رہے گا ترا دلبر\nجب قید سے ہووے گا رہا عابدِ مظطر\nتگربت میں اسے دفن کرے گا وہی آ کر\nارواحِ رسولانِ زمن روئیں گی اس کو\nسر پیٹ کے زینب سی بہن روئیں گی اس کو\n\nجب چرخ پہ ہوئے گا عیاں ماہِ محرم\nہر گھر میں بپا ہوے گی اک مجلسِ ماتم\nآئیں گے ملک عرش سے داں رونے کو باہم\nماتم یہ وہ ماتم ہے کہ ہوگا نہ کبھی کم\nپر نور سدا اس کا عزا خانہ رہے گا\nخورشید جہاں گرد بھی پروانہ رہے گا\n\nکیا اوج ہے، کیا رتبہ ہے اس بزمِ عزا کا\nغل عرش سے ہے فرش تلک صلِّ علیٰ کا\nمشتاق ہے فردوزِ بریں یاں کی فضا کا\nپانی میں بھی ہے یاں کی مزا آبِ بقا کا\nدربارِ معلّیٰ ہے ولی ابنِ ولی کا\nجاری ہے یہ سب فیض حسینؓ ابن علی کا\n\nلوریاں سے بس اب مجلسِ ماتم کا بیاں ہے\nوہ فصل خوشی ختم ہوئی غم کا بیاں ہے\nمظلومیِ سلطانِ دو عالم کا بیاں ہے\nہنگامۂ عاشورِ محرم کا بیاں ہے\nہاں دیکھ لے مشتاق جو ہو فوجِ خدا کا\nلوبزم میں کھلتا ہے مرقع شہدا کا\n\nاے خضرِ بیابانِ سخن راہبری کر\nاے نیرِ تابانِ خرد جلوہ گری کر\nاے درد عطا لذتِ زخمِ جگری کر\nاے خوفِ الٰہی مجھے عصیان سے بری کر\nبندوں میں لکھا جاؤں امامِ ازلی کے\nآزاد ہوں صدقے میں حسینؓ ابن علیؓ کے\n\nقدسی کو نہیں بار، یہ دربار ہے کس کا\nفردوس کو ہے رشک یہ گلزار ہے کس کا\nسب جنسِ شفاعت ہے، یہ بازار ہے کس کا\nخود بکتا ہے یوسفؑ یہ خریدار ہے کس کا\nملتی ہے کہاں مفت متاعِ حسن ایسی\nدیکھی نہیں انجم نے کبھی انجمن ایسی\n\nمجلس کا زہے نور خوشا محفلِ عالی\nحیدر کے محبوں سے کوئی جا نہیں خالی\nعاشق ہیں سب اس کے جو ہے کونین کا والی\nاثنا عشری، پنجتنی، شیعۂ غالی\nششدر نہ ہو کیوں چرخ عجب جلوہ گری ہے\nیہ بزمِ عزا آج ستاروں سے بھری ہے\n\nان میں جو مسن ہیں وہ پیمبر کے ہیں مہماں\nاور جو متوسط ہیں، وہ حیدر کے ہیں مہماں\nجو تازہ جواں ہیں، علی اکبر کے ہیں مہماں\nشیعوں کے پسر سب علی اصغر کے ہیں مہماں\nہر خورد و کلاں عاشقِ شاہِ مدنی ہیں\nپانچ انگلیوں کی طرح یہ سب پنجتنی ہیں\n\nارشادِ نبیؐ ہے کہ مددگار ہیں میرے\nفرماتے ہیں حیدر کہ یہ غم خوار ہیں میرے\nحضرت کا سخن ہے کہ عزادار ہیں میرے\nمیں ان کا ہوں طالب یہ طلب گار ہیں میرے\nیہ آج اگر رو کے ہمیں یاد کریں گے\nہم قبر میں ان لوگوں کی امداد کریں گے\n\nغم میں مرے بچوں کے یہ سب کرتے ہیں فریاد\nاللہ سلامت رکھے ان لوگوں کی اولاد\nبستی مرے شیعوں کی رہے خلق میں آباد\nیہ حشر کے دن آتشِ دوزخ سے ہوں آزاد\nمرتا ہے کوئی گر تو بکا کرتا ہوں میں بھی\nان کے لئے بخشش کی دعا کرتا ہوں میں بھی\n\nمردم کے لئے واجب عینی ہے یہ زاری\nرونا ہی وسیلہ ہے شفاعت کا ہماری\nہے وقتِ معین پہ ادا طاعتِ باری\nیہ خیر ہے وہ خیر جو ہر وقت ہے جاری\nرو لو کہ یہ وقت اور یہ صحبت نہ ملے گی\nجب آنکھ ہوئی بند تو مہلت نہ ملے گی\n\nمہلت جو اجل دے تو غنیمت اسے جانو\nآمادہ ہو رونے پہ، سعادت اسے جانو\nآنسو نکل آئیں تو عبادت اسے جانو\nایذا ہو جو محفل میں تو راحت اسے جانو\nفاقے کئے ہیں دھوپ میں لب تشنہ رہے ہیں\nآقا نے تمہارے لئے کیا ظم سہے ہیں\n\nتکلیف کچھ ایسی نہیں سایہ ہے ہوا ہے\nپانی ہے خنک مروحہِ کش بادِ صبا ہے\nکچھ گرمیِ عاشورہ کا بھی حال سنا ہے\nسر پیٹنے کا وقت ہے ہنگامِ بکا ہے\nگذری ہے بیابان میں وہ گرمی شہِ دیں پر\nبھن جاتا تھا دانہ بھی جو گرتا تھا زمیں پر\n\nلوں چلتی تھی ایسی کہ جلے جاتے تھے اشجار\nتھا عنصرِ خاکی پہ گمانِ کرۂ نار\nپانی پہ دو دوام گرے پڑتے تھے ہر بار\nسب خلق تو سیراب تھی پیاسے شہِ ابرار\nخاک اڑ کے جمی جانی تھی زلفوں پہ قبا پر\nاس دھوپ میں سایہ بیھ نہ تھا نورِ خدا پر\n\nقطرے جو پسینے کے ٹپک پڑتے تھے ہر بار\nثابت یہی ہوتا تھا کہ ہیں اخترِ سیار\nشاہد المِ فاقہ سے ہے زردیِ رخسار\nبے آبی سے اودے تھے لبِ لعل گہر بار\nرنیا میں ترستے رہے وہ آب رواں کو\nجن ہونٹوں نے چوما تھا محمدؐ کی زباں کو\n\nدنیا بھی عجب گھر ہے کہ راحت نہیں جس میں\nوہ گل ہے یہ گل بوئے محبت نہیں جس میں\nوہ دوست ہے یہ دوستِ مروت نہیں جس میں\nوہ شہد ہے یہ شہد حلاوت نہیں جس میں\nبے درد و الم شامِ غریباں نہیں گزری\nدنیا میں کسی کی کبھی یکساں نہیں گزری\n\nگودی ہے کبھی ماں کی کبھی قبر کا آغوش\nکل پیرہن اکثر نظر آتے ہیں کفن پوش\nسرگرمِ سخن ہے کبھی انساں کبھی خاموش\nگہہ تخ ہے اور گاہ جنازہ بسرِ دوش\nاک طور پہ دیکھا نہ جواں کو نہ مسن کو\nشب کو تو چھپر کھٹ میں ہیں تابوت مین دن کو\n\nشادی ہو کہ اندوہ ہو آرام ہو یا جور\nدنیا میں گزر جاتی ہے انساں کو بہر طور\nماتم کی کبھی فصل ہے، عشرت کا کبھی دور\nہے شادی و ماتم کا مرقع جو کرو غور\nکس باغ پہ آسیبِ خزاں آ نہیں جاتا\nگل کون سا کھلتا ہے جو مرجھا نہیں جاتا\n\nہے عالمِ فانی کی عجب صبح عجب شام\nگہہ غم کبھی شادی کبھی ایذا کبھی آرام\nنازوں سے پلا فاطمہ زہراؓ کا گل اندام\nوا حسرت و دردا کہ وہ آغاز یہ انجام\nراحت نہ ملی گھر کے تلاطم سے دہم تک\nمظلوم نے فاقے کئے ہفتم سے دہم تک\n\nریتی یہ عزیزوں کا مرقع تو ہے ابتر\nشہ کا ہے یہ نقشہ کہ میں تصویر سے ششدر\nفرزند نہ ملسم کے نہ ہمشیر کے دلبر\nقاسم ہیں نہ عباس نہ اکبر ہیں نہ اصغر\nسب نذر کو دربار پیمبر میں گئے ہیں\nرخصت کو اکیلے شہہ دیں گھر میں گئے ہیں\n\nمنظور ہے پھر دیکھ لیں ہمشیر کی صورت\nپھر لے گئی ہے گھر میں سکینہ کی محبت\nسجاد سے کچھ کہتے ہیں اسرار امامت\nبانووے دو عالم سے بھی ہے آخری رخصت\nمطلوب ہے یہ زیبِ بدن رختِ کہن ہو\nتا بعد شہادت وہی ملبوسِ کفن ہو\n\nخیمے میں مسافر کا وہ آنا تھا قیامت\nایک ایک کو چھاتی سے لگانا تھا قیامت\nآنا تو غنیمت تھا یہ جانا تھا قیامت\nتھوڑا سا وہ رخصت کا زمانہ تھا قیامت\nواں بین ادھر صبر و شکیبائی کی باتیں\nافسانۂ ماتم تھیں بہن بھائی کی باتیں\n\nحضرت کا وہ کہنا کہ بہن صبر کرو صبر\nامت کے لئے والدہ صاحب نے سہے جبر\nوہ کہتی تھی کیوں کر نہ میں روؤں صفتِ ابر\nتم پہنو کفن اور نہ بنے ہائے مری قبر\nلٹتے ہوئے اماں کا گھر ان آنکھوں سے دیکھوں\nہے ہے تہِ خنجر تمہیں کن آنکھوں سے دیکھوں\n\nاس عمر میں تھوڑے غمِ جانکاہ اٹھائے\nاشک آنکھوں سے اماں کے جنازے پہ بہائے\nآنسو نہ تھمے تھے کہ پدر خوں میں نہائے\nٹکڑے دلِ شبیر کے لگن میں نظر آئے\nحضرت کے سوا اب کوئی سر پر نہیں بھائی\nانساں ہوں کلیجہ مرا پتھر نہیں بھائی\n\nہر شخص کو ہے یوں تو سفر خلق سے کرنا\nدشوار ہے اک آن مسافر کا ٹھہرنا\nان آنکھوں سے دیکھا ہے بزرگوں کا گزرنا\nہے سب سے سوا ہائے یہ مظلومی کا مرنا\nصدقے گئی یوں رن کبھی پڑتے نہیں دیکھا\nاک دن میں بھرے گھر کو اجڑتے نہیں دیکھا\n\nہے ہے تمہیں لے کے میں کہاں چھپ رہوں بھائی\nلٹتی ہے مرے چار بزرگوں کی کمائی\nکس دشتِ پر آشوب میں قسمت مجھے لائی\nیارب کہیں مر جائے ید اللہ کی جائی\nزہراؓ کا پسر وقتِ جدائی مجھے روئے\nسب کو تو میں روئی ہوں یہ بھائی مجھے روئے\n\nزینب کی وہ زاری وہ سکینہ کا بلکنا\nوہ ننھی سی چھاتی میں کلیجے کا دھڑکنا\nوہ چاند سا منہ اور وہ بندے کا چمکنا\nحضرت کا وہ بیٹی کی طرف یاس سے تکنا\nحسرت سے یہ ظاہر تھا کہ معذور ہیں بی بی\nپیدا تھا نگاہوں سے کہ مجبور ہیں بی بی\n\nوہ کہتی تھی بابا ہمیں چھاتی سے لگاؤ\nفرماتے تھے شہ آؤ نہ جانِ پدر آؤ\nہم کڑھتے ہیں لو آنکھوں سے آنسو نہ بہاؤ\nخوشبو تو ذرا گیسوئے مشکیں کو سنگھاؤ\nکوثر یہ ہے، تم بن نہیں آرام چچا کو\nہم جاتے ہیں کچھ دیتی ہو پیغام چچا کو\n\nبی بی کہو کیا حال ہے اب ماں کا تمہاری\nکس گوشے میں بیٹھی ہیں کہاں کرتی ہیں زاری\nجب سے سوئے جنت گئی اکبر کی سواری\nدیکھا نہ انہیں گھر میں ہم آئے کئی باری\nتھی سب کی محبت انہیں بیٹے ہی کے دم تک\nکیا آخری رخصت کو بھی آئیں گی نہ ہم تک\n\nکس جا ہیں طلب ہم کو کریں یا وہی آئیں\nممکن نہیں اب وہ ہمیں یا ہم انہیں پائیں\nکچھ ہم سے سنیں کچھ ہمیں حال اپنا بتائیں\nاک دم کے مسافر ہیں ہمیں دیکھ تو جائیں\nبعد اپنے یہ لوٹا ہوا گھر اور کٹے گا\nافسوس کہ اک عمر کا ساتھ آج چھٹے گا\n\nغش میں جو سنی بانوئے مضطر نے یہ تقریر\nثابت ہو مرنے کو چلے حضرت شبیر\nسر ننگے اٹھی چھوڑ کے گہوارۂ بے شیر\nچلائی مجھے ہوش نہ تھا یا شہِ دل گیر\nجاں تن سے کوئی آن میں اب جاتی ہے آقا\nیہ خادمہ رخصت کے لئے آتی ہے آقا\n\nیہ سن کے بڑھے چند قدم شاہِ خوش اقبال\nقدموں پہ گری دوڑ کے وہ کھولے ہوئے بال\nتھا قبلۂ عالم کا بھی اس وقت عجب حال\nروتے تھے غضب آنکھوں پہ رکھے ہوئے رومال\nفرماتے تھے جانکاہ جدائی کا الم ہے\nاٹھو تمہیں روحِ علی اکبر کی قسم ہے\n\nوہ کہتی تھی کیوں کر میں اٹھوں اے مری سرتاج\nوالی انہیں قدموں کی بدولت ہے مرا راج\nسر پر جو نہ ہوگا پسرِ صاحبِ معراج\nچادر کے لئے خلق میں جاؤں گی محتاج\nچھوٹے جو قدم مرتبہ گھٹ جائے گا میرا\nقربان گئی تخت الٹ جائے گا میرا\n\nیاں آئی میں جب خانۂ کسریٰ ہوا برباد\nوہ پہلی اسیری کی اذیت ہے مجھے یاد\nکی عقدہ کشائے دو جہاں نے مری امداد\nحضرت کے تصدق میں ہوئی قید سے آزاد\nلونڈی تھی، بہو ہو گئی زہراؓ و علیؓ کی\nقسمت نے بٹھایا مجھے مسند پہ نبیؐ کی\n\nچھبیس برس تک نہ چھٹا آپ کا پہلو\nاب ہجر ہے تقدیر میں یا سید خوش خو\nشب بھر رہے تکیہ سرِ اقدس کا جو بازو\nہے ہے اسے اب رسی سے باندھیں گے جفا جو\nسر پر نہ ردا ہوگی تو مر جاؤں گی صاحب\nچھپنے کو میں جنگل میں کدھر جاؤں گی صاحب\n\nحضرت نے کہا کس کا سدا ساتھ رہا ہے\nہر عاشق و معشوق نے یہ داغ سہا ہے\nدارِ محن اس دار کو داور نے کہا ہے\nہر چشم سے خونِ جگر اس غم میں بہا ہے\nفرقت میں عجب حال تھا خالق کے ولی کا\nساتھ آٹھ برس تک رہا زہراؓ و علیؓ کا\n\nسو سو برس اس گھر میں محبت سے رہے جو\nاس موت نے دم بھر میں جدا کر دیا ان کو\nکچھ مرگ سے چارہ نہیں اے بانوئے خوش خو\nہے شاق فلک کو کہ رہیں ایک جگہ دو\nکس کس پہ زمانے نے جفا کی نہیں صاحب\nاچھوں سے کبھی اس نے وفا کی نہیں صاحب\n\nلازم ہے خدا سے طلبِ خیر بشر کو\nتھامے گا تباہی میں وہی رانڈ کے گھر کو\nآنا ہے تمہیں بھی وہیں جاتے ہیں جدھر کو\nوارث کی جدائی میں پٹکتے نہیں سر کو\nکھولے گا وہی رسی بندھے ہاتھ تمہارے\nسجاد سا بیٹا ہے جواں ساتھ تمہارے\n\nزینب کو تو دیکھو کہ ہیں کس دکھ میں گرفتار\nایسا کوئی اس گھر میں نہیں بے کس و ناچار\nتنہا ہیں کہ بے جاں ہوے دو چاند سے دلدار\nدنیا سے گیا اکبرِ ناشاد ساغم خوار\nبیٹے بھی نہیں گود کاپالا بھی نہیں ہے\nان کو تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے\n\nیہ کہہ کے کچھ آہستہ کہا گوشِ پسر میں\nبیمار کے رونے سے قیامت ہو گئی گھر میں\nاندھیر زمانہ ہوا بانو کی نظر میں\nغش ہو گئی زینبؓ یہ اتھا درد جگر میں\nٹھہر نہ گیا واں، شہِ والا نکل آئے\nتنہا گئے روتے ہوئے تنہا نکل آئے\n\nکچھ پڑھ کے پھرے جانبِ قبلہ شہہ بے پر\nکج کی طرفِ دوشِ یمیں گردنِ انور\nتھراتے ہوئے ہاتھوں پہ عمامے کو رکھ کر\nکی حق سے مناجات کہ اے خالقِ اکبر\nحرمت ترے محبوب کی دنیا میں بڑی ہے\nکر رحم کہ آل ان کی تباہی میں پڑی ہے\n\nیارب یہ ہے سادات کا گھر تیرے حوالے\nرانڈیں ہیں کئی کستہ جگر تیرے حوالے\nبیکس کا ہے بیمار پسر تیرے حوالے\nسب ہیں ترے دریا کے گہر تیرے حوالے\nعالم ہے غربت میں گرفتاری بلا ہوں\nمیں تیری حمایت میں انہیں چھوڑ چلا ہوں\n\nمیرے نہیں، بندے ہیں ترے اے مرے خالق\nبستی ہو کہ جنگل توہی حافظ تو ہی رازق\nباندھے ہیں کمر ظلم و تعدی پہ منافق\nنے دوست ہے دنیا، نہ زمانہ ہے موافق\nحرمت ہے ترے ہاتھ امامِ ازلی کی\nدو بیٹیاں، دو بہوئیں ہیں اس گھر میں علی کی\n\nمیں یہ نہیں کہتا کہ اذیت نہ اٹھائیں\nیا اہلِ ستم آگ سے خیمے نہ جلائیں\nناموس لٹیں قید ہوں اور شام میں جائیں\nمہلت مرے لاشے پہ بھی رونے کی نہ پائیں\nبیڑی میں قدم طوق میں عابد کا گلا ہو\nجس میں ترے محبوب کی امت کا بھلا ہو\n\nیہ کہہ کے گریبانِ مبارک کو کیا چاک\nاور ڈال لی پیراہن پر نور پہ کچھ خاک\nمیت ہونے شبیر کفن بن گئی پوشاک\nبس فاتحۂ خیر پڑھا بادلِ غم ناک\nمڑکر نہ کسی دوست نہ غم خوار کو دیکھا\nپاس آئے تو روتے ہوئے رہوار کو دیکھا\n\nگردان کے دامن علی اکبر کو پکارے\nتھامو مرے گھوڑے کا رکاب اے مرے پیارے\nلختِ دلِ شبیر کدھر اس وقت سدھارے\nبھائی ہیں کہاں ہاتھ میں دیں ہاتھ ہمارے\nآتے نہیں مسلم کے جگر بند کہاں ہیں\nدونوں مری ہمشیر کے فرزند کہاں ہیں\n\nتنہائی میں اک ایک کو حضرت نے پکارا\nکون آئے کہ فردو میں تھا قافلہ سارا\nگھوڑے پہ چھڑا خود اسد اللہ کا پیارا\nاونچا ہوا افلاکِ امامت کا ستارا\nشوخی سے فرس پاؤں نہ رکھتا تھا زمیں پر\nغل تھا کہ چلا قطبِ زماں عرشِ بریں پر\n\nشبدیز نے چھل بل میں عجب ناز دکھایا\nہر گام پہ طاؤس کا انداز دکھایا\nزیور نے عجب حسنِ خداداد دکھایا\nفتراک نے اوجِ پرِ پرواز دکھایا\nتھا خاک پہ اک پاؤں تو اک عرشِ بریں پر\nغل تھا کہ پھر اترا ہے براق آج زمیں پر\n\nاعداد کی زبانوں پر یہ حیرت کی تھی تقریر\nحضرت یہ رجز پڑھتے تھے تولے ہوئے شمشیر\nدیکھوں نہ مٹاؤ مجھے اے فرقۂ بے پیر\nمیں یوسفِ کنعانِ رسالت کی ہوں تصویر\nواللہ تعلّی نہیں یہ کلمۂ حق ہے\nعالم کے مرقعے میں حسین ایک ورق ہے\n\nواللہ جہاں میں مرا ہمسر نہیں کوئی\nمحتاج ہوں پر مجھ سا توانگر نہیں کوئی\nہاں میرے سوا شافعِ محشر نہیں کوئی\nیوں سب ہیں مگر سبطِ پیمبر نہیں کوئی\nباطل ہے اگر دعویٰ اعجاز کرے گا\nکس بات پہ دنیا میں کوئی ناز کرے گا\n\nہم وہ ہیں کہ اللہ نے کوثر ہمیں بخشا\nسرداریِ فردوس کا افسر ہمیں بخشا\nاقبالِ علی خلق پیمبر ہمیں بخشا\nقدرت ہمیں دی، زور ہمیں، زر ہمیں بخشا\nہم نور ہیں گھر طورِ تجلا ہے ہمارا\nتختِ بنِ داؤد مصلا ہے ہمارا\n\nنانا وہ کہ ہیں جن کے قدم عرش کے سرتاج\nقوسینِ مکان، ختمِ رسل، صاحبِ معراج\nماں ایسی کہ سب جس کی شفاعت کے ہیں محتاج\nباپ ایسا صنم خانوں کو جس نے کیا تاراج\nلڑنے کو اگر حیدر صفدر نہ نکلتے\nبت گھر سے خدا کے کبھی باہر نہ نکلتے\n\nکس جنگ میں سینے کو سپر کر کے نہ آئے\nکس مرحلۂ صعف کو سر کر کے نہ آئے\nکس فوج کی صف زیر و زبر کر کے نہ آئے\nتھی کون سی شب جس کو سحر کر کے نہ آئے\nتھا کون جو ایماں تہِ صمصام نہ لایا\nاس شخص کا سر لائے جو اسلام نہ لایا\n\nاصنام نہ کچھ کم تھے، نہ کفار تھے تھوڑے\nطاقت تھی کہ عزیٰ کو کوئی لات سے توڑے\nبد کیشوں نے سجدے بھی کئے ہاتھ بھی جوڑے\nبے توڑے وہ بت حیدر صفدر نے نہ چھوڑے\nکعبے کو صفا کردیا خالق کے کرم سے\nنکلے اسد اللہ اذاں دے کے حرم سے\n\nاس عہد میں مالک اسی تلوار کے ہم ہیں\nجرار پسر، حیدر کرار کے ہم ہیں\nفرزند محمدؐ سے جہاں دار کے ہم ہیں\nوارثِ شہِ لولاک کی سرکار کے ہم ہیں\nکچھ غیر کفن ساتھ نہیں لے کے گئے ہیں\nتابوت سکینہ بھی ہمیں دے کے گئے ہیں\n\nیہ فرق یہ عمامۂ سردارِ زمن ہے\nیہ تیغِ علی ہے یہ کمر بندِ حسن ہے\nیہ جوشنِ داؤد ہے جو حافظ تن ہے\nیہ پیراہنِ یوسفِ کنعانِ محن ہے\nدکھلائیں سند دستِ رسول عربیؐ کی\nیہ مہر سلیماں ہے، یہ خاتم ہے نبی کی\n\nدیکھو تو یہ ہے کون سے جرار کی تلوار\nکس شیر کے قبضے میں ہے کرار کی تلوار\nدریا نے بھی دیکھی نہیں اس دھار کی تلوار\nبجلی کی تو بجلی ہے یہ، تلوار کی تلوار\nقہر و غضب اللہ کا ہے کاٹ نہیں ہے\nکہتے ہیں اسے موت کا گھر گھاٹ نہیں ہے\n\nدم لے کہیں رک کر وہ روانی نہیں اس میں\nچلنے میں سبک تر ہے، گرانی نہیں اس میں\nجز حرفِ ظفر اور نشانی نہیں اس میں\nجل جاؤ گے سب آگ ہے پانی نہیں اس میں\nچھوڑے گی نہ زندہ اسے جو دشمن دیں ہے\nنابیں نہیں، غصے سے اجل چیں بہ جبیں ہے\n\nسب قطرے ہیں گر فیض کے دریا ہیں تو ہم ہیں\nہر نقطۂ قرآں کے شناسا ہیں تو ہم ہیں\nحق جس کا ہے جامع وہ ذخیرہ ہیں تو ہم ہیں\nافضل ہیں تو ہم، عالم و دانا ہیں تو ہم ہیں\nتعلیم ملک عرش پہ تھا ورد ہمارا\nجبریل سا استاد ہے شاگرد ہمارا\n\nگر فیض ظہورِ شہِ لولاک نہ ہوتا\nبالائے زمیں گنبدِ افلاک نہ ہوتا\nکچھ خاک کے طبقے میں، بجز خاک نہ ہوتا\nہم پاک نہ کرتے تو جہاں پاک نہ ہوتا\nیہ شور اذاں کا سحر و شام کہاں تھا\nہم عرش پہ جب تھے تو یہ اسلام کہاں تھا\n\nمحسن سے بدی ہے یہی احساں کا عوض واہ\nدشمن کے ہوا خواہ ہوئے دوست کے بد خواہ\nگمراہ کے بہکانے سے روکو نہ مری راہ\nلو اب بھی مسافر کو نکل جانے دو لِلّٰلہ\nمل جائے گی اک دم میں اماں رنج و بلا سے\nمیں ذبح سے بچ جاؤں گا، تم قہر خدا سے\n\nبستی میں کہیں مسکن و ماوا نہ کروں گا\nیثرب میں بھی جانے کا ارادہ نہ کروں گا\nصابر ہوں کسی کا کبھی شکوا نہ کروں گا\nاس ظلم کا میں ذکر بھی اصلا نہ کروں گا\nرونا نہ چھٹے گا کہ عزیزوں سے چھپا ہوں\nجو پوچھے گا کہہ دوں گا کہ جنگل میں لٹا ہوں\n\nاعدا نے کہا قہرِ خدا سے نہیں ڈرتے\nناری تو ہیں دوزخ کی جفا سے نہیں ڈرتے\nفریاد رسولِؐ دوسرا سے نہیں ڈرتے\nخاتونِ قیامت کی بکا سے نہیں ڈرتے\nہم لوگ جدھر دولتِ دنیا ہے ادھر ہیں\nاللہ سے کچھ کام نہیں بندۂ زر ہیں\n\nحضرت نے کہا خیر خبردار صفوں سے\nآیا غضب اللہ کا ہشیار صفوں سے\nبجلی سا گزر جاؤں گا ہر بار صفوں سے\nکب پنجتنی رکتے ہیں دو چار صفوں سے\nعربت کے چلن دیکھ چکے، حرب کو دیکھو\nلو بندۂ زر ہو، تو مری ضرب کو دیکھو\n\nیاں گوشۂ عزلت، خمِ شمشیر نے چھوڑا\nواں سہم کے چلے کو ہر ایک تیر نے چھوڑا\nکس قہر سے گھر موت کی تصویر نے چھوڑا\nساحل کو صفِ لشکرِ بے پیر نے چھوڑا\nعنقائے ظفر فتح کا در کھول کے نکلا\nشہباز اجل، صید کو، پر تول کے نکلا\n\nجلوہ کیا بدلی سے نکل کر مہِ نونے\nدکھلائے ہوا میں دوسر، اک شمع کی لو نے\nتڑپا دیا بجلی کو فرس کی تگ و دَو نے\nتاکاسپر مہر کو شمشیر کی ضو نے\nاعدا تو چھپانے لگے ڈھالوں پہ سروں کو\nجبریل نے اونچا کیا گھبرا کے پروں کو\n\nبالا سے جو آئی وہ بلا جانبِ پستی\nبس نیست ہوئی دم میں ستم گاروں کی بستی\nچلنے لگی یک دست جو شمشیر دو دستی\nمعلوم ہوا لٹ گئی سب کفر کی بستی\nزور ان کے ہر اک ضرب میں اللہ نے توڑے\nٹوٹیں جو صفیں بت اسد اللہ نے توڑے\n\nبجلی سی جو گِر کر صفِ کفار سے نکلی\nآواز بزن تیغ کی جھنکار سے نکلی\nگہہ ڈھال میں ڈوبی کبھی تلوار سے نکلی\nدر آئی جو پیکاں میں تو سو فار سے نکلی\nتھے بند خطا کاروں پہ دا امن و اماں کے\nچلے بھی چھپے جاتے تھے گوشوں میں کماں کے\n\nافلاک پہ چمکی کبھی، سر پر کبھی آئی\nکوندی کبھی جوشن پی، سپر پر کبھی آئی\nگہہ پڑھ گئی سینہ پہ، جگر پر کبھی آئی\nتڑپی کبھی پہلو پہ، کبھی کمر پر کبھی آئی\nطے کر کے پھر کون سا قصہ تھا فرس کا\nباقی تھا جو کچھ کاٹ، وہ حصہ تھا فرس کا\n\nبے پاؤں جدھر ہاتھ سے چلتی ہوئی آئی\nندی ادھر اک خوں کی ابلتی ہوئی آئی\nدم بھر میں سو سورنگ بدلتی ہوئی آئی\nپی پی کے لہو لعل اگلتی ہوئی آئی\nہیرا تھا بدن، رنگ زمرد سے ہرا تھا\nجوہر نہ کہو پیٹ جواہر سے بھرا تھا\n\nزیبا تھا دمِ جنگ پر ی وش اسے کہنا\nمعشوقِ بنی سرخ لباس اس نے جو پہنا\nاس اوج پہ وہ سر کو جھکائے ہوئے رہنا\nجوہر تھے کہ پہنے تھی دلہن پھولوں کا گہنا\nسیب چمنِ خلد کی بو باس تھی پھل میں\nرہتی تھی وہ شبیر سے دولہا کی بغل میں\n\nسر ٹپکے تو موج اس کی روانی کو نہ پہونچے\nقلزم کا بھی دھارا ہو تو پانی کو نہ پہونچے\nبجلی کی تڑپ شعلہ فشانی کو نہ پہونچے\nخنجر کی زباں تیغ زبانی کو نہ پہونچے\nدوزخ کی زبانوں سے بھی آنچ اس کی بری تھی\nبرچھی تھی، کٹاری تھی، سر وہی تھی، چھری تھی\n\nموجود بھی ہر غول میں اور سب سے جدا بھی\nدم خم بھی، لگاوٹ بھی، صفائی بھی، ادا بھی\nاک گھاٹ پہ تھی آگ بھی، پانی بھی، ہوا بھی\nامرت کا بھی، ہلاہل بھی، مسیحا بھی، قضا بھی\nکیا صاحب جوہر تھی عجب ظرف تھا اس کا\nموقع تھا جہاں جس کا وہیں صرف تھا اس کا\n\nہرڈھال کے پھولوں کو اڑاتا تھا پھل اس کا\nتھا لشکرِ باغی میں ازل سے عمل اس کا\nڈر جاتی تھی منہ دیکھ کے ہر دم اجل اس کا\nتھا قلعۂ چار آئینہ، گویا عمل اس کا\nاس در سے گئی کھول کے وہ در نکل آئی\nگہہ صدر میں بیٹھی، کبھی باہر نکل آئی\n\nنیزوں پہ گئی برچھیوں والوں کی طرف سے\nجا پہونچی کماں داروں پہ پھالوں کی طرف سے\nپھر آئی سواروں کے رسالوں کی طرف سے\nمنہ تیغوں کی جانب کیا ڈھالوں کی طرف سے\nبس ہو گیا دفتر نظری، نام و نسب کا\nلاکھوں تھے، تو کیا دیکھ لیا جائزہ سب کا\n\nپہونچی جو سپر تک تو کلائی کو نہ چھوڑا\nہر ہاتھ میں ثاب کسی گھائی کو نہ چھوڑا\nشوخی کو، شرارت کو، لڑائی کو نہ چھوڑا\nتیزی کو، رکھائی کو، صفائی کو نہ چھوڑا\nاعضائے بدن قطع ہوئے جاتے تھے سب کے\nقینچی سی زباں چلتی تھی فقرے تھے غضب کے\n\nچار آئینہ والوں کو نہ تھا جنگ کا یارا\nچو رنگ تھے سینے تو کلیجہ تھا دو پارا\nکہتے تھے زرہ پوش نہیں جنگ کا یارا\nبچ جائیں تو جانیں کہ ملی جان دوبارہ\nجوشن کو سنا تھا کہ حفاظت کا محل ہے\nاس کی نہ خبر تھی کہ یہی دامِ اجل ہے\n\nبد کشی لڑائی کا چلن بھول گئے تھے\nنادک فگنی تیر فگن بھول گئے تھے\nسب حیلہ گری، عہد شکن بھول گئے تھے\nبے ہوشی میں ترکش کا دہن بھو گئے تھے\nمعلوم نہ تھا جسم میں جاں ہے کہ نہیں ۃے\nچلاتے تھے قبضے میں کماں ہے کہ نہیں ہے\n\nڈر ڈر کے قدِ راست سنانوں نے جھکائے\nدب دب کے سرِ عجز کمانوں نے جھکائے\nہٹ ہٹ کے علم، رن میں جوانوں نے جھکائے\nسر خاک پہ گرگر کے نشانوں نے جھکائے\nغل تھا کہ پناہ، اب ہمیں یا شاہِ زماں دو\nپھیلائے تھے دامن کو، پھریرے، کہ اماں دو\n\nشہ کہتے تھے ہے باڑھ پہ دریا نہ رکے گا\nاس موج پہ آفت کا طمانچہ نہ رکے گا\nبے فتح و ظفر، دلبر زہرا نہ رکے گا\nتاغرق نہ فرعون ہو، موسیٰؑ نہ رکے گا\nہے بحرِ غضب نام ہے قہر صمد اس کا\nرکنے کا نہیں شام تلک جزر و مد اس کا\n\nاس صف سے گئے بیچ سے اس غول کے نکلے\nجو فوج چھڑی منہ پہ اسے رول کے نکلے\nانبوہ سے یوں تیغِ دوسر تول کے نکلے\nگویا درِ خیبر کو، علی کھول کے نکلے\nدنیا جو بچی، روحِ محمدؐ کا سبب تھا\nشبیر اگر رحم نہ کرتے تو غضب تھا\n\nلڑتے تھے مگر غیظ سے رحمت تھی زیادہ\nشفقت بھی نہ کم تھی جو شجاعت تھی زیادہ\nنانا کی طرح خاطرِ امّت تھی زیادہ\nبیٹوں سے غلاموں کی محبّت تھی زیادہ\nتلوار نہ ماری جسے منہ موڑتے دیکھا\nآنسو نکل آئے جسے دم توڑتے دیکھا\n\nفرماتے تھے اعدا کو ترائی سے بھگا کر\nکیوں چھوڑ دیا گھاٹ کو، روکو ہمیں آ کر\nدعوت یونہی کرتے ہیں مسافر کو بلا کر؟\nہم چاہیں تو پانی بھی پئیں نہر میں جا کر\nپر صبر کے دریا میں ہمیں پیاس نہیں ہے\nاب زہر یہ پانی ہے کہ عبّاس نہیں ہے\n\nبھولی نہیں اکبر کی ہمیں تشنہ دہانی\nوہ چاند سا رخ، وہ قد و قامت، وہ جوانی\nوہ سوکھے ہوئے ہونٹ، وہ اعجاز بیانی\nدکھلا کے زباں مانگتے تھے نزع میں پانی\nکس سے کہیں جو خونِ جگر ہم نے پیا ہے\nبعد ایسے پسر کے بھی، کہیں باپ جیا ہے؟\n\nیہ کہہ کے سکینہ کے بہشتی کو پکارے\nالفت ہمیں لے آئی ہے پھر پاس تمھارے\nلڑتے ہوئے آ پہنچے ہیں دریا کے کنارے\nعبّاس، غش آتا ہے ہمیں پیاس کے مارے\nاِن سوکھے ہوئے ہونٹوں سے ہونٹوں کو ملا دو\nکچھ مشک میں پانی ہو تو بھائی کو پلا دو\n\nلیٹے ہوئے ہو ریت میں کیوں منہ کو چھپائے\nاٹھو کہ سکینہ کو یہاں ہم نہیں لائے\nغافل ہو، برادر تمھیں کس طرح جگائے\nہے عصر کا وقت، اے اسداللہ کے جائے\nخوش ہوں گا میں، آگے جو عَلم لے کے بڑھو گے\nکیا بھائی کے پیچھے نہ نماز آج پڑھو گے؟\n\nکہہ کر یہ سخن رونے لگا بھائی کو بھائی\nتلوار سے مہلت ستم ایجادوں نے پائی\nجس فوج نے رن چھوڑ دیا تھا وہ پھر آئی\nدو روز کے پیاسے یہ، گھٹا شام کی چھائی\nبارش ہوئی تیروں کی ولی ابنِ ولی پر\nسب ٹوٹ پڑے ایک حسین ابنِ علی پر\n\nکی شہ نے جو سینے پہ نظر پونچھ کے آنسو\nسب چھاتی سے تھے پہلوؤں تک تیر سہ پہلو\nہر سمت سے تیغیں جو لگاتے تھے جفا جو\nسالم نہ کلائی تھی، نہ شانہ تھا، نہ بازو\nبرگشتہ زمانہ تھا شہِ تشنہ گلُو سے\nپھل برچھیوں کے سرخ تھے سیّد کے لہو سے\n\nزخموں سے جو وہ دستِ مبارک ہوئے بیکار\nہرنے پہ دھری شاہ نے سپر، میان میں تلوار\nبس کعبۂ ایماں کے قریب آ گئے کفّار\nمظلوم کو تیغیں جو لگانے لگے اک بار\nیوں شاہ کو گھیرے تھے پرے فوجِ ستم کے\nجس طرح صف آرا تھے صنم گرد حرم کے\n\nسجدے کی جگہ چھوڑی نہ تیروں نے جبیں پر\nتقدیر نے لکھّے کئی نقش ایک نگیں پر\nکثرت تھی جراحت کی رخِ قبلۂ دیں پر\nہر جا خطِ شمشیر تھی قرآنِ مبیں پر\nتلواروں کے ٹکڑے تھے ہر اک جزوِ بدن پر\nمجموعہ پریشان تھا، سی پار تن پر\n\nحضرت کی یہ صورت تھی، فرس کا تھا یہ احوال\nمنہ تیغوں سے زخمی تھا بدن تیروں سے غربال\nگھائل تھی جبیں، خون میں ڈوبی ہوئی تھی یال\nگردن کا وہ کینڈا نہ وہ شوخی تھی نہ وہ چال\nہر سمت سے تیروں کا جو مینہ اس پہ پڑا تھا\nپر کھولے ہوئے دھوپ میں طاؤس کھڑا تھا\n\nجھک جاتے تھے ہرنے پہ جو غش میں شہِ ابرار\nمنہ پھیر کے آقا کی طرف تکتا تھا راہوار\nچمکار کے فرماتے تھے شبیّرِ دل افگار\nاب خاتم جنگ ہے اے اسپِ وفادار\nاتریں گے بس اب تجھ سے چھٹا ساتھ ہمارا\nنہ پاؤں ترے چلتے ہیں، نہ ہاتھ ہمارا\n\nزخمی ہے، نہیں اب تری تکلیف گوارا\nگرتے ہیں سنبھلنے کا ہمیں بھی نہیں یارا\nکیا بات تری، خوب دیا ساتھ ہمارا\nآ پہنچا ہے منزل پہ ید اللہ کا پیارا\nتو جس میں پلا ہے وہ گھر اک دم میں لٹے گا\nبچپن کا ہمارا ترا اب ساتھ چھٹے گا\n\nگھیرے ہیں عدو، خیمے تلک جا نہیں سکتے\nکھوئی ہے جو طاقت اسے اب پا نہیں سکتے\nمشکل ہے سنبھلنا، تجھے دوڑا نہیں سکتے\nپہلو ترے مجروح ہیں، ٹھکرا نہیں سکتے\nحیواں کو بھی دکھ ہوتا ہے زخموں کے تعب کا\nمیں درد رسیدہ ہوں، مجھے درد ہے سب کا\n\nکس طرح دکھاؤں کہ ترے زخم ہیں کاری\nمیں نے تو کسی دن تجھے قمچی نہیں ماری\nگھوڑے نے سنی درد کی باتیں جو یہ ساری\nدو ندّیاں اشکوں کی ہوئیں آنکھوں سے جاری\nحیواں کو بھی رقّت ہوئی اس لطف و کرم پر\nمنہ رکھ دیا مڑ کر شہِ والا کے قدم پر\n\nگردن کو ہلایا کہ مسیحا، نہ اُتریے\nدم ہے ابھی مجھ میں مرے آقا، نہ اُتریے\nتلواریں لیے گرد ہیں اعدا، نہ اُتریے\nسب فوج چڑھی آتی ہے مولا، نہ اُتریے\nاے وائے ستم صدر نشیں خاک نشیں ہو\nحسرت ہے کہ مر جاؤں تو خالی مری زیں ہو\n\nشہ نے کہا، تا چند مسافر سے مَحبّت\nوہ تو نے کیا، ہوتا ہے جو حقِ رفاقت\nبتلا تو سنبھلنے کی بھلا کون ہے صورت\nنہ ہاتھ میں، نہ پاؤں میں نہ قلب میں طاقت\nبہتر ہے کہ اتروں، نہیں تیورا کے گروں گا\nپھٹ جائیں گے سب زخم جو غش کھا کے گروں گا\n\nہے عصر کا ہنگام، مناسب ہے اترنا\nاس خاک پہ ہے شکر کا سجدہ ہمیں کرنا\nگو مرحل صعب ہے دنیا سے گزرنا\nسجدے میں کٹے سر کہ سعادت ہے یہ مرنا\nطاعت میں خدا کی نہیں صرفہ تن و سر کا\nذی حق ہیں ہمیں اس کے کہ ورثہ ہے پدر کا\n\nاترا یہ سخن کہہ کے وہ کونین کا والی\nخاتم سے نگیں گر گیا، زیں ہو گیا خالی\nاس دکھ میں نہ یاور تھے، نہ مولا کے موالی\nخود ٹیک کے تلوار کو سنبھلے شہِ عالی\nکپڑے تنِ پُر نور کے سب خوں میں بھرے تھے\nاک ہاتھ کو راہوار کی گردن پہ دھرے تھے\n\nمنہ یال پہ رکھ رکھ کے یہ فرماتے تھے ہر بار\nجا ڈیوڑھی پہ اے صاحبِ معراج کے راہوار\nاب ذبح کریں گے ہمیں اک دم میں ستمگار\nزینب سے یہ کہنا کہ سکینہ سے خبردار\nرہنا وہیں جب تک مرا سر تن سے جدا ہو\nلے جائیو بانو کو جدھر حکمِ خدا ہو\n\nیہ کہہ کے جو سرکا اسداللہ کا جایا\nاک تیر جبیں پر بنِ اشعث نے لگایا\nفریاد نے زہرا کی دو عالم کو ہلایا\nپیکانِ سہ پہلو عقبِ سر نکل آیا\nتڑپے نہ، زہے صبر امامِ دو جہاں کا\nسوفار نے بوسہ لیا سجدے کے نشاں کا\n\nحضرت نے جبیں سے ابھی کھینچا نہ تھا وہ تیر\nجو سر پہ لگی تیغِ بنِ مالکِ بے پیر\nابرو تک اتر کر جو اٹھی ظلم کی شمشیر\nسر تھام کے بس بیٹھ گئے خاک پہ شبّیر\nچلّائے ملک دیکھ کے خوں سبطِ نبی کا\nتھا حال یہی مسجدِ کوفہ میں علی کا\n\nبیٹھے جو سوئے قبلہ دو زانو شہِ بے پر\nجھکتے تھے کبھی غش میں اٹھاتے تھے کبھی سر\nتھے ذکرِ خدا میں کہ لگا تیر دہن پر\nیاقوت بنے ڈوب کے خوں میں لبِ اطہر\nبہہ آیا لہو تا بہ زنخدانِ مبارک\nٹھنڈے ہوئے دو گوہرِ دندانِ مبارک\n\nنیزے کا بنِ وہب نے پہلو پہ کیا وار\nکاندھے پہ چلی ساتھ زرارہ کی بھی تلوار\nناوک بنِ کامل کا کا کلیجے کے ہوا پار\nبازو میں در آیا تبرِ خولیِ خونخوار\nتلوار سے وقفہ نہ ملا چند نَفَس کا\nدم رک گیا نیزہ جو لگا ابنِ انَس کا\n\nتھرّا کے جھکے سجدۂ حق میں شہِ ابرار\nشورِ دہلِ فتح ہوا فوج میں اک بار\nخوش ہو کے پکارا پسرِ سعد جفا کار\nاے خولی و شیث و بنِ ذی الجوشنِ جرّار\nآخر ہے بس اب کام امامِ ازلی کا\nسر کاٹ لو سب مل کے حسین ابنِ علی کا\n\nلکھتا ہے یہ راوی کہ بپا ہو گیا محشر\nبارہ ستم ایجاد بڑھے کھینچ کے خنجر\nاک سیّدہ نکلی درِ خیمہ سے کھلے سر\nبرقع تھا، نہ مقنع تھا، نہ موزے تھے نہ چادر\nچلّائے لعیں خوف سے ہاتھ آنکھوں پہ دھر کے\nلو فاطمہ آتی ہے بچانے کو پسر کے\n\nہلتا تھا فلک، ہاتھوں سے جب پیٹتی تھی سر\nبجلی کی طرح کوندتے تھے کانوں کے گوہر\nفرماتی تھیں، فِضّہ جو اڑھا دیتی تھی مِعجَر\nفریادی ہوں، فریادی کو زیبا نہیں چادر\nسر ننگے یونہی جاؤں میں روضے پہ نبی کے\nپردہ تو گیا ساتھ حسین ابنِ علی کے\n\nاُس بھیڑ میں آ کر وہ ضعیفہ یہ پکاری\nاے سبطِ نبی، ابنِ علی، عاشقِ باری\nگھوڑا تو ہے کوتل، کدھر اتری ہے سواری\nبھیّا، بہن آئی ہے زیارت کو تمھاری\nمر جاؤں گی حضرت کو جو پانے کی نہیں میں\nبے آپ کے دیکھے ہوئے جانے کی نہیں میں\n\nاُس وقت شہِ دیں نے سنی زاریِ خواہر\nجس وقت کہ تھا حلقِ مبارک تہِ خنجر\nفرمایا اشارے سے کہ اے شمرِ ستم گر\nزینب نکل آئی ہے، ٹھہر جا ابھی دم بھر\nآخر تو سفر ہوتا ہے اس دارِ محن سے\nدو باتیں تو کر لینے دے بھائی کو بہن سے\n\nمنہ پھیر لیا شمر نے خنجر کو ہٹا کے\nدی شہ نے یہ زینب کو صدا اشک بہا کے\nتڑپاتی ہو بھائی کو بہن بلوے میں آ کے\nدیکھو گی کِسے، ہم تو ہیں پنجے میں قضا کے\nاٹھ سکتے نہیں جسم پہ تلواریں پڑی ہیں\nگھبراؤ نہ، امّاں مرے پہلو میں کھڑی ہیں\n\nجاؤ صفِ ماتم پہ کرو گریہ و زاری\nگھر سے نکل آئے نہ سکینہ مری پیاری\nفردوس سے آ پہنچی ہے نانا کی سواری\nبس اب نہ سنو گی بہن آواز ہماری\nرونا ہے تو رو لیجو مرے لاشے پہ آ کے\nہٹ جاؤ کہ سر کٹتا ہے سجدے میں خدا کے\n\nدوڑی یہ صدا سن کے ید اللہ کی جائی\nچلّائی کہ دیدار تو میں دیکھ لوں بھائی\nپر ہائے، بہن بھائی تلک آنے نہ پائی\nیاں ہو گئی سیّد کے تن و سر میں جدائی\nقاتل کو نہ گردن کو نہ شمشیر کو دیکھا\nپہنچیں تو سناں پر سرِ شبّیر کو دیکھا\n\nسر دیکھ کے بھائی کا وہ بے کس یہ پکاری\nدکھ پائی بہن آپ کی مظلومی کے واری\nخنجر سے یہ گردن کی رگیں کٹ گئیں ساری\nتم مر گئے پوچھے گا خبر کون ہماری\nآفت میں پھنسی آل رسولِ عَرَبی کی\nاب جائیں کہاں بیٹیاں زہرا و علی کی\n\nہے ہے، پسرِ صاحبِ معراج حُسینا\nپردیس میں بیووں کا لٹا راج حُسینا\nگویا کہ علی قتل ہوئے آج حُسینا\nہے ہے، کفن و گور کے محتاج حُسینا\nپرسا بھی ترا دینے کو آتا نہیں کوئی\nلاشا بھی زمیں پر سے اٹھاتا نہیں کوئی\n\nقربان بہن، اے مرے سرور، مرے سیّد\nمذبوحِ قفا کشت خنجر، مرے سیّد\nاے فاقہ کش و بیکس و بے پر، مرے سیّد\nپنجے میں ہے قاتل کے ترا سر، مرے سیّد\nدیتے ہو صدا کچھ، نہ بلاتے ہو بہن کو\nکس یاس سے تکتے چلے جاتے ہو بہن کو\n\nبھیّا، مرا کوئی نہیں، تم خوب ہو آگاہ\nاحمد ہیں، نہ زہرا، نہ حَسن ہیں نہ یداللہ\nڈھارس تھی بڑی آپ کی اے سیّدِ ذی جاہ\nچھوڑا مجھے جنگل میں یہ کیا قہر کیا، آہ\nچلتے ہوئے کچھ مجھ سے نہ فرما گئے بھائی\nبھینا کو نجف تک بھی نہ پہنچا گئے بھائی\n\nاے میرے شہید اے مرے ماں جائے برادر\nکس سے ترا لاشہ بہن اٹھوائے برادر\nکس طرح مرے دل کو قرار آئے برادر\nپانی بھی نہ قاتل نے دیا ہائے برادر\nانساں پہ ستم یہ کبھی انساں نہیں کرتا\nحیواں کو بھی پیاسا کوئی بے جاں نہیں کرتا\n\nخاموش انیس اب کہ ہے دل سینے میں بے چین\nلکھّے نہیں جاتے جو زینب نے کیے بین\nاب حق سے دعا مانگ کہ اے خالقِ کونین\nحاسد ہیں بہت، دل کو عطا کر مرے تو چین\nناحق ہے عداوت انھیں اس ہیچ مداں سے\nبے تیغ کٹے جاتے ہیں شمشیرِ زباں سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8_%DA%86%D9%85%D9%86%D9%90_%D9%86%D8%B8%D9%85_%DA%A9%D9%88_%DA%AF%D9%84%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%90_%D8%A7%D9%90%D8%B1%D9%85_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "یارب کوئی نقش مدعا بھی نہ رہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یا رب کوئی نقش مدعا بھی نہ رہے\nاور دل میں خیال ماسوا بھی نہ رہے\nرہ جائے تو صرف بے نشانی باقی\nجو وہم میں ہے سو وہ خدا بھی نہ رہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%D9%82%D8%B4_%D9%85%D8%AF%D8%B9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B1%DB%81%DB%92"} {"title": "یارب کہاں گیا ہے وو سرو شوخ رعنا", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یارب کہاں گیا ہے وو سرو شوخ رعنا\nہے چوب خشک جس بن میری نظر میں طوبیٰ\n\nدیدار دے شتابی جلنے کی تاب نیں ہے\nاس ہجر کی اگن سیں دوزخ کی آگ اولیٰ\n\nطوق گلوئے دل ہے زلف صنم کا ہر خم\nمشہور یہ مثل ہے یک سر ہزار سودا\n\nہے ختم یار جانی تیرے دہن کی تنگی\nکہنے کی بات نیں ہے باریک ہے معما\n\nاے گل بدن نظر کر داغ جگر کوں میرے\nگر آرزو ہے تجھ کوں گل زار کا تماشا\n\nمسکن ہوا ہے میرا جب سیں تری گلی میں\nاے گلعذار تب سیں جنت کی نیں تمنا\n\nہے اے سراجؔ ہر شب مہتاب رو کے غم میں\nآنسو کا میرے جھمکا جیوں خوشۂ ثریا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%D9%88_%D8%B3%D8%B1%D9%88_%D8%B4%D9%88%D8%AE_%D8%B1%D8%B9%D9%86%D8%A7"} {"title": "یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں\nاب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں\n\nایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دو\nجام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں\n\nمستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ\nجو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں\n\nیا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مے\nیا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں\n\nمعذور ہوں جو پاؤں مرا بے طرح پڑے\nتم سرگراں تو مجھ سے نہ ہو میں نشے میں ہوں\n\nبھاگی نماز جمعہ تو جاتی نہیں ہے کچھ\nچلتا ہوں میں بھی ٹک تو رہو میں نشے میں ہوں\n\nنازک مزاج آپ قیامت ہیں میرؔ جی\nجوں شیشہ میرے منہ نہ لگو میں نشے میں ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%81_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B4%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "یارو نہیں اتنا مجھے قاتل نے ستایا", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یارو نہیں اتنا مجھے قاتل نے ستایا\nجتنا کہ مرے دشمن جاں دل نے ستایا\n\nکچھ سرزنش کار کا شاکی وہ نہیں ہے\nمجنوں کو تو ہے صاحب محمل نے ستایا\n\nغنچہ کہوں یا درج گہر تیرے دہن کو\nکھلنا نہیں اس عقدۂ مشکل نے ستایا\n\nآرام سے سویا نہ کمر کا تری کشتہ\nمرقد میں بھی موران تہہ گل نے ستایا\n\nاس کا مجھے شب یاد دلایا رخ پر نور\nشکل اپنی دکھا کر مہ کامل نے ستایا\n\nمیرا دل سودا زدہ کرتا نہ کبھی غل\nاس کاکل پیچاں کے سلاسل نے ستایا\n\nافیوں کی کسی روز میں کھا جاؤں گا گولی\nبے وجہ رخ یار کے گر تل نے ستایا\n\nجب بوسہ میں مانگوں ہوں تو کیا کہتے ہو منہ پھیر\nایسا تو کسی بھی نہیں سائل نے ستایا\n\nہر جا متجلی ہے وہ بے پردہ ولیکن\nغفلت کے مجھے پردۂ حائل نے ستایا\n\nتھا ایک تو صیاد گرفتار قفس میں\nاور دوسرے آواز عنادل نے ستایا\n\nاے ہم سفراں پیش روی کی نہیں طاقت\nکیا کیجے ہمیں دورئ منزل نے ستایا\n\nپہلو میں نصیرؔ آہ نہیں ہے دل مضطر\nاس شعر غم آلودۂ بے دل نے ستایا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%AA%D9%84_%D9%86%DB%92_%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DB%8C%D8%A7"} {"title": "یارو کوئے یار کی باتیں کریں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یارو کوئے یار کی باتیں کریں\nپھر گل و گلزار کی باتیں کریں\n\nچاندنی میں اے دل اک اک پھول سے\nاپنے گل رخسار کی باتیں کریں\n\nآنکھوں آنکھوں میں لٹائے مے کدے\nدیدۂ سرشار کی باتیں کریں\n\nاب تو ملیے بس لڑائی ہو چکی\nاب تو چلئے پیار کی باتیں کریں\n\nپھر مہک اٹھے فضائے زندگی\nپھر گل و رخسار کی باتیں کریں\n\nمحشر انوار کر دیں بزم کو\nجلوۂ دیدار کی باتیں کریں\n\nاپنی آنکھوں سے بہائیں سیل اشک\nابر گوہربار کی باتیں کریں\n\nان کو الفت ہی سہی اغیار سے\nہم سے کیوں اغیار کی باتیں کریں\n\nاخترؔ اس رنگیں ادا سے رات بھر\nطالع بیدار کی باتیں کریں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤ", "poet_page": "مصنف:یوسف ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤ\nپیارو پھر فصل بہاراں ہے قریب آ جاؤ\n\nدور ہو کر بھی سنیں تم نے حکایات وفا\nقرب میں بھی وہی عنواں ہے قریب آ جاؤ\n\nہم محبت کے مسافر ہیں کہیں دیکھ نہ لیں\nدھات میں گردش دوراں ہے قریب آ جاؤ\n\nجان پیاری ہے کہ تم بھی ہو مری جان کے ساتھ\nغم جاں ہی غم جاناں ہے قریب آ جاؤ\n\nآج دنیا کو نہیں اپنے غموں سے فرصت\nآج مل بیٹھنا آساں ہے قریب آ جاؤ\n\nکس مروت پہ زمانے سے ڈریں دور رہیں\nآؤ اللہ نگہباں ہے قریب آ جاؤ\n\nمرے ہی پہلوئے سوزاں میں سکوں ممکن ہے\nچار سو گردش دوراں ہے قریب آ جاؤ\n\nجاؤ اب جاؤ کہ وہ عہد وفا ختم ہوا\nجب بھی دیکھو کہ پھر امکاں ہے قریب آ جاؤ\n\nمیں زمانے کی کڑی دھوپ کا مارا ہوں ظفرؔ\nتم کہاں ہو چمنستاں ہے قریب آ جاؤ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88_%DB%81%D8%B1_%D8%BA%D9%85_%D8%BA%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%A2_%D8%AC%D8%A7%D8%A4"} {"title": "یاروں کو کدورتیں ہیں اب تو ہم سے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یاروں کو کدورتیں ہیں اب تو ہم سے\nجس روز کہ ہم جائیں گے اس عالم سے\nاس روز کھلے گی صاف سب پر یہ بات\nاس بزم کی رونق تھی ہمارے دم سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D9%88_%DA%A9%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "یاروں کی ہم سے دل شکنی ہو سکے کہاں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاروں کی ہم سے دل شکنی ہو سکے کہاں\nیاں پاس ہے نہ خاطر اغیار توڑیئے\n\nہم جور چشم یار سے دم مارتے نہیں\nیعنی روا ہے کب دل بیمار توڑیئے\n\nیاں درد سر خمار سے ہے واں دکان بند\nٹکرا کے سر کو اب در خمار توڑیئے\n\nٹکراؤں واں جو سر تو وہ کہتا ہے کیا مجھے\nصاحب نہ مجھ غریب کی دیوار توڑیئے\n\nدم توڑنا ہے فرقت جاناں میں اپنا کام\nکچھ کوہ کن نہیں ہیں جو کہسار توڑیئے\n\nناسخؔ بقول افسح ہندوستاں کبھی\nزاہد کا دل نہ خانۂ خمار توڑیئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B4%DA%A9%D9%86%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%B3%DA%A9%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA"} {"title": "یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھا", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھا\nاب وہ چکناچور پڑا ہے جس شیشے میں بال نہ تھا\n\nانساں آ کر نئی ڈگر پر کھو بیٹھا ہے ہوش و حواس\nپہلے بھی بے ہوش تھا لیکن ایسا بھی بد حال نہ تھا\n\nگلشن گلشن ویرانی ہے جنگل جنگل سناٹا\nہائے وہ دن جب ہر منزل میں شورش غم کا کال نہ تھا\n\nکیوں رے دوانے شہر یہی ہے اک اک پل بھاری ہے جہاں\nاپنے ویرانے میں اے دل جی کا یہ جنجال نہ تھا\n\nہم جو لٹے اس شہر میں جا کر دکھ لوگوں کو کیوں پہنچا\nاپنی نظر تھی اپنا دل تھا کوئی پرایا مال نہ تھا\n\nتیری خاک پہ روشن روشن اخترؔ جیسے ستارے تھے\nتجھ سا اے مہران کی وادی کوئی بلند اقبال نہ تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D8%B5_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%B1%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یاس و امید و شادی و غم نے دھوم اٹھائی سینہ میں", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "یاس و امید و شادی و غم نے دھوم اٹھائی سینہ میں\nخوب مجھے ہے آج دھما دھم مار کٹائی سینہ میں\n\nدید کیا جو وادئ مجنوں ہم نے دھن میں وحشت کے\nشکل مجسم ہو کے جنوں کی آن سمائی سینہ میں\n\nشیخ و برہمن دیر و حرم میں ڈھونڈھتے ہو کیا لا حاصل\nموند کے آنکھیں دیکھو تو ہے ساری خدائی سینہ میں\n\nقہر کیا یہ تم نے صاحب آنکھ لڑانا آفت تھا\nجھٹ پٹ دل کو پھونک دیا اور آگ لگائی سینہ میں\n\nحضرت دل تو کب کے سدھارے خوب جو ڈھونڈا انشاؔ نے\nایک دھواں سا آہ کا اٹھا خاک نہ پائی سینہ میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B3_%D9%88_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%85_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یاس و حسرت درد و غم ان سب کی منزل ایک ہے", "poet_page": "مصنف:ناصری لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نذر احباب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "یاس و حسرت درد و غم ان سب کی منزل ایک ہے\nبیکسی میں آفتیں اتنی ہیں اور دل ایک ہے\n\nوحشت قیس اور میرے غم کا حاصل ایک ہے\nواقعے یکسر جدا ہیں حسرت دل ایک ہے\n\nحالت قلب و جگر دیکھی یہ تیرے ہجر میں\nجان سے اک جا چکا ہے نیم بسمل ایک ہے\n\nبزم جاناں میں بہت جاتا تھا دل یادش بخیر\nیعنی اس گم گشتہ کے ملنے کی محفل ایک ہے\n\nزندگی کیوں ساتھ دے جب دور تم ہم سے ہوئے\nجانکنی کا حال اور فرقت کی منزل ایک ہے\n\nاب سوا کنج لحد کے عافیت ممکن نہیں\nناصریؔ اپنے لئے راحت کی منزل ایک ہے", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B3_%D9%88_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D9%88_%D8%BA%D9%85_%D8%A7%D9%86_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DB%81%DB%92"} {"title": "یاس ہے حسرت ہے غم ہے اور شب دیجور ہے", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاس ہے حسرت ہے غم ہے اور شب دیجور ہے\nاتنے ساتھی ہیں مگر تنہا دل رنجور ہے\n\nتیرا جانا تھا کہ غم خانے پہ وحشت چھا گئی\nمیں یہ سمجھا تھا مرے گھر سے بیاباں دور ہے\n\nشب کی خاموشی میں ہے تیرا تصور تیری یاد\nہائے کیا سامان تسکین دل رنجور ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%D8%B3_%DB%81%DB%92_%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%BA%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B4%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%D8%AC%D9%88%D8%B1_%DB%81%DB%92"} {"title": "یاں اس گلی سا کب کوئی بستاں ہے دوسرا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاں اس گلی سا کب کوئی بستاں ہے دوسرا\nہاں کچھ جو ہے تو روضۂ رضواں ہے دوسرا\n\nہر دم یہ دو عدو ہیں پئے جان ناتواں\nاک درد عشق ہے غم ہجراں ہے دوسرا\n\nہے طرفہ جان و دل کا دم اضطراب حال\nروکیں جو ایک کو تو گریزاں ہے دوسرا\n\nآئینہ جب وہ دیکھے تو کہتی ہیں چتونیں\nسچ ہے کہ ہم سا کب کوئی انساں ہے دوسرا\n\nوہ رک کے اٹھ چلا تو اسے کیونکہ روکئے\nاک دست ہے بہ دل بہ گریباں ہے دوسرا\n\nاس گھر کے در پہ جب ہوئے ہم خاک تب کھلا\nدروازہ آنے جانے کو اور یاں ہے دوسرا\n\nکیا دل جگر کی اس کی گلی میں کہیں خبر\nاک مر گیا اک آن کا مہماں ہے دوسرا\n\nرہیے ہمارے دل میں کہ لائق تمہارے کب\nایسا مکاں بہ کشور دوراں ہے دوسرا\n\nٹک سنیو زمزمے مرے دل کے کہ باغ میں\nکب اس طرح کا مرغ خوش الحاں ہے دوسرا\n\nہے طرفہ قسمت اپنی کہ جس جا ہو ایک دوست\nواں دیکھیے تو جان کا خواہاں ہے دوسرا\n\nیعنی نشست ٹھہری کل اس در پہ تھی سو ہائے\nدیکھا جو آج جا کے تو درباں ہے دوسرا\n\nیکتا ہے دو جہان میں جرأتؔ علی کی ذات\nایسا نہ کوئی یاں نہ کوئی واں ہے دوسرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D8%B3_%DA%AF%D9%84%DB%8C_%D8%B3%D8%A7_%DA%A9%D8%A8_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%D8%A7"} {"title": "یاں تلک کے ہے ترے ہجر میں فریاد کہ بس", "poet_page": "مصنف:تاباں عبد الحی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاں تلک کے ہے ترے ہجر میں فریاد کہ بس\nنہ ہوا تو بھی کبھی ہائے یہ ارشاد کہ بس\n\nایک بلبل بھی چمن میں نہ رہی اب کی فصل\nظلم ایسا ہی کیا تو نے اے صیاد کہ بس\n\nبے ستوں کھود کے سر پھوڑ دیا جی اپنا\nکام ایسا ہی ہوا تجھ سے اے فرہاد کہ بس\n\nدل کی حسرت نہ رہی دل میں مرے کچھ باقی\nایک ہی تیغ لگا ایسی اے جلاد کہ بس\n\nعشق میں اس کے بگولے کہ ترا اے تاباںؔ\nخاک اپنی کو دیا یاں تئیں برباد کہ بس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%84%DA%A9_%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%DA%A9%DB%81_%D8%A8%D8%B3"} {"title": "یاں تو کچھ اپنی خوشی سے نہیں ہم آئے ہوئے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاں تو کچھ اپنی خوشی سے نہیں ہم آئے ہوئے\nاک زبردست کے ہیں کھینچ کے بلوائے ہوئے\n\nآتے ہی روئے تو آگے کو نہ روویں کیوں کر\nہم تو ہیں روز تولد ہی کے دکھ پائے ہوئے\n\nدیکھ کر غیر کے ساتھ اس کو کہا یوں ہم نے\nہو تو تم چاند پر اس وقت ہو گہنائے ہوئے\n\nکل جو گلشن میں گئے ہم تو عجب شکل سے آہ\nہجر کے مارے ہوئے جی سے بتنگ آئے ہوئے\n\nگل جو تازے تھے کھلے کہتے تھے شبنم سے یہ بات\nدیکھ کر ان کو جو وہ پھول تھے کمہلائے ہوئے\n\nآج ہیں شاخ پہ جس طور سے پژمردہ نظیرؔ\nکل اسی طرح سے ہم ہوویں گے مرجھائے ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C_%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "یاں خاک کا بستر ہے، گلے میں کفنی ہے", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاں خاک کا بستر ہے، گلے میں کفنی ہے\nواں ہاتھ میں آئینہ ہے، گل پیرہنی ہے\n\nہاتھوں سے ہمیں عشق کے دن رات نہیں چین\nفریاد و فغاں دن کو ہے شب نعرہ زنی ہے\n\nہشیار ہو غفلت سے تو غافل نہ ہو اے دل\nاپنی تو نظر میں یہ جگہ بے وطنی ہے\n\nکچھ کہہ نہیں سکتا ہوں زباں سے کہ ذرا دیکھ\nکیا جائے ہے جس جائے نہ کچھ دم زدنی ہے\n\nمژگاں پہ مرے لخت جگر ہی نہیں یارو\nاس تار سے وہ رشتہ عقیق یمنی ہے\n\nلکھ اور غزل قافیے کو پھیر ظفرؔ تو\nاب طبع کی دریا کی تری موج زنی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%B1_%DB%81%DB%92%D8%8C_%DA%AF%D9%84%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%81%D9%86%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "یاں زخمیٔ نگاہ کے جینے پہ حرف ہے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "یاں زخمیٔ نگاہ کے جینے پہ حرف ہے\nہے دل پر اپنے زخم کہ سینے پہ حرف ہے\n\nزر خرچیاں کہاں تلک اپنی بیاں کریں\nقارون کی بھی یاں تو خزینے پہ حرف ہے\n\nملتے تھے چوتھے پانچویں وہ وقت تو گیا\nاب یہ کہ چار پانچ مہینے پہ حرف ہے\n\nکیا دخل وہ جو ہاتھ سے میرے پئیں شراب\nواں کہتے کہتے بات بھی پینے پہ حرف ہے\n\nطوفان اشک نوحؔ علیہ لسلام سے\nبولا کہ آپ کے بھی سفینے پہ حرف ہے\n\nنا چیز آپ جانتے ہیں اس قدر مجھے\nالفت تو جاوے بھاڑ میں کینے پہ حرف ہے\n\nناصح جگر کے زخم کو جراح کیا سئے\nیاں سوزن مسیح کے سینے پہ حرف ہے\n\nیاں ہر بن مسام میں خوں نابہ ہے رواں\nنکلے تو خوں ہی نکلے پسینے پہ حرف ہے\n\nانشاؔ کی مہر پڑھیے بھلا آشنا ہوا\nکندیدہ کوئی اس کے نگینے پہ حرف ہے\n\nاب دھیان کر کے دیکھیے کیا ہے گٹھا ہوا\nاس کا ہر ایک اپنے قرینے پہ حرف ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B2%D8%AE%D9%85%DB%8C%D9%94_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%BE%DB%81_%D8%AD%D8%B1%D9%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "یاں سدا نیش بلا وقف جگر ریشی ہے", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاں سدا نیش بلا وقف جگر ریشی ہے\nکیجے کیا جان مری عالم درویشی ہے\n\nاپنے مذہب میں قرابت نہیں اجداد کی شرط\nتجھ سے نسبت ہے جسے اس سے ہمیں خویشی ہے\n\nمجھ سے اک خستہ سے ناحق یہ شب و روز خلش\nاے جفا پیشہ یہ کیا نحو ستم کیشی ہے\n\nبات ہے شہرہ نصیبی کی نرالی ورنہ\nمجھ پہ کس چیز میں مجنوں کے تئیں بیشی ہے\n\nگوہر اشک کو نشمردہ تو قائمؔ نہ بکھیر\nآدمی ہے و میاں عاقبت اندیشی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%8C%D8%B4_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D9%88%D9%82%D9%81_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%B1%DB%8C%D8%B4%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "یاں سرکشاں جو صاحب تاج و لوا ہوئے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاں سرکشاں جو صاحب تاج و لوا ہوئے\nپامال ہو گئے تو نہ جانا کہ کیا ہوئے\n\nدیکھی نہ ایک چشمک گل بھی چمن میں آہ\nہم آخر بہار قفس سے رہا ہوئے\n\nپچھتاؤ گے بہت جو گئے ہم جہاں سے\nآدم کی قدر ہوتی ہے ظاہر جدا ہوئے\n\nتجھ بن دماغ صحبت اہل چمن نہ تھا\nگل وا ہوئے ہزار ولے ہم نہ وا ہوئے\n\nسر دے کے میرؔ ہم نے فراغت کی عشق میں\nذمے ہمارے بوجھ تھا بارے ادا ہوئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8_%D8%AA%D8%A7%D8%AC_%D9%88_%D9%84%D9%88%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92"} {"title": "یاں سے دیں گے نہ تم کو جانے آج", "poet_page": "مصنف:شاہ نصیر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاں سے دیں گے نہ تم کو جانے آج\nلاکھ اب تم کرو بہانے آج\n\nبن لیے آج تیرا بوسۂ لب\nکب بھلا دوں گا تجھ کو جانے آج\n\nبس یہ مجھ سے نہ تم کرو کل کل\nاتنی ہے کل کہاں کہ جانے آج\n\nداغ جوں لالہ کھا چمن میں نسیم\nمیں بھی آیا ہوں گل کھلانے آج\n\nلگ گیا خاک ہو کے جسم نصیرؔ\nکوچۂ یار میں ٹھکانے آج", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "یاں سے پیغام جو لے کر گئے معقول گئے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاں سے پیغام جو لے کر گئے معقول گئے\nاس کی باتوں میں لگے ایسے کہ سب بھول گئے\n\nتو تو معشوق ہے تجھ کو تو بہت عاشق ہیں\nغم انہوں کا ہے جو وہ جان سے نرمول گئے\n\nبے کلی اپنی کا اظہار تو کرتا نہیں میں\nگل رخاں دیکھ کے تم مجھ کو عبث بھول گئے\n\nکیونکہ کھٹکا نہ رہے سب کو ادھر جانے کا\nآہ کیا کیا نہ اسی خاک میں مقبول گئے\n\nاپنی نیکی و بدی چھوڑ گئے دنیا میں\nگرچہ دونوں نہ رہے قاتل و مقتول گئے\n\nزلف میں اس کی بہت رہ کے نہ اترائیو دل\nمجھ سے کتنے ہی مری جان یہاں جھول گئے\n\nپہلی باتوں کا محبت کی حسنؔ ذکر نہ کر\nبس وہ دستور گئے اور وہ معمول گئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85_%D8%AC%D9%88_%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%B1_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%B9%D9%82%D9%88%D9%84_%DA%AF%D8%A6%DB%92"} {"title": "یاں نفس کی شوخی سے ہے مجنوں لیلیٰ", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یاں نفس کی شوخی سے ہے مجنوں لیلیٰ\nقانع ہے تو مت بہر نفی کہنا لا\nلا شرم ذرا قلقؔ دعا سے پہلے\nہاتھوں کا اٹھانا بھی تو ہے صورت لا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%86%D9%81%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D9%88%D8%AE%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%D9%B0"} {"title": "یاں چلا آئے جو وہ سیم بدن آپ سے آپ", "poet_page": "مصنف:زین العابدین خاں عارف", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاں چلا آئے جو وہ سیم بدن آپ سے آپ\nدفع ہو دل سے مرے رنج و محن آپ سے آپ\n\nمت رہو چیں بہ جبیں اس سے کہ کوئی دن میں\nاس سے بے ساختہ وہ دے گی شکن آپ سے آپ\n\nکل اسے دیکھ کے بھر آئی جو چھاتی میری\nبھر گئے سینے کے سب زخم کہن آپ سے آپ\n\nاس کے رخسار کو کب دل سے بھلایا ہم نے\nرک گیا ہم سے وہ کچھ رشک چمن آپ سے آپ\n\nاثر جذب یوں غربت میں دکھاؤں عارف\nآ کے موجود ہو وہ ملک وطن آپ سے آپ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%86%D9%84%D8%A7_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D9%88%DB%81_%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D8%A8%D8%AF%D9%86_%D8%A2%D9%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D9%BE"} {"title": "یاں کسے غم ہے جو گریہ نے اثر چھوڑ دیا", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاں کسے غم ہے جو گریہ نے اثر چھوڑ دیا\nہم نے تو شغل ہی اے دیدۂ تر چھوڑ دیا\n\nدل بے تاب کا کچھ دھیان نہ آیا اس دم\nہائے کیوں ہم نے اسے وقت سحر چھوڑ دیا\n\nکیا ستائے نہیں جاتے ہیں ولیکن چپ ہیں\nشکوہ کرنا ترا اے رشک قمر چھوڑ دیا\n\nدم رخصت کبھی کچھ دل کی تمنا نہ کہی\nدامن یار ادھر پکڑا ادھر چھوڑ دیا\n\nدل کی الفت نہ سہی پیار کی باتیں نہ سہی\nدیکھنا بھی تو ادھر ایک نظر چھوڑ دیا\n\nغیر کے دھوکے میں خط لے کے مرا قاصد سے\nپڑھنے کو پڑھ تو لیا نام مگر چھوڑ دیا\n\nغیر سے وعدہ و اقرار ہوئے کیا کیا کچھ\nمیرے خوش کرنے کو اک فقرہ ادھر چھوڑ دیا\n\nمیں نہ کہتا تھا کہ بہکائیں گے تم کو دشمن\nتم نے کس واسطے آنا مرے گھر چھوڑ دیا\n\nمنہ سے جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھا دیں گے تمہیں\nبے قراری نے ہمیں چین پہ گر چھوڑ دیا\n\nحور بھی سامنے اب آئے تو کب دیکھیں نظامؔ\nبرسیں گزریں ہمیں وہ شوق نظر چھوڑ دیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%D8%B1%DB%8C%DB%81_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "یاں کفر سے غرض ہے نہ اسلام سے غرض", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "یاں کفر سے غرض ہے نہ اسلام سے غرض\nبس ہے اگر غرض تو ترے نام سے غرض\n\nعیش و نشاط زیست ہے سب آپ سے حصول\nیاں شیشے سے غرض ہے نہ ہے جام سے غرض\n\nتم پاس ہو اگر تو برابر ہے رات دن\nکچھ صبح سے غرض نہ ہمیں شام سے غرض\n\nدل پھیر دیجئے نہ بگڑیے حضور آپ\nیاں بوسے سے غرض ہے نہ دشنام سے غرض\n\nپڑ رہنے بھر کو دیجئے در پر ہمیں جگہ\nراحت سے کچھ غرض ہے نہ آرام سے غرض\n\nآنکھیں دلا ملیں ہمیں رونے کے واسطے\nناکامیوں سے کام نہ ہے کام سے غرض\n\nانجمؔ کا شعر کہنے سے بکنا مراد ہے\nتحسیں سے کچھ غرض ہے نہ الزام سے غرض", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D9%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%B1%D8%B6_%DB%81%DB%92_%D9%86%DB%81_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%B1%D8%B6"} {"title": "یاں کے آنے میں نہیں ان کو جو تمکیں کا خیال", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاں کے آنے میں نہیں ان کو جو تمکیں کا خیال\nغالباً کچھ تو ہوا ہے مری تسکیں کا خیال\n\nکفِ افسوس مَلے سے بھی پڑے ہاتھ میں نقش\nبس کہ ہے دل میں مرے دستِ نگاریں کا خیال\n\nگو مجھے عاشقِ مفلس وہ کہیں طعنے سے\nتو بھی کیوں کر نہ رکھوں ساعدِ سیمیں کا خیال\n\nتعزیت کو مری وہ آئے تو کیا ذلت ہے\nاہلِ ماتم کو نہیں بزم کی تزئیں کا خیال\n\nکیوں نہ ہو دستِ مژہ ماتمیوں کا رنگیں\nمرتے دم تھا مجھے اس پنجۂ رنگیں کا خیال\n\nسخنِ عشق ہے پتھر کی لکیر اے پرویز\nدلِ فرہاد سے کیوں کر مٹے شیریں کا خیال\n\nکیا مسلمان ہیں ہم شیفتہ سبحان اللہ\nدل سے جاتا نہیں دم بھر بتِ بے دیں کا خیال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D9%88_%D8%AA%D9%85%DA%A9%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84"} {"title": "یاں ہم کو جس نے مارا معلوم ہو رہے گا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاں ہم کو جس نے مارا معلوم ہو رہے گا\nمحشر میں خوں ہمارا معلوم ہو رہے گا\n\nگو پھول پھول کر اب تو دیکھتی ہے بلبل\nگلشن کا پر نظارا معلوم ہو رہے گا\n\nجب بحر غم میں ڈوبا دے چھوڑ دست و پا کو\nآخر تجھے کنارا معلوم ہو رہے گا\n\nاے صبر دم بہ دم اب درد و الم فزوں ہے\nجتنا ہے دل کا یارا معلوم ہو رہے گا\n\nاے آفتاب محشر کھولوں ہوں داغ دل کا\nچمکا اگر یہ تارا معلوم ہو رہے گا\n\nصد شعر عاشقوں کا ہونے لگا وفور اب\nسب حوصلہ تمہارا معلوم ہو رہے گا\n\nنقش قدم سے آخر تیری گلی میں پیارے\nجس کا ہوا گزارا معلوم ہو رہے گا\n\nافسوس راز دل کا جاسوس سن گئے ہیں\nقصہ اب اس کو سارا معلوم ہو رہے گا\n\nپوشیدہ گو ہے تجھ پر احوال میرے دل کا\nہے یہ تو آشکارا معلوم ہو رہے گا\n\nناچار کو بہ کو اب تحقیق کرنے پھریے\nکچھ درد دل کا چارا معلوم ہو رہے گا\n\nپنہاں ہے اب تو لیکن مرنے کے بعد جرأتؔ\nدرد دروں ہمارا معلوم ہو رہے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DB%81%D9%88_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "یاں ہم کو دیا کیا جو وہاں پر ہو نگاہ", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یاں ہم کو دیا کیا جو وہاں پر ہو نگاہ\nطاعت سے کچھ امید نہ کچھ خوف گناہ\nکر فضل ہی اپنا کہ عدالت کیسی\nآپ ہی تو مدعی ہے آپ ہی ہے گواہ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%85_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81"} {"title": "یاں ہوش سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یاں ہوش سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتا\nاس بزم میں ہشیار ہوا بھی نہیں جاتا\n\nکہتے ہو کہ ہم وعدۂ پرسش نہیں کرتے\nیہ سن کے تو بیمار ہوا بھی نہیں جاتا\n\nدشوارئ انکار سے طالب نہیں ڈرتے\nیوں سہل تو اقرار ہوا بھی نہیں جاتا\n\nآتے ہیں عیادت کو تو کرتے ہیں نصیحت\nاحباب سے غم خوار ہوا بھی نہیں جاتا\n\nجاتے ہوئے کھاتے ہو مری جان کی قسمیں\nاب جان سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتا\n\nغم کیا ہے اگر منزل جاناں ہے بہت دور\nکیا خاک رہ یار ہوا بھی نہیں جاتا\n\nدیکھا نہ گیا اس سے تڑپتے ہوئے دل کو\nظالم سے جفاکار ہوا بھی نہیں جاتا\n\nیہ طرفہ ستم ہے کہ ستم بھی ہے کرم بھی\nاب خوگر آزار ہوا بھی نہیں جاتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7"} {"title": "یتیم شہزادہ کی عید", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "اسی ۱۳۳۲ ہجری کی عید الفطر کا ذکر ہے۔ دہلی میں ۲۹ کا چاند نظر نہ آیا۔ درزی خوش تھے کہ ان کو ایک دن کام کرنے کی مہلت مل گئی۔ جوتے والوں کو بھی خوشی تھی کہ ایک روز کی بکری بڑھ گئی۔ مگر مسلمانوں کے ایک غریب محلہ میں تیموریہ خاندان کا ایک گھرانہ اس دن بہت غمگین تھا۔ یہ لوگ عصر سے پہلے اپنے گھر کے وارث میرزا دلدار شاہ کو دفن کر کے آئے تھے۔\n\nدلدار شاہ دس دن سے بیمار تھے۔ ان کو پانچ روپیہ ماہوار پنشن ملتی تھی۔ گھر میں ان کی بیوی اور یہ خود کناری بنتے تھے جس میں ان کو اتنی معقول آمدنی تھے کہ خوب آرام سے بسر اوقات کرتے تھے۔ ان کے چار بچے تھے۔ تین لڑکیاں اور ایک لڑکا۔ دو لڑکیوں کی شادیاں ہوگئی تھیں۔ ایک ڈیڑھ سال کی لڑکی گود میں تھی اور ایک لڑکا دس برس کا تھا۔ دلدار شاہ اس لڑکے کو بہت چاہتے تھے۔ بیگم نے بہت چاہا کہ لڑکا مکتب میں جائے مگر دلدار شاہ کو بچہ اس قدر لاڈلا تھا کہ انہوں نے ایک دن اس کو مکتب نہ بھیجا۔ لڑکا سارا دن گلیوں میں آوارہ پھرتا تھا۔ زبان پر گالیاں اس قدر چڑھ گئی تھیں کہ بات بات میں مغلظات بکتا تھا اور باوا جا ن اس کی بھولی بھولی باتوں سے خوش ہوتے تھے۔\n\nمیرزا دلدار شاہ بہادر شاہ بادشاہ کے قریبی رشتہ دار تھے۔ مرتے وقت ان کی عمر ۶۵ برس کی ہوگی، کیونکہ جب یہ لڑکا ان کے ہاں پیدا ہوا تو ان کی عمر ۵۵ بر س کی تھی۔ بڑھاپے کی اولاد سب کو پیاری ہوتی ہے، خاص کر بیٹا۔ میرزا دلدار جتنی محبت کرتے، تھوڑی تھی۔ ایک دن ان کے ایک دوست نے کہا، ’’صاحب عالم! بچہ کے لکھنے پڑھنے کی یہی عمر ہے۔ اب نہ پڑھے گا تو کب پڑھے گا۔ لاڈ پیار بھی ایک حد تک اچھا ہوتا ہے۔ آپ اس کے حق میں کانٹے بوتے ہیں۔ خدا آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔ ایک دن سب کو مرنا ہے۔ خدا نخواستہ آپ کی آنکھیں بند ہوگئیں تو اس معصوم کا کہیں ٹھکانا نہیں رہے گا۔ لکھ پڑھ لے گا تو دو روٹیاں کما کھائے گا۔ اس زمانہ میں شریفوں کی گذران بڑی دشوار ہوگئی ہے۔ کچھ آئندہ کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کو غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑے اور بزرگوں کی ناک کٹے۔‘‘\n\nمیرزا دلدار شاہ اس ہمدردی سے بگڑ گئے اور بولے، ’’آپ میرے مرنے کی بد شگونی کرتے ہیں۔ ابھی میری کون سی ایسی عمر ہوگئی ہے۔ لوگ تو سو برس تک زندہ رہتے ہیں۔ رہا بچے کا پڑھانا، سو میرے نزدیک تو اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ بڑے بڑے بی اے، ایم اے پاس مارے مارے پھرتے ہیں اور دو کوڑی کو کوئی نہیں پوچھتا۔ میرا بچہ پہلے ہی دھان پان ہے۔ آئے دن کا مرضین ہے۔ میرا دل گوارا نہیں کرتا کہ ظالم استادوں کے حوالے کر کے اس کی نازک ہڈیوں کو قمچیوں کا نشانہ بناؤں۔ جب تک میرے دم میں دم میں دم ہے، عیش کراؤں گا۔ میں نہ رہوں گا تو خدا رازق ہے۔ وہ چیونٹی تک کو کھانا دیتا ہے۔ پتھر کے کیڑے کو رزق پہنچاتا ہے۔ آدمی کے بچہ کو کہیں بھوکا مارے گا؟ میاں ہم نے زمانہ کا بڑا گرم و سر درنگ دیکھا ہے۔ ہمارے ماں باپ نے بھی ہم کو نہ پڑھایا تو کیا ہم بھوکے مرتے ہیں۔‘‘\n\nنصیحت کرنے والے بچارے یہ جواب سن کر چپ ہوگئے اور دل ہی دل میں پچھتا ئے کہ میں نے ناحق ان سے درد مندی کی بات کہی، لیکن انہیں خیال آیا کہ حق بات کہنے سے چپکا رہنا گناہ ہے۔ الساکت عن الحق شیطان اخرس یعنی سچی بات کہنے سے خاموش رہنے والا گونگا شیطان ہے۔ اس لیے انہوں نے پھر کہا کہ، ’’جناب! آپ ناراض نہ ہوں، میں خدانخواستہ آپ کا مرنا نہیں چاہتا۔ میں نے تو ایک دوراندیشی کی بات کہی تھی۔ آپ کو ناگوار گذری تو معاف فرمائیے، مگر یہ تو خیال فرمالیجئے کہ آپ کے بچپن میں اورحالت تھی اور آج کل اور زمانہ ہے۔ اس وقت قلعہ آباد تھا۔ جہاں پناہ ظل سبحانی بہادر شاہ حضرت کا سایہ سر پر تھا۔ ہر بات سے بے فکری تھی، لیکن آج تو کچھ بھی نہیں۔ نہ بادشاہی ہے نہ امیری ہے۔ ہر مسلمان کے گھر میں گدائی اور فقیری ہے۔ اب تو جو جو ہنر مندی سیکھے گا اور اپنی روٹی اپنے بازو سے کمائے گا، وہی لالوں کا لال بنے گا، ورنہ ذلت و خواری کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔‘‘\n\nدلدار شاہ نے کہا، ’’ہاں یہ سچ ہے۔ میں اس کو سمجھتا ہوں مگر آخر ہماری بھی تو اتنی عمر اسی بربادی کے زمانے میں بسر ہوگئی۔ سرکار نے پانچ روپیہ کی جو پنشن مقرر کی ہے۔ تم جانتے ہو کہ اس میں ہمارے کَے وقت نکلتے ہوں گے۔ آٹھ آنے روز تو بچے کا خرچ ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی روپیہ ڈیڑھ روپیہ کی روز کناری بنتے ہیں اور مزے سے گزر اوقات کرتے ہیں۔‘‘\n\nیہ باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک دوسرے صاحب تشریف لائے اور انہوں نے کہا، ’’آسٹریا کے بادشاہ کا ولی عہد مارا گیا۔ جب بادشاہ کو اس کی خبر پہنچی تو وہ بے قرار ہو گیا اور ہائے کا نعرہ مار کر کہا، ظالموں نے سب کچھ لوٹ لیا، میرے لیے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ میرزا دلدار شاہ یہ سن کر ہنسنے لگے اور بولے، ’’بھئی یہ اچھی بہادری ہے۔ بیٹے کے ناگہانی مرنے سے ایسا گھبرا گئے۔ میاں! جب بہادر شاہ حضرت کے صاحب زادے میرزا ابو بکر وغیرہ گولی سے مارے گئے اور ان کے سر کاٹ کر سامنے لائے تو بادشاہ نے خوان میں کٹا ہوا سر دیکھ کر نہایت بے پروائی سے فرمایا، الحمد للہ! سرخ رو ہو کر سامنے آیا۔ مرد لوگ اسی دن کے لیے بچے پالتے ہیں۔‘‘\n\nجو صاحب خبر لائے تھے، وہ بولے، ’’کیوں جناب! غدر میں آپ کی عمر کیا ہوگی؟‘‘ میرزا دلدار شاہ نے کہا، ’’کوئی چودہ پندرہ برس کی۔ مجھے سب واقعات اچھی طرح یاد ہیں۔ باوا جان ہم کو لے کر غازی آباد جا رہے تھے کہ ہینڈن ندی پر ہم کو فوج نے پکڑ لیا۔ والدہ اور میری چھوٹی بہنیں چیخیں مار کر رونے لگیں۔ والد نے ان کو منع کیا اور آنکھ بچا کر ایک سپاہی کی تلوار اٹھا لی۔ تلوار ہاتھ میں لینی تھی کہ سپاہی چاروں طرف سے ان پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے دو چار کو زخمی کیا مگر سنگینوں اور تلواروں کے اتنے وار ان پر ہوئے کہ بچارے قیمہ قیمہ ہو کر گر پڑے اور شہید ہو گئے۔\n\nان کی شہادت کے بعد سپاہیوں نے میری بہن اور ماں کے کانوں کو نوچ لیا اورجو کچھ ان کے پاس تھا، چھین کر چلتے ہوئے۔ مجھ کو انہوں نے قید کرکے ساتھ لے لیا۔ جس وقت میں والدہ سے جدا ہوا ہوں، ان کی آہ و زاری سے آسمان ہلا جاتا تھا۔ وہ کلیجہ کو تھامے ہوئے چیختی تھیں اور کہتی تھیں، ارے میرے لال کو چھوڑ دو، تم نے میرے سرتاج کو خاک میں سلا دیا، اس یتیم پر تو رحم کرو۔ میں رنڈیا کس کے سہارے رنڈاپا کاٹوں گی۔ یا اللہ میرا کلیجہ پھٹا جاتا ہےمیرا دلدار کہاں جاتا ہے۔ کوئی اکبر و شاہجہاں کو قبر سے بلائے۔ ان کے گھرانہ کی دکھیا کی بپتا سنائے۔ دیکھو میرے دل کے ٹکڑے کو مٹھی میں مسلے دیتے ہیں۔ ارے کوئی آؤ، میری گودیوں کا پالا مجھ کو دلواؤ۔\n\nچھوٹی بہن آکا بھائی آکا بھائی کہتی ہوئی میری طرف دوڑی مگر سپاہی گھوڑوں پر سوار ہو کر چل دیے اور مجھ کو باگ ڈورسے باندھ لیا۔ گھوڑے دوڑتے تھے تو میں بھی دوڑتا تھا، ٹھوکریں کھاتا تھا، پاؤں لہو لہان ہو گئے تھے۔ دل دھڑکتا تھا۔ دم اکھڑا جاتا تھا۔‘‘\n\nپوچھا، ’’میرزا یہ بات رہ گئی کہ پھر تمہاری والدہ اور بہن کا کیا حال ہوا؟‘‘ میرزا نے کہا، ’’آج تک ان کا پتہ نہیں۔ خبر نہیں ان پر کیا گزری اور وہ کہاں گئیں۔ مجھ کو سپاہی اپنے ہمراہ دہلی لائے اور یہاں سے اندور لے گئے۔ مجھ سے وہ گھوڑے ملواتے تھے اور گھوڑوں کی لید صاف کراتے تھے۔ چند روز کے بعد مجھ کو چھوڑ دیا گیا اور میں نے اندور میں ایک ٹھاکر کے ہاں دربانی کی نوکری کر لی۔ کئی برس اس میں گزارے۔ پھر دہلی میں آیا اور سرکار میں درخواست دی۔ اس کی مہربانی سے میری بھی اوروں کی طرح پانچ روپے ماہوار پنشن مقرر ہو گئی۔ اس کے بعد میں نے شادی کی۔ یہ بچے پیدا ہوئے۔‘‘\n\nاس واقعہ کے چند روز بعد میرزا دلدار شاہ بیمار ہوئے اور دس دن بیمار رہ کر آخرت کو سدھارے۔ ان کے مرنے کا غم سب سے زیادہ ان کی بیوی اور لڑکے کو تھا۔ لڑکا دس برس کا تھا اور اچھی طرح سمجھتا تھا کہ ابا جان مر گئے ہیں مگر وہ بار بار اماں سے کہتا تھا کہ ابا جان کو بلا دو۔ الغرض اس رونے دھونے میں یہ سب لوگ سو گئے۔ سحری کو بیگم صاحبہ بیدار ہوئیں تو دیکھا کہ گھر میں جھاڑو ملی ہوئی ہے۔ کپڑا التا، برتن بھانڈا سب چور لے گئے۔ بیچاری بیوہ نے سر پیٹ لیا۔ ہے ہے اب میں کیا کروں گی۔ میرے پاس تو ایک تنکا بھی نہ رہا۔ گھر کے مالک کے اٹھتے ہی چوری بھی ہوئی۔ آس پاس کے محلہ والے ان کے رونے کی آواز سن کر جمع ہوگئے اور سب نے بہت افسوس کیا۔ پڑو س میں ایک گوٹے والے رہتے تھے۔ انہوں نے سحری کے لیے دودھ اور نان پاؤ بھیجا اور بیچاری نے ٹھنڈا سانس کر اس کو لے لیا۔\n\nیہ پہلا دن تھا کہ بیوہ شہزادی نے خیرات کی سحری کھائی جس کا ا س کو سب سے زیادہ صدمہ تھا۔ دن ہوا۔ چاروں طرف عید کے سامان نظر آتے تھے۔ چاند رات کی چہل پہل ہر گھر میں تھی مگر نہ تھی اس گھر میں جہاں دودھ بیتی بچی کو گود میں لیے بیوہ شہزادی یتیم شہزادہ کو سمجھا رہی تھی کیونکہ وہ نئی جوتی اور نئے کپڑے مانگتا تھا۔ ’’بیٹا تمہارے ابا جان پردیس گئے ہیں۔ وہ آجائیں تو کپڑے منگا دیں گے۔ دیکھو تمہارے دولہا بھائی بھی بنارس گئے ہوئے ہیں۔ وہ ہوتے تو ان سے ہی منگا دیتے۔ اب کس کو بازار بھیجوں۔‘‘ لڑکے نے کہا، ’’میں خود لے آؤں گا۔ مجھ کو دام دو۔‘‘ دام کا نام سن کر دکھیاری بیوہ کے آنسو آگئے۔ اس نے کہا، ’’تمہیں خبر نہیں، رات کو گھر میں چوری ہوگئی۔ ہمارے پاس ایک پیسہ بھی نہیں ہے۔‘‘\n\nضدی شہزادہ نے مچل کر کہا، ’’نہیں میں تو ابھی لوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر دو چار گالیاں ماں کو دے دیں۔ مصیبت زدہ نے ٹھنڈا سانس بھر کر آسماں کو دیکھا اور بولی، ’’اچھا ٹھہرو میں منگاتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر پڑوس کے گھر سے لگی ہوئی کھڑ کی میں جا کر کھڑی ہوئی اور گوٹہ والے کی بیوی سے کہا، ’’بوا! عدت کے دن ہیں، میں اندر تو نہیں آ سکتی۔ ذرا میری بات سن جاؤ۔‘‘ وہ بیچاری فوراً اس کے پاس آئی تو اسے سارا ماجرا سنایا اور کہا، ’’ خدا واسطہ کا کام ہے۔ اپنے بچہ کی اترن، کوئی جوتی یا کپڑوں کا جوڑا ہو تو ایک دن کے لیے مانگے دے دو۔ کل شام کو واپس دے دوں گی۔‘‘\n\nشہزادی اترن کہتے وقت بے اختیار ہچکی لے کر رونے لگی۔ پڑوسن کو بڑا ترس آیا۔ اس نے کہا، ’’بوا رونے اور جی بھاری کرنے کی کچھ بات نہیں۔ ننھے کی کئی جوتیاں اور کئی جوڑے فالتو رکھے ہیں۔ ایک تم لے لو۔ اس میں اترن کا خیال نہ کرو۔ اس نے تو ایک دن یونہی ذرا پاؤں میں ڈالی تھی۔ میں نے سنگوا کر رکھ دی۔‘‘ یہ کہہ کر پڑوسن نے جوتی اور کپڑے شہزادی کو دیے۔ شہزادی یہ چیزیں لے کر بچہ کے پاس آئی اور اس کو یہ سب دکھائیں۔ بچہ خوش ہو گیا۔\n\nدوسرے دن عید گاہ جانے کے لیے شہزادی نے اپنے بچے کو بھی گوٹہ والے پڑوسی کے ساتھ کر دیا۔ عید گاہ پہنچ کر یتیم شہزادے نے گوٹہ والے کے لڑکے سے کہا، ’’ابے تیری ٹوپی سے ہماری ٹوپی اچھی ہے۔‘‘ گوٹہ والے لڑکے نے جواب دیا، ’’چل بے اترن کھترن پر اتراتا ہے! لے یہ بھی میری ٹوپی ہے۔ اماں نے تجھ کو خیر خیرات دے دی ہے۔‘‘ یہ سننا تھا کہ شہزادہ نے ایک زور کا تھپڑ گوٹہ والے کے بچے کے رسید کیا اور کہا ہم کو خیرات خورہ کہتا ہے۔ گوٹہ والے نے جو اپنے بچے کو پٹتا دیکھا تو اس کو بھی غصہ آگیا اور اس نے دو تین طمانچے شہزادے کے مارے۔ یہ لڑکا روتا ہوا بھاگا۔ گوٹہ والے نے خیال کیا کہ اس کی ماں کیا کہے گی کہ ساتھ لے گئے تھے۔ کہاں چھوڑ آئے۔ اس لیے وہ اس کو پکڑ نے کو دوڑا مگر لڑکا نظروں سے غائب ہو گیا۔ ناچار گوٹہ والا مجبور ہو کر اپنے گھر چلا آیا۔\n\nاب یتیم شہزادہ کی یہ کیفیت ہوئی کہ وہ عام خلقت کے ساتھ عید گاہ سے گھر کی طرف آرہا تھا کہ راستہ میں ایک گاڑی کی جھپٹ میں آکر گر پڑا اور زخمی ہوگیا۔ پولیس شفا خانہ لے گئی۔ یہاں گھر میں اس کی ماں کا عجب حال تھا۔ غش پہ غش آتے تھے۔ دو وقت سے بھوکے تھی۔ اس پر عید اور یہ مصیبت کہ لڑکا گم ہو گیا اور عالم یہ کہ کوئی پرسان حال نہیں، جو لڑکے کو تلاش کرنے جائے۔ آخر بچارا وہی گوٹہ والا پھرگیا اور پولیس میں اطلاع لکھوائی۔ اس وقت معلوم ہوا کہ وہ شفاخانہ میں ہے۔ شفاخانہ جاکر خبر لایا اور شہزادی کو ساری کیفیت سنائی۔ اس وقت عجیب عا لم تھا۔\n\nعید کی شام تھی۔ گھر گھر خوشیاں منائی جا رہی تھیں۔ مبارک باد وں کے چرچے تھے۔ تحفے تحائف اور عیدیاں تقسیم ہو رہی تھیں۔ ہر مسلمان نے اپنی حیثیت سے زیادہ گھر کو آراستہ کیا تھا اور اپنے بال بچوں کو خوش و خرم لیے بیٹھا تھا، مگر بیچاری بیوہ شہزادی دو وقت کے فاقہ سے رنجور، بچہ کے غم میں اشکبار، اندھیرے اجاڑ گھر میں بیٹھی آسمان کو دیکھتی تھی اور کہتی تھی، ’’خدا یا میری عید کہاں ہے؟‘‘ اور بے اختیار ہچکیاں لے کر روتی تھی۔ ادھر شفاخانہ میں یتیم شہزادہ ماں کی جدائی میں پھڑ کتا تھا۔\n\nیہ ہے انقلاب ایام کی سچی تصویر۔ اس میں تقدیر کا نشان۔ اس قصہ سے معلوم ہوگا کہ اولاد کی تعلیم سے غفلت کرنا اوراس کو تربیت نہ دینا کیسا خطرناک ہے۔ یہ سچی کیفیت عبرت ہے ان لوگوں کے لیے جو عید کی خوشی میں مست و بے خبر ہو جاتے ہیں اور آس پاس کے آفت رسیدہ غریبوں کی حالت نہیں دیکھتے۔", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%AA%DB%8C%D9%85_%D8%B4%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%DB%8C%D8%AF"} {"title": "یتیم شہزادہ کی ٹھوکریں", "poet_page": "مصنف:حسن نظامی", "kind": "prose", "section": "مضمون", "year": null, "text_ur": "ماہ عالم ایک شہزادے کا نام تھا، جو شاہ عالم بادشاہ دلی کے نواسوں میں تھا اور غدر میں اس کی عمر گیارہ برس کی تھی۔ شہزادہ ماہ عالم کے باپ مرزا نوروز حیدر دیگر خاندان شاہی کی طرح بہادر شاہ کی سرکار سے سو روپے ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔ مگر ان کی والدہ کے پاس قدیم زمانہ کا بہت سا اندوختہ تھا، اس لیے ان کو روپیہ کی چند اں پرواہ نہیں تھی اور وہ بڑی بڑی تنخواہوں کے شہزادوں کی طرح گذر اوقات کرتے تھے۔\n\nجب غدر پڑا تو ماہ عالم کی والدہ بیمار تھیں۔ علاج ہورہا تھا مگر مرض برابر ترقی کرتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ عین اس روز جب کہ بہادر شاہ قلعہ سے نکلے اور شہر کی تمام رعایا پریشان ہو کر چاروں طرف بھاگنے لگی، ماہ عالم کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ ایسی گھبراہٹ کے موقعہ پر سب کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ اس موت نے عجیب ہر اس پیدا کر دیا۔\n\nاس وقت نہ کفن کا سامان ممکن تھا نہ دفن کا، نہ غسل دینے والی عورت میسر آسکتی تھی، نہ کوئی مردے کے پاس بیٹھنے والا تھا۔ شہزادوں میں رسم ہوگئی تھی کہ وہ مردے کے پاس نہ جاتے۔ سب کام پیشہ وروں سے لیا جاتا تھا، جو اس وقت کے لیے ہمیشہ موجود تیار رہتے تھے۔ غدر کی عالم گیر مصیبت کے سبب کوئی آدمی ایسا نہ ملا جو تجہیز و تکفین کی خدمت میں انجام کو پہنچاتا۔ گھر میں دولونڈیاں تھیں لیکن وہ بھی مردے کو نہلانا نہ جانتی تھیں۔ خود مرزا نوروز حیدر اگر چہ پڑھے لکھے شخص تھے مگر چونکہ ان کو ایسا کام پیش نہ آیا تھا، اس لیے اسلامی طریق پر غسل و کفن سے واقفیت نہ رکھتے تھے۔\n\nالقصہ ان لوگوں کو اسی حیرانی و پریشانی میں کئی گھنٹے گذر گئے۔ اتنے میں سنا کہ انگریزی لشکر شہر میں گھس آیا ہے اور اب عنقریب قلعہ میں آیا چاہتا ہے۔ اس خبر سے مرزا کے رہے سہے اوسان اور بھی جاتے رہے اور جلدی سے لاش کو چارپائی پر ہی کپڑے اتار کر نہلانا شروع کیا۔ نہلایا کیا بس پانی کے لوٹے بھربھر کر اوپر ڈال دیے۔ کفن کہاں سے ملتا، شہر تو بند تھا۔ پلنگ پر بچھانے کی دوا جلی چادریں لیں اور ان میں لاش کو لپیٹ دیا۔ اب یہ فکر ہوئی کہ دفن کہاں کریں۔ باہر لے جانے کا تو موقعہ نہیں۔ اسی سوچ میں تھے کہ گوروں اور سکھوں کی فوج کے چند سپاہی گھر میں آگئے اور آتے ہی مرزا اور ان کے لڑکے ماہ عالم کو گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد گھر کا سامان لوٹنے لگے۔ صندوق توڑ ڈالے۔ الماریوں کے کواڑا کھیڑ دیے۔ کتابوں کو آگ لگا دی۔\n\nدونوں لونڈیاں غسل خانے میں جا چھپی تھیں۔ ایک سپاہی کی ان پر نگاہ پڑ گئی جس نے دیکھتے ہی اندر گھس کر سر کے بال پکڑے اور بچاریوں کو گھسیٹتا ہوا باہر لے آیا۔ اگر چہ ان فوجیوں کو لاش کا حال معلوم ہو گیا تھا مگر انہوں نے اس کی مطلق پرواہ نہ کی اور برابر لوٹ مار کرتے رہے۔ آخر قیمتی سامان کی گٹھریاں، لونڈیوں اور خود مرزا نوروز حیدر اور ان کے لڑکے ماہ عالم کے سر پر رکھیں اور بکریوں کی طرح ہانکتے ہوئے گھر سے باہر لے چلے۔ اس وقت مرزا نے اپنے لٹے ہوئے گھر کو آخری حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا اور اپنی بیوی کی بے گور و کفن لاش کو اکیلا چار پائی پر چھوڑ کر سپاہیوں کے ساتھ کوچ کیا۔\n\nلونڈیوں کو تو بوجھ اٹھانے اور چلنے پھرنے کی عادت تھی۔ مرزا نوروز حیدر بھی قوی اور توانا تھے۔ بوجھ سرپر اٹھائے بے تکان چل رہے تھے مگر غریب ماہ عالم کی بری حالت تھی۔ اول تو اس کے سر پر بوجھ اس کی عمر اور بساط سے زیادہ تھا۔ اس کے علاوہ یہ شہزادہ قدرتی طور پر نہایت نازک اور کمزور واقع ہوا تھا۔ اس پر سونے پر سہاگہ یہ کہ ماں کے مرنے کا غم تھا۔ رات سے روتے روتے آنکھیں سوج گئی تھیں۔ خالی ہاتھ چلنے سے چکر آتے تھے، کجا یہ نوبت کہ سر پر بوجھ، پیچھے چمکتی ہوئی تلواریں اور جلدی چلنے کی قہر ناک تاکید۔ بچارے کے پاؤں لڑکھڑاتے تھے۔ دم چڑھ گیا تھا۔ بدن پسینہ پسینہ ہو گیا تھا۔ آخر نہایت مجبوری کی حالت میں باپ سے کہا، ’’ابا حضرت! مجھ سے تو چلا نہیں جاتا۔ گردن بوجھ کے مارے ٹوٹے جاتی ہے۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا آ رہا ہے۔ ایسا نہ ہو گر پڑوں۔‘‘\n\nباپ سے اپنے لاڈلے اکلوتے بچہ کی یہ مصیبت بھری باتیں سنی نہ گئیں۔ اس نے مڑ کر سپاہی سے کہا، ’’صاحب! اس بچہ کا اسباب بھی مجھ کو دے دو۔ یہ بیمار ہے گر پڑے گا۔‘‘ گورا مرزا کی زبان بالکل نہ سمجھا اور اس طرح ٹھہرنے اور بات کرنے کو گستاخی اور بدنیتی سمجھ کر دو تین مکے کمر میں مارے اور آگے دھکا دیا۔ مظلوم مرزا نے مار بھی کھائی مگر مامتا کے مارے لڑکے کا بوجھ بغل میں لے لیا۔ گورے کو یہ حرکت بھی پسند نہ آئی اور اس نے جبراً مرزا سے گٹھری لے کر ماہ عالم کے سر پر رکھ دی اور ایک گھونسا اس بیکس وناتواں کے بھی مارا۔ گھونسا کھا کر ماہ عالم آہ کہہ کر گر پڑا اور بیہوش ہوگیا۔\n\nمرزا نوروز اپنے لخت جگر کی حالت دیکھ جوش میں آگئے اور اسباب پھینک کر ایک مکا گورے کے کلے پر رسید کیا اور پھر فوراً ہی دوسرا گھونسا اس کی ناک پر مارا جس سے گورے کی ناک کا بانسہ پھٹ گیا اور خون کا فوارہ چلنے لگا۔ سکھ سپاہی دوسری طرف چلے گئے تھے۔ اس وقت فقط دو گورے ان قیدیوں کے ساتھ تھے اور کیمپ کو لیے جا رہے تھے۔ دوسرے گورے نے اپنے ساتھی کی یہ حالت دیکھ کر مرزا کے ایک سنگین ماری مگر خدا کی قدرت سنگین کا وار اوچھا پڑا اور وہ مرزا کی کمر کے پاس سے کھال چھیلتی ہوئی نکل گئی۔ تیموری شہزادہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور لپک کر ایک مکا اس گورے کی ناک پر بھی مارا۔ یہ مکا بھی ایسا کاری پڑا کہ ناک پچک گئی اور خون بہنے لگا۔ گورے یہ حالت دیکھ کر پستول و کرچ تو بھول گئے اور ایک بارگی دونوں کے دونوں مرزا کو چمٹ گئے اور گھونسوں سے مارنے لگے۔\n\nلونڈیوں نے جو یہ حالت دیکھی تو اسباب پھینک رستہ کی خاک مٹھیوں میں بھر کر گوروں کی آنکھوں میں جھونک دی۔ اس ناگہانی آفت سے گورے تھوڑی دیر کے لیے بیکار ہوگئے اور ان کی کرچ مرزا کے ہاتھ آگئی۔ مرزا نے فوراً کرچ گھسیٹ لی۔ ایک ایسا بھر پور ہاتھ مارا کہ کرچ نے شانہ سے سینے تک کاٹ ڈالا۔ اس کے بعد دوسرے گورے پر حملہ کیا اور اسے بھی ذبح کر دیا۔ ان دونوں کو ہلاک کر کے ماہ عالم کی طرف متوجہ ہوئے۔ وہ بالکل بیہوش تھا۔ باپ کے گود میں لیتے ہی آنکھیں کھول دیں اور باہیں گلی میں ڈال کر رونے لگا۔\n\nمرزا اسی حالت میں تھے کہ پیچھے سے دس بارہ گورے اور سکھ سپاہی آگئے اور انہوں نے اپنے دوساتھیوں کو خون میں نہایا دیکھ کر مرزا کو گھیر لیا اور لڑکے سے جدا کر کے حال پوچھا۔ مرزا نے سارا واقعہ سچ سچ کہہ دیا۔ سنتے ہی گوروں کی حالت غصہ سے غیر ہوگئی۔ انہوں نے پستول کے چھ فیریک دم کر دیے، جن سے زخمی ہو کر مرزا گر پڑے اور آناً فاناً میں تڑپ کر مرگئے۔ مرزا نوروز کی لاش کود ہیں چھوڑ دیا گیا اور ماہ عالم کو لونڈیوں سمیٹ پہاڑی کے کیمپ میں لے گئے۔\n\nجب دہلی کی فتح سے اطمینان ہو گیا تو لونڈیاں دو مسلمان پنجابی افسروں کو دے دی گئیں اور ماہ عالم ایک انگریز افسر کی خدمت گاری پر مامور ہوئے۔ جب تک یہ انگریز دہلی میں رہے، ماہ عالم کو زیادہ تکلیف نہ تھی، کیوں کہ صاحب کے پا س کئی خانساماں اور نوکر چاکر تھے۔ اس واسطے زیادہ کام کاج نہ کرنا پڑتا تھا لیکن چند روز کے بعد یہ صاحب رخصت لے کر ولایت چلے گئے اورماہ عالم کو ایک دوسرے افسر کے حوالے کر گئے، جو میرٹھ چھاؤنی میں تھے۔ ان افسر کا مزاج تند تھا۔ بات بات پر ٹھوکر یں مارتے تھے۔ ماہ عالم اس مار دھاڑ کو برداشت نہ کر سکے اور ایک دن بھاگنے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ پچھلی رات کو گھر سے نکلے۔ پہرے دارنے ٹوکا تو کہہ دیا فلاں صاحب کا نوکر ہوں اوران کے کام کو فلاں گاؤں میں جاتا ہوں تاکہ سویرے ہی پہنچ جاؤں۔ اس حیلہ سے جان بچائی اور جنگل کا راستہ لیا۔\n\nچھوٹی عمر، راستہ سے بے خبر، پکڑے جانے کا خوف، عجب مایوسی کا عالم تھا۔ آخر بہزار دقت صبح ہوتے ہوتے میرٹھ سے تین چار کوس کے فاصلہ پر پہنچ گئے۔ سامنے گاؤں تھا۔ وہاں جاکر ایک مسجد میں ٹھہر گئے۔ ملا صاحب نے سوالات شروع کیے، تو کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ کہاں جائے گا؟ ماہ عالم نے ان کو بھی باتوں میں ٹالا۔ یہاں ایک فقیر بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔ انہوں نے جو ماہ عالم کی شریفانہ صورت دیکھی تو محبت سے پاس بلایا اور رات کی بچی ہوئی روٹی سامنے رکھی۔ ماہ عالم نے شاہ صاحب کو ہمدرد پا کر اپنی مصیبت کی داستان اول سے آخر تک سنائی۔ شاہ صاحب یہ کیفیت سن کر رونے لگے اور ماہ عالم کو سینہ سے لگا کر بہت پیار کیا اور تسلی کی باتیں کرنے لگے۔ اس کے بعد کہا اب تم فکر نہ کرو میرے ساتھ رہو۔ خدا حافظ و ناصر ہے۔\n\nچنانچہ انہوں نے ایک رنگین کرتہ ان کو پہنا دیا اور ساتھ لے کر چل کھڑے ہوئے۔ دو چار روز تو یہ حالت رہی کہ جہاں ماہ عالم نے کہا، ’’حضرت! اب تو میں تھک گیا۔‘‘ تو کسی گاؤں میں ٹھہر جاتے، لیکن پھر ان کو بھی چلنے کی عادت ہو گئی اور پوری منزل چلنے لگے۔ مہینہ بھر میں اجمیر شریف پہنچے۔ یہاں ان صاحب کے پیر جو بغداد کے رہنے والے تھے، ملے۔ ان پیر صاحب کو جب ماہ عالم کا حال معلوم ہوا تو وہ بھی مہربانی سے پیش آئے اور ان دونوں کو ساتھ لے کر بمبئی چلے گئے۔ بمبئی کے قریب باندرہ میں شاہ صاحب رہتے تھے۔ وہیں ان کو بھی رکھا اور کئی برس یہاں رہ کر ماہ عالم نے قرآن شریف اور مسئلہ مسائل کی کتابیں پڑھیں اور نماز روزے سے خوب واقف ہوگئے۔\n\nماہ عالم کہتے ہیں کہ جب میں خوب ہوشیار ہوگیا، تو ایک دن میں نے بغدادی شاہ صاحب سے مرید ہونے کی درخواست کی۔ شاہ صاحب نے فرمایا، ’’میاں تم تو مریدوں کی مثل ہو۔‘‘ میں نے عرض کیا، ’’ نہیں جناب! قاعدہ اور طریقہ کے موافق داخل سلسلہ فرما لیجیے۔‘‘ یہ سن کر شاہ صاحب آنکھوں میں آنسو بھرلائے اور بولے، ’’ مریدی بڑی مشکل چیز ہے۔ لوگوں نے اس کو ہنسی کھیل سمجھ لیا ہے۔ رسمی طور مرید ہوتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ مریدی کیا ہوتی ہے اور اس کے کیا آداب اور کیا فرائض ہیں۔ جتنی ٹھوکریں تم نے آج تک کھائی ہیں۔ اس سے ہزار درجہ زیادہ قدم قدم پر امتحان ہیں۔ بابا! یہ راستہ بڑا کٹھن ہے اور فقیری کے کوچہ میں ہزاروں ٹھوکریں ہیں۔ آج کل کے لوگ دنیاوی خواہشوں کے پورا ہونے کے لیے مرید ہوتے ہیں، حالانکہ مریدی اس کا نام ہے کہ تمام خواہشیں اور تمنائیں مٹا کر پیر کا دامن پکڑے اور اگر از خود وہ خواہشیں نہ مٹ سکیں تو پیر سے یہی درخواست کی جائے کہ پہلے وہ انسانی جذبات کو فنا کرے۔\n\nمیاں صاحب زادے! فقیری بھی ایک طرح کی بادشاہت ہے۔ جیسے بادشاہوں کو ملکی انتظام کے لیے لائق کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے، فقراء بھی اقلیم باطن کا نظم و نسق ذی ہوش لوگوں کے سپرد کرتے ہیں۔ بہادر شاہ کو انگریزوں کے مقابلے میں اسی لیے شکست ہوئی کہ ان کے پاس کام کر سکنے والے آدمی نہ تھے، ورنہ ایسی حالت میں کہ تمام ملک کی ہمدردی بادشاہ کے ساتھ تھی، انگریز کیا کر سکتے تھے۔ مگر انگریزوں کی لیاقت اور ملک داری کی قابلیت نے ان کو فتح دلائی اور بادشاہ ہار گئے۔\n\nیہی حال درویشی فقیری کا ہے۔ انسان کے غنیم نفس و شیطان رات دن دولت ایمان لوٹنے کی درپے رہتے ہیں اور فقیر اپنے باطنی کمالات سے دشمنوں کو زک دے کر زیر کرتے ہیں، لیکن جب فقیروں میں کمالات مفقود ہوجائیں گے تو نفس شیطانی آسانی سے ایمان کے تاج و تخت پر قبضہ کرلیں گے۔ اس زمانے میں چونکہ فقرا کی حالت اپنے طریقہ سے بالکل خلاف ہوگئی ہے، اس لیے مریدوں کی کیفیت بھی دگر گوں ہوگئی۔ تم کو چاہئے کہ پہلے اچھی طرح پیری مریدی کے فرائض اور کاموں کو سمجھ لو اس کے بعد مرید ہونا۔‘‘", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%AA%DB%8C%D9%85_%D8%B4%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D9%B9%DA%BE%D9%88%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یزید (افسانہ)", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "یزید", "year": "1951", "text_ur": "سن سینتالیس کے ہنگامے آئے اور گزر گئے۔ بالکل اسی طرح جس طرح موسم میں خلافِ معمول چند دن خراب آئیں اور چلے جائیں۔ یہ نہیں کہ کریم داد، مولا کی مرضی سمجھ کر خاموش بیٹھا رہا۔ اس نے اس طوفان کا مردانہ وار مقابلہ کیا تھا۔ مخالف قوتوں کے ساتھ وہ کئی بار بھڑا تھا۔ شکست دینے کے لیے نہیں، صرف مقابلہ کرنے کے لیے نہیں۔ اس کو معلوم تھا کہ دشمنوں کی طاقت بہت زیادہ ہے۔ مگر ہتھیار ڈال دینا وہ اپنی ہی نہیں ہر مرد کی توہین سمجھتا تھا۔\n\nسچ پوچھیے تو اس کے متعلق یہ صرف دوسروں کا خیال تھا، ان کا، جنہوں نے اسے وحشی نما انسانوں سے بڑی جاں بازی سے لڑتے دیکھا تھا۔ ورنہ اگر کریم داد سے اس بارے میں پوچھا جاتاکہ مخالف قوتوں کے مقابلے میں ہتھیار ڈالنا کیا وہ اپنی یا مرد کی توہین سمجھتا ہے تو وہ یقیناً سوچ میں پڑ جاتا۔ جیسے آپ نے اس سے حساب کا کوئی بہت ہی مشکل سوال کردیا ہے۔\n\nکریم داد، جمع، تفریق اور ضرب تقسیم سے بالکل بے نیاز تھا۔ سن سینتالیس کے ہنگامے آئے اور گزر گئے۔ لوگوں نے بیٹھ کر حساب لگانا شروع کیا کہ کتنا جانی نقصان ہوا، کتنا مالی، مگر کریم داد اس سے بالکل الگ تھلگ رہا۔ اس کو صرف اتنا معلوم تھا کہ اس کا باپ رحیم داد اس جنگ میں کام آیا ہے۔ اس کی لاش خود کریم داد نے اپنے کندھوں پر اٹھائی تھی۔ اور ایک کنوئیں کے پاس گڑھا کھود کر دفنائی تھی۔\n\nگاؤں میں اور بھی کئی وارداتیں ہوئی تھیں ،سینکڑوں جوان اور بوڑھے قتل ہوئے تھے، کئی لڑکیاں غائب ہوگئی تھیں۔ کچھ کی بہت ہی ظالمانہ طریقے پربے آبرو ئی ہوئی تھی۔ جس کے بھی یہ زخم آئے تھے، روتا تھا، اپنے پھوٹے نصیبوں پر اور دشمنوں کی بے رحمی پر، مگر کریم داد کی آنکھ سے ایک آنسو بھی نہ نکلا۔ اپنے باپ رحیم داد کی شہ زوری پر اسے ناز تھا۔ جب وہ پچیس تیس برچھیوں اور کلہاڑیوں سے مسلح بلوائیوں کا مقابلہ کرتے کرتے نڈھال ہو کر گر پڑا تھااور کریم د اد کو اس کی موت کی خبر ملی تھی تو اس نے اس کی روح کو مخاطب کرکے صرف اتنا کہا تھا، ’’یار تم نے یہ ٹھیک نہ کیا۔ میں نے تم سے کہا تھا کہ ایک ہتھیار اپنے پاس ضرور رکھا کرو۔‘‘\n\nاور اس نے رحیم داد کی لاش اٹھا کر، کنویں کے پاس گڑھا کھود کر دفنا دی تھی اور اس کے پاس کھڑے ہو کر فاتحہ کے طور پر صرف یہ چند الفاظ کہے تھے، ’’گناہ ثواب کا حساب خدا جانتا ہے۔ اچھا تجھے بہشت نصیب ہو!‘‘\n\nرحیم داد جو نہ صرف اس کا باپ تھا بلکہ ایک بہت بڑا دوست بھی تھا، بلوائیوں نے بڑی بے دردی سے قتل کیا تھا۔ لوگ جب اس کی افسوسناک موت کا ذکر کرتے تھے تو قاتلوں کو بڑی گالیاں دیتے تھے، مگر کریم داد خاموش رہتا تھا۔ اس کی کئی کھڑی فصلیں تباہ ہوئی تھیں۔ دو مکان جل کر راکھ ہوگئے تھے۔ مگر اس نے اپنے ان نقصانوں کا کبھی حساب نہیں لگایا تھا۔ وہ کبھی کبھی صرف اتنا کہا کرتا تھا،’’جوکچھ ہوا ہے، ہماری اپنی غلطی سے ہوا ہے۔‘‘ اور جب کوئی اس سے اس غلطی کے متعلق استفسار کرتا تووہ خاموش رہتا۔\n\nگاؤں کے لوگ ابھی سوگ میں مصروف تھے کہ کریم داد نے شادی کرلی۔ اسی مٹیار جیناں کے ساتھ جس پر ایک عرصے سے اس کی نگاہ تھی۔ جیناں سوگوار تھی۔ اس کا شہتیر جیسا کڑیل جوان بھائی بلووں میں مارا گیا تھا۔ ماں، باپ کی موت کے بعد ایک صرف وہی اس کا سہارا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جیناں کو کریم داد سے بے پناہ محبت تھی مگر بھائی کی موت کے غم نے یہ محبت اس کے دل میں سیاہ پوش کردی تھی، اب ہر وقت اس کی سدا مسکراتی آنکھیں نمناک رہتی تھیں۔\n\nکریم داد کو رونے دھونے سے بہت چڑ تھی۔ وہ جیناں کو جب بھی سوگ زدہ حالت میں دیکھتا تو دل ہی دل میں بہت کڑھتا۔ مگر وہ اس سے اس بارے میں کچھ کہتا نہیں تھا، یہ سوچ کر کہ عورت ذات ہے۔ ممکن ہے اس کے دل کو اور بھی دکھ پہنچے، مگر ایک روز اس سے نہ رہا گیا۔ کھیت میں اس نے جیناں کو پکڑ لیا اور کہا،’’مردوں کو کفنائے دفنائے پورا ایک سال ہوگیا ہے اب تو وہ بھی اس سوگ سے گھبرا گئے ہوں گے۔۔۔ چھوڑ میری جان! ابھی زندگی میں جانے اور کتنی موتیں دیکھنی ہیں۔ کچھ آنسو تو اپنی آنکھوں میں جمع رہنے دیں۔‘‘\n\nجیناں کو اس کی یہ باتیں بہت ناگوار معلوم ہوئی تھیں مگر وہ اس سے محبت کرتی تھی،اس لیے اکیلے میں اس نے کئی گھنٹے سوچ سوچ کر اس کی ان باتوں میں معنی پیدا کیے اور آخر خود کو یہ سمجھنے پر آمادہ کرلیا کہ کریم داد جو کچھ کہتا ہے ٹھیک ہے۔۔۔!\n\nشادی کا سوال آیا تو بڑے بوڑھوں نے مخالفت کی مگر یہ مخالفت بہت ہی کمزور تھی۔ وہ لوگ سوگ منا منا کر اتنے نحیف ہوگئے تھے کہ ایسے معاملوں میں سو فیصدی کامیاب ہونے والی مخالفتوں پر بھی زیادہ دیر تک نہ جمے رہ سکے۔۔۔ چنانچہ کریم داد کابیاہ ہوگیا۔ باجے گاجے آئے، ہر رسم ادا ہوئی اور کریم داد اپنی محبوبہ جیناں کودلہن بنا کر گھر لے آیا۔\n\nفسادات کے بعد قریب قریب ایک برس سے سارا گاؤں قبرستان سا بنا تھا۔ جب کریم داد کی برات چلی اور خوب دھوم دھڑکا ہوا تو گاؤں میں کئی آدمی سہم سہم گئے۔ ان کو ایسا محسوس ہوا کہ یہ کریم داد کی نہیں، کسی بھوت پریت کی برات ہے۔ کریم داد کے دوستوں نے جب اس کو یہ بات بتائی تو وہ خوب ہنسا۔ ہنستے ہنستے ہی اس نے ایک روز اس کا ذکر اپنی نئی نویلی دلہن سے کہا تو وہ ڈر کے مارے کانپ اٹھی۔\n\nکریم داد نے جیناں کی سوہے چوڑے والی کلائی اپنے ہاتھ میں لی اور کہا، ’’یہ بھوت تو اب ساری عمر تمہارے ساتھ چمٹا رہے گا۔۔۔ رحمان سائیں کی جھاڑ پھونک بھی اتار نہیں سکے گی۔‘‘ جیناں نے اپنی مہندی میں رچی ہوئی انگلی دانتوں تلے دبا کر اور ذرا شرما کر صرف اتنا کہنا، ’’کیمے، تجھے تو کسی سے بھی ڈر نہیں لگتا۔‘‘ کریم داد نے اپنی ہلکی ہلکی سیاہی مائل بھوری مونچھوں پر زبان کی نوک پھیری اور مسکرادیا، ’’ڈر بھی کوئی لگنے کی چیز ہے!‘‘\n\nجیناں کا غم اب بہت حد تک دورہوچکا تھا۔ وہ ماں بننے والی تھی۔ کریم داد اس کی جوانی کا نکھار دیکھتا تو بہت خوش ہوتا اور جیناں سے کہتا، ’’خدا کی قسم جیناں، توپہلے کبھی اتنی خوبصورت نہیں تھی۔ اگر تواتنی خوبصورت اپنے ہونے والے بچے کے لیے بنی ہے تو میری اس سے لڑائی ہو جائےگی۔‘‘ یہ سن کر جیناں شرما کر اپنا ٹھلیا سا پیٹ چادرسے چھپا لیتی۔ کریم داد ہنستا اور اسے چھیڑتا،’’ چھپاتی کیوں ہو اس چور کو۔۔۔ میں کیا جانتا نہیں کہ یہ سب بناؤ سنگھار صرف تم نے اسی سور کے بچے کے لیے کیا ہے۔‘‘\n\nجیناں ایک دم سنجیدہ ہو جاتی، ’’کیوں گالی دیتے ہو اپنے کو؟‘‘\n\nکریم داد کی سیاہی مائل بھوری مونچھیں ہنسی سے تھرتھرانے لگتیں،’’کریم داد بہت بڑا سور ہے۔‘‘\n\nچھوٹی عید آئی، بڑی عید آئی، کریم داد نے یہ دونوں تہوار بڑے ٹھاٹ سے منائے۔ بڑی عید سے بارہ روز پہلے اس کے گاؤں پربلوائیوں نے حملہ کیا تھا اور اس کا باپ رحیم داد اور جیناں کا بھائی فضل الٰہی قتل ہوئے تھے، جیناں ان دونوں کی موت کو یاد کرکے بہت روئی تھی،مگر کریم داد کی صدموں کو یاد نہ رکھنے والی طبیعت کی موجودگی میں اتنا غم نہ کرسکی، جتنا اسے اپنی طبیعت کے مطابق کرنا چاہیے تھا۔\n\nجیناں کبھی سوچتی تھی تو اس کو بڑا تعجب ہوتا تھا کہ وہ اتنی جلدی اپنی زندگی کا اتنا بڑا صدمہ کیسے بھولتی جارہی ہے۔ ماں باپ کی موت اس کو قطعاً یاد نہیں تھی۔ فضل الٰہی اس سے چھ سال بڑا تھا۔ وہی اس کا باپ تھا وہی اس کی ماں اور وہی اس کا بھائی۔ جیناں اچھی طرح جانتی تھی کہ صرف اسی کی خاطر اس نے شادی نہیں کی۔ اور یہ تو سارے گاؤں کو معلوم تھا کہ جیناں ہی کی عصمت بچانے کے لیے اس نے اپنی جان دی تھی۔ اس کی موت جیناں کی زندگی کا یقیناً بہت ہی بڑا حادثہ تھا۔ ایک قیامت تھی جو بڑی عید سے ٹھیک بارہ روز پہلے اس پر یکا یک ٹوٹ پڑی تھی۔ اب وہ اس کے بارے میں سوچتی تھی تو اس کو بڑی حیرت ہوتی تھی کہ وہ اس کے اثرات سے کتنی دور ہوتی جارہی ہے۔\n\nمحرم قریب آیا تو جیناں نے کریم داد سے اپنی پہلی فرمائش کا اظہار کیا۔ اسے گھوڑا اور تعزیئے دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ اپنی سہیلیوں سے وہ ان کے متعلق بہت کچھ سن چکی تھی۔ چنانچہ اس نے کریم داد سے کہا،’’میں ٹھیک ہوئی تولے چلو گے مجھے گھوڑا دکھانے؟‘‘\n\nکریم داد نے مسکرا کر جواب دیا، ’’تم ٹھیک نہ بھی ہوئیں تو لے چلوں گا۔۔۔ اس سور کے بچے کو بھی!‘‘\n\nجیناں کو یہ گالی بہت ہی بری لگتی تھی۔ چنانچہ وہ اکثر بگڑ جاتی تھی۔ مگر کریم داد کی گفتگو کا انداز کچھ ایسا پرخلوص تھا کہ جیناں کی تلخی فوراً ہی ایک ناقابل بیان مٹھاس میں تبدیل ہو جاتی تھی اور وہ سوچتی کہ سور کے بچے میں کتنا پیار کوٹ کوٹ کے بھرا ہے۔\n\nہندوستان اور پاکستان کی جنگ کی افواہیں ایک عرصے سے اڑ رہی تھیں۔ اصل میں تو پاکستان بنتے ہی بات گویا ایک طور پر طے ہوگئی تھی کہ جنگ ہوگی اور ضرور ہوگی۔ کب ہوگی، اس کے متعلق گاؤں میں کسی کو معلوم نہیں تھا۔ کریم داد سے جب کوئی اس کے متعلق سوال کرتا تو وہ یہ مختصر سا جواب دیتا، ’’جب ہونی ہوگی ہو جائے گی۔ فضول سوچنے سے کیا فائدہ!‘‘\n\nجیناں جب اس ہونے والی لڑائی بھڑائی کے متعلق سنتی تو اس کے اوسان خطا ہوجاتے تھے۔ وہ طبعاً بہت ہی امن پسند تھی۔ معمولی توتو میں میں سے بھی سخت گھبراتی تھی۔ اس کے علاوہ گزشتہ بلووں میں اس نے کئی کشت و خون دیکھے تھے اور انہی میں اس کا پیارا بھائی فضل الٰہی کام آیا تھا۔ بے حد سہم کر وہ کریم داد سے صرف اتنا کہتی،’’کیمے، کیا ہوگا!‘‘\n\nکریم داد مسکرا دیتا،’’مجھے کیا معلوم، لڑکا ہو گایا لڑکی۔‘‘\n\nیہ سن کر جیناں بہت ہی زچ بچ ہوتی مگر فوراً ہی کریم داد کی دوسری باتوں میں لگ کر ہونے والی جنگ کے متعلق سب کچھ بھول جاتی۔ کریم داد طاقت ور تھا، نڈر تھا،جیناں سے اس کو بے حد محبت تھی۔ بندوق خریدنے کے بعد وہ تھوڑے ہی عرصے میں نشانے کا بہت پکا ہوگیا تھا۔ یہ سب باتیں جیناں کو حوصلہ دلاتی تھیں مگر اس کے باوجود ترنجنوں میں جب وہ اپنی کسی خوف زدہ ہمجولی سے جنگ کے بارے میں گاؤں کے آدمیوں کی اڑائی ہوئی ہولناک افواہیں سنتی تو ایک دم سُن سی ہو جاتی۔\n\nبختو دائی جو ہر روز جیناں کو دیکھنے آتی تھی۔ ایک دن یہ خبر لائی کہ ہندوستان والے دریا بند کرنے والے ہیں۔جیناں اس کا مطلب نہ سمجھی۔ وضاحت کے لیے اس نے بختو دائی سے پوچھا،’’دریا بند کرنے والے ہیں۔۔۔؟ کون سے دریا بند کرنے والے ہیں۔‘‘\n\nبختو دائی نے جواب دیا، ’’وہ جو ہمارے کھیتوں کو پانی دیتے ہیں۔‘‘\n\nجیناں نے کچھ دیر سوچا اور ہنس کر کہا، ’’موسی تم بھی کیا پاگلوں کی سی باتیں کرتی ہو، دریا کون بند کرسکتا ہے۔۔۔ وہ بھی کوئی موریاں ہیں۔‘‘ بختو نے جیناں کے پیٹ پر ہولے ہولے مالش کرتے ہوئے کہا، ’’بی بی مجھے معلوم نہیں۔۔۔ جو کچھ میں نے سنا تمہیں بتا دیا۔ یہ بات اب تو اخباروں میں بھی آگئی ہے۔‘‘\n\n’’کون سی بات؟‘‘ جیناں کو یقین نہیں آتا تھا۔\n\nبختو نے اپنے جھریوں والے ہاتھوں سے جیناں کا پیٹ ٹٹولتے ہوئے کہا، ’’یہی دریا بند کرنے والی۔‘‘ پھر اس نے جیناں کے پیٹ پر اس کی قمیص کھینچی اور اٹھ کربڑے ماہرانہ انداز میں کہا،’’ اللہ خیر رکھے تو بچہ آج سے پورے دس روز کے بعد ہو جانا چاہیے!‘‘\n\nکریم داد گھر آیاتو سب سے پہلے جیناں نے اس سے دریاؤں کے متعلق پوچھا۔ اس نے پہلے بات ٹالنی چاہی، پر جب جیناں نے کئی بار اپنا سوال دہرایا تو کریم داد نے کہا، ’’ہاں کچھ ایسا ہی سنا ہے۔‘‘\n\nجیناں نے پوچھا، ’’کیا؟‘‘\n\n’’یہی کہ ہندوستان والے ہمارے دریا بند کردیں گے۔‘‘\n\n’’کیوں؟‘‘\n\nکریم داد نے جواب دیا، ’’کہ ہماری فصلیں تباہ ہو جائیں۔‘‘\n\nیہ سن کر جیناں کو یقین ہوگیا کہ دریا بند کیے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ نہایت بے چارگی کے عالم میں اس نے صرف اتنا کہا،’’کتنے ظالم ہیں یہ لوگ۔‘‘کریم داد اس دفعہ کچھ دیر کے بعد مسکرایا، ’’ہٹاؤ اس کو، یہ بتاؤ موسی بختو آئی تھی۔‘‘\n\nجیناں نے بے دلی سے جواب دیا، ’’آئی تھی!‘‘\n\n’’کیا کہتی تھی؟‘‘\n\n’’کہتی تھی آج سے پورے دس روز کے بعد بچہ ہو جائے گا۔‘‘\n\nکریم داد نے زور کا نعرہ لگایا، ’’زندہ باد!‘‘\n\nجیناں نے اسے پسند نہ کیا اور بڑبڑائی، ’’تمہیں خوشی سوجھتی ہے، جانے یہاں کیسی کربلا آنے والی ہے۔‘‘\n\nکریم داد چوپال چلا گیا۔ وہاں قریب قریب سب مرد جمع تھے۔ چودھری نتھو کو گھیرے، اس سے دریا بند کرنے والی خبر کے متعلق باتیں پوچھ رہے تھے، کوئی پنڈت نہرو کو پیٹ بھر کے گالیاں دے رہا تھا۔ کوئی بددعائیں مانگ رہا تھا۔ کوئی یہ ماننے ہی سے یکسر منکر تھا کہ دریاؤں کا رخ بدلا جاسکتا ہے۔ کچھ ایسے بھی تھے جن کا یہ خیال تھا کہ جو کچھ ہونے والا ہے وہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔ اسے ٹالنے کے لیے سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ مل کرمسجد میں دعا مانگی جائے۔\n\nکریم داد ایک کونے میں خاموش بیٹھا سنتا رہا۔ ہندوستان والوں کو گالیاں دینے میں چودھری نتھو سب سے پیش پیش تھا۔ کریم داد کچھ اس طرح بار بار اپنی نشست بدل رہا تھا جیسے اسے بہت کوفت ہورہی ہے۔ سب یک زبان ہوکریہ کہہ رہے تھے کہ دریا بند کرنا بہت ہی اوچھاہتھیار ہے، انتہائی کمینہ پن ہے، رذالت ہے، عظیم ترین ظلم ہے، بدترین گناہ ہے، یزیدپن ہے۔\n\nکریم داد دو تین مرتبہ اس طرح کھانسا جیسے وہ کچھ کہنے کے لیے خود کو تیار کررہا ہے۔ چودھری نتھو کے منہ سے جب ایک اور لہر موٹی موٹی گالیوں کی اٹھی تو کریم داد چیخ پڑا،’’گالی نہ دے چودھری کسی کو۔‘‘ماں کی ایک بہت بڑی گالی چودھری نتھو کے حلق میں پھنسی کی پھنسی رہ گئی، اس نے پلٹ کر ایک عجیب انداز سے کریم داد کی طرف دیکھا جو سر پر اپنا صافہ ٹھیک کررہا تھا، ’’کیا کہا؟‘‘\n\nکریم داد نے آہستہ مگر مضبوط آواز میں کہا، ’’میں نے کہا گالی نہ دے کسی کو۔‘‘\n\nحلق میں پھنسی ہوئی ماں کی گالی بڑے زور سے باہر نکال کر چودھری نتھو نے بڑے تیکھے لہجے میں کریم داد سے کہا، ’’کسی کو؟ کیا لگتے ہیں وہ تمہارے؟‘‘ اس کے بعد وہ چوپال میں جمع شدہ آدمیوں سے مخاطب ہوا، ’’سنا تم لوگوں نے۔۔۔ کہتا ہے گالی نہ دو کسی کو۔۔۔ پوچھو اس سے وہ کیا لگتے ہیں اس کے؟‘‘\n\nکریم داد نے بڑے تحمل سے جواب دیا، ’’میرے کیا لگتے ہیں؟ میرے دشمن لگتے ہیں۔‘‘ چودھری کے حلق سے پھٹا پھٹا سا قہقہہ بلند ہوا۔ اس قدر زور سے کہ اس کی مونچھوں کے بال بکھر گئے، ’’سنا تم لوگوں نے۔ دشمن لگتے ہیں۔ اور دشمن کو پیار کرنا چاہیے۔ کیوں برخوردار؟‘‘ کریم داد نے بڑے برخوردانہ انداز میں جواب دیا، ’’نہیں چودھری! میں یہ نہیں کہتا کہ پیار کرنا چاہیے۔ میں نے صرف یہ کہا ہے کہ گالی نہیں دینی چاہیے۔‘‘ کریم داد کے ساتھ ہی اس کا لنگوٹیا دوست میراں بخش بیٹھا تھا۔ اس نے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘\n\nکریم داد صرف میراں بخش سے مخاطب ہوا، ’’کیا فائدہ ہے یار۔۔۔ وہ پانی بند کرکے تمہاری زمینیں بنجر بنانا چاہتے ہیں۔ اور تم انھیں گالی دے کریہ سمجھتے ہو کہ حساب بیباق ہوا۔ یہ کہاں کی عقلمندی ہے۔ گالی تو اس وقت دی جاتی ہے۔ جب اور کوئی جواب پاس نہ ہو۔‘‘\n\nمیراں بخش نے پوچھا، ’’تمہارے پاس جواب ہے؟‘‘\n\nکریم داد نے تھوڑے توقف کے بعد کہا،’’سوال میرا نہیں۔ ہزاروں اور لاکھوں آدمیوں کا ہے۔ اکیلا میرا جواب سب کا جواب نہیں ہوسکتا۔۔۔ ایسے معاملوں میں سوچ سمجھ کر ہی کوئی پختہ جواب تیار کیا جاسکتا ہے۔۔۔ وہ ایک دن میں دریاؤں کا رخ نہیں بدل سکتے۔ کئی سال لگیں گے۔ لیکن یہاں تو تم لوگ گالیاں دے کر ایک منٹ میں اپنی بھڑاس نکال باہر کررہے ہو۔‘‘ پھر اس نے میراں بخش کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور بڑے خلوص کے ساتھ کہا، ’’میں تو اتنا جانتا ہوں یار کہ ہندوستان کو کمینہ، رذیل اور ظالم کہنا بھی غلط ہے۔‘‘\n\nمیراں بخش کے بجائے چودھری نتھو چلایا، ’’لو اور سنو؟‘‘\n\nکریم داد، میراں بخش ہی سے مخاطب ہوا، ’’دشمن سے میرے بھائی رحم و کرم کی توقع رکھنا بے وقوفی ہے۔ لڑائی شروع ہواور یہ رونا رویا جائے کہ دشمن بڑے بور کی رفلیں استعمال کررہا ہے۔ ہم چھوٹے بم گراتے ہیں، وہ بڑے گراتا ہے۔ تو اپنے ایمان سے کہو یہ شکایت بھی کوئی شکایت ہے۔ چھوٹا چاقو بھی مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور بڑا چاقو بھی۔کیا میں جھوٹ کہتا ہوں۔‘‘\n\nمیراں بخش کی بجائے چودھری نتھو نے سوچنا شروع کیامگرفوراً ہی جھنجھلا گیا، ’’لیکن سوال یہ ہے کہ وہ پانی بند کررہے ہیں۔۔۔ ہمیں بھوکا اور پیاسا مارنا چاہتے ہیں۔‘‘\n\nکریم داد نے میراں بخش کے کاندھے سے اپنا ہاتھ علیحدہ کیا اور چودھری نتھو سے مخاطب ہوا، ’’چودھری جب کسی کو دشمن کہہ دیا تو پھر یہ گلہ کیسا کہ وہ ہمیں بھوکا پیاسا مارنا چاہتا ہے۔ وہ تمہیں بھوکا پیاسا نہیں مارے گا۔ تمہاری ہری بھری زمینیں ویران اور بنجر نہیں بنائے گا تو کیا وہ تمہارے لیے پلاؤ کی دیگیں اور شربت کے مٹکے وہاں سے بھیجے گا۔ تمہاری سیر، تفریح کے لیے یہاں باغ بغیچے لگائے گا۔‘‘\n\nچودھری نتھو بھنا گیا، ’’یہ تو کیا بکواس کررہا ہے؟‘‘\n\nمیراں بخش نے بھی ہولے سے کریم داد سے پوچھا، ’’ہاں یار یہ کیا بکواس ہے؟‘‘\n\n’’بکواس نہیں ہے میراں بخشا۔‘‘ کریم داد نے سمجھانے کے انداز میں میراں بخش سے کہا، ’’تو ذرا سوچ تو سہی کہ لڑائی میں دونوں فریق ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے لیے کیا کچھ نہیں کرتے، پہلوان جب لنگر لنگوٹ کس کے اکھاڑے میں اتر آئے تو اسے ہر داؤ استعمال کرنے کا حق ہوتا ہے۔۔۔‘‘\n\nمیراں بخش نے اپنا گھٹا ہوا سر ہلایا، ’’یہ تو ٹھیک ہے!‘‘\n\nکریم داد مسکرایا، ’’تو پھر دریا بند کرنا بھی ٹھیک ہے۔ ہمارے لیے یہ ظلم ہے، مگر ان کے لیے روا ہے۔‘‘\n\n’’روا کیا ہے۔۔۔ جب تیری جیب پیاس کے مارے لٹک کر زمین تک آجائے گی تو میں پھر پوچھوں گا کہ ظلم روا ہے یا ناروا۔۔۔ جب تیرے بال بچے اناج کے ایک ایک دانے کو ترسیں گے توپھر بھی یہ کہنا کہ دریا بند کرنا بالکل ٹھیک تھا۔‘‘\n\nکریم داد نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور کہا،’’میں جب بھی کہوں گا چودھری۔۔۔ تم یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ صرف وہ ہمارا دشمن ہے۔ کیا ہم اس کے دشمن نہیں۔ اگر ہمارے اختیار میں ہوتا، تو ہم نے بھی اس کا دانہ پانی بند کیا ہوتا۔۔۔ لیکن اب کہ وہ کرسکتا ہے، اور کرنے والا ہے تو ہم ضرور اس کا کوئی توڑ سوچیں گے۔۔۔ بیکار گالیاں دینے سے کیا ہوتا ہے۔۔۔دشمن تمہارے لیے دودھ کی نہریں جاری نہیں کرے گا چودھری نتھو۔۔۔ اس سے اگر ہوسکا تو وہ تمہارے پانی کی ہر بوند میں زہر ملادے گا، تم اسے ظلم کہو گے، وحشیانہ پن کہوگے اس لیے کہ مارنے کا یہ طریقہ تمہیں پسند نہیں۔۔۔ عجیب سی بات ہے کہ لڑائی شروع کرنے سے پہلے دشمن سے نکاح کی سی شرطیں بندھوائی جائیں۔۔۔اس سے کہا جائے کہ دیکھو مجھے بھوکا پیاسا نہ مارنا، بندوق سے اور وہ بھی اتنے بور کی بندوق سے، البتہ تم مجھے شوق سے ہلاک کرسکتے ہو۔ اصل بکواس تو یہ ہے۔۔۔ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچو۔‘‘\n\nچودھری نتھو جھنجھلاہٹ کی آخری حد تک پہنچ گیا، ’’برف لا کے رکھ میرے دل پر۔‘‘\n\n’’یہ بھی میں ہی لاؤں۔‘‘ یہ کہہ کر کریم داد ہنسا۔ میراں بخش کے کاندھے پر تھپکی دے کر اٹھا اور چوپال سے چلا گیا۔\n\nگھر کی ڈیوڑھی میں داخل ہو ہی رہا تھا کہ اندر سے بختو دائی باہر نکلی۔ کریم داد کو دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر پوپلی مسکراہٹ پیدا ہوئی۔\n\n’’مبارک ہو کیمے۔ چاند سا بیٹا ہوا ہے، اب کوئی اچھا سا نام سوچ اس کا؟‘‘\n\n’’نام؟‘‘ کریم داد نے ایک لحظے کے لیے سوچا،’’یزید۔۔۔ یزید!‘‘\n\nبختو دائی کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ کریم داد نعرے لگاتا اندر گھر میں داخل ہوا۔ جیناں چارپائی پر لیٹی تھی۔۔ پہلے سے کسی قدر زرد، اس کے پہلومیں ایک گل گوتھنا سا بچہ چپڑچپڑانگوٹھا چوس رہا تھا۔ کریم داد نے اس کی طرف پیار بھری فخریہ نظروں سے دیکھا اور اس کے ایک گال کو انگلی سے چھیڑتے ہوئے کہا، ’’اوئے میرے یزید!‘‘\n\nجیناں کے منہ سے ہلکی سی متعجب چیخ نکلی۔۔۔ ’’یزید؟‘‘\n\nکریم داد نے غور سے اپنے بیٹے کا ناک نقشہ دیکھتے ہوئے کہا، ’’ہاں یزید۔۔۔ یہ اس کا نام ہے۔‘‘\n\nجیناں کی آواز بہت نحیف ہوگئی، ’’یہ تم کیا کہہ رہے ہوکیمے۔۔۔؟یزید‘‘\n\nکریم داد مسکرایا، ’’کیا ہے اس میں؟ نام ہی تو ہے!‘‘\n\nجیناں صرف اس قدر کہہ سکی، ’’مگر کس کا نام؟‘‘\n\nکریم داد نے سنجیدگی سے جواب دیا، ’’ضروری نہیں کہ یہ بھی وہی یزید ہو۔۔۔ اس نے دریا کا پانی بند کیا تھا۔۔۔ یہ کھولے گا!‘‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%B2%DB%8C%D8%AF_%28%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81%29"} {"title": "یعنی", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "میں سوچتا ہوں اک نظم لکھوں\nلیکن اس میں کیا بات کہوں\nاک بات میں بھی سو باتیں ہیں\nکہیں جیتیں ہیں کہیں ماتیں ہیں\nدل کہتا ہے میں سنتا ہوں\nمن مانے پھول یوں چنتا ہوں\nجب مات ہو مجھ کو چپ نہ رہوں\nاور جیت جو ہو درانہ کہوں\nپل کے پل میں اک نظم لکھوں\nلیکن اس میں کیا بات کہوں\nجب یوں الجھن بڑھ جاتی ہے\nتب دھیان کی دیوی آتی ہے\nاکثر تو وہ چپ ہی رہتی ہے\nکہتی ہے تو اتنا کہتی ہے\nکیوں سوچتے ہو اک نظم لکھو\nکیوں اپنے دل کی بات کہو\nبہتر تو یہی ہے چپ ہی رہو\n\nلیکن پھر سوچ یہ آتی ہے\nجب ندی بہتی جاتی ہے\nاور اپنی اننت کہانی میں\nیوں بے دھیانی میں روانی میں\nمانا ہر موڑ پہ مڑتی ہے\nپر جی کی کہہ کے گزرتی ہے\nسر پر آئی سہہ جاتی ہے\nاور منہ آئی کہہ جاتی ہے\nدھرتی کے سینے پہ چڑھتی ہے\nاور آگے ہی آگے بڑھتی ہے\nیوں میں بھی دل کی بات کہوں\nجی میں آئے تو نظم لکھوں\nچاہے اک بات میں سو باتیں\nجیتیں لے آئیں یا ماتیں\nچاہے کوئی بات بنے نہ بنے\nچاہے سکھ ہوں یا دکھ اپنے\nچاہے کوئی مجھ سے آ کے کہے\nکیوں بول اٹھے کیوں چپ نہ رہے\n\nچاہے میں کہہ کر چپ ہی رہوں\nمیں سوچتا ہوں اک نظم لکھوں\nلیکن اس میں کیا بات کہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D8%B9%D9%86%DB%8C"} {"title": "یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیں", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیں\nکسی طرح بھی دل زار کو قرار نہیں\n\nشبوں کو خواب نہیں خواب کو قرار نہیں\nکہ زیب دوش وہ گیسوئے مشکبار نہیں\n\nکلی کلی میں سمائی ہے نکہت سلمیٰ\nشمیم حور ہے یہ بوئے نو بہار نہیں\n\nکہاں کہاں نہ ہوئے ماہ رو جدا مجھ سے\nکہاں کہاں مری امید کا مزار نہیں\n\nغموں کی فصل ہمیشہ رہی تر و تازہ\nیہ وہ خزاں ہے کہ شرمندۂ بہار نہیں\n\nبہار آئی ہے ایسے میں تم بھی آ جاؤ\nکہ زندگی کا برنگ گل اعتبار نہیں\n\nکسی کی زلف پریشاں کا سایۂ رقصاں ہے\nفضا میں بال فشاں ابر نو بہار نہیں\n\nستارہ وار وہ پہلو میں آ گئے شب کو\nسحر سے کہہ دو کہ محفل میں آج بار نہیں\n\nگل فسردہ بھی اک طرفہ حسن رکھتا ہے\nخزاں یہ ہے تو مجھے حسرت بہار نہیں\n\nہر ایک جام پہ یہ نغمۂ حزیں ساقی\nکہ اس جوانی فانی کا اعتبار نہیں\n\nخدا نے بخش دیئے میرے دل کو غم اتنے\nکہ اب میں اپنے گناہوں پہ شرمسار نہیں\n\nچمن کی چاندنی راتیں ہیں کس قدر ویراں\nکہ اس بہار میں وہ ماہ نو بہار نہیں\n\nشریک سوز ہیں پروانے شمع کے اخترؔ\nہمارے دل کا مگر کوئی غم گسار نہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86_%D9%88%D8%B9%D8%AF%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یقیناً ہے کوئی ماہ منور پیچھے چلمن کے", "poet_page": "مصنف:رنجور عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یقیناً ہے کوئی ماہ منور پیچھے چلمن کے\nکہ اس کی پتلیوں سے آ رہا ہے نور چھن چھن کے\n\nقدم کیوں کر نہ لوں بت خانے میں اک اک برہمن کے\nکہ آیا ہوں یہاں میں شوق میں اک بت کے درشن کے\n\nنہ کیوں آئینہ وہ دیکھا کریں ہر وقت بن بن کے\nزمانہ ہے یہ خود بینی کا دن ہیں ان کے جوبن کے\n\nیہ ہیں سامان آرائش جنوں میں اپنے مسکن کے\nادھر ٹکڑے گریباں کے ادھر پرزے ہیں دامن کے\n\nہمارے دست وحشت کب ہیں نچلے بیٹھنے والے\nاڑا لیں گے نہ سارے تار جب تک جیب و دامن کے\n\nہماری خانہ ویرانی کی دھن کیوں باغباں کو ہے\nہمارے پاس کیا ہے چار تنکے ہیں نشیمن کے\n\nہمارے یار کی قیمت کو کیا تم نے نہیں دیکھا\nکھڑے ہو سرو شمشاد و صنوبر! تم جو جیوں تن کے\n\nزمانے میں کوئی ہوگا کہ بگڑی اس کی بنتی ہو\nہمارے کھیل تو سارے بگڑ جاتے ہیں بن بن کے\n\nکوئی خورشید سیما آ رہا ہے فاتحہ پڑھنے\nضرورت شمع کی اب کیا سرہانے میرے مدفن کے\n\nخبر لے اب ذرا اپنی صفائی قلب کی زاہد\nگنے گا داغ کب تک تو مرے آلودہ دامن کے\n\nزباں سے کہنے سے حاصل کہ تجھ سے انس ہے مجھ کو\nسمجھتا ہے مرا دل خوب اشارے تیرے چتون کے\n\nجو وا بھی ہو قفس کا در تو ہم اس سے نہ ہوں باہر\nنہیں دل میں ہمارے ولولے اب سیر گلشن کے\n\nگریباں چاک آنکھیں سرخ برہم کاکل پیچاں\nیہ کیا صورت بنائی ہائے تم نے غم میں دشمن کے\n\nمرا ہوں اک بت غارت گر دیں کی محبت میں\nکفن میرا سلے تاروں سے زنار برہمن کے\n\nخزاں اور نغمے شادی کے بہار آئے تو گا لینا\nیہ دن تو اے عنادل ہیں تمہارے شور و شیون کے\n\nجو ہو باران رحمت مزرع اغیار کے حق میں\nوہی برق غضب ہو آہ حق میں میرے خرمن کے\n\nدل ناداں کی ہے کیا اصل اگر بقراط بھی ہوتا\nتو آتا وہ بھی دم میں اس بت عیار و پر فن کے\n\nحسینان جہاں کے ڈھنگ دنیا سے نرالے ہیں\nکہ ہوتے ہیں یہ دشمن دوست کے اور دوست دشمن کے\n\nانہیں ہرگز یہ دل اپنا کہ شیشے سے بھی نازک ہے\nنہ دیں گے ہم کہ ان میں ڈھنگ ابھی تک ہیں لڑکپن کے\n\nغم دنیا و دیں سے اب کہاں دم بھر کی بھی مہلت\nہماری فارغ البالی سدھاری ساتھ بچپن کے\n\nگیا تھا رات واعظ میکدے میں وعظ کہنے کو\nمگر نکلا وہ کوئی شے چھپائے نیچے دامن کے\n\nنہ جانیں اس میں تھی کیا مصلحت صناع بے چوں کی\nدل ان سیمیں تنوں کے کیوں بنائے سنگ و آہن کے\n\nاگر غفلت کا پردہ دور ہو انساں کی آنکھوں سے\nنظر آئیں مناظر ہر جگہ وادی و ایمن کے\n\nتغافل کج ادائی بے وفائی عاشق زاری\nبتوں کو کیا نہیں آتا یہ ہیں استاد ہر فن کے\n\nاگر مجھ سے جدا ہونے کی تو نے ٹھان ہی لی ہے\nجدائی ڈال پہلے درمیاں میرے سر و تن کے\n\nاگر عشاق کے مقسوم میں تھا صدمۂ ہجراں\nبنائے جاتے ان کے دل بھی یارب سنگ و آہن کے\n\nوہ روٹھے ہیں تو گو مشکل نہیں ان کا منا لینا\nمگر کب تک مناؤں روٹھ جاتے ہیں وہ من من کے\n\nتمہاری مانگ اب کیا مانگتی ہے نقد دل مجھ سے\nوہ ہے مدت سے قبضے میں تمہاری چشم رہزن کے\n\nعبث اس دھن میں مہر و ماہ کھاتے پھرتے ہیں چکر\nکہ ہو ان کو فروغ آگے تمہارے روئے روشن کے\n\nغرض شاید یہ ہے رنجورؔ قبل از موت مر جائے\nچلے ہو تم جو یوں بہر عیادت آج بن ٹھن کے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%D8%A7%D9%8B_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D9%85%D9%86%D9%88%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%DA%86%DA%BE%DB%92_%DA%86%D9%84%D9%85%D9%86_%DA%A9%DB%92"} {"title": "یقیں، مثلِ خلیل آتش نشینی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "یقیں، مثلِ خلیل آتش نشینی\nیقیں، اللہ مستی، خود گُزینی\nسُن، اے تہذیبِ حاضر کے گرفتار\nغلامی سے بَتر ہے بے یقینی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%82%DB%8C%DA%BA%D8%8C_%D9%85%D8%AB%D9%84%D9%90_%D8%AE%D9%84%DB%8C%D9%84_%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D9%86%D8%B4%DB%8C%D9%86%DB%8C"} {"title": "یورپ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "تاک میں بیٹھے ہیں مُدّت سے یہودی سُودخوار\nجن کی رُوباہی کے آگے ہیچ ہے زورِ پلنگ\nخود بخود گرنے کو ہے پکّے ہُوئے پھل کی طرح\nدیکھیے پڑتا ہے آخر کس کی جھولی میں فرنگ!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%BE"} {"title": "یورپ اور سُوریا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "فرنگیوں کو عطا خاکِ سُوریا نے کِیا\nنبّیِ عِفّت و غم خواری و کم آزاری\nصِلہ فرنگ سے آیا ہے سُوریا کے لیے\nمَے و قِمار و ہجومِ زنانِ بازاری!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%D9%8F%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%A7"} {"title": "یورپ اور یہود", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "یہ عیشِ فراواں، یہ حکومت، یہ تجارت\nدل سِینۂ بے نُور میں محرومِ تسلّی\nتاریک ہے افرنگ مشینوں کے دھُویں سے\nیہ وادیِ اَیمن نہیں شایانِ تجلّی\nہے نَزع کی حالت میں یہ تہذیبِ جواں مرگ\nشاید ہوں کلیسا کے یہودی متولّی!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%BE_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%8C%DB%81%D9%88%D8%AF"} {"title": "یورپ سے ایک خط", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "ہم خُوگرِ محسوس ہیں ساحل کے خریدار\nاک بحرِ پُر آشوب و پُر اسرار ہے رومیؔ\nتُو بھی ہے اسی قافلۂ شوق میں اقبالؔ\nجس قافلۂ شوق کا سالار ہے رومیؔ\nاس عصر کو بھی اُس نے دیا ہے کوئی پیغام؟\nکہتے ہیں چراغِ رہِ احرار ہے رومیؔ\n\nجواب\nکہ نَباید خورد و جَو ہمچوں خراں\nآہُوانہ در ختن چر ارغواں\nہر کہ کاہ و جَو خورد قرباں شود\nہر کہ نورِ حق خورد قُرآں شود", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AE%D8%B7"} {"title": "یورپ کی زندگی", "poet_page": "مصنف:عظیم الدین احمد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "دن بھر ہے چرچا کام کا\nشب اور شراب جاں فزا\nدن بھر ہیں ساری سختیاں\nشب اور حوران جناں\nایک ایک سانچے میں ڈھلی\nایک ایک پتلی قہر کی\nغنچہ دہن آفت ادا\nشوخی غضب غمزہ بلا\nظاہر میں سفاکی بھری\nباطن میں اک جذب خفی\nتیور سے روکھا پن عیاں\nانداز میں مستی نہاں\nپالو کبھی وحشی ہرن\nخود صید پر ناوک فگن\nکیوں کر نہ یاروں کے بھلا\nلب سے یہی نکلے صدا\nبالا ہو یا پستی غضب\nاس طور کی ہستی غضب\nاے زندگی اے زندگی\nہیں بار آور تجھ سے ہی\nباغ تمنا کے شجر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%BE_%DA%A9%DB%8C_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C"} {"title": "یورپ کے بانکے", "poet_page": "مصنف:عبد الحلیم شرر", "kind": "prose", "section": "نثر", "year": null, "text_ur": "ہم ہندوستان کے بانکوں کا حال ناظرین دلگدازکے سامنے پیش کر چکے ہیں۔ اب اُن کے بڑے بھائی یورپ کے قدیم بانکوں کا حال بھی سن لیجیے۔ یورپ کے ان انوکھے سپاہیوں نے جو سپہ گر ہونے کے ساتھ بانکے رسیلے چھیلا بھی ہوتے تھے، اپنے لیے \"نائٹ\" کا لقب اختیار کیا تھا۔\n\nمحققین یورپ کا بیان ہے کہ وہاں سپہ گری کے پیشےکو خاص معاہدوں اور کسی خاص طرز سے اختیار کرنا اہل جرمنی سے شروع ہوا جو رومیوں کے عروج کے زمانے میں وحشی و جاہل مگر اس کے ساتھ بڑے جنگجو اور نہایت ہی شجاع خیال کیے جاتے تھے۔ کہتے ہیں کہ اُنہیں دنوں جرمانیا کے جنگلوں اور پہاڑوں میں بانکے سپاہی بننے کا یہ سادہ اور بھونڈا طریقہ مروج تھا کہ جو نوجوان اس گروہ میں شامل ہونا چاہتا ہے تو پہلے کسی میدان جنگ میں بہادری اور اخلاقی حالت دریافت کرتے اور جب وہ مذکورہ صفات کو اُس میں تسلیم کرتے اور ہر طرح کا اطمینان ہو جاتا تو بزرگوں میں سے کوئی شخص اُس کے گال یا شانے پر ایک تھپڑ مارتا، جس کے یہ معنی تھے کہ اس ضرب کے بعد وہ پھر کبھی چوٹ نہ کھائے گا۔\n\nوہی بزرگ قوم اُسے ایک ڈھال اور ایک برچھا دیتا اور اُسے اجازت ہوتی کہ اُن اسلحہ کو لے کے میدان جنگ میں جایا کرے۔ جن نوجوانون کو یہ عزت دی جاتی وہ \"نیخت\" کہلاتے۔ اسی نیخت سے بگڑ کے \"نائٹ\" کا لفظ نکلا ہے، جس کی اگلی شان تو بالکل مفقود ہو گئی مگر نام یورپ کے خِطابوں میں داخل ہونے کی وجہ سے اس وسعت کے ساتھ دنیا میں پھیلا کہ آج ہمارے راجہ صاحبانِ جہانگیر آباد و محمود آباد ہی نہیں، ہندوستان کے اکثر والیانِ ملک، سوداگر اور ارضِ عرب تک کے بعض فرماں روا بھی نائٹ ہیں۔\n\nرومیوں میں اس کے ہم وزن \"میلس\" کا لفظ تھا۔ ان مہذب لوگوں میں اگرچہ اصلی قوت غریبوں ہی کی تھی جو \"پلے بِیَن\" کہلاتے۔ مگر امرا و ملوک گھوڑوں پر سوار ہو کے لڑتے اور \"بطریق\" کہلاتے اور وہ بطارقہ ہی اکثر \"میلس\" کے لقب سے یاد کیے جاتے۔\n\nیہ اس زمانے کا ذکر ہے جب جرمنی اور رومی دونوں قومیں بُت پرست تھیں اور دین مسیحی ابھی دنیا میں نہیں آیا تھا۔ حضرت مسیح کا دین ابتداءً صرف واعظوں سے شروع ہوا تھا اور سپہ گری کے بالکل مخالف تھا۔ مگر مدتوں مظلوم رہنے کی وجہ سے مسیحیوں کے سینوں میں ایک انتقام کی آگ مدت سے دبی چلی آتی تھی، جسے قسطنطینِ اعظم نے اپنی پولٹیکل مصلحتوں سے بھڑکا دیا۔ حضرت مسیح کی مصلوبیت کی بنا پر اُس نے صلیب کو مسیحیوں کا شعار قرار دیا۔ یہ صلیبی علم ہاتھ میں لیا اور جوشِ انتقام میں ڈوبے ہوئے مسیحی دوڑ دوڑ کے اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔ اس پُرجوش قوت سے اپنے بُت پرست حریف کو شکست دے کے وہ پوری قلمرو روم پر قابض ہو گیا۔ لیکن یہ ایک وقتی اُبال تھا۔ جب مسیحیت دولت روم کا مذہب بن گئی تو پھر اُسے سپہ گری سے کوئی سروکار نہ رہا۔ اس لیے کہ مسیحیت خوں ریزی کی مخالف اور لڑنے بھڑنے سے متنفّر تھی۔ چنانچہ رومی سلطنت ایک مسیحی دولت بنتے ہی ایسی کمزور ہو گئی کہ گوتھ اور ہن قوموں نے اُسے خوب خوب پامال کیا۔ اور آخر عرب لوگ اُٹھے جنہوں نے مشرق میں ایشیائے کوچک و شام کو، افریقہ میں تمام شمالی ممالک کو رومیوں سے چھین لیا۔ جزیرۂ صقلیہ اور خود اٹلی کا کسی قدر جنوبی حصہ عربوں کے قبضے میں چلا آیا اور آبنائے جبرالٹر سے اُتر کے اُنہوں نے پورا ملک اسپین بھی اپنے قبضے میں کر لیا۔\n\nان دنوں یورپ میں فیوڈل سسٹم (حکومت امرا) کا طریقہ جاری تھا۔ سارے ملک کی یہ حالت تھی کہ ہر زمیندار اپنے علاقے اور اپنے گاؤں یا شہر کا خودسر حاکم اور بادشاہ بنا ہوا تھا۔ اس کے زیرِ عَلَم حسب حیثیت سپاہی ہوتے اور انہیں کے انداز سے اُس کی قوت ہوتی۔ متعدد زمینداروں کے باہم ملنے اور حلیف ہو جانے سے ایک بڑی قوت بن جاتی اور زبردست دشمنوں کے مقابلے میں اکثر یہی ہوا کرتا۔ اصلی قوت ان دنوں بھی پیدل سپاہیوں ہی کی تھی، مگر چونکہ وہ ادنیٰ طبقے کے لوگ ہوتے اس لیے اُن کی قدر نہ ہوتی۔ قدر سواروں کی تھی جو عموماً امیروں اور رئیسوں کے اعزّا و اقارب اور شرفائے قوم ہوتے اور وہ جیسا کہ ہم نے بیان کیا، میلس کہلاتے تھے۔ جن ڈیوکوں (شہزادوں) اور کاؤنٹوں (نوابوں) نے شاہی سطوت و شوکت حاصل کر لی ہوتی، وہ اپنی قلمرو کے صوبوں کو جن لوگوں کے ہاتھ میں دیتے وہ \"بائرن\" کہلاتے۔ اور بائرن اپنے صوبے کو جن عہدہ داروں میں تقسیم کرتے وہ \"فائف\" کے لقب سے یاد کیے جاتے اور یہ فائف عموماً \"پیر\" کہلاتے تھے۔\n\nاس تفصیل کے ملاحظے سے ہمارے دوستوں کو یورپ کے موجودہ خطابوں اور انگریز معززین کے لقبوں کی اصلیت بخوبی معلوم ہو جائے گی۔\n\n\"پیر\" سے لے کے اوپر تک جتنے معززین تھے گھوڑوں پر سوار ہو کے لڑتے اور کسی ادنیٰ شخص کو یہ حق نہ تھا کہ بجز پاپیادہ لڑنے کے گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کے میدان جنگ میں آئے اور یہی لوگ میلس خیال کیے جاتے تھے۔ جب عربوں نے اسپین کو لے لیا، پھر کوہسار پیرینیز سے نکل کے فرانس پر حملہ آور ہوئے اور اندیشہ ہوا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ ساری مغربی مسیحی دنیا کو فتح کر لیں تو نظر آیا کہ بغیر سپہ گری کو زندہ کیے اور اُسے مذہب کا مقدس لباس پنھائے اپنی وطنی اور قومی عزت کا بچانا دشوار ہے۔ ابتداءً تو کلیسا نے اس ضرورت کو محسوس کر کے \"خاموشی نیم رضا\" کا اصول اختیار کیا۔ یعنی اُس کا یہ طرز عمل رہا کہ زبان سے تو کچھ نہ کہا جائے مگر سپہ گری کی ترقی کو بظاہر استحسان کی نظر سے دیکھا جائے۔ لیکن رومی سپہ گری بوسیدہ و ازکار رفتہ ہو چکی تھی، اس لیے جرمنی کا بانکپن اختیار کر لیا گیا۔ وہ اپنے ساتھ اپنے لقب نیخت کو بھی لایا جو انگریزی میں آ کے نائٹ بن گیا۔\n\nیہ لفظ انگریزی تلفظ میں تو نائٹ ہے لیکن اس کا املا آج تک ایسا واقع ہو ا ہے کہ اگر بولنے میں اُس کی پابندی کی جائے تو لفظ نائٹ ہی نہ ہو گا بلکہ \"کنیخت\" ہو گا۔ غرض اب جو بہادر میدان جنگ میں کوئی کار نمایاں کرتے اور شجاعت ظاہر کرتے، نائٹ مشہور ہو کے ہم وطنوں میں معزز و ممتاز ہو جاتے۔ حصول عزت نے لوگوں کو زیادہ شوق دلایا اور نائٹوں کی تعداد بڑھنا شروع ہوئی۔ اور چند ہی روز میں یہ حالت ہو گئی کہ عوام نائٹوں کی بے حد تعظیم و تکریم کرتے اور سلاطین حامیِ ملک و ملت خیال کر کے انہیں اپنا سرمایۂ ناز بتاتے۔\n\nاب یورپ میں یہ طریقہ تھا کہ صرف \"فائف\" اور اُن سے مافوق مرتبوں کے لوگ نائٹ بن سکتے۔ کسی عامی کی مجال نہ تھی کہ نائٹ ہونے کا دعوے کرے۔ جو اپنے خاندان کو بے داغ و بے عیب ثابت کر سکتا اور چار ہم مرتبہ فائفوں سے قرابت رکھنے کا مدعی ہو سکتا، اس کے نوجوان لڑکے خاص طریقے اور خاص رسوم کے ساتھ نائٹ بنائے جا سکتے۔ کبھی کبھی یہ بھی ہوتا کہ کوئی ادنیٰ طبقے کا آدمی سپہ گری کے کمال دکھا کے اور بڑے بڑے میدانوں میں ناموری حاصل کر کے نائٹ کا درجہ حاصل کر لیتا اور ایک نیا پیر بن جاتا۔\n\nفرانس کے بادشاہ شارلمین کے عہد سے جو ۲۴۳محمدی ( ۸۱۴ء) میں دنیا سے رخصت ہوا، حُروب صلیبیہ کے چھڑنے کے فی ما بین جو زمانہ گزرا اُس میں اہل اسپین، فرانس اور نارمن لوگوں کے اوضاع و اطوار میں ایک انقلاب عظیم ہو گیا تھا جو چند روز کے اندر سارے یورپ میں پھیل گیا۔ اسی انقلاب کا ایک نمونہ یہ بھی تھا کہ سپاہی میلس سے نائٹ بن گئے۔ ابتدا ہی سے نائٹ ہونے والوں کو سلاح جنگ کے ساتھ دو ذمہ داریاں اپنے سر لینی پڑتیں۔ ایک تو یہ کہ سپہ گری کو اپنا پیشہ سمجھیں گے اور دوسرے یہ کہ حسین عورتوں کی خاطر داشت اور خدمت گزاری کریں گے۔\n\nاس کا پتہ نہیں چلتا کہ نائٹوں کو عورتوں کے ساتھ کیوں خصوصیت تھی؟ اور نازنینانِ ملک سے خاص تعلقات رکھنا نائٹ ہونے کی ذمہ داریوں میں کب اور کیونکر داخل ہوا؟ مگر اس سے یورپ کی اُس وقت کی اخلاقی حالت عالم آشکارا ہو جاتی ہے۔ یہ نوجوان نائٹ ہوتے ہی کسی نہ کسی حسینہ کے عاشقوں میں شامل ہو جاتا۔ بلا لحاظ اس کے کہ وہ کس کی بیٹی، کس کی بہن اور کس کی جورو ہے۔ اُس خاتون کو وہ \"اپنی خاتون\" کہتے اور اس کے لیے لڑنے بھڑنے اور کٹنے مرنے پر ہر وقت تیار رہتے۔ اس قسم کے بہت سے نائٹ اُن دنوں ہسپانیہ اور فرانس میں پھیلے ہوئے تھے جو مسلمانوں سے لڑتے اور اکثر ناکام و نامراد میدان جنگ سے واپس جاتے۔ اور یہی تھے جنہوں نے ہسپانیہ کے علاقہ قسطلہ اور مملکتِ فرانس کو عربوں کے ہاتھ سے بچا لیا۔\n\nنائٹوں کی یہی حالت چلی آتی تھی کہ حروب صلیبیہ کا زمانہ شروع ہوا اور راہبوں کے شور و غوغا اور پوپ کے فتوے سے مذہب عیسوی کو سپاہیوں کی ضرورت پیش آئی۔ جو چیز اس وقت تک از روئے دین ناجائز تصور کی جاتی تھی یعنی سپہ گری، اب وہ عبادات میں داخل ہو گئی اور نائٹ ہونے میں ایک دینی تقدس پیدا ہو گیا۔\n\nلہذا اب بجائے اس کے کہ خود نائٹ کسی کو اپنے زمرے میں شامل کریں، مقتدایانِ ملت ملک کے بانکے ترچھے نوجوانون کو نائٹ بنانے لگے اور پادریوں اور اُسقفوں نے لوگوں کو اِن مقدس زن پرستوں کے زمرے میں شامل کرنے کا یہ طریقہ جاری کیا کہ جسے شوق ہو پہلے چند روز تک روزے رکھے۔ شب زندہ داری و ریاضت کرے۔ پھر غسل کر کے سفید کپڑے پہنے (جس میں بپتسما کا اشارہ تھا) اور سب سے بڑے محترم مقتدائے دین کے ہاتھ سے تلوار لے جس میں بزرگانِ دین کی برکت شامل بتائی جاتی۔\n\nاس رسم کے ادا ہو جانے کے بعد وہ \"خدا کا، سینٹ جارج کا اور سینٹ میکائیل کا بانکا\" کہا جاتا۔ اُس سے حلف لی جاتی کہ اپنے بانکپن کے فرائض کو سرگرمی سے ادا کرے گا۔ اپنے آپ کو خدا کا اور حسین عورتوں کا سپاہی تصور کرے گا۔ سچ بولے گا۔ حق کا ساتھ دے گا۔ مصیبت زدہ کی مدد کرے گا۔ ہر ایک کے ساتھ خُلق و مروت سے پیش آئے گا۔ دشمنان دین سے لڑے گا۔ سہل انگاری، غفلت اور اپنی جان بچانے کے جذبات کو حقیر سمجھ کے دل سے نکال ڈالے گا اور اپنی عزت برقرار رکھنے کے لیے سخت سے سخت خطروں کو برداشت کرے گا۔\n\nسپہ گری کے کاموں اور عشق بازی میں ان لوگوں کا انہماک اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ بعض بعض جہلا میں خیال پیدا ہو گیا کہ سوا سپہ گری کے اور کوئی پیشہ اختیار کرنا نائٹوں کے لیے حرام ہے اور نائٹوں کو دین کی برکتوں اور فیاضیوں سے یہ حق مل گیا ہے کہ مضرت سے بچنے کے لیے جس کسی سے جب انتقام چاہیں لے لیں۔ یہاں تک کہ قوانین تمدن اور فوجی باضابطگی کے قیود سے وہ آزاد ہیں۔ چنانچہ کسی قانون کا پابند ہونا وہ اپنی ذلت تصور کرتے۔\n\nبرچھا نائٹ کا خاص سلاح تھا۔ اُس کا گھوڑا اوروں کے جانوروں سے قد آور، بھاری بھر کم اور طاقتور ہوتا۔ ایک خاص ملازم گھوڑے کا دہانہ پکڑے ہوئے ہمیشہ اُس کے ساتھ ساتھ رہتا اور جب تک لڑنے کا وقت نہ آ جاتا نائٹ صاحب اُس پر سوار نہ ہوتے۔ وہ کسی اور تیز قدم یا بو یا معمولی گھوڑے پر سوار رہتے۔ نائٹ کا خَود، زِرہ، موزے اور تلوار خاص شان اور آن بان کے ہوتے۔ میدان جنگ میں اُن کا قاعدہ تھا کہ برچھے کو دشمن کی طرف جُھکا کے آڑا کر لیتے اور گھوڑے کو ایڑ بتا کے آگے ریل دیتے۔ میدان جنگ میں ہر نائٹ کے ساتھ اُس کا ایک وفادار رفیق رہتا جو \"اسکوائر\" کہلاتا۔ اسکوائر ہمیشہ اپنے نائٹ کا ہم سن اور شریف النسل ہوا کرتا اور دراصل وہ نائٹ ہونے کا امیدوار ہوتا۔ تیر کمان، شمشیر و خنجر یا اور حربے جن سے نائٹ صاحب لڑتے ساتھ ساتھ رہتے اور صرف نیزے ہی کا اتنا سامان ہوتا جو پانچ پانچ چھ چھ آدمیوں پر لدا ہوتا اور وہ سب لڑائی میں سائے کی طرح اس کے ساتھ رہتے۔ عرصۂ جنگ میں اُن کا بانا اور اُن کا شعار ہر ایک میں کوئی جدت اور خصوصیت ہوتی۔\n\nاس گروہ کے پیدا ہوجانے سے یورپ کے زمینداروں اور سربرآوردہ لوگوں کو یہ آسانی ہو گئی تھی کہ اپنے ذاتی جھگڑوں میں اُن سے مدد لیتے اور اُن کی کارگزاریوں کا معاوضہ کرتے۔ گویا خدائی فوجداروں کا ایک گروہ پیدا ہو گیا تھا جن کو معتدبہ رقم دے کر جو چاہتا بُلا لیتا اور اپنے جھنڈے کے نیچے آسانی سے ایک زبردست لشکر جمع کر لیتا۔\n\nمگر یورپ کے ان بانکے نائٹوں میں اُس وقت اور زیادہ اہمیت پیدا ہو گئی جب صلیبی مجاہدوں کا لشکر بیت المقدس کے فتح کرنے کے لیے یورپ سے چلا۔ کلیسائے مسیحی نے اپنے برکت کے آغوش میں لے کے انہیں مذہبی وقعت پہلے ہی دے دی تھی۔ لیکن جب وہ اپنی جان و مال کو دین کی نذر کر کے جان دینے کے لیے گھر سے نکلے اور سینے اور پیٹھ پر صلیبیں بنا کے مشرق کی جانب روانہ ہوئے تو اُن میں بالکل ایک نئی شان پیدا ہو گئی اور باعتبار ذمہ داریوں اور خدمتوں کے اُن میں دو تفریقیں ہو گئیں۔\n\nبیت المقدس میں پہونچنے اور اُس پر قابض ہو جانے کے بعد ان لوگوں کو اصلی سروکار تو ہولی سپلکر (کنیسۂ مرقد مسیح) سے تھا مگر حضرت سلیمان کا بنایا ہوا خانۂ خدا جو اب مسلمانوں کی مسجد بنا ہوا تھا، جسے مسلمان مسجد اقصیٰ اور مسیحی مسجد عمر کہتے تھے، دُنیا کی ایک قدیم یادگار تھا۔ اور عیسائی بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہی وہ مبارک بُقعہ تھا جس پر اس سرزمین میں پہلا معبد الٰہی قائم ہوا۔ اس میں جتنے مسلمان پناہ گزین ہوئے تھے وہ تو کمال بے رحمی سے شہید کیے گئے۔ اور اُن حامیانِ توحید سے خالی کرانے کے بعد ضرورت تھی کہ اُس یادگار زمانہ عمارت سے بھی کوئی کام لیا جائے جس کی تعمیر میں خلفائے بنی اُمیہ نے لاکھوں روپے صرف کر دیے تھے۔\n\nچنانچہ صلیبی فاتحوں میں سے چند شریف النسل اشخاص مسجد اقصیٰ میں جمع ہوئے اور باہم حلف اُٹھائی کہ جو زائرین یہاں آئیں گے ہم اُن کی حمایت و خبرگیری کریں گے۔ یہ جماعت نائٹ ٹمپلرز (ہیکل سلیمانی والے بانکے) کے نام سے مشہور ہوئی اور اپنے گروہ کو اِن لوگوں نے حصول برکت کے لیے ولی برنارڈ کے نام سے وابستہ کر دیا۔ حرم سلیمانی میں بیٹھ کے اُنہوں نے جو حلف اُٹھائی تھی اُس کی رُو سے یہ لوگ صرف دین کے سپاہی بن گئے تھے۔ اُنہوں نے دنیا چھوڑ دی تھی۔ وطن بُھلا دیے تھے۔ بیت المقدس کے سوا کسی شہر کو اپنا وطن اور شہر نہ سمجھتے۔ گھربار سے دست بردار ہو گئے تھے اور سوا مسیح کے خاندان کے کسی کو اپنا گھرانا نہ بتاتے۔ جائداد سب کی مشترک رہتی اور مشترک زندگی بسر کرتے۔ ایک ہی سرمایہ سب کی دولت تھا۔ خطروں اور مصیبتوں میں ایک دوسرے کے جان نثار تھے۔ گویا ایک قوت اور ایک ہی روح سب پر حکومت کر رہی تھی۔ ان کا سامان زینت صرف ہتھیار تھے۔ ان کے گھروں میں جو عبادت خانوں کا حکم رکھتے، نہ روپیہ پیسہ ہوتا نہ سامان دولت و حشمت۔ زینت و نمائش کی چیزوں سے انہیں نفرت تھی۔ بہت ہی سادی اور بھدّی چیزوں سے اپنے ضروریات زندگی کو پورا کرتے۔ نمائش کے لیے وہاں صرف ڈھالیں، تلواریں، نیزے اور مسلمانوں سے چھینے ہوئے عَلم نظر آتے۔ لڑائی کا نام سُنتے ہی اپنے فولادی اسلحہ لے کے دوڑتے۔ پھر نہ حریف کی کثرت سے ڈرتے اور دشمنوں کے جوش و خروش کی پروا کرتے۔ فتحیں اُن کا سرمایۂ ناز تھیں۔ مسیح کے نام پر جان دینا اُن کی اعلیٰ ترین کامیابی تھا۔ انہیں یقین تھا کہ فتح صرف خدا کی عنایت سے حاصل ہوتی ہے، مگر کوشش میں جان دے دینا اپنا فرض ہے۔ غرض ان نائٹوں کا پہلا گروہ یہ تھا۔\n\nدوسرے گروہ کی بنیاد یوں پڑی کہ صلیبی مجاہدین جب یورپ سے چلے تو ان کے ہمراہ وہاں سے ایک ہاسپٹل بھی آیا تھا جو فلاکت زدہ زائروں اور بیت المقدس کے مفلس و شکستہ حال نصرانیوں کی خبر گیری کے لیے تھا، خصوصاً ان بہادروں کی تیمارداری کےلیے جو مسلمانوں سے لڑیں۔ اس خدمت کو جن لوگوں نے اپنے ذمے لیا وہ بھی ایک قسم کے بانکے تسلیم کیے گئے، \"نائٹ ہاسپٹلرز\" کے نام سے مشہور ہوئے اور اُنہوں نے اپنے کو ولی یوحنا کی طرف منسوب کر کے اپنا خطاب \"نائٹس آف سینٹ جان\" یعنی \"ولی یوحنا کے بانکے\" قرار دیا۔\n\nیہ دونوں قسم کے نائٹ فولادی خود اور چار آئینے پہنتے۔ \"نائٹ آف ہولی سپلکر\" (مرقد مسیح کے بانکے) کہلانے کے باعث سب سے زیادہ معزز خیال کیے جاتے اور چونکہ \"لاطینی سلطنتِ ارضِ مُقَدّس\" کو (جو لاکھوں کروروں بندگانِ خدا کے خون کا سیلاب بہا کے عین مسلمانوں کے بیچ میں قائم کی گئی تھی) ان لوگوں سے مدد ملتی، وہ ان کی بے انتہا قدر کرتی اور اپنی زندگی کو انہیں کے اسلحہ پر منحصر تصور کرتی۔ زائرین یہاں سے واپس جا جا کے ساری مسیحی دنیا میں ان کی جانبازی اور بہادری کے قصے بیان کرتے۔\n\nچند ہی روز میں اِن کی اس قدر شہرت ہوئی کہ ہر حصۂ ملک کے اُمرا اور دولتمند خصوصاً وہاں کے پُرانے بانکے آ آ کے ان کے گروہ میں شامل ہونے لگے اور تھوڑے دنوں بعد یورپ کا کوئی نامور اور دولتمند خاندان نہ تھا جس کا کوئی نہ کوئی گروہ اِن مذہبی بانکوں اور وضعدار مجاہدوں کی جماعت میں نہ شریک ہو گیا ہو۔\n\n ایک تیسرا گروہ ٹیوٹانک نائٹوں کا بھی قائم ہو گیا جو نائٹ ٹمپلرز کا ہم مذاق تھا۔ تینوں گروہوں میں فرق اور امتیاز یہ تھا کہ ٹمپلر سفید چُغہ پہنتے جس پر سُرخ صلیب بنی ہوتی۔ ہاسپٹل والے سیاہ چُغہ پہنتے اور اُس پر سفید صلیب ہوتی۔ اور ٹیوٹانک نائٹ سفید چغہ پہنتے جس پر سیاہ صلیب ہوتی۔ نائٹ ٹمپلرز کو جن کے حالات ہم بیان کرنا چاہتے ہیں خاص مسجد اقصیٰ میں جگہ دی گئی تھی۔\n\nمسجد اقصیٰ کو مسیحی لوگ متبرک نہ سمجھتے تھے۔ کیونکہ اُن کے اعتقاد میں اُس کا سارا تقدس حضرت مسیح کے بعد جاتا رہا تھا اور خدا نے اُس پُرانے عبادت خانے کو چھوڑ دیا تھا۔ انہیں تو صرف حضرت مسیح کے مَولِد و مَرقَد یا ارض مقدس کے پُرانے کنیسوں سے کام تھا، اس لیے عیسائیوں کا قبضہ ہوتے ہی وہ عبد الملک بن مروان کی بنائی ہوئی عالیشان مسجد جو ہیکل سلیمانی کے اصلی آثار پر قائم تھی مسلمانوں کا قتل و قمع کر کے قصر شاہی قرار دی گئی۔\n\nان جنگجو بانکوں اور مذہبی فدائیوں کے گروہ کی بنیاد یوں پڑی کہ فرانس کے علاقۂ برگنڈی کے ایک نائٹ \"ہیوڈ پکانس\" نے مع اپنے آٹھ رفقا کے ۱۱۱۸ء میں بیت المقدس کے اسقف اعظم کے سامنے جا کے حلف اُٹھائی کہ \"ہم اپنی زندگی بیت المقدس کے راستوں کی نگہبانی اور زائروں کے بحفاظت لے آنے کے نذر کردیں گے۔ باضابطہ طور پر قانونِ ملت کی پابندی کریں گے اور بے انتہا اطاعت کیشی اور خود فراموشی کے ساتھ آسمان کے بادشاہ کی طرف سے جدال و قتال کریں گے۔\" یہ پہلا عہد تھا جس نے ان مذہبی بانکوں کےپیدا ہونے کی بنیاد قائم کی اور جب شاہِ بیت المقدس بلدون ثانی نے خاص مسجد اقصیٰ کے اندر اپنا کلب قائم کرنے کے لیے جگہ دے دی تو اس نئے گروہ کو اور مضبوطی حاصل ہو گئی۔\n\nدس برس بعد شہر ٹرائے میں بمنظوری پوپ ہونیوریوس ثانی ایک کونسل ہوئی جس میں دینی بانکوں کے اس گروہ کے لیے ایک دستور العمل مُدوّن ہو گیا۔ اس میں ۷۲ قاعدے تھے جو پوپ اور اُسقفِ بیت المقدس کی منظوری سے رائج ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کی دینی جان نثاری اور خاص جانبازی کی اس قدر شہرت ہوئی کہ ساری مسیحی دنیا گرویدہ ہو گئی اور ہر جگہ اور ہر سرزمین میں اُن کے لیے سرمایہ فراہم ہونے لگا۔ جس میں قوم نے اس قدر مستعدی دکھائی کہ ملوک و امرا اپنی سلطنتیں اور ریاستیں ان کی نذر کیے دیتے تھے اور ایطالیہ سے لے کر اسپین تک ہر چھوٹے بڑے حکمران نے بڑی بڑی جائدادیں ان لوگوں کی نذر کر دیں اور یہ گروہ باوجود سادگی اور مشقت و تنگی کی زندگی بسر کرنے کے دنیا کے تمام تاجداروں سے زیادہ دولتمند ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہزارہا خلقت گھر بار چھوڑ کے ان کے جتھے میں ملنے لگی۔\n\nان کا پہلا سرغنا جو \"ماسٹر ٹمپلر\" کہلاتا وہی \"ہیو\" قرار پایا۔ دوسرا ماسٹر اُس کے بعد رابرٹ ڈکراؤن ہوا۔ اُن کا جانشین \"ایورآرڈ\" قرار پایا۔ اور یوں ہی ماسٹروں کے انتخاب کا سلسلہ جاری رہا۔ ایورآرڈ کے عہد میں ان لوگوں کی سپہ گری اس قدر کامیاب اور باقاعدہ تھی کہ اکثر سلطنتیں اپنی فوجیں انہیں کے قواعد کے مطابق مرتب کرنے لگیں اور اب اس وقت سے ان کی تاریخ دیکھنے کا شوق ہو تو حروب صلیبیہ کی تاریخ پڑھنی چاہیے۔ اس لیے کہ صلیبی لڑائی میں اہم فوجی خدمات یہی لوگ انجام دیتے تھے۔\n\nمگر دولتمندی نے چند ہی روز میں اُن کی حالت میں تغیر پیدا کرنا شروع کیا اور ناکامیوں میں ان کے طرز عمل پر بدگمانیاں کی جانے لگیں۔ جب ۵۷۷محمدی (۱۱۴۸ء) میں جرمن فرماں روا کونراڈ بیت المقدس میں پہونچا، ان لوگوں نے اپنے کلب میں اس کی دعوت کی اور اُسے اپنا گرویدہ بنا لیا۔ مگر اسی سال جب دمشق کے محاصرے میں مسلمانوں نے صلیبیوں کو شکست فاش دی اور انہیں محاصرہ چھوڑکے بدحواس بھاگنا پڑا تو اس شکست کا الزام انہیں بانکوں کے سر تھوپا گیا اور کہا جانے لگا کہ صرف نائٹ ٹمپلرز کی دغابازی سے یہ شکست ہوئی۔ اس کے دوسرے برس شہر غزہ کا قلعہ ان لوگوں کے حوالے کیا گیا جسے اُنہوں نے خوب مضبوط کیا۔ اس کے چار سال بعد اُن کا ماسٹر ٹمپلر برنارڈ چالیس نائٹوں کو ہمراہ رکاب لے کے بڑی بہادری سے شہر عسقلان میں گُھس پڑا۔ مگر مسلمانوں نے گھیر کے اس طرح مارا کہ ان میں سے ایک کو بھی زندہ واپس آنا نہ نصیب ہوا، سب مارے گئے اور ہم مذہبوں سے یہ داد ملی کہ یہ لوگ خود اپنی حماقت کی نذر ہو گئے اور طمع نے ان کو فنا کر دیا۔ چند روز بعد مشہور ہوا کہ ایک مصری شاہزادہ جو عیسائیوں کے ہاتھ میں گرفتار ہو گیا تھا اور دین مسیحی قبول کرنے پر نیم راضی تھا اُسے ان نائٹوں نے روپیہ لے کے اہل مصر کے حوالے کر دیا اور اسی طمع میں ان کی وجہ سے اور بھی کئی خون ہوئے۔\n\n۵۹۵محمدی (۱۱۶۶ء) میں ان نائٹوں کو یہ الزام دیا گیا کہ یرون کے پار کا ایک مضبوط قلعہ اُنہوں نے روپیہ لے کے نور الدین زنگی کے کسی سردار کے حوالے کر دیا۔ چنانچہ اس جُرم کی پاداش میں خود مسیحی بادشاہ بیت المقدس امل ریق نے بارہ ٹمپلروں کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ یہی واقعات پیش آ رہے تھے کہ سلطان صلاح الدین اعظم لشکر لے کے مصر سے آ پہونچا۔ ہزاروں نائٹ مختلف میدانوں میں لقمۂ نہنگ شمشیر ہوئے اور بیت المقدس اور شام کے تمام شہروں پر اُس نے قبضہ کر کے مسیحی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ اُس وقت ٹمپلرز مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کو چھوڑ کے ساحلی شہر عکّہ میں پہونچے۔ اور جب ایک زمانے کے بعد عکہ بھی مسیحیوں کے ہاتھ سے نکل گیا تو طرابلس الشام میں جا کے پناہ گزین ہوئے۔\n\nاگرچہ ان لوگوں کے بہت سے حالات نومبر ۱۹۱۴ء کے دلگداز میں درج ہو چکے ہیں مگر اُن کے صدیوں کے واقعات اتنے نہیں ہیں کہ چند صفحوں میں ختم ہو جائیں۔ ہمیں اس سلسلے میں ابھی بہت سے حالات و خصائص کا بتانا باقی ہے جو کہ لطف سے خالی نہیں ہیں۔ ان کے گروہ یا ان کی سوسائٹی میں تین طرح کے لوگ ہوتے تھے۔ اول خود نائٹ، دوسرے چیپلین، تیسرے اسلحہ بردار۔ نائٹ دو طرح کے تھے، ایک تو وہ جو زندگی بھر کے لیے شریک جماعت ہوتے اور عہد کر لیتے تھے کہ مرتے دم تک اسی گروہ میں رہیں گے۔ اور دوسرے وہ جو کسی محدود مدت تک کے لیے اپنی زندگی نذر کرتے۔ مگر دونوں کو ایک ہی قسم کے اصول و ضوابط کی پابندی کرنا پڑتی۔ لازم تھا کہ وہ بلا ناغہ گرجے میں آ کے شریک جماعت ہوں۔ صرف وہ نائٹ جو رات کی خدمت میں تھک جاتے انہیں خاص صورتوں میں ماسٹر کی اجازت سے گھر پر ٹھہرنے کی اجازت عطا کر دی جاتی۔ روز دو وقت انہیں قاعدے کے ساتھ کھانا ملتا اور اگر ماسٹر کسی وجہِ مُوجّہ سے اجازت دے دے تو غروب آفتاب کے وقت ایک تیسری نہایت ہلکی غذا بھی مل سکتی۔ گوشت ہفتے میں صرف تین بار ملتا۔ اس کے سوا ہر وقت کے کھانے میں ساگ پات یا نباتی غذائیں ملتیں اور اُن میں بھی وہ جو زود ہضم تصور کی جاتیں۔ کھاتے وقت دو دو آدمی ساتھ بیٹھتے اور دونوں کی نظر ایک دوسرے کے کھانے پر لگی رہتی تاکہ کسی سے کوئی نامناسب حرکت یا خلاف اصول بے اعتدالی نہ ہونے پائے۔\n\nشراب تو ہر غذا کے ساتھ مل جاتی مگر یورپ کی آج کل کی \"ٹیبل ٹاک\" (کھاتے وقت کی گپ شپ) نہ تھی۔ یہ ہر نائٹ کےلیے لازم تھا کہ جب تک کھانا کھائے خاموش رہے۔ اُس وقت ایک مذہبی دعا پڑھی جاتی تھی جس کا سُننا اور اُس پر کان لگائے رہنا فرض تھا۔ معمرّ و مریض ارکان کے ساتھ خاص رعایتیں تھیں اور اُن کی داشت کا اہتمام بھی اچھا تھا۔ ہر ممبر پر اپنے افسر اعلیٰ یعنی اپنے ماسٹر کی اطاعت فرض تھی اور اس کے احکام بعینہ خدا کے احکام تصور کیے جاتے۔ نامناسب نمائشیں عام ازیں کہ اسلحہ میں ہوں یا گھوڑے کے ساز و یراق میں، ممنوع تھیں۔ وہ لباس بھی اُن کے لیے جائز نہ تھا جس میں کئی رنگوں سے رنگ آمیزیاں کی گئی ہوں اور سوا نائٹوں کے باقی تمام ارکان سیاہ یا بھورے رنگ کے کپڑے پہنتے۔ سب کا لباس علی العموم اُون کا ہوتا۔ صرف ایک مذہبی تقریب کے زمانے میں تو انہیں ایک سُوتی کُرتا پہننے کی اجازت مل جاتی، باقی اور کبھی کوئی روئی کے کپڑے نہ پہن سکتا۔ بال سب کے چھوٹے چھوٹے رہتے اور جھنڈولی بے کنگھی کی ہوئی داڑھی ٹمپلروں کی پہچان قرار پا گئی تھی۔ شکار کھیلنا یا شکاری کتوں کو پالنا بھی اُن کے لیے ممنوع تھا۔ فقط شیر کے شکار کی اجازت تھی، اس لیے کہ شیر اُن لوگوں کے خیال میں بُرائی اور جبر و جور کا شعار قرار پا گیا تھا۔ اور اس کی بھی اجازت نہ تھی کہ اپنی گزشتہ لغویتوں کو وہ کبھی زبان پر لائیں اور عیش و عشرت کے گزرے واقعات کو یاد کریں۔\n\nیہ لوگ کہیں باہر جاتے تو ان کے آنے جانے کی خاص نگرانی کی جاتی اور کوئی نہ کوئی ان کے ساتھ موجود رہتا۔ سوا اُس وقت کے جبکہ رات کو وہ حضرت مسیح کے مقبرے (ہولی سپلکر) کی زیارت کو جاتے۔ بڑی نگرانی اس بات کی رہتی کہ کوئی نائٹ یا اور رُکن کسی سے خط و کتابت نہ کرنے پائے۔ اپنے کسی عزیز و قریب کا خط بھی وہ بغیر ماسٹر کی موجودگی کے نہ کھول سکتے۔ کسی کے پاس اس کے کسی عزیز یا دوست کے پاس سے کوئی سوغات یا کھانے کی چیز آتی تو پلندہ ماسٹر کے سامنے کھولا جاتا اور ماسٹر کو اختیار تھا کہ اُسےدے یا اس کے سوا کسی اور شخص کو ضرورت مند خیال کر کے دے دے اور اگر ایسی صورت پیش آئے تو اصل مالک کو اُس پر بُرا ماننا یا پیشانی پر بل لانا بھی گناہ تھا۔\n\nسب جدا جدا بچھونوں پر سوتے اور شب خوابی کا لباس کُرتا اور کسا ہوا گھٹنّا تھا۔ خواب گاہ میں جس کی حیثیت خانقاہ کی سی ہوتی ایک چراغ رات بھر روشن رہتا۔ بچھانے کے لیے عموماً چٹائیاں مروج تھیں۔ اگر کسی کے پاس چٹائی نہ ہو تو اُسے ایک دری کے بچھانے کی اجازت مل جاتی۔ لیکن اس بات کا لحاظ کر کے کہ اس میں راحت طلبی اور عیش پسندی کو ذرا بھی دخل نہ ہو۔\n\nوقتاً فوقتاً جو مہتم بالشان معاملات پیش آتے اُن کے تصفیے کے لیے کمیٹیاں ہوتیں۔ کمیٹیاں دو قسم کی تھیں۔ ایک تو معمولی کمیٹیاں جو خفیف باتوں کے طے کرنے کے لیے جمع ہوتیں۔ اُن میں صرف سوسائٹی کے چند ہوشیار رُکن بُلا لیے جاتے۔ مگر بڑی کمیٹیاں جو اہم امور کے تصفیے کے لیے طلب کی جاتیں اُن کی شرکت کےلیے گرینڈ ماسٹر کُل ارکان کو طلب کرتا۔ کسی نئے رکن کو شریک جماعت کرنا یا کسی اراضی اور علاقے کو کسی کے حوالے کرنا اُن بڑی کمیٹیوں کا کام تھا۔\n\nہر ممبر کو داخلے سے پیشتر چند روز آزمائش میں رہنا پڑتا۔ نابالغ لڑکے جو ہتھیار اُٹھانے کے قابل نہ ہوں، نہ لیے جاتے۔ اور آخر آخر شاید ارکان کی بے اعتدالیاں دیکھ کے یہ قاعدہ بھی سختی سے جاری ہو گیا تھا کہ کوئی رکن کسی عورت کا بوسہ نہ لے سکے، عام اس سے کہ وہ شوہر والی ہو یا بیوہ یا اُس کی کوئی عزیز قریب ماں خالہ پھوپھی چچی یا بہن ہو۔ جو قواعد اول میں طے ہوئے تھے آخر تک انہیں پر عمل درآمد رہا۔ مگر جب کمیٹی کے قبضے میں بہت سی دولت جمع ہو گئی اور دنیا کے مختلف ملکوں میں اُس کی مملکتیں اور جائدادیں پیدا ہو گئیں تو حسب ضرورت نئے قوانین منظور ہوئے۔\n\nاب انتظام کی یہ صورت تھی کہ سب کا حاکم اعلیٰ گرینڈ ماسٹر ہوتا۔ اُس کے احکام واجب التعمیل تھے اور قانون میں بھی رد و بدل کا اُسے حق حاصل تھا۔ لیکن باوجود اس کے وہ اس کا مجاز نہ تھا کہ اشتہار جنگ دے دے یا سوسائٹی کے کسی علاقے کو کسی کے حوالے کر دے یا کسی نئے ممبر کو شریک جماعت کرے۔ اِن اُمور کے لیے وہ اربابِ حَلّ و عقد کی رضا مندی حاصل کرنے پر مجبور تھا۔ خود اُس کا انتخاب تیرہ رکنوں کی منظوری سے ہوتا۔ مگر انتخاب کی کمیٹی میں جہاں تک بنتا، مختلف قوموں اور ملکوں کے ارکان رکھے جاتے۔\n\nاس کے بعد ایک دوسرے عہدہ دار کا درجہ تھا جو \"سنشل\" کہلاتا۔ یہ وائس پریسیڈنٹ تھا اور گرینڈ ماسٹر کے عدم موجودگی میں اُس کا نائب اور قائم مقام تسلیم کیا جاتا۔ اُس کے علاوہ ایک عہدہ دار مارشل ہوتا۔ فوجی ساز و سامان اصطبل اور گھوڑوں کا ساز ویراق اسی کے اہتمام میں رہتا اور نائٹ ہونے کے تمام امیدوار یعنی اسلحہ بردار براہ راست اُس کے مطیع فرمان ہوتے۔ مگر لڑائی کے وقت سپہ سالار کے ماتحت ہو جاتا۔\n\nان عہدہ داروں کے علاوہ سوسائٹی کے ضلعدار تھے۔ مگر چونکہ بڑے بڑے ملک اور وسیع ریاستیں ان لوگوں کے ہاتھ میں آ گئی تھیں۔ اس لیے ان کی حیثیت گورنروں بلکہ اُس عہد کے بادشاہوں کی سی ہوتی۔ سوسائٹی کی قلمرو چونکہ ایشیا اور یورپ کے ملکوں اور دور دراز مقامات میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس لیے ان گورنروں کی تعدادبارہ کے قریب رہتی اور کبھی اس سے زیادہ ہو جاتی۔ مگر ان لوگوں کے لیے بغیر گرینڈ ماسٹر کی منظوری حاصل کیے سمندر کا سفر اختیار کرنا اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانا ممنوع تھا۔ یہاں تک کہ یورپ کا کوئی اعلیٰ حاکم بھی بے اجازت ایسی جرأت نہ کر سکتا۔ ان گورنروں کے انتخاب کے وقت جملہ ارکان کی شرکت ضروری تھی۔ انہیں گورنروں کے زیر اختیار اُن کا خزانہ بھی رہتا جس کی کنجی خود گرینڈ ماسٹر کو بھی نہ مل سکتی۔ سوسائٹی کی طرف سے جو گورنر ارض مقدس کے اضلاع کا منتظم و نگراں تھا وہی اصلی صلیب کا محافظ و حکمراں بھی رہتا، جس کی نسبت ساری مسیحی دنیا کا اعتقاد تھا کہ یہ خاص وہی صلیب ہے جس پر حضرت مسیح کا جسد انور لٹکایا گیا تھا۔\n\nٹمپلروں کی سوسائٹی کے قبضے میں جہازوں کا بیڑہ بھی تھا جس کا غالب حصہ اُن کے والی و حاکم کے زیر فرمان رہتا۔ غرض ٹمپلروں نے اپنے کارناموں سے ساری مسیحی دنیا کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا اور چند ہی روز کے اندر اُن کے ہاتھ میں اتنی بڑی قلمرو آ گئی اور اُن کے خزانے میں اتنی دولت جمع ہو گئی کہ اُن دنوں نہ اُن سے زیادہ زبردست کوئی سلطنت تھی اور نہ اُن سے زیادہ کوئی بادشاہ دولتمند تھا۔ ساری عیسائی دنیا میں اُن کا سکہ بیٹھا ہوا تھا۔ سلاطین و امرا اُن سے ڈرتے اور کانپتے تھے اور عوام الناس اُن کے معتقد اور اُن پر جانیں نثار کرنے کو تیار تھے۔ اور اُن کے سب سے بڑے مرکز دو تھے۔ مشرق میں شہر عکّہ جس ساحلی شہر میں بیت المقدس سے نکالے جانے کے بعد عیسائیوں نے پناہ لی تھی اور بڑی مضبوطی سے زمین پکڑ رکھی تھی۔ اور مغرب یعنی یورپ میں پیرس، جہاں تاجداروں اور فرماں رواؤں کو اُن سے دبنا اور اُن کے آگے سر جھکانا پڑتا اور صاحبانِ تاج و دہیم اور مقتدایانِ ملک و ملت دونوں کے مقابل میں اُن کا اثر غالب تھا۔\n\nاب اس زمانے میں اُن کا قانون یہ تھا کہ جو شخص شریک جماعت ہونا چاہتا مذکورہ بالا شرائط کے علاوہ اس بات کی حلف اُٹھاتا کہ\n\n\"مجھ پر کسی کا قرض نہیں ہے اور دَین سے بالکل سبک دوش ہوں اور اس وقت کسی اور جماعت یا گروہ میں نہیں شریک ہوں۔ اپنے بالا دست سرداروں کی بے عذر اطاعت و فرمانبرداری کروں گا۔ ہمیشہ عفت پاکدامنی کی زندگی بسر کروں گا اور اپنی باقی ماندہ زندگی ارض مقدس کی خدمت و حمایت کی نذر کروں گا۔\"\n\nاپنے ان فرائض اور حمایتِ دین و کلیسا کی اس خدمت پر ان لوگوں کو بڑا فخر و ناز تھا اور مسیحی دنیا کا اُن کی جماعت کی طرف اس قدر رُحجان تھا کہ وہ مصرع \"ہر کہ خدمت کردا و مخدوم شد\" کا اعلیٰ ترین نمونہ بن گئے تھے اور اُن کے بھائیوں اور سوسائٹی کے رکن بانکوں کی تعداد پندرہ ہزار تک پہونچ گئی تھی۔ الحاد و بے دینی یا مسلمانوں کے مقابل بھاگ کھڑے ہونے کے الزاموں پر وہ سوسائٹی سے نکال دیے جاتے اور بعض چھوٹے چھوٹے قصوروں مثلاً لڑائی میں اپنے جھنڈے کو سرنگوں کر دینے اور اسی قسم کی چند اور خفیف باتوں پر وہ چند روز کےلیے اپنے درجے اور مرتبے سے گرا دیے جاتے۔\n\nروم کے پاپاؤں کی ابتداءً یہ کوشش رہی کہ اس طاقت کو جو اُن کی منظوری سے اُس جماعت کے لیے قائم ہو گئی تھی حتی الامکان قوت پہونچائیں اور روز بروز بڑھاتے رہیں تاکہ بیت المقدس کے مسلمانوں سے چھیننے کی کوشش اسی طرح برابر جاری رہے اور کامیاب ہو۔ چنانچہ گریگوری عاشر، لوئی تاسع، نکولس رابع اور بنی فیس ثامن (پوپوں) نے فتوے دیےکہ ٹیوٹن نائٹ اور سینٹ جان کے بانکے بھی ٹمپلروں کے گروہ میں شامل ہو جائیں۔ باہمی محبت و اتحاد کو ترقی دے کر اپنی قوت بڑھائیں اور یہ تینوں طرح کے بانکے مل کے ایک گروہ بن جائیں۔ پوپ بنی فیس ثامن کو مرتے دم تک اسی بات کی دُھن رہی کہ بیت المقدس پر عیسائیوں کا قبضہ ہو اور ٹمپلروں کے بڑھانے اور ان کی تقویت میں اُس نے کوئی دقیقہ نہیں اُٹھا رکھا۔\n\nمگر بجائے اس کے کہ اُس کی یہ تمنا برآئے، اس کے ہاتھ سے پاپائی کی وقعت بھی چھن گئی۔ اس وقت تک پاپاؤں کا ایسا زور رہا تھا کہ اصلی قوت انہیں کے قبضۂ قدرت میں تھی اور مسیحی دنیا کے وہ بادشاہ گر تھے۔ جسے چاہتے بادشاہ بنا دیتے اور جسے چاہتے تاج و تخت سے محروم کر دیتے۔ مگر بنی فیس کے زمانے میں فرانس کے بادشاہ فلپ رابع نے اپنے تدبُر سے ایسا زور پکڑ لیا تھا کہ دربارِ پاپائی کا سارا زور ٹوٹ گیا اور بنی فیس بجائے مسجود قوم ہونے کے فلپ کے ہاتھ میں گرفتار ہو کے اُسی کی قید میں مرا۔ اور اس کے بعد جب نئے پوپ کے منتخب ہونے کا وقت آیا تو فلپ نے رشوتیں دے دے کے اور ڈرا دھمکا کے کارڈنلوں (یعنی پوپ کی محترم مجلس کے ممبروں) کو اپنا ایسا غلام بنا لیا کہ سوا اُس شخص کے جسے وہ پیش کرے اور کسی کو وہ لوگ پوپ منتخب کرنے کی جرأت ہی نہ کر سکتے تھے۔ یہ انتظام کر کے اُس نے ۷۳۴ محمدی (۱۳۰۵ء) میں کلیمنٹ خامس کو منتخب کرایا اور انتخاب سے پہلے ہی اُس سے چھ شرطیں اپنی مرضی کے موافق منوا کے اُن پر حلف اُٹھوالی۔ اُن چھ شرطوں میں سے ایک آخر تک راز میں رہی اور کسی کو نہ معلوم ہو سکا کہ کیا تھی مگر واقعات اور پوپ کلیمنٹ کے طرز عمل سے لوگوں نے پتہ لگایا کہ وہ شرط ٹمپلروں یعنی اُن مذہبی بانکوں کی پامالی تھی۔\n\nتقریباً نصف صدی پیشتر سے عوام میں ان بانکوں کی نسبت طرح طرح کی افواہیں اُڑنا شروع ہو گئی تھیں۔ ان کی رازداری اور مخفی کارروائیوں نے لوگوں میں بدگمانیاں پیدا کیں اور وہی لوگ جو ملک و ملت کے سب سے بڑے محسن تھے مورد سِہامِ ملامت بننے لگے۔ کہا جاتا کہ اپنی آدھی رات کی کمیٹیوں میں وہ لوگ شرمناک اور ناپاک ترین جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اُس وقت وہ لوگ خدا اور مسیح سے بدعقیدگی پر قسمیں کھاتے ہیں۔ صلیب پر حقارت سے تھوکتے ہیں۔ فحش اور مجرمانہ افعال کے مرتکب ہوتے ہیں اور باہم عہد کرتے ہیں کہ اپنی ان مخفی سیہ کاریوں کو کبھی کسی پر نہ کھلنے دیں گے اور اپنے گرینڈ ماسٹر کے سوا کسی کا کہنا نہ مانیں گے۔\n\nمشہور تھا کہ عبادت کی دعاؤں میں بھی اُنہوں نے تصرف کر کے قطع و بُرید کر دی ہے۔ \"گُڈ فرائیڈے\" (یعنی جس جمعے کو حضرت مسیح کا مصلوب ہونا مانا جاتا) کے دن مقدس صلیب پاؤں کے نیچے روندی جاتی اور خیرات کا مروّجہ مسیحی طریقہ ترک کر دیا گیا تھا۔ عہد اولین میں ان لوگوں کی نسبت شہرت تھی کہ عورتوں سے نہایت ہی پاکبازی کے اور شریفانہ تعلقات رکھتے ہیں اور کبھی اُن کی نیت بُری نہیں ہوتی۔ مگر اب یہ اعتبار اُٹھ گیا تھا اور سمجھا جاتا کہ وہ نہایت ہی فحش بدکاریوں اور ناپاک ترین شہوت رانیوں میں مبتلا ہیں اور اپنے آدھی رات کے جلسوں میں وہ عورتوں کو فریب دے کے لے جاتے ہیں اور کمال بے رحمی سے ذلیل و بے آبرو کرتے ہیں۔ اسی قدر نہیں، اُن پر اغلام کے الزام بھی عائد کیے جاتے۔ بعض باپوں نے اپنے نو عمر بیٹوں کو صرف اس وہم پر مار ڈالا کہ رات کو وہ ٹمپلروں کی صحبت میں چلے گئے تھے۔ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہاں جانے کے معنی یہی ہیں کہ اُن کی شہوت پرستیوں کے شکار ہوئے ہوں۔ یہ بدگمانی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ انگلستان تک میں لڑکے ایک دوسرے کو متنبہ کرتے کہ خبردار کسی ٹمپلر کو اپنا مُنہ نہ چومنے دینا۔ مختلف حاکموں اور اُسقفوں کے سامنے اس قسم کے واقعات پیش ہوئے کہ باپوں نے اپنے کم عمر لڑکوں کو اس ندامت میں مار ڈالا کہ وہ کبھی ٹمپلروں کی صحبت شب میں شریک ہو گئے تھے۔\n\nاسی قدر نہیں، اب اُن پر طرح طرح کے مذہبی الزام بھی عائد کیے جاتے تھے۔ یقین کر لیا گیا تھا کہ جو شخص ٹمپلروں میں شریک ہو جاتا ہے اُس کا اعتقاد نہ خدا پر رہتا ہے نہ مسیح پر۔ صلیب کو وہ بُرا سمجھتا اور اُسے حقیر جان کے اُس پر تھوکتا ہے۔ رات کو جلسوں میں وہ ایک بت کو پوجتے ہیں جس کی شکل بلی یا بچھڑے یا کسی اور چوپائے کی سی ہے۔ اُن کا گرینڈ ماسٹر اپنی راز کی محفلوں میں اُن کے سامنے یہ عقیدہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلمانوں کی داڑھی کا ایک بال مسیحی کے سارے جسم سے زیادہ واجب التعظیم ہے۔ فرانس میں مشہور تھا کہ ٹمپلر اپنے حرامی بچوں کو بھون ڈالتے ہیں اور اُن کی جلتی ہوئی چربی اپنے دیوتاؤں کی مورت میں چپڑتے ہیں۔\n\nان سب باتوں کی اصلیت یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایک طرف ٹمپلروں کی وقعت و سطوت اور دولت و حکومت کو روز بروز بڑھتے دیکھ کے تمام مسیحی فرماں رواؤں اور خود روم کے پاپاؤں کو اُن پر حسد معلوم ہوا۔ جس طرح شاہانِ فرنگ اپنے تخت و تاج کے لیے اُن سے خائف تھے ویسے ہی مقتدائے ملت پوپ ڈرتا تھا کہ ایسا نہ ہو میرا تہرا تاج مقتدائی میرے ہاتھ سے چھن جائے اور دوسری طرف خود ٹمپلروں کو مدتوں بلکہ صدیوں تک مسلمانوں کے قریب رہنے اور اُن کے حالات سے روز بروز زیادہ آشنا ہوتے جانے کے باعث اسلام سے ایک قسم کا اُنس ہو گیا تھا۔ پادریوں نے مسلمانوں کی نسبت جو غلط اور بے بنیاد افواہیں مسیحی دنیا میں اُڑا رکھی تھیں اُن سے وہ واقف ہو گئے تھے اور دین محمدی کی خالص و بے غش توحید اُن پر آشکارا ہو گئی تھی۔ اُن کے دلوں میں دین اسلام کی طرف ایک میلان و رحجان پیدا ہو گیا تھا۔ جسے دیکھ کے مسیحیوں نے اُن کی نسبت ویسی ہی بے بنیاد افواہیں اُڑانا شروع کر دیں جیسی کہ خود مسلمانوں کی نسبت اُنہوں نے مشہور کر رکھی تھیں کہ اپنی مسجدوں میں بت پرستی کرتے، محمد (صلعم) کو خدا مانتے اور اُن کی ایک فیل نشین مورت کو اپنے معبدوں میں رکھ کے پوجا کرتے ہیں۔اور مسلمانوں کی نسبت ان دنوں یورپ میں پیشوایانِ ملت نے ایسا تعصب پھیلا رکھا تھا کہ کسی کو اُن سے ذرا بھی لگاؤ ثابت ہوتا تو وہ مغرب کی ساری دنیا میں واجب القتل تھا۔ اسی چیز نے غریب ٹمپلروں کے تمام سابقہ حقوق اور اُن کی ساری خوبیوں کو خاک میں ملا کے انہیں تباہ کرایا۔\n\nچودھویں صدی عیسوی گویا یورپ کے ان نائٹوں کے تباہ کرنے ہی کے لیے آئی تھی۔ اس لیے کہ شاہ فرانس فلپ کے دل سے لگی ہوئی تھی کہ ٹمپلروں کو غارت کر کے اُن کے ملک و دولت پر قبضہ کر لے۔ دو سال تک اُس نے انتظار کیا کہ اُس کے منتخب کرائے ہوئے پوپ کلیمنٹ کے ہاتھ سے کارروائی شروع ہو مگر کلیمنٹ کو کسی طرح جرأت نہ ہوتی تھی۔ ناگہاں یہ واقعہ پیش آیا کہ فرانس کے شہر طولون کے جیل میں ایک ٹمپلر کسی جرم کی بنیاد پر قید تھا۔ اُس نے بادشاہ فلپ پر ظاہر کیا کہ اگر مجھے آزادی دی گئی تو ایک ایسا راز بتا دوں گا جو سلطنت کے لیے نہایت ہی قابل قدر اور مایۂ ترقی ہو گا۔ بادشاہ نے ۱۴ دسمبر ۱۳۰۷ء کو اس کا اظہار لیا اور ۱۳ اکتوبر کی شب کو ناگہاں حکم دیا کہ مملکت فرانس میں جتنے ٹمپلر ملیں سب گرفتار کر لیے جائیں۔ اسی قدر نہیں بلکہ قُرب و جوار کے دیگر حکمرانوں کے پاس بھی پیام بھیجا گیا کہ اپنی اپنی قلمرو میں بھی یہی حکم نافذ کر دیں اور سب مقامات میں جو ٹمپلر اسیر و پابزنجیر کیے گئے اُن کے علاوہ خاص پیرس میں ٹمپلروں کا ماسٹر جنرل جیمس ڈی مولائی اپنی سوسائٹی کے ساٹھ ممبروں کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ اور بعد والے ہفتے کے روز وہ بے گناہ اسیر پیرس یونیورسٹی کے سامنے لائے گئے کہ اپنے جُرموں کی فہرست اور اپنی فرد قرار دادِ جُرم سُنیں۔ دوسرے دن اتوار کو پیرس کے شاہی باغوں کے اندر عوام الناس جمع ہوئے اور مختلف واعظوں نے جو فلپ کی طرف سے مامور ہوئے تھے، انہیں بھڑکانا اور سمجھانا شروع کیا کہ ٹمپلر لوگ سخت مجرم، بڑے بڑے خوفناک جُرموں کے مرتکب، انتہا درجے کے بے دین و ملحد اور کشتنی و گردن زدنی ہیں اور عوام کو اطمینان دلانے کے ساتھ ہی مقدّمہ کی کارروائی شروع کر دی گئی۔\n\nتفتیش و تحقیقات کے بہانے اسیر شدہ ٹمپلروں پر ایسے مظالم ہونے لگے اور انہیں ایسی جاں گزا اذیتیں پہونچائی جانے لگیں کہ اُنہوں نے بہت سی ایسی باتوں کا اقرار کر لیا جو نہایت خوفناک اور سنگین جرم تھے۔ اس بے رحمی و جو ر کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ فقط اکیلے پیرس میں چھبیس ٹمپلر حوالات کے اندر مر گئے۔ ۱۹ سے ۲۴ نومبر تک ایک سو چالیس ٹمپلروں کا بیان لیا گیا۔ ان میں سے بعض اس قدر سِن رَسیدہ تھے کہ اُن کے بیان کا اثر ٹمپلروں کی گزشتہ پچاس سال کی تاریخ پر پڑتا تھا۔ قریب قریب سب نے تسلیم کر لیا کہ ہم صلیب اور مصلوبیت مسیح کی توہین کرتے ہیں۔ بہتوں نے بعض اور بے دینی کے الزام قبول کیے اور فحاشی اور سیہ کاری کے جو شرمناک الزام لگائے گئے تھے، اُن کا بھی اُن غریبوں نے جبراً و قہراً اقرار کیا۔\n\nپوپ کلیمنٹ نے شاید ترس کھا کے ۲۷ اکتوبر کو اپنا ایک حکم جاری کر کے تفتیش کرنے والوں کے ظالمانہ اقتدارات روک دیے تھے۔ مگر نومبر کے ختم ہونے سے پہلے غالباً فلپ کے اشارے پر اُس نے شاہ انگلستان ایڈورڈ دوم کو لکھا کہ جتنے انگریز ٹمپلر تمھارے علاقے میں ہوں، انہیں بھی گرفتار کر لو۔ ۱۰ جنوری ۱۳۰۸ء کو انگلستان میں اس حکم کی تعمیل ہوئی اور اسی زمانے کے قریب یورپ کے تمام ممالک میں ہر جگہ ٹمپلروں پر آفت نازل ہو گئی۔ پھر ۲۴ جنوری کو سسلی میں اور ۲۷ مئی کو سائپرس میں (جو ٹمپلروں کا خاص مرکز تھا) یہی کارروائی ہوئی۔ اور کوئی مقام نہ تھا جہاں یہ بیچارے بے گناہ پکڑے اور مارے نہ جاتے ہوں۔\n\nباوجود ایسے احکام جاری کر دینے کے پوپ روم ذرا رُک رُک کے اور پچتا پچتا کے ان احکام کو جاری کرتا تھا۔ یہ دیکھ کے فلپ سات سو مسلح سپہ گروں کے ساتھ اس کے سر پر آنازل ہوا اور وہ بالکل اس کے بس میں تھا اور سب نے باتفاق طے کر دیا کہ بادی النظر میں اسیر ٹمپلر، اُن کا روپیہ اور اُن کی اراضی و علاقے سب پوپ کے کمشنروں کے ہاتھ میں رکھے جائیں۔ مگر اصل میں حکم دینے والا خود فلپ تھا۔۵جولائی ۱۳۰۸ء کو پھر مقدس و معصومانہ دربارِ پوپ سے یہ حکم جاری ہوا کہ تفتیش کرنے والے اسیروں پر جیسی سختیاں چاہیں کریں اور اس کے ساتھ یہ بھی طے پایا کہ ضبط شدہ جائداد ارض مقدس کی بازیافت کی کوشش کی جائے۔ کلیمنٹ کا اب حکم تھا کہ ٹمپلروں کے جرائم کی از سرنو تحقیقات کی جائے۔ بہتّر اقراری مجرموں کا بیان وہ خود سُن چکا تھا۔ اب شہر شنون میں گرینڈ ماسٹر مولائی اور تین پری سپٹروں کا بیان از سرنو لیا گیا اور اُنہوں نے اذیتوں کے خوف سے پھر جرموں کا اقرار کیا۔\n\nآخر کار یکم اکتوبر ۱۳۱۰ء کو ایک بڑی بھاری کونسل شہر ویانا میں جمع ہوئی تاکہ ٹمپلروں کے جرائم پر غور کرے۔ مقدمے کی کارروائی ١١ اپریل ١٣١١ء کو شروع ہوئی۔ ۲۳ اپریل کو اخبالد پروانیو نے اعتراض کیا کہ کارروائی انصاف سے نہیں ہو رہی ہے۔ مگر کون سُنتا ہے؟ ۱۲ مئی کو ۵۴ ٹمپلر شہر سان کے اسقف اعظم کے حکم سے زندہ جلا ڈالے گئے اور چند روز بعد چار اور ٹمپلروں کا بھی یہی حشر ہوا۔\n\nان واقعات کے مشہور ہوتے ہی لوگوں پر ایک ہیبت چھا گئی۔ چنانچہ چھیالیس ٹمپلروں نے جوابدہی اور پیروی مقدمہ سے انکار کر دیا۔ مجبوراً کمشنروں نے نومبر تک کے لیے کارروائی ملتوی کر دی۔ اس کے بعد دوبارہ تحقیقات ۱۸ دسمبر ۱۳۱۰ء کو شروع ہوئی اور ۵ جون ۱۳۱۱ء کو اُس کی کارروائی ختم ہوئی۔ اس کارروائی کے دوران میں پوپ کلیمنٹ اور شاہ فلپ کے مابین سمجھوتہ ہو گیا۔ جس کی بنا پر پوپ نے ٹمپلروں کو مجرم قرار دیا اور ویانا کی کونسل میں اس مسئلے پر غور ہونے لگا کہ ٹمپلروں کو جواب دہی و عذر داری میں کچھ کہنے سننے کا موقع بھی دیا جائے یا نہیں۔ اور کہتے ہیں کہ جیسے ہی اس مسئلے پر بحث چھڑی پوپ نے فوراً کارروائی ملتوی کرا دی تاکہ ایسے مسئلے پر غور ہی نہ کیا جائے جس سے اُس کی مرضی کے خلاف نتیجہ ظاہر ہونے کا اندیشہ ہو اور جن سات ٹمپلروں نے مختار کی حیثیت سے جوابدہی کا دعویٰ اور ارادہ کیا تھا وہ گرفتار کر کے قید خانے میں بھیج دیے گئے۔\n\nشروع مارچ ۱۳١٢ء میں شاہ فلپ ویانا میں آ کے خود کونسل میں شریک ہوا۔ پوپ کے داہنے بازو پر بیٹھا اور اُس کی موجودگی میں پوپ نے ٹمپلروں کے خلاف اپنا روحانی فیصلہ اور اپنا حکم سُنایا۔ اس کے بعد ۲مارچ سنہ مذکورۂ بالا کو پوپ نے اس مضمون کا حکم شائع کیا کہ \"ٹمپلروں کی تمام جائداد سینٹ جارج کے نائٹوں کو دے دی جائے۔ بجز اُس غیر منقولہ جائداد و مملکت کے جو ممالک کیسٹائل، ارغون، پورچگل اور مجورقہ کے علاقوں میں واقع ہے۔\"\n\nجو ٹمپلر ملزم و مجرم قرار دیے گئے تھے، تین گروہوں میں تقسیم کر دیے گئے:\n\nاول: وہ جنہوں نے پکڑے جاتے ہی اقرار جرم کر لیا۔\n\nدوسرے: وہ جنہوں نے انکار کیا اور اپنے انکار پر آخر تک قائم رہے۔\n\nتیسرے: وہ جنہوں نے ابتداءً اقرار کیا تھا اور بعد کو دورانِ مقدمہ میں انکار کر دیا اور اپنے پہلے اقرار کی نسبت ظاہر کیا کہ ہمارا وہ قبول کر لینا محض تکلیفوں، ظلموں اور اذیتوں سے بچنے کے لیے تھا۔\n\nان تینوں گروہوں کے لیے سزائیں یہ تجویز ہوئیں کہ گروہ اول کے مجرم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اپنے بے دینی کے افعال پر نادم ہوں۔ دوسرے گروہ والے دائم الحبس کیے جائیں اور تیسرے گروہ والے زندہ آگ میں جلا کے مارے جائیں۔ لیکن ان مجرموں میں سے گرینڈ ماسٹر مولائی اور دو ایک اور معزز عہدہ دارانِ سوسائٹی مستثنیٰ کر لیے گئے اور کہا گیا کہ ان کے بارے میں پوپ جو فیصلہ کریں گے اُس پر عمل کیا جائے گا۔ آخر ۱۳۱۴ء کے آغاز میں وہ اس بات پر مجبور کیے گئے کہ علانیہ مجمع عام میں اپنے جرموں کا اقرار کریں اور اگر ایسا کرتے تو اُن کے لیے دائم الحبس رہنے کا حکم نافذ ہو جاتا۔ مگر اتفاقاً نارمنڈی کے ماسٹر ٹمپلر اور ایک اور عہدہ دار نے بجائے اقرار گناہ کے اپنی بے گناہی کا علانیہ دعویٰ کیا اور شاہ فلپ نے بغیر اس کے کہ پوپ کے مشورے کا انتظار کرے، انہیں ایک چھوٹے جزیرے میں زندہ جلا کے مار ڈالا۔\n\nٹمپلروں کے آخری ماسٹر جنرل اور سردار و سرغنا غریب مولائی کے زندہ جلا دیے جانے کے بعد ٹمپلروں کی قوت ہر جگہ ٹوٹ گئی اور پھر کبھی اُن کی وہ اگلی وقعت و عزت قائم نہ ہو سکی۔ لیکن چند ہی روز میں ثابت ہو گیا کہ ٹمپلر بے گناہ و بے قصور تھے اور اُن کے خلاف جتنی کارروائیاں ہوئیں، فلپ شاہ فرانس کی عداوت و سازش اور حصولِ دولت کے ہوس کی وجہ سے تھیں۔\n\nفرانس کے سوا جہاں جہاں اور جن جن ملکوں میں اُن کے بارے میں تحقیقات کی گئی، یہی ثابت ہوا کہ وہ بے گناہ ہیں اور اُن فیصلوں کے دیکھنے سے صاف آشکارا ہو جاتا ہے کہ فرانس میں اُن پر کیسی بے رحمی اور اُن کے ساتھ کیسا سنگدلی کا برتاؤ کیا گیا۔ اسپین کی سلطنت قسطلہ میں ابتداءً فرانس کی تحریک پر سارے نائٹ ٹمپلر پکڑ کے قید کر لیے گئے تھے مگر سلامانکا کی کونسل کے سامنے مقدمہ پیش ہوا تو فوراً چھوڑ دیے گئے۔ اسی طرح ہسپانیہ کی ریاست اراغون میں اگرچہ اُنہوں نے اطاعت قبول کرنے سے انکار کیا تھا اور اپنی ایک گڑھی میں قلعہ بند ہو کے لڑے بھی تھے۔ مگر جب طراغونہ کی کونسل نے اُن کے الزامات پر غور کیا تو پوری تفتیش کے بعد نومبر ١٣١٢ء میں یہی فیصلہ صادر کیا کہ یہ لوگ بے گناہ ہیں۔\n\nپورچگل میں بھی اُن کی تحقیقات ہوئی اور سلطنت کی جانب سے جو کمشنر مامور ہوئے تھے اُنہوں نے رپورٹ کی کہ ہمیں ان لوگوں کے مجرم قرار دینے کی کوئی وجہ ہی نہیں نظر آتی۔ علاقۂ منیزمیں اُن کی تحقیقات ہوئی، سختی کے ساتھ چھان بِنان کی گئی مگر وہاں بھی اُن کی بے گناہی کا اعتراف کیا گیا۔ اسی طرح مقامات ٹریوس، سینا، بولونیا، رومانیا اور جزیرہ قبرص میں بھی ٹمپلر پکڑے گئے، اُن پر مقدمہ چلایا گیا، کامل تحقیقات کی گئی، مگر نتیجہ یہی ہوا کہ یا تو اُن کے خلاف کوئی شہادت تھی ہی نہیں اور یا تھی تو ایسی نہ تھی کہ اُس پر وثوق کر کے انہیں سزا دی جائے۔ چنانچہ سب جگہ وہ بری کر دیے گئے۔ فرانس کے علاوہ بعض اور مقامات میں بھی بعض ٹمپلروں نے اُن جرموں کا اقرار کیا جو اُن پر عائد کیے جاتے تھے، مگر عدالت کو یہی رائے اختیار کرنا پڑی کہ اُن لوگوں کا یہ اقرار محض جور و تشدد اور ایذا رسانی کی وجہ سے ہے۔\n\nشہر فلارنس میں چند ٹمپلروں نے عدالت کے سامنے جو بیان کیا تھا وہ بعض مورخین نے بجِنسہ نقل کر دیا ہے۔ وہ ایک عجیب احمقانہ طریقے سے اور بے حسی و بے عقلی کی شان سے یہ اقرار کرتے ہیں کہ \"ہم پر جتنے الزام عائد کیے جاتے ہیں سب صحیح ہیں اور ہماری نسبت جو کچھ بیان کیا جاتا ہے اُس میں ایک لفظ بھی غلط نہیں ہے۔\" اس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیان ان کا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ کسی کا سکھایا ہوا ہے اور جو کچھ بتا دیا گیا ہے اُسے وہ کسی خطرناک قوت کے ڈر سے بلا تکلف اور بے سمجھے بوجھے زبان سے ادا کر رہے ہیں۔\n\nانگلستان میں غالباً اُن پر کسی قسم کا جور و تشدد نہیں ہوا تھا۔ وہاں بھی اسّی اسیر شدہ ٹمپلروں کا اظہار عدالت کے سامنے ہوا۔ اُن اسّی میں سے صرف چار نے اقرار کیا کہ ہم مسیح سے انکار کرتےہیں اور صلیب کی توہین و تحقیر کرتے ہیں۔\n\nاس قسم کے الزامات کی اصلیت بھی ہے۔ مسلمانوں کے عقائد سے واقف ہونے اور اپنے اصول کی کمزوریوں سے آگاہ ہو جانے کے بعد انہیں اُن عقائد سے اختلاف ہو گیا تھا جن سے اصلی مسیحیت کو تعلق نہ تھا بلکہ یونان و روم کی بت پرستی کے اثر سے دین عیسوی میں مل گئے تھے۔ مسیحی رُہبان تعصب کے جوش میں اُن کو منکر و ملحد قرار دیتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ہم دین مسیحی میں سے اُن جاہلانہ عقائد کو نکال ڈالیں جنہوں نے حضرت مسیح کے لائے ہوئے دین کو غارت کر دیا ہے۔ مثلاً اُن کے مختلف بیانوں پر غائر نظر ڈالنے سے کُھلتا ہے کہ وہ حضرت مسیح کی نبوت کے منکر نہ تھے بلکہ اُس مسیح کے منکر تھے جو خدا بتایا جاتا تھا۔ اُن دنوں تمام گرجوں میں حضرت مسیح کی فرضی تصویریں مصلوبیت کی وضع میں قائم تھیں، اُن کو بُرا اور بُت پرستی کا نمونہ تصور کرتے۔ بعض نے یہ کہہ دیا کہ \"جس مسیح نے گناہوں کا اقرار کر کے اور انہیں اپنے سر لے کے اُن کا خمیازہ بھگتا اُس کے ماننے سے ہمارے گروہ کو انکار ہے۔ ہم خدائے واحد و ذوالجلال پر ایمان رکھتے ہیں۔\" اسی طرح صلیب کی نسبت اُنہوں نے کہا کہ ہمیں نفس صلیب سے انکار نہیں بلکہ صلیب کی جو تصویریں اور نقلیں گرجوں کے در و دیوار پر نصب ہیں اور لوگوں کے گلوں میں لٹکتی نظر آتی ہیں، ہمیں اُن سے انکار ہے۔ یہ عقائد صاف بتا رہے ہیں کہ نائٹ لوگ ارض شام میں اور مسلمانوں کے زیر سایہ رہتے رہتے اُن کے معتقدات کے دلدادہ ہو گئے تھے اور اگر مسلمان نہ بھی ہوئے ہوں تو چاہتے تھے کہ مسیحیت کو وہی اصلی مسیحیت بنا دیں جو دنیا کو حضرت مسیح سے ملی تھی اور جس کی تصدیق اسلام کر رہا تھا۔\n\nلیکن یہ امر کس قدر قابل مضحکہ ہے کہ اُنہیں مذکورہ عقائد کی بنا پر ٹمپلر ملحد بتائے جاتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ اُنہوں نے یہ عقیدے بعض بت پرست قوموں سے اخذ کیے۔جو تحریک بت پرستی کا استیصال کرنا چاہتی ہو اُس کو بت پرستی بتانا اور اپنی صنم پرستی کو بھول جانا سچ یہ ہے کہ یورپ کے عجائبات میں سے ہے اور اس پر زیادہ حیرت کی یہ بات ہے کہ ٹمپلروں کے عقائد کو اکثر محققین یورپ دُور و دراز کے بُت پرست فرقوں میں ڈھونڈھتے ہیں اور اسلام پر نظر نہیں ڈالتے جس نے ٹمپلروں کو ایک باضابطہ قانون توحید بتا کے اپنا والہ و شیدا بنا لیا تھا۔\n\nتمام شد", "license": null, "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%86%DA%A9%DB%92"} {"title": "یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا", "poet_page": "مصنف:انور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا\nپہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا\n\nبسمل ناز رہا کشتۂ رفتار رہا\nزندگی بھر مجھے مرنے سے سروکار رہا\n\nجرم نا کردہ عقوبت کا سزا وار رہا\nشیخ سرشار سیہ مستیٔ پندار رہا\n\nپردۂ چشم جو پاس ادب یار رہا\nمیں رہا سامنے تو بھی پس دیوار رہا\n\nدل یہ شادئ جراحت سے ہوا بالیدہ\nکہ ترا تیر یہاں تا لب سوفار رہا\n\nگر کے نظروں سے تری پھر نہ زمیں سے اٹھا\nمیں سبک بھی جو ہوا تو بھی گراں بار رہا\n\nآج ہی آج ہے فردائے قیامت موجود\nدو گھڑی اور جو ہنگامۂ رفتار رہا\n\nطور تو برق تجلی سے ہوا خاکستر\nاور میں سوختۂ حسرت دیدار رہا\n\nرحم اس سادہ دلی پر کہ مرا زخم جگر\nغیر سے چارہ و درماں کا طلب گار رہا\n\nمیں وہ اک مجرم تعذیر طلب ہوں کہ سدا\nبدلے دشمن کے عقوبت کا سزاوار رہا\n\nبسکہ دل میں رہی اک کشمکش یاس و امید\nدرد جو دل میں رہا جان سے بیزار رہا\n\nاب وہ فردا بھی نہیں روز کی تسکیں کے لیے\nاب فقط حشر ہی پر وعدۂ دیدار رہا\n\nپی بھی جا شیخ کہ ساقی کی عنایت ہے شراب\nمیں ترے بدلے قیامت میں گنہ گار رہا\n\nخوش ہوں چپ رہنے سے ان کے دم پیغام وصال\nکہ یہ انکار تو کچھ شامل اقرار رہا\n\nسر پہ پھرتا ہی رہا اور نہ گرا مجھ پہ کبھی\nآسماں بن کے ترا سایۂ دیوار رہا\n\nگرچہ کیا کچھ تھے مگر آپ کو کچھ بھی نہ گنا\nعشق برہم زن کاشانۂ پندار رہا\n\nتم نے یوں گھر میں تو کیا کچھ نہ اٹھائے فتنے\nاک قیامت کا اٹھانا سر بازار رہا\n\nہائے وہ چشم کہ دیکھے تجھے سرگرم ادا\nوائے وہ دل کہ ترا محرم اسرار رہا\n\nمیں رہا بھی تو رہا خار کی صورت کہ سدا\nتیری نظروں میں سبک دل پہ ترے یار رہا\n\nچشم پر نشہ ساقی جو رہی عکس فگن\nچور مستی سے ہر اک ساغر سرشار رہا\n\nہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد\nہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا\n\nکچھ خبر ہوتی تو میں اپنی خبر کیوں رکھتا\nیہ بھی اک بے خبری تھی کہ خبردار رہا\n\nتھک کے بیٹھے ہو در صومعہ پر کیا انورؔ\nدو قدم اور کہ یہ خانۂ خمار رہا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%D8%B3%D9%81_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A2%D9%BE_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DB%81%D8%A7"} {"title": "یوسف کو اس انجمن میں کیا ڈھونڈھتا ہے", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یوسف کو اس انجمن میں کیا ڈھونڈھتا ہے\nہنگامۂ ما و من میں کیا ڈھونڈھتا ہے\nنیرنگ تماشا ہے حجاب معنی\nتصویر کے پیرہن میں کیا ڈھونڈھتا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%D8%B3%D9%81_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "یوسف ہی زر خریدوں میں فیروز بخت تھا", "poet_page": "مصنف:شیر محمد خاں ایمان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوسف ہی زر خریدوں میں فیروز بخت تھا\nقیمت میں جس کی پھر وہی شاہی کا تخت تھا\n\nمجلس میں تیری کاوش مژگاں کے ہاتھ سے\nغنچہ نمط ہر ایک جگر لخت لخت تھا\n\nآنسو تو چیر کر صف مژگاں نکل گیا\nلڑکا تھا خورد سال پہ دل کا کرخت تھا\n\nتجھ پہ گداز دل ہے سراپا اے شمع رو\nجوں نخل موم باغ میں ہر اک درخت تھا\n\nایمانؔ آفریں ہے کہ اس بدمزاج سے\nیارانے کا نباہنا دشوار سخت تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%D8%B3%D9%81_%DB%81%DB%8C_%D8%B2%D8%B1_%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%DB%8C%D8%B1%D9%88%D8%B2_%D8%A8%D8%AE%D8%AA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یوم استقلال", "poet_page": "مصنف:سعادت حسن منٹو", "kind": "prose", "section": "اوپر نیچے اور درمیان", "year": "1954", "text_ur": "جب ہندوستان کے دو حصے ہوئے تو میں بمبئی میں تھا۔ ریڈیو پر قائد اعظم اور پنڈت نہرو کی تقریریں سنیں۔ اس کے بعد جب بٹوارہ ہو گیا تو میں نے وہ ہنگامہ بھی دیکھا جو بمبئی میں برپا ہوا۔ اس سے پہلے ہر روز اخباروں میں ہندو مسلم فسادات کی خبریں پڑھتا رہا تھا۔ کبھی پانچ ہندو مارے جاتے تھے کبھی پانچ مسلمان۔ بہرحال قتل و خون کا توازن اوسطاً برابر ہی رہتا تھا۔\n\nاس سلسلے میں ایک لطیفہ بھی سن لیجئے۔ اخبار والا ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ صبح باورچی خانے کی کھڑکی سے اندر پھینک جایا کرتا تھا۔ ایک دن۔۔۔ (اور فسادات کا دن تھا) اخبار والا آیا اور اس نے دروازے پر دستک دی۔ میں بہت حیران ہوا۔ اٹھ کر باہر گیا تو دیکھا کہ کوئی نیا آدمی ہے، میں نے اس سے پوچھا، ’’وہ اخبار والا کہاں ہے؟ جو یہاں آیا کرتا ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا، ’’صاحب وہ مر گیا ہے۔۔۔ کل کماٹی پورے میں اس کے چھری گھو نپ دی گئی۔۔۔ لیکن مرنے سے پہلے وہ مجھ سے کہہ گیا کہ فلاں فلاں صاحب کو اخبار پہنچا دیا کرو اور ان سے پیسے بھی وصول کر لینا۔‘‘\n\nاس وقت دل پر جو گزری، اس کے بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ اس کے دوسرے روز میں نے اپنے مکان سے ملحقہ سڑک پر جس کا نام کلیئر روڈ ہے، پٹرول پمپ کے پاس ایک ہندو برف فروش کی لاش دیکھی۔ اس کی برف کی ہتھ گاڑی اس کی لاش کے پاس کھڑی تھی۔ برف کی سلوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ اس کے خون کے عین اوپر، خون جم گیا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ’’جیلی‘‘ کا ایک تودہ پڑا ہے۔ وہ دن بھی کچھ عجیب تھے۔ ہنگامے ہی ہنگامے تھے اور ان ہنگاموں کی کوکھ سے دو ملکوں کو جنم لینا تھا۔ آزاد ہندوستان اور آزاد پاکستان کو ایک افراتفری مچی تھی۔ سیکڑوں صاحب استطاعت مسلمان ہوائی جہازوں کے ذریعے سے اڑ کر کراچی جا رہے تھے کہ وہاں نوزائیدہ اسلامی مملکت کا جشن دیکھیں۔ باقی ہزاروں وہیں دبکے ہوئے تھے کہ انہیں ڈر تھا کہ کوئی آفت نہ آ جائے۔\n\nاگست کی چودہ آئی اور بمبئی جو یوں بھی عروس البلاد کہلاتی ہے، نئی نویلی دلہن کی طرح سج گئی۔ روشنیوں کا ایک سیلاب تھا جو چودہ اگست کی رات کو بمبئی شہر میں بہہ گیا تھا۔ رنگ رنگ کی روشنیاں، میرا خیال ہے اتنی بجلی اس شہر نے کبھی اپنی زندگی میں خرچ نہیں کی ہوگی۔ بی ای ایس ٹی (بمبے الیکٹرک سپلائی اینڈ ٹراموے کمپنی) نے ایک ٹریم کار خاص اس تقریب کے لئے چاروں طرف بجلی کے قمقموں سے مزین کی ہوئی تھی۔ کچھ اس طور پر کہ کانگرس کے ترنگے جھنڈے بن گئے تھے۔ یہ ساری رات شہر میں گھوما کی۔ بڑی بڑی بلڈنگیں بھی روشنیوں سے آراستہ تھیں، انگریزی دکانوں نے خاص اہتمام کر رکھا تھا، وائٹ ویزا اور ایوان فریزز، کی سج دھج قابل دید تھی۔\n\nاب آپ بھنڈی بازار کی سنیئے، یہ بمبے کا مشہور بازار ہے جو بمبئے کی زبان میں میاں بھائیوں یعنی مسلمانوں کا علاقہ ہے۔ اس میں بے شمار ہوٹل اور ریسٹوران ہیں۔ کسی کا نام بسم اللہ اور کسی کا نام سبحان اللہ۔ سارا قرآن اس بازار میں ختم ہو گیا ہے۔ لیکن ’’اعوذ باللہ‘‘ نام کا کوئی ریسٹوران یا ہوٹل یہاں موجود نہیں۔ یہ بازار بمبئی کا پاکستان تھا۔ ہندو اپنے ہندوستان کی آزادی کی خوشیاں منا رہے تھے اور مسلمان اپنے آزاد پاکستان کی اور میں محو حیرت تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ بھنڈی بازار میں جہاں ہندوؤں کی دکانیں تھیں ان پر ترنگے لہرا رہے تھے۔ باقی جہاں دیکھو مسلم لیگ کے اسلامی جھنڈے تھے۔ میں صبح بھنڈی بازار میں گیا تو میں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ سارا بازار سبز جھنڈیوں سے اٹا پڑا تھا۔ ایک ریسٹوران کے باہر قائد اعظم کی پینٹنگ (جو غالباً کسی اناڑی نے بنائی تھی) شوخ رنگوں میں لٹک رہی تھی اور دو برقی پنکھوں کا رخ اس کی طرف تھا۔\n\nبہرحال یہ منظر مجھے کبھی نہ بھولے گا۔ مسلمان بہت خوش تھے کہ انہیں پاکستان مل گیا ہے۔ پاکستان کہاں ہے؟ کیا ہے؟ یہ ان کو قطعاً معلوم نہ تھا۔ بس وہ خوش تھے۔ اس لئے کہ ان کو بہت دیر کے بعد خوشی کا ایک موقعہ ملا تھا۔ رامپوری دادا ریسٹورانوں میں کئی کئی کوپ چائے کے پئے جا رہے تھے اور پاسنگ شو سگریٹ بھی اور پاکستان بننے کی خوشی منا رہے تھے۔ کالا کانڈی اور سینکی کی سوپاری کے پان دھڑا دھڑ آ رہے تھے اور باہر والے کی انگلیوں پر چونا بھی۔ میں محو حیرت تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے، لیکن سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ چودہ اگست کو بمبئی میں کوئی خون نہ ہوا۔ لوگ آزادی حاصل کرنے کی خوشی میں مگن تھے۔ یہ آزادی کیا تھی، کیونکر حاصل ہوئی اور آزاد ہو کر ان کی زندگی میں کیا تبدیلی ہوگی، اس کے متعلق کوئی بھی نہیں سوچتا تھا۔\n\nایک طرف ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے گونجتے تھے، دوسری طرف ’’ہندوستان زندہ باد‘‘ کے۔ اب چند لطیفے پاکستان کے متعلق سنیئے جو کہ ہماری نوزائیدہ اسلامی مملکت ہے۔ پچھلے برس یوم استقلال پر ایک صاحب سوکھا ہوا درخت کاٹ کر گھر لے جانے کی کوشش فرما رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا، ’’یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ یہ درخت کاٹنے کا آپ کو کوئی حق نہیں۔‘‘ آپ نے فرمایا، ’’یہ پاکستان ہے، یہ مال ہمارا ہے۔‘‘ میں خاموش ہو گیا۔\n\nہمارا محلہ کسی زمانے میں، اس زمانے میں جب بٹوارہ نہیں ہوا تھا، بڑی خوبصورت جگہ تھی۔ اب یہ حال ہے کہ وہ گول جگہ جہاں کسی زمانے میں گھاس کے تختے تھے بالکل ویران ہے۔ وہاں ننگے بچے دن رات گالیاں بکتے اور واہیات کھیل کھیلتے رہتے ہیں۔ میری ایک بچی کی بڑی گیند غائب ہو گئی۔ میں نے سوچا کہیں گھر میں ہوگی، لیکن چوتھے روز چند بچوں کو اس سے کھیلتے دیکھا۔ جب ان سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا، ’’یہ ہماری ہے۔ ایک روپے چار آنے میں خریدی تھی۔‘‘ لطیفہ یہ ہے کہ اس گیند کی قیمت چار روپے پندرہ آنے تھی۔ پاکستان میں لڑائی نہیں ہو سکتی۔ اس لئے میں نے اس سے گریز کیا اور اپنی بچی کی گیند انہی کے پاس رہنے دی کہ یہ ان کا حق تھا۔\n\nاسی جگہ کا ایک اور ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ ایک صاحب باہر لگے فرش پر سے اینٹیں اکھاڑ رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا، ’’بھائی ایسا نہ کرو۔ یہ بہت زیادتی ہے۔‘‘ آپ نے ارشاد کیا، ’’یہ پاکستان ہے۔ تم کون ہو۔ مجھے روکنے والے۔‘‘ میں خاموش ہو گیا۔\n\nمیں نے ایک ریڈیو مرمت کرنے والے کو اپنا ریڈیو مرمت کے لئے دیا۔ حافظہ کمزور ہے بھول گیا کہ اس کے یہاں جانا ہے۔ ایک مہینے کے بعد یاد آیا۔ جب اس کے پاس گیا تو اس نے کہا، ’’تم اتنے دن نہیں آئے۔ میں نے تمہارا ریڈیو سیٹ بیچ دیا ہے اور اپنی اجرت وصول کر لی ہے۔‘‘\n\nپچھلے سے پچھلے سال یوم استقلال سے ایک دن پہلے مجھے نوٹس ملا کہ تم غیر ضروری آدمی ہو۔ بتاؤ کہ تمہیں کیوں نہ تمہارے مقبوضہ مکان سے بے دخل کیا جائے۔ اگر میں غیر ضروری آدمی ہوں تو حکومت کو بھی یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ مجھے پلیگ کا چوہا قرار دے کر پکڑ لے اور تلف کر دے، لیکن میں ابھی تک بچا ہوا ہوں۔ آخر میں ایک بہت بڑا لطیفہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ جب قیام پاکستان کے عین بعد میں کراچی آیا تو وہاں ایک ہلڑ برپا تھا۔ میں نے چاہا کہ فوراً لاہور کا رخ کروں۔ چنانچہ میں ریلوے اسٹیشن گیا اور بکنگ کلرک سے کہا کہ مجھے ایک ٹکٹ فرسٹ کلاس کا لاہور کے لئے چاہیئے۔ اس نے جواب دیا، ’’یہ ٹکٹ آپ کو نہیں مل سکتا۔ اس لئے کہ سب سیٹیں بک ہیں۔‘‘\n\nمیں بمبئی کے ماحول کا عادی تھا۔ جہاں ہر چیز بلیک مارکیٹ میں مل سکتی ہے۔ میں نے اس سے کہا، ’’بھئی تم کچھ روپے زائد لے لو۔‘‘ اس نے بڑی سنجیدگی اور بڑے ملامت بھرے لہجے میں مجھ سے کہا، ’’یہ پاکستان ہے۔۔۔ میں اس سے پہلے ایسا کام کرتا رہا ہوں مگر اب نہیں کر سکتا۔ سیٹیں سب بک ہیں۔ آپ کو ٹکٹ کسی بھی قیمت پر کبھی بھی نہیں مل سکتا۔‘‘ اور مجھے ٹکٹ کسی قیمت پر بھی نہ ملا۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%D9%85_%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D9%82%D9%84%D8%A7%D9%84"} {"title": "یوم یادگار سر سیدؔ در دکن", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "جو شمع علم مغرب سید نے کی تھی روشن\nبکھری ہوئی ہیں جس کی کرنیں ہر انجمن میں\nاس شمع علم و فن کی کچھ منتشر شعاعیں\nیاران بزم تم ہو اس گوشۂ دکن میں\nلیکن یہ یاد رکھو سچی شعاع وہ ہے\nآنکھوں کا نور بن کر پھیلے جو مرد و زن میں\nجو شمع سے نکل کر دنیا کو جگمگا دے\nجو روح تازہ پھونکے ہر پیکر کہن میں\nماحول کے اثر سے آئے نہ فرق لازم\nگلزار کی کرن اور کہسار کی کرن میں\nاور یہ نہیں تو پھر تم مٹی کا وہ دیا ہو\nافسردہ نور جس کا محدود ہو لگن میں\nسیدؔ نے نسبتوں کے دعوے تو سچ ہیں لیکن\nاک پہلوئے عمل بھی درکار ہے سخن میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%D9%85_%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D8%AF%D8%94_%D8%AF%D8%B1_%D8%AF%DA%A9%D9%86"} {"title": "یونہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کر", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یونہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کر\nبنو کیوں چارہ گر تم کیا کروگے چارہ گر ہو کر\n\nدکھا دے ایک دن اے حسن رنگیں جلوہ گر ہو کر\nوہ نظارہ جو ان آنکھوں میں رہ جائے نظر ہو کر\n\nدل سوز آشنا کے جلوے تھے جو منتشر ہو کر\nفضائے دہر میں چمکا کئے برق و شرر ہو کر\n\nوہی جلوے جو اک دن دامن دل سے گریزاں تھے\nنظر میں رہ گئے گل ہائے دامان نظر ہو کر\n\nفلک کی سمت کس حسرت سے تکتے ہیں معاذ اللہ\nیہ نالے نارسا ہو کر یہ آہیں بے اثر ہو کر\n\nیہ کس کے حسن کے رنگین جلوے چھائے جاتے ہیں\nشفق کی سرخیاں بن کر تجلی کی سحر ہو کر", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%81%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%B1%DB%81%D9%88_%D8%A8%D8%B3_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DB%81%D9%88_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "یوں اٹھا دے ہمارے جی سے غرض", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں اٹھا دے ہمارے جی سے غرض\nہو نہ تیرے سوا کسی سے غرض\n\nوہ منائے گا جس سے روٹھے ہو\nہم کو منت سے عاجزی سے غرض\n\nیہ بھی احسان ہے قناعت کا\nاپنی اٹکی نہیں کسی سے غرض\n\nیہ محل بھی مقام عبرت ہے\nآدمی کو ہو آدمی سے غرض\n\nدرد مندوں کو کیا دوا سے کام\nغم نصیبوں کو کیا خوشی سے غرض\n\nحسن آرائشوں کا ہو محتاج\nاس کو آئینے آرسی سے غرض\n\nچور ہیں نشۂ محبت میں\nمے سے مطلب نہ مے کشی سے غرض\n\nدیر تک دید کے مزے لوٹے\nخوب نکلی یہ بے خودی سے غرض\n\nبے نیازی کی شان ہی یہ نہیں\nاس کو بندوں کی بندی سے غرض\n\nتیری خاطر عزیز ہے ورنہ\nمجھ کو دشمن کی دوستی سے غرض\n\nہم محبت کے بندے ہیں واعظ\nہم کو کیا بحث مذہبی سے غرض\n\nدیر ہو کعبہ ہو کلیسا ہو\nاس کی دھن اس کی بندگی سے غرض\n\nشیخ کو اس قدر پلاتے کیوں\nمے کشوں کو تھی دل لگی سے غرض\n\nاس کو سمجھو نہ حظ نفس حفیظؔ\nاور ہی کچھ ہے شاعری سے غرض", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7_%D8%AF%DB%92_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D8%AC%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D8%BA%D8%B1%D8%B6"} {"title": "یوں اکیلا دشت غربت میں دل ناکام تھا", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں اکیلا دشت غربت میں دل ناکام تھا\nپیچھے پیچھے موت تھی آگے خدا کا نام تھا\n\nبنتے ہی گھر ابتدا میں رو کش انجام تھا\nتنکے چن کر جب نظر کی آشیاں اک دام تھا\n\nبے محل دل کے بجھانے سے انہیں کیا مل گیا\nجس کو شمع صبح سمجھے وہ چراغ شام تھا\n\nحال منعم خود غرض کیا جانیں مے خانہ میں کل\nرند تھے بے فکر گردش میں دماغ جام تھا\n\nبس یہی فقرہ کہ شام ہجر نے مارا مجھے\nکوئی کہہ آتا تو کتنا مختصر پیغام تھا\n\nسیکڑوں بار ایک آہ سرد سے تھرا چکا\nکس قدر نزدیک دل سے آسماں کا بام تھا\n\nنامور پھر کون ہوگا کارزار دہر میں\nجب یہاں دل سا علم بردار غم گمنام تھا\n\nمونس وحدت کو کھو بیٹھا بڑی مشکل یہ ہے\nکاٹنا اک شام فرقت کا ذرا سا کام تھا\n\nسو جگہ سے چھن رہا تھا جب تو ڈرتا کس لئے\nکھا گیا دھوکا کہ میرے دل کی صورت دام تھا\n\nسر چڑھایا میں نے چن چن کر خس و خاشاک کو\nباغ کے تنکے تھے وہ جن کا نشیمن نام تھا\n\nذبح میں اک بھیڑ سی دیکھی تھی لیکن کیا خبر\nگرد میری حسرتیں تھیں یا ہجوم عام تھا\n\nمیرے نالے تھے شب فرقت میں کتنے بر محل\nان کے کانوں میں مگر اک شور بے ہنگام تھا\n\nکیا زمانے کا گلا ثاقبؔ کسی کا کیا قصور\nیہ دل غم دوست خود ہی دشمن آرام تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A7%DA%A9%DB%8C%D9%84%D8%A7_%D8%AF%D8%B4%D8%AA_%D8%BA%D8%B1%D8%A8%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یوں بدلتی ہے کہیں برق و شرر کی صورت", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں بدلتی ہے کہیں برق و شرر کی صورت\nقابل دید ہوئی ہے گل تر کی صورت\n\nزلف کی آڑ میں تھی جان نظر کی صورت\nرات گزری تو نظر آئی سحر کی صورت\n\nان کے لب پر ہے تبسم مری آنکھوں میں سرور\nکیا دکھائی ہے دعاؤں نے اثر کی صورت\n\nقافلے والو نئے قافلہ سالار آئے\nاب بدل جائے گی انداز سفر کی صورت\n\nکیا کرشمہ ہے مرے جذبۂ آزادی کا\nتھی جو دیوار کبھی اب ہے وہ در کی صورت\n\nاب کوئی حوصلہ افزائے ہنر ہے اخترؔ\nاب نظر آئے گی ارباب ہنر کی صورت", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%AF%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D9%88_%D8%B4%D8%B1%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA"} {"title": "یوں برس پڑتے ہیں کیا ایسے وفاداروں پر", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں برس پڑتے ہیں کیا ایسے وفاداروں پر\nرکھ لیا تو نے تو عشاق کو تلواروں پر\n\nمحتسب توڑ کے شیشہ نہ بہا مفت شراب\nارے کم بخت چھڑک دے اسے مے خواروں پر\n\nعاشق آئے ہیں کہ دیوانوں کا لشکر آیا\nکیا چڑھائی ہے ترے کوچہ کی دیواروں پر\n\nداغؔ کا عشق بھی دنیا سے نرالا دیکھا\nدل جب آتا ہے تو آتا ہے دل آزاروں پر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D8%B3_%D9%BE%DA%91%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "یوں بزمِ گل رخاں میں ہے اس دل کو اضطراب", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں بزمِ گل رخاں میں ہے اس دل کو اضطراب\nجیسے بہار میں ہو عنادل کو اضطراب\n\nنیرنگِ حسن و عشق کے کیا کیا ظہور ہیں\nبسمل کو اضطراب ہے، قاتل کو اضطراب\n\nآ جائے ہم نشیں وہ پری وش تو کیا نہ ہو\nدیوانہ وار ناصحِ عاقل کو اضطراب\n\nسیماب وار سارے بدن کو ہے یاں تپش\nتسکین ہو سکے جو ہو اک دل کو اضطراب\n\nوہ با ادب شہید ہوں میرا جو نام لے\nقاتل، تو پھر نہ ہو کسی بسمل کو اضطراب\n\nافسوس بادِ آہ سے ہل بھی نہ جائے اور\nیوں ہو ہوا سے پردۂ محمل کو اضطراب\n\nمیں جاں بہ لب ہوں اور خبرِِ وصل جاں طلب\nکیا کیا نہیں دہندہ و سائل کو اضطراب\n\nلکھا ہے خط میں حال دلِ بے قرار کا\nہو گا ضرور شیفتہ حامل کو اضطراب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%D8%B2%D9%85%D9%90_%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D8%AE%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8"} {"title": "یوں بھی دیکھا نہ کبھی درد کا درماں ہونا", "poet_page": "مصنف:بیخود موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں بھی دیکھا نہ کبھی درد کا درماں ہونا\nہائے وہ نشتر مژگاں کا رگ جاں ہونا\n\nوہ تمناؤں کا رہ رہ کے پریشاں ہونا\nوہ تری یاد کا دل میں ترے مہماں ہونا\n\nپردے پردے میں ترے وصل کا ساماں ہونا\nدرد پنہاں کا ترا غمزۂ پنہاں ہونا\n\nمحشر ناز ہیں ذرات فضائے کونین\nاللہ اللہ کسی کافر کا خراماں ہونا\n\nہر گھڑی اک نئے عالم کی خبر دیتا ہے\nمرا ہنسنا مرا رونا مرا حیراں ہونا\n\nجوش آبادیٔ دنیا سے محبت یعنی\nدل حسرت زدہ کا محشر حرماں ہونا\n\nآہ میں ہوں وہ سیہ بخت کہ تقدیر میں تھا\nبرق سے میرے نشیمن کا چراغاں ہونا\n\nخیر اپنی نہیں تجھ کو یہ کہے دیتا ہے\nاپنی ہر ایک ادا پر ترا حیراں ہونا\n\nجلوۂ بزم ازل جلوۂ طور محشر\nہے مرے شوق کے اجزا کا پریشاں ہونا\n\nدیکھیے ناز تغافل کو دکھائے کیا رنگ\nاشک حسرت کا سر دامن مژگاں ہونا\n\nوادیٔ معرفت و شوق کے اللہ رے نصیب\nجس کی قسمت میں تھا بیخودؔ کا بیاباں ہونا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں", "poet_page": "مصنف:باقی صدیقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں\nاپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں\n\nپہلے ہر بات پہ ہم سوچتے تھے\nاب فقط ہاتھ اٹھا دیتے ہیں\n\nقافلہ آج کہاں ٹھہرے گا\nکیا خبر آبلہ پا دیتے ہیں\n\nبعض اوقات ہوا کے جھونکے\nلو چراغوں کی بڑھا دیتے ہیں\n\nدل میں جب بات نہیں رہ سکتی\nکسی پتھر کو سنا دیتے ہیں\n\nایک دیوار اٹھانے کے لیے\nایک دیوار گرا دیتے ہیں\n\nسوچتے ہیں سر ساحل باقیؔ\nیہ سمندر ہمیں کیا دیتے ہیں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%D8%AA%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یوں بہ مشکل دل مجروح سے پیکاں نکلا", "poet_page": "مصنف:جگرؔ بسوانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں بہ مشکل دل مجروح سے پیکاں نکلا\nمیں یہ سمجھا کہ ترے وصل کا ارماں نکلا\n\nدیکھ کر اس کو دم نزع ہوئیں آنکھیں بند\nجان کے ساتھ ہی دیدار کا ارماں نکلا\n\nعرصۂ حشر میں پرسش جو ہوئی اس بت کی\nمیرے ہی دل میں وہ غارت گر ایماں نکلا\n\nدھوم صحراۓ قیامت کی بہت سنتے تھے\nاے جنوں وہ بھی مرا ایک بیاباں نکلا\n\nخاک میں مل گئے ہم جس کی تمنا میں جگرؔ\nوہ لحد پر بھی سنبھالے ہوئے داماں نکلا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A8%DB%81_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%AF%D9%84_%D9%85%D8%AC%D8%B1%D9%88%D8%AD_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%8C%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7"} {"title": "یوں تو ان آنکھوں سے ہم نے او بت کہنے کو دنیا دیکھی", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "یوں تو ان آنکھوں سے ہم نے او بت کہنے کو دنیا دیکھی\nلیکن ساری خدائی بھر تیری صورت یکتا دیکھی\n\nکھیل گئے کیوں جاں پہ انجمؔ تم نے ابھی کیا دنیا دیکھی\nمرنے لگے خوبان جہاں پر تیری میری دیکھا دیکھی\n\nدرد جگر کم تھا کہ نہیں تھا یہ تو بتا دم تھا کہ نہیں تھا\nکہہ تو مریض میں کچھ بھی دیکھا نبض جو تو نے مسیحا دیکھی\n\nاس کو بھلا کیوں کر چین آیا دل کو کیا کہہ کر سمجھایا\nصورت تیری جس نے ستمگر تھام کے اپنا کلیجا دیکھی\n\nوصل کی شب برہم ہی رہا وہ تا بہ سحر الجھا ہی کیا وہ\nبل نہ گیا ابرو سے اس کی زلف بھی ہم نے سلجھا دیکھی\n\nواہ رے وا اے نالۂ سوزاں دیکھ لی تیری ٹھنڈی گرمی\nدل نہ پسیجا اس کافر کا آگ بھی تو نے بھڑکا دیکھی\n\nاس کے دل سے گئی نہ کدورت دل کی دل ہی میں رہ گئی حسرت\nہم نے جھڑی اشکوں کی برسوں ان آنکھوں سے برسا دیکھی\n\nایک ذرا سے حشر پہ واعظ اس کو ڈراتا اللہ اللہ\nجس نے بتوں کی گلی میں برسوں روز قیامت برپا دیکھی\n\nجیسی زیست ہماری گزری دشمن کی بھی یوں نہ بسر ہو\nانجمؔ حضرت دل کی بدولت ہم نے مصیبت کیا کیا دیکھی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%D9%86_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%88_%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C"} {"title": "یوں تو اکثر خیال آتا تھا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "یوں تو اکثر خیال آتا تھا\nمیں جو ہوں اس سے ماسوا بن جاؤں\nتیری آنکھوں کو دیکھنے کے بعد\nمیں نے چاہا کہ میں خدا بن جاؤں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یوں تو اے بزمِ جہاں! دِلکش تھے ہنگامے ترے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "یوں تو اے بزمِ جہاں! دِلکش تھے ہنگامے ترے\nاک ذرا افسردگی تیرے تماشاؤں میں تھی\n\nپا گئی آسودگی کُوئے محبّت میں وہ خاک\nمُدّتوں آوارہ جو حکمت کے صحراؤں میں تھی\n\nکس قدر اے مے! تجھے رسمِ حجاب آئی پسند\nپردۂ انگور سے نکلی تو مِیناؤں میں تھی\n\nحُسن کی تاثیر پر غالب نہ آ سکتا تھا علم\nاتنی نادانی جہاں کے سارے داناؤں میں تھی\n\nمیں نے اے اقبالؔ یورپ میں اُسے ڈھونڈا عبث\nبات جو ہندوستاں کے ماہ سیماؤں میں تھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%A8%D8%B2%D9%85%D9%90_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA%21_%D8%AF%D9%90%D9%84%DA%A9%D8%B4_%D8%AA%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%85%DB%92_%D8%AA%D8%B1%DB%92"} {"title": "یوں تو حسین اکثر ہوتے ہیں شان والے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں تو حسین اکثر ہوتے ہیں شان والے\nلیکن کچھ اور ہے تو او آن بان والے\n\nناقوس دیر پھونکوں کعبے میں یا اذان دوں\nتجھ کو کہاں پکاروں او لا مکان والے\n\nمنبر پہ بیٹھ کر تو اتنا بہک نہ واعظ\nکیسی یہ نیچی باتیں اونچی دکان والے\n\nیہ حسن یہ جوانی مہماں ہے چند روزہ\nاس پر نہ کر یہ غرہ او آن بان والے\n\nکعبے کو شیخ جائے بت خانے کو برہمن\nیونہی ڈٹے رہیں گے اس آستان والے\n\nابرو پہ ڈال کر بل ترچھی نظر نہ کر تو\nیہ تیر کج پڑے گا بانکی کمان والے\n\nغیروں پہ تو نظر ہے میری بھی کچھ خبر ہے\nمیں بھی مٹا ہوا ہوں او آن بان والے\n\nتلوار کھینچ کر کیا بازو کو دیکھتا ہے\nدو ہاتھ بس لگا دے اب امتحان والے\n\nقائل ترا جہاں ہے ہاں فرق درمیاں ہے\nکچھ ہیں یقین والے کچھ ہیں گمان والے\n\nفرہاد قیس دونوں دے بیٹھے جان آخر\nمرتے ہیں بات ہی پر جتنے ہیں آن والے\n\nوہ کس لیے بلائیں جائیں حفیظؔ ہم کیوں\nوہ بھی ہیں شان والے ہم بھی ہیں آن والے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86_%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A7%D9%86_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "یوں تو دل ہر کدام رکھتا ہے", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں تو دل ہر کدام رکھتا ہے\nاہل دل ہونا کام رکھتا ہے\n\nکب وہ طمع سلام رکھتا ہے\nمجھ سا لاکھوں غلام رکھتا ہے\n\nعشرت دو جہاں ہے اس کے ساتھ\nجو صراحی و جام رکھتا ہے\n\nہے وہی خاص بزم دنیا میں\nجو مدارائے عام رکھتا ہے\n\nدین و دنیا کا جو نہیں پابند\nوہ فراغت تمام رکھتا ہے\n\nبت پرستوں کو کوئی کہے ہے زبوں\nکوئی مسلماں کو نام رکھتا ہے\n\nہر کوئی اپنی فہم ناقص میں\nپختہ سودائے خام رکھتا ہے\n\nجو کسو کو برا کہے نہ حضورؔ\nوہی فہم مند نام رکھتا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%84_%DB%81%D8%B1_%DA%A9%D8%AF%D8%A7%D9%85_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "یوں تو دنیا میں ہر اک کام کے استاد ہیں شیخ", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں تو دنیا میں ہر اک کام کے استاد ہیں شیخ\nپر جو کچھ آپ میں فن ہیں وہ کسے یاد ہیں شیخ\n\nسب ہی بندے تو خدا کے ہیں پر اتنا ہے فرق\nتو گرفتار تعین ہے ہم آزاد ہیں شیخ\n\nہم تو مر جائیں جو اک دم یہ کریں صوم و صلٰوۃ\nکیوں کہ جیتے ہیں وہ جو آپ کے مقتاد ہیں شیخ\n\nدختر رز تو ہے بیٹی سی ترے اوپر حرام\nرند اس رشتہ سے سارے ترے داماد ہیں شیخ\n\nتھوڑی سی بات میں قائمؔ کی تو ہوتا ہے خفا\nکچھ حرمزدگئیں اپنی بھی تجھے یاد ہیں شیخ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%D8%A7%DA%A9_%DA%A9%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%DB%8C%D8%AE"} {"title": "یوں تو عاشق ترا زمانہ ہوا", "poet_page": "مصنف:حسرت موہانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں تو عاشق ترا زمانہ ہوا\nمجھ سا جاں باز دوسرا نہ ہوا\n\nخودبخود بوئے یار پھیل گئی\nکوئی منت کش صبا نہ ہوا\n\nمیں گرفتار الفت صیاد\nدام سے چھٹ کے بھی رہا نہ ہوا\n\nخبر اس بے خبر کی لا دیتی\nتجھ سے اتنا بھی اے صبا نہ ہوا\n\nان سے عرض کرم تو کیا کرتے\nہم سے خود شکوۂ جفا نہ ہوا\n\nہو کے بے خود کلام حسرتؔ سے\nآج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82_%D8%AA%D8%B1%D8%A7_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "یوں تو ملنے کو اک زمانہ ملا", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں تو ملنے کو اک زمانہ ملا\nنہ ملا ہاں وہ بے وفا نہ ملا\n\nآشنائی میں کچھ مزا نہ ملا\nآشنا درد آشنا نہ ملا\n\nجب ملے وہ کھچے تنے ہی ملے\nلطف ملنے کا اک ذرا نہ ملا\n\nہم نوا سب خزاں کے آتے ہی\nایسے پتہ ہوئے پتا نہ ملا\n\nکھو کے دل کو ہم اس قدر خوش ہیں\nجیسے قارون کا خزانہ ملا\n\nشاد کیا ہوں حصول جنت پر\nکہ رپئے میں سے ایک آنا ملا\n\nعاشقی کیا ہے سچ جو پوچھو تو\nہم کو مرنے کا اک بہانہ ملا\n\nزندگانی تھی یا پریشانی\nسب کیا اور کچھ مزا نہ ملا\n\nروئیے اس کی بد نصیبی پر\nڈھونڈھنے پر جسے خدا نہ ملا\n\nمجھ سے ملنے میں کیا برائی ہے\nآپ کے دل کا مدعا نہ ملا\n\nمل گیا دل جو ہم سے ملنا تھا\nآنکھ اب ہم سے تو ملا نہ ملا\n\nکھچ کے ملنا بھی کوئی ملنا ہے\nایک ہے وہ جو یوں ملا نہ ملا\n\nپھر سمائی صفیؔ سے ملنے کی\nکیوں تمہیں کوئی دوسرا نہ ملا\n\nقدر کرتا ہوں اپنی آپ صفیؔ\nواہ مجھ کو بھی کیا زمانہ ملا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%DA%A9_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%85%D9%84%D8%A7"} {"title": "یوں تو میں نہیں ہوں ترے فرمان سے باہر", "poet_page": "مصنف:عاشق حسین بزم آفندی", "kind": "poetry", "section": "غزل > ایاغ بزم (1927)", "year": "1927", "text_ur": "یوں تو میں نہیں ہوں ترے فرمان سے باہر\nچاہوں جو نہ تجھ کو یہ ہے امکان سے باہر\n\nاس روئے کتابی پہ پسینہ ہے نہ غازہ\nشاید ہے تر و خشک اسی قرآن سے باہر\n\nمر کر بھی میں وحشت ہی کے قابو میں رہوں گا\nخاک اڑ کے نہ جائے گی بیابان سے باہر\n\nہے قبضۂ قدرت میں غم عشق حقیقی\nاب چرخ یہ کھانا ہے ترے خوان سے باہر\n\nڈیوڑھی میں محل کی ہمیں جو چاہے سنا لے\nسمجھیں گے کسی دن ترے دربان سے باہر\n\nگوش دل و جاں میں ہیں امانت تری باتیں\nموتی کبھی نکلیں گے نہ اس کان سے باہر\n\nگھر بیٹھے ہو کس طرح ترے حسن کا شہرا\nیوسف کو ملا مرتبہ کنعان سے باہر\n\nپھر نکلیں مہ و مہر چمک کر تو میں جانوں\nبے پردہ اگر آؤ تم ایوان سے باہر\n\nوہ بستۂ زنجیر خموشی ہوں کہ تا حشر\nنکلے مرے نالے بھی نہ زندان سے باہر\n\nچاروں طرف اک دم میں نئی چاندنی چھٹکی\nشب کو نکل آئے جو وہ دالان سے باہر\n\nنشہ میں انہیں کے مجھے درکار ہیں بوسے\nجو پستۂ خنداں ہیں گزک دان سے باہر\n\nسجدہ تمہیں کر بیٹھیں گے کفار و مسلماں\nاب کے بھی اگر آؤ گے اس شان سے باہر\n\nاب ہاتھ مگر گردن نازک میں پڑا ہے\nہوگا نہ گلہ ان کا گریبان سے باہر\n\nثابت قدم معرکہ آ پہنچے اب اے عشق\nسر دے کے بھی جائیں گے نہ میدان سے باہر\n\nغیروں کے تصور میں رسائی ہوئی کیوں کر\nکس وقت گئے آپ مرے دھیان سے باہر\n\nاوصاف قد یار بھی موزوں کرو اے بزمؔ\nکیوں نور کا مصرع رہے دیوان سے باہر", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1"} {"title": "یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھ", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھ\nدینے کے اے کریم مگر ہیں ہزار ہاتھ\n\nانگڑائیوں میں پھیلتے ہیں بار بار ہاتھ\nشیشہ کی سمت بڑھتے ہیں بے اختیار ہاتھ\n\nڈوبے ہیں ترک سعی سے افسوس تو یہ ہے\nساحل تھا ہاتھ بھر پہ لگاتے جو چار ہاتھ\n\nآتی ہے جب نسیم تو کہتی ہے موج بحر\nیوں آبرو سمیٹ اگر ہوں ہزار ہاتھ\n\nدرپئے ہیں میرے قتل کے احباب اور میں\nخوش ہوں کہ میرے خون میں رنگتے ہیں یار ہاتھ\n\nدامن کشاں چلی ہے بدن سے نکل کے روح\nکھنچتے ہیں پھیلتے ہیں جو یوں بار بار ہاتھ\n\nمٹتا نہیں نوشتۂ قسمت کسی طرح\nپتھر سے سر کو پھوڑ کہ زانو پہ مار ہاتھ\n\nساقی سنبھالنا کہ ہے لبریز جام مے\nلغزش ہے میرے پاؤں میں اور رعشہ دار ہاتھ\n\nمطرب سے پوچھ مسئلہ جبر و اختیار\nکیا تال سم پہ اٹھتے ہیں بے اختیار ہاتھ\n\nمیں اور ہوں علائق دنیا کے دام میں\nمیرا نہ ایک ہاتھ نہ اس کے ہزار ہاتھ\n\nاے نظمؔ وصل میں بھی رہا تو نہ چین سے\nدل کو ہوا قرار تو ہے بے قرار ہاتھ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B2%DB%8C%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE"} {"title": "یوں تو وہ ہر کسی سے ملتی ہے", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی زیدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں تو وہ ہر کسی سے ملتی ہے\nہم سے اپنی خوشی سے ملتی ہے\n\nسیج مہکی بدن سے شرما کر\nیہ ادا بھی اسی سے ملتی ہے\n\nوہ ابھی پھول سے نہیں ملتی\nجوہیے کی کلی سے ملتی ہے\n\nدن کو یہ رکھ رکھاؤ والی شکل\nشب کو دیوانگی سے ملتی ہے\n\nآج کل آپ کی خبر ہم کو!\nغیر کی دوستی سے ملتی ہے\n\nشیخ صاحب کو روز کی روٹی\nرات بھر کی بدی سے ملتی ہے\n\nآگے آگے جنون بھی ہوگا!\nشعر میں لو ابھی سے ملتی ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D9%88%DB%81_%DB%81%D8%B1_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%DB%92_%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی\nاے محبت مرے پہلو سے مگر تو نہ گئی\n\nمٹ چلے میری امیدوں کی طرح حرف مگر\nآج تک تیرے خطوں سے تری خوشبو نہ گئی\n\nکب بہاروں پہ ترے رنگ کا سایہ نہ پڑا\nکب ترے گیسوؤں کو باد سحر چھو نہ گئی\n\nترے گیسوئے معنبر کو کبھی چھیڑا تھا\nمیرے ہاتھوں سے ابھی تک تری خوشبو نہ گئی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D8%B3_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%B1%D9%86%DA%AF%D8%AA_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D9%88_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتا\nکوئی تم سا نظر نہیں آتا\n\nڈھونڈتی ہیں جسے مری آنکھیں\nوہ تماشا نظر نہیں آتا\n\nہو چلی ختم انتظار میں عمر\nکوئی آتا نظر نہیں آتا\n\nجھولیاں سب کی بھرتی جاتی ہیں\nدینے والا نظر نہیں آتا\n\nزیر سایہ ہوں اس کے اے امجدؔ\nجس کا سایہ نظر نہیں آتا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "یوں تڑپتے ہوئے نوشادؔ وطن سے نکلے", "poet_page": "مصنف:راجہ نوشاد علی خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں تڑپتے ہوئے نوشادؔ وطن سے نکلے\nجس طرح بلبل بیتاب چمن سے نکلے\n\nوائے قسمت کہ ہوا دل نہ شگفتہ شب وصل\nہائے ارمان نہ اس غنچہ دہن سے نکلے\n\nوقت رخصت میں کہوں کیا جو مرا حال ہوا\nاشک جب دیدۂ احباب وطن سے نکلے\n\nباغ میں صورت نکہت تھے ترے ہم وحشی\nموسم گل ادھر آیا کہ چمن سے نکلے\n\nفلک تفرقہ انداز نے رہنے نہ دیا\nحوصلے کچھ بھی نہ یاران وطن سے نکلے\n\nدل جو نوشادؔ لگاؤ تو کسی گل رو سے\nجان نکلے تو غم غنچہ دہن سے نکلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AA%DA%91%D9%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%86%D9%88%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D8%94_%D9%88%D8%B7%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "یوں جو ڈھونڈو تو یہاں شہر میں عنقا نکلے", "poet_page": "مصنف:رجب علی بیگ سرور", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "یوں جو ڈھونڈو تو یہاں شہر میں عنقا نکلے\nچاہنے والا جو چاہو تو نا اصلا نکلے\n\nجی میں ہے چیر کے سینہ میں نکالوں دل کو\nتا کسی ڈھب سے تو پہلو کا یہ کانٹا نکلے\n\nمرض عشق یہ مہلک ہے کہ اس کے ڈر سے\nچرخ چارم یہ جو ڈھونڈو تو مسیحا نکلے\n\nہے یقیں گور پہ گر میری تو آ جاوے کبھی\nدید کو تیری مرا قبر سے مردا نکلے\n\nجاں کنی میں ہے تڑپتا دل بیتاب سرورؔ\nمیرے عیسیٰ سے کہو یہاں بھی کبھی آ نکلے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%D9%88_%D8%AA%D9%88_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B9%D9%86%D9%82%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92"} {"title": "یوں دل ہے سر بہ سجدہ کسی کے حضور میں", "poet_page": "مصنف:امین حزیں سیالکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں دل ہے سر بہ سجدہ کسی کے حضور میں\nجیسے کہ غوطہ زن ہو کوئی بحر نور میں\n\nہنس ہنس کے کہہ رہی ہے چمن کی کلی کلی\nآتا ہے لطف حسن کو اپنے ظہور میں\n\nساقی نگاہ مست سے دیتا ہے جب کبھی\nلگتے ہیں چار چاند ہمارے سرور میں\n\nکھائیں جناب شیخ فریب قیاس و وہم\nیہ کیف جاں نواز کہاں چشم حور میں\n\nمثل کلیم کون سنے لن ترانیاں\nمیرے لیے کشش ہی کہاں کوہ طور میں\n\nبیش از دو حرف اپنی نہیں داستان درد\nہم گر کے آسمان سے اٹکے کھجور میں\n\nیہ شوخیاں کلام میں یوں ہی نہیں امیںؔ\nپڑھنے چلے ہیں آپ غزل رامپور میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%D8%A8%DB%81_%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یوں دور دور دل سے ہو ہو کے دل نشیں بھی", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں دور دور دل سے ہو ہو کے دل نشیں بھی\nہیں تو اسی جہاں میں ملتے نہیں کہیں بھی\n\nکم ایک قبر سے ہے مجھ کو یہ کل زمیں بھی\nمر رہنے کا ٹھکانا ملتا نہیں کہیں بھی\n\nطوفان بحر خود ہیں بڑھتی امنگیں دل کی\nکشتی قرار لے گی ہو کر نہ تہہ نشیں بھی\n\nامکاں کی حد کے اندر کوشش کی حد سے باہر\nدل جس کو ڈھونڈھتا ہے وہ ہے بھی اور نہیں بھی\n\nامید دل کی فطرت ہے بے نیاز تسکیں\nکم ہو نہ بے قراری آئے اگر یقیں بھی\n\nبیم و رجا سے دل میں دریا کا جزر و مد ہے\nساحل نواز موجیں آئیں بھی اور گئیں بھی\n\nیہ ملتفت نگاہیں شیوہ وغا ہے جن کا\nہیں موجب سکوں بھی ہنگامہ آفریں بھی\n\nکر پہلے دل پہ قابو جامے کی پھر خبر لے\nدامن بچانے والے جاتی ہے آستیں بھی\n\nخطرے میں جان جس سے وہ جان سے بھی پیارا\nرنگیں عذار شعلہ قاتل بھی ہے حسیں بھی\n\nسرگشتۂ محبت دار محن میں پھر کر\nدیکھ آئے گوشہ گوشہ راحت نہیں کہیں بھی\n\nنیرنگیٔ تلون لاحل سا اک معمہ\nسمجھے جو تیرے تیور پڑھ لے خط جبیں بھی\n\nشان غرور ان کی تصویر اک رخی ہے\nاور آرزو کی نظریں شیدا بھی ہیں حسیں بھی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردش", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد رفیع سودا", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردش\nدریا میں ہو جس طرح سے گرداب کی گردش\n\nمرتا ہوں ترے واسطے روتا ہوں زبس یار\nہے سیل مری چشم میں گرداب کی گردش\n\nپھر جاتی ہیں اس طرح سے اک پل میں وہ انکھیاں\nجوں بزم میں ہو جام مئے ناب کی گردش\n\nازبسکہ ہے آنکھوں میں خمار اس گھڑی ساقی\nمے مانگے ہے تجھ سے جو ہر احباب کی گردش\n\nگو خاک ہوا تو بھی پھرا بن کے بگولا\nہو کر نہ گئی عاشق بیتاب کی گردش\n\nجنس خرد و صبر بن اس دل کو ہو کیا چین\nمفلس کو بری ہوتی ہے اسباب کی گردش\n\nدل زلف و رخ یار میں سوداؔ نہ پھرے کیوں\nخوش آئے ہے اس کو شب مہتاب کی گردش", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D9%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D8%AF%D8%B4"} {"title": "یوں سسکتا مجھے تم چھوڑ نہ جاؤ آؤ", "poet_page": "مصنف:برجموہن دتاتریہ کیفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں سسکتا مجھے تم چھوڑ نہ جاؤ آؤ\nآخری وقت ہے اے جان من آؤ آؤ\n\nصحبت لطف میں لو نام نہ غیروں کا کبھی\nدل میں عاشق کے نہ تم آگ لگاؤ آؤ\n\nبے بنے ہی بہتوں کو ہے بگاڑا اس نے\nاپنی کاکل کو بہت اب نہ بناؤ آؤ\n\nپی بھی لو رہنے دو کوثر کی کہانی زاہد\nایسی بے پر کی نہ یاروں سے اڑاؤ آؤ\n\nکیفیؔ چھوڑو بھی کہیں کوئے بتاں کی یہ دھن\nچین آرام دل و دیں نہ گنواؤ آؤ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B3%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%AA%D9%85_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D9%86%DB%81_%D8%AC%D8%A7%D8%A4_%D8%A2%D8%A4"} {"title": "یوں عیاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں عیاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم\nکہ نہاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم\n\nنہیں وادید ماسوا درکار\nبے نشاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم\n\nغیر کی واں نظر نہیں جاتی\nاب جہاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم\n\nدیدنی کچھ نہیں زمانے میں\nجاوداں تجھ کو دیکھتے ہیں\n\nجان دینے پہ کیوں نہ ہوں راضی\nجاں ستاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم\n\nیوں کریں ہم کو پائمال عدو\nآسماں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم\n\nیوں وہ گل گشت کو چلے آئیں\nگلستاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم\n\nآج اپنا کہا سنا ہو معاف\nناگہاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم\n\nآرزو گو کہ ایک حرف ہے تو\nداستاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم\n\nنہ کریں اب کلیم سے بھی کلام\nہم زباں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم\n\nہم اور اغیار سے گلا تیرا\nبد گماں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم\n\nاور کرنا ہے چرخ کو دشمن\nمہرباں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم\n\nاس کا آنا یقیں ہے کیا سالکؔ\nنگراں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85"} {"title": "یوں غیر کچھ کہیں تو بلا کو بری لگے", "poet_page": "مصنف:میر حسن دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں غیر کچھ کہیں تو بلا کو بری لگے\nتو کچھ نہ کہہ کہ ہم غربا کو بری لگے\n\nتنگی کرے نہ حوصلہ اپنا کہیں بس اب\nاتنی جفا نہ کر کہ وفا کو بری لگے\n\nتجھ بن یہ زیست اپنی ہمیں یوں ہے جس طرح\nقید حیات اہل فنا کو بری لگے\n\nہوں خاک تیرے کوچہ کی ہم اور اپنی گرد\nتیری گلی سے آہ صبا کو بری لگے\n\nہم تو سہیں گے وہ بھی پہ لازم نہیں تجھے\nاس ناز کی جفا جو ادا کو بری لگے\n\nہے بے حیائی حد سے جو گرمی زیادہ ہو\nشوخی بہت تو مرد و نسا کو بری لگے\n\nچوں آئینہ دل اپنا کدورت سے صاف رکھ\nگرد ملال اہل صفا کو بری لگے\n\nہر دم جواب صاف مروت سے ہے بعید\nوہ بات تو نہ کر کہ حیا کو بری لگے\n\nاس بت کی بندگی سے نہ آزاد ہو حسنؔ\nیہ بات بھی کہیں نہ خدا کو بری لگے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%B1%DB%8C_%D9%84%DA%AF%DB%92"} {"title": "یوں مبتلا کسی پہ کوئی اے خدا نہ ہو", "poet_page": "مصنف:ناصری لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نذر احباب (1933)", "year": "1933", "text_ur": "یوں مبتلا کسی پہ کوئی اے خدا نہ ہو\nدل دے دیا ہو اور امید وفا نہ ہو\n\nتم بے نیاز ہو تو ہے قہر اس غریب پر\nجس کا بجز تمہارے کوئی آسرا نہ ہو\n\nمحو خرام آپ ہیں بے چین اہل قبر\nمجھ کو یہ خوف ہے کہ قیامت بپا نہ ہو\n\nصدمے اٹھائے ہیں تو دعا ہے یہ ناصریؔ\nان ظالموں پہ کوئی بشر مبتلا نہ ہو", "license": "PD-anon-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A7%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88"} {"title": "یوں مجھ پہ جفا ہزار کیجو", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں مجھ پہ جفا ہزار کیجو\nپر غیر کو تو نہ پیار کیجو\n\nکرتے ہو تم وفا کی باتیں\nپر ہم سے ٹک آنکھیں چار کیجو\n\nآجائیو یار گھر سے جلدی\nمت کشتۂ انتظار کیجو\n\nقصداً تو کہاں پہ بھولے ہی سے\nایدھر بھی کبھو گزار کیجو\n\nکوئی بات ہے تجھ سے دل پھرے کا\nاس کو تو مت اعتبار کیجو\n\nبیدارؔ تو اس جہاں میں آ کر\nجو چاہے سو میرے یار کیجو\n\nپر جس سے گرے کسو کے دل سے\nوہ کام نہ اختیار کیجو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D9%88"} {"title": "یوں مجھے آپ سے اب کرتی ہے تقدیر جدا", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں مجھے آپ سے اب کرتی ہے تقدیر جدا\nجس طرح جنگ میں ہو قبضے سے شمشیر جدا\n\nمس کے زر ہونے سے بہتر ہے کمال انساں\nخاکساری ہے جدا اور ہے اکسیر جدا\n\nجائے دنداں لب سوفار ہوئے اے قاتل\nدہن زخم سے ہوگا نہ ترا تیر جدا\n\nمرض عشق میں پیٹھ اپنی یہ بستر سے لگی\nنہ کبھی صفحہ سے جس شکل ہو تصویر جدا\n\nاے جنوں پاؤں ہیں جب تک یہ تمنا ہے مجھے\nکبھی مانند رگوں کے نہ ہو زنجیر جدا\n\nچھوڑوں کیا پیری میں شیریں دہنوں کی صحبت\nنہیں ممکن کہ ہوں مل کر شکر و شیر جدا\n\nکہتے ہیں دیکھ کے زلف اس کے رخ تاباں پر\nکبھی ہوتا نہیں اس شمع سے گل گیر جدا\n\nجب جدائی کے مضامین مجھے سوجھے ہیں\nحرف سے حرف ہوا ہے دم تحریر جدا\n\nکیوں نہ ہو جلوۂ خورشید سے سائے کا وجود\nکیا ترے چہرے سے ہو زلف گرہ گیر جدا\n\nمجھ گرفتار جدائی کے جو پاؤں میں پڑی\nہو جنوں حلقے سے ہر حلقۂ زنجیر جدا\n\nمیں نے جو درد جدائی سے کیے ہیں نالے\nکیجیے تن سے مرا سر پئے تعزیر جدا\n\nتیغ آہن سے سوا ہے برش تیغ زباں\nحق کو باطل سے کرے گی تری تقریر جدا\n\nآشنا متحد اس درجہ کہاں ہوتے ہیں\nآپ دلگیر ہے ناسخؔ جو ہے دلگیر جدا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A2%D9%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%AC%D8%AF%D8%A7"} {"title": "یوں مری طبع سے ہوتے ہیں معانی پیدا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں مری طبع سے ہوتے ہیں معانی پیدا\nجیسے ساون کی گھٹاؤں سے ہو پانی پیدا\n\nکیا غضب ہے نگہ مست مس بادہ فروش\nشیخ فانی میں ہوا رنگ جوانی پیدا\n\nیہ جوانی ہے کہ پاتا ہے جنوں جس سے ظہور\nیہ نہ سمجھو کہ جنوں سے ہے جوانی پیدا\n\nبے خودی میں تو یہ جھگڑے نہیں رہتے اے ہوش\nتو نے کر رکھا ہے اک عالم فانی پیدا\n\nکوئی موقع نکل آئے کہ بس آنکھیں مل جائیں\nراہیں پھر آپ ہی کر لے گی جوانی پیدا\n\nہر تعلق مرا سرمایہ ہے اک ناول کا\nمیری ہر رات سے ہے ایک کہانی پیدا\n\nجنگ ہے جرم محبت ہے خلاف تہذیب\nہو چکا ولولۂ عہد جوانی پیدا\n\nکھو گئی ہند کی فردوس نشانی اکبرؔ\nکاش ہو جائے کوئی ملٹنؔ ثانی پیدا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D8%B7%D8%A8%D8%B9_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%AF%D8%A7"} {"title": "یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرف", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرف\nہاتھ جس طرح سے آتا ہے گریباں کی طرف\n\nبیٹھے بیٹھے دل غمگیں کو یہ کیا لہر آئی\nاٹھ کے طوفان چلا دیدۂ گریاں کی طرف\n\nدیکھنا لالۂ خود رو کا لہکنا ساقی\nکوہ سے دوڑ گئی آگ بیاباں کی طرف\n\nرو دیا دیکھ کے اکثر میں بہار شبنم\nہنس دیا دیکھ کے اکثر گل خنداں کی طرف\n\nبات چھپتی نہیں پڑتی ہیں نگاہیں سب کی\nاس کے دامن کی طرف میرے گریباں کی طرف\n\nسیکڑوں داغ گنہ دھو گئے رحمت سے تری\nکیا گھٹا جھوم کے آئی تھی گلستاں کی طرف\n\nچشم آئینہ پریشاں نظری سیکھ گئی\nدیکھتا تھا یہ بہت زلف پریشاں کی طرف\n\nسر جھکائے ہوئے ہے نظمؔ بسان خامہ\nسمت سجدے کی ہے تیری خط فرماں کی طرف", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%8C%D8%AF%DA%BE%D8%A7_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B7%D8%B1%D9%81"} {"title": "یوں نظم جہاں درہم و برہم نہ ہوا تھا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں نظم جہاں درہم و برہم نہ ہوا تھا\nایسا بھی ترے حسن کا عالم نہ ہوا تھا\n\nپھر چھیڑ دیا وسعت محشر کی فضا نے\nسودا ترے وحشی کا ابھی کم نہ ہوا تھا\n\nیا عشرت دو روزہ تھا یا حسرت دیروز\nوہ لمحۂ ہستی جو ابھی غم نہ ہوا تھا\n\nصد حیف وہ گل ہو کف گلچیں میں جو اب تک\nآزردۂ آویزش شبنم نہ ہوا تھا\n\nقاتل ہی مرا کیوں اسے کہتا ہے زمانہ\nمانا وہ شریک صف ماتم نہ ہوا تھا\n\nراز آج مرے دم سے ہوا راز محبت\nکچھ راز نہ تھا جب کوئی محرم نہ ہوا تھا\n\nپاتے ہی خجل رحم کا دریا امڈ آیا\nپردہ مری آنکھوں کا ابھی نم نہ ہوا تھا\n\nرسوا نہ کر اس سوز کو اے شمع لب گور\nجو واقف دل سوزی ہمدم نہ ہوا تھا\n\nگھر خیر سے تقدیر نے ویرانہ بنایا\nسامان جنوں مجھ سے فراہم نہ ہوا تھا\n\nاک کفر سراپا نے کیا حشر کا قائل\nمیں معتقد حشر مجسم نہ ہوا تھا\n\nہر دل میں نئی شان تجلی ہے کہ فانیؔ\nنشتر ہے وہ انداز جو مرہم نہ ہوا تھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%D8%B8%D9%85_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AF%D8%B1%DB%81%D9%85_%D9%88_%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%85_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یوں نہ مایوس ہو اے شورش ناکام ابھی", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں نہ مایوس ہو اے شورش ناکام ابھی\nمیری رگ رگ میں ہے اک آتش بے نام ابھی\n\nعاشقی کیا ہے ہر اک شے سے تہی ہو جانا\nاس سے ملنے کی ہے دل میں ہوس خام ابھی\n\nانتہا کیف کی افتادگی و پستی ہے\nمجھ سے کہتا تھا یہی درد تہ جام ابھی\n\nعلم و حکمت کی تمنا ہے نہ کونین کا غم\nمیرے شیشے میں ہے باقی مئے گلفام ابھی\n\nسب مزے کر دیئے خورشید قیامت نے خراب\nمیری آنکھوں میں تھا اک روئے دلارام ابھی\n\nبلبل زار سے گو صحن چمن چھوٹ گیا\nاس کے سینے میں ہے اک شعلۂ گلفام ابھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%A7%DB%8C%D9%88%D8%B3_%DB%81%D9%88_%D8%A7%DB%92_%D8%B4%D9%88%D8%B1%D8%B4_%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "یوں نہ میری بات مانی جائے گی", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں نہ میری بات مانی جائے گی\nخوب جانچی خوب چھانی جائے گی\n\nآتے آتے راہ پر وہ آئیں گے\nجاتے جاتے بد گمانی جائے گی\n\nان سے ہم کہہ دیں گے اپنے دل کی بات\nاور کیا ہوگا نہ مانی جائے گی\n\nآج ہی تو ہم نے پی برسوں کے بعد\nآج ہی کیا سرگرانی جائے گی\n\nیہ ہمیں اے نوحؔ کیا معلوم تھا\nجلد دیوانی جوانی جائے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "یوں نہ ٹپکا تھا لہو دیدۂ تر سے پہلے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں نہ ٹپکا تھا لہو دیدۂ تر سے پہلے\nدیکھنا آگ لگی پھر اسی گھر سے پہلے\n\nجیسے جیسے در دل دار قریب آتا ہے\nدل یہ کہتا ہے کہ پہنچوں میں نظر سے پہلے\n\nنامۂ یار پڑھوں میں ابھی جلدی کیا ہے\nنامہ بر کو تو لگا لوں میں جگر سے پہلے\n\nبے حجابی جو سہی ہے تری شوخ آنکھوں کی\nرسم پردے کی اٹھے گی اسی گھر سے پہلے\n\nاے جلیلؔ آپ بھی کس دھیان میں ہیں خیر تو ہے\nخواہش قدر ہنر کسب ہنر سے پہلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81_%D9%B9%D9%BE%DA%A9%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%84%DB%81%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%82_%D8%AA%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92"} {"title": "یوں نہیں چین تو غفلت کا ستم اور سہی", "poet_page": "مصنف:میر محمد سلطان عاقل", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان عاقل (1902)", "year": "1902", "text_ur": "یوں نہیں چین تو غفلت کا ستم اور سہی\nہم یہ سمجھیں گے کہ افزائش غم اور سہی\n\nتم نہ آؤ گے تو کیا جان نہ جائے گی مری\nآمد و رفت نفس کی کوئی دم اور سہی\n\nکہتے ہیں ظلم کے بعد آہ کرو گے تو کیا\nلشکر جور و جفا میں یہ علم اور سہی\n\nجھک کے ملنے سے تمہارے مجھے خوف آتا ہے\nگو یہ خم اور سہی تیغ کا خم اور سہی\n\nاصل میں جلوہ یہ کس کا ہے تو ہی کہہ واعظ\nتیرا رب اور سہی میرا صنم اور سہی\n\nوعدۂ وصل کی تکرار پہ کہتے ہیں کہ جھوٹ\nانہیں عہدوں میں ترے سر کی قسم اور سہی\n\nجشن جمشید میسر ہے کہ دل رکھتے ہیں\nجام یہ اور سہی ساغر جم اور سہی\n\nخوب ہے تم میں جفا کی نہ رہے گی عادت\nمیرے بدلے بھی رقیبوں پہ کرم اور سہی", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DB%8C%D9%86_%D8%AA%D9%88_%D8%BA%D9%81%D9%84%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%B3%DB%81%DB%8C"} {"title": "یوں وہ پیغام سے تو آئے گا", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں وہ پیغام سے تو آئے گا\nغیر کے نام سے تو آئے گا\n\nشب ہجراں سے موت بہتر ہے\nخواب آرام سے تو آئے گا\n\nیوں نہ آئے گا ہاتھ گر وہ صنم\nترک‌ اسلام سے تو آئے گا\n\nلے ہی تو آئیں گے اسے ہمدم\nمیرے ہی نام سے تو آئے گا\n\nساقیا مجھ سے بادہ کش کو سرور\nایک ہی جام سے تو آئے گا\n\nدل کا آنا ہے کام سے جانا\nجائے گا کام سے تو آئے گا\n\nکبھی اپنا بھی روز خوش اے داغؔ\nدور ایام سے تو آئے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%88%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "یوں پاس بوالہوس رہیں چشمِ غضب سے دور", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں پاس بوالہوس رہیں چشمِ غضب سے دور\nیہ بات ہے بڑی دلِ عاشق طلب سے دور\n\nدیوانہ میں نہیں کہ انا لیلیٰ لب پہ آئے\nباتیں خلافِ وضع ہیں اہلِ ادب سے دور\n\nمجھ کو سنا کے کہتے ہیں ہمدم سے، یاد ہے؟\nاک آدمی کو چاہتے تھے ہم بھی اب سے دور\n\nجو لطف میں بھی پاس پھٹکنے نہ دے کبھی\nرکھیو الٰہی! ایسے کے مجھ کو غضب سے دور\n\nکیوں کر میں انجمن میں تمہاری شریک ہوں\nاربابِ رنج رہتے ہیں اہلِ طرب سے دور\n\nہم سے اسے معاملہ تھا جان و جسم کا\nہرگز ملا نہ گاہ، ہوا ہائے جب سے دور\n\nتو بھی جو میرے پاس نہ آئے تو کیا کروں\nتیرے ہی پاس سے تو میں رہتا ہوں سب سے دور\n\nمیں غیرِ بوالہوس نہیں ڈرتے ہو کس لئے\nمجھ کو نہ رکھو بوسے میں تم لب کو لب سے دور\n\nبوس و کنار کی نہ کروں گا ہوس کبھی\nیہ خواہشیں ہیں عاشقِ حسرت طلب سے دور\n\nآغازِ عمر ہی میں ہے ہم کو خیالِ حج\nدلی جو شیفتہ ہے دیارِ عرب سے دور", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%A8%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%81%D9%88%D8%B3_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D8%B4%D9%85%D9%90_%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AF%D9%88%D8%B1"} {"title": "یوں پریشاں کبھی ہم بھی تو نہ تھے", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں پریشاں کبھی ہم بھی تو نہ تھے\nایسے اس زلف میں خم بھی تو نہ تھے\n\nسیر گلشن کو گئے تھے جب آپ\nیاد تو کیجئے ہم بھی تو نہ تھے\n\nہم سے بے جرم وہ کوچہ چھوٹا\nشائق باغ ارم بھی تو نہ تھے\n\nرحم کرتا نہ فلک کیا کرتا\nہم سزا وار ستم بھی تو نہ تھے\n\nرہتے کعبہ میں اکیلے کیا ہم\nدل لگانے کو صنم بھی تو نہ تھے\n\nہاتھ کیوں سر پہ ہمارے رکھا\nتم سے خواہان قسم بھی تو نہ تھے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%92"} {"title": "یوں چلتے ہیں لوگ راہ ظالم", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں چلتے ہیں لوگ راہ ظالم\nکوئی چال ہے یہ بھی آہ ظالم\n\nاوروں کی طرف تو دیکھتا ہے\nایدھر بھی تو کر نگاہ ظالم\n\nہے راست تو یہ کہ میں نہ دیکھا\nتجھ سا کوئی کج کلاہ ظالم\n\nکچھ رحم بھی ہے تری جفا سے\nاک خلق ہے داد خواہ ظالم\n\nکس واسطے بولتا نہیں تو\nکیا مجھ سے ہوا گناہ ظالم\n\nاے مصحفیؔ دل کہیں نہ دیجے\nہوتی ہے بری یہ چاہ ظالم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%84%D9%88%DA%AF_%D8%B1%D8%A7%DB%81_%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85"} {"title": "یوں گلشن ہستی کی مالی نے بنا ڈالی", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں گلشن ہستی کی مالی نے بنا ڈالی\nپھولوں سے جدا کلیاں کلیوں سے جدا ڈالی\n\nسر رکھ کے ہتھیلی پر اور لخت جگر چن کر\nسرکار میں لائے ہیں ارباب وفا ڈالی\n\nرویا کہوں میں اس کو یا مژدۂ بیداری\nغل ہے کہ نقاب اس نے چہرے سے اٹھا ڈالی\n\nاللہ رے تصور کی نقاشی و نیرنگی\nجب بن گئی اک صورت اک شکل مٹا ڈالی\n\nساقی نے ستم ڈھایا برسات میں ترسایا\nجب فصل بہار آئی دوکان اٹھا ڈالی\n\nخون دل عاشق کے اس قطرے کا کیا کہنا\nدنیائے وفا جس نے رنگین بنا ڈالی\n\nبیدمؔ ترے گریہ نے طوفان اٹھا ڈالے\nاور نالوں نے دنیا کی بنیاد ہلا ڈالی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D9%86%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%DA%88%D8%A7%D9%84%DB%8C"} {"title": "یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِ یک دانہ", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِ یک دانہ\nیک رنگی و آزادی اے ہمّتِ مردانہ!\n\nیا سنجر و طغرل کا آئینِ جہاں‌گیری\nیا مردِ قلندر کے اندازِ ملوکانہ!\n\nیا حیرتِ فارابیؔ یا تاب و تبِ رومیؔ\nیا فکرِ حکیمانہ یا جذبِ کلیمانہ!\n\nیا عقل کی رُوباہی یا عشقِ یدُاللّٰہی\nیا حِیلۂ افرنگی یا حملۂ ترکانہ!\n\nیا شرعِ مسلمانی یا دَیر کی دربانی\nیا نعرۂ مستانہ، کعبہ ہو کہ بُت خانہ!\n\nمِیری میں فقیری میں، شاہی میں غلامی میں\nکچھ کام نہیں بنتا بے جُرأتِ رِندانہ", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D9%90_%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "یوں ہی الجھی رہنے دو کیوں آفت سر پر لاتے ہو", "poet_page": "مصنف:امداد امام اثر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں ہی الجھی رہنے دو کیوں آفت سر پر لاتے ہو\nدل کی الجھن بڑھتی ہے جب زلفوں کو سلجھاتے ہو\n\nچھپ چھپ کر تم رات کو صاحب غیروں کے گھر جاتے ہو\nکیسی ہے یہ بات کہو تو کیوں کر منہ دکھلاتے ہو\n\nسنتے ہو کب بات کسی کی اپنی ہٹ پر رہتے ہو\nحضرت دل تم اپنے کئے پر آخر کو پچھتاتے ہو\n\nمدت پر تو آئے ہو ہم دیکھ لیں تم کو جی بھر کے\nآئے ہو تو ٹھہرو صاحب روز یہاں کیا آتے ہو\n\nکیسا آنا کیسا جانا میرے گھر کیا آؤ گے\nغیروں کے گھر جانے سے تم فرصت کس دن پاتے ہو\n\nآنکھیں جھپکی جاتی ہیں متوالی کی سی صورت ہے\nجاگے کس کی صحبت میں جو نیند کے اتنے ماتے ہو\n\nدل سے اثرؔ کیا کہتے ہو ہے جان کا سودا عشق بتاں\nتم بھی تو دیوانے ہو دیوانے کو سمجھاتے ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D8%AC%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92_%D8%AF%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%D8%B1_%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88"} {"title": "یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوں\nعمر گزری پر نہ جانا میں کہ کیوں دلگیر ہوں\n\nاتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحا\nپند کے لائق نہیں میں قابل زنجیر ہوں\n\nسرخ رہتی ہیں مری آنکھیں لہو رونے سے شیخ\nمے اگر ثابت ہو مجھ پر واجب ال تعزیر ہوں\n\nنے فلک پر راہ مجھ کو نے زمیں پر رو مجھے\nایسے کس محروم کا میں شور بے تاثیر ہوں\n\nجوں کماں گرچہ خمیدہ ہوں پہ چھوٹا اور وہیں\nاس کے کوچے کی طرف چلنے کو یارو تیر ہوں\n\nجو مرے حصے میں آوے تیغ جمدھر سیل و کارد\nیہ فضولی ہے کہ میں ہی کشتۂ شمشیر ہوں\n\nکھول کر دیوان میرا دیکھ قدرت مدعی\nگرچہ ہوں میں نوجواں پر شاعروں کا پیر ہوں\n\nیوں سعادت ایک جمدھر مجھ کو بھی گزاریے\nمنصفی کیجے تو میں تو محض بے تقصیر ہوں\n\nاس قدر بے ننگ خبطوں کو نصیحت شیخ جی\nباز آؤ ورنہ اپنے نام کو میں میرؔ ہوں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86_%D9%88_%D8%AE%D9%81%D8%A7_%D8%AC%D9%88%DA%BA_%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%82_%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "یوں ہی رنجش ہو اور گلا بھی یوں ہی", "poet_page": "مصنف:قائم چاندپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں ہی رنجش ہو اور گلا بھی یوں ہی\nہو جے ہر بات پر خفا بھی یوں ہی\n\nکچھ نہ ہم کو ہی بھا گیا یہ طور\nواقعی یہ کہ ہے مزا بھی یوں ہی\n\nصید کنجشک سے نہ ہاتھ اٹھا\nآ کے پھنس جائے ہے ہما بھی یوں ہی\n\nجوں اجاڑا تو گھر مرا اے عشق\nخانہ ویران ہو ترا بھی یوں ہی\n\nکیوں نہ روؤں میں دیکھ خندۂ گل\nکہ ہنسے تھا وہ بے وفا بھی یوں ہی\n\nاب تلک میری زیست نے کی وفا\nبس میں دیکھی تری جفا بھی یوں ہی\n\nمس دل کو دیا کر اپنے گداز\nہاتھ چڑھ جا ہے کیمیا بھی یوں ہی\n\nیہ کہاں اور وہ گل کدھر قائمؔ\nاک ہوا باندھے ہے صبا بھی یوں ہی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%B1%D9%86%D8%AC%D8%B4_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DA%AF%D9%84%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C"} {"title": "یوں ہی رہا جو بتوں پر نثار دل میرا", "poet_page": "مصنف:بیخود بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں ہی رہا جو بتوں پر نثار دل میرا\nکرے گا مجھ کو زمانے میں خوار دل میرا\n\nچلی چلی مژۂ اشک بار آنکھ مری\nجلا جلا نفس شعلہ بار دل میرا\n\nعجیب مونس و ہمدرد و ذی مروت تھا\nغریق رحمت پروردگار دل میرا\n\nوفور شرم سے واں اجتناب مد نظر\nہجوم شوق سے یاں بے قرار دل میرا\n\nبنا دیا اسے خودبین و خود نما بیخودؔ\nہوا ہے آئینۂ حسن یار دل میرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1_%D8%AF%D9%84_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "یوں ہی کفر ہر صبح ہر شام ہوگا", "poet_page": "مصنف:عبدالرحمان احسان دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں ہی کفر ہر صبح ہر شام ہوگا\nالٰہی کبھو یاں بھی اسلام ہوگا\n\nکہیں کام میں وہ تو خود کام ہوگا\nیہاں کام آخر ہے واں کام ہوگا\n\nیہی دل اگر ہے یہی بے قراری\nتہ خاک بھی خاک آرام ہوگا\n\nصنم تین پانچ آپ کا چار دن ہے\nسدا ایک اللہ کا نام ہوگا\n\nیہ مژگاں وہ ہیں جن کی کاوش سے اک دن\nمشبک جگر مثل بادام ہوگا\n\nبتو جب کہ آغاز الفت ہے یہ کچھ\nخدا جانے کیا اس کا انجام ہوگا\n\nدعا کے عوض گالیاں اور تو کیا\nعنایات یہی مجھ کو انعام ہوگا\n\nیہ دو اک بلا ہیں گرفتار ان کا\nکوئی صبح ہوگا کوئی شام ہوگا\n\nیہی صبح اور شام تک گر عمل ہے\nعمل تیری زلفوں کا تا شام ہوگا\n\nمیں وہ ناتواں ہوں اگر ذبح کیجے\nنہ اک نالہ مجھ سے سرانجام ہوگا\n\nجو بسمل تو کرتا ہے بسم اللہ اے شوخ\nترے کام میں میرا بھی کام ہوگا\n\nمری لگ رہیں چھت سے آنکھیں ہیں دیکھو\nمشرف کب اس سے لب بام ہوگا\n\nکبھو تو بھی ہوگا مسلمان اے بت\nسدا تیرا جھوٹا ہی پیغام ہوگا\n\nشکار اجل ہوں گے اک روز ہم سب\nہمیشہ نہ رستم نہ یاں سام ہوگا\n\nکہاں ہے وہ صید افگنی گور میں آہ\nخدا جانے کیا حال بہرام ہوگا\n\nنہ سن میری احساںؔ مبارک تجھے عشق\nمجھے کیا ترا نام بدنام ہوگا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%D9%81%D8%B1_%DB%81%D8%B1_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%DB%81%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%D9%85_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "یوں ہی گر عدو کی غلامی کریں گے", "poet_page": "مصنف:نسیم بھرتپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں ہی گر عدو کی غلامی کریں گے\nوہ حاصل بڑی نیک نامی کریں گے\n\nکریں گے دلیلیں وہاں خوب ناصح\nانہیں کو ہم اپنا پیامی کریں گے\n\nاجازت بھی دے ان کو تنگی دہن کی\nوہ کس منہ سے شیریں کلامی کریں گے\n\nعدو نے کیا غسل صحت سنا ہے\nوہ جلسہ بڑا دھوم دھامی کریں گے\n\nعلیؔ کا وسیلہ ہے دونوں جہاں میں\nنسیمؔ اور ہم کس کو حامی کریں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%DA%AF%D8%B1_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%DA%A9%DB%8C_%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "یوں ہی گر ہر سانس میں تھوڑی کمی ہو جائے گی", "poet_page": "مصنف:جگت موہن لال رواں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں ہی گر ہر سانس میں تھوڑی کمی ہو جائے گی\nختم رفتہ رفتہ اک دن زندگی ہو جائے گی\n\nدیکھنے والے فقط تصویر ظاہر پر نہ جا\nہر نفس کے ساتھ دنیا دوسری ہو جائے گی\n\nگر یہی فصل جنوں زا ہے یہی ابر بہار\nعظمت توبہ نثار میکشی ہو جائے گی\n\nمرگ بے ہنگام کہتے ہیں جسے آج اہل درد\nکل یہی صورت بدل کر زندگی ہو جائے گی\n\nذکر ہے زنداں میں وہ گلزار پر بجلی گری\nآج میرے آشیاں میں روشنی ہو جائے گی\n\nسجدہ گاہ عام پر سجدے سے کچھ حاصل نہیں\nمفت آلودہ جبین بندگی ہو جائے گی\n\nختم ہے شب چہرۂ مشرق سے اٹھتی ہے نقاب\nدم زدن میں روشنی ہی روشنی ہو جائے گی\n\nمتصل ہیں ضعف و قوت کی حدیں ہاں ہوشیار\nورنہ اس ترک خودی میں خودکشی ہو جائے گی\n\nزخم بھی تازہ ہے اور دل بھی نہیں مانوس درد\nرفتہ رفتہ یوں ہی عادت صبر کی ہو جائے گی\n\nشمع سا جب شام ہی سے ہے گداز دل رواںؔ\nصبح تک کیا جانے کیا حالت تری ہو جائے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%8C_%DA%A9%D9%85%DB%8C_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "یوں ہے اس دل کو دوگانا کی نشانی کی ہوس", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "ریختی", "year": null, "text_ur": "یوں ہے اس دل کو دوگانہ کی نشانی کی ہوس\nریت میں مچھلی کو جوں ہوتی ہے پانی کی ہوس\n\nاپنی بیتی ہی کہا کرتی ہوں میں راتوں کو\nدھیان قصہ کا مجھے ہے نہ کہانی کی ہوس\n\nجی میں اپنے اسے نادان سمجھتی ہوں میں\nدل میں جو رکھتی ہے اس عالم فانی کی ہوس\n\nہے درخت ایسا کہاں جس کو لگی ہو نہ ہوا\nکوئی ایسا نہیں جس کو نہیں پانی کی ہوس\n\nآرزو گر ہے مرے دل میں تو ہے رنگیںؔ کی\nلال جوڑے کی خوشی کچھ ہے نہ دھانی کی ہوس", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%D9%88%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%B3"} {"title": "یوں یہ بدلی کالی کالی جائے گی", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یوں یہ بدلی کالی کالی جائے گی\nپاک بازوں میں بھی ڈھالی جائے گی\n\nتوبہ کی رندوں میں گنجائش کہاں\nجب یہ آئے گی نکالی جائے گی\n\nکچھ بلانوش آ گئے بھٹی میں شیخ\nتیری بوتل آج خالی جائے گی\n\nپھول کیا ڈالوگے تربت پر مری\nخاک بھی تم سے نہ ڈالی جائے گی\n\nآئے بھی تو وہ مبارکؔ آئے کیا\nجانے کی تمہید ڈالی جائے گی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%8C_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "یک بہ یک ہوگی سیاہی اس قدر جاتی رہی", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یک بہ یک ہوگی سیاہی اس قدر جاتی رہی\nکیا کہیں گویا سیاہی یک سر مو بھی نہ تھی\n\nگو سفیدی مو کی یوں روشن ہے جوں آب حیات\nلیکن اپنی تو اسی ظلمات سے تھی زندگی\n\nدم بدم بزم سرور و ہر گھڑی سیر چمن\nعشرت و عیش و نشاط و خرمی و تازگی\n\nخندۂ شادی سے ہرگز لب نہ ہوتے تھے بہم\nساغر و مینا سرود و رقص و خوش طبعی ہنسی\n\nجام دیتا تھا ادھر ساقی بہ منت ہاتھ جوڑ\nاس طرف کیا کیا لگاوٹ دلبروں کی تھی نئی\n\nگل بدن کرتے تھے کس کس طور اظہار اشتیاق\nغنچہ لب ملتے تھے سو سو دل میں رکھ کر بے کلی\n\nکوئی دیتا تھا محبت سے گلے میں ہاتھ ڈال\nکوئی دیتا تھا زبردستی سے بوسہ ہر گھڑی\n\nکوئی دیتا تھا محبت سے گلے میں ہاتھ ڈال\nکوئی دیتا تھا زبردستی سے بوسہ ہر گھڑی\n\nجس طرف تھے دیکھتے عیش و طرب کا جوش تھا\nمستی و رندی ہوس بازی و بے اندیشگی\n\nآن کر مو کی سفیدی نے یہ کیں بربادیاں\nکھول دیں جتنی بندھیں تھیں وہ ہوائیں عیش کی\n\nقد میں خم آنکھوں میں نم چہرے پہ جھری رنگ زرد\nسر سے پا تک سخت ناخوش منظری بد ہیئتی\n\nکیا تماشے انقلاب چرخ کے کہئے نظیرؔ\nدم میں وہ رونق تھی اور ایک دم میں یہ بے رونقی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%DB%81_%DB%8C%DA%A9_%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D8%B3_%D9%82%D8%AF%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%D8%B1%DB%81%DB%8C"} {"title": "یک بیک جاتا رہا دلبر جو گھر آیا ہوا", "poet_page": "مصنف:منتظر لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یک بیک جاتا رہا دلبر جو گھر آیا ہوا\nدوڑا دوڑا میں پھرا گلیوں میں گھبرایا ہوا\n\nجان کیا جلاد کی لیوے دوبارا حکم قتل\nمنہ سے اس ظالم نے جو یکبار فرمایا ہوا\n\nہجر میں اس گل کے یہ صورت ہماری بن گئی\nرنگ بھی ہے زرد اور چہرہ بھی مرجھایا ہوا\n\nخانۂ دل سے کریں غم یار کا کس طرح دور\nدر سے اٹھتا ہے محصل کوئی بٹھلایا ہوا\n\nکیا غضب ٹوٹے ہے دیکھیں عاشقوں کی جان پر\nآج کچھ غصہ میں ہے بیٹھا وہ جھنجھلایا ہوا\n\nیوں کیا برباد اس گل نے دل پژمردہ کو\nپھینک دے ہے پھول جیسے کوئی کملایا ہوا\n\nمنتظرؔ کا جی جلا دے کیوں نہ ہر اک بات میں\nہے وہ ظالم شعلہ خو غیروں کا بھڑکایا ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DA%A9_%D8%A8%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%D8%AF%D9%84%D8%A8%D8%B1_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "یک دو جام اور بھی دے تو ساقی", "poet_page": "مصنف:مرزا جواں بخت جہاں دار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یک دو جام اور بھی دے تو ساقی\nنہ رہے دل میں آرزو ساقی\n\nمیری تسکیں نہ ہوگی ساغر سے\nمنہ سے میرے لگا سبو ساقی\n\nرات و دن مے کشوں کو رہتی ہے\nتیری ہی یاد و جستجو ساقی\n\nرند مفلس کو دے ہے زیاد شراب\nبھائی مجھ کو تری یہ خو ساقی\n\nآہ تجھ بن ہیں زار و نالاں ہم\nبھولی مستی کی ہاو ہو ساقی\n\nشیشۂ مے کی طرح سے ہم آج\nرکھتے ہیں گریہ در گلو ساقی\n\nکسی کے آگے مثل ساغر ہم\nلاتے ہیں دست آرزو ساقی\n\nلاتے ہیں مثل شیشۂ بادہ\nتیرے ہی آگے سرفرو ساقی\n\nرو نہیں اس کو بزم مستاں میں\nجس کے تئیں تو نہ دیوے رو ساقی\n\nدے جہاں دارؔ کو وہ مے جس کا\nہووے گل کا سا رنگ و بو ساقی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DA%A9_%D8%AF%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AF%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا\nیاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا\n\nبے مے کِسے ہے طاقتِ آشوبِ آگہی\nکھینچا ہے عجزِ حوصلہ نے خط ایاغ کا\n\nبُلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل\nکہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا\n\nتازہ نہیں ہے نشۂ فکرِ سخن مجھے\nتِریاکیِ قدیم ہوں دُودِ چراغ کا\n\nسو بار بندِ عشق سے آزاد ہم ہوئے\nپر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا\n\nبے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہ غبار\nیہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا\n\nباغِ شگفتہ تیرا بساطِ نشاطِ دل\nابرِ بہار خمکدہ کِس کے دماغ کا!\n\nجوشِ بہار کلفتِ نظّارہ ہے اسدؔ\nہے ابر پنبہ روزنِ دیوارِ باغ کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DA%A9_%D8%B0%D8%B1%DB%82_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%B1_%D8%A8%D8%A7%D8%BA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "یک رات میں گیا تھا رنداں کے انجمن میں", "poet_page": "مصنف:قربی ویلوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یک رات میں گیا تھا رنداں کے انجمن میں\nبولے کہ اے ہوائی یو نکتہ رک تو من میں\n\nوحدت کے ملک میانے نیں غیر کو تھکانا\nعین خدا سمجھ تو جو ہے اس انجمن میں\n\nکیا ساقی و مغنی کیا جام کیا صراحی\nغیر خدا نکو کہہ گر ہے شراب دن میں\n\nکیا لالہ کیا یو سوسن کیا نرگس و سمن کیا\nہے اوچہ فی الحقیقت گل ہے اگر چمن میں\n\nیو نکتہ کر یقیں میں ہر چیز کو جو دیکھیا\nبیگانہ کیں دسیا نیں بن دوست چوکدن میں\n\nبن ذات حق دسیا نیں یک ذات دو جہاں میں\nبن اسم حق سنیا نیں یک بول یک دہن میں\n\nغفلت کوں نیں ہے جاگا کاں سوں اچھیگی غفلت\nذاکر تمام عالم ہے معرفت کے فن میں\n\nہے عشق او خدا کا گر عشق ہے جواں میں\nہے حسن او اسی کا گر حسن ہے مہن میں\n\nاے محرم خدائی یک ذرہ غور کر دیک\nنکتے بھرے ہیں نے کے قربیؔ کے ہر سخن میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DA%A9_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B1%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یک نالۂ عاشقانہ ہے یاں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یک نالۂ عاشقانہ ہے یاں\nیک زخمہ بصد ترانہ ہے یاں\n\nمذکور رہے ہے درد و غم کا\nدن رات یہی فسانہ ہے یاں\n\nپھینکے ہے وہ تیر غمزہ مجھ پر\nسمجھے ہے کہ دل نشانہ ہے یاں\n\nگر اپنی بدی کے سر کو کاٹے\nبیگانہ بھی پر یگانہ ہے یاں\n\nیک جنبش شوق دل کو بس ہے\nکیا حاجت تازیانہ ہے یاں\n\nجو آئے ہے جھک کے جائے ہے وہ\nگویا کہ شراب خانہ ہے یاں\n\nویران ہوئے چمن سے نکلے\nہم سمجھتے تھے آشیانہ ہے یاں\n\nآنکھیں جو بھری ہی آتیاں ہیں\nپانی کا مگر خزانہ ہے یاں\n\nدیواں کی مرے تو سیر تو کر\nاے مصحفیؔ اک زمانہ ہے یاں\n\nبلبل ہے چمن ہے سرو و گل ہے\nساقی ہے مے مغانہ ہے یاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DA%A9_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%82_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "یک نگہ سیں لیا ہے وہ گلفام", "poet_page": "مصنف:سراج اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یک نگہ سیں لیا ہے وہ گلفام\nکیا خرد کیا شکیب کیا آرام\n\nحق میں عشاق کے قیامت ہے\nکیا کرم کیا عتاب کیا دشنام\n\nمجھ کوں گل گشت باغ زنداں ہے\nسبزہ زنجیر و شاخ سنبل و دام\n\nمے کشی کوں تری گلستاں میں\nسرو مینا ہے دور نرگس جام\n\nوقت ہے اب نماز مغرب کا\nچاند رخ لب شفق ہے گیسو شام\n\nآرزو ہے جو منزل مقصود\nترک مطلب ہے مدعائے تمام\n\nصدق دل سیں سراجؔ باندھا ہے\nکعبۂ کوئے یار کا احرام", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DA%A9_%D9%86%DA%AF%DB%81_%D8%B3%DB%8C%DA%BA_%D9%84%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%DA%AF%D9%84%D9%81%D8%A7%D9%85"} {"title": "یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں", "poet_page": "مصنف:یاس یگانہ چنگیزی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں\nیادش بخیر بیٹھے تھے کل آشیانے میں\n\nصدمے دیے تو صبر کی دولت بھی دے گا وہ\nکس چیز کی کمی ہے سخی کے خزانے میں\n\nغربت کی موت بھی سبب ذکر خیر ہے\nگر ہم نہیں تو نام رہے گا زمانے میں\n\nدم بھر میں اب مریض کا قصہ تمام ہے\nکیونکر کہوں یہ رات کٹے گی فسانے میں\n\nساقی میں دیکھتا ہوں زمیں آسماں کا فرق\nعرش بریں میں اور ترے آستانے میں\n\nدیواریں پھاندپھاند کے دیوانے چل بسے\nخاک اڑ رہی ہے چار طرف قیدخانے میں\n\nصیاد اس اسیری پہ سو جاں سے میں فدا\nدل بستگی قفس کی کہاں آشیانے میں\n\nہم ایسے بد نصیب کہ اب تک نہ مر گئے\nآنکھوں کے آگے آگ لگی آشیانے میں\n\nدیوانے بن کے ان کے گلے سے لپٹ بھی جاؤ\nکام اپنا کر لو یاسؔ بہانےبہانے میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DA%A9%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یکسو کشادہ روی پر چیں نہیں جبیں بھی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یکسو کشادہ روی پر چیں نہیں جبیں بھی\nہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھی\n\nآنسو تو تیرے دامن پونچھے ہے وقت گریہ\nہم نے نہ رکھی منہ پر اے ابر آستیں بھی\n\nکرتا نہیں عبث تو پارہ گلو فغاں سے\nگزرے ہے پار دل کے اک نالۂ حزیں بھی\n\nہوں اہتزار میں میں آئینہ رو شتاب آ\nجاتا ہے ورنہ غافل پھر دم تو واپسیں بھی\n\nسینے سے تیر اس کا جی کو تو لیتا نکلا\nپر ساتھوں ساتھ اس کے نکلی اک آفریں بھی\n\nہر شب تری گلی میں عالم کی جان جا ہے\nآگے ہوا ہے اب تک ایسا ستم کہیں بھی\n\nشوخی جلوہ اس کی تسکین کیونکے بخشے\nآئینوں میں دلوں کے جو ہے بھی پھر نہیں بھی\n\nگیسو ہی کچھ نہیں ہے سنبل کی آفت اس کا\nہیں برق خرمن گل رخسار آتشیں بھی\n\nتکلیف نالہ مت کر اے درد دل کہ ہوں گے\nرنجیدہ راہ چلتے آزردہ ہم نشیں بھی\n\nکس کس کا داغ دیکھیں یا رب غم بتاں میں\nرخصت طلب ہے جاں بھی ایمان اور دیں بھی\n\nزیر فلک جہاں ٹک آسودہ میرؔ ہوتے\nایسا نظر نہ آیا اک قطعۂ زمیں بھی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DA%A9%D8%B3%D9%88_%DA%A9%D8%B4%D8%A7%D8%AF%DB%81_%D8%B1%D9%88%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%DA%86%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C"} {"title": "یکسو یہ کہ عیش و کامرانی کرتے", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یکسو یہ کہ عیش و کامرانی کرتے\nیا خوب طرح سے زندگانی کرتے\nسگ کا نہ ہوا ہمیں تو رتبہ حاصل\nتا کوچے کی اس کے پاسبانی کرتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DA%A9%D8%B3%D9%88_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81_%D8%B9%DB%8C%D8%B4_%D9%88_%DA%A9%D8%A7%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "یکہ", "poet_page": "مصنف:مرزا عظیم بیگ چغتائی", "kind": "prose", "section": "افسانہ", "year": null, "text_ur": "دس بجے ہیں۔ لیڈی ہمت قدر نے اپنی موٹی سی نازک کلائی پر نظر ڈالتے ہوئے جماہی لی۔ نواب ہمت قدر نے اپنی خطرناک مونچھوں سے دانت چمکا کر کہا، گیارہ، ساڑھے گیا بجے تک تو ہم ضرور پھو۔۔۔ ہونچ۔۔۔ بغ۔۔۔\n\nموٹر کو ایک جھٹکا لگا اور تیوری پر بل ڈال کر نواب صاحب نے ایک چھوکرے کے ساتھ موڑ کا پہئے گڑھے سے نکالا۔ اور عجیب لہجہ میں کہا، لاحول ولا قوۃ کچی سڑک۔۔۔\n\nگرد و غبار کا ایک طوفانِ عظیم پہئے کے نیچے سے اٹھا کہ جو ہم نے اپنے موٹر کے پیچھے چھوڑا۔ کتنے میل اور ہوں گے ؟ لیڈی ہمت قدر نے مسکرا تے ہوئے پوچھا۔میں نے کچھ سنجیدگی سے جواب دیا، ابھی اٹھائیس میل اور ہیں۔ نواب صاحب نے موٹر کی رفتار اور تیز کر دی۔\n\nحضور آہستہ آہستہ، حضور راستہ خراب ہے۔ پیچھے سے مودبانہ طریقے سے شوفر نے نواب صاحب کی خدمت میں عرض کی۔ مگر نواب صاحب کو تیز موٹر چلانے کی پرانی عادت تھی اور انہوں نے کہا ہش اور شاید موٹر کو اور تیز کر دیا کیونکہ کچی سڑک سے جی گھبرا گیا تھا۔\n\n(۱)\n\nموٹر پوری رفتار سے ہچکولے کھاتا چلا جارہا تھا اور ہم لوگ موٹر کی عمدہ کمانیوں اور ملائم گدوں پر بجائے ہچکولوں سے تکلیف اٹھانے کے مزے سے جھولتے جا رہے تھے۔سامنے ایک نالائق یکہ جا رہا تھا۔ دور ہی سے نواب صاحب نے ہارن دینے شروع کر دیے تاکہ یکہ پیشتر ہی سڑک کے ایک طرف ہو جائے اور موٹر کی رفتار کم نہ کرنی پڑے۔ مگر یکے کی تیزی ملاحظہ ہو کہ جب تک وہ ایک طرف ہو موٹر سر پر پہنچا اور مجبوراً رفتار کم کرنا پڑی۔ نواب صاحب نے لال پیلے ہو کر یکے کی طرف منہ کر کے گویا حقارت سے ہاؤ کر دیا۔ واللہ عالم یکے والے نے سن بھی لیا اور نہیں۔چشم زدن میں وہ نالائق یکہ مع اپنے یکہ والے کے گرد و غبار کے طوفان میں غلطاں و پیچاں ہو کر نہ معلوم کتنی دور رہ گیا۔\n\nلیڈی ہمت قدر نے یکہ کو مڑ کر دیکھنے کی ناکام کوشش کی اور پھر مسکرا کر اپنے قدرتی لہجے میں کہا۔،آپ نے اس کو دیکھا؟ اس کو، یکہ کو! بخدا کیا سواری ہے۔ قیامت تک منزل مقصور پر پہنچ ہی جائے گا۔ کیا آپ کبھی۔۔۔ معاف کیجئے گا۔۔۔ کبھی یکے پر آپ بیٹھے ہیں؟\n\nجی ہاں۔ میں نے ہنس کر کہا۔ بیٹھا ہوں اور اکثر بیٹھا ہوں۔\n\nنواب ہمت قدر نے موٹر کی رفتار اور تیز کرتے ہوئے کہا۔ قیں! ہیں اچھا یکے پر!! آپ یکے پر بیٹھے ہیں! خوب! بھئی معاف کرنا بڑی ذلیل اور واہیات سواری ہے۔ ہمارے عالی خاندان کا کوئی فرد کبھی یکے پر نہیں بیٹھا۔پھر کچھ لا پرواہی سے نواب صاحب بولے،واللہ اعلم اس پر کیسے سفر کرتے ہیں۔ بڑی واہیات سواری ہے۔ نواب صاحب نے کچھ غرور و تمکنت کے لہجہ میں جملہ ختم کیا۔\n\nپھر لطف یہ! لیڈی ہمت بولیں، لطف یہ کہ تین تین آدمی ایک ساتھ بیٹھتے ہیں۔ مجھ سے پوچھا، کیوں صاحب آپ تنہا بیٹھے ہیں یا کئی آدمیوں کے ساتھ؟\n\nمیں تنہا بھی بیٹھا ہوں اور ہم کل چار آدمی بھی بیٹھے ہیں اور پانچواں یکہ والا۔\n\nپانچ آدمی! لیڈی ہمت قدر چیخ کر بولیں، ایں پانچ آدمی! چر۔۔۔ پانچ آدمی۔۔۔ آؤ!\n\nموٹر کو ایک زبردست جھٹکا لگا۔ پشت پر سے شوفر لڑھک کر لیڈی ہمت قدر کی گودمیں آ گرا۔ نواب صاحب نے اسٹیرنگ وہیل چھوڑ کر کرنٹ کا تماشا کیا۔ یعنی بیٹھے بیٹھے الٹی قلابازی ایسی کھائی کہ گدے پر میرے اوپر گرے اور ساتھ ہی اس گڑبڑ میں ایک بم کا سا گولہ پھٹا۔ لیڈی ہمت قدر کی فلک شگاف چیخ اور موٹر کے ٹائر کی بم باری اور نواب صاحب کا میرے اوپر گرنا اور پھر تمام باتوں کا نتیجہ یعنی بدحواسی۔ موٹر کے اندر ہی اندر قیامت بپا ہو گئی۔ ہوش بجا ہوئے تو معلوم ہوا کہ خیریت گزری۔ محض پھاندا پھوندی رہی۔ میں نے اپنے اوپر نواب صاحب کے گرنے کی خود الٹی ان سے معذرت چاہی۔ شریف آدمی ہیں۔ انہوں نے کچھ خیال نہیں کیا بلکہ مجھ سے پوچھا کہ لگی تو نہیں۔ میرے سینہ میں نواب صاحب کا سر گولے کی طرح آ کر لگا تھا۔ مگر میں نے کہا بالکل نہیں لگی۔ یہ طے کر لیا گیا کہ سب سے زیادہ لیڈی ہمت قدر کے لگی ہے اور سب سے کم شوفر کے۔ اسی مناسبت سے دراصل ہم نے ایک دوسرے کی مزاج پرسی بھی کی تھی۔\n\nبہت جلد دوسرا پہیہ چڑھا لیا گیا۔ لیکن اب جو چلاتے ہیں تو موٹر نہیں چلتا۔ بہت جلد وجہ معلوم ہو گئی۔ پٹرول کی ٹنکی میں ایک سوراخ تھا جس کو کاگ لگا کر بند کیا گیا تھا وہ دھچکے سے اپنی جگہ سے ہٹ گیا۔ واللہ اعلم کچھ دیر پہلے یا اب، کچھ بھی ہو، پٹرول بہہ چکا تھا۔ اب جو غور سے دیکھتے ہیں تو زمین تر تھی۔ اب کیا ہو، اسٹیشن یہاں سے اٹھائیس میل ہو گا اور پھر کچی سڑک اور جانا اس قدر ضروری۔ سڑک بالکل سنسان تھی۔عین اس گھبراہٹ اور یاس کے عالم میں کیا دیکھتے ہیں کہ عین سڑک کی سیدھ میں گویا افق سڑک پر نیر امید طلوع ہوا۔ یعنی اس ٹوٹے پھوٹے یکے کی چھتری چمکی۔ پھر اس کے بعد یکے کا ہیولا نظر آیا۔ جس نے برق رفتاری کے ساتھ یکہ مجسم کی صورت اختیار کر لی۔\n\nہم ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور کبھی یکے کو حتی کہ قریب پہنچا، برابر آیا، کچھ ہلکا پڑا اور قریب قریب رک سا گیا۔ بلکہ یکے والے کے گرد آلود چہرے پر کچھ خوشی کی جھلک کے ساتھ لبوں کو حرکت بھی ہوئی۔ مگر یہاں سب خاموش۔ لیڈی ہمت قدر نے عین اس موقع پر ایک عجیب نظر ڈال کر آنکھوں ہی آنکھوں میں خجالت سے شاید مجھ سے کچھ کہا۔ میں نے معاً لیڈی ہمت قدر کی طرف دیکھا جنہوں نے کنکھیوں سے یکے کے پہئے کی طرف دیکھ کر اپنی نازک سی چھتری سے زمین کریدنا شروع کی۔ یکہ آگے نکل چکا تھا۔ دراصل مصیبت تو یہ تھی کہ سوائے میرے یہاں کسی کو یکے والے کو پکارنا تک نہیں آتا۔ میں البتہ ماہر تھا۔ مجبوری بری بلا ہے۔ میں نے نواب صاحب اور لیڈی ہمت قدر کی خفت دیکھ کر دل ہی دل میں کہا۔؏\n\nمہربان آپ کی خفت مرے سر آنکھوں پر\n\nاور پھر حلق پھاڑ کی آواز دی، ابے او یکے والے۔\n\n(۲)\n\nاب سوال یہ تھا کہ لیڈی ہمت قدر اس پر کیسے بٹھائی جائیں۔ نواب صاحب نے مجھ سے کہا، آپ ہی کوئی ترکیب نکالیے۔ کیونکہ سوائے میرے اور کون یہاں یکے کا ماہر تھا۔ لیڈی ہمت قدر کا ایک طرف سے میں نے بازو پکڑا اور دوسری طرف سے نواب صاحب نے۔ بیگم صاحبہ نے ایک پیر دھرے پر رکھا اور دوسرا پہیہ کے ہال پر اور اس کے بعد شاید اڑنے کی کوشش کی ۔ہال پر سے پیر سرک گیا اور وہ پرکٹی مینا کی طرح میری طرف پھڑ پھڑائیں، کیا کرتا مجبوراً میں نے ان کو لحاظ کے مارے چھوڑ دیا ورنہ وہ میری گود میں ہوتیں۔ انہوں نے ہاتھ پیر بھی آزاد پا کر چلا دیے اور ان کے بوٹ کی اونچی اور نوکیلی ایڑی قابل احترام شوہر کی ناک پر لگی۔ نتیجہ یہ کہ نواب صاحب پہیہ کے پاس دراز۔ میں نے کہا یا علی! نواب صاحب مونچھیں جھاڑتے ہوئے مجھ سے شکایت کرتے ہوئے اٹھے اور بیگم صاحبہ کو سنبھالا۔ اب یہ طے پایا کہ یکے کو موٹر کے پاس کھڑا کیا جائے۔ برابر نواب صاحب بیٹھے اور آگے میں بیٹھا۔ یکے والے نے ٹخ ٹخ کی صدا بلند کی۔ چوں چرغ چوں۔ اور یکہ چل دیا۔\n\nنواب صاحب اور لیڈی صاحبہ کو معلوم ہوا کہ خود اپنے جوتوں سے اپنے کپڑے میلے ہو رہے ہیں۔ فوراً معاملہ میرے سامنے پیش کر کے اس کا علاج مجھ سے پوچھا۔ یکہ والے نے فوراً کہا۔ آپ دونوں اپنے اپنے جوتے اتار کر ہاتھ میں لے لیجئے۔ تاکہ میں آگے والے گھاس کے ڈبہ میں رکھ دوں۔ اور گھاس کا ڈبہ کھولا تو اس میں دو تین رسیاں، ایک چلم، ایک ہتھوڑی، چند کیلیں وغیرہ تھیں۔ نواب صاحب اب تک خاموش تھے، یکے والے پر سخت خفا ہوئے۔ میں نے نواب صاحب کو سمجھا دیا کہ کپڑے تو جوتے سے میلے ہونا لازمی ہی ہیں۔ پھر اس یکے کی خوبیوں کا تذکرہ کیا کہ جس میں پیر رکھنے کا پائیدان بھی ہوتا ہے۔ وہ ہوتا تو غالباً لیڈی ہمت قدر کو چڑھنے میں یہ دقتیں پیش نہ آتیں۔\n\nیکہ والے نے اپنی پوزیشن اس طرح صاف کی کہ صاحب پائیدان کمانی دار یکے میں ہوتا ہے اور میں کچی سڑک پر چلاتا ہوں، لہٰذا کمانی دار یکے نہیں رکھتا، ورنہ دو دن میں کمانیاں چور چور ہو جائیں۔ یکہ والا کچھ فلسفیانہ رنگ میں آ کر بولا، حضور یہاں تو کھڑیا یکہ چلتا ہے۔ کچی سڑک کا یہ بادشاہ ہے۔ نہ لوٹے اور نہ یہ ٹوٹے اور مسافر بھی آرام سے چین کی بنسی بجاتا ہے۔\n\nچپ نواب صاحب نے بھنا کر یکے والے سے کہا۔\n\n(۳)\n\nتھوڑی دیر بعد نواب صاحب نے پینترے بدلنا شروع کیے۔ ان کاگھٹنا میری پیٹھ میں بری طرح گڑ رہا تھا۔ لیڈی ہمت قدر ایک ہاتھ سے اپنی نازک چھتری لگائے تھیں اور دوسرے ہاتھ سے یکے کا ڈنڈا پکڑے تھیں۔ ان کے دونوں ہاتھ کبھی کے دکھ چکے تھے۔ ہر جھٹکے پر وہ اس طرح چیختی تھیں کہ معلوم ہوتا تھا کہ گر گئیں۔ نواب صاحب کے موذی گھٹنے کے گڑنے کی وجہ سے میں دھیرے دھیرے آگے سرکتا جاتا تھا۔ مگر جتنا میں ہٹتا اتنا شاید نواب صاحب کا گھٹنا اور بڑھ جاتا تھا۔ میری عقل کام نہ کرتی تھی کہ کیا کروں جو اس گھٹنے سے پناہ ملے۔\n\nاتنے میں ایک جھٹکا لگا اور نواب صاحب کی ناک یکہ کے آگے والے ڈنڈے میں لگی۔ عین اس جگہ جہاں میں اس کو ہاتھ سے پکڑے تھا۔ میری چھنگلی کچل گئی۔ لگی تو نہیں۔ نواب صاحب نے مجھ سے پوچھا۔ آپ کے تو نہیں لگی۔ میں نے ان کی لال ناک دیکھتے ہوئے کہا۔ دونوں کو زور سے لگی تھی۔ میری چھنگلی میں، ان کی ناک میں مگر دونو ں جھوٹ بولے اور جواب واحد تھا۔ جی نہیں، بالکل نہیں۔ واقعی جھٹکا ایسا لگا کہ اگر کہیں میری انگلی اس جگہ پر نہ ہوتی تو نواب صاحب کی ناک پچی ہو جاتی۔\n\nذرا ادھر ہٹئے۔ لیڈی ہمت قدر نے نواب صاحب سے روکھے لہجے میں کہا۔ نواب صاحب نے اپنی پیاری بیگم کے کہنے سے کروٹ سی بدل کر کوئی آدھ انچ گھٹنا اور میری پیٹھ میں گھسیڑ دیا۔ میں نے گھٹنے کی نوک کو! ہاں صاحب، نوک کو! جو بری طرح تکلیف دے رہی تھی۔ ذرا سرک کر دوسرے حصہ جسم پر لیا۔\n\nتیز نہیں چلاتا۔ یکے والے سے نواب صاحب نے حلق پھاڑ کر کہا۔ اس نے سوت کی رسی کی لگام کو جھٹکا دے کر گھوڑے کو ٹٹخارہ دیا اور لگام کے زائد حصہ کو گھما کر دو طرفہ گھوڑے کو جھاڑ دیا اور پھر دوبارہ جو گھما کر سڑاکا دیا تو میری عینک لگام کے ساتھ اڑ چلی اور قبل اس کے کہ میں اپنی ناک پر ہاتھ لے جاؤں کہ کہیں عینک مع ناک کے تو نہیں چلی گئی، عینک مع رسی کے لیڈی ہمت قدر کے بالوں میں جا الجھی۔ لیڈی ہمت قدر نے چیخ نکالی۔ رسی میری ناک کے نیچے سے ہوتی ہوئی گئی تھی۔ گویا ایک دم سے میرے منہ میں لگام دے دی گئی۔ قدرتی امر کہ میرا ہاتھ ساتھ ساتھ اس پر پہنچا اور لیڈی صاحبہ کے میری عینک نے بال کھینچ لیے ! وہ بولیں، چیخ۔۔۔ چر۔۔۔ چیں۔\n\nعینک با احتیاط تمام لیڈی موصوفہ کے بالوں کو سلجھا کر نکالی گئی۔ یکے والا مارے ڈر کے کانپ رہا تھا۔ خوب ڈانٹا گیا بلکہ پٹتے پٹتے بچا۔ پھر سنبھل کر بیٹھے اور اس سلسلہ میں نواب صاحب کا گھٹنا ایک آدھ انچ اور میری کمر میں در آیا، مجبوراً میں کچھ اور آگے سرکا۔ مگر وہاں جگہ کہاں؟ میں پیشتر ہی کگر پر آ گیا تھا۔\n\nلیڈی ہمت قدر پر تین طرح کا سایہ تھا۔ ایک تو خود نواب صاحب کا، دوسرے یکے کی چھتری کا اور تیسرے خود ان کی نازک چھتری کا۔ مگر دھوپ تیز تھی۔ یکہ کی چھتری ظاہر ہے کہ اگر کچھ پناہ دھوپ سے دیتی ہے تو وہ بھی ٹھیک بارہ بجے اور بارہ بجنے میں ابھی دیر تھی۔\n\nباوجود ہر طرح کے سایہ کے لیڈی ہمت قدر گرمی سے حیران تھیں۔ سڑک ذرا بہتر آ گئی تھی۔ اور یکہ اب روانی کے ساتھ چلا جا رہا تھا۔ اور ظاہراً اور کوئی تکلیف نہ تھی۔ اب ایسے موقع پر گرمی کی تکلیف لامحالہ محسوس ہوئی اور لیڈی ہمت قدر نے کچھ بے چین ہو کر کہا،خدا کی پناہ مری جا رہی ہوں گرمی سے۔۔۔ جملہ پورا نہ ہوا تھا کہ یکہ والے نے اپنی سریلی آواز میں مصرعہ کھنچا۔ ہم مرے جاتے ہیں۔ تم کہتے ہو حال اچھا ہے۔۔۔\n\nابے نالائق۔ یہ کہہ کر ایک طرف سے نواب صاحب گرجے اور دوسری طرف ایک کہنی اس کی بغل میں مار کر میں برس پڑا، بے ہودہ، نالائق، بدتمیز۔ پھر نواب صاحب اس طرح گڑگڑائے اور بڑبڑائے جیسے کوئی بڑا خالی برتن پانی میں غرق ہوتا ہے۔ اور اس بری طرح ڈپٹا اور ساتھ ساتھ اس ڈپٹ کے کوئی آدھ انچ اور نواب صاحب نے اپنا باریک گھٹنا (موٹے تازے تھے ) میری کمر میں بھونک دیا۔\n\nدراصل اس وقت یکے والے کی خطا نہ تھی۔ اگر لمبے راستے کا ایک سست یکے پر آپ کو سفر کرنے کا موقع ملا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یکہ گھوڑے کی طاقت کے مطابق ایک پرسکون اور مستقل رفتار اختیار کر لیتا ہے، جھٹکے منظم ہو جاتے ہیں۔ جھکولوں کا ایک سائیکلک آرڈر (ترجمہ غالباً نظام تسلسل) قائم ہو جاتا ہے۔ پہیہ کی چرخ چوں ایک ٹائمنگ (ترجمہ۔ غالباً تعین وقت) کی پابند ہو جاتی ہے۔ گھوڑے کے قدم نپے تلے پڑتے ہیں۔ مسافروں کے سر مقررہ حدود میں ایک تنظیم کے ماتحت ہلتے ہیں۔ آپس میں سر ٹکرانے کا امکان جاتا رہتا ہے۔ غرض جب ہر چیز منظم ہو کر یکے کو مجسم پوئٹری آف موشن (ترجمہ غالباً نظم الحرکات) بنا دیتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یکہ چل نہیں رہا ہے بلکہ بہہ رہا ہے اور پھر یکے والے کی طبیعت ایک عجیب پر کیف ہو جاتی ہے۔ خصوصاً جب کہ کرایہ معقول ملا ہو۔ وہ کچھ سینے کے بل جھک کر آنکھیں نیم باز کئے ہوئے نہ معلوم کہاں پہنچتا ہے۔ اس کو یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ یکے پر کون ہے کون نہیں۔ اور نتیجہ یہ کہ وہ الاپ اٹھتا ہے۔ لہٰذا اگر غور سے دیکھا جائے تو یہاں یکے والے کی کوئی خطا نہ تھی۔\n\nمیں نے اس فلسفے کو نواب صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ کو سمجھانے کی کوشش کی۔ بیگم صاحبہ آدھے سے زیادہ اس فلسفے کو سمجھ چکی تھیں کہ انہوں نے ایک دم سے چہرہ وحشت زدہ بنا کر ریل کی سی سیٹی دینے کی کوشش کی اور چھتری دو ر پھینکی۔ ارے روک روک۔ ایک طرف سے نواب صاحب چیخے اور دوسری طرف سے میں چلایا، کمبخت روک۔\n\nبیگم صاحبہ کی ریشمی ساڑھی پہیہ میں الجھ کر رہ گئی اور اگر یکہ نہ رکتا تو چونکہ ریشم مضبوط ہوتا ہے، ضرور نیچے آتیں۔ یہاں سے مہارانی دروپدی کا سا قصہ شروع ہوتا ہے۔ ساڑھی کا زریں کام سب خراب ہو گیا تھا۔ نواب صاحب بہادر یکہ بان پر بے حد برافروختہ تھے نہ اس وجہ سے کہ ساڑی قیمتی تھی، بلکہ اس وجہ سے کہ پہیہ نے بیگم صاحبہ کی لا پرواہی سے فائدہ ناجائز اٹھاتے ہوئے گستاخی کی تھی اور قصور یکہ کا تھا اور یکہ خود یکہ والے کا۔\n\nمیں چونکہ یکے پر بیٹھنے کا ماہر تھا، لہٰذا میری طرف نواب صاحب نے سوالیہ صورت بنا کر دیکھا کیونکہ میں نے یکے والے کو ایک لفظ نہ کہا تھا۔ چنانچہ میں نے تصدیق کی بے شک ایسا بھی ہوتا ہے اور اس میں یکے والے کی کوئی خطا نہ تھی۔ بشرطیکہ وہ یکے کو روکنے میں خواہ مخواہ دیر نہ کر ے۔ لیڈی ہمت قدر نے مجھ سے پوچھا، کیوں صاحب، کیا آپ کی بیوی کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہوا ہے ؟ میں نے جواب دیا۔ میری تو خدا کے فضل سے بچی ر ہی ہیں مگر خود میرے ساتھ کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے، اور اچکن کا دامن اکثر خراب ہو گیا ہے۔\n\n(۴)\n\nیہ کیل تو مارے ڈالتی ہے۔ نواب صاحب نے کچھ بیکل ہو کر پینترا بدلا اور کیل کی جگہ کو ٹٹول کر میری کمر میں آدھ انچ اور اپنا گھٹنا پیوست کر دیا۔ نواب صاحب بھاری بھرکم آدمی تھے۔ آپ کہیں گے کہ ان کا گھٹنا اور باریک تو عرض ہے کہ ایک موٹی چیز بھی جس وقت مستقل طور پر جسم میں پیوست ہونے کی کوشش کرتی ہے اور وہ بھی پھر یکے پر تو اس کی چبھن کسی طرح نوک دار چیز کی چبھن سے کم تکلیف دہ نہیں ہوتی۔ میں خوش تھا کہ نواب صاحب کی ران میں کیل چبھ رہی ہے اور میرا بدلا لے رہی ہے۔ حالانکہ یکے پر گدی تھی اور اس پر دوہری چادر مگر یکہ نواب صاحب کو بے کل کیے دیتی تھی۔\n\nتھوڑی دیر بعد نواب صاحب اس کیل سے پریشان ہو کر اکڑوں کی قسم کی کروٹ سے بیٹھ گیے۔ ان کا سر عجیب طرح یکے کے جھکولوں کے ساتھ گردش کر رہا تھا یعنی اس طرح کہ اگر ان کی ناک پر پینسل باندھ دی جاتی اور اس کے سامنے کاغذ ہوتا تو ایک گول حلقہ بن جاتا۔ لیڈی ہمت قدر کو ایسے جھٹکے لگ رہے تھے کہ اگر ان کی ناک پر پینسل ہوتی تو آدھا حلقہ تو ٹھیک بنتا مگر پھر پینسل کاغذ میں چبھ جاتی۔ میری ناک شاید لہریا بناتی اور یکے والا چونکہ جھکا ہوا تھا لہٰذا اس کی ناک سطریں کھینچ رہی تھی۔ غرض اس طرح ہم سب اقلیدس کی شکلیں حل کرتے چلے جا رہے تھے۔\n\nماہرین فلکیات کا ایک عجیب نظریہ ہے۔ اور وہ یہ کہ نظام شمسی کے تمام اجسام مقررہ حدود کے اندر اپنے اپنے قواعد کے مطابق اصطلاح میں کشش رکھتے ہیں اس نظریہ کی رو سے قیامت جب آئے گی جب اس کشش میں فرق پڑے گا۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ تمام اجسام بے قابو ہو کر آپس میں لڑ جائیں گے۔ حسن اتفاق کہ اس نظریہ کی تفسیر یکہ پہ پیش آنا تھی۔ ایک معمولی سے گڑھے پر نہایت ہی معمولی سا جھٹکا لگا۔ مگر یہ جھٹکا تھا جس نے گویا نظام شمسی کو درہم برہم کر دیا۔ آپس میں ہم سب کے سر لڑ گیے اور پھر علیحدہ ہو کر ڈنڈوں میں جا لگے اور کچھ تو اس وقتی ابتری سے ہوا نہیں مگر اس سلسلہ میں نواب صاحب کا گھٹنا میری کمر میں پھر در آیا، میں بالکل کگر پر تھا اور وہ اب قصہ ماضی کی بات تھی جب ان کا گھٹنا آدھ آدھ انچ سرکتا تھا اب تو جگہ ہی نہ تھی اور میں طوطے کی طرح اڈے پر بیٹھا ہوا تھا۔\n\nیکہ کا دباؤ ویسے ہی تھا، یعنی آگے کو مائل تھا۔ قسمت کی خوبی نواب صاحب نے اس نامعقول سی وجہ سے ایک معمولی سے جھٹکے سے بیکل ہو کر ایک دم سے اچھل کر بوجھ آگے ڈال دیا۔ یکے کا ساز کیا تھا۔ بس رسیوں کی جکڑ بندی تھی۔ واللہ عالم جھٹکے سے مگر میں کہتا ہوں کہ شاید قصداً لیڈی ہمت قدر نے ایک چیخ کے ساتھ اپنی چھوٹی سی چھتری میرے سر پر رکھ کر اپنی طرف زور سے گھسیٹی۔ ادھر میں پر کٹے طوطے کی طرح نواب صاحب کے گھٹنے کی بدعتوں کی وجہ سے گویا اڈے پر بیٹھا ہی تھا۔ وہاں سوائے کگر کے رہ ہی کیا گیا تھا۔ ہم جو ایک دم سے زمین پر آ لگے تو میں آگے کو گرا چھتری منہ پر چڑھی تھی، دکھائی کیا دیتا خاک اور پھر دکھائی بھی دیتا تو بے کار۔ جھٹکے سے چھتری تو بعد میں الگ ہو گئی۔ مگر میں عجیب طرح گرا، اور دور تک اپنی ناک زمین سے صرف بالشت بھر اونچی کیے دوڑا ہی چلا گیا اور پھر ہر قدم پر یہ امید تھی کہ بدن قابو میں آ جائے گا اور کھڑا ہو جاؤں گا۔ مگر حضرت یہ امید موہوم نکلی اور اس طرح منقطع ہوئی کہ دس بارہ قدم کی مسافت اسی طرح ناک زمین سے کوئی بالشت بھر اونچی کیے طے کرنے کے بعد میں اپنی ناک سے سڑک کی زمین پر ہل چلا دینے پر مجبور ہو ہی گیا۔\n\nاٹھا اور اپنی ناک ٹٹولی۔ سارا منہ گرد سے سفید ہو گیا تھا۔ آنکھوں نے جب دیکھا کہ ناک کاارادہ قطعی ہے تو وہ بند ہو گئی تھیں۔ ورنہ دھول میں پھوٹ ہی جاتیں۔ مگر پھر بھی آنکھوں نے بہت کام کیا تھا اور آخر وقت تک کھلی رہنے کی وجہ سے ان کی مٹی گھس گئی تھی۔ ہاتھوں نے بڑی خدمت کی اور چھل گیے۔ ورنہ شاید میری ناک گھس کر غبار راہ ہو جاتی۔ کیونکہ بلا مبالغہ فٹ بھر کے قریب ناک نے زمین پر ایک گہری سی لکیر کھینچی۔ کچھ بھی ہو یہ سب چشم زدن میں ہوچکا تھا۔ میں نے اٹھ کر دیکھا تو بیگم صاحبہ دونوں ہاتھوں سے ڈنڈے پکڑے مسلسل چیخیں مار رہی تھیں۔ حالانکہ وہ خطرے سے باہر تھیں۔ اور بندریا کی طرح ڈنڈے پر چپکی ہوئی تھیں۔ نواب صاحب یکہ کے بم پر کچھ اس طرح آکر رکھے تھے کہ شبہ ہوتا تھا کہ وہ بچوں والاگیم گھوڑا گھوڑا بم کے ڈنڈے سے کھیل رہے تھے۔ یکے والا غریب البتہ پہیہ کی سیدھ میں چت گرا تھا۔ گھوڑا اس وقتی سبکدوشی کو غنیمت تصور کر کے ایک انداز بے خودی کے ساتھ سڑک کے کنارے کچھ ٹفن اڑا رہا تھا۔\n\nبہت جلد ایک دوسرے کی خیریت اور مزاج پرسی سے فراغت پائی، یکے والے نے یکے کے ساز کی گانٹھا گونٹھی اور باندھا بوندھی کی مگر کچھ ٹھیک نہ بندھا تو نواب صاحب سے اس نے کہا،آپ کے پاس رسی کا کوئی ٹکڑا تو نہیں ہو گا؟ نواب صاحب نے اس کا جواب دیا، الو کے پٹھے۔۔۔ ام۔۔۔ بہم۔۔۔ (بھنا رہے تھے ) میں نے ڈانٹ کر کہا، ابے تو بالکل ہی گدھا ہے۔ یکہ والا گنگنا کر بولا، میاں میں نے کہا شاید کوئی ٹکڑا وکڑا نکل آئے، پھر اب بتائیے کیا ہو، بغیر رسی کے کام نہیں چلے گا۔\n\nمیرا سوتی رومال اور بیگم صاحبہ اور نواب صاحب کا ریشمی رومال ان تینوں کو ملا کر مضبوطی سے ساز کی بندش کو یکے والے نے سنبھالا۔ جھٹکے دے کر خوب اچھی طرح آزمانے کے بعد اس نے کہا، اب بیٹھ جائیے۔نواب صاحب چونکہ سب سے زیادہ بھاری تھے، لہٰذا یکے والے نے کہا کہ ذرا پیچھے کو دبے رہیں۔ ہم سب اچھی طرح بیٹھ گیے۔ نواب صاحب پیچھے کو دب کر بیٹھے، ایسے کہ جیسے کہ گاؤ تکیہ لگائے ہوں اور جو کچھ تھا، سو تھا، میں خوش تھا کہ نواب صاحب کے گھٹنے سے میری جان چھوٹی۔\n\nمگر تھوڑی ہی دیر بعد نواب صاحب کی پیٹھ میں یکے کی آرائش چبھنے لگی۔ کیونکہ یہ یکہ ضرورت سے زیادہ موٹے موٹے نیلے پیلے موتیوں سے آراستہ تھا جو مضبوط تار میں پرو کر ڈنڈوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ لہٰذا نواب صاحب کچھ آگے کو مائل ہوئے اور انہوں نے گھٹنا اڑانے کی تمہید اٹھائی۔ اب میں تنگ تھا لہٰذا میں نے نواب صاحب سے کہا کہ ذرا پیچھے ہی رہیئے۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ یکہ دباؤ ہو جائے گا۔ لیڈی ہمت قدر اب دباؤ کے نام سے کانپتی تھی۔ انہوں نے بھی نواب صاحب سے کہا کہ پیچھے ہی رہیئے۔ اب یکے کا توازن بہت اچھی طرح قائم تھا۔ ذرا بھی دباؤ ہوتا تو میں نواب صاحب کی توجہ رومالوں کی کمزور بندش کی طرف دلاتا اور نواب صاحب پھر ٹھیک طرح بیٹھ جاتے، ورنہ بیگم صاحبہ غل مچاتیں۔\n\nکوئی قابل ذکر بات نہ تھی کہ ایک معمولی سے جھٹکے پر لیڈی ہمت قدر چیخیں اور ساتھ ہی سڑک پر سے باسی گوبر کا ایک ٹکڑا پہیہ کے ساتھ اڑ کر ان کی آنکھ میں لگا۔ وہ چیخیں تو دراصل اس وجہ سے تھیں کہ ہاتھ میں ڈنڈے کی پھانس لگ گئی تھی کہ یک نہ شد دو شد اور ان کی آنکھ میں گوبر پڑ گیا۔ یکہ روکا گیا۔ پھانس نکالی گئی اور آنکھ صاف کی گئی۔ لیڈی ہمت قدر کے ہاتھ ڈنڈا پکڑے پکڑے سرخ ہو گیے تھے اور وہ کہہ رہی تھیں کہ میرا شانہ اکھڑا جا رہا ہے۔ مگر کیا کرتیں لاچار و مجبور تھیں، کوئی چارہ ہی نہ تھا۔\n\n(۵)\n\nاسی حالت میں ہم چلے جا رہے تھے۔ سڑک رفتہ رفتہ خراب آتی جا رہی تھی اور پھر تھوڑی دیر بعد ایسی آئی کہ ہوشیاری سے بیٹھنا پڑا۔ لیڈی ہمت قدر دباؤ یکہ کا خیال کر کر کے کانپ اٹھتی تھیں۔ اور نواب صاحب کو تاکید پر تاکید تھی کہ پیچھے ہٹے رہو۔ یکے والا بھی خوش تھا کہ گھوڑا ہلکا چل رہا ہے۔ مگر یہ شاید لیڈی ہمت قدر کو معلوم نہ تھا کہ یکے پر بیٹھنا دو حالتوں سے خالی نہیں۔ یا تو دباؤ جب آگے کو بوجھ ہو گا، اور پھر الار جب پیچھے کو بوجھ ہو گا۔ میں چونکہ آگے کو بیٹھا تھا اور دباؤ یکے کا لطف اٹھا چکا تھا کہ یکہ بان سے لے کر نواب صاحب تک ہر کس و نا کس کی یہ کوشش تھی کہ یکہ الار رہے۔\n\nرومالوں کی بندش پر الار یکے کا زور بے طرح پڑ رہا تھا اور چونکہ آگے بیٹھنے والے کو الار یکہ میں خطرہ ہوتا ہے لہٰذا میں چپ تھا۔ لیڈی ہمت قدر جانتی ہی نہ تھیں کہ الار کیا چیز ہوتی ہے۔ نواب صاحب بیگم صاحبہ کی خوشنودی میں منہمک تھے اور یکے والے کے لیے الار اور دباؤ روزانہ کا مد و جزر ٹھہرا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ ایک غیر معمولی گڑھے پر جھٹکا لگا۔ رومالوں نے تڑاخا بھرا۔ لیڈی ہمت قدر جو اصولاً چیخیں حق بجانب تھیں۔ کیونکہ یکے کے دونوں بم اینٹی ایئر کرافٹ گن (ہوائی جہاز کو گرانے کی توپ) کی نالوں کی طرح اٹھ گیے۔ یکہ اگر آدمی ہوتا تو قطعی چت گرتا۔ عقلمند یکہ بان نے یکے کی پشت پر نیچے ایک طرف یکے کا داہنا بم قصداً آدھ گز بنوایا تھا۔ جس کو ظاہراً بیکار طور پر نکلا ہوا چھوڑ دیا تھا۔ یہ دراصل اگر سچ پوچھئے تو تھیوری آف بیلنس یعنی نظریہ توازن کی تفسیر تھا۔ جس کو اصطلاحاً پورپ کی طرف الریٹھا کہتے ہیں۔ یا بالفاظ دیگر اینٹی الار اپریٹس (آلہ مائع الار) واقعی اگر یہ کہیں نہ ہوتا ،یکہ مع اپنے اسباب جہالت یعنی ہم لوگوں کے سر کے بل (یعنی چھتری کے بل) چت گرتا۔\n\nمگر پھر بھی باوجود یکہ آلہ نما مائع الار نے یکہ ایک جھٹکے کے ساتھ روک لیا۔ لیکن دونوں بمیں ہوا میں معلق ہو گئیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یکے والا لڑھک کر لیڈی ہمت قدر کی گود میں گرا اور اپنی اس عزت افزائی سے اس قدر گھبرایا کہ میری گردن پر سے ہوتا ہوا نکل کر پہئے کے پاس گرا۔ میں لمبا لمبا یکہ میں لیٹنے پر مجبور ہوا۔ اور یکے بان کے بیٹھنے کی جگہ جو ایک خانہ ہوتا ہے اس کا ڈھکنا کھل جانے کی وجہ سے تمباکو ملی ہوئی ریت پھانکنے کے علاوہ میرے منہ پر ہتھوڑی اور چلم اور دوسری مکروہات گریں مع لگام کے جو یکے بان چھوڑ گیا تھا۔\n\nنواب صاحب نے عجیب حرکت کی تو وہ گڑ گڑا کر پھاندے اور چھپکلی کی طرح پٹ سے پہیہ کے برابر دھول میں گرے اور اس برجستگی کے ساتھ اٹھے کہ بیان سے باہر ہے۔یکے والے کے پاس کافی عذر موجود تھا۔ مثلاً صاحب یہ تو ہوتا ہی رہتا ہے۔ (کوئی غیر معمولی بات نہیں) ساز پرانا ہو گیا ہے۔۔۔ کہیں رومالوں سے کام چلتا ہے۔۔۔ نیا ساز اب کے میلے کی مزدوری سے خریدوں گا۔۔۔۔ گھوڑا چھ سیر دانہ کھاتا ہے، دام ہی بچتے نہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔\n\nیکہ میں بھی جگہ جگہ خزانے ہوتے ہیں، نہ معلوم کن کن مقامات کو یکہ والے نے کریدا اور کہاں سے رسی کے متعدد ٹکڑے نکال کر ساز کو پھر گوندھا اور کسا اور خدا خدا کر کے ہم پھر چلے۔ لیڈی ہمت قدر اب سہمی ہوئی تھیں۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اب کس طرف زور دیں۔ آگے کو جھکیں تو دباؤ کا ڈر اور پیچھے رہیں تو الار کا خطرہ۔ عجیب لہجہ میں انہوں نے کہا۔ یکہ بڑی خطرناک سواری ہے۔ کبھی کوئی مر تو نہیں جاتا؟ یکہ والا بول اٹھا، صاحب جس کی آتی ہے وہ اس بہانے بھی جاتا ہے۔ نواب صاحب نے زور سے ڈپٹ کر کہا، چپ بے۔۔۔۔ ٹراپ۔۔۔۔ (بڑبڑانے لگے )\n\n(۶)\n\nپکی سڑک! پکی سڑک! یہ نعرہ ہم لوگوں نے پکی سڑک کو دور ہی سے دیکھ کر اس طرح بلند کیا جس طرح کرسٹوفر کولمبس کے ساتھیوں نے زمین کو دیکھ کر زمین! زمین! کا غلغلہ بلند کیا تھا۔ تھوڑی دیر میں ہم زور سے پکی سڑک پر کھڑ کھڑاتے جا رہے تھے۔ اب ہمیں معلوم ہوا کہ یکے پر ہم گویا سر کے بل بیٹھے ہیں۔ بے کمانی کے یکے کی کھڑکھڑاہٹ بھی عجیب چیز ہے۔ کچی سڑک کی مٹی اور غبار چشم زدن میں کپڑوں پر سے جھڑ گئی۔ نواب صاحب کی کیل بجائے ان کے ایک جگہ گڑتی ساری ران کے طول و عرض میں چبھ رہی تھی۔ یکے والے کو موقع ملا۔ آؤ بیٹا کر کے اس نے گھوڑے کی رسی کی لگام اچھی طرح جھاڑ دیا اور گھوڑا بھی کچی سڑک کی صعوبت سے خلاصی پا کر اپنے جوہر دکھانے لگا، وہ تیز چلا اور پٹا۔ خوب تیز چلا اور خوب پٹا۔ یکے والے کو اس سے بحث نہیں کہ تیز چل رہا ہے، گھوڑے کو نہ مارنا چاہیے۔ وہاں تو اصول ہے کہ مارے جاؤ گھوڑا بھی کہتا ہو گا کہ الٰہی یہ کیا غضب ہے، جتنا جتنا تیز دوڑتا ہوں، مارا جاتا ہوں۔ قدم ہلکا کرتا ہوں تو مارا جاتا ہوں۔ آخر کو جانور پھر جانور ہے، لے کر بے تحاشہ دوڑا، اور اسی مناسبت سے مار کھائی۔ ہائیں ہائیں میں کرتا ہی رہا اور لیڈی ہمت قدر کی چیخیں الگ کہ اتنے میں خیر سے داہنے پہیہ کی عین اس برق رفتاری کے عالم میں کیل نکل گئی اور پہیہ نکل کر یہ جا وہ جا۔\n\nخدا کی پناہ، موٹر کا حادثہ تو کوئی چیز نہیں، گھوڑا بھاگتے میں کروٹ کے بل گرا۔ اور یکے والا آدھا اس کے نیچے۔ میں اڑ کر دور گرا۔ نواب صاحب یکے کے پیچھے گرے۔ اور بیگم صاحبہ خود یکہ کے داہنی طرف، یکے والا چوٹ کی وجہ سے اور لیڈی ہمت قدر صدمہ کی وجہ سے بے ہوش ہو گئیں۔ اور نواب صاحب کا کولہا اتر گیا، اور میری دو پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ سب اپنی اپنی جگہ پڑے تھے۔ گھوڑا بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے آنکھیں جھپکا کر دیکھا۔ نواب صاحب لنگڑاتے ہوئے اٹھے اور اپنی بیگم صاحبہ کو سنبھالا۔ ایک عجیب پسپائیت کا عالم تھا۔\n\nخدا رحیم و کریم ہے اس نے دس پندرہ منٹ بعد ہی ایک موٹر بھیج دیا۔ ایک انگریز اس طرف جا رہا تھا، جدھر سے ہم آ رہے تھے۔ اس نے سب کو بین بٹور کر سیدھا ہسپتال پہنچایا۔ یکے والے کا یکہ اور گھوڑا وہیں رہ گیا تھا۔ بعد میں وہ کھو گیا۔ نواب صاحب نے اس کو اپنے موٹر پر جب سے رکھ لیا ہے۔ کبھی کبھی ملتا ہے تو اس کی صورت دیکھ کر نواب صاحب اور میں اور لیڈی ہمت قدر سب کو ہنسی آتی ہے۔\n\nنواب صاحب اور ان کی لیڈی صاحبہ تو پھر کبھی یکے پر نہیں بیٹھیں اور نہ بیٹھیں گی، لیکن میں اب بھی بیٹھتا ہوں۔ سواری ماشاء اللہ خوب ہے۔", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DA%A9%DB%81"} {"title": "یگانگت", "poet_page": "مصنف:میراجی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے\nفقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے\nیہ میں کہہ رہا ہوں\nمیں کوئی برائی نہیں ہوں زمانہ نہیں ہوں تسلسل کا جھولا نہیں ہوں\nمجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے کیا زمانے میں ہے اور پھر میں تو یہ بھی کہوں گا\nکہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے\nبرائی بھلائی زمانہ تسلسل یہ باتیں بقا کے گھرانے سے آئی ہوئی ہیں\nمجھے تو کسی بھی گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے\nمیں ہوں ایک اور میں اکیلا ہوں ایک اجنبی ہوں\nیہ بستی یہ جنگل یہ بہتے ہوئے رستے اور دریا\nیہ پربت اچانک نگاہوں میں آتی ہوئی کوئی اونچی عمارت\nیہ اجڑے ہوئے مقبرے اور مرگ مسلسل کی صورت مجاور\nیہ ہنستے ہوئے ننھے بچے یہ گاڑی سے ٹکرا کے مرتا ہوا ایک اندھا مسافر\nہوائیں نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادل\nیہ کیا ہیں\nیہی تو زمانہ ہے یہ ایک تسلسل کا جھولا رواں ہے\nیہ میں کہہ رہا ہوں\nیہ بستی یہ جنگل یہ رستے یہ دریا یہ پربت عمارت مجاور مسافر\nہوائیں نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادل\nیہ سب کچھ یہ ہر شے مرے ہی گھرانے سے آئی ہوئی ہے\nزمانہ ہوں میں میرے ہی دم سے ان مٹ تسلسل کا جھولا رواں ہے\nمگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے\nیہ کیسے کہوں میں\nکہ مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%AA"} {"title": "یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے\nہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے\n\nپیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا\nزبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے\n\nمری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ\nکسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے\n\nہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہے\nسفید رنگ ہیں آخر سیاہ مو کرتے\n\nلٹاتے دولت دنیا کو میکدے میں ہم\nطلائی ساغر مے نقرئی سبو کرتے\n\nہمیشہ میں نے گریباں کو چاک چاک کیا\nتمام عمر رفوگر رہے رفو کرتے\n\nجو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم\nاسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے\n\nبیاض گردن جاناں کو صبح کہتے جو ہم\nستارۂ سحری تکمۂ گلو کرتے\n\nیہ کعبے سے نہیں بے وجہ نسبت رخ یار\nیہ بے سبب نہیں مردے کو قبلہ رو کرتے\n\nسکھاتے نالۂ شبگیر کو در اندازی\nغم فراق کا اس چرخ کو عدو کرتے\n\nوہ جان جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی\nدل و جگر کو کہاں تک بھلا لہو کرتے\n\nنہ پوچھ عالم برگشتہ طالعی آتشؔ\nبرستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%AF%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D9%88_%D8%A8%DB%81_%D8%B1%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذ", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذ\nبلا سے پھاڑ کے پھر ہاتھ میں نہ لے کاغذ\n\nوہ کون دن ہے کہ غیروں کو خط نہیں لکھتا\nقلم کے بن کو لگے آگ اور جلے کاغذ\n\nتمام شہر میں تشہیر میرے بد خو نے\nپیام بر کو کیا باندھ کر گلے کاغذ\n\nبہا دوں ایسے کئی دفتر اشک کی رو میں\nکیے ہیں جمع ارے غافلو بھلے کاغذ\n\nپیام بر مجھے ایسا کوئی نہیں ملتا\nکہ حیلہ جو سے مرے لے ہی کر ٹلے کاغذ\n\nبیاںؔ کو ضعف ہے اتنا کہ باد تند کے روز\nجو خط لکھے تو اسے لے کے اڑ چلے کاغذ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81_%D8%A8%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D9%84%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0"} {"title": "یہ آنکھیں کھلیں جب سے کیا کیا نہ دیکھا", "poet_page": "مصنف:شہیر مچھلی شہری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ آنکھیں کھلیں جب سے کیا کیا نہ دیکھا\nمگر دیکھنا جس کو چاہا نہ دیکھا\n\nیہ تنہائ دشت غربت کی حد ہے\nکبھی دھوپ میں اپنا سایا نہ دیکھا\n\nبتوں کی جگہ اور عاشق کے دل میں\nیہی سنگ و شیشہ میں یارا نہ دیکھا\n\nاگر دید سے کام ہی کچھ نہ نکلا\nتو کیا فائدہ جیسے دیکھا نہ دیکھا\n\nلہو سے بھری اپنی چٹکی تو دھوئی\nمگر تم نے میرا کلیجا نہ دیکھا\n\nبرا مان جاتیں وہ بیمار آنکھیں\nیہ اچھا ہوا تجھ کو اچھا نہ دیکھا\n\nمری چشم پر آب اب تم نے دیکھی\nنہ کہنا کہ کوزے میں دریا نہ دیکھا\n\nیہاں دیر میں کی زیارت بتوں کی\nوہاں کچھ حرم میں نہ پایا نہ دیکھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یہ آنکھیں ہیں تو سر کٹا کر رہیں گی", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ آنکھیں ہیں تو سر کٹا کر رہیں گی\nکسو سے ہمیں یاں لڑا کر رہیں گی\n\nاگر یہ نگاہیں ہیں کم بخت اپنی\nتو کچھ ہم کو تہمت لگا کر رہیں گی\n\nیہ سفاکیاں ہیں تو جوں مرغ بسمل\nہمیں خاک و خوں میں ملا کر رہیں گی\n\nکیا ہم نے معلوم نظروں سے تیری\nکہ نظریں تری ہم کو کھا کر رہیں گی\n\nیہ آئیں ہیں تو ایک دن آسماں کو\nجلا کر کھپا کر اڑا کر رہیں گی\n\nاگر گردشیں آسماں کی یہی ہیں\nتو ہم کو بھی گردش میں لا کر رہیں گی\n\nیہ آنکھیں ہیں تو ایک دن مصحفیؔ کو\nنگاہوں کے اندر فنا کر رہیں گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%D8%B1_%DA%A9%D9%B9%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو\nنہ ہو جب درد ہی یا رب تو دل کیا ہو جگر کیا ہو\n\nبغل گیر آرزو سے ہیں مرادیں آرزو مجھ سے\nیہاں اس وقت تو اک عید ہے تم جلوہ گر کیا ہو\n\nمقدر میں یہ لکھا ہے کٹے گی عمر مر مر کر\nابھی سے مر گئے ہم دیکھیے اب عمر بھر کیا ہو\n\nمروت سے ہو بیگانہ وفا سے دور ہو کوسوں\nیہ سچ ہے نازنیں ہو خوبصورت ہو مگر کیا ہو\n\nلگا کر زخم میں ٹانکے قضا تیری نہ آ جائے\nجو وہ سفاک سن پائے بتا اے چارہ گر کیا ہو\n\nقیامت کے بکھیڑے پڑ گئے آتے ہی دنیا میں\nیہ مانا ہم نے مر جانا تو ممکن ہے مگر کیا ہو\n\nکہا میں نے کہ نظمؔ مبتلا مرتا ہے حسرت میں\nکہا اس نے اگر مر جائے تو میرا ضرر کیا ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A2%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%DB%8C%DB%81_%D9%86%D8%AE%D9%84_%D8%A8%DB%92_%D8%AB%D9%85%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88"} {"title": "یہ آہ و فغاں کیوں ہے دل زار کے آگے", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ آہ و فغاں کیوں ہے دل زار کے آگے\nکہتے ہیں کہ روتے نہیں بیمار کے آگے\n\nپھر موت کا ہے سامنا اللہ بچائے\nپھر دل لیے جاتا ہے ستم گر کے آگے\n\nبکنے کے لیے آپ نہ بازار میں آئے\nبھجوا دیا یوسف کو خریدار کے آگے\n\nمنعم کو مبارک یہ نقیب اور جلو دار\nاللہ ہی اللہ ہے نادار کے آگے\n\nضد کرتے ہو کیوں تیر نہ پہنچیں گے ہدف تک\nارمان ہزاروں ہیں دل زار کے آگے\n\nسرگرم سخن ہوں دل وارفتہ سے اس طرح\nجیسے کوئی باتیں کرے دیوار کے آگے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A2%DB%81_%D9%88_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%DA%AF%DB%92"} {"title": "یہ آہ پردہ در ایسی ہوئی عدو میری", "poet_page": "مصنف:ثاقب لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ آہ پردہ در ایسی ہوئی عدو میری\nحباب ہو گئی آخر کو آبرو میری\n\nنہ اپنی خود غرضی ہے نہ ہی شکایت دوست\nہے عشق و حسن کے مابین گفتگو میری\n\nکوئی نکلنے نہ دے گا زمین ہو کہ فلک\nزمانے بھر کے مقابل ہے آرزو میری\n\nقنا کے بعد میں دیتا نہیں کسی کو جواب\nصفت تھی آپ کی جو اب ہوئی وہ خوں میری\n\nزباں ہلے نہ ہلے دل ہلے تو کام چلے\nیہ زلزلہ ہو تو آ جائے گفتگو میری\n\nبھلا دیا مجھے تو نے تجھے میں کھو بیٹھا\nنہ میں ترا ہوا اے زندگی نہ تو میری\n\nمجھے زمانے سے شکوہ نہیں کہ بے حس ہے\nسمجھنے والے سمجھتے ہیں گفتگو میری\n\nمرے کریم مری شرم حشر میں رکھ لے\nعرق کے ساتھ ٹپکتی ہے آبرو میری\n\nیہ ایک وادیٔ پر خار عشق تھی ثاقبؔ\nالجھ کے رہ گئی ہر دل میں گفتگو میری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A2%DB%81_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%81_%D8%AF%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B9%D8%AF%D9%88_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "یہ آیۂ نو، جیل سے نازل ہوئی مجھ پر", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "یہ آیۂ نو، جیل سے نازل ہوئی مجھ پر\nگِیتا میں ہے قرآن تو قرآن میں گیتا\n\nکیا خوب ہُوئی آشتیِ شیخ و بَرہمن\nاس جنگ میں آخر نہ یہ ہارا نہ وہ جِیتا\n\nمندر سے تو بیزار تھا پہلے ہی سے ’بدری‘\nمسجد سے نکلتا نہیں، ضدّی ہے ’مسیتا‘", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A2%DB%8C%DB%82_%D9%86%D9%88%D8%8C_%D8%AC%DB%8C%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%86%D8%A7%D8%B2%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%D8%B1"} {"title": "یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے", "poet_page": "مصنف:محمد ابراہیم ذوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے\nزندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہے\n\nزال دنیا ہے عجب طرح کی علامۂ دہر\nمرد دیں دار کو بھی دہریہ کر دیتی ہے\n\nبڑھتی جاتی ہے جو مشق ستم اس ظالم کی\nکچھ محبت مری اصلاح مگر دیتی ہے\n\nفائدہ دے ترے بیمار کو کیا خاک دوا\nاب تو اکسیر بھی دیجے تو ضرر دیتی ہے\n\nشمع گھبرا نہ شب غم سے کہ کوئی دم میں\nتجھ کو کافور سفیدی سحر دیتی ہے\n\nغنچہ ہنستا ہے ترے آگے جو گستاخی سے\nچٹخنا منہ پہ وہیں باد سحر دیتی ہے\n\nشمع بھی کم نہیں کچھ عشق میں پروانے سے\nجان دیتا ہے اگر وہ تو یہ سر دیتی ہے\n\nدم بہ دم زخم پہ اک زخم ہے دم لینے کی\nمجھ کو فرصت نہیں وہ تیغ نظر دیتی ہے\n\nکہتے سنتے نہیں کچھ ہم تو شب ہجر میں پر\nنالۂ دل کا جواب آہ جگر دیتی ہے\n\nتیرہ بختی مری کرتی ہے پریشاں مجھ کو\nتہمت اس زلف سیہ فام پہ دھر دیتی ہے\n\nنخل مژگاں سے ہے کیا جانیے کیا چشم ثمر\nچشم پانی کی جگہ خون جگر دیتی ہے\n\nدیتی شربت ہے کسے زہر بھری آنکھ تری\nعین احسان ہے وہ زہر بھی گر دیتی ہے\n\nکوئی غماز نہیں میری طرف سے اے ذوقؔ\nکان اس کے مری فریاد ہی بھر دیتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ اک تیرا جلوہ صنم چار سو ہے", "poet_page": "مصنف:گویا فقیر محمد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ اک تیرا جلوہ صنم چار سو ہے\nنظر جس طرف کیجیے تو ہی تو ہے\n\nیہ کس مست کے آنے کی آرزو ہے\nکہ دست دعا آج دست سبو ہے\n\nنہ ہوگا کوئی مجھ سا محو تصور\nجسے دیکھتا ہوں سمجھتا ہوں تو ہے\n\nمکدر نہ ہو یار تو صاف کہہ دوں\nنہ کیونکر ہو خودبیں کہ آئینہ رو ہے\n\nکبھی رخ کی باتیں کبھی گیسوؤں کی\nسحر سے یہی شام تک گفتگو ہے\n\nکسی گل کے کوچے سے گزری ہے شاید\nصبا آج جو تجھ میں پھولوں کی بو ہے\n\nنہیں چاک دامن کوئی مجھ سا گویاؔ\nنہ بخیہ کی خواہش نہ فکر رفو ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A7%DA%A9_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%D8%B5%D9%86%D9%85_%DA%86%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%D9%88_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ اک شان خدا ہے میں نہیں ہوں", "poet_page": "مصنف:آزاد انصاری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ اک شان خدا ہے میں نہیں ہوں\nوہی جلوہ نما ہے میں نہیں ہوں\n\nزمانہ پہلے مجھ کو ڈھونڈتا ہے\nمگر تیرا پتا ہے میں نہیں ہوں\n\nترے ہوتے مری ہستی کا کیا ذکر\nیہی کہنا بجا ہے میں نہیں ہوں\n\nصدائے نحن اقرب کہہ رہی ہے\nکہ تو مجھ سے جدا ہے میں نہیں ہوں\n\nوہ خود تشریف فرمائے جہاں ہیں\nتمہیں دھوکا ہوا ہے میں نہیں ہوں\n\nکہاں میں اور کہاں خبط انا الحق\nکوئی میرے سوا ہے میں نہیں ہوں\n\nمجھے آزادؔ دنیا کیوں نہ پوجے\nکسی کا نقش پا ہے میں نہیں ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A7%DA%A9_%D8%B4%D8%A7%D9%86_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "یہ باؤ کیا پھری کہ تری لٹ پلٹ گئی", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ باؤ کیا پھری کہ تری لٹ پلٹ گئی\nناگن کی بھانت ڈس کے مرا دل الٹ گئی\n\nبیکل ہوا ہوں اب تو تری زلف میں سجن\nشب ہے دراز نیند ہماری اچٹ گئی\n\nنادان تو نیں غیر کوں کیوں درمیاں دیا\nالفت تری کی ڈور اسی مانجھے سیں کٹ گئی\n\nمجھ باؤلے کا شور اٹھا دیکھ کر کے فوج\nبادل کی بھانت ڈر سیں رقیباں کی پھٹ گئی\n\nتوڑی پریت ہم سیں پیارے نے آبروؔ\nلاگی تو تھی یہ بیل پہ آخر اوکھٹ گئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%A4_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%8C_%DA%A9%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%84%D9%B9_%D9%BE%D9%84%D9%B9_%DA%AF%D8%A6%DB%8C"} {"title": "یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہے", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہے\nدبی دبی ترے لب سے ہنسی نکلتی ہے\n\nٹھہر ٹھہر کے جلا دل کو ایک بار نہ پھونک\nکہ اس میں بوئے محبت ابھی نکلتی ہے\n\nبجائے شکوہ بھی دیتا ہوں میں دعا اس کو\nمری زباں سے کروں کیا یہی نکلتی ہے\n\nخوشی میں ہم نے یہ شوخی کبھی نہیں دیکھی\nدم عتاب جو رنگت تری نکلتی ہے\n\nہزار بار جو مانگا کرو تو کیا حاصل\nدعا وہی ہے جو دل سے کبھی نکلتی ہے\n\nادا سے تیری مگر کھنچ رہیں ہیں تلواریں\nنگہ نگہ سے چھری پر چھری نکلتی ہے\n\nمحیط عشق میں ہے کیا امید و بیم مجھے\nکہ ڈوب ڈوب کے کشتی مری نکلتی ہے\n\nجھلک رہی ہے سر شاخ مژہ خون کی بوند\nشجر میں پہلے ثمر سے کلی نکلتی ہے\n\nشب فراق جو کھولے ہیں ہم نے زخم جگر\nیہ انتظار ہے کب چاندنی نکلتی ہے\n\nسمجھ تو لیجئے کہنے تو دیجئے مطلب\nبیاں سے پہلے ہی مجھ پر چھری نکلتی ہے\n\nیہ دل کی آگ ہے یا دل کے نور کا ہے ظہور\nنفس نفس میں مرے روشنی نکلتی ہے\n\nکہا جو میں نے کہ مر جاؤں گا تو کہتے ہیں\nہمارے زائچے میں زندگی نکلتی ہے\n\nسمجھنے والے سمجھتے ہیں پیچ کی تقریر\nکہ کچھ نہ کچھ تری باتوں میں فی نکلتی ہے\n\nدم اخیر تصور ہے کس پری وش کا\nکہ میری روح بھی بن کر پری نکلتی ہے\n\nصنم کدے میں بھی ہے حسن اک خدائی کا\nکہ جو نکلتی ہے صورت پری نکلتی ہے\n\nمرے نکالے نہ نکلے گی آرزو میری\nجو تم نکالنا چاہو ابھی نکلتی ہے\n\nغم فراق میں ہو داغؔ اس قدر بیتاب\nذرا سے رنج میں جاں آپ کی نکلتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D8%B2%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ بات تو غلط ہے کہ دیوانِ شیفتہ", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ بات تو غلط ہے کہ دیوانِ شیفتہ\nہے نسخہء معارف و مجموعۂ کمال\nلیکن مبالغہ تو ہے البتہ اس میں کم\nہاں ذکرِ خد و خال اگر ہے، تو خال خال", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%D8%BA%D9%84%D8%B7_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%90_%D8%B4%DB%8C%D9%81%D8%AA%DB%81"} {"title": "یہ بات عجیب نگاہ میں آئی ہے", "poet_page": "مصنف:سید محمد عبد الغفور شہباز", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یہ بات عجیب نگاہ میں آئی ہے\nہر طرح سے جو خیال کو بھائی ہے\nیوں کوئی ہو لاکھ اپنے گھر میں یوسف\nبھائی ہے ادا جس کی وہی بھائی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8_%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ بات غلط کہ دار الاسلام ہے ہند", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یہ بات غلط کہ دار الاسلام ہے ہند\nیہ جھوٹ کہ ملک لچھمنؔ و رامؔ ہے ہند\nہم سب ہیں مطیع و خیر خواہ انگلش\nیورپ کے لیے بس ایک گودام ہے ہند", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%D8%BA%D9%84%D8%B7_%DA%A9%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92_%DB%81%D9%86%D8%AF"} {"title": "یہ بغاوت ہے", "poet_page": "مصنف:تصدق حسین خالد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "روندتے جاؤ گزر گاہوں کو\nسر اٹھائے ہوئے\nسینہ تانے\nکانپ جائیں در و دیوار\nقدم یوں اٹھیں\nدھڑکنیں دل کی بنیں بانگ رحیل\nیہ بغاوت ہے\nبغاوت ہی سہی\nہم نے انجام وفا دیکھ لیا\nخس و خاشاک بہاتا ہوا اپنا سیلاب\nاب جو اٹھا ہے تو بڑھتا ہی چلا جائے گا\nیہ زر و سیم کے تودوں سے نہیں رک سکتا\nگولیاں\nکس کو ڈراتے ہو\nیہ ڈس سکتی ہیں\nڈس جانے دو\n\nبے نوا سست قدم واماندہ\nسال آتے تھے چلے جاتے تھے\nوقت کے دامن خوش رنگ پہ کالے دھبے\nخشک لب ہانپتے بے بس ایام\nراہ کے بیچ میں الجھے ہوئے رہ جاتے تھے سستانے کو\nگھبرائے ہوئے\nاب تو ہر سانس دہکتا ہوا انگارہ ہے\nدل کہ برفاب تھے اب آتش سیال کا فوارہ ہیں\nبرق رفتار ہے وقت\nاور ہم وقف سے دو چار قدم آگے ہیں\nچیخ اٹھیں قرنائیں\nجھانجھ بجیں\nدھوم ہو نقاروں کی\nمسکراتے ہوئے گاتے ہوئے بڑھتے جاؤ\nپھینکتے ہیں ہمیں تاروں پہ کمند\nخیمہ زن ہونا ہے مریخ کے میدانوں میں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%BA%D8%A7%D9%88%D8%AA_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ بلا میرے سر چڑھی ہی نہیں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ بلا میرے سر چڑھی ہی نہیں\nمیں نے کچے گھڑے کی پی ہی نہیں\n\nآگ ایسی کبھی لگی ہی نہیں\nکہ لگی دل کی پھر بجھی ہی نہیں\n\nپی بھی یوں جیسے میں نے پی ہی نہیں\nمنہ سے میرے کبھی لگی ہی نہیں\n\nدل نہ جب تک ہوا شریک حنا\nمہندی ان کی کبھی پسی ہی نہیں\n\nشکن زلف حلقۂ گیسو\nبیڑیاں بھی ہیں ہتھکڑی ہی نہیں\n\nکون لیتا بلائیں پیکاں کی\nآرزو کوئی دل میں تھی ہی نہیں\n\nکس قدر ہوں بنا ہوا میں بھی\nجیسے میں نے شراب پی ہی نہیں\n\nدل میں کیا آئے کیا چلے دل سے\nتم نے چٹکی تو کوئی لی ہی نہیں\n\nصبح کا جھٹپٹا تھا شام نہ تھی\nوصل کی رات رات تھی ہی نہیں\n\nکیوں سنے شیخ قلقل مینا\nاس نے ایسی کبھی سنی ہی نہیں\n\nآئے آنے کو فصل گل سو بار\nمیرے دل کی کلی کھلی ہی نہیں\n\nہائے سبزے میں وہ سیہ بوتل\nکبھی ایسی گھٹا اٹھی ہی نہیں\n\nلاگ بھی دل سے ہے لگاؤ کے ساتھ\nدشمنی بھی ہے دوستی ہی نہیں\n\nمنہ لگانا مرا اک آفت تھا\nخم میں وہ چیز جیسے تھی ہی نہیں\n\nبزم آرائے حشر کے صدقے\nمحفل ایسی کبھی جمی ہی نہیں\n\nکچھ مزے میں ہم آ گئے ایسے\nتوبہ پینے سے ہم نے کی ہی نہیں\n\nکوئی نا خوش ریاضؔ سے کیوں ہو\nاس روش کا وہ آدمی ہی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D9%84%D8%A7_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D8%B3%D8%B1_%DA%86%DA%91%DA%BE%DB%8C_%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ بندۂ خاکسار یعنی ناظمؔ", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یہ بندۂ خاکسار یعنی ناظمؔ\nعاصی و گناہ گار یعنی ناظمؔ\nانصاف نہیں کہ یہاں سے جائے نومید\nبخشش کا امیدوار یعنی ناظمؔ", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%82_%D8%AE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%A7%D8%B1_%DB%8C%D8%B9%D9%86%DB%8C_%D9%86%D8%A7%D8%B8%D9%85%D8%94"} {"title": "یہ بھول بھی کیا بھول ہے یہ یاد بھی کیا یاد", "poet_page": "مصنف:جلال الدین اکبر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ بھول بھی کیا بھول ہے یہ یاد بھی کیا یاد\nتو یاد ہے اور کوئی نہیں تیرے سوا یاد\n\nاس حسن تعلق کا ادا شکر ہو کیوں کر\nمیں نے جو کیا یاد تو اس نے بھی کیا یاد\n\nاس مرد خدا مست کی کیا بات ہے اکبرؔ\nجس کو نہ رہا کچھ بھی بجز یاد خدا یاد", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%AF_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%D8%A7%D8%AF"} {"title": "یہ بھی نہ پوچھا تم نے انجمؔ جیتا ہے یا مرتا ہے", "poet_page": "مصنف:مرزا آسمان جاہ انجم", "kind": "poetry", "section": "غزل > دیوان انجم (1905)", "year": "1905", "text_ur": "یہ بھی نہ پوچھا تم نے انجمؔ جیتا ہے یا مرتا ہے\nواہ جی وا عاشق سے کوئی ایسی غفلت کرتا ہے\n\nنئی جوانی نئے نویلے نادان الڑھ اور البیلے\nسچ پوچھو تو تم کو صاحب دل دیتے جی ڈرتا ہے\n\nپوچھتے کیا ہو حال ہمارا جینے کا ہے کون سہارا\nرو لیتے ہیں جی بھر بھر کر جب غم سے جی بھرتا ہے\n\nان سے نہیں کچھ شکوہ ہم کو ان سے نہیں کچھ رنج و ملال\nکس سے اے دل عشق کیا کس سے چاہ کو برتا ہے\n\nروتے روتے ہجر میں کیوں کر جینے سے دل سیر نہ ہو\nکہتے ہیں تالاب بھی صاحب پھیون پھیون بھرتا ہے\n\nمجھ کو تو دل دینے میں کچھ عذر نہیں اے جان جہاں\nسچ تو یہ ہے دل ہی خود کچھ آگا پیچھا کرتا ہے\n\nسیل سرشک غم سے انجمؔ خانۂ دل برباد نہ ہو\nدیکھو دیکھو کعبہ کی بنیاد میں پانی مرتا ہے", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85%D8%94_%D8%AC%DB%8C%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ بھی کوئی وضع آنے کی ہے جو آتے ہو تم", "poet_page": "مصنف:میر محمدی بیدار", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ بھی کوئی وضع آنے کی ہے جو آتے ہو تم\nایک دم آئے نہیں گزرا کہ پھر جاتے ہو تم\n\nدور سے یوں تو کوئی جھمکی دکھا جاتے ہو تم\nپر جو چاہوں یہ کہ پاس آؤ کہاں آتے ہو تم\n\nکہیے مجھ سے تو بھلا اتنا کہ کچھ میں بھی سنوں\nبندہ پرور کس کے ہاں تشریف فرماتے ہو تم\n\nاس پری صورت بلا انگیز کو دیکھا نہیں\nناصحو معذور ہو گر مجھ کو سمجھاتے ہو تم\n\nدیکھیے خرمن پہ یہ برق بلا کس کے پڑے\nبے طرح کچھ تیوری بدلے چلے آتے ہو تم\n\nجو کوئی بندہ ہو اپنا اس سے پھر کیا ہے حجاب\nمیں تو اس لائق نہیں جو مجھ سے شرماتے ہو تم\n\nآج یہ گو اور یہ میداں انہیں کہہ دیجئے\nدیکھ لوں جن کے بھروسے مجھ کو دھمکاتے ہو تم\n\nپھر نہ آویں گے کبھی ایسی ہی گر آزردہ ہو\nبس چلے ہم خوش رہو کاہے کو جھنجلاتے ہو تم\n\nحالت بیدارؔ اب کیا کیجئے آپ آگے بیاں\nوقت ہے اب بھی اگر تشریف فرماتے ہو تم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%88%D8%B6%D8%B9_%D8%A2%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A2%D8%AA%DB%92_%DB%81%D9%88_%D8%AA%D9%85"} {"title": "یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتے", "poet_page": "مصنف:مخمور دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتے\nترے کوچے سے اٹھتے بھی تو دیوانے کہاں جاتے\n\nقفس میں بھی مجھے صیاد کے ہاتھوں سے ملتے ہیں\nمری تقدیر کے لکھے ہوئے دانے کہاں جاتے\n\nنہ چھوڑا ضبط نے دامن نہیں تو تیرے سودائی\nہجوم غم سے گھبرا کر خدا جانے کہاں جاتے\n\nمیں اپنے آنسوؤں کو کیسے دامن میں چھپا لیتا\nجو پلکوں تک چلے آئے وہ افسانے کہاں جاتے\n\nتمہارے نام سے منسوب ہو جاتے ہیں دیوانے\nیہ اپنے ہوش میں ہوتے تو پہچانے کہاں جاتے\n\nاگر کوئی حریم ناز کے پردے اٹھا دیتا\nتو پھر کعبہ کہاں رہتا صنم خانے کہاں جاتے\n\nنہیں تھا مستحق مخمورؔ رندوں کے سوا کوئی\nنہ ہوتے ہم تو پھر لبریز پیمانے کہاں جاتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%8C%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92"} {"title": "یہ ترک ہو کے خشن کج اگر کلاہ کریں", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ ترک ہو کے خشن کج اگر کلاہ کریں\nتو بوالہوس نہ کبھو چشم کو سیاہ کریں\n\nتمہیں بھی چاہیے ہے کچھ تو پاس چاہت کا\nہم اپنی اور سے یوں کب تلک نباہ کریں\n\nرکھا ہے اپنے تئیں روک روک کر ورنہ\nسیاہ کر دیں زمانے کو ہم جو آہ کریں\n\nجو اس کی اور کو جانا ملے تو ہم بھی ضعیف\nہزار سجدے ہر اک گام سربراہ کریں\n\nہوائے مے کدہ یہ ہے تو فوت وقت ہے ظلم\nنماز چھوڑ دیں اب کوئی دن گناہ کریں\n\nہمیشہ کون تکلف ہے خوب رویوں کا\nگزار ناز سے ایدھر بھی گاہ گاہ کریں\n\nاگر اٹھیں گے اسی حال سے تو کہیو تو\nجو روز حشر تجھی کو نہ عذر خواہ کریں\n\nبری بلا ہیں ستم کشتۂ محبت ہم\nجو تیغ برسے تو سر کو نہ کچھ پناہ کریں\n\nاگرچہ سہل ہیں پر دیدنی ہیں ہم بھی میرؔ\nادھر کو یار تأمل سے گر نگاہ کریں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DA%A9_%DB%81%D9%88_%DA%A9%DB%92_%D8%AE%D8%B4%D9%86_%DA%A9%D8%AC_%D8%A7%DA%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%84%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ تری دشنام کے پیچھے ہنسی گل زار سی", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ تری دشنام کے پیچھے ہنسی گل زار سی\nخوب لگتی ہے گنہ کے بعد استغفار سی\n\nیار کی انکھیوں سیتی جب سیں لگا ہے میرا دل\nطبع میری تب سیتی رہتی ہے کچھ بیمار سی\n\nحسن کی چڑھتی کبھی ہو ہے کبھی بڑھتی کلا\nچاند کی ہوتی نہیں گنتی میں دن ہر بار سی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AF%D8%B4%D9%86%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%DB%8C%DA%86%DA%BE%DB%92_%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%8C_%DA%AF%D9%84_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%D8%B3%DB%8C"} {"title": "یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہے", "poet_page": "مصنف:مضطر خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہے\nبلایا جب نہ آئے اب یہ آنا بے طلب کیا ہے\n\nمحبت کا اثر پھر دیکھنا مرنے تو دو مجھ کو\nوہ میرے ساتھ زندہ دفن ہو جائیں عجب کیا ہے\n\nنگاہ یار مل جاتی تو ہم شاگرد ہو جاتے\nذرا یہ سیکھ لیتے دل کے لے لینے کا ڈھب کیا ہے\n\nجو غم تم نے دیا اس پر تصدق سیکڑوں خوشیاں\nجو دکھ تم سے ملے ان کے مقابل میں طرب کیا ہے\n\nسمجھتے تھے بڑا سچا مسلماں تم کو سب مضطرؔ\nمگر تم تو بتوں کو پوجتے ہو یہ غضب کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D9%85_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%AC_%D8%A2_%D9%86%DA%A9%D9%84%DB%92_%D8%B3%D8%A8%D8%A8_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ تماشا گہ عالم کیا ہے", "poet_page": "مصنف:تصدق حسین خالد", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "تم چمن زاد ہو فطرت کے قریں رہتے ہو\nدل یہ کہتا ہے کہ تم محرم اسرار بھی ہو\nتمہیں فطرت کی بہاروں کی قسم\nیہ تماشا گہ عالم کیا ہے\n\nنور خورشید کا جاں سوز جہاں تاب جمال\nآسمانوں پہ ستاروں کا سبک کام خرام\nیہ گرجتے ہوئے بادل\nیہ سمندر کا خروش\nیہ پرندوں کے سہانے نغمے\nکہیں بڑھتی ہوئی عظمت کہیں لٹتا ہوا حسن\nبے سبب بخل فراواں بخشی\nقحط آلام مصائب کے پہاڑ\nعیش کے خسروی و طنطنۂ فغفوری\nکہیں پرویز کے حیلے کہیں چنگیز کے ظلم\nکہیں شبیری و ابراہیمی\nراز ہی راز ہے حیرت کدۂ بزم نمود\nتم چمن زاد ہو فطرت کے قریں رہتے ہو\nیہ تماشا گہ عالم کیا ہے\n\nنور مہتاب کی چادر لے کر\nگھاس سوتی ہی رہی\nپھول لب بند رہے\nپیڑ رہے محو سکوت\nتند رو باد شمالی کا تریڑا آیا\nپھول تیورا سے گئے\nپیڑ ہوئے سر بہ سجود\nگھاس نے چادر مہتاب میں کروٹ بدلی\nیہ تماشا گہ عالم کیا ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7_%DA%AF%DB%81_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ تو سچ ہے کہ صفیؔ کی نہیں نیت اچھی", "poet_page": "مصنف:صفی اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ تو سچ ہے کہ صفیؔ کی نہیں نیت اچھی\nہاں مگر پائی ہے ظالم نے طبیعت اچھی\n\nکیا ہوا آپ نے پائی ہے جو صورت اچھی\nآدمی وہ ہے کہ جس کی ہو طبیعت اچھی\n\nآج وہ پوچھنے آئے ہیں ہمارا مطلب\nسن لیا تھا کہیں مطلب کی محبت اچھی\n\nخوب صورت ہے وہی جس پہ زمانہ ریجھے\nیوں تو ہر ایک کو ہے اپنی ہی صورت اچھی\n\nکچھ بھی ہو ایک تمنا تو بندھی رہتی ہے\nتجھ سے سو درجہ ترے ملنے کی حسرت اچھی\n\nنہیں اپنے میں کوئی چاہنے والا تیرا\nڈال دی ڈالنے والوں نے عداوت اچھی\n\nکوئی ارمان نہیں ہے تو فقط بیتابی\nوصل سے تیرے ستم گر تری فرقت اچھی\n\nان کے آتے ہی بدل جاتے ہیں تیرے تیور\nاے صفیؔ چاہیے انسان کی نیت اچھی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D8%B3%DA%86_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%B5%D9%81%DB%8C%D8%94_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%8C%D8%AA_%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C"} {"title": "یہ تو معلوم کہ پھر آئیے گا", "poet_page": "مصنف:سخی لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ تو معلوم کہ پھر آئیے گا\nبیٹھیے آج کہاں جائیے گا\n\nمرقد کشتہ پہ جب آئیے گا\nدل میں کچھ سوچ کے پچھتائیے گا\n\nہم تو سمجھے تھے کہ جلد آئیے گا\nخیر اب پوچھ کے گھر جائیے گا\n\nغیر کو بوسے دہن کے کیسے\nکچھ مرا منہ تو نہ کھلوائیے گا\n\nمیرے کہنے میں نہیں ہے دل زار\nآپ ہی کچھ اسے سمجھائیے گا\n\nاب تو چوسے لب شیریں ہم نے\nلو ہمیں گھول کے پی جائیے گا\n\nدولت وصل ہے قیمت دل کی\nآگے کچھ آپ بھی فرمائیے گا\n\nجمع خاطر رہیے اے اہل قبور\nہم بھی آتے ہیں نہ گھبرائیے گا\n\nوصف لکھتے ہیں لب شیریں کے\nکچھ مٹھائی ہمیں کھلوائیے گا\n\nنزع میں پاس مرے کیوں بیٹھے\nاٹھیے اٹھیے نہیں گھبرائیے گا\n\nصدمۂ ہجر میں تکلیف کریں\nملک الموت سے فرمائیے گا\n\nآپ پر مرنے سے حاصل کیا ہے\nفاتحہ بھی تو نہ دلوائیے گا\n\nشیخ جی بت کی برائی کیجے\nاپنے اللہ سے بھرپائیے گا\n\nکعبہ میں سخت کلامی سن لی\nبت کدہ میں نہ کبھی آئیے گا\n\nبوسے للہ سخیؔ مانگتا ہے\nایک دیجے گا تو دس پائیے گا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DA%A9%DB%81_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "یہ تیرا عشق کب کا آشنا تھا", "poet_page": "مصنف:میر سوز", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ تیرا عشق کب کا آشنا تھا\nکہاں کا جان کو میری دھرا تھا\n\nوہ ساعت کون سی تھی یا الٰہی\nکہ جس ساعت دو چار اس سے ہوا تھا\n\nمیں کاش اس وقت آنکھیں موند لیتا\nکہ میرا دیکھنا مجھ پر بلا تھا\n\nمیں اپنے ہاتھ اپنے دل کو کھویا\nخداوندا میں کیوں عاشق ہوا تھا\n\nنہ تھا اس وقت جز اللہ کوئی\nولے یہ سوزؔ پہلو میں کھڑا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یہ تیرگیٔ شب ہی کچھ صبح طراز آتی", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ تیرگیٔ شب ہی کچھ صبح طراز آتی\nخود وعدۂ فردا کی چھاتی بھی دھڑک جاتی\n\nہونٹوں پہ ہنسی پیہم آتے ہوئے شرماتی\nاب رات نہیں کٹتی اب نیند نہیں آتی\n\nجو اول و آخر تھا وہ اول و آخر ہے\nمیں نالہ بجاں اٹھتا وہ نغمہ بساز آتی\n\nسوز شب ہجراں پھر سوز شب ہجراں ہے\nشبنم بہ مژہ اٹھتی یا زلف دراز آتی\n\nیارب وہ جوانی بھی کیا محشر ارماں تھی\nانگڑائی بھی جب لیتی ایک آنکھ جھپک جاتی\n\nآغاز سیہ مستی انجام سیہ مستی\nآئینے میں صورت بھی آنے کی قسم کھاتی\n\nسینے میں مجازؔ اب تک وہ جذبۂ کافر تھا\nتثلیث کی جوئندہ وحدت کی قسم کھاتی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DA%AF%DB%8C%D9%94_%D8%B4%D8%A8_%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%B5%D8%A8%D8%AD_%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%A2%D8%AA%DB%8C"} {"title": "یہ جتنی دیر ہوئی شیخ کو وضو کرتے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ جتنی دیر ہوئی شیخ کو وضو کرتے\nہم اتنی دیر میں خالی خم و سبو کرتے\n\nشکار بھی بط مے کا کنار جو کرتے\nوہیں نماز بھی پڑھتے وہیں وضو کرتے\n\nکلیم بات بڑھاتے نہ گفتگو کرتے\nلب خموش سے اظہار آرزو کرتے\n\nحسین بھی ہوں خوش آواز بھی فرشتہ قبر\nکٹی ہے عمر حسینوں سے گفتگو کرتے\n\nہماری بھول کا ساگر یہ گل اگر بنتے\nتو اور رنگ سے اظہار رنگ و بو کرتے\n\nگراتے یوں ہی سر طور بجلیاں ہم پر\nاگر حجاب تھا پردے سے گفتگو کرتے\n\nیہ داغ مے ہیں برے پھیلتے سر دامن\nجو آب زمزم و کوثر سے ہم وضو کرتے\n\nہمیں خدا کے سوا کچھ نظر نہیں آتا\nنکل گئے ہیں بہت دور جستجو کرتے\n\nپڑی ہے خوئے صبوحی دراز ہے شب گور\nاٹھیں گے حشر کے دن ہم سبو سبو کرتے\n\nمسک گیا ہے کسی کا ذرا سا دامن گل\nجگہ جگہ سے سسکتا جو تم رفو کرتے\n\nبقدر ظرف وضو مے جو ملتی پانی سی\nسیاہ رو بھی دم حشر شست و شو کرتے\n\nنہ تھا شباب کمر میں ریاضؔ زر ہوتا\nتو دن بڑھاپے کے بھی نذر لکھنٔو کرتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D8%AA%D9%86%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%DA%A9%D9%88_%D9%88%D8%B6%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "یہ جس نے جان دی ہے نان دے گا", "poet_page": "مصنف:مرزا مسیتابیگ منتہی", "kind": "poetry", "section": "غزل > کارستان فصاحت (1893)", "year": "1893", "text_ur": "یہ جس نے جان دی ہے نان دے گا\nدیا ہے جس نے سر سامان دے گا\n\nمژہ سے اس کماں ابرو کی بچنا\nوہ ناوک ہے کلیجہ چھان دے گا\n\nمشقت سے وہ دے یا بے مشقت\nبہ ہر صورت بہ ہر عنوان دے گا\n\nوہ بوسہ دے کے دل لے کر یہ بولے\nعوض احساں کا کیا انسان دے گا\n\nملے گا قدر دان عشق ہم کو\nخدا معشوق با ایمان دے گا\n\nسنیں گے تب بتان ہند اپنی\nاجازت جب انہیں شیطان دے گا\n\nفسانہ کوہ کن کا سن کے بولے\nجو عاشق ہوگا وہ ہی جان دے گا\n\nنہ تھی امید تجھ سے قاسم بخت\nدل پر درد و پر ارمان دے گا\n\nرہ الفت کا ہوں کار آزمودہ\nکسی کو دل کوئی انجان دے گا\n\nچلے گا تیر جب اپنی دعا کا\nکلیجے دشمنوں کے چھان دے گا\n\nمقدر سے زیادہ ایک لقمہ\nگدا کیا لے گا کیا سلطان دے گا\n\nلپٹ جاؤں گا ان سے روز وصلت\nاگر مجھ کو خدا اوسان دے گا\n\nنہ پھیلا منتہیؔ دست ہوس کو\nوگرنہ یہ تجھے نقصان دے گا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%86%D8%A7%D9%86_%D8%AF%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "یہ جسم زار ہے یوں پیرہن کے پردے میں", "poet_page": "مصنف:بخش ناسخ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ جسم زار ہے یوں پیرہن کے پردے میں\nکہ جیسے روح نہاں ہے بدن کے پردے میں\n\nسوائے اہل سخن ہو مشاہدہ کس کو\nنہاں ہے شاہد معنی سخن کے پردے میں\n\nتلاش جس کی ہے دن رات تجھ کو اے غافل\nچھپا ہوا ہے وہ تیرے ہی تن کے پردے میں\n\nجو عندلیب کی آنکھوں سے دیکھے وہ سمجھے\nظہور ہے اسی گل کا چمن کے پردے میں\n\nشب سیاہ جدائی میں روشنی ہو کہیں\nلگاؤں آگ میں بیت الحزن کے پردے میں\n\nطریق عشق چھڑایا ہے تو نے غارت گر\nملا ہے خضر مجھے راہزن کے پردے میں\n\nلطافت ایسی ہے تجھ میں کہ دیکھتا ہوں صاف\nگہر سے دانت ہیں درج دہن کے پردے میں\n\nبرنگ زر کوئی کپڑوں میں آگ رہتی ہے\nنہ میرے داغ چھپیں گے کفن کے پردے میں\n\nنقاب سے ترے ابرو جو سلخ کو کھل جائیں\nتو ماہ نور ہے چرخ کہن کے پردے میں\n\nاگر تم آئے تھے شیریں کے بھیس میں صاحب\nتو ساتھ بندہ بھی تھا کوہ کن کے پردے میں\n\nنمود ہو نہ ترے خط عنبر افشاں کی\nرہے وہ جلد عذار و ذقن کے پردے میں\n\nچمن میں لائی صبا کس کی بو جو آج شمیم\nدمک رہی ہے گل یاسمن کے پردے میں\n\nنظر سے تھا شرر سنگ کی طرح جو نہاں\nوہ بت ملا مجھے اک بت شکن کے پردے میں\n\nتمہارے روئے مخطط کا منہ چڑھاتے ہیں\nیہ مہر و ماہ پری رو گہن کے پردے میں\n\nہزاروں پڑ گئے تیر نگاہ سے سوراخ\nہمارے اس بت ناوک فگن کے پردے میں\n\nخبر نہ شام غریبی کی مجھ کو تھی ناسخؔ\nچھپی ہوئی تھی یہ صبح وطن کے پردے میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D8%B3%D9%85_%D8%B2%D8%A7%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%B1%DB%81%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ جلوہ گاہ ناز تماشائیوں سے ہے", "poet_page": "مصنف:شکیب جلالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ جلوہ گاہ ناز تماشائیوں سے ہے\nرونق جہاں کی انجمن آرائیوں سے ہے\n\nروتے ہیں دل کے زخم تو ہنستا نہیں کوئی\nاتنا تو فائدہ مجھے تنہائیوں سے ہے\n\nدیوانۂ حیات کو اک شغل چاہئے\nنادانیوں سے کام نہ دانائیوں سے ہے\n\nقید بیاں میں آئے جو ناگفتنی نہ ہو\nوہ رابطہ کہ قلب کی گہرائیوں سے ہے\n\nنادم نہیں ہوں داغ فرومائیگی پہ میں\nتیرا بھرم بھی میری جبیں سائیوں سے ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%86%D8%A7%D8%B2_%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ جو اٹھتی کونپل ہے جب اپنا برگ نکالے گی", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ جو اٹھتی کونپل ہے جب اپنا برگ نکالے گی\nڈالی ڈالی چاٹے گی اور پتا پتا کھا لے گی\n\nہونہار بروا کے پتے چکنے چکنے ہوتے ہیں\nبہت نہیں کچھ تھوڑے ہی دن میں بیل پھنگ کو آلے گی\n\nابھی تو کیا ہے چھٹپن ہے نادانی ہے بے ہوشی ہے\nقہر تو اس دن ہووے گا جب اپنا ہوش سنبھالے گی\n\nناز ادا اور غمزوں کے کچھ اور ہی کترے گی گل پھول\nسین لگاوٹ چتون کا بھی اور ہی عطر نکالے گی\n\nکاجل مہندی پان مسی اور کنگھی چوٹی میں ہر آن\nکیا کیا رنگ بناویگی اور کیا کیا نقشے ڈھالے گی\n\nجب یہ تن گدراوے گا اور بازو بانہیں ہوں گے گول\nاس دم دیکھا چاہئے کیا کیا پیٹ کے پاؤں نکالے گی\n\nکس کس کا دل دھڑکے گا اور کون ملے گا ہاتھوں کو\nپکیں سے جب انگیا میں یہ کچے سیب اچھالے گی\n\nپان چبا اور آئینے میں دیکھ کے اپنے ہونٹوں کو\nکیا کیا ہنس ہنس دیوے گی اور کیا کیا دیکھے بھالے گی\n\nخانہ جنگیاں ہوویں گی اور لوگ مریں گے کٹ کٹ کر\nشہر کے کوچے گلیوں میں اک شور قیامت ڈالے گی\n\nجب یہ میوہ حسن کا رس رس پک کر ہووے گا تیار\nنائکہ اس کی قیمت کا جب دیکھا چاہئے کیا لے گی\n\nسونا روپا سیم و جواہر صبر و دل و دیں ہوش و قرار\nآنکھ اٹھا کر دیکھتے ہی ایک آن میں سب رکھوا لے گی\n\nاپنے وقت جوانی میں یہ شوخ خدا ہی جانے نظیرؔ\nکس کس کا زر لوٹے گی اور کس کس کا گھر گھالے گی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%AA%DB%8C_%DA%A9%D9%88%D9%86%D9%BE%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D8%A8%D8%B1%DA%AF_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%DB%92_%DA%AF%DB%8C"} {"title": "یہ جو اپنے ہاتھ میں دامن سنبھالے جاتے ہیں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ جو اپنے ہاتھ میں دامن سنبھالے جاتے ہیں\nپیچھے پیچھے ان کے، ان پر مرنے والے جاتے ہیں\n\nلطف و رنجش کا تماشا ہے کہ دن میں لاکھ بار\nگہہ بلائے جاتے ہیں ہم گہہ نکالے جاتے ہیں\n\nجان سے جاتے رہے ہیں بسکہ لاکھوں بے گناہ\nہر طرف کوچے میں اس کے خوں کے نالے جاتے ہیں\n\nسعی تو اپنی نہ کر اے گریہ صرف شست و شو\nدل کے دھونے سے کوئی یہ داغ کالے جاتے ہیں\n\nگر نہیں ہے وعدہ گہہ وہ کو تو کیوں راتوں کو لوگ\nاس کے کوچے میں اندھیرے اور اجالے جاتے ہیں\n\nاس کے کانوں تک رسائی کیوں نہیں حیران ہوں\nعرش اعظم تک تو میرے شب کے نالے جاتے ہیں\n\nہو گیا ہوں میں تو ان کا مصحفیؔ حلقہ بگوش\nیاد سے میری کب ان کانوں کے بالے جاتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86_%D8%B3%D9%86%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں\nجان کتنوں کی لیے بیٹھے ہیں\n\nجان ہم سبزۂ خط پر دے کر\nزہر کے گھونٹ پیے بیٹھے ہیں\n\nدل کو ہم ڈھونڈتے ہیں چار طرف\nاور یہاں آپ لیے بیٹھے ہیں\n\nواعظو چھیڑو نہ رندوں کو بہت\nیہ سمجھ لو کہ پیے بیٹھے ہیں\n\nگوشے آنچل کے ترے سینے پر\nہائے کیا چیز لیے بیٹھے ہیں\n\nدست وحشت کو خبر کر دے کوئی\nہم گریبان سیئے بیٹھے ہیں\n\nہائے پوچھو نہ تصور کے مزے\nگود میں تم کو لیے بیٹھے ہیں\n\nآپ کے ناز اٹھانے والے\nجان کو صبر کیے بیٹھے ہیں\n\nبل جبیں پر ہے خدا خیر کرے\nآج وہ تیغ لیے بیٹھے ہیں\n\nاس توقع پہ کہ لیں وہ تلوار\nسر ہتھیلی پہ لیے بیٹھے ہیں\n\nجان دے دیں گے تمہارے در پر\nہم اب اٹھنے کے لئے بیٹھے ہیں\n\nذکر کیا جام و سبو کا کہ جلیلؔ\nایک مے خانہ پیے بیٹھے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D8%B3%D8%B1_%D9%86%DB%8C%DA%86%DB%92_%DA%A9%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ جو مجھ سے اور جنوں سے یاں بڑی جنگ ہوتی ہے دیر سے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "یہ جو مجھ سے اور جنوں سے یاں بڑی جنگ ہوتی ہے دیر سے\nسو کچھ ایسی ڈھب سے لڑائی ہے لڑے شیر جیسے کہ شیر سے\n\nبنی شکل لیلیٔ نوجواں مرے داتا کیا کہوں الاماں\nوہ تجلی ایک جو ہوئی عیاں کسی رات قیس کے ڈھیر سے\n\nابھی دو مہینے سے ہوں جدا نہ تو خواب میں بھی نظر پڑا\nبھلا اور اندھیر زیادہ کیا کہیں ہوگا ایسے اندھیر سے\n\nمجھے شامیانہ تلے سے کیا مرا دل تو کہتا ہے مجھ سے آ\nسر راہ کوٹھے پہ بیٹھ جا یہیں تکیہ دے کے منڈیر سے\n\nتری بادلے کی یہ اوڑھنی ارے برق کوندے نظر میں تب\nکرے یہ گھٹا جو مقابلہ کسی پیشواز کے گھیر سے\n\nنہیں انتظار کے حوصلے مجھے سوجھے سیکڑوں ارتلے\nقسم ان نے کھائی تو ہے ولے مرا جی ڈرے ہے ادھیر سے\n\nبھلا مجھ سے دیو کے سامنے کوئی ٹھونک سکتے ہیں خم بھلا\nارے یہ انگوٹھے سے آدمی تو بچارے خود ہیں بٹیر سے\n\nوہی پی کہاں وہی پی کہاں یہی ایک رٹ سی جو ہے سو ہے\nمہاراج چوٹ سی لگتی ہے مجھے اس پپیہے کی ٹیر سے\n\nغزل انشاؔ اور بھی ایک لکھ اسی بحر اور ردیف کی\nکہ زبر کی قافیے جس میں ہوں مجھے نفرت آ گئی زیر سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%91%DB%8C_%D8%AC%D9%86%DA%AF_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%92"} {"title": "یہ جو چپکے سے آئے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:میر مہدی مجروح", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ جو چپکے سے آئے بیٹھے ہیں\nلاکھ فتنے اٹھائے بیٹھے ہیں\n\nوہ نہیں ہیں تو درد کو ان کے\nسینے سے ہم لگائے بیٹھے ہیں\n\nیہ بھی کچھ جی میں آ گئی ہوگی\nکیا وہ میرے بٹھائے بیٹھے ہیں\n\nتذکرہ وصل کا نہیں خالی\nوہ بھی کچھ لطف پائے بیٹھے ہیں\n\nمجھ کو مارا ہے پر خجالت سے\nوہ بھی گردن جھکائے بیٹھے ہیں\n\nرنگ جمتا ہے یاں نہ آنے کا\nیعنی مہندی لگائے بیٹھے ہیں\n\nمجھ کو محفل میں دیکھ کر بولے\nآپ یاں کیوں کہ آئے بیٹھے ہیں\n\nخیر ہو ہیں بگاڑ کے آثار\nکچھ وہ منہ کو بنائے بیٹھے ہیں\n\nغم ہمیں کھا رہا ہے تو کیا غم\nہم بھی تو غم کو کھائے بیٹھے ہیں\n\nزد میں گر ہے عدو تو ہو وہ تو\nگھات مجھ پر لگائے بیٹھے ہیں\n\nکھوئے جانے کا اپنے دھیان نہیں\nکچھ تو ایسا ہی پائے بیٹھے ہیں\n\nشرم سے ہیں وہ لاکھ پردے میں\nگو مرے پاس آئے بیٹھے ہیں\n\nشمع ساں گو گھلے ہی جاتے ہیں\nاس سے پر لو لگائے بیٹھے ہیں\n\nاس گلی میں بسان نقش قدم\nہم بھی پاؤں جمائے بیٹھے ہیں\n\nہو نہ اے شمع حسن پر نازاں\nوہ بھی محفل میں آئے بیٹھے ہیں\n\nشوخیاں خود ہیں پردہ در ان کی\nکیوں وہ منہ کو چھپائے بیٹھے ہیں\n\nفرد باطل سمجھ کے دنیا کو\nنقش ہستی مٹائے بیٹھے ہیں\n\nکیا ہے اس خوش خرام کی آمد\nفتنے جو جائے جائے بیٹھے ہیں\n\nطور جس آگ نے جلایا تھا\nہم وہ دل میں چھپائے بیٹھے ہیں\n\nچشمکیں غیر سے دکھا دیں گے\nہم بھی آنکھیں لڑائے بیٹھے ہیں\n\nکل تقدس مآب مسجد تھے\nآج رندوں میں آئے بیٹھے ہیں\n\nلاابالی خرام ہے مجروحؔ\nوضع کیسی بنائے بیٹھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D9%BE%DA%A9%DB%92_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ جو گل رو نگار ہنستے ہیں", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ جو گل رو نگار ہنستے ہیں\nفتنہ گر ہیں ہزار ہنستے ہیں\n\nعرض بوسے کی سچ نہ جانو تم\nہم تو اے گلعذار ہنستے ہیں\n\nدل کو دے مفت ہنستے ہیں ہم یوں\nجس طرح شرمسار ہنستے ہیں\n\nہم جو کرتے ہیں عشق پیری میں\nخوبرو بار بار ہنستے ہیں\n\nجو قدیمی ہیں یار دوست نظیرؔ\nوہ بھی بے اختیار ہنستے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DA%AF%D9%84_%D8%B1%D9%88_%D9%86%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%86%D8%B3%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ جو ہے حکم مرے پاس نہ آئے کوئی", "poet_page": "مصنف:داغ دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ جو ہے حکم مرے پاس نہ آئے کوئی\nاس لیے روٹھ رہے ہیں کہ منائے کوئی\n\nتاک میں ہے نگہ شوق خدا خیر کرے\nسامنے سے مرے بچتا ہوا جائے کوئی\n\nوعدہ وصل اسے جان کے خوش ہو جاؤں\nوقت رخصت بھی اگر ہاتھ ملائے کوئی\n\nسرد مہری سے زمانے کی ہوا ہے دل سرد\nرکھ کر اس چیز کو کیا آگ لگائے کوئی\n\nآپ نے داغؔ کو منہ بھی نہ لگایا افسوس\nاس کو رکھتا تھا کلیجہ سے لگائے کوئی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%AD%DA%A9%D9%85_%D9%85%D8%B1%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D9%86%DB%81_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C"} {"title": "یہ جہاں بارگہ رطل گراں ہے ساقی", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ جہاں بارگہ رطل گراں ہے ساقی\nاک جہنم مرے سینے میں تپاں ہے ساقی\n\nجس نے برباد کیا مائل فریاد کیا\nوہ محبت ابھی اس دل میں جواں ہے ساقی\n\nایک دن آدم و حوا بھی کیے تھے پیدا\nوہ اخوت تری محفل میں کہاں ہے ساقی\n\nہر چمن دامن گل رنگ ہے خون دل سے\nہر طرف شیون و فریاد و فغاں ہے ساقی\n\nماہ و انجم مرے اشکوں سے گہر تاب ہوئے\nکہکشاں نور کی ایک جوئے رواں ہے ساقی\n\nحسن ہی حسن ہے جس سمت بھی اٹھتی ہے نظر\nکتنا پر کیف یہ منظر یہ سماں ہے ساقی\n\nزمزمہ ساز کا پائل کی چھناکے کی طرح\nبہتر از شورش ناقوس و اذاں ہے ساقی\n\nمیرے ہر لفظ میں بیتاب مرا شور دروں\nمیری ہر سانس محبت کا دھواں ہے ساقی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%AF%DB%81_%D8%B1%D8%B7%D9%84_%DA%AF%D8%B1%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C"} {"title": "یہ حسب عقل تو کوئی نہیں سامان ملنے کا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ حسب عقل تو کوئی نہیں سامان ملنے کا\nمگر دنیا سے لے جاویں گے ہم ارمان ملنے کا\n\nعجب مشکل ہے کیا کہئے بغیر از جان دینے کے\nکوئی نقشہ نظر آتا نہیں آسان ملنے کا\n\nہمیں تو خاک میں جا کر بھی کیا کیا بے کلی ہوگی\nجب آ جاوے گا اس غنچہ دہن سے دھیان ملنے کا\n\nکسی سے ملنے آئے تھے سو یاں بھی ہو چلے اک دم\nکہے دیتا ہوں یہ مجھ پر نہیں احسان ملنے کا\n\nنظیرؔ اک عمر ہم اس دل ربا کے وصل کی خاطر\nبہت روئے بہت چیخے پہ کیا امکان ملنے کا\n\nہماری بے قراری اضطرابی کچھ نہ کام آئی\nوہ خود ہی آ ملا جب وقت آیا آن ملنے کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%B3%D8%A8_%D8%B9%D9%82%D9%84_%D8%AA%D9%88_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%85%D9%84%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "یہ حسن ہے آہ یا قیامت کہ اک بھبھوکا بھبھک رہا ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ حسن ہے آہ یا قیامت کہ اک بھبھوکا بھبھک رہا ہے\nفلک پہ سورج بھی تھرتھرا کر منہ اس کا حیرت سے تک رہا ہے\n\nکھجوری چوٹی ادا میں موٹی جفا میں لمبی وفا میں چھوٹی\nہے ایسی کھوٹی کہ دل ہر اک کا ہر ایک لٹ میں لٹک رہا ہے\n\nوہ نیچی کافر سیاہ پٹی کہ دل کے زخموں پہ باندھے پٹی\nپڑھی ہے جس نے کہ اس کی پٹی وہ پٹی سے سر ٹپک رہا ہے\n\nوہ ماتھا ایسا کہ چاند نکھرے پھر اس کے اوپر وہ بال بکھرے\nدل اس کے دیکھے سے کیوں نہ بکھرے کہ مثل سورج چمک رہا ہے\n\nوہ چین خود رو کٹیلے ابرو وہ چشم جادو نگاہیں آہو\nوہ پلکیں کج خو کہ جن کا ہر مو جگر کے اندر کھٹک رہا ہے\n\nغضب وہ چنچل کی شوخ بینی پھر اس پہ نتھنوں کی نکتہ چینی\nپھر اس پہ نتھ کی وہ ہم نشینی پھر اس پہ موتی پھڑک رہا ہے\n\nلب و دہاں بھی وہ نرم و نازک مسی و پاں بھی وہ قہر و آفت\nسخن بھی کرنے کی وہ لطافت کہ گویا موتی ٹپک رہا ہے\n\nوہ کان خوبی میں چھک رہے ہیں جواہروں میں جھمک رہے ہیں\nادھر کو جھمکے جھمک رہے ہیں ادھر کا بالا چمک رہا ہے\n\nصراحی گردن وہ آبگینہ پھر آگے سینہ بھی جوں نگینہ\nبھرا ہے جس میں تمام کینہ کہ جوں نگینہ دمک رہا ہے\n\nکچیں وہ کچھ کچھ ثمر درختی کچھ ان کی سختی وہ کچھ کرختی\nہیں جس نے دیکھے وہ پھل درختی کلیجہ اس کا دھڑک رہا ہے\n\nوہ سرخ انگیا جو کس رہی ہے وہ چس رہی ہے اکس رہی ہے\nکچھ ایسے ڈھب سے وہ کس رہی ہے کہ اس کا کسنا کسک رہا ہے\n\nوہ پیٹ دل کو لپیٹ لیوے وہ ناف جی کو سمیٹ لیوے\nمزار جی کا جھپیٹ لیوے کچھ ایسا پیڑو پھڑک رہا ہے\n\nوہ پیٹھ گوری کمر وہ پتلی غضب لگاوٹ وہ پھر سرین کی\nاب آگے کہئے تو کیا کہوں میں کہ ہوش اس جا ٹھٹک رہا ہے\n\nفقط وہ چمپے کی اک کلی ہے کچھ اک مندی ہے کچھ اک کھلی ہے\nسلاخ سونے کی اک ڈلی ہے کہ گویا کندن دمک رہا ہے\n\nوہ پیاری رانیں وہ گول ساقیں وہ کف ملائم وہ نرم پہنچے\nکڑی کڑی سے کھڑک رہی ہے کڑا کڑے سے کھڑک رہا ہے\n\nنظیرؔ خوبی میں اس پری کی کہوں کہاں تک ثنا بنا کر\nصفت سراپا میں جس کے لکھنے دل اب اسی سے اٹک رہا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DB%81%DB%92_%D8%A2%DB%81_%DB%8C%D8%A7_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%DA%A9_%D8%A8%DA%BE%D8%A8%DA%BE%D9%88%DA%A9%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%D8%A8%DA%BE%DA%A9_%D8%B1%DB%81%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ حُوریانِ فرنگی، دل و نظر کا حجاب", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "یہ حُوریانِ فرنگی، دل و نظر کا حجاب\nبہشتِ مغربیاں، جلوہ ہائے پا بہ رکاب\n\nدل و نظر کا سفینہ سنبھال کر لے جا\nمہ و ستارہ ہیں بحرِ وجود میں گرداب\n\nجہانِ صوت و صدا میں سما نہیں سکتی\nلطیفۂ ازَلی ہے فغانِ چنگ و رباب\n\nسِکھا دیے ہیں اسے شیوہ ہائے خانقہی\nفقیہِ شہر کو صوفی نے کر دیا ہے خراب\n\nوہ سجدہ، روحِ زمیں جس سے کانپ جاتی تھی\nاُسی کو آج ترستے ہیں منبر و محراب\n\nسُنی نہ مصر و فلسطیں میں وہ اذاں میں نے\nدیا تھا جس نے پہاڑوں کو رعشۂ سیماب\n\nہوائے قُرطُبہ! شاید یہ ہے اثر تیرا\nمری نوا میں ہے سوز و سُرورِ عہدِ شباب", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AD%D9%8F%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D9%86%D9%90_%D9%81%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%8C_%D8%AF%D9%84_%D9%88_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8"} {"title": "یہ خسروی و شوکت شاہانہ مبارک", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ خسروی و شوکت شاہانہ مبارک\nیہ قصر یہ خدام یہ کاشانہ مبارک\n\nمستوں کو مبارک در مے خانہ کے سجدے\nمے خانہ تجھے مرشد مے خانہ مبارک\n\nاے چشم تمنا تری امید بر آئے\nاٹھتا ہے نقاب رخ جانانہ مبارک\n\nبلبل کو مبارک ہو ہوائے گل و گلشن\nپروانے کو سوز دل پروانہ مبارک\n\nلو اٹھ گئے سب جلوہ گاہ ناز کے پردے\nنظارہ حسن رخ جانانہ مبارک\n\nسرمد کو مبارک ہوں مئے صاف کے ساغر\nبیدمؔ ہمیں درد تہہ پیمانہ مبارک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AE%D8%B3%D8%B1%D9%88%DB%8C_%D9%88_%D8%B4%D9%88%DA%A9%D8%AA_%D8%B4%D8%A7%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9"} {"title": "یہ خوب رو نہ چھری نے کٹار رکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:بیاں احسن اللہ خان", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ خوب رو نہ چھری نے کٹار رکھتے ہیں\nنگاہ لطف سے عالم کو مار رکھتے ہیں\n\nچراغ گور نہ شمع مزار رکھتے ہیں\nبس ایک ہم یہ دل داغ دار رکھتے ہیں\n\nشراب عشق نہ اے دوست پیجیو ہرگز\nاسی نشے کا ہم اب تک خمار رکھتے ہیں\n\nمری زبانی کوئی اس سے اس قدر پوچھے\nکہیں یہ جھوٹے بھی وعدے شمار رکھتے ہیں\n\nقیامت آ چکی دیدار حق ہوا سب کو\nہم اب تلک بھی ترا انتظار رکھتے ہیں\n\nاگرچہ خاک برابر کیا فلک نے بیاںؔ\nدماغ پر وہی ہم خاکسار رکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%D8%B1%D9%88_%D9%86%DB%81_%DA%86%DA%BE%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%B9%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ داستان دل ہے کیا ہو ادا زباں سے", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ داستان دل ہے کیا ہو ادا زباں سے\nآنسو ٹپک رہے ہیں لفظیں ملیں کہاں سے\n\nہے ربط دو دلوں کو بے ربطیٔ بیاں سے\nکچھ وہ کہیں نظر سے کچھ ہم کہیں زباں سے\n\nیہ روتے روتے ہنسنا ترتیب ذکر غم ہے\nآیا ہوں ابتدا پر چھیڑا تھا درمیاں سے\n\nحاصل تو زندگی کا تھی زندگی یہیں کی\nاب میں ہوں اک جنازہ اٹھوا دو آستاں سے\n\nاس طول خامشی کا زور بیاں بھی دیکھا\nتھی بات میرے دل کی نکلی تری زباں سے\n\nجب حسن خود نما ہے اور عشق رخنہ افگن\nاس کشمکش میں پردہ نکلے گا درمیاں سے\n\nمیدان امتحان میں اے بے غرض محبت\nدل کی زمین تو نے ٹکرا دی آسماں سے\n\nاس رازدار غم کی حالت نہ پوچھ جس کو\nکہنا تو ہے بہت کچھ محروم ہے زباں سے\n\nاے جذب شوق منزل ممنون غیر کیوں ہوں\nخود راستہ بدل کر بچھڑا ہوں کارواں سے\n\nہر گام پر ٹھٹھکنا ہر بار مڑ کے تکنا\nاو مسکرانے والے کیا لے چلا یہاں سے\n\nظاہر فریب وعدہ پھر اعتبار اتنا\nوہ لکھ گیا دلوں پر جو کہہ دیا زباں سے\n\nآنکھوں سے باغباں کی شعلے نکلے رہے ہیں\nتنکے دبائے منہ میں نکلا ہوں آشیاں سے\n\nدل کا سکوں گنوا کر ہوں آرزو پشیماں\nکچھ لے کے رکھ نہ چھوڑا کیوں جنس رائیگاں سے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%AF%D8%A7_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92"} {"title": "یہ دل ناداں ہمارا بھی عجب دیوانہ تھا", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ دل ناداں ہمارا بھی عجب دیوانہ تھا\nاس کو اپنا گھر یہ سمجھا تھا جو مہماں خانہ تھا\n\nتھے جو بیگانے یگانے ان کو گنتا تھا بجاں\nاس قدر غفلت میں عقل و ہوش سے بیگانہ تھا\n\nلے لیا معنی کو اور صورت کو جانا بے ثبات\nغور سے دیکھا تو عالم میں وہی فرزانہ تھا\n\nکیا غم اسباب ظاہر کا نہ ہو جس کو قیام\nچشم معنی بیں میں یکساں ہے اگر تھا یا نہ تھا\n\nکہتے ہیں عہد سلف میں تھا کوئی ایسا مکاں\nقطعۂ خلد اس کا ایک اک کنج اور کاشانہ تھا\n\nپر صفا و پر ضیا و پر نگار و پر بہار\nزیب سے سو سو طرح اس میں جو شاخ اور شانہ تھا\n\nلحظہ لحظہ عیش و عشرت دم بدم رقص و سرور\nگریۂ مینا و یکسر خندۂ پیمانہ تھا\n\nمالک اس کا جب وہ پشت بام پر پھرتا تھا شاد\nکیا کہوں کیا کیا اسے ناز سر افرازانہ تھا\n\nتھا جہاں یہ کچھ عیاں واں انقلاب دور سے\nیک مژہ برہم زدن میں کچھ نہ تھا ویرانہ تھا\n\nواں طینیس یک مگس آئے نہ ہرگز گوش میں\nجس جگہ شور قیامت ساز نوبت خانہ تھا\n\nواں نظر آیا نہ ہرگز پارۂ سنگ سیاہ\nجس جگہ لعل و گہر سے پر جواہر خانہ تھا\n\nخوب جو دیکھا نظیرؔ ان رفتگاں کا ماجرا\nبہر خوف و عبرت آئندگاں افسانہ تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%86%D8%A7%D8%AF%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یہ دل نہیں نور کا ہے شعلہ کسی کو اس سے ضرر نہیں ہے", "poet_page": "مصنف:ناطق لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ دل نہیں نور کا ہے شعلہ کسی کو اس سے ضرر نہیں ہے\nمثال برق و شرر ہے لیکن مزاج برق و شرر نہیں ہے\n\nہے روکش آفتاب ذرہ بغیر پردہ بلا وسیلہ\nوہاں لگائی ہے آنکھ دل نے جہاں مجال نظر نہیں ہے\n\nحرم سے نکلے تلاش بت میں بتوں سے یاد خدا پہ بگڑی\nغرض ہم آوارۂ وفا ہیں کہیں ہمارا گزر نہیں ہے\n\nجو دیکھنے والے دیکھتے ہیں وہ سننے والوں سے کیا بتائیں\nنظر کو ذوق زباں نہیں ہے زباں کو ذوق نظر نہیں ہے\n\nاذاں ہو ناقوس یا جرس ہو موئثر اپنی جگہ پہ سب ہیں\nمگر جہاں میں پہنچ گیا ہوں وہاں کسی کا اثر نہیں ہے\n\nوہ نیچی نظریں تھیں دل کی طالب وفا نے گو جان نذر کر دی\nمگر اثر جو سوال میں تھا جواب میں وہ اثر نہیں ہے\n\nسخن مرا کیف دل ہے ناطقؔ وہ قدر کرتے ہیں جو ہو عاشق\nنہیں ہے یہ فلسفہ کتابی یہ اکتسابی ہنر نہیں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%B6%D8%B1%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ دل وہ شیشہ ہے جھمکے ہے وہ پری جس میں", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ دل وہ شیشہ ہے جھمکے ہے وہ پری جس میں\nبھرا ہے موئے بہ مو سحر سامری جس میں\n\nیہ لعل لخت جگر ہے وہ لعل بیش بہا\nکہ کام کرتی نہیں چشم جوہری جس میں\n\nدیا ہے میں نے دل ایسے کو اور پریشاں ہوں\nنہ مہر ہے نہ محبت نہ دلبری جس میں\n\nخدا دو چار نہ ہم سے کرے کبھی اس کو\nنکلتی ہو تری آنکھوں سے کافری جس میں\n\nہٹے ہے مانیؔ سے لیلیٰ کہ وہ ورق تو دکھا\nلکھی ہے صورت مجنوں کی لاغری جس میں\n\nغضب ہے تو نے نہ دیکھا وہی مرا دل تھا\nبندھی ہوئی تھی ترے تیر کی سری جس میں\n\nکسی سے کام میاں مصحفیؔ نہ کچھ رکھیے\nوہ کام کیجئے ہو اپنی بہتری جس میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%88%DB%81_%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AC%DA%BE%D9%85%DA%A9%DB%92_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D9%BE%D8%B1%DB%8C_%D8%AC%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ دل وہ ہے کہ غموں سے جسے فراغ نہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا اظفری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ دل وہ ہے کہ غموں سے جسے فراغ نہیں\nمثال لالہ سے کیا دوں کچھ ایک داغ نہیں\n\nگلی میں تیری ہی دل بر سے گر پڑا دلبر\nمیں ڈھونڈوں اور کہاں جا کہیں سراغ نہیں\n\nہے داغ عشق سے روشن اور آہ سرد سے سرد\nہمارے دل کا تو خس خانہ بے چراغ نہیں\n\nپڑا جہاں ترا نقش قدم مرے گل رو\nوہ گل زمیں ہے کہاں جو کہ باغ باغ نہیں\n\nاے میرے غنچہ دہن میرے نرگس مخمور\nترے تماشے کا مشتاق کون باغ نہیں\n\nہے کون غنچہ صراحی بنا نہ تیرے حضور\nہے کون پھول جو مے کا ترے ایاغ نہیں\n\nکہاں کا شعر کہاں کی غزل کہاں کی بیت\nکروں جو فکر بھی اب وہ دل و دماغ نہیں\n\nنہ اظفریؔ سے کرو نظم و نثر کا مذکور\nنہ جی کچھ ان دنوں اپنا دماغ چاغ نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D9%88%DB%81_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D8%BA%D9%85%D9%88%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%B3%DB%92_%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ دل کی بات ہے کس نے کہی ہے", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ دل کی بات ہے کس نے کہی ہے\nمحبت خود سراسر آگہی ہے\n\nتمہیں کہہ دو کہ میں بالکل نہ سمجھا\nنظر جھینپی ہوئی کچھ کہہ رہی ہے\n\nیہ سر پر سایہ گستر خاک صحرا\nجنوں بے تاج کی شاہنشہی ہے\n\nوہ جس نے چھین لی ہے زندگانی\nمتاع زندگانی بھی وہی ہے\n\nجنون عشق خود منزل ہے کیفیؔ\nخرد کی راہ اس میں گمرہی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%B3_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کا", "poet_page": "مصنف:غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کا\nدیکھا تو صرف نام ہے بیت الحرام کا\n\nمعنی میں لفظ ایک ہے یہ رب و رام کا\nحاصل یہ ہے کہ ہے وہی حاصل کلام کا\n\nدیکھا تو سب حقیقت و معنی میں ایک ہیں\nصورت میں گرچہ فرق ہے آپس میں نام کا\n\nاس لا مکاں کا کوئی معین نہیں مکاں\nگر ہے تو دل ٹھکانا ہے اس کے مقام کا\n\nمسرور تیری مے سے اک عالم ہے ساقیا\nامیدوار میں بھی ہوں دو ایک جام کا\n\nآغاز عشق میں گیا دل ہاتھ سے مرے\nانجام کیا ہو دیکھیے اب میرے کام کا\n\nلیتے ہیں چور کرنے کو ہی سنگ دل حضور\nکیا ہے وگرنہ شیشۂ دل ان کے کام کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D9%88%D8%B4_%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D9%85_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "یہ دل ہے تو آفت میں پڑتے رہیں گے", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ دل ہے تو آفت میں پڑتے رہیں گے\nیوں ہی ایڑیاں ہم رگڑتے رہیں گے\n\nمحبت ہے بد نام کیوں کر بنے گی\nوہ ہم سے ہمیشہ بگڑتے رہیں گے\n\nاگر عشق رکھتا ہے تو عقل کھو دے\nیہ دونوں رہیں گے تو لڑتے رہیں گے\n\nبرے دن بری ساعتیں عشق میں ہیں\nسب احباب ہم سے بچھڑتے رہیں گے\n\nوہ سر کاٹ ڈالیں ہمارا تو کیا غم\nغرض ایسے ہی پاؤں پڑتے رہیں گے\n\nکہیں عاشقوں کا ٹھکانا نہیں ہے\nزمانے میں بستی اجڑتے رہیں گے\n\nجنوں نے تماشا بنایا ہے ہم کو\nدریچوں کے پردے ادھڑتے رہیں گے\n\nکبھی زلف سے ہو سکیں گے نہ سر بر\nاسی پیچ سے ہم پچھڑتے رہیں گے\n\nنہ خط بھیجنا ہم سے موقوف ہوگا\nکبوتر کی شہہ پر اکھڑتے رہیں گے\n\nجو کچھ ہم نے چاہا انہوں نے نہ چاہا\nہم اس مسئلے میں جھگڑتے رہیں گے\n\nغم و درد زیور ہے ہم عاشقوں کا\nنگیں داغ کے دل میں جڑتے رہیں گے\n\nقدم مے کدے سے نہ نکلے گا باہر\nیہیں نشہ میں گرتے پڑتے رہیں گے\n\nجدائی میں اے بحرؔ مرنا بھلا ہے\nجییں گے تو خفت سے گڑتے رہیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D9%81%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DA%91%D8%AA%DB%92_%D8%B1%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "یہ دلجمعی جئے جب تک جئے جینا اسی کا ہے", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ دلجمعی جئے جب تک جئے جینا اسی کا ہے\nپئے جو سیر ہو کے رات دن پینا اسی کا ہے\n\nنگہ کی برچھیاں جو سہہ سکے سینا اسی کا ہے\nہمارا آپ کا جینا نہیں جینا اسی کا ہے\n\nتصور اس رخ صافی کا رکھ مد نظر ناداں\nلگائے منہ جو آئینے کو آئینہ اسی کا ہے\n\nیہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی\nجو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے\n\nکدر ہو یا کہ صافی سب کو پی کر مست ہو جائے\nیہ ہم رندوں کا پینا کچھ نہیں پینا اسی کا ہے\n\nتماشا دیکھنا غیروں کے گھر کو پھونک کر کیسا\nجو اپنی آگ میں جل جائے خود کینہ اسی کا ہے\n\nفضائے دہر میں یہ سیر گہ جس نے بنا دی ہے\nتماشائی جہاں میں دیدۂ بینا اسی کا ہے\n\nبسر ہو میکدے میں پنج شنبہ بیٹھ کر جس کا\nجو مے نوشی میں کر دے صبح آدینہ اسی کا ہے\n\nامیدیں جب بڑھیں حد سے طلسمی سانپ ہیں ناصح\nجو توڑے یہ طلسم اے دوست گنجینہ اسی کا ہے\n\nمبارک ہیں یہ سب راتیں جو پینے میں کٹیں رندو\nگزارے یوں جو شب ہفتے کی آدینہ اسی کا ہے\n\nخدا لگتی کہے اے شادؔ جو اس پیر کے حق میں\nیقیں سمجھو دعا گو بھی یہ دیرینہ اسی کا ہے\n\nکدورت سے دل اپنا صاف رکھو شادؔ پیری ہے\nکہ جس کو منہ دکھانا ہے یہ آئینہ اسی کا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%84%D8%AC%D9%85%D8%B9%DB%8C_%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%AC%D8%A6%DB%92_%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ دم اس کہ وقت رخصت بہ صد اضطراب الٹا", "poet_page": "مصنف:غلام علی ہمدانی مصحفی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ دم اس کہ وقت رخصت بہ صد اضطراب الٹا\nکے بہ سوئے دِل مژہ سے وہیں خون ناب الٹا\n\nسر لوح اس کی صورت کہیں لکھ گیا تھا مانی\nاسے دیکھ کر نہ میں نے ورق کتاب الٹا\n\nمیں عجب یہ رسم دیکھی مُجھے روز عید قرباں\nوہی ذبح بھی کرے اُور وہی لے ثواب الٹا\n\nیہ الٹ گئی ہے قسمت کے جُو دِل کسی کو دوں میں\nوُہ مرے ہی سر سے مارے اسے کر خراب الٹا\n\nیہ نقاب پوش ظالم کوئی زور ہے کے جس نے\nکیے خون سیکڑوں اُور نہ ذرا نقاب الٹا\n\nجُو بوقت غسل اپنا وُہ پھرا لے مُوج سے منہ\nتُو پھراتے ہی منہ اس کہ لگے بہنے آب الٹا\n\nمیں لکھا ہے خط تُو قاصد پہ یہ ہوگا مُجھ پہ احساں\nانہیں پاؤں آئے گا تُو جُو لیے جواب الٹا\n\nتیرے آگے مہر تاباں ہے زمیں پہ سر بہ سجدہ\nیہ ورق کا گنجفے کہ نہیں آفتاب الٹا\n\nنہیں جائے شکوہ اِس سے ہمیں مصحفیؔ ہمیشہ\nیہ زمانے کا رہا ہے یُوں ہی انقلاب الٹا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%85_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%81_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA_%D8%A8%DB%81_%D8%B5%D8%AF_%D8%A7%D8%B6%D8%B7%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D9%B9%D8%A7"} {"title": "یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آ نہ سکے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آ نہ سکے\nکہ غنچے کھل تو سکے کھل کے مسکرا نہ سکے\n\nمری تباہیٔ دل پر تو رحم کھا نہ سکے\nجو روشنی میں رہے روشنی کو پا نہ سکے\n\nنہ جانے آہ کہ ان آنسوؤں پہ کیا گزری\nجو دل سے آنکھ تک آئے مژہ تک آ نہ سکے\n\nرہ خلوص محبت کے حادثات جہاں\nمجھے تو کیا مرے نقش قدم مٹا نہ سکے\n\nکریں گے مر کے بقائے دوام کیا حاصل\nجو زندہ رہ کے مقام حیات پا نہ سکے\n\nنیا زمانہ بنانے چلے تھے دیوانے\nنئی زمین نیا آسماں بنا نہ سکے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%86_%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%D8%B3_%D8%A2_%D9%86%DB%81_%D8%B3%DA%A9%DB%92"} {"title": "یہ دنیا کتنی پیاری ہے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہ دنیا کتنی پیاری ہے\nہر اک بات اس کی نیاری ہے\nیہ دنیا کتنی پیاری ہے\nمکاں آباد ہیں کیسے\nمکیں دل شاد ہیں کیسے\nیہ دنیا کتنی پیاری ہے\nکبھی دن ہے نظارے ہیں\nکبھی ہے رات تارے ہیں\nیہ دنیا کتنی پیاری ہے\nچمن میں پودے ہلتے ہیں\nگلے آپس میں ملتے ہیں\nیہ دنیا کتنی پیاری ہے\nگجر دم گاتی ہیں چڑیاں\nدلوں کو بھاتی ہیں چڑیاں\nیہ دنیا کتنی پیاری ہے\nکھلے ہیں پھول گلشن میں\nاگی ہیں جھاڑیاں بن میں\nیہ دنیا کتنی پیاری ہے\nہوا کے جھونکے آتے ہیں\nشگوفے مسکراتے ہیں\nیہ دنیا کتنی پیاری ہے\nپرندے چہچہاتے ہیں\nہمارا جی لبھاتے ہیں\nیہ دنیا کتنی پیاری ہے\nگھٹائیں گھر کے آتی ہیں\nبہاریں مینہ کی لاتی ہیں\nیہ دنیا کتنی پیاری ہے\nسمندر ہیں رواں دیکھو\nجہاز اور کشتیاں دیکھو\nیہ دنیا کتنی پیاری ہے\nیہ کوسوں تک ہرے جنگل\nدرختوں سے بھرے جنگل\nیہ دنیا کتنی پیاری ہے\nیہ دنیا کتنی پیاری ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%AA%D9%86%DB%8C_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ دور ترقی ہے رفعت کا زمانہ ہے", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ دور ترقی ہے رفعت کا زمانہ ہے\nذروں کو اٹھانا ہے تاروں سے ملانا ہے\n\nآغوش تصور ہے اور نقش جمیل ان کا\nدوری ہے نہ مجبوری آنا ہے نہ جانا ہے\n\nنیرنگ محبت ہے ہر راز مرے دل کا\nچپ ہوں تو حقیقت ہے کہہ دوں تو فسانا ہے\n\nارمان تجلی کا کوتاہ بھی کر قصہ\nاے دوست تجھے آخر اک دن نظر آنا ہے\n\nکیا شعبدہ ساماں ہے سیمابؔ زمانہ بھی\nہر شخص سمجھتا ہے میرا ہی زمانہ ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%D8%AA%D8%B1%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B1%D9%81%D8%B9%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں", "poet_page": "مصنف:ناجی شاکر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں\nکہے تھے مردم شرابی ان کوں نکل گئیں اپنی دے غلطیاں\n\nسوائے گل کے وہ شوخ انکھیاں کسی طرف کو نہیں ہیں راغب\nتو برگ نرگس اوپر بجا ہے لکھوں جو اپنے سجن کوں پتیاں\n\nصنم کی زلفاں کو ہجر میں اب گئے ہیں مجھ نین ہیں خواب راحت\nلگے ہے کانٹا نظر میں سونا کٹیں گی کیسے یہ کالی رتیاں\n\nجو شمع رو کے دو لب ہیں شیریں تو سبزۂ خط بجا ہے اس پر\nزمین پکڑی ہے طوطیوں نے سنیں جو میٹھی پیا کی بتیاں\n\nخیال کر کر بھٹک رہا ہوں نظر جو آئے تیور ہیں بانکے\nبناؤ بنتا نہیں ہے ناجیؔ جو اس سجن کو لگاؤں چھتیاں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%88%D8%B1_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D8%A7%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AE%D9%85%D8%A7%D8%B1_%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "یہ دَیرِ کُہن کیا ہے، انبارِ خس و خاشاک", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "یہ دَیرِ کُہن کیا ہے، انبارِ خس و خاشاک\nمشکل ہے گزر اس میں بے نالۂ آتش ناک\n\nنخچیرِ محبّت کا قصّہ نہیں طُولانی\nلُطفِ خلشِ پَیکاں، آسودگیِ فِتراک\n\nکھویا گیا جو مطلب ہفتاد و دو ملّت میں\nسمجھے گا نہ تُو جب تک بے رنگ نہ ہو ادراک\n\nاک شرعِ مسلمانی، اک جذبِ مسلمانی\nہے جذبِ مسلمانی سِرِّ فلک الافلاک\n\nاے رہروِ فرزانہ، بے جذبِ مسلمانی\nنے راہِ عمل پیدا نے شاخِ یقیں نم‌ناک\n\nرمزیں ہیں محبّت کی گُستاخی و بےباکی\nہر شوق نہیں گُستاخ، ہر جذب نہیں بےباک\n\nفارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جُنوں میرا\nیا اپنا گریباں چاک یا دامنِ یزداں چاک!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%D9%8E%DB%8C%D8%B1%D9%90_%DA%A9%D9%8F%DB%81%D9%86_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92%D8%8C_%D8%A7%D9%86%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D9%90_%D8%AE%D8%B3_%D9%88_%D8%AE%D8%A7%D8%B4%D8%A7%DA%A9"} {"title": "یہ دھوکا ہو نہ ہو امید ہی معلوم ہوتی ہے", "poet_page": "مصنف:کیفی چریاکوٹی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ دھوکا ہو نہ ہو امید ہی معلوم ہوتی ہے\nکہ مجھ کو دور سے کچھ روشنی معلوم ہوتی ہے\n\nخدا جانے کس انداز نظر سے تم نے دیکھا ہے\nکہ مجھ کو زندگی اب زندگی معلوم ہوتی ہے\n\nاسی کا نام شاید زندگی نے یاس رکھا ہے\nنفس کی جو کھٹک ہے آخری معلوم ہوتی ہے\n\nہوا ہے حسن سے کچھ اور عکس حسن خود داری\nخموشی ان کے ہونٹوں پر ہنسی معلوم ہوتی ہے\n\nنہ آیا ہاتھ میرے بڑھ کے جو دامن عنایت کا\nیہ محرومی طلب کی کچھ کمی معلوم ہوتی ہے\n\nجھکایا آج در پر اے زہے بخت سرافرازی\nتری رحمت قبول بندگی معلوم ہوتی ہے\n\nتجھے اپنے لیے دست کرم یہ جانتا ہوں میں\nکہ تو ہے جس قدر دنیا وہی معلوم ہوتی ہے\n\nکہاں ہوں کس طرف ہوں میں خبر اس کی نہیں مجھ کو\nیہی گم گشتگی کچھ آگہی معلوم ہوتی ہے\n\nسر موج نفس کشتئ دل کو کیا کہوں کیفیؔ\nابھرتی ہے جہاں تک ڈوبتی معلوم ہوتی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%AF%DA%BE%D9%88%DA%A9%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF_%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ ذرے جن کو ہم خاک رہ منزل سمجھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ ذرے جن کو ہم خاک رہ منزل سمجھتے ہیں\nزبان حال رکھتے ہیں زبان دل سمجھتے ہیں\n\nجسے سب لوگ حسن و عشق کی منزل سمجھتے ہیں\nبلند اس سے بھی ہم اپنا مقام دل سمجھتے ہیں\n\nحقیقت میں جو راز دوری منزل سمجھتے ہیں\nانہیں کو ہم سلوک عشق میں کامل سمجھتے ہیں\n\nہمیں کیوں وہ جفائے خاص کے قابل سمجھتے ہیں\nیہ راز دل ہے اس کو محرمان دل سمجھتے ہیں\n\nاسی اک جرم پر اغیار میں برپا قیامت ہے\nکہ ہم بیدار ہیں اور اپنا مستقبل سمجھتے ہیں\n\nنگاہوں میں کچھ ایسے بس گئے ہیں حسن کے جلوے\nکوئی محفل ہو لیکن ہم تری محفل سمجھتے ہیں\n\nکوئی مانے نہ مانے اس کو لیکن یہ حقیقت ہے\nہم اپنی زندگی میں غیب کو شامل سمجھتے ہیں\n\nیہ نرم و ناتواں موجیں خودی کا راز کیا جانیں\nقدم لیتے ہیں طوفاں عظمت ساحل سمجھتے ہیں\n\nحکومت کے مظالم جب سے ان آنکھوں نے دیکھے ہیں\nجگرؔ ہم بمبئی کو کوچۂ قاتل سمجھتے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B0%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D9%86_%DA%A9%D9%88_%DB%81%D9%85_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%B1%DB%81_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہم", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہم\nٹلنے کی نہیں یہ کالی بلا سمجھے ہوئے تھے شام سے ہم\n\nجب قیس پہاڑ اس سر سے ٹلے عید آئی تب آئی جان میں جان\nتا دیر عجب عالم میں رہے ہونٹوں کو ملائے جام سے ہم\n\nتھا موت کا کھٹکا جاں فرسا صد شکر کہ نکلا وہ کانٹا\nگر ہو نہ قیامت کا دھڑکا اب تو ہیں بڑے آرام سے ہم\n\nتامنزل جاناں ساتھ رہا کم بخت تصور غیروں کا\nشوق اپنے قدم کھینچا ہی کیا پلٹا ہی کیے ہر گام سے ہم\n\nالفت نے انہیں کی حق کی طرف پھیرا مرے دل کو شکر خدا\nتعمیر کریں مسجد کوئی کیونکر نہ بتوں کے نام سے ہم\n\nاے ہم نفسو دم لینے دو بھولے ہوئے نغمے یاد آ لیں\nآئے ہیں چمن میں اڑ کے ابھی چھوٹے ہیں اسی دم دام سے ہم\n\nباتوں میں گزرتے ہجر کے دن اے کاش کہ دونوں مل جاتے\nہم سے ہے دل ناکام خفا آزردہ دل ناکام سے ہم\n\nیوں ان کے ادب یا خاطر سے ہر بات کو لے لیں اپنے سر\nجب دل ہے انہیں کے قابو میں پھر پاک ہیں ہر الزام سے ہم\n\nوہ سمجھے کہ ہم نے مار لیا ہم سمجھے ملیں گے آخر وہ\nملتے ہی نگہ کے دونوں خوش آغاز سے وہ انجام سے ہم\n\nدنیا میں تخلص کوئی نہ تھا کیا نیل کا ٹیکا شادؔ ہی تھا\nتم وجہ نہ پوچھو کچھ اس کی چڑھ جاتے ہیں کیوں اس نام سے ہم", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%AA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D9%86%DA%A9_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%DA%A9%DB%8C_%DB%81%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%B9%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92_%D8%A8%DA%91%DB%92_%D8%A2%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85"} {"title": "یہ راز سوز محبت کبھی عیاں نہ ہوا", "poet_page": "مصنف:وفا لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل > نغمۂ ہزار (1911)", "year": "1911", "text_ur": "یہ راز سوز محبت کبھی عیاں نہ ہوا\nتمام خانۂ دل جل گیا دھواں نہ ہوا\n\nکبھی نہ خانۂ دل میں مرے وہ بت آیا\nمکین حیف ہے زینت دہ مکاں نہ ہوا\n\nہوا میں سوز تپ غم سے جل کے خاکستر\nپر اس طرح سے کہ پیدا ذرا دھواں نہ ہوا\n\nنہ بت کدے میں نظر آیا تو نہ کعبے میں\nخراب تیرے لئے میں کہاں کہاں نہ ہوا\n\nدوئی کا ہم نے تو دل سے اٹھا دیا پردہ\nہزار پردوں میں پر وہ صنم نہاں نہ ہوا\n\nحباب وار ہے بحر جہاں کے نشوونما\nنہ ہو بلا سے اگر قبر کا نشاں نہ ہوا\n\nصفائے قلب سے دیکھا کیا میں جلوۂ حسن\nحجاب مانع نظارۂ بتاں نہ ہوا\n\nملایا خاک میں جس کو فروغ پر دیکھا\nستم شعار کوئی تجھ سا آسماں نہ ہوا\n\nیہ کس کے بار الم نے اسے خمیدہ کیا\nجھکا کچھ ایسا کہ سیدھا پھر آسماں نہ ہوا\n\nبغل میں یار پری وش ہو دور ساغر ہو\nہمیں نصیب کسی روز یہ سماں نہ ہوا\n\nبہار میں نہ چلا ضعف سے جنوں کا زور\nکہ اپنا پیرہن تن یہ دھجیاں نہ ہوا\n\nاگر کہا تو کہا اس کو نقطۂ موہوم\nتیرے دہن پہ دہن کا کسی گماں نہ ہوا\n\nہوس یہ تھی ہمہ تن صرف شکر حق ہوئے\nمرے بدن کا ہر اک رونگٹا زباں نہ ہوا\n\nہوا ہے سرمۂ چشم بتاں پس مردن\nوفاؔ غبار بھی اپنا تو رائیگاں نہ ہوا", "license": "PD-anon-1923", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B1%D8%A7%D8%B2_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "یہ رنگ و کیف کہاں تھا شباب سے پہلے", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ رنگ و کیف کہاں تھا شباب سے پہلے\nنظر کچھ اور تھی موج شراب سے پہلے\n\nنہ جانے حال ہو کیا دور اضطراب کے بعد\nسکوں ملا نہ کبھی اضطراب سے پہلے\n\nوہی غریب ہیں خانہ خراب سے اب بھی\nرواں دواں تھے جو خانہ خراب سے پہلے\n\nوہی ہے حشر کا عالم اب انقلاب کے بعد\nجو حشر اٹھا تھا یہاں انقلاب سے پہلے\n\nملی ہے تجھ سے تو محسوس ہو رہی ہے نظر\nنظر کہاں تھی ترے انتخاب سے پہلے\n\nتباہ حال زمانے کو دیکھیے اخترؔ\nنظر اٹھائیے جام شراب سے پہلے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%D9%88_%DA%A9%DB%8C%D9%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D8%B4%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92"} {"title": "یہ رنگ گلاب کی کلی کا", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ رنگ گلاب کی کلی کا\nنقشہ ہے کس کی کم سنی کا\n\nبلبل کی بہار میں نہ پوچھو\nمنہ چومتی ہے کلی کلی کا\n\nہر وقت ہیں موت کی دعائیں\nاللہ رے لطف زندگی کا\n\nغنچوں کو صبا نے گدگدایا\nدشوار ہے ضبط اب ہنسی کا\n\nسمجھے تھے نہ ہم کہ تم پہ مرنا\nہو جائے گا روگ زندگی کا\n\nہوں ایک سے سب حسین کیونکر\nہے رنگ جدا کلی کلی کا\n\nمنہ پھیر کے یوں چلی جوانی\nیاد آ گیا روٹھنا کسی کا\n\nآئینہ بنا رہے ہو دل کا\nدل ٹوٹ نہ جائے آرسی کا\n\nدیکھو نہ جلیلؔ کو مٹاؤ\nمٹ جائے گا نام عاشقی کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B1%D9%86%DA%AF_%DA%AF%D9%84%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D9%84%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "یہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے", "poet_page": "مصنف:اختر شیرانی", "kind": "poetry", "section": "نظم", "year": null, "text_ur": "یہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے\nنہیں ہے پرائی ہمارے لیے ہے\nیہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے\nہمیں اس خدائی میں ہے کام کرنا\nبہت کام کرنا بڑا نام کرنا\nیہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے\nسکھاتے ہیں یہ شہر آباد ہونا\nاور آپس میں مل جل کے دل شاد ہونا\nیہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے\nیہ باغ اس لیے ہیں کہ پھرنے کو جائیں\nپھلوں اور پھولوں سے ہم لطف اٹھائیں\nیہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے\nکھلے مدرسے ہیں کہ ان میں پڑھیں ہم\nترقی کے رستے پہ آگے بڑھیں ہم\nیہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے\nکیا فتح ہم نے ہوائی فضا کو\nہوائی جہازوں سے چیرا ہوا کو\nیہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے\nسمندر پہ بھی ہے حکومت ہماری\nجہازوں میں ہے بند طاقت ہماری\nیہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے\nہمیں دم مشقت کا بھرتے ہیں جا کر\nبیابان آباد کرتے ہیں جا کر\nیہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے\nبہت عمریں محنت میں برباد کی ہیں\nیہ ریلیں تب انساں نے ایجاد کی ہیں\nیہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے\nزمیں اس لیے ہے کہ کھیتی کریں ہم\nمشقت کریں پیٹ اپنا بھریں ہم\nیہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ ساقی کی کرامت ہے کہ فیض مے پرستی ہے", "poet_page": "مصنف:بیدم وارثی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ ساقی کی کرامت ہے کہ فیض مے پرستی ہے\nگھٹا کے بھیس میں مے خانے پر رحمت برستی ہے\n\nیہ جو کچھ دیکھتے ہیں ہم فریب خواب ہستی ہے\nتخیل کے کرشمے ہیں بلندی ہے نہ پستی ہے\n\nوہاں ہیں ہم جہاں بیدمؔ نہ ویرانہ نہ بستی ہے\nنہ پابندی نہ آزادی نہ ہشیاری نہ مستی ہے\n\nتری نظروں پہ چڑھنا اور ترے دل سے اتر جانا\nمحبت میں بلندی جس کو کہتے ہیں وہ پستی ہے\n\nوہی ہم تھے کبھی جو رات دن پھولوں میں تلتے تھے\nوہی ہم ہیں کہ تربت چار پھولوں کو ترستی ہے\n\nکرشمے ہیں کہ نقاش ازل نیرنگیاں تیری\nجہاں میں مائل رنگ فنا ہر نقش ہستی ہے\n\nاسے بھی ناوک جاناں تو اپنے ساتھ لیتا جا\nکہ میری آرزو دل سے نکلنے کو ترستی ہے\n\nہر اک ذرے میں ہے انی انا اللہ کی صدا ساقی\nعجب میکش تھے جن کی خاک میں بھی جوش مستی ہے\n\nخدا رکھے دل پر سوز تیری شعلہ افشانی\nکہ تو وہ شمع ہے جو رونق دربار ہستی ہے\n\nمرے دل کے سوا تو نے بھی دیکھی بیکسی میری\nکہ آبادی نہ ہو جس میں کوئی ایسی بھی بستی ہے\n\nحجابات تعین مانع دیدار سمجھا تھا\nجو دیکھا تو نقاب روئے جاناں میری ہستی ہے\n\nعجب دنیائے حیرت عالم گور غریباں ہے\nکہ ویرانے کا ویرانہ ہے اور بستی کی بستی ہے\n\nکہیں ہے عبد کی دھن اور کہیں شور انا الحق ہے\nکہیں اخفائے مستی ہے کہیں اظہار مستی ہے\n\nبنایا رشک مہر و مہ تری ذرہ نوازی نے\nنہیں تو کیا ہے بیدمؔ اور کیا بیدمؔ کی ہستی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%81%DB%8C%D8%B6_%D9%85%DB%92_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا\nمحبت میں جو دل مل جائے پھر کیا ہو نہیں سکتا\n\nشکایت ہو نہیں سکتی کہ شکوا ہو نہیں سکتا\nذرا سا چھیڑ دے کوئی تو پھر کیا ہو نہیں سکتا\n\nبرائی کا عوض ہرگز بھلائی ہو نہیں سکتی\nبرا کہہ کر کسی کو کوئی اچھا ہو نہیں سکتا\n\nہمارا ان کا قصہ لوگ سنتے ہیں تو کہتے ہیں\nمزا ہے حشر تک یکسو یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا\n\nکریں تیری شکایت کیا کہ تو اک دوست ہے اپنا\nکسی دشمن کا بھی ہم سے تو شکوا ہو نہیں سکتا\n\nالٰہی جذب دل کی اس کشش سے باز آیا میں\nکوئی پردہ نشیں کہتا ہے پردہ ہو نہیں سکتا\n\nحفیظؔ ان کی غزل ہے چوٹ کھا بیٹھی ہیں جو دل پر\nبغیر اس کے سخن میں لطف پیدا ہو نہیں سکتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%DB%81%D9%88_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7"} {"title": "یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہم ان کو چھوڑ بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:ظہیر دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہم ان کو چھوڑ بیٹھے ہیں\nجب آنکھیں چار ہوتی ہیں مروت آ ہی جاتی ہے\n\nوہ اپنی شوخیوں سے کوئی اب تک باز آتے ہیں\nہمیشہ کچھ نہ کچھ دل میں شرارت آ ہی جاتی ہے\n\nنہ الجھو طعنۂ دشمن پہ ایسا ہو ہی جاتا ہے\nجہاں اخلاص ہوتا ہے شکایت آ ہی جاتی ہے\n\nلیا جب نام الفت کا بدل جاتی ہے سیرت بھی\nنگاہ شرم آگیں میں شرارت آ ہی جاتی ہے\n\nکبھی چتون سے ان بن ہے کبھی سودا ہے گیسو کا\nنصیبوں کی یہ شامت ہے کہ شامت آ ہی جاتی ہے\n\nہمیشہ عہد ہوتے ہیں نہیں ملنے کے اب ان سے\nوہ جب آ کر لپٹتے ہیں محبت آ ہی جاتی ہے\n\nکہیں آرام سے دو دن فلک رہنے نہیں دیتا\nہمیشہ اک نہ اک سر پر مصیبت آ ہی جاتی ہے\n\nحساب دوستاں در دل تقاضا ہے محبت کا\nمثل مشہور ہے الفت سے الفت آ ہی جاتی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%D9%88_%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ سبزہ اور یہ آب رواں اور ابر یہ گہرا", "poet_page": "مصنف:شاہ مبارک آبرو", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ سبزہ اور یہ آب رواں اور ابر یہ گہرا\nدوانہ نہیں کہ اب گھر میں رہوں میں چھوڑ کر صحرا\n\nاندھیری رات میں مجنوں کو جنگل بیچ کیا ڈر ہے\nپپیہا کو کلا کیوں مل کے دے ہیں ہر گھڑی پہرا\n\nگیا تھا رات جھڑ بدلی میں ظالم کس طرف کوں تو\nتڑپ سیں دل مرا بجلی کی جوں اب لگ نہیں ٹھہرا\n\nوہ کاکل اس طرح کے ہیں بلا کالے کہ جو دیکھے\nتو مر جا ناگ اس کا آب ہو جا خوف سیں زہرا\n\nایسی کہانی بکٹ ہے عشق کافر کی جو دیکھے\nتو روویں نہ فلک اور چشم ہو جاں ان کی نو نہرا\n\nرواں نہیں طبع جس کی شعر تر کی طرز پانے میں\nنہیں ہوتا ہے اس کوں آبروؔ کے حرف سیں بہرا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%A8%D8%B2%DB%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%D8%A2%D8%A8_%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%DB%8C%DB%81_%DA%AF%DB%81%D8%B1%D8%A7"} {"title": "یہ سر بہ مہر بوتلیں ہیں جو شراب کی", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ سر بہ مہر بوتلیں ہیں جو شراب کی\nراتیں ہیں ان میں بند ہماری شباب کی\n\nپوچھو نہ ہم سے عالم غفلت کے خواب کی\nدنیا کچھ اور ہی تھی ہمارے شباب کی\n\nیہ نشہ آنکھ دیکھ کے اس مست خواب کی\nجیسے ابھی چڑھائی ہو بوتل شراب کی\n\nسرخی شفق کی شکل مہ و آفتاب کی\nچھلکی ہوئی شراب ہے جام و شراب کی\n\nکیوں ٹوٹتی ہیں بجلیوں پر آج بجلیاں\nشاید گرہ کھلی ترے بند نقاب کی\n\nمینا و جام دیکھ کے خوش ہوگا محتسب\nسمجھے گا وہ کھلی ہوئی کلیاں گلاب کی\n\nتھی سر بہ مہر پھوٹ گئی اپنے زور میں\nتوبہ سے پہلے ٹوٹی ہے بوتل شراب کی\n\nشرما گئیں جو بوسۂ لب باغ میں لیا\nسمٹی ہیں کیا کھلی ہوئی کلیاں گلاب کی\n\nہم نے تمام عمر میں کتنی شراب پی\nشاید بتا سکے ہمیں میزاں حساب کی\n\nچہرے کا رنگ دیکھ لو تم رکھ کے آئنہ\nبوسے سے دوڑ جائے گی سرخی شہاب کی\n\nمحفل میں پی جو پھول تو اس احتیاط سے\nمینائے مے نے بو نہ کبھی دی شراب کی\n\nاے کثرت گناہ ترے ڈر سے دب گئی\nدیکھا مجھے کہ جھک گئی میزاں حساب کی\n\nذرہ ہوا میں بھر کے بنا آدمی کی شکل\nقطرہ ہوا میں بھر کے ہے صورت حباب کی\n\nچکر ہوا نے اتنے دیئے ہیں کہ گرد باد\nتصویر بن گیا ہے مرے پیچ و تاب کی\n\nسائے سے اس کی زلف کے بنت عنب کو کیا\nبن کر پری اڑے گی یہ بوتل شراب کی\n\nیہ کہہ کے کل دکھائے انہیں پارۂ جگر\nبکھری ہوئی یہ پنکھڑیاں ہیں گلاب کی\n\nہر شام ساتھ لاتی ہے اک چودھویں کا چاند\nکیا جانیں کیا کریں گی یہ راتیں شباب کی\n\nکم بخت نے شراب کا ذکر اس قدر کیا\nواعظ کے منہ سے آنے لگی بو شراب کی\n\nدو گھونٹ پر شراب کے ہے حصر زندگی\nراتیں شباب کی ہیں نہ باتیں شباب کی\n\nکام آئے گی ریاضؔ کے مشق طواف خم\nکعبے کے گرد ہوں گے جو سوجھی ثواب کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%B1_%D8%A8%DB%81_%D9%85%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D9%88%D8%AA%D9%84%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "یہ سرودِ قُمری و بُلبل فریبِ گوش ہے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "یہ سرودِ قُمری و بُلبل فریبِ گوش ہے\nباطنِ ہنگامہ آبادِ چمن خاموش ہے\n\nتیرے پیمانوں کا ہے یہ اے مئے مغرب اثر\nخندہ زن ساقی ہے، ساری انجمن بے ہوش ہے\n\nدہر کے غم خانے میں تیرا پتا مِلتا نہیں\nجُرم تھا کیا آفرینش بھی کہ تو رُوپوش ہے\n\nآہ! دنیا دل سمجھتی ہے جسے، وہ دل نہیں\nپہلوئے انساں میں اک ہنگامۂ خاموش ہے\n\nزندگی کی رہ میں چل، لیکن ذرا بچ بچ کے چل\nیہ سمجھ لے کوئی مِینا خانہ بارِ دوش ہے\n\nجس کے دم سے دلّی و لاہور ہم پہلو ہوئے\nآہ، اے اقبالؔ! وہ بُلبل بھی اب خاموش ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%AF%D9%90_%D9%82%D9%8F%D9%85%D8%B1%DB%8C_%D9%88_%D8%A8%D9%8F%D9%84%D8%A8%D9%84_%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D9%90_%DA%AF%D9%88%D8%B4_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ سست ہے تو پھر کیا وہ تیز ہے تو پھر کیا", "poet_page": "مصنف:اکبر الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ سست ہے تو پھر کیا وہ تیز ہے تو پھر کیا\nنیٹیو جو ہے تو پھر کیا انگریز ہے تو پھر کیا\n\nرہنا کسی سے دب کر ہے امن کو ضروری\nپھر کوئی فرقہ ہیبت انگیز ہے تو پھر کیا\n\nرنج و خوشی کی سب میں تقسیم ہے مناسب\nبابو جو ہے تو پھر کیا چنگیز ہے تو پھر کیا\n\nہر رنگ میں ہیں پاتے بندے خدا کے روزی\nہے پینٹر تو پھر کیا رنگریز ہے تو پھر کیا\n\nجیسی جسے ضرورت ویسی ہی اس کی چیزیں\nیاں تخت ہے تو پھر کیا واں میز ہے تو پھر کیا\n\nمفقود ہیں اب اس کے سننے سمجھنے والے\nمیرا سخن نصیحت آمیز ہے تو پھر کیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D8%B3%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%88%DB%81_%D8%AA%DB%8C%D8%B2_%DB%81%DB%92_%D8%AA%D9%88_%D9%BE%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7"} {"title": "یہ سنگ نشاں ہے منزل وحدت کا", "poet_page": "مصنف:امجد حیدرآبادی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یہ سنگ نشاں ہے منزل وحدت کا\nپیدا ہوا پھر کوئی نہ اس صورت کا\nانسان جسے کہتے ہیں دنیا والے\nقد آدم ہے آئینہ قدرت کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B3%D9%86%DA%AF_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84_%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "یہ سچ ہے ہر جگہ تم جلوہ گر ہو", "poet_page": "مصنف:محمود رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ سچ ہے ہر جگہ تم جلوہ گر ہو\nوہ دیکھے جس کی آنکھیں ہوں نظر ہو\n\nعداوت میں عداوت کی ہو تاثیر\nمحبت میں محبت کا اثر ہو\n\nمزا جب ہے کہ ہمدم رنگ لائے\nلہو دل کا ہو یا خون جگر ہو\n\nوہ عرض وصل پر اس بت کا کہنا\nخدا کا واسطہ کیوں میرے سر ہو\n\nوہ چاہے ان بتان سنگ دل کو\nالٰہی جس کا پتھر کا جگر ہو\n\nنہیں دن سن تمہارے وہ کہ محمودؔ\nتمہاری عمر غفلت میں بسر ہو", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B3%DA%86_%DB%81%DB%92_%DB%81%D8%B1_%D8%AC%DA%AF%DB%81_%D8%AA%D9%85_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88"} {"title": "یہ سیدھے جو اب زلفوں والے ہوئے ہیں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ سیدھے جو اب زلفوں والے ہوئے ہیں\nہمارے ہی سب بل نکالے ہوئے ہیں\n\nتبسم فزا میرے نالے ہوئے ہیں\nذرا شوخ اب شرم والے ہوئے ہیں\n\nمرے ہاتھ پر کھیلے ہیں افعی زلف\nیہ سانپ آستینوں کے پالے ہوئے ہیں\n\nنہیں ہم کو لغزش کا ڈر میکدے میں\nکہ دو دو فرشتے سنبھالے ہوئے ہیں\n\nالجھتے ہیں سوتے میں زلفوں سے کیا کیا\nوبال ان کو کانوں کے بالے ہوئے ہیں\n\nچھپا کر بہت پی ہے مسجد میں واعظ\nیہ ظرف‌ وضو سب کھنگالے ہوئے ہیں\n\nشب وصل بولے نہ اب دل میں آئیں\nجو ارمان میرے نکالے ہوئے ہیں\n\nالگ ہے خدائی سے کچھ ساخت ان کی\nیہ بت اور سانچے میں ڈھالے ہوئے ہیں\n\nجو یاد اب تک آتے ہیں اہل چمن کو\nقفس میں وہی نغمے نالے ہوئے ہیں\n\nکسی پر دم حشر کیا آنکھ ڈالوں\nحسیں سب مرے دیکھے بھالے ہوئے ہیں\n\nجنوں رنگ لایا ہے پھر فصل گل میں\nنہیں لالہ سب زخم آلے ہوئے ہیں\n\nچراغ اب شب وصل جلنے نہ دیں گے\nوہ گیسو جو بل کھا کے کالے ہوئے ہیں\n\nنزاکت نے تیری گرایا نظر سے\nسب کتنے بھاری دوشالے ہوئے ہیں\n\nیہ اے شیخ گنبد نہیں مسجدوں میں\nخم مے ہمارے اچھالے ہوئے ہیں\n\nبھری بزم میں لطف خلوت نہیں ہے\nوہ نشے میں ہیں ہم سنبھالے ہوئے ہیں\n\nیہ کہتی ہے مست آنکھ ان کی شب وصل\nکئی آج خالی پیالے ہوئے ہیں\n\nبہے ہیں جو فرقت میں آنکھوں سے میری\nوہ دریا تو آنکھیں نکالے ہوئے ہیں\n\nارے کانٹو جو اشک مژگاں سے ٹپکے\nوہی پاؤں پڑ پڑ کے چھالے ہوئے ہیں\n\nسبو آب زمزم سے دھو کر بھری مے\nاچھوتے ہیں جتنے کھنگالے ہوئے ہیں\n\nجوانی میں کیوں سر اٹھائیں نہ گیسو\nکہ اب ڈسنے والے یہ کالے ہوئے ہیں\n\nوہ محشر میں کیا عیب کھولیں گے میرے\nجو رحمت سے اب پردہ ڈالے ہوئے ہیں\n\nسنا ہے ریاضؔ اپنی داڑھی بڑھا کر\nبڑھاپے میں اللہ والے ہوئے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B3%DB%8C%D8%AF%DA%BE%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%A8_%D8%B2%D9%84%D9%81%D9%88%DA%BA_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ شہر بلند عالم بالا سے تھا", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یہ شہر بلند عالم بالا سے تھا\nہم شکل غرض جنت ماویٰ سے تھا\nاب کیا ہے اک آبادیٔ ریگستاں ہے\nدہلی کو شرف قلعۂ معلی سے تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B4%DB%81%D8%B1_%D8%A8%D9%84%D9%86%D8%AF_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یہ صنم بھی گھٹور کتنے ہیں", "poet_page": "مصنف:شاد لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ صنم بھی گھٹور کتنے ہیں\nبت بنے سن رہے ہیں جتنے ہیں\n\nصبح پیری ہے غافلان جہاں\nخواب خرگوش میں ہیں جتنے ہیں\n\nموج در موج ہے تباہی میں\nدم بخود ہیں حباب جتنے ہیں\n\nبوئے گل ہو کہ نکہت گل ہو\nخانہ برباد ہیں یہ جتنے ہیں\n\nطرفہ قاتل ہے جس کے مورد ملخ\nبے چھری ہیں حلال جتنے ہیں\n\nخوش نوا یہ ہے نالۂ بلبل\nہمہ تن گوش گل ہیں جتنے ہیں\n\nاے صنم تو وہ ہے نے و ناقوس\nدم ترا بھر رہے ہیں جتنے ہیں\n\nہر روش باغ دہر میں گل تر\nدیدۂ منتظر ہیں جتنے ہیں\n\nایک میں کیا ہوں محو صورت صاف\nحیرتی آئنے ہیں جتنے ہیں\n\nکل غزل ایک قافیہ اے شادؔ\nشعر معیوب ہیں یہ جتنے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B5%D9%86%D9%85_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%AA%D9%86%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ عجب تم نے نکالا سونا", "poet_page": "مصنف:نظام رامپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ عجب تم نے نکالا سونا\nرات کا جاگنا دن کا سونا\n\nبخت خفتہ سے تو امید نہیں\nساتھ ہوگا کبھی اس کا سونا\n\nکس قدر ہجر میں بے ہوشی ہے\nجاگنا بھی ہے ہمارا سونا\n\nمجھ سے تنگ آ کے یہ بولے شب وصل\nیہ ہی تم ہو تو نہ ہوگا سونا\n\nبس دم صبح ستاؤ نہ مجھے\nیاد وہ ضد ہے وہ اپنا سونا\n\nلے کے انگڑائی لپٹ جانا ہائے\nہائے وہ ساتھ کسی کا سونا\n\nآپ کروٹ تو ادھر کو لیجیے\nجانتا ہوں میں تمہارا سونا\n\nسر کہیں ہاتھ کہیں پاؤں کہیں\nیہ نئی دھج ہے نرالا سونا\n\nپھر شب وصل ہو پھر ہو یارب\nجاگنا میرا اور ان کا سونا\n\nآنکھیں پھوٹیں جو جھپکتی بھی ہوں\nشب تنہائی میں کیسا سونا\n\nوہ کھلی آنکھ وہ لب پر ہے ہنسی\nہم نہیں مانتے ایسا سونا\n\nرات آنکھوں میں گزر جاتی ہے\nان دنوں ہے یہ ہمارا سونا\n\nہائے وہ وصل کی شب کا عالم\nہائے وہ پچھلے پہر کا سونا\n\nکیا لگے آنکھ جو یاد آئے نظامؔ\nرکھ کے زانو پہ سر اس کا سونا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B9%D8%AC%D8%A8_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92_%D9%86%DA%A9%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%B3%D9%88%D9%86%D8%A7"} {"title": "یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا", "poet_page": "مصنف:مومن خان مومن", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا\nمیں الزام اس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا\n\nنہ شادی مرگ ہوں کیوں کر ہے مژدہ قتل دشمن کا\nکہ گھر میں سے لیے شمشیر وہ روتا نکل آیا\n\nستم اے گرمی ضبط فغان و آہ چھاتی پر\nکبھو بس پڑ گیا چھالا کبھو پھوڑا نکل آیا\n\nکیا زنجیر مجھ کو چارہ گر نے کن دنوں میں جب\nعدو کی قید سے وہ شوخ بے پروا نکل آیا\n\nنکل آیا اگر آنسو تو ظالم مت نکال آنکھیں\nسنا معذور ہے مضطر نکل آیا نکل آیا\n\nہمارے خوں بہا کا غیر سے دعویٰ ہے قاتل کو\nیہ بعد انفصال اب اور ہی جھگڑا نکل آیا\n\nہوئی بلبل ثنا خوان دہان تنگ کس گل کی\nکہ فروردی میں غنچہ کا منہ اتنا سا نکل آیا\n\nکوئی تیر اس کا دل میں رہ گیا تھا کیا کہ آنکھوں سے\nابھی رونے میں اک پیکان کا ٹکڑا نکل آیا\n\nدم بسمل یہ کس کے خوف سے ہم پی گئے آنسو\nکہ ہر زخم بدن سے خون کا دریا نکل آیا\n\nخدنگ یار کے ہم راہ نکلی جان سینے سے\nیہی ارمان اک مدت سے جی میں تھا نکل آیا\n\nبہت نازاں ہے تو اے قیس پر وحشت دکھاؤں گا\nکتابوں میں کبھو قصہ جو مومنؔ کا نکل آیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B9%D8%B0%D8%B1_%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%86_%D8%AC%D8%B0%D8%A8_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%86%DA%A9%D9%84_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "یہ عرض شوق ہے آرائش بیاں بھی تو ہو", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ عرض شوق ہے آرائش بیاں بھی تو ہو\nادا شناس تو ہے آنکھ خونچکاں بھی تو ہو\n\nخدا خفا ہے تو سچے ہیں ناصحان عزیز\nہمارے لب پہ کبھی شکوۂ بتاں بھی تو ہو\n\nیہ رنگ و نکہت و ترکیب و لفظ خیرہ سری\nز راہ دیدہ بہ دل موج خوں رواں بھی ہو\n\nہمیں بھی نغمہ گری پر ہے ناز بات تو کر\nہمیں بھی جاں نہیں پیاری ہے امتحاں بھی تو ہو\n\nابھی تو ہوں در و دیوار ہی سے محو کلام\nحریف دولت غم کوئی راز داں بھی تو ہو\n\nقتیل ناز ہوں اے وائے اعتماد وفا\nوہ التفات کرے پہلے بد گماں بھی تو ہو\n\nکسی کو ان سے محبت کسی کو مجھ سے حسد\nملیں وہ مجھ سے مگر کوئی درمیاں بھی تو ہو", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B9%D8%B1%D8%B6_%D8%B4%D9%88%D9%82_%DB%81%DB%92_%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D8%B4_%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D9%88"} {"title": "یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہے\nقطرہ میں سمندر ہے ذرہ میں بیاباں ہے\n\nہے عشق کہ محشر میں یوں مست و خراماں ہے\nدوزخ بگریباں ہے فردوس بہ داماں ہے\n\nہے عشق کی شورش سے رعنائی و زیبائی\nجو خون اچھلتا ہے وہ رنگ گلستاں ہے\n\nپھر گرم نوازش ہے ضو مہر درخشاں کی\nپھر قطرۂ شبنم میں ہنگامۂ طوفاں ہے\n\nاے پیکر محبوبی میں کس سے تجھے دیکھوں\nجس نے تجھے دیکھا ہے وہ دیدۂ حیراں ہے\n\nسو بار ترا دامن ہاتھوں میں مرے آیا\nجب آنکھ کھلی دیکھا اپنا ہی گریباں ہے\n\nاک شورش بے حاصل اک آتش بے پردا\nآفت کدۂ دل میں اب کفر نہ ایماں ہے\n\nدھوکا ہے یہ نظروں کا بازیچہ ہے لذت کا\nجو کنج قفس میں تھا وہ اصل گلستاں ہے\n\nاک غنچۂ افسردہ یہ دل کی حقیقت تھی\nیہ موجزنی خوں کی رنگینئ پیکاں ہے\n\nیہ حسن کی موجیں ہیں یا جوش تبسم ہے\nاس شوخ کے ہونٹوں پر اک برق سی لرزاں ہے\n\nاصغرؔ سے ملے لیکن اصغرؔ کو نہیں دیکھا\nاشعار میں سنتے ہیں کچھ کچھ وہ نمایاں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%DB%81%DB%92_%DB%8C%DB%81_%D8%B9%D9%82%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ عطر بیزیاں نہیں نسیم نوبہار کی", "poet_page": "مصنف:اقبال سہیل", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ عطر بیزیاں نہیں نسیم نوبہار کی\nاڑا کے لائی ہے صبا شمیم زلف یار کی\n\nبس اتنی کائنات ہے حیات مستعار کی\nشباب ہے حباب کا بہار ہے شرار کی\n\nفریب کاریاں نہ پوچھ جوش انتظار کی\nتمام شب سنا کئے صدا خرام یار کی\n\nیہ مختصر سی داستاں ہے جبر و اختیار کی\nکرشمہ ساز کوئی ہو خطا گناہ گار کی\n\nحقیقت فریب حسن عالم آشکار کی\nیہ ابتدائے فتح ہے جنون پختہ کار کی\n\nمجھے تو آنکھ کھلتے ہی قفس کی تیلیاں ملیں\nمری بلا سے گر چمن میں فصل ہے بہار کی\n\nترے نثار زخم عشق کچھ وہ لذتیں ملیں\nبلائیں لے رہا ہے دل خدنگ جاں شکار کی\n\nرہ طلب کی لذتیں ہیں اور ہمت آفریں\nیہ تلخیاں ہیں تلخیاں شراب خوش گوار کی\n\nسہیلؔ تیری شاعری ہے یا فسون سامری\nروانیاں ہیں نظم میں خرام جوئے یار کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%B9%D8%B7%D8%B1_%D8%A8%DB%8C%D8%B2%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%D9%86%D9%88%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "یہ غضب بیٹھے بٹھائے تجھ پہ کیا نازل ہوا", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ غضب بیٹھے بٹھائے تجھ پہ کیا نازل ہوا\nاٹھ چلا دنیا سے کیوں تو تجھ کو اے دل کیا ہوا\n\nشکل ہی ایسی بنائی ہے تری اللہ نے\nمت خفا ہو گر ہوا میں تجھ پہ مائل کیا ہوا\n\nان دنوں حالت تری پاتا ہوں میں اپنی سی یار\nخوبرو تجھ سا کوئی تیرے مقابل کیا ہوا\n\nاے بت خونخوار اک زخمی ترے کوچے میں تھا\nسو کئی دن سے خدا جانے وہ گھائل کیا ہوا\n\nزنگ ہو کر قیس کا دل کارواں در کارواں\nنت یہ کہتا ہے کہ وہ لیلیٰ کا محمل کیا ہوا\n\nفکر مرہم مت کرو یارو یہ بتلاؤ مجھے\nجس کے ہاتھوں میں ہوا زخمی وہ قاتل کیا ہوا\n\nتھا جگر تو ٹکڑے ٹکڑے بر میں کیوں تڑپے ہے تو\nکیوں دلا تیغ جفا سے تو بھی بسمل کیا ہوا\n\nرنجشیں ایسی ہزار آپس میں ہوتی ہیں دلا\nوہ اگر تجھ سے خفا ہے تو ہی جا مل کیا ہوا\n\nاپنے بیگانے سبھی ہیں مت اٹھا محفل سے یار\nگر کسی ڈھب سے ہوا یاں میں بھی داخل کیا ہوا\n\nدیکھتے ہی تیری صورت مجھ کو اے آئینہ رو\nسخت حیرت ہے کہ پہلو میں نہیں دل کیا ہوا\n\nسوچ رہ رہ کر یہی آتا ہے اے جرأتؔ مجھے\nخلق کرنے سے مرے خالق کو حاصل کیا ہوا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%BA%D8%B6%D8%A8_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%D8%A8%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%D8%AC%DA%BE_%D9%BE%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%86%D8%A7%D8%B2%D9%84_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "یہ غلط ہے اے دل بد گماں کہ وہاں کسی کا گزر نہیں", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ غلط ہے اے دل بد گماں کہ وہاں کسی کا گزر نہیں\nفقط اس لیے یہ حجاب ہے کہ کسی کو تاب نظر نہیں\n\nکہو کچھ حقیقت مشتہر کہ مجھے کہیں کی خبر نہیں\nیہ مناظر دو جہاں ہیں کیا جو فریب ذوق نظر نہیں\n\nکسی آہ میں نہیں سوز جب کسی نالے میں جب اثر نہیں\nیہ کمال سوزش دل نہیں یہ فروغ داغ جگر نہیں\n\nچمک اٹھ رہی ہے جو پے بہ پے یہ تجلیوں کا خزانہ ہے\nیہ ہجوم برق تپاں نہیں یہ متاع درد جگر نہیں\n\nیہ ہے اہتمام حجاب کیوں یہ ہے بند و بست نقاب کیوں\nتمہیں آنکھ بھر کے میں دیکھ لوں وہ نظر نہیں وہ جگر نہیں\n\nوہ رہین لذت غم ہوں میں نہ ملی ازل میں جسے طرب\nمیں ہی اس کرم کا تھا منتظر میں ہی مستحق تھا مگر نہیں\n\nکبھی وقت ناز و نیاز ہے کبھی محو زلف ایاز ہے\nمگر اس پہ بھی دل غزنوی کرم آشنائے نظر نہیں\n\nیہ تعینات نظام تھے فقط ایک پردۂ ماسوا\nخبر اس کی جب سے ہوئی مجھے کوئی اس جہاں کی خبر نہیں\n\nتجھے کارگاہ فنا بتا انہی ہستیوں پہ غرور ہے\nجو شریک سود و زیاں نہیں جو رہین نفع و ضرر نہیں\n\nچمک اے چراغ ضمیر اب کہ طلوع مہر کمال ہو\nوہ لحد ہوں تیرہ و تار میں کہ جہاں بیاض سحر نہیں\n\nنہ وہ سوز ہے نہ وہ ساز ہے نہ وہ دل خزانۂ راز ہے\nوہ شرر ہوں جس میں دھواں نہیں وہ حجر ہوں جس میں شرر نہیں\n\nنظر اس کی ہے مری سمت ابھی مرا دامن گہریں نہ دیکھ\nابھی خون دل ہے رکا ہوا ابھی آنسوؤں سے یہ تر نہیں\n\nچمک اے تجلیٔ دل ربا نکل اے خلاصۂ دعا\nکہ نظارۂ دو جہاں فقط یہ مآل ذوق نظر نہیں\n\nیہ جبہ سائی بے محل مجھے شب کو دے رہی تھی خبر\nنہ مٹا دے ظلمت دہر جو وہ نشان سجدۂ در نہیں\n\nیہ تغیرات جہاں نہیں اثر تلون طبع ہے\nتری اک نظر کا کرشمہ یہ فلک کی گردش سر نہیں\n\nکہو شمع سے کہ یہ نقل کیا کوئی اپنا قصۂ غم کہے\nکرے اب فسانے کو مختصر کہ مجھے امید سحر نہیں\n\nہے تلاش اپنی فقط مجھے میں ملوں تو ہوں گی شکایتیں\nمجھے اب کسی سے گلا نہیں مجھے اب کسی کی خبر نہیں\n\nیہی منزلیں ہیں وہ منزلیں کہ جہنم ان سے پناہ لے\nدل نا شناس رہ وفا مجھے کوئی خوف و خطر نہیں\n\nمری غفلتوں کا گلا نہ کر یہی نظم کون و فساد ہے\nخبر اس طلسم نمود کی مجھے ہو چکی ہے مگر نہیں\n\nسبق اس سے لے کہ خبر ملے تجھے آنے والے زمانے کی\nہے تغیرات کا آئنہ یہ شکستہ کاسۂ سر نہیں\n\nیہ ہیں دار تیری نگاہ کے کسی ناتواں سے رکیں گے کیا\nدل داغ داغ عزیزؔ ہے ستم آزما یہ سپر نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D8%BA%D9%84%D8%B7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84_%D8%A8%D8%AF_%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81_%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ فرق جیتے ہی جی تک گدا‌ و شاہ میں ہے", "poet_page": "مصنف:جارج پیش شور", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ فرق جیتے ہی جی تک گدا‌ و شاہ میں ہے\nوگرنہ بعد فنا مشت خاک راہ میں ہے\n\nنشاں مقام کا غم اور نہ رہنما کوئی\nغرض کہ سخت اذیت عدم کی راہ میں ہے\n\nگدا نے چھوڑ کے دنیا کو نقد‌ دیں پایا\nبھلا یہ لطف کہاں شہ کے عز و جاہ میں ہے\n\nپسند طبع نہیں اپنی چار دن کا ملاپ\nمزا تو زیست کا اے میری جاں نباہ میں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%81%D8%B1%D9%82_%D8%AC%DB%8C%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C_%D8%AC%DB%8C_%D8%AA%DA%A9_%DA%AF%D8%AF%D8%A7%E2%80%8C_%D9%88_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ فلک یہ ماہ و انجم یہ زمین یہ زمانہ", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ فلک یہ ماہ و انجم یہ زمین یہ زمانہ\nترے حسن کی حکایت مرے عشق کا فسانہ\n\nیہ ہے عشق کی کرامت یہ کمال شاعرانہ\nابھی منہ سے بات نکلی ابھی ہو گئی فسانہ\n\nیہ مرا پیام کہنا تو صبا مودبانہ\nکہ گزر گیا ہے پیارے تجھے دیکھے اک زمانہ\n\nمجھے چاک جیب و دامن سے نہیں مناسبت کچھ\nیہ جنوں ہی کو مبارک رہ و رسم عامیانہ\n\nتجھے حادثات پیہم سے بھی کیا ملے گا ناداں\nترا دل اگر ہو زندہ تو نفس بھی تازیانہ\n\nوہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ\nجو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%81%D9%84%DA%A9_%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%A7%DB%81_%D9%88_%D8%A7%D9%86%D8%AC%D9%85_%DB%8C%DB%81_%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86_%DB%8C%DB%81_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81"} {"title": "یہ فیضِ عام شیوہ کہاں تھا نسیم کا", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ فیضِ عام شیوہ کہاں تھا نسیم کا\nآخر غلام ہوں میں تمہارا قدیم کا\n\nپیمانِ ترکِ جاہ لیا پیرِ دیر نے\nپیمانہ دے کے بادۂ عنبر شمیم کا\n\nکیا ڈھونڈتی ہے قوم، کہ آنکھوں میں قوم کی\nخلدِ بریں ہے طبقۂ اسفل جحیم کا\n\nاس شوخِ کج ادا سے نہ آئی موافقت\nکیونکر گلہ نہ ہو مجھے طبعِ سلیم کا\n\nشکوے یہ اب جو ہوتے ہیں باہم، نئے نہیں\nانداز ہم میں، اُن میں یہی ہے قدیم کا\n\nاس وقت ہم گنے گئے احبابِ خاص میں\nآیا جو تذکرہ کبھی لطفِ عمیم کا\n\nبدمستیاں کبھی، کبھی مستوری و عفاف\nدستور ہے طبیعتِ نا مستقیم کا\n\nاُس رشکِ گُل کو بسترِ گل سے ہے احتراز\nممنون ہوں عدو کے مزاجِ سقیم کا\n\nاے جانِ بے قرار ذرا صبر چاہیے\nبے شک ادھر بھی آئے گا جھونکا نسیم کا\n\nجس کی سرشت صاف نہ ہو آدمی نہیں\nنیرنگ و عشوہ کام ہے دیوِ رجیم کا\n\nاب جستجو ہے ان کو ہماری تو کیا حصول\nباقی نہیں اثر بھی عظامِ رمیم کا\n\nعاشق بھی ہم ہوئے تو عجب شخص کے ہوئے\nجو ایک دم میں خون کرے سو ندیم کا\n\nہم نے کئے قواعدِ وحشت جو منضبط\nاہلِ جنوں میں ہم کو لقب ہے حکیم کا\n\nہے کارنامہ جب سے بیاض اپنی شیفتہ\nتقویمِ سالِ رفتہ ہے دیواں کلیم کا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%81%DB%8C%D8%B6%D9%90_%D8%B9%D8%A7%D9%85_%D8%B4%DB%8C%D9%88%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%86%D8%B3%DB%8C%D9%85_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "یہ قصوں میں جو دکھ اٹھانے بندھے ہیں", "poet_page": "مصنف:شیخ قلندر بخش جرات", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ قصوں میں جو دکھ اٹھانے بندھے ہیں\nسو الفت ہی کے سب فسانے بندھے ہیں\n\nقفس میں سنو لو اسیران کہنہ\nبہ ہر شاخ نو آشیانے بندھے ہیں\n\nخدا جانے اس گھر میں کیا ہے کہ جس کے\nکئی در کے آگے دوانے بندھے ہیں\n\nوہ آنسو ہیں اپنے کہ سب کی گرہ میں\nکئی موتیوں کے خزانے بندھے ہیں\n\nہوا یہ دیار محبت کی بگڑی\nکہ سب رہنے والوں کے شانے بندھے ہیں\n\nملاقات کیا ہو رہے ٹھور بس ہم\nکہ جانے کے واں تو ٹھکانے بندھے ہیں\n\nلگیں کیوں نہ تیر نگہ دل جگر پر\nکہ اس چشم کے یہ نشانے بندھے ہیں\n\nفلک تیرے ہاتھوں بڑے تھے جو دانا\nسو اب ان کے پلوں میں دانے بندھے ہیں\n\nغضب سادہ رویوں کی ہے سادگی بھی\nکہ پھینٹے عجب صوفیانے بندھے ہیں\n\nہوئی گھر میں شادی تمہارے تو ایسی\nکہ جس کے جہاں میں فسانے بندھے ہیں\n\nنہ بلوانے کا ہم کو شکوہ ہے دیکھو\nبندھن وار اب تک پرانے بندھے ہیں\n\nبخیل اب یہ منعم نہیں کیونکہ جرأتؔ\nکسے جن کے خوانوں میں کھانے بندھے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%82%D8%B5%D9%88%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D8%AF%DA%A9%DA%BE_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%A8%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنو", "poet_page": "مصنف:بہادر شاہ ظفر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنو\nمرے فسانۂ غم کو مری زباں سے سنو\n\nسناؤ درد دل اپنا تو دم بہ دم فریاد\nمثال نے مری ہر ایک استخواں سے سنو\n\nکرو ہزار ستم لے کے ذکر کیا یک یار\nشکایت اپنی تم اس اپنے نیم جاں سے سنو\n\nخدا کے واسطے اے ہمدمو نہ بولو تم\nپیام لایا ہے کیا نامہ بر وہاں سے سنو\n\nتمہارے عشق نے رسوا کیا جہاں میں ہمیں\nہمارا ذکر نہ تم کیونکہ اک جہاں سے سنو\n\nسنو تم اپنی جو تیغ نگاہ کے اوصاف\nجو تم کو سننا ہو اس شوخ دلستاں سے سنو\n\nظفرؔ وہ بوسہ تو کیا دے گا پر کوئی دشنام\nجو تم کو سننا ہو اس شوخ دلستاں سے سنو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%82%D8%B5%DB%81_%D9%88%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%85_%D8%AC%D8%B3_%DA%A9%D9%88_%D9%82%D8%B5%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%B3%D9%86%D9%88"} {"title": "یہ قطرۂ شبنم نہیں اے سوز جگر آج", "poet_page": "مصنف:راج بہادر سکسینہ اوجؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل > تصویر خیال (1933)", "year": "1933", "text_ur": "یہ قطرۂ شبنم نہیں اے سوز جگر آج\nڈوبی ہوئی آئے ہے پسینوں میں سحر آج\n\nبے وجہ نہیں فطرت شوخی کا گزر آج\nتم آنکھ ملا کر جو چراتے ہو نظر آج\n\nوہ آئے عیادت کو تو آئی ہے قضا بھی\nمہماں ہوئے اک وقت میں دو دو مرے گھر آج\n\nارمان نکلنے دیے کس سوختہ دل کا\nہے وصل کی شب بول نہ اے مرغ سحر آج\n\nوہ کعبۂ دل توڑتے ہیں سنگ جفا سے\nبرباد ہوا جاتا ہے اللہ کا گھر آج\n\nہر اشک کے دامن میں ہے اک منظر طوفاں\nکیا ڈوب ہی جائے گی یہ کشتئ نظر آج\n\nڈوبی ہوئی نبضیں یہ پتہ دیتی ہیں مجھ کو\nاے اوجؔ نہ ہوگی شب فرقت کی سحر آج", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%82%D8%B7%D8%B1%DB%82_%D8%B4%D8%A8%D9%86%D9%85_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D8%AC%DA%AF%D8%B1_%D8%A2%D8%AC"} {"title": "یہ قول کسی بزرگ کا سچا ہے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یہ قول کسی بزرگ کا سچا ہے\nڈالی سے جدا نہ ہو تو پھل کچا ہے\nچھوڑی نہیں جس نے حب دنیا دل سے\nگو ریش سفید ہو مگر بچا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%82%D9%88%D9%84_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%D8%B2%D8%B1%DA%AF_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%DA%86%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ مایوسی کہیں وجہ سکون دل نہ بن جائے", "poet_page": "مصنف:چراغ حسن حسرت", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "یہ مایوسی کہیں وجہ سکون دل نہ بن جائے\nغم بے حاصلی ہی عشق کا حاصل نہ بن جائے\n\nمدد اے جذب دل راہ محبت سخت مشکل ہے\nخیال دورئ منزل کہیں منزل نہ بن جائے\n\nنہیں ہے دل تو کیا پہلو میں ہلکی سی خلش تو ہے\nیہ ہلکی سی خلش ہی رفتہ رفتہ دل نہ بن جائے\n\nہجوم شوق اور راہ محبت کی بلا خیزی\nکہیں پہلا قدم ہی آخری منزل نہ بن جائے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%A7%DB%8C%D9%88%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D8%AC%DB%81_%D8%B3%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%AF%D9%84_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D9%86_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "یہ مجھ سے نہ پوچھ تو نے کیا کیا دیکھا", "poet_page": "مصنف:احمد حسین مائل", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یہ مجھ سے نہ پوچھ تو نے کیا کیا دیکھا\nیا رب جو کچھ نظر نے دیکھا دیکھا\nخود ہی کو ٹٹولنے کی نوبت آئی\nاچھا میں نے ترا تماشا دیکھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D9%86%DB%81_%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE_%D8%AA%D9%88_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیں", "poet_page": "مصنف:اختر انصاری اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیں\nاب مرے زیر قدم کاہکشاں ہے کہ نہیں\n\nدامن رند بلا نوش کو دیکھ اے ساقی\nپرچم خواجگئ کون و مکاں ہے کہ نہیں\n\nمسکراتے ہوئے گزرے تھے ادھر سے کچھ لوگ\nآج پر نور گذر گاہ زماں ہے کہ نہیں\n\nحسن ہی حسن ہے گلزار جنوں میں رقصاں\nعشق کا عالم صد رنگ جواں ہے کہ نہیں\n\nراہ پر آ ہی گئے آج بھٹکنے والے\nراہبر دیکھ وہ منزل کا نشاں ہے کہ نہیں\n\nلاکھ گرداب و تلاطم سے گزر کر اے دوست\nاب سفینہ مرا ساحل پہ رواں ہے کہ نہیں\n\nتذکرے اپنے ہر اک بزم میں ہیں اے اخترؔ\nآج مہمل سی حدیث دگراں ہے کہ نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ محو ہوئے دیکھ کے بے ساختہ پن کو", "poet_page": "مصنف:حیرت الہ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ محو ہوئے دیکھ کے بے ساختہ پن کو\nآئینے میں خود چوم لیا اپنے دہن کو\n\nکرتی ہے نیا روز مرے داغ کہن کو\nغربت میں خدا یاد دلائے نہ وطن کو\n\nچھوڑا وطن آباد کیا ملک دکن کو\nتقدیر کہاں لے گئی یاران وطن کو\n\nکیا لطف ہے جب مونس و یاور نہ ہو کوئی\nہم وادئ غربت ہی سمجھتے ہیں وطن کو\n\nمرجھائے پڑے تھے گل مضمون ہزاروں\nشاداب کیا ہم نے گلستان سخن کو\n\nخدمت میں تری نذر کو کیا لائیں بہ جز دل\nہم رند تو کوڑی نہیں رکھتے ہیں کفن کو", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%AD%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D8%B3%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%81_%D9%BE%D9%86_%DA%A9%D9%88"} {"title": "یہ مسئلۂ دقیق سنئے ہم سے", "poet_page": "مصنف:اسماعیل میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یہ مسئلۂ دقیق سنئے ہم سے\nآدم ہے مراد ہستئ عالم سے\nہم اصل ہیں اور یہ ہمارا سایہ\nعالم کا وجود ہے ہمارے دم سے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%82_%D8%AF%D9%82%DB%8C%D9%82_%D8%B3%D9%86%D8%A6%DB%92_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92"} {"title": "یہ مشت خاک اپنے کو جہاں چاہے تہاں لے جا", "poet_page": "مصنف:قاسم علی خان آفریدی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ مشت خاک اپنے کو جہاں چاہے تہاں لے جا\nپر اس عالم کو اس عالم سے مت بار گراں لے جا\n\nعدم سے جس طرح تنہا چلا آیا تھا پھر واں کو\nمناسب ہے اسی صورت سے صورت چھوڑ جاں لے جا\n\nکدورت ماسوا کی دھو لے خاطر خواہ خاطر سے\nبجز نام خدا ہم راہ مت نام و نشاں لے جا\n\nعزیز و اقربا نے مال و ملکیت بکار آوے\nکسی کی دوستی کی اے دلا حسرت نہ واں لے جا\n\nگدائی بادشاہی بھی مساوی وقت مرنے کے\nتیقن کر سخن میری پر ہرگز مت گماں لے جا\n\nاسی دنیا میں دنیا سے کنارہ کر جو عاقل ہے\nمحبت پھر کسی شے کی نہ ساتھ اے مہرباں لے جا\n\nنہ کوئی لے گیا کچھ اور نہ لے جاوے کوئی ہرگز\nیقیں گور و کفن ملنے پہ کیا تشکیک ہاں لے جا\n\nگئی باغ جہاں سے خلق خالی ہاتھ لے پر تو\nبہار زندگی سے ذکر کا گل بے خزاں لے جا\n\nبکھیڑا یاں کا یاں پر چھوڑ افریدیؔ عدم آخر\nنہ یہ درد و بلا رنج و الم آہ و فغاں لے جا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%B4%D8%AA_%D8%AE%D8%A7%DA%A9_%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92_%DA%A9%D9%88_%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%92_%D8%AA%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DB%92_%D8%AC%D8%A7"} {"title": "یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتے", "poet_page": "مصنف:عزیز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتے\nکہ اب مریض کو اچھا تھا قبلہ رو کرتے\n\nزبان رک گئی آخر سحر کے ہوتے ہی!\nتمام رات کٹی دل سے گفتگو کرتے\n\nسواد شہر خموشاں کا دیکھیے منظر!\nسنا نہ ہو جو خموشی کو گفتگو کرتے\n\nتمام روح کی لذت اسی پہ تھی موقوف\nکہ زندگی میں کبھی تم سے گفتگو کرتے\n\nجواب حضرت ناصح کو ہم بھی کچھ دیتے\nجو گفتگو کے طریقے سے گفتگو کرتے\n\nپہنچ کے حشر کے میداں میں ہول کیوں ہے عزیزؔ\nابھی تو پہلی ہی منزل ہے جستجو کرتے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%B4%D9%88%D8%B1%DB%81_%D8%A8%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%AC%D9%88_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92"} {"title": "یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے\nجسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائے\n\nوہی مے خوار ہے جو اس طرح مے خوار ہو جائے\nکہ شیشہ توڑ دے اور بے پیے سرشار ہو جائے\n\nدل انساں اگر شائستہ اسرار ہو جائے\nلب خاموش فطرت ہی لب گفتار ہو جائے\n\nہر اک بے کار سی ہستی بروئے کار ہو جائے\nجنوں کی روح خوابیدہ اگر بیدار ہو جائے\n\nسنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گی\nمجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے\n\nحریم ناز میں اس کی رسائی ہو تو کیوں کر ہو\nکہ جو آسودہ زیر سایۂ دیوار ہو جائے\n\nمعاذ اللہ اس کی واردات غم معاذ اللہ\nچمن جس کا وطن ہو اور چمن بے زار ہو جائے\n\nیہی ہے زندگی تو زندگی سے خودکشی اچھی\nکہ انساں عالم انسانیت پر بار ہو جائے\n\nاک ایسی شان پیدا کر کہ باطل تھرتھرا اٹھے\nنظر تلوار بن جائے نفس جھنکار ہو جائے\n\nیہ روز و شب یہ صبح و شام یہ بستی یہ ویرانہ\nسبھی بیدار ہیں انساں اگر بیدار ہو جائے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%85%D8%B5%D8%B1%D8%B9_%DA%A9%D8%A7%D8%B4_%D9%86%D9%82%D8%B4_%DB%81%D8%B1_%D8%AF%D8%B1_%D9%88_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92"} {"title": "یہ مَدرسہ یہ کھیل یہ غوغائے روارَو", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "یہ مَدرسہ یہ کھیل یہ غوغائے روارَو\nاس عیشِ فراواں میں ہے ہر لحظہ غمِ نَو\nوہ عِلم نہیں، زہر ہے احرار کے حق میں\nجس علم کا حاصل ہے جہاں میں دو کفِ جوَ\nناداں! اَدب و فلسفہ کچھ چیز نہیں ہے\nاسبابِ ہُنر کے لیے لازم ہے تگ و دَو\nفِطرت کے نوامیِس پہ غالب ہے ہُنر مند\nشام اس کی ہے مانندِ سحَر صاحبِ پرتَو\nوہ صاحبِ فن چاہے تو فَن کی بَرکت سے\nٹپکے بدنِ مہر سے شبنم کی طرح ضَو!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%85%D9%8E%D8%AF%D8%B1%D8%B3%DB%81_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84_%DB%8C%DB%81_%D8%BA%D9%88%D8%BA%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%8E%D9%88"} {"title": "یہ میرؔ ستم کشتہ کسو وقت جواں تھا", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ میرؔ ستم کشتہ کسو وقت جواں تھا\nانداز سخن کا سبب شور و فغاں تھا\n\nجادو کی پڑی پرچۂ ابیات تھا اس کا\nمنہ تکیے غزل پڑھتے عجب سحر بیاں تھا\n\nجس راہ سے وہ دل زدہ دلی میں نکلتا\nساتھ اس کے قیامت کا سا ہنگامہ رواں تھا\n\nافسردہ نہ تھا ایسا کہ جوں آب زدہ خاک\nآندھی تھی بلا تھا کوئی آشوب جہاں تھا\n\nکس مرتبہ تھی حسرت دیدار مرے ساتھ\nجو پھول مری خاک سے نکلا نگراں تھا\n\nمجنوں کو عبث دعوی وحشت ہے مجھی سے\nجس دن کہ جنوں مجھ کو ہوا تھا وہ کہاں تھا\n\nغافل تھے ہم احوال دل خستہ سے اپنے\nوہ گنج اسی کنج خرابی میں نہاں تھا\n\nکس زور سے فرہاد نے خارا شکنی کی\nہر چند کہ وہ بیکس و بے تاب و تواں تھا\n\nگو میرؔ جہاں میں کنھوں نے تجھ کو نہ جانا\nموجود نہ تھا تو تو کہاں نام و نشاں تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%94_%D8%B3%D8%AA%D9%85_%DA%A9%D8%B4%D8%AA%DB%81_%DA%A9%D8%B3%D9%88_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D8%AC%D9%88%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یہ میری دنیا یہ میری ہستی", "poet_page": "مصنف:مجاز لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ میری دنیا یہ میری ہستی\nنغمہ طرازی صہبا پرستی\n\nشاعر کی دنیا شاعر کی ہستی\nیا نالۂ غم یا شور مستی\n\nسب سے گریزاں سب پر برستی\nآنکھوں کی مستی مہنگی نہ سستی\n\nیا خلد و ساقی اے جذب مستی\nیا ٹکڑے ٹکڑے دامان ہستی\n\nمحو سفر ہوں گرم سفر ہوں\nمیری نظر میں رفعت نہ پستی\n\nان انکھڑیوں کا عالم نہ پوچھو\nصہبا ہی صہبا مستی ہی مستی\n\nوہ آ بھی جاتے وہ ہو بھی جاتے\nچشم تمنا پھر بھی ترستی\n\nان کا کرم ہے ان کی محبت\nکیا میرے نغمے کیا میری ہستی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DB%8C%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C"} {"title": "یہ میرے پاس جو چپ چاپ آئے بیٹھے ہیں", "poet_page": "مصنف:نوح ناروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ میرے پاس جو چپ چاپ آئے بیٹھے ہیں\nہزار فتنۂ محشر اٹھائے بیٹھے ہیں\n\nعدو سے بزم عدو میں لڑا رہے ہو نگاہ\nنہیں خیال کہ اپنے پرائے بیٹھے ہیں\n\nکہیں نہ ان کی نظر سے نظر کسی کی لڑے\nوہ اس لحاظ سے آنکھیں جھکائے بیٹھے ہیں\n\nکوئی حسیں نظر آیا یہ بے قرار ہوئے\nجناب نوحؔ کو ہم آزمائے بیٹھے ہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%D9%BE%D8%A7%D8%B3_%D8%AC%D9%88_%DA%86%D9%BE_%DA%86%D8%A7%D9%BE_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ میرے یار نے کیا مجھ سے بے وفائی کی", "poet_page": "مصنف:سعادت یار خان رنگین", "kind": "poetry", "section": "ریختی", "year": null, "text_ur": "یہ میرے یار نے کیا مجھ سے بے وفائی کی\nملے نہ پھر کبھی جس دن سے آشنائی کی\n\nاب اس کے عشق نے کیا کم کیا تھا مجھ سے سلوک\nستایا تو نے خدا ہت تری خدائی کی\n\nمیں تیرے واری نصیحت نہ کر مجھے باجی\nتجھے بھی یاد ہے بکواس سب خدائی کی\n\nپھنسا دیا مجھے رنگیںؔ کے دام میں ناحق\nکٹے الٰہی کرے ناک میرے دائی کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%86%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%DB%92_%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "یہ میں کہوں گا فلک پہ جا کر زمیں سے آیا ہوں تنگ آ کر", "poet_page": "مصنف:بیان میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ میں کہوں گا فلک پہ جا کر زمیں سے آیا ہوں تنگ آ کر\nجو اے مسیحا تو ہے مسیحا تو کچھ مرے درد کی دوا کر\n\nتمہارے جلوے غضب کے دیکھے تمہارے چھینٹے بلا کے پائے\nلگا لگا دی بجھا بجھا کر بجھا بجھا دی لگا لگا کر\n\nضدیں محبت سے ایسی آئیں خیال رکھا نہ اپنے گھر کا\nبتوں نے کعبہ کو مفت ڈھایا کسی کے دل کو دکھا دکھا کر\n\nوہ شوخ بے اعتبار کافر رہا نہ تنہا گیا نہ تنہا\nجو درد اٹھا اٹھا اٹھا کر تو دل کو بیٹھا بٹھا بٹھا کر\n\nیہ زور حرمان و یاس کا ہے اثر کہاں کا مری فغاں کو\nپٹک پٹک خاک پر دیا ہے فلک سے اونچا اٹھا اٹھا کر\n\nگداز کرتے ہیں میرے دل کو وہ یوں بٹھاتے ہیں اپنا سکہ\nجلی کٹی ہو رہی ہے کیا کیا عدو سے مجھ کو سنا سنا کر\n\nسنی کسی نے صدائے طوطی نہ حالت عندلیب دیکھی\nجو کور تھی اس چمن میں نرگس تو گل بھی اے ہم صفیر تھا کر\n\nکہیں نہ زلفوں سے کھل پڑا ہو مجھے ہے اندیشہ اپنے دل کا\nکہ پرزے پرزے اڑا رہا تھا عدو کوئی شے دکھا دکھا کر\n\nوہ بت کہ دیں اس کو تو نہ گر دے تو لاکھ طوفاں اٹھا کے دھر دے\nزبان پھر صاف قطع کر دے جو منہ سے نکلے خدا خدا کر\n\nالٰہی ہنگام آمد آمد یہ کس قیامت خرام کا ہے\nکھسک چلے صحن بوستاں سے تدرو و طاؤس دم دبا کر\n\nفلک ہوا مہرباں پھرے دن شب وصال آ گئی تو اس نے\nبہار‌ لطف‌ و کرم دکھا کر نقاب شرم و حیا اٹھا کر\n\nکبھی ہنسایا کبھی رلایا کبھی رلایا کبھی ہنسایا\nجھجک جھجک کر سمٹ سمٹ کر لپٹ لپٹ کر دبا دبا کر\n\nبیاںؔ ہے وہ بادشاہ اسریٰ کہ جس کی درگاہ‌ خسروی میں\nدیا زمین‌ ادب کو بوسہ فلک نے گردن جھکا جھکا کر", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA_%DA%AF%D8%A7_%D9%81%D9%84%DA%A9_%D9%BE%DB%81_%D8%AC%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%BA_%D8%AA%D9%86%DA%AF_%D8%A2_%DA%A9%D8%B1"} {"title": "یہ نخل تاک نیں میکش ترے جب مست ہوتے ہیں", "poet_page": "مصنف:عشق اورنگ آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ نخل تاک نیں میکش ترے جب مست ہوتے ہیں\nچمن میں اینڈتے انگڑائیاں لے لے کے سوتے ہیں\n\nترے عشاق کار دست کو کرتے ہیں آنکھوں سے\nگہر آنسو کے کس صفت سے مژگاں میں پروتے ہیں\n\nسفیدی کچھ جو تھی سو بھی مٹی ہیہات رونے سے\nسیاہی نامۂ اعمال کی کیا خاک دھوتے ہیں\n\nگئے گزرے نہیں ہیں عشقؔ دیوانوں سے کچھ ہم بھی\nوہ اپنی سدھ بسرتے ہوویں گے ہم خود کو کھوتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%86%D8%AE%D9%84_%D8%AA%D8%A7%DA%A9_%D9%86%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%A9%D8%B4_%D8%AA%D8%B1%DB%92_%D8%AC%D8%A8_%D9%85%D8%B3%D8%AA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ ننگ عاشقی ہے سود و حاصل دیکھنے والے", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ ننگ عاشقی ہے سود و حاصل دیکھنے والے\nیہاں گمراہ کہلاتے ہیں منزل دیکھنے والے\n\nخط ساغر میں راز حق و باطل دیکھنے والے\nابھی کچھ لوگ ہیں ساقی کی محفل دیکھنے والے\n\nمزے آ آ گئے ہیں عشوہ ہائے حسن رنگیں کے\nتڑپتے ہیں ابھی تک رقص بسمل دیکھنے والے\n\nیہاں تو عمر گزری ہے اسی موج و تلاطم میں\nوہ کوئی اور ہوں گے سیر حاصل دیکھنے والے\n\nمرے نغموں سے صہبائے کہن بھی ہو گئی پانی\nتعجب کر رہے ہیں رنگ محفل دیکھنے والے\n\nجنون عشق میں ہستی عالم پر نظر کیسی\nرخ لیلیٰ کو کیا دیکھیں گے محمل دیکھنے والے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%86%D9%86%DA%AF_%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%AF_%D9%88_%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92"} {"title": "یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سُوری نے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > ضربِ کلیم (1936)", "year": "1936", "text_ur": "یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سُوری نے\nکہ امتیازِ قبائل تمام تر خواری\nعزیز ہے انھیں نامِ وزیری و محسود\nابھی یہ خِلعتِ افغانیت سے ہیں عاری\nہزار پارہ ہے کُہسار کی مسلمانی\nکہ ہر قبیلہ ہے اپنے بُتوں کا زُنّاری\nوہی حرم ہے، وہی اعتبارِ لات و منات\nخُدا نصیب کرے تجھ کو ضربتِ کاری!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%86%DA%A9%D8%AA%DB%81_%D8%AE%D9%88%D8%A8_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%D8%B4%D8%A7%DB%81_%D8%B3%D9%8F%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%86%DB%92"} {"title": "یہ نکتہ میں نے سیکھا بُوالحسن سے", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "یہ نکتہ میں نے سیکھا بُوالحسن سے\nکہ جاں مرتی نہیں مرگِ بدن سے\nچمک سورج میں کیا باقی رہے گی\nاگر بیزار ہو اپنی کِرن سے!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%86%DA%A9%D8%AA%DB%81_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7_%D8%A8%D9%8F%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%B3%DB%92"} {"title": "یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا\nاگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا\n\nترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا\nکہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا\n\nتری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا\nکبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا\n\nکوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو\nیہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا\n\nیہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح\nکوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا\n\nرگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا\nجسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا\n\nغم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے\nغم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا\n\nکہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے\nمجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا\n\nہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا\nنہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا\n\nاسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا\nجو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا\n\nیہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ\nتجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%86%DB%81_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%DB%81_%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7"} {"title": "یہ نہیں برق اک فرنگی ہے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "یہ نہیں برق اک فرنگی ہے\nرعد و باراں فسون جنگی ہے\n\nکوئی دنیا سے کیا بھلا مانگے\nوہ تو بیچاری آپ ننگی ہے\n\nواہ دلی کی مسجد جامع\nجس میں براق فرش سنگی ہے\n\nحوصلہ ہے فراخ رندوں کا\nخرچ کی پر بہت سی تنگی ہے\n\nلگ گئے عیب سارے اس کے ساتھ\nیوں کہا جس کو مرد بنگی ہے\n\nڈرو وحشت کے دھوم دھام سے تم\nوہ تو اک دیونی دبنگی ہے\n\nجوگی جی صاحب آپ کی بھی واہ\nدھرم مورت عجب کو ڈھنگی ہے\n\nآپ ہی آپ ہے پکار اٹھتا\nدل بھی جیسے گھڑی فرنگی ہے\n\nچشم بد دور شیخ جی صاحب\nکیا ازار آپ کے اوٹنگی ہے\n\nشیخ سعدیٔ وقت ہے انشاؔ\nتو ابوبکرؔ سعد زنگی ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%D8%A7%DA%A9_%D9%81%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں", "poet_page": "مصنف:لالہ مادھو رام جوہر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں\nکہیں چڑھ کر شراب عشق کے نشے اترتے ہیں\n\nخدا سمجھے یہ کیا صیاد و گلچیں ظلم کرتے ہیں\nگلوں کو توڑتے ہیں بلبلوں کے پر کترتے ہیں\n\nدیا دم نزع میں گو آپ نے پر روح چل نکلی\nکسی کے روکنے سے جانے والے کب ٹھہرتے ہیں\n\nذرا رہنے دو اپنے در پہ ہم خانہ بدوشوں کو\nمسافر جس جگہ آرام پاتے ہیں ٹھہرتے ہیں\n\nنہ آ جایا کرو اغیار کی الفت جتانے میں\nوہ تم پر کیوں بھلا مرنے لگے فاقوں سے مرتے ہیں\n\nہر اک موسم میں کشت آرزو سرسبز رہتی ہے\nتردد غیر کو ہوگا یہاں تو چین کرتے ہیں\n\nیہ جوڑا کھولنا بھی ہیچ سے خالی نہیں ان کا\nالجھ جاتا ہے دل جب بال شانوں پر بکھرتے ہیں\n\nسمجھ لینا تمہارا اے رقیبو کچھ نہیں مشکل\nخدا جانے یہ کس کا خوف ہے ہم کس سے ڈرتے ہیں\n\nتکلف کے یہ معنی ہیں سمجھ لو بے کہے دل کی\nمزا کیا جب ہمیں نے یہ کہا تم سے کہ مرتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%88%D8%A7%D8%B9%D8%B8_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C_%D8%A8%DB%81%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%81%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%B3%DB%92_%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے", "poet_page": "مصنف:انعام اللہ خاں یقین", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے\nاگر پیوے کوئی ان کو تو جل کر خاک ہو جاوے\n\nنہ جا گلشن میں بلبل کو خجل مت کر کہ ڈرتا ہوں\nیہ دامن دیکھ کر گل کا گریباں چاک ہو جاوے\n\nگنہ گاروں کو ہے امید اس اشک ندامت سے\nکہ دامن شاید اس آب رواں سے پاک ہو جاوے\n\nعجب کیا ہے تری خشکی کی شامت سے جو تو زاہد\nنہال تاک بٹھلاوے تو وہ مسواک ہو جاوے\n\nدعا مستوں کی کہتے ہیں یقیںؔ تاثیر رکھتی ہے\nالٰہی سبزہ جتنا ہے جہاں میں تاک ہو جاوے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%B2%DB%81%D8%B1%DB%81_%D8%A2%D8%AA%D8%B4_%D9%86%D8%A7%DA%A9_%DB%81%D9%88_%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%92"} {"title": "یہ وہ نالے ہیں جو لب تک آئیں گے", "poet_page": "مصنف:نسیم دہلوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ وہ نالے ہیں جو لب تک آئیں گے\nتم تو کیا ہو آسماں ہل جائیں گے\n\nعشق میں اک پیر دیرینہ ہوں میں\nمجھ کو ناصح آ کے کیا سمجھائیں گے\n\nحضرت دل سوچتے ہیں آج کچھ\nپھر بلا کوئی مقرر لائیں گے\n\nاس توقع پر اٹھاتے ہیں ستم\nکچھ تو سمجھیں گے کبھی شرمائیں گے\n\nپھینک دیں گے دل کو پہلو چیر کر\nآپ دیکھیں کس طرح لے جائیں گے\n\nحال دل کہتے ہیں جو کچھ ہو سو ہو\nدیکھیے وہ آج کیا فرمائیں گے\n\nپھر نہ چونکیں گے قیامت تک نسیمؔ\nپاؤں جس دن قبر میں پھیلائیں گے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%88%DB%81_%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D9%88_%D9%84%D8%A8_%D8%AA%DA%A9_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DA%BA_%DA%AF%DB%92"} {"title": "یہ وہم دوئی دل سے جدا کرنا تھا", "poet_page": "مصنف:قلق میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یہ وہم دوئی دل سے جدا کرنا تھا\nاس قطرے کو دریا میں فنا کرنا تھا\nاللہ رے رقابت کہ رقابت سب سے\nاے جوش خودی خوف خدا کرنا تھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%88%DB%81%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AC%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یہ پِیرانِ کلیسا و حرم، اے وائے مجبوری", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "یہ پِیرانِ کلیسا و حرم، اے وائے مجبوری!\nصِلہ ان کی کدوی کاوش کا ہے سینوں کی بے نوری\n\nیقیں پیدا کر اے ناداں! یقیں سے ہاتھ آتی ہے\nوہ درویشی، کہ جس کے سامنے جھُکتی ہے فغفوری\n\nکبھی حیرت، کبھی مستی، کبھی آہِ سحَرگاہی\nبدلتا ہے ہزاروں رنگ میرا دردِ مہجوری\n\nحدِ ادراک سے باہر ہیں باتیں عشق و مستی کی\nسمجھ میں اس قدر آیا کہ دل کی موت ہے، دُوری\n\nوہ اپنے حُسن کی مستی سے ہیں مجبورِ پیدائی\nمری آنکھوں کی بینائی میں ہیں اسبابِ مستوری\n\nکوئی تقدیر کی منطق سمجھ سکتا نہیں ورنہ\nنہ تھے ترکانِ عثمانی سے کم ترکانِ تیموری\n\nفقیرانِ حرم کے ہاتھ اقبالؔ آگیا کیونکر\nمیّسر میر و سُلطاں کو نہیں شاہینِ کافوری", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%BE%D9%90%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%D9%90_%DA%A9%D9%84%DB%8C%D8%B3%D8%A7_%D9%88_%D8%AD%D8%B1%D9%85%D8%8C_%D8%A7%DB%92_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D9%85%D8%AC%D8%A8%D9%88%D8%B1%DB%8C"} {"title": "یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صُبح گاہی", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صُبح گاہی\nکہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی\n\nتری زندگی اسی سے، تری آبرو اسی سے\nجو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو رُوسیاہی\n\nنہ دیا نشانِ منزل مجھے اے حکیم تُو نے\nمجھے کیا گِلہ ہو تجھ سے، تُو نہ رہ‌نشیں نہ راہی\n\nمرے حلقۂ سخن میں ابھی زیرِ تربیت ہیں\nوہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسمِ کجکلاہی\n\nیہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تُو کر\nکہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریقِ خانقاہی\n\nتُو ہُما کا ہے شکاری، ابھی ابتدا ہے تیری\nنہیں مصلحت سے خالی یہ جہانِ مُرغ و ماہی\n\nتُو عَرب ہو یا عجَم ہو، ترا ’ لَا اِلٰہ اِلاَّ‘\nلُغَتِ غریب، جب تک ترا دل نہ دے گواہی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85_%D8%AF%DB%92_%DA%AF%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%90_%D8%B5%D9%8F%D8%A8%D8%AD_%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%8C"} {"title": "یہ پیچ و تاب میں شبِ غم بے حواسیاں", "poet_page": "مصنف:مصطفٰی خان شیفتہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ پیچ و تاب میں شبِ غم بے حواسیاں\nاے دل! خیالِ طرہ تابیدہ مو نہیں\n\nدستِ جنوں نے جامہ ہستی قبا کیا\nاب ہائے چارہ گر کو خیالِ رفو نہیں\n\nشکرِ ستم بھی راس نہ آیا ہمیں کہ اب\nکہتے ہیں وہ کہ لائقِ الطاف تو نہیں\n\nہرجائی اپنے وحشی کو منہ سے یہ کہتے ہو\nکیا آپ کا نشانِ قدم کو بکو نہیں\n\nنیرنگیوں نے تیری یہ حالت تغیر کی\nامید زندگی کی کبھو ہے، کبھو نہیں\n\nکیا ہو سکے کسی سے علاج اپنا شیفتہ\nاس گل پہ غش ہیں جس میں محبت کی بو نہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%D9%BE%DB%8C%DA%86_%D9%88_%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%A8%D9%90_%D8%BA%D9%85_%D8%A8%DB%92_%D8%AD%D9%88%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DA%BA"} {"title": "یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کی", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کی\nنظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کی\n\nسحر پائے گل بے خودی ہم کو آئی\nکہ اس سست پیماں میں بو تھی کسو کی\n\nیہ سرگشتہ جب تک رہا اس چمن میں\nبرنگ صبا جستجو تھی کسو کی\n\nنہ ٹھہری ٹک اک جان بر لب رسیدہ\nہمیں مدعا گفتگو تھی کسو کی\n\nجلایا شب اک شعلۂ دل نے ہم کو\nکہ اس تند سرکش میں خو تھی کسو کی\n\nنہ تھے تجھ سے نازک میانان گلشن\nبہت تو کمر جیسے مو تھی کسو کی\n\nدم مرگ دشوار دی جان ان نے\nمگر میرؔ کو آرزو تھی کسو کی", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%86%D8%B4%D9%85_%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81_%D8%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B1%D9%88_%D8%AA%DA%BE%DB%8C_%DA%A9%D8%B3%D9%88_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "یہ چھپکے کا جو بالا کان میں اب تم نے ڈالا ہے", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ چھپکے کا جو بالا کان میں اب تم نے ڈالا ہے\nاسی بالے کی دولت سے تمہارا بول بالا ہے\n\nنزاکت سر سے پاؤں تک پڑی قربان ہوتی ہے\nالٰہی اس بدن کو تو نے کس سانچے میں ڈھالا ہے\n\nیہ دل کیوں کر نگہ سے اس کی چھدتے ہیں میں حیراں ہوں\nنہ خنجر ہے نہ نشتر ہے نہ جمدھر ہے نہ بھالا ہے\n\nبلائیں ناگ کالے ناگنیں اور سانپ کے بچے\nخدا جانے کہ اس جوڑے میں کیا کیا باندھ ڈالا ہے\n\nنہ غول آتا ہے خوباں کا سرک اے دل میں کہتا ہوں\nیہ کمپو کی نہیں پلٹن یہ پریوں کا رسالا ہے\n\nجسے تم لے کے بیدردی سے پاؤں میں کچلتے ہو\nیہ دل میں نے تو اے صاحب بڑی محنت سے پالا ہے\n\nنظیرؔ اک اور لکھ ایسی غزل جو سن کے جی خوش ہو\nاری اس ڈھب کی باتوں نے تو دل میں شور ڈالا ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%86%DA%BE%D9%BE%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%A8_%D8%AA%D9%85_%D9%86%DB%92_%DA%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ کائنات یہ بزم ظہور کچھ بھی نہیں", "poet_page": "مصنف:جلال الدین اکبر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کائنات یہ بزم ظہور کچھ بھی نہیں\nتری نظر میں نہیں ہے جو نور کچھ بھی نہیں\n\nنگہ اگر ہو تو ہر ذرہ میں ہزاروں طور\nنگہ اگر نہ ہو بالائے طور کچھ بھی نہیں\n\nیہ قرب و بعد بہ مقدار شوق سالک ہیں\nجسے تو دور سمجھتا ہے دور کچھ بھی نہیں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%A7%D8%AA_%DB%8C%DB%81_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A8%DA%BE%DB%8C_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ کافر بت جنہیں دعویٰ ہے دنیا میں خدائی کا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کافر بت جنہیں دعویٰ ہے دنیا میں خدائی کا\nملیں محشر میں مجھ عاصی کو صدقہ کبریائی کا\n\nیہ مجھ سے سخت جاں پر شوق خنجر آزمائی کا\nخدا حافظ مرے قاتل تری نازک کلائی کا\n\nنہ ہو پہلو میں میرے دل تو کوئی بات کیوں پوچھے\nیہی تو اک ذریعہ ہے حسینوں تک رسائی کا\n\nتم اچھے غیر اچھا غیر کی تقدیر بھی اچھی\nیہ آخر ذکر کیوں ہے میری قسمت کی برائی کا\n\nوہ کیا سوئیں گے غافل ہو کے شب بھر مرے پہلو میں\nانہیں یہ فکر ہے نکلے کوئی پہلو لڑائی کا\n\nہزاروں دیدہ و دل بام لاکھوں طور سے بڑھ کر\nکروڑوں جلوہ گاہیں شوق تو ہو خود نمائی کا\n\nقفس میں اب کہاں وہ انبساط صبح آزادی\nچمن تک لطف تھا صیاد میری خوشنوائی کا\n\nاشارے پر ترے چل کر یہ لائے رنگ مشکل ہے\nابھی محتاج ہے خنجر ترے دست حنائی کا\n\nکوئی کیا جائے جنت میں کہ اس نے طول کھینچا ہے\nقیامت پر بھی سایہ پڑ گیا روز جدائی کا\n\nوہ دن بھی آئے ہم ہوں اور گلیاں ہوں مدینے کی\nگدایانہ صدا ہو ہاتھ میں کاسہ گدائی کا\n\nبنائی کیا بری گت مے کدے میں بادہ نوشوں نے\nریاضؔ آئے تھے کل جامہ پہن کر پارسائی کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1_%D8%A8%D8%AA_%D8%AC%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D8%B9%D9%88%DB%8C%D9%B0_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "یہ کس رشک مسیحا کا مکاں ہے", "poet_page": "مصنف:حیدر علی آتش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کس رشک مسیحا کا مکاں ہے\nزمیں یاں کی چہارم آسماں ہے\n\nخدا پنہاں ہے عالم آشکارا\nنہاں ہے گنج ویرانہ عیاں ہے\n\nدل روشن ہے روشن گر کی منزل\nیہ آئینہ سکندر کا مکاں ہے\n\nتکلف سے بری ہے حسن ذاتی\nقبائے گل میں گل بوٹا کہاں ہے\n\nپسیجے گا کبھی تو دل کسی کا\nہمیشہ اپنی آہوں کا دھواں ہے\n\nبرنگ بو ہوں گلشن میں میں بلبل\nبغل غنچے کے میرا آشیاں ہے\n\nشگفتہ رہتی ہے خاطر ہمیشہ\nقناعت بھی بہار بے خزاں ہے\n\nچمن کی سیر پر ہوتا ہے جھگڑا\nکمر میری ہے دست باغباں ہے\n\nبہت آتا ہے یاد اے صبر مسکیں\nخدا خوش رکھے تجھ کو تو جہاں ہے\n\nالٰہی ایک دل کس کس کو دوں میں\nہزاروں بت ہیں یاں ہندوستاں ہے\n\nیقیں ہوتا ہے خوشبوئی سے اس کے\nکسی گل رو کا غنچہ عطرداں ہے\n\nوطن میں اپنے اہل شوق کی طرح\nسفر میں روز و شب ریگ رواں ہے\n\nسحر ہووے کہیں شبنم کرے کوچ\nگل و بلبل کا دریا درمیاں ہے\n\nسعادت مند قسمت پر ہیں شاکر\nہما کو مغز بادام استخواں ہے\n\nدل بے تاب جو اس میں گرے ہیں\nذقن جاناں کا پارہ کا کنواں ہے\n\nجرس کے ساتھ دل رہتے ہیں نالاں\nمرے یوسف کا عاشق کارواں ہے\n\nنہ کہہ رندوں کو حرف سخت واعظ\nدرشت اہل جہنم کی زباں ہے\n\nقد محبوب کو شاعر کہیں سرو\nقیامت کا یہ اے آتشؔ نشاں ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%D8%B1%D8%B4%DA%A9_%D9%85%D8%B3%DB%8C%D8%AD%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%DA%A9%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ کس سے چاندنی میں ہم بہ زیر آسماں لپٹے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کس سے چاندنی میں ہم بہ زیر آسماں لپٹے\nکہ باہم عرش پر مارے خوشی کے قدسیاں لپٹے\n\nحدی خواں وادئ مجنوں میں ناقہ کو نہ لے جانا\nمبادا اک بگولا سا بہ پائے سارباں لپٹے\n\nادب گر حضرت جبریل کا مانع نہ ہو مجھ کو\nتو شاخ سدرہ سے میرے یہ آہ ناتواں لپٹے\n\nسکندر اور دارا کیا کروڑوں اور بھی ان سے\nپڑے ہیں گور کے تختہ سے زیر خاکداں لپٹے\n\nکسی ڈھب سے طبیعت سیر ہوتی ہی نہیں ان سے\nابھی دالان سے لائے بہ زیر سائباں لپٹے\n\nہنسے بولے رہے مشغول اپنے جس طرح چاہا\nادھر لپٹے ادھر سوئے یہاں چمٹے وہاں لپٹے\n\nولیکن پاس کہتی ہے کہ ہوں گی خواب کی باتیں\nتمہیں کچھ خیر ہے صاحب بتاؤ تو جہاں لپٹے\n\nکدھر لوٹے کدھر پوٹے ہنسے بولے کدھر جا کر\nکہاں لپٹے کہاں سوئے کہاں چمٹے کہاں لپٹے\n\nغزل مستی میں لکھ اک اور بھی انشاؔ کہ تا تیرے\nبلائیں آ کے ساقی لے تجھے پیر مغاں لپٹے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%86%DB%8C_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%A8%DB%81_%D8%B2%DB%8C%D8%B1_%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA_%D9%84%D9%BE%D9%B9%DB%92"} {"title": "یہ کس قیامت کی بیکسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یار میرا", "poet_page": "مصنف:فانی بدایونی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کس قیامت کی بیکسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یار میرا\nنہ خاطر بے قرار میری نہ دیدۂ اشک بار میرا\n\nنشان تربت عیاں نہیں ہے نہیں کہ باقی نشاں نہیں ہے\nمزار میرا کہاں نہیں ہے کہیں نہیں ہے مزار میرا\n\nوصال تیرا خیال تیرا جو ہو تو کیونکر نہ ہو تو کیونکر\nنہ تجھ پہ کچھ اختیار دل کا، نہ دل پہ کچھ اختیار میرا\n\nنگاہ دل دوز کی دہائی جمال جاں سوز کی دہائی\nرہ محبت میں غم نے لوٹا شکیب و صبر و قرار میرا\n\nمیں درد فرقت سے جاں بلب ہوں تمہیں یقین وفا نہیں ہے\nمجھے نہیں اعتبار اپنا تمہیں نہیں اعتبار میرا\n\nقدم نکال اب تو گھر سے باہر جو دم بھی سینے سے سہل نکلے\nدکھا نہ اب انتظار اپنا لحد کو ہے انتظار میرا\n\nسنا ہے اٹھا ہے اک بگولہ جلو میں کچھ آندھیوں کو لے کر\nطواف دشت جنوں کو شاید گیا ہے فانیؔ غبار میرا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%DB%8C%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%DB%8C_%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7_%D9%86%DB%81_%DB%8C%D8%A7%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7"} {"title": "یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی", "poet_page": "مصنف:سیماب اکبرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی\nکہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی\n\nسنا تھا قصہ خواں کوئی نیا قصہ سنائے گا\nہمارے منہ پہ ظالم نے ہماری داستاں رکھ دی\n\nخلوص دل سے سجدہ ہو تو اس سجدے کا کیا کہنا\nوہیں کعبہ سرک آیا جبیں ہم نے جہاں رکھ دی\n\nاٹھایا میں نے شام ہجر لطف گفتگو کیا کیا\nتصور نے تری تصویر کے منہ میں زباں رکھ دی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%D9%86%DB%92_%D8%B4%D8%A7%D8%AE_%DA%AF%D9%84_%D9%84%D8%A7_%DA%A9%D8%B1_%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE_%D8%AF%DB%8C"} {"title": "یہ کس کی جستجو ہے اور میں ہوں", "poet_page": "مصنف:پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کس کی جستجو ہے اور میں ہوں\nمقام دشت ہو ہے اور میں ہوں\n\nچمن میں دیکھتا پھرتا ہوں کس کو\nفریب رنگ و بو ہے اور میں ہوں\n\nبروز حشر تازہ گل کھلے گا\nوہ دامن کا لہو ہے اور میں ہوں\n\nکبھی دیوانہ تھا پر اب ہوں ہشیار\nگریباں کا رفو ہے اور میں ہوں\n\nحماقت حضرت واعظ کی دیکھو\nتقاضائے وضو ہے اور میں ہوں\n\nنہ پوچھو دل میں کیا کیا حسرتیں ہیں\nتمہاری آرزو ہے اور میں ہوں\n\nبھلا ہو تشنہ کامی اور تیرا\nمے و جام و سبو ہے اور میں ہوں\n\nرہوں گا کہہ کے دل کا ماجرا سب\nارے محشر میں تو ہے اور میں ہوں\n\nوہ کہتے ہیں کہو اے شوقؔ کیا ہے\nارے خلوت ہے تو ہے اور میں ہوں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%DA%BA"} {"title": "یہ کس کے سوز کا ہے بزم جاں میں انتظار اے دل", "poet_page": "مصنف:شاہ دین ہمایوں", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کس کے سوز کا ہے بزم جاں میں انتظار اے دل\nکہ آہیں آج سوئے عالم بالا نہیں جاتیں\n\nامیدیں جب مری بڑھ آئیں تو ہنس کر لگے کہنے\nیہ برسوں قید دل میں رہ کے کیوں گھبرا نہیں جاتیں\n\nنہیں گستاخ آئینہ مقابل ہے کھڑا کوئی\nیہ حیراں ہے کہ کیوں آنکھیں تری شرما نہیں جاتیں\n\nکھڑا ہوں انتظار یار میں جوں شاخ نرگس میں\nمجھے حیرت ہے کیوں آنکھیں مری پتھرا نہیں جاتیں\n\nترے گلشن میں تاروں کی بہار اک ہے عجب جادو\nیہ کلیاں پھول بن کر اے فلک کمھلا نہیں جاتیں\n\nہمایوںؔ تیرا دل بھی گلشن حسرت کا نغمہ ہے\nخوشی میں بھی تری باتیں وہ غم افزا نہیں جاتیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%D9%88%D8%B2_%DA%A9%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A8%D8%B2%D9%85_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1_%D8%A7%DB%92_%D8%AF%D9%84"} {"title": "یہ کوئی بات ہے سنتا نہ باغباں میری", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کوئی بات ہے سنتا نہ باغباں میری\nکہاں اثر میں وہ ڈوبی ہوئی فغاں میری\n\nچلی ہے آج سنانے انہیں فغاں میری\nارے ضرور یہ کٹوائے گی زباں میری\n\nہلی زبان کہ بجلی ہے پھر فغاں میری\nخدا کرے نہ قفس میں کھلے زباں میری\n\nوہ زلف کھول کے شرمائیں غیر کے گھر آج\nکچھ اس ادا سے شب غم ہو مہماں میری\n\nمجھے یہ ڈر ہے نہ پھولے پھلے بہار میں یہ\nجھکی ہوئی ہے بہت شاخ آشیاں میری\n\nغضب کا درد قیامت کا ہے اثر اس میں\nخدا کسی کو نہ سنوائے داستاں میری\n\nیہ دیر میں نہیں بجتے ہیں خود بخود ناقوس\nحرم میں گونج رہی ہے بتو اذاں میری\n\nتم اپنے بام سے فریاد کی اجازت دو\nیہاں سے تو نہیں سنتا ہے آسماں میری\n\nکسی کے آنے کا اب انتظار کون کرے\nپکارتی ہے مجھے مرگ ناگہاں میری\n\nکہے کہے نہ کہے کوئی مجھ کو کیا اس سے\nسنیں سنیں نہ سنیں آپ داستاں میری\n\nوہ بولے حشر میں کھل کھیلنے کو کہتے ہیں\nستا رہی ہیں مجھے آج شوخیاں میری\n\nنہ دست ناز میں لو تیغ اس نزاکت سے\nتمہارے بس کی نہیں جان ناتواں میری\n\nزبان میں بھی اثر ہے مرے بیاں میں بھی\nسنیں نہ آپ مرے منہ سے داستاں میری\n\nجو بوسہ وصل میں مانگوں تو دیں سزا مجھ کو\nجو لب ہلاؤں تو وہ کاٹ لیں زباں میری\n\nمیں ناتواں بھی گیا آج بام تک ان کے\nیہ زار تھا کہ مجھے لے اڑی فغاں میری\n\nشراب میں پس توبہ جو مانگوں بھولے سے\nتو مے فروش کہے نذر ہے دکاں میری\n\nکچھ اب کی باغ میں اس دھوم سے بہار آئے\nنہ باغباں کی سنوں میں نہ باغباں میری\n\nجو یہ کہا ہو مری آئی تجھ کو آ جائے\nمجھے نصیب نہ ہو نیند پاسباں میری\n\nپیام موت کا ہے یاد انہیں مری کیسی\nکچھ آج اور ہی کہتی ہیں ہچکیاں میری\n\nوہ بولے ابرو و مژگاں کو کیا ہوا شب وصل\nدھرے رہے یوں ہی ناوک مرے کماں میری\n\nاٹھاؤں عفو کی لذت بھی لطف عصیاں بھی\nمرے کریم یہ تقدیر ہے کہاں میری\n\nستانے والے کو کچھ قدر ہو ستانے کی\nانہیں ستائے جو مانے یہ آسماں میری\n\nوہ میں ہوں آج زمانے کو ناز ہے جس پر\nریاضؔ دھوم ہے جس کی وہ ہے زباں میری", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%86%D8%AA%D8%A7_%D9%86%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%BA%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C"} {"title": "یہ کوئی دن کی بات ہے اے مردِ ہوش مند", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بانگ درا (1924)", "year": "1924", "text_ur": "یہ کوئی دن کی بات ہے اے مردِ ہوش مند!\nغیرت نہ تجھ میں ہو گی، نہ زن اوٹ چاہے گی\n\nآتا ہے اب وہ دَور کہ اولاد کے عوَض\nکونسل کی ممبری کے لیے ووٹ چاہے گی", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%A7%D8%AA_%DB%81%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%85%D8%B1%D8%AF%D9%90_%DB%81%D9%88%D8%B4_%D9%85%D9%86%D8%AF"} {"title": "یہ کون غزل خواں ہے پُرسوز و نشاط انگیز", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "یہ کون غزل خواں ہے پُرسوز و نشاط انگیز\nاندیشۂ دانا کو کرتا ہے جُنوں آمیز\n\nگو فقر بھی رکھتا ہے اندازِ ملوکانہ\nنا پُختہ ہے پرویزی بے سلطنتِ پرویز\n\nاب حُجرۂ صوفی میں وہ فقر نہیں باقی\nخُونِ دلِ شیراں ہو جس فقر کی دستاویز\n\nاے حلقۂ درویشاں! وہ مردِ خدا کیسا\nہو جس کے گریباں میں ہنگامۂ رستاخیز\n\nجو ذکر کی گرمی سے شُعلے کی طرح روشن\nجو فکر کی سُرعت میں بجلی سے زیادہ تیز!\n\nکرتی ہے ملوکیّت آثارِ جُنوں پیدا\nاللہ کے نشتر ہیں تیمور ہو یا چنگیز\n\nیوں دادِ سخن مجھ کو دیتے ہیں عراق و پارس\nیہ کافرِ ہندی ہے بے تیغ و سناں خُوں‌ریز", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%D9%88%D9%86_%D8%BA%D8%B2%D9%84_%D8%AE%D9%88%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92_%D9%BE%D9%8F%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%B2_%D9%88_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D8%B7_%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%B2"} {"title": "یہ کہاں سے ہم گئے ہیں کہاں کہیں کیا تری تگ و تاز میں", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کہاں سے ہم گئے ہیں کہاں کہیں کیا تری تگ و تاز میں\nکہ یہ آسمان و زمیں جہاں نہ نشیب میں نہ فراز میں\n\nتو درون خانہ برون در تو ہزار پردوں میں جلوہ گر\nارے او حقیقت پردہ ور تری شوخیاں میں مجاز میں\n\nوہی آئے عرش سے فرش تک وہی چھائے فرش سے عرش تک\nملے ایسے ذرے ہزارہا ہمیں خاک راہ مجاز میں\n\nکہیں تیز ہے کہیں نرم ہے یہی آنچ مطرب خوشنوا\nمرے نالے میں ترے نغمے میں مرے سوز میں ترے ساز میں\n\nترے سجدے میں وہ مزا ملا کہ تڑپ کے سینے سے آ رہا\nکوئی داغ ہے کہ ہے دل مرا یہ مری جبین نیاز میں\n\nیہ اڑائیں گے کبھی رنگ بھی یہ دکھائیں گے کبھی رنگ بھی\nیہی لائیں گے کبھی رنگ بھی جو رنگیں ہیں رنگ مجاز میں\n\nگھڑی جس کی حشر کا ایک دن شب گور جس کا ہر ایک پل\nوہ مزے ہیں حسرت مرگ میں جو خضر کی عمر دراز میں\n\nاسے لاگ عشق کی کہتے ہیں اسے آگ عشق کی کہتے ہیں\nنہ جنون ہے یہ جنون میں نہ کوئی یہ راز ہے راز میں\n\nجنہیں لوگ کہتے ہیں دزد مے وہ خدا پرست ریاضؔ ہیں\nیہ سنا ہے کل کہ جناب ہی پس خم تھے محو نماز میں", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%DB%92_%DB%81%D9%85_%DA%AF%D8%A6%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D8%AA%DA%AF_%D9%88_%D8%AA%D8%A7%D8%B2_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ کہاں لگی یہ کہاں لگی جو قفس سے شور فغاں اٹھا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کہاں لگی یہ کہاں لگی جو قفس سے شور فغاں اٹھا\nجلے آشیانے کچھ اس طرح کہ ہر ایک دل سے دھواں اٹھا\n\nلگی آگ میرے جگر میں یوں نہ لگے کسی کے بھی گھر میں یوں\nنہ تو لو اٹھی نہ چمک ہوئی نہ شرر اڑے نہ دھواں اٹھا\n\nکوئی مست مے کدہ آ گیا مے بے خودی وہ پلا گیا\nنہ صدائے نغمۂ دیر اٹھی نہ حرم سے شور اذاں اٹھا\n\nگئے ساتھ شیخ حرم کے ہم نہ کوئی ملا نہ لئے قدم\nنہ تو خم بڑھا نہ سبو جھکا جو اٹھا تو پیر مغاں اٹھا\n\nلب خم سے نکلے صدائے قم سردوش ایسے ہزار خم\nخم آسماں بھی ہو جس میں گم وہ سیاہ ابر کہاں اٹھا\n\nتجھے مئے فروش خبر بھی ہے کہ مقام کون ہے کیا ہے شے\nیہ رہ حرم میں دکان مے تو یہاں سے اپنی دکاں اٹھا\n\nیہ سپید ریش ریاضؔ ہے جو بنا ہے بزم میں پند گو\nاسے کیوں نہ ابر سیہ کہوں کہ برس پڑا یہ جہاں اٹھا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D9%84%DA%AF%DB%8C_%D8%AC%D9%88_%D9%82%D9%81%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یہ کہنا اس سے اے قاصد جو محو خود پرستی ہے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کہنا اس سے اے قاصد جو محو خود پرستی ہے\nکہ تیرے دیکھنے کو آنکھ مدت سے ترستی ہے\n\nبنے ہیں جب سے وہ ساقی مزے کی مے پرستی ہے\nادھر مے ہے پیالوں میں ادھر آنکھوں میں مستی ہے\n\nتری آنکھوں کے صدقے ایک دنیا ان میں بستی ہے\nفسوں ہے سحر ہے اعجاز ہے شوخی ہے مستی ہے\n\nتباہی دل میں رہتی ہے خرابی دل میں بستی ہے\nیہی آباد بستی ہے یہی ویران بستی ہے\n\nنگاہوں سے ملاتا ہوں نگاہیں اس تمنا میں\nوہ میرے دل میں آ جائے جو ان آنکھوں میں مستی ہے\n\nوہ جنس دل کی قیمت پوچھتے ہیں میں بتاؤں کیا\nیہی مہنگی سی مہنگی ہے یہی سستی سی سستی ہے\n\nنہ صہبا ہے نہ ساغر ہے نہ مینا ہے نہ خم ساقی\nمجھے جو مست کرتی ہے تری آنکھوں کی مستی ہے\n\nازل سے حق پرستی بت پرستی سنتے آتے ہیں\nمگر یہ آپ کا مشرب نرالا خود پرستی ہے\n\nجوانی نے دئے ہیں ان کو لا کر ہم نشیں کیا کیا\nادا میں ناز چتون میں حیا آنکھوں میں مستی ہے\n\nمدار زندگی ٹھہرا نفس کی آمد و شد پر\nہوا کے زور سے روشن چراغ بزم ہستی ہے\n\nتماشا ہے مری رندی کہ ساغر ہاتھ میں لے کر\nہر اک سے پوچھتا ہوں میں کہیں تھوڑی سی مستی ہے\n\nفراق روح کیوں کر ہو گوارا جسم انساں کو\nاجڑ کر پھر نہیں آباد ہوتی یہ وہ بستی ہے\n\nوہ میکش ہوں کہ آتا ہے جو لب پر نام توبہ کا\nتو مجھ پر جوش میں آ کر گھٹا کیا کیا برستی ہے\n\nعجب شے جنس الفت ہے کہ دل جائے تو ہاتھ آئے\nہمیشہ ایک قیمت ہے نہ مہنگی ہے نہ سستی ہے\n\nجبھی تک عکس قائم ہے کہ آئینہ مقابل ہو\nہماری یہ حقیقت ہے ہماری اتنی ہستی ہے\n\nیقیں جانو کہ منہ دیکھی محبت ہم نہیں رکھتے\nوہ آئینہ ہے جو وارفتۂ صورت پرستی ہے\n\nبہت جھٹکے نہ دے دست جنوں جیب و گریباں کو\nرہے تجھ کو لحاظ اس کا پرانا رخت ہستی ہے\n\nدل عاشق میں حسرت بھی ہے ارماں بھی تمنا بھی\nوہ جس بستی میں رہتے ہیں بڑی آباد بستی ہے\n\nفنا اول بھی تھی آخر بھی ہونا ہے فنا ہم کو\nکریں کیا دو عدم کے بیچ میں اک اپنی ہستی ہے\n\nجلیلؔ استاد کا کہنا سنو باندھو کمر تم بھی\nعجب بستی مدینہ ہے جہاں رحمت برستی ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7_%D8%A7%D8%B3_%D8%B3%DB%92_%D8%A7%DB%92_%D9%82%D8%A7%D8%B5%D8%AF_%D8%AC%D9%88_%D9%85%D8%AD%D9%88_%D8%AE%D9%88%D8%AF_%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ کہہ کے رخنہ ڈالئے ان کے حجاب میں", "poet_page": "مصنف:مفتی صدر الدین خان آزردہ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کہہ کے رخنہ ڈالئے ان کے حجاب میں\nاچھے برے کا حال کھلے گا نقاب میں\n\nیا رب وہ خواب حق میں مرے خواب مرگ ہو\nآئے وہ مست خواب اگر میرے خواب میں\n\nتحقیق ہو تو جانوں کہ میں کیا ہوں قیس کیا\nلکھا ہوا ہے یوں تو سبھی کچھ کتاب میں\n\nمیں اور ذوق بادہ کشی لے گئیں مجھے\nیہ کم نگاہیاں تری بزم شراب میں\n\nہیں دونوں مثل شیشہ پہ سامان صد شکست\nجیسا ہے میرے دل میں نہیں ہے حباب میں\n\nیہ عمر اور عشق ہے آزردہؔ جائے شرم\nحضرت یہ باتیں پھبتی تھیں عہد شباب میں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%B1%D8%AE%D9%86%DB%81_%DA%88%D8%A7%D9%84%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%A8_%D9%85%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ کہہ گیا بت ناآشنا سنا کے مجھے", "poet_page": "مصنف:جلیل مانکپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کہہ گیا بت ناآشنا سنا کے مجھے\nکہ آپ میں نہیں رہتا ہے کوئی پا کے مجھے\n\nنقاب کہتی ہے میں پردۂ قیامت ہوں\nاگر یقین نہ ہو دیکھ لو اٹھا کے مجھے\n\nملوں گا خاک میں آنسو کی طرح یاد رہے\nملو نہ آنکھ کہیں آنکھ سے گرا کے مجھے\n\nادا سے کھینچ رہا ہے کماں وہ تیر انداز\nقضا پکار رہی ہے ذرا بچا کے مجھے\n\nتمہارے واسطے اس دل کا مول ہی کیا ہے\nادا سے دیکھ لو اک دن نظر اٹھا کے مجھے\n\nترے حساب میں تیری قبا کا دامن ہوں\nکہ جب مزاج میں آیا چلا لٹا کے مجھے\n\nمیں ڈر رہا ہوں تمہاری نشیلی آنکھوں سے\nکہ لوٹ لیں نہ کسی روز کچھ پلا کے مجھے\n\nبلند نام نہ ہوگا ستم شعاری سے\nتم آسمان نہ ہو جاؤ گے ستا کے مجھے\n\nبتوں کو تاکتے گزری ہے شرم آئے گی\nجلیلؔ لے نہ چلو سامنے خدا کے مجھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%81%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7_%D8%A8%D8%AA_%D9%86%D8%A7%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7_%D8%B3%D9%86%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92"} {"title": "یہ کیا خبر ہے کہ وہ بے خبر نہیں آتا", "poet_page": "مصنف:عاشق حسین بزم آفندی", "kind": "poetry", "section": "غزل > ایاغ بزم (1927)", "year": "1927", "text_ur": "یہ کیا خبر ہے کہ وہ بے خبر نہیں آتا\nہمیں تو ہوش ہی دودو پہر نہیں آتا\n\nتمہاری چال کے فتنے بھی ہیں قیامت کے\nکہ جن کے خوف سے محشر ادھر نہیں آتا\n\nتمام عمر اگر آب اشک سے سینچیں\nامید کے تو شجر میں ثمر نہیں آتا\n\nوہ پان کھا کے رقیبوں کو دے رہی ہیں اگال\nالٰہی کیوں مرے منہ کو جگر نہیں آتا\n\nزکات حسن نکالو اٹھاؤ لطف شباب\nیہ وقت جا کے تو پھر عمر بھر نہیں آتا\n\nدیا مریض محبت کو نسخۂ تپ دق\nتجھے علاج بھی اے چارہ گر نہیں آتا\n\nبھلا میں اور خوشامد کروں رقیبوں کی\nوہی بتاتے ہو جو کام کر نہیں آتا\n\nوہ بے نقاب ہیں استادہ غیر کے آگے\nاور آفتاب سوا نیزے پر نہیں آتا\n\nیہ کیا محبت و الفت کہ بعد مرنے کے\nکوئی مزار میں لینے خبر نہیں آتا\n\nحرم میں زاہدو کیا دل بہلنے کی صورت\nلگاؤ لاکھ میں اس راہ پر نہیں آتا\n\nکہا تھا غیر سے کیا مجھ کو دیکھ کر تم نے\nاور اس پہ کہتے ہو مجھ کو تو شر نہیں آتا\n\nنوالہ منہ کا نہیں فن شاعری اے بزمؔ\nیہ کام وہ ہے کہ جو عمر بھر نہیں آتا", "license": "PD-US", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%DB%81%DB%92_%DA%A9%DB%81_%D9%88%DB%81_%D8%A8%DB%92_%D8%AE%D8%A8%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A2%D8%AA%D8%A7"} {"title": "یہ کیا طلسم ہے دنیا پہ بار گزری ہے", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کیا طلسم ہے دنیا پہ بار گزری ہے\nوہ زندگی جو سر رہ گزار گزری ہے\n\nگلوں کی گم شدگی سے سراغ ملتا ہے\nکہیں چمن سے نسیم بہار گزری ہے\n\nکہیں سحر کا اجالا ہوا ہے ہم نفسو\nکہ موج برق سر شاخسار گزری ہے\n\nرہا ہے یہ سر شوریدہ مثل شعلہ بلند\nاگرچہ مجھ پہ قیامت ہزار گزری ہے\n\nیہ حادثہ بھی ہوا ہے کہ عشق یار کی یاد\nدیار قلب سے بیگانہ وار گزری ہے\n\nانہیں کو عرض وفا کا تھا اشتیاق بہت\nانہیں کو عرض وفا نا گوار گزری ہے\n\nحریم شوق مہکتا ہے آج تک عابدؔ\nیہاں سے نکہت گیسوئے یار گزری ہے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B7%D9%84%D8%B3%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%D9%BE%DB%81_%D8%A8%D8%A7%D8%B1_%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%8C_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہ کیا لطف شور فغاں رہ گیا", "poet_page": "مصنف:قربان علی سالک بیگ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کیا لطف شور فغاں رہ گیا\nزمیں رہ گئی آسماں رہ گیا\n\nابھی نامہ بر کو روانہ کیا\nابھی کہہ رہا ہوں کہاں رہ گیا\n\nترے لطف نے کی یہاں تک کمی\nجو پہلے یقیں تھا گماں رہ گیا\n\nملے خاک میں یوں کہ مشہور ہے\nمٹے یوں کہ مٹنا نشاں رہ گیا\n\nوہی گردشیں ہیں وہی چال ہے\nستم کون سا آسماں رہ گیا\n\nرہی آشنائی فقط نام کی\nوہ نام آشنائے زباں رہ گیا\n\nمیں واماندہ اور کہہ رہا ہے جرس\nرہا جو پس کارواں رہ گیا\n\nمرا نالہ برق جہاں سوز ہے\nاگر یوں ہی آتش فشاں رہ گیا\n\nبہت دور پہنچیں نگاہیں ولے\nوہ پردے میں اب بھی نہاں رہ گیا\n\nیہ کاہل ہوں سالکؔ غم ہجر سے\nوہیں کا رہا میں جہاں رہ گیا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%B4%D9%88%D8%B1_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%DB%81_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "یہ کیا کہ ان کے دل کو نہ زنہار توڑیئے", "poet_page": "مصنف:انشاء اللہ خان انشا", "kind": "poetry", "section": "شاعری > غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کیا کہ ان کے دل کو نہ زنہار توڑیئے\nسو بار جا کے جوڑئیے سو بار توڑیئے\n\nآؤ نہ مل کے بیٹھے ہیں بے شغل ہم سو کیوں\nکٹ کیجے ان سے یاری اب اے یار توڑیئے\n\nہاتھ آوے کچھ اگر نہ سرشتہ بگاڑ کا\nتو لڑ کے ان کی موتیوں کا ہار توڑیئے\n\nیا چھیڑ چھاڑ کے لیے اک سنگ فرش سے\nدس پانچ ان کے رخنۂ دیوار توڑیئے\n\nیا لال چوری ڈالیوں کو توڑ تاڑ پر\nرغبت سے ایک غنچۂ گلنار توڑیئے\n\nشوخی تو دیکھو آج یہی قصد ہے کہ خیر\nجس ڈھب سے ہووے خاطر دل دار توڑیئے\n\nوہ کچھ کہیں پر اپنی ہے بس گائے جائیے\nاور تان ادھر کو کوئی طرح دار توڑیئے\n\nیا کود پھاند چول بھی ان کے پلنگ کے\nبس ہو کے لڑنے بھڑنے کو تیار توڑیئے\n\nپھول ان کی کیاریوں سے کسی اور روپ کا\nکچھ کر کے بات چیت کے تکرار توڑیئے\n\nسبزے کو روند ڈالئے یا ان کے باغ کے\nنارنگیاں ہی چپکے سے دو چار توڑیئے\n\nانشاؔ یہ روٹھ راٹھ ہی اک تاؤ بھاؤ کے\nاس توڑ جوڑ کا نہ کبھی تار توڑیئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DA%A9%D9%88_%D9%86%DB%81_%D8%B2%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%B1_%D8%AA%D9%88%DA%91%DB%8C%D8%A6%DB%92"} {"title": "یہ کیا کہا مجھے او بد زباں بہت اچھا", "poet_page": "مصنف:امداد علی بحر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کیا کہا مجھے او بد زباں بہت اچھا\nسنا لی اور بھی دو گالیاں بہت اچھا\n\nتمہیں تو اور بھی اشخاص پیار کرتے ہیں\nہمیں یہ جور و جفا مہرباں بہت اچھا\n\nکسی پہ یوں نہیں پڑتی نگاہ خون آشام\nہمیں ہیں تیر ستم کے نشاں بہت اچھا\n\nنہ ہو دو چار نہ بولو نہ اختلاط کرو\nبہت بجا بہت انسب میاں بہت اچھا\n\nجو میں برا تو برا اور سب تو اچھے ہیں\nملو جہاں سے جان جہاں بہت اچھا\n\nبرا بھلا ہمیں کہنے سے فائدہ کیا ہے\nچمن سے جاتے ہیں اے باغباں بہت اچھا\n\nہمارے رہنے سے تجھ کو جو آگ لگتی ہے\nجلائے دیتے ہیں ہم آشیاں بہت اچھا\n\nکبھی جو روتے ہیں جھنجھلا کے یار کہتا ہے\nمیں سن رہا ہوں کرو تم فغاں بہت اچھا\n\nخفا نہ ہو نہ کروں گا بکا بہت بہتر\nنہ ہوں گے اب کبھی آنسو رواں بہت اچھا\n\nجو زندگی ہے تو جیتا رہوں گا فرقت میں\nصد ہاریے مری آرام جاں بہت اچھا\n\nنثار لا کہ سر ایسے تمہاری قدموں پر\nکریں گے آپ مرا امتحاں بہت اچھا\n\nخدا نے نور کے سانچے میں تجھ کو ڈھالا ہے\nہزار میں ہے تو اے نوجواں بہت اچھا\n\nمرے نگاہ میں تو حور سے کہیں بہتر ہے\nمقام خلد سے تیرا مکان بہت اچھا\n\nبہت پسند ہے مجھ کو یہ بول چال اے بحرؔ\nقسم خدا کی یہ طرز بیاں بہت اچھا", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%D8%A7%D9%88_%D8%A8%D8%AF_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%DB%81%D8%AA_%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7"} {"title": "یہ کیا کہا کہ غم عشق ناگوار ہوا", "poet_page": "مصنف:اصغر گونڈوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کیا کہا کہ غم عشق ناگوار ہوا\nمجھے تو جرعۂ تلخ اور سازگار ہوا\n\nسرشک شوق کا وہ ایک قطرۂ ناچیز\nاچھالنا تھا کہ اک بحر بے کنار ہوا\n\nادائے عشق کی تصویر کھنچ گئی پوری\nوفور جوش سے یوں حسن بے قرار ہوا\n\nبہت لطیف اشارے تھے چشم ساقی کے\nنہ میں ہوا کبھی بے خود نہ ہشیار ہوا\n\nلیے پھری نگہ شوق سارے عالم میں\nبہت ہی جلوۂ حسن آج بے قرار ہوا\n\nجہاں بھی میری نگاہوں سے ہو چلا معدوم\nارے بڑا غضب اے چشم سحر کار ہوا\n\nمری نگاہوں نے جھک جھک کے کر دئیے سجدے\nجہاں جہاں سے تقاضائے حسن یار ہوا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%81%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D8%BA%D9%85_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%D9%86%D8%A7%DA%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A7"} {"title": "یہ کیسے بال کھولے آئے کیوں صورت بنی غم کی", "poet_page": "مصنف:آغا شاعر قزلباش", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ کیسے بال کھولے آئے کیوں صورت بنی غم کی\nتمہارے دشمنوں کو کیا پڑی تھی میرے ماتم کی\n\nشکایت کس سے کیجے ہائے کیا الٹا زمانہ ہے\nبڑھایا پیار جب ہم نے محبت یار نے کم کی\n\nجگر میں درد ہے دل مضطرب ہے جان بے کل ہے\nمجھے اس بے خودی میں بھی خبر ہے اپنے عالم کی\n\nنہیں ملتے نہ ملئے خیر کوئی مر نہ جائے گا\nخدا کا شکر ہے پہلے محبت آپ نے کم کی\n\nعدو جس طرح تم کو دیکھتا ہے ہم سمجھتے ہیں\nچھپاؤ لاکھ تم چھپتی نہیں ہے آنکھ محرم کی\n\nمزہ اس میں ہی ملتا ہے نمک چھڑکو نمک چھڑکو\nقسم لے لو نہیں عادت مرے زخموں کو مرہم کی\n\nکہاں جانا ہے تھم تھم کر چلو ایسی بھی کیا جلدی\nتم ہی تم ہو خدا رکھے نظر پڑتی ہے عالم کی\n\nکوئی ایسا ہو آئینہ کہ جس میں تو نظر آئے\nزمانے بھر کا جھوٹا کیا حقیقت ساغر جم کی\n\nگھٹائیں دیکھ کر بے تاب ہے بے چین ہے شاعرؔ\nترے قربان او مطرب سنا دے کوئی موسم کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%92_%D8%A2%D8%A6%DB%92_%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA_%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA_%D8%A8%D9%86%DB%8C_%D8%BA%D9%85_%DA%A9%DB%8C"} {"title": "یہ گلہ دل سے تو ہرگز نہیں جانا صاحب", "poet_page": "مصنف:نظیر اکبر آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ گلہ دل سے تو ہرگز نہیں جانا صاحب\nسب نے جانا ہمیں پر تم نے نہ جانا صاحب\n\nان بیانوں سے غرض ہم نے یہ جانا صاحب\nآپ کو خون ہمارا ہے بہانا صاحب\n\nچھوڑ کر آپ کے کوچہ کو پھروں صحرا میں\nسو تو مجنوں سا نہیں ہوں میں دوانا صاحب\n\nیاد تھے ہم کو جوانی میں تو سو مکر و فریب\nاک کرشمہ تھا تمہیں دام میں لانا صاحب\n\nاب جو بوڑھے ہیں تو اب بھی ہمیں شیطان نظیرؔ\nہنس کے کہتا ہے اجی آئیے نانا صاحب", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%AF%D9%84%DB%81_%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88_%DB%81%D8%B1%DA%AF%D8%B2_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8"} {"title": "یہ گوارا کہ مرا دست تمنا باندھے", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ گوارا کہ مرا دست تمنا باندھے\nاپنی محرم کو نہ کس کر کوئی اتنا باندھے\n\nبڑھ کے آئے نگہ شوق بلائیں لے لے\nکوئی بیٹھا ہے کس انداز سے جوڑا باندھے\n\nشہرت بے اثری کوئی مٹائے کیوں کر\nہو نہ درد آہ میں تو کوئی ہوا کیا باندھے\n\nدھجیاں کیا مرے دامن کی مرے کام آئیں\nبیٹھ کر دشت میں سب آبلۂ پا باندھے\n\nہے بری بات کہو کھول کے بوتل رکھ دے\nشیخ پگڑی میں نہ بازار کا سودا باندھے\n\nاک ذرا کھا لے ہوا نجد کی ٹھنڈی ٹھنڈی\nکہہ دو لیلیٰ ابھی محمل میں نہ پردا باندھے\n\nبکھری زلفیں یوں ہی لہرائیں رخ روشن پر\nکبھی جوڑا نہ مرا گیسوؤں والا باندھے\n\nجب میں دیکھوں مری آنکھوں میں مرا گھر پھر جائے\nچکر اتنا تو بیاباں میں بگولا باندھے\n\nہم نے دیکھا طرف میکدہ جاتے تھے ریاضؔ\nاک عصا تھامے عبا پہنے عمامہ باندھے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DA%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%A7_%DA%A9%DB%81_%D9%85%D8%B1%D8%A7_%D8%AF%D8%B3%D8%AA_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7_%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%92"} {"title": "یہ ہستئ دل اس پہ یہ طوفان تمنا", "poet_page": "مصنف:افسر میرٹھی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ ہستئ دل اس پہ یہ طوفان تمنا\nاللہ رے اے جوش فراوان تمنا\n\nدنیا میں ہوں میں سوختہ سامان تمنا\nدل ہے مرا اک خانۂ ویران تمنا\n\nبرباد ہوا آج کسی کا دل وحشی\nہے خاک بسر کوچۂ ویران تمنا\n\nجز خواب نہیں صبح امید دل مایوس\nجز وہم نہیں مہر درخشان تمنا\n\nاک حسرت محبوس ہے سرنامۂ الفت\nدرد دل وا رفتہ ہے عنوان تمنا\n\nحسرت بھی ہے نومیدی بھی ہے یاس بھی غم بھی\nدل دوز ہیں اجزائے پریشان تمنا\n\nیا لاش کو لوگوں نے لپیٹا ہے کفن میں\nیا خواب میں ہوں میں تہ دامان تمنا\n\nافسرؔ مری وحشت کا تقاضا تو یہی ہے\nہوگا نہ رفو چاک گریبان تمنا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DB%81%D8%B3%D8%AA%D8%A6_%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B3_%D9%BE%DB%81_%DB%8C%DB%81_%D8%B7%D9%88%D9%81%D8%A7%D9%86_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7"} {"title": "یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں", "poet_page": "مصنف:مرزا غالب", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں\nکبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں\n\nوہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے\nکبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں\n\nنظر لگے نہ کہیں اُس کے دست و بازو کو\nیہ لوگ کیوں مرے زخمِ جگر کو دیکھتے ہیں\n\nترے جواہرِ طرفِ کُلہ کو کیا دیکھیں\nہم اوجِ طالعِ لعل و گہر کو دیکھتے ہیں", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DB%81%D9%85_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D8%AC%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1_%D9%88_%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92_%DB%81%DB%8C%DA%BA"} {"title": "یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیا", "poet_page": "مصنف:نظم طباطبائی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیا\nکہ صدا ہے لطمۂ موج کی سر پر غرور کدھر گیا\n\nمجھے جذب دل نے اے جز بہک کے رکھا قدم کوئی\nمجھے پر لگائے شوق نے کہیں تھک کے میں جو ٹھہر گیا\n\nمجھے پیری اور شباب میں جو ہے امتیاز تو اس قدر\nکوئی جھونکا باد سحر کا تھا مرے پاس سے جو گزر گیا\n\nاثر اس کے عشوۂ ناز کا جو ہوا وہ کس سے بیاں کروں\nمجھے تو اجل کی ہے آرزو اسے وہم ہے کہ یہ مر گیا\n\nتجھے اے خطیب چمن نہیں خبر اپنے خطبۂ شوق میں\nکہ کتاب گل کا ورق ورق تری بے خودی سے بکھر گیا\n\nکسے تو سناتا ہے ہم نشیں کہ ہے عشوۂ دشمن عقل و دیں\nترے کہنے کا ہے مجھے یقیں میں ترے ڈرانے سے ڈر گیا\n\nکروں ذکر کیا میں شباب کا سنے کون قصہ یہ خواب کا\nیہ وہ رات تھی کہ گزر گئی یہ وہ نشہ تھا کہ اتر گیا\n\nدل ناتواں کو تکان ہو مجھے اس کی تاب نہ تھی ذرا\nغم انتظار سے بچ گیا تھا نوید وصل سے مر گیا\n\nمرے صبر و تاب کے سامنے نہ ہجوم خوف و رجا رہا\nوہ چمک کے برق رہ گئی وہ گرج کے ابر گزر گیا\n\nمجھے بحر غم سے عبور کی نہیں فکر اے مرے چارہ گر\nنہیں کوئی چارہ کار اب مرے سر سے آب گزر گیا\n\nمجھے راز عشق کے ضبط میں جو مزہ ملا ہے نہ پوچھیے\nمے انگبیں کا یہ گھونٹ تھا کہ گلے سے میرے اتر گیا\n\nنہیں اب جہان میں دوستی کبھی راستے میں جو مل گئے\nنہیں مطلب ایک کو ایک سے یہ ادھر چلا وہ ادھر گیا\n\nاگر آ کے غصہ نہیں رہا تو لگی تھی آگ کہ بجھ گئی\nجو حسد کا جوش فرو ہوا تو یہ زہر چڑھ کے اتر گیا\n\nتجھے نظمؔ وادئ شوق میں عبث احتیاط ہے اس قدر\nکہیں گرتے گرتے سنبھل گیا کہیں چلتے چلتے ٹھہر گیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%85%D8%A2%D9%84_%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%A8%DA%BE%D8%B1_%DA%AF%DB%8C%D8%A7"} {"title": "یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے", "poet_page": "مصنف:جگر مراد آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے\nیہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے\n\nجو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو\nیہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے\n\nکوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے\nمگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا یہ تو میکدے کا نظام ہے\n\nیہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے\nجو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے\n\nاسی کائنات میں اے جگرؔ کوئی انقلاب اٹھے گا پھر\nکہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81_%DB%81%DB%92_%D9%85%DB%92_%DA%A9%D8%AF%DB%81_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B1%D9%86%D8%AF_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%B3%D8%A8_%DA%A9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C_%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہاں بغیر فغاں شب بسر نہیں ہوتی", "poet_page": "مصنف:احسن مارہروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہاں بغیر فغاں شب بسر نہیں ہوتی\nوہاں اثر نہیں ہوتا خبر نہیں ہوتی\n\nخلش جگر میں ہے دل کو خبر نہیں ہوتی\nچبھی ہے پھانس ادھر سے ادھر نہیں ہوتی\n\nعبث ہی کل کے لئے التوائے مشق خرام\nقیامت آج ہی کیوں فتنہ گر نہیں ہوتی\n\nجو ان سے دور ہے اس کے لئے ہیں چشم براہ\nہم ان کے پاس ہیں ہم پر نظر نہیں ہوتی\n\nاجل کو روکئے کیا کہہ کے ان کے آنے تک\nکہ اب تو بات بھی اے چارہ گر نہیں ہوتی\n\nوہ آ گئے ہیں تو آنسو ضرور پونچھیں گے\nاب آنکھ کیوں مری اشکوں سے تر نہیں ہوتی\n\nکمال بے ہنری سے غنی ہوں میں احسنؔ\nمجھے ضرورت عرض ہنر نہیں ہوتی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA_%D8%B4%D8%A8_%D8%A8%D8%B3%D8%B1_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C"} {"title": "یہاں کال سے ہے طرح طرح کی تکلیف", "poet_page": "مصنف:سید یوسف علی خاں ناظم", "kind": "poetry", "section": "رباعی", "year": null, "text_ur": "یہاں کال سے ہے طرح طرح کی تکلیف\nفاقوں سے ہوئے ہیں آدمی زار نحیف\nاس سال میں یا حضرت ماہ رمضاں\nحاجت کیا تھی کہ آپ لائے تشریف", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A7%D9%84_%D8%B3%DB%92_%DB%81%DB%92_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%D8%B7%D8%B1%D8%AD_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%81"} {"title": "یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہے", "poet_page": "مصنف:مبارک عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہے\nکوئی سمجھے تو کیا سمجھے وہ نیرنگ نظر کیا ہے\n\nنہ ہو جس سر میں سودا سرفروشی کا وہ سر کیا ہے\nنہ پھونکے خرمن ہستی تو وہ سوز جگر کیا ہے\n\nترے انداز کے بسمل ہیں ہم ہم سے کوئی پوچھے\nتری بانکی ادا کیا ہے تری ترچھی نظر کیا ہے\n\nجہاں سامان وحشت کے اسے وحشت سرا کہیے\nجہاں اسباب ویرانی وہ ویرانہ ہے گھر کیا ہے\n\nگئے وہ اور یہ کہتے گئے او جذب دل والے\nمجھے بھی دیکھنا ہے جذبۂ دل کا اثر کیا ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیا", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیا\nگیا زیر زمیں جو کوئی زیر آسماں آیا\n\nنہ ہو گرم اس قدر اے شمع اس میں تیرا کیا بگڑا\nاگر جلنے کو اک پروانۂ آتش بجاں آیا\n\nخدا جانے ملا کیا مجھ کو جا کر ان کی محفل میں\nکہ باصد نامرادی بھی وہاں سے شادماں آیا\n\nجمایا رنگ اپنا میں نے مٹ کر تیرے کوچے میں\nیقین عشق میرا اب تو تجھ کو بدگماں آیا\n\nنہ ہو آزردہ تو آزردگی کا کون موقع ہے\nاگر محفل میں تیری وحشتؔ آزردہ جاں آیا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA_%DB%81%D8%B1_%D8%A2%D9%86%DB%92_%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7_%D8%A8%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B9%D8%A8%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA_%D8%A2%DB%8C%D8%A7"} {"title": "یہی آدم ہے سُلطاں بحر و بَر کا", "poet_page": "مصنف:محمد اقبال", "kind": "poetry", "section": "شاعری > بال جبریل (1935)", "year": "1935", "text_ur": "یہی آدم ہے سُلطاں بحر و بَر کا\nکہوں کیا ماجرا اس بے بصر کا\nنہ خود بیں، نَے خدا بیں نے جہاں بیں\nیہی شہکار ہے تیرے ہُنر کا!", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%A2%D8%AF%D9%85_%DB%81%DB%92_%D8%B3%D9%8F%D9%84%D8%B7%D8%A7%DA%BA_%D8%A8%D8%AD%D8%B1_%D9%88_%D8%A8%D9%8E%D8%B1_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروں", "poet_page": "مصنف:آرزو لکھنوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروں\nاگر اس پہ بھی نہ نبھی تو پھر مرے کردگار میں کیا کروں\n\nہے محبت ایسی بندھی گرہ جو نہ ایک ہاتھ سے کھل سکے\nکوئی عہد توڑے کرے دغا مرا فرض ہے کہ وفا کروں\n\nمیں ہزار باتوں میں ایک بھی کبھی ان سے کھل کے نہ کہہ سکا\nاگر ایک طرح کی بات ہو تو ہزار طرح ادا کروں\n\nجو ہنسا تو صورت زخم دل کہ لہو کے قطرے ٹپک پڑے\nمیں ستم رسیدہ ہوں آرزوؔ نہ بہاؤں اشک تو کیا کروں", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%A7%DA%A9_%D9%86%D8%A8%D8%A7%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%DA%A9%D9%84_%DB%81%DB%92_%D9%88%DB%81_%D8%AC%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%88%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA"} {"title": "یہی بے لوث محبت یہی غم خوارئ خلق", "poet_page": "مصنف:نہال سیوہاروی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہی بے لوث محبت یہی غم خوارئ خلق\nاور معراج کسے کہتے ہیں انسانوں کی\n\nنام ہے کیا اسی ہنگامے کا آغاز شباب\nایک آندھی سی چلی آتی ہے ارمانوں کی\n\nجس قدر عشق سے ہوتی ہے فزوں وسعت فکر\nعقل رکھتی ہے بنائیں نئے زندانوں کی\n\nاپنی موت اپنی تباہی کی طرف کیا دیکھیں\nکہ نگاہیں طرف شمع ہیں پروانوں کی\n\nہو گئی عمر بہاروں کے تصور میں تمام\nسیر کرتے رہے نادید گلستانوں کی\n\nماسوا اس کے نہیں اور کچھ افسانۂ ہند\nایک تاریخ ہے اجڑے ہوئے کاشانوں کی", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%A8%DB%92_%D9%84%D9%88%D8%AB_%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA_%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%BA%D9%85_%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%A6_%D8%AE%D9%84%D9%82"} {"title": "یہی تمنائے دل ہے ان کی جدھر کو رخ ہو ادھر کو چلئے", "poet_page": "مصنف:پنڈت جواہر ناتھ ساقی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہی تمنائے دل ہے ان کی جدھر کو رخ ہو ادھر کو چلئے\nہوا ہے گو اشتیاق بے حد جما کے پائے نظر کو چلئے\n\nہوئے ہیں محروم دید بے دل کیا تجاہل کا اس نے بسمل\nوہ دل ربا بن گیا ہے قاتل کمر کو کس کے سفر کو چلئے\n\nغرض تھی اظہار مدعا سے ستم کو کیا ہو گئے جو شاکی\nوہ دیکھتے ہی بگڑ نہ جائیں بلانے اب نامہ بر کو چلئے\n\nبنا ہے دم ساز کون ان کا پتہ نہیں مدتوں سے لگتا\nیہ راز ہو جائے آشکارا کہیں سے لینے خبر کو چلئے\n\nاگر ہے شوق جمال جاناں نہیں ہے کچھ پاس وضع موزوں\nشکوہ تمکیں وداع کیجے منانے اس عشوہ گر کو چلئے\n\nشہید ہے ساقیؔٔ دعا گو کشیدہ کیوں اس قدر ہوئے ہو\nکبھی تو اے یار دیکھنے کو ذرا قتیل نظر کو چلئے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AF%D9%84_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%D8%B1%D8%AE_%DB%81%D9%88_%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1_%DA%A9%D9%88_%DA%86%D9%84%D8%A6%DB%92"} {"title": "یہی تھا وقف تری محفل طرب کے لئے", "poet_page": "مصنف:عابد علی عابد", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہی تھا وقف تری محفل طرب کے لئے\nچراغ دل کہ سلگتا ہے آج سب کے لئے\n\nکبھی میں جرأت اظہار مدعا تو کروں\nکوئی جواز تو ہو لطف بے سبب کے لئے\n\nافق سے چاند کی چمپا کلی ابھرتی ہے\nسجائے جاتے ہیں زیور نگار شب کے لئے\n\nترے گدا نے بھی ساغر کا نقرئی آنچل\nکہیں سے مانگ لیا دختر عنب کے لئے\n\nتمام عمر بہ فیض نگاہ لالہ رخاں\nسند رہا ہوں اشارات چشم و لب کے لئے\n\nچمن سے پھول کے دھوکے میں چن لئے شعلے\nکف وفا کے لئے دامن طلب کے لئے\n\nکہیں جو پرسش احوال پر وہ مائل ہوں\nکہ ہم نے دل کو سنبھالا ہوا ہے جب کے لئے\n\nمجھے خبر ہے بہت سے متاع ذوق نظر\nدکان کاکل و رخسار و چشم و لب کے لئے\n\nستارہ صبح کا روشن تھا شام سے عابدؔ\nیہی تھی موت حریفان بزم شب کے لئے", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%AA%DA%BE%D8%A7_%D9%88%D9%82%D9%81_%D8%AA%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84_%D8%B7%D8%B1%D8%A8_%DA%A9%DB%92_%D9%84%D8%A6%DB%92"} {"title": "یہی درد جدائی ہے جو اس شب", "poet_page": "مصنف:میر تقی میر", "kind": "poetry", "section": "قطعہ", "year": null, "text_ur": "یہی درد جدائی ہے جو اس شب\nتو آتا ہے جگر مژگان تر تک\nدکھائی دیں گے ہم میت کے رنگوں\nاگر رہ جائیں گے جیتے سحر تک", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%A7%D8%B3_%D8%B4%D8%A8"} {"title": "یہی مسئلہ ہے جو زاہدو تو مجھے کچھ اس میں کلام ہے", "poet_page": "مصنف:حفیظ جونپوری", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہی مسئلہ ہے جو زاہدو تو مجھے کچھ اس میں کلام ہے\nوہی شے حلال ہے خلد میں وہی میکدے میں حرام ہے\n\nمری آنکھ میں جو سما گیا مرے دل میں جس کا مقام ہے\nابھی مجھ سے ہے وہ الگ تھلگ نہ پیام ہے نہ سلام ہے\n\nیہی کہنا اس سے پیامبر کہ بس آخری یہ پیام ہے\nجو ذرا بھی جانے میں دیر کی تو کسی کا کام تمام ہے\n\nکبھی قطع کی مری گفتگو کبھی کہہ دیا مجھے کیا ہے تو\nیہ بتا تو او بت جنگجو کوئی یہ بھی طرز کلام ہے\n\nکوئی ذکر غیر کا یہ نہ تھا جسے آپ سن کے ہوئے خفا\nمجھے اپنے بخت سے ہے گلہ مجھے اپنے دل سے کلام ہے\n\nجو چلا تو بزم سرور میں جو رہا تو عالم نور میں\nمرے دل میں کیف مدام ہے مرے سر میں گردش جام ہے\n\nوہی شکوہ تجھ کو رقیب کا وہی رونا اپنے نصیب کا\nیہ بتا تو او دل مبتلا تجھے اور بھی کوئی کام ہے\n\nمرا نام لے کے نہ کوسیے یہ کہا تو ہنس کے وہ بول اٹھے\nمجھے کیا خبر تھی زمانے میں فقط آپ ہی کا یہ نام ہے\n\nمجھے کفر و دیں سے غرض نہیں کہ میں ایک بندۂ عشق ہوں\nکوئی شیخ ہو کہ ہو برہمن مرا دور ہی سے سلام ہے\n\nوہی آسمان ہے وہی زمیں مگر آنکھ اس کی جو پھر گئی\nنہ وہ دن ہے اب نہ وہ رات ہے نہ وہ صبح ہے نہ وہ شام ہے\n\nبہت اور ماہر فن ہیں یوں بہت اور اہل سخن ہیں یوں\nمگر آ گیا جو پسند انہیں وہ حفیظؔ ہی کا کلام ہے", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81_%DB%81%DB%92_%D8%AC%D9%88_%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF%D9%88_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92_%DA%A9%DA%86%DA%BE_%D8%A7%D8%B3_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%DB%81%DB%92"} {"title": "یہی موقع ہے زمانے سے گزر جانے کا", "poet_page": "مصنف:شاد عظیم آبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہی موقع ہے زمانے سے گزر جانے کا\nکیوں اجل کیا کیا ساماں مرے مر جانے کا\n\nکیا کہوں نزع میں میں اپنی خموشی کا سبب\nرنج ہے وقت کے بے کار گزر جانے کا\n\nحسب معمول چڑھایا نہیں ناصح کوئی جام\nیہ سبب بھی ہے مرے منہ کے اتر جانے کا\n\nتجھ سے رخصت ہے مری جلد بس اے پیر مغاں\nمنتظر ہوں فقط اس جام کے بھر جانے کا\n\nموتیوں کا تھا خزانہ مری چشم تر میں\nغم ہے دل کو انہیں دانوں کے بکھر جانے کا\n\nلے چلی موت بصد شوق ہمیں ساتھ اپنے\nنہ ہوا جب کوئی ساماں ترے گھر جانے کا\n\nتار ہوں آنسوؤں کے آہ کے ہرکارے ہوں\nسلسلہ کوئی تو ان تک ہو خبر جانے کا\n\nناامیدی ہمیں پہنچاتی ہے پستی کی طرف\nیہی زینہ تو ہے کوٹھے سے اتر جانے کا\n\nدن بہ دن پاؤں کی طاقت میں کمی ہونے لگی\nشادؔ ساماں کرو اس دشت سے گھر جانے کا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D9%85%D9%88%D9%82%D8%B9_%DB%81%DB%92_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92_%D8%B3%DB%92_%DA%AF%D8%B2%D8%B1_%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92_%DA%A9%D8%A7"} {"title": "یہی نہ سمجھو فقط اک خطاب ہیں ہم تم", "poet_page": "مصنف:وحیدالدین احمد وحید", "kind": "poetry", "section": "غزل > انتخاب وحید (1939)", "year": "1939", "text_ur": "یہی نہ سمجھو فقط اک خطاب ہیں ہم تم\nکوئی تو بات ہے جس کے جواب ہیں ہم تم\n\nابھی تو صورت موج و حباب ہیں ہم تم\nجب اس سے گزرے وہی ایک آب ہیں ہم تم\n\nجو وہ ملے کہیں آفت زدے تو کہتے ہیں\nزمانہ بھر ہے مزے میں خراب ہیں ہم تم\n\nنہ پوچھے جائیں گے گر حسن و عشق کے جھگڑے\nتو سب سے حشر کے دن بے حساب ہیں ہم تم", "license": "PD-1996", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%DB%8C_%D9%86%DB%81_%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%88_%D9%81%D9%82%D8%B7_%D8%A7%DA%A9_%D8%AE%D8%B7%D8%A7%D8%A8_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DB%81%D9%85_%D8%AA%D9%85"} {"title": "یہی کہتی لیلیٔ سوختہ جاں نہیں کھاتی ادب سے خدا کی قسم", "poet_page": "مصنف:مرزا محمد تقی ہوسؔ", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہی کہتی لیلیٔ سوختہ جاں نہیں کھاتی ادب سے خدا کی قسم\nغم قیس سوا مجھے غم نہیں کچھ اسی کشتۂ ناز و ادا کی قسم\n\nکبھی کہتا تھا قیس غزالوں سے جا کہو ناقہ یاں سے کدھر کو گیا\nکبھی کہتا تھا تو ہی بتائے صبا تجھے لیلیٰ کی زلف دوتا کی قسم\n\nترے کشتۂ غم کا ہے حال بتر یہی کہیو جو جانا ہو تیرا ادھر\nتجھے قاصد موج نسیم سحر مری ہجر کی شب کی بکا کی قسم\n\nآئی ہوسؔ مجھے پھولوں کی بو کبھی بیٹھا نہ جا کے میں بر لب جو\nمری تنگئ دل تو گئی نہ کبھو مجھے باغ جہاں کے فضا کی قسم", "license": "PD-old", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%DB%8C_%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%8C_%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%D9%94_%D8%B3%D9%88%D8%AE%D8%AA%DB%81_%D8%AC%D8%A7%DA%BA_%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%AA%DB%8C_%D8%A7%D8%AF%D8%A8_%D8%B3%DB%92_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85"} {"title": "یہی گر حسن کا عالم رہے گا", "poet_page": "مصنف:خوشی محمد ناظر", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہی گر حسن کا عالم رہے گا\nتو زخم عشق بے مرہم رہے گا\n\nنہ دے اے ناصح مشفق تسلی\nکہ جب تک ہم رہیں گے غم رہے گا\n\nہے جس کے دم سے یہ ہنگامۂ عشق\nوہی ہر دم رہا ہر دم رہے گا\n\nبشر یاں سیج پر پھولوں کی کب تک\nمثال قطرۂ شبنم رہے گا\n\nغم دل دینے والے سچ بتانا\nتجھے بھی کچھ ہمارا غم رہے گا\n\nنہال عشق کو شاداب کر لوں\nپھر ان آنکھوں میں کب تک نم رہے گا\n\nتمہاری یاد ہر دم تازہ ہوگی\nہمارے دم میں جب تک دم رہے گا\n\nدیار یار کا ملنا ہے مشکل\nجو یہ راہوں کا پیچ و خم رہے گا\n\nنشاں باقی نہ ہوگا بزم جم کا\nمگر گردش میں جام جم رہے گا\n\nیہی پرواز ہے اس کی تو کب تک\nبنی آدم بنی آدم رہے گا\n\nیہ ہندی سے فرنگی کہہ رہا تھا\nکہ جب تک تم رہو گے ہم رہے گا\n\nدم رخصت وہ کہتے تھے کہ ناظرؔ\nترے جانے کا ہم کو غم رہے گا", "license": "PD-Pakistan", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%DB%8C_%DA%AF%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%B1%DB%81%DB%92_%DA%AF%D8%A7"} {"title": "یہی ہیں برق کی جولانیاں تو آشیاں کب تک", "poet_page": "مصنف:منیر بھوپالی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہی ہیں برق کی جولانیاں تو آشیاں کب تک\nاٹھے گا خاک پروانہ سے محفل میں دھواں کب تک\n\nغم صیاد خوف برق فکر آشیاں کب تک\nاٹھائے گی یہ صدمے ایک جان ناتواں کب تک\n\nیہی ہے درد روز افزوں یہی بیتابیٔ پیہم\nتو یہ راز محبت راز کب تک رازداں کب تک\n\nتری نظروں کو بھی جھکنا پڑے گا خود بخود اک دن\nمرے دکھتے ہوئے دل کی دعائیں رائیگاں کب تک\n\nضیائے حسن ہر ذرہ کو اک دن جگمگا دے گی\nترے جلوؤں کو روکیں گے حدود لا مکاں کب تک\n\nخبر بھی ہے تجھے بیتابیٔ دل بڑھتی جاتی ہے\nخدا جانے رہے گی میرے قابو میں زباں کب تک\n\nذرا اپنے تغافل کی نہایت بھی بتا دیجے\nرہے گا مورد الزام مجبور فغاں کب تک\n\nیہ محرومی نہ جانے کس کے قدموں پر گرا دے گی\nنگاہ شوق ڈھونڈے گی کسی کا آستاں کب تک\n\nوہ جلوے پھر وہ جلوے ہیں وہ نظریں پھر وہ نظریں ہیں\nدل ناداں یقین ہستیٔ تاب و تواں کب تک\n\nبساط دل ہے کیا نقشہ بدل جائے گا دنیا کا\nیہ آنکھیں ہیں یہ نظریں ہیں تو تنظیم جہاں کب تک\n\nمحبت خود بخود اک دن ہر اک پردہ اٹھا دے گی\nمنیرؔ اس دل سے وہ بد ظن دل ان سے بد گماں کب تک", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%A8%D8%B1%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%D9%88_%D8%A2%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%DA%A9%D8%A8_%D8%AA%DA%A9"} {"title": "یہی ہے ان کی نزاکت تو حال کیا ہوگا", "poet_page": "مصنف:ریاض خیرآبادی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہی ہے ان کی نزاکت تو حال کیا ہوگا\nمجھے یہ ڈر ہے کہ وقت وصال کیا ہوگا\n\nکسی کا سبزۂ تربت نہ ہو سکا پامال\nخرام ناز سے دل پائمال کیا ہوگا\n\nلحد پر آنے لگا کیوں پس فنا کوئی\nمٹے ہوؤں کا کسی کو خیال کیا ہوگا\n\nوہ سن ہی کیا ہے سمجھ ہو جو ایسی باتوں کی\nوہ پوچھتے ہیں کہ روز وصال کیا ہوگا\n\nنہ دل رہا نہ طبیعت رہی وہ پہلی سی\nکسی کی بات کا ہم کو ملال کیا ہوگا\n\nکنار شوق میں کیوں آئنے کی خواہش ہے\nوہ بات ہی نہیں چہرہ نڈھال کیا ہوگا\n\nاجل خدا کے لئے رحم کر حسینوں پر\nملا کے خاک میں حسن و جمال کیا ہوگا\n\nمری خوشی کی انہیں کس لئے خوشی ہوگی\nمرے ملال کا ان کو ملال کیا ہوگا\n\nبتائیں کیا تمہیں کیوں کر گلے لگائیں گے\nبتائیں کیا تمہیں روز وصال کیا ہوگا\n\nشراب پینے کی عادت ہے مجھ کو چلو سے\nمجھے ملا بھی تو جام سفال کیا ہوگا\n\nریاضؔ عمر تو گزری سیاہ کاری میں\nخبر نہیں کہ ہمارا مآل کیا ہوگا", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B2%D8%A7%DA%A9%D8%AA_%D8%AA%D9%88_%D8%AD%D8%A7%D9%84_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A7"} {"title": "یہی ہے عشق کی مشکل تو مشکل آساں ہے", "poet_page": "مصنف:وحشت کلکتوی", "kind": "poetry", "section": "غزل", "year": null, "text_ur": "یہی ہے عشق کی مشکل تو مشکل آساں ہے\nملا ہے درد وہ دل کو جو راحت جاں ہے\n\nتری نگاہ سمجھتی ہے یا نہیں دیکھوں\nلب خموش میں کوئی سوال پنہاں ہے\n\nمراد ذوق خرابی کی اب بر آئے گی\nکہ دل کی تاک میں وہ چشم فتنہ ساماں ہے\n\nفراغ حوصلگی پر جنوں کی شاہد ہے\nوہ ایک چاک جو دامن سے تاگریباں ہے\n\nیہ بے خودی ہے مرے عیش زندگی کی کفیل\nنگاہ شوق ابھی محو روئے جاناں ہے\n\nبلا کشوں کی دعا ہے کہ اے خدا نہ مٹے\nجگر کا داغ کہ چشم و چراغ ہجراں ہے\n\nہوا ہے شوق سخن دل میں موج زن وحشتؔ\nکہ ہم صفیر مرا رعب سا سخنداں ہے", "license": "PD-India", "url": "https://ur.wikisource.org/wiki/%DB%8C%DB%81%DB%8C_%DB%81%DB%92_%D8%B9%D8%B4%D9%82_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%AA%D9%88_%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84_%D8%A2%D8%B3%D8%A7%DA%BA_%DB%81%DB%92"}